1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

روحانی خزائن جلد 12 ۔سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کے جواب ۔ یونی کوڈ

'روحانی خزائن ۔ حضرت مسیح موعودؑ ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 22, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    روحانی خزائن جلد 12 ۔سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کے جواب ۔ یونی کوڈ

    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 325
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 325
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 326
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 326
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 327
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 327
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    3
    نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ
    ایک صاحب سراج الدین نام عیسائی نے لاہور سے چار سوال بغرض طلب جواب میری طرف بھیجے ہیں۔ میں مناسب سمجھتا ہوں کہ فائدہ عام کیلئے ان کا جواب لکھ کر شائع کر دوں۔ لہٰذا ہر چہار سوال معہ جواب ذیل میں لکھے جاتے ہیں۔
    سوال۔۱۔ ’’عیسائی عقائد کے مطابق مسیح کا مشن اس دنیا میں بنی نوع انسان کی محبت کے لئے آنا اور نوع انسان کی خاطر اپنے تئیں قربان کر دینا تھا۔ کیا بانی اسلام کا مشن ان دونوں معنوں میں ظاہر ہو سکتا ہے یا نہیں؟۔ یا محبت اور قربانی کے علاوہ کسی اور بہتر الفاظ میں اس مشن کو ظاہر کر سکتے ہیں‘‘؟
    الجواب۔ واضح ہو کہ اس سوال سے اصل مطلب سائل کا یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح عیسائیوں کے خیال کے موافق دنیا میں یسوع مسیح اس لئے آیا تھا کہ گنہگاروں سے محبت کر کے ان کے گناہوں کی *** اپنے سرپرلیوے اور پھر ان ہی گناہوں کی وجہ سے مارا جائے۔ کیا اس *** قربانی کا کوئی نمونہ گنہگاروں کی نجات کے لئے قرآن بھی پیش کرتا ہے یا نہیں؟ اور اگر نہیں پیش کرتا تو کیا اس سے کوئی بہتر طریق انسانوں کی نجات کے لئے قرآن نے پیش کیا ہے؟ سو اس کے جواب میں میاں سراج الدّین صاحب کو معلوم ہو کہ قرآن کوئی *** قربانی پیش
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 328
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 328
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    نہیںؔ کرتا۔ بلکہ ہرگز جائز نہیں رکھتا کہ ایک کا گناہ یا ایک کی *** کسی دوسرے پر ڈالی جائے چہ جائیکہ کروڑہا لوگوں کی لعنتیں اکٹھی کر کے ایک کے گلے میں ڈال دی جائیں۔ قرآن شریف صاف فرماتا ہے کہ3 ۱؂ ۔ یعنی ایک کا بوجھ دوسرا نہیں اٹھائے گا۔ لیکن قبل اسکے جو میں مسئلہ نجات کے متعلق قرآنی ہدایت بیان کروں مناسب دیکھتا ہوں کہ عیسائیوں کے اس اصول کی غلطی لوگوں پر ظاہر کردوں۔ تا وہ شخص جو اس مسئلہ میں قرآن اور انجیل کی تعلیم کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے وہ آسانی سے مقابلہ کر سکے۔
    پس واضح ہوکہ عیسائیوں کا یہ اصول کہ خدا نے دنیا سے پیار کر کے دنیا کو نجات دینے کے لئے یہ انتظام کیا کہ نافرمانوں اور کافروں اور بدکاروں کا گناہ اپنے پیارے بیٹے یسوع پر ڈال دیا۔ اور دنیا کو گناہ سے چھڑانے کیلئے اسکو *** بنایا۔ اور *** کی لکڑی سے لٹکایا۔ یہ اصول ہر ایک پہلو سے فاسد اور قابل شرم ہے۔ اگر میزان عدل کے لحاظ سے اس کو جانچا جائے تو صریح یہ بات ظلم کی صورت میں ہے کہ زید کا گناہ بکر پر ڈال دیا جائے۔ انسانی کانشنس اس بات کو ہرگز پسند نہیں کرتا کہ ایک مجرم کو چھوڑ کر اس مجرم کی سزا غیر مجرم کو دی جائے۔ اور اگر روحانی فلاسفی کے رو سے گنہ کی حقیقت پر غور کی جائے تو اس تحقیق کے رو سے بھی یہ عقیدہ فاسد ٹھہرتا ہے۔ کیونکہ گناہ درحقیقت ایک ایسا زہر ہے جو اس وقت پیدا ہوتا ہے کہ جب انسان خدا کی اطاعت اور خدا کی پرجوش محبت اور محبّا نہ یاد الٰہی سے محروم اور بے نصیب ہو۔ اور جیسا کہ ایک درخت جب زمین سے اکھڑ جائے اور پانی چوسنے کے قابل نہ رہے تو وہ دن بدن خشک ہونے لگتا ہے اور اس کی تمام سرسبزی برباد ہو جاتی ہے۔ یہی حال اس انسان کا ہوتا ہے جس کا دل خدا کی محبت سے اکھڑا ہوا ہوتا ہے۔ پس خشکی کی طرح گناہ اس پر غلبہ کرتا ہے۔ سو اس خشکی کا علاج خدا کے قانون قدرت میں تین طور سے ہے۔ (۱) ایک محبت (۲) استغفار جس کے
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 329
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 329
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    معنےؔ ہیں دبانے اور ڈھانکنے کی خواہش۔ کیونکہ جب تک مٹی میں درخت کی جڑ جمی رہے تب تک وہ سرسبزی کا امیدوار ہوتا ہے۔ (۳) تیسرا علاج توبہ ہے۔ یعنی زندگی کا پانی کھینچنے کے لئے تذلّل کے ساتھ خدا کی طرف پھرنا اور اس سے اپنے تئیں نزدیک کرنا اور معصیت کے حجاب سے اعمال صالحہ کے ساتھ اپنے تئیں باہر نکالنا۔ اور توبہ صرف زبان سے نہیں ہے بلکہ توبہ کا کمال اعمال صالحہ کے ساتھ ہے۔ تمام نیکیاں توبہ کی تکمیل کے لئے ہیں۔ کیونکہ سب سے مطلب یہ ہے کہ ہم خدا سے نزدیک ہو جائیں۔ دعا بھی توبہ ہے کیونکہ اس سے بھی ہم خدا کا قرب ڈھونڈتے ہیں۔ اسی لئے خدا نے انسان کی جان کو پیدا کر کے اس کا نام روح رکھا۔ کیونکہ اس کی حقیقی راحت اور آرام خدا کے اقرار اور اسکی محبت اور اسکی اطاعت میں ہے۔ اور اس کا نام نفس رکھا *کیونکہ وہ خدا سے اتّحاد پیدا کرنیوالا ہے۔ خدا سے دل لگانا ایسا ہوتا ہے جیسا کہ باغ میں وہ درخت ہوتا ہے جو باغ کی زمین سے خوب پیوستہ ہوتا ہے۔ یہی انسان کا جنت ہے۔ اور جس طرح درخت زمین کے پانی کو چوستا اور اپنے اندر کھینچتا اور اس سے اپنے زہریلے بخارات باہر نکالتا ہے اسی طرح انسان کے دل کی حالت ہوتی ہے کہ وہ خدا کی محبت کا پانی چوس کر زہریلے مواد کے نکالنے پر قوت پاتا ہے اور بڑی آسانی سے ان مواد کو دفع کرتا ہے۔ اور خدا میں ہوکر پاک نشوونما پاتا جاتا ہے۔ اور بہت پھیلتا اور خوشنما سرسبزی دکھلاتا اور اچھے پھل لاتا ہے۔ مگر جو خدا میں پیوستہ نہیں وہ نشوونما دینے والے پانی کو چوس نہیں سکتا اس لئے دم بدم خشک ہوتا چلا جاتا ہے۔ آخر پتے بھی گر جاتے ہیں اور خشک اور بدشکل ٹہنیاں رہ جاتی ہیں۔ پس چونکہ گناہ کی خشکی بے تعلقی سے پیدا ہوتی ہے اس لئے اس خشکی کے دور کرنے کے لئے سیدھا علاج مستحکم تعلق ہے۔ جس پر قانون قدرت گواہی دیتا ہے۔ اسی کی طرف اللہ جلّ شانہٗ اشارہ کر کے فرماتا ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 330
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 330
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    3
    3۱؂۔یعنی اے وہ نفس جو خدا سے آرام یافتہ ہے اپنے رب کی طرف واپس چلا آ وہ تجھ سے راضی اور تو اس سے راضی پس میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میرے بہشت کے اندر آ۔
    غرض گناہ کے دور کرنے کا علاج صرف خدا کی محبت اور عشق ہے۔ لہٰذا وہ تمام اعمال صالحہ جو محبت اور عشق کے سرچشمہ سے نکلتے ہیں گناہ کی آگ پر پانی چھڑکتے ہیں کیونکہ انسان خدا کیلئے نیک کام کر کے اپنی محبت پر مہر لگاتا ہے۔ خدا کو اس طرح پر مان لینا کہ اس کو ہر ایک چیز پر مقدم رکھنا یہاں تک کہ اپنی جان پر بھی۔ یہ وہ پہلا مرتبہ محبت ہے جو درخت کی اس حالت سے مشابہ ہے جبکہ وہ زمین میں لگایا جاتا ہے۔ اور پھر دوسرا مرتبہ استغفار جس سے یہ مطلب ہے کہ خدا سے الگ ہو کر انسانی وجود کا پردہ نہ کھل جائے۔ اور یہ مرتبہ درخت کی اس حالت سے مشابہ ہے جبکہ وہ زور کر کے پورے طور پر اپنی جڑ زمین میں قائم کر لیتا ہے۔ اور پھر تیسرا مرتبہ توبہ جو اس حالت کے مشابہ ہے کہ جب درخت اپنی جڑیں پانی سے قریب کر کے بچہ کی طرح اس کو چوستا ہے۔ غرض گناہ کی فلاسفی یہی ہے کہ وہ خدا سے جداہوکر پیدا ہوتا ہے لہٰذا اس کا دور کرنا خدا کے تعلق سے وابستہ ہے۔ پس وہ کیسے نادان لوگ ہیں جو کسی کی خودکشی کو گناہ کا علاج کہتے ہیں۔
    یہ ہنسی کی بات ہے کہ کوئی شخص دوسرے کے سردرد پر رحم کر کے اپنے سر پر پتھر مارلے۔ یا دوسرے کے بچانے کے خیال سے خودکشی کرلے۔ میرے خیال میں ہے کہ دنیا میں کوئی ایسا دانا نہیں ہوگا کہ ایسی خودکشی کو انسانی ہمدردی میں خیال کر سکے۔ بیشک انسانی ہمدردی عمدہ چیز ہے۔ اور دوسروں کے بچانے کیلئے تکالیف اٹھانا بڑے بہادروں کا کام ہے۔ مگر کیا ان تکلیفوں کے اٹھانے کی یہی راہ ہے جو یسوع کی نسبت بیان کیا جاتا ہے۔ کاش اگر یسوع خودکشی سے
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 331
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 331
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    اپنےؔ تئیں بچاتا اور دوسروں کے آرام کیلئے معقول طور پر عقلمندوں کی طرح تکلیفیں اٹھاتا تو اسکی ذات سے دنیا کو فائدہ پہنچ سکتا تھا۔ مثلاً اگر ایک غریب آدمی گھر کا محتاج ہے اور معمار لگانے کی طاقت نہیں رکھتا تو اس صورت میں اگر ایک معمار اس پر رحم کر کے اس کا گھر بنانے میں مشغول ہو جائے اور بغیر لینے اُجرت کے چند روز سخت مشقت اٹھا کر اس کا گھر بنا دیوے تو بیشک یہ معمار تعریف کے قابل ہوگا۔ اور بیشک اس نے ایک مسکین پر احسان بھی کیا ہے جس کا گھر بنا دیا۔ لیکن اگر وہ اس شخص پر رحم کر کے اپنے سر پر پتھر مارلے تو اس غریب کو اس سے کیا فائدہ پہنچے گا۔ افسوس دنیا میں بہت تھوڑے لوگ ہیں جو نیکی اور رحم کرنے کے معقول طریقوں پر چلتے ہیں۔ اگر یہ سچ ہے کہ یسوع نے اس خیال سے کہ میرے مرنے سے لوگ نجات پاجائیں گے درحقیقت خودکشی کی ہے تو یسوع کی حالت نہایت ہی لائق رحم ہے۔ اور یہ واقعہ پیش کرنے کے لائق نہیں بلکہ چھپانے کے لائق ہے۔
    اوراگر ہم عیسائیوں کے اس اصول کو *** کے مفہوم کے رو سے جانچیں جو مسیح کی نسبت تجویز کی گئی ہے تو نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس اصول کو قائم کر کے عیسائیوں نے یسوع مسیح کی وہ بے ادبی کی ہے جو دنیا میں کسی قوم نے اپنے رسول یا نبی کی نہیں کی ہوگی۔ کیونکہ یسوع کا *** ہو جانا گو وہ تین دن کے لئے ہی سہی عیسائیوں کے عقیدہ میں داخل ہے۔ اور اگر یسوع کو *** نہ بنایا جائے تو مسیحی عقیدہ کے رو سے کفارہ اور قربانی وغیرہ سب باطل ہو جاتے ہیں۔ گویا اس تمام عقیدہ کا شہتیر *** ہی ہے۔
    اور یہ باتیں جو یسوع نوع انسان کی محبت کیلئے دنیا میں بھیجا گیا اور نوع انسان کی خاطر اس نے اپنے تئیں قربان کیا۔ یہ تمام کارروائی عیسائیوں کے خیال میں اس شرط سے مفید ہے کہ جب یہ عقیدہ رکھا جائے کہ یسوع اول دنیا کے گناہوں کے باعث ملعون ہوا اور
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 332
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 332
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    ***ؔ کی لکڑی پر لٹکایا گیا۔ اسی لئے ہم پہلے اشارہ کر آئے ہیں کہ یسوع مسیح کی قربانی *** قربانی ہے۔ گناہ سے *** آئی اور *** سے صلیب ہوئی۔ اب تنقیح طلب یہ امر ہے کہ کیا *** کا مفہوم کسی راستباز کی طرف منسوب کر سکتے ہیں؟ سو واضح ہو کہ عیسائیوں نے یہ بڑی غلطی کی ہے کہ یسوع کی نسبت *** کا اطلاق جائز رکھا۔ گو وہ تین دن تک ہی ہو یا اس سے بھی کم۔ کیونکہ *** ایک ایسا مفہوم ہے جو شخص ملعون کے دل سے تعلق رکھتا ہے۔ اور کسی شخص کو اس وقت *** کہا جاتا ہے جبکہ اس کا دل خدا سے بالکل برگشتہ اور اس کا دشمن ہو جائے۔ اسی لئے لعین شیطان کا نام ہے۔ اور اس بات کو کون نہیں جانتا کہ *** قرب کے مقام سے ردّ کرنے کو کہتے ہیں۔ اور یہ لفظ اس شخص کے لئے بولا جاتا ہے جس کا دل خدا کی محبت اور اطاعت سے دور جا پڑے اور درحقیقت وہ خدا کا دشمن ہو جائے۔ لفظ *** کے یہی معنے ہیں جس پر تمام اہل لغت نے اتفاق کیا ہے۔ اب ہم پوچھتے ہیں کہ اگر درحقیقت یسوع مسیح پر *** پڑ گئی تھی تو اس سے لازم آتا ہے کہ درحقیقت وہ مورد غضب الٰہی ہوگیا تھا۔ اور خدا کی معرفت اور اطاعت اور محبت اس کے دل سے جاتی رہی تھی اور خدا اس کا دشمن اور وہ خدا کا دشمن ہوگیا تھا اور خدا اس سے بیزار اور وہ خدا سے بیزار ہوگیا تھا جیسا کہ *** کا مفہوم ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ وہ *** کے دنوں میں درحقیقت کافر اور خدا سے برگشتہ اور خدا کا دشمن اور شیطان کا حصّہ اپنے اندر رکھتا تھا۔ پس یسوع کی نسبت ایسا اعتقاد کرنا گویا نعوذ باللہ اس کو شیطان کا بھائی بنانا ہے۔ اور میرے خیال میں ایک راستباز نبی کی نسبت ایسی بے باکی کوئی خدا ترس نہیں کرے گا بجز اس شخص کے جو خبیث طبع اور ناپاک طبع ہو۔
