1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

روحانی خزائن جلد 12 ۔تحفہ قیصریہ ۔ یونی کوڈ

'روحانی خزائن ۔ حضرت مسیح موعودؑ ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 22, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    روحانی خزائن جلد 12 ۔تحفہ قیصریہ ۔ یونی کوڈ

    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 251
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 251
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    الہدیہ المبارکہ
    یعنی کتاب
    تحفۂ قیصریہ
    بمقام قادیان
    مطبع ضیاء الاسلام میں چھپا
    ۲۵ مئی ۱۸۹۵ء
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 252
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 252
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 253
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 253
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    3
    نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم
    یہ عریضۂ مبارکبادی
    اس شخص کی طرف سے ہے جو یسوع مسیح کے نام پر طرح طرح کی بدعتوں سے دنیا کو چھڑانے کیلئے آیا ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ امن اور نرمی کے ساتھ دنیا میں سچائی قائم کرے اور لوگوں کو اپنے پیدا کنندہ سے سچی محبت اور بندگی کا طریق سکھائے۔ اور اپنے بادشاہ ملکہ معظمہ سے جس کی وہ رعایا ہیں سچی اطاعت کا طریق سمجھائے۔ اور بنی نوع میں باہمی سچّی ہمدردی کرنے کا سبق دیوے۔ اور نفسانی کینوں اور جوشوں کو درمیان سے اٹھائے اور ایک پاک صلح کاری کو خدا کے نیک نیّت بندوں میں قائم کرے جس کی نفاق سے ملونی نہ ہو اور یہ نوشتہ ایک ہدیہ شکر گذاری ہے کہ جو عالی جناب قیصرہ ہند ملکہ معظمہ والی انگلستان و ہند دام اقبالہا بالقابہا کے حضور میں بتقریب جلسہ جوبلی شصت سالہ بطور مبارکباد پیش کیا گیا ہے۔
    مبارک! مبارک!! مبارک!!!
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 254
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 254
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    اسؔ خدا کا شکر ہے جس نے آج ہمیں یہ عظیم الشان خوشی کا دن دکھلایا کہ ہم نے اپنی ملکہ معظمہ قیصرہ ہند و انگلستان کی شصت سالہ جوبلی کو دیکھا۔ جس قدر اس دن کے آنے سے مسرت ہوئی کون اس کو اندازہ کر سکتا ہے؟ ہماری محسنہ قیصرہ مبارکہ کو ہماری طرف سے خوشی اور شکر سے بھری ہوئی مبارکباد پہنچے۔ خدا ملکہ معظمہ کو ہمیشہ خوشی سے رکھے!
    وہ خدا جو زمین کو بنانے والا اور آسمانوں کو اونچا کرنے والا اور چمکتے ہوئے سورج اور چاند کو ہمارے لئے کام میں لگانے والا ہے۔ اس کی جناب میں ہم دعا کرتے ہیں کہ وہ ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کو جو اپنی رعایا کی مختلف اقوام کو کنار عاطفت میں لئے ہوئے ہے جس کے ایک وجود سے کروڑہا انسانوں کو آرام پہنچ رہا ہے تادیرگاہ سلامت رکھے اور ایسا ہو کہ جلسۂ جوبلی کی تقریب پر (جس کی خوشی سے کروڑہا دل برٹش انڈیا اور انگلستان کے جوش نشاط میں ان پھولوں کی طرح حرکت کر رہے ہیں جو نسیم صبا کی ٹھنڈی ہوا سے شگفتہ ہوکر پرندوں کی طرح اپنے پروں کو ہلاتے ہیں) جس زور شور سے زمین مبارکبادی کیلئے اچھل رہی ہے ایسا ہی آسمان بھی اپنے آفتاب و ماہتاب اور تمام ستاروں کے ساتھ مبارکبادیاں دیوے! اور عنایت صمدی ایسا کرے کہ جیسا کہ ہماری عالی شان محسنہ ملکہ معظمہ والی ہندو انگلستان اپنی رعایا کے تمام بوڑھوں اور بچوں کے دلوں میں ہردلعزیز ہے ویسا ہی آسمانی فرشتوں کے دلوں میں بھی ہردلعزیز ہو جائے۔ وہ قادر جس نے بیشمار دنیوی برکتیں اسکو عطا کیں دینی برکتوں سے بھی اسے مالامال کرے۔ وہ رحیم جس نے اس جہان میں اسکو خوش رکھا اگلے جہان میں بھی خوشی کے سامان اس کیلئے عطا کرے۔ خدا کے کاموں سے کیا بعید ہے کہ ایسا مبارک وجود جس سے کروڑ ہا بلکہ بے شمار نیکی کے کام ہوئے اور ہو رہے ہیں اس کے ہاتھ سے یہ آخری نیکی بھی ہو جائے
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 255
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 255
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    کہؔ انگلستان کو رحم اور امن کے ساتھ انسان پرستی سے پاک کر دیا جائے تا فرشتوں کی روحیں بھی بول اٹھیں کہ اے موحّدہ صدیقہ تجھے آسمان سے بھی مبارکباد جیسا کہ زمین سے!!
    یہ دعاگو کہ جو دنیا میں عیسیٰ مسیح کے نام سے آیا ہے اسی طرح وجود ملکہ معظمہ قیصرہ ہند اور اس کے زمانہ سے فخر کرتا ہے جیسا کہ سیّدالکونین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم نے نوشیروان عادل کے زمانہ سے فخر کیا تھا۔ سو اگرچہ جلسۂ جوبلی کی مبارک تقریب پر ہر ایک شخص پر واجب ہے کہ ملکہ معظمہ کے احسانات کو یاد کر کے مخلصانہ دعاؤں کے ساتھ مبارکباد دے اور حضور قیصرہ ہند و انگلستان میں شکرگذاری کا ہدیہ گذرانے۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ مجھ پر سب سے زیادہ واجب ہے۔ میرے لئے خدا نے پسند کیا کہ میں آسمانی کارروائی کیلئے ملکہ معظمہ کی پُرامن حکومت کی پناہ لوں۔ سو خدا نے مجھے ایسے وقت میں اور ایسے ملک میں مامور کیا جس جگہ انسانوں کی آبرو اور مال اور جان کی حفاظت کیلئے حضرت قیصرہ مبارکہ کا عہد سلطنت ایک فولادی قلعہ کی تاثیر رکھتا ہے۔ جس امن کے ساتھ میں نے اس ملک میں بودوباش کرکے سچائی کو پھیلایا اس کا شکر کرنا میرے پر سب سے زیادہ واجب ہے۔ اور اگرچہ میں نے اس شکرگزاری کیلئے بہت سی کتابیں اردو اور عربی اور فارسی میں تالیف کر کے اور ان میں جناب ملکہ معظمہ کے تمام احسانات کو جو برٹش انڈیا کے مسلمانوں کے شامل حال ہیں اسلامی دنیا میں پھیلائی ہیں اور ہر ایک مسلمان کو سچی اطاعت اور فرمانبرداری کی ترغیب دی ہے۔ لیکن میرے لئے ضروری تھا کہ یہ تمام کارنامہ اپنا جناب ملکہ معظمہ کے حضور میں بھی پہنچاؤں۔ سو اسی بناء پر آج مجھے جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی جوبلی کے مبارک موقعہ پر جو سچی وفادار رعایا کیلئے بیشمار شکر اور خوشی کا محل ہے اس
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 256
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 256
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    دلیؔ مدعا کے پورا کرنے کیلئے جرأت ہوئی ہے۔
    میں اس بات کو ظاہر کرنا بھی اپنی روشناسی کرانے کی غرض سے ضروری دیکھتا ہوں کہ میں حضرت ملکہ معظمہ کی رعایا میں سے پنجاب کے ایک معزز خاندان میں سے ایک شخص ہوں جو میرزا غلام احمد قادیانی کے نام سے مشہور ہوں۔ میرے والد کا نام میرزا غلام مرتضیٰ اور ان کے والد کا نام میرزاعطا محمد اور ان کے والد کا نام میرزا گل محمد تھا۔ یہ آخرالذکر اس زمانہ سے پہلے والیان ملک میں سے تھے۔ مجھے خدا نے جیسا کہ آگے بیان ہوگا اپنی خدمت میں لے لیا اور جیسا کہ وہ اپنے بندوں سے قدیم سے کلام کرتا آیا ہے مجھے بھی اس نے اپنے مکالمہ اور مخاطبہ کا شرف بخشا۔ اور مجھے اس نے نہایت پاک اصولوں پر جو نوع انسان کیلئے مفید ہیں قائم کیا۔ چنانچہ منجملہ ان اصولوں کے جن پر مجھے قائم کیا گیا ہے ایک یہ ہے کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے کہ دنیا میں جس قدر نبیوں کی معرفت مذہب پھیل گئے ہیں اور استحکام پکڑ گئے ہیں اور ایک حصۂِ دنیا پر محیط ہوگئے ہیں اور ایک عمر پاگئے ہیں اور ایک زمانہ ان پر گذر گیا ہے ان میں سے کوئی مذہب بھی اپنی اصلیت کے رو سے جھوٹا نہیں اور نہ ان نبیوں میں سے کوئی نبی جھوٹا ہے۔ کیونکہ خدا کی سنت ابتدا سے اسی طرح پر واقع ہے کہ وہ ایسے نبی کے مذہب کو جو خدا پر افترا کرتا ہے اور خدا کی طرف سے نہیں آیابلکہ دلیری سے اپنی طرف سے باتیں بناتا ہے کبھی سرسبز ہونے نہیں دیتا۔ اور ایسا شخص جو کہتا ہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں۔ حالانکہ خدا خوب جانتا ہے کہ وہ اس کی طرف سے نہیں ہے۔ خدا اس بے باک کو ہلاک کرتا ہے اور اس کا تمام کاروبار درہم برہم کیا جاتا ہے۔ اور اس کی تمام جماعت متفرق کی جاتی ہے۔ اور اس کا پچھلا حال پہلے سے بدتر ہوتا ہے۔ کیونکہ اس نے خدا پر جھوٹ بولا۔ اور دلیری سے خدا پر
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 257
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 257
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    افترؔ ا کیا۔ پس خدااُس کووہ عظمت نہیں دیتا جو راستبازوں کو دی جاتی ہے۔ اور نہ وہ قبولیت اور استحکام بخشتا ہے جو صادق نبیوں کیلئے مقرر ہے۔
    اور اگر یہ سوال ہو کہ اگر یہی بات سچ ہے تو پھر دنیا میں ایسے مذہب کیوں پھیل گئے جن کی کتابوں میں انسانوں یا پتھروں یا فرشتوں یا سورج اور چاند اور ستاروں اور یا آگ اور پانی اور ہوا وغیرہ مخلوق کو خدا کر کے مانا گیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے مذہب یا توان لوگوں کی طرف سے ہیں جنہوں نے نبوّت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ الہام اور وحی کے مدعی ہوئے بلکہ اپنی فکر اور عقل کی غلطی سے مخلوق پرستی کی طرف جھک گئے۔ اور یا بعض مذہب ایسے تھے کہ درحقیقت خدا کے کسی سچّے نبی کی طرف سے ان کی بنیاد تھی لیکن مرور زمانہ سے ان کی تعلیم لوگوں پر مشتبہ ہوگئی۔ اور بعض استعارات یا مجازات کو حقیقت پر حمل کر کے وہ لوگ مخلوق پرستی میں پڑ گئے۔ لیکن دراصل وہ نبی ایسا مذہب نہیں سکھاتے تھے۔ سو ایسی صورت میں ان نبیوں کا قصور نہیں کیونکہ وہ صحیح اور پاک تعلیم لائے تھے بلکہ جاہلوں نے بدفہمی سے ان کی کلام کے الٹے معنی کئے۔ سو جن جاہلوں نے ایسا کیا انہوں نے یہ دعویٰ تو نہیں کیا کہ ہم پر خدا کا کلام نازل ہوا ہے اور ہم نبی ہیں بلکہ نبوت کی کلام کو اجتہاد کی غلطی سے انہوں نے الٹا سمجھا۔ سو یہ غلطیاں اور گمراہیاں اگرچہ گناہ میں داخل ہیں اور خدا تعالیٰ کی نظر میں مکروہ ہیں مگر ان کے پھیلنے کو خداتعالیٰ اس طرح پر نہیں روکتا جس طرح اس مفتری کی کارروائی کو روکتا ہے جو خدا پر افترا کرتا ہے۔ کوئی سلطنت خواہ زمینی ہے خواہ آسمانی ایسے مفتری کو مہلت نہیں دیتی جو ایک جھوٹا قانون بنا کر پھر سلطنت کی طرف منسوب کرتا ہے کہ وہ قانون اس گورنمنٹ سے پاس ہوکر نکلا ہے۔ اور نہ کوئی سلطنت جائز رکھتی ہے کہ کوئی شخص جھوٹے طور پر سرکاری
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 258
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 258
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    ملازؔ م بن کر ناجائز حکومت کو عمل میں لاوے۔ اور ایسا ظاہر کرے کہ وہ گورنمنٹ کا کوئی عہدہ دار ہے۔ حالانکہ وہ عہدہ دار کیا کسی ادنیٰ درجہ کا ملازم بھی نہیں۔
    سو یہی قانون خدا تعالیٰ کی قدیم سنت میں داخل ہے کہ وہ نبوت کے جھوٹا دعویٰ کرنے والے کو مہلت نہیں دیتا۔ بلکہ ایسا شخص جلد پکڑا جاتا اور اپنی سزا کو پہنچ جاتا ہے۔ اس قاعدہ کے لحاظ سے ہمیں چاہئے کہ ہم ان تمام لوگوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں اور ان کو سچا سمجھیں جنہوں نے کسی زمانہ میں نبوت کا دعویٰ کیا اور پھر وہ دعویٰ ان کا جڑ پکڑگیا اور ان کا مذہب دنیا میں پھیل گیا۔ اور استحکام پکڑ گیا اور ایک عمر پاگیا اور اگر ہم ان کے مذہب کی کتابوں میں غلطیاں پائیں یا اس مذہب کے پابندوں کو بدچلنیوں میں گرفتار مشاہدہ کریں تو ہمیں نہیں چاہئے کہ وہ سب داغ ملالت ان مذاہب کے بانیوں پر لگاویں۔ کیونکہ کتابوں کا محرف ہو جانا ممکن ہے۔ اجتہادی غلطیوں کا تفسیروں میں داخل ہو جانا ممکن ہے۔ لیکن یہ ہرگز ممکن نہیں کہ کوئی شخص کھلا کھلا خدا پر افترا کرے اور کہے کہ میں اس کا نبی ہوں اور اپنا کلام پیش کرے اور کہے کہ ’’یہ خدا کا کلام ہے‘‘۔ حالانکہ وہ نہ نبی ہو اور نہ اس کا کلام خدا کا کلام ہو۔ اور پھر خدا اس کو سچوں کی طرح مہلت دے۔ اور سچوں کی طرح اس کی قبولیت پھیلائے۔
    لہٰذا یہ اصول نہایت صحیح اور نہایت مبارک اور باوجود اس کے صلح کاری کی بنیاد ڈالنے والا ہے کہ ہم ایسے تمام نبیوں کو سچے نبی قرار دیں۔ جن کا مذہب جڑ پکڑ گیا اور عمر پاگیا اور کروڑ ہا لوگ اس مذہب میں آگئے۔ یہ اصول نہایت نیک اصول ہے اور اگر اس اصل کی تمام دنیا پابند ہو جائے تو ہزاروں فساد اور توہین مذہب جو مخالف امن عامہ خلائق ہیں اٹھ جائیں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ جو لوگ کسی مذہب کے پابندوں کو
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 259
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 259
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    ایکؔ ایسے شخص کا پیرو خیال کرتے ہیں جو ان کی دانست میں دراصل وہ کاذب اور مفتری ہے تو وہ اس خیال سے بہت سے فتنوں کی بنیاد ڈالتے ہیں۔ اور وہ ضرور توہین کے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں اور اس نبی کی شان میں نہایت گستاخی کے الفاظ بولتے ہیں اور اپنے کلمات کو گالیوں کی حد تک پہنچاتے ہیں اور صلح کاری اور عامہ خلائق کے امن میں فتور ڈالتے ہیں۔ حالانکہ یہ خیال ان کا بالکل غلط ہوتا ہے۔ اور وہ اپنے گستاخانہ اقوال میں خدا کی نظر میں ظالم ہوتے ہیں۔ خدا جو رحیم و کریم ہے وہ ہرگز پسند نہیں کرتاجو ایک جھوٹے کو ناحق کا فروغ دے کر اور اسکے مذہب کی جڑ جما کر لوگوں کو دھوکہ میں ڈالے۔اور نہ جائز رکھتا ہے کہ ایک شخص باوجود مفتری اور کذّاب ہونے کے دنیا کی نظر میں سچے نبیوں کا ہم پلّہ ہو جائے۔
    پس یہ اصول نہایت پیارا اور امن بخش اور صلح کاری کی بنیاد ڈالنے والا اور اخلاقی حالتوں کو مدد دینے والا ہے کہ ہم ان تمام نبیوں کو سچا سمجھ لیں جو دنیا میں آئے۔ خواہ ہند میں ظاہر ہوئے یا فارس میں یا چین میں یا کسی اور ملک میں اور خدا نے کروڑہا دلوں میں ان کی عزت اور عظمت بٹھادی اور ان کے مذہب کی جڑ قائم کردی۔ اور کئی صدیوں تک وہ مذہب چلا آیا۔ یہی اصول ہے جو قرآن نے ہمیں سکھلایا۔ اسی اصول کے لحاظ سے ہم ہر ایک مذہب کے پیشوا کو جن کی سوانح اس تعریف کے نیچے آگئی ہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں گو وہ ہندوؤں کے مذہب کے پیشوا ہوں یا فارسیوں کے مذہب کے یا چینیوں کے مذہب کے یا یہودیوں کے مذہب کے یا عیسائیوں کے مذہب کے۔ مگر افسوس کہ ہمارے مخالف ہم سے یہ برتاؤ نہیں کر سکتے اور خدا کا یہ پاک اور غیر متبدّل قانون ان کو یاد نہیں کہ وہ جھوٹے نبی کو وہ برکت
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 260
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 260
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ

    اور ؔ عزت نہیں دیتا جو سچے کو دیتا ہے اور جھوٹے نبی کا مذہب جڑ نہیں پکڑتا اور نہ عمر پاتا ہے جیسا کہ سچے کا جڑ پکڑتا اور عمر پاتا ہے۔ پس ایسے عقیدہ والے لوگ جو قوموں کے نبیوں کو کاذب قرار دے کر برا کہتے رہتے ہیں ہمیشہ صلح کاری اور امن کے دشمن ہوتے ہیں۔ کیونکہ قوموں کے بزرگوں کو گالیاں نکالنا اس سے بڑھ کر فتنہ انگیز اور کوئی بات نہیں۔ بسا اوقات انسان مرنا بھی پسند کرتا ہے مگر نہیں چاہتا کہ اس کے پیشوا کو بُرا کہا جائے۔ اگر ہمیں کسی مذہب کی تعلیم پر اعتراض ہو تو ہمیں نہیں چاہئے کہ اس مذہب کے نبی کی عزت پر حملہ کریں۔ اور نہ یہ کہ اس کو برے الفاظ سے یاد کریں بلکہ چاہئے کہ صرف اس قوم کے موجودہ دستورالعمل پر اعتراض کریں۔ اور یقین رکھیں کہ وہ نبی جو خداتعالیٰ کی طرف سے کروڑہا انسانوں میں عزت پاگیا اور صدہا برسوں سے اس کی قبولیت چلی آتی ہے یہی پختہ دلیل اس کے منجانب اللہ ہونے کی ہے۔ اگر وہ خدا کا مقبول نہ ہوتا تو اس قدر عزت نہ پاتا۔ مفتری کو عزت دینا اور کروڑہا بندوں میں اس کے مذہب کو پھیلانا اور زمانہ دراز تک اس کے مفتریانہ مذہب کو محفوظ رکھنا خدا کی عادت نہیں ہے۔ سو جو مذہب دنیا میں پھیل جائے اور جم جائے اور عزت اور عمر پاجائے وہ اپنی اصلیت کے رو سے ہرگز جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ پس اگر وہ تعلیم قابل اعتراض ہے تو اس کا سبب یا تو یہ ہوگا کہ اس نبی کی ہدایتوں میں تحریف کی گئی ہے۔ اور یا یہ سبب ہوگا کہ ان ہدایتوں کی تفسیر کرنے میں غلطی ہوئی ہے۔ اور یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خود ہم اعتراض کرنے میں حق پر نہ ہوں۔ چنانچہ دیکھا جاتا ہے کہ بعض پادری صاحبان اپنی کم فہمی کی وجہ سے قرآن شریف کی ان باتوں پر اعتراض کر دیتے ہیں جن کو توریت میں صحیح اور خدا کی تعلیم مان چکے ہیں۔ سو ایسا اعتراض خود اپنی غلطی یا شتاب کاری ہوتی ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 261
