1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

روحانی خزائن جلد 13 ۔کتاب البریہ ۔ یونی کوڈ

'روحانی خزائن ۔ حضرت مسیح موعودؑ ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏اگست 10, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    روحانی خزائن جلد 13۔ کتاب البریہ۔ یونی کوڈ

    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 1
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 1
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    01
    اشتہار واجب الاظہار
    جو خاص اس غرض سے شائع کیا جاتا ہے کہ گورنمنٹ عالیہ قیصرہ ہند توجہ سے اس کو ملاحظہ فرماوے۔ اور نیز اپنے
    مریدوں کی آگاہی اور ہدایت کے لئے شائع کیا گیا ہے
    میں اپنے دوستوں اور عام لوگوں کو اطلاع دیتا ہوں کہ جو میرے پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ گویا میں نے ایک شخص عبدالحمید نام کو ڈاکٹر کلارک کے قتل کرنے کیلئے بھیجا تھا وہ مقدمہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے بے اصل متصور ہوکر ۲۳؍ اگست ۱۸۹۷ ؁ء کو عدالت کپتان ایم، ڈبلیو ڈگلس صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر ضلع گورداسپورہ سے خارج کیا گیا۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کو اس مقدمہ کی اصلیت ظاہر کرنی منظور تھی اس لئے اس نے ایک ایسے حاکم بیدار مغز اور محنت کَش اور منصف مزاج حق پسند خداترس یعنی جناب کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر ضلع گورداسپورہ کے ہاتھ میں یہ مقدمہ دیا جس کا پاک کانشنس اس بات پر مطمئن نہ ہو سکا کہ جو اظہار یعنی پہلا بیان عبدالحمید نے امرتسر کے مجسٹریٹ کے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 2
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 2
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    02
    سامنے اور نیز اس عدالت میں دیا تھا وہ صحیح ہے۔ سو صاحب موصوف نے مزید تفتیش کے لئے جناب کپتان لیمارچنڈ ڈسٹرکٹ سوپر انٹنڈنٹ پولس کو حکم دیا کہ بطور خودؔ عبدالحمید سے اصلیت مقدمہ دریافت کریں۔ پھر بعد اس کے جس احتیاط اور نیک نیتی اور فراست اور غور اور طریق عدل اور انصاف سے جناب کپتان لیمارچند صاحب نے اس مقدمہ کی تفتیش میں کام لیا وہ بھی بجز خاص منصف مزاج اور نیک نیت اور بیدار مغز حکام کے ہر ایک کا کام نہیں۔ سو ان حکّام کا نیک مزاج اور نیک نیت اور انصاف پسند ہونا اور قدیم سے عدالت اور انصاف پسندی کا عادی ہونا اور پوری تحقیق اور تفتیش سے کام لینا یہی وہ اسباب تھے جو خدا نے میری بریّت کے لئے پیدا کئے اور صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر اور صاحب ڈسٹرکٹ سپرانٹنڈنٹ پولس کی نیک نیتی اور انصاف پسندی اور بھی زیادہ کھلتی ہے جبکہ اس بات پر غور کی جائے کہ یہ مقدمہ درحقیقت ایک عیسائی جماعت کی طرف سے تھا اور گو بظاہر ان میں سے ایک ہی شخص پیروکار تھا۔ مگر مشورہ اور امداد میں کئی دیسی کرسچنوں کو دخل تھا۔ درحقیقت پبلک کے دلوں میں اس عدالت اور انصاف نے صاحبان موصوف کی بہت ہی خوبی اور عدل قابل تعریف جمادی ہے کہ ایسا مقدمہ جو مذہبی رنگ میں پیش کیا گیا تھا اس میں کچھ بھی اپنی قوم اور مذہب کی رعایت نہیں کی گئی۔ اور نہایت منصفانہ روش سے وہ طریق اختیار کیا گیا جس کو عدالت چاہتی تھی میرے خیال میں یہ ایک ایسا عمدہ نمونہ ہے کہ جو صفحہ تاریخ میں ہمیشہ کے لئے یادگار رہے گا۔
    صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کی نیک نیتی اور حق پسندی پر ایک اور بھی بڑی بھاری دلیل ہے اور وہ یہ ہے کہ باوجودیکہ انہوں نے عبدالحمید مخبر کا پہلا بیان تمام و کمال قلمبند کر لیا تھا اور اس کی تائید میں پانچ گواہ بھی گذر چکے تھے اور صاحب بہادر ہر طرح پر اختیار رکھتے تھے کہ ان بیانات پر اعتبار کرلیتے مگر محض انصاف اور عدالت کی کشش نے ان کے دل کو پوری تسلی سے روک دیا اور ان کا حق پسند کانشنس بول اٹھا کہ ان بیانات میں سچائی کا نور
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 3
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 3
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    03
    نہیں ہے لہٰذا انہوں نے کپتان صاحب پولیس کو مزید تحقیقات کے لئے اشارہ فرمایا۔ ایسا ہی جب صاحب ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ کو پولیس کے افسروں نے خبر دی کہ عبدالحمید مخبر اپنے پہلے بیان پر اصرار کر رہا ہے اس کو رخصت کیا جائے تو صاحب موصوف کے کانشنس نے یہی تقاضا کیا کہ وہ بذات خود بھی اس سے دریافت کریں۔ اگر حکّام کی اس درجہ تک نیکؔ نیتی اور توجہ اور محنت کشی نہ ہوتی تو ہرگز ممکن نہ تھا کہ اس مقدمہ کی اصلیت کھلتی۔ ہم تہ دل سے دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ایسے حکّام کو جو ہر ایک جگہ انصاف اور عدل کو مدنظر رکھتے ہیں اور پوری تحقیق سے کام لیتے ہیں اور احکام کے صادر کرنے میں جلدی نہیں کرتے ہمیشہ خوش رکھے اور ہر ایک بلا سے ان کو محفوظ رکھ کر اپنے مقاصد میں کامیاب کرے۔
    یہ بات بھی اس جگہ بیان کر دینے کے لائق ہے کہ ڈاکٹر کلارک صاحب نے محض ظلم اور جھوٹ کی راہ سے اپنے بیان میں کئی جگہ میرے چال چلن پر نہایت شرمناک حملہ کیا تھا۔ اگر ایسے منصف مزاج مجسٹریٹ کی عدالت میں ان تمام حملوں کے بارے میں میرا جواب لیا جاتا تو ڈاکٹر صاحب کے منصوبوں کی حقیقت کھل جاتی مگر چونکہ حاکم انصاف پسند کے دل پر اس مقدمہ کی مصنوعی بنیاد کی تمام حقیقت کھل گئی تھی جس کی تائید میں یہ تمام الزامات پیش کئے گئے تھے لہٰذا عدالت نے مقدمہ کو طول دینے کی ضرورت نہیں سمجھی اگرچہ ڈاکٹر صاحب کے اکثر کلمات جو نہایت دل آزار اور سراسر جھوٹ اور افترا اور کم سے کم ازالہ حیثیت عُرفی کی حد تک پہنچ گئے تھے مجھے یہ حق دیتے تھے کہ ان بے جا اور باطل الزاموں کا عدالت کے ذریعہ سے تدارک کروں۔ مگر میں باوجود مظلوم ہونے کے کسی کو آزار دینا نہیں چاہتا اور ان تمام باتوں کو حوالہ بخدا کرتا ہوں۔
    یہ بھی ذکر کے لائق ہے کہ ڈاکٹر کلارک صاحب نے اپنے بیان میں کہیں اشارۃً اور کہیں صراحتا میری نسبت بیان کیا ہے کہ گویا میرا وجود گورنمنٹ کے لئے خطرناک ہے۔ مگر میں اس اشتہار کے ذریعہ سے حکّام کو اطلاع دیتا ہوں کہ ایسا خیال میری نسبت
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 4
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 4
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    04
    ایک ظلم عظیم ہے۔ میں ایک ایسے خاندان سے ہوں کہ جو اس گورنمنٹ کا پکا خیرخواہ ہے۔ میرا والد میرزا غلام مُرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیرخواہ آدمی تھا جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن صاحب کی تاریخ رئیسان پنجاب میں ہے اور ۱۸۵۷ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد دی تھی یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دئیے تھے۔ ان خدمات کی وجہ سے جو چٹھیاتِ خوشنودی حکام ان کو ملی ؔ تھیں۔ مجھے افسوس ہے کہ بہت سی ان میں سے گم ہوگئیں مگر تین چٹھیات جو مدت سے چھپ چکی ہیں ان کی نقلیں حاشیہ میں درج کی گئی ہیں*۔پھر میرے والد صاحب کی وفات
    Translation of Certificate of
    1. M. Wilson
    To,
    Mirza Ghulam Mur taza Khan Chief of Qadian
    I have persued your application reminding me of your and your family's past ser vices and rights I am well aware that since the introduction of the British Govt. you and your family have certainly remained devoted faithful and steady subjects and that your rights are really wor thy of regard. In every respect you may rest assured and satisfied that the
    نقل مراسلہ
    ولسن صاحب
    نمبر ۳۵۳
    تہور پناہ شجاعت دستگاہ مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیان حفظہ
    عریضہ شما مشعر بریاد دہانی خدمات و حقوق خود و خاندان خود بملاحظہ حضور اینجانب درآمد ماخوب میدانیم کہ بلاشک شما و خاندان شما از ابتدائے دخل و حکومت سرکار انگریزی جان نثار وفاکیش ثابت قدم ماندہ اید۔ و حقوق شما دراصل قابل قدر اند۔ بہرنہج تسلی و تشفی دارید۔ سرکار انگریزی حقوق و
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 5
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 5
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    05
    کے ؔ بعد میرا بڑا بھائی میرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا۔ اور جب تِمّوں کے گذر پر مفسدوں کا سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی
    British Govt. will never forget your family's rights and services which will receive due consideration when a favourable oppurtunity offers itself.
    You must continue to be faithful and devoted objects as in it lies the satisfaction of the Govt. and your welfare.
    11.6.1849 Lahore.
    خدمات خاندان شما را ہرگز فراموش نہ خواہد کرد بموقعہ مناسب برحقوق و خدمات شما غور و توجہ کردہ خواہد شد۔ بایدکہ ہمیشہ ہوا خواہ و جان نثار سرکار انگریزی بمانند کہ دریں امر خوشنودی سرکار و بہبودی شما متصور است۔فقط
    المرقوم ۱۱؍ جون ۱۸۴۹ ؁ء مقام لاہور انارکلی
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 6
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 6
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    06
    میں شریک ؔ تھا۔ پھر میں اپنے والد اور بھائی کی وفات کے بعد ایک گوشہ نشین آدمی تھا۔ تاہم سترہ برس سے سرکار انگریزی کی امداد اور تائید میں اپنی قلم سے کام لیتا ہوں۔ اس سترہ۱۷
    Translation of
    Mr. Rober t Cast's Certificate
    To,
    Mirza Ghulam Murtaza Khan,
    Chief of Qadian.
    As you rendered great help in enlisting sowars and supplying horses to Govt. in the mutiny of 1857 and maintained loyalty since its beginning upto date and thereby gained the favour of Govt. a Khilat worth Rs. 200/- is presented to you in recognition of good services, ؔ and as a reward for your loyalty.
    Moreover in accordance with the wishes of Chief Commissioner as conveyed in his no. 576 dt. 10th August 58. This parwana is addressed to you as a token of satisfaction of Govt. for your fidelity and repute.
    نقل مراسلہ
    (رابرٹ کسٹ صاحب بہادر کمشنر لاہور)
    تہور و شجاعت دستگاہ مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیان بعافیت باشند۔
    ازآنجاکہ ہنگام مفسدہ ہندوستان موقوعہ ۱۸۵۷ ؁ء ازجانب آپ کے رفاقت و خیرخواہی و مدد دہی سرکار دولتمدار انگلشیہ در باب نگاہداشت سواران و بہم رسانی اسپان بخوبی بمنصہ ظہور پہنچی اور شروع مفسدہ سے آج تک آپ بدل ہوا خواہ سرکار رہے اور باعث خوشنودی سرکار ہوا لہٰذا بجلد وی اس خیرخواہی اور خیرسگالی کے خلعت مبلغ دو صد روپیہ کا سرکار سے آپ کو عطا ہوتا ہے اور حسب منشاء چٹھی صاحبؔ چیف کمشنر بہادر نمبری ۵۷۶ مورخہ ۱۰؍ اگست ۱۸۵۸ ؁ء پروانہ ہذا باظہار خوشنودی سرکار و نیکنامی و وفاداری بنام آپ کے لکھا جاتا ہے۔
    مرقومہ تاریخ ۲۰؍ ستمبر ۱۸۵۸ ؁ء
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 7
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 7
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    07
    برسؔ کی مدت میں جس قدر میں نے کتابیں تالیف کیں ان سب میں سرکار انگریزی کی اطاعت اور ہمدردی کے لئے لوگوں کو ترغیب دی اور جہاد کی ممانعت کے بارے میں نہایت مؤثر تقریریں لکھیں۔ اور پھر میں نے قرین مصلحت سمجھ کر اسی امر ممانعت جہاد کو عام ملکوں میں پھیلانے کے لئے عربی اور فارسی میں کتابیں تالیف کیں جن کی چھپوائی اور اشاعت پر ہزار ہا روپیہ
    Translation of Sir Rober t Egerton
    Financial Commr's;
    Murasala dt. 29 June 1876
    My dear friend Ghulam Qadir
    I have persued your letter of the 2nd instant and deeply regret the death of your father Mirza Ghulam Murtza who was a great well wisher and faithful Chief of Govt.
    In consideration of your family services I will esteem you with the same respect as that bestowed on your loyal father. I will keep in mind the restoration and wellfare of your family when a favourable opportunity occurs
    نقل مراسلہ
    فنانشنل کمشنر پنجاب
    مشفق مہربان دوستان مرزا غلام قادر رئیس قادیان حفظہ۔
    آپ کا خط۲۔ ماہ حال کا لکھا ہوا ملاحظہ حضور اینجانب میں گذرا مرزا غلام مرتضیٰ صاحب آپ کے والد کی وفات سے ہم کو بہت افسوس ہوا مرزا غلام مرتضیٰ سرکار انگریزی کا اچھا خیرخواہ اور وفادار رئیس تھا۔
    ہم آپ کی خاندانی لحاظ سے اسی طرح پر عزت کریں گے جس طرح تمہارے باپ وفادار کی کی جاتی تھی ہم کو کسی اچھے موقعہ کے نکلنے پر تمہارے خاندان کی بہتری اور پابجائی کا خیال رہیگا۔
    المرقوم ۲۹ جون ۱۸۷۶ ؁ء الراقم سر رابرٹ ایجرٹن صاحب بہادر فنانشل کمشنر پنجاب
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 8
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 8
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    08
    خرچ ہوئے اور وہ تمام کتابیں عرب اور بلاد شام اور روم اور مصر اور بغداد اور افغانستان میں شائع کی گئیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ کسی نہ کسی وقت ان کا اثر ہوگا۔ کیا اس قدر بڑی کارروائی اور اس قدر دور دراز مدت تک ایسے انسان سے ممکن ہے جو دل میں بغاوت کا ارادہ رکھتا ہو؟ پھر میں پوچھتا ہوں کہ جو کچھ میں نے سرکار انگریزی کی امداد اور حفظ امن اور جہادی خیالات کے روکنے کے لئے برابر سترہ سال تک پورے جوش سے پوری استقامت سے کام لیا۔ کیا اس کام کی اور اس خدمت نمایاں کی اور اس مدت دراز کی دوسرے مسلمانوں میں جو میرے مخالف ہیں کوئی نظیر ہے؟ اگر میں نے یہ اشاعت گورنمنٹ انگریزی کی سچی خیر خواہی سے نہیں کی تو مجھے ایسی کتابیں عرب اور بلاد شام اور روم وغیرہ بلاد اسلامیہ میں شائع کرنے سے کس انعام کی توقع تھی؟ یہ سلسلہ ایک دو دن کا نہیں بلکہ برابر سترہ سال کا ہے اور اپنی کتابوں اور رسالوں کے جن مقامات میں مَیں نے یہ تحریریں لکھیں ہیں ان کتابوں کے نام معہ ان کے نمبر صفحوں کے یہ ہیں۔ جن میں سرکار انگریزی کی خیر خواہی اور اطاعت کا ذکر ہے۔
    نمبر
    نام کتاب
    تاریخ طبع
    نمبر صفحہ
    ۱
    براہین احمدیہ حصہ سوم
    ۱۸۸۲ ؁ء
    الف سے ب تک (شروع کتاب)
    ۲
    براہین احمدیہ حصہ چہارم
    ۱۸۸۴ ؁ء
    الف سے د تک ایضاً
    ۳
    آریہ دھرم (نوٹس) دربارہ توسیع دفعہ ۲۹۸
    ۲۲ ؍ستمبر ۱۸۹۵ ؁ء
    ۵۷ سے ۶۴ تک آخر کتاب
    ۴
    التماس شامل آریہ دھرم ایضاً
    ۲۲ ؍ستمبر ۱۸۹۵ ؁ء
    ۱ سے ۴ تک آخر کتاب
    ۵
    درخواست شامل آریہ دھرم ایضاً
    ۲۲ ؍ستمبر ۱۸۹۵ ؁ء
    ۶۹ سے ۷۲ تک آخر کتاب
    ۶
    خط دربارہ توسیع دفعہ ۲۹۸
    ۲۱ ؍کتوبر ۱۸۹۵ ؁ء
    ۱ سے ۸ تک
    ۷
    آئینہ کمالات اسلام
    فروری؍ ۱۸۹۳ ؁ء
    ۱۷ سے ۲۰ تک اور ۵۱۱ سے ۵۲۸ تک
    ۸
    نورؔ الحق حصہ اوّل اعلان
    ۱۳۱۱ ؁ھ
    ۲۳ سے ۵۴ تک
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 9
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 9
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    09
    ۹
    شہادۃ القرآن گورنمنٹ کی توجہ کے لائق
    ۲۲ ؍ستمبر ۱۸۹۳ ؁ء
    الف سے ع تک آخر کتاب
    ۱۰
    نورالحق حصّہ دوم
    ۱۳۱۱ ؁ھ
    ۴۹ سے ۵۰ تک
    ۱۱
    سرالخلافہ
    ۱۳۱۲ ؁ھ
    ۷۱ سے ۷۳ تک
    ۱۲
    اتمام الحجہ
    ۱۳۱۱ ؁ھ
    ۲۵ سے ۲۷ تک
    ۱۳
    حمامۃ البشریٰ
    ۱۳۱۱ ؁ھ
    ۳۹ سے ۴۲ تک
    ۱۴
    تحفہ قیصریہ
    ۲۵ ؍مئی ۱۸۹۷ ؁ء
    تمام کتاب
    ۱۵
    ست بچن
    نومبر؍ ۱۸۸۹ ؁ء
    ۱۵۳ سے ۱۵۴ تک اور ٹائٹل پیج
    ۱۶
    انجام آتھم
    جنوری ؍۱۸۹۷ ؁ء
    ۲۸۳ سے ۲۸۴ تک آخر کتاب
    ۱۷
    سراج منیر
    مئی؍ ۱۸۹۷ ؁ء
    صفحہ ۷۴
    ۱۸
    تکمیل تبلیغ معہ شرائط بیعت
    ۱۲؍ جنوری ۱۸۸۹ ؁ء
    صفحہ ۴ حاشیہ اور صفحہ ۶ شرط چہارم
    ۱۹
    اشتہار قابل توجہ گورنمنٹ اور عام اطلاع کیلئے
    ۲۷ ؍فروری ۱۸۹۵ ؁ء
    تمام اشتہار یک طرفہ
    ۲۰
    اشتہار دربارہ سفیر سلطان روم
    ۲۴ ؍مئی ۱۸۹۷ ؁ء
    ۱ سے ۳ تک
    ۲۱
    اشتہار جلسہ احباب برجشن جوبلی بمقام قادیان
    ۲۳ ؍جون ۱۸۹۷ ؁ء
    ۱ سے ۴ تک
    ۲۲
    اشتہار جلسہ شکریہ جشن جوبلی حضرت قیصرہ دام ظلہا
    ۷ ؍جون ۱۸۹۷ ؁ء
    تمام اشتہار یک ورق
    ۲۳
    اشتہار متعلق بزرگ
    ۲۵ ؍جون ۱۸۹۷ ؁ء
    صفحہ ۱۰
    ۲۴
    اشتہار لائق توجہ گورنمنٹ معہ ترجمہ انگریزی
    ۱۰ ؍ دسمبر ۱۸۹۴ ؁ء
    تمام اشتہار ۱ سے ۷ تک
    اور حال میں جب حسین کامی سفیر روم قادیان میں میری ملاقات کے لئے آیا اور اس نے مجھے اپنی گورنمنٹ کے اغراض سے مخالف پاکر ایک سخت مخالفت ظاہر کی وہ تمام حال بھی میں نے اپنے اشتہار مورخہ ۲۴؍ مئی ۱۸۹۷ ؁ء میں شائع کر دیا ہے وہی اشتہار تھا جس کی وجہ سے بعض مسلمان اڈیٹروں نے بڑی مخالفت ظاہر کی اور بڑے جوش میں آکر مجھؔ کو
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 10
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 10
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    10
    گالیاں دیں کہ یہ شخص سلطنت انگریزی کو سلطان روم پر ترجیح دیتا ہے اور رومی سلطنت کو قصوروار ٹھہراتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جس شخص پر خود قوم اس کی ایسے ایسے خیالات رکھتی ہے اور نہ صرف اختلاف اعتقاد کی وجہ سے بلکہ سرکار انگریزی کی خیرخواہی کے سبب سے بھی ملامتوں کا نشانہ بن رہا ہے کیا اس کی نسبت یہ ظن ہو سکتا ہے کہ وہ سرکار انگریزی کا بدخواہ ہے؟ یہ بات ایک ایسی واضح تھی کہ ایک بڑے سے بڑے دشمن کو بھی جو محمد حسین بٹالوی ہے صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کے حضور میں اسی مقدمہ ڈاکٹر ہنری کلارک میں اپنی شہادت کے وقت میری نسبت بیان کرنا پڑا کہ یہ سرکار انگریزی کا خیرخواہ اور سلطنت روم کے مخالف ہے۔ اب اس تمام تقریر سے جس کے ساتھ میں نے اپنی سترہ سالہ مسلسل تقریروں سے ثبوت پیش کئے ہیں صاف ظاہر ہے کہ میں سرکار انگریزی کا بدل و جان خیر خواہ ہوں۔ اور میں ایک شخص امن دوست ہوں اور اطاعت گورنمنٹ اور ہمدردی بندگان خدا کی میرا اصول ہے اور یہ وہی اصول ہے جو میرے مریدوں کی شرائط بیعت میں داخل ہے۔ چنانچہ پرچہ شرائط بیعت جو ہمیشہ مریدوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اس کی دفعہ چہارم میں ان ہی باتوں کی تصریح ہے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ میں نے بعض اشخاص کی موت وغیرہ کی نسبت پیش گوئی کی ہے لیکن نہ اپنی طرف سے بلکہ اس وقت اور اس حالت میں کہ جب کہ ان لوگوں نے اپنی رضا و رغبت سے ایسی پیشگوئی کے لئے مجھے تحریری اجازت دی چنانچہ ان کے ہاتھ کی تحریریں اب تک میرے پاس موجود ہیں جن میں سے بعض ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ میں شامل مِثل کی گئی ہیں۔ مگر چونکہ باوجود اجازت دینے کے پھر بھی ڈاکٹر کلارک صاحب نے ان پیشگوئیوں کا ذکر کیا اور اصل واقعات کو چھپایا اس لئے آئندہ *
    * بعض ہمارے مخالف جن کو افترا اور جھوٹ بولنے کی عادت ہے لوگوں کے پاس کہتے ہیں کہ صاحب ڈپٹی کمشنر نے آئندہ پیشگوئیاں کرنے سے منع کر دیا ہے خاص کر ڈرانے والی پیشگوئیوں اور عذاب کی پیشگوئیوں سے سخت ممانعت کی ہے۔ سو واضح رہے کہ یہ باتیں سراسر جھوٹی ہیں ہم کو کوئی ممانعت نہیں ہوئی اور عذابی پیشگوئیوں میں جس طریق کو ہم نے اختیار کیا ہے یعنی رضامندی لینے کے بعد پیشگوئی کرنا اس طریق پر عدالت اور قانون کا کوئی اعتراض نہیں۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 11
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 11
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    11
    میں پسند نہیں کرتا کہ ایسی درخواستوں پر کوئی انذاری پیشگوئی کی جائے بلکہ آئندہ ہماری طرف سے یہ اصول رہے گا کہ اگر کوئی ایسی انذاری پیشگوئیوں کے لئے درخواست کرے تو اس کی طرف ہرگز توجہ نہیں کی جائے گی جب تک وہ ایک تحریری حکم اجازت صاحب مجسٹریٹ ضلع کی طرف سے پیش نہ کرے۔ یہ ایک ایسا طریق ہے جس میں کسی مکر کی گنجائش نہیں رہے گی۔
    یہؔ بات بھی میں تسلیم کرتا ہوں کہ مخالفوں کے مقابل پر تحریری مباحثات میں کسی قدر میرے الفاظ میں سختی استعمال میں آئی تھی۔ لیکن وہ ابتدائی طور پر سختی نہیں ہے بلکہ وہ تمام تحریریں نہایت سخت حملوں کے جواب میں لکھی گئی ہیں۔ مخالفوں کے الفاظ ایسے سخت اور دشنام دہی کے رنگ میں تھے جن کے مقابل پر کسی قدر سختی مصلحت تھی۔ اس کا ثبوت اس مقابلہ سے ہوتا ہے جو میں نے اپنی کتابوں اور مخالفوں کی کتابوں کے سخت الفاظ اکٹھے کر کے کتاب مثل مقدمہ مطبوعہ کے ساتھ شامل کئے ہیں جس کا نام میں نے کتاب البریت رکھا ہے اور با ایں ہمہ میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ میرے سخت الفاظ جوابی طور پر ہیں ابتدا سختی کی مخالفوں کی طرف سے ہے۔
    اور میں مخالفوں کے سخت الفاظ پر بھی صبر کر سکتا تھا لیکن دو مصلحت کے سبب سے میں نے جواب دینا مناسب سمجھا تھا۔ اوّل یہ کہ تا مخالف لوگ اپنے سخت الفاظ کا سختی میں جواب پاکر اپنی روش بدلالیں اور آئندہ تہذیب سے گفتگو کریں۔ دوم یہ کہ تا مخالفوں کی نہایت ہتک آمیز اور غصہ دلانے والی تحریروں سے عام مسلمان جوش میں نہ آویں اور سخت الفاظ کا جواب بھی کسی قدر سخت پاکر اپنی پُرجوش طبیعتوں کو اس طرح سمجھالیں کہ اگر اس طرف سے سخت الفاظ استعمال ہوئے تو ہماری طرف سے بھی کسی قدر سختی کے ساتھ ان کو جواب مل گیا اور اس طرح وہ وحشیانہ انتقاموں سے دستکش رہیں میں خوب جانتا ہوں کہ ایسی مذہبی تحریروں سے جیسا کہ لیکھرام اور اندرمن
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 12
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 12
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    12
    اور دیانند اور پادری عماد الدین کی کتابیں اور پرچہ نورافشاں لودیانہ کے اکثر مضمون ہیں فتنہ اور اشتعال کا سخت احتمال تھا مگر چونکہ ان کتابوں کے مقابل پر کتابیں تالیف ہوئیں اور سخت باتوں کا جواب کسی قدر سخت باتوں کے ساتھ ہوگیا اس لئے مسلمانوں کے عوام کا جوش اندر ہی اندر دب گیا۔
    یہ بات بالکل سچ ہے کہ اگر سخت الفاظ کے مقابل پر دوسری قوم کی طرف سے کچھ سخت الفاظ استعمال نہ ہوں تو ممکن ہے کہ اس قوم کے جاہلوں کا غیظ و غضب کوئی اور راہ اختیار کرے۔ مظلوموں کے بخارات نکلنے کے لئے یہ ایک حکمت عملی ہے کہ وہ بھی مباحثات میں سختؔ حملوں کا سخت جواب دیں۔ لیکن یہ طرز پھر بھی کچھ بہت قابل تعریف نہیں بلکہ اس سے تحریرات کا روحانی اثر گھٹ جاتا ہے اور کم سے کم نقصان یہ ہے کہ اس سے ملک میں بداخلاقی پھیلتی ہے۔ یہ گورنمنٹ کا فرض ہے کہ عام طور پر ایک سخت قانون جاری کر کے ہر ایک مذہبی گروہ کو سخت الفاظ کے استعمال سے ممانعت کردے تاکہ کسی قوم کے پیشوا اور کتاب کی توہین نہ ہو۔ اور جب تک کسی قوم کی معتبر اور مسلم کتابوں سے واقعات صحیحہ معلوم نہ ہوں جن سے اعتراض پیدا ہو سکتا ہو کوئی اعتراض نہ کیا جائے۔ ایسے قانون سے ملک میں بہت امن پھیل جائے گا اور مفسد طبع فتنہ انگیز لوگوں کے منہ بند ہو جائیں گے اور تمام مذہبی بحثیں علمی رنگ میں آجائیں گی۔ اسی غرض سے میں نے ایک درخواست گورنمنٹ میں پیش کرنے کے لئے طیار کی ہے اس کے ساتھ کئی ہزار مسلمانوں کے دستخط بھی ہیں مگر چونکہ اب تک کافی دستخط نہیں ہوئے اس لئے ابھی تک توقف ہے۔ مگر درحقیقت یہ ایسا کام ہے کہ ضرور اس طرف گورنمنٹ کی توجہ چاہیے۔ حفظ امن کے لئے اس سے بہتر اور کوئی تدبیر نہیں کہ ہتک آمیز اور فتنہ انگیز الفاظ سے ہر ایک قوم پرہیز کرے۔ اور کسی مذہب پر وہ الزام نہ لگائے جس کو اس مذہب کے حامی قبول نہیں کرتے اور نہ ان کی مسلّم اور معتبر کتابوں میں اس کا کوئی اصل صحیح پایا جاتا ہے۔ اور نہ ایسا الزام
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 13
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 13
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    13
    لگائے جو اُس کی مسلّم کتابوں یا نبیوں پر بھی عائد ہوتا ہے۔ اور جو شخص اس ہدایت کی خلاف ورزی کرے اس کے لئے کوئی سزا مقرر ہو۔ بے شک بغیر اس تدبیر کے مذہبی فتنوں کا زہریلا بیج بکلّی دور نہیں ہو سکتا۔
    میں افسوس سے لکھتا ہوں کہ ڈاکٹر کلارک نے میری بعض مذہبی تحریریں پیش کر کے عدالت میں یہ خلاف واقعہ بیان کیا ہے کہ یہ سخت لفظ خودبخود ان کی نسبت کہے گئے ہیں۔ میں حکام کو یقین دلاتا ہوں کہ ہرگز یہ میری عادت میں داخل نہیں کہ خودبخود کسی کو آزار دوں اور نہ ایسی عادت کو میں پسند کرتا ہوں۔ بلکہ جو کچھ سخت الفاظ میں لکھا گیا وہ سخت الفاظ کا جواب تھا۔ مگر مخالفوں کی سختی سے نہایت کم۔ تاہم یہ طریق بھی میری طبیعت اور عادت سے مخالف ہے۔ اور جیسا کہ صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نےؔ مقدمہ کے فیصلہ پر مجھے یہ ہدایت کی ہے کہ آئندہ اشتعال کو روکنے کے لئے مباحثات میں نرم اور مناسب الفاظ کو استعمال کیا جائے میں اسی پر کاربند رہنا چاہتا ہوں اور اس اشتہار کے ذریعہ سے اپنے تمام مریدوں کو جو پنجاب اور ہندوستان کے مختلف مقامات میں سکونت رکھتے ہوں نہایت تاکید سے سمجھاتا ہوں کہ وہ بھی اپنے مباحثات میں اس طرز کے کاربند رہیں۔ اور ہر ایک سخت اور فتنہ انگیز لفظ سے پرہیز کریں۔ اور جیسا کہ میں نے پہلے اس سے شرائط بیعت کی دفعہ چہارم میں سمجھایا ہے سرکار انگریزی کی سچی خیرخواہی اور بنی نوع کی سچی ہمدردی کریں اور اشتعال دینے والے طریقوں سے اجتناب رکھیں اور پرہیزگار اور صالح اور بے شر انسان بن کر پاک زندگی کا نمونہ دکھلائیں۔ اور اگر کوئی ان میں سے ان وصیتوں پر کاربند نہ ہو یا بے جا جوش اور وحشیانہ حرکت اور بدزبانی سے کام لے تو اس کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ ان صورتوں میں ہماری جماعت کے سلسلہ سے باہر متصور ہوگا اور مجھ سے اس کا کوئی تعلق باقی نہیں رہے گا۔ دیکھو! آج میں کھلے کھلے لفظوں سے آپ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 14
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 14
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    14
    لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ آپ لوگ ہر ایک مفسدہ اور فتنہ کے طریق سے مجتنب رہیں اور صبر اور برداشت کی عادت کو اور بھی ترقی دیں اور بدی کی تمام راہوں سے اپنے تئیں دور رکھیں اور ایسا نمونہ دکھلائیں جس سے آپ لوگوں کی ہر ایک نیک خلق میں زیادت ثابت ہو۔ اور میں امید رکھتا ہوں کہ آپ لوگ جو اہل علم اور فاضل اور تربیت یافتہ اور نیک مزاج ہیں ایسا ہی کریں گے۔ مگر یاد رہے اور خوب یاد رہے کہ جو شخص ان وصیتوں پر کاربند نہ ہو وہ ہم میں سے نہیں ہے*۔
    ہماری تمام نصیحتوں کا خلاصہ تین امر ہیں اوّل یہ کہ خدا تعالیٰ کے حقوق کو یاد کر کے اس کی عبادت اور اطاعت میں مشغول رہنا۔ اس کی عظمت کو دل میں بٹھانا اور اس سے سب سے زیادہ محبت رکھنا اور اس سے ڈر کر نفسانی جذبات کو چھوڑنا اور اس کو واحد لاشریک جاننا اور اس کے لئے پاک زندگی رکھنا اور کسی انسان یا دوسری مخلوق کو اس کا مرتبہ نہ دینا۔ اور درحقیقت اس کو تمام روحوں اور جسموں کا پیدا کرنے والا اور مالک یقین ؔ کرنا۔ دوم یہ کہ تمام بنی نوع سے ہمدردی کے ساتھ پیش آنا۔ اور حتی المقدور ہر ایک سے بھلائی کرنا اور کم سے کم یہ کہ بھلائی کا ارادہ رکھنا۔ سوم یہ کہ جس گورنمنٹ کے زیر سایہ خدا نے ہم کو کر دیا ہے یعنی گورنمنٹ برطانیہ جو ہماری آبرو اور جان اور مال کی محافظ ہے اس کی سچی خیر خواہی کرنا اور ایسے مخالف امن امور سے دور رہنا جو اس کو تشویش میں ڈالیں۔ یہ اصول ثلاثہ ہیں جن کی محافظت ہماری جماعت کو کرنی چاہیے اور جن میں اعلیٰ سے اعلیٰ نمونے دکھلانے چاہئیں۔
    اور یاد رہے کہ یہ اشتہار مخالفین کے لئے بھی بطور نوٹِس ہے۔ چونکہ ہم نے
    میری جماعت میں بڑے بڑے معزز اہل اسلام داخل ہیں۔ جن میں بعض تحصیلدار اور بعض اکسٹرا اسسٹنٹ اور ڈپٹی کلکٹر اور بعض وکلاء اور بعض تاجر اور بعض رئیس اور جاگیردار اور نواب اور بعض بڑے بڑے فاضل اور ڈاکٹر اور بی اے اور ایم اے اور بعض سجادہ نشین ہیں۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 15
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 15
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/15/mode/1up
    15
    صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کے سامنے یہ عہد کرلیا ہے کہ آئندہ ہم سخت الفاظ سے کام نہ لیں گے اس لئے حفظ امن کے مقاصد کی تکمیل کے لئے ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے تمام مخالف بھی اس عہد کے کاربند ہوں۔ اور یہی وجہ تھی کہ ہم نے عدالت کے سامنے اس بحث کو طول دینا نہیں چاہا حالانکہ ہمارے تمام سخت الفاظ جوابی تھے اور نیز ان کے مقابل پر نہایت کم۔ سو ہم نے جوابی طور کے سخت الفاظ کو بھی چھوڑنا چاہا۔ کیونکہ ہمارا مدت سے یہ ارادہ تھا کہ تمام قومیں مباحثات میں الفاظ کی سختی کو استعمال نہ کریں۔ اسی ارادہ کی وجہ سے ہم نے اس درخواست پر دستخط مسلمانوں کے کرائے ہیں جس کو عنقریب بحضور جناب نواب گورنر جنرل بہادر بھیجنے کا ارادہ ہے۔ سو مخالفین مذہب کو بذریعہ اس نوٹس کے عام اطلاع دی جاتی ہے کہ اس فیصلہ کے بعد وہ بھی مباحثات میں اپنی روشیں بدلالیں۔ اور آئندہ سخت اور جوش پیدا کرنے والے الفاظ اور ہتک آمیز الفاظ اپنے اخباروں اور رسالوں میں ہرگز استعمال نہ کریں۔ اور اگر اب بھی اس نوٹس کے شائع ہونے کے بعد انہوں نے اپنے سابق طریق کو نہ چھوڑا تو انہیں یاد رہے کہ ہمیں یا ہم میں سے کسی کو حق حاصل ہوگا کہ بذریعہ عدالت چارہ جوئی کریں۔ حفظ امن کے لئے ہر ایک قوم کا فرض ہے کہ فتنہ انگیز تحریروں سے اپنے تئیں بچائے پس جو شخص اس نوٹس کے شائع ہونے کے بعد بھی اپنے تئیں سخت الفاظ اورؔ بدزبانی اور توہین سے روک نہ سکے ایسا شخص درحقیقت گورنمنٹ کے مقاصد کا دشمن اور فتنہ پسند آدمی ہے۔ اور عدالت کا فرض ہوگا کہ امن کو قائم رکھنے کے لئے اس کی گوشمالی کرے۔
    بحث کرنے والوں کے لئے یہ بہتر طریق ہوگا کہ کسی مذہب پر بے ہودہ طور پر اعتراض نہ کریں بلکہ ان کی مسلّم اور معتبر کتابوں کی رو سے ادب کے ساتھ اپنے شبہات پیش کریں اور ٹھٹھے اور ہنسی اور توہین سے اپنے تئیں بچاویں اور مباحثات میں حکیمانہ طرز اختیار کریں اور ایسے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 16
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 16
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/16/mode/1up
    16
    اعتراض بھی نہ کریں جو ان کی کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔ مثلا اگر ایک مسلمان عیسائی عقیدہ پر اعتراض کرے تو اس کو چاہیے کہ اعتراض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان اور عظمت کا پاس رکھے اور ان کی وجاہت اور مرتبہ کو نہ بھلا وے۔ ہاں وہ نہایت نرمی اور ادب سے اس طرح اعتراض کر سکتا ہے کہ خدا نے جو بیٹے کو دنیا میں بھیجا تو کیا یہ کام اس نے اپنی قدیم عادت کے موافق کیا یا خلاف عادت؟ اگر عادت کے موافق کیا تو پہلے بھی کئی بیٹے اس کے دنیا میں آئے ہوں گے اور مصلوب بھی ہوئے ہوں گے یا ایک ہی بیٹا بار بار آیا ہوگا۔ اور اگر یہ کام خلاف عادت ہے تو خدا کی طرف منسوب نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ خدا اپنی ازلی ابدی عادتوں کو کبھی نہیں چھوڑتا۔ یا مثلاً یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ یہ عقیدہ صحیح نہیں ہے کہ نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام لوگوں کے گناہوں کے سبب سے خدا کی نظر میں *** ٹھہر گئے تھے کیونکہ *** کے معنے لغت کے رو سے یہ ہیں کہ خدا اس شخص سے جس پر *** کی گئی ہے بیزار ہو جائے اور وہ شخص خدا سے بیزار ہو جائے اور دونوں میں باہم دشمنی واقع ہو جائے۔ اور شخص ملعون خدا کے قرب سے دور جا پڑے۔ اور یہ ذلیل حالت ایسے شخص کی کبھی نہیں ہو سکتی جو درحقیقت خدا کا پیارا ہے۔ اور جب کہ *** جائز نہ ہوئی تو کفّارہ باطل ہوا۔ غرض ایسے اعتراض جن میں معقول تقریر کے ساتھ کسی فرقہ کے عقائد کی غلطی کا اظہار ہو، ہر ایک محقق کا حق ہے جو نرمی اور ادب کے ساتھ پیش کرے اور حتی الوسع یہ کوشش ہو کہ وہ تمام اعتراضات علمی رنگ میں ہوں تا لوگوں کو ان سے فائدہ پہنچ سکے اور کوئی مفسدہ اور اشتعال پیدا نہ ہو۔
    اور یہ خدا تعالیٰ کا شکر کرنے کا مقام ہے کہ ہم لوگ جو مسلمان ہیں ہمارے اصول میں یہ داخل ہے کہ گذشتہ نبیوں میں سے جن کے فرقے اور قومیں اور اُمتیں بکثرت دنیا ؔ میں پھیل گئی ہیں کسی نبی کی تکذیب نہ کریں کیونکہ ہمارے اسلامی اصول کے موافق خداتعالیٰ مفتری کو ہرگز یہ عزت نہیں بخشتا کہ وہ ایک سچے نبی کی طرح مقبول خلائق ہوکر ہزارہا فرقے اور قومیں اس کو مان لیں اور اس کا دین زمین پر جم جاوے اور عمر پائے لہٰذا ہمارا یہ فرض ہونا چاہیے کہ ہم تمام قوموں
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 17
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 17
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/17/mode/1up
    17
    کے نبیوں کو جنہوں نے خدا کے الہام کا دعویٰ کیا اور مقبول خلائق ہوگئے اور ان کا دین زمین پر جم گیا خواہ وہ ہندی تھے یا فارسی۔ چینی تھے یا عبرانی خواہ کسی اور قوم میں سے تھے درحقیقت سچے رسول مان لیں۔ اور اگر ان کی امتوں میں کوئی خلاف حق باتیں پھیل گئی ہوں تو ان باتوں کو ایسی غلطیاں قرار دیں جو بعد میں داخل ہوگئیں۔ یہ اصول ایک ایسا دلکش اور پیارا ہے جس کی برکت سے انسان ہر ایک قسم کی بدزبانی اور بدتہذیبی سے بچ جاتا ہے اور درحقیقت واقعی امر یہی ہے کہ جھوٹے نبی کو خدا تعالیٰ اپنے کروڑ ہا بندوں میں ہرگز قبولیت نہیں بخشتا اور اُس کو وہ عزت نہیں دیتا جو سچوں کو دی جاتی ہے اور صدیوں اور زمانوں میں اس کی قبولیت ہرگز قائم نہیں رہ سکتی بلکہ بہت جلد اس کی جماعت متفرق ہو جاتی اور اس کا سلسلہ درہم برہم ہو جاتا ہے۔
    سو اے دوستو اس اصول کو محکم پکڑو۔ ہر ایک قوم کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ۔ نرمی سے عقل بڑھتی ہے اور بُردباری سے گہرے خیال پیدا ہوتے ہیں۔ اور جو شخص یہ طریق اختیار نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اگر کوئی ہماری جماعت میں سے مخالفوں کی گالیوں اور سخت گوئی پر صبر نہ کر سکے تو اس کا اختیار ہے کہ عدالت کے رو سے چارہ جوئی کرے۔ مگر یہ مناسب نہیں ہے کہ سختی کے مقابل پر سختی کر کے کسی مَفْسَدَہ کو پیدا کریں۔ یہ تو وہ وصیت ہے جو ہم نے اپنی جماعت کو کر دی۔ اور ہم ایسے شخص سے بیزار ہیں اور اس کو اپنی جماعت سے خارج کرتے ہیں جو اس پر عمل نہ کرے۔
    مگر ہم اپنی عادل گورنمنٹ سے یہ بھی امید رکھتے ہیں کہؔ جو لوگ آئندہ مخالفانہ حملے توہین اور بدزبانی کے ساتھ ہم پر کریں یا ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یا قرآن شریف پر یا اسلام پر تو ان کی بدزبانی کا تدارک بھی واجب طور پر کیا جائے۔ اور ہم لکھ چکے ہیں اور پھر دوبارہ لکھتے ہیں کہ ہماری یہ جماعت گورنمنٹ انگریزی کی سچی خیرخواہ ہے اور ہمیشہ خیر خواہ رہے گی۔ اور میری تمام جماعت کے لوگ درحقیقت غریب مزاج اور
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 18
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 18
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/18/mode/1up
    18
    امن پسند اور اول درجہ کے خیر خواہ سرکار انگریزی ہیں۔ اور باایں ہمہ معزز اور شریف ہیں۔
    اور بعض نادانوں کا یہ خیال کہ گویا میں نے افترا کے طور پر الہام کا دعویٰ کیا ہے غلط ہے بلکہ درحقیقت یہ کام اس قادر خدا کا ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور اس جہان کو بنایا ہے۔ جس زمانہ میں لوگوں کا ایمان خدا پر کم ہو جاتا ہے اس وقت میرے جیسا ایک انسان پیدا کیا جاتا ہے اور خدا اس سے ہمکلام ہوتا ہے اور اس کے ذریعہ سے اپنے عجائب کام دکھلاتا ہے۔ یہاں تک کہ لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ خدا ہے۔ میں عام اطلاع دیتا ہوں کہ کوئی انسان خواہ ایشیائی ہو خواہ یوروپین اگر میری صحبت میں رہے تو وہ ضرور کچھ عرصہ کے بعد میری ان باتوں کی سچائی معلوم کرلے گا۔
    یاد رہے کہ یہ باتیں حفظ امن کے مخالف نہیں۔ ہم دنیا میں فروتنی کے ساتھ زندگی بسر کرنے آئے ہیں اور بنی نوع کی ہمدردی اور اس گورنمنٹ کی خیر خواہی جس کے ہم ماتحت ہیں یعنی گورنمنٹ برطانیہ ہمارا اصول ہے۔ ہم ہرگز کسی مَفْسَدَہ اور نقض امن کو پسند نہیں کرتے اور اپنی گورنمنٹ انگریزی کی ہر ایک وقت میں مدد کرنے کے لئے طیار ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کا شکر کرتے ہیں جس نے ایسی گورنمنٹ کے زیر سایہ ہمیں رکھا ہے۔ فقط المرقوم ۲۰؍ ستمبر ۱۸۹۷ ؁ء
    المشتھر
    میرزا غلام احمد از قادیان
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 19
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 19
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/19/mode/1up
    19
    اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ سَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی
    مقدمہ
    یہ کتاب جس کا نام کتابُ البریّت ہے اس غرض سے چھاپی جاتی ہے کہ تا اس مقدمہ میں غور کر کے ہر ایک شخص سوچے اور سمجھے کہ کیونکر خدا تعالیٰ ان لوگوں کو جو اس پر توکل کرتے ہیں دشمنوں کے بہتانوں اور افتراؤں سے بچا لیتا ہے اور کیونکر وہ اپنے مخلص بندوں کے لئے ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن سے ان تمام بہتانوں اور بناوٹوں کی حقیقت کھل جاتی ہے جو ان کے ہلاک کرنے کے لئے بنائی جاتی ہیں۔
    درحقیقت وہ خدا بڑا زبردست اور قوی ہے جس کی طرف محبت اور وفا کے ساتھ جھکنے والے ہرگز ضائع نہیں کئے جاتے۔ دشمن کہتا ہے کہ میں اپنے منصوبوں سے ان کو ہلاک کر دوں اور بداندیش ارادہ کرتا ہے کہ میں ان کو کچل ڈالوں۔ مگر خدا کہتا ہے کہ اے نادان کیا تو میرے ساتھ لڑے گا؟ اور میرے عزیز کو ذلیل کرسکے گا؟ درحقیقت زمین پر کچھ نہیں ہو سکتا مگر وہی جو آسمان پر پہلے ہوچکا۔ اور کوئی زمین کا ہاتھ اس قدر سے زیادہ لمبا نہیں ہو سکتا جس قدر کہ وہ آسمان پر لمبا کیا گیا ہے۔ پس ظلم کے منصوبے باندھنے والے سخت نادان ہیں جو اپنے مکروہ اور قابل شرم منصوبوں کے وقت اس برتر ہستی کو یاد
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 20
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 20
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/20/mode/1up
    20
    نہیں رکھتے جس کے ارادہ کے بغیر ایک پتہ بھی گر نہیں سکتا۔ لہٰذا وہ اپنے ارادوں میں ہمیشہ ناکام اور شرمندہ رہتے ہیں اور ان کی بدی سے راستبازوں کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا بلکہؔ خدا کے نشان ظاہر ہوتے ہیں اور خلق اللہ کی معرفت بڑھتی ہے وہ قوی اور قادر خدا اگرچہ ان آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا مگر اپنے عجیب نشانوں سے اپنے تئیں ظاہر کر دیتا ہے۔ اور بداندیشوں کے حملے راستبازوں پر قدیم سے ہوتے چلے آئے ہیں۔ مجھ سے پہلے یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت بھی یہی ارادہ کیا کہ ناحق مجرم ٹھہرا کر سولی دلا دیں مگر خدا کی قدرت دیکھو کہ کس طرح اس نے اپنے اس مقبول کو بچالیا۔ اس نے پیلاطوس کے دل میں ڈال دیا کہ یہ شخص بے گناہ ہے اور فرشتہ نے خواب میں اس کی بیوی کو ایک رُعب ناک نظارہ میں ڈرایا کہ اس شخص کے مصلوب ہونے میں تمہاری تباہی ہے۔ پس وہ ڈر گئے اور اس نے اپنے خاوند کو اس بات پر مستعد کیا کہ کسی حیلہ سے مسیح کو یہودیوں کے بد ارادہ سے بچالے۔ پس اگرچہ وہ بظاہر یہودیوں کے آنسو پونچھنے کے لئے صلیب پر چڑھایا گیا لیکن وہ قدیم رسم کے موافق نہ تین دن صلیب پر رکھا گیا جو کسی کے مارنے کے لئے ضروری تھا اور نہ ہڈیاں توڑی گئیں بلکہ یہ کہہ کر بچا لیا گیا کہ ’’اس کی تو جان نکل گئی‘‘۔ اور ضرور تھا کہ ایسا ہی ہوتا تا خدا کا مقبول اور راستباز نبی جرائم پیشہ کی موت سے مر کر یعنی صلیب کے ذریعہ سے جان دے کر اس *** کا حصہ نہ لیوے جو روز ازل سے ان شریروں کے لئے مقرر ہے جن کے تمام علاقے خدا سے ٹوٹ جاتے ہیں اور درحقیقت جیسا کہ *** کا مفہوم ہے وہ خدا کے دشمن اور خدا ان کا دشمن ہو جاتا ہے۔ پس کیونکر وہ *** جس کا یہ ناپاک مفہوم ہے ایک برگزیدہ پر وارد ہو سکتی ہے؟ سو اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیبی موت سے بچائے گئے۔ اور جیسا کہ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے وہ کشمیر میں آکر فوت ہوئے اور اب تک نبی شہزادہ کے نام پر کشمیر میں ان کی قبر موجود ہے۔ اور لوگ بہت تعظیم سے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 21
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 21
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/21/mode/1up
    21
    اس کی زیارت کرتے ہیں اور عام خیال ہے کہ وہ ایک شہزادہ نبی تھا جو اسلامی ملکوں کی طرف سے اسلام سے پہلے کشمیر میں آیا تھا اور اس شہزادہ کا نام غلطی سے بجائے یسوع کے کشمیر میں یوزآسف کر کے مشہور ہے جس کے معنے ہیں کہ یسوع غم ناک۔ اور جب پلاطوس کی بیوی کو فرشتہ نظر آیا اور اس نے اس کو دھمکایاؔ کہ اگر یسوع مارا گیا تو تمہاری تباہی ہوگی یہی اشارہ خداتعالیٰ کی طرف سے بچانے کے لئے تھا۔ ایسا دنیا میں کبھی نہیں ہوا کہ اس طرح پر کسی راستباز کی حمایت کے لئے فرشتہ ظاہر ہوا ہو اور پھر رؤیا میں فرشتہ کا ظاہر ہونا عبث اور لاحاصل گیا ہو اور جس کی سفارش کے لئے آیا ہو وہ ہلاک ہوگیا ہو۔ غرض یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ اس وقت کے یہودی اپنے ارادہ میں نامراد رہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جس کوٹھے میں رکھے گئے تھے جو قبر کے نام سے مشہور تھا اور دراصل ایک بڑا وسیع کوٹھا تھا وہ اس سے تیسرے دن بخیر و عافیت باہر آگئے اور شاگردوں کو ملے اور ان کو مبارک باد دی کہ میں خدا کے فضل سے دنیوی زندگی کے ساتھ بدستور اب تک زندہ ہوں اور پھر ان کے ہاتھ سے لے کر روٹی اور کباب کھائے اور اپنے زخم ان کو دکھلائے اور چالیس دن تک ان کے ان زخموں کا اس مرہم کے ساتھ علاج ہوتا رہا جس کو قرابا دینوں میں مرہم عیسیٰ یا مرہم رُسُل یا مرہم حواریّین کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ یہ مرہم چوٹ وغیرہ کے زخموں کے لئے بہت مفید ہے اور قریباً طب کی ہزار کتاب میں اس مرہم کا ذکر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی چوٹوں کے لئے اس کو بنایا گیا تھا۔ وہ پرانی طب کی کتابیں عیسائیوں کی جو آج سے چودہ سو برس پہلے رومی زبان میں تصنیف ہو چکی تھیں ان میں اس مرہم کا ذکر ہے اور یہودیوں اور مجوسیوں کی طبابت کی کتابوں میں بھی یہ نسخہ مرہم عیسیٰ کا لکھا گیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرہم الہامی ہے اور اس وقت جبکہ حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب پر کسی قدر زخم پہنچے تھے انہیں دنوں میں خداتعالیٰ نے بطور الہام یہ دوائیں ان پر ظاہر کی تھیں۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 22
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 22
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/22/mode/1up
    22
    یہ مرہم پوشیدہ راز کا نہایت یقینی طور پر پتہ لگاتی ہے اور قطعی طور پر ظاہر کرتی ہے کہ درحقیقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیبی موت سے بچائے گئے تھے کیونکہ اس مرہم کا تذکرہ صرف اہل اسلام کی ہی کتابوں میں نہیں کیا گیا بلکہ قدیم سے عیسائی یہودی مجوسی اور اطبّاء اسلام اپنی اپنی کتابوں میں ذکر کرتے آئے ہیں۔ اور نیز یہ بھی لکھتے آئے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی چوٹوں کے لئے یہ مرہم طیار کی گئی تھی۔ حسن اتفاق سے یہؔ سب کتابیں موجود ہیں اور اکثر چَھپ چکی ہیں اگر کسی کو سچائی کا پتہ لگانا اور راستی کا سراغ چلانا منظور ہو تو ضرور ان کتابوں کا ملاحظہ کرے شاید آسمانی روشنی اس کے دل پر پڑ کر ایک بھاری بلا سے نجات پا جائے اور حقیقت کھل جائے۔ اس مرہم کو ادنیٰ ادنیٰ طبابت کا مذاق رکھنے والے بھی جانتے ہیں یہاں تک کہ قرابادین قادری میں بھی جو ایک فارسی کی کتاب ہے تمام مرہموں کے ذکر کے باب میں اس مرہم کا نسخہ بھی لکھا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ یہی مرہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے بنائی گئی تھی۔ پس اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوگا کہ دنیا کے تمام طبیبوں کے اتفاق سے جو ایک گروہ خواص ہے جن کو سب سے زیادہ تحقیق کرنے کی عادت ہوتی ہے اور مذہبی تعصبات سے پاک ہوتے ہیں یہ ثابت ہوگیا ہے کہ یہ مرہم حواریوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی چوٹوں کے لئے طیار کی تھی۔
    ایک عجیب فائدہ اس مرہم کے واقعہ کا یہ ہے کہ اس سے حضرت عیسیٰ کے آسمان پر چڑھنے کی بھی ساری حقیقت کھل گئی اور ثابت ہوگیا کہ یہ تمام باتیں بے اصل اور بے ہودہ تصورات ہیں۔ اور نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ وہ رفع جس کا قرآن شریف میں ذکر ہے حقیقت میں وفات کے بعد*
    نوٹ۔ ہم پہلی کتابوں میں ذکر کر چکے ہیں کہ امام بخاری اور امام ابن حزم اور امام مالک رضی اللہ عنہم اور دوسرے اَئمہ کبار کا یہی مذہب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام درحقیقت فوت ہوگئے ہیں۔ اب واضح رہے کہ شیخ محی الدین ابن العربی کا بھی یہی مذہب ہے۔ چنانچہ وہ نزول کی حقیقت اپنی تفسیر کے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 23
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 23
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/23/mode/1up
    23
    تھا اور اسی رفع مسیح سے خدا تعالیٰ نے یہودیوں اور عیسائیوں کے اسؔ جھگڑے کا فیصلہ کیا جو صدہا برس سے ان کے درمیان چلا آتا تھا یعنی یہ کہ حضرت عیسیٰ مردودوں اور ملعونوں سے نہیں ہیں اور نہ کُفّار میں سے جن کا رفع نہیں ہوتا بلکہ وہ سچے نبی ہیں اور درحقیقت ان کا رفع روحانی ہوا ہے جیسا کہ دوسرے نبیوں کا ہوا۔ یہی جھگڑا تھا اور رفع جسمانی کی نسبت کوئی جھگڑا نہ تھا بلکہ وہ غیر متعلق بات تھی جس پر کذب اور صدق کا مدار نہ تھا۔ بات یہ ہے کہ یہود یہ چاہتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب کا الزام دے کر ملعون ٹھہراویں یعنی ایسا شخص جس کا مرنے کے بعد خدا کی طرف روحانی رفع نہیں ہوتا اور نجات سے جو قرب الٰہی پر موقوف ہے بے نصیب رہتا ہے۔ سو خدا نے اس جھگڑے کو یوں فیصلہ کیا کہ یہ گواہی دی کہ وہ صلیبی موت جو روحانی رفع سے مانع ہے حضرت مسیح پر ہرگز وارد نہیں ہوئی اور ان کا وفات کے بعد رفع الی اللہ ہوگیا ہے۔ اور وہ قرب الٰہی پاکر کامل نجات کو پہنچ گیا۔ کیونکہ جس کیفیت کا نام نجات ہے اسی کا دوسرے لفظوں میں نام رفع ہے اسی کی طرف ان آیات میں اشارہ ہے کہ 3 ۔۱؂ 3۔۲؂ افسوس کہ ہمارے کج فہم علماء پر کہاں تک غباوت اور بلادت وارد ہوگئی ہے کہ وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ قرآن نے اگر اس آیت میں کہ 3 ۔۳؂ رفع جسمانی
    صفحہ ۲۶۲ میں یہ لکھتے ہیں ’’وجب نزولہ فی آخر الزمان بتعلقہ ببدنٍ آخر‘‘ یعنی عیسیٰ نازل تو ہوگا مگر ان معنوں سے کہ دوسرے بدن کے ساتھ اس کا تعلق ہوگا یعنی بطور بروز اس کا نزول ہوگا جیسا کہ صوفیاء کرام کا مذہب ہے۔ پھر اسی صفحہ میں لکھتے ہیں ’’رفع عیسٰی علیہ السّلام باتّصَال روحہ عند المفارقۃ عن العالم السفلی بالعالم العلوی‘‘۔ یعنی عیسیٰ کے رفع کے یہ معنی ہیں کہ جب عالم سفلی سے اس کی روح جُدا ہوئی تو عالم بالا سے اس کا اتصال ہوگیا۔ پھر صفحہ ۱۷۸ میں لکھتے ہیں کہ رفع کے یہ معنی ہیں کہ عیسیٰ کی روح اس کے قبض کرنے کے بعد روحوں کے آسمان میں پہنچائی گئی۔ فتدبّر۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 24
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 24
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/24/mode/1up
    24
    کا ذکر کیا ہے تو اس ذکر کا کیا موقعہ تھا اور کونسا جھگڑا اس بارے میں یہود اور نصاریٰ کا تھا۔ تمام جھگڑا تو یہی تھا کہ صلیب کی وجہ سے یہود کو بہانہ ہاتھ آگیا تھا کہ نعوذ باللہ یہ شخص یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ملعون ہے۔ یعنی اس کا خدا کی طرف رفع نہیں ہوا۔ اور جب رفع نہ ہوا تو *** ہونا لازم آیا کیونکہ رفع الی اللہ کی ضد *** ہے۔ اور یہ ایک ایسا انکار تھا جس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے نبوت کے دعوے میں جھوٹے ٹھہرتے تھے کیونکہ توریت نے فیصلہ کر دیا ہے کہ جو شخص مصلوب ہو اس کا رفع الی اللہ نہیں ہوتا یعنی مرنے کے بعد راستبازوں کی طرح خدا تعالیٰ کی طرف اس کی روح اٹھائی نہیں جاتی یعنی ایسا شخص ہرگز نجات نہیں پاتا۔ پس خداتعالیٰ نے چاہا کہ اپنے سچے نبی کے دامن کو اس تہمت سے پاک کرے اس لئے اس نے قرآن میں یہ ذکر کیا 3۱؂ ۔ اور یہ فرمایا 3۲؂ ۔تا معلوم ہو کہ یہودی جھوٹے ہیںؔ ۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اور سچے نبیوں کی طرح رفع الی اللہ ہوگیا اور یہی وجہ ہے جو اس آیت میں یہ لفظ نہیں فرمائے گئے کہ رافعک الی السّماء بلکہ یہ فرمایا گیا کہ رافعک الیّ تا صریح طور پر ہر ایک کو معلوم ہو کہ یہ رفع روحانی ہے نہ جسمانی کیونکہ خدا کی جناب جس کی طرف راستبازوں کا رفع ہوتا ہے روحانی ہے نہ جسمانی۔ اور خدا کی طرف روح چڑھتے ہیں نہ کہ جسم۔
    اور خدا تعالیٰ نے جو اس آیت میں توفّی کو پہلے رکھا اور رفع کو بعد تو اسی واسطے یہ ترتیب اختیار کی کہ تا ہر ایک کو معلوم ہو کہ یہ وہ رفع ہے کہ جو راستبازوں کے لئے موت کے بعد ہوا کرتا ہے۔ ہمیں نہیں چاہیے کہ یہودیوں کی طرح تحریف کر کے یہ کہیں کہ دراصل توفّیکا لفظ بعد میں ہے اور رفع کا لفظ پہلے کیونکہ بغیر کسی محکم اور قطعی دلیل کے محض ظنون اور اوہام کی بنا پر قرآن کو اُلٹ پُلٹ دینا ان لوگوں کا کام ہے جن کی روحیں یہودیوں کی روحوں سے مشابہت رکھتی ہیں۔ پھر جس حالت میں آیت 3۳؂ ۔ میں صاف
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 25
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 25
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/25/mode/1up
    25
    طور پر بیان فرمایا گیا ہے کہ عیسائیوں کا تمام بگاڑ اور گمراہی حضرت عیسیٰ کی وفات کے بعد ہوئی ہے تو اب سوچنا چاہیے کہ حضرت عیسیٰ کو اب تک زندہ ماننے میں یہ اقرار بھی کرنا پڑتا ہے کہ اب تک عیسائی بھی گمراہ نہیں ہوئے۔ اور یہ ایک ایسا خیال ہے جس سے ایمان جانے کا نہایت خطرہ ہے۔
    میں اس وقت محض قوم کی ہمدردی سے اصل بات سے دور جا پڑا اور اصل تذکرہ یہ تھا کہ خداتعالیٰ نے شرِ اعدا سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بچا لیا تھا چنانچہ خود حضرت مسیح نے فرمایا تھا کہ میری مثال یونس نبی کی طرح ہے اور یونس کی طرح میں بھی تین دن قبر میں رہوں گا۔ اب ظاہر ہے کہ مسیح جو نبی تھا اس کا قول جھوٹا نہیں ہو سکتا اس نے اپنے قصہ کو یونس کے قصہ سے مشابہ قرار دیا ہے اور چونکہ یونس مچھلی کے پیٹ میں نہیں مرا بلکہ زندہ رہا اور زندہ ہی داخل ہوا تھا اس لئے مشابہت کے تقاضا سے ضروری طور پر ماننا پڑتا ہے کہ مسیح بھی قبر میں نہیں مرا اور نہ مردہ داخل ہوا۔ ورنہ مردہ کو زندہ سے کیا مشابہت؟ غرض اس طرح پر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دشمنوںؔ کے شر سے بچالیا۔ ایسا ہی موسیٰ علیہ السلام کو بھی اس نے فرعون کے بدارادہ سے بچایا۔ ہمارے سید و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مکّہ کے دشمنوں کے ہاتھ سے بچایا۔ مکّہ والوں نے اتفاق کر کے باہم عہد کرلیا تھا کہ اس شخص کو جو ہر وقت خدا خدا کرتا اور ہمارے بتوں کی اہانت کرتا ہے گرفتار کر کے برے عذاب کے ساتھ اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیں۔ مگر خدا نے اپنی خدائی کا کرشمہ ایسا دکھلایا کہ اول اپنی وحی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دے دی کہ اس وقت اس شہر سے نکل جانا چاہیے کہ دشمن قتل کرنے پر متفق اللفظ ہوگئے ہیں۔ پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک وفادار رفیق کے ساتھ جو صدیق اکبر تھا شہر سے باہر جاکر ایک غار میں چھپ گئے جس کا نام ثور تھا جس کے معنے ہیں ثوران فتنہ(یہ نام پہلے سے پیشگوئی کے طور پر چلا آتا تھا تا اس واقعہ کی طرف اشارہ ہو) غرض جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 26
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 26
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/26/mode/1up
    26
    جاکر غار ثور میں چھپ گئے تب دشمنوں نے تعاقب کیا اور غارثور تک سراغ پہنچا دیا۔ اور سراغ چلانے والے نے اس بات پر زور دیا کہ یقیناً وہ اسی غار کے اندر ہیں یا یوں کہو کہ اس سے آگے آسمان پر چلے گئے کیونکہ سراغ آگے نہیں چلتا۔ مگر چند مکہ کے رئیسوں نے کہا کہ اس بڈھے کی عقل ماری گئی ہے غار پر تو کبوتری کا آشیانہ ہے اورایک درخت ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے بھی پہلے کا ہے لہٰذا کسی طرح ممکن نہیں کہ کوئی غار کے اندر جا سکے اور آشیانہ سلامت رہے اور درخت کاٹا نہ جائے اور ان میں سے کوئی شخص درخت اور آشیانہ کو ہٹا کر اندر نہ جا سکا کیونکہ لوگوں نے بارہا دیکھا تھا کہ کئی دفعہ بہت سے سانپ غار کے اندر سے نکلتے اور اندر جاتے ہیں اس لئے وہ سانپوں کی غار مشہور تھی سو موت کے غم نے سب کو پکڑا اور کوئی جرأت نہ کر سکا کہ اندر جائے۔ یہ خدا کا فعل ہے کہ سانپ جو انسان کا دشمن ہے اپنے حبیب کی حفاظت کے لئے اس سے کام لے لیا اور جنگلی کبوتری کے آشیانہ سے لوگوں کو تسلی دی۔ یہ کبوتری نوح کی کبوتری سے مشابہ تھی جس نے آسمانی سلطنت کے مقدس خلیفہ اور تمام برکتوں کے سرچشمہ کی حمایت کی۔ پس یہ تمام باتیں غور کے لائق ہیں کہ کس طرح خداتعالیٰ نے اپنے پیارے رسولوں کو دشمنوں کے بد ارادوں سے بچالیا۔ اس کی حکمتوں اور قدرتوں پر قربان ہونا چاہیے کہؔ شریر انسان اس کے راستباز بندوں کے ہلاک کرنے کے لئے کیا کچھ سوچتا ہے اور در پردہ کیسے کیسے منصوبے باندھے جاتے ہیں اور پھر انجام کار خداتعالیٰ کچھ ایسا کرشمہ قدرت دکھلاتا ہے کہ مکر کرنے والوں کا مکر انہی پر اٹھا کر مارتا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو ایک راستباز بھی شریروں کے بد ارادہ سے بچ نہ سکتا۔ درحقیقت راستباز کا اس وقت نشان ظاہر ہوتا ہے جبکہ اس پر کوئی مصیبت آتی ہے۔ اور اس کا مؤید ہونا اس وقت لوگوں پر کھلتا ہے کہ جب کہ اس کی آبرو یا جان لینے کے لئے منصوبے باندھے جاتے ہیں۔ راستباز پر خدا تعالیٰ اس لئے مصیبت نہیں بھیجتا کہ تا اس کو ہلاک کرے بلکہ اس لئے بھیجتا ہے کہ تا اپنی قدرتیں اس کی تائید
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 27
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 27
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/27/mode/1up
    27
    میں لوگوں کو دکھلاوے اور وہ غیبی تائیدیں ظاہر کرے کہ جو راستبازوں کے شامل حال ہوتی ہیں۔ نادان کہتا ہے کہ یہ سب بے ہودہ باتیں ہیں کیونکہ احمق نہیں جانتا کہ خدا کن قوتوں کا مالک ہے اور نادان اس سے بے خبر ہے کہ اس اعلیٰ طاقت میں کیا کیا عجیب قدرتیں ہیں اور اسباب پیدا کرنے کی کیا کیا عمیق راہیں ہیں۔ افسوس ان لوگوں پر جو نشانوں کے بعد بھی اس کو نہیں پہچانتے۔
    یہ مقدمہ جو میرے پر بنایا گیا تھا اس میں محمد حسین بٹالوی بڑا حریص تھا کہ کسی طرح عیسائیوں کو کامیابی ہو۔ وہ خیال کرتا تھا کہ مجھے شکار مارنے کے لئے ایک موقعہ ملا ہے۔ اور اس کو یقین تھا کہ یہ وار اس کا ہرگز خالی نہ جائے گا۔ اسی وجہ سے وہ کلارک کا گواہ بن کر آیا تھا اور اس غلط خبر سے وہ بہت ہی خوش تھا کہ اس عاجز پر وارنٹ گرفتاری جاری ہوگیا ہے۔ مگر دراصل بات یہ تھی کہ امرتسر کے مجسٹریٹ نے درحقیقت یکم اگست ۱۸۹۷ ؁ء کو میری گرفتاری کے لئے وارنٹ جاری کر دیا تھا لیکن خدا تعالیٰ کا اس مقدمہ میں اوّل کرشمۂ قدرت یہی ہے کہ باوجود کئی دن گذر چکنے کے وہ وارنٹ گورداسپورہ میں پہنچ نہ سکا معلوم نہیں کہ کہاں غائب ہوگیا۔ بقول وارث دین جو اس مقدمہ کی سازش میں شریک ہے عیسائی اس بات کے ہر روز منتظر تھے کہ کب یہ شخص گرفتار ہوکر امرتسر میں آتا ہے اور بعض مخالف مولوی اور ان کی جماعت کے لوگ ہر روز اسٹیشن امرتسر پر جاتے تھے کہ تا مجھے اس حالت میں دیکھیں کہ ہتھکڑی ہاتھ میں اورؔ پولیس کی حراست میں ریل سے اترا ہوں۔ آخر جب وارنٹ کی تعمیل میں دیر لگی تو یہ لوگ نہایت تعجب میں پڑے کہ یہ کیا بھید ہے کہ باوجود وارنٹ جاری ہو جانے کے اور کئی دن اس پر گذرنے کے یہ شخص اب تک گرفتار ہوکر امرتسر میں نہیں آیا اور درحقیقت تعجب کی جگہ تھی کہ باوجودیکہ وارنٹ کا حکم یکم اگست کو جاری ہوگیا تھا پھر بھی ۷؍ اگست تک اس کی تعمیل کا عوام کو کچھ پتہ نہ لگا۔ یہ ایسا امر ہے کہ سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ غرض بعد اس کے صاحب ڈپٹی کمشنر
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 28
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 28
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/28/mode/1up
    28
    ضلع امرتسر کو معلوم ہوا کہ انہوں نے غیر ضلع میں وارنٹ روانہ کرنے میں غلطی کی اور وہ اس بات کے مجاز نہ تھے کہ ملزم کی گرفتاری کے لئے غیر ضلع میں وارنٹ جاری کیا جائے۔ اس لئے انہوں نے ضلع گورداسپورہ میں تار دی کہ وارنٹ کی تعمیل روک دی جائے۔ اور اس جگہ خدا کا کام یہ کہ ضلع گورداسپورہ کے افسر خود تعجب میں تھے کہ کب وارنٹ آیا کہ تا اس کی تعمیل روک دی جائے۔ آخر وہ تار داخل دفتر کی گئی۔ اور پھر بعد اس کے مثل مقدمہ منتقل ہوکر صاحب ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپورہ کے پاس آگئی۔ پھر بعد اس کے مجھے اس بات پر اطلاع نہیں کہ کیونکر بجائے وارنٹ کے صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپورہ کی عدالت سے سمن جاری ہوا۔ ہاں میں نے سنا ہے کہ کلارک نے معہ اپنے وکیل کے اس پر بحث کی تھی کہ ضرور وارنٹ جاری ہو جیسا کہ امرتسر سے جاری ہوا۔ لیکن خداتعالیٰ نے جو دلوں کا مالک ہے اس نے مثل کے پہنچتے ہی صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر ضلع گورداسپورہ کے دل پر یہ بات جمادی کہ مقدمہ مشتبہ ہے اور وارنٹ کے لائق نہیں اس لئے انہوں نے میرے نام سمن جاری کیا۔ مگر شیخ محمد حسین صاحب کو ان باتوں کی کچھ بھی خبر نہ تھی۔ وہ اس خیال پر کہ عنقریب یہ عاجز صاحب ضلع کی کچہری میں گرفتار ہوکر آئے گا بڑے ناز سے کچہری میں تشریف لائے اور صیّاد کی طرح اِدھر اُدھر دیکھتے تھے کہ تا میری گرفتاری اور ہتھکڑی کا نظارہ دیکھیں اور اپنے یاروں کو دکھائیں اتنے میں مَیں قریب نو بجے کے بٹالہ میں جہاں صاحب ڈپٹی کمشنر بہ تقریب دورہ فروکش تھے پہنچ گیا۔ اور جب میں صاحب ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں گیا تو پہلے سے میرے لئے کرسی بچھائی گئی تھی۔ جب میں حاضر ہوا تو صاحب ضلع نے بڑے لُطف اورؔ مہربانی سے اشارہ کیا کہ تا میں کرسی پر بیٹھ جاؤں۔ تب محمد حسین بٹالوی اور کئی سو آدمی جو میری گرفتاری اور ذلت کے دیکھنے کے لئے آئے تھے ایک حیرت کی حالت میں رہ گئے کہ یہ دن تو اس شخص کی ذلت اور بے عزتی کا سمجھا گیا تھا مگر یہ تو بڑی شفقت اور مہربانی کے ساتھ کرسی پر بٹھایا گیا۔ میں اس وقت خیال
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 29
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 29
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/29/mode/1up
    29
    کرتا تھا کہ میرے مخالفوں کو یہ عذاب کچھ تھوڑا نہیں کہ وہ اپنی امیدوں کے مخالف عدالت میں میری عزت دیکھ رہے ہیں۔ لیکن خداتعالیٰ کا ارادہ تھا کہ اس سے بھی زیادہ ان کو رسوا کرے۔ سو ایسا اتفاق ہوا کہ سرگروہ مخالفوں کا محمد حسین بٹالوی جس نے آج تک میری جان اور آبرو پر حملے کئے ہیں ڈاکٹر کلارک کی گواہی کے لئے آیا تا عدالت کو یقین دلائے کہ یہ شخص ضرور ایسا ہی ہے جس سے امید ہو سکتی ہے کہ کلارک کے قتل کے لئے عبدالحمید کو بھیجا ہو۔ اور قبل اس کے کہ وہ شہادت دینے کے لئے عدالت کے سامنے آوے ڈاکٹر کلارک نے بخدمت صاحب ڈپٹی کمشنر اس کے لئے بہت سفارش کی کہ یہ غیر مقلد مولویوں میں ایک نامی شخص * ہے اس کو کرسی ملنی چاہیے۔ مگر صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے اس سفارش کو منظور نہ کیا۔ غالباً محمد حسین کو اس امر کی خبر نہ تھی کہ اس کی کرسی کے لئے پہلے تذکرہ ہو چکا ہے اور کرسی کی درخواست نامنظور ہو چکی ہے اس لئے جب وہ گواہی کے لئے اندر بلایا گیا تو جیسا کہ خشک مُلّاجاہ طلب اور خودنما ہوتے ہیں آتے ہی بڑی شوخی سے اس نے صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر سے کرسی طلب کی۔ صاحب موصوف نے فرمایا کہ تجھے عدالت میں کرسی نہیں ملتی اس لئے ہم کرسی نہیں دے سکتے۔ پھر اس نے دوبارہ کرسی کی لالچ میں بے خود ہوکر عرض کی کہ مجھے کرسی ملتی ہے اور میرے باپ رحیم بخش کو بھی کرسی ملتی تھی۔ صاحب بہادر نے فرمایا کہ تو جھوٹا ہے نہ تجھے کرسی ملتی ہے نہ تیرے باپ رحیم بخش کو ملتی تھی ہمارے پاس تمہاری کرسی کے لئے کوئی تحریر نہیں۔ تب محمد حسین نے کہا کہ میرے پاس چٹھیات ہیں لاٹ صاحب مجھے کرسی دیتے ہیں۔ یہ جھوٹی بات سن کر صاحب بہادر سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ ’’بک بک مت کر پیچھے ہٹ اور سیدھا کھڑا ہوجا‘‘ اس وقت مجھے بھی محمد حسین پر رحم آیا کیونکہ اس کی موت کی سی حالت ہوگئی تھی۔ اگر بدنؔ کاٹو تو شاید ایک قطرہ لہو
    * یہ بات بالکل درست نہیں کہ غیر مقلّد سب محمد حسین کے مقلّد ہیں بلکہ بہت سے لوگ اس کے مخالف ہیں اور اس کے طریقوں سے بیزار۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 30
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 30
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/30/mode/1up
    30
    کا نہ ہو۔ اور وہ ذلت پہنچی کہ مجھے تمام عمر میں اس کی نظیر یاد نہیں۔ پس بے چارہ غریب اور خاموش اور ترساں اور لرزاں ہوکر پیچھے ہٹ گیا اور سیدھا کھڑا ہوگیا اور پہلے میز کی طرف جھکا ہوا تھا۔ تب فی الفور مجھے خداتعالیٰ کا یہ الہام یاد آیا کہ اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَن اَرَادَ اِھَانَتَکَ یعنی میں اس کو ذلیل کروں گا جو تیری ذلت چاہتا ہے۔ یہ خدا کے منہ کی باتیں ہیں۔ مبارک وہ جو ان پر غور کرتے ہیں۔
    خیال کرنا چاہیے کہ محمد حسین اس وقت اس خوشی سے بھرا ہوا کچہری میں آیا تھا کہ میں اس شخص کو گرفتار اور ہاتھ میں ہتھکڑی اور ذلیل جگہ جوتوں میں بیٹھا ہوا دیکھوں گا۔ تب میرا جی خوش ہوگا اور اپنے نفس کو کہوں گا کہ اے نفس تجھے مبارک ہو کہ تو نے آج اپنے مخالف کو ایسی حالت میں دیکھا۔ لیکن اس بدقسمت کے ایسے طالع کہاں تھے کہ یہ خوشی کا دن دیکھے سو آخر اس بد نصیب نے دیکھا تو یہ دیکھا کہ کچہری کے اندر قدم ڈالتے ہی مجھے صاحب ڈپٹی کمشنر کے پاس عزت کے ساتھ کرسی پر بیٹھا ہوا پایا۔ ایسے دل آزار مشاہدہ نے اس کے نفس کو بے بس کر دیا اور اپنے حریف کو ایسی عزت کی حالت میں دیکھ کر اس کا نفس امّارہ حاسدانہ جوش میں آیا اور جاہ طلبی کا جوش بھڑکا اور بے اختیار ہو کر بول اٹھا کہ مجھے کرسی ملنی چاہیے۔ تب جو حالت اس کی ہوئی سو ہوئی۔ یہ تمام سزا اس بد اندیشی کی تھی جو اس نے میری نسبت کی۔
    گندم از گندم بروید جو ز جو
    از مکافات عمل غافِل مشو
    نادان نے یہ خیال نہ کیا کہ اگر میں مظلوم ہوکر اس کی خواہش کے موافق بذریعہ وارنٹ گرفتار کیا جاتا اور ہتھکڑی ڈالی جاتی اور ذلیل جگہ میں بٹھایا جاتا اور جیسا کہ اس کی تمنا تھی پھانسی دیا جاتا یا حبس دوام کی سزا پاتا تو میرا اس میں کیا حرج تھا۔ خدا کی راہ میں ہر ایک ذلت اور موت فخر کی جگہ ہے۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں اس دنیا کے جاہ و جلال کو نہیں چاہتا۔ لیکن اس نے دشمنوں کے ارادوں اور خواہشوں پر نظر ڈال کر مجھے اس ذلت اور ذلت کی موت سے بچالیا۔ یہ اس کا کام ہے اس نے جوؔ کچھ کیا اپنی مرضی سے کیا۔ محمد حسین کو اگر بصیرت
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 31
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 31
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/31/mode/1up
    31
    کی آنکھ دی جاتی تو اس سے وہ بڑا دینی فائدہ حاصل کر سکتا تھا بھلا ہم محمد حسین اور اس کے ہم خیال لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ یہ تمام غیبی افعال جو میری تائید میں اور میری عزت کی حفاظت کے لئے اور میرے اعداء کو شرمندہ کرنے کے لئے ظہور میں آئے یہ کس کے افعال تھے؟ آیا خدا کے یا انسان کے؟ اور تشریح اس کی یہ ہے کہ پہلے یہ غیبی فعل ظہور میں آیا کہ میری گرفتاری میں توقف ڈال دی گئی اور امرتسر کا وہ وارنٹ جس کے ساتھ چالیس ہزار روپیہ کی ضمانت کا حکم اور بیس ہزار کا مچلکہ تھا ایک حیرت افزا طریق سے روک دیا گیا۔ یہ وارنٹ امرتسر کے مجسٹریٹ درجہ اول کی عدالت سے یکم اگست ۱۸۹۷ ؁ء کو جاری ہوا تھا مگر ۷؍ اگست ۱۸۹۷ ؁ء تک گورداسپورہ میں پہنچ نہ سکا اور کچھ پتہ نہ لگا کہ کہاں گیا اور آخر حکم امتناعی پہنچا کہ وارنٹ کی تعمیل روک دی جائے کیونکہ مجسٹریٹ کو معلوم ہوا کہ وہ غیر ضلع کے ملزم پر وارنٹ جاری کرنے کا قانوناً مجاز نہیں ہے۔ یہ تو پہلا غیبی فعل تھا جو میری تائید کے لئے ظہور میں آیا۔
    پھر دوسرا غیبی فعل یہ تھا کہ جب مثل منتقل ہوکر گورداسپورہ میں آئی تو باوجودیکہ امرتسر کے مجسٹریٹ نے وارنٹ جاری کیا تھا مگر صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپورہ نے باوجود ڈاکٹر کلارک اور اُس کے وکیل کے بہت اصرار اور ہاتھ پیر مارنے کے بجائے وارنٹ سمن جاری کر دیا اور وارنٹ سے انکار کیا۔
    اور پھر تیسرا غیبی فعل یہ تھا کہ محمد حسین وغیرہ مخالفوں نے چاہا تھا کہ میری ذلت کی حالت دیکھیں مگر ان کو میری عزت کی حالت دکھائی گئی۔ میں نے اپنی جماعت کے بعض لوگوں سے سنا ہے کہ ایک شریر مخالف کچہری کے وقت ایک شخص سے میرا نام لے کر باتیں کرتا تھا کہ آج وہ شخص پولیس کی حراست میں ہے اور ہتھکڑی ہاتھ میں پڑی ہوئی ہے اس نے جھوٹا دعویٰ کیا تھا اس لئے یہ سزا ملی۔ تب دوسرے شخص نے جس سے وہ باتیں کرتا تھا اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو اس موقعہ پر کھڑا کیا جہاں صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپورہ عدالت کی
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 32
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 32
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/32/mode/1up
    32
    کرسی پر بیٹھے ہوئے نظر آ رہے تھے اور اس کو کہا کہ ذرہؔ نظر غور کر کے دیکھ کہ صاحب ڈپٹی کمشنر کے قریب دوسرا شخص کرسی پر بیٹھا ہوا کون ہے تب وہ دیکھ کر بہت شرمندہ ہوا اور کہا یہ تو وہی ہیں جن کی نسبت لوگوں نے اڑایا ہے کہ وہ گرفتار اور حراست میں ہے۔
    اور پھر چوتھا غیبی فعل یہ ہے کہ میری حاضری کا دن محمد حسین بٹالوی کے لئے گویا عید کا دن تھا اور وہ اپنے دل میں اس روز میری ذلت اور بے عزتی کے بہت سے تصورات باندھے ہوئے تھا اور گویا اس وقت میری ذلت مشہور کرنے کے بارے میں اپنے دل میں اشاعۃ السنہ کے کئی ورق لکھ رہا تھا کہ خدا نے وہ ذلت اٹھا کر اسی کے سر پر ماری اور میرے روبرو اور میرے دوستوں کے روبرو کرسی مانگنے پر صاحب ڈپٹی کمشنر نے ایسی سخت تین جھڑکیاں اس کو دیں کہ اس کو مارگئیں۔ خدا کی قدرت دیکھو کہ میری ذلت دیکھنے آیا تھا اور اپنی ذلت اس کو پیش آئی۔ اور پھر اندر سے جھڑکیاں کھا کر باہر آیا جہاں اردلی کھڑے ہوتے ہیں اور اندر کے معاملہ کی پردہ پوشی کے لئے ایک کرسی پر جو باہر کے کمرہ میں تھی بیٹھ گیا اور اردلیوں کو معلوم تھا کہ اس شخص کو کرسی نہیں ملی بلکہ کرسی کی درخواست پر اس نے جھڑکیاں کھائیں اس لئے انہوں نے کرسی پر سے اس کو جھڑک کر اٹھا دیا پھر اس طرف سے پولیس کے کمرہ کی طرف آیا اور اتفاقاً ایک اور کرسی باہر کے کمرہ میں بچھی ہوئی تھی اس پر بیٹھ گیا۔ تب کپتان صاحب کی اس پر نظر جاپڑی اور اسی وقت کنسٹبل کی معرفت جھڑکی کے ساتھ کرسی پر سے اٹھایا گیا۔ اس وقت غالباً ہزار آدمی کے قریب یا اس سے زیادہ اس کی اس ذلت کو دیکھتے ہوں گے۔ لوگوں نے یقین کرلیا کہ جھوٹے مقدمہ میں اس نے پادری کی گواہی دی اس لئے یہ سزا ملی۔
    پانچواں غیبی فعل یہ ہے کہ باوجودیکہ یہ مقدمہ حسب اقرار ڈاکٹر کلارک کے تین قوموں کے اتفاق سے قائم کیا گیا تھا اور اس مقدمہ کی پیروی میں پادریوں نے پورا زور دیا تھا اور سرکاری مقدمہ سمجھا گیا تھا تب بھی خدا نے کپتان ڈگلس صاحب کے ہاتھ سے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 33
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 33
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/33/mode/1up
    33
    اس کو خارج کرایا اور مجھے بَری کیا۔
    اب یہ پانچ فعل جو ظہور میں آئے یہ دانشمندوں کے لئے سوچنے کے لائق ہیںؔ کہ یہ کس کا کام ہے؟ عقلمند لوگ سوچ لیں کہ جب کہ یہ مقدمہ میرے پر سرکار کی طرف سے دائر ہوا تھا اور ایک خطرناک مقدمہ تھا اور میری ذلت کے لئے ہر طرف سے لوگ زور دے رہے تھے تو ایسی حالت میں کس طاقت عظمیٰ نے مجھے عزت دی اور محمد حسین کو سخت ذلیل کیا اور کلارک کو بھی نہایت سُبکی اور ندامت پہنچائی کہ عدالت نے قوی شبہ کیا کہ یہ مقدمہ عبدالرحیم عیسائی و وارث دین وغیرہ عیسائیوں اور ان کے متعلقین کی بناوٹ ہے۔ کیا یہ فعل خدا کا ہے یا انسان کا؟ کیا خدا کی تائید کے بجز اس کے کوئی اور بھی معنے ہیں کہ خدا نے مخالفوں میں پھوٹ ڈال دی اور حق کو ظاہر کر دیا اور جو میرے ذلیل کرنے کے درپئے تھا اس کو حاکم اور خلق اللہ کے ذریعہ سے ذلت پہنچائی۔ حاکم کے ذریعہ سے جو ذلت ہوئی اس کی حقیقت آپ لوگ سن چکے ہیں کہ اس نے کرسی مانگنے پر محمد حسین کو سخت جھڑکیاں دیں اور یہ جھڑکیاں نہایت مناسب اور عین محل پر تھیں کیونکہ محمد حسین نے حلفی شہادت کے مقام پر کھڑا ہو کر دو جھوٹ بولے۔ اوّل یہ کہ اس کو عدالت میں کرسی ملتی ہے اور دوسرے یہ کہ اس کے باپ رحیم بخش کو بھی کرسی ملتی تھی اور یہ دونوں جھوٹ نہایت مکروہ اور قابل شرم تھے کیونکہ محمد حسین ایک خشک ملّا بلکہ نیم ملّا ہے جو چند حدیثیں نذیر حسین سے پڑھ کر مولوی کہلاتا ہے جس کے ہم جنس ہزاروں ملّا مسجدوں کے حُجروں میں مسلمانوں کی روٹیوں پر گذارہ کرتے ہیں اس کو کس دن عدالت میں کرسی ملی اور کن رئیسوں میں شمار کیا گیا۔ اور ایسا ہی رحیم بخش اس کا باپ تھا جو بٹالہ کے بعض رئیسوں کی نوکریاں کر کے گذارہ کرتا تھا۔ ہاں بٹالہ کے رئیس میاں صاحب نے ایک مرتبہ اس کو نوکر رکھا تھا۔ معلوم نہیں کہ تنخواہ پر یا صرف روٹی پر۔ پھر سنا ہے کہ بٹالہ کے بعض ہندو مہاجنوں کے پاس بھی نوکر رہا اور اس طرح پر گذارہ کرتا رہا۔ ایک دفعہ ہمارے پاس بھی نوکر رہنے کے لئے آیا تھا
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 34
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 34
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/34/mode/1up
    34
    لیکن بعض وجوہ کے رو سے اس کو نوکر نہیں رکھا گیا تھا اور یوں تو ہمیشہ نہایت اعتقاد اور ارادت کے ساتھ آتا تھا۔ محمد حسین پر سخت ناراض تھا اور وہ کلمات کہتا تھا جن کا ذکر کرنا اس جگہ مناسب نہیں۔ بعض خطوط بھی اس کے محمد حسین کے ناگفتنی حالات کی نسبت میرے پاس اب تک موجود ہوں گے جن کو وہ عداؔ لت تک پہنچانا چاہتا تھا اور میں نے اس کو بار بار منع کیا تھا اور کئی دفعہ محمد حسین کو اس کے قدموں پر گرایا تھا تا اس طرح پر رحیم بخش اس کی پردہ دری سے باز رہے اور اس بات کا میں ہی سبب تھاکہ وہ ان خیالات سے کسی قدر باز رہا ورنہ میں نے سنا ہے کہ مولوی غلام علی امرتسری وغیرہ حاسد طبع ملّا اس کو محمد حسین کے خوار کرنے کے لئے برانگیختہ کرتے تھے۔ غرض نہ محمد حسین کبھی کرسی نشین رئیسوں میں داخل ہوا اور نہ اس کا باپ اور نہ اس کا دادا۔ اور اگر یہ لوگ کرسی نشین تھے تو سرلیپل گریفن صاحب نے بڑی ہی غلطی کی کہ جب پنجاب کے کرسی نشین رئیسوں کے حالات لکھنے میں ایک کتاب طیار کی تو اس کتاب میں ان دونوں بیچاروں کا کچھ بھی ذکر نہیں کیا اور نیز اس صورت میں حکّام ضلع کی بڑی غفلت ہے کہ باوجودیکہ یہ دونوں باپ بیٹے قدیم سے کرسی نشین تھے مگر پھر بھی حکّام نے اپنے ضلع کی فہرست میں اس باپ بیٹے کا اب تک کرسی نشینوں میں نام نہ لکھا۔
    افسوس کہ ایسے مولویوں کے ہی جھوٹوں نے جو گواہی کے موقعہ پر بھی جھوٹ کو شیرمادر سمجھتے ہیں مخالفوں کو مسلمانوں پر اعتراض کرنے کا موقعہ دیا ہے۔ جب یہ لوگ مولوی کہلا کر ایسے گندے جھوٹ بولیں اور عدالت کے سامنے گواہی کے موقعہ پر خلاف واقعہ بیان کریں تو ان کے چیلوں کا کیا حال ہوگا۔ افسوس کہ اس بٹالہ کے مُلا کو کرسی لینے کا شوق کیوں پیدا ہوا۔ اس کے خاندان میں کون کرسی نشین تھا۔ بہتر تھا کہ چپکے پادریوں کی گواہی دے کر چلا جاتا تا پردہ بنا رہتا۔ کسی کو معلوم ہی نہ تھا کہ آپ کو کرسی نہیں ملتی۔ اختیار تھا کہ آپ دوستوں میں لاف مارتے کہ مجھے کرسی ملی تھی۔ مگرکرسی مانگ کر اپنے خاندان کا سارا پردہ پھاڑ دیا۔ اور
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 35
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 35
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/35/mode/1up
    35
    پھر یہ بے وقوفی ہوئی کہ حضرت شیخ صاحب عدالت کے سامنے یہ تمام سُبکی اٹھا کر پھر باہر آکر کرسی پر بیٹھ گئے۔ اور جب ایک طرف سے اٹھایا گیا تو دوسری طرف جاکر کرسی پر بیٹھ گئے پھر جب وہاں سے بھی بڑی ذلت کے ساتھ اٹھائے گئے تو آپ ایک شخص کی چادر لے کر زمین پر بچھا کر بیٹھے مگر اس شخص نے آپ کو مورد قہر الٰہی سمجھ کر نیچے سے چادر کھینچ لی اور کہا کیا تو ایک مذہبی مقدمہ میں جو بناوٹی ہے پادریوں کی گواہی دیتا ہے اور میری چادر پر بیٹھتا ہے۔ میں اپنیؔ چادر پلید کرانی نہیں چاہتا۔
    پھر بعد اس کے جو صاحب ضلع نے جھڑکی دے کر اور کرسی سے محروم کر کے محمد حسین کو سیدھا کھڑا کیا اور عدالت کے چپراسیوں نے بھی بار بار اس کو کرسی سے اٹھایا ایک اور ذلت محمدحسین کی یہ ہوئی کہ لوگ اس کی اس حرکت سے ناراض ہوئے کہ پادریوں کے ایک جھوٹے مقدمہ میں وہ گواہ بن کر آیا اور بہت زور لگایا کہ اس جھوٹ کو سچ کرے ہزاروں نیک طینت انسان اس کے ان حالات پر نفرین کرتے تھے کہ اس نے مولوی کہلا کر ایک جھوٹے مقدمہ میں عیسائیوں کی گواہی دی اور بار بار کہتے تھے کہ اس گواہی کا باعث صرف نفسانی کینہ اور بغض ہے۔ ایک پیر مرد نے اس روز اس کے حالات دیکھ کر آہ کھینچ کر کہا کہ مجھے تو معلوم ہوتا ہے کہ مولوی لوگ مشکل سے ایمان سلامت لے جائیں گے۔ پس افسوس اس شخص کی زندگی پر کہ اس نے ایسی ناپاک حرکتوں سے تمام مولویوں کو بدنام کیا۔
    اب اس شخص کا میری نسبت بغض انتہا تک پہنچ گیا ہے۔ اس شخص سے خدا کا مقابلہ نہیں ہو سکتا ورنہ یہ شخص میری جان اور آبرو کا سخت دشمن ہے۔ اور اب بغض کے جوش میں وہ باتیں اس کے منہ سے نکلتی ہیں جو ایک صالح اور متقی کے منہ سے ہرگز نہیں نکل سکتیں۔ اس کو یہ خیال نہیں کہ دشمنوں کا ہر ایک منصوبہ اہل حق کی صفائی کا زیادہ موجب ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک جتنے منصوبے میری نسبت کئے گئے ان سے میرا کچھ نقصان نہیں بلکہ میری بریت ثابت ہوئی۔ اول لیکھرام کے مقدمہ میں میری تلاشی کرائی گئی تو
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 36
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 36
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/36/mode/1up
    36
    میرا دامن پاک ثابت ہوا۔ پھر اب ارادہ قتل کا مقدمہ میرے پر بنایا گیا سو اس میں بھی بہت تحقیق کے بعد میں بری کیا گیا۔ یہ دونوں مخالفوں کے حملے میرے لئے مضر نہیں ہوئے بلکہ حکّام وقت نے دو دفعہ میری حالت کو آزما لیا اور دشمنوں کے منصوبے کی حقیقت کھل گئی۔ اور اگرچہ محمد حسین نے اپنی دانست میں پادریوں کا رفیق بن کر میرے پھانسی دلانے کے لئے بڑے زور شور سے اظہار دیا اور جوؔ کچھ اس کی فطرت میں تھا اس روز اس نے پورا کر کے دکھا دیا۔ لیکن اس تمام بہتان کا اگرچہ کچھ نتیجہ ہوا تو بس یہی کہ صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے اپنے چٹھۂ انگریزی میں لکھ دیا کہ یہ شخص یعنی محمد حسین مرزا صاحب کا سخت دشمن ہے اور اس کے تمام بیان کو فضول سمجھ کر فیصلہ میں اس کے اظہار کا ایک ذرہ ذکر نہیں کیا اور اس کے بیان کو نہایت ہی بے عزتی کی نگاہ سے دیکھا۔ پس اس جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس حالت میں محمد حسین کا بیان ایسا فضول اور ذلیل اور پایۂ اعتبار سے ساقط سمجھا گیا تو خداتعالیٰ کی طرف سے کیا حکمت تھی کہ یہ پادریوں کی طرف سے عدالت میں گواہی دینے آیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ بظاہر اس میں دو حکمتیں معلوم ہوتی ہیں۔ اوّل یہ کہ تا لوگوں کو اس شخص کے تقویٰ اور دینداری اور اسلام کا حال معلوم ہو کہ ایسے جھوٹے اور قابل شرم مقدمہ میں جو عیسائیوں نے محض مذہبی جوش سے اٹھایا تھا اس نے اپنے تئیں گواہ بنایا اور عمدًا محض شرارت سے میرے پھانسی دلانے کی تدبیر سوچی۔ دوسری یہ حکمت تھی کہ تا یہ شخص عدالت میں جائے اور کرسی ملنے کا سوال کرے اور عدالت سے اس کو جھڑکیاں ملیں اور اس طرح پر صادق کی ذلّت ڈھونڈنے کی سزا میں اپنی ذلّت دیکھے۔
    بار بار افسوس آتا ہے کہ اس شخص کو کرسی مانگنے کی کیوں خواہش پیدا ہوئی۔ اچھے آدمی اگر کسی مجلس میں جاتے ہیں تو بالطبع صدر نشینی کو مکروہ جانتے ہیں اور انکسار کے ساتھ ایک معمولی جگہ پر بیٹھ جاتے ہیں تب صاحب خانہ کی جب ان پر نظر پڑتی ہے تو وہ شفقت سے اٹھتا ہے اور ان کا ہاتھ پکڑتا ہے اور تواضع سے ان کو صدر کے مقام پر کھینچ لیتا ہے۔کہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 37
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 37
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/37/mode/1up
    37
    ’’ آپ کی جگہ یہ ہے مجھے شرمندہ نہ کیجئے‘‘۔ پس یہ جائے عبرت ہے کہ محمد حسین نے شیخی جتانے کے لئے اپنے منہ سے کرسی مانگی اور پھر بجائے کرسی کے جھڑکیاں ملیں۔ کسی نے سچ کہا ہے
    بن مانگے موتی ملیں مانگے ملے نہ بھیک
    یعنی بغیر مانگنے کے موتی مل جاتے ہیں مگر مانگنے سے گدائی کا ٹکڑہ بھی نہیں ملتا۔ پھر تعجب ہے کہ اس شخص نے صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کے روبروہی لیکھرام کے قتل کا قصہ شروعؔ کر دیا۔ اور صاحب موصوف کو میری نسبت کہا کہ میں نے اپنے اشاعۃ السنہ میں یہ لکھا ہے کہ اس شخص سے لیکھرام کے قاتل کا پتہ پوچھنا چاہیے کہ الہام سے بتاوے کہ کون قاتل ہے اور مدعا اس متفنّی بٹالوی کا یہ تھا کہ لیکھرام کا قاتل بھی یہی شخص ہے۔
    اب ناظرین سوچیں! کہ اس شیخ بٹالوی کی کہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے۔ میری عداوت کے لئے کیونکر دین اور دیانت کو چھوڑتا جاتا ہے۔ جب آریوں نے لیکھرام کے بارے میں شور مچایا تو ان کے ساتھ جا ملا اور اب جب پادریوں نے شور مچایا تو ان کے ساتھ جاملا۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ یہ اسلام کا مخالف کیا کرتا پھرتا ہے۔ لیکھرام کے قتل کو بار بار یاد دلانا یہ اس کی شرارت ہے کہ تا یہ بہتان میرے پر لگاوے۔ اور اس طرح پر خدا کی پیشگوئی کو بے عزت کر کے معدوم کردیوے۔ میں بار بار لکھ چکا ہوں کہ لیکھرام کی نسبت میں نے ازخود پیشگوئی نہیں کی بلکہ میرے خدا نے اس کی نسبت اس وقت مجھے خبر دی تھی جبکہ خود لیکھرام نے نہایت شوخی سے موت کی پیشگوئی کو مانگا تھا پھر جبکہ لیکھرام کو مارنا بطور عذاب کے تھا تو کیونکر خداتعالیٰ قاتل کا نام بتاوے اور اپنے انتظام کو آپ خراب کرے ہاں محمد حسین اگر ہندوؤں کا درحقیقت خیرخواہ ہے تو قاتل کا نام معلوم کرنے کے لئے ایک تدبیر کر سکتا ہے اور وہ یہ کہ لیکھرام کے قاتل کا ان لوگوں کے ذریعہ سے پتہ دریافت کرے جو اس کے گروہ میں ملہم کہلاتے اور مجھے کافر جانتے ہیں۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 38
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 38
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/38/mode/1up
    38
    ماسوا اس کے اگر محمد حسین کی دانست میں میرے الہامات میرے ہی افترا تھے تو اس کو چاہیے تھا کہ بجائے ایسی بے ہودہ باتوں کے یہ مضمون لکھتا کہ گورنمنٹ کو یہ تحقیق کرنا چاہیے کہ یہ شخص ملہم من اللہ ہونے کے دعوے میں سچا ہے یا جھوٹا۔ اور طریق آزمائش یہ ہے کہ گورنمنٹ عام طور پر اس سے کوئی پیشگوئی مانگے پھر اگر وہ پیشگوئی اپنے وقت پر پوری نہ ہو تو گورنمنٹ یقین کرلے کہ یہ شخص جھوٹا اور مفتری ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکال لے کہ لیکھرام کا قاتل بھی یہی ہوگا۔ کیونکہ ایک جھوٹا شخص جب کسی اپنی پیشگوئی میں دیکھتا ہے کہ میرا جھوٹ کھل جائے گا تو بے شک وہ ناجائز طریقوں کی طرف توجہ کرتا ہے اور اس کی خبیث ذات سے کچھ بعید نہیں ہوتا کہ ایسی ایسی ناپاک حرکات اس سے صادر ہوں۔ اگر اس تقریر کے ساتھ گورنمنٹ کو لیکھرام کے مقدمہ میں میری نسبت توجہ دلاتا تو کچھ تعجب نہ تھا کہ یہ تقریر قبول کے لائق ٹھہرتی اور انصاف پسند لوگ بھی اس کو پسند کرتے اور مجھے بھی ایسے مواخذہ میں کچھ عذر نہیں ہو سکتا تھا۔ کیونکہ اگر میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں اور میری پیشگوئیاں میری طرف سے نہیں ہیں بلکہ خداتعالیٰ کی طرف سے ہیں تو بے شک میری بریت کے لئے اس قدر خداتعالیٰ کی مدد چاہیے کہ وہ کسی الہامی پیش خبری سے جو سچی نکلے گورنمنٹ کو اس کے مطالبہ کے وقت مطمئن کردیوے اور وہ سمجھ جائے کہ درحقیقت یہ کاروبار خداتعالیٰ کی طرف سے ہے نہ انسان کی طرف سے۔
    لیکن اس بات پر زور دینا کہ میں لیکھرام کے قاتل کا نام بیان کروں صحیح نہیں ہے خداتعالیٰ اپنے مصالح میں کسی کا محکوم نہیں ہو سکتا۔ اگر اس نے ایک بات کو مخفی کرنا چاہا ہے تو ہم اس پر زور نہیں ڈال سکتے کہ وہ ضرور اس بات کو ظاہر کرے۔ جو شخص خدا تعالیٰ پر ایسی حکومت چلانا چاہتا ہے یا چلانے کے لئے درخواست کرتا ہے تو وہ عبودیت کے آداب سے بالکل بے نصیب ہے۔ خدا علم غیب اپنی مرضی سے ظاہر کرتا ہے انسان کی مرضی سے ظاہر نہیں کرتا دیکھو حضرت یعقوب علیہ السلام کو اس پتہ کے لگانے کی کس قدر ضرورت تھی کہ ان کا بیٹا
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 39
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 39
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/39/mode/1up
    39
    مرگیا یا زندہ ہے۔ اور اس غم سے وہ چالیس برس تک روتے رہے لیکن جب تک خداتعالیٰ کا ارادہ نہ ہوا ان پر ہرگز نہ کھولا گیا کہ کیوں غم کرتا ہے تیرا بیٹا تو مصر میں خوش و خرم نائب سلطنت ہے۔ غرض خدا کے بندے ادب کے ساتھ اس کے حضور میں کھڑے ہوتے ہیں اس جگہ ملائک کو بھی دم مارنے کی جگہ نہیں۔
    ہماری لیکھرام سے کوئی ذاتی عداوت نہ تھی اور نہ دین اسلام ہمیں اجازت دیتا ہے کہ ہم ناحق خون کرتے پھریں پھر کونسا باعث تھا کہ ہم اس حرکت بے جا کے مرتکب ہوتے۔ اور ایک پیشگوئی جھوٹی بنانا اور پھر اس کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے قتل کا ارادہ کرنا یہ ایک ایسا طریق ہے کہ بجز ایک شریر اور خبیث انسان کے کوئی اس کا مرتکب نہیں ہو سکتا۔ سو محمد حسین اور اس کی جماعت کو خوب یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بڑاؔ خدا تعالیٰ کا نشان تھا جو ظہور میں آیا بجز خدا کے یہ کس کی طاقت تھی کہ لیکھرام کی موت کی طرف اشارہ کرے کہ وہ اتنی مدت میں فلاں دن اور فلاں تاریخ واقع ہوگی اور قتل کے ذریعہ سے ہوگی افسوس کہ ان لوگوں نے محض تعصب سے خدا کے نشانوں کی تکذیب کی۔ یہ کس قدر حماقت ہے کہ ہمارے مخالف دلوں میں خیال کرتے ہیں کہ کسی مرید کو بھیج کر لیکھرام کو قتل کرا دیا ہوگا۔ مجھے اس بے وقوفی کے تصور سے ہنسی آتی ہے کہ ایسی بے ہودہ باتوں کو ان کے دل کیونکر قبول کرلیتے ہیں۔ جس مرید کو پیش گوئی کی تصدیق کے لئے قتل کا حکم کیا جائے کیا ایسا شخص پھر مرید رہ سکتا ہے؟ کیا فی الفور اس کے دل میں نہیں گزرے گا کہ یہ شخص جھوٹی پیشگوئیاں بناتا اور پھر ان کو سچی پیشگوئیاں ٹھہرانے کے لئے ایسے منصوبے استعمال کرتا ہے۔ پس میں بڑے زور سے کہتا ہوں کہ محمد حسین نے یہ نہایت ظلم کیا ہے کہ ایک سچی پیشگوئی کو جو خداتعالیٰ کا ایک معجزہ تھا انسان کا منصوبہ ٹھہرایا۔ اگر اس کی نیت میں فساد نہ ہوتا تو وہ اپنی اشاعۃ السنہمیں یہ نہ لکھتا کہ اس شخص کو گورنمنٹ پکڑے تا الہام سے بتلاوے کہ لیکھرام کا قاتل کون ہے۔ گویا محمد حسین خدا تعالیٰ سے ٹھٹھا کرتا اور اس کے فعل کو عبث ٹھہراتا ہے اور جبر کے ساتھ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 40