    پس جبکہ یہ بات باطل ہوئی کہ حقیقی طور پر یسوع مسیح کا دل مورد *** ہوگیا تھا۔ پس ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ایسی *** قربانی بھی باطل اور نادان لوگوں کا اپنا منصوبہ ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 333
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 333
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    اگرؔ نجات اسی طرح حاصل ہو سکتی ہے کہ اول یسوع کو شیطان اور خدا سے برگشتہ اور خدا سے بیزار ٹھہرایا جائے تو *** ہے ایسی نجات پر!!! اس سے بہتر تھا کہ عیسائی اپنے لئے دوزخ قبول کرلیتے لیکن خدا کے ایک مقرب کو شیطان کا لقب نہ دیتے۔ افسوس کہ ان لوگوں نے کیسی بیہودہ اور ناپاک باتوں پر بھروسہ کر رکھا ہے۔ ایک طرف تو خدا کا بیٹا اور خدا سے نکلا ہوا۔ اور خدا سے ملا ہوا فرض کرتے ہیں اور دوسری طرف شیطان کا لقب اس کو دیتے ہیں۔ کیونکہ *** شیطان سے مخصوص ہے اور لعین شیطان کا نام ہے اور *** وہ ہوتا ہے جو شیطان سے نکلا اور شیطان سے ملا ہوا اور خود شیطان ہے۔ پس عیسائیوں کے عقیدہ کے رو سے یسوع میں دو۲ قسم کی تثلیث پائی گئی۔ ایک رحمانی اور ایک شیطانی۔ اور نعوذ باللہ یسوع نے شیطان میں ہو کر شیطان کے ساتھ اپنا وجود ملایا۔ اور *** کے ذریعہ سے شیطانی خواص اپنے اندر لئے۔ یعنی یہ کہ خدا کا نافرمان ہوا۔ خدا سے بیزار ہوا۔ خدا کا دشمن ہوا۔ اب میاں سراج الدین آپ انصافاًفرماویں کہ کیا یہ مشن جو مسیح کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کوئی روحانی یا معقولی پاکیزگی اپنے اندر رکھتا ہے؟ کیا دنیا میں اس سے بدتر کوئی اور عقیدہ بھی ہوگا کہ ایک راستباز کو اپنی نجات کے لئے خدا کا دشمن اور خدا کا نافرمان اور شیطان قرار دیا جائے؟ خدا کو جو قادر مطلق اور رحیم و کریم تھا اس *** قربانی کی کیا ضرورت پڑی؟
    پھر جب اس اصول کو اس پہلو سے دیکھا جائے کہ کیا اس *** قربانی کی تعلیم یہودیوں کو بھی دی گئی ہے یا نہیں تو اور بھی اس کے کذب کی حقیقت کھلتی ہے کیونکہ یہ بات ظاہر ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں انسانوں کی نجات کیلئے صرف یہی ایک ذریعہ تھا کہ اس کا ایک بیٹا ہو اور وہ تمام گنہ گاروں کی *** کو اپنے ذمہ لے لے۔ اور پھر *** قربانی بن کر صلیب پر کھینچا جائے تو یہ امر ضروری تھا کہ یہودیوں کیلئے توریت اور دوسری کتابوں
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 334
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 334
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    میںؔ جو یہودیوں کے ہاتھ میں ہیں اس *** قربانی کا ذکر کیا جاتا۔ کیونکہ کوئی عقلمند اس بات کو باور نہیں کر سکتا کہ خدا کا وہ ازلی ابدی قانون جو انسانوں کی نجات کیلئے اس نے مقرر کر رکھا ہے ہمیشہ بدلتا رہے اور توریت کے زمانہ میں کوئی اور ہو اور انجیل کے زمانہ میں کوئی اور۔ قرآن کے زمانہ میں کوئی اور ہو۔ اور دوسرے نبی جو دنیا کے اور حصوں میں آئے ان کے لئے کوئی اور ہو۔ اب ہم جب تحقیق اور تفتیش کی نظر سے دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ توریت اور یہودیوں کی تمام کتابوں میں اس *** قربانی کی تعلیم نہیں ہے۔ چنانچہ ہم نے ان دنوں میں بڑے بڑے یہودی فاضلوں کی طرف خط لکھے اور ان کو خداتعالیٰ کی قسم دے کر پوچھاکہ انسانوں کی نجات کیلئے توریت اور دوسری کتابوں میں تمہیں کیا تعلیم دی گئی ہے؟ کیا یہ تعلیم دی گئی ہے کہ خدا کے بیٹے کے کفارہ اور اسکی قربانی پر ایمان لاؤ؟ یا کوئی اور تعلیم ہے؟ تو انہوں نے یہ جواب دیا کہ نجات کے بارے میں توریت کی تعلیم بالکل قرآن کے مطابق ہے۔ یعنی خدا کی طرف سچا رجوع کرنا اور گناہوں کی معافی چاہنا اور جذبات نفسانیہ سے دور ہو کر خدا کی رضا کیلئے نیک اعمال بجالانا اور اسکے حدود اور قوانین اور احکام اور وصیتوں کو بڑے زور اور سختی کشی کے ساتھ بجالانا یہی ذریعہ نجات ہے جو بار بار توریت میں ذکر کیا گیا جس پر ہمیشہ خدا کے مقدّس نبی پابندی کراتے چلے آئے ہیں اور جس کے چھوڑنے پر عذاب بھی نازل ہوتے رہے ہیں۔ اور ان فاضل یہودیوں نے صرف یہی نہیں کیا کہ اپنی مفصل چٹھیات سے مجھ کو جواب دیا بلکہ انہوں نے اپنے محقق فاضلوں کی نادر اور بے مثل کتابیں جو اس بارے میں لکھی گئی تھیں میرے پاس بھیج دیں جو اب تک موجود ہیں اور چٹھیات بھی موجود ہیں۔ جو شخص دیکھنا چاہے میں دکھا سکتا ہوں اور ارادہ رکھتا ہوں کہ ایک مفصل کتاب میں وہ سب اسناد درج کردوں۔
    اب ایک عقلمند کو نہایت انصاف اور دل کی صفائی کے ساتھ سوچنا چاہئے کہ اگر
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 335
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 335
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    یہیؔ بات سچ ہوتی کہ خداتعالیٰ نے یسوع مسیح کو اپنا بیٹا قرار دے کر اور غیروں کی *** اس پر ڈال کر پھر اس *** قربانی کو لوگوں کی نجات کیلئے ذریعہ ٹھہرایا تھا اور یہی تعلیم یہودیوں کو ملی تھی تو کیا سبب تھا کہ یہودیوں نے آج تک اس تعلیم کو پوشیدہ رکھا اور بڑے اصرار سے اس کے دشمن رہے اور یہ اعتراض اور بھی قوت پاتا ہے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہودیوں کی تعلیم کو تازہ کرنے کے لئے ساتھ ساتھ نبی بھی چلے آئے تھے۔ اور حضرت موسیٰ نے کئی لاکھ انسانوں کے سامنے توریت کی تعلیم کو بیان کیا تھا۔ پھر کیونکر ممکن تھا کہ یہودی لوگ ایسی تعلیم کو جو متواتر نبیوں سے ہوتی آئی بھلا دیتے۔ حالانکہ ان کو حکم تھا کہ خدا کے احکام اور وصایا کو اپنی چوکھٹوں اور دروازوں اور آستینوں پر لکھیں اور بچوں کو سکھائیں اور خود حفظ کریں۔ اب کیا یہ بات سمجھ آ سکتی ہے یا کسی کا پاک کانشنس یہ گواہی دے سکتا ہے کہ باوجود اتنی نگہداشت کے سامانوں کے تمام فرقے یہود کے توریت کی اس پیاری تعلیم کو بھول گئے جس پر ان کی نجات کا مدار تھا۔ یہودی نہ آج سے بلکہ قدیم سے یہ کہتے چلے آئے ہیں کہ توریت میں وہی باتیں ذریعۂ نجات بتلائی گئی ہیں جو قرآن میں ذریعۂ نجات بتلائی گئی ہیں۔ چنانچہ قرآن شریف کے وقت میں بھی انہوں نے یہی گواہی دی اور اب بھی یہی گواہی دیتے ہیں۔ اور اسی مضمون کی ان کی چٹھیاں اور نیز کتابیں میرے پاس پہنچی ہیں۔ اگر یہودیوں کو نجات کیلئے اس *** قربانی کی تعلیم دی جاتی تو کچھ سبب معلوم نہیں ہوتا کہ کیوں وہ اس تعلیم کو پوشیدہ کرتے۔ ہاں یہ ممکن تھا کہ وہ یسوع مسیح کو خدا کا بیٹا کر کے نہ مانتے اور اس کی صلیب کو سچے بیٹے کی صلیب تصور نہ کرتے۔ اور یہ کہتے کہ وہ حقیقی بیٹا جس کی قربانی سے دنیا کو نجات ملے گی یہ نہیں ہے بلکہ آئندہ کسی زمانہ میں ظاہر ہوگا مگر یہ تو کسی طرح ممکن نہ تھا کہ تمام فرقے یہود کے سرے سے ایسی تعلیم سے انکار کر دیتے جو ان کی کتابوں میں موجود تھی۔ اور خدا
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 336
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 336
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    کےؔ پاک نبی اس کو تازہ کرتے آئے تھے۔ یہودی اب تک زندہ موجود ہیں اور ان کے فاضل اور عالم بھی موجود ہیں اور ان کی کتابیں بھی موجود ہیں۔ اگر کسی کو شک ہو تو ان سے بالمواجہ دریافت کرلے۔ کیا ایک عقلمند جو درحقیقت سچائی کی تلاش میں ہے وہ اس بات کا محتاج نہیں کہ یہودیوں کی بھی اس میں گواہی لے۔ کیا یہودی وہ پہلے گواہ نہیں ہیں جو صدہا برسوں سے توریت کی تعلیم کو حفظ کرتے چلے آئے ہیں؟ ایک عاجز انسان کو خدا بنانا نہ اس پر پہلی تعلیموں کی گواہی نہ ان تعلیموں کے وارثوں کی گواہی نہ پچھلی تعلیم کی گواہی نہ عقل کی گواہی۔ اور اس شخص کو خدا کا بھی کہنا اور پھر شیطان کا بھی۔ کیا ان گندی اور نامعقول باتوں کو ماننا پاک فطرت لوگوں کا کام ہے؟!!
    پھرجب اس عقیدہ کو اس پہلو سے دیکھا جائے کہ باوجودیکہ توریت کی متوارث اور قدیم تعلیم کی مخالفت کی گئی اور ایک کا گناہ دوسرے پر ڈالا گیا اور ایک راستباز کے دل کو *** اور خدا سے دور اور مہجور اور شیطان کا ہم خیال ٹھہرایا گیا۔ پھر ان سب خرابیوں کے ساتھ اس *** قربانی کو قبول کرنے والوں کے لئے فائدہ کیا ہوا۔ کیا وہ گناہ سے باز آگئے یا ان کے گناہ بخشے گئے تو اور بھی اس عقیدہ کی لغویت ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ گناہ سے باز آنا اور سچی پاکیزگی حاصل کرنا تو ببداہت خلاف واقعہ ہے۔ کیونکہ بموجب عقیدہ عیسائیوں کے حضرت داؤد علیہ السلام بھی کفارہ یسوع پر ایمان لائے تھے۔ لیکن بقول ان کے ایمان لانے کے بعد نعوذ باللہ حضرت داؤد نے ایک بے گناہ کو قتل کیا اور اس کی جورو سے زنا کیا اور نفسانی کاموں میں خلافت کے خزانہ کا مال خرچ کیا۔ اور سو۱۰۰ تک جورو کی اور اخیر عمر تک اپنے ان گناہوں کو تازہ کرتے رہے اور ہر روز کمال گستاخی کے ساتھ گناہ کا ارتکاب کیا۔ پس اگر یسوع کی *** قربانی گناہ سے روک سکتی تو بقول ان کے داؤد اس قدر گناہ میں نہ ڈوبتا۔
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 337
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 337
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    ایساؔ ہی یسوع کی تین نانیاں زنا کی بُری حرکت میں مبتلا ہوئیں۔ پس ظاہر ہے کہ اگر یسوع کی *** قربانی پر ایمان لانا اندرونی پاکیزگی پیدا کرنے کے لئے کچھ اثر رکھتا تو اس کی نانیاں ضرور اس سے فائدہ اٹھاتیں اور ایسے قابل شرم گناہوں میں مبتلا نہ ہوتیں۔ ایسا ہی یسوع کے حواریوں سے بھی ایمان لانے کے بعد قابل شرم گناہ سرزد ہوئے۔ یہودا اسکریوطی نے تیس روپیہ پر یسوع کو بیچا اور پطرس نے سامنے کھڑے ہوکر تین مرتبہ یسوع پر *** بھیجی اور باقی سب بھاگ گئے۔ اور ظاہر ہے کہ نبی پر *** بھیجنا سخت گناہ ہے۔ اور یورپ میں جو آجکل شراب خواری اور زناکاری کا طوفان برپا ہے اس کے لکھنے کی حاجت نہیں۔ ہم اپنے کسی پہلے پرچہ میں بعض بزرگ پادری صاحبوں کی زناکاری کا ذکر یورپ کے اخبارات کے حوالہ سے کر چکے ہیں۔ ان تمام واقعات سے بکمال صفائی ثابت ہوتا ہے کہ یہ *** قربانی گناہ سے روک نہیں سکی۔
    اب دوسرا شقّ یہ ہے کہ اگر گناہ رک نہیں سکتے تو کیا اس *** قربانی سے ہمیشہ گناہ بخشے جاتے ہیں۔ گویا یہ ایک ایسا نسخہ ہے کہ ایک طرف ایک بدمعاش ناحق کا خون کر کے یا چوری کر کے یا جھوٹی گواہی سے کسی کے مال یا جان یا آبرو کو نقصان پہنچا کر اور یا کسی کے مال کو غبن کے طور پر دبا کر اور پھر اس *** قربانی پر ایمان لاکر خدا کے بندوں کے حقوق کو ہضم کر سکتا ہے۔ اور ایسا ہی زناکاری کی ناپاک حالت میں ہمیشہ رہ کر صرف *** قربانی کا اقرار کر کے خداتعالیٰ کے قہری مواخذہ سے بچ سکتا ہے۔ پس صاف ظاہر ہے کہ ایسا ہرگز نہیں بلکہ ارتکاب جرائم کر کے پھر اس *** قربانی کی پناہ میں جانا بدمعاشی کا طریق ہے۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ پولوس کے دل کو بھی یہ دھڑکا شروع ہوگیا تھا کہ یہ اصول صحیح نہیں ہے اسی لئے وہ کہتا ہے کہ ’’یسوع کی قربانی پہلے گناہ کے لئے ہے اور یسوع دوبارہ مصلوب نہیں ہو سکتا‘‘۔ لیکن اس قول سے وہ بڑی مشکلات میں پھنس گیا ہے۔ کیونکہ اگر یہی
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 338
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 338
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/338/mode/1up
    صحیحؔ ہے کہ یسوع کی *** قربانی پہلے گناہ کیلئے ہے تو مثلاً داؤد نبی نعوذ باللہ ہمیشہ کے جہنم کے لائق ٹھہرے گا۔ کیونکہ اس نے اوریا کی جورو سے بقول عیسائیوں کے زناکر کے پھر اس عورت کو بغیر خداکی اجازت کے تمام عمر اپنے گھر میں رکھا۔ اور وہی مریم کے سلسلہ اُمّہات میں یسوع کی مقدس نانی ہے۔ علاوہ اس کے داؤد نے سو تک بیوی بھی کی۔ جن کا کرنا بموجب اقرار عیسائیوں کے اس کو روا نہیں تھا۔ پس یہ گناہ اس کا پہلا گناہ نہ رہا بلکہ بار بار واقع ہوتا رہا اور ہر ایک دن نئے سرے اس کا اعادہ ہوتا تھا۔ پھر جبکہ *** قربانی گناہ سے روک نہیں سکتی تو بیشک عام عیسائیوں سے بھی گناہ ہوتے ہوں گے جیسا کہ اب بھی ہو رہے ہیں۔ پس بموجب اصول پولوس کے دوسرا گناہ ان کا قابل معافی نہیں اور ہمیشہ کا جہنم اس کی سزا ہے۔ اس صورت میں ایک بھی عیسائی دائمی جہنم سے نجات پانے والا ثابت نہیں ہوتا۔ مثلاً میاں سراج الدین دور نہ جائیں اپنے حالات ہی دیکھیں کہ پہلے انہوں نے مریم کے صاحبزادے کو خدا کا بیٹا مان کر *** قربانی کا بپٹسمہ پایا۔ اور پھر قادیان میں آکر نئے سرے مسلمان ہوئے اور اقرار کیا کہ میں نے بپٹسمہ لینے میں جلدی کی تھی اور نماز پڑھتے رہے اور بارہا میرے روبروئے اقرار کیا کہ کفّارہ کی لغویّت کی حقیقت بخوبی میرے پر کھل گئی ہے اور میں اس کو باطل جانتا ہوں اور پھر قادیان سے واپس جاکر پادریوں کے دام میں پھنس گئے اور عیسائیت کو اختیار کیا۔ اب میاں سراج الدین کو خود سوچنا چاہئے کہ جب اوّل وہ بپٹسمہ پاکر عیسائی دین سے پھر گئے تھے اور قول اور فعل سے انہوں نے اس کے برخلاف کیا تو عیسائی اصول کے رو سے یہ ایک بڑا گناہ تھا جو دوسری دفعہ ان سے وقوع میں آیا۔ پس پولوس کے قول کے مطابق یہ گناہ ان کا بخشا نہیں جائیگا کیونکہ اس کے لئے دوسری صلیب کی ضرورت ہے۔
    اور اگر یہ کہو کہ پولوس نے غلطی کھائی ہے یا جھوٹ بولا ہے اور اصل بات
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 339
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 339
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/339/mode/1up
    یہیؔ ہے کہ *** قربانی پر ایمان لانے کے بعد کوئی گناہ گناہ نہیں رہتا چوری کرو زنا کرو خون ناحق کرو۔ جھوٹ بولو۔ امانت میں خیانت کرو۔ غرض کچھ کرو کسی گناہ کا مواخذہ نہیں تو ایسا مذہب ایک ناپاکی پھیلانے والا مذہب ہوگا۔ اور وقت کی گورنمنٹ کو مناسب ہوگا کہ ایسے عقائد کے پابندوں کی ضمانتیں لیوے۔ اور اگر پھر اس خیال کو دوبارہ پیش کرو کہ *** قربانی پر ایمان لانے والا سچی پاکیزگی حاصل کرتا ہے اور گناہ سے پاک ہوجاتا ہے تو ہم اس کا جواب پہلے دے چکے ہیں کہ یہ بات ہرگز صحیح نہیں ہے اور ہم ابھی داؤد نبی کا گناہ۔ یسوع کی نانیوں کے گناہ اور حواریوں کے گناہ اور حضرات پادری صاحبوں کے گناہ لکھ چکے ہیں۔ اور اس بات کو تمام اہل تجربہ جانتے ہیں کہ یورپ ان دنوں میں بدکاریوں میں اول درجہ پر ہے۔ اگر فرض کے طور پر کسی کی پاک زندگی کی نظیر دیجائے تو اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ حقیقت میں اس کی زندگی پاک ہے۔ بہتیرے بدمعاش حرام خور زانی دیّوث شراب خوار خدا کے منکر بظاہر پاک زندگی دکھلا سکتے ہیں اور اندر سے ان قبروں کی طرح ہوتے ہیں جن میں بجز متعفّن مردہ اور اس کی ہڈیوں کے اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔
    ماسوا اس کے یہ خیال کرنا بھی بے جا ہے کہ کسی قوم کے سارے کے سارے اپنی فطرت کی رو سے نیک یا سب کے سب فطرتاً بدمعاش ہیں بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ خدا کے قانون قدرت نے یہ دعویٰ کرنے کا حق ہر ایک قوم کو بخشا ہے کہ جیسے ان میں بعض لوگ فطرتاً بد اخلاق اور بدسرشت اور بداندیش اور بدکردار ہیں ایسا ہی بمقابلہ ان کے بعض دوسرے لوگ فطرتاً دل کے غریب نیک خلق نیک چلن نیک کردار ہیں۔ اس قانون قدرت سے نہ ہندو باہر ہیں نہ پارسی نہ یہودی نہ سکھ نہ بدھ مذہب والے یہاں تک کہ چوہڑے اور چمار بھی اسی قانون میں داخل ہیں۔ اور جیسے جیسے لوگ تہذیب اور شائستگی میں
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 340
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 340
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/340/mode/1up
    بڑ ؔ ھتے ہیں اور ان کا قومی مجمع عزّت اور علم اور وقار کا رنگ پکڑتا جاتا ہے اسی قدر ان کے نیک فطرت لوگ اپنی پاک زندگی اور نیک چلنی میں زیادہ ناموری حاصل کرتے ہیں اور نمایاں چمک کے ساتھ اپنا نمونہ دکھلاتے ہیں۔ اگر تمام قوموں کے بعض افراد میں فطرتاً سعادت کا مادہ نہ ہوتا تو تبدیل مذہب سے بھی وہ مادہ پیدا نہ ہو سکتا کیونکہ خدا کی فطرت میں تبدیل نہیں۔ اگر کوئی حقیقی سچائی کا بھوکا اور پیاسا ہے تو ضرور اس کو ماننا پڑے گا کہ مذہب کے وجود سے پہلے یہ خداداد تقسیم طبائع میں ہو چکی ہے کہ کسی کی فطرت میں غلبہ حلم اور محبت اور کسی کی فطرت میں غلبہ درشتی اور غضب ہے۔ اب مذہب یہ سکھلاتا ہے کہ وہ محبت اور اطاعت اور صدق اور وفا جو مثلاً ایک بت پرست یا انسان پرست مخلوق کی نسبت عبادت کے رنگ میں بجا لاتا ہے ان ارادوں کو خدا کی طرف پھیرے اور وہ اطاعت خدا کی راہ میں دکھلائے۔
    یہ سوال کہ مذہب کا تصرف انسانی قویٰ پر کیا ہے انجیل نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ کیونکہ انجیل حکمت کے طریقوں سے دور ہے۔ لیکن قرآن شریف بڑی تفصیل سے باربار اس مسئلہ کو حل کرتا ہے کہ مذہب کا یہ منصب نہیں ہے کہ انسانوں کی فطرتی قویٰ کی تبدیل کرے اور بھیڑئیے کو بکری بنا کر دکھلائے بلکہ مذہب کی صرف علّت غائی یہ ہے کہ جو قویٰ اور ملکات فطرتاً انسان کے اندر موجود ہیں ان کو اپنے محل اور موقعہ پر لگانے کے لئے رہبری کرے۔ مذہب کا یہ اختیار نہیں ہے کہ کسی فطرتی قوّت کو بدل ڈالے۔ ہاں یہ اختیار ہے کہ اس کو محل پر استعمال کرنے کے لئے ہدایت کرے اور صرف ایک قوت مثلاً رحم یا عفو پر زور نہ ڈالے بلکہ تمام قوتوں کے استعمال کیلئے وصیّت فرمائے کیونکہ انسانی قوتوں میں سے کوئی بھی قوت بُری نہیں بلکہ افراط اور تفریط اور بد استعمالی بُری ہے اور جو شخص قابل ملامت ہے وہ صر ف فطرتی قویٰ کی وجہ سے قابل ملامت نہیں بلکہ ان کی بداستعمالی کی وجہ سے قابل
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 341
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 341
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/341/mode/1up
    ملا ؔ مت ہے۔ غرض قسّام مطلق نے ہر ایک قوم کو فطرتی قویٰ کا برابر حصہ دیا ہے اور جیسا کہ ظاہری ناک اور آنکھ اور منہ اور ہاتھ اور پیر وغیرہ تمام قوموں کے انسانوں کو عطا ہوئے ہیں۔ ایسا ہی باطنی قوتیں بھی سب کو عطا ہوئی ہیں۔ اور ہر ایک قوم میں بلحاظ اعتدال یا افراط اور تفریط کے اچھے آدمی بھی ہیں اور برے بھی۔ لیکن مذہب کے اثر کے رو سے کسی قوم کا اچھا بن جانا یا کسی مذہب کو کسی قوم کی شائستگی کا اصل موجب قرار دینا اس وقت ثابت ہوگا کہ اس مذہب کے بعض کامل پیروؤں میں اس قسم کے روحانی کمال پائے جائیں جو دوسرے مذہب میں ان کی نظیر نہ مل سکے۔ سو میں زور سے کہتا ہوں کہ یہ خاصہ اسلام میں ہے۔ اسلام نے ہزاروں لوگوں کو اس درجہ کی پاک زندگی تک پہنچایا ہے جس میں کہہ سکتے ہیں کہ گویا خدا کی روح ان کے اندرسکونت رکھتی ہے قبولیت کی روشنی ان کے اندرایسی پیدا ہوگئی ہے کہ گویا وہ خدا کی تجلیات کے مظہر ہیں۔ یہ لوگ ہر ایک صدی میں ہوتے رہے ہیں اور ان کی پاک زندگی بے ثبوت نہیں اور نرا اپنے منہ کا دعویٰ نہیں بلکہ خدا گواہی دیتا رہا ہے کہ ان کی پاک زندگی ہے۔
    یاد رہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اعلیٰ درجہ کی پاک زندگی کی یہ علامت بیان فرمائی ہے کہ ایسے شخص سے خوارق ظاہر ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ ایسے شخصوں کی دعا سنتا ہے اور ان سے ہمکلام ہوتا ہے اور پیش از وقت ان کو غیب کی خبریں بتلاتا ہے اور ان کی تائید کرتا ہے۔ سو ہم دیکھتے ہیں کہ ہزاروں اسلام میں ایسے ہوتے آئے ہیں۔ چنانچہ اس زمانہ میں یہ نمونہ دکھلانے کیلئے یہ عاجز موجود ہے۔ مگر عیسائیوں میں یہ لوگ کہاں اور کس ملک میں رہتے ہیں جو انجیل کی قراردادہ نشانیوں کے موافق اپنا حقیقی ایمان اور پاک زندگی ثابت کر سکتے ہیں؟ ہر ایک چیز اپنی نشانیوں سے پہچانی جاتی ہے جیسا کہ ہر ایک درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے اور اگر پاک زندگی کا صرف دعویٰ
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 342
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 342
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/342/mode/1up
    ہی ؔ ہے اور کتابوں کے مقرر کردہ نشان اس دعویٰ پر گواہی نہیں دیتے تو یہ دعویٰ باطل ہے۔ کیا انجیل نے سچے اور واقعی ایمان کی کوئی نشانی نہیں لکھی؟ کیا اس نے ان نشانوں کو فوق العادۃ کے رنگ میں بیان نہیں کیا؟ پس اگر انجیلوں میں سچے ایمانداروں کے نشان لکھے ہیں۔ تو ہر ایک عیسائی پاک زندگی کے مدعی کو انجیل کے نشانوں کے موافق آزمانا چاہئے۔ ایک بڑے بزرگ پادری کا ایک غریب سے غریب مسلمان کے ساتھ روحانی روشنی اور قبولیت میں مقابلہ کر کے دیکھ لو۔ پھر اگر اس پادری میں اس غریب مسلمان کے مقابل پر کچھ بھی آسمانی روشنی کا حصہ پایا جائے تو ہم ہر ایک سزا کے مستحق ہیں۔ اسی وجہ سے میں کئی دفعہ اس بارے میں عیسائیوں کے مقابل پر اشتہار دے چکا ہوں۔ اور میں سچ سچ کہتا ہوں اور میرا خدا گواہ ہے کہ مجھ پر ثابت ہوگیا ہے کہ حقیقی ایمان اور واقعی پاک زندگی جو آسمانی روشنی سے حاصل ہو بجز اسلام کے کسی طرح مل نہیں سکتی۔ یہ پاک زندگی جو ہم کو ملی ہے یہ صرف ہمارے منہ کی لاف و گزاف نہیں اس پر آسمانی گواہیاں ہیں۔ کوئی پاک زندگی بجز آسمانی گواہی کے ثابت نہیں ہو سکتی۔ اور کسی کے چھپے ہوئے نفاق اور بے ایمانی پر ہم اطلاع نہیں پا سکتے۔ ہاں جب آسمانی گواہی والے پاک دل لوگ کسی قوم میں پائے جائیں تو باقی قوم کے لوگ بظاہر پاک زندگی نما بھی پاک زندگی والے سمجھے جائیں گے۔ کیونکہ قوم ایک وجود کے حکم میں ہے اور ایک ہی نمونہ سے ثابت ہو سکتا ہے کہ اس قوم کو آسمانی پاک زندگی مل سکتی ہے * ۔
    اسی بنا پر میں نے عیسائیوں کیلئے ایک فیصلہ کرنیوالا اشتہار دیا تھا۔ پس اگر ان کو حق کی طلب ہوتی تو وہ اس طرف متوجہ ہوتے۔ اور میں اب بھی کہتا ہوں کہ عیسائیوں کو بھی ایمان اور پاک زندگی کا دعویٰ ہے اور مسلمانوں کو بھی۔ اب تنقیح طلب یہ امر ہے کہ ان دونوں گروہوں میں سے خدا کے نزدیک کس کا ایمان مقبول اور کس کی واقعی پاک زندگی ہے۔
    *نوٹ۔ اس جگہ کوئی گذشتہ قصہ پیش کرنا لغو ہے موجودہ واقعات کو بالمقابل دکھلانا چاہئے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 343
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 343
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/343/mode/1up
    اورؔ کس کا ایمان صرف شیطانی خیالات اور پاک زندگی کا دعویٰ صرف نابینائی کا دھوکہ ہے۔ پس میرے نزدیک جو ایمان اپنے ساتھ آسمانی گواہیاں رکھتا ہے اور قبولیت کے آثار اس میں پائے جاتے ہیں وہی ایمان صحیح اور مقبول ہے۔ اور ایسا ہی پاک زندگی وہی واقعی طور پر ہے جو اپنے ساتھ آسمانی نشان رکھتی ہے۔ وجہ یہ کہ اگر صرف دعویٰ ہی قبول کرنا ہے تو دنیا کی تمام قومیں یہی دعویٰ کر رہی ہیں کہ ہم میں بڑے بڑے لوگ پاک زندگی والے گذرے ہیں اور موجود ہیں بلکہ ان کے اعمال اور افعال بھی پیش کرتے ہیں جن کی اندرونی حقیقت کا فیصلہ کرنا مشکل ہے۔ سو اگر عیسائیوں کا یہ خیال ہے کہ کفّارہ سے پاک ایمان اور پاک زندگی ملتی ہے تو ان کا فرض ہے کہ وہ اب میدان میں آئیں اور دعا کے قبول ہونے اور نشانوں کے ظہور میں میرے ساتھ مقابلہ کرلیں۔ اگر آسمانی نشانوں کے ساتھ ان کی زندگی پاک ثابت ہو جائے تو میں ہر ایک سزا کا مستوجب ہوں اور ہر ایک ذلت کا سزاوار ہوں۔ میں بڑے زور سے کہتا ہوں کہ روحانیت کے رو سے عیسائیوں کی نہایت گندی زندگی ہے اور وہ پاک خدا جو آسمان اور زمین کا خدا ہے ان کی اعتقادی حالتوں سے ایسا متنفر ہے جیسا کہ ہم نہایت گندے اور سڑے ہوئے مردار سے متنفر ہوتے ہیں۔ اگر میں اس بات میں جھوٹا ہوں اور اگر اس قول میں میرے ساتھ خدا نہیں ہے تو نرمی اور آہستگی سے مجھ سے فیصلہ کرلیں۔ میں پھر کہتا ہوں کہ ہرگز وہ پاک زندگی عیسائیوں میں موجود نہیں ہے جو آسمان سے اترتی اور دلوں کو روشن کرتی ہے۔ بلکہ جیسا کہ میں بیان کر آیا ہوں بعضوں میں فطرتی بھلامانس ہونا اور عام قوموں کی طرح پایا جاتا ہے۔ سو فطرتی شرافت سے میری بحث نہیں اس غربت اور شرافت کے لوگ ہر ایک قوم میں کم و بیش پائے جاتے ہیں یہاں تک کہ بھنگی اور چماربھی اس سے باہر نہیں۔ لیکن میرا کلام آسمانی پاک زندگی میں ہے جو خدا کی زندہ کلام سے حاصل ہوتی اور آسمان
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 344
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 344
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/344/mode/1up
    سے ؔ اترتی اور اپنے ساتھ آسمانی نشان رکھتی ہے۔ سو یہ عیسائیوں میں موجود نہیں۔ پھر کوئی ہمیں سمجھائے کہ *** قربانی کا فائدہ کیا ہوا؟
    اب جبکہ اس نجات کے طریق کی تفصیل ہو چکی جو عیسائی یسوع کی طرف منسوب کرتے ہیں تو اس پر طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا مشن بھی یہی *** محبت اور *** قربانی نوع انسان کی پاکیزگی اور نجات کے لئے پیش کرتا ہے یا کوئی اور طریق پیش کرتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس پلید اور ناپاک طریق سے اسلام کا دامن بالکل منزّہ ہے۔ وہ کوئی *** قربانی پیش نہیں کرتا اور نہ *** محبت پیش کرتا ہے بلکہ اس نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ ہم سچّی پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے اپنے وجود کی پاک قربانی پیش کریں جو اخلاص کے پانیوں سے دھوئی ہوئی اور صدق اور صبر کی آگ سے صاف کی ہوئی ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے 33 ۱؂یعنی جو شخص اپنے وجود کو خدا کے آگے رکھ دے اور اپنی زندگی اس کی راہوں میں وقف کرے اور نیکی کرنے میں سرگرم ہو۔ سو وہ سرچشمہ قرب الٰہی سے اپنا اجر پائے گا اور ان لوگوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم۔ یعنی جو شخص اپنے تمام قویٰ کو خدا کی راہ میں لگا دے اور خالص خدا کے لئے اس کا قول اور فعل اور حرکت اور سکون اور تمام زندگی ہو جائے۔ اور حقیقی نیکی کے بجالانے میں سرگرم رہے سو اس کو خدا اپنے پاس سے اجر دے گا اور خوف اور حُزن سے نجات بخشے گا۔
    یاد رہے کہ یہی اسلام کا لفظ کہ اس جگہ بیان ہوا ہے دوسرے لفظوں میں قرآن شریف میں اس کا نام استقامت رکھا ہے جیسا کہ وہ یہ دعا سکھلاتا ہے۔3 3۲؂ ۔یعنی ہمیں استقامت کی راہ پر قائم کر ان لوگوں کی راہ جنہوں نے
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 345
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 345
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/345/mode/1up
    تجھؔ سے انعام پایا اور جن پر آسمانی دروازے کھلے۔ واضح رہے کہ ہر ایک چیز کی وضع استقامت اس کی علّت غائی پر نظر کر کے سمجھی جاتی ہے۔ اور انسان کے وجود کی علت غائی یہ ہے کہ نوع انسان خدا کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ پس انسانی وضع استقامت یہ ہے کہ جیسا کہ وہ اطاعت ابدی کے لئے پیدا کیا گیا ہے ایسا ہی درحقیقت خدا کے لئے ہو جائے۔ اور جب وہ اپنے تمام قویٰ سے خدا کے لئے ہو جائے گا تو بلاشبہ اس پر انعام نازل ہوگا جس کو دوسرے لفظوں میں پاک زندگی کہہ سکتے ہیں۔ جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ جب آفتاب کی طرف کی کھڑکی کھولی جائے تو آفتاب کی شعاعیں ضرور کھڑکی کے اندر آجاتی ہیں ایسا ہی جب انسان خدا تعالیٰ کی طرف بالکل سیدھا ہو جائے اور اس میں اور خدا تعالیٰ میں کچھ حجاب نہ رہے تب فی الفور ایک نورانی شعلہ اس پر نازل ہوتا ہے اور اُس کو منوّر کر دیتا ہے اور اس کی تمام اندرونی غلاظت دھو دیتا ہے۔ تب وہ ایک نیا انسان ہو جاتا ہے اور ایک بھاری تبدیلی اس کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ تب کہا جاتاہے کہ اس شخص کو پاک زندگی حاصل ہوئی۔ اس پاک زندگی کے پانے کا مقام یہی دنیا ہے۔ اسی کی طرف اللہ جلّ شانہٗ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے۔3۱؂ یعنی جو شخص اس جہان میں اندھا رہا اور خدا کے دیکھنے کا اسکو نور نہ ملا وہ اس جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا۔ غرض خدا کے دیکھنے کے لئے انسان اسی دنیا سے حواس لے جاتا ہے۔ جس کو اس دنیا میں یہ حواس حاصل نہیں ہوئے اور اس کا ایمان محض قصوں اور کہانیوں تک محدود رہا وہ ہمیشہ کی تاریکی میں پڑے گا۔ غرض خداتعالیٰ نے پاک زندگی اور حقیقی نجات کے حاصل کرنے کے لئے ہمیں یہی سکھلایا ہے کہ ہم بالکل خدا کے ہو جائیں اور سچی وفاداری کے ساتھ اسکے آستانہ پر گریں اور اس بدذاتی سے اپنے تئیں الگ رکھیں کہ مخلوق کو خدا کہنے لگیں اگرچہ مارے جائیں ٹکڑے ٹکڑے کئے جائیں۔ آگ میں جلائے جائیں اور خدا کی ہستی پر
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 346
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 346
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/346/mode/1up
    اپنےؔ خون سے مہر لگائیں۔ اسی وجہ سے خدا نے ہمارے دین کا نام اسلام رکھا۔ تا یہ اشارہ ہو کہ ہم نے خدا کے آگے سر رکھ دیا ہے۔ اور قانون قدرت صاف شہادت دیتا ہے کہ جو قرآن نے پاکیزگی اور حقیقی نجات حاصل کرنے کا طریق سکھایا ہے یہی طریق جسمانی عالم میں بھی پایا جاتا ہے۔ ہم روز دیکھتے ہیں کہ تمام حیوانات اور نباتات میں بُری غذا کے ملنے اور اچھی غذا کے مفقود ہونے سے بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ اور قدرت نے طریق انسداد یہی رکھا ہے کہ خوراک کے لئے صالح چیزیں میسر کی جائیں اور ردّی کو بند کر دیا جائے۔ مثلاً درختوں کی طرف دیکھو کہ وہ تندرست رہنے کے لئے دو خصلت اپنے اندر رکھتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اپنی جڑوں کو زمین کے اندر دباتے چلے جاتے ہیں تا الگ رہ کر خشک نہ ہو جائیں۔ دوم یہ کہ وہ اپنی جڑوں کی نالیوں کے ذریعہ سے زمین کا پانی اپنی طرف کھینچتے ہیں اور اس طرح پر نشوونما کرتے ہیں سو یہی اصول قدرت نے انسان کے لئے رکھا ہے۔ یعنی وہ اسی حالت میں کامیاب ہوتا ہے کہ اول صدق و ثبات کے ساتھ خدا میں اپنے تئیں مستحکم کرتا ہے اور استغفار کے ساتھ اپنی جڑوں کو خدا کی محبت میں لگاتا ہے اور پھر قولی اور عملی توبہ کے ساتھ خدا کی طرف جھکنے کے ذریعہ سے اپنے انکسار اور تذلل کی نالیوں کے ساتھ ربّانی پانی اپنی طرف کھینچتا ہے اور اس طرح پر ایسا پانی کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے کہ گنہ کی خشکی کو دھو ڈالتا اور کمزوری کو دور کر دیتا ہے۔
    اور استغفار جس کے ساتھ ایمان کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں قرآن شریف میں دو معنے پر آیا ہے۔ ایک تو یہ کہ اپنے دل کو خدا کی محبت میں محکم کر کے گناہوں کے ظہور کو جو علیحدگی کی حالت میں جوش مارتے ہیں خداتعالیٰ کے تعلق کے ساتھ روکنا اور خدا میں پیوست ہوکر اس سے مدد چاہنا یہ استغفار تو مقربوں کا ہے جو ایک طرفۃ العین خدا سے
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 347
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 347
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/347/mode/1up
    علیحدؔ ہ ہونا اپنی تباہی کا موجب جانتے ہیں اس لئے استغفار کرتے ہیں تا خدا اپنی محبت میں تھامے رکھے۔ اور دوسری قسم استغفار کی یہ ہے کہ گناہ سے نکل کر خدا کی طرف بھاگنا اور کوشش کرنا کہ جیسے درخت زمین میں لگ جاتا ہے ایسا ہی دل خدا کی محبت کا اسیر ہو جائے تا پاک نشوونما پاکر گناہ کی خشکی اور زوال سے بچ جائے اور ان دونوں صورتوں کا نام استغفار رکھا گیا۔ کیونکہ غَفْر جس سے استغفار نکلا ہے ڈھانکنے اور دبانے کو کہتے ہیں۔ گویا استغفار سے یہ مطلب ہے کہ خدا اس شخص کے گناہ جو اسکی محبت میں اپنے تئیں قائم کرتا ہے دبائے رکھے اور بشریت کی جڑیں ننگی نہ ہونے دے بلکہ الوہیّت کی چادر میں لے کر اپنی قُدّوسیّت میں سے حصہ دے یا اگر کوئی جڑ گناہ کے ظہور سے ننگی ہوگئی ہو پھر اس کو ڈھانک دے۔ اور اس کی برہنگی کے بداثر سے بچائے۔ سو چونکہ خدا مبدءِ فیض ہے اور اس کا نور ہر ایک تاریکی کے دور کرنے کے لئے ہروقت طیّار ہے اس لئے پاک زندگی کے حاصل کرنے کے لئے یہی طریق مستقیم ہے کہ ہم اس خوفناک حالت سے ڈر کر اس چشمۂ طہارت کی طرف دونوں ہاتھ پھیلائیں تا وہ چشمہ زور سے ہماری طرف حرکت کرے اور تمام گند کو یکدفعہ لے جائے۔ خدا کو راضی کرنے والی اس سے زیادہ کوئی قربانی نہیں کہ ہم درحقیقت اس کی راہ میں موت کو قبول کر کے اپنا وجود اس کے آگے رکھ دیں۔ اسی قربانی کی خدا نے ہمیں تعلیم دی ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔3۱؂۔یعنی تم حقیقی نیکی کو کسی طرح پا نہیں سکتے جب تک تم اپنی تمام پیاری چیزیں خدا کی راہ میں خرچ نہ کرو۔
    یہ راہ ہے جو قرآن نے ہمیں سکھائی ہے اور آسمانی گواہیاں بلند آواز سے پکار رہی ہیں کہ یہی راہ سیدھی ہے اور عقل بھی اسی پر گواہی دیتی ہے۔ پس جو امر گواہوں کے ساتھ ثابت ہے اس کے ساتھ وہ امر مقابلہ نہیں کھاسکتا جس پر کوئی گواہی
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 348
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 348
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/348/mode/1up
    نہیںؔ ۔ یسوع ناصری نے اپنا قدم قرآن کی تعلیم کے موافق رکھا اس لئے اس نے خدا سے انعام پایا۔ ایسا ہی جو شخص اس پاک تعلیم کو اپنا رہبر بنائے گا وہ بھی یسوع کی مانند ہو جائے گا۔ یہ پاک تعلیم ہزاروں کو عیسیٰ مسیح بنانے کیلئے طیّار ہے اور لاکھوں کو بنا چکی ہے۔
    ہم نہایت نرمی اور ادب سے حضرات پادری صاحبوں کی خدمت میں سوال کرتے ہیں کہ اس بیچارہ ضعیف انسان کو خدا ٹھہرا کر آپ کی روحانیت کو کونسی ترقی ہوئی ہے۔ اگر وہ ترقی ثابت کرو تو ہم لینے کو طیّارہیں۔ ورنہ اے بدبخت مخلوق پرست لوگو! آؤ ہماری ترقیات دیکھو اور مسلمان ہو جاؤ۔ کیا یہ انصاف کی بات نہیں کہ جو شخص اپنی پاک زندگی اور پاک معرفت اور پاک محبّت پر آسمانی شہادت رکھتا ہے وہی سچا ہے۔ اور جس کے ہاتھ میں صرف قصّے اور کہانیاں ہیں وہ بدبخت جھوٹا اور نجاست خوار ہے۔
    سوال۔ ۲۔ اگر اسلام کا مقصد توحید کی طرف آدمیوں کو رجوع کرنا ہے تو کیا وجہ ہے کہ آغاز اسلام میں یہودیوں کے ساتھ جن کی الہامی کتابیں توحید کے سوا اور کچھ نہیں سکھاتیں۔ جہاد کیا گیا؟ یا کیوں آجکل یہودیوں یا اور توحید کے ماننے والوں کی نجات کیلئے مسلمان ہونا ضروری سمجھا جائے۔
    الجواب۔ واضح ہو کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے وقت میں یہودی توریت کی ہدایتوں سے بہت دور جا پڑے تھے۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ ان کی کتابوں میں توحید باری تعالیٰ تھی مگر وہ اس توحید سے مُنْتَفِع نہیں ہوتے تھے۔ اور وہ علّت غائی جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا اور کتابیں نازل ہوئیں اس کو کھو بیٹھے تھے۔ حقیقی توحید یہ ہے کہ خدا کی ہستی کو مان کر اور اس کی وحدانیت کو قبول کر کے پھر اس کامل اور محسن خدا کی اطاعت اور رضا جوئی میں
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 349
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 349
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/349/mode/1up
    مشغوؔ ل ہونا اور اسکی محبّت میں کھوئے جانا۔ سو عملی طور پر یہ توحید ان میں باقی نہیں رہی تھی۔ اور خداتعالیٰ کی عظمت اور جلال ان کے دلوں پر سے اٹھ گئی تھی۔ وہ لبوں سے خدا خدا پکارتے تھے مگر دل ان کے شیطان کے پرستار ہوگئے تھے اور ان کے سینے دنیا پرستی اور دنیا طلبی اور مکر اور فریب میں حد سے زیادہ بڑھ گئے تھے۔ ان میں درویشوں اور راہبوں کی پوجا ہوتی تھی اور سخت قابل شرم بے حیائی کے کام ان میں ہوتے تھے۔ ریاکاریاں بڑھ گئی تھیں۔ مکّاریاں زیادہ ہوگئی تھیں۔ اور ظاہر ہے کہ توحید صرف اس بات کا نام نہیں کہ منہ سے لا الٰہ اِلَّا اللّٰہ کہیں اور دل میں ہزاروں بُت جمع ہوں۔ بلکہ جو شخص کسی اپنے کام اور مکر اور فریب اور تدبیر کو خدا کی سی عظمت دیتا ہے یا کسی انسان پر ایسا بھروسہ رکھتا ہے جو خداتعالیٰ پر رکھنا چاہئے یا اپنے نفس کو وہ عظمت دیتا ہے جو خدا کو دینی چاہئے ان سب صورتوں میں وہ خداتعالیٰ کے نزدیک بُت پرست ہے۔ بُت صرف وہی نہیں ہیں جو سونے یا چاندی یا پیتل یا پتھر وغیرہ سے بنائے جاتے اور ان پر بھروسہ کیا جاتا ہے بلکہ ہر ایک چیز یا قول یا فعل جس کو وہ عظمت دی جائے جو خداتعالیٰ کا حق ہے وہ خدا تعالیٰ کی نگہ میں بُت ہے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ توریت میں اس باریک بُتپرستی کی تصریح نہیں ہے مگر قرآن شریف ان تصریحات سے بھرا پڑا ہے۔ سو قرآن شریف کو نازل کر کے خداتعالیٰ کا ایک یہ بھی منشاء تھا کہ یہ بُت پرستی بھی جو دِق کی بیماری کی طرح لگی ہوئی تھی لوگوں کے دلوں سے دور کرے اور اس زمانہ میں یہودی اس قسم کی بُتپرستی میں غرق تھے اور توریت ان کو چھڑا نہیں سکتی تھی اس لئے کہ توریت میں یہ باریک تعلیم نہیں تھی۔ اور نیز اس لئے کہ یہ بیماری جو تمام یہودیوں میں پھیل گئی تھی ایک پاک توحید کے نمونہ کو چاہتی تھی جو زندہ طور پر ایک کامل انسان میں نمودار ہو۔
    یاد رہے کہ حقیقی توحید جس کا اقرار خدا ہم سے چاہتا ہے اور جس کے اقرار سے نجات
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 350
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 350
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/350/mode/1up
    وا ؔ بستہ ہے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو اپنی ذات میں ہر ایک شریک سے خواہ بت ہو خواہ انسان ہو خواہ سورج ہو یا چاند ہو یا اپنا نفس یا اپنی تدبیر اور مکر فریب ہو منزہ سمجھنا اور اس کے مقابل پر کوئی قادر تجویز نہ کرنا۔ کوئی رازق نہ ماننا کوئی مُعِزّاور مُذِلّ خیال نہ کرنا کوئی ناصر اور مددگار قرار نہ دینا اور دوسرے یہ کہ اپنی محبت اسی سے خاص کرنا۔ اپنی عبادت اسی سے خاص کرنا۔ اپنا تذلّل اسی سے خاص کرنا۔ اپنی امیدیں اسی سے خاص کرنا۔ اپنا خوف اسی سے خاص کرنا۔ پس کوئی توحید بغیر ان تین قسم کی تخصیص کے کامل نہیں ہو سکتی۔ اوّل ذات کے لحاظ سے توحید یعنی یہ کہ اس کے وجود کے مقابل پر تمام موجودات کو معدوم کی طرح سمجھنا اور تمام کو ہالکۃ الذات اور باطلۃ الحقیقت خیال کرنا۔ دوم صفات کے لحاظ سے توحید یعنی یہ کہ ربوبیّت اور الوہیّت کی صفات بجز ذات باری کسی میں قرار نہ دینا۔ اور جو بظاہر ربّ الانواع یا فیض رسان نظر آتے ہیں یہ اسی کے ہاتھ کا ایک نظام یقین کرنا۔ تیسرے۳ اپنی محبّت اور صدق اور صفا کے لحاظ سے توحید یعنی محبت وغیرہ شعار عبودیت میں دوسرے کو خداتعالیٰ کا شریک نہ گرداننا۔ اور اسی میں کھوئے جانا۔ سو اس توحید کو جو تینوں شعبوں پر مشتمل اور اصل مدار نجات ہے یہودی لوگ کھو بیٹھے تھے۔ چنانچہ ان کی بدچلنیاں اس بات پر صاف گواہی دیتی تھیں کہ ان کے لبوں میں خدا کے ماننے کا دعویٰ ہے مگر دل میں نہیں۔ جیسا کہ قرآن خود یہود و نصاریٰ کو ملزم کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر یہ لوگ توریت اور انجیل کو قائم کرتے تو آسمانی رزق بھی انہیں ملتا اور زمینی بھی۔ یعنی آسمانی خوارق عادت اور قبولیت دعا اور کشوف اور الہامات جو مومن کی نشانیاں ہیں ان میں پائی جاتیں جو آسمانی رزق ہے۔ اور زمینی رزق بھی ملتا مگر اب وہ آسمانی رزق سے بکلّی بے نصیب ہیں اور زمین کا رزق بھی روبحق ہو کر نہیں بلکہ روبہ دنیا ہو کر حاصل کرتے ہیں۔ سو دونوں رزقوں سے محروم ہیں۔
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 351
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 351
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/351/mode/1up
    ابؔ یہ بھی یاد رہے کہ قرآن کی تعلیم سے بے شک ثابت ہوتا ہے کہ یہود اور نصاریٰ سے لڑائیاں ہوئیں۔ مگر ان لڑائیوں کا ابتدا اہل اسلام کی طرف سے ہرگز نہیں ہوا اور یہ لڑائیاں دین میں جبرًا داخل کرنے کے لئے ہرگزنہیں تھیں بلکہ اس وقت ہوئیں جبکہ خود اسلام کے مخالفوں نے آپ ایذا دے کر یا موذیوں کو مدد دے کر ان لڑائیوں کے اسباب پیدا کئے۔ اور جب اسباب انہیں کی طرف سے پیدا ہوگئے تو غیرت الٰہی نے ان قوموں کو سزا دینا چاہا اور اس سزا میں بھی رحمت الٰہی نے یہ رعایت رکھی کہ اسلام میں داخل ہونے والا یا جزیہ دینے والا اس عذاب سے بچ جائے۔ یہ رعایت بھی خدا کے قانون قدرت کے مطابق تھی۔ کیونکہ ہر ایک مصیبت جو عذاب کے طور پر نازل ہوتی ہے مثلاً وبا یا قحط تو انسانوں کا کانشنس خود اس طرف متوجہ ہو جاتا ہے کہ وہ دعا اور توبہ اور تضرع اور صدقات اور خیرات سے اس عذاب کو موقوف کرانا چاہیں۔ چنانچہ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ رحیم خدا عذاب کو دور کرنے کے لئے خود الہام دلوں میں ڈالتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ کی دعائیں کئی دفعہ منظور ہوکر بنی اسرائیل کے سر سے عذاب ٹل گیا۔ غرض اسلام کی لڑائیاں سخت طبع مخالفوں پر ایک عذاب تھا جس میں ایک رحمت کا طریق بھی کھلا تھا۔ سو یہ خیال کرنا دھوکہ ہے کہ اسلام نے توحید کے شائع کرنے کے لئے لڑائیاں کیں۔ یاد رکھنا چاہئے کہ لڑائیوں کی بنیاد محض سزا دہی کے طور پر اس وقت سے شروع ہوئی کہ جب دوسری قوموں نے ظلم اور مزاحمت پر کمر باندھی۔
    رہا یہ سوال کہ یہودیوں کو مسلمان ہونے کی ضرورت کیا تھی وہ تو پہلے سے موَحّد تھے؟ اس کا جواب ہم ابھی دے چکے ہیں کہ توحید یہودیوں کے دلوں میں قائم نہ تھی صرف کتابوں میں تھی اور وہ بھی ناقص۔ سو توحید کی زندہ روح حاصل کرنے کی ضرورت
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 352
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 352
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/352/mode/1up
    تھیؔ ۔ کیونکہ جب تک توحید کی زندہ روح انسان کے دل میں قائم نہ ہو تب تک نجات نہیں ہوسکتی۔ یہودی مُردوں کی طرح تھے اور بباعث سخت دلی اور طرح طرح کی نافرمانیوں کے وہ زندہ روح ان میں سے نکل چکی تھی۔ ان کو خدا کے ساتھ کچھ بھی میلان باقی نہیں رہا تھا اور ان کی توریت بباعث نقصان تعلیم اور نیز بوجہ لفظی اور معنوی تحریفوں کے اس لائق نہیں رہی تھی جو کامل طور پر رہبر ہو سکے اس لئے خدا نے زندہ کلام تازہ بارش کی طرح اتارا اور اس زندہ کلام کی طرف ان کو بلایا تا وہ طرح طرح کے دھوکوں اور غلطیوں سے نجات پاکر حقیقی نجات کو حاصل کریں۔ سو قرآن کے نزول کی ضرورتوں میں سے ایک۱ یہ تھی کہ تا مُردہ طبع یہودیوں کو زندہ توحید سکھائے اور دوسر۲ے یہ کہ تا ان کی غلطیوں پر انکو متنبہ کرے۔ اور تیسر۳ے یہ کہ تا وہ مسائل کہ جو توریت میں محض اشارہ کی طرح بیان ہوئے تھے جیسا کہ مسئلہ حشر اجساد اور مسئلہ بقاء روح اور مسئلہ بہشت اور دوزخ ان کے مفصل حالات سے آگہی بخشے۔
    یہ بات سچ ہے کہ سچائی کی تُخم ریزی توریت سے ہوئی اور انجیل سے اس تُخم نے ایک آئندہ بشارت دینے والے کی طرح منہ دکھلایا۔ اور جیسے ایک کھیت کا سبزہ پوری صحت اور عمدگی سے نکلتا ہے اور بزبان حال خوشخبری دیتا ہے کہ اس کے بعد اچھے پھل اور اچھے خوشے ظہور کرنیوالے ہیں ایسا ہی انجیل کامل شریعت اور کامل رہبر کے لئے خوشخبری کے طور پر آئی اور فرقان سے وہ تخم اپنے کمال کو پہنچا جو اپنے ساتھ اس کامل نعمت کو لایا جس نے حق اور باطل میں بکلّی فرق کر کے دکھلایا اور معارف دینیہ کو اپنے کمال تک پہنچایا جیسا کہ توریت* میں پہلے سے لکھا تھا کہ ’’خدا سینا سے آیا اور سعیر سے طلوع ہوا اور فاران کے پہاڑ سے ان پر چمکا‘‘۔!!!
    یہ بات بالکل ثابت شدہ امر ہے کہ شریعت کے ہر ایک پہلو کو کمال کی صورت
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 353
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 353
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/353/mode/1up
    میںؔ صرف قرآن نے ہی دکھلایا ہے۔ شریعت کے بڑے حصے دو ہیں۔ حقّ اللہ اور حقّ العباد۔ یہ دونوں حصے صرف قرآن شریف نے ہی پورے کئے ہیں۔ قرآن کا یہ منصب تھا کہ تا وحشیوں کو انسان بناوے۔ اور انسان سے بااخلاق انسان بناوے اور بااخلاق انسان سے باخدا انسان بنائے۔ سو اس منصب کو اُس نے ایسے طور سے پورا کیا کہ جس کے مقابل پر توریت ایک گونگے کی طرح ہے۔
    اور منجملہ قرآن کی ضرورتوں کے ایک یہ امر بھی تھا کہ جو اختلاف حضرت مسیح کی نسبت یہود اور نصاریٰ میں واقع تھا اسکو دور کرے۔ سو قرآن شریف نے ان سب جھگڑوں کا فیصلہ کیا۔ جیسا کہ قرآن شریف کی یہ آیت 3 ۱؂ الخ اسی جھگڑے کے فیصلہ کیلئے ہے کیونکہ یہودی لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ نصاریٰ کا نبی یعنی مسیح صلیب پر کھینچا گیا۔ اس لئے موافق حکم توریت کے وہ *** ہوا اور اس کا رفع نہیں ہوا۔ اور یہ دلیل اس کے کاذب ہونے کی ہے‘‘۔ اور عیسائیوں کا یہ خیال تھا کہ *** تو ہوا مگر ہمارے لئے اور بعد اس کے *** جاتی رہی اور رفع ہوگیا اور خدا نے اپنے دہنے ہاتھ اس کو بٹھالیا۔ اب اس آیت نے یہ فیصلہ کیا کہ رفع بلاتوقف ہوا نہ یہودیوں کے زعم پر دائمی *** ہوئی جو ہمیشہ کے لئے رفع الی اللہ سے مانع ہے۔ اور نہ نصاریٰ کے زعم پر چند روز *** رہی اور پھر رفع الی اللہ ہوا بلکہ وفات کے ساتھ ہی رفع الی اللہ ہوگیا۔ اور ان ہی آیات میں خداتعالیٰ نے یہ بھی سمجھا دیا کہ یہ رفع توریت کے احکام کے مخالف نہیں کیونکہ توریت کا حکم عدم رفع اور *** اس حالت میں ہے کہ جب کوئی صلیب پر مارا جائے۔ مگر صرف صلیب کے چھونے یا صلیب پر کچھ ایسی تکلیف اٹھانے سے جو موت کی حد تک نہیں پہنچتی *** لازم نہیں آتی اور نہ عدم رفع لازم آتا ہے۔ کیونکہ توریت کا منشاء یہ ہے کہ صلیب خداتعالیٰ کی طرف سے
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 354
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 354
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/354/mode/1up
    جرا ؔ ئم پیشہ کی موت کا ذریعہ ہے۔ پس جو شخص صلیب پر مرگیا وہ مجرمانہ موت مرا جو *** موت ہے لیکن مسیح صلیب پر نہیں مرا اور اس کو خدا نے صلیب کی موت سے بچالیا۔ بلکہ جیسا کہ اس نے کہا تھا کہ میری حالت یونس سے مشابہ ہے ایسا ہی ہوا نہ یونس مچھلی کے پیٹ میں مرا نہ یسوع صلیب کے پیٹ پر۔ اور اسکی دعا ’’ایلی ایلی لما سبقتانی‘‘ سنی گئی۔ اگر مرتا تو پیلاطوس پر بھی ضرور وبال آتا۔ کیونکہ فرشتہ نے پیلاطوس کی جورو کو یہ خبر دی تھی کہ اگر یسوع مرگیا تو یاد رکھ کہ تم پر وبال آئے گا مگر پیلاطوس پر کوئی وبال نہ آیا۔ اور یہ بھی یسوع کے زندہ رہنے کی ایک نشانی ہے کہ اس کی ہڈیاں صلیب کے وقت نہیں توڑی گئیں۔ اور صلیب پر سے اتارنے کے بعد چھیدنے سے خون بھی نکلا اور اس نے حواریوں کو صلیب کے بعد اپنے زخم دکھلائے۔ اور ظاہر ہے کہ نئی زندگی کے ساتھ زخموں کا ہونا ممکن نہ تھا۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ یسوع صلیب پر نہیں مرا اس لئے *** بھی نہیں ہوا اور بلاشبہ اس نے پاک وفات پائی اور خدا کے تمام پاک رسولوں کی طرح موت کے بعد وہ بھی خدا کی طرف اٹھایا گیا۔ اور بموجب وعدہ اِنّی متوفّیک و رافِعُک الیّ اس کا خدا کی طرف رفع ہوا۔ اگر وہ صلیب پر مرتا تو اپنے قول سے خود جھوٹا ٹھہرتا۔ کیو نکہ اس صورت میں یونس کے ساتھ اس کی کچھ بھی مشابہت نہ ہوتی۔
    سو یہی جھگڑا مسیح کے بارے میں یہود اور نصاریٰ میں چلا آتا تھا جس کو آخر قرآن شریف نے فیصلہ کیا۔ پھر ابھی تک نصاریٰ کہتے ہیں کہ قرآن کے اترنے کی کیا ضرورت تھی۔ اے نادانوں! اور دلوں کے اندھو! قرآن کامل توحید لایا۔ قرآن نے عقل اور نقل کو ملا کر دکھلایا۔ قرآن نے توحید کو کمال تک پہنچایا۔ قرآن نے توحید اور صفات باری پر دلائل قائم کئے۔ اور خداتعالیٰ کی ہستی کا ثبوت عقلی نقلی دلائل سے دیا۔ اور کشفی طور پر بھی دلائل قائم کئے۔ اور وہ مذہب جو پہلے قصہ کہانی کے رنگ میں چلا آتا تھا اس کو علمی رنگ میں دکھلایا۔ اور ہر ایک عقیدہ کو حکمت کا
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 355
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 355
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/355/mode/1up
    جامہؔ پہنایا۔ اور وہ سلسلہ معارف دینیہ کا جو غیر مکمل تھا اس کو کمال تک پہنچایا۔ اور یسوع کی گردن پر سے *** کا طوق اتارا۔ اور اس کے مرفوع اور سچا نبی ہونے کی شہادت دی۔ تو کیا اس قدر فیض رسانی کے ساتھ ابھی قرآن کی ضرورت ثابت نہ ہوئی؟
    یہ یاد رہے کہ قرآن نے بڑی صفائی سے اپنی ضرورت ثابت کی ہے۔ قرآن صاف کہتا ہے 3 ۱؂ یعنی اس بات کو جان لو کہ زمین مرگئی تھی اور اب خدا نئے سرے اسکو زندہ کرنے لگا ہے۔ تاریخ شہادت دیتی ہے کہ قرآن کے زمانہ قرب نزول میں ہر ایک قوم نے اپنا چال چلن بگاڑا ہوا تھا۔ پادری فنڈل مصنف میزان الحق باوجود اس قدر تعصب کے جو اس کے رگ و ریشہ میں بھرا ہوا تھا میزان الحق میں صاف گواہی دیتا ہے کہ قرآن کے نزول کے زمانہ میں یہود و نصاریٰ کا چال چلن بگڑا ہوا تھا اور ان کی حالتیں خراب ہو رہی تھیں اور قرآن کا آنا ان کے لئے ایک تنبیہ تھی۔ مگر اس نادان نے باوجودیکہ یہ تو اقرار کیا کہ قرآن اس وقت آیا جبکہ یہود و نصاریٰ کا چال و چلن بہت خراب ہو رہا تھا لیکن پھر بھی یہ جھوٹا عذر پیش کر دیا کہ خدا تعالیٰ کو ایک جھوٹا نبی بھیج کر یہود و نصاریٰ کو متنبہ کرنا منظور تھا۔ مگر یہ اللہ تعالیٰ پر تہمت ہے کیا ہم اللہ جلّ شانہٗ کی طرف یہ خراب عادت منسوب کر سکتے ہیں کہ اس نے لوگوں کو گمراہی اور بدچلنی میں پاکر یہ تدبیر سوچی کہ اور بھی گمراہی کے سامان ان کے لئے میسر کرے اور کروڑ ہا بندگان خدا کو اپنے ہاتھ سے تباہی میں ڈالے۔ کیا غلبہ شدائد اور مصائب کے وقت خداتعالیٰ کے قانون قدرت میں یہی عادت اس کی ثابت ہوتی ہے؟ افسوس کہ یہ لوگ دنیا سے محبت کر کے کیسے آفتاب پر تھوک رہے ہیں۔ ایک ناچیز انسان کو خدا بھی کہتے ہیں اور پھر ملعون بھی۔ اور اس عظیم الشان نبی کے وجود سے انکار کر رہے ہیں کہ جو ایسے وقت میں آیا جبکہ نوع انسان مردہ کی طرح ہو رہی تھی۔ اور پھر کہتے ہیں
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 356
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 356
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/356/mode/1up