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 261
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    خلاؔ صہ یہ کہ دنیا کی بھلائی اور امن اور صلح کاری اور تقویٰ اور خداترسی اسی اصول میں ہے کہ ہم ان نبیوں کو ہرگز کاذب قرار نہ دیں جن کی سچائی کی نسبت کروڑہا انسانوں کی صدہا برسوں سے رائے قائم ہو چکی ہو۔ اور خدا کی تائیدیں قدیم سے ان کے شامل حال ہوں۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ایک حق کا طالب خواہ وہ ایشیائی ہویا یوروپین ہمارے اس اصول کو پسند کرے گا اور آہ کھینچ کر کہے گا کہ افسوس ہمارا اصول ایسا کیوں نہ ہوا۔
    میں اس اصول کو اس غرض سے حضرت ملکہ معظمہ قیصرہ ہند و انگلستان کی خدمت میں پیش کرتا ہوں کہ امن کو دنیا میں پھیلانے والا صرف یہی ایک اصول ہے جو ہمارا اصول ہے اسلام فخر کر سکتا ہے کہ اس پیارے اور دلکش اصول کو خصوصیت سے اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ کیا ہمیں روا ہے کہ ہم ایسے بزرگوں کی کسر شان کریں جو خدا کے فضل نے ایک دنیا کو ان کے تابعدار کر دیا اور صدہا برسوں سے بادشاہوں کی گردنیں ان کے آگے جھکتی چلی آئیں؟ کیا ہمیں روا ہے کہ ہم خدا کی نسبت یہ بدظنی کریں کہ وہ جھوٹوں کو سچّوں کی شان دے کر اور سچوں کی طرح کروڑہا لوگوں کا ان کو پیشوا بنا کر اور ان کے مذہب کو ایک لمبی عمر دے کر اور ان کے مذہب کی تائید میں آسمانی نشان ظاہر کر کے دنیا کو دھوکا دینا چاہتا ہے؟ اگر خدا ہی ہمیں دھوکا دے تو پھر ہم راست اور ناراست میں کیونکر فرق کر سکتے ہیں؟
    یہ بڑا ضروری مسئلہ ہے کہ جھوٹے نبی کی شان و شوکت اور قبولیت اور عظمت ایسی پھیلنی نہیں چاہئے جیسا کہ سچّے کی۔ اور جھوٹوں کے منصوبوں میں وہ رونق پیدا نہیں ہونی چاہئے جیسا کہ سچّے کے کاروبار میں پیدا ہونی چاہئے۔ اسی لئے سچے کی اول علامت یہی ہے کہ خدا کی دائمی تائیدوں کا سلسلہ اسکے شامل حال ہو اور خدا اسکے مذہب کے پودہ کو کروڑہا دلوں میں لگا دیوے اور عمر بخشے۔ پس جس نبی کے مذہب
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 262
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 262
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    میںؔ ہم یہ علامتیں پاویں ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی موت اور انصاف کے دن کو یاد کر کے ایسے بزرگ پیشوا کی اہانت نہ کریں بلکہ سچی تعظیم اور سچی محبت کریں۔ غرض یہ وہ پہلا اصول ہے جو ہمیں خدا نے سکھلایا ہے جس کے ذریعہ سے ہم ایک بڑے اخلاقی حصہ کے وارث ہوگئے ہیں۔
    اور دوسرا اصول جس پر مجھے قائم کیا گیا ہے وہ جہاد کے اس غلط مسئلہ کی اصلاح ہے جو بعض نادان مسلمانوں میں مشہور ہے۔ سو مجھے خداتعالیٰ نے سمجھا دیا ہے کہ جن طریقوں کو آج کل جہاد سمجھا جاتا ہے وہ قرآنی تعلیم سے بالکل مخالف ہیں۔ بے شک قرآن شریف میں لڑائیوں کا حکم ہوا تھا جو موسیٰ کی لڑائیوں سے زیادہ معقول اور یشوع بن نون کی لڑائیوں سے زیادہ پسندیدگی اپنے اندر رکھتا تھا۔ اور اس کی بنا صرف اس بات پر تھی کہ جنہوں نے مسلمانوں کے قتل کرنے کیلئے ناحق تلواریں اٹھائیں اور ناحق کے خون کئے اور ظلم کو انتہا تک پہنچایا ان کو تلواروں سے ہی قتل کیا جائے۔ مگر پھر بھی یہ عذاب موسیٰ کی لڑائیوں کی طرح بہت سختی اپنے اندر نہیں رکھتا تھا۔ بلکہ جو شخص قبول اسلام کے ساتھ اگر وہ عربی ہے یا جزیہ کے ساتھ اگر وہ غیر عربی ہے پناہ لیتا تھا تو وہ عذاب ٹل جاتا تھااور یہ طریق بالکل قانون قدرت کے موافق تھا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کے عذاب جو وباؤں کے رنگ میں دنیا پر نازل ہوتے ہیں وہ صدقہ خیرات اور دعا اور توبہ اور خشوع اور خضوع کے ساتھ بیشک زوال پذیر ہو جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے جب شدت سے وبا کی آگ بھڑکتی ہے تو طبعاً دنیا کی تمام قومیں دعا اور توبہ اور استغفار اور صدقہ خیرات کی طرف مشغول ہو جاتی ہیں اور خدا کی طرف رجوع کرنے کیلئے ایک طبعی حرکت پیدا ہو جاتی ہے۔ پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عذاب کے نزول کے وقت طبائع
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 263
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 263
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    انساؔ نیہ کا اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا ایک طبعی امر ہے۔ اور توبہ اور دعا کرنا عذاب کے وقتوں میں انسان کیلئے فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔ یعنی توبہ اور استغفار سے عذاب ٹل بھی جاتا ہے جیسا کہ یونس نبی کی قوم کا عذاب ٹل گیا۔ ایسا ہی حضرت موسیٰ کی دعا سے کئی دفعہ بنی اسرائیل کا عذاب ٹل گیا۔ سو خدا تعالیٰ کا ان کفار کو جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں پر بہت سختی کی تھی یہاں تک کہ عورتیں اور بچے بھی قتل کئے تھے۔ تلوار کے عذاب سے شکنجہ میں گرفتار کرنا اور پھر ان کی توبہ اور رجوع اور حق پذیری سے نجات دے دینا یہ وہی خدا کی قدیم عادت ہے جس کا مشاہدہ ہر زمانہ میں ہوتا چلا آیا ہے۔
    غرض ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے وقت میں اسلامی جہاد کی جڑ یہی تھی کہ خدا کا غضب ظلم کرنے والوں پر بھڑکا تھا۔ لیکن کسی عادل گورنمنٹ کے سایہ معدلت کے نیچے رہ کر جیسا کہ ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی سلطنت ہے پھر اس کی نسبت بغاوت کا قصد رکھنا اس کا نام جہاد نہیں ہے بلکہ یہ ایک نہایت وحشیانہ اور جہالت سے بھرا ہوا خیال ہے۔ جس گورنمنٹ کے ذریعہ سے آزادی سے زندگی بسر ہو اور پورے طور پر امن حاصل ہو اور فرائض مذہبی کماحقہٗ ادا کر سکیں اسکی نسبت بدنیتی کو عمل میں لانا ایک مجرمانہ حرکت ہے نہ جہاد۔ اسی لئے ۱۸۵۷ء میں مفسدہ پرداز لوگوں کی حرکت کو خدا نے پسند نہیں کیا اور آخر طرح طرح کے عذابوں میں وہ مبتلا ہوئے۔ کیونکہ انہوں نے اپنی محسن اور مربی گورنمنٹ کا مقابلہ کیا۔ سو خداتعالیٰ نے مجھے اس اصول پر قائم کیا ہے کہ محسن گورنمنٹ کی جیسا کہ یہ گورنمنٹ برطانیہ ہے سچی اطاعت کی جائے اور سچی شکرگزاری کی جائے۔ سو میں اور میری جماعت اس اصول کے پابند ہیں۔ چنانچہ میں نے اس مسئلہ پر عملدرآمد کرانے کیلئے بہت سی کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں تالیف کیں اور ان میں
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 264
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 264
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    تفصیل سے لکھا کہ کیونکر مسلمانان برٹش انڈیا اس گورنمنٹ برطانیہ کے نیچے آرام سے زندگی بسر کرتے ہیں اور کیونکر آزادگی سے اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے پر قادر ہیں اور تمام فرائض منصبی بے روک ٹوک بجالاتے ہیں۔ پھر اس مبارک اور امن بخش گورنمنٹ کی نسبت کوئی خیال بھی جہاد کا دل میں لانا کس قدر ظلم اور بغاوت ہے۔ یہ کتابیں ہزارہا روپیہ کے خرچ سے طبع کرائی گئیں اور پھر اسلامی ممالک میں شائع کی گئیں۔ اور میں جانتا ہوں کہ یقیناً ہزارہا مسلمانوں پر ان کتابوں کا اثر پڑا ہے۔ بالخصوص وہ جماعت جو میرے ساتھ تعلق بیعت و مریدی رکھتی ہے وہ ایک ایسی سچی مخلص اور خیرخواہ اس گورنمنٹ کی بن گئی ہے کہ میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ اُن کی نظیر دوسرے مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی۔ وہ گورنمنٹ کیلئے ایک وفادار فوج ہے جن کا ظاہر و باطن گورنمنٹ برطانیہ کی خیرخواہی سے بھرا ہوا ہے۔
    میں نے اپنی تالیف کردہ کتابوں میں اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ جو کچھ نادان مولوی تلوار کے ذریعہ سے حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ امر سچے مذہب کیلئے دوسرے رنگ میں گورنمنٹ برطانیہ میں حاصل ہے۔ یعنی ہر ایک شخص بتمام ترآزادی اپنے مذہب کا اثبات اور دوسرے مذہب کا ابطال کر سکتا ہے۔ اور میری رائے میں مسلمانوں کیلئے مذہبی خیالات کے اظہار میں قانونی حد تک وسیع اختیارات ہونے میں بڑی پُرخیر مصلحت ہے کیونکہ وہ اس طور سے اپنی اصل غرض کو پاکر جنگجوئی کی عادات کو جو کتاب اللہ کی غلط فہمی سے بعضوں میں پائی جاتی ہیں بھلا دیں گے۔ وجہ یہ کہ جیسا کہ ایک منشّی چیز کا استعمال کرنا دوسری منشّی چیز سے فارغ کر دیتا ہے۔ ایسا ہی جب ایک مقصد ایک پہلو سے نکلتا ہے تو دوسرا پہلو خود سست ہو جاتا ہے۔
    انہیں اغراض سے میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ مذہبی مباحثات کے بارے میں
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 265
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 265
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/265/mode/1up
    انگرؔ یزی آزادی سے فائدہ اٹھاؤں اور نیز اسلامی جوش کے لوگوں کو اس جائز امر کی طرف توجہ دے کر ناجائز خیالات اور جوشوں سے ان کے جذبات کو روک دوں۔ مسلمان لوگ ایک خونی مسیح کے منتظر تھے اور نیز ایک خونی مہدی کی بھی انتظار کرتے تھے۔ اور یہ عقیدے اس قدر خطرناک ہیں کہ ایک مفتری کاذب مہدی موعود کا دعویٰ کر کے ایک دنیا کو خون میں غرق کر سکتا ہے۔ کیونکہ مسلمانوں میں اب تک یہ خاصیت ہے کہ جیسا کہ وہ ایک جہاد کی رغبت دلانے والے فقیر کے ساتھ ہو جاتے ہیں۔ شاید وہ ایسی تابعداری بادشاہ کی بھی نہیں کر سکتے۔ پس خدا نے چاہا کہ یہ غلط خیالات دور ہوں اس لئے اس نے مجھے مسیح موعود اور مہدی معہود کا خطاب دے کر میرے پر ظاہر فرمایا کہ کسی خونی مہدی یا خونی مسیح کی انتظار کرنا سراسر غلط خیال ہے۔ بلکہ خدا ارادہ فرماتا ہے کہ آسمانی نشانوں کے ساتھ سچ کو دنیا میں پھیلاوے۔ سو میرا اصول یہ ہے کہ دنیا کے بادشاہوں کو اپنی بادشاہیاں مبارک ہوں ہمیں ان کی سلطنت اور دولت سے کچھ غرض نہیں ہمارے لئے آسمانی بادشاہی ہے۔ ہاں نیک نیتی سے اور سچی خیرخواہی سے بادشاہوں کو بھی آسمانی پیغام پہنچانا ضروری ہے۔ لیکن اس گورنمنٹ برطانیہ کی نسبت نہ صرف اس قدر ہے بلکہ چونکہ ہم اس دولت کے سایہ عاطفت کے نیچے بَامَنْ زندگی بسر کر سکتے ہیں اس لئے اس دولت کیلئے ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ اس کی دنیا اور آخرت کیلئے دعا بھی کریں۔
    افسوس کہ جس وقت سے میں نے ہندوستان کے مسلمانوں کو یہ خبر سنائی ہے کہ کوئی خونی مہدی یا خونی مسیح دنیا میں آنے والا نہیں ہے بلکہ ایک شخص صلح کاری کے ساتھ آنے والا تھا جو میں ہوں اس وقت سے یہ نادان مولوی مجھ سے بغض رکھتے ہیں اور مجھ کو کافر اور دین سے خارج ٹھہراتے ہیں۔ عجیب بات ہے
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 266
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 266
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/266/mode/1up
    کہؔ یہ لوگ بنی نوع کی خونریزی سے خوش ہوتے ہیں۔ مگر یہ قرآنی تعلیم نہیں ہے اور نہ سب مسلمان اس خیال کے ہیں۔ یہ پادریوں کی بھی خیانت ہے کہ ناحق دائمی جہاد کے مسئلہ کو قرآن شریف کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اور اس طرح پر بعض نادانوں کو دھوکہ میں ڈال کر نفسانی جوشوں کی طرف ان کو توجہ دیتے ہیں۔ اور میں نہ اپنے نفس سے اور نہ اپنے خیال سے بلکہ خدا سے مامور ہوں کہ جس گورنمنٹ کے سایہ عطوفت کے نیچے میں امن کے ساتھ زندگی بسر کر رہا ہوں اس کیلئے دعا میں مشغول رہوں اور اس کے احسانات کا شکر کروں اور اس کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھوں۔ اور جو کچھ مجھے فرمایا گیا ہے نیک نیتی سے اس تک پہنچاؤں۔ لہٰذا اس موقعہ جوبلی پر جناب ملکہ معظمہ کے ان متواتر احسانات کو یاد کر کے جو ہماری جان اور مال اور آبرو کے شامل حال ہیں۔ ہدیہ شکرگزاری پیش کرتا ہوں اور وہ ہدیہ دعائے سلامتی و اقبال ملکہ ممدوحہ ہے جو دل سے اور وجود کے ذرّہ ذرّہ سے نکلتی ہے۔
    اے قیصرہ و ملکہ معظمہ! ہمارے دل تیرے لئے دعا کرتے ہوئے جناب الٰہی میں جھکتے ہیں اور ہماری روحیں تیرے اقبال اور سلامتی کیلئے حضرت احدیّت میں سجدہ کرتی ہیں۔ اے اقبال مند قیصرہ ہند! اس جوبلی کی تقریب پر ہم اپنے دل اور جان سے تجھے مبارکباد دیتے ہیں۔ اور خدا سے چاہتے ہیں کہ خدا تجھے ان نیکیوں کی بہت بہت جزا دے جو تجھ سے اور تیری بابرکت سلطنت سے اور تیرے امن پسند حکام سے ہمیں پہنچی ہیں۔ ہم تیرے وجود کو اس ملک کیلئے خدا کا ایک بڑا فضل سمجھتے ہیں اور ہم ان الفاظ کے نہ ملنے سے شرمندہ ہیں جن سے ہم اس شکر کو پورے طور پر ادا کر سکتے۔ ہر ایک دعا جو ایک سچا شکرگزار تیرے لئے کر سکتا ہے ہماری طرف سے تیرے
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 267
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 267
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/267/mode/1up
    حقؔ میں قبول ہو۔ خدا تیری آنکھوں کو مرادوں کے ساتھ ٹھنڈی رکھے اور تیری عمر اور صحت اور سلامتی میں زیادہ سے زیادہ برکت دے اور تیرے اقبال کا سلسلہ ترقیات جاری رکھے اور تیری اولاد اور ذرّیت کو تیری طرح اقبال کے دن دکھاوے۔ اور فتح اور ظفر عطا کرتا رہے۔ ہم اس کریم و رحیم خدا کا بہت بہت شکر کرتے ہیں جس نے اس مسرت بخش دن کو ہمیں دکھایا۔ اور جس نے ایسی محسنہ رعیّت پرور داد گُستر بیدار مغز ملکہ کے زیر سایہ ہمیں پناہ دی۔ اور ہمیں اس کے مبارک عہد سلطنت کے نیچے یہ موقعہ دیا کہ ہم ہر ایک بھلائی کو جو دنیا اور دین کے متعلق ہو حاصل کر سکیں۔ اور اپنے نفس اور اپنی قوم اور اپنے بنی نوع کیلئے سچی ہمدردی کے شرائط بجا لا سکیں۔ اور ترقی کی ان راہوں پر آزادی سے قدم مار سکیں۔ جن راہوں پر چلنے سے نہ صرف ہم دنیا کی مکروہات سے محفوظ رہ سکتے ہیں بلکہ ابدی جہان کی سعادتیں بھی ہمیں حاصل ہو سکتی ہیں۔
    جب ہم سوچتے ہیں کہ یہ تمام نیکیاں اور انکے وسائل جناب قیصرہ ہند کی عہد سلطنت میں ہم کو ملی ہیں۔ اور یہ سب خیر اور بھلائی کے دروازے اسی ملکہ معظمہ مبارکہ کے ایام بادشاہت میں ہم پر کھلے ہیں تو اس سے ہمیں اس بات پر قوی دلیل ملتی ہے کہ جناب قیصرہ ہند کی نیّت رعایا پروری کیلئے نہایت ہی نیک ہے۔ کیونکہ یہ ایک مسلّم مسئلہ ہے کہ بادشاہ کی نیت رعایا کے اندرونی حالات اور انکے اخلاق اور چال چلن پر بہت اثر رکھتی ہے۔ یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ جب کسی حصہ زمین پر نیک نیّت اور عادل بادشاہ حکمرانی کرتا ہے تو خداتعالیٰ کی یہی عادت ہے کہ اس زمین کے رہنے والے اچھی باتوں اور نیک اخلاق کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ اور خدا اور خلقت کے ساتھ اخلاص کی عادت ان میں پیدا ہوجاتی ہے۔ سو یہ امر ہر ایک آنکھ کو بدیہی طورپر نظر آرہا ہے کہ برٹش انڈیا
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 268
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 268
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/268/mode/1up
    میںؔ اچھی حالتوں اور اچھے اخلاق کی طرف ایک انقلاب عظیم پیدا ہو رہا ہے اور وحشیانہ جذبات ملکوتی حالات کی طرف انتقال کر رہے ہیں۔ اور نئی ذرّیت نفاق کی جگہ اخلاص کو زیادہ پسند کرتی جاتی ہے۔ اور لوگوں کی استعدادیں سچائی کے قبول کرنے کیلئے بہت نزدیک آتی جاتی ہیں۔ انسانوں کی عقل اور فہم اور سوچ میں ایک بڑی تبدیلی پیدا ہوگئی ہے اور اکثر لوگ ایک سادہ اور بے لوث زندگی کیلئے طیار ہو رہے ہیں۔ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عہد سلطنت ایک ایسی روشنی کا پیش خیمہ ہے جو آسمان سے اتر کر دلوں کو روشن کرنے والی ہے۔ ہزاروں دل اس طرح پر راستی کے شوق میں اچھل رہے ہیں کہ گویا وہ ایک آسمانی مہمان کیلئے جو سچائی کا نور ہے پیشوائی کے طور پر قدم بڑھاتے ہیں۔ انسانی قویٰ کے تمام پہلوؤں میں اچھے انقلاب کا رنگ دکھائی دیتا ہے اور دلوں کی حالت اس عمدہ زمین کی طرح ہو رہی ہے جو اپنا سبزہ نکالنے کیلئے پھول گئی ہو۔ ہماری ملکہ معظمہ اگر اس بات سے فخر کریں تو بجا ہے کہ روحانی ترقیات کیلئے خدا اسی زمین سے ابتدا کرنا چاہتا ہے جو برٹش انڈیا کی زمین ہے۔ اس ملک میں کچھ ایسے روحانی انقلاب کے آثار نظر آتے ہیں کہ گویا خدا بہتوں کو سفلی زندگی سے باہر نکالنا چاہتا ہے۔ اکثر لوگ بالطبع پاک زندگی کے حاصل کرنے کیلئے میل کرتے جاتے ہیں اور بہت سی روحیں عمدہ تعلیم اور عمدہ اخلاق کی تلاش میں ہیں اور خدا کا فضل امید دے رہا ہے کہ وہ اپنی ان مرادوں کو پائیں گے۔