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 40
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/40/mode/1up
    40
    اس کا دامن پکڑنا چاہتا ہے کہ تو نے لیکھرام کو تو مارا اب کہاں جاتا ہے اس کے قاتل کا پتہ تو بتلا!!! اور آپ قرآن میں پڑھتا ہے کہ 3۔۱؂ *
    اس قدر شوخی انسان کو نہیں چاہیے اور یہ بے باکی آدم زاد کے لئے مناسب نہیں کیا وہ اس خدا کے وجود میں شک رکھتا ہے جس کی ہستی پر ذرہ ذرہ مہر لگا رہا ہے؟ اگر اس کی نیت میں کجی نہ ہوتی تو عداوت اور بدظنی کے جوش سے ایسی بکواس نہ کرتا یہ اس کا حق تھا کہ میری نسبت بار بار گورنمنٹ کو توجہ دلاتا کہ لیکھرام کے قتل میں مجھے الہامی پیشگوئی کا ایک بہانہ معلوم ہوتا ہے اور دراصل لیکھرام کا قاتل یہی شخص ہے۔ اور اگر خدا سے اس شخص کو پیشگوئی ملتی ہے تو گورنمنٹ اس شخص کو پکڑے اور مواخذہ کرے کہ اگر تو اس دعویٰ میں سچا ہے تو تصدیق دعویٰ کے لئے ہمیں بھی کوئی پیشگوئی دکھلا تا تیری سچائی ہم پر ثابت ہو۔ پھر اگر گورنمنٹ کسی الہامی پیشگوئی کے دکھلانے کے لئے مجھے پکڑتی اورؔ خدا مجھے مردودوں اور مخذولوں کی طرح چھوڑ دیتا اور کوئی پیشگوئی گورنمنٹ کے اطمینان کے لئے ظاہر نہ کرتا تو میں خوشی سے قبول کرلیتا کہ میں جھوٹا ہوں تب گورنمنٹ کا اختیار تھا کہ لیکھرام کا قاتل مجھ کو ہی تصورکر کے مجھے پھانسی دے دے لیکن محمد حسین نے ایسا نہیں کیا اور نہ یہ چاہا کہ کوئی ایسا طریق اختیار کرے جس سے سچائی ظاہر ہو بلکہ میری تائید میں بہت سے نشان خداتعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوئے اور محض بخل کے رو سے اس شخص نے ان کو قبول نہیں کیا اور ہمیشہ گورنمنٹ کو دھوکہ دینے کے لئے جھوٹی باتیں لکھتا اور کہتا رہا۔ مگر ہماری عادل گورنمنٹ محض باتوں کو ایک خود غرض دشمن کے منہ سے سن نہیں سکتی خدا کا یہ فضل اور احسان ہے کہ ایسی محسن گورنمنٹ کے زیر سایہ ہمیں رکھا۔ اگر ہم کسی اور سلطنت کے زیر سایہ ہوتے تو یہ ظالم طبع مُلّا کب ہماری جان اور آبرو کو چھوڑنا چاہتے۔ اِلَّا ما شاء اللّٰہ انّ ربّی علٰی کلّ شیء قدیر۔
    * خدا اپنے کاموں سے پوچھا نہیں جاتا کہ کیوں ایسا کیا لیکن بندے پوچھے جائیں گے۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 41
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 41
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/41/mode/1up
    41
    اور محمد حسین کا میری پیشگوئیوں پر یہ جرح کہ کوئی الہامی پیشگوئی اس صورت میں سچی ہو سکتی ہے کہ جب کہ اس کے ساتھ کی تمام اور پیشگوئیاں سچی ثابت ہوئی ہوں۔ یہ فی الواقع سچ ہے۔ مگر محمد حسین کا یہ خیال کہ گویا بعض پیشگوئیاں میری جھوٹی نکلی ہیں یہ سراسر جھوٹ ہے۔میں کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں کہ میری کوئی پیشگوئی جھوٹی نہیں نکلی آتھم کی نسبت جو پیشگوئی تھی اس میں صاف ایک شرط تھی اور احمد بیگ کے داماد کی نسبت بھی توبی توبی کے الہام کی شرط تھی اور میں ثابت کر چکا ہوں کہ ان دونوں شرطوں کے موافق وہ دونوں پیشگوئیاں پوری ہوئیں اور لیکھرام کی پیشگوئی میں کوئی شرط نہ تھی اس لئے وہ بلا شرط پوری ہوئی۔ احمد بیگ کے سامنے کوئی خوفناک نمونہ نہ تھا اس لئے وہ نہ ڈرا اور شرط سے فائدہ نہ اٹھایا اور پیشگوئی کے موافق جلد فوت ہوگیا مگر اس کے بعد اس کے عزیزوں نے احمد بیگ کی موت کا نمونہ دیکھ لیا اور بہت ڈرے لہٰذا شرط سے فائدہ اٹھا لیا 3۔۱؂ اور اگر کوئی شرط بھی نہ ہوتی اور جس کی نسبت پیشگوئی کی گئی ہے رجوع کرتا اور ڈرتا یا اس کے عزیز جو اصل مخاطب پیشگوئی کے تھے رجوع کرتے اور ڈرتے تب بھی خداتعالیٰ عذاب میں مہلت دے دیتا جس طرح یونس نبی کی امت کو مہلت دی حالانکہ اس کی پیشگوئی میں کوئی شرط نہ تھی۔ خدا نے ابتدا سے وعید کے ساتھ یہ شرط لگاؔ رکھی ہے کہ اگر چاہوں تو وعید کو موقوف کروں اس لئے قرآن میں یہ تو آیا ہے کہ 3 اور یہ نہیں آیا کہ ان اللّٰہ لا یخلف الوعید۔
    ماسوا اس کے یہ کہنا کہ سچے نبیوں اور محدثوں کی تمام پیشگوئیاں عوام کی نظر میں صفائی سے پوری ہوتی رہی ہیں بالکل جھوٹ ہے بلکہ بعض وقت ایسا بھی ہوا ہے کہ جب خداتعالیٰ کو کوئی امتحان منظور ہوتا تھا تو کسی نبی کی پیشگوئی عوام پر مشتبہ رکھی جاتی تھی اور وہ لوگ شور مچاتے رہتے تھے بلکہ ایک فتنہ کی صورت ہوکر بعض مرتد ہوتے رہے ہیں۔ جیسا کہ حضرت مسیح عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت پہلی کتابوں میں یہ پیشگوئی تھی کہ وہ بادشاہ ہوگا لیکن
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 42
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 42
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/42/mode/1up
    42
    وہ بادشاہ کی صورت میں ظاہر نہ ہوئے تب بہت سے کوتہ اندیش مرتد ہوگئے۔ اور پہلی کتابوں میں تھا کہ جب تک ایلیا نہ آوے مسیح نہ آئے گا لیکن نصوص کے ظاہر کے لحاظ سے ایلیا اب تک نہیں آیا۔ ایسا ہی حضرت موسیٰ کی پیشگوئی میں جو نجات دلانے کے بارے میں تھی بنی اسرائیل نے شک کیا اور پیشگوئی کو جھوٹی سمجھا اور بعض لغزش کھانے والوں نے حدیبیہکی پیشگوئی میں بھی شک کیا اور خیال کیا کہ وہ ظہور میں نہیں آئی لیکن دراصل شک کرنے والے غلطی پر تھے۔ پس یہ تو عادت اللہ میں داخل ہے کہ بعض پیشگوئیاں مامورین کی جہلاء اور سفہاء اور کوتہ اندیشوں پر مشتبہ ہو جاتی ہیں اور خیال کرنے لگتے ہیں کہ وہ جھوٹی ہوئیں۔ پس محمد حسین ان ہی جہلاء کا بھائی ہے جو اس سے پہلے گذر چکے ہیں۔ میری نسبت وہ کوئی ایسا کلمہ نہیں کہتا جو پہلے اس سے خدا کے پاک نبیوں کی نسبت نہیں کہا گیا۔
    غرض یہ کبھی نہ ہوا اور نہ ہوگا کہ تمام مامورین کی پیشگوئیاں جہلاء کی نظر میں صفائی سے پوری ہوگئی ہوں بلکہ محمد حسین کی طرح بعض جاہل نبیوں کی بعض پیشگوئیوں کی نسبت بھی کہتے رہے ہیں کہ وہ جھوٹی نکلیں۔ چنانچہ حال میں ایک یہودی فاضل نے جو حضرت مسیح کے ردّ نبوت میں کتاب لکھی ہے اس کتاب میں ایک فہرست دی ہے کہ اتنی پیشگوئیاں اس شخص کی جھوٹی نکلیں۔ حالانکہ سچے نبی کی تمام پیشگوئیاں ضرور پوری ہو جاتی ہیں۔ اور یہی فاضل یہودی لکھتا ہے کہ اس شخص کی تکذیب کے لئے ہمیں یہ کافی ہے کہ اس کی تعلیم توریت کی تعلیم سے صریح مخالف ہے اگر یہ خدا کا کلام ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ اس قدر تناقض پیدا ہوتا۔ پھر لکھتا ہے کہؔ دوسری یہ بات ہم یہودیوں کے لئے اس شخص کے قبول کرنے میں نہایت روک اور اس انکار میں خدا اور ہم میں ایک حجت ہے کہ ہمیں نبیوں کی زبانی خبر دی گئی ہے کہ وہ مسیح جس کا کتابوں میں وعدہ ہے ہرگز نہیں آئے گا جب تک پہلے اس سے ایلیا جو آسمان پر اٹھایا گیا ہے دنیا میں نہ آلے مگر وہ اب تک نہیں آیا۔ پھر یہ شخص اپنے دعویٰ مسیحیت میں کیونکر سچا
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 43
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 43
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/43/mode/1up
    43
    ٹھہر سکتا ہے؟ اور یہی فاضل یہودی اس مقام میں لکھتا ہے کہ عیسائی ایلیا کے بارے میں ہمیں یہ جواب دیتے ہیں کہ ایلیا کے نزول سے یوحنا بن زکریا کا آنا مراد ہے جس کو مسلمان یحییٰ کہتے ہیں اور مراد یہ تھی کہ ایلیا کی قوت اور طبع پر ایک شخص یعنی یحییٰ آئے گا۔ نہ یہ کہ حقیقت میں کوئی آسمان سے اتر آئے گا۔ اس کے جواب میں فاضل مذکور لکھتا ہے کہ ’’ناظرین خود انصافاًہم میں اور عیسائیوں میں فیصلہ کریں کہ اگر درحقیقت ایلیا سے مراد یوحنا یعنی یحییٰ ہوتا تو خداتعالیٰ ہرگز یہ نہ کہتا کہ خود ایلیا واپس آئے گا بلکہ یہ کہتا کہ اس کا مثیل یحییٰ آئے گا‘‘۔ اور اس پر فاضل مذکور بہت زور دیتا ہے کہ ’’نصوص کو ظاہر سے پھیرنا بغیر کسی قرینہ قویہ کے یہی جھوٹے نبی کا نشان ہے‘‘۔
    اب سوچنا چاہیے کہ نبیوں کی پیشگوئیوں میں کیسے کیسے مشکلات ہیں۔ مثلاً ایلیا کی پیشگوئی میں کیسی مصیبت کا یہودیوں کو سامنا پیش آیا کہ اب تک وہ حضرت مسیح کے قبول کرنے سے محروم رہے۔ کیا تعجب کی جگہ نہیں کہ یہود جیسی ایک تجربہ کار اور الٰہی کتابوں میں نشوونما پانے والی قوم ایلیا کے لفظ پر آکر ایسے حق سے دور جا پڑی کہ یحییٰ نبی سے بھی انکار کر دیا؟ اس سے دانا معلوم کر سکتا ہے کہ پیشگوئیوں کی تکذیب میں جلدی نہیں کرنی چاہیے کہ اکثر ان پر استعارات غالب ہوتے ہیں۔ عقلمند وہ ہوتا ہے جو دوسرے سے نصیحت پکڑتا اور عبرت حاصل کرتا ہے۔ مسلمانوں کو حضرت عیسیٰ کے نزول کے بارے میں اسی خطرناک انجام سے ڈرنا چاہیے کہ جو یہودیوں کو ایلیا کے بارے میں ظاہر نص پر زو ر دینے سے پیش آیا۔ جس بات کی پہلے زمانوں میں کوئی بھی نظیر نہ ہو بلکہ اس کے باطل ہونے پر نظیریں موجود ہوں اس بات کے پیچھے پڑ جانا نہایت درجہ کے بے وقوف کا کام ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ 3۔۱؂ یعنی خدا کیؔ سنتوں اور عادات کا نمونہ یہود اور نصاریٰ سے پوچھ لو اگر تمہیں معلوم نہیں۔
    اب ہم اس تقریر کو اسی قدر پر کفایت کر کے ایک اور عجیب بات بیان کرتے ہیں کہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 44
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 44
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/44/mode/1up
    44
    یہ فتنہ ایک جھوٹے اور مصنوعی مقدمہ کا جو میرے پر برپا کیا گیا خداتعالیٰ نے کئی مہینے پہلے اس کی اطلاع مجھے دی تھی اور نہ ایک دفعہ بلکہ ۲۹؍جولائی ۱۸۹۷ ؁ء تک متواتر الہامات اس بارے میں کئے گئے کہ ایک ابتلا اور مقدمہ اور بازپرس حکام کی طرف سے ہوگی اور ایک الزام لگایا جائے گا۔ اور آخر خدا اس جھوٹے الزام سے بری کرے گا۔ اور پھر حاضری کے بعد ۲۲؍اگست ۱۸۹۷ ؁ء تک اطمینان اور تسلی دہی کے الہام ہوتے رہے یہاں تک کہ ۲۳؍اگست ۱۸۹۷ ؁ء کو خدا تعالیٰ نے بری کر دیا۔ یہ تمام الہامات قریباً اپنی جماعت کے سو ۱۰۰ آدمیوں کو قبل از وقت سنائے گئے تھے جن میں اخویم مولوی حکیم نور الدین صاحب اور اخویم مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی اور اخویم شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی۔ اور اخویم خواجہ کمال الدین صاحب بی اے اور اخویم میاں محمد علی صاحب ایم اے اور اخویم حکیم فضل الدین صاحب اور اخویم سید حامد شاہ صاحب اور اخویم خلیفہ نور دین صاحب جموں اور اخویم مرزا خدا بخش صاحب وغیرہ احباب داخل ہیں اور ہر ایک حلفاًبیان کر سکتا ہے کہ یہ الہامات پیشگوئی کے طور پر ان کو سنائے گئے تھے۔ پس اس مقدمہ کا ہماری جماعت کو یہ فائدہ پہنچا کہ اس کے طفیل انہوں نے کئی نشان دیکھ لئے۔ ایک تو یہی نشان کہ خداتعالیٰ نے قبل از مقدمہ مقدمہ کی خبر اور نیز انجام کار بری ہونے کی خبر دی۔ اور دوسرا یہ نشان کہ جو پہلے چھپے ہوئے الہام میں یہ فقرہ تھا کہ اِنّی مُھینٌ من اَراد اِھانتک اس کی تصدیق دیکھ لی۔ اور تیسرا یہ نشان کہ مخالفوں نے تو مجھ پر الزام لگانا چاہا تھا پر خداتعالیٰ نے حکام کی نظر میں انہیں کو ملزم کر دیا۔ اور چوتھا یہ نشان کہ محمد حسین نے مجھے ذلّت کی حالت میں دیکھنا چاہا تھا خداتعالیٰ نے یہ ذلّت اسی پر ڈال دی اور اس کے شر سے مجھے بچالیا۔ یہ خدا کی تائید ہے چاہیے کہ ہماری جماعت اس کو یاد رکھے۔ اور ایک بڑی الٰہی حکمت اس مقدمہ کے دائر ہونے میں یہ تھی کہ تا خدا تعالیٰ اس طور سے بھی میری مماثلت حضرتؔ مسیح سے ثابت کرے اور میری سوانح کی اس کی سوانح
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 45
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 45
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/45/mode/1up
    45
    سے مشابہت لوگوں پر ظاہر فرمادے۔ چنانچہ وہ تمام مماثلتیں اس مقدمہ سے ثابت ہوئیں۔ منجملہ ان کے یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی گرفتاری کے لئے ان کے ایک نام کے مرید نے جس کا نام یہودا اسکریوطی تھا یہودیوں سے تیس روپیہ لے کر حضرت مسیح کو گرفتار کروایا۔ ایسا ہی میرے مقدمہ میں ہوا کہ عبدالحمید نامی ایک میرے ادعائی مرید نے نصرانیوں کے پاس جاکر اور ان کی طمع دہی میں گرفتار ہوکر ان کی تعلیم سے میرے پر ارادہ قتل کا مقدمہ بنایا۔ دوسری مماثلت یہ کہ مسیح کا مقدمہ ایک عدالت سے دوسری عدالت میں منتقل ہوا تھا۔ ایسا ہی میرا مقدمہ بھی امرتسر کے ضلع سے گورداسپورہ کے ضلع میں منتقل ہوا۔ تیسری مماثلت یہ کہ پیلاطوس نے حضرت مسیح کی نسبت کہا تھا کہ میں یسوع کا کوئی گناہ نہیں دیکھتا۔ ایسا ہی کپتان ڈگلس صاحب نے عین عدالت میں ڈاکٹر کلارک کے روبرو مجھ کو کہا کہ میں آپ پر کوئی الزام نہیں لگاتا۔ چوتھی مماثلت یہ کہ جس روز مسیح نے صلیبی موت سے نجات پائی اس روز اس کے ساتھ ایک چور گرفتار ہو کر سزایاب ہوگیا تھا ایسا ہی میرے ساتھ بھی اسی تاریخ یعنی ۲۳؍ اگست ۱۸۹۷ ؁ء کو اسی گھڑی میں جب میں بری ہوا تو مکتی فوج کا ایک عیسائی بوجہ چوری گرفتار ہو کر اسی عدالت میں پیش ہوا۔ چنانچہ اس چور نے تین مہینہ قید کی سزا پائی۔ پانچویں مماثلت یہ کہ مسیح کے گرفتار کرانے کے لئے یہودیوں اور ان کے سردار کاہن نے شور مچایا تھا کہ مسیح سلطنت روم کا باغی ہے اور آپ بادشاہ بننا چاہتا ہے۔ ایسا ہی محمد حسین بٹالوی نے عیسائیوں کا گواہ بن کر عدالت میں محض شرارت سے شور مچایا کہ یہ شخص بادشاہ بننا چاہتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے مخالف جس قدر سلطنتیں ہیں سب کاٹی جائیں گی۔ چھٹی مماثلت یہ کہ جس طرح پیلاطوس نے سردار کاہن کے بکواس پر کچھ بھی توجہ نہ کی اور سمجھ لیا کہ مسیح کا یہ شخص پکا دشمن ہے۔ اسی طرح کپتان ایچ ایم ڈگلس صاحب نے محمد حسین بٹالوی کے بیان پر کچھ بھی توجہ نہ کی۔ اور اس کے اظہار میں لکھ دیا کہ یہ شخص مرزا صاحب کا پکا دشمن ہے۔ اور پھر اخیر حکم میں اس کے اظہار کا
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 46
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 46
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/46/mode/1up
    46
    ذکر تک نہیں کیا اور بالکل بے ہودہ اور خود غرضی کا بیان قرار دیا۔ ساتویں مماثلت یہ ہے کہ جس طرح مسیح کو گرفتاری سےؔ پہلے خبر دی گئی تھی کہ اس طرح دشمن تجھے گرفتار کریں گے اور تیرے قتل کرنے کے لئے کوشش کریں گے اور آخر خدا تجھے ان کی شرارت سے بچالے گا۔* ایسا ہی مجھے خداتعالیٰ نے اس مقدمہ سے پہلے خبر دے دی اور ایک بڑی جماعت جو حاضر تھی سب کو وہ الہامات سنائے گئے اور جو حاضر نہیں تھے ان میں سے اکثر احباب کی طرف خط لکھے گئے تھے۔ اور یہ لوگ سو سے کچھ زیادہ آدمی ہیں۔
    بالآخر یہ بھی واضح رہے کہ یہ مقدمہ ارادہ قتل جو میرے پر دائر کیا گیا درحقیقت بناوٹی تھا۔ صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے خود گواہی دی ہے کہ پہلا بیان عبدالحمید کا ان کو پوری تسلی نہیں بخشتا اور دوسرے بیان پر کوئی جرح نہیں کیا۔ پھر ایک بڑی دلیل پہلے بیان کے جھوٹا ہونے پر یہ ہے کہ نور دین عیسائی اور پادری گرے صاحب نے اس بات کو تصدیق کرلیا ہے کہ عبدالحمید پہلے ان کے پاس آیا تھا اور چاہتا تھا کہ عیسائی ہو کر ان میں گذارہ کرے مگر وہ اس کو روٹی نہیں دے سکے لہٰذا وہ نور دین کی نشان دہی سے کلارک کے پاس پہنچا۔ اب صاف ظاہر ہے کہ اگر عبدالحمید کلارک کے قتل کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا تو اس کو کیا ضرور تھا کہ نوردین کے پاس جاتا اور پھر پادری گرے کے پاس جاتا۔ اس کو تو براہ راست ڈاکٹر کلارک کے پاس جانا چاہیے تھا۔ یہ ایک ایسا امر ہے جس سے تمام مقدمہ کھلتا ہے اور قرائن بھی صاف دلالت کرتے ہیں کہ یہ شخص گجرات میں پہلے عیسائی رہ چکا تھا اور بدچلنی سے نکالا گیا تھا لہٰذا اس نے مناسب سمجھا کہ اپنا پہلا نام ظاہر نہ کرے تا عیسائی لوگ پاس رکھنے میں عذر نہ کریں۔ اسی بات کا اس نے اپنے دوسرے اظہار میں اقرار بھی کیا ہے۔ افسوس کہ صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر اور کپتان صاحب پولیس نے تو دراصل ابتدا سے ہی اپنی فراست سے سمجھ لیا تھا کہ یہ مقدمہ
    *نوٹ۔ مسیح نے جو اپنے تئیں یونس سے مثال دی یہ اسی کی طرف اشارہ تھا کہ وہ قبر میں زندہ داخل ہوگا
    اور زندہ رہے گا۔ کیونکہ مسیح نے خدا سے الہام پایا تھا کہ وہ صلیب کی موت سے ہرگز نہیں مرے گا۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 47
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 47
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/47/mode/1up
    47
    سچا نہیں ہے مگر محمد حسین بٹالوی نے مارے تعصب اور بخل کے اس مقدمہ کو سچا قرار دیا اور اپنا نفسانی کینہ نکالنے کے لئے یہ ایک موقعہ سمجھا۔ اسی غرض سے وہ ایسے جھوٹے اور قابل شرم مقدمہ میں عیسائیوں کی مدد دینے کے لئے عدالت میں آیا۔ فَلْیَبْک علٰی تقواہ من کَاَن باکیا۔
    لیکن بالطبع اس جگہ ایک سوال ہوتا ہے کہ ایسے مولوی جو مدتوں تک تقویٰ اور کفؔ لسان اور دیانت اور امانت کا لوگوں کو وعظ کرتے رہے کیونکر ان کو حق کے قبول کرنے کے لئے مدد نہ ملی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ خداتعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ انسان اپنے نفس پر آپ ظلم کرتا ہے۔ عادۃ اللہ یہ ہے کہ جب ایک فعل یا عمل انسان سے صادر ہوتا ہے تو جو کچھ اس میں اثر مخفی یا کوئی خاصیت چھپی ہوئی ہوتی ہے خداتعالیٰ ضرور اس کو ظاہر کر دیتا ہے مثلاً جس وقت ہم کسی کوٹھڑی کے چاروں طرف سے دروازے بند کر دیں گے تو یہ ہمارا ایک فعل ہے جو ہم نے کیا اور خداتعالیٰ کی طرف سے اس پر اثر یہ مترتّب ہوگا کہ ہماری کوٹھڑی میں اندھیرا ہو جائے گا اور اندھیر اکرنا خداکا فعل ہے جو قدیم سے اس کے قانون قدرت میں مندرج ہے۔ ایسا ہی جب ہم ایک وزن کافی تک زہر کھالیں گے تو کچھ شک نہیں کہ یہ ہمارا فعل ہوگا پھر بعد اس کے ہمیں مار دینا یہ خدا کا فعل ہے جو قدیم سے اس کے قانون قدرت میں مندرج ہے۔ غرض ہمارے فعل کے ساتھ ایک فعل خدا کا ضرور ہوتا ہے جو ہمارے فعل کے بعد ظہور میں آتا اور اس کا نتیجہ لازمی ہوتا ہے۔ سو یہ انتظام جیسا کہ ظاہر سے متعلق ہے ایسا ہی باطن سے بھی متعلق ہے۔ ہر ایک ہمارا نیک یا بد کام ضرور اپنے ساتھ ایک اثر رکھتا ہے جو ہمارے فعل کے بعد ظہور میں آتا ہے۔ اور قرآن شریف میں جو 3 ۱؂ آیا ہے اس میں خدا کے مہر لگانے کے یہی معنی ہیں کہ جب انسان بدی کرتا ہے تو بدی کا نتیجہ اثر کے طور پر اس کے دل پر اور منہ پر خداتعالیٰ ظاہر کر دیتا ہے اور یہی معنے اس آیت کے ہیں کہ 3 ۲؂ ۔یعنی جب کہ وہ حق سے پھر گئے تو خداتعالیٰ نے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 48
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 48
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/48/mode/1up
    48
    ان کے دل کو حق کی مناسبت سے دور ڈال دیا اور آخر کو معاندانہ جوش کے اثروں سے ایک عجیب کایا پلٹ ان میں ظہور میں آئی اور ایسے بگڑے کہ گویا وہ وہ نہ رہے اور رفتہ رفتہ نفسانی مخالفت کے زہر نے ان کے انوار فطرت کو دبا لیا۔ سو ایسا ہی ہمارے اندرونی مخالفوں کا حال ہوا۔ مسیح کا بروز کے طور پر نازل ہونا جس کو تمام محقق مانتے چلے آئے ہیں یہ ایک ایسا مسئلہ نہ تھا جو کسی اہل علم کی سمجھ میں نہ آوے۔ بڑے بڑے اکابر اس کو مان چکے ہیں۔ یہاں تک کہ محی الدین ابن العربی صاحب بھی اپنی تفسیر میں صاف لفظوں میں کہتے ہیں کہ ’’نزول مسیح اس طرح پر ہوگا کہ اس کی روح کسی اور بدن سے تعلق کرے گی یعنی اس کی خو اور طبیعت پر جو ایک روحانی امر ہے کوئی اور شخص پیدا ہوگا‘‘۔ سوؔ خدا تعالیٰ ان لوگوں کو مدد دینے کے لئے طیار تھا اگر وہ مدد لینے کے لئے طیار ہوتے مگر وہ تو بخل اور تعصب سے بہت دور جا پڑے اور نہ چاہا کہ خداتعالیٰ ان کے دلوں کو منور کرے۔ ہاں میں یقین رکھتا ہوں کہ ان کی اس ضد اور مخالفت میں بھی خداتعالیٰ کی ایک حکمت ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ ارادہ فرماتا ہے کہ جن روحانی امراض کو وہ اپنی مکاری سے پوشیدہ رکھتے تھے اور اس طرح پر خلقت کو بھی دھوکہ دیتے اور خود اپنے نفس سے بھی فریب کرتے تھے وہ تمام مرضیں ان پر ظاہر کی جائیں اور ریاکاری کے تمام پردے اٹھا دئیے جائیں۔ سو انہوں نے اپنی نفسانی آندھیوں اور تعصب کے طوفان کی سرگردانیوں سے صدق و ثبات کے پہاڑ سے ٹکر کھاکر اور تلوار کی تیز دھار پر ہاتھ مار کر ظاہر کر دیا کہ وہ اپنی فطرت کے رو سے کیسے مہلک زخموں کے لئے مستعد ہو رہے ہیں اور کس طرح کمینہ پن کے خیالات ان کو ہلاکت کی طرف کھینچ رہے ہیں اور ان پر روز کھلتا جاتا ہے کہ کس قدر وجود ان کا طرح طرح کے حسد اور بخل کا مجموعہ اور خودبینی اور تکبر کا سرچشمہ ہے۔ اس طرح پر قوی امید ہے کہ وہ ایک دن اپنے ان تمام حالات پر نظر ڈال کر متنبہ ہو جائیں گے اور آخر ان کو ایک روحانی آنکھ عطا ہوگی جس سے وہ خطرناک راہوں سے مجتنب ہو سکیں گے۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 49
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 49
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/49/mode/1up
    49
    ہم کئی دفعہ لکھ چکے ہیں کہ خداتعالیٰ کی طرف سے ہدایت کی راہ یا یوں کہو کہ ہدایت کے اسباب اور وسائل تین ہیں۔ یعنی ایک یہ کہ کوئی گم گشتہ محض خدا کی کتاب کے ذریعہ سے ہدایت یاب ہو جائے۔ اور دوسرے یہ کہ اگر خداتعالیٰ کی کتاب سے اچھی طرح سمجھ نہ سکے تو عقلی شہادتوں کی روشنی اس کو راہ دکھلادے۔ اور تیسرے یہ کہ اگر عقلی شہادتوں سے بھی مطمئن نہ ہو سکے تو آسمانی نشان اس کو اطمینان بخشیں۔ یہ تین طریق ہیں جو بندوں کے مطمئن کرنے کے لئے قدیم سے عادۃ اللہ میں داخل ہیں یعنی ایک سلسلہ کتب ایمانیہ جو سماع اور نقل کے رنگ میں عام لوگوں تک پہنچتا ہے جن کی خبروں اور ہدایتوں پر ایمان لانا ہر ایک مومن کا فرض ہے اور ان کا مخزن اتم اور اکمل قرآن شریف ہے۔ دوسرا سلسلہ معقولات کا جس کا منبع اور ماخذ دلائل عقلیہ ہیں۔ تیسرا سلسلہ آسمانی نشانوں کا جس کا سرچشمہ نبیوں کے بعد ہمیشہ امام الزّمان اور مجدّد الوقت ہوتا ہے۔ اصل وارث ان نشانوں کےؔ انبیاء علیہم السلام ہیں۔ پھر جب ان کے معجزات اور نشان مدت مدید کے بعد منقول کے رنگ میں ہوکر ضعیف التاثیر ہو جاتے ہیں تو خداتعالیٰ ان کے قدم پر کسی اور کو پیدا کرتا ہے تا پیچھے آنے والوں کے لئے نبوت کے عجائب کرشمے بطور منقول ہوکر مُردہ اور بے اثر نہ ہو جائیں۔ بلکہ وہ لوگ بھی بذات خود نشانوں کو دیکھ کر اپنے ایمانوں کو تازہ کریں۔ غرض خداتعالیٰ کے وجود اور راہ راست پر یقین لانے کے لئے یہی تین طریقے ہیں جن کے ذریعہ سے انسان تمام شبہات سے نجات پاتا ہے۔ اگر خدا کی کتاب اور اس کے مندرجہ معجزات اور نشان اور ہدایتیں جو اس زمانہ کے عام لوگوں کی نظر میں بطور منقول کے ہیں کسی پر مشتبہ رہیں تو ہزاروں عقلی دلائل ان کی تائید میں کھڑے ہوتے ہیں اور اگر عقلی دلائل بھی کسی سادہ لوح پر مشتبہ رہیں تو پھر ڈھونڈنے والوں کے لئے آسمانی نشان بھی موجود ہیں لیکن بڑے بدقسمت وہ لوگ ہیں کہ جو باوجود ان تینوں راہوں کے کھلے ہونے کے پھر بھی ہدایت پانے سے بے نصیب رہتے ہیں۔ اور درحقیقت ہمارے اندرونی اور بیرونی مخالف اسی قسم کے ہیں۔ مثلاً اس زمانہ کے مولویوں کو
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 50
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 50
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/50/mode/1up
    50
    بار بار قرآن اور احادیث سے دکھلایا گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں مگر انہوں نے قبول نہ کیا۔ پھر عقلی طور پر ان کو شرم دلائی گئی کہ یہ عقیدہ تمہارا عقل کے بھی سراسر مخالف ہے۔ تمہارے ہاتھ میں اس بات کی کوئی نظیر نہیں کہ اس سے پہلے کوئی آسمان سے بھی اترا ہے۔ پھر آسمانی نشان متواتر ان کو دکھلائے گئے اور خدا کی حجت ان پر پوری ہوئی لیکن تعصب ایسی بلا ہے کہ یہ لوگ اب تک اس فاسد عقیدہ کو نہیں چھوڑتے۔
    ایسا ہی پادری صاحبان بھی ان تینوں طریقوں کے ذریعہ سے ہمارے ملزم ہیں۔ مگر پھر بھی اپنے بے اصل عقائد کو چھوڑنا نہیں چاہتے اور نہایت نکمّے اور بے جان خیالات پر گرے جاتے ہیں۔ اور وسائل ثلاثہ مذکورہ کے رو سے وہ اس طرح ملزم ٹھہرتے ہیں کہ اگر مثلاً ان کے اُس جسمانی اور محدود خدا کا جس کا نام وہ یسوع رکھتے ہیں پہلی تعلیموں سے پتہ تلاش کیا جائے یا یہودیوں کے اظہار لئے جائیں تو ایک ذرہ سی بھی ایسی تعلیم نہیں ملے گی جس نے ایسے خدا کا نقشہ کھینچ کر دکھلایا ہو۔ اگر یہودیوں کو یہ تعلیم دی جاتی تو ممکن نہ تھا کہ ان کے تمام فرقے اس ضروری تعلیم کو جو ان کی نجات کا مدار تھی فراموش کر دیتے اور کوئی ایک آدھ فرقہ بھی اس تعلیم پر قائم نہ رہتا کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ ایک ایسا عظیم الشان گروہ جس میں ہر زؔ مانہ میں ہزارہا عالم فاضل موجودرہے ہیں اور جن کے ساتھ ساتھ صدہا نبی ہوتے چلے آئے ہیں ایک ایسی تعلیم سے ان کو بے خبری ہو جو چودہ سو برس سے برابر ان کو ملتی رہی اور لاکھوں افراد ان کے ہر صدی میں اس تعلیم میں نشوونما پاتے رہے۔ اور ہر صدی کے پیغمبر کی معرفت وہ تعلیم نازل ہوتی رہی اور ہر ایک فرقہ ان کا اس تعلیم کا پابند رہا اور ان کے رگ و ریشہ میں وہ تعلیم گُھس گئی۔ اور ایسا ہی صدی بعد صدی ان کے نبی نہایت اہتمام سے اس تعلیم کی تاکید کرتے چلے آئے۔ یہاں تک کہ اس صدی تک نوبت پہنچ گئی جس میں ایک شخص نے خدائی کا دعویٰ کیا اور وہ لوگ سب کے سب اس دعویٰ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 51
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 51
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/51/mode/1up
    51
    سے سخت انکاری ہوئے اور بالاتفاق کہا کہ یہ دعویٰ اس مسلسل تعلیم کے برخلاف ہے کہ جو توریت اور دوسری کتابوں سے خدا کے نبیوں کی معرفت چودہ سو برس سے آج تک ہمیں ملتی رہی ہے۔
    سو عیسائی عقیدہ کے بطلان کے لئے اس سے زیادہ اور کیا دلیل ہوگی کہ وہ جس تعلیم کو سچی اور منجانب اللہ سمجھتے ہیں وہی تعلیم ان کے جدید عقیدہ کی مکذّب ہے۔ اور ان کے اس عقیدہ سے ایسی کھلی کھلی مخالف ہے کہ کبھی کسی یہودی کو یہ شک بھی نہیں گذرا کہ اس تعلیم میں تثلیث بھی داخل ہے۔ ہاں عیسائی لوگ پیشگوئیوں کی طرف ہاتھ پیر مارتے ہیں مگر یہ خیال نہایت ہنسی کی بات اور قابل شرم ہے کیونکہ جن نبیوں کی یہ موحدانہ تعلیم تھی جو مسلسل طور پر یہودیوں کے ہاتھوں میں چلی آئی کیونکر ممکن تھا کہ ایسے انبیاء علیہم السلام اپنی تعلیم کے مخالف پیشگوئیاں بیان کرتے اور اپنی تعلیم اور پیشگوئیوں میں ایسا تناقض ڈال دیتے کہ تعلیم کا تو کچھ اور منشا اور پیشگوئیوں کا کچھ اور ہی منشا ہو جاتا۔
    اور اس جگہ عقلمند کے لئے یہ ایک نکتہ نہایت ہدایت بخش ہے کہ پیشگوئیوں میں استعارات اور مجازات بھی ہوتے ہیں مگر تعلیم کے لئے تصریح اور تفصیل ضروری ہوتی ہے اس لئے جہاں کہیں تعلیم اور پیشگوئی کا تناقض معلوم ہو تو یہ لازم ہوتا ہے کہ تعلیم کو مقدم رکھا جائے۔ اور پیشگوئی کو اگر اس کے مخالف ہو ظاہر الفاظ سے پھیر کر تعلیم کے مطابق اور موافق کر دیا جائے تا رفع تناقض ہو۔ بہرحال تعلیمی مضمون کا لحاظ مقدم چاہیے۔ کیونکہ تعلیم علاوہ تصریح اور تفصیل کے اکثر معرض افادۂ استفادہ میں آتی رہتی ہے۔ لہٰذا اس کے مقاصد اور مدعا کسی طرح مخفی نہیں رہ سکتے برخلاف پیشگوئیوں کے کہ وہ اکثر گوشۂ گمنامی میں پڑی رہتی ہیں پس اس محکم اصول کے رو سے یہودی لوگ عیسائیوں کے مقابل پر اس بحث میں بالکل سچے ہیں کیونکہ یہودیوں نے تعلیم کو پیشگوئیوں پر مقدم رکھا اورؔ پیشگوئیوں کے وہ معنے کئے جو تعلیم کے مخالف نہ ہوں۔ مگر عیسائیوں نے پیشگوئیوں کے وہ معنے کئے ہیں جو تعلیم کے سراسر مخالف ہیں۔ ماسوا اس کے یہودیوں کے معنے اس طرح
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 52
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 52
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/52/mode/1up
    52
    سے بھی مستند ہیں کہ وہ انبیاء علیہم السلام سے سنتے چلے آئے ہیں اور حضرت یحییٰ نبی کا ایک فرقہ جو بلاد شام میں اب تک پایا جاتا ہے وہ بھی عیسائیوں کے اس عقیدہ کے مخالف ہے اور یہودیوں کا مؤیّد ہے اور یہ اور دلیل اس بات پر ہے کہ عیسائی غلطی پر ہیں۔ غرض نقول کے رو سے عیسائیوں کا عقیدہ نہایت بودا ہے بلکہ قابل شرم ہے۔ رہا دوسرا ذریعہ شناخت حق کا جو عقل ہے سو عقل تو عیسائی عقیدہ کو دور سے دھکے دیتی ہے۔ عیسائی اس بات کو مانتے ہیں کہ جس جگہ تثلیث کی منادی نہیں پہنچی ایسے لوگوں سے صرف قرآن اور توریت کی توحید کے رو سے مواخذہ ہوگا تثلیث کا مواخذہ نہیں ہوگا۔ پس وہ اس بیان سے صاف گواہی دیتے ہیں کہ تثلیث کا عقیدہ عقل کے موافق نہیں کیونکہ اگر عقل کے موافق ہوتا تو جیسا کہ بے خبر لوگوں سے توحید کا مواخذہ ضروری ہے ایسا ہی تثلیث کا مواخذہ بھی ضروری ٹھہرتا۔ اب ان دونوں کے بعد تیسرا ذریعہ شناخت حق کا آسمانی نشان ہیں یعنی یہ کہ سچے مذہب کے لئے ضروری ہے کہ اس کا صرف قصوں اور کہانیوں پر سہارا نہ ہو بلکہ ہر ایک زمانہ میں اس کی شناخت کے لئے آسمانی دروازے کھلے رہیں اور آسمانی نشان ظاہر ہوتے رہیں تا معلوم ہو کہ اس زندہ خدا سے اس کا تعلق ہے کہ جو ہمیشہ سچائی کی حمایت کرتا ہے۔ سو افسوس کہ عیسائی مذہب میں یہ علامت بھی پائی نہیں جاتی بلکہ بیان کیا جاتا ہے کہ سلسلہ نشانوں اور معجزات کا آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گیا ہے۔ اور بجائے اس کے کہ کوئی موجودہ آسمانی نشان دکھلایا جائے ان باتوں کو پیش کرتے ہیں کہ جو اس زمانہ کی نظر میں صرف قصّے اور کہانیاں ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر یسوع نے کسی زمانہ میں اپنی خدائی ثابت کرنے کیلئے چند ماہی گیروں کو نشان دکھلائے تھے تو اب اس زمانہ کے تعلیم یافتہ لوگوں کو اُن اَن پڑھوں کی نسبت نشان دیکھنے کی بہت ضرورت ہے کیونکہ ان بیچاروں کو کسی طرح عاجز انسان کی خدائی سمجھ نہیں آتی اور کوئی منطق یا فلسفہ ایسا نہیں جو ایسے شخص کو خدائی کے دعویٰ کی ڈگری دے جس کی ساری رات کی دعا بھی منظور نہ ہو سکی اور جس نے اپنے زندگی کے سلسلہ میں ثابت کر دیا کہ اس کی روح کمزور بھی ہے اور نادان بھی۔ پس اگر یسوع اب بھی زندہ خدا ہے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 53
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 53
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/53/mode/1up
    53
    اور اپنے پرستاروں کی آواز سنتا ہے تو چاہیے کہ اپنی جماعت کو جو ایک نامعقول عقیدہ پر بے وجہ زور دے رہی ہے اپنے آسمانی نشانوں کے ذریعہ سے مدد دے۔ انسان تسلی پانے کے لئے ہمیشہ آسمانی نشانوں کے مشاہدہ کا محتاج ہے اور ہمیشہ روح اس کی اس بات کی بھوکی اور پیاسی ہے کہ اپنے خدا کو آسمانی نشانوں کے ذریعہ سے دیکھے اور اس طرح پر دہریوں اور طبعیوں اور ملحدوں کی کشاکش سے نجات پاوے۔ سو سچا مذہب خدا کے ڈھونڈنے والوں پر آسمانی نشانوں کا دروازہ ہرگز بند نہیں کرتا۔
    اب جب میں دیکھتا ہوں کہ عیسائی مذہب میں خدا شناسی کے تینوں ذریعے مفقود ہیں تو ؔ مجھے تعجب آتا ہے کہ کس بات کے سہارے سے یہ لوگ یسوع پرستی پر زور مار رہے ہیں۔ کیسی بدنصیبی ہے کہ آسمانی دروازے ان پر بند ہیں۔ معقولی دلائل ان کو اپنے دروازے سے دھکے دیتے ہیں اور منقولی دستاویزیں جو گذشتہ نبیوں کی مسلسل تعلیموں سے پیش کرنی چاہیے تھیں وہ ان کے پاس موجود نہیں مگر پھر بھی ان لوگوں کے دلوں میں خداتعالیٰ کا خوف نہیں۔ انسان کی عقلمندی یہ ہے کہ ایسا مذہب اختیار کرے کہ جس کے اصول خدا شناسی پر سب کا اتفاق ہو اور عقل بھی شہادت دے اور آسمانی دروازے بھی اس مذہب پر بند نہ ہوں۔ سو غور کر کے معلوم ہوتا ہے کہ ان تینوں صفتوں سے عیسائی مذہب بے نصیب ہے اس کا خدا شناسی کا طریق ایسا نرالا ہے کہ نہ اس پر یہودیوں نے قدم مارا اور نہ دنیا کی اور کسی آسمانی کتاب نے وہ ہدایت کی۔ اور عقل کی شہادت کا یہ حال ہے کہ خود یورپ میں جس قدر لوگ علوم عقلیہ میں ماہر ہوتے جاتے ہیں وہ عیسائیوں کے اس عقیدہ پر ٹھٹھا اور ہنسی کرتے ہیں۔
    حقیقت یہ ہے کہ عقلی عقیدے سب کلّیت کے رنگ میں ہوتے ہیں۔ کیونکہ قواعد کلّیہ سے ان کا استخراج ہوتا ہے۔ لہٰذا ایک فلاسفر اگر اس بات کو مان جائے کہ یسوع خدا ہے تو چونکہ دلائل کا حکم کلّیت کا فائدہ بخشتا ہے اس کو ماننا پڑتا ہے کہ پہلے بھی ایسے کروڑ ہا خدا گذرے ہیں اور آگے بھی ہو سکتے ہیں اور یہ باطل ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 54
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 54
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/54/mode/1up
    54
    اور آسمانی نشانوں کی شہادت کا یہ حال ہے کہ اگر تمام پادری مسیح مسیح کرتے مر بھی جائیں تاہم ان کو آسمان سے کوئی نشان مل نہیں سکتا۔ کیونکہ مسیح خدا ہو تو ان کو نشان دے۔ وہ تو بے چارہ اور عاجز اور ان کی فریاد سے بے خبر ہے۔ اور اگر خبر بھی ہو تو کیا کر سکتا ہے۔
    دنیا میں ایسا مذہب اور ان صفات کا جامع صرف اسلام ہے۔ ہر ایک مذہب کی خداشناسی کے اگر زوائد نکال دئیے جائیں اور مخلوق پرستی کا حصہ الگ کر دیا جائے تو جو باقی رہے گا وہی توحید اسلامی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی توحید سب کی مانی منائی ہے۔ پس ایسے لوگ کس قدر اپنے تئیں خطرہ میں ڈالتے ہیں کہ ایک امر کو جو مسلّم الکل ہے قبول نہیں کرتے اور ایسے عقیدوں کی پیروی کرتے ہیں کہ جو محض ان کے اپنے دعوے ہیں اور عام قبولیت سے خالی ہیں۔ اگر قیامت کے دن حضرت مسیح نے کہہ دیا کہ میں تو خداؔ نہیں تھا تم نے کیوں خواہ نخواہ میرے ذمہ خدائی لگا دی تو پھر کہاں جائیں گے اور کس کے پاس جاکر روئیں گے!!؟ خداتعالیٰ نے عیسائیوں کو ملزم کرنے کے لئے چار گواہ ان کے ابطال پر کھڑے کئے ہیں۔ اوّل یہودی کہ جو تخمیناً ساڑھے تین ہزار برس سے گواہی دے رہے ہیں کہ ہمیں ہرگز ہرگز تثلیث کی تعلیم نہیں ملی اور نہ کوئی ایسی پیشگوئی کسی نبی نے کی کہ کوئی خدا یا حقیقی طور پر ابن اللہ زمین پر ظاہر ہونے والا ہے۔ دوم حضرت یحییٰ کی اُ مّت یعنی یوحنّا کی اُ مّت جو اب تک بلاد شام میں موجود ہے جو حضرت مسیح کو اپنی قدیم تعلیم کے رو سے صرف انسان اور نبی اور حضرت یحییٰ کا شاگرد جانتے ہیں۔ تیسرے فرقہ موحّدہ عیسائیوں کا جن کا بار بار قرآن شریف میں بھی ذکر ہے جن کی بحث روم کے تیسری صدی کے قیصر نے تثلیث والوں سے کرائی تھی اور فرقہ موحّدہ غالب رہا تھا اور اسی وجہ سے قیصر نے فرقہ موحد کا مذہب اختیار کرلیا تھا۔ چوتھے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف جنہوں نے گواہی دی کہ مسیح ابن مریم ہرگز خدا نہیں ہے اور نہ خدا کا بیٹا ہے بلکہ خدا کا نبی ہے۔
    اور علاوہ اس کے ہزاروں راستباز خداتعالیٰ کا الہام پاکر اب تک گواہی دیتے چلے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 55
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 55
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/55/mode/1up
    55
    آئے ہیں کہ مسیح ابن مریم ایک عاجز بندہ ہے اور خدا کا نبی۔ چنانچہ اس زمانہ کے عیسائیوں پر گواہی دینے کے لئے خداتعالیٰ نے مجھے کھڑا کیا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ تا میں لوگوں پر ظاہر کروں کہ ابن مریم کو خدا ٹھہرانا ایک باطل اور کفر کی راہ ہے۔ اور مجھے اس نے اپنے مکالمات اور مخاطبات سے مشرف فرمایا ہے اور مجھے اس نے بہت سے نشانوں کے ساتھ بھیجا ہے اور میری تائید میں اس نے بہت سے خوارق ظاہر فرمائے ہیں۔ اور درحقیقت اس کے فضل و کرم سے ہماری مجلس خدا نما مجلس ہے۔ جو شخص اس مجلس میں صحت نیت اور پاک ارادہ اور مستقیم جستجو سے ایک مدت تک رہے تومیں یقین کرتا ہوں کہ اگر وہ دہریہ بھی ہو تو آخر خداتعالیٰ پر ایمان لاوے گا۔ اور ایک عیسائی جس کو خداتعالیٰ کا خوف ہو اور جو سچے خدا کی تلاش کی بھوک اور پیاس رکھتا ہو اس کو لازم ہے کہ بے ہودہ قصے اور کہانیاں ہاتھ سے پھینک دے اور چشم دید ثبوتوں کا طالب بن کر ایک مدت تک میری صحبت میںؔ رہے پھر دیکھے کہ وہ خدا جو زمین اور آسمان کا مالک ہے کس طرح اپنے آسمانی نشان اس پر ظاہر کرتا ہے۔ مگر افسوس کہ ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں جو درحقیقت خدا کو ڈھونڈنے والے اور اس تک پہنچنے کے لئے دن رات سرگرداں ہیں۔ اے عیسائیو! یاد رکھو کہ مسیح ابن مریم ہرگز ہرگز خدا نہیں ہے تم اپنے نفسوں پر ظلم مت کرو۔ خدا کی عظمت مخلوق کو مت دو۔ ان باتوں کے سننے سے ہمارا دل کانپتا ہے کہ تم ایک مخلوق ضعیف درماندہ کو خدا کر کے پکارتے ہو سچے خدا کی طرف آجاؤ تا تمہارا بھلا ہو اور تمہاری عاقبت بخیر ہو۔
    ناظرین اس مقام سے یہ دینی فائدہ بھی حاصل کر سکتے ہیں کہ پادریوں کا یہ دعویٰ ہے کہ پاک باطنی اور پاک روشی صرف ہمارے ہی حصہ میں آگئی ہے اور دوسری قومیں سراسر گناہوں میں مبتلا ہیں۔ مگر یہ دعویٰ ان کا ہمیشہ جھوٹا اور خلاف واقعہ ثابت ہوتا رہا ہے بلکہ حق بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ ان میں بھی ایسے ہیں کہ وہ قابل شرم زندگی بسر کرتے ہیں انجیل کی تعلیم کو
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 56
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 56
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/56/mode/1up
    56
    انہوں نے ایسا بگاڑا ہے کہ گویا اس کے دانت کھانے کے اور،اور دکھانے کے اور ہیں۔ ہم کسی پادری کو نہیں دیکھتے کہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری بھی پھیردے۔ بلکہ کئی ان میں سے جھوٹے مقدمے برپا کرتے اور نہایت بے صبری اور کینہ کشی کی وجہ سے ادنیٰ ادنیٰ باتوں کو عدالتوں تک پہنچاتے ہیں۔ پھر زور پر زور دیا جاتا ہے کہ حکّام ان کے دشمنوں کو سزادیں۔ اسی مقدمہ کو دیکھنا چاہیے کہ کس طرح سراسر جھوٹ باندھا گیا۔ اور کس طرح حضرات واعظان انجیل نے قتل کے مقدمہ میں مجھے ماخوذ کرانے کے لئے قسمیں کھائی ہیں۔ ڈاکٹر کلارک اور وارث دین اور عبدالرحیم اور پریم داس اور یوسف خان یہ سب حضرات عیسائیان وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس قابل شرم مقدمہ کی تائید میں انجیل اٹھائی۔ یہ وہی بزرگ ہیں جو آتھم کے مقدمہ میں بار بار کہتے تھے کہ ’’ہمارے مذہب میں قسم کھانا ہرگز درست نہیں پھر آتھم کیوں قسم کھاتا‘‘۔ بلکہ ڈاکٹر کلارک نے ایک اشتہار میں بہت سی توہین کے ساتھ یہ لکھا تھا کہ ’’ہمارے مذہب میں قسم کھانا ایسا ہے جیسا کہ مسلمانوں میں خنزیر کھانا‘‘۔ سو ان لوگوں نے ثابت کر دیا کہ کہاں تک ان کے قول اور فعل میں مطابقت ہے۔ ہم عبداللہ آتھم سے کیا چاہتے تھے یہی تو چاہتے تھے کہ وہ منصفوں کے جلسۂ عدالت میں حاضر ہو کر قسم کھاوے کہؔ وہ ہماری شرط کے موافق اسلامی عظمت سے ڈرا نہیں۔ سو چونکہ وہ سچ پر نہیں تھا اس لئے قسم کھانے کی جرأت نہ کرسکا۔ اگر یہ عذر تھا کہ ’’ہم عدالت میں قسم کھاتے ہیں نہ کسی اور جگہ‘‘۔ تو اوّل تو یہ عذر ان کی کتابوں میں مندرج نہیں۔ انجیل میں کہیں نہیں لکھا کہ قسم صرف اس حالت میں درست ہے کہ جب تم عدالت میں جبراً بلائے جاؤ بلکہ عموماً قسم کی اجازت دی اور خود حضرت مسیح نے بغیر حاضری عدالت کے قسم کھائی۔ اور ان کا پولوس ہمیشہ قسم کھایا کرتا تھا۔ اوراگر ہم اپنی طرف سے عدالت کی حاضری کی شرط بھی زیادہ کرلیں تو یہ شرط بھی ان کو مفید نہیں کیونکہ عدالت سے مرادیہ نہیں ہے کہ ضرورکسی ملازمت پیشہ حاکم کی کچہری ہو بلکہ ایسے منصف اور ثالث جو بغیر کسی رو رعایت کے حق کی شہادت دے سکتے ہوں اور جھوٹے کو ملزم کر سکتے ہوں ان کا
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 57
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 57
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/57/mode/1up
    57
    جلسہ بھی بلاشبہ عدالت کا جلسہ ہے جس کی طرف بلایا گیا تھا۔ اور لطف یہ کہ عیسائیوں کی کتابوں میں قسم کھانے کے لئے مجبورًا کچہریوں میں بلایا جانا کوئی شرط نہیں بلکہ جہاں کہیں کسی تصفیہ کے لئے قسم مفید ہو سکتی ہو اسی جگہ ان کے مذہب کے رو سے قسم کھانا واجب ہو جاتا ہے۔
    ماسوا اس کے ڈاکٹر کلارک نے جو ہمارے مقدمہ میں قسم کھائی اس کو قسم کھانے کے لئے کس عدالت نے جبرًا بلایا تھا؟ آپ اس نے مقدمہ عدالت کے سامنے پیش کیا تب قسم بھی دی گئی۔ افسوس! کہ اسی قسم پر پادریوں نے کس قدر لمبا جھگڑا کیا تھا۔ اور کس قدر آتھم نے قسم کھانے سے کنارہ کشی کی تھی۔ حالانکہ الہامی شرط سے اپنے تئیں علیحدہ ثابت کرنے کے لئے اس کو قسم کھانا نہایت ضروری تھا۔ ہم نے تو قسم پر چار ہزار روپیہ بھی دینا کیا تھا اور ہماری طرف سے کوئی نئی حجت نہیں تھی۔ پہلے دن سے الہام میں یہ شرط تھی کہ اگر اس کا دل اسلامی حقّانیت کی طرف رجوع کرے گا اور اس کی عظمت کو قبول کرے گا تو موت سے بچ جائے گا۔ اور اس کا میعاد کے اندر موت سے بچنا انصافاًاس تنقیح کو چاہتا تھا کہ کیا اس نے شرط پر عمل تو نہیں کیا؟ اور اس نے اپنے اقوال سے اور افعال سے جس قدر خوف ظاہر کیا تھا کم سے کم اس سے یہ نتیجہ ضرور نکلتا تھا کہ وہ اسلامی عظمت سے ضرور ڈرا ہے اسی وجہ سے ہم نے بار بار اشتہار دیا تھا کہ اگر وہ نہیں ڈرا تو اپنے تئیں اس الہامی شرط سے باہرؔ ثابت کرنے کے لئے قسم کھاجاوے۔ اور ہم نے نہ صرف قرائن موجودہ سے دیکھا بلکہ خدا نے ہمیں اطلاع دی تھی کہ وہ ضرور ڈرا ہے۔ اور آتھم نے اپنے مضطربانہ حالات سے ہمارے الہام کی تصدیق کر دی تھی۔ پس اگر عیسائی لوگ یقینی طور پر اس کا خوف اور رجوع نہ مانتے تو کم سے کم یہ توان کو سوچنا چاہیے تھا کہ آتھم کا قسم سے کنارہ کرنا اور خوف کا اقرار کرنا اور وجہ خوف اپنے خود تراشیدہ جھوٹے بہتانوں کو قرار دینا۔ کبھی کہنا کہ میرے پر سانپ چھوڑا گیا تھا۔ اور کبھی کہنا کہ تلواروں والوں نے حملہ کیا تھا۔ اور کبھی نیزوں اور بندوقوں والوں کا نام لینا اور ثبوت
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 58
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 58
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/58/mode/1up
    58
    کچھ بھی نہ دینا یہ تمام باتیں ایسی تھیں کہ آتھم کو عدالت کے رو سے ملزم کرتی تھیں اور ان بیہودہ افتراؤں کا بار ثبوت اس کی گردن پر تھا۔ اور اس کی بریت کم سے کم قسم کھانے میں تھی جس سے وہ ایسا بھاگا جیسا ایک شخص شیر سے بھاگتا ہے۔
    اور پھر اس پیشگوئی کے دوسرے حصہ نے اور بھی ہمارے الہام کی سچائی پر روشنی ڈالی کیونکہ دوسری پیشگوئی میں یہ تھا کہ اگر آتھم نے الہامی شرط سے فائدہ اٹھا کر پھر اس سچی گواہی کو چھپایا تو وہ جلد فوت ہو جائے گا۔ اور اس کی زندگی کے دن بہت تھوڑے ہوں گے۔ اور یہ پیشگوئی بھی اشتہاروں کے ذریعہ سے لاکھوں انسانوں میں مشتہر کی گئی تھی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور آتھم ہمارے آخری اشتہار سے چھ ماہ کے اندر فوت ہوگیا۔ اور ان تمام باتوں نے پادری صاحبوں کو بہت شرمندہ کیا۔ کیونکہ آتھم نے نہ تو قسم کھائی اور نہ اپنے جھوٹے بہتانوں کو بذریعہ نالش ثابت کیا۔ اور نہ ان بہتانوں کا کچھ ثبوت دیا جو الہامی شرط پر پردہ ڈالنے کے لئے اس نے تراشے تھے۔ اس لئے یہ تمام حرکات اس کی پادریوں کی سخت ندامت کی موجب ہوئیں۔
    علاوہ اس کے عیسائیوں کو یہ اور شرمندگی دامنگیرہوئی کہ آتھم ہماری دوسری پیشگوئی کے مطابق اخفائے شہادت کے بعد بہت جلد فوت ہوگیا۔ پھر اس شرمندگی پر ایک اور شرمندگی یہ پیش آئی کہ لیکھرام ہماری پیشگوئی کے مطابق میعاد کے اندر مارا گیا۔ اور جیسا کہ پیشگوئی میں تصریح تھی کہ وہ عید کے دوسرے دن مارا جائے گا ایسا ہی وقوع میں آیا۔ یہ تمام باتیں ایسی تھیں کہ حضرات پادری صاحبان کو ان سے بڑی کوفت پہنچیؔ تھی۔ یہ لوگ ہمیشہ بازاروں میں وعظ کے طور پر کہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی پیشگوئی ظہور میں نہیں آئی اور نہ کوئی معجزہ ہوا۔ مگر برخلاف اس کے خدا نے ان کو متواتر معجزات بھی دکھلائے اور پیشگوئیاں بھی مشاہدہ کرائیں۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جلسۂ مذاہب لاہور میں قبل از وقت ہم نے اشتہار دیا تھا کہ خدا مجھے فرماتا ہے کہ ’’تیرا مضمون
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 59
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 59
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/59/mode/1up
    59
    بالا رہے گا‘‘۔ سو وہ پیشگوئی لاکھوں آدمیوں کے اقرار سے پوری ہوئی۔ یہاں تک کہ عیسائی پرچہ سول ملٹری گزٹ نے بھی اس کی شہادت دی۔ اور اعجازی طور پر مضمون ہمارا غالب رہا۔ پس یہ شرمندگی حضرات عیسائیوں کے لئے کچھ تھوڑی نہیں تھی کہ ہماری پیشگوئیوں کی سچائی سے متواتر ان کو زخم پہنچے۔
    اور اس سے زیادہ ان کی ندامت کا یہ بھی موجب ہوا کہ اس عرصہ میں کئی عمدہ کتابیں ردّ نصاریٰ میں مَیں نے تالیف کیں جن سے ان کے عقائد کے بطلان کی بخوبی حقیقت کھل گئی۔ یہ تمام باتیں ایسی تھیں جن سے مجھے خود اندیشہ تھا کہ آخر کوئی جھوٹا مقدمہ میرے پر بنایا جائے گا۔ کیونکہ دشمن جب لاجواب ہو جاتا ہے تو پھر جان اور آبرو پر حملہ کرتا ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور آخر یہ خون کا مقدمہ میرے پر بنایا گیا اور ضرور تھا کہ اس میں محمد حسین بٹالوی اور آریہ بھی شامل ہوتے کیونکہ ان سب کو ذلّت پر ذلّت پہنچی اور خدا نے ان سب کا منہ بند کر دیا۔ مگر پادری صاحبوں کو سب سے زیادہ بڑھ کر جوش تھا کیونکہ میری کارروائی میں ان کے کروڑ ہا روپیہ کا نقصان ہے اورعلاوہ آسمانی نشانوں کے میرے اعتراضات نے بھی ان کے مذہب کے تارو پود کو توڑ دیا ہے۔ چنانچہ وہ اعتراض جو ان کے اس عقیدہ پر کیا گیا تھا کہ تمام گناہگاروں کی *** مسیح پر آپڑی جس کا ماحصل یہ تھا کہ مسیح کا دل خداتعالیٰ کی معرفت اور محبت سے بالکل خالی ہوگیا تھا اور درحقیقت وہ خدا کا دشمن ہوگیا تھا۔ یہ ایسا اعتراض تھا کہ عقیدہ کفارہ کو باطل کرتا تھا کیونکہ جبکہ *** اپنے مفہوم کے رو سے مسیح جیسے راستباز انسان پر ہرگز جائز نہیں تو پھر کفّارہ کی چھت جس کا شہتیر *** ہے کیونکر ٹھہر سکتی ہے۔
    ایسا ہی وہ اعتراض کہ خدا کاکوئی فعل اس کی قدیم عادت سے مخالف نہیں اور عادت کثرت اور کلّیت کو چاہتی ہے۔ پس اگر درحقیقت بیٹے کو بھیجنا خدا کی عادت میں داخلؔ ہے تو خداکے بہت سے بیٹے چاہئیں تا عادت کا مفہوم جو کثرت کو چاہتا ہے ثابت ہو اور
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 60
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 60
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/60/mode/1up
    60
    تا بعض بیٹے جنات کے لئے مصلوب ہوں اور بعض انسانوں کے لئے اور بعض ان مخلوقات کے لئے جو دوسرے اجرام میں آباد ہیں۔ یہ اعتراض بھی ایسا تھا کہ ایک لحظہ کے لئے بھی اس میں غور کرنا فی الفور عیسائیت کی تاریکی سے انسان کو چھوڑا دیتا ہے۔
    ایسا ہی یہ اعتراض کہ عیسائیوں کی تعلیم یہودیوں کی مسلسل تین ہزار برس کی تعلیم کے مخالف ہے جو ان کی کتابوں میں پائی جاتی ہے جس سے بچہ بچہ یہود کا واقف ہے۔
    ایسا ہی یہ اعتراض کہ کفّارہ اس وجہ سے بھی باطل ہے کہ اس سے یا تو یہ مقصود ہوگا کہ گناہ بالکل سرزد نہ ہوں اور یا یہ مقصود ہوگا کہ ہر ایک قسم کے گناہ خواہ حق اللہ کی قسم میں سے اور خواہ حق العباد کی قسم میں سے ہوں کفّارہ کے ماننے سے ہمیشہ معاف ہوتے رہتے ہیں۔ سو پہلی شق تو صریح البطلان ہے کیونکہ یورپ کے مردوں اور عورتوں پر نظر ڈال کر دیکھا جاتا ہے کہ وہ کفّارہ کے بعد ہرگز گناہ سے بچ نہیں سکے اور ہر ایک قسم کے گناہ یورپ کے خواص اور عوام میں موجود ہیں۔ بھلا یہ بھی جانے دو نبیوں کے وجود کو دیکھو جن کا ایمان اوروں سے زیادہ مضبوط تھاوہ بھی گناہ سے بچ نہ سکے۔ حواری بھی اس بلا میں گرفتار ہوگئے۔ پس اس میں کچھ شک نہیں کہ کفّارہ ایسا بند نہیں ٹھہر سکتا کہ جو گناہ کے سیلاب سے روک سکے۔ رہی یہ دوسری بات کہ کفّارہ پر ایمان لانے والے گناہ کی سزا سے مستثنیٰ رکھے جائیں گے خواہ وہ چوری کریں یا ڈاکہ ماریں خون کریں یا بدکاری کی مکروہ حالتوں میں مبتلا رہیں تو خدا ان سے مواخذہ نہیں کرے گا یہ خیال بھی سراسر غلط ہے جس سے شریعت کی پاکیزگی سب اٹھ جاتی ہے اور خدا کے ابدی احکام منسوخ ہو جاتے ہیں۔
    یہ تمام اعتراضات ایسے تھے کہ عیسائی صاحبوں سے ان کا جواب کچھ بھی بن نہیں سکتا تھا۔ علاوہ اس کے پادری صاحبوں کے لئے ایک اور مشکل یہ پیش آئی تھی کہ ہم نے ثابت کر دیا تھا کہ علاوہ ان تمام مشرکانہ عقائد کے جو ان کے مذہب میں پائے جاتے ہیں اور علاوہ ایسی ایسی کچی اور خام باتوں کے کہ مثلاً انسان کو خدا بنانا اور اس پر کوئی دلیل نہ لانا جو ان کا طریقہ ہے ایک اور
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 61
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 61
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/61/mode/1up
    61
    بھاری مصیبت ان کو یہ پیش آئی ہے کہ وہ اپنے مذہب کے روحانی برکات ثابت نہیں کر سکے یہؔ تو ظاہر ہے کہ جس مذہب کے قبولیت کے آثار آسمانی نشانوں سے ظاہر نہیں ہیں وہ ایسا آلہ نہیں ٹھہر سکتا جس کو خدانما کہہ سکیں۔ بلکہ اس کا تمام مدار قصّوں اور کہانیوں پر ہوتا ہے۔ اور جس خدا کی طرف وہ راہ دکھلانا چاہتا ہے اس کی نسبت بیان نہیں کر سکتا کہ وہ موجود بھی ہے اور ایسا مذہب اس قدر نکما ہوتا ہے کہ اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہوتا ہے۔ اور ایک مچھر پر غور کر کے خدا کا پتہ لگ سکتا ہے اور ایک پِسّو کو دیکھ کر صانع حقیقی کی طرف ہمارا ذہن منتقل ہو سکتا ہے مگر ایسے مذہب سے ہمیں کچھ بھی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا کہ جو اپنے پیٹ میں صرف قصّوں اور کہانیوں کا ایک مُردہ بچہ رکھتا ہے۔ ہمیں جبراً کہا جاتا ہے کہ تم ان باتوں کو مان لو کہ کسی زمانہ میں یسوع نے کئی ہزار مُردے زندہ کر دئیے تھے اور اس کی موت کے وقت بیت المقدس کے تمام مُردے شہر میں داخل ہوگئے تھے۔ لیکن درحقیقت یہ ایسی ہی باتیں ہیں جیسا کہ ہندوؤں کی پُستکوں میں ہے کہ کسی زمانہ میں مہادیو کی لٹوں سے گنگا بہ نکلی تھی۔ اور راجہ رام چندر نے پہاڑوں کو انگلی پر اٹھا لیا تھا اور راجہ کرشن نے ایک تیر سے اتنے لاکھ آدمی مارے تھے۔
    اب کہو کہ ان تمام بے ہودہ اور بے اصل باتوں کو ہم کیونکر مان لیں پھر جبکہ یہ باتیں خود ثبوت کی محتاج ہیں تو پھر ان کے ذریعہ سے کون سا قضیہ ثابت ہو سکتا ہے۔ کیا اندھا اندھے کو راہ دکھلا سکتا ہے؟ افسوس کہ ایک پتے پر غور کرنے سے بہت کچھ صانع حقیقی کا پتہ لگ سکتا ہے۔ مگر ان کتابوں کا ہزار ورق بھی پڑھ کر موجد حقیقی کا کچھ نشان نہیں ملتا۔ پھر جبکہ انسان کے لئے پہلی اور بڑی مصیبت یہی ہے کہ وہ خداتعالیٰ کی ہستی کی شناخت کرنے کی راہ میں بڑے بڑے مشکلات اور شبہات میں مبتلا ہے یہاں تک کہ بسا اوقات پورا دہریہ اور اکثر دہریت کی رگ اپنے اندر رکھتا ہے۔ اور اسی وجہ سے گناہ کرنے پر دلیر ہو جاتا ہے اور جس قدر سَم الفار کی مہلک تاثیر کی ہیبت اس کو اس حرکت سے ڈراتی ہے کہ وہ اس کے کھانے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 62
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 62
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/62/mode/1up
    62
    کا ارتکاب کرے اس قدر خداتعالیٰ کی ہیبت نافرمانی سے اس کو نہیں روکتی اس کی کیا وجہ ہے۔ یہی تو ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کی عظمت اور جلال اور اقتدار سے بے خبر ہے تبھی تو اس کی نافرمانی کو ایک معمولی بات سمجھتا ہے اور نہیں ڈرتا۔ اور ادنیٰ ادنیٰ حکّام کی نافرمانی سے اس کی روح تحلیل ہوتی ہے۔ پس ظاہر ہے کہؔ ہماری تمام سعادت خداشناسی میں ہے اور نفسانی جذبات کو ان کے طوفان سے روکنے والی وہ معرفت کاملہ ہے جس سے ہمیں پتہ لگ جائے کہ درحقیقت خدا ہے اور درحقیقت وہ بڑا قادر اور بڑا رحیم اور ذوالعذاب الشدید بھی ہے۔ یہی وہ نسخۂ مجربہ ہے جس سے سچی تبدیلی ہوتی ہے اور انسان کی متمردانہ زندگی پر موت آجاتی ہے۔
    اور اس طریق کے سوا باقی وہ تمام باتیں جو دنیا کے لوگوں نے گناہ سے بچنے کے لئے بنائی ہیں جیسے کفّارہ مسیح وغیرہ۔ یہ طفلانہ خیالات ہیں جو نہایت محدود اور غلطیوں سے پُر ہیں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ کسی ایک کے سر پر چوٹ لگنے سے ہمارے سر کا درد نہیں جا سکتا اور کسی کے بھوکے رہنے سے ہم سیر نہیں ہو سکتے۔ ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ جس طرح ڈاکٹر مرض کی تشخیص کرتا ہے یا جس طرح اہل مساحت زمین کو ناپتا ہے اسی طرح ہمارا دل نہایت محکم یقین کے ساتھ معلوم کر چکا ہے کہ کسی انسان کے نفسانی جذبات کا سیلاب بجز اس امر کے تھم ہی نہیں سکتا کہ ایک چمکتا ہوا یقین اس کو حاصل ہو کہ خدا ہے اور اس کی تلوار ہر ایک نافرمان پر بجلی کی طرح گرتی ہے اور اس کی رحمت ان لوگوں کو ہر ایک بلا سے بچاتی ہے جو اس کی طرف جھکتے ہیں۔ اب ہم پوچھتے ہیں کہ انجیل یا وید اس خدا کا ہمیں کیا پتہ بتلاتی ہیں اور اس کا چہرہ دکھانے کے لئے کونسا آئینہ ان کے ہاتھ میں ہے جو ہمارے آگے رکھتے ہیں۔ اگر وہ ہمیں صرف قصے اور کہانیاں سناتے ہیں تو صرف قصوں سے وہ کونسی تسلی ہمیں دے سکتے ہیں۔ اور اگر وہ ہمیں صرف یہ صلاح دیتے ہیں کہ ہم زمین اور آسمان کے اجرام میں غور کریں اور نظام شمسی کو تدبّرسے سوچیں تو ہمیں ان سے اس مشورہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 63
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 63
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/63/mode/1up
    63
    کے لینے کی کیا حاجت ہے؟ کیا ہمیں پہلے سے معلوم نہیں کہ یہ نظام جو اَبلغ اور مُحکم ہے اور یہ ترتیب جو اَنسب اور اَنفع ہے ضرور ایک مدبّرصانع حکیم علیم کی ضرورت ثابت کر رہی ہے۔ مگر یہ بات کہ ایسے صانع کی ضرورت ہے اور یہ دوسری بات کہ ہم علم الیقین کی آنکھ سے دیکھ لیں کہ وہ صانع درحقیقت موجود بھی ہے۔ ان دونوں باتوں میں بڑا فرق ہے۔ اس لئے ایک حکیم کو جو صرف قیاسی طور پر خدا کے وجود کا قائل ہے۔ سچی پاکیزگی اور خدا ترسی کا کمال حاصل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ صرف ضرورت کا علم الٰہی رُعب اپنےؔ اندر نہیں رکھتا اور تاریکی کو اٹھا نہیں سکتا۔ مگر جس پر براہِ راست آسمان سے خدا کا جلال کھلتا ہے وہ نیک کاموں اور ثابت قدمی اور وفاداری کے لئے بڑی قوت پاتا ہے اور درحقیقت اس کا شیطان مر جاتا ہے اور جلال الٰہی کی شعاعیں جو زندہ الہامات کے رنگ میں اور ہیبت ناک مکاشفات کی صورت میں اس کے دل پر پڑتی رہتی ہیں وہ اس کو ہر ایک تاریکی سے دور کھینچ کر لے جاتی ہیں۔ کیا تم ایسی بجلی کے نیچے جو جلانے والی اور مہلک پروں کو پھیلا رہی ہے کوئی بدکاری کا کام کر سکتے ہو؟ پس اسی طرح جو شخص خدا کی جلالی تجلّیات کے نیچے زندگی بسر کرتا ہے اس کی شیطنت مر جاتی ہے اور اس کے سانپ کا سر کچلا جاتا ہے۔ یہی ایک حقیقی طریق ہے جس کی برکت سے انسان فی الواقع پاک زندگی حاصل کر سکتا ہے۔ افسوس کہ عیسائیوں کو یہ دکھانا چاہیے تھا کہ یہ یقین ہستی باری جو انسان کو خدا ترسی کی آنکھ بخشتا ہے اور گناہ کے خس و خاشاک کو جلاتا ہے۔ اس کا سامان انجیل نے ان کو کیا بخشا ہے؟ بیہودہ طریقوں سے گناہ کیونکر دور ہو سکتا ہے؟ افسوس کہ یہ لوگ نہیں سمجھے کہ یہ کیسا ایک بے حقیقت امر اور ایک فرضی نقشہ کھینچنا ہے کہ تمام دنیا کے گناہ ایک شخص پر ڈالے گئے اور گنہگاروں کی *** ان سے لی گئی اور یسوع کے دل پر رکھی گئی۔ اس سے تو لازم آتا ہے کہ اس کارروائی کے بعد بجز یسوع کے ہر ایک کو پاک زندگی ا ور خدا کی معرفت حاصل ہوگئی ہے مگر نعوذ باللہ یسوع ایک ایسی *** کے نیچے دبایا گیا جو کروڑہا
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 64
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 64
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/64/mode/1up
    64
    لعنتوں کا مجموعہ تھی۔ لیکن جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر ایک انسان کے گناہ اس کے ساتھ ہیں اور فطرت نے جس قدر کسی کو کسی جذبہ نفسانی یا افراط اور تفریط کا حصہ دیا ہے وہ اس کے وجود میں محسوس ہو رہا ہے گو وہ یسوع کو مانتا ہے یا نہیں تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جیسا کہ *** زندگی والوں کی *** زندگی ان سے علیحدہ نہیں ہو سکی ایسا ہی وہ یسوع پر بھی پڑ نہیں سکی کیونکہ جب کہ *** اپنے محل پر خوب چسپاں ہے تو وہ یسوع کی طرف کیونکر منتقل ہو سکے گی۔ اور یہ عجیب ظلم ہے کہ ہر ایک خبیث اور ملعون جو یسوع پر ایمان لاوے تو اس کی *** یسوع پر پڑے اور اس شخص کو بَری اور پاکدامن سمجھا جائے۔ پس ایسا غیر منقطع سلسلہ لعنتوں کا جو قیامت تک ممتد رہے گا اگر وہ ہمیشہ تازہ طور پر غریب یسوع پر ڈالاجائے تو کس زمانے میں اس کو لعنتوں سے سُبکدوشی ہوگی کیونکہ جب وہ ایک گروہ کی لعنتوں سے اپنے تئیں سبکدوش کر لے گا تو پھر نیا آنے والا گروہ جو اپنے خبیث وجود کے ساتھ نئی لعنتیں رکھتا ہے وہ اپنی تمام لعنتیں اس پر ڈال دے گا۔ علٰیؔ ہذا القیاس اس کے بعد دوسرا گروہ دوسری لعنتوں کے ساتھ آئے گا تو پھر ان مسلسل لعنتوں سے فرصت کیونکر ہوگی؟اس سے تو ماننا پڑتا ہے کہ یسوع کے لئے وہ دن پھر کبھی نہیں آئیں گے جو اس کو خدا کی محبت اور معرفت کے نور کے سایہ میں رکھنے والے ہوں۔ پس ایسے عقیدہ سے اگر کچھ حاصل ہوا تو وہ یہی ہے کہ ان لوگوں نے ایک خداکے مقدس کو ایک غیر منقطع ناپاکی میں ڈالنے کا ارادہ کیا ہے اور بدقسمتی سے اس اصل بات کو چھوڑ دیا ہے جس سے گناہ دور ہوتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ وہ آنکھ پیدا کرنا جو خدا کی عظمت کو دیکھے اور وہ یقین حاصل کرنا جو گناہ کی تاریکی سے چھوڑا وے۔ زمین تاریکی پیدا کرتی ہے اور آسمان تاریکی کو اٹھاتا ہے پس جب تک آسمانی نور جو نشانوں کے رنگ میں حاصل ہوتا ہے کسی دل کو نہ چھوڑاوے حقیقی پاکیزگی حاصل ہو جانا بالکل جھوٹ ہے اور سراسر باطل اور خیال محال ہے۔ پس گناہوں سے بچنے کیلئے اس نور کی تلاش میں لگنا چاہیے جو یقین کی کرّار فوجوں کے ساتھ آسمان سے نازل ہوتا اور ہمت بخشتا اور قوت بخشتا اور تمام شبہات کی غلاظتوں کو دھو دیتا اور دل کو صاف کرتا اور خدا کی ہمسائیگی میں انسان کا گھر بنا دیتا ہے۔ پس افسوس ان لوگوں پر
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 65
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 65
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/65/mode/1up
    65
    کہ بچوں کی طرح گردوغبار میں کھیلتے اور کوئلوں پر لیٹتے ہیں اور پھر آرزو کرتے ہیں کہ ہمارے کپڑے سفید رہیں۔ اور حقیقی نور کو تلاش نہیں کرتے اور پھر چاہتے ہیں کہ ظلمت سے نجات پاویں۔
    حقیقی نور کیا ہے؟ وہ جو تسلی بخش نشانوں کے رنگ میں آسمان سے اترتا اور دلوں کو سکینت اور اطمینان بخشتا ہے۔ اس نور کی ہر ایک نجات کے خواہشمند کو ضرورت ہے۔ کیونکہ جس کو شبہات سے نجات نہیں اس کو عذاب سے بھی نجات نہیں۔ جو شخص اس دنیا میں خدا کے دیکھنے سے بے نصیب ہے وہ قیامت میں بھی تاریکی میں گرے گا۔ خدا کا قول ہے کہ 3 3۔۱؂ اور خدا نے اپنی کتاب میں بہت جگہ اشارہ فرمایا ہے کہ میں اپنے ڈھونڈنے والوں کے دل نشانوں سے منور کروں گا۔ یہاں تک کہ وہ خدا کو دیکھیں گے اور میں اپنی عظمت انہیں دکھلا دوں گا یہاں تک کہ سب عظمتیں ان کی نگاہ میں ہیچ ہو جائیں گی۔ یہی باتیں ہیں جو میں نے براہ راست خدا کے مکالمات سے بھی سنیں پس میری روح بول اٹھی کہ خدا تک پہنچنے کی یہی راہ ہے اور گناہ پر غالب آنے کا یہی طریق ہے۔ حقیقت تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم حقیقت پر قدم ماریں۔ فرضی تجویزیں اور خیالی منصوبے ہمیں کام نہیں دے سکتے۔ ہم اس بات کے گواہؔ ہیں اور تمام دنیا کے سامنے اس شہادت کو ادا کرتے ہیں کہ ہم نے اس حقیقت کو جو خدا تک پہنچاتی ہے قرآن سے پایا ہم نے اس خدا کی آواز سنی اور اس کے پُرزور بازو کے نشان دیکھے جس نے قرآن کو بھیجا۔ سو ہم یقین لائے کہ وہی سچا خدا اور تمام جہانوں کا مالک ہے۔ ہمارا دل اس یقین سے ایسا پُر ہے جیسا کہ سمندر کی زمین پانی سے۔ سو ہم بصیرت کی راہ سے اس دین اور اس روشنی کی طرف ہر ایک کو بلاتے ہیں ہم نے اس نورحقیقی کو پایا جس کے ساتھ سب ظلمانی پردے اٹھ جاتے ہیں اور غیر اللہ سے درحقیقت دل ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ یہی ایک راہ ہے جس سے انسان نفسانی جذبات اور ظلمات سے ایسا باہر آجاتا ہے جیسا کہ سانپ اپنی کینچلی سے۔
    عیسائی مذہب ان نشانوں سے بکلّی محروم ہے۔ دعویٰ اتنا بڑا کہ ایک انسان کو خدا بنانا چاہتے ہیں اور ثبوت میں صرف قصے کہانیاں پیش کرتے ہیں ہاں بعض کہتے ہیں کہ ’’انجیل کی تعلیم
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 66
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 66
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/66/mode/1up
    66
    ہی ایسی عمدہ ہے کہ جو بطور نشان کے ہے‘‘۔ لیکن درحقیقت یہ ان کی بڑی غلطی ہے۔ اور سچ یہ ہے کہ انجیل کی تعلیم نہایت ہی ناقص ہے۔ اسی لئے حضرت مسیح کو بھی عذر کرنا پڑا کہ ’’آنے والا فارقلیط اس نقصان کا تدارک کرے گا‘‘۔ ہمیں اس سے کچھ بحث نہیں کہ انجیل کے ثناخوان دکھلاتے کچھ اور ہیں اور کرتے کچھ اور۔ لیکن اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ انجیل انسانیت کے درخت کی پورے طور پر آب پاشی نہیں کر سکتی۔ ہم اس مسافرخانہ میں بہت سے قویٰ کے ساتھ بھیجے گئے ہیں اور ہر ایک قوت چاہتی ہے کہ اپنے موقعہ پر اس کو استعمال کیا جائے۔ اور انجیل صرف ایک ہی قوت حلم اور نرمی پرزور مار رہی ہے۔ حلم اور عفو درحقیقت بعض مواضع میں اچھی ہے لیکن بعض دوسرے مواضع میں سمّ قاتل کی تاثیر رکھتی ہے۔ ہماری یہ تمدنی زندگی کہ مختلف طبائع کے اختلاط پر موقوف ہے بلاشبہ تقاضا کرتی ہے کہ ہم اپنے تمام قویٰ کو محل بینی اور موقعہ شناسی سے استعمال کیا کریں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ اگرچہ بعض جگہ ہم عفو اور درگذر کر کے اس شخص کو فائدہ جسمانی اور روحانی پہنچاتے ہیں جس نے ہمیں کوئی آزار پہنچایا ہے لیکن بعض دوسری جگہ ایسی بھی ہیں جو اس جگہ ہم اس خصلت کو استعمال کرنے سے شخص مجرم کو اور بھی مفسدانہ حرکات پر دلیر کرتے ہیں۔
    ہماری روحانی زندگی کی طرز ہماری جسمانی زندگی کی طرز سے نہایت مشابہ ہے۔ ہم دیکھتے ہیںؔ کہ ہر جگہ ایک ہی مزاج اور طبیعت کی اغذیہ اور ادویہ پر زور مارنے سے ہماری صحت بحال نہیں رہ سکتی۔ اگر ہم دس یا بیس روز متواتر ٹھنڈی چیزوں کے کھانے پر ہی زور دیں اور گرم غذاؤں کا کھانا حرام کی طرح اپنے نفس پر کر دیں تو ہم جلد تر کسی سرد بیماری میں جیسے فالج اور لقوہ اور رعشہ اور صرع وغیرہ میں مبتلا ہو جائیں گے۔ اور ایساہی اگر ہم متواتر گرم غذاؤں پر زور دیں یہاں تک کہ پانی بھی گرم کر کے ہی پیا کریں تو بلاشبہ کسی مرض حار میں گرفتار ہو جائیں گے سوچ کر دیکھ لو کہ ہم اپنے جسمانی تمدن میں کیسے گرم اور سرد اور نرم اور سخت اور حرکت اور سکون کی رعایت رکھتے ہیں اور کیسی یہ رعایت ہماری صحت بدنی کے لئے ضروری پڑی ہوئی ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 67
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 67
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/67/mode/1up
    67
    پس یہی قاعدہ صحت روحانی کے لئے برتنا چاہیے۔ خدا نے کسی بُری قوت کو ہمیں نہیں دیا۔ اور درحقیقت کوئی بھی قوت بری نہیں صرف اس کی بد استعمالی بُری ہے۔ مثلاً تم دیکھتے ہو کہ حسد نہایت ہی بری چیز ہے۔ لیکن اگر ہم اس قوت کو بُرے طور پر استعمال نہ کریں تو یہ صرف اس رشک کے رنگ میں آ جاتی ہے جس کو عربی میں غِبْطہ کہتے ہیں یعنی کسی کی اچھی حالت دیکھ کر خواہش کرنا کہ میری بھی اچھی حالت ہو جائے۔ اور یہ خصلت اخلاق فاضلہ میں سے ہے۔ اسی طرح تمام اخلاق ذمیمہ کا حال ہے کہ وہ ہماری ہی بداستعمالی یا افراط اور تفریط سے بدنما ہو جاتی ہیں اور موقعہ پر استعمال کرنے اور حدّ اعتدال پر لانے سے وہی اخلاق ذمیمہ اخلاق فاضلہ کہلاتے ہیں۔ پس یہ کس قدر غلطی ہے کہ انسانیت کے درخت کی تمام ضروری شاخیں کاٹ کر صرف ایک ہی شاخ صبر اور عفو پر زور دیا جائے۔ اسی وجہ سے یہ تعلیم چل نہیں سکی۔ اور آخر عیسائی سلاطین کو جرائم پیشہ کی سزا کے لئے قوانین اپنی طرف سے طیار کرنے پڑے۔ غرض انجیل موجودہ ہرگز نفوس انسانیہ کی تکمیل نہیں کر سکتی اور جس طرح آفتاب کے نکلنے سے ستارے مضمحل ہوتے جاتے ہیں یہاں تک کہ آنکھوں سے غائب ہو جاتے ہیں۔ یہی حالت انجیل کی قرآن شریف کے مقابل پر ہے۔ پس یہ بات نہایت قابل شرم ہے کہ یہ دعویٰ کیا جائے کہ انجیل کی تعلیم بھی ایک آسمانی نشان ہے!!!
    ہم نے یہ حصہ انجیلی تعلیم کا وہ لکھا ہے جو انسانی تہذیب کے متعلق ہے۔ مگر بقول عیسائیاں جو انجیل نے خداتعالیٰ کی نسبت اعتقاد سکھایا ہے وہ اور بھی انسان کوؔ اس سے متنفّر کرتا ہے۔ عیسائیوں کا عقیدہ جو انجیل پر تھا پا جاتا ہے یہ ہے کہ ’’اقنوم ثانی جو ابن اللہ کہلاتا ہے وہ قدیم سے اس بات کا خواہشمند تھا کہ کسی انسان کو بے گناہ پاکر اس سے ایسا تعلق پکڑے کہ وہی ہو جائے‘‘۔ سو ایسا انسان اس کو یسوع سے پہلے کوئی نہ ملا اور نوع انسان کا ایک لمبا سلسلہ جو یسوع سے پہلے چلا آتا تھا اس میں اس صفت کا آدمی کوئی نہ پایا گیا۔ آخر یسوع پیدا ہوا اور وہ اس صفت کا آدمی تھا۔ لہٰذا اقنوم ثانی نے اس سے تعلق عینیّت پیدا
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 68
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 68
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/68/mode/1up
    68
    کیا اور یسوع اور اقنوم ثانی ایک ہوگئے اور جسم ان کے لئے ایک لازمی صفت ٹھہری جو ابدالاباد تک کبھی منفک نہیں ہوگی اور اس طرح پر ایک جسمانی خدا بن گیا۔ یعنی یسوع اور دوسری طرف روح القدس بھی جسمانی طور پر ظاہر ہوا اور وہ کبوتر بن گیا۔ اب عیسائیوں کے نزدیک خدا سے مراد یہ کبوتر اور یہ انسان ہے جو یسوع کہلاتا تھا۔ اور جو کچھ ہیں یہی دونوں ہیں۔ اور باپ کا وجود بجز ان کے کچھ بھی جسمانی طور پر نہیں۔
    پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’توحید نجات کے لئے کافی نہیں تھی جب تک اقنوم ثانی مجسم ہوکر تولّد کی معمولی راہ سے پیدا نہ ہوتا۔ اور اقنوم ثانی کا مجسم ہونا کافی نہیں تھا جب تک اس پر موت نہ آتی اور موت کافی نہیں تھی جب تک اس مجسم اقنوم ثانی پر جو یسوع کہلاتا تھا تمام دنیا کی *** نہ ڈالی جاتی‘‘۔ پس تمام مدار عیسائیت کا ان کے خدا کی *** موت پر ہے۔ غرض ان کے نزدیک خدا کا وجود ان کے لئے ہرگز مفید نہیں جب تک یہ تمام مصیبتیں اور ذلتیں اس پر نہ پڑیں۔ پس ایسا خدا نہایت ہی قابل رحم ہے جس کو عیسائیوں کے لئے اس قدر مصیبتیں اٹھانی پڑیں۔
    وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’اقنوم ثانی کا تعلق جو حضرت یسوع سے اتحاد اور عینیّت کے طور سے تھا یہ پاک ہونے اور پاک رہنے کی شرط سے تھا اور اگر وہ گناہ سے پاک نہ ہوتا یا آئندہ پاک نہ رہ سکتا تو یہ تعلق بھی نہ رہتا‘‘۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ یہ تعلق کسبی ہے ذاتی نہیں ہے۔ اور اس قاعدہ کے رو سے فرض کر سکتے ہیں کہ ہر ایک شخص جو پاک رہے وہ بلا تامّل خدا بن سکتا ہے۔ اور یہ کہنا کہ ’’بجز یسوع کسی دوسرے شخص کا گناہ سے پاک رہنا ممتنع ہے‘‘۔ یہ دعویٰ بلا دلیل ہے اس لئے قابل تسلیم نہیں۔ عیسائی خود قائل ہیں کہؔ ملک صدق سالم بھی جو مسیح سے بہت عرصہ پہلے گذر چکا ہے گناہ سے پاک تھا۔ پس پہلا حق خدا بننے کا اس کو حاصل تھا۔ ایسا ہی عیسائی لوگ فرشتوں کا بھی کوئی گناہ ثابت نہیں کر سکتے پس وہ بھی بوجہ اولیٰ خدا بننے کے لئے استحقاق رکھتے ہیں۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 69
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 69
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/69/mode/1up
    69
    غرض جبکہ خدا بننے کا یہ قاعدہ ہے کہ کوئی بے گناہ ہو تو عقل تجویز کرتی ہے کہ جس طرح یسوع کے لئے یہ اتفاق پیش آگیا کہ بقول عیسائیاں وہ ایک مدت تک گناہ نہ کر سکا یہ اتفاق دوسرے کے لئے بھی ممکن ہے اور اگر ممکن نہیں تو کوئی دلیل اس بات پر قائم نہیں ہو سکتی کہ یسوع کے لئے کیوں ممکن ہوگیا اور دوسروں کے لئے کیوں غیر ممکن ہے۔ یسوع کی انسانیت کو من حیث الانسانیت اقنوم ثانی سے کچھ تعلق نہ تھا صرف اس اتفاق کے پیش آنے سے کہ وہ بقول عیسائیان ایک مدت تک گناہ سے بچ سکا اقنوم ثانی نے اس سے اتحاد کیا۔ سو اس اتحاد کی بنا ایک کسبی امر ہے جس میں ہر ایک کسب کنندہ کا اشتراک ہے۔ اور ایک گروہ عیسائیوں کا جس میں عبداللہ آتھم بھی داخل تھا یہ بھی کہتا ہے کہ اقنوم ثانی کا تیس برس تک یسوع سے ہرگز تعلق نہ تھا صرف کبوتر کے نزول کے وقت سے وہ تعلق شروع ہوا۔ اس سے ضروری طور پر یہ ماننا پڑتا ہے کہ یسوع تیس برس گنہگار اور مرتکب معاصی رہا کیونکہ اگر وہ اس عرصہ میں گناہ سے پاک ہوتا تو قاعدہ مذکورہ بالا کے رو سے لازم تھا کہ پہلے ہی اقنوم ثانی کا تعلق اتحادی اس سے ہو جاتا۔ اور اس جگہ ایک مخالف کہہ سکتا ہے کہ شاید یہی وجہ ہو کہ یسوع کی گذشتہ تیس سال کی زندگی کی نسبت کسی پادری صاحب نے تفصیل وار سوانح کے لکھنے کیلئے قلم نہیں اٹھائی کیونکہ ان حالات کو قابل ذکر نہیں سمجھا۔
    بہرحال یہ تمام دعوے ہی دعوے ہیں۔ ان تمام امور میں سے کسی امر کا ثبوت نہیں دیا گیا نہ کسی نے ثابت کر کے دکھلایا کہ یسوع نے ابتدائی عمر سے آخر تک کوئی گناہ نہیں کیا اور نہ کسی نے یہ ثابت کیا کہ اس بے گناہی کی وجہ سے وہ خدا بن گیا۔ تعجب کہ اس خاص طرز کی خدائی کے لئے جو دنیا کی کثرت رائے کے مخالف اور مشرکانہ طریقوں سے مشابہ تھی کچھ بھی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ اور ظاہر ہے کہ متفق علیہا عقیدہ دنیا میں یہی ہے کہ ؔ خدا موت اور تولّد اور بھوک اور پیاس اور نادانی اور عجز یعنی عدم قدرت اور تجسّم اور تحیّز سے پاک ہے مگر یسوع ان میں سے کسی بات سے بھی پاک نہ تھا۔ اگر یسوع میں خدا کی روح تھی تو وہ کیوں
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 70
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 70
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/70/mode/1up
    70
    کہتا ہے کہ ’’مجھے قیامت کی خبر نہیں‘‘۔ اور اگر اس کی روح میں جو بقول عیسائیاں اقنوم ثانی سے عینیّت رکھتی تھی خدائی پاکیزگی تھی تو وہ کیوں کہتا ہے کہ ’’مجھے نیک نہ کہو‘‘۔ اور اگر اس میں قدرت تھی تو کیوں اس کی تمام رات کی دعا قبول نہ ہوئی اور کیوں اس کا اس نامرادی کے کلمہ پر خاتمہ ہوا کہ اس نے ’’ایلی ایلی لما سبقتنی‘‘ کہتے ہوئے جان دی۔
    ایسا ہی ہم نے عیسائیوں کی یہ غلطی بھی ظاہر کر دی ہے کہ ان کا یہ خیال کہ بہشت صرف ایک امر روحانی ہوگا ٹھیک نہیں ہے۔* ہم ثابت کر چکے ہیں کہ انسان کی ایک ایسی فطرت ہے کہ اس کے روحانی قویٰ میں بوجہ اکمل و اتم صادر ہونے کے لئے ایک جسم کے محتاج ہیں۔ مثلاً ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ سر کے کسی حصہ پر چوٹ لگنے سے قوت حافظہ جاتی رہتی ہے اور کسی حصہ کے صدمہ سے قوت متفکّرہ رخصت ہوتی ہے۔ اور منبت اعصاب میں خلل پیدا ہونے سے بہت سے روحانی قویٰ میں خلل پیدا ہوجاتا ہے۔ پھر جبکہ روح کی یہ حالت ہے کہ وہ جسم کے ادنیٰ خلل سے اپنے کمال سے فی الفور نقصان کی طرف عود کرتی ہے تو ہم کس طرح امید رکھیں کہ جسم کی پوری پوری جدائی سے وہ اپنی حالت پر قائم رہ سکے گی۔ اس لئے اسلام میں یہ نہایت اعلیٰ درجہ کی فلاسفی ہے کہ ہر ایک کو قبر میں ہی ایسا جسم مل جاتا ہے کہ جو لذّات اور عذاب کے ادراک کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ ہم ٹھیک ٹھیک نہیں کہہ سکتے کہ وہ جسم کس مادہ سے طیّار ہوتا ہے کیونکہ یہ فانی جسم تو کالعدم ہو جاتا ہے اور نہ کوئی مشاہدہ کرتا ہے کہ درحقیقت یہی جسم قبر میں زندہ ہوتا ہے اس لئے کہ بسا اوقات یہ جسم جلایا بھی جاتا ہے اور عجائب گھروں میں لاشیں بھی رکھی جاتی ہیں اور مدتوں تک قبر سے باہر بھی رکھا جاتا ہے۔
    قرآن شریف کی تعلیم ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جیسا کہ یہ بات ٹھیک نہیں کہ بہشت کی لذّات صرف روحانی ہیں اور دنیوی جسمانی لذّات سے بالکل مخالف ہیں ایسا ہی یہ بھی درست نہیں کہ وہ لذّات دنیوی جسمانی لذّات سے بالکل مطابق ہے بلکہ عالم رؤ یا کی طرح صورت میں مشابہت ہے اور حقیقت میں مغایرت ہے۔ عالم رؤیا کے پھل اور عالم رؤیا کی خوبصورت عورتیں ظاہر صورت میں وہی لذّات بخشتی ہیں جو عالم جسمانی میں ہیں مگر عالم رؤیا کی حقیقت اور اس عالم جسمانی کی حقیقت اور ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 71
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 71
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/71/mode/1up
    71
    اگر یہی جسم زندہ ہو جایا کرتا تو البتہ لوگ اس کو دیکھتے مگر باایں ہمہ قرآن سے زندہ ہو جانا ثابت ہے لہٰذا یہ ماننا پڑتا ہے کہ کسی اور جسم کے ذریعہ سے جس کو ہم نہیں دیکھتے انسان کو زندہ کیا جاتا ہے اور غالباً وہ جسم اسی جسم کے لطائف جوہر سے بنتا ہے تب جسم ملنے کے بعد انسانی قویٰ بحال ہوتے ہیں اور یہ دوسرا جسم چونکہ پہلے جسمؔ کی نسبت نہایت لطیف ہوتا ہے اس لئے اس پر مکاشفات کا دروازہ نہایت وسیع طور پر کھلتا ہے اور معاد کی تمام حقیقتیں جیسی کہ وہ ہیں کَمَا ھِیَہی نظر آجاتی ہیں۔ تب خطا کرنے والوں کو علاوہ جسمانی عذاب کے ایک حسرت کا عذاب بھی ہوتا ہے۔ غرض یہ اصول متفق علیہ اسلام میں ہے کہ قبر کا عذاب یا آرام بھی جسم کے ذریعہ سے ہی ہوتا ہے اور اسی بات کو دلائل عقلیہ بھی چاہتے ہیں۔ کیونکہ متواتر تجربہ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ انسان کے روحانی قویٰ بغیر جسم کے جوڑ کے ہرگز ظہور پذیر نہیں ہوتے۔
    عیسائی اس بات کے تو قائل ہیں کہ قبر کا عذاب جسم کے ذریعہ سے ہوتا ہے مگر بہشتی آرام کے لئے جسم کو شریک نہیں کرتے۔ سو یہ سراسر ان کی غلطی ہے اور وہ غلط اور ناقص تعلیم جو انجیل کی طرف منسوب کی جاتی ہے وہی ان فاسد خیالات کی موجب ہوئی ہے۔ ظاہر ہے کہ دنیا میں انسان نیکی کرنے کے لئے دوہری مصیبت اٹھاتا ہے یعنی وہ اپنے روح اور جسم دونوں کو خداتعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے مشقت میں ڈالتا اور محنت سے ان دونوں سے کام لیتاہے ایسا ہی وہ بدی کرنے کے وقت بھی دوہری نافرمانی کرتا ہے یعنی یہ کہ وہ اپنی روح اور جسم دونوں کونافرمانی کی راہ میں لگاتا ہے اس لئے خداتعالیٰ کے عدل نے تقاضا کیا کہ اس عالم میں بھی دوہری راحت یا دوہرا رنج اس کو ملے اور روحانی جسمانی دونوں طور پر اپنے اعمال کا بدلہ پاوے۔ مگر افسوس کہ عیسائی دوزخ کے عذاب کے بارے میں تو اس عادلانہ اصول پر کاربند ہوئے لیکن بہشتی جزا کے بارے میں اس اصول کو بھلا دیا گویا ان کے نزدیک خداتعالیٰ کو عذاب دینا زیادہ پیارا ہے کہ عذاب تو روح اور جسم دونوں کو دیا
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 72
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 72
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/72/mode/1up
    72
    مگر جب آرام دینے کا وقت آیا تو صرف روح کو آرام دیا۔ میں سوچتا ہوں کہ کیونکر یہ لوگ ایسی ایسی فاش غلطیوں پر خوش ہو جاتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ قرآن میں صرف جسمانی بہشت کا ذکر ہے۔ ان لوگوں کو تعصب نے دیوانہ کر دیا۔ قرآن تو بہشتیوں کے لئے جابجا روحانی لذات کا ذکر کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ 3۔۱؂ یعنی قیامت کو وہ منہ تروتازہ ہوں گے جو اپنے رب کو دیکھتے ہوں گے۔ کیا یہ جسمانی لذات کا ذکر ہے یا روحانی کا افسوس کہ ان لوگوں کے کیسے دل سخت ہوگئے اور کیونکر انہوں نے سچائی اور انصاف اور حقؔ پسندی کو اپنے ہاتھ سے پھینک دیا۔ اے نادانو! اور شریعتِ حقہ کے اسرار سے بے خبرو! کیا ضرور نہ تھا کہ خدا قیامت کے دن انسان کی دنیوی زندگی کے دونوں سلسلہ جسمانی اور روحانی کی رعایت کر کے اس کو جزا اور سزا دیتا؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ انسان اس مسافر خانہ میں آکر دونوں طور پر اعمال بجالاتا اور اپنے تئیں دونوں قسم کی مشقت میں ڈالتا ہے۔ ماسوا اس کے دنیا کی تمام الہامی کتابوں میں کم و بیش یہ مضمون پایا جاتا ہے کہ بہشت اور دوزخ میں جسمانی طور پر بھی لذّات اور عقوبات ہوں گی۔ چنانچہ خود مسیح نے بھی کئی جگہ انجیل میں اس طرف اشارہ کیا ہے۔ پھر تعجب ہے کہ حضرات پادری صاحبان کیوں بہشت کی جسمانی لذّات سے منکر ہیں جب کہ باقرار عیسائیاں بہشتیوں کو جسم ملے گا جو ادراک اور شعور رکھتا ہوگا تو پھر وہ جسم دو حال سے خالی نہیں ہو سکتا۔ یا راحت میں ہوگا یا عقوبت میں۔ پس بہرحال جسمانی راحت اور عذاب دونوں کو ماننا پڑا۔
    ہم نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ عیسائیوں کا یہ عقیدہ کہ خداتعالیٰ کا عدل بغیر کفارہ کے کیونکر پورا ہو بالکل مہمل ہے۔ کیونکہ ان کا یہ اعتقاد ہے کہ یسوع باعتبار اپنی انسانیت کے بے گناہ تھا۔ مگر پھر بھی ان کے خدا نے یسوع پر ناحق تمام جہان کی *** ڈال کر اپنے عدل کا کچھ بھی لحاظ نہ کیا۔ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کے خدا کو عدل کی کچھ بھی پرواہ نہیں۔ یہ خوب انتظام ہے کہ جس بات سے گریز تھا اسی کو بہ اقبح طریق اختیار کرلیا گیا۔ واویلا تو یہ تھا کہ کسی
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 73
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 73
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/73/mode/1up
    73
    طرح عدل میں فرق نہ آوے اور رحم بھی وقوع میں آجائے۔ مگر ایک بے گناہ کے گلے پر ناحق چھری پھیر کر نہ عدل قائم رہ سکا اور نہ رحم۔
    لیکن یہ وسوسہ کہ عدل اور رحم دونوں خداتعالیٰ کی ذات میں جمع نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ عدل کا تقاضا ہے کہ سزا دی جائے اور رحم کا تقاضا ہے کہ درگذر کی جائے۔ یہ ایک ایسا دھوکہ ہے کہ جس میں قلّتِ تدبّر سے کوتہ اندیش عیسائی گرفتار ہیں۔ وہ غور نہیں کرتے کہ خداتعالیٰ کا عدل بھی تو ایک رحم ہے۔ وجہ یہ کہ وہ سراسر انسانوں کے فائدہ کے لئے ہے۔ مثلاً اگر خداتعالیٰ ایک خونی کی نسبت باعتبار اپنے عدل کے حکم فرماتا ہے کہ وہ مارا جائے تو اس سے اس کی الوہیت کو کچھ ؔ فائدہ نہیں۔ بلکہ اس لئے چاہتا ہے کہ تا نوع انسان ایک دوسرے کو مار کر نابود نہ ہوجائیں۔ سو یہ نوع انسان کے حق میں رحم ہے اور یہ تمام حقوق عباد خداتعالیٰ نے اسی لئے قائم کئے ہیں کہ تا امن قائم رہے اور ایک گروہ دوسرے گروہ پر ظلم کر کے دنیا میں فساد نہ ڈالیں۔ سو وہ تمام حقوق اور سزائیں جو مال اور جان اور آبرو کے متعلق ہیں درحقیقت نوع انسان کے لئے ایک رحم ہے۔ انجیل میں کہیں نہیں لکھا کہ یسوع کے کفّارہ سے چوری کرنا۔ بیگانہ مال دبا لینا۔ ڈاکہ مارنا۔ خون کرنا۔ جھوٹی گواہی دینا سب جائز اور حلال ہو جاتے ہیں اور سزائیں معاف ہو جاتی ہیں بلکہ ہر ایک جرم کے لئے سزا ہے اسی لئے یسوع نے کہا کہ ’’اگر تیری آنکھ گناہ کرے تو اسے نکال ڈال کیونکہ کانا ہو کر زندگی بسر کرنا جہنم میں پڑنے سے تیرے لئے بہتر ہے‘‘۔ پس جبکہ حقوق کے تلف کرنے پر سزائیں مقرر ہیں جن کو مسیح کا کفّارہ دور نہیں کرسکا تو کفّارہ نے کن سزاؤں سے نجات بخشی۔ پس حقیقت یہ ہے کہ خداتعالیٰ کا عدل بجائے خود ہے اور رحم بجائے خود ہے۔ جو لوگ اچھے کام کر کے اپنے تئیں رحم کے لائق بناتے ہیں ان پر رحم ہو جاتا ہے۔ اور جو لوگ مار کھانے کے کام کرتے ہیں ان کو مار پڑتی ہے۔ پس عدل اور رحم میں کوئی جھگڑا نہیں گویا وہ د۲و نہریں ہیں جو اپنی اپنی جگہ پر چل رہی ہیں۔ ایک نہر دوسرے کی ہرگز مزاحم نہیں ہے۔ دنیا
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 74
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 74
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/74/mode/1up
    74
    کی سلطنتوں میں بھی یہی دیکھتے ہیں کہ جرائم پیشہ کو سزا ملتی ہے لیکن جو لوگ اچھے کاموں سے گورنمنٹ کو خوش کرتے ہیں وہ مورد انعام و اکرام ہو جاتے ہیں۔
    یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ خداتعالیٰ کی اصل صفت رحم ہے اور عدل عقل اور قانون عطا کرنے کے بعد پیدا ہوتاہے اور حقیقت میں وہ بھی ایک رحم ہے جو اور رنگ میں ظاہر ہوتا ہے۔ جب کسی انسان کو عقل عطا ہوتی ہے اور بذریعہ عقل وہ خدا تعالیٰ کے حدود اور قوانین سے واقف ہوتا ہے تب اس حالت میں وہ عدل کے مواخذہ کے نیچے آتا ہے لیکن رحم کے لئے عقل اور قانون کی شرط نہیں۔ اور چونکہ خداتعالیٰ نے رحم کر کے انسانوں کو سب سے زیادہ فضیلت دینی چاہی اس لئے اس نے انسانوں کے لئے عدل کے قواعد اور حدود مرتّب کئے سو عدل اور رحم میں تناقض سمجھنا جہالت ہے۔
    ایکؔ اعتراض جو میں نے پادریوں کے اصول پر کیا تھا یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ’’انسان اور تمام حیوانات کی موت آدم کے گناہ کا پھل ہے‘‘۔ حالانکہ یہ خیال دو طور سے صحیح نہیں ہے اول یہ کہ کوئی محقق اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ آدم کے وجود سے پہلے بھی ایک مخلوقات دنیا میں رہ چکی ہے اور وہ مرتے بھی تھے اور اُس وقت نہ آدم موجود تھا اور نہ آدم کا گناہ پس یہ موت کیونکر پیدا ہوگئی۔ دوسرے یہ کہ اس میں شک نہیں کہ آدم بہشت میں بغیر ایک منع کئے ہوئے پھل کے اور سب چیزیں کھاتا تھا پس کچھ شک نہیں ہو سکتا کہ وہ گوشت بھی کھاتا ہوگا- اس صورت میں بھی آدم کے گناہ سے پہلے حیوانات کی موت ثابت ہوتی ہے۔ اور اگر اس سے بھی درگذر کریں تو کیا ہم دوسرے امر سے بھی انکار کر سکتے ہیں کہ آدم بہشت میں ضرور پانی پیتا تھا کیونکہ کھانا اور پینا ہمیشہ سے ایک دوسرے سے لازم پڑے ہوئے ہیں۔ اور طبعی تحقیقات سے ثابت ہے کہ ہر ایک قطرہ میں کئی ہزار کیڑے ہوتے ہیں پس کچھ شک نہیں کہ آدم کے گناہ سے پہلے کروڑ ہا کیڑے مرتے تھے۔ پس اس سے بہرحال ماننا پڑتا ہے کہ موت گناہ کا پھل نہیں۔ اور یہ امر عیسائیوں کے اصول کو باطل کرتا ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 75
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 75
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/75/mode/1up
    75
    ایک اور اعتراض میں نے اپنی کتابوں میں کیا تھا جو پادریوں کی انجیلوں متی وغیرہ پر وارد ہوتا ہے۔ جس کے جواب سے پادری صاحبان عاجز ہیں اور وہ یہ ہے کہ ان کی انجیلیں اس وجہ سے بھی قابل اعتبار نہیں کہ ان میں جھوٹ سے بہت کام لیا گیا ہے۔ جیساکہ لکھا ہے کہ یسوع نے اتنے کام کئے ہیں کہ اگر وہ لکھے جاتے تو وہ کتابیں دنیا میں سما نہ سکتیں۔ پس سوچو کہ یہ کس قدر جھوٹ ہے کہ جو کام تین برس کے زمانہ میں سما گئے اور مدت قلیلہ میں محدود ہوگئے کیا وجہ کہ وہ کتابوں میں سما نہ سکتے۔ پھر ان ہی انجیلوں میں یسوع کا قول لکھا ہے کہ ’’مجھے سر رکھنے کی جگہ نہیں‘‘۔ حالانکہ ان ہی کتابوں سے ثابت ہے کہ یسوع کی ماں کا ایک گھر تھا جس میں وہ رہتا تھا۔ اور سر رکھنے کے کیا معنے گذارہ کے موافق اس کے لئے مکان موجود تھا۔ اور پھر انجیلوں سے یہ بھی ثابت ہے کہ یسوع ایک مالدار آدمی تھا ہر وقت روپیہ کی تھیلی ساتھ رہتی تھی جس میں قیاس کیا جاتا ہے کہ دو دو تین تین ہزار روپیہ تک یسوع کے پاس جمع رہتا تھا۔ اور یسوع کے اس خزانہ کا یہودا اسکریوطی خزانچی تھاوہ نالائق اس روپیہ میں سے کچھ چورا بھی لیاؔ کرتا تھا۔ اور انجیلوں سے یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ یسوع نے اس روپیہ میں سے کبھی کچھ لِلّٰہ بھی دیا۔ پس کیا وجہ کہ باوجود اس قدر روپیہ کے جس سے ایک امیرانہ مکان بن سکتا تھا پھر یسوع کہتا تھا کہ ’’مجھے سر رکھنے کی جگہ نہیں۔ پھر تیسر۳اجھوٹ انجیلوں میں یہ ہے کہ مثلاً متی اپنی کتاب کے تیسرے باب میں لکھتا ہے کہ گویا پہلی کتابوں میں یہ لکھا ہوا تھا کہ وہ یعنی یسوع ناصری کہلائے گا حالانکہ نبیوں کی کتابوں میں کہیں اس بات کا ذکر نہیں۔ پھر چو۴تھا جھوٹ یہ ہے کہ وہ ایک پیشگوئی کو خواہ نخواہ یسوع پر جمانے کے لئے ناصرہ کے معنے شاخ کرتا ہے۔ حالانکہ عبرانی میں ناصرہ سرسبز اور خوش منظر مکان کو کہتے ہیں نہ کہ شاخ کو۔ اسی لفظ کو عربی میں ناضرہ کہتے ہیں۔ ایسے ہی اور بہت جھوٹ ہیں جو خدا کی کلام میں ہرگز نہیں ہو سکتے۔* یہ ایک ایساامر تھا
    *نوٹ:۔ متی نے اپنی انجیل کے باب پانچ میں ایک نہایت مکروہ جھوٹ بولا ہے یعنی یہ کہ گویا پہلی کتابوں میں یہ حکم لکھا ہوا تھا کہ اپنے پڑوسی سے محبت کر اور اپنے دشمن سے نفرت۔ حالانکہ یہ حکم کسی پہلی کتاب میں موجود نہیں۔ اور پھر دوسرا جھوٹ یہ کہ اس قول کو یسوع کی طرف نسبت کیا ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 76
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 76
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/76/mode/1up
    76
    جو عیسائیوں کیلئے غور کرنے کے لائق تھا۔ کیا ایسی کتابیں قابل اعتماد ہیں جن میں اس قدر جھوٹ ہیں؟!!