    کہؔ قرآن کی ضرورت کیا تھی۔ اے غافلو! اور دلوں کے اندھو! قرآن جیسے ضلالت کے طوفان کے وقت میں آیا ہے کوئی نبی ایسے وقت میں نہیں آیا۔ اس نے دنیا کو اندھا پایا اور روشنی بخشی۔ اور گمراہ پایا اور ہدایت دی۔ اور مردہ پایا اور جان عطا فرمائی۔ تو کیا ابھی ضرورت ثابت ہونے میں کچھ کسررہ گئی؟ اور اگر یہ کہو کہ توحید تو پہلے بھی موجود تھی قرآن نے نئی چیز کونسی دی؟ تو اس سے اور بھی تمہاری عقل پر رونا آتا ہے۔ میں ابھی لکھ چکا ہوں کہ توحید پہلی کتابوں میں ناقص طور پر تھی اور تم ہرگز ثابت نہیں کر سکتے کہ کامل تھی۔ ماسوا اس کے توحید دلوں سے بکلی گم ہوگئی تھی قرآن نے اس توحید کو پھر یاد دلایا اور اس کو کمال تک پہنچایا۔ قرآن کا نام اسی لئے ذِکْر ہے کہ وہ یاد دلانے والا ہے۔ ذرا آنکھ کھول کر سوچو کہ کیا توریت نے جو کچھ توحید کے بارے میں بیان کیا تھا وہ ایک ایسی نئی بات تھی جو پہلے نبیوں کو اس کی خبر نہیں تھی۔ کیا یہ سچ نہیں کہ سب سے پہلے آدم کو اور پھر شیث اور نوح اور ابراہیم اور دوسرے رسولوں کو جو موسیٰ سے پہلے آئے توحید کی تعلیم ملی تھی؟ پس یہ توریت پر بھی اعتراض ہے کہ اس نے نئی چیز کونسی پیش کی۔ اے کج دل قوم خدا روز روز نیا نہیں ہو سکتا۔ موسیٰ کے وقت میں وہی خدا تھا جو آدم اور شیث اور نوح اور ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب اور یوسف کے وقت میں تھا۔ اور توریت نے وہی توحید کے بارے میں بیان کیا جو پہلے نبی کرتے آئے۔
    اب اگر یہ سوال ہو کہ کیوں توریت نے اسی پرانی توحید کا ذکر کیا تو اس کا جواب یہی ہے کہ خدا کی ہستی اور وحدانیت کا مسئلہ توریت سے شروع نہیں ہوا بلکہ قدیم سے چلا آتا ہے۔ ہاں بعض زمانوں میں ترک عمل کی وجہ سے اکثر لوگوں کی نظر میں حقیر اور ذلیل ضرور ہوتا رہا ہے۔ پس خدا کی کتابوں اور خدا کے نبیوں کا یہ کام تھا کہ وہ ایسے وقتوں میں آتے رہے ہیں کہ جب اس مسئلہ توحید پر لوگوں کی توجہ کم رہ گئی ہو اور طرح طرح کے شرکوں
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 357
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 357
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/357/mode/1up
    میںؔ وہ مبتلا ہوگئے ہوں۔ یہی مسئلہ دنیا میں ہزاروں دفعہ صیقل ہوا اور ہزاروں دفعہ پھر زنگ خوردہ کی طرح ہوکر لوگوں کی نظروں سے چھپ گیا۔ اور جب چھپ گیا تو پھر خدا نے اپنے کسی بندہ کو بھیجا تا نئے سرے اس کو روشن کر کے دکھلائے۔ اسی طرح دنیا میں کبھی ظلمت کبھی نور غالب آتا رہا۔ اور ہر ایک نبی کی شناخت کا یہ نہایت اعلیٰ درجہ کا معیار ہے کہ دیکھنا چاہئے کہ وہ کس وقت آیا اور کس قدر اصلاح اس کے ہاتھ سے ظہور میں آئی۔ چاہئے کہ حق طلبی کی راہ سے اسی بات کو سوچیں اور شریروں اور متعصب لوگوں کے پُر خیانت اقوال کی طرف توجہ نہ کریں اور ایک صاف نظر لے کر کسی نبی کے حالات کو دیکھیں کہ اس نے ظہور فرما کر اس زمانہ کے لوگوں کو کس حالت میں پایا اور پھر اس نے ان لوگوں کے عقائد اور چال چلن میں کیا تبدیلی کر کے دکھلائی تو اس سے ضرور پتہ لگ جائے گا کہ کون نبی اشد ضرورت کے وقت آیا اور کون اس سے کمتر۔ نبی کی ضرورت گنہگاروں کے لئے بعینہٖ ایسی ہی ہوتی ہے جیسا کہ طبیب کی ضرورت بیماروں کے لئے۔ اور جیسا کہ بیماروں کی کثرت ایک طبیب کو چاہتی ہے ایسا ہی گنہگاروں کی کثرت ایک مصلح کو۔
    اب اگر کوئی اس قاعدہ کو ذہن میں رکھ کر عرب کی تاریخ پر نظر ڈالے کہ عرب کے باشندے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ظہور سے پہلے کیا تھے اور پھر کیا ہوگئے تو بلاشبہ وہ اس نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ و سلم کو قوّت قدسی اور تاثیر قوی اور افاضہ برکات میں سب نبیوں سے اول درجہ پر سمجھے گا۔ اور اسی بنا پر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اور قرآن کی ضرورت کو دوسری تمام کتابوں اور نبیوں کی ضرورت سے بدیہی الثبوت یقین کرے گا۔ مثلاً یسوع نے دنیا میں آکر دنیا کی کس ضرورت کو پورا کیا؟ اور اس کا ثبوت کیا ہے کہ اس نے کوئی ضرورت پوری کی؟ کیا یہودیوں کے اخلاق اور عادات اور ایمان میں کوئی بھاری تبدیلی کر دی یا اپنے حواریوں کو تزکیہ نفس میں کمال تک پہنچا دیا؟ بلکہ ان پاک اصلاحوں میں سے کچھ
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 358
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 358
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/358/mode/1up
    بھیؔ ثابت نہیں۔ اور اگر کچھ ثابت ہے تو صرف یہی کہ چند آدمی طمع اور لالچ سے بھرے ہوئے اس کے ساتھ ہوگئے۔ اور انجام کار انہوں نے بڑی قابل شرم بے وفائیاں دکھلائیں۔ اور اگر یسوع نے خودکشی کی تو میں اس سے زیادہ ہرگز تسلیم نہیں کروں گا کہ ایک ایسی بیوقوفی کی حرکت اس سے صادر ہوئی جس سے اس کی انسانیت اور عقل پر ہمیشہ کیلئے داغ لگ گیا۔ ایسی حرکت جس کو انسانی قوانین بھی ہمیشہ جرائم کے نیچے داخل کرتے ہیں کیا کسی عقلمند سے صادر ہو سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ پس ہم پوچھتے ہیں کہ یسوع نے کیا سکھلایا اور کیا دیا؟ کیا وہ *** قربانی جس کا عقل اور انصاف کے نزدیک کوئی بھی نتیجہ معلوم نہیں ہوتا۔
    یاد رہے کہ انجیل کی تعلیم میں کوئی نئی خوبی نہیں بلکہ یہ سب تعلیم توریت میں پائی جاتی ہے اور اس کا ایک بڑا حصہ یہودیوں کی کتاب طالموت میں اب تک موجود ہے۔ اور یہودی فاضل اب تک روتے ہیں کہ ہماری پاک کتابوں سے یہ فقرے چرائے گئے ہیں۔ چنانچہ حال میں جو ایک فاضل یہودی کی کتاب میرے پاس آئی ہے اس نے اسی بات کا ثبوت دینے کے لئے کئی ورق لکھے ہیں اور بڑے زور سے اسناد پیش کئے ہیں کہ یہ فقرات کہاں کہاں سے چرائے گئے۔ میں نے یہ کتابیں صرف میاں سراج الدین کے لئے منگوائی تھیں مگر ان کی بدقسمتی ہے کہ وہ دیکھنے سے پہلے چلے گئے۔ محقق عیسائی اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ درحقیقت انجیل یہودیوں کی کتابوں کے ان مضامین کا ایک خلاصہ ہے جو حضرت مسیح کو پسند آئی۔ لیکن بالآخر یہ کہتے ہیں کہ مسیح کے دنیا میں آنے سے یہ غرض نہیں تھی کہ کوئی نئی تعلیم لائے بلکہ اصل مطلب تو اپنے وجود کی قربانی دینا تھا یعنی وہی *** قربانی جس کے بار بار کے ذکر سے میں اس رسالہ کو پاک رکھنا چاہتا ہوں۔ غرض عیسائیوں کو یہ دھوکہ لگا ہوا ہے کہ شریعت توریت تک مکمل ہو چکی اس لئے یسوع کوئی شریعت لے کر نہیں آیا بلکہ نجات دینے کے سامان لے کر آیا
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 359
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 359
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/359/mode/1up
    اورؔ قرآن نے ناحق پھر ایسی شریعت کی بنیاد ڈال دی جو پہلے مکمّل ہو چکی تھی۔ یہی دھوکہ عیسائیوں کے ایمان کو کھا گیا ہے۔ مگر یاد رہے کہ یہ بات بالکل صحیح نہیں ہے بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ چونکہ انسان سہو و نسیان سے مرکب ہے اور نوع انسان میں خدا کے احکام عملی طور پر ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتے اس لئے ہمیشہ نئے یاد دلانے والے اور قوت دینے والے کی ضرورت پڑتی ہے۔ لیکن قرآن شریف صرف ان ہی دو ضرورتوں کی وجہ سے نازل نہیں ہوا بلکہ وہ پہلی تعلیموں کا درحقیقت متمم اور مکمّل ہے۔ مثلاً توریت کا زور حالات موجودہ کے لحاظ سے زیادہ تر قصاص پر ہے اور انجیل کا زور حالات موجودہ کے لحاظ سے عفو اور صبر اور درگذر پر ہے اور قرآن ان دونوں صورتوں میں محل شناسی کی تعلیم دیتا ہے۔ ایسا ہی ہر ایک باب میں توریت افراط کی طرف گئی ہے اور انجیل تفریط کی طرف اور قرآن شریف وسط کی تعلیم کرتا اور محل اور موقعہ کا سبق دیتا ہے۔ گو نفس تعلیم تینوں کتابوں کا ایک ہی ہے مگر کسی نے کسی پہلو کو شدّومد کے ساتھ بیان کیا اور کسی نے کسی پہلو کو۔ اور کسی نے فطرت انسانی کے لحاظ سے درمیانہ راہ لیا جو طریق تعلیم قرآن ہے اور چونکہ محل اور موقعہ کا لحاظ رکھنا یہی حکمت ہے سو اس حکمت کو صرف قرآن شریف نے سکھلایا ہے۔ توریت ایک بیہودہ سختی کی طرف کھینچ رہی ہے*اور انجیل ایک بیہودہ عفو پر زور دے رہی ہے اور قرآن شریف وقت شناسی کی تاکید کرتا ہے۔ پس جس طرح پستان میں آکر خون دودھ بن جاتا ہے۔ اسی طرح توریت اور انجیل کے احکام قرآن میں آکر حکمت بن گئے ہیں۔ اگر قرآن شریف نہ آیا ہوتا تو توریت اور انجیل اس اندھے کے تیر کی طرح ہوتیں کہ کبھی ایک آدھ دفع نشانہ پر لگ گیا اور سو دفعہ خطا گیا۔ غرض شریعت قصّوں کے طور پر توریت سے آئی اور مثالوں کی طرح انجیل سے ظاہر ہوئی اور حکمت کے پیرایہ میں قرآن شریف سے حق اور حقیقت کے طالبوں کو ملی۔
    * یہ سختی اور نرمی اپنے اپنے زمانہ اور قوم کی موجودہ حالت کے لحاظ سے مناسب تعلیم تھی مگر حقیقی تعلیم نہیں تھی جو قابل ترک نہ ہو۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 360
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 360
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/360/mode/1up
    سو ؔ توریت اور انجیل قرآن کا کیا مقابلہ کریں گی۔ اگر صرف قرآن شریف کی پہلی سورت کے ساتھ ہی مقابلہ کرنا چاہیں یعنی سورۃ فاتحہ کے ساتھ جو فقط سات آیتیں ہیں اور جس ترتیب انسب اور ترکیب محکم اور نظام فطرتی سے اس سورۃ میں صدہا حقائق اور معارف دینیہ اور روحانی حکمتیں درج ہیں ان کو موسیٰ کی کتاب یا یسوع کے چند ورق انجیل سے نکالنا چاہیں تو گو ساری عمر کوشش کریں تب بھی یہ کوشش لاحاصل ہوگی۔ اور یہ بات لاف و گزاف نہیں بلکہ واقعی اور حقیقی یہی بات ہے کہ توریت اور انجیل کو علوم حکمیہ میں سورہ فاتحہ کے ساتھ بھی مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔ ہم کیا کریں اور کیونکر فیصلہ ہو پادری صاحبان ہماری کوئی بات بھی نہیں مانتے۔ بھلا اگر وہ اپنی توریت یا انجیل کو معارف اور حقائق کے بیان کرنے اور خواص کلام الوہیت ظاہر کرنے میں کامل سمجھتے ہیں تو ہم بطور انعام پانسو روپیہ نقد ان کو دینے کیلئے طیار ہیں۔ اگر وہ اپنی کل ضخیم کتابوں میں سے جو ستّر کے قریب ہوں گی وہ حقائق اور معارف شریعت اور مرتّب اور منتظم دُرر حکمت و جواہر معرفت و خواص کلام الوہیت دکھلا سکیں جو سورہ فاتحہ میں سے ہم پیش کریں۔ اور اگر یہ روپیہ تھوڑا ہو تو جس قدر ہمارے لئے ممکن ہوگا ہم ان کی درخواست پر بڑھا دیں گے۔ اور ہم صفائی فیصلہ کیلئے پہلے سورہ فاتحہ کی ایک تفسیر طیّار کر کے اور چھاپ کر پیش کریں گے اور اس میں وہ تمام حقائق و معارف و خواص کلام الوہیت بہ تفصیل بیان کریں گے جو سورہ فاتحہ میں مندرج ہیں۔ اور پادری صاحبوں کا یہ فرض ہوگا کہ توریت اور انجیل اور اپنی تمام کتابوں میں سے سورہ فاتحہ کے مقابل پر حقائق اور معارف اور خواص کلام الوہیت جس سے مراد فوق العادۃ عجائبات ہیں جن کا بشری کلام میں پایا جانا ممکن نہیں پیش کر کے دکھلائیں۔ اور اگر وہ ایسا مقابلہ کریں اور تین۳ منصف غیر قوموں میں سے کہہ دیں کہ وہ لطائف اور معارف اور خواص کلام
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 361
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 361
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/361/mode/1up
    الو ؔ ہیت جو سورہ فاتحہ میں ثابت ہوئے ہیں وہ ان کی پیش کردہ عبارتوں میں بھی ثابت ہیں تو ہم پانسو روپیہ جو پہلے سے ان کے لئے ان کی اطمینان کی جگہ پر جمع کرایا جائے گا دے دیں گے۔
    اب کیا کسی پادری کا حوصلہ ہے جو ایسا مقابلہ کرے؟ خدا کا کلام خدا کی طاقتوں سے ثابت ہوتا ہے جیسا کہ اس کی مصنوعات عجائب قدرت سے ثابت ہوتی ہیں۔ مثلاً آسمان پر ہزاروں ستارے ہیں۔ اب اگر کوئی بیوقوف چند ستاروں کی طرف اشارہ کر کے کہہ دے کہ ان کی کیا ضرورت ہے لہٰذا یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں یا چند بوٹیوں یا پتھروں یا جانوروں کا نام لے کر کہہ دے کہ ان کے وجود کے بغیر دوسری بوٹیوں وغیرہ سے کام چل سکتا ہے۔ اس لئے یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے تو ایسا قائل بجز دیوانہ یا احمق کے اور کون ہو سکتا ہے۔
    یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ قرآن ان تمام کمالات کا جامع ہے جن کی انسان کو تکمیل نفس کیلئے حاجت ہے۔ اور توریت کی قرآن کے ساتھ یہ مثال ہے کہ جیسے ایک مسافر خانہ تھا وہ بڑی بڑی آندھیوں اور زلزلوں کے باعث سے گر پڑا اور بجائے اس مسافر خانہ کے ایک اینٹوں کا ڈھیر لگ گیا اور پاخانہ کی اینٹیں باورچی خانہ میں اور باورچی خانہ کی پاخانہ میں جا پڑیں اور سب مکان زیر و زبر ہوگیا۔ پس اس سرائے کے مالک کو مسافروں کے حال پر رحم آیا۔ سو اس نے فی الفور بجائے اس مسافر خانہ کے ایک ایسا عمدہ اور آرام بخش مسافر خانہ طیار کیا جو اس پہلے سے بہتر اور مسافروں کے لئے نہایت آرام بخش مکانات اپنے اپنے قرینہ سے اس میں موجود تھے اور کسی ضرورت کے مکان کی کمی نہیں تھی۔ اور مالک نے اس آخر الذکر مسافر خانہ کی تعمیر میں کچھ تو وہی اینٹیں پہلے مسافر خانہ کی لے لیں اور کچھ زیادہ اینٹیں اور لکڑی وغیرہ مصالح بہم پہنچایا جو عمارت کو کامل طور پر کافی ہو سکتا تھا۔ سو قرآن شریف وہی دوسرا مسافر خانہ ہے۔ جس کی آنکھیں ہوں دیکھے!!
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 362
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 362
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/362/mode/1up
    اسؔ جگہ یہ اعتراض بھی دور کر دینے کے قابل ہے کہ جس حالت میں حقیقی اور کامل تعلیم یہی ہے جس میں محل اور موقعہ کی رعایت اور ہر ایک نکتہ معرفت کا استیفاء کے ساتھ بیان ہوتو کیا سبب ہے کہ توریت اور انجیل دونوں اس سے خالی رہیں اور قرآن نے ان دونوں باتوں کو کمال تک پہنچایا۔ تو اس کا جواب یہی ہے کہ یہ توریت اور انجیل کا قصور نہیں ہے بلکہ قوموں کی استعداد کا قصور ہے۔ یہودی لوگ جن سے پہلے حضرت موسیٰ کو واسطہ پڑا وہ چار سو برس تک فرعون کی غلامی میں رہے تھے اور ایک مدت دراز تک ظلم کے تختہ مشق رہ کر عدل اور انصاف کی حقیقت سے بے خبر ہوگئے تھے۔ یہ ایک فطرتی قاعدہ ہے کہ اگر بادشاہ وقت جو مؤدّب اور آموزگار کے حکم میں ہوتا ہے عادل ہوتو رعایا کے دل پر عدل کا پرتوہ پڑتا ہے اور طبعاً وہ بھی خلق عدل کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور تہذیب اور شائستگی ان میں پیدا ہو کر عادلانہ صفات اپنا جلوہ دکھاتی ہیں۔ لیکن اگر بادشاہ ظالم ہو تو رعایا بھی اس سے ظلم اور تعدّی کا سبق سیکھتی ہے اور اکثر ان کی صفت عدل سے محروم ہوتی ہے۔ پس یہی حال بنی اسرائیل کا ہوا کہ وہ لوگ ایک مدت دراز تک فرعون جیسے ظالم بادشاہ کی رعایا رہ کر اور طرح طرح کے ظلم اٹھا کر عدل کی کیفیت سے بالکل غافل ہوگئے۔ سو حضرت موسیٰ کا فرض یہ تھا کہ ان کو سب سے پہلے عدل کا سبق دیں۔ اسلئے توریت میں عدل کی حفاظت کیلئے بڑے شدومد سے آیات پائی جاتی ہیں۔ ہاں رحم کی آیات کا بھی توریت میں پتہ ملتا ہے۔ لیکن اگر غور سے دیکھو تو ایسی آیتیں بھی عدل کے حدود کی نگہداشت کیلئے اور ناجائز جذبات اور بے جا کینوں کے روکنے کیلئے بیان فرمائی گئی ہیں۔ اور ہر جگہ اصل مدعا قوانین عدل اور انصاف کی نگہداشت ہے لیکن انجیل پڑھنے سے یہ مدعا معلوم نہیں ہوتا بلکہ انجیل میں عفو اور ترک انتقام پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اور جب ہم انجیل کو تدبر اور عمیق نگاہ سے دیکھتے ہیں تو اس کے سلسلہ عبارت سے صاف مترشح ہوتا ہے کہ اس کتاب کا لکھنے والا اپنے مخاطبین کی نسبت یہ یقین رکھتا ہے کہ وہ لوگ طریق مروت اور صبر اور ترک
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 363
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 363
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/363/mode/1up
    انتقاؔ م سے بالکل دور اور مہجور ہیں اور چاہتا ہے کہ ان کے ایسے دل ہو جائیں کہ انتقام لینے کے حریص نہ ہوں اور صبر اور برداشت اور عفو اور درگذر اپنی عادت کریں۔ اس کا یہی سبب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں یہودیوں کی اخلاقی حالت میں بہت فتور آگیا تھا اور مقدمہ بازی اور کینہ کشی میں انتہا تک پہنچ گئے تھے۔ اور اس بہانہ سے کہ ہم قانون عدل کے حامی ہیں رحم اور درگذر کی خصلتیں بالکل ان میں سے دور ہوگئی تھیں۔ سو انجیل کی نصیحتیں قانون مختص الزمان کی طرح یا قانون مختص القوم کی طرح ان کو سنائی گئی تھیں۔ مگر یہ واقعی قانون کی تصویر نہ تھی اس لئے قرآن نے آکر اس کو دور کر دیا۔
    جس وقت ہم قرآن کو غور سے دیکھتے ہیں اور صاف دل سے اس کے مقصد کے گہراؤ تک چلے جاتے ہیں تو ہمیں صاف دکھائی دیتا ہے کہ قرآن نے نہ توریت کی طرح انتقام اور سختی پر ایسا زور ڈالا ہے کہ جیسا کہ توریت کی لڑائیوں اور قانون قصاص سے ثابت ہوتا ہے۔ اور نہ انجیل کی طرح یکدفعہ عفو اور صبر اور درگذر کی تعلیم پر گر پڑا ہے بلکہ بار بار امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم دیتا ہے۔ یعنی یہ حکم دیتا ہے کہ جو امر عقل اور شرع کے رو سے بہتر اور محل پر ہو اس کو بجا لاؤ اور جس پر عقل اور شرع کا اعتراض ہو اور منکرات میں سے ہو اس سے دست بردارہو جاؤ۔ سو قرآن کے دیکھنے سے ایسا پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے قوانین اور حدود اور اوامر کو علم کے رنگ میں ہمارے دلوں میں جمانا چاہتا ہے۔ کیونکہ وہ شخصی امر اور نہی کے زندان میں ہمیں محبوس کرنا نہیں چاہتا بلکہ اپنی پاک شریعت کو قواعد کلیہ کے طور پر بیان کر دیتا ہے۔ مثلاً وہ ایک کلام کلی کے طور پر حکم فرماتا ہے کہ تم معروف کو بجالاؤ اور منکر سے دستکش ہو جاؤ۔ سو یہ دو کلمے یعنی معروف اور منکر ایسے جامع کلمے ہیں جو شریعت کے قوانین کو علمی رنگ میں لے آتے ہیں اور اس تعلیم سے ہر ایک محل میں یہ سوچنا پڑتا ہے کہ حقیقی نیکی کیا ہے۔ مثلاً اس وقت جو زید نے ہمارا
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 364
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 364
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/364/mode/1up
    ایکؔ گناہ کیا ہے تو کیا اس کو مارنا بہترہے یا عفو کرنا۔ اور ایک سائل جو ہم سے مثلاً ہزار روپیہ اس غرض سے مانگتاہے کہ وہ اس روپیہ سے اپنے لڑکے کی دھوم دھام سے شادی کرے اور آتش بازی اور گانے والی عورتیں اور دوسرے باجوں کے ساتھ اپنے خاندان کے رسوم کے موافق اس رسم کو ادا کرے۔ تو گو ہم ہزار روپیہ اس کو دے سکتے ہیں مگر ہمیں امر معروف اور نہی منکر کے قاعدہ کے لحاظ سے سوچ لینا چاہئے کہ ایسی سخاوت سے ہم کس شخص کی مدد کرتے ہیں۔ غرض اسی طرح قرآن نے ہمارے دین اور دنیا کی بہبودی کیلئے ہمارے ہر ایک کارخیر میں محل اور موقعہ کی قید لگا دی ہے۔
    اب میں میاں سراج الدین صاحب کے سوال دوم کا پورا جواب دے چکا ہوں اور میں لکھ چکا ہوں کہ اسلام نے یہودیوں کے ساتھ توحید منوانے کیلئے لڑائیاں نہیں کیں بلکہ اسلام کے مخالف خود اپنی شرارتوں سے لڑائیوں کے محرک ہوئے۔ بعض نے مسلمانوں کے قتل کرنے کیلئے خود پہلے پہل تلوار اٹھائی۔ بعض نے ان کی مدد کی۔ بعض نے اسلام کی تبلیغ روکنے کیلئے بے جا مزاحمت کی۔ سو ان تمام موجبات کی وجہ سے مفسدین کی سرکوبی اور سزا اور شر کی مدافعت کیلئے خداتعالیٰ نے ان ہی مفسدوں کے مقابل پر لڑائیوں کا حکم کیا۔ اور یہ کہنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے تیرہ برس تک اس وجہ سے مخالفوں سے لڑائی نہیں کی کہ اس وقت تک پوری جمعیّت حاصل نہیں ہوئی تھی یہ محض ظالمانہ اور مفسدانہ خیال ہے۔ اگر صورت حال یہ ہوتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے مخالف تیرہ برس تک ان ظلموں اور خونریزیوں سے باز رہتے جو مکہ میں ان سے ظہور پذیر ہوئے اور پھرآپ منصوبہ کر کے یہ تجویز نہ کرتے کہ یا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو قتل کر دینا چاہئے اور یا وطن سے نکال دینا چاہئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم آپ ہی بغیر حملہ مخالفین کے مدینہ کی طرف چلے جاتے تو ایسی بدظنیوں کی کوئی جگہ بھی ہوتی لیکن یہ
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 365
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 365
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/365/mode/1up
    وا ؔ قعہ تو ہمارے مخالفوں کو بھی معلوم ہے کہ تیرہ برس کے عرصہ میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دشمنوں کی ہر ایک سختی پر صبر کرتے رہے اور صحابہ کو سخت تاکید تھی کہ بدی کا مقابلہ نہ کیا جائے چنانچہ مخالفوں نے بہت سے خون بھی کئے اور غریب مسلمانوں کو زدوکوب کرنے اور خطرناک زخم پہنچانے کا تو کچھ شمار نہ رہا۔ آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے قتل کرنے کے لئے حملہ کیا۔ سو ایسے حملہ کے وقت خدا نے اپنے نبی کو شرِّ اعدا سے محفوظ رکھ کر مدینہ میں پہنچا دیا اور خوشخبری دی کہ جنہوں نے تلوار اٹھائی وہ تلوار ہی سے ہلاک کئے جائیں گے۔ پس ذرا عقل اور انصاف سے سوچو کہ کیا اس روئداد سے یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس کچھ جمعیّت لوگوں کی ہوگئی تو پھر لڑائی کی نیت جو پہلے سے دل میں پوشیدہ تھی ظہور میں آئی؟ افسوس ہزار افسوس کہ تعصب مذہبی کے رو سے عیسائی دین کے حامیوں کی کہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے۔ یہ بھی نہیں سوچتے کہ مدینہ میں جاکر جب مکہ والوں کے تعاقب کے وقت بدر کی لڑائی ہوئی جو اسلام کی پہلی لڑائی ہے تو کونسی جمعیت پیدا ہوگئی تھی۔ اس وقت تو کل تین ۳۱۳ سو تیر ہ آدمی مسلمان تھے اور وہ بھی اکثر نوعمر ناتجربہ کار جو میدان بدر میں حاضر ہوئے تھے۔ پس سوچنے کا مقام ہے کہ کیا اس قدر آدمیوں پر بھروسہ کر کے عرب کے تمام بہادروں اور یہود اور نصاریٰ اور لاکھوں انسانوں کی سرکوبی کیلئے میدان میں کسی کا نکلنا عقل فتویٰ دے سکتی ہے؟!!! اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ نکلنا ان تدبیروں اور ارادوں کا نتیجہ نہیں تھا جو انسان دشمنوں کے ہلاک کرنے اور اپنی فتح یابی کیلئے سوچتا ہے۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو کم سے کم تیس۳۰ چالیس۴۰ ہزار فوج کی جمعیّت حاصل کرلینا ضروری تھا اور پھر اسکے بعد لاکھوں انسانوں کا مقابلہ کرنا۔ لہٰذا صاف ظاہر ہے کہ یہ لڑائی مجبوری کے وقت خداتعالیٰ کے حکم سے ہوئی تھی نہ ظاہری سامان کے بھروسہ پر۔
    اس جگہ ایک اور اعتراض کو دفع کرنا بھی ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر مدار نجات
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 366
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 366
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/366/mode/1up
    توحیدؔ اور اعمال صالحہ ہیں جو خدا کی محبت اور خوف سے ظہور پذیر ہوں تو یہودیوں کو کیوں اسلام کی طرف بلایا گیا کیا یہودیوں میں ایک بھی ایسا آدمی باقی نہیں رہا تھا جو عملی طور پر توحید کا پابند اور خدا کی اطاعت کا جُوَا اپنی گردن پر رکھتا ہو؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم ثابت کر چکے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ظہور کے وقت اکثر یہود اور نصاریٰ فاسق تھے جیسا کہ قرآن شریف صاف گواہی دیتا ہے کہ 3 ۱؂ ۔پس جبکہ اکثر لوگ ان میں فاسق تھے جنہوں نے عملی طور پر توحید کے آداب اور اعمال صالحہ کو چھوڑ دیا تھا اس لئے خدا کے رحم نے ان کی اصلاح کیلئے اپنی سنت قدیمہ کے موافق یہی تقاضا کیا کہ ان کی طرف رسول بھیجے۔ پھر اگر فرض بھی کرلیں کہ ان میں کوئی شاذونادر موَحّد اور صالح تھا۔ سو وہ خدا کے رسول سے سرکش رہ کر صالح نہ رہا۔ اور جبکہ ادنیٰ گناہ انسان کے دل کو سیاہ کر دیتا ہے تو پھر کیونکر باور کیا جائے کہ خدا کے رسول کی نافرمانی کرنے والا اور اس سے عداوت رکھنے والا پاک دل رہ سکتا ہے؟
    سوال۔ ۳۔ قرآن میں انسان ا ور خدا کے ساتھ محبت کرنے کے بارے میں اور خدا کی انسان کے ساتھ محبت کرنے کے بارے میں کونسی آیتیں ہیں جن میں خاص محبت یا حبّکا فعل استعمال کیا گیا ہے۔
    الجواب۔ واضح ہو کہ قرآن کی تعلیم کا اصل مقصد یہی ہے کہ خدا جیسا کہ واحد لاشریک ہے ایسا ہی اپنی محبت کے رو سے بھی اس کو واحد لاشریک ٹھہراؤ۔ جیسا کہ کلمہ لا الٰہ الَّا اللّٰہ جو ہر وقت مسلمانوں کو ورد زبان رہتا ہے اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کیونکہ الٰہ۔ ولاہ سے مشتق ہے۔ اور اس کے معنے ہیں ایسا محبوب اور معشوق جس کی پرستش کی جائے۔ یہ کلمہ نہ توریت نے سکھلایا اور نہ انجیل نے۔ صرف قرآن نے سکھلایا۔ اور یہ کلمہ اسلام سے ایسا تعلق رکھتا ہے کہ گویا اسلام کا تمغہ ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 367
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 367
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/367/mode/1up
    یہیؔ کلمہ پانچ وقت مساجد کے مناروں میں بلند آواز سے کہا جاتا ہے جس سے عیسائی اور ہندو سب چڑتے ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کو محبت کے ساتھ یاد کرنا ان کے نزدیک گناہ ہے۔ یہ اسلام ہی کا خاصہ ہے کہ صبح ہوتے ہی اسلامی مؤذّن بلند آواز سے کہتا ہے کہ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی ہمارا پیارا اور محبوب اور معبود بجز اللّٰہ کے نہیں۔ پھر دوپہر کے بعد یہی آواز اسلامی مساجد سے آتی ہے۔ پھر عصر کو بھی یہی آواز پھر مغرب کو بھی یہی آواز اور پھر عشاء کو بھی یہی آواز گونجتی ہوئی آسمان کی طرف چڑھ جاتی ہے۔ کیا دنیا میں کسی اور مذہب میں بھی یہ نظارہ دکھائی دیتا ہے؟!!
