1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

روحانی خزائن جلد 14 ۔ایام الصلح ۔ یونی کوڈ

'روحانی خزائن ۔ حضرت مسیح موعودؑ ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏ستمبر 3, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    روحانی خزائن جلد 14۔ ایام الصلح ۔ یونی کوڈ

    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 227
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 227
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 228
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 228
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    اشتہار عام اِطلاع کے لئے
    اگرچہ یہ کتاب بعض متفرق مقامات میں عیسائیوں کے حملوں کا جواب دیتی اور ان کو مخاطب کرتی ہے لیکن یاد رہے کہ باوجود اس بات کے کہ عیسائیوں کی کتاب امہات المومنین نے دلوں میں سخت اشتعال پید اکیا ہے مگر پھر بھی ہم نے اس کتاب میں جہاں کہیں عیسائیوں کا ذکر آیا ہے بہت نرمی اور تہذیب اورلطفِ بیان سے ذکر کیا ہے اور گو ایسی صورت میں کہ دل دکھانے والی گالیاں ہمارے پیغمبر صلی اﷲ علیہ وسلم کو دی گئیں ہمارا حق تھا کہ ہم مدافعت کے طور پر سختی کا سختی سے جواب دیتے لیکن ہم نے محض اس حیاکے تقاضا سے جو مومن کی صفت لازمی ہے ہر ایک تلخ زبانی سے اعراض کیا اور وہی امور لکھے ہیں جو موقعہ اور محل پر چسپاں تھے اور قطع نظر ان سب باتوں کے ہماری اس کتاب میں اور رسالہ فریاد درد میں وہ نیک چلن پادری اور دوسرے عیسائی مخاطب نہیں ہیں جو اپنی شرافت ذاتی کی وجہ سے فضول گوئی اوربد گوئی سے کنارہ کرتے ہیں اور دل دکھانے والے لفظوں سے ہمیں دکھ نہیں دیتے اور نہ ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی توہین کرتے اور نہ ان کی کتابیں سخت گوئی اور توہین سے بھری ہوئی ہیں۔ ایسے لوگوں کو بلا شبہ ہم عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور وہ ہماری کسی تحریر کے مخاطب نہیں ہیں بلکہ صرف وہی لوگ ہمارے مخاطب ہیں خواہ وہ بگفتن مسلمان کہلاتے یا عیسائی ہیں جو حدِّ اعتدال سے بڑھ گئے ہیں اور ہماری ذاتیات پر گالی اور بد گوئی سے حملہ کرتے یا ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی شان بزرگ میں توہین اور ہتک آمیز باتیں مُنہ پر لاتے اور اپنی کتابوں میں شائع کرتے ہیں۔ سو ہماری اس کتاب اور دوسری کتابوں میں کوئی لفظ یا کوئی اشارہ ایسے معزز لوگوں کی طرف نہیں ہے جو بدزبانی اور کمینگی کے طریق کو اختیار نہیں کرتے۔
    ہم اس بات کے لئے بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا سچا اور پاک اور را ستباز نبی مانیں اور اُن کی نبوت پر ایمان لاویں۔ سو ہماری کسی کتاب میں کوئی ایسا لفظ بھی نہیں ہے جو اُن کی شان بزرگ کے برخلاف ہو۔ اور اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ دھوکہ کھانے والا اور جھوٹا ہے۔ والسّلام علٰی من اتّبع الہُدیٰ۔
    المشتہر مرزا غلام احمد از قادیاں
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 229
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 229
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    ہمارے پہلے اشتہار مورخہ ۶؍ فروری ۱۸۹۸ ؁ء طاعون کے متعلق
    ایک اور ضروری بیان
    مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض صاحبوں کے دلوں میں میرے اوّل اشتہار کے پڑھنے سے یہ ایک اعتراض پیدا ہؤا ہے کہ لوگوں کو اوّل یہ بتانا کہ اس مرض کے استیصال کے لئے فلاں تدبیر یا دوا ہے اور پھر یہ کہنا کہ شامتِ اعمال سے یہ مرض پھیلتی ہے اِ ن دونوں باتوں میں تنا قض ہے۔ اور تعجب کہ اس اعتراض کے کرنے والے بعض مسلمان ہی ہیں۔ سو ایسے سب صاحبوں کو واضح رہے کہ قانونِ قدرت اور صحیفۂ فطرت پر نظر ڈالنے سے ان تمام اوہام کا بڑی صفائی سے جواب ملتا ہے۔ خدا کاقانونِ قدرت جو ہماری نظر کے سامنے ہے ہمیں بتلا رہا ہے کہ سلسلہ تدابیر اور معالجات کا طلب اور استدعا سے وابستہ ہے یعنی جب ہم فکر کے ذریعہ سے یا کسی اور طریقِ جستجو کے ذریعہ سے کسی تدبیر اور علاج کو طلب کرتے ہیں یا اگر ہم طلب کرنے میں احسن طریق کا ملکہ نہ رکھتے ہوں یا اگر اس میں کامل نہ ہوں تو مثلاً اس غوراور فکر کے لئے کسی ڈاکٹر کو منتخب کرتے ہیں اور وہ ہمارے لئے اپنی فکر اور غور کے وسیلہ سے کوئی احسن طریق ہماری شفا کا سوچتا ہے تب اس کو قانونِ قدرت کی حد کے اندر کوئی طریق سُوجھ جاتا ہے جو کسی درجہ تک ہمارے لئے مفید ہوتا ہے سو وہ طریق جو ذہن میں آتا ہے وہ درحقیقت اس خوض اور غوراور فکر اور توجہ کا نتیجہ ہوتا ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 230
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 230
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    جس کو ہم دوسرے لفظوں میں دُعا کہہ سکتے ہیں کیونکہ فکر اور غورکے وقت جب کہ ہم ایک مخفی امر کی تلاش میں نہایت عمیق دریا میں اُتر کر ہاتھ پَیر مارتے ہیں تو ہم ایسی حالت میں بہ زبانِ حال اُس ؔ اعلیٰ طاقت سے فیض طلب کرتے ہیں جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ غرض جب کہ ہماری رُوح ایک چیز کے طلب کرنے میں بڑی سرگرمی اور سوز وگداز کے ساتھ مبدء فیض کی طرف ہاتھ پھیلاتی ہے اورا پنے تئیں عاجز پا کر فکر کے ذریعہ سے کسی اور جگہ سے روشنی ڈھونڈتی ہے تو درحقیقت ہماری وہ حالت بھی دُعاکی ایک حالت ہوتی ہے۔ اُسی دُعا کے ذریعہ سے دنیا کی کل حکمتیں ظاہر ہوئی ہیں۔ اور ہر ایک بیت العلم کی کُنجی دُعا ہی ہے اور کوئی علم اور معرفت کا دقیقہ نہیں جو بغیر اس کے ظہور میں آیا ہو۔ہمارا سوچنا ہمارا فکر کرنا اور ہمارا طلب امر مخفی کے لئے خیال کودوڑانا یہ سب امور دُعا ہی میں داخل ہیں۔ صرف فرق یہ ہے کہ عارفوں کی دُعا آدابِ معرفت کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے اور اُن کی روح مبدء فیض کو شناخت کر کے بصیرت کے ساتھ اس کی طرف ہاتھ پھیلاتی ہے اور محجوبوں کی دُعا صرف ایک سرگردانی ہے جو فکر اور غور اور طلب اسباب کے رنگ میں ظاہر ہوتی ہے۔ وہ لوگ جن کو خدا تعالیٰ سے ربط معرفت نہیں اور نہ اس پر یقین ہے وہ بھی فکر اور غور کے وسیلہ سے یہی چاہتے ہیں کہ غیب سے کوئی کامیابی کی بات اُن کے دل میں پڑ جائے اور ایک عارف دُعا کرنے والا بھی اپنے خدا سے یہی چاہتا ہے کہ کامیابی کی راہ اس پر کھلے لیکن محجوب جو خدا تعالیٰ سے ربط نہیں رکھتا وہ مبدء فیض کو نہیں جانتا اور عارف کی طرح اس کی طبیعت بھی سرگردانی کے وقت ایک اورجگہ سے مدد چاہتی ہے اور اسی مدد کے پانے کے لئے وہ فکر کرتا ہے۔ مگر عارف اُس مبدء کو دیکھتا ہے اور یہ تاریکی میں چلتا ہے اور نہیں جانتا کہ جو کچھ فکر اورخوض کے بعد بھی دل میں پڑتا ہے وہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اور خدا تعالیٰ متفکر کے فکر کو بطور دُعا قرار دے کر بطور قبولِ دُعا اس علم کو فکر کرنے والے کے دل میں ڈالتا ہے۔ غرض جو حکمت اور معرفت کا نکتہ فکر کے ذریعہ سے دل میں پڑتا ہے وہ بھی خدا سے ہی آتا ہے اور فکر کرنے والا اگرچہ نہ سمجھے مگر خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ مجھ سے ہی مانگ رہا ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 231
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 231
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    سو آخروہ خدا سے اس مطلب کو پاتا ہے اور جیساکہ مَیں نے ابھی بیان کیا ہے یہ طریق طلبِ روشنی اگر علیٰ وجہ البصیرت اور ہادئ حقیقی کی شناخت کے ساتھ ہو تو یہ عارفانہ دُعا ہے اور اگر صرف فکر اور خوض کے ذریعہ سے یہؔ روشنی لا معلوم مبدء سے طلب کی جائے اور منورِ حقیقی کی ذات پر کامل نظر نہ ہو تو وہ محجوبانہ دُعا ہے۔
    اب اس تحقیق سے تو یہی ثابت ہوا کہ تدبیر کے پیدا ہونے سے پہلا مرتبہ دُعا کا ہے جس کو قانونِ قدرت نے ہر ایک بشر کے لئے ایک ا مرِ لا بدی اور ضروری ٹھہرا رکھا ہے اور ہر ایک طالبِ مقصود کو طبعاً اس پُل پر سے گزرنا پڑتا ہے۔ پھر جائے شرم ہے کہ کوئی ایسا خیال کرے کہ دُعا اور تدبیرمیں کوئی تناقض ہے۔ دُعا کرنے سے کیا مطلب ہوتا ہے ؟ یہی تو ہوتا ہے کہ وہ عالم الغیب جس کو دقیق در دقیق تدبیریں معلوم ہیں کوئی احسن تدبیر دل میں ڈالے یابو جہ خالقیت اور قدرت اپنی طرف سے پیدا کرے پھر دُعا اور تدابیر میں تناقض کیونکر ہوا؟
    علاوہ اس کے جیسا کہ تدبیر اور دُعا کا باہمی رشتہ قانونِ قدرت کی شہادت سے ثابت ہوتا ہے ایسا ہی صحیفہ فطرت کی گواہی سے بھی یہی ثبوت ملتا ہے جیسا کہ دیکھا جاتا ہے کہ انسانی طبائع کسی مصیبت کے وقت جس طرح تدبیر اور علاج کی طرف مشغول ہوتی ہیں۔ ایسا ہی طبعی جوش سے دُعا اور صدقہ اور خیرات کی طرف جھک جاتی ہیں۔ اگر دُنیا کی تمام قوموں پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اب تک کسی قوم کا کانشنس اس متفق علیہا مسئلہ کے برخلاف ظاہر نہیں ہوا۔ پس یہی ایک رُوحانی دلیل اس بات پر ہے کہ انسان کی شریعت باطنی نے بھی قدیم سے تمام قوموں کو یہی فتویٰ دیا ہے کہ وہ دُعا کو اسباب اور تدابیر سے الگ نہ کریں بلکہ دعا کے ذریعہ سے تدابیر کو تلاش کریں۔ غرض دعا اور تدبیر انسانی طبیعت کے دو۲ طبعی تقاضے ہیں کہ جو قدیم سے اور جب سے کہ انسان پیدا ہوا ہے دو حقیقی بھائیوں کی طرح انسانی فطرت کے خادم چلے آئے ہیں اور تدبیر دُعا کے لئے بطور نتیجہ ضرور یہ کے اور دُعا تدبیر کے لئے بطور محرک اور جاذب کے ہے اور انسان کی سعادت اِسی میں ہے کہ وہ تدبیر کرنے سے پہلے دُعا کے ساتھ مبدء فیض سے مدد طلب کرے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 232
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 232
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    تا اُس چشمۂ لازوال سے روشنی پا کر عمدہ تدبیریں میسر آ سکیں۔ *
    ایکؔ اور اعتراض ہے جو پیش کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ ’’کوئی تقدیر معلّق نہیں ہو سکتی اور کوئی الہامی پیشگوئی جو شرطی طور پر ہو خدا تعالیٰ کی عادت کے برخلاف ہے۔‘‘ سو واضح رہے کہ یہ اعتراض بھی ایسا ہی دھوکا ہے جیسا کہ پہلا دھوکا تھا۔ انسانوں کی طبیعتیں ہمیشہ سے اس طرف مائل ہیں کہ اگر وہ
    آج کل مسلمانوں میں ایک ایسا گروہ بھی پایا جاتا ہے جو کہتے ہیں کہ دُعا کچھ چیز نہیں ہے اور قضا و قدر بہر حال وقوع میں آتی ہے۔ لیکن افسوس کہ یہ لوگ نہیں جانتے کہ باوجود سچائی مسئلہ قضا و قدر کے پھر بھی خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت میں بعض آفات کے دُور کرنے کے لئے بعض چیزوں کو سبب ٹھہرا رکھا ہے جیسا کہ پانی پیاس کے بجھانے کے لئے اور روٹی بھوک کے دور کرنے کے لئے قدرتی اسباب ہیں پھر کیوں اس بات سے تعجب کیا جائے کہ دُعا بھی حاجت براری کے لئے خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت میں ایک سبب ہے جس میں قدرتِ حق نے فیوض الٰہی کے جذب کرنے کے لئے ایک قوت رکھی ہے۔ ہزاروں عارفوں راستبازوں کا تجربہ گواہی دے رہا ہے کہ درحقیقت دُعا میں ایک قوتِ جذب ہے۔ اور ہم بھی اپنی کتابوں میں اس بارے میں اپنے ذاتی تجارب لکھ چکے ہیں اور تجربہ سے بڑھ کر اور کوئی ثبوت نہیں۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ قضا و قدر میں پہلے سب کچھ قرار پا چکا ہے مگر جس طرح یہ قرار پا چکا ہے کہ فلاں شخص بیمار ہو گا اور پھریہ دوا استعمال کرے گا تو وہ شفا پا جائے گا اسی طرح یہ بھی قرار پا چکا ہے کہ فلاں مصیبت زدہ اگر دُعا کرے گا تو قبولیت دعا سے اسباب نجات اس کے لئے پیدا کئے جائیں گے۔ اور تجربہ گواہی دے رہا ہے کہ جس جگہ خد ا تعالیٰ کے فضل سے یہ اتفاق ہو جائے کہ بہمہ شرائط دُعا ظہور میں آوے وہ کام ضرور ہو جاتا ہے۔ اسی کی طرف قرآن شریف کی یہ آیت اشارہ فرما رہی ہے۔ 3۱؂ یعنی تم میرے حضور میں دُعا کرتے رہو آخر میں قبول کر لوں گا۔ تعجب کہ جس حالت میں باوجود قضا و قدر کے مسئلہ پر یقین رکھنے کے تمام لوگ بیماریوں میں ڈاکٹروں کی طرف رجوع کرتے ہیں تو پھر دُعا کا بھی کیوں دوا پر قیاس نہیں کرتے؟ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 233
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 233
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    قبل نزول بلا اطلاع دی جائیں کہ فلاں وقت تک بَلا آنے والی ہے تو وہ دُعا اور صدقہ سے ردّ بلا چاہتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی باطنی شریعت نے نوع انسان کے صحیفہ فطرت پر یہی نقش لکھا ہے اور یہی فتویٰ دیا ہے کہ دعاؤں اور صدقات کے ساتھ بلائیں دفع ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی تمام قومیں طبعاً اس بات کی طرف مائل ہیں کہ کسی بلا کے نزول کے وقت یا خوف نزول کے وقت دعاؤں پر زور مارتے ہیں۔ ایک جہاز پر سوار ہونے والے جب غرق ہونے کے آثار پاتے ہیں تو کس طرح گڑگڑاتے اور روتے ہیں ۔ قرآن شریف میں حضرت نوح سے لے کر ہمارے سیّد و مولیٰ محمد مصطفٰیصلی اﷲ علیہ وسلم تک جس قدر نافرمانوں کے حق میں انذاری پیشگوئیاں ذکر فرمائی گئی ہیں وہ سب شرطی طور پر ہیں جن کے یہی معنے ہیں کہ فلاں ؔ عذاب تم پر آنے والا ہے پس اگر تم توبہ کرو اور نیک کام بجا لاؤ تو وہ موقوف رکھا جائے گا ورنہ تم ہلاک کئے جاؤ گے۔ ایسی پیشگوئیوں سے قرآن شریف بھرا پڑا ہے۔*پھر تعجب کہ بعض لوگ مسلمان کہلا کر ایسے اعتراض کرتے ہیں جو قرآنی تعلیم
    ان آیات پر نظر غور ڈالو 3 ۱؂ یعنی جو شخص صبر کرے گا اور ڈرے گا خدا اس کا اجر ضائع نہیں کرے گا۔ یہ عام پیشگوئی ہے جو تقویٰ اور صبر کے ساتھ مشروط ہے اور پھر ایک اور پیشگوئی میں عذاب کا ذکر فرما کر آخر یہ فرمایا 33۲؂ یعنی خدا تعالیٰ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزار اور مومن بن جاؤ گے۔ اس پیشگوئی میں ظاہر فرمایا کہ آنے والا عذاب شکر اور ایمان کے ساتھ دُور ہو جائے گا۔ پھر ایک اور جگہ فرمایا 3
    3۳؂ یعنی مَیں کافروں پر عذاب شدید نازل کروں گا کیادنیا میں اور کیا آخرت میں مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے تو میں انہیں ان کا پورا بدلہ دوں گا۔ دیکھو اس جگہ بھی ایمان کی شرط کے ساتھ عذاب کا ٹل جانا بیان فرمایا ہے۔ اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے۔ 3
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 234
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 234
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    کے بھی مخالف ہیں۔ اس کا یہی سبب ہے کہ اس زمانہ میں بہت سے لوگ دن رات دنیا کی مشغولیوں میں غرق رہ کر اسلامی تعلیم سے سخت غافل ہو گئے ہیں۔
    اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ جو کچھ ہم نے دفع طاعون کے بارے میں بطور حفظِ ماتقدّم اپنے پہلے اشتہار میں ایک تدبیر لکھی تھی اس تد بیر کے بیان کرنے سے ہر گز ہمارا یہ منشا نہ تھا کہ وہ یقینی اور قطعی علاج ہے اور ایسا لا زوال اور تسلی بخش ہے کہ اس کے بعد دُعا کی بھی حاجت نہیں بلکہ منشا صرف اس قدر تھا کہ گمانِ غالب ہے کہ اُس سے فائدہ ہو۔ ہم یقیناًجانتے ہیں کہ کسی مرض کے متعلق ڈاکٹروں اور طبیبوں کے ہاتھ میں کوئی ایسی دوا نہیں جس پر دعویٰ کر سکیں کہ وہ قضا و قدر کے ساتھ پوری لڑائی کر کے تمام قسم کی طبائع کو ضرور کسی مرض سے حکماً نجات دے دے گی بلکہ ہمارا یقین ہے کہ اب تک طبیبوں کو ایسی ؔ دوا میّسر ہی نہیںآئی اور نہ آ سکتی ہے کہ جو حکماًہر ایک طبیعت اور عمر اور ہر ایک ملک کے آدمی کو مفید پڑے اور ہر گز خطا نہ جائے۔ لہٰذا باوجود تدبیر کے بہر حال دُعا کا خانہ خالی ہے اور طاعون تو تمام امراضِ مہلکہ میں سے اوّل درجہ پر ہے۔ پھر کیونکر ایسی مہلک مرض کے بارے میں کوئی دعویٰ کر سکتا ہے کہ کوئی تدبیر یا دوا اس کے حملہ قاتلانہ سے تمام جانوں کو بچا سکتی ہے۔ پھر جب کہ
    3۱؂ یعنی اگر یہ لوگ تکذیب پر کمر بستہ ہوں تو ان کو کہہ دے کہ اگر تم ایمان لاؤ تو خدا کی وسیع رحمت سے تمہیں حصہ ملے گا اور اگر تکذیب سے باز نہ آؤ تو اس کا عذاب ایسا نہیں کہ کسی حیلہ اور تدبیر سے ٹل سکے۔ سو یہ پیشگوئی بھی شر طی ہے اور قرآن شریف میں ایسا ہی انبیاء علیہم السلام کے قصّوں میں جا بجا شرطی پیشگوئیاں ہیں ان سے انکارکرنا گویا اسلام سے انکار کرنا ہے بلکہ حضرت یونس کے قصہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انذاری پیشگوئی بغیر کسی شرط کے بھی صرف توبہ اور استغفارسے ٹل سکتی ہے کیونکہ ازل سے خدائے تعالیٰ کی صفات میں سے یہ صفت ہے کہ وہ توبہ کرنے والوں کی توبہ کو قبول کر کے وعید کی پیشگوئی کو تاخیر میں ڈال دیتا ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 235
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 235
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    قانونِ قدرت ہی بتلا رہا ہے کہ علمِ طب ظنّی ہے اور تمام تدابیر اور معالجات بھی ظنّی تو اس صورت میں کس قدر بد نصیبی ہے کہ ایسے ظنّیات پر بھروسہ کر کے مبدء فیض اور رحمت سے بذریعہ دُعا طلبِ فضل نہ کیا جائے۔ دُعا سے ہم کیا چاہتے ہیں؟ یہی تو چاہتے ہیں کہ وہ عالم الغیب جس کو اصل حقیقت مرض کی بھی معلوم ہے اور دوا بھی معلو م ہے وہ ہماری دستگیری فرما وے اور چاہے تو وہ دوائیں ہمارے لئے میسر کرے جو نافع ہوں اور یا اپنے فضل اور کرم سے وہ دن ہی ہم کو نہ دکھلاوے کہ ہمیں دواؤں اور طبیبوں کی حاجت پڑے۔ کیا اِس میں شک ہے کہ ایک اعلیٰ ذات تمام طاقتوں والی موجود ہے جس کے ارادہ اور حکم سے ہم جیتے اور مرتے ہیں۔ اور جس طرف اس کا ارادہ جھکتا ہے تمام نظام زمین اور آسمان کا اسی طرف جھک جاتا ہے۔ اگر وہ چاہتا ہے کہ کسی ملک کی حالت صحت کسی وقت عمدہ ہو تو ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن سے پانی اُس ملک کا ہر ایک عفونت سے محفوظ رہے اور ہوا میں کوئی تغیّرغیر طبعی پیدا نہ ہو اور غذائیں صالحہ میسر آویں۔ اور دوسرے تمام مخفی اسباب کیا ارضی اور کیا سماوی جو مضر صحت ہیں ظہور اور بروز نہ کریں ۔اور اگر وہ کسی ملک کے لئے وبا اور موتؔ کو چاہتا ہے تو وباء کے پیدا کرنے والے اسباب پید ا کر دیتا ہے کیونکہ تمامملکوت السماوات والارض اُسی کے ہاتھ میں ہے۔ اور ہر ایک ذرّہ دوا اور غذا اور اجرام اجسام کا اُس کی آواز سُنتا ہے یہ نہیں کہ وہ دنیا کو پیدا کر کے معطّل اور بے اختیار کی طرح الگ ہو کر بیٹھ گیا ہے بلکہ اب بھی وہ دنیا کا خالق ایسا ہی ہے جیسا کہ پہلے تھا۔ چند سال میں ہمارے جسم کے پہلے اجزا
    تحلیل پا جاتے ہیں اور دوسرے اجزا اُن کی جگہ آ جاتے ہیں۔ سو یہ سلسلہ خَلْق اور آفرینش ہے جو برابر جاری رہتا ہے ایک عالم فنا پذیر ہوتا ہے اور دوسرا عالم اُس کی جگہ پکڑتا ہے۔ ایسا ہی ہمارا خدا قیّومُ العَالَم بھی ہے جس کے سہارے سے ہر ایک چیز کی بقا ہے۔ یہ نہیں کہ اُس نے کسی رُوح اور جسم کو پیدا نہیں کیا یا پیدا کر کے الگ ہو گیا بلکہ وہ فی الواقع ہر ایک جان کی جان ہے اور ہر ایک موجود محض اس سے فیض پا کر قائم رہ سکتا ہے اور فیض پا کر ابدی زندگی حاصل کر تا ہے جیسا کہ ہم بغیر اس کے جی نہیں سکتے ایسا ہی بغیر اس کے ہمارا وجود بھی پیدا نہیں ہوا۔ پس جب کہ وہ ایسا
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 236
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 236
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    خدا ہے کہ ہماری حیات اور زندگی اُسی کے ہاتھ میں ہے اور اُسی کے حکم سے ہمارے وجود کے ذرّات ملتے اور علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں تو پھر اُس کے مقابل پر یہ کہنا کہ بغیر اُس کی امداد اور فضل کے ہم محض اپنی تدبیروں پر بھروسہ کر کے جی سکتے ہیں کس قدر فاش غلطی ہے۔ نہیں بلکہ ہماری تدبیریں بھی اُسی کی طرف سے آتی ہیں۔ ہمارے ذہنوں میں تبھی روشنی پید اہوتی ہے جب وہ بخشتا ہے۔ پانی اور ہوا پر بھی ہمارا تصرف نہیں۔ بہت سے اسباب ہیں جو ہمارے اختیار سے باہر اور صرف قبضۂ قدرت خدا ئے تعالیٰ میں ہیں جو ہماری صحت یا عدم صحت پر بڑا اثر ڈالنے والے ہیں۔ جیسا کہ اﷲ جلّ شَانُہ‘ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ 33 ۱؂ یعنی ہواؤں اور بادلوں کو پھیرنا یہ خدا تعالیٰ کا ہی کام ہے اور اس میں عقل مندوں کو خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کے اختیارِ کامل کا پتہ لگتا ہے۔ اور یہ پھیرنا دو قسم پر ہے ایک ظاہری طور پراور وہ یہ ہے کہ ہواؤں اور بادلوں کو ایک جہت سے دوسری جہت کی طرف اور ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف پھیرا جائے۔ دوسری ؔ قسم پھیرنے کی باطنی طور پر ہے۔ اور وہ یہ کہ ہواؤں اور بادلوں میں ایک کیفیت تریاقی یا سمّی پیدا کر دی جائے تا موجب امن و آسائشِ خلق ہوں یا امراضِ وبائیہ کا موجب ٹھہریں۔ سو ان دونوں قسموں کے پھیرنے میں انسان کا دخل نہیں اور بکّلی انسانی طاقت سے باہر ہیں۔ اور باایں ہمہ ایک یہ مشکل بھی پیش ہے کہ ہماری صحت یا عدم صحت کا مدار صرف اِ ن ہی دوچیزوں پر نہیں بلکہ ہزا ر در ہزار اسباب ارضی و سماوی اَور بھی ہیں جو دقیق در دقیق اور انسان کی فکر اور نظر سے مخفی ہیں اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ تمام اسباب اُس کی جدوجہد سے پیدا ہو سکتے ہیں۔ پس اِس میں کیا شک ہے کہ انسان کو اس خدا کی طرف رجوع کرنے کی حاجت ہے جس کے ہاتھ میں یہ تمام اسباب اور اسباب در اسباب ہیں۔ اور جس طرح خدا تعالیٰ کی کتابوں میں نیک انسان اور بد انسان میں فرق کیا گیا ہے اور اُن کے جُدا جُدا مقام ٹھہرائے ہیں اِسی طرح خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت میں ان دو انسانوں میں بھی فرق ہے جن میں سے ایک خدا تعالیٰ کو چشمہء فیض
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 237
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 237
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    سمجھ کر بذریعہ حالی اور قالی دُعاؤں کے اس سے قوت اورامداد مانگتا اوردوسرا صرف اپنی تدبیر اور قوت پر بھروسہ کرکے دُعا کو قابل مضحکہ سمجھتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ سے بے نیاز اور متکبّرانہ حالت میں رہتا ہے۔ جو شخص مشکل اور مصیبت کے وقت خدا سے دُعا کرتا اور اس سے حلِ مشکلات چاہتا ہے وہ بشرطیکہ دُعا کو کمال تک پہنچاوے خدا تعالیٰ سے اطمینان اور حقیقی خوشحالی پاتا ہے اور اگر بالفرض وہ مطلب اس کو نہ ملے تب بھی کسی اَور قسم کی تسلّی اور سکینت خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کو عنایت ہوتی ہے اور وہ ہرگز ہرگز نامراد نہیں رہتا اور علاوہ کامیابی کے ایما نی قوت اس کی ترقی پکڑتی ہے اور یقین بڑھتا ہے لیکن جو شخص دُعا کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف مُنہ نہیں کرتا وہ ہمیشہ اندھا رہتا اور ا ندھا مرتا ہے اور ہماری اس تقریر میں اُن نادانوں کا جواب کافی طو رپر ہے جو اپنی نظرِ خطاکار کی وجہ سے یہ اعتراض کر بیٹھتے ہیں کہ بہتیرے ایسے آدمی نظر آتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ وہ اپنے حال اور قال سے دُعا میں فنا ہوتے ہیں پھر بھی اپنے مقاصد میں نامُراد رہتے اور نامُراد مرتے ہیں اور ؔ بمقابل ان کے ایک اَور شخص ہوتا ہے کہ نہ دُعا کا قائل نہ خدا کا قائل وہ اُن پر فتح پاتا ہے اور بڑی بڑی کامیابیاں اُس کو حاصل ہوتی ہیں۔ سو جیسا کہ ابھی مَیں نے اشارہ کیا ہے اصل مطلب دُعا سے اطمینان اور تسلّی اور حقیقی خوشحالی کا پانا ہے۔ اور یہ ہرگز صحیح نہیں کہ ہماری حقیقی خوشحالی صرف اُسی امر میں میسّرآ سکتی ہے جس کو ہم بذریعہ دُعا چاہتے ہیں بلکہ وہ خدا جو جانتا ہے کہ ہماری حقیقی خوشحالی کس امرمیں ہے وہ کامل دُعا کے بعد ہمیں عنایت کر دیتا ہے جو شخص رُوح کی سچائی سے دُعا کرتا ہے وہ ممکن نہیں کہ حقیقی طور پر نامراد رہ سکے بلکہ وہ خوشحالی جو نہ صرف دولت سے مل سکتی ہے اور نہ حکومت سے اور نہ صحت سے بلکہ خدا کے ہاتھ میں ہے جس پیرایہ میں چاہے وہ عنایت کر سکتا ہے ہاں وہ کامل دعاؤں سے عنایت کی جاتی ہے۔ اگر خدا تعالیٰ چاہتا ہے تو ایک مخلص صادق کو عین مصیبت کے وقت میں دُعا کے بعد وہ لذت حاصل ہو جاتی ہے جو ایک شہنشاہ کو تختِ شاہی پر حاصل نہیں ہو سکتی۔ سو اسی کا نام حقیقی مراد یابی ہے جو آخر دُعا کرنے والوں کو ملتی ہے۔ اور
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 238
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 238
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    اُن کی آفات کا خاتمہ بڑی خوشحالی کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن اگر اطمینان اور سچی خوشحالی حاصل نہیں ہوئی تو ہماری کامیابی بھی ہمارے لئے ایک دُکھ ہے۔ سو یہ اطمینان اور رُوح کی سچی خوشحالی تدابیر سے ہر گز نہیں ملتی بلکہ محض دُعا سے ملتی ہے۔ مگر جو لوگ خاتمہ پر نظر نہیں رکھتے وہ ایک ظاہری مُراد یابی یا نا مرادی کو دیکھ کر مدارِ فیصلہ اسی کو ٹھہرادیتے ہیں اور اصل بات یہ ہے کہ خاتمہ بالخیر اُن ہی کا ہوتا ہے جو خدا سے ڈرتے اور دُعا میں مشغول ہوتے ہیں اور وہی بذریعہ حقیقی اور مبارک خوشحالی کے سچی مراد یابی کی دولتِ عظمیٰ پاتے ہیں۔
    یہ بڑی بے انصافی اور سخت تاریکی کے نیچے دبا ہوا خیال ہے کہ اُس فیض سے انکار کیا جائے جو محض دُعا کی نالی کے ذریعہ سے آتا ہے اور ان پاک نبیوں کی تعلیم کو بنظرِ استخفاف دیکھا جائے جس کا عملی طور پر نمونہ اُن ہی کے زمانہ میں کھل گیا ہے۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اُن مقدسوں کی بد دُعا سے ہمیشہ وہ سرکش اور نا فرمان ذلیل اور ہلاک ہوتے رہے ہیں جنہوں نے اُن ؔ کا مقابلہ کیا۔ حضرت نوح علیہ السلام کی بد دُعا کا اثر دیکھو جس کے جوش سے پہاڑ بھی پانی کے نیچے آ گئے تھے اورکروڑ ہا انسان ایک دم میں دارالفنا میں پہنچ گئے۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بد دُعا پر غور کرو جس نے فرعون کو اُس کے تمام لشکروں کے ساتھ ہلاک کیا۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بد دُعا کی قوت اور اثر کو سوچو جس کے ذریعہ سے یہودیوں کا استیصال رُومی سلطنت کے ہاتھ سے ہوا۔ پھر ہمارے سیّد و مولیٰ کی بد دُعا میں ذرہ فکر کرو کہ کیونکر اس بد دُعا کے بعد شریر ظالموں کا انجام ہوا۔
    اب کیا یہ تسلی بخش ثبوت نہیں ہے کہ قدیم سے خدا تعالیٰ کا ایک روحانی قانونِ قدرت ہے کہ دُعا پر حضرتِ احدّیت کی توجہ جوش مارتی ہے اور سکینت اور اطمینان اور حقیقی خوشحالی ملتی ہے اگر ہم ایک مقصد کی طلب میں غلطی پر نہ ہوں تو وہی مقصدمل جاتا ہے اور اگر ہم اس خطاکار بچہ کی طرح جو اپنی ماں سے سانپ یا آگ کا ٹکڑہ مانگتا ہے اپنی دُعا اور سوال میں غلطی پر ہوں تو خدا تعالیٰ وہ چیز جو ہمارے لئے بہتر ہو عطا کرتا ہے۔ اور باایں ہمہ دونوں صورتوں میں ہمارے ایمان کو بھی ترقی دیتا ہے کیونکہ ہم دُعا کے ذریعہ سے پیش از وقت خدا تعالیٰ سے علم پاتے ہیں اور ایسا یقین بڑھتا ہے کہ گویا
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 239
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 239
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    ہم اپنے خدا کو دیکھ لیتے ہیں اور دُعا اور استجابت میں ایک رشتہ ہے کہ ابتداسے اور جب سے کہ انسان پیدا ہوا برابر چلا آتا ہے۔ جب خدا تعالیٰ کا ارادہ کسی بات کے کرنے کے لئے توجہ فرماتا ہے تو سنّت اﷲ یہ ہے کہ اُس کا کوئی مخلص بندہ اضطرار اور کرب اور قلق کے ساتھ دُعا کرنے میں مشغول ہو جاتا ہے اور اپنی تمام ہمت اور تمام توجہ اس امر کے ہو جانے کے لئے مصروف کرتا ہے۔ تب اُس مردِ فانی کی دُعائیں فیوضِ الہٰی کو آسمان سے کھینچتی ہیں اور خد اتعالیٰ ایسے نئے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن سے کام بن جائے۔ یہ دُعا اگرچہ بعالم ظاہر انسان کے ہاتھوں سے ہوتی ہے مگر درحقیقت وہ انسان خدا میں فانی ہوتا ہے اور دُعا کرنے کے وقت میں حضرتِ احدیّت و جلال میں ایسے فنا کے قدم سے آتا ہے کہ اُس وقت وہ ہاتھ اُس کا ہاتھ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ یہی ؔ دُعا ہے جس سے خدا پہچانا جاتا ہے اوراُس ذوالجلال کی ہستی کا پتہ لگتا ہے جو ہزاروں پَردوں میں مخفی ہے۔ دُعا کرنے والوں کے لئے آسمان زمین سے نزدیک آ جاتا ہے اور دُعا قبول ہو کر مشکل کشائی کے لئے نئے اسباب پیدا کئے جاتے ہیں اور اُن کا علم پیش از وقت دیا جاتا ہے اور کم سے کم یہ کہ میخ آہنی کی طرح قبولیتِ دُعا کا یقین غیب سے دل میں بیٹھ جاتا ہے ۔ سچ یہی ہے کہ اگر یہ دُعا نہ ہوتی تو کوئی انسان خدا شناسی کے بارے میں حق الیقین تک نہ پہنچ سکتا۔ دُعا سے الہام ملتا ہے۔دُعا سے ہم خدا تعالیٰ کے ساتھ کلام کرتے ہیں۔ جب انسان اخلاص اور توحید اور محبت اور صدق اور صفا کے قدم سے دُعا کرتا کرتا فنا کی حالت تک پہنچ جاتا ہے تب وہ زندہ خدا اُس پر ظاہر ہوتا ہے جو لوگوں سے پوشیدہ ہے دُعا کی ضرورت نہ صرف اس وجہ سے ہے
    کہ ہم اپنے دنیوی مطالب کو پا ویں بلکہ کوئی انسان بغیر ان قدرتی نشانوں کے ظاہر ہونے کے جو دُعا کے بعد ظاہر ہوتے ہیں اُس سچے ذوالجلال خدا کو پا ہی نہیں سکتا جس سے بہت سے دل دور پڑے ہوئے ہیں۔ نادان خیال کرتا ہے کہ دعا ایک لغو اور بیہودہ امر ہے مگر اُسے معلوم نہیں کہ
    صرف ایک دُعا ہی ہے جس سے خداوند ذوالجلال ڈھونڈنے والوں پر تجلی کرتا اور اَنَاالْقَادِر کا الہام اُن کے دلوں پر ڈالتا ہے۔ ہر ایک یقین کا بھوکا اور پیاسا یاد رکھے کہ اس زندگی میں رُوحانی
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 240
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 240
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/240/mode/1up
    روشنی کے طالب کے لئے صرف دعا ہی ایک ذریعہ ہے جو خدا تعالیٰ کی ہستی پر یقین بخشتا اور تمام شکوک و شبہات دُور کردیتا ہے ۔ کیونکہ جو مقاصد بغیر دعا کے کسی کو حاصل ہوں وہ نہیں جانتا کہ کیونکر اور کہاں سے اس کو حاصل ہوئے ۔ بلکہ صرف تدبیروں پر زور مارنے والا اور دعا سے غافل رہنے والا یہ خیال نہیں کر سکتا کہ یقیناًو حقاً خدا تعالیٰ کے ہاتھ نے اُس کے مقاصد کو اس کے دامن میں ڈالا ہے یہی وجہ ہے کہ جو شخص دُعا کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر کسی کامیابی کی بشارت دیا جاتا ہے وہ اس کام کے ہو جانے پر خدا تعالیٰ کی شناخت اور معرفت اور محبت میں آگے قدم بڑھاتا ہے اور اس قبولیت دُعا ؔ کو اپنے حق میں ایک عظیم الشان نشان دیکھتا ہے اور اسی طرح وقتاً فوقتاًیقین سے پُر ہو کر جذباتِ نفسانی اور ہر ایک قسم کے گناہ سے ایسا مجتنب ہو جاتا ہے کہ گویا صرف ایک رُوح رہ جاتا ہے ۔ لیکن جو شخص دُعا کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کے رحمت آمیز نشانوں کو نہیں دیکھتا وہ باوجود تمام عمر کی کامیابیوں اور بے شمار دولت اور مال اور اسبابِ تنعم کے دولت حق الیقین سے بے بہرہ ہوتا ہے اور وہ کامیابیاں اس کے دل پر کوئی نیک اثر نہیں ڈالتیں بلکہ جیسے جیسے دولت اور اقبال پاتا ہے غرور اور تکبر میں بڑھتا جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ پر اگر اس کو کچھ ایمان بھی ہو تو ایسا مُردہ ایمان ہو تا ہے جو اُس کو نفسانی جذبات سے روک نہیں سکتا اور حقیقی پاکیزگی بخش نہیں سکتا۔
    یہ بات یاد رہے کہ اگرچہ قضا و قدر میں سب کچھ مقرر ہو چکا ہے مگر قضا و قدر نے علوم کو ضائع نہیں کیا۔ سو جیسا کہ باوجود تسلیم مسئلہ قضا و قدر کے ہر ایک کو علمی تجارب کے ذریعہ سے ماننا پڑتا ہے کہ بے شک دواؤں میں خواص پوشیدہ ہیں اور اگر مرض کے مناسب حال کوئی دوا استعمال ہو تو خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے بے شک مریض کو فائدہ ہوتا ہے سو ایسا ہی علمی تجارب کے ذریعہ سے ہر ایک عارف کو ماننا پڑا ہے کہ دُعا کا قبولیت کے ساتھ ایک رشتہ ہے۔ ہم اس راز کو معقولی طور پر دوسروں کے دلوں میں بٹھا سکیں یا نہ بٹھا سکیں مگر کروڑ ہا راستبازوں کے تجارب نے اور خود ہمارے تجربہ نے اس مخفی حقیقت کو ہمیں دکھلا دیا ہے کہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 241
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 241
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/241/mode/1up
    کہ ہمارا دعا کرنا ایک قوتِ مقناطیسی رکھتا ہے اور فضل اور رحمت الہٰی کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ نماز کا مغز اور رُوح بھی دعا ہی ہے جو سورۂ فاتحہ میں ہمیں تعلیم دی گئی ہے جب ہم 33۱؂ کہتے ہیں تو اس دعا کے ذریعہ سے اس نور کو اپنی طرف کھینچنا چاہتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے اُترتا اور دلوں کو یقین اور محبت سے منور کرتا ہے۔
    بعض لوگ جلدی سے کہہ دیتے ہیں کہ ہم دعا سے منع نہیں کرتے مگر دعا سے مطلبؔ صرف عبادت ہے جس پر ثواب مترتب ہوتا ہے ۔ مگر افسوس کہ یہ لوگ نہیں سوچتے کہ ہر ایک عبادت جس کے اندر خدا تعالیٰ کی طرف سے رُوحانیت پیدا نہیں ہوتی اور ہر ایک ثواب جس کی محض خیال کے طور پر کسی آئندہ زمانہ پراُمید رکھی جاتی ہے وہ سب خیالِ باطل ہے حقیقی عبادت اور حقیقی ثواب وہی ہے جس کے اِسی دُنیا میں انوار اور برکات محسوس بھی ہوں۔ ہماری پرستش کی قبولیت کے آثار یہی ہیں کہ ہم عین دُعا کے وقت میں اپنے دل کی آنکھ سے مشاہدہ کریں کہ ایک تریاقی نور خدا سے اُترتا اور ہمارے دل کے زہریلے مواد کو کھوتا اور ہمارے پر ایک شعلہ کی طرح گرتا اور فی الفور ہمیں ایک پاک کیفیتِ انشراح صدر اور یقین اور محبت اور لذّت اور اُنس اور ذوق سے پُر کر دیتا ہے۔ اگر یہ امرنہیں ہے تو پھر دُعا اور عبادت بھی ایک رسم اور عادت ہے۔ ہر ایک دُعا گو ہماری دنیوی مشکل کشائی کے لئے ہو مگر ہماری ایمانی حالت اور عرفانی مرتبت پر گزر کر آتی ہے۔ یعنی اوّل ہمیں ایمان اور عرفان میں ترقی بخشتی ہے اور ایک پاک سکینت اور انشراح صدر اور اطمینان اور حقیقی خوشحالی ہمیں عطا کرکے پھر ہماری دنیوی مکروہات پر اپنا اثر ڈالتی ہے اور جس پہلو سے مناسب ہے اس پہلو سے ہمارے غم کو دُور کر دیتی ہے۔ پس اس تمام تحقیقات سے ثابت ہے کہ دُعا اُسی حالت میں دعا کہلا سکتی ہے کہ جب درحقیقت اس میں ایک قوّتِ کشش ہو اور واقعی طور پر دُعا کرنے کے بعد آسمان سے ایک نور اُترے جو ہماری گھبراہٹ کو دور کرے اور ہمیں انشراح صدر بخشے اور سکینت اور اطمینان عطا کرے۔ ہاں حکیم مطلق ہماری دعاؤں کے بعد دو طور سے نصرت اور امداد کو نازل کرتا ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 242
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 242
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/242/mode/1up
    (۱) ایک یہ کہ اُس بلا کو دُور کر دیتا ہے جس کے نیچے ہم دَب کر مرنے کو تیار ہیں۔ (۲)دوسرے یہ کہ بلا کی برداشت کے لئے ہمیں فوق العادت قوت عنایت کرتا ہے بلکہ اُس میں لذّت بخشتا ہے اور انشراح صدر عنایت فرماتا ہے۔ پس ان دونوں طریقوں سے ثابت ہے کہ دُعا سے ضرور نُصرت الہٰی نازل ہوتی ہے۔
    یہ باؔ ت بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ دُعا جو خدا تعالیٰ کی پاک کلام نے مسلمانوں پر فرض کی ہے۔ اس کی فرضیّت کے چار۴ سبب ہیں۔ (۱)ایک یہ کہ تا ہر ایک وقت اور ہر ایک حالت میں خدا تعالیٰ کی طرف رجوع ہو کر توحید پر پختگی حاصل ہو۔ کیونکہ خدا سے مانگنا اس بات کا اقرار کرنا ہے کہ مُرادوں کا دینے والا صرف خدا ہے۔(۲) دوسرے یہ کہ تا دُعا کے قبول ہونے اورمراد کے ملنے پر ایمان قوی ہو (۳) تیسرے یہ کہ اگر کسی اور رنگ میں عنایتِ الہٰی شامل حال ہو تو علم اور حکمت زیادت پکڑے۔ (۴)چوتھے یہ کہ اگر دُعا کی قبولیت کا الہام اور رؤیاکے ساتھ وعدہ دیا جائے اور اُسی طرح ظہور میں آوے تو معرفت الٰہی ترقی کرے اور معرفت سے یقین اور یقین سے محبت اور محبت سے ہر ایک گناہ اور غیر اﷲ سے انقطاع حاصل ہو جو حقیقی نجات کا ثمرہ ہے۔ لیکن اگر کسی کو بطور خود مرادیں ملتی جائیں اور خد ا تعالیٰ سے دوری اور محجوبی ہو تو وہ تمام مرادیں انجام کار حسرتیں ہیں اور وہ تمام مقاصد جن پر فخر کیا جاتا ہے آخر الامر جائے افسوس اور تاسّف ہیں۔ دنیا کے تمام عیش آخر رنج سے بدل جائیں گے اور تمام راحتیں دُکھ اور درد دکھائی دیں گی۔ مگر وہ بصیرت اور معرفت جو انسان کو دعا سے حاصل ہوتی ہے اور وہ نعمت جو دعا کے وقت آسمانی خزانہ سے ملتی ہے وہ کبھی کم نہ ہو گی اور نہ اُس پر زوال آئے گا بلکہ روز بروز معرفت اور محبت الہٰی میں ترقی ہو کر انسان اس زینہ کے ذریعہ سے جو دُعا ہے فردوسِ اعلیٰ کی طرف چڑھتا چلا جائے گا۔ خد ا تعالیٰ کی چار ۴ اعلیٰ درجہ کی صفتیں ہیں جو اُمّ الصِّفات ہیں اور ہر ایک صفت ہماری بشریت سے ایک امر مانگتی ہے اور وہ چار صفتیں یہ ہیں۔
    ربوبیّت۔ رحمانیّت۔ رحیمیّت ۔ مالکیّت یوم الدّین۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 243
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 243
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/243/mode/1up
    (۱) ربوبیّت اپنے فیضان کے لئے عدم محض یا مشابہ بالعدم کو چاہتی ہے اور تمام انواع مخلوق کی جاندار ہوں یا غیر جاندار اسی سے پیراۂ وجود پہنتے ہیں۔
    (۲) رحمانیّت اپنے فیضان کے لئے صرف عدم کو ہی چاہتی ہے۔ یعنی اُس عدمِ محض کو جسؔ کے وقت میں وجود کا کوئی اثر اور ظہور نہ ہو اور صرف جانداروں سے تعلق رکھتی ہے اور چیزوں سے نہیں۔
    (۳) رحیمیّت اپنے فیضان کے لئے موجود ذوالعقل کے مُنہ سے نیستی اور عدم کا اقرار چاہتی ہے اور صرف نوع انسان سے تعلق رکھتی ہے۔
    (۴) مالکیّت یوم الدّین اپنے فیضان کے لئے فقیرانہ تضرع اور الحاح کو چاہتی ہے اور صر ف اُن انسانوں سے تعلّق رکھتی ہے جو گداؤں کی طرح حضرت احدیّت کے آستانہ پر گِرتے ہیں اور فیض پانے کے لئے دامنِ افلاس پھیلاتے ہیں اور سَچ مُچ اپنے تئیں تہی دست پاکر خدا تعالیٰ کی مالکیّت پر ایمان لاتے ہیں۔
    یہ چار الٰہی صفتیں ہیں جو دنیا میں کام کر رہی ہیں اور ان میں سے جو رحمیّتکی صفت ہے وہ دُعا کی تحریک کرتی ہے اور مالکیّت کی صفت خوف اور قلق کی آگ سے گداز کرکے سچا خشوع اور خضوع پیدا کرتی ہے کیونکہ اس صفت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ مالکِ جزا ہے کسی کا حق نہیں جو دعوے سے کچھ طلب کرے اور مغفرت اور نجات محض فضل پر ہے۔
    اب خلاصۂ کلام یہ کہ خدا تعالیٰ کی یہ چار صفتیں ہیں جو قرآنی تعلیم اور تحقیق عقل سے ثابت ہوتی ہیں۔ اور منجملہ ان کے رحیمیّت کی صفت ہے جو تقاضا کرتی ہے کہ کوئی انسان دعا کرے تا اس دعا پر فیوض الٰہی نازل ہوں۔ ہم نے براہین احمدیہ اور کرامات الصادقین میں بھی یہ ذکر لکھا ہے کہ کیونکر یہ چاروں صفتیں لفّ و نشر مرتب کے طور پر سورہ فاتحہ میں بیان کی گئی ہیں اور کیونکر صحیفۂ فطرت پر نظر ڈال کر ثابت ہوتا ہے کہ اِسی ترتیب سے جو سورہ فاتحہ میں ہے یہ چاروں صفتیں خدا کی فعلی کتاب قانونِ قدرت میں پائی جاتی ہیں۔ اب دعا سے انکارکرنا یا
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 244
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 244
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/244/mode/1up
    اس کو بے سودسمجھنا یا جذب فیوض کے لئے ا س کو ایک محرّک قرار نہ دینا گویا خدا تعالیٰ کی تیسری صفت سے جو رحیمیّت ہے انکار کرنا ہے۔ مگر یہ انکار درپردہ دہریّت کی طرف ایک حرکت ہے کیونکہ رحیمیّت ہی ایک ایسی صفت ہے جس کے ذریعہ سے باقی تمام صفات پر یقین بڑھتا اور کمال تک پہنچتا ہے۔ وجہ یہ کہ جب ہم خدا تعالیٰ کی رحیمیّت کے ذریعہ سے اپنی دعاؤں اور تضرّعات پر الٰہی فیضوں کوپاتے ہیں اور ہر ایک قسم کی مشکلات حل ہوتی ہیں تو ہمارا ایمان خداؔ تعالیٰ کی ہستی اور اس کی قدرت اور رحمت اوردوسری صفات کی نسبت بھی حق الیقین تک پہنچتا ہے اور ہمیں چشم دید ماجرا کی طرح سمجھ آ جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ درحقیقت حمد اور شکر کا مستحق ہے اور درحقیقت اس کی ربوبیّت اور رحمانیّت اور دوسری صفات سب درست اور صحیح ہیں لیکن بغیر رحیمیّت کے ثبو ت کے دوسری صفات بھی مشتبہ رہتی ہیں۔
    ظاہر ہے کہ امر مقدّم اور ایک بھاری مرحلہ جو ہمیں طے کرنا چاہئیے وہ خدا شناسی ہے اور اگر ہماری خدا شناسی ہی ناقص اور مشتبہ اور دُھندلی ہو تو ہمارا ایمان ہرگز منوّر اور چمکیلا نہیں ہو سکتا۔ اور یہ خدا شناسی جب تک کہ رحیمیّت کی صفت کے ذریعہ سے ہمارا چشم دید واقعہ نہ بن جائے تب تک ہم کسی طرح سے اپنے ربّ کریم کی حقیقی معرفت کے چشمہ سے آب زلال نہیں پی سکتے۔ اگر ہم اپنے تئیں دھوکا نہ دیں تو ہمیں اقرارکرنا پڑے گا کہ ہم تکمیل معرفت کے لئے اس بات کے محتاج ہیں کہ خدا تعالیٰ کی صفتِ رحیمیت کے ذریعہ سے تمام شکوک و شبہات ہمارے دور ہو جائیں اور خدا تعالیٰ کی رحمت اور فضل اور قدرت کی صفات تجربہ میں آکر ہمارے دل پر ایسا قوی اثر پڑے کہ ہمیں اُن نفسانی جذبات سے چھُڑائے جو محض کمزورئ ایمان اور یقین کی وجہ سے ہمارے پر غالب آتے اور دوسری طرف رُخ کر دیتے ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ انسان اِس چند روزہ دنیا میں آکر بوجہ اس کے کہ خدا شناسی کی پُرزور کرنیں اُس کے دل پر نہیں پڑتیں ایک خوفناک تاریکی میں مبتلا ہو جاتا ہے اور جس قدر دُنیا اور دنیا کی املاک اور دنیا کی ریاستیں اور حکومتیں اور دولتیں اس کو پیاری معلوم ہوتی ہیں اس قدر
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 245
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 245
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/245/mode/1up
    عالمِ معاد کی لذّات اور خوشحالی حقیقی کی جستجو اُس کو نہیں ہوتی۔ اور اگر کوئی نسخہ دنیا میں ہمیشہ رہنے کا نکلے تو اپنے مُنہ سے اِس بات کے کہنے کے لئے طیّار ہے کہ مَیں بہشت اور عالمِ آخرت کی نعمتوں کی خواہش سے باز آیا۔ پس اس کا کیا سبب ہے؟یہی تو ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے وجود اور اس کی قدرت اور رحمت اور وعدوں پر حقیقی ایمان نہیں۔ پس حق کے طالب کے لئے نہایت ضروری ہے کہ اس حقیقی ایمان کی تلاش میں لگا رہے اور اپنے تئیں یہ دھوکا نہ دے کہ ؔ مَیں مسلمان ہوں اور خدا اور رسول پر ایمان لاتا ہوں۔ قرآن شریف پڑھتا ہوں شرک سے بیزار ہوں ۔نماز کا پابند ہوں اور ناجائز اور بدباتوں سے اجتناب کرتا ہوں ۔کیونکہ مرنے کے بعد کامل نجات اور سچی خوشحالی اور حقیقی سرور کا وہ شخص مالک ہو گا جس نے وہ زندہ اور حقیقی نور اس دنیا میں حاصل کر لیا ہے جو انسان کے مُنہ کو اس کی تمام قوتوں اور طاقتوں اورارادوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف پھیر دیتا ہے اور جس سے اس سفلی زندگی پر ایک موت طاری ہو کر انسانی رُوح میں ایک سچی تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ زندہ اور حقیقی نور کیا چیز ہے؟ وہی خداداد طاقت ہے جس کا نام یقین اور معرفتِ تامّہ ہے۔ یہ وہی طاقت ہے جو اپنے زور آور ہاتھ سے ایک خوفناک اور تاریک گڑھے سے انسان کو باہر لاتی اور نہایت روشن اور پُرامن فضا میں بٹھا دیتی ہے اور قبل اس کے جو یہ روشنی حاصل ہو تمام اعمال صالحہ رسم اور عادت کے رنگ میں ہوتے ہیں اور اس صورت میں ادنیٰ ادنیٰ ابتلاؤں کے وقت انسان ٹھوکر کھا سکتا ہے بجز اس مرتبہ یقین کے خدا سے معاملہ صافی کس کا ہو سکتا ہے؟ جس کو یقین دیا گیا ہے وہ پانی کی طرح خدا کی طرف بہتا ہے اور ہوا کی طرح اُس کی طرف جاتا ہے اور آگ کی طرح غیر کو جلا دیتا ہے اور مصائب میں زمین کی طرح ثابت قدمی دکھلاتا ہے۔ خدا کی معرفت دیوانہ بنا دیتی ہے مگر لوگوں کی نظر میں دیوانہ اور خدا کی نظر میں عقلمند اور فرزانہ۔ یہ شربت کیا ہی شیریں ہے کہ حلق سے اُترتے ہی تمام بدن کو شیریں کر دیتا ہے اور یہ دودھ کیا ہی لذیذ ہے کہ ایک دم میں تمام نعمتوں سے فارغ اور لاپرواہ کر دیتا ہے۔ مگر ان دعاؤں سے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 246
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 246
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/246/mode/1up
    سے حاصل ہوتا ہے جو جان کو ہتھیلی پر رکھ کر کی جاتی ہیں۔ اور کسی دوسرے کے خون سے نہیں بلکہ اپنی سچی قربانی سے حاصل ہوتا ہے۔ کیسا مشکل کام ہے۔ آہ صد آہ!