    اگرچہ اکثر قومیں ابھی ایسی کمزور ہیں کہ سچائی کی گواہی صفائی کے ساتھ دے نہیں سکتیں بلکہ سچائی کو سمجھ نہیں سکتیں اور ان کی تحریر اور تقریر میں کم و بیش تعصب کی رنگ آمیزی پائی جاتی ہے مگر دیکھا جاتا ہے کہ انصاف پسند انسانوں میں حق شناسی کی قوت بڑھ گئی ہے۔ وہ راستی کی چمک کو بہت سے پردوں میں سے بھی دیکھ لیتے ہیں۔ یہ ایک بڑی قابل قدر
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 269
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 269
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/269/mode/1up
    باتؔ ہے کہ اکثر لوگ عرفانی روشنی کی تلاش میں لگ گئے ہیں۔ ہاں تلاش کی دُھن میں غلطیوں میں بھی پڑ رہے ہیں۔ اور غیر معبود کو حقیقی معبود کی جگہ بھی دیتے ہیں۔ مگر کچھ شک نہیں کہ ایک حرکت پیدا ہوگئی ہے۔ اور باتوں کی حقیقت اور اصلیت اور جڑ تک پہنچنا اور سطحی خیالات تک رکے نہ رہنا قابل تعریف خلق سمجھا گیا ہے جس سے آئندہ کی امیدیں مضبوط ہوگئی ہیں۔ پس اس میں کیا شک ہے کہ یہ بھی بادشاہ وقت کا ایک پرتوہ ہے اور کچھ شک نہیں کہ یہ گورنمنٹ ہندوستان میں داخل ہوتے ہی ایک روحانی سرگرمی اور حق کی تلاش کا اثر ساتھ لائی ہے اور بلاشبہ یہ اس ہمدردی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے جو ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کے دل میں برٹش انڈیا کی رعیت کی نسبت مرکوز ہے۔
    اور اگرچہ میں ان احسانوں کا بھی بدرجہ غایت قدر کرتا ہوں جو جسمانی طورپر جناب ملکہ معظمہ کی توجہات سے شامل حال مسلمانان ہند ہیں۔ لیکن ایک بڑا حصہ عنایات حضرت قیصرہ ہند کا یہی ہے کہ انکے ایام دولت میں ہندوستان کی بہت سی وحشیانہ حالتیں روبہ اصلاح ہوگئی ہیں اور ہر ایک شخص نے روحانی ترقیات کا بڑا موقعہ پایا ہے۔ ہم صریح دیکھتے ہیں کہ گویا زمانہ ایک سچی اور پاک صلاحیت کے نزدیک آتا جاتا ہے اور دلوں کو حقیقت شناسی کی طرف توجہ پیدا ہوتی جاتی ہے۔ مذہبی امور میں بوجہ تبادل خیالات کے ہر ایک حق کی تلاش کرنیوالے کو آگے قدم رکھنے کی جرأت ہوگئی ہے۔ اور وہ سچا اور اکیلا خدا جو بہتوں کی نظر سے پوشیدہ تھا اب اپنی تجلّیات کے دکھلانے کیلئے صریح ارادہ کرتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ میرے خیال میں یہ بھی گزرتا ہے کہ اس سے پہلے اس ملک کی فارغ البالی اور دولتمندی اسکی روحانی ترقی کی بہت مانع تھی اور ہرایک مال اور دولت رکھنے والا عیاشی اور آرام پسندی کی طرف اعتدال سے زیادہ جھک گیا تھا۔ اگر ہندوستان کی وہی صورت رہتی تو آج شاید
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 270
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 270
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/270/mode/1up
    اسؔ ملک کے رہنے والے وحشیوں سے بھی بدتر ہوتے۔ یہ اچھا ہوا کہ بہ سبب احسن تدبیر گورنمنٹ برطانیہ کے اس ملک کے اسباب تنعم و آرام طلبی کچھ مختصر کئے گئے تا لوگ فنون اور علوم کی طرف متوجہ ہوں اور روحانی ترقیات کا بھی دروازہ کھلے اور نفسانی جذبات کے وسائل کم ہو جائیں۔ سو یہ سب کچھ عہد سعادت مہد ملکہ معظمہ قیصرہ ہند میں ظہور میں آیا۔ میں خوب جانتا ہوں کہ مصیبت اور محتاجگی بھی انسان کی انسانیت کیلئے ایک کیمیا ہے بشرطیکہ انتہا تک نہ پہنچے اور تھوڑے دن ہو۔ سو ہمارا ملک اس کیمیا کا بھی محتاج تھا۔ میرا اس میں ذاتی تجربہ ہے کہ ہم نے اس کیمیا سے بہت فائدہ اٹھایا ہے اور بہت سے روحانی جواہرات ہم کو اس ذریعہ سے ملے ہیں۔ میں پنجاب کے ایک ایسے خاندان میں سے ہوں جو سلاطین مغلیہ کے عہد میں ایک ریاست کی صورت میں چلا آتا تھا اور بہت سے دیہات زمینداری ہمارے بزرگوں کے پاس تھے اور اختیارات حکومت بھی تھے۔ پھر سکھوں کے عروج سے کچھ پہلے یعنی جبکہ شاہان مغلیہ کے انتظام ملک داری میں بہت ضعف آگیا تھا۔ اور اس طرف طوائف الملوک کی طرح خودمختار ریاستیں پیدا ہوگئی تھیں۔ میرے پڑدادا صاحب میرزا گل محمد بھی طوائف الملوک میں سے تھے اور اپنی ریاست میں من کل الوجوہ خود مختار رئیس تھے۔ پھر جب سکھوں کا غلبہ ہوا تو صرف اسی۰۸ گاؤں ان کے ہاتھ میں رہ گئے۔ اور پھر بہت جلد اسی۸۰ کے عدد کا صفر بھی اڑگیا۔ اور پھر شاید آٹھ یا سات گاؤں باقی رہے۔ رفتہ رفتہ سرکار انگریزی کے وقت میں تو بالکل خالی ہاتھ ہوگئے۔ چنانچہ اوائل عملداری اس سلطنت میں صرف پانچ گاؤں کے مالک کہلاتے تھے اور میرے والد میرزا غلام مرتضیٰ صاحب دربار گورنری میں کرسی نشین بھی تھے اور سرکار انگریزی کے ایسے خیر خواہ اور دل کے بہادر تھے کہ مفسدہ ۱۸۵۷ء میں پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر اور پچاس جوان جنگجو بہم پہنچا کر اپنی حیثیت سے زیادہ اس گورنمنٹ عالیہ
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 271
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 271
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/271/mode/1up
    کو ؔ مدد دی تھی۔ غرض ہماری ریاست کے ایام دن بدن زوال پذیر ہوتے گئے یہاں تک کہ آخری نوبت ہماری یہ تھی کہ ایک کم درجہ کے زمیندار کی طرح ہمارے خاندان کی حیثیت ہوگئی۔ بظاہر یہ بات بہت غم دلانے والی ہے کہ ہم اوّل کیا تھے اور پھر کیا ہوگئے۔ لیکن جب میں سوچتا ہوں تو یہ حالت نہایت قابل شکر معلوم ہوتی ہے کہ خدا نے ہمیں بہت سے ان ابتلاؤں سے بچالیا کہ جو دولت مندی کے لازمی نتائج ہیں جن کو ہم اس وقت اس ملک میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ مگر میں اس ملک کے امیروں اور رئیسوں کے نظائر پیش کرنا نہیں چاہتا جو میری رائے کی تائید کرتے ہیں۔ اور میں مناسب نہیں دیکھتا کہ اس ملک کے سست اور کاہل اور آرام پسند اور دین و دنیا سے غافل اور عیاشی میں غرق امیروں اور دولتمندوں کے نمونے اپنی تائید دعویٰ میں پیش کروں کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ کسی کے دل کو دکھ دوں۔ اس جگہ میرا مطلب صرف اس قدر ہے کہ اگر ہمارے بزرگوں کی ریاست میں فتور نہ آتا تو شاید ہم بھی ایسی ہی ہزاروں طرح کی غفلتوں اور تاریکیوں اور نفسانی جذبات میں غرق ہوتے ۔ سو ہمارے لئے جناب باری تعالیٰ جلّ جلالہٗ نے دولت عالیہ برطانیہ کو نہایت ہی مبارک کیا کہ ہم اس بابرکت سلطنت میں اس ناچیز دنیا کی صدہا زنجیروں اور اس کے فانی تعلقات سے فارغ ہوکر بیٹھ گئے۔ اور خدا نے ہمیں ان تمام امتحانوں اور آزمائشوں سے بچالیا کہ جو دولت اور حکومت اور ریاست اور امارت کی حالت میں پیش آتے اور روحانی حالتوں کا ستیاناس کرتے ہیں یہ خدا کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں ان گردشوں اور طرح طرح کے حوادث میں جو حکومت کے بعد تحکم کے زمانہ سے لازم حال پڑی ہوئی ہیں برباد کرنا نہیں چاہابلکہ زمین کی ناچیز حکومتوں اور ریاستوں سے ہمیں نجات
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 272
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 272
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/272/mode/1up
    دےؔ کر آسمان کی بادشاہت عطا کی جہاں نہ کوئی دشمن چڑھائی کرسکے اور نہ آئے دن اس میں جنگوں اور خونریزیوں کے خطرات ہوں اور نہ حاسدوں اور بخیلوں کو منصوبہ بازی کا موقعہ ملے۔ اور چونکہ اس نے مجھے یسوع مسیح کے رنگ میں پیدا کیا تھا اور توارد طبع کے لحاظ سے یسوع کی روح میرے اندر رکھی تھی اس لئے ضرور تھا کہ گم گشتہ ریاست میں بھی مجھے یسوع مسیح کے ساتھ مشابہت ہوتی سو ریاست کا کاروبار تباہ ہونے سے یہ مشابہت بھی متحقق ہوگئی جس کو خدا نے پورا کیا۔ کیونکہ یسوع کے ہاتھ میں داؤد بادشاہ نبی اللہ کے ممالک مقبوضہ میں سے جس کی اولاد میں سے یسوع تھا ایک گاؤں بھی باقی نہیں رہا تھا صرف نام کی شہزادگی باقی رہ گئی تھی۔
    ہرچند میں اس قدر تو مبالغہ نہیں کر سکتا کہ مجھے سر رکھنے کی جگہ نہیں۔ لیکن میں شکر کرتا ہوں کہ خداتعالیٰ نے ان تمام صعوبتوں اور شدتوں کے بعد جن کا اس جگہ ذکر کرنا بے محل ہے مجھے ایسے طور سے اپنی مہربانی کی گود میں لے لیا جیسا کہ اس نے اس مبارک انسان کو لیا تھا جس کا نام ابراہیم تھا۔ اس نے میرے دل کو اپنی طرف کھینچ لیا اور وہ باتیں میرے پر کھولیں جو کسی پر نہیں کھل سکتیں جب تک اس پاک گروہ میں داخل نہ کیا جائے جن کو دنیا نہیں پہچانتی۔ کیونکہ وہ دنیا سے بہت دور اور دنیا ان سے دور ہے۔ اس نے میرے پر ظاہر کیا کہ وہ اکیلا اور غیر متغیر اور قادر اور غیر محدود خدا ہے جسکی مانند اور کوئی نہیں اور اس نے مجھے اپنے مکالمہ کا شرف بخشا۔ اور اس نے بلاواسطہ اپنے راہ کی مجھے تعلیم دی ہے۔ اور مرور زمانہ سے جو قوموں کے عقیدہ میں غلطیاں واقع ہوئیں ان سب پر مجھے مطلع فرمایا ہے۔
    اس نے مجھے اس بات پر بھی اطلاع دی ہے کہ درحقیقت یسوع مسیح خدا کے نہایت پیارے اور نیک بندوں میں سے ہے۔ اور ان میں سے ہے جو خدا کے برگزیدہ لوگ ہیں اور ان میں سے ہے جن کو خدا اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنے نور کے سایہ کے نیچے
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 273
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 273
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/273/mode/1up
    رکھتاؔ ہے۔ لیکن جیسا کہ گمان کیا گیا ہے خدا نہیں ہے۔ ہاں خدا سے واصل ہے اور ان کاملوں میں سے ہے جو تھوڑے ہیں۔
    اور خدا کی عجیب باتوں میں سے جو مجھے ملی ہیں ایک یہ بھی ہے جو میں نے عین بیداری میں جو کشفی بیداری کہلاتی ہے یسوع مسیح سے کئی دفعہ ملاقات کی ہے اور اس سے باتیں کر کے اس کے اصل دعویٰ اور تعلیم کا حال دریافت کیا ہے۔ یہ ایک بڑی بات ہے جو توجہ کے لائق ہے کہ حضرت یسوع مسیح ان چند عقائد سے جو کفّارہ اور تثلیث اور ابنیّت ہے ایسے متنفر پائے جاتے ہیں کہ گویا ایک بھاری افترا جو ان پر کیا گیا ہے وہ یہی ہے۔ یہ مکاشفہ کی شہادت بے دلیل نہیں ہے بلکہ میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر کوئی طالب حق نیّت کی صفائی سے ایک مدت تک میرے پاس رہے اور وہ حضرت مسیح کو کشفی حالت میں دیکھنا چاہے تو میری توجہّ اور دعا کی برکت سے وہ ان کو دیکھ سکتا ہے ان سے باتیں بھی کر سکتا ہے اور ان کی نسبت ان سے گواہی بھی لے سکتا ہے۔ کیونکہ میں وہ شخص ہوں جس کی روح میں بروز کے طور پر یسوع مسیح کی روح سکونت رکھتی ہے۔ یہ ایک ایسا تحفہ ہے جو حضرت ملکہ معظمہ قیصرہ انگلستان و ہند کی خدمت عالیہ میں پیش کرنے کے لائق ہے۔
    دنیا کے لوگ اس بات کو نہیں سمجھیں گے کیونکہ وہ آسمانی اسرار پر کم ایمان رکھتے ہیں لیکن تجربہ کرنے والے ضرور اس سچائی کو پائیں گے۔
    میری سچائی پر اور بھی آسمانی نشان ہیں جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں اور اس ملک کے لوگ ان کو دیکھ رہے ہیں۔ اب میں اس آرزو میں ہوں کہ جو مجھے یقین بخشا گیا ہے۔ وہ دوسروں کے دلوں میں کیونکر اتارا جائے۔ میرا شوق مجھے بیتاب کر رہا ہے
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 274
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 274
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/274/mode/1up
    کہؔ میں ان آسمانی نشانوں کی حضرت عالی قیصرہ ہند میں اطلاع دوں۔ میں حضرت یسوع مسیح کی طرف سے ایک سچے سفیر کی حیثیت میں کھڑا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ جو کچھ آجکل عیسائیت کے بارے میں سکھایا جاتا ہے یہ حضرت یسوع مسیح کی حقیقی تعلیم نہیں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر حضرت مسیح دنیا میں پھر آتے تو وہ اس تعلیم کو شناخت بھی نہ کر سکتے۔
    ایک اور بڑی بھاری مصیبت قابل ذکر ہے اور وہ یہ ہے کہ اس خدا کے دائمی پیارے اور دائمی محبوب اور دائمی مقبول کی نسبت جس کا نام یسوع ہے یہودیوں نے تو اپنی شرارت اور بے ایمانی سے *** کے برے سے برے مفہوم کو جائز رکھا۔ لیکن عیسائیوں نے بھی اس بہتان میں کسی قدر شراکت اختیار کی۔ کیونکہ یہ گمان کیا گیا ہے کہ گویا یسوع مسیح کا دل تین دن تک *** کے مفہوم کا مصداق بھی رہا ہے۔ اس بات کے خیال سے ہمارا بدن کانپتا ہے اور وجود کے ذرہ ذرہ پر لرزہ پڑ جاتا ہے۔ کیا مسیح کا پاک دل اور خدا کی ***!!! گو ایک سیکنڈ کے لئے ہی ہو۔ افسوس! ہزار افسوس کہ یسوع مسیح جیسے خدا کے پیارے کی نسبت یہ اعتقاد رکھیں کہ کسی وقت اس کا دل *** کے مفہوم کا مصداق بھی ہوگیا تھا۔
    اس وقت ہم یہ عاجزانہ التماس کسی مذہبی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک کامل انسان کی حفظ عزت کیلئے پیش کرتے ہیں اور یسوع کی طرف سے رسول کی طرح ہوکر جس طرح کشفی عالم میں اس کی زبان سے سنا حضور قیصرہ ہند میں پہنچا دیتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ جناب ممدوحہ اس غلطی کی اصلاح فرمائیں۔ یہ اس زمانہ کی ایک فاحش غلطی ہے کہ جبکہ لوگوں نے *** کے مفہوم پر غور نہیں کی تھی۔ لیکن اب ادب تقاضا کرتا ہے کہ نہایت جلدی اس غلطی کی اصلاح کر دی جائے اور خدا کے اس اعلیٰ درجہ کے پیارے اور برگزیدہ کی عزت کو بچایا جائے۔ کیونکہ زبان عرب اور عبرانی میں *** کا لفظ خدا سے دور اور برگشتہ ہونے کیلئے آتا ہے۔ اور کسی شخص کو اس وقت لعین کہا جاتا ہے کہ جب
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 275
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 275
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/275/mode/1up
    وہ ؔ بالکل خدا سے برگشتہ اور بے ایمان ہو جائے۔ اور خدا اس کا دشمن اور وہ خدا کا دشمن ہو جائے۔ اسی لئے لُغت کے رو سے لعین شیطان کا نام ہے یعنی خدا سے برگشتہ ہونے والا اور اس کا نافرمان۔ پس یہ کیونکر ممکن ہے کہ خدا کے ایسے پیارے کی نسبت ایک سیکنڈ کیلئے بھی تجویز کر سکیں کہ نعوذ باللہ کسی وقت دل اس کا درحقیقت خدا سے برگشتہ اور اس کا نافرمان اور دشمن ہوگیا تھا؟ کس قدر بے جا ہوگا کہ ہم اپنی نجات کا ایک فرضی منصوبہ قائم کرنے کیلئے خدا کے ایسے پیارے پر نافرمانی کا داغ لگاویں اور یہ عقیدہ رکھیں کہ کسی وقت وہ خدا سے باغی اور برگشتہ بھی ہوگیا تھا۔ اس سے بہتر ہے کہ انسان اپنے لئے دوزخ قبول کرے مگر ایسے برگزیدہ کی پاک عزت اور بے لوث زندگی کا دشمن نہ بنے۔
    جس قدر عیسائیوں کو حضرت یسوع مسیح سے محبت کرنے کا دعویٰ ہے وہی دعویٰ مسلمانوں کو بھی ہے۔ گویا آنجناب کا وجود عیسائیوں اور مسلمانوں میں ایک مشترک جائیداد کی طرح ہے اور مجھے سب سے زیادہ حق ہے کیونکہ میری طبیعت یسوع میں مستغرق ہے اور یسوع کی مجھ میں۔ اسی دعویٰ کی تائید میں آسمانی نشان ظاہر ہو رہے ہیں اور ہر ایک کو بلایا گیا ہے کہ اگر چاہے تو نشانوں کے ذریعہ سے اس دعویٰ میں اپنی تسلی کرے۔ اور اس جگہ اس قدر لکھنے کی میں نے اس لئے جرأت کی ہے کہ حضرت یسوع مسیح کی سچی محبت اور سچی عظمت جو میرے دل میں ہے اور نیز وہ باتیں جو میں نے یسوع مسیح کی زبان سے سنیں اور وہ پیغام جو اس نے مجھے دیا ان تمام امور نے مجھے تحریک کی کہ میں جناب ملکہ معظمہ کے حضور میں یسوع کی طرف سے ایلچی ہو کر بادب التماس کروں کہ جس طرح خداتعالیٰ کی طرف سے جناب ممدوحہ کروڑہا انسانوں کی جان و مال و آبرو کی محافظ ٹھہرائی گئی ہیں بلکہ چرندوں اور پرندوں کے آرام کے لئے بھی حضرت موصوفہ نے قوانین جاری کئے ہیں کیا خوب ہوکہ جناب کو اس چھپی ہوئی توہین پر بھی نظر ڈالنے کیلئے توجہ پیدا ہو جو یسوع مسیح کی شان میں کی جاتی ہے۔ کیا خوب ہوکہ جناب ممدوحہ دنیا کی تمام لغات کے رو سے عموماً اور عربی اور عبرانی کے رو سے خصوصاً لفظ
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 276
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 276
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/276/mode/1up