    پھر بعد اس کے لفظ اسلام کا مفہوم بھی محبّت پر ہی دلالت کرتا ہے۔ کیونکہ خداتعالیٰ کے آگے اپنا سر رکھ دینا اور صدق دل سے قربان ہونے کے لئے طیّار ہوجانا جو اسلام کا مفہوم ہے یہ وہ عملی حالت ہے جو محبت کے سرچشمہ سے نکلتی ہے۔ اسلام کے لفظ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن نے صرف قولی طور پر محبت کو محدود نہیں رکھا بلکہ عملی طور پر بھی محبت اور جان فشانی کا طریق سکھایا ہے۔ دنیا میں اور کونسا دین ہے جس کے بانی نے اس کا نام اسلام رکھا ہے؟ اسلام نہایت پیارا لفظ ہے اور صدق اور اخلاص اور محبت کے معنے کوٹ کوٹ کر اس میں بھرے ہوئے ہیں۔ پس مبارک وہ مذہب جس کا نام اسلام ہے۔ ایسا ہی خدا کی محبت کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔3۱؂ یعنی ایماندار وہ ہیں جو سب سے زیادہ خدا سے محبت رکھتے ہیں۔ پھر ایک جگہ فرماتا ہے۔ 3۲؂یعنی خدا کو ایسا یاد کرو جیسا کہ تم اپنے باپوں کو یاد کرتے تھے بلکہ اس سے زیادہ اور سخت درجہ کی محبت کے ساتھ یاد کرو۔ اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے 3
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 368
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 368
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/368/mode/1up
    3 ۱؂ یعنی ان کو جو تیری پیروی کرنا چاہتے ہیں یہ کہہ دے کہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا مرنا اور میرا زندہ رہنا سب اللہ تعالیٰ کیلئے ہے یعنی جو میری پیروی کرنا چاہتا ہے وہ بھی اس قربانی کو ادا کرے۔ اور پھر ایک جگہ فرمایا کہ اگر تم اپنی جانوں اور اپنے دوستوں اور اپنے باغوں اور اپنی تجارتوں کو خدا اور اس کے رسول سے زیادہ پیاری چیزیں جانتے ہو تو الگ ہو جاؤ جب تک خدا تعالیٰ فیصلہ کرے۔ اور ایسا ہی ایک جگہ فرمایا۔33۲؂ ۔ یعنی مومن وہ ہیں جو خدا کی محبت سے مسکینوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھانا کھلاتے ہیں اور انہیں کہتے ہیں کہ ہم محض خدا کی محبت اور اس کے منہ کے لئے تمہیں دیتے ہیں۔ ہم تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتے اور نہ شکر گذاری چاہتے ہیں۔
    غرض قرآن شریف ایسی آیتوں سے بھرا پڑا ہے جہاں لکھا ہے کہ اپنے قول اور فعل کے رو سے خدا کی محبت دکھلاؤ اور سب سے زیادہ خدا سے محبت کرو۔ لیکن اس سوال کی یہ دوسری جز کہ قرآن شریف میں کہاں لکھا ہے کہ خدا بھی انسانوں سے محبّت کرتا ہے؟ پس واضح ہو کہ قرآن شریف میں یہ آیات بکثرت موجود ہیں کہ خدا توبہ کرنیوالوں سے محبت کرتا ہے*۔اور خدا نیکی کرنیوالوں سے محبت کرتا ہے اور خدا صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ ہاں قرآن شریف میں یہ کہیں نہیں کہ جو شخص کفر اور بدکاری اور ظلم سے محبت کرتا ہے خدا اس سے بھی محبت کرتا ہے۔ بلکہ اس جگہ اس نے احسان کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے 3 ۳؂ یعنی تمام دنیا پر رحم کر کے ہم نے تجھے بھیجا ہے۔ اور عالمین میں کافر اور بے ایمان اور فاسق اور فاجر بھی داخل ہیں۔ اور انکے لئے رحم کا دروازہ اس طرح پر
    * خدا کی محبت انسان کی محبت کی طرح نہیں جس میں یہ داخل ہے کہ جدائی سے درد اور تکلیف ہو بلکہ خدا کی محبت سے مراد یہ ہے کہ وہ نیکی کرنیوالوں کے ساتھ ایسا پیش آتا ہے جیسا کہ محب پیش آتا ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 369
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 369
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/369/mode/1up
    کھولاؔ کہ وہ قرآن شریف کی ہدایتوں پر چل کر نجات پاسکتے ہیں۔ میں اس بات کا بھی اقرار کرتا ہوں کہ قرآن شریف میں خدا کی محبت انسانوں سے اس قسم کی بیان نہیں کی گئی کہ اس نے کوئی اپنا بیٹا بدکاروں کے گناہوں کے بدلہ میں سولی دلوا دیا اور ان کی *** اپنے پیارے بیٹے پر ڈال دی۔ خدا کے بیٹے پر *** نعوذ باللہ خود خدا پر *** ہے۔ کیونکہ باپ اور بیٹا دو نہیں ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ *** اور خدائی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں پھر یہ بھی سوچو کہ خدا نے دنیا کے بدکاروں سے یہ کیسی محبت کی کہ نیک کو مارا اور برے سے پیار کیا۔ یہ ایسا خلق ہے جس کی کوئی راستباز پیروی نہیں کر سکتا۔
    اور اس سوال کی تیسری جز یہ ہے کہ قرآن شریف میں یہ کہاں لکھا ہے کہ انسان انسان کے ساتھ محبت کرے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن نے اس جگہ بجائے محبت کے رحم اور ہمدردی کا لفظ لیا ہے کیونکہ محبت کا انتہا عبادت ہے اس لئے محبت کا لفظ حقیقی طور پر خدا سے خاص ہے۔*اور نوع انسان کیلئے بجائے محبت کے خدا کے کلام میں رحم اور احسان کا لفظ آیا ہے کیونکہ کمال محبت پرستش کو چاہتا ہے اور کمال رحم ہمدردی کو چاہتا ہے۔ اس فرق کو غیر قوموں نے نہیں سمجھا اور خدا کا حق غیروں کو دیا۔ میں یقین نہیں رکھتا کہ یسوع کے منہ سے ایسا مشرکانہ لفظ نکلا ہو بلکہ میرا گمان ہے کہ پیچھے سے یہ مکروہ الفاظ انجیلوں میں ملا دئیے گئے ہیں اور پھر ناحق یسوع کو بدنام کیا گیا۔ غرض خدا کی پاک کلام میں بنی نوع کے لئے رحم کا لفظ آیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے 3۱؂ 3۲؂یعنی مومن وہ ہیں جو حق اور رحم کی وصیت کرتے ہیں۔ اور پھر دوسری جگہ فرماتا ہے 3۳؂ یعنی خدا کا حکم یہ ہے کہ تم عام لوگوں کے ساتھ عدل کرو۔ اور اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ تم احسان کرو۔ اور
    *محبت کا لفظ جہاں کہیں باہم انسانوں کی نسبت آیا بھی ہو اس سے درحقیقت حقیقی محبت مراد نہیں ہے بلکہ اسلامی تعلیم کی رو سے حقیقی محبت صرف خدا سے خاص ہے۔ اور دوسری محبتیں غیر حقیقی اور مجازی طور پر ہیں۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 370
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 370
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/370/mode/1up
    اسؔ سے بڑھ کر یہ ہے کہ تم بنی نوع سے ایسی ہمدردی بجالاؤ جیسا کہ ایک قریبی کو اپنے قریبی کے ساتھ ہوتی ہے۔
    اب سوچنا چاہئے کہ اس سے زیادہ دنیا میں اور کونسی اعلیٰ تعلیم ہوگی جس میں تمام بنی نوع کے ساتھ نیکی کرنا صرف احسان کی حد تک محدود نہیں رکھا۔ بلکہ وہ درجہ جوش طبعی بھی بیان کر دیا جس کا نام ایتاء ذی القربیٰ ہے۔ کیونکہ احسان کرنے والا اگرچہ احسان کے وقت ایک نیکی کرتا ہے مگر جزا اور پاداش کا خواہاں ہوتا ہے۔ اسی لئے وہ کبھی منکر احسان اور کافر نعمت پر ناراض بھی ہو جاتا ہے۔ اور کبھی جوش میں آکر اپنا احسان بھی یاد دلاتا ہے۔ مگر طبعی جوش سے نیکی کرنا جس کو قرآن نے ذوی القربیٰ کی نیکی کے ساتھ مشابہت دی ہے۔ یہ درحقیقت آخری درجہ نیکی کا ہے جس کے بعد اور کوئی مرتبہ نیکی کا نہیں کیونکہ ماں کی نیکی بچہ کے ساتھ اور اس کا رحم ایک طبعی جوش ہے اور ناکارہ شیرخوار سے کوئی شکر گذاری مطلوب نہیں۔
    یہ تین درجے بنی نوع کی حق گذاری کے ہیں جو قرآن شریف نے بیان فرمائے ہیں۔ اب جب ہم توریت اور انجیل کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ایماناً کہنا پڑتا ہے کہ یہ دونوں کتابیں اس اعلیٰ درجہ کی حق گذاری سے خالی ہیں۔ بھلا ہم ان دونوں کتابوں سے اس تیسرے درجہ کی کیا توقع رکھیں۔ ان میں تو پہلا اور دوسرا درجہ بھی کامل طور پر بیان نہیں کیا گیا۔ کیونکہ جس حالت میں توریت صرف یہودیوں کے لئے نازل ہوئی ہے اور حضرت مسیح بھی صرف بنی اسرائیل کی بھیڑوں کے لئے بھیجے گئے ہیں تو ان کو دوسروں سے کیا غرض اور کیا تعلق تھا۔ تا ان کی نسبت عدل اور احسان کی ہدایتیں بیان کی جاتیں۔ لہٰذا وہ تمام احکام بنی اسرائیل تک ہی محدود رہے۔ اور اگر محدود نہیں تھے توکیوں
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 371
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 371
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/371/mode/1up
    یسوؔ ع نے باوجودیکہ ایک عورت کے نالہ و فریاد کرنے کی آواز سنی اور اس کی عاجزانہ درخواست اس تک پہنچی تو پھر بھی یسوع نے اس پر رحم نہ کیا اور کہا کہ میں صرف بنی اسرائیل کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ پس جبکہ یسوع نے خود دوسروں کے لئے جو بنی اسرائیل سے خارج تھے رحم اور ہمدردی میں کوئی عملی نمونہ نہ دکھلایا تو کیوں کر امید کی جائے کہ یسوع کی تعلیم میں دوسری قوموں پر رحم کرنے کا حکم ہے۔ یسوع نے تو صاف کہہ دیا کہ میں دوسری قوموں کے لئے بھیجا ہی نہیں گیا۔ تو اب ہم کیا امید رکھ سکتے ہیں کہ یسوع کی تعلیم میں غیر قوموں پر رحم کرنے کے لئے کچھ ہدایتیں ہیں۔ نہیں بلکہ یسوع کی تعلیم کا رُخ صرف یہودیوں کی طرف ہے۔ اور یسوع خود اپنے تئیں اس بات کا مجاز نہیں سمجھتا کہ دوسری قوموں کی نسبت کچھ ہدایتیں بیان فرمائے۔ پھر وہ کیونکر عام طور پر رحم کی تعلیم دے سکتا تھا اور اگر انجیل میں یسوع کے اس کلمہ کے مخالف کہ میری تعلیم اور ہمدردی یہود تک محدود ہے کوئی اور کلمہ لکھا بھی گیا ہو تو بلاشبہ وہ کلمہ الحاقی ہوگا کیونکہ تناقض جائز نہیں۔
    اسی طرح توریت کے پیش نظر بھی صرف یہودی تھے۔ اور توریت کی تعلیم کا بھی تمام پرواز یہودیوں کے سروں تک ہے۔ لیکن وہ قانون جو عام عدل اور احسان اور ہمدردی کے لئے دنیا میں آیا۔ وہ صرف قرآن ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ 3 3۱؂۔یعنی کہہ اے لوگو میں تم سب کی طرف رسول کر کے بھیجا گیا ہوں۔ اور پھر فرمایا:3۲؂۔یعنی ہم نے تمام عالموں پر رحمت کرنے کے لئے تجھے بھیجا ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 372
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 372
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/372/mode/1up
    سوا ؔ ل۔ ۴۔ مسیح نے اپنی نسبت یہ کلمات کہے۔ ’’میرے پاس آؤ تم جو تھکے اور ماندے ہو کہ میں تمہیں آرام دوں گا‘‘۔ اور یہ کہ ’’میں روشنی ہوں اور میں راہ ہوں۔ میں زندگی اور راستی ہوں‘‘۔ کیا بانی اسلام نے یہ کلمات یا ایسے کلمات کسی جگہ اپنی طرف منسوب کئے ہیں۔
    الجواب۔ قرآن شریف میں صاف فرمایا گیا ہے۔3 33۱؂ الخ۔یعنی ان کو کہہ دے کہ اگر خدا سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت کرے اور تمہارے گناہ بخشے۔ یہ وعدہ کہ میری پیروی سے انسان خدا کا پیارا بن جاتا ہے مسیح کے گذشتہ اقوال پر غالب ہے۔ کیونکہ اس سے بڑھ کر کوئی مقام نہیں کہ انسان خدا کا پیارا ہو جائے۔ پس جس کی راہ پر چلنا انسان کو محبوب الٰہی بنا دیتا ہے۔ اس سے زیادہ کس کا حق ہے کہ اپنے تئیں روشنی کے نام سے موسوم کرے۔ اسی لئے اللہ جلّ شانہٗ نے قران شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا نام نور رکھا ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے3۲؂۔ یعنی تمہارے پاس خدا کا نور آیا ہے۔ اور یہ جملہ کہ تم جو تھکے اورماندے ہو میرے پاس آجاؤ میں تمہیں آرام دوں گا یہ کیسا لغو معلوم ہوتا ہے۔ اگر آرام سے مراد دنیا کا آرام اور بے قیدی ہے تب تو یہ فقرہ بلاشبہ صحیح ہے کیونکہ مسلمان جب مسلمان ہوتا ہے تو اس کو پانچ وقت نماز پڑھنی پڑتی ہے۔ علی الصباح سورج سے پہلے صبح کی نماز کیلئے اٹھنا پڑتا ہے اور پانی سے گو موسم سرما میں کیسا ہی پانی ٹھنڈا ہو وضو کرنا پڑتا ہے اور پھر پانچ وقت مسجد کی طرف نماز جماعت کے لئے دوڑنا پڑتا ہے اور پھر قریباً ایک پہر رات باقی رہتے خواب شیریں سے اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھنی پڑتی ہے
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 373
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 373
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/373/mode/1up
    غیرؔ عورتوں کے دیکھنے سے اپنے تئیں بچانا پڑتا ہے۔ شراب اور ہر ایک نشے سے اپنے تئیں دور رکھنا پڑتا ہے۔ خدا کے مواخذہ سے خوف کر کے حقوق عباد کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے۔ اور ہر ایک سال میں برابر تیس یا انتیس روز خدا تعالیٰ کے حکم سے روزہ رکھنا پڑتا ہے اور تمام مالی و بدنی و جانی عبادت کو بجا لانا پڑتا ہے۔ پھر جب ایک بدبخت جو پہلے مسلمان تھا عیسائی ہوگیا تو ساتھ ہی یہ تمام بوجھ اپنے سر پر سے اتار لیتا ہے۔ اور سونا اور کھانا اور شراب پینا اور اپنے بدن کو آرام میں رکھنا اس کا کام ہوتا ہے اور یکدفعہ تمام اعمال شاقہ سے دستکش ہو جاتا ہے اور حیوانوں کی طرح بجز اکل و شرب اور ناپاک عیاشی کے اور کوئی کام اس کا نہیں ہوتا۔ پس اگر یسوع کے گذشتہ بالا فقرہ کے یہی معنے ہیں کہ میں تمہیں آرام دوں گا تو بیشک ہم قبول کرتے ہیں کہ درحقیقت عیسائیوں کو اس چند روزہ سفلی زندگی میں بوجہ اپنی بے قیدی کے بہت ہی آرام ہے یہاں تک کہ ان کی دنیا میں نظیر نہیں۔ وہ مکھی کی طرح ہر ایک چیز پر بیٹھ سکتے ہیں اور وہ خنزیر کی طرح ہر ایک چیز کھا سکتے ہیں۔ ہندو گائے سے پرہیز کرتے ہیں اور مسلمان سؤر سے مگر یہ بلانوش دونوں ہضم کر جاتے ہیں۔ سچ ہے۔ ’’عیسائی باش ہرچہ خواہی بکن‘‘۔ سؤر کو حرام ٹھہرانے میں توریت میں کیا کیا تاکیدیں تھیں یہاں تک کہ اس کا چھونا بھی حرام تھا اور صاف لکھا تھا کہ اس کی حرمت ابدی ہے۔ مگر ان لوگوں نے اس سؤر کو بھی نہیں چھوڑا جو تمام نبیوں کی نظر میں نفرتی تھا۔ یسوع کا شرابی کبابی ہونا تو خیر ہم نے مان لیا مگر کیا اس نے کبھی سؤر بھی کھایا تھا؟ وہ تو ایک مثال میں بیان کرتا ہے کہ ’’تم اپنے موتی سؤروں کے آگے مت پھینکو‘‘۔ پس اگر موتیوں سے مراد پاک کلمے ہیں تو سؤروں سے مراد پلید آدمی ہیں۔ اس مثال میں یسوع صاف گواہی دیتا ہے کہ سؤر پلید ہے کیونکہ مشبّہ اور مشبّہ بہٖ میں مناسبت شرط ہے۔
    غرض عیسائیوں کا آرام جو ان کو ملا ہے وہ بے قیدی اور اباحت کا آرام ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 374
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراجُ الدّین عیسَائی کے چار سوالوں کا جواب: صفحہ 374
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/374/mode/1up
    لیکنؔ روحانی آرام جو خدا کے وصال سے ملتا ہے اس کے بارے میں تو مَیں خدا کی دُہائی دے کر کہتا ہوں کہ یہ قوم اس سے بالکل بے نصیب ہے۔ ان کی آنکھوں پر پردے اور ان کے دل مردہ اور تاریکی میں پڑے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ سچے خدا سے بالکل غافل ہیں۔ اور ایک عاجز انسان کو جو ہستی ازلی کے آگے کچھ بھی نہیں ناحق خدا بنا رکھا ہے۔ ان میں برکات نہیں۔ ان میں دل کی روشنی نہیں۔ ان کو سچے خدا کی محبت نہیں بلکہ اس سچے خدا کی معرفت بھی نہیں۔ ان میں کوئی بھی نہیں ہاں ایک بھی نہیں جس میں ایمان کی نشانیاں پائی جاتی ہوں۔ اگر ایمان کوئی واقعی برکت ہے تو بیشک اس کی نشانیاں ہونی چاہئیں مگر کہاں ہے کوئی ایسا عیسائی جس میں یسوع کی بیان کردہ نشانیاں پائی جاتی ہوں؟ پس یا تو انجیل جھوٹی ہے اور یا عیسائی جھوٹے ہیں۔ دیکھو قرآن کریم نے جو نشانیاں ایمانداروں کی بیان فرمائیں وہ ہر زمانہ میں پائی گئی ہیں۔ قرآن شریف فرماتا ہے کہ ایماندار کو الہام ملتا ہے۔ ایماندار خدا کی آواز سنتا ہے۔ ایماندار کی دعائیں سب سے زیادہ قبول ہوتی ہیں۔ ایماندار پر غیب کی خبریں ظاہر کی جاتی ہیں۔ ایماندار کے شامل حال آسمانی تائیدیں ہوتی ہیں۔ سو جیسا کہ پہلے زمانوں میں یہ نشانیاں پائی جاتی تھیں اب بھی بدستور پائی جاتی ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن خدا کا پاک کلام ہے اور قرآن کے وعدے خدا کے وعدے ہیں- اٹھو عیسائیو! اگر کچھ طاقت ہے تو مجھ سے مقابلہ کرو اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھے بیشک ذبح کردو ورنہ آپ لوگ خدا کے الزام کے نیچے ہیں۔ اور جہنم کی آگ پر آپ لوگوں کا قدم ہے۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدی۔
    الرَّاقم
    میرزا غلام احمد از قادیان
    ضلع گورداسپورہ ۲۲؍ جون ۱۸۹۷ء
     

اس صفحے کو مشتہر کریں