1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

روحانی خزائن جلد 13 ۔البلاغ ۔ یونی کوڈ

'روحانی خزائن ۔ حضرت مسیح موعودؑ ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏ستمبر 3, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    روحانی خزائن جلد 13۔ البلاغ ۔ یونی کوڈ


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 367
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 367
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    367


    Blank Page





    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 368
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 368
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    368


    Blank Page





    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 369
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 369
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    369
    البلاغؔ
    جس کا دوسرا نام ہے
    فریادِ درد
    3
    نَحْمدہٗ و نُصلّی عَلٰی رسُولہ الکریم
    الَلّٰھُمَّ فَاطِرِ السّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ عَالِم الغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ
    اَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادکَ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ
    (رِسالۂ اُمّہات المومنیْن)
    اس کتاب کا مفصل حال لکھنا کچھ ضروری نہیں۔ یہ وہی کتاب ہے جس نے بدگوئی بدزبانی اور نہایت سخت توہین اور گندے لفظ اور اوباشانہ گالیاں ہمارے سید و مولیٰ خاتم الانبیاء خیر الاصفیاء حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت استعمال کر کے پنجاب اور ہندوستان کے چھ۶ کروڑ مسلمانوں کا دل دُکھایا۔ اور مسلمانوں کی قوم کو اپنے اس جھوٹ اور افترا سے جو نہایت بدگوئی اور قابل شرم بے حیائی کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے وہ دردناک زخم پہنچایا ہے کہ نہ ہم اور نہ ہماری اولاد کبھی اس کو بھول سکتی ہے۔ اسی وجہ سے پنجاب اور ہندوستان میں اس کتاب کی نسبت بہت شور اُٹھا ہے۔ اور مجھے بھی کئی شریف مسلمانوں اور علماء معززین کے خط پہنچے ہیں۔ چنانچہ علماء میں سے مولوی محمد ابراہیم صاحب نے آرہ سے اسی بارے میں


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 370
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 370
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    370
    ایکؔ کارڈ بھیجا اور اخباروں میں بھی اس کتاب کی نسبت بہت سی شکایتیں میں نے پڑھی ہیں- جن سے معلوم ہوتا ہے کہ درحقیقت اس شخص نے بہت سی بدتہذیبی اور شوخی اور بدزبانی سے اپنی کتاب میں جابجا کام لیا ہے۔
    غرض میں دیکھتا ہوں کہ مسلمانوں میں اس کتاب سے ازحد اشتعال پیدا ہوا ہے اور اس اشتعال کی حالت میں بعض نے گورنمنٹ عالیہ کے حضور میں میموریل بھیجے اور بعض کتاب کے ردّ کی طرف متوجہ ہوئے۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ اس افترا کا جیسا کہ تدارک چاہئیے تھا وہ اب تک نہیں ہوا۔ ایسے امور میں میموریل بھیجنا تو محض ایک ایسا امر ہے کہ گویا اپنے شکست خوردہ ہونے کا اقرار کرنا اور اپنے ضعف اور کمزوری کا لوگوں میں مشہور کرنا ہے۔ اور نیز یہ امر بھی ہرگز پسند کے لائق نہیں کہ ہر ایک شخص ردّ لکھنے کے لئے طیّار ہو جائے اوراس سے ہم یہ سمجھ لیں کہ جو کچھ ہم نے جواب دینا تھا وہ دے چکے۔ اس کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں ہوتا اور بسا اوقات ایک ایسا ملا گوشہ نشین سادہ لوح ردّ لکھتا ہے کہ نہ اس کو معارف حقائق قرآنی سے پورا حصہ ہوتا ہے اور نہ احادیث کے معانی لطیفہ سے کچھ اطلاع اور نہ درایت صحیحہ اور نہ علم تاریخ نہ عقل سلیم اورنہ اس طرز اور طریق سے کچھ خبر رکھتاہے جس طرز سے حالت موجودہ زمانہ پر اثر پڑ سکتا ہے۔ لہٰذا ایسے ردّ کے شائع ہونے سے اور بھی استخفاف ہوتا ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ اکثر ایسے لوگ جواس شغل مباحثات مذہبیّہ میں اپنے تئیں ڈالتے ہیں علوم دینیہ اور نکات حکمیہ سے بہت ہی کم حصہ رکھتے ہیں اور تالیفات کے وقت نیّت میں بھی کچھ ملونی ہوتی ہے۔ اس لئے ان کے مؤلّفات میں قبولیت اور برکت کا رنگ نہیں آتا۔ یہ زمانہ ایک ایسا زمانہ ہے کہ اس زمانہ میں اگر کوئی شخص مناظرات مذ ہبیّہ کے میدان میں قدم رکھے یا مخالفوں کے ردّ میں تالیفات کرنا چاہے تو شرائط مندرجہ ذیل اس میں ضرور ہونی چاہئیں۔
    اوّل۔ علم زبان عربی میں ایسا راسخ ہو کہ اگر مخالف کے ساتھ کسی لفظی بحث کا اتفاق پڑ جائے تو اپنی لغت دانی کی قوت سے اُس کو شرمندہ اور قائل کر سکے۔ اور اگر عربی میں کسی تالیف کا


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 371
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 371
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    371
    اتفاق ؔ ہو تو لطافت بیان میں اپنے حریف سے بہرحال غالب رہے اور زبان دانی کے رُعب سے مخالف کو یہ یقین دلا سکتا ہو کہ وہ درحقیقت خداتعالیٰ کی کلام کے سمجھنے میں اس سے زیادہ معرفت رکھتا ہے۔ بلکہ اس کی یہ لیاقت اس کے ملک میں ایک واقعہ مشہورہ ہونا چاہئیے کہ وہ علم لسان عرب میں یکتائے روزگار ہے۔ اور اسلامی مباحثات کی راہ میں یہ بات پڑی ہے کہ کبھی لفظی بحثیں شروع ہو جاتی ہیں اور تجربہ صحیحہ اس بات کا گواہ ہے کہ عربی عبارتوں کے معانی کا یقینی اور قطعی فیصلہ بہت کچھ علم مفردات و مرکّبات لسان پر موقوف ہے۔ اور جو شخص زبان عربی سے جاہل ا ور مناہج تحقیق فن لُغت سے نا آشنا ہو وہ اس لائق ہی نہیں ہوتا کہ بڑے بڑے نازک اور عظیم الشان مباحثات میں قدم رکھ سکے اور نہ اس کا کلام قابل اعتبار ہوتا ہے۔ اور نیز ہر ایک کلام جو پبلک کے سامنے آئے گا اس کی قدرومنزلت متکلم کی قدرومنزلت کے لحاظ سے ہوگی۔ پھر اگر متکلم ایسا شخص نہیں ہے جس کی زبان دانی میں مخالف کچھ چون و چرا نہیں کر سکتا تو ایسے شخص کی کوئی تحقیق جو زبان عرب کے متعلق ہوگی قابل اعتبار نہیں ہوگی۔ لیکن اگر ایک شخص جو مباحثہ کے میدان میں کھڑا ہے مخالفوں کی نظر میں ایک نامی زبان دان ہے اور اس کے مقابل پر ایک جاہل عیسائی ہے تو منصفوں کے لئے یہی امر اطمینان کے لائق ہوگا کہ وہ مسلمان کسی فقرہ یا کسی لفظ کے معنے بیان کرنے میں سچا ہے۔ کیونکہ اس کو علم زبان اس عیسائی سے بہت زیادہ ہے۔ اور اس صورت میں خواہ مخواہ اس کے بیان کا دلوں پر اثر ہوگا اور ظالم مخالفوں کا منہ بند رہے گا۔
    یاد رہے کہ ایسے مناظرات میں خواہ تحریری ہوں یا تقریری اگر وہ منقولی حوالجات پر موقوف ہوں تو فقرات یا مفردات الفاظ پر بحث کرنے کا بہت اتفاق پڑ جاتا ہے بلکہ یہ بحثیں نہایت ضروری ہیں کیونکہ ان سے حقیقت کھلتی ہے اور پردہ اٹھتا ہے اور علمی گواہیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ماسوا اس کے یہ بات بھی اس شرط کو ضروری ٹھہراتی ہے کہ ہر ایک حریف مقابل اپنے حریف کی حیثیت علمی جانچا کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اگر اور راہ سے نہیں تو اسی راہ سے


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 372
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 372
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    372
    اسؔ کو لوگوں کی نظر میں بے اعتبار ٹھہراوے۔ اور بسااوقات ردّ لکھنے والے کو اپنے مخالف کی کتاب کی نسبت لکھنا پڑتا ہے کہ وہ زبان دانی کے رو سے کس پایہ کا آدمی ہے۔ غرض ایک مسلمان جو عیسائی حملوں کی مدافعت کے لئے میدان میں آتا ہے اس کو یاد رکھنا چاہئیے کہ ایک بڑا حربہ اور نہایت ضروری حربہ جو ہر وقت اس کے ہاتھ میں ہونا چاہئیے علم زبان عربی ہے۔
    دوسری شرط یہ ہے کہ ایسا شخص جو مخالفوں کے ردّ لکھنے پر اور ان کے حملوں کے دفع کرنے پر آمادہ ہوتا ہے اس کی دینی معرفت میں صرف یہی کافی نہیں کہ چند حدیث اور فقہ اور تفسیر کی کتابوں پر اس نے عبور کیا ہو اور محض الفاظ پر نظر ڈالنے سے مولوی کے نام سے موسوم ہو چکا ہو۔ بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ تحقیق اور تدقیق اور لطائف اور نکات اور براہین یقینیہ پیدا کرنے کا خداداد مادہ بھی اس میں موجود ہو اور فی الواقع حکیم الامت اور زکیّ النفس ہو۔
    تیسری شرط یہ کہ کسی قدر علوم طبعی اور طبابت اور ہیئت اور جغرافیہ میں دسترس رکھتا ہو کیونکہ قانون قدرت کے نظائر پیش کرنے کے لئے یا اور بعض تائیدی ثبوتوں کے وقت ان علوم کی واقفیت ہونا ضروری ہے۔
    چوتھی شرط یہ کہ عیسائیوں کے مقابل پر وہ ضروری حصہ بائبل کا جو پیشگوئیوں وغیرہ میں قابل ذکر ہوتا ہے عبرانی زبان میں یاد رکھتا ہو۔ ہاں یہ سچ ہے کہ ایک عربی دان علم زبان کے فاضل کے لئے اس قدر استعداد حاصل کرنا نہایت سہل ہے۔ کیونکہ میں نے عربی اور عبرانی کے بہت سے الفاظ کا مقابلہ کر کے ثابت کر لیا ہے کہ عبرانی کے چار حصے میں سے تین۳ حصے خالص عربی ہے جو اس میں مخلوط ہے۔ اور میری دانست میں عربی زبان کا ایک پورا فاضل تین ماہ میں عبرانی زبان میں ایک کافی استعداد حاصل کر سکتا ہے۔ یہ تمام امور کتاب منن الرحمن میں مَیں نے لکھے ہیں۔ جس میں ثابت کیا گیا ہے کہ عربی اُمّ الالسنہ ہے۔
    پانچویں شرط خدا سے حقیقی ربط اور صدق اور وفا اور محبت الٰہیہ اور اخلاص اور طہارۃ باطنی اور اخلاق فاضلہ اور انقطاع الی اللہ ہے۔ کیونکہ علم دین آسمانی علوم میں سے ہے۔ اور یہ علوم تقویٰ


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 373
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 373
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    373
    اورؔ طہارت اور محبت الٰہیہ سے وابستہ ہیں اور سگ دنیا کو مل نہیں سکتے۔ سو اس میں کچھ شک نہیں کہ قول موجّہ سے اتمام حجت کرنا انبیاء اور مردان خدا کا کام ہے اور حقانی فیوض کا مورد ہونا فانیوں کا طریق ہے۔ اور اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے 3۔۱؂ پس کیونکر ایک گندہ اورمنافق اور دنیا پرست ان آسمانی فیضوں کو پا سکتا ہے جن کے بغیر کوئی فتح نہیں ہو سکتی؟ اور کیونکر اس دل میں روح القدس بول سکتا ہے جس میں شیطان بولتا ہو؟ سو ہرگز امید نہ کرو کہ کسی کے بیان میں روحانیت اور برکت اور کشش اس حالت میں پیدا ہو سکے جبکہ خدا کے ساتھ اس کے صافی تعلق نہیں ہیں۔ مگر جو خدا میں فانی ہو کر خدا کی طرف سے تائید دین کے لئے کھڑا ہوتا ہے وہ اوپر سے ہر ایک دم فیض پاتا ہے اور اس کو غیب سے فہم عطا کیا جاتا ہے اور اس کے لبوں پر رحمت جاری کی جاتی ہے اور اس کے بیان میں حلاوت ڈالی جاتی ہے۔
    چھٹی شرط علم تاریخ بھی ہے۔ کیونکہ بسا اوقات علم تاریخ سے دینی مباحث کو بہت کچھ مدد ملتی ہے۔ مثلاً ہمارے سیّد و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی ایسی پیشگوئیاں ہیں جن کا ذکر بخاری و مسلم وغیرہ کتب حدیث میں آ چکا ہے اور پھر وہ ان کتابوں کے شائع ہونے سے صدہا برس بعد وقوع میں آگئی ہیں۔ اور اس زمانہ کے تاریخ نویسوں نے اپنی کتابوں میں ان پیشگوئیوں کا پورا ہونا بیان کر دیا ہے۔ پس جو شخص اس تاریخی سلسلہ سے بے خبر ہوگا وہ کیونکر ایسی پیشگوئیاں جن کا خدا کی طرف سے ہونا ثابت ہو چکا ہے اپنی کتاب میں بیان کر سکتا ہے؟ یا مثلاً حضرت مسیح علیہ السلام کے وہ تاریخی واقعات جو یہودی مؤرخوں اور بعض عیسائیوں نے بھی ان کے اُس حصہِ زندگی کے متعلق لکھے ہیں جو نبوت کے ساڑھے تین برس سے پہلے تھے یا وہ واقعات اور تنازعات جو قدیم تاریخ نویسوں نے حضرت مسیح اور ان کے حقیقی بھائیوں کی نسبت تحریر کئے ہیں یا وہ انسانی ضعف اور کمزوریوں کے بیان جو تاریخوں میں حضرت مسیح کی زندگی کے دونوں حصوں کی نسبت بیان کئے گئے ہیں یہ تمام باتیں بغیر ذریعہ تاریخ کے کیونکر معلوم ہو سکتی ہیں؟ مسلمانوں میں ایسے لوگ بہت کم ہوں گے جن کو اس قدر بھی معلوم ہو


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 374
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 374
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    374
    کہؔ حضرت عیسیٰ درحقیقت پانچ حقیقی بھائی تھے جو ایک ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے۔ اور بھائیوں نے آپ کی زندگی میں آپ کو قبول نہ کیا بلکہ آپ کی سچائی پر ان کو بہت کچھ اعتراض رہا۔ ان سب کی واقفیت حاصل کرنے کے لئے تاریخوں کا دیکھنا ضروری ہے اور مجھے خداتعالیٰ کے فضل سے یہودی فاضلوں اور بعض فلاسفر عیسائیوں کی وہ کتابیں میسر آگئی ہیں جن میں یہ امورنہایت بسط سے لکھے گئے ہیں۔
    ساتویں شرط کسی قدر ملکۂ علم منطق اور علم مناظرہ ہے۔ کیونکہ ان دونوں علموں کے توغّل سے ذہن تیز ہوتا ہے اور طریق بحث اور طریق استدلال میں بہت ہی کم غلطی ہوتی ہے۔ ہاں تجربہ سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ اگر خداداد روشنی طبع اور زیرکی نہ ہو تو یہ علم بھی کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔ بہتیرے کو دن طبع مُلا قطبی اور قاضی مبارک بلکہ شیخ الرئیس کی شفا وغیرہ پڑھ کر منتہی ہو جاتے ہیں اور پھر بات کرنے کی لیاقت نہیں ہوتی اور دعویٰ اور دلیل میں بھی فرق نہیں کر سکتے اور اگر دعویٰ کے لئے کوئی دلیل بیان کرنا چاہیں تو یک دوسرا دعویٰ پیش کر دیتے ہیں جس کو اپنی نہایت درجہ کی سادہ لوحی سے دلیل سمجھتے ہیں حالانکہ وہ بھی ایک دعویٰ قابل اثبات ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات پہلے سے زیادہ اغلاق اور دقتیں اپنے اندر رکھتا ہے۔ مگر بہرحال امید کی جاتی ہے کہ ایک زکیّ الطبع انسان جب معقولی علوم سے بھی کچھ حصہ رکھے اور طریق استدلال سے خبردار ہو تو یاوہ گوئی کے طریقوں سے اپنے بیان کو بچا لیتا ہے اور نیز مخالف کی سوفسطائی اور دھوکہ دِہ تقریروں کے رعب میں نہیں آ سکتا۔
    آٹھویں شرط تحریری یا تقریری مباحثات کے لئے مباحث یا مؤلّف کے پاس اُن کثیر التعداد کتابوں کا جمع ہونا ہے جو نہایت معتبر اور مسلّم الصحت ہیں جن سے چالاک اور مفتری انسان کا منہ بند کیا جاتا اور اس کے افترا کی قلعی کھولی جاتی ہے۔ یہ امر بھی ایک خداداد امر ہے کیونکہ یہ منقولات صحیحہ کی فوج جو جھوٹے کا منہ توڑنے کے لئے تیز حربوں کا کام دیتی ہے ہر ایک کو میسر نہیں آ سکتی (اس کام کے لئے ہمارے معزز دوست مولوی حکیم نوردین صاحب کا تمام کتب خانہ ہمارے ہاتھ میں ہے اور


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 375
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 375
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    375
    اس کے علاوہ اور بھی۔ جس کی کسی قدر فہرست حاشیہ میں دی گئی ہے۔ دیکھو حاشیہ ۱؂ متعلق صفحہ۶ شرط ہشتم)
    نویںؔ شرط تقریر یا تالیف کیلئے فراغت نفس اور صرف دینی خدمت کے لئے زندگی کا وقف کرنا ہے۔ کیونکہ یہ بھی تجربہ میں آ چکا ہے کہ ایک دل سے دو مختلف کام ہونے مشکل ہیں۔ مثلاً ایک شخص جو سرکاری ملازم ہے اور اپنے فرض منصبی کی ذمہ واریاں اس کے گلے پڑی ہوئی ہیں اگر وہ دینی تالیفات کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو علاوہ اس بددیانتی کے جو اس نے اپنے بیچے ہوئے وقت کو دوسری جگہ لگا دیا ہے ہرگز وہ اس شخص کے برابر نہیں ہو سکتا جس نے اپنے تمام اوقات کو صرف اسی کام کے لئے مستغرق کر لیا ہے حتّٰی کہ اُس کی تمام زندگی اُسی کام کے لئے ہوگئی ہے۔
    دسویں شرط تقریر یا تالیف کے لئے اعجازی طاقت ہے کیونکہ انسان حقیقی روشنی کے حاصل کرنے کیلئے اور کامل تسلی پانے کے لئے اعجازی طاقت یعنی آسمانی نشانوں کے دیکھنے کا محتاج ہے اور وہ آخری فیصلہ ہے جو خداتعالیٰ کے حضور سے ہوتا ہے۔ لہٰذا جو شخص اسلام کے دشمنوں کے مقابل پر کھڑا ہو اور ایسے لوگوں کو لاجواب کرنا چاہے جو ظہور خوارق کو خلاف قدرت سمجھتے ہیں یا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خوارق اور معجزات سے منکر ہیں تو ایسے شخص کے زیر کرنے کے لئے امت محمدیہ کے وہ بندے مخصوص ہیں جن کی دعاؤں کے ذریعہ سے کوئی نشان ظاہر ہو سکتا ہے۔
    یاد رہے کہ مذہب سے آسمانی نشانوں کو بہت تعلق ہے اور سچے مذہب کے لئے ضروری ہے کہ ہمیشہ اس میں نشان دکھلانے والے پیدا ہوتے رہیں۔ اور اہل حق کو خداتعالیٰ صرف منقولات پر نہیں چھوڑتا اور جو شخص محض خداتعالیٰ کے لئے مخالفوں سے بحث کرتا ہے اس کو ضرور آسمانی نشان عطا کئے جاتے ہیں۔ ہاں یقیناً سمجھو کہ عطا کئے جاتے ہیں تا آسمان کا خدا اپنے ہاتھ سے اس کو غالب کرے اور جو شخص خداتعالیٰ سے نشان نہ پاوے تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ پوشیدہ بے ایمان نہ ہو۔ کیونکہ قرآنی وعدہ کے موافق آسمانی مدد اس کے لئے نازل نہ ہوئی۔
    یہ دس شرطیں ہیں جو ان لوگوں کے لئے ضروری ہیں جو کسی مخالف عیسائی کا ردّ لکھنا چاہیں یا زبانی مباحثہ کریں۔ اور ان ہی کی پابندی سے کوئی شخص رسالہ امّہات المومنین کا جواب
    یہ حاشیہ کتاب کے صفحہ ۴۵۸ پرہے۔(ناشر


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 376
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 376
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    376
    لکھنےؔ کے لئے منتخب ہونا چاہئیے کیونکہ جس قدر عیسائیوں نے جان توڑ کر اس رسالہ کی اشاعت کی ہے اور قانونی مواخذہ کی بھی کچھ پرواہ نہ رکھ کر ہر ایک معزز مسلمان کو ایک کتاب بلا طلب بھیجی اور تمام مسلمانان برٹش انڈیا کا دل دُکھایا۔ اس تمام کارروائی سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ آخری ہتھیار انہوں نے چلایا ہے اور غایت درجہ کے سخت الفاظ جو اس رسالہ میں استعمال کئے گئے ہیں ان کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ تا مسلمان اشتعال میں آکر عدالتوں کی طرف دوڑیں یا گورنمنٹ عالیہ میں میموریل بھیجیں اور اس طریق مستقیم پر قدم نہ ماریں جو ایسے مفتریانہ الزامات کا حقیقی اور واقعی علاج ہے۔ چنانچہ میں دیکھتا ہوں کہ یہ مکر ان کا چل گیا ہے اور مسلمانوں نے اگر اس کمینہ اور نجس کتاب کے مقابلہ میں کوئی تدبیر سوچی ہے تو بس یہی کہ اس کتاب کی شکایت کے بارے میں گورنمنٹ میں ایک میموریل بھیج دیا ہے۔ چنانچہ انجمن حمایت اسلام لاہور کو یہی سوجھی کہ اس کتاب کے بارے میں گورنمنٹ کے آگے نالہ و فریاد کرے۔ مگر افسوس کہ ان لوگوں کو اس بات کا ذرہ خیال نہیں ہوا کہ حضرات پادری صاحبوں کا یہی تو مدعا تھا تا اس معکوس طریق کے اختیار کرنے سے مسلمان لوگ اپنے ربّ کریم کی اس تعلیم پر عمل کرنے سے محروم رہیں کہ3 3۔۱؂ اس افسوس اور اس دردناک خیال سے جگر پاش پاش ہوتا ہے کہ ایک طرف تو ایسی کتاب شائع ہو جس کے شائع ہونے سے جاہلوں کے دلوں میں زہریلے اثر پھیلیں اور ایک دنیا ہلاک ہو اور دوسری طرف اس زہریلی کارروائی کے مقابل پر یہ تدبیر ہو کہ جو لوگ مسلمانوں کا ہزار ہا روپیہ اس غرض سے لیتے ہیں کہ وہ دشمنان دین کا جواب لکھیں ان کی فقط یہ کارروائی ہو کہ دو چار صفحہ کا میموریل گورنمنٹ میں بھیج کر لوگوں پر ظاہر کریں کہ جو کچھ ہم نے کرنا تھا کر دیا۔ حالانکہ صدہا مرتبہ آپ ہی اس امر کو ظاہر کر چکے ہیں کہ ان کی انجمن کے مقاصد میں سے پہلا مقصد یہی ہے کہ وہ ان اعتراضوں کا جواب دیں گے جو مخالفوں کی طرف سے وقتاً فوقتاً اسلام پر کئے جائیں گے۔ چنانچہ جن لوگوں نے کبھی ان کا رسالہ انجمن حمایت اسلام لاہور دیکھا ہوگا وہ اس رسالہ کے ابتدا میں ہی اس وعدہ


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 377
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 377
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    377
    کو ؔ لکھا ہوا پائیں گے۔ ہم نہیں کہتے کہ یہ انجمن عمداً اس فرض کو جو اس کے اپنے وعدے سے مؤکّد ہے اپنے سر پر سے ٹالتی ہے بلکہ واقعی امر یہ ہے کہ انجمن موجودہ یہ لیاقت ہی نہیں رکھتی کہ دین کے معظمات امور میں زبان ہلا سکے یا وہ وساوس اور اعتراض جو عیسائیوں کی طرف سے مدت ساٹھ سال سے پھیل رہے ہیں کمال تحقیق اور تدقیق سے دور کر سکے یا اس زہریلی ہوا کو جو ملک میں پھیل رہی ہے کسی تالیف سے کالعدم کر سکے۔ کاش بہتر ہوتا کہ یہ انجمن دینی امور سے اپنا کچھ تعلق ظاہر نہ کرتی اور ان کی فہم اور عقل کا صرف پولیٹیکل امور کے حدود تک دورہ رہتا۔
    ہمیں ۶؍ مئی ۱۸۹۸ ؁ء کے پرچہ ابزرور کے دیکھنے سے یہ نومیدی اور بھی بڑھ گئی کیونکہ اس کے ایڈیٹر نے جو انجمن کی طرف سے وکالت کر رہا ہے صاف لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ رسالۂ امہات المومنین کا جواب لکھنا ہرگز مصلحت نہیں ہے اسی کو بہت کچھ سمجھ لو جو انجمن نے کر دکھایا یعنی یہ کہ گورنمنٹ میں میموریل بھیج دیا۔ ابزرور کی تحریر پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف ایڈیٹر کی ہی رائے نہیں ہے بلکہ انجمن کا یہی ارادہ ہے کہ اس رسالہ کا جواب ہرگز نہیں دینا چاہئیے۔ اب عقلمند سوچ لیں کہ ایسی تدابیر سے اسلام کو کیا فائدہ پہنچتا ہے۔ اور اگر گورنمنٹ عالیہ سخت سے سخت اس شخص کو سزا بھی دیدے جس نے ایسی کتاب شائع کی تو وہ زہریلا اثر جو اُن مفتریات کا دلوں میں بیٹھ گیا وہ کیونکر اس سے دور ہو جائے گا۔ بلکہ جہاں تک میں خیال کرتا ہوں اس کارروائی سے اور بھی وہ بد اثر لوگوں میں پھیلے گا۔
    میں بار بار کہتا ہوں کہ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ پادریوں کی کتابوں کا بد اثر دلوں سے محو کر دیں تو یہ طریق جو انجمن نے اختیار کیا ہے ہرگز اس کامیابی کے لئے حقیقی طریق نہیں ہے۔ بلکہ ہمیں چاہئیے کہ وہ تمام اعتراض جمع کر کے نہایت برجستگی اور ثبوت سے بھرے ہوئے لفظوں کے ساتھ ایک ایک کا مفصل جواب دیں اور اس طرح پر دلوں کو ان ناپاک وساوس سے پاک کر کے اسلامی روشنی کو دنیا پر ظاہر کریں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس زمانہ میں جو پادریوں اور فلاسفروں کے وساوس سے تباہ ہو رہا ہے یہ طریق سخت ناجائز ہے کہ ہم


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 378
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 378
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    378
    معقولؔ جواب سے منہ پھیر کر صرف سزا دلانے کی فکر میں لگے رہیں۔ گو یہ سچ ہے کہ ہماری گورنمنٹ محسنہ کسی جرم کے ثبوت پر پادریوں کی ہرگز رعایت نہیں کر سکتی مگر ہم اگر اپنی تمام کامیابی صرف یہی سمجھ لیں کہ گورنمنٹ کے ہاتھ سے کسی کو کچھ گوشمالی ہو جائے تو اس خیال میں ہم نہایت غلطی پر ہیں۔ اے سادہ طبع اور بے خبر لوگو! ان وساوس سے مسلمانوں کی ذریّت خراب ہوتی جاتی ہے۔ لہٰذا ضروری اور مقدم امر یہ ہے کہ سب تدبیروں سے پہلے اسلام کی طرف سے ان اعتراضات کا جواب نکلے جن سے ہزاروں دل گندے اور خراب ہوگئے اور ہوتے جاتے ہیں۔ ابتدا میں یہی پالیسی نرمی اور درگذر کی پادریوں نے بھی اختیار کی تھی۔ ان کے مقابل پر لوگ تقریری مقابلہ میں بہت سختی کرتے تھے۔ بلکہ گالیاں دیتے تھے۔ مگراُن لوگوں نے اُن دنوں میں گورنمنٹ میں کوئی میموریل نہ بھیجا اور اسی طرح برداشت سے اپنے وساوس دلوں میں ڈالتے گئے یہاں تک کہ اس تدبیر سے ہزارہا نو عیسائی ہمارے ملک میں پیدا ہوگئے۔
    ہم اس بات کے مخالف نہیں ہیں کہ گورنمنٹ سے ایک عام پیرایہ میں یہ درخواست ہو کہ مناظرات اور تالیفات کے طریق کو کسی قدر محدود کر دیا جائے اور ایسی بے قیدی اور دریدہ دہانی سے روک دیا جائے جس سے قوموں میں نقض امن کا اندیشہ ہو بلکہ اول محرک اس امر کے ہم ہی ہیں۔ اور ہم نے اپنے سابق میموریل میں لکھ بھی دیا تھا کہ یہ احسن انتظام کیونکر اور کس تدبیر سے ہو سکتا ہے۔ ہاں ہم ایسے میموریل کے سخت مخالف ہیں جو عام پیرایہ میں نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کی سزا کی نسبت زور دیا گیا ہے جس کے اصل اعتراضات کا جواب دینا ابھی ہمارے ذمہ ہے کیونکہ قرآن کریم کی تعلیم کے موافق ہمارا فرض یہ تھا کہ ہم بدزبان شخص کی بدزبانی کو الگ کر کے اس کے اصل اعتراضات کا جواب دیتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ 33۱؂ ۔کیونکہ یہ امر نہایت پُرخطر اور خوفناک ہے کہ ہم معترض کے اعتراضوں کو اپنی حالت پر چھوڑ دیں اور اگر ایسا


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 379
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 379
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    379
    کریںؔ تو وہ اعتراضات طاعون کے کیڑوں کی طرح روز بروز بڑھتے جائیں گے اور ہزارہا شبہات لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوجائیں گے اور اگر گورنمنٹ ایسے بدزبان کو کچھ سزا بھی دے تو وہ شبہات اس سزا سے کچھ کم نہیں ہو سکتے۔ دیکھو یہ لوگ جو اسلام پر اعتراض کرتے ہیں مثلاً جیسے مصنف امہات المومنین اور عماد الدین اور صفدر علی وغیرہ ان کے مرتد ہونے کا بھی یہی سبب ہے کہ اُس وقت نرمی ا ورہمدردی سے کام نہیں لیا گیا بلکہ اکثر جگہ تیزی اور سختی دکھلائی گئی اور ملائمت سے ان کے شبہات دور نہیں کئے گئے۔ اس لئے ان لوگوں نے اسلامی فیوض سے محروم رہ کر ارتداد کا جامہ پہن لیا۔ اب اکثر اسلام پر حملہ کرنے والے یہی لوگ ہیں جو قوم کی کم توجہی سے پریشان خاطر ہو کر عیسائی ہوگئے۔ ذرہ آنکھ کھول کر دیکھو کہ یہ لوگ جو بدزبانی دکھلا رہے ہیں یہ کچھ یورپ سے تو نہیں آئے اسی ملک کے مسلمانوں کی اولاد ہیں جو اسلام سے انقطاع کرتے کرتے اور عیسائیوں کے کلمات سے متاثر ہوتے ہوتے اس حد تک پہنچ گئے ہیں۔ درحقیقت ایسے لاکھوں انسان ہیں جن کے دل خراب ہو رہے ہیں۔ ہزار ہا طبیعتیں ہیں جو بُری طرح بگڑ گئی ہیں۔ سو بڑا امر اور عظیم الشان امر جو ہمیں کرنا چاہئیے وہ یہی ہے کہ ہم نظر اٹھا کر دیکھیں کہ ملک مجذوموں کی طرح ہوتا جاتا ہے اور شبہات کے زہریلے پودے بے شمار سینوں میں نشوونما پاگئے ہیں اور پاتے جاتے ہیں۔ خداتعالیٰ ہمیں تمام قرآن شریف میں یہی ترغیب دیتا ہے کہ ہم دین اسلام کی حقیقی حمایت کریں اور ہمارا فرض ہونا چاہئیے کہ مخالفوں کی طرف سے ایک بھی ایسا اعتراض پیدا نہ ہو جس کا ہم کمال تحقیق اور تنقیح سے جواب دے کر حق کے طالبوں کی پوری تسلی اور تشفی نہ کریں۔
    لیکن اس جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف اتنا ہی کرنا چاہئیے کہ رسالۂ امہات المومنین کے چند اعتراضات کا جواب دیا جائے؟ سو میں اس کے جواب میں بڑے زور کے ساتھ یہ مشورہ پیش کرتا ہوں کہ موجودہ زہریلی ہوا کے دور کرنے کے لئے صرف اسی قدر کارروائی ہرگز کافی نہیں ہے اور اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ ہم کئی گندی نالیوں میں سے صرف


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 380
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 380
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    380
    ایکؔ نالی کو صاف کر کے پھر یہ امید رکھیں کہ فقط ہمارا اتنا ہی کام ہوا کی اصلاح کے لئے کافی ہوگا۔ نہیں بلکہ جب تک ہم شہر کی تمام نالیوں کو صاف نہ کریں اور تمام وہ گند جو طرح طرح کے اعتراضات سے مختلف طبائع میں بھرا ہوا ہے دور نہ کردیں اور پھر وہ دلائل اور اقوال موجّہ شائع نہ کریں جو اس بدبو کو بکلی دفع کر کے بجائے اس کے اسلامی پاک تعلیم کی خوشبو پھیلاویں تب تک گویا ہم نے انسانوں کی جان بچانے کے لئے کوئی بھی کام نہیں کیا۔
    اس بات کا بیان کرنا ضروری نہیں کہ پادریوں کی تعلیم سے انتہا تک ضرر پہنچ چکا ہے اور ملک میں انہوں نے ایک ایسا زہریلا تخم بو دیا ہے جس سے اس ملک کی روحانی زندگی نہایت خطرناک ہے۔ اگر غور کر کے دیکھو تو یہ فساد اکثر طبائع کو خراب کرتا جاتا اور اسلام سے دور ڈالتا جاتا ہے۔ یہ دو قسم کا فساد ہے (۱) ایک تو وہ جس کا ابھی میں نے ذکر کیا ہے یعنی پادریوں کی زہریلی تحریرات کا فساد (۲) دوسرا وہ فساد جو علوم جدیدہ طبعیّہ وغیرہ کے پھیلنے سے پیدا ہوا ہے جس سے بہتیرے نو تعلیم یافتہ دہریوں اور ملحدوں کے رنگ میں نظر آتے ہیں۔ نہ عقائد کی پرواہ رکھتے ہیں اور نہ اعمال کی۔ اور بے قیدی کو انتہا تک پہنچا دیا ہے۔ اب حقیقی ہمدردی قوم اور بنی نوع کی یہ نہیں ہے کہ دو چار باتوں کا جواب لکھ کر خوش ہو جائیں۔
    اس جگہ یاد رکھنا چاہئیے کہ اس ضروری کام کو چھوڑ کر یہ دوسری کارروائی ہرگز فائدہ نہ دے گی کہ مشتعل ہوکر گورنمنٹ عالیہ میں میموریل بھیجا جائے۔ بلکہ ہم اس صورت میں اپنے وقت اور محنت کو دوسرے کاموں میں خرچ کر کے حقیقی علاج اور تدبیر کی راہ کے سخت ہارج ہوں گے اگر اس رائے میں میرے ساتھ ایک بھی انسان نہ ہو اور تمام لوگ اس بات پر متفق ہو جائیں کہ ان زہریلی ہواؤں کی اصلاح کا حقیقی علاج یہی ہے کہ میموریل پر میموریل بھیجا جائے اور ازالۂ اوہام باطلہ کی طرف توجہ نہ کی جائے تب بھی میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ تمام لوگ غلطی پر ہیں اور ایسی کارروائیاں اس حقیقی علاج کی ہرگز قائم مقام نہیں ہو سکتیں جس سے وہ تمام وساوس دور ہو جائیں جو صدہا دلوں میں متمکن ہیں بلکہ یہ تو تحکم سے منہ بند کرنا ہوگا۔ اور یہ بھی نہیں


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 381
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 381
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/381/mode/1up
    381
    کہہؔ سکتے کہ ایسی درخواستوں میں پوری کامیابی بھی ہو۔ کیونکہ دوسرے فریق کے منہ میں بھی زبان ہے اور وہ بھی جب دیکھیں گے کہ یہ کارروائی صرف ایک کے متعلق نہیں بلکہ عیسائیت کے تمام مشن پر حملہ ہے تو بالمقابل زور لگانے میں فرق نہیں کریں گے اور اس صورت میں معلوم نہیں کہ آخری نتیجہ کیا ہوگا۔ اور شاید سُبکی اور خفّت اٹھانی پڑے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ میموریل بھیجنا ایک مقدمہ اٹھانا ہے اور ہر ایک مقدمہ کے دو۲ پہلو ہوتے ہیں۔ اب کیا معلوم ہے کہ کس پہلو پر انجام ہو لیکن یہ یقینی امر ہے کہ اسلام نہایت پاک اصول رکھتا ہے اور ہر ایک حملہ جو مخالفوں کی طرف سے اس پر ہوتا ہے اگر اس کا غور اور توجّہ سے جواب دیا جائے تو صرف اسی قدر نہ ہوگا کہ ہم الزام کو دور کریں گے بلکہ بجائے الزام کے یہ بھی ثابت ہو جائے گا کہ جس مقام کو نادان مخالف نے جائے اعتراض سمجھا ہے وہی ایک ایسامقام ہے جس کے نیچے بہت سے معارف اور حکمت کی باتیں بھری پڑی ہیں اور اس طرح پر علوم دین دن بدن ترقی پذیر ہوں گے اور ہزاروں باریک راز علم دین کے کھلیں گے۔
    یاد رکھنا چاہئیے کہ تمام مسلمانوں پر اب یہ فرض ہے کہ اس طوفان ضلالت کا جلد تر فکر کریں مگر صرف اس طریق سے کہ اس کام کے لئے ایک شخص کو منتخب کر کے نرمی اور تہذیب کے ساتھ تمام عیسائی حملوں کا ردّ لکھاویں اور ایسی کتاب میں نہ صرف ردّ ہونا چاہئیے بلکہ اسلامی تعلیم کی عمدگی اور خوبی اور فضیلت بھی ایسے آسان فہم طریق سے مندرج ہونی چاہئیے جس سے ہر ایک طبیعت اور استعداد کا آدمی پوری تسلّی پا سکے۔ ایسے مؤلف کو ردّ کے وقت تصوّر کرلینا چاہئیے کہ گویا اس کے سامنے ایک فوج ایسے لوگوں کی موجود ہے جس میں سے بعض منقولات کی صحت سند مطالبہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ بعض فقرات متنازع فیہا کے لفظی بحثوں کے چھیڑنے کے لئے مستعد ہیں اور بعض مفردات کے معنوں پر جھگڑنے کے لئے کھڑے ہیں اور بعض منقولی رنگ میں قطعی اور یقینی دلائل کا مطالبہ کر رہے ہیں اور بعض قانون قدرت کے نظائر مانگنے کے لئے بھوکے پیاسے ہیں اور بعض تحریرات کی روحانی برکت اور