    ***ؔ کے مفہوم کی تفتیش کریں اور تمام لغات کے فاضلوں کی اس امر کیلئے گواہیاں لیں کہ کیا یہ سچ نہیں کہ ملعون صرف اس حالت میں کسی کو کہا جائے گا جب کہ اس کا دل خدا کی معرفت اور محبت اور قرب سے دور پڑگیا ہو اور جبکہ بجائے محبت کے اس کے دل میں خدا کی عداوت پیدا ہوگئی ہو۔ اسی وجہ سے لغت عرب میں لعین شیطان کا نام ہے۔ پس کس طرح یہ ناپاک نام جو شیطان کے حصہ میں آگیا ایک پاک دل کی طرف منسوب کیا جائے۔ میرے مکاشفہ میں مسیح نے اپنی بریت اس سے ظاہر کی ہے اور عقل بھی یہی چاہتی ہے کہ مسیح کی شان اس سے برتر ہے۔ *** کا مفہوم ہمیشہ دل سے تعلق رکھتا ہے اور یہ نہایت صاف بات ہے کہ ہم خدا کے مقرب اور پیارے کو کسی تاویل سے ملعون اور *** کے نام سے موسوم نہیں کر سکتے۔ یہ یسوع مسیح کا پیغام ہے جو میں پہنچاتا ہوں۔ اس میں میرے سچے ہونے کی یہی نشانی ہے جو مجھ سے وہ نشان ظاہر ہوتے ہیں جو انسانی طاقتوں سے برتر ہیں۔ اگر حضور ملکہ معظمہ قیصرہ ہند و انگلستان توجہ کریں تو میرا خدا قادر ہے کہ ان کی تسلی کے لئے بھی کوئی نشان دکھاوے۔ جو بشارت اور خوشی کا نشان ہو بشرطیکہ نشان دیکھنے کے بعد میرے پیغام کو قبول کرلیں اور میری سفارت جو یسوع مسیح کی طرف سے ہے اس کے موافق ملک میں عملدرآمد کرایا جائے مگر نشان خدا کے ارادہ کے موافق ہوگا نہ انسان کے ارادہ کے موافق ہاں فوق العادت ہوگا اور عظمت الٰہی اپنے اندر رکھتا ہوگا۔*
    حضور ملکہ معظمہ اپنی روشن عقل کے ساتھ سوچیں کہ کسی کو خدا سے برگشتہ اور خدا کا دشمن
    اگر حضور ملکہ معظمہ میرے تصدیق دعویٰ کیلئے مجھ سے نشان دیکھنا چاہیں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ ابھی ایک سال پورا نہ ہو کہ وہ نشان ظاہر ہو جائے۔ اور نہ صرف یہی بلکہ دعا کر سکتا ہوں کہ یہ تمام زمانہ عافیت اور صحت سے بسر ہو۔ لیکن اگر کوئی نشان ظاہر نہ ہو اور میں جھوٹا نکلوں تو میں اس سزا میں راضی ہوں کہ حضور ملکہ معظمہ کے پایہ تخت کے آگے پھانسی دیا جاؤں۔ یہ سب الحاح اس لئے ہے کہ کاش ہماری محسنہ ملکہ معظمہ کو اس آسمان کے خدا کی طرف خیال آجائے جس سے اس زمانہ میں عیسائی مذہب بے خبر ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 277
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 277
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/277/mode/1up
    نام رکھنا جو *** کا مفہوم ہے۔ کیا اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی اور بھی توہین ہوگی؟ پس جس کو خدا کے تمام فرشتے مقرّب مقرّب کہہ رہے ہیں اور جو خدا کے نور سے نکلا ہے اگر اسکا نام خدا سے برگشتہ اور خدا کا دشمن رکھا جائے تو اسکی کس قدر اہانت ہے؟!! افسوس اس توہین کو یسوع کی نسبت اس زمانہ میں چالیس کروڑ انسان نے اختیار کر رکھا ہے۔ اے ملکہ معظمہ! یسوع مسیح سے تُو یہ نیکی کر خدا تجھ سے بہت نیکیؔ کرے گا۔ میں دعا مانگتا ہوں کہ اس کارروائی کیلئے خداتعالیٰ آپ ہماری محسنہ ملکہ معظمہ کے دل میں القا کرے۔ پیلاطوس نے جس کے زمانہ میں یسوع تھا ناانصافی سے یہودیوں کے رعب کے نیچے آکر ایک مجرم قیدی کو چھوڑ دیا اور یسوع جو بے گناہ تھا اس کو نہ چھوڑا۔ لیکن اے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند ہم عاجزانہ ادب کے ساتھ تیرے حضور میں کھڑے ہوکر عرض کرتے ہیں کہ تو اس خوشی کے وقت میں جو شصت سالہ جوبلی کا وقت ہے یسوع کے چھوڑنے کیلئے کوشش کر۔اس وقت ہم اپنی نہایت پاک نیّت سے جو خدا کے خوف اور سچائی سے بھری ہوئی ہے تیری جناب میں اس التماس کیلئے جرأت کرتے ہیں کہ یسوع مسیح کی عزت کو اس داغ سے جو اس پر لگایا جاتا ہے اپنی مردانہ ہمت سے پاک کرکے دکھلا۔ بیشک شہنشاہوں کے حضور میں ان کی استمزاج سے پہلے بات کرنا اپنی جان سے بازی ہوتی ہے لیکن اس وقت ہم یسوع مسیح کی عزت کے لئے ہر ایک خطرہ کو قبول کرتے ہیں اور محض اس کی طرف سے رسالت لے کر بحیثیت ایک سفیر کے اپنے عادل بادشاہ کے حضور میں کھڑے ہوگئے ہیں۔ اے ہماری ملکہ معظمہ! تیرے پر بیشمار برکتیں نازل ہوں۔ خدا تیرے وہ تمام فکر دور کرے جو تیرے دل میں ہیں۔ جس طرح ہو سکے اس سفارت کو قبول کر۔ تمام مذہبی مقدمات میں یہی ایک قانون قدیم سے چلا آیا ہے کہ جب کسی بات میں دو فریق تنازعہ کرتے ہیں تو اول منقولات کے ذریعہ سے اپنے تنازعہ کو فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ اور جب منقولات سے وہ فیصلہ نہیں ہو سکتا تو معقولات کی طرف توجہ کرتے ہیں اور عقلی دلائل سے تصفیہ کرنا چاہتے ہیں۔ اور جب کوئی مقدمہ عقلی دلائل سے بھی طے ہونے میں نہیں آتا تو آسمانی فیصلہ کے خواہاں
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 278
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 278
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/278/mode/1up
    ہوتے ہیں۔ اور آسمانی نشانوں کو اپنا حَکَم ٹھہراتے ہیں لیکن اے مخدومہ ملکہ معظمہ یسوع مسیح کی بریّت کے بارے میں یہ تینوں ذریعے شہادت دیتے ہیں۔ منقول کے ذریعہ سے اس طرح کہ تمام نوشتوں سے پایا جاتا ہے کہ یسوع دل کا غریب اور حلیم اور خدا سے پیار کرنے والا اور ہردم خدا کے ساتھ تھا پھر کیونکر تجویز کیا جائے کہ کسی وقت نعوذ باللہ اس کا دل خدا سے برگشتہ اور خدا کا منکر اور خدا کا دشمن ہو ؔ گیا تھا جیسا کہ *** کا مفہوم دلالت کرتا ہے اور عقل کے ذریعہ سے اس طرح پر کہ عقل ہرگز باور نہیں کرتی کہ جو خدا کا نبی اور خدا کا وحید اور اسکی محبت سے بھرا ہوا ہو اور جس کی سرشت نور سے مخمّر ہو اس میں نعوذ باللہ بے ایمانی اور نافرمانی کی تاریکی آجائے۔ یعنی وہی تاریکی جس کو دوسرے لفظوں میں *** کہتے ہیں۔ اور آسمانی نشانوں کے رو سے اس طرح پر کہ خدا اب آسمانی نشانوں کے ذریعہ سے خبر دے رہا ہے کہ مسیح کی نسبت جو قرآن نے بیان کیا کہ وہ *** سے محفوظ رہا اور ایک سیکنڈ کے لئے بھی اس کا دل *** نہیں ہوا یہی سچ ہے۔ وہ نشان اس عاجز کے ذریعہ سے ظاہر ہو رہے ہیں اور بہت سے نشان ظاہر ہو چکے ہیں اور بارش کی طرح برستے ہیں۔ سو اے ہماری عالم پناہ ملکہ خدا تجھے بے شمار فضلوں سے معمور کرے۔ اس مقدمہ کو اپنی قدیم منصفانہ عادت کے ساتھ فیصلہ کر۔
    میں بادب ایک اورعرض کرنے کیلئے بھی جرأت کرتا ہوں کہ تواریخ سے ثابت ہے کہ قیاصرہ روم میں سے جب تیسراقیصر روم تخت نشین ہوا اور اس کا اقبال کمال کو پہنچ گیا تو اسے اس بات کی طرف توجہ پیدا ہوئی کہ دو مشہور فرقہ عیسائیوں میں جو ایک موَحّد اور دوسرا حضرت مسیح کو خدا جانتا تھا باہم بحث کراوے۔ چنانچہ وہ بحث قیصر روم کے حضور میں بڑی خوبی اور انتظام سے ہوئی اور بحث کے سننے کیلئے معزز ناظرین اور ارکان دولت کی صدہا کرسیاں بلحاظ رتبہ و مقام کے بچھائی گئیں اور دونوں فریق کے پادریوں کی چالیس دن تک بادشاہ کے حضور میں بحث ہوتی رہی۔ اور قیصر روم بخوبی فریقین
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 279
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 279
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/279/mode/1up
    کے دلائل کو سنتا رہا اور ان پر غور کرتا رہا۔ آخر جو مؤحّد فرقہ تھا اور حضرت یسوع مسیح کو صرف خدا کا رسول اور نبی جانتا تھا وہ غالب آگیا اور دوسرے فرقہ کو ایسی شکست آئی کہ اسی مجلس میں قیصر روم نے ظاہر کر دیا کہ میں نہ اپنی طرف سے بلکہ دلائل کے زور سے مؤحد فرقہ کی طرف کھینچا گیا۔ اور قبل اس کے جو اس مجلس سے اٹھے توحید کا مذہب اختیار کرلیا۔ اور اُن مؤحّد عیسائیوں میں سے ہوگیا جن کا ذکر قرآن شریف میں بھی ہے۔ اور بیٹا اور خدا کہنے سے دستبردار ہوگیا اور پھر تیسرے قیصر تک ہر ایک وارث تخت روم موَحّد ہوتا رہا۔ اس سے پتہ ؔ لگتا ہے کہ ایسے مذہبی جلسے پہلے عیسائی بادشاہوں کا دستور تھا اور بڑی بڑی تبدیلیاں ان سے ہوتی تھیں۔ ان واقعات پر نظر ڈالنے سے نہایت آرزو سے دل چاہتا ہے کہ ہماری قیصرہ ہند دام اقبالہا بھی قیصر روم کی طرح ایسا مذہبی جلسہ پایہ تخت میں انعقاد فرماویں کہ یہ روحانی طور پر ایک یادگار ہوگی۔ مگر یہ جلسہ قیصر روم کی نسبت زیادہ توسیع کے ساتھ ہونا چاہئے۔ کیونکہ ہماری ملکہ معظمہ بھی اس قیصر کی نسبت زیادہ وسعت اقبال رکھتی ہیں۔ اور اس التماس کا ایک یہ بھی سبب ہے کہ جب سے کہ اس ملک کے لوگوں نے امریکہ کے جلسہ مذاہب سے اطلاع پائی ہے طبعاً دلوں میں یہ جوش پیدا ہوگیا ہے کہ ہماری ملکہ معظمہ بھی خاص لندن میں ایسا جلسہ منعقد فرمائیں تاکہ اس تقریب سے اس ملک کی خیر خواہ رعایا اور ان کے رئیسوں اور عالموں کے گروہ خاص لندن پایہ تخت میں شرف لقاء حضور حاصل کرسکیں اور اس تقریب سے ملکہ معظمہ کو بھی اپنے برٹش انڈیا کی وفادار رعایا کے ہزار ہا چہروں پر یکدفعہ نظر پڑ سکے اور چند ہفتہ تک لندن کے کوچوں اور گلیوں میں ہندوستان کے معزز باشندے سیر کرتے ہوئے نظر آئیں۔ ہاں یہ ضروری ہوگا کہ اس جلسہ مذاہب میں ہر ایک شخص اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے دوسروں سے کچھ تعلق نہ رکھے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ جلسہ بھی ہماری ملکہ معظمہ کی طرف سے ہمیشہ کیلئے ایک روحانی یادگار ہوگا۔ اور انگلستان جس کے کانوں تک بڑی خیانتوں
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 280
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 280
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/280/mode/1up
    کے ساتھ اسلامی واقعات پہنچائے گئے ہیں ایک سچے نقشہ پر اطلاع پاجائیگا۔ بلکہ انگلستان کے لوگ ہر ایک مذہب کی سچی فلاسفی سے مطلع ہو جائیں گے۔ یہ بات بھروسہ کرنے کے لائق نہیں ہے کہ پادریوں کے ذریعہ سے ہندوستان کے مذاہب کی حقیقت انگلستان کو پہنچتی رہتی ہے کیونکہ پادریوں کی کتابیں جن میں وہ دوسرے مذاہب کا ذکر کرتے ہیں اس کثیف نالی کی طرح ہیں جس کا پانی بہت سی میل کچیل اور خس و خاشاک ساتھ رکھتا ہے پادری صاحبان سچائی کی حقیقت کو کھولنا نہیں چاہتے بلکہ چھپانا چاہتے ہیں۔ اور انکی تحریروں میں تعصب کی ایسی رنگ آمیزی ہے جس کی وجہ سے انگلستان تک مذاہب کی اصل حقیقت پہنچنا مشکل بلکہؔ محال ہے۔ اگر ان میں نیک نیتی ہوتی تو وہ قرآن پر ایسے اعتراض نہ کرتے جو موسیٰ کی توریت پر بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر ان کو خدا کا خوف ہوتا تو وہ ان کتابوں کو اعتراض کے وقت تمسّک بہا نہ ٹھہراتے۔ جو مسلمانوں کے نزدیک غیر مسلّم اور یقینی سچائیوں سے خالی ہیں۔ اس لئے انصاف یہی حکم دیتا ہے کہ اگر سارا یورپ فرشتہ سیرت بھی ہو مگر پادری اس سے مستثنیٰ ہیں۔ یورپ کے عیسائی جو اسلام کو نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اس کا یہی سبب ہے کہ قدیم سے یہی پادری صاحبان خلاف واقعہ قصوں کو پیش کر کے تحقیر کا سبق ان کو دیتے چلے آئے ہیں۔ ہاں میں قبول کرتا ہوں کہ بعض نادان مسلمانوں کا چال چلن اچھا نہیں اور نادانی کی عادات ان میں موجود ہیں۔ جیسا کہ بعض وحشی مسلمان ظالمانہ خونریزیوں کا نام جہاد رکھتے ہیں اور انہیں خبر نہیں کہ رعیت کا عادل بادشاہ کے ساتھ مقابلہ کرنا اس کا نام بغاوت ہے نہ کہ جہاد۔ اور عہد توڑنا اور نیکی کی جگہ بدی کرنا اور بے گناہوں کو مارنا اس حرکت کا مرتکب ظالم کہلاتا ہے نہ غازی۔
    سویہ خیالات پادریوں کی بدفہمی سے پیدا ہوئے ہیں خدا کی کتاب میں اسکا نشان نہیں۔ خدا کاکلام ظالمانہ تلوار اٹھانے والوں کیلئے تلوار کی سزا بیان فرماتا ہے نہ کہ امن قائم کرنے والوں، رعیت پرور اور ہر ایک قوم کو آزادی کے حقوق دینے والوں
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 281
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 281
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/281/mode/1up
    کی نسبت سرکشی کی تعلیم کرتا ہے۔ خدا کی کلام کو بدنام کرنا یہ بددیانتی ہے۔ لہٰذا انسانوں کی بھلائی کے لئے یہ بات نہایت قرین مصلحت ہے کہ جناب قیصرہ ہند کی طرف سے اصلیت مذاہب شائع کرنے کے لئے جلسہ مذاہب ہو۔
    یہ بھی عرض کر دینے کے لائق ہے کہ اسلامی تعلیم کے رو سے دین اسلام کے حصے صرف دو ہیں یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ تعلیم دو بڑے مقاصد پر مشتمل ہے۔ اول ایک خدا کو ؔ جاننا۔ جیسا کہ وہ فی الواقعہ موجود ہے۔ اور اس سے محبت کرنا اور اسکی سچی اطاعت میں اپنے وجود کو لگانا جیسا کہ شرط اطاعت و محبت ہے۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ اس کے بندوں کی خدمت اور ہمدردی میں اپنے تمام قویٰ کو خرچ کرنا اور بادشاہ سے لے کر ادنیٰ انسان تک جو احسان کرنیوالا ہو شکر گزاری اور احسان کے ساتھ معاوضہ کرنا۔ اسی لئے ایک سچا مسلمان جو اپنے دین سے واقعی خبر رکھتا ہو اس گورنمنٹ کی نسبت جس کی ظل عاطفت کے نیچے امن کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے ہمیشہ اخلاص اور اطاعت کا خیال رکھتا ہے اور مذہب کا اختلاف اس کو سچی اطاعت اور فرمانبرداری سے نہیں روکتا۔ لیکن پادریوں نے اس مقام میں بھی بڑا دھوکہ کھایا ہے اور ایسا سمجھ لیا ہے کہ گویا اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس کا پابند دوسری قوموں کا بدخواہ اور بد اندیش بلکہ انکے خون کا پیاسا ہوتا ہے۔ ہاں یہ قبول کر سکتے ہیں کہ بعض مسلمانوں کی عملی حالتیں اچھی نہیں ہیں۔ اور جیسا کہ ہر ایک مذہب کے بعض لوگ غلط خیالات میں مبتلا ہو کر نالائق حرکات کے مرتکب ہو جاتے ہیں اسی قماش کے بعض مسلمان بھی پائے جاتے ہیں۔ مگر جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے یہ خدا کی تعلیم کا قصور نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کی سمجھ کا قصور ہے جو خدا کی کلام میں تدبّر نہیں کرتے اور اپنے نفس کے جذبات کے تابع رہتے ہیں۔ خاص کر جہاد کا مسئلہ جو بڑے نازک شرائط سے وابستہ تھا بعض نادانوں اور کم عقلوں نے ایسا الٹا سمجھ لیا ہے کہ اسلامی تعلیم سے بہت ہی دور جا پڑے
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 282
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 282
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/282/mode/1up
    ہیں۔ اسلام ہمیں ہرگز یہ نہیں سکھلاتا کہ ہم ایک غیر قوم اور غیر مذہب والے بادشاہ کی رعایا ہوکر اور اسکے زیر سایہ ہر ایک دشمن سے امن میں رہ کر پھر اسی کی نسبت بد اندیشی اور بغاوت کا خیال دل میں لاویں۔ بلکہ وہ ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ اگر تم اس بادشاہ کا شکر نہ کرو جس کے زیر سایہ تم امن میں رہتے ہو تو پھر تم ؔ نے خدا کا شکر بھی نہیں کیا۔ اسلام کی تعلیم نہایت پُرحکمت تعلیم ہے اور وہ اسی نیکی کو حقیقی نیکی قرار دیتا ہے جو اپنے موقعہ پر چسپاں ہو۔ وہ صرف رحم کو پسند نہیں کرتا جب تک انصاف اس کے ساتھ نہ ہو۔ اور صرف انصاف کو پسند نہیں کرتا جب تک اس کا ضروری نتیجہ رحم نہ ہو۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ قرآن نے ان باریک پہلوؤں کا لحاظ کیا ہے جو انجیل نے نہیں کیا۔ انجیل کی تعلیم ہے کہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری بھی پھیر دی جائے۔ مگر قرآن کہتاہے۔33 ۱؂ یعنی اصول انصاف یہی ہے کہ جس کو دکھ پہنچایا گیا ہے وہ اسی قدر دکھ پہنچانے کا حق رکھتا ہے۔ لیکن اگر کوئی معاف کردے اور معاف کرنا بے محل نہ ہو بلکہ اس سے کوئی اصلاح پیدا ہوتی ہو تو ایسا شخص خدا سے اجر پائے گا۔ ایسا ہی انجیل کہتی ہے کہ کسی نامحرم کی طرف شہوت سے مت دیکھ‘‘۔ مگر قرآن کہتا ہے کہ نامحرم کی طرف ہرگز نہ دیکھ نہ شہوت سے اور نہ غیر شہوت سے۔ کیونکہ پاک دل رہنے کیلئے اس سے عمدہ تر کوئی ذریعہ نہیں ہے۔
    اسی طرح قرآن عمیق حکمتوں سے پُر ہے۔ اور ہر ایک تعلیم میں انجیل کی نسبت حقیقی نیکی کے سکھلانے کیلئے آگے قدم رکھتا ہے۔ بالخصوص سچّے اور غیر متغیر خدا کے دیکھنے کا چراغ تو قرآن ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اگر وہ دنیا میں نہ آیا ہوتا تو خدا جانے دنیا میں مخلوق پرستی کا عدد کس نمبر تک پہنچ جاتا۔ سو شکر کا مقام ہے کہ خدا کی وحدانیت جو زمین سے گم ہوگئی تھی۔ دوبارہ قائم ہوگئی۔
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 283
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 283
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/283/mode/1up