    مَیں مناسب دیکھتا ہوں کہ صفائی بیان کے لئے صفاتِ اربعہ مذکورہ کی تشریح بذیل تفسیر سورۂ فاتحہ اس جگہ لکھ دوں تامعلوم ہو کہ کیونکراﷲ جل شانہٗ نے اپنی کتاب کی پہلی سُورۃ میں ہی دعا کے لئے ترغیب دی ہے۔ اور وہ یہ ہے 3۔3۔3۔3۔3۔ 3۔333۔ ۱؂ آمین ۔
    ترجمہ : خدا جس کا نام اﷲ *ہے تمام اقسام تعریفوں کا مستحق ہے۔ اور ہر ایک تعریف اُسی کی شان کے لائق ہے کیونکہ وہ ربّ العالمین ہے۔ وہ رحمان ہے، وہ رحیم ہے، وہ مالک یوم الدّین ہے۔ ہم (اے صفات کاملہ والے) تیری ہی پرستش کرتے ہیں اور مدد بھی تجھ سے ہی چاہتے ہیں۔ ہمیں وہ سیدھی راہ دکھلا جو اُن لوگوں کی راہ ہے جن پر تیرا انعام ہے۔ اور اُن راہوں سے بچا جو اُن لوگوں کی راہیں ہیں جن پر تیرا غضب طاعون وغیرہ عذابوں سے دُنیا ہی میں وارد ہوا اور نیز اُن لوگوں کی راہوں سے بچا کہ جن پر اگرچہ دنیا میں کوئی عذاب وارد نہیں ہوا ۔مگر اُخروی نجات کی راہ سے وہ دور جا پڑے ہیں اور آخر عذاب میں گرفتار ہوں گے۔
    اب واضح رہے کہ یہ سورۃ قرآن شریف کی پہلی سورۃ ہے جس کا نام سورۃفاتحہ ہے کیونکہ ابتدا اس سے ہے اور اس کا نام اُمّ الکتاب بھی ہے کیونکہ قرآن شریف کی تمام تعلیم کا اِس میں
    *نوٹ: ان آیاتِ سورۃ فاتحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا جس نے اﷲ کے نام سے قرآن میں اپنے تئیں ظاہر کیا وہ ربّ العالمین ہو کر مبدء ہے تمام فیضوں کا اور رحمان ہو کر مُعطی ہے تمام انعاموں کا۔ اور رحیم ہو کر قبول کرنے والا ہے تمام سُود مند دعاؤں اور کوششوں کا اور مالک یوم الدّین ہو کر بخشنے والا ہے کوششوں کے تمام آخری ثمرات کا۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 247
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 247
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/247/mode/1up
    خلاصہ اور عطر موجودہے۔ اور اس سورۃ میں ہدایت پانے کے لئے ایک دُعا سکھلائی گئی ہے تا معلوم ہو کہ فیوض ربّانی حاصل کرنے کے لئے دُعا کرنا ضروری ہے اور اس سورۃ کو 3سے شروع کیا گیا ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ ہر ایک حمد اور تعریف اس ذات کے لئے مسلّم ہے جس کا نام اﷲ ہے ۔ اور اس فقرہ 3سے اس لئے شروع کیا گیاکہ اصل مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی عبادت رُوح کے جوش اور طبیعت کی کشش سے ہو اور ایسی کشش جو عشق اور محبت سے بھری ہوئی ہو ہرگز کسی کی نسبت پیدا نہیں ہو سکتی جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ وہ شخص ایسی کامل خوبیوں کا جامع ہے جن کے ملاحظہ سے بے اختیار دل تعریف کرنے لگتا ہے اور یہ تو ظاہر ہے کہ کامل تعریف دو قسم کی خوبیوں کے لئے ہوتی ہے۔ ایک کمال حُسن اور ایک کمال احسان اور اگر کسی میں دونوں خوبیاں جمع ہوںؔ تو پھر اُس کے لئے دل فدا اور شیدا ہو جاتا ہے۔ اور قرآن شریف کا بڑا مطلب یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دونوں قسم کی خوبیاں حق کے طالبوں پر ظاہر کرے تا اُس بے مثل و مانند ذات کی طرف لوگ کھینچے جائیں اور رُوح کے جوش اورکشش سے اُس کی بندگی کریں۔ اس لئے پہلی سورۃ میں ہی یہ نہایت لطیف نقشہ دکھلانا چاہا ہے کہ وہ خدا جس کی طرف قرآن بُلاتا ہے وہ کیسی خوبیاں اپنے اندر رکھتا ہے۔ سو اسی غرض سے اس سورۃ کو اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ سے شروع کیا گیا جس کے یہ معنے ہیں کہ سب تعریفیں اس کی ذات کے لئے لائق ہیں جس کا نام اﷲ ہے۔ اور قرآن کی اصطلاح کی رُو سے اﷲ اُس ذات کا نام ہے جس کی تمام خوبیاں حُسن و احسان کے کمال کے نقطہ پر پہنچی ہوئی ہوں اور کوئی مَنقصت اُس کی ذات میں نہ ہو۔ قرآن شریف میں تمام صفات کا موصوف صرف اﷲ کے اسم کو ہی ٹھہرایا ہے تا اِس بات کی طرف اشارہ ہو کہ اﷲ کا اسم تب متحقق ہوتا ہے کہ جب تمام صفات کاملہ اس میں پائی جائیں ۔پس
    جبکہ ہر ایک قسم کی خوبی اُس میں پائی گئی تو حسن اس کا ظاہر ہے۔ اِسی حُسن کے لحاظ سے قرآن شریف میں اﷲ تعالیٰ کا نام نور ہے۔ جیساکہ فرمایا ہے ۔ 3 ۱؂ یعنی اﷲ تعالیٰ زمین و آسمان کا نُور ہے۔ ہر ایک نور اُسی کے نور کا پرتوہ ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 248
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 248
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/248/mode/1up
    اور احسان کی خوبیاں اﷲ تعالیٰ میں بہت ہیں جن میں سے چار ۴ بطورا صل الاصول ہیں اور ان کی ترتیب طبعی کے لحاظ سے پہلی خوبی وہ ہے جس کو سُورہ فاتحہ میں ربّ العالمین کے فقرہ میں بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ربوبیّت یعنی پیدا کرنا اور کمال مطلوب تک پہنچانا تمام عالموں میں جاری و ساری ہے۔ یعنی عالمِ سماوی اور عالم ارضی اور عالمِ اجسام اور عالم ارواح اور عالمِ جواہر اور عالمِ اعراض اور عالمِ حیوانات اور عالمِ نباتات اور عالمِ جمادات اور دوسرے تمام قسم کے عالم اس کی ربوبیت سے پرورش پا رہے ہیںیہاں تک کہ خود انسان پر ابتدانطفہ ہونے کی حالت سے یا اس سے پہلے بھی جو جو عالم موت تک یا دوسری زندگی کے زمانہ تک آتے ہیں وہ سب چشمۂ ربوبیّت سے فیض یافتہ ہیں۔ پس ربوبیّت الٰہی بوجہ اس کے کہ وہ تمام ارواح و اجسام و حیوانات و نباتات و جمادات وغیرہ پر مشتمل ہے فیضان اَعَم سے موسوم ہے کیونکہ ہر ایک موجود اس سے فیض پاتا ہے اور اسی کے ذریعہ سے ہر ایک چیز وجود پذیر ہے ہاں البتہ ربوبیتؔ الٰہی اگرچہ ہر ایک موجود کی موجد اور ہر ایک ظہور پذیر چیز کی مربی ہے لیکن بحیثیت احسان کے سب سے زیادہ فائدہ اس کا انسان کو پہنچتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی تمام مخلوقات سے انسان فائدہ اُٹھاتا ہے۔ اِس لئے انسان کو یاد دلایا گیا ہے کہ تمہارا خدا ربّ العالمین ہے تا انسان کی اُمید زیادہ ہو اور یقین کرے کہ ہمارے فائدہ کے لئے خدا تعالیٰ کی قدرتیں وسیع ہیں اور طرح طرح کے عالمِ اسباب ظہور میں لا سکتا ہے۔ دوسری خوبی خدا تعالیٰ کی جو دوسرے درجہ کا احسان ہے جس کو فیضانِ عام سے موسوم کر سکتے ہیں رحمانیت ہے جس کو سورۃفاتحہ میں الرّحمٰن کے فقرہ میں بیان کیا گیا ہے اور قرآن شریف کی اصطلاح کی رُو سے خدا تعالیٰ کا نام رحمٰن اس وجہ سے ہے کہ اُس نے ہر ایک جاندار کو جن میں انسان بھی داخل ہے اُس کے مناسب حال صورت اور سیرت بخشی یعنی جس طرز کی زندگی اس کے لئے ارادہ کی گئی اس زندگی کے مناسب حال جن قوتوں اور طاقتوں کی ضرورت تھی یا جس قسم کی بناوٹ جسم اور اعضاء کی حاجت تھی وہ سب اس کو عطا کئے اور پھر اس کی بقا کے لئے جن جن چیزوں کی ضرور ت تھی وہ اس کے لئے مہیّا کیں۔ پرندوں کے لئے پرندوں کے مناسب حال اور
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 249
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 249
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/249/mode/1up
    چرندوں کے لئے چرندوں کے مناسب حال اور انسان کے لئے انسان کے مناسب حال طاقتیں عنایت کیں اورصرف یہی نہیں بلکہ ان چیزوں کے وجود سے ہزارہا برس پہلے بوجہ اپنی صفت رحمانیت کے اجرام سماوی و ارضی کو پید اکیا تا وہ ان چیزوں کے وجود کی محافظ ہوں۔ پس اِس تحقیق سے ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ کی رحمانیت میں کسی کے عمل کا دخل نہیں بلکہ وہ رحمتِ محض ہے جس کی بنیاد ان چیزوں کے وجود سے پہلے ڈالی گئی۔ ہاں انسان کو خدا تعالیٰ کی رحمانیت سے سب سے زیادہ حصہ ہے کیونکہ ہر ایک چیز اس کی کامیابی کے لئے قربان ہو رہی ہے اس لئے انسان کو یاد دلایا گیا کہ تمہارا خدا رحمن ہے۔ تیسری خوبی خدا تعالیٰ کی جو تیسرے درجہ کا احسان ہے رحیمیّت ہے جس کو سورۂ فاتحہ میں الرّحیم کے فقرہ میں بیان کیا گیا ہے اور قرآن شریف کی اصطلاح کے رُو سے خدا تعالیٰ رحیم اس حالت میں کہلاتا ہے جبکہ لوگوں کی دُعا اور تضرع اور اعمال صالحہ کو قبول فرما کر آفات اور بلاؤں اور تضییع اعمال سے ان کو محفوظ رکھتا ہے۔ یہ ؔ احسان دوسرے لفظوں میں فیض خاص سے موسوم ہے اور صرف انسان کی نوع سے مخصوص ہے۔ دوسری چیزوں کو خدا نے دعا اور تضرع اور اعمال صالحہ کا ملکہ نہیں دیا مگر انسان کو دیا ہے۔ انسان حیوان ناطق ہے اور اپنی نُطق کے ساتھ بھی خدا تعالیٰ کا فیض پا سکتاہے۔ دوسری چیزوں کو نُطق عطا نہیں ہوا۔ پس اس جگہ سے ظاہر ہے کہ انسان کا دعا کرنا اس کی انسانیت کا ایک خاصہ ہے جو اس کی فطرت میں رکھا گیا ہے اورجس طرح خدا تعالیٰ کی صفات ربوبیّت اور رحمانیّت سے فیض حاصل ہوتا ہے اسی طرح صفت رحیمیّتسے بھی ایک فیض حاصل ہوتا ہے۔ صرف فرق یہ ہے کہ ربوبیت اور رحمانیت کی صفتیں دُعا کو نہیں چاہتیں کیونکہ وہ دو نوں صفات انسان سے خصوصیت نہیں رکھتیں اور تمام پرند چرند کو اپنے فیض سے مستفیض کر رہی ہیں بلکہ صفت ربوبیّت تو تمام حیوانات اور نباتات اور جمادات اور اجرامِ ارضی اور سماوی کو فیض رسان ہے اور کوئی چیز اُس کے فیض سے باہر نہیں۔ برخلاف صفت رحیمیّت کے کہ وہ انسان کے لئے ایک خلعتِ خاصہ ہے۔ اور اگر انسان ہو کر اس صفت سے فائدہ نہ اٹھاوے تو گویا ایسا انسان حیوانات بلکہ جمادات کے برابر ہے جبکہ خداتعالیٰ نے فیض رسانی کی چار صفت اپنی
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 250
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 250
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/250/mode/1up
    ذات میں رکھی ہیں اور رحیمیّت کو جو انسان کی دعا کو چاہتی ہے خاص انسان کے لئے مقرر فرمایا ہے۔ پس اس سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ میں ایک قسم کا وہ فیض ہے جو دُعا کرنے سے وابستہ ہے اور بغیر دعا کے کسی طرح مل نہیں سکتا۔ یہ سنّت اﷲ اور قانونِ الٰہی ہے جس میں تخلف جائز نہیں یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السّلام اپنی اپنی اُمتوں کے لئے ہمیشہ دُعا مانگتے رہے۔ توریت میں دیکھو کہ کتنی دفعہ بنی اسرائیل خدا تعالیٰ کو ناراض کرکے عذاب کے قریب پہنچ گئے اور پھر کیونکر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا اور تضرع اور سجدہ سے وہ عذاب ٹل گیاحالانکہ بار بار وعدہ بھی ہوتا رہا کہ مَیں ان کو ہلاک کروں گا۔
    اب اِن تمام واقعات سے ظاہر ہے کہ دعا محض لغو امر نہیں ہے۔ اور نہ صرف ایسی عبادت جس پر کسی قسم کا فیض نازل نہیں ہوتا۔ یہ ان لوگوں کے خیال ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کا وہ ؔ قدر نہیں کرتے جو حق قدر کرنے کا ہے اور نہ خد اکی کلام کو نظر عمیق سے سوچتے ہیں او رنہ قانونِ قدرت پر نظر ڈالتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دعا پر ضرور فیض نازل ہوتا ہے جو ہمیں نجات بخشتا ہے۔ اِسی کا نام فیض رحیمیّت ہے۔ جس سے انسان ترقی کرتا جاتا ہے۔ اِسی فیض سے انسان ولایت کے مقامات تک پہنچتا ہے اور خدا تعالیٰ پر ایسا یقین لاتا ہے کہ گویا آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے۔ مسئلہ شفاعت بھی صفت رحیمیّت کی بناء پر ہے۔خدا تعالیٰ کی رحیمیّت نے ہی تقاضا کیا کہ اچھے آدمی بُرے آدمیوں کی شفاعت کریں۔
    چوتھا احسان خدا تعالیٰ کا جو قسم چہارم کی خوبی ہے جس کو فیضان3 سے موسوم کر سکتے ہیں مالکیّت یوم الدّین ہے جس کو سورۃ فاتحہ میں فقرہ مالک یوم الدّین میں بیان فرمایا گیا ہے اور اس میں اورصفت رحیمیّت میں یہ فرق ہے کہ رحیمیّت میں دعا اور عبادت کے ذریعہ سے کامیابی کا استحقاق قائم ہوتا ہے اور صفت مالکیّت یوم الدّین کے ذریعہ سے وہ ثمرہ عطا کیا جاتا ہے۔ اِس کی ایسی ہی مثال ہے کہ جیسے ایک انسان گورنمنٹ کا ایک قانون یاد کرنے میں محنت اور جدوجہد کرکے امتحان دے اور پھر اس میں پاس ہو جائے۔ پس رحیمیّت کے اثر سے کسی کامیابی کے لئے استحقاق
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 251
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 251
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/251/mode/1up
    پیدا ہو جانا پاس ہو جانے سے مشابہ ہے اور پھر وہ چیز یا وہ مرتبہ میسّر آ جانا جس کے لئے پاس ہوا تھا اُس حالت سے مشابہ انسان کے فیض پانے کی وہ حالت ہے جو پر توہ صفت مالکیّت یوم الدین سے حاصل ہوتی ہے۔ ان دو نوں صفتوں رحیمیّت اور مالکیّت یوم الدّین میں یہ اشارہ ہے کہ فیض رحیمیّت خدا تعالیٰ کے رحم سے حاصل ہوتا ہے ۔ اور فیض مالکیّت یوم الدّین خدا تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوتا ہے اور مالکیّت یوم الدین اگرچہ وسیع اور کامل طور پر عالمِ معاد میں متجلّی ہو گی مگر اس عالم میں بھی اس عالم کے دائرہ کے موافق یہ چاروں صفتیں تجلّی کر رہی ہیں۔ ربوبیّت عام طور پر ایک فیض کی بناڈالتی ہے اور رحمانیّت اس فیض کو جانداروں میں کُھلے طورپر دکھلاتی ہے اور رحیمیّت ظاہر کرتی ہے کہ خط ممتد فیض کا انسان پر جا کر ختم ہو جاتا ہے اور انسان وہ جانور ہے جو فیض کو نہ صرف حال سے بلکہ منہ سے مانگتاؔ ہے اور مالکیّت یوم الدّین فیض کا آخری ثمرہ بخشتی ہے۔ یہ چاروں صفتیں دنیا میں ہی کام کر رہی ہیں مگر چونکہ دُنیا کا دائرہ نہایت تنگ اور نیز جہل اور بے خبری اور کم نظری انسان کے شامل حال ہے اس لئے یہ نہایت وسیع دائرے صفاتِ اربعہ کے اس عالم میں ایسے چھوٹے نظر آتے جیسے بڑے بڑے گولے ستاروں کے دُور سے صرف نقطے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن عالم معاد میں پورا نظارہ ان صفاتِ اربعہ کا ہو گا۔ اس لئے حقیقی اور کامل طور پر یوم الدّین وہی ہو گا جو عالمِ معاد ہے۔ اُس عالم میں ہر ایک صفت ان صفاتِ اربعہ میں سے دوہری طور پر اپنی شکل دکھائے گی یعنی ظاہری طور پر اور باطنی طور پر اِس لئے اس وقت یہ چار صفتیں آٹھ صفتیں معلوم ہوں گی۔ اِسی کی طرف اشارہ ہے جو فرمایا گیا ہے کہ اِس دنیا میں چار فرشتے خدا تعالیٰ کا عرش اُٹھا رہے ہیں اور اُس دن آٹھ فرشتے خدا تعالیٰ کا عرش اٹھائیں گے۔ یہ استعارہ کے طو رپر کلام ہے۔ چونکہ خدا تعالیٰ کی ہر صفت کے مناسب حال ایک فرشتہ بھی پیدا کیا گیا ہے ا س لئے چار صفات کے متعلق چار فرشتے بیان کئے گئے۔ اور جب آٹھ صفات کی تجلّی ہو گی تو اُن صفات کے ساتھ آٹھ فرشتے ہوں گے۔ اور چونکہ یہ صفات الوہیت کی ماہیّت کو ایسا اپنے پر لئے ہوئے ہیں کہ گویا اُس کو اُٹھا رہے ہیں اس لئے استعارہ کے طور پر
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 252
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 252
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/252/mode/1up
    اُٹھانے کا لفظ بولا گیا ہے۔ ایسے اِستعارات لطیفہ خدا تعالیٰ کی کلام میں بہت ہیں جن میں رُوحانیت کو جسمانی رنگ میں دکھایا گیا ہے۔ غرض خدا تعالیٰ میں یہ چار ۴ صفاتِ عظیمہ ہیں جن پر ہر ایک مسلمان کو ایمان لانا چاہئیے اور جو شخص دعا کے ثمرات اور فیوض سے انکار کرتا ہے گویا وہ بجائے چار صفتوں کے صرف تین صفتوں کو مانتا ہے۔
    اب واضح رہے کہ اﷲ جلّ شانہٗ نے سورۃ فاتحہ میں الحمد ﷲ کے بعد ان صفاتِ اربعہ کو چار سرچشمۂ فیض قرار دے کر اس سورۃکے مابعد کی آیتوں میں بطور لفّ و نشر مرتب ہر ایک چشمہ سے فیض مانگنے کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ چنانچہ ظاہر ہے کہ فقرہ 3سے فقرہ 33تک پانچ جدا جدا امر ہیں۔ (۱) 3(۲) دوسرے 3 (۳) تیسرے 3(۴) چوتھے 3(۵) 3اور مابعد کے پانچ فقرے ان پانچوں کے لحاظؔ سے بصورت لفّ و نشر مرتب ان کے مقابل پر واقع ہیں۔ جیسا کہ فقرہ 3فقرہ 3کے مقابل پر ہے۔جس سے یہ اشارہ ہے کہ عبادت کے لائق وہی ذات کامل الصّفات ہے جس کا نام اﷲ ہے اور فقرہ3فقرہ 3 کے مقابل پر واقع ہے جس سے یہ اشارہ مقصود ہے کہ سرچشمۂ ربوبیّت سے جو ایک نہایت عام سرچشمہ ہے ہم مدد طلب کرتے ہیں کیونکہ بغیر خدا تعالیٰ کے فیض ربوبیت کے ظاہری یا باطنی طور پر نشوونما پانا یا کوئی پاک تبدیلی حاصل کرنا اور روحانی پیدائش سے حصّہ لینا امر محال ہے۔ اور فقرہ 3فقرہ اَلرَّحْمٰن کے مقابل پر واقع
    ہے اور3 کا ورد کرنے والا الرَّحْمٰن کے چشمہ سے فیض طلب کرتا ہے۔ کیونکہ ہدایت پانا کسی کا حق نہیں ہے بلکہ محض رحمانیّت الٰہی سے یہ دولت حاصل ہوتی ہے۔ اور فقرہ 3فقرہ 333کے مقابل پر واقع ہے۔ اور 333کا ورد کرنے والا چشمہ الرّحیم سے فیض طلب کرتا ہے کیونکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ اے دعاؤں کو رحم خاص سے قبول کرنے والے ان رسولوں اور صدّیقوں اور شہیدوں کی راہ ہمیں دکھلا جنہوں نے دُعا اور مجاہدات میں مصروف ہو کر تجھ سے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 253
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 253
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/253/mode/1up
    انواع اقسام کے معارف اور حقائق اور کشوف اور الہامات کا انعام پایا اور دائمی دعا اور تضرع اور اعمال صالحہ سے معرفتِ تامہ تک پہنچ گئے۔ اور فقرہ 33فقرہ 3کے مقابل پر واقع ہے اور3 3کا ورد کرنے والا چشمہ 3سے فیض طلب کرتا ہے۔ اوراس کے یہ معنے ہیں کہ اے جزا و سزا کے دن کے مالک ہمیں اس سزا سے بچا کہ ہم دنیا میں یہودیوں کی طرح طاعون وغیرہ بلاؤں میں تیرے غضب کی وجہ سے مبتلا ہوں یا نصاریٰ کی طرح نجات کی راہ گُم کرکے آخرت میں عذاب کے مستحق ہوں۔ اس آیت میں نصاریٰ کا نام ضالّین اس لئے رکھا ہے کہ دنیا میں ان پر کوئی غضب الٰہی کا عذاب نازل نہیں ہوا صرف وہ لوگ اُخروی نجات کیؔ راہ گم کر بیٹھے ہیں اور آخرت میں قابلِ مواخذہ ہیں۔ مگر یہود کا نام مغضوب علیہم اس واسطے رکھا ہے کہ یہود پر دنیا میں ہی اُن کی شامتِ اعمال سے بڑے بڑے عذاب نازل ہوئے ہیں۔ منجملہ اُن کے عذابِ طاعون ہے چونکہ یہود نے خدا تعالیٰ کے پاک نبیوں اور راستباز بندوں کی صرف تکذیب نہیں کی بلکہ بہتوں کو ان میں سے قتل کیا یا قتل کا ارادہ کیااور بدزبانی سے بھی بہت تکلیفیں پہنچاتے رہے اس لئے غیرت الٰہی نے بعض اوقات جوش میں آ کر اُن کو طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا کیا۔ بسااوقات لاکھوں یہودی طاعون
    کے عذاب سے مارے گئے اور کئی دفعہ ہزاروں اُن میں سے قتل کئے گئے اور یا اسیر ہو کر دوسرے ملکوں میں نکالے گئے۔ غرض وہ حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد ہمیشہ مغضوب علیہم رہے چونکہ اﷲ تعالیٰ جانتا تھا کہ یہ ایک ٹیڑھی قوم ہے اس لئے توریت میں اکثر دنیا کے عذابوں سے ان کو ڈرایا گیا تھا۔ غرض اُن پر ہولناک طور پر خدا تعالیٰ کا غضب نازل ہو تا رہا کیونکہ وہ لوگ خدا تعالیٰ کے نیک بندوں کو ہاتھ اور زبان سے دکھ دیتے تھے
    اِسی وجہ سے دنیا میں ہی ان پر غضب بھڑکا تا وہ ان لوگوں کے لئے نمونہ عبرت ہوں کہ جو آئندہ کسی زمانہ میں خدا کے ماموروں اور راست بازبندوں کو عمدًا دُکھ دیں اور اُن کو ستاویں اور اُن کے قتل کرنے یا ذلیل کرنے کے لئے بدارادے دل میں رکھیں۔ سو اس دعا کے سکھلانے میں دَرپَردہ اس بات کی طرف
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 254
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 254
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/254/mode/1up
    بھی اشارہ ہے کہ تم یہودیوں کے خُلق اور 3 سے باز رہو اور اگر کوئی مامور من اﷲ تم میں پیدا ہو تو یہودیوں کی طرح اُس کی ایذا اور توہین اور تکفیر میں جلدی نہ کرو۔ایسا نہ ہو کہ تم سچے کو جھوٹا ٹھہرا کر اور پھر طرح طرح کے دُکھ اس کو دے کر اور بدزبانی سے اس کی آبرو ریزی کرکے یہودیوں کی طرح موردِ غضب الٰہی ہو جاؤ لیکن افسوس کہ اس امت کے لوگ بھی ہمیشہ ٹھوکر کھاتے رہے اور انہوں نے بدقسمت یہودیوں کے قصوں سے کوئی عبرت حاصل نہیں کی۔ یہ کیسی عبرت پکڑنے کی بات تھی کہ یہودیوں کو ایلیا نبی کے واپس آنے کا وعدہ دیا گیا تھا اور لکھاگیا تھا کہ جب تک ایلیا نہ آوے مسیح نہیں آئے گالیکن یہود نے 3 مقدسہ کے نصوص کے ظاہر معنے پر زور دے کر یہ عقیدہ اجماعی قائم کیا کہ درحقیقت ایلیا نبی کا ہی دوبارہ دنیا میں آنا ضروری ہے۔ اسی عقیدہ کی رُو سے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قبول نہ کر سکے اور یہ حُجّت پیش کی کہ ایلیا اب تک وعدہ کے موافق دوبارہ دنیا میں نہیں آیا پھر مسیح کیسے آ گیا۔ اس ظاہر پرستی سے وہ بڑی مصیبت میں پڑے اور درحقیقت ان کی تمام بدبختی کی یہی جڑ تھی کہ انہوں نے کتاب مقدس کےؔ ایک استعارہ کو حقیقت پر حمل کیا اور اُن کے تمام علماء کا اس پر اتفاق ہو گیا کہ مسیح نبی اﷲ سے پہلے ایلیا کادوبارہ دنیا میں آنا ضروری ہے اور اس تاویل پر انہوں نے ٹھٹھا کیا کہ ایلیا سے مراد یوحنا یعنی یحییٰ نبی ہے جو اپنے اندر ایلیا کی خُو اور طبیعت رکھتا ہے۔ اور کہا کہ اگر یہ مطلب تھاکہ ایلیا نبی دنیا میں واپس نہیں آئے گا بلکہ اس کا مثیل آئے گا توخدا نے پیشگوئی
    میں یوں کیوں نہ فرمایا کہ مسیح سے پہلے ایلیا کا مثیل آئے گا۔ * غرض اس طرح پر اُن کے دل سخت ہو گئے اور ایک را ستباز کو کذّاب اور کافر اور ملحد قرار دیا۔ اِسی شامت سے وہ غضبِ الٰہی کے مورد ہو کر سخت سخت عذابوں میں مبتلا ہوئے۔ اسلام میں بھی یہودی صفت لوگوں نے یہی طریق اختیار کیا اور اپنی غلط فہمی پر اصرار کرکے ہر ایک زمانہ میں خدا کے مقدس لوگوں کو تکلیفیں دیں۔ دیکھو کیسے امام حسین رضی اﷲ عنہ کو چھوڑ کر ہزاروں نادان یزید کے ساتھ ہو گئے اور
    * نوٹ: یہ سب باتیں اس کتاب میں لکھی ہیں جو ایک یہودی فاضل نے تالیف کی ہے جو میرے پاس موجود ہے۔منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 255
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 255
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/255/mode/1up
    اس امام معصوم کو ہاتھ اور زبان سے دُکھ دیا آخر بجز قتل کے راضی نہ ہوئے اور پھر وقتاً فوقتاً ہمیشہ اس اُمت کے اماموں اور راستبازوں اور مجدّدوں کو ستاتے رہے اور کافر اور بے دین اور زندیق نام رکھتے رہے۔ ہزاروں صادق ان کے ہاتھ سے ستائے گئے اور نہ صرف یہ کہ ان کا نام کافر رکھا بلکہ جہاں تک بس چل سکا قتل کرنے اور ذلیل کرنے اور قید کرانے سے فرق نہیں کیا۔ یہاں تک کہ اب ہمارا زمانہ پہنچا اور تیرھویں صدی میں جابجا خود وہ لوگ یہ وعظ کرتے تھے کہ چودھویں صدی میں امام مہدی یا مسیح موعود آئے گا اور کم سے کم یہ کہ ایک بڑا مجدّد پیدا ہو گا لیکن جب چودھویں صدی کے سر پر وہ مجدّد پیدا ہوا اورنہ صرف خدا تعالیٰ کے الہام نے اس کا نام مسیح موعود رکھا بلکہ زمانہ کے فتن موجودہ نے بھی بزبانِ حال یہی فتویٰ دیا کہ اس کا نام مسیح موعود چاہئیے تو اس کی سخت تکذیب کی اور جہاں تک ممکن تھا اس کو ایذادی اور طرح طرح کے حیلوں اور مکروں سے اس کو ذلیل اور نابود کرنا چاہا اور اگر خدا تعالیٰ کے فضل سے گورنمنٹ برطانیہ کی اس ملک ہند میں سلطنت نہ ہوتی تو مدت سے اس کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے معدوم کر دیتے۔
    اور یہ بات ظاہر تھی کہ یہ زمانہ ایمانی اور اعتقادی فتنوں کا زمانہ تھا اور لاکھوں انسانوں کے اعتقاد توحید سے برگشتہ ہو کر مخلوق پرستی کی طرف جُھک گئے تھے اور زیادہ تر حصّہ مخلوق پرستی کا جسؔ پر زور دیا جاتا تھا وہ یہی تھا کہ صلیبی نجات کی حمایت میں قلموں اور زبانوں سے وہ کام لیا گیا تھا کہ اگرنسخہ عالم کے تمام صفحات میں تلاش کریں تو تائید باطل میں یہ سرگرمی کسی اَور زمانہ میں کبھی ثابت نہیں ہو گی۔ اور جبکہ صلیبی نجات کے حامیوں کی تحریریں انتہا درجہ کی تیزی تک پہنچ گئی تھیں اور اسلامی توحید اور نبئ عربی خیر الرسل علیہ السلام کی عفّت اور عزّت اور حقانیت اور کتاب اﷲ قرآن شریف کے منجانب اﷲ ہونے پر کمال ظلم اور تعدی سے حملے کئے گئے تھے اور وہ بیجا حملے جن کتابوں اور رسالوں اور اخباروں میں کئے گئے تھے ان کی تعداد کی سات کروڑ تک نوبت پہنچ گئی تھی اور یہ سب کچھ تیرھویں صدی کے ختم ہونے تک
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 256
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 256
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/256/mode/1up
    ظہور میں آ چکا تھا توکیا ضرور نہ تھا کہ وہ خدا جس نے فرمایا تھا کہ 33 ۱؂ وہ اِن بے جا حملوں کے فروکرنے کے لئے چودھویں صدی کے سر پر اپنی قدیم سنّت کے موافق کوئی آسمانی سلسلہ قائم کرتا؟ پس اگر یہ سچ ہے کہ ہر ایک مجدّد فتن موجودہ کے مناسب حال آنا چاہئیے تو یہ دوسری بات بھی سچی ہے کہ چودھویں صدی کا مجدّد کسر فتن صلیبیہ کے لئے آنا چاہئیے تھا۔ کیونکہ یہی وہ فتن ہیں جن کے لاکھوں دلوں پر خطرناک اثر پڑے ہیں اور یہی وہ فتن ہیں جن کو اس زمانہ کے تمام فتنوں کی نسبت عظیم الشان کہنا چاہئیے۔ اور جبکہ ثابت ہوا کہ چودھویں صدی کے مجدّد کا کام صلیبی فتنوں کا توڑنا اور اس کے حامیوں کے حملوں کا جواب دینا ہے* تو اب طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس مجدّد کا یہ کام ہو کہ وہ صلیبی فتنوں کو توڑے اور کسر صلیب کا منصب اپنے ہاتھ میں لے کر حقیقی نجات کی راہ دکھلا وے۔ اور وہ نجات جو صلیب کی طرف منسوب کی گئی ہے اُس کا بُطلان ثابت کرے۔ اس مجدّد کا کیا نام ہونا چاہئیے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایسے مجدّد کا نام مسیح موعود رکھا ہے؟ پس جبکہ زمانہ کی حالت موجودہ ہی بتلا رہی ہے کہ چودھویں صدی کے مجدّد کا نام مسیح موعود ہونا چاہئیے یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہو کہ ایسی صدی کا مسیح موعود ہی مجدّد ہوگا جس میں فتنہ صلیبیہ کا جوش و خروش ہو تو پھر کیوں انکار ہے۔ بہرحال جب فتن صلیبیہ اپنے کمال کو پہنچ گئے اور ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ کروڑ ہا کتابیں صلیبی نجات کی تائید اور اسلام کی توہین اور ابطال میں شائع کی گئیں اور اِس پُر فتن صدی کے سر پر ایک ؔ شخص کھڑا ہوا اور اُس نے دعویٰ کیا کہ اِن فتنوں کی اصلاح
    *نوٹ:ہم کئی دفعہ لکھ چکے ہیں کہ چودھویں صدی کا مجدد جو مسیح موعود ہے اس کا منصب یہ نہیں ہے کہ سختیوں اور ہنگامہ پردازیوں سے کام لے بلکہ اس کا کام یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حِلم اور خُو کے موافق بُردباری اور نرمی سے اتمام حُجّت کرے اور امن کے ساتھ حق کو پھیلاوے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 257
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 257
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/257/mode/1up
    کے لئے مَیں مامور ہوں تو کیا ایسا دعویٰ غیر محل پر تھا؟ اورکیا ضرور نہ تھا کہ ان خطرناک فتنوں کے وقت میں وہ خدا جو اسلام کو ذلّت کی حالت میں دیکھ نہیں سکتا آسمان سے کوئی سلسلہ قائم کرتا اور اس مجروح اور زخمی کے لئے کوئی آسمانی مرہم نازل فرماتا؟ کیا یہ تعجب کی بات ہے کہ خداتعالیٰ کے رحم نے تقاضا کیا کہ ایسے ضعف او رذلّت کے وقت میں اسلام کی خبر لے؟ کیا اس سے بڑھ کر کسی اور وقت کا انتظار کروگے؟اور اس چودھویں صدی کو کسی مجدّد کے آنے سے بے نصیب قرار دے کر کسی او رنامعلوم صدی کی انتظار میں رہو گے؟کیا یہ تقویٰ کا طریق ہے کہ باوجودیکہ صدی میں سے چودہ سال بھی گذر گئے اور صلیبی فتنے دائرے کی طرح محیط ہو گئے مگرپھر بھی اعتقاد یہ ہو کہ آنے والا اب تک نہ آیا اور بدقسمت چودھویں صدی کسی معمولی مجدّد سے بھی خالی رہی اور اگر آیا تو ایک دجّال آیا؟ کیا یہی امانت ہے کہ ایسے خیالات رکھے جائیں کہ چودھویں صدی تو مجدد سے خالی گئی اور کسوف خسوف رمضان کا مہدی کے ظہور سے خالی گیا۔ اور صلیبی فتنوں کا زمانہ مسیح موعود کے ظہور سے خالی رہاگویا نعوذ باﷲ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی یہ تینوں پیشگوئیاں جھوٹی نکلیں؟ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیشگوئی میں یہ بھی تھا کہ مسیح موعود کے وقت میں اونٹ بیکار ہو جائیں گے یہ ریل کی طرف اشارہ تھا۔ سو ریل کے
    جاری ہونے پر بھی پچاس سال گذر گئے مگر ہمارے مخالفوں کا فرضی مسیح اب تک نہیں آیا۔ اﷲاکبر۔ یہ لوگ کیسے دل کے سخت ہیں کہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں سے یُوں انکار کیا اور میری پیشگوئیوں میں سے وہ پیشگوئیاں جو نظری طور پر پوری ہوئیں اُن کی نسبت کہتے ہیں کہ جھوٹی نکلیں اور جو بدیہی طور پر پوری ہوئیں اُن کی نسبت یہ خیال ہے کہ نجوم یا رَمَلْ سے کام لیا گیا۔ اور یا کسی مجرمانہ سازش سے پوری کی گئیں۔*
    یہ دونوں طریق پیشگوئیوں کے پوری ہونے کے قدیم سے سنّت الٰہی ہیں۔ تمام انبیاء علیہم السلام کی پیشگوئیاں کبھی تو نظری طور پر یعنی استعارات کے پیرایہ میں یا کسی اور دقیق التزام سے پوری ہوئیں اور یا بدیہی طور پر پوری ہوئیں۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 258
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 258
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/258/mode/1up
    غرض ہمارے اندرونی مخالفوں نے کسی پہلو سے فائدہ نہ اٹھایا اور وہ سب کام کر دکھائے جو یہودیوں نے کئے تھے۔ وہ اعتراض جو بار بار ہم پر کیا گیا وہ یہی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ان کا ذہنی مہدی یا مسیح خونریزوں کے طور پر آئے گا مگر یہ شخص لڑائیوں اور خونریزیوں سے منع کرتا ہے۔ اس کا بار بار جواب دیا گیا کہ یہ خیال سراسر غلط ہے بلکہ یَضَعُ الْحَرب کی حدیث سے بکمال وضوح ثابت ہے کہ ؔ مسیح موعود خونریزوں کے رنگ میں ہرگز نہیں آئے گا اور صر ف معارف اور حقائق اور نشانوں سے اتمام حجّت کرے گا اور امن کے ساتھ حق کو پھیلائے گا۔*یہ باتیں ایسی صاف تھیں کہ قرآن اور حدیث پر غورکرنے سے کمال آسانی سے سمجھ آ سکتی تھیں۔ مگر پُرانے خیالات جو عادات راسخہ ہو گئے تھے غافل دلوں سے نکل نہ سکے۔ یہ تو سچ ہے کہ ہمارا مقصدصرف اسی قدر ہے کہ نرمی اور ملائمت سے لوگوں کے دھوکے دور کریں اور نوعِ انسان سے خواہ وہ عیسائی ہوں یا ہندو یا یہودی ہمدردی سے پیش آویں اور دلائل عقلیّہ اور آیاتِ سماویہ کی روشنی سے اُن کو دکھلا ویں کہ وہ اپنے اعتقادات میں غلطی پر ہیں۔ اگر ہمارے اس طریق اور طرز سے ہمارے مخالف مسلمان ناراض ہیں اور کسی سخت گیر خونریز کا انتظار کرتے ہیں تو یہ اُن کی غلطی ہے اور ایسے خیال سے وہ قرآن اور حدیث سے دُور جا پڑے ہیں۔ اب یہ زمانہ ہے کہ ہم ہر ایک قوم کو اپنی اخلاقی حالت دکھلاویں اور اُن کے ظلم برداشت کریں اورآپ ظالمانہ حملہ ان پر نہ کریں ۔ اخلاقی حالت بھی ایک معجزہ ہے اور بُردباری سے زندگی بسر کرنا ایک آسمانی نشان ہے۔ اور جب ہم کسی دوسری قوم سے احسان دیکھیں تب تو زیادہ تر فرض ہو جاتا ہے کہ ہم احسان کے عوض میں
    ہمارے علماء کا اِس پر اتفاق ہے کہ مہدی کے ہاشمی یا سیّد ہونے کے بارے میں جس قدر حدیثیں ہیں وہ سب مجروح ہیں اور خود جب وقت آجائے اور صاحبِ وقت نہ آئے تو یہی دلیل اس بات پر ہے کہ وہ قصہ صحیح نہیں ہے یا اس کے اور معنی ہیں جو منصف کو ماننے پڑتے ہیں جیسا کہ ہم ایک قبر کو کھود کر نہ بہشت کی کھڑکی اس کے پاس دیکھتے ہیں نہ دوزخ کی ،ناچار ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ اس پیشگوئی کے اَور معنے ہیں جو عالمِ ظاہر سے تعلق نہیں رکھتے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 259
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 259
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/259/mode/1up
    احسان کریں اور نیکی کے عوض میں نیکی بجا لاویں۔ جیسا کہ اب ہم عیسائی گورنمنٹ سے بہر طرح امن اور راحت دیکھ رہے ہیں۔ کیا اس کا عوض یہ ہے کہ ہم منافقانہ زندگی اُن سے بسر کریں اور دل میں کچھ اورزبان پر کچھ ہو؟ ہاں جس طرح مادرِمہربان یہ چاہتی ہے کہ اس کا بیٹا کسی ایسی حالت میں گرفتار نہ ہو جس کا خطرناک نتیجہ ہے۔ اسی طرح ہم عیسائیوں اور ہندوؤں کے ساتھ شفقت اور رحمت سے معاملہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں یہ دلی آرزو ہے کہ کوئی محبت اور آرام سے ہماری باتیں سنے اور دلائل میں غور کرے اور پھر اپنے نفس کا خیر خواہ ہو کر اپنے عقائد کی اصلاح کرے۔
    یہ تفسیر سورۃ فاتحہ محض اس غرض سے یہاں لکھی گئی ہے کہ یہ قرآن شریف کی تمام تعلیم کا مغز ہے اورجو شخص قرآن سے اس کے برخلاف کچھ نکالنا چاہتاہے وہ جھوٹا ہے اور ؔ اس سورہ فاتحہ میں جیساکہ ہم بیان کر چکے ہیں مسلمانوں کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ دُعا میں مشغول رہیں بلکہ دُعا 3 سکھلائی گئی ہے۔* اور فرض کیا گیا ہے کہ پنج وقت یہ دعا کریں پھر کس قدر غلطی ہے کہ کوئی شخص دُعا کی رُوحانیت سے انکارکرے۔ قرآن شریف نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ دُعا اپنے اندر ایک رُوحانیت رکھتی ہے اور دُعا سے ایک فیض نازل ہوتا ہے جو طرح طرح کے پَیرایوں میں کامیابی کا ثمرہ بخشتا ہے۔
    یہ دعا نوعِ انسان کی عام ہمدردی کے لئے ہے۔ کیونکہ دُعا کرنے میں تمام نوع انسان کو شامل کر لیا ہے اور سب کے لئے دعا مانگی ہے کہ خدا دنیا کے دکھوں سے انہیں بچاوے اور آخرت کے ٹوٹے سے محفوظ رکھے اور سب کو سیدھی راہ پر لاوے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 260
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 260
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/260/mode/1up
    ہماری تقریر مذکورہ بالا سے ہر ایک منصف سمجھ سکتا ہے کہ جس طرح باوجود تسلیم مسئلہ قضاوقدر کے صدہا امور میں یہی سنّت اﷲ ہے کہ جدوجہد سے ثمرہ مترتب ہوتا ہے اسی طرح دُعا میں بھی جو جدوجہد کی جائے وہ بھی ہرگز ضائع نہیں جاتی۔ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ایک جگہ اپنی شناخت کی یہ علامت ٹھہرائی ہے کہ تمہارا خدا وہ خدا ہے جو بے قراروں کی دُعا سُنتا ہے۔
    جیسا کہ وہ فرماتا ہے 3 ۱؂ ۔پھر جبکہ خداتعالیٰ نے دُعا کی قبولیت کو اپنی ہستی کی علامت ٹھہرائی ہے تو پھر کس طرح کوئی عقل اور حیا والا گمان کر سکتاہے کہ دُعا کرنے پر کوئی آثار صریحہ اجابت کے مترتب نہیں ہوتے اور محض ایک رسمی امر ہے جس میں کچھ بھی روحانیت نہیں؟ میرے خیال میں ہے کہ ایسی بے ادبی کوئی سچے ایمان والا ہرگز نہیں کرے گا جبکہ اﷲ جلّ شانہٗ فرماتا ہے کہ جس طرح زمین و آسمان کی صفت پر غور کرنے سے سچا خدا پہچانا جاتا ہے اسی طرح دُعا کی قبولیت کو دیکھنے سے خدا تعالیٰ پر یقین آتا ہے۔ پھر اگر دُعا میں کوئی رُوحانیت نہیں اور حقیقی اور واقعی طور پر دُعا پر کوئی نمایاں فیض نازل نہیں ہوتا تو کیونکر دُعا خدا تعالیٰ کی شناخت کا ایسا ذریعہ ہو سکتی ہے جیسا کہ زمین و آسمان کے اجرام و اجسام ذریعہ ہیں؟بلکہ قرآن شریف سے تو معلوم ہوتا ہے کہ نہایت اعلیٰ ذریعہ خدا شناسی کا دُعا ہی ہے اور خداتعالیٰ کی ہستی اور صفات کاملہ کی معرفتِ تامّہ یقینیہ کاملہ صرف دُعا سے ہی حاصل ہوتی ہے اور کسی ذریعہ سے حاصل نہیں ہوتی۔ وہ امر جو ایک بجلی کی چمک کی طرح یک دفعہ انسان کو تاریکی کے گڑھے سے کھینچ کر روشنی کی کھلی فضا میں لاتا اور خدا تعالیٰ کےؔ سامنے کھڑا کر دیتا ہے وہ دعا ہی ہے۔ دعا کے ذریعہ سے ہزاروں بدمعاش صلاحیت پر آ جاتے ہیں۔ ہزاروں بگڑے ہوئے درست ہو جاتے ہیں۔ ہاں دعا کی راہ میں دو ۲ بڑے مشکل امر ہیں جن کی وجہ سے اکثر دلوں سے عظمت دعا کی پوشیدہ رہتی ہے (۱) اوّل تو شرط تقویٰ اور راستبازی اور خداترسی ہے
    جیساکہ اﷲ جلّ شانہٗ فرماتا ہے 3۲؂یعنی اﷲ تعالیٰ پرہیز گار لوگوں کی دعا قبول کرتاہے۔ اور پھر فرماتا ہے 33۳؂ یعنی جب میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں کہ خدا کے وجود پر دلیل کیا ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ مَیں بہت نزدیک ہوں یعنی کچھ بڑے دلائل کی حاجت نہیں۔ میرا وجود نہایت اقرب طریق سے سمجھ آسکتا ہے اور نہایت آسانی سے میری ہستی پر دلیل پیدا ہوتی ہے اور وہ دلیل یہ ہے کہ جب کوئی
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 261
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 261
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/261/mode/1up
    دُعا کرنے والا مجھے پکارے تو مَیں اُس کی سنتا ہوں اور اپنے الہام سے اس کی کامیابی کی بشارت دیتا ہوں جس سے نہ صرف میری ہستی پر یقین آتا ہے بلکہ میرا قادرہونا بھی بپایۂ یقین پہنچتا ہے لیکن چاہئیے کہ لوگ ایسی حالت تقویٰ اور خدا ترسی کی پیدا کریں کہ مَیں اُن کی آواز سنوں۔ اورنیزچاہئیے کہ وہ مجھ پر ایمان لاویں اور قبل اس کے جو اُن کو معرفتِ تامّہ ملے اس بات کا اقرار کریں کہ خدا موجود ہے اور تمام طاقتیں اور قدرتیں رکھتا ہے کیونکہ جو شخص ایمان لاتا ہے اُسی کو عرفان دیا جاتا ہے۔
    ایمان کی تعریف ۔ ایمان اس بات کو کہتے ہیں کہ اُس حالت میں مان لینا کہ جبکہ ابھی علم کمال تک نہیں پہنچا اور شکوک وشبہات سے ہنوز لڑائی ہے ۔ پس جو شخص ایمان لاتا ہے یعنی باوجود کمزوری اور نہ مہیّا ہونے کل اسباب یقین کے اس بات کو اغلب احتمال کی وجہ سے قبول کر لیتا ہے وہ حضرت احدیّت میں صادق اور راستباز شمار کیا جا تا ہے اور پھر اس کو موہبت کے طو رپر معرفتِ تامّہ حاصل ہوتی ہے اور ایمان کے بعد عرفان کا جام اس کو پلایا جاتا ہے۔ اسی لئے ایک مردِ متّقی رسولوں اور نبیوں اور مامورین من اﷲ کی دعوت کو سن کر ہر ایک پہلو پر ابتداء امر میں ہی حملہ کرنا نہیں چاہتا بلکہ وہ حصہ جو کسی مامور من اﷲ کے منجانب اﷲ ہونے ؔ پر بعض صاف اور کھلے کھلے دلائل سے سمجھ آ جاتا ہے اُسی کو اپنے اقرار اور ایمان کا ذریعہ ٹھہرا لیتا ہے اور وہ حصہ جو سمجھ نہیں آتا اُس میں سنّتِ صالحین کے طو رپر استعارات اور مجازات قرار دیتا ہے ۔ اور اس طرح تناقض کو درمیان سے اُٹھا کر صفائی اور اخلاص کے ساتھ ایمان لے آتا ہے تب خدا تعالیٰ اُس کی حالت پر رحم کرکے اور اس کے ایمان پر راضی ہو کر اور اُس کی دعاؤں کو سُن کر معرفتِ تامّہ کا دروازہ اُس پر کھولتا ہے اور الہام اور کشوف کے ذریعہ سے اور دوسرے آسمانی نشانوں کے وسیلہ سے یقین کامل تک اُس کو پہنچاتا ہے لیکن متعصب آدمی جو عناد سے پُر ہوتا ہے ایسا نہیں کرتا اور وہ ان اُمور کو جو حق کے پہچاننے کا ذریعہ ہو سکتے ہیں تحقیر اور توہین کی نظر سے دیکھتا ہے اور ٹھٹھے اور ہنسی میں اُن کو اُڑا دیتا ہے اور وہ امور جو ہنوز اس پر مشتبہ ہیں اُن کو اعتراض کرنے کی دستاویز بناتا ہے اور ظالم طبع لوگ ہمیشہ ایسا ہی کرتے رہے ہیں۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 262
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 262
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/262/mode/1up
    چنانچہ ظاہر ہے کہ ہر ایک نبی کی نسبت جو پہلے نبیوں نے پیشگوئیاں کیں اُن کے ہمیشہ دو حصے ہوتے رہے ہیں ایک بیّنات اور محکمات جن میں کوئی استعارہ نہ تھا اور کسی تاویل کی محتاج نہ تھیں ۔ اور ایک متشابہات جو محتاج تاویل تھیں اور بعض استعارات اور مجازات کے پَردے میں محجوب تھیں۔ پھر ان نبیوں کے ظہور اور بعثت کے وقت جو اُن پیشگوئیوں کے مصداق تھے دو فریق ہوتے رہے ہیں۔ ایک فریق سعیدوں کا جنہوں نے بیّنات کو دیکھ کر ایمان لانے میں تاخیر نہ کی اور جو حصّہ متشابہات کا تھا اس کو استعارات اور مجازات کے رنگ میں سمجھ لیا یا آئندہ کے منتظر رہے۔* اور اس طرح پر حق کو پالیا اور ٹھوکر نہ کھائی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں بھی ایسا ہی ہوا۔ پہلی کتابوں میں حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت دو طور کی پیشگوئیاں تھیں۔ ایک یہ کہ وہ مسکینوں اور عاجزوں کے پیرایہ میں ظاہر ہو گا اور غیر سلطنت کے زمانہ میں آئے گا اور داؤد کی نسل سے ہو گا اور حلم اور نرمی سے کام لے گا اور نشان دکھلائے گا۔ اور دوسری قسم کی یہ پیشگوئیاں تھیں کہ وہ بادشاہ ہوگا اور بادشاہوں کی طرح لڑے گا اور یہودیوں کو غیر سلطنت کی ماتحتی سے چھڑا دے گا۔ اور اس سے پہلے ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں آئے گا۔ اور جب تک ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں نہ آوے وہ ؔ نہیں آئے گا۔ پھر جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ظہور فرمایا تو یہود دو فریق ہو گئے۔ ایک فریق جو بہت ہی کم اور قلیل التعداد تھا۔ اس نے حضرت مسیح کو داؤد کی نسل سے پا کر اور پھر اُس کی مسکینی اور عاجزی اور راستبازی دیکھ کر اور پھر آسمانی نشانوں کو ملاحظہ کرکے اور نیز زمانہ کی حالتِ موجودہ کو دیکھ کرکہ وہ ایک نبی مصلح کو چاہتی ہے اور پہلی پیشگوئیوں کے قرار داد وقتوں کا مقابلہ کرکے یقین کر لیا کہ یہ وہی نبی ہے جس کا اسرائیل کی قوم کو
    *پیشگوئیوں میںیہ ضروری نہیں ہوتا کہ تمام باتیں ان کی ایک ہی وقت میں پوری ہو جائیں بلکہ تدریجاً پوری ہوتی رہتی ہیں اور ممکن ہے کہ بعض باتیں ایسی بھی ہوں کہ اس مامور کی زندگی میں پوری نہ ہوں اور کسی دوسرے کے ہاتھ سے جو اس کے متبعین میں سے ہو پوری ہو جائیں۔منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 263
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 263
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/263/mode/1up
    وعدہ دیا گیا تھا۔ سو وہ حضرت مسیح پر ایمان لائے اور اُن کے ساتھ ہو کر طرح طرح کے دُکھ اُٹھائے اور خدا تعالیٰ کے نزدیک اپنا صدق ظاہر کیا۔ لیکن جو بدبختوں کا گروہ تھا اُس نے کھلی کھلی علامتوں اور نشانوں کی طرف ذرہ التفات نہ کیا یہاں تک کہ زمانہ کی حالت پر بھی ایک نظر نہ ڈالی اور شریرانہ حجّت بازی کے ارادے سے دوسرے حصے کو جو متشابہات کا حصّہ تھا اپنے ہاتھ میں لے لیا اور نہایت گستاخی سے اس مقدس کو گالیاں دینی شروع کیں اور اس کا نام ملحد اور بے دین اور کافر رکھا اور یہ کہا کہ یہ شخص پاک نوشتوں کے اُلٹے معنے کرتا ہے اور اس نے ناحق ایلیا نبی کے دوبارہ آنے کی تاویل کی ہے اور نص صریح کو اس کے ظاہر سے پھیرا ہے اور ہمارے علماء کو مکّار اور ریاکارکہتا ہے اور کتبِ مقدسہ کے الٹے معنے کرتا ہے اور نہایت شرارت سے اس بات پر زور دیا کہ نبیوں کی پیشگوئیوں کا ایک حرف بھی اس پر صادق نہیں آتا۔ وہ نہ بادشاہ ہو کر آیا اور نہ غیر قوموں سے لڑا اور نہ ہم کو ان کے ہاتھ سے چھڑایا اور نہ اس سے پہلے ایلیا نبی نازل ہوا۔ پھر وہ مسیح موعود کیونکر ہو گیا۔ غرض ان بدقسمت شریروں نے سچائی کے انوار اور علامات پر نظر ڈالنا نہ چاہا اور جو حصّہ متشابہات کا پیشگوئیوں میں تھا اس کو ظاہر پر حمل کرکے بار بار پیش کیا۔ یہی ابتلا ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے وقت میں اکثر یہودیوں کو پیش آیا۔ انہوں نے بھی اپنے اسلاف کی عادت کے موافق نبیوں کی پیشگوئیوں کے اس حصّہ سے فائدہ اٹھانا نہ چاہا جو بیّنات کا حصّہ تھا۔ اور متشابہات جو استعارات تھے اپنی آنکھ کے سامنے رکھ کر یا تحریف شدہ پیشگوئیوں پر زور دے کر اس نبی کریم کی دولت اطاعت سے جو سیّد الکونین ہے محروم رہ گئے اور اکثر عیسائیوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ انجیل کی کھلی کھلی پیشگوئیاں جس قدر ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے حق میں تھیں اُن کو تو ہاتھ تک نہ لگایا اور جو سنّت اﷲ کے موافق پیشگوئیوں کا دوسرا حصّہ یعنیؔ استعارات اور مجازات تھے اُن پر گِر پڑے اس لئے حقیقت کی طرف راہ نہ پا سکے۔ لیکن ان میں سے وہ لوگ جو حق کے طالب تھے اور جو پیشگوئیوں کی تحریر میں طرزِ عادتِ الٰہی ہے اس سے واقف تھے انہوں نے انجیل کی ان پیشگوئیوں سے جو آنے والے بزرگ نبی کے بارے میں تھیں فائدہ اُٹھایا اور مشرف باسلام ہوئے اور جس طرح یہود میں سے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 264
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 264
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/264/mode/1up
    اُس گروہ نے جو حضرت عیسیٰ پر ایمان لائے تھے پیشگوئیوں کے بیّنات سے دلیل پکڑی تھی اور متشابہات کو چھوڑ دیا تھا ایسا ہی اُن بزرگ عیسائیوں نے بھی کیا اور ہزارہا نیک بخت انسان اُن میں سے اسلام میں داخل ہوئے۔ غرض ان دونوں قوموں یہود اور نصاریٰ میں سے جس گروہ نے متشابہات پر جم کر انکار پر زور دیا اور بیّنات پیشگوئیوں سے جو ظہورمیں آئیں فائدہ نہ اٹھایا اُن دونوں گروہ کا قرآن شریف میں جابجا ذکرہے اوریہ ذکراس لئے کیا گیا کہ تا اُن کی بدبختی کے ملاحظہ سے مسلمانوں کو سبق حاصل ہو اور اس بات سے متنبّہ رہیں کہ یہود و نصاریٰ کی مانند بیّنات کو چھوڑ کر اور متشابہات میں پڑ کر ہلاک نہ ہو جائیں۔ اور ایسی پیشگوئیوں کے بارے میں جو مامور ین من اﷲ کے لئے پہلے سے بیان کی جاتی ہیں اُمید نہ رکھیں کہ وہ اپنے تمام پہلوؤں کے رُو سے ظاہری طور پر ہی پوری ہوں گی بلکہ اِس بات کے ماننے کے لئے تیار رہیں کہ قدیم سنّت اﷲ کے موافق بعض حصّے ایسی پیشگوئیوں کے استعارات اور مجازات کے رنگ میں بھی ہوتے ہیں۔ اور اسی رنگ میں وہ پُوری بھی ہو جاتی ہیں۔ مگر غافل اور سطحی خیال کے انسان ہنوز انتظار میں لگے رہتے ہیں کہ گویا ابھی وہ باتیں پوری نہیں ہوئیں بلکہ آئندہ ہوں گی۔ جیسا کہ ابھی تک یہود اِسی بات کو روتے ہیں کہ ایلیا نبی دوبارہ دُنیا میں آئے گا اور پھر ان کا مسیح موعود بڑے بادشاہ کی طرح ظاہر ہو گا اور یہودیوں کو امارت اور حکومت بخشے گا۔ حالانکہ یہ سب باتیں پوری ہو چکیں اور اس پر انیس سو برس کے قریب گذر گیا اور آنے والا آ بھی گیا۔ اور اِس دنیا سے اُٹھایا بھی گیا۔
    یہ بات نہایت کارآمد اور یاد رکھنے کے لائق تھی کہ جو لوگ اﷲ تعالیٰ سے مامور ہو کر آتے ہیں خواہ وہ رسول ہوں یا نبی یا محدّث اور مجدد ان کی نسبت جو پہلی کتابوں میں یا رسولوں کی معرفت پیشگوئیاں کی جاتی ہیں اُن کے دو حصے ہوتے ہیں۔ ایک وہ علامات جو ظاہری طور پر وقوع میں آتی ہیں اور بیّنات کا حکم رکھتی ہیں۔ اور ایک وہ متشابہات جو استعارات اور مجازات کے رنگ میں ہوتی ہیں پس جن کے دلوں میں زیغ اور کجی ہوتی ہے وہ متشابہات کی پیروی کرتے ہیں اور طالبِ صادق بیّنات اور مُحکمات سے ؔ فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ یہود اور عیسائیوں کو یہ ابتلا پیش آ چکے ہیں۔ پس
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 265
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 265
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/265/mode/1up
    مسلمانوں کے اولوالابصار کو چاہئیے کہ ان سے عبرت پکڑیں اور صرف متشابہات پر نظر رکھ کر تکذیب میں جلدی نہ کریں اور جو باتیں خدا تعالیٰ کی طرف سے کُھل جائیں اُن سے اپنی ہدایت کے لئے فائدہ اُٹھاویں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ شک یقین کو رفع نہیں کر سکتا۔ پس پیشگوئیوں کا وہ حصّہ جو ظاہری طور پر ابھی پورا نہیں ہوا وہ ایک امر شکی ہے کیونکہ ممکن ہے کہ ایلیا نبی کے دوبارہ آنے کی طرح وہ حصّہ استعارہ یا مجاز کے رنگ میں پورا ہو گیا ہومگر انتظارکرنے والا اِس غلطی میں پڑا ہو کہ وہ ظاہری طور پر کسی دن پورا ہو گا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ بعض احادیث کے الفاظ محفوظ نہ رہے ہوں کیونکہ احادیث کے الفاظ وحی متلو کی طرح نہیں اور اکثر احادیث احاد کا مجموعہ ہیں۔ اعتقادی امر تو الگ بات ہے۔ جو چاہو اعتقاد کرو مگر واقعی اور حقیقی فیصلہ یہی ہے کہ احاد میں عندالعقل امکان تغیر الفاظ ہے۔ چنانچہ ایک ہی حدیث میں جو مختلف طریقوں اور مختلف راویوں سے پہنچتی ہے اکثر ان کے الفاظ اور ترتیب میں بہت سا فرق ہوتاہے۔ حالانکہ وہ ایک ہی وقت میں ایک ہی منہ سے نکلی ہے۔ پس صاف سمجھ آتا ہے کہ چونکہ اکثر راویوں کے الفاظ اور طرز بیان جُدا جُدا ہوتے ہیں اس لئے اختلاف پڑ جاتا ہے۔ اورنیز پیشگوئیوں کے متشابہات کے حصہ میں یہ بھی ممکن ہے کہ بعض واقعات پیشگوئیوں کے جن کا ایک ہی دفعہ ظاہر ہونا امید رکھا گیا ہے وہ تدریجاً ظاہر ہوں یا کسی اور شخص کے واسطہ سے ظاہر ہوں جیسا کہ ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی کہ قیصر و کسریٰ کے خزانوں کی کُنجیاں آپ کے ہاتھ پر رکھی گئی ہیں۔ حالانکہ ظاہر ہے کہ پیشگوئی کے ظہور سے پہلے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم فوت ہو چکے
    تھے اور آنجنابؐ نے نہ قیصر اور کسریٰ کے خزانہ کو دیکھا اور نہ کُنجیاں دیکھیں۔ مگر چونکہ مقدّر تھا کہ وہ
    کُنجیاں حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو ملیں کیونکہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کا وجود ظلّی طور پر گویا آنجناب صلی اﷲ علیہ وسلم کا وجود ہی تھا۔ اس لئے عالمِ وحی میں حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کا ہاتھ پیغمبر خدا صلی اﷲ علیہ وسلم کا ہاتھ قرار دیا گیا۔ خلاصہ کلام یہ کہ دھوکا کھانے والے اسی مقام پر دھوکا کھاتے ہیں وہ اپنی بدقسمتی سے پیشگوئی کے ہر ایک حصہ کی نسبت یہ امید رکھتے ہیں کہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 266
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 266
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/266/mode/1up
    وہ ظاہری طور پر ضرور پورا ہو گا اور پھر جب وقت آتا ہے اور کوئی مامور من اﷲ پیدا ہوتا ہے تو جو جو علامتیں اُس کے صدق کی نسبت ظاہر ہو جائیں اُن کی کچھ پرواہ نہیں رکھتے اور جو علامتیں ظاہری صورت میں پوری نہ ہوں یا ابھی اُن کا وقت نہ آیا ہو اُن کو بار بارپیش کرتے ہیں۔ ہلاک شدہ اُمتیں جنہوں نے سچے ؔ نبیوں کو نہیں مانا اُن کی ہلاکت کا اصل موجب یہی تھا اپنے زعم میں تو وہ لوگ اپنے تئیں بڑے ہوشیار جانتے رہے ہیں مگر اُن کے اس طریق نے حق کے قبول سے اُن کو بے نصیب رکھا۔
    یہ عجیب بات ہے کہ پیشگوئیوں کی نافہمی کے بارے میں جو کچھ پہلے زمانہ میں یہود اور نصاریٰ سے وقوع میں آیا اور انہوں نے سچوں کو قبول نہ کیا۔ ایسا ہی میری قوم مسلمانوں نے میرے ساتھ معاملہ کیا۔ یہ تو ضروری تھا کہ قدیم سنت اﷲ کے موافق وہ پیشگوئیاں جو مسیح موعود کے بارے میں کی گئیں وہ بھی دوحصوں پر مشتمل ہوتیں۔ ایک حصّہ بیّنات کا جو اپنی ظاہر صورت پر واقع ہونے والا
    تھا اور ایک حصّہ متشابہات کا جو استعارات اور مجازات کے رنگ میں تھا۔ لیکن افسوس کہ اس قوم نے بھی پہلے خطاکار لوگوں کے قدم پر قدم مارااورمتشابہات پر اَڑ کر اُن بیّنات کو ردّ کر دیا جو نہایت صفائی سے پوری ہو گئی تھیں۔ حالانکہ شرطِ تقویٰ یہ تھی کہ پہلی قوموں کے ابتلاؤں کو یاد کرتے متشابہات پر زور نہ مارتے اور بیّنات سے یعنی ان باتوں اور اُن علامتوں سے جو روز روشن کی طرح کھل گئی تھیں فائدہ اُٹھاتے۔ مگر وہ ایسا نہیں کرتے بلکہ جب جناب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی وہ پیشگوئیاں پیش کی جاتی ہیں جن کے اکثر حصے نہایت صفائی سے پورے ہو چکے ہیں تو نہایت لاپرواہی سے اُن سے مُنہ پھیر لیتے ہیں اور پیشگوئیوں کی بعض باتیں جو استعارات کے رنگ میں تھیں پیش کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حصّہ پیشگوئیوں کا کیوں ظاہری طور پر پورا نہیں ہوا ؟ اور بایں ہمہ جب پہلے مکذبوں کا ذکر آوے جنہوں نے بعینہٖ اُن ہی لوگوں کی طرح واقع شدہ علامتوں پر نظر نہ کی اور متشابہات کا حصہ جو پیشگوئیوں میں تھا اور استعارات کے رنگ میں تھا اس کو دیکھ کر کہ وہ ظاہری طور پر پورا نہیں ہوا حق کو قبول نہ کیا۔ تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم اُن کے زمانہ میں ہوتے تو ایسا نہ کرتے حالانکہ اب یہ لوگ ایسا ہی کر رہے ہیں جیسا کہ اُن پہلے مکذبوں
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 267
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 267
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/267/mode/1up
    نے کیا۔ جن ثابت شدہ علامتوں اور نشانوں سے قبول کرنے کی روشنی پیدا ہو سکتی ہے۔ ان کو قبول نہیں کرتے اور جو استعارات اور مجازات اور متشابہات ہیں اُن کو ہاتھ میں لئے پھرتے ہیں اور عوام کو دھوکا دیتے ہیں کہ یہ باتیں پوری نہیں ہوئیں حالانکہ سنّت اﷲ کی تعلیم، طریق کے موافق ضرور تھا کہ وہ باتیں اس طرح پوری نہ ہوتیں جس طرح اُن کا خیال ہے یعنی ظاہری اور جسمانی صورت پر بے شک ایک حصّہ ظاہری طور پر اور ایک حصہ مخفی طور پر پور اہو گیا۔ لیکن اس زمانہ کے متعصب لوگوں کے دلوںؔ نے نہیں چاہا کہ قبول کریں۔ وہ تو ہر ایک ثبوت کو دیکھ کر مُنہ پھیر لیتے ہیں۔ وہ خدا کے نشانوں کو انسان کی مکّاری خیال کرتے ہیں۔ جب خدائے قدوس کے پاک الہاموں کو سُنتے ہیں تو کہتے ہیں کہ انسان کا افترا ہے مگر اس بات کا جواب نہیں دے سکتے کہ کیا کبھی خدا پر افتراکرنے والے کو مفتریات کے پھیلانے کے لئے وہ مہلت ملی جو سچّے ملہموں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملی؟ کیا خدا نے نہیں کہا کہ الہام کا افترا کے طور پر دعویٰ کرنے والے ہلاک کئے جائیں گے اور خد اپر جھوٹ باندھنے والے پکڑے جائیں گے؟ یہ تو توریت میں بھی ہے کہ جھوٹا نبی قتل کیا جائے گا اور انجیل میں بھی ہے کہ جھوٹا جلد فنا ہو گا اور اس کی جماعت متفرق ہو جائے گی۔ کیا کوئی ایک نظیر بھی ہے کہ جھوٹے ملہم نے جو خدا پر افترا کرنے والا تھا ایّامِ افترا میں وہ عمر پائی جو اِس عاجز کو ایّامِ دعوتِ الہامِ الٰہی میں ملی؟ بھلا اگر کوئی نظیر ہے تو پیش تو کرو۔ مَیں نہایت پُرزور دعوے سے کہتا ہوں کہ دُنیا کی ابتداسے آج تک ایک نظیر بھی نہیں ملے گی۔ پس کیا کوئی ایسا ہے کہ اِس محکم اور قطعی دلیل سے فائدہ اُٹھاوے اور خدا تعالیٰ سے ڈرے؟ مَیں نہیں کہتا کہ بُت پرست عمر نہیں پاتے یا دہریہ اور اَنَا الْحَق کہنے والے جلد پکڑے جاتے ہیں کیونکہ ان
    غلطیوں اور ان ضلالتوں کی سزا دینے کے لئے دوسرا عالم ہے لیکن مَیں یہ کہتا ہوں کہ جو شخص خدا تعالیٰ پر الہام کا افترا کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ الہام مجھ کو ہوا حالانکہ جانتا ہے کہ وہ الہام اُ س کو نہیں ہوا وہ جلد پکڑا جاتا ہے اور اس کی عمر کے دن بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔ قرآن اورانجیل اور توریت نے یہی گواہی دی ہے۔ عقل بھی یہی گواہی دیتی ہے اور اس کے مخالف کوئی منکر کسی تاریخ کے حوالہ سے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 268
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 268
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/268/mode/1up
    ایک نظیر بھی پیش نہیں کر سکتااور نہیں دکھلا سکتا کہ کوئی جھوٹا الہام کا دعویٰ کرنے والا پچیس۲۵ برس تک یا اٹھارہ ۱۸ برس تک جھوٹے الہام دنیا میں پھیلاتا رہا اور جھوٹے طور پر خدا کا مقرب اور خدا کا مامور اور خدا کا فرستادہ اپنا نام رکھا اور اُس کی تائید میں سالہائے دراز تک اپنی طرف سے الہامات تراش کر مشہور کرتا رہا اور پھر وہ باجود ان مجرمانہ حرکات کے پکڑا نہ گیا کیا اُمید کی جاتی ہے کہ کوئی ہمارا مخالف اس سوال کا جواب دے سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ اُن کے دل جانتے ہیں کہ وہ اِن سوالات کے جواب دینے سے عاجز ہیں مگر پھر بھی انکار سے باز نہیں آتے بلکہ بہت سے دلائل سے اُن پر حجت وارد ہو گئی مگر وہ خواب غفلت میں سو رہے ہیں۔
    اہلِؔ حق کے نزدیک اس امر میں اتمام حجت اور کامل تسلّی کا ذریعہ چار طریق ہیں (۱) اوّل نصوصِ صریحہ کتاب اﷲ یا احادیثِ صحیحہ مرفوعہ متصلہ جو آنے والے شخص کی ٹھیک ٹھیک علامات بتلاتی ہوں اور بیان کرتی ہوں کہ وہ کس وقت ظاہر ہو گا اور اس کے ظاہر ہونے کے نشان کیا ہیں اور نیز حضرت عیسیٰ کی وفات یا عدمِ وفات کا جھگڑا فیصلہ کرتی ہوں (۲) دوم وہ دلائل عقلیّہ او ر مشاہدات حسّیہ جو علوم قطعیہ پر مبنی ہوں جن سے گریز کی کوئی راہ نہیں (۳) وہ تائیدات سماویہ جو نشانوں اور کرامات کے رنگ میں مدعی صادق کے لئے اُس کی دعا اور کرامت سے ظہور میں آئی ہوں تا اس کی سچائی پر نشان آسمانی کی زندہ گواہی کی مہر ہو۔ (۴) چہارم اُن ابرار اور اخیارکی شہادتیں جنہوں نے خدا سے الہام پا کر ایسے وقت میں گواہی دی ہو کہ جبکہ مدعی کا نشان نہ تھا کیونکہ وہ گواہی بھی ایک غیب کی خبر ہونے کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا نشان ہے اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ یہ چاروں طریق اتمام حجت اور کامل تسلّی کے اس جگہ جمع ہو گئے ہیں۔ مگر پھر بھی ہمارے اندرونی مخالفوں کو اس کی کچھ بھی پرواہ نہیں۔ ہم ذیل میں اِن چاروں اتمام حجت کے طریقوں کو لکھتے ہیں اور حق کے طالبوں کو اس طرف توجہ دلاتے ہیں کہ وہ ان مخالفوں سے پوچھیں کہ اِن دلائلِ بیّنہ سے کیوں رو گردانی کرتے ہیں؟ کیا ضرور نہ تھا کہ وہ ان سے فائدہ اٹھاتے یہ تو ظاہر ہے کہ جو امر وقوع میں آ جائے وہ یقینی ہے اور جو
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 269
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 269
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/269/mode/1up
    وقوع میں نہیں آیا وہ ہنوز ظنّی ہے اور معلوم نہیں کہ کس پہلو سے وقوع میں آوے آیا ظاہری طور پر یا مجازات کے رنگ میں۔کیونکہ پیشگوئیوں میں دونوں احتمال ہوتے ہیں لیکن جو حصّہ وقوع میں آکریقینی مرتبہ تک پہنچ گیا ہے۔ وہ یہی چاہتاہے کہ جو اموراس کے نقیض واقع ہوں وہ استعارات کے رنگ میں ظاہر ہوں۔ تا خدا کی پیشگوئیوں میں تناقض لازم نہ آوے ۔ اوروہ دلائل یہ ہیں:۔
    (۱) حق کے طالبوں کے لئے سب سے پہلے میں یہ امر پیش کرتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات قرآن شریف سے ثابت ہے۔ اس سے زیادہ کیا ثبوت ہو گا کہ آیت 3 ۱؂نے صاف اس بات کا فیصلہ کر دیا ہے کہ عیسائی عقیدہ میں جس قدر بگاڑ اور فساد ہوا ہے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد ہوا۔ اب اگر حضرت عیسیٰ کو زندہ مان لیں اور کہیں کہ اب تک وہ فوت نہیں ہوئے تو ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑتاؔ ہے کہ نصاریٰ نے بھی اب تک اپنے عقائد کو نہیں بگاڑا کیونکہ آیت موصوفہ میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ نصاریٰ کے عقیدوں کا بگڑنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعدہو گا۔ رہی یہ بات کہ توفّی کے اس جگہ کیا معنے ہیں؟ اس کا فیصلہ نہایت صفائی سے صحیح بخاری میں ہو گیا ہے کہ توفّی مارنے کو کہتے ہیں۔ یہ قول ابن عباسؓ ہے جس کو حدیث کمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِح کے ساتھ بخاری میں اَور بھی تقویت دی گئی ہے اور شارح عینی نے اس قول کا اسناد بیان کیا ہے۔ اب ایک تسلّی ڈھونڈنے والا سمجھ سکتا ہے کہ قرآن شریف اور اس کتاب میں جو اَصَحُّ الْکُتُبِ بَعْدَ کِتَابِ اللّٰہِ ہے صاف گواہی دی گئی ہے کہ حضرت عیسٰی فوت ہو گئے اور اس شہادت میں صرف امام بخاری رضی اﷲ عنہ متفرد نہیں بلکہ امام ابن حزم اور امام مالک رضی اﷲ عنہما بھی موت عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں اور ان کا قائل ہونا گو یا اُمت کے تمام اکابر کا قائل ہونا ہے کیونکہ اس زمانہ کے اکابر علماء سے مخالفت منقول نہیں اور اگر مخالفت کرتے تو البتہ کسی کتاب میں اُس کا ذکر ہوتا۔
    اس جگہ یاد رہے کہ ہمارے دعویٰ کی بنیاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہے۔ اب دیکھو یہ بنیاد کس قدر مضبوط اور محکم ہے جس کی صحت پر قرآن ۱شریف گواہی دے رہا ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 270
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 270
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/270/mode/1up
    حدیث۲ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم گواہی دے رہی ہے۔ قول ابن ۳ عباس رضی اﷲ عنہ گواہی دے رہا ہے۔ اوراَئمہ۴اسلام گواہی دے رہے ہیں اور ان سب کے بعدعقل بھی ۵ گواہی دیتی ہے۔ اورایلیا۶نبی کے دوبارہ آنے کا قصہ یہی گواہی دے رہا ہے جس کی تاویل خود حضرت مسیح کے مُنہ سے یہ ثابت ہوئی کہ ایلیا سے مراد یوحنّا یعنی یحیٰیہے اور اس تاویل نے یہود کے اس اجماعی عقیدہ کو خاک میں ملا دیا کہ درحقیقت ایلیا نبی جو دنیا سے گذر گیا تھا پھر دنیا میں آئے گا۔ حق کے طالب اس مقام میں خوب سوچیں کہ نصوصِ قرآنیہ سے نصوصِ حدیثیہ سے پہلی کتابوں کی شہادت سے اَئمہ کی گواہی سے دلائل عقلیہ سے یہی مذہب سچا ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور اب ان کے دوبارہ آنے کی اُمید اسی قسم کی اُمید ہے جس اُمید کے سہارے پر یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت سے انکار کیا۔ ہم ثالثوں کے آگے یہ مقدمہ پیش کرتے ہیں وہ جواب دیں کہ اب اس فیصلہ میں کون سی کسر باقی رہ گئی ہے۔ تمام قرآن یہ گواہی دے رہا ہے کہ توفّی کے یہ معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ کسی انسان کی رُوح کو اپنے قبضہ میں لے لے نہ یہ کہ جسم کو اپنے قبضہ میں لے ؔ لے۔ ہاں رُوح کو اپنے قبضہ میں لے لینا دو طور سے ہو سکتا ہے ایک یہ کہ خواب کی حالت میں رُوح کواپنے قبضہ میں لے اور پھر اس کو بدن میں واپس بھیج دے۔ اور یا یہ کہ موت کی حالت میں روح کو اپنے قبضہ میں لے اور پھر اُس کو بدن میں واپس نہ بھیجے۔ یہی دو صورتیں ہیں جو قرآن شریف میں بیان فرمائی گئی ہیں مگر جسم کو قبضہ میں لینا کہیں بیان نہیں فرمایا گیااور نہ کسی لُغت والے نے لکھا کہ توفّی کے یہ معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ کسی جسم کو اپنے قبضہ میں لے لے بلکہ بالاتفاق تمام اہلِ لُغت یہی کہتے ہیں کہ جب یہ مثلاً کہا جائے کہ تَوَفَّی اللّٰہُ زَیْدًا تو اس کے یہی معنے ہوں گے کہ خدا تعالیٰ نے زید کی رُوح کو قبض کر لیا۔ ہاں محاورہ قرآنی میں یہ دونوں باتیں آ گئی ہیں کہ خواہ اﷲ تعالیٰ کسی کے جسم کو نیند کی حالت میں اس کے بستر پر چھوڑ کر رُوح کو قبض کرلے اور پھر واپس جسم میں لاوے اور خواہ موت کی حالت میں ہمیشہ کے لئے قبض کرے اور حشر تک واپس نہ لاوے۔ مگر قبض کا فعل ہمیشہ رُوح سے تعلق رکھے گا نہ کہ جسم سے۔ ہمارے مخالف علماء یہ بھی غلطی کرتے ہیں کہ توفّی کے معنے نیند بھی لیتے ہیں۔ خدا اُن کی حالت پر رحم کرے۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 271
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 271
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/271/mode/1up
    ان کو سمجھنا چاہئیے کہ توفّی نیند کو ہرگز نہیں کہتے اور کبھی یہ لفظ نیند پر اطلاق نہیں کیا گیا اور نہ قرآن میں نہ کسی لُغت کی کتاب میں نہ حدیث کی کتابوں میں نیند کے معنے لئے گئے۔ بلکہ توفّی کے دو ہی معنے ہیں جیسا کہ ابھی میں نے ذکر کیا۔ یعنی اوّل یہ کہ ہمیشہ کے لئے رُوح کو قبض کرنا اور یہ معنے موت سے متعلق ہیں اور دوسرے یہ معنے کہ تھوڑے عرصہ کے لئے روح کو قبض کرنااور پھر بدن کی طرف واپس بھیج دینا اور یہ قبض رُوح کی صورت نیند کی حالت سے تعلق رکھتی ہے۔ اور یہ قبض روح کی صورت اس وقت کسی پر صادق آئے گی جب خدا تعالیٰ کسی شخص کی نیند کی حالت میں اُس کی رُوح کو قبض کرے جیسا کہ ہر روز رات کو اسی طرح ہماری رُوح قبض کی جاتی ہے۔ ہمارا جسم کسی چارپائی یا چٹائی پر پڑا ہوا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ ہماری رُوح کو تمام رات یا جس وقت تک چاہے اپنے قبضہ میں کر لیتا ہے۔ تب رُوح کے افعال میں ہماری خود اختیاری معطل پڑ جاتی ہے۔ پھر رات گذرنے کے بعد یا جس وقت خدا تعالیٰ چاہے ہماری رُوح پھر ہمارے بدن کی طرف پھیری جاتی ہے گویا ہم رات کو مرتے اور دن کو زندہ کئے جاتے ہیں۔ پس نیند کی حالت میں جو قبض رُوح ہوتا ہے اس کی یہی مثال ہے جو ہم تمام لوگوں کا چشم دید ماجرا ہے۔ مگر ہم اور ہمارے تمام مخالف جانتے ہیں کہ جب رات کو ہماری رُوح قبض کی جاتی ہے تب ؔ اگرچہ خدا تعالیٰ جہاں چاہتا ہے ہماری رُوح کو لے جاتا ہے مگر ہمارا جسم اپنی جگہ سے ایک بالشت بھی حرکت نہیں کرتا۔ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ نیند کی حالت میں ہمارا جسم آسمان پر چلا جاتا ہے یا اپنی قرار گاہ سے کچھ حرکت کرتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ غرض یہ فیصلہ نہایت صفائی سے ہو گیا ہے کہ توفّی کے معنے رُوح کا قبض کرنا ہے خواہ نیند کے عالم کی طرح تھوڑی مدّت تک ہو یا موت کے عالم کی طرح حشر کے وقت تک۔