    ایک اور اعتراض متی وغیرہ انجیلوں پر ہے جو ہم نے بار بار پیش کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ان تحریرات کا الہامی ہونا ہرگز ثابت نہیں۔ کیونکہ ان کے لکھنے والوں نے کسی جگہ یہ دعویٰ نہیں کیا کہ یہ کتابیں الہام سے لکھی گئی ہیں۔ بلکہ بعض نے ان میں سے صاف اقرار بھی کر دیا ہے کہ یہ کتابیں محض انسانی تالیف ہیں۔ سچ ہے کہ قرآن شریف میں انجیل کے نام پر ایک کتاب حضرت عیسیٰ پر نازل ہونے کی تصدیق ہے مگر قرآن شریف میں ہرگز یہ نہیں ہے کہ کوئی الہام متی یا یوحنا وغیرہ کو بھی ہوا ہے۔ اور وہ الہام انجیل کہلاتا ہے۔ اس لئے مسلمان لوگ کسی طرح ان کتابوں کو خداتعالیٰ کی کتابیں تسلیم نہیں کر سکتے۔ ان ہی انجیلوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح خداتعالیٰ سے الہام پاتے تھے اور اپنے الہامات کا نام انجیل رکھتے تھے۔ پس عیسائیوں پر لازم ہے کہ وہ انجیل پیش کریں تعجب کہ یہ لوگ اس کا نام بھی نہیں لیتے۔ پس وجہ یہی ہے کہ اس کو یہ لوگ کھو بیٹھے ہیں۔
    منجملہ ہمارے اعتراضات کے ایک یہ اعتراض بھی تھا کہ عیسائی اپنے اصول کے موافق اعمال صالحہ کو کچھ چیز نہیں سمجھتے اور ان کی نظر میں یسوع کا کفارہ نجات پانے کے لئے ایکؔ کافی تدبیر ہے لیکن علاوہ اس بات کے کہ ہم ثابت کر چکے ہیں کہ یسوع کا کفارہ نہ تو عیسائیوں کو بدی سے بچا سکا اور نہ یہ بات صحیح ہے کہ کفارہ کی وجہ سے ہر ایک بدی ان کو حلال ہوگئی۔ ایک اور امر منصفوں کے لئے قابل غور ہے اور وہ یہ کہ عقلی تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ نیک کام بلاشبہ اپنے اندر ایک ایسی تاثیر رکھتے ہیں جو نیکوکار کو وہ تاثیر نجات کا پھل بخشتی ہے کیونکہ عیسائیوں کو بھی اس بات کا اقرار ہے کہ بدی اپنے اندر ایک ایسی تاثیر رکھتی ہے کہ اس کا مرتکب ہمیشہ کے جہنم میں جاتا ہے۔ تو اس صورت میں قانون قدرت کے اس پہلو پر نظر ڈال کر یہ دوسرا پہلو بھی ماننا پڑتا ہے کہ علٰی ہٰذا القیاس نیکی بھی اپنے اندر ایک تاثیر رکھتی ہے کہ اس کا بجالانے والا وارث نجات بن سکتا ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 77
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 77
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/77/mode/1up
    77
    اور منجملہ ہمارے اعتراضات کے ایک یہ اعتراض بھی تھا کہ جس فدیہ کو عیسائی پیش کرتے ہیں وہ خدا کے قدیم قانون قدرت کے بالکل مخالف ہے کیونکہ قانون قدرت میں کوئی اس بات کی نظیر نہیں کہ ادنیٰ کے بچانے کے لئے اعلیٰ کو مارا جائے۔ ہمارے سامنے خدا کا قانون قدرت ہے اس پر نظر ڈالنے سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمیشہ ادنیٰ اعلیٰ کی حفاظت کے لئے مارے جاتے ہیں۔ چنانچہ جس قدر دنیا میں جانور ہیں یہاں تک کہ پانی کے کیڑے وہ سب انسان کے بچانے کے لئے جو اشرف المخلوقات ہے کام میں آ رہے ہیں۔ پھر یسوع کے خون کا فدیہ کس قدر اس قانون کے مخالف ہے جو صاف صاف نظر آرہا ہے اور ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ جو زیادہ قابل قدر اور پیارا ہے اسی کے بچانے کے لئے ادنیٰ کو اس اعلیٰ پر قربان کیا جاتا ہے۔ چنانچہ خداتعالیٰ نے انسان کی جان بچانے کے لئے کروڑ ہا حیوانوں کو بطور فدیہ کے دیا ہے۔ اور ہم تمام انسان بھی فطرتاً ایسا ہی کرنے کی طرف راغب ہیں تو پھر خود سوچ لو کہ عیسائیوں کا فدیہ خدا کے قانون قدرت سے کس قدر دور پڑا ہوا ہے۔
    ایک اور اعتراض ہے جو ہم نے کیا تھا اور وہ یہ ہے کہ یسوع کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ وہ موروثی اور کسبی گناہ سے پاک ہے۔ حالانکہ یہ صریح غلط ہے۔ عیسائی خود مانتے ہیں کہ یسوع نے اپنا تمام گوشت و پوست اپنی والدہ سے پایا تھا اور وہ گناہ سے پاک نہ تھی۔ اور نیز عیسائیوں کا یہ بھی اقرار ہے کہ ہر ایک درد اور دکھ گناہ کا پھل ہے اور کچھ شک نہیں ؔ کہ یسوع بھوکا بھی ہوتا تھا اور پیاسا بھی اور بچپن میں قانون قدرت کے موافق خسرہ بھی اس کو نکلا ہوگا اور چیچک بھی اور دانتوں کے نکلنے کے دکھ بھی اٹھائے ہوں گے اور موسموں کے تپوں میں بھی گرفتار ہوتا ہوگا اور بموجب اصول عیسائیوں کے یہ سب گناہ کے پھل ہیں۔ پھر کیونکر اس کو پاک فدیہ سمجھا گیا۔ علاوہ اس کے جبکہ روح القدس کا تعلق صرف اسی حالت میں بموجب اصول عیسائیوں کے ہو سکتا تھا کہ جب کوئی شخص ہر ایک طرح سے گناہ سے پاک ہو تو پھر یسوع جو بقول ان کے موروثی گناہ سے پاک نہیں تھا اور نہ گناہوں کے پھل سے بچ سکا اس
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 78
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 78
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/78/mode/1up
    78
    سے کیونکر روح القدس نے تعلق کرلیا۔ بظاہر اس سے زیادہ تر ملک صدق سالم کا حق تھا کیونکہ بقول عیسائیوں کے وہ ہر طرح کے گناہ سے پاک تھا۔
    اور عیسائیوں کے اصول پر ایک ہمارا یہ اعتراض تھا کہ وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ نجات کا اصل ذریعہ گناہوں سے پاک ہونا ہے اور پھر باوجود تسلیم اس بات کے گناہوں سے پاک ہونے کا حقیقی طریقہ بیان نہیں کرتے بلکہ ایک قابل شرم بناوٹ کو پیش کرتے ہیں جس کو گناہوں سے پاک ہونے کے ساتھ کوئی حقیقی رشتہ نہیں۔ یہ بات نہایت صاف اور ظاہر ہے کہ چونکہ انسان خدا کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس لئے اس کا تمام آرام اور ساری خوشحالی صرف اسی میں ہے کہ وہ سارا خدا کا ہی ہو جائے۔ اور حقیقی راحت کبھی ظاہر نہیں ہو سکتی جب تک انسان اس حقیقی رشتہ کو جو اس کو خدا سے ہے مکمن قوت سے حیّز فعل میں نہ لاوے۔ لیکن جب انسان خدا سے منہ پھیرلیوے تو اس کی مثال ایسی ہو جاتی ہے جیسا کہ کوئی شخص ان کھڑکیوں کو بند کر دیوے جو آفتاب کی طرف تھیں اور کچھ شک نہیں کہ ان کے بند کرنے کے ساتھ ہی ساری کوٹھڑی میں اندھیرا پھیل جائے گا۔ اور وہ روشنی جو محض آفتاب سے ملتی ہے یک لخت دورہوکر ظلمت پیدا ہو جائے گی۔ اور وہی ظلمت ہے جو ضلالت اور جہنم سے تعبیر کی جاتی ہے۔ کیونکہ دکھوں کی وہی جڑ ہے اور اس ظلمت کا دور ہونا اور اس جہنم سے نجات پانا اگر قانون قدرت کے طریق پر تلاش کی جائے تو کسی کے مصلوب کرنے کی حاجت نہیں بلکہ وہی کھڑکیاں کھول دینی چاہئیں جو ظلمت کی باعث ہوئی تھیں۔ کیا کوئی یقین کر سکتا ہے کہ ہم درحالیکہ نور پانے کی کھڑکیوں کے بند رکھنے پر اصرار کریں کسی روشنی کو پا سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں سو ؔ گناہ کا معاف ہونا کوئی قصہ کہانی نہیں جس کا ظہور کسی آئندہ زندگی پر موقوف ہو۔ اور یہ بھی نہیں کہ یہ امور محض بے حقیقت اور مجازی گورنمنٹوں کی نافرمانیوں اور قصور بخشی کے رنگ میں ہیں بلکہ اس وقت انسان کو مجرم یا گنہگار کہا جاتا ہے کہ جب وہ خدا سے اعراض کر کے اس روشنی کے مقابلہ سے پرے ہٹ جاتا اور اس چمک سے اِدھر اُدھر ہو جاتا ہے جو خدا سے اُترتی اور دلوں پر نازل
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 79
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 79
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/79/mode/1up
    79
    ہوتی ہے۔ اس حالت موجودہ کا نام خدا کی کلام میں جُنَاح ہے جس کو پارسیوں نے مبدّل کر کے گُناہ بنا لیا ہے اور جنح جو اس کا مصدر ہے اس کے معنے ہیں مَیل کرنا اور اصل مرکز سے ہٹ جانا۔ پس اس کا نام جُنَاح یعنی گناہ اس لئے ہوا کہ انسان اعراض کر کے اس مقام کو چھوڑ دیتا ہے جو الٰہی روشنی پڑنے کا مقام ہے اور اس خاص مقام سے دوسری طرف میل کر کے ان نوروں سے اپنے تئیں دور ڈالتا ہے جو اس سمت مقابل میں حاصل ہو سکتے ہیں۔ ایسا ہی جُرم کا لفظ جس کے معنے بھی گناہ ہیں جَرم سے مشتق ہے اور جَرم عربی زبان میں کاٹنے کو کہتے ہیں پس جُرم کا نام اس لئے جَرمہوا کہ جرم کا مرتکب اپنے تمام تعلقات خدا تعالیٰ سے کاٹتا ہے اور باعتبار مفہوم کے جُرم کا لفظ جُناح کے لفظ سے سخت تر ہے کیونکہ جناح صرف میل کا نام ہے جس میں کسی طرح کا ظلم ہو مگر جرم کا لفظ کسی گناہ پر اس وقت صادق آئے گا کہ جب ایک شخص عمداً خدا کے قانون کو توڑ کر اور اس کے تعلقات کی پرواہ نہ رکھ کر کسی ناکردنی امر کا دیدہ و دانستہ ارتکاب کرتا ہے۔
    اب جبکہ حقیقی پاکیزگی کی حقیقت یہ ہوئی جو ہم نے بیان کی ہے تو اب اس جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ گم شدہ انوار جن کو انسان تاریکی سے محبت کر کے کھو بیٹھتا ہے کیا وہ صرف کسی شخص کو مصلوب ماننے سے مل سکتے ہیں؟ سو جواب یہ ہے کہ یہ خیال بالکل غلط اور فاسد ہے بلکہ اصل حقیقت یہی ہے کہ ان نوروں کے حاصل کرنے کے لئے قدیم سے قانون قدرت یہی ہے جو ہم ان کھڑکیوں کو کھول دیں جو اس آفتاب حقیقی کے سامنے ہیں تب وہ کرنیں اور شعاعیں جو بند کرنے سے گم ہوگئی تھیں یک دفعہ پھر پیدا ہو جائیں گی۔ دیکھو خدا کا جسمانی قانون قدرت بھی یہی گواہی دے رہا ہے۔ اور کسی ظلمت کوؔ ہم دور نہیں کر سکتے جب تک ایسی کھڑکیاں نہ کھول دیں جن سے سیدھی شعاعیں ہمارے گھر میں پڑ سکتی ہیں سو اس میں کچھ شک نہیں کہ عقل سلیم کے نزدیک یہی صحیح ہے جو ان کھڑکیوں کو کھولا جائے تب ہم نہ صرف نور کو پائیں گے بلکہ اس مبدء انوار کو بھی دیکھ لیں گے۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 80
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 80
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/80/mode/1up
    80
    غرض گناہ اور غفلت کی تاریکی دور کرنے کے لئے نور کا پانا ضروری ہے۔ اسی کی طرف اللہ جلّ شانہٗ اشارہ فرماتا ہے 3
    3۔۱؂ یعنی جوشخص اس جہان میں اندھا ہو وہ اس دوسرے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا بلکہ اندھوں سے بدتر۔ یعنی خدا کے دیکھنے کی آنکھیں اور اس کے دریافت کرنے کے حواس اسی جہان سے ملتے ہیں جس کو اس جہان میں نہیں ملے اس کو دوسرے جہاں میں بھی نہیں ملیں گے۔ راستباز جو قیامت کے دن خدا کو دیکھیں گے وہ اسی جگہ سے دیکھنے والے حواس ساتھ لے جائیں گے۔ اور جو شخص اس جگہ خدا کی آواز نہیں سنے گا وہ اس جگہ بھی نہیں سنے گا۔ خدا کو جیسا کہ خدا ہے بغیر کسی غلطی کے پہچاننا اور اسی عالم میں سچے اور صحیح طور پر اس کی ذات اور صفات کی معرفت حاصل کرنا یہی تمام روشنی کا مبدء ہے۔ اسی مقام سے ظاہر ہے کہ جن لوگوں کا یہ مذہب ہے کہ خدا پر بھی موت اور دکھ اور مصیبت اور جہالت وارد ہو جاتی ہے اور وہ بھی ملعون ہوکر سچی پاکیزگی اور رحمت اور علوم حقہ سے محروم ہو جاتا ہے ایسے لوگ گمراہی کے گڑھے میں پڑے ہوئے ہیں اور سچے علوم اور حقیقی معارف جو درحقیقت مدار نجات ہیں ان سے وہ لوگ درحقیقت بے خبر ہیں۔ نجات کا مفت ملنا اور اعمال کو غیر ضروری ٹھہرانا جو عیسائیوں کا خیال ہے یہ ان کی سراسر غلطی ہے۔ ان کے فرضی خدا نے بھی چالیس روزے رکھے تھے اور موسیٰ نے کوہِ سینا پر روزے رکھے۔ پس اگر اعمال کچھ چیز نہیں ہیں تو یہ دونوں بزرگ اس بے ہودہ کام میں کیوں پڑے۔ جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ خداتعالیٰ بدی سے سخت بیزار ہے تو ہمیں اس سے سمجھ آتا ہے کہ وہ نیکی کرنے سے نہایت درجہ خوش ہوتا ہے پس اس صورت میں نیکی بدی کا کفارہ ٹھہرتی ہے۔ اور جب ایک انسان بدی کرنے کے بعد ایسی نیکی بجا لایا جس سے خداتعالیٰ خوش ہوا تو ضرور ہے کہ پہلی بات موقوف ہو کر دوسریؔ بات قائم ہو جائے ورنہ خلاف عدل ہوگا۔ اسی کے مطابق اللہ جلّ شانہٗ قرآن شریف میں فرماتا ہے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 81
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 81
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/81/mode/1up
    81
    ۱3؂ یعنی نیکیاں بدیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ بدی میں ایک زہریلی خاصیت ہے کہ وہ ہلاکت تک پہنچاتی ہے۔ اسی طرح ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ نیکی میں ایک تریاقی خاصیت ہے کہ وہ موت سے بچاتی ہے۔ مثلاً گھر کے تمام دروازوں کو بند کر دینا یہ ایک بدی ہے جس کی لازمی تاثیر یہ ہے کہ اندھیرا ہو جائے۔ پھر اس کے مقابل پر یہ ہے کہ گھر کا دروازہ جو آفتاب کی طرف ہے کھولا جائے اور یہ ایک نیکی ہے جس کی لازمی خاصیت یہ ہے کہ گھر کے اندر گم شدہ روشنی واپس آجائے۔ یا ہم بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ عذاب ایک سَلبی چیز ہے کیونکہ راحت کی نفی کا نام عذاب ہے اور نجات ایک ایجابی چیز ہے یعنی راحت اور خوشحالی کے دوبارہ حاصل ہوجانے کا نام نجات ہے۔ پس جیسا کہ ظلمت عدم وجود روشنی کا نام ہے ایسا ہی عذاب عدم وجود خوشحالی کا نام ہے۔ مثلاً بیماری اس حالت کا نام ہے کہ جب حالت بدن مجری طبیعت پر نہ رہے اور صحت اس حالت کا نام ہے کہ جب امور طبعیہ اپنی اصلی حالات کی طرف عود کریں۔ سو جب انسان کی روحانی حالت مجری طبیعی سے اِدھر اُدھر کھسک جائے اسی اختلال کا نام عذاب ہے۔ اور جیسا کہ دیکھا جاتا ہے کہ جب کوئی عضو مثلاً ہاتھ یا پیر اپنے محل سے اتر جائے تو اسی وقت درد شروع ہو جاتا ہے اور وہ عضو اپنی خدمات مفوضہ کو بجا نہیں لا سکتا۔ اور اگر اسی حالت پر چھوڑا جائے تو رفتہ رفتہ بے کار یا متعفن ہو کر گر جاتا ہے اور بسا اوقات اس کی ہمسائیگی سے دوسرے اعضا کے بگڑنے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔ اور یہ درد جو اس عضو میں پیدا ہوتا ہے یہ باہر سے نہیں آتا بلکہ فطرتاً اس کی اس خراب حالت کو لازم پڑا ہوا ہے ایسا ہی عذاب کی حالت ہے کہ جب فطرتی دین سے انسان الگ ہو جائے اور حالت استقامت سے گر جائے تو عذاب شروع ہو جاتا ہے۔ گو ایک جاہل جو غفلت کی بے ہوشی میں پڑا ہوا ہے اس عذاب کا احساس نہ کرے۔ اور ایسی حالت میں ایسا بگڑا ہوا نفس روحانی خدمات کے لائق نہیں رہتا اور اگر اسی حالت میں ایک مدت تک رہے تو بالکل بیکار ہو جاتا ہے۔ اور اس کی ہمسائیگی
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 82
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 82
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/82/mode/1up
    82
    دوسرؔ وں کو بھی معرض خطر میں ڈالتی ہے اور وہ عذاب جو اس پر وارد ہوتا ہے باہر سے نہیں آتا بلکہ وہی حالت اس کی اس عذاب کو پیدا کرتی ہے۔ بے شک عذاب خدا کا فعل ہے مگر اس طرح کا مثلاً جبکہ ایک انسان سَمّ الفار کو وزن کافی تک کھالے تو خداتعالیٰ اس کو مار دیتا ہے یا مثلاً جب ایک انسان اپنی کوٹھڑی کے تمام دروازے بند کر دے تو خداتعالیٰ اس گھر میں اندھیرا پیدا کر دیتا ہے۔ یا اگر مثلاً ایک انسان اپنی زبان کو کاٹ ڈالے تو خداتعالیٰ قوت گویائی اس سے چھین لیتا ہے۔ یہ سب خدا تعالیٰ کے فعل ہیں جو انسان کے فعل کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔ ایسا ہی عذاب دینا خداتعالیٰ کا فعل ہے جو انسان کے اپنے ہی فعل سے پیدا ہوتا اور اُسی میں جوش مارتا ہے۔ اسی کی طرف اللہ جلّ شانہٗ اشارہ فرماتا ہے 3 ۱؂ یعنی خدا کا عذاب ایک عذاب ہے جس کو خدا بھڑکاتا ہے اور پہلا شعلہ اس کا انسان کے اپنے دل پر سے ہی اٹھتا ہے۔ یعنی جڑ اس کی انسان کا اپنا ہی دل ہے اور دل کے ناپاک خیالات اس جہنم کے ہیزم ہیں۔ پس جبکہ عذاب کا اصل تخم اپنے وجود کی ہی ناپاکی ہے جو عذاب کی صورت پر متمثل ہوتی ہے تو اس سے ماننا پڑتا ہے کہ وہ چیز جو اس عذاب کو دور کرتی ہے وہ راستبازی اور پاکیزگی ہے۔ اور ہم ابھی لکھ چکے ہیں کہ عذاب ایک سلبی چیز ہے کیونکہ راحت اور آرام ایک طبعی امر ہے اور اس کے زوال کا نام عذاب ہے اور قانون قدرت گواہی دیتا ہے کہ ہمیشہ امر سلبی امر ایجابی کے پیدا ہونے سے دور ہو جاتا ہے۔ مثلاً کوٹھڑی کے دروازے بند کرنے سے جو ایک تاریکی پیدا ہوتی ہے یہ ایک امر سلبی ہے اور اس کا پہلا اور سیدھا علاج یہ ہے کہ آفتاب کی سمت کے دروازے کھول دئیے جائیں اور دروازہ کھولنا ایک ایجابی امر ہے۔
    غرض اس جگہ حقیقی نجات کے حاصل کرنے کے لئے کسی تیسری شے کی حاجت نہیں پڑتی۔ مثلاً ایک بند کوٹھڑی کا اندھیرا دور کرنے کے لئے اسی قدر کافی ہے کہ اس کے دروازے کھول دئیے جائیں۔ اسی لئے قرآن شریف نے فرمایا ہے کہ خدا کی توحید پر علمی اور عملی طور پر قائم ہونے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 83
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 83
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/83/mode/1up
    83
    والے سب نجات پائیں گے۔ ہاں یہ بھی فرمایا ہے کہ وہ کامل توحید جو مدار نجات ہے جس میں کوئی شرک کی تاریکی نہیں اور جو ہر ایک نقصان سے خالی ہے وہ صرف قرآنؔ میں پائی جاتی ہے۔ اس لئے التزاماً یہ بھی لازم آیا کہ ہم اس توحید کو قرآن اور نبی آخر الزمان کے ذریعہ سے ڈھونڈیں۔ کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ وہ دوسری جگہ نہیں ملتی۔ اب اس جگہ ہر ایک دانشمند سمجھ جائے گا کہ گناہ اور معافی گناہ کی فلاسفی کیا ہے۔ مگر افسوس کہ عیسائیوں کے خیال میں جما ہوا ہے کہ عذابِ الٰہی اس انسان کے عذاب کی مانند ہے جو کسی اپنے خدمتگار کو اس کی نافرمانی کی حرکات سے چڑ کر اور نہایت تنگ آکر مارتا ہے۔ پس گویا وہ اس تنگدل آقا کی مانند ہے جس نے اپنے نفس پر فرض کر رکھا ہے کہ کبھی قصور سے درگذر نہ کرے جب تک ایک قصوروار کے عوض میں دوسرے کو ذبح نہ کرلیوے۔
    منجملہ میرے اعتراضات کے ایک یہ بھی تھا کہ یہ دعویٰ پادریوں کا سراسر غلط ہے کہ ’’قرآن توحید اور احکام میں نئی چیز کونسی لایا جو توریت میں نہ تھی‘‘۔ بظاہر ایک نادان توریت کو دیکھ کر دھوکہ میں پڑے گا کہ توریت میں توحید بھی موجود ہے اور احکام عبادت اور حقوق عباد کا بھی ذکر ہے۔ پھر کونسی نئی چیز ہے جو قرآن کے ذریعہ سے بیان کی گئی۔ مگر یہ دھوکہ اسی کو لگے گا جس نے کلام الٰہی میں کبھی تدبر نہیں کیا۔ واضح ہو کہ الٰہیات کا بہت سا حصہ ایسا ہے کہ توریت میں اس کا نام و نشان نہیں۔ چنانچہ توریت میں توحید کے باریک مراتب کا کہیں ذکر نہیں۔ قرآن ہم پر ظاہر فرماتا ہے کہ توحید صرف اس بات کا نام نہیں کہ ہم بتوں اور انسانوں اور حیوانوں اور عناصر اور اجرام فلکی اور شیاطین کی پرستش سے باز رہیں بلکہ توحید تین ۳ درجہ پر منقسم ہے درجہ اوّل عوام کے لئے یعنی ان کے لئے جو خداتعالیٰ کے غضب سے نجات پانا چاہتے ہیں۔ دوسرا درجہ خواص کے لئے یعنی ان کے لئے جو عوام کی نسبت زیادہ تر قرب الٰہی کے ساتھ خصوصیت پیدا کرنی چاہتے ہیں۔ اور تیسرا درجہ خواص الخواص کیلئے جو قرب کے کمال تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ اوّل مرتبہ توحید کا تو یہی ہے کہ غیر اللہ کی پرستش نہ کی جائے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 84
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 84
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/84/mode/1up
    84
    اور ہر ایک چیز جو محدود اور مخلوق معلوم ہوتی ہے خواہ زمین پر ہے خواہ آسمان پر اس کی پرستش سے کنارہ کیا جائے۔ دوسرا مرتبہ توحید کا یہ ہے کہ اپنے اور دوسروں کے تمام کاروبار میں مؤثرِ حقیقی خداتعالیٰ کو سمجھا جائے اور اسباب پر اتنا زور نہ دیا جائے جس سے وہ خداتعالیٰ کے شریک ٹھہرجائیں۔ مثلاً یہ کہنا کہ زید نہ ہوتا تو میرا یہ نقصان ہوتا اور بکر نہ ہوتا تو میں تباہ ہو ؔ جاتا۔ اگر یہ کلمات اس نیت سے کہے جائیں کہ جس سے حقیقی طور پر زید و بکر کو کچھ چیز سمجھا جائے تو یہ بھی شرک ہے۔ تیسری قسم توحید کی یہ ہے کہ خداتعالیٰ کی محبت میں اپنے نفس کے اغراض کو بھی درمیان سے اٹھانا اور اپنے وجود کو اس کی عظمت میں محو کرنا۔ یہ توحید توریت میں کہاں ہے۔ ایسا ہی توریت میں بہشت اور دوزخ کا کچھ ذکر نہیں پایا جاتا۔ اور شاید کہیں کہیں اشارات ہوں۔ ایسا ہی توریت میں خداتعالیٰ کی صفات کاملہ کا کہیں پورے طور پر ذکر نہیں۔ اگر توریت میں کوئی ایسی سورۃ ہوتی جیسا کہ قرآن شریف میں 33 ۱؂ ہے تو شاید عیسائی اس مخلوق پرستی کی بلا سے رک جاتے۔ ایسا ہی توریت نے حقوق کے مدارج کو پورے طور پر بیان نہیں کیا۔ لیکن قرآن نے اس تعلیم کو بھی کمال تک پہنچایا ہے۔ مثلاً وہ فرماتا ہے 33۲؂ یعنی خدا حکم کرتا ہے کہ تم عدل کرو اور اس سے بڑھ کر یہ کہ تم احسان کرو اور اس سے بڑھ کر یہ کہ تم لوگوں کی ایسے طور سے خدمت کرو کہ جیسے کوئی قرابت کے جوش سے خدمت کرتا ہے۔ یعنی بنی نوع سے تمہاری ہمدردی جوش طبعی سے ہو کوئی ارادہ احسان رکھنے کا نہ ہو جیسا کہ ماں اپنے بچہ سے ہمدردی رکھتی ہے۔ ایسا ہی توریت میں خدا کی ہستی اور اس کی واحدانیت اور اس کی صفات کاملہ کو دلائل عقلیہ سے ثابت کر کے نہیں دکھلایا۔ لیکن قرآن شریف نے ان تمام عقائد اور نیز ضرورت الہام اور نبوت کو دلائل عقلیہ سے ثابت کیا ہے اورہر ایک بحث کو فلسفہ کے رنگ میں بیان کر کے حق کے طالبوں پر اس کا سمجھنا آسان کر دیا ہے۔ اور یہ تمام دلائل ایسے کمال سے قرآن شریف
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 85
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 85
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/85/mode/1up
    85
    میں پائے جاتے ہیں کہ کسی کی مقدور میں نہیں کہ مثلاً ہستی باری پر کوئی ایسی دلیل پیدا کر سکے کہ جو قرآن شریف میں موجود نہ ہو۔
    ماسوا اس کے قرآن شریف کے وجود کی ضرورت پر ایک اور بڑی دلیل یہ ہے کہ پہلی تمام کتابیں موسیٰ کی کتاب توریت سے انجیل تک ایک خاص قوم یعنی بنی اسرائیل کو اپنا مخاطب ٹھہراتی ہیں۔ اور صاف اور صریح لفظوں میں کہتی ہیں کہ ان کی ہدایتیں عام فائدہؔ کے لئے نہیں بلکہ صرف بنی اسرائیل کے وجود تک محدود ہیں۔ مگر قرآن شریف کا مدنظر تمام دنیا کی اصلاح ہے اور اس کی مخاطب کوئی خاص قوم نہیں بلکہ کھلے کھلے طور پر بیان فرماتا ہے کہ وہ تمام انسانوں کے لئے نازل ہوا ہے اور ہر ایک کی اصلاح اس کا مقصود ہے سو بلحاظ مخاطبین کے توریت کی تعلیم اور قرآن کی تعلیم میں بڑا فرق ہے۔ مثلاً توریت کہتی ہے کہ خون مت کر اور قرآن بھی کہتا ہے کہ خون مت کر اور بظاہر قرآن میں اسی حکم کا اعادہ معلوم ہوتا ہے جو توریت میں آ چکا ہے۔ مگر دراصل اعادہ نہیں بلکہ توریت کا یہ حکم صرف بنی اسرائیل سے تعلق رکھتا ہے اور صرف بنی اسرائیل کو خون سے منع فرماتا ہے دوسرے سے توریت کو کچھ غرض نہیں۔ لیکن قرآن شریف کا یہ حکم تمام دنیا سے تعلق رکھتا ہے اور تمام نوع انسان کو ناحق کی خون ریزی سے منع فرماتا ہے۔ اسی طرح تمام احکام میں قرآن شریف کی اصل غرض عامہ خلائق کی اصلاح ہے اور توریت کی غرض صرف بنی اسرائیل تک محدودہے۔
    میں نے انجیلوں پر ایک یہ بھی اعتراض کیا تھا کہ ان میں جس قدر معجزات لکھے گئے ہیں جن سے خواہ نخواہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خدائی ثابت کی جاتی ہے وہ معجزات ہرگز ثابت نہیں ہیں۔ کیونکہ انجیل نویسوں کی نبوت جو مدار ثبوت تھی ثابت نہیں ہو سکی اور نہ انہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا اور نہ کوئی معجزہ دکھلایا۔ باقی رہا یہ کہ انہوں نے بحیثیت ایک وقائع نویس کے معجزات کو لکھا ہو۔ سو وقائع نویسی کے شرائط بھی ان میں متحقق نہیں کیونکہ وقائع نویس کے لئے ضروری ہے کہ وہ دروغ گو نہ ہو اور دوسرے یہ کہ اس کے حافظہ میں خلل نہ ہو اور تیسرے یہ کہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 86
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 86
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/86/mode/1up
    86
    وہ عمیق الفکر ہو اور سطحی خیال کا آدمی نہ ہو اور چوتھے یہ کہ وہ محقق ہو اور سطحی باتوں پر کفایت کرنے والا نہ ہو اور پانچویں یہ کہ جو کچھ لکھے چشم دید لکھے محض رطب یابس کو پیش کرنے والا نہ ہو۔ مگر انجیل نویسوں میں ان شرطوں میں سے کوئی شرط موجود نہ تھی۔ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ انہوں نے اپنی انجیلوں میں عمداً جھوٹ بولا ہے۔ چنانچہ ناصرہ کے معنے الٹے کئے اور عمانوایل کی پیشگوئی کو خواہ نخواہ مسیح پر جمایا اور انجیل میں لکھا کہ اگر یسوع کے تمام کام لکھے جاتے تو وہ کتابیں دنیا میں سما نہ سکتیں‘‘۔ اور حافظہ کا یہ حال ہے کہ پہلی کتابوں کے بعض حوالوں میں غلطیؔ کھائی اور بہت سی بے اصل باتوں کو لکھ کر ثابت کیا کہ ان کو عقل اور فکر اور تحقیق سے کام لینے کی عادت نہ تھی بلکہ بعض جگہ ان انجیلوں میں نہایت قابل شرم جھوٹ ہے۔ جیسا کہ متی باب ۵ میں یسوع کا یہ قول ہے کہ ’’تم سن چکے ہو کہ اپنے پڑوسی سے محبت کر اور اپنے دشمن سے نفرت کر،، حالانکہ پہلی کتابوں میں یہ عبارت موجود نہیں۔ ایسا ہی ان کا یہ لکھنا کہ تمام مُردے بیت المقدس کی قبروں سے نکل کر شہر میں آگئے تھے۔ یہ کس قدر بے ہودہ بات ہے اور کسی معجزہ کے لکھنے کے وقت کسی انجیل نویس نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ اس کا چشم دید ماجرا ہے۔ پس ثابت ہوتا ہے کہ وقائع نویسی کے شرائط ان میں موجود نہ تھے اور ان کا بیان ہرگز اس لائق نہیں کہ کچھ بھی اس کا اعتبار کیا جائے۔ اور باوجود اس بے اعتباری کے جس بات کی طرف وہ بلاتے ہیں وہ نہایت ذلیل خیال اور قابل شرم عقیدہ ہے۔ کیا یہ بات عندالعقل قبول کرنے کے لائق ہے کہ ایک عاجز مخلوق جو تمام لوازم انسانیت کے اپنے اندر رکھتا ہے خدا کہلاوے؟ کیا عقل اس بات کو مان سکتی ہے کہ مخلوق اپنے خالق کو کوڑے مارے اور خدا کے بندے اپنے قادر خدا کے مُنہ پر تھوکیں اور اس کو پکڑیں اور اس کو سولی دیں اور وہ خدا ہوکر ان کے مقابلہ سے عاجز ہو؟ کیا یہ بات کسی کو سمجھ آ سکتی ہے کہ ایک شخص خدا کہلا کر تمام رات دعا کرے اور پھر اس کی دعا قبول نہ ہو؟ کیا کوئی دل اس بات پر اطمینان پکڑ سکتا ہے کہ خدا بھی عاجز بچوں کی طرح نو مہینے تک پیٹ میں رہے اور
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 87
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 87
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/87/mode/1up
    87
    خون حیض کھاوے اور آخر چیختا ہوا عورتوں کی شرم گاہ سے پیدا ہو؟ کیا کوئی عقلمند اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ خدا بے شمار اور بے ابتدا زمانہ کے بعد مجسّم ہو جائے اور ایک ٹکڑہ اس کا انسان کی صورت بنے اور دوسرا کبوتر کی اور یہ جسم ہمیشہ کے لئے ان کے گلے کا ہار ہو جائے۔
    ایک اور اعتراض تھا جو ہم نے عیسائیوں کی موجودہ انجیلوں پر کیا تھا۔ جس کی وجہ سے پادری صاحبوں کو بہت شرمندگی اٹھانی پڑی اور وہ یہ ہے کہ انجیل انسان کی تمام قوتوں کی مربی نہیں ہو سکتی اور جو کچھ اس میں کسی قدر اخلاقی حصہ موجود ہے وہ بھی دراصل توریت کا انتخاب ہے۔ اس پر بعض عیسائیوں نے یہ اعتراض اٹھایا تھا کہ ’’خدا کی کتاب کے مناسب حال صرفؔ اخلاقی حصہ ہوتا ہے اور سزا جزا کے قوانین خدا کی کتاب کے مناسب حال نہیں کیونکہ جرائم کی سزائیں حالات متبدّلہ کی مصلحت کے رو سے ہونی چاہئیں اور وہ حالات غیر محدود ہیں اس لئے ان کے لئے صرف ایک* ہی قانون سزا ہونا ٹھیک نہیں ہے ہر ایک سزا جیسا کہ وقت تقاضا کرے اور مجرموں کی تنبیہ اور سرزنش کے لئے مفید پڑ سکے دینی چاہیے۔ لہٰذا ہمیشہ ایک ہی رنگ میں ان کا ہونا اصلاح خلائق کے لئے مفید نہیں ہوگا اور اس طرح پر قوانین دیوانی اور فوجداری اور مال گذاری کو محدود کر دینا اُس بد نتیجہ کا موجب ہوگا کہ جو ایسی نئی صورتوں کے وقت میں پیدا ہو سکتا ہے جو ان قوانین محدودہ سے باہر ہوں۔ مثلاً ایک ایسی جدید طرز کے امور تجارت پر مخالفانہ اثر کرے جو ایسے عام رواج پر مبنی ہوں جن سے اس گورنمنٹ میں کسی طرح گریز نہ ہو سکے۔ اور یا کسی اور طرز کے جدید معاملات پر مؤثر ہو اور یا کسی اور تمدّنی حالت پر اثر رکھتا ہو۔ اور یا بدمعاشوں کے ایسے حالات راسخہ پر غیر مفید ثابت ہو جو ایک قسم کی سزا کی عادت پکڑ گئے ہوں یا اس سزا کے لائق نہ رہے ہوں‘‘۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ خیالات ان لوگوں کے ہیں جنہوں نے کبھی تدبّر سے خدا کی کلام قرآن شریف کو نہیں پڑھا۔ اب میں حق کے طالبوں کو سمجھاتا ہوں کہ قرآن شریف میں ایسے احکام جو دیوانی اور فوجداری اور مال کے متعلق ہیں دو قسم
    نوٹ* اس قسم کا اعتراض مارک بے اور دوسرے انگریزی مقنّنوں نے قرآن کریم پر کیا ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 88
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 88
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/88/mode/1up
    88
    کے ہیں۔ ایک وہ جن میں سزا یا طریق انصاف کی تفصیل ہے۔ دوسرے وہ جن میں ان امور کو صرف قواعد کلیہ کے طور پر لکھا ہے اور کسی خاص طریق کی تعیین نہیں کی۔ اور وہ احکام اس غرض سے ہیں کہ تا اگر کوئی نئی صورت پیدا ہو تو مجتہد کو کام آویں۔ مثلاً قرآن شریف میں ایک جگہ تو یہ ہے کہ دانت کے بدلے دانت اور آنکھ کے بدلے آنکھ۔ یہ تو تفصیل ہے۔ اور دوسری جگہ یہ اجمالی عبارت ہے کہ 3۔۱؂ پس جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتاہے کہ یہ اجمالی عبارت توسیع قانون کے لئے بیان فرمائی گئی ہے۔ کیونکہ بعض صورتیں ایسی ہیں کہ ان میں یہ قانون جاری نہیں ہو سکتا۔ مثلاً ایک ایسا شخص کسی کا دانت توڑے کہ اس کے منہ میں دانت نہیں اور بباعث کبر سنی یا کسی اور سبب سے اس کے دانت نکل گئے ہیں تو دندان شکنی کی سزا میں ہم اس کا دانت توڑ نہیں سکتے۔ کیونکہ ؔ اس کے تو مُنہ میں دانت ہی نہیں۔ ایسا ہی اگر ایک اندھا کسی کی آنکھ پھوڑ دے تو ہم اس کی آنکھ نہیں پھوڑ سکتے کیونکہ اس کی تو آنکھیں ہی نہیں۔ خلاصہ مطلب یہ کہ قرآن شریف نے ایسی صورتوں کو احکام میں داخل کرنے کے لئے اس قسم کے قواعد کلیہ بیان فرمائے ہیں پس اس کے احکام اور قوانین پر کیونکر اعتراض ہو سکے۔ اور اس نے صرف یہی نہیں کہا بلکہ ایسے قواعد کلیہ بیان فرما کر ہر ایک کو اجتہاد اور استخراج اور استنباط کی ترغیب دی ہے۔ مگر افسوس کہ یہ ترغیب اور طرز تعلیم توریت میں نہیں پائی جاتی اور انجیل تو اس کامل تعلیم سے بالکل محروم ہے اور انجیل میں صرف چند اخلاق بیان کئے ہیں اور وہ بھی کسی ضابطہ اور قانون کے سلسلہ میں منسلک نہیں ہیں۔
    اور یاد رہے کہ عیسائیوں کا یہ بیان کہ انجیل نے قوانین کی باتوں کو انسانوں کی سمجھ پر چھوڑ دیا ہے جائے فخر نہیں بلکہ جائے انفعال اور ندامت ہے۔ کیونکہ ہر ایک امر جو قانون کلی اور قواعد مرتبہ منتظمہ کے رنگ میں بیان نہ کیا جائے وہ امر گو کیسا ہی اپنے مفہوم کے رو سے نیک ہو بد استعمالی کے رو سے نہایت بد اور مکروہ ہو جاتا ہے۔ اور ہم کئی دفعہ لکھ چکے ہیں کہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 89
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 89
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/89/mode/1up
    89
    انجیل میں کسی قدر اخلاقی تعلیم ہے تو سہی جو توریت اور طالمود سے لی گئی ہے مگر بہت بے ٹھکانہ اور بے سروپا ہے۔ اور کاش اگر وہ کسی قانون کے نیچے منتظم ہوتی تو کیسی کارآمد ہو سکتی مگر اب تو حکیمانہ نظر میں نہایت مکروہ چیز ہے۔ اور یہ سارا نقصان قانون کے چھوڑنے سے ہے جو انتظام اور ترتیب قواعد کے استعمال سے مراد ہے۔ یہ خیال ایک سخت نادانی ہے کہ دین صرف چند بے سروپا باتوں کا نام ہے جو انجیل میں درج ہیں۔ بلکہ وہ تمام امور جو تکمیل انسانیت کے لئے ضروری ہیں دین میں داخل ہیں۔ جو باتیں انسان کو وحشیانہ حالت سے پھیر کر حقیقی انسانیت سکھلاتی یا عام انسانیت سے ترقی دے کر حکیمانہ زندگی کی طرف منتقل کرتی ہیں اور یا حکیمانہ زندگی سے ترقی دے کر فنا فی اللہ کی حالت تک پہنچاتی ہیں انہیں باتوں کا نام دوسرے لفظوں میں دین ہے۔
    ایک اعتراض میں نے انجیلوں پر یہ کیا تھا کہ انجیلوں میں صرف اسی قسم کے جھوٹ جو یسوع کے اس حصہ عمر کے متعلق ہیں جن میں اس نے اپنے تئیں ظاہر کیا۔ بلکہ یسوع کی پہلی زندگی کی نسبت بھی انجیلوں کے لکھنے والوں نے عمداً جھوٹ بولا ہے اور اس کے ان واقعات کو ظاہر کرنا انہوں نے مصلحت نہیں سمجھا جو اس کی اس زندگی کے متعلق ہیں جو اس کے دعوے سے پہلے گذر چکی تھی۔ حالانکہ ایسا شخص جس نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا اس کی اس عمر کا وہ پہلا اور بڑا حصہ بھی بیان کرنے کے لائق تھا جس میں قریباً کل عمر اس کی کھپ چکی تھی اور صرف بقول عیسائیان تین برس اس کی عمر سے باقی رہ گئے تھے تا دیکھا جاتا کہ اُس تیس برس کی عمر میں کس طرح کے چال چلن سے اس نے زندگی بسر کی اور کس طور سے خدا کا معاملہ اس سے رہا اور کس کس قسم کے عجائبات اس سے ظہور میں آئے۔ مگر افسوس کہ انجیل نویسوں نے اس حصہ کا نام بھی نہ لیا۔ ہاں لوقا باب اول میں اس قدر لکھا ہے کہ ’’فرشتہ نے مریم پر ظاہر ہو کر اس کو بیٹے کی خوشخبری دی اور کہا کہ اس کا نام عیسیٰ رکھنا‘‘۔ لیکن یہ قصہ لوقا کی خود تراشیدہ بات معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر یہ قصہ صحیح ہوتا تو پھر مریم اس کی ماں جس کو فرشتہ نظر آیا تھا اور اُس کے بھائی جو
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 90
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 90
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/90/mode/1up
    91
    اُس فرشتہ سے خوب اطلاع رکھتے تھے کیوں اُس پر ایمان نہ لائے۔ اور یہ انکار اس حد تک کیوں پہنچ گیا کہ یسوع نے خود اپنے بھائیوں کے بھائی ہونے سے انکار کیا۔ اور ماں سے بھی انکار کیا۔
    میں نے یہ بھی اعتراض کیا تھا کہ یوحنا باب ۲ آیت ۲۰ میں ہے کہ یہودیوں کو مسیح نے کہا تھا کہ ہیکل چھیالیس برس میں بنائی گئی ہے۔ مگر یہودیوں کی کتابوں میں بتواتر یہ درج ہے کہ صرف آٹھ۸ برس تک ہیکل طیّار ہوگئی تھی۔ چنانچہ اب تک وہ کتابیں موجود ہیں۔ پس یہ بات بالکل جھوٹ ہے کہ یہودیوں نے مسیح کو ایسا کہا تھا۔ اور خود یہ بات قرین قیاس بھی نہیں کہ ایسی مختصر عمارت جس کے بنانے کے لئے نہایت سے نہایت چند سال کافی تھے وہ چھیالیس برس تک بنتی رہی ہو۔ سو ایسے ایسے جھوٹ انجیلوں میں ہیں جن کی وجہ سے ان کے مضامین قابل تمسک نہیں۔ مثلاً دیکھو کہ انجیل یوحنا باب ۱۴، آیت ۳۴ میں لکھا ہے کہ میں تمہیں ایک نیا حکم دیتا ہوں کہ تم ایک دوسرے سے محبت رکھو۔ حالانکہ یہ نیا حکم نہیں۔ کیونکہ احبار کی کتاب باب ۱۹ آیت ۱۸ میں یہی حکم لکھا ہے پھر وہ نیا کیونکر ہوگیا۔ تعجب کہ یہی انجیلیں ہیں جن کی نسبت بیان کیا گیا ہے کہ وہ پایۂ اعتبار کے روؔ سے احادیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ جن کتابوں میں ایسے قابل شرم جھوٹ ہیں ان کو اسلام کی کتب احادیث سے کیا نسبت ہے۔ ریلینڈ صاحب اپنی کتاب اکاؤنٹ آف محمدنزم میں لکھتے ہیں کہ ’’محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے معجزات نہایت مشہور عالم پرہیزگار اور دانا محمدی فاضلوں نے اپنی بیشمار کتابوں میں درج کئے ہیں اور یہ فاضل ایسے تھے کہ کسی بات کو بغیر سخت امتحان اور بے انتہا جانچ پڑتال کے نہیں لیتے تھے اسی لئے ان کی روایات اس قابل نہیں کہ ان میں شک کیا جائے۔ تمام ملک عرب میں وہ مشہور ہیں۔ اور وہ واقعات عام طور پر باپ سے بیٹے کو اور ایک پُشت سے دوسری پُشت کو پہنچے ہیں۔ اسلام کی ہر ایک قسم کی کتابیں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے معجزات پر گواہی دیتی ہیں۔ پھر اگر اتنے بڑے اور دانا فاضلوں کی سند کو تسلیم نہ کیا جائے تو پھر معجزات کے واسطے اور
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 91
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 91
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/91/mode/1up
    91
    کیا ثبوت ہو سکتا ہے کیونکہ ایسی باتوں کے ثبوت کے لئے جو کہ ہمارے زمانہ سے پہلے یا ہماری نظروں سے دور واقع ہوئی ہیں صرف سندیں ذریعہ ہیں۔ اور اگر ان سندوں کا انکار کیا جائے تو تمام تاریخی حالات قابل شک ہو جاتے ہیں۔ اور پھر ایک اور دلیل اس بات پر کہ یہ معجزات واقعی طور پر سچے تھے یہ ہے کہ ایسے لوگوں پر نبی اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) نے نہایت سخت *** کی ہے کہ جو جھوٹے طور پر آپ کی طرف معجزات منسوب کریں بلکہ صاف طور پر کہا ہے کہ جو میرے پر جھوٹ بولے اس کی سزا جہنم ہے۔ پس یہ کیونکر ہو سکتا تھا کہ ایسی سخت ممانعت کے بعد اس قدر جھوٹے معجزات بنائے جاتے‘‘۔ پھر وہی مؤلّف لکھتا ہے کہ ’’سچ تو یہ ہے کہ جس قدر معزز گواہیاں اور سندیں نبی اسلام کے لئے پیش کی جا سکتی ہیں ایک عیسائی کی قدرت نہیں کہ ایسی گواہیاں یسوع کے معجزات کے ثبوت میں عہد جدید سے پیش کر سکے۔ اور اس سے زیادہ یا اس سے بہتر سندیں لاسکے‘‘۔ غرض فاضل عیسائی نے کسی قدر انصاف سے کام لے کر یہ تحریر کیا ہے مگر پھر بھی اسلام کے فضائل اور اُس کی سچائی کے ثبوت بیان کرنے کے لئے اسی قدر نہیں ہے جو بیان کیا گیا کیونکہ قرآن شریف نے باوجود اس کے کہ اس کے عقائد کو دل مانتے ہیں اور ہر ایک پاک کانشنس قبول کرتا ہے پھر بھی ایسے معجزات پیش نہیں کئے کہ کسی آئندہ صدی کےؔ لئے قصوں اور کہانیوں کے رنگ میں ہو جائیں بلکہ ان عقائد پر بہت سے عقلی دلائل بھی قائم کئے اور قرآن میں وہ انواع و اقسام کی خوبیاں جمع کیں کہ وہ انسانی طاقتوں سے بڑھ کر معجزہ کی حد تک پہنچ گیا۔ اور ہمیشہ کے لئے بشارت دی کہ اس دین کی کامل طور پر پیروی کرنے والے ہمیشہ آسمانی نشان پاتے رہیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور ہم یقینی اور قطعی طور پر ہر ایک طالب حق کو ثبوت دے سکتے ہیں کہ ہمارے سیّد و مولا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے آج تک ہر ایک صدی میں ایسے باخدا لوگ ہوتے رہے ہیں جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ غیر قوموں کو آسمانی نشان دکھلا کر ان کو ہدایت دیتا رہا ہے۔ جیسا کہ سیّد عبدالقادر جیلانی
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 92
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 92
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/92/mode/1up
    92
    اور ابوالحسن خرقانی۔ اور ابویزید بسطامی اور جنید بغدادی اور محی الدین ابن العربی۔ اور ذوالنون مصری اور معین الدین چشتی اجمیری اور قطب الدین بختیار کاکی۔ اور فرید الدین پاک پٹنی۔ اور نظام الدین دہلوی۔ اور شاہ ولی اللہ دہلوی۔ اور شیخ احمد سرہندی رضی اللّٰہ عنہم و رضوا عنہ اسلام میں گذرے ہیں۔ اور ان لوگوں کا ہزار ہا تک عدد پہنچا ہے۔ اور اس قدر ان لوگوں کے خوارق علماء و فضلاء کی کتابوں میں منقول ہیں کہ ایک متعصب کو باوجود سخت تعصب کے آخر ماننا پڑتا ہے کہ یہ لوگ صاحب خوارق و کرامات تھے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ میں نے نہایت صحیح تحقیقات سے دریافت کیا ہے کہ جہاں تک بنی آدم کے سلسلہ کا پتہ لگتا ہے سب پر غور کرنے سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ جس قدر اسلام میں اسلام کی تائید میں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کی گواہی میں آسمانی نشان بذریعہ اس امت کے اولیاء کے ظاہر ہوئے اور ہو رہے ہیں ان کی نظیر دوسرے مذاہب میں ہرگز نہیں۔ اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس کی ترقی آسمانی نشانوں کے ذریعہ سے ہمیشہ ہوتی رہی ہے اور اس کے بے شمار انوار اور برکات نے خداتعالیٰ کو قریب کر کے دکھلادیا ہے۔ یقیناً سمجھو کہ اسلام اپنے آسمانی نشانوں کی وجہ سے کسی زمانہ کے آگے شرمندہ نہیں۔ اسی اپنے زمانہ کو دیکھو جس میں اگر تم چاہو تو اسلام کیلئے رؤیت کی گواہی دے سکتے ہو۔ تم سچ سچ کہو کہ کیا اس زمانہ میں تم نے اسلام کے نشان نہیں دیکھے؟ پھر بتلاؤ کہ دنیا میں اور کونسا مذہب ہے کہ یہ گواہیاں نقد موجود رکھتا ہے؟ یہی ؔ باتیں تو ہیں جن سے پادری صاحبوں کی کمر ٹوٹ گئی۔ جس شخص کو وہ خدا بناتے ہیں اس کی تائید میں بجز چند بے سروپا قصوں اور جھوٹی روایتوں کے ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں۔ اور جس پاک نبی کی وہ تکذیب کرتے ہیں اس کی سچائی کے نشان اس زمانہ میں بھی بارش کی طرح برس رہے ہیں۔ ڈھونڈنے والوں کے لئے اب بھی نشانوں کے دروازے کھلے ہیں جیسا کہ پہلے کھلے تھے۔ اور سچائی کے بھوکوں کے لئے اب بھی خوان نعمت موجود ہے جیسا کہ پہلے تھا۔ زندہ مذہب وہی ہوتا ہے جس پر ہمیشہ کے لئے زندہ خدا کا ہاتھ ہو سو وہ اسلام ہے۔ قرآن
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 93
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 93
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/93/mode/1up
    93
    میں دو نہریں اب تک موجود ہیں ایک دلائل عقلیہ کی نہر دوسری آسمانی نشانوں کی نہر۔ لیکن عیسائیوں کی انجیل دونوں سے بے نصیب اور خشک رہی ہے۔
    کے پرستد بندہ راجز آنکہ نادانے بود
    پس بگرید بر رہ شاں ہر کہ گریانے بود
    آں خداوندے کہ نامش ہست بر ہر برگ ثبت
    ہر کہ جوید آں خدا را او مسلمانے بود
    میں نے یہ اعتراض بھی کیا تھا کہ پادری صاحبان کا ایک بڑا محقق شملر نام کہتا ہے کہ یوحنا کی انجیل کے سوا باقی تینوں انجیلیں جعلی ہیں۔ اور مشہور فاضل ڈاڈویل اپنی تحقیقات کے بعد لکھتا ہے کہ دوسری صدی کے وسط تک ان موجودہ چار انجیلوں کا کوئی نشان دنیا میں نہ تھا۔ سیمرل کہتا ہے کہ موجودہ عہد نامہ یعنی انجیلیں نیک نیتی کے بہانہ سے مکّاری کے ساتھ دوسری صدی کے آخر میں لکھی گئیں۔ اور ایک پادری ایولسن نام انگلستان کا رہنے والا کہتا ہے کہ متی کی یونانی انجیل دوسری صدی مسیحی میں ایک ایسے آدمی نے لکھی تھی جو یہودی نہ تھا۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس میں بہت سی غلطیاں اس ملک کے جغرافیہ کی بابت اور یہودیوں کی رسومات کی بابت ہیں۔ عیسائیوں کے محقق اس بات کے بھی مقرّ ہیں کہ ایک عیسائی اپنے مذہب کے رو سے انسانی سوسائٹی میں نہیں رہ سکتا اور نہ تجارت کر سکتا ہے کیونکہ انجیل میں امیر بننے اور کَل کی فکر کرنے سے منع کیا گیا ہے ایسا ہی کوئی سچا عیسائی فوج میں بھی داخل نہیں ہو سکتا کیونکہ دشمن کے ساتھ محبت کرنے کا حکم ہے۔ ایسا ہی اگر کامل عیسائی ہے تو اس کو شادی کرنا بھی منع ہے۔ ان تمام باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انجیل ایک مختص الزمان اور مختص القوم قانون کی طرح تھی جس کو حضرات عیسائیوںؔ نے عام ٹھہرا کر صدہا اعتراض اس پر وارد کرالئے۔ بہتر ہوتا کہ وہ کبھی اس بات کا نام نہ لیتے کہ انجیل کی تعلیم میں کسی قسم کا کمال ہے۔ ان کے اس بے جا دعوے سے بہت سی خفت اور سُبکی ان کو اٹھانی پڑی ہے۔
    ایک اور بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ عیسائی لوگ لفظ الوہیم سے جو اِلٰہکی جمع ہے اور کتاب پیدائش تورات میں موجود ہے یہ نکالنا چاہتے ہیں کہ گویا یہ تثلیث کی طرف
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 94
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 94
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/94/mode/1up
    94
    اشارہ ہے۔ مگر اس سے اور بھی ان کی نادانی ثابت ہوتی ہے کیونکہ عبرانی لغت سے ثابت ہے کہ گو الوہیم کا لفظ بظاہر جمع ہے مگر ہر ایک جگہ واحد کے معنے دیتا ہے۔ بات یہ ہے کہ زبان عربی اور عبرانی میں یہ محاورہ شائع ہے کہ بعض وقت لفظ واحد ہوتا ہے اور معنے جمع کے دیتا ہے جیسا کہ سامر اور دجّال کا لفظ اور بعض وقت ایک لفظ جمع کے صیغہ پر ہوتا ہے اور معنے واحد کے دیتا ہے اور عبرانی جاننے والے خوب جانتے ہیں کہ یہ لفظ الوہیم بھی ان ہی الفاظ میں سے ہے جو جمع کی صورت میں ہیں اور دراصل واحد کے معنے رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ لفظ توریت میں جس جگہ آیا ہے ان ہی معنوں کے لحاظ سے آیا ہے۔ اور یہ دعویٰ بالکل غلط ہے کہ وہ ہمیشہ خداتعالیٰ کے لئے مخصوص ہے۔ بلکہ بعض جگہ یہی لفظ فرشتہ کے لئے اور بعض جگہ قاضی کے لئے اور بعض جگہ حضرت موسیٰ کے لئے آیا ہے۔ جیسا کہ قاضیوں کی کتاب باب ۱۳۲۳ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب مَنَوحا سُمُون کے باپ نے خداوند کا ایک فرشتہ دیکھا تو اس نے کہا کہ ہم یقیناً مر جائیں گے کیونکہ ہم نے الوہیم کو دیکھا۔ اس جگہ عبرانی میں لفظ الوہیم ہے اور معنے اس کے فرشتہ کئے جاتے ہیں اور خروج باب ۹ ۱۲میں الوہیم کے معنے قاضی کئے گئے ہیں۔ اور خروج باب ۷۱۰ میں موسیٰ کو الوہیم قرار دے کر کہا ہے کہ ’’دیکھ میں نے تجھے فرعون کے لئے ایک الوہیم بنایا ہے‘‘۔ اور استثنا باب ۳۲۱۵ میں یہ عبارت ہے۔ ’’اور اس نے الوہا کو چھوڑ دیا جس نے اسے پیدا کیا تھا‘‘۔ دیکھو اس جگہ لفظ الوہا ہے الوہیم نہیں ہے۔ اور ایسا ہی زبور ۵۰۲۲ میں لفظ الوہا آیا ہے۔ اور اسی طرح ان کتابوں میں لفظ الوہا اور الوہیم ایک دوسرے کی جگہ آگیا ہے جس سے سمجھا جاتا ہے کہ دونوں جگہ میں واحد مراد ہے نہ جمع۔ ایسا ہی یسعیا باب ۴۴۶ میں الوہیم آیا ہے۔ اور پھر آیت آٹھ میں الوہا ہے۔ پسؔ واضح ہو کہ اصل مدعا جمع کا صیغہ لانے سے خدا کی طاقت اور قدرت کو ظاہر کرنا ہے اور یہ زبانوں کے محاورات ہیں جیسا کہ انگریزی میں ایک انسان کو یُو یعنی تم کے ساتھ مخاطب کرتے ہیں۔ مگر خدا تعالیٰ کے لئے باوجود تثلیث کے عقیدہ کے ہمیشہ داؤ یعنی تُو کا لفظ لاتے ہیں۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 95
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 95
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/95/mode/1up
    95
    ایسا ہی عبرانی میں بجائے ادون کے جو خداوند کے معنے رکھتا ہے ادونیم آجاتا ہے۔ سو دراصل یہ بحثیں محاورات لغت کے متعلق ہیں۔ قرآن شریف میں اکثر جگہ خدا تعالیٰ کے کلام میں ہم آجاتا ہے کہ ہم نے یہ کیا اور ہم یہ کریں گے۔ اور کوئی عقلمند نہیں سمجھتا کہ اس جگہ ہم سے مراد کثرت خداؤں کی ہے۔ مگر پادری صاحبوں کے حالات پر بہت افسوس ہے کہ وہ قابل شرم طریقوں پر تاویلیں کر کے ایک انسان کو زبردستی خدا بنانا چاہتے ہیں۔ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ بت پرستی کے زمانہ کے خیالات انہیں مجبور کرتے ہیں کہ وہ مشرکانہ تعلیم کو بناویں۔ خیال کرنا چاہیئے کہ کیسے دور از عقل و فہم تکلّفات انہوں نے کئے ہیں۔ یہاں تک کہ توریت پیدائش کے باب ۱۲۶ میں جو یہ عبارت ہے کہ خدا نے کہا کہ ’’ہم انسان کو اپنی شکل پر بنائیں گے‘‘۔ یہاں سے عیسائی لوگ یہ بات نکالتے ہیں کہ ہم کے لفظ سے تثلیث کی طرف اشارہ ہے مگر یاد رہے کہ عبرانی میں اس جگہ لفظ نَعسہ ہے جس کے معنے ہیں نَصْنَعُ ۔ یہ لفظ تھوڑے سے تغیر سے اسی عربی لفظ یعنی نَصْنَعُ سے ملتا ہے اور عربی اور عبرانی کا یہ محاورہ ہے کہ اپنے تئیں یا کسی دوسرے کو عظمت دینے کے لئے تم یا ہم کا لفظ بولا کرتے ہیں مگر ان لوگوں نے مخلوق پرستی کے جوش سے محاورہ کی طرف کچھ بھی خیال نہیں کیا اور صرف یہ لفظ پاکر کہ ہم بنائیں گے تثلیث کو سمجھ لیا۔ بہت ہی افسوس کی جگہ ہے کہ مخلوق پرستی سے پیار کر کے ان بے چاروں کی کہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے۔ لیکن صرف تین ۳ کی حد بندی انہوں نے اپنی طرف سے کرلی ہے ورنہ جمع کے صیغے میں تو تین سے زیادہ صدہا پر اطلاق ہو سکتا ہے یہ ضرور نہیں کہ جمع کے صیغہ سے صرف تثلیث ہی نکلتی ہے۔
    ہمارا عیسائیوں پر ایک یہ اعتراض تھا کہ جس فدیہ کو وہ پیش کرتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے قانون قدرت کے مخالف ہے۔ کیونکہ الٰہی قانون پر غور کر کے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ ادنیٰ اعلیٰ پر قربان کیا گیا ہے۔ مثلاً انسان اشرف المخلوقات اورؔ باتفاق تمام عقلمندوں کے تمام حیوانات سے اعلیٰ ہے۔ سو اس کی صحت اور بقا اور پائداری اور نیز اس کے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 96
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 96
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/96/mode/1up
    96
    نظام تمدّن کے لئے تمام حیوانات ایک قربانی کا حکم رکھتے ہیں۔ پانی کے کیڑوں سے لے کر شہد کی مکھیوں اور ریشم کے کیڑوں اور تمام حیوانات بکری گائے وغیرہ تک جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو یہ سب انسانی زندگی کے خادم اور نوع انسان کی راہ میں فدیہ معلوم ہوتے ہیں۔ ایک ہمارے بدن کی پھنسی کے لئے بسا اوقات سو جوک جان دیتی ہے تاہم اس پھنسی سے نجات پاویں۔ ہر روز کروڑ ہا بکری اور بیل اور مچھلیاں وغیرہ ہمارے لئے اپنی جان دیتی ہیں۔ تب ہماری بقاء صحت کے مناسب حال غذا میسر ہوتی ہے۔ پس اس تمام سلسلہ پر نظر ڈال کر معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے اعلیٰ کے لئے ادنیٰ کو فدیہ مقرر کیا ہے۔ لیکن اعلیٰ کا ادنیٰ کے لئے قربان ہونا اس کی نظیر خدا کے قانون قدرت میں ہمیں نہیں ملتی۔
    پادری لوگ اس اعتراض سے بڑے گھبراتے ہیں اور کوئی جواب بن نہیں پڑتا۔ آخر بعض بے ہودہ قصوں کہانیوں پر ہاتھ مار کر بعض ان میں سے یہ جواب دیتے ہیں کہ بعض وقت بڑے بڑے افسروں نے ادنیٰ ادنیٰ لوگوں کے لئے جو اُن کے ماتحت تھے جان دی ہے۔ چنانچہ سر فلپ سڈنی ملکہ الزبتھ کے زمانہ میں قلعہ ذٹفن ملک ہالینڈ کے محاصرہ میں جب زخمی ہوا تو اس وقت عین نزع کی تلخی اور شدّت پیاس کے وقت جب اس کے لئے ایک پیالہ پانی کا جو وہاں بہت کم یاب تھا مہیا کیا گیا تو اس کے پاس ایک اور زخمی سپاہی تھا جو پیاسا تھا جو نہایت حرص کے ساتھ سڈنی کی طرف دیکھنے لگا۔ سڈنی نے اس کی یہ خواہش دیکھ کر وہ پیالہ پانی کا خود نہ پیا بلکہ بطور ایثار اس سپاہی کو دے دیا یہ کہہ کر کہ ’’تیری ضرورت مجھ سے زیادہ ہے‘‘۔* یہ جوانمردی اور صفت ایثار کا ایک نمونہ ہے جو سڈنی سے ظہور میں آیا۔ جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ایک بڑے انسان نے چھوٹے کے لئے جان دی۔ لیکن یاد رہے کہ اس قصہ میں ہمارے سوال کا جواب نہیں ہے۔ ہمارا تو یہ اعتراض تھا کہ خدا کا قانون قدرت جو نظام شمسی کی طرح خدا
    نوٹ۔صریح معلوم ہوتا ہے کہ سڈنی نے دو خیال کی وجہ سے سپاہی کو ہی اپنے سے بڑا سمجھا۔ ایک یہ کہ سڈنی مرنے پر تھا اور سپاہی زندہ رہ کر کام دے سکتا تھا۔ دوسرے یہ کہ سپاہی ایک لڑنے والا بہادر تھا۔ اس لئے سڈنی نے کہا کہ تیری ضرورت زیادہ ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 97
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 97
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/97/mode/1up
    97
    کی خواہش اور ارادہ کے موافق چل رہا ہے۔ جس سے ہم اپنی قوت اور تصرف سے کسی طرح باہر نہیں ہو سکتے اور جو ہماری بناوٹ سے نہیں بلکہ قدرتی طور پر خدا کے ہاتھ سے ایسا ہی قائم ہوگیا ہے وہ بتلا رہا ہے کہ اعلیٰ کی بقا اور عافیت کے لئے ادنیٰ کو قربان کیا ؔ گیا ہے۔ پس وہ خدا کا فعل جو اس وقت سے جاری ہے جب سے دنیا کی بنیاد پڑی ہے ہمیں سکھلاتا اور یاد دلاتا ہے کہ خداتعالیٰ کا یہی ارادہ ہے کہ جو مخلوق اس کی نظر میں بہت پسند اور مقبول ہے دوسری مخلوق کو اس کی خدمت میں لگاوے اور ادنیٰ کو اعلیٰ کی نجات کے لئے تکلیف میں ڈالے یا ہلاک کرے۔ سو مطالبہ تو اس بات کا تھا کہ کیا خدا نے کبھی ایسا کیا کہ ادنیٰ کے بچانے کے لئے اعلیٰ کو ہلاکت کے گڑھے میں ڈالا۔ لیکن ظاہر ہے کہ خدا کے قانون قدرت میں اس کی نظیر نہیں۔ دیکھو ہم پیالہ پانی کا پی کر کروڑہا کیڑوں کی ہلاکت کا موجب ہوتے ہیں۔ پس کیا کبھی ایسا بھی ہوا کہ ایک کیڑے کے لئے خداتعالیٰ نے کروڑہا انسانوں کو ہلاک کیا ہو۔ دیکھو ایک انسان اپنی زندگی میں جس قدر پانی پیتا اور اس ذریعہ سے بے شمار کیڑوں کو ہلاک کرتااور یا جو دوسرے مختلف حیوانوں اور کیڑوں اور مکھیوں اور جوکوں اور خوردنی جانداروں کو ہلاک کرتا ہے کیا کوئی اس کا شمار کر سکتا ہے؟ پس کیا اب تک سمجھ نہیں آ سکتا کہ خدا کا قانون جس پر چلنے کے لئے انسانی زندگی مجبور ہے قدیم سے یہی ہے کہ ادنیٰ اعلیٰ پر قربان کیا جاتا ہے۔ ہاں جو مثال پیش کی گئی ہے گو اس کو خداکے قانون قدرت سے تعلق نہیں مگر انسان کی صفت ایثار میں اس کو داخل کر سکتے ہیں۔ انسان چونکہ ناقص اور ثواب حاصل کرنے کے لئے اعمال صالحہ کا محتاج ہے اس لئے کبھی وہ تواضع اور تذلل کے طور پر اپنے خدا کو خوش کرنے کے لئے اپنے آرام پر دوسرے کا آرام مقدم کرلیتا ہے اور آپ ایک حظ سے بے نصیب رہ کر دوسرے کو وہ حظ پہنچاتا ہے تا اس طرح پر اپنے خدا کو راضی کرے۔ اور اس کی اس صفت کا نام عربی میں ایثار ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ صفت گو عاجز انسان کی صفات محمودہ میں سے ہے لیکن خدا کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی کیونکہ نہ تو وہ تواضع اور تذلل کے راہ سے کسی ترقی کا محتاج
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 98
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 98
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/98/mode/1up
    98
    ہے اور نہ اس کی جناب میں یہ تجویز کر سکتے ہیں کہ وہ دوسروں کو کسی قسم کا آرام پہنچانے کے لئے اس بات کا محتاج ہے کہ اپنے تئیں مصیبت میں ڈالے کیونکہ یہ بات قدرت تامہ اور نشان الوہیت اور جلال ازلی ابدی کے منافی ہے۔ اور اگر وہ اس قسم کی ذلت اور مصیبت اور محرومی اپنے لئے روا رکھ سکتا ہے تو پھر یہ بھی ممکن ہوگا کہ وہ اپنی خدائی کسی دوسرے کو بطور ایثار دے کر آپ معطل اور بے کار بیٹھ جائے یا اپنیؔ صفات کاملہ دوسرے کو عطا کر کے آپ ان صفات سے ہمیشہ کے لئے محروم رہے۔ سو ایسا خیال خداتعالیٰ کی جناب میں بڑی گستاخی ہے اور میں قبول نہیں کر سکتا کہ کوئی خدا ترس منصف مزاج یہ ناقص حالتیں خدائے ذوالجلال کے لئے پسند کرے گا۔ ہاں بلاشبہ یہ صفت ایثار *جس میں ناداری اور لاچاری اور ضعف اور محرومی شرط ہے ایک عاجز انسان کی نیک صفت ہے کہ باوجودیکہ دوسرے کو آرام پہنچا کر اپنے آرام کا سامان اس کے پاس باقی نہیں رہتا پھر بھی وہ اپنے پر سختی کر کے دوسرے کو آرام پہنچا دیتا ہے مگر ہم کیونکر تجویز کر سکتے ہیں کہ خدا پر بھی ایسی حالت رہ سکتی ہے کہ وہ ایک قسم کا کسی کو آرام پہنچا کر آپ اس آرام سے محروم رہ جائے۔ کیا اس کی شان کے یہ زیبا ہے کہ ایک شخص کو بطور ایثار کے قادر بناوے اور آپ ناتواں رہ جائے یا آپ نعوذ باللہ جاہل رہ جائے اور دوسرے کو بطور ایثار کے عالم الغیب بناوے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ ایثار کی صفت میں یہ ضروری شرط ہے کہ ایثار کنندہ اپنے لئے ایک محرومی کی حالت پر راضی ہو کر دوسرے کو اپنے اس نصیب سے بہرہ یاب کرے اور اگر اپنے لئے محرومی کی حالت پیدا نہ ہو اور دوسرے کو ہم فائدہ پہنچاویں تو یہ ایثار نہیں ہو سکتا۔ مثلاً ہمارے قبضہ میں بہت سی روٹیاں ہیں جن کے ہم مالک ہیں اور ہم نے ان ہزاروں روٹیوں میں سے ایک روٹی کسی فقیر کو دے دی تو اس کا نام ایثار نہیں ہوگا۔ فرض کرو کہ اگر سرفلپ سڈنی کے پاس بہت سا پانی ہوتا یا بآسانی اس کو پیدا کر سکتا اور وہ اس میں سے ایک پیالہ اس سپاہی کو بھی دے دیتا جو اس کے پاس زخمی
    نوٹ* اس کو انگریزی میں ’’ سیلف سکری فائس‘‘ کہتے ہیں۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 99
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 99
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/99/mode/1up
    99
    اور پیاسا پڑا تھا تو اس فعل کا نام ایثار نہ ہوتا۔ کیونکہ وہ اس حالت میں یقیناً جان سکتا تھا کہ میں بھی اس سے محروم نہیں رہ سکتا۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ صفت ایثار کے ثابت ہونے کیلئے شخص ایثار کنندہ کا ضعف اور درماندگی اور عدم قدرت اور عدم استطاعت شرط ہے۔ لہٰذا یہ صفت خدائے قادر مطلق کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی۔ اور ایسا ہی سرفلپ سڈنی کی طرف بھی منسوب نہ ہوتی اگر وہ پانی پیدا کرنے پر قادر ہوتا۔اور اگر خدا ایسا کرے کہ عمدًا اس قدرت کے استعمال سے اپنے تئیں محروم رکھے یا عمدًا دوسرے کو آرام دے کر ایک مصیبت کی حالت اپنے پر ڈال لے تو اس فعل کا نام بھی ایثار نہیں ہے بلکہ یہ فعل اس بیوقوف کے فعل سے مشابہ ہوگا کہ جس کا گھر طرح طرح کے کھانوں سے بھرا ہے اور اس نے اس میں سے کسی فقیر کو ایک طبق طعام دےؔ کر باقی عمدًا تمام کھانا کسی گڑھے میں پھینک دیا اور اپنے تئیں مارے بھوک کے ہلاکت تک پہنچا دیا تا اس طرح صفت ایثار ثابت ہو۔ غرض یہ تمام غلطیاں ہیں جن میں عمدًا عیسائی لوگ اپنے تئیں ڈال رہے ہیں تا گلے پڑے ڈھول کو کسی طرح بجاتے رہیں۔
    یہ بھی یاد رہے کہ انسان کی صفت ایثار اس شرط سے قابل تحسین ہے کہ اس میں کوئی بے غیرتی اور دیّوثی اور اتلاف حقوق نہ ہو۔ مثلاً اگر کوئی مرد اپنی عورت کو اس کے خواہشمند کے ساتھ بطور ایثار ہم بستر کراوے تو یہ صفت قابل تحسین نہیں ہوگی۔ بہتیرے احمق نادان ایسی حرکات کر بیٹھتے ہیں جن کی نظیر خداتعالیٰ کے تمام قانون قدرت میں نہیں پائی جاتی۔ سو وہ عقلمندوں کے نزدیک مورد ملامت ہوتے ہیں نہ یہ کہ ان کی پیروی کی جائے۔ اور یا یہ کہ ان کا فعل قابل تعریف سمجھا جائے۔ مثلاً ایک انگریزی افسر جو ایک نازک مہم پر کئی لاکھ فوج کے ساتھ مامور کیا گیا ہے اگر وہ ایک بکری کے بچے کی جان بچانے کے لئے عمداً اپنی جان دے اور اس طرح پر تمام فوج کو تہلکہ اور شکست کے اندیشہ میں ڈالے تو کیا ہماری گورنمنٹ اس کو ایک قابل تعریف انسان تصور کر سکتی ہے؟ نہیں بلکہ ایسا نادان *** ملامت کے لائق ہوگا۔ سو انسان کا وجود خدا کے وجود کے مقابل بکری سے بھی ہزارہا درجہ کمتر ہے نادانوں کی بعض بے ہودہ حرکات قانون قدرت کا حکم نہیں
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 100
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 100
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/100/mode/1up
    100
    رکھتیں ورنہ بہتیرے ہندو بتوں کے آگے اپنی زبان یا ہاتھ یا پیر کاٹ دیتے ہیں اور بہتیرے نادان ہندو اپنے بچے کو گنگا میں ڈال کر اس کا نام جل پر وا رکھتے ہیں۔ اور ان میں سے بہتیرے ایسے گذرے ہیں کہ ارادتاً جگن ناتھ کے پہیے کے نیچے کچلے گئے ہیں۔ سو ایسی بیہودہ حرکات نظیر دینے کے لائق نہیں اور نہ وہ خداتعالیٰ کا قانون قدرت کہلا سکتی ہیں۔ ہمارا تو یہ اعتراض تھا کہ اعلیٰ کا ادنیٰ کے لئے اپنی جان ضائع کرنا قانون قدرت کے مخالف ہے۔ پس کاش اگر یہ لوگ پہلے قانون قدرت کی تعریف میں غور کرتے تو اس فاش غلطی میں نہ پڑتے۔ کیا ہم بعض نادانوں کی بے ہودہ حرکات کو جن پر خود قانون قدرت کا اعتراض ہے قانون قدرت کا حکم دے سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔
    اور پھر لطف یہ کہ اس بحث میں پڑنے کا ابھی تک عیسائیوں کا حق بھی نہیں۔ کیونکہ وہ اؔ س بات کے قائل نہیں کہ درحقیقت اقنوم ثانی کو جس کا دوسرا نام ان کے نزدیک ابن اللہ ہے پھانسی دی گئی تھی وجہ یہ کہ اس سے ان کو ماننا پڑتا ہے کہ ان کا خدا تین دن تک مرا رہا پس جبکہ خدا ہی مرا رہا تو اس عرصہ تک اس دنیا کا انتظام کون کرتا ہوگا؟
    یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ باتیں حضرت مسیح کی تعلیم میں نہیں تھیں اور ان کی تعلیم میں توریت پر کوئی بھی زیادت نہیں تھی۔ انہوں نے صاف صاف کہا تھا کہ میں انسان ہوں۔ ہاں جیسا کہ خدا کے مقبولوں کو عزت اور قربت اور محبت کے خداتعالیٰ کی طرف سے القاب ملتے ہیں اور یا جیسا کہ وہ لوگ خود عشق الٰہی کی محویت میں محبت اور یکدلی کے الفاظ منہ پر لاتے ہیں ایسا ہی ان کا بھی حال تھا۔ اس میں کیا شک ہے کہ جب کوئی انسان سے محبت کرے یا خدا سے تو جب وہ محبت کمال کو پہنچتی ہے تو محب کو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کی روح اور اس کے محبوب کی روح ایک ہو گئی ہے اور فنا نظری کے مقام میں بسا اوقات وہ اپنے تئیں محبوب سے ایک ہی دیکھتا ہے۔ جیسا کہ اس عاجز کو اپنے الہامات میں خداتعالیٰ مخاطب کر کے فرماتا ہے* کہ ’’ تو مجھ سے اور مَیں
    *نوٹ۔ یہ الہامات میری کتاب براہین احمدیہ اور آئینہ کمالات اسلام اور ازالہ اوہام اور تحفہ بغداد وغیرہ میں شائع ہو چکے ہیں اور قریباً پچیس سال سے ان کو شائع کر رہا ہوں۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 101
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 101
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/101/mode/1up
    101
    تجھ سے ہوں اور زمین و آسمان تیرے ساتھ ہیں جیسا کہ میرے ساتھ ہیں اور تو ہمارے پانی میں سے ہے اور دوسرے لوگ خشکی سے اور تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تو مجھ سے اس مقام اتحاد میں ہے جو کسی مخلوق کو معلوم نہیں خدا اپنے عرش سے تیری تعریف کرتا ہے۔ تو اس سے نکلا اور اس نے تمام دنیا سے تجھ کو چنا۔ تو میری درگاہ میں وجیہ ہے۔ میں نے اپنے لئے تجھ کو پسند کیا۔ تو جہان کا نور ہے۔ تیری شان عجیب ہے۔ میں تجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا اور تیرے گروہ کو قیامت تک غالب رکھوں گا۔ تو برکت دیا گیا۔ خدا نے تیری مجد کو زیادہ کیا۔ تو خدا کا وقار ہے۔ پس وہ تجھے ترک نہیں کرے گا۔ تو کلمۃ الازل ہے پس تو مٹایا نہیں جائے گا۔ میں فوجوں کے سمیت تیرے پاس آؤں گا۔ میرا لوٹا ہوا مال تجھے ملے گا۔ میں تجھے عزت دوں گا اور تیری حفاظت کروں گا۔ یہ ہوگا یہ ہوگا یہ ہوگا اور پھر انتقال ہوگا۔ تیرے پر میرے کاملؔ انعام ہیں۔ لوگوں کو کہہ دے کہ اگر تم خدا سے پیار کرتے ہو تو آؤ میرے پیچھے چلو تا خدا بھی تم سے پیار کرے۔ میری سچائی پر خدا گواہی دیتا ہے پھر کیوں تم ایمان نہیں لاتے۔ تو میری آنکھوں کے سامنے ہے میں نے تیرا نام متوکل رکھا۔ خدا عرش سے تیری تعریف کرتا ہے۔ ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔ لوگ چاہیں گے کہ اس نور کو بجھا دیں مگر خدا اس نور کو جو اس کا نور ہے کمال تک پہنچائے گا۔ ہم ان کے دلوں میں رعب ڈالیں گے۔ ہماری فتح آئے گی اور زمانہ کا کاروبار ہم پر ختم ہوگا اس دن کہا جائے گا کہ کیا یہ حق نہ تھا۔ میں تیرے ساتھ ہوں جہاں تو ہے۔ جس طرف تیرا مُنہ اُس طرف خدا کا مُنہ۔ تجھ سے بیعت کرنا
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 102
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 102
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/102/mode/1up
    102
    ایسا ہے جیسا کہ مجھ سے۔ تیرا ہاتھ میرا ہاتھ ہے۔ لوگ دور دور سے تیرے پاس آئیں گے اور خدا کی نصرت تیرے پر اترے گی۔ تیرے لئے لوگ خدا سے الہام پائیں گے اور تیری مدد کریں گے۔ کوئی نہیں جو خدا کی پیشگوئیوں کو ٹال سکے۔ اے احمد تیرے لبوں پر رحمت جاری کی گئی اور تیرا ذکر بلند کیا گیا۔ خدا تیری حجت کو روشن کرے گا۔ تو بہادر ہے۔ اگر ایمان ثریا میں ہوتا تو تُو اس کو پالیتا۔ خدا کی رحمت کے خزانے تجھے دئیے گئے۔ تیرے باپ دادے کا ذکر منقطع ہو جائے گا اور خدا ابتدا تجھ سے کرے گا۔ میں نے ارادہ کیا کہ اپنا جانشین بناؤں تو میں نے آدم کو یعنی تجھے پیدا کیا ہے۔ آواہن }خدا تیرے اندر اتر آیا{ خدا تجھے ترک نہیں کرے گا اور نہ چھوڑے گا جب تک کہ پاک اور پلید میں فرق نہ کرے۔ میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا پس میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں۔ تو مجھ میں اور تمام مخلوقات میں واسطہ ہے۔ میں نے اپنی روح تجھ میں پھونکی۔ تو مدد دیا جائے گا اور کسی کو گریز کی جگہ نہیں رہے گی۔ تو حق کے ساتھ نازل ہوا اور تیرے ساتھ نبیوں کی پیشگوئیاں پوری ہوئیں۔ خدا نے اپنے فرستادہ کو بھیجا تا اپنے دین کو قوتؔ دے اور سب دینوں پر اس کو غالب کرے۔ اس کو خدا نے قادیاں کے قریب نازل کیا اور وہ حق کے ساتھ اترا اور حق کے ساتھ اتارا گیا۔ اور ابتدا سے ایسا ہی مقرر تھا۔ تم گڑھے کے کنارے پر تھے خدا نے تمہیں نجات دینے کے لئے اسے بھیجا۔ اے میرے احمد تو میری مراد اور میرے ساتھ ہے۔ میں نے تیری بزرگی کا درخت اپنے ہاتھ سے لگایا۔ میں تجھے لوگوں کا امام بناؤں گا اور تیری مدد کروں گا۔ کیا لوگ اس سے تعجب کرتے ہیں۔ کہہ خدا عجیب ہے چن لیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور اپنے کاموں سے پوچھا نہیں جاتا۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 103
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 103
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/103/mode/1up
    103
    خدا کا سایہ تیرے پر ہوگا اور وہ تیری پناہ رہے گا۔ آسمان بندھا ہوا تھا اور زمین بھی ہم نے دونوں کو کھول دیا۔ تو وہ عیسیٰ ہے جس کا وقت ضائع نہیں کیا جائے گا۔ تیرے جیسا موتی ضائع نہیں ہو سکتا۔ ہم تجھے لوگوں کے لئے نشان بنائیں گے اور یہ امر ابتدا سے مقدر تھا۔ تو میرے ساتھ ہے۔ تیرا بھید میرا بھید ہے تو دنیا اور آخرت میں وجیہ اور مقرب ہے۔ تیرے پر انعام خاص ہے اور تمام دنیا پر تجھے بزرگی ہے۔ بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمدیاں برمنار بلند تر محکم افتاد۔ میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا۔ اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ اس کے لئے وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے اعمال کی قوت سے پہنچ نہیں سکتا تو میرے ساتھ ہے۔ تیرے لئے رات اور دن پیدا کیا گیا۔ تیری میری طرف وہ نسبت ہے جس کی مخلوق کو آگاہی نہیں۔ اے لوگو تمہارے پاس خدا کا نور آیا پس تم منکر مت ہو‘‘۔ وغیرہ الخ۔اور ان کے ساتھ اور مکاشفات ہیں جو ان کی تائید کرتے ہیں چنانچہ ایک کشف میں مَیں نے دیکھا کہ میں اور حضرت عیسیٰ ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے ہیں۔ اس کشفؔ کو بھی میں براہین میں چھاپ چکا ہوں۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کی تمام صفات روحانی میرے اندر ہیں اور جن کمالات سے وہ موصوف ہو سکتے ہیں وہ مجھ میں بھی ہیں۔ اور پھر ایک اور کشف ہے جو آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۵۶۴و۵۶۵ میں مدّت سے چھپ چکا ہے اس کو بعینہٖ ذیل میں درج کرتا ہوں۔ وہ یہ ہے ترجمہ:۔میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں اور میرا اپنا کوئی ارادہ اور کوئی خیال اور کوئی عمل نہیں رہا اور میں ایک سوراخ دار برتن کی طرح ہو گیا ہوں
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 104
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 104
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/104/mode/1up
    104
    یا اس شَے کی طرح جسے کسی دوسری شے نے اپنی بغل میں دبا لیا ہو اور اسے اپنے اندر بالکل مخفی کرلیا ہو یہاں تک کہ اس کا کوئی نام و نشان باقی نہ رہ گیا ہو۔ اِس اثناء میں مَیں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی روح مجھ پر محیط ہوگئی اور میرے جسم پر مستولی ہوکر اپنے وجود میں مجھے پنہاں کرلیا۔ یہاں تک کہ میرا کوئی ذرہ بھی باقی نہ رہا اور میں نے اپنے جسم کو دیکھا تو میرے اعضاء اس کے اعضا اور میری آنکھ اس کی آنکھ اور میرے کان اس کے کان ا ور میری زبان اس کی زبان بن گئی تھی۔ میرے ربّ نے مجھے پکڑا اور ایسا پکڑا کہ میں بالکل اس میں محو ہوگیا اور میں نے دیکھا کہ اس کی قدرت اور قوت مجھ میں جوش مارتی اور اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے۔ حضرت عزت کے خیمے میرے دل کے چاروں طرف لگائے گئے اور سلطان جبروت نے میرے نفس کو پیس ڈالا۔ سو نہ تو مَیں مَیں ہی رہا اور نہ میری کوئی تمنا ہی باقی رہی۔ میری اپنی عمارت گِر گئی اور ربّ العالمین کی عمارت نظر آنے لگی اور الوہیت بڑے زور کے ساتھ مجھ پر غالب ہوئی اور میں سر کے بالوں سے ناخن پَا تک اس کی طرف کھینچا گیا۔ پھر میں ہمہ مغز ہوگیا جس میں کوئی پوست نہ تھا اور ایسا تیل بن گیا کہ جس میں کوئی مَیل نہیں تھی اور مجھ میں اور میرے نفس میں جدائی ڈال دی گئی۔ پس میں اس شے کی طرح ہوگیا جو نظر نہیں آتی یا اس قطرہ کی طرح جو دریا میں جاملے اور دریا اس کو اپنی چادر کے نیچے چھپالے۔ اس حالت میں مَیں نہیں جانتا تھا کہ اس سے پہلے مَیں کیا تھا اور میرا وجود کیا تھا۔ الوہیت میری رگوں اور پٹھوں میں سرایت کر گئی۔ اور مَیں بالکل اپنے آپ سے کھویا گیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے میرے سب اعضا اپنے کام میں لگائے اور اس زور سے اپنے قبضہ میں کرلیا کہ اس سے زیادہ ممکن نہیں۔ چنانچہ اس کی گرفت سے میں بالکل معدوم ہوگیا۔ اور میں اس وقت یقین کرتا تھا کہ میرے اعضا میرے نہیں بلکہ اللہ ؔ تعالیٰ کے اعضا ہیں۔ اور میں خیال کرتا تھا کہ میں اپنے سارے وجود سے معدوم اور اپنی ہویت سے قطعاً نکل چکا ہوں اب کوئی شریک اور مناع روک کرنے والا نہیں رہا۔ خداتعالیٰ میرے وجود میں داخل ہوگیا اور میرا غضب اور حلم اور تلخی اور شرینی اور حرکت اور سکون سب اسی کا ہوگیا۔ اور اس حالت میں مَیں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 105
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 105
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/105/mode/1up
    105
    اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی پھر میں نے منشاء حق کے موافق اس کی ترتیب و تفریق کی۔ اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا انّا زیّنا السّمَاء الدّنیا بِمَصَابیح۔ پھر میں نے کہا اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔ پھر میری حالت کشف سے الہام کی طرف منتقل ہوگئی اور میری زبان پر جاری ہوا أَردتُ ان استخلف فخلقت آدم ۔ انّا خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔
    یہ الہامات ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے میری نسبت میرے پر ظاہر ہوئے اور اس قسم کے اور بھی بہت سے الہامات ہیں جن کو میں قریباً پچیس برس سے شائع کر رہا ہوں اور بہت سے ان میں سے میری کتاب براہین احمدیہ اور دوسری کتابوں میں چھپ کر شائع ہو چکے ہیں۔ اب حضرات پادری صاحبان سوچیں اور غور کریں اور ان الہامات کو یسوع مسیح کے الہامات سے مقابلہ کریں اور پھر انصافاًگواہی دیں کہ کیا یسوع کے وہ الہامات جن سے وہ اس کی خدائی نکالتے ہیں ان الہامات سے بڑھ کر ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ اگر کسی کی خدائی ایسے الہامات اور کلمات سے نکل سکتی ہے تو ان میرے الہامات سے نعوذ باللہ میری خدائی یسوع کی نسبت بدرجہ اولیٰ ثابت ہوگی اور سب سے بڑھ کر ہمارے سیّد و مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدائی ثابت ہو سکتی ہے۔ کیونکہ آپ کی وحی میں صرف یہی نہیں کہ جس نے تجھ سے بیعت کی اس نے خدا سے بیعت کی اور نہ صرف یہ کہ خداتعالیٰ نے آپ کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دیا ہے اور آپ کے ہر ایک فعل کو اپنا فعل ٹھہرایا ہے۔ اور یہ کہہ کر کہ 33۔۱؂ آپ کی تمام کلام کو اپنی کلام ٹھہرایا ہے بلکہ ایک جگہ اور تمامؔ لوگوں کو آپ کے بندے قرار دیا ہے جیسا کہ فرمایا3۲؂ ۔ یعنی کہہ کہ اے میرے بندو۔ پس ظاہر ہے کہ جس قدر صراحت اور وضاحت سے ان پاک کلمات سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 106
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 106
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/106/mode/1up
    106
    خدائی ثابت ہو سکتی ہے۔ انجیل کے کلمات سے یسوع کی خدائی ہرگز ثابت نہیں ہو سکتی۔ بھلا اس سیّدالکونین صلی اللہ علیہ وسلم کی تو شان عظیم ہے ذرا انصافاًپادری صاحبان ان میرے الہامات کو ہی انصاف کی نظر سے دیکھیں اور پھر خود ہی منصف ہو کر کہیں کہ کیا یہ سچ نہیں کہ اگر ایسے کلمات سے خدائی ثابت ہو سکتی ہے تو یہ میرے الہامات یسوع کے الہامات سے بہت زیادہ میری خدائی پر دلالت کرتے ہیں۔ اور اگر خود پادری صاحبان سوچ نہیں سکتے تو کسی دوسری قوم کے تین منصف مقرر کر کے میرے الہامات اور انجیل میں سے یسوع کے وہ کلمات جن سے اس کی خدائی سمجھی جاتی ہے ان منصفوں کے حوالہ کریں۔ پھر اگر منصف لوگ پادریوں کے حق میں ڈگری دیں اور حلفاًیہ بیان کر دیں کہ یسوع کے کلمات میں سے یسوع کی خدائی زیادہ تر صفائی سے ثابت ہو سکتی ہے تو میں تاوان کے طور پر ہزار روپیہ ان کو دے سکتا ہوں۔ اور میں منصفوں سے یہ چاہتا ہوں کہ اپنی شہادت سے پہلے یہ قسم کھالیویں کہ ہمیں خداتعالیٰ کی قسم ہے کہ ہمارا یہ بیان صحیح ہے اور اگر صحیح نہیں ہے تو خداتعالیٰ ایک سال تک ہم پر وہ عذاب نازل کرے جس سے ہماری تباہی اور ذلت اور بربادی ہو جائے اور میں خوب جانتا ہوں کہ پادری صاحبان ہرگز اس طریق فیصلہ کو قبول نہیں کریں گے۔ لیکن اگر وہ یہ کہیں کہ جو یسوع کے منہ سے نکلا وہ تو حقیقت میں خدا کا کلام تھا اس لئے وہ دستاویز کے طور پر قبول ہوسکتا ہے لیکن جو تمہارے منہ سے نکلا وہ خدا کا کلام نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یسوع کے منہ سے جو کلام نکلا اس کے خدا کی کلام ہونے میں ذاتی طور پر تو حضرات عیسائیوں کو کچھ معرفت نہیں۔ خدا نے بلا واسطہ ان سے باتیں نہیں کیں۔ ان کے کانوں میں کسی فرشتہ نے آکر نہیں پھونکا کہ یسوع خدا یا خدا کا بیٹا ہے۔ انہوں نے نہیں دیکھا کہ یسوع نے دنیا میں تولّد پاکر ایک مکھی بھی پیدا کی۔ صرف چند کلمات ان کے ہاتھ میں ہیں جو یسوع کی طرف منسوب کئے گئے ہیں جن کو مروڑ تروڑ کر یہ خیال کر رہے ہیں کہ ان سے ان کی خدائی ثابتؔ ہوتی ہے اور جو کلمات اور مکاشفات میں نے پیش کئے ہیں وہ ان سے صدہا درجہ بڑھ کر ہیں۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 107
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 107
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/107/mode/1up
    107
    پھر اگر اس خیال سے ان کلمات کو ترجیح دی جاتی ہے کہ وہ معجزات سے ثابت ہو چکے ہیں تو میں کہتا ہوں کہ یسوع کے معجزات تو اس زمانہ کے لئے صرف قصّے اور کہانیاں ہیں کوئی بھی کہہ نہیں سکتا کہ میں نے ان میں سے کچھ آنکھوں سے بھی دیکھا ہے مگر وہ خوارق اور نشان جو خداتعالیٰ کے فضل سے مجھ سے ظاہر ہوئے ہیں وہ تو ہزاروں انسانوں کی چشم دید باتیں ہیں پھر یسوع کے معجزات کو جو محض قصّوں اور کہانیوں کے رنگ میں بتلائی جاتی ہیں۔ ان چشم دید نشانوں سے کیا مناسبت۔ پھر جب کہ خدا بنانے کے لئے گذشتہ قصے جن میں جھوٹ کی آمیزش بھی ہو سکتی ہے قبول کئے گئے ہیں تو موجودہ نشان بدرجہ اولیٰ قبول کرنے کے لائق ہیں۔ اگر دنیا میں کسی عیسائی کے دل میں انصاف ہے تو وہ میری اس تقریر کو نہایت منصفانہ تقریر سمجھے گا۔
    میں دوبارہ کہتا ہوں کہ میری تقریر کا ماحصل یہ ہے کہ عیسائیوں نے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا بنا رکھاہے یہ سراسر ان کی غلط فہمی ہے۔ جن کلمات سے وہ یہ نتیجہ نکالنا چاہتے ہیں کہ یسوع خدا یا ابن اللہ ہے ان کلمات سے بڑھ کر میرے الہامی کلمات ہیں پادری صاحبان سوچیں اور خوب سوچیں اور باربار سوچیں کہ یسوع کو خدا بنانے کے لئے ان کے ہاتھ میں بجز چند کلمات کے اور کیا چیز ہے۔ پس میں ان سے یہی چاہتا ہوں کہ وہ میرے الہامی کلمات کو ان کلمات کے ساتھ مقابلہ کر کے دیکھیں اور پھر انصافاًگواہی دیں کہ اگر ظاہر الفاظ پر اعتبار کیا جائے تو ایک شخص کے خدا بنانے کے لئے جیسے میرے الہامی کلمات قوی دلالت رکھتے ہیں یسوع کے الہامی کلمات ہرگز ایسے دلالت نہیں رکھتے تو پھر کیا وجہ کہ ان کلمات سے یسوع کو خدا بنایا جاتا ہے۔ اور وہی کلمات بلکہ ان سے بڑھ کر جب دوسرے کے حق میں ہوں تو پھر اس کے اور معنے کئے جاتے ہیں۔ اگر کہو کہ پہلی کتابوں میں مسیح کے آنے کی خبر دی گئی تھی تو میں کہتا ہوں کہ ان ہی کتابوں میں بلکہ مسیح کی زبان سے بھی مسیح کے دوبارہ آنے کی خبر دی گئی تھی اوروہ میں ہوں۔ چنانچہ جیسا کہ انجیل میں لکھا تھا زلزلے بھی آئے۔ ایک قوم کی دوسری قوم سے لڑائیاں ہوئیں سخت سخت وبائیں پڑیں اور آسمان میں بھی نشان ظاہر ہوئے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 108
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 108
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/108/mode/1up
    108
    غرضؔ میں بھی پیشگوئیوں کے مطابق آیا ہوں۔ مسیح کے وقت بھی یہ حجتیں پیش کی گئی تھیں کہ جب تک ایلیا آسمان سے نازل نہ ہو سچا مسیح نہیں آ سکتا اور میرے مقابل پر بھی باتیں پیش کی گئیں کہ آنے والا مسیح آسمان سے اترے گا۔
    اور یسوع کے نشانوں کی نسبت میں لکھ چکا ہوں کہ وہ اس زمانہ کے لئے نشان نہیں ہیں بلکہ ان کو کتھا یا کہانی کہنا چاہیے۔ آپ لوگوں کو اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ آپ صاحبوں نے میری زبردست پیشگوئیاں اور نشان دیکھے۔ اور میں اسی پر بس بھی نہیں کرتا بلکہ میں زور سے کہتاہوں کہ اگر کوئی عیسائی میری صحبت میں رہے تو ابھی برس نہیں گذرے گا کہ وہ کئی نشان دیکھے گا۔ خدا کے نشانوں کی اس جگہ بارش ہو رہی ہے۔ اور وہ خدا جس کو لوگوں نے بھلا دیا اور اس کی جگہ مخلوق کو دی وہ اس وقت اس عاجز کے دل پر تجلّیکر رہا ہے۔ وہ دکھانا چاہتا ہے کیا کوئی دیکھنے کے لئے راغب ہے؟ اے عزیزو! غلطیوں میں مت پھنسے رہو یسوع ابن مریم خدا نہیں ہے یہ کلمات جو اس کے منہ سے نکلے اہل اللہ کے منہ سے نکلا کرتے ہیں۔ مگر ان سے کوئی خدا نہیں بن سکتا۔ اٹھو! اور توبہ کرو کہ وقت آگیا ہے!! اس خدا کو پوجو جس پر توریت اور قرآن کا اتفاق ہے۔ یسوع ابن مریم ایک عاجز بندہ تھا اس کو نبی سمجھو جس کو خدا نے بھیجا تھا۔ اگر اب بھی کوئی عیسائی نہ مانے تو یاد رکھے کہ خداتعالیٰ کی حُجّت اس پر پوری ہو چکی ہے۔
    اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ پادری صاحبان کی ناراضگی کا اصل موجب یہی ہے کہ میرے ہاتھ سے خداتعالیٰ نے ہر ایک طور سے ان کو شرمندہ کیا۔ ان کا تمام ساختہ پرداختہ میری تحریروں سے ردّ ہوگیا۔ میرے لئے جو میرے خدا نے آسمانی نشان دکھلائے اور دکھلا رہا ہے اس کے مقابل پادری صاحبوں کے ہاتھ میں بجز پرانے قصوں کے اور کچھ نہیں اور بار بار ان کو آسمانی نشانوں میں مقابلہ کے لئے بلایا گیا۔ مگر ان کے ہاتھ میں کیا تھا تا وہ مقابلہ کرتے آخر ہر ایک طور سے ناچار ہوکر یہی تجویز سوچی گئی کہ میرے پر خون کا مقدمہ بنایا جائے۔ سو اس مقدمہ کے بنانے کی اصل وجہ یہی تھی کہ وہ میری محققانہ تحریروں اور آسمانی نشانوں سے تنگ آکر اس خوف میں پڑ گئے تھے کہ اب جلد تر ان کی
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 109
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 109
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/109/mode/1up
    109
    پردہ دری ہو جائے گی۔ مگر یہ تدبیر جو سوچی گئی یہ اور بھی ان کی پردہ دری کی موجب ہوئی اور ان کے چھپے ہوئے حالات کھل گئے اور ان کی اخلاقی حالت بھی لوگوں پر ظاہر ہوگئی۔
    اسؔ جگہ زیادہ تر افسوس کا مقام یہ ہے کہ بے چارہ شیخ محمد حسین بٹالوی کہ ہمیشہ گھات میں لگا ہوا تھا اس نے بھی پادریوں کے بھروسے پر بہت سُبکی اٹھائی اور محمد حسین نے جو اس مقدمہ میں خواہ نخواہ اپنے تئیں دخیل کار بنایا تو اس کا بھی یہی سبب تھا کہ وہ بھی میرے مقابل پر سخت عاجز آگیا تھا جب ابتدا میں اس نے لدھیانہ میں میرے ساتھ بحث کی تو اس بحث میں وہ قرآن شریف یا حدیث سے یہ ثابت نہ کر سکا کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت نہیں ہوئے بلکہ اپنے جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے اور اب تک دوسرے آسمان پر ہیں بلکہ قرآن اور حدیث کے رو سے اس پر حُجّتپوری ہوگئی کہ وہ درحقیقت فوت ہوگئے ہیں۔ اس پر ایک اور شرمندگی کا باعث اس کو یہ پیش آیا کہ وہ مجھ کو جاہل قرار دے کر اور خود عالم فاضل ہونے کا مُدّعی ہو کر ان میری عربی کتابوں کا ایک سطر بنانے سے بھی مقابلہ نہ کر سکا جو اس کی علمیت کے آزمانے کے لئے میں نے تالیف کی تھیں۔ پھر خدا کے آسمانی نشانوں نے اس کو ایسا کوفتہ کیا کہ گویا ہلاک کر دیا۔ سب سے پہلے لودھیانہ میں ایک پیر مرد کریم بخش نام نے جو موحد تھا اپنے مرشد کی ایک پیشگوئی میرے بارے میں شائع کی جو میرے دعوے سے تیس برس پہلے سن چکا تھا اور حلفاًبیان کیا کہ اس کا مرشد بڑے زور سے مجھے کہا کرتا تھا۔ کہ ’’مسیح موعود اسی امت میں سے پیدا ہوگا اور اس کا نام غلام احمد ہوگا اور اس کے گاؤں کا نام قادیاں ہوگا۔ اور وہ لدھیانہ میں آئے گا۔ اور مولوی لوگ اس کی سخت مخالفت کریں گے اور اس کو کافر ٹھہرائیں گے اور تُو دیکھے گا کہ کیسی مخالفت کریں گے۔ اور وہ سچ پر ہوگا‘‘۔ اور اس پیر مرد کی برادری کے لوگوں نے مولویوں کے بہکانے سے بہت زور دیا تا وہ اس گواہی کو چھپا وے مگر وہ ہمیشہ رو رو کر اس گواہی کو ظاہر کرتا رہا یہاں تک کہ اس جہان سے گذر گیا۔ مگر بذریعہ اپنی
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 110
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 110
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/110/mode/1up
    110
    تحریروں کے لاکھوں انسانوں کو اس پیشگوئی کی خبر دے گیا۔ یہ پہلا نشان تھا جو میری تائید میں ظاہر ہوا۔ پھر دوسرا نشان خسوف کسوف کا نشان تھا جو رمضان میں ہوا اور کوئی ثابت نہ کرسکا جو مجھ سے پہلے کبھی کسی مدعی مہدویّت کے وقت رمضان میں کسوف خسوف ہوا۔ پس یہ نشان بھی خداتعالیٰ کی حُجّت تھی جو مولویوں پر پوری ہوئی۔ تیسرا نشان ستارہ ذوالسنین کا نکلنا تھا۔ یہ وہ ستارہ تھا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں نکلا تھا اور خبر دی گئی تھی کہ پھر مسیح موعود کے وقت میں نکلے گا۔ چوتھا نشان آتھم کا شرط کے موافق بچنا اور پھر دوسری پیشگوئی کے موافق فوت ہو جانا تھا۔ پانچواں نشان پیشگوئی کے موافق مرزا احمد بیگ ہوشیارپوری کا فوت ہونا تھا۔ چھٹا نشان پیش ؔ گوئی کے مطابق لیکھرام کا مارا جانا تھا۔ ساتواں نشان وہ پیشگوئی تھی جو جلسہ مہوتسو سے کچھ پہلے میں نے اپنے مضمون کے بالا رہنے کے بارے میں کی تھی۔ آٹھواں نشان کلارک کے مقدمہ کے بارے میں تھا جس کی کئی سو آدمیوں کو پہلے سے خبر دی گئی تھی کہ ایک مقدمہ ہوگا اور پھر بریت ہوگی۔ نواں نشان خود محمد حسین کے ذلیل ہونے کا تھا جو بموجب پیشگوئی اِنّی مھینٌ مَنْ اَراد اِھانتک اُس کو سنایا گیا اور ایسا ہی اور کئی نشان تھے جو محمد حسین نے بچشم خود دیکھے اگر اس میں سعادت کا بیج ہوتا تو اس کو خدا نے نہایت موقعہ دیا تھا کہ وہ اس آسمانی سچائی کو قبول کرتا مگر اس نے دنیا کو آخرت پر اختیار کرلیا اور کہاں سے کہاں تک پہنچ گیا۔ اگر وہ سچائی کا طالب ہوتا اور غربت سے میرے پاس آتا تو میں یقین رکھتا تھا کہ خداتعالیٰ سعادت سے اس کو حصہ دیتا اور اس کو اتنے نشان دکھا تاکہ شرح صدر اس کو حاصل ہو جاتا مگر اس نے نہ چاہا کہ ہدایت کے دروازے سے داخل ہو۔
    اخیر پر ہم اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہیں کہ تم خدا کے نشانوں کو اپنی آنکھ سے دیکھ رہے ہو۔ ابھی تم نے دیکھا کہ کس طرح خدا نے اس مقدمہ میں جو پادریوں نے اٹھایا تھا تمام مقدمہ کے اول و آخر کی مجھے خبر دے دی۔ دیکھو یہ خدا کی طاقت ہے یا کسی اور کی جس نے پہلے سے آنیوالی بلا سے اطلاع دے دی اور فرمایا قد ابتلی المؤمنون۔ اور حکّام کی گرفت کو کشفی طور پر ظاہر کیا اور پھر
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 111
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 111
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/111/mode/1up
    111
    روحانی نصرت کی افواج کی طرف اس الہام میں اشارہ کیا کہ اِنّی مَعَ الْاَفْوَاجِ آتِیْکَ بَغْتَۃً۔ اور پھر ہمارے محفوظ رہنے اور بَری ہونے کی بشارت دی۔ اور تم نے دیکھا کہ جیسا کہ جلسہ مہوتسو سے پہلے میں نے خدا سے الہام پاکر اشتہار شائع کیا تھا کہ میرا مضمون غالب رہے گا۔ خداتعالیٰ نے وہی کیا اور فوق العادت قبولیت اس میں ڈال دی۔ چنانچہ اب تک ہزاروں انسان گواہی دے رہے ہیں کہ تمام مضمونوں میں وہی ایک مضمون ہے۔
    اب سوچو کہ یہ کام کس نے کیا؟ کیا خدا نے یا کسی اور نے؟ یہ تو خداتعالیٰ کا قولی معجزہ تھا اور پھر فعلی معجزہ اس نے یہ دکھلایا کہ میری پیشگوئی کے مطابق لیکھرام مارا گیا۔ دیکھو یہ کیسا نشان ہے کہ جو کروڑ ہا انسانوں میں شہرت پاکر آخر لاہور جیسے صدر مقام میں ہیبت ناک طور پر ظہور میں آیا۔ آتھم کا نشان بھی تمہاری آنکھ میں بہت صاف ہے کہ کیونکر اس نے اول شرط کے موافق ترساں و لرزاں ہوکر شرط سے فائدہ اٹھایا اور پھر کیونکر الہام کے مطابق اخفاء شہادت سے جلد تر پکڑا گیا اور فوت ہوگیا۔
    اخبارؔ چودھویں صدی والے بزرگ کی توبہ
    علاوہ اور نشانوں کے یہ بھی ایک عظیم الشان نشان ہے جو حال میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوا۔ ناظرین کو یاد ہوگا کہ ایک بزرگ نے جو ہر ایک طرح سے دنیا میں معزز اور رئیس اور اہل علم بھی ہیں اس عاجز کے حق میں ایک دلآزار کلمہ یعنی مثنوی رومی کا یہ شعر پڑھا تھا جو پرچہ چودھویں صدی ماہ جون ۱۸۹۷ء میں شائع ہوا تھا اور وہ یہ ہے
    چوں خدا خواہد کہ پردۂ کس درد
    میلش اندر طعنہ پاکاں برد
    سو اس رنج کی وجہ سے جو اس عاجز کے دل کو پہنچا اس بزرگ کے حق میں دعا کی گئی تھی کہ یا تو خداتعالیٰ اس کو توبہ اور پشیمانی بخشے اور یا کوئی تنبیہ نازل کرے۔ سو خدا نے اپنے فضل اور رحم سے اس کو توفیق توبہ عنایت فرمائی اور اس بزرگ کو الہام کے ذریعہ سے اطلاع دی کہ اس عاجز کی دعا اس کے بارے میں قبول کی گئی اور ایسا ہی معافی بھی ہوگی۔ سو اس نے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 112
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 112
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/112/mode/1up
    112