    اورؔ پھر دوسرا شکر یہ ہے کہ وہ خدا جو کبھی اپنے وجود کو بے دلیل نہیں چھوڑتا وہ جیسا کہ تمام نبیوں پر ظاہر ہوا اور ابتدا سے زمین کو تاریکی میں پاکر روشن کرتا آیا ہے اس نے اس زمانہ کو بھی اپنے فیض سے محروم نہیں رکھا۔ بلکہ جب دنیا کو آسمانی روشنی سے دور پایا تب اس نے چاہا کہ زمین کی سطح کو ایک نئی معرفت سے منوّر کرے اور نئے نشان دکھائے اور زمین کو روشن کرے۔
    سو اس نے مجھے بھیجا
    اور میں اس کا شکر کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایک ایسی گورنمنٹ کے سایۂ رحمت کے نیچے جگہ دی جس کے زیر سایہ میں بڑی آزادی سے اپنا کام نصیحت اور وعظ کا ادا کر رہا ہوں۔ اگرچہ اس محسن گورنمنٹ کا ہر ایک پر رعایا میں سے شکر واجب ہے مگر میں خیال کرتا ہوں کہ مجھ پر سب سے زیادہ واجب ہے کیونکہ یہ میرے اعلیٰ مقاصد جو جناب قیصرہ ہند
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 284
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 284
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/284/mode/1up
    کی ؔ حکومت کے سایہ کے نیچے انجام پذیر ہو رہے ہیں ہرگز ممکن نہ تھا کہ وہ کسی اور گورنمنٹ کے زیر سایہ انجام پذیر ہو سکتے۔ اگرچہ وہ کوئی اسلامی گورنمنٹ ہی ہوتی۔
    اب میں حضور ملکہ معظمہ میں زیادہ مصدع اوقات ہونا نہیں چاہتا۔ اور اس دعا پر یہ عریضہ ختم کرتا ہوں۔ کہ
    اے قادر و کریم اپنے فضل و کرم سے ہماری ملکہ معظمہ کو خوش رکھ جیسا کہ ہم اس کے سایۂ عاطفت کے نیچے خوش ہیں۔ اور اس سے نیکی کر جیسا کہ ہم اس کی نیکیوں اور احسانوں کے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اور ان معروضات پر کریمانہ توجہ کرنے کے لئے اس کے دل میں آپ الہام کر کہ ہر ایک قدرت اور طاقت تجھی کو ہے۔
    آمین ثم آمین
    الملتمس
    خاکسار میرزا غلام احمد از قادیان
    ضع گورداسپورہ پنجاب
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 285
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 285
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/285/mode/1up
    3
    نَحْمَدہٗ وَ نُصَلِّیْ
    جلسۂ احباب
    برتقریب جشن جوبلی بغرض دعا و شکر گذاری
    جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دَام ظِلّہا
    ہم بڑی خوشی سے اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام ظلّہا کے جشن جوبلی کی خوشی اور شکریہ کے ادا کرنے کے لئے میری جماعت کے اکثر احباب دور دور کی مسافت قطع کر کے ۱۹؍ جون ۱۸۹۷ء کو ہی قادیان میں تشریف لائے اور یہ سب ۲۲۵ آدمی تھے۔ اور اس جگہ کے ہمارے مرید اور مخلص بھی ان کے ساتھ شامل ہوئے جن سے ایک گروہ کثیر ہوگیا اور وہ سب ۲۰؍جون ۱۸۹۷ء کو اس مبارک تقریب میں باہم مل کر دعا اور شکر باری تعالیٰ میں مصروف ہوئے اور جیسا کہ اشتہار وائس پریذیڈنٹ جنرل کمیٹی اہل اسلام ہند جناب خانصاحب محمد حیات خان صاحب سی ایس آئی میں اس بارے میں ہدایتیں تھیں۔ بفضلہ تعالیٰ اسی کے موافق سب مراسم خوشی عمدہ طور پر ظہور میں آئیں چنانچہ ۲۰؍ جون ۱۸۹۷ء کو ہماری طرف سے مبارکباد کی تار برقی بحضور وائسرائے گورنر جنرل کشور ہند بمقام شملہ روانہ کی گئی اور اسی روز سے ۲۲؍جون ۱۸۹۷ء تک غریبوں اور درویشوں کو برابر کھانا دیا گیا۔ مگر ۲۱؍جون ۱۸۹۷ء کو اس خوشی کے اظہار کے لئے
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 286
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 286
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/286/mode/1up
    ایکؔ بڑی دعوت کا سا6مان ہوا۔ اور اس قصبہ کے غربا اور درویش دعوت کے لئے بلائے گئے اور جیسا کہ شادیوں کے موقع پر کھانے پکائے جاتے ہیں ایسا ہی بڑے تکلف سے کھانے طیّار ہوئے اور تمام حاضرین کو کھلائے گئے۔ اس روز تین سو سے زیادہ آدمی تھے جو دعوت میں شریک ہوئے۔ پھر ۲۲؍ جون کی رات کو چراغاں ہوئی اور کوچوں اور گلیوں اور مسجدوں اور گھروں میں شام ہوتے ہی نظرگاہ عام پر چراغ روشن کرائے گئے اور غریبوں کو اپنے پاس سے تیل دیا گیا۔ اور علاوہ اس کے اظہار مسرت کے لئے عام دعوت میں لوگوں کو شامل کیا گیا۔
    غرض یہ مبارک جلسہ تمام احباب کا جنہوں نے بڑی خوشی سے باہم چندہ کر کے اس کا اہتمام کیا۔ ۲۰؍ جون ۱۸۹۷ء سے شروع ہوا اور ۲۲؍ جون ۱۸۹۷ء کی شام تک بڑی دھوم دھام سے اس کا اہتمام رہا۔ چنانچہ پہلے روز میں تمام جماعت نے جو ہمارے مریدوں کی جماعت ہے جن کے ذیل میں نام درج ہوں گے بڑے صدق دل سے حضور قیصرہ اور خاندان شاہی اور برٹش گورنمنٹ کے حق میں اقبال اور شمول فضل الٰہی کی دعائیں کیں۔ اور پھر جیسا کہ بیان کیا گیا وقتاً فوقتاً تمام مراسم ادا کئے گئے۔ اور خداتعالیٰ کا شکر ہے کہ ہماری جماعت نے جس میں معزز ملازم سرکاری بھی شامل تھے ایسے صدق دل اور محبت اور پوری ارادت اور پورے شوق اور انبساط سے دعائیں کیں اور شکرگزاری ظاہر کی اور اہتمام غرباء کی دعوت میں چندے دئیے اور ایک رقم کثیر باہمی چندہ سے جمع کر کے بڑی سرگرمی اور مستعدی اور دلی خوشی سے تمام تجاویز جنرل کمیٹی کو انجام تک پہنچایا کہ اس سے بڑھ کر خیال میں نہیں آ سکتا۔
    اور وہ تقریر جو دعا اور شکرگذاری جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند میں سنائی گئی جس پر لوگوں نے بڑی خوشی سے آمین کے نعرے مارے وہ چھ زبانوں میں بیان کی گئی تا ہمارے پنجاب کے ملک میں جس قدر مسلمان
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 287
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 287
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/287/mode/1up
    کسیؔ زبان میں دسترس رکھتے ہیں ان تمام زبانوں سے شکر ادا ہو۔ ان میں سے ایک اردو میں تقریر تھی جو شکر اور دعا پر مشتمل تھی جو عام جلسہ میں سنائی گئی اور پھر عربی اور فارسی اور انگریزی اور پنجابی اور پشتو میں تقریریں قلمبند ہو کر پڑھی گئیں۔ اردو میں اس لئے کہ وہ عدالت کی بولی اور شاہی تجویز کے موافق دفتروں میں رواج یافتہ ہے۔ اور عربی میں اس لئے کہ وہ خدا کی بولی ہے جس سے دنیا کی تمام زبانیں نکلیں اور جو اُمّ الالسنہ اور دنیا کی تمام زبانوں کی ماں ہے۔ جس میں خدا کی آخری کتاب قرآن شریف خلقت کی ہدایت کیلئے آیا۔ اور فارسی میں اس لئے کہ وہ گذشتہ اسلامی بادشاہوں کی یادگار ہے جنہوں نے اس ملک میں قریباً سات سو برس تک فرمان روائی کی اور انگریزی میں اس لئے کہ وہ ہماری جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند اور اسکے معزز ارکان کی زبان ہے جس کے عدل اور احسان کے ہم شکرگذار ہیں اور پنجابی میں اس لئے کہ وہ ہماری مادری زبان ہے جس میں شکر کرنا واجب ہے۔ اور پشتو میں اس لئے کہ وہ ہماری زبان اور فارسی زبان میں ایک برزخ اور سرحدی اقبال کا نشان ہے۔
    اسی تقریب پر ایک کتاب شکرگذاری جناب قیصرہ ہند کے لئے تالیف کر کے اور چھاپ کر اس کا نام تحفہ قیصریہ رکھا گیا اور چند جلدیں اس کی نہایت خوبصورت مجلد کرا کے ان میں سے ایک حضرت قیصرہ ہند کے حضور میں بھیجنے کیلئے بخدمت صاحب ڈپٹی کمشنر بھیجی گئی اور ایک کتاب بحضور وائسرائے گورنر جنرل کشور ہند روانہ ہوئی اور ایک بحضور جناب نواب لیفٹنٹ گورنر پنجاب بھیج دی گئی۔ اب وہ دعائیں جو چھ زبانوں میں کی گئیں ذیل میں لکھی جاتی ہیں۔ اور بعد اس کے ان تمام دوستوں کے نام درج کئے جائیں گے جو تکالیف سفر اٹھا کر اس جلسہ کیلئے قادیان میں تشریف لائے اور اس سخت گرمی میں اس خوشی کے جوش میں مشقتیں اٹھائیں یہاں تک کہ بباعث ایک گروہ کثیر جمع ہونے کے اس قدر چارپائیاں نہ مل سکیں تو بڑی
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 288
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 288
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/288/mode/1up
    خوشیؔ سے تین دن تک اکثر احباب زمین پر سوتے رہے۔ جس اخلاص اور محبت اور صدق دل کے ساتھ میری جماعت کے معزز اصحاب نے اس خوشی کی رسم کو ادا کیا میرے پاس وہ الفاظ نہیں کہ میں بیان کر سکوں۔
    میں اپنے پہلے بیان میں یہ ذکر بھول گیا تھا کہ اس تقریب جلسہ میں ۲۲؍جون ۱۸۹۷ء کو ہماری جماعت کے چار مولوی صاحبان نے اٹھ کر عام لوگوں کو جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی اطاعت اور سچی وفاداری کی ترغیب دی۔ چنانچہ پہلے اخویم مولوی عبدالکریم صاحب نے اٹھ کر اس بارے میں بہت تقریر کی پھر اخویم حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب بھیروی نے تقریر کی۔ اور پھر بعد انکے اخویم مولوی برہان الدین صاحب جہلمی اٹھے اور انہوں نے پنجابی میں تقریر کرکے عام لوگوں کو اطاعت ملکہ معظمہ کیلئے بہت ترغیب دی۔ بعد ان کے مولوی جمال الدین صاحب سیدوالہ ضلع منٹگمری نے اٹھ کر پنجابی میں تقریر کی۔ مگر انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام جن کو نادان مسلمان اب تک خونریز کی صورت میں انتظار کر رہے ہیں وہ درحقیقت فوت ہوگئے ہیں۔ یعنی ایسے خیال کہ کسی وقت مہدی اور مسیح کے آنے سے مسلمان خونریزیاں کریں گے صحیح نہیں ہے اور عام لوگوں کو نیک بختی اور نیک چلنی کی ترغیب دی گئی۔ اور اس مبارک موقعہ پر ساٹھ ستر آدمیوں نے ہر ایک گناہ اور بدچلنی سے رو رو کر توبہ کی یہاں تک کہ انکی گریہ و زاری سے مسجد گونج رہی تھی۔
    اب ذیل میں وہ دعائیں چھ۶ زبانوں میں درج کی جاتی ہیں:
    الراقم میرزا غلام احمد قادیانی ۲۳؍ جون ۱۸۹۷ء
    دعا اور آمین اردو زبان میں
    اے مخلصان باصدق و صفا و محبّان بے ریا جس امر کے لئے آپ سب صاحبان تکلیف فرما ہو کر اس عاجز کے پاس قادیان میں پہنچے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کے احسانات کو یاد کر کے ان کی سلطنت
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 289
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 289
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/289/mode/1up
    درازؔ شصت سالہ کے پوری ہونے پر اس خدائے عزّوجل کا شکر کریں جس نے محض لطف و احسان سے ایک لمبے زمانہ تک ایسی ملکہ محسنہ کے زیر سایہ ہمیں ہر ایک طرح کے امن سے رکھا۔ جس سے ہماری جان و مال و آبرو جابروں اور ظالموں کے حملہ سے امن میں رہی۔ اور ہم تمام تر آزادی سے خوشی اور راحت کے ساتھ زندگی بسر کرتے رہے۔ اور نیز اس وقت ہمیں بغرض ادائے فرض شکر گذاری جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کے لئے جناب الٰہی میں دعا کرنی چاہئے کہ جس طرح ہم نے ان کی سلطنت میں امن پایا اور ان کے زیر سایہ رہ کر ہر ایک شریر کی شرارت سے محفوظ رہے اسی طرح خداتعالیٰ جناب ممدوحہ کو بھی جزاءِ خیر بخشے۔ اور ان کو ہر ایک بلا اور صدمہ سے محفوظ رکھے اور اقبال اور کامیابی میں ترقیات عطا فرمائے اور ان سب مرادوں اور اقبالوں اور خوشیوں کے ساتھ ایسا فضل کرے کہ انسان پرستی سے ان کے دل کو چھڑا دیوے۔ اے دوستو! کیا تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتے ہو اور کیا تم اس بات کو بعید سمجھتے ہو کہ ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کے دین اور دنیا دونوں پر خدا کا فضل ہو جائے۔ اے عزیزو! اس ذات قادر مطلق کی عظمتوں پر کامل ایمان لاؤ جس نے وسیع آسمانوں کو بنایا اور زمین کو ہمارے لئے بچھایا اور دو چمکتے ہوئے چراغ ہمارے آگے رکھ دئیے جو آفتاب اور ماہتاب ہے۔ سو سچے دل سے حضرت احدیت میں اپنی محسنہ ملکہ قیصرہ ہند کے دین اور دنیادونوں کے لئے دعا کرو۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جب تم سچے دل سے اور روح کے جوش کے ساتھ اور پوری امید کے ساتھ دعا کرو گے تو خدا تمہاری سنے گا۔ سو ہم دعا کرتے ہیں اور تم آمین کہو کہ اے قادر توانا جس نے اپنی حکمت اور مصلحت سے اس محسنہ ملکہ کے زیر سایہ ایک لمبا حصہ ہماری زندگی کا بسر کرایا اور اس کے ذریعہ سے ہمیں صدہا آفتوں سے بچایا اس کو بھی آفتوں سے بچا کہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔ اے قادر توانا! جیسا کہ ہم اس کے زیر سایہ رہ کر کئی صدموں سے
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 290
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 290
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/290/mode/1up
    بچا ؔ ئے گئے اس کو بھی صدمات سے بچا کہ سچی بادشاہی اور قدرت اور حکومت تیری ہی ہے۔ اے قادر توانا ہم تیری بے انتہا قدرت پر نظر کر کے ایک اور دعا کے لئے تیری جناب میں جرأت کرتے ہیں کہ ہماری محسنہ قیصرہ ہند کو مخلوق پرستی کی تاریکی سے چھڑا کر لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ پر اس کا خاتمہ کر۔ اے عجیب قدرتوں والے! اے عمیق تصرفوں والے! ایسا ہی کر۔ یا الٰہی یہ تمام دعائیں قبول فرما۔ تمام جماعت کہے کہ آمین۔ اے دوستو اے پیارو۔ خدا کی جناب بڑی قدرتوں والی جناب ہے۔ دعا کے وقت اس سے نومید مت ہو کیونکہ اس ذات میں بے انتہا قدرتیں ہیں اور مخلوق کے ظاہر اور باطن پر اسکے عجیب تصرف ہیں سو تم نہ منافقوں کی طرح بلکہ سچے دل سے یہ دعائیں کرو۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ بادشاہوں کے دل خدا کے تصرف سے باہر ہیں؟ نہیں بلکہ ہر ایک امر اس کے ارادہ کے تابع اور اس کے ہاتھ کے نیچے ہے۔ سو تم اپنی محسنہ قیصرہ ہند کیلئے سچے دل سے دنیا کے آرام بھی چاہو اور عاقبت کے آرام بھی۔ اگر وفادارہو تو راتوں کو اٹھ کر دعائیں کرو۔ اور صبح کو اٹھ کر دعائیں کرو۔ اور جو لوگ اس بات کے مخالف ہوں انکی پرواہ نہ کرو۔ چاہئے کہ ہر ایک بات تمہاری صدق اور صفائی سے ہو اور کسی بات میں نفاق کی آمیزش نہ ہو۔ تقویٰ اور راستبازی اختیار کرو۔ اور بھلائی کرنے والوں سے سچے دل سے بھلائی چاہو تا تمہیں خدا بدلہ دے کیونکہ انسان کو ہر ایک نیکی کے کام کا نیک بدلہ ملے گا۔
    اب زیادہ الفاظ جمع کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہی دعا ہے کہ خدا ہماری یہ دعائیں سنے۔ والسلام
    الدّعَاءُ والتَّامین فی العَرَبیَّۃ
    ایّھا الاحبّاء المخلصون۔ والاصدقاء المسترشدون۔ جزاکم اللّٰہ خیر الجزاء۔ وحفظکم فی الکونین من البلاء۔ انکم قاسیتم متاعب السّفر و شوائبہ۔ و ذُقتم شدائد الحرّ ونوائبہ۔ وجئتمونی مُدلجین
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 291
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 291
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/291/mode/1up
    مدّلجین مُکابدین۔ لتشکروا اللّٰہ فی مکانی ھٰذا مجتمعین۔ وتکثروا الدّعاء لقیصرۃ الھند شاکرین ذاکرین۔ وتدعون دعوۃ المخلصین۔ یاعباد اللّٰہ لا تعجبوا لدعواتنا وشکرنا فی تقریب الجوبلی۔ وتعلمون ماقال سیدّنا امام کل نبیّ وولی۔ وخاتم النبیّین ۔ انہ مَنْ لم یشکر الناس فما شکر اللّٰہ وَ اللّٰہ یحبّ المحسنین۔ ثمّ تعلمون انّ اموالنا واعراضنا ودماء نا قد حفظتھا العنایۃ الالٰھیّۃ بھٰذہ الملکۃ المعظمۃ۔ وجعلھا اللّٰہ مؤیّدۃ لنا فی المھمّات الدنیویّۃ والدّینیّۃ۔ فالشکر واجب علٰی مافعل ربّنا ذوالجلال والعزۃ ومن اعرض فقد کفر بالنعم الرحمانیۃ۔ واللّٰہ یحبّ الشاکرین۔ ایّھا النّاس ھذا یوم یجب فیہ اظہار الشکر والمسرّۃ مع الدّعاء باخلاص النیّۃ۔ فاردنا اَنْ نقبلہ بمراسم التھانی والتبریک والتھنیّۃ۔ ورفع اکفّ الابتھال والضراعۃ۔ وتذلّل یلیق بحضرۃ الاحدیۃ۔ وانارۃ الماٰذن والمساجد والسکک والبیوت بالمصابیح والشھب النورانیّۃ۔ وانما الاعمال بالنیات المخفیۃ من اعین العامۃ ۔ واللّٰہ یری مافی قلوب العالمین ۔ یاعباد اللّٰہ الرحمان۔ ھل جزاء الاحسان الّا الاحسان۔ فلا تظنواظنّ السوء ۔ مستعجلین والاٰن ادعوا لقیصرۃ بخلوص النیّۃ۔ فامّنو علٰی دعائی یامعشر الاحبّۃ۔ واتّقوا اللّٰہ ولا تنسوا منّ اللّٰہ و منّ عبادہ من الخواص والعامۃ ۔ ولا تعثوا مفسدین۔
    یاربّ اَحسِنْ الٰی ھٰذہ الملکۃ۔ کما احسنت الینا بانواع العطیّۃ۔ واحفظھا مِن شرّ الظالمین ۔ یاربّ شیّد واعضد دعائم سریرھا۔ واجعلھا فائزۃ فی مھمّاتھا وصُنھا من نوائب الدنیا وآفاتھا۔ وبارک فی عمرھا و حیاتھا
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 292
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 292
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/292/mode/1up
    یااؔ رحم الراحمین ۔ یاربّ ادخل الایمان فی جذر قلبھا ونجّھا و