    اِس جگہ یاد رہے کہ مَیں نے براہین احمدیہ میں غلطی سے توفّی کے معنے ایک جگہ پورا دینے کے کئے ہیں جس کو بعض مولوی صاحبان بطور اعتراض پیش کیا کرتے ہیں مگر یہ امر جائے اعتراض نہیں۔ میں مانتا ہوں کہ وہ میری غلطی ہے الہامی غلطی نہیں۔ مَیں بشر ہوں اور بشریت کے عوارض مثلاً جیسا کہ سہو اور نسیان اور غلطی یہ تمام انسانوں کی طرح مجھ میں بھی ہیں گو مَیں جانتا ہوں کہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 272
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 272
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/272/mode/1up
    کسی غلطی پر مجھے خدا تعالیٰ قائم نہیں رکھتا مگر یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ مَیں اپنے اجتہاد میں غلطی نہیں کر سکتا۔ خدا کا الہام غلطی سے پاک ہوتا ہے مگر انسان کاکلام غلطی کا احتمال رکھتا ہے کیونکہ سہو و نسیان لازمۂ بشریت ہے۔ مَیں نے براہین احمدیہ میں یہ بھی اعتقاد ظاہر کیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پھر واپس آئیں گے مگر یہ بھی میری غلطی تھی جو اس الہام کے مخالف تھی جو براہین احمدیہ میں ہی لکھا گیا۔ کیونکہ اس الہام میں خدا تعالیٰ نے میرا نام عیسیٰ رکھا اور مجھے اس قرآنی پیشگوئی کا مصداق ٹھہرایا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے خاص تھی۔ * اور آنے والے مسیح موعود کے تمام صفات مجھ میں قائم کئے سو خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت تھی جو مَیں باوجود ان الہامی تصریحات کے ان الہامات کے منشاء پر اطلاع نہ پا سکا اور ایسے عقیدہ کو جو ان الہامات کے مخالف تھا براہین احمدیہ میں لکھ دیا۔ اس تحریر سے میری بریّت ثابت ہوتی ہے کیونکہ اگر وہ الہامات براہین احمدیہ کے میری بناوٹ ہوتے جن میں واقعی طور پر مجھے مسیح موعود قرار دیا گیا تھا تو مَیں اپنے بیان میں ان الہامات سے اختلاف نہ کرتا بلکہ اُسی وقت مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کر دیتالیکن ظاہر ہے کہ میرا اپنا عقیدہ جو مَیں نے براہین احمدیہ میں لکھا ان الہامات کی منشاسے جو براہین احمدیہ میں درج ہیں صریح نقیض پڑا ہوا ہے۔ جس سے ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ وہ الہامات میری بناوٹ اور منصوبہ سے مبرّا اورمنزہ ہیں۔ اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ یہ انسان کا کام نہیں کہ بارہ ۱۲ بر سؔ پہلے ایک دعویٰ سے الہامی عبارت لکھ کر اس دعوے کی تمہید قائم کرے اور پھر سالہا سال کے بعد ایسا دعویٰ کرے جس کی بنیاد ایک مدت دراز پہلے قائم کی گئی ہے۔ ایسا باریک مکر نہ انسان کر سکتا ہے نہ خدا اس کو ایسے افتراؤں میں اس قدر مہلت دے سکتا ہے۔
    اِس تمام تقریرسے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات حیات کی بحث میں
    وہ یہ آیت ہے۔ 3 ۱؂ ۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 273
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 273
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/273/mode/1up
    حق میری طرف ہے۔ پھراس ثبوت کے ساتھ اور بہت سے دلائل ہیں کہ اس مسئلہ موتِ مسیح کو حق الیقین تک پہنچاتے ہیں جیسا کہ آنحضرت۱ صلی اﷲ علیہ وسلم کا فرمانا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایک سو بیس ۰۲۱ برس کی عمر پائی۔ اور حضرت۲ ابوبکر رضی اﷲ عنہ کا آیت 3 ۱ ؂ کو اس استدلال کی غرض سے عام صحابہ کے مجمع میں پڑھنا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے پہلے تمام نبی فوت ہو چکے ہیں۔ *اور اﷲ جلّ ۳ شانہٗ کا قرآن شریف میں فرمانا 3 ۲؂ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کرّہ زمین کے سوا دوسری جگہ نہ زندگی بسر کر سکتا ہے اور نہ مر سکتا ہے اور حضرت ۴ عیسیٰ علیہ السلام کا نام مسیح یعنی نبی سیّاح ہونا بھی اُن کی موت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ سیاحت زمین تقاضا کرتی ہے کہ وہ صلیب سے نجات پا کر زمین پر ہی رہے ہوں۔ ورنہ بجز اس زمانہ کے جو صلیب سے نجات پا کر ملکوں کا سیر کیا ہو اور کوئی زمانۂ سیاحت ثابت نہیں ہو سکتا صلیب کے زمانہ تک نبوت کا زمانہ صرف ساڑھے تین برس تھے۔ یہ زمانہ تبلیغ کے لئے بھی تھوڑا تھا چہ جائیکہ اس میں تمام ملک کی سیاحت کرتے۔ ایسا ہی مرہم ۵ عیسیٰ جو قریبًا طبّ کی ہزار کتاب میں لکھی ہے ثابت کرتی ہے کہ صلیب کے واقعہ کے وقت حضرت عیسیٰ آسمان پر نہیں اٹھائے گئے بلکہ اپنے زخموں کا اس مرہم کے ساتھ علاج کراتے رہے۔ اس کا نتیجہ بھی یہی نکلا کہ زمین پر ہی رہے اورزمین پر ہی فوت ہوئے۔ معراج۶ کی رات میں بھی اُن کی روح وفات شدہ ارواح میں پائی گئی۔ ایک حد۷ یث میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اگر موسےٰ و عیسےٰ زندہ ہوتے تو میری پیروی کرتے اب اس قدردلائل موت کے بعد کوئی خدا ترس اُن کے زندہ ہونے کا عقیدہ نہیں رکھ سکتا۔
    (۲)ؔ اَب جب وفات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ثابت ہوگئی تو مسیح موعود کی پیشگوئی کے بجُز
    * اس استدلال کو سن کر تمام صحابہ خاموش رہے اور کسی نے مخالفت ظاہر نہ کی اور یہ نہ کہا کہ تمام انبیاء فوت نہیں ہوئے بلکہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں لہٰذا اس سے حضرت عیسیٰ کے فوت پر اجماع صحابہ ثابت ہوا اور اگر اِس سے پہلے کسی کا اس کے مخالف خیال بھی تھا جو حدیثوں میں روایت کیا گیا ہو کالعدم ہو گیا۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 274
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 274
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/274/mode/1up
    اس کے اَورکوئی معنے نہ ہوئے کہ جناب موصوف کی خو اور طبیعت پر کوئی اور شخص اس امت میں سے پیدا ہو۔ جیسا کہ حضرت ایلیا کے نام پر حضرت یحییٰ علیہ السلام آگئے۔ اس بات کے ماننے سے مسیح موعود کی پیشگوئی میں کچھ بھی دقتیں اور مشکلات پیدا نہیں ہوئیں بلکہ ایک ذخیرہ غیر معقول باتوں کامعقولی رنگ میں آگیا۔ اب کچھ ضرورت نہ رہی کہ نزول کے لفظ سے یہ سمجھا جائے کہ آسمان سے کوئی نازل ہو گابلکہ لفظ نزول اپنے عام معنوں میں رہا کہ مسافروں کے لئے بولا جاتاہے۔ یاد رہے کہ ہر ایک آنے والا عظمت کی نگاہ سے نازل سمجھا جاتا ہے اور نزیل جو مسافر کو کہتے ہیں۔ اور اگر فرض کے طور پر حدیث میں آسمان کا لفظ بھی ہو تب بھی حرج نہیں کیونکہ تمام مامور من اﷲ آسمانی کہلاتے ہیں اور آسمانی نور ساتھ لاتے ہیں اور جھوٹے آدمی زمینی کہلاتے ہیں۔ یہ عام محاورہ خدا تعالیٰ کی کتابوں کا ہے لیکن اس جگہ یہ ضروری بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ یہ قصہ نزول مسیح جو مسلم میں ایک لمبی حدیث میں نواس بن سَمعان سے ہے لکھا ہے جس کے معنے ہمارے مخالف یہ کرتے ہیں کہ گویا آسمان سے کوئی نازل ہو گا یہ معنے ثبوت مذکورہ بالا سے جو ہم نے قرآن اور حدیث اور دیگر شواہد سے دیا ہے بالکل کالعدم ہو کر ان کا بُطلان ظاہر ہو گیا ہے۔ کیونکہ اگر یہ معنے کئے جائیں تو ان معنوں اور بیان قرآن شریف اور دوسری احادیث میں سخت تناقض لازم آتا ہے اس صورت میں بجز اس بات کے ماننے کے چارہ نہیں ہے کہ یہ حدیث اور اس کے امثال استعارات کے رنگ میں ہیں۔ کیونکہ اگر اس مضمون کو ظاہر پر حمل کیا جائے تو بوجہ تناقض یہ تمام حدیث ردّ کرنے کے لائق ٹھہرے گی۔ مگر الحمد ﷲ یہ بات فیصلہ پا چکی ہے کہ پیشگوئیوں میں یہی اصول ہے کہ ایک حصہ ان کا ظاہر پر حمل کیا جاتا ہے اور ایک حصّہ استعارات کا ہوتا ہے۔ اس لئے حدیث کو ردّ کرنے کی حاجت نہیں بلکہ گنجائش تاویل وسیع ہے۔ چونکہ وہ عقیدہ باطلہ جس کے ابطال کے لئے مسیح موعود نے آنا تھا دمشق سے ہی پیدا ہوا ہے یعنی عقائد تثلیث و نجات صلیبی۔ اس لئے اﷲ تعالیٰ کے علم میں دمشق کو مسیح سے ایک تعلق تھا اور مسیح کی رُوحانیت کا ازل سے دمشق کی طرف رُخ تھا۔ پس جیسا کہ ہمار ے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے عالمِ کشف میں
    * اسی وجہ سے دوسری حدیث میں جو ابن عساکر میں ہے رَءَیْتُ کا لفظ ہے یعنی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مَیں نے عالم کشف میں دیکھا کہ مسیح ابن مریم منارہ شرقی دمشق کے قریب نازل ہوا ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 275
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 275
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/275/mode/1up
    دجّال کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور وہ طواف چوروں کی طرح اس نیّت سے تھا کہ تا موقعہ پا کر خانہ کعبہ کو منہدم کرے ایسا ہی آ نحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے عالمِ کشف میں مسیح موعود کو دمشق کے منارہ مشرقی پر نازل ہوتے * دیکھاؔ سو یہ ایسا ہی ایک کشفی امر تھاجیسا کہ دجّال کا طواف کرنا ایک کشفی امر تھا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ دجّال فی الحقیقت مسلمان ہو جائے گااورخانہ کعبہ کا طواف کرے گا بلکہ ہر ایک دانا اس وحی کے یہی معنے لے گا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر عالمِ کشف میں دجّال کی روحانیت منکشف ہوئی اور یہ تمثیل کشفی نظر میں آنکھوں کے سامنے آئی کہ گویا دجّال ایک شخص کی صورت میں خانہ کعبہ کا طواف کر رہا ہے اور اس کی تاویل یہ تھی کہ دجّال دینِ اسلام کا سخت دشمن ہو گا اور اُس کی نظر بدنیتی سے خانہ کعبہ کے گرد پھرتی رہے گی جیسا کہ کوئی اس کا طواف کرتا ہے ظاہر ہے کہ جیسا کہ رات کے وقت چوکیدار گھروں کا طواف کرتا ہے ویساہی چور بھی کرتا ہے لیکن چوکیدار کی نیّت گھر کی حفاظت اور چوروں کا گرفتار کرنا ہوتا ہے ایسا ہی چور کی نیت نقب زنی اور نقصان رسانی ہوتی ہے۔ سو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے کشف میں دجّال کی روحانیت جو طوافِ کعبہ میں پائی گئی اس سے یہی مطلب تھا کہ دجّال اس فکر میں لگا رہے گا کہ خانہ کعبہ کی عزّت کو دُور کرے ۔اور مسیح موعود جو خانہ کعبہ کا طواف کرتا دیکھا گیا اس سے یہ مطلب ہے کہ مسیح موعود کی روحانیت بیت اﷲ کی حفاظت اور دجّال کی گرفتاری میں مصروف پائی گئی۔ یہی تشریح اس مقام کی ہے جہاں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے مسیح موعود کو دمشق کے منارہ شرقی میں نازل ہوتے دیکھا۔ چونکہ مبدء تثلیث اور مخلوق پرستی اور صلیبی نجات کا دمشق ہی ہے اس لئے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی وحی مبارک میں یہ ظاہر کیا گیا کہ مسیح موعود منارہ شرقی دمشق کے پاس نازل ہوا۔ اور نیز جبکہ مسیح موعود کی رُوحانیت اس طرف متوجہ تھی کہ تثلیث کی بنیاد کو
    * اسی وجہ سے دوسری حدیث میں جو ابن عساکر میں ہے رَءَیْتُ کا لفظ ہے یعنی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مَیں نے عالم کشف میں دیکھا کہ مسیح ابن مریم منارہ شرقی دمشق کے قریب نازل ہوا ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 276
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 276
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/276/mode/1up
    درہم برہم کرے اور ظاہری مثال میں تثلیث کی بنیاد دمشق سے شروع ہوئی تھی اس لئے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو عالمِ کشف میں یہ دکھایا گیا کہ گویا مسیح موعود دمشق کے منارہ مشرقی کے قریب نازل ہوا۔ * یہ بعینہٖ ایسا ہی تھا جیسا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو دجّال کا طواف کرنا کشفی عالم میں دکھایا گیا۔ اور جیسا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر یہ ظاہر کیا گیا کہ آپ کی وفات کے بعد آپ کی ازواج میں سے وہ بیوی پہلے فوت ہو گی جس کے لمبے ہاتھ ہوں گے اور دراصل لمبے ہاتھوں سے مراد سخاوت تھی۔ دراصل بات یہ ہے کہ بسا اوقات انبیاء علیہم السلام اور دوسرے ملہمین پر ایسے امور ظاہر کئے جاتے ہیں کہ وہ سراسر استعارات کے رنگ میں ہوتے ہیں اور انبیاء علیہم السلام ان کو اسی طرح لوگوںؔ پر ظاہر کر دیتے ہیں جس طرح وہ سُنتے ہیں یا دیکھتے ہیں۔ اور ایسا بیان کرنا غلطی میں داخل نہیں ہوتاکیونکہ اُسی رنگ اور طرز سے وحی نازل ہوتی ہے اور یہ بھی ضروری نہیں ہوتا کہ الہامی اور کشفی پیشگوئیوں کے تمام استعارات کا نبی کو علم دیا جائے کیونکہ بعض ابتلا جو پیشگوئیوں کے ذریعہ سے کسی زمانہ کے لئے مقدّر ہوتے ہیں وہ علم کی اشاعت کی وجہ سے قائم نہیں رہ سکتے اور یہ بھی ممکن ہے کہ پیشگوئیوں کے بعض اسرار سے نبیوں کو اطلاع تو دی جائے مگر اُن کو اُن اسرار کے افشا سے منع کیا جائے۔ بہرحال یہ امور نبوت کی شان سے ہرگز منافی نہیں ہیں۔ کیونکہ کامل اور غیر محدود علم خدا تعالیٰ کی ذات سے خاص ہے اور نزول مسیح موعود میں یہ احتمال بھی ہے کہ ایسی جگہ اُس
    موعود کا ظہور ہوگا جو دمشق سے شرق کی طرف واقع ہوگی اور بموجب تحقیق جغرافیہ کے وہ قادیاں ہے کیونکہ دمشق سے اگر ایک خط مستقیم مشرق کی طرف کھینچا جائے تو ٹھیک ٹھیک مشرقی طرف ا س کی وہ نقطہ ہے جہاں لاہور ہے جو صدر مقام پنجاب کا ہے اور قادیاں لاہور کے مضافات میں سے ہے۔ کیونکہ دائرہ پنجاب کا مرکز حکومت قدیم سے لاہور ہی ہے اور قادیاں لاہور سے تقریباً ستّرمیل
    * یعنی چونکہ مسیح موعود کی توجہ خاص اسی طرف تھی کہ وہ تثلیث کو براہین قطعیہ سے معدوم کرے اس لئے عالم کشف میں دمشق کے قریب اس کا اُترنا مشہود ہواکیونکہ اس کا آنا دمشقی بنیاد کی قلع قمع کے لئے تھا۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 277
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 277
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/277/mode/1up
    کے فاصلہ پر ہے۔
    اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ نصوص صریحہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت ہو چکی ہے اور حق کھل گیا ہے اور اس کے مقابل پر یہ دوسرا حصّہ احادیث کا جس میں نزولِ مسیح کی خبر دی گئی ہے یہ سب استعارات لطیفہ ہیں جو ازقبیل وحی وراء الحجاب ہیں جس کا قرآن شریف میں ذکر کیا گیا ہے۔ اور وحی وراء الحجاب کی خدا تعالیٰ کی کلام میں ہزاروں مثالیں ہیں اِ س سے انکار کرنا منصف کا کام نہیں ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کا دو جھوٹے نبیوں کو دو کڑوں کی شکل میں دیکھنا اسی قسم کی وحی تھی۔ گائیں ذبح ہوتے دیکھنا بھی اِسی قسم کی وحی تھی لمبے ہاتھوں والی بیوی کا سب بیویوں سے پہلے فوت ہونا دیکھنا بھی اسی قسم کی وحی تھی اور ملا کی نبی کی وحی میں یہ ظاہر کیا جانا کہ ایلیا نبی دوبارہ آئے گا اور یہود کی بستیوں میں سے فلاں مقام میں نازل ہو گا یہ بھی اِسی قسم کی وحی تھی اور مدینہ کی وباکا عورت پراگندہ شکل کے طور پر نظر آنا یہ بھی اِسی قسم کی وحی تھی۔ اسی طرح دجّال بھی جو ایک دجل کرنے والا گروہ ہے ایک شخص مقرر کی طرح نظر آیا۔ یہ بھی اسی قسم کی وحی ہے۔ نبیوں کی وحیوں میں ہزاروں ایسے نمونے ہیں ؔ جن میں روحانی امور جسمانی رنگ میں نظر آئے یا ایک جماعت ایک شخص کی صورت میں نظر آئی۔تمام نوع انسان کے لئے جس میں انبیاء علیہم السلام بھی داخل ہیں خدا تعالیٰ کی یہ سنّت ہے کہ الہام اور وحی اور رؤیا اور کشف پر اکثر استعارات غالب ہوتے ہیں۔ مثلاً دو چار سو آدمی جمع کرکے اُن کی خوابیں سنو تو اکثر اُن میں استعارات ہوں گے۔ کسی نے سانپ دیکھا ہو گا اورکسی نے بھیڑیا اور کسی نے سیلاب اور کسی نے باغ اور کسی نے پھل اور کسی نے آگ اور تمام یہ امور قابلِ تاویل ہوں گے۔ حدیثوں میں ہے کہ قبر میں عمل صالح اور غیر صالح انسان کی صورت پر دکھائی دیتے ہیں۔ سو یہ ایک ایسا نکتہ ہے جس سے تمام تناقض دُور ہوتے ہیں اور حقیقت کھلتی ہے۔ مبارک وہ جو اِس میں غور کریں۔
    اور جبکہ کامل تحقیقات سے یہ فیصلہ ہو چکا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام درحقیقت فوت ہو گئے ہیں اور ہر ایک پہلو سے اُن کی وفات بپایۂ ثبوت پہنچ گئی بلکہ حدیث صحیح سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ انہوں نے ایک سو بیس۱۲۰ برس عمر پائی اور واقعہ صلیب کے بعد ستاسی ۸۷ برس اَور زندہ رہے تو
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 278
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 278
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/278/mode/1up
    یہ سوال باقی رہا کہ پھر ان حدیثوں کے کیا معنے ہیں کہ عیسیٰ ابن مریم آخری زمانہ میں نازل ہو گا؟اس کا جواب ہم ابھی دے چکے ہیں کہ یہ حدیثیں ظاہری معنوں پر ہر گزمحمول نہیں ہو سکتیں کیونکہ قرآن شریف میں یعنی آیت 3 ۱؂ میں صاف فرمایا گیاہے کہ عادت اﷲ میں یہ امر داخل نہیں کہ کوئی انسان اِسی جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چلا جائے اور پھر آسمان سے نازل ہو اور نہ اب تک کسی زمانہ میں یہ عادت اﷲ ثابت ہوئی کہ کوئی شخص دنیا سے جا کر پھر واپس آیا ہو۔ اور جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی آج تک ایک بھی نظیر اس قسم کی واپسی کی پائی نہیں گئی۔ مگر اس بات کی نظیر پہلی کتابوں میں موجود ہے کہ جس شخص کے پھر دوبارہ دنیا میں آنے کا وعدہ دیا گیا وہ وعدہ اس طرح پر پورا ہوا کہ کوئی اور شخص اُس کی خُو اور طبیعت پر آ گیا۔ جیسا کہ ایلیا نبی کا دوبارہ دنیا میں آنا یہود کو وعدہ دیا گیا تھا بلکہ لکھا گیا تھا کہ ضرور ہے کہ مسیح سے پہلے ایلیا دوبارہ دنیا میں آجائے مگر وہ وعدہ اپنی ظاہری صورت میں آج تک پورا نہیں ہوا حالانکہ مسیح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام جس کے آنے کا وعدہ تھا وہ دنیا میں آ کر دنیا سے اُٹھایا بھی گیا۔ پس کچھ شک نہیں کہ وہ وعدہ جیسا کہ حضرت مسیح نے اس پیشگوئی کے معنےؔ کئے باطنی طور پر پورا ہو گیا یعنی حضرت یوحنّا جس کا نام یحییٰ بھی ہے ایلیا کی خُو اور طبیعت پر دنیا میں آیا گویا ایلیا آ گیا۔ اب نظیر مذکورہ بالا کے لحاظ سے ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ ضرور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا وعدہ بھی اسی رنگ اور طرز سے ظہور پذیر ہو جیسا کہ ایلیا کے دوبارہ آنے کا وعدہ ظہور پذیر ہوا ورنہ یہودیوں کی طرز پر مسیح کے دوبارہ آنے کی پیشگوئی کو ظاہری معنوں پر محمول کرنا گویا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت سے انکار
    کرنا ہے۔ کیونکہ اگر کسی کا دوبارہ دنیا میں آنا سنت اﷲ میں داخل تھا تو اس صورت میں یہودیوں کا یہ اعتراض نہایت درست اور بجا ہو گا کہ ایلیا نبی حسب وعدہ ملاکی نبی کے کیوں مسیح سے پہلے دوبارہ دنیا میں نہ آیا؟ اور جس صورت میں سنّت الٰہی میں یہ داخل تھا کہ کوئی
    شخص دنیا سے گیا ہوا پھر دنیا میں آوے تو گویا نعوذ باﷲ اﷲ جلّ شانہٗ نے دانستہ یہودیوں کے سامنے حضرت مسیح کو خفیف اور نادم کیا کہ اُن سے پہلے ایلیا نبی کو دوبارہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 279
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 279
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/279/mode/1up
    دنیا میں نہ بھیجا اور تاویلوں کی حاجت پڑی اور ظاہر الفاظ کے رو سے یہودیوں کا یہ عذر بہت معقول تھا کہ جس حالت میں سچے مسیح کے آنے کے لئے یہ شرط تھی کہ پہلے ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں آجائے تو پھر بغیر ایلیا نبی کے دوبارہ آنے کے کیونکر مسیح ابن مریم دنیا میں آ گیا۔ اب جب کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے یہودیوں کو یہ جواب ملا ہے کہ ایلیا نبی کے دوبارہ آنے سے یوحنّا نبی یعنی یحییٰ کا آنا مراد تھا تو ایک دیندار آدمی سمجھ سکتا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم کا دوبارہ آنا بھی اِسی طرز سے ہو گا کیونکہ یہ وہی سنّت اﷲ ہے کہ جو پہلے گذر چکی ہے۔ 3 ۱؂
    علاوہ ان باتوں کے مسیح ابن مریم کے دوبارہ آنے کو یہ آیت بھی روکتی ہے 3 3۲؂ اور ایسا ہی یہ حدیث بھی کہ لَانَبِیَّ بَعْدِی ۔ یہ کیونکر جائز ہوسکتا ہے کہ باوجودیکہ ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں پھر کسی وقت دوسرا نبی آ جائے اور وحئی نبوت شروع ہو جائے؟ کیا یہ سب امور حکم نہیں کرتے کہ اس حدیث کے معنے کرنے کے وقت ضرور ہے کہ الفاظ کو ظاہر سے پھیرا جائے۔ ماسوا اس کے ایک بڑا قرینہ اس بات پر کہ آنے والا مسیح موعود غیر اس مسیح کا ہے جو گذر چکا اختلاف حلیوں کا ہے۔ کیونکہ صحیح بخاری میں جو اَصَحُّ الکُتُبِ بَعْدَ کِتَابِ اﷲ ہےؔ حضرت عیسےٰ علیہ السلام کا حلیہ سُرخ رنگ لکھاہے۔ جیسا کہ بلادِ شام کے لوگوں کا رنگ ہوتا ہے اورجیسا کہ تصویروں میں دکھایا گیا ہے اور گھنگریالے بال لکھے ہیں۔ لیکن مسیح موعودجس کی اِس اُمت میں آنے کی خبر دی گئی ہے اُس کا حلیہ گندم گوں اور سیدھے بالوں والا بیان کیا ہے اور علاوہ اس کے یہ بھی لکھاہے کہ وہ اِسی اُمّت میں سے ہو گا بخاری کے یہ لفظ ہیں کہ اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ اور مسلم کے یہ لفظ ہیں فَاَمَّکُمْ مِنْکُمْ دونوں سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ آنے والا مسیح آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت میں سے ہے اور اگر یہ کہو کہ ’’کیوں جائز نہیں کہ یہ تمام
    حدیثیں موضوع ہوں اور آنے والا کوئی بھی نہ ہو۔‘‘ تو مَیں کہتا ہوں کہ ایسا خیال بھی سراسر ظلم ہے۔ کیونکہ یہ حدیثیں ایسے تواتر کی حد تک پہنچ گئی ہیں کہ عند العقل ان کا کذب محال ہے اور ایسے متواترات بدیہیات کے رنگ میں ہو جاتے ہیں۔ ماسوا اس کے ان حدیثوں میں جو بڑی بڑی
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 280
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 280
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/280/mode/1up
    پیشگوئیاں تھیں جو امورِ غیبیہ پر مشتمل تھیں وہ ہمارے اس زمانہ میں پوری ہو گئی ہیں۔ پس اگر یہ حدیثیں جھوٹی اور انسان کا افترا ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ اُن کی وہ غیب کی باتیں پوری ہو سکتیں جو انسانی طاقت سے باہر ہیں۔ دیکھو یہ پیشگوئی جو یعلٰی اورحاکم نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ قیامت کے قریب یعنی مسیح موعود کے وقت میں لوگ حج سے روکے جائیں گے کیسی صفائی سے ان دنوں میں پوری ہو رہی ہے جوبباعث طاعون ہر ایک سلطنت نے حج کے ارادہ کرنے والوں کو سفرِ مکّہ معظمہ سے روک دیا۔* کیا ایسا واقعہ پہلے بھی کبھی وقوع میں آیا؟ پھر دیکھو کہ یہ دوسری پیشگوئی جس کا یہ مضمون ہے کہ اس مہدی موعود کے زمانہ میں رمضان میں خسوف کُسوف ہو گا اور چاند اپنے گرہن کی راتوں میں سے پہلی رات میں اور سورج اپنے خسوف کے دنوں میں سے بیچ کے دنوں میں منخسف ہو گا۔ یہ کس قدر عظیم الشان پیشگوئی ہے کہ دارقطنی میں آج سے گیارہ سو برس پہلے مندرج ہو کر تمام دنیا میں شائع ہو گئی تھی اور اب نہایت وضاحت سے پوری ہو گئی۔ ایسا ہی حاکم وغیرہ میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ ان دنوں میں ایک نئی سواری پیدا ہو گی جو رات دن میں صد ہا کوس چلی جائے گی اور لوگ اس پر رات اور دن میں سفر کریں گے۔ اور ان دنوں میں اونٹ بے کار ہو جائیں گے۔ دیکھو یہ کیسی اعلیٰ درجہ کی پیشگوئی ہے جو مسیح موعود کے زمانہ کے بارے میں کی گئی۔ کیا کسی انسان کی طاقت ہے کہ صدہا برس پہلے افتراکے طور پر ان پیشگوئیوں کو لکھ لے؟ ایساؔ ہی حدیثوں میں یہ بھی مندرج تھا کہ ان دنوں میں طاعون بھی پھوٹے گی۔ اب آنکھ کھول کر دیکھو کہ یہ وہی دن ہیں اور طاعون روز بروز زور ما ر رہی ہے اور حدیثوں میں یہ پیشگوئی بھی لکھی گئی تھی کہ اُن دنوں میں سورج میں بھی ایک نشان ظاہر ہوگا اور سب کو معلوم ہے کہ ان ایّام میں کیسے کامل اور عجیب طو رپر سورج گرہن ہوا۔ یہاں تک کہ اس کے عجیب نظارہ کے
    *نوٹ : سلطان روم نے اب کے سال حج کرنے سے روک دیا۔ گورنمنٹ پنجاب نے اعلان کیا کہ اب کے موسم میں کوئی جہاز مکّہ کونہ جاوے گا کوئی عزم حج نہ کرے۔ روسی گورنمنٹ نے حج کے جانے سے ممانعت کر دی دیکھو اخبار عام مارچ و اخبارِ عام ۴ ؍ اپریل ۱۸۹۸ ؁ء ۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 281
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 281
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/281/mode/1up
    دیکھنے کے لئے یورپ اور امریکہ سے لوگ آئے۔ کیا یہ امور غیبیہ انسان کی طاقت میں ہیں؟ ایک یہ بھی پیشگوئی تھی کہ اُن دنوں میں ذوالسنین ستارہ بھی نکلے گا جو مسیح کے وقت اور اُ س سے پہلے نوح کے وقت میں نکلا تھا۔ اب سب کو معلوم ہے کہ وہ ستارہ نکل آیا۔ اور انگریزی اور اردو اخباروں میں اُس کا نکلنا شائع کیا گیا۔ اور حدیثوں میں جاواکی آگ کی نسبت بھی خبر دی گئی تھی کہ مسیح موعود کے زمانہ میں نکلے گی۔ اب سب کو معلوم ہے کہ وہ آگ بھی نکل آئی اور کسی واقف کار کو اس سے انکار نہیں۔ اور حدیثوں میں عدن میں طاعون پیدا ہونے کا بھی اشارہ کیا گیا ہے چنانچہ یہ سب باتیں اب پوری ہو گئیں۔ پھر ایسی حدیثیں جن میں اس قدر امور غیبیہ بھرے پڑے ہیں جو اپنے وقت پر پورے ہو گئے کیونکر جھوٹی ٹھہر سکتی ہیں؟ یہ ہم قبول کرتے ہیں کہ اِن حدیثوں کے درمیانی زمانہ کے بعض علماء نے غلط معنے کئے ہیں اور اُن کی غلط فہمیوں کا عوام پر بہت ہی بُرا اثر ہوا۔ اور جو لوگ معقول پسند تھے مثلاً معتزلہ وہ ایسے غیر معقول معنے سُن کر سرے سے حدیثوں کی صحت سے ہی انکاری ہو گئے۔ لیکن اس انکار سے جو کسی تاریخی جرح پر مبنی نہ تھا بلکہ محض اس خیال پر مبنی تھا کہ مضمون غیر معقول ہے حدیثوں کی صحت میں فرق نہیں آسکتا۔ بلکہ باوجود انکار کے پھر بھی اس قسم کی حدیثیں اس درجۂ تواتر پر تھیں کہ وہ لوگ بھی تواتر کو ردّ نہ کر سکے اور سرا سیمہ رہ گئے۔ اگر اسی زمانہ میں ان حدیثوں کے وہ معنے کئے جاتے جو اَب کئے جاتے ہیں تو اسلام کا ایک بھی فرقہ اُن سے منکر نہ ہوتا۔ لیکن افسوس کہ ہر ایک استعارہ کو حقیقت پر حمل کرکے اور ہر ایک مجاز کو واقفیت۱؂ کاپیرا یہ پہنا کر ان حدیثوں کو ایسے دشوار گزار راہ کی طرح بنایا گیا جس پر کسی محقق معقول پسند کا قدم ٹھہر نہ سکے۔ سو حدیثوں پر کوئی الزام نہیں بلکہ یہ ان لوگوں کا قصور فہم ہے جنہوں نے ایسے معنے کئے اور عوام کو افسوس ناک
    غلطیوں میں مبتلا کیا اور بعض حال کے زمانہ کے معقول پسند بھی جو ان حدیثوں کی صحت سے انکار کرتے ہیں ان کے ہاتھ میں بجز اس کے کوئی وجہ انکار نہیں کہ وہ ان معنوں کو جو اِس زمانہ کے علماء کرتے ہیں معقولیّت اور سنّتؔ اﷲ اور قانون قدرت سے خارج پاتے ہیں۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 282
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 282
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/282/mode/1up
    لیکن ایسے منکر اُسی وقت تک معذور تھے جب تک کہ صحیح معنے جو سراسر سنّت اﷲ میں داخل ہیں اُن پر ظاہر نہیں کئے گئے تھے۔ اور اب تو یہ بہت شرمناک اور ناانصافی کا طریق ہے کہ باوجود معقول اور قریب قیاس معنوں کے اور باوجود اعلیٰ درجہ کے تواتر احادیث اور باوجود اتفاقِ اسلام اور نصرانیت کے اِن حدیثوں کو ردّ کیا جائے۔ جو لوگ اِن حدیثوں سے جو مسیح موعود کے ظہور کی خبر دے رہی ہیں انکار کرتے ہیں ان کا فرض ہے کہ پہلے وہ اُس تواتر اور ہر ایک پہلو کے ثبوت سے واقفیت حاصل کریں جو ان حدیثوں کو حاصل ہے اور اس بات کو سوچیں کہ یہ خبر صرف حدیث کی کتابوں میں نہیں بلکہ اول یہودیوں کی کتب مقدسہ میں پھر انجیل میں پھر قرآن میں اس کی خبر دی گئی ہے اور پھر سب کے بعد حدیثوں میں اس کی تفصیل آئی ہے اور تین قومیں اس خبر کو قطعی اور یقینی مانتی آئی ہیں۔ اور خدا کا قانونِ قدرت جس کا منشاء یہ ہے کہ ہر ایک فساد کے وقت اس فساد کے مناسب حال کوئی مصلح آنا چاہئیے اس خبر کی تصدیق کرتا ہے۔اور وہ دین کی رہزن بلائیں اور آفتیں جو قدم قدم پر پیش آ رہی ہیں جن کے مقابلہ میں تیرہ سو برس کی تمام بدعات اور آفات اور فتن کا مجموعہ ہیچ محض ہے۔ وہ بھی اس بات کو چاہتی ہیں کہ خدا تعالیٰ آسمانی اسباب سے حمایت دین کرے۔ پھر بجز تعصّب اور ناحق کی نفسانیت کے کونسی مشکلات ہیں جو اس پیشگوئی کے قبول کرنے سے روکتی ہیں؟ کیا اس بات کا باور کرنا مشکل ہے کہ اگر خدا برحق ہے اور دین کچھ چیز ہے تو ان دنوں میں غیرتِ الٰہی ضرور اس بات کے لئے جوش زن ہونی چاہئیے کہ
    جس قدر کفر اور شرک کے پھیلانے اور توحید کے ذلیل کرنے کے لئے زور لگایا گیا ہے اُسی قدر یا اس سے بڑھ کر اُس زندہ خدا کی طرف سے بھی زور آور حملے ہوں؟ تا لوگ یقین کریں کہ وہ موجود ہے اور اُس کا دین سچا ہے ۔ کیا اب تک اس بات کے دیکھنے کا موقعہ نہیں ملا کہ درحقیقت دین اسلام نہایت غربت کی حالت میں ہے؟ اندرونی طور پر عملی حالت کی یہ صورت ہے کہ گویا قرآن آسمان پر اُٹھ گیا ہے اور بیرونی طور پر مخالفوں نے غلط فہمیوں سے ہزارہا اعتراض اسلام پر کئے ہیں اور لاکھوں دلوں کو سیاہ کر دیا ہے۔ پس اب اس بات سے کس طرح انکار ہو سکتا ہے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 283
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 283
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/283/mode/1up
    کہ ایک مصلح عظیم الشان کی ضرورت ہے جس سے اسلام کی روحانیت بحال ہو اور بیرونی حملے کرنے والے پسپا ہوں۔ ہاں اس قدر ہم ضرور کہیں گے کہ یہ دن دین کی حمایت کے لئے لڑائیؔ کے دن نہیں ہیں۔ کیونکہ ہمارے مخالفوں نے بھی کوئی حملہ اپنے دین کی اشاعت میں تلوار اور بندوق سے نہیں کیا بلکہ تقریر اور قلم اور کاغذ سے کیا ہے اِس لئے ضروری ہے کہ ہمارے حملے بھی تحریر اور تقریر تک ہی محدود ہوں جیسا کہ اسلام نے اپنے ابتدائی زمانہ میں ہی کسی قوم پر تلوار سے حملہ نہیں کیا جب تک پہلے اس قوم نے تلوار نہ اٹھائی۔ سو اِس وقت دین کی حمایت میں تلوار اٹھانا نہ صرف بے انصافی ہے بلکہ اس بات کو ظاہر کرنا ہے کہ ہم تقریر اور تحریر کے ساتھ اور دلائل شافیہ کے ساتھ دشمن کو ملزم کرنے میں کمزور ہیں۔ کیونکہ یہ جھوٹوں اور کمزوروں کا کام ہے کہ جب جواب دینے سے عاجز آ جائیں تو لڑنا شروع کر دیں۔ پس اس وقت ایسی لڑائی سے خدا تعالیٰ کے سچے اور روشن دین کو بدنام کرنا ہے۔ دیکھو کس طرح ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم مکّہ میں تیرہ برس تک کفّار کے ہاتھ سے دُکھ اُٹھاتے رہے اور دلائل شافیہ سے اُن کو لاجواب کرتے رہے اور ہرگز تلوار نہ اٹھائی جب تک دشمنوں نے تلوار اٹھا کر بہت سے پاک لوگوں کوشہید نہ کیا۔ سو جنگ لِسَانی کے مقابل پر جنگ سِنَانی شروع کر دینا اسلام کا کام نہیں ہے کمزوروں اورکم حوصلہ لوگوں کاکام ہے۔ اور جیسا کہ ابھی مَیں نے بیان کیاہے مسیح موعود کی پیشگوئی صرف حدیثوں میں نہیں ہے بلکہ قرآن شریف نے نہایت لطیف اشارات میں آنے والے مسیح کی خوشخبری دی ہے جیسا کہ اُس نے وعدہ فرمایا ہے کہ جس طرز اورطریق سے اسرائیلی نبوتوں میں سلسلۂ خلافت قائم کیا گیا ہے وہی طرز اسلام میں ہو گی۔* یہ وعدہ مسیح موعود کے آنے کی خوشخبری اپنے اندر رکھتا ہے۔ کیونکہ جب سِلسلۂ خلافت انبیاء بنی اسرائیل میں غور کی جائے تو معلوم ہو گا کہ وہ سِلسلہ
    * دیکھو آیت 33 الآیۃ ۱ ؂
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 284
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 284
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/284/mode/1up
    حضرت موسیٰ سے شروع ہوا اور پھر چودہ سو برس بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ختم ہو گیا۔ اور اِس نظامِ خلافت پر نظر ڈال کر معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں کا مسیح موعود جس کے آنے کی یہود کو خوشخبری دی گئی تھی چودہ سو برس بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے آیا اور غریبوں اور مسکینوں کی شکل میں ظاہر ہوا اور اس مماثلت کے پورا کرنے کے لئے جو قرآن شریف میں دونوں سلسلۂ خلافت اسرائیلی اور خلافت محمدی میں قائم کی گئی ہے ضروری ہے کہ ہر ایک منصف اِس بات کو مان لے کہ سلسلۂ خلافتِ محمدیہ کے آخر میں بھی ایک مسیح موعود کا وعدہ ہو جیسا کہ سِلسلۂ خلافت موسویہ کے آخر میں ایک مسیح موعود کا وعدہ تھا اور نیز تکمیل مشابہت دونوں سِلسلوں کے لئے یہ بھی لازمؔ آتاہے کہ جیسا کہ خلافت موسویہ کے چودہ سو برس کی مدت پر مسیح موعود بنی اسرائیل کے لئے ظاہر ہوا تھاایسا ہی اور اسی مدّت کے مشابہ زمانہ میں خلافتِ محمدؐیہ کا مسیح موعود ظاہر ہو۔ اورنیز تکمیل مشابہت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جیسا کہ یہودیوں کے علماء نے خلافت موسویہ کے مسیح موعود کو نعوذ باﷲ کافر اور ملحد اور دجّال قرار دیا تھا ایسا ہی خلافتِ محمدیہ کے مسیح موعود کو اسلامی قوم کے علماء کافر اور ملحد اوردجّال قرار دیں۔ اور نیز تکمیل مشابہت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جیسا کہ خلافتِ موسویہ کا مسیح موعود ایسے وقت میں آیا تھا کہ جبکہ یہودیوں کی اخلاقی حالت نہایت ہی خراب ہو گئی تھی اور دیانت اور امانت اور تقویٰ اور طہارت اور باہمی محبت اور صلح کاری میں بہت فتور پڑ گیا تھا اور اُن کی اس ملک کی بھی سلطنت جاتی رہی تھی جس ملک میں مسیح موعود اُن کی دعوت کے لئے ظاہر ہوا تھا۔ ایسا ہی خلافتِ محمدیہ کا مسیح موعود قوم کی ایسی حالت اور ایسے ادبار کے وقت ظاہر ہو۔
    اور ایک وجہ تکمیل مشابہت کی یہ بھی ہے کہ سِلسلہ موسویہ کی آخری خلافت کے بارے میں توریت میں لکھا تھا کہ وہ سِلسلہ مسیح موعود پر ختم ہو گا۔ یعنی اس مسیح پر جس کا یہودیوں کو وعدہ دیا گیا تھا کہ وہ اس سِلسلہ کے آخر میں چودہ سو برس کی مدت کے سر پر آئے گا۔ اور اس کے آنے کا یہ نشان لکھا تھا کہ اس وقت یہودیوں کی سلطنت جاتی رہے گی۔ جیسا کہ توریت پیدائش باب ۴۹ آیت دس ۱۰ میں لکھا تھا کہ یہوداسے ریاست کا عصا جُدا نہ ہو گا اور نہ حکم اُس کے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 285
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 285
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/285/mode/1up
    پاؤں کے درمیان سے جاتا رہے گا جب تک سیلا نہ آوے یعنی عیسیٰ علیہ السلام۔ اور قومیں اُس کے پاس اکٹھی ہوں گی۔ اس آیت کا یہی مطلب تھا کہ یہودیوں کی سلطنت جو خدا تعالیٰ کی بہت نافرمانی کریں گے مسیح موعود تک بہرحال قائم رہے گی اور اُن کا عصائے حکومت نہیں ٹوٹے گا جب تک ان کا مسیح موعود یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ آوے اور جب وہ آ جائے گا تو وہ عصا ٹوٹے گا اور دنیا میں ان کی سلطنت باقی نہیں رہے گی۔ اِسی طرح سلسلۂ خلافت محمدیہ کے مسیح موعود کو صحیح بخاری میں عیسائی مذہب کی انتہا اور شروع انحطاط کا نشان قراردیا ہے۔ چنانچہ بخاری کے لفظ یَکْسِرُ ا لصَّلِیْبَ کا یہ مطلب ہے کہ عیسائی مذہب کی ترقی کم نہ ہو گی۔ * اور نہ اس کا قدم آگے بڑھنے سے ضعیف ہو گا اور نہ وہ گھٹے گا جب تک خلافتِ محمدیہ کا مسیح موعود نہ آوے۔اور وہی ہے جوؔ صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو ہلاک کرے گا۔ جب وہ آئے گا تووہی زمانہ صلیبی مذہب کے تنزل کا ہو گا اور وہ اگرچہ اس دجّال کو یعنی دجالی خیالات کو اپنے حربہ براہین سے معدوم بھی نہ کرے۔ تب بھی وہ زمانہ ایسا ہو گا کہ خودبخود وہ خیالات دُور ہوتے چلے جائیں گے۔ اور اُس کے ظہور کے وقت تثلیثی مذہب کے زوال کا وقت پہنچ جائے گا اور اس کا آنا اس مذہب کے گُم ہونے کا نشان ہو گا۔ یعنی اس کے ظہور کے ساتھ وہ ہَوا چلے گی جو دلوں اوردماغوں کو تثلیثی مذہب کے مخالف کھینچے گی۔خاور ہزاروں دلائل اس مذہب کے بطلان کے لئے پیدا ہو جائیں گے اور بجز عقلی اور آسمانی
    * نوٹ: دونوں پیشگوئیوں میں صرف فرق یہ ہے کہ پہلی پیشگوئی میں مسیح موعود کے ظہور کا نشان یہودیوں کا زوالِ سلطنت تھا اور دوسری پیشگوئی میں مسیح موعود کے ظہور کا نشان تثلیثی مذہب کے انحطاط کے آثار ہیں۔ غرض دوسری پیشگوئی کو سلطنت سے کچھ تعلق نہیں جیسا کہ پہلی پیشگوئی کو مذہب سے کچھ تعلق نہ تھا۔ منہ
    خ نوٹ: یہ ہوا اب ہمارے زمانہ میں کئی پہلو سے چل رہی ہے۔ یورپ میں لاکھوں اعلیٰ تعلیم یافتہ صرف نام کے عیسائی اور دراصل منکرِ تثلیث ہیں۔ پہلے زمانوں میں طبائع کا یہ انقلاب کہاں تھا۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 286
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 286
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/286/mode/1up
    نشانوں کے مذہب کے لئے اَور کوئی لڑائی نہیں ہو گی۔ خود زمانہ ہی اس تبدیلی کو چاہے گا۔ اگر وہ مسیح موعود آیا بھی نہ ہوتا تب بھی زمانہ کی نئی ہوا ہی اُس دجّالی ترقی کو پگھلا پگھلا کر نابود کر دیتی۔ مگر یہ عزّت اس کو دی جائے گی۔ کام سب خدا تعالیٰ کا ہو گا۔ قومیں ہلاک نہیں ہوں گی بلکہ ایک نئی تبدیلی سے جو دلوں میں پید اہو گی باطل ہلاک ہوگا۔ یہی تفسیر لفظ یَکْسِرُ الصَّلِیْبَ اور یَضَعُ الْحَرْبَ کی ہے۔ یہ غلط اور جھوٹا خیال ہے کہجہاد ہو گا۔ بلکہ حدیث کے معنے یہ ہیں کہ آسمانی حربہ جو مسیح موعود کے ساتھ نازل ہو گا یعنی آسمانی نشا۱ن اور نئی ۲ہوا یہ دونوں باتیں دجّالیّت کو ہلاک کریں گی اور سلامتی اور امن کے ساتھ حق اور توحید اور صدق اور ایمان کی ترقی ہو گی اور عداوتیں اُٹھ جائیں گی۔ اور صلح کے ایّام آئیں گے۔ تب دنیا کا اخیر ہو گا۔ اِسی وجہ سے ہم نے اس کتاب کا نام بھی ایّام الصُّلح رکھا۔
    غرض فقرہ حدیث یَکْسِرُ الصَّلِیْبَکا اِسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس مسیح موعود کے ظہور تک عیسائی مذہب خوب ترقی کرتا جائے گا اور ہر طرف پھیلے گا اور بڑی قوت اور شوکت اُس میں پیدا ہو جائے گی۔ یہاں تک کہ مذاہب کے حصّوں میں سے ایک بڑا حصہ ٹھہر جائے گا۔ لیکن جب مسیح موعود کا ظہور ہو گا تب وہ دن عیسائی مذہب کے لئے تنزل کے ہوں گے اور خدا تعالیٰ ایک ایسی ہوا چلائے گا اور ایسا فہم و فراست دلوں میں پیدا کرے گا جس سے تمام سلیم دل سمجھ جائیں گے کہ انسان کو خدا بنانا غلطی اور کسی کی پھانسی سے حقیقی نجات ڈھونڈنا خطا ہے۔ اور ان دنوں میں یہ امر ثابت بھی ہو گیا کیونکہ بڑے بڑے پادری صاحبوں نے یہ اشتہار شائع کر دیئے ہیں کہ اِس زمانہ میں یکدفعہ عیسائی مذہب تنزل کی صورت میں آ گیا ہے اور اسلام کے مقابل پر اگر دیکھا جائے تو باوجود کروڑہا روپیہ خرچ کرنے کے اسلامؔ دن بدن ترقی میں بڑھا ہوا ہے اور یورپ کے روشن
    دماغ لوگ تثلیثی مذہب سے نفرت کرتے جاتے ہیں۔ اِسی وجہ سے اس ملک میں بھی چوہڑوں چماروں کی طرف توجہ کرنی پڑی۔ اور حدیثوں میں جو ہے کہ مسیح موعود صلیب کو توڑے گا اِس سے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 287
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 287
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/287/mode/1up
    یہ مطلب نہیں کہ وہ درحقیقت صلیب کی صورت کو توڑدے گا بلکہ یہ مطلب ہے کہ وہ ایسے دلائل اور براہین ظاہر کرے گا جن سے صلیبی اصول کی غلطیاں ظاہر ہو جائیں گی۔ اور دانشمند لوگ اِس مذہب کا کذب یقین کر جائیں گے۔ اور اس حدیث میں یہ صاف اشارہ ہے کہ اس مسیح موعود کا زمانہ ہی ایسا زمانہ ہو گا کہ صلیبی مذہب کا بطلان دن بدن کھلتا جائے گا اور خودبخود لوگوں کے خیال اس طرف منتقل ہوتے جائیں گے کہ مذہب تثلیث باطل ہے۔ ایسا اعتقاد سچائی کا خون کرنا ہے کہ اس وقت عیسائیوں کے ساتھ لڑائیاں ہوں گی۔ اسلام اور قرآن نے کبھی اورکہیں اجازت نہیں دی کہ جو لوگ صرف زبان سے اور مال سے اپنے دین کو ترقی دیتے ہیں اور مذہب کے لئے لڑائی نہیں کرتے اُن سے لڑائی کی جائے۔ یہ خیالات قرآنی تعلیم کے سخت مخالف ہیں۔ خدا تعالیٰ ہمارے علماء کے حال پر رحم کرے وہ کیسی غلطی پر ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ مسیح کے وقت اسلام محض اپنی روحانی طاقت سے ترقی کرے گا۔ اور اپنی تریاقی قوت سے زہریلے مواد کو دورکر دے گا اور مسیح موعود کے ظہور کے ساتھ آسمان سے ایسے فرشتے دلوں میں سچائی کا القا کرنے والے نازل ہوں گے کہ جو خیالات کو تبدیل کریں گے۔ اِسی لئے لکھا ہے کہ مسیح موعود دو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے نازل ہو گا۔ اِس کا یہی مطلب ہے کہ اس کے ظہور کے ساتھ ملائک کے تصرفات شروع ہو جائیں گے اور لوگ رفتہ رفتہ خواب غفلت سے جاگتے جائیں گے۔ اور چونکہ یہ سب کچھ مسیح کے ظہور کے ساتھ شروع ہو جائے گا۔ اِس لئے یہ تمام کارروائی کسر صلیب کی مسیح موعود کی طرف منسوب ہو گی اور کفر کے مقابلہ پر مثلاً زید یا بکر یا خالد یا کوئی اَور شخص جو کچھ عمدہ معارف بیان کرے گا وہ سب معارف مسیح موعود کے طفیل ہوں گے اور اُس کی طرف منسوب کئے جائیں گے کیونکہ وہی ہے جس کے ساتھ فرشتے آئے اور وہی ہے جو رُوحانی انوار کے لحاظ سے آسمان سے نازل ہوا اور وہی ہے جو باز کی طرح دمشقی تثلیث کے شکار کے لئے اُترا۔ * لیکن نہ سختی سے بلکہ امن اور
    *نوٹ:۔ یہ سنّت اﷲ ہے کہ جب ایک مامور آتا ہے تو آسمان سے اس کے ساتھ فرشتے یا یوں کہوں کہ نُور اترتا ہے اور وہ نُورمستعد دلوں پر پڑتا اور ان کوروشن کرتا اور ان کو قوّت دیتا ہے اور ہر ایک شخص قوّت پا کر روحانی امور کو سمجھنے لگتا ہے چنانچہ اس نزول نور کا اصل سبب وہ مامور ہی ہوتا ہے اس لئے اس زمانہ کے تمام دینی معارف اُسی کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں۔منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 288
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 288
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/288/mode/1up
    صلح کاری سے۔ خدا تعالیٰ جو ارحم الراحمین اور ماں باپ سے زیادہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے ہرگز ممکن نہیں کہ وہ اپنے غافلؔ اور کمزور بندوں کے لئے یہ پہلو اختیار نہ کرے کہ اُن کو تیرہ سو برس سے غافل پا کر دلائل اور براہین سے سمجھاوے اور آسمانی نشانوں سے تسکین بخشے اور یہ پہلو اختیار کرے کہ کسی کو بھیج کر غافل بندوں کو فنا کرنے کے لئے طیار ہو جائے۔ یہ عادت اس کی ان صفات کے مخالف ہے جن کی قرآن شریف میں تعلیم دی گئی ہے۔ اور قرآن شریف میں یہ وعدہ تھا کہ خدا تعالیٰ فتنوں اور خطرات کے وقت میں دین اسلام کی حفاظت کرے گا۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے 3 ۱؂ سو خدا تعالیٰ نے بموجب اس وعدہ کے چار قسم کی حفاظت اپنی کلام کی کی۔ اوّل حافظوں کے ذریعہ سے اُس کے الفاظ اور ترتیب کو محفوظ رکھا۔ اور ہر ایک صدی میں لاکھوں ایسے انسان پیدا کئے جو اُس کی پاک کلام کو اپنے سینوں میں حفظ رکھتے ہیں۔ ایسا حفظ کہ اگر ایک لفظ پوچھا جائے تو اس کا اگلا پچھلا سب بتا سکتے ہیں۔ اور اس طرح پر قرآن کو تحریف لفظی سے ہر ایک زمانہ میں بچایا۔ دوسرے ایسے ائمہ اور اکابر کے ذریعہ سے جن کو ہر ایک صدی میں فہم قرآن عطا ہوا ہے جنہوں نے قرآن شریف کے اجمالی مقامات کی احادیثِ نبویہ کی مدد سے تفسیر کرکے خدا کی پاک کلام اور پاک تعلیم کو ہر ایک زمانہ میں تحریف معنوی سے محفوظ رکھا۔ تیسرے متکلّمین کے ذریعہ سے جنہوں نے قرآنی تعلیمات کو عقل کے ساتھ تطبیق دے کر خدا کی پاک کلام کو کوتہ اندیش فلسفیوں کے استخفاف سے بچایا ہے۔ چوتھے رُوحانی انعام پانے والوں کے ذریعہ سے جنہوں نے خدا کی پاک کلام کو ہر ایک زمانہ میں معجزات اور معارف کے منکروں کے حملہ سے بچایا ہے۔
    سو یہ پیشگوئی کسی نہ کسی پہلو کی وجہ سے ہر ایک زمانہ میں پوری ہوتی رہی ہے اور جس زمانہ میں کسی پہلو پر مخالفوں کی طرف سے زیادہ زور دیا گیا تھا اُسی کے مطابق خدا تعالیٰ کی غیرت اور حمایت ۲؂ نے مدافعت کرنے والا پیدا کیا ہے۔ لیکن یہ زمانہ جس میں ہم ہیں یہ ایک ایسا زمانہ تھا جس میں مخالفوں نے ہر چہار پہلو کے رُو سے حملہ کیا تھا۔ اور یہ ایک سخت طوفان کے دن تھے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 289
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 289
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/289/mode/1up
    کہ جب سے قرآن شریف کی دنیا میں اشاعت ہوئی ایسے خطرناک دن اسلام نے کبھی نہیں دیکھے بدبخت اندھوں نے قرآن شریف کی لفظی صحت پر بھی حملہ کیا اور غلط ترجمے اور تفسیریں شائع کیں۔ بہتیرے عیسائیوں اور بعض نیچریوں اور کم فہم مسلمانوں نے تفسیروں اور ترجموں کے بہانہ سے تحریف معنوی کا ارادہ کیا۔ * اور بہتوں نےؔ اس بات پر زور دیا کہ قرآن اکثر جگہ میں علومِ عقلیہ اور مسائلِ مسلّمہ مثبتہ طبعی اور ہیئت کے مخالف ہے اور نیز یہ کہ بہت سے دعاوی اس کے عقلی تحقیقاتوں کے برعکس ہیں اور نیز یہ کہ اس کی تعلیم جبر اور ظلم اور بے اعتدالی اور ناانصافی کے طریقوں کو سکھاتی ہے۔ اور نیز یہ کہ بہت سی باتیں اس کی صفاتِ الٰہیہ کے مخالف اور قانون قدرت اور صحیفۂ فطرت کے منافی ہیں۔ اور بہتوں نے پادریوں اور آریوں میں سے ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے معجزات اور قرآن کریم کے نشانوں اور پیشگوئیوں سے نہایت درجہ کے اصرار سے انکار کیا اور خدا تعالیٰ کی پاک کلام اور دین اسلام اور ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی ایک ایسی صورت کھینچ کر دکھلائی اور اس قدر افتراسے کام لیا جس سے ہر ایک حق کا طالب خواہ نخواہ نفرت کرے۔ لہٰذا اب یہ زمانہ ایسا زمانہ تھا کہ جو طبعاً چاہتا تھا کہ جیسا کہ مخالفوں کے فتنہ کا سیلاب بڑے زور سے چاروں پہلوؤں پر حملہ کرنے کے لئے اُٹھا ہے ایسا ہی مدافعت بھی چاروں پہلوؤں کے لحاظ سے ہو۔ اور اس عرصہ میں چودھویں صدی کا آغاز بھی ہو گیا۔ اِس لئے خدا نے چودھویں صدی کے سر پر اپنے وعدہ کے موافق جو 3 ۱؂ ہے اس فتنہ کی اصلاح کے لئے ایک مجدّد بھیجا۔ مگر چونکہ ہر ایک مجدّد کا خدا تعالیٰ کے نزدیک
    ایک خاص نام ہے اور جیسا کہ ایک شخص جب ایک کتاب تالیف کرتا ہے تو اس کے مضامین کے مناسب حال اس کتاب کا نام رکھ دیتا ہے ایسا ہی خدا تعالیٰ نے اس مجدد کا نام خدماتِ مفوّضہ کے مناسب حال مسیح رکھا۔ کیونکہ یہ بات مقرر ہو چکی تھی کہ آخر الزمان کے
    * نوٹ : بہتوں نے اپنی تفسیروں میں اسرائیلی بے اصل روایتیں لکھ کر ایک دنیا کو دھوکا دیا ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 290
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 290
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/290/mode/1up
    صلیبی فتنوں کی مسیح اصلاح کرے گا۔ پس جس شخص کو یہ اصلاح سپرد ہوئی ضرور تھا کہ اس کا نام مسیح موعود رکھا جائے۔ پس سوچو کہ یَکْسِرُ الصَّلِیْبَ کی خدمت کس کو سپرد ہے؟اور کیا اب یہ وہی زمانہ ہے یا کوئی اور ہے؟ سوچو خدا تمہیں تھام لے۔
    اس تمام تحقیقات سے معلوم ہوا کہ جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ قرآن شریف میں مسیح موعود کا ذکر نہیں ہے وہ نہایت غلطی پر ہیں۔ بلکہ حق یہ ہے کہ مسیح موعود کا ذکر نہایت اکمل اور اتم طور پر قرآن شریف میں پایا جاتا ہے۔ دیکھو اوّل قرآن شریف نے آیت 3 ۱؂ میں صاف طور پر ظاہر کر دیا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مثیلِ موسیٰ ہیں۔ کیونکہ اس آیت کے یہی معنے ہیں کہ ہم نے اس نبی کو اُس نبی کی مانند بھیجا ہے جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔ اور واقعات نے ظاہر کر دیا کہ یہ بیان اﷲ ؔ جلّ شانہٗ کا بالکل سچا ہے۔ وجہ یہ کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے موسیٰ کو فرعون کی طرف بھیج کر آخر فرعون کو بنی اسرائیل کی نظر کے سامنے ہلاک کیا اور نہ خیالی اور وہمی طور پر بلکہ واقعی اور مشہود اور محسوس طور پر فرعون کے ظلم سے بنی اسرائیل کو نجات بخشی اِسی طرح یعنی بنی اسرائیل کی مانند خدا تعالیٰ کے راستباز بندے مکّہ معظمہ میں تیرہ برس تک کفّار کے ہاتھ سے سخت تکلیف میں رہے اور یہ تکلیف اُس تکلیف سے بہت زیادہ تھی جو فرعون سے بنی اسرائیل کو پہنچی۔ آخر یہ راستباز بندے اُس برگزیدہء راستبازوں کے ساتھ اور اس کی اِیما سے مکّہ سے بھاگ نکلے اُسی بھاگنے کی مانند جو بنی اسرائیل مصر سے بھاگے تھے ۔پھر مکّہ والوں نے قتل کرنے کے لئے تعاقب کیا اُسی تعاقب کی مانند جو فرعون کی طرف سے بنی اسرائیل کے قتل کے لئے کیا گیا تھا۔ آخر وہ اُسی تعاقب کی شامت سے
    بدر میں اُس طرح پر ہلاک ہوئے جس طرح فرعون اور اس کا لشکر دریائے نیل میں ہلاک ہوا تھا اِسی رمز کے کھولنے کے لئے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ابوجہل کی لاش بدر کے مُردوں میں دیکھ کر فرمایا تھا کہ یہ شخص اِس اُمت کا فرعون تھا۔ غرض جس طرح فرعون اور اس کا لشکر دریائے نیل میں ہلاک ہونا امور مشہودہ محسوسہ میں سے تھا جس کے وقوع میں کسی کو کلام نہیں ہو سکتا اِسی طرح ابوجہل
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 291
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 291
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/291/mode/1up
    اور اُس کے لشکر کا تعاقب کے وقت بدر کی لڑائی میں ہلاک ہونا امورِ مشہودہ محسوسہ میں سے تھا جس سے انکار کرنا حماقت اور دیوانگی میں داخل ہے۔
    سو یہ دونوں واقعات اپنے تمام سوانح کے لحاظ سے باہم ایسی مشابہت رکھتے ہیں کہ گویا دو توام بھائیوں کی طرح ہیں۔ اور عیسائیوں کا یہ قول کہ یہ مثیل موسیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں بالکل مردود اور قابلِ شرم ہے کیونکہ مماثلت امور مشہودہ محسوسہ یقینیہ قطعیہ میں ہونی چاہئیے نہ ایسے فضول اور وہمی دعوے کے ساتھ جو خود جائے بحث اور سخت انکار کی جگہ ہے ۔یہ دعویٰ کہ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کے منجی تھے اور ایسا ہی یسوع بھی عیسائیوں کا منجی تھا کس قدر بودہ اور بے ثبوت خیال ہے۔ کیونکہ یہ محض اپنے دل کے بے اثر تصورات ہیں جن کے ساتھ کوئی بدیہی اور روشن علامت نہیں ہے۔ اور اگر نجات دینے کی کوئی علامت ہوتی تو یہود بکمال شکرؔ گذاری اُسی طرح حضرت عیسیٰ کو قبول کرتے اور اُن کے منجی ہونے کا اُسی قدر شکر کے ساتھ اقرار کرتے جیسا کہ دریائے نیل کے واقعہ کے بعد انہوں نے شکر گزاری کے گیت گائے تھے۔ لیکن ان کے دلوں نے تو کچھ بھی محسوس نہ کیا کہ یہ کیسی نجات ہے کہ یہ شخص ہمیں دیتا ہے۔ مگر وہ اسرائیلی یعنی خدا کے بندے جن کو ہمارے سیّد و مولیٰ نے مکّہ والوں کے ظلم سے چھڑایا انہوں نے بدر کے واقعہ کے بعد اسی طرح گیت گائے جیسے کہ بنی اسرائیل نے دریائے مصر کے سر پر گائے تھے اور وہ عربی گیت اب تک کتابوں میں محفوظ چلے آتے ہیں جو بدر کے میدان میں گائے گئے۔
    ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اِس پیشگوئی کی رُوح تو یہی مماثلت ہے۔ پھر اگر یہ مماثلت امور مشہودہ محسوسہ میں سے نہ ہو اور مخالف کی نظر میں ایک امر ثابت شدہ اور بدیہیات اور مسلّمات کے رنگ میں نہ ہو تو کیونکر ایسا بیہودہ دعویٰ ایک طالب حق کے ہدایت پانے کے لئے رہبر ہو سکتا ہے۔ اِس میں کیا شک ہے کہ یسوع کا منجی ہونا عیسائیوں کا صرف ایک دعویٰ ہے جس کو وہ دلائلِ عقلیہ کے رُو سے ثابت نہیں کر سکے اور نہ بدیہیات کے رنگ میں دکھلا سکے اور پوچھ کر دیکھ لو کہ وہ لوگ عیسائیت اور دوسری قوموں میں کوئی مابہ الامتیاز
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 292
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 292
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/292/mode/1up
    دکھلا نہیں سکتے جس سے معلوم ہو کہ صرف یہ قوم نجات یافتہ اور دوسرے سب لوگ نجات سے محروم ہیں۔ بلکہ ثابت تو یہ ہے کہ یہ قوم روحانیت اور فیوضِ سماوی اور نجات کی روحانی علامات اور برکات سے بالکل بے بہرہ ہے۔ پھر مماثلت کیونکر اور کس صورت سے ثابت ہو مماثلت تو امور بدیہیہ اور محسوسہ اور مشہودہ میں ہونی چاہئیے تا لوگ اُس کو یقینی طور پر شناخت کرکے اس سے شخصِ مثیل کو شناخت کریں۔ کیا اگر آج ایک شخص مثیل موسیٰ ہونے کا دعویٰ کرے اور مماثلت یہ پیش کرے کہ میں رُوحانی طور پر قوم کا منجی ہوں اورنجات دینے کی کوئی محسوس اور مشہود علامت نہ دکھلاوے تو کیا عیسائی صاحبان اُس کو قبول کر لیں گے کہ درحقیقت یہی مثیلِ موسیٰ ہے؟ پس سچا فیصلہ اور ایمان کا فیصلہ اور انصاف کا فیصلہ یہی
    ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مثیلِ موسیٰ ہرگز نہیں ہیں اور خارجی واقعات کا نمونہ کوئی انہوں نے ایسا نہیں دکھلایا جس سے مومنوں کی نجات دہی اور کفار کی سزا دہی میں حضرت موسیٰ سے اُن کی مشابہت ثابت ہو بلکہ برعکس اس کے اُن کے وقت میں مومنوں کو سخت تکالیف پہنچیں *جن تکاؔ لیف سے خودحضرت عیسیٰ بھی باہر نہ رہے۔ پس ہم ایمان کو ضائع کریں گے اور خدا تعالیٰ کے نزدیک خائن ٹھہریں گے اگر ہم یہ اقرار نہ کریں کہ وہ مثیل جس کا توریت کتاب استثنا میں ذکر ہے وہ وہی نبی مؤیدِ الٰہی ہے جو معہ اپنی جماعت کے تیرہ برس برابر دکھ اٹھا کر اور ہر ایک قسم کی تکلیف دیکھ کر آخر معہ اپنی جماعت کے بھاگا ۔اور اس کا تعاقب کیا گیا آخر بدر کی لڑائی میں چند گھنٹوں میں فیصلہ ہو کر ابوجہل اور اس کا لشکر تلوار کی دھار سے ایسے ہی مارے گئے جیسا کہ دریائے نیل کی دھار سے فرعون اور اس کے لشکر کا کام تمام کیا گیا۔ دیکھو کیسی صفائی اور کیسے مشہود اورمحسوس طو رپر یہ دونوں واقعات مصر اور مکّہ اور دریائے نیل اور بدرکے آپس میں مماثلت رکھتے ہیں۔
    * نوٹ: اگر عیسائیوں کا یہ خیال ہو کہ یسوع نے روحانی طور پر لوگوں کو گناہوں سے نفرت دلائی تو اس بات میں یسوع کی کچھ خصوصیت نہیں تمام نبی اسی غرض سے آیا کرتے ہیں کہ حتی الوسع لوگوں کی اخلاقی اور عملی اور اعتقادی حالت کی اصلاح کریں اور ان کی کوششوں کے اثر بھی ضرور ہوتے ہیں۔ اور اگر یہ دعویٰ ہے کہ گناہوں کی سزا صرف یسوع کے ذریعہ سے ٹلی تو اس پر کوئی دلیل نہیں۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 293
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 293
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/293/mode/1up
    غرض جبکہ یہ ثابت ہوا کہ ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم درحقیقت مثیلِ موسیٰ ہیں تو تکمیلِ مماثلت کا یہ تقاضا تھا کہ اُن کے پَیروؤں اور خلفاء میں بھی مماثلت ہو۔ اور یہ بات ضروری تھی کہ جیسا کہ موسیٰ اور سیّدنا محمد صلی اﷲ علیہ وسلم میں ایک اَشد اور اَکمل مشابہت مومنوں کے نجات دینے اور کافروں کو عذاب دینے کے بارے میں پائی گئی ان دونوں بزرگ نبیوں کے آخری خلیفوں میں بھی کوئی مشابہت باہم پائی جائے۔ سو جب ہم سوچتے ہیں تو جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے نہ صرف ایک مشابہت بلکہ کئی مشابہتیں ثابت ہوتی ہیں جو مجھ میں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں پائی جاتی ہیں۔ *
    اس جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ برگزیدہ انسان جس کا یہودیوں کو توریت میں وعدہ دیا گیا تھا کہ وہ اُن کے زوالِ سلطنت کے وقت میں ظاہر ہو گا اور وہ سِلسلہ خلافتِ موسویہ کا آخری خلیفہ ہوگا ایساہی وہ انسان جس کا قرآن شریف اور حدیثوں میں وعدہ دیا گیا تھا کہ وہ آخری زمانہ میں غلبۂ صلیب کے وقت ظاہر ہو گا اِن دونوں انسانوں کا مسیح کیوں نام رکھا گیا ؟
    *نوٹ: ۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جس زمانہ میں مبعوث ہوئے ہیں اُس زمانہ میں سلطنت کی طرف سے کوئی مذہبی سختی نہیں تھی۔ بعینہٖ انگریزی سلطنت کی طرح ہر ایک کو آزادی دی گئی تھی سلطنت رومیہ ہرگز تلوار کے ساتھ اپنے مذہب کو نہیں پھیلاتی تھی جیسا کہ آج کل سلطنت برطانیہ ہے۔ ہاں رومی گورنمنٹ میں بباعث عام آزادی اور یونانی فلسفہ کے پھیلنے کے مذہبی تقویٰ اور طہارت بہت کم ہو گئی تھی۔ یونانی فلسفہ کی تعلیم نے لوگوں کو قریب قریب دہریہ کے بنا دیا تھا۔ سو اُس وقت ایسے نبی کی ضرورت نہ تھی جو تلوار کے ساتھ آتا جیسا کہ اب ضرورت نہیں کیونکہ مقابل پر مذہب کے لئے تلوار اٹھانے والا نہ تھا اس لئے خدا نے ایک نبی جس کا نام عیسیٰ تھا محض رُوح القدس کی برکت کے ساتھ بھیجا تا دلوں کو روحانی تاثیر سے خدا تعالیٰ کی طرف پھیرے اور دوبارہ خدا کا جلال دنیا میں قائم کرے۔ اور مقدر تھا کہ اِسی طرح مثیلِ موسیٰ کے سلسلہ کے آخر میں روحانی طاقت کے ساتھ ایک شخص آئے گاجو اس سلسلہ کا مسیح موعود ہوگا کیونکہ وہ بھی نہ لڑے گا نہ تلوار نکالے گا اور محض روحانی طاقت سے سچائی کو پھیلائے گا کیونکہ وہ سلطنت بھی امن اور آزادی کی سلطنت ہو گی اور اُسی قسم کا روحانی فساد ہو گا جو رومی سلطنت کے وقت میں تھا۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 294
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 294
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/294/mode/1up
    اِس کا جواب یہ ہے کہ دراصل مسیح اس صدیق کو کہتے ہیں جس کے مَسح یعنی چُھونے میں خدا نے برکت رکھی ہو اور اُس کے اَنفاس اور وعظ اور کلام زندگی بخش ہوں۔ اور پھر یہ لفظ خصوصیّت کے ساتھ اس نبی پر اطلاق پا گیا جس نے جنگ نہ کیا اور محض رُوحانی برکت سے اصلاحِ خلائق کی۔ اور اس کے مقابل پر مسیح اس معہود دجّال کو بھی کہتے ہیں جس کی خبیث طاقت اور تاثیر سے آفات اور دہریّت اور بے ایمانی پیدا ہو اور بغیر ؔ اس کے کہ وہ سچائی کے نابود کرنے کے لئے کوئی اور جابرانہ وسائل استعمال کرے صرف اس کی توجہ باطنی یا تقریر یا تحریر یا مخالطت سے محض شیطانی رُوح کی تاثیر سے نیکی اور محبتِ الٰہی ٹھنڈی ہوتی چلی جائے۔ اور بدکاری، شراب خوری۔ دروغگوئی ۔ اباحت۔ دُنیا پرستی۔مکر۔ ظلم ۔ تعدّی۔ قحط اور وباپھیلے۔ یہی معنے ہیں جو لسان العرب وغیرہ اعلیٰ درجہ کی لُغت کی کتابوں سے اُن کے بیان کو یکجائی نظر سے دیکھنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ اور یہی معنے ہیں جو خدا تعالیٰ نے میرے دل میں القا کئے ہیں اور اگرچہ دوسرے انبیاء بھی مسیحیت کی صفت اپنے اندررکھتے ہیں مگر جس نبی نے ایسا زمانہ پایا اور جہاد وغیرہ وسائل کو اُس نے استعمال نہ کیا اور صرف دعا اور روحانی طاقت سے کام لیا اس کا بالخصوصیت یہ نام ہے۔ سو ایسا مسیح اعلیٰ درجہ کا بنی اسرائیل میں صرف ایک ہی گذرا ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے چودہ سو برس بعد تشریف لائے۔ اور سلسلہ خلافتِ موسویہ کے آخری خلیفہ ٹھہرے اور بموجب توریت کی پیشگوئی اور قرآن شریف کی پیشگوئی کے خدا تعالیٰ کو منظور ہوا جو اُسی کی مانند سِلسلہ خلافتِ محمدیہّ کے اخیر پر ایک مسیح پیدا کرے سو اُس نے اسی مدّت کی مانند اس مسیح کو بھی چودھویں صدی کے سر پر پیدا کیا۔ اور پہلے مسیح کی طرح دوسرے مسیح کی نسبت بھی احادیثِ صحیحہ میں حضرت سیّد الکائنات صلی اﷲ علیہ وسلم سے خبر دی گئی کہ وہ ایسے
    وقت میں آئے گا کہ جب قرآن آسمان پر اُٹھ جائے گا یعنی لوگ طرح طرح کے شکوک اور شبہات میں مبتلا ہوں گے اور اکثر روز جزا ء کی نسبت نہایت ضعیف الاعتقاد اور دہریہ کی طرح ہو جائیں گے اور وہ اپنی کلام اور معجزات اور نشانوں اور روحانی طاقت سے دوبارہ ان میں ایمان قائم کرے گا اور شبہات سے نجات دے گا۔ اور اپنے آسمانی حربہ سے بغیر کسی ظاہری جہاد کے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 295
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 295
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/295/mode/1up
    مسیح الدّجال کی رونق کو مٹا دے گااور روح القدس کی پاک تاثیریں بغیر وسیلہ ہاتھوں کے دنیا میں پھیلیں گی۔ اور حق بینی کی ٹھنڈی ہوا دلوں پر چلے گی اور صلح کاری اور امن اور بنی نوع کی محبت کے ساتھ ایک بھاری تبدیلی ظہور میں آئے گی۔ اور شیطان شکست کھائے گا اور رُوح القدس غالب ہو گا۔ اس آخری زمانہ کے لئے بہت سے نبیوں نے پیشگوئی کی ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے نادان مولویوں نے جہاد کا مسئلہ خواہ نخواہ اس میں گھسیڑ دیا۔ خدا تعالیٰ کے پاک نبی کا ہرگز یہ ؔ منشا نہ تھا۔ یاد رہے کہ اگر کوئی جہاد کرے تو وہ مسیح موعود ہی نہیں بلکہ تریاقی ہَواکا زہریلی ہو اسے ایک رُوحانی جنگ ہو گا۔ آخر تریاقی ہوا فتح پائے گی اور مسیح موعود صرف اس جنگِ روحانی کی تحریک کے لئے آیا۔ ضرور نہیں کہ اُس کے روبرو ہی اس کی تکمیل بھی ہو۔ بلکہ یہ تخم جو زمین میں بویا گیا آہستہ آہستہ نشوونما پائے گا یہاں تک کہ خدا کے پاک وعدوں کے موافق ایک دن یہ ایک بڑا درخت ہو جائے گا۔ اور تمام سچائی کے بھوکے اور پیاسے اس کے سایہ کے نیچے آرام کریں گے۔ دلوں سے باطل کی محبت اُٹھ جائے گی گویا باطل مر جائے گا اور ہر ایک سینہ میں سچائی کی روح پیدا ہو گی اس روز وہ سب نوشتے پورے ہو جائیں گے جن میں لکھا ہے کہ زمین سمندر کی طرح سچائی سے بھر جائے گی۔* مگر یہ سب کچھ جیسا کہ سنّت اﷲ ہے تدریجاً ہو گا۔ اس تدریجی ترقی کے لئے مسیح موعود کا زندہ ہونا ضروری نہیں بلکہ خدا کا زندہ ہونا کافی ہو گا۔ یہی خدا تعالیٰ کی قدیم سنّت ہے اور الٰہی سنتوں میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ پس ایسا آدمی سخت جاہل ہو گا کہ جو مسیح موعود کی وفات کے وقت اعتراض کرے کہ وہ کیا کر گیا۔ کیونکہ اگرچہ یکدفعہ نہیں مگر انجام کار وہ تمام بیج جو مسیح موعود نے
    بویا تدریجی طور پر بڑھنا شروع کرے گا اور دلوں کو اپنی طرف کھینچے گا یہاں تک کہ ایک دائرہ کی طرح دنیا میں پھیل جائے گا۔ وہ وقت اور گھڑی خدا تعالیٰ کے علم میں ہے جب یہ اَکمل اور اتم تبدیلی ظہور میں آئے گی۔ جس طرح تم دیکھتے ہو کہ دجّالیّت بھی یکدفعہ زمین میں نہیں پھیلی بلکہ اس کا بیج آہستہ آہستہ بڑھتا اور پھولتا گیا ایسا ہی آہستہ آہستہ سچائی کی طرف دنیا اپنی
    *شاید وہ سَت جُگ جس کی ہندو انتظار کرتے ہیں وہ بھی اسی زمانہ کی طرف اشارہ ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 296
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 296
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/296/mode/1up
    کروٹ بدلے گی۔ تماشا بینوں کی طرح یہ خیال نہیں رکھنا چاہئیے کہ یکدفعہ دنیا اُلٹ پلٹ ہو جائے گی بلکہ جس طرح پر کھیت اور درخت بڑھتے ہیں ایسا ہی ہو گا۔!!!