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 382
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 382
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/382/mode/1up
    382
    حلاوتؔ بیان دیکھنے کی طرف مائل ہیں۔ پس جب تک کہ کتاب میں ہر ایک طبیعت کی ضیافت نہ ہو تب تک ایسی کتاب مقبول عوام و خواص نہیں ہو سکتی اور اس سے عام فائدہ کی امید رکھنا طمع خام ہے۔
    میں باربار کہتا ہوں کہ اب ان زہریلی ہواؤں کے چلنے کے وقت جو تدبیر کرنی چاہئیے۔ وہ میرے نزدیک یہ ہے کہ صرف یہی بڑا کام نہ سمجھیں کہ کوئی مولوی صاحب چند ورق امہات مؤمنین کے ردّ میں لکھ کر شائع کر دیں بلکہ اس وقت ایک محیط نظر سے ان تمام حملوں کو دیکھنا چاہئیے جو ابتدا اس زمانہ سے جبکہ اس ملک میں پادری صاحبوں نے اپنی کتابیں اور رسائل شائع کئے اس وقت تک کہ رسالہ اُمّہات المؤمنین شائع ہوا۔ آیا ان اعتراضات کی کہاں تک تعداد پہنچی ہے اور ان اعتراضات کے ساتھ وہ اعتراضات بھی شامل کر لئے جائیں جو فلسفی رنگ میں کئے گئے ہیں یا ڈاکٹری تحقیقاتوں کے لحاظ سے بعض شتاب کار نادانوں نے پیش کر دئیے ہیں اور جب ایسی فہرست جس میں مجموعہ ان اعتراضات کا ہو طیّار ہو جائے تو پھر ان تمام اعتراضات کا جواب نرمی اور آہستگی سے بکمال متانت اور معقولیت تحریر کرنا چاہئیے۔
    بے شک یہ کام بہت ہی بڑا ہے جس میں پادری صاحبوں کی شصت سالہ کارروائی کوخاک میں ملانا اور نابود کر دینا ہے۔ لیکن اہل ہمّت کو خدا مدد دیتا ہے اور خداتعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو شخص اس کے دین کی مدد کرے وہ خود اس کا مددگار ہوتا ہے اور اس کی عمر بھی زیادہ کر دیتا ہے۔ اے بزرگو! یہ وہ زمانہ ہے جس میں وہی دین اور دینوں پر غالب ہوگا جو اپنی ذاتی قوت سے اپنی عظمت دکھاوے۔ پس جیسا کہ ہماے مخالفوں نے ہزاروں اعتراض کر کے یہ ارادہ کیا ہے کہ اسلام کے نورانی اور خوبصورت چہرہ کو بدشکل اور مکروہ ظاہر کریں ایسا ہی ہماری تمام کوششیں اسی کام کے لئے ہونی چاہئیں کہ اس پاک دین کی کمال درجہ کی خوبصورتی اور بے عیب اور معصوم ہونا بپایۂ ثبوت پہنچا ویں۔


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 383
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 383
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/383/mode/1up
    383
    یقیناًؔ سمجھو کہ گمراہوں کی حقیقی اور واقعی خیرخواہی اسی میں ہے کہ ہم جھوٹے اور ذلیل اعتراضات کی غلطیوں پر اُن کو مطلع کریں اور اُن کو دکھلاویں کہ اسلام کا چہرہ کیسا نورانی کیسا مبارک اور کیسا ہر ایک داغ سے پاک ہے۔ ہمارا کام جو ہمیں ضرور ہی کرنا چاہئیے وہ یہی ہے کہ یہ دجل اور افترا جس کے ذریعہ سے قوموں کو اسلام کی نسبت بدظن کیا گیا ہے اُس کو جڑ سے اکھاڑدیں۔ یہ کام سب کاموں پر مقدم ہے جس میں اگر ہم غفلت کریں تو خدا اور رسول کے گنہگار ہوں گے۔ سچی ہمدردی اسلام کی اور سچی محبت رسول کریم کی اسی میں ہے کہ ہم ان افتراؤں سے اپنے مولیٰ و سیّد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کا دامن پاک ثابت کر کے دکھلائیں اور وسواسی دلوں کو یہ ایک نیا موقعہ وسوسہ کا نہ دیں کہ گویا ہم تحکّم سے حملہ کرنے والوں کو روکنا چاہتے ہیں اور جواب لکھنے سے کنارہ کش ہیں۔ ہر ایک شخص اپنی رائے اور خیال کی پیروی کرتا ہے۔ لیکن خداتعالیٰ نے ہمارے دل کو اسی امر کے لئے کھولا ہے کہ اس وقت اور اس زمانہ میں اسلام کی حقیقی تائید اسی میں ہے کہ ہم اُس تخم بدنامی کو جو بویا گیا ہے اور اُن اعتراضات کو جو یورپ اور ایشیا میں پھیلائے گئے ہیں جڑ سے اکھاڑ کر اسلامی خوبیوں کے انوار اور برکات اس قدر غیر قوموں کودکھلاویں کہ ان کی آنکھیں خیرہ ہو جائیں اور اُن کے دل اُن مفتریوں سے بے زار ہو جائیں جنہوں نے دھوکہ دے کر ایسے مزخرفات شائع کئے ہیں اور ہمیں ان لوگوں کے خیالات پر نہایت افسوس ہے جو باوجودیکہ وہ دیکھتے ہیں کہ کس قدر زہریلے اعتراضات پھیلائے جاتے اور عوام کو دھوکہ دیا جاتا ہے پھر بھی وہ کہتے ہیں کہ ان اعتراضات کے ردّ کرنے کی کچھ بھی ضرورت نہیں صرف مقدمات اٹھانا اور گورنمنٹ میں میموریل بھیجنا کافی ہے۔ یہ سچ ہے کہ ہماری گورنمنٹ محسنہ ہر ایک مظلوم کا انصاف دینے کے لئے طیّار ہے لیکن ہمیں آنکھ کھول کر یہ بھی دیکھنا چاہئیے کہ وہ ضرر جو قوم کو مخالفوں کے اعتراضات سے پہنچ رہا ہے وہ صرف یہی نہیں کہ اُن کے سخت الفاظ سے بہت سے دل زخمی ہیں بلکہ ایک خطرناک ضرر تو یہ ہے کہ اکثر جاہل اور نادان اُن اعتراضات کو صحیح سمجھ کر اسلام سے


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 384
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 384
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/384/mode/1up
    384
    نفرت ؔ پیدا کرتے جاتے ہیں۔ سو جس ضرر کا لوگوں کے ایمان پر اثر ہے اور جو ضرر فی الواقع اعظم اور اکبر ہے وہی اس قابل ہے کہ سب سے پہلے اس کا تدارک کیا جائے ایسا نہ ہو کہ ہم ہمیشہ سزا دلانے کی فکروں میں ہی لگے رہیں اور ان شیطانی وساوس سے نادان لوگ ہلاک ہو جائیں۔ خداتعالیٰ جو اپنے دین اور اپنے رسول کے لئے ہم سے زیادہ غیرت رکھتا ہے وہ ہمیں ردّ لکھنے کی جابجا ترغیب دے کر بدزبانی کے مقابل پر یہ حکم فرماتا ہے کہ ’’جب تم اہل کتاب اور مشرکوں سے دکھ دینے والی باتیں سنو اور ضرور ہے کہ تم آخری زمانہ میں بہت سے دلآزار کلمات سنو گے پس اگر تم اس وقت صبر کرو گے تو خدا کے نزدیک اولواالعزم سمجھے جاؤ گے‘‘۔ دیکھو یہ کیسی نصیحت ہے اور یہ خاص اسی زمانہ کے لئے ہے کیونکہ ایسا موقعہ اور اس درجہ کی تحقیر اور توہین اور گالیاں سننے کا نظارہ اس سے پہلے کبھی مسلمانوں کو دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ یہی زمانہ ہے جس میں کروڑ ہا توہین اور تحقیر کی کتابیں تالیف ہوئیں۔ یہی زمانہ ہے جس میں ہزارہا الزام محض افترا کے طور پر ہمارے پیارے نبی ہمارے سیّد و مولیٰ ہمارے ہادی و مقتدا جناب حضرت محمد مصطفٰی احمد مجتبیٰ افضل الرسل خیرالوریٰ صلّی اللہ علیہ وسلم پر لگائے گئے سو میں حلفاًکہہ سکتا ہوں کہ قرآن شریف میں یعنی سورہ آل عمران میں یہ حکم ہمیں فرمایا گیا ہے کہ ’’تم آخری زمانہ میں نا منصف پادریوں اور مشرکوں سے دکھ دینے والی باتیں سنو گے اور طرح طرح کے دلآزار کلمات سے ستائے جاؤ گے اور ایسے وقت میں خداتعالیٰ کے نزدیک صبر کرنا بہتر ہوگا‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بار بار صبر کے لئے تاکید کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جب میرے پر ایک جھوٹا مقدمہ اقدام قتل کا پادریوں کی طرف سے قائم کیا گیا تو باوجودیکہ کپتان ڈگلس صاحب بہادر مجسٹریٹ ضلع نے بخوبی سمجھ لیا کہ یہ مقدمہ جھوٹا ہے مگر جب صاحب موصوف نے مجھ سے دریافت کیا کہ کیا تم ان پر نالش کرنا چاہتے ہو تو میں نے اسی وقت انشراح صدر سے کہہ دیا (جس کو صاحب موصوف نے اسی کیفیت کے ساتھ لکھ لیا) کہ میں ہرگز نہیں چاہتا کہ نالش کروں۔ اس کی کیا وجہ تھی۔ یہی تو تھی کہ خداتعالیٰ صاف قرآن شریف


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 385
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 385
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/385/mode/1up
    385
    میںؔ ہمیں فرماتا ہے کہ تم آخری زمانہ میں اہل کتاب اور مشرکین سے دکھ دئیے جاؤ گے اور دلآزار باتیں سنو گے اس وقت اگر تم شر کا مقابلہ نہ کرو تو یہ بہادری کا کام ہوگا۔ سو میں ہر ایک مسلمان کو کہتا ہوں اور کہوں گا کہ تم شر کا مقابلہ ہرگز نہ کرو۔ خاک ہو جاؤ اور خدا کو دکھلاؤ کہ کیسے ہم نے حکم کی تعمیل کی۔ صبر کرنے والوں کے لئے بغیر کسی اشد ضرورت کے میموریل کی بھی کچھ ضرورت نہیں کہ یہ حرکت بھی بے صبری کے داغ اپنے اندر رکھتی ہے۔ ہاں خدا نے ہم پر فرض کر دیا ہے کہ جھوٹے الزامات کو حکمت اور موعظت حسنہ کے ساتھ دور کریں۔ اور خدا جانتا ہے کہ کبھی ہم نے جواب کے وقت نرمی اور آہستگی کو ہاتھ سے نہیں دیا اور ہمیشہ نرم اور ملائم الفاظ سے کام لیا ہے بجز اس صورت کے کہ بعض اوقات مخالفوں کی طرف سے نہایت سخت اور فتنہ انگیز تحریریں پاکر کسی قدر سختی مصلحت آمیز اس غرض سے ہم نے اختیار کی کہ تا قوم اس طرح سے اپنا معاوضہ پاکر وحشیانہ جوش کو دبائے رکھے۔ اور یہ سختی نہ کسی نفسانی جوش سے اور نہ کسی اشتعال سے بلکہ محض آیت3 3 ۱؂ پر عمل کر کے ایک حکمت عملی کے طور پر استعمال میں لائی گئی اور وہ بھی اس وقت کہ مخالفوں کی توہین اور تحقیر اور بدزبانی انتہا تک پہنچ گئی اور ہمارے سیّد و مولیٰ سرور کائنات فخر موجودات کی نسبت ایسے گندے اور پُرشر الفاظ اُن لوگوں نے استعمال کئے کہ قریب تھا کہ ان سے نقضِ امن پیدا ہو تو اس وقت ہم نے اس حکمت عملی کو برتا کہ ایک طرف تو ان لوگوں کے گندے حملوں کے مقابل پر بعض جگہ کسی قدر مرارت اختیار کی اور ایک طرف اس نصیحت کا سلسلہ بھی جاری رکھا کہ اپنی گورنمنٹ محسنہ کی اطاعت کرو اور غربت اختیار کرو اور وحشیانہ طریقوں کو چھوڑ دو۔ سو یہ ایک حکیمانہ طرز تھی جو محض عام جوش کے دبانے کے لئے بعض وقت بحکم ضرورت ہمیں اختیار کرنی پڑی تا اسلام کے عوام اس طرح پر اپنے جوشوں کا تقاضا پورا کر کے غیر مہذب اور وحشیانہ طریقوں سے بچے رہیں اور یہ ایک ایسا طریق ہے کہ جیسے کسی کی افیون چھوڑانے کے لئے نربسی اس کو کھلائی جائے جو تلخی میں افیون سے مشابہ اور


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 386
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 386
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/386/mode/1up
    386
    فوائدؔ میں اُس سے الگ ہے اور وہ لوگ نہایت ظالم اور شریرالنفس ہیں جو ہم پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ گویا ہم نے ہی سخت گوئی کی بنیاد ڈالی۔ ہم اس کا بجز اس کے کیا جواب دیں کہ لَعْنَتُ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ۔
    جو شخص انصاف کے ارادہ سے اس امر میں رائے ظاہر کرنا چاہتا ہے اس پر اس بات کا سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ ہماری اوّل کتاب جو دنیا میں شائع ہوئی براہین احمدیہ ہے جس سے پہلے پادری عماد الدین کی گندی کتابیں اور اندرمن مراد آبادی کی نہایت سخت اور پُرفحش تحریریں اور کنھیّا لعل الکھ دھاری کی فتنہ انگیز تالیفات اور دیانند کی وہ ستیارتھ پرکاش جو بدگوئی اور گالیوں اور توہین سے پُر ہے ملک میں شائع ہو چکی تھیں اور ہمارے اس ملک کے مسلمان ان کتابوں سے اس طرح افروختہ تھے جس طرح کہ لوہا ایک مدت تک آگ میں رکھنے سے آگ ہی بن جاتا ہے مگر ہم نے براہین احمدیہ میں مباحثہ کی ایک معقولی طرز ڈال کر ان جوشوں کو فرو کیا اور ان جذبات کو اور طرف کھینچ کر لے آئے۔ جیسا کہ ایک حاذق طبیب اعضاء رئیسہ سے رخ ایک مادہ کا پھیر کر اطراف کی طرف اس کو جھکا دیتا ہے۔ اور باوجود اس کے کہ براہین احمدیہ ان عیسائیوں اور آریوں کے جواب میں لکھی گئی تھی جنہوں نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت توہین اور گالیوں کو انتہا تک پہنچا دیا تھا مگر تب بھی کتاب مذکور نہایت ملائمت اور ادب سے لکھی گئی اور بجز ان واجبی حملوں کے جو اپنے محل پر چسپاں تھے جن کا ذکر ہر ایک مباحث کے لئے بغرض اِسکات خصم ضروری ہوتا ہے اور کوئی درشت کلمہ اس کتاب میں نہیں ہے اور اگر بالفرض ہوتا بھی تو کوئی منصف جس نے عماد الدین اور اندرمن اور کنھیّا لعل کی کتابیں اور دیانند سورستی کی ستیارتھ پرکاش پڑھی ہو ہم کو ایک ذرہ الزام نہیں دے سکتا ہے۔ کیونکہ ان کتابوں کے مقابل پر جو کچھ بعض جگہ کسی قدر درشتی عمل میں آئی اس کی ان کتابوں کی بدزبانی اور بدگوئی اور توہین اور تحقیر کے انبار کی طرف ایسی ہی نسبت تھی جیسا کہ ایک ذرہ کو پہاڑ کی طرف ہو سکتی ہے۔ ماسوا اس کے جو کچھ ہماری کتابوں میں بطور مدافعت لکھا گیا وہ دراصل اُن شخصوں کا قصور


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 387
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 387
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/387/mode/1up
    387
    تھاؔ جنہوں نے ان تحریرات کے لئے اپنی سخت گوئی سے ہمیں مجبور کیا۔ اگر مثلاً زید محض شرارت سے بکر کو یہ کہے کہ تیرا باپ سخت نالائق تھا اور زید اس کے جواب میں یہ کہے کہ نہیں بلکہ تیرا ہی باپ ایسا تھا تو اس صورت میں یہ سختی جو بکر کے کلمہ میں پائی جاتی ہے بکر کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی کیونکہ دراصل زید خود ہی اپنے درشت کلمہ سے بکر کا محرک ہوا ہے۔ سو اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ یہی حال ہم لوگوں کا ہے۔ اس شخص کی حالت پر نہ ایک افسوس بلکہ ہزار افسوس جس نے اس واقعہ صحیحہ کو نہیں سمجھایا دانستہ اس افترا اور جھوٹ کو کسی غرض نفسانی سے استعمال میں لایا۔ اگر انجمن حمایت اسلام یا اس کے حامیوں کی یہ رائے ہے جیسا کہ ۶؍مئی ۱۸۹۸ ؁ء کے پرچہ ابزرور سے معلوم ہوتا ہے کہ دراصل تمام سخت الفاظ اسلام کے ایک گروہ سے یعنی اس عاجز کی طرف سے ہی ظہور میں آئے ہیں ورنہ پہلے اس سے تمام حملہ کرنے والوں کی تحریریں مہذبانہ تھیں اور کوئی سخت لفظ ان کی تالیفات میں نہ تھا تو ایسی رائے جس قدر ظلم اور جھوٹ اور بددیانتی سے بھری ہوئی ہے اس کے بیان کی حاجت نہیں خود ہر ایک شخص تاریخ تالیف دیکھ کر فیصلہ کر سکتا ہے کہ کیا ہماری کتابیں ان کی سخت گوئی سے پہلے لکھی گئیں یا بعد میں بطور مدافعت کے۔
    ہمارے مخالفوں نے جس قدر ہم پر سختی کی اور جس قدر خدا سے بے خوف ہو کر نہایت بدتہذیبی سے ہمارے دین اور ہمارے پیشوائے دین حضرت محمد مصطفٰی خاتم النبیین پر حملے کئے وہ ایسا امر نہیں ہے کہ کسی پر پوشیدہ رہ سکے۔ مگر کیا یہ تمام حملے میرے سبب سے ہوئے؟ اور کیا اندرمن کا اندربجر اور پاداش اسلام اور دوسرے گندے اور ناپاک رسالے جن میں بجز گالیوں کے اور کچھ بھی نہیں تھا ان تمام تالیفات کے شائع کرنے کا میں ہی موجب تھا؟ اور کیا دیانند کی وہ کتاب جس کا نام ستیارتھ پرکاش تھا جو براہین احمدیہ سے دو۲ برس پہلے چھپ کر شائع بھی ہو چکی تھی کیا وہ میرے جوش دلانے کی وجہ سے لکھی گئی؟ کیا یہ سچ نہیں کہ اس میں وہ سخت اور توہین کے کلمے دین اسلام اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لکھے گئے ہیں جن کے سننے سے کلیجہ کانپتا ہے تو کیا اس سے ثابت نہیں کہ میری کتاب براہین احمدیہ


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 388
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 388
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/388/mode/1up
    388
    کیؔ تالیف سے پہلے آریہ صاحبوں نے سخت گوئی انتہا تک پہنچا دی تھی؟ اور اگر کوئی فریقین کی تحریروں کا مقابلہ کرے اور کتابوں کو ایک دوسرے کے مقابل پر کھول کر دیکھے تو معلوم ہوگا کہ اگرچہ کسی قدر سختی مدافعت کے طور پر نہایت رنج اٹھانے کے بعد ہم سے بھی ظہور میں آئی جس کا سبب اور جس کے استعمال کی حکمت عملی اور اس کے مفید نتائج ابھی ہم لکھ چکے ہیں مگر تاہم مقابلتاً وہ سختی کچھ بھی چیز نہیں تھی اور ہر جگہ مخالفین کے اکابر اور پیشواؤں کا نام تعظیم سے لکھا گیا تھا اور مقصود یہ تھا کہ ہماری اس نرمی اور تہذیب کے بعد ہمارے مخالف اپنی عادات سابقہ کی کچھ اصلاح کریں مگر لیکھرام کی کتابوں نے ثابت کر دیا کہ یہ امید بھی غلط تھی۔ ہم نہیں چاہتے کہ بے محل اس قصے کو چھیڑیں۔ صرف ہمیں ان لوگوں کی حالت پر افسوس آتا ہے جنہوں نے سچائی کا خون کر کے یہ الزام ہم پر لگانا چاہا کہ گویا مخالفوں کے مقابل پر ابتدا تمام سختیوں اور تمام بدگوئیوں اور تمام تحقیر اور توہین کے الفاظ کا ہم سے ہوا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو حمایت اسلام کا دم مارتے ہیں۔ جن کا یہ خیال ہے کہ گویا سخت گوئی ہماری سرشت میں ایک لازم غیر منفک ہے جس نے مہذب مخالفوں کو جوش دلایا۔ اگر اس قابل رحم انجمن کی یہ رائے ہے جس کو ابزرور نے شائع کیا ہے تو اس نے بڑی غلطی کی کہ گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں پادریوں کی شکایت میں میموریل روانہ کیا۔ کیونکہ جبکہ میری ہی تحریک اور جوش دینے سے یہ سب کتابیں لکھی گئی ہیں تو طریق انصاف تو یہ تھا کہ میری شکایت میں میموریل بھیجتے۔
    میں سچّے دل سے اس بات کو بھی لکھنا چاہتا ہوں کہ اگر کسی کی نظر میں یہی سچ ہے کہ بدگوئی کی بنیاد ڈالنے والا میں ہی ہوں اور میری ہی تالیفات نے دوسری قوموں کو توہین اور تحقیر کا جوش دلایا ہے تو ایسا خیال کرنے والا خواہ ابزرور کا ایڈیٹر ہو یا انجمن حمایت اسلام لاہور کا کوئی ممبر یا کوئی اور اگر وہ ثابت کر دکھاوے کہ یہ تمام سخت گوئیاں جو پادری فنڈل سے شروع ہو کر امہات المومنین تک پہنچیں یا جو اندرمن سے ابتدا ہو کر لیکھرام تک ختم ہوئیں۔ میری ہی وجہ سے برپا ہوئی تھیں تو میں ایسے شخص کو تاوان کے طور پر ہزار روپیہ نقد دینے کو طیار


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 389
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 389
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/389/mode/1up
    389
    ہوںؔ ۔ کیونکہ یہ بات درحقیقت سچ ہے کہ جس حالت میں ایک طرف میرا یہ مذہب ہے کہ ہرگز مخالفوں کے ساتھ اپنی طرف سے سختی کی ابتدا نہیں کرنی چاہئیے اور اگر وہ خود کریں تو حتی الوسع صبر کرنا چاہئیے بجز اس صورت کے کہ جب عوام کا جوش دبانے کے لئے مصلحت وقت پر قدم مارنا قرین قیاس ہو اور پھر دوسری طرف عملی کارروائی میری یہ ہو کہ یہ تمام شور قیامت میں نے ہی اٹھایا ہو جس کی وجہ سے ہمارے مخالفوں کی طرف سے ہزارہا کتابیں تالیف ہو کر ملک میں شائع کی گئیں اور ہزارہا قسم کی توہین اور تحقیر ظہور میں آئی یہاں تک کہ قوموں میں باہم سخت تفرقہ اور عناد پیدا ہوا تو اس حالت میں بلاشبہ میں ہر ایک تاوان اور سزا کا مستحق ہوں اور یہ فیصلہ کچھ مشکل نہیں اگر کوئی ایک گھنٹہ کیلئے ہمارے پاس بیٹھ جائے تو جیسا کہ ایک شکل آئینہ میں دکھائی جاتی ہے ویسا ہی یہ تمام واقعات بلاکم و بیش کتابوں کے مقابلہ سے ہم دکھا سکتے ہیں۔
    یہ ذکر تو جملۂ معترضہ کی طرح درمیان آگیا اب میں اصل مطلب کی طرف رجوع کر کے کہتا ہوں کہ یہ پالیسی ہرگز صحیح نہیں ہے کہ ہم مخالفوں سے کوئی دکھ اٹھا کر کوئی جوش دکھاویں یا اپنی گورنمنٹ کے حضور میں استغاثہ کریں۔ جو لوگ ایسے مذہب کا دم مارتے ہیں جیسا کہ اسلام جس میں یہ تعلیم ہے کہ3۔۱؂ یعنی تم ایک امت اعتدال پر قائم ہو جو تمام لوگوں کے نفع کے لئے پیدا کی گئی ہو۔ کیا ایسے لوگوں کو زیبا ہے جو بجائے نفع رسانی کے آئے دن مقدمات کرتے رہیں۔ کبھی میموریل بھیجیں اور کبھی فوجداری میں نالش کر دیں اور کبھی اشتعال ظاہر کریں اور صبر کا نمونہ کوئی بھی نہ دکھاویں۔ ذرہ غور کر کے دیکھنا چاہئیے کہ جو لوگ تمام گم گشتہ انسانوں کو رحم کی نظر سے دیکھتے ہیں ان کے بڑے بڑے حوصلے چاہئیں۔ ان کی ہر ایک حرکت اور ہر ایک ارادہ صبر اور بُردباری کے رنگ سے رنگین ہونا چاہئیے۔ سو جو تعلیم خدا نے ہمیں قرآن شریف میں اس بارے میں دی ہے وہ نہایت صحیح اور اعلیٰ درجہ کی حکمتوں کو اپنے اندر رکھتی ہے جو ہمیں صبر سکھاتی ہے۔ یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام رومی سلطنت کے ماتحت خداتعالیٰ


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 390
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 390
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/390/mode/1up
    390
    سےؔ مامور ہو کر آئے تو خداتعالیٰ نے ان کے ضعف اور کمزوری کے لحاظ سے یہی تعلیم ان کو دی کہ شر کا مقابلہ ہرگز نہ کرنا بلکہ ایک طرف طمانچہ کھا کر دوسری بھی پھیردو۔ اور یہ تعلیم اس کمزوری کے زمانہ کے نہایت مناسب حال تھی۔ ایسا ہی مسلمانوں کو وصیّت کی گئی تھی کہ ان پر بھی ایک کمزوری کا زمانہ آئے گا اسی زمانہ کے ہم رنگ جو حضرت مسیح پر آیا تھا اور تاکید کی گئی تھی کہ اس زمانہ میں غیر قوموں سے سخت کلمے سن کر اور ظلم دیکھ کر صبر کریں۔ سو مبارک وہ لوگ جو ان آیات پر عمل کریں اور خدا کے گنہگار نہ بنیں۔ قرآن شریف کو غور سے دیکھیں کہ اُس کی تعلیم اس بارے میں دو پہلو رکھتی ہے۔ ایک۱ اس ارشاد کے متعلق ہے کہ جب پادری وغیرہ مخالف ہمیں گالیاں دیں اور ستاویں اور طرح طرح کی بدزبانی کی باتیں ہمارے دین اور ہمارے نبی علیہ السلام اور ہمارے چراغ ہدایت قرآن شریف کے حق میں کہیں تو اس صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہئیے۔ دو۲سرا پہلو اس ارشاد کے متعلق ہے کہ جب ہمارے مخالف ہمارے دین اسلام اور ہمارے مقتدا اور پیشوا محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف کی نسبت دھوکہ دینے والے اعتراض شائع کریں اور کوشش کریں کہ تا دلوں کو سچائی سے دور ڈالیں تو اس وقت ہمیں کیا کرنا فرض ہے۔ یہ دونوں حکم اس قسم کے ضروری تھے کہ مسلمانوں کو یاد رکھنے چاہئیں تھے۔ مگر افسوس ہے کہ اب معاملہ برعکس ہے اور جوش میں آنا اور مخالف موذی کی ایذا کے فکر میں لگ جانا غازہ دینداری ٹھہر گیا ہے اور انسانی پالیسی کو خدا کی سکھلائی ہوئی پالیسی پر ترجیح دی جاتی ہے حالانکہ ہمارے دین کی مصلحت اور ہماری خیر اور برکت اسی میں ہے کہ ہم انسانی منصوبوں کی کچھ پرواہ نہ کریں اور خداتعالیٰ کی ہدایتوں پر قدم مار کر اس کی نظر میں سعادت مند بندے ٹھہر جائیں۔ خدا نے ہمیں اس وقت کے لئے کہ جب ہمارے مذہب کی توہین کی جائے اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سخت سخت کلمات کہے جائیں کھلے کھلے طور پر ارشاد فرمایا ہے جو سورہ آل عمران کے آخر میں درج ہے اور وہ یہ ہے۔ 33 ۱؂ ۔یعنی تم


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 391
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 391
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/391/mode/1up
    391
    اہلؔ کتاب اور دوسرے مخلوق پرستوں سے بہت سی دکھ دینے والی باتیں سنو گے۔ تب اگر تم صبر کرو گے اور زیادتی سے بچو گے تو تم خدا کے نزدیک اولواالعزم شمار کئے جاؤ گے۔ ایسا ہی اس دوسرے وقت کے لئے کہ جب ہمارے مذہب پر اعتراض کئے جائیں۔ یہ ارشاد فرمایاہے3
    3 ۱؂۔۔۔۔ 33 3۔ ۲؂ سورہ آل عمران۔ یعنی جب تو عیسائیوں سے مذہبی بحث کرے تو حکیمانہ طور پر معقول دلائل کے ساتھ کر اور چاہئیے کہ تیرا وعظ پسندیدہ پیرایہ میں ہو۔ اور تم میں سے ہمیشہ ایسے لوگ ہونے چاہئیں جو خیر اور بھلائی کی طرف دعوت کریں اور ایسی باتوں کی طرف لوگوں کو بلاویں جن کی سچائی پر عقل اور سلسلہ سماوی گواہی دیتے رہے ہیں اور ایسی باتوں سے منع کریں جن کی سچائی سے عقل اور سلسلہ سماوی انکار کرتے ہیں۔ جو لوگ یہ طریق اختیار کریں اور اس طرح پر بنی نوع کو دینی فائدہ پہنچاتے رہیں وہی ہیں جو نجات پاگئے۔
    پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں ان دونوں پہلوؤں کو ایک ہی جگہ اکٹھے کر کے بیان کر دیا ہے۔ اور وہ آیت یہ ہے۔33۳؂ ۔(اخیر آل عمران) یعنی اے ایمان والو! دشمنوں کی ایذا پر صبر کرو اور باایں ہمہ مقابلہ میں مضبوط رہو اور کام میں لگے رہو اور خدا سے ڈرتے رہو تا تم نجات پا جاؤ۔ سو اس آیت کریمہ میں بھی اللہ تعالیٰ کی ہمیں یہی ہدایت ہے کہ ہم جاہلوں کی توہین اور تحقیر اور بدزبانیوں اور گالیوں سے اعراض کریں اور ان تدبیروں میں اپنا وقت ضائع نہ کریں کہ کیونکر ہم بھی ان کو سزا دلاویں۔* بدی کے مقابل پر بدی کا ارادہ کرنا
    میری جماعت نے جو زٹلی کی بدگوئی پرمیموریل بھیجا ہے وہ سزا دلانے کی غرض سے نہیں بلکہ اس غرض سے کہ یہ لوگ محض دروغ گوئی کے طور پر سخت گوئی کا الزام لگاتے تھے لہٰذا گورنمنٹ اور پبلک کو دکھلایا گیا ہے کہ ان لوگوں کی نرمی اور ادب اس قسم کا ہے۔ اس سے زیادہ اس میموریل میں کوئی درخواست سزا وغیرہ کی نہیں ہے۔ منہ


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 392
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 392
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/392/mode/1up
    392
    ایک معمولی بات ہے کمال میں داخل نہیں۔ کمال انسانیت یہ ہے کہ ہم حتی الوسع گالیوں کے مقابل پر اعراض اور درگذر کی خو اختیار کریں۔
    یہ بھی تو سوچو کہ پادری صاحبوں کا مذہب ایک شاہی مذہب ہے۔ لہٰذا ہمارے ادب کا ؔ یہ تقاضا ہونا چاہئیے کہ ہم اپنی مذہبی آزادی کو ایک طفیلی آزادی تصور کریں اور اس طرح پر ایک حد تک پادری صاحبوں کے احسان کے بھی قائل رہیں۔ گورنمنٹ اگر ان کو بازپُرس کرے تو ہم کس قدر بازپُرس کے لائق ٹھہریں گے۔ اگر سبز درخت کاٹے جائیں تو پھر خشک کی کیا بنیاد ہے۔ کیا ایسی صورت میں ہمارے ہاتھ میں قلم رہ سکے گی؟ سو ہوشیار ہو کر طفیلی آزادی کو غنیمت سمجھو اور اس محسن گورنمنٹ کو دعائیں دو جس نے تمام رعایا کو ایک ہی نظر سے دیکھا۔ یہ بالکل نامناسب اور سخت نامناسب ہے کہ پادریوں کی نسبت گورنمنٹ میں شکایت کریں۔ ہاں جو شبہات اور اعتراض اٹھائے گئے اور جو بہتان شائع کئے گئے ان کو جڑ سے اکھاڑنا چاہئیے اور وہ بھی نرمی سے اور حق اور حکمت کے معاون ہوکر دنیا کو فائدہ پہنچانا چاہئیے اور ہزاروں دلوں کو شبہات کے زندان سے نجات بخشنا چاہئیے۔ یہی کام ہے جس کی اب ہمیں اشد ضرورت ہے۔ یہ سچ ہے کہ مسلمانوں نے تائید اسلام کے دعوے پر جابجا انجمنیں قائم کر رکھی ہیں۔ لاہور میں بھی تین انجمنیں ہیں۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ باوجود یکہ عیسائیوں کی طرف سے دس کروڑ کے قریب مخالفانہ کتابیں اور رسائل نکل چکے ہیں اور تین ہزار کے قریب ایسے اعتراضات شائع ہو چکے جن کا جواب دینا مولویوں اور ان انجمنوں کا فرض تھا جنہوں نے ہر ایک رسالہ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہم مخالفوں کے سوالات کے جواب دیں گے ان حملوں کا ان انجمنوں نے کیا بندوبست کیا اور کون کونسی مفید کتاب دنیا میں پھیلائی۔ ہم بقول ان کے کافر سہی دجال سہی سخت گو سہی مگر ان لوگوں نے باوجود ہزارہا روپیہ اسلام کا جمع کرنے کے اسلام کی حقیقی مدد کیا کی۔ علوم مروّجہ کی تعلیم کا شاید بڑے سے بڑا نتیجہ یہ ہوگاکہ تا لڑکے تعلیم پا کر کوئی معقول نوکری پاویں۔ اور یتیموں کی پرورش کا نتیجہ بھی اس سے بڑھ کر


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 393
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 393
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/393/mode/1up
    393
    کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ بچے مسلمان ہونے کی حالت میں بالغ اور معمولی طور کے خواندہ ہوجائیں۔ مگر آگے جو کروڑہا قسم کے دام تزویر بالغوں کی راہ میں بچھے ہوئے ہیں ان سے بچنے کی کوئی تدبیر نہیں بتلائی گئی۔ کیا کوئی بیان کر سکتا ہے کہ کسی انجمن نے ان سے محفوظ ؔ رہنے کا کیا بندوبست کیا؟ بلکہ اگر ایسی ہی تعلیم ہے جس میں مخالفوں کے تمام حملوں سے اکمل اور اتم طور پر خبردار نہیں کیا جاتا اور یتیموں کی ایسی ہی پرورش ہے کہ ان کو جوان اور بالغ کر دینا ہی بس ہے تو یہ تمام کام اسلام کے دشمنوں کے لئے ہے نہ اسلام کے لئے۔ اگر اسلام کے لئے یہ کام ہوتا تو سب سے پہلے اس بات کا بندوبست ہونا چاہئیے تھا کہ یہ اعتراضات عیسائیت اور فلسفہ اور آریہ مت اور برہمو سماج کے جن کی میزان تین ہزار تک پہنچ گئی ہے نہایت صفائی اور تحقیق اور تدقیق سے ان کا جواب شائع کیا جاتا اور صرف یہ کافی نہیں کہ امہات مومنین کے چند ورق کا جواب لکھا جاوے بلکہ لازم ہے کہ پادریوں کی شصت سالہ کارروائی اور ایسا ہی وہ تمام فلسفی اور طبعی اعتراضات جو اس کے ساتھ قدم بقدم چلے آئے ہیں اور ایسا ہی آریہ سماج کے اعتراض جو نئے انقلاب سے ان کو سوجھے ہیں ان تمام اعتراضات کی ایک فہرست طیّار ہو اور پھر ترتیب وار کئی جلدوں میں اس خس و خاشاک کو سچائی کی ایک روشن اور افروختہ آتش سے نابود کر دیا جائے۔
    یہ کام ہے جو اس زمانہ میں اسلام کے لئے کرنا ضروری ہے۔ یہی وہ کام ہے جس سے نئی ذریت کی کشتی غرق ہونے سے بچ رہے گی اور یہی وہ کام ہے جس سے اسلام کا روشن اور خوبصورت چہرہ مشرق اور مغرب میں اپنی چمک دکھلائے گا۔ اس کام کے یہ امور ہرگز قائم مقام نہیں ہو سکتے کہ یتیموں کی پرورش کی جائے یا علوم مروّجہ یا کسی اور کسب کی ان کو تعلیم دی جائے یا بگفتن رسم اور عادت کے طور پر اسلام کے احکام اور ارکان ان کو سکھلائے جائیں۔ وہ لوگ جو اسلام سے مرتد ہو کر عیسائیوں میں جا ملے ہیں جو غالباً ایک لاکھ کے قریب پنجاب اور ہندوستان میں موجود ہوں گے کیا وہ اسلام کے احکام اور ارکان سے بے خبر تھے؟ کیا ان کو اتنی بھی تعلیم نہیں ملی تھی جو اب انجمن حمایت اسلام لاہور یتیموں اور


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 394
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 394
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/394/mode/1up
    394
    دوسرے طالب علموں کو دے رہی ہے؟ نہیں بلکہ بعض ان میں سے اسلام کے رسمی علوم سے بہت کچھ واقف بھی تھے مگر پھر بھی ان کے معلومات ایسے تھے کہ ان کو عیسائیت کے زہریلے اثر اور سوفسطائی اعتراضوں سے بچا نہ سکے اس لئے دانشمندی کا طریق یہ تھا کہ ان لوگوں کے حالات سےؔ عبرت حاصل کر کے اس زہریلی ہوا کا جو ہر طرف سے زور کے ساتھ چل رہی ہے کوئی احسن انتظام کیا جاتا۔ مگر کس نے اس طرف توجہ کی اور کس انجمن کو یہ خیال آیا؟ نہیں بلکہ ان لوگوں نے تو اور اور کارروائیاں شروع کر دیں جو مسلمانوں کی دینی حالت پر کچھ بھی نیک اثر ڈال نہیں سکتیں۔ اب بھی وقت ہے کہ اہل اسلام اپنے تئیں سنبھالیں اور وہ راہ اختیار کریں جو درحقیقت اس سیلاب کو روکتی ہو۔ لیکن یاد رہے کہ بجز اس کے اور کوئی بھی راہ نہیں کہ تمام اعتراضات اور ہر ایک قسم کے شبہات جمع کر کے اس کام کو کوئی ایسا آدمی شروع کرے جو اکمل اور اتم طور پر اس کو انجام دے سکے اور حتی الوسع اُن شرائط کا جامع ہو جن کو پہلے ہم لکھ چکے ہیں۔
    غرض یہ کام ہے جو مسلمانوں کی ذریّت کو موجودہ زہریلی ہواؤں سے بچا سکتا ہے مگر یہ ایسے طرز سے ہونا چاہئیے کہ ہر ایک جواب قرآن شریف کے حوالہ سے ہوتا اس طرح پر جواب بھی ہو جائے اور حق کے طالبوں کو قرآن شریف کے اہم مقامات کی تفسیر پر بھی بخوبی اطلاع ہو جائے۔ یہ ہر ایک کا کام نہیں یہ ان لوگوں کا کام ہے جو اوّل شرائط ضروریہ تالیف سے متّصف ہوں اور پھر ہر ایک ملونی سے اپنی نیت اور عمل کو الگ کر کے خداتعالیٰ کی راہ میں اس کی مرضیات حاصل کرنے کے لئے یہ کوشش کریں اور یہ بھی ضروری ہے کہ ایسی کتاب کم سے کم پچاس ہزار یا ساٹھ ہزار تک چھپوائی جائے اور تمام دیار اسلام میں مفت تقسیم ہو۔
    غرض صرف امّہات مومنین جیسے ایک مختصر رسالہ کا رد لکھنا کافی نہیں ہے کارروائی پوری کرنی چاہئیے اور یقین رکھنا چاہئیے کہ ضرور خداتعالیٰ مدد دے گا۔ ہاں نرمی اور آہستگی اور تہذیب سے یہ کارروائی ہونی چاہئیے۔ ایسی سخت تحریر نہ ہو کہ پڑھنے والا رک جائے اور اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ لیکن اتنا بڑا کام بغیر جمہوری مدد کے کسی طرح انجام پذیر


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 395
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 395
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/395/mode/1up
    395
    نہیں ہو سکتا۔ جب اہل الرائے ایک شخص کو اس کام کے لئے مقرر کریں تب یہ دوسرا انتظام بھی ہونا چاہئیے کہ اس کام کے انجام کیلئے امراءؔ اور دولتمندوں اور ہر ایک طبقہ کے مسلمانوں سے ایک رقم کثیر بطور چندہ کے جمع ہو اور کسی ایک امین کے پاس حسب صوابدید اس کمیٹی کے جو اس کام کو ہاتھ میں لیوے وہ چندہ جمع رہے اور حسب ضرورت خرچ ہوتا جائے۔
    اب ایک دوسرا سوال اور ہے اور وہ یہ کہ اس ردّ جامع کے لکھنے کے لئے کون مقرر ہو۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کثرت رائے سے جو شخص لائق قرار پاوے وہی مقرر کیا جائے جیسا کہ ابھی میں بیان کر چکا ہوں۔ اور جب ہر طرح سے کسی کو شرائط کے مطابق پایا جائے اور اس کی لیاقت کی نسبت تسلی ہو جائے تو اس ردّ جامع کا کام اس کو دیا جائے اور پھر تمام مسلمانوں کو چاہئیے کہ اپنے اختلافات کو دور کر کے ایسے شخص کی مدد میں بدل و جان مصروف ہوں اور اپنے مالوں کو اس راہ میں پانی کی طرح بہا دیں تا جیسا کہ اس زمانہ میں مخالفوں کے اعتراض کمال کو پہنچ گئے ہیں ایسا ہی جواب بھی کمال کو پہنچ جائے اور اسلام کی فوقیت اور فضیلت تمام دینوں پر ثابت ہو جائے۔
    اب اس کام میں ہرگز تاخیر نہیں چاہئیے اور مسلمانوں پر واجب ہے کہ دلی صفائی سے اور محض خدا کے لئے کھڑے ہو جائیں۔ اور بلحاظ امور متذکرہ بالا جس کو چاہیں تجویز کرلیں۔ یہ بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جو صاحب اس کام کے لئے تجویز کئے جائیں وہ اس کتاب کو تین زبانوں میں جو اسلامی زبانیں ہیں لکھیں یعنی اردو اور عربی اور فارسی میں کیونکہ پادری صاحبوں نے بھی ایسا ہی کیا ہے بلکہ اس سے زیادہ کئی زبانوں میں ردّ اسلام چھپوایا ہے۔ سو ہمیں بھی یہی چاہئیے کہ ہمت نہ ہاریں بلکہ انگریزی میں بھی ایک ترجمہ اس کتاب کا شائع کریں۔
    میں مدت تک اس سوچ میں رہا کہ اس ضروری کام کا سلسلہ کیونکر شروع ہو۔ آخر مجھے یہ خیال آیا کہ اکثر علماء کا تو یہ حال ہے کہ ان میں تباغض اور تحاسد بڑھا ہوا ہے ان کو زیادہ تر دلچسپی تکفیر اور تکذیب سے ہے۔ جس قدر پنجاب اور ہندوستان میں انجمنیں قائم ہوئی ہیں۔ مجھے


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 396
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 396
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/396/mode/1up
    396
    اب تک کسی ایسی انجمن پر اطلاع نہیں جو ان مقاصد کو جیسا کہ ہمارا ارادہ ہے پورا کر سکے۔ یا اس ؔ طرز کا جوش ان میں موجود ہو۔ میں اس بات کو قبول کرتاہوں کہ ان انجمنوں کے ممبروں میں سے کئی ایسے صاحب بھی ہوں گے جو ہماری مراد کے موافق ان کے دلوں میں بھی تائید دین متین کا جوش ہوگا۔ لیکن وہ کثرت رائے کے نیچے ایسے دبے ہوئے معلوم ہوتے ہیں جیسا کہ طوطی کی آواز نقّار خانہ میں۔ بہرحال جس قدر ہمیں ہمدردی دین کے جوش سے موجودہ انجمنوں کا کچھ نقص بیان کرنا پڑا ہے وہ معاذ اللہ اس نیت سے نہیں کہ ہم انجمنوں کے تمام ممبروں اور کارکنوں پر اعتراض کرتے ہیں بلکہ ہمارا اعتراض اس معجون مرکب پر ہے۔ جو کثرت رائے سے آج تک پیدا ہوتی رہی ہے۔ لیکن ان تمام صاحبوں کی ذاتیات اور شخصیات سے ہمیں کچھ بحث نہیں جو ان انجمنوں سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ ہم خوب جانتے ہیں کہ بعض اوقات ایک صاحب کی اپنی رائے کچھ اور ہوتی ہے مگر کثرت رائے کے نیچے آکر خواہ نخواہ اس کو ہاں سے ہاں ملانی پڑتی ہے اور نیز ہم ان انجمنوں اور ان کے کاموں کو محض بیہودہ نہیں جانتے۔ بلاشبہ مسلمانوں کی دنیوی حالت کو ترقی دینے کے لئے بہت عمدہ ذریعہ ہے۔ ہاں ہمیں افسوس کے ساتھ یہ بھی کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ زہریلی ہوا سے مسلمانوں کے ایمان کو محفوظ رکھنے کے لئے ان میں کوئی لائق تعریف کوشش نہیں کی گئی جس قدر بنام نہاد تائید دین(کے*) سامان دکھلائے گئے ہیں وہ ہرگز ہرگز اس تیز اور تند اور زہریلی ہوا کا مقابلہ نہیں کر سکتے جو ہمارے ملک میں چل رہی ہے۔ اس لئے مسلمانوں کی حقیقی ہمدردی جس دل میں ہوگی وہ ضرور ہماری اس تحریر پر بول اٹھے گا کہ بلاشبہ اس وقت مسلمان اپنی دینی حالت کے رو سے قابل رحم ہیں اور بلاشبہ اب ایک ایسے احسن انتظام کی ضرورت ہے جس میں ان حملوں کی پوری مدافعت ہو جو اس عرصہ ساٹھ۶۰ سال میں اسلام پر کئے گئے ہیں۔ ہم ان مردہ طبیعت لوگوں کو مخاطب کرنا نہیں چاہتے جو خود اپنی عمر کے انقلاب پر ہی نظر کر کے اب تک اس نتیجہ پر نہیں پہنچے کہ یہ مختصر
    * ایڈیشن اول میں سہواً لکھنے سے رہ گیا ہے۔ ناشر


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 397
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 397
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/397/mode/1up
    397
    زندگی ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں اور ضرور ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے لئے اور اپنی ذریّت کےؔ لئے وہ آرام کی جگہ بناویں جو مرنے کے بعد ہمیشہ کی آرام گاہ ہوگی۔ اے بزرگو! یقیناً سمجھو کہ خدا ہے اور اس کا ایک قانون ہے جس کو دوسرے الفاظ میں مذہب کہتے ہیں۔ اور یہ مذہب ہمیشہ خداتعالیٰ کی طرف سے پیدا ہوتا رہا اور پھر ناپدید ہوتا رہا اور پھر پیدا ہوتا رہا مثلاً جیسا کہ تم گیہوں وغیرہ اناج کی قسموں کو دیکھتے ہو کہ وہ کیسے معدوم کے قریب ہو کر پھر ہمیشہ ازسرنو پیدا ہوتے ہیں اور باایں ہمہ وہ قدیم بھی ہیں ان کو نو پیدا نہیں کہہ سکتے۔ یہی حال سچے مذہب کا ہے کہ وہ قدیم بھی ہوتا ہے اور اس کے اصولوں میں کوئی بناوٹ اور حدوث کی بات نہیں ہوتی اور پھر ہمیشہ نیا بھی کیا جاتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جو بنی اسرائیل میں ایک بزرگ نبی گذرے ہیں وہ کوئی نیا مذہب نہیں لائے تھے بلکہ وہی لائے تھے جو ابراہیم علیہ السلام کو دیا گیا تھا اور حضرت ابراہیم بھی کوئی نیا مذہب نہیں لائے تھے بلکہ وہی لائے تھے جو نوح علیہ السلام کو ملا تھا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی کوئی نیا مذہب نہیں لائے تھے اور کوئی نیا نجات کا طریق نہیں گھڑا تھا بلکہ وہی تھا جو حضرت موسیٰ کو ملا تھا اور وہی پرانا طریق نجات کا تھا جو ہمیشہ خدائے رحیم نبیوں کے ذریعہ سے انسانوں کو سکھلاتا رہا۔ لیکن جب طریق نجات جو قدیم سے چلا آتا تھا اور دوسرے اصول توحید میں عیسائیوں نے دھوکے کھائے اور یہودیوں کی عملی حالت بھی بگڑ گئی اور تمام زمین پر شرک پھیل گیا۔ تب خدا نے عرب میں ایک رسول پیدا کیا تا نئے سرے زمین کو توحید اور نیک عملوں سے منور کرے۔ اُسی خدا نے ہمیں خبر دی تھی کہ آخری زمانہ میں پھر مخلوق پرستی کے عقائد دنیا میں پھیل جائیں گے اور لوگوں کی عملی حالت میں بھی بہت فرق ہو جائے گا اور اکثر دلوں پر دنیا کی محبت غالب اور خدا کی محبت ٹھنڈی ہو جائے گی۔ تب خدا پھر اس طرف توجہ کرے گا کہ اس راستی کے تخم کو جو ہمیشہ اناج کی طرح پیدا ہوتا رہا ہے نشوونما دے۔ سو خدا اب اپنے دین کو ایسے لوگوں کے وسیلہ سے نشوونما دے گا جو اس کی نظر میں بہت ہی مقبول ہوں گے۔ مگر یہ خداتعالیٰ کو معلوم ہے کہ


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 398
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 398
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/398/mode/1up
    398
    ایسے لوگ اُس کی نظر میں کون سے ہیں۔ بہرحال قرین مصلحت یہی معلوم ہوتا ہے کہ ؔ اس مشکل کام میں امراء وقت اور دوسرے تمام تاجروں اور رئیسوں اور دولت مندوں اور اہل الرائے کو مخاطب کیا جائے اور پھر دیکھا جائے کہ اس ہمدردی کے میدان میں کون کون نکلتا ہے اور کون کون اعراض کرتا ہے۔ لیکن کیا ہی قابل تعریف وہ لوگ ہیں جو اس وقت اس کام کے لئے خداتعالیٰ سے توفیق پائیں گے۔ خدا ان کے ساتھ ہو اور اپنے خاص رحم کے سایہ میں ان کو رکھے۔
    یہ مضمون جن جن بزرگوں کی خدمت میں پہنچے ان کا کام یہ ہوگا کہ اوّل اس مضمون کو غور سے پڑھیں اور پھر براہ مہربانی مجھے اطلاع بخشیں کہ وہ اس کام کے انجام کے لئے کیا تجویز کرتے ہیں اور کس کو اس خدمت کے لئے پسند کرتے ہیں۔ کام یہی ہے کہ مخالفوں کی کل کتابوں سے اعتراضات جمع کر کے ان کا جواب دیا جائے۔ اور پھر وہ کتابیں پچاس ہزار کے قریب چھپوا کر ملک میں شائع کی جائیں اور اس طرح پر موجودہ اسلامی ذریّت کو سم قاتل سے بچا لیا جائے۔ یہ تمام کام پچاس ہزار روپیہ کے خرچ سے بخوبی ہو سکتا ہے اور اگر ایسی کتابیں کم سے کم پچاس ہزار یا ساٹھ ہزار تک دنیا میں شائع کی جائیں تو یہ سمجھو کہ ہم نے تمام ساختہ پرداختہ پادریوں اور دوسرے مخالفوں کا کالعدم کردیا۔ لیکن چونکہ یہ مالی معاملہ ہے اس لئے اس میں اوّل سے خوب پرتال اور تفتیش ہونی چاہئیے کہ اس کام کے لائق کون لوگ ہیں؟ اور کس کی تالیف دنیا کے دلوں کو اسلام کی طرف جھکا سکتی ہے؟ اور کون ایسا شخص ہے جس کا حسن بیان اور قوت استدلال اور طرز ثبوت عام فہم اور تسلی بخش ہے اور کس کی تقریر ہے جو تمام اعتراضات کو درہم برہم کر کے اُن کا نشان مٹا سکتی ہے۔ اسی خیال سے میں نے اس اپنے مضمون میں دس شرطیں لکھی ہیں جو میرے خیال میں ایسے مؤلّف کے لئے ضروری ہیں۔ لیکن میرے خیال کی پیروی کچھ ضروری نہیں ہر ایک صاحب کو چاہئیے کہ اس کام کے لئے پوری پوری غور کر کے یہ رائے ظاہر کریں کہ کس کو یہ خدمت تالیف سپرد کرنی چاہئیے اور ان کے نزدیک کون ہے جو بخوبی اور خوش اسلوبی اس


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 399
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 399
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/399/mode/1up
    399
    کام ؔ کو انجام دے سکتا ہے۔ میں اس قدر خدمت اپنے ذمّہ لے لیتا ہوں کہ ہر ایک صاحب اس بارے میں اپنی اپنی رائے تحریر کر کے میرے پاس بھیج دیں۔ میں ان تمام تحریروں کو جمع کرتا جاؤں گا اور جب وہ سب تحریریں جمع ہو جائیں گی تو میں ان کو ایک رسالہ کی صورت میں چھاپ دوں گا اور پھر وہ امر جو کثرت رائے سے قرار پاوے اسی کو اختیار کیا جائے گا۔ اور ہر ایک پر لازم ہوگا کہ کثرت رائے کے پیرو ہو کر سچے دل سے اس کام میں حتی الوسع مالی مدد دیں۔ اور اس رائے کے لائق وہی صاحب سمجھے جائیں گے جو مالی مدد کے دینے کے لئے طیار ہوں۔ مگر رائے لکھنے کے وقت ہر ایک صاحب کو چاہئیے کہ اس اہل علم کا نام تصریح سے لکھیں جس کو یہ نازک کام تالیف کا سپرد کیا جائے گا۔
    شاید بعض صاحب اس رائے کو اختیار کریں کہ کئی صاحب علم اس کام کے لئے متوجہ ہوں اور مل کر کریں۔ لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ ایسے امور میں تالیفات کا تداخل ضرر رساں ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات نزاع اور کینہ تک نوبت پہنچتی ہے۔ ہاں جو شخص درحقیقت لائق اور صاحب معلومات ہوگا اس کو اگر کوئی ضرورت ہوگی تو وہ خود اپنے چند مددگار خدام کی طرح پیدا کر سکتا ہے۔ کمیٹی کی تجویز کے نیچے یہ بات آ نہیں سکتی بلکہ ایسی قہری ترکیب سے کئی فتنوں کا احتمال ہے۔ جب تک صرف ایک شخص اس کام کا مدارالمہام مقرر نہ کیا جائے تب تک خیر و خوبی سے کوئی کام انجام پذیر نہیں ہو سکتا۔ ہاں وہ مدارالمہام جس قدر مناسب سمجھے اپنی منشاء اور طرز تالیف کے مطابق اوروں سے مواد تالیف جمع کرنے کے لئے کوئی خدمت لے سکتا ہے اور اس کام کے لئے ایک عملہ مقرر کر سکتا ہے۔
    یہ غور کے لائق باتیں ہیں اور مجھے زیادہ تر یہی خوف ہے کہ اس پرچہ کو جو خون جگر سے لکھا گیا ہے یونہی لاپروائی سے پھینک نہ دیا جائے یا جلدی سے اس پر رائے لگا کر اس کو ردّی اور فضول بستوں میں نہ ڈال دیا جائے اس لئے میں اس بے قرار کی طرح جو ہر طرف ہاتھ پیر مارتا ہے اپنے معزز مخاطبین کو جو اپنی عزت اور امارت اور عالی ہمتی کی وجہ سے


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 400
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 400
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/400/mode/1up
    400
    فخرؔ اسلام ہیں اس خدائے عزّوجلّ کی قسم دیتا ہوں جس کی قسم کو کبھی انبیاء علیہم السلام نے بھی رد نہیں کیا کہ اپنی رائے سے جو سراسر دینی ہمدردی پر مشتمل ہو مجھے ضرور ممنون فرمائیں گو کم فرصتی کی وجہ سے دو چار سطر ہی لکھ سکیں لیکن اس تمام مضمون کو پڑھ کر تحریر فرماویں۔ میں امید رکھتا ہوں کہ جس قدر اسلام کے سچے ہمدرد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت رکھنے والے ہیں وہ ایسی رائے کے لکھنے سے جس میں قوم کی بھلائی اور ہزارہا فتنوں سے نجات ہے دریغ نہیں فرمائیں گے۔ لیکن یاد رہے کہ اس رائے میں تین۳ امر کی تشریح ضرور چاہئیے۔ (۱) اوّل یہ کہ وہ اپنی دانست میں کس کو اس کام کے لئے منتخب کرتے ہیں۔ اور اس بزرگ کا نام کیا ہے اور کہاں کے رہنے والے ہیں۔ (۲) دوم یہ کہ وہ خود اس عظیم الشان کام کے انجام دینے کے لئے کس قدر مدد دینے کو طیّار ہیں۔ (۳) سوم یہ کہ یہ رقم کثیر جو اس کام کے لئے جمع ہوگی وہ کہاں اور کس جگہ مد امانت میں رکھی جائے گی اور وقتاً فوقتاً کس کی اجازت سے خرچ ہوگی۔ یہ تین امر ضروری التفصیل ہیں۔
    اس جگہ ایک اور امر قابل ذکر ہے اور وہ یہ کہ شاید بعض صاحبوں کے دلوں میں یہ خیال پیداہو کہ ممکن ہے کہ اس کام میں دخل دینا گورنمنٹ عالیہ کے منشاء کے مخالف ہو تو میں ان کو یقین دلاتا ہوں کہ ہماری گورنمنٹ محسنہ جو ہماری جان اور مال کی حفاظت کر رہی ہے اس نے پہلے سے اشتہار دے رکھا ہے کہ وہ کسی کے دینی امور اور دینی تدابیر میں مداخلت نہیں کرے گی جب تک کوئی ایسا کاروبار نہ ہو جس سے بغاوت کی بدبو آوے۔ ہماری محسن گورنمنٹ برطانیہ کی یہی ایک قابل تعریف خصلت ہے جس کے ساتھ ہم تمام دنیا کے مقابل پر فخر کر سکتے ہیں- بیشک ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اس گورنمنٹ محسنہ کے سچے دل سے خیر خواہ ہوں اور ضرورت کے وقت جان فدا کرنے کو بھی طیّار ہوں۔ لیکن ہم اس طرح پر بھی غیر قوموں اور غیر ملکوں میں اپنی محسن گورنمنٹ کی نیک نامی پھیلانی چاہتے ہیں کہ کس طرح اس عادل گورنمنٹ نے دینی امور میں ہمیں پوری آزادی دی ہے۔ عملی نمونے ہزاروں کوسوں


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 401
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 401
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/401/mode/1up
    401
    تکؔ چلے جاتے ہیں اور دلوں پر ایک عجیب اثر ڈالتے ہیں اور صدہا نادانوں کے ان سے وسوسے دور ہو جاتے ہیں۔ یہ مذہبی آزادی ایک ایسی پیاری چیز ہے کہ اس کی خبر پاکر بہت سے اور ملک بھی چاہتے ہیں کہ اس مبارک گورنمنٹ کا ہم تک قدم پہنچے۔ غرض اس مبارک گورنمنٹ کو اپنا صدق اور اخلاص دکھلاؤ۔ وقتوں پر اس کے کام آؤ۔ چاہئیے کہ تمہارا دل بالکل صاف اور اخلاص سے بھرا ہوا ہو اور پھر جب تم یہ سب کچھ کر چکے تو باوجود اس ارادت اور اخلاص کے کچھ مضائقہ نہیں کہ نرمی اور ملائمت سے اپنے دین کے اصولوں کی تائید کی جائے ایسے کاموں میں باریک اصولوں کے لحاظ سے گورنمنٹ کے اقبال اور دولت کی خیر خواہی ہے کیونکہ جس طرح اچھے دوکاندار کا نام سن کر اسی طرف خریدار دوڑتے ہیں اسی طرح جس گورنمنٹ کے ایسے بے تعصب اور آزادانہ اصول ہوں وہ گورنمنٹ خواہ نخواہ پیاری اور ہردلعزیز معلوم ہوتی ہے اور بہت سے غیر ملکوں کے لوگ حسرت کرتے ہیں کہ کاش ہم بھی اس کے ماتحت ہوتے۔ پس کیا آپ لوگ چاہتے نہیں کہ اس محسن گورنمنٹ کا ان تمام تعریفوں کے ساتھ دنیا میں نام پھیلے اور اس کی محبت دور دور تک دلوں میں جاگزین ہو۔ دیکھو سرسید احمد خاں صاحب بالقابہ کس قدر اس محسن گورنمنٹ کے خیرخواہ تھے اور کس قدر گورنمنٹ عالیہ کے منشاء سے بھی واقف تھے اور کس قدر وہ اس بات کو چاہتے تھے کہ ایسے امور سے دور رہیں جو گورنمنٹ کی منشاء کے برخلاف ہیں باایں ہمہ وہ ہمیشہ مذہبی امور میں بھی لگے رہے اور نہ صرف پادریوں کے اعتراضات کے جواب دئیے بلکہ الہ آباد کے ایک لاٹ صاحب کی کتاب کا بھی انہوں نے ردّ لکھا جو بڑا نازک کام تھا اور ہنٹر کے الزامات کا بھی جواب دیا اور پھر موت کے دنوں کے قریب اس کتاب امہات المومنین کے کسی قدر حصے کا جواب لکھ گئے جو علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ پریس میں رسالہ جلد۶ ؍اپریل ۱۸۹۸ ؁ء میں چھپ بھی گیا ہے۔ ہاں چونکہ وہ دانشمند اور حقیقت شناس تھے اس لئے انہوں نے اپنی تمام عمر میں ایسا کوئی فضول میموریل کبھی گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں نہیں بھیجا جیسا کہ


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 402
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 402
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/402/mode/1up
    402
    اب ؔ لاہور سے بھیجا گیا۔ بلکہ اب بھی جب ان کو کتاب امّہات المومنین کے مضامین پر اطلاع ہوئی تو صرف ردّ لکھنا پسند فرمایا۔ سیّد صاحب تینوں باتوں میں میرے موافق رہے۔ اوّل حضرت عیسیٰ کی وفات کے مسئلہ میں۔ دوم جب میں نے یہ اشتہار شائع کیا کہ سلطان روم کی نسبت گورنمنٹ انگریزی کے حقوق ہم پر غالب ہیں تو سیّد صاحب نے میرے اس مضمون کی تصدیق کی اور لکھا کہ سب کو اس کی پیروی کرنی چاہئیے۔ سوم اسی کتاب امہات المومنین کی نسبت ان کی یہی رائے تھی کہ اس کا ردّ لکھنا چاہئیے میموریل نہ بھیجا جائے۔ کیونکہ سیّد صاحب نے اپنی عملی کارروائی سے رد لکھنے کو اس پر ترجیح دی۔ کاش اگر آج سیّد صاحب زندہ ہوتے تو وہ میری اس رائے کی ضرور کھلی کھلی تائید کرتے۔ بہرحال ایسے امور میں تمام معزز مسلمانوں کے لئے سیّد صاحب مرحوم کا یہ کام ایک اسوۂ حسنہ ہے جس کے نمونہ پر ضرور چلنا چاہےئے اور بلاشبہ یہ طریق عمل سیّد صاحب کا کہ آپ نے امہات المومنین کا رد لکھنا مناسب سمجھا اور کوئی میموریل گورنمنٹ میں نہ بھیجا یہ درحقیقت ہماری رائے کی تصدیق ہے جو سید صاحب نے اپنی عملی کارروائی سے لوگوں کے سامنے رکھ دی۔
    ہماری رائے ہمیشہ سے یہی ہے کہ نرمی اور تہذیب اور معقولی اور حکیمانہ طرز سے حملہ کرنے والوں کا ردّ لکھنا چاہئیے اور اس خیال سے دل کو خالی کر دینا چاہئیے کہ گورنمنٹ عالیہ سے کسی فرقہ کی گوشمالی کرادیں۔ مذہب کے حامیوں کو اخلاقی حالت دکھلانے کی بہت ضرورت ہے۔ اس طرح پر مذہب بدنام ہوتا ہے کہ بات بات میں ہم اشتعال ظاہر کریں اور یاد رہے کہ ایڈیٹر ابزرور نے بہت ہی دھوکہ کھایا یا دھوکہ دینا چاہا ہے جبکہ اس نے میری نسبت یہ لکھا کہ گویا میں اس بات کا مخالف ہوں کہ جو لوگ ہمارے مذہب پر حملہ کریں ان کے حملوں کو دفع کیا جائے۔ وہ میرے اس میموریل کو پیش کرتا ہے جس میں مَیں نے لکھا تھا کہ گورنمنٹ عالیہ فتنہ انگیز تحریروں کے روکنے کے لئے دو تجویزوں میں سے ایک تجویز اختیار کرے کہ یا تو ہر ایک فریق کو ہدایت ہو جائے


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 403
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 403
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/403/mode/1up
    403
    کہؔ کسی اعتراض کے وقت بغیر اس کے کہ فریق مخالف کی معتبر کتابوں کا حوالہ دے ہرگز اعتراض کے لئے قلم نہ اٹھاوے اور یا یہ کہ قطعاً ایک فریق دوسرے فریق کے مذہب پر حملہ نہ کرے بلکہ اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کیا کریں۔ اب ظاہر ہے کہ میرے اس بیان اور حال کے بیان میں کچھ تناقض نہیں ہے جیسا کہ ابزرور نے سمجھا ہے۔ کیا میری پہلی تحریر کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ مخالفوں کے حملہ کا جواب نہ دیا جائے؟ فرض کیا کہ ہم دوسروں کے مذہب پر حملہ نہ کریں مگر یہ تو ہمارا فرض ہے کہ غیروں کے حملے سے اپنے مذہب کو بچاویں اور اپنے مذہب کی خوبیاں دکھلاویں۔
    غرض ہماری گورنمنٹ عالیہ ہمیں منع نہیں کرتی کہ ہم تہذیب کے ساتھ اپنے اصول مذہب کی حمایت کریں۔ سو اے بزرگو خود دیکھ لو کہ اسلام کس قدر حملوں کے نیچے دبا ہوا ہے۔ پادری صاحبوں کے حملے ہیں۔ فلسفہ جدیدہ کے حملے ہیں۔ آریہ صاحبوں کے حملے ہیں۔ برہم سماج کے حملے ہیں۔ دہریوں طبعیوں کے حملے ہیں۔
    اب مجھے بے دھڑک کہنے دو کہ اس وقت سچا مسلمان وہی ہے جو اسلام کی حالت پر کچھ ہمدردی دکھاوے اور بباعث سخت دلی اور لاپروائی یا ناحق کے دور درازکے خیالات سے ہمدردی سے منہ نہ پھیرے۔ اے مردان ہمت شعار وہ انتظام جو اب ہونا چاہئیے۔ مجھے شرم آتی ہے کہ کہاں تک میں بار بار لکھوں۔ اے قوم کے چمکتے ہوئے ستارو! اور معزز بزرگو! خدا آپ لوگوں کے دلوں کو الہام کرے۔ خدا کے لئے اس طرف توجہ کرو۔ اگر مجھے اس بات کا علم ہوتا کہ میری اس تحریر کے پڑھنے کے وقت فلاں فلاں اعتراض آپ کے دل میں گذرے گا تو میں ان اعتراضوں کو پہلے سے ہی دفع کر دیتا۔ اور اگر میرے پاس وہ الفاظ ہوتے جو آپ صاحبوں کو اس مدعا کی طرف لے آتے تو میں وہی الفاظ استعمال کرتا۔ ہائے افسوس ہم کیا کریں اور کس طرح اس خوفناک تصویر کو دلوں کے آگے رکھ دیں جو ہمیں طاعون سے زیادہ اور ہیضہ سے بڑھ کر رُعب ناک معلوم ہوتی ہے۔ اے خدا تو آپ دلوں میں


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 404
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 404
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/404/mode/1up
    404
    ڈالؔ ۔ اے رحیم خدا تو ایسا کر کہ یہ تحریر جو خون دل سے لکھی گئی سہل انگاری کی نظر سے نہ دیکھی جائے۔
    بالآخر اس قدر لکھنا بھی ضروری ہے کہ جو صاحب اس کام کے لئے کسی مؤلّف کو منتخب کرنے کی غرض سے اس بات کے محتاج ہوں کہ ان کی گذشتہ تالیفات کو دیکھیں تو وہ ہر ایک مؤلّف سے جو ان کے خیال میں بگمان غالب یہ کام کر سکتا ہو بطور نمونہ اس کی تالیف کردہ کتابیں طلب کر سکتے ہیں جن سے اس کی علمی طاقت اور طرز تقریر اور طریق استدلال کا پتہ لگ سکتا ہو اور میری دانست میں اس امتحان کے وقت جلسۂ مہوتسو کی وہ متفرق تقریریں جو کئی اہل علم کی طرف سے چھپ چکی ہیں بہت کچھ مدد دے سکتی ہیں۔ کیونکہ اس جلسہ میں ہر ایک اسلامی فاضل نے اپنا سارا زور لگا کر تقریرکی ہے۔ پس بلاشبہ وہ کتاب جو حال میں لاہور میں ممبران جلسہ کی طرف سے چھپی ہے جس میں پنجاب اور ہندوستان کے مختلف مقامات کے علماء کی تقریریں ہیں اس انتخاب کے لئے اول درجہ کی معیار ہے اور میں صلاح دیتا ہوں کہ اس فیصلہ کے لئے کس کی تحریر زبردست اور مدلل اور بابرکت ہے اس کتاب سے مدد لی جائے۔ کیونکہ اس کشتی گاہ میں جس میں پادری صاحبان اور آریہ صاحبان اور برہمو صاحبان اور سناتن دھرم صاحبان اور دہریہ صاحبان اور علماء اسلام جمع تھے اورہر ایک اپنی پوری طاقت سے کام لے کر تقریر کرتا تھا۔ جو شخص ایسے مقام میں اپنی پُرزور تقریر سے سب پر غالب آیا ہو اس پر اب بھی امید کر سکتے ہیں کہ اس دوسری کُشتی میں بھی غالب آجائے گا۔
    ہاں یہ بھی ضروری ہے کہ یہ بھی دیکھ لیا جائے کہ ایسا شخص اپنے مباحثات میں زبان عربی میں بھی کچھ تالیفات رکھتا ہے یا نہیں۔ کیونکہ حسب شرائط متذکرہ بالا ایسے مؤلّف کو جو اس فن مناظرہ کا پیشوا سمجھا جائے عربی میں بھی تالیفات کرنے کی پوری دسترس چاہئیے۔ وجہ یہ کہ جو شخص زبان عربی میں طاقت نہ رکھتا ہو اس کا فہم اور درایت قابل اعتبار نہیں اور نہ وہ کتابوں کو عربی میں تالیف کر کے عام فائدہ پہنچا سکتا ہے اور چونکہ


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 405
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 405
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/405/mode/1up
    405
    یہ ذؔ کر درمیان آگیا ہے کہ جو صاحب کسی کو اس کام کے لئے منتخب کرنے کے لئے کوئی رائے ظاہر کریں اوّل ان کو کافی علم اِس بات کا ہونا چاہئیے کہ کیا سابق تالیفات اُس شخص کی یہ گواہی دے سکتی ہیں کہ وہ اس درجہ اور مرتبہ کا انسان ہے کہ پہلے بھی دینی امور میں اعلیٰ مضمون اس کی قلم سے نکلے ہیں اور نیز یہ کہ وہ عربی میں بھی تالیفات نادرہ رکھتا ہے اس لئے یہ راقم بھی صرف تائید حق کی غرض سے حضرت یوسف علیہ السلام کی طرح محض نیک نیتی سے اپنی نسبت یہ بیان کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ یہ علم خداتعالیٰ کے فضل نے مجھے عنایت کیا ہے اور میں اس لائق ہوں کہ اس کام کو انجام دوں۔
    میری کتابیں جو مناظرات کے حق میں اب تک تالیف ہوئی ہیں یہ ہیں۔ براہین احمدیہ ہر چہار حصہ جو آریوں اور برھموؤں اور عیسائیوں کے ردّ میں ہے۔ سرمہ چشم آریہ جو آریوں کے ردّ میں ہے۔ ایک عیسائی کے چار سوال کا جواب جو ایک لطیف رسالہ ہے۔ کتاب البریّہ جو عیسائیوں کے رد میں ہے۔ کتاب ایّام الصلح۔ رسالہ نورالقرآن جو عیسائیوں کے رد میں ہے۔ کتاب کرامات الصادقین جو تفسیر قرآن شریف عربی میں ہے۔ کتاب حمامۃ البشریٰ جو عربی میں ہے۔ کتاب سرالخلافہ جو عربی میں ہے۔ کتاب نورالحق جو عربی میں ہے۔ کتاب اتمام الحجۃ جو عربی میں ہے اور دوسری کئی کتابیں ہیں جو اس راقم نے اردو اور فارسی اور عربی میں تالیف کی ہیں اور مہوتسو کے جلسۂ مذاہب کے بارے میں جو کمیٹی کی طرف سے ایک کتاب شائع ہوئی ہے ایک لمبی تقریر اسلام کی تائید میں اس راقم کی بھی اس کتاب میں موجود ہے اور یہ تمام کتابیں بجز کتاب ایام الصلح کے جو عنقریب شائع ہوگی شائع ہو چکی ہیں اور اگر کوئی صاحب رائے لکھنے کے وقت ان کتابوں میں سے کسی کتاب کی ضرورت سمجھیں تو میں اس شرط سے بھیج سکتا ہوں کہ وہ ایک دو ہفتہ رکھ کر پھر واپس کر دیں۔ کیونکہ معلوم نہیں کہ اس کارروائی کے لئے کون کون صاحب میری کتابیں طلب فرمائیں گے۔ اب یہ مضمون معہ اپنی تمام روئیداد کے ختم ہوگیا اور میں امید رکھتا ہوں کہ ہر ایک


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 406
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 406
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/406/mode/1up
    406
    صاحبؔ جن کی خدمت بابرکت میں یہ مضمون بھیجا جائے وہ دو۲ ہفتہ کے اندر ہی اپنی رائے زریں سے مجھے خوش وقت فرمائیں گے۔
    اس مقام تک ہم لکھ چکے تھے کہ پرچۂ پیسہ اخبار مطبوعہ ۱۴؍ مئی ۱۸۹۸ ؁ء ہماری نظر سے گذرا جس میں میری نسبت اور میری رائے کی نسبت بتائید میموریل انجمن حمایت اسلام کے چند ایسی باتیں خلاف *واقعہ لکھی ہیں۔ جن کی طرز تحریر سے گورنمنٹ یا پبلک کے دھوکہ کھا جانے کا احتمال ہے۔ لہٰذا اس غلط بیانی کا گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں ظاہر کر دینا قرین مصلحت سمجھ کر چند سطریں ان بہتانوں کے دور کرنے کے لئے ذیل میں لکھی جاتی ہیں۔ اور ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری دقیقہ رس گورنمنٹ ضرور اس پر توجہ فرمائے گی اور وہ اعتراضات معہ جوابات یہ ہیں۔
    ( ۱) پہلے یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ لوکل انجمن حمایت اسلام کا مطلب رسالہ امہات المومنین کی نسبت میموریل بھیجنے سے یہ تھا کہ یہ کتاب جو سخت دل دکھانے والے الفاظ سے پُر ہے اور
    ایڈیٹرؔ پیسہ اخبار اور آبزرور نے اپنے پرچہ میں مجھ پر یہ الزام بھی لگانا چاہا ہے کہ گویا وہ تفرقہ اور عناد جو ہندوؤں اور مسلمانوں میں ہوا اس کی تخم ریزی میری طرف سے ہی ہوئی کہ میں نے لیکھرام کے مرنے کی پیشگوئی کی اور اس کی موت پر ہندوؤں کو جوش آیا اور بدگمانیاں پیدا ہوئیں۔ لیکن اس اعتراض سے اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو بس یہی کہ ان ایڈیٹروں کو بعض مخفی تحریکات کی وجہ سے مجھ سے وہ بغض اور حسد ہے جس کو وہ دینی امور میں بھی ضبط نہیں کر سکے اور آخر نفسانی جوش میں آکر اسلامی حمایت اور حقوق کو بھی پس پشت ڈال دیا۔ میں نے باربار اپنی کتابوں میں مفصل لکھا ہے اورخود لیکھرام نے بھی اپنی تالیفات میں اس بات کو قبول کیا ہے کہ یہ پیشگوئی جو لیکھرام کی نسبت کی گئی تھی اس کا باعث خود لیکھرام ہی تھا۔ جن دنوں میں لیکھرام نے اسلام کی نسبت بدزبانی پر کمرباندھ رکھی تھی اور بات بات میں گالی اس کے منہ میں تھی۔ ان دنوں میں اس نے جوش میں آکرایک یہ کارروائی بھی کی تھی کہ مجھ سے بحث کرنے کے لئے قادیاں میں آکر ایک مہینے کے قریب رہا۔میں اس سے بحث کرنے کے لئے اس کے ضلع اور گاؤں میں نہیں گیا اور نہ میں نے کبھی ابتداءًا


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 407
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 407
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/407/mode/1up
    407
    اندیشہ ہے کہ اس کے مضامین سے نقض امن نہ ہو جاوے اس کی اشاعت روک دی جاوے اب مرزا صاحب قادیانی نے اس کے مخالف میموریل بھیجا ہے جس کا منشا یہ ہے کہ اس کتاب کو حکماً نہ روکا جاوے‘‘۔ اس اعتراض سے ایڈیٹر صاحب کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ انجمن حمایت اسلام لاہور نے تو اسلام اور مسلمانوں کے لئے نہایت عمدہ کارروائی کی تھی کہ نقض امن کی حجت پیش کر کے گورنمنٹ سے درخواست کی تھی کہ اس کتاب کی اشاعت روک دی جائے مگراس شخص نے یعنی اِس راقم نے محض بغض اور حسد سے اس کارروائی کی مخالفت کی اور اس طرح پر اسلام کو صدمہ پہنچایا۔ گویا اُن بزرگوں نے تو اسلام کی تائید کرنی چاہی مگر اس راقم نے محض نفسانی بغض اور حسد کے جوش سے اسلامی کارروائی کو عمداً حرج پہنچانے کے لئے کوشش کی۔
    اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ میں نے اپنے میموریل میں جو ۱۴؍ مئی ۱۸۹۸ ؁ء کو اردو زبان
    اس سے خط و کتابت کی وہ خود اپنے وحشیانہ جوش سے قادیاں میں میرے پاس آیا۔ اور اس بات کے تمام ہندو اس جگہ کے گواہ ہیں کہ وہ پچیس دن کے قریب قادیاں میں رہا اور سخت گوئی اور بدزبانی سے ایک دن بھی اپنے تئیں روک نہ سکا۔ بازار میں مسلمانوں کے گذر کی جگہ میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا رہا۔ اور مسلمانوں کو جوش دینے والے الفاظ بولتا رہا۔ میں نے اندیشہ نقض امن سے مسلمانوں کو منع کر دیا تھا کہ اس کی تقریروں کے وقت کوئی بازار میں کھڑا نہ ہو اور کوئی مقابلہ کے لئے مستعد نہ ہو۔ اس لئے باوجود اس کے کہ وہ فساد کے لئے چند اوباشوں کو ساتھ ملا کر ہر روز ہنگامہ کے لئے طیّار رہتا تھا مگر مسلمانوں نے میری متواتر نصیحتوں کی وجہ سے اپنے جوشوں کو دبا لیا۔ ان دنوں میں کئی باغیرت مسلمان میرے پاس آئے کہ یہ شخص برملا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نکالتا ہے۔ اور میں نے دیکھا کہ وہ لوگ جوش میں ہیں تب میں نے نرمی سے منع کیا کہ ایک مسافر ہے بحث کرنے کے لئے آیا ہے صبر کرنا چاہئیے۔ میرے بار بار کے روکنے سے وہ لوگ اپنے جوشوں سے باز آئے۔ اور لیکھرام نے یہ طریق اختیار کیا کہ ہر روز میرے مکان پر آتا


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 408
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 408
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/408/mode/1up
    408
    میںؔ چھپا ہے اس قدر تو بیشک لکھا ہے کہ رسالہ امہات المومنین کی اشاعت روکنے کے لئے گورنمنٹ سے درخواست کرنا ہرگز مناسب نہیں ہے۔ مگر میں نے اس میموریل میں نقض امن کا خطرہ دور کرنے کے لئے یہ حقیقی تدبیر پیش کر دی ہے کہ نرمی اور تہذیب سے اس کتاب کا جواب ملنا چاہئیے۔ ہر ایک محقق اور غور کرنے والا یہ گواہی دے سکتا ہے کہ رسالہ امہات المومنین عیسائیوں کی طرف سے کوئی پہلی تالیف نہیں ہے جس میں اس کے مؤلف نے سخت گوئی اور بہتان اور گالیوں کا طریق اختیار کیا۔ بلکہ دیسی پادریوں کی طرف سے برابر ساٹھ سال سے یہی طریق جاری ہے اور بعض رسائل اور اخبار تو ایسی سخت گوئی اور دل دکھانے والے الفاظ سے بھرے ہوئے ہیں جو کئی درجہ اس رسالہ سے بھی بڑھ کر ہیں۔
    اب سوچ لینا چاہئیے کہ اس ساٹھ سال میں مسلمانوں نے اس سخت گوئی سے تنگ آکر کس قدر گورنمنٹ میں میموریل بھیجے۔ جہاں تک میں خیال کرتا ہوں بجز اس میموریل اور
    اور کوئی نشان اور معجزہ مانگتا اور سخت اور ٹھٹھے اور ہنسی کے الفاظ اس کے منہ سے نکلتے۔ اب ایک مسلمان جو سچا مسلمان ہو خیال کر سکتا ہے کہ ایسا شخص جو اسلام اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بدزبان ہو اور ہر روز روبرو بے ادبی اور توہین مذہب کے کلمات بولتا ہو اس کی عادات پر صبر کرنا کس قدر دشوار ہوتا ہے مگر تاہم میں نے اس قدر صبر کیا کہ ہر ایک سے ایسا صبر ہونا مشکل ہے۔ میں ہر ایک وقت جو قادیاں میں رہنے کے ایام میں مجھے وہ ملتا رہا باوجود اس کے وحشیانہ جوشوں کے جو ہمارے پاک نبی کی نسبت اس کے دل میں بھرے ہوئے تھے نرمی اور خلق سے اس کے ساتھ پیش آتا رہا اور وہ کبھی ہنسی اور بیجا تحقیر مذہب سے باز نہ آیا اور ہمیشہ صبح یا تیسرے پہر قادیاں میں میرے مکان پر آتا اور اسلام اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت طرح طرح کی بے ادبیاں کرتا اور جیسا کہ ظالم پادریوں نے مشہور کر رکھا ہے بار بار یہی کہتا کہ تمہارے پیغمبر سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور نہ کوئی پیشگوئی ہوئی۔ مُلّانوں نے مذہب کو رونق دینے کے لئے جھوٹے معجزوں سے کتابیں بھر دی تھیں۔ آخر ہر روز تحقیر سنتے سنتے دل کو نہایت دکھ پہنچا۔ میں نے چند دفعہ دعا کی کہ یا الٰہی تو قادرہے کہ اپنے نبی کی عزت ظاہر کرنے کے لئے کوئی نشان ظاہر کرے یا کوئی پیشگوئی ظہور میں لاوے جس سے ہماری حجت پوری ہو اور ان دعاؤں کے بعد میرے دل کو تسلی ہوگئی کہ خدا اس کے مقابل پر ضرور میری تائید کرے گا۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ وہی نشانہ پیشگوئی ہوگا۔ چنانچہ میں نے


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 409
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 409
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/409/mode/1up
    409
    ریواڑی کے میموریل کے جو اسی انجمن کے ہاتھوں کی کارروائی ہے کبھی مسلمانوں کے کانشنس نے یہ فتویٰ نہیں دیا کہ ایسی کتابوں کے مقابل پر میموریل بھیجنے ضروری ہیں۔ تخمیناً بیس برس کا عرصہ ہوا کہ میں نے کسی بشپ صاحب کی تحریر میں دیکھا تھا کہ پچاس یا چالیس برس کے عرصہ میں پادری صاحبوں کی طرف سے مخالف مذہبوں کے رد کرنے کے لئے چھ کروڑ کتاب لکھی گئی ہے۔ اس حساب سے معلوم ہوتا ہے کہ اب تک کم سے کم ہندوستان میں عیسائی صاحبوں کی طرف سے نو۹ کروڑ ایسی کتاب شائع کی گئی ہوگی جس میں مسلمانوں اور دوسرے اہل مذاہب پر حملہ ہوگا۔ اور اگر بطور تنزل یہ بھی مان لیں کہ اس کے بعد کوئی کتاب تالیف نہیں ہوئی تو چھ کروڑ کتاب بھی کچھ تھوڑی نہیں اور اس بات میں بحث کرنے کی کچھ ضرورت نہیں کہ اس چھ کروڑ کتاب میں کس قدر سخت کلمے ہوں گے۔ کیونکہ جس قسم کے پادری صاحبان مذہبی کتابوں کے لکھنے میں پاک زبان اور مہذب ثابت ہوئے ہیں یہ تو کسی پر پوشیدہ نہیں۔ تو اس صورت میں اگر نقض امن کے اندیشہ
    اس کو وعدہ دیا اور اس سے اسؔ کے جانے کے بعد بذریعہ خط درخواست کی کہ وہ اجازت دے کہ ہر ایک طور کی پیشگوئی جو اس کی نسبت ہو اس کو شائع کیا جائے۔ چنانچہ اس نے بذریعہ کارڈ کے تحریری اجازت بھیج دی جس کا مضمون یہ تھا کہ گو کیسی ہی پیشگوئی میری نسبت ہو میں اس سے ناراض نہیں ہوں بلکہ میں اس کو واہیات اور بکواس سمجھتا ہوں۔ اس اجازت کے بعد بار بار جناب الٰہی میں توجہ کرنے سے وہ الہامات اس کی نسبت ہوئے جن کو میں اس کی زندگی کے زمانہ میں ہی شائع کر چکا ہوں۔ اور ان دنوں میں اس نے بھی شوخی اور چالاکی سے میری نسبت یہ اشتہار شائع کیا کہ مجھے بھی یہ الہام ہوا ہے کہ یہ شخص تین برس کے اندر ہیضہ سے مر جائے گا۔ آخر جو خدا کی طرف سے تھا وہ ظہور میں آگیا۔ اور لیکھرام پیشگوئی کے منشاء کے موافق میعاد کے اندر اس فانی جہان کو چھوڑ گیا۔ اب کوئی منصف بتلائے کہ اس میں میرا کیا قصور تھا یہ تمام واقعات جو میں نے لکھے ہیں پچاس سے زیادہ اس کے گواہ ہوں گے۔ کیا دین اسلام کی اس قدر بھی عزت نہیں ہے کہ اس قدر گالیاں سننے کے بعد خدا کے نبیوں کی سنت کے موافق پیشگوئی سنائی جائے اور وہ بھی بہت سے اصرار کے بعد۔ کیا جس شخص نے اس قدر انکار اور سختی اور بدزبانی کے ساتھ پیشگوئی مانگی اور خدا نے اپنے رسول کی عزت کے لئے بتلا دی کیا ایسی پیشگوئی پوشیدہ رکھی جاتی اس خیال سے کہ پیسہ اخبار کا ایڈیٹر یا اس کے ہم مادہ لوگ اس سے


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 410
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 410
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/410/mode/1up
    410
    کی ؔ تدبیر یہی تھی جو انجمن حمایت اسلام لاہور کو اب سوجھی یعنی یہ کہ گورنمنٹ میں میموریل بھیج کر عیسائیوں کی کتابیں تلف کرائی جائیں تو آج تک کم سے کم ایک کروڑ میموریل اسلام کی طرف سے جانا چاہئیے تھا۔ کیونکہ بڑے مذہب برٹش انڈیا میں دو ہی ہیں۔ ہندو اور مسلمان۔ مگر ہندوؤں کی طرف پادری صاحبوں کی التفات طبعاً کم ہے۔ لیکن اگر فرض بھی کرلیں کہ یہ چھ کروڑ کتاب جو لکھی گئی تو نصف اس کا ہندوؤں کے رد میں تھا تب بھی ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کے ردّ میں اب تک تین کروڑ کتاب تالیف ہوئی۔ اس لئے ایک کروڑ میموریل بھیجے جانا کچھ زیادہ نہ تھا۔
    اب سوال یہ ہے کہ کیوں باستثنائے انجمن حمایت اسلام لاہور کے کسی کو یہ بات نہ سوجھی کہ بذریعہ میموریل یہ تمام عیسائیوں کی کتابیں جو اب تک بار بار چھپ رہی ہیں تلف کرائی جائیں۔ یہاں تک کہ سرسیّد احمد خاں صاحب بالقابہ کو بھی یہ خیال نہ آیا بلکہ سید صاحب مرحوم تو رسالہ امہات المومنین کے شائع ہونے کے وقت بھی جواب لکھنے کی طرف ہی
    ناراض ہوں گے۔ افسوس ان لوگوں کو سمجھ نہیں آتا کہ جو شخص اس قدر موذی طبع تھا کہ قادیاں میں آکر گالیاں دیتا رہا اس کی نسبت اگر خداتعالیٰ نے اس کی درخواست کے بعد الہام فرمایا تو اس میں ہماری طرف سے کونسی زیادتی ہوئی۔ اس نے بھی تو میری نسبت اشتہار دیا تھا یہ کیسی جہالت ہے کہ بار بار ہندوؤں کی ناراضگی کا نام لیا جاتا ہے اور خدا کے لئے کوئی خانہ خالی نہیں رکھا جاتا۔
    ہمارا اور ان لوگوں کا خداتعالیٰ کے سامنے مقدمہ ہے۔ جو مجھ پر اعتراض کرتے ہیں یہ مجھ پر نہیں بلکہ خداتعالیٰ پر کرتے ہیں کہ اس نے لیکھرام کو کیوں مارا اور کیوں ایسا کام کیا جس سے ہندو افروختہ ہوئے۔ اگر یہ معاملہ محل اعتراض ہے تو پھر ایڈیٹر پیسہ اخبار اور ابزرور کی قلم سے کوئی نبی اور رسول بچ نہیں سکتا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایڈیٹر پیسہ اخبار نے آتھم کے نہ مرنے پر بھی اعتراض کیا تھا کہ وہ میعاد کے اندر نہیں مرا اور اب لیکھرام کی نسبت اعتراض کیا کہ وہ میعاد کے اندر کیوں مرگیا۔ پس اصل بات یہ ہے کہ حاسدانہ نکتہ چینی ہر ایک پہلو سے ہو سکتی ہے۔ آتھم کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی تھی کیسی صاف طور پر اس کے ساتھ شرط موجود


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 411
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 411
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/411/mode/1up
    411
    متوجہ ہوئے جو اب چھپ بھی گیا ہے۔ جس کو وہ بباعث موت پورا نہ کر سکے۔ مگر اس کتاب کے تلف کرانے کے لئے کوئی میموریل نہ بھیجا اور اشارہ تک زبان پر نہ لائے۔ اس کا کیا سبب ہے؟ کیا یہ سبب ہے کہ پولیٹیکل امور میں اس انجمن کو ان سے بھی زیادہ عقل اور فہم ہے یا ان کی اسلامی غیرت سیّد صاحب سے بڑھی ہوئی ہے ایسا ہی دوسرے اکابر اور غیرت مند مسلمان عرصہ ساٹھ سال تک دیسی پادریوں کی طرف سے یہی سختی دیکھتے رہے مگر کوئی میموریل نہ بھیجا گیا وہ سب کے سب اس انجمن سے مرتبہ عقل یا دینی غیرت میں کم تھے؟ پس کیا اس سے نتیجہ نہیں نکلتا کہ یہ انجمن کی رائے ایک ایسی نرالی رائے ہے۔ جو کبھی اسلام کے مدبروں اور غیرت مندوں اور پولٹیکل اسرار کے ماہروں نے اس پر قدم نہیں مارا مگر رد لکھنے کے امر پر سب کا اتفاق رہا؟ اور ابتدا میں اس انجمن نے بھی بطور دکھانے کے دانتوں کے اسی اصول کو مستحسن سمجھ کر اس پر کاربند رہنے کا وعدہ بھی دیا تھا اور اس کو اپنے
    تھی کہ وہ خدا سے اگر خوف کرے گا تو میعاد کے اندر نہیں مرے گا۔ سو اس نے صریح اور کھلے کھلے طو رپر آثار خوف دکھلائے اس لئے میعاد کے اندر نہ مرا مگر پھر سچی گواہی کو پوشیدہ رکھ کر ہمارے الہام کے مطابق آخری اشتہار سے چھ۶ مہینے بعد مرگیا۔ اب دیکھو آتھم کی نسبت پیشگوئی بھی کیسی صفائی سے پوری ہوگئی تھی۔ ظاہر ہے کہ میں اور آتھم دونوں قضاء و قدر کے نیچے تھے۔ پس اس میں کیا بھید تھا کہ مدت ہوئی کہ میری پیشگوئی کے بعد آتھم مرگیا اور میں اب تک بفضلہ تعالیٰ زندہ ہوں۔ کیا یہ خدا کا وہ فعل نہیں ہے جو میرے الہام اور میری پیشگوئی کے بعد میری تائید کے لئے ظہور میں آیا۔ پھر ان لوگوں پر سخت تعجب ہے کہ مسلمانوں کی اولاد ہوکر ان خدائی قدرتوں کو نہ سمجھیں جن میں صریح تائید الٰہی کی چمک ہے۔
    ترسم کہ بہ کعبہ چوں رسی اے اعرابی
    کیں رہ کہ تو میروی بہ ترکستان ست
    منہ


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 412
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 412
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/412/mode/1up
    412
    رسالہ ؔ میں بار بار شائع بھی کیا جس کے پورا کرنے کی طرف اب تک توجہ نہ کی۔ پس اگر بقول پیسہ اخبار یہی بات سچ تھی کہ اب عیسائیوں کے حملوں کے ردّ لکھنے کی کچھ ضرورت نہیں پہلے اس سے بہت کچھ لکھا گیا ہے اب تو ہمیشہ بوقت ضرورت میموریل بھیجنا ہی قرین مصلحت ہے تو اس انجمن نے کیوں ایسا ناجائز وعدہ کیا تھا۔ نہایت افسوس کی بات ہے کہ یہ لوگ اپنے امور دنیا میں تو ایسے چست اور چالاک ہوں کہ اس چند روزہ دنیا کی ترقیات کو کسی حد تک بند کرنا نہ چاہیں مگر دین کے معاملہ میں ان کی یہ رائے ہو کہ کیسے ہی مخالفوں کی طرف سے حملے ہوں اور کیسے ہی نئے نئے پیرایوں میں نکتہ چینیاں کی جائیں اور کیسے ہی دھوکہ دینے والے اعتراض شائع کئے جائیں مگر ہمارا یہی جواب ہو کہ پہلے بہت کچھ ردّ ہو چکا ہے اب رد لکھنے کی ضرورت نہیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُون۔ کہاں تک مسلمانوں کی حالت پہنچ گئی اور کس قدر دینی امور میں عقل گھٹ گئی۔ خداتعالیٰ تو قرآن شریف میں یہ فرماوے 3 ۔۱؂ اور یہ فرماوے 33۔۲؂ جس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہمیشہ کے لئے جب تک اسلام پر حملے کرنے والے حملے کرتے رہیں اس طرف سے بھی سلسلہ مدافعت جاری رہنا چاہئیے۔ مگر اس انجمن کے گروہ کی یہ تعلیم ہو کہ اب عیسائیوں کے مقابلہ پر ہرگز قلم نہ اٹھانا چاہئیے اور سزا دلانے کی تجویزیں سوچی جائیں۔ اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان لوگوں کو دین کی کچھ بھی پرواہ نہیں۔ ذرہ نہیں سوچتے کہ پادری صاحبوں کے حملے کیا کمیّت کے رو سے اور کیا کیفیت کے رو سے دریائے موّاج کی طرح ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ کمیّت یعنی مقدار اشاعت کا یہ حال ہے کہ بعض جگہ ہفتہ وار ایک لاکھ دو ورقہ رسالہ اسلام کے رد میں نکلتا ہے اور بعض جگہ پچاس ہزار۔ اور ابھی سن چکے ہو کہ اب تک کئی کروڑ کتاب اسلام کے رد میں عیسائیوں کی طرف سے شائع ہو چکی ہے۔ اب بتلاؤ کہ مقدار اور تعداد کے لحاظ سے اسلامی کتابیں ان لوگوں کی کتابوں کے مقابل پر کس قدر ہیں۔ کئی کروڑ ہندو اس ملک میں ایسے ہیں کہ


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 413
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 413
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/413/mode/1up
    413
    انؔ کو خبر تک نہیں کہ مسلمانوں نے عیسائیوں کی ان کتابوں اور رسائل کا کیا جواب دیا ہے مگر شاذ نادر کوئی ہندو ایسا ہوگا جس نے عیسائیوں کی ایسی گندی کتابیں نہ دیکھی ہوں جو اسلام کے ردّ میں لکھی گئیں۔ ہم دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ جو شخص ہندوؤں میں سے کُچھ اردو سمجھ سکتا ہے یا انگریزی خوان ہے اس کے کانوں تک بہت کچھ عیسائیوں کی کتابوں کی بدبو پہنچی ہوگی اور ہندوؤں کا اسلام کے مقابل پر بد زبانی کے ساتھ منہ کھولنا درحقیقت اسی وجہ سے ہوا ہے کہ عیسائیوں کی زہریلی تحریرات کی گندی نالیوں سے بہت کچھ خراب مواد ان کے خون میں بھی مل گئے ہیں اور ان کے افتراؤں کو ان لوگوں نے سچ سمجھ لیا اور اس طرح پر آریہ لوگ بھی عناد میں پختہ ہوگئے۔
    اب میں پوچھتا ہوں کہ اس کثرت سے اشاعت اسلامی کتابوں کی کہاں ہوئی۔ کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ مسلمانوں نے اب تک کیا کیا ہے؟ کچھ نہیں! اگر کسی گوشہ نشین ملّا کو یہ خیال بھی آیا کہ کسی رسالہ کا رد لکھیں تو مر مر کر دو تین سو روپیہ اکٹھا کیا اور تشتّت خاطر کے ساتھ کچھ لکھ کر چھ سات سو کاپی کسی مختصر کتاب کی چھپوا دی جس کے چھپنے کی عام طور پر قوم کو بھی خبر نہ ہوئی۔ تو اب کیا اس مختصر اور نہایت حقیر کارروائی کے ساتھ یہ خیال کیا جائے کہ جو کچھ کرنا تھا کیا گیا اب کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔ یہ کس کو معلوم نہیں کہ اس عرصہ میں صرف چند کتابیں مسلمانوں کی طرف سے نکلی ہیں جن کو انگلیوں پر گن سکتے ہیں۔ لیکن عیسائیوں نے اسلامی نکتہ چینی کی کتابوں اور دو ورقہ رسائل کو اس کثرت سے شائع کیا ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے ہر ایک مسلمان کے حصہ میں ہزار ہزار کتاب آ سکتی ہے۔ اب نہایت درجہ کا دجّال اور دشمن اسلام وہ شخص ہوگا جو اس بدیہی واقعہ سے انکار کرے۔ پھر جبکہ اشاعت کی تعداد کے رو سے اسلامی مدافعت کو پادریوں کے حملہ سے وہ نسبت بھی نہیں جو ایک ذرہ کو ایک پہاڑ کے ساتھ ہو سکتی ہے تو کیا ابھی تک یہ کہنا بجا ہے کہ جو کچھ ہم نے کرنا تھا کرلیا اور جس قدر اشاعت


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 414
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 414
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/414/mode/1up
    414
    مدافعت ؔ کی ہم پر واجب تھی وہ سب ہم کرچکے۔ اے غافلو! اللہ تعالیٰ کا خوف کرو۔ اندرونی کینوں کی وجہ سے سچائی کو کیوں چھوڑتے ہو؟ اور اس قدر کیوں بڑھے جاتے ہو؟ کیا ایک دن اپنے کاموں سے پوچھے نہیں جاؤ گے؟
    ہمارے علماء نے جو کچھ اب تک کمیّت کے لحاظ سے اشاعت کا کام کیا ہے وہ ایک ایسا امر ہے جو اس کا خیال کر کے بے اختیار قوم کی حالت پر رونا آتا ہے کیونکہ جس طرح اس اشاعت میں پادریوں کو اپنی قوم کی طرف سے کروڑ ہا روپیہ کی مدد ملی اور انہوں نے کروڑہا تک شائع کردہ کتابوں کا عدد پہنچایا اگر اسلام کے مؤلّفین کو بھی یہ مدد ملتی تو وہ بھی اسی طرح کروڑہا کتابوں کی اشاعت سے دلوں میں ایک بھاری انقلاب عقائد حقّہ کی طرف پیدا کر دیتے۔ یہ وہ مصیبت ہے جو شائع کردہ کتابوں کی کمیت کے لحاظ سے اب تک اسلام پر ہے۔ اب دوسری مصیبت پر بھی غور کرو جو کیفیت کے لحاظ سے عائد حال اسلام ہے اور وہ یہ کہ تین ہزار اعتراض میں سے اب تک غایت کار ڈیڑھ سو یا پونے دو سو اعتراض کا جواب دیا گیا ہے اور وہ بھی اکثر الزامی طور پر اور اکثر ردّ لکھنے والوں کی کتابیں ایسی ہیں کہ جو حقیقی معارف اور علوم حکمیّہ کو چھو بھی نہیں گئیں اور بہت سا حصہ جنگ زرگری میں خرچ کیا گیا ہے۔ اب دیکھو کس قدر حمایت اسلام کا کام ہے جو کرنے کے لائق ہے۔ ماسوا اس کے یہ موٹی بات ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ آج کل ہمارے متفنّی مخالفوں کا یہ طریق ہے کہ جن اعتراضوں کے آج سے چالیس برس پہلے جواب دئیے گئے تھے وہی اعتراض اور رنگوں اور پیرایوں اور طرح طرح کے نئے نئے طرز استدلال سے پیش کر رہے ہیں اور بعض جگہ طبعی یا ہیئت کی ان کے ساتھ رنگ آمیزی کر کے یا اور طرح کے دھوکہ دینے والے ثبوت تلاش کر کے ملک میں شائع کر دئیے ہیں اور ان اعتراضات کا بہت بڑا اثر ہو رہا ہے اور پہلے جوابات ان کی نئی طرز اور طریق کے مقابل پر منسوخ کی طرح ہیں۔ پھر کون عقلمند اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ اب ان اعتراضات کے جواب لکھنے کی


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 415
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 415
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/415/mode/1up
    415
    ضرورؔ ت نہیں۔ انجمن حمایت اسلام خود غور کرے کہ جب ہمارا میموریل دیکھ کر اس کو فکر پڑگئی کہ اس کے میموریل کے وجوہات کمزور ثابت کئے گئے ہیں توکس طرح پنجاب آبزرور اور پیسہ اخبار کے ذریعہ سے اُس نے ہاتھ پیر مارے اور اس بات پر کفایت نہ کی کہ ہمارے میموریل کے وجوہات مکمل ہیں پھر اورکچھ لکھنے لکھانے کی کیا ضرورت ہے۔ اسی طرح انسانی عدالتوں میں دیکھا جاتا ہے کہ جب ایک شخص اپنی اپیل میں عمدہ وجوہات کا سامان اکٹھا کرتا ہے تو فریق ثانی ہرگز اس بات پر قناعت نہیں رکھتا کہ پہلی عدالت میں مَیں کامل وجوہات دے چکا ہوں اب مجھے کیا ضرورت ہے کہ اس اپیل کے وجوہات توڑوں یا وکیل کرتا پھروں بلکہ میرے پہلے وجوہات ہی کافی ہوں گے۔ میں خوب جانتا ہوں کہ انجمن حمایت اسلام کے ممبر اور اس کے حامی اپنے دنیا کے امور میں ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہوں گے اور ایسا ہی سمجھتے ہوں گے مگر دین اسلام کے متعلق اس اصول کو بُھلا دیا ہے۔
    غرض یہ یاد رہے کہ جو کچھ مخالفوں کے مقابل پر آج تک کیا گیا ہے کچھ بھی چیز نہیں۔ ہمارے مخالفوں نے کروڑہا کتابیں دنیا میں پھیلا کر ہر ایک قوم اور ہر ایک طبقہ کے انسان کو اسلام پر بدظن کر دیا ہے۔ ہم نے ان کی کروڑہا کتابوں اور رسائل اور ان دو ورقہ رسائل کے مقابل پر جو ایک ماہ میں کئی لاکھ پنجاب اور ہندوستان میں شائع کئے جاتے اور ہر ایک قوم اور مرد و زن تک پھیلائے جاتے ہیں کیا کیا ہے اور پھر اس تین ہزار اعتراض کا جو رنگا رنگ میں اور کئی علمی پیرایوں میں دنیا میں مشہور کئے گئے اور دلوں میں بٹھائے گئے ہیں اسلام کی طرف سے کیا جواب شائع ہوا ہے۔ یہ تو ہم نے تنزّل کے طور پر اُن اعتراضوں کو لکھا ہے جو اکثر دیکھنے اور سننے میں آئے۔ ورنہ نامنصف مخالفوں کو قرآن شریف کے صدہا مقامات پر اور بھی اعتراض ہیں جو ان کا جواب لکھنا گویا قرآن شریف کی ایک پوری تفسیر کو چاہتا ہے۔ اب اہل عقل اور انصاف ذرہ سوچیں کہ انجمن حمایت اسلام اور اُس کے حامیوں کی یہ کیسی ناانصافی ہے کہ وہ اپنے دنیا کے


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 416
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 416
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/416/mode/1up
    416
    کاموںؔ میں تو ایسے سرگرم ہیں کہ ساری تدبیریں عمل میں لاتے ہیں مگر اس بات کی کچھ بھی ضرورت نہیں سمجھتے کہ مخالفوں کی دن رات کی دجالی کوششوں کے مقابل پر اسلام کی طرف سے بھی کوشش ہوتی رہے۔ ہم تو اسی دن سے اس انجمن سے نومید ہوگئے جبکہ اس نے اس بے انتہا صلح کاری کی بنیاد ڈالی کہ ایک شخص حضرت ابوبکر اور حضرت فاروق کو سبّ و شتم کرنے والا اس کا پریذیڈنٹ ہو سکتا ہے اور ایسا ہی اُس کے مقابل پر فرقہ بیاضیہ کا بھی کوئی شخص ممبر ہونے کا حق رکھتا ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برے الفاظ اور توہین اور گالی سے یاد کرتا ہے۔ کیا ایسے اصولوں پر اس انجمن کے لئے ممکن تھا کہ درحقیقت راستی کی پابندی کر سکتی؟
    (۲) دوسرا اعتراض یہ ہے کہ وہ میرے پر یہ الزام لگانا چاہتے ہیں کہ گویا میں نے اپنے میموریل ۲۴؍ فروری ۱۸۹۸ ؁ء میں کتاب اُمّہات المؤمنین کے روکنے کی درخواست کی تھی اور اقرار کیا تھا کہ وہ موجب نقض امن ہے اور یہ بھی لکھا تھا کہ گورنمنٹ یہ قانون صادر فرمادے کہ ہر ایک فریق اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کیا کرے دوسرے فریق پر ہرگز حملہ نہ کرے اور پھر گویا میں نے اس میموریل کے برخلاف دوسرا میموریل بھیجا۔
    اس اعتراض کے جواب میں اول یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے اپنے ۲۴؍ فروری ۱۸۹۸ ؁ء کے میموریل میں ہرگز اُمّہات المؤمنین کے روکنے کی درخواست نہیں کی۔ میرے اس میموریل کو غور سے پڑھا جائے کہ اگرچہ میں نے اس میں یہ قبول کیا ہے کہ اس رسالہ امّہات المؤمنین سے نقض امن کا اندیشہ ہو سکتا ہے لیکن گورنمنٹ سے ہرگز یہ درخواست نہیں کی کہ اس رسالہ کو روکے یا تلف کرے یا جلاوے بلکہ اسی میموریل میں مَیں نے لکھ دیا ہے کہ یہ رسالہ شائع ہو چکا ہے اور ایک ہزار مسلمان کے پاس مفت بلادرخواست بھیجا گیا ہے اور میرے بہت سے معزز دوستوں کو بھی بغیر اُن کی طلب کے پہنچایا گیا ہے۔ پھر کیونکر ہو سکتا تھا کہ میں اُس میموریل میں اس کے روکنے کی درخواست


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 417
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 417
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/417/mode/1up
    417
    کرتاؔ ۔ بلکہ میں نے اس میموریل کے صفحہ ۹ میں تو رسالہ مذکورہ کا موجب نقض امن ہونا ظاہر کیا اور پھر صفحہ د۱۰س میں اسی بناء پر گورنمنٹ کو اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ وہ ایسی فتنہ انگیز تحریروں کے انسداد کے لئے دو طریق میں سے ایک طریق اختیار کرے یا تو یہ تدبیر کرے کہ ہر ایک فریق مباحث کو ہدایت فرماوے کہ وہ اپنے حملہ کے وقت تہذیب اور نرمی سے باہر نہ جاوے اور صرف ان کتابوں کی بنا پر اعتراض کرے جو فریق مقابل کی مسلم اور مقبول ہوں اور یا یہ تدبیر عمل میں لاوے کہ حکم فرماوے کہ ہر ایک فریق صرف اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کیا کرے اور دوسرے فریق کے عقائد اور اعمال پر ہرگز حملہ نہ کرے۔ اب ہر ایک منصف سوچ سکتا ہے کہ ان عبارتوں میں کہاں میں نے لکھا ہے کہ رسالہ امّہات المؤمنین تلف کیا جائے یا روکا جائے اور میرے اس میموریل اور دوسرے میموریل میں کہاں تناقض ہے؟ کیا تناقض اس سے پیدا ہو جائے گا کہ مدافعت کے طور پر معترضین کے اعتراضات کا جواب دیں اس غرض سے کہ تا اپنے مذہب کی خوبیاں ظاہر کر کے دکھلاویں؟
    (۳) تیسرا اعتراض یہ ہے کہ ’’اگر مرزا صاحب نے سرمہ چشم آریہ نہ لکھا ہوتا تو پنڈت لیکھرام تکذیب براہین احمدیہ میں سخت گوئی نہ کرتا اور بیہودہ اعتراض نہ لکھتا‘‘۔ اس میں ایڈیٹر صاحب کا مدعا یہ ہے کہ بیچارے آریوں کا کچھ بھی قصور نہیں تمام اشتعال سرمہ چشم آریہ سے پیدا ہوا ہے‘‘۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ اُن کو اس نکتہ چینی کے وقت پھر ساتھ ہی یہ دھڑکہ بھی شروع ہوا کہ آریوں نے اسلام کا رد لکھنے میں پہلے سبقت کی ہے اور اندرمن مراد آبادی کی گندی کتابوں نے مسلمانوں میں شور ڈال دیا تھا لہٰذا انہوں نے آریوں کا وکیل بن کر یہ جواب دیا کہ جس وقت سرمہ چشم آریہ لکھا گیا اُن دنوں میں اندرمن کے مباحث بالکل پورانے اور ازیاد رفتہ ہو چکے تھے۔ لیکن اس تقریر میں جس قدر انہوں نے دروغ استعمال کیا ہے اور جس قدر حق کو چھپایا ہے اُس کی


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 418
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 418
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/418/mode/1up
    418
    خدائے ؔ علیم ہی ان کو جزا دے ہم کیا کر سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ رسالہ سرمہ چشم آریہ ایک زبانی مباحثہ کے طور پر بمقام ہوشیارپور لکھا گیا تھا اور یہ بات ہوشیارپور کے صدہا مسلمانوں اور ہندوؤں کو معلوم ہے کہ سرمہ چشم آریہ کے لکھے جانے کے خود آریہ صاحب ہی باعث اور محرک ہوئے تھے۔ سرمہ چشم آریہ کیا چیز ہے؟ یہ وہی مباحثہ ہے جو بتاریخ ۱۴؍ مارچ ۱۸۸۶ ؁ء مجھ میں اور منشی مرلی دھر ڈرائنگ ماسٹر میں انہی کے نہایت اصرار سے بمقام ہوشیارپور شیخ مہر علی رئیس کے مکان پر ہوا تھا۔ چنانچہ یہ تمام تفصیل دیباچہ سرمہ چشم آریہ میں لکھ دی گئی ہے۔* یہ مباحثہ نہایت متانت اور تہذیب سے ہوا تھا اور قریباً پانسو ہندو اور مسلمان کی حاضری میں سنایا گیا تھا پھر کس قدر جھوٹ اور قابل شرم خیانت ہے کہ اس کتاب کو آریوں اور مسلمانوں کے نفاق کی جڑ ٹھہرائی گئی ہے۔ ہم ہر ایک تاوان کے سزاوار ہوں گے اگر کوئی یہ ثابت کر کے دکھلاوے کہ صرف ہمارے دلی جوش سے یہ کتاب لکھی گئی تھی اور اُس کے محرک لالہ مرلی دھر صاحب نہیں تھے۔ بلکہ ہم قصّہ کوتاہ کرنے کے لئے خود لالہ مرلی دھر صاحب کو ہی اس بارے میں منصف ٹھہراتے ہیں وہ حلفاًبیان کریں کہ کیا یہ مباحثہ بمقام ہوشیارپور ہماری تحریک سے ہوا تھا یا خود وہ میرے مکان پر آئے اور اس مباحثہ کے لئے درخواست کی تھی اور کہا تھا کہ اسلام پر میرے کئی سوالات ہیں اور نہایت اصرار سے مباحثہ کی ٹھہرائی تھی؟ ماسوا اس کے کوئی منصف اس کتاب کو اوّل سے آخر تک پڑھ کر دیکھ لے اس میں کوئی سخت لفظ نہیں ہے۔ ہر ایک لفظ بحکم ضرورت بیان کیا گیا ہے جو محل پر چسپاں ہے پھر کیوں کر اس انجمن کے حامیوں نے میرے پر یہ الزام لگایا کہ آریہ صاحبوں اور لیکھرام کا کچھ بھی قصور نہیں دراصل زیادتی اس شخص کی طرف سے ہوئی ہے۔
    اس سے ناظرین سمجھ لیں کہ اس انجمن کی نوبت کہاں تک پہنچ گئی ہے۔ سچ کہیں کہ
    سرمہ چشم آریہ کے صفحہ ۴ میں یہ عبارت ہے۔ لالہ مرلی دھر صاحب ڈرائنگ ماسٹر سے بمقام ہوشیار پور مباحثہ مذہبی کا اتفاق ہوا وجہ اس کی یہ ہوئی کہ ماسٹر صاحب موصوف نے خود آ کر درخواست کی۔منہ


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 419
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 419
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/419/mode/1up
    419
    اب حمایت اسلام کا لفظ ان کے لئے موزوں ہے یا حمایت آریہ کا۔ اور پھر یہ بات بھی سوچنے کے لائق ہے کہ کیا یہ سچ ہے کہ حسب قول حامیان انجمن حمایت اسلام سرمہ چشم آریہ کے وؔ قت اندرمن کی کتابیں ازیاد رفتہ ہو چکی تھیں۔ مجھے سخت افسوس ہے کہ صرف میرے کینہ کی وجہ سے اس انجمن اور اس کے حامیوں نے انصاف اور راستی کے طریق کو کیوں چھوڑ دیا۔ اندرمن کی کتابوں کو کون سا ہزار دو ہزار برس گذر گیا تھا کہ مسلمانوں کو وہ زخم بھول گئے تھے کہ جو ناحق افترا سے اس کی کتاب تحفۃ الاسلام اور اندربجر اور پاداش اسلام سے دلوں کو پہنچے تھے اور وہ کیسے مسلمان تھے جنہوں نے ایسی مفتریانہ دھوکہ دِہ کتابوں کو ازیاد رفتہ کر دیا تھا اور اُن تحریروں پر راضی ہوگئے تھے۔ وہ کتابیں تو اب تک ہندو پیار سے پڑھتے اور شائع کرتے ہیں۔
    ماسوا اس کے پھر ان کتابوں کے بعد ایک اور کتاب جو نہایت گندی تھی آریہ سماج والوں نے شائع کی جو کچھ تھوڑا عرصہ پہلے سرمہ چشم آریہ سے تالیف کی گئی تھی جس کو پنڈت دیانند نے تالیف کر کے ہندوؤں اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنا چاہا تھا جس کا نام ستیارتھ پرکاش ہے۔ اور ماسوا اس کے آریوں میں بذریعہ پنڈت دیانند ایک نئی نئی تیزی پیدا ہو کر اور کئی چھوٹے چھوٹے رسالے بھی شائع ہونے شروع ہوگئے تھے اور ایک دو اخبار بھی اسی غرض سے نکلتے تھے جو اکثر بدزبانی سے بھرے ہوتے تھے اور ان لوگوں نے اور ان کے مذہب نے جنم لیتے ہی اسلام پر حملہ کرنا اور سخت الفاظ استعمال کرنا شروع کر دیا تھا اور نہ صرف اسلام بلکہ وہ تو راجہ رامچندر اور راجہ کرشن وغیرہ ہندوؤں کے نسبت بھی اچھے خیال نہیں رکھتے تھے اور نہ باوا نانک صاحب کی نسبت ان کی تحریریں مہذبانہ تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی تحریروں سے عام طور پر شور برپا ہوا تھا اور پنڈت دیانند اور اس کے حامیوں کی اس وقت یہ کتابیں شائع ہوئی تھیں کہ جبکہ میری کسی کتاب کا نام و نشان نہ تھا اور ایک ورق بھی میں نے تالیف نہیں کیا تھا اور پنڈت دیانند نے صرف یہی نہیں کیا کہ ستیارتھ پرکاش کو تالیف کر کے کروڑہا مسلمانوں کا دل دکھایا بلکہ اس نے پنجاب اور ہندوستان کا دورہ کر کے


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 420
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 420
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/420/mode/1up
    420
    عام جلسوں میں سخت گوئی پر کمر باندھ لی اور اُس نے یہ ارؔ ادہ ظاہر کیا کہ گویا جس قدر پنجاب اور ہندوستان میں آٹھ سو برس سے ہندو خاندان سے مسلمان ہوئے ہیں اُن سب کی اولاد کو پھر ہندو بنایا جائے۔ یہ شخص اس قدر سخت گو انسان تھا کہ بیچارے سناتن دھرم والے بھی اس کی زبان سے محفوظ نہ رہ سکے۔ اگر جلد تر موت مقدر اس کو چُپ نہ کرا دیتی تو معلوم نہیں کہ اُس کی تحریروں اور تقریروں سے کیا کیا ملک میں فتنے پیدا ہوتے۔ میں نے سنا ہے کہ بسا اوقات عین اس کے ویا کھیان کیوقت بعض ہندو صاحبوں نے بباعث سخت اشتعال کے اس کی طرف پتھر پھینکے۔ پس جبکہ آریوں کی طرف سے اس حد تک نوبت پہنچ گئی تھی کہ بازاروں میں کوچوں میں گلیوں میں عام جلسوں میں اسلام کی توہین کی جاتی تھی اور ہندوؤں کو مسلمانوں کی مخالطت سے نفرت دلائی گئی تھی اور بغض اور توہین اور سخت گوئی کا سبق دیا جاتا تھا۔ تو اس صورت میں بجز ایسے نام کے مسلمانوں کے جو دین سے کوئی حقیقی تعلق نہ رکھتے ہوں ہر ایک مسلمان کو اس نئے پنتھ کی شوخی سے درد پہنچنا ایک لازمی امر تھا اور اسی وجہ سے اور اسی باعث سے کتاب براہین احمدیہ بھی لکھی گئی تھی۔ اب ہم انجمن حمایت اسلام اور اس کے حامیوں کو کیا کہیں اور کیا لکھیں جنہوں نے اسلام کا کچھ بھی لحاظ نہ رکھ کر اس قدر سچائی کا خون کیا۔ ہمارا تمام شکوہ خداتعالیٰ کی جناب میں ہے۔ یہ لوگ اسلام کا دعویٰ کر کے اسلام کی حمایت کا دعویٰ کر کے کس بددیانتی سے زبان کھول رہے ہیں اور ہمیں کب امید ہے کہ اب بھی وہ نادم ہو کر اپنی غلطی کا اقرار کر کے باز آجائیں گے۔ مگر خدا جوہمارے دل اور ان کے دلوں کو دیکھ رہا ہے وہ بیشک اپنی سنت کے موافق ان میں اور ہم میں فیصلہ کرے گا۔ 3۔۱؂
    پھر ایک اعتراض انجمن حمایت اسلام لاہور کے حامیوں کا یہ ہے کہ اس انجمن کے ممبر اور ہمدرد تو ہزارہا مسلمان ہیں اور اس کی وقعت اور ذمہ واری مسلّمہ ہے مگر مرزا صاحب کو اس سے زیادہ ایک ذرہ حیثیت حاصل نہیں کہ وہ ایک مُلّا یا مولوی یا مناظر یا مجادل ہیں


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 421
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 421
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/421/mode/1up
    421
    انہیںؔ مسلمانوں کا معتمد علیہ بننے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ اس اعتراض کے جواب میں اوّل تو یہ سمجھ رکھنا چاہئیے کہ ہمارے دین نے رسم اور عادت کے طور پر کسی چیز کو پسند نہیں کیا۔ اگر ایک شخص اپنی ذات میں دینی مقتدا یا معتمد علیہ ہونے کی کوئی حقیقی لیاقت نہیں رکھتا بلکہ برخلاف اس کے بہت سے نقص اس میں پائے جاتے ہیں لیکن با ایں ہمہ ایک گروہ کثیر کا مرجع ہے تو ہمارا دین ہرگز روا نہیں رکھتا کہ صرف مرجع عوام ہونے کی وجہ سے اس کو قوم کا وکیل اور مدارالمہام سمجھا جائے۔ ایسا فتویٰ ہم قرآن شریف میں نہیں پاتے۔ قرآن شریف تو جابجا یہی فرماتاہے کہ امام اور مقتدا اور صاحب الامر بنانے کے لائق وہی لوگ ہیں کہ جن کے دینی معلومات وسیع ہوں اور فراست صحیحہ اور بسطۃ فی العلم رکھتے ہوں اور تقویٰ اور طہارت اور اخلاص کی صفات حسنہ سے موصوف ہوں ایسے نہ ہوں کہ اپنے اغراض کی وجہ سے اور چندوں کے لالچ سے ہر ایک فرقہ ضالہ کو ممبر انجمن بنانے کے لئے طیار ہوں۔ غرض خداتعالیٰ کا حکم یہی ہے کہ صاحب الامر بنانے کے لئے حقیقی لیاقت دیکھو بھیڑچال کو اختیار نہ کرو۔
    پھر ماسوا اس کے یہ خیال بھی غلط ہے کہ مسلمانوں نے انجمن حمایت کے لوگوں کو دلی اعتقاد سے اپنا امام اور مقتدا اور پیشرو بنا رکھا ہے بلکہ اصل حال یہ ہے کہ انجمن حمایت اسلام لاہور کے ساتھ جس قدر لوگ شامل ہیں وہ اس خیال سے شامل ہیں کہ یہ انجمن مہمات اسلام میں اپنی رائے سے کُچھ نہیں کرتی بلکہ مسلمانوں کے عام مشورہ اور کثرت رائے سے کسی پہلو کو اختیار کرتی ہے۔ یہی غلطی ہے جس سے اکثرلوگ دھوکہ کھاتے ہیں نہ یہ کہ درحقیقت وہ تسلیم کر چکے ہیں کہ یہی انجمن شیخ الکل فی الکل ہے۔ یہ تو انجمن کے مسلّم الوقعت ہونے کی حقیقت ہے جو ہم نے بیان کی۔ رہا یہ الزام کہ گویا یہ راقم تمام مسلمانوں کی نظر میں صرف ایک ملّا یا واعظ کی حیثیت رکھتا ہے یہ وہ قابل شرم جھوٹ ہے جو کوئی شریف اور نیک ذات آدمی استعمال نہیں کر سکتا۔ انجمن کو معلوم ہے


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 422
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 422
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/422/mode/1up
    422
    کہؔ مسلمانوں میں سے صدہا معزز اور ذی رتبہ اور اہل علم اور تعلیم یافتہ جن کی نظیر انجمن کے ممبروں یا حامیوں میں تلاش کرنا تضییع اوقات ہے مجھ کو وہ مسیح موعود مانتے ہیں جس کی تعریفیں خود ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہیں۔ پھر یہ خیال ظاہر کرنا کہ تمام لوگ صرف ایک ملّا خیال کرتے ہیں اُن لوگوں کا کام ہے جو شرم اور دیانت اور راست گوئی سے کچھ تعلق نہیں رکھتے۔ مگر کچھ افسوس کی جگہ نہیں۔ کیونکہ پہلے بھی راستبازوں اور نبیوں اور رسولوں کو ایسا ہی کہا گیا ہے اور یہ کہنا کہ مرزا صاحب اپنے معتقدوں کی تعداد تین سو اٹھارہ سے زیادہ نہیں بتلا سکے یہ کس قدر حق پوشی ہے۔ یہ تعداد تو صرف ان لوگوں کی لکھی گئی تھی جو سرسری طور پر اس وقت خیال میں آئے نہ یہ کہ درحقیقت یہی تعداد تھی اور اسی پر حصر رکھا گیا تھا بلکہ ہم نے اپنے ایک مضمون میں صاف طور پر شائع بھی کر دیا تھا کہ اب تعداد ہماری جماعت کی آٹھ ہزار سے کم نہیں ہوگی۔ لیکن یہ ایک مدت کی بات ہے اور اس وقت تو بڑے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ دو ہزار اور بڑھ گئے ہیں اور ہماری جماعت اس وقت دس ہزار سے کم نہیں ہے جو پشاور سے لے کر بمبئی کلکتہ کراچی حیدر آباد دکن مدراس ملک آسام بخارا غزنی مکہ مدینہ اور بلادشام تک پھیلی ہوئی ہے اور ہر ایک سال میں کم سے کم تین چار سو آدمی ہماری جماعت میں بزمرہ بیعت کنندگان داخل ہوتے ہیں۔ اگر کوئی دس دن بھی قادیان آکر ٹھہرے تو اُسے معلوم ہو جائے گا کہ کس قدر تیزی سے خداتعالیٰ کا فضل لوگوں کو ہماری طرف کھینچ رہا ہے۔ اندھوں اور نابیناؤں کو کیا خبر ہے کہ کس عظمت کی حد تک یہ سلسلہ پہنچ گیا ہے۔ اور کیسے طالب حق لوگ 3۔۱؂ کے مصداق ہو رہے ہیں۔ پھر کیا سبب ہے کہ یہ انجمن باوجود اپنی اس مختصر حیثیت اور کمزور زندگی کے آفتاب پر تھوک رہی ہے؟ کیا یہی سبب نہیں کہ ان لوگوں کو دین کی طرف توجہ نہیں۔ باوجودیکہ دور دور سے صدہا آدمی آکر ہدایت پاتے جاتے ہیں مگر اس انجمن کا ایک ممبر بھی اب تک ہمارے پاس نہیں آیا کہ تاحق کے طالبوں کی طرح


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 423
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 423
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/423/mode/1up
    423
    ہم ؔ سے ہمارے دعوے کے وجوہات دریافت کرے۔ کیا یہ دینداری کی علامت ہے کہ ایک شخص ان کے درمیان کھڑا ہے اور کہہ رہا ہے کہ میں وہی مسیح موعود ہوں جس کی متابعت کے لئے تمہیں وصیت کی گئی ہے اور ان میں سے اُس کی کوئی آواز نہیں سنتا؟ اور نہ دعوے کو رد کر سکتے ہیں اور نہ بغض کی وجہ سے قبول کر سکتے ہیں۔ کیا یہ اسلام ہے؟ بلکہ کبھی تو محض افترا کے طور پر ہمارے ذاتیات پر اس انجمن کے حامی حملے کرتے ہیں اور کبھی اپنی بات کو سرسبز کرنے کے لئے صریح جھوٹ بولتے ہیں اور کبھی گورنمنٹ عالیہ کو جو ہمارے حالات اور ہمارے خاندان کے حالات سے بے خبر نہیں ہے دھوکہ دہی کے طور پر اکسانا چاہتے ہیں کیا یہ اسلام کی حمایت ہو رہی ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ذرہ توجہ کر کے دوسرے فرقوں کی قومی ہمدردی دیکھو- مثلاً باوجود اس کے کہ سناتن دھرم اور آریہ مت کے ممبروں میں بھی سخت نفاق ہے۔ بلکہ آریہ سماج والوں کا ایک گروہ دوسرے سے سخت عداوت رکھتا ہے لیکن پھر بھی انہوں نے بھی قومی ہمدردی کا لحاظ رکھ کر کبھی ایک دوسرے پر گورنمنٹ کو توجہ نہیں دلائی لیکن انجمن حمایت اسلام کے حامیوں پیسہ اخبار اور پنجاب ابزرورنے ہماری ذاتیات پر بحث کرتے ہوئے اپنی تقریر کو قریب قریب قانون سڈیشن کے پہنچا دیا ہے اور ہم اب کی دفعہ ان بیجا حملوں کی نسبت عفو اور درگذر سے کاربند ہوتے ہیں مگر آئندہ ہم ان دونوں پرچوں کے ایڈیٹروں کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ وہ واقعات صحیحہ کے برخلاف لکھنے کے وقت اپنی نازک ذمہ داریوں کو بھول نہ جائیں اور قانون کا نشانہ بننے سے پرہیز کریں اور جو کچھ ہماری نسبت اور ہماری جماعت کی نسبت لکھیں سوچ سمجھ کر لکھیں کیونکہ ہر ایک دفعہ اور ہر ایک موقعہ پر ایک ظالم انسان معافی دئیے جانے کا حق نہیں رکھتا۔ بیشک عفو اور درگذر ہمارا اصول ہے اور بدی کا مقابلہ نہ کرنا ہمارا طریق ہے لیکن اس سے یہ مطلب نہیں ہے کہ گو کسی کے افترا اور دروغ سے کیسا ہی ضرر اور بدنامی ہماری ذات کے عائد حال ہو یا ہمارے مشن پربد اثر کرے پھر بھی ہم بہرحال خاموش ہی رہیں۔ بلکہ ایسی بدنامی جو ہمارے پر دغابازی اور بددیانتی اور جھوٹ


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 424
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 424
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/424/mode/1up
    424
    اورؔ کسی پرفریب کارروائی کا داغ لگاتی ہو۔ اس کا تحمل دینی مصالح کی رو سے ہرگز جائز نہیں کیونکہ اس سے عوام کی نظر میں ایک بدنمونہ قائم ہوتا ہے۔ ایسے موقعہ پر حضرت یوسف نے بھی مصر کی گورنمنٹ کو تنقیح حقیقت کے لئے توجہ دلائی تھی۔ لہٰذا انجمن اور اس کے حامیوں کو چاہئیے کہ اس نصیحت کو خوب یاد رکھیں اور ہم اس وقت اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ ہم نے انجمن حمایت اسلام کی مخالفت نہایت نیک نیتی سے کی تھی اور ہم ترسان اور لرزان تھے کہ یہ طریق جو انجمن نے اختیار کیا ہے ہرگز ہرگز اسلام کے لئے مفید نہیں ہے۔ کیا انجمن خطا سے محفوظ ہے؟ یا نبیوں کی طرح اپنے لئے معصوم کا لقب موزوں سمجھتی ہے۔ پھر ہماری نصیحت جو محض اخلاص پر مبنی تھی کیوں اس کو بُری لگی۔ دانا کو چاہئیے کہ معاملہ کے دونوں پہلوؤں پر نظر رکھ کر کسی پہلو کو اختیار کرے۔ ہم بڑے زور سے کہتے ہیں کہ یہ پہلو جو انجمن نے اختیار کیا ہمارے مولیٰ کریم کے اس منشاء کے ہرگز موافق نہیں ہے جو قرآن شریف میں ظاہر فرمایا گیا ہے اور ہم منتظر ہیں کہ دیکھیں کہ کونسی فتح نمایاں اس میموریل سے انجمن کو حاصل ہوتی ہے جو ان کو ردّ لکھنے سے مستغنی کر دے گی۔ اگر فرض کے طور پر یہ بات بھی ہو کہ تمام شائع کردہ کتابیں پنجاب اور ہندوستان سے واپس منگائی جائیں اور پھر جلا دی جائیں یا اور طرح پر تلف کر دی جائیں اور آئندہ قانونی طور پر کسی وعید کے ساتھ دھمکی دے کر فہمائش ہو کہ کوئی پادری اسلام کے مقابل پر کبھی اور کسی وقت میں ایسے الفاظ استعمال نہ کرے پھر بھی یہ تمام کارروائی ردّ لکھنے کے قائم مقام نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ واقعی طور پر وہی ہلاک ہوتا ہے جو بینہ سے ہلاک ہو۔ لیکن اگر انجمن کی درخواست پر کوئی ایسی کارروائی نہ ہوئی بلکہ کوئی معمولی اور غیر محسوس کارروائی ہوئی تو اس روز جس قدر مخالفوں کی شماتت ہوگی ظاہر ہے۔ لہٰذا ہمیں بار بار انجمن کی اس رائے پر رونا آتا ہے۔ افسوس کہ ان لوگوں نے رد لکھنے والوں کی راہ کو بھی بند کرنا چاہا ہے۔ افسوس کہ اس انجمن کو کیا یہ بھی خبر نہیں تھی کہ مصنف کتاب امہات المومنین نے کتاب مذکورہ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ کوئی مسلمان اس کا جواب نہیں دے سکے گا۔


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 425
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 425
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/425/mode/1up
    425
    ابؔ انجمن نے جواب سے منہ پھیر کر اور ایک دوسرا پہلو اختیار کر کے دکھا دیا کہ یہ گمان ان کا ٹھیک ہے اور انجمن کے حامی جیسا کہ پیسہ اخبار اور پنجاب ابزرور زور سے کہتے ہیں کہ ردّ کی کچھ بھی ضرورت نہیں تھی پہلی کتابیں بہت ہیں۔ اب وہی بات ہوئی جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے 3۔۱؂
    اب کیا انجمن اس صورت میں جو میموریل کا نشانہ خالی جائے یا ادھورا رہے اس دوسرے پہلو کو اختیار کر سکتی ہے کہ ردّ لکھا جائے اور ایسے ارادے کو پیسہ اخبار یا ابزرور وغیرہ اخباروں میں شائع کر سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ اب اہل اسلام دیکھ لیں کہ اس انجمن کی شتاب کاری سے کس قدر اسلام کی حقیقی کارروائی کو ضرر پہنچا ہے اور کیسے اسلام کی مدافعت میں حرج واقع ہوا ہے۔ سرسیّد احمد خان بالقابہ کیسا بہادر اور زیرک اور ان کاموں میں فراست رکھنے والا آدمی تھا انہوں نے آخری وقت میں بھی اس کتاب کا رد لکھنا بہت ضروری سمجھا اور میموریل بھیجنے کی طرف ہرگز التفات نہ کیا۔ اگر وہ زندہ ہوتے تو آج وہ میری رائے کی ایسی ہی تائید کرتے جیسا کہ انہوں نے سلطان روم کے بارے میں صرف میری ہی رائے کی تائید کی تھی اور مخالفانہ راؤں کو بہت ناپسند اور قابل اعتراض قرار دیا تھا۔ اب ہم اس بزرگ پولیٹیکل مصالح شناس کو کہاں سے پیدا کریں تا وہ بھی ہم سے مل کر اس انجمن کی شتاب کاری پر روویں۔ سچ ہے ’’قدر مرداں بعد از مُردن‘‘۔
    اگر اس انجمن کی طرف سے یہ عذر پیش ہو کہ ہم اس لئے ردّ لکھنے کے مخالف ہیں کہ یہ لوگ گو کیسی ہی دریدہ دہنی سے کام لیتے ہیں مگر پھر بھی شاہی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہٰذا ان کا ردّ لکھنا ادب کے مخالف ہے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ کیا مواخذہ کرنے کے لئے اور سزا دلانے کے لئے میموریل بھیجنا یہ ادب میں داخل ہے۔ ہماری گورنمنٹ عالیہ نے نہایت عقلمندی اور بلند ہمتی سے یہ قانون ہر ایک کے لئے کھولا ہوا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے مذہب پر اختلاف رائے کی بنا پر حملہ کرے تو اس دوسرے شخص کا بھی اختیار ہے کہ وہ اس حملہ کی


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 426
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 426
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/426/mode/1up
    426
    مدافعتؔ کرے۔ یہ سچ ہے کہ چونکہ ہم اس گورنمنٹ کی رعایا ہیں اور دن رات بیشمار احسانات دیکھ رہے ہیں اس لئے ہمارا یہ فرض ہونا چاہئیے کہ سچے دل سے اس گورنمنٹ کی اطاعت کریں اور اس کے مقاصد کے مددگار ہوں اور اس کے مقابل پر ادب اور غربت اور فرمانبرداری کے ساتھ زندگی بسر کریں مگر چاہئیے کہ اعتقادی امور میں جو دار آخرت سے متعلق ہیں وہ طریق اختیار کریں جس کی صحت اور درستی پر ہماری عقل ہمارا کانشنس ہماری فراست فتویٰ دیتی ہو۔ ہم تو بار بار خود گواہی دیتے ہیں کہ نہایت ہی بدذات وہ لوگ ہیں جو متواتر احسانات اس گورنمنٹ کے دیکھ کر اور اس کے زیر سایہ اپنے مال اور جان اور عزت کو محفوظ پا کر پھر بغاوت کے خیالات دِل میں پوشیدہ رکھتے ہوں۔ یہ تو ہمارا وہ مذہب ہے جو ہمیں خدا تعالیٰ سکھلاتا ہے لیکن پادریوں کے افتراؤں کا جواب دینا یہ امر دیگر ہے اور یہ خدا کا حق ہے جس کو ادا کرنا لازم ہے۔ سر سید احمد خاں صاحب کی قدیم پالیسی اسی کی گواہ ہے۔ وہ ہمیشہ پادریوں کا ردّ لکھتے رہے یہاں تک کہ میور صاحب الہ آباد کے لفٹیننٹ گورنر کی کتاب کا بھی کسی قدر ردّ لکھا مگر پادریوں کے سزا دلانے کے لئے یا کتابوں کے تلف کرنے کے لئے کبھی انہوں نے گورنمنٹ میں میموریل نہ بھیجا۔ سو ہمیں وہ راہ نکالنی چاہیئے جو واقعی طور پر ہماری نسلوں کو مفید ہو اور دین اسلام کی حقیقی عزت اس سے پیدا ہو اور وہ یہی ہے کہ ہم اعتراضات کے دفع کرنے کے لئے متوجہ ہوں اور نوجوانوں کو ٹھوکر کھانے سے بچاویں۔
    ایک اور حملہ پنجاب ابزرور میں بحمایت انجمن مذکور ہم پر کیا گیا ہے جو پرچہ مؤرخہ مئی ۹۸ء ؁ میں شائع ہؤا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایڈیٹر صاحب نے پرچہ مذکور میں یہ خیال کرلیا ہے کہ گویا ہماری جماعت نے زٹلی نام ایک شخص کی گالیوں سے مشتعل ہو کر اُس کے سزا دلانے کے لئے گورنمنٹ میں میموریل بھیجا ہے اور یہ حرکت ان کی صاف جتلا رہی ہے کہ وہ جوش جو ان کو سزا دلانے کے لئے اس جگہ آیا اس جوش اور غیرت کے برخلاف وہ میموریل ہے جو انجمن حمایت اسلام کی مخالفت میں لکھا گیا ہے۔ لیکن ایڈیٹر صاحب اگر میری جماعت کے میموریل کو ذرہ غور سے


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 427
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 427
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/427/mode/1up
    427
    پڑھتےؔ تو ایسا ہرگز نہ لکھتے۔ کیونکہ اول تو اس میموریل اور انجمن کے میموریل میں گویا زمین آسمان کا فرق ہے۔ جس شخص کے سزا یا کتابوں کے تلف کرانے کے لئے انجمن نے میموریل بھیجا ہے اُس نے زٹلّی کی طرح یہ طریق اختیار نہیں کیا کہ صرف گالیاں دی ہوں۔ بلکہ علاوہ گالیوں کے اپنی دانست میں اسلامی کتابوں کے حوالے دے کر اعتراض لکھے ہیں۔ چنانچہ متعصب عیسائیوں کا اسی بات پر زور ہے کہ اُس نے کوئی گالی نہیں دی بلکہ بحوالہ کتب اسلامیہ واقعات کو بیان کیا ہے سو اگرچہ یہ بالکل سچ اور سراسر سچ ہے کہ ایسا عذر پیش کرنے والے صریح جھوٹ بولتے اور راست گوئی کے طریق کو چھوڑتے ہیں لیکن انصافاً و عقلاً ہم پر یہی لازم ہے کہ اوّل اُن بہتانوں اور الزاموں کو جو خیانت اور ناانصافی سے لگائے گئے ہیں نہایت معقولیت اور صفائی کے ساتھ رفع کریں اور پھر اگر یہی سزا کافی نہ ہو کہ دروغگو کا دروغ کھولا جائے تو ہر ایک کو اختیار ہے کہ گورنمنٹ کی طرف توجّہ کرے۔ ہم نے نہایت نیک نیّتی سے اور اُس فہم سے جو خدا نے ہمارے دل میں ڈالا ہے اِسی بات کو پسند کیا ہے کہ گالیوں کے تصور سے ہمارے دِل سخت زخمی اور مجروح ہیں لیکن نہایت ضروری اور مقدم یہی کام ہے کہ عوام کو دھوکوں سے بچانے کے لئے پہلے الزاموں کے دُور کرنے کی طرف توجہ کریں۔ انجمن اور اُس کے حامیوں کو خبر نہیں ہے کہ آجکل اکثر لوگوں کے دِ ل کس قدر بیمار اور بد ظنّی کرنے کی طرف دَوڑتے ہیں۔ پھر جس حالت میں اُس خبیث کتاب کے مؤلّف نے اپنی اس کتاب میں یہی پیشگوئی کی ہے کہ مسلمان اِس کے جواب کی طرف ہرگز توجہ نہیں کریں گے تو اب اگر یہی پہلو سزا دلانے کا اختیار کیا جائے تو گویا اُس کی بات کو سچا کرنا ہے اور عوام کا کوئی مُنہ بند نہیں کرسکتا۔ ہماری اس سزا دلانے کی کارروائی پر عام لوگوں اور عیسائیوں اور آریوں کا یہی اعتراض ہوگا کہ یہ لوگ جبکہ جواب دینے سے عاجز آگئے تو اور تدبیروں کی طرف دوڑے۔ اب سوچو کہ اس قسم کی باتیں عوام کی زبان پر جاری ہونا کس قدر دین اسلام کی سُبکی کا موجب ہوسکتی ہیں۔ لیکن انجمن کے میموریل کا میری جماعت کے میموریل پر قیاس کرنا ایسا


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 428
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 428
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/428/mode/1up
    428
    بے ؔ تعلق قیاس ہے جس کو منطق کی اصطلاح میں قیاس مع الفارق کہا جاتا ہے۔ کیونکہ زٹلی کی تحریر میں علمی رنگ میں کوئی اعتراض نہیں تا اُس کا دفع کرنا مقدم ہوتا بلکہ وہ تو صرف مسخرہ پن سے ہنسی اور ٹھٹھے کے طور پر نہایت گندی گالیاں دیتا ہے اور بجُز اُن گالیوں کے اُس کے اخبار اور اشتہار میں کُچھ بھی نہیں اور اسی قدر حیثیت اسکی زٹلّی کے لفظ سے بھی مفہوم ہوتی ہے جواُس نے اپنے لئے مقرر کیا ہے۔ پس اُس کے بارے میں میموریل بھیجنا صرف اِس غرض سے تھا کہ تا دکھلایا جائے کہ یہ لوگ کیسی گندی بد زبانی سے عادی اور ہم کو ناحق سخت گوئی سے متہم کرتے ہیں۔ چونکہ ہمارے مخالفوں نے شرارت سے یہ مشہور کررکھا ہے کہ ہماری تحریریں درشت اور سخت اور فتنہ انگیز ہیں اِس لئے ضرور تھا کہ ہم گورنمنٹ کو اُن کی تحریروں کا کچھ نمونہ دِکھلاتے جیسا کہ ہم نے کتاب البریت میں بھی کسی قدر نمونہ دکھلایا ہے۔لیکن میری جماعت کا یہ میموریل اُس حالت میں انجمن کے میموریل سے ہم رنگ اور ہم شکل ہوسکتا تھا کہ جبکہ انجمن کی طرح میری جماعت بھی زٹلّی کے باز پُرس اور سزا کے لئے کوئی درخواست کرتی اور ظاہر ہے کہ اُنہوں نے میموریل میں زٹلی کو آپ ہی معافی دے دی ہے اور لکھ دیا ہے کہ ہم کوئی سزا دلانا اُس کو نہیں چاہتے۔ اب دیکھو یہ کس قدر اخلاقی امر ہے جس کو عمداً ابزرور نے ظاہر نہیں کیاتا حقیقت کے کھلنے سے اُس کا مطلب فوت نہ ہو۔
    خلاصہ یہ کہ زٹلی کی اصل غرض صرف گالیاں دینا اور ٹھٹھا اور ہنسی کرنا ہے مگر صاحبِ رسالہ اُمّہات المؤمنین کی اصل غرض اعتراض کرنا ہے اور سخت زبانی اُس نے صرف اسی وجہ سے اختیار کی ہے کہ تا لوگ مشتعل ہو کر اُس کے اصل مقصود کی طرف توجّہ نہ کریں۔ لہٰذا اُس کی گالیوں کی طرف توجّہ کرنا اصل مطلب سے دُور جاپڑنا تھا۔ پس یہ کس قدر غلطی ہے کہ ان دونوں میموریل کو ایک ہی صورت اور ایک ہی شکل کے خیال کیا جاتا ہے۔ ہمارا یہ اصول ہونا چاہئیے کہ جب کسی مخالف کے کلام میں گالیاں اور اعتراض جمع


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 429
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 429
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/429/mode/1up
    429
    ہوںؔ تو اول اعتراضات کا جواب دے کر عامہ خلائق کو دھوکہ کھانے سے بچاویں۔ پھر اور امور کی نسبت جو کچھ مقتضا وقت اور مصلحت کا ہو وہی کریں خواہ نخواہ ہنگامہ پردازی کا سلسلہ شروع نہ کریں۔ ماسوا اِس کے جیسا کہ بیان کرچکا ہوں ہماری جماعت کے میموریل میں زٹلی کو سزا دینے کے لئے ہرگز درخواست نہیں کی گئی بلکہ اس میموریل کے فقرہ ششم کو دیکھنا چاہئیے۔ اس میں صاف طور پر لکھا ہے کہ ہم ہرگز مناسب نہیں سمجھتے کہ ملّا مذکور اور دیگر ایسے فتنہ پردازوں پر عدالت فوجداری میں مقدمات کریں۔ اِس لئے کہ ہمیں تعلیم دی گئی ہے کہ ہم اپنے اوقات گرامی کو جھگڑوں اور مقدمات میں ضائع نہ کریں اور نہ کسی ایسے امر کا ارتکاب کریں جس کا نتیجہ فساد ہو۔
    اب دیکھو کہ جس میموریل کو ہمارے اس میموریل سے متناقض سمجھا گیا ہے وہ کیسے اس کی اصل منشاء کے موافق اور مطابق ہے۔ نہایت افسوس ہے کہ قبل اس کے جو میموریل کو غور سے پڑھا جاتا اعتراض کیا گیا ہے۔
    اخیر پر پنجاب ابزرور میں اِس بات پر بہت ہی زور دیا ہے کہ ایسے سخت کلمات کے سُننے سے جو رسالہ اُمّہات المؤمنین میں درج ہیں اگر ایک مہذب آدمی جو اپنے دل پر قہر کرکے صبر کرسکتا ہے کوئی جوش دِکھلانے سے چُپ رہے تو کیا اُس کے ہم مذہبوں کی کثیر جماعت بھی جو اِس قدر صبر نہیں رکھتی چپ رہ سکتی ہے۔ یعنی بہرحال نقض امن کا اندیشہ دامنگیر ہے جس کا قانونی طور پر انسداد ضروری ہے۔‘‘ مَیں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ مَیں نے کب اور کس وقت اِس بات سے انکار کیا ہے کہ ایسی فتنہ انگیز تحریروں سے نقض امن کا احتمال ہے بلکہ مَیں تو کہتا ہوں کہ نہ صرف معمولی احتمال بلکہ سخت احتمال ہے بشرطیکہ مسلمانوں کے عوام پڑھے لکھے آدمی ہوں۔ لیکن مَیں بار بار کہتا ہوں کہ اس فتنہ کے انسداد کے لئے جو تدبیر سوچی گئی ہے اور جس مراد سے میموریل روانہ کیا گیا ہے یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ بلکہ نہایت کچا اور بودا خیال ہے۔ اِس انجمن


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 430
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 430
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/430/mode/1up
    430
    کےؔ حامی بار بار اپنے پرچوں میں بیان کرتے ہیں کہ اُس میموریل سے جو انجمن نے بھیجا ہے اصل غرض یہ ہے کہ تا رسالہ اُمّہات المؤمنین کو شائع ہونے سے روک دیا جائے۔ سو مَیں اِسی غرض پر اعتراض کرتا ہوں۔ مجھے بہت سے خطوط اور پختہ خبروں کے ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ رسالہ اُمّہات المؤمنین کی پوری طور پر اشاعت ہوچکی ہے اور ہزار کتاب مفت تقسیم ہوچکی۔ اب کونسی اشاعت باقی ہے جس کو روکا جائے۔ افسوس کیوں یہ انجمن اِس بات کو آنکھ کھول کر نہیں دیکھتی کہ اب تمام شور و فریاد بعد از وقت ہے۔ ہاں اگر یہ خیال ہو کہ اگرچہ یہ میموریل جو انجمن نے بھیجا ہے بعد از وقت ہے لیکن اگر گورنمنٹ نے یہ حکم دے دیا کہ اِن کتابوں کی اشاعت روک دی جائے تو اسلام کے عوام خوش ہوجائیں گے اور اس طرح پر نقض امن کا خطرہ نہیں رہے گا۔‘‘ تو میں کہتا ہوں کہ اب کون سا خطرناک جوش عوام میں پھیلا ہوا ہے۔ حالانکہ اس کتاب کی اشاعت پر تین مہینے گذر بھی گئے۔ اصل حال یہ ہے کہ مسلمانوں کے عوام اکثر نا خواندہ ہیں اُن کو ایسی کتابوں کے مضمون پر اطلاع بھی نہیں ہوتی ورنہ جوش پھیلنے کے وہ دن تھے جبکہ ہزار کتاب مُفت تقسیم کی گئی تھی اور بلا طلب لوگوں کے گھروں میں پہنچائی گئی تھی۔ سو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ خطرناک دن بخیرو عافیت گذر گئے اور یہ کتابیں نیک اتفاق سے ایسے لوگوں کی نظر تک محدود رہیں جن میں وحشیانہ جوش نہیں تھا۔ سچ ہے کہ اُن سب کو اس کتاب سے سخت آزار پہنچا لیکن خدا تعالیٰ کی حکمت اور فضل نے عوام کے کانوں سے اِن گندے اور اشتعال بخش مضامین کو دُور رکھا۔ بہرحال جس وقت میموریل بھیجا گیا عوام کے جوش کا وقت گذر چکا تھا ہاں جواب لکھنے کا وقت تھا اور اب تک ہے۔
    کیا انجمن کو خبر نہیں کہ کتابوں کی تحریر پر جوش دکھلانا پڑھے لکھے آدمیوں کا کام ہے اور پڑھے لکھے کسی قدرتہذیب اور صبر رکھتے ہیں۔ بیچارے عوام جو اکثر ناخواندہ ہوتے ہیں وہ ایسی سخت گوئیوں سے بیخبر رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ باوجودیکہ صدہا اِسی قسم


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 431
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 431
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/431/mode/1up
    431
    کیؔ کتابیں پادری صاحبوں نے تالیف کرکے اس ملک میں شائع کی ہیں اور اسی قسم کے مضمون ان کے اخباروں میں بھی ہمیشہ شائع ہوتے رہتے ہیں اور یہ کارروائی نہ ایک دو روز کی بلکہ ساٹھ سال کی ہے مگر پھر بھی وہ تحریریں گو کیسی ہی فتنہ انگیز ہوں لیکن یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اسباب پَیدا ہوگئے ہیں کہ جو لوگ وحشیانہ طور پر ان تحریروں سے مشتعل ہوسکتے ہیں وہ اکثر ناخواندہ ہیں اور جو لوگ ان تحریروں کو پڑھتے اور دیکھتے ہیں وہ اکثر مہذب ہیں جو تحریر کا تحریر سے ہی جواب دینا چاہتے ہیں۔ یہ وہ بات ہے جو صرف قیاسی نہیں بلکہ ساٹھ سال کے متواتر تجربہ سے ثابت ہوچکی ہے اور اگر ایسی تحریروں سے کوئی مفسدہ برپا ہوسکتاتو سب سے پہلے پادری عمادالدین کی تحریریں یہ زہریلا اثر اپنے اندر رکھتی تھیں جن کی نسبت ایک محقق انگریز نے بھی شہادت دی ہے کہ ’’اگر ۱۸۵۷ء کا غدر پھر ہونا ممکن ہے تو اس کا سبب پادری عمادالدین کی تحریریں ہوں گی‘‘ مگر مَیں کہتا ہوں کہ یہ خیال بھی خام ہے کیونکہ باوجودیکہ عمادالدین کی کتابوں کو شائع ہوئے قریباً تیس برس کا عرصہ گذر گیا مگر مسلمانوں کی طرف سے کوئی مفسدانہ حرکت صادر نہیں ہوئی اور کیونکر صادر ہو تمام مسلمان کیا ادنیٰ اور کیا اعلیٰ خوب سمجھتے ہیں کہ گورنمنٹ کو اِن تحریرات سے کچھ تعلق نہیں۔ ہر ایک شخص مذہبی آزادی کی وجہ سے اپنے اندرونی خواص دکھلارہا ہے اور گورنمنٹ نے اپنی رعایا پر ثابت کر دیا ہے کہ وہ بغیر کسی کی طرفداری کے نہایت عدل اور انصاف اور خسروانہ رحم اور شفقت سے برٹش انڈیا میں سلطنت کررہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب مسلمان کسی غیر مذہب کی ایسی سخت تحریر پاتے ہیں یا اس قسم کا رسالۂ دل آزار اُن کی نظر سے گذرتا ہے تو وہ ایسے رسالہ کو محض کسی ایک شخص کے ذاتی خبث اور عناد یا حمق اور جہل مرکب کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور معاذ اللہ کسی کو ہرگز یہ خیال نہیں آتا کہ گورنمنٹ کا اس میں کُچھ دخل ہے۔ پنجاب کے مسلمان برابر ساٹھ سال سے اِس بات کا تجربہ کررہے ہیں کہ اِس گورنمنٹ عالیہ کے اصول نہایت درجہ کے انصاف پرور اور عدل گستری پر مبنی ہیں اور ہرگز ممکن نہیں کہ ایک سیکنڈ کے لئے بھی اُن کے دِل میں گذر سکے کہ دیسی پادری اپنی سخت گوئی میں گورنمنٹ کی نظر میں معافی کے لائق ہیں۔


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 432
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 432
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/432/mode/1up
    432
    پسؔ جبکہ اس گورنمنٹ محسنہ کی نسبت رعایا کے دِل نہایت صاف ہیں تو اِس صورت میں اگر پادریوں کی سخت گوئی سے کسی نقضِ امن کا اندیشہ ہوتو شاید اسی قدر ہو کہ کسی موقعہ پر ایک گروہ دوسرے گروہ سے دنگہ فساد کرے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ تجربہ مدّت دراز کا ہم پر ثابت کرتا ہے کہ آج تک یہ دنگہ فساد بھی ایک قوم کا دُوسری قوم سے وقوع میں نہیں آیا۔حالانکہ اس گذشتہ ساٹھ سال میں ہم لوگوں نے دیسی پادری صاحبوں کی وہ سخت تحریریں پڑھی ہیں اور وہ دلآزار کلمے ہماری نظر سے گذرے ہیں جن سے دِل ٹکڑے ٹکڑے ہوسکتا ہے اور باایں ہمہ مسلمانوں کی طرف سے کوئی طیش و اشتعال ظاہر نہیں ہوا۔ اِس کا یہ سبب ہے کہ مسلمانوں کے علماء ردّ لکھنے کی طرف متوجہ ہوگئے۔ پس جس جوش کو بعض جاہلوں نے وحشیانہ طور پر ظاہر کرنا تھا وہ مہذبانہ طور پر قلم اور کاغذ کے ذریعہ سے ظاہر کیا گیا اور باایں ہمہ ایک گروہ کثیر مسلمانوں کا ناخواندہ ہے جوایسی تحریرات سے کچھ بھی خبر نہیں رکھتا۔ پس یہی موجب ہے کہ یہ تمام زہریلی تحریریں کسی فساد کی موجب نہ ہوسکیں اور یقین کیا جاتا ہے کہ آئندہ بھی موجب نہ ہوں کیونکہ مسلمان اب عرصہ ساٹھ سال سے اِس عادت پر پختہ ہوگئے ہیں کہ تحریروں کا جواب تحریروں سے دیا جائے اور یہ حکمت عملی امن قائم رکھنے کے لئے نہایت عمدہ اور مؤثر ہے کہ آئندہ بھی اسی عادت پر پختہ رہیں اور دُوسرے طریقوں کی طرف دل کو نہ پھیریں۔
    ماسوا اس کے اِس طریق میں علمی ترقی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اِس برٹش انڈیا میں ایک کم استعداد اور کم علم مباحث بھی جو پادریوں کے ساتھ سلسلہ بحث جاری رکھتا ہے اِس قدر اپنے مباحثہ میں معلومات پیدا کرلیتا ہے کہ اگر قسطنطنیہ میں جاکر ایک نامی فاضل کو وہ باتیں پوچھی جائیں جو اس شخص کو یاد ہوتی ہیں تو وہ ہرگز بتلا نہیں سکے گا۔ کیونکہ اُس مُلک میں ایسے مباحثات نہیں کئے جاتے اِس لئے وہ لوگ اِس کوچہ سے واقف نہیں ہوتے اور اکثر سادہ لوح اور بیخبر ہوتے ہیں۔ اب ہم اغراض مذکورہ بالا کے لئے ایک عربی رسالہ جس کا ترجمہ فارسی میں ہر ایک سطر کے نیچے لکھا گیا ہے۔ اِس رسالے کے بعد لکھتے ہیں کیونکہ بعض دور دراز ملکوں کے لوگ اُردو پڑھ نہیں سکتے۔ جیسا کہ بلاد عرب کے رہنے والے یا ایران و بخارا و کابل وغیرہ کے باشندے۔ اس لئے یہی قرین مصلحت معلوم ہوا کہ اِس عظیم الشان کام کو مشتہر کرنے کے لئے عربی اور فارسی میں بھی کچھ تحریر کیا جائے تایہ لوگ بھی دولت اعانت دین سے محروم نہ رہیں اور خداتعالیٰ سے ہم توفیق چاہتے ہیں کہ اِس رسالہ عربی اور فارسی کو بھی ہمارے ہاتھوں سے پُورا کرے۔ آمین


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 433
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 433
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/433/mode/1up
    433
    اَلْحَمْدُ للرحمٰن الذی ابتدء بالافضال۔ و اسبغ منَ العَطاء من غیر عملٍ سبق من العُمّال۔ الکریم الذی نضح عَنّا المکارہ و اتمّ علینا انواع النوال۔ و اعطانا کل شیء قبل السوال و اظہار الآمال۔ بعث لنا رسولًا کریمًا بارعًا فی الخصال۔ سبّاق غایات فی کل نوع الکمال۔ خاتم الرسل و النبیین۔ النبیّ الامیّ الذی ہو محمّدٌ بما حُمّد علٰی السن المستفیضین۔ و بما بذل الجُھد للامۃ و شاد الدین۔ و بما جاء لنا بکتاب مبین۔ و بما اوذی لنا عند تبلیغ رسالات ربّ العٰلمین۔ وبما اکمل کلّ ما لم یُکمل فی الکتب الاولٰی۔ و اعطٰی شریعۃ منزھۃ عن الافراط والتفریط و نقائص اخریٰ۔ و اکمل الاخلاق و اتمّ ما حَرٰی۔ و احسن الی طوائف الوریٰ۔ و علم الرشد بغرر البیان و وحی اجلی۔ و عصم من الضلالۃ و تحامیٰ۔ و انطق العجماوات و نفخ فیھم روح الھُدٰی۔ و جعلھم ورثاء کافّۃ المرسلین۔ و طھّرھم و زکّاھم حتی فنوا فی مرضات الحضرۃ۔ و اھراقوا دماءھم للّٰہ
    ہمہ تعریف آن بخشندہ را کہ آغاز کارا و بفضل ہاست۔ آنکہ پیش از صدور اعمال بخشش خود کامل کرد۔ کریمے کہ از ما مکروہات را دور کرد و اقسام جود و بخشش را بکمال رسانید و پیش زانکہ سوال کنیم و امید ہارا بنمائیم ہمہ چیز مارا داد
    و برائے ما آں رسول مبعوث فرمود کہ کریم است و درخصلتہائے نیکو از ہمہ برتر است و در میدان ہر نوع کمال بر دیگران سبقت میدارد و خاتم الانبیا ست۔ آن بنی امّی کہ نام او محمد ازیں روست کہ برزبان فیض یا بندگان بغایت تعریف کردہ شدہ است۔ و ازیں رو کہ برائے امت و اعلاء کلمۂ دین کوششہائے بلیغ کردہ است و نیز برائے اینکہ کتا بے مفصل برائے ما
    آورد و نیز برائے اینکہ از بہر ما تکلیف ہا برداشتہ پیغام خدا تعالیٰ بخلق رسانید و نیز برائے اینکہ آن معارف و ہدایات را کامل کرد کہ پیش از او ناقص ماندہ بودندو نیز برائے اینکہ آن شریعتے آورد کہ از افراط و تفریط و دیگر نقصانہا پاک است و اخلاق را بدرجہ کمال رسانیدو آنچہ ناقص ماندہ بود تکمیل آن کرد و بر طوائف مخلوق احسان فرمود و از بیان فصیح و وحی صریح طریق رشد آموخت و از گمراہی نگہداشت۔ و چار پایان را در نطق آورد ۔و در ایشان روح زندگی بدمید و اوشان را وراثِ پیغمبران کرد۔ و او شانرا پاک کردہ تزکیہ نفوس فرمود بحدیکہ در رضا ہائے الٰہی محو شدند۔ و خون خود برائے خدائے بزرگ ریختند


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 434
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 434
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/434/mode/1up
    434
    ذیؔ العزۃ ۔ و اسلموا وجوھھم منقادین۔ و کذالک علم معارف مبتکرۃ۔ و لطائف مکنونۃ۔ ونکات نادرۃ۔ حتی بلغنا الفضل باغتراف فضالتہ۔ و عرفنا ادلۃ الحق باختراف دلالتہٖ۔ و صعدنا الی السّماء بعد ما کنّا خاسفین۔ اللھم فصلّ علیہ و سلّم الی یوم الدین۔ و علٰی آلہ
    الطاھرین الطیبین۔ و اصحابہ الناصرین المنصُورین۔ نخب اللّٰہ الذین آثروا اللّٰہ علی انفسھم و اعراضھم و اموالھم والبنین۔ والسلام علیکم یا معشر الاخوان۔ لقیتم خیرا و وُقیتم شرور الزمان۔ و رُزقتم مرضات ربّ العالمین۔
    اما بعد فاعلموا ایھا الاخوان۔ و الاحباب و الاقران۔ انّ الزمان قد اظھر العجب۔ و ارانا الشجیٰٰ والشجب۔ و سخر بوم لیلۃ ا للیلاء من الدرۃ البیضاء و شارف ان تشن الغارات علٰی دینالرحمٰن۔ الذی ضمّخ بالطیب العمیم من العرفان۔ و اُودِع لفائف نعیم الجنان۔ و سیقت الیہ انہار
    وپیش او باطاعت رو نہادند۔ وہم چنیں آن نبی نکتہ ہائے جدیدہ معرفت آموخت و لطیفہ ہائے پوشیدہ تعلیم فرمود۔ وبر نکتہ ہائے نادرہ اطلاع داد۔ وکار بجائے رسانید کہ ما از پس خوردۂ او تا مقام فضیلت رسیدیم۔ و بچیدن میوہ رہبری او دلائل حق را شناختیم۔ بعد زان کہ بزمین فرور فنا بودیم سوئے آسمان بالا رفتیم۔ اے خدا پس برو درود و سلام تا قیامت فریسندہ باش۔ و ہم چنین بر آلِ او کہ طاہر القلب و طیب الاخلاق بودند۔ و نیز بر اصحاب او کہ مددگاران دین و مدد یافتگان بودند۔ برگزیدگان خدا آنانکہ خدائے عزّوجل را برنفسہائے خود و آبرو ہائے خود و مالہائے خود و پسران خود اختیار کردند۔ وبر شما سلام اے گروہ برادران۔ خدا شمارا از نیکی بہرہ بخشد و از بدی محفوظ دارد۔ و رضائے الٰہی شامل حال شما گردو۔
    بعد زیں پس بدانید اے برادران و دوستان و مسلمانان ہم زمانہ کہ این زمانہ عجبے ظاہر نمودہ است و مارا غمے و اندوہے نمود و بوم شب تاریک بر گوہر تابان خندہ زد و نزدیک رسید کہ دین اسلام بتاراج ہارود۔ آن دین کہ بہ خوشبوہائے معرفت عامہ معطر است۔ و دیعت نہادہ شد درو نعمت ہائے بیک دیگر پیچیدہ از نعمت ہائے بہشت و نہرہائے
    سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ۔ صحیح "فرود" ہے۔ (ناشر


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 435
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 435
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/435/mode/1up
    435
    من ماء معین۔ و تفصیل ذالک ان بعض السفھاء من المتنصرین۔ والمرتدین
    الضالینؔ ۔ سبّوا نبیّنا محقرین غیر مبالین۔ و طعنوا فی دیننا مستھزئین۔ مع انھم
    اتخذوا الٰھا من دون الرحمٰن۔ و ترکوا اللّٰہ عاکفین علی الانسان۔ و جاؤا
    بِاِفک مبین۔ فلا یَسْتَحْیَوْنَ بل یوذون اھل الحق جالعین۔ ویفسدون فی
    الارض مجترئین۔ و یصولون علی المسلمین مغضبین۔ وکنا مامورین لازالۃ
    تماثیلھم۔ وازاحۃ اباطیلھم۔ و اجاحۃ تساویلھم۔ و اقتلاع اقاویلھم۔ والاٰن
    ظھر الامر معکوسًا۔ و عاب اللیل شموسًا۔ وصال المتنصرون علی
    المسلمین۔ و من فتنھم الجدیدۃ ان رجلًا منھم الف کتابا و سمّاہ امّھات
    المؤمنین۔ وسلک فیہ کل طریق السبّ و الافتراء کالمفسدین الفتّانین۔ انہ
    امرء استعمل السفاھۃ فی خطابہ۔ و اَبْدیٰ عذرۃ کانت فی وطابہ۔
    و اظھر کانّہ اتمّ الحجۃ فی کتابہ۔ و ختم المباحث بفصل خطابہ۔ و لَیْسَ
    آب صافی سوئے او کشیدہ شد و تفصیل این قصہ این است کہ بعض نادانان از نوعیسائیان و مرتدان و گمراہان رسول ما صلی اللہ علیہ وسلم را بہ بیباکی و لا پروائی و دشنام می دہند و خندہ کنان در دین ما طعنہ می زنند۔ باوجودیکہ این مردم بجُزِ خدا وند حقیقی خدائے از پیش خود تراشیدہ اند۔ و خداوند حقیقی راترک کردہ بر انسانے رو آوردہ اندو دروغ صریح آوردند۔ پس حیا نمی کنند بلکہ اہل حق را از راہ بے شرمی ایذا می دہند
    و در زمین بجرأت و دلیری آمادۂ فساداند۔ و بر مسلمانان در حالت خشم حملہ می کنند ۔وما مامور بودیم کہ ازالۂ بُت ہائے ایشاں کنیم۔ و عقائد باطلۂ ایشاں را دور کنیم و کلمات زینت داد ۂ ایشاں را از بیخ بر کنیم و سخنہائے باطل ایشان را از بن برآریم مگر اکنون امر منعکس شدو شب میخواہد کہ عیب آفتاب ہا بگیرد و نو عیسائیان
    بر مسلمانان حملہ آور شدند۔ و از فتنہ ہائے نو پیدا کردۂ ایشان یکے این است کہ شخصے ازیشان کتابے تالیف کردہ نام آن امہات المومنین نہاد۔ و در آن کتاب از ہرگونہ دشنام و افترا را ہمچو مفسدان و فتنہ انگیزان درج کرد۔ او مرد کے راست کہ در کتاب خود سفاہت را اختیار کرد۔ و پلیدی را کہ در مشکہائے او بود ظاہر نمود۔و ظاہر کرد کہ گویا حجت را باتمام رسانیدہ است و گویا بفیصلہ خود بحث ہارا ختم کردہ است ۔و در کتاب


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 436
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 436
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/436/mode/1up
    436
    فی کتابہ من غیر السبّ و الشتم۔ و کلمات لا یلیق لاھل الحیاء والحزم۔ بید انہ ابدع بارسال کتبہ من غیر طلب الی المسلمین الغیورین من اعزۃ القومؔ و نخب المؤمنین۔ وتلک ہی النار التی التھبت فی ضرم المتألمین۔
    و احرقت قلوب المؤمنین المسلمین۔ فلما رَأَیْنَا ھٰذا الکتاب۔ و عثرنا علٰی غلواۂ و ما سبّ و ذاب۔ قرئنا کلمہ الموذیۃ۔ و آنسنا قذفاتہ المغضبۃ
    و شاھدنا ضیمہ الصریح۔ و قولہ القبیح۔ واجتلینا ما استعمل من جور
    و اعتساف۔ وقذف و شتم کاجلاف۔ علمنا انہ نطق بھا معتمدًا لاغضاب المسلمین۔ و ما تفوّہ علی وجہ الجد کالمسترشدین المحققین۔ بل تکلم فی
    شان سیّد الانام باقبح الکلام۔ کما ہو عادۃ الاجلاف و اللئام لیوذی قلوب المسلمین۔ و طوائف اھل الاسلام۔ و یُغلی قلوب امۃ خیر المرسلین۔ فظھر کما اراد ھٰذا الفتان۔ و تالّم بکلمہ کل من فی قلبہ الایمان۔ و اصاب المسلمین بقذفہٖ
    او بجز سبّ و شتم چیزے نیست۔ و بجز آن کلمات کہ اہل حیا و احتیاط را لائق نیستند۔ مگر این است کہ او این بدعت ایجاد کرد کہ بغیر طلب سوئے مسلمانان باغیرت کتابہا فرستاد و آن مسلمانان معززان قوم و برگزیدگان ایمانداران بودند۔ و این ہماں آتش است کہ در ہیزم ریزہ درد مندان مشتعل شد و دِلہائے مسلمانان بسوخت۔ پس ماچون آن کتاب رادیدم و بر بیہودگیہائے آن اطلاع یافتم و نیز بردشنام و عیب تراشی مطلع گشتیم و کلمات دلآزار او را بخواندیم و دُشنامہائے در غضب آرندۂ او رادیدیم و ظلم صریح و قول قبیح او را مشاہدہ کردیم ۔وہمہ نقشۂ جور و تعدی و دشنام دہی باترتیب آن ملاحظہ کردیم و ہمہ آنچہ فحش گوئی و دشنام دہی ہمچو کمینگان کردہ بود دانستیم کہ این شخص عمداً چنین کلمات استعمال کردہ است تا مسلمانان را درخشم آرد۔ و بطور محققان حق جو د حق پسند سخنے نگفتہ۔ بلکہ در شان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہ بد ترین کلمات تکلم کردہ است چنانچہ عادت مردم کمینہ است تا دل مسلمانان و عامہ اہل اسلام را بر نجاند و دلہائے امت خیرالمرسلین را جوش دہد۔ پس چنانچہ او ارادہ کردہ بود ہماں بظہور آمد و ہر مومنے بکلمات او دردمند شد۔ و مسلمانان را بہ بد گفتن او دردناک


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 437
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 437
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/437/mode/1up
    437
    جراحۃ مؤلمۃ۔ و قرحۃ غیر ملتئمۃ۔ و ظنوا انھم من المجرمین۔ ان لم ینتقموا کالمؤمنین المخلصین۔ و ذکروا بھا ایام الاولین۔ ولو لا منعھم ادب السلطنۃ المحسنۃ۔ و تذکّر عنایات الدولۃ البرطانیۃ۔ لعملوا عملًا کالمجانین۔ ولاؔ شک ان ھٰذا السفیہ اعتدیٰ فی کلماتہ۔ و اغری العامۃ بجھلا تہ۔ و جاوز الحد کالغالین۔ فلاجل ذالک قد ھاجت الضوضاۃ۔ و ارتفعت الاصوات۔ و تضاغی الناس برنّۃ النیاحۃ۔ و اشتعل الطبائع من ھٰذھ الوقاحۃ۔ و مُلِا الجرائد بتلک الاذکار۔ و قام کل احد ککُماۃ المضمار۔ بما آذی کالمعتدین۔
    والحاصل انہ افترٰی و تجرّم۔ و اراد ان یستأصل الحق و یتصرّم۔ و اسبل غطاءًا غلیظًا لاغلاط الناس۔ و اراد اَنْ یُطفئ انوار النبراس۔ فنھض المسلمون مستشیطین مشتعلین۔ و صاروا طرائق قددازاعقین مغتاظین۔ فذھب بعضھم الی ان یُبلغ الامر الی الحکام۔ و یترافع لغرض الانتقام۔ واآاخرون
    جراحتے رسید ۔و زخمے کہ قابل التیام نیست۔ و گمان کردند کہ اوشاں گنہگار اند۔ اگر ازو انتقام نگیرند و روز ہائے گزشتہ را یاد کردند ۔و اگر اوشان را ادب سلطنت احسان کنندہ و عنایتہائے دولت برطانیہ یا نیامدے پس ہمچو دیوانگان کارے کردندے و ہیچ شک نیست کہ ایں نادان در کلمات خود از حد تجاوز کردہ است۔ و بجہالت ہائے خود عامہ مردم را مشتعل کرد۔ و ہمچو غلو کنندگان از حد بیرون شد۔ پس برائے ہمیں شورے برخاست۔ و آواز ہا بلند شد۔ و مردم گریہ کنندہ فریاد کردند وازیں بے شرمی در طبیعت ہا اشتعال پیدا شد۔ و اخبار ہا ازین تذکرہ ہا پرشدند و ہریکے ہمچو
    دلیر میدان بوجہ دلآزاری آن شخص برخاست۔
    حاصل کلام این است کہ آں شخص افترا کرد و معصومے را بگناہ منسوب کرد و خواست کہ بیخ کنی حق کند و آنرا منقطع کندو برائے مغالطہ دہی مردم پردہ غلیظ آویخت۔ و بخواست کہ نور ہائے چراغ را بمیراند پس مسلمانان در غضب و خشم بخاستند۔ و در بارہ تدارکِ شر آن شخص در رائے ہائے خود متفرق شدند بحالیکہ فریاد کنندگان و خشمناک بودند۔ پس رائے بعض مردم ایں شد کہ ایں امر را تا حکام رسانیدہ شود۔و بغرض انتقام نالش کردہ شود۔ لیکن مردمان


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 438
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 438
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/438/mode/1up
    438
    مالوا الی الردّ علٰی تلک الاوھام۔ و حسبوہ من واجبات الاسلام۔ فالذین اختاروا الترافع عرضوا شکواھم علی حضرۃ نائب الدولۃ۔و ارسلُوا ما کتبوا لھذہ الخطّۃ۔ و الفریق الثانی توجّھوا الی ردّ الکتاب۔ والآخرون وجموا من الاکتیاب۔ و کذالک اختلفوا فی الاعمال و الاٰراء۔ واستخلص کل احد ما ھدیٰ الیہ من ؔ الدھاء۔ فالذی اُشرب حسّی۔ و تلقفہ حدسی۔ ان الاصوب طریق الردّ و الذبّ۔ لا الاستغاثۃ ولا السبّ بالسبّ۔ وانی اعلم بلبال المسلمین۔ وما عریٰ قلوب المؤمنین مِن السن الموذین۔ ولکنی اری الخیر فی ان نجتنب المحاکمات۔ ولا نوقع انفسنا فی المخاصمات۔ و نتحامیٰ اموالنا من غرامات التنازعات۔ و اعراضنا من القیام امام القضاۃ۔ و نصبر علی ضجر اصابنا۔ و غمّ اذابنا۔ لیعدّمنا مبرۃ عند احکم الحاکمین۔ و ما نسینا ما رأینا من جورٍ و عسفٍ۔ و ایّ حرّ رضی بخسفٍ۔ و قد اوذینا فی دیننا القویم و رسولنا الکریم۔
    دیگر سوئے ردّ کتاب مائل شدند و ایں امر ردّ کردن را از واجبات اسلام دانستند۔ پس آنانکہ مرافعہ را یعنے استغاثہ را پسند داشتند ایشاں این شکوہ را بحضرت نائب دولت بردند و عریضۂ کہ برائے این کار طیار کردہ بودند فرستادند۔ و فریق ثانی سوئے ردّ کتاب متوجہ شدند و دیگراں کہ بودند از غم و درد خاموشی اختیار کردند و ہم چنیں در عملہا ورائے ہا اختلاف کردند و ہریکے ہمان طریق عقل را اختیار کرد کہ ارادۂ غیبی او را ہدایت فرمود۔ پس چیزے کہ ضرورت آں من محسوس کردم و فراست من اورا از غیب یافت آن این بود کہ از ہمہ تدابیر ردّ کتاب آں نوعیسائی ضروری و قریب بصواب است ایں مناسب نیست کہ نالش کنیم یا دشنام بعوض دشنامہا دہیم و من خوب میدانم کہ مسلمانان ازیں کتاب چہ بے قرار ی ہامی دارند و مرا خوب معلوم است کہ از ایذائے این موذی بر دِل مسلمانان چہ طاری است مگر من در ہمیں امر خیر می بینم کہ ماسوئے محکمہ ہا و عدالت ہا رجوع نکنیم و نفسہائے خود را در خصومتہا نے فگنیم و مالہائے خود را از تاوانہائے تنازعہا نگہداریم۔ و عزّتہائے خود را از ایستادن پیش حاکماں محفوظ داریم و برغمے کہ بر سد صبر کنیم و اندوہے کہ بگدازد شکیبائی بنمائیم تا ایں کار از مانزد احکم الحاکمین نیکی شمردہ شود۔ و ماجور و ظلم را فراموش نکردیم۔ و کدام آزاد است کہ بذلّت راضی شود۔ و مارا در دین درست ما و رسول بزرگ ما ایذا دادہ شد۔


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 439
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 439
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/439/mode/1up
    439
    و آنسنا ما ھیّج الاسف و اجری العبرات۔ و شاھدنا ما اضجر القلب و زجّیٰ الزفرات۔ بیدان الدولۃ البرطانیۃ لھٰؤلاء کالاواصر المومّلۃ۔ و لقسّیسین حقوق علی ھذہ الدولۃ۔ و نعلم ان نبذ حرمھم امرٌ لا ترضاہ ھذہ السلطنۃ و یُنصبھا ھذا القصد و تشق علیھا ھذہ المعدلۃ۔ ولھا علینا منن یجب ان لا نلغیھا۔ فلنصبر علی ما اصابنا لعلّنا نرضیھا۔ و ما نفعل بتعذیب المتنصرین وؔ قد رأینا امنًا من حکامھا العادلین۔ و وجدنا بِہم کثیرا من غض و سرور۔ و خفض و حبور و ما مسّنا منھم شظفٌ فی الدّین۔ ولا جنف کالظالمین من السلاطین۔ بل اعطونا حرّیۃً فعلاو قولا۔ و ارضونا حفاوۃ و طولا۔ و ما رائینا سوءً ا من ھذہ الدولۃ۔ و لا قشفًا کایّام الخالصۃ۔ بل رُبّینا تَحْت ظلھا مذ میطت عنا التمائم۔ و نیطت بنا العمائم۔ و عشنا بکنفھا آمنین۔ و جعلھا اللّٰہ لنا کعَیْن نستسقیھا۔ وکعین نجتلی بھا۔ فنحاذر ان یفرط الی ھٰذہ
    و چیز ہادیدیم کہ غم انگیخت و اشکہاجاری کرد و چیزے مشاہدہ کردیم کہ دل را تنگ کرد و آہ ہارا پیدا کرد مگر این است کہ دولت برطانیہ برائے ایں مردم ہمچو علاقہ ہائے امید داشتہ شدہ است و مر پادریان را بریں دولت حقوق خدمات اند۔ وما میدانیم کہ بے عزّت کردن او شان کاریست کہ دولت برطانیہ براں خوشنود نتواند شد و ایں قصد او را رنج خواہد داد و ایں عدالت کارے خواہد بود کہ خلاف طبع کردہ آید۔ و ایں دولت را برما احسان ہا ست واجب است کہ از شمار نیفگنیم آنرا بلکہ واجب است کہ مابر زیادت پادریان صبر کنیم مگر شاید ازیں جہت دولت برطانیہ را خوش کنیم و مارا درأے سزائے نو عیسائیان شدن چہ نفع خواہد داد۔ و مارا غور باید کرد کہ ازیں حکام چہ قدر امن یافتیم۔ و مابدیشان بسیار تازگی و خوشی دیدیم و آسانی و شادمانی را یافتیم۔ و ازیشان ہیچ رنجے در دین بما نہ رسید۔ و نہ ہیچ جورے ہمچو جور ہائے بادشاہان ظالم بلکہ مارا در گفتارو کردار آزادی دادہ اند و چنداں احسان کردند کہ ماراضی شدیم و ما ازیشاں ہیچ بدی ندیدہ ایم و نہ سختی ہمچو ایّام سِکھاں بلکہ مااز روز خوردی تا روز بزرگی زیر سایۂ ایں دولت پرورش یافتیم ودر پناہ او بامن زندگی بسر بردیم و خدا اورا برائے ما ہمچو آں چشمہ بگردانید کہ ازاں آب می جوئیم و ہمچوآں بگردانید کہ بآں می بینم۔ پس می ترسیم کہ


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 440
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 440
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/440/mode/1up
    440
    الدولۃ بعض الشبھات۔ و تحسبنا من قوم یضمرون الفساد فی النیات۔ فلذالک ما رضینا بان نترافع لتعذیب ھذا القذاف الشریر۔ و اعرضنا عن مثل ھٰذہ التدابیر۔ و حسبنا انہ عمل لا ترضاہ الدولۃ۔ و لا تستجادہ تلک السلطنۃ۔ فکففنا کالمعرضین۔ و سمعتُ انّ بعض المستعجلین من المسلمین۔ارسلوا رسائل الی الدولۃ مستغیثین۔ و تمنّوا ان یوخذ المؤلّف کالمجرمین۔ و ان ھی الا امانی کامانی المجانین۔ و امّا نحن فما نری فی ھذا التدابیر عاقبۃ الخیر۔ وؔ لا تفصیًا من الضیر۔ بل ہوفعل لا نتیجۃ لہ من غیر شماتۃ الاعداء۔ ولا یُستکفیٰ بہ الافتتان بمکائد اھل الافتراء۔ ولو سلکنا سبیل الاستغاثۃ و نترافع لاخذ مؤلف ھذہ الرسالۃ۔ لنُعزیٰ الٰی فضوح الحصر۔ و نرھق بمعتبۃ عند اھل العصر۔ و یقال فینا اقوال بغوائل الزخرفۃ۔ و یقطع عرضنا
    بحصائد الالسنۃ۔ و یقول السفھاء انہم عجزوا من الاتیان بالجواب۔ فلا
    از بعض حرکات ما ایں دولت محسنہ بہ نسبت مادر شبہات افتد و مارا چناں پندارد کہ ما فساد را در نیت ہا مخفی میداریم پس از ہمیں سبب ماراضی نشدیم کہ برائے ایں بدگو سُوئے ایں دولت شکایت بردہ شود۔ و از ہمچو ایں تدبیر ہا پر ہیز کردیم و پنداشتیم کہ ایں کارے است کہ ایں دولت براں راضی نخواہد شد و ایں کار را ایں سلطنت خوب نخواہد پنداشت پس ہمچو اعراض کنندگان ازیں کار دست بردارشدیم۔ و من شنیدہ ام کہ بعض شتابکاران از مسلمانان سوئے ایں دولت عرائض فرستادہ اند تا مؤلف امہات المومنین را سزا دہانند مگر ایں آرزو ہائے خام ہمچو آرزو ہائے دیوانگان اند۔ مگر مادر ایں تدبیر انجام خیر نمی بینیم۔ ونہ از گزند ہائے مشاہدہ می کنیم۔ بلکہ ایں کارے بے سود است کہ ہیچ نتیجہ ندارد بجز شماتت اعدا۔ و ازیں تدبیر انسداد آں فتنہ نمی شود کہ از مکر ہائے اہل افترا ظہور پذیر است۔ و اگر ما بر طریق استغاثہ قدم زنیم و برائے سزائے آں مؤلف بحضور دولت برطانیہ شکایت بریم البتہ سوئے درماندگی و زبان بستگی منسوب خواہیم شد و نزد جہانیاں بعتابے ماخوذ خواہیم گردید۔ و دربارہ ما سخن ہائے پُر زہر و باطل خواہند گفت و آبروئے ما بداسہائے زبانہا قطع کردہ خواہد شد۔ و نادانہا در حق ما خواہند گفت کہ اوشاں از جواب دادن عاجز آمدہ سوئے


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 441
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 441
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/441/mode/1up
    441
    جرم توجھوا الی الحکّام من التضرم والاضطراب۔ فبعد ذالک لا تبقیٰ لنا معذرۃ۔ و ترجع الینا مندمۃ و تبعۃ۔ فلیس بصواب ان نطلب ھذہ المنیۃ۔ و نرود ھذہ البُغیۃ۔ و لَیْس بحریّ ان نسعٰی کالنادبات الی السلطنۃ۔ و نُضحی انفسنا من مأمن الحجج البیّنۃ۔ و نضیع اوقاتنا فی البکاء والصُراخ کالنسوۃ۔ ولا نفکر لھدم بناء ھذہ الفرقۃ۔ ولا نتوجہ الٰی خزعبیلاتھم ولا نزیح وساوس جھلاتھم۔ ونترکھم فی کبرھم و زھوھم۔ ولا ننبھھم علی غلطہم و سھوھم۔ ولا نأخذھم علی بھتانھم و افتراءھم۔ ولا نری الخلق خیانتھم و قلۃؔ حیاءھم۔ و نفرح بماینالھم من الحاکمین۔ بل ینبغی ان نجیح اوھامھم و نکسّر اقلامھم۔ و نجعل کلمھم مضغۃ للماضغین۔ وان لم نفعل ھذا فما فعلنا شیءًا فی خدمۃ الدین۔ وما عرفنا صنیعۃ اللّٰہ خیر المحسنین۔ وما شکرنا بل انفدنا الوقت غافلین۔ فان اللّٰہ وھب لنا حریۃً تامّۃً لھذہ
    حکام بحالت خشمناکی و بیقراری توجہ کردند پس بعد ازاں ہییچ عذر ما نخواہد ماند و انجام کار ما ندامت و خاتمہ کار بد خواہد بود۔ پس ایں طریق خوب نیست کہ ما ایں مراد را بطلبیم و ایں آرزو را بخواہیم و لائق نیست کہ ماہمچو زنان ماتم کنندگان سوئے سلطنت بدویم و نفسہائے خود را از امن گاہ حجت ہائے آشکارا بیروں آریم۔ و وقت خود را ہمچو زنان در گریستن و فریاد کردن بسر بریم و برائے شکستن بنائے ایں فرقہ ہیچ فکرے نکنیم۔ و سوئے خیالات باطلہ نصرانیاں توجہ نکنیم و وسوسہ ہائے باطلہ ایشاں را دور نگردانیم و ایشاں را در تکبر و نخوت ایشاں بگذاریم و بر غلطی ایشاں ایشانرا خبردار نکنیم و بر بہتان و افتراء ایشاں ایشان را مواخذہ نکنیم و مردم را خیانت و کمی حیاء ایشاں نہ نمائیم و صرف بر سزائے ایشان خوش شویم بلکہ ایں مناسب است کہ ماوہم ہائے ایشانرا از بیخ بر کنیم و قلمہائے ایشانرا بشکنیم و کلمہ ہائے ایشانرا چیزے گردانیم کہ مردم آنرا زیر دندان بخایند و اگر چنیں نکنیم پس در خدمت دین چیزے نکردیم و منت خدا را نہ شناختیم۔ و نہ شکر کردیم بلکہ در غفلت زندگی گذرانیدیم چرا کہ خدا تعالیٰ ما را آزادی کامل بخشیدہ است


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 442
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 442
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/442/mode/1up
    442
    الامور لنحقّ الحق و نبطل ما صنع اھل الزور۔ فلولم نمتع بھذہ الحریّۃ۔ فما شکرنا نعم اللّٰہ ذی الجود والموھبۃ۔ وما کنّا من الشاکرین۔ الم ترو کیف نعیش احرارًا تحت ظلّ ھذہ السلطنۃ۔ و کیف خُیّرنا فی دیننا و اوتینا حریۃ فی مباحث الملّۃ الاسلامیۃ۔ و اُخرجنا من حبس کنا فیھا فی عہد دولۃ الخالصۃ۔ و فُوّضنا الٰی قوم راحمین۔ و انّ حکّامنا لا یمنعوننا من المناظرات والمباحثات۔ ولا یکفؤننا ان کان البحث فی حُلل الرفق و بصحۃ النیات۔ ولا یحیفون متعصبین۔ فلاجل ذالک نستسنی دولتھم و نستغزر دیمۃ نصرتہم۔ فانا لا نریٰ تلھب جذوتھم۔ عند ردّ مذھبھم۔ و اؔ زراء ملّتھم۔ و ھٰذا ھو الذی جذب القلوب الٰی محبتھم۔ و امال الطبائع الٰی طاعتھم۔
    و احبہم الینا کالسّلاطین المسلمین۔ و انہم قوم قد اسرونا بمنتھم۔ لا بسلاسل حکومتھم۔ و قیّدونا بایادی نعمتھم۔ لا بایدی سطوتھم۔ فواللّٰہ
    تاکہ حق را ثابت کنیم و آنچہ کاذبان ساختہ اند آنرا ردّ کنیم پس اگر ازیں آزادی فائدہ نہ گیریم پس خدا را شکر بجا نیا وردیم و در شکر گزاراں خود را داخل نکردیم آیا نمی بینید کہ چگونہ بآزادی زیر سایہ ایں سلطنت زندگی بسر مے کنیم و چگونہ در دین خود مختار و در مباحثات مذہبیہ آزادیم و ازاں قید رہا کردہ شدیم کہ در عہد دولت خالصہ دراں مقید بودیم و سوئے قومے کہ رحم میکند سپردہ شدیم۔ و حکام ماما را از مباحثات منع نمی کنند و مارا ازیں کار باز نمی دارند بشرطیکہ بحث در پیرایہ نرمی و بصحت نیت باشد و از تعصب ظلم نمی کنند از ہمیں سبب خیر خواہ ایں دولتیم و دعائے بسیاری ایں باران نصرت الٰہی چرا کہ ما ہیچ اشتعال در ایشاں در وقت ردّ مذہب ایشان و نکتہ چینی ملت ایشاں نمی یابیم و ایں ہماں امر است کہ دلہا را بسوئے محبت ایشاں کشیدہ و از ہمیں وجہ طبیعتہا سوئے طاعت ایشاں خمیدہ و ما ہمچو شاہان مسلمان بدیشاں محبت کنیم و ایشاں مارا باحسان خود قید کردہ اند نہ بزنجیر ہا و بہ نعمتہا گرفتار نمودہ اند نہ بہ شوکت و حملہ خود پس بخدا


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 443
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 443
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/443/mode/1up
    443
    قد وجب شکرھم و شکر مبرتھم۔ و الذین یمنعون من شکر الدولۃ البرطانیۃ و یندّدون بانہ من مناھی الملّۃ۔ فقد جاء وا بظلم و زور۔ و تورّدوا موردًا لیس بماثور۔ ایحسبونہم ظالمین۔ حاش لِلّٰہِ و کلا۔ بل جل معروفہم و جلّی۔ انظروا الٰی بلادنا و اھلھا المخصبین۔ من القانطین والمتغربین۔ انظروا ما ایمن ھٰذا السواد۔ وما ابہج ھٰذہ البلاد۔ عمرت مساجدنا بعد تخریبھا۔ واُحییت سنننا بعد تتبیبھا۔ و اُنیرت مآذننا بعد اظلامھا۔ و رفعت مناورھا بعد اعدامھا۔ و رأینا النھار بعد اللیلۃ اللیلاء۔ و وصلنا الانھار بعد فقدان الماء۔
    و فُتح الجوامع و المساجد لذکر اللّٰہ الوحید۔ و علاصیت التوحید۔ و ترجّینا بعد تمادی الایام۔ ان یزیح سموم الکفر تریاق وعظ الاسلام۔ و حفظنا من شر کلؔ مفاجی۔ و عُدنا من تیہ الغربۃ الٰی معاج۔ و اقترب ماء النضارۃ من سرحتنا۔ وکاد یحلّ بمنبتنا و اصبحنا آمنین۔ حتی الفینا کل من الوی
    کہ شکر ایشاں و شکر نعمت ایشاں واجب است۔ و آنانکہ از شکر دولت برطانیہ منع مے کنند و ظاہر مے نمایند کہ آں از ممنوعات ملت اسلام است۔ پس ایشاں سراسر دروغ گفتہ اند۔ و جائے اختیار کردند کہ بحدیثے و اثرے ثابت نیست ایا گمان می کنند کہ ایشاں ظالم اند۔ پاکی است مر خدارا و چنیں نیست بلکہ بزرگ است احسان شان و غمہارا دُور کردہ است۔ ملک مارا ومردمان ایں دیار را کہ آسودہ حال اندچہ مقیم و چہ مسافر بہ بینید چہ قدر مبارک و پُرامن ایں نواح است و ایں دیار چہ تازگی ہادارد۔ مساجد ہائے ما پس زانکہ ویران شدہ بودند آباد شدہ اند و طریقہائے دین ما پس زانکہ مُردہ بودند زندہ شدہ اند۔ وجاہائے اذان ما پس زانکہ تاریک شدہ بودند روشن شدہ اند۔ و منارہ ہائے مساجد بعد معدوم کردن بلند کردہ شدند و بعد شب تاریک ما روز روشن را دیدیم۔ و بعد گم شدن آب بر نہر ہا رسیدیم و جامع و عام مساجد برائے ذکر الٰہی کشادہ شدند و آوازۂ توحید بلند شد و بعد مدّت ہائے مدید مارا ایں اُمید پدید آمد کہ تریاک وعظ اسلام ہوائے زہر ناکِ کفر را دُور خواہد کرد۔ و نگہ داشتہ شدیم از بدی ہر ناگاہ آیندہ و از سر گردانی غربت بجائے اقامت کردن رسیدیم و آب تازگی از درخت ما نزدیک شد و نزدیک آمد کہ بہ منبت ما فرود آید و امن یافتگان شدیم مجدیکہ ہر دشمنے معاند کہ گردن خود را


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 444
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 444
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/444/mode/1up
    444
    عنقہ من العناد۔ کالاصادق و اھل الوداد۔ و تبدی الاساود کاعوان النآد۔ و قُلِبّ عُجرنا و بُجرنا و نقل الی الصلاح و السداد۔ و نَضَرْنا بدولۃٍ جاء ت کعھاد۔ عند سنۃ جماد۔ فرأَت ھٰذہ الدولۃ دخیلۃ امرنا۔ و اطلعت علی ذوبنا و ضُمرنا۔ فآوتنا و رحمتنا۔ و واستنا و تفقدتنا۔ حتی عاد امرنا الی نعیم۔ بعد عذاب الیم۔ فالاٰن نرقد اللیل ملاءِ اجفاننا۔ ولا نخس ولا وخز لابداننا۔ تغرد فی بساتیننا بلابل التھانی و النعماء۔ مأیسۃ علی دوحۃ الصفاء بعد ما کنا نُصدم من انواع البلاء۔ فانصفوا الیس بواجب ان نشکر دولۃ جعلھا اللّٰہ سبب لھذہ الانعامات۔ و اخرجنا بیدیھا من سجن البلیات۔ الیس بحق ان نرفع لھا اکفّ الضراعۃ والابتھال۔ نحسن الیھا بالدعاء کما احسنت الینا بالنوال۔ فان لنا بھا قلوبًا طافحۃ سرورًا و وجوھًا متھللۃ وؔ مستبشرۃ حبورا۔ و ایامًا مُلئت امنا و حُرّیّۃ۔ ولیالی ضمّخت راحۃ و لُھنیۃً۔
    از عناد پیچیدہ بود ہمچو دوستان او را یافتیم و ماران سیاہ ہمچو غمخوراں کہ در وقت سختی و رنج مدد می کنند ظاہر شدند و ظاہر و باطن ما متغیر کردہ شد و سوئے درستی و صلاحیت منتقل کردہ شدیم و بدولتی تازہ کردہ شدیم کہ ہمچو آں باراں آمد کہ در وقت خشک سالی می آید۔ پس این دولت باطن حال مارا بدید۔ و برگداختن و لاغری ما مطلع شد۔ پس مارا جاداد و غمخواری نمود۔ و تفقد حال ما کرد۔ بحدے کہ کار ما بعد عذاب دردناک سوئے تنعّم عود کرد پس اکنوں بسیری چشم می خسپیم بحالیکہ نہ گزندے و نہ سوزشے شامل حال ماست۔ بُلبلان در باغ ہا غلغل مبارکبادی و تنعّم می اندازند بحالیکہ بردرخت صفاء وقت می خرامند بعد ازانکہ تختہ مشق گوناگون بلاہا بودیم پس انصاف کنید آیا و اجب نیست کہ شکرآں سلطنت کنیم کہ خدا تعالیٰ او را موجب ایں انعامہا گردانید و مارا بہر دودست او از زندان بلاہا رہائی بخشید آیا برما ایں حق نیست کہ مابرائے ایں سلطنت کفہائے تضرع و عجز و نیاز در حضرت باری تعالیٰ بگستریم و بہ دعا بدیں سلطنت نیکی کنیم چنانچہ او باما نیکی کرد چرا کہ مارا بوسیلہ آں دلہا از خوشی پُر ہستند درد ہااز شادمانی خندان و شگفتہ ہستند و روز ہا ہستند کہ از امن و آزادی مملو اند۔ و شب ہا ہستند کہ از راحت و


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 445
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 445
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/445/mode/1up
    445
    و ترٰی منازل مزدانۃ بابہج الزینۃ۔ ولا خوف ولا فزع ولو مررنا علٰی اسود العرنیۃ ضربت خزی الفشل علی الظالمین۔ وضاقت الارض علی المرجفین المبطلین۔ و نعیش مستریحین آمنین۔ فایّ ظلم کان اکبر من ھذا الظلم ان لا نشکر ھذہ الدولۃ المحسنۃ۔ ونضمر الحقد والشر والبغاوۃ۔ أھٰذا صلاح بل فسق ان کنتم عالمین۔ فویل للذین یبغون الفساد۔ ویضمرون العناد۔ واللّٰہ لا یحب المفسدین۔ انہم قوم ذھلوا آداب الشکر عند رؤیۃ النعمۃ۔ وانساھم الشیطان کلّ ما نُدِب علیہ من امور الشریعۃ۔ وجاؤ شیئا ادّا۔ وجازوا عن القصد جدا۔ و ما بقی فیہم الا حمیۃ الجاھلیۃ۔ وفورۃ النفس الابیّۃ۔ ولا یمشون کالذی خشی ودلف۔ ولا یخلعون الصلف۔ ولا یذکرون ما سلف فی زمن خالصۃ مغشوشین۔ الم یعلموا انّ الشکر لاھلہ من وصایا القرآن۔ و اکرام المحسن مما نطق بہ کتاب الرحمن۔ و ان الدولۃ البرطانیۃ قد
    خوشحالی معطر اند۔ و می بینید کہ منزلہا بہ خوش ترین زینت ہا آراستہ اندو ہیچ خوف و فزع نیست اگرچہ برشیران بیشہ ہا بگذریم۔ برستمگاران بزدلی طاری است و بر دروغ گویاں و باطل پرستان زمین تنگ است وما در امن و راحت می گذرانیم پس کدام ظلم ازیں ظلم بزرگتر است کہ ایں دولت محسنہ را شکر گذارنباشیم و کینہ و بغاوت را در دل داریم آیا ایں کار نیک است بلکہ بدکاری است اگر شمارا عقل باشد۔ پس براں مردم واویلا است کہ فساد می خواہند و در دل عناد را پوشیدہ می دارند و خداتعالیٰ فساد کنندگان را دوست نمی دارد۔ ایشاں قومے ہستند کہ آنچہ در وقت دیدن نعمت شکر باید کرد آداب آں فراموش کردہ اند۔ و شیطان ایشاں را ہمہ آں چیزہا کہ تاکید شریعت براں ہا رفتہ بود فراموش کنایند و کارے عظیم تعجب انگیز نمودند و از میانہ روی دور افتادند و بجز حمیت جاہلیت و جوش نفس چیزے در ایشاں باقی نماندہ۔ و ہمچو کسے روشن شان نیست کہ می ترسد و آہستہ می رود و دور نمی کند عادت لاف زدن را و آنچہ در عہد سکھاں گزشت یاد نمی دارند آیا نمی دانند کہ شکرآں کسے کردن کہ اہل شکر است از وصیتہائے قرآن است و اکرام احسان کنندہ چیزے است کہ کتاب اللہ بداں ناطق است۔ و ایں دولت


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 446
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 446
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/446/mode/1up
    446
    جعلھاؔ اللّٰہ موابذۃ حلّنا و عقدنا۔ و حفظاء یقظتنا و رقدنا۔ و انا وصلنابھم الی المرادات المستعذبۃ۔ ونجونا من الآفات المخوفۃ۔ فکیف لا نشکر لھم و نعلم انہم احسنوا الینا۔ و کیف نفارقہم و ندری انہم حرساء اللّٰہ علینا۔ و اللّٰہ یحب المحسنین۔ و کناقبل ذالک غُصِب مناقر انا وعقارنا و خُرِّب دار قرانا و مقارنا۔ ودسنا تحت انتیاب النوب وتوالی الکرب۔ وصفرت راحتنا۔ وفرغت ساحتنا۔ حتی اُخرجنا من املاک و ارضین۔ وقصور و بساتین۔ و اوطان مکتئبین مغتمّین۔ وطُردنا کالعجماوات۔ ووُطِئنا کالجمادات۔ وسلکنا مسلک العباد والغلمان۔ ولحقنا بالارذلین منزلۃ من نوع الانسان۔ وربماا تمنا باخف جرح اصاب منا حیوانًا۔ اوبما قطعنا اغصانا فقُتلنا او صلبنا او اجلئنا تارکین اوطانا و متغربین۔ ثم رحمنا اللّٰہ و اتی بالدولۃ البرطانیۃ من دیار بعیدۃ۔ و بلاد نائیۃ۔ وکان الامر للّٰہ یختار لعبادہ
    برطانیہ کہ ہست خداتعالیٰ او را برائے مامہتممان بندوبست مقدمات ما گردانیدہ است و نگہبانان بیداری و خواب ما کردہ۔ ومابوسیلہ ایشاں مرادات شیریں را رسیدیم و از آفتہائے ترسانندہ رستگارشدیم پس چگو نہ شکر ایشاں نگذاریم و میدانیم کہ ایشاں بمانکوئی ہاکردہ اند و چگونہ از یشاں دور شدیم و میدانیم کہ ایشاں از طرف خداتعالیٰ نگہبانان ما ہستند و خداتعالیٰ نکو کاران را دوست میدارد۔ وما پیش زیں ایں حالت میداشتیم کہ دیہات ما و زمین ما بجبرگرفتہ بودند و مہمان خانہ ما و نشست گاہ ما خراب کردہ بودند و از حوادث و بیقراریہائے پیاپے زیرپا کوفتہ شدیم و دست ماخالی شد و صحن ما بے مردم گردید تا بحدے کہ از زمینہا و ملک ہا و کاخ ہا و باغ ہا و وطن ہا بحالت غمناکی بیروں کردہ شدیم و ہمچو چار پایان مارا براندند وچوں سنگ و خش و خاشاک زیرپا کردند و باما آں سلوک کردہ شد کہ بغلامان و بندگان می کنند و مارا بمردمانے آمیختند وہمچو کسانے پند اشتند کہ از نوع انسان در مرتبہ کمترین خلائق اند و بسا اوقات از کمتر جراحتے کہ حیوانے را از ما رسید یا از درختے شاخے بریدیم مجرم قرار دادہ شدیم پس بکشتند یا بردار کشیدندیا از وطن اخراج کردہ غریب الوطن ساختند۔ باز خداتعالیٰ برما رحم کردوسلطنت برطانیہ را از دور دراز ملک آورد۔ وہمہ کار در دست خداتعالیٰ است ہر کرا از


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 447
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 447
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/447/mode/1up
    447
    من یشاء۔ یوتی الملک من یشاء و ینزع الملک ممن یشاء۔ وھو ارحم الراحمین۔ انہؔ دفع الحکومۃ الی اھلھا بعد خبال الخالصۃ۔ ثمّ بدل تعبنا و نصبنا بالنعمۃ والراحۃ۔ و اورثنا ارضنا مرۃ اخریٰ۔ بعد ما اُخرجنا کاوابد الفلا۔ ورجعنا الی اوطاننا سالمین متسلّمین۔ ورُدّ الینا قرانا و عقارنا وفضّتنا و نضارنا۔ الا ماشاء اللّٰہ و سکنا فی بیوتنا اٰمنین۔ و انا ما تعلقنا باھداب ھذہ السلطنۃ۔ الا بعد ما شاھدنا خصائص ھذہ الحکومۃ۔ وامعنا النظر فی نعمھا متوسمین۔ وسرحنا الطرف فی میسمھا متفرسین۔ فاذا ھی دواء کروبنا۔ ومداویۃ نوبنا و خطوبنا۔ وبھا سیق الینا الاموال۔ بعد ما استحالت الحال۔ و غار المنبع و اعول العیال۔ ونجینا بھا من الدھر الموقع۔ والفقر المدقع وکنا من قبل شججنا فلا الکروب من الشجیٰ۔ وطوینا اوراق الراحۃ من ایدی الطوی۔ و ما کانت تعرف اقدامنا الا الوجیٰ ۔ و ما صدورنا الا الجویٰ۔ و
    ملوک می خواہد برائے بندگان خود می پسندد وہرکرا خواہد ملک می دہد و از ہرکہ خواہد می ستاند و او از ہمہ رحم کنندگان ارحم است۔ او حکومت را بعد تباہی خالصہ سوئے اہل آں رد کرد۔ بازتعب و رنج مارا بہ نعمت و راحت مبدل گردانید و بار دوم مارا وارث زمین خود گردانید بعد زانکہ ہمچو جانور ہائے صحرائی مارا اخراج کردہ بودند۔ و سوئے وطن ہائے خود باز آمدیم بحالیکہ از آفات سفر سلامت بودیم و چیز ہائے خود را گرفیتم و سوئے ما دیہات ما و زمین ما وسیم ما وزرما رد کردہ شد مگر آنچہ خدا خواست۔ و در خانہائے خود بامن سکونت اختیار کردیم۔ وما بدامن ایں سلطنت بعد مشاہدہ خاصیت ہائے ایں حکومت آویختیم و درنعمت ہائے او بغور نظر دیدیم و خوبی آنرا شناختیم۔ و چشم را بر روئے او بفراست دوانیدیم پس معلوم ماشد کہ او دوائے بیقراری ہائے ماست و علاج کنندہ حوادث است۔ و بوسیلہ او مالہا سوئے ما کشیدہ شد بعد زانکہ در حال ما تغیر عظیم پیدا شدہ بود۔ و وجوہِ معاش تباہ شدہ و عیال گریاں۔ و بدو ازاں زمانہ کہ دربدی می انداخت و ازاں محتاجگی کہ بخاک آمیختہ بود نجات یافتیم۔ وما پیش زیں سلطنت بیابانہائے بیقراری بغم قطع می کردیم۔ و ورقہائے راحت بدستہائے گرسنگی پیچیدیم۔ وقد مہائے مابجز پاسودن چیزے نمی دانستند۔ و نہ درسینہ ہائے ما بجز سوزش


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 448
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 448
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/448/mode/1up
    448
    مرّ علینا لیالی ما کان فراشنا فیھا الا الوھاد۔ و لا موطأنا الا القتاد۔ فکنّا نجلوالہموم باذکار ھذہ الدولۃ۔ و نجتلی زمننا طلق الوجہ۔ بابشار تلک المعدلۃ۔ حتیؔ اسعف اللّٰہ بمرادنا۔ وجاء بھذہ الدولۃ لاسعادنا۔ فوصلنا بھا بشارۃ تنشی لنا کل یوم نزھۃً ۔ و تدرء عن قلوبنا کربۃً۔ الٰی ان خُلِّصْنا من الخوف والاملاق۔ ونقلنا من عدم العُراق الی الارفاق۔ وجاء نا النعم من الاٰفاق۔ و نظم الاجانب فی سلک الرفاق۔ و فزنا بمرامنا بعد خفوق رایۃ الاخفاق۔ وقد کنا فی عھد الخالصۃ۔ اخرجنا من دیارنا و لُفظنا الی مفاوز الغربۃ۔ وبُلِینا باعواز المنیۃ۔ فلمّا منّ اللّٰہ علینا بمجئ الدولۃ البرطانیۃ۔ فکأنّا وجدنا ما فقدنا من الخزائن الایمانیۃ۔ فصار نزولھا لنا نُزل العز البرکۃ۔ و مغناہ سبب الفوز والغنیۃ۔ ورأینا بھا حبورًا و فرحۃ۔ بعد ما لبثنا علی المصائب بُرھۃً۔ و رُفعنا من ذل اخریات الناس الٰی مراتب رجال ھم للقوم
    چیزے دیگر بود۔ و شب ہا برما گزشتند کہ دراں بستر ما بجز نشیب چیزے دیگر نبود۔ وجائے پانہا دن ماخارہا بودند و دگر ہیچ نبود۔ پس دراں ایام ما بذکر ایں سلطنت غم خود را دور می کردیم۔ و بخوشی ایں عدالت زمانہ خود را کشادہ رو و بیقید میدیدیم۔ تا بوقتے کہ خداتعالیٰ مراد ما مارا داد۔ و برائے خوش قسمتی ما سلطنت انگریزی دریں ملک قائم شد۔ پس ما بقدوم او آں بشارت را دیدیم کہ ہر روز برائے ماشگفتگی پیدا میکند۔ و از دل مابیقراری را می رباید تا بحدیکہ از خوف فاقہ کشی نجات یافتیم۔ و از تہیدستی سوئے فراخ دستی منتقل شدیم۔ و از کنارہ ہائے ملک نعمتہا بما رسیدند و بیگانگاں در رشتہ رفیقان منسلک شدند و بعد از نومیدیہا بمراد خود رسیدیم۔ و در عہد خالصہ حال ما ایں بود کہ ما از ملک خود خارج کردہ شدہ بودیم وسوے بیابانہائے غربت انداختہ بودند و بہ نامرادیہا آزمودہ شدیم۔ پس ہرگاہ خداتعالیٰ بدیں دولت برطانیہ برما احسان کرد۔ پس گویا ما آں خزینہ ہاے ایمانی رایافتیم کہ گم کردہ بودیم۔ پس نزول او برائے ما آں طعام مہمانی شد کہ از و عزت و برکت باشد و خانہ او موجب تونگری ماشد۔ و مابدو خوشی و شادمانی را دیدیم بعد زانکہ تازمانے در مصیبتہا بماندیم و از ذلت کم درجہ بودن بمراتب کسانے برداشتہ شدیم کہ اوشاں برائے قوم ہمچو سراند


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 449
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 449
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/449/mode/1up
    449
    کالرأس۔ ونُجّینا من قطوب الخطوب۔ و حروب الکروب۔ وکنا نمدّ الابصار الی ذالک الوقت السعید۔ کما تمد الاعین لھلال العید۔ وکنا نبسط ید الدعاء لھذہ الدولۃ۔ بما اصابتنا مصائب فی زمن الخالصۃ۔ و نباؔ بنا مالف الوطن و اخرجنا من البقعۃ۔ وکانت آباء نا اقتعدوا غارب الاغتراب۔ بما اکرھوا و بُعّدوا من الا تراب۔ فترکوا دار ریاستہم وجمیع ماکان لھم من القریٰ۔ و نَصّوا رکاب السریٰ۔ وجابوا فی سیرھم وعورا۔ و ترکوا راحۃ و حبورا۔ وانضوا اجاردھم تَسْیارا۔ و ما رأو لیلا و لا نھارا۔ حتی وردوا حمٰی ریاسۃٍ کفّلتہم بحراسۃ۔ فسَرَوا ایجاس الخوف واستشعارہ الی ایام۔ و رأوا لعاع الامن و ازھارہ بعد آلام۔ ثم طلعت علینا شمس الدولۃ البرطانیۃ و امطرت مُزن العنایات الرحمانیۃ۔ فتسربلنا لباس الامن بعد ایام الخوف وصرنا مخصبین نعم العوف۔ فعدنا و اباء نا الی منبت شُعبتنا۔ و ملنا الی
    و از حوادث و جنگہائے بے قراری نجات دادہ شدیم وما سوئے ایں وقت مبارک چناں چشم خود دراز می داشتیم ہمچناں کہ سوئے ہلال عید چشم برداشتہ می شود۔ وما برائے ایں دولت دست دعا می گستریدیم چراکہ در زمانہء خالصہ مصیبت ہا بما رسیدہ بود۔ و وطن ماما رانا موافق آمدہ بود و از جائے خود بیروں کردہ شدیم۔ و پدران ما بباعث سختی خالصہ مسافرت اختیار کردہ بودند۔ چراکہ اوشاں جبرًا از رفیقان وطن دور کردہ شدند۔ پس دار الریاست خود را ترک گفتند و شتران شب روی تیز براندند۔ و درسیر خود زمینہائے سخت را قطع کردند۔ وراحت و شادمانی را ترک کردند۔ و اسپان کم مورادر سیر خود لاغر کردند۔ ونہ روز رادیدند نہ شب را۔ تا بحدے کہ در حدود ریاستے داخل شدند۔ و آں ریاست متکفل مہمات شاں شد۔ پس چند روزے خوف پنہان و آشکار را از خود دور انداختند و سبزہ امن و شگوفہ آوردن آں بعد درد ہا بدیدند باز برما آفتاب دولت برطانیہ بدرخشید و باران عنایتہائے ربانی ببارید۔ پس لباس امن بعد روز ہائے خوف بپوشیدیم و آسودہ حال و نیکو احوال شدیم پس ما و آبائے ما سوئے وطن خود رجوع کردیم و سوئے خانہا


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 450
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 450
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/450/mode/1up
    450
    الاوکار من فَلَا غُربتنا و ھنّأْنا انفسنا فرحین۔ ولو انصفنا لشھدنا ان ھذہ السلطنۃ ردّت الینا ایام الاسلام۔ و فتحت علینا ابوابا لنصرۃ دین خیر الانام۔ و کنا فی زمن دولۃ الخالصۃ۔ اوذینا بالسیوف والاسنۃ۔ وما کان لنا ان نقیم الصلٰوۃ علی طریق السنۃ۔ و نؤذّن بالجھر کما نُدب علیہ فیؔ الملّۃ۔ و لم یکن بُدّ من الصُمتِ علی ایذاء ھِم۔ و لم یکن سبیل لدفع جفاءِ ھم۔ فرُددنا الی الامن والامان عند مجیء ھذہ السلطنۃ۔ و ما بقی الا تطاول قسّیسین بالالسنۃ۔ و جعل الحریۃ کل حرب سجالا۔ ولکنا ترکنا القذف بالقذف لئلا نشابہ دجّالا۔ و لا نکون من المتعسفین۔ وما منعت السلطنۃ ان نفتح الالسن بالجواب۔ بل لنا ان نقول اکبر ممّا قالوا و نصبّ علیھم مطرا من العذاب۔ ولکن المرء یصدر منہ فعل الکلاب۔ ولا یستقری الحمام الجیفۃ و لو لفظہ الجوع الی معامی التباب۔ ایعیبون نبینا علی الشغف بالنساء۔ وکان یسوعہم
    از بیابانہائے غربت میل نمودیم و نفوس خود را بحالت خوشی مبارکباد دادیم۔ و اگر انصاف کنیم ہر آئینہ گواہی دہیم کہ ایں سلطنت روز ہائے اسلام سوئے ما واپس آوردہ است۔ و برما درہائے مدد دین پیغمبر علیہ السلام کشودہ است و ما در زمانہ خالصہ بشمشیرہا و نیزہ ہا ایذا دادہ مے شدیم و مجال ما نبود کہ نماز را بطریق سنت قائم کنیم و بانگ نماز بآواز بلند بگوئیم چنانچہ حکم شریعت است۔ و بجز خاموشی بر وقت ایذائے شاں ہیچ چارہ نبود۔ و برائے دفع کردن ظلم شاں ہیچ راہے نبود۔ پس ما سوئے امن و امان در عہد ایں سلطنت رد کردہ شدیم و برما بجز دراز زبانی پادریاں ہیچ بارے نماند و عام آزادی دادہ شد ہر جنگ را برائے جنگ کنندگان بر نوبت ہا تقسیم کرد لیکن ما دشنام راعوض دشنام ترک کردیم تا بگروہ مفتریان نمانیم و تا از متعصبان نشویم۔ و سلطنت مارا از جواب ترکی بترکی منع نکردہ است بلکہ مارا اختیار است کہ از گفتہء شاں بزرگتر بگوئیم و بر ایشاں بارانِ عذاب بیاریم مگر از انسانے کار سگاں نمی آید۔ و کبوتر جستجوئے مُردار نہ می کند و اگرچہ گرسنگی اورا سوئے
    بیابان ہائے ہلاک بیندازد۔ آیا پیغمبر ما صلی اللہ علیہ وسلم را برغبت زنان عیب می کنند۔ و یسوع


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 451
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 451
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/451/mode/1up
    451
    قد عیب علی شرہ الاکل و شرب الصھباء۔ وقد ثبت من الانجیل انہ آوی عندہ بغیۃ۔ و کانت زانیۃ و فاسقۃ و شقیۃ۔ وکانت امرأۃ شابۃ فی ثیاب نظیفۃ۔ مع صورۃ لطیفۃ۔ فما انصرف عنھا و ما قام۔ و ما اعرض عنھا و ما الام۔ بل استأنس بھا و آنس بطیب الکلام۔ حتی جلعت و مسحت علٰی راسہ من عطرھا التی کان قد کسب من الحرام۔ و کذالک اقبل علی بغیۃؔ اخرٰی وکلّمھا۔ وسئلت وعلّمھا۔ و ھذہ حرکات لا یستحسنھا تقی۔ فما الجواب ان اعترض شقی۔ ولا شک ان النکاح علی وجہ الحلال خیر من تلک الافعال۔ و من کان کیسوع شابا طر یرا اغرب مفتقر الی الازدواج۔ فای شبھۃ لا تفجأ القلب عند رؤیۃ ھٰذا الامتزاج* فمن کان شمّر عن ذراعیہ لاعتراض۔ و لبس الصفاقۃ لارتکاض۔ فلیحسر عن ساعدہ لھذہ الزرایۃ۔ فانھا احق و اوجب عند اھل التقوی والدرایۃ۔
    * ھٰذا ما کتبنا من الاناجیل علٰی سبیل الالزام۔ و انا نکرم المسیح و نعلم انہ کان تقیّا و من الانبیاء الکرام۔ منہ
    ایشاں را بر حرص خوردن و شراب نوشیدن عیب گرفتہ اند۔ و از انجیل ثابت است کہ او زنے بدکار را نزد خود جا داد۔ و آں زن زناکار و سخت فاسقہ بود۔ و جواں بود در لباس آراستہ بروئے خوبصورت پس مسیح ازاں زن یکسو نرفت و نہ استاد و نہ ازاں اعراض کرد و نہ ملامت کرد۔ بلکہ از و مانوس شد و اور را مانوس کرد۔ تا بحدے کہ آں زن از راہ بے شرمی عطر خود کہ از کسب حرام بود برسر او مالید و ہم چنیں یسوع یکمرتبہ بازن بدکار دیگر گفتگو کرد و بدو متوجہ شد۔ و ایں حرکات را پرہیز گارے پسند نکند۔ پس کدام جو اب است اگر بدبختے اعتراض کند۔ و ہیچ شک نیست کہ از ہمچو ایں کارہا بطریق حلال نکاح کردن بہتر است و ہرکہ ہمچو یسوع جوانے پر قوت بے زن محتاج نکاح باشد پس کدام شبہ است کہ بروقت مشاہدہ ایں اختلاط دل را نمی گیرد۔ پس ہرکہ برائے اعتراض از ہر دو دست خود آستین بچیند و در حالت بیقراری جامہء بے شرمی بپوشید۔ پس می باید کہ بازوئے خود را برائے ایں عیب گیری برہنہ کند۔ چرا کہ ایں اعتراض نزد اہل تقویٰ و دانش حق و واجب است
    ایں کہ از اناجیل نوشیتم بطور الزام نوشیتم۔ و اگرنہ ما مسیح را بزرگ میداریم و او را پرہیز گار و ازانبیاء میداریم۔


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 452
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 452
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/452/mode/1up
    452
    و امّا نحن فصبرنا علی اقوالہم۔ وثبّتنا قلوبنا تحت اثقالھم۔ لتعلم الدولۃ انّا لسنا بمستشیطین مشتعلین۔ ولا نبغی الفساد بالمفسدین۔
    و لا ننسیٰ احسان ھذہ الحکومۃ۔ فانھا عصم اموالنا و اعراضنا ودماء نا من ایدی الفءۃ الظالمۃ۔ فالان تحت ظلھا نعیش بخفض و راحۃ۔ ولا نرد مورد غرامۃ من غیر جریمۃ۔ و لا نحل دار ذلۃ من غیر معصیۃ۔ بل نامن کل تہمۃ و آفۃ۔ و نکفی غوائل فجرۃ وکفرۃ۔ فکیف نکفر نعم المنعمین۔ و کنّا نمشی کاقزل قبل ھذہ الایام۔ وما کان لنا ان نتکلم بشیءٍ فیؔ دعوۃ دین خیر الانام۔ وکان زمان الخالصۃ۔ و زمان الذلۃ والمصیبۃ صُغّر فیہ الشرفاء۔ واسادت الآماء۔ وصُبت علینا مصائب ینشق القلم بذکرھا و خرجنا من اوطاننا باکین۔ فقلّب امرنا بھذہ الدولۃ من بؤسٍ الٰی رَخاء۔ و من زغرع الٰی رخاء۔ وفتح لنا بعنایا تھا باب الفَرج۔ و اوتینا الحریۃ بعد
    مگر ما برسخن ایشاں صبر کردیم وزیر بارہائے ایشاں دل را ثابت داشتیم۔ تا گورنمنٹ انگریزی بداند کہ ما ہیچ اشتعال و غضب نمی داریم۔ و ہمچو مفسداں فساد را نمی خواہیم۔
    و احسان ایں حکومت را فراموش نمی کنیم زیر انکہ ایشاں مال ہائے ما را و آبروہائے مارا و خون ہائے مارا حفاظت کردند۔ و اکنوں زیر سایہء ایشاں ببآسانی و راحت می گذرانیم و بغیر جرمے ہیچ تاوانے عائد حال مانمی گردد۔ و در مقام ذلت بدوں معصیت نمی آئیم ۔بلکہ از ہر تہمت و آفت و رامن ہستیم و از مفاسد بدکاراں کفایت کردہ شدیم۔ پس چگونہ نعمت منعم را ناسپاسی کنیم۔ وماپیشتر ازیں ہمچولنگ می رفتیم۔ و مجال ما نبود کہ در دعوت جناب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم چیزے بگوئیم و زمانہ سکھاں زمانہ رسوائی و مصیبت بود۔ شریفاں در و حقیر شدند و کنیزکاں سردارہا پیدا کردند۔ و آں مصیبت ہا برما ریختہ شدند کہ قلم بذکر آں منشق می گردد واز وطن ہا بگریز خارج شدیم۔ پس کار مادر ایں سلطنت از تنگی سوئے فراخی مبدل شد۔ و از بادتند سوئے ہوائے نرم منقلب گشت۔ و از مہربانی او در کشادگی برما کشودہ شد۔ و بعد از


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 453
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 453
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/453/mode/1up
    453
    الاسر والعَرج۔ و صرنا متنعّمین مرموق الرخاء۔ بعد ما کنّا فی انواع البلاء و رأینا لنا ھذہ الدولۃ کریف بعد الامحال۔ او کصحۃ بعد الاعتلال۔ فلاجل تلک المنن والالاء والاحسانات۔ وجب شکرھا بصدق الطویۃ و اخلاص النیات۔ فندعوا لھا بألسنۃ صادقۃ و قلوب صافیۃ۔ و ندعوا اللّٰہ ان یجعل لھذہ الملکۃ القیصَرَۃ عاقبۃ الخیر۔ ویحفظھا من انواع الغُمّۃ والضیر۔ و یصدف عنھا المکارہ والافات۔ و یجعل لھا حظّا من التعرف الیہ بالفضل والعنایات۔ انہ یفعل ما یشاء و انہ ارحم الراحمین۔
    فلما رأینا ھذہ المنن من ھذہ الدولۃ۔ والفینا اراداتھا مبنیۃ علٰی حسنؔ النیۃ۔ فہمنا انہ لا ینبغی ان نوذیھا فی قومھا بعد ھذہ الصنیعۃ۔ ولا یجوز ان نطلب منھا ما ینصبھا لبعض مصالح السلطنۃ۔ بل الواجب ان نجادل القسّیسین بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ۔ و ندفع بالتی ھی احسن و
    قید و حبس آزادی دادہ شدیم و چناں مالدار شدیم کہ مردم آنرا برشک میدیدند۔ بعد زانکہ در مصیبت ہا گرفتار بودیم۔ و ایں سلطنت رابرائے خود چناں یافتیم کہ فراخ سالی بعد از قحط می باشد یا تندرستی بعد بیماری۔ پس برائے ہمیں احسانہا واجب شد کہ شکر ایں دولت بصدق دل و اخلاص نیت کنیم۔ پس ما برائے او بزبانہائے راست و دلہائے صاف دعا می کنیم و از خداتعالیٰ میخواہیم کہ ایں ملکہ قیصرہ را انجام بخیر کند۔ و از انواع و اقسام غمہا و گزند ہا محفوظ دارد و از و مکروہات را و آفات را بگرداند و از شناخت ذات خود او راحظے بخشد او ہرچہ خواہد بکند و او مہربان و رحیم است۔
    و ماہر گاہ ایں احسانہا ازین سلطنت مشاہدہ کردیم و ارادہ ہائے او را برحسن نیت مبنی یافتیم فہمیدیم کہ مناسب نیست کہ ما او را در قوم او ایذا
    دہیم یا ازو آں کارے طلبیم کہ مخالف مصلحت سلطنت اوست۔ بلکہ مناسب است
    کہ ما بحکمت و موعظت حسنہ بہ پادریان مباحثات کنیم و عوض بدی بہ نیکی دہیم


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 454
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 454
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/454/mode/1up
    454
    نترک الترافع الی الحکومۃ۔ ھذا و نعلم ان قذف قسّیسین قد بلغ مداہ۔ و جرحت قلوبنا مداہ۔ و انہم و ثبوا علی عامتنا وثبۃ الذئب علی الخروف۔ و نزوا نزو النمر المجوف۔ فسقی کثیر من ایدیہم کاس الحتوف۔ وبلغوا بدجلہم ما لیس یبلغ بالسیوف۔ و تراء وا من کل حدب ناسلین و قد اتتکم من اخبار فلا حاجۃ الٰی اظھار۔ و لا تغتموا و لا تحزنوا و اربؤا ایام اللّٰہ صابرین۔
    والامرالذی حدث الآن واضجر القلوب۔ وجدّد الکروب۔و عظّم الخطوب وانتشر وا وقد الحروب۔ و کبر و اعضل۔ و دّ ق و اشکل۔ و خوّف بتھاویلہ و ھوّل۔ فھو رسالۃ امّھات المؤمنین۔ وقد قامت القیامۃ منھا فی المسلمین۔ وکل من رأی ھذہ الرسالۃ فلعن مؤلّفہ‘ بما جمع السبّ والضلالۃؔ ۔ وھو زایل الوطن والمقام۔ لکی یامن الحکام۔ فاختار المفرّ۔ لئلا یُسحب و یُجرّ و بقی منہ عذرۃ کلماتہ۔ و نتن ملفوظاتہ ۔ و اُغلوطۃ اعتراضاتہ۔ فنترک
    و از شکوہ و فریاد خود را باز داریم۔ ہمیں باید کرد باوجودیکہ ما میدانیم کہ بدگوئی پادریاں بانتہا رسیدہ است و دلہائے مارا کار دہائے ایشاں خستہ کردہ۔ و اوشاں بر عوام ما ہمچو گرگ بر بچہ گوسپند جستہ اند و ہمچو پلنگ ابلق بجستند۔ پس بسیارکس ازدست شاں بمردند و بدجل خود کارے
    کردند کہ بہ شمشیر ہا نتو اند کرد و از ہر بلندی بدویدند۔ و شمارا خبر ہا رسیدہ اند حاجت اظہار نیست مگر غم نکنید و اندوہناک مباشید و روز ہائے خدا را منتظر بمانید۔
    و امرے کہ دریں روز ہا پیداشد و دلہا را بے قرار کرد و بیقراریہا را تازہ نمود وکار مباحثہ را بزرگ و مہتم بالشان کرد۔ و در قومہا منتشرشد وکلان و دشوار و باریک و از مشکلات گشت و برنگہائے گوناں گو ں بترسانید آں رسالہ امہات المومنین است و ہرکہ ایں رسالہ رادید پس مؤلف اورابدین سبب *** کرد کہ او در کتاب خود دشنام دہی و گمراہی را جمع کردہ است۔ و او از وطن و مقام خود کنارہ کرد۔ تا از گرفت در امن بماند۔ پس گریز رابدیں خیال اختیار کرد کہ تا در مقدمہ کشیدہ وراندہ نشود۔ و پلیدی کلمات او و ہمچنیں بدبوئے سخنہائے او و مغالطہائے اعتراضات او


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 455
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 455
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/455/mode/1up
    455
    قذفہ و بذاء ہ و نجاسۃ کلماتہ۔ و نفوّضہ الی اللّٰہ و یوم مکافاتہ۔ واما ما افتری من شبھاتہ التی تولّدت من حمقہ و زیغ خیالاتہ۔ فذالک امر وجب ازالتہ بجمیع جھاتہ۔ و ان الحق شیء لا یمکن احدا التقدم عنہ و لا التّأخر۔ ثم غیرۃ الاسلام فرض مؤکد لمن کان لہ الحیاء والتدبّر۔ فان المؤلّف اجترء و ھتک حرم الدین۔ وصال و بارز فبارزواکاسد من العرین۔ وقد حان ان یکون رجالکم کقسورۃ و نساء کم کلبوۃ۔ وابناء کم کاشبال۔ واعداء کم کسخال۔ فاتقوااللّٰہ و علیہ توکّلوا ان کنتم مؤمنین۔
    و قد سبق منّا الذکر بانّ القوم تفرّقوا فی امر کتابہ۔ فبعضہم استحسنواالتوجہ الی جوابہ۔ واستہجنوا ان یرفع الشکوی الی السلطنۃ۔ فانھا من امارات العجزؔ والمسکنۃ۔ و فیہ شئ یخالف التأدّب بالدولۃ العالیۃ۔ و قالوا ان الترافع لیس من المصلحۃ۔ فلا تسعوا الی حکام الدولۃ۔ و لا تقصدوا سیّءۃ
    از و باقی ماند پس ما بدگوئی و دشنام دہی و پلیدی کلمات او راترک میکنیم و ایں ہمہ زبان درازی ہابخد ا و
    روز مکافات میگذاریم۔ آں شبہات کہ از جہالت و کجی خیالات او پیدا شدہ اند پس ایں امرے است کہ
    ازالہ آں من کل الوجوہ واجب است۔ و حق چیزیست کہ ممکن نیست کہ کسے را از و پیش و پس باشد باز غیرت اسلام فرض مؤکد است برائے کسے کہ حیا و تدبر مے دارد چراکہ ایں مؤلف دلیری کرد و ہتک عزت دین اسلام کردہ۔ و حملہ کرد و بیرون آمد پس ہمچو شیراز بیشہ بیروں آئید و وقت آمد کہ مردان شما ہمچو شیر باشند وزنان شماہمچو مادہ شیر و پسران شما ہمچو بچگان شیر و دشمنان شما ہمچو بزغالہ پس از خدا بترسید و برو توکل کنید اگر مومن ہستید۔
    وما پیش زیں گفتہ ایم کہ قوم ما در بارۂ کتاب آں عیسائی متفرق الآراء اند۔ پس بعض ازیشاں ہمیں را پسند داشتند کہ جواب کتاب نوشتہ شود۔ و ایں امر را مکروہ داشتند کہ سوئے سلطنت شکوی بردہ شود چرا کہ آں از نشانہائے عجز و فرو ماندگی است۔ و دراں چیزے است کہ مخالف ادب دولت عالیہ انگریزی است۔ و گفتہ اند کہ شکایت پیش سلطنت برون مصلحت نیست۔ پس سوئے حکام دولت برطانیہ از بہر استغاثہ مروید۔


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 456
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 456
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/456/mode/1up
    456
    بانواع الحیلۃ۔ بل اصبروا و غیّضوا دموعکم المنھلات۔ ولا تذکروا ما قیل من الجھلات۔ وادفعوا بالتی ھی احسن و انسب بشان الشرفاء۔ ولا تسعوا الی المحاکمات بالصراخ والبکاء۔ و ان لناکل یوم غلبۃ بالادلۃ القاطعۃ و سطوۃ دامغۃ بالبراھین الیقینیۃ۔ فلا یحتقر دیننا عند العقلاء۔ و لا یحقر بتحقیر السفھاء۔ فالرجوع الی الحکومۃ
    کالنائحات۔ امر لا یعدّہ غیور من المستحسنات۔ و لیس ھذا العدو
    بواحد فنستریح بعد نکالہ۔ بل نرٰی کثیرًا من امثالہ۔ لھم اقوال کاقوالہ۔ و مکال کمثل مکالہ۔ و لم یبق بلدۃ و لا مدینۃ من مدائن ھذہ البلاد الا نزلوا بھا و تخیّموا للفساد فی الارضین۔ وکانوا فی اوّل زمنہم
    یتزھّدون و یوحدون و یروضون انفسہم و یراوضون۔ و یکفون الالسن ولایھذون۔ ثم خلفوا من بعدھم خلف عدلوا عن تلک الخصلۃ۔ و
    و ہیچ بدی را بہ حیلہ مخواہید۔ بلکہ صبر کنید و اشکہائے روان را از روان شدن باز دارید۔ و
    آنچہ عیسائیان بیہودگیہا کردہ اند ذکر آں نکنید۔ و جزائے بدی بہ نیکی دہید چنانچہ طریق
    شریفاں است۔ و سوئے حکومتہا بفریاد و گریہ مدوید و مارا ہر روز بدلائل قاطعہ غلبہ است و
    حملہ براہین یقینیہ است کہ سر را بشکند پس نزد عقلمندان دین ماحقیر شمردہ نمی شود۔ و از تحقیر
    نادانان حقیر نتواندشد پس سوئے حکومت ہا ہمچو زنان نوحہ کنندہ رجوع کردن امریست کہ
    مستحسن نیست و ایں شخص دشمن واحد نیست تابعد سزادہانیدن او بآرام نشینیم بلکہ ہمچو او بسیار اند کہ سخن او شاں مثل سخن اوست۔ و پیمانہ مثل پیمانہ اوست وہیچ شہرے از شہرہائے ایں ملک چناں نیست کہ دراں ایں مردم نازل نشدہ باشند و در زمینہا برائے فساد خیمہ ہا زدند و در اول زمانہ ایں مردم چناں بودند کہ زاہدانہ زندگی بسر کردندے و موحدانہ عقیدہ داشتندے و نفسہائے خود را ریاضت دادندے و نرمی اختیار کردندے وزبانہا را از بدگفتن بندو اشتندی وژاژخائی نکردندے۔ پس بعد ایشاں نا اہل و ناخلف پیداشدند کہ ازیں خصلت


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 457
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 457
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/457/mode/1up
    457
    رفضوا وصایا الملۃ۔ و ھجوا الاتقیاء والاصفیاء و ترکوا الصلٰوۃ و اکلوا الخنزیر و شربوا الخمر و عبدوا انسانا کمثلہم الفقیر۔ و سبق بعضہم علی البعض فی سبّ خیر العباد۔ وقذفوا عرض خیر البریّۃ بالعناد۔ ألّفوا کتبا مشتملۃ علی السبّ والشتم والمکاوحۃ والقحۃ ممزوجۃً بانواع العذرۃ مع دجل کثیر لاغلاط العامۃ۔ و بلغ عدد بذاء ھم الٰی حد لا یعلمہ الا حضرۃ العزّۃ۔ فانظروا کیف یعضل الامر عند الاستغاثاۃ و یلزم ان نعدوا کل یوم الی المحاکمات۔ و ان ھی الا من المحالات۔ ھذہ دلائل ھذہ الفرقۃ۔ والآخرون یؤثرون طرق الاستغاثۃ۔ ولکنا لا نرٰی عندھم شیءًا من الادلۃ علٰی تلک المصلحۃ۔ و ان ھو الا حرص للانتقام کعُرض الناس والعامۃ۔ و اذا قیل لہم انکم تخطؤن بایثار ھذہ التدابیر۔ فلا یجیبون بجواب حسن
    کالنحاریر۔ و یتکلمون کالسفھاء المتعصبین۔ و قلنا ایھا الناس ارجعوا النظر۔
    عدول کردند و وصیتہائے ملت را بگذاشتند۔ برگزیدگاں و نیکویان را بدگفتند نماز را ترک کردند خنزیر رابخوردند۔ و شراب را نوشیدند و ہمچو خود انسانے محتاج را پرستش کردند۔ او در دشنام دہی پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم بعض بر بعض دیگر سبقت بردند۔ و آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم را دشنامہا دادند۔ و کتابہا تصنیف کردند کہ بر دشنام دہی و بطور آشکارا بدگفتن و بے حیائی مشتمل بودند۔ و گوناگون پلیدی ہا در آنہا آمیختہ بود۔ و نیز برائے مغالطہ دادن عامہ مردم بسیار خیانت و بددیانتی در اعتراضہا کردہ بودند۔ و این سب و شتم و دشنام دہی در کتب شان بحدے رسیدہ است کہ عدد آن بجز خدائے تعالیٰ ہیچ کس نمی داند۔ پس بہ بینید کہ در وقت استغاثہ مشکلات عائد حال می شوند۔ ولازم می آید کہ ماہر روز سوئے محکمہ ہا دوندہ بمانیم این امر محال است۔ ایں دلائل آن فرقہ است کہ رد کتاب را بر استغاثہ ہا ترجیح می دہند و فریق دیگر طریق استغاثہ را می پسندند۔ لیکن برین مصلحت نزد شاں ہیچ دلیلے نیست صرف مثل عامہ مردم حرص انتقام است۔ و چوں ایشاں را گفتہ شود کہ شما دریں تدابیر ہا خطامی کنید۔ پس ہمچو دانشمندان جواب نمی دہند۔ و ہمچو نادانان و سفیہان سخت گوئی شروع می کنند۔ وما گفتہ بودیم کہ اے مردم رائے ہائے خود را نظرثانی کنید۔


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 458
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 458
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/458/mode/1up
    458
    حاشیہؔ متعلقہ صفحہ ۶ شرط ہشتم*
    کتاب فریاد درد
    کتب حدیث
    بخاری، تعلیق السندی شیخ الاسلام مصر، عینی۔ فتح الباری۔ ارشادالساری۔ عون الباری شیخ الاسلام دہلوی۔ حافظ دراز۔ تراجم شاہ ولی اللّٰہ۔ توشیح۔ تسہیل القاری۔ لغات۔ دفع الوسواس فی بعض الناس۔ رفع الالتباس عن بعض الناس۔ مجموعہ حواشی حافظ صاحب۔ تجرید البخاری محشّٰی۔ مسلم مع نووی مصر و ہند۔ وشح الدیباج۔ مفہم السراج الوہاج۔ مؤطا۔ زرقانی۔ مُسوّٰی۔ مصفّٰی۔ اقوال الممجد۔ ترمذی۔ شروح اربعہ۔ نفع قوت المغتذی۔ نسائی السندی۔ زہر الربی عرف زہرالربے۔حواشی شیخ احمد۔ ابو داؤد۔ تعلیق ابن قیم۔ مرقاۃ الصعود۔ مجموعہ شروح اربعہ۔ ابن ماجہ مع تعلیق السندی۔ مصباح الزجاجہ۔ ترجمہ اردو۔ دارمی۔ مسند احمد۔ منتخب کنزالعمال کامل۔ کنز العمال کامل۔ شرح معانی الاثار۔ کتاب الاثار۔ کتاب الحج۔ مسند امام ابوحنیفہ۔ مسند الشافعی۔ رسالۃ الامام الشافعی۔ الادب المفرد۔ دارقطنی۔ ترغیب و ترہیب منذری۔ جامع صغیر۔ تیسیرالوصول۔ تسخیر اربعین نووی۔ خمسین ابن رجب۔ موائد العوائد۔ عمدۃ الاحکام۔ بلوغ المرام۔ ریاض الصالحین۔ شمائل ترمذی۔ خصائص النسائی۔ نوادر حکیم ترمذی۔ کوثر النبی۔ مشارق۔ درّالغالی۔ اذکار۔ طبرانی صغیر۔ جزء القراء ۃ۔ جزء رفع الیدین۔ حصن حصین۔ نزل الابرار۔ سفرالسعادہ۔ بنیان مرصوص۔ بدورالاہلّہ۔ مرقاۃ۔ لمعات۔ کوکب دراری۔ شرح عمدۃ الاحکام۔ نیل الاوطار۔ مناوی شرح جامع الصغیر۔ عزیزی شرح جامع صغیر۔ نصب الرایہ۔ نصب الدرایہ۔ تلخیص الحبیر۔ مسک الختام۔ سبل السلام۔ فتح العلام۔ شرح سفرالسعادۃ۔ شرح علی قاری علی مسند۔ جامع العلوم ابن رجب۔ سراج النبی۔ شرح شمائل۔ شرح حنفی۔ شرح باجوری۔ شرح ہروی۔ شرح سرہندی۔ طب النبی سیوطی۔ نیشاپوری۔ مبارق الازہار شرح مشارق۔ شرح صدور۔ بدور سافرہ۔ مظاہر حق۔ درالبہیۃ۔ سیل الجرار۔ عقود
    * جلد ھٰذا کے صفحہ ۳۷۵ سے متعلقہ- ناشر


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 459
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 459
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/459/mode/1up
    459
    جواہر المنیفہ۔ رسالہ رفع الیدین فی الدعا۔ تعلیم الکتابۃ للنسوان۔ باب چہارم مشکٰوۃ۔ الجہر بالذکر۔ مسح الرقبۃ۔ کشف الغمہ ۔کتاب الاسماء للبیہقی۔ رسائل ثمانیہ و عشرہ و اثنا عشر للسیوطی۔ خروج المہدی علی قول الترمذی۔ مسألہ تلقی الامہ۔ رفع السبابہ لحیات السندی کتاب الصلٰوۃ۔ الجواب الکافی۔ مظاہر حق۔ برزخ ابو شکور۔رسالہ امام مالک۔ مجموعہ موضوعات شوکانی۔ تعقبات سیوطی۔ مصنوع۔ موضوعات کبیر۔ اللآلی المصنوعۃ۔ ذیل اللآلی۔ کشف الاحوال۔ مقاصد حسنہ۔ کلینی۔ شرح کلینی۔ استبصار۔ منؔ لا یحضرہ الفقیہ۔ تہذیب الاحکام۔ وسائل الشیعہ۔ نہج البلاغہ۔ شرح ابن ابی الحدید۔
    کتب تفسیر
    تفسیر درمنثور۔ تفسیر ابن کثیر۔ تفسیر فتح البیان۔ تفسیر عباسی۔ تفسیر معالم التنزیل۔ خازن۔ مدارک۔ جامع البیان۔ اکلیل۔ فتح الخبیر۔ تفسیر سورہ نور۔ تفسیر ابن عرفہ۔ تفسیر بحرالحقائق۔ حسینی زمانہ مصنف۔ تفسیر روح المعانی۔ تفسیر کبیر۔ تفسیر روح البیان۔ بیضاوی۔ خفاجی بیضاوی۔ قونوی بیضاوی۔ شیخ زادہ بیضاوی۔ السید علی بیضاوی۔ کشاف۔ انصاف علٰی کشاف۔ الحاف علٰی کشاف۔ کشف الالتباس علی کشاف۔ السید علی الکشاف۔ تفسیر ابو سعود نیشاپوری۔ مجمع البیان۔ حل ابیات الکشاف۔ سراج المنیر خطیب۔ فتح الرحمن قاضی زکریا۔ صاوی علٰی جلالین۔ الجمل علی الجلالین۔ تعلیق جلالین۔ اسباب النزول۔ جلالین۔ الناسخ والمنسوخ ابن حزم۔ نزہۃ القلوب ابوبکر سختیانی۔ مفردات راغب اصفہانی۔ تبصیرالرحمٰن۔ عرائس البیان۔ تنزیہ القرآن۔ الدررالغرر۔ صافی۔ سواطع الالہام۔ تفسیر دررالاسرار احمدی۔ نیل المرام۔ اتّقان۔ کمالین۔ مفحمات الاقران۔ تفسیر منسوب الی الامام حسن عسکری۔ تفسیر عمّار علی تفسیر السیّد۔ برہان علی تفسیر السیّد۔ تنقیح البیان علٰی تفسیر السیّد۔ اکسیر۔ تفسیر قاسم شاہ۔ تفسیر کواشی۔ اقسام القرآن ابن قیم۔ قسمہائے قرآنیہ۔ مظہری۔ عزیزی سہ۳ پارہ۔ افادۃ الشیوخ۔ التأویلات الراسخ فی المقطعات۔ وجیز۔ بحرموّاج۔ فتح الرحمٰن۔ کشف الاسرار۔ تیسیر القرآن۔ غریب القرآن۔ فوزالکبیر۔ التحریر۔ رؤوفی۔ تفسیر معوذّتین لابن سینا۔ نموذج اللبیب۔ املاء ابوالبقا۔ روضۃالریان۔ ترجمان القرآن۔ اسرار الفاتحہ قونوی۔ تفسیر معین الواعظ۔ تفسیر یعقوب چرخی۔ مظہر العجائب۔


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 460
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 460
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/460/mode/1up
    460
    کرامات الصادقین۔۔۔ زادالآخرۃ۔ اعجاز القرآن۔ حقّانی۔ اقتباس القرآن۔ پارہ تفسیر امام ابوالمنصور۔ ترقیم فی اصحاب الرقیم۔ازالۃ الرین۔ ازالۃ الغین۔ اکسیراعظم۔ اسرار القرآن۔ لطائف القرآن۔ فتح المنّان۔ معالمات الاسرار۔ حیات سرمدی۔ سیل۔ ریڈویل۔ ترجمہ عماد۔ ترجمہ شیعہ اثنا عشریہ ۔ تفسیر یوسف نقرہ کار۔ خلق الجان۔ خلق الانسان۔ نجوم القرآن۔ مفتاح الآیات۔
    صرف و نحو
    ملحۃ الاعراب۔ شرح ملحہ من مصنف۔ شرح بحرق۔ آجر و میہ محشی۔ ابنیۃ الافعال۔ شرح ماءۃ ابن رضا۔ شرح قطر۔ حاشیہ یٰسٓ علٰی شرح قطر۔۔۔ مجیب الندا۔ نحومیر۔ شرح ماءۃ عربی۔ ہدایۃ النحو۔ کافیہ کلان زینی زادہ۔ غایۃ التحقیق۔ رضی کافیہ۔ شرح مُلّا۔ عبدالغفور مع مولوی جمال۔ عبدالرحمٰن۔ عصام الدین۔ شرح اجرومیہ۔ شذور۔ شرح شذور مصنف امیر علی عبادہ۔ قصاری۔ الفیہ محمدی۔ ترکیب الفیہ۔ شرح خالد ازہری۔ شرح شواہد ابن عقیل۔ ابن عقیل۔ توضیح۔ تصریح۔ حاشیۃالتصریح۔ صبّان۔ اشمونی۔ مغنی۔ حاشیہ امیر علیؔ المغنی۔ حاشیہ (علی) حاشیہ الامیر۔ وسوقی علی المغنی۔ دما مینی علی مغنی۔ مصنف علی دمامینی۔ منہل علی الوافی۔ ضریری۔ مصباح۔ ضوء۔ دہن۔ تہذیب النحو۔ ارشاد النحو۔ شرح اصول اکبری۔ تنبیہ العنید۔ علم الصیغہ۔ تصاریف الشکور۔ ہدیۃ الصرف۔ قانون الصرف۔ ابواب الصرف۔ موضح التہجی۔ مفتاح القرآن۔ صرف میر۔ متون العلوم۔ العلم الخفاق۔ رسالہ وضع۔ شرح رسالہ وضع۔ رضی شافیہ۔ جاربردی۔ اقتراح۔ منتخب اشباہ۔ مفصل۔ فوائد صمدیہ۔ شمہ۔ خصائص الابواب۔ نغزک۔ مغزک۔ شرح زنجانی۔ متن متین۔ شرح متن متین۔ شرح تحفۃ الغلمان۔ کتاب سیبویہ۔ مفتاح العلوم سکاکی۔ خضری علی ابن عقیل۔ اشباہ والنظائر سیوطی۔
    معانی بیان
    عقودالجمان۔ کنوزالجواہر۔ شرح عقود۔ شرح کنوز۔ تلخیص المفتاح۔ مختصر۔ بنّانی علی مختصر۔ مطوّل بھوپالی۔ اطول۔ حسن مطول۔ مولوی مطول۔ سید مطول۔ السید۔ سید علی مفتاح۔ فرائد محمودی۔ مرشدی علی عقود۔ رسالہ کنایہ۔ میزان الافکار۔ غصن البان۔ رسائل اجوبہ عراقیہ۔ نشوۃالسکران۔


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 461
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 461
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/461/mode/1up
    461
    ادب
    شرح فرزدق۔ دیوان اخطل۔ عروہ۔ نابغہ۔ حاتم۔ علقمہ۔ فرزدق۔ قیس عامر۔ عنتر۔ خنساء۔ طرفہ۔ زہیر۔ امرأ القیس۔ شلشلیہ۔ حماسہ۔ ابوالعتاہیہ۔ رطب العرب۔ حمیریہ۔ اطیب النغم۔ قصیدہ ذم التقلید۔ تحفہ صدیقہ شرح ام ذرع۔ متنبّی۔ خشّاب۔ شرح زوزنی۔ شرح تبریزی۔ شرح امرأ القیس۔ شرح شفزی۔ فیضی حماسہ۔ علق النفیس۔ شرح فیضی سبعہ معلقہ۔شرح ہمزیہ۔ شرح بَانَتْ۔ شرح بُردہ۔ شرح متنبّی۔ شرح لامیۃ العرب۔ شرح لامیۃ العجم۔ شرح تنویر۔ شرح رسائل ہمدانی۔ شرح عمر بن الفارض۔ شرح صبابہ۔ خطب ابن نباتہ و نواب و عبدالحی و عرب۔ اطواق۔ تزیین الاسواق مع شرح۔ شرح تحفۃ الملوک۔ مسامرہ۔ صدیقہ۔ الہلال۔ الاعلام۔ العروہ۔ اجوبہ عراقیہ۔ شرح مقامات۔ مقصورہ دُرید۔ مقامات وردی۔ مقامات حریری۔ حمیدی۔ ہمدانی۔ سیوطی۔ بدیعی۔ زمخشری۔ خزانۃ الادب ابن حجہ۔ شواہد عینی علی رضی و شواہد الفیہ۔ الف لیلہ۔ اخوان الصفا۔ مستطرف۔ کشکول۔ عقدالفرید۔ الانیس المفید۔ الفلک المشحون۔ تاریخ یمینی۔ تبیان تبیین۔ اخبار العرب۔ صناجۃ الطرب۔ اغانی۔ انشاء مرعی۔ نہج المراسلہ۔ سفیہ البلاغہ۔ مثل السائر۔ فلک الدائر۔ کتاب الاذکیا۔ ادب الطلب۔ عمدۃ ابن رشیق۔ رسائل بدیع الزمان۔ میزان الافکار۔ عروض با قافیہ۔ الفتح القسی۔
    لغت
    تاج العروس۔ لسان العرب۔ مجمع البحار۔ مجمع البحرین۔ نہایۃ ابن اثیر۔ مختصر النہایۃ للسیوطی۔ مشارق الانوار لغۃ۔ صحاح جوہری۔ و شاح۔ مصباح المنیر۔ القول المانوس۔ الجاسوس علی القاموس۔ اقرب الموارد۔ ذیل اقرب۔ اساؔ س البلاغۃ۔ کامل مبرد۔ مقدمہ اللغۃ۔ بلغہ فی اصول اللغہ۔ مزہر۔ فرائد اللغۃ۔ سراللیال۔ صراح۔ المبتکر۔ فروق اللغۃ۔ غیاث۔ شمس اللغات۔ امثال سیدانی۔ امثال ہلال عسکری۔ مخزن الامثال۔ نجم الامثال۔ فقہ اللغۃ۔ کفایۃ المتحفظ۔ الفاظ الکتابۃ۔ التلویح فی الفصیح۔ المثلثات۔ تجنیس اللغات۔ تعطیر الانام۔ ابن شاہین۔ امیر اللغات۔ ارمغان۔ محاورات ہند۔
    تاریخ
    تاریخ طبری کلان ۱۴ مجلد۔ تاریخ ابن خلدون ۷ مجلد۔ تاریخ کامل ابن اثیر۱۲مجلد۔


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 462
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 462
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/462/mode/1up
    462
    اخبار الدول قرمانی۔اخبار الاوائل محمد بن شحنہ۔ تاریخ ابونصر عتبی۔ نفح الطیب تاریخ علماء اندلس۔ مروج الذہب مسعودی۔ آثارالادہار۳ مجلد۔ عجائب الاثار جیرتی۔ خلاصۃ الاثر فی اعیان حادی عشر۔ فہرست ابن ندیم۔ مفاتیح العلوم۔الآثار الباقیہ بیرونی۔ تقویم البلدان عمادالدین۔ مراصدالاطلاع۔ مسالک الممالک۔ الفتح القسی۔ نزہۃ المشتاق۔ مواہب اللدنیہ۔ زرقانی شرح مواہب۔ زادالمعاد۔ سیرۃابن ہشام۔ شفا۔ شرح شفا لعلی قاری۔ سیرۃ محمدیہ۔ اوجزالسیر۔ قرۃالعیون۔ سرور المحزون۔ مدارج النبوۃ۔ معارج النبوۃ۔ سیرۃ حلبیہ۔ سیرۃ دحلان۔ ملخص التواریخ۔ سیر محمدیہ حیرت۔ تنقید الکلام۔ بدائع الزہور۔ تحفہ الاحباب۔ تاریخ الخلفاء سیوطی۔ تاریخ الخلفاء۔ اصابہ فی معرفہ الصحابہ۔ اسدالغابۃ۔ میزان الاعتدال۔ ابن خلکان۔ تذکرۃ الحفاظ۔ لسان المیزان۔ خلاصہ اسماء الرجال۔ تقریب التہذیب۔ خلاصۃ تاریخ العرب۔ تاریخ عرب سیدیو۔ تاریخ مصر و یونان۔ تاریخ کلیسیا۔ دینی و دنیوی تاریخ۔ مسیحی کلیسیا۔ تاریخ یونان۔ تاریخ چین۔ تاریخ افغانستان۔ تاریخ کشمیر۔ گلدستہ کشمیر۔ تاریخ پنجاب۔ تاریخ ہندوستان الفنسٹن۔ تاریخ ہند ذکاء اللہ۔ ایضًا جدید۔ وقایع راجپوتانہ۔ تاریخ غوری و خلجی۔ عجائب المقدور۔ تاریخ مکہ۔ رحلہ بیرم صفوۃ الاعتبار۔ رحلۃ ابن بطوطہ ۸ مجلد۔ رحلۃ الصدیق۔ رحلۃ الوسی۔ رحلۃ احمد فارس۔ رحلۃ شبلی۔ خلفاء الاسلام۔ تاریخ نہر زبیدہ۔ تاریخ بنگال۔ مناقب خدیجہ۔ مناقب الصدیق۔ مناقب اہل بیت۔ مناقب الخواتین۔ رحلہ برنیر۔ تاریخ بیت المقدس۔ الیانع الجنی۔ تذکرہ ابو ریحان۔ المشتبہ من الرجال۔ بدایۃ القدماء۔ فتوح بہنا۔ جغرافیہ مصر۔ فتوح الیمن۔ فتوح الشام۔ معجم البلدان۔ تاریخ الحکماء۔ سیرۃ النعمان۔ حیات اعظم۔ خیرات الحسان۔ حسن البیان۔ مناقب الشافعی۔ قلائد الجواہر۔ اخبار الاخیار۔ تذکرۃ الابرار۔ گذشتہ و موجودہ تعلیم۔ تاریخ علوی۔ تذکرۃ الاولیاء۔ طبقات کبریٰ۔ اتحاف النبلاء۔ التاج المکلل۔ طبقات الادباء۔ طلائع المقدور۔ ابجد العلوم۔ عمدۃ التواریخ۔ آئینہ اودھ واقعات شجاع۔ نفحات الانس۔ سوانح محمد قاسم۔ مولوی فضل الرحمن۔ بستان المحدثین۔ تراجم حنفیہ۔ گلا ب نامہ۔ تاریخ حصار۔ تاریخ بہاولپور۔ تاریخ سیالکوٹ۔ تاریخ نحات۔ تاریخ پٹیالہ۔ تاریخ روسیہ۔ تاریخ لاہور۔ روز روشن۔ شمع انجمن۔ صبح گلشن۔ تذکرۃ الشعراء دولت شاہی۔ ترجمان وہابیہ۔ تاریخ الحکماء۔ یادگار خواجہ معینؔ الدین چشتی۔ تقویم اللسان۔ تزک تیمور۔


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 463
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 463
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/463/mode/1up
    463
    کتب الاصول
    تحریر ابن ہمام۔ کشف الاسرار علی البزدوی۔ جمع الجوامع مع شرحہ۔ بنانی۔ کشف المبہم۔ مسلم الثبوت۔ تدریب الراوی۔ تلویح۔ توضیح۔ چلپی۔ ملا خسرو۔ شیخ الاسلام۔ الفیہ عراقی۔ فتح المغیث۔ بزدوی لفخرالاسلام۔ الفقہ الاکبر۔ وصایا الامام۔ نخبہ۔ شرح نخبہ لعلی قاری۔ اصول شاشی۔ فصول الحواشی۔ زبدۃ الاصول آملی۔ شرح نخبہ للمصنف۔ اصول حکمیہ ابن قیم۔ حسامی۔ مولوی حسامی۔ مرقاۃالوصول۔ مرآۃ الاصول۔ المنار۔ نورالانوار۔ نسمات الاسحار۔ فصول الحواشی۔ مقدمہ ابن صلاح۔ ظفر الامانی شرح مختصر الجرجانی۔ قمر الاقمار۔ اشراق الابصار۔
    فقہ
    فتح القدیر ہدایہ۔ عینی ہدایہ۔ ہدایہ محشّٰی عبدالحیّ۔ سعایہ شرح وقایہ۔ چلپی شرح وقایہ۔ غایۃ الحواشی۔ نقایہ شرح شرح وقایہ۔ الشامی مع تکملہ۔ بحرالرائق۔ تکملہ بحرالرائق۔ منحۃ الفائق۔ کبیری شرح منیہ۔ منیری شرح قدوری۔ الجوہرۃ النیرۃ۔ اشباہ والنظائر۔ قانون الاسلام۔ عنوان الشرف۔ ہدیہ مختارہ۔ الجامع الصغیر۔ زیادات۔ شرح زیادات۔ تحفۃ الاخیار۔ نورالایمان۔ النافع الکبیر۔ النفخۃ المسکینہ۔ التحفۃ الملکیہ۔ رسالہ اکثار التعبدوالجہد۔ رویۃ الہلال۔ فتح المقتدی۔ ہلال رمضان۔ الشہادۃ فی الارضاع۔ جماعۃ النساء۔ رسالۃ علی المندیل۔ الاجوبۃ الفاضلہ۔ اعتبار الکتب۔ رسالۃ الاسناد۔ رسالۃالتصحیح۔ النسخ والترجیح۔ نفع المفتی۔ نفع السائل۔ دفع الوسواس۔ زجر الناس فی اثر ابن عباس۔ تحذیر الناس۔ شرب الدخان۔ اخر جمعۃ۔ القراء ۃ بالترجمۃ۔ الانصاف فی الاعتکاف۔ رسالہ السبحۃ۔ رسالہ الرہن۔ الاکثار فی التعبد۔ رسالہ الجرح والتعدیل۔ تبصرۃ الناقد۔ الفتاوٰیالثلا ثۃ للشیخ عبدالحی۔ الکلام المبرم۔ الکلام المبرور۔ السعی المشکور۔ امام الکلام غیث الغمام۔ الاثار المرفوعۃ۔ دلیل الطالب۔ بدورالاہلۃ۔ حمایۃ الفقہ۔ مجلۃ الاحکام۔ کتاب الفرائض۔ مسائل الشریعۃ۔ الروض المستنقع۔ صیانۃ الناس۔ سلک نور۔ کلمۃ الحق۔ رسائل ابن عابدین الشامی۔ اجابۃ الغوث ببیان حال النقباء والنجباء والابدال والاوتاد والغوث۔ غایۃ البیان فی ان وقف الاثنین علی انفسہما وقف لاوقفان۔ غایۃ المطلب فی اشتراط الواقف۔ عود النصیب الی اہل الدرجۃ الاقرب فالاقرب۔ الاقوال الواضحۃ فی نقض القسمۃ و مسئلۃ الدرجۃ الجعلیہ۔ تنبیہ الرقود علی مسائل النقود۔ العلم الظاہر فی نفع النسب الطاہر۔ اجوبۃ محقّقۃ عن اسئلۃ مفترقۃ۔ رفع الانتقاض و دفع الاعتراض


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 464
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 464
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/464/mode/1up
    464
    علی قولہم الایمان مبنیۃ علی الالفاظ لاعلی الاغراض۔ تنبیہ ذوی الافہام علی احکام التبلیغ خلف الامام۔ رسالہ الابانۃ علی اخذ الاجرۃ علی الحضانۃ۔ اتحاف الزکی النبیہ بجواب ما یقول الفقیہ۔ الفوائد العجیبۃ فی اعراب الکلمات الغریبۃ۔ الفوائد المخصصۃ باحکام الحمصۃ۔ تحبیر التحریر فی ابطال القضاء بالفسخ بالغبن الفاحش بلا تعزیر۔ اعلام الاعلام باحکام الاقرار العام۔ رفع التردّد فی عقد الاصابع عند التشہّد مع رسالہ ملا علی قاری۔ نشرالعرف فی بناء بعض الاحکام علی العرؔ ف۔ شرح المنظومۃ المسماۃ بعقود رسم المفتی۔ سل الحسام الہندی لنصرۃ مولانا خالد النقشبندی۔ تنبیہ الولاۃ والحکام علی احکام شاتم خیر الانام او احد اصحابہ الکرام۔ شفاء العلیل و بل الغلیل فی حکم الختمات والتہالیل۔ الرحیق المختوم شرح قلائد المنظوم۔ منہل الواردین من بحار الفیض علی ذخرالمتاہلین۔ عقود اللآلی فی اسانید العوالی۔ الجواہرالنیّرۃ۔ الکنز۔ کلان مجتبائی۔ فتاویٰ حدیثیہ۔ ذب عن المعاویہ۔ درر فاخرہ۔ ردّ شن الغارۃ۔ مصباح الادلۃ۔ غایۃ الکلام علی عمل المولد والقیام۔ کشف علماء یاغستان۔ اختیار الحق ردّ انتصار الحق۔ ایضاح الحق۔ الصریح فی احکام المیت والضریح۔ احسن البیان علٰی سیرۃ النعمان۔ تفہیم المسائل۔ اثبات بالجہر بالذکر۔ تذکرۃ الراشد رد تبصرۃ الناقد۔ صواعق الٰہیہ۔ جامع الشواہد لاخراج الوہابین من المساجد۔ تقدیس الرحمٰن من الکذب والنقصان۔ انتظام المساجد۔ انتصارالاسلام۔ تنبیہ المفسدین۔ نان و نمک۔ کلمۃ الحق۔ پیری و مریدی۔ اعتقاد رسالہ شیعہ۔ انصاف من اسباب الاختلاف۔ صیانۃ الانسان۔ محاکمہ بین الاحمدین۔ تنقید الکلام الی غوث الانام۔ سیف الابرار۔ الردالمعقول۔ التمہید فی التقلید۔ معیارالمذاہب۔ استفتا مذہب اہل سنت۔ رموز القرآن۔ جامع القواعد۔ توفیق الکلام فی الفاتحۃ۔ تحقیق المرام فی ردّ علی القراء ۃ خلف الامام۔ البحر الزخارفی الرد علٰی صاحب الانتصار۔ البلاغ المبین فی اخفاء الآمین۔ القول الفصیح فی الفاتحۃ۔ شوارق صمدیہ ترجمہ بوارق۔ تحفۃ المسلمین علی الآمین۔ ترویح الموحدین فی التراویح۔ فتویٰ احتیاط بعد الظہر۔ صلح الاخوان۔ صواعق الٰہیہ حسین شاہ بخاری۔ دلائل الرسوخ۔ جامع الکنوز۔ الباعث علٰی انکار البدع۔ ترک القراء ۃ للمقتدی۔ تحفۃ الکرام۔ عشرہ مبشرہ۔ رسالہ تراویح۔ فتاویٰ العلماء۔ اظہار الحق۔ تنقیح الاربعین۔ الکلام المبین۔ تزیین العبارۃ فی الاشارۃ۔ مجموعہ فتاویٰ۔ گیارہ سوال۔ الکوکبالاجوج


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 465
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 465
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/465/mode/1up
    465
    بوارق الاسماع۔ بشنوید۔ درجات الصاعدین۔ اصول الایمان۔ اجراء الصفات دارالسلام۔ ماثبت بالسنہ۔ کتاب الفرج۔ اختیار الحق۔ البراہین القاطعۃ۔ مدالباع۔ فیوض قاسمیہ۔ انوار نعمانیہ۔ رفع الریبہ۔ ستہ ضروریہ۔ سیوف الابرار۔ حقیقۃ الاسلام۔ کفارۃ الذنوب۔ ہدیۃ البہیۃ۔ نظام الملۃ۔ اسرار غیبیہ۔ رسائل شاہ ولی اللہ۔ تکمیل الایمان۔ پردہ پوشی۔ تنویر القدیر۔ قاضی خاں عالم گیری۔
    علم کلام
    شرح مواقف مع عبدالحکیم۔ چلپی۔ تکملات۔ شرح مقاصد۔ الجواب الفصیح۔ تحفۃ الاشعریہ شیعہ۔ کتاب العقل والنقل ابن تیمیہ۔ تصانیف احمد اوّل،دوم۔ تہذیبسہ۳ مجلد۔ حضرات التجلی۔ شرح عقائد مع حاشیہ سنبھلی۔ الصراط المستقیم لابن تیمیہ۔ ردّ نصاریٰ۔ مسألۃ امکان۔ لسان الحق۔ رد امکان۔ عجالۃ الراکب۔ معتقد۔ المنقذ من الضلال۔ حقیقت روح۔ اقتصاد۔ جوش مذہبی۔ حجۃ الہند۔ مطالع الانظار۔ قضا و قدر۔ کتاب الطہارۃ۔ ترجمہ ریفارمر۔ طرق حکمیہ۔ الجام العوام۔ المضنون بہ۔ آب حیات۔لسان الصدق۔ مراسلات مذہبی۔ نونیہؔ ۔ نصیحۃ التلمیذ۔ منہاج۔ جواب تحریف القرآن۔ ردّ تناسخ۔ ابطال الوہیت۔ تصدیق براہین احمدیہ۔ اسلام ہند۔ الجزیہ۔ جلوہ کائنات۔ النظر علی الغزالی۔ فضائل غزالی۔ رموز ہستی۔ تحفۃ الہند۔ تصدیق الہنود۔ دین محمدی۔ طعن الرماح۔ ظفر مبین۔ سوط اللہ الجبار۔ امداد الآفاق۔ ہدیہ مہدویہ۔ ویدوں کی حقیقت۔ ترجیح القرآن۔ رسالہ عرشیہ۔ شرح جوہرہ۔ تمہید۔ شرح عقاید خیالی۔ شرح جلالی۔ شرح عقیدہ کبریٰ۔ عبدالحکیم خیالی۔ رسالہ حی بن یقظان۔ شرح طوالع۔ توربُشتی۔ شرح فقہ اکبر وا مالی۔ عقیدہ صابونیہ۔ واسطیہ۔ تقریر دلپذیر۔ قبلہ نما۔ انتصارالاسلام۔ اعلام الاخبار۔ خلعۃ الہنود۔ سوال و جواب۔ نورمحمدی۔ الاساس المتین۔ تحقیق ذبح۔ فیض معظم۔ عقوبۃ الضالین۔ تنزیہ الانبیا۔ اثبات الواجب۔ تہافۃ الفلاسفہ۔ المطالب العالیہ۔ دبستان مذاہب۔ ملل و نحل شہرستانی۔ حمیدیہ۔ اسرار حج۔ برکات الاسلام۔ الالہام الفصیح فی حیاۃ المسیح۔ تحقیق الکلام فی الحیٰوۃ۔ احقاق الحق۔ کشف الالتباس۔ ایضاح۔ المنقذمن الضلال


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 466
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 466
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/466/mode/1up
    466
    منطق
    ایساغوجی۔ یک روزہ۔ میرایساغوجی۔ ہدایۃ النحو۔ قطبی۔ میرقطبی۔ مولوی قطبی۔ قل احمد۔ منیری۔۔۔ شرح تہذیب فارسی۔ اربع عناصر۔ شرح تہذیب عربی۔ منطق قیاسی۔ منطق استقرائی۔ المنطق الجدید۔ مبادی الحکمہ۔ مرقاۃ۔ مجموعہ منطق ملّا حسن۔ حمداللّٰہ۔ قاضی۔ سُلّم عبدالعلی سلم۔ منہیہ عبدالعلی برسُلّم۔ تحریم المنطق ابن تیمیہ۔ رسالہ قطبیہ خیر آبادی غلام یحییٰ۔ میر زاہد رسالہ۔ عبد العلی میر زاہد رسالہ۔ حواشی عبدالحی المرحوم۔ مرقاۃ۔ عبدالحق مرقاۃ۔ تحفہ شاہجہانی۔ عبدالحلیم برحمد اللہ۔ ردالمغالطین۔ ملا جلال۔ عبدالعلی۔ ملا جلال قلمی وطبع۔ میبذی۔ ہدیہ سعیدیہ۔ عبدالحق علی ہدیہ۔ صدرا۔ شمس بازغہ۔ جواہر غالیہ۔ حواشی امور عامہ۔ بحرالعلوم امور عامہ۔ سقایۃ الحکمۃ۔ شرح اشارات۔ ہدیہ مہانراجہ۔ شفا شیخ۔ افق المبین۔ جذوات اسفار اربعہ۔
    اخلاق و تصوف
    احیاء العلوم ہند و مصر مع عوارف شیخ سہروردی۔ شرح احیاء۔۰ ا مجلد۔ حجۃ اللّٰہ البالغہ۔ میزان شعرانی۔ فتوحات مکیہ ۴ مجلد۔ رحمۃ الامہ۔ کشف الغمہ۔ غنیہ۔ فصل الخطاب محمد پارسا۔ مثنوی مولوی روم۔ لب لباب۔ شرح بحر العلوم۔ منازل شرح مدارج السالکین۔ حاوی الارواح۔ طریق الہجرتین۔ اعلام الموقعین عن رب العالمین۔ شرح کتاب التوحید۔ کتاب الایمان۔ کتاب الروح۔ ایضًا از غزالی مترجم۔ ایضًا الفتوح فی احوال الروح۔ مکتوبات یحیٰی منیری و خواجہ معصوم۔ جواہر فریدی۔ دلیل العارفین۔ مکتوبات شیخ عبدالحق۔ سبع سنابل۔ مکتوبات مولوی اسماعیل وحبیب اللّٰہ قندھاری۔ مکتوبات امام ربانی و مظہر جان و غلام علی صاحب۔ رسالہ امام قشیری۔ زبدۃ المقامات۔ ملہمات۔ فوائد الفوائد۔ افضل الفوائد۔ کلمۃ الحق۔ مقاؔ مات ربّانی۔ فیض ربّانی۔ فتوح الغیب۔ مناقب شیخ عبدالقادر۔ شفاء العلیل۔ البلاغ المبین۔ منصب امامت۔ شرح حزب البحر۔ عجالہ نافعہ۔ الصراط المستقیم۔ انسان کامل۔ برزخ ابو سالمی۔ آب حیات۔ ادامۃ الشکر۔ مقالہ فصیحہ۔ شیروشکر۔ تقویۃ الایمان۔ سرور المحزون۔ جواب شاہ عبدالعزیز۔ ردّ اعتراضات بر امام ربانی


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 467
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 467
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/467/mode/1up
    467
    شرحفصوص الحکم فارسی و عربی و اردو۔ عوارف۔ مکارم الاخلاق۔ ایقاظ الرقود۔ بزرالمنفعہ۔ دواء القلب۔ تبشیر العاصی۔ تحصیل الکمال۔ تسلیۃ المصاب۔ منجیات۔ زواجر۔کشف اللئام۔کشف الغمۃ۔ فتنۃ الانسان۔الانفکاک۔النصح السدید۔ ملاک السعادہ۔ عمارۃ الاوقات۔ دعوۃ الحق۔ دعوۃ الداع۔ زیادۃ الایمان۔ نکات الحق۔ کلمۃ الحق۔ اسرار الوحدۃ۔ رسالہ توحیدیہ۔ بحر المعانی۔ وجوہ العاشقین۔ انیس الغرباء۔ تحفۃ الملوک۔ مجموعہ رسائل تصوف۔ بشارۃ الفساق۔ محو الحوبۃ۔ المفتقر فی حسن الظن۔ غراس الجنۃ۔ تذکیر الکل۔ ضوء الشمس۔ وسیلہ النجات۔ عشر۔ رفع الالتباس۔ ایقاظ النیام۔ اصلاح ذات البین۔ جلاء القلوب تذکرۃ المحبوب۔ تحفہ حسن۔ پیری مریدی۔ راہ سنت۔ تصورِ شیخ۔ کیمیاء سعادت۔ انشاء الدوائر۔ اسوہ حسنہ۔ برزخ۔ مکتوبات قدوسیہ مع جواہر صمدیہ۔ شرح اسماء حسنیٰ امام غزالی۔ شرح اربعین ابن حجرمکی۔ قوۃ القلوب ابو طالب مکی۔ سراج القلوب۔ حیٰوۃ القلوب۔ علم الکتاب۔ تعرف۔ تنبیہ المفترین۔ جامع اصول الاولیاء۔ کتاب المدخل۔ مبدأ معاد۔ کلمہ الحق۔ خلاصہ۔ اربعہ انہار۔ کشف الحجاب۔ نکات الحق۔ ارشاد رحیمیہ۔ انفاس رحیمیہ۔ سبیل الرشاد۔ ستہ ضروریہ۔ معین الارواح۔ توحیدیہ۔ مرأۃ العاشقین۔ صحائف السلوک۔ حظیرۃ القدس۔ موائد العوائد۔ نالہء عندلیپ۔ آہ سرد۔ درد دل۔ نالہء درد۔ شمع محفل۔
    طب
    تذکرہ داؤد۔ نزہۃ البہجۃ۔ کامل الصناعۃ۔ قانون بوعلی مصر سہ۳ مجلد۔ حمیات قانون مع معالجات قلمی۔ اکسیراعظم فارسی۴ مجلد۔ محیط اعظم ۳ مجلد۔ قرابادین اردو۔ فارسی جلد اول۔ اکسیر امام الدین کپورتھلہ۔ مخزن سلیمانی۔ زہراوی نمبر۱۱۔ جامع الشرحین۔ سکندری طبع و قلمی۔ یاقوتی۔ رکن اعظم بحران۔ نیّراعظم نبض۔ خلاصۃ الحکمۃ۔ میزان الطب مع رسائل۔ التشریح الخاص۔ کتاب التحضیر۔ التشریح العام۔ امراض جلدیہ۔ منح السیاسۃ۔ میاہ معدنیہ۔ تحفۃالمحتاج۔ کتاب الکیمیا۔ کلپ دروم۔ دارا شکوئی۔ اورنگ زیبی۔ دواء الہند۔ معصومی۔ حیٰوۃ الحیوان۔


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 468
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 468
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/468/mode/1up
    468
    مجربات اکبری۔ طبری نصف اول۔ ریاض الفوائد۔ تذکرہ اسحاقیہ۔ مفردات اسحاقیہ۔ محیط۔ اکسیر ملتانی عربی۔ رسالہ افیون۔ رسالہ اورام۔ ترتیب العلل۔ تشریح الامراض۔ ہیموپیتھک۔ افضل المقال حالات اطبّاء۔ قرابادین ویدک۔ غایۃ الغایہ برء الساعہ۔ رسائل ہندیہ۔ شرح قانونچہ۔ زمرد۔ کنوز الصحۃ۔ غایۃالمرام۔ علاج الامراض۔ ہائیجین۔ طب رحیمی۔ کلیات علم۔ فزیکل کانگرس۔ علم الامراض۔رسالہ جراحۃ۔ رسالہ اطفال۔ مبلغ الیراح۔ بقائی۔ شبری۔ معمولات احمدیہ۔ مٹیریامیڈیکا۔ مجربات سموم۔ وباء ہیضہ۔ بحث اخلاط و اخبارات طب۔ علاج الابدان۔ شفاؔ ء الامراض۔ رسالہ غذا۔ وسائل الابتہاج۔ السراج الوہاج۔ رسالہ امراض قلب۔ حفظ صحت۔ شرح مفرح۔ بحرالجواہر۔ بہجۃ الرؤساء۔ سرجری۔ گنجینۂ فنون صنعت۔ تحفۂ عیش۔ طب جمالی۔ رسالہ آتشک۔ مجربات بشیر۔ رسالہ جدری۔ زبدۃ المفردات۔ زمرد اخضر۔ عنبر۔ ہدایت الموسم۔ طب راجندری۔ فصول الاعراض۔ مجربات بوعلی۔ کنزالاسرار۔ مجربات رضائی۔ علاج الماء۔ رسالہ کیمیا۔ نباتات حیوانات۔ تشریح الدق۔ ضیاء الابصار۔ ذیابیطس۔ مراق۔ عجالہ مسیحی۔ سعادت دارین۔ رسالہ آواز۔ رسالہ ہیضہ۔ تکشیف الحکمہ۔ طبیب لاہور۔ بٹنگ۔ رسالہ آتشک۔ معدن الحکمہ۔ رسالہ ہیضہ۔ رسالہ فصد۔ رسالہ نبض۔ خُف علائی۔ امرت ساگر۔ رموزالحکمہ۔ رسالہ مطب علوی۔ طب شہابی۔ علاج الابدان۔ آئینہ طبابت۔ تکمیل الحکمۃ۔ بواسیر۔ مخدرات۔ مسکرات۔ رسالہ آتشک۔ سوزاک۔ رسالہ باہ۔ کفایۃ العوام۔ صحۃ الحوامل۔ صحت نما ئے ازدواج۔ ناصرالمعالجین۔ قرابادین۔ فزیشین۔ جامع شفائیہ۔ مفید عام معین الحکیم۔ سدیدی قلمی و مطبع۔ قرابادین اعظم۔ افادات کیمیریہ۔ علاج الامراض۔ علم الامراض۔ نفیسی کامل۔ سدیدی کامل۔ خزائن الملوک۔ حیر التجارب۔ خلاصۃ التجارب۔ عجالہ نافعہ۔ طب کریمی۔ صناعات ویدک۔ تحفہ محمد شاہی۔ قرابادین مظہری۔ قرابا دین ویدک۔ برء الساعہ۔ رسائل نتھوشاہ۔ رسالہ مراق۔ کنزالمسہلین۔ اکسیرالامراض۔ تحقیقات نادرہ۔ دستور النجاۃ فی علاج الحمیات۔ کشت زار۔ قرابادین حاذق۔ قرابادین ذکائی۔ مخزن المفردات۔ منہاج الدکان۔ علاج الحمی۔ تریاق اعظم۔ جنۃ الواقیۃ۔ زبدۃ الحکمۃ۔ خلاصۃ الحکمۃ۔ الطاعون۔ دفع الطاعون۔ حرز الطاعون۔ طبیب الغرباء۔ مظہر العلوم۔


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 469
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 469
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/469/mode/1up
    469
    رسائل کیمیا۔ حافظہ احمدی۔ شفاء للناس۔ اصول علاج الماء۔ اختیار التولید۔ تشریح الاورام۔ الصحۃ۔ نور الحکمہ۔ بحر محیط۔ گلدستہ مجربات۔ معلم الصحۃ۔ ابراہیم شاہی۔ فرخ شاہی۔ حاوی کبیر۔ حاوی صغیر۔ علاج کلب الکلب۔ تحلیل البول۔ قادری
    کتب مذاہب
    وید ۱۰ مجلد۔ رگوید۔ یجروید۔ اتھرین وید۔ شام وید۔ ترجمہ دہلی۔ ترجمہ ویدبھومکا۔ ستیارتھ پرکاش سنسکرت واردو۔ منو۔ یاک دلک۔ پرمانند۔ کتب ؔ جین مت۔ کتب الکھ دھاری۔ جواب ستیارتھ سنسکرت میں۔ زندوستا۔ سفرنگ۔ دساتیر۔ بدھ مذہب۔ فیتھ آف دی ورلڈ۔ ڈریپر۔ الواح الجواہر ہرمس۔ کتب مذہب بابی۔ مصحف ہرمس۔ گرنتھ نانک صاحب وغیرہ۔ جنم ساکھی۔ صحیفہ فطرۃ۔۔۔ توریت عبری۔ عربی۔ فارسی۔ اردو۔ کتب عہد قدیم۔ عبری۔ عربی۔ فارسی۔ اردو۔ اناجیل اربعہ عربی اردو و فارسی۔ اناجیل طفولیت و مریم۔ کتب عہد جدید۔ تفسیر زبور۔ تفسیر انجیل متی۔ تفسیر انجیل مرقس۔ تفسیر انجیل لوقا۔ تفسیر انجیل یوحنا۔ تفسیر اعمال۔ تفاسیر رومن میں۔ تفسیر خط قرنتیاں۔ تفسیر خطوط پولس۔ رسولوں کے خطوط کی تفسیر۔ اعمال کی تفسیر۔ دعاعمیم۔ کلیدالکتاب۔ تالمود۔ الٰہیات کی کتاب۔ رسائل الٰہیات۔ تشریح التثلیث۔ خطوط بنام نوجوان۔ جامع الفرائض۔ صلوات عمومیہ۔ مفتاح الاسرار۔ اگسٹن کے اقرار۔مسیح کی بے گناہی۔ مسیح ابن اللہ مسیح کا جی اٹھنا۔ طریق الاولیاء۔ تعلیم علم الٰہی۔ یسوع کا احوال۔ خلاصۃ التواریخ۔ پندرہ لیکچر۔ میزان الحق۔ طریق الحیات۔ مفتاح التوریت۔ اسرار الٰہی۔ تقلید المسیح۔ اعجاز مسیحی۔ عین الحیات۔ نبی معصوم۔ الثلۃ الکتب ۔تیغ و سپر۔ نیازنامہ۔ الوہیت مسیح۔ تحریف القرآن۔ اعجاز القرآن۔ ہدایۃ المسلمین۔ عبدالمسیح۔ تواریخ محمدی۔ صدائے غیب۔ نکات احمدیہ۔ اندرونہ بائبل۔ اصول سیکالوجی۔ متھالوجی۔ ہوائے زمانہ۔ الہٰیات۔ انجیل تبت والہ۔
    رسائل علوم مختلفہ
    اُکُر چند اقسام کے۔ علم الہوا۔ علم الماء۔ علم السکون۔ علم الہیئت۔ علم مثلث۔ علم مقنطرات۔ رسائل مجیب۔ اقلیدس پندرہ مقالہ۔ علم مناظر۔ رسائل علم مرایا۔ ام التواریخ۔ گلبن تاریخ۔ رسائل نباتات۔ رسائل علم الحیوانات۔ سرالسماء۔ توشجیہ۔ منطل فلاسفی۔ رسائل جیالوجی۔ مبادی الطبیعات۔ سلسلہ تعلیم طبیعہ و فلسفہ۔ مفاتیح العلوم۔ فہرست ابن ندیم۔ کشف الظنون۔ کشف القنوع۔ فہرست خدیویہ۔ التوفیقات الالہامیہ۔ جامع بہادر خانی


    Ruhani Khazain Volume 13. Page: 470
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- البلاغ: صفحہ 470
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=13#page/470/mode/1up
     
    Last edited: ‏جنوری 22, 2018

اس صفحے کو مشتہر کریں