    ذراریھا مِن ان یعبدوا المسیح ویکونوا من المشرکین ۔ یاربّ لا تتوفّھا الّا بعد ان تکون من المسلمین ۔ یاربّ انا ندعو لھا بأَلسنۃ صادقۃ وقلوب ملئت اخلاصا وحسن طویّۃ فاستجب یااَحْکم الحاکمین۔
    اجد الانام ببہجۃ مستکثرہ
    عید اتٰی او جوبلی القیصرۃ
    نشر التھانی فی المحافل کلھا
    فاری الوجوہ تھللت مُستبشرہ
    انّی اراھا نعمۃً من رَبّنا
    فالشکر حق واجب لا بربرہ
    لا شک ان سرورنا من شکرھا
    خیر فمن یعملہ اخلاصًا یرہ
    اَمَرَ النّبیُّ لشکر رجل محسن
    قُتل العنود المعتدی ما اکفرہ
    دُعا و آمین در زبانِ فارسی
    اے گروہ دوستان و جماعت مخلصان خدا شمار اجزاءِ خیرد ہد شما تکالیف گرمی موسم و صعوبت سفر برداشتہ نزدمن در قادیان بدین غرض رسیدہ اید کہ تا بر تقریب جشن جوبلی باجتماع اخوان خود شکر خدائے عزّو جل بجا آرید و برائے خیر دُنیا و دین ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دعا ہا کنید ۔می دانم کہ موجب ایں تکالیف و آنچہ برائے انعقاد ایں جلسہ باہم چندہ فراہم کردہ رسوم جلسہ بجا آوردہ اید باعث ایں ہمہ بجز اخلاص و محبّت چیزے دیگر نبودہ۔ پس دعا می کنم کہ خُدا تعالٰے شمارا پاداش ایں تکالیف دہد کہ محض برائے حصول مرضات او کشیدہ اید۔ اے دوستان می دانید کہ مادر عہد سعادت مہد قیصرہ ہند چہ آرا مہادیدیم و می بینیم وچہ قدر زندگی خود در امن و عافیت گذرانیدہ ایم و می گذرانیم۔ پس شرط انصاف این است کہ مابرائے ایں ملکہ مبارکہ از تہ دل دُعا کنیم چرا کہ ہر کہ شکر مردم محسن نہ کند شکر خدا بجا نیا وردہ است۔ پس ایں دعا ہامیکنم شما آمین بگوئید۔ اے قادر توانا بدیں ملکہ تونیکی کُن چنانکہ او بما کرد۔ و
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 293
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 293
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/293/mode/1up
    از ؔ شر ظالمان او را محفوظ دار۔ اے قادر توانا ستو نہائے سریر او بلند کُن و در مہمات خود اورا فائز گردان و از حوادث دُنیا و دین اُورانِگہ دار۔ و در عمر و زندگی او برکت بخش۔ اے قادر توانا اسلام در دِل اُو داخل کُن واُوْرا و اولاد اُو را از پرستش مسیح کہ بندۂ عاجز است نجات دِہ و از مشرکان اورا بیرون آر کہ ہمہ قدرت توداری۔ اے قادر توانا اور ا تا آن وقت وفات مدہ کہ بر راہِ راست اسلام ثابت قدم بودہ باشد۔ اے ربّ جلیل دعا ہائے ما قبول کُن ۔ آمین۔
    دُعَا نورْ آمِیْن پْو پَشْتو ژبَہ کِےْ
    اَیْ دمابُلْ دِخُدای دُوستُونْ خُداتا سِتَہ دِ خَیْر جَزا درْ کے تاسِہ خَلْق تکَلیْفَون پُخْپُلْ زَان بَاندِ آخِسْتی دَہْ دِمَا ححہ پوْ قَادِیَان لِپَارہ دِ دِغرَضْ رَاغْلِے وُہ کِہ دَِ ملِکہْ مُعظّمہ اِشْپْے تِےْ کالْ جَشْن اِسْتَاسْو اوْرُوْ رُوْنَ سرَہْ دِےْ خُدائے عزَوَجَلّ شُکرَ اَدا وُکروْاَوْر دِے مَلِکَہْ معظّمہ قَیْصرہ ھِنْد دُنْیائی خَیْرِ لپَارَہْ دُعا وکُوز پوْئے گمُ کِہ دِدِ تکلیفونَ سَبَبْ چہ جَلسَہْ دِپَارَہْ چِنْدَہ تولہ کَرَ ےْ وُہ بُلْ دِجَلسَہَ رسْم بَہَمْ پُوْرَہْ کَرَ ےْ وُہ دِ اِخْلاص اَود دِےْ حُجَتْ سِوا بُل شےْ نِدَےْ نورْ زِ دُعاکَوُمْ کِہْ خُدا صاحِبْ تاسُتَہ دِدِ تکلیفونَ اَجر وَرْکِيْ چہ صرْف دِ آغَہْ لِپَارَہْ تاسوْ آخِسْتَیْ دَہ ۔ اَے دوسْتونَ پویُگیْ چہ مُنگہْ دِ مَلِکہ کِے پوْ زمَانِے مِیْن سِرِنْکہْ آرام مُنْگہٌ لِیْدِلَےْ دَہْ اَوُزَہ سِرِنگہٌ دِخپُلْ زِنِدگی سَرَہْ بَسَرْکَرِیَْ ھَمْ دَہْ اَوْر بَسَرْبَہ اوکُوْ بَیا اِنْصَافْ دَادَہْ چِہْ مُنکہٌ دِ مَلِکَہْ دِ پارَہْ دُعا وَکُو وَلِے چہ ھَرْچَاچِہ دِ نیک سَرَیْ شُکرنَکیْ اَغَہْ دِ خُدای شُکر سِرِنَگہ کَوُلےْ شِیْ۔پَسْ زِ دُعَا کَوُمُ تَاسِہْ آمِیْن وَہ وَائی اےْ لوْئے خُدایا دِ مَلِکَہْ سَرَہْ نِیکیْ وُہ کَہْ اَغَہْ سِےْ چہ مُنَکَہٌ سَرِہُ اَغَہُ کَر ےْ دِے اَوْر دِ ظالمون دِشَرَہ اَغَہ اُوسَاتَہ یالوئے خُدایَادِ اَغہ دِ تَخْت اِسْتِنِ تہُ بِلُنْد
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 294
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 294
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/294/mode/1up
    اُوکرہ بُل دَدین اَورْدَ دنیا شِرُونَ اَغہ اُوسَاتَہ اَوْر پوْعُمُر بُلْ پُو اغَہَ زِنْدگی بَرَکَتْ کَرَہْ یا لوئے خُدَایَا اِسْلَامْ پوْ اَغَہ زِرَہْ بْنَہْ کَرہ یا لو7 ےِْ خُدایا مَلِکَہْ بُلْ دِ اَغَہ زو ےِْ بُلْ دِ اَغَہَ عَیَال دِےْ مَِسیحْ دےْ پَرسْتش چہ یَوْ عَاجِزْ سَرَ ے دَہ اوسَاتَہ اَوردِ مُشرِکُونَ دِگرُوھْنَہ اَغَہ اوباسَہْ چِہ تَہ قُدرَتْ لَرَ ےْ اَیْ لوئے خُدایَا تِرْاَغَہ وقْت مَلِکَہ مُرمُکَہُ چِہ مُسْلمَان شِیْ یالوئے خَدایَا اِمنگ دُعَاتہ قبَول کَرَہ۔
    مہارانی قیصرہ ہند دیاں ساریاں مُراداں پوریاں ہونْدی
    پنجابی وِچہ بَینتی
    سُنو میریو سچے دوستو تے پکے یارو جس گل واسطے تُسیں سارے پھائی اپنے سارے کم کُسا کے تے کشالہ کر کے میرے کول قادیان وچہ آئے او اوہ اک پھارامتبل ایہ ئے جے اسیں سارے دربار رانی ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دیاں احساناں تے مہربانیاں نوں یاد کر کے اوہدے سٹھ و رھیاں دے راج دے پورا ہونے دی اپنے ربّ دے درگاہے شکر کریئے تے ایس دے بے اوڑک کرم داگاون گائیے جس نے آپنیاں فضلاں تے کرماں دے نال ایڈے لمّے زمانے توڑیں سانوں اجیہی ملکہ معظمہ دے راج دے چھاویں پھاگاں سہاگاں نال رکھیا۔ جس تھیں اساں غریباں مسلماناں دیاں جاناں تے پُتاں تے مال ہتھیاریاں تے انیائیاں دے پنجیاں تھیں بچ گئے تے اسیں ہُن توڑیں من پھاؤ ندیاں خوشیاں تے انگنیاں چیناں دے نال اپنی زندگانی پوری کر دے رہے۔ تے دوجا متبل وڈا ایہ جے ہن اسیں اس ویلے جناب ملکہ معظمہ دا شکر پورا کرنے واسطے سچّے رب صاحب دی سچّی درگاہے ترلیاں تے جھیرگیان نال دعا کریئے کہ جس طرح ایس جگت دی رانی تے دھرمی تے لاڈ لڈیا نے والی ماتا دے راج وچہ رہ کے اساں آرام پایا تے اوس دی بادشاہی دی ٹھنڈی تے سنگھنی چھاں وچ ہر انر تھی دے انرتھوں بچکے مٹھیاں نیندراں سُتّے ہاں اوسیّ طرح دھرتی انبردا راجا سچّا ربّ ایسی ملکہ معظمہ نوں اینہاں پُنّاں داناند ابدلہ دے۔ تے اوہنو ہر اک تھکے تھوڑے تے ساریاں درداں تھیں آپنا ہتھ دے کے بچا رکھے۔ تے اقبال تے وڈیائی تے آساں امیداں دے پورا ہوون وِچہ وادھا بخشے تے ساریاں مُراداں پوریاں کرنے
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 295
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 295
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/295/mode/1up
    سمیتؔ اوستے ایسا فضل کرے تے اجیہا ترٹّھے جے بندہ پرستی تھیں اوسدے دِل نوں مٹھی نیندروں جگاوے تا ایہ ماتا آپنی جاؤ و اسمیت اک وحدہٗ لاشریک لہٗ جیوندے جاگدے دھرتی انبرتے ایس سارے اڈنبر دے سائیں دی پوجا ول آوے۔ تے د وہاں جگاں دا سدا سرگ پاوے۔ میریو پیاریویارو تسیں خدا دی قدرت تھیں اوپرا جاندے ہو۔ بھلا تسیں ایسی گل نوں اچرج تے انہونی سمجہدے ہو جے ساڈی جگ رانی ملکہ معظمہ دے دین تے دُنیاں تے خدا دا فضل ہوجائے۔ او پیاریو اُس ذات سگت و اندیاں وڈیائیاں تے پُورا ایمان لیاؤ جس نے ایڈا چوڑا تے اُچّا آسمان بنایا تے دھرتی نوں ساڈے واسطے و چھایا تے دو چمکدے دیوے انملے جگ چمکان والے ساڈیاں اکھیاں اگے رکھے۔ اک چندر ماہ دوجا سورج ماہ سوترلیاں تے ہاڑیاں تے دندیاں لہلکنے نال ربّ صاحب سچّے دی درگاہ وچہ اپنے سَد اُپنّاں داناّں والی ملکہ معظمہ دے دین تے دُنیاں واسطے دُعا منگو۔
    میں سچّو سچ کہناہاں جیکر تُسیں کچیاں تے دو۲ گلّیاں نوں سنگوں ہٹا کے تے سچّیاں تے اکولّیاں نوں ساتھ لے کے تے پوری امید نال نہیچہ بنّہ کے دُعا کرو گے تاں جگاں دا سچّا داتا تہاڈی دُعا ضرور سُنے گا۔ سو اسیں دُعا کرنے ہاں تے تسیں آمین آکھو۔ہے سچّیاسگتاں والیا سچیاسائیاں جدتوں آپنی حکمت تے مصلحت نال ایس دیاوان رانی دے راج دے ٹھنڈی چھاویں ساڈے جیونیدا اک لمّا حصّہ پورا کیتائی تے اوس دے سبّبوں ہزاراں آفتاں تے بلاواں تھیں سانوں بچایائی۔ تُوں اُوسْنو بھی آفتاں تھیں بچا جے توں ہر شَے تے سگت تے وسّ رکھنائیں۔ ہے قدرتاں والیاں جس طرح اسیں اوسدے راج وچہ دھکیاں دھوڑیاں تے ٹھینے ڈگنے تھیں بچائے گئے ہاں اوسنوں بھی ساریاں چنتاں تے چھوریاں تھیں بچا جے سچیّ بادشاہی تے پکّی زور آوری تے پوری حکومت تیری ئیے۔ ہے جتنا ں والیا مالکا اسیں تیری بے انت قدرت تے تہان رکھ کے اک ہور دُعا دے واسطے تیری درگاہے دلیری کرنے ہاں جے توں ساڈی اَ ن گنت دَیاوان رانی ملکہ معظمہ نوں بندہ پوجن دی انہیری کوٹھڑی تھیں باہر کڈھ کے اُچّے تے سنہری
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 296
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 296
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/296/mode/1up
    تے لاؔ ٹاں مارنے والے لا الٰہ اِلّا اللّٰہ محمّد رسول اللّٰہ دے چبوترے تے موجاں ماننے والی کر کے اوسیّ تے اوہدا پورن کر ۔ہے اچرج زورانوالیا۔ ہے ڈوھنگیاں نگاہاں والیا۔ہے پوریاں پہچان والیا۔ ہے بے اوڑک کابواں والیا اینویں کر۔ ہے ربّاں دیا ربّا ایہ ساریاں دُعاواں منظور کر۔ سارے دوست آمین آکھو۔ اے پیاریو سچّے ربّدی درگاہ وَڈِّی قدرتاں تے پہنیاں والی درگاہ ئے دعا دے ویلے اوس تھیں بے امید نہ ہو وو۔ کیوں جے اوس دے دربار دے بے اوڑسدا درتوں کسے سمے کوئی پھکھارا پھکھاتے خالی ہتھ نہیں گیا۔ تے اپنے سربت جیاجنت دے اندر باہر اوہدے اچرج کابوتے قبضے ہین۔ تسیں دو گلیاں تے دو رنگیاں تے کھوٹیاں وانگر دعا نہ کرو۔ سگوں سچیاں چیلیاں تے سوچیاں چیریاں وانگوں اوہدے من دھن تے چت ست تے پت واسطے دھن شاوا کھو تے سدا سُکھ منگو۔ ہین تسین سمجھد ے ہو جے سربت راجیاندے دِل اُس مہاراج سرب شکتی مان سدا دیاوان دے کابوؤں باہر نہیں سگوں سارے کم تے انیک تے ان گنی کرتب اُسیدے اوڈاؤ ہتھ وچہ نے۔ سو تسیں اپنے ان گنت دانانوالی مہارانی ملکہ معظمہ دے دُنیا تے عاقبت واسطے آنندتے آرام منگو جے تسیں وفادار ٹھیلیے تے مَن وارنے والے چاکر ہو تاں شامیں تے پھرراتیں تے پچھلی راتیں نیندراں گنوا کے اوبھڑوائی اُٹھ اُٹھ کے بینتیاں کرو تے جہڑے مُنکھ اس گلدے دوتی تے دوکھی ہون اُنہاں ہتھ یاریا ندی پروا ہ نہ کرو۔
    لوڑیدائی جے سبھّو گلاّں تہاڈیاں نتریاں ہوئیاں تے سُتھریاں ہون تے کسے گل تھہاڈّی وچہ رلا رول نہ ہووے سُرت تے سچ ملّو پھلا کرن والیاں دا پھلا چاہو تاں تھہانوں تھہاڈا جانی جان سچّا رب صاحب چنگا بدلہ دیوے۔ کیوں جے ہر منکھ بے حیائی کپدائی تے کیتائی پاندائے۔ نریاں گلاں کجھ پھل نہیں دیندیاں۔ تھڑیاں تے تُھڑیاں نوں پکڑنے والیا بَھؤڑیدا ویلائی۔
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 297
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 297
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/297/mode/1up
    Almighty God! As they Wisdom & Providence has been pleased to put us under the rule of our blessed Empress enabling us to lead lives of peace and prosperity, we pray Thee that our ruler may in return be saved from all evils and dangers as thine is the kingdom, glory and power. Believing in Thy unlimited powers we earnestly ask Thee all powerful Lord to grant us one more prayer that our benefactoress the empress, before leaving this world. may probe her way out of the darkness of man-worship with the light of "La-ilaha-illallah- muhammad-al-rasul-ulalh." {There is no God but Allah & Muhammad is His Prophet}, Do Almighty God as we desire, and grant us this humble prayer of ours as thy will alone governs all minds. Amen!
    My Friends! Trust in God and feel not hopeless. Do not even imagine that the minds of wordly potentates and earthly kings are beyond His control. Nay, They are all subservants to His Holy Will. Let therefore your prayers for the welfare of your empress in this world and the next, come from the bottom of your hearts. If you are loyal subjects remember Her Majesty in your night and morning prayers. Pay no heed to opposition. Let Your words and deeds be true and free from hypocrisy. Lead lives of virtue and righteousness, and pray for the good of your well-wishers, because no virtue goes unrewarded. I conclude with earnest desire that God may grant our prayer. Amen.
    Dated 23-6-1897
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 298
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 298
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/298/mode/1up
    English Translation of
    the prayer recited by
    Mirza Ghulam Ahmad
    Rais of Qadian
    on the occasion of the Diamond Jubilee
    My friends - The object which has brought you here is to convene a meeting of thanksgiving on the happy occasion of the Diamond Jubilee of Her Majesty's reign in rememberance of the manifold blessings enjoyed by us during Her Majesty's time. We offer our heartfelt thanks to God who out of His special kindness has been pleased to place us under this sovereign rule, protecting thereby our life, property and honour from the hands of tyranny and persecution and enabling us to live a life of peace and freedom. We have also to tender our thanks to our gracious Empress, and this we do by our prayers for Her Majesty's welfare. May God protect our beneficient sovereign from all evils and hardships as Her Majesty's rule has protected us from the mischief of evil doers. May our blessed ruler be graced with glory and success and be saved at the same time from the evil consequences of believing in the divinity of a man and his worship. My friends do not wonder at this, nor entertain any doubt as to the wonderful powers of the Almighty, because it is quite possible for him to confer His choicest blessings upon our gracious Queen in this world and the next. Hence a strong and firm belief in the omnipotence of the Supereme Being who made this spacious firmament on high and spread the earth beneath our feet illuminating them both with the sun and the moon. Let your sincere prayers as to the good of Her Majesty in matters spiritual and temporal, reach His holy throne. And I assure you that prayers that come from hearts sincere earnest and hopeful are sure to be listened to. Let me pray then & you may say Amen:
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 299
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 299
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/299/mode/1up
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 300
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 300
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/300/mode/1up
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 301
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 301
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/301/mode/1up
    فہرست
    اسمائے حاضرین جلسۂ ڈائمنڈ جوبلی بمقام قادیان ضلع گورداسپورہ بحضور امام ہمام حضرت مسیح موعود و مہدی مسعود معہ چندہ و بلا چندہ ۔و اسمائے غیر حاضرین جنہوں نے چندہ دیا از ۲۰؍ جون ۱۸۹۷ تا ۲۲؍جون ۱۸۹۷ء
    نمبر
    نام
    سکونت
    رقم چندہ
    کیفیّت
    ۱
    حضرت اقدس جناب میرزا غلام احمد صاحب مہدی و مسیح موعود رئیس قادیان۔ معہ اہل بیت
    قادیان
    3
    ۲
    حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب بھیروی
    ؍؍
    3
    ۳
    مولوی عبدالکریم صاحب
    سیالکوٹ
    3
    ۴
    مولوی بُرہان الدین صاحب
    جہلم
    .