    یاد رہے کہ جس مسیح یعنی روحانی برکات والے کی مسلمانوں کو آخری زمانہ میں بشارت دی گئی ہے اُسی کی نسبت یہ بھی لکھا ہے کہ وہ دجّال معہود کو قتل کرے گا۔ لیکن یہ قتل تلواریا بندوق سے نہیں ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ دجّالی بدعات اس کے زمانہ میں نابود ہو جائیں گی۔
    حدیثوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دراصل دجّال شیطان کا نام ہے پھر جس گروہ سے شیطان اپنا کام لے گا اُس گروہ کانام بھی استعارہ کے طور پر دجّال رکھا گیا کیونکہ وہ اُس کے اعضاء کی طرح ہے۔ قرآن شریف میں جو یہ آیت ہے 33 ؂۱ یعنی انسانوں کی صنعتوںؔ سے خداکی صنعتیں بہت بڑی ہیں یہ اشارہ ان انسانوں کی طرف ہے جن کی نسبت لکھا گیا تھا کہ وہ آخری زمانہ میں بڑی بڑی صنعتیں ایجاد کریں گے اور خدائی کاموں میں ہاتھ ڈالیں گے۔ اور مفسّرین نے لکھا ہے کہ اس جگہ انسانوں سے مراد دجّال ہے اور یہ قول دلیل اس بات پر ہے کہ دجّال معہود ایک شخص نہیں ہے ورنہ نَاس کا نام اُس پر اطلاق نہ پاتا۔ اور اس میں کیا شک ہے کہ نَاس کا لفظ صرف گروہ پر بولا جاتا ہے سو جو گروہ شیطان کے وساوس کے نیچے چلتا ہے وہ دجّال کے نام سے موسوم ہوتا ہے۔ اِسی کی طرف قرآن شریف کی اس ترتیب کا اشارہ ہے کہ وہ 3۲؂سے شروع کیا گیا اور اِس آیت پر ختم کیا گیا ہے۔ 3۳؂۔ پس لفظ نَاس سے مراد اس جگہ بھی دجّال ہے۔ ماحصل اِس سورۃ کا یہ ہے کہ تم دجّال کے فتنہ سے خدا تعالیٰ کی پناہ پکڑو۔ اس سورۃ سے پہلے سورۃ اخلاص ہے جو عیسائیت کے اصول کے ردّ میں ہے۔ بعد اس کے سورۃ فَلَق ہے جو ایک تاریک زمانہ اور عورتوں کی مکّاری کی خبر دے رہی ہے اور پھر آخر ایسے گروہ سے پناہ مانگنے کا حکم ہے جو شیطان کے زیر سایہ چلتا ہے اس ترتیب سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی گروہ ہے جس کو دوسرے لفظوں میں شیطان کہا ہے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 297
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 297
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/297/mode/1up
    اور اخیرمیں اس گروہ کے ذکر سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آخری زمانہ میں اس گروہ کا غلبہ ہو گا جن کے ساتھ نَفَّاثَاتِ فِی الْعُقَدْ ہوں گی۔ یعنی ایسی عیسائی عورتیں جو گھروں میں پھر کر کوشش کریں گی کہ عورتوں کو خاوندوں سے علیحدہ کریں اور عقد نکاح کو توڑیں۔ خوب یاد رکھنا چاہئیے کہ یہ تینوں سورتیں قرآن شریف کی دجّالی زمانہ کی خبر دے رہی ہیں اور حکم ہے کہ اِس زمانہ سے خدا کی پناہ مانگو تا اس شر سے محفوظ رہو۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ شرور صرف آسمانی انوار اور برکات سے دور ہوں گے جن کو آسمانی مسیح اپنے ساتھ لائے گا۔
    غرض یہ نہایت عجیب بات ہے کہ جیسے ایک مسیح یعنی محض رُوحانی طاقت سے دین کو قائم کرنے والا اور محض روح القدس سے یقین اور ایمان کو پھیلانے والا موسوی سِلسلہ کے آخر میں آیا ایسا ہی اور اسی مدّت کی مانند مثیلِ موسیٰ کے سِلسلہ خلافت کے آخر میں آیا۔ اور یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفےٰ صلی اﷲ علیہ وسلم مثیلِ موسیٰ ہیں کیونکہ حضرت موسیٰ نے یہودیوں کو فرعون کے ہاتھ ؔ سے نجات دی اور نہ صرف نجات بلکہ ایمان لانے کا آخری نتیجہ یہ ہو اکہ یہودی قوم کو سلطنت اور بادشاہی بھی مل گئی۔ اِسی طرح ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم ایسے وقت میں آئے کہ جب یہودی لوگ سخت ذلّت میں پڑے ہوئے تھے۔ اور آپ نے جیسا کہ دوسرے ایمان لانے والوں پر آزادی اور نجات کا دروازہ کھولا اور کفار کے ظلم اور تعدّی سے چھڑایا اور آخر خلافت اور بادشاہت اور حکومت * تک پہنچایا۔ ایساؔ ہی یہودیوں پر بھی آپ نے آزادی اور نجات کا دروازہ کھولا
    اِس ؔ سے انکار نہیں ہو سکتا کہ تمام افغان یوسف زئی۔ داؤد زئی۔ لودی۔ سروانی۔ اورک زئی۔ سدّو زئی۔ بارک زئی وغیرہ دراصل بنی اسرائیل ہیں۔ اور ان کا مورث اعلیٰ قیس ہے۔ اور چونکہ یہ بھی ایک مشہور واقعہ افغانوں میں ہے کہ والدہ کی طرف سے ان کے سِلسلہ کی ابتدا سارہ بنت خالدابن ولید سے ہے۔ یعنی قیس اُن کے مورث نے سارہ سے شادی کی تھی اس لئے اور اِن معنوں سے وہ خالد کی آل بھی ٹھہرے ۔ لیکن بہرحال یہ متفق علیہ افغانوں میں تاریخی امر ہے کہ قیس مورث اعلیٰ اُن کا بنی اسرائیل میں سے تھا۔ یہ بات یہودیوں اور عیسائیوں اور مسلمانوں یعنی تینوں فرقوں نے بالاتفاق تسلیم کی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے قریباً سات سو برس پہلے بخت نصر بابلی نے بنی اسرائیل کو گرفتار کرکے بابل میں پہنچا دیا تھا اور اس حادثہ کے بعد بنی اسرائیل کی بارہ قوموں میں سے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 298
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 298
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/298/mode/1up
    اور پھر حکومت اور امارت تک پہنچایا۔ یہاں تک کہ چند صدیوں کے بعد ہی وہ رُوئے زمین کے
    صرف دو قومیں یہودا اور بن یامین کی اپنے ملک میں واپس آئیں اور دس قومیں اُن کی مشرق میں رہیں اور چونکہ اب تک یہود پتہ نہیں بتلا سکے کہ وہ قومیں کہاں ہیں اور نہ انہوں نے اُن سے خط و کتابت اور رشتہ کا تعلق رکھا۔ اس لئے اس واقعہ سے یہ احتمال پیدا ہوتا ہے کہ انجام کار وہ قومیں مسلمان ہو گئی ہوں گی۔ پھر جب ہم اس قصہ کو اسی جگہ چھوڑ کر افغانوں کے سوانح پر نظر کرتے ہیں کہ وہ اپنے باپ دادوں سے قدیم سے یہ سُنتے آئے ہیں کہ دراصل وہ اسرائیلی ہیں جیسا کہ کتاب ’’مخزنِ افغانی‘‘ میں مفصّل لکھا ہے تو اس امر میں کچھ بھی شک و شبہ نہیں رہتا کہ یہ لوگ انہی دس قوموں میں سے ہیں جو مشرق میں ناپیدا نشان بتلائی جاتی ہیں اور ان ہی اسرائیلیوں میں سے کشمیری بھی ہیں جو اپنی شکل اور پیرایہ میں افغانوں سے بہت کچھ ملتے ہیں۔ اور تاریخ برنیر میں کئی اور انگریزوں کے حوالہ سے ان کی نسبت بھی یہ ثبوت دیا ہے کہ وہ اسرائیلی الاصل ہیں۔ اور ایسے امر کے بحث کے وقت جس کو ایک قوم پشت بہ پشت اپنے خاندان اور نسب کی نسبت تسلیم کرتی چلی آئی ہو یہ بالکل نامناسب ہے کہ ہم چند بیہودہ قیاسوں کو ہاتھ میں لے کر اُن کی مسلّمات کو ردّ کر دیں۔ اگر ایسا کیا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ دنیا میں کوئی قوم بھی اپنی صحتِ قومیّت کو ثابت نہیں کر سکتی۔ ہمیں اس بات کو اوّل درجہ کی دلیل قرار دینا چاہئیے کہ ایک قوم باوجود ہزاروں اور لاکھوں اپنےؔ افراد کے پھر ایک بات پر متفق ہو پھر جبکہ کل افغان ہندوستان اور کابل اور قندھار وغیرہ سرحدی زمینوں کے اپنے تئیں اسرائیلی ظاہر کرتے ہیں تو سخت بیوقوفی ہو گی کہ خواہ نخواہ ان کی مسلّمات قدیمہ سے انکار کیا جائے۔ قوموں کی جانچ پڑتال میں یہی کافی ثبوت اور اطمینان کے لئے وضع استقامت ہے کہ جو کسی قوم میں ان کے خاندان اور قومیت کی نسبت مشہور واقعات ہوں اُن کو مان لیا جائے اور ایسے امور میں اس سے زیادہ ثبوت ممکن ہی نہیں کہ ایک قوم باوجود اپنی کثرت برادری اور کثرت انتشار نطفہ کے ایک قول پر متفق ہو اور اگر یہ ثبوت قابلِ اعتبار نہ ہو تو پھر اس زمانہ میں مسلمانوں کی جس قدر قومیں ہیں مثلاً سیّد اور قریشی اور مغل وغیرہ یہ سب بے ثبوت اور صرف زبانی دعویٰ ٹھہریں گی۔ لیکن یہ ہماری سخت غلطی ہو گی کہ ہم ان اخبار مشہورہ متواترہ کو نظر انداز کریں جو ہر ایک قوم اپنی صحتِ قومیت کے بارے میں بطور تاریخی امر کے اپنے پاس رکھتی ہے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ کوئی قوم اپنے خاندان کے بیان کرنے میں حد سے زیادہ مبالغات کر دے مگر ہمیں نہیں چاہئیے کہ مبالغات کو دیکھ کر یا کئی فضول اور بے ربط باتیں پا کر اصل امر کو بھی ردّ کردیں۔ بلکہ مناسب تو یہ ہے کہ وہ زوائد جو درحقیقت فضول معلوم ہوں چھوڑ دیئے جائیں اور نفس امر کو جس پر قوم کا اتفاق ہے لیا جائے۔ پس اس طریق سے ہر ایک محقق کو ماننا پڑے گا کہ قوم افغان ضروربنی اسرائیل ہے۔ ہر ایک کو خود اپنے نفس کو اور اپنی قوم کو زیر بحث رکھ کر سوچنا چاہئیے کہ اگر وہ قوم جس میں وہ اپنے تئیں داخل
    سمجھتا ہے کوئی دوسرا شخص محض چند قیاسی باتیں مدّنظر رکھ کر اس قوم سے اس کو خارج کر دے اور تسلیم نہ کرے کہ وہ اس قوم میں سے ہے اور اس کے ان ثبوتوں کو جو پشت بہ پشت کے بیانات سے معلوم ہوئے ہیں نظر انداز کر ے اور مجمع عظیم کے اتفاق کا کچھ بھی لحاظ نہ رکھے تو ایسا آدمی کیسا فتنہ انگیز
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 299
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 299
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/299/mode/1up
    بادشاہ ہو گئے کیونکہ یہ قوم افغان جنؔ کی اب تک افغانستان میں بادشاہت پائی جاتی ہے۔
    معلوم ہوتا ہے۔ پس بقول شخصے کہ ’’ہر چہ بر خود نہ پسندی بر دیگرے نہ پسند‘‘ یہ بھی نامناسب ہے کہ دوسروں کی قسم قومیت پر جو ایک بڑی قومی اتفاق سے مانی گئی ہے ناحق کا جرح کیا جائے۔ ہمیں کیا حق پہنچتا ہے اور ہمارے پاس کیا دلیل ہے کہ ہم ایک قوم کے مسلّمات اور متفق علیہ امر کو یوں ہی زبان سے ردّ کر دیں۔ جب ایک امر منقولی اتفاق سے صحیح قرار دیا گیا ہے تو اس کے بعد قیاس کی گنجائش نہیں۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئیے کہ بہت سی باتیں فضولی اور شیخی کے طو رپر بعض قوموں کے لوگ اپنی قومیّت کی نسبت بیان کیا کرتے ہیں ۔ لیکن محقق لوگ فضول باتوں کی وجہ سے اصل واقعات کو ہرگز نہیں چھوڑتے بلکہ خُذْمَاصَفَا وَدَعْ مَاکَدَرْپر عملؔ کر لیتے ہیں مثلاً گوتم بدھ کے سوانح میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ وہ منہ کی راہ سے پیدا ہوا تھا۔ لیکن جب ہم گوتم کے سوانح لکھنا چاہیں تو ہمیں نہیں چاہئیے کہ منہ کی راہ کی پیدائش پر نظر ڈال کر بدھ کے اصل وجود سے ہی انکار کر دیں۔ تاریخ نویسی کا امر بڑا نازک امر ہے۔ اس میں وہ شخص جادۂ استقامت پر رہتا ہے کہ جو افراط اور تفریط دونوں سے پرہیز کرے۔ یہ اعتراض بھی ٹھیک نہیں کہ ’’اگر افغان لوگ عبرانی الاصل تھے تو ان کے ناموں میں کیوں عبرانی الفاظ نہیں اور ان کا شجرہ پیش کردہ توریت کے بعض مقامات سے کیوں اختلاف رکھتا ہے۔‘‘ یہ سب قیاسی باتیں ہیں جو قومی تاریخ اور تواتر کو مٹا نہیں سکتیں۔دیکھوہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے قریش کے اس شجرہ کو صحیح نہیں قرار دیا جو وہ لوگ حضرت اسمٰعیل تک پہنچایا کرتے تھے اور بجز چند پشت کے باقی کذب کاذبین قرار دیا ہے۔ مگر اس سے یہ لازم نہیں آیا کہ قریش بنی اسمٰعیل نہیں ہیں۔ پھر جب کہ قریش جو علم انساب میں بڑے حریص تھے تفصیل وار سلسلہ یاد نہ رکھ سکے تو یہ قوم افغان جن میں اکثر غفلت میں زندگی بسر کر نے والے گذرے ہیں اگر انہوں نے اپنے سلسلہ کی تفاصیل بیان کرنے میں غلطی کی یا کچھ جھوٹ ملایا تو اصل مقصود میں کیا فرق آ سکتا ہے۔ اور اب توریت بھی کونسی ایسی محفوظ ہے جو نصِ قطعی کا حکم رکھتی ہو۔ ابھی ہم نے معلوم کیا ہے کہ یہود کے نسخوں اور عیسائیوں کے نسخوں میں بہت فرق ہے۔ غرض یہ نکتہ چینی خوب نہیں ہے اور یہ بات بھی صحیح نہیں کہ افغانوں کے نام عبرانی طرز پر نہیں۔ بھلا بتاؤ کہ یوسف زئی، داؤد زئی اور سلیمان زئی یہ عبرانیوں کے نام ہیں یا کچھ اَور ہے۔ ہاں جب یہ لوگ دوسرے ملکوں میں آئے تو ان ملکوں کا رنگ بھی ان کی بول چال میں آ گیا۔ دیکھو سادات کے نام بھی ہمارے ملک میں چنن شاہ اورگھمن شاہ اور نتّھو شاہ اور متو شاہ وغیرہ پائے جاتے ہیں تو اب کیا اُن کو سیّد نہیں کہو گے؟ کیا یہ عربی نام ہیں؟ غرض یہ بیہودہ نکتہ چینیاں اور نہایت قابل شرم خیالات ہیں۔ ہم قوم کی متواترات سے کیوں انکار کریں۔ اس سے عمدہ تر اور صاف تر ذریعہ حقیقت شناسی کا ہمارے ہاتھ میں کون سا ہے؟ کہ خود قوم جس کی اصلیت ہم دریافت کرنا چاہتے ہیں ایک امر پر اتفاق رکھتی ہے۔
    ماسوا اس کے دوسرے قرائن بھی صاف بتلا رہے ہیں کہ حقیقت میں یہ لوگ اسرائیلی ہیں۔ مثلاً کوہ سلیمان جو اوّل افغانوں کا مسکن تھا خود یہ ظاہر کر رہا ہے کہ اِس پہاڑ کا یہ نام اسرائیلی یادگار کے لحاظ سے رکھا گیا ہے۔
    دوسرے ایک بڑا قرینہ یہ ہے کہ قلعہ خیبر جو افغانوں نے بنایا کچھ شک نہیں کہ یہ خیبر کا نام بھی محض اسرائیلی
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 300
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 300
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/300/mode/1up
    یہ لوگ دراصل یہودی ہی ہیں۔ اور برنیر صاحب اپنی کتاب وقائع عالمگیر میں یہ بھی ثابت کرتے ہیں
    یادگار کے لئے اُس خیبرکے نام پر جو عرب میں ہے جہاں یہودی رہتے تھے رکھا تھا۔
    تیسرؔ اقرینہ ایک یہ بھی ہے کہ افغانوں کی شکلیں بھی اسرائیلیوں سے بہت ملتی ہیں ۔ اگر ایک جماعت یہودیوں کی ایک افغانوں کی جماعت کے ساتھ کھڑی کی جائے تو مَیں سمجھتا ہوں کہ اُن کا مُنہ اور ان کا اونچا ناک اور چہرۂ بیضاوی ایسا باہم مشابہ معلوم ہو گا کہ خود دل بول اُٹھے گا کہ یہ لوگ ایک ہی خاندان میں سے ہیں۔
    چوتھاقرینہ افغانوں کی پوشاک بھی ہے افغانوں کے لمبے کُرتے اور جُبّے یہ وہی وضع اور پیرایہ اسرائیلیوں کا ہے جس کا انجیل میں بھی ذکر ہے۔
    پانچواں قرینہ اُن کے وہ رسوم ہیں جو یہودیوں سے بہت ملتے ہیں مثلاً ان کے بعض قبائل ناطہ اور نکاح میں کچھ چنداں فرق نہیں سمجھتے اور عورتیں اپنے منسوب سے بلاتکلّف ملتی ہیں اور باتیں کرتی ہیں۔ حضرت مریم صدیقہ کا اپنے منسوب یوسف کے ساتھ قبل نکاح کے پھرنا اس اسرائیلی رسم پر پختہ شہادت ہے۔ مگر خوانین سرحدی کے بعض قبائل میں یہ مماثلت عورتوں کی اپنے منسوبوں سے حد سے زیادہ ہوتی ہے۔ حتّی کہ بعض اوقات نکاح سے پہلے حمل بھی ہو جاتا ہے جس کو بُرا نہیں مانتے بلکہ ہنسی ٹھٹھے میں بات کو ٹال دیتے ہیں کیونکہ یہود کی طرح یہ لوگ ناطہ کو ایک قسم کا نکاح ہی جانتے ہیں جس میں پہلے مہر بھی مقرر ہو جاتا ہے۔
    چھٹا قرینہ افغانوں کے بنی اسرائیل ہونے پر یہ ہے کہ افغانوں کا یہ بیان کہ قیسؔ ہمارامورث اعلیٰ ہے ان کے بنی اسرائیل ہونے کی تائید کرتا ہے۔ کیونکہ یہودیوں کی کتب مقدسہ میں سے جو کتاب پہلی تاریخ کے نام سے موسوم ہے اس کے باب ۹ آیت ۳۹ میں قیس کا ذکر ہے اور وہ بنی اسرائیل میں سے تھا۔ اس سے ہمیں پتہ ملتا ہے کہ یا تو اسی قیس کی اولاد میں سے کوئی دوسرا قیس ہو گاجو مسلمان ہو گیاہو گا اور یا یہ کہ مسلمان ہونے والے کا کوئی اور نام ہو گا اور وہ اس قیس کی اولاد میں سے ہو گا۔ اور پھر بباعث خطا ءِ حافظہ اس کانام بھی قیس سمجھا گیا۔ بہرحال ایک ایسی قوم کے مُنہ سے قیس کالفظ نکلنا جو کتب یہود سے بالکل بے خبر تھی اور محض ناخواندہ تھی۔ یقینی طورپریہ سمجھا تا ہے کہ یہ قیس کا لفظ انہوں نے اپنے باپوں سے سُناتھا کہ ان کا مورث اعلیٰ ہے۔ پہلی تاریخ آیت ۳۹ کی یہ عبارت ہے۔ ’’اور نیرسے قیس پیدا ہوا اور قیس سے ساؤل پیدا ہوا اور ساؤل سے یہونتن۔‘‘
    ساتواں قرینہ اخلاقی حالتیں ہیں۔ جیسا کہ سرحدی افغانوں کی زودرنجی اور تلوّن مزاجی اور خود غرضی اور گردن کشی اور کج مزاجی اور کج روی اور دوسرے جذبات نفسانی اور خونی خیالات اور جاہل اور بے شعور ہونا مشاہدہ ہو رہا ہے۔ یہ تمام صفات وہی ہیں جو توریت اور دوسرے صحیفوں میں اسرائیلی قوم کی لکھی گئی ہیں اور اگر قرآن شریف کھول کر سورۂ بقرہ سے بنی اسرائیل کی صفات اور عادات اور اخلاق اور افعال پڑھنا شروع کرو تو ایسا معلوم ہو گا کہ گویا سرحدی افغانوں کی اخلاقی حالتیں بیان ہو رہی ہیں۔ اور یہ رائےؔ یہاں تک صاف ہے کہ اکثر انگریزوں نے بھی یہی خیال کیا ہے۔ برنیر نے جہاں یہ لکھا ہے کہ کشمیر کے مسلمان کشمیری بھی دراصل بنی اسرائیل ہیں۔ وہاں بعض انگریزوں کا بھی حوالہ دیا ہے اور ان تمام لوگوں کو اُن دس فرقوں میں سے ٹھہرایا ہے جو مشرق میں گم ہیں جن کا اب اس زمانہ میں پتہ ملا ہے کہ وہ درحقیقت سب کے سب مسلمان ہو گئے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 301
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 301
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/301/mode/1up
    کہ تمام کشمیری بھی دراصل یہودی ہیں اور اُن میں بھی ایک بادشاہ گذرا ہے اورؔ افغانوں کی
    ہیں۔ پھر جبکہ افغانوں کی قوم کے اسرائیلی ہونے میں اتنے قرائن موجود ہیں اور خود وہ تعامل کے طو رپر اپنے باپ دادوں سے سنتے آئے ہیں کہ وہ قوم اسرائیلی ہیں اور یہ باتیں ان کی قوم میں واقعات شہرت یافتہ ہیں تو سخت ناانصافی ہو گی کہ ہم محض تحکم کے طورسے اُن کے اِن بیانات سے انکار کریں۔ ذرا یہ تو سوچنا چاہئیے کہ ان کے دلائل کے مقابلہ پر ہمارے ہاتھ میں انکار کی کیا دلیل ہے؟ یہ ایک قانونی مسئلہ ہے کہ ہر ایک پُرانی دستاویز جو چالیس برس سے زیادہ کی ہو وہ اپنی صحت کا آپ ثبوت ہوتی ہے پھر جبکہ صدہا سال سے دوسری قوموں کی طرح جو اپنی اپنی اصلیت بیان کرتی ہیں افغان لوگ اپنی اصلیت قوم اسرائیل قرار دیتے ہیں تو ہم کیوں جھگڑا کریں اور کیا وجہ کہ ہم قبول نہ کریں؟ یاد رہے کہ یہ ایک دو کا بیان نہیں یہ ایک قوم کا بیان ہے جو لاکھوں انسانوں کا مجموعہ ہے اور پشت بعد پشت کے گواہی دیتے چلے آئے ہیں۔
    اب جبکہ یہ بات فیصلہ پا چکی کہ تمام افغان درحقیقت بنی اسرائیل ہیں تو اب یہ دوسرا امر ظاہر کرنا باقی رہا کہ پیشگوئی توریت استثنا باب ۱۸ آیت ۱۵ سے ۱۹ تک کی افغانی سلطنت سے بکمال وضاحت پوری ہو گئی۔ یہ پیشگوئی ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے حق میں ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ خدا نے یہ مقدر کیا ہے کہ موسیٰ کی طرح دنیا میں ایک اور نبی آئے گا۔ یعنی ایسے وقت میں جب کہ پھر بنی اسرائیل فرعون کے زمانہ کی مانند طرح طرح کی ذلتوں اور دکھوں میں ہوں گے اور وہ نبی ان کو جو اس پر ایمان لائیں گے اُن دُکھوں اور بلاؤں سے نجات دے گا۔ اور جس طرح موسیٰ پر ایمان لانے سے بنی اسرائیل نے نہ صرف دکھوں سے نجات پائی بلکہ ان میں سے بادشاہ بھی ہو گئے ایسا ہی ان اسرائیلیوں کا انجام ہو گا جو اس نبی پر ایمان لائیں گے یعنی آخر ان کو بھی بادشاہی ملے گی اورملکوں کے حکمران ہو جائیں گے۔ اسی پیشگوئی کو عیسائیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام پر لگانا چاہا تھا جس میں وہ ناکام رہے کیونکہ وہ لوگ اس مماثلت کا کچھ ثبوت نہ دے سکے۔ اور یہ تو ان کے دل کا ایک خیالی پلاؤ ہے کہ یسوع نے گناہوں سے نجات * دی۔ کیا یورپ کے لوگ جو عیسائی ہو گئے ہر ایک قسم کی بدکاری اور زناکاری اور شراب خوری سے سخت متنفّر اور موحّدانہ زندگی بسر کرتے ہیں؟ ہم نے تو یورپ دیکھا نہیں۔ جنہوں نے دیکھا ہے اُن سے پوچھنا چاہئیے کہ یورپ کی کیا حالت ہے؟ ہم نے تویہ سُناؔ ہے کہ علاوہ اور باتوں کے ایک لندن میں ہی شراب خواری کی یہ کثرت ہے کہ اگر شراب کی دوکانیں سیدھے خط میں لگائی جائیں تو تخمیناً ستّر میل تک اُن کا طول ہو سکتا ہے۔ اب دیکھنا چاہئیے کہ اوّل تو گناہوں سے نجات پانا ایک ایسا امر ہے جو آنکھوں سے چُھپا ہوا ہے کون کسی کے اندرونی حالات اور
    ہم اس بات کو مانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ نے دوسرے نبیوں کی طرح حتی الوسع قوم کے بعض لوگوں کی اصلاح کی۔ مگر اصلاح کرنا اُن سے کچھ خاص نہیں تمام نبی اصلاح کے لئے ہی آتے ہیں نہ فساد پھیلانے کے لئے۔ ہاں مغفرت کا چشمہ اُن ہی کی ذات کا ہونا اور انسان کی حق تلفیاں ہوں یا خدا کی۔ سب اُن کے طفیل بخشے جانا یہ صرف ایک بیہودہ دعویٰ ہے جو علاوہ عدم ثبوت قانونِ قدرت کے بھی برخلاف ہے۔منہ
    l
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 302
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 302
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/302/mode/1up
    بادشاہت مسلسل کئی صدیوں سے چلی آتی ہے۔ اب جبکہ یہودیوں کی کُتب مقدسہ میں نہایت صفائی سے بیان کیا گیا ہے کہ موسیٰ کی مانند ایک منجی ان کے لئے بھیجا جائے گایعنی وہ ایسے وقت میں آئے گا کہ جب قوم یہود فرعون ؔ کے زمانہ کی طرح سخت ذلّت اور دُکھ میں ہو گی۔ اور پھر اُس منجی پر ایمان لانے سے وہ تمام دُکھوں اور ذلتوں سے رہائی پائیں گے تو کچھ شک نہیں کہ یہ پیشگوئی جس کی طرف یہود کی ہر زمانہ میں آنکھیں لگی رہی ہیں وہ ہمارے سیّدؔ و مولیٰ محمد مصطفےٰ صلی اﷲ علیہ وسلم
    خطرات کے بجز خدا تعالیٰ کے واقف ہو سکتا ہے۔ پھر یورپ جو عیسائیوں کے لئے عیسائیت کی زندگی کا ایک کھلا کھلا نمونہ ہے جو کچھ ظاہر کر رہا ہے اس کے بیان کی حاجت نہیں۔ ہم محض اس قوم کی معصومانہ زندگی قبول کر سکتے ہیں جس کے بعض افراد معصومانہ زندگی کے نشان اپنے ساتھ رکھتے ہوں اور راستبازوں کے برکات اُن میں پائے جاتے ہوں۔ سو یہ قوم تو اسلام ہے جس کی راستبازی کے انوار کسی زمانہ میں کم نہیں ہوئے۔ ورنہ صرف دعویٰ دلیل کا کام نہیں دے سکتا ماسوا اس کے یہ دعویٰ کہ گناہوں کا منجی کسی دوسرے زمانہ میں آنے والا تھا اس وجہ سے بھی نامعقول ہے کہ اگر ایسا منجی بھیجنا منظور تھا تو موسیٰ کے وقت میں ہی اس کی ضرورت تھی کیونکہ بنی اسرائیل طرح طرح کے گناہوں میں غرق تھے۔ یہاں تک کہ بُت پرستی کرکے گناہوں کی معافی کے محتاج تھے۔ پس یہ کس قدر غیر معقول بات ہے کہ گناہ تو اُسی وقت بکثرت ہوں یہاں تک کہ گو سالہ پرستی تک نوبت پہنچی اور گناہوں سے نجات دینے والا چودہ ۱۴۰۰سو برس بعد آوے جبکہ کروڑہا انسان ان ہی گناہوں کی وجہ سے داخل جہنم ہو چکے ہوں۔ ایسے ضیعف اور بودے خیال کو کون قبول کر سکتا ہے اور اس کے مقابل پر یہ کس قدر صاف بات ہے کہ اس منجی سے مرادبَلاؤں سے نجات دینے والا تھا اور وہ درحقیقت ایسے وقت میں آیا کہ جب کہ یہودیوں پر چاروں طرف سے بلائیں محیط ہو گئی تھیں۔ کئی دفعہ غیر قوموں کے بادشاہ ان کو گرفتار کرکے لے گئے۔ کئی دفعہ غلام بنائے گئے اور دو دفعہ ان کی ہیکل مسمار کی گئی۔ ہمارے معنوں کے رُو سے زمانہ ثبوت دیتا ہے کہ درحقیقت بلاؤں سے نجات دینے والا ایسے وقت آنا چاہئیے تھا جس وقت ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم آئے۔ مگر اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ یسوع جو ہیرودوس کے زمانہ میں پیدا ہوا وہی زمانہ گناہوں کے منجی کے بھیجنے کا زمانہ تھا۔ تا گناہوں سے نجات بخشے۔ غرض روحانی منجی ہونا ایسی بات ہے کہ محض تکلف اور بناوٹ سے بنائی گئی ہے۔ یہودی جس حالت کے لئے اب تک روتے ہیں وہ یہی ہے کہ کوئی ایسا منجی پیدا ہو جو اُن کو دوسری حکومتوں سے آزادی بخشے۔ کبھی کسی یہودی کے خواب میں بھی نہیں آیا کہ رُوحانی منجی آئے گااور نہ توریت کا یہ منشا ہے ۔توریت تو صاف کہہ رہی ہے کہ آخری دنوں میں پھر بنی اسرائیل پر مصیبتیں پڑیں گی اور اُن کی حکومت اور آزادی جاتی رہے گی پھر ایک نبی کی معرفت خدا اس حکومت اور آزادی کو دؔ وبارہ بحال کرے گا۔ سو یہ پیشگوئی بڑے زور وشور اور وضاحت کے ساتھ ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے طفیل سے پوری ہو گئی کیونکہ جب یہود لوگ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 303
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 303
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/303/mode/1up
    ہیں جن کے ذریعہ سے توریت کی پیشگوئی کمال وضاحت سے پوری ہو گئی۔ کیونکہ جب یہودی ایمان لائے تو اُن میں سے بڑے بڑے بادشاہ ہوئے یہ اس بات پر دلیل واضح ہے کہ خدا ؔ تعالیٰ نے اسلام لانے سے اُن کا گناہ بخشا اور اُن پر رحم کیا جیسا کہ توریت میں وعدہ تھا۔
    پھر ہم اپنی پہلی کلام کی طرف عود کرکے کہتے ہیں کہ مسیح موعود کے لئے قرآن شریف میں صرف وہی پیشگوئی نہیں جو ہم پہلے لکھ چکے ہیں بلکہ ایک اور پیشگوئی ہے جو بڑی وضاحت سے آنے والے مسیح کی
    ایمان لائے تو اسی زمانہ میں حکومت اور امارت اور آزادی اُن کو مل گئی اور پھرکچھ دنوں کے بعد وہ لوگ بہ برکت قبول اسلام روئے زمین کے بادشاہ ہو گئے اور وہ شوکت اور حکومت اور امارت اور بادشاہت ان کو حاصل ہوئی جو حضرت موسیٰ کے ذریعہ سے بھی حاصل نہیں ہوئی تھی۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ افغانوں کا عروج جو بنی اسرائیل ہیں شہاب الدین غوری کے وقت سے شروع ہوا۔ اور جب بہلول لودی افغان تخت نشین ہوا تب ہندوستان میں عام طور پر افغانوں کی امارت اور حکومت کی بنیاد پڑی ۔ اور یہ افغان بادشاہ یعنی بہلول بہت حریص تھا کہ ہندوستان میں افغانوں کی حکومت اور امارت پھیلاوے اور ان کو صاحبِ املاک اور جاگیر کرے اس لئے اس نے اپنی سلطنت میں جوق جوق افغان طلب کرکے ان کو عہدے اور حکومت اور بڑے بڑے املاک عطا کئے اور جب تک کہ ہندوستان کی سلطنت بہلول اور شیر شاہ افغان سوری کے خاندان میں رہی تب تک افغانوں کی آبادی اور اُن کی دولت اور طاقت بڑی ترقی میں رہی یہاں تک کہ یہ لوگ امارت اور حکومت میں اعلیٰ درجہ تک پہنچ گئے۔ افغانوں کی سلطنت اور اقبال اور دولت کے تصوّر کے وقت احمد شاہ ابدالی سدّوزئی کے اقبال پر بھی ایک نظر ڈالنی چاہئیے۔ جو افغانوں میں سے ایک زبردست بادشاہ ہوا ہے اور پھرتیمور شاہ سدّوزئی اور شاہ زمان اور شجاع الملک اور شاہ محمود اور امیر دوست محمد خان اور امیر شیر علی خان ہوئے۔ اور اب بھی والئملک کا بل افغان ہے۔ جو اس ملک کا بادشاہ کہلاتا ہے یعنی امیر عبدالرحمن۔
    ان تمام واقعات سے ثابت ہے کہ بنی اسرائیل کو جو دوبارہ آزادی اور شوکت اور سلطنت کا وعدہ دیا گیا تھا وہ اُن کے مسلمان ہونے کے بعد آخر پورا ہو گیا۔ اس سے توریت کی سچائی پر ایک قوی دلیل پیداہوتیؔ ہے کہ کیونکر توریت کے وہ تما م وعدے بڑی قوّت اور شان کے ساتھ انجام کار پُورے ہو گئے اور اس جگہ سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ وہ نبی جو بنی اسرائیل کی دوبارہ مصیبتوں کے وقت منجی ٹھہرایا گیا تھا وہ سیّدنامحمد مصطفےٰ صلی ا ﷲ علیہ وسلم ہیں۔ ہاں جس طرح پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے صرف راہ میں بنی اسرائیل کو چھوڑ کر وفات پائی اور قوم اسرائیل کو اُن کے بعد سلطنت ملی اِسی طرح ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جیسے جیسے بنی اسرائیل اسلام میں داخل ہوتے گئے حکومت اور امارت اُن کو ملتی گئی یہاں تک کہ آخر کار دُنیا کے بڑے بڑے حصّوں کے بادشاہ ہو گئے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 304
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 304
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/304/mode/1up
    خبر دیتی ہے اور وہ یہ ہے3 33 ۱؂ اِس آیت کاماحصل یہ ہے کہ خدا وہ خدا ہے جس نے ایسے وقت میں رسول بھیجا کہ لوگ علم اور حکمت سے بے بہرہ ہو چکے تھے اور علومِ حکمیہ دینیہ جن سے تکمیل نفسؔ ہو اور نفوس انسانیہ علمی اور عملی کمال کو پہنچیں بالکل گم ہو گئی تھی اور لوگ گمراہی میں مبتلا تھے۔ یعنی خدا اور اس کی صراطِ مستقیم سے بہت دُور جا پڑے تھے۔ تب ایسے وقت میں خدا تعالیٰ نے اپنا رسول اُمّی بھیجا اور اُس رسول نے اُن کے نفسوں کو پاک کیا اور علم الکتاب اور حکمت سے اُن کو مملو کیا یعنی نشانوں اور معجزات سے مرتبہ یقینِ کامل تک پہنچایا اور خدا شناسی کے نُور سے اُن کے دلوں کو روشن کیا اور پھر فرمایا کہ ایک گروہ اَور ہے جو آخری زمانہ میں ظاہر ہو گا وہ بھی اوّل تاریکی اور گمراہی میں ہوں گے اور علم اور حکمت اور یقین سے دُور ہوں گے تب خدا اُن کو بھی صحابہ کے رنگ میں لائے گا یعنی جو کچھ صحابہ نے دیکھا وہ اُن کو بھی دکھایا جائے گا یہاں تک کہ اُن کا صدق اور یقین بھی صحابہ کے صدق اور یقین کی مانند ہو جائے گا اور حدیث صحیح میں ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اِس آیت کی تفسیر کے وقت سلمان فارسی کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا ۔ لَوْکَانَ الْاِیْمَانُ مُعَلَّقًا بِالْثُّرَیَّا لَنَالَہٗ رَجَلٌ مِّنْ فَارِسَیعنی اگر ایمان ثریّا پر یعنی آسمان پر بھی اُٹھ گیا ہو گا تب بھی ایک آدمی فارسی الاصل اُس کو واپس لائے گا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ ایک شخص آخری زمانہ میں فارسی الاصل پیدا ہو گا اس زمانہ میں جس کی نسبت لکھا گیا ہے کہ قرآن آسمان پر اُٹھایا جائے گا یہی وہ زمانہ ہے جو مسیح موعود کا زمانہ ہے۔ اور یہ فارسی الاصل وہی ہے جس کا نام مسیح موعود ہے کیونکہ صلیبی حملہ جس کے توڑنے کے لئے مسیح موعود کو آنا چاہئیے وہ حملہ ایمان پر ہی ہے اور یہ تمام آثار صلیبی حملہ کے زمانہ کے لئے بیان کئے گئے ہیں اور لکھا ہے کہ اِس حملہ کا لوگوں کے ایمان پر بہت بُرا اثر ہو گا۔ وہی حملہ ہے جس کو دوسرے لفظوں میں دجّالی حملہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 305
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 305
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/305/mode/1up
    کہتے ہیں۔ آثار میں ہے کہ اُس دجّال کے حملہ کے وقت بہت سے نادان خدائے واحدلاشریک کو چھوڑ دیں گے اور بہت سے لوگوں کی ایمانی محبت ٹھنڈی ہو جائے گی اور مسیح موعود کا بڑا بھاری کام تجدید ایمانؔ ہو گا کیونکہ حملہ ایمان پر ہے اور حدیث لَوْکَانَ الْاِیْمَانُسے جو شخص فارسی الاصل کی نسبت ہے یہ ثابت ہے کہ وہ فارسی الاصل ایمان کو دوبارہ قائم کرنے کے لئے آئے گا۔ پس جس حالت میں مسیح موعود اور فارسی الاصل کا زمانہ بھی ایک ہی ہے اور کام بھی ایک ہی ہے یعنی ایمان کو دوبارہ قائم کرنا اس لئے یقینی طور پر ثابت ہوا کہ مسیح موعود ہی فارسی الاصل ہے اور اُسی کی جماعت کے حق میں یہ آیت ہے 33۱؂ اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ کمال ضلالت کے بعد ہدایت اور حکمت پانے والے اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے معجزات اور برکات کو مشاہدہ کرنے والے صرف دو ہی گرو ہ ہیں اوّل صحابۂ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے سخت تاریکی میں مبتلا تھے اور پھر بعد اس کے خدا تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے زمانہ نبوی پایا اور معجزات اپنی آنکھوں سے دیکھے اور پیشگوئیوں کا مشاہدہ کیا اور یقین نے اُن میں ایک ایسی تبدیلی پیدا کی کہ گویا صرف ایک رُوح رہ گئے۔ دوسرا گروہ جو بموجب آیت موصوفہ بالا صحابہ کی مانند ہیں مسیح موعود کا گروہ ہے۔ کیونکہ یہ گروہ بھی صحابہ کی مانند آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے معجزات کو دیکھنے والا ہے اور تاریکی اور ضلالت کے بعد ہدایت پانے والا۔ اور آیت 3 میں جو اس گروہ کو 3کی دولت سے یعنی صحابہ سے مشابہ ہونے کی نعمت سے حصّہ دیا گیا ہے ۔ یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے یعنی جیسا کہ صحابہ رضی اﷲ عنہم نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے معجزات دیکھے اور پیشگوئیاں مشاہدہ کیں ایسا ہی وہ بھی مشاہدہ کریں گے اور درمیانی زمانہ کو اس نعمت سے کامل طور پر حصّہ نہیں ہو گا۔ چنانچہ آج کل ایسا ہی ہوا کہ تیرہ سو برس بعد پھر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے معجزات کا دروازہ کھل گیا اور لوگوں نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا کہ خسوف کسوف رمضان میں موافق حدیث دارقطنی اور فتاویٰ ابن حجر کے ظہور میں آ گیا یعنی چاند گرہن اور سورج گرہن رمضان میں ہوا۔ اور جیسا کہ مضمون حدیث تھا۔ اُسی طرح پر چاند گرہن اپنے گرہن کی راتوں میں سے پہلی رات میں اورسورج گرہن اپنے گرہن کے دنوں میں سے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 306
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 306
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/306/mode/1up
    بیچ کے دن میں وقوع میں آیا۔ ایسے وقت میں کہ جب مہدی ہونے کا مدعی موجود تھا اور یہ صورت جب سے کہ زمین اور آسمان پیدا ہوا کبھی وقوع میں نہیں آئی کیونکہ اب تک کوئی شخص نظیر اس کی صفحۂ تاریخ میں ثابت نہیں کر سکا۔ سو یہؔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا ایک معجزہ تھا جو لوگوں نے آنکھوں سے دیکھ لیا۔ پھر ذوالسنین ستارہ بھی جس کا نکلنا مہدی اور مسیح موعود کے وقت میں بیان کیا گیا تھا۔ ہزاروں انسانوں نے نکلتا ہوا دیکھ لیا۔ ایسا ہی جاوا کی آگ بھی لاکھوں انسانوں نے مشاہدہ کی ایسا ہی طاعون کا پھیلنا اور حج سے روکے جانا بھی سب نے بچشم خود ملاحظہ کر لیا۔ ملک میں ریل کا طیار ہونا اونٹوں کا بے کار ہونا یہ تمام آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے معجزات تھے جو اس زمانہ میں اسی طرح دیکھے گئے جیسا کہ صحابہ رضی اﷲ عنہم نے معجزات کو دیکھا تھا۔ اسی وجہ سے اﷲ جلّ شانہٗ نے اس آخری گروہ کو مِنْھُمْ کے لفظ سے پکارا تا یہ اشارہ کرے کہ معائنہ معجزات میں وہ بھی صحابہ کے رنگ میں ہی ہیں۔ سوچ کر دیکھو کہ تیرہ سو برس میں ایسا زمانہ منہاج نبوت کا اور کس نے پایا۔ اِس زمانہ میں جس میں ہماری جماعت پیدا کی گئی ہے کئی وجوہ سے اِس جماعت کو صحابہ رضی اﷲ عنہم سے مشابہت ہے۔ وہ معجزات اور نشانوں کو دیکھتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے دیکھا۔ وہ خدا تعالیٰ کے نشانوں اور تازہ بتازہ تائیدات سے نُور اور یقین پاتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے پایا۔ وہ خدا کی راہ میں لوگوں کے ٹھٹھے اور ہنسی اور لعن طعن اور طرح طرح کی دلآزاری اور بدزبانی اور قطع رحم وغیرہ کا صدمہ اُٹھا رہے ہیں جیسا کہ صحابہ نے اٹھایا۔ وہ خدا کے کھلے کھلے نشانوں اور آسمانی مددوں اور حکمت کی تعلیم سے پاک زندگی حاصل کرتے جاتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے حاصل کی۔ بہتیرے اُن میں سے ایسے ہیں کہ نماز میں روتے اور سجدہ گاہوں کو آنسوؤں سے تر کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اﷲ عنہم روتے تھے۔ بہتیرے اُن میں ایسے ہیں جن کو سچی خوابیں آتی ہیں اور الہام الٰہی سے مشرف ہوتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اﷲ عنہم ہوتے تھے۔ بہتیرے اُن میں ایسے ہیں کہ اپنے محنت سے کمائے ہوئے مالوں کو محض خدا تعالیٰ کی مرضات کے لئے ہمارے سِلسلہ میں خرچ کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اﷲ عنہم
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 307
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 307
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/307/mode/1up
    خرچ کرتے تھے۔ اُن میں ایسے لوگ کئی پاؤ گے کہ جو موت کو یاد رکھتے اور دلوں کے نرم اور سچی
    تقویٰ پر قدم مار رہے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اﷲ عنہم کی سیرت تھی۔ وہ خدا کا گروہ ہے جن کو خدا آپ سنبھال رہا ہے اور دن بدن اُن کے دلوں کو پاک کر رہا ہے اور ان کے سینوں کو ایمانی حکمتوں سے بھر رہا ہے ۔اور آسمانی نشانوں سے اُن کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ جیسا کہ صحابہ کو کھینچتا تھا۔ غرض اس جماعت میں وہ ساری علامتیں پائی جاتی ہیں جو 3کے لفظ سے مفہوم ہو رہی ہیں۔ اور ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ کا فرمودہ ایک دن پورا ہوتا۔!!!
    اور ؔ آیت 3میں یہ بھی اشارہ ہے کہ جیسا کہ یہ جماعت مسیح موعود کی صحابہ رضی اﷲ عنہم کی جماعت سے مشابہ ہے ایسا ہی جو شخص اس جماعت کا امام ہے وہ بھی ظلّی طو رپر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتا ہے جیسا کہ خود آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے مہدی موعود کی صفت فرمائی کہ وہ آپ سے مشابہ ہو گا اور دو مشابہت اُس کے وجود میں ہوں گی۔ ایک مشابہت حضرت مسیح علیہ السلام سے جس کی وجہ سے وہ مسیح کہلائے گا اور دوسری مشابہت آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے جس کی وجہ سے وہ مہدی کہلائے گا۔ اِسی راز کی طرف اشارہ کرنے کے لئے لکھا ہے کہ ایک حصہ اس کے بدن کا اسرائیلی وضع اور رنگ پر ہو گا اور دوسرا حصہ عربی وضع اور رنگ پر۔ حضرت مسیح علیہ السلام ایسے وقت میں آئے تھے جبکہ ملّتِ موسوی یونانی حکماء کے حملوں سے خطرناک حالت میں تھی۔ اور تعلیم توریت اور اُس کی پیشگوئیوں اور معجزات پر سخت حملہ کیا جاتا تھا اور یونانی خیالات کے موافق خدا تعالیٰ کے وجود کو بھی ایک ایسا وجود سمجھا گیا تھا کہ جو صرف مخلوق میں مخلوط ہے اور مدّبر بالارادہ نہیں۔ اور سِلسلہ نبوت سے ٹھٹھا کیا جاتا تھا۔ لہٰذا حضرت عیسیٰ کے مبعوث کرنے سے جو حضرت موسیٰ سے چودہ سو برس بعد آئے خدا تعالیٰ کا یہ ارادہ تھا کہ موسوی نبوت کی صحت اور اس سِلسلہ کی حقانیت پر تازہ شہادت قائم کرے اور نئی تائیدات اور آسمانی گواہوں سے موسوی عمارت کی دوبارہ مرمت کر دیوے۔ اِسی طرح جو اس اُمت کے لئے مسیح موعود بھی چودھویں صدی کے سر پر بھیجا گیا اُس کی بعثت سے بھی یہی مطلب تھا کہ جو یورپ کے فلسفہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 308
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 308
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/308/mode/1up
    اور یورپ کی دجّالیت نے اسلام پر طرح طرح کے حملے کئے ہیں اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی نبوّت اور پیشگوئیوں اور معجزات سے انکار اور تعلیم قرآنی پر اعتراض اور برکات اور انوارِ اسلام کو سخت استہزا کی نظر سے دیکھا ہے ان تمام حملوں کو نیست و نابود کر ے اور نبوتِ محمدّیہ علیٰ صاحبہا الف الف سلام کو تازہ تصدیق اور تائید سے حق کے طالبوں پر چمکا وے اور یہی سّر ہے جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۲۲ میں آج سے سترہ برس پہلے ایک الہام اسی بارہ میں ہوا وہ الہام خدا تعالیٰ کا لاکھوں انسانوں میں شائع ہو چکا ہے اوروہ یہ ہے : ۔ ’’بخرام کہ وقتِ تو نزدیک رسید و پائے محمدیاں برمناربلند تر محکم افتاد۔ پاک محمد مصطفےٰ نبیوں کا سردار ۔خدا تیرے سب کام درست کرے گا اور تیری ساری مُرادیں تجھے دے گا۔ ربّ الافواج اس طرف توجہ کرے گا۔اس نشان کا مدّعا یہ ہے کہ قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے مُنہ کی باتیں ہیں۔‘‘ دیکھو براہین ؔ احمدیہ صفحہ ۵۲۲۔ اور خوب غور کرو کہ میرے نشانوں سے کیا مدعا ٹھہرایا گیا۔ابھی میں بیان کر چکا ہوں کہ اسی مطلب کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئے تھے تاتکذیب کی حالت میں نئے نشانوں کے ساتھ توریت کی تصدیق کریں۔ اور اسی مطلب کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے تا نئے نشانوں کے ساتھ قرآن شریف کی سچائی غافل لوگوں پر ظاہر کی جائے۔ اِسی کی طرف الہامِ الٰہی میں اشارہ ہے کہ پائے محمدیاں برمنار بلند تر محکم افتاد۔ اور یہی اشارہ اِس دوسرے الہام براہین احمدیہ میں ہے۔ الرّحمٰن علّم القراٰن۔ لتنذر قومًا مَّا اُنْذِرَ اٰبآء ھم ولتستبین سَبِیْلَ المُجرمین۔ قُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔اگر کوئی کہے کہ ’’حضرت عیسیٰ نبی اﷲ ہو کر توریت کی تصدیق کے لئے آئے۔ پس اُن کے مقابل پر تمہاری گواہی کیا قدر رکھتی ہے۔ اس جگہ بھی تصدیق جدید کے لئے کوئی نبی ہی چاہئیے تھا‘‘ سو اِس کا جواب یہ ہے کہ اسلام میں اس نبوت کا دروازہ تو بند ہے جو اپنا سکّہ جماتی ہو۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔3 ۱؂اور حدیث میں ہے لَانَبِیّ بَعْدِیْ۔ اور باایں ہمہ حضرت مسیح ؑ کی وفات نصوص قطعیہ سے ثابت ہو چکی لہٰذا دنیا میں اُن کے دوبارہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 309
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 309
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/309/mode/1up
    آنے کی اُمید طمع خام۔ اور اگر کوئی اَور نبی نیا یا پُرانا آوے تو ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کیونکر خاتم الانبیاء رہیں۔ ہاں وحی ولایت اور مکالماتِ الٰہیہ کا دروازہ بند نہیں ہے جس حالت میں مطلب صرف یہ ہے کہ نئے نشانوں کے ساتھ دینِ حق کی تصدیق کی جائے اور سچّے دین کی شہادت دی جائے تو جو نشان خدا تعالیٰ کے نشان ہیں خواہ وہ نبی کے ذریعہ سے ظاہر ہوں اور خواہ ولی کے ذریعہ سے وہ سب ایک درجہ کے ہیں کیونکہ بھیجنے والا ایک ہی ہے۔ ایسا خیال کرنا سراسر جہالت اور حمق ہے کہ اگر خدا تعالیٰ نبی کے ہاتھ سے اور نبی کے ذریعہ سے کوئی تائیدسماوی کرے تو وہ قوّت اور شوکت میں زیادہ ہے۔ اور اگر ولی کی معرفت وہ تائید ہو تو وہ قوّت اور شوکت میں کم ہے بلکہ بعض نشان تو تائید اسلام کے ایسے ظاہر ہوتے ہیں کہ اس وقت نہ کوئی نبی ہوتا ہے اور نہ ولی جیسا کہ اصحاب الفیل کے ہلاک کرنے کا نشان ظاہر ہوا۔ یہ تو مسلّم ہے کہ ولی کی کرامت نبی متبوع کا معجزہ ہے پھر جبکہ کرامت بھی معجزہ ہوئی تو معجزات میں تفریق کرنا ایمانداروں کا کام نہیں۔ ماسوا اس کے حدیثِ صحیح سے ثابت ہے کہ محدّث بھی نبیوں اور رسولوں کی طرح خدا کے مُرسلوں میں داخل ہے۔ بخاریؔ میں وما ارسلنا من رسول ولا نبیّ ولا محدّث کی قراء ت غور سے پڑھو۔ اور نیز ایک دوسری حدیث میں ہے کہ علماء امّتی کانبیاء بنی اسرائیل۔ صوفیا نے اپنے مکاشفات سے بھی اس حدیث کی رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم سے تصحیح کی ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ مسلم میں مسیح موعود کے حق میں نبی کا لفظ بھی آیا ہے یعنی بطور مجاز اوراستعارہ کے۔ اِسی وجہ سے براہین احمدیہ میں بھی ایسے الفاظ خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے حق میں ہیں۔ دیکھو صفحہ ۴۹۸میں یہ الہام ہے ۔ ھوالّذی ارسل رسولہ بالھدیٰ۔ اس جگہ رسول سے مراد یہ عاجز ہے۔ اور پھر دیکھو صفحہ ۵۰۴ براہین احمدیہ میں یہ الہام جری اﷲ فی حلل الانبیاء۔ جس کا ترجمہ ہے خدا کا رسول نبیوں کے لباس میں ۔ اس الہام میں میرا نام رسول بھی رکھا گیا اور نبی بھی۔پس جس شخص کے خود خدا نے یہ نام رکھے ہوں اس کو عوام میں سے سمجھنا کمال درجہ کی شوخی
    ہے۔ اور خدا کے نشانوں کی شہادتیں کسی طرح کمزور نہیں ہو سکتیں۔ خواہ نبی کے ذریعہ سے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 310
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 310
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/310/mode/1up
    ہوں یا محدّث کے ذریعہ سے۔ اصل تو یہ ہے کہ خود ہمارے نبی صلے اﷲ علیہ وسلم کی نبوت اور آپ کا فیض ایک مظہر پیدا کرکے اپنی گواہی آپ دلاتا ہے اور ولی کو مفت کا نام حاصل ہوتا ہے۔ سو درحقیقت ولی جو مصدّق ہے وہ آپ سے زینت پاتا ہے آپ اس سے زینت نہیں پاتے۔ وﷲ درّالقائل ؂
    ہمہ خوبانِ عالم را بہ زیور ہا بیارایند
    تو سیمیں تن چناں خوبی کہ زیورہا بیارائی
    ہم بیان کرچکے ہیں کہ مسیح موعود کے ظہور کی علامات جو پوری ہونے والی تھیں وہ پوری ہو چکیں۔ صحیح بخاری میں ایک بڑی علامت یہی لکھی گئی تھی کہ وہ غلبۂ صلیب کے وقت میں ظاہر ہو گا۔ چنانچہ حدیث یَکْسِرُ الصَّلِیْبَ صریح اس امر پر دلالت کر رہی ہے۔ اَب کس عقلمند کو اِس بات میں کلام ہو سکتا ہے کہ صلیبی عقائد کی اشاعت کمال کو پہنچ گئی۔ * فقرہ یکسر الصلیبکے الفاظ وہ الفاظ ہیں جن پر کمال وثوق سے یقین کیا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے مُنہ سے نکلے تھے اور جس قدر ہم اِن لفظوں میں غور کریں اُسی قدرایک روشنی بخش ثبوت اس بات کا پیدا ہوتا ہے کہ اِس امر میں کچھ بھی شک نہیں کہ یہ پیشگوئی بتمام تر صراحت یہی بتلا رہی ہے کہ مسیح آنے والا عیسائی مذہب کے غلبہ میں آئے گا۔ پس طالبِ حق کو یہ امر ایک فیصلہ شدہ مان لینا چاہئیے کہ مسیح موعود کا ظہور عیسائیت کے غلبہ کے وقت سے وابستہ ہے اور کچھ شک نہیں ہے کہ یہ علامت ظہورمیں ؔ آ چکی ہے اور پادریوں کے حملوں سے اور اُن کی کروڑہا کتابوں کی اشاعت سے جس قدر نادانوں اور غافلوں اور بے خبروں کو دھوکے لگے ہیں اور جس قدر ارتداد کے بازار گرم ہوئے ہیں اور جس قدر سیدنا امام الطیبّین خیر المرسلین کی توہین کی گئی ہے اور جس قدر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور قرآن کریم اور تعلیم اسلام یہاں تک کہ امہات المومنین ازواج مطہراتآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر جھوٹے الزام لگائے گئے ہیں کیا کوئی مومن یہ رائے ظاہر کر سکتا ہے کہ ابھی یہ ظالمانہ حملے
    * دیکھو کیسے لوگ پادریوں کے ہاتھ سے رو رہے ہیں۔ کتاب ’’امہات المومنین‘‘ نے کیا کیا مسلمانوں کے دلوں کو زخم پہنچا ئے جس سے انجمن حمایتِ اسلام لاہور کے لوگوں کو بھی غیرت آئی اور انہوں نے گورنمنٹ میں میموریل بھیجا جو مدافعت کے لئے حقیقی علاج نہیں ہے۔ کیا اب تک آسمانی مدد کا وقت نہ آیا؟ افسوس! منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 311
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 311
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/311/mode/1up
    کمال کو نہیں پہنچے اور ابھی توہین اور جھوٹے الزامات کے لگانے اور مخلوق کو دھوکا دینے اور ارتداد کا بازار گرم کرنے میں کچھ کسر باقی رہ گئی ہے۔میں خیال کرتا ہوں کہ ایساخیال بجز کسی سیاہ دل نادان کے اور کوئی نہیں کر سکتا۔ اور سچا محب اﷲ رسول کا جس وقت وہ کتابیں دیکھے گا جو صلیب کی تائید اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی توہین میں لکھی گئی ہیں تو بے شک اس کا جگرپاش پاش ہو گا اور وہ ضرور سمجھ لے گا کہ یہ وہ غلّو ہے جو توہینِ اسلام اور تائیدِ باطل میں انتہا تک پہنچ گیا ہے۔ اور جب یہ قبول کر لیا گیا کہ غلّو انتہاتک پہنچ گیا ہے تو ساتھ ہی ماننا پڑا کہ کسرِ صلیب کا وقت آ گیا اور جب وقت آ گیا تو ساتھ اس کے یہ بھی ماننا پڑا کہ اب وہ دن ہیں کہ جن میں ضرور ہے کہ مسیح موعود ظاہر ہو چکا ہو کیونکہ خدا کے وعدوں کا ٹلنا محال ہے۔ ہاں ہم بار بار یاد دلاتے ہیں کہ کسرِ صلیب کا وقت تو آ گیا لیکن یہ کسر محض رُوحانی طریق سے ہو گا۔ خدا تعالیٰ نے یہی ارادہ فرمایا ہے کہ جس طرز پر مخالف کے حملے ہوں اُسی طرز پر اُن حملوں کا ذَبّ اور دفع کیا جائے۔ پس جبکہ محض قلم اور تحریر اور تقریر کے رُو سے حملے ہیں اِس لئے مناسب ہے کہ اسلام کی طرف سے بھی تحریر اور تقریر تک حملے محدود ہوں اور کوئی اشتعال اور غضب جہادی لڑائیوں کے رنگ میں ظاہر نہ ہو بلکہ نرمی اور بُردباری سے دشمن کی غلطیوں کو دُور کردیا جائے اور یہ بھی مناسب نہیں کہ عیسائیوں کی سخت گوئی سُن کر حکّام کے آگے استغاثہ کریں کیونکہ یہ بھی ضعف کی نشانی ہے۔ مذہبی آزادی سے جیسا کہ عیسائی فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ ایسا ہی مسلمان بھی اُٹھا سکتے ہیں مگر تہذیب اور نرمی کے ساتھ۔ یاد رکھو کہ عیسائیوں اور آریوں کی طرف سے ہزار سختی کی جائے گو وہ کیسی ہی بدگوئی کریں گالیاں نکالیں لیکن اگر نرمی سے کام لو گے اور بُردباری سے سختی کا جواب دو گے تو ایک دن ضرور ایسا آئے گا کہ نادان معترض سمجھ جائیں گے کہ یہ تمام اعتراضات اُن کی اپنی ہی غلط کاریاں تھیں تب ندامت کے
    ساتھ اپنی شوخیوں اور بدزبانیوں سے توبہ کریں گے۔
    اَب ؔ ہم پھر اصل مطلب کی طرف عود کرکے کہتے ہیں کہ حدیثوں کے رُو سے مسیح موعود کے ظہورکی یہ علامت ہے کہ اُس وقت صلیبی مذہب کی تائید میں بڑی بڑی کوششیں کی جائیں گی
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 312
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 312
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/312/mode/1up
    اور نادان لوگ اس قدر بدگوئی اور گالیوں اور فحش بولنے کی نجاست کھائیں گے کہ خنزیر بن جائیں گے۔ تب مسیح ظہور کرے گا اور رُوحانی حربہ یعنی اتمام حجت سے اُن خنزیروں کا کام تمام کر دے گا۔ اوراس کے ساتھ فرشتے نازل ہوں گے یعنی سچائی کی تائید میں کچھ ایسی ہوا چلے گی کہ دلوں کو اسلامی توحید کی طرف پھیرے گی اور لوگ باطل عقیدوں سے بالطبع متنفّر ہوتے جائیں گے اور اس طرح مِلل باطلہ پر موت آ جائے گی ۔ اِن حدیثوں کے یہی معنے واقعی طور پر صحیح ہیں۔ نہ یہ کہ تلوار چلے گی اور تمام دنیا خون میں غرق کی جائے گی۔!!
    اب جبکہ صلیبی زور اور صلیبی حمایت اور بدگوئی میں قلم زنی انتہا تک پہنچ گئی تو وہ علامت جو ہمارے سیّد و مولیٰ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ظہورِ مسیح موعود کے لئے مقرر فرمائی تھی ظاہر ہو گئی۔ اور احادیثِ صحیحہ میں لکھا ہے کہ جب علامات کا ظہور شروع ہو گا تو تسبیح کے دانوں کی طرح جبکہ اُن کا دھاگہ توڑ دیا جائے وہ ایک دوسرے کے بعد ظاہر ہوتی جائیں گی۔ اس صورت میں ظاہر ہے کہ غلبۂ صلیب کی علامت کے ساتھ اور تمام علامتیں بلاتوقف ظاہر ہونی چاہئیں۔ اور جو علامتیں اب بھی ظاہر نہ ہوں اُن کی نسبت قطعی طو رپرسمجھنا چاہئیے کہ وہ علامتیں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے بیان نہیں فرمائیںیا بیان فرمائیں مگر ان سے ان کے ظاہری معنے مراد نہ تھے کیونکہ جب علامات کا تسبیح کے دانوں کی طرح ایک کے بعد دوسرے کا ظاہر ہونا ضروری ہے، تو جو علامت اِس نظام سے باہر رہ جائے اور ظاہر نہ ہو اس کا باطل ہونا ثابت ہو گا۔ دیکھو یہ علامتیں کیسی ایک دوسرے کے بعد ظہور میں آئیں (۱) چودھویں صدی میں سے چودہ برس گذر گئے جس کے سر پر ایک مجدّد کا پید اہونا ضروری تھا (۲) صلیبی حملے مع فحش گوئی اسلام پر نہایت زور سے ہوئے جو کسرِ صلیب کرنے والے مسیح موعود کو چاہتے تھے۔*
    *نوٹ: قرآن شریف میں بھی آخری زمانہ میں پادریوں اور مشرکوں کا اسلام پر اور نیز آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر بدگوئی اور فحش گوئیوں کے ساتھ زبان کھولنا بیان فرمایا ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے 33 ۱؂ یعنی تم اہل کتاب اور مشرکوں سے دلآزار اور دُکھ دینے والی باتیں بہت سنو گے۔ سو جس قدر اس زمانہ میں دلآزار باتیں سُنی گئیں اُن کی نظیر تیرہ سو برس میں نہیں پائی گئی۔ اِس لئے اِس پیشگوئی کے پورا ہونے کا یہی زمانہ ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 313
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 313
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/313/mode/1up
    (۳) ان حملوں کے کمال جوش کے وقت میں ایک شخص ظاہر ہوا جس نے کہا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ (۴) آسمان پر حدیث کے موافق ماہ رمضان میں سورج اور چاند کا کُسوف خسُوف ہوا۔ (۵) ستارۂ ذوالسّنین نے طلوع کیا وہی ستارہ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں نکلا تھا جس کی نسبت حدیثوں میں پیشگوئی کی گئی تھی کہ وہ آخر زمان یعنی مسیح موعود کے وقت میں نکلے گا۔ (۶)ملک میں طاعون پیدا ہوا ابھی معلوم نہیں کہاں تک انجام ہو۔ یہ بھی حدیثوں میں تھا کہ آخر زمان یعنی مسیح کے زمانہ میں طاعون پھوٹے گی۔ (۷)ؔ حج بند کیا گیا۔ یہ بھی حدیثوں میں تھا کہ آخر زمان یعنی مسیح کے زمانہ میں لوگ حج نہیں کر سکیں گے۔کوئی روک واقع ہو گی۔(۸) ریل کی سواری پیدا ہو گئی۔ یہ بھی حدیثوں میں تھا کہ مسیح موعود کے زمانہ میں ایک نئی سواری پیدا ہو گی جو صبح اور شام اور کئی وقت چلے گی اور تمام مدار اس کا آگ پر ہو گا اور صد ہا لوگ اُس میں سوار ہوں گے (۹) بباعث ریل اکثر اونٹ بے کار ہو گئے۔ یہ بھی حدیثوں اور قرآن شریف میں تھا کہ آخری زمانہ میں جو مسیح موعود کا زمانہ ہو گا اونٹ بے کار ہو جائیں گے۔ (۱۰) جاوا میں آگ نکلی اور ایک مدت تک کنارۂ آسمان سُرخ رہا۔ یہ بھی حدیثوں میں تھا کہ مسیح موعود کے زمانہ میں ایسی آگ نکلے گی۔ (۱۱) دریاؤں میں سے بہت سی نہریں نکالی گئیں۔ یہ قرآن شریف میں تھا کہ آخری زمانہ میں کئی نہریں نکالی جائیں گی۔
    ایسا ہی اور بھی بہت سی علامتیں ظہور میں آئیں جو آخری زمانہ کے متعلق تھیں۔ اب چونکہ ضرور ہے کہ تمام علامتیں یکے بعد از دیگرے واقع ہوں اس لئے یہ ماننا پڑا کہ جو علامت ذکر کردہ عنقریب وقوع میں نہیں آئے گی وہ یا تو جھوٹ ہے جو ملایا گیا اور یا یہ سمجھنا چاہئیے کہ وہ اور معنوں سے یعنی بطور استعارہ یا مجاز وقوع میں آ گئی ہے۔ اور طریق عقلی بھی یہی چاہتا ہے کہ مسیح موعود کا اسی طرح ظہور ہو کیونکہ عقل کے سامنے ایسی کوئی سنت اﷲ نہیں جس سے عقل اس امر کو شناخت کر سکے کہ آسمان سے بھی لوگ صدہا برس کے بعد نازل ہوا کرتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے نئے نشان بھی یہی گواہی دے رہے ہیں۔ کیونکہ اگر یہ کاروبار
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 314
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 314
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/314/mode/1up
    انسان کی طرف سے ہوتا تو بموجب وعدۂ قرآن شریف چاہئیے تھا کہ جلد تباہ ہو جاتا ۔ لیکن خدا اس کو ترقی دے رہا ہے۔ بہت سے نشان ایسے ظاہر ہو چکے ہیں کہ اگر ایک منصف سوچے تو بدیہی طور پر ان نشانوں کی عظمت اُس پر ظاہر ہو سکتی ہے۔ لیکھرام کی موت کی پیشگوئی کس معرکہ کی پیشگوئی تھی اور کس زور شور سے پوری ہوئی۔ کس قدر پیشگوئیاں ہیں جو پوری ہو چکیں۔ کہاں ہے آتھم؟ اور کہاں ہے لیکھرام؟اور کہا ہے احمد بیگ؟ اگر ذرّہ عقل سے کوئی شخص کام لے تو اُسے معلوم ہو گا کہ یہ تینوں شخص پیشگوئیوں کے مطابق فوت ہوئے ہیں۔ براہین احمدیہ کی پیشگوئیاں جو اس زمانہ سے ستّرہ سال پہلے لکھی گئیں کس قدر عظمت اپنے اندر رکھتی ہیں۔ ان میں ان تمام امور کا نقشہ کھینچ کر دکھلایا گیا ہے جو آج تک بعد میں ظہور میں آتے رہے۔ براہین احمدیہ میں قبل از وقت بذریعہ الہام یہ بتلایا گیا ہے کہ دُور دُور سے لوگؔ آئیں گے اور اِس جماعت میں داخل ہوں گے اور خدا بہت سے ممدو معاون پیدا کر ے گا جو اپنے مالوں کے ساتھ مدد دیں گے۔ اور یہ بھی براہین احمدیہ میں لکھا ہے کہ تین فتنے تین قوموں مسلمانوں اور پادریوں اور آریوں کی طرف سے برپا ہوں گے۔ اب دیکھو کہ یہ سب باتیں کس صفائی کے ساتھ پوری ہوئیں اور ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ کی نسبت اور اس کے انجام کے بارے میں دو ماہ پیشتر اپنی جماعت میں قریباً دو سو آدمی کو بتلایا گیا۔ دیکھو وہ جیسا کہ بتلایا تھا ویسا ہی ظہور میں آیا۔ مہوتسو کے جلسہ کی نسبت الہامی اشتہار دیا گیا تھا کہ ہمارا مضمون بالا رہے گا اور وہ اشتہار قبل از وقت ہندوؤں اور مسلمانوں سب کو پہنچایا گیا تھا۔ دیکھو وہ الہام کیسا سچ نکلا۔ اب خود سوچو کہ کیا اس قدر الہام جو بعض اُن میں سے ستّرہ سال پہلے بتلائے گئے کیا یہ انسان کا کام ہو سکتا ہے؟ نہیں نہیں بلکہ یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے تا وہ اپنے بندے کی سچائی پر گواہی دے۔یہ وہی گواہی ہے جس کی نسبت براہین احمدیہ صفحہ ۲۴۰ میں یہ الہام ہے۔ قل عندی شہادۃ من اﷲ فھل انتم مومنون۔ قل عندی شہادۃ من اﷲ فھل انتم مسلمون۔ ترجمہ:ان کو کہہ کہ میرے پاس خداکی گواہی ہے۔پس کیاتم مانتے ہو؟کیا
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 315
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 315
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/315/mode/1up
    تم اطاعت کرتے ہو؟ دیکھو کس قدر گواہیاں میرے اس دعویٰ پر ہیں۔ (۱) نئے نشان جو میرے ہاتھ پر ظاہر ہوئے اور ہو رہے ہیں الگ گواہیاں ہیں۔ (۲) ہمارے سیّد و مولیٰ کی علامات مقرر کردہ کا اس وقت پورا ہونا یہ الگ شہادتیں ہیں۔ (۳) اہل کشف کی پیشگوئیوں کا اس زمانہ میں میرے حق میں پورا ہونا۔ جیسے شاہ ولی اﷲ کی پیشگوئی اور نعمت اﷲ کی پیشگوئی اور گلاب شاہ کی پیشگوئی یہ تمام الگ شہادتیں ہیں۔ (۴) اور صدی کے سر کا ایک ایسے مجدّد کو چاہنا جو کسرِ صلیب کے لئے مامور ہو یہ الگ شہادت ہے۔ (۵) زمانہ کی حالت موجودہ کا ایسے امام کو چاہنا جو آفاتِ حملہ صلیبیہ کے مناسب حال ہو یہ الگ شہادت ہے۔ غرض ہر ایک طریق سے حجت پوری ہو گئی ہے۔ اَب جو شخص انکار کرتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے ارادہ کا مقابلہ کر رہا ہے۔
    اگر کوئی شخص تعصب سے الگ ہو کر اور پاک طبیعت لے کر ہمارے ان دلائل کو بامعان نظر دیکھے گا وہ نہ صرف یہی دلائل بلکہ دلائل پر دلائل معلوم کرے گا اور ثبوت پر ثبوت اُسے نظر آئے گا ۔جو لوگ اس بات کو نہیں مانتے کہ یہی وقت مسیح موعود کے ظہور کا وقت ہے اُن کو بڑی دقّتیں پیش آئی ہیں اور اُن کا دل ہر وقت انہیں جتلا رہا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے الزام کے نیچے ہیں کیونکہ خد اتعالیٰ کا مقرر کردہ زمانہ آ گیا اور بہت سا حصہ اُسؔ میں سے گذر بھی گیا۔ پھر اس وقت مسیح موعود کے ظہور سے انکار گویا خدا اور اُس کے رسول کے فرمودہ سے انکار ہے۔ کیا نہیں دیکھتے کہ وہ آفتیں برپا ہیں جن کا برپا ہونا مسیح موعود کے ظہور کے لئے ایک پختہ اور قطعی علامت ٹھہرایا گیا تھا۔ کیا انہیں معلوم نہیں ہوا کہ کسوف خسوف رمضان پر بھی کئی سال گذر گئے جو دارقطنی میں امام باقر سے مہدی موعود کا نشان قرار دیا گیا تھا اور اس کا معجزہ سمجھا جاتا تھا۔ اور یہ نشان مہدی موعود یعنی خسوف کسوف ماہِ رمضان میں فتاویٰ ابن حجر میں لکھا گیا تھا جو حنفیوں کی ایک نہایت معتبر کتاب ہے۔ پھر کیا وجہ کہ زمین کے نشان بھی ظاہر ہو گئے اور آسمان کے بھی۔ مگر مسیح موعود ظاہر نہ ہوا؟ کیا ارتداد کی وبا پُھوٹ نہیں پڑی؟ کیا اب تک کئی لاکھ آدمی طعمۂ نہنگ مخلوق پرستی نہیں ہو چکا؟ کیا عیسائیت آگ کے طوفان کی طرح بہت سے گھروں کو کھا نہیں گئی؟ پس کیا اب تک وہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 316
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 316
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/316/mode/1up
    وقت نہیں پہنچاکہ خدا کی نظر گم گشتہ انسانوں کو رحم کی نظر سے دیکھے اور صلیبی حملوں کی کسر میں مشغول ہو؟ کیا اِسی غرض سے چودھویں صدی کے سر کی انتظار نہیں تھی؟ سچ کہو عام مسلمانوں کا کانشنس بموجب قول مشہور ’’زبانِ خلق نقّارہ ء خدا‘‘ چودھویں صدی کی نسبت کیا بول رہا تھا؟ سو بھائیو آؤ! خدا سے صلح کرو! سچی پرہیز گاری سے کام لو۔ آسما ن اپنے غیر معمولی سماوی حوادث سے ڈرا رہا ہے۔ زمین بیماریوں سے انذار کر رہی ہے۔ مبارک وہ جو سمجھے۔
    اور یہ عذر جس کو ہمارے کوتاہ اندیش علماء بار بار پیش کیا کرتے ہیں کہ مسیح کا آسمان سے نازل ہونا اور منارۂ د مشقی کے قریب اُترنا ضروری ہے۔ یہ اُن دلائل اور نشانوں اور ثابت شدہ واقعات کے مقابل پر جو اس کتاب میں لکھے گئے ہیں ایسی فضول بات اورکچا خیال ہے جس پر ایک عقلمند نہایت افسوس کے ساتھ تعجب کر ے گا۔ افسوس ان لوگوں کو اب تک یہ خیال نہیں آیا کہ ایسی عبارتیں کہ جو محکمات اور بیّنات کے مقابل میں پڑے ہیں واجب التاویل ہیں۔ کیا خدا کا کلام نعوذ باﷲ اختلافات اور تناقضات کا مجموعہ ہے؟ بلکہ اگر خدا تعالیٰ کا خوف ہے تو ایسی عبارتوں کے جس طور سے چاہو معنے کرسکتے ہو پھر کیا ضرور کہ اِن حدیثوں کے ایسے معنے کئے جائیں جو ثابت شدہ نشانوں اور بیّنات کے مقابل پر پڑیں۔ قرآن شریف میں آیت 3۱؂ میں ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو بھی نازل ہی لکھا گیا ہے مگر کیا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم در حقیقت آسمان سے نازل ہوئے تھے؟ سو اپنے نفسوں پر ظلم مت کرو اور تناقض کو درمیان سے اٹھاؤ۔ ایسی عبارتوں کیؔ بہت سادہ طور پر توجیہ ہو سکتی ہے اور وہ یہ کہ مسیح موعود دمشق کے مشرقی طرف خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہو گااوراِس میں کیا شک ہے کہ قادیاں دمشق کی مشرقی طرف ہے اور ایسا ہی کئی
    اور توجیہیں ہو سکتی ہیں جو واقعات ثابت شدہ کے منافی نہیں ہیں۔ بعض نادان کہتے ہیں کہ بعض اقوال صحابہ میں نزول کے ساتھ اِلٰی کا لفظ آیا ہے جو اوپر سے نیچے کی طرف کے لئے مستعمل ہے مگر وہ نہیں سمجھتے کہ جس حالت میں استعارہ کے طور پر خدا تعالیٰ کے ماموروں کی نسبت توریت اور انجیل اور قرآن میں یہ محاورہ آ گیا ہے کہ وہ آسمان سے نازل ہوتے ہیں تو اس صورت میں استعارہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 317
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 317
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/317/mode/1up
    کے طور پر مسیح موعود کے نزول کے ساتھ اِلٰی کا لفظ ملانا کونسی غیر محل بات ہے؟ کیا قرآن میں نہیں ہے 3اور جس حالت میں قرآن شریف سے قطعی طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت ہوتی ہے اور صحیح بخاری میں اِن آیات کے معنے بھی وفات دینا ہی بیان کیا ہے۔ اور بڑے بڑے اماموں جیسے امام مالک اور ابن حزم کا بھی یہی مذہب ہے تو پھرکیوں اسلام کے عقائد میں ناحق تفرقہ اور تناقض پیدا کیا جاتا ہے؟ ہمارے مخالف اِس کا جواب بجزدھوکااور خیانت کی باتوں کے کچھ بھی نہیں دے سکتے۔ غایت کار کہتے ہیں کہ بخاری میں جو یہ حدیث ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے وفات پانے میں اپنے تئیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مشابہت دی اور فرمایا کَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ اِس سے سمجھا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرح فوت نہیں ہوئے کیونکہ مشبّہ اور مشبّہ بہٖ میں فرق چاہئیے۔ اب دیکھنا چاہئیے کہ کس قدر مکر اور دجل ہے کہ یہ لوگ استعمال میں لا رہے ہیں ۔ عقلمند سوچیں کہ مشبّہ اور مشبّہ بہ میں کسی قدرفرق تو ضرور ہوتا ہے۔ مگر کیا یہ فرق کہ ایک زندہ ہو اور دوسرا مُردہ۔ مُردہ کو زندہ سے کیا مشابہت ہے اور زندہ کو مُردہ سے کیا مناسبت۔ بلکہ علمِ معانی میں اس امر کی تصریح کی گئی ہے کہ اصل امر میں مشبّہ اور مشبّہ بہٖ اشتراک رکھتے ہیں۔ مثلاً اگر یہ کہا جائے کہ زیدشیر کی مانند ہے تو زید اور شیر دونوں مشبّہ اور مشبّہ بہٖ ٹھہریں گے۔ لیکن اس تشبیہ سے یہ مراد ہرگز نہیں ہو گی کہ زید بُزدل ہے اورشیر شجاع ہے بلکہ اصل امر جو شجاعت ہے دونوں کا اس میں اشتراک ہو گا۔ اور صرف یہ فرق ہو گا کہ وہ ایک درندہ کی شجاعت ہے اور یہ ایک انسان کی شجاعت۔ مگر نفس امر شجاعت دونوں میں پایا جائے گا۔ یا مثلاً یہ جو کہا جاتا ہے کہ اَللّٰھُمَّ صلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیمٍٍَ تواس سے ہرگز نہیں سمجھا جاتا کہ مفہوم صلوٰۃ کا جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی نسبت استعمال کیا گیا ہے وہ غیر اس مفہوم کا ہے جو حضرت ابراہیم کی نسبت استعمال کیا گیاہے۔ ایسا خیال کرنا تو سراسر حماقت ہے پس اسی طرح یہ بھی حماقت ہے کہ آیت فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِی کو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف نسبت کر کے آنجناب کی
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 318
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 318
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/318/mode/1up
    وفات مُرادلی جائے اور پھر جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اِسی آیت کو منسوب کریں تو اُن کی حیات مُرادلی جائے تو یہ تشبیہہ کیونکرٹھہری؟ یہ دونوں امرتو ایک دوسرے کے ضدّواقع ہیں۔اِس سے زیادہ اَور کوئی حماقت نہیں ہو گی کہ تشبیہہ میں مخالفت اور منافات تلاش کی جائے ہاں جس فرق کا مشبّہ مشبّہ بہٖ میں باوجوداشتراک امر مشابہت کے ہونا ضروری ہے۔ اس جگہ وہ فرق اِس طرح پر ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اِس بات کا جواب دینا تھا کہ اُن کے مرنے کے بعد اُن کی پرستش ہوئی اور ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس بات کا جواب دینا تھاکہ آپ کی وفات کے بعد بعض لوگ اسلام کی سنتوں اور راہوں پر قائم نہ رہے اور دنیا کو آخرت پر ترجیح دی۔ اس اختلاف سے جو دو اُمتوں کی ضلالت میں پایا جاتا ہے مشبّہ اور مشبّہ بہٖ کا فرق ظاہر ہو گیا اور یہی ہونا چاہئیے تھا نہ یہ کہ مشبّہ اور مشبّہ بہٖایک دوسرے کے نقیض ہوں جیسے مردہ اور زندہ اور بُزدل اور شجاع۔
    میں نہیں کہہ سکتا کہ مولوی لوگ باوجود عقل رکھنے کے محض غلطی کی وجہ سے ایسی ایسی بیہودہ باتیں مُنہ پر لاتے ہیں بلکہ عمدًا اُن کا یہ ارادہ معلوم ہوتا ہے کہ عوام کو دھوکا دے کر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے قبول کرنے سے محروم رکھیںیہاں تک کہ اُن میں سے بعض لوگوں نے عوام میں یہ باتیں مشہور کر رکھی ہیں کہ مہدئ موعود کی بڑی بھاری نشانی یہ ہے کہ اُس کے بدن میں بجائے خون کے دودھ ہو گا۔ اس افتراکا منشاء یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب تک مہدی موعود کو قتل نہ کرواور اس کی رگوں میں سے دودھ نہ نکلے اس کا سچا ہونا ثابت ہی نہیں ہو سکتا۔ اسی لئے عوام میں مشہور ہے کہ انگریز جو چیچک کا ٹیکہ لگاتے ہیں وہ ٹیکہ نہیں بلکہ مہدی کی تلاش کر رہے ہیں اور آزماتے ہیں کہ جس کے بدن میں سے بجائے خون کے دودھ نکلے گا پس وہی مہدی ہے اس کو پکڑ لو۔ حالانکہ اس گورنمنٹ دانشمند کو اِن واہیات باتوں سے کچھ بھی تعلق نہیں کوئی مہدی ہو یا مسیح ہو اس سے ان کو کچھ غرض واسطہ نہیں جب تک کہ وہ بغاوت کے خیالات پھیلانےؔ سے امورِ سلطنت میں خلل انداز نہ ہو اور مَفْسَدَہ پَردازی نہ کرے۔ غرض ان لوگوں نے ایسی ہی
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 319
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 319
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/319/mode/1up
    اباطیل اور اکاذیب شائع کرکے بجائے علم اور حکمت کے حمق اور جہالت کو اسلام میں پھیلایا ہے۔ کوئی ان لوگوں کو نہیں پوچھتا کہ اے نیک بختو! اَب تو حضرت مسیح کے دنیا سے جانے پر دو ہزار برس بھی ہونے لگے اور ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو تیرہ سو برس گذر کر چودھویں صدی میں سے بھی چودہ برس گذر گئے۔ کیا اب تک مسیح موعود اور مہدی معہود کی پیشگوئیاں آگے ہی آگے چلی جاتی ہیں؟ مولویوں کی اس حاسدانہ تکذیب اور تکفیر نے جو ہماری نسبت کی گئی اس امر کو پورے طور پر ثابت کر دیا ہے کہ وہ درحقیقت تقویٰ اور خدا ترسی سے خالی تھے کیونکہ خد اتعالیٰ متقی کو ہرگز ضائع نہیں کرتا اور گمراہ ہونے نہیں دیتا۔
    ایک بڑے افسوس کے لائق ذکر یہ ہے کہ جیسے ایک مسافر وبا کا اثر اپنے ساتھ لے کر اوروں کو بھی اندیشۂ ہلاکت میں ڈالتا ہے اِسی طرح ہمارے علماء کا بھی یہی حال ہے۔ ایک شخص بہت سے اسباب حِقداور کینہ کی وجہ سے تکفیر اور تکذیب اور سبّ اور شتم پر آمادہ ہوتا ہے اور دوسرا آنکھ بند کرکے اُس کی باتیں سُنتا اور اس کی اکاذیب سے متأثر ہو کر ایسا ہی ایک زہر دار جان دار بن جاتا ہے جیسا کہ پہلا شخص تھا۔ اور اس طرح ایک وباکی طرح ایک سے دوسرے تک یہ مرض پہنچتا ہے یہاں تک کہ لوگ اپنے تمام ایمان اور تقویٰ کو الوداع کہہ کر شخص مفسد کے پیچھے ہو لیتے ہیں اور جیسا کہ آجکل دریافت کیا گیا ہے کہ مادّہ وبا ءِ طاعون دراصل کیڑے ہیں جو زمین میں پیدا ہوتے ہیں اور پھر پَیروں کے ذریعہ سے انسان کے خون سے ملتے ہیں۔ ایسا ہی سچائی سے اعراض کرنے کی وبا جو آجکل پھیل رہی ہے اس کا موجب بھی کیڑے ہی معلوم ہوتے ہیں جو مختلف ناموں حسد یا حُمق یا تعصّب یا کِبر سے موسوم ہو سکتے ہیں۔ جس قدر اسلام میں عیسائی مذہب کے باطل عقیدوں نے دخل پایا ہے وہ دخل بھی درحقیقت ان ہی وجوہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اندرونی فساد ترکِ تقویٰ اور جہل اور نادانی کا اس حد تک پہنچ چکا تھا کہ بوجہ مناسبت صوری طبائع فاسدہ ایسے عقائد اور طریقوں کو قبول کرنے کے لئے پہلے سے ہی تیار تھیں۔ چونکہ ہر ایک شخص کی حالت ہماری آنکھوں کے سامنے ہے اس لئے ہم اپنے ذاتی تجربہ کی بنا پر کہہ سکتے ہیں کہ جن لوگوں نے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 320
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 320
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/320/mode/1up
    ہمارے مقابل پر تقویٰ کو ضائع کیا اور راستی سے دشمنی کی وہ نہایت خطرناک حالت میں ہیں اورؔ اگر وہ اس بد سیرت میں اَور بھی ترقی کریں اور رفتہ رفتہ کھلے کھلے طور پر قرآن شریف سے مُنہ پھیر لیں تو ان سے کیا تعجب ہے!!
    حالات موجودہ سخت خوف میں ڈالتے ہیں کیونکہ وہ زیر کی جو زمانہ کے مناسب حال اِن لوگوں میں پیدا ہونی چاہئیے تھی وہ ان کو چھو بھی نہیں گئی۔ آج تک یہ لوگ اس قابل بھی نہیں ہوئے کہ ان موٹے اور خائنانہ اعتراضات کا جواب دے سکیں جو پادریوں کی طرف سے ہوتے ہیں۔ حالانکہ پادریوں کے اعتراض ایسے بیہودہ ہیں کہ گو بظاہر کیسے ہی ملمع کرکے دکھلائے جائیں لیکن اگر پردہ اُٹھا کر دیکھو تو بالکل کمزور اور ہنسی کے لائق ہیں۔ یہ لوگ یعنی عیسائی علوم عربیہ اور ہماری کتب دینیہ سے سخت غافل سخت بے خبر اور قابلِ شرم باتیں پیش کرتے ہیں تاہم ان مولویوں کی حالت پر افسوس جو ہمیں تو کافر اور کاذب قرار دیں لیکن جو واقعی طو رپر اُن کو خدمتِ دینی کرنی چاہئیے تھی نہ وہ خدمت کرتے ہیں اور نہ اس لائق ہیں کہ کر سکیں۔ افسوس! نہیں سوچتے کہ ایسے دعویٰ پرجوآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے رُو سے ایک دن ضرور ہی واقع ہونے والا تھا اس قدر تکذیب کازور دینا پرہیز گاری کی شان سے بہت ہی بعید تھا۔ پھر جس حالت میں وہ دعویٰ مجرد دعویٰ ہی نہ تھا اس کے ساتھ قرآن اور حدیث کی شہادتیں تھیں۔ اس کے ساتھ ہمارے سیّد و مولیٰ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیش کردہ شہادتیں تھیں۔ اس کے ساتھ آسمانی نشان تھے اس کے ساتھ صدی کا سر بھی تھا اس کے ساتھ علامات قرار دادہ کا وقوع تھا تو یہ شتاب کاریاں کب مناسب تھیں! اے زودرنج اور بداخلاقی اور بدظنّی میں غرق ہونے والو! وہ پیشگوئی جو بڑے شدّ و مدّ سے خود آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمائی تھی اور خود اس کا وقت بھی مقرر فرمادیا تھا اور وصیّت کی تھی کہ اس شخص کو قبول کرو تو کیا ایسا دعویٰ جو رسول کریم کی پیشگوئی کی بنا پر
    اور عین وقت پر تھا جس میں اس پیشگوئی کی تصدیق تھی ایسی چیز تھی کہ ایک معمولی نظر سے اُس کو دیکھا جائے اور اس سے بے پروائی ظاہر کی جائے۔ یہ بات توکوئی نئی نہ تھی کہ آنے والا خواہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 321
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 321
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/321/mode/1up
    محدّث ہو یا رسول یا نبی خد ا تعالیٰ کی کسی کتاب یا احادیث کے وہ معنے کرے جو اس قوم نے نہیں کئے جن کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ایسا ہی ہوا۔ یہودیوں نے ایلیانبی کے دوبارہ آنے کے یہ معنے کئے کہ درحقیقت وہی یعنی ایلیا ہی دوبارہ آؔ جائے گا۔مگر عیسیٰ علیہ السلام نے ان آیتوں کے یہ معنے نہ کئے بلکہ دوبارہ آنے کو استعارہ اور مجاز قرار دیا۔ ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے وقت میں یہود نے توریت کے بعض مقامات کے یہ معنے کئے کہ آخری نبی جو اُن کو غیر حکومتوں سے چھڑائے گا وہ بنی اسرائیل میں سے ہو گا۔ مگر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ معنے کئے کہ وہ بنی اسمٰعیل میں سے ہے۔ ایسا ہی اس وقت میں ہوا۔ اور ایک شخص جو ذرّہ عقل اور فہم سے کام لے سمجھ سکتا ہے کہ جو بعض مقامات قرآن شریف مثلاً وفات یا حیات حضرت مسیح علیہ السلام اور دوسرے امور جو ہمارے اور مخالف علماء میں متنازعہ فیہ ہیں اُن میں ہماری طرف سے کیسے شافی دلائل بیان کئے گئے ہیں اور کیسے کامل طور پر حضرت عیسیٰ کی وفات کا ثبوت دیا گیا ہے۔
    اور اگر کوئی شخص اس بحث میں نہ پڑے تو اُس کو اس مختصر سوال کا جواب دینا چاہیئ کہ کیا مسیح موعود کا فہم زیادہ قابل اعتبار ہے یا اُس کے مخالفوں کا فہم؟ فرض کرو کہ مخالف علماؤں کی آرزوؤں کے موافق حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی آسمان سے نازل ہوئے اور کئی مقاماتِ قرآن اور حدیث میں علماء سے ان کا جھگڑا ہے جیسا کہ مجدّد الف ثانی صاحب اپنے مکتوبات میں لکھتے بھی ہیں کہ ضرور مسیح موعود کا بعض مسائل میں علماء وقت سے اختلاف ہو گا اور سخت نزاع واقع ہو گی اور قریب ہو گا کہ علماء اُن پر حملہ کریں تو میں آپ صاحبوں سے پوچھتا ہوں کہ ایسے وقت میں کس کا
    فہم صحیح سمجھا جائے گااور تقویٰ کا طریق کیا ہو گا؟ کیا اس مسیحیت کے مدّعی کا فہم لائق ترجیح اور تقدیم ہو گا یا علماء مخالف کا فہم؟ اگر کہو کہ علماء کا فہم۔ تو یہ امر تو ببداہت واضح البطلان ہے اور اگر کہو کہ مسیحیت کے مدعی کا فہم! تو پھر تمام منقولی بحثیں ختم ہو گئیں۔ اس صورت میں تو تمہیں مان لینا چاہیے کہ مسیح موعود جو کچھ قرآن اورحدیث کے معنے کرے وہی ٹھیک ہیں*۔ اور پھر جب کہ
    * اصل بات یہ ہے کہ مسیحیت یا نبوت وغیرہ کا دعویٰ کرنے والا اگر درحقیقت سچا ہے تو یہ ضروری امر ہے کہ اس کا فہم اور درایت اور لوگوں سے بڑھ کر ہو تو اس صورت میں اُس میں اور اس کے غیر میں کلامِ الٰہی کے معنے کرنے میں بعض جگہ اختلاف واقع ہونا ضروری ہے ۔ سو ایسے اختلاف کی بنا پر واویلا مچانا محرومی اور بد نصیبی کی نشانی ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 322
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 322
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/322/mode/1up
    آثار میں یہ خبر موجود ہے اور شیخ احمد سرہندی مجددالف ثانی جیسا بزرگوار بھی شہادت دیتا ہے کہ مسیح موعود سے ضرور علماء کا اختلاف ہو گا حتّٰیکہ آمادۂ فساد ہو جائیں گے تو پھراس جھگڑے کو ذہن میں رکھ کر یہ شہادت دینی ضروری ہے کہ ایسے اختلاف کے وقت مسیح موعود حق پر ہو گااور اُس کا فہم سند پکڑنے کے لائق ہو گا اور اس کے مقابل پر جو دوسروں نے سمجھا ہے وہ ردّ کرنے کے لائق ہو گا اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ جب پہلی کتابوں میںؔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کی نسبت پیشگوئی کی گئی تھی اس میں بھی یہی لکھا گیا تھا کہ یہود اُس مسیح موعود سے بعض مسائل میں اختلاف اور جھگڑا کریں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور بڑا جھگڑا یہود نے یہ کیا کہ ایلیا دوبارہ دُنیا میں نہیں آیااور لکھا گیا تھا کہ جب تک ایلیا دوبارہ دنیا میں نہ آوے مسیح موعود نہیں آوے گا پھر یہ شخص کیونکر آ گیا؟ اس وقت نیک دل انسانوں نے یہ فیصلہ کیا کہ یہ شخص یعنی عیسیٰ جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یہ نشان دکھلاتا ہے اس لئے اس کا فہم مقدم اور قبول کے لائق ہے اور دوسرے جاہل لوگ مولویوں سے متفق ہو گئے اورآثارمیں تھا کہ اسلام میں جو مسیح موعود آئے گا اُس کے ساتھ بھی علماء بعض مسائل میں جھگڑا کریں گے اور قریب ہو گا کہ اس پر حملہ کریں۔ سو وہی جھگڑا اور اسی رنگ میں اب بھی شروع ہو گیا ۔ مگر یہ جھگڑا ایسے شخص کے ساتھ کرنا کہ جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور نشان دکھلاتا ہے سراسر نادانی ہے ۔کیونکہ ہر ایک کو اوّل تو یہ مان لینا چاہیے کہ مسیح موعود کے ساتھ ضرور جھگڑا ہو گا اور دوسرے یہ کہ اس وقت مسیح موعود کا فہم اعتبار کے لائق ہو گا نہ دوسروں کا فہم کیونکہ وہ خد اکے فرستادہ کا فہم ہے۔ ہاں اگر یہ شک ہو کہ شاید یہ شخص مسیح موعود نہیں ہے تو اُس کو اس طرح پر کھنا چاہیئ جیسا کہ سچّے نبیوں کو نیک نیتی کے ساتھ پر کھا گیا۔ مگر قرآن اور حدیث کی تفسیر کے وقت بہر حال مسیح موعود کا قول قابلِ قبول ہو گا۔
    بالآخر یاد رہے کہ جس قدر ہمارے مخالف علماء لوگوں کو ہم سے نفرت دلا کر ہمیں کافر اور بے ایمان ٹھہراتے اور عام مسلمانوں کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ یہ شخص معہ اس کی تمام جماعت کے عقائدِ اسلام اور اصولِ دین سے برگشتہ ہے۔ یہ اُن حاسد مولویوں کے وہ افترا ہیں کہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 323
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 323
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/323/mode/1up
    جب تک کسی دل میں ایک ذرّہ بھی تقویٰ ہو ایسے افترا نہیں کر سکتا۔ جن پانچ چیزوں پر اسلام کی بنا رکھی گئی ہے وہ ہمارا عقیدہ ہے اور جس خدا کی کلام یعنی قرآن کو پنجہ مارنا حکم ہے ہم اس کو پنجہ مار رہے ہیں اور فاروق رضی اﷲ عنہ کی طرح ہماری زبان پر حَسْبُنَا کِتَابُ اللّٰہہے اور حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کی طرح اختلاف اور تناقض کے وقت جب حدیث اور قرآن میں پیدا ہو قرآن کو ہم ترجیح دیتے ہیں۔ بالخصوص قصوں میں جو بالاتفاق نسخ کے لائق بھی نہیں ہیں۔ اور ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کےؔ سوا کوئی معبود نہیں اور سیّدنا حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم اُس کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔ اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ ملائک حق اور حشر اجساد حق اور روزِ حساب حق اور جنّت حق اور جہنّم حق ہے اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ جو کچھ اﷲ جلّ شانہٗ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے اور جو کچھ ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب بلحاظ بیان مذکورہ بالا حق ہے۔ اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ جو شخص اس شریعتِ اسلام میں سے ایک ذرّہ کم کرے یا ایک ذرّہ زیادہ کرے یا ترکِ فرائض اور اباحت کی بنیاد ڈالے وہ بے ایمان اور اسلام سے برگشتہ ہے۔ اور ہم اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ سچے دل سے اس کلمہ طیبّہ پر ایمان رکھیں کہ لَآ اِلٰہ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ اور اسی پر مریں اور تمام انبیاء اور تمام کتابیں جن کی سچائی قرآن شریف سے ثابت ہے اُن سب پر ایمان لاویں اور صوم اور صلوٰۃ اور زکوٰۃ اور حج اور خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کے مقرر کردہ تمام فرائض کو فرائض سمجھ کر اور تمام منہیات کو منہیات سمجھ کر ٹھیک ٹھیک اسلام پر کاربند ہوں۔ غرض وہ تمام امور جن پر سلف صالح کو اعتقادی اور عملی طور پر اجماع تھا اور وہ امور جو اہل سنّت کی اجماعی
    رائے سے اسلام کہلاتے ہیں اُن سب کا ماننا فرض ہے اور ہم آسمان اور زمین کو اس بات پر گواہ کرتے ہیں کہ یہی ہمارا مذہب ہے اورجو شخص مخالف اس مذہب کے کوئی اور الزام ہم پر لگاتا ہے وہ تقویٰ اور دیانت کو چھوڑ کر ہم پر افترا کرتا ہے۔ اور قیامت میں ہمارا اُس پر یہ دعویٰ ہے کہ کب اُس نے ہمارا سینہ چاک کر کے دیکھا کہ ہم باوجود ہمارے اس قول کے دل سے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 324
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 324
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/324/mode/1up
    ان اقوال کے مخالف ہیں۔ اَلآاِنَّ لَعْنَۃَ اﷲِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ وَالْمُفْتَرِیْنَ۔ !!
    یاد رہے کہ ہم میں اور ان لوگوں میں بجز اس ایک مسئلہ کے اور کوئی مخالفت نہیں۔ یعنی یہ کہ یہ لوگ نصوصِ صریحہ قرآن اور حدیث کو چھوڑ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے قائل ہیں اور ہم بموجب نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ متذکرہ بالا کے اور اجماع ائمہ اہل بصارت کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں اور نزول سے مراد وہی معنے لیتے ہیں جو اس سے پہلے حضرت ایلیا نبی کے دوبارہ آنے اور نازل ہونے کے بارے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے معنےؔ کئے تھے۔ 33۱؂اور ہم بموجب نَصِ صریح قرآن شریف کے جو آیت 3۲؂سے ظاہر ہوتی ہے اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ جو لوگ اس دنیا سے گزر جاتے ہیں پھر وہ دنیا میں دوبارہ آباد ہونے کے لئے نہیں بھیجے جاتے اس لئے خدا نے بھی اُن کے لئے قرآن شریف میں مسائل نہیں لکھے کہ دوبارہ آ کر مال تقسیم شدہ ان کا کیونکر ان کو ملے۔ افسوس کہ ہمارے مخالف اب تک کہے جاتے ہیں کہ ’’ حضرت عیسٰی آسمانوں پر زندہ ہیں اور اُس وقت آئیں گے کہ جب عیسائی مذہب تمام روئے زمین سے اسلام کو نابود کر دے گا اور کہتے ہیں کہ اگرچہ اب تک کروڑ ہا کتابیں اسلام کے ردّ میں لکھی گئیں اور کئی لاکھ آدمی مرتد ہو گئے اور کئی کروڑ
    انسان بے قید اور بد خیال اور ناپار سا طبع ہو گیا مگر ابھی تک اسلام بکلّی نابود تو نہیں ہوااس لئے حضرت عیسیٰ بھی اس صدی کے سر پر نہ آ سکے کیونکہ وہ آسمان پر بیٹھے اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ کب پورے طور پر اسلام دنیا سے نابودہوتا ہے۔‘‘ لیکن ان خیالات کے حامیوں کو سب سے پہلے اس بات پر غور کرنی چاہیئ کہ خدا نے صریح لفظوں میں حضرت عیسٰی کی وفات کو قرآن کریم میں ظاہر فرما دیا ہے۔ دیکھو کیسی یہ آیت یعنی فَلَّمَاتَوَفَّیْتَنِیْحضرت عیسٰی کی وفات پر نص صریح ہے اور اب اس آیت کے سننے کے بعد اگر کوئی حضرت عیسٰی کی وفات سے انکار کرتا ہے تو اُسے ماننا پڑتاہے کہ عیسائی اپنے عقائد میں حق پر ہیں کیونکہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ عیسائی لوگ حضرت عیسیٰ کی وفات کے بعد بگڑیں گے۔ پھر جب
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 325
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 325
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/325/mode/1up
    کہ اس آیت سے موت ثابت ہوئی تو آسمان سے نازل کیونکر ہوں گے؟ آسمان پر مُردے تو نہیں رہ سکتے۔
    ماسوا اس کے جب کہ مسیح کا کام کسرِ صلیب ہے تو ایسے وقت میں کہ بجائے کسرِ صلیب کے کسر اسلام ہی ہو جائے مسیح کا آنا کیا فائدہ دے گا ۔’’پس از انکہ من نمانم بچہ کار خوا ہی آمد‘‘ اب جب کہ صرف ساٹھ برس سے پنجاب پر عیسائی مذہب کا تسلّط ہو کر یہ نوبت ارتداد پہنچ گئی ہے۔ اور چودہ برس چودھویں صدی میں سے گزر گئے اور مسیح موعود نہ آیا تو گویا کم سے کم سو برس کی اور پادریوں کو مہلت دی گئی کیونکہ بموجب آثارِ صحیحہ کے مسیح موعود کا صدی کے سر پر آنا ضروری ہے پس اس صورت میں خیال کر لینا چاہیئ کہ کیا اس مدت تک اسلام میں سے کچھ باقی رہے گا؟ اس سے تونعوذباﷲ یہ سمجھا جاتا ہے کہ خداؔ تعالیٰ کا خود ارادہ ہے کہ اسلام کو دنیا پر سے اُٹھادے۔ کیونکہ رحم کرنے کا وقت تو یہی تھا جب کہ اسلام پر سخت حملے کئے گئے سخت بے ادبیاں کی گئیں۔لاکھوں انسان مرتد ہو چکے جسمانی وباؤں میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ جب مثلاً کسی حصّۂ ملک میں طاعون پھیلتی ہے تو دانشمند لوگ خیال کرنے لگتے ہیں کہ اب عنقریب ہم اور ہماری اولاد اور ہمارے عزیز بھی نشانۂ طاعون بننے کو ہیں۔ تب اسی وقت سے تدابیر مناسبہ عمل میں لائی جاتی ہیں۔ حکّام بھی قلع قمع مرض کے لئے پوری توجہ کرتے ہیں۔ طبیب جاگ اُٹھتے ہیں۔ لہٰذا اب انصافاً بتلاؤ کہ کیا ملک میں یہ طاعون نہیں پھیلی؟ کیا اب تک اسلام کی ردّ میں دس کروڑ کے قریب کتاب نہیں لکھی گئی کیا اس طاعون کی اب تک کئی لاکھ وارداتیں نہیں ہوئیں؟ کیا یہ سچ نہیں کہ کئی لاکھ بیمار نیچریّت کے رنگ میں فلسفیت کے رنگ میں اباحت کے رنگ میں مخلوق پرستی کے رنگ میں وساوس اور شبہات کے رنگ میں غفلت اور لا پرواہی کے رنگ میں بسترِ مرگ پرپڑے ہوئے ہیں؟ پھر کیا سبب کہ اس وقت بھی اﷲ تعالیٰ اپنی اس وحی کو یاد نہ کرے کہ33 ۱؂ ۔
    ہماری آخری نصیحت یہی ہے کہ تم اپنی ایمان کی خبر داری کرو۔ نہ ہو کہ تم تکبّر اور لا پروائی دکھلا کر خدائے ذو الجلال کی نظرمیں سرکش ٹھہرو۔ دیکھو خدا نے تم پر ایسے وقت میں نظر کی جو نظر کرنے کا وقت تھا سو کوشش کرو کہ تاتمام سعادتوں کے وارث ہو جاؤ۔ خدا نے آسمان پر سے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 326
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 326
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/326/mode/1up
    دیکھا کہ جس کو عزّ ت دی گئی اس کو پَیروں کے نیچے کچلا جاتا ہے۔ اور وہ رسول جو سب سے بہتر تھا اُس کو گالیاں دی جاتی ہیں۔ اُس کو بد کاروں اور جھوٹوں اور افترا کرنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اور اُس کی کلام کو جوقرآن کریم ہے بُرے کلموں کے ساتھ یاد کر کے انسان کا کلام سمجھا جاتا ہے۔ سو اُس نے اپنے عہد کو یاد کیا۔ وہی عہد جو اس آیت میں ہے 33۱؂ سو آج اُسی عہد کے پورے ہونے کا دن ہے۔ اُس نے بڑے زور آور حملوں اور طرح طرح کے نشانوں سے تم پر ثابت کر دیا کہ یہ سلسلہ جو قائم کیا گیا اُس کا سلسلہ ہے کیا کبھی تمہاری آنکھوں نے ایسے قطعی اور یقینی طور پر وہ خد ا تعالیٰ کے نشان دیکھے تھے جو اب تم نے دیکھے؟ خدا تمہارے لئے کُشتی کرنے والوں کی طرح غیر قوموں سے لڑا اور اُن پر فتح پائی۔ دیکھو آتھم کے معاملہ میں بھی ایک کشتی تھی۔ تلاش کرو آج آتھم کہاں ہے*؟ سنو! آجؔ وہ خاک میں ہے ۔ وہ اسی شرط کے موافق جو الہام میں تھی چند روز چھوڑا گیا اور پھر اسی شرط کے موافق جو الہام میں تھی پکڑا گیا۔ دوسری کشتی لیکھرام کا معاملہ تھا۔ پس سوچ کر دیکھو کہ اس کشتی میں بھی خدا تعالیٰ کیسے غالب آیا؟ اور تم نے اپنی آنکھ سے دیکھا کہ جس طرح اُس کی موت کی الہامی پیشگوئیوں میں پہلے سے علامتیں مقرر کی گئی تھیں اُسی طرح وہ سب علامتیں ظہور میں آئیں۔ خد اکے قہری نشان نے ایک قوم پر سخت سوگ وارد کیا۔ کیا کبھی تم نے پہلے اس سے دیکھا کہ تم میں اور تمہارے رو برو اس جلال سے
    * آتھم کے متعلق الہام شرطی تھا اگر کوئی شخص صریح بے ایمانی پر ضد نہ کرے تو وہ سمجھ سکتا ہے کہ آتھم نے اپنے اقوال سے اپنے افعال سے اپنے قسم نہ کھانے سے اور باوجود حملوں کے دعویٰ کے نالش نہ کرنے سے ثابت کر دیا کہ اُس نے اپنے دل میں رجوع کر کے الہامی شرط کو پورا کیا۔ اور اگر کوئی نادان اب بھی خیال کرے کہ اس کا رجوع کرنا مشتبہ ہے تو خدا تعالیٰ نے ایک دوسرے فیصلہ سے ہماری تائید میں دوہرا ثبوت دے دیا ہے اور وہ یہ کہ جب آتھم نے قسم کھانے سے انکار کیا تب فیصلہ کے لئے دوسرا الہام یہ ہوا تھا کہ اگر آتھم اس دعویٰ میں سچا ہے کہ اُس نے رجوع نہیں کیا تو وہ عمر پائے گا اور اگر جھوٹا ہے تو جلد مر جائے گا۔ چنانچہ اب کئی سال اُس کی موت پربھی گذر گئے پھراس نشان میں کیا شبہ رہا؟ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 327
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 327
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/327/mode/1up
    خدا کا نشان ظاہر ہوا ہو؟سو اے مسلمانوں کی ذرّیت! خدا تعالیٰ کے کاموں کی بے حرمتی مت کرو۔ تیسری کشتی مہو تسو کے جلسہ کا معاملہ تھا۔ دیکھو اس کشتی میں بھی خدا تعالیٰ نے اسلام کا بول بالا کیا اور تمہیں اپنا نشان دکھلایا اور قبل از وقت اپنے بندے پر ظاہر کیا کہ اُسی کا مضمون بالا رہے گا۔ اور پھر ایسا ہی کر کے دکھلا بھی دیا۔ اور مضمون کے بابرکت اثر سے تمام حاضرین کو حیرت میں ڈال دیا۔ کیا یہ خدا کا کام تھا یا کسی اَور کا؟ پھر چوتھی کشتیڈاکٹر کلارک کا مقدمہ تھا جس میں تینوں قومیں آریہ اور عیسائی اور مخالف مسلمان متفق ہو گئے تھے تا میرے پر اقدامِ قتل کا مقدمہ ثابت کریں۔ اس میں خدا تعالیٰ نے پہلے سے ظاہر کر دیا کہ وہ لوگ اپنے ارادے میں ناکام رہیں گے۔ اور دو سو کے قریب آدمیوں کو قبل از وقت یہ الہام سُنایا گیا اور آخر ہماری فتح ہوئی۔ پانچویں کشتی مرزا احمد بیگ ہوشیارپوری کا مقدمہ تھا جس کے عزیز اور لواحق اسلام سے ٹھٹھا کرتے تھے اور بعض سخت مُرتد ان میں سے قرآن شریف کی سخت تکذیب کر کے اور اسلام پر زبانِ بد کھول کر مجھ سے تصدیق اسلام کا نشان مانگتے تھے اور اشتہار چھپواتے تھے۔ سو خدا نے انہیں یہ نشان دیا کہ احمد بیگ عزیز اُن کا چند موتوں اور مصیبتوں کے دیکھنے کے بعد تین برس کے اندر فوت ہو جائے گا سو ایسا ہی ہوا اور وہ میعاد کے اندر فوت ہو گیا تا معلوم کریں کہ ہر ایک شوخی کی سزا ہے۔*
    یہ پانچ کشتیاں اب تک ہوئیں جو ہمارے ذوالجلال خدا کے پُر زور بازو نے دکھلائیں اور بعض اور کشتیاں بھی آسمان پر ہیں۔ اور مَیں یقین رکھتا ہوں کہ وہ بھی عنقریب خدا تعالیٰ تمہیں دکھلائے گا اسی طرح وہ گواہیاں جو ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے مُنہ سے نکلی تھیں اور پوشیدہ چلی آتی تھیں ابؔ بہت سی اُن میں سے تمہارے دیکھتے دیکھتے پوری ہو گئیں۔اُس دن اور اُس گھڑی کو یاد کرو جب کہ آسمان پر چاند کو اس کے خسوف کی پہلی رات میں رمضان میں
    * یہ پیشگوئی بھی مشروط بہ شرائط تھی۔ اور ضرور ہے کہ اس وقت تک اس کا دوسرا حصہ معرض توقف میں رہے جب تک کہ خدا تعالیٰ کی نظر میں اسباب نقض شرائط کے جمع ہوں۔منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 328
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 328
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/328/mode/1up
    گرہن لگا تھا۔ اور ایساہی سورج کا وہ کسوف یاد کرو جو ٹھیک ٹھیک حدیث کے لفظوں کے موافق اس کے گرہن کے دنوں میں سے بیچ کے دن میں ہوا تھا۔ اور پھر دار قطنی کھول کر پڑھو کہ یہ وہ علامت تھی جو مہدی موعود کی سچائی کیلئے ایک نشان قرار دیا گیا تھا یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کے وعدوں کے موافق ہو گیا۔ مگر کیا تم نے اس سے کچھ بھی فائدہ اٹھایا؟ خدا نے تمہیں کھول کر یہ پتہ بھی دیا کہ وہ آنے والا صلیب کے غلبہ کے وقت میں ظاہر ہو گا۔*جب اسلام کے دشمن نبی علیہ السلام کی سخت بے ادبی کرتے ہوں گے اور اُن میں سے گالیاں نکالنے والے توہین اور تحقیر اور دشنام دہی اور افترا اور جھوٹ کی نجاست کھاتے ہوں گے ۔سو تم نے اپنی آنکھوں سے ایسی نجاست کھانے والوں کو دیکھ لیا۔ کیا پادری عمادالدین نے اس نجاست سے ایک بھاری حصّہ نہیں لیا؟ کیاپادری ٹھاکرد اس کے دونوں ہاتھ اس نجاست میں آلودہ نہیں؟ کیا صاحب رسالہ امہات المو منین نے اس بد بو کے ذریعہ سے ہزاروں دماغوں کو پریشان نہیں کیا؟ تو کیا اب تک توہین اور تحقیر میں کچھ کسر باقی ہے؟ اور کیا اب تک وہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی کہ جو صحیح بخاری میں ہے کہ مسیح موعود کا زمانہ وہ زمانہ ہو گا کہ جب صلیبی مذہب کا غلبہ ہو گا اور جو سچائی کے دشمن ہیں وہ اسلام اور نبی علیہ السلام کو فحش گالیاں دے کر خنزیرکی طرح جھوٹ کی نجاست کھائیں گے۔ دیکھو آسمان نے خسوف کسوف کے ساتھ گواہی دی اور تم نے پروا نہیں کی! اور زمین نے غلبۂ صلیب اور نجاست خواروں کے نمونہ سے گواہی دی اور تم نے پرواہ نہیں کی!! اور
    خدا تعالیٰ کے پاک اور بزرگ نبی کی عظیم الشان پیشگوئیاں گواہوں کی طرح کھڑی ہو گئیں اور تم نے ذرّہ التفات نہیں کی!!! اگر مَیں خود دعویٰ کرتا ہوں تو بے شک مجھے جھوٹا سمجھو۔ لیکن اگر خدا کا پاک نبی اپنی پیشگوئیوں کے ذریعہ سے میری گواہی دیتا ہے اور خود خدا میرے لئے نشان دکھلاتا ہے
    * ہم نے دھوکہ سے بچانے کے لئے بار بار اس بات کا ذکرکر دیا ہے کہ کوئی شخص مسیح موعود کے لفظ سے عام مسلمانوں کا وہ فرضی مسیح خیال نہ کرے جو ان کی نظر میں لڑائیوں کا بانی ہو گا۔ بلکہ یہ خیالات سراسر غلط اور بیہودہ ہیں ۔ اور سچ یہ ہے کہ مسیح موعود گزشتہ مسیح کی طرح غربت اور مسکینی کے رنگ میں ظاہر ہوا ہے۔ زمین کی بادشاہت سے اُس کو کچھ غرض نہیں اور اس کے حق میں حدیث صحیح میں یہی ہے کہ یَضَعُ الْحَرب۔ یعنی وہ نہیں لڑے گا اور مسکینی سے زندگی بسر کرے گا۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 329
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 329
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/329/mode/1up
    تو اپنے نفسوں پر ظلم مت کرو۔ یہ مت کہو کہ ہم مسلمان ہیں ہمیں کسی مسیح وغیرہ کے قبول کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ مَیں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو مجھے قبول کرتا ہے وہ اُسے قبول کرتا ہے جس نے میرےؔ لئے آج سے تیرہ سو برس پہلے لکھا ہے اور میرے وقت اور زمانہ اور میرے کام کے نشان بتلائے ہیں۔ اور جو مجھے ردّ کرتا ہے وہ اُسے ردّ کرتا ہے جس نے حکم دیا ہے کہ ’’اُسے مانو‘‘ ۔ تم کیا بلکہ تمہارے باپ دادا بھی منتظر تھے کہ مسیح موعود جلد آئے۔ اور سچائی کی رُوح اُن کے اندر یہ پکارتی تھی کہ وہ چودھویں صدی کے سر پر آئے گا۔ لیکن جب وہ آیا تو تم نے اُس کو کافر اور دجّال ٹھہرایا اور ضرور تھا کہ ایسا ہی ہوتا۔ کیونکہ آثار میں یہ بھی لکھا تھا کہ اُسے کافر اور دجّال ٹھہرایا جائے گا۔ اگر مَیں نہ آیا ہوتا تو تم پر کوئی حجّت نہ تھی لیکن میرے آنے سے خدا تعالیٰ کی تم پر حجّت پوری ہو گئی۔ یہ مت گمان کرو کہ تمہارے نہ قبول کرنے سے اب وہ سلسلہ جو خدا نے اپنے ہاتھ سے برپا کیا ہے ضائع ہو جائے گا۔ کیونکہ مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ خدا بہت سی جماعتیں پیدا کرے گا جو اس کو قبول کریں گی اور پھر اُن کو برکت دے گا یہاں تک کہ ایک دن اسلام کا عزیز گروہ وہی گروہ ہو گا۔ مگر جو کچھ تم نے کیا یا جو آئندہ خدا کرے گا وہ سب اس الہام کے موافق ہے جو پہلے براہین احمدیہ میں ہو چکا ہے اور وہ یہ ہے۔
    ’’ دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔‘‘
    اب ہم پھر کسی قدر طاعون کا ذکر کرنا چاہتے ہیں۔ سو واضح ہو کہ اکثر ظہور اس مرض کا کانوں کے آگے یا بغل کے نیچے یاکُنج ران میں ہوتا ہے۔ اس طرح پر کہ ان مقامات کی غدودیں سوج جاتی ہیں یا بدن پر بڑے بڑے پھوڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔ اور طبری نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے وقت میں جو طاعون ملک شام میں پھوٹی تھی اس کی صورتِ ظہور یہ تھی کہ صرف چھوٹی سی پُھنسی ہتھیلی کے اندر نکلتی تھی اور اسی سے چند گھنٹوں میں انسان کا خاتمہ ہو جاتا تھا۔ مگر توریت میں جہاں جہاں طاعون کا ذکر کیا گیا ہے صرف پھوڑوں کے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 330
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 330
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/330/mode/1up
    نام سے اُس کو پکارا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں میں جو طاعون پھوٹتی رہی تھی وہ پھوڑے تھے ممکن ہے کہ قوم یا ملک یا زمانہ یامزاج کے لحاظ سے طاعون کی صورتیں جدا جدا ہوں۔بہر حال اُسؔ کے ساتھ ایک حُمّٰی شدید کا ہونا لازمی امر ہے جو اکثر اوقات پھوڑوں یا غدودوں کے پھیلنے سے پہلے ظاہر ہو تا ہے اور اکثر شدّتِ تپ سے غشی تک نوبت پہنچتی ہے۔ اور قرآن شریف میں اس مرض کا نام رِجز رکھا گیا ہے ۔اور رِجزلُغتِ عرب میں اُن کاموں کو کہتے ہیں جن کا نتیجہ عذاب ہو۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ بلا اکثر اور اغلب قاعدے پر انسان کی شامتِ اعمال سے ہی آتی ہے اور پھر کبھی نیک انسان بھی اس بلا کے نیچے آ جاتے ہیں اور وہ اس مصیبت سے اجرِ شہادت پاتے ہیں ۔ بہر حال مبدء اور موجب اِس کا عذابِ الٰہی ہے جس سے ملک میں اس کا آغاز ہوتا ہے۔
    اس تقریر سے ہمارا مطلب یہ نہیں ہے کہ علمی رنگ پر اس مرض کے اسباب پیدا نہیں کئے جاتے بلکہ علمی سلسلہ یعنی خَلْقِ اسباب کا سلسلہ بجائے خود ہے اور خدا تعالیٰ کے رُوحانی اِرادوں کا سلسلہ بجائے خود ایک سے دوسرا مانع نہیں۔ یہ بڑی بے وقوفی ہے کہ انسان اس حکیم مطلق کے اصل اغراض کو نظر انداز کر دے اور صرف طبعیات کے سلسلہ تک تمام کاروبار اُس ذات جامع الکمالات کا بغیر کسی مطلب اور مقصداور غرض مطلوب کے محدود سمجھے۔ یہ خود ظاہر ہے کہ وہ ذات مدبّر بالارادہ اور متصرّف بالقصد ہے جس کے تمام کام عمیق در عمیق اسرار اپنے اندر رکھتے ہیں۔ کیا یہ دونوں باتیں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں کہ اس عالم میں جو کچھ امر خیر یا شر منصّۂ ظہور میں آتا ہے وہ علومِ طبعیہ اور نظامات حکمیہ کے سلسلہ کے نیچے نیچے ہی چلتا ہو اور اسبابِ مُعتادہ سے وابستہ ہواور بایں ہمہ اس مدبّربالارادہ نے اس امر کے ظاہر کرنے سے خاص خاص مقاصد اور اغراض بھی اپنے علم میں مقرر کر رکھے ہوں اور اگر ایسا نہ مانا جائے تو پھر خدا تعالیٰ کا وجود نعوذ باﷲ عَبث اور اس کے افعال محض بے ہودہ ہوں گے۔ لہٰذا یہی سچا فلسفہ اور واقعی دقیقۂ حکمت ہے کہ یہ تمام تغیرات ارضی و سماوی خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے علمی سلسلوں کے رنگ میں ظاہر ہوتے ہیں۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 331
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 331
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/331/mode/1up
    اور بایں ہمہ ان کا پیدا کرنا اور مٹانا اغراض مطلوبہ کے لئے خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اگر مثلاً طاعون کا اصل علاج ادویہ اور تدابیر جسمانی پر موقوف ہے تو توبہ اور اعمالِ صالحہ کو اس سے کیا ؔ تعلق ہے۔ اور اگر مدار تمام کام کاتوبہ اور اعمال صالحہ ہیں تو پھر ادویہ اور تدابیر بیہودہ ہیں کیونکہ تدبیر اور دعا میں کوئی منافات نہیں ہے۔جو کچھ ہم تدبیر یا دوا کر سکتے ہیں اُس کی تمام شرائط تاثیر بھی ہم اپنے ہی اختیار سے پیدا نہیں کر سکتے وہ بھی دعا کی طرح اﷲ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ یہ انسانی بیوقوفیاں ہیں جو ایک کو دوسرے کی ضد سمجھا جائے۔ خد اتعالیٰ ہر ایک پہلو سے ہمارے لئے مبدء فیض ہے۔ اگر ہم نیکی کی راہیں اختیار کریں تو وہ ہمارے علم اور تدبیر کو خطا سے محفوظ رکھ کر اور تدابیر صائبہ کا ہمیں الہام فرما کر ہمیں بلا سے بچا سکتا ہے اور ہماری سر کشی اور شرارت کی حالت میں ہمارے ہی ہاتھ سے ہمیں ہلاک کر سکتا ہے۔ شریر اور خبیث طبع آدمی اس قدر آزادی پسند ہوتا ہے کہ چاہتا ہے کہ خدا سے بھی آزاد ہو جائے مگر ایسا ہونا اس کے لئے ممکن نہیں۔ یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے تمام کاموں کو ایک ایک نظام کے رنگ میں رکھا ہے۔ مگر پھر باوجود ان تمام نظامات کے ہر ایک چیز کی کَل خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
    اب ہم پھر اپنی پہلی تقریر کی طرف عود کر کے کہتے ہیں کہ لفظ رِجْزجو قرآن شریف میں طاعون کے معنوں پر آیا ہے وہ فَتح کے ساتھ اُس بیماری کو بھی کہتے ہیں جو اونٹ کے بُنِ ران میں ہوتی ہے اور اس بیماری کی جڑ ایک کیڑا ہوتا ہے جو اونٹ کے گوشت اورخون میں پیدا ہوتا ہے ۔ سو اس لفظ کے اختیار کرنے سے یہ اشارہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ طاعون کی بیماری کا بھی اصل سبب کیڑا ہے۔ چنانچہ ایک مقام میں صحیح مسلم میں اِسی امر کی کھلی کھلی تائید پائی جاتی ہے کیونکہ اس میں طاعون کا نام نَغَفْرکھا ہے اور نَغَفْ لُغتِ عرب میں کیڑے کو کہتے ہیں جو اُس کیڑے سے مشابہ ہوتا ہے جو اونٹ کی ناک سے یا بکری کی ناک سے نکلتا ہے۔ ایسا ہی کلامِ عرب میں رِجزکا لفظ پلیدی کے معنوں پر بھی آتا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ طاعون کی اصل جڑ بھی پلیدی ہے۔ اس لئے بہ رعایتِ اسباب ظاہر ضرور ہے اور وہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 332
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 332
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/332/mode/1up
    اس طرح پر کہ طاعون کے دنوں میں مکانوں اور کوچوں اور بدرروؤں اور کپڑوں اور بستروں اور بدنوں کو ہر ایک پلیدی سے محفوظ رکھا جائے اور ان تمام چیزوں کو عفونت سے بچایا جائے۔
    شریعت اسلام نے جو نہایت درجے پر انؔ صفائیوں کا تقیّد کیا ہے جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا۔ 3 ۱؂یعنی ’’ ہر ایک پلیدی سے جُدا رہ ‘‘یہ احکام اِسی لئے ہیں کہ تا انسان حفظانِ صحت کے اسباب کی رعایت رکھ کر اپنے تئیں جسمانی بلاؤں سے بچاوے۔ عیسائیوں کا یہ اعتراض ہے کہ یہ کیسے احکام ہیں جو ہمیں سمجھ نہیں آتے کہ قرآن کہتا ہے کہ تم غسل کر کے اپنے بدنوں کو پاک رکھو اور مسواک کرو ،خلال کرو اور ہر ایک جسمانی پلیدی سے اپنے تئیں اور اپنے گھر کو بچاؤ۔ اور بدبوؤں سے دُور رہو اور مُردار اور گندی چیزوں کو مت کھاؤ۔ اِس کا جواب یہی ہے کہ قرآن نے اُس زمانہ میں عرب کے لوگوں کو ایسا ہی پایا تھا اور وہ لوگ نہ صرف رُوحانی پہلو کے رُو سے خطرناک حالت میں تھے بلکہ جسمانی پہلو کے رُو سے بھی اُن کی صحت نہایت خطرہ میں تھی۔ سو یہ خدا تعالیٰ کا اُن پر اور تمام دنیا پر احسان تھا کہ حفظانِ صحت کے قواعد مقرر فرمائے۔ یہاں تک کہ یہ بھی فرما دیا کہ 3۲؂ یعنی بے شک کھاؤ پیؤ مگر کھانے پینے میں بے جا طور پر کوئی زیادت کیفیت یا کمیّت کی مت کرو۔ افسوس پادری اِس بات کو نہیں جانتے کہ جو شخص جسمانی پاکیزگی کی رعایت کو بالکل چھوڑ دیتا ہے وہ رفتہ رفتہ وحشیانہ حالت میں گِر کر رُوحانی پاکیزگی سے بھی بے نصیب رہ جاتا ہے۔ مثلاً چند روز دانتوں کا خلال کرنا چھوڑ دو جو ایک ادنیٰ صفائی کے درجہ پر ہے تو وہ فضلات جو دانتوں میں پھنسے رہیں گے اُن میں سے مُردار کی بُو آئے گی۔ آخر دانت خراب ہو جائیں گے اور اُن کا زہریلا اثر معدہ پر گِر کر معدہ بھی فاسد ہو جائے گا۔ خود غور کر کے دیکھو کہ جب دانتوں کے اندر کسی بوٹی کا رگ و ریشہ یا کوئی جُز پھنسا رہ جاتا ہے اور اُسی وقت خلال کے ساتھ نکالا نہیں جاتا تو ایک رات بھی اگر رہ جائے تو سخت بدبو اُس میں پیدا ہو جاتی ہے اور ایسی بد بُو آتی ہے جیسا کہ چُوہا مرا ہوا ہوتا ہے۔ پس یہ کیسی نادانی ہے کہ ظاہری اور جسمانی پاکیزگی پر اعتراض کیا جائے اور یہ تعلیم دی جائے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 333
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 333
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/333/mode/1up
    کہ تم جسمانی پاکیزگی کی کچھ پرواہ نہ رکھو نہ خلال کرو اور نہ مسواک کرو اور نہ کبھی غسل کر کے بدن پر سے میل اتارو اور نہ پاخانہ پھر کر طہارت کرو اور تمہارے لئے صرف روحانی پاکیزگی کافی ہے۔ ہمارے ہی تجارب ہمیں بتلا رہے ہیں کہ ہمیں جیسا کہ روحانی پاکیزگی کی روحانی صحت کے لئے ضرورت ہے ایسا ہی ہمیںؔ جسمانی صحت کے لئے جسمانی پاکیزگی کی ضرورت ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہماری جسمانی پاکیزگی کو ہماری روحانی پاکیزگی میں بہت کچھ دخل ہے۔ کیونکہ جب ہم جسمانی پاکیزگی کو چھوڑ کر اُس کے بد نتائج یعنی خطرناک بیماریوں کو بھگتنے لگتے ہیں تو اُس وقت ہمارے دینی فرائض میں بھی بہت حرج ہو جاتا ہے اور ہم بیمار ہو کر ایسے نکمے ہو جاتے ہیں کہ کوئی خدمت دینی بجا نہیں لا سکتے۔ اور یاچند روز دکھ اٹھا کر دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں بلکہ بجائے اس کے کہ بنی نوع کی خدمت کر سکیں اپنی جسمانی ناپاکیوں اور ترکِ قواعدِ حفظان صحت سے اوروں کے لئے وبالِ جان ہو جاتے ہیں اور آخر ان ناپاکیوں کا ذخیرہ جس کو ہم اپنے ہاتھ سے اکٹھا کرتے ہیں وبا کی صورت میں مشتعل ہو کر تمام ملک کو کھاتا ہے۔ اور اس تمام مصیبت کا موجب ہم ہی ہوتے ہیں کیونکہ ہم ظاہری پاکی کے اصولوں کی رعایت نہیں رکھتے پس دیکھو کہ قرآنی اصولوں کو چھوڑ کر اور فرقانی وصایا کو ترک کر کے کیا کچھ بلائیں انسانوں پر وارد ہوتی ہیں اور ایسے بے احتیاط لوگ جو نجاستوں سے پرہیز نہیں کرتے اور عفونتوں کو اپنے گھروں اور کوچوں اور کپڑوں اور منہ سے دور نہیں کرتے اُن کی بے اعتدالیوں کی وجہ سے نوعِ انسان کے لئے کیسے خطرناک نتیجے پیدا ہوتے ہیں۔ اور کیسی یک دفعہ وبائیں پھوٹتی اور موتیں پیدا ہوتیں ہیں اور شور قیامت برپا ہو جاتا ہے یہاں تک کہ لوگ مرض کی دہشت سے اپنے گھروں اور مال اور املاک اور تمام اس جائیداد سے جو جان کا ہی سے اکٹھی کی تھی دست بردار ہو کر دوسرے ملکوں کی طرف دوڑتے ہیں اور مائیں بچوں سے اور بچے ماؤں سے جدا کئے جاتے ہیں۔ کیا یہ مصیبت جہنم کی آگ سے کچھ کم ہے؟ ڈاکٹروں سے پوچھواور طبیبوں سے دریافت کرو کہ کیا ایسی لا پروائی جو جسمانی طہارت کی نسبت عمل میں لائی جائے وبا کے لئے عین موزوں اور مؤید ہے یا نہیں؟ پس قرآن نے کیا بُرا کیا کہ پہلے جسموں اور گھروں اور کپڑوں کی صفائی پر زور دے کر انسانوں کو اس جہنم سے بچانا چاہا جو اسی دنیا میں یکدفعہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 334
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 334
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/334/mode/1up
    فالج کی طرح گِرتا اور عد م تک پہنچاتا ہے۔ پھر دوسرے جہنم سے محفوظ رہنے کے لئے وہ صراطِ مستقیم بتلایا جو انسانی فطرت کے تقاضا کے عین موافق اور قانونِ قدرت کے عین مطابق ہے ۔ اور ہمیں نجات کی وہ راہ بتلائی جسؔ میں کسی بناوٹی منصوبہ کی بدبُو نہیں آتی۔ کیا ہم خدا کے قدیم قانون کو جو تمام قوموں پر ظاہر ہوتا آیا ہے ترک کر کے صرف ایک تراشیدہ قصّے پر جو ہزاروں اور بے شمار برسوں کے بعد تراشا گیا ہے بھروسہ کر کے اور ایک عاجز انسان کو خدا قرار دے کر اور پھر *** موت سے اس کو ہلاک کر کے یہ اُمید رکھ سکتے ہیں کہ اس مصنوعی طریق سے ہماری نجات ہو جائے گی اور کیا ایسا آدمی ہمارا منجی ہو سکتا ہے جس کو خود بھی دشمنوں کے ہاتھ سے نجات حاصل نہیں ہوئی اور انہوں نے اس کا پیچھا نہ چھوڑا جب تک اُس کا کام تمام نہ کر دیا۔ ہم بڑے ہی بد قسمت ہیں اگر ہمارا یہی کمزور اور ضعیف اور عاجز خدا ہے جو خود اپنے تئیں ذلتوں اور ناکامیوں اور دُکھوں سے بچا نہ سکا۔ اور جب کہ اس کے حالات کا اِس دُنیا میں یہ نمونہ ظاہر ہوا تو ہم کیونکر اُمید رکھیں کہ مرنے کے بعد اس کو کوئی نئی قوت اور طاقت حاصل ہو گئی ہوگی۔ جو شخص اپنے تئیں بچا نہ سکا وہ دوسروں کو کیونکر بچا سکتا ہے۔ یہ کیسی نامعقول بات ہے کہ خدا ہمیں نجات نہیں دے سکتا تھا جب تک کہ ایک معصوم کو اپنی جناب سے ردّ نہ کرے اور اس سے بدل بیزار نہ ہو اور اُس کا دشمن نہ ہو جائے اور اس کے دل کو سخت اور اپنی محبت اور معرفت سے دُور اور محروم نہ کر دیوے یعنی جب تک کہ اُس کو *** نہ بناوے اور مجرموں میں اس کو داخل نہ کرے۔ ایسے فرضی خدا سے ہر ایک کو پرہیز کرنا چاہئے جس کا اپنے ہی بیٹے کے ساتھ یہ معاملہ ہو۔ سچ کہو کیا دنیا میں کوئی عقل قبول کر سکتی ہے کہ جو شخص آپ ہی *** ہو پھر وہ کسی کے لئے خدا تعالیٰ کی جناب میں سفارش کر سکے۔ دیکھو عیسائی مذہب میں کس قدر بے ہودہ اور دُور از عقل و دیانت باتیں ہیں کہ اوّل ایک شخص عاجز مصیبت رسیدہ کو نا حق بے وجہ خدا بنایا جاتا ہے۔ پھر نا حق بے وجہ یہ اعتقاد رکھا جاتا ہے کہ وہ *** ہو گیا۔ خدا اس سے بیزار ہو گیا وہ خدا سے بیزار ہو گیا۔ خدا اس کا دشمن ہو گیا وہ خدا کا دشمن ہو گیا۔ خدا اُس سے دُور ہو گیاوہ خدا سے دُور ہو گیاپھر ان سب کے بعد یہ اعتقاد بھی ہے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 335
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 335
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/335/mode/1up
    کہ ایسی *** موت پر ایمان لانے سے تمام گناہوں کے مؤاخذہ سے فراغت ہو جاتی ہے۔ چور ہو۔ خونی ہو۔ ڈاکو ہو۔ بدکار زانی ہو دوسروں کے مال خیانت سے یا غبن سے کھانے والا ہو غرض کچھ ہو اور کوئی گناہ کرنے والا ہو سزا سے بچ رہے گا۔ ابؔ دیکھو یہ کیا مذہب ہے اور کیا تعلیم ہے اور کس قدر ایسے عقیدوں سے خطرناک نتائج پیدا ہوتے ہیں۔ پھر یہ لوگ باوجود اس کے کہ ایسے قابلِ شرم عقائد اُن کے گلے پڑے ہوئے ہیں اسلام پر اعتراض کرتے ہیں ۔ نہیں جانتے کہ اسلام نے وہی خدا پیش کیا ہے جس کو زمین آسمان پیش کر تے ہیں جس میں کوئی بناوٹ اور نیا منصوبہ نہیں اور اسی خَالق یکتا کی طرف اسلام رہبری کرتا ہے جس کا کوئی ابتدا نہیں اور کسی عورت کے پیٹ سے پیدا نہیں ہوا اور نہ اُس پر موت آئی اور نہ اس کا کوئی بیٹا ہے تا اُس کی موت سے اُس کو غم پہنچے۔ اور اسلام نے نجات کے طریق بھی وہ سکھلائے ہیں جو ہمیشہ سے اور جب سے کہ دنیا ہے قانونِ قدرت کی شہادتوں کے ساتھ چلے آئے ہیں۔ کوئی بناوٹ کی بات اُن میں نہیں پھر جہالت اور تعصّب ایسی بَلا ہے کہ یہ قوم انسان پرست کہ جو غیر خدا کی پرستش میں غرق ہے خدا پرستوں پر اعتراض کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے ہاتھ میں بجز اس کے کیا ہے کہ خدا کی کتابوں کے غلط معنے کر کے اپنے اصرار کو انتہا تک پہنچا دیا ہے۔ وہی کتابیں ان عقائد کا ردّ کرتی ہیں اور یہودی اب تک تصدیق کرتے ہیں کہ اسرائیلی توحید ،قرآنی توحید سے متفق ہے اور اس بارے میں ہم اور یہودی اور بعض فرقۂ عیسائیان بھی ،اور خدا کا قانون قدرت بھی ان کے مخالف ہیں۔ یہ تمام پرستشیں یعنی مخلوق کی پوجا انسانی غلط کاریوں سے پیدا ہوئی ہیں ۔ کسی نے پتھر کی پوجا کی کسی نے انسان کی ۔ کسی نے کشلیا کے بیٹے کو خدا سمجھ لیا اور کسی نے مریم کے بیٹے کو خدا قرار دے دیا۔ یہ لوگ مسلمانوں کو کیوں کر جھوٹ کی طرف بلاتے ہیں مسلمانوں کا خدا تو وہ خدا ہے جو زمین آسمان پر نظر ڈال کر ضروری معلوم ہوتا ہے اور ہمیشہ تازہ نشانوں سے اپنا وجود ظاہر کرتا ہے۔ ایک سچا مسلما ن اس کی آواز اب بھی اُسی طرح سُن سکتا ہے جس طرح حضرت موسیٰ نے کوہ طُور پر سُنی تھی۔ وہ اُس کے زندہ معجزات براہِ راست دیکھ سکتا ہے ۔ پھر وہ مُردوں کا
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 336
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 336
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/336/mode/1up
    نام کیونکرخدا رکھ سکتا ہے۔ یہ لوگ انسان پرست ہونے کی وجہ سے آسمانی تعلقات سے قطعاً محروم ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کی آسمانی تائیدیں ان لوگوں کے ساتھ نہیں ہیں۔ صرف بیہودہ قصے بجائے نشانوں کے پیش کئے جاتے ہیں۔ نہ عقل کے ساتھ فیصلہؔ کرنا چاہتے ہیں اور نہ آسمانی نشانوں کے ساتھ ۔شرک اور مخلوق پرستی کو زمین پر پھیلا رہے ہیں اور پھر قرآن شریف پر اعتراض کرتے ہیں کہ اُس نے انسانوں کو جسمانی طہارت کی طرف کیوں توجہ دلائی۔ یہ نہیں جانتے کہ نبی روحانی باپ ہوتا ہے وہ درجہ بدرجہ ہر ایک نا پاکی سے چھڑاناچاہتا ہے اور ہر ایک خطرہ سے بچانا چاہتا ہے۔ سو اوّل درجہ کی ناپاکی جو انسان کو وحشیانہ حالت میں ڈالتی ہے جسمانی ناپاکی ہے اور اِسی سے خطرناک امراض اور مہلک بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ سو ضرور تھا کہ خدا کی کامل کتاب اپنی تعلیم کا ابتدااسی سے کرتی سو خدا نے ایسا ہی کیا۔ اوّل جسمانی ناپاکیوں اور دوسری وحشیانہ حالتوں سے چُھڑا کر وحشیوں کو انسان بنانا چاہا پھر اخلاق فاضلہ اور طہارت باطنی کے احکام سکھلا کر انسانوں کو مہذب انسان بنایا۔ اور پھر محبت اور فنا فی اﷲ کے باریک دقائق تک پہنچا کر مہذّب انسانوں کو باخدا انسان بنا دیا۔ اور پھریہ سب کچھ کر کے فرمادیا۔ 33۱؂یعنی جان لو کہ خدا نے زمین کو مرنے کے بعد پھر زندہ کیا۔ سو خدا کا کلام حکمت کے طریقوں سے انسان کو ترقی کے منار تک پہنچاتا ہے۔ وہ اس سے شرم نہیں کرتا کہ انسان کو جو انسانیت سے گرا ہوا ہے ظاہری ناپاکیوں سے بھی چھڑائے جیسا کہ وہ باطنی ناپاکیوں سے چھڑاتا ہے اُس نے اپنی پاک کلام میں انسانوں کو دونوں قسم کی پاکیزگی کی طرف ترغیب دی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ 3 ۲؂ یعنی خدا توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور اُن کو بھی دوست رکھتا ہے جو جسمانی طہارت کے پابند رہتے ہیں۔ سو توّابین کے لفظ سے خدا تعالیٰ نے باطنی طہارت اور پاکیزگی کی طرف توجہ دلائی اور متطھّرین کے لفظ سے ظاہری طہارت اور پاکیزگی کی ترغیب دی۔ اور اس آیت سے یہ مطلب نہیں کہ صرف ایسے شخص کو خدا تعالیٰ دوست رکھتا ہے کہ جو محض ظاہری پاکیزگی کا
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 337
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 337
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/337/mode/1up
    پابند ہو بلکہ توّابین کے لفظ کو ساتھ ملا کر بیان فرمایا تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ خدا تعالیٰ کی اپنے بندوں کے لئے اکمل اور اتم محبت جس سے قیامتؔ میں نجات ہو گی اسی سے وابستہ ہے کہ انسان علاوہ ظاہری پاکیزگی کے خدا تعالیٰ کی طرف سچا رجوع کرے۔ لیکن محض ظاہری پاکیزگی کی رعایت رکھنے والا دنیا میں اس رعایت کا فائدہ صرف اس قدر اٹھا سکتا ہے کہ بہت سے جسمانی امراض سے محفوظ رہے۔ اور اگرچہ وہ خدا تعالیٰ کی اعلیٰ درجہ کی محبت کا نتیجہ نہیں دیکھ سکتا مگر چونکہ اُس نے تھوڑا سا کام خدا تعالیٰ کی منشاکے موافق کیا ہے یعنی اپنے گھر اور بدن اور کپڑوں کو ناپاکیوں سے پاک رکھا ہے اس لئے اس قدر نتیجہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ بعض جسمانی بلاؤں سے بچا لیا جائے بجز اُس صورت کے کہ وہ کثرت گناہوں کی وجہ سے سزا کے لائق ٹھہر گیا ہو۔ کیونکہ اس صورت میں اس کے لئے یہ حالت بھی خدا تعالیٰ میسر نہیں کرے گا کہ وہ ظاہری پاکیزگی کو کماحقّہٗ بجا لا کر اس کے نتائج سے فائدہ اُٹھا سکے۔ غرض بموجب وعدہ الٰہی کے محبت کے لفظ میں سے ایک خفیف اور ادنیٰ سے حصہ کا وارث وہ دشمن بھی اپنی دنیا کی زندگی میں ہو جاتا ہے جو ظاہری پاکیزگی کے لئے کوشش کرتا ہو۔ جیسا کہ تجربہ کے رُو سے یہ مشاہدہ بھی ہوتا ہے کہ جو لوگ اپنے گھروں کو خوب صاف رکھتے اور اپنی بدر روؤں کو گندہ نہیں ہونے دیتے اوراپنے کپڑوں کو دھوتے رہتے ہیں اور خلال کرتے اور مسواک کرتے اور بدن پاک رکھتے ہیں اور بدبُو اور عفونت سے پرہیز کرتے ہیں وہ اکثر خطرناک وبائی بیماریوں سے بچے رہتے ہیں پس گویا وہ اس طرح پر 3کے وعدہ سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ لیکن جو لوگ طہارت ظاہری کی پروا نہیں رکھتے آخر کبھی نہ کبھی وہ پیچ میں پھنس جاتے ہیں اور خطرناک بیماریاں اُن کو آ پکڑتی ہیں۔
    اگر قرآن کو غو ر سے پڑھو تو تمہیں معلوم ہو گا کہ خدا تعالیٰ کے بے انتہا رحم نے یہی چاہا ہے کہ انسان باطنی پاکیزگی اختیار کر کے رُوحانی عذاب سے نجات پاوے اور ظاہری پاکیزگی اختیار کر کے دنیا کے جہنم سے بچا رہے جو طرح طرح کی بیماریوں اور وباؤں کی شکل میں نمودار
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 338
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 338
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/338/mode/1up
    ہو جاتا ہے اور اس سلسلہ کو قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک بیان فرمایا گیا ہے۔ جیسا کہ مثلاً یہی آیت 3۱؂صاف بتلا رہی ہے کہ تَوّابین سے مراد وہ لوگ ہیں جو باطنی پاکیزگی کے لئے کوشش کرتے ہیں اور مُتَطَھّرِین سے وہ لوگ مراد ہیں جو ظاہری اور جسمانیؔ پاکیزگی کے لئے جدوجہد کرتے رہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک دوسری جگہ میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے 3۲؂ یعنی پاک چیزیں کھاؤ اور پاک عمل کرو۔ اس آیت میں حکم جسمانی صلاحیت کے انتظام کے لئے ہے جس کے لئے 3کا ارشاد ہے۔ اور دوسرا حکم روحانی صلاحیت کے انتظام کے لئے ہے جس کے لئے 3کا ارشاد ہے اور ان دونوں کے مقابلہ سے ہمیں یہ دلیل ملتی ہے کہ بدکاروں کے لئے عالمِ آخرت کی سزا ضروری ہے۔ کیونکہ جب کہ ہم دنیا میں جسمانی پاکیزگی کے قواعد کو ترک کر کے فی الفور کسی بلا میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ اس لئے یہ امر بھی یقینی ہے کہ اگر ہم رُوحانی پاکیزگی کے اصول کو ترک کریں گے تو اسی طرح موت کے بعد بھی کوئی عذاب موء لم ضرور ہم پر وارد ہو گا۔جو وباء کی طرح ہمارے ہی اعمال کا نتیجہ ہو گا*۔ چنانچہ یہی طاعون اس بات کی گواہ ہے کہ جن جن شہروں اور گھروں میں جسمانی پاکیزگی کی ایسی رعایت نہیں کی گئی جیسی کہ چاہیئ تھی آخر وبا نے اُن کو پکڑ لیا۔ اگرچہ یہ عفو نتی اجرام کم و بیش ہر وقت موجود تھے لیکن وہ اندازہ غلیان سمیّت کا پہلے دنوں میں اکٹھا نہیں تھا۔ اور بعد میں اور اسباب کے ذریعہ سے پیدا ہو گیا۔ یہ کس قدر مشکل بات ہے کہ جب کہ ہم جسمانی ناپاکی اورعفونتِ مہلکہ کا کوئی اندازہ قائم نہیں کر سکتے جب تک وہ خود ہم پر وارد نہ ہو جائے پس کیونکر روحانی سمیّت کا ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کب اور کِس وقت ہمیں ہلاک کر سکتی ہے۔ لہٰذا ہمیں لازم ہے کہ لاپروائی اور غفلت سے
    *نوٹ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کفّارہ کچھ چیز نہیں بلکہ جیسا کہ ہم اپنے جسمانی بد طریقوں سے وبا کو اپنے پر لے آتے ہیں اور پھر حفظِ صحت کے قواعد کی پابندی سے اُس سے نجات پاتے ہیں۔ یہی قانونِ قدرت ہمارے رُوحانی عذاب اور نجات سے وابستہ ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 339
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 339
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/339/mode/1up
    زندگی بسر نہ کریں اور دُعا میں لگے رہیں۔ خدا سے اُس کا فضل مانگنا اور دُعامیں لگے رہنا اِس سے بہتر اور کوئی طریق نہیں۔ یہی ایک راہ ہے جو نہایت ضروری اور واجب طریق ہے۔ اسی وجہ سے قرآن شریف میں عذاب سے بچنے کے لئے دعا ہی ہمیں سکھائی گئی ہے۔ اور وہ دعا سورۃفاتحہ کی دعا ہے جوپنج وقت نماز میں پڑھی جاتی ہے یہ دونوں قسم کے عذابوں سے بچنے کے لئے دعا ہے۔ کیونکہ آخری فقرہ دعا کا یہ ہے کہ ’’یا الٰہی اُن لوگوں کی راہ سے بچا جن میں طاعون پھوٹی تھی۔‘‘ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعا اِس لئے ہے کہ تا ہم دنیا کے جہنم اور آخرت کے جہنم دونوں سے بچائے جائیں۔لہٰذا میں یقین رکھتاؔ ہوں کہ اگر کوئی شخص یہ دُعا یعنی سورۂ فاتحہ دفع طاعون کے لئے اخلاص سے نماز میں پڑھتا رہے تو خدا اُس کو اس بَلا سے اور اِس کے بد نتائج سے بچائے گا۔
    اور ہم اس وقت تمام مسلمانوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ اب وہ یقینی طور پر یہ نہ سمجھ لیں کہ طاعون دور ہو گئی اور اس خیال سے پھر غفلت اور گناہ اورمعصیت کی طرف جھک نہ جائیں۔ کیونکہ جیسا کہ ہم اپنے پہلے اشتہار میں شائع کر چکے ہیں ابھی ہم خطرات کے حدود سے باہر نہیں آئے جب تک دو ۲جاڑے کے موسم خیر سے نہ گزر جائیں۔ اور اِس ملک کے کسی حصہ میں کوئی واردات کا نمونہ پایا نہ جائے اس وقت تک اندیشہ دامنگیر ہے۔ سو اگرچہ طبابت کی تدبیریں نہایت عمدہ چیز یں ہیں اور جو کچھ ہماری گورنمنٹ نے ہدایتیں پیش کی ہیں وہ قابلِ شکر و غمخواری ہیں مگر تا ہم تمام فلاح اور نجات کا مدار اِنہی تدابیر کو نہ سمجھو اپنے خدائے رحیم و کریم سے بھی صلح کرو۔ دیکھو کس قدر ملک میں گناہ اور فریب اور جھوٹ اور ظلم اور حق تلفی اور بدکاری پھیل گئی ہے۔ یہ وہی معاصی ہیں جن کی وجہ سے پہلی قومیں بھی ہلاک ہوتی رہی ہیں۔ سو اس غیّور خدا سے ڈرو جس کی غیرت ہمیشہ بد کاروں کو نابود کرتی رہی ہے۔ اگر خداوندِ ذوالجلال سے خوف کرو گے اور اپنے دلوں میں اُس کی عظمت بٹھا لو گے تو وہ تمہیں ضائع ہونے سے بچا لے گا اور تم اور تمہاری اولاد بچ جائے گی اور خدا کا رحم
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 340
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 340
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/340/mode/1up
    تمہاراحامی ہو گا اور ایسے اسباب پیدا کر دے گا جن سے یہ زہریلا مادہ دُور ہو جائے۔ اور اگر دُنیا میں مست ہو کر خدا تعالیٰ کی پروا نہیں رکھو گے اور گناہوں سے باز نہیں آؤ گے تو وہ قادر ہے کہ تمہاری تمام تدبیریں بے کار کر دیوے اور ایسی راہ سے تمہیں پکڑے کہ تمہیں معلوم نہ ہو۔ دیکھو یہود میں جب طاعون مصر اور کنعان کی راہ میں پھوٹی تو وہ لوگ اُس وقت جنگل میں تھے اور شہر کی عفونتوں سے بالکل الگ تھے۔ ترنجبین اور بیٹر اُن کی غذا تھی۔ وہ یقین کرتے تھے کہ اب کوئی بلا ہم پر نہیں آئے گی مگر جب انہوں نے نافرمانی شروع کی اور فسق اور فجور میں مبتلا ہوئے تو وہی ترنجبین اور بیٹرطاعون کا موجبؔ ہو گئے۔یہ کیسا باریک بھید خدا کی حکمتوں کا ہے کہ چونکہ اﷲ جلّ شانہٗ جانتا تھا کہ یہ قوم عنقریب سرکشی اختیار کرے گی اس لئے اُن کے لئے دن رات کی غذا ترنجبین اور بٹیر مقرر کیا گیا۔ یہ دونوں چیزیں طبّ کے قواعد کی رُو سے بالخاصیّت طاعون پیدا کرتی ہیں اسی وجہ سے طبیب لوگ امراضِ جلدیّہ میں جہاں بثور اور پھوڑوں کی بیماریاں ہوں ترنجبین دینے سے پرہیز کیا کرتے ہیں۔ بدبخت یہود ایک طرف تو ارتکاب جرائم کا کرتے رہے اور دوسری طرف دن رات بیٹر اور ترنجبین کھا کر طاعون کا مادہ اپنے اندر جمع کرلیا۔ جب اُن کے مؤاخذہ کاوقت آیا تو ایک طرف تو جرائم انتہاکو پہنچ چکے تھے جو سزا کو چاہتے تھے اور دوسری طرف طاعونی مادہ بٹیر اور ترنجبین کے استعمال سے اِس قدر اُن کے اندر جمع ہو گیا تھا کہ اب وہ تقاضا کرتا تھا کہ اُن میں طاعون پھوٹے۔ سو اس ایک ہی رات میں جب یہودیوں کے لئے آسمان سے سزا کا حکم نازل ہوا ساتھ اس کے مادۂ طاعون کو بھی جو طیّار بیٹھا تھا یہ حکم آیا کہ ہاں اب نکل اور اس شریر قوم کو ہلاک کر۔ تب وہ اس جنگل میں کتوں کی طرح مرے۔ فَاعتبروایا اُولِی الْاَبصار
    میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اِن لوگوں کا بھی یہی حال ہو گا کہ جو ایک قسم کی زنا کاری اور چوری اور خونریزی اور مال حرام کھانے اور نوع انسان کے دُکھ دینے میں درندوں کی طرح دلیری سے قدم رکھتے ہیں نہ خدا تعالیٰ کے حدود اور قوانین سے ڈرتے ہیں اور نہ گورنمنٹ کے مقرر کردہ قانونوں سے اُن کو خوف ہے۔ یہی بات تھی جو میرے پہلے اشتہار میں بطور الہام طاعون کے بارے میں
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 341
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 341
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/341/mode/1up
    مجھے معلوم ہوئی تھی اور وہ یہ ہے کہ ’’انّ اﷲ لایغیّر مَابقَومٍ حتّٰی یغیّرواما بانفسھم۔ اِنّہ اَوَی القَرْیَۃَ۔ یعنی خدا تعالیٰ اُس نیکی یا بدی کو جوکسی قوم کے شاملِ حال ہے دور نہیں کرتا جب تک وہ قوم ان باتوں کو اپنے سے دور نہ کرے جو اُس کے دل میں ہیں۔ اُس خدا نے اس قریہ کو جو اس کے علم میں ہے انتشار سے محفوظ رکھا۔‘‘ افسوس کہ بعض نادان کہتے ہیں کہ یہ الہام آپ بنا لیا ہے۔ ان کے جواب میں کیا کہیں اور کیا لکھیں۔ اے بدقسمت بدگمانو! کیا ممکن ہے کہ کوئی خدا پر جھوٹ باندھے اور پھر اُس کے دستِؔ قہر سے بچ رہے۔ خدا جھوٹوں کو ہلاک کرے گا اور وہ جو اپنے دل سے باتیں بناتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ خدا کا الہام ہے وہ ہلاک کئے جائیں گے کیونکہ انہوں نے دلیری کرکے خدا پر بہتان باندھا۔ راستبازوں کے لئے بھی دن مقرر ہیں اور جھوٹے مفتریوں کے لئے بھی وقت مقرر کئے گئے ہیں۔ جب وہ وقت آئیں گے تو خدا تعالیٰ دکھا دے گا کہ کس نے شوخی سے باتیں کیں اور کس نے رُوح القدس کی آواز کی پیروی کی۔ خدا کی باتوں کو خدائی نشانوں سے تم شناخت کرو گے سچائی پوشیدہ نہیں رہے گی اور نہ باطل مخفی رہے گا۔ وہ خدا جو ہمیشہ اپنے تئیں ظاہر کرتا رہا ہے وہ اب بھی دکھلائے گا کہ وہ اُن کے ساتھ ہے جو واقعی طور پر اس سے ڈرتے اور نیکی اور پرہیز گاری کی راہوں کو اختیار کرتے ہیں۔
    اے لوگو! خدا سے ڈرو۔ اور درحقیقت اس سے صلح کر لو۔ اور سچ مچ صلاحیت کا جامہ پہن لو اور چاہئیے کہ ہر ایک شرارت تم سے دُور ہو جائے۔ خدا میں بے انتہا عجیب قدرتیں ہیں۔ خدا میں بے انتہا طاقتیں ہیں۔ خدا میں بے انتہا رحم اور فضل ہے۔ وہی ہے جو ایک ہولناک سیلاب کو ایک دم میں خشک کر سکتا ہے۔ وہی ہے جو مہلک بلاؤں کو ایک ہی ارادے سے اپنے ہاتھ سے اُٹھا کر دُور پھینک دیتا ہے۔ مگر اس کی یہ عجیب قدرتیں اُن ہی پر کھلتی ہیں جو ا س کے ہی ہوجاتے ہیں۔ اور وہی یہ خوارق دیکھتے ہیں جو اس کے لئے اپنے اندر ایک پاک تبدیلی کرتے ہیں اور اُس کے آستانے پر گرتے ہیں اور اُس قطرے کی طرح جس سے موتی بنتا ہے صاف ہو جاتے ہیں۔ اور محبت اور صدق اور صفا کی سوزش سے پگھل کر اس کی طرف بہنے لگتے ہیں۔ تب وہ مصیبتوں میں
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 342
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 342
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/342/mode/1up
    اُن کی خبر لیتا ہے اور عجیب طو رپر دشمنوں کی سازشوں اور منصوبوں سے انہیں بچا لیتا ہے اور ذلّت کے مقاموں سے انہیں محفوظ رکھتا ہے۔ وہ اُن کا متولّی اور3 ہو جاتا ہے۔ وہ اُن مشکلات میں جبکہ کوئی انسان کام نہیں آ سکتا اُن کی مدد کرتا ہے۔ اور اُس کی فوجیں اس کی حمایت کے لئے آتی ہیں۔ کس قدر شکر کا مقام ہے کہ ہمارا خدا کریم اور قادر خدا ہے۔ پس کیا تم ایسے عزیز کو چھوڑو گے؟ کیا اپنے نفسِ ناپاک کے لئے اُس کی حدود کو توڑدو گے۔ہمارے لئے اُس کی رضا مندی میں مرنا ناپاک زندگی سے بہتر ہے۔
    قرآنؔ شریف میں تمام احکام کی نسبت تقویٰ اور پرہیز گاری کے لئے بڑی تاکید ہے۔ وجہ یہ کہ تقویٰ ہر ایک بدی سے بچنے کے لئے قوت بخشتی ہے اور ہر ایک نیکی کی طرف دوڑنے کے لئے حرکت دیتی ہے اور اس قدر تاکید فرمانے میں بھید یہ ہے کہ تقویٰ ہر ایک باب میں انسان کے لئے سلامتی کا تعویذ ہے اور ہرایک قسم کے فتنہ سے محفوظ رہنے کے لئے حصنِ حصین ہے۔ ایک متقی انسان بہت سے ایسے فضول اور خطرناک جھگڑوں سے بچ سکتا ہے جن میں دوسرے لوگ گرفتار ہو کر بسااوقات ہلاکت تک پہنچ جاتے ہیں اور اپنی جلد بازیوں اور بدگمانیوں سے قوم میں تفرقہ ڈالتے اور مخالفین کو اعتراض کا موقعہ دیتے ہیں۔ مثلاً سوچ کر دیکھوکہ اس زمانہ کے معاند مولویوں نے ہماری تکفیر اور تکذیب کے خیال کو بغیر کسی تحقیق اور ثبوت کے کس حد تک پہنچا دیا ہے کہ اب ہم ان کی نظر میں اپنے کفر کے لحاظ سے عیسائیوں اور ہندوؤں سے بھی بدتر ہیں۔ کیا ایک متقی جو واقعی طور پر شکوک کی پیروی سے اپنے دل کو روکتا ہے وہ اِن بلاؤں میں پھنس سکتا ہے؟ اگر ان لوگوں کے دلوں میں ایک ذرّہ بھی تقویٰ ہوتی تو میرے مقابل پر وہ طریق اختیار کرتے جو قدیم سے حق کے طالبوں کا طریق ہے۔ کیونکہ قدیم سے اِس اُصول کو ہر ایک قوم مانتی آئی ہے اور اسلام نے بھی اس کو مانا ہے کہ جو لوگ انبیاء اور رسولوں اور مامور مِن اﷲ کے منصب سے اپنے تئیں دنیا پر ظاہر کرتے ہیں اُن سے اگر علماء وقت کا کسی حدیث یا کتاب اﷲ کے معنے بیان کرنے میں اختلاف ہو جائے تو اُن کے ساتھ طریق تصفیہ ایسا نہیں ہے جیسا کہ دوسرے معمولی انسانوں کے ساتھ ہوتا ہے کہ ایک فریق اپنے طور کے معنے میں زیادہ قوت اور ترجیح دے کر دوسرے فریق کی تکذیب پر جلد آمادہ ہو جاتا ہے بلکہ باوجود اختلاف تفسیر اور تاویل کے جو مابین واقع ہو
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 343
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 343
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/343/mode/1up
    اور باوجود اس بات کے جو بظاہر کسی قول کے وہ معنے قریب قیاس ہوں جو برخلاف بیان کردہ مامورین ہوں پھر بھی مامورین اور الہام پانے والوں کے مقابل پر سعید لوگ اپنے قرار دادہ معنوں پرضد اور ہٹ نہیں کرتے بلکہ جب خدا تعالیٰ کی متواتر تائیدات اور طرح طرح کے نشانوں سے ظاہر ہو جائے کہ وہ لوگ مؤید من اﷲ ہیں تو اپنے معنے چھوڑ دیتے ہیںؔ اور وہی معنے قبول کرتے ہیں جو انہوں نے کئے ہوں گو بظاہر اُس میں کسی قسم کا ضعف بھی معلوم ہو۔ کیونکہ معانی کے بیان کرنے میں بہت توسع ہے اور بسا اوقات ایک شخص جو مجاز کا پہلو اختیار کرتا ہے اور ایک عبارت کے معنے مجازی رنگ میں بتلاتا ہے وہ اس دوسرے کے مقابل پر حق پر ہوتا ہے جو ظاہر معانی کو لیتا ہے اور مجاز کی طرف نہیں جاتابلکہ ملہمین اور مرسلین کے ساتھ یہ ادب رکھنا لازمی ہے کہ اگر وہ بغیر کسی قرینہ کے بھی صَرف عَنِ الْظَّاہِر کریں تو اُن سے قرائن کا مطالبہ نہ کیا جائے جیسا کہ دوسرے علماء سے مطالبہ کیا جاتا ہے۔ ہاں اس بات کو دیکھنا ضروری ہو گاکہ وہ درحقیقت مؤید من اﷲ اور مقبولِ الٰہی ہیں۔ اور جب یہ ثابت ہو جائے کہ وہ مؤید من اﷲ ہیں تو پھر اختلاف کے وقت یعنی جب کہ علماء میں اور اُن میں کسی کتاب الٰہی کے معنے بیان کرنے میں اختلاف واقع ہو وہی معنے قبول کئے جائیں گے جو مامورین نے کئے ہیں۔ اِسی اصول پر ہمیشہ عمل درآمد رہا ہے *۔مثلاً جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور یہود میں
    * اگر کوئی کہے کہ اگر اختلاف کے وقت ملہم کے معنوں کوماننا ضروری ہے تو ممکن ہے کہ ایسا مدعی الہام اور ماموریت کا جس کا ہنوز منجانب اﷲ ہونا ثابت نہیں ہوا۔ ایسے معنے خدا کی کتاب کے کرے جن میں صاف الحاد ہو تو وہ معنے کیونکر مان لئے جائیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بموجب وعدہ قرآن شریف کے سچّے ملہم کی یہ نشانی مقرر شدہ ہے کہ اس کی خدا تعالیٰ کی طرف سے تائید ہوتی ہے اور بجز اس کے دوسرا شخص سچی پیشگوئی دکھلا نہیں سکتا پھر جب ان علامتوں سے وہ سچا ثابت ہوا تو پھر وہ ملحد کیونکر ہو گا؟ خدا کا یہ بھی وعدہ ہے کہ مفتری ہلاک کیا جاتا ہے۔ غرض یہ ایک تصدیق شدہ مسئلہ ہے جس پر ہزاروں را ستبازوں نے اپنے خون کے ساتھ مہر لگا دی ہے کہ اگر مدعی الہام اور وحی اور اس کے غیر میں کسی عبارت کے معنوں میں اختلاف واقع ہو تو بعد اس کے اس مدعی کا سچا ہونا خدا کی تائید اور اس کے نشانوں سے ثابت ہوتا ہو متنازع فیہ معنوں میں سے وہی معنے قبول کئے جائیں گے جو اس مدعی کے مُنہ سے نکلے ہیں۔ یہی وہ طریق ہے جس پر راستبازوں نے قدم ماراہے اس سے یہ ثابت ہوا کہ جو شخص وحی اور الہام کا دعویٰ کرے اس کی بات صرف اسی حالت میں ردّ کرنے کے لائق ہوتی ہے کہ جب وہ صاحبِ آیات نہ ہو۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 344
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 344
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/344/mode/1up
    ملاکی نبی کی اس پیشگوئی کے متعلق اختلاف واقع ہوا کہ جو ایلیا نبی کے دوبارہ آنے کے متعلق تھی تو باوجود اس کے کہ وہ معنے جو یہود کرتے تھے وہی آیت کےؔ ظاہرمعنے تھے اور حضرت عیسیٰ کا یہ کہنا کہ ایلیا نبی کے دوبارہ آنے سے مراد اُس کے کسی مثیل کا آنا ہے۔ یہ ایک تاویل رکیک بلکہ الحاد کے رنگ میں معلوم ہوتی تھی اور یہودیوں کی نظر میں ہنسی کے لائق تھی ۔اور ایسا صرف عن الظاہر تھا جس پر کوئی قرینہ قائم نہ تھامگر پھر بھی نیک بخت انسانوں نے جب دیکھا کہ یہ شخص مؤید من اﷲ ہے اور اس پر وحی کے ذریعہ سے اصل حقیقت کھلی ہے تو انہوں نے ان ہی معنوں کو قبول کیا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کرتے تھے اور یہود کے معنوں کو ردّ کیا۔ اگرچہ ظاہر طور پر وہی معنے صحیح معلوم ہوتے تھے۔ پھر اسی قسم کا جھگڑا یہود کا ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے ہوا ۔ اور وہ یہ کہ یہود لوگ مثیلِ موسیٰ کی پیشگوئی کی نسبت جو توریت باب استثنا میں موجود ہے یہ معنے کرتے تھے کہ وہ بنی اسرائیل میں سے آئے گا۔ اور کہتے تھے کہ خدا نے داؤد سے قسم کھائی ہے کہ اُسی کے خاندان سے نبی بھیجتا رہے گا۔ مگر ہمارے سیّد و مولیٰ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ معنے صحیح نہیں ہیں بلکہ صحیح یہ ہے کہ مثیلِ موسیٰ کا ظاہر ہونا بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے یعنی بنی اسماعیل سے ضروری تھا۔ سو اگرچہ یہود کے وہ معنے دو ہزار برس سے اُن کے علماء میں متفق علیہ چلے آئے تھے اور ایک جاہل آدمی کے لئے ایک قوی حجّت تھی کہ جو معنے دو ہزار برس تک ایک گروہِ کثیر علماء میں مسلّم الصحت اور ایک اجماعی عقیدہ کی طرح تھے اُن کے برخلاف کیونکر ایک نئے معنے مان لئے جائیں مگر پھر بھی جب عقلمندوں نے دیکھا کہ مؤخر الذکر معنے اُس شخص نے کئے ہیں جو مؤید من اﷲ ہے یعنی ہمارے پیغمبر صلی اﷲ علیہ نے۔ اور یہ بھی خیال کیا کہ انسانی عقل کے اجتہادی معنوں میں غلطی کا احتمال ممکن ہے مگر جن معنوں کی وحی نے تعلیم کی ہے اُن میں غلطی ممکن نہیں تو جناب نبی علیہ السلام کے معنوں کو قبول کیا۔ اور مخالفوں کے معنے گو وہ اپنے مذہب کے مولوی اور فاضل کہلاتے تھے ردّی کی طرح پھینک دیئے کیونکہ اُن کو یقین ہو گیا کہ یہ شخص مؤید من اﷲ اور صاحبِ خوارق ہے اور آسمانی تائیدیں اس کے شاملِ حال ہیں
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 345
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 345
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/345/mode/1up
    لہٰذا اُن کو ماننا پڑا کہ یہود اور نصاریٰ کے معنے صحیح نہیں ہیں۔ اِسی جہت سے صد ہا یہودی اور عیسائی مسلمان ہوئے اور جو معنے دو ہزار برس سے متفق علیہ چلے آتے تھے وہ چھوڑ دیئے ۔ اب اِن دونوں نظیروں سے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ جب ایک قوم اور ؔ مامورمن اﷲ میں کسی الٰہی کتاب کے معنے کرنے میں اختلاف پیدا ہو تو وہی معنے قبول کے لائق ہوں گے جو اس مامور من اﷲ نے کئے ہیں گو بظاہر وہ ضعیف اوردور ازقیاس ہی معلوم ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم لوگ انجیل اور توریت کے اکثر مقامات کے وہ معنے نہیں کرتے جو نصاریٰ اور یہود نے کئے ہیں اور ہم بہرحال اُن معنوں کو قبول کریں گے جو قرآن نے کئے ہیں اور جبکہ یہ اصول متحقق ہو گیاتو اب دیکھنا چاہئیے کہ اگر ہمارے مخالف علماء میں دیانت اور انصاف کا مادہ ہوتا تو اِس صورت میں کہ میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا تھا اور اپنے دعویٰ کی تائید میں بعض احادیث یا قرآنی آیتوں کے وہ معنی کرتا تھا جو میرے مخالف نہیں کرتے۔ خدا ترس لوگوں کو لازم تھا کہ وہ اس اختلاف کے وقت بفرض محال اگر میرے معنی اُن کی نظروں میں کمزور تھے تو وہ مجھ سے اسی طریق معہود سے تصفیہ کرتے جیسا کہ پہلے راستباز آدمی ایسے وقتوں میں تصفیہ کرتے رہے ہیں۔ یعنی صرف یہ تحقیق کرتے کہ آیا یہ شخص مؤید من اﷲ ہے یا نہیں۔ لیکن افسوس کہ انہوں نے یہ طریق میرے ساتھ مسلوک نہیں رکھا۔ حالانکہ اگر اُن میں انصاف ہوتا توایمانداری کے رُو سے اس طریق کا اختیار کرنا اُن پر لازم تھا۔ اور عجب تر یہ کہ جس پہلو کو عبارات کے معنوں میں ہم نے اختیار کیا ہے وہ نہایت صحیح اور معقولی طور پر بھی قرین قیاس ہے ۔ مگر پھر بھی ہمارے مخالفوں نے اِن معنوں سے مُنہ پھیر لیا۔ حالانکہ اُن کا یہ فرض تھا کہ اگر ہمارے معنے اُن کے معنوں کے مقابل ضعیف بھی ہوتے تب بھی تائید الٰہی کے ثبوت کے بعد اُن ہی معنوں کو قبول کر لیتے۔ اب بتلاؤ کہ کیا یہ طریق تقویٰ ہے جو انہوں نے اختیار کیا۔ سوچ کر دیکھو کہ جب ایسے اختلافات نبیوں اور دوسری قوموں میں ہوئے ہیں تو سعید لوگوں نے کس طریق کو اختیار کیا ہے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ انہوں نے بہرحال وہ معنے قبول کئے جو نبیوں کے مُنہ سے نکلے۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 346
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 346
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/346/mode/1up
    اب پھر ہم کلام سابق کی طرف عود کرکے ظاہر کرتے ہیں کہ ہم نے ہمدردئ خلائق کے لئے دو مرکّب دوائیں طاعون کے علاج کی طیار کی ہیں۔ ایک وہ دوا ہے جس پر دوہزار ۲۵۰۰ پانچسو روپیہ خرچ آیا ہے جس میں سے دو ہزار روپیہ کے یاقوت رمّا نی اخویم مولوی حکیم نور الدین صاحب نے عنایتؔ فرمائے ہیں اور چار سو روپیہ شیخ رحمت اﷲ صاحب نے دیا ہے اور سو روپیہ اور متفرق دوستوں کی طرف سے ہے۔
    اس دوا کا نام تریاقِ الٰہی رکھا گیا ہے۔ یہ اس وقت کام آ سکتی ہے کہ جب خدانخواستہ پھر جاڑے کی موسم میں طاعون پھیلے۔ ابھی ہم بیان نہیں کر سکتے کہ یہ گراں قیمت دوا جس پر اڑھائی ہزار روپیہ خرچ آیا ہے کن لوگوں کو دی جائے گی اور کیا یہ فروخت بھی ہو سکتی ہے یا نہیں۔ دوا قلیل ہے اور جماعت بہت ہے۔ دل تو چاہتا ہے کہ عام لوگ اس تریاق الٰہی سے نئی زندگی حاصل کریں مگر گنجائش نہیں ہے۔ مجھے ایک الہام میں یہ فقرات القاہوئے تھے کہ یَا مَسِیْحَ الْخَلْقِ عَدْوَانَا۔ میرے خیال میں ہے کہ عدویٰ سے مراد یہی طاعون ہے۔ اگر میں اُس الہام کے معنے کرنے میں غلطی نہیں کرتا جس میں یہ لکھا ہے کہ انّہٗ اَوَی القَرْیَۃَ تو کیا تعجب ہے کہ کسی عام زور طاعون کے وقت میں قادیان دارالامن رہے۔ میں ہمیشہ اور پنج وقتہ نماز میں دُعا کرتا ہوں کہ خدا اس بلا کو دنیا سے اُٹھادے اور اپنے بندوں کی تقصیریں معاف کرے مگر پھر بھی مجھے اِن الہامات کے لحاظ سے جو ظاہر کر چکا ہوں اس حالت میں کہ لوگ توبہ نہ کریں سخت اندیشہ ہے کہ یہ آگ جاڑے کے موسم میں یا اس کے ابتدامیں ہی یا برسات کے موسم میں ہی بھڑک نہ اُٹھے۔
    یاد رہے کہ کفر اور ایمان کا فیصلہ تو مرنے کے بعد ہو گا اس کے لئے دنیا میں کوئی عذاب نازل نہیں ہوتا اور جو پہلی اُمتیں ہلاک کی گئیں وہ کفر کے لئے نہیں بلکہ اپنی شوخیوں اور شرارتوں اور ظلموں کی وجہ سے ہلاک ہوئیں۔ فرعون بھی اپنے کفر کے باعث سے ہلاک نہیں ہوا بلکہ اپنے ظلم اور زیادتی کی وجہ سے ہلاک ہوا۔ محض کفر کے سبب سے اِس دنیا میں کسی پر عذاب نازل
    نہیں ہوتا۔ اگر کوئی کافر ہو مگر غریب مزاج اور آہستہ رَو ہو اور ظالم نہ ہو تو اس کے کفر کا حساب قیامت کے دن ہو گا۔ اس دنیا میں ہر ایک عذاب ظلم اور بدکاری اور شوخیوں اور شرارتوں
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 347
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 347
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/347/mode/1up
    کی وجہ سے ہوتا ہے اور ایسا ہی ہمیشہ ہو گا۔ اگر خدا تعالیٰ کی نظر میں لوگ شوخ طبع اور متکبّراور ظالم اور بے خوف اور مردم آزار ہوں گے خواہ وہ مسلمان ہوں خواہ ہندو خواہ عیسائی عذاب سے بچ نہیں سکیں گے۔ کاش لوگ اس بات کو سمجھیں اور غریب مزاج اور بے شر انسان بن جائیں۔ خدا تعالیٰ کسی کو عذاب دے کر کیا کرے گا اگر وہ اُس سے ڈرتے رہیںؔ ۔ خدا تعالیٰ کے تمام نبی رحمت کے لئے آئے اور جس نے رحمت کو قبول نہ کیا اُس نے عذاب مانگا۔ ہر پاک نبی جو دنیا میں آیا وہ رحمت کا پیغام لے کر آیا اور عذاب خدا سے نہیں بلکہ لوگوں نے اپنی کرتوتوں سے آپ پیدا کیا۔ ہاں وہ سچوں کے لئے ایک علامت بھی ٹھہر گئے کہ اُن کے آنے کے ساتھ ایک عذاب بھی آتا رہا۔*
    اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ میں نے طاعون کے علاج کے لئے ایک مرہم بھی طیار کی ہے یہ ایک پُرانا نسخہ ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت سے چلا آتا ہے اور اِس کا نام مرہم عیسیٰ ہے اگرچہ امتداد زمانہ کے سبب سے بعض دواؤں میں تبدیلی ہو گئی ہے یعنی طبّ کی بہت سی کتابوں کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک طبیب نے کوئی دوا اس نسخہ میں داخل کی ہے اوردوسرے نے بجائے اس کے کوئی اور داخل کر دی ہے۔ لیکن یہ تغیّر صرف ایک دو دواؤں میں ہوا ہے اِس کا سبب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک دوا ہر ایک ملک میں پائی نہیں جاتی یا کم پائی جاتی ہے یا بعض موسموں میں پائی نہیں جاتی۔ سو جس جگہ یہ اتفاق ہوا کہ ایک دَوا مِل نہیں سکی تو کسی طبیب نے اُس کا بدل کوئی اور دوا ڈال دی اور درحقیقت قرابادینوں کے تمام مرکبات میں جو بعض جگہ اختلاف نسخوں کا پایا جاتا ہے اس کا یہی سبب ہے مگر ہم نے بڑی کوشش سے اصل نسخہ طیار کیا ہے۔ اس مرکب کا نام مرہمؔ عیسیٰ ہے اور مرہم حوارؔ یین بھی اسے کہتے ہیں اور مرہمؔ الرسل بھی اس کا نام ہے کیونکہ عیسائی لوگ حواریوں کو مسیح کے رسول یعنی ایلچی کہتے تھے کیونکہ اُن کو جس جگہ جانے کے لئے حکم دیا جاتا تھا وہ ایلچی کی طرح جاتے تھے۔ یہ نہایت عجیب بات ہے کہ جیسا کہ یہ نسخہ طبّ کے تمام نسخوں سے قدیم اور پُرانا ثابت ہوا ہے ایسا ہی
    *اِسی وجہ سے حدیثوں میں آیا ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت میں ملک میں طاعون بھی پُھوٹے گی۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 348
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 348
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/348/mode/1up
    یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ دنیا کی اکثر قوموں کے طبیبوں نے اس نسخہ کو اپنی اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔ چنانچہ جس طرح عیسائی طبیب اس نسخہ کو اپنی کتابوں میں لکھتے آئے ہیں ایسا ہی رومی طبابت کی قدیم کتابوں میں بھی یہ نسخہ پایا جاتا ہے۔ اور زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ یہودی طبیبوں نے بھی اس نسخہ کو اپنی کتابوں میں درج کیا ہے اور وہ بھی اس بات کے قائل ہو گئے ہیں کہ یہ نسخہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی چوٹوں کے لئے بنایا گیا تھا اور نصرانی طبیبوں کی کتابوں اور مجوسیوں اور مسلمان طبیبوں اور دوسرے تمام طبیبو ں نے جو مختلف قوموں میں گذرے ہیں اس بات کو بالاؔ تفاق تسلیم کر لیا ہے کہ یہ نسخہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے بنایا گیا تھا۔ چنانچہ ان مختلف فرقوں کی کتابوں میں سے ہزار کتاب ایسی پائی گئی ہے جن میں یہ نسخہ مع وجہ تسمیّہ درج ہے اور وہ کتابیں اب تک موجود ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اکثر وہ کتابیں ہمارے کتب خانہ میں ہیں اور شیخ الرئیس بو علی سینا نے بھی اس نسخہ کو اپنے قانون میں لکھا ہے۔ چنانچہ میرے کتب خانہ میں شیخ بوعلی سینا کے قانو ن کا ایک قلمی نسخہ موجود ہے جو پانسو ۵۰۰برس کا لکھا ہوا ہے اس میں بھی یہ نسخہ مع وجہ تسمیہ موجود ہے۔ ان تمام کتابوں کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرہم عیسیٰ اس وقت تیار کی گئی تھی کہ جب
    نالائق یہودیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کو قتل کرنے کے لئے صلیب پرچڑھا دیا تھا اور اُن کے پَیروں اور ہاتھوں میں لوہے کے کیل ٹھونک دیئے تھے لیکن خدا تعالیٰ کا ارادہ تھا کہ ان کو صلیبی موت سے بچاوے۔ اس لئے خدائے عزّ و جلّ نے اپنے فضل و کرم سے ایسے اسباب جمع کر دیئے جن کی وجہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جان بچ گئی۔ منجملہ ان کے ایک یہ سبب تھا کہ آنجناب جمعہ کو قریب عصر کے صلیب پر چڑھائے گئے اور صلیب پر چڑھانے سے پہلے اُسی رات پیلاطوس کی بیوی نے جو اس ملک کا بادشاہ تھا ایک ہولناک خواب دیکھا تھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اگر یہ شخص جو یسوع کہلاتا ہے قتل کیا گیا توتم پر تباہی آئے گی۔ اُس نے یہ خواب اپنے خاوند یعنی پیلاطوس کو بتلایا اور چونکہ دنیا دار لوگ اکثر وہمی اور بُزدل ہوتے ہیں۔ اس لئے پیلاطوس خاوند اُس کا اس خواب کو سُن کر بہت ہی
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 349
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 349
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/349/mode/1up
    گھبرایا اور اندر ہی اندر اس فکر میں لگ گیا کہ کسی طرح یسوع کو قتل سے بچا لیا جائے۔ سو اِس دلی
    منصوبہ کے انجام کے لئے پہلا داؤ جو اُس نے یہودیوں کے ساتھ کھیلا وہ یہی تھا کہ یہ تدبیر کی کہ یسوع کو جمعہ کے روز عصر کے وقت صلیب دی جائے۔ او ر اُسے معلوم تھا کہ یہودی صرف اسے صلیب دینا چاہتے ہیں کسی اور طریق سے قتل کرنا نہیں چاہتے کیونکہ یہودیوں کے مذہب کے رُو سے جس شخص کو صلیب کے ذریعہ قتل کیا جائے خدا کی *** اُس پر پڑ جاتی ہے اور پھر خداکی طرف اُس کا رفع نہیں ہوتا۔ اور بعد اس کے یہ امر ممکن ہی نہیں ہوتا کہ خدا اس سے محبت کرے اور یا وہ خد اکی نظر میں ایمانداروں اور ؔ راستبازوں میں شمار کیاجائے۔ لہٰذا یہودیوں کی یہ خواہش تھی کہ یسوع کو صلیب دے کر پھر توریت کے رُو سے اس بات کا اعلان دے دیں کہ اگر یہ سچا نبی ہوتا تو ہرگز مصلوب نہ ہو سکتا اور اس طرح پر مسیح کی جماعت کو متفرق کر دیں یا جو لوگ اندر ہی اندر کچھ نیک ظن رکھتے تھے اُن کی طبیعتوں کو خراب کر دیں۔ اور خدانخواستہ اگر واقعہ صلیب وقوع میں آ جاتا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر یہ ایک ایسا داغ ہوتا کہ کسی طرح اُن کی نبوت درست نہ ٹھہر سکتی اور نہ وہ راستباز ٹھہر سکتے اس لئے خدا تعالیٰ کی حمایت نے وہ تمام اسباب جمع کر دیئے جن سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام مصلوب ہونے سے بچ گئے۔ ان اسباب میں سے پہلاسبب یہی تھا کہ پیلاطوس کی بیوی کو خواب آیا اور اُس سے ڈر کر پیلاطوس نے یہ تدبیر سوچی کہ یسوع جمعہ کے دن عصر کے وقت صلیب دیا جائے۔ اس تدبیر میں پیلاطوس نے یہ سوچا تھا کہ غالباً اس قلیل مدت کی وجہ سے جو صرف جمعہ کے ایک دو گھنٹے ہیں یسوع کی جان بچ جائے گی کیونکہ یہ ناممکن تھا کہ جمعہ ختم ہونے کے بعد مسیح صلیب پر رہ سکتا۔ وجہ یہ کہ یہودیوں کی شریعت کے رُو سے یہ حرام تھا کہ کوئی شخص سبت میں یا سبت سے پہلی رات میں صلیب پر رہے اور صلیب دینے کا یہ طریق تھا کہ صرف مجرم کو صلیب کے ساتھ جوڑ کر اُس کے پَیروں اور ہاتھوں میں کیل ٹھونکے جاتے تھے اور تین دن تک وہ اسی حالت میں دھوپ میں
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 350
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 350
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/350/mode/1up
    پڑا رہتا تھا۔اور آخر کئی اسباب جمع ہو کر یعنی درد اور دھوپ اور تین دن کا فاقہ اورپیاس سے مجرم مر جاتا تھا۔ مگرجیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے جو شخص جمعہ میں صلیب پر کھینچا جاتا تھا وہ اُسی دن اُتار لیا جاتا تھا کیونکہ سبت کے دن صلیب پر رکھنا سخت گناہ اور موجب تاوان اور سزاتھا۔ سو یہ داؤ پیلاطوس کا چل گیا کہ یسوع جمعہ کی آخری گھڑی میں صلیب پر چڑھایا گیا ۔اور نہ صرف یہی بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل نے چند اور اسباب بھی ایسے پیدا کر دیئے جو پیلاطوس کے اختیار میں نہ تھے اوروہ یہ کہ عصر کے تنگ وقت میں تو یہودیوں نے حضرت مسیح کو صلیب پر چڑھایا اور ساتھ ہی ایک سخت آندھی آئی جس نے دن کو رات کے مشابہ کر دیا۔ اب یہودی ڈرے کہ شاید شام ہو گئی کیونکہ یہودیوں کو سبت کے دن یا سبت کی رات کسی کو صلیب پر رکھنے کی سخت ممانعت تھی اور یہودیوں کے مذہب کے رُو سے دن سے پہلے جو رؔ ات آتی ہے وہ آنے والے دن میں شمارکی جاتی ہے۔ اِس لئے جمعہ کے بعد جورات تھی وہ سبت کی رات تھی۔ لہٰذا یہودی آندھی کے پھیلنے کے وقت میں اس بات سے بہت گھبرائے کہ ایسا نہ ہو کہ سبت کی رات میں یہ شخص صلیب پر ہو۔ اس لئے جلدی سے انہوں نے اتار لیا اور دوچور جو ساتھ صلیب دیئے گئے تھے اُن کی ہڈیاں توڑی گئیں لیکن مسیح کی ہڈیاں نہیں توڑیں کیونکہ پیلاطوس کے سپاہیوں نے جن کو پوشیدہ طور پر سمجھایا گیا تھا کہہ دیا کہ اب نبض نہیں ہے اور ’’یسوع مَر چکا ہے۔‘‘ مگر مجھے معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ راستباز کا قتل کرنا کچھ سہل امر نہیں اس لئے اس وقت نہ صرف پیلاطوس کے سپاہی یسوع کے بچانے کے لئے تدبیریں کر رہے تھے بلکہ یہود بھی حواس باختہ تھے اور آثارِ قہر دیکھ کر یہودیوں کے دل بھی کانپ گئے تھے اور اُس وقت وہ پہلے زمانہ کے آسمانی عذاب جو اُن پر آتے رہے اُن کی آنکھوں کے سامنے تھے۔ اس لئے کسی یہودی کو یہ جرأت نہ ہوئی کہ یہ کہے کہ ہم تو ضرور ہڈیاں توڑیں گے اور ہم باز نہیں آئیں گے کیونکہ اُس وقت ربّ السّماوات والارض نہایت غضب میں تھا اور جلالِ الٰہی یہودیوں کے دلوں پر ایک رُعب ناک کام کر رہا تھا۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 351
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 351
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/351/mode/1up
    لہٰذا انہوں نے جن کے باپ دادے ہمیشہ خدا تعالیٰ کے غضب کا تجربہ کرتے آئے تھے جب سخت اور سیاہ آندھی اور عذاب کے آثار دیکھے اور آسمان پر سے خوفناک آثار نظر آئے تو وہ سراسیمہ ہو کر گھروں کی طرف بھاگے۔
    اِس بات پر یقین کرنے کے لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہرگز صلیب پر فوت نہیں ہوئے پہلی دلیل یہ ہے کہ وہ انجیل میں یونس نبی سے اپنی مشابہت بیان فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یونس کی طرح میں بھی قبر میں تین دن رہوں گا جیسا کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں رہا تھا۔ اب یہ مشابہت جو نبی کے منہ سے نکلی ہے قابل غور ہے۔ کیونکہ اگر حضرت مسیح مردہ ہونے کی حالت میں قبرمیں رکھے گئے تھے توپھر مُردہ اور زندہ کی کس طرح مشابہت ہو سکتی ہے؟ کیا یونس مچھلی کے پیٹ میں مرا رہا تھا؟سو یہ ایک بڑی دلیل اس بات پر ہے کہ ہرگز مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے اور نہ وہ مردہ ہونے کی حالت میں قبر میں داخل ہوئے۔ پھرؔ دوسری دلیل یہ ہے کہ پیلاطوس کی بیوی کو خواب میں دکھلایا گیا کہ اگر یہ شخص مارا گیا تو اس میں تمہاری تباہی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر حقیقت میں عیسےٰ علیہ السلام صلیب دیئے جاتے یعنی صلیبی موت سے مر جاتے تو ضرور تھا کہ جو فرشتہ نے پیلاطوس کی بیوی کو کہا تھا وہ وعید پورا ہوتا۔ حالانکہ تاریخ سے ظاہر ہے کہ پیلاطوس پر کوئی تباہی نہیں آئی۔ تیسری دلیل یہ ہے کہ حضرت مسیح نے خود اپنے بچنے کے لئے تمام رات دعا مانگی تھی اور یہ بالکل بعید از قیاس ہے کہ ایسامقبول درگاہِ الٰہی تمام رات رو روکر دعا مانگے اور وہ دعا قبول نہ ہو۔
    چوتھی دلیل یہ ہے کہ صلیب پر پھر مسیح نے اپنے بچنے کے لئے یہ دُعا کی۔ ’’ایلی ایلی لماسبقتانی‘‘ اے میرے خدا ! اے میرے خدا! ’’تونے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔‘‘ اب کیونکر ممکن ہے کہ جب کہ اس حد تک اُن کی گدازش اور سوزش پہنچ گئی تھی پھرخدا اُن پر رحم نہ کرتا۔ پانچویں دلیل یہ ہے کہ حضرت مسیح صلیب پر صرف گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ رکھے گئے اور شاید اس سے بھی کم اور پھر اتارے گئے اور یہ بالکل بعید از قیاس ہے کہ اس تھوڑے عرصہ اور تھوڑی تکلیف میں اُن کی جان نکل گئی ہو اور یہود کو
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 352
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 352
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/352/mode/1up
    بھی پختہ ظن سے اس بات کا دھڑکا تھا کہ یسوع صلیب پر نہیں مرا۔ چنانچہ اس کی تصدیق میں اﷲ تعالیٰ بھی قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ 3۱؂ یعنی یہود قتل مسیح کے بارے میں ظن میں رہے اور یقینی طور پر انہوں نے نہیں سمجھا کہ درحقیقت ہم نے قتل کر دیا۔ چھٹی دلیل یہ ہے کہ جب یسوع کے پہلو میں ایک خفیف سا چھید دیا گیا تو اُس میں سے خون نکلااور خون بہتا ہوا نظر آیا اور ممکن نہیں کہ مُردہ میں خون بہتا ہوا نظر آئے۔ ساتویں دلیل یہ ہے کہ یسوع کی ہڈیاں توڑی نہ گئیں جو مصلوبوں کے مارنے کے لئے ایک ضروری فعل تھا۔ کیونکہ تاریخ سے ثابت ہے کہ تین دن صلیب پر رکھ کر پھر بھی بعض آدمی زندہ رہ جاتے تھے پھر کیونکر ایسا شخص جو صرف چند منٹ صلیب پر رہا اور ہڈیاں نہ توڑی گئیں وہ مر گیا؟آٹھویں دلیل یہ ہے کہ انجیل سے ثابت ہے کہ یسوع صلیب سے نجات پا کر پھر اپنے حواریوں کو ملااور اُن کو اپنے زخم دکھلائے اور ممکن نہیں کہ یہ زخم اُس حالتؔ میں موجود رہ سکتے کہ جب کہ یسوع مرنے کے بعد ایک تازہ اور نیا جلالی جسم پاتا۔ نویں دلیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیبی موت سے محفوظ رہنے پر یہی نسخہ مرہم عیسیٰ ہے۔ کیونکہ ہرگز خیال نہیں ہو سکتا کہ مسلمان طبیبوں اور عیسائی ڈاکٹروں اور رُومی مجوسی اور یہودی طبیبوں نے باہم سازش کرکے یہ بے بنیاد قصّہ بنا لیا ہو۔ بلکہ یہ نسخہ طبابت کی صد ہا کتابوں میں لکھا ہوا اب تک موجود ہے۔ ایک ادنیٰ استعداد کا آدمی بھی قرابا دین قادری میں اس نسخہ کو امراض الجلد میں لکھا ہوا پائے گا۔ یہ بات ظاہر ہے کہ مذہبی رنگ کی تحریروں میں کئی قسم کی کمی زیادتی ممکن ہے کیونکہ تعصّبات کی اکثر آمیزش ہو جاتی ہے۔لیکن جو کتابیں علمی رنگ میں لکھی گئیں ان میں نہایت تحقیق اور تدقیق سے کام لیا جاتا ہے۔ لہٰذا یہ نسخہ مرہم عیسیٰ اصل حقیقت کے دریافت کرنے کے لئے نہایت اعلیٰ درجہ کا ذریعہ ہے۔ اور اس سے پتہ لگتاہے کہ یہ خیالات کہ گویا حضرت عیسیٰ آسمان پر چلے گئے تھے کیسے اور کِس پایہ کے ہیں۔ اور خود ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ کے جسم کو آسمان پر اُٹھانے کے لئے کوئی بھی ضرورت نہیں تھی۔ خدا تعالیٰ حکیم ہے عبث کام کبھی نہیں کرتا۔ جبکہ اُس نے ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو غار ثور میں
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 353
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 353
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/353/mode/1up
    صرف دو تین میل کے فاصلے پر مکّہ سے چھپا دیا اور سب ڈھونڈنے والے ناکام اور نامراد
    واپس کئے تو کیا وہ حضرت مسیح کو کسی پہاڑ کی غار میں چھپا نہیں سکتا تھا اور بجزدوسرے آسمان پر پہنچانے کے یہودیوں کی ہمّت اور تلاش پر اس کو دل میں کھڑکا تھا؟
    ماسوا اس کے کسی آیت یا حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قرآن شریف یا حدیث میں کہیں اور کسی مقام میں حضرت عیسیٰ کی نسبت صَعُوْد کا لفظ بھی لکھا ہے۔ * ہاں رفع کا لفظ ہے جو توفّی کے لفظ کے بعد آیا ہے اور ہمیں قرآن اور حدیث کے بہت سے مقامات سے معلوم ہوا ہے کہ توفّی کے بعد مومنوں کا رفع ہوتا ہے۔ یعنی مومن کی رُوح جسم کی مفارقت کے بعد رُوحانی طور پر خدا تعالیٰ کی طرف بُلائی جاتی ہے جیسا کہ آیت 3 ۱؂سے ظاہر ہے۔ اور اگرچہ تمام انبیاء اور رسول اور صدّیق اور اولیاء اور تمام مومنین مرنے کے بعد رُوحانی طور پر خدا تعالیٰ کی طرف ہی اُٹھائے جاتے اور رفع کے مرتبہ سے عزت دئیے جاتے ہیں مگر قرآن شریف میں حضرت عیسیٰؔ علیہ السلام کے رفع کا خصوصیت کے ساتھ اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ یہودی لو گ آپ کے رفع روحانی سے سخت منکر تھے اور
    اب تک منکر ہیں۔ اور اُن کی حجت یہ ہے کہ یسوع یعنی عیسیٰ علیہ السلام صلیب دیئے گئے ہیں اور توریت میں لکھا ہے کہ جو شخص صلیب دیا جائے اُس کا رفع روحانی نہیں ہوتا۔ یعنی اس کی روح خدا تعالیٰ کی طرف جو مقام راحت ہے اٹھائی نہیں جاتی بلکہ ملعون ٹھہرا کر نیچے کی طرف پھینکی جاتی ہے۔ اور اﷲ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ یہودیوں کے اِس اعتراض کو دور کرے اور حضرت مسیح کے رفع روحانی پر گواہی دے۔ سو اِسی گواہی کی غرض سے اﷲ تعالیٰ نے
    * حدیث صحیح میں حضرت عیسیٰ کی عمر ایک سوبیس برس مقرر کر دی گئی ہے۔ حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ اس عالم کو چھوڑ کر عالمِ اموات میں گئے اور اب تک ان لوگوں میں رہتے ہیں جو فوت ہو چکے ہیں۔ نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں نہ سوتے ہیں اور نہ کوئی اور خاصہ اس دنیا کی زندگی کا اُن میں موجود ہے۔ یحییٰ نبی جو فوت ہو کر دوسرے عالم میں گیا ہے وہ بھی ان کے ساتھ ہی ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 354
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 354
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/354/mode/1up
    فرمایا 3 ۱؂ *یعنی اے عیسیٰ میں تجھے وفات دوں گااور وفات کے بعد تجھے اپنی طرف اُٹھاؤں گا اور تجھے اُن الزاموں سے پاک کروں گا جو تیرے پر اُن لوگوں نے لگائے جنہوں نے تیری راستبازی کو قبول نہ کیا۔ اب ظاہر ہے کہ اس جگہ رفع جسمانی کی کوئی بحث نہ تھی۔ اور یہودیوں کے عقیدہ میں یہ ہرگز داخل نہیں کہ جس کا رفع جسمانی نہ ہو وہ نبی یا مومن نہیں ہوتا۔ پس اس بے ہودہ قصّے کے چھیڑنے کی کیا حاجت تھی۔ خدا تعالیٰ کا کلام لغو سے پاک ہے۔ وہ تو اُن مقدمات کا فیصلہ کرتا ہے جن کا فیصلہ کرنا ضروری ہے۔ یہود نالائق نعوذ باﷲ حضرت مسیح کو کافر اور کاذب اور مفتری ٹھہراتے تھے اور کہتے تھے کہ موسیٰ اور تمام راستبازوں کی طرح اُن کو رُوحانی رفع نصیب نہیں
    ہوا اور کسی حد تک نصاریٰ بھی اُن کی ہاں میں ہاں ملانے لگے تھے۔ سو خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا کہ یہ دونوں فریق جھوٹے ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام بے شک مرنے کے بعد خداتعالیٰ کی طرف اٹھائے گئے ہیں جیسا کہ اور را ستباز اٹھائے گئے۔ یہ بعینہٖ ایسا ہی فیصلہ ہے جیسا کہ حدیثوں میں آیا ہے کہ عیسیٰ اور اُس کی ماں مس شیطان سے پاک ہیں۔ جاہل مولویوں نے اِس کے یہ معنے
    * مخالفین کی حالت پر رونا آتا ہے وہ نہیں سوچتے کہ اگر اس آیت 3سے ایک پاک موت کا بیان کرنا غرض نہیں تھا اور بجائے ملعون ہونے کے روحانی رفع کا بیان کرنا مقصود نہیں تھا تو اس قصّے کو بیان کرنے کی کونسی ضرورت تھی۔ اور جسمانی رفع کے لئے کونسی دینی ضرورت پیش آئی تھی۔ افسوس صاف اور سیدھی بات کو ناحق بگاڑتے ہیں۔ بات تو صرف اتنی تھی کہ یہودی حضرت عیسیٰ کو ملعون ٹھہرا کر اُن کے رفع روحانی سے منکر ہو گئے تھے۔ اب 3سے اس بات کا ظاہر کرنا مقصود تھا کہ حضرت عیسیٰ ملعون نہیں ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف اُن کا رفع ہو گیا۔ اور توفّی کے لفظ سے جس کے معنے صحیح بخاری میں مارنا کیا گیا حضرت عیسیٰ کی موت ثابت ہو گئی۔ علاوہ اس کیخَلَتْ کا لفظ جہاں جہاں قرآن شریف میں انسانوں کے لئے استعمال ہوا ہے موت کے معنوں پر استعمال ہوا ہے۔ لہٰذا آیت 3۲؂ سے بھی حضرت عیسےٰ کی موت ہی ثابت ہوئی۔ اِس قدر دلائل موت اور پھر انکار۔ہائے افسوس یہ کیا ہیں اطوار۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 355
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 355
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/355/mode/1up
    کر لئے کہ بجز حضرت عیسیٰ اور اُن کی ماں کے اَور کوئی نبی ہو یا رسول ہو مسِ شیطان سے پاک نہیں یعنی معصوم نہیں اور آیت 3 ۱؂ کو بھول گئے اور نیز آیت 3 ۲؂ کو پس پُشت ڈال دیا۔ اور بات صرف اتنی تھی کہ اس حدیث میںؔ بھی یہودیوں کاذبّ اور دفع اعتراض منظور تھا۔ چونکہ وہ لوگ طرح طرح کے ناگفتنی بہتان حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ پر لگاتے تھے اس لئے خدا کے پاک رسول نے گواہی دی کہ یہودیوں میں سے مسِ شیطان سے کوئی پاک نہ تھا اگر پاک تھے تو صرف حضرت عیسیٰ اور اُن کی والدہ تھی۔ نعوذ باﷲ اس حدیث کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ ایک حضرت عیسیٰ اور اُن کی والدہ ہی معصوم ہیں اور اُن کے سوا کوئی نبی ہو یا رسول ہو مسِ شیطان سے معصوم نہیں ہے۔
    ہمارے بعض نادان علماء کی جیسی یہ غلطی ہے ویسی ہی یہ غلطی بھی ہے کہ وہ رفع سے مراد جسمانی رفع سمجھ بیٹھے ہیں۔ حالانکہ جسمانی رفع کے بارے میں کوئی بحث نہ تھی اور نہ یہ مسئلہ مُہتمّ بالشان ہو سکتا ہے۔ کیونکہ دنیا کے کسی مذہب کے نزدیک جسمانی رفع شرطِ نجات نہیں ہے مگر رُوحانی رفع شرطِ نجات ہے اور یہودیوں کی یہ کوشش تھی کہ جو امر توریت کے رُو سے شرط نجات ہے وہ حضرت عیسیٰ کی ذات سے مسلوب ثابت کر دیا جائے یعنی یہ ثابت کیا جائے کہ وہ امر اُن میں نہیں پایاجاتا۔ اِسی غرض سے انہوں نے اپنی دانست میں صلیب دی تھی۔ اور صلیب کا نتیجہ جو توریت میں بیان کیا گیا ہے وہ یہ نہیں ہے کہ جو شخص مصلوب ہو وہ مع جسم عنصری آسمان پر نہیں جاتا بلکہ یہ ہے کہ راستبازوں کی طرح اُس کی رُوح خدا کی طرف اُٹھائی نہیں جاتی۔ یہودی اب تک زندہ موجود ہیں اگر کسی کو تحقیقِ حق منظور ہوتی تو اُن سے پوچھتا کہ تم نے صلیب دینے سے کیا نتیجہ نکالا؟ کیایہ کہ حضرت عیسیٰ بوجہ صلیب جسمانی طور پر آسمان پر جانے سے روکے گئے اور یا یہ کہ وہ صلیب پانے سے روحانی رفع الی اﷲ سے ناکام رہے؟ کیا اس بات کا تصفیہ کچھ مشکل تھا؟ مگر اِس پُرآشوب زمانے میں لاکھوں میں سے کوئی ایسا انسان ہو گا جس کے دل کو یہ بے قراری ہو گی کہ وہ حق کی تلاش کرے۔ خدا تعالیٰ کا یہ ہم بندوں پر احسان ہے کہ وہ سچائی کو
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 356
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 356
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/356/mode/1up
    ہر ایک پہلو سے ظاہر کر دیتا ہے اور بعض دلائل کو بعض کے گواہ بنا دیتا ہے۔ اور نہیں چھوڑتا جب تک کہ خبیث کو طیّب سے اور طیّب کو خبیث سے الگ کر کے نہ دکھلاوے۔ سو اسی کی حمایت سے یہ ایک کرشمۂ قدرت ہے کہ مرہم عیسیٰ کا نسخہ تمام کتابوؔ ں میں نکل آیا ۔ اور ثابت ہو گیا کہ دنیا کے قریبًا تمام طبیب مرہم عیسیٰ کا نسخہ اپنی کتابوں میں لکھتے آئے ہیں اوریہ بھی تحریر کرتے آئے ہیں کہ یہ مرہم جو چوٹوں اور زخموں کے لئے نہایت درجہ فائدہ مندہے یہ حضرت عیسیٰ کے لئے بنائی گئی تھی۔ طبیبوں کی یہ تحقیقات ایک ایسے درجہ کی تحقیقات ہے جس سے تمام اسرارِ الٰہی منکشف ہو جاتے ہیں اور اصل حقیقت کھلتی ہے اور صاف طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کے سوانح میں اصل بات صرف اس قدر تھی کہ وہ موافق وعدہ خدا تعالیٰ کے صلیبی قتل سے نجات دیئے گئے اور پھر اس مرہم کے ساتھ چالیس دن تک اُن کے زخموں کا علاج ہوتا رہا جیسا کہ انجیلوں سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس مقام میں جہاں صلیب پر چڑھائے گئے تھے واقعہ صلیب کے بعد چالیس دن تک پوشیدہ طور پر رہے۔ پھر جیسا کہ اُن کو حکم تھا ان ملکوں کی
    طرف تشریف لے گئے جہاں جہاں یہودی اپنے وطن سے متفرق ہو کر آباد تھے ۔ چنانچہ اِسی نیّت سے وہ کشمیر میں پہنچے اور کشمیر میں ایک سو بیس برس کی عمر میں وفات پائی اورشہر سری نگر محلہ خانیار میں اُن کا مزار ہے اور اس جگہ شہزادہ یُوز آسف نبی کرکے مشہور ہیں۔ اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ انیس سو برس اس نبی کے فوت ہونے پر گذر گئے ہیں۔ *
    *حال میں جو تبّت سے ایک انجیل کسی غار سے برآمد ہوئی ہے جس کو ایک روسی فاضل نے کمال جدوجہد سے چھپوا کر شائع کر دیا ہے جس کے شائع کرنے سے پادری صاحبان بہت ناراض پائے جاتے ہیں۔ یہ واقعہ بھی کشمیر کی قبر کے واقعہ پر ایک گواہ ہے۔ یہ انجیل پادریوں کی انجیلوں سے مضامین بہت مختلف اور موجودہ عقیدہ کے بہت برخلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں اس کو شائع ہونے سے روکا گیا ہے مگر ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ترجمہ کرکے اس کو شائع کر دیں۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 357
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 357
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/357/mode/1up
    غرض یہ مرہم عیسیٰ حضرت عیسیٰ کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے اور اس میں اب تک وہ تاثیر زخموں اور چوٹوں کے اچھا کرنے کی باقی ہے۔ اور یہ مرہم طاعون کو بہت فائدہ کرتی ہے اور طریق استعمال یہ ہے کہ ان مقامات پر اس کی مالش کی جائے جہاں اکثر طاعون کا دانہ نکلتا ہے۔ جیسا کہ کانوں کے آگے اور گردن کے نیچے اور بغلوں کے اندر اور کُنج ران۔ اور ماسوا اس کے جدوار کی سرکہ کے ساتھ گولیاں بنا کر چھ رتّی کے قریب ہر روز وہ گولیاں چھاچھ کے ساتھ کھایا کریں۔ اور سپرٹ کیمفراور کلورافارم اور وائنم اپیکاک باہم ملا کر جو بیس بیس قطرہ سے زیادہ نہ ہو۔ سات تولہ اس میں پانی ڈال دیں اور یاقوت رمّانی کی اس دوا کے ساتھ جس کا نام ہم نے تریاق الٰہی رکھا ہے تین وقت صبح دوپہر شام استعمال کریں۔ اور اگر تریاق الٰہی مل نہ سکے تو صرف ان عرقیات کوؔ طریق مذکورہ بالاکے ساتھ پی لینا اور جدوار کی گولیاں بھی کھاتے رہنا انشاء اﷲ فائدہ سے خالی نہ ہو گا۔ اور بچّے جن کی عمر دس بارہ سال تک ہے اُن کے لئے تین تین قطرے کافی ہے۔
    ہم ذیل میں ناظرین کی عام واقفیت کے لئے اپنا پہلا اشتہار جو ۶؍فروری ۱۸۹۸ ؁ء کو طاعون کے بارے میں شائع کیا گیا تھا دوبارہ درج کرتے ہیں تا معلوم ہو کہ کیونکر خدا تعالیٰ نے اپنے الہام کے ذریعہ سے پیش از وقت بعض اسرار ربوبیت ہم پر ظاہر فرمائے ہیں اور تا کسی آئندہ وقت میں یہ اشتہار موجبِ تقویتِ ایمان اور حق کے طالبوں کے لئے یقینِ کامل کا موجب ٹھہرے۔ اور وہ یہ ہے:۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 358
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 358
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/358/mode/1up
    نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ ط
    3۱؂
    طاعون
    اس مرض نے جس قدر بمبئی اور دوسرے شہروں اور دیہات پر حملے کئے اور کر رہی ہے ان کے لکھنے کی ضرورت نہیں۔ دو سال کے عرصے میں ہزاروں بچّے اس مرض سے یتیم ہو گئے اور ہزارہا گھر ویران ہو گئے۔ دوست اپنے دوستوں سے اور عزیزاپنے عزیزوں سے ہمیشہ کے لئے جُدا کئے گئے اور ابھی انتہا نہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ہماری گورنمنٹ محسنہ نے کمال ہمدردی سے تدبیریں کیں اور اپنی رعایا پر نظر شفقت کرکے لکھوکھہا روپیہ کا خرچ اپنے ذمہ ڈال لیا اور قواعدِ طبّیہ کے لحاظ سے جہاں تک ممکن تھا ہدایتیں شائع کیں۔ مگر اس مرض مہلک سے اب تک بکلی امن حاصل نہیں ہوا بلکہ بمبئی میں ترقی پر ہے اور کچھ شک نہیں کہ ملک پنجاب بھی خطرہ میں ہے۔ ہر ایک کو چاہئیے کہ اس وقت اپنی اپنی سمجھ اور بصیرت کے موافق نوع انسان کی ہمدردی میں مشغول ہو۔ کیونکہ وہ شخص انسان نہیں جس میں ہمدردی کا مادہ نہ ہو۔ اور یہ امر بھی نہایت ضروری ہے کہ گورنمنٹ کی تدبیروں اور ہدایتوں کو بدگمانی کی نظرسے نہ دیکھا جائے۔ غور سے معلوم ہو گا کہ اس بارے میں گورنمنٹ کی تمام ہدایتیں نہایت احسن تدبیر پر مبنی ہیں گو ممکن ہے کہ آئندہ اس سے بھی بہتر تدابیر پیدا ہوں۔ مگر ابھی نہ ہمارے ہاتھ میں نہ گورنمنٹ کے ہاتھ میں ڈاکٹری اصول کے لحاظ سے کوئی ایسی تدبیر ہے کہ جو شائع کردہ تدابیر سے عمدہ اور بہتر ہو۔ بعض اخبار والوں نے گورنمنٹ کی تدابیر پر بہت کچھ جرح کیا مگر سوال تو یہ ہے کہ اِن تدابیر سے بہتر کونسی تدبیر پیش کی۔ بیشک
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 359
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 359
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/359/mode/1up
    اِس ملک کے شرفاء اور پردہ داروں پر یہ امر بہت کچھ گراں ہو گا کہ جس گھر میں بلاء طاعون نازل ہو تو گو ایسا مریض کوئی پردہ دار جوان عورت ہی ہو تب بھی فی الفور وہ گھر والوں سے الگ کرکے ایک علیحدہ ہوادار مکان میں رکھا جائے جو اس شہر یا گاؤں کے بیماروں کے لئے گورنمنٹ کی طرف سے مقرر ہو۔ اور اگرؔ کوئی بچہ بھی ہو تو اُس سے بھی یہی معاملہ کیا جائے اور باقی گھر والے بھی کسی ہو ادار میدان میں چھپّروں میں رکھے جائیں۔ لیکن گورنمنٹ نے یہ ہدایت بھی تو شائع کی ہے کہ اگر اس بیمار کے تعہد کے لئے ایک دو قریبی اس کے اُسی مکان میں رہنا چاہیں تو وہ رہ سکتے ہیں۔ پس اِس سے زیادہ گورنمنٹ اور کیا تدبیر کر سکتی تھی کہ چند آدمیوں کو ساتھ رہنے کی اجازت بھی دے دے اور اگر یہ شکایت ہو کہ کیوں اُس گھر سے نکالا جاتا ہے اور باہر جنگل میں رکھا جاتا ہے تو یہ ایک احمقانہ شکوہ ہے ۔ میں یقیناًاس بات کو سمجھتا ہوں کہ اگر گورنمنٹ ایسے خطرناک امراض میں مداخلت بھی نہ کرے تو خود ہر ایک انسان کا اپنا وہم وہی کام اس سے کرائے گا جس کام کو گورنمنٹ نے اپنے ذمّہ لیا ہے۔ مثلاً ایک گھر میں جب طاعون سے مرنا شروع ہو تو دو تین موتوں کے بعد گھر والوں کو ضرور فکر پڑے گا کہ اس منحوس گھر سے جلد نکلنا چاہئیے۔ اور پھر فرض کرو کہ وہ اُس گھر سے نکل کر محلہ کے کسی اور گھر میں آبادہوں گے اور پھراس میں بھی یہی آفت دیکھیں گے تب ناچار اُن کو اُس شہر سے علیحدہ ہونا پڑے گا۔ مگر یہ تو شرعًا بھی منع ہے کہ وباء کے شہر کا آدمی کسی دوسرے شہر میں جا کر آباد ہو۔
    یا بہ تبدیل الفاظ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ خدا کا قانون بھی کسی دوسرے شہر میں جانے سے روکتا ہے۔ تو اس صورت میں بجز اس تدبیر کے جو گورنمنٹ نے پیش کی ہے کہ اُسی شہر کے کسی میدان میں وہ لوگ رکھے جائیں اور کونسی نئی اور عمدہ تدبیر ہے جو ہم نعوذ باﷲ اس خوفناک وقت میں اپنی آزادگی کی حالت میں اختیار کر سکتے ہیں۔ پس نہایت افسوس ہے کہ نیکی کے عوض بدی کی جاتی ہے اور ناحق گورنمنٹ کی ہدایتوں کو بدگمانی سے دیکھا جاتا ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 360
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 360
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/360/mode/1up
    ہاں یہ ہم کہتے ہیں کہ ایسے وقت میں ڈاکٹروں اور دوسرے افسروں کو جو اِن خدمات پر مقرر ہوں نہایت درجہ کے اخلاق سے کام لینا چاہئیے اور ایسی حکمتِ عملی ہو کہ پردہ داری وغیرہ امور کے بارے میں کوئی شکایت بھی نہ ہو اور ہدایتوں پر عمل بھی ہو جائے۔ اور مناسب ہو گا کہ بجائے اس کے کہ حکومت اور رُعب سے کام لیا جائے ہدایتوں کے فوائد دلوں میں جمائے جائیں تا بدگمانیاں پیدا نہ ہوں اور مناسب ہے کہ بعض خوش اخلاق ڈاکٹر واعظوں کی طرح مرض پھیلنے سے پہلے دیہات اور شہروں کا دورہ کرکے گورنمنٹ کے مشفقانہ منشاء کو دلوں میں جما دیں تا اس نازک امر میں کوئی فتنہ پیدا نہ ہو۔
    واضح رہے کہ اِس مرض کی اصل حقیقت ابھی تک کامل طور پر معلوم نہیں ہوئی اس لئے اس کی تدابیر اور معالجات میں بھی اب تک کوئی کامیابی معلوم نہیں ہوئی۔ مجھے ایک روحانی طریق سے معلوم ہوا ہے کہ اِس مرض اور مرض خارش کا مادہ ایک ہی ہے ۔اور میں گمان کرتاہوں کہ غالباً یہ بات صحیح ہو گی کیونکہ مرض جَرب یعنی خارش میں ایسی دوائیں مفید پڑتی ہیں جن میں کچھ پارہ کا جزو ہو یا گندھک کی آمیزش ہو۔ اورخیال کیا جاتا ہے کہ اس قسم کی دوائیں اس مرض کے لئے بھی مفید ہو سکیں۔ اور جبکہ دونوں مرضوں کا مادہ ایک ہے تو کچھ تعجب نہیں کہ خارش کے پیدا ہونے سے اِس مرض میں کمی پیدا ہو جائے۔ یہ رُوحانی قواعد کا ایک راز ہے جس سے میں نے فائدہ اٹھایاہے۔ اگر تجربہ کرنے والے اِس امر کی طرف توجہ کریں اور ٹیکا لگانے والوں کی طرح بطور حفظِ ماتقدم ایسے ملک کے لوگوں میں جو خطرۂ طاعون میں ہوں خارش کا مرض پھیلا ویں تو میرے گمان میں ہے کہ وہ مادہ اس راہ سے تحلیل پا جائے اور طاعون سے امن رہے۔ مگر حکومت اور ڈاکٹروں کی توجہ بھی خدا تعالیٰ کے ارادے پر موقوف ہے۔ میںؔ نے محض ہمدردی کی راہ سے اس امر کو لکھ دیا ہے کیونکہ میرے دل میں یہ خیال ایسے زورکے ساتھ پیدا ہوا جس کو میں روک نہیں سکا۔
    اور ایک ضروری امر ہے جس کے لکھنے پر میرے جوش ہمدردی نے مجھے آمادہ کیا ہے۔ اور
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 361
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 361
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/361/mode/1up
    میں خوب جانتاہوں کہ جو لوگ رُوحانیت سے بے بہرہ ہیں اُس کو ہنسی اور ٹھٹھے سے دیکھیں گے۔ مگر میرا فرض ہے کہ میں اس کو نوع انسان کی ہمدردی کے لئے ظاہر کروں اور وہ یہ ہے کہ آج جو چھ ۶ فروری ۱۸۹۸ ؁ء روز یکشنبہ ہے میں نے خواب میں دیکھا کہ خدا تعالیٰ کے ملائک پنجاب کے مختلف مقامات میں سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں اور وہ درخت نہایت بد شکل اور سیاہ رنگ اور خوفناک اور چھوٹے قد کے ہیں۔ میں نے بعض لگانے والوں سے پوچھا کہ یہ کیسے درخت ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ’’یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے۔‘‘ میرے پر یہ امر مشتبہ رہا کہ اُس نے یہ کہا کہ آئندہ جاڑے میں یہ مرض بہت پھیلے گا یایہ کہا کہ اس کے بعد کے جاڑے میں پھیلے گا لیکن نہایت خوفناک نمونہ تھا جو میں نے دیکھا۔ اور مجھے اس سے پہلے طاعون کے بارے میں الہام بھی ہوا اور وہ یہ ہے ۔ انّ اﷲ لایغیّر مابقومٍ حتّٰی یغیّروا ما بانفسھم۔ انّہ اوی القریۃ*۔یعنی جب تک دلوں کی وباء معصیت دُور نہ ہو تب تک ظاہری وبا بھی دُور نہیں ہو گی اور درحقیقت دیکھا جاتا ہے کہ ملک میں بدکاری کثرت سے پھیل گئی ہے اور خدا تعالیٰ کی محبت ٹھنڈی ہو کر ہوا و ہوس کا ایک طوفان برپا ہو رہا ہے۔ اکثر دلوں سے اﷲ جلّ شانہٗ کا خوف اُٹھ گیا ہے اور وباؤں کو ایک معمولی تکلیف سمجھا گیا ہے جو انسانی تدبیروں سے دُور ہو سکتی ہے۔ ہر ایک قسم کے گناہ بڑی دلیری سے ہو رہے ہیں۔ اور قوموں کا ہم ذکر نہیں کرتے وہ لوگ جو مسلما ن کہلاتے ہیں ان میں سے جو غریب اور مفلس ہیں اکثر اُن میں سے چوری اور خیانت اور حرام خوری میں نہایت دلیر پائے جاتے ہیں۔ جھوٹ بہت بولتے ہیں اور کئی قسم کے خسیس اور مکروہ حرکات اُن سے سرزد ہوتے ہیں اور وحشیوں کی طرح
    *یہ فقرہ کہ انّہ اوی القریۃ۔ اب تک اس کے معنے میرے پر نہیں کھلے اور رؤیا عام وباء پر دلالت کرتی ہے۔ مگر بطور تقدیر معلّق ۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 362
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 362
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/362/mode/1up
    زندگی بسر کرتے ہیں۔ نماز کاتو ذکر کیا کئی کئی دنوں تک مُنہ بھی نہیں دھوتے اور کپڑے بھی صاف نہیں کرتے۔ اور جو لوگ امیر اور رئیس اور نواب یا بڑے بڑے تاجر اور زمیندار اور ٹھیکہ دار اور دولت مند ہیں وہ اکثر عیاشیوں میں مشغول ہیں اور شراب خوری اور زناکاری اور بداخلاقی اور فضول خرچی ان کی عادت ہے اور صرف نام کے مسلمان ہیں اور دینی امور میں اور دین کی ہمدردی میں سخت لاپروا ہ پائے جاتے ہیں۔
    اب چونکہ اس الہام سے جو ابھی میں نے لکھا ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تقدیر معلّق ہے اور توبہ اور استغفار اور نیک عملوں اور ترکِ معصیت اور صدقات اور خیرات اور پاک تبدیلی سے دور ہو سکتی ہے لہذا تمام بندگانِ خدا کو اطلاع دی جاتی ہے کہ سچے دل سے نیک چلنی اختیار کریں اور بھلائی میں مشغول ہوں اور ظلم اور بد کاری کے تمام طریقوں کو چھوڑ دیں۔ مسلمانوں کو چاہئیے کہ سچے دل سے خدا تعالیٰ کے احکام بجا لاویں۔ نماز کےؔ پابند ہوں۔ ہر فسق و فجور سے پرہیز کریں۔ توبہ کریں اور نیک بختی اور خدا ترسی اور اﷲ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہوں۔ غریبوں اور ہمسایوں اور یتیموں اور بیواؤں اور مسافروں اوردرماندوں کے ساتھ نیک سلوک کریں اور صدقہ اور خیرات دیں اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھیں اور نماز میں اس بلا سے محفوظ رہنے کے لئے رو رو کر دعا کریں۔ پچھلی رات اُٹھیں اور نماز میں دعائیں کریں۔ غرض ہر ایک قسم کے نیک کام بجالائیں اور ہر قسم کے ظلم سے بچیں اور اُس خدا سے ڈریں کہ جو اپنے غضب سے ایک دَم میں ہی دنیا کو ہلاک کر سکتا ہے۔ میں ابھی لکھ چکا ہوں کہ یہ تقدیر ایسی ہے کہ جو دُعا اور صدقات اور خیرات اور اعمالِ صالحہ اور توبہ نصوح سے ٹل سکتی ہے۔ اس لئے میری ہمدردی نے تقاضا کیا کہ میں عام لوگوں کو اس سے اطلاع دوں۔ یہ بھی مناسب ہے کہ جو کچھ اس بارے میں گورنمنٹ کی طرف سے ہدایتیں شائع ہوئی ہیں خواہ نخواہ اُن کو بدظنّی سے نہ دیکھیں بلکہ گورنمنٹ کو اس کاروبار میں مدد دیں اور ا س کے شکر گذار ہوں کیونکہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 363
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 363
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/363/mode/1up
    سچ یہی ہے کہ یہ تمام ہدایتیں محض رعایاکے فائدے کے لئے تجویز ہوئی ہیں اور ایک قسم کی مدد بھی ہے کہ نیک چلنی اور نیک بختی اختیار کرکے اس بلا کے دُور کرنے کے لئے خدا تعالیٰ سے دُعائیں کریں تا یہ بلا رُک جائے یا اس حد تک نہ پہنچے کہ اس ملک کو فنا کر دیوے۔ یاد رکھو کہ سخت خطرہ کے دن ہیں اور بلا دروازے پر ہے۔ نیکی اختیار کرو۔ اور نیک کام بجا لاؤ۔ خداتعالیٰ بہت حلیم ہے۔ لیکن اس کا غضب بھی کھا جانے والی آگ ہے اور نیک کو خدا تعالیٰ ضائع نہیں کرتا۔ 33 ۔۱؂
    بتر سید از خدائے بے نیاز و سخت قہارے
    نہ پندارم کہ بد بیند خدا ترسے نکو کارے
    مراباورنہ می آید کہ رُسوا گردد آں مردے
    کہ می ترسد ازاں یارے کہ غفّار ست و ستّارے
    گر آں چیزے کہ می بینم عزیزاں نیز دیدندے
    ز دنیا توبہ کردندے بچشم زار و خونبارے
    خور تاباں سیہ گشت است از بدکارئ مردم
    زمیں طاعوں ہمی آردپئے تخویف وانذارے
    بہ تشویش قیامت ماند ایں تشویش گر بینی
    علاجے نیست بہرِ دفع آں جُز حُسن کردارے
    نشاید تافتن سرزاں جنابِ عزّت و غیر ت
    کہ گر خواہد کشدد ریکد مے چوں کرم بیکارے
    مَن از ہمدردی ات گفتم تو خود ہم فکر کن بارے
    خرد از بہر ایں روز است اے دانا و ہشیارے
    تاریخ طبع اشتہا ر ھٰذا ۶ ؍ فروری ۱۸۹۸ ؁ء
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 364
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 364
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/364/mode/1up
    قابلؔ توجہ گورنمنٹ
    چشم بد اندیش کہ بر کندہ باد
    عیب نماید ہنرش در نظر
    یہ بات ظاہر ہے کہ جب ایک شخص دشمنی میں انتہا تک پہنچ جاتا ہے تو اس کو اچھی بات بھی بُری معلوم ہوتی ہے اور اپنے دشمن کے ہنر کو عیب کے رنگ میں دیکھتا ہے اور اس کی انصاف پسندی کو ظلم سے بدتر جانتا ہے اِسی طرح ہمارے بعض مخالفوں کا حال ہے کہ وہ ہماری دشمنی کے جوش میں جب دیکھتے ہیں کہ ہم گورنمنٹ برطانیہ کی اطاعت کے لئے لوگوں کو رغبت دلاتے ہیں تو وہ خواہ نخواہ مخالفت کرکے گورنمنٹ عالیہ کے حقوق کو بھی جو شرعًاو انصافًا واجب الرعایت ہیں بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔ چنانچہ حال میں ایک لاہوری شخص نے جس کی عادت گندے اور ناپاک اشتہار جاری کرنا اور محض جھوٹ کی راہ سے ہم پر افترا کرنا ہے جو اپنے تئیں جعفر زٹلی کے نام سے مشہور کرتاہے اپنے اشتہار مرقوم یکم جون ۱۸۹۸ ؁ء میں علاوہ اور بدزبانی اور بدگوئی اور بہتان کے جس کے جواب دینے کی حاجت نہیں ایک یہ الزام بھی لگایا ہے کہ گویا ہم نے محض دروغگوئی کے طور پر گورنمنٹ انگریزی کی تعریف میں وہ خوشامد کے الفاظ استعمال کئے ہیں جن کے وہ لائق نہیں ہے اور اُس کی موجودگی کو خدا تعالیٰ کی ایک بڑی بھاری نعمت مانا ہے اور رومی سلطنت کی توہین کی ہے۔
    اِس کا جواب ہماری طرف سے یہ ہے کہ ہم نے گورنمنٹ برطانیہ کی کوئی خوشامد نہیں کی صرف وہ الفاظ استعمال کئے ہیں جن کا استعمال کرنا حق اور واجب تھا۔ ہمارا یہ مذہب نہیں کہ دل میں کچھ ہو اور زبان پر کچھ۔ کیونکہ یہ منافقوں کا طریق اور بے ایمانوں کا کام ہے بلکہ واقعی طور پر قدیم سے ہمارا یہ اصول اور عقیدہ ہے کہ اس گورنمنٹ کا وجود فی الحقیقت
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 365
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 365
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/365/mode/1up
    ہمارے لئے سراسر رحمتِ الٰہی ہے کیونکہ بہت سے دینی اور دنیوی مشکلات سے اِسی گورنمنٹ کے ذریعہ سے ہم نے نجات پائی اس گورنمنٹ کے آنے سے ہماری مصیبتیں راحتوں کے ساتھ بدلؔ گئیں اور ہمارے دُکھ آرام کے ساتھ متبدل ہو گئے اور ہماری اسیری کی حالت آزادی کی طرف منتقل ہو گئی۔ ہم اس گورنمنٹ مُحسنہ کے زمانہ میں امن کے ساتھ زندگی بسر کرنے لگے اور ہمیں دینی ترقی کی نسبت بھی اس گورنمنٹ سے وہ فوائد حاصل ہوئے کہ ہم اپنے فرائض آزادی سے ادا کرنے لگے اور جو دینی کتابیں ہمارے باپ دادوں کی نظر سے پوشیدہ رہتی تھیں وہ ہم نے دیکھیں۔ ہمیں اِس گورنمنٹ کے وقت میں کوئی روکتا نہیں کہ ہم پادریوں کا جواب دیں۔ مگر سکّھوں کے وقت میں قطع نظر اس سے کہ سکھ مذہب پر حملہ کرنے کے لئے ہمیں اجازت ہوتی ہم اپنے دین کے شعارظاہر کرنے سے بھی روکے گئے تھے۔ نماز جو سب سے پہلا مسلمان کے لئے حکم ہے اُس میں بھی ہمیں یہ مصیبتیں پیش آتی تھیں کہ ہمارے اس ملک کے مسلمانوں کی مجال نہ تھی کہ اپنی مساجد میں پوری آزادی سے بانگ نماز دیں حالانکہ بانگ دینے میں سکھوں کا کچھ بھی حرج نہ تھا مضمون بانگ تو یہی تھا کہ خدا واحد لاشریک ہے اُس کی عبادت کی طرف دوڑو تا نجات حاصل کرو۔ مگر سکھوں پر اس قدر اسلامی اعلان بھی گراں تھا۔اور اب ہم انگریزی عہد میں یہاں تک دینی امور میں آزادی دیئے گئے ہیں کہ جس طرح پادری صاحبان اپنے مذہب کے لئے دعوت کرتے اور رسائل شائع کرتے ہیں یہی حق ہمیں حاصل ہے کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ جیسا کہ اب ہم عیسائی مذہب کا کمال آزادی سے ردّ لکھتے اور شائع کرتے ہیں ایسا اختیار کبھی سکھوں کے وقت میں بھی ہمیں ہوا تھا کہ ہم اُن کے مذہب پر کچھ لکھ سکتے؟ بلکہ اپنے فرائض ادا کرنے بھی محال ہو گئے تھے۔
    اب انصافاً کہو کہ سلطنت انگریزی ہمارے لئے خدا تعالیٰ کی بزرگ نعمت ہے یا نہیں جس کے آنے سے ہم اپنی دعوت پر ایسے قادر ہو گئے کہ سلطان روم کے ملک میں بھی ایسے قادر نہیں ہو سکتے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے 3 ۱؂یعنی ہر ایک نعمت جو
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 366
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 366
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/366/mode/1up
    خدا سے تجھے پہنچے اُس کا ذکر لوگوں کے پاس کر۔ سو ہمیں اس گورنمنٹ کا شکرکرنا واجب ہے کیونکہ ہم اس گورنمنٹ سے پہلے ایک لوہے کے تنور میں تھے۔ اگر یہ گورنمنٹ ہمارے ملک میں قدم نہ رکھتی تو شاید اب تک تمام مسلمان سکھوں کی طرح ہو جاتے۔جو شخص ؔ ان تمام اُمور پر غور کرے گا کہ سکھوں کے عہد میں اسلام اور اسلامی شعار کے کہاں تک حالات پہنچ گئے تھے اور کس طرح دن بدن جہالت کا کیڑ ا کھاتا جاتا تھا وہ بے شک گواہی دے گا کہ انگریزوں کا اس ملک میں آنا مسلمانوں کے لئے درحقیقت ایک نہایت بزرگ نعمتِ الٰہی ہے۔ پس جبکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک نعمت ہے تو پھر جو شخص خدا تعالیٰ کی نعمت کو بے عزتی کی نظر سے دیکھے وہ بلاشبہ بدذات اور بد کردار ہو گا۔ کیا حدیث صحیح میں نہیں ہے کہ جو شخص انسان کا شکرنہیں کرتا وہ خدا تعالیٰ کا شکر بھی نہیں کرتا؟ افسوس کہ اس اشتہارکے لکھنے والے نے نہایت جلے ہوئے دل سے بیان کیا ہے کہ کیوں انگریزوں کی سلطنت کی تعریف کی گئی اور کیوں رومی سلطنت کی شکر گذاری نہیں کی گئی۔اس کا یہی جواب ہے کہ اگرچہ رومی سلطنت بباعث اسلامی سلطنت ہونے کے تعظیم کے لائق ہے لیکن جس قدر اس سلطنت انگریزی کے ہم پراحسان ہیں رومی سلطنت کے ہرگز نہیں ہیں۔ یہ نیکی اسی سلطنت کے ہاتھ سے ہماری نسبت مقدر تھی کہ ہمیں اُس نے ایسی حالت میں پاکر کہ ہمارے مذہب کی آزادی بالکل چھن گئی تھی اور جوواجب الادا شعارِ اسلام تھے اُن سے ہم روکے گئے تھے اور قریب قریب وحشیوں کے ہماری حالت پہنچ گئی تھی اور علم اُٹھ گیا تھا اور جہالت بڑھ گئی تھی۔ ایسے وقت میں خدا تعالیٰ اس گورنمنٹ کو دُور سے لایا اور اس کا آنا ہمارے لئے ایسا ہوا کہ ہم یکدفعہ تاریکی سے روشنی میں آ گئے اور قید سے آزادی میں داخل ہوئے اورنبوت کے زمانہ کی طرح اس ملک میں دعوتِ اسلام ہونے لگی اور ہمارے خدانے بھی جس کی نظر کے سامنے ہر ایک سلطنت ہے جو اپنے قدیم وعدے کے پورا کرنے کے لئے اسی سلطنت کو موزوں دیکھااور درحقیقت اس گورنمنٹ سے اِس قدر ہمیں فوائد پہنچے جن کو ہم گن نہیں سکتے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 367
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 367
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/367/mode/1up
    تو پھر بڑی بد ذاتی ہو گی کہ ہم دل میں یہ چُھپا ہوا عقیدہ رکھیں کہ گورنمنٹ کے ہم دشمن ہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ 3 ۱؂ یعنی نیکی کرنے کی پاداش نیکی ہے۔ اگر ہم صرف مسلمان نیکی کرنے والے سے نیکی کریں اور غیر مذہب والوں سے نیکی نہ کریں تو ہم خدا تعالیٰ کی تعلیم کو چھوڑتے ہیں کیونکہ اُس نے نیکی کیؔ پاداش میں کسی مذہب کی قید نہیں لگائی بلکہ صاف فرمایا ہے کہ اُس شریر پر خدا راضی نہیں کہ جو نیکی کرنے والوں سے بدی کرتا ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ میں نے سلطانِ روم کی ذاتیات پر کوئی حملہ نہیں کیا اور نہ میں سلطان کے اندرونی حالات سے کچھ واقف ہوں۔ ہاں میں صرف اتنا کہتا ہوں اور کہوں گا کہ دعوتِ دین کے متعلق جس قدر ہم آزادی سے انگریزی سلطنت میں کام کر سکتے ہیں وہ مکّہ اور مدینہ میں بیٹھ کر بھی نہیں کر سکتے نہ وہاں کر سکتے ہیں جہاں سلطان کا پایہ تخت ہے۔ اور ماسوا اِس کے سلطان کی نسبت میں نے کچھ ذکر نہیں کیا میں نے تو صرف اُس سفیرِ روم کے بارے میں لکھا تھا جو قادیاں میں میرے پاس آیا تھا۔ اُس کے حالات کی تصریح سے مجھے خود شرم آتی ہے کہ وہ قسطنطنیہ دارالاسلام کا نمونہ تھا۔ افسوس میں نے اس کو نماز کا پابندبھی نہ پایا اور وہ مجھے ایسا بد نمونہ دکھاگیا جس سے مجھے اس کے دوسرے امثال کی نسبت بھی شُبہ پیدا ہوا۔ غرض سلطان کا اسلامی ممالک کا بادشاہ ہونا یہ امر دیگر ہے اور انگریزوں کے احسان کا شکر ہم پر واجب ہونا یہ اور بات ہے۔ خدا نے انگریزوں کے ہاتھ سے بہت سے غموں سے ہمیں نجات دی اور ہمیں انگریزوں کی سلطنت میں دعوتِ اسلام کا موقعہ دیا۔ سو یہ احسان جو انگریزوں کی ذات سے ہم پر ہوا اس کا سلطان ہرگز مستحق نہیں ہے۔ احسان فراموش خدا کے نزدیک گناہ گار ہوتا ہے۔ سلطان روم اُس وقت کہاں تھا جبکہ ہم سکھوں کے عہد میں ذرہ ذرہ سی بات میں کچلے جاتے تھے اور بلند آواز سے بانگ نماز دینا سخت جرم سمجھاجاتا تھا اور ایسے شخص کو کم سے کم ڈکیتی یا ارتکابِ سرقہ کی سزا ملتی تھی جو اپنی بدقسمتی سے بلند آواز سے اذان دیتا تھا۔ اور
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 368
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 368
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/368/mode/1up
    اگر اتفاقاً کسی مسلمان سے کوئی زخم گائے کو پہنچ جاتا تھا تو اُس کی وہی سزا تھی جو ایک مجرم قتل عمدکی سزا ہوتی تھی۔ مسلمانوں میں اس قدر جہالت پھیل گئی تھی کہ بہتوں کو صحیح طور پر کلمہ بھی یاد نہ تھا اور دینی کتب کی واقفیت کا یہ حال تھا کہ میں نے سُنا ہے کہ ان دنوں میں ایک بزرگ تھے جو نماز کے بعد یہ دعا کیا کرتے تھے کہ یا الٰہی مجھ پر یہ فضل کر کہ ایک مرتبہ میں صحیح بخاری دیکھ لوں اور پھر عین دعاکے وقت دل پر کچھ نومیدی غالب ہو کر چیخیںؔ مار کر روتے تھے غالباً یہ خیال آتا تھا کہ میری قسمت ایسی کہاں کہ مَیں اپنی عمر میں اس متبرک کتاب کو دیکھ سکوں۔ اب عہدِ سلطنتِ انگریزی میں وہی کتاب ہے جو تھوڑی سی قیمت پر ہر ایک کتب فروش سے مل سکتی ہے بلکہ حدیث اور تفسیر کی نایاب کتابیں جن کے ہم لوگوں نے کبھی نام بھی نہیں سُنے تھے انگریزوں کے احسن انتظام سے مصر اورقسطنطنیہ اور بلادِ شام اور دور دراز ملکوں اور بعض یورپ کے کتب خانوں اور مطبعوں سے ہمارے ملک میں چلی آتی ہیں۔ اور پنجاب جو مُردہ بلکہ مُردار کی طرح ہو گیا تھا اب علم سے سمندر کی طرح بھرتا جاتا ہے اور یقین ہے کہ وہ جلد تر ہر ایک بات میں ہندوستان سے سبقت لے جائے گا۔ پھر اب انصافاً کہو کہ کس سلطنت کے آنے سے یہ باتیں ہم لوگوں کو نصیب ہوئیں اور کس مبارک گورنمنٹ کے قدم سے ہم وحشیانہ حالت سے باہر ہوئے؟ کیا یہ خوشامد کی باتیں ہیں یا بیانِ واقعہ ہے؟ انصاف اور کلمۃ الحق کو چھوڑنا ایمان نہیں ہے بلکہ بے ایمانی ہے۔ لہٰذا اصل بات یہی ہے کہ ہمیں ان تمام احسانات کو یاد کرکے سچے دل سے اس سلطنت سے اخلاص رکھنا چاہئیے او ر منافقانہ خیالات کو دل سے اُٹھا دینا چاہئیے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہئیے کہ ہم اطاعت اور صدق اور وفاداری کے ساتھ اس احسان کا بدلہ اتاریں جو انگریزوں نے ہم پر اور ہمارے بزرگوں پر کیا ہے۔ ورنہ خوب یاد رکھو کہ ہم خدا تعالیٰ کے گنہگار ٹھہریں گے۔ میں بعض احمق اور متعصب ملّاؤں کے خیالات سے ناواقف نہیں ہوں۔ میں خوب جانتا ہوں کہ کِس قدر اُن کے دل غبار آلودہ ہیں۔ اِنہی بیجا تعصّبوں کی وجہ سے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 369
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 369
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/369/mode/1up
    نادان زٹلی نے جو اپنے تئیں ایک مُلا سمجھتا ہے یہ اشتہار یکم جون ۱۸۹۸ ؁ء کو نکالا ہے اور گورنمنٹ انگریزی کی شکر گذاری کی وجہ سے میرے پر اعتراض کیا ہے۔ ایسے ہی اس کے بھائی اور بھی ہیں۔ مگر میں ایسے عقیدے سے ہرگز اتفاق نہیں رکھتا جس کو وہ دل میں رکھتے ہیں اور مجھے سچائی کے بیان کرنے میں اس بات کا کچھ خوف نہیں کہ یہ لوگ مجھے کافر کہیں یا دجّال نام رکھیں میرا حساب خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے۔
    اور اسی اشتہار میں یہ شخص میرے پر یہ بھی اعتراض کرتا ہے کہ باوجودیکہ انگریزوں کی اِس قدر خوشامد کی گئی ہے پھر بھی اُن کے مذہب پر حملہ کیا ہے مگر یہ کوتاہ اندیش نہیںؔ جانتا کہ میں نے دونوں موقعوں پر پاک کانشنس سے کام لیا ہے نہ وہ خوشامد ہے اور نہ یہ بیجا حملہ ہے۔ میرا کام اصلاح ہے کسی شرارت کو پیدا کرنا میرا کام نہیں ہے اور نہ بیجا خوشامد کرنا میرا طریق ہے۔ پس جیسا کہ میں نے ایک پہلو میں اس بات میں لوگوں کی اصلاح دیکھی کہ وہ سلطنت انگریزی کے ماتحت وفاداری اور اطاعت کے ساتھ زندگی بسر کریں اور دل کو تمام بغاوت کے خیالات سے پاک رکھیں اور واقعی طور پر سرکار انگریزی کے مخلص اور خیر خواہ بنے رہیں اِسی طرح میں نے دوسرے پہلو سے انسانوں کی خیر خواہی اسی میں دیکھی کہ وہ اُس کامل خدا پر ایمان لاویں جس کی عظمت اور قدرت اورلازوال صفات زمین و آسمان پر غور کرنے سے نظر آرہی ہے۔ انسانوں کو خدا بنانا غلطی ہے ہمیں چاہئیے کہ غلطی کی پیروی نہ کریں اور مخلوق کو خدا بنانے سے پرہیز کریں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بڑے مقدس، بڑے راستباز، بڑے برگزیدہ تھے مگر اُن کو خدا کہنا اس سچے خدا کی توہین ہے جس نے ہمیں پیدا کیا ہے سچ یہی ہے کہ وہ انسان تھے خدا نہیں تھے اور انسانی کمالات
    سے بڑھ کر اُن میں کچھ نہ تھا۔ خدا اب بھی ہمیں وہ کمالات دے سکتا ہے جو انہیں دیئے تھے اور دیتا ہے جس کی آنکھیں دیکھنے کی ہوں دیکھے۔ پس خدا وہی ہے جو ہمارا مددگار ہے جیسا کہ پہلوں کا تھا۔ اُسی کی طرف قرآن رہبری کرتا ہے۔ یہی وہ بات ہے جو خدا نے میرے پر
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 370
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 370
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/370/mode/1up
    ظاہر کی ہے۔ پس میں بد اندیشی کی راہ سے نہیں بلکہ سراسر ہمدردی اور پُوری نیک نیتی سے سچے خدا کی طرف لوگوں کو بُلاتا ہوں اور اس تفرقہ کو دُور کرنا چاہتا ہوں جو غلط فہمی سے پادریوں نے مسلمانوں کے ساتھ ڈال رکھا ہے۔
    اور چونکہ اس وقت گورنمنٹ عالیہ انگریزی کا ذکر ہے اِس لئے مَیں قرینِ مصلحت سمجھ کر وہ چٹھی جو جلسۂ طاعون کی خوشنودی میں جناب نواب لفٹیننٹ گورنر بہادر بالقابہ سے پہنچی ہے مع چند سطر اخبار سول ملٹری گزٹ ناظرین کی اطلاع کے لئے ذیل میں لکھتا ہوں۔ اِس غرض سے کہ جس بات میں ہماری گورنمنٹ عالیہ کی رضا مندی ثابت ہوئی ہے چاہئیے کہ ہر ایک شخص اس کی پیروی کرے۔ میں نے قادیان میں طاعون کے بارے میں اس مرادسے جلسہ کیا تھا کہ تا لوگوں کو اس بات کی طرف رغبت دوں کہ وہ گورنمنٹ کی شائع کردہ ہدایات کو بدل و جان منظور کریں اور میں نے اپنی تمام جماعت کو یہی تعلیم دی تھی اس کے بارے میں یہ چٹھی ہے ۔ میں اُمید رکھتاہوں کہ اس چٹھی کو پڑھ کر دوسرے معزز مسلمان بھی یہی کارروائی کریں گے۔ اور وہ یہ ہے :
    No. 213. ؔ S.
    From
    1. J. Maynard Esquire
    Junior Secretary to the Government of the Punjab.
    To,
    Sheik Rahmatullah Merchant,
    Bombay House Lahore
    Date Simla, the 11th of June 1898.
    Sir
    I am directed by His Honour the Lieutenant Governor
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 371
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 371
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/371/mode/1up
    to say that he has read with much pleasure the account of the proceedings of a meeting held at Kadian on the 2nd of May 1898. and the address delivered by Mirza Ghulam Ahmad Rais of Kadian, in connection with the measures taken by Government for the suppression of bubonic plague.
    1. His Honour desires me to convey his acknowledgement of the supports rendered to the Government by the members Composing the meeting.
    I Have the Honour to be
    Sir
    Your most obedient servant
    ( )
    For Junior Secretary to the Government Punjab.
    ترجمہؔ :۔
    چٹھی نمبر ۲۱۳ ۔ ایسؔ
    منجانب : ایچ جے۔ مے نارڈ صاحب بہادر جونیئر سیکرٹری گورنمنٹ پنجاب
    بطرف: شیخ رحمت اﷲ سوداگر بمبئی ہاؤس لاہور
    شملہ مؤرخہ ۱۱؍ جون ۱۸۹۸ء
    جناب
    حسب الارشاد جناب نواب لفٹیننٹ گورنر صاحب بہادرمیں اطلاع دیتا ہوں کہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 372
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 372
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/372/mode/1up
    جناب ممدوح نے اس جلسہ کے تمام روئداد کو جو ۲؍ مئی ۱۸۹۸ ؁ء کو قادیان میں متعلقہ اُن قواعد کے جو گورنمنٹ نے انسداد بیماری طاعون کے لئے جاری کئے منعقد ہوا اورنیز اس تقریر کو جو مرزا غلام احمد رئیس قادیان نے اُس وقت کی بڑی خوشی کے ساتھ پڑھا۔
    حضور ممدوح کا منشا ہے کہ میں اس مدد کے شکریہ کا اظہار کروں جو کہ اس جلسہ کے ممبروں نے گورنمنٹ کو دی۔ (دستخط)
    نقل نوٹ از سول ملٹری گزٹ مورخہ ۱۰ ؍ جون ۱۸۹۸ء
    At an influential meeting of the Muhammadans held recently at Qadian under the auspices of Sheikh Rahmatullah Khan of Lahore, prayers were offered for the cessation of the plague and an address was delivered by Hakim Noor - ud - Din in support of the Government measures of segregation etc, for the suppression of the disease. An acknowledgement of this loyal support has been communicated to the promoters of the meeting. The gist of the address was to the effect that Government was actuated solely by ؔ dictates of humanity in its measures for the suppresstion of the disease, that those measures are necessary, that stories that Government desires to poison the people are both lies and foolish and should not be believed for a moment by any body with pretensions of being sensible, and that for females to put aside the
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 373
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 373
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/373/mode/1up
    Purdah in so far as to come out of the house into the open for segregation purposes with the face properly veiled is no violation of the principles of (Islam) Muhammadanism in times of imminent danger such as a visitation by the hand of God.
    ترجمہ
    مسلمانوں کی ایک بڑی باوقار جماعت کے جلسہ میں جو زیر نگرانی شیخ رحمت اﷲخان لاہوری بمقام قادیان منعقد ہوا بیماری طاعون کے رُک جانے کے لئے دُعائیں مانگی گئیں اور حکیم نور الدین نے قواعد سگریگیشن وغیرہ کی تائید میں جو گورنمنٹ نے بیماری کے انسداد کے لئے نافذ کئے ایک تقریر کی۔ * اس وفادار انہ مدد کے شکریہ کی اطلاع جلسہ منعقد کرنے والوں کو دی گئی ہے۔ اس تقریر کا لب لباب یہ تھا کہ گورنمنٹ نے محض انسانی ہمدردی سے مجبور ہو کر
    * اس جگہ سہو کاتب سے مولوی حکیم نور الدین صاحب کا نام لکھا گیا ہے اوربجائے اس کے جیسا کہ واقعی امر ہے اس عاجز کا نام یعنی مرزا غلام احمد لکھنا چاہئیے تھا۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 374
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 374
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/374/mode/1up
    بیماری کے روکنے کے لئے یہ قواعد جاری کئے ہیں اور یہ قواعد بہت ضروری ہیں اور فرضی قصّے کہ گورنمنٹ لوگوں کو زہر دینا چاہتی ہے بالکل جھوٹے اور احمقانہ ہیں اور اس شخص کو جو کہ اپنے اندر عقل رکھتا ہے ایک لحظہ بھر کے لئے بھی انہیں تسلیم نہ کرنا چاہئیے۔ اور سخت خطرہ کی حالت میں مثلاً جب کہ خدا کی طرف سے کوئی بیماری نازل ہو عورتوں کا اپنے گھروں سے کھلے میدان میں سگریگیشن کی غرض سے مناسب طور پر چہرہ ڈھانکے ہوئے آنا اسلام کے اصولوں کے برخلاف نہیں۔
    چندؔ نئے وساوس کا ازالہ
    شہزادہ والا گوہر اکسٹرا اسسٹنٹ نے جو شہزادہ عبدالمجیدصاحب پر جھوٹا الزام لگایاہے۔ مندرجہ ذیل خط میں جو ہمارے نام ہے صاحب مؤخر الذکر اس الزام کا ردّ لکھتے ہیں یہ دونوں صاحب باہمی قریبی رشتہ داری کا تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن ایک کوخدا تعالیٰ نے ہدایت اور حق کی طرف کھینچا اور دوسرے کو باطل پسند آیا۔ وذالک فضل اﷲ یھدی من یشاء و یضل من یشاء ۔ وہ خط یہ ہے۔
    3 ۔ حَامِدًا وَ مُصَلِّیًا
    اے شہِ والا ہمم سایۂ 3 خدا
    جلوۂ حسنِ ازل پر توِ مہرِ رخت
    قامتِ رعنائے تو نخلِ گلستانِ قدس
    ہر اَلَمے را دوا یک نظرِ لطفِ تو
    آن دم جان پرورت از سرِ اعجازِ خویش
    تہنیت آمیز گفت ہاتفِ غیبم چنین
    نگہتِ باغِ ارم بیخت غبار رہت
    جان و دل انبیاء تاجِ سرِ اولیا
    مصحفِ رخسارِ تو آیتِ نورِ خدا
    چہرۂ زیبائے تو چوں خورِ تابان صفا
    نسخہء دیدارِ توہر مرضے را شفا
    مُردۂ صد سالہ را زندہ کند برملا
    کعبۂ کُوئے ترا قبلۂ حاجت روا
    بُوئے جنان میدہد خاکِ درت جا بجا
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 375
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 375
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/375/mode/1up
    مہبطِ رُوح الامین مطلعِ نورِ مُبین
    طُورِ جلالِ خدا عرشِ برینِ دلت
    اُمّتِ احمدؐ کہ بود بستۂ جور و جفا
    قاتلِ اعداءِ دین ناصرِ دینِ متین
    دید خدا بالیقین ہر کہ ترا دیدہ است
    غاشیۂ بند گیت ہر کہ فگندش بدوش
    جان و دلے کز رہت داشت فدایش دریغ
    وَہ چہ خوش آن حالتے وَہ چہ خوش آں ساعتے
    مہر تو در خاطرم مضمحل و سُست نیست
    3ِ عمیمِ خدا حافظِ ما عاجزان
    مابہزار التجا مابہزار التماس
    مستِ مئے عشقِ تو بے خبر از غیرِ حق
    آتشِ عشقِ تراخود بدل و جاں زدیم
    مسکنِ پاکِ ترا ساختہ ربّ الورا
    نورِ جمالِ خدا صورتت اے رہنما
    احمدِ آخر زمان کرد زِ بندش رہا
    عالمِ عالَم پناہ ہادئ رُشد و تقا
    دیدخدا دید تست نیست غلط این صدا
    دولتِ جاوید یافت عزّت و مجد وعلا
    از سر فتویٰ عشق بے خبر است از وفا
    کز رہِ شوق و طرب جاں بکنیمت فدا
    تاکندش منعدم بندۂ فشل و دغا
    مردِ مزوّر اگر نالہ کُند یا بُکا
    حلقہ بگوشیت رامی طلبیم از خدا
    محو شد از خویشتن ہرکہ بدید آں لقا
    تاکہ بسوزیم پاک آنچہ بود ماسوا
    اما بعد بخدمت اقدس حضرت امام الوقت گذارش آنکہ اس ناکارۂ دُور افتادہ کو معلوم ہوا کہ آج کل شہزادہ والاگوہر صاحب اکسٹرا اسسٹنٹ جہلم نے اخبار سراج الاخبار میں میری نسبت لکھا ہے کہ فلاں نے اپنے اعتقادسے توبہ کی ہے اور توبہ اس واسطے نصیب ہوئی کہ شہزادہ صاحب نے میرے عقیدہ کی خرابی مجھ پر ثابت کر دی۔سُبْحَانَکَ اِنْ ھٰذَا اِلاَّ بُھْتَانٌ عَظِیْمٌ بزرگوارا!دو ماہ تک شہزادہ صاحب سے مسیح موعود کی حیات و مماتؔ اور حضور علیہ السلام کے دعاوی پر زبانی بحث ہوتی رہی۔ چنانچہ مولوی عبدالعزیز، مولوی مشتاق احمد، قاضی فضل احمد، منشی سعد اﷲ مدرس وغیرہ نے جو مدت سے کینہء نہفتہ کی زہر اُگلنے کی تاک رکھتے تھے موقعہ کو غنیمت سمجھ کر شہزادہ صاحب سے خوب گت ملائی اور سفہاءِ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 376
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 376
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/376/mode/1up
    اُممماضیہ کی تقلید ہو بہو اداکی۔ میں نے نہ کبھی جبانت اوربُزدلی دکھائی اور نہ میں کبھی اُن سے دبا جس سے اُن کومیری توبہ کا یقین یا احتمال پیدا ہوا ہو۔ البتہ 3 ۱؂ اور3۲؂ پر عملدرآمد میرا ہوتا رہا۔ اِس کو اگر انہوں نے توبہ سمجھ لیاتو یہ اُن کی فہم رسا کی خوبی ہے۔ لاحول و لا۔ اس قدر جھوٹ۔
    بزرگوارا اگرچہ نابکار شرفِ زیارت سے محروم ہے مگر آنحضرت کی محبت اور عظمت اور ادب اور اطاعت اور کثرت یاد میری رُوح اور جان کا جزوہو گیا ہے۔ میں اپنی جان سے کس طرح علیحدہ ہو سکتا ہوں۔ میرے پیارے میرے دل کا حال اس سے دریافت فرما جو سب بھیدوں سے واقف ہے۔ 33۔ میرے مولیٰ تونے تو خدا اور رسول کا پتہ دیا۔ تونے جنت کا راستہ بتلایا تونے قرآن سکھلایا ہم غفلت میں پڑے سوتے تھے تُونے ہی آن جگایا ہم اِسمی اور رَسمی مسلمان تھے تُونے ہی ہم کو حقیقی اسلام سے آگاہی بخشی ہم نہیں جانتے تھے کہ دُعاکیا چیز ہے اور تقویٰ کس شَے کا نام ہے تُونے ہی تو اُن کا نشا ن ہم پر ظاہر فرمایا۔ ہم نہیں جانتے تھے کہ گورنمنٹ عالیہ کے ہم پر کیا کیاحقوق ہیں تُونے ہی تو وفاداری اور فرمانبرداری کا طریقہ سمجھایا۔ غرض کہاں تک تیرے احسانات کو لکھوں وہ تو بے شمار ہیں تو ہمارا آقا تو ہمارا مولیٰ ہم تیرے خادم ہم تیرے غلام۔ بھلا تجھ کو چھوڑ کر خدا کی *** کماویں۔ میرے ہادی اگر میں ایسا ضعیف الاعتقاد ہوتا تو مخالفوں کی نظروں میں خار کی طرح کیوں چُبھتا۔ مخالف سے جب کبھی کسی گذر پر دو چار ہونے کا موقع پیش آتا ہے تو وہ مجھ کو دیکھتے ہی غیظ و غضب سے بھرجاتا ہے ۔ میں نے مسجدوں میں نماز پڑھنی ترک کر دی بدیں لحاظ کہ میاں عبداﷲ صاحب سنوری سے مجھ کو روایت پہنچی ہے کہ جو لوگ خاموش بیٹھے ہیں گو مخالفت نہیں کرتے اُن کے پیچھے بھی نماز درست نہیں۔ بزرگوارا قاضی صاحب قاضی خواجہ علی صاحب اور صاحبزادہ افتخار احمد صاحب اور منشی ابراہیم صاحب اور میاں الٰہ دین صاحب وغیرہ وغیرہ احباب لودیانوی سے اپنے غلام کا حال استفسار فرماویں۔ میرے آقا مجھ کو کسی نازک موقعہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 377
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 377
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/377/mode/1up
    اور سخت ابتلا کے وقت بھی لغزش نہیں ہوئی چہ جائیکہ اب اور ان ایّام میں جب کہ آپ کے متواتر کثیر التعداد عظیم القدر و جلیل القدرنشانات علمی و عملی معرضِ ظہور میں آ چکے اور روز روشن کی طرح حق کی صداقت چمک اُٹھی ۔ اورؔ مَیں یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ استقامت محض حضور ہی کی نیم شبی دعاؤں کا ثمرہ ہے۔ورنہ ہم تووہی ہیں جو ہیں۔ مریدوں میں صداقت اور راستی چاہئیے پھر انشاء اﷲ آپ کی 3 ۱؂ والی تعمیل کے طفیل سے ضائع نہیں ہو سکتے۔ اگرچہ میں ایک غریب آدمی ہوں لیکن خدا کے فضل سے دل غنی ہے۔ دنیادار دولت مند میری نظروں میں مرے ہوئے کیڑے سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ یہ ہیں ہی کیا بلا۔ یہ تو مُردے ہیں جن میں جان نہیں۔ ان کی مکروہ صورتیں نفرت کے لائق ہیں۔ اِن سے دبنے والا اوران کا دستِ نگر انہی جیسا کوئی اندھا ہو گا۔
    اے میرے ہادی! میں ارسالِ عرائض میں اس واسطے دریغ کرتا ہوں کہ میں اپنے اِس فعل کو اَخَف سمجھتا ہوں اور کہتا ہوں کہ میں کیا اور میرے عرائض کیا یونہی بے فائدہ بندگانِ عالی کو کیوں تکلیف دوں عریضہ کے کھولنے میں پڑھنے پڑھانے میں چند منٹ اوقاتِ اشرف میں سے ضائع ہوں گے ناحق کی حرج ہو گی۔ صحبتِ اقدس اور شرفِ زیارت مبارک سے بباعث چنددرچند موانع غیر مستفیض رہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہربانا حضور کی تصنیفات پُرانواراور تالیفات حکمت بارجووقتاً فوقتاً شائع ہوتی رہتی ہیں میرے ازدیاد ایمان و عرفان کے لئے رہبر کامل کا کام دیتی ہیں۔ جو جو حالات آنجناب پر حضرت کبریا کی طرف سے منکشف ہوتے ہیں اور پھر ان رُوحانیات کو اور ان کشوف و خوارق و رؤیا و الہامات کو آپ درج صحفِ مطہّرہ فرماتے ہیں کم و بیش ان رُوحانی کوائف اور تاثیرات کی حلاوت سے میرے مذاقِ جان کو بھی چاشنی نصیب ہوا کرتی ہے اور ایسا احساس ہوتا ہے کہ گویا میں خود ان حالات کا مورد ہوں۔ لیکن میں اس دُوری و مہجوری کو ہرگز ہرگز اپنے واسطے پسند نہیں کرتا کیونکہ مقربین بساط قدسی آیات کو جو جو برکات اور خوبیاں حاصل ہیں اُس کا عشر عشیر بھی دُور دستوں کو نصیب نہیں۔ اصحابِ صُفّہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 378
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 378
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/378/mode/1up
    کی جوتی اور دوسروں کا سر۔ اگرچہ خدا کسی مخلص صادق کو بغیر اجر کے نہیں رکھتامگراصحاب الصفّہ ما اصحاب الصفّہ ۔ کیا ہی صاحب نصیب ہیں وہ لوگ جن کی نظر ہر صبح و مسا اُس منظرِ اطہر پر پڑتی ہے۔ دولتِ صحبت کے برکات سے مالامال ہوتے ہیں۔ رسولِ خدا صلی اﷲ علیہ وسلم کے انوار کا اطوارکا اخلاق کا عادات کا ریاضات کا مجاہدات کا محاربات کا کامل نمونہ آپ کی ذات میں مشاہدہ کرتے ہیں۔ خدائے قادر ذوالجلال کی جناب سے ہمیشہ یہی دُعا ہے کہ اے قدیر بے نظیر اپنے برگزیدہ مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شرف ملازمت سے فخر و عزّت دے۔ قسم بخدائے لایزال کہ تیرے در کی کنّاسی تخت شاہی سے بہت بہتر ہے۔ شہزادہ صاحب نے مجھ پر سخت افترا باندھا ہے اور حضور کو مجھ سے بدگمان کیا۔اگرچہ بندگانِ عالی کو مجھ جیسے اَذَلّ کی پرواہ ہی کیا ہے خدا نے آپ کو وہ رفعت ومنزلت بخشی ہے کہ آپ کی ذات مجمع البرکات کو مرجع قدوسیاں بنا دیا مگر اِخفض جناحک للمؤمنین پر غور کرکے اور بالمؤمنین رؤف الرحیم پر نظر دوڑا کر اس گستاخی کی جرأت ہوئی کہ تھوڑی دیر کے واسطے 3اوقات بندگانِ عالی کرکے عفوِ تقصیرات کا ملتجی ہو جاؤں اور دست بستہ عرض پرداز ہوں کہ
    ہر چند نیم لائق بخشایش تو
    برمن منگر برکرم خویش نگر
    شہزادہ صاحب کی کتاب کے مضامین مختصراً و مجملاً جہاں تک کہ مجھ کو یاد ہیں ذیل میں ہیں وہ مسیح علیہ السلام کو آسمان پر نہیں سمجھتے بلکہ کہتے ہیں کہ اسی جہان میں خدا نے اُن کو چھپایا ہوا ہے۔ اور توفّی کے معنے بھرنے کے کرتے ہیں یعنیؔ خدا نے اُن کو بھر پا کرلوگوں سے کنارہ کر لیا۔ مگر زندہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دو حلیوں کا بیان جو احادیث میں ہے سو چونکہ یہ ایک رؤیا اور کشف ہے پس ممکن ہے کہ ایک ہی شخص کو انسان کئی مختلف صورتوں میں دیکھے۔ ایک وقت ہم اپنے دوست کو خواب میں کسی صورت میں دیکھتے ہیں اور پھر اُسی
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 379
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 379
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/379/mode/1up
    دوست کوکبھی خواب میں بصورت دیگر۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ صرف لفظ عیسیٰ یا مسیح ہی اگر احادیث میں ہوتا تو مثیل کی گنجائش تھی لیکن ابن مریم سے اصل ہی کا آ نا ثابت ہوتا ہے۔* وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہر ایک نبی کی شہادت نبی ہی دیتا چلا آیا ہے جیسا کہ اخیر میں مسیح علیہ السلام کی شہادت ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے دی۔ لیکن ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے واسطے بھی ایک شاہد کی ضرورت ہے جو نبی ہو۔ اور چونکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اس واسطے مسیح نبوت کی حالت میں تو نہیں آئیں گے بلکہ اُمّتی ہوں گے مگر نبوت اُن کی شان میں مضمر ہوگی۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ نبی کا مثیل نبی ہوتا ہے۔ آدم کا مثیل مسیح۔ موسیٰ کا مثیل محمد مصطفےٰ صلی اﷲ علیہ وسلم ایلیا کا مثیل یحییٰ، پس مسیح کا مثیل بھی نبی ہونا چاہئیے نہ کہ اُمّتی۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مسیح موعود کی علامت مَیں نے ایک نرالی وضع کی نکالی ہے اور وہ یہ ہے کہ جب مسیح دعویٰ کریں گے تو میں اُن کے والدین کو تلاش کروں گا کیونکہ باپ تو اوّل سے ہی ندارد ہے اور ماں مر چکی ہے۔ پس اگر اس کے والدین ثابت نہ ہوسکے تو پھر اُس کے مسیح ہونے میں کیا شک رہے گا۔
    مسیح اسرائیلی کے دوبارہ آنے پر یہ دلیل قطعی پیش کرتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے وَجِیْھًا فِی الْدُّنْیَا وَ الْآخِرَۃِ۔ اور چونکہ مسیح نے اپنی زندگی عُسرت اور ذلّت میں گذرانی اس واسطے وہ اس آیت کے مصداق نہیں ہو سکتے کیونکہ وجاہت دنیوی ان کو بالکل نصیب نہیں ہوئی۔ لیکن اس آیت کے مصداق بننے کے لئے خدا اُن کو پھر ظاہر کرے گا اور وجاہت
    *نوٹ: ہم بھی کہتے نہیں مثیل آیا۔ اصل آیا مگر بطوربروز۔ دیکھ لو اقتباس نام کتاب جس میں لکھے ہیں یہ تمام رموز ۔ ’’ روحانیت کمّل گا ہے برارباب ر یاضت چناں تصرّف میفرمایدکہ فاعل افعال شاں میگردد۔وایں مرتبہ را صوفیہ بروزمیگوئند۔ و بعض بر آنند کہ رُوح عیسیٰ در مہدی بروز کند و نزول عبارت ازیں بروز است مطابق ایں حدیث لَامَہْدِیَّ اِلّا عِیْسَی ابْنِ مَرْیَم۔ دیکھو صفحہ ۵۲کتاب اقتباس الانوار ۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 380
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 380
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/380/mode/1up
    دنیوی یعنی سلطنت اور حکومت وغیرہ سب لوازمات اُن کو حاصل ہوں گے۔
    اور حضور علیہ السلام کی ذاتیات پر یہ نکتہ چینیاں کرتے ہیں کہ باوجود مقدرت کے حج نہیں کرتے۔ ہزاروں روپوں کے انعامات کے اشتہارات دیتے ہیں لیکن حج کو نہیں جاتے۔ براہین کا بقیّہ نہیں چھاپتے۔ آتھم کی پیشگوئی غلط نکلی اس کے رجوع کو ہم یقین نہیں کرتے۔ لیکھرام کی پیشگوئی میں اُس کے قتل ہونے کی تصریح نہیں صرف نَصَبٌ وَّ عَذَابٌ کا جملہ ہے جس میں قتل ہونے کا بیان نہیں۔ اور وہ کہتے ہیں کہ اگر بالفرض یہ سچ ہی نکلے تو زہے نصیبِ لیکھرام کہ وہ ایک کم حیثیت آدمی تھا لیکن اس پیشگوئی کے سبب سے وہ برگزیدۂ قوم گِنا گیا شہید کے خطاب سے ممتاز ہوا۔ اُس کے پسماندگان کے واسطے ہزاروں روپوں کا چندہ ہوا ۔یہ ہوا وہ ہوا۔ اور وہ کہتے ہیں کہ اس قسم کی پیشگوئی تو اپنے حق میں مَیں چاہتا ہوں۔ کسوف خسوف کی حدیث موضوع ہے۔ مسیح کی اور مماثلت تو مرزا صاحب میں کچھ بھی نہیں صرف ایک مماثلت ہے یعنی دُشنام دہی۔ گورنمنٹ کی خوشامد۔ عربی تصنیفات کی بے نظیری کا دعویٰ ہی غلط ہے کیونکہ قرآن کریم کے سوا یہ دعویٰ توریت و انجیل و زبور و احادیث نبوی نے بھی نہیں کیا۔ حالانکہ وہ بھی الہامی ہیں۔ راولپنڈی والے بزرگ کے حالات سے میرزا صاحب واقف تھے اور جانتے تھے کہ یہ شخص وہمی اور بُزدل ہے اس واسطے اُن کے حق میں جھٹ پیشگوئی کردی وغیرہ وغیرہ من الخرافات و الہذیانات۔
    خاکسار عبدالمجید ازلودیانہ محلہ اقبال گنج ۶؍ جون ۱۸۹۸ ؁ء
    اَبؔ ہم حق کے طالبوں کے لئے اِن بیہودہ اقوال کا ردّ لکھتے ہیں تامعلوم ہو کہ ہمارے مخالف مولوی اور اُن کے اس قسم کے شاگرد کس قدر سچائی سے دُور جا پڑے ہیں۔
    قولہ۔ مسیح آسما ن پر نہیں بلکہ اِسی جہان میں خدا نے اُس کو چھپایا ہوا ہے۔
    اقول۔ یہ دنیا میں کسی کا مذہب نہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے بعض مخالف مولوی اب آسمان پر چڑھانے سے نومید ہو کر اپنے فرضی مسیح کو زمین میں چھپانے کی فکر میں لگ گئے ہیں۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 381
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 381
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/381/mode/1up
    مگر یاد رہے کہ کسی فرقہ متقدمین یا متاخرین نے یہ نہیں لکھا کہ مسیح کو اِسی جہان میں خدا تعالیٰ نے چھپایا ہے۔ ہاں مسلمان صوفیوں کے ایک گروہ کا یہ مذہب ہے کہ مسیح کا آسمان سے فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے نازل ہونا باطل ہے کیونکہ یہ صورت ایمان بالغیب کے مخالف ہے اور قرآن شریف میں اﷲ تعالیٰ بار بار فرماتا ہے کہ جب فرشتے زمین پر اُترتے نظر آئیں گے تو اُس وقت دُنیا کا خاتمہ ہو گا اور اس وقت کا ایمان منظور نہ ہو گا۔ اور فرماتا ہے کہ فرشتوں کو زمین پر اُترتے دنیا کے لوگ ہر گز دیکھ نہیں سکتے۔ اور جب دیکھیں گے تو اس وقت یہ دنیا نہیں ہو گی۔ سو جب کہ قرآن شریف کے نصوص صریحہ اور آیات قطعیۃ الدلالت سے یہ امر ثابت ہو گیا کہ فرشتوں کا نزول اُس وقت ہو گا کہ جب کہ ایمان لانا بے فائدہ ہو گا جیسا کہ جان کندن کے وقت جب فرشتے نظر آتے ہیں تو وہ وقت ایمان لانے کا وقت نہیں ہوتا تو اِس صورت میں یا تو یہ عقیدہ رکھنا چاہیئ کہ مسیح کے نزول کے بعد ایمان نفع نہیں دے گا مگر یہ عقیدہ تو صریح باطل ہے کیونکہ اِس پر اتفاق ہو گیا ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت اسلام دنیا پر کثرت سے پھیل جائے گا اور ملل باطلہ ہلاک ہو جائیں گی اور راستبازی ترقی کرے گی۔ پس جب کہ یہ عقیدہ رکھنا درست نہ ہوا تو بالضرورت برعایت نصوص صریحہ قرآن شریف کے اس دوسرے پہلو کو ماننا پڑا کہ فرشتوں کا اور اُن کے ساتھ مسیح کا نازل ہونا ظاہر طور پر محمول نہیں ہے بلکہ بوجہ قرینہ بیّنہ نص صریح قرآن کے اس نزول کے تاویلی طور پر معنے ہوں گے۔ کیونکہ جسمانی طور پر حضرت عیسیٰ کاآسمان سے فرشتوں کے ساتھ نازل ہونا نص صریح قرآن سے مخالف اور معارض پڑا ہے۔ یہی مشکل تھی جو اکابر اسلام کوپیش آئی اور اسی مشکل کی وجہ سے امام مالک رضی اﷲ عنہ نے کھلے کھلے طور پر بیان کر دیا کہ حضرت عیسیٰؔ فوت *ہو گئے ہیں اور اسی وجہ سے امام ا بن حزم بھی اُن کی فوت کے قائل ہوئے اور اِسی وجہ سے تمام اکابر علماء معتزلہ کا یہی عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ وفات پا چکے ۔ غرض آسمان سے نازل ہونے کا بُطلان نہ صرف آیت 3 ۱؂ سے ثابت ہوتا ہے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 382
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 382
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/382/mode/1up
    بلکہ یہ تمام آیتیں جہاں لکھا ہے کہ جب فرشتے نازل ہوں گے تو ایمان بے فائدہ ہو گا اور وہ فیصلے کا وقت ہو گا نہ بشارت اور ایمان کا وقت بلند آواز سے پکار رہی ہیں کہ حضرت عیسیٰ کا آسمان سے فرشتوں کے ساتھ اُترنا سراسر باطل ہے اور اگر یہ باطل نہ ہوتا تو دنیا میں یعنی گزشتہ زمانے میں اس کی کوئی نظیر بھی ہوتی* ۔مگر کون بیان کر سکتا ہے کہ کبھی کوئی شخص اِسی جسم عنصری کے ساتھ عالمِ بیداری میں آسمان پر جا کر پھر واپس آیا۔ اگر خدا تعالیٰ کی یہ سنّت تھی تو گویا دیدہ و دانستہ خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو ایلیا کے دوبارہ آنے کے مقدمہ میں یہودیوں کے روبروی شرمندہ کیا اور یہ کہنا کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے باہم مل کر اس قصّے کو تحریف کر دیا ہو گا یہؔ اس درجہ کی حماقت ہے جس پر بچے بھی ہنسیں گے۔ غرض مسیح کا آسمان سے اُس طرح پر نازل ہونا جیسا کہ ہمارے مخالف انتظار کر رہے ہیں قرآن کے نصوص صریحہ کے مخالف ہے۔
    * یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جس قدر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اعجوبے منسوب کئے گئے ہیں ان کی نظیر ہونا نہایت ضروری ہے کیونکہ ایک قوم نے اُن کو خدا کر کے مان لیا ہے۔ پھر اگر حضرت عیسیٰ کے کاموں اور ذات اور صفات کی نظیر نہ ہو تو یہ خصوصیت جاہلوں کی نظر میں ان کی خدائی پر ایک دلیل ٹھہرتی ہے چنانچہ پادریوں کا آج کل پیشہ ہی یہی ہے کہ وہ خصوصیات اور خوارق پیش کر کے اُن کی خدائی پر ایک دلیل قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اِسی وجہ سے جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ کی خدائی پر یہ دلیل پیش کی کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تو فی الفور خدا تعالیٰ نے اس قسم کی پیدائش کی بلکہ اس سے بڑھ کرنظیر پیش کر دی۔ اور فرمایا 33 ۱؂ اور نظیر ایسی پیش کی جو عیسائیوں اور یہودیوں کے نزدیک مسلّم اور بد یہیات اور معتقدات میں سے تھی اور یقیناًاس وقت عیسائیوں نے مسیح کی الوہیت کے لئے یہ حجّت بھی پیش کی ہو گی کہ وہ زندہ آسمان پر موجود ہے لہٰذا اس کے ردّ میں خدا تعالیٰ کو خود مسیح کے اقرار کے حوالہ سے یہ کہنا پڑا 3۲؂ غرض قرآنی تعلیم یہ ہے کہ مسیح کے خوارق اور ذات اور صفات میں کوئی بھی خصوصیت نہیں ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 383
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 383
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/383/mode/1up
    ایک گروہ اکابر صوفیہ نے نزولِ جسمانی سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ مسیح موعود کانزول بطور بروز کے ہو گا۔ چنانچہ کتاب اقتباس الانوار میں جو تصنیف شیخ محمد اکرم صابری ہے
    جس کو صوفیوں میں بڑی عزّت سے دیکھا جاتا ہے جو حال میں مطبع اسلامیہ لاہور میں ہمارے مخالفوں کے اہتمام سے ہی چھپی ہے یہ عبارت لکھی ہے:۔
    ’’روحانیت کُمّل گا ہے برار باب ریاضت چناں تصرف می فرما ید کہ فاعل افعال شاں می گردد۔ و ایں مرتبہ را صوفیہ بروز می گویند ۔۔۔۔۔۔و در شرح فصوص الحکم می نویسد یعنی بغرض بیان کردن نظیر بروزمی گو ید کہ محمد بود کہ بصورت آدم در مبدء ظہور نمود یعنی بطور بروز در ابتدائے عالم روحانیت محمد مصطفےٰ صلی اﷲ علیہ وسلم در آدم متجلّی شد و ہم اوباشد کہ در آخر بصورت خاتم ظاہر گردد یعنی در خاتم الولایت کہ مہدی است نیز روحانیّت محمد مصطفےٰ صلی اﷲ علیہ وسلم بروز و ظہور خواہد کرد و تصر فہا خواہد نمود و ایں را بروزات کمّل گویند نہ تناسخ و بعضے برا نند کہ رُوحِ عیسیٰ در مہدی بروز کند۔ و نزول عبارت از ہمیں بروز است مطابق ایں حدیث کہ لا مہدی الّاعیسی ابن مریم‘‘
    اور یہ بروز کا عقیدہ کچھ نیا نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی پہلی کتابوں میں بھی اس عقیدہ کا ذکر پایا جاتا ہے۔ چنانچہ ملا کی نبی کی کتاب میں جو ایلیا کے دوبارہ آنے کی پیشگوئی کی گئی ہے جس کو یہود اپنی غلطی سے یہی سمجھتے رہے کہ خود ایلیا نبی ہی آسمان پر سے نازل ہو گا آخر وہ بھی بروز ہی نکلااور ایلیا کی جگہ آنے والا یحییٰ نبی ثابت ہوا۔ اور یہود کا یہ اجماعی عقیدہ کہ خود ایلیا ہی دوبارہ دنیا میں آ جائے گا جھوٹا پایا گیا۔ ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ ہندوؤں کی کتابوں میں بھی بروزکا عقیدہ تھا اور پھر غلطیوں کے ملنے سے اُسی عقیدہ کو تناسخ سمجھا گیا۔
    قولہ۔ توفّی کے معنے بھرنے کے ہیں۔
    اقول ۔ یہ بیہودہ خیالات ہیں۔ بخاری میں عبد اﷲ بن عباس کے قول سے ثابت
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 384
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 384
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/384/mode/1up
    ہو چکا ہے کہ یا عیسٰی انّی متوفّیک کے یہ معنے ہیں کہ اے عیسیٰ میں تجھےؔ وفات دوں گا۔ چنانچہ امام بخاری نے اِسی مقام میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی ایک حدیث لکھ کر جس میں کَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحہے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہی معنے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے کئے ہیں۔ پھر بعد اس کے جو حضرت عیسیٰ کی وفات کے بارے میں قرآن نے فرمایا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اور عبد اﷲ بن عباس کے قول میں بھی یہی آیا دوسرے معنے کرنے یہودیوں کی طرح ایک خیانت ہے۔ غور کر کے دیکھ لو کہ تمام قرآن میں بجز رُوح قبض کرنے کے توفّی کے اور کوئی معنے نہیں۔ تمام حدیثوں میں بجز مارنے کے اور کسی محل میں توفّیکا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔ تمام لُغت کی کتابوں میں یہی لکھا ہے کہ جب خداتعالیٰ فاعل ہو اور کوئی انسان مفعول بہٖ مثلاً یہ قول ہو کہتَوَفَّی اﷲُ زَیْدًا تو بجز روح قبض کرنے اور مارنے کے اور کوئی معنے نہیں لئے جاویں گے۔ پس جب اس صراحت اور تحقیق سے فیصلہ ہو چکا کہ توفّی کے معنے مارنا ہے اور آیت 3سے ثابت ہو چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی توفّی عیسائیوں کے بگڑنے سے پہلے ہو چکی ہے یعنی وہ خدا بنائے جانے سے پہلے فوت ہو چکے ہیں تو پھر اب تک اُن کی وفات کو قبول نہ کرنا یہ طریق بحث نہیں بلکہ بے حیائی کی قسم ہے۔ خدا تعالیٰ نے چونکہ ان لوگوں کو ذلیل کرنا تھا کہ جو خواہ مخواہ حضرت عیسیٰ کی حیات کے قائل ہیں اس لئے اُس نے نہ ایک پہلو سے بلکہ بہت سے پہلوؤں سے حضرت عیسیٰ کی موت کوثابت کیا۔ توفّی کے لفظ سے موت ثابت ہوئی اور پھر آیت
    3۱؂سے موت ثابت ہوئی*۔اور پھر آیت3۲؂سے موت ثابت
    * قرآن کے محاورہ کے رُو سے جہاں کسی اُمّت پر خَلَتْ کا لفظ بولا گیا ہے وہاں اس اُمت کے لوگ مراد لی ہے تم ایک بھی ایسی آیت پیش نہ کر سکو گے جس میں کسی انسانی گروہ کو خَلَتْ کا مصداق قرآن نے ٹھہرایا ہو اور پھر اس آیت کے معنے موت نہ ہوں بلکہ کچھ اور ہوں یہی وجہ ہے جو حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ نے اس آیت سے تمام نبیوں پر استدلال کیا۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 385
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 385
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/385/mode/1up
    ہوئی پھر قرآن شریف کی آیت3۱؂سے موت ثابت ہوئی اور پھر قرآن شریف کی آیت 3۲؂سے موت ثابت ہوئی کیونکہ ان دونوں آیتوں سے ثابت ہوا کہ آسمان پر جسمانی زندگی اور قرار گاہ کسی انسان کا نہیں ہو سکتا۔پھر آیت 3۳؂سے موت ثابت ہوئی۔ کیونکہ تمام قرآن میں یہی محاورہ ہے کہ خدا کی طرف اُٹھائے جانے یا رجوع کرنے سے موت مراد ہوتی ہے جیساکہ آیت 3۴ؔ ؔ ؂سے بھی موت ہی مراد ہے اور پھر 33۵؂سے موت ثابت ہوئی کیونکہ اس آیت میں حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم کی نسبت نفی لوازمِ حیات کا بیان ہے جو بدلالت التزامی اُن کی موت کو ثابت کرتا ہے اور پھر آیت 3۶؂سے موت ثابت ہوئی کیونکہ کچھ شک نہیں کہ جیسا کہ کھانے پینے سے اب حضرت عیسیٰ علیہ السلام بروئے نصِ قرآنی معطّل ہیں ایسا ہی دوسرے افعالِ جسمانی زکوٰۃ اور صلوٰۃ سے بھی معطّل ہیں۔ بلکہ زکوٰۃ تو علاوہ جسمانیت کے مال کو بھی چاہتی ہے اور آسمان پر روپیہ پیسہ ہونا معلوم انجیل سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ ایک مالدار آدمی تھے کم سے کم ہزار وپیہ ان کے پاس رہتا تھا جس کا خزانچی یہودا اسکریوطی تھا۔ اب کیا وہ روپیہ آسمان پر ساتھ لے گئے تھے؟ اور ایسا ہی آیت 33۷؂سے حضرت عیسیٰ کی موت ثابت ہوتی ہے کیونکہ قرآن شریف میں باوجود تکرار مضمون اس آیت کے یہ فقرہ کہیں نہیں آیا کہ منکم من صَعَدَ الی السماء بجسمہ العنصری ثم یر جع فی اٰخر الزمان۔ یعنی تم میں سے ایک وہ بھی ہے جو جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ گیا اور پھر آخری زمانہ میں دنیا میں واپس آ ئے گا۔ پس اگر یہ سچ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بجسمِ عنصری آسمان پر چلے گئے تو قرآن شریف کی یہ حصر نا تمام رہے گی۔ کیونکہ آسمان پر چڑھنے کی نسبت خدا نے اس آیت یا کسی دوسری آیت میں ذکر نہیں کیا اور اگر در حقیقت خدا کی یہ بھی سنّت تھی تو تکمیل بیان کے لئے اس کا ذکر کرنا ضروری تھا۔ اور جب کہ کئی دفعہ قرآن شریف میں
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 386
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 386
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/386/mode/1up
    جوان یا بوڑھا کر کے مارنے کا ذکر آ چکا ہے تو اس کے ساتھ اس عادت اﷲ کا بیان نہ کرنا کہ کسی کو آسمان پر آباد بھی کیا جاتا ہے اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کسی کو مع جسم آسمان پر آباد کر دینا خدا تعالیٰ کی سنتوں میں سے نہیں ہے۔ اور دین کا اکمال جو آیت 33۱؂سے سمجھا جاتاہے اس بات کو چاہتا ہے کہ اس قسم کے تمام اسرار جو خدا تعالیٰ کی سنّت میں داخل ہیں قرآن شریف میں بیان کئے جاتے اور جب کہ آسمان پر مع جسم چڑھانا اور وہاں صد ہا برس تک آباد رکھنا قرآن شریف میں عادت اﷲ کے طور پر بیان نہیں کیا گیا اور صرف جوان کرنا اور پھر بڈھا کرنا اور مارنا بیان کیا گیا ہے ۔ اس سے ثابتؔ ہوا کہ وہ دوسرا امر خدا تعالیٰ کی عادت میں داخل نہیں ہے۔ ایسا ہی آیت 3۲؂سے حضرت عیسیٰ کی موت ثابت ہوتی ہے کیونکہ جب کہ بموجب تصریح اس آیت کے ایک شخص جو نو۹۰ے یا سو برس تک پہنچ گیا ہو اس کی پیدائش اس قدر اُلٹا دی جاتی ہے کہ تمام حواس ظاہریہ و باطنیہ قریب الفقدان یا مفقود ہو جاتے ہیں تو پھر وہ جو دو ہزار برس سے اب تک جیتا ہے اُس کے حواس کا کیا حال ہوگااور ایسی حالت میں وہ اگر زندہ بھی ہوا تو کونسی خدمت دے گا۔ اس آیت
    میں کوئی استثنا موجود نہیں ہے اور ہمیں نہیں چاہیے کہ بغیر خدا تعالیٰ کے بیان کے آپ ہی ایک استثناء فرض کر لیں۔ ہاں اگر نص صریح سے ثابت ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام باوجود جسمانی حیات کے جسمانی تحلیلوں اور تنزّل حالات اور فقدانِ قویٰ سے منزّہ ہیں تو وہ نص پیش کریں۔ اور یونہی کہہ دینا
    کہ خدا ہر ایک بات پر قادر ہے ایک فضول گوئی ہے اور اگر بغیر سند صریح کے اپنا خیال ہی بطور دلیل مستعمل ہو سکتا ہے تو ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے سیّد و مولیٰ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم بعد وفات پھر
    زندہ ہو کر مع جسم عنصری آسمان پر اُٹھائے گئے ہیں او رپیرانہ سالی کے لوازم سے مستثنیٰ ہیں اور حضرت عیسیٰ سے بدرجہا بڑھ کر تمام جسمانی قویٰ اور لوازم کاملہ حیات اپنی ذات میں جمع رکھتے ہیں اورآخری زمانہ میں پھر نازل ہوں گے۔ اب بتلاؤ کہ ہمارے اس دعویٰ اور تمہارے دعویٰ میں کیا فرق ہے۔ اگر
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 387
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 387
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/387/mode/1up
    قرآن شریف میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی نسبت توفّی کا لفظ آیا ہے جیساکہ آیت33 ۱؂ میں ہے تویہی توفّی کا لفظ حضرت عیسیٰ کی نسبت دو مرتبہ آ گیا ہے بلکہ اگر سچی گواہی دی جائے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وفات پانا تمام نبیوں کی وفات سے زیادہ تر ثابت ہے ۔ بہت سے نبیوں کی وفات کا خدا تعالیٰ نے ذکر بھی نہیں کیا۔ لیکن حضرت مسیح کی وفات کا بار بار قرآن شریف میں ذکر کیا ہے جیسا کہ اس آیت میں بھی حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کی طرف ہی اشارہ ہے اور وہ یہ ہے۔3 3۲؂ یعنی جو لوگ بغیر اﷲ کے معبود بنائے جاتے ہیں اور پکارے جاتے ہیں وہ کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ آپؔ ہی پیدا شدہ ہیں اور وہ تمام لوگ مر چکے ہیں زندہ بھی تو نہیں ہیں اور نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ اب بتلاؤ کہ اگر کوئی عیسائی اس جگہ تم پر اعتراض کرے کہ یہ بیان قرآن کا بموجب معتقدات تمہارے خلاف واقعہ ہے کیونکہ قرآن مسیح ابن مریم کو مِنْ دُوْنِ اﷲ سمجھتا ہے اور کل 3 معبود کو بغیر کسی استثناء کے مردہ قرار دیتا ہے اورتم مسیح ابن مریم کو زندہ قرار دیتے ہو حالانکہ قرآن کہتا ہے کہ کوئی 3 معبود زندہ نہیں ہے۔ پس اگر تم سچے ہو تو قرآن حق پر نہیں ہے اور اگر قرآن حق پر ہے تو تم دعویٰ حیاتِ مسیح میں سچے نہیں تو اس اعتراض کا کیا جواب ہے؟ اور ظاہر ہے کہ قرآن شریف کا یہ فرمانا کہ تمام معبود غیر اﷲ 3ہیں اس کا اوّل مصداق حضرت عیسیٰ ہی ہیں کیونکہ زمین پر سب انسانوں سے زیادہ وہی پوجے گئے ہیں اور تمام انسانی پرستاروں کی نسبت ان کا گروہ کثرت میں قوّت میں شوکت میں سرگرمی میں دعوتِ شرک میں آگے بڑھا ہوا ہے ۔دیکھو کہ
    عیسیٰ پرست دنیا میں چالیس کروڑ ہیں اور اس قدر جماعت انسان پرستوں کی کوئی اور نہیں ہے سو اگر قرآن نے اُن کو اس آیت سے مستثنیٰ رکھا ہے تو نعوذ باﷲ اس سے پایا جاتا ہے کہ مُنَزّلِقرآن کے نزدیک وہ غیر اﷲ نہیں ہے اور اگر مستثنیٰ نہیں ہے تو
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 388
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 388
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/388/mode/1up
    یہ تمہارے عقیدے کے مخالف ہے کیونکہ تمہارے نزدیک عیسیٰ ابن مریم اموات میں داخل نہیں بلکہ آسمان پر بحیاتِ جسمانی زندہ موجود ہیں۔ اب بتلاؤ کہ اگر عیسائیوں کی طرف سے یہ سوال پیش ہو تو تمہارے پاس کیا جواب ہے؟۔
    پھر ایک جگہ قرآن شریف میں حضرت عیسیٰ کو داخل بہشت ذکر فرمایا ہے جیسا کہ فرماتا ہے 33۱؂ یعنی جو لوگ ہمارے وعدہ کے موافق بہشت کے لائق ٹھہر چکے ہیں وہ دوزخ سے دُور کئے گئے ہیں اور وہ بہشت کی دائمی لذّات میں ہیں۔ تمام مفسّرین لکھتے ہیں کہ یہ آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں ہے اور اس سے بصراحت و بداہت ثابت ہے کہ وہ بہشت میں ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ وہ وفات پا چکے ہیں ورنہ قبل از وفات بہشت میں کیونکر پہنچ گئے؟ علاوہ اس کے وہ حدیث جو طبرانی اور کتاب ما ثبت بالسنۃ میں لکھی ہے اس سے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت ہی ثابت ہوتی ہے کیونکہ اُنؔ میں لکھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر ایک سو بیس برس کی ہوئی تھی۔ محدثین نے اس حدیث کو اوّل درجہ کی صحیح مانا ہے اور کوئی جرح نہیں کیاگیا۔
    اب بتلاؤ کہ اب بھی حضرت عیسیٰ کی موت ثابت ہوئی یا نہیں؟ اور پھر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے جیسا کہ بخاری کی معراج کی حدیثوں میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو معراج کی رات بزمرۂ اموات دیکھا اور دوسرے عالم میں پایا اگر وہ زندہ ہوتے تو مردوں سے اُن کا کیا تعلق تھا اور یحییٰ نبی فوت شدہ کے پاس کیونکر وہ رہ سکتے تھے۔ مُردوں کے پاس وہی رہتا ہے جو مُردہ ہو۔
    کوئی جو مُردوں کے عالم میں جاوے
    وہ خود ہو مُردہ تب وہ راہ پاوے
    کہو زندوں کا مُردوں سے ہے کیا جوڑ
    یہ کیونکر ہو کوئی ہم کو بتاوے
    اور اگر یہ قول ثابت ہو کہ حضرت عیسیٰ نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو کہا تھا کہ پھر میں
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 389
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 389
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/389/mode/1up
    دنیا میں آؤں گا تو بروز کے طور پر یہ آنا ہو گا اور اس سے تو یہ ثابت ہو گا کہ وہ دنیا سے خارج اور وفات یافتہ ہیں۔ اور جب کہ دنیا سے گئے ہوئے لوگوں کا پھر واپس آنا ۔ بجسمھم العنصری عادت اﷲ ثابت نہیں ہوتی تو پھر کیا وجہ کہ اس قول کے اگر صحیح ہو سنّت اﷲ کے مخالف معنے نہ کئے جائیں اور کیا وجہ کہ یہ آنا بروزی طور پر نہ مانا جائے جیساکہ حضرت یوحنا نبی کا دوبارہ دنیامیں آنا تھا کیا حاجت ہے کہ ایسے مجہول الکیفیت معنے لئے جاویں جن کا نمونہ خدا تعالیٰ کی عادتوں میں موجود نہیں اور جن کی پہلی اُمتوں میں کوئی نظیر نہیں۔ اﷲ تعالیٰ قرآن شریف میں ہمیں حث اور ترغیب دیتا ہے کہ تم ہر ایک واقعہ اور ہر ایک امر کی جو تمہیں بتلایا گیا ہے پہلی اُمتوں میں نظیر تلاش کرو کہ وہاں سے تمہیں نظیر ملے گی۔ اب ہم اس عقیدے کی نظیر کہ انسان دنیا سے جاکر پھر آسمان سے دوبارہ دنیا میں آ سکتا ہے کہاں تلاش کریں اور کس کے پاس جا کر روویں کہ خدا کی گذشتہ عادات میں اس کا کوئی نمونہ بتلاؤ؟ ہمارے مخالف مہربانی کر کے آپ ہی بتلاویں کہ اس قسم کا واقعہ کبھی پہلے بھی ہوا ہے اور کبھی پہلے بھی کوئی انسان ہزار دو ہزار برس تک آسمان پر رہا؟ اور پھر فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے اُترا۔ اگر یہ عادت اﷲ ہوتی تو کوئی نظیر اس کی گزشتہ قرون میں ضرور ملتی۔ کیونکہ دُنیا تھوڑی رہ گئی ہے اور بہت گزر گئی اور آئندہ کوئی واقعہ دنیا میں نہیں جس کی پہلے نظیر نہ ہو۔ حالانکہ جو امر سنّت اﷲ میں داخل ہے اُس کی کوئیؔ نظیر ہونی چاہیء۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں صاف فرماتا ہے۔ 33 ۱؂ یعنی ہر ایک نئی بات جو تمہیں بتلائی جائے تم اہلِ کتاب سے پوچھ لو وہ تمہیں اس کی نظیریں بتلائیں گے لیکن اس واقعہ کی یہود اور نصاریٰ کے ہاتھ میں بجز ایلیا کے قصّے کے کوئی اور نظیر نہیں اور ایلیا کا قصہ اس عقیدے کے بر خلاف شہادت دیتا ہے اور دوبارہ آنے کو بروزی رنگ میں بتلاتا ہے۔ اور ایک بڑی خرابی اس عقیدہ میں یہ ہے کہ اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خوارق ذاتی میں ایک خصوصیت پیدا ہو کر نصاریٰ کو اپنے عقائد باطلہ میں اس سے مدد ملتی ہے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 390
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 390
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/390/mode/1up
    حالانکہ قرآن بار بار یہی کہتا ہے کہ عیسیٰ میں اور انسانوں کی نسبت کوئی امر زیادہ نہیں ہے۔ اب بتلاؤ کہ اگر ایک عیسائی تم پر یہ اعتراض کرے کہ اور انسانوں کی نسبت یسوع میں یہ امر زیادہ ہے کہ تم خود مانتے ہو کہ وہ قریباً دو ہزار برس سے آسمان پر زندہ موجود ہے نہ اُس کی قوت میں فرق آیا نہ اُس کا جسم لاغر ہوا نہ اُس کی بینائی میں کچھ فتور پڑا بلکہ بڑے جلال اور پوری قوت کے ساتھ آسمان پر زندہ موجود ہے اور پھر آخری زمانہ میں فرشتوں کے ساتھ جو خدا کا خاص لشکر ہے ز مین پر اُترے گا جیسا کہ قرآن کے ایک اور مقام میں بھی ہے کہ خدا فرشتوں کے ساتھ آئے گا تو اس صورت میں خدائی صفات مسیح میں پائی گئیں اور خصوصیت خود توجہ دلاتی ہے کہ وہ عام انسانوں سے الگ ہے تو ذرا سوچ کر کہو کہ ان باتوں کا کیا جواب ہے؟ یہی وہ خیالاتِ باطلہ ہیں جن کی شامت سے اب تک ہندوستان میں ایک لاکھ سے زیادہ اسلام سے مرتد ہو کر عیسائی ہو گیا ہے ان سب کا خون ان نادان علماء کی گردن پر ہے۔ خدا تو اپنی آیات 3۱؂وغیرہ میں مسیح کی خصوصیت کی بیخ کنی کر رہا ہے تا کوئی جاہل اس کی کسی خصوصیت سے دھوکہ نہ کھائے اور تم لوگ نہ ایک خصوصیت بلکہ بہت سی خارق عادت خصوصیتیں اُس کی ذات میں قائم کرتے ہو۔تمہارے نزدیک وہ اب تک حیاتِ جسمانی سے بڑی قوت اور طاقت کے ساتھ جیتا ہے۔ ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم تو ساٹھ برس تک ہی عمر پا کر فوت ہو گئے مگر مسیح ابن مریم اس وقت تک بھی جو دو ہزار تک عدد پہنچنے لگا زندہ آسمان پر موجود ہے۔ ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے تو بقول تمہارے ایک مکھی بھی پیدا نہ کی مگر مسیح ابن مریم کے پیدا کئے ہوئے کروڑ ہا پرندے اب تک موجود ہیں۔ اور ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم اس ایک مُردے کو بھی جو صحابہ کرام میں سے سانپ کے کاٹنے سے ؔ مر گیا تھا باوجود اصرار اور الحاح صحابہ کے زندہ نہ کر سکے مگر بقول تمہارے عیسیٰ ابن مریم نے ہزار ہا مردے زندہ کئے اور جو کام حضرت عیسیٰ نے طفولیت میں کئے وہ نعوذباﷲ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے نبوت کے زمانہ میں بھی نہ دکھلائے۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 391
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 391
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/391/mode/1up
    اب بتلاؤ کہ یہ تمام خصوصیتیں جن کے تم خود قائل ہو تمہیں اس بات کے ماننے کے لئے مجبور کرتی ہیں یا نہیں کہ حضرت عیسیٰ کی ذات انسانی صفات سے نرالی تھی یہاں تک کہ بوقت پیدائش کوئی شخص بقول تمہارے مسِ شیطان سے محفوظ نہ رہ سکا اور یہ اعلیٰ درجہ کی عصمت بھی عیسیٰ ابن مریم کو ہی نصیب ہوئی۔ ذرا سوچو کہ اِن باتوں سے کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ کیا قرآن اس قسم کی خصوصیتوں کو حضرت عیسیٰ کی نسبت تسلیم کرتا ہے؟ اُس نے تو مسِ شیطان کی نسبت بھی تمام نبیوں اور رسولوں کو عصمت کے بارے میں مساوی حصہ دیا ہے جبکہ کہا 3 ۱؂ غرض حضرت عیسیٰ کی نسبت کوئی خصوصیت قرار دینا قرآنی تعلیم کے مخالف اور عیسائیوں کی تائید ہے اور جیسا کہ نصوص قطعیہ کے رُو سے حضرت عیسیٰ کی وفات ثابت ہوتی ہے ایسا ہی تاریخی سِلسلہ کے رُو سے بھی اُن کا مرنا بپایۂ ثبوت پہنچتا ہے۔ دیکھو نسخہ مرہم عیسیٰ جس کا ذکر میں مفصّل لکھ چکا ہوں۔ کیسی صفائی سے ظاہر کر رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ واقعہ صلیب کے وقت آسمان پر نہیں اُٹھائے گئے۔ بلکہ زخمی ہو کر ایک مکان میں پوشیدہ پڑے رہے اور چالیس دن تک اُن کی مرہم پٹی ہوتی رہی کیا یہ تمام دنیا کے طبیب اسلامی اور عیسائی اور مجوسی اور روسی اور یہودی جھوٹے ہیں اور تم سچّے ہو؟
    اب سوچو تمہارا یہ عقیدہ آسمان پر اٹھائے جانے کا کہاں گیایہ نہ ایک نہ دو بلکہ ہزار کتاب متفرق فرقوں کی ہے جو واقعاتِ صحیحہ کی گواہی دے کر جھوٹے منصوبوں کی قلعی کھول رہی ہیں۔ یہ کس اعلیٰ درجہ کا ثبوت ہے ذرا خدا سے ڈر کر سوچو۔
    پھر یہ بھی آثار میں لکھا ہے کہ مسیح ابن مریم نبی سیّاح تھا بلکہ وہی ایک نبی تھا جس نے دنیا کی سیاحت کی۔ لیکن اگر یہ عقیدہ تسلیم کیا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب کے واقعہ پر جو باتفاق علماء نصاریٰ و یہود و اہلِ اسلام ان کی تینتیس ۳۳ برس کی عمر میں وقوع میں آیا تھا وہ آسمان کی طرف اٹھائے گئے تھے تو وہ کونسا زمانہ ہو گا جس میں انہوں نے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 392
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 392
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/392/mode/1up
    سیاحت کی تھی آپ لوگ اس قدر اپنے علم کی پردہ دری کیوں کراتے ہیں اگر تقویٰ ہے تو کیوں حق کو قبول نہیں کرتے۔ آپ لوگوں کے پاس بجز ایک لفظ نزولؔ کے ہے کیا۔ لیکن اگر اِس جگہ نزول کے لفظ سے یہ مقصود تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے دوبارہ آئیں گے تو بجائے نزول کے رجوع کہنا چاہئیے تھا کیونکہ جو شخص واپس آتا ہے اُس کو زبانِ عرب میں رَاجِعْ کہا جاتا ہے نہ نَازِلْ۔ ماسوا اس کے جبکہ قرآن میں نزول کا لفظ ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے حق میں بھی آیا ہے اور صحیح مسلم میں دجّال کے حق میں بھی آیا ہے اور عام بول چال اس لفظ کا مسافروں کے حق میں ہے اور نَزِیْل اس مسافرکو کہتے ہیں کہ جو کسی مقام میں فروکش ہو تو پھر خواہ نخواہ نزول سے آسمان سے نازل ہونا سمجھ لینا کس قدر ناسمجھی ہے۔
    پھر میں اصل کلام کی طرف عود کرکے کہتا ہوں کہ ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کا خاتم الانبیاء ہونا بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کو ہی چاہتا ہے کیونکہ آپ کے بعد اگر کوئی دوسرا نبی آ جائے تو آپ خاتم الانبیاء نہیں ٹھہر سکتے اور نہ سلسلہ وحی نبوّت کا منقطع متصور ہو سکتا ہے۔ اور اگر فرض بھی کر لیں کہ حضرت عیسیٰ اُمّتی ہو کر آئیں گے تو شان نبوت تو اُن سے منقطع نہیں ہو گی گو اُمّتیوں کی طرح وہ شریعتِ اسلام کی پابندی بھی کریں *۔مگر یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ اس وقت وہ خدا تعالیٰ کے علم میں نبی نہیں ہوں گے اور اگر خدا تعالیٰ کے علم میں وہ نبی ہوں گے تو وہی اعتراض لازم آیا کہ خاتم الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد ایک نبی دنیا میں آ گیا اور اس میںآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی شان کا استخفاف اور نص صریح قرآن کی تکذیب لازم آتی ہے۔ قرآن شریف میں مسیح ابن مریم کے دوبارہ آنے کا تو کہیں بھی ذکر
    * چونکہ حدیثوں میں آنے والے مسیح موعود کو امّتی لکھا ہے کیونکہ درحقیقت وہ امتی ہے اِس لئے نادان علماء کو دھوکا لگا اور ا نہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو امتی ٹھہرا دیا حالانکہ ہمارے دعویٰ پر یہ ایک نشان تھا کہ مسیح موعود امّت میں سے ہو گا۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 393
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 393
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/393/mode/1up
    نہیں لیکن ختم نبوت کا بکمال تصریح ذکر ہے اور پُرانے یا نئے نبی کی تفریق کرنا یہ شرارت ہے نہ حدیث میں نہ قرآن میں یہ تفریق موجود ہے اور حدیث لَانَبِیّ بَعْدِیْمیں بھی نفی عام ہے۔ پس یہ کس قدر جرأت اور دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالات رکیکہ کی پیروی کرکے نصوصِ صریحہ قرآن کو عمدًا چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے اور بعد اس کے جو وحی نبوت منقطع ہو چکی تھی پھر سلسلۂ وحی نبوت کا جاری کر دیا جائے کیونکہ جس میں شانِ نبوت باقی ہے اُس کی وحی بلاشبہ نبوت کی وحی ہو گی۔ افسوس یہ لوگ خیال نہیں کرتے کہ مسلم اور بخاری میں فقرہ اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ اور اَمََّکُمْ مِنْکُمْ صاف موجود ہے۔ یہ جو اب سوال مقدرؔ کا ہے یعنی جبکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں مسیح ابن مریم حَکم عدل ہو کر آئے گا تو بعض لوگوں کو یہ وسوسہ دامنگیر ہو سکتا تھا کہ پھر ختم نبوت کیونکر رہے گا۔ اس کے جواب میں یہ ارشاد ہوا کہ وہ تم میں سے ایک امّتی ہو گا اور بروز کے طور پر مسیح بھی کہلائے گا۔* چنانچہ مسیح کے مقابل پر جو مہدی کا آنا لکھا ہے اس میں بھی یہ اشارات موجود ہیں کہ مہدی بروز کے طو رپر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی روحانیت کا مورد ہو گا۔ اسی وجہ سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اُس کا خلق میرے خلق کی طرح ہو گا اور یہ حدیث کہ لَامَہْدِیَّ اِلاعِیْسٰی ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف کرتی ہے کہ وہ آنے والا ذوالبروزین ہو گا اوردونوں شانیں مہدویت اور مسیحیت کی اُس میں جمع ہوں گی یعنی اس وجہ سے کہ اُس میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی روحانیت اثر کرے گی مہدی کہلائے گا کیونکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم بھی مہدی تھے جیسا کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے
    * نوٹ: اگر حدیث میں یہ مقصود ہوتا کہ عیسیٰ باوجود نبی ہونے کے پھر اُمّتی بن جائے گا تو حدیث کے لفظ یوں ہونے چاہئیے تھے۔ اِمَامُکُمُ الَّذِیْ یَصِیْرُ مِنْ اُمّتِیْ بَعْدَ نُبُوَّتِہٖ۔یعنی تمہاراامام جو نبوت کے بعد میری اُمت میں سے ہو جائے گا۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 394
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 394
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/394/mode/1up
    3 ۱؂اِس کی تفصیل یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے اور نبیوں کی طرح ظاہری علم کسی اُستادسے نہیں پڑھا تھا مگر حضرت عیسےٰ اور حضرت موسیٰ مکتبوں میں بیٹھے تھے اور حضرت عیسیٰ نے ایک یہودی اُستاد سے تمام توریت پڑھی تھی۔ غرض اسی لحاظ سے کہ ہمارے نبی صلی اﷲعلیہ وسلم نے کسی اُستاد سے نہیں پڑھا خدا آپ ہی اُستاد ہوا اور پہلے پہل خدا نے ہی آپ کو اِقْرَءْ کہا۔ یعنی پڑھ ۔ اور کسی نے نہیں کہا اِس لئے آپ نے خاص خداکے زیر تربیت تمام دینی ہدایت پائی اور دوسرے نبیوں کے دینی معلومات انسانوں کے ذریعہ سے بھی ہوئے۔ سو آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا سو اِس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا اور قرآن اور حدیث میں کسی اُستاد کا شاگرد نہیں ہو گا۔ سو مَیں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی حال ہے کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ مَیں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے یا کسی مفسّر یا محدّث کی شاگردی اختیار کی ہے۔ پس یہی مہدویّت ہے جو نبوّت محمدیّہ کے منہاج پر مجھے حاصل ہوئی ہے اور اسرارِ دین بلاواسطہ میرے پر کھولے گئے۔ اور جس طرح مذکورہ بالا وجہ سے آنے والا مہدی کہلائے گا اسی طرح وہ مسیح بھی کہلائے گا کیونکہ ؔ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روحانیت بھی اثر کرے گی۔ لہٰذا وہ عیسٰی ابن مریم بھی کہلائے گا اور جس طرح آنحضرت صلی ا ﷲ علیہ وسلم کی روحانیت نے اپنے خاصۂ مہدویّت کو اس کے اندر پُھونکا*
    * ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کا نام عبد بھی ہے اور اس لئے خدا نے عبد نام رکھا کہ اصل عبودیت کا خضوع اور ذُلّ ہے اور عبودیت کی حالت کاملہ وہ ہے جس میں کسی قسم کا غلواور بلندی اور عُجب نہ رہے اور صاحب اس حالت کا اپنی عملی تکمیل محض خدا کی طرف سے دیکھے اور کوئی ہاتھ درمیان نہ دیکھے*۔عرب کا محاورہ ہے کہ وہ کہتے ہیں مَوْرٌ
    * نوٹ:۔ یہ مرتبہ عبودیّت کاملہ جو انسان اپنی عملی تکمیل محض خدا تعالیٰ کی طرف سے دیکھے بجز اس مہدئ کامل کی جس کی عملی تکمیل تمام و کمال محض خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے ہوئی ہو دوسرے کو میسّر نہیں آ سکتا کیونکہ اپنی جہد اور کوشش کا اثر ضرور ایک ایسا خیال پیدا کرتا ہے کہ جو عبودیت تامہ کے منافی ہے۔ اس لئے مرتبہ عبودیت کاملہ بھی بوجہ اس کے جو مرتبہ مہدویت کاملہ کے تابع ہے بجز آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے کسی دوسرے کو بوجہ کمال حاصل نہیں۔ ذالک فضل اﷲ یؤتیہ من یشاء فاشھدوا انّا نشھدانّ محمدًا عبداﷲ و رسولہ۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 395
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 395
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/395/mode/1up
    اِسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کی رُوحانیت نے اپنا خاصہ رُوح اﷲ ہونے کا اس کے اندر ڈالا۔
    یاد رہے کہ خدا تعالیٰ کے لطف اور احسان اس کے انبیاء علیہم السلام پر گونا گوں پیرایوں میں نازل ہوتے ہیں۔ کسی نبی کی علمی اور عملی تکمیل بلاواسطہ ہوتی ہے اور کسی کی تکمیل میں بعض وسائط بھی ہوتے ہیں سو یہ خاص فضل کی بات ہے کہ جیسا کہ ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ کی علمی تکمیل بغیر واسطہ کسی دوسرے اُستاد کے ہو کر اسی لحاظ سے آپ کو مہدی کا لقب ملا ایسا ہی عملی تکمیل بھی بلاواسطہ ہو کر عبد کا لقب ملاکیونکہ نہ آپ کی تعلیم کسی انسان کی معرفت ہوئی اور نہ آپ کی عملی طاقتیں کسی مہذب مجلس کی صحبت سے پیدا ہوئیں۔ اور اِسی خالص مہدویّت کے نام کے لحاظ سے آپ کو بہت سے اسرار اور معارف اور کَلِمِ جامِعَہ بخشے گئے یہاں تک کہ قرآن شریف میں اس قدر معارف اور نکات اور علوم حکمیہ الٰہیہ اور دلائلِ عقلیہ فلسفیہ اعلیٰ درجہ کی بلاغت اور فصاحت کے ساتھ بیان فرمائے گئے کہ وہ ان تمام معارف اور بلاغتِ کاملہ کے لحاظ سے ایک اعلیٰ درجے کا علمی معجزہ ٹھہر گیا جس ؔ کی نظیر پیش کرنا تمام جن و انس کی طاقت سے باہر ہے۔ سو ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کا وہ اعلیٰ کمال جس سے آپ کی خصوصیت تھی مہدویّت اور عبودیّت ہے۔ آپ کی مہدویّت کا ہی اثر تھا کہ اُس
    مُعَبَّدٌ وَ طَرِیْقٌ مُعَبَّدٌجہاں راہ نہایت درست اور نرم اور سیدھا کیا جاتا ہے اس راہ کو طریق معبّد کہتے ہیں ۔پس آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اس لئے عبد کہلاتے ہیں کہ خدا نے محض اپنے تصرف اور تعلیم سے اُن میں عملی کمال پیدا کیا اور ان کے نفس کو راہ کی طرح اپنی تجلّیات کے گذر کے لئے نرم اور سیدھا اور صاف کیا اور اپنے تصرف سے وہ استقامت جو عبودیّت کی شرط ہے ان میں پیدا کی۔ پس وہ علمی حالت کے لحاظ سے مہدی ہیں اور عملی کیفیّت کے لحاظ سے جو خدا کے عمل سے ان میں پیدا ہوئی عبد ہیں۔ کیونکہ خدا نے ان کی رُوح پر اپنے ہاتھ سے وہ کام کیا ہے جو کوٹنے اور ہموار کرنے کے آلات سے اس سڑک پر کیا جاتا ہے جس کو صاف اور ہموار بنانا چاہتے ہیں۔ اور چونکہ مہدی موعود کو بھی عبودیّت کا مرتبہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ذریعہ سے حاصل ہوا۔ اس لئے مہدئ موعود میں عبدکے لفظ کی کیفیت غلام کے لفظ سے ظاہر کی گئی یعنی اُس کے نام کو غلام احمد کرکے پکارا گیا۔ یہ غلام کا لفظ اس عبودیّت کو ظاہر کرتاہے جو ظلّی طو رپر مہدئ موعود میں بھی ہونی چاہئیے۔ فتدبّر ۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 396
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 396
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/396/mode/1up
    زمانہ کو عام خیال ہدایت یابی کا پیدا ہوااور دلوں کو خود بخود خدا کی طرف توجہ ہوگئی۔
    مہدویت سے مراد وہ بے انتہا معارفِ الٰہیہ اور علومِ حکمیہ اور علمی برکات ہیں جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو بغیر واسطہ کسی انسان کے علم دین کے متعلق سکھلائے گئے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے معجزات میں سے اوّل درجہ کا معجزہ ہے *۔جن کے ذریعہ سے بے شمار انسان ایمانی اور عملی قویٰ کی تکمیل کرکے معرفت تامہ کے بلند مینار تک پہنچ گئے اور عارف کامل ہو گئے۔ مسلمان اگر اِس بات کا فخر کریں تو بجا ہے کہ جس قدر اُن کو اپنے نبی کریم اور کتاب اﷲ قرآن شریف کے ذریعہ سے اسرار اور علوم اور نکات معلوم ہوئے اس کی نظیر کسی نبی کی اُمت میں نہیں۔ اور عبودیت سے مراد وہ حالتِ انقیاد اور موافقتتامہ اور رضا اور وفا اور استقامت ہے جو خدا تعالیٰ کے خاص تصّرف سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم میں پیدا ہوئی جس سے آپ اس راہ کی طرح ہو گئے جو صاف کیا جاتا اور نرم کیا جاتا اور سیدھا کیا جاتا ہے۔ یہ وہ نمونہ تھا جس کی پیروی سے بے شمار انسان استقامتِ کاملہ تک پہنچ گئے۔ غرض یہ دونوں کامل صفتیں ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم میں متحقق تھیں جو عام ہدایت اور قوت
    ایمانی اور استقامت کا موجب ہوئیں۔ اور جس طرح آنجناب کو مہدی اور عبد کا خدا تعالیٰ کی طرف سے لقب ملا تھا جس کی تشریح ابھی ہو چکی ہے اِسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو رُوح اﷲ کا لقب ملا۔ اور جب یہ لقب اُن کو عطا ہوا تو خدا نے ان کو اُنؔ برکتوں سے بھر دیا جن سے دنیا کو جسمانی طو رپر اُن کے انفا س سے فائدہ پہنچا اور یہ فوائد اکثر دنیوی تھے۔
    * آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو والدین سے مادری زبان سیکھنے کا بھی موقعہ نہیں ملا کیونکہ چھ ماہ کی عمر تک دونوں فوت ہو چکے تھے پس اس واقعہ میں بھی شانِ مہدویّت کا ایک راز ہے یعنی جس کو زبان سیکھنے کے لئے والدین کی تربیت بھی نصیب نہیں ہوئی اُس کی یہ فصاحت اور یہ بلاغت جس کی نظیر کسی عرب نژاد میں نہیں مل سکی۔ یہ وہ امر ہے جس سے یہ نکتہ صاف سمجھ آتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے چونکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم میں مہدویّت کی شان رکھی تھی اس لئے زبان دانی کے مرتبہ میں بھی جو انسانیت کا پہلا مرتبہ ہے کسی دوسرے کا محتاج نہیں کیا۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 397
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 397
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/397/mode/1up
    مثلاً لوگوں کی بیماریوں کا اُن کی توجہ سے دُور ہونا یا اُن کی تنگیوں اور تکالیف کا حضرت مسیح کی ہمّت سے رفع ہو جانا یا اُن کی دُعاؤں سے ان کا دشمنوں پر فتح پانا یا کھانے پینے کی چیزوں میں برکت پیدا ہونا۔ مگر وہ برکتیں اُن علمی اور روحانی اور غیر فانی اور ایمانی برکتوں کے مقابل پر کچھ چیز نہیں تھیں جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا کو ملیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ اُن رُوحانی اور غیر فانی اور ایمانی برکتوں میں سے حضرت مسیح نے اپنی امت کو کوئی حصّہ نہیں دیا اور نہ یہ کہتے ہیں کہ ان جسمانی برکتوں سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو محروم رکھا بلکہ مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح میں جسمانی فانی برکتوں کی کثرت تھی اور رُوحانی اور ایمانی اور دائمی برکتیں دنیا کو اُن سے بہت ہی کم ملیں۔ اسی وجہ سے خدا تعالیٰ کو بھی کہنا پڑا کہ کیا اپنی اُمت کو تُونے ہی شرک سکھایا ہے۔ ایسا ہی ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو رُوحانی دائمی برکتیں بکثرت دی گئیں اور جسمانی برکتیں بہ نسبت رُوحانی کے تھوڑی تھیں۔ کیونکہ رُوحانی گویا بے شمار تھیں۔
    اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ پیشگوئیوں میں آنے والے مسیح کی نسبت یہ لکھا ہوا تھا کہ وہ دونوں قسم کی برکتیں جسمانی اور رُوحانی پائے گا۔ چنانچہ اشارہ کیا گیا تھاکہ رُوحانی اور غیر فانی برکتیں جو ہدایتِ کاملہ اور قوتِ ایمانی کے عطا کرنے اور معارف اور لطائف اور اسرار الٰہیہ اور علومِ حکمیہ کے سکھانے سے مراد ہے اُن کے پانے کے لحاظ سے وہ مہدی کہلائے گا۔ اور وہ برکتیں چشمۂ فیوضِ محمدیہ سے اُس کو ملیں گی کیونکہ خالص مہدویت بلاآمیزش وسائلِ ارضیہ صفت حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ہے * اس لئے اِس لحاظ سے
    * نوٹ۔ ہم لکھ چکے ہیں کہ علمِ دین یا محض علم جو علوم دین کی کنجی ہے دوسرے نبیوں نے انسانوں کے ذریعہ سے بھی حاصل کئے ہیں چنانچہ حضرت موسیٰ زیر تربیّت فرعون مصر میں مکتب میں بیٹھے اور علومِ مروّجہ پڑھے اور ایسا ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے توریت کو بتمام کمال ایک یہودی اُستاد سے پڑھا تھا لیکن یہ خالص مہدویت کہ کسی انسان سے ایک حرف بھی نہ پڑھا اور آخر خدا نے ہی اِقْرَءْ کہا۔ یہ بجز ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے کسی نبی کو نصیب نہ ہوئی اِسی لئے آپ کتب سابقہ اور قرآن میں نبی اُمّی کہلائے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 398
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 398
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/398/mode/1up
    خدا کے نزدیک اس مجدّد کا نام احمد اور محمد ہو گا۔ اور یہ بھی اشارہ کیا گیا تھا کہ جو جسمانی اور فانی یعنی
    دنیوی برکتیں ہیں جو ہمیشہ نہیں رہ سکتیں اور محدود اور قابلِ زوال ہیں جن سے مُراد یہ ہے کہ دوستوں اور غریبوں اور مسکینوں اور رجوع کرنے والوں کی نسبت اُن کی صحت اور عافیت یا کامیابی اور امن یا فقر و فاقہ سے مَخلصی اور سلامتی کے بارے میں برکات عطا کرنا اور ظالم درندوں کی نسبت اُن کی ہلاکت اور تباہی کے بارے میں جو ؔ درحقیقت غریبوں اور نیکوں کی نسبت وہ بھی برکات ہیں قہرِ الٰہی کی بشارت دینا جیسا کہ حضرت مسیح نے یہودیوں کی تباہی کی نسبت بشارت دی تھی ان برکات کے عطا کرنے کے لحاظ سے اور نیز اُن دنیوی برکات کے لحاظ سے بھی کہ اس زمانہ میں انسانوں کوزندگی میں بہت سے وسائل آرام پیدا ہو جائیں گے وہ عیسی ابن مریم کہلائے گا۔ کیونکہ جو برکات اعلیٰ درجہ کی اور بکثرت حضرت مسیح کو دی گئی تھیں وہ یہی ہیں۔ اس لئے آخری امام کے لئے اُن برکات کا سرچشمہ حضرت مسیح ٹھہرائے گئے اور چونکہ حقیقت عیسوی یہی ہے اس لئے اس حقیقت کے پانے والے کا نام عیسیٰ ابن مریم قرار پایا جیسا کہ مہدویت کے لحاظ سے جو حقیقتِ محمدیّہ تھی اُس کا نام مہدی رکھا گیا۔ یہی حکمت ہے کہ جہاں براہین احمدیہ میں اسرار اور معارف کے انعام کااس عاجز کی نسبت ذکر فرمایا گیا ہے۔ وہاں احمدکے نام سے یاد کیا گیا ہے جیسا کہ فرمایا یا احمد فاضت الرحمۃ علٰی شفتیک۔ اور جہاں دنیا کی برکات کا ذکر کیا گیا ہے وہاں عیسیٰ کے نام سے پکارا گیا ہے جیسا کہ میرے الہام میں براہین احمدیہ میں فرمایا۔ یا عیسٰی انی متوفّیک و رافعک الیّ و مطہرّک من الّذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ۔ ایسا ہی وہ الہام ہے جو فرمایا کہ ’’میں تجھے برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔‘‘یہ وہ سّر ہے جو مہدی اور عیسیٰ کے نام کی نسبت مجھ کو الہام الٰہی سے کُھلا اور وہ پِیر کا دن اور تیرھو۱۳یں صفر ۱۳۱۶ ؁ھ تھا اور جولائی ۱۸۹۸ ؁ء کی چوتھی تاریخ تھی جبکہ یہ الہام ہوا۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 399
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 399
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/399/mode/1up
    اور اِسی کے مطابق میں نے وہ قول پایا جو آثار میں لکھا ہے اور حجج الکرامہ میں بھی اُس کوذکر کیا ہے کہ مہدی موعود کا بدن دو حصوں میں منقسم ہو گانصف حصہ عربی ہو گا اور نصف حصہ اسرائیلی یہ اسی امر مشترک کی طرف اشارہ تھااور اِس سے مقصد یہی تھا کہ وہ شخص کچھ تو عیسیٰ علیہ السلام کی صفات کا وارث ہو گا اور کچھ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی صفات کا۔ فتدبّر
    اور جس طرح بعض صفات کے لحاظ سے امام موعود کا نام احمد اور محمد رکھا گیا اسی طرح بعض دوسری صفات کے لحاظ سے عیسیٰ اور مسیح ابن مریم رکھا گیاؔ ۔ اب ظاہر ہے کہ احمد کے نام سے کوئی شخص یہ نہیں سمجھ سکتا کہ حقیقت میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم دوبارہ آجائیں گے اِسی طرح عیسیٰ کے نام سے یہ سمجھنا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آ جائیں گے یہ ایک غلطی ہے کہ اِس پیشگوئی کے سرّ اور مغز کے نہ سمجھنے سے پیدا ہوئی ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ دونوں ناموں میں بروزی ظہور کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ چنانچہ شخص موعود کا احمد نام رکھ کر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ساتھ ہی فرما دیا ہے کہ اس کی صفات میری صفات سے اور اس کی صورت میری صورت سے مشابہ ہو گی۔ یہی تقریر تھی جو بروزی ظہور کی طرف اشارہ تھا یعنی وہ بلحاظ صفاتِ احمدیہ احمد کہلائے گا۔ اِسی طرح شخص موعود کا نام عیسیٰ رکھ کر اور پھر اس کی نسبت اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ اور اَمَّکُمْ مِنْکُمْ کہہ کر جیسا کہ بخاری اور مسلم میں آیا ہے صاف ہدایت کر دی کہ عیسیٰ سے حقیقی طور پر عیسیٰ مُراد نہیں ہے بلکہ یہ شخص امّت میں سے ہو گا۔ حدیث کے الفاظ میں یہ نہیں ہے کہ پہلے وہ نبی ہو گا اور پھر امّتی بن جائے گا۔ اگر یہی مفہوم حدیث میں مراد ہوتا تو یوں کہنا چاہئیے تھا کہ اِمامُکُمُ الَّذِْی سَیَصِیْرُ مِنْکُمْ وَ مِنْ اُمَّتِیْ بَعْدَ نُبَوَّتِہٖ۔ یعنی تمہارا امام جو نبوت کے بعد پھر تم میں سے اور میری امّت میں سے ہو جائے گا ۔اِسی وجہ سے بخاری کی حدیثوں میں جو دوسری حدیثوں کی نسبت بہت زیادہ صحیح اور نہایت تحقیق سے لکھی گئی ہیں آنے والے مسیح موعود کے حُلیہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام رسول اﷲ کے حلیہ میں فرق ڈال دیا گیا ہے ۔یعنی حضرت عیسیٰ کا حلیہ کوئی اور لکھا ہے جس میں اُن کو
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 400
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 400
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/400/mode/1up
    سفید رنگ بتلایا ہے اور آنے والے مسیح کو گندم گوں اور میرے حلیہ کے مطابق قرار دیا ہے۔
    اب اِس سے زیادہ پیغمبر خدا صلی اﷲ علیہ وسلم اور کیا تفصیل فرماتے۔ آپ نے آنے والے اور گذشتہ مسیح کے دو حلیے ٹھہرا دیئے تا لوگ ٹھوکر نہ کھائیں۔ ایسا ہی آپ نے لانبی بعدی کہہ کر کسی نئے نبی یا دوبارہ آنے والے نبی کا قطعاً دروازہ بند کر دیا۔ پھر آپ نے کَمَاقَال العبدُ الصّالحُ فرما کر صاف کہہ دیا کہ عیسیٰ ابن مریم فوت ہو گیا۔ پھر آپ نے اَلاٰیاتُ بَعْدَ الْمِأتَیْنِکہہ کر مہدی موعود کی پیدائش کو تیرھویں صدی قرار دیا۔ پھر آپ نے مسیح موعود کو صدی کے سر پر آنے والا کہا اور پھرآپ نے لامہدیّ الاعیسٰی کہہ کر عیسیٰ اورؔ مہدی ایک ہی شخص ٹھہرا دیا۔ پھر آپ نے امامکم منکم اور امّکم منکمکہہ کر صاف جتلا دیا کہ آنے والے عیسیٰ بن مریم سے صرف ایک امّتی مراد ہے ایسا ہی آپ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک سو بیس برس عمر بیان فرما کر ان کی موت کی حقیقت کھول دی۔ پھر آپ نے آنے والے مسیح کا وقت یاجوج ماجوج کے ظہور کا زمانہ ٹھہرایا اور یاجوج ماجوج یوروپین عیسائی ہیں ۔کیونکہ یہ نام اَجِیْج کے لفظ سے نکالا گیا ہے جو شعلۂ آگ کو کہتے ہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ وہ لوگ آگ سے بہت کام لیں گے اور اُن کی لڑائیاں آتشی ہتھیاروں سے ہوں گی اور اُن کے جہاز اور اُن کی ہزاروں کلیں آگ کے ذریعہ سے چلیں گی۔ پھر آپ نے فرمایا کہ میں نے معراج کی رات میں عیسیٰ بن مریم کو مُردوں میں پایا یعنی حضرت یحییٰ کے پاس دوسرے آسمان پر دیکھا آپ نے یہ بھی فرمایا کہ مسیح موعود عیسائی مذہب کے زورکے وقت آئے گا اور صلیبی زور کو توڑے گا۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اُن دنوں میں اونٹ بے کار ہو جائیں گے اور یہ ریل کی طرف اشارہ تھا جیسا کہ قرآن شریف میں بھی ہے 3 ۱؂آپ کے جلیل الشان اہل بیت سے یہ بھی روایت ہے کہ اس وقت رمضان میں خسوف و کسوف ہو گا۔ اور یہ بھی روایت ہے کہ اُن دنوں میں طاعون بھی پُھوٹے گی اور یہ بھی روایت ہے کہ سورج میں بھی ایک نشان ظاہر ہو گا یعنی ایک ہولناک گرہن لگے گا
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 401
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 401
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/401/mode/1up
    اور یہ بھی روایت ہے کہ حج روکا جائے گا۔ اور یہ بھی روایت ہے کہ ان دنوں میں ایک آگ نکلے گی اور مدت تک اُس کی سُرخی رہے گی اور یہ جاوا کی آگ تھی جیسا کہ حجج الکرامہ میں بھی اِس بات کو مان لیا ہے کہ یہ پیشگوئی پوری ہو گئی۔
    اب بتلاؤ کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے نشانوں کے بتلانے میں کونسی کسر رکھی اور امام موعود کی ذات میں آپ نے دو نشان بیان فرمائے ایک یہ کہ اس کو اسرار اور معارف عطا کئے جائیں گے اور وہ دنیا میں دوبارہ ایمان کو اور معرفت کو قائم کرے گا۔ یہ وہ نشان ہیں جن کی وجہ سے وہ مہدی کہلائے گا۔ اور دوسرے نشان دنیوی برکات کے ہیں کہ اس کے ہاتھ سے دنیوی برکات کے نشان ظاہر ہوں گے اور نیز زمین میں نہایت تازگیؔ اور طراوت پیدا ہو جائے گی اور آبادی میں بڑی ترقی ہو گی اور بے وقت کے پھل لوگوں کو ملیں گے۔ بہت سا حصہ زمین کا زراعت سے آباد ہو جائے گا۔ نہریں جاری ہو جائیں گی درندے کم ہو جائیں گے دنیا پر ایک آرام اور امن کا زمانہ آئے گا۔ یہاں تک کہ زندے آرزو کریں گے کہ اس وقت اُن کے باپ دادے ہوتے۔ اب دیکھو کہ اس زمانہ میں میرے ہاتھ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرز پر بھی نشان ظاہر ہوئے۔ کئی بیماروں بے قراروں کی نسبت دُعائیں قبول ہوئیں اور کئی دنیوی درماندوں کو دوبارہ برکتیں دی گئیں۔ اور جیسا کہ دشمنوں کے لئے بھی مسیح کی دعاؤں نے اثر کیا تھا وہ نشان بھی اس جگہ ظہور میں آئے چنانچہ آتھم نے مقابلہ کے بعد کوئی خوشی نہ دیکھی اور تھوڑی مدت تلخ زندگی میں سرگرداں رہ کر آخر پیشگوئی کے مطابق فوت ہو گیا۔ ایسا ہی لیکھرام کا حال ہوا اور خدا نے پیشگوئی کو پورا کر کے مسلمانوں کو اس کی بد زبانی سے امن بخشا ایسا ہی مسیحی برکات نے زمانہ میں بھی اپنا اثر دکھایا کیونکہ سکھوں کے عہد میں ہر ایک طور سے مسلمانوں کو دُکھ دیا گیا تھا یہاں تک کہ بانگ نماز سے منع کیا جاتا تھا۔ گائے کے الزام سے ناحق صد ہا خون ہوتے تھے ۔زمینداروں کو کاشتکاری میں امن نہ تھا کھلے کھلے ڈاکے پڑتے تھے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 402
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 402
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/402/mode/1up
    بہت سی زمین ویران پڑی تھی۔ ہمیشہ کی جلاوطنیوں سے ملک تباہ ہو چکا تھا اور بے امنی کی وجہ سے نہ زراعت کا کچھ معتدبہ فائدہ ہوتا تھا نہ باغات کا۔ اور اگر چوروں سے کچھ بچتا تھا تو حکّام لوٹ لیتے تھے۔ اب انگریزوں کے زمانہ میں وہ دور بدل گیا۔ اور حقیقت میں ایسا امن ہو گیا کہ بھیڑیا اور بھیڑ ایک جگہ بسر کر رہے ہیں۔ اور سانپوں سے بچے کھیل رہے ہیں۔ زمین خوب آباد ہو گئی اور پھلوں کی یہ کثرت ہو گئی کہ بعض پھل بارہ مہینے کے قریب رہنے لگے اور سفر ایسا سہل اور آسان ہو گیا کہ ریل کی سواری نے تمام مشکلات دُور کر دیں۔ تار کہ ذریعہ سے خارق عادت کے طور پر خبریں آنے لگیں۔ بیماریوں کے لئے نہایت تجربہ کار ڈاکٹر پید ا ہو گئے۔ نہریں جاری ہو گئیں پہاڑوں کا سفر نہایت آسان ہو گیا اور صد ہا قسم کی کلیں جو امورِ معیشت کو سہل اور آسان کرتی ہیں پیدا ہو گئیں اور صد ہا قسم کی تکلیفیں دور ہو گئیں۔ ابؔ حقیقت میں ایک عقلمند آدمی اپنے ان ایّام کا خیال کر کے باپ دادوں کے ایّام کو افسوس کی نظر سے دیکھے گا جن کو سفر کے لئے پکّی سڑک بھی میّسر نہیں آتی تھی۔ ایک ٹٹو پر پچیس کوس سفر کرنا ہزار کوس کے برابر تھا دھوپ ہوتی تھی پسینے پر پسینہ آتا تھا گرمی کے دنوں میں ٹٹو کی سواری پر یا پیادہ پا ایسا سفر ایک موت ہوتی تھی۔ اب یہ بہار ہے کہ نہایت آرام سے ریل کی گاڑیوں میں سے ایک گاڑی میں بیٹھے ہیں ٹھنڈی ہوا آ رہی ہے جا بجا پانی اور کھانے پینے کا سامان موجود ہے۔ بیٹھے بیٹھے ہر ایک چیز اور جنگل کے عجائبات کو دیکھ رہے ہیں گویا ایک نظارہ گاہ ہے ۔جس قدر روپیہ خرچ کریں اُسی قدر ریل میں آرام کے سامان موجود ہیں۔ غرض اس وقت اگر دنیا کی حالتِ تمدّن پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہو گا کہ ہزار در ہزار آرام کے سامان میسر آگئے ہیں اور بے شمار دنیوی برکتیں نازل ہو گئی ہیں۔ اور سب کے علاوہ سلطنت میں نہایت امن ہے۔ قواعد اور قوانین کی پابندی کے نیچے محکوم اور حاکم برابر چل رہے ہیں ایک ذرّہ بھی حکومت نمائی نہیں۔ پس یہ وہی زمانہ تھا جس کی نسبت خبر دی گئی تھی کہ مسیح موعود کے وقت میں ایسا زمانہ ہو گا اور اس قدر دنیوی برکات اوردنیوی امن پیدا ہو جائیں گے۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 403
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 403
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/403/mode/1up
    اور مسیح موعود کی طرف یہ برکات حدیثوں میں اس لئے منسوب کی گئیں کہ یہ ہمیشہ سے عادۃ اﷲ ہے کہ جس مرد خاص کو خدا تعالیٰ دنیا میں برکات ظاہر کرنے کے لئے بھیجتا ہے اس کے زمانہ میں جو کچھ برکات ظاہر ہوتی ہیں خواہ اس کے ہاتھ سے ظہور میں آویں خواہ کسی اور کے ہاتھ سے ظہور میں آئیں سب اُسی کی طرف منسوب کی جاتی ہیں کیونکہ اُس کے متبرک وجود کی وجہ سے خدا کے فضل ہر ایک طور سے زمین پر وارد ہوتے ہیں لہٰذا وہ تمام برکات اسی کے لئے ہوتی ہیں اگرچہ دنیا اس کو اوائل حال میں نہیں پہچانتی مگر آخر پہچان لیتی ہے۔ مَیں نے بار بار کہا اور اب بھی کہتا ہوں کہ انسانوں کی عافیت اور برکت کے لئے میری دعاؤں اور میری توجہ اور میرے وجود کواور تمام انسانوں کی نسبت زیادہ دخل ہے کوئی نہیں جو ان امور میں میرا مقابلہ کر سکے اور اگر کرے تو خدا اس کو ذلیل کرےؔ گا۔ میری نسبت ہی خدا نے فرمایا مَا کانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَھُمْ وَ اَنْتَ فِیْھِمْ یعنی خدا ایسا نہیں کہ اس قوم اور اس سلطنت پر عذاب نازل کرے جس میں تو ہے اور فرمایا اِنّ اللّٰہ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَومٍ حَتّٰی یُغَیِرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ اِنّہٗ اَوَی الْقَرْیَۃَ اس الہام میں گوہنوز اجمال ہے مگر جیسا کہ ظاہر الفاظ سے سمجھا جاتا ہے یہی معنے ہیں کہ جس گاؤں میں تو ہے خدا اُسے طاعون سے یا اُس کی آفات لاحقہ سے بچائے گا۔ بہرحال یہ وہی دنیوی برکات ہیں جو حضرت عیسٰی علیہ السلام کو دی گئی تھیں۔ یعنی اُن میں بڑاکمال یہی تھا کہ اُن کی ہمت اور توجہ اور دُعا مخلوق کی عافیتِ عامہ کے لئے موء ثر تھی۔ سو یہی صفات اس عاجز کو بخشی گئیں۔ چنانچہ براہین میں بھی یہ الہام ہے کہ امراض الناس و برکاتہ اور ایک یہ بھی الہام ہے یا مسیح الخلق عدوانا یعنی اے مسیح جو خلقت کی بھلائی کے لئے بھیجا گیا ہمارے طاعون کے دفع کے لئے مدد کر۔ سو یاد رکھو کہ وہ وقت آ تا ہے بلکہ قریب ہے کہ لوگ ان برکات کو بکثرت دیکھیں گے ۔
    اب یہ زمانہ جس میں ہم ہیں ایسا زمانہ ہے کہ دو قسم کے برکات اس میں ترقی کرتے جاتے ہیں اور ا س درجہ پر ہیں کہ اگر ان برکات کی نظیر گزشتہ زمانوں میں تلاش کی جائے تو ہر گز
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 404
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 404
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/404/mode/1up
    نہیں ملے گی۔ (۱) پہلی دنیوی برکات دیکھنا چاہیئ کہ بنی آدم کے لئے کس قدر ان کی اقامت اور سفر اور صحت اور بیماری اور خوراک اور پوشاک کے لئے سہولتیں پیدا ہو گئی ہیں اور کس قدر امن حاصل ہو گیا ہے۔ کیا ہمارے وہ بزرگ جو اس زمانہ سے دو سو برس پہلے فوت ہو گئے انہوں نے اس قسم کے آرام پائے تھے؟(۲) دوسرے برکات رُوحانی امور کے متعلق ہیں۔ سو دیکھنا چاہیے کہ جس قدر اس زمانہ میں ہزار ہا کتابیں چھپ کر شائع ہوئیں۔ ہزار ہا اسرار علمِ دین کھل گئے۔ قرآنی معارف اور حقائق ظاہر ہوئے۔کیا اِن باتوں کا پہلے نشان تھا؟ اور یہ دونوں قسم کی برکتیں امام موعود کی نسبت حدیثوں میں منسوب کی گئی ہیں کیونکہ ان تمام برکات کا درحقیقت فاعل خدا ہے۔ اور خدا نے صرف امام کے زمانے کو متبرک ظاہر کرنے کے لئے یہ برکتیں ظاہر کیں۔ یہ برکتیں ایک تو وہ ہیں جو خاص امامِ موعود کے ذریعے سے ظاہر ؔ ہوئیں اور ہو رہی ہیں اور دوسری وہ جو اس کے زمانے میں ظاہر ہوئیں اور خدا تعالیٰ کے نزدیک یہ دونوں قسم کی برکتیں ایک ہی سرچشمہ سے ہیں۔
    اب ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ یہ برکتیں جو دنیا میں ظاہر ہو رہی ہیں دو رنگ رکھتی ہیں ایک وہ رنگ ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات سے مشابہ ہے کیونکہ اُن کے اکثر معجزات دنیوی برکات کے رنگ میں تھے *۔ دوسرا رنگ ان برکتوں کا وہ ہے جو ہمارے سیّدو مولیٰ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے معجزاتِ روحانیہ سے مشابہ ہے کیونکہ آپ کا کام اسرار اور
    * چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہمّت اور توجہ دنیوی برکات کی طرف زیادہ مصروف تھی اس لئے اُن کی اُمّت میں یہ اثر ہوا کہ رفتہ رفتہ دین سے تو وہ بکلّی بے بہرہ ہو گئے مگر دنیا کی برکتیں جیسا کہ علم طبعی علم ڈاکٹری علم تجارت علم فلاحت علم جہاز رانی اور ریل رانی وغیرہ اس میں بے نظیر ہو گئے۔ بر خلاف اس کے دینی عمیق اسرار مسلمانوں کے حصے میں آئے اور دنیا میں پیچھے رہے۔ رُوحانی برکات کی یادگار کے لئے قرآن شریف بھی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو ایک دائمی معجزہ دیا گیا جو بموجب منطوق آیت 3 ۱ ؂ تمام دینی معارف کا جامع ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 405
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 405
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/405/mode/1up
    معارف اور علوم الہٰیہ کو پھیلانا تھا اور آپ کی دُعا اور توجہ اور ہمت یہی کام کر رہی تھی سو اس زمانہ میں اسرار اور معارف اور علومِ حکمیہ بھی پھیل رہے ہیں اور یہ دونوں قسم کی برکتیں یعنی جسمانی اور رُوحانی عام طور پر بھی دنیا میں ظاہر ہو رہی ہیں یعنی بالواسطہ اور خاص طور پر بھی ظاہر ہو رہی ہیں یعنی بلاواسطہ امام موعود سے صادر ہو رہی ہیں۔ پس چونکہ دنیوی برکتیں عیسیٰ صفت انسان کی تجلّی کو چاہتی تھیں اور رُوحانی برکتیں محمدؐ صفت انسان کے ظہور کا تقاضا کرتی تھیں اور خدا وَحدت کو پسند کرتا ہے نہ تفرقہ کو اِس لئے اُس نے یہ دونوں شانیں ایک ہی انسان میں جمع کر دیں تا دو کا بھیجنا موجب تفرقہ نہ ہو۔ سو ایک ہی شخص ہے جو ایک اعتبار سے مظہر عیسیٰ علیہ السلام ہے اور دوسرے اعتبار سے مظہرِ حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ہے اور یہی سرّ اس حدیث کا ہے کہ لَا مَہْدِیَّ اِلا عِیْسٰی۔اور یہی سرّ ہے کہ جو احادیث میں امامت کا کام مہدی کے سپرد بیان کیا گیا ہے اور3 دجّال کا کام مسیح کے سپرد ظاہر فرمایا گیا ہے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ امامت امور روحانیہ میں سے ہے جس کا نتیجہ استقامت اور قوتِ ایمان اور معرفت اور اتباع مرضات الہٰی ہے جو اخروی برکات میں سےؔ ہے۔ لہٰذا اس قسم کی برکت برکاتِ محمدیّہ میں سے ہے۔ اور دجّال کی شوکت اور شان کو صفحۂ زمین سے معدوم کرنا جس کو قتل کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ یہ دنیوی برکات میں سے ہے کیونکہ دشمن کی ترقی کو گھٹا کر ایسا کالعدم کر دینا گویا اس کو قتل کر دینا یہ دُنیاکے کاموں میں سے ایک قابلِ قدر کام ہے اور اس قسم کی برکت برکاتِ عیسویہ میں سے ہے۔
    اب اگر یہ سوال پیش ہو کہ ہمیں کیونکر معلوم ہو کہ یہ دونوں قسم کی برکتیں جو عیسوی برکت اور محمدی برکت کے نام سے موسوم ہو سکتی ہیں تم میں جو مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے کا دعویٰ کرتے ہو جمع ہیں اور کیونکر ہم صرف دعوے کو قبول کرلیں؟ تواس کا جواب یہ ہے کہ ان برکات کو اﷲ جلّ شانہٗ نے محض اپنے فضل اور کرم سے مجھ میں ثابت کر دیا ہے اور میں بڑے دعوے سے کہتا ہوں کہ میں ان دونوں قسم کی برکتوں کا جامع ہوں۔ اور آج تک جو
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 406
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 406
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/406/mode/1up
    نشان آسمانی مجھ سے ظاہر ہوئے ہیں وہ ان دونوں قسم کی برکتوں پر مشتمل ہیں۔ یہ تو معلوم ہے کہ محمدی برکتیں معارف اور اسرار اور نکات اور کَلم جامعہ اور بلاغت اور فصاحت ہے سو میری کتابوں میں اُن برکات کا نمونہ بہت کچھ موجود ہے۔ براہین احمدیہ سے لے کر آج تک جس قدر متفرق کتابوں میں اسرار اور نکات دینی خدا تعالیٰ نے میری زبان پر باوجود نہ ہونے کسی اُستاد کے جاری کئے ہیں اور جس قدر میں نے اپنی عربیّت میں باوجود نہ پڑھنے علم ادب کے بلاغت اور فصاحت کا نمونہ دکھایا ہے اُس کی نظیر اگر موجود ہے تو کوئی صاحب پیش کریں۔ مگر انصاف کی پابندی کے لئے بہتر ہو گا کہ اوّل تمام میری کتابیں براہین احمدیہ سے لے کر فریاد درد یعنی کتاب البلاغ تک دیکھ لیں اور جو کچھ اُن میں معارف اور بلاغت کا نمونہ پیش کیا گیا ہے اس کو ذہن میں رکھ لیں اور پھر دوسرے لوگوں کی کتابوں کو تلاش کریں اور مجھ کو دکھلاویں کہ یہ تمام امور دوسرے لوگوں کی کتابوں میں کہاں اور کس جگہ ہیں۔ اور اگر دکھلا نہ سکیں تو پھر یہ امر ثابت ہے کہ محمدی برکتیں اس زمانہ میں خارق عادت کے طور پر مجھ کو عطا کی گئی ہیں جن کے رو سے مہدی موعود ہونا میرا لازم آتا ہے۔ کیونکہ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے بغیر انسانی توسط کے یہ تمام برکتیں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو عنایت فرمائیںؔ جن کی وجہ سے آپ کا نام مہدی ہوا یعنی آپ کو بلاواسطہ کسی انسان کے محض خدا کی ہدایت نے یہ کمال بخشا ایسا ہی بغیر انسانی توسط کے یہ رُوحانی برکتیں مجھ کو عطا کی گئیں اور یہی مہدئ موعود کی نشانی اور حقیقتِ مہدویّت ہے ۔رہیں عیسوی برکتیں جن سے مراد یہ ہے کہ انسانوں کو اپنی دُعا اور توجہ سے مشکلات سے رہائی دینا بیماریوں سے صاف کرنا اور دشمنوں سے خلاصی دینا اور فقروفاقہ سے چھڑانا اور برکات عامہ دنیوی کے پیدا ہونے کا موجب ہونا۔ سو اس میں بھی میں کمال دعوےٰ سے کہتا ہوں کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے میری ہمّت اور توجہ اور دُعا سے لوگوں پربرکات ظاہر کی ہیں اس کی نظیر دوسروں میں ہر گز نہیں ملے گی اور عنقریب خدا تعالیٰ اور بھی بہت سے نمونے ظاہر کرے گایہاں تک کہ دشمن کو بھی سخت ناچار
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 407
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 407
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/407/mode/1up
    ہو کر ماننا پڑے گا۔ میں بار بار یہی کہتا ہوں کہ یہ دو قسم کی برکتیں جن کا نام عیسوی برکتیں اور محمدی برکتیں ہیں مجھ کو عطا کی گئی ہیں میں خدا تعالیٰ کی طرف سے علم پا کر اس بات کو جانتا ہوں کہ جو دنیا کی مشکلات کے لئے میری دُعائیں قبول ہو سکتی ہیں دوسروں کی ہر گز نہیں ہوسکتیں۔ اور جو دینی اور قرآنی معارف حقائق اور اسرار مع لوازم بلاغت اور فصاحت کے میں لکھ سکتا ہوں دوسرا ہر گز نہیں لکھ سکتا۔ اگر ایک دنیا جمع ہو کر میرے اس امتحان کے لئے آوے تو مجھے غالب پائے گی *۔ اور اگر تمام لوگ میرے مقابل پر اُٹھیں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے میرا ہی پلّہ بھاری ہو گا۔دیکھو میں صاف صاف کہتا ہوں اور کھول کر کہتا ہوں کہ اس وقت اے مسلمانو! تم میں وہ لوگ بھی موجود ہیں جو مفسّر اور محدّث کہلاتے ہیں اور قرآن کے معارف اور حقائق جاننے کے مدعی ہیں اوربلاغت اور فصاحت کا دم مارتے ہیں اور وہ لوگ بھی موجود ہیں جو فقراء کہلاتے ہیں اور چشتی اور قادری اور نقشبندی اور سہروردی وغیرہ ناموں سے اپنے تئیں موسوم کرتے ہیں ۔ اُٹھو! اور اس وقت اُن کو میرے مقابلہ پر لاؤ۔ پس اگر میں اس دعوے میں جھوٹا ہوں کہ یہ دونوں شانیں یعنی شانِ عیسوی اور شانِ محمدی مجھ میں جمع ہیں ۔ اگر میں وہ نہیں ہوں جس میں یہ دونوں شانیں جمع ہوں گی اور ذوالبروزین ہو گا تو میں اس مقابلہ میں مغلوب ہو جاؤں گا ورنہ غالب آ جاؤں گا۔ مجھے ؔ خدا کے فضل سے توفیق دی گئی ہے کہ میں شانِ عیسوی کی طرز سے دنیوی برکات کے متعلق کوئی شان دکھلاؤں خیا شانِ محمدی کی طرز سے حقائق و معارف اور نکات اور اسرارِ شریعت بیان کروں اور میدانِ بلاغت میں قوتِ ناطقہ کا گھوڑا دوڑاؤں۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے اور محض اُسی کے
    * مہوتسو کے جلسہ میں بھی اس کا امتحان ہو چکا ہے۔ میرا مضمون دوسرے مضمونوں کے مقابل پر پڑھو۔ منہ
    خ شانِ عیسوی کے متعلق جو نشان ہیں یعنی دنیوی برکات کے نشان وہ بہت سے خدا تعالیٰ نے میرے ہاتھ پر ظاہر کئے ہیں جن کی میں اپنی بعض کتابوں میں تصریح کر چکا ہوں۔ اور بعض نشان ایسے ہیں جو ابھی نہیں لکھے گئے مگر یہ خدا کے فضل سے وسیع میدان ہے اگر تسلی کے طالب جمع ہوں تو ہزاروں نشان جمع ہو سکتے ہیں۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 408
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 408
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/408/mode/1up
    ارادے سے زمین پر بجز میرے ان دونوں نشانوں کا جامع اور کوئی نہیں ہے ۔اور پہلے سے لکھا گیا تھا کہ ان دونوں نشانوں کا جامع ایک ہی شخص ہو گا جو آخر زمانہ میں پیدا ہو گا اور اُس کے وجود کا آدھا حصہ عیسوی شان کا ہوگا اور آدھا حصہ محمد ی شان کا سو وہی مَیں ہوں جس نے دیکھنا ہو دیکھے جس نے پرکھنا ہو پرکھے مبارک وہ جو اب بُخل نہ کرے۔ اور نہایت بدبخت وہ جو روشنی پا کر تاریکی کو اختیار کرے۔
    میں اس وقت اس شان کو کسی فخر کے لئے پیش نہیں کرتا کیونکہ فخر کرنا میرا کام نہیں ہے۔ میں اس دھوپ کی طرح ہوں جو آفتاب سے نیچے گرتی اور پھر آفتاب کی طرف کھینچی جاتی ہے۔ بلکہ اس لئے پیش کرتا ہوں کہ ایک دنیا بد ظنی سے تباہ ہوتی جاتی ہے۔ لوگ ایک ایسے مسیح کے منتظر ہو رہے ہیں جس کا دنیا میں آنا 3نبوت کے مخالف قرآن کے مخالف سُنن سابقہ کے مخالف عقل کے مخالف اور فرشتوں کے ساتھ مَرئی طور پر اُترنا قرآن کی اُن آیات کے مخالف ہے جن میں یہ لکھا ہے کہ جب فرشتے مرئی طور پر اُتریں گے تو ایمان نفع نہیں دے گا۔ عیسائی سلطنت کے وقت میں مسیح کا آنا ضروری تھا جیسا کہ حدیث یَکْسِرُ الصَّلِیْبَکا مفہوم ہے اور اب پنجاب میں ساٹھ ۶۰سال سے بھی زیادہ عیسائی سلطنت پرگزر گیا اور مسیح کا آنا اس قوم کے عہد اقبال میں آنا ضروری تھا جس کی لڑائیاں اور اکثر اور کام آگ کے ذریعہ سے ہوں گے اور اسی وجہ سے وہ یاجوج ماجوج کہلائیں گے ابؔ دیکھو کہ مدت سے اس قوم کا غلبہ اور اقبال ظاہر ہوچکا۔ سوچنے والے سوچ لیں ۔اورمسیح موعود کا صدی کے سر پر آنا ضروری تھا اور صدی میں سے بھی پندرہ برس گزر گئے۔ اس صدی مصیبت زدہ پر تعجب کہ بقول مخالفین کوئی مجدّد بھی نہیں آیا جو3 موجودہ کے قلع قمع کے لئے کھڑا ہوتا۔ سو محض ہمدردئ خلائق کی وجہ سے یہ دعویٰ مع دلائل پیش کیا گیا ہے تا کوئی بندۂ خدا اس میں غور کرے اور قبل اس کے جو پیغامِ اجل پہنچے خدا کے ارادے اور مرضی کا تابع ہو جائے کیا یہ انسان کا کام ہے کہ عین اس وقت پر جھوٹا دعویٰ کرے جس میں خدا کا کلام اور رسول کا کلام کہہ رہا ہے کہ کوئی
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 409
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 409
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/409/mode/1up
    سچا آنا چاہیئ اور اُس کے مقابل پر کوئی سچا ظاہر نہ ہو۔ حالانکہ خدا کے مقرر کردہ موسم اور وقت نسیم صبا کی گواہی دے رہے ہیں کہ یہ کسی سچے کے مبعوث ہونے کا وقت ہے نہ جھوٹے مفتری کذّاب کا وقت۔ کیونکہ خدا کی غیرت جھوٹے کو ہر گز یہ موقعہ نہیں دیتی کہ سچے کے وقتوں اور علامتوں سے فائدہ اُٹھا سکے۔ کہاں ہے وہ سچا جس کو صدی کے سر پر آنا چاہیئ تھا؟ کہاں ہے وہ سچا جس کو غلبہء صلیب کے وقت میں آنا چاہیئ تھا؟ کہاں ہے وہ سچا جس کے صحتِ دعویٰ پر رمضان کے خسوف کسوف نے گواہی دی؟ کہاں ہے وہ سچا جس کی تصدیق کے لیے جاوا کی آگ نکلی ؟کہاں ہے وہ سچا جس کے ظہور کی علامت ظاہر کرنے کے لیے یاجوج ماجوج کی قوم ظاہر ہوئی یعنی اس قوم کا ظہور ہوا جو اپنی تمام مہمات میں اَجِیْج یعنی آگ سے کام لیتی ہے۔ اس کی لڑائیاں آگ سے ہیں ۔اس کے سفر آگ کے ذریعہ سے ہیں۔ان کی ہزاروں کلیں آگ کے ذریعہ سے چلتی ہیں اس لئے خدا نے اپنی مقدس کتابوں میں اُن کا نام آتشی قوم یعنی یاجوج ماجوج رکھا جو پانیوں کے قریب رہتے اور آگ سے کام لیتے ہیں۔
    اب کہو کہ جب کہ اس سچے مسیح اور سچے مہدی کی تمام علامتیں ظاہر ہو گئیں تو پھر وہ مسیح موعود کہاں ہے؟ کیا خد اکے وعدے نے تخلّف کیا حاشاوکلا بلکہ وہ تم میں موجود ہے جس کو تم نے شناخت نہیں کیا۔ وہ آگ والوں کے ساتھ آگ سے نہیں بلکہ پانی سے لڑے گا جو اوپر سے آتا اور دلوں میں سچائی کا سبزہ اُگاتا اور پیاسوں کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے۔
    قوؔ لہ۔ دو حلیوں کا بیان جو احادیث میں ہے یہ ایک رؤیا اور کشف ہے اس لئے جیسا کہ خوابوں کے حالات ہوتے ہیں ایک حلیہ دو حلیوں کے رنگ میں نظر آ سکتا ہے۔
    اقول۔ یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے کشفِ اکمل اور اتم پر بد گمانی ہے اس پر تمام اسلامی فرقوں کا اتفاق ہے کہ پیغمبر خدا صلی اﷲ علیہ وسلم کا کشف اور خواب وحی ہے اور اگر وحی میں اختلاف ہو تو اس سے تمام شریعت درہم برہم ہو جائے۔ اس لئے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی رؤیا کی شان میں ایسا گمان کرنا سخت بے ادبی ہے اس سے توبہ کرنی چاہیئ اگر وحی نبوت میں کبھی کچھ بیان ہو اور کبھی کچھ تو اس سے امان اٹھ جاتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔ 3 ۱؂ فَتَاَمَّل
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 410
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 410
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/410/mode/1up
    قولہ۔ ہر ایک نبی کی شہادت نبی ہی دیتا چلا آیا ہے۔
    اقول۔ یہ ایک گھر کا بنایا ہوا قاعدہ ہے جس پر کوئی نصِ قرآنی یا حدیثی دلالت نہیں کرتی۔ اور اگر یہ صحیح ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان پر سے نازل ہوں تو پھر اُن کے بعد اُن کی تصدیق کے لئے کوئی اور نبی آوے کیونکہ کیا معلوم کہ وہ درحقیقت عیسیٰ ہے یا نہیں۔* دنیا ایمان بالغیب کی جگہ ہے کوئی مبعوث ہو کچھ نہ کچھ پردہ ضرور ہوتا ہے۔ پھر اُس نبی کی تصدیق کے لئے کوئی اور نبی آنا چاہیء۔ پس اس سے تسلسل پیدا ہو گا اور وہ باطل ہے اور جو امرمستلزم باطل ہو وہ بھی باطل ہے۔ ماسوا اس کے نصوص حدیثیہ قرآنیہ کے رو سے اہل کرامت کی تصدیق اہل معجزہ کی تصدیق کے قائم مقام ہے کیونکہ کرامت بھی رسول متبوع کا معجزہ ہے اور بموجب حدیث صحیح کے محدّث کا الہام بھی وحی کے نام سے موسوم اور مثل وحی انبیاء علیہم السلام کے دخل شیطان سے پاک اور خدا کی وحی ہے اور جب وہ بھی خدا کی وحی ہے تو جوخدا کے مُنہ سے نکلا ہے اُس کی شہادت اِسی رنگ کی ہے جیسا کہ انبیاء علیہم السلام کی شہادت پھر یہ بھی سوچو کہ کیا دنیامیں کسی مسلمان کا اعتقاد ہو سکتا ہے کہ جب تک مسیح موعود نہیں آئے گا اُس وقت تک آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی نبوت معرضِ شک میں ہے اور مسیح کی گواہی کی محتاج ہے؟ اور اگر فرض کریں کہ مسیح نہ آوے اور گواہی نہ دے تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی نبوت شکّی اورمشتبہ رہے ۔ نعوذ باﷲ من ھٰذہ الخرافاؔ ت والکفریات۔یہ کس قدر بیہودہ خیال ہے اور قریب ہے کہ کفر ہو جائے۔ مسیح موعود کا آنا اس لئے نہیں کہ نعوذباﷲ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی نبوت ابھی ثابت نہیں اس کی گواہی سے ثابت ہو گی بلکہ اس لئے ہے کہ تا وہ مجدّدوں کے رنگ میں ظاہر ہو اور فتنۂ صلیبہ کو دُور کر کے دنیا میں توحید اور توحیدی ایمان کا جلال ظاہر کرے۔
    قولہ۔ ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی نبوت کے لئے ایک نبی شاہد کی ضرورت ہے۔
    * بالخصوص جب کہ یہ بھی آثار میں ہے کہ مہدی اور اُس کی تمام جماعت مسیح موعود وغیرہ کو کافر ٹھہرایا جائے گا تو اس حالت میں حسب اقرار تمہارے کسی اور نبی کے آنے کی نہایت ضرورت ہے تا علماءِ مکفّرین کو کافر اور کاذب ٹھہرا وے اور عیسیٰ کو سچا نبی قرار دے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 411
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 411
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/411/mode/1up
    اقول۔ ایسا ہی اس نبی ء شاہد کی نبوت کے لئے کسی اور نبی کی ضرورت ہے ۔ وَقِسْ عَلٰی ہٰذا۔ اور ہزار حیف ہے ان لوگوں کے ایمان پر جن کے نزدیک ابھی ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی نبوت ثابت نہیں ہوئی بلکہ جب مسیح آئے گا اور گواہی دے گا تب ثابت ہو گی۔
    قولہ۔مسیح نبی ہو کر نہیں آئے گا امتی ہو کر آئے گا مگر نبوت اس کی شان میں مضمر ہو گی۔
    اقول۔ جب کہ شانِ نبوت اُس کے ساتھ ہو گی اور خدا کے علم میں وہ نبی ہو گا تو بلا شبہ اس کا دنیا میں آنا ختمِ نبوت کے منافی ہو گاکیونکہ در حقیقت وہ نبی ہے اور قرآن کے رُو سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کا آنا ممنوع ہے۔
    قولہ۔نبی کا مثیل نبی ہوتا ہے۔
    اقول۔ تمام اُمت کا اس پر اتفاق ہے کہ غیر نبی بروز کے طور پر قائم مقام نبی ہو جاتا ہے یہی معنے اِس حدیث کے ہیں۔ عُلَمَآءُ اُمَّتِیْ کَاَنْبِیَاءِ بَنِیْ اِسْرَآءِیْلَ یعنی میری اُمت کے علماء مثیل انبیاء ہیں۔ دیکھو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے علماء کو مثیل انبیاء قرار دیا اور ایک حدیث میں ہے کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں اور ایک حدیث میں ہے کہ ہمیشہ میری امّت میں سے چالیس آدمی ابراہیم کے قلب پر ہوں گے۔ اس حدیث میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کو مثیلِ ابراہیم قرار دیا اور اﷲ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے33 ۱؂اس جگہ تمام مفسّر قائل ہیں کہ33کی ہدایت سے غرض تشبہ بالانبیاء ہے جو اصل حقیقت اتباع ہے۔ اور صوفیوں کا مذہب ہے کہ جب تک انسان ایمان اور اعمال اور اخلاق میں انبیاء علیہم السلام سے ایسی مشابہت پیدا نہ کرے کہ خود وہیؔ ہو جائے تب تک اس کا ایمان کامل نہیں ہوتا اور نہ مرد صالح ہو سکتا ہے پس نہایت ظلم اور خیانت ہے کہ قبل اس کے کہ
    دین کی کتابوں کو دیکھا جائے دنیا داروں کی مقدمہ بازی کی طرح ایک خود تراشیدہ بات پیش کی جائے۔ خد انے انبیاء علیہم السلام کو اِسی لئے اس دنیا میں بھیجا ہے کہ تا دنیا میں اُن کے مثیل قائم کرے اگر یہ بات نہیں تو پھر نبّوت لغو ٹھہرتی ہے۔ نبی اس لئے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 412
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 412
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/412/mode/1up
    نہیں آتے کہ اُن کی پرستش کی جائے بلکہ اس لئے آتے ہیں کہ لوگ اُن کے نمونے پر چلیں اور اُن سے تشبّہ حاصل کریں اور اُن میں فنا ہو کر گویا وہی بن جائیں۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے 33۱؂پس خدا جس سے محبت کرے گا کونسی نعمت ہے جو اُس سے اٹھا رکھے گا اور اتباع سے مراد بھی مرتبہ ء فنا ہے جو مثیل کے درجے تک پہنچاتا ہے۔ اور یہ مسئلہ سب کا مانا ہوا ہے اور اس سے کوئی انکار نہیں کرے گا مگر وہی جو جاہل سفیہ یا ملحد بے دین ہو گا۔
    قولہ۔ مسیح کے دوبارہ آنے پر ایک یہ دلیل ہے کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے 3۲؂اور حضرت مسیح نے اس زمانہ میں جب کہ وہ یہودیوں کے لئے معبوث ہوئے عزت نہیں پائی اس لئے ماننا پڑا کہ پھر وہ آویں گے تب دنیا کی وجاہت اُن کو نصیب ہو گی۔
    اقول۔ یہ خیال بالکل بیہودہ ہے۔ قرآن شریف میں یہ لفظ نہیں کہ وَجِیْھًا عِنْدَ اَھْلِ الدُّنْیَا۔ دنیاداروں اور دنیا کے 3 کی نظر میں تو کوئی نبی بھی اپنے زمانے میں وجیہ نہیں ہوا کیونکہ انہوں نے کسی نبی کو تسلیم نہیں کیا بلکہ قبول کرنے والے اکثر ضعفاء اور غرباء ہوئے ہیں جو دنیا سے بہت کم حصہ رکھتے تھے سو آیت کے یہ معنے نہیں کہ پہلے زمانے میں عیسیٰ کو دنیا کے رئیسوں اور امیروں اور کُرسی نشینوں نے قبول نہ کیا لیکن دوسری مرتبہ قبول کریں گے۔ بلکہ قرآن کے عام محاورہ کے رُو سے آیت کے یہ معنے ہیں کہ دُنیا میں بھی راستبازوں میں مسیح کی عزت ہوئی اور وجاہت مانی گئی جیسا کہ یحییٰ نبی نے اُن کو مع اپنی تمام جماعت کے قبول کیا اور ان کی تصدیق کی اور بہتوں نے تصدیق کی اور قیامت میں بھی وجاہت ظاہر ہو گی۔ پھر میں کہتا ہوں کہ کیا اب تک حضرت عیسیٰ کو دنیا کی وجاہت نصیب نہ ہوئی حالانکہ چالیس کروڑ انسان اُن کو خدا کر کے مانتا ہے۔ کیا ؔ وجاہت کے لئے زندہ موجود ہونا بھی ضروری ہے اور مرنے کے بعد وجاہت
    جاتی رہتی ہے؟ ماسوا اس کے مسیح علیہ السلام کا دنیا میں دوبارہ آنا کسی طرح موجبِ وجاہت نہیں بلکہ آپ لوگوں کے عقیدے کے موافق اپنی حالت اور مرتبہ سے متنزّل ہو کر آئیں گے اُمتی بن کے امام مہدی کی بیعت کریں گے۔ مقتدی بن کر اُن کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 413
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 413
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/413/mode/1up
    پس یہ کیا وجاہت ہوئی بلکہ یہ تو قضیہء معکوسہ اور نبی اولو العزم کی ایک ہتک ہے۔ اور یہ کہنا کہ ان سب باتوں کو وہ اپنا فخر سمجھیں گے بالکل بے ہودہ خیال ہے۔ لیکن اگر آسمان سے نازل نہ ہوں تو یہ اُن کی وجاہت ہے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے 3۱؂ غرض واپس آنے میں کوئی وجاہت نہیں بلکہ بقول شیخ سعدی۔ سخت است پس از جاہ تحکم بُردن۔ دوسرے کے حکم کے نیچے اسلام کی خدمت کریں گے۔ اور مجدّد صاحب اپنے مکتوبات میں لکھتے ہیں کہ ’’ علماءِ اسلام ان کے منکر ہو جائیں گے اور قریب ہے کہ اُن پر حملہ کریں۔‘‘ دیکھو یہ خوب وجاہت ہے کہ ادنیٰ ادنیٰ ملّا مقابلہ کے لئے اُٹھیں گے اور آثار سے معلوم ہوتا ہے جیسا کہ حجج الکرامہمیں ہے کہ اُن کی تکفیر بھی ہو گی کیونکہ مہدی اور اُس کی جماعت پر کفر کا فتویٰ لکھا جائے گا اور علماء امّت اس کو کافر اور کذّاب اور دجّال کہیں گے۔ پس جب کہ مہدی موعود مع اپنی جماعت کے کافر اور دجّال ٹھہرائے جائیں گے تو اس سے یقینی طور پر معلوم ہوا کہ مسیح موعود پر بھی کفر کا فتویٰ لگے گا کیونکہ وہ مہدی اور اس کی جماعت سے الگ نہیں ہوں گے۔ اب دیکھو کہ آثار صحیحہ سے ثابت ہو گیا کہ مسیح موعود کو نالائق بدبخت پلید طبع مولوی کافر ٹھہرائیں گے اور دجّال کہیں گے اور کفر کا فتویٰ اُن کی نسبت لکھا جائے گا۔ اب انصافاً سوچو کہ کیا یہی وجاہت ہے جس کے لئے مسیح کو دوبارہ دنیا میں آنا ضروری ہے؟ کیا ناچیز اور ذلیل ملاؤں سے گالیاں کھانا اور کافر اور دجال کہلانا یہی وجاہت ہے؟ آثارِ صحیحہ سے ثابت ہے کہ مسیح موعود کی جس قدر پلید ملّاؤں کے ہاتھ سے بے عزّتی ہو گی اور جس قدر وہ ناپاک طبع مولویوں کے مُنہ سے کافر اور فاسق اور دجّال کے الفاظ سُنیں گے وہ نہایت درجہ کی ہتک ہو گی جو پلید طبع مولوی فتویٰ لکھنے والے کریں گے اور خدا کا اُن مولویوں پر غضب ہو گا۔ آثارِ صحیحہ میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے وقت ؔ کے مولوی تمام رُوئے زمین کے انسانوں سے بد تر اور پلید تر ہوں گے کیونکہ وہ مسیح جیسے راستباز کو کافر اور دجّال ٹھہرائیں گے۔ غرض مسیح موعود کو
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 414
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 414
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/414/mode/1up
    جو مولویوں سے عزّت اور وجاہت ملے گی وہ یہ ہے۔ لیکن جو شخص خدا کے نزدیک خدا کے فرشتوں کے نزدیک خدا کے نیک بندوں کے نزدیک عزّت اور وجاہت رکھتا ہے اگر پلید جاہلوں کے نزدیک وہ کافر اور دجّال ہو تو اس سے اس کا کیا نقصان ہؤا۔ ؂
    مَہ نور می فشاند و سگ بانگ می زند
    سگِ را بپُرس خشم تو باماہتاب چیست
    اور یہ بھی سوچو کہ اگر وجاہت کے لئے دُنیا داروں کی اطاعت اور تعظیم شرط ہے تو کیا ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم جب مکّہ سے کفار کے ہاتھ سے نکالے گئے اور دُکھ دئیے گئے تو کیا اُس وقت آپ وجیہ نہ تھے ؟ اور مکّہ کی فتح کے بعد وجیہ ہوئے؟ غرض آپ کا یہ اعتراض دینی اور رُوحانی دُور اندیشی کی بنا پر نہیں بلکہ دنیا داری اور رسم اور عادت کے گندے تصورات سے پیدا ہوا ہے۔ بہتیرے نبی دنیا میں ایسے آئے کہ دو آدمیوں نے بھی اُن کو قبول نہیں کیا تو کیا وہ وجیہ نہیں تھے؟ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کب قبولیت سے بکلی خالی رہے تھے؟ صد ہا لوگوں نے اُن کو قبول کر لیا۔ یحییٰ علیہ السلام نے مع اپنی تمام جماعت کے قبول کیا۔ حواریوں نے قبول کیا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ ایک بادشاہ نے بھی قبول کیا تھا۔ اس بات کے عیسائی بھی قائل ہیں۔ اب اس سے زیادہ ا ور کیا وجاہت ہو گی۔ یہ وجاہت تو ان کو اپنے زمانے میں حاصل ہوئی یہاں
    تک کہ انجیل میں لکھا ہے کہ صد ہا آدمی اہلِ حاجت نیاز مندی کے ساتھ اُن کے گرد رہتے تھے اور ہجوم کی وجہ سے بعض دفعہ ان کو ملنا مشکل ہو جاتاتھا اور اگرچہ بعض مولوی یہودیوں نے ان کو کافر کہا مگر جس زور شور سے مسیح موعود کی تکفیر ہوئی ایسی تکفیر حضرت عیسیٰ کی نہیں ہوئی بلکہ انجیل سے ثابت ہے کہ اکثر کفار کے دلوں میں بھی حضرت عیسیٰ کی وجاہت تھی اورپھر موت کے بعد تو وہ وجاہت ہوئی کہ خدا بنائے گئے اور ہمارے مخالف مولویوں کو تو یہ اقرار کرنا چاہیئ کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ہی خدا بننے کی وجاہت بھی دیکھ لی اور دیکھ رہے ہیں کیونکہ اُن کے عقیدہ کے رُو سے وہ اب تک زندہ موجود ہیں اور یورپ ؔ کے تمام طاقتور بادشاہ مع اپنے ارکانِ دولت کے اُن کو خدائے ذوالجلال مانتے ہیں کیا ایسی وجاہت کسی دوسرے انسان کی ہوئی؟ ۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 415
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 415
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/415/mode/1up
    قولہ۔ ’’ باوجود مقدرت حج نہیں کیا۔ ‘‘ (یہ میری ذات پر حملہ ہے)
    اقول۔اس اعتراض سے آپ کی شریعت دانی معلوم ہو گئی۔ گویا آپ کے نزدیک مانع حج صرف ایک ہی امر ہے کہ زَادِ راہ نہ ہو۔ آپ کو بوجہ اس کے کہ دنیا کی کشمکش میں عمر کو ضائع کیا اس قدر سہل اور آسان مسئلہ بھی جو قرآن اور احادیث اور فقہ کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے معلوم نہ ہوا کہ حج کا مانع صرف زاد راہ نہیں اور بہت سے امور ہیں جو عند اﷲ حج نہ کرنے کے لئے عذرِ صحیح ہیں۔چنانچہ ان میں سے صحت کی حالت میں کچھ نقصان ہونا ہے۔ اور نیز اُن میں سے وہ صورت ہے کہ جب راہ میں یا خود مکّہ میں امن کی صورت نہ ہو۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے 33۱؂ عجیب حالت ہے کہ ایک طرف بد اندیش علماء مکّہ سے فتویٰ لاتے ہیں کہ یہ شخص کافر ہے اور پھر کہتے ہیں کہ حج کے لئے جاؤ اور خود جانتے ہیں کہ جب کہ مکّہ والوں نے کفر کا فتویٰ دے دیا تو اب مکہ فتنہ سے خالی نہیں اور خدا فرماتا ہے کہ جہاں فتنہ ہو اُس جگہ جانے سے پرہیز کرو۔ سو میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کیسا اعتراض ہے۔ ان لوگوں کو یہ بھی معلوم ہے کہ فتنہ کے دنوں میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے کبھی حج نہیں کیا اور حدیث اور قرآن سے ثابت ہے کہ فتنہ کے مقامات میں جانے سے پرہیز کرو۔ یہ کس قسم کی شرارت ہے کہ مکہ والوں میں ہمارا کفر مشہور کرنا اور پھر بار بار حج کے بارے میں اعتراض کرنا۔ نَعُوْذُ بِاﷲِ مِنْ شُرُوْرِہِمْ۔ ذرہ سوچنا چاہیئ کہ ہمارے حج کی ان لوگوں کو کیوں فکر پڑ گئی۔ کیا اس میں بجز اس بات کے کوئی
    اور بھید بھی ہے کہ میری نسبت ان کے دل میں یہ منصوبہ ہے کہ یہ مکّہ کو جائیں اور پھر چند اشرار الناس پیچھے سے مکہ میں پہنچ جائیں اور شورِ قیامت ڈال دیں کہ یہ کافر ہے اسے قتل کرنا چاہیء۔ سو بروقت ورودِ حکم الہٰی اِن احتیاطوں کی پروا نہیں کی جائے گی۔ مگر قبل اس کے شریعت کی پابندی لازم ہے اور مواضع فتن سے اپنے تئیں بچانا سنّتِ انبیاء علیہم السلام ہے۔ مکہ میں عنانِ حکومت ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو ان مکفّرین کے ہم مذہب ہیں۔ جب یہ لوگ ہمیں واجب القتل ٹھہراتے ہیں تو کیا وہ لوگ ایذاسے کچھ فرق کریںؔ گے اور اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 416
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 416
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/416/mode/1up
    3 ۱؂ پس ہم گناہ گار ہوں گے اگر دیدہ ودانستہ تہلکہ کی طرف قدم اٹھائیں گے اور حج کو جائیں گے۔ اور خدا کے حکم کے بر خلاف قدم اٹھانا معصیت ہے حج کرنا مشروط بشرائط ہے مگر فتنہ اور تہلکہ سے بچنے کے لئے قطعی حکم ہے جس کے ساتھ کوئی شرط نہیں۔اب خود سوچ لوکہ کیا ہم قرآن کے قطعی حکم کی پیروی کریں یا اس حکم کی جس کی شرط موجود ہے۔باوجود تحقق شرط کے پیروی اختیار کریں ۔
    ماسوا اس کے میں آپ لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ آپ اس سوال کا جواب دیں کہ مسیح موعود جب ظاہر ہو گا تو کیا اول اس کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ مسلمانوں کو دجال کے خطرناک فتنوں سے نجات دے یا یہ کہ ظاہر ہوتے ہی پہلے حج کو چلا جائے۔اگر بموجب نصوص قرآنیہ وحدیثیہ پہلا فرض مسیح موعود کا حج کرنا ہے نہ دجّال کی سر کو بی، تو وہ آیات اور احادیث دکھلانی چاہئیں تا ان پر عمل کیا جائے۔اور اگر پہلا فرض مسیح موعود کا جس کے لیے وہ باعتقاد آپ کے مامور ہو کر آئے گا قتل دجال ہے جس کی تاویل ہمارے نزدیک اہلاک ملل باطلہ بذریعہ حجج وآیات ہے تو پھر وہی کام پہلے کرنا چاہئیے۔اگر کچھ دیانت اور تقویٰ ہے تو ضرور اس بات کا جواب دو کہ مسیح موعود دنیا میں آ کر پہلے کس فرض کو ادا کرے گاکیا حج کرنا اس پر فرض ہو گایا یہ کہ پہلے دجّالی فتنوں کا قصہ تمام کرے گا؟یہ مسئلہ کچھ باریک نہیں ہے صحیح بخاری یا مسلم کے دیکھنے سے اس کا جواب مل سکتا ہے۔اگر رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم کی یہ گواہی ثابت ہو کہ پہلا کام مسیح موعود کا حج ہے تو لو ہم بہر حال حج کو جائیں گے۔ہرچہ باداباد۔لیکن پہلا کام مسیح موعود کا استیصال فتنِ دجّالیہ ہے تو جب تک اس کام سے ہم فراغت نہ کر لیں حج کی طرف رخ کرنا خلاف پیشگوئی نبوی ہے۔ہمارا حج تو اس وقت ہو گا جب دجّال بھی کفر اور دجل سے باز آکر طواف بیت اﷲ کرے گا*۔کیونکہؔ بموجب حدیث صحیح کے
    * اس جگہ کوئی یہ اعتراض نہ کرے کہ ازالہء اوہام میں یہ لکھا ہے کہ دجّال کا طواف بد نیتی سے ہو گا جس طرح چور گھروں کا طواف بدنیتی سے کرتا ہے۔ اب یہ بیان اس کے مخالف ہے کیونکہ دجّال درحقیقت ایک گروہ مفسدین
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 417
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 417
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/417/mode/1up
    وہی وقت مسیح موعود کے حج کا ہو گا۔دیکھو وہ حدیث جو مسلم میں لکھی ہے کہ آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم نے مسیح موعود اور دجاّل کو قریب قریب وقت میں حج کرتے دیکھا۔یہ مت کہو کہ دجّال قتل ہو گا کیونکہ آسمانی حربہ جو مسیح موعود کے ہاتھ میں ہے کسی کے جسم کو قتل نہیں کرتا بلکہ وہ اس کے کفر اوراس کے باطل عذرات کو قتل کرے گااور آخر ایک گروہ دجّال کا ایمان لا کر حج کرے گا۔سو جب دجّال کو ایمان اور حج کے خیال پیدا ہوں گے وہی دن ہمارے حج کے بھی ہو ں گے۔اب تو پہلا کام ہمارا جس پر خدا نے ہمیں لگا دیا ہے دجاّلی فتنہ کو ہلاک کرنا ہے۔ کیا کوئی شخص اپنے آقا کی مرضی کے برخلاف کام کر سکتا ہے؟
    قولہ۔آتھم کی پیشگوئی غلط نکلی۔
    اقول۔ لَعْنَۃُ اﷲِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ آتھم کی پیشگوئی شرطی تھی اور شرط سے مصلحت الہٰی یہی تھی کہ آتھم اس سے فائدہ اٹھا وے اور نیز کچے لوگوں کا امتحان ہو جائے سو آتھم نے دلی رجوع کر کے اور رجوع کے نشان دکھلا کر شرط سے فائدہ اُٹھا لیا قسم اور نا لش سے اُس نے انکار کیا پھر الہام کے مطابق ہمارے آخری اشتہار سے چھ ماہ بعد مر گیا۔ اگر پیشگوئی جھوٹی نکلی تھی تو اب آتھم کہا ہے؟ اے نا انصاف لوگو! میں کہاں تک بار بار تمہیں سمجھاؤں۔ اُن رسالوں کو دیکھو جو آتھم کے بارے میں مَیں نے شائع کئے ہیں۔ خدا نے آتھم کو اپنے الہام کے مطابق مار دیا۔خدا نے آتھم کو خاک میں ملا دیا اور تم کہتے ہو کہ پیشگوئی جھوٹی نکلی۔ میں
    کا نام ہے جو زمین پر شرک اور ناپاکی پھیلانا چاہتے ہیں۔ پس قرآن اور احادیث پر نظر عمیق کرنے سے یہی معلوم ہوتاؔ ہے کہ اگرچہ ایک گروہ دجّالین قیامت تک اسی فکر میں رہیں گے کہ حق کو نقصان پہنچاویں اور اُن کا طواف چوروں کے طواف کے مشابہ ہے جو رات کو گھروں کا طواف کرتے ہیں لیکن وہ گروہ جن کو خدا بصیرت اور ہدایت بخش دے گا ان کا طواف ایمان اور ہدایت پانے سے ہو گا۔ سو اصل معنے حدیث کے یہی ہیں کہ حدیث طوافِ دجّال کے دونوں پہلو پر پوری ہو گی چنانچہ واقعات خارجیہ بھی اسی کی گواہی دے رہے ہیں۔ بعض عیسائی اسلام کے لئے تیار معلوم ہوتے ہیں اور دلوں میں وہ عیسائی مذہب سے علیحدہ ہو گئے ہیں ۔اور بعض چوروں کی طرح خانہ خدا کی ویرانی کے فکر میں ہیں اور طرح طرح کے مکر کر رہے ہیں۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 418
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 418
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/418/mode/1up
    حیران ہوں کہ یہ کیسی سمجھ ہے؟ ان دلوں کو کیا ہو گیا اور کیسے پردے پڑ گئے؟ اس پیشگوئی کی نسبت تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلمؔ نے بھی خبر دی تھی اور مکذّبین پر نفرین کی تھی اور براہین احمدیہ میں بھی ایک مدّت پہلے اس پیشگوئی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ کیا ضرور نہ تھا کہ آتھم شرط کے موافق زندہ رہتا؟ ہاں قطعی الہام دوسرا تھا جس کے بعد وہ جلد فوت ہو گیا۔ بہر حال خدا کا کام دیکھو کہ اُس نے اپنی پیشگوئی کی عزّت کے لئے آتھم کو نہ چھوڑا۔ افسوس اُن لوگوں پر کہ جو ایسے صریح نشان سے مُنہ پھیرتے ہیں۔
    قولہ۔ لیکھرام کی پیشگوئی میں اس کے قتل ہونے کی تصریح نہیں۔
    اقول۔ لَعْنَۃُ اﷲِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ۔آؤ ہمارے رُو برو ہماری کتابیں دیکھو جن میں متفرق مقامات میں یہ پیشگوئی درج ہے۔ پھر اگر تصریح ثابت نہ ہو تو اُسی جلسہ میں آپ کو دو سو روپیہ انعام دیا جائے گا۔
    قولہ۔ پیشگوئی سے لیکھرام کی بے عزتی نہیں ہوئی بلکہ شہید قوم اُس کو خطاب ملااُس کے متعلقین کے لئے ہزار ہا روپیہ چندہ جمع کیا گیا۔
    اقول۔ اس سے ہماری پیشگوئی کی اور بھی شان بڑھی ہے کیونکہ یہ بھی ایک جنگ تھا۔ اور ظاہر ہے کہ فریق مخالف کے جس سپاہی کو قتل کیا جائے اور اس سپاہی کو مخالف فریق کے لوگ بڑا بہادر اور بڑا شجاع قرار دیں اور ایک بڑا آدمی اُس کو سمجھا جائے تو وہ تمام تعریف قاتل کی ہوتی ہے جس نے ایسے بہادر کو مارا۔ سو اگر لیکھرام کو مارے جانے کے بعد ایک ذلیل اور کس مپرسد سمجھا جاتا تو بلا شبہ اس سے ہماری پیشگوئی کی وقعت کم ہوتی کیونکہ یہ سمجھا جاتا کہ جس پر پیشگوئی پوری ہوئی وہ کوئی بڑا آدمی نہیں ہے اور صَیدِر کیک ہے جو قابلِ تعریف نہیں مگر اب تو لیکھرام کو اُس کی قوم نے بڑی عظمت دے دی اور اب یہ واقعہ مقتول کی حیثیت کے رُو سے بھی قابلِ عظمت ہو گیا۔ خود سو چ کر دیکھو کہ اگر ایک پیشگوئی ایک بادشاہ کی نسبت پوری ہو اور دوسری ایک بھنگن عورت کی نسبت تو کونسی پیشگوئی جلد شہرت پاتی اور عظمت اور تعجب کی نظر سے دیکھی جاتی ہے۔ سو چونکہ لیکھرام کو بڑا آدمی بنایا گیا ہے اس لئے بیخیال وجوہاتِ بالا مَیں اس قدر خوش ہوں کہ اندازہ نہیں ہو سکتا اور مَیں جانتا ہوں کہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 419
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 419
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/419/mode/1up
    یہ کام خدا تعالیٰ نے کیا ہے اور ہندوؤں کے دلوں میں اُس کی عظمت ڈال دی تا ایک نامی آدمی کی نسبت پیشگوئی متصوّر ہو کر اُس کا اثر بڑھ جائے اور صفحۂ روزگار سےؔ مٹ نہ سکے۔ اب جب تک عزّت کے ساتھ لیکھرام کو یاد کیا جائے گا تب تک یہ پیشگوئی بھی ہندوؤں کو یاد رہے گی۔ غرض لیکھرام کو عزّت کے ساتھ یاد کرنا پیشگوئی کی قدر و منزلت کو بڑھاتا ہے۔ اگر پیشگوئی کسی چوہڑے چمار اور نہایت ذلیل انسان کی نسبت ہوتی تو کیا قدر ہوتی؟ میں پہلے اس خیال سے غمگین تھا کہ پیشگوئی تو پوری ہوئی مگر ایک ایسے معمولی شخص کی نسبت کہ جو پشاور میں سات آٹھ روپیہ کا پولیس کے محکمہ میں نوکر تھا۔ لیکن جب میں نے سُنا کہ مرنے کے بعد اُس کی بہت عزّت کی گئی تو وہ میرا غم خوشی کے ساتھ بدل گیا اور مَیں نے سمجھا کہ اب لوگ خیال کریں گے کہ ایسے معمولی آدمی پر میری دُعاؤں کا حملہ نہیں ہوا بلکہ اُس پر ہوا جس پر تمام قوم مِل کر روئی جس کے مرنے پر بڑا ماتم ہوا۔ جس کے مرثیے بنائے گئے جس کی یادگار کے لئے بہت سا روپیہ اکٹھا کیا گیا ۔ سو یہ خدا کا احسان ہے کہ اس طرح پر اُس نے پیشگوئی کو عظمت دے دی۔ فالحمد لِلّٰہ علٰی ذالک۔
    قولہ۔ کسوف خسوف کی حدیث موضوع ہے۔
    اقول۔کسی شیطان نے آپ کو دھوکا دیا ہے وہ حدیث نہایت صحیح ہے اورصرف دار قطنی میں نہیں بلکہ حدیث کی اور کتابوں میں بھی ہے۔ اور شیعہ میں بھی ہے اور اہل سنّت میں بھی۔ ماسوا اس کے یہ اصول محدثین کا مانا ہوا ہے کہ اگر کسی حدیث کی پیشگوئی پوری ہو جائے اور بالفرض اگر اس حدیث کو موضوع ہی سمجھا گیا تھا تو پوری ہونے کے بعد وہ صحیح حدیث سمجھی جائے گی کیونکہ خدا نے اُس کی سچائی پر گواہی دی۔ کیونکہ خدا کے سوا غیب کی کسی کو طاقت نہیں*۔ حدیث کا علم ایک ظنّی علم ہے بسااوقات ایک حدیث صحیح ہوتی ہے اور ممکن ہے
    *قرآن شریف میں ہے3 ۱؂ یعنی کامل طور پر غیب کا بیان کرنا صرف رسولوں کا کام ہے دوسرے کویہ مرتبہ عطا نہیں ہوتا۔ رسولوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے جاتے ہوں خواہ وہ نبی ہوں یا رسول یا محدّث اور مجدّد ہوں۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 420
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 420
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/420/mode/1up
    کہ دراصل صحیح نہ ہو۔ اور بسااوقات ایک حدیث موضوع سمجھی جاتی ہے اور آخر وہ سچی نکلتی ہے اور یہ حدیث تو کئی طریقوں سے ثابت ہے ۔ پس اب اس کو موضوع کہنا صریح ایمان سے ہاتھ دھونا ہے اگر شک ہو تو ہمارے سامنے آؤ اور کتابیں دیکھ لو۔ علاوہ اس کے یہ کیسی حماقت ہے کہ جب حدیث میں ایسی پیشگوئی تھی جس پر سوا خدا کے اور کوئی قادر نہیں ہو سکتا اور وہ پیشگوئی پوری ہو گئی تو کیا اب اس حدیث کی صحت میں شک رہا؟
    قولہؔ ۔عربی تصنیفات کی بے نظیری کا دعویٰ غلط ہے ۔ کیونکہ قرآن کے سوا یہ دعویٰ انجیل، زبور اور احادیث نبوی نے بھی نہیں کیا۔
    اقول ۔میں ابھی لکھ چکا ہوں کہ امام آخر الزمان کے لئے ضروری تھا کہ وہ ذوالبروزین ہو اور عیسوی برکات اور محمدی برکات اُس میں پائی جائیں اور یہ دونوں برکات اُس کے سچا ہونے کی علامتیں تھیں سو ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو ایک یہ معجزہ بھی دیا گیا تھا کہ قرآن شریف جو اَفْصَحُ الکَلِم ہے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو عطا ہوا سو ضرور تھا کہ مہدی جس کا نام بروز کے طور پر احمد اور محمد رکھا گیا اِس معجزہ کا بھی وارث ہو۔ پس اسی وجہ سے یہ عاجز ظلّی طور پر اس معجزہ کا وارث کیا گیا اور اس بات میں کونسا حرج اور دینی نقص ہے کہ اﷲ تعالیٰ وہ امور جو کسی زمانہ میں معجزہ کے رنگ میں ظاہر ہوئے تھے اب کرامت کے رنگ میں ظاہر فرمائے۔ اور کرامت دراصل نبی متبوع کا معجزہ ہی ہوتا ہے ہمیں اس سے کیا غرض ہے کہ انجیل کا کلام بطور معجزہ کے نہیں یا توریت کا کلام بطور معجزہ کے نہیں *۔ہمیں اپنے نبی علیہ السلام سے غرض ہے۔ اب خلاصہ جو اب یہ ہے کہ جب کہ یہ ایک ضروری امر تھا کہ تمام برکاتِ محمدیّہ سے مہدئ آخر الزمان کو حصّہ ملے۔ لہٰذا یہ امر بھی واجب تھا
    * انجیل توریت دونو ں محرف ہیں اب ان کتابوں کی بلاغت فصاحت کی نسبت کوئی رائے ظاہر کرنا ممتنعات میں سے ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 421
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 421
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/421/mode/1up
    کہ جیساکہ آنحضرت جامع الکلم اور فصیح اوربلیغ تھے اور آپ کا کلام تمام کلاموں پر فائق تھا خصوصاً قرآن شریف تو ایک بے مثل معجزہ تھا ایسا ہی مہدی آخر الزمان بھی فصاحت بلاغت سے حصّہ پاوے سو اس ضرورت کے لئے اس عاجز کو بلاغتِ محمدیہ میں سے حصّہ دیا گیا۔ اور یہ امر تو ایسا ضروری تھا کہ اگر یہ نہ دیا جاتا تو اس حالت میں یہ اعتراض ہو سکتا تھا کہ باوجود دعویٰ مہدویت کے جو نبوتِ محمدیہ کا ظل ہے کیوں بلاغتِ محمدیہ میں سے حصہ نہیں دیا گیانہ اس صورت میں اعتراض کرنا کہ جبکہ خدا تعالیٰ کے فضل نے اس بلاغتِ کاملہ اور فصاحتِ تامّہ سے حصّہ دے دیا۔ اور یہ خیال بھی سخت غلطی اور گستاخی ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا کلام معمولی انسانوں کی طرح تھا کیونکہ اگر قرآن شریف اعلیٰ درجہ کا معجزہ ہے لیکن آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا کلام بھی دوسرے انسانوں پر صد ہا طرح فوقیّت رکھتا اور ایک قسم کا معجزہ تھا۔ اورؔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو بلاغت اور کلم جامعہ عطا کئے گئے تھے اور بلاشبہ نسبتی طور پر آنجناب کا معمولی کلام بھی معجزہ کی حد تک پہنچا ہوا تھا۔
    قولہ۔ براہین احمدیہ کا بقیہ نہیں چھاپتے۔
    اقول۔ اِس توقف کو بطور اعتراض پیش کرنا محض لغو ہے۔ قرآن شریف بھی باوجود کلام الٰہی ہونے کے تیئس برس میں نازل ہوا۔ پھر اگر خدا تعالیٰ کی حکمت نے بعض مصالح کی غرض سے براہین کی تکمیل میں توقف ڈال دی تو اس میں کونسا حرج ہوا۔ اور اگر یہ خیال ہے کہ بطورِ پیشگی خریداروں سے روپیہ لیا گیا تھا تو ایسا خیال کرنا بھی حمق اور ناواقفی کے باعث ہو گا کیونکہ اکثر براہین احمدیہ کا حصہمفت تقسیم کیا گیا ہے اور بعض سے پانچ 3روپیہ اور بعض سے آٹھ3 آنہ تک قیمت لی گئی ہے ۔ اور ایسے لوگ بہت کم ہیں جن سے دس ۱۰روپے لئے گئے ہوں۔ اور جن سے 3پچیس روپے لئے گئے وہ صرف چند آدمی ہیں۔ پھر باوجود اس قیمت کے جو اِن حصص براہین احمدیہ کے مقابل پر جو منطبع ہو کر خریداروں کو دیئے گئے ہیں کچھ بہت نہیں ہے بلکہ عین موزوں ہے اعتراض کرنا سراسر کمینگی اور سفاہت ہے لیکن پھر بھی ہم نے بعض جاہلوں کے ناحق کے شور و غوغا کا
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 422
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 422
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/422/mode/1up
    خیال کر کے دو مرتبہ اشتہار دے دیا کہ جو شخص براہین احمدیہ کی قیمت واپس لینا چاہے وہ ہماری کتابیں ہمارے حوالے کرے اور اپنی قیمت لے لے۔ چنانچہ وہ تمام لوگ جو اس قسم کی جہالت اپنے اندر رکھتے تھے انہوں نے کتابیں بھیج دیں اور قیمت واپس لے لی اور بعض نے کتابوں کو بہت خراب کرکے بھیجا مگر پھر بھی ہم نے قیمت دے دی۔ اور کئی دفعہ ہم لکھ چکے ہیں کہ ہم ایسے کمینہ طبعوں کی نازبرداری کرنا نہیں چاہتے اور ہر ایک وقت قیمت واپس دینے پر طیّار ہیں۔ چنانچہ خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ ایسے دنیّ الطبع لوگوں سے خدا تعالیٰ نے ہم کو فراغت بخشی۔ مگر پھر بھی اب مجدّدًا ہم یہ چند سطور بطور اشتہار لکھتے ہیں کہ اگر اب بھی کوئی ایسا خریدار چھپا ہوا موجود ہے کہ جو غائبانہ براہین کی توقف کی شکایت رکھتا ہے تو وہ فی الفور ہماری کتابیں بھیج دے اور ہم اس کی قیمت جو کچھ اس کی تحریر سے ثابت ہو گی اس کی طرف روانہ کر دیں گے۔ اور اگر کوئی باوجود ہمارے اِن اشتہاراتؔ کے اب بھی اعتراض کرنے سے باز نہ آوے تو اُس کا حساب خدا تعالیٰ کے پاس ہے۔ اور شہزادہ صاحب یہ تو جواب دیں کہ انہوں نے کونسی کتاب ہم سے خریدی اور ہم نے اب تک وہ کتاب پوری نہ دی اور نہ قیمت واپس کی؟ یہ کس قدر ناخدا ترسی ہے کہ بعض پُرکینہ ملانوں کی زبانی بے تحقیق اس بات کو سننا اور پھر اس کو بطور اعتراض پیش کر دینا۔
    قولہ ۔ گورنمنٹ کی خوشامد کرتے ہیں۔
    اقول۔ یہ خوشامد نہیں ہے۔ یہ وہ حق ہے جو ہرایک نمک حلال رعیّت کو ادا کرنا چاہئیے۔ بے شک گورنمنٹ برطانیہ کا ہم پر ایک حق عظیم ہے کہ ہم نے اُن کے زیر سایہ آ کر ہزاروں آفتوں سے امن پایا۔ صدہا طرح کے ہمیں اس گورنمنٹ کے ذریعہ سے فوائد حاصل ہوئے۔ پھر یہ بد ذاتی ہو گی کہ اس قدر احسانات دیکھ کر سرکشی کے مادہ کو اپنے دل میں رکھیں۔
    قولہ۔ راولپنڈی والا بزرگ وہمی اور بُزدل ہے اس لئے اس کے حق میں پیشگوئی کر دی۔
    اقول۔ لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْن۔ اگر وہ بزرگ بُزدل ہوتا تو مردِ میدان بن کر ہزاروں کے مخالف ہو کر ہماری تصدیق کیوں کرتا؟ آج کل ہماری طرف اخلاص کے ساتھ آنا گویا آگ پر قدم
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 423
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 423
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/423/mode/1up
    رکھنا ہے۔ پس یہ ہمّت کسی بُزدل کا کام نہیں ہے بلکہ بہادروں اور پہلوانوں کا کام ہے۔ ماسوا اس کے خود بزرگ موصوف کو الہام ہوا اور اُس نے خدا کا نشان دیکھا۔ اِس لئے اُس نے راستبازوں کی طرح حق کو قبول کیا۔ افسوس یہ زمانہ کیسا نابکار زمانہ ہے کہ جو لوگ خدا سے ڈرتے اور حق کو قبول کرتے اور خدا کے نشانوں کو دیکھ کر سچائی کی طرف دوڑتے ہیں اُن کا نام بُزدل رکھا جاتا ہے اور ان کو بدی سے یاد کیا جاتا ہے۔ اور جو لوگ درحقیقت بُزدل ہیں اور مُردار دنیا کے لئے حق کی طرف نہیں آتے تا دنیا داروں کی زبان سے آزار نہ اٹھاویں وہ اپنے تئیں بہادر سمجھتے ہیں۔
    یہ تمام جوابات اُن اعتراضات کا جواب ہیں جو شہزادہ عبدالمجید خان صاحب نے شہزادہ والا گوہر صاحب کی کتاب سے انتخاب کرکے اس خط میں لکھے ہیں جو ہماری طرف بھیجا ہے جس کو ہم نے ان اعتراضات سے پہلے چھاپ دیا ہے۔ وہؔ اصل خط ہمارے پاس موجود ہے اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ شہزادہ عبدالمجید خان صاحب نے وہی لکھا ہے جو شہزادہ والاگوہر صاحب کی کتاب میں دیکھا یا اُن کے مُنہ سے سُنا ہے۔ گو شہزادہ والاگوہر صاحب کی کتاب اب تک ہمارے پاس نہیں پہنچی مگر وہ انہی خرافات سے پُر ہے کیونکہ شہزادہ عبدالمجید خانصاحب اُن کے قریبی رشتہ دار اور اوّل درجہ کے خیر خواہ اور دوست ہیں اور بذاتِ خود نیک چلن اور راست گو اورمتقی آدمی ہیں۔ ممکن نہیں کہ انہوں نے ایک حرف بھی بطور مبالغہ لکھا ہو۔ میری دانست میں ہرگز مناسب نہ تھا کہ شہزادہ والاگوہر صاحب ایسی بیہودہ کتاب تالیف کرکے ناحق اپنی پردہ دری کراتے۔ شہزادگی امر دیگرے مگر شہزادہ والاگوہر صاحب علمِ حدیث اور قرآن اور دوسرے علوم سے بے نصیب اور بے بہرہ ہیں ان کو خواہ نخواہ دخل در معقول مناسب نہ تھا۔ چاہئیے کہ اوّل وہ قرآن شریف اور احادیث کو کسی اُستاد سے غور سے پڑھیں اور تاریخ اسلام سے حصّہ وافر حاصل کریں اور عیسائیوں کی کتابوں کو بھی غور سے دیکھیں اور پھر اگر فرائض نوکری سے فرصت ہو تو ہمارا ردّ لکھیں۔ ایسی قا بلِِؒ ِؒ شرم اور بے ہودہ کتاب جلا دینے اور تلف کردینے کے لائق ہے۔ بہتر ہو کہ وہ اب بھی اس نصیحت پر کاربند ہو جائیں اور ہرگز اس کو شائع نہ کریں اور اندر ہی اندر ضائع کر دیں آئندہ وہ اپنے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 424
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 424
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/424/mode/1up
    مصالح کو آپ خوب سمجھتے ہیں۔
    بالآخر میں ناظرین کو یہ نصیحت کرتاہوں کہ وہ میری اس کتاب کو سرسری نظر سے نہ دیکھیں میں نے اُن کو وہ پیغام پہنچایا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ کو ملا ہے اور میں یقین کرتا ہوں کہ میں نے سب پر حجت پوری کر دی ہے۔ نیک نہاد اور زیرک انسان اس بات کو جانتے ہیں کہ ابتداسے نبیوں اور رسولوں اور تمام مامورین کا یہی طریق رہا ہے کہ وہ تین طور سے خلق اﷲ پر حجت پوری کرتے رہے ہیں۔ ایک نصوص سے۔ دوسرے عقل سے۔ تیسرے تائیدات آسمانی سے۔ سومیں نے بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے اِن ہی تینوں طریقوں سے حجت کو پورا کر دیا ہے۔ چنانچہ نصوصِ قرآنیہ اور حدیثیہ کی رو سے مَیں نے ثابت کر دیا ہے کہ حضرت عیسیٰؔ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور جس آخر الزمان کے امام کی خبر دی گئی ہے وہ اسی اُمت میں سے ہے۔ میں نے حدیثوں کی رُو سے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ وہ مسیح اور مہدی جو آنے والا ہے عیسائی سلطنت کے وقت میں اُس کا آنا ضروری ہے۔ کیونکہ اگر کسی اور وقت میں آوے تو پھر پیشگوئی یَکْسِرُ الصَّلِیْبَکیونکر پوری ہو گی۔ میں نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ مسیح موعود کا یاجوج ماجوج کے وقت میں آنا ضروری ہے۔ اور چونکہ اَجِیْج آگ کو کہتے ہیں جس سے یاجوج ماجوج کا لفظ مشتق ہے اِس لئے جیسا کہ خدا نے مجھے سمجھایا ہے یا جوج ماجوج وہ قوم ہے جو تمام قوموں سے زیادہ دنیا میں آگ سے
    کام لینے میں استاد بلکہ اس کام کی موجد ہے۔ اور ان ناموں میں یہ اشارہ ہے کہ اُن کے جہاز، اُن کی ریلیں، اُن کی کلیں آگ کے ذریعہ سے چلیں گی اور اُن کی لڑائیاں آگ کے ساتھ ہوں گی اور وہ آگ سے خدمت لینے کے فن میں تمام دنیا کی قوموں سے فائق ہوں گے اور اِسی وجہ سے وہ یاجوج ماجوج کہلائیں گے۔ سو وہ یوروپ کی قومیں ہیں جو آگ کے فنون میں ایسے ماہر اور چابک اور یکتائے روزگار ہیں کہ کچھ بھی ضرور نہیں کہ اس میں زیادہ بیان کیا جائے۔ پہلی کتابوں میں بھی جو بنی اسرائیل کے نبیوں کو دی گئیں یورپ کے لوگوں کو ہی یاجوج ماجوج ٹھہرایا ہے بلکہ ماسکو کا نام بھی لکھا ہے جو قدیم پایۂ تخت روس تھا۔ سو مقرر ہو چکا تھا
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 425
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 425
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/425/mode/1up
    کہ مسیح موعود یاجوج ماجوج کے وقت میں ظاہر ہو گا۔ اور نصوصِ قرآنیہ اور حدیثیہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ مسیح کے زمانہ میں اونٹوں کی سواری اور باربرداری ترک کی جائے گی۔ اس قول میں یہ اشارہ تھا کہ کوئی ایسی سواری ظاہر ہو گی جس سے اونٹوں کی حاجت نہیں رہے گی۔ میں نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت کے رُو سے ایک ایسے انسان کا آخر ی زمانہ میں آنا ضروری تھا جو برکاتِ عیسویہ اور برکاتِ محمدیہ کا جامع ہو اور اسی کے یہ دو نام احمد مہدی اور عیسیٰ مسیح ہیں۔ غرض میں نے نصوص کے رُو سے خدا تعالیٰ کی حجت اس زمانہ کے لوگوں پر پوری کر دی ہے۔ ایسا ہی عقل کے رُو سے بھی میں نے حجت کو پُورا کیا ہے۔ اس بات کے لکھنے کی چنداں حاجت نہیں کہ جس پہلو پر خدا تعالیٰ نے ہمیں قائم کیا ہے اُسی پہلو کی عقل بھی مصدق ہے اور عقل کے پاس اس بات کا کوئیؔ نمونہ نہیں کہ انسان فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر آسمان سے اُترے۔ ایسا ہی میں نے آسمانی تائیدوں اور غیبی نشانوں سے اپنا سچا ہونا ثابت کیا ہے۔ اور یہ ایک ایسا اَمر ہے جو انسان کی طاقت سے باہر ہے۔ جس طرح کوئی آمنے سامنے کھڑے ہو کر دشمن کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے ایسا ہی خدا تعالیٰ نے میری تائید میں کیا ہے جس قطعی او ر یقینی طور پر اب لوگوں نے نشان دیکھے یہ نمونہ نبوت کے زمانہ کے بعد کبھی کسی کی آنکھ نے نہیں دیکھا۔ خُدا نے کھلے کھلے طور پر اپنا زورِ بازو دکھلایا
    اور بہت سے نشان غیب گوئی اور قدرت نمائی کے دکھلائے۔ شریر اور مفسد اور ناپاک طبع چاہتے ہیں کہ خدا کے ان نشانوں کو خاک میں ملا دیں۔ مگر خدا اِن نشانوں کو قوموں میں پھیلائے گا اور اُن کے ساتھ اور نشان ملائے گا۔ وہ وقت آتا ہے بلکہ آ چکا کہ جو لوگ آسمانی نشانوں سے جو خدا تعالیٰ اپنے بندے کی معرفت ظاہر کر رہا ہے منکر ہیں بہت شرمندہ ہوں گے اور تمام تاویلیں اُن کی ختم ہو جائیں گی اُن کو کوئی گریز کی جگہ نہیں رہے گی۔ تب وہ جو سعادت سے کوئی مخفی حصہ رکھتے ہیں وہ حصہ جوش میں آئے گا ۔وہ سوچیں گے کہ یہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 426
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 426
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/426/mode/1up
    کیا سبب ہے کہ ہر ایک بات میں ہم مغلوب ہیں۔ نصوص کے ساتھ ہم مقابلہ نہیں کر سکے عقل ہماری کچھ مدد نہیں کرتی۔ آسمانی تائید ہمارے شامل حال نہیں۔ تب وہ پوشیدہ طو رپر دُعا کریں گے اور خدا تعالیٰ کی رحمت اُن کو ضائع ہونے سے بچا لے گی قبل اس کے جو وہ زمانہ آوے خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دے دی ہے کہ بہت سے اس جماعت میں سے ہیں جو ابھی اس جماعت سے باہر اور خداکے علم میں اس جماعت میں داخل ہیں۔ باربار ان لوگوں کی نسبت یہ الہام ہوا ہے۔ یَخِرُّوْنَ سُجَّدًا ۔ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا اِنَّا کُنَّا خَاطِءِیْنَ۔ یعنی سجدہ میں گریں گے کہ اے ہمارے خدا! ہمیں بخش کیونکہ ہم خطاپر تھے۔
    اب میں اس کتاب کو اِس دعا پر ختم کرتا ہوں۔ 3
    3 ۔ آمین
    الراقم خاکسار مرزا غلام احمد از قادیاں
    یکم جنوری ۱۸۹۹ ؁ء
     
    Last edited: ‏جنوری 22, 2018

اس صفحے کو مشتہر کریں