    خدا سے یہ الہام پاکر اور آثار خوف دیکھ کر نہایت انکسار اور تذلل سے معذرت کا خط لکھا۔ وہ خط کسی قدر اختصار سے پرچہ چودھویں صدی ماہ نومبر ۱۸۹۷ ء میں چھپ بھی گیا ہے۔ مگرچونکہ اس اختصار میں بہت سے ایسے ضروری امور رہ گئے ہیں جن سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ کیونکر خداتعالیٰ اپنے بندوں کی دعاؤں کو قبول کرتا اوران کے دلوں پر رعب ڈالتا اور آثار خوف ظاہر کرتا ہے۔ اس لئے میں مناسب دیکھتا ہوں کہ اس خط کو جو میرے پاس پہنچا تھا بعض ضروری اختصار کے ساتھ شائع کر دوں۔ اور بزرگ موصوف کا یہ اصل خط اس وجہ سے بھی شائع کرنے کے لائق ہے کہ میں اس اصل خط کو بہت سے لوگوں کو سنا چکا ہوں اور ایک جماعت کثیر اس کے مضمون سے اطلاع پاچکی ہے اور بہت سے لوگوں کو بذریعہ خطوط اسکی اطلاع بھی دی گئی ہے۔ اب جبکہ چودھویں صدی کے پرچہ کو وہ لوگ پڑھیں گے توضرور ان کے دل میں یہ خیالات پیدا ہوں گے کہ جو کچھ زبانی ہمیں سنایا گیا اس میں کئی ایسی باتیں ہیں جو شائع کردہؔ خط میں نہیں ہیں۔ اور ممکن ہے کہ ہمارے بعض کوتہ اندیش مخالفوں کو یہ بہانہ ہاتھ آجائے کہ گویا ہم نے نج کے خط میں اپنی طرف سے کچھ زیادت کی تھی۔ لہٰذا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس اصل خط کو چھاپ دیا جائے۔ مگر یاد رہے کہ چودھویں صدی کے خط میں جس قدر اختصار کیا گیا ہے یہ کسی کا قصور نہیں ہے اختصار کیلئے میں نے ہی اجازت دی تھی مگر اس اجازت کے استعمال میں کسی قدر غلطی ہوگئی ہے لہٰذا اب اس کی اصلاح ضروری ہے۔ اس تمام قصے کے لکھنے سے غرض یہ ہے کہ ہماری جماعت اور تمام حق کے طالبوں کیلئے یہ بھی ایک خدا کا نشان ہے اور جناب سر سید ا حمد خاں صاحب بالقابہ کے غور کرنے کے لئے یہ تیسرا نمونہ ہے کہ کیونکر اللہ جلّ شانہٗ اپنے بندوں کی دعائیں قبول کرلیتا ہے۔ سید صاحب موصوف کا یہ قول تو نہایت صحیح ہے کہ ہر ایک دعا منظور نہیں ہو سکتی بعض دعائیں منظور ہو جاتی ہیں مگر کاش سید صاحب کی پہلی تحریریں اس آخری تحریر کے مطابق ہوتیں۔
    اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ بزرگ موصوف جن کا خط ذیل میں لکھا جاتا ہے کچھ عام لوگوں میں سے نہیں ہیں بلکہ جہاں تک میرا خیال ہے وہ ایک بڑے ذی علم اور علماء وقت میں سے ہیں اور کئی لوگوں سے میں نے سنا ہے کہ انکو الہام بھی ہوتا ہے اور اس خط میں انہوں نے اپنے الہام کا ذکر بھی کیا ہے۔ علاوہ ان سب باتوں کے وہ بزرگ پنجاب کے معزز رئیسوں اور جاگیرداروں میں سے ہیں اور ایک مدت سے گورنمنٹ عالیہ انگریزی کی طرف سے ایک معزز عہدہ حکومت پر بھی ممتاز ہیں چونکہ پرچۂ چودھویں صدی میں بھی اس بزرگ کے منصب اور مرتبت کا اس قدر ذکر ہو چکا ہے لہٰذا اس قدر یہاں بھی لکھا گیا اور بزرگ موصوف نے جو میرے نام بغرض معذرت ۲۹؍ اکتوبر ۱۸۹۷ ؁ء کو خط لکھا تھا جس کا خلاصہ چودھویں صدی میں چھپا ہے اس خط کو بغرض مصلحت مذکورہ بالا بحذف بعض فقرات ذیل میں لکھتا ہوں اور وہ یہ ہے:۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 113
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 113
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/113/mode/1up
    113
    نقلؔ مطابق اصل
    ’’اخبار چودھویں صدی والا مجرم‘‘*
    ’’بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم‘‘
    ’’سیدی و مولائی السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ‘‘
    ’’ایک خطاکار اپنی غلط کاری سے اعتراف کرتا ہوا (اس نیازنامہ کے ذریعہ سے) قادیان کے مبارک مقام پر (گویا) حاضر ہوکر آپ کے رحم کا خواستگار ہوتا ہے۔
    یکم جولائی ۹۷ ؁ سے یکم جولائی ۹۸ ؁تک جو اس گنہگار کو مہلت دی گئی اب آسمانی بادشاہت میں آپ کے مقابلہ میں اپنے آپ کو مجرم قرار دیتا ہے۔ (اس موقعہ پر مجھے القا ہوا کہ جس طرح آپ کی دعا مقبول ہوئی اسی طرح میری التجا و عاجزی قبول ہوکر حضرت اقدس کے حضور سے معافی و رہائی دی گئی) مجھے اب زیادہ معذرت کرنے کی ضرورت نہیں۔ تاہم اس قدر ضرور عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میں ابتدا سے آپ کی اس دعوت پر بہت غور سے جویائے حال رہتا رہا اور میری تحقیق ایمانداری و صاف دلی پر مبنی تھی۔ حتّی کہ (۹۰) فیصدی یقین کا مدارج پہنچ گیا۔
    (۱) آپ کے شہر کے آریہ مخالفوں نے گواہی دی کہ آپ بچپن سے صادق و پاکباز تھے۔ (۲) آپ جوانی سے اپنی تمام اوقات خدائے واحد حَیّ وقیّوم کی عبادت میں لگاتار صرف فرماتے رہے 3۔۱؂ (۳) آپ کا حسن بیان تمام عالمان ربّانی سے صاف صاف علیحدہ نظر آتا ہے۔ آپ کی تمام تصنیفات میں ایک زندہ روح ہے (3)۲؂ (۴) آپ کا مشن کسی فساد اور گورنمنٹ موجودہ کی (جو تمام حالات سے اطاعت و شکرگذاری کے قابل ہے) بغاوت کی راہ نمائی نہیں کرتا اِنّ اللّٰہ لا یحبّ فی الارض الفساد۔
    * یہ عنوان بزرگ موصوف نے اپنے خط کے سر پر لکھا تھا ۔ چونکہ اس عنوان میں نہایت انکسار ہے جو انسان کو بوجہ اس کے کمال تذلل کے مورد رحمت الٰہی بناتا ہے اس لئے ہم نے اس کو جیسا کہ اصل خط میں تھا لکھ دیا ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 114
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 114
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/114/mode/1up
    114
    حتی کہمیرے بہت سے مہربان دوستوں نے جو ان سے آپ کے معاملات پرؔ میں ہمیشہ بحث کرتا رہتا تھا۔ مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خطاب سے مخاطب کیا۔
    پھر یہ کہ با ایں ہمہ کیوں؟ میرے منہ سے وہ بیت مثنوی کا نکلا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میں جب لاہور میں ان کے پاس گیا تو مجھ کو اپنے معتبر دوستوں کے ذریعہ سے (جن سے پہلے میری بحث رہتی تھی) خبر ملی کہ آپ سے ایسی باتیں ظہور میں آئی ہیں جس سے کسی مسلمان ایماندار کو آپ کے مخالف خیال کرنے میں کوئی تامل نہیں رہا۔ (ا) آپ نے دعویٰ رسول ہونے کا کیا ہے اور ختم المرسلین ہونے کا بھی ساتھ ساتھ ادّعا کر دیا ہے (جو ایک سچے مسلمان کے دل پر سخت چوٹ لگانے والا فقرہ تھا کہ جو عزت ختم رسالت کی بارگاہ الٰہی سے محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ (فداک روحی یا رسول اللہ) کو مل چکی ہے اس کا دوسرا کب حق دار ہو سکتا ہے۔ (۲)آپ نے فرمایا ہے کہ تُرک تباہ ہوں گے اور ان کا سلطان بڑی بے عزتی سے قتل کیا جائے گا اور دنیا کے مسلمان مجھ سے التجا کریں گے کہ میں ان کو ایک سلطان مقرر کردوں۔ یہ ایک خوفناک بربادی بخش پیشگوئی اسلامی دنیا کے واسطے تھی۔ کیونکہ آج تمام مقدس مقامات جو خداوند کے عہد قدیم و جدید سے چلے آتے ہیں ان کی خدمت ترکوں و ان کے سلطان کے ہاتھ میں ہے۔ ان مقامات کا ترکوں کی مغلوبی کی حالت میں نکل جانا ایک لازمی اور یقینی امر ہے جس کے خیال کرنے سے ایک ہیبت ناک و خطرناک نظارہ دکھائی دیتا ہے کہ اس موقعہ پر دنیا کے ہر ایک مسلمان پر فرض ہو جائے گا کہ ان معبدوں کو ناپاک ہاتھوں سے بچانے کے واسطے اپنی جان و مال کی قربانی چڑھائے۔ کیسا مصیبت اور امتحان کا وقت مسلمانوں پر آپڑے گا کہ یا تو وہ بال بچہ گھربار پیارے وطن کو الوداع کہہ کے ان پاک معبدوں کی طرف چل پڑیں یا اس ابدی اور جاوید زندگی ایمان سے دست بردار ہو جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 3۔۱؂ یہی راز ہے جو مسلمانؔ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 115
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 115
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/115/mode/1up
    115
    ترکوں سے محبت کرتے ہیں کہ ان کی خیر میں ان کے دین و دنیا کی خیر ہے۔ ورنہ ترکوں کا کوئی خاص احسان مسلمانان ہند پر نہیں بلکہ ہم کو سخت گلہ ہے کہ ہمارے پچھلی صدی کے عالمگیر کی تباہی میں جبکہ مرہٹوں و سکھوں کے ہاتھ سے مسلمانان ہند برباد ہو رہے تھے ہماری کوئی خبر انہوں نے نہیں لی۔ اس شکریہ کی مستحق صرف سرکار انگریزی ہے جس کی گورنمنٹ نے مسلمانوں کو اس سے نجات دلائی تو ہماری ہمدردی کی وہی خاص وجہ ہے جو اوپر ذکر کی گئی۔
    اور اس کو خیال کر کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ایسی سخت ترین مصیبت کے وقت تو مسلمانوں کے ایک سچے راہ نما کا یہ کام ہوتا کہ وہ عاجزی سے گڑگڑا کر خدا کے حضور میں اس تباہی سے بیڑے کو بچاتا۔ کیا حضرت نوح کے فرزند سے زیادہ ترک گنہگار تھے تو بجائے اس کے کہ ان کے حق میں خدا کے حضور شفاعت کی جاتی ہے نہ الٹا ہنسی سے ایسی بات بنائی جاتی۔
    (۳) و نیز یہ کہ حضرت والا نے حضرت مسیح کے بارے میں اپنی تصانیف میں سخت حقارت آمیز الفاظ لکھے ہیں جو ایک مقبول بارگاہِ الٰہی کے حق میں شایانِ شان نہ تھے جس کو خداوند اپنی روح و کلمہ فرمائے جن کے حق میں یہ خطاب ہو 33 ۔۱؂ پھر اس کی توہین اور اہانت کیونکر ہو سکتی۔
    یہ باتیں میرے دل میں بھری تھیں اور ان کی تجسس کے واسطے میں پھر کوشش کر رہا تھا کہ یہ کہاں تک صحیح ہیں کہ ناگاہ حضور کا اشتہار ترکی سفیر کے بارے میں جو نکلا پیش ہوا تو بیساختہ میرے منہ سے (سوا کسی اور کلام کے) مثنوی کا بیت نکل گیا۔ جس پر آپ کو رنج ہوا۔ (اور رنج ہونا چاہیے تھا)۔
    (۱)ؔ رسالت کے دعوے کے بارے میں مجھ کو خود ازالہ اوہام کے دیکھنے سے و نیز آپ کی وہ روحانی اور مردہ دلوں کو زندہ کرنے والی تقریر سے جو جلسۂ مذاہب لاہور میں پیش ہوئی میری تسلی ہوگئی جو محض افترا و بہتان ذات والا پر کسی نے باندھا۔
    (۲) بابت ترکوں کے آپ کے اسی اشتہار (میرے عرضی دعویٰ کے) میری تسلی ہوگئی۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 116
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 116
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/116/mode/1up
    116
    جس قدر آپ نے نکتہ چینی فرمائی وہ ضروری اور واجبی تھی۔
    (۳) بابت حضرت مسیح کے بھی ایک بے وجہ الزام پایا گیا۔ گو یسوع کے حق میں آپ نے کچھ لکھا ہے جو ایک الزامی طور پر ہے جیسا کہ ایک مسلمان شاعر ایک شیعہ کے مقابل پر حضرت مولانا علی ؑ کے بارے میں لکھتا ہے:
    آں جوانے بُروت مالیدہ
    بہر جنگ و دغا سگالیدہ
    برخلافت دلش بسے مائل
    لیک بوبکر شد میاں حائل
    تو بھی حضرت اگر ایسا نہ کرتے میرے خیال میں تو بہت اچھا ہوتا۔ 33۔۱؂ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مگر ان باتوں کے علاوہ جس سے میرا دل تڑپ اٹھا اور اس سے یہ صدا آنے لگی کہ اٹھ اور معافی طلب کرنے میں جلدی کر۔ ایسا نہ ہو کہ تو خدا کے دوستوں سے لڑنے والا ہو۔ خداوند کریم تمام رحمت ہے کَتَبَ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃ۔ دنیا کے لوگوں پر جب عذاب نازل کرتاہے تو اپنے بندوں کی ناراضی کی وجہ سے 3۔۲؂ آپ کا خدا کے ساتھ معاملہ ہے تو کون ہے جو الٰہی سلسلہ میں دخل دیوے۔ خداوند کی اس آخری عظیم الشان کتاب کی ہدایت یاد آئی جو مومن آل فرعون کے ؔ قصّہ میں بیان فرمائی گئی کہ جو لوگ خدائی سلسلہ کا اِدّعا کریں ان کی تکذیب کے واسطے دلیری اور پیش دستی نہ کرنی چاہیے نہ یہ کہ ان کا انکار کرنا چاہیے33۳؂
    مگر یہ صرف میرا دلی خیال ہی نہیں رہا بلکہ اس کا ظاہری اثر محسوس ہونے لگا۔ کچھ ایسی بنائیں خارج میں پڑنے لگیں جس میں۔۔۔۔۔۔ (اعوذ باللہ) مصداق ہو جانے لگا۔ (یعنی آثار خوف ظاہر ہوئے)۔
    چودہ سو برس ہونے کو آتے ہیں کہ خدا کے ایک برگزیدہ کے منہ سے یہ لفظ ہماری قوم کے حق میں نکلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔ تو کیا؟ قدرت کو ھباءً منثورا کرنے کا خیال ہے (تُبْتُ اِلیْکَ یَا رَبِّ) کہ پھر
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 117
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 117
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/117/mode/1up
    117
    ایک مقبول الٰہی کے منہ سے وہی کلمہ سن کر مجھے کچھ خیال نہ ہو۔
    پس یہ ظاہری خطرات مجھ کو اس خط کے تحریر کرتے وقت سب کے سب اڑتے ہوئے دکھائی دئیے۔ (جن کی تفصیل کبھی میں پھر کروں گا) اس وقت تو میں ایک مجرم گنہگاروں کی طرح آپ کے حضور میں کھڑا ہوتا ہوں اور معافی مانگتا ہوں (مجھ کو حاضر ہونے میں بھی کچھ عذر نہیں مگر بعض حالات میں ظاہر حاضری سے معاف کیا جانے کا مستحق ہوں) شاید جولائی ۱۸۹۸ ؁ء سے پہلے حاضر ہی ہو جاؤں۔
    امید کہ بارگاہ قدس سے بھی آپ کو راضی نامہ دینے کے لئے تحریک فرمائی جائے کہ 3 ۱؂ ۔ قانون کا بھی یہی اصول ہے کہ جو جرم عمداً و جان بوجھ کر نہ کیا جائے وہ قابل راضی نامہ و معافی کے ہوتا ہے۔ فاعفوا واصفحوا ان اللّٰہ یحبّ المحسنین۔
    میں ہوں حضور کا مجرم
    (دستخط بزرگ) راولپنڈی۔ ۲۹؍ اکتوبر ۹۷ء‘ ؁‘
    یہؔ خط بزرگ موصوف کا ہے جس کو ہم نے بعض الفاظ تذلّل و انکسار کے حذف کر کے چھاپ دیا ہے اس خط میں بزرگ موصوف اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ان کو اس عاجز کی قبولیت دعا کے بارے میں الہام ہوا تھا۔ اور نیز اس بات کا اقرار بھی کرتے ہیں کہ انہوں نے خارجاً بھی آثار خوف دیکھے جن کی وجہ سے زیادہ تر دہشت ان کے دل پر طاری ہوئی اور قبولیت دعا کے نشان دکھائی دئیے۔ پس اس جگہ یہ بات ظاہر کرنے کے لائق ہے کہ ڈپٹی آتھم کی نسبت جو کچھ شرطی طور پر بیان کیا گیا تھا وہ بیان بالکل اس بیان سے مشابہ ہے جو اس بزرگ کی نسبت کیا گیا یعنی جیسا کہ اس عذابی پیشگوئی میں ایک شرط رکھی گئی تھی ویسا ہی اس میں بھی ایک شرط تھی اور ان دونوں شخصوں میں فرق یہ ہے کہ یہ بزرگ ایمانی روشنی اپنے اندر رکھتا تھا اور سچ سے محبت کرنیکی سعادت اس کے جوہر میں تھی لہٰذا اس نے آثار خوف دیکھ کر اور خداتعالیٰ سے الہام پاکر اس کو پوشیدہ کرنا نہ چاہا اور نہایت تذلّل اور انکسار سے جہاں تک کہ انسان تذلّل کر سکتا ہے تمام حالات صفائی سے لکھ کر اپنا معذرت نامہ بھیج دیا۔ مگر آتھم چونکہ نور ایمان اور جوہر سعادت سے بے بہرہ تھا اس لئے باوجود سخت خوفناک اور ہراساں ہونے کے بھی یہ سعادت اس کو میسر نہ آئی اور
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 118
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 118
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/118/mode/1up
    118
    خوف کا اقرار کر کے پھر افترا کے طور پر خوف کی وجہ ان ہمارے فرضی حملوں کو ٹھہرایا جو صرف اسی کے دل کا منصوبہ تھا حالانکہ اس نے پندرہ مہینے تک یعنی میعاد کے اندر کبھی ظاہر نہ کیا کہ ہم نے یا ہماری جماعت میں سے کسی نے اس پر حملہ کیا تھا۔ اگر ہماری طرف سے اس کے قتل کرنے کے لئے حملہ ہوتا تو حق یہ تھا کہ میعاد کے اندر اسی وقت جب حملہ ہوا تھا شور مچاتا اور حکّام کو خبر دیتا۔ اگر ہماری طرف سے ایک بھی حملہ ہوتا تو کیا کوئی قبول کر سکتا ہے کہ اس حملہ کے وقت عیسائیوں میں شور نہ پڑ جاتا۔ پھر جس حالت میں آتھم نے میعاد گذرنے کے بعد یہ بیان کیا کہ میرے قتل کرنے کے لئے مختلف وقتوں اور مقاموں میں تین حملے کئے گئے تھے یعنی ایک امرتسر میں اور ایک لدھیانہ میں اور ایک فیروزپور میں توکیا کوئی منصف سمجھ سکتا ہے کہ باوجود ان تینوں حملوں کے جو خون کرنے کیلئے تھے آتھم اور اس کا داماد جو اکسٹرا اسسٹنٹ تھا اور اس کی تمام جماعت چپ بیٹھی رہتی اور حملہ کرنیوالوں کا کوئی بھی تدارک نہ کراتی اور کم سے کم اتنا بھی نہ کرتی کہ اخباروں میں چھپوا کر ایک شور ڈالدیتی اور اگر نہایت نرمی کرتی تو سرکار سے باضابطہ میری ضمانت سنگین طلب کرواتی۔ کیا کوئی دل قبول کرلے گا کہ میری طرف سے تین حملے ہوں اور آتھم اور اس کی جماعت سب کے سب چپ رہیں بات تک باہر نہ نکلے؟ کیا کوئی عقلمند اس بات کو قبول کر سکتا ہے خاص کر جس حالت میں میرے حملوں کا ثبوت میری پیشگوئیوں کی ساری قلعی کھولتا تھا اور عیسائیوں کو نمایاں فتح حاصل ہوتی تھی پس آتھم نے یہ جھوٹے الزام اسی لئے لگائے کہ پیشگوئی کی میعاد کے اندر اس کا خائف اور ہراساں ہونا ہر ایک پر کھل گیا تھا وہ مارے خوف کے مرا جاتا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ آثار خوف اس پر اس طرح ظاہر ہوئے ہوں جیسا کہ یونس کی قوم پر ظاہر ہوئے تھے۔ غرض اس نے الہامی شرط سے فائدہ اٹھایا مگر دنیا سے محبت کر کے گواہی کو پوشیدہ رکھا اور قسم نہ کھائی اور نالش نہ کرنے سے ظاہر بھی کر دیا کہ وہ ضرور خداتعالیٰ کے خوف اور اسلامی عظمت سے ڈرتا رہا۔ لہٰذا وہ اخفائے شہادت کے بعد دوسرے الہام کے موافق جلد تر فوت ہوگیا۔ بہرحال یہ مقدمہ کہ جو اس خوش قسمت اور نیک فطرت بزرگ کا مقدمہ ہے آتھم کے مقدمہ سے بالکل ہم شکل ہے اور اس پر روشنی ڈالتا ہے۔ خداتعالیٰ اس بزرگ کی خطا کو معاف کرے اور اس سے راضی ہو میں اس سے راضی ہوں اور اس کو معافی دیتا ہوں۔ چاہیے کہ ہماری جماعت کا ہر ایک شخص اس کے حق میں دعائے خیر کرے۔ اللّٰھم احفظہ مِنَ البلایا والآفات۔ اللّٰھم اعصمہ من المکروھات۔ اللّٰھم ارحمہ و انت خیر الراحمین آمین ثم آمین۔
    الراقم خاکسار میرزا غلام احمد از قادیاں۔ ۲۰؍نومبر ۱۸۹۷ ؁ء
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 119
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 119
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/119/mode/1up
    119
    نہایتؔ ضروری عرضداشت
    قابل توجہ گورنمنٹ
    چونکہ ہماری گورنمنٹ برطانیہ اپنی رعایا کو ایک ہی آنکھ سے دیکھتی ہے اور اس کی شفقت اور رحمت ہر ایک قوم کے شامل حال ہے لہٰذا ہمارا حق ہے کہ ہم ہر ایک درد اور دکھ اس کے سامنے بیان کریں اور اپنی تکالیف کی چارہ جوئی اس سے ڈھونڈیں۔ سو ان دنوں میں بہت تکلیف جو ہمیں پیش آئی وہ یہ ہے کہ پادری صاحبان یہ چاہتے ہیں کہ وہ ہر ایک طرح سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی کریں گالیاں نکالیں بے جا تہمتیں لگاویں اور ہر ایک طور سے توہین کر کے ہمیں دکھ دیں اور ہم ان کے مقابل پر بالکل زبان بند رکھیں۔ اور ہمیں اس قدر بھی اختیار نہ رہے کہ ان کے حملوں کے جواب میں کچھ بولیں۔ لہٰذا وہ ہماری ہر ایک تقریر کو گو کیسی ہی نرم ہو سختی پر حمل کر کے حکّام تک شکایت پہنچاتے ہیں۔ حالانکہ ہزار ہا درجہ بڑھ کر ان کی طرف سے سختی ہوتی ہے۔
    ہم لوگ جس حالت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خداتعالیٰ کا سچا نبی اور نیک اور راستباز مانتے ہیں تو پھر کیونکر ہماری قلم سے ان کی شان میں سخت الفاظ نکل سکتے ہیں۔ لیکن پادری صاحبان چونکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں رکھتے اس لئے جو چاہتے ہیں منہ پر لاتے ہیں۔ یہ ہمارا حق تھا کہ ہم ان کے دل آزار کلمات کی اپنی گورنمنٹ عالیہ میں شکایت پیش کرتے اور داد رسی چاہتے۔ لیکن انہوں نے اول تو خود ہی ہزاروں سخت کلمات سے ہمارے دل کو دکھایا اور پھر ہم پر ہی الٹی عدالت میں شکایت کی کہ گویا سخت کلمات اور توہین ہماری طرف سے ہے۔ اور اسی بنا پر وہ خون کا مقدمہ اٹھایا گیا تھا جو ڈگلس صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپورہ کے محکمہ سے خارج ہو چکا ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 120
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 120
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/120/mode/1up
    120
    اس لئے قرین مصلحت ہے کہ ہم اپنی عادل گورنمنٹ کو اس بات سے آگاہ کریں کہ جس قدر سختی ؔ اور دل آزاری پادری صاحبوں کی قلم اور زبان سے اور پھر ان کی تقلید اور پیروی سے آریہ صاحبوں کی طرف سے ہمیں پہنچ رہی ہے ہمارے پاس الفاظ نہیں جو ہم بیان کر سکیں۔
    یہ بات ظاہر ہے کہ کوئی شخص اپنے مقتدا اور پیغمبر کی نسبت اس قدر بھی سننا نہیں چاہتا کہ وہ جھوٹا اور مفتری ہے اور ایک باغیرت مسلمان بار بار کی توہین کو سن کر پھر اپنی زندگی کو بے شرمی کی زندگی خیال کرتا ہے تو پھر کیونکر کوئی ایمانداراپنے ہادی پاک نبی کی نسبت سخت سخت گالیاں سن سکتا ہے۔ بہت سے پادری اس وقت برٹش انڈیا میں ایسے ہیں کہ جن کا دن رات پیشہ ہی یہ ہے کہ ہمارے نبی اور ہمارے سید و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے رہیں۔ سب سے گالیاں دینے میں پادری عماد الدین امرتسری کا نمبر بڑھا ہوا ہے وہ اپنی کتابوں تحقیق الایمان وغیرہ میں کھلی کھلی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے اور دغاباز۔ پرائی عورتوں کو لینے والا وغیرہ وغیرہ قرار دیتا ہے اورنہایت سخت اور اشتعال دینے والے لفظ استعمال کرتا ہے۔ ایسا ہی پادری ٹھاکر داس سیرۃ المسیح اور ریویو براہین احمدیہ میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام شہوت کا مطیع اور غیر عورتوں کا عاشق۔ فریبی۔ لٹیرا۔ مکّار۔ جاہل۔ حیلہ باز۔ دھوکہ باز۔ رکھتا ہے۔ اور رسالہ دافع البہتان میں پادری رانکلین نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔ شہوت پرست تھا۔
    محمد کے اصحاب زناکار۔ دغاباز۔ چور تھے۔ اور ایسا ہی تفتیش الاسلام میں پادری راجرس لکھتاہے کہ محمد شہوت پرست۔ نفس امّارہ کا ازحد مطیع۔ عشق باز۔مکّار۔ خونریز اور جھوٹا تھا۔ اور رسالہ نبی معصوم مصنفہ امریکن ٹریکٹ سوسائٹی میں لکھا ہے کہ محمد گنہگار۔ عاشق حرام یعنی زنا کا مرتکب۔ مکّار۔ ریاکار تھا۔ اور رسالہ مسیح الدجال میں ماسٹر رام چندر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہتا ہے کہ محمد سرغنہ ڈکیتی تھا اور لٹیرا۔ ڈاکو۔ فریبی۔ عشق باز۔ مفتری۔ شہوت پرست۔ خونریز۔ زانی۔ اور کتاب سوانح عمری محمد صاحب
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 121
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 121
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/121/mode/1up
    121
    مصنفہ واشنگٹن ارونگ صاحب میں لکھا ہے کہ محمد کے اصحاب قزّاق اور لٹیرے تھے۔ اور وہ خود طَامِع۔ جھوٹا۔ دھوکہ باز تھا۔ اور اندرونہ بائبل مصنفہ آتھم عیسائی میں لکھا ہے کہ محمد دجّال تھا اور دھوکہ باز۔ پھر کہتا ہے کہ محمدیوں کا خاتمہ بڑا ؔ خوفناک ہے یعنی جلد تباہ ہو جائیں گے۔ اور پرچہ نور افشاں لدھیانہ میں لکھا ہے کہ محمد کو شیطانی وحی ہوتی تھی۔ اور وہ ناجائز حرکات کرتا تھا۔ اور نفسانی آدمی۔ گمراہ۔ مکّار۔ فریبی۔ زانی۔ چور۔ خونریز۔ لٹیرا۔ رہزن۔ رفیق شیطان۔ اور اپنی بیٹی فاطمہ کو نظر شہوت سے دیکھنے والا تھا۔
    اب یہ تمام الفاظ غور کرنے کے لائق ہیں جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں پادری صاحبوں کے منہ سے نکلے ہیں۔ اور سوچنے کے لائق ہے کہ ان کے کیا کیا نتائج ہو سکتے ہیں کیا اس قسم کے الفاظ کبھی کسی مسلمان کے منہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت نکل سکتے ہیں۔ کیا دنیا میں ان سے سخت تر الفاظ ممکن ہیں جو پادری صاحبوں نے اس پاک نبی کے حق میں استعمال کئے ہیں جس کی راہ میں کروڑہا خدا کے بندے فداشدہ ہیں اور وہ اس نبی سے وہ سچی محبت رکھتے ہیں جس کی نظیر دوسری قوموں میں تلاش کرنا لاحاصل ہے پھر باوجود ان گستاخیوں ان بدزبانیوں اور ان ناپاک کلمات کے پادری صاحبان ہم پر الزام سخت گوئی کا رکھتے ہیں یہ کس قدر ظلم ہے۔ ہم یقیناً جانتے ہیں کہ ہرگز ممکن نہیں کہ ہماری گورنمنٹ عالیہ ان کے اس طریق کو پسند کرتی ہو۔ یا خبر پاکر پھر پسند کرے۔ اور نہ ہم باور کر سکتے ہیں کہ آئندہ پادریوں کے کسی ایسے بے جا جوش کے وقت کہ جو کلارک کے مقدمہ میں ظہور میں آیا ہماری گورنمنٹ پادریوں کو ہندوستان کے چھ کروڑ مسلمان پر ترجیح دے کر کوئی رعایت ان کی کرے گی۔ اس وقت جو ہمیں پادریوں اور آریوں کی بدزبانی پر ایک لمبی فہرست دینی پڑی وہ صرف اس غرض سے ہے کہ تا آئندہ وہ فہرست کام آئے اور کسی وقت گورنمنٹ عالیہ اس فہرست پر نظر ڈال کر اسلام کی ستم رسیدہ رعایا کو رحم کی نظر سے دیکھے۔
    اور ہم تمام مسلمانوں پر ظاہر کرتے ہیں کہ گورنمنٹ کو ان باتوں کی اب تک خبر نہیں ہے کہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 122
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 122
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/122/mode/1up
    122
    کیونکر پادریوں کی بدزبانی نہایت تک پہنچ گئی ہے۔ اور ہم دلی یقین سے جانتے ہیں کہ جس وقت گورنمنٹ عالیہ کو ایسی سخت زبانی کی خبر ہوئی تو وہ ضرور آئندہ کے لئے کوئی احسن انتظام کرے گی۔
    اب ہم وہ مفصل فہرست کتابوں کی لکھتے ہیں جن میں پادری صاحبوں نے اور ایسا ہی ان کی تعلیم سے ہندوؤں اور آریوں نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دین اسلام اورؔ اس کے اکابر کی نسبت بدزبانی کو انتہا تک پہنچایا ہے۔
    نقل کفر کفر نہ باشد
    عیسائیوں کی گالیاں
    کتاب دافع البہتان مصنفہ پادری رانکلین صاحب مطبوعہ مشن پریس الہ آباد ۱۸۴۵ ؁ء
    صفحہ
    فقرات یا الفاظ جن سے اشتعال طبع یا دل آزاری مسلماناں ہوتی ہے۔
    ۲۳۔۲۴
    اہل اسلام کا رسول اپنی لونڈی سے ہمبستر ہوا اور جب اس کی جورؤں میں سے ایک نے ملامت کی تو اس نے قسم کھائی اور پھر اپنی نفسانی لذّت کے لئے اپنی قسم توڑ کر آیت نازل کی۔
    ۲۴
    اپنی نفسانی خواہشوں کے موافق نئے حکم جاری کئے۔
    ۳۱
    مگر یقین ہے کہ محمد جب کہ کسی طور سے اپنی رسالت کو ثابت نہ کر سکا تو اس باطل خبر کو مشہور کیا۔ کیا ایسے افترا ایمانداری کے لائق ہیں؟
    ۶۹
    ہم بھی محمد کو وہی دولت مند مذکور کہہ سکتے ہیں* (یہ دولتمند جو ابراہیم کی نسل سے تھا بہت شان و شوکت کی زندگی کے بعد مر کر دوزخی ہوا۔ لوقا)
    ۷۴
    محمدیوں کا بھی دستور ہے کہ اکثر اپنے مذہب کے ثبوت میں بے ایمانی سے کوشش کرتے ہیں۔
    * خطوط وحدانی میں عبارتیں ہماری طرف سے ہیں۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 123
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 123
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/123/mode/1up
    123
    ۸۷
    یہاں صحابہ کبار کو من وجہہ قاتل۔ ظالم۔ زناکار۔ دغاباز۔ چور۔ بدکاروں کی جماعت جسے دل کی پاکیزگی سے کچھ تعلق نہیں۔ قرار دیا ہے۔
    ۸۸
    اپنے شاگردوں (صحابہ) کی دلیری کے واسطے تلوار کو بہشت کی کنجی ٹھہرایا کہ جس سے لازم آتا ہے کہ جتنے گنہگار و بدذات کہ بے توبہ کئے مارے گئے (شہید صحابہ) وے۔۔۔ بہشت میں داخل ہوں۔
    ۱۵۳ؔ
    اس لئے ضرور پڑا کہ انجیل مقدس کو منسوخ کرے کیونکہ اس میں فاعل ایسے کام کا (مراد رسول اکرم) دوزخی ہے۔
    ۱۵۴
    کچھ تعجب نہیں کہ اُس (رسول اکرم) نے انجیل مقدس کو منسوخ کیا ہوکیونکہ تمام بندہ دنیا جو کہ شہوت پرست ہیں ایسے ہی کرتے ہیں لیکن ان سبھوں پر افسوس کس لئے کہ ان کا یہی انجام ہے کہ وے بالاجماع خدا کے غضب میں پڑیں گے یعنی اس جھیل (دوزخ) میں جو کہ آگ اور گندھک سے جلتی ہے:۔
    رسالہ مسیح الدجّال مصنفہ ماسٹر رام چند عیسائی ۱۸۷۳ ؁ء
    اس کتاب میں ہمارے رسول اکرم کو دجال بنانے کی کوشش کی گئی ہے:-
    سیرت المسیح والحمد ۱؂
    صفحہ
    مصنفہ پادری ٹھاکر داس مشنری امریکن مشن ۱۸۸۲ ؁ء
    سرورق
    مسیح کو بلعال کے ساتھ کونسی موافقت ہے (یہاں ہمارے رسول اکرم کو بلعال
    یعنی جو ایک خبیث اور شریر روح ہے۔ قرار دیا ہے)۔
    ۶
    محمد بذاتہ گنہگار۔۔۔ محمد عملاً گنہگار تھا۔
    ۱۱
    محمد گفتار رفتار میں ثابت قدم نہیں۔ ابھی کچھ پھر کچھ۔
    ۱۲
    حرص دنیاوی بانی اسلام میں یہ صورت رکھتی ہے کہ دین کے بھیس میں دنیا
    صحیح المحمد ہے سہو کتابت سے الحمد لکھا گیا ہے۔ ناشر
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 124
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 124
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/124/mode/1up
    124
    پر مسلط ہونا۔۔۔ طمع دنیاوی نے آخرکار ظہور دکھایا۔
    ۱۴
    نفسانی شہوۃ جو انسان میں ذاتی کہہ سکتے ہیں محمد میں بیشتر تھی حتی کہ وہ اس کا ہمیشہ مغلوب رہا۔۔۔ محمد مثل اورعربوں کے شکل ہی سے عورتوں کا عاشق معلوم ہوتا ہے۔
    ۱۵
    اور اس بات میں حضرت نے نہ صرف اپنی تعلیم کی ایک گو نہ مخالفت کی بلکہ خودؔ غرضی کو خوب ثابت کیا اور شہوت رانی میں اوروں کی شہوت کی ہمواری نہ کی۔۔۔ پھر جس ڈھب سے یہ کام پورا کرتے رہے وہ بالکل نفسانیت کی تدبیریں تھیں:۔
    ۱۶
    متبنّٰی بیٹے کی جورو سے نکاح کرنے کی شرع کا موقع اور موجب زینب کو ننگی دیکھ کر اس پر محمد کی شہوت کا بھڑکنا تھا۔
    ۲۱
    محمد ایک بھولتا بھٹکتا انسان تھا۔
    ۳۱
    لوگوں کو بہکانے کے لئے (آنحضرت نے) یہ عجب جھوٹ باندھا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محمد شیطان کے جھانسے میں آجاتا تھا۔
    ۳۱
    پھر ماسٹر رام چند صاحب ایک فریب کا ذکر کرتے ہیں جو محمد نے یہودیوں سے کیا۔
    ۳۵
    اے ناظرین ہوشیار ہو کہ کہیں تم محمد کے فریب میں نہ آجاؤ۔
    اندرونہ بائبل مصنفہ ڈپٹی عبداللہ آتھم
    ۷۰
    صاحب نشان اس دجّال کا دراصل تو وہی پرانا خونی اژدھا (شیطان) ہے تاہم جب وہ منہ پھاڑتا ہے تو اس کے دو جباہڑے پوپ اور نبی عرب کی تواریخ اپنے اندر مجسم دکھاتے ہیں۔ (یعنی دجّال جو اصل میں شیطان ہے اس کا ظہور پوپ اور نبی عرب کے رنگ میں ہوا)۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 125
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 125
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/125/mode/1up
    125
    ۷۵
    ہاں پیمانہ زمانہ مقصر اور پورا کر کے پوپ اور محمدپر بھی یہ خبریں (متعلقہ دجال) درست آتی ہیں۔ اور شرح مکاشفات میں دکھلایا گیا ہے کہ دین پوپی اور محمدی ایک ہی اژدہا (شیطان) کے دو جباڑے ہیں۔
    ۱۲۳
    تا
    ۱۳۱
    (کتاب مکاشفات میں جو ٹڈی کا ذکر ہے جو سبزے کو کھا جائے گی اور ان ٹڈیوں کے بادشاہ کا نام ہلاکو یعنی ہلاکت لانے والا لکھا ہے۔ وہاں ہلاکو سے مراد نبی عرب اور ٹڈی اس کا لشکر بتایا گیا ہے نیز ہمارے رسول اکرم پر (بصفحہ ۱۲۶) شرک ؔ کا الزام دیا ہے)۔
    ۱۳۲
    اور ایک اور جھوٹا نبی بھی ہے بلاتعریف بلفظ وہ کے اس سے اشارہ بطرف بدعت محمدی کے ہے۔
    ۱۴۴و۱۴۵
    کھلے کھلے الفاظ میں بانی اسلام کو ایک دجّال کہا ہے۔
    و۱۹۶
    جس کی بدعت کے خاتمہ پر صلح موعود ہونیوالی ہے۔
    کتاب محمد کی تواریخ کا اجمال مصنفہ پادری ولیم از ریواڑی۔ مطبوعہ کرسٹین مشن ریواڑی ۱۸۹۱ ؁ء
    صفحہ
    اس تمام کتاب کا کوئی صفحہ اور سطر خالی نہیں جو سخت سے سخت اشتعال آمیز اور مکروہ الفاظ اپنے اندر نہیں رکھتی۔
    ۱و ۲و ۳و ۴و ۵ و۶و ۷
    ہمارے رسول اکرم کو ڈاکوؤں کا سرغنہ۔ لٹیرا۔ ڈاکو۔ خفیہ بندش۔سازش سے قتل کرانے والا۔ دغابازی کی چال چلنے والا۔ ظاہر کیا ہے۔
    ۴
    اتفاق سے جو اس کی (زینب) خوبصورتی پر محمد کی نظر پڑی دل میں عشق بد پیدا ہوا۔ اس بدخواہش کو پورا کرنے کے واسطے فورًاآسمان سے اجازت منگالی۔۔۔ محمد کے لئے ہر وقت اور ہر کام کے واسطے خواہ نیک ہو خواہ بد ہو خواہ چھوٹا ہو
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 126
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 126
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/126/mode/1up
    126
    خواہ بڑا آیت یا اجازت آسمانی حاضر تھی:۔
    ۷
    محمد نے بہتیروں کو چھپ کے قتل کرایا۔۔۔۔۔۔ محمد جس برس مدینہ گیا۔ اسی میں ڈکیتی بھی کرنے لگا۔۔۔۔۔۔ محمد نے دس بیبیاں رکھیں۔
    ۸
    محمد ان کے آدھے کی نسبت (یعنی دس احکام توریت) نہایت گنہگار تھا۔۔۔۔۔۔ محمد نے بہتوں کو چھپ کے مروا ڈالا۔۔۔۔۔۔ محمد نے بہت ڈکیتی کروائیں۔۔۔۔۔۔ محمد نے اپنی بدخواہش پورا کرنے کے لئے دس جورووان اور دو لونڈیاں رکھیں۔۔۔۔۔۔ محمد نے۔۔۔۔۔۔ زینب کو دیکھ کر بدخواہش کی۔۔۔۔۔۔ؔ محمد ایک دنیادار آدمی تھا۔
    صفحہ ریویو براہین احمدیہ مصنفہ پادری ٹھاکرداس مطبوعہ مشن پریس لدھیانہ ۱۸۸۹ ؁ء
    ۷
    یہ رنگارنگی ایسی باتوں کو شامل کرتی ہے جو حضرت کے مکّار اور فریبی ہونے کو بالکل ثابت کرتی ہے۔
    ۹
    اسی لئے ان کے دعویٰ نبوت کو سوائے مکر و فریب یا وہم کے اور کوئی نام نہیں دے سکتے۔
    ۱۰
    محمد صاحب کی زندگی میں ثابت قدمی اور صدق کی بجائے زمانہ سازی اور فریب بالکل ظاہر ہے۔
    ۱۵
    حضرت کی تکلیفوں سے بھی ان کا مکر و فریب ثابت ہوتا ہے۔
    ۱۶
    حیلہ سازی میں اور زمانہ سازی میں حضرت محمد بے شک بے نظیر تھے۔
    ۲۲
    محمد صاحب تو جاہل آدمی تھے۔۔۔ جاہلوں (آنحضرت) کی جہالت کا آپ کیوں ساتھ دیتے ہیں۔
    ۲۴
    حضرت نے خوب دھوکہ کھایا اور دھوکا دیا۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 127
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 127
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/127/mode/1up
    127
    ۲۵
    محمد فریبی آدمی تھا۔
    ۳۳
    قرآن خود گمراہ ہے اور گمراہ کرنے والا ہے۔
    ۴۵
    محمد صاحب جو خود ایک جاہل شخص تھے۔
    ۶۳
    محمد اور اور پیروؤں کی کامیابی بجائے حیرانگی کے نہ صرف حقارت پیدا کرتی ہے بلکہ محمد کو ایک بڑا فریبی ثابت کرتی ہے۔
    سوانح عمری محمد صاحب مصنفہ اورنگ واشنگٹن
    صفحہ ترجمہ لالہ رلیارام گھولاٹی مطبوعہ مطبع اڑوربنس لاہور
    ۱۶۷ؔ
    محمد موسائی عورتوں کے حسن و جمال پر فریفتہ اور دل دادہ تھا۔
    ۱۶۹
    محمد (دھوکہ کی کارروائیاں منسوب کی گئی ہیں) اس کی زندگی کے اس حصہ میں یعنی جب وہ رسول تیغ ہوا دنیوی خواہش و آلائش نے اس کی ذاتی صفات و طبعی فضائل کو رذیل کر دیا۔
    ۲۷۲
    بعض معاملات میں وہ (آنحضرت) شہوت پرست تھا۔
    ۲۷۳۔
    جب وہ کسی خوبصورت عورت کے سامنے ہوتا تھا تو اپنی پیشانی اور بالوں کو سنوارتا تھا۔
    ۲۷۸۔
    اس کی سرگرم اور وہمی روح۔۔۔۔۔۔ عزلت فاقہ کشی وغیرہ سے۔۔۔۔۔۔ اس حد تک گُھل گئی تھی کہ اس کو ایک عارضی سا خفقان و ہذیان ہو جایا کرتا تھا۔
    ۲۸۰
    اس کے خیال ایجاد کی طرف مائل تھے۔۔۔۔۔۔ وہ زیادہ تر جوش اور تحریک کا مغلوب تھا۔
    ۲۸۱
    جب اس نے تلوار کے مذہب کی شہرت دی اور لٹیرے عربوں (صحابہ) کو بیرونی غنیمت کا مزہ چکھایا۔
    ۲۸۲
    اپنے رسالت کے مشتبہ آغاز میں وہ اپنے الہامی سروش ورقہ کے عیّارانہ و مکارانہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 128
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 128
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/128/mode/1up
    128
    نصائح و مواعظ سے مدد لیا کرتا تھا۔
    ۲۸۳
    جب وہ برسر حکومت و دسترس تھا اس نے دنیوی خواہشات و اغراض کی طرف میلان ظاہر کیا۔
    ۲۸۴
    اس کے دور حیات کے اخیر وقت تک اس کو ایک خاص قسم کے خبط و خفقان سے کم و بیش متحیر و حیران کرتی رہی۔ اور اسی دھوکے اورفریب دینے والے یقین میں مرگیا کہ میں ایک پیغمبر ہوں۔
    اخبار نور افشاں۔ امریکن مشن پریس لودیانہ
    مطبوعہ ۱۳؍ مارچ ۹۶ء
    صفحہ ۵
    (ایک محمدی ملّا جس نے بقول اخبار مذکور اپنے مرید کی عورت کو خوبصورت دیکھ کر حکمت عملی سے طلاق دلوائی اور اپنے نکاح میں لایا اس کا ذکر کر کے لکھا ہے) اس محمدی ملّا کا فعل ہم کو تعجب میں نہیں ڈالتا کیونکہ ملّا نے عین اپنے پیغمبر کی پیروی کی ہے۔
    ۱۲؍ جون ۹۶ء صفحہ ۸
    محمد کے پاس جو وحی آتی تھی وہ بھی دیوتا لاتے تھے۔
    ۱۹؍ جون ۹۶ء صفحہ ۱
    ظلم و ستم سے مذہب پھیلانیوالے (مسلمان) ضرور گدھے اور انکا یہ عمل گدھا پن ہے۔
    صفحہ۶
    محمد صاحب خود بھی حسن پرست اور عاشق مزاج تھے (ایک قصہ نقل کر کے کہ آنحضرت نے اپنیؔ بیٹی فاطمہ کو بوسہ دیا اخبار نویس نے نتیجہ نکالا ہے) محمد نے اگرچہ چالاکی سے جواب کو بنایا۔۔۔۔۔۔ اگر عائشہ محمد کو ناجائز حرکات (بقول اخبار نویس اپنی بیٹی کو نظر بد سے چومنا) میں مصروف نہ دیکھتی۔۔۔۔۔۔ ان حرکات (بیٹی کو بوسہ دینا) میں اعتدال سے بڑھ کر تعشق کی کثرت پائی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔ جب فاطمہ حور قرار دی گئی تو وہ اب کس کی حور سمجھی جائے۔ اور حور کا انسان کی صورت میں اس جہاں میں کیا کام ہو سکتا ہے۔
    ۲۵؍ ستمبر ۹۶ء
    صفحہ ۹
    اب کوئی نہ کہے کہ محمد حفصہ کے گھر ماریہ لونڈی سے ایسا ویسا کرتا تھا۔۔۔۔۔۔ اگر آپ کے (مسلمان کے) قول و ایمان کے مطابق اگر عورات سچ مچ جوتیاں ہیں تو مہربانی سے فرمائیے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 129
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 129
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/129/mode/1up
    129
    کہ عبداللہ کی عورت آمنہ عبداللہ کے واسطے جوتی تھی یا نہیں جس کا ظہور محمد ہے۔ پھر محمد کی عورتیں مومنین کی مائیں کہلاتی ہیں مگر چونکہ وہ عورتیں ہیں اس لئے وہ جوتیاں ہیں۔ بعد وفات محمد کوئی ان کو نکاح میں نہ لا سکتا تھا۔ اب مومنین ان کو کیا کریں گے۔ سر پر ماریں گے ۔۔۔ حضرت نے بیوہ۔ کنواری۔ مطلقہ کوئی نہ چھوڑی حتّٰی کہ متبنّٰی کی چاہیتی کو بھی نہ چھوڑا ۔۔۔ اس بدتہذیبی کا رواج دینے والا محمد تھا۔
    صفحہ ۱۰
    عرب کی تمام منکوحہ عورات بھی کسبیاں ہیں۔
    ۱۸؍ دسمبر۹۶ء صفحہ ۹
    (گنہگار قوم کی علامات۔ قوم کے بزرگوں کا جھوٹ بولنا۔ خون کرنا۔ لوٹ اور رہزنی کو جائز سمجھنا۔ زنا کرنے کو خوشخبری سمجھنا۔ مشت زنی خاص طور کرنا گُنہ نہ جاننا۔ ہر ایک کے ساتھ شیطان کا ہونا۔ اُس قوم کا جہنمی ہونا۔ ان علامات کا ذکر کر کے اخبار نویس لکھتا ہے) غرض یہ کہ قوم محمد گناہ کرنے کو قوم بنائی گئی۔۔۔ پس اَغلب ہے کہ یہ قوم وہی قوم ہو۔۔۔
    تفتیش الاسلام مصنفہ پادری راجرس ۱۸۷۰ ؁ء
    صفحہ ۲۲
    بعدازاں اس پر بھی اکتفا نہ کر کے اس نے (آنحضرتؐ) اپنے خیالات اور توہمات سے ایک نیا مذہب مصنوعی ایجاد کیا۔
    ۴۹ ؔ
    قرآن کی جھوٹی آیتیں۔ قرآن میں بہت سی آیتیں لغو ہیں۔
    ۵۲
    قرآن و احادیث کی واہیات اور ناپاک تعلیموں کا بیان۔
    ۵۴
    محمد نے اس آیت کے بہانے جہاد کرنا اور لوٹنا شروع کر دیا۔ یہاں سے اس کے دل کا کپٹ اور دغابازی ظاہر ہوتی ہے۔
    ۵۶، ۵۷
    یہ سب محمد کی بناوٹ اور گھڑت ہے۔ وہ (آنحضرتؐ) ایک نفس پرست آدمی تھا۔
    ۵۸
    لیکن جب (آنحضرتؐ) عشق کے سبب زیادہ جدائی برداشت نہ ہو سکی تو قرآن میں
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 130
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 130
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/130/mode/1up
    130
    سورہ نور کے آخر ایک آیت مصنوعی عائشہ کی بریّت کی وارد کر کے پھر صحبت اختیار کی لیکن اس بہتان کی عقل سلیم تکذیب نہیں کر سکتی۔
    ۵۸
    بارہویں ایک عورت بنی حلال سے جس کو (آنحضرت نے) بے نکاح اور مہر یعنی اجرت یا خرچی کے گھر میں ڈال لیا تھا۔
    ۶۰
    محمد ایک شہوت پرست آدمی تھا۔ جو اپنی نفسانی خواہش پوری کرنے کیلئے مصنوعی آیت پیش کر کے اس کو خدا کی طرف منسوب کرتا ہے۔
    ۶۵
    محمد کی چال چلن کسی طرح پیغمبری کے لائق نہیں ٹھہر سکتی۔ وہ ایک نفس پرست اور کینہ پرور اور خود غرض آدمی تھا اور نفس امارہ کا از حد مطیع تھا۔ اور اسی سبب قرآن اس کی جھوٹی بنائی ہوئی کتاب ہے جو اس کی نفس پرستی اور شہوت کو پُشتی دیتی اور پالتی تھی۔ اس میں ایک بھی ایسی آیت نہیں جس میں حکم ہو کہ اے محمد تو کیوں ہوا و ہوس اور نفسانیت کی طرف مائل ہوتا ہے یا کیوں زینب سے عشق کی آنکھ لڑاتا ہے۔
    ۸۰
    یہ محمد کی بناوٹ اور بیہودہ گوئی ہے۔
    ۸۲
    (آنحضرت کے معراج کو مرگی زدہ کا ایک خواب پریشان ظاہر کر کے یوں لکھا ہے) اس کے خیال میں یہ گذرا ہوگا کہ ۔۔۔۔۔۔ میں نے اپنے تئیں خاتم النبیین ظاہر کیا ہے یہ حیلہ گانٹھنا چاہیے کہ آج رات کو میں ساتوں آسمان اور عرش و کُرسی کی سیر کر آیا۔
    ۹۷ ؔ
    اس کے (آنحضرتؐ)سارے کاموں میں عیّاری ظاہر ہوتی ہے۔ محمد میں تعصب اور مکّاری دونوں باتیں کسی قدر پائی جاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ ساتھ اس کے ایک بے وفا خود غرض دل۔ حقیقت میں اس کی گفتاراور رفتار اور عمر کے ساتھ بدی میں بڑھ گئی۔
    ؍؍
    نبی بغیر معجزوں کے۔ ایمان بغیر بھیدوں کے۔ اور اخلاق بغیر محبت کے جس نے خونریزی کے شوق کو ترغیب دیا۔ اور جس کی ابتدا اور انتہا بیحد شہوت پرستی کے ساتھ ختم ہوئی۔
    ۱۰۰
    اے عزیزو ۔۔۔ بلکہ آج ہی دین محمدی چھوڑ کے اور اس جھوٹے نبی کی پیروی ترک کر کے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 131
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 131
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/131/mode/1up
    131
    پادری عماد الدین
    اس شخص کی تصنیفات جو ۸۷۴اء سے پیشتر شائع ہو چکی ہیں اس قدر دل آزار کلمات سے مملو ہیں کہ خود عیسائیوں نے اسے ملامت کی۔ ہم ان کا اقتباس یہاں نہیں کرتے اور صرف وہ رائیں درج کرتے ہیں جو ہندوؤں اور عیسائیوں نے اس کی کتاب ہدایۃ المسلمین پر ظاہر کیں۔
    ہندو پرکاش امرتسر ۱۸۷۴ ؁ء و آفتاب پنجاب لاہور۔ ’’کیا پادری عماد الدین کی تصنیفات ۔۔۔ کچھ اس کتاب سے شورش انگیزی میں کمتر ہیں کہ جس نے بمبئی کے مسلمانوں اور پارسیوں کے اتفاق و محبت کو عداوت سے مبدّل کر دیا اور دونوں کو ہلاکت کا منہ دکھایا۔۔۔ پادری صاحب کی تصانیف۔۔۔ مسلمانوں کا انگریزی گورنمنٹ سے دل پھاڑنے کی علّت غائی پر تصنیف کی گئی ہیں‘‘۔
    شمس الاخبار لکھنؤ باہتمام پادری کریون صاحب ۱۵؍ اکتوبر ۱۸۷۵ ؁ء ’’ نیاز نامہ۔۔۔عماد الدین کی تصنیفات کی مانند نفرتی نہیں کہ جس میں گالیاں لکھی ہوئی ہیں اور اگر ۱۸۵۷ء کی مانند پھر غدر ہوا تو اسی شخص کی بدزبانیوں اور بے ہودہ گوئیوں سے ہوگا‘‘۔
    نبی معصوم مطبوعہ امریکن مشن پریس لودھیانہ ۱۸۸۴ ؁ء
    ۱۶
    وہ عشق حرام جو محمد صاحب نے مریم نامی مصری لونڈی کے ساتھ کیا۔
    ہندوؤں اور آریوں کی گالیاں
    پاداش اسلام مصنفہ اندرمن مراد آبادی ۱۸۶۶ ؁ء
    ۹
    (رذیلہ کار محمد۔ محمد احمق۔ ستمگار و بدکار)
    ۱۱
    (محمد) مثل مار برخود پیچید۔۔۔۔۔۔ فی الفور دم خرپیمود۔
    ۱۲،۱۳
    محمد تزویرے بکاربرد۔ جمیع امور پر فتورش۔ امام شافعی گپ مے زند۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 132
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 132
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/132/mode/1up
    131
    ۱۴ؔ
    (آنحضرت) بجز شہوت پرستی و بدمستی کارے نداشت ؂
    احمد کہ کامرانی و تن پروری کند او خویشتن گم است کرا رہبری کند
    ۱۵
    خالد (صحابی) بہ زنا پیوست۔
    ۱۷
    اگرچہ عشقبازی و شہوت طرازی درمیان محمد و زینب بوقوع رسیدہ۔
    ۱۸۔۱۹
    برحال محمد باید گریست کہ بہ دیّوثی مے زیست ۔۔۔ عائشہ چادر عفت درید ۔۔۔ شاید کہ جائے مخصوص بی بی عائشہ درکنار لشکربود۔ وبگوشہ قافلہ در تنہائی مے آسود ۔۔۔ الغرض در تیرگی شب از لشکر بیروں رفتن ۔۔۔ کارعفیفہ و حنیفہ نیست بلکہ شیوہ مکارہ و عیارہ ۔۔۔ خبر زنائے عائشہ۔
    ۲۵
    اکنوں معترض ۔۔۔ غور فرماید کہ دیوث کیست ۔۔۔ آیا دیوث خدائے اسلام مقیم بیت الحرام است کہ بجواز زنا الہام کرد ۔۔۔ یا پیر معلوم ملّاے روم دیوث است ۔۔۔ بلا اشتباہ آں مرشد مسلمین و ولی مومنین ۔۔۔ دیوث بودند۔
    ۲۶
    اسلاف خود (اسلاف مسلمانان) سربسر دیوث بودند ۔۔۔ معبود معہود مخالفین (مسلمانان) جباری و ستمگاری بیش نیست کہ بنا برترویج زنا و قتل بر اولیاء و انبیا وحی می فرستد۔
    ۲۷
    پس معبود مفروض مسلمان بنا بر اغوائے مردم نیز وحی نماید ۔۔۔ اولیاء و انبیاء فرقہ محمدیہ کار شہوت پرستان مے برآرندو بمیانداری و دلالی ہمت می گمارند ۔۔۔ کارخیر البشر خالی از شرنیست
    ۲۹
    تخم زانی در زنان مسلمانان تصرفے کمال دارد ۔۔۔ حرام زادگی بمسلماناں عیبے عاید نمی گرداند۔
    ۳۰
    دین احمدی کہ مانند آئین شیخ نجدیست ۔۔۔ ایں اشارت بمیانداری و دلّائے آں ولی ست کہ ہمچو مصطفیٰ و علی ست ۔۔۔ الحق دریں حدیث محمد داد دیوثی دادہ و مدار کار امت بر فضیحت نہادہ ۔۔۔ حضرت (آنحضرتؐ) را غایت رعایت زناکاراں منظور افتاد۔
    ۳۱
    شاید بازن سعد بن عبادہ حضرت (آنحضرت صلعم) نیز پیوستہ بکامرانی پیوستہ باشند لہٰذا بحکم آنکہ مطلب سعدی دیگر است او ر افرمود کہ چنیں و چناں باید نمود تا فرصت را غنیمت دیدہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 133
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 133
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/133/mode/1up
    132
    و بکاؔ م دل رسیدہ اندرون مکان مخصوص خود داخل شوند و چوں میل درسرمہ داں فروروند
    ۳۲
    محمد اجرائے شہوت یاراں بسروچشم قبول فرمودہ بر ایشاں عورات خرچی جائز نمودہ۔
    ۳۳۔۳۴
    (ان صفحوں میں متعہ کا ذکر کر کے مسلمانوں کو دیوث اور مسلمانوں کی عورتوں کو بازاری کسبیاں اور کنچنیاں قرار دیا ہے۔ اور ازواج مطہّرہ آنحضرت صلعم پر حملے کئے ہیں)۔
    ۳۷۔۳۸
    طلحہ بر عائشہ عاشق بود ۔۔۔ مگر طلحہ از ارادہ خود نگذشت تا انکہ درراہ بصرہ بمراد خود رسید (یعنی زنا کیا)
    ۳۹
    ؂ خدایت مائل فعل حرام است کہ دائم مسکنش بیت الحرام است
    زنا آنجابکن حکم امام است کہ جائے ایزدت بیت الحرام است
    ۴۰
    سورچوں ازلب حضرت برآید نجاست از مسلمانان رباید۔۔۔
    ؂ بہرمیمونہ (زوجہ مطہرہ آنحضرت صلعم) یکے میموں سزاست نے سزاوار نکاحش مصطفٰی ست
    زانکہ او اسپ است و ایں میمونہ است اختلاف ایں وآں ہرگو نہ است۔۔۔
    ؂ چو بوبکر است بزپیش تو اے خر برائے بازیش میموں د گرخر۔۔۔
    ؂ امام ثعلبی زاں افسر آمد کہ او از خصیۃ الثعلب برآمد
    غزالی خواہرت راگر رُباید غزالی مشکبو ازوے برآید
    محدّث نیست محدّث ترمذی است کہ اورا رغبت طعم مذی ہست
    بخاری رابخار آمد بحدّت صحیح اصلا نگردد جز ہلاکت
    خررازی است فخر الدین رازی بود ہم جنس تو دردُم درازی
    ۴۱
    مسلمانان ازروئے قرآن محمد را اب المسلمین میشمار ندوزنان او را ام المومنین مے پندارند۔۔۔ پس ثابت شد کہ یا مسلماناں کذاب بودہ اندویا زنان محمد باپدران ایشاں آسودہ اندوتخم ربودہ اند۔۔۔ بریں قیاس محمد پدر مسلماناں نتواند بود مگر وقتے کہ محمد بامادر شاں میلے خواہد داشت و تخمے خواہد کاشت۔۔۔
    ۴۵
    (آنحضرت صلعم کو بد وضع۔بے حیا۔ اور شہوت ران کہہ کر یوں لکھتا ہے) چہل سال عمر عزیزش
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 134
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 134
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/134/mode/1up
    134
    گذشتؔ ۔ دلش از ہوائے زناں برنگشت۔ چند زنان غمزہ زناں را بے نکاح و خطبہ در آغوش کشید و از زناکاری اصلا نہ ترسید۔
    ۴۶
    خدائے مسلمانان عجب مشربے دارد کہ چنیں کس را کہ بنائے زنا بے انتہا افگند ۔۔۔ برائے رسالت برمیگزیند ؂ مرادر پیش فکر اختصار است چساں حرکات احمد برشمارم۔۔۔ زنا شعارانبیاست۔۔۔ از اینجاست کہ محمد را با وصف جہالت جبلی و ضلالت فطری رسول مقبول پندارند۔
    ۴۸
    (اسلام کے خدائے تعالیٰ کی نسبت لکھا ہے) خر و خنزیر و خرس وبوز نہ گشت۔ زنا دانی گرفتہ شکل حیواں۔۔۔ خود گرگ و شغال و خرس و خنزیر شدہ۔ درشکل خبیث جلوہ آرائی کردہ۔
    ہم کہاں تک اس شخص کی گندہ دہانی کی نقل کرتے جائیں۔ یہ کتاب ۳۸۰ صفحہ پر ہے اور یہاں پچاس صفحوں کا جو اقتباس کیا گیا ہے اس میں سے بھی بے تعداد گالیاں چھوڑ دی گئیں ہیں۔ غرض کہ اس مصنف نے
    ہمارے خدا کو۔ ظالم۔ بے ہودہ۔ جابر۔ لاف گذاف بکنے والا۔ نخوت کرنے والا۔ فاسد۔ فاجر۔ ہوا و ہوس میں گرفتار۔ ملعون۔ خشک و سوختہ۔ مکّار۔ فریبی مکر اور فریب میں اُستاد۔ معطل۔ عزرائیل کے ہاتھ سے مرنیوالا۔ فرعونی راہ میں چلنے والا معلم مکرو تذویر۔ سخت بیوقوف۔ سخت احمق۔ دروغ گو شیطان سے فریب کھانے والا بد اصل۔ مکّار۔ عیّار۔ ستم گار۔ متلون مزاج۔ ابلہ۔ مثل ابلیس۔ کاذب۔ شیطان کی طرح مکر سکھلانے والا۔ بے عقل۔ ناپاک۔ امرد۔ گدھے سوار۔ کافر۔ زانی۔ مغلم۔ فاجر مورد ***۔ خالق کذب و دروغ۔ بدعہد۔ زنا کا الہام بھیجنے والا۔ اسباب شہوت پیدا کرنے والا۔ زنا و اغلام و سرقہ کا موجد۔ مریض مالیخولیا قرار دیا ہے۔
    دیکھو صفحہ ۵۱، ۵۲، ۵۳، ۵۵، ۵۶، ۶۲، ۶۴، ۱۰۷، ۱۳۱، ۱۵۰، ۱۶۶،۲۰۴، ۲۵۰، ۳۲۰، ۳۱۱، ۸۹۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 135
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 135
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/135/mode/1up
    135
    آنحضرؔ ت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہا ہے:۔حیوان اور گدھے سے بدتر۔ بت پرست۔ بتوں کا دل و جان سے تعریف کرنے والا۔ کرامت و خوارق میں ابلیس سے کم۔ مسلمانوں کی عورتوں اور بیٹیوں کا پردہ عصمت پھاڑنیوالا۔ لائق نفرین۔ سخت شہوت پرست جسکی فضیلت و اکملیت کثرت زنا و مباشرت زنان شوہر دار پر منحصر ہے۔ جورو کے ساتھ ناچنے والا۔ رقّاص۔ مکّار۔ ہموارہ بکارہائے ناکارہ آوارہ۔ زشت۔ بد سرشت۔ سیہ مستی والا۔ زن پرست۔ دیّوث۔ زنان شوہر دار سے بلا نکاح ہمبستر ہونیوالا۔ شرافت سے تہید ست و مبّرا۔ کنیزک زادہ۔ لادوحیوان۔ گھوڑا۔ اونٹ۔ بیشمار دفعہ زنا کرنیوالا۔ غبی۔ زناکاروں کو عیب پوشی کے لئے فریب سکھلانیوالا۔ بدعہد۔ عہد شکن۔ معلم دروغ گوئی۔ تذویر و مکر کرنیوالا۔ متلون۔ ابلہ۔ سوگند شکن۔ شہوت ران۔ نافرمان۔ زنا صریح کرنیوالا۔ بے دین۔ بد آئین۔ محمد بود یک شہوت پرستے۔ زصہبائے ہوس مخمور مستے ۔ بدیدے گرزنے یوسف فریبے۔ بلا کابیں و مہرش دل بہ بستے۔ اجنبی عورتوں سے ناگفتنی باتیں کرنے والا۔ شریر۔ دروغ گو۔ معلم المکر۔ذلیل و خوار۔ جس کا مرنا خس کم جہاں پاک کا مصداق۔ بزدل۔ نامرد۔ پلید۔مخالفوں کے ہاتھ سے پاپوش کھانے والا۔ پیرمغاں۔ شرافت محمد سرمایہ شرو آفت۔ عشقباز۔ بدچلن۔ اُس میں اور کافر میں کیا فرق ہے۔ بی بی عائشہ کے ساتھ ناچنے والا۔ زوجہ خدا۔ بول و براز کھانے والا۔ موچی۔ سیہ کار۔ بے حد زناکار۔ عشق باز۔ ابلیس میں اور اس میں کچھ فرق نہیں۔ سیہ مستی اور شہوت پرستی میں محو۔ نادان۔ غلط بیان۔ خرپا بگل۔چرندہ۔ ابلیس پُر تلبیس اور پیغمبر نفیس میں کیا فرق ہے۔
    دیگر انبیاء اسلام علیہم السّلام کی نسبت۔ پیغمبر گنہگار تھے۔ موسیٰ و عیسیٰ سب خطاکار ہیں۔ یوسف نے زلیخا کو برہنہ کیا۔ وہ مشہوت و زانی تھا۔ اس نے اپنی مالکہ کی فرج میں دخول کیا۔ تمام پیغمبر گلہ بانوں سے زیادہ مرتبہ نہیں رکھتے۔ وہ شریف نہیں خوار و ذلیل تھے۔ وہ عورتوں کے ننگ و ناموس کے پردہ کو پھاڑتے رہے۔ خونریزی
    دیکھو صفحہ ۵۳، ۸۰، ۸۱، ۸۲، ۸۷، ۸۸، ۹۴، ۹۵، ۹۶، ۱۲۱، ۱۲۳، ۱۲۸، ۱۴۳، ۱۴۷، ۱۵۰، ۱۵۵، ۱۶۶، ۱۶۷، ۱۷۵، ۱۷۶، ۱۸۱، ۱۸۶، ۱۸۵، ۱۸۷، ۱۸۹،۱۸۸، ۲۰۵، ۲۰۹، ۲۳۵، ۲۶۳، ۲۶۴، ۲۷۴، ۲۷۵، ۲۸۸، ۳۱۱، ۳۳۲، ۳۵۴، ۳۵۶۔
    ۵۲، ۵۸، ۶۸، ۶۹، ۹۵، ۹۶، ۱۲۶، ۳۰۵، ۳۴۵،
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 136
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 136
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/136/mode/1up
    136
    و ناؔ حق قتل کرنے والے۔ حضرت ابراہیم مکّار و کذّاب۔ انبیاء احمق و مشرک۔ ادریس مکّارانہ چال چلا۔ ادریس مکّار فریبی۔ ادریس اور ابلیس میں کچھ فرق نہیں۔ ابلیس اس سے افضل۔ مسلمانوں کے پیغمبروں کو مسیلمہ کذّاب پر ترجیح نہیں- دُختر فروش۔
    ازواج مطہرہ آنحضرتؐ کی نسبت۔ زنان پیغمبر ۔۔۔ بازاری عورتوں سے ذلیل۔ بلکہ بازاری عورتیں ان سے بہتر۔ مرتکب حرکات ناکارہ۔ عائشہ نے طلحہ سے زنا کیا۔ عائشہ بے حیا۔ خیرہ را۔
    صحابہؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت۔ خلیفہ دوم۔ منی خور۔ اغلام کرانے والا۔ صحابہ رسول کے ازواج رسول کو نظر بد سے دیکھنے والے۔ کمینہ و دیوث۔ علی غدار۔ بڑا مکّار۔۔۔ صحابہ رسول تلبیس ابلیس میں تندہ۔ قتل بندگان خدا میں مصروف۔
    آنحضرت صلعم کے زمانہ کی دوسری مستورات مومنات کی نسبت۔ مسلمانوں کی عورتیں اور بیٹیاں بازار میں اجرت لے کر زناکاری کرتی تھیں۔ مدینہ کی لڑکیاں ننگ و ناموس ترک کرنے والیں۔ بعض مومنات خرچی لے کر سو سو آدمیوں سے روزمرہ زنا کراتی تھیں۔
    ائمہ اربعہؓ کی نسبت۔ ابو حنیفہ نے ماں سے جماع و نکاح جائز کیا۔ وہ ماں بہن بیٹی سے زنا کو بُرا نہیں سمجھتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے ماں سے زنا کیا اور داد دیوثی کی دی۔ اس کے نزدیک لواطت بُری نہیں۔ جب امام کو اغلام کے لئے لڑکا نہ ملا تو جورو سے لواطت کی۔ امام مالک مرتکب لواطت ہوا۔ امام شافعی کے نزدیک بھی جائز ہے۔ ابوحنیفہ موروثی دیوث و بے حیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دیگر بزرگان دین کی نسبت۔ مؤلّف تفسیر عزیزی بے تمیز۔ مسلمانوں کے
    ۹۲، ۱۶۵
    ۱۵۸، ۱۶۷
    ۱۰۲، ۱۱۶، ۱۵۵، ۱۶۳، ۱ ۱۸
    ۱۵۵، ۱۵۶، ۱۷۳
    ۹۷، ۹۸، ۹۹،
    ۱۰۱، ۱۰۲، ۱۰۶
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 137
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 137
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/137/mode/1up
    137
    اولیاؔ ء قاتل و خونریز۔ علماء اسلام گروہ زندیقاں۔ مسلمانوں کے ولی مجنون۔ ان کے دل میں ماں بہن بیٹی سے شہوت رانی کا خیال رہتا تھا۔ بزرگ مسلمانان ناپاک زناکار۔
    عام مسلمانوں کی نسبت۔ مسلمان بوقت ضرورت ماں۔ بہن۔ پھوپھی۔ خالہ۔ بیٹی سے وطی کر سکتا ہے۔ کوئی مسلمان کسی ذریعہ سے اولاد حاصل کرلے جائز ہے۔ مسلمان تمام محرمات سے وطی کر سکتا ہے۔ ان کے نزدیک زنا لائق پاداش نہیں۔ ان کا سلوک ماں بہنوں سے حیوانوں کی طرح۔ مسلمان حرام زادے۔ ان کی لڑکیوں سے ہزار زنا ہو تو بھی دوشیزہ۔ ان کی شرافت شرو آفت۔ ان کے ما باپ ہمیشہ زنا میں مصروف۔ ہر ایک سردار فجّاراں۔ ادنیٰ طمع پر بدعہدی کرنے والے کنچنی اور مسلمان منکوحہ عورت برابر ہے۔ مسلمان بے حیا۔ بے شرم۔ دختر فروش۔ اُمت محمد امت لوط۔ صریح دروغ گوئی میں عیب نہ جاننے والے۔ مسلمان منی خور۔ قالب اہل اسلام ناپاک و خبیث۔ ان کا منہ ناپاک ان کے اصول گندے۔ مسلمان خلقۃً درندے کتوں اور گیدڑوں سے بدتر۔
    فرشتوں کی نسبت۔ اسلامی فرشتے بدمست۔ بت پرست۔ زنا کار۔ ستمگار۔ جبرئیل نے مریم سے زنا کیا۔ جبرئیل نے مریم کے پردہ عصمت کو پھاڑا۔ جبرئیل اوباش و عیاش رذیل۔ جبرئیل پرندہ ایست کہ گاہے امرد میشود و در فرج زنے (حضرت مریم صدیقہ) سیم تنے غنچہ دہنے سبز پیرہنے بادبدمد۔ و بوے دریابد۔
    متفرق۔ فقہ مسلمانان سفاہت ہے۔ مسلمانوں کا گندہ مذہب امرد لڑکوں سے عشق بازی کا حکم دیتا ہے۔ مسلمانوں کی لڑکیاں بلا خرچی لینے صحبت نہیں کر سکتیں۔ مہر اور خرچی ایک ہے۔ تقرر مہر ایک بُرا اور نامعقول طریقہ۔ بیت الحرام کہ فی الحقیقت
    ۸۰، ۱۲۶، ۱۸۰، ۲۶۹، ۳۳۷، ۱۰۸
    ۱۰۶، ۱۰۷، ۱۰۹، ۱۱۳، ۱۱۵، ۱۱۶، ۱۴۷، ۱۵۶ ۱۵۷، ۱۸۰، ۲۲۴، ۲۲۸، ۲۹۵، ۳۲۲، ۳۳۱
    ۱۲۳، ۱۷۵، ۱۷۶، ۳۵۰، ۳۷۱
    ۱۰۶، ۱۵۴، ۱۵۵، ۱۵۶، ۳۲۴
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 138
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 138
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/138/mode/1up
    138
    کنشت زشت است و بانیش کذب سرشت وجود عصیاں درگو عدم رود۔
    ۷۔ ۱۳ ۵۷۔ ۶۰ ۱۱۹۔
    ۳۰۸ ۔۳۱۶ ۳۵۵۔۳۶۶
    قرآنؔ شریف کی نسبت معنیش باشد ضلالت سربسر از ضلالت می دہد قرآن خبر از ضلالت بار دارد ایں شجر بہتراست او را بریدن از تبر
    ہذیان۔ مجہول عفریت کا آراستہ کردہ کلام۔ محمد کی تراشیدہ باتیں۔ ترہات باطلہ۔ مزخرافات۔ تقویم پارینہ۔ قرآن و حدیث میں لواطت۔ زنا۔ قماربازی۔ شراب خوری بھنگ نوشی کی تعلیم ہے۔۔۔۔۔۔ بانی قرآن کذاب حالش مثل مست خراب کہ دمش مطابقت قدم ندارد۔ قرآنی اعمال کو مثمر نجات سمجھنا اور شیطانی افعال کے ساتھ داخل بہشت ہونا برابر ہے۔ اقوال بانی قرآن و حدیث برمثال مقال مسیلمہ کذاب و مست و خراب۔ قرآن بافتہ نادانی ژولیدہ بیانے سخت ہذیانے۔ کج مج زبانے۔ ہیچ مدانے۔ غباوت نشانے۔ سُست تبیانے۔ قرآن کی نقلوں میں عقل کو دخل نہیں۔ وہ یک قلم باطل۔ اس کا ماننے والا صدق و صفا سے عاطل۔ برسیپارہ صفحہ قرآن فوارہ بول مے زند۔
    ستیارتھ پرکاش مصنفہ پنڈت دیانند ۱۸۷۵ ؁ء
    ماخوذ از ترجمہ ستیارتھ پرکاش مطبع کشن چند کمپنی لاہور
    اللہ تعالیٰ کی نسبت۔ بے رحم۔ شیطان سے بھی بڑھ کر شیطنت کرنے والا۔۶۸۳ عورتوں میں غلطاں۔ ۶۸۵۔ فرشتوں کو دھوکہ دے کر بڑائی کرنے والا اس لئے ریاکار۔ لاف زن۔ ہمہ دان نہیں۔ بے قدرت۔ جب ایک کافر شیطان نے خدا کے چھکے چھوڑا دئیے تو کروڑوں کافروں کے آگے اس کی پیش کیا جائے گی۔ ۶۸۶۔ کم علم کم ہمت۔ ۶۸۷۔ فریبی جھوٹا۔ ۶۹۹۔ دوالیہ۔ ۷۰۰۔ بھان متی کا تماشا کرنے والا جس کو عقلمند دور سے سلام کریں گے۔ ۷۰۱۔
    ۷۔ ۱۳ ۵۷۔ ۶۰ ۱۱۹۔
    ۳۰۸ ۔۳۱۶ ۳۵۵۔۳۶۶
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 139
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 139
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/139/mode/1up
    139
    عورتوں کا شائق۔ ۷۰۲۔ طرف دار۔ ۷۰۳۔ بے انصاف ۔ ۷۱۰۔ مسلمانوں کا خدا بھی شیطان کا کام کرتا ہے۔ ۷۰۳۔ جہالت و تعصب سے پُر۔ ۷۱۲۔ شیطان تو سب کا بہکانے والا ہے۔ مگر خدا شیطان کو بہکانے والا ہے۔ گویا شیطان کا بھی شیطان خدا ہے۔ خدا میں پاکیزگی نہیں۔ سب برائیوں کا مخزن و معاون۔ کم علم بے انصاف۔ کیا تمہارا خدا بہرہ جو پکارنے سے سنتا ہے۔ ۷۰۶۔ پھر خدا اور شیطان میں کیا فرق ہوا۔ ہاں اتنا فرق کہا جا سکتا ہےؔ کہ خدا بڑا شیطان اور عزرائیل چھوٹا شیطان ہے۔۔۔ پس اس اصول سے خدا ہی شیطان ثابت ہوگیا۔ ۷۱۳۔ مکّاروں کی طرح خوف دلانے والا۔ بے علم۔ ۷۲۳۔ اس میں اور شیطان میں کوئی فرق نہیں۔۔۔ خدا کو کیوں دوزخ نہ ملنا چاہیے۔ ۷۲۴۔ جب شیطان کا گمراہ کرنے والا ہی خدا ہے تو وہ خود شیطان کا بڑا بھائی ہے۔ خدا معاون شیطان ہے۔ ۷۱۶۔ اندھا دھند لڑنے والا۔ انصاف رحم اور نیک اوصاف سے مبرّا۔ ۷۲۷۔ خدا ہی شیطان کا سردار۔ اور سارے گناہوں کا موجب۔ ۷۳۶۔ اپنے مُنہ میاں مٹھو۔ قرآنی خدا نے اندر جال کا تماشا دکھا کر جنگلی لوگوں کو اپنے بس میں کرلیا۔ ۷۴۶۔ اگر اس قسم کے پیغمبروں (یعنی لوط جس نے بالفاظ ستیارتھ پرکاش بیٹیوں سے جماع کیا) کو خدا نجات دے گا تو وہ خدا بھی اپنے پیغمبر کی ہی مانند ہوگا۔ (یعنی لوط کی طرح جس نے بزعم پنڈت دیانند بیٹیوں سے زنا کیا)۔ ۷۴۸۔ شیطان کا بہکانے والا شیطان کا شیطان۔ باغی شیطان کو کھلا چھوڑ دینے کے باعث ادھرم کرنے والا اور شیطان کا ساتھی۔ ۷۵۷۔ خدا محمد صاحب کے لئے بیویاں لانے والا حجّام تھا۔ ۷۵۶۔ محمد صاحب کے گھر کا اندرونی اور بیرونی انتظام کرنے والا خدمتگار۔
    آنحضرت صلعم کی نسبت۔ ۷۰۳۔ مطلب براری کے لئے قرآن بنانے والا۔ نیّت کا صاف نہیں۔ ۷۰۸۔ اپنی مطلب براری اور دوسروں کا کام بگاڑنے میں کامل استاد۔ ۷۱۶۔ کیا رسول اور خدا کے نام پر دنیا کو لوٹنا لٹیروں کا کام نہیں۔ کیا خدا بھی ڈاکو ہے اور لٹیروں (صحابہ آنحضرت صلعم ) کا معاون پیغمبر جہان میں فساد ڈالنے والا امن عامہ کا رخنہ انداز۔ ۷۱۹۔ یہ خدا کے نام پر
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 140
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 140
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/140/mode/1up
    140
    مرد و زن کو مطلب کے لئے لالچ دیتا ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو کوئی محمد صاحب کے جال میں نہ پھنستا۔۔۔ حضرت محمد صاحب! آپ نے بھی تو گوکلئی گوسائیوں کی ہمسری کی جو اپنے مریدوں کا مال اڑا کر ان کو پاک کر دیتے ہیں۔ ۷۴۲۔ ان دونوں (اللہ تعالیٰ و آنحضرت صلعم ) میں سے ایک خدا اور دوسرا شیطان ہو جاوے گا اور ایک کا شریک دوسرا ہو جاوے گا۔ واہ قرآنی خدا اور پیغمبر اپنی اپنی مطلب براری کے لئے کیا کیا نہیں کیا۔۔۔ جنگلی آدمی بھی اپنی بہوؤں سے پرہیز کرتا ہے اور کیسا غضب ہے کہ نبی کی شہوت رانی میں کسی طرح کی رکاوٹ نہیں ہوتی۔۔۔ جب بیٹے کی بہو ۱؂پر بھی ہاتھ صاف کرنے سے پیغمبر نہ رک سکے تو اوروں سے کیونکر بچے ہوں گے۔ ۷۱۴ؔ ۔ تعجب ہے کہ جو لوٹ مچاویں ڈاکہ ماریں وہ خدا، پیغمبر اور ایماندار کہلاویں۔ ۷۳۳۔ جیسے غدر مچانے والے خدا اور نبی بے رحم ہیں ویسا دنیا میں اور کم ہی ہوگا۔ ۷۵۷۔ کیا جس کی بہت بیویاں ہوں وہ خدا پرست یا پیغمبر ہو سکتا ہے جو ایک کی قدر کر کے دوسری کی بے قدری کرے وہ ادھرمی ہے یا نہیں۔۔۔ جو بہت سی بیویوں کے باوجود لونڈی سے ناجائز تعلق پیدا کرے اس کے نزدیک حیاعزت کا پاس اور دھرم کیونکر پھٹک سکتا ہے۔ کسی نے سچ کہا ہے زانی آدمیوں کو نہ حیا ہوتی ہے اور نہ خوف ان سے نتیجہ نکلتا ہے کہ قرآن کلام اللہ تو کجا کسی عالم نیکوکار کی بھی تصنیف نہیں۔
    متفرق۔ ۶۸۴۔ مسلمانوں کا بہشت گوکلئیگوسائیوں کے گیو لوک اور مندر کی طرح ہے۔ ۶۹۴۔ مسلمان بت پرست ہیں اگر بت شکن ہیں تو انہوں نے بڑے بت یعنی مسجد کعبہ کو کیوں نہ توڑا۔۔۔ محمد صاحب نے چھوٹے چھوٹے بتوں کو مسلمانوں کے گھر سے نکالا لیکن پہاڑ کی مانند مکے کا بڑا بت ان کے مذہب میں داخل کر دیا۔ ۶۹۷۔ ایسی تعلیم خدایا اس کے رسول کی نہیں ہو سکتی۔ بلکہ خود غرض اور جاہل کی ہو سکتی۔ ۷۱۱۔ بہشت کیا ہے رنڈی خانہ۔ ۷۰۳۔ جہاں اسلام نے فروغ پایا وہ وحشی اور مجہول آدمی تھے اس لئے ان میں یہ خلاف علم و عقل مذہب پھیلا۔ ۷۴۲۔ مذہب اسلام لچر۔ غیر مدلل خلاف عقل خلاف دھرم۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 141
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 141
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/141/mode/1up
    141
    قرآن شریف کی نسبت۔ جب بسم اللہ الرحمن الرحیم کلام مبہم ہے تو کیا چوری زناکاری جھوٹ اور گناہوں کا آغاز خدا کے نام پر کیا جاوے! ۶۸۸۔ یہ سب باتیں (یعنی قرآن کی باتیں) طفلانہ ہیں۔۔۔ سچی نہیں۔ ۶۹۵۔ محمد نے یہ بات (آیت قرآن شریف) اپنے مطلب کے لئے گھڑی تھی۔ ۷۰۷۔ ایسی تعلیم (تعلیم القرآن) کوئے میں پڑے۔ قرآن جیسی کتاب محمد صاحب جیسے رسول قرآنی اللہ جیسے خدا اور اسلام جیسے مذہب سے دنیا کو سراسر نقصان ہے ان کا نہ ہونا ہی اچھا ہے۔ اس قسم کے بیہودہ مذہب سے کنارہ کش ہو کر داناؤں کو وید کے احکام ماننا چاہیے۔ ۷۰۹۔ اس کا مصنف ایک نہیں بلکہ بہت سے آدمی ہیں۔ ۷۱۴۔ قرآن میں کہیں اونچے کہیں دھیمے پکارنے کا حکم ہے۔ ایک دوسرے کی متضاد باتیں۔ سودائیوں کی بکواس کی مانند ہوتی ہیں۔ ۷۱۵۔ یہ کلام اللہ نہیں۔ کسی مکّار کا کلامؔ ہے۔ ورنہ اس میں اس قسم کی واہیات باتیں کیوں ہیں۔ ۷۲۰۔ اس کی آیتیں محسن کشی کی تعلیم دینے والیں اس کا مصنف علوم طبعی سے ناواقف۔ ۷۲۹۔ اس میں لغو اور جاہلانہ باتیں ہیں اس کے پیرو بے علم ہیں۔ ۷۳۱۔ ایسی فحش باتیں کلام اللہ میں تو کجا کسی شائستہ انسان کی تصنیف میں بھی نہیں۔ ۷۳۲۔ قرآن کلام اللہ تو کجا کسی سمجھدار آدمی کی بھی تصنیف نہیں۔ ۷۵۳۔ اسی تعلیم (تعلیم قرآن شریف) نے مسلمانوں کو، غدر مچانے والا، سب کو ایذا پہنچانے والا، خود غرض بے رحم بنا دیا۔ ۷۵۷۔ قرآن کلام اللہ، کلام اللہ تو کجا بلکہ کسی عالم نیکوکار کا بھی کلام نہیں۔ ۷۶۱۔ خلاف وضع فطرت گناہ عظیم کی بنا یہ (قرآنی تعلیم) ہے۔
    نسخہ خبط احمدیہ مصنفہ لیکھرام پشاوری مطبوعہ ۱۸۸۸ ؁ء
    (اس شخص کے اصلی دل آزار فقروں کو چھوڑ کر یہاں نہایت اختصار کے ساتھ لکھا جاتا ہے کہ اس نے ہمارے خدا ہمارے سیّد و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے اسلام اور ہماری کتاب کی نسبت کیسے کیسے دلخراش الفاظ استعمال کئے ہیں)۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 142
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 142
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/142/mode/1up
    142
    اللہ تعالیٰ کی نسبت۔ محتاج۔ فریبی۔ کمینہ۔ حیلہ کرنے والا۔ دھوکہ باز۔ دھوکہ میں پھنسانے والا۔ سرگردان۔ ۶۸۔ مشونازاں بایں مولائے مکار و عجیب خود۔ کہ از ابلیس بالاتربایجاد فریب خود۔ ۶۹۔ فرضی خدا قرآن وہمی عرش کے بالا خانہ پر خیالی کچہری کرنے والا۔ ۹۹۔ رذیلہ تمسخر کرنے والا۔ ۱۰۱۔ گھر کی عقل یادداشت اور گیان سے خالی۔ مغلوب نسیان و سہو۔ بے علمی کا مُقِر۔ ۱۱۶۔ گر ہمیں اللہ است و ایں مخلوق۔ بہر یادداشت بایدش صندوق۔ تقریری حساب سے محض اُمّی، بے انتظام پرلے درجہ کا غافل۔ غفلت کی نیند سونے والا۔ ۱۱۷۔۱۱۸۔ شیاطین کا بھائی بند۔ ۱۳۱۔ اس کے اندر سے ریچھ سؤر مرغ تیتر نکلے ہیں۔ ۱۶۴۔ خدا شیطان اور شیطان خدا ہے۔ گمراہ کرنے والا۔ ۲۵۵۔
    ہمارے سیّد و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت۔ لوٹ مار کرنے میں سرآمد عرب حقیقی عزتوں سے منزلوں دور۔ ۳۷۔ جس کا دل نفسانی خواہشوں سے بھرا ہوا۔ ہوا ہوس کا مغلوب۔ قسم توڑنے والا۔ نفسانی خواہشوں کو عمل میں لانے کیلئے اور اپنے عیب پر پردہ ڈالنے کے لئے خدا کے احکام بنانے والا۔ بیگانی عورتوں پر عاشق ہو جانے والا۔ جھوٹے الہام کا دعویدار۔ ۴۱۔۴۲۔ بداخلاق۔ ضدؔ و فریب سے تعلیمات کو خراب کرنے والا۔ قتل انگیز دینی حرارت والا۔ رنج آور۔ عَصَب کا کمزور۔ وسواسی۔ ۴۵۔ مکر کرنے والا۔ عیّار۔ جوش تعصب ملک گیری اور شہوت نفسانی کے بڑھانے کے لئے جس نے دعویٰ کیا۔ عورتوں کا بڑا عاشق۔ شہوت پرست۔ وِکِڈ یعنی فاسد بدکار۔ ہیو پاکریسی والا۔ دغاباز۔ دمبازی کی پھسلاٹ کے ہنر میں لائق۔ فراڈ کرنے والا۔ دھوکا دِہ۔ ۴۶۔۴۷۔ بنی نوع انسان کا بدترین دشمن۔ ۴۸۔ رحمۃ للعالمین نہیں بلکہ زحمت للعالمین ہے۔ مسیلمہ کذاب اس سے بہتر ہے۔ ۶۲۔۶۳۔ فریب باز۔ لوٹ کا مال لینے کیلئے زکوٰۃ کا جھوٹا بہانہ بنانیوالا۔ مکر و فریب کرنیوالا۔ معلم دغابازی ۶۵۔۶۶۔۶۷۔
    متفرق۔ موسیٰ نے شیطان سے توحید حاصل کی۔ ۳۱۸۔ مسلمانوں کا جدّ امجد آدم عقل سے چاہِ جہالت میں گرنے والا۔ دانائی سے فارغ خطی لینے والا ملعون۔ ۲۷۹۔ اسلام خونریزی کو شوق
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 143
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 143
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/143/mode/1up
    143
    دلانے والا۔ اس کی ابتدا و منتہا شہوت پرستی۔ ۴۲۔ معراج کا قصہ جھوٹا۔ لغو مکر کی بات ۶۶۔ (جمعہ کو چونکہ ایرانی نجوم میں زہرہ کہتے ہیں اس لئے روز جمعہ کو ایک بدکار طوائف کہا ہے اور مسلمانوں کا تعظیم جمعہ کرنا گویا اس بدکار طوائف کیلئے وحشیانہ جوش جنبانی ہے۔ ۱۷۵)
    قرآن شریف و احادیث کی نسبت۔ اس کی بنا فاسد ہے۔ ۲۹۔ قرآن علم و حکمت عام عقل کے برخلاف علمی نتائج میں بدی پیدا کرنیوالا۔ ۴۲۔ ناسزاوار تعظیم۔ اس کی تعلیمات نہایت معیوب اکثر غلط۔ اس کے پڑھتے ہی سخت مزاج اور نفسانی ہو جانا۔ ۴۳۔ قرآنی بہشت کی تعلیم عیّاشوں اور بدکرداروں کو خوش کرنا ہے۔ ۴۴۔ اس کی تعلیم زشت۔ ۴۵۔ اس کی تعلیم تاریک گمراہی پھیلانے والی۔ لوگوں کو کینہ ور اور بے رحم بنانے والی۔ حرص کینہ شہوت کو جائز رکھنے والی۔ ۴۹۔۵۰۔ قرآن احقاق حق سے سراپا شرمناک ہے۔ ۷۱۔ قرآن کے خاتمہ بالخیر ہونے سے ملک ایشیا اس ہیضہ سے نجات پاتا۔ ۲۷۳۔ قرآنی جنّت۔ نفسانی اور جسمانی بلکہ عشرت کدہ حیوانی۔ عقل کے خلاف۔ دور از انصاف۔ بعید از قیاس روحانیت کی ستیاناس کرنے والی۔ شیطان کی ماوا ملجا۔ ۳۱۶۔
    تکذیب براہین احمدیہ مصنفہ پنڈت لیکھرام آریہ مسافر مطبوعہ چشمہ نور امرتسر ۸۹۰اء
    اللہ ؔ تعالیٰ کی نسبت۔ صفحہ ۳۶۔ بے علم۔ نافہم۔ دھوکہ باز۔ فریبی۔ حیلہ پرداز۔ داؤ کھیلنے والا۔ بیوقوف۔ ۳۷۔ کمبہ کرن کی نیند سے بیدار نہ ہونے والا۔ قرآنی خدا عالم غیب نہیں وہ محمد شاہ رنگیلے کی طرح یا واجد علی شاہ کی طرح زچہ میں بیٹھا ہوا تھا۔ وہ علم مباحثہ سے ناواقف زود رنج تعصب والا ہے۔ ۳۸۔ اس سے شیطان زور آور ہے۔ ۳۹۔ وہ ایک ایسا شخص ہے جو مکر و فریب سے یا اتفاق وقت سے سلطنت کو پہنچ گیا مگر علم و عقل سے عاری۔ ناواقفوں سادہ لوحوں یا اپنے جیسے پر اس کی حکومت۔ بہادری کا اس میں نشان نہیں۔۔۔ خدائی کرنے کا گیان نہیں۔۔۔ دانا نہیں۔۔۔معاملات ملکی کا تجربہ کار نہیں۔ ۴۲۔ جن فرشتوں
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 144
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 144
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/144/mode/1up
    144
    نے خدا کا ڈولہ اٹھایا ہوا ہے۔۔۔ وہ اگر کاندھے سرکاویں۔۔۔ تو بتلایئے۔۔۔ خدائے محمدیاں کسی غار میں گراپاویں۔۔۔ اور اگر گر کر مر جائے تو پھر مولا کون کہلائے۔ ۴۷۔ وہ شیطان سے مقابلہ کرنے میں ترساں ہے۔ ۵۶۔۵۷۔ جلّاد۔ ستمگار۔ ذابح الجاندار۔ ۲۲۲۔ ظالم۔ جبّار۔ غافل۔ خودغرض۔ بدفعلی اور پلیدی کا رہنما۔ بدچلنی اور فعل شنیعہ کا خدا۔ ۲۳۳۔ رشوت لینے والا۔ آدمی کی شکل والا۔ بالاخانہ پر بیٹھنے والا۔ فریب کھیلنے والا۔ شیطان سے ڈرنیوالا۔ ۲۴۰۔ موسیٰ والی آگ گویا اگنی دیوتا کی پرستش ہے۔ ۲۵۴۔ خدا بڑا ہی کاذب ہے یا جُوَا کھیلتا ہوگا جو جُفت طَاق کی قسم کھاتا ہے۔ ۲۵۶۔ اس کے قول و فعل قابل اعتماد نہیں۔
    آنحضرت صلعم کی نسبت۔ حاشیہ صفحہ ۷۵۔ اہل مکہ سے صلح کے بعد کسی سبب سے جو طبیعت آزادہ ۱ ؂ ہوگئی تو جھٹ وہ آیت منسوخ کر دی کہ وہ خدا کا کلام نہیں شیطان کا کلام ہے۔ شیطان نے میرے منہ میں ڈال دیا تھا۔ ۱۳۵۔ قتل کرانے والا۔ بُت پرست۔ علمی کتابیں جلانے والا۔ بے نکاحی عورتوں سے جماع کرنے والا۔ اپنے الزام خدا کے ذمّے لگانے والا۔ ۱۴۱۔ علی نامی پہلوان کو رازدار بنانے کے لئے اپنی بیٹی نکاح کر دی۔ اور دو لڑکیاں عثمان کے حوالے کر کے دوسرا رازدار بنایا۔ ذوالنورین کا خطاب دے کر ڈبل دامادی کی زنجیر میں پھنسایا۔ اسی طرح عمر و ابوبکر سے یارانہ بنایا۔ کسی کو کسی طرح کسی کو کسی داؤ سے ملایا غرضیکہ پانچ پنجے مل کیجئے کاج۔ ہارئیے جیتئے آئے نہ لاج۔ ۱۶۵ؔ ۔ قتل عام اور ظلم و جور کرنے والا۔ ۲۴۴ شعبدہ باز۔ ۲۵۶قاصرالبیان ناواقف انجان۔ ۲۸۰ خدائی حدود کو توڑنے والا۔
    قرآن شریف کی نسبت۔ ۳۵۔ آدم کا قصہ۔ الّم غلّم ولا نسلم تمسخر آمیز داستان۔ ۵۸۔ ایک قمارباز یا چور بھی اِیّاک نستعین پڑھ کر مدد مانگ سکتا ہے۔ ۶۰۔ آخر آیات سورہ فاتحہ سخت نقصان رساں اور خدا پر بہتان باندھنے والیں۔ قرآن میں شِیر شہد شراب ۔۔۔ پستانوں اور رُخساروں کے سوا روحانی سرور کا نام ندارد۔
    ؂ ایڈیشن اول میں سہو کتابت سے آزردہ کو آزادہ لکھا گیا ہے۔ ناشر
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 145
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 145
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/145/mode/1up
    145
    وعدہ وعید کا تملّق و تعشّق آمیز بیان۔ ۱۰۸ ۔اس کی تعلیم خیالی لَا اُبالی زہریلی۔ خون کی پیاسی۔ ۱۰۹۔ پر از کذب و لاف گم از صداقت۔
    متفرق۔ ۵۳۔ موسیٰ آتش پرست۔ ۱۳۵۔ سلیمان بت پرست زانی قاتل۔ موسیٰ قتل عام اور زنا کرانے والا۔ باکرہ چھوکریوں سے زنا بالجبر کرانے کا مرتکب۔ جھوٹا۔ ۱۳۹۔ نشان اسلام۔ قتل عام۔ اسلام دین بالجبر ویران کنندہ عالم۔ ۱۳۶۔ آدم خدا کا پالتو طوطی۔ ۱۴۰۔اسلامی بزرگ افترا پرداز۔ مسودہ باز، مشورہ باز۔ ۲۶۴۔ اسلام و دہریت توام۔
    کتاب ثبوت تناسخ مصنفہ لیکھرام مطبوعہ مفید عام لاہور ۱۸۹۵ ؁ء
    ۱۴۷۔ قرآنی خدا لوگوں سے تمسخر کرتا ہے۔ جعفر زٹلی کی طرح یا مُلّا دو پیازہ کی طرح ورنہ وہ فی الحقیقت ظالم و مکّار ہے۔ ۱۵۴ (اسلامی) خدا یا خود غرض ہے یا پاگل یا ظالم۔ ۱۵۷۔ قرآنی خدا رشوت خوار حاکم سے کم نہیں۔ ویدک خدا کے آگے خدائے محمدیان کی شامت ہے۔ ۱۶۹ آپ (ایک مسلمان) جس خاک پر ہر روز بول و براز کرتے ہیں وہ تمہارے بزرگوں کی خاک ہے۔۔۔۔۔۔گور میں ان کی خاک کو بچھو کیڑے کھاتے ہیں۔ خلق عالم جوتے پہنے ان کے سر پر گذرتی ہے ۔۔۔۔۔۔ تمہارے بزرگوں نے کتوں کے قالبوں میں حلول کیا۔ ۱۷۱۔ غریب بے بضاعت خدا عرش کے بالاخانہ پر ہنوز چشمانش نگرانست کہ ملکش پریشان است کی طرح اوسان باختہ بیٹھا رہے گا۔ چند دنوں سے غریب بے بضاعت خدا نقش موہوم و مخیل کی طرح مداری بن۔ اپنے پیٹ سے انتڑیاں نکال۔ تماشا دکھلا۔ خدا بن بیٹھا۔ گدھا بلا سؤر کتا خرس پاخانہ خدا کو خود بنناؔ پڑا۔۔۔۔۔۔ ایسے مداری تماشا گر چھلیا۔ نقش موہوم بہروپیا بلکہ مخیل کا کیا اعتبار۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 146
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 146
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/146/mode/1up
    146
    ہماری نسبت
    میاں نذیر حسین دہلوی المعروف بہ شیخ الکل
    وہ فتویٰ جو ہماری تکفیر میں رسالہ اشاعۃ السنہ نمبر۵ جلد۱۳ میں شائع ہوا اس کے راقم اور استفتا کے مجیب یہی شیخ الکل ہیں۔ راقم فتویٰ یعنی میاں صاحب اس فتوے میں ذیل کے الفاظ میری نسبت استعمال کرتے ہیں۔
    ۱۴۰ ۱۴۱ ۱۴۵
    ۱۵۲ ۱۶۷ ۱۸۰ ۱۸۳ ۱۸۵
    ؍؍
    اہل سنت سے خارج۔ اس کا عملی طریق ملحدین باطنیہ وغیرہ اہل ضال کا طریق ہے۔اس کے دعوے و اشاعت اکاذیب اور اس ملحدانہ طریق سے اس کو تیس دجّالوں میں سے جن کی خبر حدیث میں وارد ہے ایک دجّال کہہ سکتے ہیں۔ اس کے پیرو ہم مشرب ذریات دجّال۔ خدا پر افترا باندھنے والا۔ اس کی تاویلات الحاد و تحریف کذب و تدلیس سے کام لینے والا۔ دجّال۔ بے علم۔ نافہم۔ اہل بدعت وضلالت۔
    جو کچھ ہم نے سوال سائل کے جواب میں کہا اور قادیانی کے حق میں فتویٰ دیا وہ صحیح ہے۔۔۔ اب مسلمانوں کو چاہیے کہ ایسے دجّال کذّاب سے احتراز کریں۔ اور اس سے وہ دینی معاملات نہ کریں۔ جو اہل اسلام میں باہم ہونے چاہئیں۔ نہ اس کی محبت اختیار کریں۔ اور نہ اس کو ابتداءً سلام کریں اور نہ اس کو دعوت مسنون میں بلاویں۔اور نہ اس کی دعوت قبول کریں اور نہ اس کے پیچھے اقتدا کریں اور نہ اس کی نماز جنازہ پڑھیں۔۔۔ الخ
    شیخ محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ
    اشاعۃ السنہ نمبر یکم لغایت ششم جلد شانز دہم ۱۸۹۳ ؁ء
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 147
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 147
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/147/mode/1up
    147
    * اسلامؔ کا چھپا دشمن۔ مسیلمہ ثانی دجّال زمانی۔ نجومی۔ رملی۔ جوتشی۔ اٹکل باز۔ جفری۔ بھنگر۔ پھکڑ۔ اڑڑپوپو۔ اُس کا موت کو نشان ٹھہرانا حماقت و سفاہت شیطان ہے۔ مکّار۔ جھوٹا۔ فریبی۔ ملعون۔ شوخ گستاخ۔ مثیل الدجّال۔ اعور دجّال۔ غدّار۔ پُرفتنہ و مکّار۔ کاذب۔ کذّاب۔ ذلیل و خوار مردود۔ بے ایمان۔ رو سیاہ مثیل مسیلم و اسود۔ رہبر ملاحدہ۔ عبدالدراہم والد نانیر۔ تمغات *** کا مستحق۔ مورد ہزار *** خدا و فرشتگان و مسلمانان۔ کذّاب۔ ظلّام۔ افّاک۔ مفتری علی اللہ۔ جس کا الہام احتلام ہے۔ پکّا کاذب۔ ملعون۔ کافر۔ فریبی۔ حیلہ ساز۔ اَکْذَب۔ بے ایمان۔ بے حیا۔ دھوکہ باز۔ حیلہ باز۔ بھنگیوں اور بازاری شُہدوں کا (سر) گروہ۔ دہریہ۔جہان کے احمقوں سے زیادہ احمق۔ جس کا خدا معلم الملکوت (شیطان)۔ محرف۔ یہودی۔ عیسائیوں کا بھائی۔ خسارت مآب۔ ڈاکو۔ خونریز۔ بے شرم۔ بے ایمان۔ مکّار۔ طرّار۔ جس کا مرشد شیطان علیہ اللعنۃ بازاری شہدوں چوہڑوں بہائم اور وحشیوں کی سیرت اختیار کرنے والا۔ مکرچال۔ فریب کی چال والا۔ جس کی جماعت بدمعاش۔ بدکردار۔ جھوٹ بولنے والی۔ زانی۔ شرابی۔ مال مردم خور۔ دغاباز۔ مسلمانوں کو دام میں لاکر ان کا مال لوٹ کر کھانے والا۔ ایسے سوال و جواب میں یہ کہنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حرام زادگی کی نشانی ہے۔
    اس کے پیرو خران بے تمیز۔
    ۲، ۳، ۴، ۱۱، ۱۲، ۱۷، ۱۸، ۲۲، ۳۷، ۳۳، ۳۹، ۴۲، ۴۳، ۴۴، ۴۷، ۴۹، ۵۴، ۶۳، ۱۱۶، ۱۱۷، ۱۱۸،
    ۱۲۹، ۱۳۳، ۱۳۴، ۱۴۲، ۱۵۰ ،
    ۱۷۳
    یہ الفاظ یہاں صرف ایک ہی رسالہ میں سے نمونہ کے طور پر نکالے گئے ہیں اور اس رسالہ میں سے بھی اور بہت سے ملتے جلتے الفاظ چھوڑے گئے۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 148
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 148
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/148/mode/1up
    148
    غزنوؔ ی گروہ
    مولوی عبدالجبار صاحب نے فتوےٰ مذکورہ بالا پر بصفحہ ۲۰۰ دستخط کرتے ہوئے ذیل کے الفاظ لکھے ہیں۔
    ’’ان امور کا مدعی رسول خدا کا مخالف ہے۔۔۔۔۔۔ ان لوگوں میں سے جن کے حق میں رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ آخر زمانہ میں دجّال کذّاب پیدا ہوں گے۔۔۔۔۔۔ ان سے اپنے آپ کو بچاؤ تم کو گمراہ نہ کردیں اور بہکا نہ دیں۔ اس (قادیانی) کے چوزے (اتباع) ہنود اور نصاریٰ کے مخنّث ہیں‘‘۔
    احمد ابن عبداللہ غزنوی۔ بصفحہ ۲۰۱
    ’’قادیانی کے حق میں میرا وہ قول ہے جو ابن تیمیہ کا قول ہے جیسے تمام لوگوں سے بہتر انبیاء علیہم السلام ہیں ویسے ہی تمام لوگوں سے بدتر وہ لوگ ہیں جو نبی نہ ہوں اور نبیوں سے مشابہ بن کر نبی ہونے کا دعویٰ کرے۔۔۔۔۔۔ یہ بدترین خلائق ہے۔ تمام لوگوں سے ذلیل تر۔ آگ میں جھوکا جائے گا‘‘۔
    عبدالصمد ابن عبداللہ غزنوی۔ بصفحہ ۲۰۲
    ’’غلام احمد قادیانی کجر و بلید فاسد ہے۔ اور رائے کھوٹی۔ گمراہ ہے۔ لوگوں کو گمراہ کرنے والا۔ چھپا مرتد۔ بلکہ وہ اپنے اس شیطان سے زیادہ گمراہ جو اس کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ یہ شخص ایسے اعتقاد پر مر جائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے۔ اور نہ یہؔ اسلامی قبرستان میں دفن ہو۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 149
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 149
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/149/mode/1up
    149
    عبدالحق غزنوی
    اشتہار ضرب النعال علیٰ وجہ الدجال
    ۳؍ شعبان ۱۳۱۴ ؁ھ
    دجال۔ ملحد۔ کاذب۔ روسیاہ۔ بدکار۔ شیطان۔ ***۔ بے ایمان۔ ذلیل۔ خوار۔ خستہ۔ خراب۔ کافر۔ شقی سرمدی ہے۔ *** کا طوق اس کے گلے کا ہار ہے۔ لعن طعن کا جوت اس کے سر پر پڑا۔ بے جا تاویل کرنیوالا۔۔۔ مارے شرمندگی کے زہر کھا کر مرجاوے گا۔۔۔ بکواس کرتا ہے۔۔۔ رسوا ذلیل شرمندہ ہوا۔ اللہ کی *** ہو۔۔۔ جھوٹے اشتہارات شائع کرنے والا۔ اس کی سب باتیں بکواس ہیں۔
    نام کتاب و نام مصنف
    تاریخ طبع
    صفحہ
    الفاظ یا عبارت
    تائید آسمانی مصنفہ منشی
    ۲۳؍ جولائی
    ۲
    مرزا صاحب دھوکہ باز اور گمراہ کرنیوالا ہے۔
    محمد جعفر تھانیسری
    ۱۸۹۲ ؁ء
    ۱۳
    مرزا صاحب تارک جمعہ و جماعت۔ وعدہ خلاف سیرت محمد سے کوسوں دور
    ؍؍
    ؍؍
    ۲۳
    مرزا صاحب عیار۔ جھوٹا دعوے دار۔
    ؍؍
    ؍؍
    ۲۴
    مرزاصاحب چالاک اور بٹہ باز۔
    ؍؍
    ؍؍
    ۲۸
    مرزا صاحب فضول خرچ۔ مسرف۔ حیلہ ساز۔
    اشتہار مولوی محمد و مولوی عبداللہ و مولوی عبدالعزیز لدھیانویاں مطبوعہ ۲۹؍ رمضان ۱۳۰۸ ؁ میں یہ لکھا ہے۔ ’’خلاصہ مطلب ہماری تحریرات قدیمہ و جدیدہ کا یہی ہے کہ یہ شخص مرتد ہے اور اہل اسلام کو ایسے شخص سے ارتباط رکھنا حرام ہے۔۔۔ اسی طرح جو لوگ اس پر عقیدہ رکھتے ہیں وہ بھی کافر ہیں اور ان کے نکاح باقی نہیں رہے جو چاہے ان کی عورتوں سے نکاح کرلے‘‘۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 150
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 150
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/150/mode/1up
    150
    ؍؍
    ۳۴ؔ
    مرزا صاحب روباہ باز۔ عیّار۔
    نظم حقانی مسمّی بہ سرائر کادیانی مشتہرہ سعد اللہ نومسلم لدھیانوی ۲۳؍ شعبان ۱۳۱۳ ھ
    صفحہ ۱ سے ۸ تک
    قادیانی رافضی۔ بے پیر۔ دجّال۔ یزید۔ اس کے مرید یزیدی۔ خانہ خراب۔ فتنہ گر۔ ظالم۔ تباہ کار۔ روسیاہ۔ بے شرم۔ احمق۔ کاذب۔ خارجی۔ بھانڈ۔ یاوہ گو۔ غبی۔ بدمعاش۔ لالچی۔ جھوٹا۔ کافر۔ مفتری۔ ملحد۔ دجّالی حمار۔ اخنس۔ بکواسی۔ بدتہذیب اور دون ہے۔ مشرکانہ خیال کا آدمی۔ اس کا گاؤں منحوس ہے۔ اس کی دجّالیاں اور مکّاریاں اور رمّالیاں اظہر من الشمس ہیں۔ اس کی کتابیں ایمان اور دین کا ازالہ کرنے والی ہیں۔
    بُت شکن مشتہرہ محمد رضا الشیرازی الغروی شیعی۔ مطبوعہ قمر الہند
    ؍؍
    ۱
    ؍؍
    مرزا کاذب ہے۔ مفتری۔ یاوہ گو۔ تباہ کار۔ مکّار۔ بغی۔ غوی۔ غبی۔ گمراہ۔ نادان۔ فضول۔ ڈھکوسلی۔ بیہودہ سرائے۔ کاذب۔ جھوٹا۔ دروغ گو۔ بے شرم۔ ننگ خلائق۔ کاذب۔ بانی ملت مبتدعہ۔ تلبیس کرنے والا۔ داعی ملت بدعیہ۔ سرکش طبع۔ راندہ درگاہِ ازلی۔ گم کردہ صراط مستقیم۔ سوء فہم۔ باد پیمائی کرنے والا۔ ژاژ خایاں۔ چاہ ضلالت میں ڈوبا ہوا اور گمراہی کے تذویر میں پھنسا ہوا ہے۔ عُجب و تکبر میں گرفتار۔ مزخرفات موہومہؔ باطلہ کا کہنے والا۔ اس کی جماعت ضلالت و گمراہی میں ہے۔ اس کی مراسلت سراسر فضول و لچر ہے۔ اس کے دلائل سبّ و شتم و فحش سے بھرے ہوئے ہیں۔ مرزا مقہور شکستہ بال ہے۔ اس کی باتیں ہفوات اور ہزلیات ہیں۔ وہ گمراہ غیّ ہے۔ اس کی تحریرات میں خرافات ہیں۔ اس کے دہن کے ترشحات گندیدہ ہیں۔ اس کا مدّعا
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 151
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 151
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/151/mode/1up
    151
    زُور و طغیان ہے۔ شتم و فحش و بہتان لانے والا۔ افترا و کذب کے دلائل پیش کرنے والا۔ شناعت و فضیحت کے سوا اس کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ یہ کاذب دارالبوار میں جائے گا۔ ظلمت۔ کفر۔ طغیان ان کی وجہ سے دنیا میں ہے۔
    راجندر سنگھ
    ایڈیٹر و مالک اخبار خالصہ بہادر
    کتاب خبط قادیانی کا علاج گورو گوبند پریس لاہور ۱۸۹۷ ؁ء
    صفحہ ۲
    واہ رے مرزا کے اسلامی خدا۔ خدا کیا ہے خدا کا خدا قرمساق کا قرمساق۔
    ۱۲
    گورونانک صاحب الٰہی دین کے خادم تو تھے لیکن مسلمانوںؔ والے الٰہی دین کے ہرگز نہیں تھے جن کے دین کا خدا مرزا صاحب جیسوں کو امام کا خطاب دیتا ہے اور شرمناک الہام بھیجتا ہے۔
    ۲۸
    محمد صاحب نے پھر بھی مکر و فریب کے طریق کو ہاتھ سے نہ چھوڑا۔
    ۷۷
    اسلام خدا کے پانے کا مذہب نہیں ہے بلکہ شہوت پرستی کے لئے ایک خاصہ چکلہ ہے۔
    ۷۸
    (مثنوی جس میں ہمارے سید و مولیٰ صلعم کو سخت بدتہذیبی سے یاد کیا ہے)
    ۷۹
    حقیقت میں زنا و فعل بیجا تمہارے ہی بزرگوں کا شیوہ الخ
    ۸۶
    بلکہ شہوت پرستی تو آپ کے نبوت احمدی سے ہی آپ کے خمیر میں چلی آئی ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 152
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 152
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/152/mode/1up
    152
    ۹۱
    محمد صاحب نے زن پرستی۔ قبر پرستی۔ مردہ پرستی۔ لونڈی پرستی۔ اور ظلم پرستی کی تخم ریزی کر کے اکثر ملکوں میں تمام جہان کی برائیوں اور بدفعلیوں کا ایک پژاوہ بھڑکا دیا تھا۔
    ۹۲
    کل اہل اسلام کے بزرگوں و غیرہم کو زبان پر توحید اور عمل میں زن پرست و زانی کہا ہے۔
    ۹۴، ۹۷
    محمد صاحب نے اپنی لونڈی کے ساتھ زنا کیا پھر معافی مانگی۔ شہوت پرست تھے۔ عبادت الٰہی کو چھوڑ کر عورتوں کا حکم بجا لاتے تھے۔
    ۱۰۳
    محمد صاحب زن مُرید تھے۔ قرآن میں شیطانی راہ کی باتیں بھی ہیں۔
    یہ نمونہ ہے اس درشت اور قابل تاسف زبان کا جو ہماری ست بچن جیسی کتاب کے مقابل پر ہمارے ہادی و مقتدا سیّد و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں استعمال کی گئی ہے۔
    یہؔ وہ سخت الفاظ اور توہین اور تحقیر کے کلمات ہیں جو پادری صاحبان اور آریہ صاحبان نے اپنی کتابوں میں ہمارے سیّد و مولیٰ جناب سیّد المرسلین و خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت استعمال کئے ہیں۔ اور ان کتابوں سے اکثر کتابیں کئی دفعہ چھپ کر پنجاب اور ہندوستان میں شائع کی گئی ہیں۔ اور ہمیشہ مشن سکولوں کے طالب العلموں کو پڑھنے کے لئے دی جاتی ہیں۔ اور کوچوں اور بازاروں میں سنائی جاتی ہیں۔ اور عیسائی عورتیں جو وعظ پر مقرر ہیں مسلمانوں کے گھروں میں لے جاتی ہیں۔ ہم بیان نہیں کر سکتے کہ ہم نے ان تمام الفاظ کو کس کراہت اور درد دل اور لرزاں بدن سے لکھا ہے۔ اگر عدالت کی کارروائی ہم کو ان کے لکھنے کے لئے مجبور نہ کرتی اور ڈاکٹر کلارک صاحب ہم پر یہ الزام دروغ نہ لگاتے کہ گویا ہم عیسائیوں کے مقابل پر سخت الفاظ استعمال کرتے ہیں تو یہ زہر آمیز کلمات جو سلطان الصادقین اور خیر المرسلین کی شان میں لکھے گئے ہیں اور ہمیشہ عیسائی اخباروں میں لکھے جاتے ہیں ہم ہرگز اس کتاب میں نہ لکھتے۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 153
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 153
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/153/mode/1up
    153
    ہمیں افسوس ہے کہ ان ناپاک اور دل آزار کلمات کو محض اس وجہ سے ہمیں حکّام پر ظاہر کرنا پڑا کہ ڈاکٹر کلارک نے بعض معمولی اور نرم الفاظ ہمارے عدالت میں پیش کر کے یہ شکایت کی کہ ’’ایسے سخت الفاظ سے ہم پر حملہ کیا جاتا ہے‘‘۔ اور چونکہ صاحب مجسٹریٹ ضلع کو معلوم نہیں تھا کہ حضرات پادری صاحبان نے سخت الفاظ کے استعمال میں کہاں تک نوبت پہنچائی ہوئی ہے اور بباعث نہ لئے جانے ہمارے جواب کے پادری صاحبوں کے سخت الفاظ پر انہیں کچھ بھی اطلاع نہ تھی اس لئے ان کو یہ دھوکہ لگا کہ گویا ہم نے سخت الفاظ استعمال کئے ہیں۔ اور انہوں نے خیال کیا کہ گویا درحقیقت ہماری طرف سے سخت الفاظ استعمال میں آتے ہیں۔ اور اسی دھوکہ کی بنا پر ان کو نوٹس بھی لکھنا پڑا۔ اور اگر ہمارے جواب تک نوبت پہنچتی تو ہرگز ممکن نہ تھا کہ صاحب بہادر پادری صاحبوں کے الفاظ کے مقابل پر ہمارے الفاظ کو سخت قرار دیتے۔ کیونکہ سختی نرمی ایک ایسی شَے ہے کہ اس کی حقیقت مقابلہ سے ہی معلوم ہوتی ہے۔ خاص کر مذہبیؔ بحثوں کی کتابوں میں تو کسی شخص کی سختی یا نرمی کی نسبت رائے قائم نہیں ہو سکتی جب تک اس کے مقابل کی کتاب نہ دیکھی جائے۔ اگر صرف مخالف خیالات کو رد کرنے کا نام سختی ہو تو میں خیال نہیں کر سکتا کہ دنیا میں کوئی مذہبی مباحثات کی کتاب ایسی پائی جائے جو اس قسم کی سختی سے خالی ہو۔ بلکہ توہین اور سختی تو یہ ہے کہ کسی قوم کے مقتدا کو نہایت درجہ کی بے عزتی کے ساتھ یاد کرنا اور ناپاک افعال اور رذیل اخلاق کی تہمتیں اس پر لگانا۔ سو یہ طریق حضرات پادری صاحبان اور آریہ صاحبوں نے اختیار کر رکھا ہے۔ اور بے اصل تہمتیں سراسر افترا کے طور پر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر لگاتے ہیں جو کسی مستند اور مسلّم الثبوت اسلامی کتاب پر مبنی نہیں ہیں۔ اس سے جس قدر مسلمانوں کا دل دکھتا ہے اس کا کون اندازہ کر سکتا ہے؟!
    اور ہم لوگ پادری صاحبوں کے مقابل پر کیا سختی کر سکتے ہیں کیونکہ جس طرح ان کا فرض
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 154
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 154
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/154/mode/1up
    154
    ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بزرگی اور عزت مانیں ایسا ہی ہمارا بھی فرض ہے۔ ہم لوگ صرف خدائی کا منصب خدا تعالیٰ کے لئے خاص رکھ کر باقی امور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایک صادق اور راستباز اور ہر ایک ایسی عزت کا مستحق سمجھتے ہیں جو سچے نبی کو دینی چاہیئے۔ مگر پادری صاحبان ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کب ایسا نیک ظن رکھتے ہیں۔ نہایت سے نہایت نرم کلمہ ان کا یہ ہوگاکہ وہ شخص نعوذ باللہ مفتری اور کذّاب تھا سو کوئی مسلمان اس کلمہ کو بھی بغیر درد اور دکھ اٹھانے کے سن نہیں سکتا۔ خدا ترسی کا تقاضا یہ تھا کہ یہ لوگ مفتری اور کذّاب کہنے سے بھی پرہیز کرتے۔ کیونکہ جن دلائل کے رو سے وہ ایک انسان کو خدا بنا رہے ہیں وہ نشان اور دلائل صدہا درجہ زیادہ اس کامل انسان میں پائے جاتے ہیں۔ اس مقدس نبی کے وعظ اور تعلیم نے ہزاروں مُردوں میں توحید کی روح پھونک دی اور دنیا سے کوچ نہ کیا جب تک ہزاروں انسانوں کو موحّد نہ بنالیا۔ وہ خدا ماننے کے لئے پیش کیا جس کو قانون قدرت پیش کر رہا ہے۔ زُہد اور تقویٰ اور عبادتؔ اور محبت الٰہی کی نصیحت کی اور ہزار ہا آسمانی نشان دکھلائے جو اب تک ظہور میں آ رہے ہیں۔*
    ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نشان اور معجزات دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جو آنجناب کے ہاتھ سے یا آپ کے قول یا آپ کے فعل یا آپ کی دعا سے ظہور میں آئے اور ایسے معجزات شمار کے رو سے قریب تین ہزار کے ہیں۔ اور دوسرے وہ معجزات ہیں جو آنجناب کی اُمّت کے ذریعہ سے ہمیشہ ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ اور ایسے نشانوں کی لاکھوں تک نوبت پہنچ گئی ہے اور ایسی کوئی صدی بھی نہیں گذری جس میں ایسے نشان ظہور میں نہ آئے ہوں۔ چنانچہ اس زمانہ میں اس عاجز کے ذریعہ سے خداتعالیٰ یہ نشان دکھلا رہا ہے۔ ان تمام نشانوں سے جن کا سلسلہ کسی زمانہ میں منقطع نہیں ہوتا۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 155
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 155
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/155/mode/1up
    155
    مگر افسوس کہ پادری صاحبوں نے تعصب کے جوش میں آنجناب کی عزت اور مرتبہ کا کچھ بھی لحاظ نہیں کیا اور نہایت درجہ کے قابل شرم افتراؤں سے کام لیا ہے۔
    مجھے اس جگہ بعض نادان مسلمانوں کی نکتہ چینی کا بھی اندیشہ ہے۔ شاید وہ یہ اعتراض کریں کہ ’’کیا ضرور تھا کہ یہ ناپاک کلمات اس کتاب میں لکھے جاتے جن میں اس قدر شرارت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی ہے؟‘‘ سو اس کا جواب میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ اس نوٹس کی وجہ سے جو مثل مقدمہ میں شامل ہے ہمارے پر فرض ہوگیا تھا کہ ہم اپنی گورنمنٹ عالیہ پر اصلؔ حقیقت ظاہر کریں کہ سختی ہماری طرف سے ہے یا پادریوں کی طرف سے۔ اور اگر ہم اس دھوکہ دہی کا تدارک نہ کرتے تو حکام کو کیونکر معلوم ہوتا کہ پادری صاحبوں کا یہ سراسر جھوٹ ہے کہ ہماری طرف سے زیادتی اور سختی ہے۔ اور پادری صاحبوں نے نہ محض میرے لئے بلکہ تمام
    ہم یقیناًجانتے ہیں کہ خداتعالیٰ کا سب سے بڑا نبی اور سب سے زیادہ پیاراجناب محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ کیونکہ دوسرے نبیوں کی اُمّتیں ایک تاریکی میں پڑی ہوئی ہیں اور صرف گذشتہ قصّے اور کہانیاں ان کے پاس ہیں۔ مگر یہ اُمّت ہمیشہ خداتعالیٰ سے تازہ بتازہ نشان پاتی ہے۔ لہٰذا اس اُمّت میں اکثر عارف ایسے پائے جاتے ہیں کہ جو خداتعالیٰ پر اس درجہ کا یقین رکھتے ہیں کہ گویا اس کو دیکھتے ہیں۔ اور دوسری قوموں کو خداتعالیٰ کی نسبت یہ یقین نصیب نہیں۔ لہٰذا ہماری روح سے یہ گواہی نکلتی ہے کہ سچا اور صحیح مذہب صرف اسلام ہے۔ ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کچھ نہیں دیکھا۔ اگر قرآن شریف گواہی نہ دیتا تو ؔ ہمارے لئے اور ہر ایک محقق کے لئے ممکن نہ تھا کہ ان کو سچا نبی سمجھتا۔ کیونکہ جب کسی مذہب میں صرف قصے اور کہانیاں رہ جاتی ہیں تو اس مذہب کے بانی یا مقتدا کی سچائی صرف ان قصوں پر نظر کر کے تحقیقی طور پر ثابت نہیں ہو سکتی۔ وجہ یہ کہ صدہا برس کے گذشتہ قصے کذب کا
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 156
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 156
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/156/mode/1up
    156
    مسلمانوں کے لئے یہ ایک بند اور روک بنائی تھی تا آئندہ کوئی شخص ان کا مقابلہ نہ کرے۔ اور اس بات سے ڈر جایا کریں کہ ان کے الفاظ سخت متصور ہو کر قانون کے نیچے لائے جائیں گے۔ گویا اس طور سے پادری صاحبوں کی مراد پوری ہوگی کہ وہ جس طور سے چاہیں گالیاں دیں۔ مگر دوسرا شخص نرمی کے ساتھ بھی ان کے مقابل پر سر نہ اٹھاوے۔ پسؔ نہایت ضروری تھا کہ اپنی گورنمنٹ عالیہ کو حقیقت حال سے اطلاع دی جائے۔ ہم یقیناً جانتے ہیں کہ ہماری یہ گورنمنٹ مذہبی امور میں ہرگز پادریوں کی رعایت نہیں کرے گی اور اس بات پر اطلاع پاکر کہ مباحثات میں ہمیشہ زیادتی پادریوں کی طرف سے ہوتی رہی ہے ایسے نوٹس کو جو دھوکہ کھانے کی وجہ سے لکھا گیا ہے محض فضول اور منسوخ کی طرح سمجھے گی۔
    اب ہم کچہری کی کارروائی کو سلسلہ وار بیان کرتے ہیں اور وہ یہ ہے:۔
    بھی احتمال رکھتے ہیں بلکہ زیادہ تر احتمال یہی ہوتا ہے کیونکہ دنیا میں جھوٹ زیادہ ہے۔ پھر کیونکر دلی یقین سے اُن قصوں کو واقعات صحیحہ مان لیا جائے۔ لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات صرف قصوں کے رنگ میں نہیں ہیں بلکہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کر کے خود ان نشانوں کو پالیتے ہیں۔ لہٰذا معائنہ اور مشاہدہ کی برکت سے ہم حق الیقین تک پہنچ جاتے ہیں۔ سو اس کامل اور مقدس نبی کی کس قدر شان بزرگ ہے جس کی نبوت ہمیشہ طالبوں کو تازہ ثبوت دکھلاتی رہتی ہے۔ اور ہم متواتر نشانوں کی برکت سے اس کمال سے مراتب عالیہ تک پہنچ جاتے ہیں کہ گویا خداتعالیٰ کو ہم آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں۔ پس مذہب اسے کہتے ہیں اور سچا نبی اس کا نام ہے جس کی سچائی کی ہمیشہ تازہ بہار نظر آئے۔ محض قصوں پر جن میں ہزاروں طرح کی کمی بیشی کا امکان ہے بھروسہ کرلینا عقلمندوں کا کام نہیں ہے۔ دنیا میں صدہا لوگ خدا بنائے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 157
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 157
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/157/mode/1up
    157
    ترجمہ چٹھہ *انگریزی
    بعدالت اے ای مارٹینو صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع امرتسر
    مستغیث
    جرم
    مستغاث علیہ
    قیصرہ ہند
    زیر دفعہ ۱۰۷ ضابطہ فوجداری
    میرزا غلام احمد صاحب ساکن موضع قادیاں تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپورہ
    بیان عبدالحمید
    میں سلطان محمود کا بیٹا ہوں جو جہلم میں رہتا تھا۔ مجھے امرتسر آئے انیس بیس دن گذرے ہیں۔ میرزا غلام احمد صاحب ساکن قادیاں ضلع گورداسپور نے مجھے اپنے گھر بلایا۔ اور مجھ سے گفتگو ؔ کی۔ اس نے مجھے کہا کہ امرتسر میں ڈاکٹر کلارک کے پاس جاکر اس کو کسی نہ کسی طرح قتل کروں وہ مجھے پہلے سے جانتا تھا۔ لیکن اس نے مجھے اس امر کے متعلق اُس خاص دن کہا۔ میں
    گئے۔ اور صدہا پرانے افسانوں کے ذریعہ سے کراماؔ تی کر کے مانے جاتے ہیں۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ سچا کراماتی وہی ہے جس کی کرامات کا دریا کبھی خشک نہ ہو سو وہ شخص ہمارے سیّد و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ خداتعالیٰ نے ہر ایک زمانہ میں اس کامل اور مقدس کے نشان دکھلانے کے لئے کسی نہ کسی کو بھیجا ہے اور اس زمانہ میں مسیح موعود کے نام سے مجھے بھیجا ہے۔ دیکھو! آسمان سے نشان ظاہر ہو رہے ہیں اور طرح طرح کے خوارق ظہور میں آ رہے ہیں اور ہر ایک حق کا طالب ہمارے پاس رہ کر نشانوں کو دیکھ سکتا ہے گو وہ عیسائی ہو یا یہودی یا آریہ۔ یہ سب برکات ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیں۔
    محمد است امام و چراغ ہر دو جہاں
    محمد است فروزندہۂ زمین و زماں
    خدانہ گویمش از ترسِ حق مگر بخدا
    خدا نماست وجودش برائے عالمیاں
    اور میں کئی مرتبہ ظاہر کر چکا ہوں کہ خداتعالیٰ نے چودھویں صدی کے سر پر
    * مطابق ایڈیشن اوّل
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 158
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 158
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/158/mode/1up
    158
    راضی ہوگیا کہ میں ایسا ہی کروں گا جیسے اُس نے کہا تھا۔ میں نے یہ امر اس لئے کیا تھا کہ میں مسلمان ہوں اور ڈاکٹر کلارک عیسائی تھے۔ میرزا صاحب نے مجھے کہا تھا کہ مسلمان کو عیسائی کا قتل کرنا جائز ہے۔ اس ارادہ کے ساتھ پھر امرتسر گیا۔ میں نے ڈاکٹر کلارک کے پاس جاکر کہا کہ میں پہلے ہندو تھا۔ پھر مسلمان ہوا۔ اور اب عیسائی ہونا چاہتا ہوں۔ میں نے اس سے یہ بھی کہا کہ میں مرزا صاحب کی طرف سے آیا ہوں۔ مجھے ڈاکٹر کلارک نے ہسپتال میں بھیج دیا۔
    لوگوںؔ کی اصلاح کے لئے مسیح موعود کے نام پر مجھے بھیجا ہے اور مجھے آسمانی نشان دئیے ہیں۔ اور میں مناسب دیکھتا ہوں کہ اس کتاب میں بھی کچھ اپنی سوانح لکھ دوں۔ شاید کوئی طالب حق ان میں غور کر کے کچھ فائدہ اٹھائے۔ اور اتفاق حسنہ سے ان دنوں میں ایک صاحب حاجی محمد اسماعیل خاں نام رئیس د تاولی نے مجھ سے بذریعہ خط درخواست کی کہ تا میں ان کی ایک نوتالیف کتاب میں درج ہونے کے لئے مختصر طور پر اپنی سوانح لکھ دوں۔ اور اس میں اپنا دعویٰ اور دلائل بھی بیان کروں۔ سو میں مناسب دیکھتا ہوں کہ وہ خط اس جگہ بھی فائدہ عام کے لئے ذیل میں درج کردوں۔ سو وہ معہ تمہیدی عبارت کے یہ ہے:-
    ہمارے مختصر سوانح اور مقاصد
    مجھے اس وقت ایک خط معہ ایک چھپی ہوئی درخواست کے حاجی محمد اسماعیل خاں صاحب رئیس د تاولی کی طرف سے ملا۔ جس میں انہوں نے ظاہر کیا ہے کہ وہ ایک ایسی کتاب لکھنا چاہتے ہیں جس میں ہندوستان اور پنجاب کے ہر ایک قسم کے مشہور آدمیوں کا تذکرہ ہو۔ اسی بنا پر انہوں نے مجھ سے بھی میرے سوانح طلب کئے ہیں اور میں نے بھی مناسب سمجھا کہ فائدہ عام کے لئے ان کی اس درخواست کے مطابق کچھ لکھوں اور ان کی کتاب میں شائع ہونے کے لئے کچھ حالات اپنے خاندان کے متعلق اور کچھ اپنی
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 159
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 159
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/159/mode/1up
    159
    جہاںؔ عیسائی رہتے اور تعلیم پاتے ہیں۔ میں امرتسر میں چار پانچ دن رہا۔ اور پھر ڈاکٹر کلارک نے مجھے ایک اور ہسپتال میں بھیج دیا جو بیاس میں ہے۔ مجھے کل ڈاکٹر کلارک نے پوچھا کہ میں امرتسر کیوں آیا تھا۔ اور پھر میں نے اصل حقیقت کہہ دی۔ اور کہہ دیا کہ مجھے میرزا صاحب نے ڈاکٹر کلارک کے قتل کے لئے بھیجا تھا۔ اور میں نے اب اپنا ارادہ بدل لیا ہے اور میں اس کے لئے پچھتاتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں۔ میں نے یہ بیان اپنی ہی مرضی اور آزادی سے لکھایا ہے۔ میں د۲و تین۳ مہینے تک قادیان میں مرزا صاحب کا مرید رہا ہوں۔ پیش ازیں کہ اس نے امرتسر جانے کے لئے کہا۔ قادیان جانے سے پہلے میں گجرات میں رہا ہوں۔ جہاں مجھے ایک پادری تعلیم دیتا تھا وہ مجھے راولپنڈی بھیجنا چاہتا تھا۔ مگر مسلمانوں نے مجھ پر قبضہ پاکر مرزا صاحب کے پاس بھیج دیا۔ میرا باپ زمیندار اور مولوی تھا۔ وہ میرزا صاحب کا مرید نہیں تھا۔ اس کے مرنے پر میرے چچا برہان الدین نے میری پرورش کی۔ وہ جہلم میں رہتا تھا اور میرزا صاحب
    ذاتیؔ سرگذشت اور کسی قدر اپنے دعویٰ مسیحیت اور دلائل دعویٰ کی نسبت تحریر کروں لیکن جس اختصار کی پابندی سے انہوں نے اس کام کا ارادہ فرمایا ہے وہ اس مقصد کی تکمیل کے لئے کافی نہیں ہے۔ اس لئے میں بقدر کفایت کسی قدر تفصیل کے ساتھ اس مضمون کو لکھنا چاہتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ خانصاحب موصوف میری چند روزہ محنت اور تکلیف کشی کا لحاظ فرما کر بنظر قدر شناسی اس کے تمام و کمال درج کرنے سے دریغ نہیں فرمائیں گے۔
    یہ بات ظاہر ہے کہ جب تک کسی شخص کے سوانح کا پورا نقشہ کھینچ کر نہ دکھلایا جائے تب تک چند سطریں جو اجمالی طور پر ہوں کچھ بھی فائدہ پبلک کو نہیں پہنچا سکتیں اور ان کے لکھنے سے کوئی نتیجہ معتدبہ پیدا نہیں ہوتا۔ سوانح نویسی سے اصل مطلب تو یہ ہے کہ تا اس زمانے کے لوگ یا آنے والی نسلیں ان لوگوں کے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 160
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 160
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/160/mode/1up
    160
    کا مرید تھا۔ میرا ایک اور چچا لقمان تھا۔ اس نے میری والدہ سے میرے باپ کے مرنے کے بعد شادیؔ کی۔ کوئی آدمی موجود نہ تھا جب مرزا صاحب نے مجھے امرتسر جانے کی تعلیم دی۔ مجھے وہ اپنے مکان کے ایک الگ کمرے میں لے گیا۔ اور مجھ سے یہ کہا۔ میں صرف قرآن پڑھتا تھا جب میں میرزا صاحب کے پاس تھا۔ مولوی نور الدین مجھے پڑھاتا تھا۔ میرزا صاحب مجھے اس خاص دن سے پہلے جب اس نے مجھے اس کام کے لئے کہا۔ بہت محبت کرتا تھا۔ لیکن اس سے پہلے اس نے مجھے کبھی ڈاکٹر کلارک کے قتل کرنے کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی حکیم نور الدین نے۔ مجھے اس بات کا علم نہیں کہ کوئی اور آدمی قادیان سے میرے بعد آیا۔ مرزا صاحب نے مجھے کہا کہ میں ڈاکٹر کلارک کو کسی موقعہ پر جب میں اسے اکیلا پاؤں پتھر سے مار ڈالوں۔ میرا چچا برہان الدین پُرجوش مسلمان تھا۔ مرزا صاحب نے مجھے کہا تھا کہ ڈاکٹر کلارک کو قتل کرنے کے بعد قادیاں میں چلے آنا۔ جہاں بالکل محفوظ رہوگے۔ میں ذات کا گکھڑ ہوں۔ میں سولہ یا سترہ برس کا ہوں۔
    دستخط اے ای مارٹینو
    مہر
    پڑھایا گیا اور صحیح تسلیم کیا گیا
    ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ
    دستخط؍؍
    کاپی صحیح دستخط ہیڈ کلرک
    یکم اگست ۱۸۹۷ ؁ء
    واقعات زندگی پر غور کرکے کچھ نمونہ ان کے اخلاق یا ہمت یا زہد و تقویٰ یا علم و معرفت یا تائید دین یا ہمدردی نوع انسان یا کسی اور قسم کی قابل تعریف ترقی کا اپنے لئے حاصل کریں اور کم سے کم یہ کہ قوم کے اولوالعزم لوگوں کے حالات معلوم کر کے اس شوکت اور شان کے قائل ہو جائیں جو اسلام کے عمائد میں ہمیشہ سے پائی جاتی رہی ہے تا اس کو حمایت قوم میں مخالفین کے سامنے پیش کر سکیں اور یا یہ کہ ان لوگوں کے مرتبت یا صدق اور کذب کی نسبت کچھ رائے قائم کر سکیں۔ اور ظاہر ہے کہ ایسے امور کے لئے کسی قدر مفصل واقعات کے جاننے کی ہر ایک کو ضرورت ہوتی ہے۔ اور بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص ایک نامور انسان کے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 161
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 161
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/161/mode/1up
    161
    بعداؔ لت اے ای مارٹینو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر
    مستغیث قیصرہ ہند
    زیر دفعہ ۱۰۷
    مستغاث الیہ میرزا غلام احمد صاحب قادیاں تحصیل بٹالہ
    اظہار ڈاکٹر مارٹن کلارک
    ترجمہ از انگریزی
    میں میڈیکل مشنری ہوں اور امرتسر میں رہتا ہوں عبدالحمید نے میرے پاس ۱۵؍جولائی کو آکر بیان کیا کہ میں بٹالہ کا برہمن ہوں۔ مجھے غلام احمد قادیانی نے مسلمان کیا تھا۔ اور میں اس کے پاس سات سال طالب علم ہو کر رہا اور اس نتیجہ پر پہنچا کہ وہ بہت بُرا آدمی ہے۔ اور اب اس کو چھوڑ کر میں عیسائی ہونا چاہتا ہوں۔ میں نے اس کو داخل کرلیا۔ اس کی کہانی مجھے قرین قیاس نہ معلوم ہوئی۔ میں نے اس کے متعلق تحقیق کرنی شروع کی اور مجھے معلوم ہوگیا کہ یہ کہانی
    واقعات پڑھنے کے وقت نہایت شوق سے اس شخص کے سوانح کو پڑھنا شروع کرتا ہے اور دل میں جوش رکھتا ہے کہ اس کے کامل حالات پر اطلاع پاکر اس سے کچھ فائدہ اٹھائے۔ تب اگر ایسا اتفاق ہو کہ سوانح نویس نے نہایت اجمال پر کفایت کی ہو اور لائف کے نقشہ کو صفائی سے نہ دکھلایا ہو تو یہ شخص نہایت ملول خاطر اور منقبض ہو جاتا ہے۔ اور بسا ؔ اوقات اپنے دل میں ایسے سوانح نویس پر اعتراض بھی کرتا ہے اور درحقیقت وہ اس اعتراض کا حق بھی رکھتا ہے کیونکہ اس وقت نہایت اشتیاق کی وجہ سے اس کی مثال ایسی ہوتی ہے کہ جیسے ایک بھوکے کے آگے خوان نعمت رکھا جائے اور معاً ایک لقمہ کے اٹھانے کے ساتھ ہی اس خوان کو اٹھا لیا جائے۔ اس لئے ان بزرگوں کا یہ فرض ہے جو سوانح نویسی کے لئے قلم اٹھاویں کہ اپنی کتاب کو مفید عام اور ہردلعزیز اور مقبولِ اَنام بنانے کے لئے نامور انسانوں کے سوانح کو صبر اور فراخ حوصلگی کے ساتھ اس قدر بسط سے لکھیں اور ان کی لائف کو ایسے طور سے مکمل کر کے دکھلاویں کہ اس کا پڑھنا ان کی ملاقات
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 162
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 162
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/162/mode/1up
    162
    بالکل جھوٹ تھی۔ اور اس کا نام عبدالحمید تھا۔ نہ عبدالمجید جیسا اس نے بیان کیا تھا۔ نہ وہ بٹالہ کا برہمن تھا۔ بلکہ پیدائشی مسلمان علاقہ جہلم سے تھا۔ اس کا چچا برہان الدین غازی ایک مشہور مذہبیؔ جنونی ہے۔ ان کا تمام کا تمام خاندان میرزا قادیانی پر فدائی مرید ہے۔ یہ نوجوان عیسائی مذہب کے متلاشیوں کی طرح گجرات میں رہا تھا۔ اس نے اپنے چچا کے چالیس روپے چرا کر بُرے کاموں میں خرچ کئے۔ جس پر اس کے چچا نے میرزا قادیانی کے پاس اس کو بھیج دیا۔ میں خود بیاس گیا۔ اور پھر اس سے دریافت کیا۔ اور پانچ گواہوں کے سامنے اس نے کھلا کھلا اقرار کیا کہ اسے میرزا غلام احمد نے میرے قتل کے لئے بھیجا ہے۔ وہ موقعہ کی تلاش میں تھا کہ جب کبھی وہ مجھے سویا ہوا یا کسی اور حالت میں پائے تو میرے سر کو پتھر سے یا کسی اور ایسی چیز سے پھوڑے۔ اس نے یہ تمام واقعات اپنی مرضی سے لکھے ہیں۔ میں اس لکھے ہوئے کاغذ کو پیش کرتا ہوں جس پر اس نے آٹھ گواہوں کے سامنے دستخط کئے۔ میری واقفیت میرزاصاحب سے
    کا قائم مقام ہو جائے۔ تا اگر ایسی خوش بیانی سے کسی کا وقت خوش ہو تو اس سوانح نویس کی دنیا اور آخرت کی بہبودی کے لئے دعا بھی کرے۔ اور صفحات تاریخ پر نظر ڈالنے والے خوب جانتے ہیں کہ جن بزرگ محققوں نے نیک نیتی اور افادہ عام کے لئے قوم کے ممتاز شخصوں کے تذکرے لکھے ہیں انہوں نے ایسا ہی کیا ہے۔
    ابؔ میرے سوانح اس طرح پر ہیں کہ میرا نام غلام احمد میرے والد صاحب کا نام غلام مرتضیٰ اور دادا صاحب کا نام عطا محمد اور میرے پردادا صاحب کا نام گل محمد تھا اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے ہماری قوم مغل برلاس ہے*اور
    میرے بزرگوں کے
    *عرصہ سترہ یا اٹھارہ برس کا ہوا کہ خداتعالیٰ کے متواتر الہامات سے مجھے معلوم ہوا تھا کہ میرے باپ دادے فارسی الاصل ہیں۔ وہ تمام الہامات مَیں نے ان ہی دنوں میں براہین احمدیہ کے حصہ دوم میں درج کر دئیے تھے جن میں سے میری نسبت ایک یہ الہام ہے خُذوا التوحید
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 163
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 163
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/163/mode/1up
    163
    اس مباحثہ کے وقت سے ہے جو ۱۸۹۳ ؁ء میں موسم گرما میں ہوا تھا۔ میں نے اس مباحثہ میں بڑا بھاری حصہ لیا تھا۔ یہ مباحثہ اس میں اور ایک بڑے بھاری عیسائی عبداللہ آتھم کے مابین ہوا ۔جو مر گیا ہے۔ میں میر مجلس تھا۔ اور دو موقعوں پر مسٹر آتھم کی جگہ بطور مباحث کے بیٹھاؔ تھا۔ مرزا صاحب کو بہت ہی رنج ہوا تھا۔ اس کے بعد اس نے ان تمام کی موت کی پیش گوئی کی جنہوں نے اس مباحثہ میں حصہ لیا تھا اور میرا حصہ بہت ہی بھاری تھا۔ اس وقت سے اس کا سلوک میرے ساتھ بہت ہی مخالفانہ رہا ہے۔ اس مباحثہ کے بعد خاص دلچسپی کا مرکز مسٹر آتھم رہا۔ چار الگ کوششیں اس کی جان لینے کے لئے کی گئیں۔ اس کی موت کی مقرر کردہ میعاد کے آخری دو ماہ میں خاص پولیس کا پہرہ دن رات فیروزپور میں رکھا گیا۔ اسے امرتسر سے انبالے اور انبالے سے فیروزپور بھاگنا پڑا۔ ان کوششوں کے باعث سے جو اس کی جان لینے کے لئے کی گئیں{ اور یہ کوششیں عام طور پر مرزا صاحب سے منسوب کی گئی ہیں۔ اس کی موت
    پرانے کاغذات سے جو اب تک محفوظ ہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں سمرقند سے آئے تھے اور ان کے ساتھ قریباً دو سو آدمی ان کے توابع اور خدام اور اہل و عیال میں سے تھے اور وہ ایک معزز رئیس کی حیثیت سے اس ملک میں داخل ہوئے اور اس قصبہ کی جگہ میں جو اس وقت ایک جنگل پڑا ہوا تھا جو لاہور سے تخمیناً بفاصلہ پچاس کوس بگوشۂ شمال مشرق واقع ہے فروکش ہوگئے جس کو انہوں نے آباد کر کے اس کا نام اسلام پور رکھا
    التوحید یا ابناء الفارس یعنی توحید کو پکڑو توحید کو پکڑو اے فارس کے بیٹو۔ پھر دوسرا الہامؔ میری نسبت یہ ہے لوکان الایمان معلقًا بالثریّا لنا لہ رجل من فارسیعنی اگر ایمان ثریا سے معلق ہوتا تو یہ مرد جو فارسی الاصل ہے وہیں جاکر اس کو لے لیتا۔ اور پھر ایک تیسرا الہام میری نسبت یہ ہے انّ الذین کفروا ردّ عَلَیْھِم رجل من فارس شکر اللّٰہ سَعیہ۔ یعنی جو لوگ کافر ہوئے اس مرد نے جو فارسی الاصل ہے ان کے مذاہب کو رد کر دیا۔ خدا اس کی کوشش کا شکرگذار ہے۔ یہ تمام الہامات ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے آباء اولین فارسی تھے۔ والحق ما اظھرہ اللّٰہ۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 164
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 164
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/164/mode/1up
    164
    کے بعد میں ہی پیش نظر رہا ہوں۔ اور کئی ایک مبہم طریقوں سے یہ پیش گوئی مرزا صاحب کی تصنیفات میں مجھے یاد دلائی گئی ہے۔ جس کے لئے سب سے بڑی وہ کوشش تھی جس کو عبدالحمید نے بیان کیا ہے۔ لاہور میں لیکھرام کی موت کے بعد جس کو تمام لوگ مرزا صاحب کی طرف منسوب کرتے ہیں میرے پاس اس بات کے یقین کرنے کے لئے خاص وجہ تھی۔ کہ میری جان لینے کی کوئی نہ ؔ کوئی کوشش کی جائے گی۔ میں تین ماہ کے لئے رخصت پر گیا ہوا تھا۔ میری واپسی پر میرا آنا مرزا صاحب کو فوراً معلوم ہوگیا اور عبدالحمید میرے پاس پہنچ گیا۔ عبدالحمید کے بیان پر یقین کرنے کے لئے میرے پاس کافی وجوہ ہیں۔ اور نیز اس بات کا یقین کرنے کے لئے کہ مرزا صاحب مجھے نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہیں مرزا صاحب کا یہ ایک ہمیشہ کا طریقہ ہے کہ وہ اپنے مخالفوں کی موت کی پیش گوئیاں کرتے ہیں۔
    دستخط اے ای مارٹینو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ
    پڑھ کر سنایا گیا۔ تسلیم کیا گیا۔
    دستخط ٍ ٍ ٍ
    بیان عبدالحمید: ۔میں نے ہی یہ کاغذ جو ڈاکٹر کلارک نے پیش کیا ہے لکھا تھا اور دستخط کئے تھے۔ دستخط حاکم ٍ ٍ
    جو پیچھے سے ؔ اِسلام پور قَاضِیْ مَاجھیْکے نام سے مشہور ہوا اور رفتہ رفتہ اسلام پور کا لفظ لوگوں کو بھول گیا اور قاضی ماجھی کی جگہ پر قاضی رہا اور پھر آخر قادی بنا اور پھر اس سے بگڑ کر قادیاں بن گیا۔ اور قاضی ماجھی کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ علاقہ جس کا طولانی حصہ قریباً ساٹھ کوس ہے ان دنوں میں سب کا سب ماجھہ کہلاتا تھا غالباً اس وجہ سے اس کا نام ماجھہ تھا کہ اس ملک میں بھینسیں بکثرت ہوتی تھیں اور ماجھ زبان ہندی میں بھینس کو کہتے ہیں۔ اور چونکہ ہمارے بزرگوں کو علاوہ دیہات جاگیرداری کے اس تمام علاقہ کی حکومت بھی ملی تھی اس لئے قاضی کے نام سے مشہور ہوئے۔ مجھے کچھ معلوم نہیں کہؔ کیوں اور کس وجہ سے ہمارے بزرگ سمرقند سے اس ملک میں آئے۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 165
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 165
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/165/mode/1up
    165
    بعدالت اے ای مارٹینو صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر
    مستغیث قیصرہ ہند زیر دفعہ ۱۰۷ بنام مرزا غلام احمد صاحب قادیاں
    حُکم
    عبدالحمید اور ڈاکٹر کلارک کے بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے عبدالحمید کو ڈاکٹر کلارک ساکن امرتسر کے قتل کرنے کی ترغیب دی۔ اس بات کے یقین کرنے کے لئے وجہ ہے کہ مرزا غلام احمد مذکور نقض امن کا مرتکب ہوگا۔ یا کوئی قابل گرفت فعل کرے گا۔ جو باعث نقضؔ امن اس ضلع میں ہوگا۔ اس بات کی خواہش کی گئی ہے کہ اس سے حفظ امن کے لئے ضمانت طلب کی جائے۔ واقعات اس قسم کے ہیں کہ جس سے اس کی گرفتاری کے لئے وارنٹ کا شائع کرنا زیر دفعہ ۱۱۴ ضابطہ فوجداری ضروری معلوم ہوتا ہے۔ لہٰذا میں اس کی گرفتاری کے لئے وارنٹ جاری
    مگر کاغذات سے یہ پتہ ملتا ہے کہ اس ملک میں بھی وہ معزز امراء اور خاندان والیان ملک میں سے تھے اور انہیں کسی قومی خصومت اور تفرقہ کی وجہ سے اس ملک کو چھوڑنا پڑا تھا۔ پھر اس ملک میں آکر بادشاہ وقت کی طرف سے بہت سے دیہات بطور جاگیر ان کو ملے۔ چنانچہ اس نواح میں ایک مستقل ریاست ان کی ہوگئی۔
    سکھوں کے ابتدائی زمانہ میں میرے پردادا صاحب میرزا گل محمد ایک نامور اور مشہور رئیس اس نواح کے تھے۔ جن کے پاس اس وقت3 گاؤں تھے اور بہت سے گاؤں سکھوںؔ کے متواتر حملوں کی وجہ سے ان کے قبضہ سے نکل گئے تاہم ان کی جوانمردی اور فیاضی کی یہ حالت تھی کہ اس قدر قلیل میں سے بھی کئی گاؤں انہوں نے مروت کے طور پر بعض تفرقہ زدہ مسلمان رئیسوں کو دے دئیے تھے جو اب تک ان کے پاس ہیں۔ غرض وہ اس طوائف الملوکی کے زمانہ میں اپنے نواح میں ایک خود مختار رئیس تھے۔ ہمیشہ قریب پانسو آدمی کے یعنی کبھی کم اور کبھی زیادہ ان کے دسترخوان پر روٹی کھاتے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 166
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 166
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/166/mode/1up
    166
    کرتا ہوں۔ اور اس کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ آکر بیان کرے کہ کیوں زیر دفعہ ۱۰۷ ضابطہ فوجداری حفظ امن کے لئے ایک سال کے واسطے بیس ہزار روپیہ کا مچلکہ اور بیس ہزار روپے کی دو الگ الگ ضمانتیں نہ لی جائیں۔
    دستخط اے ای مارٹینو
    ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر
    یکم اگست ۹۷ء ؁
    میں نے وارنٹ کا جاری کرنا روک دیا ہے۔ کیونکہ یہ مقدمہ میرے اختیار میں نہیں ہے۔ دیکھو انڈین لاء رپورٹ نمبر۱۱ کلکتہ ۷۱۳و ۱۲ کلکتہ و ۱۳۳ اور ۶ الہ آباد و ۲۶۔
    ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور کے پاس کارروائی کے لئے بھیجا جاوے۔
    دستخط اے ای مارٹینو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ۷؍ اگست ۹۷ء ؁
    تھے۔ اور ایک سو کے قریب علماء اور صلحاء اور حافظ قرآن شریف کے ان کے پاس رہتے تھے جن کے کافی وظیفے مقرر تھے اور ان کے دربار میں اکثر قال اللہ و قال الرسول کا ذکر بہت ہوتا تھا۔ اور تمام ملازمین اور متعلقین میں سے کوئی ایسا نہ تھا جو تارک نماز ہو۔ یہاں تک کہ چکّی پیسنے والی عورتیں بھی پنج وقتہ نماز اور تہجد پڑھتی تھیں۔ اور گرد ونواح کے معزز مسلمان جو اکثر افغان تھے قادیاں کو جو اس وقت اسلام پور کہلاتا تھا مکہ ؔ کہتے تھے۔ کیونکہ اس پُرآشوب زمانہ میں ہر ایک مسلمان کے لئے یہ قصبہ مبارکہ پناہ کی جگہ تھی۔ اور دوسری اکثر جگہ میں کفر اور فسق اور ظلم نظر آتا تھا اور قادیاں میں اسلام اور تقویٰ اور طہارت اور عدالت کی خوشبو آتی تھی۔ میں نے خود اس زمانہ سے قریب زمانہ پانے والوں کو دیکھا ہے کہ وہ اس قدر قادیاں کی عمدہ حالت بیان کرتے تھے کہ گویا وہ اس زمانہ میں ایک باغ تھا جس میں حامیانِ دین اور صلحاء اور علماء اور نہایت شریف اور جوانمرد آدمیوں کے صدہا پودے پائے جاتے تھے۔ اور اس نواح میں یہ واقعات نہایت مشہور ہیں کہ میرزا گل محمد صاحب مرحوم
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 167
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 167
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/167/mode/1up
    167
    نقلؔ مطابق اصل
    اجلاسی کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور
    ۹؍ اگست ۹۷ء ؁
    بنام میرزا غلام احمد ولد میرزا غلام مرتضیٰ ذات مغل ساکن قادیاں پر گنہ بٹالہ ضلع گورداسپور
    مصدقہ
    عدالت
    ہرگاہ ہم کو صاحب مجسٹریٹ ضلع امرتسر سے اطلاع ملی ہے اور بیانات ڈاکٹر مارٹن کلارک و عبدالحمید سے جو صاحب موصوف نے قلمبند فرمائے ہیں اور ہمارے پاس بھیجے گئے ہیں اطلاع مذکور کی تائید ہوتی ہے کہ تم نے عبدالحمید کو ڈاکٹر مارٹن کلارک کے قتل کرنے کی ترغیب دی ہے اس لئے احتمال ہے کہ تم نقض امن کرنے والے ہو یا ایسا فعل کرنے والے ہو جس سے غالباً نقض امن ہوگا۔ لہٰذا بذریعہ اس حکم کے تم کو حکم ہوتا ہے کہ بتاریخ ۱۰؍ اگست ۹۷ء ؁ یوم منگل وار بحضور صاحب مجسٹریٹ ضلع بمقام بٹالہ وقت کچہری حاضر ہو کر وجہ اس امر کی ظاہرؔ کرو کہ کیوں تم سے مچلکہ تعدادی ایک ہزار روپیہ بطور تاوان باقرارحفظ امن خلائق تا میعاد ایک سال کے نہ لیا جاوے
    مشائخ وقت کے بزرگ لوگوں میں سے اور صاحب خوارق اور کرامات تھے۔ جن کی صحبت میں رہنے کے لئے بہت سے اہل اللہ اور صلحاء اور فضلاء قادیان میں جمع ہوگئے تھے۔ اور عجیب تر یہ کہ کئی کرامات ان کی ایسی مشہور ہیں جن کی نسبت ایک گروہ کثیر مخالفان دین کا بھی گواہی دیتا رہا ہے۔ غرض وہ علاوہ ریاست اورؔ امارت کے اپنی دیانت اور تقویٰ اور مردانہ ہمت اور اولوالعزمی اور حمایت دین اور ہمدردی مسلمانوں کی صفت میں نہایت مشہور تھے اور ان کی مجلس میں بیٹھنے والے سب کے سب متقی اور نیک چلن اور اسلامی غیرت رکھنے والے اور فسق و فجور سے دور رہنے والے اور بہادر
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 168
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 168
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/168/mode/1up
    168
    اور ضمانت نامہ نوشتہ دو ضامنان بقید مبلغ ایک ہزار روپیہ فی ضامن بطور تاوان کے داخل نہ کرایا جاوے۔
    آج بتاریخ ۹؍ اگست ۹۷ء ہمارے دستخط اور عدالت کی مہر سے جاری کیا گیا
    دستخط ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور
    نمبر۴ سمن بنام مستغاث علیہ
    حسب دفعہ ۱۵۲۔ مجموعہ ضابطہ فوجداری
    بعدالت کپتان ڈگلس صاحب مجسٹریٹ ضلع
    بنام مرزا غلام احمد ولد مرزا غلام مرتضیٰ ذات مغل ساکن قادیاں مغلاں پر گنہ بٹالہ ضلع گورداسپور
    جو کہ حاضر ہونا تمہارابغرض جوابدہی الزام دفعہ ۱۰۷ ضابطہ فوجداری ضرور ہے لہٰذا تم کو اس تحریر کے ذریعہ سے حکم ہوتا ہے کہ بتاریخ ۱۰؍ ماہ اگست ۱۸۹۷ ؁ء اصالتاً یا بذریعہ مختار ذی اختیار یا جیسا ہو موقعہ پر بمقام بٹالہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حاضر ہو۔ اور اس باب میں تاکید جانو۔
    دستخط مجسٹریٹ ضلع گورداسپور
    اور بارعب آدمی تھے۔ چنانچہ میں نے کئی دفعہ اپنے والد صاحب مرحوم سے سنا ہے کہ اس زمانہ میں ایک دفعہ ایک وزیر سلطنت مغلیہ کا قادیاں میں آیا جو غیاث الدولہ کے نام سے مشہور تھا اور اس نے میرزا گل محمد صاحب کے مدبرانہ طریق اور بیدار مغزی اور ہمت اور اولوالعزمی اور استقلال اور عقل اور فہم اور حمایت اسلام اور جوش نصرت دیں اور تقویٰ اور طہارت اور دربار کے وقار کو دیکھا اور ان کے اس مختصر دربار کو نہایت متین اور عقلمندؔ اور نیک چلن اور بہادر مردوں سے پُر پایا تب وہ چشم پُر آب ہوکر بولا کہ اگر مجھے پہلے خبر ہوتی کہ اس جنگل میں خاندان مغلیہ میں سے ایسا مرد موجود ہے جس میں صفات ضروریہ سلطنت
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 169
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 169
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/169/mode/1up
    169
    مصدقہ
    عدالت
    نقلؔ بیان مشمولہ مثل باجلاس کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور
    مہر عدالت
    سرکار دولتمدار قیصرہ ہند بذریعہ ڈاکٹر مارٹن کلارک صاحب بنام میرزا غلام احمد قادیانی
    مستغیث جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری مستغاث علیہ
    بیان ہنری مارٹن کلارک باقرار صالح
    میں پندرہ سال سے ڈاکٹر مشنری ہوں۔ ہماری واقفیت مرزا صاحب سے ۱۸۹۳ ؁ء سے ہے۔ مسٹر عبداللہ آتھم اور ان کے درمیان جب مناظرہ مذہبی ہوا تھا میں اس کا موجد تھا۔ مرزا غلام احمد نے اپنے آپ کو مسلمانوں کے پیشوا ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس سے پہلے کہ مناظرہ ہو ہم نے ایک کتاب پیش کی جو مولوی محمد حسین بٹالوی نے لکھی تھی اور اس میں اہل اسلام کے پیشواؤں نے قرار دیا کہ مرزا صاحب مسلمان نہیں ہیں بلکہ کافر ہیں اور دجّال کا چچا ہیں۔ میں عیسائیوں کی طرف سے پریذیڈنٹ کمیٹی مناظرہ تھا۔ دو مرتبہ عبداللہ آتھم کی جگہ ہم کو مناظرہ میں بیٹھنا پڑا اور مرزا غلام احمد کو سخت زک اٹھانا پڑا۔ مرزا صاحب نے اظہار کیا کہ وہ معجزات دکھلاتے ہیں۔ ہم نے اندھوں، لنگڑوں کو اچھا کرنے کے واسطے کہا جو موجود کئے گئے تھے۔ مگر وہ نہ کر سکے۔ پھر مرزا صاحب نے پیش ؔ گوئی کی کہ عیسائی
    کے پائے جاتے ہیں تو میں اسلامی سلطنت کے محفوظ رکھنے کے لئے کوشش کرتا کہ ایّام کسل اور نالیاقتی اور بدوضعی ملوک چغتائیہ میں اسی کو تخت دہلی پر بٹھایا جائے۔
    اس جگہ اس بات کا لکھنا بھی فائدہ سے خالی نہ ہوگا کہ میرے پردادا صاحب موصوف یعنی میرزا گل محمد نے ہچکی کی بیماری سے جس کے ساتھ اور عوارض بھی تھے وفات پائی تھی۔ بیماری کے غلبہ کے وقت اطبّاء نے اتفاق کر کے کہا کہ اس مرض کے لئے اگر چند روز شراب کو استعمال کرایا جائے تو غالباً اس سے فائدہ ہوگا مگر جرأت نہیں رکھتے تھے کہ ان کی خدمت میں
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 170
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 170
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/170/mode/1up
    170
    مخالف پندرہ ماہ کے اندر مر جاوے گا۔ یعنی جو شخص فریقین سے راستی پر نہیں ہے پندرہ ماہ کے اندر بسزائے موت ہاویہ میں گرایا جاوے گا۔ کتاب جنگ مقدس چھاپہ شدہ پیش کرتا ہوں۔ اور جس جگہ مرزا صاحب نے یہ پیش گوئی لکھی ہے نشان ۸ کر دیا ہے۔ بعد ازیں لوگوں کے خیالات عبداللہ آتھم صاحب کی طرف تھے۔ عبداللہ آتھم ضعیف آدمی تھا۔ بہت سے آدمی عبداللہ آتھم کی تیمارداری پر تھے۔ عبداللہ آتھم پر بہت حملہ کئے گئے جس سے اس کو اپنے مکان کی تبدیلی کرنی پڑی۔ وہ امرتسر سے لدہانہ اور لدہانہ سے فیروزپور گیا۔ پیش گوئی کے آخری دو ماہ میں عبداللہ آتھم کی خاص نگرانی بذریعہ پولس کرائی گئی۔ دن رات خاص حملہ جو کیا گیا ایک امرتسر میں ہوا تھا یعنی ایک سانپ (کوبرا) ایک برتن میں بند کر کے ایک شخص پادری عبداللہ آتھم عیسائی کے مکان میں ڈال گیا۔ گو ہم نے خود نہیں دیکھا۔ مگر یہ امر سچ ہے کہ وہ سانپ مارا گیا تھا۔ اور عام لوگ کہتے تھے۔ مسٹر آتھم نے بھی ہمیں اطلاع دی ہے کہ ایسا ہوا۔ فیروزپور میں دو دفعہ عبداللہ آتھم کی طرف بندوق چلائی گئی۔ اور ایک مرتبہ عبداللہ آتھم کے سونے کے کمرہ کا دروازہ توڑا گیا*
    عرضؔ کریں۔ آخر بعض نے ان میں سے ایک نرم تقریر میں عرض کر دیا۔ تب انہوں نے کہا کہ اگر خداتعالیٰ کو شفا دینا منظور ہو تو اس کی پیداکردہ اور بھی بہت سی دوائیں ہیں مَیں نہیں چاہتا کہ اس پلید چیز کو استعمال کروں اور میں خدا کے قضا و قدر پر راضی ہوں آخر چند روز کے بعد
    اگر واقعی میعاد کے اندر تین حملے ہماری طرف سے ہوئے تھے تو کیا خیال میں آ سکتا ہے کہ آتھم اور اس کے عزیز باوجود تین حملوں کے ایسے چپ رہتے کہ نہ نالش کرتے اور نہ اخباروں میں چھپواتے اور نہ ہمیں ضمانت کے لئے طلب کرواتے بلکہ میعاد گذرنے کے بعد اس وقت شور مچایا کہ جب آتھم کے ڈر جانے کے بارے میں پانچ ہزار اشتہار ہماری طرف سے نکلا تا کوئی بہانا نہ ہاتھ آجائے۔ اگر ہمارے اشتہار سے پہلے آتھم کی طرف سے کوئی تحریر شائع ہوئی ہے تو وہ پیش کرنی چاہئے۔ آتھم میعاد کے اندرجب کہ اس پر حملے ہوئے تھے کیوں چپ رہا اور پھر میعاد کے بعد ہمارے اشتہارات سے پہلے کیوں اس کے منہ پر قفل لگا رہا حاضرین جانتے ہیں کہ پیش گوئی کو سنتے ہی آثار خوف اُس پر ظاہر ہوگئے تھے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 171
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 171
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/171/mode/1up
    171
    مرزا غلام احمد دولت مند آدمی ہے وہ ہمیشہ اپنے دعاوی کے بطلان کرنے کے واسطے بڑی بڑی رقمیں شرطیہ لکھتے ہیں۔ چنانچہ اشتہار معیار الاخیار والاشرار میں پانچ ہزار انعامؔ کا وعدہ انہوں نے لکھا ہے۔ مجھ کو علم ہوا ہے کہ وہ بہت روپیہ اپنے پیروان سے حاصل کرتا ہے۔ ڈاک خانہ کی معرفت اس کو بہت روپیہ حاصل ہوتا ہے۔ عبداللہ آتھم کی زندگی پر حملے جو ہوئے وہ عام طور پر مرزا صاحب کی طرف منسوب کئے گئے۔ اخباروں میں اسی طرح درج ہوتا رہا۔ مگر مرزا صاحب نے کبھی ان کی تردید نہیں کی *بلکہ ایک طرح پر خوشی منائی اور یہ اظہار کیا کہ عبداللہ آتھم
    اسی مرض سے انتقال فرما گئے۔ موت تو مقدر تھی مگر یہ ان کا طریق تقویٰ ہمیشہ کے لئے یادگار رہا کہ موت کو شراب پر اختیار کرلیا۔ موت سے بچنے کے لئے انسان کیا کچھ نہیں کرتا لیکن انہوں نے معصیت کرنے سے موت کو بہتر سمجھا۔ افسوس ان بعض نوابوں اور امیروں اور رئیسوں کی حالت
    *یہ ؔ کس قدر صریح دروغ ہے کہ میری طرف سے حملوں کی کوئی تردید نہیں ہوئی۔ میں نے تو صدہا اشتہارات اور تین ضخیم کتابیں اسی غرض سے شائع کیں کہ اگر میری طرف سے حملے ہوئے ہیں تو آتھم میرے پر عدالت میں نالش کرے یا قسم کھائے۔ بلکہ اسی حُجّت کے پوری کرنے کے لئے قسم کھانے پر چار ہزار روپیہ دینا بھی کیا۔ سو اس سے زیادہ اس بے ہودہ اور بے اصل الزام کی اور کیا تردید کی جاتی۔ آتھم تو ایسا چپ ہوا کہ کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا۔ یہاں تک کہ میرے دوسرے الہام کے موافق فوت ہوگیا۔ عجیب بات ہے کہ میعاد پیشگوئی کے اندر تین حملے ہوئے ہوں اور آتھم ایسے وقت چپ رہے کہ جب شوروغوغا کرنا اس کا فرض تھا اور پھر میعاد کے بعد بھی میرے اشتہارات کے شائع ہونے تک چپ رہے۔ اور جب اس کو پیش گوئی سے ترساں و لرزاں ہونے پر بار بار ملزم کیا جائے تو اس وقت تین حملے پیش کئے جائیں اور پھر قسم کے لئے بلانے کے وقت بھاگ جائے کہ ہمارے مذہب میں منع ہے اور نہ نالش کرے۔ افسوس پادری صاحبوں کی یہ دیانت ہے۔ ڈاکٹر کلارک اور وارث دین وغیرہ نے عدالت میں قسم کھا کر اس عقیدہ کو بھی حل کر دیا کہ آتھم کا قسم سے انکار کرنا صحت نیت پر مبنی تھا یا فساد نیت پر۔ یہ بھی یاد رہے کہ آتھم کو ڈرتے رہنے کا تو اقرار تھا اور تنقیح طلب یہ امر تھا کہ وہ خوف پیش گوئی سے تھایا حملوں سے۔ سو آتھم نے قسم نہ کھانے اور نالش نہ کرنے اور چپ رہنے سے ثابت کر دیا کہ وہ خوف محض پیش گوئی سے تھا ورنہ دشمن ایک حملہ پر بھی چپ نہیں رہ سکتا۔ چہ جائیکہ تین حملے ہوں۔ پیش گوئی سے ڈرتے رہنے کا تو صریح ثبوت ہے کہ آتھم نے نہ نالش کی نہ قسم کھائی اور نہ میعاد کے اندر اور اشتہار سے پہلے کچھ شائع کیا لیکن تین حملوں کا کیا ثبوت ہے جن کا بار ثبوت اس کی گردن پر تھا۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 172
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 172
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/172/mode/1up
    172
    اندر سے مسلمان ہوگئے تھے۔ مرزا صاحب اپنے آپ کو مسیح موعود کہتے ہیں۔ ان کا مدعا یہ ہے کہ ایک قسم کا خوف عام پیدا ہووے۔ اور مسیح موعود ہونے کے دعوے سے لوگوں کے دلوں میں رعب قائم کرے اورلوگ اس دعوے کو مان لیویں۔ مرزا صاحب نے یہ حصہ بیان کیا (کتاب جنگ مقدس میں جو الہامی فقرات صفحہ ۱۶و۱۷ پر درج ہیں وہ میری طرف سے ہیں۔ اور اشتہار B میں جو پانچ ہزار کا وعدہ ہے وہ بھی میری طرف سے ہے اور کتاب شہادۃ میں صفحہ ۱۸۸ پر جو پیشگوئیوں کا ذکر ہے وہ قریباً میرے الفاظ ہیں) کتاب شہادۃ میں پیشگوئیاں موت کی تین مذاہب کے واسطے کی گئی ہیں۔ ایک احمد بیگ کے داماد کی نسبت مسلماناں سے۔ دوسرے لیکھرام پشاوری کی نسبت ہندوؤں سے اور تیسرے عبداللہ آتھم کی نسبت عیسائیوں سے جس سے مرزا صاحب کی مراد ڈرانے کی تھی۔ میں عبداللہ آتھم کی حفاظت کا انتظام کرتا رہا اور جب
    پر کہ اس چند روزہ زندگی میں اپنے خدا اور اس کے احکام سے بکلّی لاپرواہ ہوکر اور خداتعالیٰ سے سارے علاقے توڑ کر دل کھول کر ارتکاب معصیت کرتے ہیںؔ اور شراب کو پانی کی طرح پیتے ہیں اور اس طرح اپنی زندگی کو نہایت پلید اور ناپاک کر کے اور عمر طبعی سے بھی محروم رہ کر اور بعض ہولناک عوارض میں مبتلا ہو کر جلد تر مر جاتے ہیں اور آئندہ نسلوں کے لئے نہایت خبیث نمونہ چھوڑ جاتے ہیں۔
    اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب میرے پردادا صاحب فوت ہوئے تو بجائے ان کے میرے دادا صاحب یعنی مرزا عطا محمد فرزند رشید ان کے گدی نشین*ہوئے۔ ان کے وقت میں خداتعالیٰ
    *ہمارا شجرہ نسب اس طرح پر ہے۔ میرا نام غلام احمد ابن مرزاغلام مرتضیٰ صاحب ابن مرزاعطا محمد صاحب ابن مرزاگل محمد صاحب ابن مرزا فیض محمد صاحب ابن مرزا محمد قائم صاحب ابن مرزا محمد اسلم صاحب ابن مرزا محمد دلاور صاحب ابن مرزا الہ دین صاحب ابن مرزا جعفر بیگ صاحب ابن مرزا محمد بیگ صاحب ابن مرزا عبدالباقی صاحب ابن مرزا محمد سلطان صاحب ابن میرزا ہادی بیگ صاحب مورث اعلیٰ۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 173
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 173
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/173/mode/1up
    173
    عبداللہ آتھم کیؔ نسبت پیشگوئی پوری نہ*ہوئی تو میں نے عام طور پر مرزا صاحب کے جھوٹا ہونے کی بابت مشتہر کیا اور عام جلسہ کئے گئے۔ جس سے مسلمانان نے مرزا صاحب کو سخت نفرت کی نظر سے دیکھا اور ان کی بہت حقارت ہوئی۔ اور مرزا صاحب میرے سخت مخالف ہوگئے۔ ایک شخص مولوی عبدالحق صاحب غزنوی نے ایک اشتہار چھاپا (حرف D )جس میں مرزا صاحب کی نسبت انہوں نے لکھا کہ اس نے آریہ وغیرہ سے بزرگوں کو گالیاں دلوائی ہیں۔ پھر قرآن کا اردو ترجمہ مولوی عماد الدین صاحب نے کیا جس سے مولویوں نے مرزا صاحب کو کہا کہ کیوں مولوی عماد الدین کو ابھارا کہ اس نے ترجمہ کیا ہے۔ علاوہ ازیں ایک تعداد اشخاص کی عیسائی ہوگئی جن میں سے ایک شخص محمد یوسف خان جو ایک اچھا معزز آدمی ہے اور پرہیزگار دیندار و مجاہد سمجھا جاتا تھا اور سکریٹری و ایلچی228 مباحثہ کا رہا تھا عیسائی ہوگیا۔ دوسرا آدمی میر محمد سعید تھا جو مرزا صاحب کے بہنوئی235 کا خالہ زاد بھائی تھا وہ بھی عیسائی ہوا اور خاص ہمارے ساتھ اس کا تعلق تھا اور جس سے اور بھی مرزا صاحب
    کی حکمت اور مصلحت سے لڑائی میں سکھ غالب آئے۔ دادا صاحب مرحوم نے اپنی ریاست کی حفاظت کے لئے بہت تدبیریں کیں مگر جب کہ قضا و قدران کے ارادہ کے موافق نہ تھی اس لئے ناکام رہے اور کوئی تدبیر پیش نہ گئی اور روز بروز سکھ لوگ ہماری ریاست کے دیہات پر قبضہؔ کرتے گئے یہاں تک کہ دادا صاحب مرحوم کے پاس صرف ایک قادیاں رہ گئی اور قادیاں اس وقت ایک قلعہ کی صورت پر قصبہ تھا اور اس کے چار بُرج تھے اور برجوں میں فوج کے آدمی رہتے تھے اور چند توپیں تھیں اور فصیل بائیس فٹ کے قریب
    * کیسیؔ بد دیانتی ہے کہ پیشگوئی پوری نہ ہوئی۔ کیا پیش گوئی میں قطعی طور پر موت کا حکم تھا؟ اور کوئی شرط نہ تھی؟ کس قدر بے انصافی ہے کہ آفتاب پر خاک ڈالتے ہیں۔ منہ
    یہ سفید جھوٹ ہے۔
    یہ غلط ہے بلکہ وہ بیوی کا خالہ زاد بھائی تھا۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 174
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 174
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/174/mode/1up
    174
    ہمارے برخلاف ہوگئے۔ جب محمد یوسف خاں عیسائی ہوا اس کو مسلمانوں نے پوچھا کہ مرزا صاحب کی پیشگوئی آتھم صاحب کی بابت پوری کرنے آئے ہو۔ یہ بات خلوت میں انہوں نے پوچھیؔ تھی۔ پیشگوئی جو نسبت احمد بیگ کے داماد کے ہوئی وہ پوری نہیں ہوئی۔ * پیشگوئی جو عیسائیوں سے آتھم صاحب کی بابت تھی وہ بھی پوری نہیں ہوئی۔228 نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ مرزا صاحب کی عزت اور آمدنی میں فرق آیا دوکان اس کی بند ہوگئی اور لوگ ٹھٹھا کرنے لگے۔ اب صرف پیشگوئی برخلاف ہندوؤں کے باقی رہی تھی کچھ عرصہ گذرا ہے کہ لیکھرام قتل کیا گیا جس کے مرنے سے عام آگ ملک میں
    اونچی اور اس قدر چوڑی تھی کہ تین چھکڑے آسانی سے ایک دوسرے کے مقابل اس پر جا سکتے تھے۔ اور ایسا ہوا کہ ایک گروہ سکھوں کا جو رام گڑھیہ کہلاتا تھا اول فریب کی راہ سے اجازت لے کر قادیاں میں داخل ہوا اور پھر قبضہ کرلیا۔ اس وقت ہمارے بزرگوں پر بڑی تباہی آئی اور اسرائیلی قوم کی طرح وہ اسیروں کی مانند پکڑے گئے اور ان کے مال و متاع سب لوٹی گئی۔ کئی مسجدیں اور عمدہ عمدہ مکانات مسمار کئے گئے اور جہالت اور تعصب
    *یہ پیشگوئی بھی شرطی تھی جس کا ایک حصہ پورا ہوگیا یعنی احمد بیگ میعاد کے اندر فوت ہوگیا اور اس کے مرنے پر اس کے عزیزوں نے نہایت درجہ خائف اور ترساں ہوکر شرط کو پورا کیا اور ضرور تھا کہ شرط کے موافق ظہور میں آتا۔ مگر یہ بھی ضرور ہے کہ دلوں کے سخت ہونے پر خدا کے اصل ارادہ کی پیشگوئی کے مطابق تکمیل ہو جائے جیسا کہ آتھم کی پیشگوئی میں شرط بھی پوری ہوئی اور آخر موت کی سزا بھی ملی غرض ساری کی ساری پیش گوئی پوری ہوئی۔ منہ
    228 یہ کہنا کہ آتھم کی نسبت پیش گوئی پوری نہیں ہوئی سچائی کا خون کرنا ہے۔ آتھم نے آپ اپنے قول اور فعل سے ثبوت دے دیا کہ وہ پیشگوئی کے اثر سے ڈرتا رہا۔ اس لئے ضرور تھا کہ الہامی شرط سے فائدہ اٹھاتا پھر دوسرا الہام یہ تھا کہ وہ بعد اخفائے شہادت جلد فوت ہو جائے گا۔ سو وہ فوت ہوگیا۔ اب دیکھو کیسی صفائی سے یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 175
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 175
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/175/mode/1up
    175
    لگا دی۔ حالات قتل کے عجیب ہیں۔ قاتل نے اپنے آپ کو ہندو ظاہر کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوگیا تھا اور اب پھر ہندو ہونا چاہتا ہوں۔ اس نے اپنا رسوخ اور اعتبار لیکھرام کے ساتھ پیدا کیا اور یہ واقعہ قتل اس کے چند ہفتہ بعد ظہور میں آیا یہ قتل عام طور پر نسبت مرزا غلام احمد کے قریباً منسوب کیا جاتا ہے۔ میں ایک کتاب مصنفہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی پیش کرتا ہوں حرف E جس میں وہ مرزا صاحب کو اس قتل کا الزام لگاتے ہیں* (میں نے مرزا صاحب کچھ کچھ کتاب حرف Eکو دیکھا ہے) مرزا صاحب نے ۲۲؍ مارچ ۹۷ ؁ کو ایک بل ضیاء الاسلام پریس قادیان شائع کیا جو اس امر پر بڑا زور دیتا ہے کہ ہم کو خبر تھی کہ لیکھرام ۶؍ مارچ ۹۷ء ؁ کو ۶ بجے شام کے مارا جاوے گا۔ مگر واقعہ کے بعد یہ بل شائع کیا گیا تھا اور کہ یہ امر ہماری پیشگوئی کے مطابقؔ تھا۔(جواب مرزا صاحب
    سے باغوں کو کاٹ دیا گیا اور بعض مسجدیں جن میں سے اب تک ایک مسجد سکھوں کے قبضہ میں ہے دھرم ؔ سالہ یعنی سکھوں کا معبد بنایا گیا۔ اس دن ہمارے بزرگوں کا ایک کتب خانہ بھی جلایا گیا جس میں سے پانسو نسخہ قرآن شریف کا قلمی تھا جو نہایت بے ادبی سے جلایا گیا اور آخر سکھوں نے کچھ سوچ کر ہمارے بزرگوں کو نکل جانے کا حکم دیا۔ چنانچہ تمام مرد و زن چھکڑوں میں بٹھا کر نکالے گئے اور وہ پنجاب کی ایک ریاست میں پناہ گزین ہوئے۔ تھوڑے عرصہ کے بعد ان ہی دشمنوں کے منصوبے سے میرے دادا صاحب کو زہر دی گئی۔ پھر رنجیت سنگھ کی سلطنت کے آخری زمانہ میں میرے والد صاحب مرحوم مرزا غلام مرتضیٰ قادیاں میں واپس آئے اورمرزا صاحب موصوف کو اپنے والد صاحب کے دیہات میں سے پانچ گاؤں واپس ملے کیونکہ اس عرصہ میں رنجیت سنگھ نے دوسری اکثر چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو دبا کر ایک بڑی ریاستؔ اپنی بنالی تھی۔ سو ہمارے تمام دیہات بھی رنجیت سنگھ کے قبضہ میں آگئے تھے اور لاہور سے لے کر پشاور تک اور دوسری طرف لودھیانہ تک اس کی ملک داری کا سلسلہ
    *نوٹ:۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد حسین نے ضرور کلارک سے کہا ہو گا کہ لیکھرام کا قاتل یہی شخص ہے لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 176
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 176
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/176/mode/1up
    176
    ہم نے پہلے سے یہ تمام پیش گوئی کی ہوئی تھی اور اس کے حوالہ سے الہامی طور پر اشتہار دیا ہوگا) قاتل کبھی نہیں ملے گا۔ یہ امر مرزا صاحب نے کہا تھا* ۔عام مشہور ہے۔ ہمارا قیاس یہ ہے کہ لیکھرام کا قاتل بھی قتل کیا گیا ہے۔ جو کاغذات اس بارے میں ہمارے پاس تھے وہ سرکار میں ہم نے بھیج دئیے تھے۔ اور ایک اور وجہ ہم کو ایذاء پہنچانے کے واسطے یہ تھی کہ جب سے مسٹر عبداللہ آتھم انتقال کر گئے صرف میں ہی اس مباحثہ کے متعلق ایک سرگروہ رہ گیا ہوں۔ اور مرزا صاحب ہر طرح سے ہم کو حقارت کی نظر سے دیکھتا اور ہماری نسبت واہیات طریقہ اختیار کر رکھا ہے اپنی قلم اور زبان کو قابو میں نہیں رکھا ہوا۔ چنانچہ مرزا صاحب نے ایک کتاب انجام آتھم شائع کی جو ہر قسم کی ہزلیات سے پُر ہے اور اس کتاب میں صفحہ ۴۴ پر اس قدر جرأت کی ہے کہ ہمارے حق میں لکھا ہے کہ مقابلہ کے واسطے آؤ۔ اس کتاب پر حرف F لگایا گیا (مرزا صاحب۔ تسلیم کیا کہ واقعی یہ کتاب ہم نے شائع کی تھی۔ ۱۴ ؍ ستمبر ۹۶ء کو شائع کی تھی) مرزا صاحب۔ مجھ کو الہامی طور پر خبر دی گئی تھی کہ دیانند مر جاوے گا اور یہ خبر قبل از وقت دی گئی تھی اور بعض آریہ لوگوں کو علم تھا میں نے بعض کو اطلاع کر دی تھی۔ لیکھرام کے مرنے سے قریب پانچ سال پہلے میں نے اس کے مرنے کی اطلاع دی تھی۔ سر سید احمد خاں کی بابت میں نے پیشگوئی کی تھی کہ اس پر آفت آئے گی۔ احمد بیگ اور اس کی لڑکی کے بارے میں اور داماد کے بارے میں مَیں نے پیشگوئی کی تھی۔ نمبر۹ مولوی محمد حسین بٹالوی کی بابت۰ ۴ یوم کے مرنے یا تکلیف کی بابت کوئی پیش گوئی نہیں کی آئینہ کمالات مشتہر ۹۳ء صفحہ ۶۰۴۔ نمبر۱۰ عبداللہ آتھم کی بابت۔
    پھیل گیا تھا۔ غرض ہماری پرانی ریاست خاک میں مل کر آخر پانچ گاؤں ہاتھ میں رہ گئے۔ پھر بھی بلحاظ پرانے خاندان کے میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ اس نواح میں ایک مشہور رئیس تھے گورنر جنرل کے دربار میں بزمرہ کرسی نشین رئیسوں کے ہمیشہ بلائے جاتے تھے ۱۸۵۷ ؁ء میں انہوں نے سرکار انگریزی کی خدمت گذاری میں پچاس گھوڑے معہ پچاسؔ
    * یہ بالکل جھوٹ ہے ایسا لفظ کبھی میرے منہ سے نہیں نکلا۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 177
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 177
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/177/mode/1up
    177
    نمبرؔ ۱۱ عبداللہ آتھم صاحب کو ایک ہزار انعام کا وعدہ دیا گیا تھا شرطیہ طور پر (تسلیم کیا گیا)۔ نمبر۱۲ عبداللہ آتھم صاحب کو دو ہزار روپیہ کے انعام کا وعدہ دیا گیا۔ نمبر۱۳ ایضاً تین ہزار ایضاً۔ نمبر۱۴ ایضاً چار ہزار ایضاً۔ نمبر۱۵ انجام آتھم شائع کیا گیا (تسلیم ہوا) نمبر۱۶ انجام آتھم میں مرزا صاحب نے پیشگوئی کی تھی کہ ۹۴ مولوی اور ۶۸ چھاپہ والے اگر ہمارے پر ایمان نہیں لاویں گے تو مر جائیں گے (مرزا صاحب نے اس کو تسلیم نہیں کیا)۔ نمبر۱۷ اس پیشگوئی میں لیکھرام کے مرنے کی بابت وہ لوگوں کو بتلاتے ہیں کہ مباہلہ کریں (تسلیم کیا گیا)۔ نمبر۱۸ گنگابشن کو مباہلہ کے واسطے بلایا گیا (تسلیم کیا) نمبر۱۹ مولوی محمد حسین بٹالوی کو مباہلہ کے واسطے بلایا گیا (تسلیم کیا گیا) نمبر۲۰ رائے جندر سنگھ کو مباہلہ کے واسطے بلایا گیا (تسلیم کیا گیا) نمبر۲۱ پیشگوئی بابت مرنے لیکھرام کی۔ (تسلیم کیا گیا) نمبر ۲۲ نسبت
    سواروں کے اپنی گرہ سے خرید کر دئیے تھے اور آئندہ گورنمنٹ کو اس قسم کی مدد کا عندالضرورت وعدہ بھی دیا۔ اور سرکار انگریزی کے حکام وقت سے بجلد وے خدمات عمدہ عمدہ چٹھیات خوشنودی مزاج ان کو ملی تھیں۔ چنانچہ سرلیپل گریفن صاحب نے بھی اپنی کتاب تاریخ رئیسان پنجاب میں ان کا تذکرہ کیا ہے۔ غرض وہ حکام کی نظر میں بہت ہردلعزیز تھے۔ اور بسا اوقات ان کی دلجوئی کے لئے حکام وقت ڈپٹی کمشنر، کمشنر اُن کے مکان پر آکر ان کی ملاقات کرتے تھے۔ یہ مختصر میرے خاندان کا حال ہے میں ضروری نہیں دیکھتا کہ اس کو بہت طول دوں۔
    اب میرے ذاتی سوانح یہ ہیں کہ میری پیدائش ۱۸۳۹ ؁ء یا ۱۸۴۰ ؁ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے*اور میں ۱۸۵۷ ؁ء میں سولہ برس کا یا سترھویں برس میں تھا۔ اور ابھی ریش و بردت کا آغاز نہیں تھا۔ میری پیدائش سے پہلے میرے والد صاحب نے بڑے بڑے مصائب دیکھے۔ ایک دفعہ ہندوستان کا پیادہ پا سیر بھی کیا۔ لیکن میری پیدائش
    *نوٹ:۔ میں توام پیدا ہوا تھا ایک لڑکی جو میرے ساتھ تھی وہ چنددنوں کے بعد فوت ہوگئی تھی۔ میں خیال کرتا ہوں کہ اس طرح پر خداتعالیٰ نے انثیت کا مادہ مجھ سے بکلی الگ کر دیا۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 178
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 178
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/178/mode/1up
    178
    شیخ مہر علی کے دھمکی دی گئی کہ اگر وہ بیعت نہ کرے تو عذاب اس پر نازل ہوگا (تسلیم نہیں کیا گیا) پیشگوئیاں مذکورہ بالا (دستی تحریر شدہ) کاغذ نمبر J میں درج ہیں جو عدالت میں داخل کیا گیا ہے۔ لیکھرام کے قتل کے بعد ہم کو مخفی طور پر آگاہ کیا گیا کہ ہم کو خبردار رہنا چاہیے مبادا مرزا صاحب نقصانؔ پہنچائے۔ ایک اشتہار میں مرزا صاحب نے یہ لکھا تھا کہ کچھ حصّہ کفر کا مٹ گیا ہے اور کچھ حصہ جلد مٹنے والا ہے۔ یہ فقرات جو ہیں ان کی بابت میرا خیال ہے کہ جو حصہ کفر کا مٹ گیا ہے وہ لیکھرام کی بابت ہے اور جو باقی ہے وہ میری نسبت ہے اور اس لئے میں نے سرکار میں اطلاع دی تھی۔ اشتہار وغیرہ جو میرے پاس آتے ہیں وہ ہمیشہ قادیان سے آتے ہیں۔ حالانکہ میں نہ چندہ دیتا ہوں اور نہ کوئی تعلق ہے۔ بعد مناظرہ کے ہماری خط و کتابت چند عرصہ تک رہی اور پھر بعد ازیں ہر طرح سے ہم نے خط و کتابت وغیرہ کا مرزا صاحب سے قطع تعلق کر دیا۔ سہ۳ ماہ گذشتہ سے ہم نے کوئی اشتہار وغیرہ مرزا صاحب کی طرف سے وصول نہیں پایا۔ جس سے میرا خیال ہے کہ وہ یہ سمجھے کہ میری طرف سے وہ غافل ہیں۔ ۱۶؍ جولائی ۹۷ء کو ایک شخص جوان عمر میرے پاس آیا اور اس نے عیسائی ہونے کی درخواست کی۔ اس نے اپنا نام
    کے دنوں میں ان کی تنگی کا زمانہ فراخی کی طرف بدل گیا تھا اور یہ خداتعالیٰ کی رحمت ہے کہ میں نے ان ؔ کے مصائب کے زمانہ سے کچھ بھی حصّہ نہیں لیا اور نہ اپنے دوسرے بزرگوں کی ریاست اور ملک داری سے کچھ حصّہ پایا بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح جن کے ہاتھ میں صرف نام کی شہزادگی بوجہ داؤد کی نسل سے ہونے کی تھی اور ملک داری کے اسباب سب کچھ کھو بیٹھے تھے ایسا ہی میرے لئے بھی بگفتن یہ بات حاصل ہے کہ ایسے رئیسوں اور ملک داروں کی اولاد میں سے ہوں۔ شاید یہ اس لئے ہوا کہ یہ مشابہت بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ پوری ہو۔ اگرچہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ میرے لئے سر رکھنے کی جگہ نہیں مگر تاہم میں جانتا ہوں کہ وہ تمام صف ہمارے اجداد کی ریاست
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 179
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 179
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/179/mode/1up
    179
    عبدالمجید بتلایا اور کہا کہ میں جنم کا برہمن ہوں اور کہ میرا ہندو نام رلیارام ہے اور والد کا نام رام چند ہے اور کھجوری دروازہ بٹالہ کا رہنے والا ہوں 3 سال ۱ ؂ کی عمر میں مرزا نے مجھے مسلمان کیا تھا جس کو سات سال گذرے ہیں وہ ایک ہندو دوست کی ترغیب سے مسلمان ہوا تھا اور وہ دوست بھی اسی وقت مسلمان ہوگیا تھا۔ میرا دوست اروڑہ قوم کا تھا اور کرپاؔ رام اس کا نام تھا اب اس کا نام عبدالعزیز ہے اور بٹالہ میں کپوری دروازہ کے اندر تمباکو فروشی کرتا ہے۔ سات سال کے عرصہ میں مرزا صاحب کے یہاں طالب علم رہا اور قرآن کی تعلیم پاتا رہا۔ حال میں جو مرزا صاحب کے دعاوی کی نسبت الہامات باطل ثابت ہوئے تو اس کو یقین ہوا کہ مرزا صاحب نبی نہیں ہیں اور اس نے خیال کیا کہ مرزا صاحب اچھے آدمی نہیں ہیں اور شرر انگیز ہیں۔ میں سیدھے قادیان سے آیا ہوں۔ اور عام طور پر علانیہ میں نے مرزا صاحب کو گالیاں دی تھیں۔ جب میں وہاں سے چلا تھا میں اپنے ساتھ کچھ نہیں لایا۔ خداوند مسیح کا قول ہے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ پیچھے چلو میں اور کچھ نہیں چاہتا صرف بپتسمہ لینا چاہتا ہوں اپنی معاش ٹوکری اٹھا کر قلی گری کر کے بسر کروں گا۔ ہم کو کوئی کافی وجہ اس نے نہ بتلائی کہ وہ امرتسر کیوں آیا ہے
    اور ملک داری کی لپیٹی گئی اور وہ سلسلہ ہمارے وقت میں آکر بالکل ختم ہوگیا اور ایسا ہوا تاکہ خداتعالیٰ نیا سلسلہ قائم کرے جیسا کہ براہین احمدیہ میں اُس سبحانہ کی طرف سے ؔ یہ الہام ہے سُبحان اللّٰہ تبارک و تعالٰی زاد مجدک ینقطع آباء ک و یبدء منک یعنی خدا جو بہت برکتوں والا اور بلند اور پاک ہے اس نے تیری بزرگی کو تیرے خاندان کی نسبت زیادہ کیا۔ اب سے تیرے آبا کا ذکر قطع کیا جائے گا اور خدا تجھ سے شروع کرے گا۔ اور ایسا ہی اس نے مجھے بشارت دی کہ ’’میں تجھے برکت دوں گا اور بہت برکت دوں گا۔ یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔‘‘
    پھر میں پہلے سلسلہ کی طرف عود کر کے لکھتا ہوں کہ بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 180
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 180
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/180/mode/1up
    180
    کیونکہ بٹالہ اور گورداسپور میں مشنری صاحب موجود ہیں اور نہ اس نے کوئی خاص وجہ بتلائی کہ وہ کیوں خاص کر میرے پاس آیا ہے جب کہ اور بھی مشنری صاحب موجود ہیں۔ اس نے صرف یہ کہا کہ اتفاقیہ ایک شخص کے آپ کی کوٹھی بتلانے پر آیا ہوں۔ جب ہم نے اس سے پوچھا کہ تم نے کرایہ ریل کا کہاں سے لیا تو وہ بتلا نہ سکا۔ ان باتوں پر ہماری خاص توجہ غور کے واسطے ہوئی اور غور طلب معاملہ ہم نے سمجھا اور یہ میرے دل میں گذرا کہ اس کے بیانات لیکھرام کے قاتل کے بیانات سے عجیب تشبیہ رکھتے ہیں۔ پسؔ ہم نے اس کی طرف خاص دھیان رکھا۔ پس اس سے گفتگو کر کے ہم نے قصد مذکور کیا۔ اس شخص نے واقفیت دینِ عیسوی سے ظاہر کی ہم نے پوچھا کہاں سے یہ واقفیت حاصل کی اس نے کہا کہ قادیاں میں ایک عیسائی بٹالہ کا رہتا ہے جو مسلمان ہو کر مرزا صاحب کے یہاں رہتا ہے نام اس کا سائیاں ہے۔ اس کے پاس انجیل مقدس تھی اور مطالعہ کیا کرتا تھا۔ جہاں سے مجھے شوق و رغبت ہوئی۔ میں نے اس نوجوان کو مہاں سنگھ گیٹ والے شفاخانہ میں بھیج دیا کہ وہاں طالب علموں کے پاس رہے اور تعلیم پائے۔ اور ہم نے اس کو بوتلوں کے صاف کرنے وغیرہ کا کام دیا۔ قریباً پانچ چھ یوم تک وہ اس جگہ رہا۔ اوّل اس میں قابل توجہ یہ بات تھی کہ وہ مرزا صاحب
    اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلّم میرے ؔ لئے نوکر رکھا گیا۔ جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا۔ اور جب میری عمر تقریباً دس برس کے ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے جن کا نام فضل احمد تھا۔ میں خیال کرتا ہوں کہ چونکہ میری تعلیم خداتعالیٰ کے فضل کی ایک ابتدائی تخم ریزی تھی اس لئے ان استادوں کے نام کا پہلا لفظ بھی فضل ہی تھا۔ مولوی صاحب موصوف جو ایک دیندار اور بزرگوار آدمی تھے۔ وہ بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے اور میں نے صَرفکی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نَحواُن سے پڑھے اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 181
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 181
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/181/mode/1up
    181
    کے حق میں بہت ہی بُرا بکتا تھا۔ دوم وہ بپتسمہ لینے کی ازحد خواہش رکھتا تھا اور سوم وہ بلاوجہ اور بلاطلبی ہماری کوٹھی پر آکر گشت اور سیر اور ملاقات چاہتا تھا۔ اور باوجودیکہ 3 سال کی عمر میں وہ محمدی ہوا تھا۔ اپنی گوت (برہمن) سے ناواقف تھا اور نانکوں سے ناواقف تھا اور مختلف اشخاص سے مختلف قسم کی اپنی نسبت کہانی بیان کی۔ مثلاً ایک شخص سے اس نے اپنے دوست ایسرداس نام کو بجائے کرپارام کے بتلایا۔ بعد انقضائے پانچ روز ہم نے اپنے ہسپتال واقع بیاس پر اسے بھیج دیا۔ وہاں بھی میرے طالب علم پڑھتے ہیں۔ جاتے ہی اس نے ایک خط مولوی نور الدین کے نام جو میرزا صاحب کا دہنے ہاتھ کا فرشتہ ہے لکھا۔ یہ اُسیؔ شخص کی زبانی معلوم ہوا تھا کہ خط اُس نے لکھا ہے۔ مطلب اس خط کا یہ تھا کہ میں عیسائی ہونے لگا ہوں آپ روک سکتے ہیں تو روک لیں۔ یہ مطلب بھی اُس کی زبانی ہی معلوم ہوا تھا اور دیگر شہادت بھی ہے۔ باعث خط لکھنے کا یہ تھا کہ ہم نے اس کو کہا تھا۔ کہ یہ بہتر نہ ہوگا کہ ہم مرزا صاحب کو لکھیں کہ یہ شخص عیسائی ہونا چاہتا ہے۔ کل کو یہ نہ کہیں کہ تم ان کے چور ہو۔ اس نے کہا کہ نہیں میں خود ہی خط لکھتا ہوں۔ اور اس نے خط لکھ کر بیرنگ ڈاک میں ڈالا۔ اور مجھے خط کے ذریعہ سے خط لکھنے سے منع کیا تھا جب تک میرے بپتسمہ کا وقت ہو۔ وہ خط
    اتفاق ہوا۔ ان کا نام گلؔ علی شاہ تھا۔ ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیاں میں پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا۔ اور ان آخر الذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خداتعالیٰ نے چاہا حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں اور وہ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے اور ان دنوں میں مجھے کتابوں کے دیکھنے کی طرف اس قدر توجہ تھی کہ گویا میں دنیا میں نہ تھا۔ میرے والد صاحب مجھے بار بار یہی ہدایت کرتے تھے کہ کتابوں کا مطالعہ کم کرنا چاہئے کیونکہ وہ نہایت ہمدردی سے ڈرتے تھے کہ صحت میں فرق نہ آوے اور نیز ان کا یہ بھی مطلب تھا کہ میں اس شغل سے الگ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 182
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 182
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/182/mode/1up
    182
    ہمارے پاس ہے اور ہم پیش کریں گے۔ پھر ہم نے اس نوجوان لڑکے کے حالات کی بابت دریافت کرنا شروع کیا۔ ایک آدمی بٹالہ میں دریافت کے واسطے بھیجا گیا اس آدمی کا نام مولوی عبدالرحیم ہے۔ اس نے بٹالہ کے متعلق حالات عبدالحمید کے محض جھوٹے پائے۔ ذرہ بھر بھی اس میں سچ نہ تھا۔ تب مولوی عبدالرحیم سیدھا قادیاں میں مرزا صاحب کے پاس پہنچا اور مکان پر پہنچ کر اس نے دریافت کیا کہ آیا کوئی شخص عبدالمجید نام یہاں پر ہے۔ ایک لڑکا وہاں تھا۔ اس نے کہا کہ ہاں تھا مگر مرزا صاحب کو گالیاں دے کر چلا گیا ہے۔ پھر مولوی عبدالرحیم مرزا صاحب کے پاس گیا اور دریافت پر کہا کہ میں عیسائی ہوں۔ اور عبدالمجید کی بابت دریافت کیا۔ مرزا صاحب نے کہا کہ وہ جھوٹا ہے۔ پیدائشی مسلمان ہے اور اس کا پیدائشی نام عبدالحمید ہے اور وہ مولوی برہان الدین جہلمی کا بھتیجا ہے۔ وہ راولپنڈؔ ی میں عیسائی ہوا تھا اور یہاں قادیان میں آکر پھر مسلمان ہوگیا تھا اور چند عرصہ محنت ٹوکری اٹھا کے کرتا رہا۔ اور قریباً سات آٹھ یوم سے یہاں سے چلا گیا ہے۔ اور یہ عرصہ اُس عرصہ سے مطابق ہے جب وہ ہماری کوٹھی پر آیا تھا۔ اور آخرکار مرزا صاحب نے کہا کہ اس کی اچھی طرح خاطر مدارات کرو اور خوراک پوشاک عمدہ دو تو وہ تمہارے پاس رہے گا۔ پھر ہم نے جہلم سے دریافت کیا وہاں سے ہم کو معلوم ہوا کہ اس نوجوان آدمی کا نام
    ہوکر ان کے غموم و ہموم میں شریک ہو جاؤں آخر ایسا ہی ہوا۔ میرے والد صاحب اپنے بعض آباء اجداد کےؔ دیہات کو دوبارہ لینے کے لئے انگریزی عدالتوں میں مقدمات کر رہے تھے انہوں نے ان ہی مقدمات میں مجھے بھی لگایا اور ایک زمانہ دراز تک میں ان کاموں میں مشغول رہا مجھے افسوس ہے کہ بہت سا وقت عزیز میرا ان بیہودہ جھگڑوں میں ضائع گیا اور اس کے ساتھ ہی والد صاحب موصوف نے زمینداری امور کی نگرانی میں مجھے لگا دیا۔ میں اس طبیعت اور فطرت کا آدمی نہیں تھا اس لئے اکثر والد صاحب کی ناراضگی کا نشانہ رہتا رہا۔ ان کی ہمدردی اور مہربانی میرے پر نہایت درجہ پر تھی مگر وہ چاہتے تھے کہ دنیا داروں کی طرح مجھے روبخلق بناویں
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 183
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 183
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/183/mode/1up
    183
    عبدالمجید نہیں ہے اور کہ اس کا والد مر گیا ہے اس کی ماں نے اس کے ایک چچا سے نکاح کرلیا ہے۔ اور دوسرا چچا اور خاندان کا بڑا ممبر مولوی برہان الدین ہے جو مولوی برہان الدین غازی کے نام سے مشہور ہے۔ وہ قوم کے گکھڑ ہیں۔ برہان الدین معہ اپنے کل خاندان کے نہایت ہی پکے محمدی ہیں۔ برہان الدین مجاہدین میں سے ہے۔ میرا مطلب ہے کہ جو مجاہدین سرحد سے باہر ہیں ان سے اس کا واسطہ تعلق رہا ہے اور وہ بڑا لادھڑک ہے اگرچہ اب عمر رسیدہ ہے جہاں تک سنا ہے نیک معاش ضرور ہے اور نسبت سب خاندان خاص کر کے برہان الدین مرزا صاحب پر جاں نثار ہیں۔ نوجوان آدمی کی کچھ حقیت قریباً 3* بیگہ اراضی ہے اور کچھ نقدی بھی ہے جو بوقت وفات والدش اس کے چچوں کے قبضہ میں آیا۔ یہ تحقیقات محمد یوسف خاں نے کی تھی جو مرزا صاحب کا مرید سابق تھا اور خود بھی مجاہدوں کی بو رکھتا تھا اور برہان الدین کا دوست قدیمی تھا۔ اس کا خط ہمارے پاس ہے جو پیش کیا جاتا ہے۔ مکرر۔ ضرورت پیش کرنے کی نہیں ہے۔ اس ؔ نوجوان کو کبھی بپتسمہ نہیں دیا گیا تھا اور وہ نہایت وحشیانہ اور ناشائستہ زندگی بسر کر آیا تھا۔ اور اس نے اپنے چچا کے 3*چوری کر کے شہوت پرستی میں خراب کئے تھے رات و دن وہ بدمستوں عیاشوں اور رنڈی بازیوں میں پھرتا رہتا تھا۔ پھر ہم نے اس کے عیسائی ہونے کے متلاشی ہونے کی بابت گجرات سے دریافت کیا بذات خود ہم نے دریافت کیا تھا۔
    اور میری طبیعت اس طریق سے سخت بیزار تھی۔ ایک مرتبہ ایک صاحب کمشنر نے قادیاں میں آنا چاہا میرے والد صاحب نے بار بار مجھ کو کہا کہ ان ؔ کی پیشوائی کے لئے دو تین کوس جانا چاہیے مگر میری طبیعت نے نہایت کراہت کی اور میں بیمار بھی تھا اس لئے نہ جا سکا۔ پس یہ امر بھی ان کی ناراضگی کا موجب ہوا اور وہ چاہتے تھے کہ میں دنیوی امور میں ہر دم غرق رہوں جو مجھ سے نہیں ہو سکتا تھا۔ مگر تاہم میں خیال کرتا ہوں کہ میں نے نیک نیتی سے نہ دنیا کے لئے بلکہ محض ثواب اطاعت حاصل کرنے کے لئے اپنے والد صاحب کی خدمت میں
    چار بیگہ چالیس روپے ۔ ناشر
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 184
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 184
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/184/mode/1up
    184
    معلوم ہوا کہ وہ گجرات کے ضلع مونگ کے ریلیف ورکس پرمیٹ رہا تھا اور روز منادی کے وقت آکر پادری صاحب یا عیسائیوں کو دق کرتا تھا اور اپنی بہن کے پاس جو کہوا میں رہتی تھی سکونت رکھتا تھا اور کہا کہ ایک روز میں انجیل پڑھتا تھا ایک دن بہنوئی نے نکال دیا اور پادری صاحب کے پاس گجرات چلا آیا۔ ہماری دریافت کا نتیجہ یہ تھا کہ وہ لڑکا نہایت بدچلن اور مشکوک سا آدمی گجرات میں تھا۔ اور اس لئے زناکاری کی علّت میں گجرات سے مشن والوں نے نکال دیا تھا۔ کسی صورت سے اس کو عیسائی نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ نہایت ہی بُرا محمدی سمجھا جاتا تھا۔ گجرات میں اس کی دوست بازاری عورتیں تھیں یا ایک شخص میراں بخش جولاہا تھا جو مرزا صاحب کا سخت عقیدت مند مرید ہے۔ جب ہم نے یہ باتیں سنیں تو ہمارا اشتباہ مرزا صاحب کی نسبت اور زیادہ ہوا کہ وہ قادیان میں ٹوکری اٹھاتا رہا تھا اور آخرکار گالیاں دے کر چلا آیا ہے۔ جس کا اصل مدعا یہ ہے کہ اس امر کا اشتباہ نہ ہو کہ اس نوجوان کی مرزا صاحب سے سازؔ ش ہے اور مرزا صاحب جب مجھ سے دریافت کیا گیا تو جو معلوم تھا کہہ دیا تھا۔ ہم نے جرائم کے ارتکاب کے اصول کا جو قانون ہے اس کی مطالعہ کیا ہے اور ہم کو معلوم ہے کہ بموجب اس علم کے جو شخص زنا پر آمادہ ہو اس کو قتل پر آمادہ کرنا آسان ہے۔ نیز ایسے اشخاص جن کو حوران بہشت کی تمنا ہو اور ایسے نوجوان کو جن کو زنا کی لَت ہو قتل کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ یعنی ایسے
    اپنے تئیں محو کر دیا تھا اور ان کے لئے دعا میں بھی مشغول رہتا تھا اور وہ مجھے دلی یقین سے برّ بالوالدین جانتے تھے اور بسا اوقات کہا کرتے تھے کہ میں صرف ترحم کے طور پر اپنے اس بیٹے کو دنیا کے امور کی طرف توجہ دلاتا ہوں ورنہ میں جانتا ہوں کہ جس طرف اس کی توجہ ہے یعنی دین کی طرف صحیح اور سچ بات یہی ہے ہم تو اپنی عمر ضائع کر رہے ہیں‘‘۔ ایسا ہی ان کے زیرؔ سایہ ہونے کے ایّام میں چند سال تک میری عمر کراہت طبع کے ساتھ انگریزی ملازمت میں بسر ہوئی۔ آخر چونکہ میرا جدا رہنا میرے والد صاحب پر بہت گراں تھا
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 185
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 185
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/185/mode/1up
    185
    شخص کے واسطے حوران بہشت کا خیال بڑھ کر لقمہ ہے۔ جان جائے تو چلی جائے حوران بہشت تو ملیں گی۔ نیز ہم کو یہ بھی علم ہوا کہ وہ نوجوان ایک نکمے مسلمان خاندان جہلمی سے تھا جن کو مرنے کا ذرا خوف نہیں ہے۔ اور اگر وہ بطور مرید مرزا صاحب کے مرتا تو مرزا صاحب کی عزت تھی۔ اور اگر وہ بطور مسلمان کے مرتا تو شہید کہلاتا اور اگر یونہی مر جاتا تو اس کے چچوں کو جائیداد سے فائدہ تھا۔ ان باتوں کو مدنظر رکھ کر ہم بیاس گئے اور روبروئے گواہان ہم نے اس نوجوان سے گفتگو کی اور میرے وعدہ پر کہ ہم تمہارا بُرا نہیں چاہتے اس لڑکے نے پانچ کس گواہان کے روبروئے اقرار کیا اور خود لکھ کر (حرف H) دیا جو ہمارے روبروئے اس نے لکھا تھا اور پھر روبروئے صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر امرتسر کے تصدیق بھی کرا دیا تھا۔ علاوہ اس اقرار نامہ کے اس نوجوان نے ازخود مجھے کہا کہ میں بایماء مرزا صاحب جان بوجھ کر ان کو گالیاں دیکر آیا تھا۔ اور یہ بھی اس نے ہم ؔ کو کہا کہ ریل کا کرایہ بطور مزدوری ٹوکری اٹھانے کے مرزا صاحب نے دیا ہے اور پھر یہ بھی اس نے ہم کو کہا کہ جو خط مولوی نور الدین کو بیاس سے بھیجا تھا اس سے غرض یہ تھی کہ میری سکونت کا اس کو پتہ ملے۔
    اس لئے ان کے حکم سے جو عین میری منشاء کے موافق تھا میں نے استعفا دے کر اپنے تئیں اس نوکری سے جو میری طبیعت کے مخالف تھی سبکدوش کر دیا اور پھر والد صاحب کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔ اس تجربہ سے مجھے معلوم ہوا کہ اکثر نوکری پیشہ نہایت گندی زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان میں سے بہت کم ایسے ہوں گے جو پورے طور پر صوم اور صلوٰۃ کے پابند ہوں اور جو اُن ناجائز حظوظ سے اپنے تئیں بچا سکیں جو ابتلا کے طور پر ان کو پیش آتے رہتے ہیں۔ میں ہمیشہ ان کے منہ دیکھ کر حیران رہا اور اکثر کو ایسا پایا کہ ان کی تمام دلی خواہشیں مال و متاع تک خواہ حلال کی وجہ سے ہو یا حرام کے ذریعہ سے محدودؔ تھیں۔ اور بہتوں کی دن رات کی کوششیں صرف اسی مختصر زندگی کی دنیوی ترقی کے لئے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 186
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 186
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/186/mode/1up
    186
    اس نے یہ بھی کہا کہ مولوی نور الدین کو اس سازش کا کچھ علم نہیں ہے اور نہ اس نے کبھی کچھ اس بارے میں کہا تھا۔ پریم داس کی زبانی ہم کو معلوم ہوا کہ اس نوجوان کے پیچھے دو آدمی اور پھرتے تھے اور ہمارا خیال لیکھرام کے قاتل کے نہ پائے جانے پر غور کر کے یہ تھا کہ وہ دو آدمی اس کو بھی مار ڈالیں گے بعد اس کے کہ وہ مجھے قتل کرے۔ اس لئے ہم نے بڑے خرچ و احتیاط سے اس نوجوان لڑکے کی جان کی حفاظت کی۔ ۳۱؍ جولائی ۹۷ء ؁ کو ہم اس کو پھر امرتسر لے گئے اور حکام ضلع کو اطلاع دیا۔ پھر تحقیقات ہوئی جس کا ہم کو حال معلوم نہیں۔ ہم کو اندیشہ ہے کہ مرزا صاحب کی ایماء سے نقض امن ہونے کا احتمال ہے اور ہم کو اندیشہ ہے کہ وہ اور بھی سازشیں کرنا چاہتا ہے۔ جو پیشگوئی مرزا صاحب نے ہماری نسبت کی ہے وہ ہتک آمیز ہے اور ممکن ہے کہ ہماری طرف سے وہ نقض امن کرانا چاہتے ہیں کہ میں خود ان بے عزتی کے الفاظ کو دیکھ کر نقض امن کروں۔ ہم کو اپنی حفاظت کا اکثر انتظام کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ ہم ڈاکٹر ہیں ہم کو اکثر اوقات ہر قسم کے اشخاص سے تعلق پڑتا ہے اور اگر اس قسم کا اندیشہ لاحق حال رہے توشاید نقض امن ہو جائے۔ ہمارؔ ے خیال میں آئندہ کے لئے
    مصروف پائیں۔ میں نے ملازمت پیشہ لوگوں کی جماعت میں بہت کم ایسے لوگ پائے کہ جو محض خداتعالیٰ کی عظمت کو یاد کر کے اخلاق فاضلہ حلم اور کرم اور عفت اور تواضع اور انکسار اور خاکساری اور ہمدردی مخلوق اور پاک باطنی اور اکل حلال اور صدق مقال اور پرہیزگاری کی صفت اپنے اندر رکھتے ہوں۔ بلکہ بہتوں کو تکبر اور بدچلنی اور لاپروائی دین اور طرح طرح کے اخلاق رذیلہ میں شیطان کے بھائی پایا۔ اور چونکہ خداتعالیٰ کی یہ حکمت تھی کہ ہر ایک قسم اور ہر ایک نوع کے انسانوں کا مجھے تجربہ حاصل ہو اس لئے ہر ایک صحبت میں مجھے رہنا پڑا۔ اور بقول صاحب مثنوی رومی وہ تمام ایام سخت کراہت اور درد کے ساتھ میں نے بسر کئے۔
    من بہر جمعیتے نالاں شدم
    جفت خوش حالاں و بدحالاں شدم
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 187
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 187
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/187/mode/1up
    187
    کوئی پیشگوئی جو میری نسبت نقصان یا موت وغیرہ کی کی جائے اس کو نقض امن تصور کیا جاوے۔ بیاس پر ایک زندہ سانپ پکڑا گیا تھا تو عبدالحمید نے بڑی منت اور زاری کی تھی کہ ڈاکٹر صاحب نے حکم دیا ہے کہ جب سانپ کوئی پکڑا جائے تو ہمارے پاس لانا۔ حالانکہ ہم نے کوئی ایسا حکم نہیں دیا تھا۔ دستخط حاکم
    نقل بیان مشمولہ مقدمہ عدالت فوجداری باجلاس کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر ضلع گورداسپور
    دستخط حاکم
    15/8/97
    مہر عدالت
    مرجوعہ
    فیصلہ
    نمبر بستہ
    نمبر مقدمہ
    ۹؍ اگست ۷ ۹ء
    زیر تجویز
    از محکمہ
    ۳؍۳
    سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب بنام مرزا غلام احمد قادیانی
    جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری
    تتمہ بیان ڈاکٹر کلارک صاحب باقرار صالح ۱۲؍ اگست ۹۷ء ؁
    پیشگوئی جو برخلاف سلطان محمد کے مسلمانوں سے کی گئی تھی اور عبداللہ آتھم کی بابت جو عیسائیوں
    ہر ؔ کسے از ظن خود شدیارمن
    وزدرون من بخُست اسرارمن
    اور جب میں حضرت والد صاحب مرحوم کی خدمت میں پھر حاضر ہوا تو بدستور ان ہی زمینداری کے کاموں میں مصروف ہوگیا۔ مگر اکثر حصہ وقت کا قرآن شریف کے تدبّر اور تفسیروں اور حدیثوں کے دیکھنے میں صرف ہوتا تھا اور بسا اوقات حضرت والد صاحب کو وہ کتابیں سنایا بھی کرتا تھا اور میرے والد صاحب اپنی ناکامیوں کی وجہ سے اکثر مغموم اور مہموم رہتے تھے۔ انہوں نے پیروی مقدمات میں ستر ہزار روپیہ کے قریب خرچ کیا تھا جس کا انجام آخر ناکامی تھی۔ کیونکہ ہمارے بزرگوں کے دیہات مدّت سے ہمارے قبضہ سے نکل چکے تھے اور ان کا واپس آنا ایک خیال خام تھا۔ اسی نامرادی کی وجہ سے حضرت والد صاحب مرحوم ایک نہایت عمیق گرداب غم اور حزن اور اضطراب میں زندگی بسر کرتے تھے۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 188
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 188
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/188/mode/1up
    188
    سے مرزا صاحب نے کی تھی وہ پوری نہ ہوئی*۔اور صرف پیشگوئی برخلاف لیکھرام کے جو ہندوؤں کے ؔ واسطے تھی باقی تھی۔ پیشگوئیوں کے پورا نہ ہونے کے واسطے مرزا صاحب کو آمدنی میں نقصان پہنچا۔ بعد مرگ لیکھرام کے مرزا صاحب نے ایک اشتہار (حرفM)جاری کیا جس میں وہ لیکھرام کے قتل کا ذکر کرتے ہیں (اشتہار پیش کیا گیا) ایک اور اشتہار جاری ہوا تھا (حرف N) مرزا صاحب کی طرف سے جس میں مرزا صاحب ایک اور اشتہار پیش کیا جاتا ہے (حرفD) جس میں عبداللہ آتھم کے مرجانے پیشگوئی بابت ۱؂ صفائی سے تحریر ہو جانے کا مرزا
    صاحب نے ذکر کیا ہے۔ بسوال عدالت ایک خط امرتسر سے عبدالحمید نے قادیاں کسی شخص کے نام
    اور ؔ مجھے ان حالات کو دیکھ کر ایک پاک تبدیلی پیدا کرنے کا موقعہ حاصل ہوتا تھا۔ کیونکہ حضرت والد صاحب کی تلخ زندگی کا نقشہ مجھے اس بے لوث زندگی کا سبق دیتا تھا جو دنیوی کدورتوں سے پاک ہے۔ اگرچہ حضرت مرزا صاحب کے چنددیہات ملکیت باقی تھے اورسرکار انگریزی کی طرف سے کچھ انعام بھی سالانہ مقرر تھا اور ایام ملازمت کی پنشن بھی تھی۔ مگر جو کچھ وہ دیکھ چکے تھے اس لحاظ سے وہ سب کچھ ہیچ تھا۔ اسی وجہ سے وہ ہمیشہ مغموم اور محزون رہتے تھے۔ اور بارہا کہتے تھے کہ جس قدر میں نے اس پلید دنیا کے لئے سعی کی ہے اگر میں وہ سعی دین کے لئے کرتا تو شاید آج قطب وقت یا غوث وقت ہوتا اور اکثر یہ شعر پڑھاکرتے تھے ؂
    میں ابھی لکھ چکا ہوں کہ یہ دونوں پیشگوئیاں بڑی صفائی سے پوری ہوگئی ہیں۔ سلطان محمد یعنی احمد بیگ کا جو داماد ہے اس کی نسبت جو پیشگوئی تھی اس میں احمد بیگ اس کا خسر بھی شامل تھا اور پیشگوئی میں شرط توبہ تھی۔ چنانچہ احمد بیگ نے شوخی اور تکذیب پر اصرار کیا اس لئے میعاد کے اندر فوت ہوگیا دیکھو یہ پیشگوئی کیسی صفائی سے پوری ہوئی۔ رہا اس کا داماد سو احمد بیگ کی موت نے ان سب پر لرزہ ڈال دیا اور لرزاں اور ترساں ہوگئے۔ اس لئے خدا نے اس کے داماد سلطان محمد کو کسی اور وقت تک مہلت دیدی اور آتھم بھی الہامی شرط کی وجہ سے اور اخفائے
    شہادت سے بموجب ہمارے الہام کے مرگیا۔ پھر یہ کیسا ظلم ہے کہ سچ کو جھوٹ سمجھتے ہیں۔ منہ
    نقل مطابق اصل ۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 189
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 189
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/189/mode/1up
    189
    بھیجا تھا جس کا پتہ نہیں کون تھا۔ عبدالحمید نے مجھ سے کہا تھا جب وہ امرتسر آیا تھا کہ میں سات سال ہندو سے مسلمان ہوکر مرزا صاحب کے پاس رہا تھا اور تعلیم پاتا رہا تھا۔ مجھ کو یہ معلوم نہیں کہ برہان الدین و لقمان کے درمیان ناراضگی ہے یا نہ۔ برہان الدین جو خاندان کا سرگروہ مرزا صاحب کا مرید ہے۔ بجواب وکیل مدعا علیہ۔ عبدالمجید ۴۔۵ بجے شام کے میری کوٹھی پر ۱۶؍ جولائی ۹۷ ؁ کو مجھے آکر ملا تھا میں اپنے دفتر کے کمرے میں تھا اس نے ہمارے پوچھنے پر کون ہو کیوں آئے ہو اس نے اپنا ؔ نام وغیرہ سلسلہ وار بتلایا۔ آدھ گھنٹہ تک میرے پاس بیٹھا رہا تھا۔ جو کچھ اس نے مجھ سے گفتگو کی تھی وہ میں نے اپنے بیان میں لکھا دی۔ اس کے علاوہ اور کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ عبدالحمید کے آتے ہی شکل دیکھ کر ہم کو اس کی نسبت شک ہوا کہ یہ وہ شخص ہے جس کو مرزا صاحب نے میرے قتل کے واسطے بھیجا ہے۔ میں نے کسی کو یعنی پولیس وغیرہ کو اطلاع نہیں دی۔ مگر اپنے لوگوں کو کہا کہ اس کو رکھو اور دھیان رکھو مگر اپنا پتہ اس کو نہ دو۔ عبدالحمید کے پاس کوئی ہتھیار اور کوئی چیز نہیں تھی۔ ہم نے کسی سے یہ ذکر نہیں کیا کہ ہمارا اشتباہ اس شخص کی نسبت ہے کہ وہ ہم کو قتل کرے گا۔ باہر کمرے کے دو تین آدمی تھے مگر ہماری باتیں نہیں سنتے تھے۔ میرا حق ہے کہ اگر کوئی شخص مارنے کے واسطے بھی آوے میں اس کو تعلیم عیسوی دوں خواہ ہم کو شبہ ہو کہ وہ
    عمر بگذشت و نماند ست جز ایّامے چند بہ کہ در یاد کسے صبح کنم شامے چند
    اور میں نے کئی دفعہ دیکھا کہ وہ ایک اپنا بنایا ہوا شعر رقت کے ساتھ پڑھتے تھے اور وہ یہ ہے۔ ازدرِ تو اے کسِ ہر بیکسے۔ نیست امیدم کہ روم نا امید۔ اور کبھی درد دل سے یہ شعر اپنا پڑھا کرتے تھے۔ بآب دیدۂ عشاق وخاکپائے کسے۔ مرادلے ست کہ درخوں تپد بجائے کسے۔ حضرتؔ عزت جلّ شانہٗ کے سامنے خالی ہاتھ جانے کی حسرت روز بروز آخری عمر میں ان پر غلبہ کرتی گئی تھی بارہا افسوس سے کہا کرتے تھے کہ دنیا کے بے ہودہ خرخشوں کے لئے میں نے اپنی عمر ناحق ضائع کر دی۔ ایک مرتبہ حضرت والد صاحب نے یہ خواب بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 190
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 190
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/190/mode/1up
    190
    مارنے آیا ہے میں اس کو تعلیم دوں گا۔ اور دوم ہم نے اس نوجوان کو اس واسطے رکھا کہ اگر کوئی شرارت بھی کرے تو اچھا ہے کہ ان کو لینے کے دینے پڑ جاویں (سوال۔ کیا آپ اپنی جان کی پرواہ نہیں کرتے) یہ سوال بے تعلق ہے میں جواب نہیں دیتا۔ عبدالحمید کو جلال الدین ملازم شفاخانہ ہسپتال میں بعد گفتگو لے گیا تھا۔ کیونکہ اسی جگہ ہمارے طالب علم رہتے ہیں اور جلال الدین کو بھی ہم نے کہا تھا کہ عبدالحمید پر نظر رکھنا مگر کسی بھید سے واقف نہ کرنا۔ کسی خاص بھید کا ذکر نہ تھا عام طور پر کہا تھا ۲۲؍جولائی ۹۷ ؁ کی شام تک عبدالحمید کو شفاخانہ میںؔ رکھا گیا تھا۔ ۱۶ سے ۲۲ تاریخ تک شاید پیر کے دن ۱۹؍ تاریخ ۴۔۵ بجے شام کے قریب ہماری کوٹھی پر آیا خواہ مخواہ آیا بلایا نہ تھا اور اِدھر اُدھر جھانکتا تھا۔ میں نے برآمدہ میں اس کو ڈانٹا کہ کیوں بلا بلائے چلا آیا ہے جا چلا جا۔ اس وقت اس کے ہاتھ میں کوئی پتھر وغیرہ نہ تھا۔ ہمارے ڈاکٹر شفاخانہ نے ہم سے کہا تھا کہ عبدالحمید کو سوزاک ہے ڈاکٹر نے اس کا علاج کیا تھا۔ بیاس میں بھی ہمارے طالب علم ہیں اس لئے ہم نے مناسب سمجھا کہ وہاں اس کو بھیج دیا جاوے
    کو دیکھا کہ ایک بڑی شان کے ساتھ میرے مکان کی طرف چلے آتے ہیں جیسا کہ ایک عظیم الشان بادشاہ آتا ہے تو میں اُس وقت آپ کی طرف پیشوائی کے لئے دوڑا جب قریب پہنچا تو میں نے سوچا کہ کچھ نذر پیش کرنی چاہئے۔ یہ کہہ کر جیب میں ہاتھ ڈالا جس میں صرف ایک روپیہ تھا اور جب غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ بھی کھوٹا ہے۔ یہ دیکھ کر میں چشم پُرآب ہوگیا اور پھر آنکھ کھل گئی‘‘۔ اور پھر آپ ہی تعبیر فرمانے لگے کہؔ دنیاداری کے ساتھ خدا اور رسول کی محبت ایک کھوٹے روپیہ کی طرح ہے۔ اور فرمایاکرتے تھے کہ میری طرح میرے والد صاحب کا بھی آخر حصہ زندگی کا مصیبت اور غم اور حزن میں ہی گذرا اور جہاں ہاتھ ڈالا آخر ناکامی تھی اور اپنے والد صاحب یعنی میرے پردادا صاحب کا ایک شعر بھی سنایا کرتے تھے جس کا ایک مصرع راقم کو بھول گیا ہے اور دوسرا یہ ہے کہ ع ’’جب تدبیر کرتا ہوں تو پھر تقدیر ہنستی ہے‘‘۔ اور یہ غم اور درد ان کا پیرانہ سالی میں
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 191
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 191
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/191/mode/1up
    191
    سانوں مہتر بیاس سے آیا ہوا تھا اس کے ہمراہ یہی تھا اور ہدایت کی تھی کہ عبدالحمید کو پریم داس کے حوالہ کر دو اور یہ خط دیدو۔ پریم داس کو ہدایت کی تھی کہ دین عیسوی کی تعلیم دو اور اس سے کام لو نازک اندام نہیں ہے۔ جب وہ امرتسر میں رہا تھا اس کی ظاہراً شکل شباہت سے وہ قاتل معلوم ہوتا تھا۔ اب ویسی اس کی شکل شباہت نہیں رہی جب سے اس نے اقبال کرا ہے اسکی رگ ہائے میں ایک قسم کی حرکت معلوم ہوتی تھی اور آشوب والی آنکھیں تھیں جو بعد اقبال نہیں رہی۔ مولوی عبدالرحیم نے بھی یہ تغیر اس میں معلوم کیا تھا جب تک وہ ہسپتال میں رہا اور اس کی حالت حسب مذکورہ بالا ہم دیکھتے تھے جب سے ہمارا وہ شک جڑ پکڑ گیا اور پختہ ہوا۔ جب بیاس بھیجا تھا کسی کو نہیں کہا تھا کہ اپنا بھید نہ دینا اور اس کا دھیان رکھنا امرتسر میں سب کو کہاؔ تھا کہ اس کا حال دریافت کرو کہ کون ہے اور اس کے حالات کیا ہیں۔ یہ اپنے حالات مختلف قسم کے بتلاتا تھا۔ خاص کر عبدالرحیم نے ہم سے کہا تھا کہ پتہ نہیں لگتا کہ کون ہے۔ ۲۲؍ جولائی ۹۷ء ؁ سے ۳۱؍ جولائی ۹۷ء ؁تک عبدالحمید بیاس میں رکھا گیا تھا۔ دو تین دفعہ غالباً ہم بیاس گئے مگر خلوت میں اس کو نہیں دیکھا تھا عام طور پر دیکھتے رہے تھے اس نے کبھی
    بہت بڑھ گیا تھا۔ اسی خیال سے قریباً چھ ماہ پہلے حضرت والد صاحب نے اس قصبہ کے وسط میں ایک مسجد تعمیر کی کہ جو اس جگہ کی جامع مسجد ہے۔ اور وصیّت کی کہ مسجد کے ایک گوشہ میں میری قبر ہو تا خدائے عزّوجلّ کا نام میرے کان میں پڑتا رہے کیا عجب کہ یہی ذریعہ مغفرت ہو۔ چنانچہ جس دن مسجد کی عمارت بہمہ وجوہ مکمل ؔ ہوگئی اور شاید فرش کی چند اینٹیں باقی تھیں کہ حضرت والد صاحب صرف چند روز بیمار رہ کر مرض پیچش سے فوت ہوگئے اور اس مسجد کے اسی گوشہ میں جہاں انہوں نے کھڑے ہوکر نشان کیا تھا دفن کئے گئے۔ اللّٰھم ارحمہ و ادخلہ الجنّۃ۔ آمین ۔ قریباً اسی ۸۰یا پچاسی ۸۵ برس کی عمر پائی۔
    ان کی یہ حسرت کی باتیں کہ میں نے کیوں دنیا کے لئے وقت عزیز کھویا اب تک میرے دل پر دردناک اثر ڈال رہی ہیں اور میں جانتا ہوں کہ ہر ایک شخص جو دنیا کا طالب ہوگا
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 192
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 192
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/192/mode/1up
    192
    کوئی کوشش مجھ پر حملہ کرنے کی نہیں کی تھی ۳۱؍ جولائی ۹۷ء ؁ کو اس نے اقبال کیا تھا۔ میں خاص اس کام کے واسطے وہاں اس روز گیا تھا اور اس کو کہا کہ سچ سچ بتلا۔ اس نے اپنے آپ کو دوچار دفعہ رلیارام بھی بتلایا بعد میں اقبال کیا۔ بغیر کسی دباؤ اس نے اقبال کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر مجھے کوئی خطرہ نہ ہووے تو بتلاتا ہوں اور پھر میرے وعدہ پر کہ تمہارا نقصان نہ ہوگا اقبال کیا تھا۔ پانچ آدمی موجود تھے۔ پریم داس۔ وارث دین۔ عبدالرحیم۔ دیال چند اور ایک اور آدمی نام یاد نہیں۔ وارث دین میرے ماتحت نہیں ہے وہ عیسائی نہیں* ہے۔ بیاس میں ہماری کوٹھی کے کھانے والے کمرہ میں یہ گفتگو عبدالحمید سے ہوئی تھی اور اسی وقت اس کی قلم سے اقبال لکھوایا تھا۔ اس کی قلم کا لکھا ہوا بھی کاغذ ہم نے دیا تھا اوّل ایک اور کاغذ بطور مسودہ لکھا تھا۔ پھر اس کاغذ حرف II پر نقل کیا تھا۔ جہاں تک مجھے علم ہے ہم نے یا ہمارے متعلقین نے کوئی لفظ یا حرف اسؔ کو نہیں بتلایا تھا۔ ۴ اور ۶بجے شام کے درمیان کا یہ واقعہ ہے ۵ بجے کے بعد ۶ بجے سے پہلے لکھا گیا تھا۔ تین کس دیگر تھے۔ ایک سب پوسٹماسٹر۔ پوسٹماسٹر و تار بابو بلائے گئے تھے اور ان کو کہا گیا تھا کہ اس نوجوان سے پوچھ لو اور انہوں نے دریافت کیا تھا اور ان سے کہا تھا کہ میں اپنی خوشی سے لکھتا ہوں اور یہ امر سچ ہے۔ یہ تینوں گواہ ہندو ہیں۔ ہم کو معلوم نہیں کہ آریہ ہیں یا نہ۔ چونی لال کو ہم پیش کریں گے۔ ہماری کوٹھی پر تینوں
    آخر اس حسرت کو ساتھ لے جائے گا۔ جس نے سمجھنا ہو سمجھے۔ میری عمر قریباً چونتیس یا پینتیس برس کی ہوگی جب حضرت والد صاحب کا انتقال ہوا۔ مجھے ایک خواب میں بتلایا گیا تھا کہ اب ان کے انتقال کا وقت قریب ہے۔ میں اس وقت لاہور میں تھا جب مجھے یہ خواب آیا تھا۔ تب ؔ میں جلدی سے قادیاں میں پہنچا اور ان کو مرض زحیر میں مبتلا پایا۔ لیکن یہ امید ہرگز نہ تھی کہ وہ دوسرے دن میرے آنے سے فوت ہو جائیں گے کیونکہ مرض کی شدت کم ہوگئی تھی اور وہ بڑے استقلال سے بیٹھے رہتے تھے دوسرے دن شدت دوپہر کے وقت ہم سب عزیز ان کی خدمت میں حاضر تھے کہ مرزا صاحب نے مہربانی سے مجھے فرمایا کہ اس وقت تم ذرہ آرام کرلو کیونکہ جون کا مہینہ تھا اور
    * یہ بات غلط ہے بلکہ وارث دین عیسائی ہے۔
    فیصلہ
    ۲۳؍ اگست ۹۷ء
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 193
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 193
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/193/mode/1up
    193
    شخص بلائے ہوئے آئے تھے ان کے آنے سے پہلے اقبال لکھا ہوا تھا اسی روز رات کی گاڑی میں ہم اس کو اپنے ساتھ لائے اور سلطان ونڈ کے شفاخانہ میں یعنی احاطہ مشن میں رات کو رکھا پہرہ بھی اس پر لگایا تھا کہ مبادا بھاگ نہ جائے اس اقبال کو جب لکھا گیا ہم نے سب سچ سمجھا گویا نہایت ہی سچ سمجھا تھا یہ بالکل ہی ناممکن ہے کہ کسی اور نے اس کو ہمارے پاس بھیجا ہو سوائے مرزا صاحب کے اور نہ یہ ہم نے سمجھا کہ کسی کی ترغیب سے وہ اقبال کر رہا ہے۔ میری رائے پہلے یہ تھی کہ مولوی نور الدین کا کوئی تعلق اس سے نہیں ہے۔ جب عبدالحمید نے مجھ سے بیان کیا تھا۔ جب خط مولوی نور الدین کے نام اس نوجوان نے بھیجا کچھ ہمارا شک ہوا کہ ان کا بھی تعلق ہے گو نور الدین کے تعلق کی بابت اب بھی ہم کو شک ہے۔ لیکن جو بیان مرزا صاحب کی نسبت عبدالحمید نے کیا ہے اس کی بابت ہم کو اب بھی کوئی شک نہیں ہے مطلق نہیں ہے جوبیاؔ ن پہلے لکھنے سے یعنی اقبال سے عبدالحمید نے کیا تھا اس کو ہم نے جھوٹ سمجھا تھا یعنی جو بابت ہندو ہونے وغیرہ کے بیان کیا تھا وہ جھوٹا سمجھا تھا باقی بیانات کی بابت نہ ہم نے اعتبار کیا تھا اور نہ بے اعتباری تھی۔ ہندو سے مسلمان ہونے کا جو اس نے بیان کیا تھا یہ بھی جھوٹ سمجھا ہم نے یقین کیا تھا کہ وہ قادیاں سے آیا ہے۔ ہم نے یقین کیا تھا کہ وہ قلی کا کام کرتا رہا ہے اور ہم نے یقین کیا تھا کہ ایک شخص سنا تھا کہ قادیاں میں ہے
    گرمی سخت پڑتی تھی۔ میں آرام کے لئے ایک چوبارہ میں چلا گیا اور ایک نوکر پیر دبانے لگا کہ اتنے میں تھوڑی سی غنودگی ہوکر مجھے الہام ہوا وَالسّماءِ وَالطّارق یعنی قسم ہے آسمان کی جو قضا و قدر کا مبدء ہے اور قسم ہے اس حادثہ کی جو آج آفتاب کے غروبؔ کے بعد نازل ہوگا اور مجھے سمجھایا گیا کہ یہ الہام بطور عزا پُرسی خداتعالیٰ کی طرف سے ہے اور حادثہ یہ ہے کہ آج ہی تمہارا والد آفتاب کے غروب کے بعد فوت ہوجائے گا‘‘۔ سبحان اللہ کیا شان خداوند عظیم ہے کہ ایک شخص جو اپنی عمر ضائع ہونے پر حسرت کرتا ہوا فوت ہوا ہے اس کی وفات کو عزا پرسی کے طور پر بیان فرماتا ہے۔ اس بات سے اکثر لوگ تعجب کریں گے کہ خداتعالیٰ کی عزاپرسی کیا معنے رکھتی
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 194
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 194
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/194/mode/1up
    194
    اور ہم نے زیادہ یقین اس امر کا کیا تھا کہ اس کے حالات کی تحقیقات مناسب ہے باقی جملہ حالات کو یا تو شکی تصور کیا تھا یا یقین کیا تھا قادیاں سے دریافت کرنے سے مراد پختہ حالات معلوم کرنے کی تھی مرزا صاحب کے برخلاف مقدمہ کرنے کے واسطے نہ تھی۔ ۳۱؍ جولائی ۹۷ء ؁ تک ہمارا کوئی ارادہ مقدمہ مرزا صاحب سے کرنے کا نہ تھا دریافت اس واسطے نہ کی تھی کہ مرزا صاحب پر مقدمہ بنایا جاوے گا ۳۱؍ جولائی ۹۷ء ؁ سے پہلے ۳۰؍ جولائی ۹۷ء ؁ کو ہمیں معلوم ہوگیا تھا اور یقین ہوا تھا کہ عبدالحمید بدمعاش زانی اور لچّا وغیرہ ہے ۔ ۲۵؍ جولائی ۹۷ء ؁ کو مرزا صاحب سے عبدالحمید کی بابت حالات کی خبر ہم کو ملی تھی۔ ۳۰؍ جولائی ۹۷ء ؁ کو حالات جہلم سے معلوم ہوئے تھے مرزا صاحب کا بیان بغیر زیادہ دریافت کے ہم نے باور نہیں کیا تھا۔ ہم کو تحقیقات سے معلوم ہواؔ تھا کہ عبدالحمید کبھی عیسائی نہیں ہوا تھا۔ قریب تین ماہ سے زیادہ وہ گجرات میں عیسائیوں کے پاس رہا تھا۔ فروری مارچ اور کچھ حصہ ماہ اپریل کا شاید تھا سوائے گجرات کے اور کہیں ہم نے خود ذاتی تحقیقات نہیں کی باقی شخص جنہوں نے تحقیقات کی تھی سب زندہ ہیں۔ عبدالحمید ایک جوان طاقتور ہے ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہم سے طاقتور ہے یا نہ۔ جب میں اس کو امرتسر لایا تھا صاحب مجسٹریٹ ضلع نے میرا اور اس کا بیان لکھا اور اقبال کی تصدیق کی اور 3 ۱؂ کی ضمانت کا وارنٹ
    ہے۔ مگر یاد رہے کہ حضرت عزت جلّ شانہٗ جب کسی کو نظر رحمت سے دیکھتا ہے تو ایک دوست کی طرح ایسے معاملات اس سے کرتا ہے۔ چنانچہ خداتعالیٰ کا ہنسنا بھی جو حدیثوں میں آیا ہے ان ہی معنوں کے لحاظ سے ہے۔
    اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب مجھے حضرت والد صاحب مرحوم کی وفات کی نسبتؔ اللہ جلّ شانہٗ کی طرف سے یہ الہام ہوا جو میں نے ابھی ذکر کیا ہے تو بشریت کی وجہ سے مجھے خیال آیا کہ بعض وجوہ آمدن حضرت والد صاحب کی زندگی سے وابستہ ہیں پھر نہ معلوم کیا کیا ابتلا ہمیں پیش آئے گا تب اسی وقت یہ دوسرا الہام ہوا اَلَیس اللّٰہ بکافٍ عَبْدہ یعنی کیا خدا اپنے بندے کو کافی نہیں ہے اور اس الہام نے عجیب سکینت اور اطمینان بخشا اور فولادی میخ کی طرح
    ۱؂ دوہزار روپیہ۔
    فیصلہ
    ۲۳؍ اگست ۹۷ء
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 195
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 195
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/195/mode/1up
    195
    جاری کیا ہم نے کوئی نیا استغاثہ ضلع گورداسپور میں نہیں کیا۔ روبروئے صاحب مجسٹریٹ ضلع کے قبل از ثمن بنام ملزم کے جو چٹھی مولوی نور الدین کے نام عبدالمجید نے لکھی تھی ہم نے نہیں دیکھی۔ یوسف خاں سے سنا تھا کہ برہان الدین غازی ہے۔ یوسف برہان الدین کا پرانا دوست ہے۔ برہان الدین کو ہم نے کبھی نہیں دیکھا جو کچھ اس کی بابت ہم نے بیان کیا ہے یوسف خان کی زبانی ہے اور اس سے سنا ہوا ہے ہم کو ذاتی علم نہیں ہے۔ عبدالحمید کی جائداد نقدی وغیرہ کی بابت بھی سنی سنائی بات ہے پادری دیدار سنگھ صاحب سے سنا تھا ہم گکھڑوں سے واقف ہیں ہم کو معلوم نہیں ہے کہ وہ نمک حلال گورنمنٹ کے ہیں یا نہ۔ ۳۱؍ جولائی ۹۷ء ؁ سے جو میری نسبت پیشگوئی مرزا صاحب نے کی تھی وہ حرف A جنگ مقدس میں صفحہ ۱۶ پر درج ہے اور فریق کے لفظ میں ہم اپنے آپ کو شاملؔ سمجھتے ہیں۔ اور دوم انجام آتھم کے صفحہ ۴۴ حرفF ہماری نسبت پیشگوئی موت کی، کی ہے پہلی پیشین گوئی میں پندرہ ماہ کی میعاد تھی جو گذر چکی ہے اور دوسری پیشگوئی کی تاریخ
    ۱۴؍ ستمبر ۹۷ء ؁ تک ہے۔ لیکن ایک اور اشتہار میں اس تاریخ کو وسعت دی گئی ہے حرفF ہماری نسبت
    میرے دل میں دھنس گیا۔ پس مجھے اس خدائے عزّوجلّ کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے اپنے اس مبشرانہ الہام کو ایسے طور سے مجھے سچا کر کے دکھلایا کہ میرے خیال اور گمان میں بھی نہ تھا۔ میرا وہ ایسا متکفل ہوا کہ کبھی کسی کا باپ ہرگز ایسا متکفل نہیں ہوگا۔ میرے پر اس کے وہ متواتر احسان ہوئے کہ بالکل محال ہے کہ میں ان کا شمار کر سکوں۔ اور میرے والد صاحب اسی دن بعد غروب آفتاب فوت ہوگئے۔ یہ ا ؔ یک پہلا دن تھا جو میں نے بذریعہ خدا کے الہام کے ایسا رحمت کا نشان دیکھا۔ جس کی نسبت میں خیال نہیں کر سکتا کہ میری زندگی میں کبھی منقطع ہو۔ میں نے اس الہام کو ان ہی دنوں میں ایک نگینہ میں کھدوا کر اس کی انگشتری بنائی جو بڑی حفاظت سے ابتک رکھی ہوئی ہے۔ غرض میری زندگی قریب قریب چالیس برس کے زیر سایہ والد بزرگوار کے گذری۔ ایک طرف ان کا دنیا سے اٹھایا جانا تھا اور ایک طرف بڑے زور شور سے سلسلہ مکالمات الٰہیہ کا مجھ سے شروع ہوا۔ میں کچھ بیان نہیں کر سکتا کہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 196
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 196
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/196/mode/1up
    196
    خاص طور پر پیشگوئی ہے اور ہمارا نام موٹی قلم سے لکھا ہوا ہے اشتہار حرف O میں عداوت اور دشمنی کی زندگی مرنے کے قریب قریب ہے۔ میری زندگی سے مراد ہے گواہ نے ازخود بیان کیا اشتہار حرف Q ستمبر ۹۴ ؁ کے بہت عرصہ بعد قبل از مرگ مسٹر عبداللہ آتھم ہم نے جاری کیا تھا جب عبداللہ آتھم نہ مرا۔ مرزا صاحب کے برخلاف جہان اٹھ کھڑا ہوا کہ وہ جھوٹا ہے۔ مرزا صاحب نے کہا کہ عبداللہ آتھم اس لئے نہیں مرا کہ وہ اندر سے مسلمان ہوگیا تھا جو خوف کا نتیجہ تھا تب مرزا صاحب نے اشتہار جاری کئے کہ اگر وہ خوف زدہ نہیں ہوا اور رجوع بحق نہیں ہوا تھا تو مباہلہ کرے اور قسم اٹھاوے عبداللہ آتھم نے قسم اٹھانے سے انکار کیا کہ مسیحی مذہب میں قسم کھانا منع ہے*۔ تب ہم نے اس اشتہار حرف Q کو جاری کیا تھا کہ مرزا خوک کا گوشت کھا کر ثابت کرے کہ وہ مسلمان ہے کیونکہ اور مسلمان اس کو مسلمان نہیں مانتے تب عبداللہ آتھم کو یہ کہنا اس کے برابر ہوگا۔ وکیل کی جرح شروع ہوئی عبدالحمید کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ اور تین بھائی اس کے ہیںؔ ۔ ہم کو معلوم نہیں کہ عبدالحمید کب قادیاں میں آیا تھا۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ کب تک
    میرا کون سا عمل تھا جس کی وجہ سے یہ عنایت الٰہی شامل حال ہوئی۔ صرف اپنے اندر یہ احساس کرتا ہوں کہ فطرتاً میرے دل کو خداتعالیٰ کی طرف وفاداری کے ساتھ ایک کشش ہے جو کسی چیز کے روکنے سے رک نہیں سکتی۔ سو یہ اسی کی عنایت ہے۔ میں نے کبھی ریاضات شاقہ بھی نہیں کیں اور نہ زمانہ حال کے بعضؔ صوفیوں کی طرح مجاہدات شدیدہ میں اپنے نفس کو ڈالا اور نہ گوشہ گزینی کے التزام سے کوئی چلہ کشی کی اور نہ خلاف سنت کوئی ایسا عمل رہبانیت کیا جس پر خداتعالیٰ کے
    *ڈاکٹر کلارک نے معہ اپنے تمام عیسائی گواہوں کے اس مقدمہ میں انجیل اٹھا کر قسم کھائی۔ اب اُسی منہ سے آتھم کا ذکر کیا ہے کہ اس نے کہا قسم کھانی ہمارے مذہب میں منع ہے۔ یہ عجیب بات ہے دکھانے کے دانت اور کھانے کے اور۔ اور ڈاکٹر صاحب نے آپ سخت گوئی کی شکایت کی اور مسلمانوں کے آگے خنزیر کھانے کے لئے پیش کرتے ہیں کیا ایک مسلمان کو کہنا کہ خنزیر کھا یہ سخت لفظ نہیں ہے؟ منہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 197
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 197
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/197/mode/1up
    197
    وہاں رہا تھا۔ عبدالرحیم کے بیان پر ہم کہتے ہیں کہ وہ قادیاں سے آیا تھا۔ ۳۱؍ جولائی ۹۳ء ؁ کو پریم داس نے مجھ سے کہا تھا کہ دو آدمی اس کی بابت ذکر کرتے تھے۔ اقبال سے پہلے اس نے ہم سے کہا تھا، اس نے کہا تھا کہ بیاس میں وہ دو آدمی دیکھے تھے ہم نے خود عبدالحمید سے دو آدمیوں کی بابت پوچھا تھا جن کا پریم داس نے ذکر کیا تھا عبدالحمید نے کہا کہ مجھے ان کا کچھ علم نہیں ہے پچاس یا پچیس ہزار کے انعام کا اشتہار حال میں دیا ہے کہ جو مرزا صاحب کی طرف سے جاری شدہ دیکھا تھا مگر پیش نہیں کر سکتا، یاد نہیں کب دیکھا تھا معلوم نہیں کس کی بابت وہ اشتہار تھا ان اشتہارات سے ہم نے یہ رائے قائم کی تھی کہ وہ اشتہارات کا روپیہ ادا کر سکتے ہیں مگر ادا نہیں کریں گے میں کبھی قادیاں نہیں گیا اور نہ ذاتی علم ان کی دانش مندی کا ہے میر محمد سعید بذریعہ ناطہ مرزا صاحب کا رشتہ دار ہے مجھے زیادہ تشریح معلوم نہیں یوسف خاں کے عیسائی ہونے کے بعد میر محمد سعید عیسائی ہوا تھا ۹۳ء ؁ کے مباحثہ سے ہمارے سے دشمنی مرزا صاحب کی طرف سے ہوئی ہم کو ذرہ بھر بھی دشمنی ان سے نہیں ہے ۹۴ء ؁ میں جب محمد سعید عیسائی ہونے آیا ہم کو کوئی اشتباہ اس کی نسبت نہیں ہوا کہ وہ ہم کو مارے گا یوسف خان بھی ۹۴ء ؁ میں عیسائی ہوا تھا اس کی نسبت مجھے تو
    کلام کو اعتراض ہو۔ بلکہ میں ہمیشہ ایسے فقیروں اور بدعت شعار لوگوں سے بیزار رہا جو انواع اقسام کے بدعات میں مبتلا ہیں۔ ہاں حضرت والد صاحب کے زمانہ میں ہی جبکہ ان کا زمانہ وفات بہت نزدیک تھا ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ ایک بزرگ معمر پاک صورت مجھ کو خواب میں دکھائی دیا اور اس نے یہ ذکر کر کے کہ" کسی قدر روزے انوار سماوی کی پیشوائی کے لئے رکھنا سنت خاندان نبوت ہے‘‘۔ اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ میں اس سنت اہل بیت رسالت کو بجالاؤں۔ سو میں نے کچھ مدت تک التزام صوم کو مناسب سمجھا مگر ساتھ ہی یہ خیال آیا کہ اس امر کو مخفی طور پر بجالانا بہتر ہے پس میں نے یہ ؔ طریق اختیار کیا کہ گھر سے مردانہ نشست گاہ میں اپنا کھانا منگواتا اور پھر وہ کھانا پوشیدہ طور پر بعض یتیم بچوں کو جن کو میں نے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 198
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 198
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/198/mode/1up
    198
    کوئیؔ شک نہیں ہوا تھا۔ لیکن اور عیسائیوں بلکہ محمدیوں کو بھی شک ہوا تھا کہ آتھم کی پیشگوئی پوری کرنے آیا ہے۔ ہم سے عیسائیوں نے کہا تھا کہ تم اچھا نہیں کرتے کہ اس کو آتھم صاحب کے پاس جانے دیتے ہو۔ ہم نے مطلق خیال نہیں کیا تھا کہ وہ آتھم کو مار ڈالے گا کیونکہ اس کو میں جانتا تھا کہ راست آدمی ہے سوائے کتاب مولوی محمد حسین کے ہم خود مرزا صاحب کے اشتہارات سے قیاس کرتے ہیں کہ مرزا صاحب کو علم لیکھرام کے قتل کا خوب تھا۔ میں
    پہلے سے تجویز کر کے وقت پر حاضری کے لئے تاکید کر دی تھی دے دیتا تھا اور اس طرح تمام دن روزہ میں گذارتا اور بجز خداتعالیٰ کے ان روزوں کی کسی کو خبر نہ تھی۔ پھر دو تین ہفتہ کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ ایسے روزوں سے جو ایک وقت میں پیٹ بھر کر روٹی کھا لیتا ہوں مجھے کچھ بھی تکلیف نہیں بہتر ہے کہ کسی قدر کھانے کو کم کروں سو میں اس روز سے کھانے کو کم کرتا گیا یہاں تک کہ میں تمام دن رات میں صرف ایک روٹی پر کفایت کرتا تھا اور اسی طرح میں کھانے کو کم کرتا گیا۔ یہاں تک کہ شاید صرف چند تولہ روٹی میں سے آٹھ پہر کے بعد میری غذا تھی۔ غالباً آٹھ یا نو ماہ تک میں نے ایسا ہی کیا اور باوجود اس قدر قلت غذا کے کہ دو تین ماہ کا بچہ بھی اس پر صبر نہیں کر سکتا خداتعالیٰ نے مجھے ہر ایک بلا اور آفت سے محفوظ رکھا۔ اور اس قسم کے روزہ کے عجائبات میں سے جو میرے تجربہ میں آئے وہ لطیف مکاشفات ہیں جو اس زمانہ میں میرے پر کھلے۔ چنانچہ بعض گذشتہ نبیوں کی ملاقاتیں ہوئیں اور جو اعلیٰ طبقہ کے اولیاء اس امت میں گذر چکے ہیں ان سے ملاقات ہوئی۔ ایک دفعہ عین بیداری کی حالت میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معہ حسنین و علی رضی اللہ عنہ و فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دیکھا۔ اور یہ خواب نہ تھی بلکہ ایک بیداری کی قسم تھی غرض اسی طرح پر کئی مقدس لوگوں کی ملاقاتیں ہوئیں جن کا ذکر کرنا موجب تطویل ہے اور علاوہ اس کے انوار روحانی تمثیلی طور پر برنگ ستونؔ سبز و سرخ ایسے دلکش ودلستان
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 199
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 199
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/199/mode/1up
    199
    مولویؔ محمد حسین کو جانتا ہوں ۹۳ء ؁ میں جب عبدالحق کا مرزا صاحب سے مباہلہ ہوا تھا ایک یا دو دفعہ ہم سے ملے تھے یاد نہیں پہلے کب ملا تھا چھ ماہ گذشتہ سے میں نے اس کو نہیں دیکھا سب سے آخری دفعہ ۹۵ء ؁ میں اس کو دیکھا تھا مولوی محمد حسین و محمد علی آج سے چھ ماہ گذشتہ کے اندر ہم نے نہیں دیکھا اور نہ ہم نے ان کو ۱۰؍ اگست ۹۷ء ؁ یا ۹؍ اگست ۹۷ء ؁ کو بمقام بٹالہ دیکھا ہے ہرگز بٹالہ میں نہیں دیکھا میں جانتا ہوں کہ مولوی محمد حسین اور مرزا صاحب کی سخت دشمنی ہے۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ آریہ لوگ بھی مرزا صاحب کے مخالف ہیں کسی خاص
    طور پر نظر آتے تھے جن کا بیان کرنا بالکل طاقت تحریر سے باہر ہے۔ وہ نورانی ستون جو سیدھے آسمان کی طرف گئے ہوئے تھے جن میں سے بعض چمکدار سفید اور سبز اور بعض سرخ تھے ان کو دل سے ایسا تعلق تھا کہ ان کو دیکھ کر دل کو نہایت سرور پہنچتا تھا اور دنیا میں کوئی بھی ایسی لذت نہیں ہوگی جیسا کہ ان کو دیکھ کر دل اور روح کو لذت آتی تھی۔ میرے خیال میں ہے کہ وہ ستون خدا اور بندہ کی محبت کی ترکیب سے ایک تمثیلی صورت میں ظاہر کئے گئے تھے یعنی وہ ایک نور تھا جو دل سے نکلا اور دوسرا وہ نور تھا جو اوپر سے نازل ہوا اور دونوں کے ملنے سے ایک ستون کی صورت پیدا ہوگئی یہ روحانی امور ہیں کہ دنیا ان کو نہیں پہچان سکتی کیونکہ وہ دنیا کی آنکھوں سے بہت دور ہیں لیکن دنیا میں ایسے بھی ہیں جن کو ان امور سے خبر ملتی ہے۔
    غرض اس مدت تک روزہ رکھنے سے جو میرے پر عجائبات ظاہر ہوئے وہ انواع اقسام کے مکاشفات تھے۔ ایک اور فائدہ مجھے یہ حاصل ہوا کہ میں نے ان مجاہدات کے بعد اپنے نفس کو ایسا پایا کہ میں وقت ضرورت فاقہ کشی پر زیادہ سے زیادہ صبر کر سکتا ہوں۔ میں نے کئی دفعہ خیال کیا کہ ا گر ایک موٹا آدمی جو علاوہ فربہی کے پہلوان بھی ہو میرے ساتھ فاقہ کشی کے لئے مجبور کیا جائے تو قبل اس کے کہ مجھے کھانے کے لئے کچھ اضطرار ہو وہ فوت ہو جائے۔ اس سے مجھے یہ بھی ثبوت ملا کہ انسان کسی حد تک فاقہ کشی میں ترقی کر سکتا ہے اور جب تک کسی کا جسم ایسا سختی کش نہ ہو جائے میرا یقین ہے کہ ایسا تنعم پسند روحانیؔ منازل کے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 200
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 200
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/200/mode/1up
    200
    آریہؔ کا نام امرتسر میں یا اور جگہ ہمیں معلوم نہیں جس نے مجھے کہا ہو کہ مرزا صاحب نے لیکھرام کو قتل کیا یا کرایا ہے۔ لالہ رام بھج دت جو ہماری طرف سے وکیل ہے اور موجود عدالت ہے آریہ ہے کوئی فیس ہم نے اِن کو نہیں دی۔ اشتہار حرف P.O.N.M. ہم نے لالہ رام بھج سے لئے ہیں۔ آج سے پہلے قبل از تقرری بطور پیروکار منجانب سرکار ہے ہم بھی آپ کو گواہ سمجھتے تھے یہ بھی ہم کو معلوم ہے کہ مسلمان بھی عموماً مرزا صاحب کے برخلاف ہیں۔ (اوّل گواہ نے جواب نہ دیا پھر اپنے وکیل سے یہ صلاح لے کر جوابدوں یا نہ دوں کہا) کہ مرزا صاحب کی نسبت میری ذاتی رائے یہ ہے کہ وہ ایک خراب فتنہ ا نگیز اور خطرناک آدمی ہے اچھا نہیں ہے مرزا صاحب کی اپنی تصنیفات سے ہم نے رائے مذکور قائم کی ہے۔ عیسوی مذہب کے برخلاف بھی مرزا صاحب نے
    لائق نہیں ہو سکتا۔ لیکن میں ہر ایک کو یہ صلاح نہیں دیتا کہ ایسا کرے اور نہ میں نے اپنی مرضی سے ایسا کیا۔ میں نے کئی جاہل درویش ایسے بھی دیکھے ہیں جنہوں نے شدید ریاضتیں اختیار کیں اور آخریبوست دماغ سے وہ مجنون ہوگئے اور بقیہ عمر ان کی دیوانہ پن میں گذری یا دوسرے امراض سل اور دق وغیرہ میں مبتلا ہوگئے۔ انسانوں کے دماغی قویٰ ایک طرز کے نہیں ہیں۔ پس ایسے اشخاص جن کے فطرتاً قویٰ ضعیف ہیں ان کو کسی قسم کا جسمانی مجاہدہ موافق نہیں پڑ سکتا اور جلد تر کسی خطرناک بیماری میں پڑ جاتے ہیں۔ سو بہتر ہے کہ انسان اپنی نفس کی تجویز سے اپنے تئیں مجاہدہ شدیدہ میں نہ ڈالے اور دین العجائز اختیار رکھے۔ ہاں اگر خداتعالیٰ کی طرف سے کوئی الہام ہو اور شریعتِ غرّاء اسلام سے منافی نہ ہو تواس کو بجا لانا ضروری ہے لیکن آج کل کے اکثر نادان فقیر جو مجاہدات سکھلاتے ہیں ان کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ پس ان سے پرہیز کرنا چاہیئے۔
    یاد رہے کہ میں نے کشف صریح کے ذریعہ سے خداتعالیٰ سے اطلاع پاکر جسمانی سختی کشی کا حصہ آٹھ یا نو ماہ تک لیا اور بھوک اور پیاس کا مزہ چکھا اور پھر اس طریق کو علی الدوام بجا لانا چھوڑ دیا اور کبھی کبھی اس کو اختیار بھی کیا یہ تو سب کچھ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 201
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 201
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/201/mode/1up
    201
    بہتؔ کچھ لکھا ہے جس سے ہم ناخوش ہیں۔ مرزا صاحب کے مرید امرتسر میں بھی ہیں معلوم نہیں کہ کس قدر ہیں۔ میں قطب الدین۔ یعقوب اخبار نویس اور ایک اور شخص مریدان سے واقف ہوں۔ یہ معلوم نہیں کہ عبداللہ آتھم نے سانپ فیروزپور والے کو بچشم خود دیکھا تھا یا نہ۔ میں نے دو دفعہ بندوق عبداللہ آتھم پر چلتے نہیں دیکھی رائے میّاداس اکسٹرا اسسٹنٹ نے ہم سے ذکر کیا تھا۔ مکان میں آدمیوں کے داخل ہونے کی بابت بھی رائے میّاداس نے کہا تھا۔ ان حملوں کی بابت پولیس میں معلوم نہیں کہ کوئی رپٹ دی گئی تھی یا نہ یا کوئی استغاثہ
    ہوا لیکن روحانی سختی کشی کا حصہ ہنوز باقی تھا۔ سو وہ حصہ ان دنوں میں مجھے اپنیؔ قوم کے مولویوں کی بدزبانی اور بدگوئی اور تکفیر اور توہین اور ایسا ہی دوسرے جہلاء کے دشنام اور دل آزاری سے مل گیا۔ اور جس قدر یہ حصہ بھی مجھے ملا میری رائے ہے کہ تیرہ سو برس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کم کسی کو ملا ہوگا۔ میرے لئے تکفیر کے فتوے طیّارہو کر مجھے تمام مشرکوں اور عیسائیوں اور دہریوں سے بدتر ٹھہرایا گیا اور قوم کے سفہاء نے اپنے اخباروں اور رسالوں کے ذریعہ سے مجھے وہ گالیاں دیں کہ اب تک مجھے کسی دوسرے کے سوانح میں ان کی نظیر نہیں ملی۔ سو میں اللہ تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں کہ دونوں قسم کی سختی سے میرا امتحان کیا گیا۔
    اور پھر جب تیرھویں صدی کا اخیر ہوا اور چودھویں صدی کا ظہور ہونے لگا۔ تو خداتعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے مجھے خبر دی کہ تو اس صدی کا مجدّد ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ الرحمٰن عَلّم القران لِتُنذر قومًا مَا اُنذِرَ آباء ھُم وَ لتستبین سبیل المُجرمین۔ قل انّی اُمِرْتُ وَ انا اوّل المُؤْمنین۔ یعنی خدا نے تجھے قرآن سکھلایا اور اس کے صحیح معنے تیرے پر کھول دئیے۔ یہ اس لئے ہوا کہ تا تو ان لوگوں کو بد انجام سے ڈراوے کہ جو
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 202
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 202
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/202/mode/1up
    202
    کیا گیا تھا۔ اگر ؔ کوئی استغاثہ ہوتا تو ضروری نہ تھا کہ ہم کو اطلاع ہوتی۔ عبدالرحیم حکمت کا کام کرتا ہے اور پریم داس ہمارا واعظ ہے۔ عبدالرحیم آٹھ نو ماہ سے ہمارے ماتحت ہے اور پریم داس 3 سال سے ۔سوال۔ کس نے آپ کو مخفی طور پر اطلاع دی تھی کہ مرزا صاحب سے خبردار رہو۔ جواب۔ ہم اس سوال کا جواب دینے کے قابل نہیں ہیں۔ سوال۔ کسی ہندو آریہ یا مسلمان یا عیسائی یا سرکاری افسر نے آپ کو خبردار کیا؟ جواب۔ اس
    سوال کا جواب
    بباعث پشت در پشت کی غفلت اور نہ متنبّہ کئے جانے کے غلطیوں میں پڑ گئے اور تا ان مجرموں کی راہ کھل جائے کہ جو ہدایت پہنچنے کے بعد بھی راہ راست کو قبول کرنا نہیں چاہتے ان کو کہہ دے کہ میں مامور من اللہ اور اوّل المومنین ہوں۔ اورؔ یہ الہام براہین احمدیہ میں چھپ چکا ہے جو انُ ہی دنوں میں جس کو آج اٹھارہ سال کا عرصہ ہوا ہے میں نے تالیف کر کے شائع کی تھی۔ اس کتاب کے الہامات پر نظر غور ڈالنے سے ہر ایک کو معلوم ہو جائے گا کہ خدا نے کیوں اور کس غرض سے مجھے اس خدمت پر مامور کیا۔ اور کیا حالت موجودہ زمانہ کی اور صدی کا سر اس بات کو چاہتا تھا یا نہیں کہ کوئی شخص ایسے غربت اسلام کے زمانہ اور کثرت بدعات اور سخت بارش بیرونی حملوں کے دنوں میں خداتعالیٰ کی طرف سے تائید اور تجدید دین کے لئے آوے۔
    اور اس جگہ یہ بات بھی ذکر کرنے کے لائق ہے کہ براہین احمدیہ کے زمانہ تک اس ملک کے اکثر علماء میرے دعوئ مجدّد ہونے کی تصدیق کرتے تھے اور کم سے کم یہ کہ نہایت حسن ظن سے میرے الہامات پر بڑے بڑے سخت متعصبوں کو بھی کوئی جرح نہ تھی۔ اور اکثر ان میں سے بڑی خوشی سے کہتے تھے کہ خدا نے اسلام کے لئے چودھویں صدی کو مبارک کیا کہ اپنی طرف سے ایک مجدّد بھیجا اور بعض نے ان میں سے نہایت اخلاص سے براہین احمدیہ کا ریویو بھی لکھا اور اس میں اس قدر میری تعریف کی کہ جس قدر ایک انسان کسی کامل درجہ کے راستباز اور پاک باطن اور خدارسیدہ
    * تیرہ چودہ سال سے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 203
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 203
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/203/mode/1up
    203
    بھی دینے سے معذور ؔ ہوں۔ لیکھرام عیسوی مذہب کے خلاف تھا۔ اس کی تحریریں برخلاف عیسائی مذہب کے ہم نے دیکھی ہیں شاید ایک دیکھی ہے وہ اچھا آدمی تھا گو اس کی اور میری رائے کا خلاف تھا۔ لیکھرام عیسائی مذہب پر حملہ کیا کرتا تھا۔ جہاں تک مجھ کو علم ہے لیکھرام کی ذات کے برخلاف کوئی عیسائی نہ تھا۔ سوال۔ آپ کو معلوم ہے کہ بعض آریہ جس فریق کا لیکھرام نہ تھا اور پرانے عقائد کے ہندو اور مسلمان لوگ لیکھرام کے برخلاف تھے۔ جواب۔ میں نہیں بتلا سکتا میں اخبار عام۔ سماچار۔ ٹریبیون۔ پایونیر اخبارات کو نہیں دیکھا کرتا۔ ستیارتھ پرکاش کتاب ہم نے دیکھی ہے مگر پڑھی نہیں۔ ہم کو علم نہیں ہے کہ لیکھرام کے برخلاف دہلی
    اور ہمدرد اسلام کی تعریف کر سکتا ہے۔ حالانکہ اُس مولوی صاحب کو یہ بھی معلوم تھا کہ براہین احمدیہ میں وہ الہام بھی ہیں جن میں خداتعالیٰ نے میرا نام عیسیٰ اور مسیح موعود رکھا ہے۔ غرض اس وقت تک کہ تصریح کے ساتھ میری طرف سے دعویٰ ؔ مسیح موعود ہونے کا نہیں ہوا تھا اور صرف مجدّد چودھویں صدی ہونا عام لوگوں میں مشہور تھا کوئی بڑی مخالفت علماء کی طرف سے نہیں ہوئی بلکہ اکثر ان میں مصدق اور مطیع رہے۔ مگر اس دعویٰ مسیحیّت کے وقت میں عجب طور کا شور علماء میں پھیلا اور ان میں سے اکثر لوگوں نے انواع اقسام کی خیانت سے عوام کو دھوکہ دیا اور بعض نے ان میں سے میری تکفیر کے بارے میں استفتاء طیار کیا اور بڑی کوشش کر کے صدہا کم فہم اور موٹی عقل والے لوگوں کے اُس پر دستخط کرائے۔ مگر جیسا کہ پہلے آثار نبویہ میں لکھا گیا تھا کہ ’’اُس آنے والے امام موعود کی تکفیر ہوگی‘‘ اس پیشگوئی کو پورا کیا کیونکہ ان پاک نوشتوں کا پورا ہونا ضروری تھا۔ اور تعجب کہ مسیح موعود ہونے کے دعوے میں کوئی ایسی نئی بات نہیں تھی کہ جو براہین احمدیہ میں اس وقت سے اٹھارہ برس پہلے درج نہیں ہو چکی تھی۔ مگر پھر بھی نادان مولویوں نے اس دعوے پر بڑا شور برپا کیا۔ آخر ان کی فتنہ انگیزیوں کا یہ نتیجہ ہوا کہ گھر گھر میں عداوت پڑ گئی مسلمانوں کا ایک گروہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 204
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 204
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/204/mode/1up
    204
    بمبئی۔ؔ ملتان۔ پشاور میں نالشات ہوئی تھیں یا نہ۔ عبداللہ آتھم کی بابت پیشگوئی اس کی درخواست پر نہیں کی گئی تھی۔ مرزا صاحب نے زبردستی یہ پیشگوئی کی تھی۔ عبداللہ آتھم کی تحریر کو ہم پہچانتے ہیں۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ اور لوگوں کے برخلاف درخواست یا بلا درخواست پیشگوئیاں مرزا صاحب نے کی تھیں۔ میں اپنے اصلی باپ کا نام نہیں جانتا۔ میں ہمیشہ سے عیسائی ہوں۔ ہم نے کبھی عبدالحمید سے نہیں کہا تھا کہ مرزا صاحب کا ایک مرید قادیاں سے آیا ہے اس سے حال تمہارا دریافت کرتے ہیں۔ (بسوال لالہ رام بھج وکیل استغاثہ) ہسپتال میں اور بھی متلاشی بھیجے جاتے ہیں۔ عبدالحمید اپنا حال جہلم کا پیشی سے پہلے مقبل ہوگیا تھا اور اس نے اقبال لکھ دیا تھا۔ مولوی نور الدین مرزا صاحب کے ساتھ مل کر قتل کے مشورہ میں شامل ہے۔ میں لالہ رام بھج کو ۸۱۲بجے رات کے کل ملا تھا۔ اور فقط مقدمہ کا حال پوچھتے رہے تھے۔ سنایا گیا درست تسلیم ہوا۔ دستخط حاکم
    میرے ساتھ ہوگیا اور ایک گروہ کج فہم مولویوں کے پیچھے لگا اور ایک گروہ ایسا رہا کہ نہ موافق اور نہ مخالف۔ اور اگرچہ ہمارا گروہ ابھی بکثرت دنیا میں نہیں پھیلا لیکن پشاور سے لیکر بمبئی اور کلکتہ اور حیدر آباد دکن اور بعض دیار عرب تک ہمارے پیرو دنیا میں پھیل گئے۔ پہلے یہ گروہ پنجاب میں بڑھتا پھولتا گیا اور اب میں دیکھتا ہوں کہ ہندوستاؔ ن کے اکثر حصوں میں ترقی کر رہا ہے۔ ہمارے گروہ میں عوام کم اور خواص زیادہ ہیں۔ اس گروہ میں بہت سے سرکار انگریزی کے ذی عزت عہدہ دار ہیں۔ جو ڈپٹی کلکٹر اور اکسٹرا اسسٹنٹ اور تحصیلدار وغیرہ معزز عہدوں والے آدمی ہیں ایسا ہی پنجاب اور ہندوستان کے کئی رئیس اور جاگیردار اور اکثر تعلیم یافتہ ایف ا ے۔ بی اے۔ اور ایم اے اور بڑے بڑے تاجر اس جماعت میں داخل ہیں۔ غرض ایسے لوگ جو عقل اور علم اور عزت اور اقبال رکھتے تھے یا بڑے بڑے عہدوں پر سرکار انگریزی کی طرف سے مامور تھے یا رئیس اور جاگیردار اور تعلقہ دار اور نوابوں کی اولاد تھے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 205
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 205
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/205/mode/1up
    205
    نقلؔ تتمہ بیان ڈاکٹر کلارک بصیغہ فوجداری اجلاسی کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر
    مرجوعہ
    فیصلہ
    نمبر بستہ
    نمبر مقدمہ
    ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور
    ۹؍ اگست ۷ ۹ء
    متدائرہ
    از محکمہ
    ۳۳
    سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب بنام میرزا غلام احمد قادیانی جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری
    تتمہ بیان ڈاکٹر کلارک باقرار صالح۔ ۱۳؍اگست ۹۷ء ؁
    ہمارے والد کلارک صاحب نے ہم کو اطلاع دی تھی کہ خبردار رہو مرزا صاحب نقصان پہنچائیں گے۔ کل ہم نے جواب مصلحتًا نہیں دیا تھا۔ ڈاکٹر کلارک سنایا گیا درست ہے دستخط حاکم
    دستخط حاکم
    15/8/97
    مہر عدالت
    اور یا ہندوستان کے قطبوں اور غوثوں کی نسل تھے جن کے بزرگوں کو لاکھوں انسان اعلیٰ درجہ کے ولی اور قطب وقت سمجھتے تھے وہ لوگ اس جماعت میں داخل ہوئے اور ہوتے جاتے ہیں۔ غرض اللہ تعالیٰ کے فضل اور قدرت نے مولویوں کو ان کے ارادوں سے نامراد رکھ کر ہماری جماعت کو فوق العادت ترقی دی ہے اور دے رہا ہے۔ وہ لوگ جو درحقیقت پارسا طبع اور خداترس اورؔ نوع انسان سے ہمدردی کرنے والے اور دین کی ترقی کے لئے بدل و جان کوشش کرنیوالے اور خداتعالیٰ کی عظمت کو دل میں بٹھانے والے اور عقلمند اور ذی فہم اور اولوالعزم اور خدا اور رسول سے سچی محبت رکھنے والے ہیں وہ اس جماعت میں بکثرت پائے جائیں گے۔ میں دیکھتا ہوں کہ خداوند کریم اس بات کا ارادہ کر رہا ہے کہ اس جماعت کو بڑھاوے اور برکت دے اور زمین کے کناروں تک سعادت مند انسانوں کو کھینچ کر اس میں داخل کرے۔
    اس جگہ اس بات کا لکھنا فائدہ سے خالی نہ ہوگا کہ میرا یہ دعویٰ کہ میں مسیح موعود ہوں ایک ایسا دعویٰ ہے جس کے ظہور کی طرف مسلمانوں کے تمام فرقوں کی آنکھیں لگی ہوئی تھیں اور احادیث نبویہ کی متواتر پیشگوئیوں کو پڑھ کر ہر ایک شخص اس بات کا منتظر تھا کہ کب وہ بشارتیں ظہور میں آتی ہیں۔ بہت سے اہل کشف نے خداتعالیٰ سے الہام پاکر خبر دی تھی کہ وہ مسیح موعود چودھویں صدی
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 206
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 206
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/206/mode/1up
    206
    نقلؔ بیان عدالت فوجداری باجلاس کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر ضلع گورداسپور
    مرجوعہ
    فیصلہ
    نمبر بستہ
    نمبر مقدمہ
    ۹؍ اگست ۷ ۹ء
    زیر تجویز
    از محکمہ
    ۳۳
    سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری بنام مرزا غلام احمد قادیانی
    بیان مرزا غلام احمد بلا حلف ۱۳؍ اگست ۹۷ء ؁
    ہم نے کبھی پیشگوئی نہیں کی کہ ڈاکٹر کلارک صاحب مر جائیں گے۔ ہرگز ہمارا منشا کسی لفظ سے یہ نہ تھا کہ صاحب موصوف مر جاویں گے۔ عبداللہ آتھم کی بابت ہم نے شرطیہ پیشگوئی کی تھی کہ اگر رجوع بحق نہ کرے گا تو مر جاوے گا۔ عبداللہ آتھم صاحب کی درخواست پر پیشگوئی صرف اس کے واسطے کی تھی۔ کل متعلقین مباحثہ کی بابت پیشگوئی نہ تھی۔ لیکھرام کی درخواست پر اس کے واسطے بھی پیشگوئی کی گئی تھی۔ ہم نے کی تھی چنانچہ پوری ہوئی۔
    سنایا گیا درست ہے۔ سب بیان درست درج ہوا ہے۔ دستخط حاکم
    15/8/97
    مہر عدالت
    کے سر پر ظہور کرے گا۔ اور یہ پیشگوئی اگرچہ قرآن شریف میں صرف اجمالی طور پر پائی جاتی ہے۔ مگر احادیث کے رو سے اس قدر تواتر تک پہنچی ہے کہ جس کا کذب عندالعقل ممتنع ہے۔ اگر تواتر کچھ چیز ہے تو کہہ سکتے ہیں کہ اسلامی پیشگوئیوں میں سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلیں کوئی ایسی پیشگوئیؔ نہیں جو اس درجہ تواتر پر ہو جیسا کہ اس پیشگوئی میں پایا جاتا ہے ۔ جس شخص کو اسلامی تاریخ سے خبر ہے وہ خوب جانتا ہے کہ اسلامی پیشگوئیوں میں سے کوئی ایسی پیشگوئی نہیں جو تواتر کے رو سے اس پیشگوئی سے بڑھ کر ہو۔ یہاں تک کہ علماء نے لکھا ہے کہ جو شخص اس پیشگوئی کا انکار کرے اس کے کفر کا اندیشہ ہے۔ کیونکہ متواترات سے انکار کرنا گویا اسلام کا انکار ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ باوجود اس تواتر کے ہمارے زمانہ فیج اعوج کے علماء نے اس پیشگوئی کے صحیح صحیح معنے سمجھنے میں بڑا دھوکہ کھایا ہے اور بباعث سخت غلط فہمی کے اپنے عقیدہ میں قابل شرم تناقضات جمع کرلئے ہیں۔ یعنی ایک طرف تو قرآن شریف پر ایمان لا کر اور احادیث صحیحہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 207
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 207
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/207/mode/1up
    207
    نقلؔ بیان گواہ مشمولہ مثل اجلاسی کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر بہادر ضلع گورداسپور
    سرکار بذریعہ ہنری مارٹن کلارک ڈاکٹر مشنری امرتسر بنام مرزا غلام احمد سکنہ قادیاں
    مستغیث جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری مستغاث علیہ
    بیان گواہ استغاثہ باقرار صالح
    عبدالحمید ولد سلطان محمود ساکن جہلم ذات گکھڑ عمر معہ نمبر3۱۷ سال بیان کیا:۔
    میں اب متلاشی عیسائی ہوں پہلے محمدی تھا۔ میں عیسائی لوگوں کے پاس گجرات میں گیا تھا چار ماہ ہوئے ہیں۔ اس وقت مرزا صاحب سے میری واقفیت نہ تھی۔ مونگ رسول رلیف ورکس پر جان محمد بابو کے تحت میٹ تھا۔ دو تین ماہ عیسائیوں کے پاس گجرات میں رہا تھا۔ وہاں محمدی لوگوں نے مجھے بدلا لیا تھا۔ اس لئے گجرات میں چلا آیا تھا۔ مرزا صاحب کے بہت مرید گجرات میں ہیں۔ انہوں نے مجھے قادیان میں بھیجا۔ جب میں وہاں گیا میرا چچابرہان الدین اس وقت قادیاں میں نہ تھا۔ مجھے صلاح دی گئی تھی کہ جو شکوک تمہارے ہیں قادیاں جاکر رفع کرلو۔ مجھے مولوی نورالدین
    دستخط حاکم
    مہر عدالت
    کو تسلیم کر کے ان کو یہ ماننا پڑا کہ حضرت عیسیٰ درحقیقت فوت ہوگئے ہیں اور دوسری طرف یہ عقیدہ بھی انہوں نے رکھا کہ کسی زمانہ میں خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخر زمانہ میں نازل ہوں گے اور وہ آسمان پر زندہ موجود ہیں فوت نہیں ہوئے۔ اور پھر ایک طرف آنحضرت صلی ؔ اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء قرار دیا اور دوسری طرف یہ عقیدہ بھی رکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی ایک نبی آنے والا ہے یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو کہ نبی ہیں۔ اور ایک طرف یہ عقیدہ رکھا کہ مسیح موعود دجال کے وقت آئے گا اور دجال کا تمام روئے زمین پر بجز حرمین شریفین تسلط ہو جائے گا۔ اور دوسری طرف بموجب حدیث صحیح مرفوع متّصل صحیح بخاری اس بات کو بھی انہیں ماننا پڑا کہ مسیح موعود صلیب کے غلبہ کے وقت آئے گا یعنی اس وقت جبکہ عیسائی مذہب دنیا میں زور کے ساتھ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 208
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 208
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/208/mode/1up
    208
    اور مرزا صاحب نے سکھلایا تھا۔ قرآن کی تعلیم نہیں دی تھی۔ گجرات سے آکر صرف چار روز قادیاں میں مظہر رہا تھا۔ میں جہلم واپس چلا گیا تھا۔ اور چچا لقمان کے گھر میں جاکر رہا تھا۔ برہان الدین کے گھر نہیں گیا تھا۔ وہاں میرا چچا مولوی برہان الدین غازی ہے اور وہ مرزا صاحب کا مرید ہے دوسرؔ ا چچا میرا لقمان ہے مگر وہ مرید مرزا صاحب کا نہیں ہے۔ میری ماں نے بعد میرے والد کے مر جانے کے لقمان سے نکاح کر لیا ہوا ہے اور اس سے اولاد بھی ہے۔ میرے دونوں چچوں نے میری پرورش کی۔ دو تین دن جہلم رہ کر پھر میں قادیاں میں چلا آیا۔ مرزا صاحب مجھ سے بہت پیار کیا کرتے تھے۔ ایک روز ایک علیحدہ مکان میں مجھے لے گئے اور کہا کہ جاؤ امرتسر میں اور ڈاکٹر کلارک صاحب کو پتھر مار کر مار دے۔ میں نے کہا کہ میں کیوں یہ کام کروں۔ تو مرزا صاحب نے کہا کہ اگر دین محمدی پر ہو کر تم یہ قتل کرو گے تو تم مقبول ہو جاؤ گے۔ پہلے مجھے پڑھایا کرتے تھے پھر جب مجھے قتل کرنے کے واسطے مرزا صاحب نے کہا تو مجھے یہ کہا کہ اب تم چار پانچ روز مزدوری کرو تاکہ لوگ یہ کہیں کہ مزدوری کرتا آیا ہے اور پھر یہ کہا کہ جب تو جانے لگے تو ہم کو گالیاں نکال کر جاؤ۔ میں امرتسر چلا گیا اور ڈاکٹر صاحب مستغیث مقدمہ ھٰذا کے پاس گیا اور کہا کہ میں عیسائی ہونے آیا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب نے میری بڑی خاطر تواضع کی اور مجھے ہسپتال میں بھیج دیا۔ مجھے مرزا صاحب نے کہا تھا کہ پہلے اپنا نام رلارام بتلانا پھر عبدالمجید بتلانا کہ مسلمان ہوکر
    پھیلا ہوا ہوگا اور عیسائی طاقت اور دولت سب طاقتوں اور دولتوں سے بڑھی ؔ ہوئی ہوگی۔ اور پھر ایک طرف یہ عقیدہ رکھنا پڑا کہ مسیح اپنے وقت کا حاکم اور امام اور مہدی ہوگا۔ اور پھر دوسری طرف یہ عقیدہ رکھا کہ مسیح مہدی اور امام نہیں بلکہ مہدی کوئی اور ہوگا جو بنی فاطمہ میں سے ہوگا۔ غرض اس قسم کے بہت سے تناقضات جمع کر کے اس پیشگوئی کی صحت کی نسبت لوگوں کو تذبذب اور شک میں ڈال دیا۔ کیونکہ جو امر کئی تناقضات کا مجموعہ ہو ممکن نہیں کہ وہ صحیح ہو۔ پھر اہل عقل لوگ کیونکر اس کو قبول کر سکیں اور کیونکر اپنے جوہر عقل کو پیروں کے نیچے کچل کر اس ٹیڑھے طریق پر قدم ماریں۔ اسی وجہ سے حال کے ان نو تعلیم یافتہ لوگوں کو جو نیچر اور قانون
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 209
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 209
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/209/mode/1up
    209
    یہ نام حاصل کیا ہے۔ قریب ایک ماہ مَیں ڈاکٹر صاحب کے پاس امرتسر میں رہا۔ پہلے پانچ چھ روز امرتسر رہا۔ پھر بیاس پر رہا۔ کاغذ حرف H مشمولہ مثل میری قلم کا لکھا ہوا ہے جو بطور اقبال کے میں نے ڈاکٹر صاحب کو لکھ کر دیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب اس وقت موجود تھے جب میں نے لکھ کر دیا تھا۔ بیاس سے ایک خط میں نے مولوی نور الدین صاحب کو لکھا تھا کہ میں عیسائی ہو جاؤں گا۔ یہ سچا دین ہے محمدی دین سچا ؔ نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے مجھے کہا تھا کہ ایک مرید مرزا صاحب کا ہمارے پاس آیا ہے ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ اس کو عیسائی بنائیں یا نہ۔ جب مولوی نور الدین صاحب کو خط لکھا ڈاکٹر صاحب کو علم نہ تھا اور عیسائیوں کو بتلایا تھا۔ کاغذ حرف H کے لکھنے سے پہلے خط مولوی نور الدین صاحب کو لکھا تھا۔ بھگت رام اور ایک اور منشی جس کا نام یاد نہیں موجود تھے۔ جب میں نے خط مولوی نور الدین صاحب کو لکھا تھا وہ دیکھ رہے تھے۔ قریب ایک ماہ کے ہوا ہے کہ میں قادیاں سے روانہ ہو کر امرتسر مرزا صاحب کے پاس سے ڈاکٹر صاحب کے پاس گیا تھا۔ مولوی نور الدین کی طرف خط بھیجنے سے یہ مطلب تھا کہ ان کو معلوم ہو جائے کہ میں بیاس میں ہوں۔ جب قادیاں سے امرتسر گیا تھا ۰۴؍ کرایہ دیا تھا اور قادیاں میں ٹوکری اٹھانے کی اجرت میں ۱۲؍ مرزا صاحب نے مجھے دئیے تھے۔ میں نے عبداللہ آتھم کی بابت سنا ہوا ہے ان کو
    قدرت اور عقلی نظام کو واقعاتؔ کی صحت یا عدم صحت کے لئے ایک معیار قرار دیتے ہیں اس پیشگوئی سے باوجود اعلیٰ درجہ کے تواتر کے جو اس میں ہے انکار کرنا پڑا اور درحقیقت اگر اس پیشگوئی کے یہی معنے کئے جائیں کہ جو اس قدر تناقضات کو اپنے اندر رکھتے ہیں تو انسانی عقل ان تناقضات کی تطبیق سے عاجز آکر آخر اس پریشانی سے رہائی اسی میں دیکھتی ہے کہ اس پیشگوئی کی صحت سے بھی انکار کرے۔ سو یہی سبب تھا کہ نیچر اور عقل کے دلدادہ باوجود پیشگوئی کے اس قدر تواتر کے اس عظیم الشان پیشگوئی سے انکاری ہوگئے۔ لیکن افسوس کہ ان لوگوں نے بھی انکار کرنے میں بڑی شتاب کاری سے کام لیا ہے کیونکہ اخبار متواترہ سے کوئی عقلمند انکار نہیں کر سکتا اور جو خبر تواتر کےؔ درجہ پر پہنچ جائے ممکن نہیں کہ اس میں کذب کا شائبہ ہو۔ پس
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 210
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 210
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/210/mode/1up
    210
    دیکھا نہیں۔ ان پر حملہ کئے جانے کی بابت مجھے کوئی علم نہیں ہے کہ کب حملے ہوئے اور کیا کیا حملے ہوئے اور کس نے حملے کئے۔ جب میں پہلے ڈاکٹر صاحب کے پاس گیا تو میرا ارادہ مارنے کا تھا۔ بعد میں ارادہ بدل گیا۔ مجھے لقمان نے مرزا صاحب کے پاس نہیں بھیجا تھا اورنہ ڈاکٹر صاحب کے پاس بھیجا ہے۔ ہمارے خاندان میں کوئی رنج مولوی برہان الدین کے مرزا صاحب کا مرید ہوجانے سے نہیں ہے۔ لقمان اس وقت جہلم میں ہے اور برہان الدین کا پتہؔ نہیں ہے کہ کہاں ہے۔ (بسوال مستغیث کہا) کہ بھگت رام سے میری مراد بھگت پریم داس سے ہے۔ جس کی موجودگی میں خط مولوی نور الدین کو لکھا تھا۔ مرزا صاحب نے مجھے کہا تھا کہ جب موقعہ لگے ڈاکٹر صاحب (مستغیث) کو مار دینا اور ہمارے پاس چلے آنا پھر تمہیں کوئی نہ مارے گا۔ امرتسر جاکر ملاقات ڈاکٹر صاحب سے کرنے پر میرا ارادہ بدل گیا تھا۔ امرتسر جانے سے پہلے کبھی ڈاکٹر صاحب کو آگے نہیں دیکھا تھا اور نہ جان پہچان تھا۔ (بسوال مرزا صاحب) جب میں مرزا صاحب کا مرید ہوا تھا تو مرزا صاحب نے مجھے کہا تھا کہ کہو میں احمد کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتا ہوں اور کہا کہ پچھلے گناہوں کی معافی خدا سے چاہو اور آئندہ نماز پڑھو۔ قرآن پڑھو۔( (نوٹ) مرزا صاحب کہتے ہیں کہ ہم کو یاد نہیں ہے کہ گواہ ہمارا دست بیع ہوا تھا یا نہ) چھاپہ شدہ شرائط بیعت کی شرط چہارم مجھ کو وقت بیعت کے مرزا صاحب نے نہیں سنائی اور نہ سمجھائی تھی۔ حرف K
    طریق انصاف اور حق پرستی یہ تھا کہ خبر متواتر کو رد نہ کرتے۔ ہاں ان معنوں کو رد کر دیتے جو نادان مولویوں نے کئے جن سے کئی قسم کے تناقض لازم آئے اور کئی تناقض جمع بھی کرلئے اور درحقیقت یہ ناقص الفہم مولویوں کا قصور ہے جو انہوں نے ایک سیدھی اور صاف پیشگوئی کے ایسے معنے کر کے جو تناقضات کا مجموعہ تھے محقق طبع لوگوں کو بڑی پریشانی اور سرگردانی میں ڈال دیا۔ اب خداتعالیٰ نے اس کے سچے اور صحیح معنے کھول کر جو تناقضات اور نامعقولیت سے بالکل پاک ہیں ہر ایک انصاف پسند محقق کو یہ موقعہ دیا ہے کہ وہ اس خبر متواتر کو مان کر اس کے مصداق کی تلاش میںؔ لگ جائے اور خداتعالیٰ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 211
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 211
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/211/mode/1up
    211
    شامل مثل کیا گیا۔ سنایا گیا درست تسلیم ہوا۔ عبدالحمید بقلم خود
    گواہ نے بعد بیان کرنے کے عرض کی کہ چونکہ اس نے صاف صاف حالات بیان کر دئیے ہیں اس کو جان کا اندیشہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ وہ اپنی حفاظت میں اس کو رکھنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ گواہ کو اجازت ڈاکٹر صاحب کے پاس رہنے کی دی گئی۔ دستخط حاکم
    نقل ؔ تتمہ بیان مشمولہ مثل اجلاسی کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر بہادر ضلع گورداسپور
    مرجوعہ
    فیصلہ
    نمبر بستہ
    نمبر مقدمہ
    ۱۵؍ اگست ۷ ۹ء
    زیر تجویز
    ۳؍۳
    سرکار دولتمدار مستغیث جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری بنام مرزا غلام احمد سکنہ قادیاں مستغاث علیہ
    تتمہ بیان عبدالحمید باقرار صالح
    10/8/97
    قادیاں سے جہلم لقمان کے پاس صرف ملنے ملاقات کے واسطے مظہر گیا تھا اور کوئی کام نہ تھا۔
    کی صریح پیشگوئی سے انکار کر کے مکذبین میں داخل نہ ہو۔
    اس بیان کی تفصیل یہ ہے کہ اس زمانہ میں خداتعالیٰ نے چودھویں صدی کے سر پر مجھے مبعوث فرما کر اس پیشگوئی کی معقولیت کو کھول دیا اور ظاہر فرما دیا کہ مسیح کا دوبارہ دنیا میں آنا اسی رنگ اور طریق سے مقدر تھا جیسا کہ ایلیا نبی کا دوبارہ دنیا میں آنا ملاکی نبی کی کتاب میں لکھا گیا تھا۔ کیونکہ صحیفہ ملاکی میں اس بات کا بہ تصریح ذکر تھا کہ وہ مسیح موعود جس کا یہودیوں کو انتظار تھا وہ دنیا میں نہیں آئے گا جب تک کہ ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں نہ آلے۔ اگر ہمارے مخالفین میں سعادت اور حق جوئی کا مادہ ہوتا تو وہ ملاکی نبی کی اس پیشگوئی سے جس پر یہود اور نصاریٰ دونوں کا اتفاق ہے بہت فائدہ اٹھاتے۔ کیونکہ صحیفہ ملاکی کی ظاہر نص کے لحاظ سے ضرور کہنا پڑتا ہے کہ ایلیا اب تک دنیا میں واپس نہیں آیا۔ حالانکہ حضرت مسیح کو دنیا میں آئے ہوئے قریباًانیس سو برس کے ہوگیا۔ پس اگر جیسا کہ ملاکی کے ظاہر الفاظ سے نکلتا ہے جس پر علماء یہود آج تک بڑے زور سے جمے بیٹھے ہیں یہی صحیح ہے کہ ضرور مسیح سے پہلے ایلیا نبی کا بذاتہٖ
    * سہو کتابت سے 10-8-97 لکھا گیا ہے درست 15-8-97 ہے ۔ ناشر
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 212
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 212
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/212/mode/1up
    212
    دو تین روز وہاں رہا تھا۔ چالیس روپیہ چچا لقمان کے گھر سے پہلی دفعہ لے آیا تھا۔
    سنایا گیا درست ہے۔ عبدالحمید دستخط حاکم
    نقل ؔ تتمہ بیان عبدالحمید مشمولہ مثل فوجداری باجلاس کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپورہ
    مرجوعہ
    فیصلہ
    نمبر بستہ
    نمبر مقدمہ
    ۹؍ اگست ۷ ۹ء
    زیر تجویز
    از محکمہ
    ۴؍۳
    سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری بنام میرزا غلام احمد قادیانی
    تتمہ بیان عبدالحمید باقرار صالح بسوال عدالت
    ۲ بجے دن نماز ظہر کے وقت مرزا صاحب نے مجھے کہا تھا کہ جاؤ کلارک صاحب کو مارو۔ مسجد کے
    دستخط حاکم
    15/8/97
    مہر عدالت
    دوبارہ دنیا میں آنا ضروری ہے تو اس صورت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سچے نبی نہیں ٹھہر سکتے اور سچے اسی حالت میں ٹھہر سکتے ہیں کہ جب ایلیا نبی کے واپس آنے کی کوئیؔ تاویل کی جائے۔ یعنی یہ کہ ایلیا کے دوبارہ آنے سے کسی مثیل ایلیا کا آنا مراد لیا جائے اور وہ مثیل یوحنا تھا یعنی یحییٰ زکریا کا بیٹا۔ جیسا کہ یہی تاویل یہودیوں کے مطالبہ کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی کی اور اس تاویل سے جو ایک نبی کے منہ سے ثابت ہوئی صاف طور پر واضح ہوتا ہے کہ مسیح کا دنیا میں دوبارہ آنا بھی ایلیا کے دوبارہ آنے کی مانند ہے۔ اور ایک نظیر جو قائم ہو چکی ہے اس سے منہ پھیرنا اور ظاہری معنے کر کے کئی تناقضات کو اپنے عقیدہ میں جمع کرلینا یہ ان لوگوں کا کام ہے جن کو عقل اور فہم سے بہت ہی کم حصہ ملا ہے۔ پیشگوئیوں پر اکثرمجازات اور استعارات غالب ہوتے ہیں۔ اور اس سے زیادہ کوئی حماقت نہیں ہوگی کہ پیشگوئی کے کسی لفظ کو اس حالت میں بھی ظاہر پر حمل کیا جائے کہ جبکہ ظاہر پر حمل کرنے سے کئی تناقضات جمع ہو جاتے ہیں۔ اسی عادت سے تو یہود ہلاک ہوئے۔
    اور مسیح کے بارے میں ایسی ہی ایک اور پیشگوئی تھی کہ وہ بادشاہ ہوگا اور کافروں سے لڑے گا۔ سو یہودیوں نے اس سے بھی ٹھوکر کھائی کیونکہ حضرت مسیح کو ظاہری بادشاہت نہیں ملی۔ اسی واسطے اب تک یہودی کہتے ہیں کہ جو مسیح کے حق میں پیشگوئیاں تھیں آج تک
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 213
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 213
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/213/mode/1up
    213
    ساتھ کمرہ میں مرزا صاحب مجھے لے گئے اور کہا کہ ایک بات کہتا ہوں میں نے کہا دل و جان سے مانوںؔ گا۔ مرزا صاحب کے مکان میں وہ کمرہ ہے۔ امرتسر میں ایک شخص قطب الدین مرید مرزاصاحب کا ہے۔ مرزا صاحب نے بتلایا تھا کہ تم اس کے پاس جانا۔ میں سیدھا اس کے پاس گیا تھا۔ امرتسر کرموں کی ڈیوڑھی میں برتنوں کا کام کرتا ہے۔ آدھ گھنٹہ اس کے پاس ٹھہرا تھا۔ میں نے اس کو کہا تھا کہ مرزا صاحب نے مجھے کلارک صاحب کے قتل کے واسطے بھیجا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ اچھا جب تم یہ کام
    ایک حرف بھی ان میں سے پورا نہیں ہوا۔ یہی حجت یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آگے پیش کی تھی اور بار بار یہ جتلایا تھا کہ ؔ سچے مسیح سے پہلے ایلیا کا دوبارہ دنیا میں آنا ضروری ہے نہ یہ کہ کوئی اس کا مثیل آوے کیونکہ ملاکی نبی کی کتاب میں ایلیا نبی کا بذاتہٖ واپس آنا لکھا ہے۔ یہ نہیں لکھا کہ اس کا کوئی مثیل آوے گا‘‘۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان کو یہ جواب دیا کہ ایلیا نبی کے دوبارہ آنے سے مراد ان کے مثیل کا آنا ہے جو ان کی خُو اور طبیعت پر ہو۔ اور بیان کیا کہ وہ شخص یوحنا ذکریا کا بیٹا یعنی یحییٰ ہے۔ اور بادشاہی کی نسبت انہوں نے یہ تاویل کی تھی کہ میری آسمانی بادشاہت ہے زمینی نہیں ہے‘‘۔ اور ان تاویلوں کو یہودیوں نے نہایت بعید اور تکلفات رکیکہ سمجھا تھا اور اب تک یہی سمجھ رہے ہیں کیونکہ وہ اپنی کتابوں کے ظاہر الفاظ پر زور مارتے تھے اور بظاہر یہودی لوگ سچ پر معلوم ہوتے تھے اس لئے کہ وہ لوگ کتب مقدسہ کے نصوص صریحہ پیش کرتے تھے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تاویلات سے کام لیتے تھے جو رکیک اور خفیف معلوم ہوتی تھیں۔
    ہمارے علماء بڑے خوش قسمت ہوتے اگر وہ ایلیا کے دوبارہ آنے کے قصے کو یاد کر کے اس سے نصیحت پکڑتے اور حضرت عیسیٰ کے آسمان سے دوبارہ نازل ہونے کے وہی معنے کرتے جو خود حضرت عیسیٰ نے ایلیا نبی کے دوبارہ نازل ہونے کے معنے کئے ہیں۔ کاش وہ اس بات کو سوچتے کہ یہ راقم جو نزول مسیح کے معنے کرتا ہے وہ نئے معنے نہیں ہیں بلکہ وہی معنے ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے پہلے نکل چکے ہیں کیونکہ نزول مسیح ابن مریم کا ؔ مقدمہ نزول ایلیا نبی کے مقدمہ سے بالکل ہم شکل ہے۔ پس
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 214
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 214
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/214/mode/1up
    214
    کر چکو میرے پاس آنا میں قادیاں میں پہنچا دوں گا۔ ڈاکٹر صاحب کو مل کر اسی ؔ روز شام کو میں پھر واپس قطب الدین کے پاس گیا اور کہا کہ ڈاکٹر صاحب سے مل آیا ہوں۔ اس نے مجھے ڈاکٹر صاحب کی کوٹھی کا نشان و پتہ دیا تھا۔ مرزا صاحب مجھ سے بہت پیار کرتے تھے اور مجھ سے مٹھیاں بھروایا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہماری بات (قتل) یاد ہے۔ میں کہا کرتا تھا کہ ہاں یاد ہے ۔ مرزا صاحب نے کہا تھا کہ کلارک صاحب رحم دل ہیں جب تم جاؤ گے وہ پاس رکھ لیں گے۔ تم ان کے سونے اٹھنے بیٹھنے کے حالات دریافت کر کے جب موقعہ ملے پتھر مار کر یا اور طرح سے ہلاک
    جس حالت میں آج تک یہودیوں کی یہ تمنا پوری نہیں ہوئی کہ ایلیا نبی آسمان سے اترتا اور اسی وجہ سے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے منکر رہے تو ان مولویوں کی تمنا کیونکر پوری ہو سکتی ہے کہ کسی وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود آسمان سے نازل ہوگا۔ عقلمند وہ ہے جو دوسرے کے ٹھوکر کھانے سے عبرت پکڑے۔ یہودی جو حضرت عیسیٰ پر ایمان لانے سے بے نصیب رہے اس کی یہی وجہ وہ آج تک بیان کرتے ہیں کہ ان کو وہی ملاکی نبی کی پیشگوئی تاکیداً سنائی گئی تھی کہ جب تک ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں نہ آئے وہ مسیح نہیں آئے گا جس کا ان کو وعدہ دیا گیا تھا اور یہ بھی لکھا تھا کہ وہ مسیح بادشاہ کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ مگر یہ دونوں پیشگوئیاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر صادق نہ آئیں۔ اسی لئے یہودی آج تک اسی بات کو روتے ہیں کہ ہم کیونکر یسوع بن مریم کو مان لیں۔ حالانکہ نہ ایلیا نبی اس سے پہلے آیا اور نہ وہ بادشاہ کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اور بظاہر یہودی حق پر معلوم ہوتے ہیں کیونکہ ان کی کتابوں کے نصوص صریحہ سے یہی نکلتا ہے کہ درحقیقت مسیح سے پہلے ایلیا نبی آئے گا اور آخر مسیح بادشاہ ہوکر آئے گا۔
    غرض یہ ایک ایسا مقدمہ تھا کہ مسیح موعود کے نزول اور دوسری علامات کو اس مقدمہ نے صاف کر دیا تھا اور منصفوں کے لئے ایلیا نبی کے نزول کی طرز مسیح کے نزول کے لئے ایک تشفی بخش نظیر تھی۔ مگر تعصب انسان کو نابینا کر دیتا ہے۔ زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ صحیح بخاری میں صاف لکھا تھا کہ اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ یعنی وہ مسیح موعود
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 215
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 215
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/215/mode/1up
    215
    کر دینا۔ میرے باپ کا نام لقمان ہے۔ سلطان محمود غلطی سے لکھایا تھا۔ سلطان ؔ محمود کے ساتھ شادی مکرر میری ماں نے کی تھی۔ پہلے غلطی سے لکھایا ہے کہ لقمان سے شادی ہوئی تھی۔ سلطان محمود کی ایک لڑکی ہے۔ لقمان کا اور بیٹا ہے جو میرا بھائی ہے۔ ہم تین بھائی ہیں۔ میں نے بپتسمہ کبھی نہیں لیا متلاشی رہا تھا۔ مالاکنڈ میں فوج کے ساتھ نہیں گیا تھا۔ بوجہ کام نہ ہو سکنے کے مجھے برخاست کیا گیا تھا۔ جب واپس مالاکنڈ سے آیا متلاشی نہ تھا۔ محمدی تھا۔ دو سال کے قریب اس بات کو ہوئے ہیں۔ قادیان آنے سے پہلے سلطان محمود مجھ سے ناراض ہوا تھا۔
    اسی اؔ مت میں سے ہوگا۔ اور اسی طرح صحیح مسلم میں فَاَمَّکُمْ مِنْکُمْ لکھا تھا یعنی مسیح تم میں سے ایک امتی آدمی ہوگا اور تمہارا امام ہوگا۔ کیا یہ باتیں تسلی پانے کے لئے کافی نہ تھیں؟ کیا یہ امر تسلی بخش نہ تھا کہ قرآن نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا فوت ہو جانا بیان فرمایا؟ حدیثوں میں ان کی عمر ایک سو بیس برس لکھ کر یہ اشارہ فرمایا کہ وہ ۱۲۰ ؁ عیسوی میں ضرور فوت ہوگئے ہیں۔ توفّی کے معنے مارنا بیان فرمایا گیا اور آیت 3 ۱؂ نے صاف طور پر خبر دے دی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے اور وہ جھگڑا جو اس سے پہلے ہو چکا ہے جو یہود اور حضرت عیسیٰ میں ایلیا نبی کے نزول کے بارے میں تھا کوئی ایسا مسلمان نہیں کہ اس میں یہود کو سچا قرار دے۔ سو دنیا میں دوبارہ آنے کے معنے جو ایک نبی نے کئے وہی معنے ہم حضرت عیسیٰ کے نزول کے بارے میں کرتے ہیں۔ مگر ہمارے مخالف مولوی جو معنے کرتے ہیں ان کے پاس ان معنوں کی کوئی سند موجود نہیں۔
    اب سوچنا چاہئے کہ ہم تو اس عقیدہ کو پیش کرتے ہیں جس کی پہلی کتابوں میں نظیر موجود ہے اور جس کا قرآن مصدق ہے۔ اور ہمارے مخالف حضرت عیسیٰ کے نزول کے بارے میں اس عقیدہ کو پیش کرتے ہیں جس کی تمام انبیاء کے سلسلہ میں کوئی نظیر موجود نہیں اور قرآن اس کا مکذب ہے۔ پھر ہمارے مخالف جبکہ اس بحث میں عاجز آ جاتے ہیں تو افترا کے طور پر ہم پر یہ تہمت لگاتے ہیں کہ گویا ہم نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور گویا ہم معجزات اور فرشتوں کے منکر ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ یہ تمام افترا ہیں۔ ہمارا ایمان ہے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 216
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 216
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/216/mode/1up
    216
    اس نے نکالا نہ تھا۔ وہاں سے نہر پر چلا گیا تھا۔ بوجہ نہ کام کرنے کے سلطاؔ ن محمود ناراض ہوا تھا۔ برہان الدین اور سلطان محمود کا مذہبی تفرقہ ہے۔ برہان الدین مرزا صاحب کا مرید ہے۔ سلطان محمود نہیں ہے۔ اس بات سے ایک دوسرے کو بُرا سمجھتے ہیں۔ قادیاں میں جوبلی کے موقعہ پر میں نہ تھا۔ بعد میں آیا تھا۔ برہان الدین کو میں نے جب گیا وہاں دیکھا تھا۔ تین چار دفعہ مرزا صاحب نے قتل کی بابت مجھ سے ذکر کیا تھا کہ دین محمدی پر ہو کر قتل کرو گے تو مقبول ہو گے کیونکہ کلارک صاحب مخالف مذہب ہے۔ پانچوں وقت مرزا صاحب جب مسجد میں نماز کے واسطے آیا
    کہؔ ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلمخاتم الانبیاء ہیں اور ہم فرشتوں اور معجزات اور تمام عقائد اہل سنت کے قائل ہیں۔ صرف یہ فرق ہے کہ ہمارے مخالف اپنی جہالت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو حقیقی طور پر انتظار کرتے ہیں اور ہم بروزی طور پر جیسا کہ تمام متصوّفین کا مذہب ہے اور ہم مانتے ہیں کہ نزول مسیح کی پیشگوئی پوری ہوگئی۔
    رہی یہ بات کہ میرے اس دعویٰ مسیح ہونے پر دلیل کیا ہے تو واضح ہو کہ آثار صحیحہ سے یہ ثابت ہے کہ جو شخص عیسائیت کے فتنہ کے وقت عیسیٰ پرستی کے فتنہ کو دور کرنے کے لئے صدی کے سرپر بطور مجدّد کے ظاہر ہوگا اسی مجدّد کا نام مسیح ہے۔ پھر بعد اس کے احادیث کی غلط فہمی سے عوام نے یوں سمجھ لیا کہ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہو کر صدی کا مجدّد ہوگا اور صدی کے سر پر آئے گا اور اکثر علماء کی یہی رائے قائم ہوئی کہ وہ چودھویں صدی ہوگی۔ لیکن اس خیال میں غلطی یہ ہوئی کہ اصل منشاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ جس مجدّد کو اس امت کے مجدّدوں میں سے عیسائی حملوں کی مدافعت میں اسلام کی نصرت کرنی پڑے گی اس کا نام بلحاظ عیسائیت کی اصلاح کے مسیح ہوگا۔ مگر ان لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ خود مسیح کسی زمانہ میں آسمان سے اتر آئے گا حالانکہ یہ صریح غلطی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فصیح اور پُرحکمت بیان میں یہ غیر موزوں اور بے تعلق اور
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 217
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 217
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/217/mode/1up
    217
    کرتے تھے میں مٹھیاں بھرتا تھا۔ اور وہ مجھ سے پیار کیاؔ کرتے تھے۔ مرزا صاحب نے کہا تھا کہ ۲۰، ۳۰ ثار کا پتھر اٹھا کر سوتے وقت یا اور موقعہ پا کر کلارک صاحب کو مارنا اور مار دینا۔ میں نے یہ سب حال قطب الدین کو بتلایا تھا۔ اور اس نے کہا تھا کہ بیشک تو یہ کام کر اورمیرے پاس چلا آ۔ (بسوال عدالت) اس وقت برہان الدین اور سلطان محمودمجھ سے ناراض ہیں کہ میرا روپیہ و جائداد ان کے پاس ہے اور وہ دینا نہیں چاہتے۔ مولوی نور الدین کے پاس اس واسطے خط بھیجا تھا کہ مرزا صاحب اور وہ ایک ہی ہیں۔ جب میں امرتسر ہسپتال میں تھا میرا کوئی تعلق قطب الدین سے نہیں رہا تھا اور نہ کسی کے پاس میں نے کوئی خط لکھا تھا۔ خط 3 *میں نے بیاس میں
    غیر ؔ معقول بات ہرگز مقصود نہ تھی کہ ایک نبی جو اپنی زندگی کے دن پورے کر کے عادۃ اللہ کے موافق خداتعالیٰ اور نعیم آخرت کی طرف بلایا گیا پھر وہ اس دار تکالیف اور دارالفتن میں بھیجا جائے گا اور وہ نبوت جس پر مہر لگ چکی ہے اور وہ کتاب جو خاتم الکتب ہے فضیلت ختمیت سے محروم رہ جائے گی۔ بلکہ نہایت لطیف استعارہ کے طور پر یہ پیشگوئی کی گئی کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ جب عیسائی لوگ اپنی مخلوق پرستی اور صلیب کے باطل خیالات میں انتہا درجہ کے تعصب تک پہنچ جائیں گے اور اپنی کمال تحریف اور دجل کی وجہ سے مسیح دجّال ہو جائیں گے تب خداتعالیٰ اپنی رحمت سے ان کی اصلاح کے لئے ایک آسمانی مسیح پیدا کرے گا جو دلائل شافیہ سے ان کی صلیب کو توڑدے گا۔
    اس پیشگوئی کے سمجھنے میں اہل عقل اور تدبر کرنے والوں کے لئے کچھ بھی دقت نہ تھی کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ مقدسہ ایسے صاف تھے کہ خود اس مطلب کی طرف رہبری کرتے تھے کہ ہرگز اس پیشگوئی میں نبی اسرائیلی کا دوبارہ دنیا میں آنا مراد نہیں ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار فرما دیا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے اپنی آیت کریمہ
    * غالباً یہ صرف J ہے جو کاتب نے الٹا لکھ دیا ہے۔ ناشر
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 218
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 218
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/218/mode/1up
    218
    ڈاکٹر صاحب کو لکھا تھا۔ (بسوال وکیل ملزم) لقمان جبؔ میں چھ سال کی عمر کا تھا مرگیا تھا۔ میں نے 3روپیہ بغیر علم سلطان محمود کے گھر سے لئے تھے۔ گھر والی عورتوں کو اطلاع کر دی تھی اور نہر پر چلا گیا تھا۔ میرے دو بھائی اور محمد کامل و محمد عالم گھر پر ہیں۔ میں نے محمد عالم کا زیور نہیں لیا۔ اس نے جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ اس کے پاس میرا روپیہ تھا۔ پانچ چھ سال کی بات ہے۔ باپ کی زمین پر دوسرے بھائی میرے قابض ہیں۔ حصہ پیداوار لیتا ہوں وہ میری طرف سے کاشت کرتے ہیں۔ جائداد کی وجہ سے اور سوتیلے بھائی ہونے کی وجہ سے مجھ سے خفا رہتے ہیں۔
    سات ماہ سے جہلم سے نکلا ہوا ہوں۔ برہان الدین کا لڑکا محمد کامل کی لڑکی سے منسوب ہے
    ۱؂سے بھی اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ فی اؔ لحقیقت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔ پھر کیونکر ممکن تھا کہ کوئی نبی نبوت کے حقیقی معنوں کے رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تشریف لاوے۔ اس سے تو تمام تار و پود اسلام درہم برہم ہو جاتا تھا۔ اور یہ کہنا کہ ’’حضرت عیسیٰ نبوت سے معطل ہو کر آئے گا‘‘۔ نہایت بے حیائی اور گستاخی کا کلمہ ہے۔ کیا خداتعالیٰ کے مقبول اور مقرب نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے اپنی نبوت سے معطّل ہو سکتے ہیں؟ پھر کون سا راہ اور طریق تھا کہ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آتے۔ غرض قرآن شریف میں خداتعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام خاتم النبیین رکھ کر اور حدیث میں خود آنحضرت نے لا نَبِیّ بَعْدِی فرما کر اس امر کا فیصلہ کر دیا تھا کہ کوئی نبی نبوت کے حقیقی معنوں کے رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آ سکتا اور پھر اس بات کو زیادہ واضح کرنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرما دیا تھا کہ آنے والا مسیح موعود اسی امت میں سے ہوگا۔ چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ اور صحیح مسلم کی حدیث فامّکم منکم جو عین مقام ذکر مسیح موعود میں ہے صاف طور پر بتلا رہی ہے کہ وہ مسیح موعود اسی امت میں سے ہوگا۔!!!
    پھر دوسرا فیصلہ کہ جو اس بارے میں قرآن اور حدیث نے کر دیا یہ موجود تھا کہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 219
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 219
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/219/mode/1up
    219
    برہان الدین بھی میرے سے دشمنی کرتا ہے۔ برہان الدین اور سلطانؔ محمود الگ الگ مسجدوں میں ہیں۔ جہلم سے پہلے پہل مونگ رسول گیا تھا۔ پادری ڈال گئی صاحب کے پاس گجرات میں رہا تھا۔ گجرات میں پادری صاحب کے پاس تین چار ماہ رہا تھا۔ وہاں بائبل پڑھی تھی۔ اس وقت مذہب عیسائی پسند آیا تھا۔ چال چلن کی وجہ سے بپتسمہ نہیں ملا تھا۔ کیونکہ میں محمدی لوگوں کو پسند کرتا تھا۔ پادری صاحب نے ایک آدمی اللہ دتا عیسائی میرے ساتھ کیا تھا اور کہا تھاکہ پنڈی کا اس کو ٹکٹ لے دو۔ اور پنڈی جاوے۔ میں یوسف کو جانتا ہوں۔ اس کے پاس جانا تھا۔ اس
    لئے جاتا تھا۔ اللہ دتا میرے ہمراہ اسٹیشن پر نہیں آیا تھا۔ امیر الدین مرزا صاحب کا مرید مجھے
    قرآن شریف نے صاف صاف لفظوں میں فرما دیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو ؔ گئے ہیں۔ دیکھو آیت3۔۱؂ صاف ظاہر کر رہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاگئے ہیں اور صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور نیز حدیث نبوی سے اس بات کا ثبوت دے دیا ہے کہ اس جگہ توفّیکے معنے مار دینے کے ہیں۔ اور یہ کہنا بیجا ہے کہ ’’یہ لفظ توفیتنی جو ماضی کے صیغہ میں آیا ہے دراصل اس جگہ مضارع کے معنے دیتا ہے یعنی ابھی نہیں مرے بلکہ آخری زمانہ میں جا کر مریں گے‘‘۔ کیونکہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جناب الٰہی میں عرض کرتے ہیں کہ میری امت کے لوگ میری زندگی میں نہیں بگڑے بلکہ میری موت کے بعد بگڑے ہیں۔ پس اگر فرض کیا جائے کہ اب تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے تو ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ اب تک نصاریٰ بھی نہیں بگڑے۔ کیونکہ آیت میں صاف طور پر بتلایا گیا کہ نصاریٰ کا بگڑنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے بعد ہے اور اس سے زیادہ اور کوئی سخت بے ایمانی نہیں ہوگی کہ ایسی نص صریح سے انکار کیا جائے۔
    اب جس حالت میں قرآن شریف کے صاف لفظوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت ہی ثابت ہوتی ہے اور دوسری طرف قرآن شریف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام خاتم النبیین
    *حدیث میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا اور حلیہ تھا اور آنے والے مسیح موعود کا اور حلیہ۔ سو یہ دو مختلف حُلیے بتلا رہے ہیں کہ وہ مسیح اور تھا یہ اور ہے۔ دیکھو صحیح بخاری۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 220
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 220
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/220/mode/1up
    220
    مل گیا اور اس کے ہاتھ میں مظہر آگیا۔ اس نے مجھے قادیاں میںؔ بھیج دیا۔ اور کہا کہ اوّل لاہور شیخ رحمت اللہ کے پاس جاؤ۔ پھر قادیاں جانا۔ دوسرے تیسرے روز گجرات جانے کے بعد واقف ہوئے تھے۔ مجھے عیسائیوں نے نکال دیا تھا کرایہ راولپنڈی کا مجھے نہیں دیا۔ امیر الدین مجھے روز روز سمجھایا کرتا تھا کہ مرزا صاحب کے پاس جاؤ۔ وہ پڑھا ہوا ہے۔ جہلم اور گجرات میں اچھے اچھے مولوی ہیں۔ مگر کسی سے میں نے اپنے شکوک کی بابت نہیں پوچھا۔ مہینہ ڈیڑھ ماہ سے سوزاک ہوگیا۔ زیادہ آم کھانے سے۔ کنجری بازی سے سوزاک نہیں ہوا۔ ڈنگہ میں عیسائی مذہب کی بابت لوگوں کو میں مسائل بتایا کرتا تھا۔ پہلے پہل قادیاں میں جوبلی سے ماہ ڈیڑھ ماہ پہلے گیا تھا۔ پانچ چھ دن وہاں رہا تھا۔ پھر لاہور اور وہاں سے جہلم گیا تھا۔ راستہ میں گجرات بھی ٹھہرا تھا۔ پادری صاحب کے پاس گیا تھا اور کہا تھا کہ قادیاں مرزا صاحب کے پاس سے ہو کر آیا ہوں مجھ سے محبت پیار کرتے تھے۔ پہلی دفعہ مرزا صاحب نے قتل کی بابت کچھ نہیں کہا تھا۔ گجرات کے پادری صاحب ناراض ہوئے تھے کہ کیوں قادیاں گئے ہو۔ میں نے کہا کہ میں بھول گیا معاف کرو۔
    رکھتا ہے اور حدیث ان دونوں باتوں کی مصدق ہے۔ اور ساتھ ہی حدیث نبوی یہ بھی بتلا رہی ہے کہ آنے والا مسیح اس امت میں سے ہوگا گو کسی قوم کا ہو۔ تو اؔ س جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ باوجودایسی نصوص صریح کے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات اور آنے والے مسیح کے امتی ہونے پر دلالت کرتی تھیں پھر کیوں اس بات پر اجماع ہوگیا کہ درحقیقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں آسمان سے اتر آئیں گے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس امر میں جو شخص اجماع کا دعویٰ کرتا ہے وہ سخت نادان یا سخت خیانت پیشہ اور دروغ گو ہے۔ کیونکہ صحابہ کو اس پیشگوئی کی تفاصیل کی ضرورت نہ تھی وہ بلاشبہ بموجب آیت فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ اس بات پر ایمان لاتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ تبھی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت اس بات کا احساس کر کے کہ بعض لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میں شک رکھتے ہیں زور سے یہ بیان کیا کہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 221
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 221
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/221/mode/1up
    221
    اور مجھے رکھو۔ انہوں نے کہا کہ گھر جاؤ اور بائبلؔ پڑھو۔ مجھ کو رکھا نہ تھا۔ پھر میں جہلم چلا گیا۔ اس واسطے کہ میرا چچا میرے عیسائی ہونے سے ناراض تھا۔ مرزا صاحب نے میرے شکوک رفع کر دئیے تھے۔ چچا کو راضی کرنے کے واسطے گیا تھا۔ پھر دوبارہ جوبلی کے دوچار روز بعدمیں مظہر قادیاں گیا تھا کہ مرزا صاحب نے پہلی دفعہ بیعت نہیں کیا تھا۔ ۱۷۔۱۸ یوم وہاں رہا۔ جانے کے دو روز بعد دست بیع مرزاصاحب سے ہوا۔ بہت سارے آدمی موجود تھے۔ حکیم نور الدین۔ حکیم فضل الدین وغیرہ قریب33 آدمی تھے۔ اوپر والی مسجد میں بیعت کی تھی۔ بیعت سے ۹۔۱۰ روز بعد مرزا صاحب زنانہ مکان کے بالاخانہ میں لے گئے تھے۔ جب ظہر کی نماز ہو چکی تو مرزا صاحب نے مجھے کہا کہ تم یہاں ٹھہرو۔ جب لوگ سارے چلے گئے تو دروازہ کی راہ سے مرزا صاحب مجھے اس کمرہ میں لے گئے۔ کوئی آدمی نہ تھے۔ اس وقت اوپر کے حصہ مسجد میں نہ تھا۔ اندر جاکر مجھے مرزا صاحب نے بٹھلا دیا اور کہا کہ تم امرتسر میں جاؤ اور اپنے آپ کو ہندو ظاہر کرنا اور کلارک صاحب کو پتھر مار کر مار دینا۔ میں نے اقرار کرلیا۔ اندر اس لئے
    کوئی بھی نبی زندہ نہیں ہے سب فوت ہوگئے۔ اور یہ آیت پڑھی کہ 33 ۱؂ اور کسی نے ان کے اس بیان پر انکار نہ کیا۔ پھر ماسوا اس کے امام ماؔ لک جیسا امام عالم حدیث و قرآن و متقی اس بات کا قائل ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں۔ ایسا ہی امام ابن حزم جن کی جلالت شان محتاج بیان نہیں قائل وفات مسیح ہیں۔ اسی طرح امام بخاری جن کی کتاب بعد کتاب اللّٰہ اصحّ الکتبہے، وفات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں۔ ایسا ہی فاضل و محدث و مفسر ابن تیمیہ و ابن قیّم جو اپنے اپنے وقت کے امام ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں۔ ایسا ہی رئیس المتصوفین شیخ محی الدین ابن العربی صریح اور صاف لفظوں سے اپنی تفسیر میں وفات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصریح فرماتے ہیں۔ اسی طرح اور بڑے بڑے فاضل اور محدث اور مفسر برابر یہ گواہی دیتے آئے ہیں اور فرقہ معتزلہ کے تمام اکابر اور
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 222
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 222
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/222/mode/1up
    222
    لے گئے تھے کہ شاید کوئی آدمی آ جاوے۔ روز روز کہتے تھے کہ وہ کام یاد ہے کہ نہ۔ اور تیار ہو کہ نہ۔ میں کہتا ؔ تھا کہ یاد ہے اور تیار ہوں۔ یہ اس وقت پوچھتے تھے جب میں مٹھیاں بھرا کرتا تھا۔ محبت بہت کرتے تھے جیسے باپ بیٹے سے۔ سر پر ہاتھ پھیرتے تھے۔ پانچوں وقت مٹھیاں بھرتا تھا۔ لوگ بھی بھرا کرتے تھے۔ مسجد میں مٹھیاں بھرتے تھے۔ غسل خانہ میں مٹھیاں نہیں بھرا کرتا تھا۔ وہ غسل خانہ نہانے اور پیشاب کرنے کی جگہ ہے۔ جس کمرہ بالا خانہ میں مجھے مرزا صاحب لے گئے تھے وہ بھی غسل خانہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ قریب ۱۸x۱۲ فٹ کا کمرہ ہے۔ ہر ایک کو نہ میں غسل کرنے کی جگہ بنائی ہوئی ہے۔ پکی جگہ نہیں ہے تختے لگائے ہوئے ہیں۔ اقبال حرف H میں نے خود لکھا تھا۔ کسی نے مسودہ نہیں بنایا تھا۔ پہلے ایک دفعہ لکھا صحیح نہ تھا۔ پھر دوبارہ صاف کر کے لکھا تھا۔ (نوٹ۔ گواہ سے ایک پرچہ پر نقل اقبال کرائی گئی۔ تین۳ جگہ تحریر میں ہجوں میں غلطی کی۔ جن پر نشان X کیا گیا ہے اور نشان حرف H لگایا گیا ہے)۔ گواہ۔ میں نے اس کمرہ کو غسل خانہ سمجھا تھا۔ روبروئے
    امام یہی مذہب رکھتے ہیں۔ پھر کس قدر افترا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمان پر جانا اور پھر واپس آنا اجماعی عقیدہ قرار دیا جائے۔ بلکہ یہ اس زمانہ کے عوام الناس کے خیالات ہیں جبکہ ہزارہا بدعات دین میں پیدا ہوگئی تھیں اور یہ وسط کا زمانہ تھا جسؔ کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فیج اعوج رکھا ہے۔ اور فیج اعوج کے لوگوں کی نسبت فرمایا ہے کہ لَیْسُوْا مِنِّیْ وَ لَسْتُ مِنْھُمْ یعنی نہ وہ مجھ سے ہیں اور نہ میں ان میں سے ہوں۔ ان لوگوں نے اس عقیدہ کو اختیار کرنے سے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر چلے گئے اور وہاں قریباً انیس سو برس سے زندہ بجسم عنصری موجود ہیں اور پھر کسی وقت زمین پر واپس آئیں گے قرآن شریف کی چار جگہ مخالفت کی ہے۔ اوّل یہ کہ قرآن شریف صریح لفظوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ظاہر فرماتا ہے جیسا کہ بیان ہوا اور یہ لوگ ان کے زندہ ہونے کے قائل
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 223
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 223
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/223/mode/1up
    223
    صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر امرتسر غسل خانہ کا لفظ نہیں لکھوایا تھا۔ صبح کی نماز پڑھ کر تھوڑا سا دن نکل آیا تھا جب قادیاں سے آیا تھا اسماعیل بیگ کے سالے کا یکہ شاید تھا۔ اسی روز ریل پر چڑھ کر امرتسر چلا گیا تھا۔ ۱۱؍ بجے وہاں پہنچا۔ سیدھا قطب الدین کے پاس گیا۔ آدھ گھنٹہ اس کے پاس ٹھہراؔ ۔ تاریخ نہیں بتلا سکتا۔ قطب الدین نے پتہ ڈاکٹر صاحب کے مکان کا دیا۔ کوٹھی پر میں جا ملا۔ ہال بازار مسجد میں سو رہا تھا۔ قریب تین بجے کے کوٹھی پر گیا تھا۔ دو آدمی میرے ساتھ نہ تھے۔ دس بارہ منٹ میں کوٹھی پر پہنچ گیا۔ اپنے دفتر کے کمرہ میں ڈاکٹر صاحب تھے۔ اوّل خانساماں کو ملا پھر بیرہ کو۔ اس نے صاحب کو اطلاع دی۔ مجھے اندر بلایا گیا۔ ایک سردار کسی کام کے واسطے وہاں کھڑا تھا۔ چٹھی لیکر چلا گیا تھا۔ اندر جاتے ہی میں نے کہا کہ میں متلاشی ہوں عیسائی ہونے آیا ہوں۔ صاحب نے پوچھا کہاں سے آیا ہے۔ میں نے کہا کہ قادیاں سے۔ پھر میں نے اپنا ہندونام رلارام بیان کیا اور سب حالات بیان کئے جو پہلے بیان کر چکا ہوں۔ مگر وہ سارا بیان جھوٹ تھا۔ میرے دل میں تھوڑا خیال ہوا تھا کہ میں قتل نہیں کروں گا۔ تین چار روز
    ہیں۔ دوسرے یہ کہ قرآن شریف صاف اور صریح لفظوں میں فرماتا ہے کہ کوئی انسان بجز زمین کے کسی اورجگہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ 33 ۱؂ یعنی تم زمین میں ہی زندہ رہو گے اور زمین میں ہی مرو گے اور زمین سے ہی نکالے جاؤ گے۔ مگر یہ لوگ کہتے ہیں کہ ’’نہیں اس زمین اور کرہ ہوا سے باہر بھی انسان زندہ رہ سکتا ہے۔ جیسا کہ اب تک جو قریباً انیسویں صدی گذرتی ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں‘‘۔ حالانکہ زمین پر جو قرآن کے رو سے انسانوں کے زندہ رہنے کی جگہ ہے باوجود زندگی کے قائم رکھنے کے سامانوں کے کوئی شخص انیس سو برس تک ابتدا سے آج تک کبھی زندہ نہیں رہا تو پھر آسمان پر انیس سو برس تک زندگی بسر کرنا باوجود اس امر کے کہ قرآن کے رو سے ایک قدر قلیل بھی بغیر زمین کے انسان زندگی بسر نہیں
    کر سکتا
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 224
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 224
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/224/mode/1up
    224
    کے بعد جب میں بیاس گیا تو میرا ارادہ قتل کا بدل گیا تھا۔ پانچ چھ روز میں امرتسر رہا تھا۔ امرتسر ہسپتال کے ڈاکٹر کے ماتحت میں کام کرتا تھا اور تعلیم پاتا تھا۔ زخموں کو دھویا کرتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب سوائے ایک روز کے روز بروز ملا کرتے تھے۔ دو دفعہ کوٹھی پر میں گیا تھا۔ اسی دفتر والے کمرہ میں مظہر ملا تھا۔ اسی طرح اکیلا ملا تھا جیسے کہ پہلے روز ملا تھا۔ ہر دفعہ ڈاکٹر صاحب پوچھتے تھے کہ تم کون تھے اور کہاں سے آئے ہو۔ میں نے پہلا بیان کر دیا تھا۔ کوئی خاص ارادہ سوائے اس کے کہ بائبل صاحب سے لینیؔ تھی اور نہ تھا۔ پہلی دفعہ کتاب مجھ کو دی گئی تھی مگر دوسری کی سی دوسری دفعہ کتاب مجھ کو دی گئی تھی۔ بیاس تعلیم کے واسطے ڈاکٹر صاحب نے بھیج دیا تھا اور ڈاکٹر صاحب نے کہا تھا کہ مولوی عبدالرحیم ڈرتا ہے کہ تم اس کو مار نہ ڈالو۔ اس لئے بیاس چلے جاؤ اور لوگ بھی کہتے ہیں کہ تم خون کرنے آئے ہو۔ سوائے قطب الدین کے میں نے کسی سے ذکر نہیں کیا تھا کہ میں قتل کرنے کے ارادہ سے آیا ہوں۔ سانون سنگھ بیاس میرے ساتھ گیا تھا۔ ایک ہفتہ اس جگہ رہا تھا۔ تین چار روز کے بعد میں نے مولوی نور الدین کو چٹھی لکھی تھی۔ ایک کوٹھی
    کس قدر خلاف نصوص صریح قرآن ہے جس پر ہمارے مخالف ناحق اصرار کر رہے ہیں۔ تیسرے ؔ یہ کہ قرآن شریف صاف فرماتا ہے کہ کسی انسان کا آسمان پر چڑھ جانا عادۃ اللہ کے مخالف ہے جیسا کہ فرماتا ہے 3 ۱؂ لیکن ہمارے مخالف حضرت عیسیٰ کو ان کے جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھاتے ہیں۔ چوتھے یہ کہ قرآن شریف صاف فرماتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں مگر ہمارے مخالف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خاتم الانبیاء ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو صحیح مسلم وغیرہ میں آنے والے مسیح کو نبی اللہ کے نام سے یاد کیا ہے وہاں حقیقی نبوت مراد ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جب وہ اپنی نبوت کے ساتھ دنیا میں آئے تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیونکر خاتم الانبیاء ٹھہر سکتے ہیں؟ نبی ہونے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 225
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 225
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/225/mode/1up
    225
    نئی بن رہی تھی وہاں میں نے چٹھی لکھی تھی۔ بھگت رام کے سامنے لکھی تھی۔ دو راج دو تین مزدور بھی وہاں تھے۔ بھگت سے پیسہ یا ٹکٹ خط روانہ کرنے کے واسطے نہیں مانگے تھے۔ اقبال ۱۔۵ کے قریب لکھا تھا بیٹھنے کے کمرہ میں خط لکھا تھا۔ کھانے والے کمرے کے پاس ہے۔ (پھر کہا کہ) پتہ نہیں کھانے والا کمرہ کون ہے۔ میرے اقبال لکھنے کے وقت اسٹیشن ماسٹر، تاربابو او رڈاک بابو موجود تھے (پھر کہا کہ) لکھ چکا تھا۔ دستخط کر رہا تھا جب وہ آئے تھے۔ دو تین آدمی اور تھے جن کے روبرو لکھا تھا۔ وہ عبدالرحیم، بھگت رام۔ شیخؔ وارث تھے اور ڈاکٹر صاحب بھی تھے۔ بیاس میں مظہر نے کسی سے
    کی حالت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبوت کے لوازم سے کیونکر محروم رہ سکتے ہیں؟!
    غرض ان لوگوں نے یہ عقیدہ اختیار کر کے چار طور سے قرآن شریف کی مخالفت کی ؔ ہے۔ اور پھر اگر پوچھا جائے کہ اس بات کا ثبوت کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے تھے؟ تو نہ کوئی آیت پیش کر سکتے ہیں اور نہ کوئی حدیث دکھلا سکتے ہیں۔ صرف نزول کے لفظ کے ساتھ اپنی طرف سے آسمان کا لفظ ملا کر عوام کو دھوکہ دیتے ہیں۔ مگر یاد رہے کہ کسی حدیث مرفوع متّصل میں آسمان کا لفظ پایا نہیں جاتا اور نزول کا لفظ محاورات عرب میں مسافر کے لئے آتا ہے اور نزیل مسافر کو کہتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے ملک کا بھی یہی محاورہ ہے کہ ادب کے طور پر کسی وارد شہر کو پوچھا کرتے ہیں کہ آپ کہاں اترے ہیں اور اس بول چال میں کوئی بھی یہ خیال نہیں کرتا کہ یہ شخص آسمان سے اترا ہے۔ اگر اسلام کے تمام فرقوں کی حدیث کی کتابیں تلاش کرو تو صحیح حدیث تو کیا کوئی وضعی حدیث بھی ایسی نہیں پاؤ گے جس میں یہ لکھاہو کہ حضرت عیسیٰ جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے تھے اور پھر کسی زمانہ میں زمین کی طرف واپس آئیں گے۔ اگر کوئی ایسی حدیث پیش کرے تو ہم ایسے شخص کو بیس ہزار روپیہ تک تاوان دے سکتے ہیں اور توبہ کرنا اور تمام اپنی
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 226
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 226
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/226/mode/1up
    226
    نہیں کہا تھا کہ میں ڈاکٹر صاحب کو مارنے آیا ہوں۔ بھگت پریم داس سے بھی نہیں کہا تھا۔ ڈاکٹر صاحب مجھ کو ہمراہ امرتسر لے آئے تھے اور مجھے انہوں نے معافی دے دی تھی کہ نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ بیاس سے چل کر اسی دن سورج غروب ہونے سے پہلے امرتسر پہنچ گئے تھے۔ رات کو ڈاکٹر صاحب نے سلطان پنڈ میں جو امرتسر سے ایک میل کے فاصلہ پر ہے بھیج دیا اور وارث اور پریم ؔ داس و عبدالرحیم میرے ساتھ رہے تھے۔
    کتابوں کا جلا دینا اس کے علاوہ ہوگا۔ جس طرح چاہیں تسلی کرلیں۔
    افسوس ہے کہ ہمارے سادہ لوح علماء صرف نزول کا لفظ احادیث میں دیکھ کر اس بلا میں گرفتار ہوگئے ہیں کہ خواہ نخواہ امیدیں باندھ رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے واپس آئیں گے اور وہ دن ایک بڑے تماشے اور نظارہ کا دن ہوگا کہ ان کے دائیں بائیں فرشتے ساتھ ساتھ ہوں گے جو ان کو آسمان سے اٹھا ؔ کر لائیں گے۔ افسوس کہ یہ لوگ کتابیں تو پڑھتے ہیں مگر آنکھ بند کر کے۔ فرشتے تو ہر ایک انسان کے ساتھ رہتے ہیں اور بموجب حدیث صحیح کے طالب العلموں پر اپنے پروں کا سایہ ڈالتے ہیں۔ اگر مسیح کو فرشتے اٹھائیں تو کیوں نرالے طور پر اس بات کو مانا جائے۔ قرآن شریف سے تو یہ بھی ثابت ہے کہ ہر ایک شخص کو خداتعالیٰ اٹھائے پھرتا ہے 3۔۱؂ مگر کیا خدا کسی کو نظر آتا ہے؟ یہ سب استعارات ہیں۔ مگر ایک بیوقوف فرقہ چاہتا ہے کہ ان کو حقیقت کے رنگ میں دیکھیں اور اس طرح پر ناحق مخالفوں کو اعتراض کا موقعہ دیتے ہیں۔ یہ نادان نہیں جانتے کہ اگر حدیثوں کا مقصد یہ تھا کہ وہی مسیح جو آسمان پر گیا تھا واپس آئے گا تو اس صورت میں نزول کا لفظ بولنا بے محل تھا۔ ایسے موقعہ پر یعنی جہاں کسی کا واپس آنا بیان کیا جاتا ہے عرب کے فصیح لوگ رجوع بولا کرتے ہیں نہ نزول۔ پھر کیونکر ایسا غیر فصیح اور بے محل لفظ اس افصح الفصحاء اور اعرف النّاسصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا جائے جو تمام فصحاء کا سردار ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 227
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 227
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/227/mode/1up
    227
    ایک دیسی عیسائی کے گھر ہم سارے رہے تھے۔ جب قادیاں سے بٹالہ آیا تھا مولوی غلام مصطفی چھاپہ والے کے مکان پر نہیں گیا تھا۔ مرزا صاحب نے بوجہ بدچلنی مجھے قادیاں سے نہیں نکلوایا تھا۔ ڈاکٹر صاحب پیار اور خلق سے جب پہلے میں گیا پیش آئے تھے۔ ڈاکٹر صاحب میرے سے مضبوط ہیں۔ لیکن حملہ کرنیوالا جو بھیجا جائے اس کو اپنا کام کرنا پڑتا ہے۔ اپنی زندگی کے
    ایک بڑا دھوکہ ان کم فہم علماء کو یہ لگا ہوا ہے کہ جب قرآن شریف میں یہ لوگ یہ آیت پڑھتے ہیں کہ 3 ۱؂ اور نیز یہ آیت کہ 3 ۲؂ تو اپنی غایت درجہ کی نادانی سے یہ خیال کرلیتے ہیں کہ نفی قتل اور نفی صلیب اور لفظ رفع اسی پر دلالت کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہود کے ہاتھ سے بچ کر اپنے جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے۔ گویا بجز آسمان کے اور کوئی جگہ ان کے پوشیدہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کو زمین ؔ پر نہیں ملتی تھی۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کافروں کے ہاتھ سے محفوظ رکھنے کے لئے تو ایک وحشت ناک اور سانپوں سے بھری ہوئی غار کفایت ہوگئی مگر مسیح کے دشمن زمین پر اس کو نہیں چھوڑ سکتے تھے خواہ اللہ تعالیٰ ان کو بچانے کے لئے زمین پر کیسی ہی تدبیر کرتا اس لئے مجبوراً یہودیوں سے اللہ تعالیٰ نے نعوذ باللہ عاجز آکر ان کے لئے آسمان تجویز کیا۔ قرآن میں تو رفع الی السماء کا ذکر بھی نہیں بلکہ رفع الی اللہ کا ذکر ہے جو ہر ایک مومن کے لئے ہوتا ہے۔
    یہ لوگ یہ بھی نہیں سوچتے کہ اگر یہی قصہ صحیح ہے تو قرآن شریف نے جو اس قصہ کو لکھا تو ان آیات کی شان نزول کیا تھی اور کون سا جھگڑا یہود اور نصاریٰ میں حضرت عیسیٰ کے آسمان پر معہ جسم عنصری کے جانے کے متعلق تھا جس جھگڑے کو قرآن شریف نے ان آیات کے ساتھ فیصلہ کرنا چاہا۔ ظاہر ہے کہ قرآن شریف کے مقاصد میں سے ایک بڑا مقصد یہ بھی ہے کہ یہود اور نصاریٰ کے اختلافات کو حق اور راستی کے ساتھ فیصلہ کرے۔ سو یاد رہے کہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 228
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 228
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/228/mode/1up
    228
    پہلے کبھی ایسا ارادہ میں نے نہیں کیا اور نہ ؔ کبھی مارنے پر مامور ہوا تھا۔ جب میں مسلمان تھا میں قتل کرنا جرم اور گناہ سمجھتا تھا مگر جب مرزا صاحب نے کہا کہ تم مقبول ہو جاؤ گے تو میرے خیال میں تبدیلی ہوئی اور پکا یقین ہوگیا کہ میں بہشت میں جاؤں گا اس سے پہلے کہ میں مرزا صاحب سے ملوں میرا اپنا خیال یہ تھا کہ قتل کرنا گناہ ہے۔ گو محمدی مذہب کے رو سے کسی کافر کو مارنا ثواب ہے۔ یہ بات قرآن میں درج ہے۔ میں نے خود پڑھا ہے۔ ترجمہ لکھا ہوا دیکھ کر پڑھ
    یہود اور نصاریٰ میں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت اختلاف تھا اور اب بھی ہے وہ اختلاف ان کے رفع روحانی کے بارے میں ہے۔ یہود نے صلیب دئیے جانے سے یہ نتیجہ نکالا تھا کہ حضرت عیسیٰ کا رفع روحانی نہیں ہوا اور نعوذ باللہ وہ ملعون ہیں۔ کیونکہ ان کے مذہب کے رو سے ہر ایک مومن کا مرنے کے بعد خداتعالیٰ کی طرف رفع ہوتا ہے لیکن جو شخص صلیب کے ذریعہ سے مارا جائے اس کا خداتعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوتا یعنی وہ شخص *** ہوتا ہے۔ پس یہودیوں کی یہی حجت تھی کہ حضرت عیسیٰؔ علیہ السلام مصلوب ہوگئے اس لئے ان کا رفع روحانی نہیں ہوا اور وہ *** ہیں اور نالائق عیسائیوں نے بھی تین دن کے لئے حضرت عیسیٰ کو رفع سے محروم سمجھا اور *** ٹھہرایا۔ اب قرآن شریف کا اس ذکر سے مدعا یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کے روحانی رفع پر گواہی دے۔ سو اللہ تعالیٰ نے 3 ۱ ؂ کہہ کر نفی صلیب کی اور پھر اس کا نتیجہ یہ نکالا کہ 3۲؂ اور اس طرح پر جھگڑے کا فیصلہ کر دیا۔
    اب انصافاًدیکھوکہ اس جگہ رفع جسمانی کا تعلق اور واسطہ کیا ہے۔ یہودیوں میں سے اب تک لاکھوں تک زندہ موجود ہیں۔ ان کے عالموں فاضلوں کو پوچھ لو کہ کیا آپ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب ہونے سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ان کا رفع روحانی نہیں ہوا یا یہ کہ ان کا رفع جسمانی نہیں ہوا۔ ایسا ہی یہود یہ کہتے تھے کہ سچا مسیح اس وقت آئے گا کہ جب ایلیا نبی ملاکی کی پیشگوئی کے موافق دوبارہ دنیا میں آجائے گا۔ پھر جبکہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 229
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 229
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/229/mode/1up
    229
    لیتا ہوں۔ میرے چچے نے پڑھایاؔ تھا۔ اور ایک مُلّا نے بھی پڑھایا تھا۔ میں بلا معنے کے قرآن پڑھتا رہا ہوں۔ ۳۱؍ جولائی ۹۷ء ؁ کو وعدہ معافی مجھے دیا گیا تھا اس لئے میں نے اقبال لکھ دیا تھا اگر کوئی شخص کسی کو مارنے جائے اور مار دیوے تو مجرم ہے ورنہ نہیں۔ تاریخ تحریر اقبال سے برابر ڈاکٹرصاحب کے پاس میں رہا ہوں۔ تین چار روز ہوئے انارکلی میں مولوی محمد حسین کو دیکھا تھا۔ پہلے اس سے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ میں نے کوئی خط مرزا صاحب کو نہیں لکھا۔ بائبل میں لکھا ہے کہ تو خون نہ کر اس لئے میرا ارادہ بدل گیا کہ کیوں ایسے نیک آدمی کو جیسے کہ ڈاکٹر کلارک ہے قتل کروں۔ ہمارے خاندان سے کسی نے کبھی قتل نہیں کیا۔ غازی کا مطلب مجھے معلوم نہیں کہ کیا ہے۔ بیاس میں بھگت پریم داس نے ایک سانپ سیاہ رنگ کا پکڑا تھا۔ مار کر ڈاکٹر صاحب کے پاس میں لایا تھا۔ دوسرا سانپ جو پکڑا تھا وہ بھاگ گیا تھا۔ یعنی پہلے دن دو سانپ پکڑے گئے تھے ایک مرگیا اور دوسرا بھاگ گیا تھا۔ تیسرے روز ایک اور سانپ پکڑا گیا تھا۔ اس کو بھی مار ڈالا تھا۔ صرف ڈاکٹر صاحب کو دکھلانے کے واسطے سانپ لے جانا چاہا تھا۔ (بسوال عدالت) بھگت پریم داس نے روک دیا تھا۔ (وکیل) قطب الدین کو میں پہلے نہیں جانتا تھا۔ مرزا صاحب نے کوئی خط اس کی طرف نہیں دیا تھا۔ قطبؔ الدین نے کہا تھا کہ تم کوٹھی دیکھ آؤ۔ پتھر میں بتلاؤں گا اٹھا لے جانا اور اسے مار دینا۔ ڈاکٹر صاحب نے مجھے کہا تھا کہ
    خداؔ تعالیٰ نے اپنی کمال حکمت سے جس کی حقیقت انسانوں پر نہیں کھل سکتی یہود کو اس امتحان میں ڈالا کہ ایلیا نبی جس کا ان کو انتظار تھا آسمان سے نازل نہ ہوا اور حضرت ابن مریم نے مسیح ہونے کا دعویٰ کر دیا تو یہ دعویٰ یہودیوں کو خلاف نصوص صریحہ معلوم ہوا اور انہوں نے کہا کہ اگر یہ شخص سچا ہے تو پھر نعوذ باللہ توریت باطل ہے اور ممکن نہیں کہ خدا کی کتابیں باطل ہوں۔ پس تمام جڑ انکار کی یہی تھی۔ اسی وجہ سے یہودی حضرت مسیح کے سخت دشمن ہوگئے اور ان کو کافر اور مرتد اور دجّال اور ملحد کہنے لگے اور تمام علماء کا فتویٰ ان کے کفر پر ہوگیا
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 230
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 230
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/230/mode/1up
    230
    ہم مرزا صاحب کو چٹھی لکھتے ہیں کہ یہ شخص عیسائی ہونے کو آیا ہے میں نے منع کیا تھا۔ اس لئے کہ جب بپتسمہ ہو جاوے تب چٹھی لکھنا۔ آج میں قادیاں گیا تھا۔ عبدالرحیم اور دو سپاہی اور وارث دین۔ دو سپاہی اور بھی ساتھ گئے۔ (بسوال پیروکار) ایک دفعہ پہلے پہل بھی مرزا صاحب مجھے اُس اوپر والے کمرہ میں لے گئے تھے۔ خیر الدین کی مسجد واقعہ امرتسر میں میں سوگیا تھا۔ اس لئے ٹھہر گیا۔ مجھ سے پوچھا نہ گیا اس لئے میں نے پہلے اقبال نہیں کیا تھا۔ سلطان محمود نے مجھے قرآن پڑھایا تھا۔ چچا برہان الدین مالاکھنڈ نہیں گیا تھا۔ دونوں دفعہ جب میں امرتسر کوٹھی پر ملا تھا ڈاکٹر صاحب خوشی سے ملے تھے دونوں دفعہ از خود گیا تھا۔ بلایا نہ گیا تھا۔ بیاس جاتے وقت طلب کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے مجھے جھڑکی برانڈہ میں نکل کر نہیں دی تھی کہ کیوں بے بلائے آئے ہو۔ عبدالحمید (دستخط حاکم)
    سنایا گیا درست ہے۔ دستخط حاکم
    اور ان میں زاہد اور راہب اور ربّانی بھی تھے وہ سب ان کے کفر پر متفق ہوگئے کیونکہ انہوں نے سمجھا کہ یہ شخص ظاہر نصوص کو چھوڑتا ہے۔ یہ تمام فتنہ صرف اس بات سے پڑا کہ حضرت مسیح نے ایلیا نبی کے دوبارہ آنے کے بارے میں یہ تاویل پیش کی تھی کہ اس سے مراد’’ ایسا شخص ہے جو اس کی خُو اور طبیعت پر ہو۔ اور وہ یوحنا یعنی یحییٰ زکریا کا بیٹا ہے‘‘ مگر یہ تاویل یہودیوں کو پسند ؔ نہ آئی۔ اور جیسا کہ میں نے ابھی لکھا ہے انہوں نے ان کو ملحد قرار دیا کہ جو نصوص کو ان کے ظاہر سے پھیرتا ہے۔ لیکن چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام درحقیقت سچا نبی تھا اور ان کی تاویل بھی گو بظاہر کیسی ہی بعید از قیاس تھی مگر خداتعالیٰ کے نزدیک درست تھی اس لئے بعض لوگوں کے دلوں میں یہ بھی خیال تھا کہ اگر یہ شخص جھوٹا ہے تو راستبازی کے انوار کیوں اس میں پائے جاتے ہیں اور کیوں سچے رسولوں کی طرح اس سے نشان ظاہر ہوتے ہیں۔ پس اس خیال کے دور کرنے کے لئے یہودیوں کے مولوی ہروقت
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 231
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 231
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/231/mode/1up
    231
    نقلؔ تحریر مشمولہ مثل فوجداری اجلاسی کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور
    مرجوعہ
    فیصلہ
    نمبر بستہ
    نمبر مقدمہ
    ۹؍ اگست ۷ ۹ء
    متدائرہ
    از محکمہ
    ۳۳
    سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک بنام مرزا غلام احمد قادیانی جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری
    منکہ عبدالحمید ولد سلطان محمود سکنہ جہلم کاہوں حال وارد بیاس۔ جو کہ میں موضع قادیاں میں سے مرزا صاحب غلام احمد قادیاں سے روانہ کیا گیا تھا کہ تم ڈاکٹر کلارک صاحب نقیضان کر دیں یعنی مار ڈالا۔ اور مجھ کو اس کام کے واسطے میں چلا آیا ہوں۔ یہ قادیاں میں زبانی غسل خانہ میں کہی۔ دستخط حاکم۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نوٹ۔ یہ پرچہ عبدالحمید گواہ سے لکھوایا گیا۔ دستخط 13/8/97
    اسی تدبیر میں لگے ہوئے تھے کہ کسی طرح عوام کو یہ یقین دلایا جائے کہ یہ شخص نعوذ باللہ کاذب اور ملعون ہے آخر ان کو یہ بات سوجھی کہ اگر اس کو صلیب دی جائے تو البتہ ہر ایک پر صاف طور پر ثابت ہو جائے گا کہ یہ شخص نعوذ باللہ *** اور اس رفع سے بے نصیب ہے جو راستبازوں کا خداتعالیٰ کی طرف ہوتا ہے اور اس سے اس کا کاذب ہونا ثابت ہوگا۔ کیونکہ توریت میں یہ لکھا تھا کہ جو شخص صلیب پر کھینچا جائے وہ *** ہے یعنی اس کا خداتعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوتا۔ سو انہوں نے اپنی دانست میں ایسا ہی کیا یعنی صلیب دیا۔ اور یہ امر نصاریٰ پر بھی مشتبہ ہوگیا اور انہوں نے بھی گمان کیا کہ حضرت مسیح حقیقت میں مصلوبؔ ہوگئے ہیں۔ اور پھر اس اعتقاد سے یہ دوسرا عقیدہ بھی انہیں اختیار کرنا پڑا کہ وہ *** بھی ہیں۔ مگر *** کے چھپانے کے لئے اور اس کا کلنک دور کرنے کے لئے یہ تجویز سوچی گئی کہ ان کو خداتعالیٰ کا بیٹا بنایا جائے۔ ایسا بیٹا جس نے دنیا کے تمام گنہگاروں کی لعنتیں اپنے سر پر اٹھالیں اور بجائے دوسرے ملعونوں کے آپ ملعون بن گیا اور پھر
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 232
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 232
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/232/mode/1up
    232
    نقلؔ بیان مشمولہ مثل اجلاسی کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر بہادر ضلع گورداسپورہ
    سرکار دولت مدار بنام مرزا غلام احمد سکنہ قادیاں جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری
    ۱۰؍ اگست ۹۷ء ؁ بیان عبدالرحیم باقرار صالح
    ولد جے سنگھ ذات عیسائی ساکن حال امرتسر عمر 3 سال بیان کیا کہ مجھے ڈاکٹر صاحب مستغیث نے عبدالحمید گواہ کے حالات دریافت کرنے کے واسطے تعینات کیا تھا۔ ۲۰ یوم کےؔ قریب اس بات کو ہوئے ہیں۔ بٹالہ میں مَیں نے دریافت کیا تو جو بیانات عبدالحمید نے کئے تھے سب جھوٹ پائے گئے۔ دوسرے روز قادیاں میں مظہر گیا۔ وہاں سیدھا
    18/8/97
    ملعونوں کی موت سے مرا یعنی مصلوب ہوا۔ کیونکہ بنی اسرائیل میں قدیم سے یہ رسم تھی کہ جرائم پیشہ اور قتل کے مجرموں کو بذریعہ صلیب ہی ہلاک کیا کرتے تھے۔ اس مناسبت سے صلیبی موت *** موت شمار کی گئی تھی مگر عیسائیوں کو یہ بڑا دھوکہ لگا کہ انہوں نے اپنے پیر و مرشد اور نبی کو ملعون ٹھہرایا۔ وہ بہت ہی شرمندہ ہوں گے جب وہ اس بات میں غور کریں گے کہ *** کا مفہوم لغت کی رو سے اس بات کو چاہتا ہے کہ شخص ملعون درحقیقت خدا سے مرتد ہوگیا ہو۔ کیونکہ *** ایک خدا کا فعل ہے اور یہ فعل انسان کے اس فعل کے بعد ظہور میں آتاہے کہ جب انسان عمداً بے ایمان ہو کر خداتعالیٰ سے تمام تعلقات توڑ دے اور خدا سے بیزار ہو جائے اور خدا اس سے بیزار ہو جائے۔ سو جب ایسے شخص سے خدا بھی بیزار ہو جائے اور اس کو اپنی درگاہ سے رد کر دے اور اس کو دشمن پکڑے تو اس صورت میں اس مردود کا نام ملعون ہوتا ہے اور یہ امر ضروری ہوتا ہے کہ یہ شخص ملعون خدا سے بیزارہو اور خداتعالیٰ اس سے بیزار ہو اور شخص ملعون خداتعالیٰ کا دشمن ہو جائے اور خدا تعالیٰ اس کا دشمن ہو جائے۔ اور شخص ملعون خداتعالیٰ کی معرفت سے بکلی بے نصیب ہو جائے اور اندھا اور گمراہ ہو جائے
    * سہوکتابت ہے۔ درست 3؍ یعنی ۵۰ سال ہے۔ ناشر
    دستخط حاکم
    18/8/97
    مہر عدالت
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 233
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 233
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/233/mode/1up
    233
    مرزا صاحب کے مکان حجرہ میں جہاں وہ رہتے ہیں چلا گیا۔ اور کسی شخص سے بات چیت نہیں کی ان سے کہا کہ ایک شخص رلارام نام تھا جو مسلمان ہوا عبدالمجیدکے نام سے اب اپنے آپ کو بتلاتا ہے اس کا کیا حال ہے۔ مرزا صاحب نے کہا کہ وہ ہندو سے مسلمان نہیں ہوا بلکہ پیدائشی مسلمانؔ ہے جہلم کا رہنے والا ہے۔ برہان الدین کا بھتیجا ہے۔ راولپنڈی میں اس
    اور ؔ ایک ذرہ خدا کی محبت اس کے دل میں نہ رہے۔ اسی لئے لغت کے رو سے لعین شیطان کا نام ہے۔
    پس ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بالکل اس تہمت سے پاک ہیں کہ نعوذ باللہ ان کو ملعون کہا جائے اور رفع الی اللہ سے ان کو بے نصیب سمجھا جائے۔ لیکن عیسائیوں نے اپنی حماقت سے اور یہودیوں نے اپنی شرارت سے ان کو ملعون قرار دیا اور جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں *** کا لفظ رفع کے لفظ کی نقیض ہے۔ پس اس سے یہ لازم آیا کہ وہ نعوذ باللہ موت کے بعد خدا کی طرف نہیں بلکہ جہنم کی طرف گئے کیونکہ *** یعنی وہ شخص جس کا خداتعالیٰ کی طرف رفع نہ ہوا وہ جہنم کی طرف جاتا ہے۔ یہ متفق علیہ اہل اسلام اور یہود کا عقیدہ ہے اسی لئے نصاریٰ کو یہ عقیدہ رکھنا پڑا کہ حضرت عیسیٰ مرنے کے بعد تین دن تک جہنم میں رہے۔ بہرحال ایک سچے نبی کی ان دونوں قوموں نے بڑی بے ادبی کی۔ اس لئے خداتعالیٰ نے چاہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس الزام سے بَری کرے۔ پس اوّل تو خداتعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ فرمایا کہ مسیح ابن مریم درحقیقت سچا نبی اور وجیہ اور خداتعالیٰ کے مقربوں میں سے تھا۔ اور پھر یہود اور نصاریٰ کے اس وسوسہ کو بھی دور کیا کہ وہ مصلوب ہو کر *** ہوا۔ اور فرمایا 3 3 ۱؂ ۔ اور یہ بھی فرما دیا کہ 3 ۲؂ ۔پس اس طرح پر وہ *** اور عدم رفع کی تہمت جو چھ سو برس سے یہود اور نصاریٰ کی طرف سے ان پر وارد کی گئی تھی اس کو دور فرمایا۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 234
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 234
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/234/mode/1up
    234
    لڑکے نے بپتسمہ پایا تھا۔ پھر مسلمان ہوگیا۔ اب قریباً آٹھ یوم سے چلا گیا ہے۔ تم اس کو اگر اچھا کھانا اور اچھے کپڑے دو گے تو تمہارے پاس ٹھہر جاوے گا۔ پھر میں نیچے مکان کے اتر آیا۔ تو ایک شخص جوان عمر سابق عیسائی نے جس کا نام سائیداس ہے اور ایک لڑکے نے کہا کہ عبدالحمید مرزا صاحب کو علانیہ گالیاں دے کر چلا گیا ہے۔ مرزا صاحب
    سو اؔ ن آیات کی شان نزول یہی ہے کہ اس وقت کے یہود اور نصاریٰ حضرت مسیح کو ملعون خیال کرتے تھے اور نہایت ضروری تھا کہ ان شریروں اور احمقوں کی غلطی ظاہر کر کے ان کے جھوٹے الزام سے حضرت مسیح کو بَری کر دیا جائے۔ پس اس ضرورت کے لئے قرآن شریف نے یہ فیصلہ کر دیا کہ مسیح مصلوب نہیں ہوا اور جبکہ مصلوب نہ ہوا تو یہ اعتراض سراسر غلط ٹھہرا کہ خدا کی طرف اس کا رفع نہیں ہوا اور نعوذ باللہ وہ ملعون ہوا بلکہ خداتعالیٰ نے اور مقربوں کی طرح اس کو بھی رفع کی خلعت سے ممتاز کیا اور خداتعالیٰ نے اس فیصلہ میں حضرت عیسیٰ کے ملعون اور غیر مرفوع ہونے کے بارے میں عیسائیوں اور یہودیوں دونوں کو جھوٹا ٹھہرایا۔
    اب اس تمام تحقیق سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ کی بریّت اور ان کا صادق اور غیر کاذب ہونا جسمانی رفع پر موقوف نہ تھا۔ اور جسمانی رفع کے نہ ہونے سے ان کا کاذب اور ملعون ہونا لازم نہ آتا تھا۔ کیونکہ اگر صادق اور مقرب الٰہی ہونے کے لئے جسمانی رفع کی ضرورت ہے تو بموجب عقیدہ ان نادان علماء کے لازم آتاہے کہ صرف حضرت عیسیٰ ہی خدا کے مقرب ہوں اور باقی تمام نبی جن کا جسمانی رفع جسم عنصری کے ساتھ خداتعالیٰ کی طرف نہیں ہوا وہ نعوذ باللہ قرب الٰہی سے بے نصیب ہوں۔ اور جبکہ جسمانی رفع کچھ شئے نہ تھا اور کسی نبی کے صادق اور مقرب الٰہی ہونے کے لئے جسمانی طور پر اس کا آسمان پر جانا ضروری نہ تھا تو کیونکر ممکن تھا کہ خدا کی
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 235
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 235
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/235/mode/1up
    235
    نے ؔ یہ بھی کہا تھا کہ عبدالحمید قلی یعنی ٹوکری اٹھانے کا کام بھی کرتا ہے۔
    گواہ کو سنایا گیا درست ہے۔ دستخط حاکم عبدالرحیم بقلم خود
    نقل تتمہ بیان عبدالرحیم باقرار صالح بصیغہ فوجداری اجلاسی کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور
    سرکار بذریعہ ڈاکٹرہنری مارٹن کلارک بنام مرزا غلام احمد قادیانی جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری
    تتمہ بیان عبدالرحیم باقرار صالح
    ۱۳؍ اگست ۹۷ء ؁۔ میں پہلے ہندو تھا نائی۔ پھر مسلمان ہوا۔ 3سال مسلمان رہا۔ ۱۱؍ اکتوبر ۹۶ء ؁ کو عیسائی ہوا۔ یکم فروری ۹۷ء ؁سے ڈاکٹر صاحب کے ماتحت ہوں ۔
    دستخط حاکم
    15/8/97
    مہر عدالت
    کلام میں جو پُرحکمت ہے یہ فضول اور لغو اور بے تعلق جھگڑا شروع ؔ کیا جاتا۔ حالانکہ یہود کا یہ مدعا اور مقصود نہ تھا کہ حضرت مسیح کے رفع جسمانی میں بحثیں کریں اور ایسی بحث سے ان کو کچھ حاصل نہ تھا۔ ان کا تمام مقصد جس کے لئے ان کی قوم میں معاندانہ جوش پیدا ہوا تھا اور اب تک ہے صرف یہ تھا کہ وہ ان کے مصلوب ہونے سے یہ نتیجہ نکالیں کہ ان کا روحانی رفع نہیں ہوا۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنی دانست میں ان کو صلیب دیا۔ اور توریت میں اس بات کی صاف تصریح ہے کہ جو شخص لکڑی پر لٹکایا جائے یعنی صلیب دیا جائے وہ *** ہوتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا قرب اس کو میسر نہیں ہوتا دوسرے لفظوں میں یہ کہ رفع الی اللہ نہیں ہوتا بلکہ اسفل السافلین میں گرایا جاتا ہے۔ پس یہ صلیب کا لفظ اور جو اس کا نتیجہ *** بیان کیا گیا ہے یہی پکار پکار گواہی دے رہا ہے کہ یہود کا تمام شور و غوغا اس وقت یہی تھا کہ صلیب ملنے سے مسیح کا *** ہونا ثابت ہے اور *** ہونے سے عدم رفع ثابت۔ پس جو جھوٹا الزام لگایا گیاتھا خدا نے اسی کا فیصلہ کرنا تھا۔ ہاں اگر مصلوب ہونے کا نتیجہ توریت کے رو سے یہ بیان کیا جاتا کہ جو شخص مصلوب ہو اس کا جسمانی رفع نہیں ہوتا تو ممکن تھا کہ خداتعالیٰ مسیح کو جسمانی طور پر آسمان پر پہنچاتا اور کچھ بھی شبہ نہ رہنے دیتا مگر اب تو یہ خیال سراسر بے تعلق
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 236
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 236
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/236/mode/1up
    236
    3تنخواہؔ پاتا ہوں۔ جب مرزا صاحب سے دریافت کیا تو جو کچھ مرزا صاحب نے عبدالحمید کی بابت بیان کیا سچ معلوم ہوا۔ عبدالحمید کا بیان جھوٹ پایا گیا۔ ۲۳؍ جولائی ۹۷ء ؁ کو قادیاں گیا تھا۔ اتوار کو واپس آکر صاحب کو اطلاع دی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کو لڑکے پر شبہ ہوا۔ مجھ سے رائے پوچھی۔ میں نے کہا کہ میں رائے نہیں دے سکتا کہ اس کو عیسائی کیا جائے یا نہ۔ پھر لڑکے کو بیاس بھیجا گیا اور میں ڈاکٹر صاحب کے ہمراہ بیاس گیا۔ عبدالحمید سے ڈاکٹر صاحب کے
    اور اصل جھگڑے اور اس کے فیصلہ سے کچھ لگاؤ نہیں رکھتا اور ؔ خداتعالیٰ کی شان اس سے منزّہ ہے کہ اس بیہودہ اور لغو اور بے تعلق امر کی بحث میں اپنے تئیں ڈالے۔ خدا کی تعلیمیں نجات اور قرب الٰہی کی راہیں بتلاتی ہیں اور ان الزاموں کا نبیوں پر سے ذَبّ اور دفع کرتی ہیں جن کی رو سے ان کے مقرب اور ناجی ہونے پر حرف آتا ہے۔ مگر آسمان پر اس جسم کے ساتھ چڑھ جانا نجات اور قرب الٰہی سے کچھ تعلق نہیں رکھتا۔ ورنہ ماننا پڑتا ہے کہ بجز حضرت مسیح کے نعوذ باللہ باقی تمام نبی نجات اور قرب الٰہی سے محروم ہیں اور یہ خیال صریح کفر ہے۔
    ہمارے نادان مولوی اتنا بھی نہیں سوچتے کہ یہ تمام جھگڑا رفع اور عدم رفع کا صلیب کے مقدمہ سے شروع ہوا ہے یعنی توریت نے صلیب پر مرنے والوں کو روحانی رفع سے محروم ٹھہرایا ہے۔ پھر اگر توریت کے معنے یہ کئے جائیں کہ صلیب پر مرنے والا رفع جسمانی سے بے نصیب رہتا ہے تو ایسے عدم رفع سے نبیوں اور تمام مومنوں کا کیا حرج ہے۔ ہاں اگر یہ فرض کرلیں کہ نجات کے لئے رفع جسمانی شرط ہے تو نعوذ باللہ ماننا پڑتا ہے کہ بجز مسیح تمام انبیاء نجات سے محروم ہیں۔ اور اگر رفع جسمانی کو نجات اور ایمان اور نیک بختی اور مراتب قرب سے کچھ بھی تعلق نہیں جیسا کہ فی الواقع یہی سچ ہے تو قرآن کے لفظ رفع کو اصل مقصد اور مراد سے پھیر کر اور اس کی شان نزول سے لاپرواہ ہو کر خودبخود رفع جسمانی مراد لے لینا کس قدر گمراہی ہے۔ قرآن شریف میں تو یہ بھی ہے کہ خداتعالیٰ نے بلعم کا رفع
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 237
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 237
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/237/mode/1up
    237
    روبرؔ وئے دریافت کیا کہ تم نے جو بیان کیا درست معلوم نہیں ہوتا۔ اس نے کہا کہ منہ چھوٹا اور بڑی بات ہے۔ صاحب نے معافی دی اور اس نے سچ سچ بتلا دیا کہ ڈاکٹر صاحب کو مارنے کے واسطے آیا ہوں۔ جب میں امرتسر میں قادیاں سے واپس آکر پہنچا تھا اس سے دوسرے یا تیسرے روز امرتسر سے بیاس ڈاکٹر صاحب کے ہمراہ گیا تھا۔ بیاس میں شاید بیٹھنے کے کمرہ میں صاحب نے اور مَیں نے لڑکے سے پوچھا تھا۔ وارث دین۔ پریم داس ایک اور عیسائی موجود تھا۔ پھر ڈاکٹر صاحب نے اس کو کہا کہ لکھ دو۔ عبدالحمید نے میرے روبروئے لکھا ۶؍ بجے شام سے پہلے لکھا تھا۔ لکھ کر مچھے*اور گواہ حاشیہ بلائے گئے تھے۔ پھر اسی روز ۶؍ بجے کی گاڑی پر سوار ہوکر امرتسر چلے آئے تھے۔ ریل سے اتر کر ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اس لڑکے کی حفاظت کرو۔ میں پریم داس اور وارث ہمراہ ہوکر لڑکے کو سلطان ونڈلے گئے۔ ڈاکٹر صاحب کوٹھی پر شاید عبدالحمید کو لے گئے تھے یا نہ ہم سیدھا اس کو سلطان ونڈ لے گئے تھے۔ بسوال عدالت۔ جب لڑکا پہلے پہل آیا تو اس کی شکل و شباہت خونی کی معلوم ہوتی تھی۔ بازار سے روٹی لاکر کھائی تھی۔ عبدالرحیم بقلم خود سنایا گیا درست ہے۔ دستخط حاکم
    کرنا چاہا تھا لیکن وہ زمین کی طرف جھک گیا۔ تو کیا اس جگہ بھی یہ کہو گے کہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ تھا کہ بلعم کو بجسم عنصری ؔ آسمان پر اٹھاوے۔ سو ہر ایک شخص یاد رکھے اور بے ایمانی کی راہ کو اختیار نہ کرے کہ قرآن شریف میں ہر ایک جگہ رفع سے مراد رفع روحانی ہے۔
    بعض نادان کہتے ہیں کہ قرآن شریف میں یہ آیت بھی ہے کہ 33 ۱؂ اور اس پر خود تراشیدہ قصہ بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص ادریس تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے معہ جسم آسمان پر اٹھا لیا تھا۔ لیکن یاد رہے کہ یہ قصہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قصے کی طرح ہمارے کم فہم علماء کی غلطی ہے اور اصل حال یہ ہے کہ اس جگہ بھی رفع روحانی ہی مراد ہے۔ تمام مومنوں اور رسولوں اور نبیوں کا مرنے کے بعد رفع روحانی ہوتا ہے اور کافر کا رفع روحانی نہیں ہوتا۔ چنانچہ آیت 3 ۲؂ کا اسی کی
    * یہ لفظ پڑھا نہیں گیا ۱؂ مریم:۵۸ ۲؂ الاعراف:
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 238
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 238
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/238/mode/1up
    238
    نقلؔ بیان مشمولہ مثل اجلاسی کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر بہادر ضلع گورداسپور
    سرکار دولت مدار بنام مرزا غلام احمد سکنہ قادیاں جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری
    ۱۰؍ اگست ۹۷ء ؁ بیان پریم داس باقرار صالح
    ولد ہیرا ذات عیسائی ساکن حال امرتسر عمر 3سال بیان کیا کہ اقبال حرف H میرے روبروئے عبدالحمید نے لکھا تھا۔ ایک اور خط بھی اس نے میرے روبروئے مولوی نور الدین صاحب کی طرف لکھا تھا۔ یہ دونوں خط و اقبال بمقام بیاس لکھے گئے تھے۔ خط میں عبدالحمید نے مولوی نور الدین صاحب کو لکھا تھا کہ دین محمدی جھوٹا ہے اور دین عیسوی سچا ہے۔ میں عیسائی ہونے لگا ہوں۔ میں اس وقت بیاس میں ہوں۔ اگر اب مجھے سمجھانا چاہتے ہیں تو آکر سمجھا دیویں۔ اور مجھ سے ٹکٹ کے واسطے پیسے مانگے۔ میں نے کہا تھا کہ تم مولوی صاحب کو اتنا پیار کرتے ہو تو بیرنگ خط بھیج دو۔ اس نے بھیج دیا۔ پھر جواب کوئی اس خط کا نہ آیا۔ ڈاکٹر صاحب بیاس گئے تھے ان کے روبروئے عبدالحمید نے کہا تھا کہ پہلے وہ برہمن تھا رلارام نام تھا۔ پھر مسلمان ہوگیا۔ اب مسلمان ہوں اور عبدالحمید نام ہے۔
    دستخط حاکم
    10/8/97
    مہر عدالت
    طرف اشارہ ہے۔ اور اگر حضرت ادریس معہ جسم عنصری آسمان پر گئے ہوتے تو بموجب نص صریح آیت 3 ۱؂ جیسا کہ حضرت مسیح کا آسمانوں پر سکونت اختیار کرلینا ممتنع تھا ایسا ہی ان کا بھی آسمان پر ٹھہرنا ممتنع ہے۔ کیونکہ خداتعالیٰ اس آیت میں قطعی فیصلہ دے چکا ہے کہ کوئی شخص آسمان پر زندگی بسر نہیں کر سکتا بلکہ تمام انسانوں کے لئے زندہ رہنے کی جگہ زمین ہے۔
    علاوہ اس کے اس آیت کے دوسرے فقرہ میں جو 3 ہے یعنی زمین پر ہی مرو گے صاف فرمایا گیا ہے کہ ہر ایک شخص کی موت زمین پر ہوگی۔ پس اس سے ہمارے مخالفوں کو یہ عقیدہ رکھنا بھی لازم آیا کہ کسی وقت حضرت ادریس بھی آسمان پر سے نازل ہوں گے۔ حالانکہ دنیا میں یہ کسی کا عقیدہ نہیں اورطرفہ یہ کہ زمین پر حضرت ادریس کی قبر بھی موجود ہے جیسا کہ حضرت عیسیٰ کی قبر موجود ہے۔
    بعض علماء ان پختہ ثبوتوں سے تنگ آکر یہ کہتے ہیں کہ فرض کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرگئے مگر کیا اللہ تعالیٰ قادر نہیں کہ آخری زمانہ میں ان کو پھر زندہ کرے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 239
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 239
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/239/mode/1up
    239
    عبدؔ الحمید کے آنے کے ۸ روز بعد میں ریل پر پرچہ مسیحی دین کے تقسیم کرنے کے واسطے گیا تھا جب واپس آیا تو کھوہ کے پاس ایک شخص تھا اور ایک اور فاصلہ پر تھا۔ ایک نے مجھ سے پوچھا کہ کہاں جاتے ہو میں نے کہا کہ گھر جاتا ہوں۔ اس نے کہا کہ تمہارے پاس کوئی لڑکا عبدالحمید ہے میں نے کہا ہے۔ وہ شخص کہنے لگا کہ وہ لڑکا پہلے ہندو تھا۔ رلارام اس کا نام ہے۔ بٹالہ اس کے گھر ہیں پہلے بے ایمانی اس نے کی کہ مسلمان ہوا اور اب عیسائی ہونے آیا ہے۔ میں نے کہا کہ جو تاریکی اس کے دل میں تھی دور ہو جائے گی اور تم کو تکلیف پھر نہیں دے گا۔ پھر وہ دونوں شخص وہیں رہے اور میں اپنے ہسپتال کو چلا گیا۔ سفید پوش آدمی تھے۔ ٹھیک نہیں کہہ سکتا کہ ہندو تھے یا مسلمان تھے۔ داہڑھی منڈی ہوئی تھی۔ پنجابی بولی تھی۔ سرحدی بولی نہ تھی۔ پھر ان آدمیوں کو نہیں دیکھا۔ اس شخص نے اسٹیشن ماسٹر سے بھی ذکر کیا تھا کہ یہ لڑکا ہندوؤں کا ہے۔ مجھے سٹیشن ماسٹر نے کہا تھا۔ میں نے عبدالحمید سے ان دو آدمیوں کی بابت ذکر کیا تھا کہ وہ تمہارے پنڈ کے ہیں یا کیا۔ اس نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ پریم داس سنایا گیا درست ہے۔ دستخط حاکم
    شہادت استغاثہ ہو چکی ہے مستغاث علیہ کی طرف سے وکیل نے پرسوں آنا ہے پرسوں پیش ہووے۔ دستخط حاکم
    مگر ؔ ہم کہتے ہیں کہ قطع نظر اس بات کے کہ قرآن شریف کے رو سے مردہ کا زندہ ہو کر دنیا میں آکر آباد ہونا بالکل ممتنع ہے اور آیت 3 ۱؂ اس دوبارہ روح کے آنے سے مانع ہے پھر اگر بطور فرض محال مان بھی لیں کہ حضرت عیسیٰ زندہ ہو کر آئیں گے تو ہمیں کسی حدیث یا اثر صحابی سے نشان بتلانا چاہئے کہ کونسی قبر پھٹے گی جس سے وہ زندہ ہو کر نکل آئیں گے۔ افسوس کہ ہمارے مخالف ایک جھوٹے عقیدہ میں پھنس کر ناحق گلے پڑا ڈھول بجا رہے ہیں۔ ان لوگوں نے ایسے بیہودہ اور لغو عقائد سے دین کو بہت نقصان پہنچایا ہے اور مخالفوں کو اعتراض کرنے کا موقعہ دیا ہے۔ ایک فرقہ مسلمانوں کا جو نیچر اور قانون قدرت کا عاشق ہو رہا ہے وہ ان ہی لوگوں کی نہایت غیر معقول تقریروں سے مسیح کے دوبارہ آنے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 240
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 240
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/240/mode/1up
    240
    دستخط حاکم
    15/8/97
    مہر عدالت
    نقلؔ بیان پریم داس مشمولہ مثل فوجداری باجلاس کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپورہ
    سرکار بذریعہ ڈاکٹر صاحب ہنری مارٹن کلارک صاحب بنام مرزا غلام احمد قادیانی۔ جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری
    بیان پریمداس باقرار صالح واقعہ ۱۳؍ اگست ۱۸۹۷ ؁ء
    میں قریب ۱۶سال یا کم و بیش سے عیسائی ہوں ڈاکٹر صاحب کے ماتحت3 سال ہوگئے ہیں۔ اس و قت بیاس پر تعینات ہوں۔ عبد الحمید ۲۱۔۲۲ جولائی ۹۷ ؁ کو میرے پاس بھیجا گیا
    کی ؔ پیشگوئیوں سے منکر ہوگیا جو اسلامی تواریخ میں اعلیٰ درجہ کے تواتر پر ہے کیونکہ جب کہ ان لوگوں نے جو نو تعلیم یافتہ اور محققانہ طرز پر خیالات رکھتے تھے ان لوگوں کی یہ تقریریں سنیں کہ ’’آخری زمانہ میں ایک دجّال پیدا ہوگاجس کا گدھا قریباً تین سو ہاتھ لمبا ہوگا اور وہ دجال اپنے اختیار سے مینہ برسائے گا اور آفتاب نکالے گا اور مُردے زندہ کرے گا اور بہشت اور دوزخ اس کے ساتھ ہوں گے اور خداکی تمام چیزوں اور دریاؤں اور ہواؤں اور آگ اور خاک اور چاند اور سورج وغیرہ مخلوقات پر اس کی حکومت ہوگی اور ایک آنکھ سے کانا اور ایک آنکھ میں پھولا ہوگا اور خدا کے پرستار اس کے وقت میں تنگی اور اِمساک باراں سے مریں گے۔ ان کی دعا بھی قبول نہیں ہوگی اور دجّال کے پرستار بڑے مزے میں ہوں گے۔ عین وقتوں پر دجّال ان کی کھیتیوں میں مینہ برسادے گا اور پھر آسمان سے مسیح بڑی شان سے اترے گا۔ دائیں بائیں اس کے فرشتے ہوں گے جہاں تک اس کا سانس پہنچے گا کافر لوگ اس سے مریں گے مگر دجّال کو اپنے سانس سے مار نہیں سکے گا۔ آخر بڑی جدوجہد اور جاں کا ہی سے حربہ کے ساتھ اس کا کام تمام کرے گا‘‘۔ ان تقریروں سے نو تعلیم یافتہ لوگ بہت گھبرائے اور درحقیقت گھبرانے کا محل تھا۔ کیونکہ ا گر دجّال ایسا ہی ذوالاقتدار ہے تو جس حالت میں کہ مخلوق پرست لوگ بغیر اس کے کہ اپنے معبودوں سے کوئی خدائی کا کرشمہ دیکھیں ناحق مخلوق پرستی میں مبتلا ہوگئے ہیں اور کروڑہا تک ان کی نوبت پہنچ گئی
    * بارہ تیرہ سال ہوگئے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 241
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 241
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/241/mode/1up
    241
    تھا۔ؔ ڈاکٹر صاحب نے چٹھی میں لکھا تھا کہ اس عزیز کو دین عیسائی سکھلاؤ اور کام لو۔ ٹوکری اٹھا سکتا ہے نازک اندام نہیں ہے۔ ۳۱؍ جولائی ۹۷ء ؁ تک جب تک اقبال لکھا گیا عبدالحمید نے نہیں کہا تھا کہ وہ ڈاکٹر کلارک کو مارنے آیا ہے۔ بیاس میں ایک نیا کمرہ ڈاکٹر صاحب کا بنتا ہے وہاں عبدالحمید نے روبروئے یوسف خان اور میرے مولوی نور الدین کو خط لکھا تھا۔ میرے دل میں ۳۱؍ جولائی ۹۷ء ؁ تک کوئی شک عبدالحمید کی نسبت نہیں ہوا تھا۔ بلکہ دو آدمیوں نے اس کی بابت کہا تھا کہ یہ ہندوؤں کا لڑکا ہے اور مجھ کو اس سے ہمدردی ہے۔ ایک روز دو سانپ پکڑے گئے تھے۔ پریم داس بقلم خود سنایا گیا درست ہے۔ (دستخط حاکم
    ہے تو پھر ایسا شخص کہ جو درحقیقت خدائی کی قدرتیں دکھلائے گا اس کے پرستاروں کا کہاں تک شمار پہنچے گا اور ایسے لوگوں کو کیوں معذور نہ ؔ سمجھا جائے جنہوں نے اس کی پوری خدائی دیکھ لی ہوگی۔ دیکھو مسیح ابن مریم دنیا میں آکر ایک چوہا بھی پیدا نہ کر سکا تب بھی چالیس کروڑ کے قریب مخلوق پرست لوگ اس کی پوجا کر رہے ہیں۔ پھر ایسا شخص جس کے ہاتھ میں خدا کی قدرت کا تمام نظام ہوگا وہ کس قدر دنیا میں فتنہ ڈال سکتا ہے اور خدائے کریم و رحیم کی سنت اور عادت سے بالکل بعید ہے کہ ایسے ایمان سوز فتنہ میں لوگوں کو مبتلا کرے۔ اس سے تو نعوذ باللہ قرآن شریف کی ساری توحید خاک میں ملتی ہے اور تمام فرقانی تعلیم درہم برہم ہو جاتی ہے۔ پھر کیونکر ایسا دجّال اہل عقل اور بصیرت کو سمجھ آ سکتا۔ اسی طرح مسیح ابن مریم کا برخلاف نصوص صریحہ کتاب اللہ کے صدہا برس آسمان پر زندگی بسر کر کے اور پھر ملائک کے گروہ میں ایک مجمع عظیم میں نازل ہونا اور سانس سے تمام کافروں کو مارنا اور یہ نظارہ دنیا کے لوگوں کو دکھائی دینا جو ایمان بالغیب کے بھی منافی ہے درحقیقت ایسا ہی امر تھا جو نیچر اور قانون قدرت کے ماننے والے اس سے انکار کرتے۔ کیونکہ اس قسم کے معجزات کی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں اور قرآن اس کا مکذب ہے جیسا کہ آیت 3 ۱؂ سے ظاہر ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 242
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 242
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/242/mode/1up
    242
    نقلؔ بیان گواہ استغاثہ بصیغہ فوجداری اجلاسی کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر مجسٹریٹ ضلع گورداسپور
    سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب جرم ۱۰۷ ضابطہ فوج داری بنام مرزا غلام احمد قادیانی
    بیان مولوی نور الدین گواہ استغاثہ باقرار صالح۔۔۔۱۳؍ اگست ۹۷ء ؁
    ولد غلام رسول ساکن بھیرہ ضلع شاہ پور قوم قریشی عمر3 سال۔ بیان کیا۔
    میں مرزا صاحب کا مرید ہوں۔ بہت عرصہ سالہا سال سے۔ مجھے کبھی دائیں ہاتھ کے فرشتے کا لقب نہیں ملا۔ اور نہ خلیفہ کا لقب ملا ہے۔ مجھے سب سے بزرگ نہیں کہا جاتا۔ عبدالحمید ہماری برادری سے نہیں ہے۔ ہم قریشی ہیں اور عبدالحمید گکھڑ ہے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مجھے کوئی خط عبدالحمید کا بیرنگ نہیں آیا۔ میں تین قسم کا خط بیرنگ لیتا ہوں۔ گھر سے آئے ہوئے یا اگر کوئی ٹکٹ لگا کر بھیجے اور بیرنگ اتفاقیہ ہو جائے تو میں اس کا محصول دے دیتا ہوں یا کتابوں کی بلٹیوں والے خط بیرنگ لیتاہوں باقی میں بیرنگ خط واپس کرتا ہوں۔ عبدالحمید سے میں واقف ہوں دو دفعہ قادیاں میں آیا تھا اور مجھ سے کہا تھا کہ مرزا صاحب کی بیعت کرادو۔ میں نے مرزا صاحب سے
    دستخط حاکم
    15/8/97
    مہر عدالت
    سو یہ تمام گناہ ہمارے علماء کی گردن پر ہے کہ دجّال کو خدائی کا پورا جامہ پہنا کر اور مسیح کو ایسی طرز پر آسمان سے اتار کر جس کی نظیر تمام سلسلہ معجزات اور ؔ قانون قدرت میں پائی نہیں جاتی محققوں کو نہایت توحش اور حیرانی میں ڈال دیا۔ آخر وہ بے چارے ان دونوں پیشگوئیوں سے منکر ہوگئے۔ حالانکہ یہ دونوں پیشگوئیاں اسلامی تواریخ اور احادیث اور آثار صحابہ میں اس درجہ تواتر پر ہیں کہ یہ تواتر کسی دوسری پیشگوئی میں پایا نہیں جاتا اور کوئی عقلمند اخبار متواترہ سے انکار نہیں کر سکتا۔ پس اگر یہ نافہم علماء ان پیشگوئیوں کے سیدھے اور صحیح معنے کرتے تو یہ فرقہ لائق رحم اس بلاء انکار میں نہ پڑتا۔ اوران عقلمندوں پر ہرگزامید نہ تھی کہ اگر وہ سیدھے اور صاف اور قریب قیاس معنے پاتے تو اس اعلیٰ درجہ کی پیشگوئی کو جس پر اسلام کے تمام فرقوں کا اتفاق ہے بلکہ نصاریٰ کی انجیل بھی اس پر گواہ ہے ردّ کر دیتے۔ کیونکہ دجّال کے یہ سیدھے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 243
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 243
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/243/mode/1up
    243
    عرضؔ کی انہوں نے کہا کہ ہم اس قدر جلدی بیعت نہیں کرتے اور نہ ایسی بیعت کو ہم پسند کرتے ہیں کہ بیعت کرنیوالے کا حال اچھی طرح معلوم نہ ہووے۔ عبدالحمید دوچار روز رہ کر چلا گیا۔ یاد نہیں کہ کب آیا تھا۔ پھر معلوم نہیں کہ کس عرصہ کے بعد دوبارہ آیا تھا مگر زیادہ عرصہ نہیں گذرا تھا۔ دوسری دفعہ کی بابت یاد نہیں کہ کتنے روز رہا تھا۔ مرزا صاحب عبدالحمید سے نہ سختی اور نہ پیار کرتے تھے۔ ایک دفعہ مرزا صاحب نے کہا تھا کہ اجنبی لوگوں کو زیادہ مت رہنے دیا کرو تا وقتیکہ شرافت کا حال معلوم نہ ہو۔ بنگال میں معلوم نہیں کہ کوئی مرید مرزا صاحب کا ہے یا نہ۔ حیدر آباد میں دو مرید ہیں۔ بمبئی میں ایک شخص۔ کرانچی میں کوئی نہیں۔ کابل میں کوئی نہیں۔ لکھنؤ میں کوئی نہیں۔ دہلی میں ایک ہے۔ پنجاب میں مرید ہیں تعداد یاد نہیں۔ مرزا صاحب کتابیں تصنیف کرتے ہیں۔ بعض ان کے مرید مفت کتابیں لے جاتے ہیں اور بعض قیمت دے جاتے ہیں اور نذر بھی دیتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں
    معنے ہیں جو خود دجل کے لفظ سے ہی معلوم ہو رہے ہیں یعنی یہ کہ جو فروش گندم نما کے طور پر دھوکہ دہی کے پیشہ کو کمال کی حد تک پہنچانا یہی معنے پیشگوئی میں مقصود ہیں جو کوئی معقول پسند ان کے ماننے میں تامّل نہیں کر سکتا اور اسی ؔ دجّالیت کے لحاظ سے حدیثوں میں دو قسم کے صفات دجّال معہود کے بیان فرمائے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ نبوت کا دعویٰ کرے گا اور دوسرے یہ کہ وہ خدائی کا دعویٰ کرے گا۔ ان دونوں باتوں کو اگر حقیقت پر حمل کیا جائے تو کسی طرح تطبیق ممکن نہیں کیونکہ نبوت کا دعویٰ اس بات کو مستلزم ہے کہ شخص مدعی خداتعالیٰ کا قائل ہو۔ اور خدائی کا دعویٰ اس بات کو چاہتا ہے کہ شخص مدعی آپ ہی خدا بن بیٹھے اور کسی دوسرے خدا کا قائل نہ ہو۔ پس یہ دونوں دعوے ایک شخص سے کیونکر ہو سکتے ہیں۔
    پس اصل بات یہ ہے کہ دجال ایک شخص کا نام نہیں ہے۔ لُغت عرب کے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 244
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 244
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/244/mode/1up
    244
    کہ مرزا صاحب 3 روپیہ تک انعام دے سکتے ہیں۔ یوسف خان جب تک قادیاں میں رہا ہم سے الگ رہا مگر اس کی خرابی کوئی نہیں دیکھی۔ مرزا صاحب نے عبدالحمید کو کرایہ نہیں دیا تھا حکم دیا تھا۔ کہ نکال ؔ دو نکمے آدمیوں کو وہ نہیں رہنے دیتے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے اور یاد ہے میں نے ۲؍ اس کو دئیے تھے۔ مرزا صاحب نے اس کو کچھ نہیں دیا تھا۔ عبدالحمید کو چھاپہ خانہ میں کام کرتے میں نے خود نہیں دیکھا۔ سنا تھا کہ کام کرتا تھا۔ گالیوں کی بابت سنا تھا کہ مرزا صاحب کو گالیاں اس نے دی ہیں۔ میرے روبروئے گالیاں مرزا صاحب کو اس نے نہیں دی تھیں۔ جوبلی کے دن عبدالحمید کی بابت نہیں کہہ سکتا کہ وہاں تھا یا نہیں۔ جوبلی پر برہان الدین آیا تھا اس نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ لڑکا اچھا نہیں ہے تم اس سے خطا کھاؤ گے۔ یعنی تم کو تکلیف دے گا۔ خبر نہیں کس نے عبدالحمید کو کہا تھا کہ چلے جاؤ۔ میں نے نہیں کہا تھا۔ بسوال وکیل ملزم۔ جب پہلی دفعہ عبدالحمید قادیاں آیا
    رو سے دجّال اُس گروہ کو کہتے ہیں جو اپنے تئیں امین اور متدیّن ظاہر کرے مگر دراصل نہ امین ہو اور نہ متدیّن ہو بلکہ اس کی ہر ایک بات میں دھوکہ دہی اور فریب دہی ہو۔ سو یہ صفت عیسائیوں کے اس گروہ میں ہے جو پادری کہلاتے ہیں۔ اور وہ گروہ جو ؔ طرح طرح کی کلوں اور صنعتوں اور خدائی کاموں کو اپنے ہاتھ میں لینے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں جو یورپ کے فلاسفر ہیں وہ اس وجہ سے دجال ہیں کہ خدا کے بندوں کو اپنے کاموں سے اور نیز اپنے بلند دعووں سے اس دھوکہ میں ڈالتے ہیں کہ گویا کارخانہ خدائی میں ان کو دخل ہے۔ اور پادریوں کا گروہ اس وجہ سے نبوت کا دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ لوگ اصل آسمانی انجیل کو گم کر کے محرّف اور مغشوش مضمون بنام نہاد ترجمہ انجیل کے دنیا میں پھیلاتے ہیں۔ اور اگر اس اصل انجیل کا مطالبہ کیا جائے جو حضرت عیسیٰ کی تین ۳برس کی الہامی کلام تھی جس کی نسبت وہ بیان کرتے ہیں کہ ’’میں کچھ نہیں کہتا مگر وہی جو خدا نے مجھ کو کہا‘‘۔ تو اس کا کچھ بھی پتہ نہیں بتلا سکتے کہ وہ کتاب کہاں غائب ہوگئی۔ اور یہ ترجمے جو پیش کرتے ہیں تو
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 245
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 245
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/245/mode/1up
    245
    میں اس سے واقف ہوا تھا۔ جہاں عام لوگ ملاقاتی یا فقیر وغیرہ رہتے ہیں وہاں وہ رہتا تھا۔ مرزا صاحب کے گھر سے سو گز دور جگہ ہے۔ مرزا صاحب وہاں نہیں آیا کرتے۔ چار سال سے برابر مرزا صاحب کے پاس رہتا ہوں۔ وہ خلوت میں رہتے ہیں۔ صرف پانچ وقت نماز کے واسطے باہر نکلتے ہیں اور کبھی کبھی ہوا خوری کے واسطے باہر جاتے ہیں۔ صبح۔ ظہر۔ عصر۔ مغربؔ اور عشا کے وقت باہر آتے ہیں اس وقت عام مجمع ہوتا ہے۔ ہر ایک آدمی وہاں موجود ہوتا ہے۔ کوئی شخص اندر مکان مرزا صاحب کے نہیں جاتا۔ میں خود کبھی نہیں گیا۔ عام طور پر مرزا صاحب نے حکم دیا تھا کہ جو اجنبی لوگ ہیں سوائے مخلصوں کے باقی لوگوں کو نکال دیا جائے۔ جب برہان الدین نے کہا تھا کہ یہ لڑکا اچھا نہیں ہے میں نے مرزا صاحب سے اس کی بابت ذکر نہیں کیا تھا۔ بلکہ برہان الدین سے کہا تھا کہ بُرے اچھے ہو جاتے ہیں آپ کیوں ایسی بدظنّی اس پر رکھتے ہیں۔ اس نے کہا تھا میں زیادہ تجربہ اس کی بابت رکھتا ہوں۔ عبدالحمید میرے درس میں کبھی نہیں بیٹھا اور مرزا صاحب سے تو ملا ہی نہیں۔ اس کو سوزاک کی بیماری ہے۔ میں نے
    بلاشبہ یہ ان کی اپنی طبع زاد انجیلیں ہیں جن کی صحت کا وہ کچھ بھی ثبوت نہیں دے سکتے۔ پس جس گستاخی اور دلیری سے وہ ان بے اصل تراجم کو شائع کر رہے ہیں یہی فعل ان کا دوسرے لفظوں میں گویا نبوت کا دؔ عویٰ ہے۔ کیونکہ انہوں نے جعل سازی سے نبوت کے منصب کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ جو چاہتے ہیں ترجمہ کے بہانہ سے لکھ دیتے ہیں اور پھر اس کو خداتعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ پس یہ طریق ان کا نبوت کے دعوے سے مشابہ ہے اور اس دام میں گرفتار اکثر عوام عیسائی ہیں۔ اور یہ دجل پادریوں کا منصب ہے۔
    اور دجّال کی دوسری جزو جن کے افعال خدائی کے دعوے سے مشابہ ہیں وہ جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے یورپ کے فلاسفروں اور کلوں کے ایجاد کرنے والوں کا گروہ ہے۔ جنہوں نے اسباب اورعِلل کے پیدا کرنے کے لئے اپنی کوششوں کو انتہا تک پہنچا دیا ہے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 246
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 246
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/246/mode/1up
    246
    اُس کا علاج کیا تھا۔ دوبارہ جب وہ قادیاں آیا میں اسی جگہ تھا۔ دوبارہ آنے پر نکالا گیا تھا۔ شاید برہان الدین اس وقت اس جگہ نہ تھا یہ غالب امید ہے۔ محمد یوسف کے نکالے جانے کی بابت اب میں نے لفظ سنا ہے کہ وہ نکالا گیا تھا۔ دراصل وہ خود چلا گیا تھا۔ حرف F صفحہ ۴۴ میں جو عبارت درج ہے وہ راستی اور جھوٹ کی بابت ہے کہ کوئی شخص جو راستی پر نہ ہووے اس کو خدا ضائع کرے گا خواہ کوئی ہووے۔ اسؔ میں مرزا صاحب بھی شامل ہیں یہ عبارت پیشگوئی نہیں ہے۔ کوئی شخص ہو شریر اور جھوٹے کا انجام اچھا نہیں ہے۔ عبارت کے آخر میں لفظ جھوٹ کا درج ہے جھوٹے کا نہیں ہے۔ محمد سعید کو جو عیسائی ہوگیا ہے،
    اور بہت سی کامیابیوں کی وجہ سے آخر اس ردّی اعتقاد تک پہنچ گئے ہیں کہ خدا کی قدرت اور اُس پر ایمان رکھنا کچھ چیز نہیں ہے۔ اور اس گروہ کے تابع اکثر یورپ کے خواص عیسائی ہیں اور وہ دن رات ان تلاشوں میں لگے ؔ ہوئے ہیں کہ ہم خود ہی کسی طرح پر اس راز کے مالک ہو جائیں کہ جب چاہیں بارش برسا دیں اور جب چاہیں کسی کے گھر میں لڑکا یا لڑکی پیدا کر دیں اور جب چاہیں کسی کو عقیمہ بنا دیں۔ پس کچھ شک نہیں کہ یہ طریق دوسرے لفظوں میں خدائی کا دعویٰ ہے۔
    غرض دجّال کی نبوّت اور الوہیت کے دعوے کے یہ ایک ایسے معنے ہیں کہ کوئی دانشمند اس سے انکار نہیں کرسکتا۔ اور بلاشبہ پادریوں نے نبوّت کی امانت میں جو الہام اور وحی الٰہی ہے ایسی بے جا دست اندازی کی ہے کہ ایک مدعی کے طور پر منصب نبوّت میں ہاتھ ڈالا ہے۔ اور ہر ایک ترجمہ جو انجیل کے نام سے یہ لوگ شائع کرتے ہیں وہ گویا ایک نئی انجیل ہوتی ہے جو اپنی طرف سے پیش کرتے ہیں۔ اگر خداتعالیٰ کا خوف ہوتا تو جس قدر ترجمے شائع کئے گئے ہیں ساتھ ان کے اصل کو بھی شائع کرتے جیسا کہ قرآن شریف کے شائع کرنے میں مسلمانوں کا طریق ہے۔ مگر ان لوگوں نے اصل کو چھپایا اور ان ترجموں کو
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 247
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 247
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/247/mode/1up
    247
    جانتا ہوں۔ اس کو مرزا صاحب نے قادیاں سے نکال دیا تھا۔ یوسف خان اور محمد سعید اکٹھے یکجا رہتے تھے۔ دونوں قادیاں سے اکٹھے نہیں گئے علیحدہ علیحدہ گئے تھے۔ اندر مکان غسل خانہ کا حال مجھے معلوم نہیں کہ کہاں ہے۔ مسجد کا عام غسل خانہ ہے۔ (بسوال پیروکار) مرزا صاحب کا کوئی حجرہ مسجد میں نہیں ہے۔ (بسوال عدالت) عبدالحمید کی بیعت نہیں ہوئی تھی۔ بیعت کی شرائط اس کو کوئی میں نے نہیں پڑھائی تھیں۔ (حرفK )نورالدین سنایا گیا درست ہے نور الدین دستخط حاکم۔
    نقل ؔ بیان گواہ استغاثہ بصیغہ فوجداری اجلاسی کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر مجسٹریٹ ضلع گورداسپور
    سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب بنام مرزا غلام احمد قادیانی جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری ۱۳؍ اگست ۹۷ء
    بیان شیخ رحمت اللہ باقرار صالح
    ولد شیخ عبدالکریم ذات شیخ ساکن گجرات حال لاہور عمر3 سال بیان کیا کہ میں تجارت کا کام کرتا ہوں۔ مرزا صاحب کا مرید ہوں قریب چھ سال سے۔ تعداد مریدوں کی مجھے معلوم نہیں۔ عبدالحمید کو غالباً ماہ مئی میں بمقام لاہور دیکھا تھا میری دوکان پر آیا تھا۔ میرے پاس گجرات
    دستخط حاکم
    15/8/97
    مہر عدالت
    شائع کیا جو خود ان کے ہاتھوں کے کرتب ہیں۔ پس بلاشبہ ایک طور سے یہ دعویٰ نبوّت ہے کہ کسی اپنی کلام کو پیش کر کے پھر اس کو خدا کی طرف منسوب کرنا۔
    ایسا ؔ ہی دعویٰ الوہیت ان کے فلاسفروں کی ان حرکات سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ راز آفرینش الٰہی میں ایسے طور سے ہاتھ ڈالنا چاہتے ہیں جس سے تمام الوہیت کے کاموں پر قبضہ کرلیں اور یہ ایک طبعی امر ہے کہ جب انسان خداتعالیٰ کے نظام برّی اور بحری اور ارضی او رسماوی میں دخل دینا چاہے اور طبعی تحقیقاتوں میں پڑ کر اور ہر ایک شئے کی کُنہ تک پہنچ کر نظام عالم کے سلسلہ کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہے تو جس قدر اُس کو اس فلسفیانہ تحقیقات اور تفتیش اور کھوج لگانے اور جانچ اور پڑتال میں کامیابیاں ہوتی ہیں اور
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 248
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 248
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/248/mode/1up
    248
    کے محمدیوں نے اس کو نہیں بھیجا تھا۔ امیر الدین نے میرے پاس نہیں بھیجا تھا۔ ٹھیک تاریخ یاد نہیں۔ اس نے مجھے کہا تھا کہ میں برہان الدین کا بھتیجا ہوں عیسائی ہوگیا تھا۔ مگر اب میرا عقیدہ پھر گیا ہے مسلمان ہونا چاہتا ہوں۔ میں نے پہلے بھی سنا ہوا تھا کہ ایک بھتیجا برہان الدین کا عیسائی ہے۔ معلوم نہیں کس نے کہا تھا۔ دو یا تین روز میرے مردانہ مکان پر رہا تھا۔ اس نے قادیاں آنے کا ارادہ کیا اور مجھ سے کرایہ مانگا۔ میں نے ۸؍ کے پیسے اس کو دئیے تھے۔ مجھے کوئی اطلاعؔ نہیں آئی تھی کہ وہ پہنچ گیا ہے۔ کسی آئے گئے سے معلوم ہوا تھا کہ پہنچ گیا ہے۔ چوتھے پانچویں روز بعد پھر واپس آیا۔ مگر میں وہاں نہ تھا۔ میرے آدمیوں نے کہا کہ آیا تھا اور جہلم گیا ہے۔ اس کے بعد پھر میں نے اس کو نہیں دیکھا۔ میں عموماً قادیاں میں جاتا ہوں اور بفضل خدا مالدار ہوں 3 ٹیکس ادا کرتا ہوں۔ قادیاں میں مہمان خانہ میں رہتا ہوں جو مرزا صاحب کے مکان سے الگ ہے۔ مرزا صاحب کا خلوت خانہ نہیں ہے۔ مسجد میں عوام الناس سے عام لوگوں سے
    الٰہی نظام کے کاموں کو اپنے طور پر بھی ادا کرنے لگتا ہے یہ تمام کامیابیاں اس میں وہ متکبرانہ صفات پیدا کر دیتی ہیں جو خاصّہ حضرت کبریائی ہے۔ اور اس غرور کے نشے میں ایسے ایسے طور سے انانیت کا رنگ اس کے نفس رذیل پر چڑھ جاتا ہے جس کو دوسرے لفظوں میں خدائی کا دعویٰ کہہ سکتے ہیں۔ بالخصوص جبکہ ایسا متکبر فلسفی کسی اپنی عملی حکمت سے مثلاً کسی طوفان ہوا یا طوفان آب کے پیدا کرنے پر قادر ہو جاتا ہے یا مینہؔ برسانے پر قدرت پاتا ہے تو اس قسم کی کامیابیاں تقاضا کرتی ہیں کہ وہ ایک الوہیت کا نشان اپنے اندر ملاحظہ کرے اور حضرت عزت جلّ شانہٗ کو تحقیر کی نظر سے دیکھے۔ پس ایسے انسان کے دل سے وقتاً فوقتاً خداتعالیٰ کی عظمت گھٹتی جاتی ہے اور اس کے دل میں یہ بات جم جاتی ہے کہ شاید اسی طرح سلسلہ علل و معلول کی ناسمجھی کی وجہ سے لوگ خدا کے وجود کے قائل ہوگئے ہیں۔ پس وہ ان منحوس کامیابیوں کی شامت سے جو آب و ہوا اور دریاؤں اور سمندر اور نباتات اور حیوانات اور
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 249
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 249
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/249/mode/1up
    249
    ملتے ہیں۔ میرے علم میں کوئی خاص جگہ نہیں ہے جہاں وہ مشورے کرتے ہوں۔ اگر میری طاقت ہو اور اسلام کی خاطر روپیہ کی ضرورت ہووے تو میں مرزا صاحب کو امداد دینے کو حاضر ہوں۔ ۱۶؍ اور ۲۲؍ جولائی ۹۷ ؁ کے درمیان میں گجرات گیا تھا۔ میں کہہ نہیں سکتا کہ عبدالحمید نے میرے پاس کیا نام ظاہر کیا تھا۔ یوسف خان کو جانتا ہوں۔ میرے سامنے کبھی امامت نہیں کی اور نہ وہ اس قابل ہے کہ امام مقرر ہو۔ (بسوال وکیل ملزم) عبدالحمید کو میں بدمعاش جانتا ہوں۔ اس نے مجھے کہا تھا کہ کچھ شکوک ہیں جو مٹانے کے واسطے قادیاں جاتا ہوں۔ مسجد کے ساتھ ایکؔ غسل خانہ ہے اس میں پیشاب کرتے اور نہاتے ہیں۔ بیٹھنے کی جگہ وہاں نہیں ہے۔ حجرہ کوئی نہیں ہے۔ چھ سال کے عرصہ میں مجھے کبھی مرزا صاحب سے مکان کے اندر خلوت میں ملنے کا موقعہ نہیں ہوا۔ اگر کبھی تین چار سو آدمی جمع ہوں کسی جلسہ کے موقعہ پر تو زنانہ مکان خالی کر دیا جاتا ہے اور سب لوگ وہاں جمع ہوتے ہیں ورنہ کوئی اُس جگہ نہیں جاتا۔ سوائے پانچ وقت کی نمازوں کے کسی سے وہ نہیں ملتے۔ سوال۔ رات کو قادیاں یکّہ ہا کلارک صاحب نے بھیجے تھے۔ جواب۔ تین یکّے صاحب موصوف نے بھیجے تھے۔ سوال۔ گردھاری لعل آریہ کو آپ جانتے ہیں۔ جواب
    جمادات اور طرح طرح کے کاموں اور طرح طرح کی ایجادوں اور اجرام فلکی اور نظام شمسی کے متعلق فلسفہ جدیدہ اور کیمسٹری وغیرہ کے ذریعہ سے اس کو حاصل ہو جاتی ہیں اور دور بینوں کے ذریعہ سے آفتاب اور چاند اور ستاروں کی کیفیتوں کو دریافت کرتا ہے اور نہ صرف یہ کہ ان چیزوں کے طبعی نظام پر اس کو علم ہوتا ہے بلکہ وہ خداتعالیٰ کی طرح عملی طور پر کئی امور کر کے بھی دکھا دیتا ہے تو اس صورت میں یہ ضروری امر ہے کہ جو طبعاً پیش آ سکتا ہے کہ اس ناقص العقل کو یہ خیال پیدا ہو کہ یہ تمام امور جو لوگ اپنی نادانی سے دعاؤں کے ساتھ خداتعالیٰ سے مانگا کرتے تھے یہ طریق تو کچھ چیز نہیں ہے بلکہ انسان خود اپنی حکمت عملیوں سے یہ تمام امور پیدا کر سکتا ہے اور کچھ شک نہیں کہ یہی خدائی کا دعویٰ ہے کہ جو اس زمانہ میں یورپ کے لوگوں کے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 250
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 250
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/250/mode/1up
    250
    دیکھا ہے ذاتی واقفیت نہیں ہے رات کے وقت قادیاں گیا تھا۔ عبدالحمید صبح قادیاں گیا ہے گنگارام کو جانتا ہوں۔ وہ مدرس تھا قادیاں میں اور وہ بھی قادیاں عبدالحمید کے ساتھ گیا ہے۔ گنگارام کو میں جانتا ہوں کہ آریہ ہے۔ بسوال پیروکار۔ غسلخانہ کا ایک دروازہ ہے جو بند ہو جاتا ہے۔ اس کے اوپر ایک منزل ہے۔ صاف میدان اور عام طور پر نماز میں استعمال آتا ہے اور اُس جگہ مرزا صاحب بھی آتے ہیں۔ مسجد میں سے ایک دروازہ مرزا صاحب کے مکان کو جاتا ہے اور ایک سیڑھیوں میں سے۔ دستخط بخط انگریزی۔ سنایا گیا درست ہے۔ دستخط حاکم
    نقلؔ بیان گواہ استغاثہ بصیغہ فوجداری اجلاسی کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور
    سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب بنام مرزا غلام احمد قادیانی جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری ۱۳؍ اگست ۹۷ء
    مولوی محمد حسین گواہ استغاثہ باقرار صالح
    ولد شیخ رحیم بخش ذات شیخ ساکن بٹالہ عمر 3سال بیان کیا کہ میں مرزا صاحب کو بہت دیر سے جانتا ہوں۔ انہوں نے بہت پیشگوئیاں کی ہیں۔ ۲۰۔۲۵ پیشگوئیاں کی ہیں۔ انجام آتھم میں
    دلوں میں بھرا ہوا ہے اور وہ تو وہ دوسرے لاکھوں انسان ان کی تعجب انگیز طبعی تحقیقاتوں اور عجیب در عجیب ایجادوں اور حکمت عملیوں سے اس عظمت کی نظر سے ان کو دیکھتے ہیں کہ گویا ایک حصہ خدائی کا ان میں ثابت کر رہے ہیں۔ چنانچہ یہ ہمارا ایک چشم دید ماجرا ہے کہ ایک ہندو جو ایک معزز عہدہ پر تھا اس کے روبروئے کچھ ذکر خداتعالیٰ کی عظمت اور قدرت کا ہوا تو اس نے بڑے غیظ اور غضب میں آکر کہا کہ ’’لوگ جب کُنہِ اشیاء کے سمجھنے سے عاجز آجاتے ہیں تو خدا کی قدرت بیان کرنے لگتے ہیں۔ انگریزوں نے وہ خدائی دکھلائی ہے کہ قدرتوں کا پردہ کھول دیا ہے اور طبعی تحقیقاتیں انسانؔ کو خدائی کا مرتبہ دیتی جاتی ہیں‘‘۔ سو اس ہندو نے جو انگریزوں کو خدا ٹھہرا دیا اس کی یہی وجہ تھی کہ ان کی عجائب صنعتیں اس کے خیال میں ایسی عظیم الشان معلوم ہوئیں جو اس نے خدا کے وجود کو غیر ضروری سمجھا اور میں دیکھتا ہوں کہ یہ اثر مسلمانوں خاص کر نو تعلیم یافتہ لوگوں میں
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 251
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 251
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/251/mode/1up
    251
    صفحہ ۴۴ پر جو عبارت آخر صفحہ کے درج ہے کہ جھوٹ کی بیخ کنی خدا کرے گا اس کا مطلب یہ ہے کہ جھوٹ ضائع ہوگا۔ اس عبارت سے میں نہیں سمجھتا کہ کوئی خاص ذاتی دشمنی مرزا صاحب کی کلارک صاحب سے ہے۔ مباحثہ مذہبی ہے۔ مذہبی معاملات میں میرا مرزا صاحب سے اتفاق نہیں ہے اس بارے میں انہوں نے کہ مسلمانان و عیسائیوں وغیرہ میں پھوٹ پیدا کرائی ہے۔ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے ہیں یہ ان کی تعلیم کا اثر ہے۔ وہ فتنہ انگیز آدمی ہے۔ محمدیوں کے خیالات مذہبی سے مَیں واقف ہوں۔ اگر کلارک صاحب مر جائیں تو مرزا صاحب کو اپنے تابعین سے بہت ؔ عزت ہوگی اور ان کی شراکت ثابت ہوگی۔ عبداللہ آتھم بعد میعاد فوت ہوا اور انجام آتھم میں مرزا صاحب نے لکھا کہ اس کی پیشگوئی کے مطابق فوت ہوا ہے۔ ۹۵ء میں مظہر کلارک صاحب سے ملاتھا۔ پھر اس کے بعد کبھی نہیں ملا بلکہ ان سے شکایت ہے اور رنج ہے کہ ایک خاص امر کے واسطے ان کو ملا تھا اور انہوں نے ہمدردی نہ کی۔ میرے بھائی سے وہ کبھی نہیں ملے۔ میں نے ایک کتاب ۸۰ صفحہ کی لکھی ہے لیکھرام کے قتل کی بابت۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ لیکھرام کے قتل کی نشاندہی
    بہت پھیلا ہوا ہے اور یوروپین فلاسفروں کی ایک ایسی عظمت ان کے دلوں میں بیٹھ گئی ہے کہ اگر جھوٹ کے طور پر بھی کوئی شخص مثلاً یہ بیان کرے کہ ’’یورپ کے فلاں ملک میں یہ نئی ایجاد ہوئی ہے کہ وہ ایک حکمت عملی سے آم کے بیج کو زمین میں بوکر اور بعض چیزوں کی قوت اس کو پہنچا کر ایک ہی دن میں اس کو ایسا نشوونما دے دیتے ہیں کہ پھل بھی لگ جاتاہے اور شام تک خوب کھانے کے لائق ہو جاتا ہے تو نو تعلیم یافتہ لوگوں میں سے شاید کوئی بھی انکار نہ کرے۔ بہتیرے نادان کہتے ہیں کہ یورپینوں سے کوئی بات انہونی نہیں۔ ممکن ہے کہ وہ آئندہ زمانہ میں کسی حکمت عملی سے آسمان تک بھی پہنچ جائیں۔ انسان کا قاعدہ ہے کہ چند تجربوں سے کسی شخص کی قوت اور قدرت ایسی مانؔ لیتا ہے کہ مبالغہ کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔ یہی حال اس ملک کے اکثر لوگوں کا ہو رہا ہے۔ مثلاً اگر چند کس جو معتبر ہوں محض ہنسی کے طور پر ہندوستان کے ایک مشہور رئیس اور معزز نامور
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 252
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 252
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/252/mode/1up
    252
    کے مرزا صاحب ذمہ وار ہیں۔ کیونکہ بقول ان کے خدا ان کو ہر بات کی خبر دیتا ہے۔ قاتل کا کیوں پتہ نہیں دیتا۔ سوا اس کے جو صفحہ ۴۴ حرف F پر پیشگوئی ہے اور کوئی پیشگوئی کلارک صاحب کی بابت مرزا صاحب نے نہیں کی۔ سوال۔ میں اہل حدیث ہوں جن کو پہلے غلطی سے وہابی کہتے تھے۔ (اہل حدیث کے برخلاف دیگر مذاہب کے مسلمان یعنی حنفی شیعہ وغیرہ ہیں یا نہ۔ عدالت نے یہ سوال نامنظور کیا۔) خون کا پیاسا ہونے سے میرا مطلب ہے کہ جو لوگ مرزا صاحب کے برخلاف ہوں ان کو ان کے پیرو کاٹ ڈالیں یعنی کاٹنے والے سمجھیں۔ یہ ان کی تعلیمؔ ہے۔ گواہ نے کتاب آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۶۰۱ پیش کر کے بیان کیا کہ صفحہ ۶۰۰ پر جو
    مثلاً سرسید احمد خاں صاحب بالقابہ کے پاس یہ ذکر کریں کہ یورپینوں نے ایک ایسا مادہ جاذبہ نباتات کا پیدا کیا ہے کہ اس مادہ کو ایک درخت کے مقابل رکھنے سے فی الفور وہ درخت معہ بیخ و بُن اُکھڑ کر اس مادہ کے پاس حرکت کرتا ہوا آجاتا ہے تو کیا ممکن ہے کہ سید صاحب ذرہ بھی انکار کریں۔ لیکن اگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معجزہ پیش کیا جائے کہ کئی مرتبہ آپ کے پاس آپ کے اشارے سے بعض درخت حرکت کر کے آگئے تھے تو سید صاحب ضرور اس معجزہ سے انکار کریں گے اور معاً اس فکر میں لگ جائیں گے کہ کسی طرح اس حدیث کو موضوع ٹھہرایا جائے!!!
    اب سوچنا چاہئے کہ اس زمانہ کی حالت کس حد تک پہنچ گئی ہے کہ خدا اور اس کے رسول کی عظمت اس قدر بھی لوگوں کے دلوں میں نہیں رہی جس قدر ان لوگوں کی عظمت ؔ ہے جن کو کافر کہا جاتا ہے۔ اس تمام تقریر سے ہماری غرض یہ ہے کہ دراصل یہی لوگ دجّال ہیں جن کو پادری یا یوروپین فلاسفر کہا جاتا ہے۔ یہ پادری اور یوروپین فلاسفر دجّال معہود کے دوجبڑے ہیں جن سے وہ ایک اژدہا کی طرح لوگوں کے ایمان کو کھاتا جاتا ہے۔ اول تو احمق اور نادان لوگ پادریوں کے پھندے میں پھنس جاتے ہیں اور
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 253
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 253
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/253/mode/1up
    253
    سوال حرف S ہے وہ میں نے لکھا ہے اور جواب حرف R ہے وہ مرزا صاحب کا ہے۔ براہین احمدیہ پر ریویو میں نے تصنیف کیا تھا۔ حرف T صفحہ ۱۷۶ لغایت ۱۸۸۔ اس وقت مرزا صاحب کے حالات اچھے تھے اور میں نے ایسا ہی لکھا تھا اور لکھا تھا کہ مرزا صاحب کے والد نے غدر میں امداد دی تھی۔ کتاب اشاعۃ السنہ جلد ۱۳ حرف U میں مَیں نے مرزا صاحب کی نسبت کفر کا فتویٰ دیا تھا مرزا صاحب کو میں مسلمان نہیں سمجھتا دہریہ ہے۔ مولوی غلام قادر حنفی مجھ کو فتنہ انگیز نہیں کہتا اور نہ اہل حدیث کو کافر کہتا ہے۔ ہماری تحریرات اور تعلیمات کی وجہ سے بھی لوگوں میں تنازعات ہیں مگر ایسے نہیںؔ ہیں جس سے خون ہوں۔ عدالت میں بھی مقدمات ہوئے ہیں۔ میں نے سلطان روم
    اگر کوئی شخص ان کے ذلیل اور جھوٹے خیالات سے کراہت کر کے ان کے پنجے سے بچا رہتا ہے تو وہ یوروپین فلاسفروں کے پنجے میں ضرور آجاتا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ عوام کو پادریوں کے دجل کا زیادہ خطرہ ہے اور خواص کو فلاسفروں کے دجل کا زیادہ خطرہ۔
    اب یقینًاسمجھو کہ یہی دجّال ہے جس کی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ وہ آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔ یہ تو ہرگز ممکن نہیں کہ حقیقی طور پر کسی میں خدائی کی طاقتیں پیدا ہوجائیں۔ تمام قرآن شریف اول سے آخر تک اس کا مخالف ہے۔ پس دجّال کی خدائی سے مراد یہی امور اور اس کے عجائبات ہیں جو آج کل یورپ کے فلاسفروں سے ظاہر ہو رہے ہیں۔ یہی پیشگوئی کا منشا تھا جو ظہور میں آگیا۔ دجّال کا لفظ بھی بیان کر رہا ہے کہ دجّال میں کوئی حقیقی قدرت نہیں ہوگی صرف دجل ہی دجل ہوگا۔ اب اگر کوئی سعید ہے تو اس بات کو قبول کرے۔ درحقیقت یہ فتنہ جو پادریوں اور یوروپین فلاسفروں سے ظہور میں آیا ہے ایسا فتنہ ہے کہ آدم کے وقت سے آج تک اس کی کوئی ؔ نظیر نہیں پائی جاتی۔ کیا یہ سچ نہیں کہ اس فتنہ سے لوگوں کے ایمان کو ضرر عظیم پہنچا ہے اور لاکھوں انسانوں کے دلوں سے خداتعالیٰ کی محبت ٹھنڈی ہوگئی ہے۔ بعض دلوں پر تو یہ فتنہ پورا محیط
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 254
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 254
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/254/mode/1up
    254
    کی تائید اور ہمدردی میں ایک آرٹیکل لکھا ہے۔ مرزاصاحب نے سلطان روم کے برخلاف لکھا ہے۔
    (اس موقعہ پر انگریزی چٹھی میں جو عدالت نے نوٹ دیا ہے وہ ہم ذیل میں درج کر دیتے ہیں)
    "I consider sufficient evidence has been recorded regarding the hostility of the witness to the Mirza and there is no necessity to stray further from the main lines of the case"
    ترجمہ۔ میں خیال کرتا ہوں کہ کافی شہادت لکھی جا چکی ہے کہ گواہ کو مرزا صاحب سے عداوت ہے۔ اور اب زیادہ ضرورت نہیں کہ مقدمہ کے خاص امر سے ہم دوسری طرف چلے جاویں۔
    (بقیہ بیان گواہ) لیکھرام کے قتل کی بابت جو کچھ ہم نے کہا ہے کہ مرزا صاحب کی سازش سے قتل ہوا ہے وہ خود مرزا صاحب کی تحریروں سے اخذ ہے۔ (مکرر کہا کہ) مرزا صاحب اس قتل ؔ کے ذمہ وار ہیں ان کو قاتل نہیں کہتا نہ سازش ہے وہ ذمہ وار ہے نشاندہی کا اپنی تحریروں سے۔
    ہوگیا ہے۔ اور بعض پر کچھ نہ کچھ اس کا اثر پڑ گیا ہے۔ اے بندگان خدا سوچو کہ سچ یہی ہے۔
    میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ جو نیچر اور صحیفہ قدرت کے پیرو بننا چاہتے ہوں۔ ان کے لئے خداتعالیٰ نے یہ نہایت عمدہ موقعہ دیا ہے کہ وہ میرے دعوے کو قبول کریں کیونکہ وہ لوگ ان مشکلات میں گرفتار نہیں ہیں جن میں ہمارے دوسرے مخالف گرفتار ہیں کیونکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے۔ اور پھر ساتھ اس کے انہیں یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ مسیح موعود کی نسبت جو پیشگوئی احادیث میں موجود ہے وہ ان متواترات میں سے ہے جن سے انکار کرنا کسی عقلمند کا کام نہیں۔ پس اس صورت میں یہ بات ضروری طور پر انہیں قبول کرنی پڑتی ہے کہ آنے والا مسیح اسی اُمت میںؔ سے ہوگا۔ البتہ یہ سوال کرنا ان کا حق ہے کہ ہم کیونکر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا قبول کریں؟ اور اس پر دلیل کیا ہے کہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 255
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 255
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/255/mode/1up
    255
    جو لوگ مرزا صاحب کے پیرو ہیں ان کی تعداد بموجب ایک فہرست کے بقدر 3یا اس کے قریب ہے۔ سوال۔سوائے ان مریدان کے اور مسلمان لوگ مرزا صاحب کے ہندوستان میں برخلاف ہیں۔ (عدالت نے سوال نامنظور کیا) عبدالحمید کو ۸ یا ۹؍ اگست ۹۷ ؁ ء کو دیکھا تھا ایک عیسائی اس کو ساتھ لئے جاتا تھا۔ بٹالہ میں مَیں ڈاکٹر کلارک صاحب کی کوٹھی پر نہیں گیا۔ پیشگوئی ہو یا نہ ہو کلارک صاحب کے مرنے سے مرزا صاحب فائدہ اٹھائیں گے۔ میرے مرنے سے بھی مرزا صاحب کو فائدہ ہوگا۔ میں عیسائیت کے بڑا برخلاف ہوں۔ بقلم محمد حسین
    سنایا گیا درست تسلیم ہوا۔ دستخط حاکم
    وہ مسیح موعود تم ہی ہو؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جس زمانہ اورجس ملک اور جس قصبہ میں مسیح موعود کا ظاہر ہونا قرآن شریف اور احادیث سے ثابت ہوتا ہے اورجن افعال خاصّہ کو مسیح کے وجود کی علّت غائی ٹھہرایا گیا ہے اور جن حوادث ارضی اور سماوی کو مسیح موعود کے ظاہر ہونے کی علامات بیان فرمایا گیا ہے اور جن علوم اور معارف کو مسیح موعود کا خاصّہ ٹھہرایا گیا ہے، وہ سب باتیں اللہ تعالیٰ نے مجھ میں اور میرے زمانہ میں اور میرے ملک میں جمع کر دی ہیں اور پھر زیادہ تر اطمینان کے لئے آسمانی تائیدات میرے شامل حال کی ہیں ؂
    چوں مرا حکم ازپئے قوم مسیحی دادہ اند
    مصلحت ر ابن مریم نام من بنہادہ اند
    آسماں بارد نشان الوقت میگوید زمیں
    ایں دو شاہد ازپئے تصدیق من استادہ اند
    اب تفصیل اس کی یہ ہے کہ اشارات نص قرآنی سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ہیں اور آپ کا سلسلہ خلافت حضرت موسیٰ کے سلسلہ خلافت
    سے بالکل مشابہ ہے۔ اور جس طرح حضرت موسیٰ کو وعدہؔ دیا گیا تھا کہ آخری زمانہ میں
    یعنی جبکہ سلسلہ اسرائیلی نبوت کا انتہا تک پہنچ جائے گا اور بنی اسرائیل کئی فرقے ہو جائیں
    گے اور ایک دوسرے کی تکذیب کرے گا یہاں تک کہ بعض بعض کو کافر
    * سہوکتابت ہے۔ درست ’’را ابن مریم‘‘ ہے۔ (ناشر
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 256
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 256
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/256/mode/1up
    256
    نقلؔ بیان پربھدیال گواہ استغاثہ مشمولہ مثل فوجداری باجلاس کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور
    سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب بنام مرزا غلام احمد قادیانی جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری
    پر بھدیال گواہ استغاثہ باقرار صالح ۱۳؍ اگست ۹۷ء ؁
    ولد رام چند ذات برہمن ساکن قادیاں عمر3 سال۔ بیان کیا کہ میں حلوائی کی دوکان کرتا ہوں۔ میری دوکان سے شیرینی خریدا کرتا تھا یہ یاد نہیں ہے کہ کس کس تاریخ کو مٹھائی خریدی تھی۔ قریب ایک ماہ کے ہوا ہے کہ وہاں اُس کو دیکھا تھا اور کچھ معلوم نہیں ہے۔ اُس وقت اور کپڑے تھے۔ سر پر پگڑی لال اور بوٹ پاؤں میں تھے۔ پاجامہ بھی پہنا ہوا تھا۔ کپڑے اتار کر ننگا ٹوکری اٹھانے کا کام کرتا تھا۔ مرزا صاحب کو ہم رئیس مانتے ہیں۔ محل ماڑیاں زمینات کے مالک ہیں۔ (بسوال وکیل ملزم) ہندو لوگ بھی اچھا سمجھتے ہیں۔ آج سپاہی لایا ہے۔
    پربھدیال سنایا گیا درست ہے۔ دستخط حاکم
    مہر عدالت
    کہیں گے تب اللہ تعالیٰ ایک خلیفہ حامی دین موسیٰ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کرے گا۔ اور وہ بنی اسرائیل کی مختلف بھیڑوں کو اپنے پاس اکٹھی کرے گا اور بھیڑئیے اور بکری کو ایک جگہ جمع کر دے گا اور سب قوموں کے لئے ایک حَکَم بن کر اندرونی اختلاف کو درمیان سے اٹھادے گا۔ اور بُغض اور کینوں کو دور کر دے گا۔
    یہی وعدہ قرآن میں بھی دیا گیا تھا جس کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ 33 ۱؂ ۔ اور حدیثوں میں اس کی بہت تفصیل ہے چنانچہ لکھا ہے کہ یہ اُمّت بھی اسی قدر فرقے ہو جائیں گے جس قدر کہ یہود کے فرقے ہوئے تھے۔ اور ایک دوسرے کی تکذیب اور تکفیر کرے گا اور یہ سب لوگ عناد اور بغض باہمی میں ترقی کریں گے۔ اس وقت تک کہ مسیح موعود حَکَم ہو کر دنیا میں آوے۔ اور جب وہ حَکَم ہو کر آئے گا تو بغض اور شحناء کو دور کر دے گا اور اس کے زمانہ میں بھیڑیا اور بکری ایک جگہ جمع ہو جائیں گے۔ چنانچہ یہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 257
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 257
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/257/mode/1up
    257
    نقلؔ بیان عبدالحمید بصیغہ فوجداری باجلاس کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپورہ
    مرجوعہ
    فیصلہ
    نمبر مقدمہ
    نمبر بستہ
    ۹؍ اگست ۷ ۹ء
    متدائرہ
    ۳۳
    از محکمہ
    سرکار بذریعہ مسٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب بنام مرزا غلام احمد قادیانی جرم ۱۰۷ تعزیرات ہند
    یہ عبارت انگریزی چٹھی سے ترجمہ کی گئی ہے۔
    اس بیان کی بنا پر جو عبدالحمید نے ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس کے آگے
    بیان کیا ہے عبدالحمید کو بطور ایک سرکاری گواہ کے پھر شہادت کے لئے بلایا گیا اور اس کا بیان لیا گیا
    بیان عبدالحمید گوا ہ باقرار صالح ۲۰؍ اگست ۹۷ ؁ بسوال عدالت
    میں نے کپتان صاحب پولیس کے روبروئے بٹالہ میں ایک بیان کیا تھا۔ ایک تھانہ دار مجھ کو صاحب کے پاس لایا تھا۔ نام نہیں جانتا۔ اس وقت میں انارکلی (بٹالہ) میں تھا۔ ہم تین آدمی گاڑی میں تھے۔ ایک مَیں ایک تھانہ دار اور ایک سائیس۔ اس وقت میں وارث دین عیسائی بھگت پریم داس اور دو پولیس سپاہیوں کی حفاظت میں تھا۔ تھانہ دار سیدھا صاحب کے پاس مجھے لے گیا تھا۔ میں سب سے پہلے امرتسر ہال دروازہ میں نور الدین عیسائی کے پاس
    دستخط حاکم
    21/8/97
    مہر عدالت
    باتؔ تمام تاریخ جاننے والوں کو معلوم ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسے ہی وقت میں آئے تھے کہ جب اسرائیلی قوموں میں بڑا تفرقہ پیدا ہوگیا تھا اور ایک دوسرے کے مکفر اور مکذب ہوگئے تھے۔ اسی طرح یہ عاجز بھی ایسے وقت میں آیا ہے کہ جب اندرونی اختلافات انتہا تک پہنچ گئے اور ایک فرقہ دوسرے کو کافر بنانے لگا۔ اس تفرقہ کے وقت میں امّت محمدیہ کو ایک حَکَم کی ضرورت تھی سو خدا نے مجھے حَکَم کر کے بھیجا ہے۔
    اور یہ ایک عجیب اتفاق ہوگیاہے جس کی طرف نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کا اشارہ پایا جاتا ہے کہ جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت موسیٰ سے تیرہ سو برس
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 258
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 258
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/258/mode/1up
    258
    گیا تھا۔ قادیاں سے آکر دو روز چھاپہ خانہ غلام مصطفٰی میں مظہر رہا تھا۔ ملازمت چھاپہ خانہ کےؔ واسطے وہاں ٹھہرا تھا مگر وہاں کام نہ تھا۔ پھر میں امرتسر نور دین کے پاس گیا۔ نور دین نے پادری گِرے صاحب کے نام مجھے چٹھی دی تھی۔ نور دین کے پاس بطور متلاشی عیسائیت گیا تھا۔ میں قطب الدین کے پاس ہرگز نہیں گیا تھا۔ میرا پہلا بیان کہ اس کے پاس گیا تھا سچ نہیں ہے۔ اس سے مظہر واقف تک بھی نہیں ہے۔ پادری گرے صاحب سے میں نے عرض کی تھی کہ مجھے عیسائی کرو۔ انہوں نے مجھے نور دین کے پاس واپس بھیج دیا اور کہا کہ اپنا خرچ کھاؤ تو عیسائیت سکھلائیں گے۔ میں نے یہ شرط منظور کی اور نور دین کے پاس واپس گیا۔ اس نے مجھے کہا کہ ڈاکٹر کلارک صاحب کے پاس جاؤ وہ روٹی بھی دیں گے اور عیسائیت بھی سکھلائیں گے۔ میں ڈاکٹر صاحب کے پاس گیا اور کہا کہ ہندو سے مسلمان ہوا ہوں۔ یہ بھی* بات نور دین سے بھی کہی تھی اور میں نے کہا کہ قادیاں سے آیا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اچھا ہم دریافت کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ جب بپتسمہ ہو جائے تب دریافت کرنا۔ تب ڈاکٹر صاحب نے مجھے ہسپتال میں بھیج دیا وہاں عبدالرحیم عیسائی تھا۔ اس نے مجھ سے دریافت کیا میں نے اس سے بھی کہا کہ قادیاں سے آیا ہوں۔ دوسرے تیسرے روز وہ مجھے ڈاکٹر صاحب کی کوٹھی پر لے گیا۔ مجھے ڈاکٹر صاحب نے بلایا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ مولوی عبدالرحیم کہتا ہے کہ تو خون کرنے
    بعد ؔ چودھویں صدی میں پیدا ہوئے اسی طرح یہ عاجز بھی چودھویں صدی میں خداتعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسی لحاظ سے بڑے بڑے اہل کشف اسی بات کی طرف گئے کہ وہ مسیح موعود چودھویں صدی میں مبعوث ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ نے میرا نام غلام احمد قادیانی رکھ کر اسی بات کی طرف اشارہ فرمایا کیونکہ اس نام میں تیرہ سو کا عدد پورا کیا گیا ہے۔ غرض قرآن اور احادیث سے اس بات کا کافی ثبوت ملتا ہے کہ آنے والا مسیح چودھویں صدی میں ظہور کرے گا اور وہ تفرقہ مذاہب اسلام اور غلبہ باہمی عناد کے وقت میں آئے گا۔
    * سہو کتابت ہے۔ درست ’’یہی‘‘ ہے۔ ناشر
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 259
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 259
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/259/mode/1up
    259
    آیا ہے۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ یہ بچہ ہے یہ ایسا کام کس طرح کر سکتا ہے۔ پھر مجھے بیاس میں بھیج دیا۔ عبدالرحیم نے مجھے دو تین دفعہ یہ بات کہی کہ مجھے پتہ مل گیا ہے کہ تمؔ کس کام کے واسطے آئے ہو۔ میں نے کہا کہ میں صرف عیسائی ہونے آیا ہوں اور کسی کام کے واسطے نہیں آیا۔ پھر میں بیاس چلا گیا۔ وہاں عبدالرحیم دو روز کے بعد آیا۔ چار بجے دن کے وقت آیا تھا۔ مجھ سے ملا۔ ہسپتال میں جہاں میں پڑھ رہا تھا۔ مجھے کہا کہ بتلاؤ تم کس طرح آئے ہو کہ ہم کو پتہ لگ گیا ہے۔ سچ بتلاؤ ورنہ کپتان صاحب پولیس کے حوالہ کر دیں گے۔ میں نے کہا کہ عیسائی ہونے آیا ہوں اور کوئی بات نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ تم خون کرنے آئے ہو۔ مگر یہ نہیں کہا تھا کہ کس کو مارنے کے واسطے۔ پھر وہ چلا گیا۔ دوسرے تیسرے روز ڈاکٹر صاحب معہ یوسف خان اور ایک اور بوڑھا سا آدمی کے آئے۔ اور میرا فوٹو ڈاکٹر صاحب نے اتارا اور امرتسر چلے آئے۔ اس وقت اور نوکروں کی بھی تصویریں لیں۔ اس وقت تک کوئی ذکر ڈاکٹر صاحب نے مجھ سے نہیں کیا۔ اس کے بعد دو روز گذر کر تار آئی کہ ڈاکٹر صاحب مجھے امرتسر بلاتے ہیں۔ ایک سانپ مارا۔ بھگت پریم داس نے مارا تھا۔ اس نے مجھے کہا کہ یہ سانپ مرا ہوا ساتھ لے جاؤ صاحب کو دکھلانا۔ اسٹیشن پر سے محمد یوسف مجھے کوٹھی پر لے گیا اور وہاں میرا فوٹو لیا گیا۔ خراب نکلا۔ پھر مجھے ڈاکٹر صاحب نے محمد یوسف کے ہمراہ بازار میں بھیجا اور وہاں میری
    علاوہ ؔ ان سب امور کے ایک عظیم الشان علامت مسیح موعود کی احادیث صحیحہ میں یہ لکھی گئی ہے کہ وہ ایسے وقت میں آئے گا کہ جبکہ صلیبی مذہب زمین پر بڑے جوش سے پھیلا ہوا ہوگا۔ جیسا کہ حدیث یکسر الصلیب جو صحیح بخاری میں ہے اسی پر دلالت کرتی ہے۔ سو ایسے وقت میں اور ایسے زمانہ میں یہ عاجز آیا ہے۔
    اور دوسری علامت اشارات احادیث سے مسیح موعود کے لئے یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ ممالک مشرقیہ میں مبعوث ہوگا۔ کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دجّال کا پتہ و نشان مشرق ہی بتلایا تھا۔ جیسا کہ حدیث وَأَومَی اِلی المَشرق سے ظاہر ہے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 260
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 260
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/260/mode/1up
    260
    تصویر اتاری گئی۔ پھر میں کھانا کھانے بازار گیا اور بعد کھانا کھانے کے محمد یوسف مجھے کوٹھی پر لے گیا۔ اسی بازار میں دوکان تھی جہاں یوسف تھا۔ دام کھانے کا یوسف نے دیا تھا۔ جب کوٹھی گیا وہاں سے بیاس پر مجھے بھیجا گیا۔ بیاس جانے سے پہلے مجھے ہسپتال میں بھیجا گیا تھا اور وہاں سے پرچہ ؔ جات سٹیشن پر لانے کے واسطے اکیلا بھیجا گیا۔ عبدالرحیم وہاں تھا۔ اس نے کہا کہ تو سچ سچ بتلادے جس بات کے واسطے آیا ہے مجھ کو معلوم ہوگیا ہے۔ ورنہ قید ہو جاوے گا۔ اس کے بعد میری فوٹو لی گئی اور کوٹھی پر گیا اور پھر یوسف نے مجھے ٹکٹ لے دیا اور میں بیاس چلا گیا۔ دو روز کے بعد ڈاکٹر صاحب ۔عبدالرحیم۔ وارث دین۔ بھگت پریم داس اور ایک اور جوان عیسائی وہاں آئے۔ اور وارث دین، عبدالرحیم نے سب کے روبروئے مجھے کہا کہ اب بتلاؤ جس کام کے واسطے تو آیا ہے۔ میں نے کہا کہ میں عیسائی ہونے کو آیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تجھ کو مرزا نے بھیجا ہے۔ میں نے کہا کہ نہیں اس نے مجھے کچھ نہیں کہا ہے۔ عبدالرحیم میرے پاس بیٹھا ہوا تھا اس نے مجھے کہا کہ تو یہ بات کہہ کہ مرزا غلام احمد نے مجھے بھیجا ہے کہ ڈاکٹر کلارک کو پتھر سے مار دے۔ مجھے تصویر دکھلائی اور کہا کہ جہاں جاؤ گے پکڑے جاؤ گے ورنہ یہ بات کہہ دو۔ میں نے اس کے کہنے کے بموجب ویسا ہی کہہ دیا۔ تب ڈاکٹر صاحب نے اور دوسروں نے کہا کہ ہم کو ایسا تحریر کردو میں نے تحریر کر دیا۔ اور لکھا ’’نقصان کر‘‘ تو مجھے عبدالرحیم
    پس ؔ اس صورت میں اس حدیث سے صاف طور پر یہ اشارہ نکلتا ہے کہ مسیح موعود مشرق سے پیدا ہوگا۔ کیونکہ جبکہ دجال کا مستقر اور مقام مشرق ہوا تو مسیح جو دجّالی کارروائیوں کو نابود کرنے کے لئے آئے گا ضرور ہے کہ وہ بھی مشرق میں ظہور کرے۔ اور یہ تو ظاہر ہے کہ ہمارا ملک ہند خاص کر پنجاب کا حصہ مکہ معظمہ سے بجانب مشرق واقعہ ہے۔ اور عجب تر یہ کہ دمشقی حدیث میں بھی جو مسلم میں ہے منارہ مشرقی کا ذکر کر کے مسیح موعود کے ظہور کے لئے مشرق کی طرف ہی اشارہ کیا گیا ہے۔
    ایسا ہی احادیث میں یہ بھی بیان فرمایا گیا ہے کہ وہ مہدی موعود ایسے قصبہ کا رہنے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 261
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 261
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/261/mode/1up
    261
    نے کہا کہ لفظ ’’مار ڈال‘‘ کا بھی لکھ دو۔ کان میں یہ بات کہی تھی۔ میرے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ وقت تحریر اقبال وہ میرے پہلو بہ پہلو بیٹھا ہوا تھا۔ دو دفعہ اقبال لکھا تھا۔ بار اوّل لفظ صرف نقصان لکھا تھا۔ دوسری دفعہ جب لکھنے لگا تو بموجب اس کے کہنے کے مار ڈال کا لفظ بھی لکھ دیا۔ پھر جب دستخط کرتا تھا۔ پوسٹماسٹر وغیرہ کو انہوں نے بلایا انہوں نے مجھؔ سے پوچھا۔ مارے ڈر کے میں نے کہا کہ ہاں رضامندی سے لکھ دیتا ہوں۔ جب میں نے لکھ دیا تو ڈاکٹر صاحب اور سب نے کہا کہ ٹھیک تو ہمارے دل کی مراد پوری ہوگئی ہے۔ پھر ۶ بجے کی ٹرین میں مجھے امرتسر لے کر ڈاکٹر صاحب وغیرہ آئے اور کوٹھی پر لے گئے۔ وارث دین، عبدالرحیم، بھگت پریم داس ساتھ تھے جس روز اقبال لکھا اس روز سوائے عبدالرحیم کے بھگت پریم داس و وارث دین بھی مجھے کہتے تھے کہ تو اس طرح بیان کر دے مرزا کو پھنسادے۔ تجھ کو کچھ نہیں ہوگا کہ تم کو ڈاکٹر صاحب نے معافی دے دی ہے۔ رات کو مجھے سلطان ونڈ لے گئے۔ خیر الدین ڈاکٹر کے مکان پر مجھے رکھا اور مجھے سکھلاتے رہے کہ تم یہ بات کہہ دینا کہ مرزا نے بھیجا ہے کہ ڈاکٹر کو پتھر سے ماردو۔ میں نے ڈر کے مارے کہا کہ ایسا ہی کہوں گا۔ رات کو میں بڑا بے چین رہا اور بے خواب رہا کہ مجھ سے جھوٹ کہلواتے ہیں۔ صبح مجھے گاڑی میں بٹھلا کر کوٹھی پر لائے اور کہتے رہے کہ تم کو کچھ بھی نہیں کہا جائے گا یہ ہی بیان کرنا۔ ڈپٹی کمشنر کے روبروئے میرے اظہار ہوئے۔ میں نے رلیارام اپنا نام ازخود بتلایا تھا۔
    والا ؔ ہوگا جس کا نام کدعہ یا کدیہ ہوگا۔ اب ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ یہ لفظ کدحہ دراصل قادیان کے لفظ کا مخفف ہے۔ اور بعض روایات میں یہ جو آیا ہے کہ ’’وہ کدعہ یمن کی بستیوں میں سے ایک گاؤں ہے‘‘۔ یہ حدیث کے لفظ نہیں ہیں۔ بلکہ کسی شخص نے اجتہادی طور پر یہ خیال کیا ہے۔ شاید اس نام کے مشابہ کوئی گاؤں یمن میں دیکھ کر کسی کو خیال آگیا ہے کہ شاید وہ یہی گاؤں ہوگا۔ لیکن ظاہر ہے کہ اب ایسا کوئی گاؤں ملک یمن میں آباد نہیں ہے اور نہ اس سرزمین میں کسی نے ایسا دعویٰ کیا۔ مگر قادیاں اس وقت موجود ہے اور نیز مسیحیّت اور مہدویّت کا مدعی بھی موجود۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 262
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 262
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/262/mode/1up
    262
    نور دین کے پاس ایک شخص ہندو تھا یا مسلمان کے کہنے پر کہا تھا کہ وہ عیسائی کرتا ہے۔ سب سے پہلے جب میں ڈاکٹر صاحب کے پاس گیا تو میں نے نہیں کہا تھا کہ مرزا صاحب نے مجھے بھیجا ہے۔ اپنا پتہ کھجوری دروازے کا بھی میں نے خودبخود بتلایا تھا۔ یہ باتیں اس واسطے میں نے کی تھیں کہ پہلے میں سکاچ مشن گجرات میں تھا۔ اور بوجہ بدچلنی مجھے نکالا گیا تھا اس غرض سے ؔ میں نے اپنے آپ کو ہندو ظاہر کیا تھا کہ پہلا حال معلوم نہ ہووے۔ مولوی نور دین کو چٹھی میں نے بیاس سے ضرور لکھی تھی کہ میں عیسائی دین کو اچھا سمجھتا ہوں۔ وارث دین، بھگت پریم داس و عبدالرحیم نے مجھے کہا تھا کہ تو اس چٹھی کی بابت کہنا کہ مرزا صاحب اور مولوی نور الدین ایک ہی ہیں۔ اس لئے ان کو چٹھی لکھی تھی کہ میرے حالات کی ان کو خبر ہو جائے۔ عبدالرحیم۔ پریم داس اور وارث دین نے انارکلی میں مجھے سکھلایا تھا کہ یہ کہنا کہ مرزا صاحب کو گالیاں دے کر چلا آیا تھا۔ مرزا صاحب کے دو آدمیوں سے بوجہ ان کے نصیحت دینے کے میرا تکرار ضرور ہوا تھا۔ مگر مرزا صاحب کو میں نے کوئی گالی بُرا نہیں کہا۔ مجھے کوئی علم دو آدمیوں کا جو بیاس میں دیکھے جانے بیان کئے گئے ہیں نہیں ہے۔ سلطان ونڈ میں عبدالرحیم وغیرہ نے مجھے کہا تھا کہ تم یہ بات کہنا کہ ڈاکٹر صاحب کو دیکھ کر میری
    نیّت قتل کرنے کی بدل گئی ہے۔ جب میرا اظہار ہو چکا تھا۔ مجھے کوٹھی امرتسر میں لے جا کر بند کر دیا تھا اور عبدالرحیم و وارث دین و پریم داس کہتے تھے کہ تم کو مرزا صاحب کا کوئی آدمی مار دے گا۔
    ایسا ؔ ہی مسیح موعود کے وجود کی علت غائی احادیث نبویہ میں یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ عیسائی قوم کے دجل کو دور کرے گا اور ان کے صلیبی خیالات کو پاش پاش کر کے دکھلا دے گا۔ چنانچہ یہ امر میرے ہاتھ پر خداتعالیٰ نے ایسا انجام دیا کہ عیسائی مذہب کے اصول کا خاتمہ کر دیا۔ میں نے خداتعالیٰ سے بصیرت کاملہ پاکر ثابت کر دیا کہ وہ *** موت کہ جو نعوذ باللہ حضرت مسیح کی طرف منسوب کی جاتی ہے جس پر تمام مدار صلیبی نجات کا ہے وہ کسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی۔ اور کسی طرح *** کا مفہوم کسی راستباز پر صادق نہیں آ سکتا۔ چنانچہ فرقہ پادریان اس جدید طرز
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 263
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 263
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/263/mode/1up
    263
    دو مہتر میرے ساتھ مکان میں بند کئے گئے تھے۔ وہ بھی سکھلاتے رہتے تھے۔ قطب دین کی بابت مجھے وارث دین عبدالرحیم و پریم داس نے کہا تھا کہ اس کا نام لو۔ وکیل صاحب (لالہ رام بھج) نے انارکلی میں مجھ سے پوچھا تھا کہ تمہارے ساتھ کوئی اور آدمی بھی تھا یا نہ۔ جب تک کسی اور آدمی کا ذکر نہ ہووے تم پرندہ نہ تھے کہ مار کر اڑ جاتے عدالت باور نہیں کرے گی۔ اس پر وارث دین وغیرہ نے قطب دین کی شمولیت کی بابت مجھے سکھلایا تھا* ۔میں نے وکیل صاحب کو پتہ قطب الدین کا نہیںؔ بتلایا تھا۔ میرے ہاتھ پر پریم داس نے کرمونکی ڈیوڑھی اور قطب الدین کا پتہ لکھ دیا تھا کہ جب اظہار دو گے یاد رکھنا۔ پنسل سے لکھا تھا۔ پنسل وارث دین کی تھی۔ یہی پنسل ہے جو اس وقت وکیل کے ہاتھ میں ہے اور اسی سے لکھا تھا۔ نوٹ۔( تسلیم کیا گیا کہ پنسل وارث دین کی ہے)۔ اور بھی بہت پنسلیں سکول میں تھیں۔ وارث دین وغیرہ قطب دین کا حلیہ بیان کرتے تھے مگر میں اس کو مطلق نہیں جانتا۔ رات کو انہوں نے مجھ سے حلیہ وغیرہ قطب دین کا ذکر کیا تھا۔وکیل سے میں نے حلیہ وغیرہ کا ذکر نہیں کیا تھا۔ بھگت پریم داس، وارث دین اور عبدالرحیم کے سکھلانے پر میں نے بیان کیا تھا کہ مرزا صاحب کو مٹھیاں بھرا کرتا تھا۔ میں مرزا صاحب کے مکان پر کبھی نہیں گیا تھا صرف ایک دفعہ ان کو مسجد میں دیکھا تھا۔ صرف ان لوگوں کے کہنے سے سب بیان
    کے ؔ سوال سے جو حقیقت میں ان کے مذہب کو پاش پاش کرتا ہے ایسے لاجواب ہوگئے کہ جن جن لوگوں نے اس تحقیق پر اطلاع پائی ہے وہ سمجھ گئے ہیں کہ اس اعلیٰ درجہ کی تحقیق نے صلیبی مذہب کو توڑ دیا ہے۔ بعض پادریوں کے خطوط سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ اس فیصلہ کرنے والی تحقیق سے نہایت درجہ ڈر گئے ہیں اور وہ سمجھ گئے ہیں کہ اس سے ضرور صلیبی مذہب کی بنیاد گرے گی۔ اور اس کا گرنا نہایت ہولناک ہوگا۔ اور وہ لوگ درحقیقت اس مثل کے مصداق ہیں کہ یُرْجی برء مَنْ جرحہ السنان۔ ولا یرجی برء من مزّقہ
    * اس جگہ سے ظاہر ہے کہ دیسی عیسائی کس چلن کے آدمی ہیں اور جھوٹ کو کیسا شیر مادر سمجھتے ہیں اور کیسے جھوٹے منصوبے ظلم کرنے کے لئے باندھتے ہیں۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 264
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 264
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/264/mode/1up
    264
    کیا ہے۔ ان ہی کے کہنے سے بیان کیا تھا کہ امرتسر مسجد خیر الدین میں مظہر سویا رہا تھا۔ یہ بات بھی بٹالہ میں مجھے سکھلائی گئی تھی۔ مارے ڈر کے پہلے میرا بیان جھوٹا لکھواتے رہے ہیں۔ جب تھانہ دار بلانے گیا تھا وہ اندر تھا باہر وارث دین نے مجھے کہا کہ خبردار پہلا بیان مت بدلنا تم کو ڈاکٹر صاحب نے وعدہ معافی دیا ہوا ہے۔ دو سپاہی پولیس کے سکھ تھے۔ انہوں نے بھی مجھے کہا تھا کہ خبردار اظہار مت بدلنا۔ ایک مدرس نہال چند نے بھی ایسا ہی کہا تھا۔ آج صبح عبدالغنی عیسائی میرے پاس آیا تھا اور کہتا تھا کہ شیخ وارث دین اور یوسف کہتے ہیں کہ تم کو ڈاکٹر صاحب سےؔ معافی دلوا دیں گے اور تم بچ رہو گے اگر پہلا اظہار دو گے۔ کپتان صاحب کو میں نے اس امر کی اطلاع دے دی تھی۔ صاحب بہادر غسل کر رہے تھے خانساماں خاکروب وغیرہ سب احاطہ والوں کو خبر ہے کہ انہوں نے اس کو دیکھا تھا۔ میں نے کوئی کمرہ مرزا صاحب کا نہیں دیکھا ہوا اور نہ غسل خانہ کا کوئی علم ہے صرف ان لوگوں کے کہنے سے میں نے ایک کمرہ کا جو مسجد کے اوپرلے حصہ سے ملا ہوا ہے نام لے دیا تھا۔ ڈر کے مارے میں سب بیان کرتا رہا تھا۔ نور الدین عیسائی نے مجھے کہا تھا کہ تمہارا گذارہ میرے پاس نہیں ہو سکے گا۔ ڈاکٹر صاحب کے پاس جاؤ۔ اس لئے میں ڈاکٹر صاحب کے پاس گیا تھا ورنہ پہلے کوئی واقفیت ڈاکٹر صاحب سے نہ تھی۔ اقبال کا مطلب مجھے عبدالرحیم نے بتلایا تھا اور میں نے لکھ دیا تھا۔ لفظ بھی مجھے اس نے بتلائے تھے۔ پہلے جو
    البرھان۔ یعنی جو شخص نیزہ سے زخمی کیا جائے اس کا اچھا ہونا امید کی جاتی ہے لیکن جو شخص برہانؔ سے ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے اس کا اچھا ہونا امید نہیں کی جاتی۔
    ایسا ہی میں نے خداتعالیٰ سے علم پاکر ثابت کر دیا کہ مسیح کا رفع جسمانی بالکل جھوٹ ہے۔ عیسائی تواریخ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مدت تک عیسائیوں کا یہی عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام درحقیقت فوت ہوگئے ہیں اور ان کا رفع روحانی ہوا ہے۔ پھر بعد میں جب عیسائی لوگ یہودیوں کے مقابل پر رفع روحانی کا کوئی ثبوت نہ دے سکے کیونکہ روح نظر نہیں آتی تو یہ بات بنائی گئی کہ یسوع کو آسمان کی طرف جاتے فلاں شخص نے دیکھا تھا۔ اور
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 265
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 265
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/265/mode/1up
    265
    تحریر میں نے کی تھی وہ مجھ سے لے کر انہوں نے چاک کر دی تھی۔ جو بیان میں نے اب لکھایا ہے یہ بالکل درست اور سچ ہے۔ پہلا بیان مارے خوف اور ترغیب کے لکھایا تھا۔ میں نے خودبخود یہ بیان جواب لکھوایا ہے کسی کی ترغیب یا تحریص سے نہیں لکھوایا۔ (بسوال وکیل استغاثہ) میں اس وقت تک محمدیوں سے نہیں رلا۔ یعنی نہ محمدؐ صاحب کو سچا جانتا ہوں اور قرآن کو۔ متلاشی عیسائی ہوں۔ میں لاہور سے قادیاں مولویؔ نورالدین کے ساتھ کبھی نہیں آیا اور نہ امرتسر میں۔ پہلے پہل جب قادیاں گیا تھا سالم یکہ بٹالہ سے لیا تھا۔ شیخ رحمت اللہ کو دو دفعہ میں نے لاہور میں دیکھا تھا یعنی ملا تھا۔ پہلی دفعہ اس نے ۸؍ مجھے دئیے تھے۔ ڈاکٹر نبی بخش کو لاہور دیکھا تھا۔ لاہور سے بٹالہ تک آیا وہ اوّل درجہ کی گاڑی میں تھا اور میں سوم درجہ میں تھا۔ بٹالہ اس کے پاس میں نہیں ٹھہرا تھا۔ صرف رات رہا اور صبح قادیاں چلا گیا تھا۔ قادیاں جانے کے وقت سے مولوی نوردین سے واقف ہوا ہوں۔ میری سفارش کسی نے مولوی نورالدین سے نہیں کی تھی۔ میراں بخش گجراتی نے مجھے کہا تھا کہ مرزا صاحب کے پاس قادیاں جاؤ اور تعلیم پاؤ۔ دوسری دفعہ گجرات نوکری کے واسطے مظہر گیا تھا۔ میرے پاس دو روپیہ تھے جب قادیاں گیا تھا۔ مولوی نورالدین کی میرے چچا برہان الدین سے خبر نہیں کہ دوستی ہے یا نہ۔ جب میں پہلی دفعہ قادیاں آیا برہان الدین وہاں نہ تھا۔ دوسری دفعہ میرے آنے سے پہلے وہ وہاں تھا۔ وہ اور میں اکٹھے
    پھر رویت کے لحاظ سے دلوں میں یہ بات سما گئی کہ جسم عنصری کے ساتھ یسوع آسمانؔ پر چلا گیا۔آسمان پر چڑھانے سے اصل غرض تو یہ تھی کہ تا یہودیوں کے اس الزام سے یسوع کو بری کریں کہ وہ نعوذ باللہ *** ہے اور خداتعالیٰ کی طرف اٹھایا نہیں گیا۔ مگر جن لوگوں نے اس اعتراض سے بچنے کے لئے یسوع کے جسم کو آسمان پر چڑھا دیا انہوں نے یہ خیال نہیں کیا کہ *** جس پر یہود زور مارتے تھے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مصلوب ہونے سے کسی کا جسم آسمان پر نہیں جاتا بلکہ مطلب یہ ہے کہ ملعون کی روح خداتعالیٰ کی طرف اٹھائی نہیں جاتی۔ یہودیوں کا یہ خیال نہ تھا کہ ملعون کا جسم آسمان پر نہیں جاتا اور نہ ان کا
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 266
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 266
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/266/mode/1up
    266
    نہ رہتے تھے۔ برہان الدین سے میری پہلے بھی صلح تھی تب بھی تھی۔ جب بٹالہ میں یہ مقدمہ ہو رہا تھا خبر نہیں برہان الدین تھا۔ اب بھی معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہے۔ کیونکہ میں پہرہ میں تھا۔ میں نے ٹوکری اٹھانے کا کام ازخود کیا تھا کسی کے کہنے ؔ سے نہیں کیا تھا۔ چھاپہ خانہ میں علیحدہ کام کیا تھا۔ میں نے برہان الدین کو وہاں تب نہیں دیکھا تھا۔ صرف ایک جوڑا کپڑوں کا میرے پاس تھا جب میں قادیاں گیا تھا۔ مجھے وارث دین وغیرہ کہتے تھے کہ تم کہو کہ دو تین جوڑے تھے جب گیا تھا۔ غلام مصطفٰی میرا پہلے واقف نہ تھا۔ مسلمان جان کر کھانا اس نے دو روز دیا تھا۔ بٹالہ میں دریافت کر کے اس کے چھاپہ خانہ میں گیا تھا۔ ۹ بجے دن کے گاڑی میں سوار ہو کر امرتسر گیا تھا۔ جاتے ہی حال بازار سے نور الدین کا پتہ مجھے ملا تھا کہ وہ عیسائی منّاد ہے۔ کھانا کھا کر بٹالہ سے چلا تھا۔ دو تین بجے دن کے گرے صاحب کے پاس گیا تھا اور اسی روز ڈاکٹر صاحب کے یہاں گیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے میرے نانکے وغیرہ کا حال پوچھا تھا اور میں جواب کافی نہ دے سکا تھا۔ ٹم ٹم میں تھانہ دار مجھے چڑھا لایا تھا۔ سائیس کے سامنے مجھے پیچھے بٹھایا تھا۔ شام کو پریم داس و وارث دین وغیرہ کپتان صاحب کے بنگلہ پر آئے تھے کہ لڑکا ہم کو مل جاوے۔ راستہ میں تھانہ دار نے مجھ سے کوئی گفتگو نہیں کی تھی۔ میں نے پوچھا تھا کہ کیوں مجھے کپتان صاحب نے بلایا ہے اس نے کہا
    یہ خیال تھا کہ جو لوگ ملعون نہیں ہوتے وہ معہ جسم آسمان پر چلے جاتے ہیں۔ توریت سےؔ ثابت ہے کہ حضرت یوسف کی ہڈیاں چار سو برس بعد فوت کے حضرت موسیٰ کنعان کی طرف لے گئے۔ اگر وہ ہڈیاں آسمان پر چلی جاتیں تو زمین سے کیونکر دستیاب ہوتیں۔ توریت سے یہ بھی ثابت ہے کہ انسان مرنے کے بعد خاک میں جائے گا کیونکہ وہ خاک سے پیدا کیا گیا ہے۔ غرض اس میں کسی کو کلام نہیں کہ مرنے کے بعد تمام نبی زمین میں ہی دفن ہوتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ تمام نبی خداکے مقرب تھے نہ ملعون۔ پھر اگر ملعون کی یہ علامت ہے کہ وہ معہ جسم آسمان پر نہیں اٹھایا جاتا تو نعوذ باللہ تمام نبی ملعون ہوں گے۔* اور ایسا خیال
    * اگر ملعون معہ جسم آسمان پر نہیں جاتا تو ماننا پڑے گا کہ جو لوگ ملعون نہیں وہ ضرور معہ جسم آسمان پر جاتے ہیں اور یہ صریح باطل ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 267
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 267
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/267/mode/1up
    267
    تھا کہ خبر نہیں۔ سیدھا بنگلہ پر تھانہ دار لے گیا۔ بموجب حکم کپتان صاحب کے تھانہ دار نے مجھ سے دریافت کیا۔ وہ دُوسرا تھانہ دار تھا۔ درخت کےؔ نیچے جو احاطہ بنگلہ میں ہے تھانہ دار مجھے لے گئے اور مجھ سے دریافت کیا۔ قریب پچیس گز کے درخت دُور تھا۔ انہوں نے مجھے کہاکہ تو جُھوٹ بولتا ہے۔ سچ نہیں بولتا۔ مَیں نے جواب دیا کہ مَیں سچ کہتا ہوں جو لکھایا ہے سچ ہے۔ پھر انہوں نے کپتان صاحب سے کہا کہ یہ لڑکا سچ نہیں بتلاتا ہے۔ صاحب نے حکم دیا کہ میرے روبروئے لاؤ۔ محمد بخش پوچھنے والوں میں نہ تھا۔ صرف ایک آدمی پوچھتا تھا جو دوسرا تھانہ دار ہے نام نہیں جانتا۔ وہ تھانہ دار نہیں پوچھتا تھا جو گاڑی میں لایا تھا۔ محمد بخش نے کوئی بات مجھ سے نہیں پوچھی تھی۔ محمد بخش اور دوسراتھانہ دار اور ایک اور سپاہی یا منشی وہاں تھے۔ وہ منشی ہندو تھا۔ وہ منشی کسی مقدمہ کے فیصلہ ہونے کا ذکر کرتا تھا۔ اس لئے معلوم ہوا کہ وہ منشی ہے۔ مجھے محمد بخش نے نہیں کہا تھا کہ تم نے مرزا صاحب کے برخلاف لکھوانے میں گناہ کیا ہے۔ مجھے کوئی آدمی مرزا صاحب کا نہیں ملا۔ صرف چار پانچ منٹ درخت کے نیچے گفتگو ہوئی تھی۔ تین چار قدم کے فاصلہ پر چارپائی تھی اُس پر پھر مَیں لمبا پڑا رہا تھا۔ ایک دو گھنٹے کے بعد نوکر اُٹھا اور مظہر کو کپتان صاحب کے رُوبروئے حاضر کیا گیا۔ میرے پاس کوئی آدمی نہیں آیا۔ اور نہ کسی نے تھانہ دار سے گفتگو کی تھی۔
    صریح باطل ہے ۔ لہٰذا قطعی طور پر یہ مانناپڑا کہ ملعون سے مراد وہ شخص ہے جس ؔ کی روح کو خدا کے قرب میں جگہ نہ ملے اور خدا کی طرف نہ اٹھایا جائے ۔
    اور میں ابھی لکھ چکا ہوں کہ توریت کے رو سے جو شخص لکڑی پر لٹکایا جائے یعنی مصلوب ہو وہ *** ہے ۔ اور اسی سے یہود نے یہ نتیجہ نکالا تھا کہ نعوذباللہ حضرت عیسٰی علیہ السلام *** ہیں ۔ اور اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ *** کو جسم سے کچھ تعلق نہیں اور نہ عدم *** سے جسم کا آسمان پر جانا مانا گیا ہے ۔ لہٰذا یہود کا اعتراض حضرت مسیح کی نسبت صرف یہ تھا کہ وہ ان کو ملعون ٹھہرا کراس مقام قرب اور رحمت سے بے نصیب ٹھہراتے تھے جہاں ابراہیم اور
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 268
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 268
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/268/mode/1up
    268
    جب کپتان صاحب نے مجھ سے اوّل دریافت کیا تو مَیں ؔ نے وہی حالات بیان کیا جو پہلے لکھوایا تھا۔ صاحب نے کہا کہ جھوٹ بولتے ہو اب تم کو انارکلی میں نہیں بھیجا جاوے گا۔ گورداسپور لے جاویں گے۔ پھر مَیں نے کہا کہ میں نے سچ بولا ہے۔ صاحب نے کہا کہ نہیں تم جھوٹ بولتے ہو جب تمہارے شک رفع ہوگئے تھے توکیوں پھرعیسائیوں کے پاس گئے تھے۔ مَیں نے کہا تھا کہ نوکری کے واسطے گجرات گیا تھا۔ صاحب نے کہا تھا کہ مرزا صاحب کے تم کو بھیجنے کی بابت جھوٹا معلوم ہوتا ہے۔ سچ سچ بتلاؤ۔ مَیں نے خدا کے خوف سے ڈر کر پھر سب حال سچ سچ بتلادیا جو لکھایا گیا ہے۔ انسپکٹر صاحب اور محمد بخش تھانہ دار اور ایک اور منشی اُس وقت موجود تھے جب کپتان صاحب نے میرا بیان لکھا تھا۔ صاحب سوال کرتے رہے تھے اور مَیں مسلسل بیان لکھواتا رہا تھا۔ اُسی روز مجھے گورداسپور لے آئے تھے۔ جب اقبال لکھا گیا تھا ڈاکٹر صاحب پانچ چار قدم کے فاصلہ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ عبد الرحیم کہتا تھا کہ ڈاکٹر صاحب تم کو بچالیں گے اور دھمکی بھی دی گئی تھی کہ تمہاری تصویرہمارے پاس ہے جہاں جاؤگے پکڑے جاؤگے۔ لفظ ’’مار ڈال‘‘ کا میرے کان میں عبدالرحیم نے کہا تھا کہ لکھو۔ جس رات لالہ رام بھج نے مجھ سے پوچھا تھا اُس سے دوسرے دن میری شہادت دوبارہ ہوئی تھی اور پیشی عدالت سے پہلے عبد الرحیم وغیرہ نے قطب الدین وغیرہ کی بابت سِکھلایا تھا۔ پہلی دفعہ
    اسرائیل اور یعقوب وغیرہ نبیوں کی روحیں گئی ہیں ۔ پس اس مقام میں یہ خیال پیش کرنا کہ حضرؔ ت مسیح معہ جسم آسمان پر چلے گئے ہیں پھر اس سے ان کی خدائی نکالنا یہ ایک ایسا امر ہے جو یہودیوں کے اعتراض سے کچھ تعلق نہیں رکھتا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ کے گذرنے کے بعد یہ دعویٰ کہ یسوع آسمان پر چلا گیا ہے اس غرض سے کیا گیا تھا کہ تا یہودیوں کے اعتراض *** کو دفع کیا جائے اور اس وقت تک عیسائیوں کا یہی خیال تھا کہ خدا کی طرف مسیح کی روح اٹھائی گئی ۔ کیونکہ خدا کی طرف روح جاتی ہے نہ کہ جسم اور پھر دوسرے زمانہ میں اصل بات بگڑ کر یہ خیال پیدا ہوا کہ مسیح کا جسم آسمان پر چلا گیا ہے اور وہ خدا ہے ۔ حالانکہ اصل مدعا یہ تھا کہ مسیح کو
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 269
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 269
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/269/mode/1up
    269
    جب وکیل بارہ بجے آیاؔ اُس نے مجھ سے کہا تھا کہ تم پرند نہیں ہو کہ اُڑ کر امرتسر گئے تھے کوئی اور آدمی بھی تمہارے ساتھ ہوگا۔ اور تب عبد الرحیم وغیرہ نے مجھے قطب الدین کی شمولیت کی بابت کہا تھا۔ نوٹ وکیل استغاثہ نے تسلیم کیا کہ ہم نے دُوسرے آدمی کی شمولیت کی بابت گواہ سے شام کے وقت بھی پوچھا تھا۔‘‘ شام کے وقت پھر وکیل نے پوچھا تھا اور مَیں نے حسب گفتہ عبد الرحیم وغیرہ قطب الدین کا نام بتلایا تھا۔ وکیل نے مجھے کہا تھا کہ عدالت اِس بات کو نہیں مانے گی کہ تو اکیلا مار کر چلا گیا یا چلا جاوے گا۔ کسی اور آدمی کی شمولیت ضرور ہوگی۔ تب بارہ بجے کے بعد حسب سکھلاوٹ قطب الدین کا نام بیان کیا تھا۔ مسجد کے ساتھ ایک کمرہ ہے جس کی بابت مَیں نے ذکر کیا تھا۔ پہاڑ کی طرف ہے۔ معلوم نہیں اُس کا دروازہ کدھر کو ہے۔ مجھے کچھ معلوم نہیں کہ قطب الدین کا رنگ و حُلیہ کیا ہے۔ اورنہ کسی نے مجھے بتلایا تھا۔ نہ اب تک میں اُس کے حلیہ وغیرہ سے آگاہ یاواقف ہؤا ہوں۔ (بسوال عدالت) پیشی عدالت سے پہلے بارہ بجے دن کے وقت وکیل رام بھج میرے پاس آیا اور مجھے کہا کہ تم پرند نہیں ہو کہ مار کر اُڑ جاتے۔ اِس کے بعد وارث دین وغیرہ نے مجھے قطب دین کا نام بتلایا اور جب شام کو وکیل نے پھر مجھ سے ذکر کیا تو قطب الدین کا نام مَیں نے بتلایا تھا اور میری ہتھیلی پر دوسری
    صلیب کے نتیجہ سے بچا لیا جائے۔ اور وہ روحانی رفع پر موقوف تھا ۔ اور روحانی رفع اسی غرض سے تھا کہ تا یہ دکھلایاؔ جائے کہ وہ *** کے داغ سے پاک ہے مگر توریت کے منشاء کے موافق *** کے داغ سے وہ پاک ہو سکتاہے جس کی روح خدا کی طرف اٹھائی جائے نہ کہ جسم آسمان کی طرف جائے ۔عیسائی اس بات کو بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ حضرت مسیح بقول ان کے صلیبی موت سے اس الزام کے نیچے آگئے تھے کہ وہ *** ہوں اور اس *** سے مراد ابدی *** تھی ۔ پھر اس عقیدہ کے موافق اول اعتراض تو یہی ہوتا تھا کہ وہ ابدی *** یعنی یہ کہ رحمتِ الہٰی سے مردود ہوجانا اور خدا کا دشمن ہوجانا اور خدا سے بیزار ہوجانا اور شیطان سیرت ہو جانا
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 270
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 270
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/270/mode/1up
    270
    دفعہ عدالت میں پیش ہونے ؔ سے پہلے پریمداس نے پتہ قطب دین کا لکھا تھا۔ (بسوال وکیل ملزم) جب دوبارہ شہادت بٹالہ میں ہوئی اُسکے بعد ڈاکٹر صاحب کے پاس رہا تھا۔ دو سپاہی اور دو چوہڑے اور تین عیسائی میری حفاظت پر تھے یعنی اُنکے پہرہ میں مظہر تھا۔ مرزا صاحب کا کوئی آدمی مجھے نہیں ملا اور نہ اُس بیان کو مَیں نے کسی کی ترغیب اور تحریص سے لکھایا جو پولیس والے صاحب کے رُوبروئے لکھایا گیا ہے۔ صرف صاحب نے کہا تھا کہ ہم سچ دریافت کرنا چاہتے ہیں اور مَیں نے خدا کے خوف سے سچ لکھا دیا۔ تھانہ داروں نے مجھے کوئی خوف یاترغیب نہیں دی تھی۔ مرزا صاحب نے ہرگز مجھے نہیں کہا تھا کہ تم جاکر ڈاکٹر صاحب کو مارڈالو۔ مسجد کے ساتھ والے کمرے میں کوئی شخص نہیں جاسکتا۔ وہ زنان خانہ صاحب مکان کا ہے۔ مجھے اُس کے دروازے کا بھی حال معلوم نہیں ہے۔ شیخ وارث دین، بھگت پریمداس اور ایک اور عیسائی بوڑھا اور عبدالرحیم مجھے سکھلاتے رہے تھے۔ اُس رات کو جس کے دوسرے دن میری دوبارہ شہادت ہوئی ہے تالا باہر سے مکان کو لگا کر مجھے اندر مکان کے بند رکھتے تھے۔ انارکلی میں مجھے سکھلاتے رہے تھے کہ تم بیان کرنا کہ مرزا صاحب نے مجھے مارنے کے واسطے بھیجا تھا۔ وکیل نے جب شام کے وقت مجھ سے پُوچھا تھا اُسوقت ڈاکٹر صاحب ذرا فاصلے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ وکیل نے کہا تھا کہ جو سوال ملزم کی طرف سے وکیل کرے اُس کا جواب
    جیسا کہ لغت کی رو سے مفہوم *** کا ہے وہ تین دن تک کیوں محدود ہوگئی ۔ کیا توریت کاؔ مطلب صرف تین دن ہیں یا ابدی *** ہے ؟ اس خود تراشیدہ عقیدہ سے تو توریت باطل ہوتی ہے اور ممکن نہیں کہ خدا کا نوشتہ باطل ہو ۔
    علاوہ اس کے توریت کا مطلب تو یہ تھا کہ صلیب پر مارے جانے سے خدا کی طرف روح اٹھائی نہیں جاتی بلکہ جہنم کی طرف جاتی ہے ۔ چنانچہ یہ مؤخر الذکر جزو عیسائیوں کے عقیدہ میں داخل ہے اسی وجہ سے وہ لوگ نعوذ باللہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی نسبت یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ تین دن تک جو *** کے دن تھے وہ نعوذ باللہ جہنم میں رہے اور
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 271
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 271
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/271/mode/1up
    271
    اُلٹاؔ دینا۔ مَیں یہ بات سچ اور ایمان سے کہتا ہوں کہ وکیل رام بھج نے مجھ کو حسب مذکورہ بالا کہا تھا۔ میرے ساتھ ایک سپاہی آریہ قادیاں گیا تھا۔ آریوں کے ہاں ٹھہرا تھا اور آریوں نے گواہ بنادیئے تھے۔ نہال چند مدرس عیسائی ہے۔ عبد الحمید بقلم خود
    سُنایا گیا درست ہے تسلیم کیا گیا دستخط حاکم
    نقل ترجمہ بیان ڈاکٹر مارٹن کلارک صاحب باجلاس کپتان ایم ڈبلیوڈگلس صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور
    دستخط حاکم
    سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب بنام مرزا غلام احمد قادیانی جرم ۱۰۷ضابطہ فوجداری
    ترجمہ بیان ڈاکٹر مارٹن کلارک صاحب باقرار صالح ۲۰؍ اگست ۱۸۹۷ ؁ء
    ہم کو عبد الحمید کے اس دوسرے بیان کی نسبت کچھ معلوم نہیں ہے۔ عبد الرحیم ۳؍ بجے اور چھ بجے کے درمیان بیاس جاکر امرتسر واپس آسکتا تھا۔ جب ہم سب بیاس گئے تو کسی شخص کو عبد الحمید کے ساتھ علیحدہ بات کرنے کا موقعہ نہیں تھا۔ عبد الحمید کے اقبال کے وقت عبد الرحیم ذرا فاصلے پر موجود تھا اور کان میں بات نہیں کرسکتا تھا۔ اُس نے ہمارے پاس اقبال کیا۔ عبد الرحیم اقبال کرنے کے وقت نہیں بولا۔ اقبال میں لفظ نقصان اوّل عبدالحمید نے لکھا تھا اور پھر لفظ مارڈالنا اُس نے از خود لکھا تھا۔ ہم نے لڑکے کو مسٹر اہل ساپ صاحب
    مہر عدالت
    جب ؔ *** کے دن ختم ہو چکے تو وہ اسی جسم کے ساتھ جو *** صلیب پر چڑھایا گیا تھا اور بذریعہ سزا جہنم صاف نہیں کیا گیا تھا خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائے گئے ۔ سو عیسائی لوگ اس بات کو خود مانتے ہیں کہ *** کے دنوں نے تقاضا کیا کہ تا حضرت یسوع کی روح جہنم میں جائے اور پھر جو *** سے پاک ہونے کے دن تھے ان دنوں نے تقاضا کیا کہ تا ان کی روح خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائی جائے۔ اب چونکہ وہ *** کے دنوں کی نسبت اقرار کر چکے ہیں کہ یسوع کی محض روح ہی جہنم میں گئی تھی اس لئے انھیں اس دوسرے پہلو میں بھی یہی اقرار کرنا پڑے گا کہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 272
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 272
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/272/mode/1up
    272
    ڈسٹرؔ کٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس بہادر کی درخواست اور اُس کی اپنی درخواست پر رکھا تھا۔ ہم نے مسٹر گرے اور اُس کے پاس جانے کی نسبت بعد میں سُنا۔ (بسوال وکیل ملزم۔) ہم ڈاکٹر مشنری ہیں۔ ہم نے اپنے وکیل کا سفر خرچہ اور محنتانہ نہیں دیا۔ ہم کو یاد نہیں ہے کہ آیا ہم نے رام بھج دت کو وکیل مقرر کیا یا وہ از خود آیا۔ ہم لوگ ایک شخص جو سب کا دشمن ہے کے بارے میں مل کر کارروائی کرتے ہیں۔ (بسوال عدالت) عبد الرحیم ۳۲ سال ملازمت مشن میں رہا۔ جب لڑکا آیا۔ عبد الرحیم ایک بڑی خوف زدہ حالت میں تھااور اقبال کیا کہ وہ اُس کو مار ڈالنے آیا ہے۔ لڑکے کی روانگی کے دن ہم عبد الرحیم کو اُس کے ظاہر ارادوں کے بارے میں ناراض ہوئے۔ ہم کو سوجھ گئی تھی کہ اشارہ نادرست نہیں تھا۔ اور لڑکے کے چہرے پر ظاہرً ا ایک رنگ آتا تھا اور دُوسرا جاتا تھا20-8-97کوئی سوال نہیں ہؤا۔ دستخط حاکم
    مہر عدالت
    نقل بیان مسٹر لیمارچنڈ صاحب ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس گورداسپور بعدالت فوجداری اجلاسی
    مسٹر ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور
    سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک بنام مرزا غلام احمد قادیانی جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری دستخط حاکم
    ۲۰ ؍اگست ۹۷ ؁ بیان مسٹر لیمارچنڈ صاحب ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس باقرار صالح۔
    ۱۳؍تاریخ کو صاحب مجسٹریٹ ضلع نے ہم سے فرمایا تھا کہ عبد الحمید کے بیان سے پوری تسلّی ان کی نہیں
    خداؔ کی طرف بھی محض ان کی روح ہی گئی تھی اور اس کے ساتھ وہ جسم نہیں تھا جو نعوذ باللہ *** صلیب سے ناپاک ہو چکا تھا۔ کیونکہ جس حالت میں *** کے دنوں میں جسم تین دن تک قبر میں رہا اور جہنم میں *** کا نتیجہ بھگتنے کے لئے محض روح گئی تو پھر خدا جو بموجب قول ان کے روح ہے کیونکر اس کی طرف جسم اٹھایا گیا ۔ حالانکہ جسم کا جہنم میں جانا ضروری تھا کیونکہ گو *** یسوع کے دل پر پڑی مگر جسم بھی دل کے ساتھ شریک تھا بالخصوص اس وجہ سے کہ عیسائیوں کا جہنم محض ایک جسمانی آتش خانہ ہے کوئی روحانی عذاب اس میں نہیں۔ غرض
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 273
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 273
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/273/mode/1up
    273
    ہوئی اور زیادہ حال دریافت کرنا ضروری ہے۔ ہم نے ڈاکٹر کلارک صاحب سے قبل اس کے کہ ؔ وہ جائیں دریافت کیا کہ کس طرح عبد الحمید کو ہم بلائیں۔ انہوں نے نہال چند منشی کا پتہ دیاکہ اُس کو لکھ کر بُلالیں۔ ۱۴؍تاریخ کو محمد بخش ڈپٹی انسپکٹر بٹالہ مسانیاں سے واپس بٹالہ آیا اور ہم نے اس کو نہال چند کے پاس معہ ایک چٹھی کے بھیجا ۔ جب وہ عبد الحمید کو لایا ہمارے پاس بہت کام تھا ۔ ہم نے محمد بخش ڈپٹی انسپکٹر کو حکم دیا کہ اس لڑکے کو باہر درخت کے نیچے اپنے زیرنگرانی رکھو۔ انسپکٹر صاحب جلال الدین کو بھی حکم دیا تھا کہ حفاظت رکھو ۔ ہم کو علم ہے کہ یہ دونوں افسر قادیاں والے مرزا صاحب کے ہر گز مرید نہیں ہیں ۔ جب کام سے ہم فارغ ہوئے ۔ ہم نے عبدالحمید کو بلوایا۔ درخت کے نیچے جہاں وہ بیٹھے ہوئے تھے ۔ ہم دیکھ سکتے تھے۔ قریب دو گھنٹہ کے بعد ہم نے صرف عبدالحمید کو بلوایا تھا ۔ دونوں افسر اس کو لائے تھے ۔ قبل اس کے کہ عبدالحمید کو لاویں انسپکٹر صاحب نے ہم سے کہا کہ اگر فرصت نہیں ہے تو عبدالحمید کو واپس انارکلی بھیج دیا جاوے کیونکہ وہ جانا چاہتا ہے اور مقدمہ کی بابت کچھ اصلیت ظاہر نہیں کرتا۔ ہم نے تب کہا کہ اس کو ہمارے روبروئے حاضر کرو۔ جب وہ آیا تو وہی کہانی اس نے بیان کی جو پہلے مرزا صاحب کے اس کو امرتسر برائے قتل ڈاکٹر کلارک صاحب بھیجنے کی نسبت بیان کی تھی ۔ ہم نے دو صفحے لکھے اور اس کو کہا کہ ہم اصلیت صرف دریافت کرنا چاہتے ہیں ناحق وقت کیوں ضائع کرتے ہو۔ اس
    اسؔ تمام تحقیق سے ثابت ہوا کہ عیسائیوں نے یسوع کا معہ جسم اٹھایا جانا قرار دے کر اپنے عقیدہ کو غلطیوں اور تناقضوں سے پُر کر دیا ہے اور اصل بات یہی ہے کہ اس کی فقط روح خدا تعالےٰ کی طرف اٹھائی گئی اور وہ بھی صلیب سے ایک مدت دراز کے بعد ۔
    اور اس تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا کہ یسوع کا خدا کی طر ف اٹھائے جانا جو اس کے خدا ہونے کی دلیل ٹھہرائی گئی ہے یہ سراسر بیہودگی اور حماقت ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ جب یہودی لوگ اپنے زعم میں حضرت مسیح کو مصلوب کر چکے تو انہوں نے ہر روز عیسائیوں کو
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 274
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 274
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/274/mode/1up
    274
    بات کے کہنے پر عبدالحمید ہمارےؔ پاؤں پر گر پڑا اور زار زار رونے لگا ۔ بڑا پشیمان معلوم ہوتا تھا اور کہا کہ میں اب سچ سچ بیان کرتا ہوں جو اصل واقعہ ہے اور تب اس نے وہ بیان ہمارے روبروئے کہا جو ہم نے حرف بحرف اس کی زبان سے لکھا اور عدالت میں پیش ہے ۔ہم نے تب ڈپٹی کمشنر بہادر کو تاردی اور گواہ کو گورداسپور لائے ۔ وہ جب سے بیان لکھا ہے ہمارے احاطہ میں رہتا ہے اور اپنی مرضی سے جہاں جی چاہتا ہے آتا جاتا ہے ۔ آج صبح عبدالحمید نے ہم سے کہا تھا کہ ایک شخص نے (عبدالغنی ۔ یاد دلانے پر گواہ نے نام کی بابت کہا کہ یہی نام ہے )اس کو کہا ہے کہ پہلے بیان کے مطابق پھر بیان لکھوانا ورنہ قید ہو جاؤ گے ۔ ہمارے خدمتگاروں نے اس شخص کو دیکھا تھا جب عبدالحمید ہم کو کہنے آیا تو معلوم ہوا کہ عبدالغنی احاطہ سے چلا گیا تھا ۔ڈاکٹر گرے صاحب نے ہم سے دریافت کیاتھا اور انہوں نے ہم کو چٹھی لکھی ہے جو پیش کی جاتی ہے ۔
    حرف V۔ دستخط بخط انگریزی ۔ سنایا گیا درست ہے ، تسلیم ہوا ۔ دستخط حاکم
    نقل بیان وارث دین گواہ بحلف بمقدمہ فوجداری اجلاسی مسٹر ایم ڈبلیو ڈگلس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بہادر گورداسپور سرکار
    بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک بنام مرزا غلام احمد قادیانی جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری
    ۲۰؍ اگست ۹۷ ؁ ۔ بیان وارث دین گواہ بحلف۔
    ولد احسان علی ذات عیسائی ساکن جنڈیالہ عمر3سال بیان کیا کہ جب محمد بخش تھانہ دار عبدالحمید کو
    مہر عدالت
    دستخط حاکم
    تنگؔ کرنا شروع کیا کہ یسوع نعوذ باللہ *** اور خدا سے دور اور مہجور تھا تبھی تو مصلوب ہوگیا۔ اور یسوع گو زندہ بچ گیا تھا مگر اس کا پھر ظالم یہودیوں کے سامنے جانا مصلحت نہ تھی اس لئے عیسائیوں نے یہ بات کہہ کر پیچھا چھڑایا کہ فلاں عورت یا مرد کے روبروئے یسوع *** کے دنوں کے بعد آسمان پر چلا گیا ہے ۔ مگر یہ بات یا تو بالکل جھوٹا منصوبہ اور یا کسی مراقی عورت کا وہم تھا ۔ کیونکہ اگر خدا تعالےٰ کا یہ ارادہ ہوتا کہ یسوع کو جسم کے سمیت آسمان پر پہنچادے اور اس طرح پر مشاہدہ کراکر *** کے داغ سے پاک کرے تو ضروری تھاکہ دس۱۰
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 275
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 275
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/275/mode/1up
    275
    لینےؔ کے واسطے انار کلی گیا تو بہادر سنگھ سپاہی گاڑی میں ساتھ بیٹھنے لگا تھا تو تھانہ دارنے کہا کہ سائیس مہتر ہے ساتھ نہ بیٹھو ۔ پھر شام کے وقت میں گیا تو تھانہ دار نے کہا کہ اب لڑکا نہیں مل سکتا ۔ جب اقبال عبدالحمید نے بیاس میں لکھا تھا اس وقت ڈاکٹر صاحب میز کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے ۔ جیسے کہ مجسٹریٹ عدالت میں اس وقت بیٹھا ہوا ہے اور عبدالحمید سامنے بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے دائیں ہاتھ عبدالرحیم۔ پریمداس و دیال چند بیٹھے ہوئے تھے اور بائیں ہاتھ مظہر تھا۔ دائیں طرف اوّل پریمداس دوم دیال چند اور سوم عبدالرحیم تھے ۔ میں نے سنا تھا کہ لڑکے نے وکیل صاحب کو بتلایا ہے کہ وہ امرتسر میں ایک آدمی کو ملا تھا جب وہ پہلے امرتسر گیا تھا ۔ بمقام انار کلی بٹالہ نہال چند کی زبانی مجھے معلوم ہوا تھا کہ ایک اور شخص بھی قتل کرنے کے مشورہ میں امرتسر شامل ہے ۔ تب میں نے عبدالحمید سے دریافت کیا تو اُس نے نام قطب الدین اور پتہ دوکان کا بتلایا۔ شاید ۱۲؍ تاریخ ماہ حال تھی شام کا وقت تھا۔ حلیہ کسی کو اس نے نہیں بتلایا تھا ۔ (بسوال وکیل ملزم )میں پہلے مسلمان تھا ۔ ۱۸۷۴ ؁ء میں عیسائی ہوا تھا ڈاکٹر صاحب سے صرف صاحب سلامت ہے اور کوئی تعلق نہیں ہے ۔ مشن کی طرف سے مدارس کا ملاحظہ کیا کرتا ہوں۔ لڑکے نے پہلے مسودہ لکھا تھا اور پھر نقل دوبارہ کیا تھا۔ دیال چند نے قلم دوات اور کاغذ لا دیا تھا ۔ عبدالحمید نے جو مسودہ لکھا تھا وہ پڑھا نہیں گیا تھا
    بیسؔ یہودیوں کے رئیسوں اور سردار کاہنوں اور مولویوں کے روبروئے یسوع کو آسمان پر معہ جسم اٹھایا جاتا تا ان پر حجت پوری ہوتی نہ یہ کہ کوئی ایسی مجہول الحال عورت عیسائیوں میں سے دیکھتی یا ایسا ہی کوئی اور عیسائی مشاہدہ کرتاجن کے بیان پر لوگ ٹھٹھا کرتے اور ان کو مصداق مثل مشہور ’’پیراں نمے پرند مریداں مے پرانند‘‘کا ٹھہراتے ۔ آخر اس بیہودہ صعود سے فائدہ کیا ہوا جس کا کوئی بھی ثبوت نہیں اور عیسائی اس قول سے خود جھوٹے ٹھہرتے ہیں کہ جبکہ جہنم کی طرف لے جانے کے وقت جسم کو ساتھ نہیں کرتے۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 276
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 276
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/276/mode/1up
    276
    میرے ؔ سامنے لکھا گیا اور نقل بھی کیا گیا تھا ۔ پہلے غلطی ہوگئی تھی اس لئے دوبارہ نقل کیا تھا ۔ لفظ ’’نقصان‘‘ اور ’’ مارڈال ‘‘ خود عبدالحمید نے لکھے تھے ۔ میرا دستخط اس اقبال پر نہیں ہے۔ عبدالحمید نقل کر رہا تھا جب پوسٹ ماسٹر وغیرہ آئے تھے قریباََ ختم ہونے والا تھا ۔ کھانے والے کمرہ میں دری پر ہم سب لوگ بیٹھے ہوئے تھے ۔ صرف ڈاکٹر صاحب دری پر نہ تھے ، وہ کرسی پر تھے ڈاکٹر صاحب میز کے ایک پہلو کے ساتھ بیٹھے ہوئے اور ہم لوگ ان کے آگے بیٹھے ہوئے تھے ۔ عبدالحمید کو ڈاکٹر صاحب نے کہا تھا کہ جو کچھ کہتے ہو لکھ کر دے دو اور اس نے بلا حیل و حجت لکھدیا تھا ۔ میں دوران مقدمہ میں بٹالہ آیا تھا ۔ جب ڈاکٹر صاحب چلے گئے تومیں پیچھے رہا تھا ۔ رات کو یہاں آیا ہوں ۔ خرچ آمدورفت کا اپنے پاس سے کیا ہے ۔ بیاس سے امرتسر آتے ہوئے لڑکے کو رائے ونڈ* رکھا تھا اور میں وہاں ساتھ رہا تھا ۔ اوّل ڈاکٹر صاحب کی کوٹھی پر گئے تھے اور پھر سلطان ونڈ گئے تھے ۔ کوٹھی پر ساتھ میں گیا تھا اور جب صاحب ڈپٹی کمشنر کے روبروئے امرتسر بیان ہوا تب بھی ساتھ گیا تھا۔ وارث دین سنایا گیا درست تسلیم ہوا۔ دستخط حاکم
    یہ ؔ کیسا صاف مسئلہ ہے کہ جبکہ جہنم کی طرف صرف روح *** کے اثر سے گئی تھی تو وہی روح پاک ہونے کی حالت میں خدا تعالیٰ کی طرف جانی چاہیئے تھی جسم کا کیا دخل تھا ۔ اور اثر *** سے جسم ناپاک بھی تھا۔ مگر یاد رہے کہ ہم تو اس بات کو نہیں مانتے کہ نعوذباللہ کسی وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام ملعون بھی ہو گئے تھے اور جیسا کہ *** کا مفہوم ہے خدا سے بیزار اور خدا کے دشمن اور شیطان کی راہ کو پسند کرنے والے ہوگئے تھے ۔ ہاں اگر مصلوب ہوگئے تھے تو یہ سب کچھ ماننا پڑے گا ۔ اس وقت تو ہماری بحث یہ ہے کہ ہماری اس جدید تحقیق سے جو کسر صلیب کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہم کو عطا ہوئی ہے یہ دو باتیں خوب صفائی سے ثابت ہو گئی ہیں یعنی ایک یہ کہ مسیح علیہ السلام کا ہر گز رفع جسمانی
    * انگریزی میں سلطان ونڈ ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 277
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 277
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/277/mode/1up
    277
    نقلؔ بیان یوسف خان بمقدمہ فوجداری اجلاسی مسٹر ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بہادر ضلع گورداسپور
    سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک بنام مرزاغلام احمد قادیانی جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری مہر عدالت دستخط حاکم
    ۲۰ ؍اگست ۹۷ء ؁ یوسف خان گواہ باقرار صالحہ
    ولد اخوند احمد شاہ خاں ذات افغان عیسا ئی ساکن گجرات تحصیل مردان عمر3 سال۔ بیان کیا کہ میں زمینداری کرتا ہوں ۔ میں پہلے محمدی تھا ۔3 سال کی عمر تک محمدی رہا ۔ میں مرزا صاحب کا مرید ہوا تھا اور محمد سعید کا میں مدد گار تھا جو کتب خانہ کے چارج میں تھا ۔ بعد محمد سعید کے چلے جانے کے میں انچارج ہوا تھا ۔ میں جنڈیالہ میں قبل از مناظرہ ۹۳ء گیا تھا کہ مسلمان لوگ مرزا صاحب کو مباحثہ کے واسطے منتخب کریں ۔ اختتام مباحثہ پر ۵؍ جون ۹۳ء ؁کو مرزا صاحب نے پیشگوئی کی کہ جو حرف Aپر درج ہے اور انہوں نے کہاکہ جو فریق ناحق پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں بسزائے موت ہاویہ میں گرایاجاوے گا۔ نوٹ ۔ گواہ نے پیشگوئی کو پڑھ کر کہا کہ جو فریق غلطی پر ہے شکست کھائے گا یعنی برباد ہوگا ۔ اس وقت میں نے یہ ہی سمجھا تھا کہ عبداللہ آتھم کے واسطے یہ پیشگوئی ہے ۔ مگر بعد میں مرزا صاحب نے زبانی تشریح کی تھی کہ جو جو شخص فریق مخالف کا ہے ہر ایک کے واسطے یہ پیشگوئی ہے ۔ قادیاں آٹھ نو روز بعد پہنچ کر دریافت کیا تھا ۔ جب ڈاکٹر کلارک صاحب بیمار ہوئے تھے تو مرزا صاحب
    نہیںؔ ہوا نہ اس رفع کا کچھ ثبوت ہے او رنہ اس کی کچھ ضرورت تھی ۔ ہاں ایک سو بیس برس کے بعد رفع روحانی ہوا ہے جس کی قرآن شریف نے شہادت دی ہے ۔ مگر صلیب کے دنوں میں رفع روحانی بھی نہیں ہوا بلکہ وہ اس کے بعد ستاسی برس اور زندہ رہے ہیں ۔ ہمارے علما ء کی یہ غلطی ہے کہ معاََ صلیب کے ساتھ ہی حضرت عیسٰی کا رفع جسمانی مانتے ہیں حالانکہ دوسری طرف یہ اقرار بھی رکھتے ہیں کہ ان کی عمر ایک سو بیس برس کی ہوئی تھی ۔ اب ان سے کوئی پوچھے کہ جبکہ یہود اور نصاریٰ کی تاریخ متواتر سے جس پر یونانی اور رومی کتب تاریخ بھی
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 278
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 278
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/278/mode/1up
    278
    نے ؔ کہا تھا کہ ضرور اس کو بھی سزا ملنی چاہیئے یعنی سزائے موت ۔ اشتہار مورخہ۵؍ اکتوبر ۹۴ء ؁حرف Wگواہ نے پیش کیا نیز اشتہار مورخہ ۵؍ ستمبر ۹۴ء ؁ حرف Xگواہ نے پیش کیا ۔ اس وقت ڈاکٹر صاحب سے مرزا صاحب سخت ناراض تھے ۔ جولائی ۹۳ء میں مرزا صاحب نے ایک روز بہت لوگوں کے روبروئے اپنی خواب بیان کی کہ ایک سانپ نے مجھے دہنے ہاتھ پر کاٹا اور میں اپنے والد کے پاس گیا ۔ میرے والد نے اس زخم کو استرے سے کاٹنا شروع کر دیا اور سینہ تک کاٹ دیا ۔ اور اس سے مرزا صاحب نے پیشگوئی کی کہ آتھم کو سانپ کاٹے گا۔ اس کی بابت سیالکوٹ وغیرہ میں لوگوں کو بذریعہ خط اطلاع دی گئی تھی ۔ ایک سال بعد مناظرہ کے میں عیسائی ہوا تھا ۔ مارچ ۹۴ء ؁ میں مرزا صاحب سے جدا ہوا تھا ۔ مولوی برہان الدین کو ۶۹ء سے جانتا ہوں ۔نوٹ ۔ پیشگوئی حرف Aگواہ نے پڑھی اور اس کا مطلب اس طرح ادا کیا جیسے ڈاکٹر کلارک صاحب نے ۔ (بسوال وکیل ملزم )میں نے کوئی امتحان عربی، فارسی، انگریزی کا پاس نہیں کیا ۔ یرد الی النصارٰیکے معنے یہ ہیں کہ ہم نے الٹا دیا اس کو طرف عیسائیوں کے ۔ مرزا صاحب عبداللہ آتھم کی طرف معنے اس پیشگوئی کے نکالتے ہیں مَیں نہیں نکالتا ۔ میں عیسائی تھا جب پیشگوئی کی میعاد گذری ۔ محمد سعید اور میں قادیاں میں اکٹھے رہتے تھے میرے سے پیچھے محمد سعید قادیاں سے چلا گیا تھا وہ بھی عیسائی ہے ۔ میں مرزا صاحب کی باتوں کو اچھا نہیں سمجھتا ۔ یوسف خاں بقلم خود ۔ سنایا گیا درست ہے تسلیم ہوا ۔ دستخط حاکم
    شہادؔ ت دیتی ہیں یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ حضرت عیسٰے علیہ السلام تینتیس برس کی عمر میں مصلوب ہوئے اور یہی چاروں انجیلوں کی نصوص صریحہ سے سمجھا جاتا ہے تو پھرایک سو بیس برس کی عمر میں کس حساب سے وہ اٹھائے گئے ۔ حالانکہ حدیث ایک سو بیس برس کی محدثین کے نزدیک صحیح اور رجال اس کے ثقات ہیں اور ایک سو بیس برس کی حد لگا دینا یہ امر بھی دلالت کرتا ہے کہ اس کے بعد ان کی موت ہوئی ۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 279
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 279
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/279/mode/1up
    279
    نقلؔ بیان مرزا غلام احمد قادیانی بلا حلف بمقدمہ فوجداری اجلاسی مسٹر ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور
    سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک بنام مرزا غلام احمد قادیانی جرم ۱۰۷ضابطہ فوجداری
    ۲۰؍ اگست ۹۷ء ؁بیان مرزا غلام احمد قادیانی بلا حلف
    جب مباحثہ ۹۳ء کا ختم ہوا آخر پر ہم نے حسب درخواست عبداللہ آتھم کے اس کی نسبت پیشگوئی کی تھی ۔ ڈاکٹر کلارک صاحب کی بابت یہ پیشگوئی نہ تھی اور نہ وہ اس پیشگوئی میں شامل تھا ۔ فریق سے مراد آتھم ہی ہے ۔ جیساکہ عبارت سے ظاہر ہے ۔ فریق اور شخص کے ایک ہی معنے ہیں اور اس میں ہم بھی شامل ہیں۔ کوئی حملہ آتھم کے اوپر نہیں کیا گیا تھا اگر ہوتا تو وہ خود کوئی استغاثہ کرتا یا رپورٹ دیتا۔ مگر ایسا نہیں ہوا ۔ پندرہ ماہ کے عرصہ کے بعد عبداللہ آتھم فوت ہوئے تھے ۔ پندرہ ماہ گذرنے کے بعد عبد اللہ آتھم سے ہم نے سنا تھا کہ اپنے دوستوں کے پاس بیان کیا تھا کہ اس پر تین بار حملے ہوئے ۔ اس پر بھی ہم نے اس کو متنبہ کیا کہ میں ایسا سنتا ہوں کہ آپ میرے پر الزام لگاتے ہیں کہ میرے پر تین حملے ہوئے ۔ اگر یہ صحیح ہے تو چاہیئے کہ آپ قسم کھائیں یا عدالت میں نالش کریں یا خانگی طور پر باضابطہ اس کا ثبوت دیں ۔ مگر کوئی جواب مجھے نہیں ملا ۔ اس سے پہلے اس نے کبھی بیان نہیں کیا تھا نہ کسی اخبار میں نہ اور طرح پر۔ میں نے کوئی پیشگوئی سانپ کی بابت نہیں کی تھی ۔ عبدالحمید کو ایک دفعہ میں نے مسجد میں دیکھا تھا کسی
    اب ؔ خلاصہ کلام یہ کہ مسیح کا مصلوب ہونا توریت کے رو سے صرف اس بات کا مانع تھا کہ اور تمام صلحا اور راستبازوں کی طرح اس کا رفع روحانی ہو ۔ اوریہی بار بار یہود کا اعتراض بھی تھا۔ پس نصاریٰ کا اس پہلو کو اختیار کرلینا کہ حضرت مسیح در حقیقت مصلوب ہو گئے ہیں اور پھر یہ بات بنانا کہ گویا وہ بعض عیسائیوں کے روبروئے صلیب سے نجات پا کر تین۳ دن بعد مع جسم آسمان پر چلے گئے تھے یہ نہایت لغو اور بیہودہ عذر ہے ۔ کیونکہ جبکہ انہوں نے توریت کے موافق اس بات کو مان لیا کہ یسوع مصلوب ہو کر درحقیقت مورد *** ہو گیا تھا۔
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 280
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 280
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/280/mode/1up
    280
    شخصؔ نے ذکر کیا تھا کہ یہ شخص عیسائی ہو گیا تھا اب یہاں آیا ہے ۔ میرے ساتھ اس کی کوئی گفتگو نہیں ہوئی تھی ۔ مجھے نہیں معلوم کس نے اس کو مزدوری وغیرہ کا کوئی کام دیا تھا ۔ میں نے کوئی کام نہیں دیا تھا ۔ میں نے کوئی پیشگوئی نہ اشارتاََ اور نہ کنایتاََڈاکٹر کلارک صاحب کی بابت کی۔ میں نے سنا تھا کہ عبدالحمید اچھے چال چلن کا لڑکا نہیں ہے ۔ اس لئے میں نے گھر سے ایک رقعہ لکھ کر بھیج دیا تھا کہ اس کو نکال دینا چاہیئے ۔مجھے پھر خبر نہیں کہ وہ کہاں چلا گیا ۔ میں نے ایک پیسہ تک اس کو جاتے ہوئے نہیں دیا ۔نہ امرتسر بھیجا ۔ جھوٹ کی بیخ کنی سے مراد ہے کہ جھوٹ ضائع ہوجاوے گا ۔ ڈاکٹر کلارک صاحب کی طرف اشارہ نہیں ہے ۔ جب تک کوئی شخص رضامندی ظاہر نہ کرے پیشگوئی نہیں کی جاتی ۔ خط مورخہ ۵ ؍مئی ۹۳ء ؁ دستخطی عبداللہ آتھم پیش کرتا ہوں جس میں وہ نشان معجزہ یا دلیل قاطع مانگتے ہیں ۔ (حرف Y)حرف Oمیں دوبارہ روشنی ڈالنے سے مراد ہے کہ پیشگوئی کے پورا ہونے نے یقین کو زیادہ کیا ۔ دستخط مرزا غلام احمد
    سنایا گیا سب بیان صحیح اور درست مندرج ہے درست تسلیم ہوا ۔ دستخط حاکم
    ضمیمہ کتاب البریّہ*
    ذیل کی دو شہادتیں جو بروز فیصلہ مقدمہ شامل مثل ہوئیں وہ سہوًا درج کتابنہیں
    ہوئیں اب ذیل میں لکھی جاتی ہیں اس کو اخیر حکم سے پہلے شامل کتاب سمجھنا چاہیئے
    تو اؔ ب بلاشبہ توریت اس کو آسمان پر چڑھنے سے روکتی ہے ورنہ توریت خود باطل ہوتی ہے ۔یہ کیونکر مان لیا جائے کہ توریت کے *** کا حکم اوروں کے لئے ابدی اور یسوع کے لئے صرف تین دن تک محدود تھا ۔ توریت میں کوئی ایسی تخصیص نہیں ۔ بلکہ اس *** سے ابدی *** مراد ہے کہ جو کبھی بھی گلے سے نہیں اترے گی ۔ اگر موسےٰ کی کتاب توریت میں کہیں تین دن کا ذکر بھی ہے تو حضرات عیسائیاں ہم کو
    * ایڈیشن اوّل میں یہ ضمیمہ کتاب کے شروع میں شامل کیا گیاہے اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد کی تعمیل میں یہاں لایا گیا ہے ۔ناشر
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 281
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 281
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/281/mode/1up
    281
    نقل چٹھی مورخہ ۱۸؍ اگست ۹۷ء ؁ منجاب پادری ایچ۔ جی۔ گرے امرتسر بنام ڈبلیو لیمار چنڈ صاحب بہادر ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس گورداسپور۔ قیصرہ ہند بنام۔ مرزا غلام احمد قادیاں
    بعدالت کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپورہ
    ’’ میں ڈرتا ہوں کہ میں اس معاملہ پر کوئی روشنی نہیں ڈال سکتا۔ عبد الحمید یا جو کچھ اس کا نام ہے میرے پاس آیا تھا اور اس نے بیان کیا کہ وہ اصلی ہندو ہے اور کچھ دنوں مرزاء قادیانی کا مرید رہا ہے لیکن اب وہ عیسائی ہونا چاہتا ہے۔ مجھے وہ کوئی سچا متلاشی نہ معلوم ہوا بلکہ میں نے ایک معمولی سمجھا۔ میں نے اسے کہا کہ میں اسے تعلیم دوں گااگر وہ روزانہ یا ہفتہ میں ایک دو دفعہ میرے پاس آنا چاہے۔ پھر اس نے دریافت کیا کہ اس کا گذارہ کیسے ہو گا۔ میں نے جواب دیا کہ اس امر میں مَیں اسے ایک پیسہ بھی گذارہ کے لئے نہ دوں گا۔ جو کچھ میرے دل پر اس کی طرف سے خیال پیدا ہوا وہ یہ ہے کہ وہ ایک نکما اور مفتری آدمی ہے۔ جو مجھ سے روپیہ یا خوراک کا گذارہ چاہتا ہے۔ سو میں اس امر سے حیران نہ ہوا کہ وہ پھر کبھی میرے پاس نہیں آیا۔ مجھے یاد نہیں کہ آیا وہ میرے پاس کوئی چٹھی لایا یا نہیں۔ لیکن نور دین نے اتفاقیہ مجھ سے ذکر کیا تھا کہ وہ نوجوان اس کے پاس بھی گیا تھا۔‘‘*
    نقل بیان نور الدین عیسائی گواہ استغاثہ مشمولہ مثل عدالت فوجداری باجلاس کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب ڈپٹی
    کمشنر بہادر ضلع گورداسپور۔ واقعہ ۲۲؍ اگست ۱۸۹۷ء
    سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک مستغیث بنام مرزا غلام احمد قادیانی
    استغاثہ زیر دفعہ ۱۰۷ ضابطہ فوجداری
    بیان نور الدین عیسائی گواہ استغاثہ بہ حلف ۔ ۲۳؍ اگست ۱۸۹۷ء ؁
    فیصلہ
    ۲۳؍ اگست ۹۷ء ؁
    مرجوعہ
    ۹؍ اگست ۹۷ء ؁
    میں امرتسر میں مشن کی طرف سے واعظ ہوں اور ہال بازار میں میرا مقام صدر ہے۔ عبدالحمید میرے پاس امرتسر آیا تھا۔ اپنا پہلا نام رلیا رام بتلاتا تھا اور کہتا تھا کہ اب میں مسلمان ہوں۔ اور عبدالحمید یا عبدالمجید نام ظاہر کیا تھا۔ کہتا تھا کہ پہلے میں ہندو تھا۔ میں نے پادری گرے صاحب کے پاس اس کو
    *پادری ایچ۔ جی۔ گرے اور نور دین عیسائی کا بیان صاف طور پر ظاہر کر رہا ہے کہ عبد الحمید محض اپنے گذارہ کے لئے پادریوں کے دروازہ پر گیا تھا۔ پادری صاحب کے بیان سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر پادری گرے صاحب اس کو گذارہ دیتے تو وہ اسی جگہ ٹھہر جاتا ڈاکٹر کلارک کے پاس نہ جاتا۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 282
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 282
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/282/mode/1up
    282
    بھیج دیا تھا۔ صاحب موصوف نے واپس بھیج دیا تھا کہ اس کو تعلیم دو۔ جب طیار ہو جاوے عیسائی کیا جاوے گا۔ مگر وہ لڑکا پھر چلا گیا اور میں نے اس کو پھر کبھی نہیں دیکھا۔ شاید اس واسطے چلا گیا ہو گاکہ ہمارے ہاں روٹی کپڑا اس کو نہیں ملتا تھا۔ عبدالحمید نے اور مشنوں کی بابت بھی مجھ سے پوچھا تھا۔ شاید ڈاکٹر کلارک صاحب کے مشن کا بھی ذکر ہوا ہو۔ مگر ڈاکٹر کلارک صاحب کا صریح ذکر نہیں ہوا تھا۔ اس نے مجھ سے یہ نہیں کہاتھا کہ مرزا صاحب کی طرف سے آیا ہوں۔ مکرر کہا کہ عبدالحمید نے کہا تھا کہ میں مرزا صاحب کا شاگرد ہوں۔ سنایا گیا درست ہے۔ العبد نور دین
    دستخط حاکم
    ذیل کا فقرہ فارسی مثل میں نہ تھا انگریزی چٹھی میں ہے کل شہادۃ کے ختم ہونے پر اخیر حکم سے پہلے یہ فقرہ درج ہے
    Dr. Clark states he wishes to resign the post of prosecutor.
    Adjourned to 23rd August
    Sd/- M. Douglas Districrt magistrate.
    ترجمہ ڈاکٹر کلارک بیان کرتا ہے کہ وہ مستغیث ہونے سے دست بردار ہوتا ہے۔
    تیئیس اگست پر ملتوی کیا گیا
    دستخط ایم ڈگلس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ
    بعدالت کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور
    ملکہ قیصرہ ہند بنام مرزا غلام احمد ساکن قادیاں تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور جرم زیر دفعہ ۱۰۷ضابطہ فوجداری
    حکم ترجمہ از انگریزی
    کارروائی تحقیقات ھٰذا اس اطلاع سے پیدا ہوئی جو ڈاکٹر مارٹن کلارک سی ایم ایس کی جانب سے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 283
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 283
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/283/mode/1up
    283
    روبروئے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر بدیں مضمون دی گئی کہ ایک نوجوان بعمر اٹھارہ سال عبدالحمید نامی نے بیان کیا ہے کہ اس کو مرزا غلام احمد قادیانی نے اس کے (ڈاکٹر مارٹن کلارک) قتل کرنے کے لئے بھیجا ہے ۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے غلام احمد کی گرفتاری کے لئے ایک وارنٹ جاری کیا اور نوٹس دیا کہ وہ ان کو وجہ بتلائیں کہ کیوں اس سے حفظ امن کے لئے مچلکہ نہ لیا جائے مگر بعد ازاں معلوم کر کے کہ اس کو اختیار قانونی حاصل نہیں ہے اس نے مثل کو ضلع ھٰذا میں بھیج دیا کیونکہ غلام احمد کی سکونت اس ضلع میں واقع ہے۔ بادی النظر میں یہ مقدمہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس میں پولیس کی جانب سے مزید تحقیقات کی جائے اور پھر شیشن سپرد کیا جائے ۔ مگر ڈاکٹر کلارک بوجہ بیماری پہاڑ پر جانا چاہتا تھا اور اس کو ڈر تھا کہ شاید اس کا سب سے بڑا گواہ ورغلایا جائے ۔ اسی واسطے اس نے یہ خواہش ظاہر کی کہ جہاں تک جلد ممکن ہو عدالتی تحقیقات کی جائے ۔ یہ معلوم ہوا کہ بطور تمہیدی کارروائی تحقیقات زیر دفعہ ۱۰۷ ضابطہ مذکورہ جو ان حالات کی رو سے قائم ہوا اور جو اصل حقیقت پر پہنچنے کا بہترین ذریعہ ہے کی جائے لہٰذا جدید نوٹس غلام احمد کے نام جاری کیا گیا تا کہ وہ آن کر وجہ بیان کرے کہ کیوں اس سے ضمانت نہ لی جائے۔شہادت ڈاکٹر مارٹن کلارک سے ظاہر ہوتا ہے کہ ۱۸۹۳ ؁ء میں اس نے مابین عبداللہ آتھم عیسائی اور مرزا غلام احمد قادیانی کے مباحثہ کرایا تھا جس میں ڈاکٹر مارٹن کلارک موجود تھا اور دو موقعوں پر خود ڈاکٹر کلارک نے عیسائیوں کی
    وہ مقام دکھلا ویں ۔ ہم محض ثالث کے طورپر یہ گواہی دیتے ہیں کہ اگر حضرت یسوع درحقیقت مصلوب ہوگئے ہیں تو اس صورت میں یہود اُن کو *** ابدی اور جہنمی ہونے کا مصداق ٹھہرانے میں بلا شبہ حق پر ہیں* اور توریت میں ایک حرف بھی ایسا نہیں ہے جو تین دن کی *** کے بارے میں عیسائیوں کی تائید کر سکے ۔ صلیب کے قبول کرنے کے بعد عیسائیوں کو کوئی بھی گریز کی جگہ
    *یسوع کا جہنم میں جانا ان کتابوں سے ثابت ہوتا ہے ۔ انجیل متی کی تفسیرخزانۃ الاسرار تالیف پادری عماد الدین صفحہ ۴۹۸ سطر بیس ۲۰ ’’ خدا کا ساراغضب جو گناہ کے سبب سے ہے اس پر آگیا‘‘۔ اب ظاہر ہے کہ یہ غضب وہی چیز ہے جس کو دوسرے لفظوں میں جہنم کہتے ہیں ۔ پھر اسی خزانۃ الاسرار کی بائیسویں سطر میں مسیح کی نسبت زبور ۸۸۔۶ سے یہ پیشگوئی نقل کی ہے۔
    ’’ تو نے مجھے گڑھے کے اسفل میں ڈالا اندھیرے مکانوں میں گہراؤوں میں ۔ ‘‘ اب ظاہر ہے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 284
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 284
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/284/mode/1up
    284
    طرفؔ سے کارروائی کی تھی ۔ مباحثہ کے اختتام پر مرزا غلام احمد نے پیشگوئی کی کہ عیسائی جو مباحثہ میں شامل ہیں پندرہ مہینے کے اندر مرجائیں گے ۔ اور ڈاکٹر کلارک بیان کرتا ہے کہ اس عرصہ کے دوران میں چار صاف حملے آتھم کی جان پر کئے گئے پیشگوئی بالآخر پوری نہیں ہوئی* اور ڈاکٹر کلارک نے غلا م احمد کو پبلک میں جھوٹا پیغمبر ظاہر کیا۔ مباحثہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا صاحب کے دو مرید محمد یوسف خان جو مباحثہ میں اس کا سکریٹری تھا اور محمد سعید جو بروئے نکاح رشتہ دار تھا عیسائی ہو گئے اور یہ امر بمعہ اس نقصان شعبدہ بازی کے جو اس کی پیشگوئیوں کے خطا جانے کے پیدا ہوا مرزا صاحب کے لیے باعث رنج عظیم ہوا ۔ ڈاکٹر کلارک نے ایک انتخاب شہادۃ القرآن
    نہیں ؔ رہی اور اقرار صلیب کے بعد یہ عذرکہ فلاں عورت یا فلاں مرد نے ان کو آسمان پرچڑھتے دیکھا تھا نہایت نکمااور فضول اور لغو عذر ہے ۔ کاش یہ چڑھنا یہود کے علماء اور فقیہوں کو دکھلایا ہوتا اور اگر وہ دیکھتے بھی تو اس کا یہی نتیجہ ہوتاکہ وہ سمجھ لیتے کہ توریت منجانب اللہ نہیں ہے مگر اب تو عیسائیوں نے خود یہود کا ہاتھ بلند کر دیا کیونکہ جب یسوع کو مصلوب مان لیا تو اب
    کہ یہ اندھیرے کے مکان عیسائیوں کے نزدیک جہنم ہے ۔ پھر کتاب جامعۃ الفرائض مطبوعہ امریکن مشن پریس لودھیانہ ۱۸۶۲ء ؁ صفحہ ۶۳ سطر ۱۶۔۱۷ میں مسیح کی نسبت یہ عبارت ہے ۔ ’’ کیونکہ کوئی گناہ ایسا نہیں جس کو اس کا خون صاف نہ کرسکے اور کوئی گنا ہ ایسا نہیں جس کا اس نے بدلہ نہ دیا ہو اور کوئی سزاءِ گناہ ایسی نہیں جو اس نے نہ اٹھائی ہو ۔ ‘‘ اور ظاہر ہے کہ گنہگاروں کی خاص سزا جہنم ہے جس کا اٹھانا پوری سزا اٹھانے کیلئے ضروری ہے۔
    *ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ ڈاکٹر کلارک کا یہ بیان صحیح نہیں ہے کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور ہم بارہا بیان کر چکے ہیں کہ پیشگوئی دو پہلو رکھتی تھی ۔ ایک یہ کہ آتھم میعاد کے اندر عیسائیت پر استقلال دکھلا کر یعنی پیشگوئی سے خوف زدہ نہ ہونے کی حالت میں ضرور پندرہ مہینے تک فوت ہو جائے گا۔ دوسرے یہ کہ خوف زدہ ہونے کی حالت میں جبکہ پیشگوئی کی عظمت سے خوف ہو ہر گز میعاد کے اندر فوت نہ ہوگا۔ سوچونکہ آتھم ڈرا اس لئے دوسرے پہلو کے موافق پیشگوئی پوری ہوگئی اور پھر اخفائے شہادت سے دوسرے الہام کے موافق فوت بھی ہو گیا اور ہم لکھ چکے ہیں کہ عیسائی فریق کا سرگروہ صرف آتھم ٹھہرایا گیا تھا۔ اور یہ امر بھی صحیح نہیں کہ مباحثہ کے اثر سے دو مرید ہمارے عیسائی ہو گئے تھے بلکہ یہ دونوں سخت نادان دنیا پرست جاہل تھے جن کو ہم نے اپنی جماعت سے نکال دیا تھا۔ یہ بھی کس قدر جھوٹ ہے کہ احمد بیگ کی نسبت پیشگوئی پوری نہیں ہوئی بلکہ سب لوگ جانتے ہیں کہ احمد بیگ پیشگوئی کی میعاد میں فوت ہو گیا اور بڑی صفائی سے پیشگوئی پوری ہوئی ۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 285
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 285
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/285/mode/1up
    285
    سے جو ایک رسالہ مصنفہ مرزا صاحب ہے جس میں مرزا صاحب نے تین مختلف مذاہب کے تین نامی آدمیوں عبداللہ آتھم احمد بیگ اور لیکھرام کی موت کی نسبت پیشگوئی کی تھی پیش کیا ۔ آتھم اور احمد بیگ کی نسبت پیشگوئی پوری نہیں ہوئی لیکن لیکھرام حال ہی میں میعاد مقررہ کے اندر بُری طرح سے کسی نامعلوم شخص کے ہاتھ سے قتل کیا گیا ہے ۔ ڈاکٹر کلارک نے بیان کیا کہ غلام احمد کی یہ پالیسی ہے کہ اپنے مخالفوں کے دلوں میں ان کی ہلاکت کی پیشگوئی کر کے خوف بٹھانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے اور اس کا سلوک اس کے یعنی ڈاکٹر کلارک کی نسبت مابعد مباحثہ لگاتار کینہ ور رہا ہے۔ زیادہ تر خاص کر کے آتھم کی وفات کے روز سے ڈاکٹر کلارک بجائے اس کے عیسائی سرگروہ سمجھا ؔ جاتا ہے۔ ایک انتخاب اس رسالہ سے پیش کیا گیا ہے جس کو انجام آتھم کہتے ہیں اورجس کو غلام احمد نے شائع کیا ہے جس میں بموجب تصریح ڈاکٹر کلارک یہ بیان ہے کہ وہ ایک سال کے اندر مر جائے گا اور
    ابدی ؔ *** کو ماننا انہیں لازم آگیا ۔ اور یہ کہنا کہ ابدی *** یسوع پر نہیں پڑ سکتی۔ یہ ایک نیا دعویٰ ہے جس کا ثبوت اب تک عیسائیوں نے توریت کے رو سے نہیں دیا ۔ در حقیقت عیسائی لوگ بڑی مصیبت میں ہیں ۔ کیونکہ اگر فرض محال کے طور پربلا دلیل یہ بھی مان لیا جائے کہ اوروں پر تو ابدی *** صلیب سے پڑتی ہے مگر یسوع پر صرف تین دن تک پڑی تو اس سے بھی عیسائی جھوٹے ٹھہرتے ہیں
    پھر اسی کتاب کے صفحہ ۹۲ سطر ۱۴۔ ۱۵میں سزا کی تشریح یہ لکھی ہے ۔’’ دیندار لوگ مرتے وقت ہی آرام کی جگہ میں داخل ہوتے ہیں اور بے دین اسی وقت دوزخ میں گرتے ہیں ‘‘ اس سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یسوع نے سب گناہ اپنے پرلے کر ضرور جہنم کی سزا اُٹھائی ۔ اور رسالہ معمودیۃ البالغین کے صفحہ ۲۹۱ سطر ۱و۲ میں یسوع کی نسبت عیسائیوں کا عقیدہ یہ لکھا ہے ’’ صُلِب ومات و قُبِر و نزل الی الجحیم‘‘* یعنی یسوع مصلوب ہوا اور مر گیا اور قبر میں داخل ہوا ا ور جہنم میں اترا ۔ اب ان تمام عبارتوں سے صاف طور پرظاہر ہوتا ہے کہ مسیح جہنم میں گیا اور اس نے ساری سزائیں اٹھائیں ۔ عیسائی اس بات کے بھی قائل
    *حال کی بعض عیسائی کتابوں میں بجائے جہنم ہادس لکھا ہے جو ایک یونانی لفظ ہے جس کے معنے ہاویہ ہے جس کو عبرانی میں ہاوث کہتے ہیں ۔ درحقیقت یہ دونوں لفظ ہادس اور ہاوث عربی کے لفظ ہاویہ سے لئے گئے ہیں ۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 286
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 286
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/286/mode/1up
    286
    یہ میعاد ۱۴؍ ستمبر ۹۷ء ؁ کو ختم ہوگی ۔ ڈاکٹر کلارک بیان کرتا ہے کہ ۱۸۹۴ ؁ء سے اس نے غلام احمد سے خط و کتابت بند کردی ہے اور یہ کہ اکثر رسالجات جن میں اس کا ذکر ہوتا ہے قادیاں سے اس کے پاس آتے رہے ہیں ۔ لیکن تھوڑے عرصہ سے وہ لگاتار سلسلہ بند ہو گیا ہے ۔ جس سے وہ استدلال کرتا ہے کہ تا وہ حفاظت سے بے فکر ہو جائے ڈاکٹر کلارک نے پیشگوئیوں کی ایک فہرست پیش کی ہے جو وقتًا فوقتًامنجانب مرزا غلام احمد شائع ہوتی رہیں جن میں بہت سے اشخاص کی نسبت موت اور نقصان کی پیش از وقت اطلاع دی گئی ہے ۔ ۱۶ ؍جولائی ۹۷ ؁ کو ایک اٹھارہ سالہ نوجوان ڈاکٹر کلارک کے پاس امرتسر میں آیا اور کہا کہ اس کا نام عبدالمجید ہے اور وہ عیسائی ہونا چاہتا ہے وہ جنم سے برہمن تھا اس کا نام رلیا رام ولد رام چند سکنہ کھجوری دروازہ شہر بٹالہ ہے ۔ وہ غلام احمد کے ہاتھ سے مذہب اسلام میں داخل ہوا ۔ جب وہ پندرہ برس کا تھا ۔ وہ سات برس تک قادیاں میں رہا اور غلام احمد کو برا آدمی سمجھ کر چلا ؔ آیا اور اب وہ عیسائی مذہب میں اصطباغ لینا چاہتا ہے ۔ ڈاکٹر کلارک کو شبہات فوراََ پیدا ہوئے اس کو تعجب ہوا کہ اس قصہ کی مشابہت اس قصے سے ہے جو لیکھرام کے قاتل نے بیان کیا تھا۔ اس نے نوجوان
    کیونکہؔ لغت کے رو سے خود *** ایک ایسا لفظ ہے جو دل سے متعلق ہے اور لعین اس حالت میں کسی کو کہا جاتا ہے کہ جب شیطان کی تمام خصلتیں اس کے اندر آجاتی ہیں اور وہ مردود اور دشمن خدا ہو جاتا ہے تو کیا ایک دم کے لئے بھی یہ حالتیں حضرت عیسٰی علیہ السلام کے لئے تجویز کرسکتے ہیں ۔
    ہیں کہ صلیب کی سزا تو صرف چند گھنٹے تھی لیکن *** موت کے بعد تین دن تک رہی ۔ اب ظاہر ہے کہ *** کے ایام میں کسی قسم کا عذاب یسوع کے شامل حال ہوگا اور وہ عذاب بجزدوزخ کے اور کوئی نہیں اور نیز جبکہ یسوع کا فرض تھا کہ وہ آپ سزا اٹھا کر خدا تعالیٰ کا عدل پورا کرے تو پھر اگر صرف دنیا کا چند گھنٹوں کا دکھ اس نے دیکھا اور جہنم میں نہیں گیا تو اس صورت میں خدا کا عدل کیونکر پورا ہوگا۔ حالانکہ انجیل متی کی تفسیر میں پادری عماد الدین لکھتے ہیں کہ ’’ خدا مسیح کے دل کے سامنے سے ہٹ گیا تا کہ اپنی عدالت خوب پوری کرے ‘‘ ۔ یعنی بباعث *** یسوع کا دل تاریک ہو گیا۔ اور تفسیر کتاب اعمال ملقب بہ تذکرۃ الابرار مطبوعہ ۱۸۷۹ء امریکن مشن پریس لودھیانہ میں مسیح کی نسبت یہ عبارت ہے ’’ مسیح خداوند کا شکر ہو کہ اس نے شریعت کی
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 287
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 287
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/287/mode/1up
    287
    کی حفاظت کی اس نے اس سے گفتگو کی اور اس کی نسبت تحقیقات کرائی اس سے معلوم ہوا کہ عبدالحمید (عرف عبدالمجید ) کسی قدر عیسائیت سے واقف ہے ۔ مؤخر الذکر نے بیان کیاکہ ایک سابق عیسائی سائیاں نامی سے بمقام قادیاں سیکھتا رہا تھا چند روز کے وقفے کے بعد ڈاکٹر کلارک نے اس نوجوان کو بیاس پر اپنے شفا خانے میں بھیج دیا ۔ جب وہ وہاں تھا تو اس نوجوان نے ایک چٹھی قادیان کو بنام نورالدین بھیروی بھیجی جو فی الحال غلام احمد کے مریدوں کا سرگروہ ہے جس میں اس نے مولوی مذکور کو اطلاع دی کہ وہ عیسائی ہونے کے لئے فیصلہ کرچکا ہے ۔ چٹھی مذکورہ بلا علم ڈاکٹر کلارک بھیجی گئی مگر اس کے اور عیسائی ماتحتوں کو جو بیاس میں رہتے ہیں علم تھا۔ اس اثناء میں ڈاکٹر کلارک کی تحقیقات دربارہ نوجوان جاری رہی عبدالرحیم ایک کرسٹان نو مہینے سے عیسائی ہے اور وہ غلام احمد سے نا آشنا ہے قادیاں کو گیا اس وقت مرزا صاحب نے اسے کہا کہ نوجوان مذکور قادیاں میں رہتا رہا اس کو یقین ہے کہ وہ عیسائی تھا وہ قادیاں سےؔ اپنے ناپسندیدہ چال چلن کی وجہ سے نکال دیا گیا ہے اور یہ کہا کہ اگر اس کو کھانا اور کپڑا دیا جائے تو وہ غالباً(عبدالرحیم ) کے ساتھ ٹھہر جائیگا ۔ عبدالرحیم نے یہ بھی بیان کیا کہ مرزا صاحب کے ایک مرید نے اسے کہا تھا کہ
    تو پھر وہ *** جو صلیب کا نتیجہ تھا کیونکر یسوع پر پڑ سکتی ہے ۔ اور اگر نہیں پڑی تو یسوع مصلوب بھی نہیں ہوا ۔ اس نے سچ کہا تھا کہ ’’ میں یونس کی طرح تین دن قبر میں رہوں گا ‘‘ اور وہ خوب جانتا تھا کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں نہیں مراتھا اور ممکن نہیں کہ اس کے منہ کی مثال غلط نکلے ۔
    ساری *** کو اپنی صلیبی موت میں اپنے اوپر اٹھا کے ہمیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں شریعت کی *** سے آزاد کر دیا کہ وہ آپ ہمارے بدلے *** ہوا۔ ہم سب حقیقت میں *** تھے اور یہ *** ابد تک ہمارے اوپر تھی ۔ کبھی ہم اس کے نیچے سے نکل نہ سکتے کیونکہ لاچار اور کمزور تھے پر وہ ہمارے لئے *** ہوا کہ ہماری *** اس نے اپنے اوپر اٹھالی اور ہمیں اس سے مخلصی دی اور آپ بھی اس *** کے نیچے سے تیسرے دن نکل آیا‘‘۔ اب اس جگہ عیسائیوں کے عدل کی حقیقت بھی کھل گئی کہ اوروں کے لئے ابدی *** اور بیٹے کے لئے صرف تین دن ۔ اور ہم بیان کرچکے ہیں کہ ایک منٹ کی *** بھی شیطان سیرت بنادیتی ہے ۔ چنانچہ کتاب جامعۃ الفرائض صفحہ ۹۲ میں لکھا ہے کہ ’’ اس بے ایمانوں کے لشکر کے ساتھ شیطان ہووینگے‘‘ بہر حال عیسائیوں کا یہی عقیدہ ہے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 288
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 288
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/288/mode/1up
    288
    اس نوجوان نے جانے سے پہلے غلام احمد کو علانیہ گالیاں نکالی تھیں ۔ اور تحقیقات سے ظاہر ہوا کہ نوجوان ایک مشہور خاندان مولویاں سکنہ جہلم سے ہے اس کا ایک چچا جو برہان الدین غازی کے نام سے مشہور ہے مرزا صاحب کا مرید ہے ۔ یہ پایا گیا کہ وہ گجرات اور پنڈی میں بطور متلاشی عیسائی کے رہتا رہا ہے مگر گجرات مشن سے زناکاری اور دروغ گوئی کی وجہ سے نکال دیا گیاتھا ۔ اس کا یہ بیان کہ وہ جنم سے برہمن ہے جھوٹا ہے اس کا اصلی نام عبدالحمید ہے ۔ وہ قادیان میں سات برس تک نہیں رہا بلکہ صرف چند روز رہا ۔ عبدالرحیم قاصد نے جو قادیان بھیجا گیا تھا ڈاکٹر کلارک کی توجہ کو اس امر واقعہ کی طرف منتقل کیا کہ نوجوان کی آنکھ خونی معلوم ہوتی ہے اور چونکہ ڈاکٹر کلارک مجرمانہ علم قیافہ کا عالم ہے اس نے اس کی وضع قطع میں وہ خط وخال معلوم کئے جو اس کے قاتلانہ میلان کے شاہد تھے۔ مزید براں وہ ایک متعصب خاندان سے تعلق رکھتا ہے اس نے خیال کیا کہ چونکہ قادیاں میں عام طور سے گالیاں دی گئیں اور نیز اس خیال سے کہ عبدالحمید کو باوجود مولویوںؔ کا رشتہ دار ہونے کے کمینہ کام کرنے کو دیا گیا ہے یہ مرزا صاحب کی طرف سے اس واسطے پیش بندی کے
    غرضؔ اس تمام تحقیقات سے ثابت ہے کہ یسوع کا آسمان پر معہ جسم جانا ایک جھوٹا مسئلہ ہے جو عیسائیوں نے بنایا ہے ۔ جس حالت میں عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ نعوذ باللہ یسوع جہنم میں جسم کے ساتھ نہیں گیا بلکہ محض روح گئی تھی تو وہ جسم جو جہنم کی سزا پا کر *** سے ابھی پاک نہیں کیا گیا وہ آسمان پر کیونکر چڑھ گیا ۔
    کہ تین دن جو *** کے دن تھے یسوع جہنم کا عذاب بھگتتا رہا *۔ اور کتاب راہ زندگی مطبوعہ الہ آباد ۱۸۵۰ء ؁ صفحہ ۶۹ سطر ۸ میں لکھاہے کہ ’’ یہ سزا ( یعنے گنہگار کی سزا )اکثر موت کے لفظ سے مذکور ہوتی ہے موت نہ صرف جسم کی بلکہ روح کی بھی نہ صرف دنیاوی بلکہ ابدی ‘‘۔ اور اسی کتاب راہ زندگی میں جو تالیف ڈاکٹر ہاج ڈی ڈی باشندہ امریکہ ہے لکھا ہے کہ ’’ *** اور موت اور غضب اور وہ سزا جو گنہگاروں کو ملے گی سب ایک ہی چیز ہیں ‘‘ اور پھر یہی اس عقیدہ کی تائید میں لکھتاہے کہ ’’ مسیح نے کہا ہے کہ گنہگار جہنم کی اس آگ میں جو کبھی نہیں بجھے گی ڈالے جائینگے ‘‘ (مرقس ۹ باب ۴۱) منہ
    *بعض نادان عیسائی کہتے ہیں کہ یسوع ہادس یعنی جہنم میں تحت الثرےٰ کے قیدیوں کو منادی کرنے گیا تھا مگر ایک دانا سوچ سکتا ہے کہ *** کے دنوں کا کیا تقاضا تھا ۔ کیا سزا اٹھانے کے لئے جانا یا نصیحت کے لئے ۔ ایک ملعون دوسرے کو کیا نصیحت کر سکتا ہے اور پھر دوزخیوں کو نصیحت کیا فائدہ کرے گی مر کر توہر ایک شخص راہ راست کو سمجھ جاتا ہے اور اگر اس وقت کا سمجھنا کچھ چیز ہے تو پھر ایک بھی دوزخ میں نہیں رہ سکتا ۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 289
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 289
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/289/mode/1up
    289
    طور پر انتظام کیا گیا کہ شبہ عائد نہ وہ ۔ عبدالرحیم کا یہ خیال تھا کہ وہ نوجوان قادیاں سے اس کو قتل کرنے کیلئے بھیجا گیا ہے مگر ڈاکٹر کلارک نے صورت حالات سے مطلع ہو کر یہ نتیجہ نکالا کہ میں ہی مقصود قربانی ہوں لہٰذا وہ بیاس کو گیا اور روبروئے عبدالرحیم و پریمداس و وارث الدین و نہالچند اور خود ڈاکٹر کلارک کے نوجوان عبدالحمیدنے بعد انکار و عذرات اور نیز ڈاکٹر کلارک کے اس وعدہ کے بعد کہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا یہ اقبال کیا کہ مرزا غلام احمد نے اس سے کہاتھا کہ جاؤ اور ڈاکٹر کلارک کو کسی مناسب موقعہ پر نقصان پہنچاؤ یعنی قتل کرو ۔ اس نے آخر کار بموجودگی اشخاص مذکورہ بالا یہ اقبال تحریر کیا ۔ بعد ازاں اس نے بیان کیا کہ اس نے قادیان کو مولوی نورالدین کے نام اس غرض سے خط لکھا ہے کہ ان کو پتہ معلوم ہوجائے کہ میں کہاں ہوں ۔ اس نے علانیہ مرزا صاحب کو *** بھیجی تاکہ مؤ خر الذکر شخص کی طرف سے شبہ پیدا نہ ہو ۔ اس پر ڈاکٹر کلارک عبدالحمید کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر کے پاس لے گیا اور بعد اس کے اس کا بیان قلمبند ہوا ۔ بدرخواست ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس ڈاکٹر مذکور نے نوجوان کو اپنی حفاظت میں لیا تا وقتیکہ اس کا آخری اظہار عدالت میں قلمبند نہ ہوا ۔ ایک گواہ پریمداس نامی نے بیان کیا کہ اس نے بیاس پر دو آدمی دیکھے تھے جو عبدالحمیدکو پوچھتے پھرتے تھے اور ڈاکٹرؔ کلارک اور ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس کو اندیشہ تھا کہ مبادا اسے کچھ ضرر پہنچایا جائے ۔ عبدالحمید کی شہادت سے جو اس نے عدالت میں دی یہ ظاہر ہوا کہ وہ قادیاں میں دو دفعہ گیا ہے ایک دفعہ ماہ مئی میں پانچ روز کے لئے اور پھر ماہ جون میں قریب دس دن کے لئے۔ وہ مرزا صاحب کو پہلے کبھی نہیں جانتا تھا اس کے دو چچوں میں سے ایک چچابرہان الدین مرزا صاحب
    اور ؔ یہ کیسا ظلم ہے کہ جہنم میں تو محض روح جائے اور خدا کے پاس جسم اور روح دونوں جائیں ۔ کیا عیسائیوں کا یہ مذہب نہیں ہے کہ جہنم ایک جسمانی آتش خانہ ہے جس میں گندھک کے بڑے بڑے پتھر ہیں پھر اس آتش خانہ میں ایسا جسم کیوں نہیں جلایا گیا جس پر تمام دنیا کی لعنتیں ڈالی گئی تھیں ۔ اگر باپ نے عدل سے انحراف کر کے بیٹے کی یہ رعایتیں کیں کہ بجائے ابدی *** کے تین دن رکھے اور بجائے جسمانی جہنم کے صرف روح کو جہنم میں بھیج دیا تو کاش یہ رعایتیں مخلوق سے کی جاتیں کیونکہ اگر بیٹے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 290
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 290
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/290/mode/1up
    290
    کا مرید ہے اور دوسرا سلطان محمود مخالف ہے ۔ اس کا گھر جہلم ہے مگر وہ وہاں بہت ہی کم جاتا ہے کیونکہ اس کے خاندان کے لوگ اس کی قدر نہیں کرتے اس نے بیان کیا کہ اس کے ارادے و نیت ڈاکٹر کلارک کے متعلق بدل گئے کیونکہ وہ اس کو نیک آدمی معلوم ہوا اس کو گجرات مشن کے نکالے جانے کے بعد ایک شخص میراں بخش نامی نے جو مرزا صاحب کا معتقد ہے قادیاں میں جانے کی ہدایت کی تھی ۔ اس کی شہادت نے عموماََ اس بیان کی تائید کی جو ڈاکٹر کلارک نے دیا ہے ۔
    تحقیقات ۱۰؍ اگست کو شروع ہوئی اور جس شہادت کا یہاں تک ذکر آچکا ہے وہ ۱۳؍اگست تک جاری رہی۔ عبدالحمید اس وقت تک بالکل بعض ماتحت عیسائیوں کی نگرانی میں رہا جو سکاچ مشن کے ملازم ہیں ۔ خاص کر عبدالرحیم، وارث الدین، پریمداس ۔ ڈاکٹر کلارک کی یہ رائے کہ وہ اس سے زیادہ جانتا ہے جتنا کہ اس نے افشا کیا ہے ۔ ہم نے بذات خود اس کے بیان کو جیسا کہ ہے نہایت ہی بعید العقل خیال کیا ۔ اس کے اس بیان میں جو اس نے امرتسر میں لکھایا بمقابلہ اس بیان کے جو میرے سامنے لکھایا اختلافات ہیںؔ اور ہم اس کی وضع قطع سے جبکہ وہ شہادت دے رہا تھا مطمئن نہیں ہوئے تھے ۔ علاوہ اس کے ہم نے یہ معلوم کیا کہ جتنی دیر تک بٹالہ میں مشن کے ملازموں کی نگرانی میں رہا اتنا ہی اس کی شہادت مفصل اور طویل ہوتی گئی۔ اس کے پہلے بیان میں جو اُس نے ۱۲؍تاریخ کو میرے سامنے لکھایا بہت سی باتیں تھیں۔ اُس بیان میں نہیں تھیں جو اُس نے اوّل ڈاکٹر کلارک کے سامنے کیا۔ یا جب اس کا اظہار ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر نے لیا۔ اور جب اُس نے دوبارہ ہمارے سامنے ۱۳؍اگست کو اظہار دیا تو اُس نے بہت سی باتیں زائد بڑھادیں۔ اس سے یہ نتیجہ پَیدا ہوا کہ یا تو کوئی شخص اس کو یا اشخاص سکھلاتے پڑھاتے ہیں یا یہ کہ اس کو اس سے اور زیادہ علم ہے جتنا کہ وہ اب تک ظاہر کرچکا ہے
    کے ساتھ عدل سے انحراف کرنا جائز ہے تو اوروں کے ساتھ کیوں جائز نہیں؟ یہی تمام غلطیاں ہیں جن پر خدا تعالیٰ نے مجھے مطلع کیا تا میں گمراہوں کو متنبہ کروں اور ان کو جو تاریکی میں رہتے ہیں روشنی میں لاؤں ۔ اور ؔ میں نے نہ صرف یہ کیا کہ معقول بیان کے ساتھ عیسائیوں کی غلطیاں ان پر کھول دوں بلکہ آسمانی نشانوں کے ساتھ بھی ان کو ملزم کیا۔ اور ایسا ہی ان مسلمانوں کو بھی جو اُن ہی خیالات
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 291
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 291
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/291/mode/1up
    291
    لہٰذا میں نے ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس کو کہا کہ آپ اس کو اپنی ذمہ واری میں لیں اور آزادانہ طور سے اس سے پوچھیں ۱۴ ؍اگست کو مسٹر لیمارچند ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس نے محمد بخش ڈپٹی انسپکٹر بٹالہ کو بھیجا کہ وہ عبدالحمید کو سی ایم ایس کوارٹر انارکلی میں جا کر حفاظت کی جگہ سے یہاں لے آؤ۔ اس کو محمد بخش سیدھا مسٹر لیمارچنڈ کے پاس گاڑی میں لے گیا۔ اوّل الذکر شخص اس وقت پہلے سے کسی کام میں مصروف تھا اور کچھ عرصہ کے لئے اس کو جلال الدین انسپکٹر کے سپرد کیا۔ مؤخر الذکر نے کھلے میدان میں محمد بخش و دیگر اشخاص کی موجودگی میں اس سے پوچھا کچھ دیر کے بعد انسپکٹر مذکور نے مسٹر لیمار چنڈ کے پاس آکر بیان کیا کہ وہ لڑکا اپنے سابقہ بیان پر قائم ہے اور کچھ ایزاد نہیں کرتا اور وہ انارکلی واپس جانے کو چاہتا ہے ۔ انسپکٹر مذکور نے مسٹر لیمارچنڈکو اطلاع دی کہ اس کو واپس بھیج دیں ۔موخرالذکر نے اس امر کو اپنا فرض سمجھاکہ جو کچھ نوجوان بیان کرے لکھ لیا جائے اس لئے اس کو بلا بھیجا ۔ انہوں نے بیان کے دو تختے کم وبیش اسی شہادت کے مطابق لکھے جو سابق میں عدالت کے سامنے دی گئی تھی کہ ناگہاں نوجوان زارزار رونے لگا اور مسٹر لیمارچنڈکے پاؤں پر گر پڑا اورکہا کہ میں اس مقدمہ میں عبدالرحیم اور وارث الدین اور پریمداس ملازمان مشن کی سازش سے جن کی تحویل میں وہ رہا برابر جھوٹ بولتا رہا ۔وہ کئی روز تک پہرےؔ میں رکھا گیا ۔ وہ سخت مصیبت میں گرفتار رہا اور فی الحقیقت اس نے خود کشی کا ارادہ کر لیا تھا ۔ لہٰذا اس نے مسٹر لیمار چنڈ کے سامنے پورا پورا بیان کر دیا۔ لیمار چنڈ نے شہادت میں بیان کیا کہ اس کے خیال میں جس طرز سے یہ دوسرا بیان ہوا ہے اس سے یہ صحیح معلوم ہوتا ہے ۔ اس نے نوجوان کو نہ تو دھمکایا اور نہ اسے کوئی معافی کا وعدہ کیا ۔ نوجوان کی صورتِ حال اور وضع قطع سے
    میں مقید تھے اور ایک ایسے فرضی دجال اور فرضی مسیح کے منتظر تھے جن کے ماننے سے نئے سرے اس شرک کی بنیاد پڑتی ہے جس کی قرآن شریف بیخ کنی کر چکا ہے اور مسئلہ ختم نبوت بھی ہاتھ سے جاتاہے سو خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا تا میں اس خطرناک حالت کی اصلاح کروں اور لوگوں کو خالص توحید کی راہ بتاؤں چنانچہ میں نے سب کچھ بتاؔ دیا ۔ اور نیز میں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تا ایمانوں کو قوی کروں اور خدا تعالیٰ کا وجود لوگوں پر
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 292
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 292
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/292/mode/1up
    292
    ظاہر ہوتا تھا کہ وہ فی الحقیقت مصیبت اور تکلیف میں تھا ۔ عبدالحمید کو عدالت نے بیس۲۰ اگست پر دوبارہ طلب کیا اس نے کہا کہ جو بیان وہ اب کرنے لگا ہے صحیح ہے اور اس بیان کے کرنے میں اس کو کسی نے نہیں سکھلایا ۔ یہ بات سچ ہے کہ وہ قادیاں میں گیا تھا اور کل دو ہفتے رہا اس کو بوجہ اس کے مشتبہ چال چلن کے نکال دیاگیا ۔ اس نے مرزا صاحب کو کبھی گالیاں نہیں دیں مگر وہاں سے چلنے سے پیشتر اس کے مریدوں میں سے ایک کے ساتھ جھگڑا ہو گیا تھا۔ وہ امرتسر چلا گیا۔ اور کسی شخص سے کسی عیسائی واعظ کے مکان کا پتہ دریافت کیا۔ وہ اتفاقًا ایک شخص نورالدین امریکن مشن کے پاس بھیجا گیا۔ اس نے نورالدین کے آگے بیان کیا کہ وہ قادیاں سے آیا ہے ۔ وہ فی الاصل ایک ہندو رلیا رام نامی تھا پھر مسلمان ہو گیا اب وہ عیسائی ہونا چاہتا ہے ۔ نورالدین نے اسے مسٹر گرے کے پاس بھیجا جس نے صرف اس شرط پر اسے لینا منظور کیا کہ وہ اپنا گذارہ آپ کرے اور کچھ گفتگو کے بعد اس کو نورالدین کے پاس واپس بھیج دیا مگر وہ اپنے ہی خرچ پر عیسائی ہونے پر طیار نہیں تھا نورالدین نے اس کو صلاح دی کہ وہ ڈاکٹر کلارک کے پاس جائے کیونکہ وہ اچھا آدمی ہے (ان میں سے اکثر بیانات کی تائید بعد ازاں ڈاکٹر گرے کی چٹھی کے مضمون اور نورالدین عیسائی کی شہادت سے ہوتی ہے ) وہ ڈاکٹر کلارک کے پاس چلا گیا جس نے اس کو عبدالرحیم کے حوالہ کر دیا ۔ اور شہر کے شفاخانہ میں اسے کام کرنے کو دیا۔ وہ خیال کرتا ہے کہ عبدالرحیم نے اس پر شبہ کیا کیونکہ اس نے اس سے اصرار اور تاکید سے پوچھاکہ وہ قادیاں سے مشن میں کس واسطے آیاہے اور اس نے ڈاکٹرکلارک کو بھی اس کے سامنے کہا کہ اس کا یقین ہے کہ عبدالحمید کسی شخص کو قتل کرنے آیا ہے
    ثابت کر کے دکھلاؤں کیونکہ ہر ایک قوم کی ایمانی حالتیں نہایت کمزور ہو گئی ہیں اور عالم آخرت صرف ایک افسانہ سمجھا جاتا ہے اور ہر ایک انسان اپنی عملی حالت سے بتا رہا ہے کہ وہ جیسا کہ یقین دنیا اور دنیا کی جاہ و مراتب پر رکھتا ہے اور جیسا کہ اس کو بھروسہ دنیوی اسباب پر ہے یہ یقین اور یہ بھروسہ ہر گز اس کو خدا تعالیٰ اور عالم آخرت پر ؔ نہیں۔ زبانوں پر بہت کچھ ہے مگر دلوں میں دنیا کی محبت کا غلبہ ہے۔ حضرت مسیح نے اسی حالت میں یہود
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 293
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 293
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/293/mode/1up
    293
    جسؔ بات کے متعلق ڈاکٹر کلارک عبدالرحیم کے سامنے اس کے ساتھ ہنسی کرتا رہا بعد ازاں ڈ اکٹر کلارک نے اس کا فوٹو اتروایا ۔ پھر اسی مطلب کے لئے بیاس سے جہاں پر وہ بھیجا گیا تھا امرتسر لایا گیا وہ اس موقعہ پر کتابیں لانے کے لئے ہسپتال میں بھیجا گیا اور عبدالرحیم نے پھر اسے تنگ کرنا شروع کیا اور یاد دلایا کہ اس کا فوٹو لیا جاچکا ہے وہ بھاگ نہیں سکتا اس کی رپورٹ پولیس میں کی جائے گی ورنہ بہتر ہے کہ وہ سچ سچ بیان کردے کہ وہ قتل کرنے کے ارادے پر آیا ہے کچھ دنوں کے بعد ڈاکٹر کلارک و عبدالرحیم و وارث الدین اور پریمداس سب کے سب بیاس میں آئے اس سے تاکید سے پوچھا گیا ۔ عبدالحمید معہ دیگر اشخاص کی جماعت میں فرش کے اوپر بیٹھا ہوا تھا اور ڈاکٹر کلارک کچھ فاصلے پر ایک کرسی پر بیٹھا تھا وہ استقلال سے انکار کرتا رہا کہ وہ کسی بُرے ارادے سے یہاں پر نہیں آیا مگر عبدالرحیم نے اس کے کان میں کہا کہ بہتر ہے کہ وہ تسلیم کرلے کہ وہ ڈاکٹر کلارک کو مرزا صاحب کے کہنے پر ایک پتھر سے مار ڈالنے کے لئے آیا ہے ورنہ اس کے لئے زیادہ خرابی کا باعث ہوگا اور ڈاکٹر کلارک اس بات کا ذمہ وار ہوگاکہ اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ اُس نے اس کو مان لیا اور اقبال لکھ دیا پہلے اس نے لفظ نقصان لکھا اور عبدالرحیم نے اسے کہا کہ بجائے اس کے لفظ مار ڈالنا درج کرو(الفاظ یہ ہیں ۔ ’’نقصان یعنی مار ڈالنا‘‘)بعد ازاں انہوں نے کہا ہم تمہارا شکریہ ادا کرتے ہیں ہماری مراد پوری ہوگئی ۔ عبدالرحیم و پریمداس اور وارث الدین بعد ازاں مفصل جھوٹی شہادت تیار کرتے رہے جو مجبورًا ان کے کہنے سے اسے عدالت میں دینی پڑی ۔ اس نے یہ بھی بیان کیا کہ اس نے اپنا نام عبدالمجید بجائے عبدالحمید کے بنایا تھا اور نیز اپنا ہندو جنم محض اسی خیال سے بتایا تھا کہ وہ پہلے گجرات مشن سے نکالا جاچکا تھا اور چاہتا تھا کہ امرتسر میں گرفت نہ ہو ۔ اس نے خیال کیا تھا کہ اَغلب ہے کہ مشن کے لوگ اس کی بابت تفتیش کر
    کو پایا تھا اور جیسا کہ ضعف ایمان کا خاصہ ہے یہودکی اخلاقی حالت بھی بہت خراب ہوگئی تھی اور خدا کی محبت ٹھنڈی ہوگئی تھی ۔ اب میرے زمانہ میں بھی یہی حالت ہے ۔ سو میں بھیجا گیا ہوں کہ تا سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آوے اور دلوں میں تقویٰ پیدا ہو ۔ سو یہی افعال میرے وجود کی علت غائی ہیں مجھے بتلایا گیاہے کہؔ پھر آسمان زمین سے نزدیک ہوگا ۔ بعد اس کے کہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 294
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 294
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/294/mode/1up
    294
    بیٹھیں ۔ اس نے نورالدین مولوی کو قادیان میں اس غرض سے چٹھی لکھی تھی تا ان کو معلوم ہو کہ اس کا ارادہ عیسائی بننے کا ہے۔ نورالدین نےؔ اسے قادیاں تعلیم دی تھی اور اس کی بیماری کا علاج کیاتھا ( یہ تسلیم کیاگیا ہے کہ اس نے بیرنگ چٹھی بھیجی تھی ۔ نور الدین کہتا ہے کہ میں نے ایسی چٹھی کبھی نہیں لی) عبدالرحیم نے اسے بٹالہ میں کہا تھا کہ وہ اس چٹھی بھیجنے کو کسی اور امر کی طرف منسوب کردے یعنی یہ کہ اس نے نورالدین کو اس لئے چٹھی لکھی تھی کہ مرزا صاحب کو اس کا پتہ معلوم ہوجائے ۔ عبدالرحیم نے بٹالہ میں اسے یہ بھی کہا تھا کہ ٹھیک ہے کہ اس نے مرزاصاحب کو جانے سے پہلے گالیاں دی تھیں حالانکہ اس نے کوئی گالی نہیں دی تھی۔ امرتسرمیں اس کو کہا گیا کہ تو یہ کہہ دیناکہ میرا دل اس واسطے بدل گیا کہ میں نے ڈاکٹر کلارک کو اچھا آدمی پایا ۔ ۱۳؍ تاریخ کو بوقت جرح عبدالحمید نے پہلی ہی بار مرزا غلام احمد صاحب کے ایک مریدقطب دین نام کا ذکر کیا جو امرتسر میں رہتا ہے اور کہاکہ میں سب سے پہلے قادیاں سے امرتسر میں پہنچتے ہی اسی کے پاس گیا تھا اور قطب الدین نے ایک پتھر وزنی تیس سیر جس کے ساتھ ڈاکٹر کلارک کو مار ڈالنا تھا مہیا کرنے کا ذمہ لیا تھا اور بعد اس کام کے ختم ہونے کے اس نے قطب الدین ہی کے پاس پناہ لینی تھی ۔ عبدالحمید نے بیان کیا کہ یہ تمام تفصیل وارث الدین نے بٹالہ میں بتائی تھی اور اس نے قطب الدین کواپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا ۔ عبدالحمید نے یہ بھی بیان کیا کہ ڈاکٹر کلارک کے وکیل رام بھج دت نامی نے اس سے کئی دفعہ بٹالہ میں سوالات کئے اور اس کے ایک ریمارک سے ہی قطب الدین کے ذکر کرنے کی ضرورت پڑی ۔ وکیل نے اسے کہا تھا کہ تو پرندہ نہیں ہے تونے کس طرح امرتسر سے بھاگ کر جانے کا ارادہ کیا تھا تمہارا ضرور اس جرم میں کوئی ساتھی ہوگا اور وہ کون ہے ۔ عبدالحمید نے اس امر سے انکار کیا اس کے بعد وارث الدین
    بہت دور ہو گیا تھا ۔ سو میں ان ہی باتوں کا مجدّد ہوں اور یہی کام ہیں جن کے لئے میں بھیجا گیا ہوں ۔ اور منجملہ ان امور کے جو میرے مامور ہونے کی علّتِ غائی ہیں مسلمانوں کے ایمان کو قوی کرنا ہے اور ان کو خدا اور اس کی کتاب اور اس کے رسول کی نسبت ایک تازہ یقین بخشنا۔ اور یہ طریق ایمان کی تقویت کا دو طور سے میرے ہاتھ سے ظہور میں آیا ہے ۔ اوّل قرآن شریف کی
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 295
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 295
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/295/mode/1up
    295
    اس کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ تم قطب الدین کا نام لے لو اور اس کی رہائش کی جگہ کا پتہ بتلایا ۔ جب وکیل واپس آیا تو اس نے ایسا ہی بیان کردیا اور یہ واقعہ ۱۳؍ اگست کو جرح میں ٹھیک ٹھیک ظاہر ہوگیا ۔ اس نے یہ بھی بیان کیا کہ پیشتر اس کے کہ وہ عدالت میں گیا پریمداس نے قطب الدین کا نام اس کی یعنی عبدالحمید کے ہاتھؔ کی ہتھیلی پر اس واسطے لکھ دیا کہ وہ اسے بھول نہ جائے ۔ مزید سوالات کرنے پر اس نے کہا کہ اس پنسل سے جو وکیل ڈاکٹر کلارک کے ہاتھ میں ہے اور پنسل مذکور کی طرف اشارہ کر کے کہا یہی ہے اور یہ وارث الدین کی ہے ۔ یہ تسلیم کیا گیا کہ ایسا ہی ہے ۔شہادت میں اوّل دفعہ تو بمقام بٹالہ بیان کیا گیا تھا کہ عبدالحمید مرزا صاحب کے پاؤں پبلک میں دبایا کرتا تھا۔ عبدالحمید نے بیان کیا کہ یہ بات بھی وارث الدین کی ایجاد ہے ۔ ڈاکٹر کلارک کا دوبارہ اظہار اسی کی درخواست پر لیا گیا ۔ اس نے ان ترغیبوں کی بابت جو عبدالحمید کو بیاس کے مقام پر اظہار لکھانے سے پیشتر دی گئی ہیں بیان کیا کہ میں نہیں خیال کرتا کہ ایسی تر غیبیں میرے علم کے بغیر دی گئی ہوں اور میں نے ہر گز نہیں دیکھا کہ کوئی اس قسم کی بات کی گئی ہو ۔ خواہ عبدالحمید کا پہلا بیان سچا ہے یا دوسرا ۔ تاہم یہ بات ظاہر ہے کہ اس میں وجوہات کافی نہیں ہیں کہ مقدمہ ھٰذا میں مرزا غلام احمد کے برخلاف کارروائی کی جائے ۔ عبدالحمید جو بڑا گواہ ہے وہی شریک جرم ہے او راُس نے دو مختلف بیان لکھوائے ہیں ۔ ہمارا میلان اس خیال کی طرف ہے کہ فی الجملہ دوسرا بیان غالباََ سچا ہے اور یہ کہ مرزا غلام احمد نے عبدالحمید کو ڈاکٹر کلارک کے پاس نہیں بھیجا اور نہ اس نے اس کو ڈاکٹر کلارک کے مار ڈالنے کو سکھلایا ہے ۔ وجوہات حسب ذیل ہیں ۔(۱)خود عبدالحمید ایسی جانبازی اور ذمہ واری کے کام کے لائق نہیں وہ ایک لمبا بڑھا ہوا کمزور دل کا نوجوان ہے ۔ اور یہ بات بھی مسلّم ہے کہ اسی کے خیالات بدکاری
    تعلیم ؔ کی خوبیاں بیان کرنی اور اس کے اعجازی حقائق اور معارف اور انوار اور برکات کو ظاہر کرنے سے جن سے قرآن شریف کا منجانب اللہ ہونا ثابت ہوتا ہے چنانچہ میری کتابوں کو دیکھنے والے اس بات کی گواہی دے سکتے ہیں کہ وہ کتابیں قرآن شریف کے عجائب اسرار اور نکات سے پُر ہیں
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 296
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 296
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/296/mode/1up
    296
    کی طرف مائل ہیں اور نہ وہ ذرا بھی خبطی ہے ۔ فی الواقع اس کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے اپنا وقت عیسائیت اور اسلام میں کبھی اِدھر اور کبھی اُدھر کاٹا ہے ۔ جہاں کہیں اس کو روٹی کپڑے کے ملنے کا یقین ہوا تو وہ اپنی قسمت کو اسی طرح اختیار کرنے کو مستعد ہو گیا ۔ مسٹر گرے بیان کرتا ہے کہ وہ اسے معاََ ایک مفتری معلوم ہوا ۔ جہاں تک کہ وہ اپنے معلومات عیسائیت کے متعلق ظاہر کرتا ہے۔ (۲)یہ تسلیم کیا گیا کہ غلام احمدنے صرف اس کو قریب دو ہفتہ کے دیکھا بڑے سے بڑا وقت یہی ہے وہ ایسے تھوڑے عرصہ میں کافی طور سے ایسی واقفیت پیدا نہیں کر سکتے تھے کہ ایسے نازک کام کیلئے اس پر بھروسہ کرتے ۔ نہ یہ بات ہے کہ وہ اس پر کوئی بڑا ؔ اثر پیدا کر سکے ہوں۔ (۳)جس طریق سے عبدالحمید نے اس کام کو بیان کیا ہے اس کی تدبیر بھی بالکل بھونڈی اور احمقانہ معلوم ہوئی ہے ۔ یہ امر قرین قیاس نہیں ہے کہ عبدالحمید کو اس بات کے کہنے کی تعلیم دی گئی ہو کہ وہ بٹالہ کا ایک ہندو تھا ۔ اور یہ ایسا بیان ہے جس کی تکذیب ڈاکٹر کلارک دو ایک گھنٹے میں کرسکتا ۔ غلام احمد کے پچیس جولائی کے اس اقبال کے بعد کہ وہ نوجوان قادیان میں آیا تھا۔ اگر ڈاکٹر کلارک پر کوئی حادثہ پڑتا تو یہ یقینی امر تھا کہ مرزا صاحب کے خلاف اس کی جان کے بدلے میں کوئی عدالتی کارروائی کی جاتی ۔ اور اس امر کی نسبت خود مرزا صاحب بھی قبل از وقت پیش بینی کر سکتے تھے ۔ یہ بات کسی طرح بھی باور نہیں ہو سکتی کہ مرزاصاحب نے اپنے آپ کو ایسے خطرہ میں ڈالا ہو۔ (۴)یہ ثابت ہے کہ وہ نوجوان اوّل ڈاکٹر گرے کے پا س امرتسر میں گیا اور اگر وہ اس کو کھانے پینے اور مکان کا وعدہ کرتے تو وہ اس کے پاس رہتا ۔ اگر فی الاصل ڈاکٹرکلارک کے پاس بھیجا گیا تھا تو پھر اس امر کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ مسٹر گرے امریکن مشن کے عیسائی کے پاس وہ کیوں چلا گیا۔ یہ ظاہر ہو چکا ہے کہ وہ محض اتفاق سے ڈاکٹر کلارک کی طرف رستہ بتلایا گیا۔ (۵) اس نے
    اور ہمیشہ یہ سلسلہ جاری ہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ جس قدر مسلمانوں کاعلم قرآن شریف کی نسبت ترقی کرے گا اسی قدر ان کا ایمان بھی ترقی پذیر ؔ ہوگا ۔ اور دوسرا طریق جو مسلمانوں کا ایمان قوی کرنے کے لئے مجھے عطا کیا گیا ہے تائیدات سماوی اور دعاؤں کا قبول ہونا اور
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 297
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 297
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/297/mode/1up
    297
    نورالدین عیسائی امریکن مشن کو کہا تھا کہ وہ قادیان سے آیا ہے اور کہ وہ فی الاصل ہندو تھا اور ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اس کا یہ بیان کرنا نہ تو مرزا صاحب کی سازش ہے اور نہ لیکھرام کے قاتل کے فعل سے مشابہت کیلئے ہے بلکہ بقول اس کے بیان کے اس واسطے ہے کہ مشنریوں سے اس امر واقعہ کو پوشیدہ رکھے کہ وہ گجرات مشن سے نکالا گیا تھا اسی وجہ سے اس نے عبدالحمید کی بجائے جھوٹا نام عبدالمجید بیان کیا ۔ (۶)اگر عبدالحمید کا بیان جو بمقام بیاس اس نے کیا ہے سچا ہوتا تو کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ کیوں اس نے بعد تسلیم کر لینے اس ضروری امر کے کہ وہ ڈاکٹر مارٹن کلارک کے مارنے کے لئے آیا ہے تفصیلات کے بیان کرنے سے رکا رہا ۔ یہ بات ظاہر ہے کہ بہت سی تفصیلات اس وقت ظاہر ہوئیں جبکہ وہ نوجوان وارث الدین اور پریمداس اور عبدالرحیم کی حفاظت میں بٹالہ تھا ۔ لہٰذا ہماری یہ رائے ہے کہ عبدالرحیم اور وارث الدین اور پریمداس ہی صرف اس پہلی کہانی کے جوابدہ ہیں اور غالباََ وہی اسؔ کو تمام وقت ورغلاتے رہے ۔ یہ تو طبعی امر ہے کہ اس نوجوان کے آنے پر مشن کے کبوتر خانہ میں بہت چرچا ہوا ہوگا خصوصاََ جبکہ اس نے بیان کیا کہ وہ کسی اور جگہ سے نہیں بلکہ قادیاں ہی سے آیا ہے اور عیسائی ہونا چاہتا ہے ۔ اس کی شکل و شباہت بعض عیسائی ماتحت ملازموں کے پاس اس کی سفارش نہ کرسکی اور اس نے کہہ دیا کہ وہ ہندو تھا ایسا ہی لیکھرام کے قاتل نے کیا تھا انہوں نے دونوں کو اکٹھے کر لیا اور یہ یقینی بات ہے کہ عبدالرحیم سے اکثر اس بارے میں پوچھا گیا کہ اس کے آنے کے کیا وجوہ ہیں ۔ ڈاکٹر کلارک بیان کرتا ہے کہ عبدالرحیم کو خود اپنی جان کا خطرہ پڑگیا تھا ۔ یہ یاد رہے کہ یہ وہی شخص ہے جس نے اوّل ہی اوّل ڈاکٹر کلارک کو کہا تھا کہ نوجوان قاتلانہ ارادہ سے آیا ہے اور جس نے
    نشانوں کا ظاہر ہونا ہے ۔ چنانچہ اب تک جو نشان ظاہر ہوچکے ہیں وہ اس کثرت سے ہیں جن کے قبول کرنے سے کسی منصف کو گریز کی جگہ نہیں ۔ ایک وہ زمانہ تھا جو نادان عیسائی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور پیشگوئیوں سے انکار کرتے تھے اور آج وہ زمانہ ہے جو تمام پادری ہمارے سامنے کھڑے نہیںؔ ہوسکتے ۔ آسمان سے نشان ظاہر ہو رہے ہیں
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 298
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 298
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/298/mode/1up
    298
    اس کی خونی آنکھ کی طرف توجہ دلائی تھی یہ ممکن ہے کہ اس نے اور وارث الدین اور پریمداس نے فی الحقیقت ایسا یقین کرلیا ہو کہ نوجوان قتل کرنے کے ارادے سے آیا ہے اور اس سے اس امر کو تسلیم کرانے میں ان کو خیال آیا ہو کہ وہ زبردستی صداقت کو نکال رہے ہیں بعد ازاں اپنی غلطی پا کر انہوں نے اس جھوٹے قصہ کو اور تفصیلات سے ارادہ کر لیا ہے کہ اس معاملہ کو برابر چلائیں گے درباب ان ترغیبات کے جو ڈاکٹر کلارک کی موجودگی میں ہوئیں جن کی نسبت وہ بیان کرتاہے کہ نہیں ہو سکتی ہیں یہ ممکن ہے کہ وہ اس وقت وقوع میں آئے ہوں جبکہ اس کی توجہ اور طرف مصروف تھی وہ غالبًا نوجوان کی نگرانی غور سے کررہا تھا جس کو اردگرد سے عبدالرحیم وارث دین اور پریمداس گھیرے ہوئے تھے ۔ اور ان تینوں میں سے میرا خیال ہے کوئی نہ کوئی عبدالحمید کے کانوں میں پھونک دیتا تھا اور اس کو کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا ۔ خواہ کچھ ہی حقیقت ہو ہمیں بالکل یقین ہے کہ اگر عبدالحمید کو فی الحقیقت عبدالرحیم نے اپنے پہلے بیان کے کرنے میں ورغلایا ۔ ڈاکٹر کلارک کو دورانِ کارروائی میں کامل طور سے دھوکا دیا گیا ہے اور اسے ان کی ان مصنوعی کارروائی سے بالکل اطلاع نہیں ہے ۔ یہ بات بھی لکھنے کے قابل ہے کہ مرزا غلام احمد نے اس امر کو کشادہ پیشانی سے مان لیا ہے اورعدالت میں ڈاکٹر کلارک کو ہر ایک قسم کی شمولیت سے مبرّا قرار دیا ہے ۔ شہادت میں بہت سی تحریری شہادت پیش کی گئی ہے جس میں سے کسی قدر متعلق سمجھی ؔ جاتی اگر اصل بیان جس کا اوپر ذکر ہو چکا ہے ثابت ہو جاتا۔ مرزا غلام احمد زور سے اس بات کا انکار کرتا ہے کہ اس نے کبھی ڈاکٹر کلارک کے ضرر دہی کے لئے صریحًا یاکنایتًابھی کوئی پیشگوئی کی ہو وہ اسے ۱۸۹۳ ؁ء کی پیشگوئی میں جو مباحثہ
    پیشگوئیاں ظہور میں آرہی ہیں اور خوارق لوگوں کوحیرت میں ڈال رہے ہیں ۔ پس کیا ہی وہ انسان نیک قسمت ہے کہ اب ان انوار اور برکات سے فائدہ اٹھائے اور ٹھوکر نہ کھائے !!!
    اور وہ حوادث ارضی اور سماوی جو مسیح موعود کے ظہور کی علامات ہیں وہ سب میرے وقت میں ظہور پذیر ہوگئی ہیں ۔ مدت ہوئی کہ خسوف کسوف رمضان کے مہینےؔ میں ہو چکا ہے اور ستارہ ذوالسنین بھی نکل چکا اور زلزلے بھی آئے اور مری بھی پڑی اور عیسائی
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 299
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 299
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/299/mode/1up
    299
    کے بعدکی گئی تھی داخل نہیں سمجھتا اور نہ اس کا اس پیشگوئی میں کچھ اشارہ ہے جو اب بیان کی جاتی ہے کہ وہ ابھی باقی ہے اور جس کا انجام آتھم سے حوالہ دیا گیا ۔ ۱۸۹۳ ؁ء کی ابتدائی پیشگوئی اس طرح ہے ( وہ فریق جو دانستہ جھوٹ کو اختیارکر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور ضعیف انسان کو خدا بنارہا ہے ہلاک ہوگا وغیرہ وغیرہ ۔ اور (وہ شخص جو سچے خدا کو مان رہا ہے بڑی عزت پائے گا ۔ لفظ ’ ’ ضعیف آدمی کو خدا بنانا ‘‘ صاف طور سے فریق کا تعلق عیسائی گروہ سے ظاہر کرتے ہیں جس فریق میں سے ڈاکٹر کلارک بھی ہے اور قیاسًا’’ وہ شخص‘‘ جس کا بعد ازاں ذکر ہے مرزا صاحب ہے ۔ مرزا صاحب اس سے انکار کرتے ہیں کہ الفاظ فریق اورشخص کا اطلاق کسی خاص شخص پر تھا اور بیان کرتے ہیں کہ ہر صورت میں صرف ان کا اشارہ عبد اللہ آتھم سے تھا نہ ڈاکٹر کلارک سے* ۔ ہم خیال کرتے ہیں کہ وہ الفاظ جو ان کی طرف سے استعمال کئے گئے ہیں اس بات کی تائید نہیں کرتے
    مذہب بڑے زور شور سے دنیا میں پھیل گیا اور جیسا کہ آثار میں پہلے سے لکھا گیا تھا، بڑے تشدّد سے میری تکفیر بھی ہوئی ۔ غرض تمام علامات ظاہر ہو چکی ہیں اور وہ علوم اور معارف ظاہر ہو چکے ہیں جو دلوں کو حق کی طرف ہدایت دیتے ہیں۔
    میںؔ پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ قرآن شریف کی رو سے کوئی دعویٰ مامور من اللہ ہونے کا اکمل اور اتم طور پر اس صورت میں ثابت ہو سکتا ہے کہ جبکہ تین۳ پہلو سے اس کا ثبوت
    *یہ ضرور نہیں کہ الہامی پیشگوئیوں کے پہلو یکدفعہ معلوم ہوجائیں اسی لئے ہمارے خیال میں ابتدا سے یہی رہا کہ یہ پیشگوئی خاص آتھم کے متعلق ہے اور آتھم کے نام ہی بار بار اشتہار جاری ہوئے اور اسی کو قسم کے لئے بلایا گیا۔ ہاں جبکہ بعض اور عیسائیان شریک بحث پر بھی اس پیشگوئی کا اثر پڑا تو یہ سمجھا گیا کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک یہ بھی اس میں داخل ہوں گے مگر دراصل ابتدا سے ہمارا علم یہی تھا کہ اس پیشگوئی کا مصداق صرف آتھم ہے ہماری نیت میں کبھی کوئی اور نہ تھا۔ ہاں دوسرں پر ہم نے اثر دیکھا۔ ورنہ ہم نے یہ کہیں نہیں لکھا کہ جیسا کہ عبد اللہ آتھم اس پیشگوئی میں شریک ہے ایسا ہی دوسرے بھی شریک ہیں اسی لئے ہماری پوری اور اصلی توجہ صرف آتھم کی طرف رہی اور اب تک اسی کو اصلی مصداق پیشگوئی کا سمجھتے ہیں اور اسی کے قسم نہ کھانے اور آخر پیشگوئی کے موافق اسی کے فوت ہوجانے سے ہم نے فائدہ اٹھایا نہ کہ دوسروں سے ۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 300
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 300
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/300/mode/1up
    300
    مگر میعاد متعینہ گذر چکی ہے اور اب پیشگوئی غیر متعلق ہے ۔ ایک اور پیشگوئی میں جس کی میعاد ستمبر ۱۸۹۷ ؁ء میں منقضی ہوگی غلام احمد (موٹے حروف میں ) ڈاکٹر کلارک یا دیگر کسی پادری کو مباہلہ کے لئے طلب کرتے ہیں ۔ وہ اپنے دل سے امید کرتے ہیں کہ ڈاکٹر کلارک منتخب ہوں اور وہ اسے ذلیل سا بزدل آدمی کہتے ہیں ۔ اگر ڈاکٹر کلارک شیطانی تدابیر کو اختیار کرکے بچنے کی کوشش کرے تو اللہ تعالیٰ خود اپنے طور سے جھوٹ کی بیخ کنی کردیگا ۔ ڈاکٹر کلارک کہتا ہے کہ جھوٹ سے اس کی ہی ذات کی طرف اشارہ ہے اور یہاں جو جھوٹ کا لفظ ہے وہ اس جھوٹ سے ملتا ہے جو ۱۸۹۳ ؁ء کی پیشگوئی میں درج ہے ۔ مگر مرزا صاحب اس اتہام سے انکار کرتے ہیں ۔ یہ ظاہر ہے کہ یہ پیشگوئیاں ڈیلفک الہاموں کی طرح دو پہلو رکھتی ہیں اور اسی میں فائدہ ہے کہ وہ ایسی ہوں۔ مرزاصاحب کچھ مطلب بیان کرتے ہیں اور ڈاکٹر کلارک کچھ ۔ اور اس صورت میں اس امر کاثابت کرنا ناممکن ہے کہ ڈاکٹر کلارک کے معنے ٹھیک ہوں ۔ مرزا صاحب کہتےؔ ہیں کہ انہوں نے ڈاکٹر کلارک کی موت کی نسبت کبھی کوئی پیشگوئی نہیں کی اور جس قدر مطبوعہ شہادت پیش کی گئی ہے ہم منجملہ اس کے کسی میں بھی کوئی صاف اور صریح امر نہیں پاتے جس سے مرزا صاحب کے بیان کی تردید ہوتی ہو ۔ غلام احمد نے اپنے اظہار میں بیان کیا ہے کہ ان کو ان حملات کا کچھ بھی علم نہیں ہے جو آتھم کی جان پر کئے گئے ۔ مگر کہا کہ لیکھرام کی نسبت اس کو علم تھا کہ وہ مرجائے گا اور نیز اس نے دن اور گھنٹہ کی پیش از وقت اطلاع دے دی تھی ۔جہاں تک ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ
    ظاہر ہو ۔ اوّل یہ کہ نصوص صریحہ اس کی صحت پر گواہی دیں یعنی وہ دعویٰ کتاب اللہ کے مخالف نہ ہو ۔ دوسرے یہ کہ عقلی دلائل اس کے مؤ یّد اور مصدّق ہوں ۔ تیسرے یہ کہ آسمانی نشان اس مدعی کی تصدیق کریں ۔ سو ان تینوں وجوہ استدلال کے رو سے میرا دعویٰ ثابت ہے ۔ نصوص حدیثیہ جو طالب حق کو بصیرت کامل تک پہنچاتی ہیں اور میرے دعوے کی نسبت اطمینان کامل بخشتی ہیں ان میں سے مسیح موعود اور مسیح بنی اسرائیلی کا اختلاف حلیہ ہے ۔ چنانچہ صحیح بخاری کے صفحہ ۴۸۵و۸۷۶و۱۰۵۵ وغیرہ میں جو
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 301
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 301
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/301/mode/1up
    301
    سے تعلق ہے ہم کوئی وجہ نہیں دیکھتے کہ غلام احمد سے حفظ امن کے لئے ضمانت لی جائے یا یہ کہ مقدمہ پولیس کے سپرد کیا جائے ۔ لہٰذا وہ بری کئے جاتے ہیں* ۔ لیکن ہم اس موقعہ پر مرزا غلام احمد کو بذریعہ تحریری نوٹس کے جس کو انہوں نے خود پڑھ لیا اور اس پر دستخط کردیئے ہیں باضابطہ طور سے متنبہ کرتے ہیں کہ ان مطبوعہ دستاویزات سے جو شہادت میں پیش ہوئی ہیں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے اشتعال اور غصہ دلانے والے رسالے شائع کئے ہیں جن سے ان لوگوں کی ایذا متصور ہے جن کے مذہبی خیالات اس کے مذہبی خیالات سے مختلف ہیں ۔
    مسیح ؔ موعود کے بارے میں حدیث ہے جس میں یہ بیان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو عالم کشف میں خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اس میں اس کا حلیہ یہ لکھا ہے کہ وہ گندم گوں تھا اور اس کے بال گھونگروالے نہیں تھے بلکہ صاف تھے ۔ اور پھر اصل مسیح علیہ السلام جو اسرائیلی نبی تھااس کا حلیہ یہ لکھا ہے کہ وہ سرخ رنگ تھا جس کے گھونگر والے بال تھے۔ اور صحیح بخاری میں جابجا یہ التزام کیا گیا ہے کہ آنے والے مسیح موعود کے حلیہ میں گندم گوں اور سیدھے بال لکھدیا ہے اور حضرت عیسٰے کے حلیہ میں جابجا سرخ رنگ اورگھونگروالے بال لکھتا گیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے مسیح موعود کو ایک علیحدہ انسان قرار دیا ہے اور اس کی صفت میں امامکم منکم بیان فرمایا ہے اور حضرت عیسٰے علیہ السلام کو علیحدہ انسان قرار دیا ہے۔ اور بعض مناسبات کے لحاظ سے عیسیٰ بن مریم کا نام دونوں پر اطلاق کر دیا ہے۔
    اور ایک اور بات غور کرنے کے لائق ہے اور وہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے
    *یہ حکم بری کرنے کا جو ۲۳ ؍اگست ۱۸۹۷ ؁ء کو مجسٹریٹ ضلع کی قلم سے نکلا اور یہ نوٹس جو بطور تہدید لکھا گیا یہ دونوں باتیں ایسی ہیں جن سے ہماری جماعت کو فائدہ اٹھانا چاہیئے کیونکہ ان کو ایک مدت پہلے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر ان دونوں باتوں کی خبر دی گئی تھی ۔ اب انہیں سوچنا چاہیئے کہ کیونکر ہمارے خدا نے یہ دونوں غیب کی باتیں پیش از وقت اپنے بندہ پر ظاہر کردیں ۔ جن لوگوں نے یہ نشان بچشم خود دیکھ لیا چاہیئے کہ وہ ایمان اور تقویٰ میں ترقی کریں اور خدا کے نشانوں کو دیکھ کر پھر غفلت میں زندگی بسر نہ کریں ۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 302
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 302
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/302/mode/1up
    302
    جو اثر کہ اس کی باتوں سے اس کے بے علم مریدوں پر ہو گا اس کی ذمہ واری انہی پر ہو گی اور ہم انھیں متنبّہ کرتے ہیں کہ جب تک وہ زیادہ تر میانہ روی کو اختیار نہ کریں گے وہ قانون کی رو سے بچ نہیں سکتے بلکہ اس کی زد کے اندر آ جاتے ہیں ۔ دستخط ایم ڈگلس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور ۲۳؍اگست ۱۸۹۷ ؁ء
    یہؔ تمام مقدمہ جو معہ رائے حاکم لکھا گیا ہے اس میں غور کرنے سے ظاہر ہے کہ عیسائیوں کی طرف سے
    جہاں مسیح موعود کا ذکر کیا ہے اس جگہ صرف اسی پر کفایت نہیں کی کہ اس کا حلیہ گندم گوں اور صاف بال لکھا ہے بلکہ اس کے ساتھ دجّال کا بھی جابجا ذکر کیاہے مگر جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیلی کا ذکر کیا ہے وہاں دجّال کا ساتھ ذکر نہیں کیا ۔ پس اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں عیسیٰ بن مریم دو تھے ایک وہ جو گندم گوں اور صاف بالوں والا ظاہر ہونے والا تھاجس کے ساتھ دجّال ہے اور دوسرا وہ جو سرخ رنگ اور گھونگریالے بالوں والا ہے اور بنی اسرائیلی ہے جس کے ساتھ دجّال نہیں اور یہ بات بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام شامی تھے اورشامیوں کو آدم یعنی گندم گوں ہر گز نہیں کہا جاتا مگرہندیوں کو آدم یعنی گندم گوں کہا جاتا ہے ۔ اس دلیل ؔ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ گندم گوں مسیح موعود جو آنے والا بیان کیاگیا ہے وہ ہرگز شامی نہیں ہے بلکہ ہندی ہے۔
    اس جگہ یاد رہے کہ نصاریٰ کی تواریخ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسٰی گندم گوں نہیں تھے بلکہ عام شامیوں کی طرح سرخ رنگ تھے ۔ مگر آنے والے مسیح موعود کا حلیہ ہر گز شامیوں کا حلیہ نہیں ہے جیسا کہ حدیث کے الفاظ سے ظاہر ہے ۔
    اور منجملہ ان دلائل کے جو نصوص حدیثیہ سے صحت وصدق دعویٰ اس راقم پر قائم ہوئے ہیں وہ حدیث بھی ہے جو مجدّدوں کے ظہور کے بارے میں ابوداؤد اور مستدرک میں موجود ہے یعنی یہ کہ اس امت کے لئے ہر ایک صدی کے سر پر مجدّد پیدا ہوگا اور ان کی ضرورتوں
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 303
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 303
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/303/mode/1up
    303
    یہ ایک بناوٹ تھی جس کو صاحب مجسٹریٹ ضلع نے بخوبی دریافت کر لیا اور ہر ایک شخص جو اس تحریر پر غور کرے گا اور اس مقدمہ کو اوّل سے آخر تک غور سے پڑھے گا وہ دلی یقین سے سمجھ لے گا کہ ان لوگوں نے ؔ جو مسیح کے خون سے پاک ہوجانے کا دعویٰ کرتے ہیں کیونکر ایک ناحق کے خون کیلئے پختہ سازش کی تھی۔ یہ ظاہر ہے اور ڈاکٹر کلارک کو اس بات کا اقرار ہے کہ جب انہوں نے ایک عیسائی
    کے موافق تجدید دین کرے گا اور فقرہ یجدّدلھاجو حدیث میں موجود ہے یہ صاف بتلارہا ہے کہ ہر ایک صدی پر ایسا مجدّد آئے گا جو مفاسد موجودہ کی تجدید کرے گا ۔ اب جب ایک منصف غور سے دیکھے کہ چودھویں صدی کے سر پر کون سے سخت خطرناک مفاسد موجود تھے جن کی تجدید کے لئے مجدّد میں لیاقتیں چاہئیں تو صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ بہت بڑا فتنہ جس سے لاکھوں انسان ہلاک ہو گئے پادریوں کا فتنہ ہے ۔ اور اس سے کوئی عقلمند اور درد خواہ اسلام کا انکار نہیں کرے گا کہ اس صدی کے مجدّد کا بڑا فرض یہی ہوناچاہئے کہ وہ کسر صلیب کرے اور عیسائیوں کی حجتوں کو نابود کردیوے اور جبکہ چودھویں صدی کے مجدّد کا کسر صلیب فرض (کام) ہوا تو اس سے ماننا پڑا کہ وہی مسیح موعود ہے کیونکہ حدیثوں کی رو سے مسیح موعود کی بھی یہی علامت ہے کہ ’’ وہ صدی کا مجدّد ہوگا اور اس کا کام یہ ہوگا کہ کسر صلیب کرے ‘‘ ۔ بہر حال اسوقت کے مولوی اگر دیانت اور دین پر قائم ہو کر سوچیں تو انہیں ضرور اقرار کرناپڑے گا کہ چودھویں صدی کے مجدّد کا کام کسر صلیب ہے ۔ اورؔ چونکہ یہ وہی کام ہے جو مسیح موعود سے مخصوص ہے اس لئے بالضرورت یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ چودھویں صدی کا مجدّد مسیح موعود چاہیئے اور اگرچہ چودھویں صدی میں اور فسق وفجور بھی مثل شراب خوری و زناکاری وغیرہ بہت پھیلے ہوئے ہیں مگر بغور نظر معلوم ہوگا کہ ان سب کا سبب ایسی تعلیمیں ہیں جن کا یہ مدعا ہے کہ ایک انسان کے خون نے گناہوں کی باز پُرس سے کفایت کردی ہے ۔ اسی وجہ سے ایسے جرائم کے ارتکاب میں یورپ سب سے
    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 304
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 304
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/304/mode/1up
    304
    ع