    ۵
    مولوی محمد احسن صاحب
    امروہا ضلع مراد آباد
    3
    بباعث مجبوری حاضر نہ ہوسکے
    ۶
    حکیم فضل الدین صاحب معہ ہردو قبائل
    بھیرہ
    3
    ۷
    خواجہ کمال الدین صاحب بی ۔ اے پروفیسر اسلامیہ کالج
    لاہور
    3
    ۸
    مفتی محمد صادق صاحب بھیر وی کلرک اکونٹنٹ جنرل
    لاہور
    3
    ۹
    میرزا ایوب بیگ صاحب بی اے کلاس لاہورکالج معہ قبیلہ خود
    کلانور
    3
    ۱۰
    خلیفہ رجب الدین صاحب تاجر برنج
    لاہور
    3
    ۱۱
    حکیم محمد حسین صاحب
    ؍؍
    3
    ۱۲
    خواجہ جمال الدین صاحب بی ۔ اے رنبیر کالج ریاست جموں
    ؍؍
    3
    ۱۳
    حکیم فضل الٰہی صاحب
    ؍؍
    3
    ۱۴
    منشی مولا بخش صاحب کلرک دفتر ریلوے
    ؍؍
    3
    ۱۵
    منشی نبی بخش صاحب ؍؍
    لاہور
    3
    ۱۶
    منشی محمد علی صاحب ؍؍
    ؍؍
    3
    ۱۷
    منشی محمد علی صاحب ایم اے پروفیسر اورینٹل کالج
    ؍؍
    3
    ۱۸
    شیخ رحمت اللہ صاحب سوداگر رخت
    ؍؍
    3
    ۱۹
    منشی کرم الٰہی صاحب مہتمم مدرسہ نصرت اسلام
    ؍؍
    3
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 302
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 302
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/302/mode/1up
    ۲۰
    میاں محمد عظیم صاحب کلرک دفتر ریلوے
    لاہور
    3
    ۲۱
    حافظ فضل احمد صاحب معہ فرزند
    ؍؍
    3
    ۲۲
    حافظ علی احمد صاحب ؍؍
    ؍؍
    3
    ۲۳
    شیخ عبداللہ صاحب نومسلم منصرم شفاخانہ انجمن حمایت اسلام
    ؍؍
    3
    ۲۴
    علی محمد صاحب طالب علم بی اے کلاس کالج
    ؍؍
    .
    ۲۵
    منشی عبدالرحمن صاحب کلرک دفتر ریلوے
    ؍؍
    3
    ۲۶
    منشی معراج الدین صاحب جنرل ٹھیکہ دار
    لاہور
    3
    ۲۷
    منشی تاج الدین صاحب کلرک دفتر ریلوے
    ؍؍
    3
    ۲۸
    شیخ دین محمد صاحب
    ؍؍
    3
    ۲۹
    حکیم شیخ نور محمد صاحب نو مسلم
    ؍؍
    3
    ۳۰
    حکیم محمد حسین صاحب پروپرائٹر کارخانہ رفیق الصحت
    ؍؍
    3
    ۳۱
    تاج الدین صاحب طالب علم مدرسہ اسلامیہ
    ؍؍
    .
    ۳۲
    عبداللہ صاحب ؍؍
    ؍؍
    .
    ۳۳
    مولا بخش صاحب پٹولی
    ؍؍
    3
    بباعث مجبوری
    حاضر نہ ہو سکے
    ۳۴
    قاضی غلام حسین صاحب بھیروی طالب علم آرٹ سکول
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۳۵
    حاجی شہاب الدین صاحب
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۳۶
    چراغ الدین صاحب وارث میاں محمد سلطان
    لاہور

    ؍؍
    ۳۷
    احمد الدین صاحب ڈوری باف
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۳۸
    جمال الدین صاحب کاتب
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۳۹
    محمد اعظم صاحب کاتب
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۴۰
    سیف الملوک صاحب
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۴۱
    میاں سلطان صاحب ٹیلر ماسٹر
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۴۲
    میاں غلام محمد صاحب کلرک چھاپہ خانہ
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۴۳
    مظفر الدین صاحب
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۴۴
    خواجہ محی الدین صاحب تاجر پشمینہ
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۴۵
    محمد شریف صاحب طالب علم اسلامیہ کالج
    ؍؍
    3
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 303
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 303
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/303/mode/1up
    ؍؍
    ۴۶
    عبدالحق صاحب۔ اسلامیہ کالج
    لاہور
    3
    بباعث مجبوری
    حاضر نہ ہو سکے
    ۴۷
    عبدالمجید صاحب ؍؍
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۴۸
    غلام محی الدین صاحب جلد بندسول ملٹری گزٹ
    ؍؍

    ؍؍
    ۴۹
    تاج الدین صاحب
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۵۰
    بشیر احمد صاحب
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۵۱
    نذیر احمد صاحب
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۵۲
    ڈاکٹر کرم الٰہی صاحب
    ؍؍
    3
    ۵۳
    شیر محمد خان صاحب طالب العلم بی اے کلاس
    ؍؍
    3
    ۵۴
    غلام محی الدین صاحب طالب علم بی اے کلاس
    ؍؍
    3
    ۵۵
    شیرعلی صاحب طالب علم بی اے کلاس
    ؍؍
    3
    ۵۶
    صاحبزادہ سراج الحق صاحب جمالی نعمانی ابن حضرت
    شاہ حبیب الرحمن صاحب مرحوم سجادہ نشینچہارقطب ہانسوی
    حال وارد قادیان
    سرساوہ
    .
    ۵۷
    قاضی محمد یوسف علی صاحب نعمانی معہ اہل بیت سارجنٹ
    پولس ریاست جنید۔ اولاد حضرت امام اعظم صاحب
    توسام
    ضلع حصار
    3
    ۵۸
    شیخ فیض اللہ صاحب خالدی القریشی نائب داروغہ
    ریاست نابہ
    3
    غیر حاضر
    ۵۹
    سیدناصر نواب صاحب دہلوی پنشنر
    قادیان
    3
    ۶۰
    میر محمد اسماعیل صاحب طالب علم اسلامیہ کالج لاہور
    ؍؍
    3
    ۶۱
    محمد اسمٰعیل صاحب سرساوی طالب علم
    ؍؍
    .
    ۶۲
    شیخ عبدالرحیم صاحب نو مسلم ؍؍
    ؍؍
    .
    ۶۳
    شیخ عبدالرحمن صاحب ؍؍ ؍؍
    ؍؍
    .
    ۶۴
    شیخ عبدالعزیز صاحب ؍؍ ؍؍
    ؍؍
    .
    ۶۵
    خدا یار صاحب ؍؍ ؍؍
    ؍؍
    .
    ۶۶
    گلاب الدین صاحب لوئی باف
    ؍؍
    .
    ۶۷
    اسمٰعیل بیگ صاحب پریسمین
    ؍؍
    .
    ۶۸
    امام الدین صاحب
    ؍؍
    .
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 304
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 304
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/304/mode/1up
    ۶۹
    صاحبزادہ افتخار احمد صاحب لدھیانوی
    قادیان
    .
    ۷۰
    صاحبزادہ منظور محمد صاحب ؍؍
    ؍؍
    .
    ۷۱
    صاحبزادہ مظہر قیوم صاحب ؍؍
    ؍؍
    .
    ۷۲
    مولوی عبدالرحمن صاحب
    کھیوال ضلع جہلم
    .
    ۷۳
    سید خصیلت علی شاہ صاحب ڈپٹی انسپکٹر
    ڈنگہ ضلع گجرات
    3
    ۷۴
    سید امیر علی شاہ صاحب سارجنٹ اوّل
    سیالکوٹ
    3
    ۷۵
    حکیم محمد الدین صاحب نقل نویس صدر
    ؍؍
    3
    ۷۶
    منشی عبدالعزیز صاحب ٹیلر ماسٹر
    ؍؍
    3
    ۷۷
    شیخ فضل کریم صاحب عطّار
    ؍؍
    3
    ۷۸
    غلام محی الدین صاحب تاجر چوب
    ؍؍
    .
    ۷۹
    شیخ حسین بخش خیاط
    قادیان
    .
    ۸۰
    عبداللہ صاحب ؍؍
    ؍؍
    .
    ۸۱
    عبدالرحمن صاحب ؍؍
    ؍؍
    .
    ۸۲
    حافظ احمد اللہ خان صاحب
    ؍؍
    .
    ۸۳
    کرم داد صاحب
    ؍؍
    .
    ۸۴
    سیّد ارشاد علی صاحب طالب علم
    سیالکوٹ
    .
    ۸۵
    مولوی محمد عبداللہ خان صاحب وزیر آبادی مدرس کالج
    ریاست پٹیالہ
    3
    ۸۶
    حافظ نور محمد صاحب سارجنٹ پلٹن نمبر ۴
    ؍؍
    3
    ۸۷
    محمد یوسف صاحب خراطی
    ؍؍
    3
    ۸۸
    حافظ ملک محمد صاحب ؍؍
    ؍؍
    .
    ۸۹
    عبدالحمید صاحب طالب علم
    ؍؍
    3
    ۹۰
    محمد اکبر خان صاحب سنوری
    ؍؍
    .
    ۹۱
    خلیفہ نور الدین صاحب تاجر کتب
    ریاست جمّوں
    3
    ۹۲
    اللہ دتا صاحب ؍؍
    ؍؍
    3
    ۹۳
    مولوی محمد صادق صاحب مدرس
    ؍؍
    3
    ۹۴
    میاں نبی بخش صاحب رفوگر
    امرتسر
    3
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 305
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 305
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/305/mode/1up
    ۹۵
    محمد اسمٰعیل صاحب تاجر پشمینہ کٹڑہ اہلووالیہ
    امرتسر
    3
    ۹۶
    میاں محمد الدین صاحب اپیل نویس
    سیالکوٹ
    3
    ۹۷
    میاں الٰہی بخش صاحب ۔ محلہ ماشکیاں
    گجرات
    3
    ۹۸
    میاں چراغ الدین صاحب کٹڑہ اہلووالیہ
    امرتسر
    3
    ۹۹
    منشی روڑا صاحب نقشہ نویس عدالت
    ریاست کپور تھلہ
    3
    ۱۰۰
    منشی ظفر احمد صاحب اپیل نویس
    ؍؍
    3
    ۱۰۱
    منشی رستم علی صاحب کورٹ انسپکٹر
    گورداسپور
    3
    ۱۰۲
    نواب خاں صاحب
    جموں
    3
    ۱۰۳
    میاں عبدالخالق صاحب رفوگر
    امرتسر
    3
    ۱۰۴
    شیخ عبدالحق صاحب ٹھیکہ دار
    لدھیانہ
    3
    ۱۰۵
    محمد حسن صاحب عطّار
    ؍؍
    3
    ۱۰۶
    منشی محمد ابراہیم صاحب تاجر لنگی گبرون
    ؍؍
    3
    ۱۰۷
    مستری حاجی عصمت اللہ صاحب
    ؍؍
    3
    ۱۰۸
    قاضی خواجہ علی صاحب ٹھیکہ دار شکرم
    ؍؍
    3
    ۱۰۹
    مولوی ابو یوسف مبارک علی صاحب امام مسجد صدر
    سیالکوٹ
    3
    ۱۱۰
    عبدالعزیز خاں طالب علم بن عبدالرحمن خان صاحب
    اتالیق سردار ایوب خان صاحب
    راولپنڈی
    .
    ۱۱۱
    شیخ نور احمد صاحب مالک مطبع ریاض ہند
    امرتسر
    .
    ۱۱۲
    شیخ ظہور احمد صاحب سنگساز مطبع
    ؍؍
    .
    ۱۱۳
    میرزا رسول بیگ صاحب
    کلانور ضلع گورداسپور
    .
    ۱۱۴
    حافظ عبدالرحیم صاحب
    بٹالہ
    3
    ۱۱۵
    ڈاکٹر فیض قادر صاحب
    ؍؍
    3
    ۱۱۶
    شیخ محمد جان صاحب تاجر
    وزیر آباد
    3
    ۱۱۷
    منشی نواب الدین صاحب ماسٹر
    دینا نگر
    .
    ۱۱۸
    خلیفہ اللہ دتا صاحب
    ؍؍
    .
    ۱۱۹
    میاں خدا بخش صاحب خیاط
    چھوکر ضلع گجرات
    .
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 306
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 306
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/306/mode/1up
    ۱۲۰
    مولوی حافظ احمد الدین صاحب ۔ چک سکندر
    ضلع گجرات
    .
    ۱۲۱
    میاں احمد الدین صاحب امام مسجد قلعہ دیدار سنگھ
    گوجرانوالہ
    .
    ۱۲۲
    میاں جمال الدین صاحب پشمینہ باف
    سیکھواں
    ضلع گورداسپور
    3
    ۱۲۳
    محمد اکبر صاحب ٹھیکہ دار
    بٹالہ
    3
    ۱۲۴
    ماسٹر غلام محمد صاحب بی اے مدرس
    سیالکوٹ
    3
    ۱۲۵
    میاں باغ حسین صاحب
    بٹالہ
    .
    ۱۲۶
    میاں نبی بخش صاحب پاندہ
    ؍؍
    3
    ۱۲۷
    چودھری منشی نبی بخش صاحب نمبردار
    ؍؍
    3
    ۱۲۸
    مولوی خان ملک صاحب کھیوال
    ضلع جہلم
    .
    ۱۲۹
    میاں خیر الدین صاحب پشمینہ باف سیکھواں
    ضلع گورداسپور
    3
    ۱۳۰
    حکیم محمد اشرف صاحب
    بٹالہ؍؍
    3
    ۱۳۱
    شیخ غلام محمد صاحب طالب علم
    ضلع جالندھر
    .
    ۱۳۲
    حافظ غلام محی الدین صاحب جلد ساز
    قادیان
    .
    ۱۳۳
    میاں امام الدین صاحب پشمینہ باف
    سیکھواں
    3
    ۱۳۴
    اللہ دین صاحب ۔بٹھیاں
    ضلع گورداسپور
    .
    ۱۳۵
    شیخ عبدالرحیم صاحب ملازم ریاست
    کپور تھلہ
    3
    ۱۳۶
    شیخ محمد الدین صاحب بوٹ فروش
    جمّوں
    3
    ۱۳۷
    محمد شاہ صاحب ٹھیکہ دار
    ؍؍
    ۸؍
    ۱۳۸
    نظام الدین صاحب دوکاندارتھہ غلام نبی
    ضلع گورداسپور
    .
    ۱۳۹
    امام الدین صاحب ؍؍
    ؍؍
    .
    ۱۴۰
    شیخ فقیر علی صاحب زمیندار ؍؍
    ؍؍
    .
    ۱۴۱
    شیخ شیر علی صاحب ؍؍
    ؍؍
    .
    ۱۴۲
    شیخ چراغ علی صاحب ؍؍
    ؍؍
    .
    ۱۴۳
    شہاب الدین صاحب دوکاندار ؍؍
    ؍؍
    .
    ۱۴۴
    منشی عبدالعزیز صاحب پٹواری سیکھواں
    ؍؍
    .
    ۱۴۵
    میاں قطب الدین صاحب خیاط بدہیچہ
    ؍؍
    .
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 307
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 307
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/307/mode/1up
    ۱۴۶
    میاں سلطان احمد طالب علم
    گجرات
    .
    ۱۴۷
    شیخ امیر بخش۔ تھہ غلام نبی
    ضلع گورداسپور
    .
    ۱۴۸
    سید نظام شاہ صاحب بازید چک
    ؍؍
    .
    ۱۴۹
    حافظ محمد حسین صاحب ڈنگہ
    ضلع گجرات
    .
    ۱۵۰
    بابو گل حسن صاحب کلرک دفتر ریلوے
    لاہور
    3
    ۱۵۱
    حافظ نور محمد صاحب ۔ فیض اللہ چک
    ضلع گورداسپورہ
    .
    ۱۵۲
    حسن خاں صاحب ملازم توپخانہ ریاست
    کپور تھلہ
    .
    ۱۵۳
    مرزا جھنڈا بیگ ۔ پیرو وال
    ضلع گورداسپور
    .
    ۱۵۴
    محمد حسین طالب علم ۔ مدہ
    ضلع امرتسر
    .
    ۱۵۵
    میاں محمد امیر۔ کنڈ
    تحصیل خوشاب
    .
    ۱۵۶
    غلام محمد طالب علم
    امرتسر
    .
    ۱۵۷
    محمد اسمٰعیل ۔ تھہ غلام نبی
    ضلع گورداسپورہ
    .
    ۱۵۸
    شیخ قطب الدین صاحب کوٹلہ فقیر
    ضلع جہلم
    3
    ۱۵۹
    میاں غلام حسین نانبائی ڈیرہ حضرت اقدس
    قادیان
    3
    ۱۶۰
    شیخ مولا بخش صاحب تاجر چرم ۔ ڈنگہ
    ضلع گجرات
    3
    ۱۶۱
    قاضی محمد یوسف صاحب قاضی کوٹ
    ضلع گوجرانوالہ
    3
    ۱۶۲
    عبداللہ سوداگر برنج
    لاہور
    .
    ۱۶۳
    مولوی حافظ کرم الدین صاحب۔ پوڑان والہ
    ضلع گجرات
    3
    ۱۶۴
    حافظ احمد الدین خیاط۔ ڈنگہ
    ؍؍
    3
    ۱۶۵
    عبادت علی شاہ سوداگر۔ ڈوڈہ
    ضلع گورداسپورہ
    .
    ۱۶۶
    محمد خان صاحب نمبردار ۔ جسروال
    ضلع امرتسر
    3
    ۱۶۷
    میاں علم الدین صاحب ۔ کالوسائی
    ضلع گجرات
    .
    ۱۶۸
    میاں کرم الدین صاحب۔ڈنگہ
    ؍؍
    3
    ۱۶۹
    شیخ احمد الدین صاحب ؍؍
    ؍؍
    .
    ۱۷۰
    میاں احمد الدین صاحب ؍؍
    ؍؍
    .
    ۱۷۱
    میاں محمد صدیق صاحب پشمینہ باف
    سیکھواں
    3
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 308
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 308
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/308/mode/1up
    ۱۷۲
    میاں صادق حسین صاحب
    ریاست پٹیالہ
    3
    ۱۷۳
    مولوی فقیر جمال الدین صاحب سیّد والہ
    ضلع منٹگمری
    .
    ۱۷۴
    مولوی عبداللہ صاحب ٹھٹھہ شیرکا
    ؍؍
    .
    ۱۷۵
    میاں عبدالعزیز طالب علم
    قادیان
    .
    ۱۷۶
    میاں عبداللہ ۔ تھہ غلام نبی
    ضلع گورداسپور
    .
    ۱۷۷
    مہر الدین صاحب خانساماں ۔ لالہ موسیٰ
    ضلع گجرات
    3
    ۱۷۸
    کرم الدین صاحب خانساماں ؍؍
    ؍؍
    3
    غیر حاضر
    ۱۷۹
    امام الدین صاحب پٹواری۔ لوچب
    ضلع گورداسپور
    3
    ۱۸۰
    فضل الٰہی صاحب نمبردار ۔ چک فیض اللہ
    ؍؍
    3
    ۱۸۱
    غلام نبی صاحب ؍؍
    ؍؍
    3
    ۱۸۲
    چراغ الدین معمار۔ موضع منڈی کراں
    ؍؍
    .
    ۱۸۳
    قاضی نعمت علی صاحب۔ خطیب بٹالہ
    ؍؍
    3
    ۱۸۴
    احمد علی صاحب نمبردار چک وزیر
    ؍؍
    3
    ۱۸۵
    امام الدین صاحب ۔ تھہ غلام نبی
    ؍؍
    .
    ۱۸۶
    میاں فقیر دری باف۔ چک فیض اللہ
    ؍؍
    .
    ۱۸۷
    میاں امیر دری باف ؍؍
    ؍؍
    .
    ۱۸۸
    شیخ برکت علی دوکاندار ؍؍
    ؍؍
    .
    ۱۸۹
    برکت علی صاحب پٹواری ؍؍
    ؍؍
    .
    ۱۹۰
    میاں امام الدین ؍؍
    ؍؍
    .
    ۱۹۱
    سیّد امیر حسین چک بازید
    ضلع گورداسپور
    .
    ۱۹۲
    شیخ فیروز الدین صاحب ؍؍
    ؍؍
    .
    ۱۹۳
    شیخ شیر علی ؍؍
    ؍؍
    .
    ۱۹۴
    شیخ عطا محمد صاحب ؍؍
    ؍؍
    .
    ۱۹۵
    سید محمد شفیع صاحب ؍؍
    ؍؍
    .
    ۱۹۶
    عمر چوکیدار ؍؍
    ؍؍
    .
    ۱۹۷
    مولوی امیر الدین صاحب ۔ محلہ خوجہ والہ
    گجرات
    .
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 309
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 309
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/309/mode/1up
    ۱۹۸
    مستری محمد عمر
    جمّوں
    .
    ۱۹۹
    سید وزیر حسین صاحب ۔ بازید چک
    ضلع گورداسپور
    .
    ۲۰۰
    مہر اللہ شاہ ڈوڈاں
    ؍؍
    .
    ۲۰۱
    سلطان بخش بدیچہ
    ؍؍
    .
    ۲۰۲
    منشی عبدالعزیز صاحب عرف وزیر خان سب اوورسیر
    بلب گڈہ
    3
    ۲۰۳
    نور محمد صاحب ۔ دھونی
    ضلع منٹگمری
    .
    ۲۰۴
    عبدالرشید ۔ سیّد والہ
    ؍؍
    .
    ۲۰۵
    مولوی احمد الدین صاحب امام مسجد ۔ نامدار
    ضلع لاہور
    .
    ۲۰۶
    حافظ معین الدین صاحب
    قادیان
    .
