1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

روحانی خزائن جلد 12 ۔محمود کی آمین ۔ یونی کوڈ

'روحانی خزائن ۔ حضرت مسیح موعودؑ ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏اگست 10, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    روحانی خزائن جلد 12۔ محمود کی آمین۔ یونی کوڈ

    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 317
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- محمود کی آمین: صفحہ 317
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم
    محمود کی آمین
    ۱۳۱۹ء
    جس کو
    ڈاکٹر عباد اللہ ایم۔ بی نے مطبع بشیر ہند
    ہال بازار امرت سر میں طبع کرایا
    بار ثانی
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 318
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- محمود کی آمین: صفحہ 318
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    قرآؔ ن کریم کی مدح میں عاشقانہ ترانہ اور اس امر کے بیان میں کہ
    قول خداوندی اور قول بشر میں فرق بیّن ہونا ضروری ہے اور
    اس لئے قرآن کریم لاریب قول خداوندی ہے
    جمال و حسن قرآں نور جان ہر مسلمان ہے
    قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے
    نظیر اسکی نہیں جمتی نظر میں غور کر دیکھا
    بھلا کیونکر نہ ہو یکتا کلام پاک رحماں ہے
    بہار جاوداں پیدا ہے اسکی ہر عبارت میں
    نہ وہ خوبی چمن میں ہے نہ اس سا کوئی بستاں ہے
    کلام پاک یزداں کا کوئی ثانی نہیں ہرگز
    اگر لولوئے عماں ہے وگر لعلِ بدخشاں ہے
    خدا کے قول سے قول بشر کیونکر برابر ہو
    وہاں قدرت یہاں درماندگی فرق نمایاں ہے
    ملائک جس کی حضرت میں کریں اقرار لاعلمی
    سخن میں اسکے ہمتائی کہاں مقدور انساں ہے
    بنا سکتا نہیں اک پاؤں کیڑے کا بشر ہرگز
    تو پھر کیونکر بنانا نور حق کا اس پہ آساں ہے
    ارے لوگو کرو کچھ پاس شان کبریائی کا
    زباں کو تھام لو اب بھی اگر کچھ بوئے ایماں ہے
    خدا سے غیر کو ہمتا بنانا سخت کفراں ہے
    خدا سے کچھ ڈرو یارو یہ کیسا کذب و بہتاں ہے
    اگر اقرار ہے تم کو خدا کی ذات واحد کا
    تو پھر کیوں اس قدر دل میں تمہارے شرک پنہاں ہے
    یہ کیسے پڑ گئے دل پر تمہارے جہل کے پردے
    خطا کرتے ہو باز آؤ اگر کچھ خوف یزداں ہے
    ہمیں کچھ کیں نہیں بھائیو نصیحت ہے غریبانہ
    کوئی جو پاک دل ہووے دل و جاں اس پہ قرباں ہے
    دیگر
    نور فرقاں ہے جو سب نوروں سے اَ جلیٰ نکلا
    پاک وہ جس سے یہ انوار کا دریا نکلا
    حق کی توحید کا مرجھا ہی چلا تھا پودہ
    ناگہاں غیب سے یہ چشمۂ اصفیٰ نکلا
    یا الٰہی تیرا فرقاں ہے کہ اک عالم ہے
    جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 319
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- محمود کی آمین: صفحہ 319
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    سبؔ جہاں چھان چکے ساری دکانیں دیکھیں
    مئے عرفان کا یہی ایک ہی شیشہ نکلا
    کس سے اس نور کی ممکن ہو جہاں میں تشبیہ
    وہ تو ہر بات میں ہر وصف میں یکتا نکلا
    پہلے سمجھے تھے کہ موسیٰ کا عصا ہے فرقاں
    پھر جو سوچا تو ہر ایک لفظ مسیحا نکلا
    ہے قصور اپنا ہی اندھوں کا وگرنہ وہ نور
    ایسا چمکا ہے کہ صد نیر بیضا نکلا
    زندگی ایسوں کی کیا خاک ہے اس دنیا میں
    جن کا اس نور کے ہوتے بھی دل اعمیٰ نکلا
    جلنے سے آگے ہی یہ لوگ تو جل جاتے ہیں
    جن کی ہر بات فقط جھوٹ کا پتلا نکلا
    محمود کی آمین
    3
    نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم
    حمد و ثنا اسی کو جو ذات جاودانی
    ہمسر نہیں ہے اس کا کوئی نہ کوئی ثانی
    باقی وہی ہمیشہ غیر اس کے سب ہیں فانی
    غیروں سے دل لگانا جھوٹی ہے سب کہانی
    سب غیر ہیں وہی ہے اک دل کا یارجانی
    دل میں میرے یہی ہیسُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    ہے پاک پاک قدرت عظمت ہے اسکی عظمت
    لرزاں ہیں اہل قربت کروبیوں پہ ہیبت
    ہے عام اس کی رحمت کیونکر ہو شکر نعمت
    ہم سب ہیں اسکی صنعت اس سے کرو محبت
    غیروں سے کرنا الفت کب چاہے اسکی غیرت
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    جو کچھ ہمیں ہے راحت سب اسکی جودومنت
    اس سے ہے دل کی بیعت دل میں ہے اسکی عظمت
    بہتر ہے اسکی طاعت طاعت میں ہے سعادت
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    سب کا وہی سہارا رحمت ہے آشکارا
    ہم کو وہی پیارا دلبر وہی ہمارا
    اس بن نہیں گذارا غیر اس کے جھوٹ سارا
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 320
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- محمود کی آمین: صفحہ 320
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    یا رب ہے تیرا احساں میں تیرے در پہ قرباں
    تونے دیا ہے ایماں تو ہر زماں نگبہاں
    تیرا کرم ہے ہرآں تو ہے رحیم و رحماں
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    کیونکر ہو شکر تیرا تیرا ہے جو ہے میرا
    تونے ہر اک کرم سے گھر بھر دیا ہے میرا
    جب تیرا نور آیا جاتا رہا اندھیرا
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    تونے یہ دن دکھایا محمود پڑھ کے آیا
    دل دیکھ کر یہ احساں تیری ثنائیں گایا
    صد شکر ہے خدایا صد شکر ہے خدایا
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    ہو شکر تیرا کیونکر اے میرے بندہ پرور
    تونے مجھے دئیے ہیں یہ تین تیرے چاکر
    تیرا ہوں میں سراسر تو میرا رب اکبر
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    ہے آج ختم قرآں نکلے ہیں دل کے ارماں
    تونے دکھایا یہ دن میں تیرے منہ کے قرباں
    اے میرے رب محسن کیونکر ہو شکر احساں
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    تیرا یہ سب کرم ہے تو رحمت اتم ہے
    کیونکر ہو حمد تیری کب طاقت قلم ہے
    میں تیرا ہوں ہمیشہ جب تک کہ دم میں دم ہے
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    اے قادر و توانا آفات سے بچانا
    ہم تیرے در پہ آئے ہم نے ہے تجھ کو مانا
    غیروں سے دل غنی ہے جب سے کہ تجھ کو جانا
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    احقر کو میرے پیارے اک دم نہ دور کرنا
    بہتر ہے زندگی سے تیرے حضور مرنا
    واللہ خوشی سے بہتر غم سے تیرے گذرنا
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    سب کام تو بنائے لڑکے بھی تجھ سے پائے
    سب کچھ تیری عطا ہے گھر سے تو کچھ نہ لائے
    تونے ہی میرے جانی خوشیوں کے دن دکھائے
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    یہ تین جو پسر ہیں تجھ سے ہی یہ ثمر ہیں
    یہ میرے بار و بر ہیں تیرے غلام در ہیں
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 321
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- محمود کی آمین: صفحہ 321
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    تو سچے وعدوں والا منکر کہاں کدھر ہیں
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    کر انکو نیک قسمت دے انکو دین و دولت
    کر انکی خود حفاظت ہو ان پر تیری رحمت
    دے رشد اور ہدایت اور عمر اور عزت
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    اے میرے بندہ پرور کر انکو نیک اختر
    رتبہ میں ہوں یہ برتر اور بخش تاج و افسر
    تو ہے ہمارا رہبر تیرا نہیں ہے ہمسر
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    شیطاں سے دور رکھیو اپنے حضور رکھیو
    جاں پر ز نور رکھیو دل میں سرور رکھیو
    ان پر میں تیرے قرباں رحمت ضرور رکھیو
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    میری دعائیں ساری کریو قبول باری
    میں جاؤں تیرے واری کرتو مدد ہماری
    ہم تیرے در پہ آئے لے کر امید بھاری
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    لخت جگر ہے میرا محمود بندہ تیرا
    دے اسکو عمر و دولت کر دور ہر اندھیرا
    دن ہوں مرادوں والے پرنور ہو سویرا
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    اسکے ہیں دو برادر انکو بھی رکھیو خوشتر
    تیرا بشیر احمد۔ تیرا شریف اصغر
    کر فضل سب پہ یکسر رحمت سے کر معطر
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    یہ تینوں تیرے بندے رکھیو نہ انکو گندے
    کر ان سے دور یا رب دنیا کے سارے پھندے
    چنگے رہیں ہمیشہ کریو نہ ان کو مندے
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    اے میرے دل کے پیارے اے مہرباں ہمارے
    کر انکے نام روشن جیسے کہ ہیں ستارے
    یہ فضل کر کہ ہوویں نیکو گہر یہ سارے
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    اے میری جاں کے جانی اے شاہ دو جہانی
    کر ایسی مہربانی ان کا نہ ہووے ثانی
    دے بخت جاودانی اور فیض آسمانی
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 322
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- محمود کی آمین: صفحہ 322
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    سن ؔ میرے پیارے باری میری دعائیں ساری
    رحمت سے انکو رکھنا میں تیرے منہ کے واری
    اپنی پنہ میں رکھیو سن کر یہ میری زاری
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    اے واحد و یگانہ اے خالق زمانہ
    میری دعائیں سن لے اور عرض چاکرانہ
    تیرے سپرد تینوں دیں کے قمر بنانا
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    فکروں میں دل حزیں ہے جاں درد سے قریں ہے
    جو صبر کی تھی طاقت اب مجھ میں وہ نہیں ہے
    ہر غم سے دور رکھنا تو ربّ عالمیں ہے
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    اقبال کو بڑھانا اب فضل لے کے آنا
    ہر رنج سے بچانا دکھ درد سے چھڑانا
    خود میرے کام کرنا یا رب نہ آزمانا
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    یہ تینوں تیرے چاکر ہوویں جہاں کے رہبر
    یہ ہادی جہاں ہوں یہ ہوویں نور یکسر
    یہ مرجع شہاں ہوں یہ ہوویں مہر انور
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    اہل وقار ہوویں فخر دیار ہوویں
    حق پر نثار ہوویں مولیٰ کے یار ہوویں
    بابرگ و بار ہوویں اک سے ہزار ہوویں
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    تو ہے جو پالتا ہے ہر دم سنبھالتا ہے
    غم سے نکالتا ہے دردوں کو ٹالتا ہے
    کرتا ہے پاک دل کو حق دل میں ڈالتا ہے
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    تونے سکھایا فرقاں جو ہے مدار ایماں
    جس سے ملے ہے عرفاں اور دور ہووے شیطاں
    یہ سب ہے تیرا احساں تجھ پر نثار ہو جاں
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    تیرا نبی جو آیا اس نے خدا دکھایا
    دین قویم لایا بدعات کو مٹایا
    حق کی طرف بلایا مل کر خدا ملایا
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    قرباں ہیں تجھ پہ سارے جو ہیں میرے پیارے
    احساں ہیں تیرے بھارے گن گن کے ہم تو ہارے
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 323
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- محمود کی آمین: صفحہ 323
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    دل ؔ خوں ہیں غم کے مارے کشتی لگا کنارے
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    اس دل میں تیرا گھر ہے تیری طرف نظر ہے
    تجھ سے میں ہوں منور میرا تو تو قمر ہے
    تجھ پر مرا توکل در پر تیرے یہ سر ہے
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    جب تجھ سے دل لگایا سو سو ہے غم اٹھایا
    تن خاک میں ملایا جاں پر وبال آیا
    پر شکر اے خدایا جاں کھو کے تجھ کو پایا
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    دیکھا ہے تیرا منہ جب چمکا ہے ہم پہ کوکب
    مقصود مل گیا سب ہے جام اب لبالب
    تیرے کرم سے یارب میرا بر آیا مطلب
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    احباب سارے آئے تونے یہ دن دکھائے
    تیرے کرم نے پیارے یہ مہرباں بلائے
    یہ دن چڑھا مبارک مقصود جسمیں پائے
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    مہماں جو کر کے الفت آئے بصد محبت
    دل کو ہوئی ہے فرحت اور جاں کو میری راحت
    پر دل کو پہنچے غم جب یاد آئے وقت رخصت
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    دنیا بھی اک سرا ہے بچھڑیگا جو ملا ہے
    گر سو برس رہا ہے آخر کو پھر جدا ہے
    شکوہ کی کچھ نہیں جا یہ گھر ہی بے بقا ہے
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    اے دوستو پیارو عقبیٰ کو مت بسارو
    کچھ زادِ راہ لے لو کچھ کام میں گذارو
    دنیا ہے جائے فانی دل سے اسے اتارو
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    جی مت لگاؤ اس سے دل کو چھڑاؤ اس سے
    رغبت ہٹاؤ اس سے بس دور جاؤ اس سے
    یارو یہ اژدہا ہے جاں کو بچاؤ اس سے
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    قرآں کتاب رحماں سکھائے راہِ عرفاں
    جو اسکے پڑھنے والے ان پر خدا کے فیضاں
    ان پر خدا کی رحمت جو اس پہ لائے ایماں
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 324
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- محمود کی آمین: صفحہ 324
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    ہے ؔ چشمۂ ہدایت جس کو ہو یہ عنایت
    یہ ہیں خدا کی باتیں ان سے ملے ولایت
    یہ نور دل کو بخشے دل میں کرے سرایت
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    قرآں کو یادرکھنا پاک اعتقاد رکھنا
    فکرِ معاد رکھنا پاس اپنے زاد رکھنا
    اکسیر ہے پیارے صدق و سداد رکھنا
    یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
    ٰامِیْن
    اشعار حافظ احمد اللہ خان صاحب
    لبوں پر جسکے جاری یہ کلام پاک رحماں ہے
    رگ و ریشہ میں اسکے نور اس خالق کا پنہاں ہے
    تعجب ہے کہ لوگوں کو کلام اللہ کے ہوتے
    ہوا و حرص نفسانی سے اے بی سی کا خفگان ہے
    ہے اس میں ذکر اگلوں کا خبر ہے اس میں پچھلوں کی
    خصومت میں اسی کا قول فیصل ہے یہ فرقاں ہے
    فتن جس وقت ہوتے ہیں اندھیری رات کی مانند
    یہ اس اندھیر میں مہر درخشاں ماہ تاباں ہے
    عرب کے وحشیوں کو کر دیا اس نے شہ دوراں
    عرب کیا کل زمانہ پر اسی کا فضل و احساں ہے
    حقائق اور معارف وہ امام وقت نے کھولے
    تغافل جس نے قرآں سے کیا تھا اب وہ حیراں ہے
    مقدم اسکے پڑھنے کو کرو تم سب کتابوں پر
    کہ ہر اک خیر و برکت کا یہیں موجود ساماں ہے
    ہوا باہر جو قرآں کا عمل اس پر کیا جس نے
    بلاشک دوجہاں میں وہ بڑا محمود انساں ہے
    یہیں کھلتے ہیں عقدے آکے قرآں اور حدیثوں کے
    وہ آئے قادیاں میں جسکے دل میں کوئی ارماں ہے
    اشتہار کتب :۔ مفصلہ ذیل کتب بھی علاوہ اس رسالہ کے مشتہر کے پاس برائے فروخت موجود ہیں جو بذریعہ وی پی یا پیشگی قیمت نقد آنے پر روانہ کی جاتی ہے ہیں۔ 3 ایقاظ النائمین، 3 شہادۃ القرآن، 3 نورالقرآن حصہ ۱، رسالہ ست بچن، آریہ دھرم۔ پچاس درخوستوں کے آنے پر بار ثانی طبع کرایا جاویگا۔دس کی درخواستیں آچکی ہیں۔
    المشتھر
    ڈاکٹر عباداللہ ایم۔ بی کڑہ جیمل سنگھ امرتسر
     
    Last edited: ‏جنوری 22, 2018

اس صفحے کو مشتہر کریں