    ۲۰۷
    عبدالمجید صاحب
    کپور تھلہ
    .
    ۲۰۸
    محمد خان صاحب
    ؍؍
    3
    بباعث مجبوری حاضر نہ ہو سکے
    ۲۰۹
    مولوی محمد حسین صاحب۔ بھاگورائین
    ؍؍
    3
    ۲۱۰
    نظام الدین ؍؍
    ؍؍
    .
    ۲۱۱
    فیض محمد نّجار
    سیالکوٹ
    .
    ۲۱۲
    سیّد گوہر شاہ صاحب پھیرو چیچی
    ضلع گورداسپور
    .
    ۲۱۳
    حکیم دین محمد طالب علم
    قادیان
    .
    ۲۱۴
    شیخ فضل الٰہی صاحب چٹھی رسان
    ؍؍
    3
    ۲۱۵
    سلطان محمد صاحب۔ بکرالہ
    ضلع جہلم
    .
    ۲۱۶
    اللہ دیا صاحب کمبو
    ضلع امرتسر
    .
    ۲۱۷
    سید عالم شاہ صاحب موضع سید ملو
    ضلع جہلم
    .
    ۲۱۸
    مستری حسن الدین صاحب
    سیالکوٹ
    .
    ۲۱۹
    میراں بخش صاحب چوڑی گر
    بٹالہ
    .
    ۲۲۰
    مہر سانون صاحب سیکھواں
    ضلع گورداسپور
    3
    ۲۲۱
    حکیم جمال الدین صاحب تاجر
    قادیان
    3
    ۲۲۲
    محمد اسمٰعیل صاحب طالب علم
    ؍؍
    .
    ۲۲۳
    محمد اسحق صاحب ؍؍
    ؍؍
    .
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 310
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 310
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/310/mode/1up
    ۲۲۴
    عبداللہ خان صاحب ہریانہ
    ضلع ہوشیار پور
    3
    ۲۲۵
    کریم بخش مستری بیل چک
    ضلع گورداسپور
    .
    ۲۲۶
    مرزا بوٹا بیگ
    قادیان
    .
    ۲۲۷
    مرزا احمد بیگ
    ؍؍
    .
    ۲۲۸
    محمد حیات صاحب
    بٹالہ
    .
    ۲۲۹
    نور محمد ملازم ڈاکٹر فیض قادر صاحب
    ؍؍
    .
    ۲۳۰
    شیخ غلام محمد صاحب تاجر
    امرتسر
    .
    ۲۳۱
    برکت علی صاحب نیچہ بند
    بٹالہ
    .
    ۲۳۲
    غلام حسین صاحب ککہ زئی
    ؍؍
    .
    ۲۳۳
    رحیم بخش صاحب شانہ گر
    جہلم
    .
    ۲۳۴
    شیخ غلام احمد صاحب امام مسجد بھڑیال
    ضلع سیالکوٹ
    .
    ۲۳۵
    شیخ اسمٰعیل امام مسجد بھڑیال
    ؍؍
    .
    ۲۳۶
    شیخ کریم بخش صاحب کاہنے چک
    ریاست جموں
    .
    ۲۳۷
    شیخ چراغ الدین صاحب
    ؍؍
    .
    ۲۳۸
    میاں کنو تیلی۔ تتلا
    ضلع گورداسپور
    .
    ۲۳۹
    شیخ مولا بخش صاحب تاجر بوٹ
    سیالکوٹ
    3
    ۲۴۰
    مرزا نظام الدین
    قادیان
    .
    ۲۴۱
    سید عبدالعزیز صاحب
    انبالہ
    .
    ۲۴۲
    مولوی فضل الدین صاحب ۔ کھاریاں
    ضلع گجرات
    3
    بباعث مجبوری حاضر نہ ہو سکے
    ۲۴۳
    مولوی فضل الدین صاحب ۔ خوشاب
    ضلع شاہپور
    3
    ؍؍
    ۲۴۴
    حافظ رحمت اللہ صاحب ۔ کرن پور
    ضلع ڈیرہ دون
    3
    ؍؍
    ۲۴۵
    نور الدین صاحب نقشہ نویس بارگ ماسٹری
    جہلم
    3
    ؍؍
    ۲۴۶
    میاں عبداللہ صاحب پٹواری سنوری
    ریاست پٹیالہ
    3
    ؍؍
    ۲۴۷
    میاں عبدالعزیز صاحب محرر دفتر نہر جمن غربی
    دہلی
    3
    ؍؍
    ۲۴۸
    ڈاکٹر بوڑے خاں صاحب اسسٹنٹ سرجن
    قصور
    3
    ؍؍
    ۲۴۹
    مولوی محمد حسین مدرسہ اسلامیہ
    راولپنڈی
    3
    ؍؍
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 311
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 311
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/311/mode/1up
    ۲۵۰
    مولوی خادم حسین صاحب ۔ اسلامیہ سکول
    راولپنڈی
    3
    حاضر نہ ہو سکے
    ۲۵۱
    بابو اللہ دین صاحب فائرس محکمہ روشنی
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۲۵۲
    سید عنایت علی شاہ صاحب
    لدھیانہ
    3
    ؍؍
    ۲۵۳
    منشی غلام حیدر صاحب ڈپٹی انسپکٹر پولس
    نارووال
    3
    ؍؍
    ۲۵۴
    مولوی علم الدین صاحب
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۲۵۵
    منشی محرم علی صاحب محرر سارجنٹ پولس
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۲۵۶
    بابو شاہ دین صاحب سٹیشن ماسٹر دینہ
    ضلع جہلم
    3
    ؍؍
    ۲۵۷
    منشی اللہ دتا صاحب
    سیالکوٹ
    3
    حاضر نہ ہو سکے
    ۲۵۸
    منشی فتح محمد صاحب بزدار پوسٹ ماسٹر لیّہ
    ضلع ڈیرہ اسمٰعیل خان
    3
    ؍؍
    ۲۵۹
    شیخ غلام نبی صاحب دوکاندار
    راولپنڈی
    3
    ؍؍
    ۲۶۰
    منشی مظفر علی صاحب برادر مولوی محمد احسن صاحب امروہی
    ڈیرہ دون
    3
    ؍؍
    ۲۶۱
    میاں احمد حسین صاحب ملازم میاں محمد حنیف سوداگر
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۲۶۲
    مولوی محمد یعقوب صاحب
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۲۶۳
    منشی علی گوہر خاں صاحب برانچ پوسٹ ماسٹر
    جالندھر
    3
    ؍؍
    ۲۶۴
    منشی محمد اسمٰعیل صاحب نقشہ نویس کالکار ریلوے
    انبالہ چھاونی
    3
    ؍؍
    ۲۶۵
    مولوی غلام مصطفےٰ صاحب مالک مطبع شعلہ طور
    بٹالہ
    3
    ؍؍
    ۲۶۶
    بابو محمد افضل صاحب ملازم ریلوے ممباسہ
    ملک افریقہ
    3
    ؍؍
    ۲۶۷
    چودھری محمد سلطان صاحب والد مولوی عبدالکریم صاحب
    سیالکوٹ
    3
    ؍؍
    ۲۶۸
    سید حامد شاہ صاحب قائم مقام سپرنٹنڈنٹ ڈپٹی کمشنر بہادر
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۲۶۹
    سید حکیم حسام الدین صاحب رئیس
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۲۷۰
    فضل الدین صاحب زرگر
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۲۷۱
    حکیم احمد الدین صاحب
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۲۷۲
    شیخ نور محمد صاحب کلاہ ساز
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۲۷۳
    محمد الدین صاحب پٹواری ۔ ترگڑی
    ضلع گوجرانوالہ
    3
    ؍؍
    ۲۷۴
    سیدنواب شاہ صاحب مدرس
    سیالکوٹ
    3
    ؍؍
    ۲۷۵
    سید چراغ شاہ صاحب
    ؍؍
    3
    ؍؍
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 312
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 312
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/312/mode/1up
    ۲۷۶
    چودھری نبی بخش صاحب سارجنٹ پولس
    سیالکوٹ
    3
    حاضر نہ ہو سکے
    ۲۷۷
    محمد الدین صاحب
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۲۷۸
    محمد الدین صاحب جلد ساز
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۲۷۹
    اللہ بخش صاحب
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۲۸۰
    شادی خاں صاحب سوداگر
    سیالکوٹ
    3
    حاضر نہ ہو سکے
    ۲۸۱
    چودھری الہ بخش صاحب
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۲۸۲
    چودھری فتح دین صاحب
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۲۸۳
    اللہ رکھا صاحب شالباف
    بٹالہ
    3
    ۲۸۴
    کرم الٰہی صاحب کانسٹبل
    لدھیانہ
    3
    ؍؍
    ۲۸۵
    پیر بخش صاحب
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۲۸۶
    منشی الہ بخش صاحب
    سیالکوٹ
    3
    ؍؍
    ۲۸۷
    کرم الدین صاحب ۔ بھپال والہ
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۲۸۸
    منشی کرم الٰہی صاحب ریکارڈ کلرک
    پٹیالہ
    3
    ؍؍
    ۲۸۹
    مرزا نیاز بیگ صاحب ضلعدار نہر ۔ رشیدہ
    ضلع ملتان
    3
    ؍؍
    ۲۹۰
    اللہ دتا صاحب شالباف
    بٹالہ
    3
    ؍؍
    ۲۹۱
    ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب
    ریاست پٹیالہ
    3
    ؍؍
    ۲۹۲
    عزیز اللہ صاحب سرہندی برانچ پوسٹماسٹر
    نادون
    3
    ؍؍
    ۲۹۳
    نواب خان صاحب تحصیلدار
    جہلم
    3
    ؍؍
    ۲۹۴
    عبدالصمد صاحب ملازم نواب خان صاحب موصوف
    جہلم
    3
    ؍؍
    ۲۹۵
    مولوی نور محمد صاحب ۔ موکل
    ضلع لاہور
    3
    ؍؍
    ۲۹۶
    سید مہدی حسن صاحب پنسال نویس چوکی لوہلہ
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۲۹۷
    مولوی شیر محمد صاحب ۔ ہجن
    ضلع شاہ پور
    3
    ؍؍
    ۲۹۸
    بابو نواب الدین صاحب ہیڈ ماسٹر سکول دینا نگر
    ضلع گورداسپور
    3
    ۲۹۹
    والدہ خیر الدین سیکھواں
    ؍؍
    3
    ۳۰۰
    رحیم بخش صاحب محرر اصطبل
    سنگرور
    3
    حاضر نہ ہو سکے
    ۳۰۱
    قاری محمد صاحب امام مسجد
    جہلم
    3
    ؍؍
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 313
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 313
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/313/mode/1up
    ۳۰۲
    شرف الدین صاحب ۔ کوٹلہ فقیر
    ضلع جہلم
    3
    غیر حاضر
    ۳۰۳
    علم الدین صاحب ؍؍
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۳۰۴
    مولوی محمد یوسف صاحب سنور
    پٹیالہ
    3
    ؍؍
    ۳۰۵
    احمد بخش صاحب ؍؍
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۳۰۶
    محمد ابراہیم صاحب ؍؍
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۳۰۷
    امام الدین پٹواری ؍؍
    حلقہ لو چپ
    3
    ؍؍
    ۳۰۸
    غلام نبی عرف نبی بخش ۔ فیض اللہ چک
    ضلع گورداسپور
    3
    ؍؍
    ۳۰۹
    منشی احمد صاحب محرر باڑہ سرکاری
    پٹیالہ
    3
    ؍؍
    ۳۱۰
    مولوی محمود حسن خان صاحب مدرس
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۳۱۱
    شیخ محمد حسین صاحب مراد آبادی
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۳۱۲
    مستری احمد الدین صاحب
    بھیرہ
    3
    ؍؍
    ۳۱۳
    مستری اسلام احمد
    ؍؍
    3
    ؍؍
    ۳۱۴
    میاں فیاض علی صاحب
    کپور تھلہ
    3
    ؍؍
    ۳۱۵
    میاں صاحب دین صاحب کھاریاں
    ضلع گجرات
    3
    ؍؍
    ۳۱۶
    میاں عالم دین حجام
    بھیرہ
    3
    ؍؍
    ۳۱۷
    بابو کرم الٰہی صاحب ڈپٹی سپرنٹنڈنٹپاگل خانہ
    معرفت شیخ رحمت اللہ صاحب
    لاہور
    3
    ؍؍
    ۳۱۸
    بابو غلام محمد صاحب
    لدھیانہ
    3
    ؍؍
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 314
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 314
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/314/mode/1up
    بقیہّ ؔ اسماء حاضرین جلسہ جوبلی
    عبدا۱لرحمن نو مسلم جالندھری۔ سید ار ۲شاد علی صاحبزادہ سید خصیلت علی شاہ صاحب، ڈنگہ ۔
    اللہ۳ دتا ولد نور محمد کمبوہ۔ عبداللہ۴ ولد خلیفہ رجب دین لاہور۔ غلام۵ محمد طالب علم ڈیرہ بابانانک ۔
    روشن۶ الدین بھیرہ، اللہ ود۷ھایا صاحب پنڈی بھٹیاں۔ شیخ۸ احمد علی، چک بازید۔ نور۹ محمد، ڈھونی۔ عبدا۰۱لرشید،سیّدوالہ۔ غلام قا۱۱ در،قادیان۔ شیخ امیر، تھہ غلام نبی۔ غلام غوث،۱۳ قادیان۔ گلاب۱۴ ولد محکم احمد آباد ضلع گورداسپور۔ شاہ نوا۱۵ز ،ڈنگہ ۔ عید۶۱ ا ولد شادی، قادیان۔دین محمد۷۱ ، قادیان۔ صدر۱۸الدین، قادیان۔ بڈ۱۹ھا قادیان۔ حسینا۲۰ ،قادیان۔ امام الد۲۱ ین، قادیان۔ خواجہ نور۲۲ محمد، قادیان ۔حا مد ۳۲ علی ارائیں، قادیان۔ میراں۲۴ بخش، قادیان۔ لسّو۲۵ ،قادیان۔ فقیر محمد، ۶۲ فیض اللہ چک۔ شیخ محمد۲۷ ،قادیان ۔خواجہ کھیون۲۸ ،قادیان ۔
    شرف ۹۲ دین ،قادیان ۔فتح دین۳۰ ،کہارڈلہ۔ عبداللہ ۳۱قادیان۔ لبّھو، قادیان۔ لبّھا۲۳ڈوگر، کھارا۔ نتھو ۳۳،قادیان۔ بو۳۴ٹا ،قادیان۔
    نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کے خط کی نقل
    3
    نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم
    طبیب رُوحانی مسیح الزمان مکرم معظم سلمکم اللہ تعالیٰ
    السلام علیکم ۔ حسب الحکم حضور کل حال متعلق جوبلی عرض کرتا ہوں:۔
    ۲۱ و ۲۲ جون یعنی دو دن جشن جوبلی کے لئے مقرر ہوئے تھے چونکہ گورنمنٹ کا حکم تھا کہ کل رسوم متعلق جوبلی ۲۲ ؍ جون ۱۸۹۷ء کو پوری کی جائیں اس لئے سب کچھ ۲۲ کو کیا جانا قرار پایا۔
    ریاست مالیر کوٹلہ میں جیسے رئیس اعظم وفادار رہے ہیں ویسے ہی خوانین بھی وفادار اور عقیدت مند گورنمنٹ کے رہے ہیں اور بہت مواقع میں اس کا ثبوت
    دیا ہے۔ بلکہ بعض جگہ خود لڑائی میں شریک ہوکر گورنمنٹ کی اعانت کی ہے۔ اب
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 315
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 315
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/315/mode/1up
    چو ؔ نکہ لڑائی کا موقع تو جاتا رہا ہے۔ اب بموجب حالت زمانہ ہم لوگ ہر طرح خدمت کے لئے حاضر ہیں۔ اور ہم ایسا کیوں نہ کریں جبکہ اس گورنمنٹ کا ہم پر خاص احسان ہے۔ وہ یہ کہ سکھّوں کے عروج کے زمانہ میں سکھوں نے اس ریاست کو بہت دق کیا تھا اور اگر وقت پر جنرل اختر لونی صاحب ابر رحمت کی طرح تشریف نہ لے آتے تو یہ ریاست کبھی کی اس خاندان سے نکل کر سکھوں کے ہاتھ میں ہوتی۔ پس ہمارا خاندان تو ہر طرح گورنمنٹ کا مرہون منّت ہے۔ اور اب یہ سلسلہ بہ سبب حضور اور زیادہ مستحکم ہو گیا۔ اور جو احسانات گورنمنٹ کے ہماری جماعت پر ہیں وہ قندمکرر کا لطف دینے لگے تو مجھ کو ضروری ہوا کہ اپنے ہمسروں سے بڑھ کر کچھ کیا جائے۔
    اوّل ۔ چراغانہ قریب کی مسجد پر اور اپنے رہائشی مکان پر بہت زور سے کیا گیا۔ بلکہ ایک مکان بیرون شہر جو ایک گاؤں سروانی کوٹ نام میں میرا ہے اُس پر بھی کیا گیا کل مکانوں پر اول سفیدی کی گئی۔ اور مختلف طرز پر چراغ نصب کئے گئے اور ایک دیوار پر چراغوں میں یہ عبارت لکھی گئی۔
    God save our Empress
    یعنی خدا تعالیٰ ہماری قیصرہ کو سلامت رکھے۔ قریبًا تمام شہر سے بڑھ کر ہمارے ہاں روشنی کا اہتمام تھا۔ مگر عین وقت پر ہوا کے ہونے سے ۲۲؍کو وہ روشنی نہ ہو سکی۔ اس لئے تمام شہر میں ۲۳؍ کو روشنی ہوئی مگر اُس روز بھی ہوا کے سبب اونچی جگہ روشنی نہ ہو سکی۔
    دوم ۔ تین ٹرائفل آرچ۔ ایک برسر کوچہ اور دو اپنے مکان کے سامنے بنائے گئے اور ان پر مندرجہ ذیل عبارات سنہری لکھ کر لگائی گئیں۔ اوّل برسر کوچہ ’’جشن ڈائمنڈ جوبلی مبارک باد‘‘ ۔ دوم اپنے رہائشی مکان کے دروازہ پر انگریزی میںWelCome یعنی خوش آمدید لکھا تھا۔ سوم دروازہ کے مقابل تیسری محراب پر لکھا تھا۔ ’’قیصرہ ہند کی عمردراز ۔ اور سروانی کوٹ میں بھی ایک ٹرائفل آرچ بنائی گئی تھی۔
    سوم ۔ ۲۲؍ جون کو شام کے چھ بجے اپنی جماعت کے اصحاب کو جمع کر کے
    Ruhani Khazain Volume 12. Page: 316
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- تحفہ قیصریہ: صفحہ 316
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/316/mode/1up
    خداؔ وند تعالیٰ سے حضور ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کے بقائے دولت اور درازی عمر اور یہ کہ جس طرح حضور ممدوحہ نے ہم پر احسان کیا ہے خداوند تعالیٰ بھی حضور ممدوحہ پر احسان کرے اور الذین آمنوا میں داخل کرے یعنی اسلام کے آفتاب سے وہ بھی فیضیاب ہوں دُعا کی گئی۔
    چہارم ۔ میں نے ایک نوٹس اپنی جماعت کے لوگوں کو دے دیا تھا کہ سب صاحب جو کم سے کم مقدرت رکھتے ہوں وہ بھی سو چراغ سے کم نہ جلائیں اور جن کے پاس اتنا خرچ کرنے کو نہ ہو وہ مجھ سے لے لیں۔ چنانچہ پانچ اصحاب کو میں نے خرچ چراغانہ دیا اور باقیوں نے خود چراغانہ کیا۔
    پنجم۔ میرے متعلق جو سروانی کوٹ میں معافیدار تھے اُن کو بھی میں نے حکم دیا کہ چراغانہ کریں۔ چنانچہ انہوں نے بھی کیا اور یہ ایسا امر ہے کہ ریاست کے اور دیہات میں غالبًا ایسا نہیں ہوا۔
    ششم ۔ ۲۳؍ جون کو اس خوشی میں آتش بازی چھوڑی گئی۔
    ہفتم ۔ ۲۲؍ جون کی شام کو معزز احباب کی دعوت کی گئی۔
    ہشتم ۔ ۲۳؍ کو مساکین کو غلّہ اور نقد خیرات کیا گیا۔
    نہم۔ ایک یادگار کے قائم کرنے کی بھی تجویز ہے۔ جب اس کی بابت فیصلہ ہو گا وہ بھی عرض کروں گا۔
    راقم محمد علی خان }مالیر کوٹلہ ۲۵؍ جون ۱۸۹۷ء
    نوٹ۔ ہم نے اپنی طرف سے سب احباب کے نام کوشش سے درج کرا دیئے ہیں۔ اب اگر ایک دو نام رہ گئے ہوں تو سہو بشریت ہے۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں