1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

روحانی خزائن جلد 11 ۔انجام آتھم ۔ یونی کوڈ

'روحانی خزائن ۔ حضرت مسیح موعودؑ ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏اگست 1, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    روحانی خزائن جلد 11۔ انجام آتھم۔ یونی کوڈ


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 1
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 1
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم

    خدا کا مارا کبھی نہیں بچتا
    خدا کی قسم سے انکار کرنے والا نیست و نابود کیا جائے گا
    مفہوم یرمیاہ ۱۷/۱۲

    چونکہ مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب ۲۷ ؍جولائی ۱۸۹۶ء کو بمقام فیروز پور فوت ہوگئے ہیں اس لئے ہم قرین مصلحت سمجھتے ہیں کہ پبلک کو وہ پیشگوئیاں دوبارہ یاد دلا دیں جن میں لکھا تھا کہ آتھم صاحب اگر قسم نہیں کھائیں گے تو اس انکار سے جو ان کا اصل مدعا ہے یعنی باقی ماندہ عمر سے ایک حصہ پانا یہ ان کو ہرگز حاصل نہیں ہوگا۔ بلکہ انکار کے بعد جو ان کی بیباکی کی علامت ہے جلدی اس جہان سے اٹھائے جائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور ابھی ہمارے اشتہار ۳۰؍ دسمبر ۱۸۹۵ء پر سات مہینے نہیں گزرے تھے کہ وہ اس جہان سے گزر گئے۔ اور وہ پیشگوئیاں جو کہ ان کی اس موت پر دلالت کرتی ہیں اور پہلے اشتہارات میں درج ہیں یہ ہیں۔
    اول۔ ضرور تھا کہ وہ کامل عذاب )یعنی موت( اس وقت تک تھما رہے جب تک کہ وہ )یعنی آتھم( بیباکی اور شوخی سے اپنے ہاتھ سے اپنے لئے ہلاکت کے اسباب پیدا کرے۔ دیکھو انوار الاسلام صفحہ ۴۔
    دوم۔ وہ بڑا ہاویہ جو موت سے تعبیر کیا گیا ہے اس میں کسی قدر(آتھم صاحب کو) مہلت دی گئی ہے۔ )یعنی تھوڑی سی مہلت کے بعد پھر موت آئے گی( دیکھو انوار الاسلام صفحہ ۶۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 2
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 2
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ

    سومؔ ۔ اور یاد رہے کہ مسٹر عبد اللہ آتھم میں کامل عذاب )یعنی موت( کی بنیادی اینٹ رکھ دی گئی ہے اور وہ عنقریب بعض تحریکات سے ظہور میں آجائے گی خدا تعالیٰ کے تمام کام اعتدال اور رحم سے ہیں اور کینہ ورانسان کی طرح خواہ نخواہ جلد باز نہیں۔ دیکھو انوار الاسلام صفحہ ۱۰۔
    چہارم ۔ اس ہماری تحریر سے کوئی یہ خیال نہ کرے کہ جو ہونا تھا وہ سب ہوچکا اور آگے کچھ نہیں۔ کیونکہ آئندہ کے لئے الہام میں یہ بشارتیں ہیں۔ وَنُمَزُِّ ق الْاَعْدَآءَ کُلَّ مُمَزَّقٍ۔ ہم دشمنوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیں گے یعنی اپنی حجت کامل طور پر ان پر پوری کردیں گے۔
    دیکھو انوار الاسلام صفحہ ۱۵۔
    پنجم ۔ اب اگر آتھم صاحب قسم کھا لیویں تو وعدہ ایک سال قطعی اور یقینی ہے جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں اور تقدیر مبرم ہے اور اگر قسم نہ کھاویں تو پھر بھی خدا تعالیٰ ایسے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑے گا جس نے حق کا اخفا کرکے دنیا کو دھوکہ دینا چاہا اور وہ دن نزدیک ہیں دور نہیں۔ یعنی اُس کی موت کے دن۔ دیکھو اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ صفحہ ۱۱۔
    ششم ۔ مگر تاہم یہ کنارہ کشی آتھم کی )یعنی قسم سے انکار کرنا( بے سود ہے کیونکہ خدا تعالیٰ مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑتا۔ نادان پادریوں کی تمام یا وہ گوئی آتھم کی گردن پر ہے۔ اگرچہ آتھم نے نالش اور قسم سے پہلوتہی کرکے اپنے اس طریق سے صاف جتلایا کہ ضرور اس نے رجوع بحق کیا۔ اور تین حملوں کے طرز وقوع سے بھی جن کا وہ مدعی تھا کھلے طور پر بتلا دیا کہ وہ حملے انسانی حملے نہیں تھے مگر پھر بھی آتھم اس جرم سے بری نہیں ہے کہ اس نے حق کو علانیہ طور پر زبان سے ظاہر نہیں کیا۔ دیکھو رسالہ ضیاء الحق مطبوعہ مئی ۱۸۹۵ء صفحہ ۱۶۔
    ایسا ہی ان رسائل اور اشتہارات کے اور مقامات میں بار بار لکھا گیا ہے کہ موت میں صرف مہلت


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 3
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 3
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ

    دی ؔ گئی ہے اور وہ بہرحال انکار پر جمے رہنے کی حالت میں آتھم صاحب کو پکڑ لے گی چنانچہ ہمارا آخری اشتہار جو آتھم صاحب کے قسم کھانے کے لئے دیا گیا اس کی تاریخ ۳۰ ؍دسمبر ۱۸۹۵ء ہے اس کے بعد آتھم صاحب کا انکار کمال کو پہنچ گیا کیونکہ انہوں نے باوجود اس قدر ہمارے اشتہارات کے کہ ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا نکلا یہاں تک کہ سات اشتہارات دیئے گئے مگر پھر بھی انہوں نے وہ گواہی جو ان پر فرض تھی ادا نہیں کی اس لئے خدائے تعالیٰ نے ان کو اس پیشگوئی کے اثر سے خالی نہ چھوڑا۔ چنانچہ سات اشتہار پر سات دفعہ انکار کرنے کے بعد آخر ساتویں اشتہار سے سات مہینے پیچھے موت* ان پر وارد ہوگئی اور وہ ہاویہ کے عذاب سے پہلے بھی نجات یافتہ نہ تھے اس وقت سے جو ان کو پیشگوئی سنائی گئی اس وقت تک کہ ان کی جان نکل گئی غضب الٰہی کی آگ ہر وقت ان کو جلا رہی تھی۔ اور ایک خوف اور بے آرامی اور بے چینی ان کے لاحق حال ہوگئی تھی۔ پس کچھ شک نہیں کہ وہ پیشگوئی کے وقت سے عذاب الٰہی میں پکڑے گئے جیسے کوئی سخت بیماری میں پکڑا جاتا ہے اور ان کا آرام اور خوشی سب جاتی رہی۔ سو الحمدللّٰہ والمنّہ کہ جب آتھم صاحب نے اپنے رجوع الی الحق سے سات دفعہ انکار کیا تو خدا نے اس دروغ گوئی کی سزا میں ان کو جلد لے لیا۔
    ناظرین یاد رکھیں کہ آخری پیغام جو آتھم صاحب کو قسم کھانے کے لئے پہنچایا گیا وہ اشتہار ۳۰؍ دسمبر ۱۸۹۵ء کا تھا۔ اس میں یہ غیرت دلانے والے الفاظ بھی تھے کہ اگر آتھم کو عیسائی لوگ ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دیں اور ذبح بھی کر ڈالیں تب بھی وہ قسم نہیں کھائیں گے۔ سو چونکہ آتھم نے سچی قسم سے منہ پھیرا اور نہ چاہا کہ حق ظاہر ہو سو جیسا کہ اس نے حق کو چھپایا
    حاشیہ۔ بلاشبہ آتھم کے دوستوں کو اس کی موت کا بہت ہی غم ہوا ہوگا بلکہ ہم نے سنا ہے کہ ایک عیسائی بھولے خان نامی اس کی موت کے غم سے مر ہی گیا۔ اور اس کو آتھم کی ناگہانی موت نے ایسے درد سے پکڑا کہ اس نے خود کہہ دیا کہ یقیناً اب میرا جینا مشکل ہے۔ چنانچہ دل پر سخت صدمہ پہنچنے کی وجہ سے وہ مر ہی گیا اور پھر عیسائیوں نے اپنی قدیم عادت جھوٹ کی وجہ سے اس کی موت کو اس کی کرامت بنا لیا۔ بہتر ہو کہ اس قسم کی کرامت دوسرے شر یر پادریوں سے بھی ظاہر ہو تا خس کم جہاں پاک کی مثال صادق آوے۔ منہ


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 4
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 4
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ

    خداؔ نے اپنے وعدہ کے موافق اس کے وجود کو اس کے ہم مذہب لوگوں کی نظر سے چھپا لیا اور جیسا کہ اس نے وعدہ کیا تھا ویسا ہی ظہور میں آیا۔ تیس۳۰ دسمبر ۱۸۹۵ء تک ہماری طرف سے اس کو تبلیغ ہوتی رہی کہ شائد وہ خدا تعالیٰ سے خوف کرکے سچی گواہی ادا کرے۔ پھر ہم نے تبلیغ کو چھوڑ دیا اور خداتعالیٰ کے وعدہ کے انتظار میں لگے سو آتھم صاحب نے ۳۰ ؍دسمبر ۱۸۹۵ء میں سے ابھی سات مہینے ختم نہ کئے تھے کہ قبر میں جا پڑے۔
    یہ خدا تعالیٰ کے کام ہیں جس کو لوگ عبرت کی نظر سے نہیں دیکھتے بلکہ جن کے دل سیاہ اور آنکھیں اندھی ہیں وہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح خدا تعالیٰ کے نشانوں کو چھپا دیں۔ چنانچہ پرچہ کشف الحقائق بمبئی یکم اگست ۱۸۹۶ء جو حسام الدین عیسائی کی طرف سے نکلتا ہے اس میں اسی پرانی عادت جھوٹ کی نجاست خوری کی وجہ سے چند سطریں صفحہ ۱۰۸ پرچہ مذکور میں لکھی ہیں جو مناسب سمجھ کر ذیل میں ان کا جواب دیا جاتا ہے۔
    قولہ۔ ہم نے سنا ہے کہ جنگ مقدس نہایت مفید اور عمدہ کتاب ہے اس میں قادیانی صاحب کے ناجائز خیالات کی پردہ دری آتھم صاحب نے نہایت شائستگی سے کی ہے۔
    اقول۔ بیشک اس قدر تو میں بھی قائل ہوں کہ جنگ مقدس کا واقعی نقشہ ان لوگوں کو بلاشبہ مفید ہے جو غور اور انصاف کا مادہ اپنے اندر رکھتے ہیں۔ لیکن جو مردہ پرست ہیں اور وہ مردہ پرستی کی عادت ان کی طبیعت کی جز ہوگئی ہے ان کو مفید نہیں۔ کیونکہ وہ آنکھیں رکھتے ہوئے نہیں دیکھتے اور کان رکھتے ہوئے نہیں سنتے اور دل رکھتے ہوئے نہیں سمجھتے۔
    ظاہر ہے کہ جنگ مقدس کے مباحثہ میں عیسائیوں سے بڑا بھاری مطالبہ یہ تھا کہ وہ ابن مریم کی خدائی کو عقل اور نقل کی رو سے ثابت کریں۔ سو عقل تو دور سے ایسے عقیدہ پر نفرین کرتی تھی۔ اس لئے انہوں نے عقل کا نام ہی نہ لیا۔ کیونکہ عقل اسلامی توحید تک ہی گواہی دیتی ہے اور اسی لئے تمام عیسائی اس بات کو مانتے ہیں کہ اگر ایک گروہ ایسے کسی جزیرہ کا رہنے والا ہو جس کے پاس نہ قرآن پہنچا ہو اور نہ انجیل اور نہ اسلامی توحید پہنچی ہو اور نہ نصرانیت کی


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 5
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 5
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ

    تثلیثؔ ان سے صرف اسلامی توحید کا مواخذہ ہوگا۔ جیسا کہ پادری فنڈل نے میزان الحق میں یہ صاف اقرار کیا ہے۔ پس *** ہے ایسے مذہب پر جس کے اصل الاصول کی سچائی پر عقل گواہی نہیں دیتی۔ اگر انسان کے کانشنس اور خدا داد عقل میں تثلیث کی ضرورت فطرتاً مرکوز ہوتی تو ایسے لوگوں کو بھی ضرور تثلیث کا مواخذہ ہوتا جن تک تثلیث کا مسئلہ نہیں پہنچا حالانکہ عیسائی عقیدہ میں بالاتفاق یہ بات داخل ہے کہ جن لوگوں تک تثلیث کی تعلیم نہیں پہنچی ان سے صرف توحید کا مواخذہ ہوگا۔ اس سے ظاہر ہے کہ توحید ہی وہ چیز ہے جس کے نقوش انسان کی فطرت میں مرکوز ہیں۔
    باقی رہا یسوع کی خدائی کو منقولات سے ثابت کرنا۔ سو جنگ مقدس میں آتھم مقتول ہرگز ثابت نہ کر سکا کہ یہی تعلیم جو انجیل کے حوالہ سے اب ظاہر کی جاتی ہے موسیٰ کی توریت میں موجود ہے ظاہر ہے کہ اگر باپ بیٹے روح القدس کی تعلیم جو دوسرے لفظوں میں تثلیث کہلاتی ہے بنی اسرائیل کو دی جاتی تو کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ سب کے سب اس کو بھول جاتے جس تعلیم کو موسیٰ نے چھ سات لاکھ یہود کے سامنے بیان کیا تھا اور بار بار اس کے حفظ رکھنے کے لئے تاکید کی تھی اور پھر حسب زعم عیسائیاں متواتر خدا کے تمام نبی یسوع کے زمانہ تک اس تعلیم کو تازہ کرتے آئے ایسی تعلیم یہود کو کیونکر بھول سکتی تھی۔
    کیا یہ بات ایک محقق کو تعجب میں نہیں ڈالتی کہ وہ تعلیم جو لاکھوں یہودیوں کو دی گئی تھی اور خدا کے نبیوں کی معرفت ہر صدی میں تازہ کی گئی تھی جو اصل مدار نجات تھی اس کو یہود کے تمام فرقوں نے بھلا دیا ہو حالانکہ یہود اپنی تالیفات میں صاف گواہی دیتے ہیں کہ ایسی تعلیم ہمیں کبھی نہیں ملی۔ اور ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ یہود اس بات میں ضرور سچے ہیں۔ کیونکہ اگر تنزّل کے طور پر یہ بھی فرض کرلیں کہ صرف یسوع کے زمانہ میں یہود میں تثلیث کی تعلیم پر عمل تھا۔ تب بھی یہ فرض صریح باطل ٹھہرتا ہے کیونکہ اگر ایسا عمل ہوتا تو ضرور اس کے آثار یہود کی منقولات اور تالیفات میں باقی رہ جاتے اور غیر ممکن تھا کہ یہود یک دفعہ اس تعلیم سے روگرداں ہو جاتے کہ جو تعامل کے طور پر برابر ان میں چلی آئی


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 6
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 6
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ

    تھی۔ اور اگر کسی پیشگوئی میں یہود کو خبر دی جاتی کہ ایک خدا بھی عورت کے پیٹ سے پیدا ہونے والا ہے تو پیشگوئی کے ایسے مفہوم سے جو نبیوں کی معرفت سبق کے طور پر ان کو ملا تھا ہرگز انکار نہ کرتے۔ ہاں یہ ممکن تھا کہ یہ عذر پیش کرتے کہ ایک خدا ایک عورت کے پیٹ میں سے نکلنے والا تو ضرور ہے مگر وہ خدا ابن مریم نہیں ہے بلکہ وہ کسی دوسرے وقت میں آئے گا۔ حالانکہ ایسے عقیدہ پر یہود ہزار *** بھیجتے ہیں۔
    پس میں پوچھتا ہوں کہ جنگ مقدس میں آتھم نے ان باتوں کا کیا جواب دیا ہے۔ کیا یہود کی گواہی سے ثابت کیا کہ نبیوں سے یہی تعلیم ان کو ملی تھی یا نبیوں کی معرفت جو پیشگوئیوں کے معنے ان کو سمجھائے گئے تھے وہ یہی معنی ہیں۔ سچ ہے کہ آتھم اور اس کے ہم مشربوں نے بائیبل میں سے چند پیش گوئیاں پیش کی تھیں۔ مگر وہ ہرگز ثابت نہ کرسکے کہ یہود جو وارث توریت کے ہیں وہ یہی معنے کرتے ہیں۔ صرف تاویلات رکیکہ پیش کیں۔ مگر ظاہر ہے کہ صرف خود تراشیدہ تاویلات سے ایسا بڑا دعویٰ جو عقل اور نقل کے برخلاف ہے ثابت نہیں ہوسکتا۔
    مثلاً یہ لکھنا کہ ’’عما نوایل نام رکھنا‘‘ یہ یسوع کے حق میں پیشگوئی ہے۔ حالانکہ یہود نے بڑی صفائی سے ثابت کردیا ہے کہ یسوع کی پیدائش سے مدّت پہلے یہ پیشگوئی ایک اور لڑکے کے حق میں پوری ہوچکی ہے۔
    اور مثلاً یہ کہنا کہ الوہیم کا لفظ جو جمع ہے تثلیث پر دلالت کرتا ہے۔ حالانکہ یہود نے کھلے کھلے طور پر ثابت کردیا ہے کہ الوہیم کا لفظ توریت میں فرشتہ پر بھی بولا گیا ہے۔ اور ان کے نبی پر بھی اور بادشاہ پر بھی۔ اور لفظ الوہیم سے صرف تین۳ شخص ہی کیوں مراد لئے جاتے ہیں کیونکہ جمع کا صیغہ تین۳ سے زیادہ سینکڑوں ہزاروں پر بھی تو دلالت کرتا ہے۔ سو ان بے ہودہ تاویلات سے بجز اپنی پردہ دری کرانے کے اور کیا آتھم کے لئے نتیجہ نکلا تھا۔ مگر عیسائی بھی عجیب قوم ہے کہ اتنی ذلتیں اٹھا کر پھر بھی شرمندہ نہیں ہوتی۔
    قولہ ۔ ’’قادیانی صاحب باضابطہ مباحثہ میں کامیاب نہ ہوئے تو انہوں نے آتھم صاحب کے مرنے


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 7
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 7
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ

    کیؔ پیشگوئی کی۔ مگر وہ بھی وقت متعینہ پر پوری نہ ہوئی۔‘‘
    اقول۔ مباحثہ کا نمونہ تو میں نے کسی قدر ابھی بتلا دیا۔ اور پھر بھی انکار کرتے رہنا ان لوگوں کا کام ہے جو جھوٹ سے محبت رکھتے ہیں۔ اور رہا یہ کہ آتھم تاریخ مقررہ پر نہیں مرا بلکہ اس کے بعد مرا یہ عیسائیوں کی حماقت ہے جو ایسا سمجھتے ہیں۔ کیا پیشگوئی میں یہ شرط نہ تھی کہ آتھم اس حالت میں ہاویہ میں گرے گا کہ جب رجوع الی الحق نہ کرے*۔ اب ذرہ دل کو ٹھہرا کر اور آنکھوں کو کھول کر سوچو اور فکر کرو کہ کیونکر آتھم نے اپنے اقوال سے اپنے افعال سے اپنی مضطربانہ حرکات سے اپنے مفتریانہ دعاوی سے اس بات کو ثابت کردیا کہ درحقیقت پیشگوئی کی عظمت نے اس کے دل پر اثر کیا اور درحقیقت وہ پیشگوئی کے زمانہ میں نہ معمولی طور پر بلکہ بہت ہی ڈرا اور وہ خوف
    اس بات کے لئے بڑے زبردست دلائل ہمارے ہاتھ میں ہیں کہ آتھم کی یہ موت کوئی معمولی موت نہیں۔ آتھم کی عمر قریباً میرے برابر تھی۔ اور میں تو اکثر عوارض لاحقہ سے بیمار رہتا ہوں اور درد سر کی بیماری مجھے مدت تیس سال سے ہے۔ مگر آتھم ایک پرورش یافتہ بیل کی طرح موٹا تھا اور دن رات شراب پینے اور عمدہ غذائیں کھانے کے سوا اور کوئی کام نہیں تھا۔ سو اس کی موت درحقیقت انہیں پیشگوئیوں کا ظہور ہے کہ جو قطعی طور پر اس کے لئے کی گئی تھیں۔
    اور علاوہ پیشگوئیوں کے جن کا اپنے وقت پر پورا ہونا ضروری تھا۔ یہ بھی انوار الاسلام اور دیگر اشتہارات میں بار بار لکھ چکے ہیں کہ یہ قدیم سے سنت اللہ ہے کہ جو شخص خوف کی حالت میں رجوع کرکے اور پھر امن پاکر برگشتہ ہوجائے خدا اس کو تھوڑی مہلت دیکر پھر پکڑ لیتا ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے۔ 3۱؂یعنی ہم رجوع کے بعد کچھ تھوڑی مدت عذاب کو موقوف رکھیں گے اور پھر پکڑ لیں گے اور تھوڑی مدت اس لئے کہ پھر تم انکار کی طرف رجوع کرو گے۔ سو ایسا ہی ہوا۔
    یہ بات مسلمانوں کو بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ گو ایک شخص کا انجام خدائے تعالیٰ کے علم میں کفر ہو مگر عادت اللہ قدیم سے یہی ہے کہ اس کی تضرع اور خوف کے وقت عذاب کو دوسرے وقت پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ وعید میں خدا کے ارادہ عذاب کا تخلّف جائز ہے مگر بشارت میں جائز نہیں جیسا کہ قوم یونس کی وعید میں نزول عذاب کی قطعی تاریخ بغیر کسی شرط کے بتلا کر پھر اس قوم کی تضرّع پر وہ عذاب موقوف


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 8
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 8
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ

    کےؔ تمثلات اس کی آنکھوں کے سامنے بار بار آئے جو قانون فطرت کی رو سے ان لوگوں کو دکھائی دیا کرتے ہیں جو حد سے زیادہ ڈرتے ہیں۔
    مثلاً امرتسر کے مقام میں اس نے سانپ دیکھا کہ گویا وہ ہمارے اشارہ سے اس پر حملہ کرتا ہے اور لدھیانہ کے مقام میں نیزوں والے دیکھے جو اس کو مارنا چاہتے ہیں۔
    اور فیروز پور کے مقام میں بندوقوں والوں کو دیکھا کہ گویا اس کا کام تمام کرنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ حملے کسی انسان کی طرف سے ہوتے تو ضرور آتھم صاحب اس سانپ کو مار سکتے اور اگر سانپ ہاتھ سے نکل گیا تھا تو ان لوگوں میں سے کسی کو پکڑ سکتے جنہوں نے لودیانہ میں ان پر حملہ کیا تھا ۔اور اگر ان کو نہ پکڑ سکتے تو ان لوگوں میں سے تو ضرور کسی کو پکڑتے جنہوں نے مقام فیروز پور میں ان کے داماد کی کوٹھی پر پہرہ والوں کے ہوتے ہوئے ان پر حملہ کیا تھا۔ کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ آتھم جیسے پیر جہاں دیدہ پر اس درجہ کی مذہبی دشمنی کی وجہ سے تین حملے ہوں تو وہ نہ کسی اقدام قتل کرنے والے کو پکڑ سکے اور نہ اس مدت میں کسی عیسائی کو اس واقعہ کی خبر دے سکے اور نہ تھانہ میں رپورٹ لکھوا سکے اور نہ عدالت میں نالش کر سکے اور
    رکھا گیا اور قرآن شریف اور توریت کے اتفاق سے یہ بھی ثابت ہے کہ فرعون کے ایمان کے وعدہ پر خدا تعالیٰ بار بار عذاب کو اس سے ٹالتا رہا حالانکہ جانتا تھا کہ فرعون کا خاتمہ کفر پر ہے مگر اس بات کا سِرکہ وعید میں تخلف ارادہ عذاب کا کیوں اور کس وجہ سے بعض اوقات میں ہوجاتا ہے حالانکہ بظاہر تخلف وعید میں بھی رائحہ کذب ہے۔
    اس کا جواب یہ ہے کہ کسی کو سزا دینا دراصل خدا تعالیٰ کے ذاتی ارادہ میں داخل نہیں ہے اس کے صفاتی نام جو اصل الاصول تمام ناموں کے ہیں چار ہیں اور چاروں جُود اور کرم پر مشتمل ہیں۔ یعنی وہی نام جو سورہ فاتحہ کی پہلی تین آیتوں میں مذکور ہیں یعنی ربّ العالمین اور رحمان اور رحیم اور مٰلک یوم الدّین یعنی مالک یوم جزا۔
    ان ہر چہار صفات میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کے لئے سراسر نیکی کا ارادہ کیا گیا ہے۔ یعنی پیدا کرنا پرورش کرنا جس کا نام ربوبیت ہے اور بے استحقاق آرام کے اسباب مہیا کرنا جس کا نام رحمانیت ہے۔ اور تقویٰ اور خدا ترسی اور ایمان پر انسان کے لئے وہ اسباب مہیا کرنا جو


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 9
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 9
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ

    ہماراؔ مچلکہ بذریعہ عدالت لے سکے اور منہ پر مہر لگ جائے۔ کیا تم انسان ہویا حیوان ہو کہ اتنی موٹی بات کو سمجھ نہیں سکتے کہ جس آتھم پر جو اکسٹرا اسٹنٹ بھی رہ چکا تھا ایسے ایسے سخت حملے ہوئے اور نہ صرف اسی قدر بلکہ بقول تمہارے اس کو زہر دینے کا بھی ارادہ کیا گیا مگر اس نے عدالت کے ذریعہ سے خونخوار حریف کا کچھ بھی تدارک نہ کرایا۔ ایسے بدذات اور پلید طبع جنہوں نے زہر دینے کی تجویز کی اور ڈاکوؤں کی طرح تین مرتبہ اس پر سخت حملے کئے کیا ایسے خبیثوں کو چھوڑنا روا تھا۔ خدا کی *** اس شخص پر جس نے سانپ چھوڑا اور زہر دینے کی تجویز کی اور سوار اور پیا دے بندوقوں اور تلواروں اور نیزوں کے ساتھ بمقام لودیانہ اور فیروز پور آتھم کی کوٹھی پر بھیجے تا اس کو قتل کریں۔ اور اگر یہ بات صحیح نہیں تو پھر اس شخص پر ہزار *** جس نے ایسا بے بنیاد افتراکیا اور حق کو مخفی رکھنے کے لئے اور اپنے خوف کو چھپانے کیلئے یہ منصوبہ گھڑا۔
    اسی قسم کے افتراؤں سے جن کو ہم نے بچشم خود دیکھ لیا ہم یقین رکھتے ہیں کہ اس عیسائی قوم میں سخت بد ذات اور شریر پیدا ہوتے ہیں اور بھیڑوں کے لباس میں اپنے تئیں ظاہر کرتے ہیں اور اصل میں شریر بھیڑیئے ہوتے ہیں۔ اور ایسی بدذاتی سے بھرے ہوئے جھوٹ بولتے ہیں اور افترا کرتے
    آئندہ دکھ اور مصیبت سے محفوظ رکھیں۔ جس کا نام رحیمیّت ہے۔ اور اعمال صالحہ کے بجا لانے پر جو عبادت اور صوم اور صلٰوۃ اور بنی نوع کی ہمدردی اور صدقہ اور ایثار وغیرہ ہے وہ مقام صالح عطا کرنا جو دائمی سرور اور راحت اور خوشحالی کا مقام ہے جس کا نام جزاء خیر از طرف مالک یوم الجزاء ہے۔ سو خدا نے ان ہر چہار صفات میں سے کسی صفت میں بھی انسان کے لئے بدی کا ارادہ نہیں کیا سراسر خیر اور بھلائی کا ارادہ کیا ہے لیکن جو شخص اپنی بدکاریوں اور بے اعتدالیوں سے ان صفات کے پرتوہ کے نیچے سے اپنے تئیں باہر کرے اور فطرت کو بدل ڈالے اس کے حق میں اسی کی شامت اعمال کی وجہ سے وہ صفات بجائے خیر کے شر کا حکم پیدا کرلیتے ہیں چنانچہ ربوبیت کا ارادہ فنا اور اعدام کے ارادہ کے ساتھ مبدل ہوجاتا ہے اور رحمانیت کا ارادہ غضب اور سُخط کی صورت میں ظاہر ہوجاتا ہے اور رحیمیت کا ارادہ انتقام اور سخت گیری کے رنگ میں جوش مارتا ہے اور جزاء خیر کا ارادہ سزا اور تعذیب کی صورت میں اپنا ہولناک چہرہ دکھاتا ہے۔
    سو یہ تبدیلی خدا کی صفات میں انسان کی اپنی حالت کی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 10
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 10
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ

    ہیںؔ جن کی کچھ بھی اصلیت نہیں ہوتی۔
    عیسائی اس بات کو مانیں یا نہ مانیں مگر منصف لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ آتھم کو ان بیہودہ افتراؤں کی کیوں ضرورت پیش آئی اور کیوں اور کس وجہ سے یہ باتیں اس نے میعاد گزرنے کے بعد پیش کیں اور میعاد کے اندر میّت کی طرح کیوں خاموش رہا حالانکہ دشمن کی مجرمانہ حرکت کو اسی وقت شائع کرنا چاہئے تھا جبکہ دشمن کی طرف سے ارتکاب جرم کا ہوا تھا۔
    اس افترا کا یہی سبب تھا کہ آتھم نے اپنی کمال سراسیمگی سے پیشگوئی کی میعاد میں دنیا پر ظاہر کردیا تھا کہ وہ پیشگوئی کی عظمت سے سخت خوف میں پڑگیا اور اس کے دل کا آرام جاتا رہا۔ اکثر وہ روتا تھا۔ اور اس کے ڈرنے والے دل کا نقشہ اس کے چہرہ پر نمودار تھا اور مُردہ پرستی کا ایمان اس کو قوت اور استقامت نہیں بخش سکتا تھا بلکہ اس وقت سچائی کے خوف نے اس کے ایسے پلید خیالات کو اپنے پیروں کے نیچے کچل دیا تھا۔ سو جس خوف کا اس نے اپنی سخت بیقرار ی سے ثبوت دے دیا تھا میعاد گزرنے پر ضرور تھا کہ وہ اپنی قوم کے آگے اس کی کچھ تاویل کرتا اور اس کی کوئی وجہ بتلاتا۔ تاکسی کے ذہن کا اس طرف انتقال نہ ہو کہ وہ تمام خوف پیشگوئی کی وجہ سے تھا سو اس نے تین حملوں اور زہر دینے کی تجویز کو بہانہ بنایا۔ تاسب لوگ بول اٹھیں کہ جبکہ آتھم بیچارہ پر اس قدر سخت حملے ہوئے تو وہ بیچارہ کیوں سراسیمہ اور بیقرار نہ رہتا۔
    اگر یہ بہانہ نہیں تھا اور واقعی طور پر ہم نے کوئی تعلیم یافتہ سانپ چھوڑا تھا۔ یا ہمارے سوار اور پیادے اس کے قتل کرنے کے لئے اس کی کوٹھی پر آئے تھے یا اس کو زہر دینے کے لئے ہماری

    غرض چونکہ سزا دینا یا سزا کا وعدہ کرنا خدائے تعالیٰ کی ان صفات میں داخل نہیں جو اُمّ الصفات ہیں کیونکہ دراصل اس نے انسان کے لئے نیکی کا ارادہ کیا ہے اس لئے خدا کا وعید بھی جب تک انسان زندہ ہے اور اپنی تبدیلی کرنے پر قادر ہے فیصلہ ناطقہ نہیں ہے۔ لہٰذا اس کے برخلاف کرنا کذب یا عہد شکنی میں داخل نہیں۔ اور گو بظاہر کوئی وعید شروط سے خالی ہو مگر اس کے ساتھ پوشیدہ طور پر ارادہ الٰہی میں شروط ہوتی ہیں بجز ایسے الہام کے جس میں ظاہر کیا جائے کہ اس کے ساتھ شروط نہیں ہیں۔ پس ایسی صورت میں قطعی فیصلہ ہوجاتا ہے اور تقدیر مبرم قرار پاجاتا ہے یہ نکتہ معارف الٰہیہ سے نہایت قابل قدر اور جلیل الشان نکتہ ہے جو سورہ فاتحہ میں مخفی رکھا گیا ہے۔ فتدبّر۔ منہ


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 11
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 11
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    طرفؔ سے کوئی اقدام ہوا تھا تو اس کو خدا نے خوب موقعہ دیا تھا کہ ہماری پیشگوئی کی قلعی کھولتا اور حملہ آوروں کو پکڑتا اور ان حملوں کے وقوع کا ثبوت دیتا۔ یا کم سے کم اثناء پیشگوئی میں کسی تھانہ میں رپورٹ لکھواتا یا کسی حاکم سے ذکر کرتا۔ یا اخباروں میں چھپوا دیتا۔ جس شخص نے اول جھوٹی پیشگوئی کرکے اس قدر اس کے دل کو دکھایا اور اس درجہ کا صدمہ پہنچایا اور پھر زہر دینے کی فکر میں رہا۔ اور پھر تین حملے کئے تااس کو نیست و نابود کرے اور اس کی موت کو اس کے مذہب کے بطلان پر دلیل لاوے۔ کیا ضرور نہ تھا کہ ایسے ظالم کے ظلم پر ہرگز صبر نہ کیا جاتا۔ اگر اپنے لئے نہیں تو اپنے مذہب کی حمایت کے لئے ہی ایسے مفسد کا واجب تدارک کرنا چاہئے تھا۔ چنانچہ اخبار والوں نے بھی ہر طرف سے زور دیا کہ آتھم صاحب لوگوں پر احسان کریں گے اگر ایسے مفسد کو عدالت کے ذریعہ سے سزا دلائیں گے۔ مگر آتھم صاحب موت سے پہلے ہی مرگئے اور ہماری سچائی کے پوشیدہ ہاتھ نے انہیں ایسا دبایا کہ گویا وہ زندہ ہی قبر میں داخل ہوگئے۔
    دنیا تمام اندھی نہیں ہریک منصف سوچ سکتا ہے کہ جو ناحق کے الزاموں کے تیر انہوں نے میری طرف پھینکے تھے وہی تیر بوجہ عدم ثبوت ان کو زخمی کرگئے اور ان افتراؤں سے عقلمندوں نے سمجھ لیا کہ ضرور دال میں کالا ہے۔
    غرض جبکہ وہ اس بار ثبوت سے سبکدوش نہ ہوسکے جس سے انہیں سبکدوش ہونا چاہئے تھا بلکہ قسم کھانے سے بھی محض حق پوشی کے طریق پر انکار کرگئے تو کیا اب بھی یہ ثابت نہ ہوا کہ ضرور انہوں نے پیشگوئی کی عظمت کا خوف دل میں ڈال کر اس شرط سے فائدہ اٹھایا تھا جو الہامی عبارت میں درج تھی۔
    قولہ ۔ قادیانی صاحب کے پیرو پیشگوئی کے سبب سے ان سے منحرف ہوگئے۔
    اقول۔ میاں حسام الدین کی یہ دروغ گوئی درحقیقت افسوس کی جگہ نہیں کیونکہ جبکہ ان کے بزرگ عیسائی ایک مردہ کو خدا بنانے کے لئے کئی جھوٹی انجیلیں بناکر چھوڑ گئے
    تو


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 12
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 12
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ

    جھوٹؔ بولنا ان کی وراثت ہے۔
    یہ بھی یاد رہے کہ اگر انحراف سے ان کی مراد کسی ایک آدھ ناسمجھ کا انحراف ہے تو آپ کے یسوع صاحب پر سب سے پہلے یہ الزام ہے کیونکہ یہودا اسکریوطی یسوع صاحب سے بڑے زور شور کے ساتھ منحرف ہوا تھا اور نہ صرف منحرف ہوا بلکہ نہایت بدظن ہوکر یہ چاہا کہ ایسا شخص ہلاک ہی ہوجائے تو بہتر ہے۔ تیس روپیہ لینے پر اسی وجہ سے راضی ہوا کہ یہ رقم قلیل بھی اس کے وجود سے بدرجہا افضل ہے۔
    بات یہ ہے کہ یسوع صاحب نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ میں داؤد کے تخت کو قائم کرنے آیا ہوں اور اس طرح پر یہود کو اپنی طرف کھینچنا چاہا تھا کہ دیکھو میں تمہاری بادشاہی پھر دنیا میں دوبارہ قائم کرنے آیا ہوں اور رومی گورنمنٹ سے اب جلد تم آزاد ہوا چاہتے ہو۔ مگر وہ بات نہ ہوئی بلکہ حضرت یسوع صاحب نے نہایت درجہ کی ذلت دیکھی۔ مُنہ پر تھوکا گیا۔ اور آپ کے اس حصہ جسم پر کوڑے لگائے گئے جہاں مجرموں کو لگائے جاتے ہیں اور حوالات میں کیا گیا۔ پس یہودا اور ایسا ہی اور بہت سے آدمیوں نے بخوبی سمجھ لیا کہ اس شخص کی پیشگوئی صاف جھوٹی نکلی اور یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے۔
    لہٰذا انہوں نے اس کے ساتھ رہنا پسند نہ کیا۔ اور ان کے دل پہلے ہی سے شکستہ ہوگئے تھے کیونکہ پہلے نبیوں کی پیشگوئیوں کے مطابق یسوع میں مسیح موعود ہونے کی علامتیں نہ پائی گئیں۔ اور خاص کر یہ کہ ان سے پہلے ایلیا آسمان سے نہ اُترا جس کا اُترنا ضروری تھا۔
    اور پھر اس بات سے تو طبیعتیں نہایت بیزار ہوگئیں کہ داؤد کے تخت کے بحال کرنے کی پیشگوئی جو مسیح موعود کی علامت تھی ان کے حق میں صادق نہ آئی۔ انہوں نے دعویٰ بھی کردیا کہ میں پہلے نبیوں کی پیشگوئی کے مطابق داؤد کے تخت کو پھر بحال کرنے آیا ہوں بلکہ شوق ظاہر کیا کہ لوگ مجھ کو شہزادہ کہیں مگر ان کی بدقسمتی سے داؤد کا تخت بحال نہ ہوا اور وہ دعویٰ جھوٹا نکلا۔ اور درحقیقت یسوع صاحب کی یہ ایک فضولی تھی اور یا ایک قسم کی چالاکی اور


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 13
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 13
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    دام اندازیؔ کہ انہوں نے یہودیوں کو داؤد کے تخت کی امید دلائی تا وہ لوگ اگر اور طرح نہیں تو اسی طرح ان کے قبضہ میں آجائیں۔ مگر چاہئے تھا کہ وہ ایسی لاف و گزاف سے اپنی زبان کو بچاتے اور اسی پہلی بات پر قائم رہتے کہ میری بادشاہت دنیا کی بادشاہت نہیں مگر نفسانی جذبات کی وجہ سے صبر نہ کرسکے اور اپنے پہلے پہلو میں ناکامی دیکھ کر ایک اور چال اختیار کی اور پھر جب باغی ہونے کے شبہ میں پکڑے گئے تو پھر اپنے تئیں بغاوت کے الزام سے بچانے کے لئے وہی پہلا پہلو اختیار کرلیا۔ دعویٰ خدائی کا اور پھر یہ چال بازیاں۔ جائے تعجب ہے۔
    اور یاد رہے کہ یہ ہماری رائے اس یسوع کی نسبت ہے جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور پہلے نبیوں کو چور اور بٹمار کہا اور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بجز اس کے کچھ نہیں کہا کہ میرے بعد جھوٹے نبی آئیں گے۔ ایسے یسوع کا قرآن میں کہیں ذکر نہیں۔
    قولہ ۔ ہر ایک شریف مسلمان کو اس بات کے سننے سے نہایت رنج ہوگا کہ مسلمان مخالفین نے ان کے یعنی آتھم صاحب کے مارنے کے لئے وحشیانہ حرکتیں کیں ان کے گھر میں زندہ سانپ چھوڑے گئے ان کو زہر کھلانے کی تجویز کی گئی۔
    اقول ۔ میں پوچھتا ہوں کہ اب آتھم صاحب جو مرگئے کس زہر سے مارے گئے یا کس سانپ نے ان کو ڈسا یا کس نے ان پر بندوق فیر کی یا تلوار چلائی۔ اگر کہو کہ اب پیشگوئی کی میعاد کے بعد فوت ہوئے تو یہ صاف حماقت ہے کیونکہ پیشگوئی نے یہ قطعی فیصلہ نہیں دیا تھا کہ ضرور اس کی میعاد کے اندر ہی فوت ہوں گے۔ بلکہ پیشگوئی میں یہ صاف شرط موجود تھی کہ اگر وہ عیسائیت پر مستقیم رہیں گے اور ترک استقامت کے آثار نہیں پائے جائیں گے اور ان کے افعال یا اقوال سے رجوع الی الحق ثابت نہیں ہوگا تو صرف اس حالت میں پیشگوئی کے اندر فوت ہوں گے ورنہ ان کی موت میں تاخیر ڈال دی جائے گی۔ ہاں کسی قدر ہاویہ کا بھی مزہ چکھ لیں گے


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 14
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 14
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    سو ؔ بلاشبہ پیشگوئی نے میعاد کے اندر اس ہاویہ کا مزا ان کو چکھا دیا جس ہاویہ کی تکمیل رفتہ رفتہ ۲۷؍جولائی ۱۸۹۶ء کو ہوگئی اور ضرور تھا کہ وہ پیشگوئی کی میعاد میں ہاویہ کے پورے اثر سے بچے رہتے۔ کیونکہ انہوں نے اسلامی پیشگوئی کا ڈر اپنے پر ایسا غالب کیا کہ ایک قسم کی موت ان پر آگئی وہ مردوں کی طرح چپ ہوگئے اور عیسائیت کے پلید عقائد کی حمایت میں جو پہلے تالیفات کرتے رہتے تھے ان سے یکلخت دستکش ہوگئے اور خوف کے صدمات نے ان کو سراسیمہ کردیا پس کیا ضرور نہ تھا کہ خدا تعالیٰ اپنے الہام کی شرط کے موافق موت کو دوسرے وقت پر ٹال دیتا۔ اور کیا ان کی موت سے پہلے یہ پیشگوئی شائع نہیں کی گئی کہ انکار قسم کے اصرار پر یہ پیشگوئی پورے طور پر پوری ہو جائے گی۔ سو اب بیشک آتھم صاحب پیشگوئی کے مطابق مرے اور آخری انکار کے بعد صرف سات مہینے زندہ رہے۔
    سو یہ ہمارا حق ہے کہ ہم کہیں کہ ہریک شریف عیسائی کو اس بات کے سننے سے نہایت رنج ہوگا کہ آتھم باطل اندیش نے پیشگوئی کی سچائی کو چھپانے کے لئے کیا کیا مکروہ اور نالائق افتراؤں سے کام لیا اور کس طرح دلیری کے ساتھ بے بنیاد جھوٹ کو پیش کیا۔ نالائق آتھم نے سراسر بے وجہ مجھے زہر خورانی کے اقدام کی تہمت دی۔ میرے پر یہ افترا باندھا کہ گویا میں نے اس کے قتل کرنے کے لئے اس کی کوٹھی میں سانپ چھوڑے تھے۔ اور گویا میں ایسا پرانا خونی تھا کہ تین مرتبہ میں نے تین مختلف شہروں میں اس کے مارنے کے لئے اپنی جماعت کے جوانوں سے حملے کرائے اور کئی سوار اور پیادے معہ بندوقوں اور تلواروں اور نیزوں کے اس کی کوٹھی میں لودیانہ اور فیروز پور میں میرے حکم سے گھس گئے۔ خدا کی *** کا مارا بہت سا جھوٹ بول کر بھی آخر موت سے بچ نہ سکا۔ شرطی پیشگوئی سے تو اس کی جان بوجہ ادائے شرط کی بچ گئی لیکن قطعی پیشگوئی نے آخر اس کو کھا لیا۔
    میں اپنے اشتہارات انوارالاسلام وغیرہ اور ضیاء الحق میں نہایت دلائل قاطعہ سے ثابت کر چکا ہوں کہ آتھم کا یہ نہایت گندہ جھوٹ ہے کہ اس نے ان حملوں کا میرے پر الزام لگایا اور ایک راستباز انسان کی طرح کبھی یہ ارادہ نہ کیا کہ اس الزام کو ثابت کرے نہ نالش سے نہ بذریعہ پولیس ثبوت


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 15
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 15
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/15/mode/1up


    دینےؔ سے اور نہ قسم کھانے سے اور نہ کسی خانگی طور سے۔ اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ کسی منصف کا کانشنس ہرگز یہ گواہی نہیں دے گا کہ درحقیقت واقعی طور پر یہ حملے ہوئے تھے۔ میں دشمنوں سے اس وقت امید نہیں رکھتا کہ وہ اپنے کانشنس سے مجھ کو اطلاع دیں مگر ایک حق پسند کے لئے یہ ثبوت تسلی بخش ہے کہ آتھم نے ان چار الزاموں میں سے کسی الزام کو ثابت نہیں کیا بلکہ قسم کھانے سے بھی اعراض کیا جس سے بآسانی صفائی ہوسکتی تھی۔
    اور اس سوال کا جواب ہریک منصف کا کانشنس دے سکتا ہے کہ ان بہتانوں کے لئے اس کو کونسی ضرورت پیش آئی تھی۔ کیا بجز اس کے اور بھی کوئی ضرورت عقل میں آسکتی ہے کہ اس نے بہتانوں کے ساتھ اپنے اس خوف پر پردہ ڈالنا چاہا جو اس کی سراسیمگی کی وجہ سے ہر ایک شخص پر ظاہر ہوچکا تھا۔ کیا عقل باور کرسکتی ہے کہ جس کی جان لینے کے لئے ہم نے سو کوس تک تعاقب کیا اور بار بار حملے کئے اس کے منہ پر اخیر میعاد تک مہر لگی رہی اور نہ صرف اس کے منہ پر بلکہ ان سب کے منہ پر جنہوں نے ایسے حملہ آوروں کو دیکھا تھا۔ نہ نالش کرنا نہ قسم کھانا نہ خانگی طور پر کوئی گواہ پیش کرنا کیا یہ وہ علامات ناطقہ نہیں ہیں جن سے اصل حقیقت کھلتی ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ صرف پیشگوئی کی شرط سے لوگوں کے خیالات ہٹانے کے لئے یہ حرکت مذبوحی تھی۔
    مگر تاہم اگر اب تک کسی عیسائی کو آتھم کے اس افترا پر شک ہو تو آسمانی شہادت سے رفع شک کرا لیوے۔ آتھم تو پیشگوئی کے مطابق فوت ہوگیا اب وہ اپنے تئیں اس کا قائم مقام ٹھہرا کر آتھم کے مقدمہ میں قسم کھا لیوے۔ اس مضمون سے کہ آتھم پیشگوئی کی عظمت سے نہیں ڈرا بلکہ اس پر یہ چار حملے ہوئے تھے۔ اگر یہ قسم کھانے والا بھی ایک سال تک بچ گیا تو دیکھو میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ میں اپنے ہاتھ سے شائع کردوں گا کہ میری پیشگوئی غلط نکلی۔ اس قسم کے ساتھ کوئی شرط نہ ہوگی۔ یہ نہایت صاف فیصلہ ہو جائے گا اور جو شخص خدا کے نزدیک باطل پر ہے اس کا بطلان کھل جائے گا۔
    اگر عیسائی لوگ سچے دل سے یقین رکھتے ہیں کہ پیشگوئی جھوٹی نکلی تو اس طریق امتحان سے


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 16
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 16
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/16/mode/1up


    کونسی ؔ چیز ان کو مانع ہے۔
    آتھم کا مقدمہ ایک ایسا صاف ہے کہ اگریہ بہ ہیئت کذائی چیف کورٹ کے ججوں کے سامنے بھی پیش ہو تو ان سے کچھ نہیں بن سکے گا بجز اس کے کہ ہمارے حق میں ڈگری دیں۔ کیا آتھم ان بہتانوں میں سے کسی ایک بہتان کو بھی ثابت کرسکا جو اس نے پیشگوئی کی میعاد کے بعد مجھ پر لگائے کیا یہ سفید جھوٹ نہیں کہ بقول اس کے میں نے زہر خورانی کا اقدام کیا۔ جیسا کہ میاں حسام الدین عیسائی کشف الحقائق پرچہ اگست ۱۸۹۶ء میں مجھ پر الزام لگاتے ہیں کہ گویا میں نے زہر خورانی کی تجویز کی اور سانپ چھوڑے۔ شاید اس سے ان کا مطلب یہ ہے کہ آتھم کو ایک کراماتی عیسائی بنادیں کیونکہ انجیلوں میں لکھا ہے کہ راستباز مسیحی کی یہ علامت ہے کہ سانپ اس کو ڈس نہ سکے اور زہر اس میں اثر نہ کرسکے۔ سو گویا یہ دونوں کرامتیں آتھم سے ظہور میں آگئیں اب اس کے ولی ہونے میں کیا کسر رہ گئی۔ لیکن عقلمند خوب سمجھتے ہیں کہ یہ ساری باتیں اس خوف کے چھپانے کے لئے ہیں جس نے آتھم کو پیشگوئی سننے کے بعد ہوش و حواس سے الگ کر دیا تھا۔
    اگر یہ بات صحیح نہیں ہے تو کوئی ثبوت پیش کرنا چاہئے تھا کہ یہ خوف آتھم صاحب کا جس کا ان کو اقرار ہے اس سبب سے نہیں تھا جو پہلے موجود تھا وہی سبب جس سے طبعی طور پر متاثر ہونا ممکن بھی تھا جس کی فریق ثانی کو بوجہ موجودگی شرط کے انتظار بھی تھی یعنی الہامی پیشگوئی۔ بلکہ یہ خوف اس وجہ سے ہوا کہ فریق ثانی درحقیقت خون کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ کیا آتھم صاحب نے کوئی ایسے قرائن ثابت شدہ پیش کئے جن سے شبہ بھی گزر سکتا ہو کہ خونریزی کی نیت کی گئی تھی۔ پھر اگر یہ پہلو ڈرنے کا غیر ثابت اور غیر معقول تھا اور چار حملے جو بیان کئے گئے ان میں علاوہ عدم ثبوت کے بناوٹ کی بدبو بھی ظاہر تھی تو ایک عادل جج کو ماننا پڑتا ہے کہ ڈرنے کی کوئی اور و!جہ ہوگی۔ پس وہ اور و!جہ بجز اس کے کیا تھی کہ آتھم صاحب عرصہ تیس برس سے میرے حال اور میرے چال چلن سے بخوبی واقف تھے اور ہمارے اس ضلع میں وہ مدت تک اسی علاقہ کی تحصیل میں ملازم بھی رہ چکے تھے ان کو خوب معلوم تھا کہ یہ شخص کاذب نہیں اور نیز سچائی کی ذاتی خاصیت نے اسی وقت ان کو ہراساں اور


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 17
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 17
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/17/mode/1up


    ترساں کردیا تھا۔ سو اسی لئے وہ ڈرے اور ان کے ڈرنے نے ان کو اس وقت تک مرنے سے محفوظ رکھا جب تک ان سے بیباکی پر اصرار ظاہر ہوا۔ سو میعاد گزرنے کے بعد شیطان نے ان کے دل میں شبہات ڈالے کہ پیشگوئی کچھ چیز نہیں۔ بہرحال بچنا ہی تھا۔ سو یہ شبہات بڑھتے گئے اور قوت پکڑ گئے یہاں تک کہ وہ ہمارے اشتہار ۳۰ ؍دسمبر ۱۸۹۵ء کے شائع ہونے تک پورے منکر اور بیباک ہوچکے تھے۔ سو خدا نے ان کو جیسا کہ پیشگوئی میں وعدہ تھا اور پہلے شائع ہوچکا تھا بیباکی کے بعد اشتہار آخری سے سات مہینہ تک لے لیا اور ابھی یہ ہمارے آخری اشتہار شائع ہورہے تھے کہ ان کی موت کی خبر پہنچ گئی۔
    افسوس کہ عیسائیوں کی تمام دیانت آزمائی کے لئے یہ پہلا موقعہ تھا۔ مگر کسی نے بھی ان میں سے سچ کی پرواہ نہ کی۔ یہاں تک کہ ایڈیٹر سول ملٹری نے جس کو آزادی اور راست گوئی کا دعویٰ تھا اس مقام میں گندہ جھوٹ بولا۔ حسام الدین پر تو کچھ بھی افسوس نہیں کیونکہ یہ لوگ جو پادریانہ مشرب رکھتے ہیں اکثر وہ جھوٹ کے پتلے اور نجاست خوری کے کیڑے ہیں ان کو نہ فطرتی حیا ہے اور نہ خدا تعالیٰ کا خوف۔
    یہ کہنا غلط ہے کہ بباعث بے خبری یہ لوگ معذورہیں کیونکہ میں نے اس مقدمہ میں پانچ ہزار کے قریب اشتہار جاری کیا ہے اور کھلے کھلے دلائل کے ساتھ دکھلا دیا ہے کہ آتھم خدا اور خلقت کے نزدیک ملزم ہے*اور پیشگوئی اپنے دو پہلوؤں میں سے ایک پہلو پر پوری ہوچکی ہے۔ پھر کیونکر

    یہ کس کو خبر نہیں کہ آتھم صاحب نے پرچہ نور افشاں میں صاف اقرار چھپوایا کہ میں اثناء ایام پیشگوئی میں ضرور خونی فرشتوں سے ڈرتا رہا۔ یہ کس کو معلوم نہیں کہ ڈرنے کی علامات ان سے اس قدر صادر ہوئیں کہ جن کو چھپانا ممکن نہیں۔ کون عیسائی اس سے انکار کرے گا کہ آتھم صاحب ایام پیشگوئی میں روتے رہے۔ کس کے کانوں تک یہ خبر نہیں پہنچی کہ اس وقت بھی آتھم صاحب کے آنسو نہیں تھمے تھے جبکہ وہ اکراہ اور جبر کے طور پر پیشگوئی کے دنوں میں عیسائیوں کے جلسہ میں بلائے گئے۔ پھر جب تھوڑے دنوں کے بعد آتھم صاحب کے ہوش و حواس قائم ہوئے اور قوم کے خنّاسوں کا اثر ان پر پڑا اور دل سخت ہوگیا تب ان کو سمجھ آیا کہ یہ میں نے اچھا نہیں کیا کہ اسلامی پیشگوئی کے خیال سے اس قدر
    بے قراری ظاہر کی۔ تب زہر خورانی کے اقدام کا منصوبہ اور تین حملوں کا بہانہ بنایا گیا کیونکہ جس قدر خوف


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 18
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 18
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/18/mode/1up


    یہ لوؔ گ بے خبر ہیں دیکھو انوار الاسلام اور اشتہار ہزار روپیہ۔ دو ہزار روپیہ۔ تین ہزار روپیہ۔ چارہزار روپیہ اور رسالہ ضیاء الحق اور آخری اشتہار ۳۰ ؍دسمبر ۱۸۹۵ء جس کے سات ماہ بعد آتھم اپنی بیباکی کی جزا کو پہنچ گیا۔
    میرا یہ خیال بھی ہے کہ آتھم زہر خورانی کے دعویٰ میں تو بالکل جھوٹا ہے لیکن باقی تین حملوں کے دعویٰ میں شائد ایک اصلیت بھی ہو اور وہ یہ ہے کہ شاید یونس کی قوم کی طرح ایسے پیرایوں میں فرشتے اس کو نظر آئے ہوں جن کا وہ خود خونی فرشتے نام رکھتا ہے اور پھر اس نے عمدً ا کسی قدر سہو کی آمیزش سے ان حملوں کو انسانی حملے خیال کرلیا ہو اور اصل واقعہ کو گڑ بڑ کردیا ہو یہ اس حالت میں ہے کہ کسی قدر اس کو بھلا مانس آدمی خیال کرلیا جائے۔ لیکن یقیناً عیسائی لوگ اس تاویل پر راضی نہیں ہوں گے۔ پس دوسرا احتمال صرف یہ ہے کہ اس نے عمداً ایک گندے اور ناپاک جھوٹ اور افترا سے کام لیا تا اس خوف کو چھپا وے جو اس کے مضطربانہ افعال سے ظاہر ہوچکا تھا۔
    غرض اگر اس کے بیان پر اعتبار کیا جائے تو ان حملوں کو فرشتوں کے تمثلات مان لینا چاہئے ورنہ اس میں کچھ شک نہیں کہ سخت نالائق اور مکروہ جھوٹ کو اس نے حق پوشی کے لئے استعمال کیا ہے۔

    ان کی سراسیمگی اور بیقراری سے ظاہر ہوچکا تھا وہ چاہتا تھا کہ اگر اس کا سبب الہامی پیشگوئی نہیں تو ایسا سبب ضرور ہونا چاہئے جو نہایت ہی قوی اور عظیم الشان ہو جس سے یقینی طور پر موت کا اندیشہ دل میں جم سکے۔ سو جھوٹ کی بندشوں سے کام لے کر یہ خوف کے اسباب تراشے گئے مگر ان بہتانوں نے جو نہایت مکروہ طور پر غیر محل پر استعمال کئے گئے آتھم صاحب کی اندرونی حالت بلکہ عیسائیت کے لبِّ لُباب کو اور بھی پبلک کے سامنے رکھ دیا۔ اور اس نظیر نے ثابت کردیا کہ ان کی فطرت میں کس قدر قابل شرم خُبث بھرا ہوا ہے جو ایسے ظلم اور جھوٹ اور بناوٹ اور سراسر بے اصل بہتان باندھنے کا محرک ہوا۔
    مگر یہ چاروں بہتان آتھم صاحب کو ملزم کرتے تھے۔ افسوس کہ آتھم صاحب کے ان بہتانوں سے عقلمندوں کے نزدیک اگر کچھ نتیجہ پیدا ہوا تو صرف یہی کہ یہ عیسائی لوگ جھوٹ بولنے میں سخت بیباک اور بے شرم ہیں۔ کون نہیں سمجھ سکتا کہ ان جھوٹے اور بے ثبوت بہتانوں سے ان کا مُنہ کالا ہوگیا تھا اور اس کلنک کو دور کرنے کے لئے بجز اس کے اور کوئی تدبیر نہ تھی کہ یا توعدالت


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 19
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 19
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/19/mode/1up


    اگرؔ چہ حال کے فلاسفروں کی نظر میں یہ پہلا احتمال بہت قدر کے لائق نہیں ہے یعنی یہ کہ آتھم کو فرشتے نظر آئے ہوں مگر چونکہ خود اس کے مُنہ سے یہ الفاظ نکلے تھے کہ’’ میں خونی فرشتوں سے ڈرتا رہا‘‘ اس لئے ہمیں مناسب ہے کہ اس کے ان الفاظ کو بھی اس سچائی پر قیاس کریں کہ جو بعض اوقات بے اختیار مجرم کی زبان پر جاری ہوجاتی ہے۔
    ایک محقق کی نظر میں یہ امر بہت مشکل ہے کہ اگر یہ تمام حملے انسان ہی کے حملے تھے تو ان مختلف حملوں میں کوئی دوسرا شخص کسی موقعہ پر بھی آتھم کا شریک رؤیت نہ ہو سکا اور آتھم کی زبان پر بھی مہر لگی رہی اور اس نے اس میعاد میں کوئی کارروائی ایسی نہ دکھلائی جیسا کہ ایک شخص خونیوں کے حملوں سے ڈرنے والا طبعی جوش سے دکھلاتا ہے بلکہ اس نے تو اپنا دامن قسم کھانے سے بھی پاک نہ کیا جس کے کھانے میں نہ صرف آسانی بلکہ نقد چار ہزار روپیہ ملتا تھا۔
    پس ان واقعات سے یہ نتیجہ نکالنا عین انصاف ہے کہ کوئی ڈرانے والا امر اس کو اس جرأت کرنے سے روکتا تھا کہ وہ نالش کرتا یا قسم کھاتا یا خانگی تحقیقات کرواتا۔ اگر ایک پاک نظر لے کر اس مقدمہ پر سلسلہ وار غور کرو تو تمہیں بہت جلد سمجھ آجائے گا کہ اول سے آخر تک تمام سلسلہ اس نتیجہ کو چاہتا ہے کہ آتھم کا وہ خوف جس کا اس کو اقرار ہے صرف پیشگوئی کی عظمت کی وجہ سے تھا نہ کسی اور و!جہ سے۔
    اور آتھم کے دروغ گو ہونے پر وہ اختلاف اور تناقض بھی شاہد ہے جو اس کے دعویٰ عیسائیت اور اس قدر بزدلی سے مترشح ہو رہا ہے کیونکہ اس نے عیسائیت کا اقرار کر کے اسلام کے مقابل وہ خوف دکھلایا کہ جب تک انسان کم سے کم تذبذب کی حالت میں نہ ہو ہرگز دکھلا نہیں سکتا اور نیز اس کی کلام میں یہ

    فوجداری میں نالش کرکے ان بہتانوں کو ثابت کراتے اور یا چند گواہوں کے پیش کرنے سے ان کا ثبوت دیتے اور یا جلسہ عام میں قسم کھا لیتے۔ مگر آتھم صاحب نے ان طریقوں میں سے کسی طریق کو اختیار نہیں کیا۔ پھر آتھم صاحب کے جھوٹا ہونے کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ ان الزاموں کو انہوں نے نہ ایام میعاد پیشگوئی میں بیان کیا اور نہ ان ایام کے گزرنے کے بعد ان چاروں حملوں کو یکدفعہ بیان کردیا بلکہ جیسا کہ جھوٹ رفتہ رفتہ فکر اور سوچ کے ساتھ بنایا جاتا ہے ایسا ہی کیا۔ اب اے عزیزو آپ ہی سوچو کہ کیا وہ اس خوف کا اقرار کرکے جو الہامی شرط کا مؤید تھا اس خوف کے کوئی اور اسباب ثابت کرسکا اور کیا وہ اس بات کا کچھ ثبوت دے سکا کہ درحقیقت اس پر چار حملے ہوئے اور انہیں حملوں کی و!جہ سے اس کا یہ ساراخوف تھا۔ منہ


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 20
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 20
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/20/mode/1up


    تناقضؔ بھی ہے کہ کبھی وہ حملے کرنے والوں کا نام فرشتے رکھتا ہے جو گناہ سے پاک ہیں اور کبھی ان کو ناپاک طبع انسان ٹھہراتا ہے جن کا کام ناحق کا خون کرنا ہے اور پھرُ طرفہ یہ کہ ان میں وہ کسی کا نام نہیں بتلا سکا اور یہ بھی نہیں کہا کہ میں ان کو شناخت کرسکتا ہوں اور وہ خوب جانتا تھا کہ ایسے بیہودہ اور بے اصل بہتان سے اس راقم کے مخالف کوئی قیاس نہیں نکل سکتا۔ اس لئے اس نے ان بہتانوں کو عام طور پر شائع بھی نہیں کیا۔ صرف نور افشاں میں ایک دجل آمیز تقریر میں چھپوا دیا۔
    اس سے یہ امر قابل لحاظ پیدا ہوتا ہے کہ یہ چھپوانا صرف عیسائیوں کی دلجوئی کی و!جہ سے تھا جس کو اس نے بار بار بیان کرنا بھی نہیں چاہا۔
    قاعدہ فطرت کے مطابق یہ بات عادات میں داخل ہے کہ انسان حریف کی تکذیب کے لئے اصل واقعات کو چھپاتا ہے۔ یہ ایک معمولی بات ہے اور گو اس پر بہت کچھ منحصر نہیں مگر بے ثبوت عذروں کے پیش ہونے کے بعد اس فطرتی امر کا ملحوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ آتھم کے تمام حالات میں اس خیال کے پیدا کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے کہ وہ بجز اقدام قتل کے حملوں کے صرف پیشگوئی کی عظمت سے ڈر نہیں سکتا تھا کیونکہ ایسا خیال ان حملوں کی صحت اور آتھم کی طرز استقامت کے ثبوت پر موقوف تھا جس کا ثبوت نہ آتھم پیش کرسکا اور نہ اس کا کوئی اور حامی۔ اور ظاہر ہے کہ اگر اس بیان میں کچھ سچائی ہوتی تو آتھم کو طریقہ فطرت فی الفور سکھلاتا کہ آئندہ حملوں کے روکنے کے لئے جن میں ابھی ایک برس پڑا تھا کوئی قانونی کارروائی کرے۔ *کیا یہ عذر قابل اطمینان یا عدالت کو تشفی بخش ہے کہ ہر ایک حملہ کے وقت اس کی

    نادان بطّالوی محمد حسین اپنے پرچہ اشاعت السنہ میں ہم پر یہ اعتراض کرتا ہے کہ جس حالت میں آتھم نے تم پر جھوٹا الزام لگایا تھا کہ میرے قتل کرنے کے لئے کئی حملے میرے پر کئے گئے تو چاہئے تھا کہ تم اس پر نالش فوجداری کرتے اور اگر الزام فی الواقعہ جھوٹا تھا تو اس کو سزا دلاتے۔
    مگر افسوس کہ بطالوی نے اس اعتراض میں بھی شیطان ملعون کی طرح دانستہ لوگوں کو دھوکا دینا چاہا۔ اعتراض کے وقت اس کو خوب معلوم تھا کہ پیشگوئی کے الفاظ میں بار بار یہ ذکر ہے کہ آتھم انکار کی حالت میں بے سزا نہیں چھوڑا جائے گا اور خدا اس کو اصرار انکار کے بعد جلد پکڑے گا اور ہلاک کرے گا پس جس حالت میں آسمانی عدالت سے ہمیں یقین دلایا گیا تھا کہ عنقریب آتھم آسمانی وارنٹ سے گرفتار کیا جائے گا اور اپنے جرم بے باکی اور انکار پر ماخوذ ہوکر جلد سزائے موت سے سزا یاب ہوگاتو


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 21
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 21
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/21/mode/1up

    رحیماؔ نہ عادت مجرموں کا واجب تدارک کرانے سے روکتی رہی بلکہ جس حالت میں پہلے حملہ کی و!جہ سے آئندہ زندگی کا امن اٹھ گیا تھا تو کیا عقل باور کرسکتی ہے کہ پھر بھی آتھم صاحب نے درگذر اور عفو کو ہاتھ سے نہ چھوڑا اور کسی نے اس کو یہ مشورہ نہ دیا کہ اب دشمن کا تدارک بہت ضروری ہے اور اس میں دو فائدے ہیں۔ ایک یہ کہ اپنی جان کا بچاؤ اور دوسرے دشمن کے مذہب کی ذلت جو عیسائیوں کا عین مطلب ہے۔
    یہ بھی یادر رکھنے کے لائق ہے کہ آتھم کا بیان صرف اس اعتبار تک محدود تھا کہ جو ایک مدعا علیہ کے ایسے بیان پرکرسکتے ہیں جس کا اس کے پاس کچھ بھی ثبوت نہ ہو اگر اس نے ان حملوں کا واقعی طور پر معائنہ کیا تھا تو وہ بڑا ہی بدقسمت تھا کہ باوجود یکہ اس کی کوٹھی بہت سے آدمیوں سے بھری ہوئی تھی۔ تب بھی وہ کسی اپنے آدمی کو کوئی سوار یا پیادہ یا گھوڑا یا ہتھیار دکھلا نہ سکا اور نہ بیان کرسکا یہاں تک کہ پیشگوئی کی معیاد گزر گئی گویا جس طرح فری میسن کے لوگ اپنا راز ظاہر کرنا مناسب نہیں سمجھتے۔

    پھر ہمیں کون سی ضرورت پیش آئی تھی کہ انگریزوں کی عدالتوں کے دروازہ پر اپنے تئیں سرگردان کرتے۔ ہم تو اس وقت سے ہی آتھم کو مرا ہوا دیکھتے تھے جبکہ جاہل عیسائی اور نادان بطّالوی اور اس کے ہم خیال آتھم مذکور کو زندہ سمجھتے تھے۔ لیکن یہ فرض آتھم کا تھا کہ جن بے ثبوت حملوں کے الزاموں سے قطعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا تھا کہ وہ ضرور اس پیشگوئی کی عظمت سے ڈرتا رہا جو نہایت ہولناک لفظوں میں بیان کی گئی تھی اور ضرور اس نے پیچھے سے اپنے خوف کی اصل حقیقت چھپانے کے لئے اقدام قتل کا بے ثبوت افترا بنا لیا۔ عدالت میں نالش کرکے ان حملوں کا ثبوت دیتا اور مجرموں کو واقعی سزا دلاتاکیونکہ اس کے بے ثبوت دعووں کا بار ثبوت تو اسی کے ذمہ تھا۔ لیکن وہ ظالم مفتری تو قسم بھی نہ کھا سکا چہ جائیکہ نالش کرتا۔ کیا ضرور نہ تھا کہ وہ کسی طرح نالش سے یا قسم سے یا خانگی طور پر ثبوت دینے سے اپنی صفائی ظاہر کردیتا۔ کیا وہ چار حملے یعنی ارادہ زہر خورانی اور سانپ چھوڑنا اور لودیانہ اورفیروز پور میں جو بقول آتھم قتل کے لئے حملے ہوئے ان تمام حملوں کا ثبوت میرے ذمہ تھا یا آتھم کی گردن پر تھا۔
    اے بدذات فرقہ مولویان ! تم کب تک حق کو چھپاؤ گے کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت کو چھوڑو گے۔ اے ظالم مولویو! تم پر افسوس! کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا وہی عوام کالانعام کو بھی پلایا


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 22
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 22
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/22/mode/1up


    اسیؔ طرح آتھم کو بھی اس راز کے افشا میں اپنی جان کا اندیشہ تھا کیا کوئی سچا اس پر راضی ہوسکتا ہے کہ اس کے ایسے دعاوی جو اس کی سچائی کا مدار ہیں اندھیرے میں چھوڑے جائیں اور کوئی بھی سچائی کی چمک ان میں نظر نہ آوے۔
    سچا مدعی اپنے کسی پہلو کو قابل اعتراض چھوڑنا نہیں چاہتا اور پوری صفائی کے لئے تیار ہوتا ہے مگر حسام الدین صاحب مجھے بتلاویں کہ کس بات میں آتھم نے پوری صفائی دکھلائی۔ کیا اس نے حملوں کے وقت کسی تھانہ یا عدالت میں رپورٹ کی۔ اور اگر یہ نہیں تو کیا زبانی ہی کسی حاکم سے یہ ذکر کیا۔ یا کسی دوست کو اس راز سے اطلاع دی۔ کیا اس نے سزا دلانے کے لئے کسی نالش یا مچلکہ کے لئے کوئی کوشش کی یا خانگی طور پر کوئی ثبوت دیا۔ یا اس نے قسم سے اس الزام کو اپنے پر سے

    دیکھو آج جیسا کہ خدا نے پیش از وقت وہ الہام کیا تھا جو انوار الاسلام صفحہ ۲ میں درج ہے۔ کیا
    صفائی سے پورا ہوا۔ اور وہ یہ ہے۔ اِطَّلَعَ اللّٰہُ عَلٰی ھَمِّہٖ وَغَمِّہٖ۔ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ
    تَبْدِ یْلًا۔وَلَا تَعْجَبُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ۔ وَبِعِزَّتِیْ
    وَجَلَالِیْ۔اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی وَنُمَزِّقُ الْاَعْدَاءَ کُلَّ مُمَزَّق۔ وَمَکْرُ اُولٰءِٓکَ ھُوَ یَبُوْر۔
    اِنَّا نَکْشِفُ السِّرَّعَنْ سَاقِہٖ۔یَوْمَءِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ۔ ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَثُلَّۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ۔
    وَھٰذِہٖ تَذْکِرَۃٌ فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلا۔ دیکھو انوار الاسلام صفحہ ۲ اور پھر اسی انوار الاسلام
    صفحہ ۲ میں اس الہام کا ترجمہ یہ لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس کے(یعنی آتھم کے )ہم و غم پر اطلاع پائی
    اور اس کو مہلت دی۔ جب تک کہ وہ بے با کی اور سخت گوئی اور تکذیب کی طرف میل کرے اور خدا تعالیٰ
    کے احسان کو بھلا دے۔ یہ معنی فقرہ مذکور کے تفہیم الٰہی سے ہیں اور پھر فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی یہی سنت
    ہے۔ اور تو ربّانی سنتوں میں تغیر و تبدل نہیں پائے گا۔ اس فقرہ کے متعلق یہ تفہیم ہوئی کہ عادت اللہ اسی
    طرح پر جاری ہے کہ وہ کسی پر عذاب نازل نہیں کرتا جب تک ایسے کامل اسباب پیدا نہ ہو جائیں جو
    غضب الٰہی کو مشتعل کریں۔ اور اگر دل کے کسی گوشہ میں کچھ خوف الٰہی مخفی ہو اور کچھ دھڑکہ شروع ہو
    جائے تو عذاب نازل نہیں ہوتا۔ اور دوسرے وقت پر جا پڑتا ہے۔ اور پھر فرمایا کہ کچھ تعجب مت کرو اور
    غمناک مت ہو اور غلبہ تمہیں کو ہے اگر تم ایمان پر قائم رہو۔ یہ اس عاجز کی جماعت کو خطاب ہے۔
    اور پھر فرمایا کہ مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم ہے کہ تو ہی غالب ہے۔ یہ اس عاجز کو خطاب ہے۔ اور


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 23
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 23
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/23/mode/1up


    ٹالناؔ چاہا مگر ہم نے قسم کو قبول نہ کیا۔ کیا یہ روا ہے کہ بے دلیل کسی کو ایسے سنگین جرائم کا ملزم ٹھہرایا جائے اور اس کی روش اور چال چلن پر ناحق دھبّہ لگایا جاوے۔
    برائے خدا ذرا سوچو کہ کسی بھلے مانس پر بے ثبوت تہمتیں لگا کر پھر کسی طور سے ان تہمتوں کا ثبوت نہ دینا کیا یہ نیک آدمیوں کا کام ہے یا بدمعاشوں کا!!!
    عیسائیوں نے آتھم کے ان بہتانوں کا بار بار ذکر تو کیا مگر یہ نہیں دکھلایا کہ ان کے نزدیک اس کا ثبوت کیا ہے۔ کیا وہ لوگ جو ان واقعات سے ذاتی واقفیت کا اقرار رکھتے ہیں کسی غار میں زندہ موجود ہیں یا وہ بھی آتھم کے ساتھ ہی مر گئے؟۔
    کیا عیسائی دیانت یہی تھی جواب ظاہر ہوگئی۔ اگر کامل ثبوت موجود نہیں تو مختصر اور ناکافی

    پھر فرمایا کہ ہم دشمنوں کو پارہ پارہ کریں گے۔ یعنی ان کو ذلت پہنچے گی اور ان کا مکر ہلاک ہو
    جائے گا اس میں یہ تفہیم ہوئی کہ تم ہی فتح یاب ہو نہ دشمن اور خدا تعالیٰ بس نہیں کرے گا اور نہ باز
    آ ئے گا جب تک دشمنوں کے تمام مکروں کی پردہ دری نہ کرے اور ان کے مکر کو ہلاک نہ کر دیوے
    یعنی جو مکر بنایا گیااور مجسم کیا گیا اس کو توڑ ڈالے گا اور اس کو مردہ کرکے پھینک دے گا
    اور اس کی لاش لوگوں کو دکھاوے گا۔ اور پھر فرمایا کہ ہم اصل بھید اس کی پنڈلیوں سے ننگا کرکے
    دکھا دیں گے یعنی حقیقت کو کھول دیں گے اوفتح کے دلائل ظاہر کر دیں گے اور اس دن مومن خوش ہوں
    گے۔ پہلے مومن بھی پچھلے مومن بھی۔ دیکھو انوار الاسلام صفحہ ۲۔
    اب دیکھو آج اس الہام کے موافق کیسے صفائی سے اس پیشگوئی کی حقیقت کھل گئی۔ کیا آج وہ سب مرگئے یا نہیں جنہوں نے امرتسر میں آتھم کو گاڑی میں بٹھا کر بازاروں میں پھرایا تھا۔ کیا آج ثابت ہوگیا یا نہیں کہ ان کی وہ ساری خوشیاں جھوٹی تھیں۔ اس پیشگوئی میں خدائے رحیم نے صاف وعدہ فرمایا تھا کہ گو آتھم نے الہامی پیشگوئی کی وجہ سے بہت غم وہم اپنے دل پر ڈال کر خدا کی سنت قدیمہ سے فائدہ اٹھایا اور اس کی موت میں تاخیر ہوگئی مگر بیباکی کے وقت پھر خدا اس کو پکڑے گا اور ہلاک کرے گا۔
    سو اب یہ پیشگوئی دُہرے طور پر دونوں پہلوؤں پر پوری ہوگئی۔ اول آتھم کے ہم و غم کی وجہ سے اس طرح پر پوری ہوئی کہ موافق الہامی شرط کے اس کی موت میں تاخیر ڈال دی گئی پھر آتھم کی بے باکی اور سخت انکار کی حالت میں اس طرح پر پوری ہوئی کہ خدا نے اپنے وعدہ کے موافق


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 24
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 24
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/24/mode/1up


    ثبوتؔ ہی پیش کریں تا افترا اور بہتان کا کلنک کسی قدر تو ہلکا ہو جائے۔ اور اگر کچھ بھی ثبوت نہیں تو کیا یہ معقول قیاس نہیں کہ یہ سب کچھ صرف ایک ہی بات کے واسطے بنایا گیاتااس خوف کی دھار کو جو اسلامی پیشگوئی کی عظمت سے زور سے بہہ رہی تھی خوانخواہ دوسری طرف پھیر دیا جائے۔
    اب اس امر کو کون ہے کہ ثابت شدہ تسلیم نہ کرے کہ آتھم نے اس حد تک رجوع الی الحق ضرور کیا جو ایک خائف اور ترساں اور ہراساں کی نسبت خیال کرسکتے ہیں۔ میں اس واقعہ کو قبول کرتا ہوں کہ جیسا کہ وہ پیشگوئی سے پہلے عیسائی تھا ایسا ہی پیشگوئی کی میعاد گذرنے کے بعد اس نے اپنی عیسائیت کو ظاہر کیا لیکن کیا کوئی اس بات کا ثبوت دے سکتا ہے کہ اس نے پیشگوئی کے ایام میں کبھی تحریرًا یاتقریرًاعیسائیت کے اصول کی تائید کرکے اپنا سرگرم عیسائی ہونا ظاہر کیا جیسا کہ پہلے اس کا شیوہ اور طریق تھا۔ بلکہ سچ تو یہ بات ہے کہ وہ ان تمام دنوں میں عیسائیت کا چولہ اتار کر حقیقی خدا کے آگے تضرع میں رہاجیسا کہ مختلف شہادتیں اس کے ثبوت میں اب تک گزر رہی ہیں۔ پھر فرعون کی طرح خطرناک ایام کے گزرنے کے بعد دن بدن سخت دل ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ ہمارے اشتہار ۳۰ ؍دسمبر ۱۸۹۵ء کے وقت میں پورے طور پر وہ کفر کے گڑھے میں گر گیا اور بلعم کی طرح دنیا سے محبت کرکے ۲۷؍ جولائی ۱۸۹۶ء میں ان روحوں میں جا ملا جو دوزخ کی تاریک آگ میں جل رہی ہیں۔
    سنو اے عزیزو! آتھم کے بیان پر کیونکر راستی کی امید ہوسکتی ہے جو محض بے ثبوت اور جس میں بناوٹ اور جذبات کی دور سے بُو آرہی ہے اور جو نہ بادی النظر میں اور نہ عمیق نگاہ میں درست ٹھہر سکتا ہے۔ اور نہ صرف بے دلیل بلکہ فطرتی طور پر حق کو چھپانے کے لئے یہی عام طریقہ حیلہ سازوں کا ہے۔ جو بات قرین قیاس نہیں کیا وہ ایسی بات کے مقابل پر کچھ وزن رکھتی ہے۔

    اس پر موت نازل کردی سو اس مبارک پیشگوئی میں خدا تعالیٰ نے اپنی صفات جمالی اور جلالی دونوں دکھلا دئیے اور نا سمجھ عیسائیوں اور نالائق مولویوں کو ذلت پر ذلت نصیب ہوئی۔ اسلام کا بول بالا ہوا اور مردہ پرست پادری اور نفاق زدہ یہودی سیرت مولوی سخت ذلیل ہوگئے۔ مگر کیا وہ اب بھی سچائی کی طرف واپس آئیں گے۔ ہرگز نہیں۔
    قلوبٌ ملعونۃٌ فمن یُّرد من لعنہُ اللّٰہ۔ فتدبّر ان کنتَ مِن الصّالحین۔ منہ


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 25
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 25
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/25/mode/1up


    جو ہرؔ ایک سچائی سے بھرا ہوا کانشنس بآسانی اس کو قبول کرسکتا ہے۔ زہر خورانی کے اقدام اور تین حملوں کا منصوبہ ایک ایسی مکروہ بناوٹ ہے کہ میں خیال نہیں کرسکتا کہ کسی شریف عیسائی کے دل نے بھی اس کو قبول کیا ہو۔ یا ایک طُرفۃ العین کے لئے بھی اس کی طرف خیال آسکتا ہو۔
    لیکن ہر ایک محقق اور پاک دل کو اس امر میں شک کرنے کے لئے کوئی وجہ دکھائی نہیں دے گی کہ وہ خوف جس کا آتھم کو اقرار ہے بجز پیشگوئی کی عظمت کے اور کوئی صحیح مصداق اس کا موجود نہیں اگر آتھم نے ان جھوٹے بہتانوں کو بیان نہ کیا ہوتا۔ اور یہ عذر کرتا کہ وہ اس سے ڈرا کہ کوئی خود غرض اس کو ضرر نہ پہنچاوے تو شاید کوئی سادہ طبع اس کو قبول کرلیتا اور کم سے کم یہ سمجھ لیتا کہ آتھم کا یہ فیصلہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس نے لوگوں پر حق کو مشتبہ کردیا لیکن ایسے سادہ طور سے بیان کرنا ایسے مفتری کے لئے کب ممکن تھا کہ جو درحقیقت پیشگوئی سے ڈر کر اپنی مجرمانہ حالت کی تحریک سے ناجائز بہانوں کے سوچ میں پڑا اور اس نے سچائی سے آگے قدم رکھ کر جھوٹ اور بہتان سے کام لینا چاہا جس سے وہ بازپُرس اور طلب ثبوت کے لائق ہوا۔
    یہ کہنا بے جا ہے کہ پیشگوئی سے ڈرنے کا بار ثبوت آتھم پر نہیں تھاکیونکہ جبکہ اس نے ڈرنے کا اقرار کرکے بلکہ خوف کو اپنی حرکات سے ظاہر کرکے پھر وجوہ خوف کے ایسے بے ہودہ اور جعلی بیان کہے جو سراسر بہتان اور بے دلیل تھے تو بلاشبہ یہ بوجھ اسی کی گردن پر تھا کہ وہ اس کو ثابت کرتا اور اس کو چاہئے تھا کہ اس افترا کے الزام سے بَری ہونے کے لئے کہ جو طریقہ مستقیمہ انصاف سے اس کی نسبت عائد ہوتا تھا اپنی صفائی کے گواہ پیش کرتا۔ نالش اور قسم سے اس کا گریز کرنا صریح حقیقت کو چھپانے کے لئے تھا جبکہ اس کو اور اس کے رشتہ داروں اور دوستوں کو ہماری طرف سے اس قدر دکھ اور صدمہ پہنچ چکا تھا جس سے زیادہ دنیا میں پہنچنا غیر ممکن ہے۔ تو ایسا مظلوم کس طرح خاموش رہ سکتا تھا۔ ہم نے یہ سزا اپنے لئے خود تجویز کرلی تھی کہ وہ قسم کھاکر چار ہزار روپیہ نقد ہم سے لے لے۔ سو اس نے نہ چاہا کہ قسم کھانے کی طرف متوجہ ہو۔ اب منصفین کے سوچنے کا یہ بڑا بھاری موقعہ *ہے کہ کیوں اس نے ایسے پہلو سے

    حاشیہ۔ پرچہ شحنہ ہند میرٹھ یکم ستمبر ۱۸۹۶ء سے پہلے صفحہ میں ہی ایک نامہ نگار صاحب نے اس عاجزکی
    پیشگوئی آتھم وغیرہ کی نسبت کچھ نکتہ چینی کرکے اخیر پر اپنا نام انصاف طلب لکھا ہے۔ یہ تو خوشی کی بات ہے کہ کوئی


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 26
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 26
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/26/mode/1up


    اجتناؔ ب کیا جس سے اس کے دعویٰ کے تمام نقص اور عیوب پبلک کی نگاہ میں کالعدم ہوسکتے تھے۔ اور پورے طور پر اس کی صفائی ہوسکتی تھی۔ اس کا فرض تھا کہ وہ جس طرح ہوسکتا ان الزاموں سے اپنے تئیں بَری کرکے دکھلاتا کہ جو اس پر وارد ہوچکے تھے۔ نالش سے یا خانگی تحقیقات پیش کرنے سے یا قسم سے یا کسی اور طریق سے۔ لیکن وہ اپنے تئیں اس داغِ الزام سے بری نہ کرسکا یہاں تک کہ قبر میں داخل ہوگیا سو اس کے کذب پر ایک تو یہی ثبوت تھا کہ اس نے اپنی بریت ظاہر کرنے سے باوجود بہت وسیع موقعہ ملنے کے عمدًا پہلوتہی کیا لیکن علاوہ اس کے ایک دوسری جزو ثبوت کی اس کے کذب پر یہ پیدا ہوئی جو وہ اس دوسری پیشگوئی کے اثر سے جس کا ہم صدر اشتہار میں ذکر کرچکے ہیں اپنی زندگی کو بچا نہ سکا اور یہی بیباکی اور قسم کھانے سے انکار جس کے نتیجہ بد کی نسبت بار بار پیشگوئی کی گئی تھی اور بیان کیا گیا تھا کہ اس کے اصرار کے زمانہ کے بعدعذاب موت

    شخص انصاف طلب یا انصاف کا خواہاں ہو۔ لیکن افسوس تو یہ ہے کہ اکثر لوگ حق پسند اور انصاف طلب کہلا کر پھر جلدی سے انصاف کا خون کردیتے ہیں اور قبل اس کے جو کسی بات کی تہ تک پہنچیں اور کسی اصل حقیقت کو دریافت کریں رائے ظاہر کرنے کے لئے طیار ہوجاتے ہیں۔ پھر ایسی رائے جو صرف سرسری اور سطحی خیال سے پیدا ہوئی ہے کیونکر غلطی سے محفوظ رہ سکتی ہے۔ ناچار وہ اپنی شتاب کاریوں کی وجہ سے قابل شرم غلطیوں میں پڑتے ہیں اور پھر اپنی غلطی کی پچ میں ایسا تعصب پیدا ہو جاتا ہے کہ کیا ممکن ہے کہ اس سے رجوع کرسکیں۔ اگرچہ سچائی روز روشن کی طرح کھل جائے۔ بہرحال صاحب انصاف طلب کی خدمت میں ان کے بعض کلمات کا جواب دیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے:۔
    قولہ۔ ’’میرزا صاحب کے موافقین اور مخالفین نے پرلہ درجہ کی افراط اور تفریط کی ہے۔ جو شخص یہ کہتا ہو کہ میں قرآن شریف کو مانتا ہوں۔ نماز پڑھتا ہوں۔ روزے رکھتا ہوں۔ اور لوگوں کو اسلام سکھاتا ہوں۔ اس کو کافر کہنا زیبانہیں۔ مگر ایک عالم کے رتبہ سے بڑھا کر پیغمبری تک پہنچانا بھی نہیں۔‘‘
    اقول۔ صاحب انصاف طلب کے بیان میں یعنی ان کے پہلے ہی قول شریف میں تناقض پایا جاتا ہے کیونکہ ایک طرف تو وہ بہت ہی حق پسند بن کر نہایت مہربانی سے فرماتے ہیں کہ مسلمان کو کافر کہنا زیبا نہیں اور پھر دوسری طرف اُسی منہ سے میری نسبت رائے ظاہر کرتے ہیں کہ گویا میری جماعت درحقیقت مجھے رسول اللہ جانتی ہے اور گویا میں نے درحقیقت نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ اگر راقم صاحب کی پہلی رائے صحیح ہے کہ میں مسلمان ہوں اور قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہوں تو پھر یہ دوسری رائے غلط ہے جس میں ظاہر کیا گیا ہے کہ میں خود نبوت کا مدعی ہوں۔ اور اگر دوسری رائے صحیح ہے تو پھر وہ پہلی رائے غلط ہے جس میں ظاہر کیا گیا میں کہ مسلمان


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 27
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 27
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/27/mode/1up


    اُسؔ پر وارد ہوگا اُس کے جلد مرنے کا موجب ہوگئی اور جیسا کہ ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں وہ ہمارے اشتہار ۳۰؍ دسمبر ۱۸۹۵ء کے بعد جو ہمارا آخری اشتہار بطور اتمام حجت تھا پورے سات مہینے بھی زندہ نہ رہ سکا۔ پس کیا یہ خدا کا فعل نہیں ہے کہ اس نے آتھم کے اصرار انکار پر موت کی سزا سے اس کا تمام جھوٹ اور افترا یک لخت ظاہر کردیا۔
    اب بیان کرو کہ کونسا قانونی سُقم ہماری اس تقریر میں ہے۔ اور آتھم کو ملزم قرار دینے کے لئے کس ثبوت کی کسر رہ گئی ہے۔ بلاشبہ اُسی کی عملی حالت نے اس پر فرد قرار داد جرم لگا دی جس پر وہ ایک بھی صفائی کا گواہ پیش نہ کرسکا۔ اب عیسائیوں کو اس کی ناحق کی حمایت سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ہم نے بہت صفائی سے بار بار اس بات پر زور دیا کہ آتھم اس بیان میں بالکل جھوٹا ہے کہ اس کے قتل کے
    ہوں اور قرآنؔ شریف کو مانتا ہوں۔ کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے۔ اور آیت 33 ۱؂ کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضر ت صلی۱للہ علیہ وسلم کے بعد رسول اور نبی ہوں۔ صاحب انصاف طلب کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں۔ مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکہ لگ جانے کا احتمال ہے۔ لیکن وہ مکالمات اور مخاطبات جو اللہ جلّ شانہٗ کی طرف سے مجھ کو ملے ہیں جن میں یہ لفظ نبوت اور رسالت کا بکثرت آیا ہے ان کو میں بوجہ مامور ہونے کے مخفی نہیں رکھ سکتا۔ لیکن بار بار کہتا ہوں کہ ان الہامات میں جو لفظ مُرْسَلْ یا رسول یا نبی کا میری نسبت آیا ہے*۔ وہ اپنے حقیقی معنوں پر مستعمل نہیں ہے۔ اور اصل حقیقت جس کی میں علی رؤس الاشہاد گواہی دیتا ہوں یہی ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں۔ اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا نہ کوئی پرانا اور نہ کوئی نیا۔ ومن قال بعد رسولنا وسیّدنا انّی نبیّ او رَسُول علٰی وجہ الحقیقۃ والافتراء وترک القرآن واحکام الشریعۃ الغرّاء فھو کافرٌ کذّابٌ۔ غرض ہمارا مذہب یہی ہے کہ جو شخص حقیقی طور پر نبوت کا دعویٰ کرے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن فیوض سے اپنے تئیں الگ کرکے اور اس پاک سرچشمہ سے جدا ہوکر آپ ہی براہ راست نبی اللہ بننا چاہتاہے تو وہ ملحد بے دین ہے اور غالباً ایسا شخص اپنا کوئی نیا

    * نوٹ۔ ایسے لفظ نہ اب سے بلکہ سولہ۱۶ برس سے میرے الہامات میں درج ہیں چنانچہ براہین احمدیہ میں ایسے کئی
    مخاطبات الٰہیہ میری نسبت پاؤ گے۔ منہ


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 28
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 28
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/28/mode/1up


    لئےؔ ہماری طرف سے ناجائز حملے ہوئے۔ ہم نے اس کو اپنے پہلے اشتہاروں میں بہت غیرت دلائی اور غیرت دینے والے الفاظ استعمال کئے مگر کچھ ایسا دھڑکا اس کے دل میں بیٹھ گیا تھا کہ وہ سر نہ اٹھا سکا۔ پھر ہم نے نہایت الحاح اور انکسار کے ساتھ یسوع کی عزت اور مرتبہ کو یاد دلا کر قسم دی اور جہاں تک الفاظ ہمیں مل سکے ہم نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اس بہتان کو جو ہم پر لگاتا ہے ثابت کرے یا قسم کھاوے۔ لیکن وہ ان بدبخت جھوٹوں کی طرح چپ رہا جن کا کانشنس ہر وقت ان کو ملامت کرتا ہے کہ تم خدا کی *** کے نیچے کارروائی کر رہے ہو۔ یقیناً اس کو یہ خوف کھا گیا کہ تحقیق کرانے کے وقت اس کے جھوٹے منصوبہ کے تمام پر وبال گر جائیں گے اور قسم کھانے کی حالت میں خدا کا قہر اس پر نازل ہوگا۔ سو اس نے نہ نالش کی اور نہ قسم کھائی

    کلمہ بنائے گا۔ اور عبادت میں کوئی نئی طرز پیدا کرے گا اور احکام میں کچھ تغیر و تبدل کردے گا۔ پس بلاشبہ وہ مسیلمہ کذّاب کا بھائی ہے اور اس کے کافر ہونے میں کچھ شک نہیں۔ ایسے خبیث کی نسبت کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ وہ قرآن شریف کو مانتا ہے۔
    لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ جیسا کہ ابھی ہم نے بیان کیا ہے بعض اوقات خدائے تعالیٰ کے الہامات میں ایسے الفاظ استعارہ اور مجاز کے طور پر اس کے بعض اولیاء کی نسبت استعمال ہو جاتے ہیں اور وہ حقیقت پر محمول نہیں ہوتے سارا جھگڑا یہ ہے جس کو نادان متعصب اور طرف کھینچ کرلے گئے ہیں۔ آنے والے مسیح موعود کا نام جو صحیح مسلم وغیرہ میں زبان مقدس حضرت نبوی ؐسے نبی اللہ نکلا ہے وہ انہی مجازی معنوں کے رو سے ہے جو صوفیاء کرام کی کتابوں میں مسلّم اور ایک معمولی محاورہ مکالمات الٰہیہ کا ہے۔ ورنہ خاتم الانبیاء کے بعد نبی کیسا۔
    قولہ۔ حضرت اقدس میرزا صاحب نے اپنے صادق یا کاذب ہونے کا معیار اپنی بیش بہا اور لاثانی کتاب شھادۃ القرآن میں درج فرمایا ہے )یعنی آتھم اور احمد بیگ ہوشیار پوری کے داماد کی موت کی پیشگوئی اور لیکھرام پشاوری کی موت کی نسبت پیش خبری( اب ناظرین خود بخود سمجھ لیں گے کہ وہ سچا دعویٰ ہے یا دروغ بے فروغ۔
    اقول۔ میں کہتا ہوں کہ لیکھرام کی پیشگوئی کی میعاد تو ابھی بہت باقی ہے سو اس کا ذکر پیش ازوقت ہے ہاں آتھم۱ اور احمد بیگ۲ اور دا۳ماد احمد بیگ کی نسبت جو پیشگوئی تھی اس کی میعاد گزر چکی ہے۔ درحقیقت یہ دو پیشگوئیاں تھیں۔ ایک آتھم کی موت کی نسبت دوسری احمد بیگ اور اس کے داماد کی موت کی نسبت سو آتھم ۲۷؍ جولائی ۱۸۹۶ء کو بروز دو شنبہ فوت ہوگیا۔ اور ایک آنکھیں رکھنے والا سمجھ سکتا ہے کہ پیشگوئی


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 29
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 29
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/29/mode/1up


    بلکہؔ اس نے امور واقعہ کی طرف نظر کرکے یہ امر صاف دیکھا کہ ان دونوں کارروائیوں میں سے کوئی کارروائی بھی اس کے لئے مبارک نہیں ہوگی اور انجام بد ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا اپنے تئیں عیسائی کہلانا اس کی عملی حالت سے اخیر دم تک متناقص رہا۔ اس کے رفیق پادری اور ڈاکٹر کلارک سر پیٹ پیٹ کر تھک گئے مگر اس نے نہ چاہا کہ ان دعاوی کو عدالت کے ذریعہ سے ثابت کراوے کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ایسے بڑے بہتان پیشتر اس کے کہ وہ صحیح سمجھے جاویں طبعی طور پر پختہ ثبوت کے واسطے تقاضا پیدا کرتے ہیں۔ اور درحالت عدم ثبوت عدالتیں فریق ثانی کو انتقامی استغاثہ کی جازت دیتی ہیں۔
    سو سوچنا چاہئے کہ وہ کس قدر اپنے اس بہتان اور جھوٹ سے ہراساں اور ترساں تھا کہ باوجود یکہ اس کے داماد بڑی بڑی حکومت کے عہدوں پر معزز تھے اور اس کے عیسائی دوست گورنمنٹ میں

    کے مطابق اس کی موت ہوئی۔ اور اس پیشگوئی میں دو پہلو تھے۔ سو اپنے دونوں پہلوؤں کے رو سے یہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔ ہم کسی متعصب بے حیا کا منہ بند تو نہیں کرسکتے اور نہ ہم سے پہلے کوئی نبی یا رسول بند کرسکا۔ لیکن ایک متقی کے لئے اس پیشگوئی کی صداقت سمجھنے میں کچھ بھی مشکلات نہیں چنانچہ ہم اسی رسالہ اور پہلے رسائل میں بھی بہت کچھ بیان کرچکے ہیں۔
    باقی رہی احمد بیگ کی موت اور اس کے داماد کی موت کی نسبت پیشگوئی سو احمد بیگ تو پیشگوئی کی میعاد کے اندر فوت ہوگیا۔ جس سے ہمارے کسی مخالف کو انکار نہیں گویا پیشگوئی کی دو ٹانگوں میں سے ایک ٹانگ ٹوٹ گئی۔ رہا داماد اُس کا۔ سو وہ اپنے رفیق اور خسر کی موت کے حادثہ سے اس قدر خوف سے بھر گیا تھا کہ گویا قبل از موت مرگیا۔ اور اس بات کو کون نہیں سمجھ سکتا کہ جب ایک ہی پیشگوئی دو شخص کی موت کی خبر دیوے اور ایک ان میں سے مرجائے تو دوسرے پر اس موت کا طبعاً و فطرتاً اثر پڑ جاتا ہے۔ سو اس جگہ ایسا ہی ہوا۔ لہٰذا سنت اللہ کے موافق جس کا ذکر ہم بار بار لکھ چکے ہیں اس وعید کی میعاد میں تخلف ہوگیا۔
    ہم اپنے پہلے اشتہاروں میں ان بعض خطوط کا ذکر کرچکے ہیں جو ان لوگوں کی طرف سے ہمیں پہنچے جن میں توبہ اور خوف و رجوع کا اقرار تھا۔ پھر اگر یہ امر قرآن اور توریت کی رو سے صحیح نہیں ہے کہ وعید کی پیشگوئی کی میعاد کا تخلّف جائز ہے تو ہر ایک معترض کا اعتراض بجا اور درست ہے لیکن اگر قرآن اور توریت کی رو سے یہی امر بتواتر ثابت ہوتا ہے کہ وعید کی میعاد توبہ اور خوف سے ٹل سکتی ہے تو سخت بے ایمانی ہوگی کہ کوئی شخص مسلمان کہلا کر یا عیسائی کہلا کر پھر ایسی بات پر اعتراض کرے جو قرآن شریف اور پہلی آسمانی کتابوں سے ثابت ہے اس صورت میں ایسا شخص ہم پر اعتراض نہیں کرتا بلکہ ایسے نالائق


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 30
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 30
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/30/mode/1up


    اولؔ درجہ کی رسائی رکھتے تھے۔ پھر بھی اس کا دل اس بات پر مطمئن نہ ہوسکا کہ وہ ایسی نالش کے بعد پھر بچ کر اپنے گھر میں آجائے گا۔ اگر رؤیت کی شہادتوں سے یہ ثابت کرنا آتھم کو میسر آسکتا کہ درحقیقت یہ ناجائز حملے ہوئے تو کم سے کم وہ اخباروں کے ذریعہ سے اس ثبوت کو پبلک پر ظاہر کرتا۔ کیونکہ اس کامیابی کے اندر عیسائیوں کا بڑا مدعا بھرا ہوا تھا وجہ یہ کہ اس کا عام نتیجہ یہ تھا کہ ہمارا کاذب اور مفتری ہونا ہر ایک پر کھل جاتا اور کم سے کم یہ کہ ہمارے چال چلن کی نسبت ہر ایک کو قوی شبہ پیدا ہو جاتا اور صفحات تاریخ میں ہمیشہ یہ واقعہ قابل ذکر سمجھا جاتا اس امر میں کس کا اطمینان ہوسکتا ہے کہ آتھم نے ان بہتانوں کو پیش کرکے اور پھر ثبوت دینے سے رو گردان ہوکر بے ایمانی اور دروغ گوئی کی راہ کو اختیار نہیں کیا-

    کا خدائے تعالیٰ کی پاک کتابوں پر اعتراض ہے۔ ہمارے اشتہار چہارم کو پڑھو جس کے ساتھ چار ہزار روپیہ کا انعام ہے تامعلوم ہو کہ کیونکر خدائے تعالیٰ نے یونس نبی کو قطعی طور پر چالیس دن تک عذاب نازل ہونے کا وعدہ دیا تھا اور وہ قطعی وعدہ تھا جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں تھی۔ جیسا کہ تفسیر کبیر صفحہ ۱۶۴ اور امام سیوطی کی تفسیر درّمنثور میں احادیث صحیحہ کی رو سے اس کی تصدیق موجود ہے۔ دیکھو اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ صفحہ ۱۲۔ اور یونہ یعنی یونس نبی کی کتاب میں جو بائبل میں موجود ہے۔ باب ۳ آیت ۴ میں لکھا ہے۔ ’’اور یونہ شہر میں یعنی نینوہ میں داخل ہونے لگا اور ایک دن کی راہ جا کے منادی کی اور کہا چالیس اور دن ہوں گے تب نینوہ برباد کیا جائے گا۔ تب نینوہ کے باشندوں نے خدا پر اعتقاد کیا اور روزہ کی منادی کی اور سب نے چھوٹے بڑے تک ٹاٹ پہنا اور خدا نے ان کے کاموں کو دیکھا کہ وہ اپنی بُری راہ سے باز آئے۔ تب خدا اس بدی سے کہ اس نے کہی تھی پچھتا کے باز آیا اور اس نے ان سے وہ بدی نہ کی۔ باب ۴۔ پر یونہ اس سے ناخوش ہوا اور نپٹ رنجیدہ ہوگیا۔ ۲۔ اور اس نے خداوند کے آگے دعا مانگی۔ ۳۔ اب اے خداوند میں تیری منت کرتا ہوں کہ میری جان کو مجھ سے لے لے۔ کیونکہ میرا مرنا میرے جینے سے بہتر ہے۔‘‘ اور درّمنثور میں ابن عباس سے یہ روایت ہے۔ اوحی اللّٰہ الٰی یونس انّی مرسل علیھم العَذاب فی یوم کذا وکذا۔ فعجّوا الی اللّٰہ وانابوا فاقالھم اللّٰہ واَخَّر عنھم العَذَاب۔ فقال یونس لا ارجع الیھم کذّابًا ومضیٰ علٰی وجھہٖ۔ یعنی خدا نے یونس پر یہ وحی نازل کی کہ فلاں تاریخ مَیں عذاب نازل کروں گا۔ سو ان لوگوں نے خدا کی طرف تضرع کی اور رجوع کیا۔ سو خدا نے ان کو معاف کر دیا اور کسی دوسرے وقت پر عذاب ڈال دیا۔ تب یونس کہنے لگا


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 31
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 31
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/31/mode/1up


    اگرؔ اب بھی عیسائی باز نہ آویں تو بہتر ہے کہ ہم اور ان کے چند سرگروہ مباہلہ کے طور پر میدان میں آکر خدا کے انصاف سے فتویٰ لے لیں جھوٹے پر بغیر تعین کسی فریق کے *** کرنا کسی مذہب میں ناجائز نہیں۔ نہ ہم میں نہ عیسائیوں میں نہ یہودیوں میں۔ یہی وجہ ہے کہ پادری وایٹ بریخت شملہ جانے سے کچھ عرصہ پہلے چند اپنے عیسائیوں کے ساتھ قادیان میرے پاس آئے اور مجھے کہا کہ آتھم نہیں مرا۔ میں نے کہا کہ اس نے اسلامی پیشگوئی سے ڈر کر پیشگوئی کی شرط سے فائدہ اٹھایا اور خود اقرار کیا کہ میں ڈرتا رہا اور ان حملوں کا ثبوت نہ دے سکا جو ڈرنے کی وجہ ٹھہرائی۔ وایٹ نے کہا کہلعنت اللّٰہ علی الکاذبین یعنی جھوٹوں پر *** ہو۔ میں نے کہا کہ بیشک جھوٹوں پر *** وارد ہوگی۔ اگر آتھم جھوٹا ہے یا میں تو خدا اس کا فیصلہ کردے گا۔ چنانچہ تھوڑے عرصہ کے بعد اس *** کا اثر آتھم پر وارد ہوگیا

    کہ اب میں کذاب کہلا کر اپنی قوم کی طرف واپس نہیں جاؤں گا اور دوسری راہ لی۔ دیکھو تفسیر درمنثور تحت تفسیر آیت مُغَاضِبًا۱؂۔ اور دیکھو صفحہ ۱۴ اشتہار چہارم انعامی چار ہزار روپیہ۔
    ہم اس جگہ حضرت مولوی احمد حسن صاحب کو ہی منصف ٹھہراتے ہیں کہ کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ خدا کا یہ الہام جھوٹا نکلا اور نعوذ باللہ یونس کذاب تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم کا علم اکثر لوگوں سے جاتا رہا ہے۔ اور بظاہر اہل حدیث بھی کہلاتے ہیں مگر حدیثوں کے مغز سے ناواقف ہیں۔ ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ انہی قصوں کے لحاظ سے اہل سنت کا یہ عام عقیدہ ہے کہ وعید کی میعاد کی تاخیر کسی سبب توبہ یا خوف کی وجہ سے جائز ہے۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ مسلمان کہلا کر اور ان احادیث کو پڑھ کر پھر اس پیشگوئی کی تکذیب کی جائے جو یونس کی پیشگوئی سے ہم شکل ہے اور ایسے امور میں اس عاجز کو کاذب ٹھہرایا جائے جن میں دوسرے انبیاء بھی شریک ہیں۔
    میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشگوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔ اور اگر میں سچا ہوں تو خدا ئے تعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پوری کردے گا جیسا کہ احمد بیگ اور آتھم کی پیشگوئی پوری ہوگئی۔ اصل مدعا تو نفس مفہوم ہے اور وقتوں میں تو کبھی استعارات کا بھی دخل ہو جاتا ہے یہاں تک کہ بائبل کی بعض پیشگوئیوں میں دنوں کے سال بنائے گئے ہیں جو بات خدا کی طرف سے ٹھہر چکی ہے کوئی ا س کو روک نہیں سکتا۔ ذرا شرم کرنی چاہئے کہ جس حالت میں خود احمد بیگ اسی پیشگوئی کے مطابق میعاد کے اندر فوت ہوگیا اور وہ پیشگوئی کے اول نمبر پر تھا تو پھر اگر خدا کا خوف ہو تو اس پیشگوئی کے نفس مفہوم میں شک نہ کیا جاوے کیونکہ ایک وقوع یافتہ امر کی یہ دوسری جز ہے جس حالت میں خدا اور رسول


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 32
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 32
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/32/mode/1up


    اور ؔ چار دن تک جان کندن کا سخت عذاب اٹھا کر دائمی عذاب کے زندان میں جا پڑا۔ پادری وائٹبریخت کو اگر خدا کا خوف ہے تو اب سمجھ سکتا ہے کہ ہم دونوں یعنی آتھم اور اس راقم میں سے کون *** تھا۔
    اب اس قصہ کے لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ پادری وائٹ بریخت نے بھی چاہا تھا۔ کہ جھوٹے پر *** ہو سو چونکہ آتھم جھوٹا تھا اس لئے اس پر *** پڑگئی۔ سو اسی لئے میں کہتا ہوں کہ آتھم کے معاملہ میں کسی پادری صاحب یا کسی اور عیسائی کو شک ہے اور خیال کرتا ہو کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی تو لازم ہے کہ مجھ سے مباہلہ کرے۔
    اور *** کا مفہوم اپنے مخالفوں کے لئے خود یسوع نے بھی استعمال کیا ہے کیونکہ واویلا یہودیوں پر یسوع کے کلام میں آیا ہے اور واویلا اور *** ایک ہی چیز ہے اور یسوع نے مخالفوں کے

    اور پہلی کتابوں کی شہادتوں کی نظیریں موجود ہیں کہ وعید کی پیشگوئی میں گو بظاہر کوئی بھی شرط نہ ہو تب بھی بوجہ خوف تاخیر ڈال دی جاتی ہے۔ تو پھر اس اجماعی عقیدہ سے محض میری عداوت کے لئے منہ پھیرنا اگر بدذاتی اور بے ایمانی نہیں تو اور کیا ہے۔ فیصلہ تو آسان ہے احمد بیگ کے داماد سلطان محمد کو کہو کہ تکذیب کا اشتہار دے پھر اس کے بعد جو میعاد خدائے تعالیٰ مقرر کرے اگر اس سے اس کی موت تجاوز کرے تو میں جھوٹا ہوں۔ ورنہ اے نادانوں! صادقوں کو جھوٹا مت ٹھہراؤ کہ روسیاہی کے ساتھ مرو گے میری عداوت سے اسلام سے باہر مت جاؤ کیا تم نہیں سمجھتے کہ اس ضمن میں قرآن شریف اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسری الہامی کتابوں کی تکذیب لازم آتی ہے یقیناً سمجھو کہ کسی کی عداوت سے اللہ اور رسول اور دوسرے نبیوں کی کتابوں سے روگردان ہو جانا لعنتیوں کا کام ہے نہ نیک دل مسلمانوں کا۔ صاف ظاہر کہ آتھم کی پیشگوئی اور اس پیشگوئی میں تین ۳ شخص کی موت کی خبر دی گئی تھی۔ سو ان میں سے دو تو فوت ہوچکے صرف ایک باقی ہے سو اس ایک کا انتظار کرو۔ اور ضرور ہے کہ یہ وعید کی موت اس سے تھمی رہے جب تک کہ وہ گھڑی آجائے کہ اس کو بیباک کردیوے سو اگر جلدی کرنا ہے تو اٹھواور اس کو بیباک اور مکذب بناؤ اور اس سے اشتہار دلاؤ اور خدا کی قدرت کا تماشا دیکھو۔ اور اس پیشگوئی میں عربی الہام کے الفاظ یہ ہیں۔ کذّبوا باٰیاتنا وکانوا بہا یستھزؤن۔ فسیکفیکہم اللّٰہ ویردھا الیک۔ لا تبدیل لکلمات اللّٰہ انّ ربّک فعّال لما یرید۔ اگر کوئی اسی بات میں خوش ہے کہ مجھ سے ٹھٹھا کرے تو میں اس میں بھی ناخوش نہیں کیونکہ صادقوں اور راستبازوں کے ساتھ مجھ سے پہلے بھی ٹھٹھا کیا گیا ہے۔ پھر بہت جلد ٹھٹھا کرنے والے نابود ہوگئے اور کوئی نہ بتلا سکا کہ کہاں گئے۔ وانّی باعین اللّٰہ ھو یرانی ومن یکذبنی واعلم منہ انّہ لا یضیعنی ولا یخزینی فویل للذین کفّرونی ولعنونی وسبّونی و شتمونی وکذبوا کلماتی ولم یحیطوا بھا علما فالموت کان خیرًالہم من ھذا لو کانوا یعلمون۔ منہ


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 33
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 33
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/33/mode/1up


    عذابؔ کی پیشگوئی بھی کی ہے اس صورت میں وہ طریق جو عیسائیوں کے مرشد اور گرو نے استعمال کیا ہے اس پر اعتراض کرنا سخت ناسعادت مندی ہے۔ ماسوا اس کے اگر اس *** کے لفظ کو استعمال کرنا نہیں چاہتے تو سزا یا عقوبت کے لفظ کو استعمال کریں اور اگر ایک سال تک ایسا آدمی جو مباہلہ کے میدان میں آوے آسمانی عقوبت سے سزا یاب نہ ہو جاوے تو میں لکھ دوں گا کہ بیشک میری پیشگوئی غلط نکلی اور اگر کوئی مقابل پر نہ آیا توتمام ناظرین سمجھ لیں کہ عیسائی بوجہ ناحق پر ہونے کے بھاگ گئے۔
    یہ بھی مناسب دیکھتا ہوں کہ چونکہ عیسائیوں کا مذہبی عناد بہت بڑھ گیا ہے اس لئے نہایت ضروری ہے کہ روز کا جھگڑا طے کرنے کے لئے ساتھ ہی اسلام اور عیسائیت کا مباہلہ بھی میرے ساتھ کرلیں۔ اگر عیسائی *** کے لفظ سے متنفر ہیں تو اس لفظ کو جانے دیں بلکہ دونوں فریق یہ دعا کریں کہ یاالٰہ العالمین اسلام تو یہ تعلیم دیتا ہے کہ تثلیث کی تعلیم سراسر جھوٹی اور شیطانی طریق ہے اور مریم کا بیٹا ہرگز خدا نہیں تھا بلکہ ایک انسان تھا اور نبی اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم خداکے سچے پیغمبر اور رسول اور خاتم الانبیاء تھے اور قرآن خدا کا پاک کلام ہے جو ہر ایک غلطی اور ضلالت سے پاک ہے۔ اور عیسائی اس تعلیم کو پیش کرتے ہیں کہ مریم کا بیٹا یسوع درحقیقت خدا تھا وہی تھا جس نے زمین و آسمان پیدا کیا اسی کے خون سے دنیا کی نجات ہوگئی۔ اور خدا تین اقنوم ہیں باپ، بیٹا روح القدس اور یسوع تینوں کا مجموعہ کامل خدا ہے۔ اب اے قادران دونوں گروہ میں اس طرح فیصلہ کر کہ جو ہم دو فریق میں سے جو اس وقت مباہلہ کے میدان میں حاضر ہیں جو فریق جھوٹے اعتقاد کا پابند ہے اس کوایک سال کے اندر بڑے عذاب سے ہلاک کر کیونکہ تمام دنیا کی نجات کے لئے چند آدمی کا مرنا بہتر ہے۔
    غرض ہر ایک فریق ہم میں سے اور عیسائیوں میں سے دعا کرے اس طرح پرکہ اول ایک فریق یہ دعا کرے اور دوسرا فریق آمین کہے اور پھر دوسرا فریق دعا کرے اور پہلا فریق آمین کہے اور پھر ایک سال تک خدا کے حکم کے منتظر رہیں اور میں اس وقت اقرار صالح شرعی کرتا ہوں کہ ان دونوں مباہلوں میں دو ہزار روپیہ ان عیسائیوں کے لئے جمع کرا دوں گا جو میرے مقابل پر مباہلہ کے میدان میں آویں گے یہ کام نہایت ضروری ہے جیسا کہ ہم کہتے ہیں کہ زندہ اور قادر خدا ہمارے ساتھ ہے۔ عیسائی بھی کہتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ ہے۔
    اب اس مباہلہ سے یہ بڑا فائدہ ہوگا کہ پبلک کو معلوم ہو جائے گا کہ کس قوم کے ساتھ خدا ہے۔ اور اگر عیسائی قبول نہ کریں تو *** کا ذخیرہ ان کے لئے آسمان پر جمع ہوگا اور لوگ سمجھ جائیں گے کہ وہ جھوٹے ہیں۔ ہمارے مخاطب ڈاکٹر کلارک۔ پادری عماد الدین۔ حسام الدین ایڈیٹر کشف الحقائق۔ منشی صفدر علی بھنڈارہ۔ پادری فتح مسیح اور ہر ایک ایسا شخص جو پادری اور معاند اسلام ہو درخواست کرے۔ یہ طریق فیصلہ بہتر ہے تادنیا روز کے جھگڑوں سے نجات پاوے۔ تاسیاہ روئے شودہر کہ دروغش باشد۔ وَالسّلام علٰی من اتّبع الہدٰی۔
    المشتہر مرزا غلام احمد از قادیان


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 34
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 34
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/34/mode/1up



    س
    نحمدہٗ ونصلّی علٰی رسولہ الکریم
    یہ وہ رسالہ ہے جس کا نام
    خدا کا فیصلہ ہے
    پنجاب اور ہندوستان کے تمام پادری صاحبوں کے لئے

    ایک احسن طریق فیصلہ
    عیسائی صاحبوں کا یہ اعتقاد ہے کہ جو لوگ تثلیث کا عقیدہ اور یسوع کا کفارہ نہیں مانتے وہ ہمیشہ کے جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ اور وہ اعتقاد جو خداتعالیٰ نے اپنی پاک کلام قرآن شریف کے ذریعہ سے مسلمانوں کو سکھایا ہے وہ یہ ہے کہ بجز توحید کے نجات نہیں۔ یہی توحید ہے جس کی رو سے تمام دنیا سے مواخذہ ہوگا خواہ قرآن ان کو نہ پہنچا ہو۔ کیونکہ یہ انسان کے دل میں فطرتی نقش ہے کہ اس کا خالق اور مالک اکیلا خدا ہے جس کے ساتھ کوئی شریک نہیں۔ اس توحید میں کوئی بھی ایسی بات نہیں جو زبردستی منوانی پڑے کیونکہ انسانی دل کی بناوٹ کے ساتھ ہی اس کے نقوش انسان کے دل میں منقش کئے جاتے ہیں۔
    مگر جیسا کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے غیر محدود خدا کو تین اقنوم میں یاچار اقنوم میں محدود کرنا اور پھر ہر ایک اقنوم کو کامل بھی سمجھنا اور ترکیب کا محتاج بھی اور پھر خدا پر یہ روا رکھنا کہ وہ ابتدا میں کلمہ تھا پھر وہی کلمہ جو خدا تھا مریم کے پیٹ میں پڑا اور اس کے خون سے مجسم ہوااور معمولی راہ سے پیدا ہوا اور سارے دکھ خسرہ، چیچک دانتوں کی تکلیف جو انسان کو ہوتی ہیں سب اٹھائے آخر کو جوان ہوکر پکڑا گیا اور صلیب پر چڑھایا گیا۔ یہ نہایت گندہ شرک ہے جس میں انسان کو خدا ٹھہرایا گیا ہے خدا اس سے پاک ہے کہ وہ کسی کے پیٹ میں پڑے اور مجسم ہو اور دشمنوں کے ہاتھ میں گرفتار ہو۔ انسانی فطرت اس کو قبول نہیں کرسکتی کہ خدا پر ایسے دکھ کی مار اور یہ مصیبتیں پڑیں اور وہ جو تمام عظمتوں کا مالک اور تمام عزتوں کا سرچشمہ ہے اپنے لئے یہ تمام ذلتیں روا رکھے عیسائی اس بات کو مانتے ہیں کہ خدا کی اس رسوائی کا یہ پہلا ہی موقعہ ہے اور اس سے پہلے اس قسم کی ذلتیں خدا نے کبھی نہیں اٹھائیں۔ کبھی یہ امر وقوع میں نہیں آیا کہ خدا بھی انسان کی طرح کسی عورت کے رحم میں نطفہ میں مخلوط ہوکر قرار پکڑ گیا ہو۔ جیسے کہ لوگوں نے خدا کا نام سنا کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ بھی انسان کی طرح کسی عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو ۔یہ تمام وہ باتیں ہیں جن کا عیسائیوں کو خود اقرار ہے اور اس بات کا بھی اقرار ہے کہ گو پہلے یہ تین اقنوم تین جسم علیحدہ علیحدہ نہیں رکھتے تھے مگر اس خاص زمانہ سے جس کو اب ۱۸۹۶ء برس جاتا ہے تینوں اقنوم کے لئے تین علیحدہ علیحدہ جسم مقرر ہوگئے باپ کی وہ شکل ہے جو آدم کی کیونکہ اس نے


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 35
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 35
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/35/mode/1up


    آدمؔ کو اپنی شکل پر بنایا۔ دیکھو توریت پیدائش باب ۱ آیت ۲۷ اور بیٹا یسوع کی شکل پر مجسم ہوا دیکھو یوحنا باب ۱ آیت ۱ اور روح القدس کبوتر کی شکل پر متشکل ہوا۔ دیکھو متی باب ۳ آیت ۱۶۔ اب جس نے عیسائیوں کے ان تینوں مجسم خداؤں کا درشن کرنا ہو اور ان کی جسمانی تثلیث کا نقشہ دیکھنا منظور ہو توکچھ ضرور نہیں کہ ان کی طرف التجا لے جائے بلکہ جیسا کہ ہم نے کتاب ست بچن میں سکھ صاحبوں کے مخفی چولہ کی تمام گرو کے چیلوں کو زیارت کرا دی ہے اسی طرح ہم یسوع کے شاگردوں کو بھی ان کے تین مجسم خداؤں کے درشن کرا دیتے ہیں اور ان کے سہ گوشہ تثلیثی خدا کو دکھا دیتے ہیں چاہیے کہ اس کے آگے جھکیں اور سیس نوادیں اور وہ یہ ہے جس کو ہم نے عیسائیوں کی شائع کردہ تصویروں سے لیا ہے۔
    عیسائیوں کا مثلث خدا اور اس کے تین ممبران کمیٹی
    جواقنوم کہلاتے ہیں۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 36
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 36
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/36/mode/1up


    یہ تینوؔ ں مجسم خدا عیسائیوں کے زعم میں ہمیشہ کے لئے مجسم اور ہمیشہ کے لئے علیحدہ علیحدہ وجود رکھتے ہیں اور پھر بھی یہ تینوں مل کر ایک خدا ہے لیکن اگر کوئی بتلا سکتا ہے تو ہمیں بتلا وے کہ باوجود اس دائمی تجسم اور تغیر کے یہ تینوں ایک کیونکر ہیں۔ بھلا ہمیں کوئی ڈاکٹر مارٹن کلارک اور پادری عماد الدین اور پادری ٹھاکر داس کو باوجود ان کے علیحدہ علیحدہ جسم کے ایک کرکے تو دکھلا وے۔ ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ اگر تینوں کو کوٹ کر بھی بعض کا گوشت بعض کے ساتھ ملا دیا جاوے پھر بھی جن کو خدا نے تین بنایا تھا ہرگز ایک نہیں ہوسکیں گے۔ پھر جبکہ اس فانی جسم کے حیوان باوجود امکان تحلیل اور تفرّق جسم کے ایک نہیں ہوسکتے پھر ایسے تین مجسّم جن میں بموجب عقیدہ عیسائیاں تحلیل اور تفریق جائز نہیں کیونکر ایک ہوسکتے ہیں۔
    یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ عیسائیوں کے یہ تین خدا بطور تین ممبر کمیٹی کے ہیں اور بزعم ان کے تینوں کی اتفاق رائے سے ہر ایک حکم نافذ ہوتا ہے یا کثرت رائے پر فیصلہ ہوجاتا ہے گویا خدا کا کارخانہ بھی جمہوری سلطنت ہے اور گویا ان کے گاڈ صاحب کو بھی شخصی سلطنت کی لیاقت نہیں۔ تمام مدار کونسل پر ہے۔
    غرض عیسائیوں کا یہ مرکب خدا ہے جس نے دیکھنا ہو دیکھ لے۔ پادری صاحبان ایسے خدا والے مذہب پر تو ناز کرتے ہیں لیکن اسلام جیسے مذہب کی جو ایسی خلاف عقل باتوں سے پاک ہے توہین اور تحقیر کررہے ہیں اور دن رات یہی شغل ہے کہ اپنے دجّالی فریبوں سے خدا کے پاک اور صادق نبی کو کاذب ٹھہرا ویں اور بُری بُری تصویروں میں اس نورانی شکل کو دکھلاویں۔ بعض پلید فطرت پادریوں نے اپنی تالیفات میں اس طرح ہمارے سید و مولیٰ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر کھینچ کر دکھلائی ہے کہ گویا وہ ایک ایسا شخص ہے جس کی خونی صورت ہے اور غصہ سے بھرا ہوا کھڑا ہے اور ایک ننگی تلوار ہاتھ میں ہے اور بعض غریب عیسائیوں وغیرہ کوٹکڑہ ٹکڑہ کرنا چاہتا ہے لیکن اگر ان لوگوں کو کچھ انصاف اور ایمان میں سے حصہ ہوتا تو اس تصویر سے پہلے موسیٰ کی تصویر کھینچ کر دکھلاتے اور اس طرح کھینچتے کہ گویا ایک نہایت سخت دل اور بے رحم انسان ہاتھ میں تلوار لے کر شیر خوار بچوں کو ان کی ماؤں کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے کررہا ہے اور ایسا ہی یشوع بن نون کی تصویر پیش کرتے اور اس تصویر میں یہ دکھلاتے کہ گویا اس نے لاکھوں بے گناہ بچوں کو ان کی ماؤں کے سمیت ٹکڑے ٹکڑے کرکے میدان میں پھینک دیا ہے۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 37
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 37
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/37/mode/1up


    اورؔ چونکہ ان کے عقیدہ کے موافق یسوع خدا ہے اور یہ ساری بے رحمی کی کارروائیاں اس کے حکم سے ہوئی ہیں اور وہ مجسم خدا ہے جیسا کہ بیان ہوچکاتو اس صورت میں نہایت ضروری تھا کہ سب سے پہلے اس کی تصویر کھینچ کر اس کے ہاتھ میں کم سے کم تین تلواریں دی جاتیں۔ پہلی وہ تلوار جو اس نے موسیٰ کو دی اور بے گناہ شیر خوار بچوں کو قتل کروایا۔ دوسری وہ تلوار جو یشوع بن نون کو دی۔ تیسری وہ تلوار جو داؤد کو دی۔ افسوس !کہ اس حق پوش قوم نے بڑے بڑے ظلموں پر کمر باندھ رکھی ہے۔
    اگر تلوار کے ذریعہ سے خدا کا عذاب نازل ہونا خدا کی صفات کے مخالف ہے تو کیوں نہ یہ اعتراض اول موسیٰ سے ہی شروع کیا جائے جس نے قوموں کو قتل کرکے خون کی نہریں بہا دیں اور کسی کی توبہ کو بھی قبول نہ کیا۔ قرآنی جنگوں نے تو توبہ کا دروازہ بھی کھلا رکھا جو عین قانون قدرت اور خدا کے رحم کے موافق ہے کیونکہ اب بھی جب خدا تعالیٰ طاعون اور ہیضہ وغیرہ سے اپنا عذاب دنیا پر نازل کرتا ہے تو ساتھ ہی طبیبوں کو ایسی ایسی بوٹیاں اور تدبیروں کا بھی علم دے دیتا ہے جس سے اس آتش وبا کا انسداد ہوسکے سو یہ موسیٰ کے طریق جنگ پر اعتراض ہے کہ اس میں قانون قدرت کے موافق کوئی طریق بچاؤ قائم نہیں کیا گیا۔ ہاں بعض بعض جگہ قائم بھی کیا گیا ہے مگر کلّی طور پر نہیں الغرض جبکہ یہ سنت اللہ یعنی تلوار سے ظالم منکروں کو ہلاک کرنا قدیم سے چلی آتی ہے تو قرآن شریف پر کیوں خصوصیت کے ساتھ اعتراض کیا جاتا ہے۔ کیا موسیٰ کے زمانہ میں خدا کوئی اور تھا اور اسلام میں کوئی اور ہوگیا یاخدا کو اس وقت لڑائیاں پیاری لگتی تھیں اور اب بُری دکھائی دیتی ہیں۔
    اور یہ بھی فرق یاد رہے کہ اسلام نے صرف ان لوگوں کے مقابل پر تلوار اٹھانا حکم فرمایا ہے کہ جو اول آپ تلوار اٹھائیں اور انہیں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے جو اول آپ قتل کریں۔ یہ حکم ہرگز نہیں دیا کہ تم ایک کافر بادشاہ کے تحت میں ہوکر اور اس کے عدل اور انصاف سے فائدہ اٹھا کر پھر اسی پر باغیانہ حملہ کرو۔ قرآن کے رو سے یہ بدمعاشوں کا طریق ہے نہ نیکوں کا۔ لیکن توریت نے یہ فرق کسی جگہ کھول کر بیان نہیں فرمایا اس سے ظاہر ہے کہ قرآن شریف اپنے جلالی اور جمالی احکام میں اس خط مستقیم عدل اور انصاف اور رحم اور احسان پر چلتا ہے جس کی نظیر دنیا میں کسی کتاب میں موجود نہیں مگر اندھے دشمن


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 38
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 38
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/38/mode/1up


    پھرؔ بھی اعتراض کرتے ہیں کیونکہ ان کی فطرت روشنی سے عداوت اور ظلمت سے محبت رکھتی ہے۔
    اب اس اشتہار کی تحریر سے یہ غرض ہے کہ ہم نے بڑے لمبے تجربہ سے آزما لیا ہے کہ یہ لوگ بار بار ملزم اور لاجواب ہوکر پھر بھی نیش زنی سے باز نہیں آتے اور اس شخص کو تمام عیبوں سے مبرّا سمجھتے ہیں جس نے خود اقرار کیا کہ ’’میں نیک نہیں‘‘ اور جس نے شراب خواری اور قمار بازی اور کھلے طور پر دوسروں کی عورتوں کو دیکھنا جائز رکھ کر بلکہ آپ ایک بدکار کنجری سے اپنے سر پر حرام کی کمائی کا تیل ڈلوا کر اور اس کو یہ موقعہ دے کر کہ وہ ا س کے بدن سے بدن لگاوے اپنی تمام اُمت کو اجازت دے دی کہ ان باتوں میں سے کوئی بات بھی حرام نہیں۔ سو ایسے شخص کو تو انہوں نے خدا بنا لیا مگر خدا کے مقدس نبیوں کو جن کی زندگی محض خدا کے لئے تھی اور جو تقویٰ کی باریک راہوں کو سکھا گئے برا کہنا اور گالیاں دینا شروع کردیا چنانچہ اب تک یہ لوگ باز نہیں آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں نہایت ناپاک اور رنجدہ تھیئٹر نکالتے ہیں اور نہایت بری تصویروں میں اس پاک وجود کو دکھلاتے ہیں۔
    اب ایسے کذَّابوں سے زبانی مباحثات سے کیونکر فیصلہ ہو۔ ہم جھوٹے کو دندان شکن جواب سے ملزم تو کرسکتے ہیں مگر اس کا منہ کیونکر بند کریں اس کی پلید زبان پر کونسی تھیلی چڑھا ویں؟ اس کے گالیاں دینے والے منہ پر کونسا قفل لگاویں؟ کیا کریں؟ کیا کوئی اس سے بے خبر ہے کہ نالائق عماد الدین نے اس پاک ذات نبی کی نسبت کیا کیا گندے الفاظ استعمال کئے جس سے تمام مسلمانوں کے کلیجے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ نور افشاں پرچہ لودیانہ میں کیسے کیسے ہفتہ وار محض افترا کی بنیاد پر توہین اسلام کے کلمات لکھے جارہے ہیں۔ ریواڑی والے پادری نے کس قدر مسلمانوں کا دل جلایااور ہمارے سید و مولیٰ کو ڈاکو اور رہزن قرار دیا۔ غرض کہاں تک لکھیں ان ظالم پادریوں نے لاکھوں گالیاں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے کر ہمارے دلوں کو زخمی کردیا۔
    لیکن ہم ظالم ہوں گے اگر ساتھ ہی یہ بھی گواہی نہ دیں کہ ان کارروائیوں میں گورنمنٹ پر کوئی الزام نہیں بلاشبہ گورنمنٹ ہریک قوم کو ایک ہی آنکھ سے دیکھتی ہے۔ مذہبی مناظرات


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 39
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 39
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/39/mode/1up


    کیؔ آزادی جیسا کہ پادریوں کو حاصل ہے ویسا ہی ہمیں بھی ہے اگر ہم گورنمنٹ کے انصاف پر یقین نہ رکھتے تو ممکن نہ تھا کہ ان اپنی شکایتوں کا اظہار بھی کرسکتے لیکن ہم گورنمنٹ کو یہ تکلیف دینا ہی نہیں چاہتے کہ وہ مذہبی مباحثات کی آزادی کو بالکل بند کردے۔ ہاں ہمارا مدعا یہ ہے کہ ان شرائط کی پابندی سے کسی قدر اس آزادی کو محدود کر دیا جائے جس کی نسبت ہم ایک علیحدہ اشتہار شائع کرچکے ہیں لیکن گورنمنٹ اپنی مہمات ملکیہ میں مصروف ہے اس کو اس فیصلہ کے لئے تو فرصت نہیں کہ توحید اور تین مجسم خداؤں کے عقیدہ کے بارے میں کچھ اپنی رائے لکھے اور وہ کارروائی کرے جیسا کہ تیسری صدی کے بعد کانسٹنٹائن فرسٹ قسطنطنیہ کے بادشاہ نے اڑھائی سو بشپ کو جمع کرکے اپنے اجلاس میں موحد عیسائیوں اور تین اقنوم کے قائل عیسائیوں کا باہم مباحثہ کرایا تھااور آخر کار فرقہ موحدین کو ڈگری دی تھی اور خود ان کا مذہب بھی قبول کر لیا تھا ایسا ہی یہ گورنمنٹ عالیہ بھی کرے* لیکن یہ گورنمنٹ ایسے تنازعات میں پڑنا نہیں چاہتی۔ پس یہ روز افزوں جھگڑے کیونکر فیصلہ پاویں۔ مباحثات کے نیک نتیجہ سے تو نومیدی ہوچکی بلکہ جیسے جیسے مباحثات بڑھتے

    حاشیہ۔ عیسائیوں میں تثلیث کا مسئلہ تیسری صدی کے بعد ایجاد ہوا ہے۔ جیسا کہ ڈریپر بھی اپنی کتاب میں بڑے بڑے علماء کے حوالہ سے لکھتا ہے موجد اس مسئلہ کا بشپ اتھاناسی اس الگزنڈرائن تھا جو صدی سوم کے بعد ہوا ہے۔ جب اس نے یہ مسئلہ شائع کرنا چاہا تو اسی وقت بشپ ایری اس اسکا منکر کھڑا ہوگیا اور یہاں تک اس مباحثہ میں عوام اور خواص کا مجمع ہوا کہ روم کے بادشاہ تک خبر پہنچ گئی۔ اتفاقاً اس کو مباحثات سے دلچسپی تھی اس نے چاہا کہ اس اختلاف کو اپنے حضور میں ہی فریقین کے علماء سے رفع کرا دے چنانچہ اس کے اجلاس میں بڑی سرگرمی سے یہ مباحثات ہوئے اور نہایت لطف کے ساتھ کونسل کی کرسیاں بچھیں اور مناظرہ کرنے والے دو سو پچاس نامی پادری تھے۔ آخر موحدین کا فرقہ جو یسوع کو محض انسان اور رسول جانتا تھا غالب آیا۔ اسی دن بادشاہ نے یونی ٹیرین کا مذہب اختیار کیا اور چھ بادشاہ اس کے بعد موحد رہے۔ چنانچہ جس قیصر کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خط لکھا تھاجس کا ذکر صحیح بخاری میں پہلے صفحہ میں ہی موجود ہے وہ بھی موحد ہی تھا اس نے قرآن کے اس مضمون پر اطلاع پاکر کہ مسیح صرف انسان ہے تصدیق کی


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 40
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 40
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/40/mode/1up


    جاتےؔ ہیں ویسے ہی کینے بھی ساتھ ترقی پکڑتے جاتے ہیں سو اس نومیدی کے وقت میں میرے نزدیک ایک نہایت سہل و آسان طریق فیصلہ ہے اگر پادری صاحبان قبول کرلیں اور وہ یہ ہے کہ اس بحث کا جو حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے خدا تعالیٰ سے فیصلہ کرایا جائے-
    اول مجھے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ ایسا خدائی فیصلہ کرانے کے لئے سب سے زیادہ مجھے جوش ہے اور میری دلی مراد ہے کہ اس طریق سے یہ روز کا جھگڑا انفصال پا جائے۔ اگر میری تائید میں خدا کا فیصلہ نہ ہو تو میں اپنی کل املاک منقولہ وغیر منقولہ جو دس ۱۰ ہزار روپیہ کی قیمت سے کم نہیں ہوں گی عیسائیوں کو دے دوں گا اور بطور پیشگی تین ہزار روپیہ تک ان کے پاس جمع بھی کرا سکتا ہوں۔ اس قدر مال کا میرے ہاتھ سے نکل جانا میرے لئے کافی سزا ہوگی۔ علاوہ اس کے یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ میں اپنے دستخطی اشتہار سے شائع کردوں گا کہ عیسائی فتح یاب ہوئے اور میں مغلوب ہوا اور یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ اس اشتہار میں کوئی بھی شرط نہ ہوگی لفظاً نہ معناً۔
    اور ربَّانی فیصلہ کے لئے طریق یہ ہوگا کہ میرے مقابل پر ایک معزز پادری صاحب جو پادری صاحبان مندرجہ ذیل میں سے منتخب کئے جائیں*۔ میدان مقابلہ کے لئے جو تراضی طرفین سے مقرر کیا جائے طیّار ہوں۔ پھر بعد اس کے ہم دونوں معہ اپنی اپنی جماعتوں کے میدان مقررہ میں حاضر ہو جائیں اور خدائے تعالیٰ سے دعا کے ساتھ یہ فیصلہ چاہیں کہ ہم دونوں میں سے جو شخص درحقیقت خداتعالیٰ کی نظر میں کاذب اور مورد غضب ہے خدا تعالیٰ ایک سال میں اس کاذب پر وہ قہر نازل کرے جو اپنی غیرت کے رو سے ہمیشہ کاذب اور مکذب قوموں پر کیا کرتا ہے جیسا کہ اس نے فرعون پر کیا نمرود پر کیا اور نوح کی قوم پر کیااور یہود پر کیا۔ حضرات پادری صاحبان یہ بات یاد رکھیں کہ اس باہمی دعا میں کسی خاص فریق پر نہ *** ہے نہ بددعا ہے بلکہ اس جھوٹے کو سزا دلانے کی غرض سے ہے جو اپنے جھوٹ کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ ایک جہان کے زندہ ہونے کے لئے ایک کا

    جیسا کہ نجاشی نے بھی جو عیسائی بادشاہ تھا قسم کھاکر کہا کہ یسوع کا رتبہ اس سے ذرہ زیادہ نہیں جو قرآن نے اس کی نسبت لکھا ہے مگر نجاشی اس کے بعد کھلا کھلا مسلمان ہوگیا۔ منہ

    نوٹ۔ ان صاحبوں میں سے کوئی منتخب ہونا چاہئے۔ اول ڈاکٹر مارٹن کلارک۔ دوسرے پادری عماد الدین پھر پادری ٹھاکر داس یا حسام الدین بمبئی یا صفدر علی بھنڈارہ یا طامس ہاول یا فتح مسیح بشرط منظوری دیگران


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 41
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 41
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/41/mode/1up


    مرنا ؔ بہترہے۔ پادری صاحبان خوب جانتے ہیں کہ جھوٹوں پر یسوع نے بھی بددعائیں کی ہیں۔ چنانچہ یسوع متی باب ۲۳ میں یہود کے علماء کو مخاطب کرکے کہتا ہے۔ ’’اے سانپو اور سانپ کے بچو تم جہنم کے عذاب سے کیونکر بھاگو گے۔ ۳۶۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ یہ سب کچھ اس زمانہ کے لوگوں پر آوے گا یعنی عذاب اور باب ۲۳ آیت ۱۳ میں یسوع بار بار جھوٹوں مکاروں کی تباہی چاہتا ہے اور ویل کا لفظ استعمال کرتا ہے جو ہمیشہ بددعا کے لئے آتا ہے۔ غرض ایسا جھوٹا جو جھوٹ کو کسی طرح چھوڑنا نہ چاہے اس کا وجود تمام فتنوں سے زیادہ فتنہ ہے اور فتنہ کو ہریک طرح سے فرو کرنا راستبازوں کا فرض ہے۔ پس جس حالت میں عیسائی نہایت غلوّ سے کہتے ہیں کہ دین اسلام انسان کا افترا ہے۔ اور اہل اسلام دلی یقین رکھتے ہیں کہ عیسائی درحقیقت انسان پرست ہیں تو کیا لازم نہیں ہے کہ جس طرح ہوسکے یہ بات فیصلہ پاجائے۔
    ہم نے بار بار سمجھایا کہ عیسیٰ پرستی بت پرستی اور رام پرستی سے کم نہیں۔ اور مریم کا بیٹا کشلّیا کے بیٹے سے کچھ زیادت نہیں رکھتا مگر کیا کبھی آپ لوگوں نے توجہ کی۔ یوں تو آپ لوگ تمام دنیا کے مذہبوں پر حملہ کررہے ہیں مگر کبھی اپنے اس مثلث خدا کی نسبت بھی کبھی غور کی۔ کبھی یہ خیال آیاکہ وہ جو تمام عظمتوں کا مالک ہے اس پر انسان کی طرح کیونکر دکھ کی مار پڑ گئی۔ کبھی یہ بھی سوچا کہ خالق نے اپنی ہی مخلوق سے کیونکر مار کھالی۔ کیا یہ سمجھ آسکتا ہے کہ بندے ناچیز اپنے خدا کو کوڑے ماریں، اس کے منہ پر تھوکیں، اس کو پکڑیں، اس کو سولی دیں اور وہ مقابلہ سے عاجز رہ جائے بلکہ خدا کہلا کر پھر اس پر موت بھی آجائے۔ کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ تین مجسم خدا ہوں ایک وہ مجسم جس کی شکل پر آدم ہوا۔ دوسرا یسوع۔ تیسرا کبوتر* اور تینوں میں سے ایک بچہ والا اور دو لاولد۔ کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ خدا شیطان کے

    * نوٹ۔ عیسائی صاحبان کبوتروں کو شوق سے کھاتے ہیں۔ حالانکہ کبوتر ان کا دیوتا ہے۔ ان سے ہندو اچھے رہے کہ اپنے دیوتا بیل کو نہیں کھاتے ۔ منہ


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 42
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 42
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/42/mode/1up


    پیچھےؔ پیچھے چلے اور شیطان اس سے سجدہ چاہے اور اس کو دنیا کی طمع دے۔ کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ وہ شخص جس کی ہڈیوں میں خدا گھسا ہوا تھا ساری رات رو رو کر دعا کرتا رہا اور پھر بھی استجابت دعا سے محروم اور بے نصیب ہی رہا۔ کیا یہ بات تعجب میں نہیں ڈالتی کہ خدائی کے ثبوت کے لئے یہود کی کتابوں کا حوالہ دیا جاتا ہے حالانکہ یہود اس عقیدہ پر ہزار *** بھیجتے ہیں اور سخت انکاری ہیں اور کوئی ان میں ایسا فرقہ نہیں جو تثلیث کا قائل ہو اگر یہود کو موسیٰ سے آخری نبیوں تک یہی تعلیم دی جاتی تو کیونکر ممکن تھا کہ وہ لاکھوں آدمی جو بہت سے فرقوں میں منقسم تھے اس تعلیم کو سب کے سب بھول جاتے۔ کیا یہ بات سوچنے کے لائق نہیں کہ عیسائیوں میں قدیم سے ایک فرقہ موحد بھی ہے جو قرآن شریف کے وقت میں بھی موجود تھا۔ اور وہ فرقہ بڑے زور سے اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ تثلیث کا گندہ مسئلہ صرف تیسری صدی کے بعد نکلا ہے اور اب بھی اس فرقہ کے لاکھوں انسان یورپ اور امریکہ میں موجود ہیں اور ہزارہا کتابیں ان کی شائع ہورہی ہیں۔ پس جبکہ اس قدر ملزم ہوکر پھر بھی پادری صاحبان اپنی بدزبانیوں سے باز نہیں آتے تو کیا اس وقت خدا کے فیصلہ کی حاجت نہیں؟ ضرور حاجت ہے۔ تا جو جھوٹا ہے ہلاک ہو جائے جو گروہ جھوٹا ہوگا اب بلاشبہ بھاگ جائے گا اور جھوٹے بہانوں سے کام لے گا۔
    سو اے پادری صاحبان دیکھو کہ میں اس کام کیلئے کھڑا ہوں اگر چاہتے ہو کہ خدا کے حکم سے اور خدا کے فیصلہ سے سچے اور جھوٹے میں فرق ظاہر ہو جائے تو آؤ۔ تاہم ایک میدان میں دعاؤں کے ساتھ جنگ کریں تا جھوٹے کی پردہ دری ہو۔ یقیناً سمجھو کہ خدا ہے اور بے شک وہ قادر موجود ہے اور وہ ہمیشہ صادقوں کی حمایت کرتا ہے۔ سو ہم دونوں میں سے جو صادق ہوگا خدا ضرور اس کی حمایت کرے گا۔ یہ بات یاد رکھو کہ جو شخص خدا کی نظر میں ذلیل ہے وہ اس جنگ کے بعد ذلت دیکھے گااور جو اس کی نظر میں عزیز ہے وہ عزت پائے گا


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 43
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 43
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/43/mode/1up


    آتھمؔ کے مقدمہ میں دیکھ چکے ہو کہ باوجود اس کے بہت سے منصوبوں کے پھر آخر حق ظاہر ہوگیا۔ کیا تمہارے دل قبول نہیں کرگئے کہ آتھم کا قسم سے انکار کرنا اور نالش سے انکار کرنا اور حملوں کا ثبوت دینے سے انکار کرنا صرف اسی وجہ سے تھا کہ اس نے ضرور الہامی شرط کے موافق حق کی طرف رجوع کرلیا تھا۔ تمہیں معلوم ہے کہ باجود اس کے کہ ملامتی اشتہاروں کی بہت ہی اس کو مار پڑی مگر وہ اس الزام سے اپنے تئیں بری نہ کرسکا جو اس کے اقرار خوف اور بے ثبوت ہونے عذر حملوں سے اس پر وارد ہوچکا تھا۔ یہاں تک کہ اس موت نے اس کو آپکڑا جس سے وہ ڈرتا رہا اور ضرور تھا کہ وہ انکار کے بعد جلد مرتا۔ کیونکہ خدائے تعالیٰ کی پاک پیش گوئیوں کے رو سے یہی سزا اس کے لئے ٹھہر چکی تھی۔ سو اس خدا سے خوف کرو جس نے آتھم کو بڑی سرگردانیوں کے گرداب میں ڈال کر آخر اپنے وعید کے موافق ہلاک کردیا۔ خدا کی کھلی کھلی پیشگوئیوں سے منہ پھیرنا یہ بدطینتوں کا کام ہے نہ نیک لوگوں کا۔ اور جھوٹ کے مردار کو کسی طرح نہ چھوڑنا۔ یہ کتوں کا طریق ہے نہ انسانوں کا۔ میاں حسام الدین عیسائی لکھتے ہیں کہ آتھم چار دن تک بے ہوش رہا۔ مگر وہ اس کا سرّ نہیں بیان کرسکے کہ کیوں چار دن تک بے ہوش رہا۔ سو جاننا چاہئے کہ یہ چار دن کی سخت جان کندن کے ان چار افتراؤں کی اسی دنیا میں اس کو سزا دی گئی۔ جو اس نے زہر خورانی کے اقدام کا افترا کیا۔ سانپ چھوڑنے کا افترا کیا۔ لودیانہ اور فیروز پور کے حملہ کا افترا کیا اور عیسائیوں کے خوش کرنے کے لئے اصل وجہ خوف کو چھپایا۔ سو عیسائیوں کے لئے اس سے زیادہ اور کوئی شرم کی جگہ نہیں کہ آتھم ان کے مذہب کے جھوٹا ہونے پر گواہی دے گیا۔ اب اگر آتھم کی گواہی پر اعتبار نہیں تو اس نئے طریق سے دوبارہ حجت اللہ کو پورا کرا لینا چاہئے۔ اور اس نئے طریق میں کوئی شرط بھی نہیں۔ سیدھی بات ہے کہ اگر باہم دعا کرنے کے بعد جس کے ساتھ فریقین کی طرف سے آمین بھی ہوگی۔ میرے مقابل کا شخص ایک سال تک خدا تعالیٰ کے فوق العادت عذاب سے بچ گیا تو جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں تاوان مذکورہ بالا ادا کروں گا۔
    اور میں حضرات پادری صاحبان کو دوبارہ یاد دلاتا ہوں کہ اس طرح کا طریق دعا ان کے


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 44
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 44
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/44/mode/1up


    مذہبؔ اور اعتقاد سے ہرگز منافی نہیں اور حضرت یسوع صاحب نے باب ۲۳ آیت ۱۳ متی میں خود اس طریق کو استعمال کیا ہے اور ویل کے لفظ سے فقیہوں اور فریسیوں پر بددعا کی ہے اب اگر عیسائی صاحبان کوئی اور لفظ استعمال کرنے سے تامل کریں تو ویل کے لفظ کو ہی استعمال کرنا تو خود ان پر واجب ہے کیونکہ ان کے مرشد اور ہادی نے بھی یہی لفظ استعمال کیا ہے۔ ویل کے معنی سختی اور *** اور ہلاکت کے ہیں۔ سو ہم دونوں اس طرح پر دعا کریں گے کہ اے خدائے قادر اس وقت ہم بالمقابل دو فریق کھڑے ہیں ایک فریق یسوع بن مریم کو خدا کہتا اور نبی اسلام کو سچا نبی نہیں جانتا اور دوسرا فریق عیسیٰ ابن مریم کو رسول مانتا اور محض بندہ اس کو یقین رکھتا اور پیغمبر اسلام کو درحقیقت سچا اور یہود اور نصاریٰ میں فیصلہ کرنے والا جانتا ہے سو ان دونوں فریق میں سے جو فریق تیری نظر میں جھوٹا ہے اس کو ایک سال کے اندر ہلاک کر اور اپنا ویل اس پر نازل کر۔ اور چاہیے کہ ایک فریق جب دعا کرے تو دوسرا آمین کہے اور جب وہ فریق دعا کرے تو یہ فریق آمین کہے۔
    اور میری دلی مراد ہے کہ اس مقابلہ کے لئے ڈاکٹر مارٹن کلارک کو منتخب کیا جائے کیونکہ وہ موٹا اور جوان عمر اور اول درجہ کا تندرست اور پھر ڈاکٹر ہے اپنی عمر درازی کا تمام بندوبست کرلے گا۔ یقیناً ڈاکٹر مارٹن کلارک صاحب ضرور ہماری اس درخواست کو قبول کرلیں گے کیونکہ انہیں یسوع ابن مریم کے خدا بنانے کا بہت شوق ہے۔ اور سخت نامردی ہوگی کہ اب وہ اس وقت بھاگ جائیں اور اگر وہ بھاگ جائیں تو پادری عماد الدین صاحب اس مقابلہ کے لائق ہیں جنہوں نے ابن مریم کو خدا بنانے کے لئے ہر ایک انسانی چالاکی کو استعمال کیا اور آفتاب پر تھوکا ہے۔ اور اگر وہ بھی اس خوف سے بھاگ گئے کہ خدا کا ویل ضرور انہیں کھا جائے گا تو حسام الدین یا صفدر علی یا ٹھاکر داس یا طامس ہاول اور بالآخر فتح مسیح اس میدان میں آوے۔ یا کوئی اور پادری صاحب نکلیں اور اگر اس رسالہ کے شائع ہونے کے بعد دو ماہ تک کوئی بھی نہ نکلا اور صرف شیطانی عذر بہانہ سے کام لیا تو پنجاب اور ہندوستان کے تمام پادریوں کے جھوٹے ہونے پر مہر لگ جائے گی اور پھر خدا اپنے طور سے جھوٹ کی بیخ کنی کرے گا یاد رکھو کہ ضرور کرے گا کیونکہ وقت آگیا۔ والسّلام علٰی من اتّبع الہدیٰ۔
    میرزا غلام احمداز قادیان ۱۴؍ستمبر ۱۸۹۶ء


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 45
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 45
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/45/mode/1up


    بِسمِؔ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    نَحمدہٗ ونُصَلّی عَلٰی رَسُولِہِ الکَریم
    )رسالہ دعوت قوم(
    اشتہار مباہلہ
    بغرض دعوت ان مسلمان مولویوں کے جو اس عاجز کو
    کافر اور کذّاب اور مفتری اور دجّال اور جہنمی قرار دیتے ہیں
    3
    اے ہمارے خدا ہم میں اور ہماری قوم میں سچا فیصلہ کردے اور تو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے

    چونکہ علماء پنجاب اور ہندوستان کی طرف سے فتنہ تکفیر و تکذیب حد سے زیادہ گزر گیا ہے ا ور نہ فقط علماء بلکہ فقرا اور سجادہ نشین بھی اس عاجز کے کافر اور کاذب ٹھہرانے میں مولویوں کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں ۔اور ایسا ہی ان مولویوں کے اغوا سے ہزارہا ایسے لوگ پائے جاتے ہیں کہ وہ ہمیں نصاریٰ اور یہود اور ہنود سے بھی اکفر سمجھتے ہیں۔ اگرچہ اس تمام فتنہ تکفیر کا بوجھ نذیر حسین دہلوی کی گردن پر ہے مگر تاہم دوسرے مولویوں کا یہ گناہ ہے کہ انہوں نے اس نازک امر تکفیر مسلمانوں میں اپنی عقل اور اپنی تفتیش سے کام نہیں لیا۔ بلکہ نذیر حسین کے دجّالانہ فتویٰ کو دیکھ کر جو محمد حسین بٹالوی نے طیّار کیا تھا بغیر تحقیق اور تنقیح کے اس پر ایمان لے آئے۔ ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ اس نالائق نذیر حسین اور اس کے ناسعادت مند شاگرد محمد حسین کا یہ سراسر افترا ہے کہ ہماری طرف یہ بات منسوب کرتے ہیں کہ گویا ہمیں معجزات انبیاء علیہم السلام سے انکار ہے یا ہم خود دعویٰ نبوت کرتے ہیں یا نعوذ باللہ حضرت سید المرسلین محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء نہیں سمجھتے یا ملائک سے انکاری یا حشر و نشر وغیرہ اصول عقائد اسلام سے منکر ہیں۔ یا صوم و صلٰوۃ وغیرہ ارکان اسلام کو نظر استخفاف سے دیکھتے یا غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ نہیں۔ بلکہ خدا تعالیٰ گواہ ہے کہ ہم ان سب باتوں کے قائل ہیں۔ اور ان عقائد اور ان اعمال کے منکر کو ملعون اور 3 یقین رکھتے ہیں۔
    اگر ہمیں ہمارے دعویٰ کے موافق قبول کرنے کے لئے یہی مابہ النزاع ہے تو ہم بلند آواز سے باربار سناتے ہیں کہ ہمارے یہی عقائد ہیں جو ہم بیان کرچکے ہیں۔ ہاں ایک بات ضرور ہے جس کے


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 46
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 46
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/46/mode/1up


    لئےؔ یہ اشتہار مباہلہ لکھا گیا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس عاجز کو شرف مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف فرما کر اس صدی چہار دہم کا مجدّد قرار دیا ہے اور ہریک مجدّد کا بلحاظ حالت موجودہ زمانہ کے ایک خاص کام ہوتا ہے جس کے لئے وہ مامور کیا جاتا ہے۔ سو اس سنت اللہ کے موافق یہ عاجز صلیبی شوکت کے توڑنے کے لئے مامور ہے یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے اس خدمت پر مقرر کیا گیا ہے کہ جو کچھ عیسائی پادریوں نے کفاّرہ اور تثلیث کے باطل مسائل کو دنیا میں پھیلایا ہے اور خدائے واحد لاشریک کی کسر شان کی ہے۔ یہ تمام فتنہ سچے دلائل اور روشن براہین اور پاک نشانوں کے ذریعہ سے فرو کیا جائے۔ اس بات کی کس کو خبر نہیں کہ دنیا میں اس زمانہ میں ایک ہی فتنہ ہے جو کمال کو پہنچ گیا ہے اور الٰہی تعلیم کا سخت مخالف ہے یعنی کفاّرہ اور تثلیث کی تعلیم جس کو صلیبی فتنہ کے نام سے موسوم کرنا چاہئے۔ کیونکہ کفارہ اور تثلیث کے تمام اغراض صلیب کے ساتھ وابستہ ہیں۔ سو خدا تعالیٰ نے آسمان پر سے دیکھا کہ یہ فتنہ بہت بڑھ گیا ہے اور یہ زمانہ اس فتنہ کے تموّج اور طوفان کا زمانہ ہے۔ پس خدا نے اپنے وعدہ کے موافق چاہا کہ اس صلیبی فتنہ کو پارہ پارہ کرے اور اس نے ابتداسے اپنے نبی مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے خبر دی تھی کہ جس شخص کی ہمت اور دعا اور قوت بیان اور تاثیر کلام اور انفاس کافر کش سے یہ فتنہ فرو ہوگا اسی کا نام اس وقت عیسیٰ اور مسیح موعود ہوگا۔
    اگرچہ وہ پیشگوئیاں بہت سے نازک اور لطیف استعارات سے بھری پڑی ہیں مگر ان میں جو نہایت واضح اور کھلا کھلا اور موٹا نشان مسیح موعود کے بارے میں لکھا گیا ہے۔ وہ کسر صلیب ہے یعنی صلیب کو توڑنا۔ یہ لفظ ہریک عقلمند کے لئے بڑی غور کے لائق ہے اور یہ صاف بتلا رہا ہے کہ وہ مسیح موعود عیسائیت کے موجزن فتنہ کے زمانہ میں ظاہر ہوگا نہ کسی اور زمانہ میں۔ کیونکہ صلیب پر سارا مدار نجات کا رکھنا کسی اور دجّال کا کام نہیں ہے۔ یہی گروہ ہے جو صلیبی کفّارہ پر زور دے رہا ہے اور اس کو فروغ دینے کے لئے ہر ایک دجل کو کام میں لا رہا ہے۔
    دجّال بہت گزرے ہیں اور شائد آگے بھی ہوں۔ مگر وہ دجّال اکبر جن کا دجل خدا کے نزدیک ایسا مکروہ ہے کہ قریب ہے جو اس سے آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں۔ یہی گروہ مشت خاک کو خدا بنانے والا ہے۔ خدا نے یہودیوں اور مشرکوں اور دوسری قوموں کے


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 47
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 47
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/47/mode/1up


    طرحؔ طرح کے دجل قرآن شریف میں بیان فرمائے مگر یہ عظمت کسی کے دجل کو نہیں دی کہ اس دجل سے آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوسکتے ہیں۔ پس جس گروہ کو خدا نے اپنے پاک کلام میں دجّالِ اکبر ٹھہرایا ہے ہمیں نہیں چاہئے کہ اس کے سوا کسی اور کا نام دجّالِ اکبر رکھیں۔ نہایت ظلم ہوگا کہ اس کو چھوڑ کر کوئی اور دجّالِ اکبر تلاش کیا جائے۔
    یہ بات کسی پہلو سے درست نہیں ٹھہر سکتی کہ حال کے پادریوں کے سوا کوئی اور بھی دجّال ہے جو ان سے بڑا ہے کیونکہ جبکہ خدا نے اپنی پاک کلام میں سب سے بڑا یہی دجّال بیان فرمایا ہے تو نہایت بے ایمانی ہوگی کہ خدا کے کلام کی مخالفت کرکے کسی اور کو بڑا دجّال ٹھہرایا جائے۔ اگر کسی ایسے دجّال کا کسی وقت وجود ہوسکتا تو خدا تعالیٰ جس کا علم ماضی اور حال اور مستقبل پر محیط ہے اسی کا نام دجّالِ اکبر رکھتا نہ ان کا نام۔ پھر یہ نشان دجّال اکبر کا جو حدیث بخاری کے صریح اس اشارہ سے نکلتا ہے کہ یَکْسِرُ الصّلیبصاف بتلا رہا ہے کہ اس دجّالِ اکبر کی شان میں سے یہ ہوگا کہ وہ مسیح کو خدا ٹھہرائے گا اور مدار نجات صلیب پر رکھے گا۔
    یہ بات عارفوں کے لئے نہایت خوشی کا موجب ہے کہ اس جگہ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کا تظاہر ہوگیا ہے جس سے تمام حقیقت اس متنازعہ فیہ مسئلہ کی کھل گئی۔ کیونکہ قرآن نے تو اپنے صریح لفظوں میں دجّالِ اکبر پادریوں کو ٹھہرایا اور ان کے دجل کو ایسا عظیم الشان دجل قرار دیا کہ قریب ہے جو اس سے زمین و آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں۔ اور حدیث نے مسیح موعود کی حقیقی علامت یہ بتلائی کہ اس کے ہاتھ پر کسر صلیب ہوگا۔ اور وہ دجّال اکبر کو قتل کرے گا۔ ہمارے نادان مولوی نہیں سوچتے کہ جبکہ مسیح موعود کا خاص کام کسر صلیب اور قتل دجّال اکبر ہے اور قرآن نے خبر دی ہے کہ وہ بڑا دجل اور بڑا فتنہ جس سے قریب ہے کہ نظام اس عالم کا درہم برہم ہو جائے اور خاتمہ اس دنیا کا ہو جائے وہ پادریوں کا فتنہ ہے تو اس سے صاف طور پر کھل گیا کہ پادریوں کے سوا اور کوئی دجّالِ اکبر نہیں ہے اور جو شخص اب اس فتنہ کے ظہور کے بعد اور کی انتظار کرے وہ قرآن کا مکذب ہے۔
    اور نیز جبکہ لغت کی روسے بھی دجّال ایک گروہ کا نام ہے جو اپنے دجل سے زمین کو پلید کرتا ہے۔ اور حدیث کی روسے نشان دجّالِ اکبر کا حمایت صلیب ٹھہرا تو باوجود اس کھلی کھلی


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 48
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 48
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/48/mode/1up


    تحقیقؔ کے وہ شخص نہایت درجہ کو رباطن ہے کہ جواب بھی حال کے پادریوں کو دجّال اکبر نہیں سمجھتا۔
    ایک اور بات ہے جس سے ہمارے نادان مولوی اس حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں کہ وہ اس بات کے خود قائل ہیں کہ دجّال معہود کا بجز حرمین کے تمام زمین پر تسلط ہو جائے گا۔ سو اگر دجّال سے مراد کوئی اور رکھا جائے تو یہ حدیث قرآن کی صریح پیشگوئی سے مخالف ہوجائے گی۔ کیونکہ قرآن شریف نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ قیامت تک زمین پر غلبہ اور تسلط دو قوموں میں سے ایک قوم کا ہوتا رہے گا۔ یا اہلِ اسلام کا یا نصاریٰ کا۔ پس قرآن کے رو سے ایسے دجّال کو جو اپنی خدائی کا دعویٰ لے کر آئے گا۔ زمین پر قدم رکھنے کی جگہ نہیں اور قرآن اس کے وجود کو روکتا ہے۔ ہاں استعارہ کے طور پر نصاریٰ کا دعویٰ خدائی ثابت ہے کیونکہ چاہتے ہیں کہ کَلوں کے زور سے تمام زمین و آسمان کو اپنے قابو میں کرلیں یہاں تک کہ مینہ برسانے کی قدرت بھی حاصل ہوجائے۔ پس اس طرح پر وہ خدائی کا دعویٰ کرتے ہیں-
    غرض یہ وہ امور ہیں جن کو حال کے مولوی نہیں سمجھتے اور اہل اسلام میں انہوں نے بڑا بھاری فتنہ اور تفرقہ ڈال رکھا ہے اور نہایت بیہودہ اور رکیک تاویلات سے نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ سے منہ پھیر رہے ہیں۔ دعویٰ کرتے تھے کہ ہم اہل حدیث ہیں مگر اب تو انہوں نے قرآن کو بھی چھوڑا اور حدیث کو بھی۔ سو جبکہ میں نے دیکھا کہ قرآن شریف اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے دلوں میں عظمت نہیں اور جلیل الشان اکابراَئمہ کی شہادت بھی جیسا کہ امام بخاری اور ابن حزم اور امام مالک کی شہادت جو حضرت عیسیٰ کے فوت ہو جانے کی نسبت بار بار لکھی گئی ہے ان کے نزدیک کچھ چیز نہیں سو مجھ کو اس پہلو سے بکلی نومیدی ہوئی کہ وہ منقولی بحث و مباحثہ کے ذریعہ سے ہدایت پاسکیں* پس خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ میں دوسرا پہلو اختیار کروں جو اصل بنیاد میرے دعویٰ کی ہے یعنی اپنے سچے ملہم ہونے کا ثبوت کیونکہ اس میں کچھ شک نہیں کہ اگر وہ لوگ مجھے خدائے تعالیٰ کی طرف سے سچا ملہم سمجھتے اور میرے الہامات کو میرا ہی افترا یا شیطانی وساوس خیال نہ کرتے تو اس قدر سبّ اور شتم اور ہنسی اور ٹھٹھا اور تکفیر اور بد تہذیب کے ساتھ پیش نہ آتے بلکہ اپنے بہت سے ظنون
    *حاشیہ ۔ منقولی بحث مباحثہ کی کتابیں جو میری طرف سے چھپی ہیں جن میں ثابت کیا گیا ہے جو درحقیقت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں اور دوبارہ آنا ان کا بطور بروز مراد ہے نہ بطور حقیقت وہ یہ ہیں۔ فتح اسلام۔ توضیح مرام ۔ ازالہ وہام۔ اتمام الحجۃ۔ تحفہ بغداد۔ حمامۃ البشریٰ۔ نور الحق دو۲ حصے۔ کرامات الصادقین۔ سر الخلافہ۔ آئینہ کمالات اسلام۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 49
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 49
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/49/mode/1up


    فاسدہؔ کا حسن ظن کے غلبہ سے آپ فیصلہ کرلیتے کیونکہ کسی کی سچائی اور منجانب اللہ ہونے کے یقین کے بعد وہ مشکلات ہرگز پیش نہیں آتیں کہ جو اس حالت میں پیش آتی ہیں کہ انسان کے دل پر اس کے کاذب ہونے کا خیال غالب ہوتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ نے میری سچائی کے سمجھنے کے لئے بہت سے قرائن واضح ان کو عطا کئے تھے۔ میرا دعو یٰ صدی کے سر پر تھا۔میرے دعوے کے وقت میں خسوف کسوف ماہ رمضان میں ہوا تھا۔ میرے دعویٰ الہام پر پورے بیس ۲۰ برس گزر گئے اور مفتری کو اس قدر مہلت نہیں دی جاتی۔ میری پیشگوئی کے مطابق خدا نے آتھم کو کچھ مہلت بھی دی اور پھر مار بھی دیا۔ مجھ کو خدا نے بہت سے معارف اور حقائق بخشے اور اس قدر میری کلام کو معرفت کے پاک اسرار سے بھر دیا کہ جب تک انسان خدا تعالیٰ کی طرف سے پورا تائید یافتہ نہ ہو اس کو یہ نعمت نہیں دی جاتی لیکن مخالف مولویوں نے ان باتوں میں سے کسی بات پر غور نہیں کی۔
    سو اب چونکہ تکذیب اور تکفیر ان کی انتہا تک پہنچ گئی اس لئے وقت آگیا کہ خدائے قادر اور علیم اور خبیر کے ہاتھ سے جھوٹے اور سچے میں فرق کیا جائے۔ ہمارے مخالف مولوی اس بات کو جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ایسے شخص سے کس قدر بیزاری ظاہر کی ہے جو خدا تعالیٰ پر افترا باندھے یہاں تک کہ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا ہے کہ اگر وہ بعض قول میرے پر افترا کرتا تو میں فی الفور پکڑ لیتا اور رگ جان کاٹ دیتا۔ غرض خدا تعالیٰ پر افترا کرنا اور یہ کہنا کہ فلاں فلاں الہام مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوا ہے حالانکہ کچھ بھی نہیں ہوا۔ ایک ایسا سخت گناہ ہے کہ اس کی سزا میں صرف جہنم کی ہی وعید نہیں بلکہ قرآن شریف کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا مفتری اسی دنیا میں دست بدست سزا پالیتا ہے اور خدائے قادر و غیور کبھی اس کو امن میں نہیں چھوڑتا اور اس کی غیرت اس کو کچل ڈالتی ہے اور جلد ہلاک کرتی ہے۔ اگر ان مولویوں کا دل تقویٰ کے رنگ سے کچھ بھی رنگین ہوتا اور خدا تعالیٰ کی عادتوں اور سنتوں سے ایک ذرہ بھی واقف ہوتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ ایک مفتری کا اس قدر دراز عرصہ تک افترا میں مشغول رہنا بلکہ روز بروز اس میں ترقی کرنا اور خدا تعالیٰ کا اس کے افترا پر اس کو نہ پکڑنا بلکہ لوگوں میں اس کو عزت دینا دلوں میں اس کی قبولیت ڈالنا اور اس کی زبان کو چشمہ حقائق و معارف بنانا یہ ایک ایسا امر ہے کہ جب سے خدائے تعالیٰ نے دنیا کی بنیاد ڈالی ہے اس کی نظیر ہرگز نہیں پائی جاتی۔ افسوس کہ کیوں یہ منافق مولوی خدا تعالیٰ کے احکام


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 50
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 50
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/50/mode/1up


    اورؔ مواعید کو عزت کی نظر سے نہیں دیکھتے۔ کیا ان کے پاس حدیث یا قرآن شریف سے کوئی نظیر موجود ہے کہ ایسے خبیث طبع مفتری کو خدا تعالیٰ نہ پکڑے جو اس پرافترا پر افترا باندھے اور جھوٹے الہام بناکر اپنے تئیں خدا کا نہایت ہی پیارا ظاہر کرے اور محض اپنے دل سے شیطانی باتیں تراش کر اس کو عمداً خدا کی وحی قرار دیوے اور کہے کہ خدا کا حکم ہے کہ لوگ میری پیروی کریں اور کہے کہ خدا مجھے اپنے الہام میں فرماتا ہے کہ تو اس زمانہ میں تمام مومنوں کا سردار ہے حالانکہ اس کو کبھی الہام نہ ہوا ہو اور نہ کبھی خدا نے اس کو مومنوں کا سردار ٹھہرایا ہو اور کہے کہ مجھے خدا مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ توہی مسیح موعود ہے جس کو میں کسر صلیب کے لئے بھیجتا ہوں۔ حالانکہ خدا نے کوئی ایسا حکم اس کو نہیں دیا اور نہ اس کا نام عیسیٰ رکھا اور کہے کہ خدا ئے تعالیٰ مجھے مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ مجھ سے تو ایسا ہے جیسا کہ میری توحید۔ تیرا مقام قرب مجھ سے وہ ہے جس سے لوگ بے خبر ہیں۔ حالانکہ خدا اس کو مفتری جانتا ہے۔ اس پر *** بھیجتا ہے اور مردودوں اور مخذولوں کے ساتھ اس کا حصہ قرار دیتا ہے۔ پھر کیا یہی خدائے تعالیٰ کی عادت ہے کہ ایسے کذّاب اور بیباک مفتری کو جلد نہ پکڑے۔ یہاں تک کہ اس افترا پر بیس ۲۰ برس سے زیادہ عرصہ گزر جائے۔
    کون اس کو قبول کرسکتا ہے کہ وہ پاک ذات جس کے غضب کی آگ وہ صاعقہ ہے کہ ہمیشہ جھوٹے ملہموں کو بہت جلد کھاتی رہی ہے اس لئے عرصہ تک اس جھوٹے کو چھوڑ دے جس کی نظیر دنیا کے صفحہ میں مل ہی نہیں سکتی۔ اللہجلّ شانہٗ فرماتا ہے۔3۱؂ اس سے زیادہ تر ظالم اور کون ہے جو خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھے۔ بیشک مفتری خدا تعالیٰ کی *** کے نیچے ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ پر افترا کرنے والا جلد مارا جاتا ہے۔
    سو ایک تقویٰ شعار آدمی کیلئے یہ کافی تھا کہ خدا نے مجھے مفتریوں کی طرح ہلاک نہیں کیا بلکہ میرے ظاہر اور باطن اور میرے جسم اور میری روح پر وہ احسان کئے جن کو میں شمار نہیں کرسکتا۔ میں جوان تھا جب خدا کی وحی اور الہام کا دعویٰ کیااور اب میں بوڑھا ہوگیااور ابتداء دعویٰ پر بیس ۲۰ برس سے بھی زیادہ عرصہ گزر گیا۔ بہت سے میرے دوست اور عزیز جو مجھ سے چھوٹے تھے فوت ہوگئے اور مجھے اس نے عمر دراز بخشی اور ہریک مشکل میں میرا متکفّل اور متو ّ لی رہا۔ پس کیا ان لوگوں کے یہی نشان ہوا کرتے ہیں کہ جو خدا تعالیٰ پر افترا باندھتے


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 51
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 51
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/51/mode/1up


    ہیںؔ ۔ اب بھی اگر مولوی صاحبان مجھے مفتری سمجھتے ہیں تو اس سے بڑھ کر ایک اور فیصلہ ہے۔ اور وہ یہ کہ میں ان الہامات کو ہاتھ میں لے کر جن کو میں شائع کرچکا ہوں مولوی صاحبان سے مباہلہ کروں۔
    اس طرح پر کہ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کروں کہ میں درحقیقت اس کے شرف مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور درحقیقت اس نے مجھے چہاردہم صدی کے سر پر بھیجا ہے کہ تا میں اس فتنہ کو فرو کروں کہ جو اسلام کے مخالف سب سے زیادہ فتنہ ہے اور اسی نے میرا نام عیسیٰ رکھا ہے۔ اور کسر صلیب کے لئے مجھے مامور کیا ہے لیکن نہ کسی جسمانی حربہ سے بلکہ آسمانی حربہ سے اور یہ سب اس کا کلام ہے اور وہ خاص الہامات اس کے جو اس وقت میں مخالف مولویوں کو سناؤں گا ان میں سے بطور نمونہ چند الہامات اس جگہ لکھتا ہوں ان میں سے بعض الہامات بیس ۲۰ برس کے عرصہ سے ہیں۔ جو مختلف ترتیبوں اور کمی بیشی کے ساتھ بار بار القاء ہوئے ہیں۔ اور وہ یہ ہیں:۔

    یا عِیْسَی الّذی لَا یُضاعُ وقتہٗ۔ اَنتَ مِنّی بمنزِلَۃٍ لَّا
    یَعلمہَا الخَلق ۔ اَنتَ مِنّی بمنزِلۃِ تَوحِیْدِی وَ تفرِیْدِیْ
    فَحَانَ اَنْ تُعَانَ وَ تُعرَفَ بَین النّاس ۔ ھُوَ الذِی اَرسَل رَسُولہ
    بِالہُدیٰ و دِیْنِ الحَقِّ لِیُظہِرَہٗ عَلی الدِّین کُلِّہٖ ۔ لَا تَبْدِیْلَ لِکَلِمَاتِ اللّٰہ۔
    قُل اِنِّی اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوّل الْمُؤْمِنِیْن۔ اَلرَّحمٰن عَلَّمَ القراٰن لِتُنْذِرَ
    قَومًا مَا اُنْذِرَ آبَاءُ ھُم ولِتَسْتَبِِِیْنَ سَبِیل المُجْرمین ۔ اِنّا کفَینَاکَ
    المُستھزءِینَ ۔ قُل عِندِی شھادۃٌ مِّنَ اللّٰہ فھَل انتم مُؤْمِنُون

    اے وہ عیسیٰ جس کا وقت ضائع نہیں کیا جائے گا۔ تو میری جناب میں وہ مرتبہ رکھتا ہے جس کا
    لوگوں کو علم نہیں تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید ا ور تفرید
    سو وقت آگیا کہ تو لوگوں میں شناخت کیا جائے اور مدد دیا جائے۔ وہ خدا جس نے اپنے رسول کو ہدایت اوردین حق کے ساتھ بھیجا تا اس دین کو سب دینوں پر غالب کرے۔ خدا کی پیشگوئیوں کو کوئی بدل
    نہیں سکتا کہہ میں مامور ہوں اور میں سب سے پہلا مومن ہوں۔ وہ رحمن ہے جس نے قرآن سکھلایا تاکہ تو ان
    لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے گئے اور تاکہ مجرموں کی راہ کھل جائے۔ ہم تیرے لئے
    ٹھٹھا کرنے والوں کے لئے کافی ہیں۔ کہہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے پس کیا تم ایمان لاتے ہو


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 52
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 52
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/52/mode/1up


    قُلْ عِنْدی شَھادۃ مِّن اللّٰہ فھَل انتم مُسْلِمُوْن ۔ اِنَّ مَعِیَ رَبّی
    سَیَھْدِیْن ۔ قُلْ اِنْ کُنتُم تحِبُّونَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنی یُحبِبکُمُ اللّٰہ ۔ ھَلْ
    اُنَبِّءُکُمْ عَلٰی مَنْ تنزّل الشیَاطِین تنزل عَلٰی کلّ اَفَّاکٍ اثیم۔ یُریدُونَ
    اَنْ یُّطفِءُوا نورَ اللّٰہِ باَفْواھِھِمْ وَاللّٰہ مُتِم نُورِہٖ ولو کرِہَ الکافِرُوْنَ
    سَنلقی فی قلوبھمُ الرُّعبَ۔ اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالفتح وَانتھی اَمر الزَمَانِ
    اِلینَا الیسَ ھٰذا بِالحَق۔ اِنّی مَعَک۔ کُن مَعِی اَینما کُنتَ۔ کُن مَعَ
    اللّٰہ حَیْث ماکنتَ۔ کنتم خَیرَ امّۃٍ اُخرِجَتْ لِلنّاس۔ اِنّکَ بِاَعْیُنِنَا
    یرفعُ اللّٰہ ذِکرک۔ وَیتمّ نعمتہ عَلَیْکَ فِی الدّنیا وَالْآخِرۃِ۔ یَا اَحْمد یتم
    اِسْمُک ولایتم اِسْمِیْ۔ اِنّی رافعُکِ اِلیّ۔ اَلقیتُ عَلَیْکَ محبَّۃ مِنِّیْ
    شَانُکَ عَجیْبٌ وَاَجْرُکَ قَریبٌ۔ اَلاَرض والسَّمَاءُ مَعَکَ کَمَا ھُو معی *
    اَنْتَ وَجیْہٌ فِی حَضْرَتی۔ اِخترتُکَ لنفسِیْ۔ اَنْتَ وَجیْہٌ فِی الدّنیا

    کہہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے پس کیا تم قبول کرتے ہو۔ میرے ساتھ میرا خدا ہے وہ عنقریب
    مجھے کامیابی کی راہ دکھائے گا۔ ان کو کہہ کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میرے پیچھے ہو لو تا خدا بھی تم سے محبت کرے
    کیا میں بتلاؤں کہ کن پر شیطان اترا کرتے ہیں۔ ہر ایک جھوٹے مفتری پر اترتے ہیں۔ ارادہ کرتے ہیں
    کہ خدا کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں اور خدا اپنے نور کو کامل کرے گا اگرچہ کافر کراہت ہی کریں
    عنقریب ہم ان کے دلوں پر رعب ڈال دیں گے۔ جب خدا کی مدد اور فتح آئے گی اور زمانہ کا امر ہماری طرف رجوع کرے گا کہا جائے گا کہ کیا یہ سچ نہ تھا۔ میں تیرے ساتھ ہوں۔ میرے ساتھ ہو جہاں تو ہووے۔ خدا کے ساتھ ہو جہاں تو ہووے۔ تم بہتر امت ہو جو لوگوں کے نفع کیلئے نکالے گئے۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ خدا تیرے ذکر کو بلند کرے گا اور دنیا اور آخرت میں اپنی نعمت تیرے پر پوری کرے گا۔ اے احمد تیرا نام پورا ہو جائے گا قبل اس کے جو میرا نام پورا ہو میں تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ میں نے اپنی محبت کو تجھ پر ڈال دیا۔
    تیری شان عجیب ہے۔ تیرا اجر قریب ہے۔ زمین و آسمان تیرے ساتھ ہے جیسا کہ وہ میرے ساتھ ہے
    تو میری جناب میں وجیہ ہے۔ میں نے تجھے اپنے لئے چن لیا۔ تو دنیا اور میری جناب میں وجیہ ہے

    حاشیہ ۔ ھُوَکا ضمیرواحد باعتبار واحدفی الذہن یعنی مخلوق ہے اور ایسا محاورہ قرآن شریف میں بہت ہے۔ منہ


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 53
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 53
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/53/mode/1up


    وَحَضرَتیْ سُبْحَانَ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی۔ زَادَ مَجْدَکَ۔ ینقطع آباء ک
    وَیُبْدَءُ مِنُکَ۔ نُصرتَ بِالرعب وَاُحیِیْتَ بالصِّدق ایّھَا الصِّدیق
    نصرتَ۔ وقالوا لَات حِیْنَ مناص۔ آثرکَ اللّٰہُ عَلینا وَلَوْ کُنّا
    کارِھیْن۔ رَبّنا اغفِرلنا انّا کنّا خاطِئین۔ لَا تثریبَ علیکمُ الیَومَ
    یغفِر اللّٰہ لکم وَھُوَ اَرحم الرّاحمین۔ وَمَا کَانَ اللّٰہ لیترکک حَتّی یمیز
    الخبیث مِن الطّیب۔ وَاللّٰہُ غالِبٌ علٰی اَمرہٖ ولٰکنّ اکثر النّاسِ
    لَا یعلمُونَ۔ اِذا جَاءَ نَصر اللّٰہِ وَالفَتح وتمّت کلِمۃ ربِّکَ ھٰذا الّذِی
    کُنتم بہٖ تستَعجِلُوْن۔ اَرَدْتُ اَنْ استخلفَ فخلقتُ اٰدَمَ۔ سَوّیتُہٗ
    وَنفختُ فیہ من رُوحیْ۔ یقیم الشّریعۃ ویُحْیِی الدّین۔ وَلَو کانَ
    الْاِیمانُ مُعلّقًا بالثریّا لنالَہ۔ سُبْحان الّذیْ اَسْریٰ بعبدہٖ لَیلًا
    خلق اٰدَمَ فاکرمَہٗ جری اللّٰہ فی حُلل الاَنبیَاء۔ اِنَّ الّذین کفرُوا
    وَصَدُّوا عن سبیل اللّٰہ رَدَّ علیھم رجلٌ مِن فارِسَ۔ شکرَ اللّٰہ سَعْیَہٗ

    پاک ہے وہ خدا جو بہت برکتوں والا اور بہت بلند ہے۔ تیری بزرگی کو اس نے زیادہ کیا۔ اب سے تیرے باپ دادے
    کا ذکر منقطع ہو جائے گا اور خدا تجھ سے شروع کرے گا۔ تو رعب کے ساتھ مدد دیا گیا اور صدق کے ساتھ زندہ کیا گیا اے صدیق
    تو مدد دیا گیا۔ اور مخالف کہیں گے کہ اب گریز کی جگہ نہیں۔ خدا نے تجھے ہم پر اختیار کر لیا اگرچہ ہم کراہت کرتے
    تھے۔ اے ہمارے خدا ہمیں بخش کہ ہم خطا پر تھے۔ آج تم پر اے رجوع کرنے والو کچھ سرزنش نہیں
    خدا تمہیں بخش دے گا اور وہ ارحم الراحمین ہے اور خدا ایسا نہیں کہ تجھ یونہی چھوڑ دے جب تک
    پاک اور پلید میں فرق کرکے نہ دکھلاوے اور خدا اپنے امر پر غالب ہے مگر اکثر آدمی نہیں جانتے
    جب خدا کی مدد اور فتح آئی اور اس کا کلمہ پورا ہوا کہا جائے گا کہ یہ وہی ہے جس میں
    تم جلدی کرتے تھے۔ میں نے ارادہ کیا کہ اپنا خلیفہ بناؤں تو میں نے آدم کو پیدا کیا میں نے اس کو
    برابر کیا اور اپنی روح اس میں پھونکی شریعت کو قائم کرے گا اور دین کو زندہ کرے گا اور اگر ایمان
    ثریا سے معلق ہوتا تب بھی اسے پالیتا۔ پاک ہے وہ جس نے اپنے بندہ کو رات میں سیر کرایا
    آدم کو پیدا کیا اور اس کو عزت دی خدا کافرستادہ نبیوں کے حلّہ میں۔ وہ لوگ جو کافرہوگئے اور خدا کی
    راہ سے روکنے لگے۔ ایک فارسی الاصل آدمی نے ان کے خیالات کو رد کیا۔ خدا اس کی کوشش کا شکر گزار ہے


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 54
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 54
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/54/mode/1up


    کتابُ الوَلیّ ذوالفقار علیّ۔ یکَاد زَیتہٗ یُضِی ئُ ولَولَم تَمْسَسْہ نار
    خُذواالتّوحِیْدَ التَّوحِیْدَ یَا اَبناء الفَارِس۔ انا انزلنٰہُ قَرِیْبًا
    مِن القادیان وَبالحقِّ انزلنٰہ وَبالحقِّ نزل وَکَانَ اَمْرُ اللّٰہِ مفعُولًا۔
    اَم یقولون نحن جمیع مُّنتصِر۔ سَیُھزمُ الجَمع ویولّون الدُّبُر۔
    یاعَبْدی لا تخف انّی اسمع وَاَریٰ۔ الم ترانّانأتی الْاَرضَ ننقصُہَا
    مِن اطرافھَا۔ اَلَمْ تَرَاَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کلِّ شیْءٍ قدیر۔ صلّ
    علٰی محمّدٍ واٰلِ محمّدٍ سیّدِ ولد اٰدَمَ وَخَاتم النّبیینَ۔ انک علٰی صراطٍ مستقیم۔ فاصدع بما تؤمَر وَاَعرِضْ عن الجاھلِینَ۔ وَقَالوا لوْلَا
    نُزِّل علٰی رجلٍ من قریتین عَظِیم۔ وَقالوا انّٰی لک ھٰذا ان ھٰذا
    لمکرٌمکر تموہُ فی المدینۃ۔ وَأَعَانَہٗ عَلیہِ قومٌ اٰخرونَ۔ ینظرُون
    الیکَ وھم لا یُبصرون۔ اِعلمُوا انّ اللّٰہ یحی الارضَ بَعدَ مَوتِہَا
    ومن کان لِلّٰہ کان اللّٰہُ لَہُ۔ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الّذینَ اتّقوا وَالّذینَ

    اس ولی کی کتاب ایسی ہے جیسے علی کی ذوالفقار۔ اس کا تیل یونہی چمکنے کو ہے۔ اگرچہ آگ چھو بھی نہ جائے۔
    توحید کو پکڑو توحید پکڑو اے فارس کے بیٹو۔ ہم نے اس کو قادیان کے قریب
    اتارا ہے اور حق کے ساتھ اتارا ہے اور ضرورتِ حقہ کیساتھ اترا ہے اور جو خدا نے ٹھہرا رکھا تھا
    وہ ہونا ہی تھا۔ کیا یہ کہتے ہیں کہ ہم ایک جماعت انتقام لینے والی ہیں۔ سب بھاگ جائیں گے اور پیٹھ دکھلائینگے
    اے میرے بندے مت خوف کر میں دیکھتا ہوں اور سنتا ہوں۔ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو کم کرتے
    چلے آتے ہیں اس کی طرفوں سے۔ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ محمدؐ پر اور اس کی
    آل پر درود بھیج وہ بنی آدم کا سردار اور خاتم الانبیاء ہے۔تو صراط مستقیم پر ہے
    پس جو کچھ حکم ہوتا ہے کھول کر بیان کر اور جاہلوں سے کنارہ کر۔ اور کہتے ہیں کہ دو
    شہروں میں سے ایک بڑے آدمی کو خدا نے کیوں مامور نہ کیا۔ اور کہتے ہیں کہ تجھے کہاں یہ رتبہ یہ تو
    مکر ہے کہ مل جل کر بنایا گیا ہے اور کئی لوگوں نے اس مکر میں اس شخص کی مدد کی ہے۔ تجھے دیکھتے ہیں
    اور تو انہیں نظر نہیں آتا اے لوگو جان لو کہ زمین مر گئی تھی اور خدا پھر اسے نئے سرے زندہ
    کررہا ہے اور جو خدا کا ہو خدا اس کا ہو جاتا ہے۔ خدا ان کے ساتھ ہے جو پرہیز گاری اختیار کرتے ہیں


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 55
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 55
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/55/mode/1up


    ھم محسِنُون قالوا ان ھٰذا اِلَّااختِلاق۔ قل ان افتریتُہٗ فعلیّ اجرامٌ شدید۔اِنّک الیوم
    لدَینامکینٌ اَمیْنٌ۔ وَاِن علیکَ رَحمتِی فی الدّنیا والدّین۔ وَاِنّکَ
    مِن المنصورِین۔یحمدک اللّٰہ مِن عَرْشِہٖ۔ یحمدکَ اللّٰہ وَیمشی
    الَیک۔ الَا اِنّ نصرَ اللّٰہِ قریب۔ کَمِثلکَ دُرٌّ لَا یُضاع۔ بشریٰ لکَ
    یااَحْمدی۔ انتَ مُرادِی ومعی۔ اِنِّی ناصرک۔ اِنّی حافظکَ
    انّی جاعلک لِلنّاسِ امَامًا۔ اکان لِلنَّاسِ عَجَبًا۔ قل ھواللّٰہ
    عجیبٌ یجتبی من یّشاء مِن عبادہٖ۔ لَا یُسئل عمّا یَفعل وَھُمْ
    یُسئلوْن۔ وتلک الایّام نُدَاوِالھَا بین النّاس۔ وقالوا ان ھٰذا
    اِلَّا اختِلاق۔ اِذا نصَر اللّٰہ المُؤمِن جعل لہ الحاسدِین فی الارض
    قل اللّٰہ ثم ذَرھم فی خوضِہم یَلعَبون۔ لا تحاط اَسرار الاءَولیاء
    تلطّف بالنّاس وترحم علیھم۔ اَنْتَ فیھِم بمنزلۃِ مُوسٰی۔ وَاصْبِر
    علٰی ما یقولون۔ وذرنی والمکذّبین اولی النّعمۃ۔ اَنْتَ مِنْ مَائنا

    اور ان کے ساتھ ہے جو نیکوکار ہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ تمام افتراء ہے کہہ اگر میں نے افترا کیا ہے تو یہ سخت گناہ میری گردن پر ہے
    آج تو ہمارے نزدیک بارتبہ اور امین ہے۔ اور تیرے پر دین اور دنیا میں میری رحمت ہے۔ اور تو
    مدد دیا گیا ہے۔ خدا عرش پر سے تیری تعریف کرتا ہے۔ خدا تیری تعریف کرتا ہے۔ اور تیری
    طرف چلا آتا ہے۔ خبر دار خدا کی مدد قریب ہے۔ تیرے جیسا موتی ضائع نہیں کیا جاتا۔ تجھے
    خوشخبری ہو اے میرے احمد۔ تو میری مراد ہے اور میرے ساتھ ہے۔ میں تیرا مددگار ہوں۔ میں تیرا حافظ ہوں
    میں تجھے لوگوں کا امام بناؤں گا کیا لوگوں کو تعجب ہوا۔ کہہ وہ خدا عجیب ہے
    جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے چن لیتا ہے۔ وہ اپنے کاموں میں پوچھا نہیں جاتا
    اور دوسرے پوچھے جاتے ہیں۔ اور یہ دن ہم لوگوں میں پھیرتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو
    ضرور افترا ہے۔ خدا جب مومن کو مدد دیتا ہے تو زمین پر اس کے کئی حاسد بنا دیتا ہے
    کہہ خدا ہے جس نے یہ الہام کیا پھر ان کو چھوڑ دے تا اپنی کج فکریوں میں بازی کریں۔ اولیاء کے اسرار پر
    کوئی احاطہ نہیں کرسکتا۔ لوگوں سے لطف کے ساتھ پیش آ اور ان پر رحم کر۔ تو ان میں بمنزلہ موسیٰ کے ہے اور ان کی
    باتوں پر صبر کر اور منعم مکذبوں کی سزا مجھ پر چھوڑ دے۔ تو ہمارے پانی میں سے ہے


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 56
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 56
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/56/mode/1up



    وَھُم مِن فشل۔* وَ اِذا قیل لَھم اٰمِنوا کما اٰمن النّاسُ قالوا انؤمِن
    کَمَا آمَنَ السّفھاءُ الَا اِنّھم ھُم السّفھَاءُ ولٰکِن لَّا یعلمون۔ قل
    اِن کنتم تحِبّون اللّٰہ فَاتبِعُونی یُحبِبْکمُ اللّٰہ۔ قِیل ارجِعُوا اِلی اللّٰہ
    فلا ترجعون۔ وَقیل استحوذوا فلا تستحوذون۔ الحَمدُ للّٰہ الّذی
    جَعَلکَ المسِیح ابنَ مَریَمَ۔ الفتنۃ ھٰہُنا فاصبر کما صَبَرَ اُولو العزم
    تبت یدا ابی لَھَبٍ وَّتبّ۔ ماکان لہٗ اَنْ یدخل فیھا اِلّا خائفًا۔ وَ
    مَا اَصَابک فَمِنَ اللّٰہ۔ أَ َ لا اِنّھا فتنۃ من اللّٰہ لیحبّ حُبّا جمّا۔
    حُبّا مِن اللّٰہ العَزیز الاکرم۔ عَطَاءً غیر مجذوذ۔ وقت الابتلاء

    اور وہ لوگ فشل سے۔ اور جب ان کو کہا جائے کہ ایمان لاؤ جیسا کہ اچھے آدمی ایمان لائے۔ تو جواب میں
    کہتے ہیں کہ کیا اس طرح ایمان لائیں جیسا کہ سفیہ اور بیوقوف ایمان لائے۔ خوب یاد رکھو کہ درحقیقت بیوقوف
    اور سفیہ یہی لوگ ہیں مگر انہیں معلوم نہیں کہ ہم کیسی غلطی پر ہیں۔ ان کوکہہ دے کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو
    تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت رکھے۔ کہا گیا کہ تم رجوع کرو سو تم نے رجوع نہ کیا اور کہا گیا کہ تم اپنے
    وساوس پر غالب آجاؤ سو تم غالب نہ آئے۔ سب تعریف خدا کو ہے جس نے تجھے مسیح ابن مریم بنایا۔ اس جگہ فتنہ ہے۔ سو
    اولو العزم لوگوں کی طرح صبر کر۔ ابی لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہوگئے اور وہ آپ بھی ہلاک ہوگیا۔ اس کو نہیں چاہئے تھا کہ وہ اس
    فتنہ میں دخل دیتا یعنی اس کا بانی ہوتا مگر ڈرتے ہوئے۔ اور تجھے کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی مگر اسی قدر جو خدا نے مقرر کی۔ یہ فتنہ
    خدا کی طرف سے ہے تا وہ تجھ سے بہت ہی پیار کرے یہ خدا کا پیار کرنا ہے جو غالب اور بزرگ ہے اور یہ پیار وہ عطا ہے جو کبھی

    یہ جو فرمایا کہ تو ہمارے پانی میں سے ہے اور وہ لوگ فشل سے۔ اس جگہ پانی سے مراد ایمان کا پانی، استقامت کا پانی، تقویٰ کا پانی، وفا کا پانی، صدق کا پانی، حُبّ اللّٰہ کا پانی ہے۔ جو خدا سے ملتا ہے اور فشل بزدلی کو کہتے ہیں جو شیطان سے آتی ہے۔ اور ہریک بے ایمانی اور بدکاری کی جڑ بزدلی اور نامردی ہے۔ جب قوتِ استقامت باقی نہیں رہتی تو انسان گناہ کی طرف جھک جاتا ہے۔ غرض فشل شیطان کی طرف سے ہے اور عقائد صالحہ اور اعمال طیبہ کا پانی خدا تعالیٰ کی طرف سے۔ جب بچہ پیٹ میں پڑتا ہے تو اس وقت اگر بچہ سعید ہے اور نیک ہونے والا ہے تو اس نطفہ پر روح القدس کا سایہ ہوتا ہے اور اگر بچہ شقی ہے اور بد ہونے والا ہے تو اس نطفہ پر شیطان کا سایہ ہوتا ہے اور شیطان اس میں شراکت رکھتا ہے اور بطور استعارہ وہ شیطان کی ذُرّیت کہلاتی ہے اور جو خدا


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 57
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 57
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/57/mode/1up



    ووقت الاصطفاء۔ ولا یرد وقت العذاب عن القوم المجرمین۔
    وَلا تھنوا ولا تحزنوا وَانتم الاعلونَ ان کنتُم مؤمنین۔ وَعَسیٰ اَنْ
    تحبّوا شیءًا وھو شرٌّلکم وعسیٰ اَنْ تکرھوا شیءًا وھوَ خیرٌ لّکُم واللّٰہ
    یَعلم وَانتم لا تعلمون۔ کنتُ کنزًا مخفیًّا فاَحْببتُ اَن اُعرف۔ انّ
    السّمٰوات والارض کانتا رتقًا ففتقنٰھُمَا۔ واِن یتّخِذونکَ
    اِلّا ھزوًا۔ اَھٰذا الّذی بعث اللّٰہ۔ قل انما اَنا بشرٌ مِثلکُم
    یوحیٰ الّی انَّما اِلٰھُکُمْ الٰہ واحد والخیر کلہ فِی القراٰن۔ ولقد
    لبثت فیکم عمرًا مِّن قبلہ أفلا تعقلون۔ وقالوا ان ھٰذا الّا افتراء

    منقطع نہیں ہوگی۔ ابتلاء کا وقت ہے اور اصطفاء کا وقت ہے اور عذاب کا وقت مجرموں کے سر پر سے کبھی نہیں ٹل
    سکتا۔ اور اے اس مامور کی جماعت سست مت ہو جانا اور غم میں نہ پڑ جانا اور با لآخر غلبہ تمہیں کو ہے اگر تم ایمان پر
    ثابت رہو گے۔ یہ ممکن ہے کہ ایک چیز کو تم چاہو اور وہ دراصل تمہارے لئے اچھی نہ ہو اور ایک چیز سے نفرت کرو
    اور وہ دراصل تمہارے لئے اچھی ہو اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ میں ایک خزانہ پوشیدہ تھا سو میں نے چاہا کہ
    شناخت کیا جاؤں۔ زمین و آسمان بندھے ہوئے تھے سو ہم نے دونوں کو کھول دیا۔ اور تجھے انہوں نے ایک ہنسی کی
    جگہ بنا رکھا ہے۔ کیا یہی ہے جو خدا کی طرف سے بھیجا گیا۔ کہہ میں ایک آدمی ہوں تم جیسا مجھے خدا سے
    الہام ہوتا ہے کہ تمہارا خدا ایک خدا ہے اور تمام بھلائی قرآن میں ہے۔ اور میں اس سے
    ایک مدت سے تم میں ہی رہتا تھا کیا تمہیں میرے حالات معلوم نہیں۔ اور انہوں نے کہا کہ یہ باتیں افتراء ہیں

    کے ہیں وہ خدا کے کہلاتے ہیں جن کو پہلی کتابوں میں بطور استعارہ ابناء اللّہ کہا گیا ہے۔ چنانچہ یہ لفظ آدم اور یعقوب وغیرہ بہت سے نبیوں پر استعمال ہوا ہے اور انجیل میں مسیح ابن مریم پر بھی استعمال پایا ہے اور کسی کی اس میں کچھ خصوصیت نہیں صرف بلحاظ مذکورہ بالا استعمال پاتا رہا ہے چنانچہ مسیح ابن مریم کی نسبت احادیث سے جو معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کے مس سے وہ اور اس کی ماں پاک ہے تو یہ لفظ اسی اظہار کی غرض سے ہے کہ عیسیٰ بن مریم کی ناجائز پیدائش نہیں جیسا کہ یہودیوں کا خیال ہے تانطفہ پر شیطان کا سایہ مانا جائے۔ بلکہ بلاشبہ برخلاف زعم یہودیوں کے وہ حلال زادہ تھا اور مریم بدکار عورت نہیں تھی۔ اس مسئلہ میں اصول یہ ہے کہ شیطان کا سایہ جس کو مسّ اور اشتراک بھی کہتے ہیں جس کے لحاظ سے کہا جاتا ہے کہ یہ شخص ذرّیتِ شیطان ہے یا بائبل کے محاورہ کے رو سے نحّاش کا بچہ ہے یعنی سانپ کا


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 58
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 58
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/58/mode/1up


    قل انّ ھُدی اللّٰہ ھُو الھدیٰ۔ الَا اِنّ حزبَ اللّٰہِ ھُمُ الغالِبُون۔
    انا فتحنالک فتحًا مّبینا لیغفرلک اللّٰہ ما تقدّم مِن ذنبک وَمَا
    تَاخّرَ۔ الیسَ اللّٰہ بِکافٍ عبدہٗ۔ فبرّأَہ اللّٰہ مِمَّا قَالوا وَکانَ عند
    اللّٰہ وَجیھًا۔ وَاللّٰہ موھن کید الکاذبین۔ وَلنجعَلہ آیۃً
    لِّلنّاس ورحمۃ مِّنّا وکان اَمرًا مقضیّا۔ قول الحق الّذی فیہ
    تمترون۔ یَا اَحْمَدُ فاضت الرحمۃ علٰی شفتیک۔ انّا اَعْطینٰک
    الکوثر۔ فصل لربّک وانحر۔ انّ شانئک ھو الابتر۔* یا تی قمر الانبیاء
    وَاَمْرُکَ یَتَأتّی یوم یجئ الحقّ ویکشف الصِّدق۔

    کہہ حقیقی ہدایت جس میں غلطی نہ ہو خدا کی ہدایت ہے اور خبردارر ہو کہ خدا کا گروہ ہی آخر کار غالب ہوتا ہے
    ہم نے تجھے کھلی کھلی فتح دی ہے تا تیرے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کئے جائیں
    کیا خدا اپنے بندہ کیلئے کافی نہیں ہے۔ سو خدا نے ان کے الزاموں سے اس کو بری کیااور وہ خدا
    کے نزدیک وجیہ ہے اور خدا کافروں کے مکر کو سست کردے گا اور ہم اس کو لوگوں کے لئے نشان
    بنائیں گے اور رحمت کا نمونہ ہوگا اور یہی مقدر تھا یہ وہ سچا قول ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں
    اے احمد رحمت تیرے لبوں پر جاری ہورہی ہے ہم نے تجھے بہت سے حقائق اور معارف اور برکات بخشے
    ہیں اور ذرّیت نیک عطا کی ہے سو خدا کیلئے نماز پڑھ اور قربانی کر۔ تیرا بدگو بے خیر ہییعنی خدا اسے بے نشان کردے
    گا اور وہ نامراد مرے گا۔ نبیوں کا چاند آئے گا اور تیرا کام تجھے حاصل ہوجائے گا۔ اس دن حق آئے گا اور سچ

    یہ الہام کہ ان شانئک ھوالابتر۔ اس وقت اس عاجز پر خدا تعالیٰ کی طرف سے القا ہوا کہ جب ایک شخص نومسلم سعد اللہ نام نے ایک نظم گالیوں سے بھری ہوئی اس عاجز کی طرف بھیجی تھی اور اس میں اس عاجز کی نسبت اس ہندو زادہ نے وہ الفاظ استعمال کئے تھے کہ جب تک ایک شخص درحقیقت شقی خبیث طینت فاسد القلب نہ ہو۔ ایسے الفاظ استعمال نہیں کرسکتا۔

    جو شیطان ہے صرف اس صورت میں کسی نطفہ پر پڑتا ہے جبکہ نطفہ ڈالنے والا یا وہ جس کے رحم میں نطفہ ٹھہرا۔ نہایت بری حالت میں ہوں اور گناہ اور سخت دلی کی تاریکی ان پر ایسی محیط ہو کہ کوئی گوشہ خالی نہ ہو اور فطرتی نور بالکل محجوب ہو اور ایسی صورت میں بچے نہایت خبیث پیدا ہوتے ہیں کیونکہ شیطان کے سایہ کے نیچے ان کا خاکہ بنتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اکثر چوروں اورڈاکوؤں کے بچے چور اور ڈاکو ہی نکلتے ہیں اور راستبازوں کے راستباز۔ فتامّل۔ منہ


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 59
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 59
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/59/mode/1up


    وَیخسِر الخاسِرُونَ۔ اَقِمِ الصّلٰوۃ لذکری۔ اَنتَ مَعِی و اَنَا
    مَعَکَ۔ سِرّکَ سِرّی۔ وضعنا عنکَ وزرکَ الّذی انقض
    ظَھرکَ۔ وَرَفَعْنَالکَ ذِکرکَ۔ یخوّفونکَ من دونہٖ۔
    ائمّۃ الکفر۔ لَا تخف اِنّک اَنت الْاَعلٰی۔ غرستُ لکَ بیدی
    رحمتی وَقُدرتی۔ لن یجعل اللّٰہ لِلکافرین علی المؤمِنینَ سبیلا
    ینصرکَ اللّٰہ فی مواطن۔ کتب اللّٰہ لاغلبنّ انا ورسُلی۔ لا مبدّل
    لِکلماتہ۔ اَللّٰہ الّذی جَعَلکَ المسِیْحَ ابْنَ مَریَم۔ قل ھٰذا فضل ربّی و
    اِنّی اُجرّد نفسِی من ضروب الخطاب یاعیسٰی اِنّی متوفّیکَ ورافِعُکَ
    اِلَیَّ وجاعِل الّذین اتبعوک فوق الّذین کفروا اِلٰی یومِ القیامَۃ۔

    کھولا جائے گا اور جو خسران میں ہیں ان کا خسران ظاہر ہو جائے گا۔ میری یاد میں نماز کو قائم کر۔ تو میرے ساتھ اور میں تیرے
    ساتھ ہوں۔ تیرا بھید میرا بھید ہے۔ ہم نے تیرا وہ بوجھ اتار دیا جس نے تیری کمر توڑ دی
    اور تیرے ذکر کو ہم نے بلند کیا تجھے خدا کے سوا اوروں سے ڈراتے ہیں۔
    یہ کفر کے پیشوا ہیں مت ڈر غلبہ تجھی کو ہے میں نے اپنی رحمت اور قدرت کے
    درخت تیرے لئے اپنے ہاتھ سے لگائے۔ خدا ہرگز ایسا نہیں کرے گا کہ کافروں کا مومنوں پر کچھ الزام ہو
    خدا تجھے کئی میدانوں میں فتح دے گا۔ خدا کا یہ قدیم نوشتہ ہے کہ میں اور میرے رسول غالب رہیں گے۔ اس کے کلموں کو
    کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ خدا جس نے تجھے مسیح ابن مریم بنایا۔ کہہ یہ خدا کا فضل ہے ۔ اور
    میں تو کسی خطاب کو نہیں چاہتا۔ اے عیسیٰ میں تجھے وفات دوں گا اور
    اپنی طرف اٹھاؤں گا اور تیرے تابعداروں کو تیرے مخالفوں پر قیامت تک غلبہ بخشوں گا۔

    اگرچہ ایسے لفظوں اور ایسی گالیوں میں جو دجّال، شیطان، کذّاب، کافر، اکفر،مکار کے نام سے ہیں اور دوسرے مولوی بھی اس کے ساتھ شریک ہیں بلکہ باطل پرست بطالوی جو محمد حسین کہلاتا ہے شریک غالب اور اعدی الاعداء ہے لیکن اس ہندو زادہ کی خباثت فطرتی اسلئے سب سے بڑھ کر ہے کہ باوجود محض جاہل ہونے کے یہ شعر بھی اردو میں کہتا ہے اور شعروں میں گالیاں نکالتا ہے اور نہایت بدگوئی سے افتراء بھی کرتا ہے اور بہتان کے طور پر ایسی دشنام دہی کرتا ہے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب کے شاعر بے ایمان گالیاں نکالا کرتے تھے۔ سو یہ الہام اس کے اشتہار اور رسالہ کے پڑھنے کے وقت ہوا کہ ان شانئک ھو الابتر۔ سو اگر اس ہندو زادہ بدفطرت کی نسبت ایسا وقوع میں نہ آیا اور وہ نامراد اور ذلیل اور رسوا نہ مرا تو سمجھو کہ یہ خدا کی طرف سے نہیں۔ منہ


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 60
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 60
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/60/mode/1up


    نظر اللّٰہ اِلیک معطرًا۔ وَقالُوا أَتجعَلُ فیھا مَن یُّفسِد فیھا قال
    اِنّی اعلمُ مَالَا تعلمُون۔ وقالُوا کتابٌ ممتلیءٌ مِن الکُفر وَ
    الکذب۔ قل تعالَوا نَدْعُ ابناءَ نا وَابناء کُم وَنساءَ نا وَنساءَ کُم وَ
    انفُسَنَا وَانفسَکُم ثمّ نبتھل فنجعل لعنَۃ اللّٰہِ علَی الکَاذبِینَ۔
    سَلامٌ علٰی ابراہِیم صَافینَاہ وَنَجّینَاہ مِن الغمِّ۔ تفردْنا بذالکَ
    یاداؤدُ عَامِل بالنّاسِ رفقًا واحسانًا۔ تموت وانَا راضٍ مِّنکَ
    واللّٰہ یَعصِمکَ مِن النّاس۔ کذّبوا باٰیاتی وکانُوا بھَا یستھزءُ ون۔
    فسیَکْفیکہمُ اللّٰہ ویردّھا الیک* اَمْرٌ مِنْ لّدنا اِنّا کُنَّا فاعِلین۔
    زوّجناکہَا۔الحقّ مِن ربّک فلَا تکونَنّ مِن الممْترینَ۔ لَا تبدیلَ

    خدا نے تیرے پر خوشبو دار نظر کی اور لوگوں نے دلوں میں کہا کہ اے خدا کیا تو ایسے مفسد کو اپنا خلیفہ بنائے گا
    خدا نے کہا کہ جو کچھ میں جانتا ہوں تمہیں معلوم نہیں۔ اور لوگوں نے کہا کہ یہ کتاب کفر اور کذب سے بھری
    ہوئی ہے ان کو کہہ دے کہ آؤ ہم اور تم اپنے بیٹوں اور عورتوں اور عزیزوں سمیت ایک
    جگہ اکٹھے ہوں پھر مباہلہ کریں اور جھوٹوں پر *** بھیجیں
    ابراہیم یعنی اس عاجز پر سلام ہم نے اس سے دلی دوستی کی اور غم سے نجات دی ۔ یہ ہمارا ہی کام تھا جو ہم نے کیا۔
    اے داؤد لوگوں سے نرمی اور احسان کے ساتھ معاملہ کر ۔ تو اس حالت میں مرے گا کہ میں تجھ سے راضی ہوں گا۔
    اور خدا تجھ کو لوگوں کے شر سے بچائے گا۔ انہوں نے میرے نشانوں کی تکذیب کی اور ٹھٹھا کیا
    سو خدا ان کیلئے تجھے کفایت کرے گا۔ اور اس عورت کو تیری طرف واپس لائے گا۔ یہ امر ہماری طرف سے ہے اور ہم ہی کرنیوالے ہیں
    بعد واپسی کے ہم نے نکاح کردیا۔ تیرے رب کی طرف سے سچ ہے پس تو شک کرنے والوں سے مت ہو۔ خدا کے

    حاشیہ۔ شیخ محمد حسین بطالوی کا یہ اعتراض ہے کہ الہام کا یہ فقرہ کہ یردھا الیک خلاف محاورہ ہے۔ کیونکہ ردّ کا لفظ اس صورت میں آتا ہے کہ ایک چیز اپنے پاس ہو پھر چلی جائے اور پھر واپس آوے۔ لیکن افسوس کہ اس کو بباعث کمی واقفیت علم زبان کے معلوم نہیں کہ یہ لفظ ادنیٰ تعلق کے ساتھ بھی استعمال ہوجاتا ہے۔ اس کی کلام عرب میں ہزاروں مثالیں ہیں جن کے لکھنے کا اس مقام میں موقعہ نہیں چونکہ اس جگہ قرابت قریبہ تھی اور نزدیک کے رشتہ کے تعلقات نے اپنے پاس کے حکم میں اس کو کیا ہوا تھا۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے ایسا لفظ استعمال کیا جو ان چیزوں کے لئے مستعمل ہوتا ہے جو اپنے پاس سے چلی جائیں اور پھر واپس آویں۔ ہاں اس جگہ یہ نہایت لطیف اشارہ تھاکہ خدا نے یردھاکا لفظ استعمال کیا تامعلوم ہو کہ اول اس کا اپنے پاس سے بے تعلق لوگوں میں چلے جانا ضروری ہے پھر واپس آنا تقدیر میں ہے فقط۔ منہ


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 61
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 61
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/61/mode/1up


    لکلمات اللّٰہ انّ ربّک فعّال لما یُریْد۔ اِنّا رادّوھا اِلَیک۔ یَوْمَ
    تُبدّل الارض غیر الارض۔ اذا نفِخ فی الصّور فلا اَنْسابَ بینھم
    انما یوخّرھم الٰی اجل مسمّی اجل قریب۔ یاتی قمر الانبیاء وَامرک یَتَأَ تّی۔ ھٰذا یومٌ
    عصیب۔ توجہتُ لفصل الخطاب۔ انا رادّوھا
    الیک۔ اِن استجارتک فاجرھا۔ ولَا تخف سنعیدھا سِیرتھا
    الاولٰی۔ اِنا فتحنالک فتحًا مّبینًا۔ یا نوح اسر رؤیاک۔ و قالوا
    متی ھٰذا الوعد۔ قل اِنّ وَعد اللّہ حَق۔ اَنتَ مَعی وانا مَعک
    ولا یَعلمون الا المسترشدون. لا تیئس من رَّوح اللّٰہ۔ انظر الٰی
    یوسف واقبالہ۔ اِطّلع اللّٰہ علٰی ھمّہٖ وغمّہٖ۔ ولن تجد لِسنّت اللّٰہ
    تبدیلا۔ وَلا تعجبوا ولا تحزنوا وانتم الاعلون اِن کنتم مؤمنین
    وبعزتی وجلالی انک انت الاعلی۔ ونمزق الاعداء کل ممزق
    وَمَکر اولئک ھُوَ یَبُوْر۔ انا نکشف السِرّ عن ساقہٖ۔ یومَءِذٍ


    کلمے بدلا نہیں کرتے۔ تیرا رب جس بات کو چاہتا ہے وہ بالضرور اس کو کردیتا ہے۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے
    ہم اس کو واپس لانے والے ہیں۔ اس دن زمین دوسری زمین سے بدلائی جائے گی۔ جب صور میں پھونکا
    گیا تو کوئی رشتہ ان میں باقی نہیں رہے گا. خدا ان کو ایک مقررہ وقت تک مہلت دے رہا ہے جو نزدیک وقت ہے
    نبیوں کا چاند آئے گا اور تیرا کام حاصل ہو جائے گا۔ یہ سخت دن ہے۔ آج میں فیصلہ کرنے کیلئے متوجہ ہوا ہم
    اس کو تیری طرف واپس لائیں گے اگر تیری طرف پناہ ڈھونڈے تو پناہ دے دے۔ اور مت خوف کر ہم اس کی پہلی خصلت
    پھر اس میں ڈال دیں گے۔ ہم نے تجھ کو کھلی کھلی فتح دی۔ اے نوح اپنے خواب کو پوشیدہ رکھ۔ اور کہا لوگوں نے کہ
    یہ وعدہ کب ہوگا۔ کہہ خدا کا وعدہ سچا ہے ۔ تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ
    ہوں۔ اور اس حقیقت کو کوئی نہیں جانتا۔ مگر وہی جو رشد رکھتے ہیں۔ خدا کے فضل سے نومید مت ہو۔ یوسف
    کو دیکھ اور اس کے اقبال کو۔ خدا اس کے یعنی آتھم کے غم پر مطلع ہوا۔ اس لئے اس نے عذاب میں تاخیر کی۔ یہ خدا
    کی سنت ہے۔ اور تو خدا کی سنت میں تبدیلی نہیں پائے گا۔ اور تعجب مت کرو اور غمناک مت ہو اور تم ہی غالب ہو
    اگر تم ایمان پر ثابت قدم رہے اور مجھے میری عزت اور جلال کی قسم ہے کہ غلبہ تجھ ہی کو ہے۔ اور ہم دشمنوں کو ٹکڑے
    ٹکڑے کردیں گے اور انکا مکرہلاک ہوجائے گا۔ اور ہم حقیقت کو اسکی پنڈلی سے کھول دیں گے۔ اس دن مومن خوش ہونگے


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 62
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 62
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/62/mode/1up


    یّفرح المؤمنون۔ ثلۃٌ من الاولین وثلۃٌ من الاٰخرین۔ وھٰذا تذکرۃ فَمن شاء
    اتخذ الٰی ربّہٖ سبیلا۔ اِنّ النّصاریٰ حَوّلوا الامر۔ سنردّھا علی النَّصَارٰی۔
    لیُنبذن فی الحطمۃ۔ انا نبشّرک بغلام حلیم مظھر الحق والعلاء
    کَاَنّ اللّٰہ نزل من السّماء۔ اسمُہ عمانوایل۔ یُولد لک الولد۔ ویُدنٰی منک
    الفضل۔ اِنّ نوری قریب قل اعوذ بربّ الفلق من شر ما خلق۔
    عجل جسدلہ خوار۔ فلہٗ نصبٌ وَّ عذاب۔


    اور گروہ پہلوں میں سے اور ایک پچھلوں میں سے۔ اور یہ تذکرہ ہے پس جو چاہے
    خدا کی راہ کو اختیار کرے۔ نصاریٰ نے حقیقت کو بدلا دیا ہے سو ہم ذلت او ر شکست کو نصاریٰ پر واپس پھینک دیں
    گے۔ اور آتھم نابود کرنے والی آگ میں ڈال دیا جاوے گا۔ ہم تجھے ایک حلیم لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جو حق اور
    بلندی کا مظہر ہوگا گویا خدا آسمان سے اترا ۔ نام اس کا عمّانوایل ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔ تجھے
    لڑکا دیا جائے گا اور خدا کا فضل تجھ سے نزدیک ہوگا۔ میرا نور قریب ہے کہہ میں شریر مخلوقات سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں۔
    یہ بیجان گو سالہ ہے اور بیہودہ گو یعنی لیکھرام پشاوری سو اس کو دکھ کی ماراور عذاب ہوگا۔ یعنی اسی دنیا میں۔

    (فارسی و اردو الہام)
    بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمدیاں برمنار بلندتر محکم افتاد۔ خدا تیرے سب کام درست کردے گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دے گا۔ میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا۔ اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا اور تیری برکتیں پھیلاؤں گا۔ یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا ا ور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کردے گا
    آمین
    یہ کسی قدر نمونہ ان الہامات کا ہے جو وقتاً فوقتاً مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوئے ہیں اور ان کے سوا اور بھی بہت سے الہامات ہیں مگر میں خیال کرتا ہوں کہ جس قدر میں نے لکھا ہے وہ کافی ہے۔
    اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ ،خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے اور نیز ان تمام الہامات میں اس عاجز کی اس قدر تعریف اور توصیف ہے کہ اگر یہ تعریفیں درحقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں تو ہریک مسلمان کو چاہئے کہ تمام تکبر اور نخوت اور شیخی سے الگ ہوکر ایسے


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 63
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 63
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/63/mode/1up

    شخصؔ کی فرمانبرداری کا جُوَا اپنی گردن پر لے لے جس کی دشمنی میں خدا کی *** اور محبت میں خدا کی محبت ہے لیکن اگر یہ تعریفیں خدائے تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں اور یہ تمام کلمات جو الہام کے دعویٰ پر پیش کئے گئے ہیں خدائے قادر و قدوس کا الہام نہیں ہیں بلکہ ایک دجّال کذّاب نے
    چالاکی کی راہ سے ان کو آپ بنا لیا ہے اور بندگان خدا کو یہ دھوکہ دینا چاہا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کے الہام ہیں تو درحقیقت وہ جو نہایت بے باکی سے خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے خدا تعالیٰ کی گرجنے والی صاعقہ کے نیچے کھڑا ہے اور اس کے مشتعل غضب کا نشانہ ہے اور کوئی اس کو اس قہار اور غیور کے ہاتھ سے چھڑا نہیں سکتا۔
    کیا یہ بات تعجب میں نہیں ڈالتی کہ ایسا کذّاب اور دجّال اور مفتری جو برابر بیس برس کے عرصہ سے خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھ رہا ہے اب تک کسی ذلّت کی مار سے ہلاک نہ ہوا۔ اور کیا یہ بات سمجھ نہیں آسکتی کہ جس سلسلہ کا تمام مدار ایک مفتری کے افترا پر تھا وہ اتنی مدت تک کسی طرح چل نہیں سکتا تھا*۔ توریت اور قرآن شریف دونوں گواہی دے رہے ہیں کہ خدا پر افترا کرنے والا جلد تباہ ہو جاتا ہے۔

    نوٹ۔ اگر کسی کے دل میں یہ سوال پیدا ہو کہ دنیا میں صدہا جھوٹے مذہب ہیں جو ہزاروں برسوں سے چلے آتے ہیں۔ حالانکہ ابتدا ان کی کسی کے افترا سے ہی ہوگی تو اس کا جواب یہ ہے کہ افترا سے مراد ہمارے کلام میں وہ افترا ہے کہ کوئی شخص عمداً اپنی طرف سے بعض کلمات تراش کر یا ایک کتاب بناکر پھر یہ دعویٰ کرے کہ یہ باتیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور اس نے مجھے الہام کیا ہے اور ان باتوں کے بارے میں میرے پر اس کی وحی نازل ہوئی ہے حالانکہ کوئی وحی نازل نہیں ہوئی۔ سو ہم نہایت کامل تحقیقات سے کہتے ہیں کہ ایسا افترا کبھی کسی زمانہ میں چل نہیں سکا۔ اور خدا کی پاک کتاب صاف گواہی دیتی ہے کہ خدا تعالیٰ پر افترا کرنے والے جلد ہلاک کئے گئے ہیں۔ اور ہم لکھ چکے ہیں کہ توریت بھی یہی گواہی دیتی ہے اور انجیل بھی اور فرقان مجید بھی ہاں جس قدر دنیا میں جھوٹے مذہب نظر آتے ہیں جیسے ہندوؤں اور پارسیوں کا مذہب۔ ان کی نسبت یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ وہ کسی جھوٹے پیغمبر کا سلسلہ چلا آتا ہے بلکہ اصل حقیقت ان میں یہ ہے کہ خود لوگ غلطیوں میں پڑتے پڑتے ایسے عقائد کے پابند ہوگئے ہیں۔ دنیا میں تم کوئی ایسی کتاب دکھا نہیں سکتے جس میں صاف اور بے تناقض لفظوں میں کھلا کھلا یہ دعویٰ ہو کہ یہ خدا کی کتاب ہے حالانکہ اصل میں وہ خدا کی کتاب نہ ہو۔ بلکہ کسی مفتری کا افترا ہو اور ایک قوم اس کو عزت کے ساتھ مانتی



    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 64
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 64
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/64/mode/1up


    کو ؔ ئی نام لینے والا اس کا باقی نہیں رہتا اور انجیل میں بھی لکھا ہے کہ اگر یہ انسان کا کاروبار ہے تو جلد باطل ہوجائے گا۔ لیکن اگر خدا کا ہے تو ایسا نہ ہو کہ تم مقابلہ کرکے مجرم ٹھہرو۔ اللہ جلّ شانہ
    قرآن شریف میں فرماتا ہے۔333۔۱؂ یعنی اگر یہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اس پر پڑے گا۔ اور اگر یہ سچا ہے تو تم اس کی ان بعض پیشگوئیوں سے بچ نہیں سکتے جو تمہاری نسبت وہ وعدہ کرے خدا ایسے شخص کو فتح اور کامیابی کی راہ نہیں دکھلاتا جو فضول گو اور کذّاب ہو۔
    اب اے مخالف مولویو! اور سجادہ نشینو!! یہ نزاع ہم میں اور تم میں حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اور اگرچہ یہ جماعت بہ نسبت تمہاری جماعتوں کے تھوڑی سی اور فۂ قلیلہ ہے اور شائد اس وقت تک چار ہزار پانچ ہزار سے زیادہ نہیں ہوگی تاہم یقیناًسمجھو کہ یہ خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودہ ہے خدا اس کو ہر گز ضائع نہیں کرے گا۔وہ راضی نہیں ہوگا جب تک کہ اس کو کمال تک نہ پہنچا دے۔ اور وہ اس کی آبپاشی کرے گا اور اس کے گرد احاطہ بنائے گا اور تعجب انگیز ترقیات دے گا۔ کیا تم نے کچھ کم زور لگایا۔ پس اگر یہ انسان کا کام ہوتا تو کبھی کا یہ درخت کاٹا جاتا اور اس کا نام و نشان باقی نہ رہتا-
    اسی نے مجھے حکم دیا ہے کہ تا میں آپ لوگوں کے سامنے مباہلہ کی درخواست پیش کروں۔ تا جو راستی کا دشمن ہے وہ تباہ ہو جائے اور جو اندھیرے کو پسند کرتا ہے وہ عذاب کے اندھیرے میں پڑے۔ پہلے میں نے کبھی ایسے مباہلہ کی نیت نہیں کی اور نہ چاہا کہ کسی پر بددعا کروں۔ عبد الحق غزنوی ثمّ امرتسری نے مجھ سے مباہلہ چاہا مگر میں مدت تک اعراض کرتا رہا۔ آخر اس کے نہایت اصرار پر مباہلہ ہوا مگر میں نے اس کے حق میں کوئی بددعا نہیں کی لیکن اب میں بہت ستایا گیا اور دکھ دیا گیا مجھے کافر ٹھہرایا گیا مجھے دجّال کہا گیا۔ میرا نام شیطان رکھا گیا۔ مجھے

    چلی آئی ہو۔ ہاں ممکن ہے کہ خدا کی کتاب کے الٹے معنی کئے گئے ہوں جس حالت میں انسانی گورنمنٹ ایسے شخص کو نہایت غیرت مندی کے ساتھ پکڑتی ہے کہ جوجھوٹے طور پر ملازم سرکاری ہونے کا دعویٰ کرے تو خدا جو اپنے جلال اور ملکوت کیلئے غیرت رکھتا ہے کیوں جھوٹے مدعی کو نہ پکڑے۔ منہ


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 65
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 65
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/65/mode/1up


    کذّاؔ ب اور مفتری سمجھا گیا۔ میں ان کے اشتہاروں میں *** کے ساتھ یاد کیا گیا۔ میں ان کی مجلسوں میں نفرین کے ساتھ پکارا گیا۔ میری تکفیر پر آپ لوگوں نے ایسی کمر باندھی کہ گویا آپ کو کچھ بھی شک میرے کفر میں نہیں۔ ہریک نے مجھے گالی دینا اجر عظیم کا موجب سمجھا اور میرے پر *** بھیجنا اسلام کا طریق قرار دیا۔ پر ان سب تلخیوں اور دکھوں کے وقت خدا میرے ساتھ تھا۔ ہاں وہی تھا جو ہریک وقت مجھ کو تسلی اور اطمینان دیتا رہا۔ کیا ایک کیڑا ایک جہان کے مقابل کھڑا ہوسکتا ہے۔ کیا ایک ذرہ تمام دنیا کا مقابلہ کرے گا۔ کیا ایک دروغ گو کی ناپاک روح یہ استقامت رکھتی ہے۔ کیا ایک ناچیز مفتری کو یہ طاقتیں حاصل ہوسکتی ہیں-
    سو یقیناً سمجھو کہ تم مجھ سے نہیں بلکہ خدا سے لڑرہے ہو۔ کیا تم خوشبو اور بدبو میں فرق نہیں کرسکتے۔ کیا تم سچائی کی شوکت کو نہیں دیکھتے۔ بہتر تھا کہ تم خدا تعالیٰ کے سامنے روتے اور ایک ترساں اور ہراساں دل کے ساتھ اس سے میری نسبت ہدایت طلب کرتے اور پھر یقین کی پیروی کرتے نہ شک اور وہم کی-
    سو اب اٹھو اور مباہلہ کیلئے تیار ہو جاؤ۔ تم سن چکے ہو کہ میرا دعویٰ دو ۲ باتوں پر مبنی تھا۔ اول نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ پر۔ دوسرے الہامات الٰہیہ پر۔ سو تم نے نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کو قبول نہ کیا اور خدا کی کلام کو یوں ٹال دیا جیسا کہ کوئی تنکا توڑ کر پھینک دے۔ اب میرے بناء دعویٰ کا دوسرا شق باقی رہا۔ سو میں اس ذات قادر غیور کی آپ کو قسم دیتا ہوں جس کی قسم کو کوئی ایماندار رد نہیں کرسکتا کہ اب اس دوسری بناء کی تصفیہ کیلئے مجھ سے مباہلہ کر لو۔
    اور یوں ہوگا کہ تاریخ اور مقام مباہلہ کے مقرر ہونے کے بعد میں ان تمام الہامات کے پرچہ کو جو لکھ چکا ہوں اپنے ہاتھ میں لے کر میدان مباہلہ میں حاضر ہوں گااور دعا کروں گا کہ یا الٰہی اگر یہ الہامات جو میرے ہاتھ میں ہیں میر اہی افترا ہے اور تو جانتا ہے کہ میں نے ان کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے یا اگر یہ شیطانی وساوس ہیں اور تیرے الہام نہیں تو آج کی تاریخ سے ایک برس گزرنے سے پہلے مجھے وفات دے۔ یا کسی ایسے عذاب میں مبتلا کر جو موت سے بدتر ہو اور اس سے رہائی عطا نہ کر جب تک کہ موت آجائے۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 66
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 66
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/66/mode/1up

    تا ؔ میری ذلت ظاہر ہو اور لوگ میرے فتنہ سے بچ جائیں کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ میرے سبب سے تیرے بندے فتنہ اور ضلالت میں پڑیں۔ اور ایسے مفتری کا مرنا ہی بہتر ہے۔ لیکن اے خدائے علیم و خبیر اگر تو جانتا ہے کہ یہ تمام الہامات جو میرے ہاتھ میں ہیں تیرے ہی الہام ہیں۔ اور تیرے منہ کی باتیں ہیں۔ تو ان مخالفوں کو جو اس وقت حاضر ہیں ایک سال کے عرصہ تک نہایت سخت دکھ کی مار میں مبتلا کر۔ کسی کو اندھا کردے اور کسی کو مجذوم اور کسی کو مفلوج اور کسی کو مجنون اور کسی کو مصروع اور کسی کو سانپ یا سگ دیوانہ کا شکار بنا۔ اور کسی کے مال پر آفت نازل کر اور کسی کی جان پر اور کسی کی عزت پر۔ اور جب میں یہ دعا کرچکوں تو دونوں فریق کہیں کہ آمین۔ ایسا ہی فریق ثانی کی جماعت میں سے ہریک شخص جو مباہلہ کیلئے حاضر ہو جناب الٰہی میں یہ دعا کرے کہ اے خدائے علیم و خبیر ہم اس شخص کو جس کا نام غلام احمد ہے درحقیقت کذاب اور مفتری اور کافر جانتے ہیں۔ پس اگر یہ شخص درحقیقت کذاب اور مفتری اور کافر اور بے دین ہے اور اس کے یہ الہام تیری طرف سے نہیں بلکہ اپنا ہی افترا ہے۔ تو اس امت مرحومہ پر یہ احسان کر کہ اس مفتری کو ایک سال کے اندر ہلاک کردے تالوگ اس کے فتنہ سے امن میں آجائیں۔ اور اگر یہ مفتری نہیں اور تیری طرف سے ہے اور یہ تمام الہام تیرے ہی منہ کی پاک باتیں ہیں تو ہم پر جو اس کو کافر اور کذاب سمجھتے ہیں۔ دکھ اور ذلت سے بھرا ہوا عذاب ایک برس کے اندر نازل کر اور کسی کو اندھا کر دے اور کسی کو مجذوم اور کسی کو مفلوج اور کسی کو مجنون اور کسی کو مصروع اور کسی کو سانپ یا سگ دیوانہ کا شکار بنا اور کسی کے مال پر آفت نازل کر اور کسی کی جان پر اور کسی کی عزت پر۔ اور جب یہ دعا فریق ثانی کرچکے تو دونوں فریق کہیں کہ آمین۔ اور یاد رہے کہ اگر کوئی شخص مجھے کذاب اور مفتری تو جانتا ہے مگر کافر کہنے سے پرہیز رکھتا ہے تو اس کو اختیار ہوگا کہ اپنے دعائی مباہلہ میں صرف کذاب اور مفتری کا لفظ استعمال کرے جس پر اس کو یقین دلی ہے۔
    اور اس مباہلہ کے بعد اگر میں ایک سال کے اندر مر گیا یا کسی ایسے عذاب میں مبتلا ہوگیا جس میں جان بری کے آثار نہ پائے جائیں تو لوگ میرے فتنہ سے بچ جائیں گے اور میں ہمیشہ کی *** کے ساتھ ذکر کیا جاؤں گا اور میں ابھی لکھ دیتا ہوں کہ اس صورت میں مجھے کاذب اور مورد *** الٰہی یقین کرنا چاہئے اور پھر اس کے بعد میں دجّال یا ملعون یا شیطان کہنے سے ناراض نہیں



    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 67
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 67
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/67/mode/1up


    اورؔ اس لائق ہوں گا کہ ہمیشہ کیلئے *** کے ساتھ ذکر کیا جاؤں اور اپنے مولیٰ کے فیصلہ کو فیصلہ ناطق سمجھوں گا۔ اور میری پیروی کرنے والا یا مجھے اچھا اور صادق سمجھنے والا خدا کے قہر کے نیچے ہوگا۔ پس اس صورت میں میر انجام نہایت ہی بد ہوگا جیسا کہ بدذات کاذبوں کا انجام ہوتا ہے۔
    لیکن اگر خدا نے ایک سال تک مجھے موت اور آفات بدنی سے بچا لیا اور میرے مخالفوں پر قہر اور غضب الٰہی کے آثار ظاہر ہوگئے اور ہریک ان میں سے کسی نہ کسی بلا میں مبتلا ہوگیا۔ اور میری بددعا نہایت چمک کے ساتھ ظاہر ہوگئی تو دنیا پر حق ظاہر ہو جائے گا۔ اور یہ روز کا جھگڑا درمیان سے اٹھ جائے گا۔ میں دوبارہ کہتا ہوں کہ میں نے پہلے اس سے کبھی کلمہ گو کے حق میں بددعا نہیں کی اور صبر کرتا رہا۔ مگر اس روز خدا سے فیصلہ چاہوں گا۔ اور اس کی عصمت اور عزت کا دامن پکڑوں گا کہ تاہم میں سے فریق ظالم اور دروغگو کو تباہ کرکے اس دین متین کو شریروں کے فتنہ سے بچاوے۔
    میں یہ بھی شرط کرتا ہوں کہ میری دعا کا اثر صرف اس صورت میں سمجھا جائے کہ جب تمام وہ لوگ جو مباہلہ کے میدان میں بالمقابل آویں ایک سال تک ان بلاؤں میں سے کسی بلا میں گرفتار ہوجائیں۔ اگر ایک بھی باقی رہا تو میں اپنے تئیں کاذب سمجھوں گا اگرچہ وہ ہزار ہوں یا دو ہزار اور پھر ان کے ہاتھ پر توبہ کروں گا۔ اور اگر میں مر گیا تو ایک خبیث کے مرنے سے دنیا میں ٹھنڈ اور آرام ہوجائے گا۔
    میرے مباہلہ میں یہ شرط ہے کہ اشخاص مندرجہ ذیل میں سے کم سے کم دس۱۰ آدمی حاضر ہوں اس سے کم نہ ہوں اور جس قدر زیادہ ہوں میری خوشی اور مراد ہے کیونکہ بہتوں پر عذاب الٰہی کامحیط ہو جانا ایک ایسا کھلا کھلا نشان ہے جو کسی پر مشتبہ نہیں رہ سکتا۔
    گواہ رہ اے زمین اور اے آسمان کہ خدا کی *** اس شخص پر کہ اس رسالہ کے پہنچنے کے بعد نہ مباہلہ میں حاضر ہو اور نہ تکفیر اور توہین کو چھوڑے اور نہ ٹھٹھا کرنے والوں کی مجلسوں سے الگ ہو۔ اور اے مومنو! برائے خدا تم سب کہو کہ آمین۔ مجھے افسوس سے یہ بھی لکھنا پڑا کہ آج تک ان ظالم مولویوں نے اس صاف اور سیدھے فیصلہ کی طرف رخ ہی نہیں کیا۔ تا اگر میں ان کے خیال میں کاذب تھا تو احکم الحاکمین کے حکم سے اپنی سزا کو پہنچ جاتا۔ ہاں بعض ان کے اپنی بدگوہری کی


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 68
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 68
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/68/mode/1up


    وجہؔ سے گورنمنٹ انگریزی میں جھوٹی شکائتیں میری نسبت لکھتے رہے اور اپنی عداوت باطنی کو چھپا کر مخبروں کے لباس میں نیش زنی کرتے رہے اور کر رہے ہیں جیسا کہ شیخ بطالوی عَلَیْہِ مَا یَسْتَحِقُّہ اگر ایسے لوگ خدا تعالیٰ کی جناب سے رد شدہ نہ ہوتے تو مجھے دکھ دینے کیلئے مخلوق کی طرف التجا نہ لے جاتے۔ یہ نادان نہیں جانتے کہ کوئی بات زمین پر نہیں ہوسکتی جب تک کہ آسمان پر نہ ہو جائے اور گورنمنٹ انگریزی میں یہ کوشش کرنا کہ گویا میں مخفی طور پر گورنمنٹ کا بدخواہ ہوں یہ نہایت سفلہ پن کی عداوت ہے۔ یہ گورنمنٹ خدا کی گناہ گار ہوگی اگر میرے جیسے خیر خواہ اور سچے وفادار کو بدخواہ اور باغی تصور کرے۔ میں نے اپنی قلم سے گورنمنٹ کی خیر خواہی میں ابتدا سے آج تک وہ کام کیا ہے جس کی نظیر گورنمنٹ کے ہاتھ میں ایک بھی نہیں ہوگی اور میں نے ہزارہا روپیہ کے صرف سے کتابیں تالیف کرکے ان میں جابجا اس بات پر زور دیا ہے کہ مسلمانوں کو اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی چاہیئے اور رعایا ہوکر بغاوت کا خیال بھی دل میں لانا نہایت درجہ کی بدذاتی ہے اور میں نے ایسی کتابوں کو نہ صرف برٹش انڈیا میں پھیلایا ہے بلکہ عرب اور شام اور مصر اور روم اور افغانستان اور دیگر اسلامی بلاد میں محض للّہی نیت سے شائع کیا ہے نہ اس خیال سے کہ یہ گورنمنٹ میری تعظیم کرے یا مجھے انعام دے کیونکہ یہ میرا مذہب اور میرا عقیدہ ہے جس کا شائع کرنا میرے پر حق واجب تھا۔
    تعجب ہے کہ یہ گورنمنٹ میری کتابوں کو کیوں نہیں دیکھتی اور کیوں ایسی ظالمانہ تحریروں سے ایسے مفسدوں کو منع نہیں کرتی۔ ان ظالم مولویوں کو میں کس سے مثال دوں۔ یہ ان یہودیوں سے مشابہ ہیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ناحق دکھ دینا شروع کیا اور جب کچھ پیش نہ گئی تو گورنمنٹ روم میں مخبری کی کہ یہ شخص باغی ہے۔ سو میں بار بار اس گورنمنٹ عادلہ کو یاد دلاتا ہوں کہ میری مثال مسیح کی مثال ہے میں اس دنیا کی حکومت اور ریاست کو نہیں چاہتا اور بغاوت کو سخت بدذاتی سمجھتا ہوں میں کسی خونی مسیح کے آنے کا قائل نہیں اور نہ خونی مہدی کا منتظر۔ صلح کاری سے حق کو پھیلانا میرا مقصد ہے۔ اور میں تمام ان باتوں سے بیزار ہوں جو فتنہ کی باتیں ہوں یا جوش دلانے والے منصوبے ہوں۔ گورنمنٹ کو چاہئے کہ بیدار طبعی سے میری حالت کو جانچے اور گورنمنٹ روم کی شتاب کاری سے عبرت پکڑے اور خود غرض مولویوں یا دوسرے لوگوں کی باتوں کو سند نہ سمجھ لیوے کہ میرے اندر کھوٹ نہیں اور میرے لبوں پر نفاق نہیں۔
    اب میں پھر اپنے کلام کو اصل مقصد کی طرف رجوع دے کر ان مولوی صاحبوں کا نام ذیل میں درج



    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 69
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 69
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/69/mode/1up


    کرتاؔ ہوں جن کو میں نے مباہلہ کیلئے بلایا ہے اور میں پھر ان سب کو اللہ جل شانہٗ کی قسم دیتا ہوں کہ مباہلہ کیلئے تاریخ اور مقام مقرر کرکے جلد میدان مباہلہ میں آویں اور اگر نہ آئے اور نہ تکفیر اور تکذیب سے باز آئے تو خدا کی *** کے نیچے مریں گے۔
    اب ہم ان مولوی صاحبوں کے نام ذیل میں لکھتے ہیں جن میں سے بعض تو اس عاجز کو کافر بھی کہتے ہیں اور مفتری بھی۔ اور بعض کافر کہنے سے تو سکوت اختیار کرتے ہیں۔ مگر مفتری اور کذّاب اور دجّال نام رکھتے ہیں۔ بہرحال یہ تمام مکفّرین اور مکذّبین مباہلہ کیلئے بلائے گئے ہیں اور ان کے ساتھ وہ سجادہ نشین بھی ہیں جو مکفّر یا مکذّب ہیں اور درحقیقت ہریک شخص جو باخدا اور صوفی کہلاتا ہے اور اس عاجز کی طرف رجوع کرنے سے کراہت رکھتا ہے وہ مکذّبین میں داخل ہے۔ کیونکہ اگر مکذّب نہ ہوتا تو ایسے شخص کے ظہور کے وقت جس کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی تھی کہ اس کی مدد کرو اور اس کو میرا سلام پہنچاؤ اور اس کے مخلصین میں داخل ہوجاؤ تو ضرور اس کی جماعت میں داخل ہوجاتا۔ اور صاف باطن فقراء کیلئے یہ موقعہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے ڈر کر اور ہریک کدورت سے الگ ہوکر اور کمال تضرع اور ابتہال سے اس پاک جناب میں توجہ کرکے اس راز سربستہ کا اسی کے کشف اور الہام سے انکشاف چاہیں۔ اور جب خدا کے فضل سے انہیں معلوم کرایا جائے تو پھر جیسا کہ ان کی اتّقاء کی شان کے لائق ہے محبت اور اخلاص اور کامل رجوع سے ثواب آخرت حاصل کریں اور سچائی کی گواہی کیلئے کھڑے ہوجائیں۔ مولویان خشک بہت سے حجابوں میں ہیں کیونکہ ان کے اندر کوئی سماوی روشنی نہیں۔ لیکن جو لوگ حضرت احدیت سے کچھ مناسبت رکھتے ہیں اور تزکیہ نفس سے انانیّت کی تاریکیوں سے الگ ہوگئے ہیں۔ وہ خدا کے فضل سے قریب ہیں۔ اگرچہ بہت تھوڑے ہیں جو ایسے ہیں مگر یہ امت مرحومہ ان سے خالی نہیں۔
    وہ لوگ جو مباہلہ کیلئے مخاطب کئے گئے ہیں یہ ہیں:۔

    مولوی نذیر حسین دہلوی
    شیخ محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ
    مولوی عبد الحمید دہلوی مہتمممطبع انصاری
    مولوی رشید احمد گنگوہی
    مولوی عبد الحق دہلوی مؤلف تفسیر حقّانی
    مولوی عبد العزیز لدھیانوی
    مولوی محمد لدھیانوی
    مولوی محمد حسن رئیس لدھیانہ


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 70
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 70
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/70/mode/1up


    سعد اللہ نو مسلم مدرس لدھیانہ
    مولوی احمد اللہ امرتسری
    مولوی ثناء اللہ امرتسری
    مولوی غلام رسول عرف رسل بابا امرتسری
    مولوی عبد الجبار غزنوی
    مولوی عبد الواحد غزنوی
    مولوی عبد الحق غزنوی
    محمد علی بھوپڑی واعظ
    مولوی غلام دستگیر قصور ضلع لاہور
    مولوی عبد اللہ ٹونکی
    مولوی اصغر علی لاہور
    حافظ عبد المنان وزیر آباد
    مولوی محمد بشیر بھوپالی
    شیخ حسین عرب یمانی
    مولوی محمد ابراہیم آرہ
    مولوی محمد حسن مولف تفسیر امروہہ
    مولوی احتشام الدین مراد آباد
    مولوی محمد اسحٰق اجراوری
    مولوی عین القضاۃ صاحب لکھنو فرنگی محل
    مولوی محمد فاروق کانپور
    مولوی عبد الوہاب کانپور
    مولوی سعید الدین کانپور رامپوری
    مولوی حافظ محمد رمضان پشوری
    مولوی دلدار علی الور مسجد دائرہ
    مولوی محمد رحیم اللہ مدرس مدرسہ اکبر آباد
    مولوی ابو الانوار نواب محمد رستم علی خاں چشتی
    مولوی ابو المویّد امروہی مالک رسالہ مظہر الاسلام اجمیر
    مولوی محمد حسین کوئلہ والا دہلی
    مولوی احمد حسن صاحب شوکت مالک اخبار شحنہ ہند میرٹھ
    مولوی نذیر حسین ولد امیر علی انبیٹھہ ضلع سہارنپور
    مولوی احمد علی صاحب سہارنپور
    مولوی عبد العزیز دینا نگر ضلع گورداسپور
    قاضی عبد الاحد خان پور ضلع راولپنڈی
    مولوی احمد رامپور ضلع سہارنپور محلہ محل
    مولوی محمد شفیع رامپور ضلع سہارنپور
    مولوی فقیر اللہ مدرس مدرسہ نصرت الاسلام واقع لال مسجد بنگلور
    مولوی محمد امین صاحب بنگلور
    مولوی قاضی حاجی شاہ عبد القدوس صاحب پیش امام جامع مسجد بنگلور
    مولوی عبد الغفار صاحب فرزند قاضی عبد القدوس صاحب بنگلور
    مولوی محمد ابراہیم صاحب ویلوری حال مقیم بنگلور
    مولوی عبد القادر صاحب پیارم پیٹی ساکن پیارم پیت علاقہ بنگلور
    مولوی محمد عباس صاحب ساکن دانمباری علاقہ بنگلور
    مولوی گل حسن شاہ صاحب میرٹھ
    مولوی امیر علی شاہ صاحب اجمیر
    مولوی احمد حسن صاحب کنجپوری حال دہلی خاص جامع مسجد


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 71
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 71
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/71/mode/1up


    مولوی محمد علی صاحب دہلی فراشخانہ
    مولوی مستعان شاہ صاحب سانبھر علاقہ جے پور
    مولوی حفیظ الدین صاحب دوجانہ ضلع رہتک
    مولوی فضل کریم صاحب نیازی غازی پور زمینا
    مولوی حاجی عابد حسین صاحب دیوبند

    اور سجادہ نشینوں کے نام یہ ہیں

    غلام نظام الدین صاحب سجادہ نشین نیاز احمد صاحب بریلی
    میاں اللہ بخش صاحبسجادہ نشین سلیمان صاحب تونسوی سنگہڑی
    سجادہ نشین صاحب شیخ نور احمد صاحب مہارانوالہ
    میاں غلام فرید صاحب چشتی چاچڑاں علاقہ بہاولپور
    التفات احمد شاہ صاحب سجادہ نشین ردولے
    مستان شاہ صاحب کابلی
    محمد قاسم صاحب سجادہ نشین شاہ معین الدین شاہ خاموش حیدرآباد دکن
    محمد حسین صاحب گدی نشین شیخ عبدالقدوس صاحب گنگوہی
    گدی نشین اوچہ شاہ جلال الدین صاحب بخاری
    ظہور الحسین صاحب گدی نشین بٹالہ ضلع گورداسپور
    صادق علی شاہ صاحب گدی نشین رتر چھتر ضلع گورداسپور
    سید صوفی جان صاحب مرادآبادی صابری چشتی
    مہر شاہ صاحب سجادہ نشین گولڑہ ضلع راولپنڈی
    مولوی قاضی سلطان محمود صاحب آی اعوان والہ پنجاب
    حیدر شاہ صاحب جلال پور کنکیاں والہ
    توکل شاہ صاحب انبالہ
    مولوی عبد اللہ صاحب تلونڈی والہ
    محمد امین صاحب چکوتری علاقہ گجرات پنجاب
    مولوی عبد الغنی صاحب جانشین قاضی اسمٰعیل صاحب مرحوم بنگلور
    مولوی ولی النبی شاہ صاحب نقشبند رامپور دار الریاست
    حاجی وارث علی شاہ صاحب مقام دیوا ضلع لکھنؤ
    میر امداد علی شاہ صاحب سجادہ نشین شاہ ابو العلا نقشبند
    سید حسین شاہ صاحب مودودی دہلی
    عبد اللطیف شاہ صاحب خلف حاجی نجم الدین شاہ صاحب چشتی جودھپور
    قطب علی شاہ صاحب دیوگڈھ
    علاقہ اودے پور میواڑ
    میرزا بادل شاہ صاحب بدایونی
    مولوی عبد الوہاب صاحب
    جانشین عبد الرزاق صاحب لکھنؤ فرنگی محل
    علی حسین صاحب کچھوچھا ضلع فقیر آباد


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 72
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 72
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/72/mode/1up


    شیخ غلام محی الدین صوفی وکیل انجمن حمایت اسلام لاہور
    حافظ صابر علی صاحب رامپور ضلع سہارنپور
    امیر حسن صاحب خلف پیر عبد اللہ صاحب دہلی
    منور شاہ صاحب فاضل پور ضلع گوڑگانواں قریب دہلی
    محمد معصوم شاہ صاحب نبیرہ شاہ ابو سعید صاحب رام پوردارالریاست
    بدر الدین شاہ صاحب سجادہ نشین پھلواری ضلع پٹنہ
    شاہ اشرف صاحب سجادہ نشین پھلواری ضلع پٹنہ
    مظہر علی شاہ صاحب سجادہ نشین لوادا ضلع پٹنہ
    لطافت حسین شاہ صاحب سجادہ نشین لوادا
    نثار علی شاہ صاحب الور دار الریاست
    وزیر الدین شاہ صاحب سجادہ نشین مخدوم صاحب الور
    مولوی سلام الدین شاہ صاحب مہم ضلع رہتک
    غلام حسین خاں شاہ صاحب ٹھانوی ضلع حصار
    سید اصغر علی شاہ صاحب نیازی اکبر آباد
    واجد علی شاہ صاحب فیروز آباد ضلع اکبر آباد
    سید احمد شاہ صاحب ہردوئی ضلع لکھنؤ
    مقصود علی شاہ صاحب شاہجہان پور
    مولوی نظام الدین چشتی صابری جھجر
    مولوی محمد کامل شاہ اعظم گڈھ ضلع خاص
    محمود شاہ صاحب سجادہ نشین بہار ضلع خاص

    ان تمام حضرات کی خدمت میں یہ رسالہ پیکٹ کرکے بھیجا جاتا ہے لیکن اگر اتفاقاً کسی صاحب

    کو نہ پہنچا ہو تو وہ اطلاع دیں تاکہ دوبارہ بذریعہ رجسٹری بھیجا جائے


    راقم میرزا غلام احمداز قادیان


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 73
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 73
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/73/mode/1up
    73
    الحمدُ للّٰہِ الذی مَنَّ عَلینا بإرسال الرُّسل والکُتب، وجَعَل الأنبیاءَ لِخیَام
    التوحید کالطُنُب، وقَفَّی علی آثارہم بالأولیاء لیکونوا کالأوتاد للسَّبب۔ والصَّلاۃ
    والسَّلام علی خیر الرسُل ونخبۃ النخب، محمّد خاتَم النبیّین وشفیع المذنبین،
    وأفضل الأولین والآخرین، وآلہ الطّاہرین المطہّرین، وأَصحَابِہِ الذین ہُم
    آیات الحقّ وحُجّۃ اللّٰہ علی العالمین، وعلی کل عبدٍ من عبادہ الصّالحین۔
    أمّا بعد۔ فہذا مکتوبٌ کتبتُہ إلی الذین أنعم اللّٰہ علیہم بأنواع
    الکرامۃ، وہذّبہم بالعلم الکامل والمعرفۃ التّامّۃ، وکَشَف علیہم سُبُلَ
    الاصطفاء والقُربۃ، وحَبَّبَ إلیہم طُرقَ الانکسار والغُربۃ، مِن العلماء العاملین
    الراسخین المتوَغّلین، والفقراء المنقطعین المتبتِّلین، الذین جذَبہم
    اللّٰہ إلی ملکوتہ، وأذاقہم حظَّ لاہوتہٖ، ورزقہم خشیۃ عظمتہٖ، وسقاہم

    ہمہ ثناہا خدائے راست کہ بفرستادن پیغمبران و کتاب ہا برما منت نہاد۔ وانبیاء را برائے خیمہ ہائے توحید
    ہمچو طنابے گردانید کہ خیمہ را بدان استوار میکنند و پس انبیاء اولیاء را آورد تاایشان ہمچو میخہا باشند برائے رسن انبیاء۔ و درود و سلام بر بہترین پیغمبران و برگزیدہ گزید گان محمد کہ خاتم الانبیاء وشفیع المذنبین است و بزرگتر ست از ہمہ آنانکہ گزشتندو از ہمہ آنانکہ بیانید۔ وبرآل او کہ طاہر و مطہر اند و براصحاب او کہ نشان حق
    وحجت اللہ اند برجہانیان۔ و بر ہر بندۂ از بندگان نیکوکار او۔
    امابعد۔ پس این نامہ یست کہ سوئے کسانے نبشتہ ام کہ خدا تعالیٰ بانواع کرامت
    ایشانرا مخصوص گردانید و بعلم کامل و معرفت تامہ پاکیزگی ہا بخشید۔ و راہ ہائے برگزیدگی و قربت بر
    ایشان کشود و انکسار و غربت مرغوب طبیعت ایشان گردانید انانکہ علماء راسخین اند
    و در علم مہارتے تام میدارند وعلم ایشان بعمل مقرون ست ونیز انانکہ از دنیا بجانبِ حق بریدہ شدہ اند
    و خدا تعالیٰ سوئے ملکوت خود ایشانراکشیدہ است وحظے از لاہوت خود ایشانرا چشانیدہ۔ وخوف عظمت خود


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 74
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 74
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/74/mode/1up
    74
    کأؔ س محبّتہ، فلا ترہَقہم ذلّۃ الزَّلّۃ، ولا نکال المَعصِیۃ، وہم من المحفوظین۔
    وإنما نخاطبہم لجلالۃ شأنہم، وصفاء وجدانہم، وسَعۃ ظروفہم، وحلاوۃ
    قطوفہم، لعلّہم یُؤیَّدون من اللّٰہ ویُلہَمون، ولعلّہم یفقہون ما لا فَقِہَ الآخرون
    ویعلمون ما لم یعلمہ المحجوبون۔ ولعلہم یتدبّرون بالفراسۃ الإیمانیۃ، ویتفکرون
    بالتقاۃ الرّوحانیۃ، ویقومون للّٰہ شاہدین، لیکونوا حجّۃ اللّٰہ علی الظالمین
    المعتدین، ولینقطع معاذیر المعتذرین الأفّاکین، ولیَضْمَحلّ کل قولٍ
    یُقال من بعد موتی ولتستبین سبیل المجرمین۔ وإنّا ندعو اللّٰہ أن یؤیّدہم
    ویلہمہم ویحفظہم ویعصمہم ویعطیہم حظّ الصّالحین۔
    ولما کان المقصد أن یتبیّن الحق الذی جئنا بہ لکلّ تقیّ وسعید من
    قریب وّبعید، أُلقیَ فی روعی أن أکتب ہٰذا المکتوب فی العربیۃ، وأترجمہ
    بالفارسیۃ، وأَرعَی النواظرَ فی النواضر الأصلیۃ، وأُوسّع التبلیغ بالألسن

    مقسوم ایشان کرد و جامہائے محبت خود نوشانیدہ پس نمے گیرد ایشانرا ذلت لغزش و نہ وبال معصیت و
    درحفاظت حق میباشند۔ وماکہ ایشا نرا مخاطب کردیم سبب آن بزرگی شان ایشان ست وصفائی وجدان ایشان
    ونیز ازینکہ ایشان تنگ ظرف نیستند وانگور ایمان ایشان حلاوتے دارد۔ تاباشد کہ ایشانرا خدا تائید کندو ایشان
    دربارہ ما از خدا الہام یابند و تاباشد کہ ایشان آن حقائق را بفہمند کہ دیگران نفہمیدہ اندوآن امور را بدانندکہ محجوبا ن ندانستہ
    اندو تابفراست ایمانی خود تدبر کنند۔ وتابا پرہیز گاری روحانی خود فکرے بکار برند وبرائے گواہی حق بخیر ند۔ تاکہ برجفا
    پیشگان وازحد گز شتگان حجتہ اللہ باشند۔ وتاکہ ہمہ عذر ہائے عذر کنندگان از دروغ گویان مردود و منقطع شوند
    و تاکہ ہر سخنے کہ پس از مردن من گفتہ شودآن ہمہ ہیچ و متلاشی گردد و راہ مجرمان ہوید ا گردد۔ وما دعامی کنیم کہ خدا خود
    او شانرا تائید کند و خود در دل ایشان القا کندو خود نگہبان شان باشد واز لغز شہادور دارد و آنچہ صلحاء را مید ہداو شانر ا دہد۔
    وہرگاہ کہ مقصود این بود کہ بر ہر پرہیز گارے و نیک نہادے آن امر حق ہویدا گردد کہ ما آوردیم گوآن
    مرد ازسرزمین قریب باشد یا ازبعید لہٰذا در دلم انداختہ شد کہ این مکتوب را در زبان عربی بنویسم و ترجمہ آن در
    فارسی کنم و نظارگیان را درچراگاہ اصلی سیر کنانم و بزبان ہائے اسلامیان تبلیغ را وسیع کنم


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 75
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 75
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/75/mode/1up
    75
    الإسلامیۃ، لیکون بلاغًا تامًّا للطالبین۔ فاعلموا یا معشر الکرام، وجموع
    أولی الأبصار والأفہام، أن اللّٰہ قد بعثنی مجدِّدًا علی رأس ہذہ الماءۃ،
    واختصّ عبدًا لمصالح العامّۃ، وأعطانی علومًا ومعارف تجب لإصلاح
    ہذہ الأمّۃ، ووہب لی من لدنہ علمًا حیًّا لإتمام الحجّۃ علی الکَفَرۃ الفَجَرۃ،
    وأعطانی ثمرًا غَضًّا طریًّا لتغذیۃ جِیاع المِلّۃ، وکأسًا دہاقًا لعُطاشی
    الہدایۃ والمعرفۃ، وجعلنی إمامًا لکل من یرید صلاح نفسہٖ، ویحبّ
    رضاء ربّہ، وجعلنی من المکلَّمین الملہَمین۔ وأکملَ علیّ نعمہ وأتمّ تفضّلہ
    وسمّانی المسیح ابن مریم بالفضل والرحمۃ، وقدّر بینی وبینہ تشابُہَ الفطرۃ
    کالجوہرَین من المادّۃ الواحدۃ، و وہب لی علومًا مقدّسۃ نقیّۃ، ومعارف
    صافیۃ جلیّۃ، وعلّمنی ما لم یعْلم غیری من المعاصرین۔ وصبّ فی
    قلبی ما لم یُحیطوا بہا علمًا، ونورًا لم یمسَّہ أحدٌ منہم وجعلنی من

    تابرائے طالبان این تبلیغ بمرتبہ کمال رسد۔ پس بدانید اے گروہ بزرگان و جماعتہائے صاحبان
    بصیرت وفہم کہ خدائے عزوجل مرا برسراین صدی مجدد مبعوث فرمودہ است وبندہ را برائے مصلحت عامہ
    خاص گردانیدہ است ۔ ومرا آن علوم ومعارف بخشید کہ برائے اصلاح این امت از واجبات
    اند ۔ ومرا علم زندہ بخشید تاکہ برکافران وفا سقان حجت تمام شود۔
    ومرا ثمرہ تازہ و تر عنایت کرد تاگرسنگانِ ملت را غذا دادہ شود ۔ وجامہائے پر بخشید تاتشنگان ہدایت و
    معرفت رانوشانیدہ شود۔ ومرا برائے ہرآن شخصے کہ صلاحیت نفس خود میجوید ورضائے رب خود مے خواہد
    امام گردانید ومرا از آنان گردانید کہ بشرف مکالمہ الٰہیہ مشرف می باشند۔ وبرمن نعمتہائے خود کامل کرد و تفضلات
    خود باتمام رسانید ونام من از فضل خود مسیح ابن مریم نہاد۔ ودرمن ومسیح ابن مریم تشابہ فطرت مقدر
    کرد۔ چنانچہ دو جوہر ازیک مادہ می باشند ومرا علوم مقدس ومصفا بخشید و معارف صاف و روشن
    عطا کرد و مرا چیزہا بیاموخت کہ غیر من از مردم ہم زمانہ من ازان ہا بیخبر اند۔ و در دل من معارفے
    بریخت کہ علم آن ازایشان احدے رانیست و در دل من نورے ریخت کہ ہیچ کس از ایشان بدان آشنائی ندارد


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 76
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 76
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/76/mode/1up
    76
    المنعَمین۔ ومِن أجلِّ آلاۂ أنہ استودعنی سرَّہ الذی یُکشف للأولیاء
    والروحَ الذی لا یُنفَخ إلا فی أہل الاصطفاء ، وأعطانی کل ما یُعطَی لأہل
    الموالاۃ و الولاء ، و صافانی و وافانی، و شرح صدری و أتم بدری، و أخبرنی
    بأکثر ما ہو مُزمِعٌ علیہ فی سابق علمہ، وصبّغنی بصبغۃ حُبّہ، وہدانی
    طرق إسلامہ وسِلمہ، وأخرجنی من المحجوبین۔ ومن آلاۂ أنہ وفّقنی لفعل
    الخیرات، وہدانی إلی الصالحات الطیبات، وأجری لطائف قلبی
    فأحسن إجراء ہا، وزکّی ینابیعہا وماء ہا، وأتمّ نورہا وصفاء ہا،
    وطہّر مجراہا وفِناء ہا، وبدّل أرضی غیر الأرض وجعلنی من المطہَّرین۔
    ومن آلاۂ أنہ وہب لی حُبَّ وجہہ حُبًّا جَمًّا، وصدقًا أکمل وأتمَّ، وسألتہ
    أن یہب لی حُبًّا لا یزید علیہ أحدٌ من بعدی، فأعلمُ منہ أنہ استجاب
    دعوتی، وأعطانی مُنیتی، وأحاطنی فضلا ورُحمًا، فالحمد للّٰہ أحسن المُحسنین۔

    و در انعام یا بندگان مرا داخل کرد۔ واز بزرگترین نعمتہائے او کہ برمن ارزانی داشت آن رازیست کہ در دل من امانت
    نہاد آن رازے کہ بر اولیاء مکشوف میگردد وروحے کہ دمیدہ نمی شود مگر دربرگزیدگان او۔ ومرا تمام آن چیزہا
    داد کہ اہل محبت رامیدہند وبامن محبت خالص کردو نزدم آمدو سینہء من کشاد و بدر من کامل کرد واز امور
    پوشیدہ علم ازلی خود مرا خبر داد۔ وبرنگ محبت خود مرا رنگین کرد۔ وطریق اسلام پسندیدہ
    خود مرا نمود۔ واز محجوبین مرا بیرون آورد۔ و از نعمتہائے او یکے این ا ست کہ مرا برائے کارہائے
    نیکو توفیق داد۔ وبسوئے اعمال پاک و صالح راہ نمود۔ و لطیفہ ہائے دل من باحسن طریق جاری کرد
    وچشمہ ہاو آب آن لطائف را پاک کرد و نور وصفاء آنہارا باتمام رسانید ومجریٰ و صحن آنہارا پاک گردانید و زمین مرا بزمینے دیگر تبدیل کرد۔ و مرا از پاک شدگان گردانید۔
    وازجملہ نعمتہائے او اینکہ مرا محبت روئے خود بسیار دربسیار بخشید و صدق اکمل و اتم عنایت کرد۔ و
    من از و خواستہ بودم کہ مرا محبتے بخشد کہ ہیچکس بعداز من بران زیادت نتواند کرد۔ پس من باعلام اومیدانم
    کہ او دعائے من قبول کرد وآرزوئے من مراد او و فضل و رحمت را برمن محیط کرد پس ہمہ ستائش او راست کہ


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 77
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 77
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/77/mode/1up
    77
    الحمد للّٰہ الذی أذہب عنی الحزن وأعطانی ما لم یُعطَ أحدٌ من العالمین۔
    وما قلتُ ہذا من عند نفسی بل قلتُ ما قال علی السماوات ربی، وما کان
    لی أن أتکبّر وأرفع نفسی، إن اللّٰہ لا یُحب المستکبرین، بل ہٰذا إلہام من حضرۃ
    العزّۃ، وأراد من العالمین ما ہو فی زماننا من الکائنات الموجودۃ فی الأرضین۔
    ومن آلاۂ أنہ علّمنی القرآن، ورزقنی منہ معارف تُجاوز الحدّ والحسبان
    لأذکّر الغافلین المنہمکین فی ہموم الدنیا الدنیّۃ، وأُنذِر قومًا ما أُنذرَ آباؤہم
    فی الأیام السابقۃ، ولأقیم الحجّۃ علی المجرمین۔
    ومن آلاۂ أنہ خاطبنی وقال: ’’أنت وجیہ فی حضرتی۔ اخترتُک لنفسی‘‘۔
    وقال: ’’أنت منی بمنزلۃ لا یعلمہ الخلق‘‘۔ وقال: ’’أنت منی بمنزلۃ توحیدی
    وتفریدی‘‘۔ وقال: ’’یا أحمدی، أنت مرادی ومعی۔ یحمدک اللّٰہ مِن عرشہ‘‘۔
    وقال: ’’أنت عیسی الذی لا یضاع وقتہ۔ کمثلک دُرٌّ لا یضاع۔ جَرِیُّ اللّٰہِ

    ازہر محسن نیکو تراست۔ ہمہ تعریفہا خدائے را کہ اند وہ من دور کرد ومرا چیزہا داد کہ از جہانیان احدے را مثل
    آن نداد۔ واین کلمہ از طرف خود نگفتم بلکہ ہمان گفتمکہ برآسما نہا خداوند من گفت۔ ومرا نمے سزد
    کہ تکبر کنم ونفس خود را بلند بردارم کہ خدا متکبران را دوست نمی دارد۔ بلکہ این الہام از حضرت
    عزت است و از عالمین مخلوقے را مراد داشت کہ درین زمانہ بر زمین موجودست۔
    و از نعمت ہائے اویکے این است کہ اومرا قرآن بیاموخت وآن معارف قرآنیہ نصیبہ ء من کرد کہ آن را حد وشمار
    نیست تاکہ من غافلان رایاد دہانم انانکہ درہموم دنیائے دون مستغرق اند وتاکہ من آنانرا بترسانم کہ آباء
    ایشان را ہیچ کس پیش از من نترسانیدہ است وتاکہ من حجت را بر مجرمان قائم کنم۔
    وازجملہ نعمتہائے اویکے این ست کہ او مرا مخاطب کرد و گفت کہ تو دربار گاہ من وجیہ ہستی ترا برائے خود پسندیدم
    و توازمن بمقامے ہستی کہ مخلوق رابعلم آن راہ نیست۔ وگفت توازمن بدان قربتے رسیدی کہ ہمچو توحید من
    و تفرید من گردیدی۔ وگفت اے احمد من تو مراد منی و بامنی۔ خدا از عرش خود ثنائے تو میگوید
    وگفت تو آن عیسیٰ ہستی کہ وقت او ضایع نہ خواہد شد و ہمچو تو لولوئے برباد شدنی نیست۔ فرستادۂ خدا


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 78
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 78
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/78/mode/1up
    78
    فی حلل الأنبیاء ‘‘۔ وقال: ’’قُلْ إنی أُمرتُ وأنا أول المؤمنین‘‘۔ وقال: ’’اصنَعِ الفُلْکَ
    بأعیننا وَوَحْینا۔ إنّ الذین یبایعونک إنما یبایعون اللّٰہ، ید اللّٰہ
    فوق أیدیہم‘‘۔ وقال: ’’وما أرسلناک إلّا رحمۃً للعالمین‘‘۔
    ومن آلاۂ أنہ لما رأی القسّیسین غالین فی الفساد، ورأی أنہم علَوا فی البلاد
    أرسلنی عند طوفان فتنہم وتراکُمِ دُجْنہم، وقال: ’’إِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِینٌ أَمِینٌ‘‘۔
    فجئتُ من حضرۃ العزّۃ وعَتبۃ الوحدۃ، عند شیوع الفتن والبدعات،
    وظہور المفاسد وَالسّیّءَات، وضعف المؤمنین المسلمین۔ وقد جرت
    عادۃ اللّٰہ الرحیم، وسُنّۃ المولی الکریم، أنہ یبعث مجدِّدًا علی رأس
    کل ماءۃٍ، فکیف إذا کان معہا طِباقُ ظلمۃٍ، وطوفان ضلالۃٍ،
    ألیس اللّٰہ أرحم الراحمین؟ وترون الناس کیف سقطوا فی ہُوّۃ النصاریٰ،
    وکیف تمایلوا علیہم کالسُّکاریٰ، وخرجوا من دین اللّٰہ المتین۔ أسمعتم

    درحلہ انبیاء۔ وگفت بگو کہ من مامورم ومن ازہمہ مومنان در اول مرتبہ ام۔ وگفت کشتی را روبروئے
    چشمان من طیار کن۔ انانکہ بتو بیعت می کنند بخدا بیعت می کنند دست خدا
    بردست ایشان است۔ وگفت ترا از بہر ہمیں غرض فرستادم کہ برتمام جہانیان رحمت کنیم۔
    واز جملہ نعمتہائے اویکے این ست کہ چوں پادریان رادید کہ در فساد خود غلومے کنند ودید کہ اوشان در ملک ہا
    تسلط پیدا کردہ اند مرا در وقت طوفان فتنہ ایشان فرستاد ودر زمان تہہ بتہہ بودن تاریکی ایشان مامور کرد۔
    وگفت بہ تحقیق تونزدمن مردے امین وبامرتبہ ہستی۔ پس من از حضرت عزت وآستانہ وحدت آمدم ووقتے آمدم
    کہ فتنہہا وبدعات درملک شایع بودند وفسادہاوبدی ہا غلبہ می نمودند ومومنان و مسلمانان درحالت
    ضعف بودند۔ وعادت خداوند رحیم وسنت مولائے کریم برین رفتہ است کہ اوبر سرہر صدی مجددے برپا میکند
    پس چگونہ درچنین زمانہ برپا نکند کہ چون سر صدی باشد ونیزبا او ظلمتہاتہہ بتہہ باشند وطوفانے از ضلالت
    موجود باشد آیا خدا ارحم الراحمین نیست و مردم رامے بینید کہ چگونہ درمغاک نصاریٰ افتادہ اند
    وچگونہ ہمچو مستان بریشان نگو نسار شدہ اند واز دین متین رخت خود بیرون کشیدہ اند۔ آیا شنیدہ آید کہ کسے


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 79
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 79
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/79/mode/1up
    79
    مَنْ جاء کم من دونی لإصلاح ہذہ الآفات، أو تظنّون أنہ نَسِیَ ہذہ الأمۃ
    عند تلک الصدمات؟ ما لکم لا تتفکرون، وتنظرون ثم لا تنظرون؟ أو
    غلبت علیکم ہموم أخری فلا تتوجّہون؟ کلا۔۔ إنّ اللّٰہ لا یُخلف
    وعدہ، ولا یُخزی عبدہ، فتفکروا إن کنتم متفکّرین۔
    أیہا الکرام۔۔ إن الفتن اشتدّت، والأرض فسدت، والمفاسد کثرت،
    وعلا فی الأرض حزب المتنصّرین۔ وقیل لہم مرارًا، لا تجعلوا مَیتًا إلٰہًا
    غفّارًا، واتّقوا اللّٰہ مُحاسبًا قہّارًا، فما خافوا اللّٰہ وأصرّوا علی کفرہم
    متشدّدین۔ ہنالک اقتضتْ أحدیّتُہ، وقضت غیرتہ، أن یکسر
    صلیبَہم، ویُبطل أکاذیبہم، ویوہن کید الخائنین۔
    فکلّمنی ونادانی وقال: ’’إنی مرسلک إلی قوم مفسدین، وإنی جاعلک
    للنّاس إماما, وإنی مستخلفک إکراما، کما جرت سُنّتی فی الأولین‘‘۔ وخاطبنی

    بجزمن از طرف خدا تعالیٰ برائے اصلاح این آفات آمد یا گمان می کنید کہ خدا تعالیٰ دروقت ہمچو این صدمات
    امت را فراموش کرد۔ چہ پیش آمد شمارا کہ فکر نمی کنید و بینید وباز نمی بینید۔ چہ برشما غمہائے دیگر
    غالب شدند کہ توجہ نمی کنید این چنیں گمان می کنید کہ خدا خلاف وعدہ خود
    بکند وبندہ خود را رسوا کند پس فکر کنید اگر فکر کنندگان ہستید۔
    اے بزرگان فتنہہا سخت شدند و زمین فاسد شد و مفاسد بسیار شدند و بر زمین گروہ نصرانی
    شدگان غلبہ یافت۔ وبارہا ایشان راگفتہ شد کہ مردہ را خدائے آمرزگار مسازید
    و از خدائے قہار بترسید کہ محاسبہ در دست اوست پس نترسیدند وبرکفر خود تشدد ورزیدند۔
    پس کارچون بدین حد رسید احدیت خدا وغیرت او تقاضا کرد کہ صلیب اوشان
    را بشکند و دروغ ہائے او شان را باطل کند و مکر خیانت پیشگان را سُست گرداند۔
    پس مرا ہمکلام خود کرد و ندا در داد کہ من بسوئے قومے مفسد ترا مے فرستم۔ وترا برائے مردم امام
    می گردانم۔ وترابہ خلافت خود اعزاز می دہم ہمچنان کہ در پیشنیان سنت من بودہ است۔ ومرا مخاطب


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 80
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 80
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/80/mode/1up
    80
    وقال: ’’إنک أنت منی المسیح ابن مریم، وأُرسلتَ لیتمّ ما وعَد من قبلُ ربُّک
    الأکرم، إن وعدہ کان مفعولا وہو أصدق الصّادقین‘‘۔ وأخبرنی أنّ عیسٰی
    نبی اللّٰہ قد مات، ورُفع من ہذہ الدّنیا ولقی الأموات، وما کان من الراجعین،
    بل قضی اللّٰہ علیہ الموت وأمسکہ، ووافاہ الأجل وأدرکہ، فما کان لہ أن ینزل
    إلا بروزًا کالسّابقین۔ وقال سُبحَانہٗ: ’’إنک أنت ہو فی حُلل البروز، وہذا ہو
    الوعد الحق الذی کان کالسرّ المرموز، فاصدَعْ بما تُؤمَر ولا تخَفْ ألسنۃَ الجاہلین،
    وکذالک جرت سنّۃ اللّٰہ فی المتقدمین۔ فلما أخبرتُ عن ہذا قومی، قامت
    علماؤہم لِلَعْنی ولَوْمی، وکفّرونی قبل أن یحیطوا قولی، ویَزِنوا حولی، وقالوا
    دجّال ومن المرتدّین۔ وسلّطوا علیّ أوقَحَہم وأدَمَّہم، وحرّقوا علیّ أرَمَّہم کالسّباع
    والتنّین۔ فتَکَادَنی شرُّہم وتضوّرتُ، وغلوا وصبرت، واستباحوا أعراضنا
    ودماء نا وکانوا فیہ من المفرِطین۔ وقال کبیرہم الذی أفتٰی، وأغوی الناس
    کرد وگفت کہ توازمن و از ارادہ من مسیح ابن مریم ہستی وفرستادہ شدی تاآن وعدہ باتمام رسد کہ رب
    بزرگ تو درایام پیشین کردہ است کہ وعدہ رب توشدنی بود و او ازہمہ راست گویان راست گو تراست۔
    ومرا خبرداد کہ عیسیٰ نبی اللہ وفات یافتہ است وازین دنیا برداشتہ شدہ و بآنان پیوست کہ فوت شدہ اند
    وباز در دنیا نخواہد آمد بلکہ خدا برو حکم موت نافذ کرد واز باز آمدن نگہ داشت وآمد او را اجل مقدر پس نماند
    برائے او این گنجائش کہ باز در دنیا آید مگر بطور بروز چنانچہ پیشینیان آمدند وگفت مرا او سبحانہ کہ توئی مسیح
    درپیرایہ بروز۔ واین ہمان وعدہ حقہ است کہ بطور راز واشارہ گفتہ شدہ بود۔ پس ہر فرمانے کہ ترا میر سد بلا پردہ
    بمخلوق برسان و از ز با نہائے جاہلان غم مدار کہ ہمچنینسنت خدا درپیشینیان رفتہ است پس ہرگاہ کہ من پیغام بقوم
    رسانیدم علماء ایشان بہ *** و ملامت برخاستند۔ وپیش ازان کہ برگفتہ من احاطہ کنند وطاقت مرا
    وزن کنند تکفیر من کردند وگفتند دجالے ست مرتد وبرمن آن ناکسے را مسلط کردند کہ از ہمہ دربیحیائی وزشت روئے
    سبقت میداشت وبرمن ہمچو درندگان واژدہا دندان خود بسائیدند پس شرارت ایشان مرا گران آمد و پریشان
    خاطر شدم و غلو کردند و صبر نمودم و عزتہائے ما را وخونہائے مارا مباح پنداشتند و از افراط کنندگان بودند۔ و


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 81
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 81
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/81/mode/1up
    81
    وأغری إنّ ہؤلاء کَفَرۃ فَجَرۃ، فلا یسلِّم علیہم أحد، ولا یتبع جنازتہم، ولا یُدفَنوا
    فی مقابر المسلمین۔ فلما رأیتہم کالعمین المحجوبین، ورأیت أنہم جاوزوا الحدّ
    وآذوا الصادقین، ألّفتُ لہم کتبا مفحمۃ ورسائل نافعۃ للطالبین۔ فما کان
    لہم أن یستفیدوا أو یقبلوہا وما کانوا متدبرین۔ وقاموا للردّ فلم یقدروا
    علیہ، وصالوا للإہانۃ فردَّہا اللّٰہ علیہم، فجلسوا متندمین۔ وعاندوا کل العناد،
    وأفسدوا کل الفساد، وحسبوا أنہم من المصلحین۔ وإن غُلُوَّہم الآن کما
    کان، وما لہم عندی إلا المداراۃ والإدراء ، والصّبر والدعاء ، وإنا نصبر إلی أن
    یحکم اللّٰہ بینی وبینہم وہو خیر الحاکمین۔ وما کان عندہم عذر إلا
    قطعتُہ، وما شکّ إلا قلعتُہ، وما کانت دعوتی إلاَّ بنصوص الآثار وکتاب
    مبین۔ ولیسوا سواءً من العلماء والفقراء ، فمنہم الذین یخافون حضرۃ
    الکبریاء ، ولا یَقْفُون ما لیس لہم بہ علم ویخشون یوم الجزاء ،

    بزرگ ایشان کہ فتوائے کفر داد و مرد مان را اغوا کرد وچون سگان برمن تیز کرد۔ وگفت کہ این مردم کافر و فاجر اند
    پس نمی باید کہ مسلمانے ایشان را السلام علیکم بگوید یا باجنازہ ایشان را رود و باید کہ ایشان را در گورستان مسلمانان
    دفن کردن ندہند۔ پس چون دیدم کہ این مردم نابینا ومحجوب ہستندو دیدم کہ اوشان ازحد درگزشتند وصادقان را
    ایذا می رسانید ند برائے ایشان کتابے چند نوشتم و رسائل تالیف کردم کہ طالبان رامفید باشند مگر ایشان چنان نبودند
    کہ ازان کتابہا مستفید شوند یا آنہارا قبول کنند وہمہ خرابی این بود کہ تدبرنمے کردند وخواستند کہ این کتابہا راردّ
    بنویسند پس مجال ردّ نیا فتند و باز بدین غرض حملہ ہاکردند کہ عزت مارا برباد دہند لیکن خداوند قادرآن حملہ ہائے ایشان
    ہم بریشان انداخت پس بشرمساری نشستند وتمامتر عناد و تمام تر فسادبجا آور دند و گمان کردند کہ مامصلح ہستیم وکنیکینۂ اوشان
    تاایندم ہم چنان ست کہ بود وبرائے شان نزدمن بجز مدارات واگاہانیدن وصبر و دعا چیزے دیگر نیست وما صبر خواہیم کرد تا وقتیکہ خدا
    در ما و در ایشان فیصلہ کندو او بہترین فیصلہ کنندگان ست۔ وہیچ عذرے نزد ایشان نماند کہ آنرانبریدم ونہ شکے کہ قلع و قمع آن نہ کردم۔ ودعوت
    من امرے بودکہ برنصوص قرآنیہ و حدیثیہ بنا میداشت۔ وعلما و فقرا ہم یکسان نیستند بعض از ایشان قومی ہستند کہ از حضرت
    رب العزۃ مے ترسند وبر چیزے اصرار نمی کنند کہ بران علم یقینی ندارند و از روز جزا مے ترسند۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 82
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 82
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/82/mode/1up
    82
    ویفوّضون الأمر إلی اللّٰہ ذی الجلال والعلاء ، ویقولون ما لنا أن نتکلم فی ہٰذا
    وما أوتینا علم عواقب الأشیاء ، إنا نخاف أن نکون من الظالمین۔ أولئک
    الذین اتقوا ربہم فسیہدیہم اللّٰہ، إنہ لا یضیع الخاشعین۔ وأما الذین لا
    یخشون اللّٰہ ولا یترکون سبل الأہواء ، ویُخلِدون إلی خبیثات الدنیا و
    لا تبالی قلوبہم عالَمَ القدس والبقاء ، ولا یرون ما یخرج من أفواہہم من کلمات
    الکبر والخیلاء ، ولا یعیشون عیشۃ الأ تقیاء ، ویجعلون الدنیا أکبر ہمِّہم،
    والبخل أعظم مقاصدہم، ویمشون فی الأرض مشی المرح والاعتداء ،
    فأولئک الذین نسوا أیام اللّٰہ ومواعیدہ ویئسوا من یوم الصّادقین،
    واختاروا سبیل المفسدین۔ لا یزہَدون فی الدنیا ویموتون للفانیات،
    ولا یتحلّون بحُلِیِّ العفّۃ والتقاۃ، وحسنِ الخلق ورزانۃ الحَصاۃ، ولا یدخلون
    الأمور بالقلب المزؤود، ویجترؤون علی محارم اللّٰہ والحدود، فلمّا

    وامرا را بہ خدائے عزوجل سپرد می کنند۔ ومیگویند کہ مارا نشاید کہ درین گفتگو کنیم۔ ومارا علم عواقب
    اشیاء ندادہ اند۔ مامے ترسیم کہ از ظالماں نشویم۔ این آن گروہ است
    کہ ازخدائے خود مے ترسد۔ پس قریب است کہ خدا ایشان را ہدایت دہد۔ چرا کہ او بندگان فرو تن را ضائع نمی کند
    مگر آنانکہ از خدانمی ترسند وراہ ہائے حرص وہوارا ترک نمی کنند وسوئے پلیدی ہائے دنیا میل میدارند وبرائے
    عالم قدس وبقا در دل شان ہیچ پروائے نماندہ۔ ونمے بینند کہ چگونہ کلمات تکبر وناز از دہن شان بیرون مے آید
    وچون پرہیز گاران زندگی نمے کنند۔ ودنیارا بزرگتر مقصود قرار دادہ اند
    و بخل از اعظم مقاصد ایشان است و برزمین می روند ہمچو رفتن تکبر و تجاوز کردن۔
    پس این مردم کسانے اندکہ روز ہائے خدارا ووعدہ ہائے اور افراموش کردہ اند۔ واز روز صادقین نومید شدند۔
    و راہ مفسدان گرفتند۔ وبرکمی دنیا قناعت نمے کنند وبرائے چیز ہائے فانی مے میرند۔
    و بزیور عفت وپرہیز گاری آراستہ نمے شوند۔ و بحسن خلق ودرستی عقل خود رانمی آرایند۔ ودرکارہا بدل
    ترسان داخل نمے شوند و بر محرمات وحدود خدا دلیری مے نمایند۔ پس چونکہ


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 83
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 83
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/83/mode/1up
    83
    زاغوا أزاغ اللّٰہ قلوبہم، وختم علی آذانہم، فصاروا من المحرومین۔ وإذا
    قیل لہم آمِنوا بما ظہر من وعد اللّٰہ، قالوا: أین ظہر وعد اللّٰہ؟ وما نزل
    ابن مریم وما رأینا أحدًا من النازلین، بل إنا نحن من المنتظرین۔ وہم یقرأون
    کتاب اللّٰہ ثم ینسون ما قرأوا، ولا یتدبرون کَلِمَ اللّٰہ بل ینبذونہا وراء
    ظہورہم، وما کانوا ممعِنین۔ والعجب کل العجب أنہم یقولون إنا آمنّا
    بآیات اللّٰہ ثم لا یؤمنون، ویقولون إنا نتبع صحف اللّٰہ ثم لا یتبعون۔ ألا یقرأون
    فی الکتاب الأعلی ما قال اللّٰہ فی عیسٰی إذ قال: یَا عِیسٰی إِنِّی مُتَوَفِّیکَ، وقال: فَلَمَّا
    تَوَفَّیْتَنِی، وما قال: ’’إنی مُحْیِیک‘‘۔ فمِن أین عُلِمَ حیاۃ المسیح بعد موتہ
    الصریح؟ یؤمنون بأنہ لقی الأموات، ثم یقولون ما مات۔ تلک کلمٌ متہافتۃ
    متناقضۃ، لا ینطق بہا إلا الذی ضلت حواسّہ، وغرَب عقلہ وقیاسہ،
    وترَک طریق المہتدین۔ یا أسفا علیہم ! إنہم اتفقوا علی الضلالۃ جمیعًا، و

    کج شدند لہٰذا خدا دل ایشان راکج کرد۔ وبرگو شہائے ایشان مہرنہاد و پس از محرومان شدند۔ وچون
    ایشان را گفتہ شود کہ باآنچہ ظاہر شد از وعدہ خدا ایمان آرید۔ میگویند کجا ظاہر شد وعدہ خدا و تا ہنوز ابن مریم
    نازل نشدو نہ ماکسے رافرود آیندہ دیدیم۔ بلکہ ما از منتظران ہستیم۔ وایشان کتاب اللہ
    رامیخوانند وبازہمہ خواندہ را فراموش می کنند و در کلمات الٰہیہ تدبر نمی کنند بلکہ آنرا پس پشت خودمی اندازند
    و بنظر تامل نمے نگرند۔ و اعجب العجائب این امراست کہ ایشان میگویند کہ مابہ آیات الٰہی
    ایمان آوردیم وباز ایمان نمی آرند۔ ومیگویند کہ صحف الٰہی را پیروی میکنیم و باز پیروی نمی کنند۔ آیا نمی خوانند
    در قرآن شریف کہ چہ گفت خدا دربارہ عیسیٰ ہرگاہ کہ گفت کہ اے عیسیٰ من ترا وفات دہندہ ام۔ وگفت عیسیٰ ہرگاہ
    کہ مرا وفات دادی۔ واین نگفت کہ اے عیسیٰ من ترا زندہ کنندہ ام پس از کجا حیات مسیح دانستہ شد
    بعدازان کہ بمرد۔ ایمان می آرند کہ عیسیٰ بگذشتگان پیوست و باز میگویند کہ عیسیٰ نمردہ است۔ این کلمات ازیکدگر
    نقیض و متناقض افتادہ اند۔ این چنین کسے گوید کہ حواس اوبجا نباشد وعقل وقیاس اوقائم نماند۔ وطریق
    ہدایت یافتگان ترک کند۔ برایشان افسوس کہ این مردم ہمگنان طریق ضلالت اختیار نمودند و در کلام


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 84
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 84
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/84/mode/1up
    84
    خلّطوا فی الکلام تخلیطًا شنیعًا۔ فکیف نقبل قولہم الذی یخالف القرآن؟
    وکیف نسلّم وَہْمَہُم الذی لا یشفی الجَنان؟ أنقبل خرافاتہم التی لیست
    معہا حجۃ قاطعۃ، ولا دلائل مقنعۃ واضحۃ؟ أیصدر مثل ذالک مِن
    رجل یخاف الرحمٰن، ویتقی الضلالۃ والخسران؟ ألیس مِن بعد ہذہ الدنیا
    یوم الدّین؟ وہل ترون یا معشر الأشراف، أن نقبل أمانیّہم ونعدل عن
    خطۃ الإنصاف، أو نتبع غرورہم وجہلہم وخدعہم بعد ما أرانا اللّٰہ صراطًا
    مستقیمًا، ورزقنا نہجًا قویمًا، وعلّمنا سبل العارفین۔ وکم من أمور أُخفیتْ
    علی الناس حقائقہا، وسُترتْ حِکمہا ودقائقہا، ثم کُشفتْ علی رجال آخرین
    خفایاہا، وفہّمہم اللّٰہ أضلاعہا وزوایاہا۔ إنہ یُظہِر علی غیبہ من یشاء ،
    ویفتح عین من یشاء ویجعل من یشاء من الغافلین۔
    ألیس اللّٰہ بقادر علی أن یجتبی مثلی بعنایتہٖ، ویعطی درایۃً من درایتہٖ؟

    آمیز شے بد کردند۔ پس ما چگونہ چنین سخنے را قبول کنیم کہ مخالف قرآن افتادہ است۔ و
    چگونہ آن وہم ایشان رامسلّم داریم کہ دل را تشفی نمی دہد۔ آیا چہ قبول کنیم۔ آن خرافات
    ایشان کہ باآنہا حجتے قاطعہ نیست ونہ دلائل واضح تسکین دہندہ۔ آیا چنین حرکتے ازان کس صادر
    می نواند شد کہ از عقوبت خدا می ترسد واز مواضع گمراہی وزیان کاری خود رانگہ میدارد آیا چہ بعد از گزشتن
    این دنیا روز جزا نیست۔ واے معشر بزرگان آیا مناسب می بینید کہ ماآرزوہائے ایشان را قبول کنیم و از
    جائے انصاف درگزریم یا ما غرور وجہل ومکر ایشان را پیروی کنیم بعد ازانکہ خدا مارا راہ راست نمود واز طریق
    مستقیم روزی داد و راہ عارفاں تعلیم کرد۔ وبسیارے از حقائق چنیں ہستند کہ بر
    عامہ مردم پوشیدہ داشتہ شدند۔ وبرایشان حکمت ہائے امور وباریکی آنہا مستور بماند۔ بازآن باریکی ہا برمردم
    دیگر مکشوف شدند وخدا اوشان را ازتمام اضلاع و گوشہ ہائے آن چیزہا اطلاع داد چرا کہ خدا ہر کرا خواہد بر
    امور غیبیہ خود مطلع مے فرماید و ہرکرا میخوا ہدچشم بینامی بخشد وہرکرا میخواہد از غافلاں میدارد۔
    آیا خدا برین قادر نیست کہ ہمچو منے رابعنایت خود سوئے خود کشد و از علم خود علمے بخشد۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 85
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 85
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/85/mode/1up
    85
    وللّٰہ أسرارٌ فی أنباۂ، وحِکم تحت قضاۂٖ، وإن فی أقوالہ حِکم روحانیۃ
    تضلّ عندہا عقول الفلاسفۃ، ولا یُظہِر علی غیبہ أحدا إلا الذی طہّرہ
    بید القدرۃ، أأنتم تحیطون أسرارہ أو تجادلونہ معترضین؟ وکم من
    الصلحاء رغبوا فی أن ینظُروا مَن أنتم تنظُرون، ویجدوا ما أنتم تجدون
    فلَمْ یتّفق، حتی مضوا بسبیلہم وماتوا متأسّفین۔ ثم جاء اللّٰہ بکم
    وأقامکم مقامہم، فأدرکتم وقتا ما أدرکوہ، وآنستم عبدًا ما آنسوہ۔ فاشکروا
    اللّٰہ الرحمٰن، الذی مَنّ علیکم وأسبغ الإحسان، وخذوا نعم اللّٰہ ولا تعرضوا
    عن قبولہا، ولا تردّوا نعمۃ اللّٰہ بعد نزولہا، ولا تکونوا أول المعرضین۔
    و اتقوا یا معشر الکرام سُخْطَ اللّٰہ العزیز العلاَّم، ولا تعاندوا ولا تستعملوا
    البُہْتَ وسوءَ التمیّز کالعوامّ، وقوموا للّٰہ شاہدین۔ وانظروا أیّدکم
    اللّٰہ نظرًا شافیا، وأمعِنوا إمعانًا کافیًا، بالفراسۃ الإیمانیۃ، والرؤیۃ الروحانیۃ
    وخدا را دراخبار خود رازہاست و درحکم ہائے خود حکمت ہاست۔ و درکلمات او آنچنان حکمت ہائے روحانیہ است
    کہ درآنجا عقول فلاسفہ را خود گم می کنند۔ وبرغیب خود ہیچ کس را آگہی نہ بخشد بجز کسے کہ بدست خود
    او را پاک کردہ باشد۔ آیا شما بر راز او احاطہ دارید یا بطور معترضان بد وپیکار میکنید۔ وبسیار نیکوکاران
    بودند کہ رغبت کردند کہ بینند آنچہ شمامے بینند مگر نہ دیدندورغبت کردند کہ بیابند آنچہ شما یافتہ اید مگر نیا فتند تاآنکہ براہ خود از دنیا برفتند ودرحالت افسوس بمردند۔ باز خدا شمارا آورد وبجائے شان
    شمارا قائم کرد پس شماآن وقت را یافتید کہ ایشان نیا فتند و آن بندہ رادیدید کہ ایشان ندیدند پس آن
    خدارا شکر کنید کہ برشما احسان کرد واحسان خود برشما تمام کرد۔ پس بگیرید نعمت ہائے خدارا و
    کنارہ مکنید۔ ومنت خدارا رد نکنید۔ بعدزان کہ برشما فرود آورد و اولین اعراض کنندگان نباشید
    وائے معشر بزرگان از غضب خدائے بزرگ و دانائے راز بپرہیزید۔ ومعاند حق نباشید۔ و دروغ و
    بے تمیزی راہمچو عوام استعمال نکنید وبرائے خدا بحیثیت شاہدان برخیزید۔ وبہ بینید ایدکم اللہ
    بہ نگاہ شافی وبامعان کافی از روئے فراست ایمانی و رویت روحانی چرا کہ اولیاء اللہ از ہر کجی


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 86
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 86
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/86/mode/1up
    86
    فإن أولیاء اللّٰہ یُعصَمون مِن کل زیغٍ وَمَیلٍ، ولا یشوب مَعینَہم غثاءُ
    سیل، وتحفظہم عین اللّٰہ مِن طُرق الضالین۔ أترون دلیلًا، یا معشر
    الصّلحاء ، فی أیدی الأعداء لنقبَلہ منہم من غیر الإباء ، وننقاد لہم فیہ
    کالخدماء التابعین؟ فإنا لا نعاند الحق إذا تجلّی، ولا نردّہ من حیث أتٰی،
    ونعلم أن الحکمۃ ضالّۃ مَن تزکّٰی، فنأخذہا ولا نأبٰی، ونعوذ باللّٰہ أن
    نکون من الجاہلین۔
    وقد علمتم یا معشر الأعزۃ، أنّ ’’مالِک‘‘ الذی کان أحد من الأئمّۃ الأجلّۃ، کان
    یعتقد بموت عیسٰی، وکذٰلک ’’ابن حزم‘‘ المشہود علیہ بالعلم والتقویٰ،
    وکذلک کثیر من الصالحین۔ فما کنتُ بدعًا فی ہٰذا وما کنت من المتفردین۔
    وما جئت فی غیر وقتٍ، ألا تعرفون وقت المجدِّدین؟ ألا ترون أن السماء للرَجْع
    تہیّأتْ، والأرض أَجْعَلتْ؟ وکانتا رَتْقًا فالأرض فُتِقتْ، ثم السّماء فُتِحتْ، و

    میل نگہ داشتہ مے شوند و آب روان ایشان را خس و خاشاک سیل نمے آمیزد۔
    و چشم خدا ایشان را ازراہ ہائے گمراہان نگہ میدارد۔ اے گروہ صالحاں چہ شما در دست
    مخالفان دلیلے مے بینید تا ما بغیر انکارے آن دلیل را قبول کنیم وہمچو خادمان فرمانبردار
    شویم۔ چرا کہ ما باراستی چون ظاہر شود عناد نداریم۔ وآنرا رد نکنیم ازہر جاکہ بیاید
    ومیدانیم کہ حکمت مالے گمشدہ از ملک پاک اندرونان ست پس میگیریم وانکار نمی کنیم و پناہ بخدا
    مے بریم و از اینکہ از جاہلان باشیم۔
    و اے معشر عزیزان شمارا معلوم است کہ مالک رضی اللہ عنہ باآن ہمہ جلالت شان کہ در اَئمہ میداشت بموت
    عیسیٰ علیہ السلام قائل بود۔ و ہم چنین ابن حزم رضی اللہ عنہ باہمہ علم و تقویٰ کہ بران شہادتہائے علماء ربانی ست
    میگفت کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات یافتہ است وہم چنین بسیارے از صالحین برہمین مذہب گذشتہ اند۔ پس من
    اول آن شخص نیستمکہ این بدعتے برآوردہ باشد و درآن تفردے دارد۔ و من بیوقت نامدم۔ آیا وقت مجددان را
    نمی دانید۔ آیا نمی بینید کہ آسمان برائے باریدن طیار شدہ است وزمین برائے قبول آن استعدادے پیدا کردہ۔و پیش ازین


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 87
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 87
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/87/mode/1up
    87
    الکلمۃ تمّتْ، فقوموا وانظروا إن کنتم ناظرین۔ وما کان اللّٰہ أن یخلف وعدہ
    وإنہ أصدق الصّادقین۔ وللّٰہ دقائق فی أسرارہ، واستعارات فی أخبارہ،
    أأنتم تحیطونہا أو تنکرون کالمستعجبین؟ وکم من أفعال اللّٰہ سُترتْ
    حقائقہا، وشُوّہ وجہُہا وأُخفِیَ حدائقہا، ودُقّقت لطائفہا ودقائقہا، حتی
    ضلّت عندہا عقول العاقلین، وعجز عن إدراکہا فکر المتفکرین۔ وأنتم
    تعلمون أن شأن أقوال اللّٰہ لیس متنزلاً من شأن أفعال اللّٰہ، بل ہما من
    منبع واحد، وأحدہما للآخر کشاہد۔ فتلک من الوصایا النافعۃ للطالبین،
    أن ینظروا إلی أفعال اللّٰہ متأملین، ثم یقیسوا الأقوال علی الأفعال متدبرین،
    فإن إمعان النظر فی النظائر من أقویٰ مجالب العلوم، وأشدّ وطأً
    للأوہام التی تعصِف کالسموم، فلأجل ذلک رأینا أن نکتب ہٰہنا بعض
    أفعال الربوبیۃ، الذی تحیرت فیہا عقول الفلاسفۃ، فأضاع أکثرہم الصراط
    ہر دو بستہ بودند۔ پس زمین شگافتہ شد و آسمان کشادہ شد۔ و وعدہ حق باتمام رسید۔ پس برخیزید و بہ بینید اگر
    شما بینا ہستید۔ و خدا چنان نیست کہ خلاف وعدہ خود کند چرا کہ او از ہمہ راست گویان راست گو تراست وخدا را
    در رازہائے خود باریکی ہاست و در اخبار خود استعارات دارد۔ آیا چہ شما احاطہ آن کردہ آید یا ازروئے تعجب
    انکار می کنید و بسیارے ازکار ہائے خداتعالیٰ ست کہ حقائق آن پنہان داشتہ شد و روئے شان زشت کردہ شدو باغہائے شان پوشیدہ
    داشتہ شد و لطائف آن بسیار باریک کردہ شد بحدیکہ عقل عاقلان در آنجاگم شد۔ و از دریافت آن فکر پژدہندگان
    فرو ماند۔ و شما میدانید کہ شان اقوال الٰہی از شان افعال الٰہی کمتر نیست۔ بلکہ آن ہر دو از چشمۂ
    واحد بیرون مے آیند ویک دیگر را بطور گواہ ہستند۔ پس این ذکرے کہ ماکردیم برائے جویندگان وصایا
    نافعہ است۔ وبرایشان لازم است کہ در افعال الٰہی بچشم تامل نظر کنند۔ باز اقوال را برافعال قیاس کنند۔
    چراکہ نظائر رابامعان نظر دیدن چیزے ست کہ بدان ترقیات علم متصورست۔ ونیز این طریق برائے فرو کوفتن آن
    وہم ہاکہ ہمچو باد سموم می وزند اثرے قوی دارد پس از ہمین وجہ مناسب دیدیم کہ درین جا بعض آن افعال ربوبیت
    بنویسیم کہ درآن عقول فلاسفہ را حیرتے پیش آمدہ است۔ پس اکثرے ازیشان گمراہ شدند


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 88
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 88
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/88/mode/1up
    88
    وما کانوا مہتدین فمنھا ما یوجد تفاوُت المدارج فی أفعال الرب الکریم، والمولی
    الرؤوف الرحیم، لأنہ خلق مخلوقہ علی تفاوُت المراتب، فجعل قوما مورد المراحم،
    والآخرین محلّ المعاتب، وما جعلہم فی شأنہم متحدین۔ مثلا إنکم ترون
    امرأۃ تموت بعلہا ویترکہا حاملۃ ضعیفۃ، فترٰی حولہا نکبۃ ومصیبۃً،
    لا یُوحِّم أحدٌ وِحامَہا، ولا یحصل لہا لطرفۃ عین مَرامُہا، ولا تجد طَمْرًا للارتداء ،
    ولا تمرًا للاغتذاء ، بل لا یحصل لہا جَوْبٌ تستر بہا صدرہا، فتقصد عاشبۃً
    و تجعَل کمِجْولٍ جُدَرَہا، تَکنَبُ یداہا من الرحٰی، والمُخَدَّمۃ تُجرَح من شوک الفلا،
    وتعیش کإماء الظالمین۔ ثم تَخدُجُ وتلِد صبیًّا نَغّاشًا مقصوعًا أعمی ناقِصَ الخِلْقۃ،
    بعد شدّۃ المخاض وضِیق النفس والکُربۃ۔ فیری الصبیُّ مِن ساعۃ تولُّدہ
    أنواعَ المحن والصعوبۃ، لا یحصُل خُرْسۃٌ لاءُ مِّہ النُفساء ، لیزید لبنہا ویکفی
    للاغتذاء ، فیمصّ ثدیہا ثم یترک قبل الحَساء ۔ ولما بلَغ أشُدَّہ وبلغ الحُلم

    وچنان افتادند کہ ہدایت نصیب نہ شد۔ پس آن کارہائے خدا تعالیٰ کہ موجب ضلالت ایشان شدند یکے از انہا تفاوت
    مدارج است۔ چرا کہ خدا تعالیٰ مخلوق خود را بر تفاوت مراتب پیدا کرد۔ و قومے را در دنیا مورد رحم و قومے
    دیگر را محل غضب گردانید۔ وہمہ دنیا را برحالے واحد نداشت۔ مثلاً شما مے بینید کہ زنِ
    میباشد کہ شوہر او برسرش نمی ماند ومی میرد و او را حاملہ ضعیفہ میگذارد۔ وچنان بیکس مے افتد کہ کسے آرزو ہائے
    بارداری او برائے او مہیا نمی کند۔ وہیچ مقصد او او را میسر نمی گردد۔ وچادرے کہنہ نمی یا بد کہ تابدان ستر خود بپوشد
    و نہ یک دانہ خرما کہ خوراک کند۔ بلکہ برائے پوشیدن سینہ خود سینہ بند نمے یا بد۔ واز زمین گیاہ ناک دستہ گیاہے
    میگیرد و بدان سینہ خود را می پوشد۔ و از آسیا گردانیدن ہر دو دست او متورم میشوند۔ و از خارہائے بیابان
    جائے خلخال او مجروح میگردد بازیک بچہ ناقص می آورد کہ کوتاہ قد و نابینا و ناقص الخلقت می باشد
    واین ہم بعد شدت درد و تنگی نفس و سخت بیقراری بظہور می آید۔ وآن پسر کہ زائیدہ است ازوقت تولد
    خود محنت ہائے انواع واقسام مے بیند۔ و مادرش را غذائے زچگان میسر نمی گردد تاشیر زیادہ گردد و برائے
    خوراک بچہ کافی باشد۔ پس پستانش رامی مکد و پیشتر زانکہ شکمش سیر شود باز می ایستد۔ وچون بلوغ را میرسد


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 89
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 89
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/89/mode/1up
    89
    التامّ وأکمل الأیام، یدخل فی الغلمان والخدام، ویستخدمہ شَکِسٌ زُعْرُورٌ من
    اللئام، أو یؤخذ قبل البلوغ ویباع کالأنعام؛ ثم یحمِل متاعب الخدمۃ
    مع شوائب الوحدۃ۔ وقد یُلجِۂ صفرُ الید إلی کافرٍ سَمّادٍ لطلبِ سَدادٍ، فیأتیہ
    کسَجّادٍ ولو کان أبا فرعون وشدّادٍ، فیدخل فی خَدَمہ کالعبید من العَوز
    المُبید۔ وربما یسبّہ مولاہ ویضربہ، أو یدیر علیہ عصاہ فیُجنُبہ، ویؤاخذہ
    علی أنہ لِمَ غاب لطرفۃ عین أو فرَّ، وہو إذ ذاک صبیٌّ أبلَہُ لا یعلم الخیر
    ولا الشر، ویقال مثلا: أَخْثِ فی الثفیّۃ، فإنْ لم یُحْسِنِ الفِعلَ فیلطمون
    أو یَتَہرَّون علی الخطیّۃ، ولا یرضون بأن یأکل، وأکلُہ یُغضِب المحفلَ
    ولو أکَل أدنی الطعام وطَہْفَلَ، ویفتّشون النَطَفَ، ولا یوجد مَن عطَف۔ فیلقَی
    مِن کل جہۃٍ التَرَحَ والبَرَحَ، ولا تلقیالفَرَحَ، فقد یُضرَب علی سَحْقِ الأبازیر علی المِداک،
    وقد یُلطَم علی مکثٍ فی الاستتاک۔ یؤتونہ ما خلَف من کُدادۃِ المطعومات،

    وجوان می گردد وروزہائے خوردسالی را باتمام می رساند در نوکران و چاکران داخل کردہ میشود۔ وشخصے
    نہایت بدخو شریر النفس او را خدمتگار خود میگرداند۔ یا قبل از بلوغ ہمچو چار پایان فروختہ میشود باز تکالیف
    خدمت را باکدورتہائے تنہائی می بر دارد۔ و گاہے تہیدستی او بسوئے کافرے سرکش میکشد تا قوت خود حاصل
    کند۔ پس ہمچو سجدہ کنندگان پیش او می آید۔ اگرچہ او پدر فرعون و شداد باشد۔ پس ہمچو غلامان در خادمان او
    داخل میشود۔ واین ہمہ بباعث درویشئے کہ ہلاک کنندہ می باشد پیش می آید۔ وبسااوقات آقائے او
    او را میزند۔ وعصائے خود بار بار برو فرو می آرد۔ بحدیکہ استخوان ہائے پہلوے او رامی شکند۔ واو را سخت میگیرد کہ
    چرایکدم از پیش او غائب شد وبگریخت۔ حالانکہ او دران زمانہ طفلی سادہ لوح است کہ نیک و بد را نمی شناسد
    و اورا مثلاً میگویند کہ زیر دیگدان اُپلہ بنہ۔ وچون این کار رانیکو نکند پس برروئے او طمانچہ مے زنند یا ازین خطا
    بعصا او را مجروح مے کنند۔ و راضی نمے شوند کہ چیزے بخورد و خوردن او مردمان محفل را در غضب مے آرد
    اگرچہ ادنیٰ طعام بخورد۔ و اگرچہ برار زن ہمیشہ کفایت کند۔ ونخواہد کہ مدت العمر بجزنان ارزان چیزے دیگر خورد
    و ہردم درعیب گیری او مشغول میباشند۔ و کسے نمی باشد کہ برو مہربانی کند۔ پس از ہر سو غم و


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 90
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 90
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/90/mode/1up
    90
    وبلغ إلی الإیْہات، أو یترکونہ جائعًا کالصّائمین۔ یشرب من بالوعۃ
    یجتنِبہا الدواب، ویأکل من متأبّسات یأنَف منہا الکلاب، إذا أجدب
    المُلک فہو أول الأغراض، وإذا نزل وباءٌ فہو مورّد الأمراض۔ وإذا
    بُدِءَ الأطفالُ فہو کعصفٍ مأکول، وإذا أَبْدَؤوا فہو بَقِیَ کمخدول، لا یقدر
    علی أکل العَضاض، وإذا جُرِحَ فلا یَظہر أریکۃُ الجُرْحِ، ولا یَظہر لحمٌ
    صحیحٌ بعد القرح۔ وقد یؤمر لکسح الکِناسۃ، أو لغسل الکاسۃ، فیُضرَب
    علی خطاء قلیل من الخباثۃ، وقد یُجعَل حَمولۃً لأحمالٍ، فلا تبکی علیہ
    عینٌ بدمع ہمال، بل یحمل مرارًا أثقالا فیجری دمہ کالحائض، ویُعْدُونہ
    علی أرض دمثۃٍ کالمُہر تحت الرایض، وقد یُجعَل کالوَجْناء و یُرکَب علیہ،
    وقد یَہجُد للخدمۃ واللیلُ یتَصَبْصَبُ أو یجثُم أمام عینیہ، وقد یؤمر
    لِشَقِّ الحطب حتی تَمْجُل یداہ، وتتخاذل رجلاہ، ثم یؤتی الخبز قَفَارًا

    تکلیف رامے یابد۔ و روئے شادی نمے بیند۔ و گاہے او را برسائیدن مصالحہ طعام میزنند چون برسنگ خوب
    نساید۔ وگاہے او را ازین سبب زد و کوب میکنند کہ ازار بند را در ازار بتوقفے انداختہ است۔ و او را طعامے
    می دہند کہ در دیگہا چسپان میماند سوختہ ومتعفن شدہ وفاسد گشتہ۔ وہم چنین فاسد شدہ گوشت او را بخوردن
    میدہند۔ یا او را ہمچو روزہ دارتہی شکم میگذارند۔ و ازان جائے دست د روشستن آب می نو شد کہ چارپایان نیز ہم ازان
    پرہیز میکنند۔ وآن اشیاء متعفنہ میخورد کہ سگان ہم ازان نفرت میدارند۔ چون در ملک قحط می افتد
    پس او اول نشانہ قحط میگردد۔ وچون و با فرومی آید پس او اول شخصے باشد کہ مورد امراض می شود۔
    وچون طفلان بمرض چیچک مبتلا شوند پس او از چیچک ہمچو گیاہے میگردد کہ از خوردن باز ماندہ وپامال شدہ باشد
    وچون طفلان بعد از سقوط دندان بار دوم دندان برآورند او ہمچو ناکامے میماند ونتواند کہ چیزہا خورد
    کہ از دندان توانند خورد۔ وچون اتفاقاً مجروح شود پس زخم او پُر نمے شود بعد از زخم گوشتے تندرست بیرون
    نمی آید۔ وگاہے او را برائے صاف کردن خس و خاشاک یا برائے شوئیدن پیالہ میفرمایند۔ پس بخطائے اندک
    میزنند۔ وگاہے اورا اسپ بار برداری مے کنند۔ پس ہیچ چشمے برو نمے گرید وہیچ اشکے روان نمے گردد


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 91
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 91
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/91/mode/1up
    91
    فتبکی عیناہ۔ یأکل جبیزًا وینفز خفیزًا، وقد یُضرَب ضربا شدیدا، فلا یَجْنَأُ
    علیہ أحدٌ، بل یَجْفَأُ قِدرُ غضبِہم فیدوسونہ بضَہْدٍ۔ وہو یشکو کثیرًا، فما ینجَع قولہ
    فی قلب، بل یُقَدُّ شدقُہ دعابۃً ویُخسؤن ککلب۔ ویطیر نفسُہ شعاعًا من
    کل طبع صُلْب، لا یحبہ شقیقٌ ولا الأخیافیّ، ویظنون أنہ ثالثۃ الأثافی۔
    إذا صافی رجلا فما أحبَّ، وإذا زَرَع فما أَحَبَّ، وإن أَحَبَّ فما ألَبَّ، أو بُرِدَتْ
    أرضُہ أو أَجْبَی زرعَہ ثم بالجوع تَبَّ۔ وإذا تَخَبَّشَ مالًا من الأموال فیہیج
    علیہا زوبعۃ الزوال، ثم یأخذہ نَوْجَۃُ الحسرۃ ووجعُ البال، وإذا شکٰی فحُماداہ
    أن یُضحَک علیہ ویُعزَی إلی الجہل والجاہلین۔
    وأنفَدَ عمرَہ عَزَبًا، حتی اشتعل رأسُہ شیبًا، وإذا تزوّجَ فزَوَّجَ بجالِعَۃٍ مفسدۃ
    ناشزۃ، کریہ المنظر مسنون الوجہ ونافرۃ، فینفد عمرہ فی نائبات الدہر وتحت
    أنیاب النکد، وربما یرید أن ینتہر لقلۃ ذات الید، ویری نفسہ فی
    بارہا برسرش می نہند۔ پس ہمچو زن حائض خون او روان میگردد۔ و اورا برزمینے کہ پادر وفرو رودمے دوانند ہمچو
    کرہ اسپ کہ زیر چابک سوارمے باشد۔ وگاہے ہمچو ناقہ براو سوار میشوند۔ و گاہے شب درخدمت میدارند۔ پس
    شب دراز یا نصف آن ازچشمان او میگذرد۔ و گاہے برائے شگافتن ہیزم مامور میشود تاآنکہ دستہائے او متورم
    میشوند۔ و پائے ہاسست می ا فتند۔ باز نانے خشک پیش اومی آرند۔ پس ہر دو چشم او میگریند۔ و گاہے بضرب
    شدید اور امیز نند پس ہیچکس برونمی افتدتا اورا از زد و کوب نگہدارد۔ بلکہ کفک غضب ایشان بجوش می آید۔ پس بقہرآن بیچارہ
    را زیرپا میکوبند۔ واو بسیار شکا یتہا میکند۔ لیکن درہیچ دلے سخنش نمے گیرد بلکہ کنج دہن او را باستہزامی شگافند۔ وہمچو
    سگ او را ز پیش میر انند۔ پس از طبیعت ہائے سخت حواس او باختہ می شوند۔ نہ اورا آن برادرے دوست دارد کہ ازما در و پدر برادرا و باشد
    ونہ آن برادرے کہ صرف از طرف مادر برادر او گرویدہ۔ وگمان می کنند کہ او مردے بداست۔ چون بکسے محبتے کندپس اوبمحبت
    پیش نمی آید۔ وچون کشتے بکارد درکشت او دانہ نمی افتد۔ واگردانہ افتاد پس از مغز خالی میماند یابرزمین او ژالہبارد
    یا کشت خود را بحالت خامی میفرو شد بازبگر سنگی بمیرد۔ و چون ازین سود ازان سومالے فراہم می آرد پس بران مال گرد باد نیستی
    برمی خیزد۔ باز او ر اگرد باد حسرت میگیرد د ودر دل می آزارد۔ وچون شکوہ کند پس آخری نتیجہ شکوہ این می باشد کہ مردم برومی خندیدند و


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 92
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 92
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/92/mode/1up
    92
    فلاۃ عوراءَ ، لا شجرۃ فیہا ولا غذاء ، وکذالک یعیش أخا غمراتٍ فی آلام،
    ویمرض کل عام، فتارۃ یَرمَد وتارۃ یَطْحَل أو یؤخذ فی زکام، وقد یعروہ مرضٌ
    فیمتدّ مَداہ، حتی تعرقہ مُداہ، وبالآخر یُنزَع عنہ ثوب المَحْیا، ویُسلَّم
    إلی أبی یحیٰی۔
    فالآن فکِّرْ ثم فکِّرْ، ثم تذکَّرْ سنن اللّٰہ فی العالمین ألَیْسَتْ فی أفعال اللّٰہ معضلاتٌ
    لا تُدرَی، وأسرار لا تحصٰی؟ فقِسْ أیہا المسکین أقوالَ اللّٰہ علی أفعالہٖ، ولا
    تعجب لمعضلاتِ أنباء اللّٰہ وعُضالِہ، ولا تعجَلْ فی أمر مجدّدٍ وصدق مقالِہ،
    ولا تقُلْ إنی ما رأیتُ علامات أُخبرتُ عنہا، وما شہدتُ أماراتٍ بلغنی
    أنباؤہا، فإن اللّٰہ قد أتمّ کلماتہ کلہا، وأظہر علاماتہ جمیعہا، ولکن عُمِّیتْ
    علیک حقیقۃُ أقوال اللّٰہ، کما عُمِّیتْ علیک حقیقۃ أفعال اللّٰہ۔
    وکم مِن أنباء تُکسَی وجودہا بالاستعارات ولطائف الإیماء، وتُنکَّرُ
    بجاہلیت منسوب کردہ میشود۔ وخرچ کرد عمر خود را حالت بیزنی تاآنکہ سر او سفید شد ازپیری۔ وچون زن کرد پس بزنے
    عقدش بستہ شد کہ بیحیا و فساد انگیز و نافرمان بود۔ وبا این ہمہ بدشکل دراز رو و نفرت کنندہ۔ پس این شخص عمر خودرا
    درحوادث زمانہ و زیر دندان رنج میگذارد۔ وبسا اوقات ارادہ میکند کہ بوجہ تنگدستی خود را کشد۔ وخویشتن را در بیابانے
    مے بیند کہ نہ آب ست دران و نہ درخت و نہ غذا۔ وہم چنین بحالت مصیبت کشی در درد ہائے خود میگذارد۔ وبہر سالے بیمار میشود
    پس گاہے چشم اودرد میکند۔ وگاہے عارضہ طحال مے گردد ووقت در زکام مبتلا میشود۔ وگاہے چنان مرضے لاحقش میگردد
    کہ بطول می انجامد تاآنکہ از کار دہائے آن استخوانش می برآید۔ وانجام کار جامہ حیات از و میکشد وبسوئے مرگ او ر امی سپارد
    پس اکنون فکر کن و باز یاد کن سنتہائے خدارا او در جہانیان۔ آیاچہ درکارہائے خدا چنان پیچیدہ امور نیستند کہ از
    فہم بالاتر ہستند۔ وآیا چنان رازہا نیست کہ شمار کردہ نمی شوند۔ پس اے مسکین اقوال خدا را بر افعال خدا قیاس
    کن و از پچیدگی ہائے پیشگوئی خدا تعجب مکن وبر دقیقہ ہائے اوشگفت مدار۔ و در امر مجدد و صدق مقال او شتاب کاری
    مکن واین مگو کہ من آن نشانیہا ندیدم کہ ازانہا آگاہی دادہ بودند ونہ آن آثار مشاہدہ کردم کہ مرا رسیدند چرا کہ
    خدائے عزوجل ہمہ سخنہائے خود را بانجام رسانید وہمہ نشانہائے خود را بظہور آورد۔ مگر بر توحقیقت اقوال الٰہی پوشیدہ


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 93
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 93
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/93/mode/1up
    93
    أشخاصہا عند إتمام الوعد والإیفاء ، ویُدقَّقُ معانیہا من حضرۃ الکبریاء ، بما
    یراد أنواع الابتلاء ۔ ألا تریٰ إلٰی رؤیا الناس، کیف تتراء ی فی أنواع اللباس،
    وکیف یخفی مفہومہا فلا یتجلی حقیقتہا إلا علی الأکیاس، الذین یعلَّمون العلم
    من ربہم ولا ینطقون بالقیاس، فأین تذہب من سنن ربّ العالمین؟
    وإذا قیل لک فی الرؤیا إن ابنک المیّت سیعود ویرجع إلیک، فلا
    تحمِلُہا قطّ علی الحقیقۃ أنت ومن لدیک، ولا تمدّ إلی قبرہ عینیک، ولا
    تحفِرُ لَحْدَہ طمعًا فی حیاتہ، ولا تجادل الناس فی رجوعہ بعد مماتہ، بل
    تؤوِّل الرؤیا وتقُول: إنّ ابنًا مثلہ یولد لی فکأنہ ہو یَؤُول۔ فأَنَّی تقلّبُ فی
    أمر عیسٰی، تلک إذًا قسمۃ ضیزیٰ، وکلٌّ من اللّٰہ الأعلٰی، فلا تعجَلْ کالذین
    ہلکوا من قبلک وضلّوا وأضلّوا کمثلک۔
    وقد علمتَ أنّ القوم جہدوا جہدہم لیضیعوا أمری ویفرّقوا تفریقًا، فلو کان
    ماند چنانکہ حقیقت افعال الٰہی پوشیدہ ماند۔ وبسیار از پیشگوئیہا ہستند کہ وجود آنہا باستعارات ولطائف اشارات
    متلبس کردہ میشود۔ ووقت ظہور آنہا قالب آنہارا ہمچو مردم ناشناختہ ظاہر کردہ میشود۔ ومعانی آنہارا
    ازحضرت کبریا سبحانہ باریک کردہ میشود۔ چرا کہ خدا تعالیٰ در آنہا امتحان بندگان خود ارادہ میفرماید۔ آیا بسوئے
    آن خوابہانگہ نمی کنی کہ مردم می مینند۔ کہ چگونہ درانواع و اقسام لباس ہا ظاہر میشوند و چگونہ مفہوم آنہا از نگاہ عوام مخفی
    میماند۔ وصرف بر دانایان منکشف میشود۔ یعنی آن دانایان کہ ازجانب خدا تعالیٰ علم می یابند۔ وصرف
    ازروئے قیاس لب نمی کشایند۔ پس از سنت ہائے خدا تعالیٰ کجا میروی۔ وہرگاہ کہ ترا در خواب گفتہ شود کہ آن پسر توکہ
    مردہ بود بازمی آید و عنقریب باز بسوئے تو واپس خواہد آمد۔ پس آن خواب را ہرگز برحقیقت حمل نمی کنی و
    چشمان خود سوئے گور پسر خود دراز نمی کنی و قبر او را بدین امید نمی کنی کہ پسر تو ازان زندہ بیرون خواہد آمد وبا مردم
    دربارہ باز آمدن اور بعد از مردن جنگ نمی کنی۔ بلکہ خواب خود را تاویل میکنی ومیگوئی کہ مراا ززندہ شدن پسرآن ست کہ خدا
    پسرے دیگر مانند او مرا خواہد داد۔ پس گویا ہمان خواہد آمد۔ پس دربارہ عیسیٰ علیہ السلام چہ گرد شے برعقل تومی آید کہ آنجا این اصول
    ازدست میدہی کہ آنچہ درغیر عیسیٰ تاویل کنی در عیسیٰ روا نہ داری۔ این قسمت مبنی برانصاف نیست۔ حالانکہ ہر د و ا مر از خد ا ئے تعا لیٰ ست۔ پس مثل


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 94
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 94
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/94/mode/1up
    94
    من عند غیر اللّٰہ لمزّقوہ تمزیقا، ولیجعلونا کالمعدومین الفانین ۔ إنہم مکروا کل
    مکر، وہیّجوا عشائر، وتربّصوا علینا الدوائر، فدِیْسُوا تحت دوائر السّوء مخذولین،
    وأعظم اللّٰہ شأننا، وأعلی برہاننا، وسوّد وجوہ الحاسدین۔ وقال فرعونُہم:
    ذَرُونی أَقتُلْ موسٰی، إنی أنا الذی رفَعہ، وإنی أنا الذی سیحُطّہ، ویلقیہ
    فی جُبِّ المُہانین۔ وقال ربی: ’’إنی مُہینٌ مَن أراد إہانتَک، ومُعینٌ مَن أراد
    إعانتک‘‘، فأذاقہ ربی طَعْمَ نَخْوتہ الکبریٰ، وجعَل مکانتہ ہی السفلیٰ، إنّ
    اللّٰہ لا یحبّ المستکبرین۔ وتری الناس کیف یرِدون إلینا، وکیف یمنّ ربُّنا
    علینا، وکیف یأتی اللّٰہ أرضَہ ینقُصہا من أطرافہا، وکیف یأتینا خیار الناس
    من أقطارہا وأکنافہا، ذٰلک من فضل اللّٰہ لیُری الناس أن أعداء نا
    کانوا کاذبین۔ إنہ یُعزّ من یشاء ، ویرفع من یشاء ، لا رادَّ لفضلہ، ألا إن
    الحق علا، وتَعْسًا للقوم الکائدین المزاحمین۔

    کسانے شتابکاری مکن کہ پیش از تو ہلاک شدند و گمراہ شدند۔ وامثال ترا گمراہ کردند۔ و تو میدانی کہ قوم ماچہ کو ششہا
    کردند کہ تاکار مرا برباد کنند وجماعت مرا متفرق سازند۔ پس این کار اگر بجز خدا از طرف دیگرے بودے ہر آئینہ طاقت می یافتند
    کہ این ہمہ سلسلہ را پارہ پارہ کنند ومارا بزاویہ عدم رسانند۔ ایشان ازہر گونہ فکر ہا کردند وقبائل را انگیختند ۔وانتظار کردند
    کہ برما گرد شہا بیایند۔ پس خود زیر گرد شہائے رنجدہ کوفتہ شدند۔ وخدا شان مارا بزرگ کرد وبرہان مارا بلند نمود و روئے حاسدان
    سیاہ گردانید۔ وآنکہ فرعون ایشان ست اوگفت کہ بگذارید مراتا موسیٰ راقتل کنم منم آن مردے کہ اورا بلند کردہ بودومنم
    آن مردے کہ باز اور ادر چاہ ذلت خواہد انداخت۔ وخدائے من گفت کہ من آنکس را ذلیل خواہم کرد کہ ارادہ ذلت تو کند۔ ومن آنکس را
    مدد خواہم داد کہ ارادہ امداد توکند۔ پس خدائے من اورا ذائقہ تکبر او چشانید۔ وجائے اورا در مقام پائین نہاد۔ چرا کہ او متکبران
    را دوست نمی دارد۔ ومی بینی کہ چگونہ مردم بسوئے ما واپس کردہ می شوند۔ وچگونہ خدائے ما برما احسان می کند۔ وچگونہ
    خدا سوئے زمین توجہ نمود وابتداء از اطراف آن کردہ۔ وچگونہ مردمان نیک از اطراف زمین سوئے مامی آیند۔ واین ہمہ
    از فضل خدا تعالیٰ ہست۔ تابر مردمان ظاہر کندکہ دشمنان مادروغگو بودند۔ او ہر کرا خواہد عزت میدہد۔ وہرکرا خواہد
    بلندی بخشد۔ ہیچکس نیست کہ فضل اور ارد تواند کرد۔ خبردار باش کہ حق غالب شد۔ وآنان ہلاک شدند کہ برائے مزاحمت انواع مکر


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 95
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 95
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/95/mode/1up
    95
    وانظُرْ إلی آثار سنن اللّٰہ فی أفعالِہ، أتفہَمُ معضلا تِہا أو تحیط حِکَمَ کمالِہ؟
    فما لک لا تہتدی مِن طَرْزِ أفعالہ إلی طرز أقوالہ، وتختار سبل الغاوین؟
    أما تریٰ أن عبدًا قد یُبتلی بالنائبات، ولا یُدری مِن ظاہرِ سَمْتِہ أنہ من
    الفاسقین والفاسقات، فالآفات تنزّل علیہ کالعوائر، أو کالسہم
    العائر، ویتیہُ کالمستہام الحائر، وکان فی وقتٍ یملِک المال النفیسَ، والآن
    یُعَدُّ مِن عُصبۃ مَفالیسَ، حتی یبدو بادِیَ اللُبانۃ، بالِیَ الکِسوۃ، وکان
    یقول: أنا أکثر مالًا وولدا، وأُعطیتُ التنعم والمَلَدَ، وکان یقول: إنّی من
    الصالحین، وجحیشٌ وشَیحانُ وفاتِکٌ وأمین، وکان یدّعی أن لہ دخل
    عظیم فی الحدیث والقرآن، وأنہ جمع فی نفسہ أنواع العرفان، فأتی أمرُ اللّٰہ
    وقضاؤہ، ونزل علیہ بلاؤہ، فذہب بسمعہ وأبصارہ، وختم علی قلبہ
    وجعلہ أوّل الجاہلین۔

    استعمال کردند۔ وآن نشانہائے سنت خدا کہ درکارہائے اُو مشہود اند ملاحظہ کن۔ آیا پیچیدگی ہائے آنرامے فہمی یابر
    حکمتہائے آنہا احاطہ توانی کرد۔ پس چہ پیش آمد ترا کہ از طرز افعال خدا طرز اقوال خدا رایقین نمی کنی وراہ گمراہان
    اختیار مے کنی۔ آیا نمی بینی کہ گاہے بندہ درحوادث مبتلا مے شود۔ وازظاہر روش او معلوم نمی شود
    کہ اواز بدکاران ست۔ پس آفتہا ہمچو ملخ برو نازل می شوند۔ یا مانند تیرے کہ اندازندہ آن
    معلوم نیست و در و قتے مالے نفیس را مالک بود۔ و اکنون از
    گروہ مفلسان شمارمے شود۔ تاآنکہ ببداہت آشکارا مے شود کہ حاجتمندیست کہنہ جامہ۔ وپیش
    زین میگفت کہ من بکثرت مال و اولاد میدارم۔ ومرا نعتمہا و اقبال تابان دادہ اند۔ ومیگفت کہ من از
    مردمان نیکو ہستم۔ مستقل ارادہ بیدار طبع و امینم۔ و دعویٰ میکرد کہ مرا در حدیث و قرآن کریم
    دخلے عظیمست۔ و انواع معرفت در نفسخود جمع میدارم۔ پس قضا و قدر
    خدا و بلاء او نازل شد۔ و گوش و چشمان او را ربود و بردل او مہر نہاد
    و او را صدر نشین جاہلان کرد۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 96
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 96
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/96/mode/1up
    96
    فاشتہر بحمقٍ فاضح، وجہل واضح، وأُخرِجَ من الجنۃ التی کان فیہا کالمکرمین۔
    فصارت لہ السفاہۃ والذلۃ، والجہل والنکبۃ، کالمواریث المعیَّنۃ
    والحصص المفروضۃ المسلَّمۃ، وسقَط من سماء العروج کالملعونین۔
    ویعلم الناس أن مصیبتہ جلّتْ، ونوائبہ عظمتْ، ثم یمرّون
    بہ مستہزئین۔ وہو یُدبِّر فلا یقدر علی أن یفرّ من قدر اللّٰہ ذی الجلال،
    ولو فرّ علی لاحقۃ الآطال، وربما یتبصّر کالجَذع ویُقدِم کالقارح، فیجیء
    قدرُ اللّٰہ ویطرحہ کالصّبیّ فی البارح، فیرتعد کلَّ وقت کالیَراع، ویتحرک
    کاللُّعاع، ویفکّر أزیدَ من القدر اللازم، ثم لا ینجو من الہمّ الہاذم، ویبقی
    کالخائبین۔ ثم یبدء لہ أن یقطع المسافۃ النائیۃ لیعالج الآلام
    القضائیۃ ویکون من الفائزین۔
    فیقال مثلا إن أمیر ’’کابلَ’’، یربی العلماء ویشابہ الوابلَ، فیفرح فرحًا
    پس او بحمق رسوا کنندہ وبجہالتے مشہور شد کہ دران ہیچ خفائے نیست۔ و ازان بہشت بیرون کردہ شد کہ ہمچو
    عزت یا بندگان دران داخل بود۔ پس بے خردمی و ذلت وجہالت وبدبختی مثل مال موروثی اورا شد کہ
    بحصہ کشی در حصہ او آمد پس از آسمان بلندی ہمچو ملعونان فرو افتاد۔
    و مردم میدانند کہ مصیبت او بزرگ است۔ وحادثہ او بزرگ است۔ باز استہزاء
    مے کنند و او تدبیر مے کند و باز از تقدیرالٰہی نتواند گریخت۔
    اگرچہ بر اسپان باریک کمر بگریزد۔ وبسا اوقات ہمچو اسپ دو سالہ زیر کی ہامی نماید و ہمچو اسپ جوان کامل العمر
    پیشقدمی مے کند۔ پس تقدیر خدا مے آید و اورا در ہوائے گرم ہمچو طفلے می اندازد۔ پس ہر وقت ہمچو بزدلے میلرزد
    وہمچو سبزہ گیاہے حرکت می کند۔ وزیادہ از قدر لازم فکرمی کند۔ باز از غم پارہ پارہ کنندہ نجات نمی یا بد۔ وہمچو
    نومیدان میماند۔ باز در دلش مے افتد کہ سفر دور دراز کند۔ تاتکالیف قضاء وقدر را علاج
    تواند کرد۔ و از مراد یابان گردد۔
    پس مثلاً اورا میگویند کہ امیر کابل پرورش علماء می کند۔ وہمچو باران بزرگ ست۔ پس این شخص بشنیدن


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 97
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 97
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/97/mode/1up
    97
    شدیدًا کالسکران، ویقصد ’’کابل‘‘ مع بعض الإخوان، لیوطنوہ أمنعَ جنابٍ،
    ویُمطَروا دراہم کسحاب، وہو یجعل ابنہ الذی ہو سرُّہ رفیقَ عَتادہ، خوفًا
    من ارتدادہ، ولم تزَلْ تعانی عینُہ السُّرَی، وتُعاصی الکُرَی، فیصِل
    کابل بشق النفس وجہدِ المُہْجۃ، بعد مکابدۃ أنواع الصعوبۃ، ویلقی بعضَ
    العَمَلۃِ، ویصافی بالنفاق والمداہنۃ، ویخفی مذہبہ خوفًا من الحرمان،
    أو الہوان من أیدی ’’عبد الرحمٰن‘‘۔
    وکذٰلک تُسوِّل لہ النفس مِن عُسْر المعیشۃ، فیسجُد تواضعًا لکل ذوی
    الثروۃ، ویخرّ أمام أرکان الحکومۃ، وحینئذ یصدُق فیہ ما قیل فی
    أہل التزویر: ’’بِءْسَ الفقیر علی باب الأمیر‘‘۔ فالحاصل أنہ یصدَع
    عَمَلۃَ الأمیر بالمحبّۃ، ویتبخبخ بالصُّحبۃ، ویُوجی أقدامُہ إلٰی قصر الأمیر غربۃً،

    این سخن ہمچومستان شادان وفرحان میگردد۔ وباچند رفیقان خود قصد کابل میکند۔ تاکہ اورا در بلند مرتبہ جادہند
    وہمچو ابر روپیہ ہا بارانند۔ واو پسر خودرا کہ راز طبیعت اوست رفیق آمادگی خود میکند۔ ازین اندیشہ
    کہ پس از رفتن او مرتد نشود۔ وہمیشہ چشم اوشب روی رامی بیند۔ وخواب راترک میکند۔ پس بمشقت نفس
    و کوشش جان تابشہر کابل میرسد۔ وبعد برداشتن مصیبت ہائے گونا گون درآن شہر می آید۔ وبہ بعض
    عملہ امیر ملاقات میکند۔ واز روئے نفاق و مداہنہ دوستی ظاہر می نماید۔ و مذہب ترک تقلید خود را از اندیشہ
    محرومی از انعام مخفی میدارد۔ یا ازین اندیشہ کہ امیر عبد الرحمن اورا در شکنجہ ذلت نہ کشد۔
    وہم چنین اوبباعث تنگی معیشت این کارہا برائے او می آراید۔ پس برنیت تواضع ہر تونگرے را
    سجدہ میکند۔ وپیش ہر رکن حکومت بزمین مے افتد۔ و درین وقت برو آن مثال صادق
    مے آید کہ بدترین فقراء آن ست کہ بر در امیر باشد۔ پس حاصل کلام این ست
    کہ او باعملہ امیر بمحبت می آمیزد۔ ودرصحبت شان کشادہ دلی ظاہر میکند۔ وپاہائے خود راتا محل امیرمی ساید


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 98
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 98
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/98/mode/1up
    98
    فلا یقول لہ أحدٌ ارکَبْ مطیّۃً، أو تسلَّمْ عطیّۃ، ویسأل إلحافًا کالشحّاذین۔
    وینکِّر شخصَہ ویلفِّع وجہہ، لئلا یؤخذ کالمجرمین۔ ویکون لہم أطوعَ مِن
    حذاۂم، وأفنٰی فیہم من غذاۂم، ویسلّم علیہم تحیۃ الخادمین۔ ثم
    یقودونہ إلی حضرۃ الأمیر، ویذہبون بہ کالأسیر، فیخرّ أمامہ کالسّاجدین،
    ویثنی علیہ قائلا: یا أیہا الأمیر الأکرم، والسلطان الأعظم، مسّنی و
    أہلی ضرٌّ، وبعمرک إنّ عیشی مُرٌّ، وجئتک من دیار بعیدۃ، بمصائب
    شدیدۃ، فتصدَّقْ علیّ إن اللّٰہ یجزی المتصدقین۔
    ویخاطبہ الأمیر بلسانٍ ذَلق، ولا یُریہ رائحۃ مِن مَلَقٍ، ویقول اجلِسْ ویتکلم
    بہ غضبان، فیظنّ المسکین أنّ أجلہ قد حان، فہناک لا یبقی إیمانہ
    بالألطاف الرحمانیۃ، ویکاد یخرج بولہ من الہیبۃ السلطانیۃ، وکذٰلک یخزی

    تااظہار غربت کند۔ پس ہیچکس نمے گوید کہ سوار شو یا چیزے از عطیہ بگیر۔ وہمچو گدایان باصرار سوال مے کند
    و خویشتن رابہ ہیئت ناشنا ساں ظاہر میکند و روئے خودمی پوشد تاکہ ہمچو مجرمان گرفتار نگردد۔ وایشان را از کفش ایشان
    زیادہ تر فرمانبردار میشود۔ واز غذائے ایشان زیادہ تر در ایشان فنا میگردد۔ وبرایشان بران طور سلام میکند
    کہ خدمت گاران وچاکران می کنند۔ باز اورا بسوئے درگاہ امیر میکشند۔ وہمچو ا سیرے می برند۔ پس پیش او مثل
    سجدہ کندگان می افتد۔ وبرو بدین طرز ثنا میگوید۔ کہ اے امیر بزرگتر و بادشاہ کلان تر مرا و عیال مرا
    فقر و فاقہ رسیدہ است۔ وقسم بزندگانی تو کہ زندگی من تلخ ست۔ واز ملک دور دراز بخدمتت رسیدم
    ودرین سفر مصیبت ہا کشیدم۔ پس برمن صدقہ کن کہ خدا صدقہ کنندگان را دوست مے دارد۔
    پس امیر او را بزبان تند مخاطب میکند۔ وبوئے از نرمی اورا نمی نماید۔ ومیگوید بنشین وبصورت
    غضبناک با او مکالمہ میکند۔ پس این مسکین گمان می کند کہ وقت مُردن او در رسید۔ پس درین وقت ایمان او
    بر الطاف رحمانیہ نمی ماند۔ ونزدیک میگردد کہ پیشاب او از ہیبت سلطانیہ بیرون آید۔ و ہم چنین


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 99
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 99
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/99/mode/1up
    99
    اللّٰہ عَبَدۃَ المخلوقین۔ ثم یخرج من بیت الأمیر، ویستیقن الأمیر أنہ أحد
    من أہل التزویر، فلا یُؤوَی إلیہ کرجال متّقین۔ وأمّا ذالک المغرور الجہول،
    والسفیہ المخذول، فیظن أن العطایا العظام ستسلَّم إلیہ، ویکرمہ
    الأمیر ویکون لہ مکانۃ لدیہ، أو یُدخل فی المقرّبین۔ فبینما ہو فی نسج
    ہٰذہ التخیّلات، وتغییر اللباس کالصّائد والصّائدات، یطّلع بعض
    المتوسّمین علی شِقاقہ، ویُخبَرون عن فطرتہ وطریق نفاقہ، فیفاجۂ داءُ
    الإشقاق، ولا یسری الوسن إلی الآماق، ویظن أنہ من المقتولین۔ ویُوجِس
    فی نفسہ خِیفۃً علی خیفۃ، بما یری رعب الأمیر وطریق عقوبۃ، فتکاد تزہق
    نفسہ ویسقط کجیفۃ، أو یغمیٰ علیہ کالمفسدین الخائفین۔ فیفر ویرتحل
    بالمُدلِجین المُجِدّین، ویحسب حیاتہ صِلۃً من أمیر المسلمین۔ أو یعطیٰ لہ

    خدا بندہ پرستان را ذلیل میکند باز آن شخص ازخانہ امیر بیرون کردہ میشود۔ وامیر را یقین میشود کہ او
    یکے از دروغ آرایان ست۔ پس ہمچو پرہیزگاران نزد او جانمے یابد۔ مگرآن مغرور و نادان
    و ابلہ و گمنام۔ گمان مے کند کہ عنقریب عطیہہائے بزرگ سپرد او خواہد کرد۔ وامیر اعزاز او
    خواہد کرد و او را نزد او مرتبہ خواہد بود و او را در مقربان خود داخل خواہد کرد۔ پس او ہنوز دربافتن
    ہمین خیالہامے باشد۔ وہمچو شکاریان در تبدیل لباس مشغولیہا دارد۔ کہ بعض دانایان برکینہ
    مخفی او مطلع میشوند۔ واز فطرت و طریق نفاق او خبرمے یابند۔ پس او را بیماری خوف ناگاہ
    مے گیرد و خواب از چشمان اومے رود۔ و گمان میکند کہ عنقریب از کشتگان ست و در
    دل خود خوف برخوف مے کند چرا کہ بچشم خود رعب امیر وطریق سزائے اورا مے بیند۔ پس نزدیک
    است کہ جان او بیرون آید ومثل مردارے بیفتد۔ یا او را مانند مفسدان ترسندہ غشی افتد۔ پس میگریزد و
    باشب روندگان سرگرم کوچ میکند و زندگی خودرا انعامے از امیرمے انگارد۔ یا اند کے از انعام


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 100
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 100
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/100/mode/1up
    100
    قلیل إنعامہ، فلا یقِلُّ بہ شیء مِن إصرامہ، ولا تفیدہ سجدتُہ ولا جہدُ اصلخمامہ،
    بل یعرف أنہ لیس أہل إکرامہ، فلا یظلمہ الأمیر النحریر، بل ہو یظلم نفسہ فلا ینفعہ
    البحر ولا الغدیر، فیقصد دارہ مخذولا وملوما، ومریضا محموما، ویُظہِر أنہ رجع
    فائزًا مقبولا، مع أنہ رُدَّ فی الحافرۃ، ورجع بالکَرّۃ الخاسرۃ، ولکن یستر أمرہ
    خوفا من اللاعنین، وکذٰلک ینفد عمرہ کالمصابین۔
    ثم یرجع من تلک البلدان، ویصبر ملیًّا من الزمان، وبعد برہۃ یقصد
    أناسًا آخرین، فلا یری وجہَ خیر من جنابٍ، ویتردّد من باب إلی باب، و
    یخسأ ککلاب، وتترامیٰ بہ مرامی الإفلاس، إلٰی فلوات الہوان والانتکاس،
    ویجلأ من أرض إلی أرضٍ، ویکابد محن السفر لعَرَضٍ، حتی یصیر ابنَ کلِّ
    تربۃ، وأخا کلِّ غربۃ، یقطع کل واد، ویشہد کل نادٍ، ثم یرجع بجَرْدٍ

    او می یابد۔ پس بدان اندک چیزے از درویشئ اوکم نمی شود۔ و او را سجدہ او فائدہ نمی دہد و نہ کوشش
    برپا استادن اومفید افتد۔ بلکہ این ثابت میشود کہ اوبرائے اکرام امیر اہلیتے ندارد۔ پس امیر دانا ہیچ ظلمے
    برونمی کند بلکہ اوخود ظالم نفس خود می باشد۔ پس اورا نہ دریا نفع بخشد نہ غدیر سود مند آید۔ پس خانہ خودرا قصد
    مے کند بحالت گمنامی وملامت زدگی وبیماری۔ وظاہر میکند کہ او درحالت کامیابی واپس آمدہ است۔ باوجودیکہ
    او ہم چنان کہ رفتہ بود تہیدست می آید۔ مگر خوف *** کنندگان امر خود را می پوشد۔ وہم چنین عمر خودرا درمصیبتہا
    میگزراند۔باز ازین دیارہا مے گردد۔ ولختے از زمانہ صبر مے کند وپس از مدتے قصد ملاقات
    مردمان آخر میکند۔ لیکن از ہیچ درگاہے روے نیکی نمے بیند واز درے سوئے درے میرود۔ وہمچو
    سگان راندہ میشود۔ وافلاس وتہیدستی او را سوئے بیابانہائے ذلت وسرنگونی مے اندازد۔
    واز زمینے سوئے زمینے جلا وطن میکند۔ وبرائے متاعے محنتہائے سفر میکشد تاآنکہ ہرخاک راہمچو پسرے
    میگردد۔ وہر غربت راہمچو برادر میشود۔ ہربیابانے راقطع مے نماید۔ وہر مجلسے را حاضر میشود۔ باز بہ تن برہنہ و روئے


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 101
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 101
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/101/mode/1up
    101
    ووجہٍٍ کرمادٍ، ومرضٍ جلادٍ کالخائبین۔ لا یری یومًا مُسلِیًا عن الأشجان،
    ولا قومًا مواسین کالأعوان، ولا یأتیہ الحِمام، لینقطع الآلام، فیلعَن بَخْتَہ
    کالملعونین، وکذالک یعیش بشِنْشِنۃِ الشحّاذین والسائلین إلحافًا والمعترّین۔
    یأکلہ الإفلاس، ویدوسہ الانتکاس، حتی یذہب عقلہ ویختلّ الحواسّ،
    و یرید أن ینبُط فیغیض، ویسعی أن یصعد فیتصدی لہ الحضیض،
    و لا یزال یسمع لعن القوم، ویوخزونہ بأسنّۃ اللوم، وربما یضربونہ علٰی
    ہفوتہ، مغاضبین علی ما یخرج من فوہتہ، ویُضِبّون علیہ بأدنی العثار،
    وکادوا أن یقتلوہ بالسّیف البتّار، ولا یعُدُّون عن اللَذْع والقَذَع، ولا
    یذیقونہ رائحۃ کرم الطبع، بل ربما یضربونہ بالنّعال، أو العصیّ والحبال،
    حتّی یجد ما یجد الحائر الوحید، ویری کل ما کان عنہ یحید، ویقول یا لیتنی

    ہمچو خاکستر۔ و مرض مہلک واپس مے آید۔ آن روزے را نمے بیند کہ ازغمہا دور کنندہ باشد
    وآن قومے را نمی بیند کہ معاون وغمخوار باشند۔ و اورا مرگ نیز نیاید تاہمہ دردہا منقطع شوند۔ پس ہمچو زیان کاران
    برطالع خود *** میفرستد۔ وہم چنین بسیرت گدایان مے زید۔ وہمچوآن سائلان و محتاجان کہ درپے شدہ
    چیزے میگیرند عمر بسر میکند۔ تہیدستی اورا میکشد۔ و نگو نساری اورا بپامیکوبد۔ تا بحدے کہ عقل او خلل مے پذیر دو
    حواس او مختل می گردند۔ و ارادہ میکند کہ ازجائے آب برون آید۔ پس آن آب فرو میرود۔ وکوشش میکند کہ با لا تر رود
    پس نشیب پیش می آید۔ وہمیشہ *** قوم میشنود۔ و نیزہ ہائے ملامت در اومی سپوزند۔ وبسا اوقات برلغزشے
    اورا میز نند بو جہ سخنے کہ از دہن اوبیرون آمدہ باشد و بادنی لغزش بسیار ملامت مے کشد۔
    و نزدیک گردد کہ باتیغ بران او را قتل کنند۔ واز سوختن دل و دشنام دادن باز نمی مانند۔ وبوئے
    بخشش طبع نمی چشانند بلکہ بسا اوقات او را بکفش میزنند۔ یا بچوب ہا و رسن ہا او ر ا می کو بند
    تاآنکہ آن می یا بد کہ حیرت زدہ تنہا مے یا بد۔ وآن ہمہ بلا ہامے بیند کہ ازانہا کنارہ می کرد۔ ومی گوید کہ کاش


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 102
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 102
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/102/mode/1up
    102
    مِتُّ قبل ہٰذا وما مسّنی الخزی المبید۔ فیضطر إلٰی أن یختار البَین المطوِّح،
    والسّیر المبرِّح کالمصابین۔ فیمشی راجلا، ویرکض عاجلا یغتمد اللَّیلَ،
    ویلِج السَیل، وربما یتراء ی لہ شَبَحُ مرادٍ، أو یدعوہ أحد بإظہار ودادٍ،
    فیفرح ویُعدی إلیہ نِضْوَ عَتادٍ، بِنآدٍ واستیساد، ویُنضِی عِرْباضَہ
    بوَقْدٍ۱؂ وذَمیلٍ، وإجازۃِ مِیلٍ بعد میل، فبالآخر یلقی الخسران و
    الحرمان، ویظہر أن الداعی قد مان، ویتحقق أن سفرہ ابتلاء ومحلّ
    الاستہزاء ، والأمل باطل وخیالٌ کتخیّلاتِ ’’نزول الماء‘‘، والمآلُ خسران
    مع شماتۃ الأعداء ۔ وبالآخر تُشیّبہ النوائب، ویحضُرہ الأجل الغائب،
    فیموت وہو ہِمٌّ، وعلیہ ہدمٌ، فلا یبکی باکٍ عند رفع جنازتہ، ولا
    تذرف عین علی فُرقتہ، ویرتدّ أبناؤہ بعد موتہ من الدین، ویتنصّرون
    من قبل ازین مردمے ومرا رسوائی ہلاک کنندہ مس نمی کرد۔ وبیقرار میشود برائے اینکہ پسند کند جدائی دور اندازندہ را
    و سیر اندوہگن کنندہ راہمچو مصیبت زدگان۔ پس میرود حالانکہ پیادہ است۔ وبجلدی پامی جنباند۔ درمی آید
    شب را وداخل میشود سیل را۔ وبسا اوقات ظاہر میشود او را قالب مراد یا اورا کسے باظہار محبت سوئے خود میخواند
    پس خوش میشود ومی دواند سوئے اوشتر لاغر آمادگی را و می دود برنج کشیدن ودلیری نمودن بزودی و نرم روی
    و بقطع میل بعد از میل وبانجام کار زیان کاری و محرومی را
    می بیند۔ وظاہر میشود کہ آنکہ اورا خواندہ بود دروغ گفتہ است۔ وثابت میشود کہ سفر او اورا ابتلائے
    پیش آمد۔ وامیدے کہ داشت باطل است وخیال کامیابی ہمچو خیالات نزول الماء ست۔ وانجام بزیان مال
    معہ بدگوئی و استہزاء دشمنان ست۔ وبالآخر حوادث او را پیر می کنند۔ وموت حاضر میشود۔
    پس درحالتے میرد کہ او پیریست وبروجامہ کہنہ است۔ پس ہیچ گرنیدہ بروقت برداشتن جنازہ اونمی گرید
    تذرف عین علی فُرقتہ، ویرتدّ أبناؤہ بعد موتہ من الدین، ویتنصّرون
    و ہیچ چشمے برو اشک نمی بارد۔ و پسران او بعد موت او مرتد میشوند و نصرانی میشوند


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 103
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 103
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/103/mode/1up
    103
    ویلحقون بالشیاطین۔ ویملک شرکاؤہ دارہ الخرِبۃ، ولا یُہْدُون إلیہ إلا
    اللعنۃ، فیُقطَع اسمہ من الدنیا، ویکون مآل أمرہ خسران الدنیا والدین،
    و سواد الوجہ فی الدارین، والبعد من رب العالمین۔
    ورجل آخر وُلد فی بیت الشرف والکمال، والعزۃ والإقبال،
    ما مسّ أبویہ الإفلاسُ، وما عَلِمَ ما البأس وخرَّجہ الأکیاسُ، و
    یہتزّ الخدام عند حرکۃ شفتَیہ، ویثِبُون لتحصُّل ما أحبَّ لدَیہ،
    وتری جَفْرَہ مُنبِطا، وقَفْرَہ مُعْشَوشِبًا، ومِن کل فعلٍ یُترَع کِیْسُہ، و
    تمیسُ خَنْدَلِیسُہ، ویعیش حمیدًا ویحسبہ الناس سعیدًا
    ومن الصالحین۔
    بل ربما تجد رجلا فاسقا قویمَ الشاط جمومَ النشاط، یمیس فی حلل المِراح،

    و باشیاطین مے آمیزند۔ و شریکان مالک خانہ خراب او میشوند۔ و بجز *** ہیچ ہدیہ سوئے
    اونمی فرستند۔ پس نام او از دنیا بریدہ میشود۔ و انجام کار زیان دنیا و دین می باشد۔
    و نیزسیاہی روبہر دوجہان درحصہ او می آید۔ و از خدا دور کردہ مے شود۔
    و مردے دیگرست کہ درخانہ شرف و کمال پیدا شد۔ و در حریم عزت و اقبال وجود یافت
    پدر و مادر او را گاہے افلاس نزدیک نیامدہ و ندانست کہ سختی چہ باشد۔ و دانشمندان اورا ادب آموختہ
    و بروقت لب جنبانیدن چاکران او مے دوند۔ و برائے تحصیل مراد اومے دوند۔
    وبہ بینی کہ چاہ او منبع آب و زمین او بکثرت گیاہ می دارد۔ و از ہرکارے کیسہء او پُر میشود۔ و
    شتر ناقہ او بناز می رود۔ و زندگی مے گذراند درحالیکہ تعریف کردہ میشود۔ ومردم اورا سعیدمے
    پندارند۔ واز صالحان می انگارند۔
    بلکہ بسا اوقات مردے فاسقے راخواہی یافت کہ مضبوط وکثیر النشاط می باشد۔ درلباس خوشی می خرامد


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 104
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 104
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/104/mode/1up
    104
    ولا یخطی سہمہ من غرض الأفراح یُسفَّد لہ کل لحمٍ غریضٍ علی السَّفود، ویُشوَی
    لہ الفراریج مع الرغیف المثرود، وہو یأبِز کأُبوزِ الظباء ، وقد یجد کنْزا فی الجَہْراء،
    ویصید أناسًا کالدواب بإراء ۃ ملامح السراب، ومع ذالک لا یری البأساء
    والحُوبۃ، ولا یکابد الصعوبۃ، ویعطَی حظا کثیرا من رؤیۃ غِیدٍ، وسماعِ
    أغارید، وأموال وبنین، وأملاک وأرضین، وغلمان وخادمین۔ مع
    أنہ یسارع فی السیّئات، ولا یتوب من الممنوعات، ولا یأخذ فی کُسْعِ الہنات
    بالحسنات، وتَلافِی الہفوات قبل الوفاۃ، بل یجترء علی المنہیّات، ویجاوز
    حدود اللّٰہ کالغالین۔ ولا یتقی بل یتبرأ من ملاقاۃ التُقاۃ، ولقاء
    الثِقات، ومداناۃ أہل الدیانات، بل یرغب فی مُقاناۃ القَینات،

    ومعاناۃ الفاسقات، ولا یسمع نصح الأجانب ولا الأقارب، بل یأبِر

    وتیر او از نشانہ خوشی خطا نمی کند۔ از گوشت نرم برائے او برسیخ کباب طیارمے کنند۔ وچوزہ ہائے مرغ ہا
    بہ ہمراہ کلچہ در شوربا شکستہ بریان میکنند۔ واو ہمچو آہوہامے جہد۔ وگاہے گنجے در بیابانے مے یابد
    ومردم راہمچو چارپایان شکار میکند۔ و درخش سراب مینماید۔ و باوجود این ہیچ تنگی وتکلیف را
    نمی بیند وسختی رانمے بر دارد واز زنان نرم وسرود گویان بہرہ بسیار دادہ می شود
    ونیز اورا مالٍ وپسران واملاک وزمین ہا میسرمی آیند۔ و غلامان و نوکران میباشند۔ باوجودیکہ
    اور دربدی ہامے دود واز ممنوعات توبہ نمی کند۔ و درین فکر نمی باشد کہ بدی ہارا
    بہ نیکی ہادورکند۔ وقبل از وقت لغزشہائے خود را تدارک نماید۔ بلکہ برممنوعات دلیری می کند۔ و از حدود
    خدا تعالیٰ ہمچو غلو کنندگان تجاوز میکند۔ وپرہیز گاری اختیار نمی کند۔ بلکہ ازملاقات پرہیز گاران بیزار می باشد
    واز قرب اہل دیانت نفرت می کند۔ بلکہ در آمیزش زنان سرود گویان رغبت می نماید
    و برائے دیدن زنان بدکار خواہش میکند۔ و نصیحت نزدیکان و بیگانگان نمی شنود۔ بلکہ نصیحت کنندگان


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 105
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 105
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/105/mode/1up
    105
    الناصحین کالعقارب، ولا یلتفت إلی وصایا الحیّ، بل یصول علیہم کالحَیّ،
    ولا یَفیء مَنْشَرُہ إلی الطیِّ، بل یزید کل یوم فی إثم مبین۔ ویرکَب کلَّ فرسٍ
    أَوْظفۃِ القوائمِ ہیکلٍ، ویسبِق کلَّ ألدَّ ذی حَنَق ویشابہ العَنْدَل،
    ویُنفِد أیام العمر کخلیع الرَسَن مدیدِ الوَسَن، یباعد دارَہ عن دار أہل الصلاح،
    ویثافن بأہل الفسق والطلاح، لا یحلّ مسجدًا بل یطلب عَسْجَدًا، ویمیل
    * حاشیۃ: قال بعض البراہمۃ إن التفاوت مِن أعمال النشأۃ السابقۃ۔ واعلم أنہم

    قوم یعتقدون بالتناسخ نظرًا علی تفاوت مراتب المخلوقات، ویقولون إن

    أنواع الحیوانات قد حدَثتْ من أنواع الحسنات والسیئات، وأصرّوا علی ہذا وجاء وہ


    مُوعِبین۔ وأنت تعلم أنّ ہذہ الأوہام ما ظہرت من منبعِ بصیرۃ، ولا من لُجّۃ

    معرفۃ صحیحۃ، وما قامت علیہا حجۃ من حجج قاطعۃ، بل تشبّثوا بہا عند عَمَہٍ

    راہمچو کژو مہانیش مے زند۔ وسوئے وصیتہائے قبیلہ التفات نمی دارد۔ بلکہ ہمچو مارے برایشان حملہ مے کند
    وبازنمی گردد نامہ پراگندہ او سوئے پیچیدن۔ بلکہ ہر روز درگناہ ترقی مے کند۔ وسوار میشود براسپانے کہ
    دست وپائے شان سبک اند و طویل و عریض اند۔ واز ہر خصومت کنندہ شدید العداوت قدمش پیشترمے باشد
    ودر بدن شتر بزرگ سررا میماند۔ و ایام عمر خودرا ہمچو رہا کردہ رسن شہوات و درازی خواب میگذر اند۔ وخانہ خودرا ازخانہ
    اہل صلاح دور میگرداند۔ وبا اہل فسق وبدبختی مے نشیند۔ وہیچ مسجدے را اندر نیاید۔ بلکہ زرمی طلبد۔ وسوئے

    بعض براہمہ می گوئیند کہ تفاوت مراتب مخلوقات بباعث اعمال پیدائش سابقہ است۔ وبدان کہ این قو مے

    ہست کہ اعتقاد تناسخ دارند۔ بدین خیال کہ تفاوت مراتب مخلوقات رابجز این وجہے نیست۔ ومیگویند

    کہ انواع جانداران از انواع نیکی ہاوبدی ہا پیدا شدہ اند وبرین اصرارمے کنند واتفاق میدارند

    کہ ہم چنین ست۔ وتو میدانی کہ این اوہام محض اند۔ واز چشمہ بصیرت ظاہر نشدہ اند۔ ونہ از دریائے معرفت صحیحہ

    بیرون آمدہ اند۔ وہیچ حجتے برآن ہاقائم نشدہ است۔ بلکہ این مردم در وقتِ حیرت و


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 106
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 106
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/106/mode/1up
    106
    إلی ناجُودٍ وباطءۃٍ، مملوّۃٍ من صہباء محمرّۃ، فی حَلَقۃ ملتحمۃ، ونظّارۃ مزدحمۃ۔
    یتخذ دنیاہ صنمًا ففیہ یرغب، وبہا یکلَف وعلیہا یکلَب، وفیہا یتنافس فی
    کل حین، ولا یتزوّد من العقبیٰ والدّین۔ یذہب عمرہ فی اکتناز الذہب، وتطلَّعَ
    الشحُّ علی قلبہ کذات اللَّہب، ومِن کلِّ طرف یعطِف علیہ القلوبُ، ویُسنَّی
    لہ المطلوب، ولا تعطَّلُ قدورہ ولا جِعالہا، ولا ینصاع أیامہ ولا إقبالہا، ویُذَبُّ
    پیالہ ہائے شراب می خمد۔ ومیخواہد کہ پیالہ ہائے از شرابے سرخ اورا دادہ باشند۔ وشراب را در رفیقان یک جہت
    ودرانبوہ مرد مان می نوشد۔ دنیائے خو درابتے میگیرد۔ پس دران رغبت میکند وبد وحریص می باشد وبرو آرز و مند میماند
    وہر وقت برو فخر میکند۔ وہیچ توشہ از عقبیٰ ودین نمی گیرد۔ ہمہ عمر او در فراہم آور دن زرمیرود۔ وآرزومندے
    دنیا بردل او ہمچو آتش افروختہ مشتعل میباشد۔ و از ہر طرف دلہا بر و مہربانی میکنند۔ ومطلب اوبرائے
    او آسان کردہ میشود ودیگہائے او معطل کردہ نمی شوند ونہ دستمالہائے آن دیگہا بیکار میماند و روز ہائے او ازوے

    وحیرۃ ، وعدمِ الوصول إلی حقیقۃ أصلیۃ، ولغوبِ الفکر وقلّۃ درایۃ، وما
    وسرگردانی۔ ومحرومی ازحقیقت اصلیہ۔ ونیز بباعث فرو ماندن فکر و کمی درایت بدین اوہام
    استطاعوا أن یقیموا دلیلا علیہا، بل أنت ستعلم أن الدلائل قامت علٰی ما خالفہا کما لا یخفی

    پنجہ زدند۔ وطاقت ند اشتند کہ بران دلیلے قائم کنند۔ بلکہ تو عنقریب خواہی دانست کہ دلائل برمخالف وہم شان

    علی المستبصرین۔ وکان علیہم أن یُثبِتوا أنّ الروح الذی انتقل من الدنیا بالیقین

    قائم شدہ اند۔ واین بارثبوت برگردن شان بود کہ ثابت کنند کہ روحیکہ ازین جہان رفتہ بود۔ کدام

    رجع إلیہا ثانیًا، ورآہ حزبٌ من الشاہدین، فما أتوا بالشہداء کالصادقین

    گواہان ہستند کہ روبروئے شان باز آمد۔ پس ہیچ گواہے پیش نکردند۔

    وکفاک من وجوہ بطلان ہذہ العقیدۃ الفاسدۃ، أنہا یخالف نظام الرحمانیۃ

    وترا بربطلان این عقیدہ این دلیل کافی ست کہ این عقیدہ ہا بنظام الہیہ مخالف افتادہ اند۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 107
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 107
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/107/mode/1up
    107
    جُحالُہ، ویبارَک لہ زُلالہ، لا یری یوم الحرمان فی النعماء ، ولا ینحو بَخْتُہ نحو
    الانکفاء ، مع أنہ ینفد عمرہ فی الفحشاء ۔ لا تسقط علیہ صاعقۃ، ولا تلدَغہ
    حیّۃٌ، ولا یُمحیٰ اسمہ من الأرضین، بل یکثر أولادہ، ویجمع حولہ أحفادہ۔
    یملک الصدرَ فی کل ناد محشود، ومحفل مشہود، ویُحسَب مِن بدور
    المحافل، ورؤوس الأسافل، ویقوم خَدَمُہ عند رأسہ، حتی یہبّ من نعاسہ،
    نمی گریزند و نہ اقبال آن روزہا۔ و زبنورہائے او دفع کردہ میشوند۔ و درآب شیرین او برکت داشتہ می آید۔ در
    نعمتہائے خود روز محرومی نمی بیند ونہ طالع او سوئے برگشتگی قصہ میکندباوجودیکہ اوعمر خود در بدکاریہا میگزراند۔ نہ بر وے صاعقہ
    می افتد۔ و نہ او را مارے میگزد۔ و نام او از زمین محو کردہ نمی شود بلکہ اولاد او اولاد اولاد او بسیار مے شود۔ در
    ہر مجلسے کہ مجمعے دارد صدر نشین مے گردد۔ و در ہر مجلسے کہ درو اکابر حاضر می آیند امیر ایشان او
    می باشد۔ و اورا ماہ تمام محافل وراس ورئیس تمام مردمان می دانند۔ وخدمتگاران برسراو ایستادہ مے باشند

    الإلہیۃ، ویجعل اللّٰہَ الکامل القادر الخالق کالضعفاء المعطَّلین۔ وأنت تعلم أنہ
    واین عقیدہ خدائے کامل راہمچو کمزوران وبیکاران میگرداند و تومیدانی کہ خدا تعالیٰ
    خلق کثیرا من الآلاء والنعماء للإنسان،وما کان وجودُ الإنسان ولا وجودُ أعمالہ
    بسیارے از نعمتہا برائے انسان پیدا کردہ است ودر وقت پیدا کردن آن نعتمہا از انسان واعمال اونام

    فی تلک الأوان، کما أنہ خلق الأرض والسماء ، والشمس والقمر وکل ما شاء ، فی الأفلاک

    ونشانے نبود۔ چنانچہ او تعالیٰ زمین و آسمان و شمس وقمر وہرچہ خواست در آسمان و زمین پیدا

    والأرضین، لینتفع بہا الناس بإذن رب العالمین۔ ولا شک أن وجود الإنسان ووجود

    کرد۔ تاکہ تمام مردم از آنہا فائدہ بردارند و ہیچ شک نیست کہ وجود انسان و وجود اعمال

    أعمالہ بعد وجود ہذہ المخلوقات، کما تریٰ أن وجودنا مسبوقۃ لوجود الأرض

    اوپس ازوجود این مخلوقات ست۔ چنانچہ می بینی کہ وجود ما برائے وجود زمین و آسمان مسبوق


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 108
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 108
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/108/mode/1up
    108
    ویأکل ویشرب حتّٰی یکون بطنہ کالقُبّۃ، ویشرب الحَلَبَ مِلْأَ العُلْبۃ، و
    لا یأخذہ توخُّمٌ ولا یکون من المبطونین۔ یرکب علی کل مطیّۃٍ وَطِیّۃٍ، ویکون
    لہ تنعُّمہ کعطیّۃ، ویشغَفہ الأملاک والغلمان، ولا یدری ما الإیمان۔ لا یغادر
    صغیرۃ ولا کبیرۃ، ولا یُثنی علیہ خُلقًا وسیرۃ، ومع ذٰلک یکون مرجَعَ الخواصّ
    والعوامّ، ویصافونہ بالحبّ التامّ، حتی یکون قبرہ بعد موتہ معتمَرَ
    تابو قتیکہ از خواب خود بیدار شود۔ ومی نوشد ومی خورد تاآنکہ شکم اوہمچو گنبدے میشود۔ وشیر چندان می نوشد کہ ظرف
    کلان شیر را خالی میکند۔ مگر طعام او در معدہ فاسد نمی شود۔ ونہ او را درد شکم می گیرد۔ برچنان اسپے سوار میشود کہ
    نمی جنباند او را۔ وتنعم او او را مثل عطیہ می باشد۔ ومحبت ملک ہا وغلامان در دل اومی نشیند۔ و نمی داند کہ ایمان
    چہ باشد۔ نمی گزارد صغیرہ را و نہ کبیرہ را۔ و کسے تعریف خلق و سیرت او نمی کند۔ وباوجود این ہمہ خرابی ہا او مرجع
    خواص و عوام می باشد۔ وبکمال محبت اورا دوست میگیرند۔ تاآنکہ قبر اوبعد از مردن او زیارت گاہ زائران
    والسماوات والعناصر التی علیہا مدار الحیاۃ، والإنکار جہل وسفاہۃ، ومن
    افتادہ است۔ وہمچنان درمرتبہ وجود بعد ازعناصر است۔ چراکہ این ہمہ چیزہا مدارحیات انسان اند۔ و ازین

    قبیل المکابرات، فالرحیم الذی خلق لنا قبل وجودنا کثیرا من النعماء ، کیف یُظَن

    واقعہ انکار کردن از قبیل جہالت وکم عقلی و مکابرہ است۔ پس آن مہربان کہ قبل از پیدائش ماچندین
    أنہ بدّل قانونہ بعد تلک الآلاء ، وفوّضنا إلی أعمالنا کبخیل وضنین؟ ثم
    نعمتہا پیدا کرد۔ چسان گمان کردہ آید کہ اوبعد عطائے این نعتمہا قانون خودرا تبدیل کردوہمچو بخیلے مارا باعمال
    الذین انغمسوا فی ہذہ التوہّمات، وظنّوا أن ہٰذا العالم یدور علی مِحْوَر التناسخات

    ماگذاشت۔ باز آنانکہ درین توہمات غرق شدہ اند۔ وگمان کردہ اند کہ این جہان برمحور تناسخہا گردش میکند

    یقولون إنہ لیس أحدٌ خالقَ أصلِ المخلوقات، بل کل روح قدیم وواجب
    این مردم میگویند کہ اصل مخلوقات راکسے پیدا نکردہ است۔ بلکہ ہر روح بمثل خدا تعالیٰ واجب الوجود


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 109
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 109
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/109/mode/1up
    109
    الزائرین، وتتعہدہا صباح ومساء زُمَرُ المعتقدین۔
    وما قام دلیل علی کَوْرِ ہٰذا الإنسان، وحَوْرِ الرّجال الذین سمعتَ
    ذکرہم فی سابق البیان، ولا یُدرَی کیف وقع قوم فی ید النخّاسین،
    وآخرین دخلوا فی المنعَمین۔
    فہذہ أسرار لا تبلغ الأنظار منتہاہا، ولا تدری الأفکار مغناہا، فإذا
    مے گردد۔ وہر صبح و شام معتقدان برمزار شریف او بتعہد مے روند۔
    وہیچ دلیلے بر اقبال این شخص قائم نشدہ است کہ چرا این چنین نعمت وعزت حاصل کردہ ونہ
    دلیلے بر ادبار آن کسانے تاحال بدست آمدہ کہ ذکر مصیبت شان پیش زین شنیدی وہیچ معلوم
    نمی گردد کہ چرا قومے در دست بردہ فروشان افتادند۔ وچرا قومے دیگر درمنعمان داخل کردہ شدند
    پس این رازہا ہستند کہ دیدہ ہاتا انتہائے آن نتوانند رسید۔ وہیچ فکرے مرکز اقامت آنہارا نمے داند۔
    کمثل اللّٰہ وکذٰلک أجزاء المرکبات، وہذا ہو الأمر الذی لزِمہم من إنکار صانِع
    است۔ وہم چنین مادہ اجسام واجب الوجود است۔ واین ہمان امراست کہ بوجہ انکار صانع موجودات
    المصنوعات۔ فإنہم لما أنکروا بوجود البارء الصَنّاع، اضطرّوا إلی أن یُقرّوا بقِدم
    اوشان را لازم آمد۔ چرا ک اوشان ہرگاہ کہ از وجود صانع عالم انکار کردند۔ برائے تراشیدن این عقیدہ
    الأشیاء ، فجعلوا کل شیء واجب الوجود، مضطرین۔ وظنوا أن صانِع العالم
    مضطر شدند کہ عالم قدیم ست۔ پس در حالت اضطرار ہر چیزے را واجب الوجود قرار دادند وگمان کردن کہ صانع عالم
    أحدٌ منہم فی الوجوب والقِدم کالمتشارکِین۔ فہذا دلیل آخر علی إبطال أوہامہم،

    ہمچو شریکان یکے ازیشان ست۔ پس این دلیل دیگر بر ابطال عقیدہ ایشان ست

    وردِّ کلامہم عند المحققین۔ فإن اللّٰہ الذی ہو قیّوم الأشیاء ، وبہ بقاء الأرض

    چرا کہ اللہ آن ذاتے کہ قیوم اشیاء ست و بقائے زمین و آسمان


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 110
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 110
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/110/mode/1up
    110
    وجدتَ ہٰذہ المُعضلات فی أفعال اللّٰہ فکیف لا یوجد مثلہا فی أقوال اللّٰہ؟
    ما لک لا تقیس أقوال الحکیم علی أفعال الحکیم؟ مع أنہما کالمرایا المتقابلۃ،
    وکالتوأَمَین فی المشاکلۃ، فلا بدّ فیہما من وجود المناسبۃ، وتحقُّق المشابہۃ۔
    فلا تجاوِزِ الحد الذی یسنّی الأمرَ المعضل، ولا تردّ الأمر الصحیح الذی
    یجب أن یُقبَل، ولا تکن من المتعصبین۔
    پس ہرگاہ کہ این عقدہ ہائے لاینحل درکارہائے خدا تعالیٰ موجود اند۔ پس چرا در گفتارہائے او نظا*ئرنباشند
    تراچہ پیش آمد کہ اقوال حکیم را برافعال حکیم قیاس نمی کنی۔ باوصف اینکہ آن ہر دو مثل آئینہ ہائے
    متقابلہ ہستند۔ ومثل دو بچہ توام درمشابہت ہستند۔ پس وجود مناسبت درآن ہر دو ضروری ست
    وتحقق مشابہت ازواجبات است۔ پس ازان حدے بیرون مشوکہ آن مشکل را آسان میکنند۔ و آن امر صحیح
    را رد مکن کہ قابل قبول است۔ واز متعصبان مشو۔
    والسماء ، کیف یمکن أن یکون أحدٌ من الموجودات، ویساویہم فی الوجوب وقدم

    بادیست۔ چگونہ ممکن است کہ یکے ازموجودات باشد و در وجوب وقدامت بدیشان برابر
    الذات؟ ولو کان البارئُ أحدًا منہم وعلی درجۃ المساواۃ، فکیف تکون ربوبیتہ
    باشد۔ اگر خدا تعالیٰ یکے از مخلوقات بودے وبہمہ ممکنات درجہ مساوات داشتے۔ پس چگونہ ممکن بود کہ ربوبیت
    محیطۃً علی الأرواح وأجساد الکائنات؟ بل ہو إذ ذاک یکون کالإخوان للآخرین، لا مبدأَ

    اوبر جمیع ارواح واجساد احاطہ کردے۔ بلکہ درین وقت دیگران راہمچو برادران بودے۔ نہ کہ مبدء

    الفیض ورب العالمین۔ وشتّان بین ہذہ الحالات وبین قیّومِ السماوات و

    فیض ورب العالمین۔ وبنگرچہ نسبت است این حالات را با ذات قیوم السمٰوات والارض
    الأرضین۔ ثم حینئذٍ لا تبقی دلالۃُ شیء علی وجودہ، وکیف الدلالۃ إذ لم یخلق

    باز این فساد لازم می آید کہ درین صورت بروجود باری ہیچ دلیلے قائم نمی تواندشد۔ وچگونہ دلیل قائم


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 111
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 111
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/111/mode/1up
    111
    یا عباد اللّٰہ، اسمعوا، ثم فکّروا ثم اقبَلوا إن کنتم طالبین قد مات نبی اللّٰہ عیسیٰ، و
    أخبرنا عن موتہ خیرُ الخَلق وسیّدُ الوریٰ ، ثم شہد علی موتہ کثیر من أہل العلم والنہیٰ،
    کما شہد شاہدٌ عند وفاۃ نبیّنا المصطفٰی، أعنی خلیفۃ اللّٰہ الصدّیق الأتقٰی۔
    وکذٰلک ذہب إلیہ کثیر من الأکابر والأئمۃ، وما جاء لفظ ’’رجوع‘‘
    اے بندگان خدا بشنوید۔ باز فکر کنید باز قبول کنید اگر جو یندگان ہستید۔ درین شک نیست کہ نبی اللہ عیسیٰ وفات یافت
    ومارا از موت او بہترین مخلوقات صلی اللہ علیہ وسلم خبرداد۔ باز برموت اوبسیارے از عالمان وعاقلان گواہی دادند
    چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کہ خلیفۃ اللہ وصدیق واتقیٰ بود
    وہم چنین بسیارے از اکابر وامامان بسوئے موت مسیح رفتہ اند۔ ولفظ رجوع مسیح درپیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
    شیءًا بل تباعد عن حدودہ؟ ولا یفتی القلب السلیم، والعقل القویم، أن یبقی وجود
    شود۔ چرا کہ او چیزے پیدا نکرد۔ بلکہ از مخلوقات دور ماندہ ودل سلیم وعقل درست فتویٰ نمی دہدکہ وجود

    الباری بغیر دلیل وبرہانٍ مبین ثم لَمَّا سلّموا أنّ أنواع المخلوقات نتیجۃ ضروریۃ
    باری از دلیل خالی باشد۔ باز این مردم چون تسلیم کردند کہ انواع مخلوقات اقسام نیکی ہا و

    لأنواع الحسنات والسیّئات، لزِمہم أن یُقرّوا بأن أقسام الحیوانات لا یُجاوز أقسامَ الحسنۃ
    بدی ہارا بطور نتیجہ ضروریہ است۔ ایشان را لازم آمد کہ این ہم اقرار کنند کہ اقسام جانوران از اقسام نیکی و بدی
    والسیّءۃ، وہٰذا باطل بالبداہۃ والمشاہدۃ الحسّیّۃ۔ فلا شک أن ہٰذہ
    متجاوز نیستند۔ واین خیال بہ بداہت باطل واز مشاہدات حسیہ دروغش ظاہر است۔ پس ہیچ شک نیست
    الأوہام قد نُحِتت من تلفیقات إنسانیۃ، وتجویزات اضطراریۃ، فإنہم إذ لم
    کہ این خیالات از منصوبہ ہائے انسانی اند۔ واز قبیل تجویزات اضطرار یہ ست۔ چرا کہ اوشان چون

    یہتدوا إلی الحق، ألقوا الآراء رجمًا بالغیب کالعامہین، وما کانوا مہتدین۔*
    حق رانیا فتند۔ رجمًا بالغیب رائے ہا ظاہر کردند۔ وچون سرگشتگان سخنہا گفتند۔
    ربہم لکشف العذاب عنہم عند المکارہ والامراض والخسران۔ بل بعضہم یدعون بالاصرار۔ ویجلسون فی موقد النار۔ بکد وتعب فی ھواجر ذات لھب۔ ولا یفکرون فی ھذہ التناقض کالعاقلین۔
    دعاہا میکنند۔ بلکہ بعض مردم از یشان باصرار دعائے میکنند۔ ودر جائے افروختن آتش مے نشینند وسختی ورنج می بردارند۔ ودر آتش نشستن اوشان دروقتے می باشد کہ آفتاب بہ نیم روز میر سدو شدت تپش میباشد ودرین تناقض ہمچو عاقلان فکر نمی کنند ۔ منہ
    نوٹ: اعجبنی عقل البراھمۃ انھم جمعوا التناقض فی العقیدۃ۔ ویعتقدون بوجوب العذاب علی سیّئات سابق الزمان۔ ثم یدعون
    مرا عقل براہمہ در تعجب انداخت۔ ایشان تناقض را درعقیدہ خود جمیع میکنند۔ اعتقاد میدارند کہ عذاب بوجہ گناہان سابقہ ضروری ست باز برائے دور کردن عذاب


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 112
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 112
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/112/mode/1up
    112
    المسیح فی نبأ خیر البریّۃ، بل لفظ ’’النزول‘‘ إلی ہٰذہ الأُمّۃ۔ وشتّان ما بین
    نیامدہ است بلکہ لفظ نزول مسیح آمدہ است و در لفظ رجوع و
    الرجوع وبین النزول عند أہل المعرفۃ۔ فاتقوا اللّٰہ یا معشر المؤمنین،

    لفظ نزول فرقے ست بسیار کہ اہل معرفت میدانند پس اے گروہ مومنان از خدا بترسید۔
    واقبلوا الحق یا حزب الصّالحین۔
    و اے صالحان حق را قبول کنید۔
    واعلموا أن قُرْب اللّٰہ لیس إرثًا مقبوضًا لأحدٍ، بل تداولُ ہذہ الأیام من
    وبدانید کہ قرب خدا ورثہ کسے نیست بلکہ این ایام از خدا تعالیٰ دست بدست
    ثم من المعلوم أن الأمر لو کان کذٰلک من ربّ الکائنات، لوجب أن یکون قلّۃ
    باز این امر معلوم ست کہ اگر تناسخ درست ست پس می باید کہ قلت مردم و کثرت
    الناس وکثرتہم تابعا لتغیُّر عدد الحیوانات، وہٰذا باطل بالبداہۃ، وکذب بَحْتٌ
    اوشان تابع قلت وکثرت حیوانات باشد۔ یعنی چون حیوانات بسیار شوند ایشان کم شوند۔ وچون حیوانات
    عند نظر التجربۃ، لأنّا نشاہد غیر مرۃ فی أیام البُسْرات، کثیرا من الأَذِبّۃ والحشرات
    شوند ایشان بسیار شوند۔ واین امر ببداہت باطل ودروغ محض ست۔ چرا کہ مادر ایام برشکال بارہا مشاہدہ

    والہوامّ والدیدان والضفادع وأنواع الحیوانات، ونعلم أنہا أضعاف مضاعفۃ من

    میکنیم کہ بسیارے از جانوران خورد وگزندہ وکرمہاو غوک ہا ودیگر اقسام حیوانات می برآیند۔ ومیدانیم کہ آنہا

    عدد نوع الإنسان، بل لا یوجد الناس عُشْرَ عَشیرہا عند الحُسبان۔ فلو کانت ہذہ

    از عدد نوع انسان چند درچند زیادہ است۔ بلکہ انسان بقدر عشر عشیر آنہا ہم نیست۔ پس اگر این جانداران

    الحیوانات أرواح الآدمیین، فلزم أن لا یبقی فی الخریف نفس واحدۃ منہم فی
    ارواح آدمیان بودندے پس لازمی می آید کہ در ایام برشکال ہیچ فردے از نوع انسان درزمین موجود


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 113
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 113
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/113/mode/1up
    113
    أمر ربّ صمد، یلقی الروح علٰی من یشاء ، وکذالک تقتضی العظمۃ والکبریاء
    مے گردند۔ برہر کہ میخواہد کلام خود مے اندازد۔ وہم چنین عظمت وکبریاء او تقاضا کردہ است
    أأنتم تجادلونہ علٰی ما فعل أو تقومون محاربین؟ ففکّروا بفکر لا یشوبہ زیغ
    آیا شما با وے جنگ خواہید کرد کہ چراچنین کرد یا برائے محاربہ او خواہید ایستاد۔ پس چنان فکر کنید کہ درآن شائبہ کجی
    ولا مَیل، وطَہِّروا قلوبکم من کل تعصب ولا یُذْہِبْکم سَیل۔ أَرُوا تقواکم تقواکم،
    ومیل نباشد۔ و دلہائے خودرا صاف کنید چنان مبادکہ سیل تعصب شمارا برباید۔ پرہیز گاری خود بنمائید پرہیز گاری
    یا أبناء المتقین۔ واعلموا أن اللّٰہ قد أقامنی وبعثنی وکلّمنی، فاتقوا أن تحاربوا
    خود بنمائید اے فرزندان پرہیز گاران۔ وبدانید کہ مراخدا قائم کردہ است ومرا مبعوث کردو مرا ہمکلام شد۔ پس بترسید
    الأرضین، ولکنا لا نریٰ ہناک نقصانًا فی عدد نوع الإنسان، مع کثرۃ تکوُّن

    نماندے۔ مگر مادران وقت ہیچ نقصانے درشمار نوع انسان نمی یابیم۔ باوجودیکہ حشرات
    حشرات الأرض والدیدان، بل نراہم کل یوم متزایدین۔ وأمّا قولہم أنہا
    الارض وکرمہا بکثرت در زمین متولد میشوند۔ بلکہ روز بروز آنہا را زیادہ مے یابیم۔ لیکن این قول اوشان کہ
    أرواح تتنزّل من معمورۃ السماوات، فٰہذہ تکلفات واہیۃ ومن قبیل
    کرم وغیرہ کہ درایام پرشکال پیدامی شوند آن جانہا ہستند کہ از معمورہ آسمان فرودمی آیند۔ پس این تکلفات واہیہ ہستند

    الخرافات، نُحتتْ عند فقدان الدلائل وورود الاعتراضات، وما أری
    واز قبیل خرافات۔ کہ بوجہ نہ پیدا شدن و ورود اعتراضات ساختہ شدہ اند۔ وما ہیچ دلیلے نمی بینیم
    دلائل أقیمتْ علی تلک الخیالات، بل ہی کلمات غیر معقولۃ تخرج من أفواہہم

    کہ برین خیالات قائم کردہ باشند بلکہ این کلمات غیر معقول اند کہ بے ثبوت ازدہان شان مے
    من غیر الإثبات، کمثل غریق یتشبّث بالحشائش خوفًا من الممات
    برآیند۔ ہمچو غریقے کہ نجس و گیاہ پنجہ میزند بدین خوف کہ مبادا بمیرد


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 114
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 114
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/114/mode/1up
    114
    اللّٰہ متعمّدین۔ لا فُلْکَ فی یومی ہذا إلا فُلْکی، وإنّ یدی ہٰذہ فوق کل ید
    ازین کہ دیدہ دانستہ بمقابلہ خدا بجنگ بیرون آئید۔ امروز بجز کشتی من ہیچ کشتی نیست۔ و این دست من برتمام
    تبتغی مرضاۃ ربّی، فلا تنبذوا الحق بعد ظہورہ، ولا تجعلوا أنفسکم من
    آن دستہا واقعہ است کہ رضاء رب من میخواہند۔ پس راستی رابعد ظہور آن از دست میفگیند۔ وخود را مورد سوال
    المسؤلین۔ وبعزۃ ربّی وجلالہ، لستُ بکافر ولا معتدٍ من أقوالہ ولا مرتدّ ول
    الٰہی مگردانید۔ ومراقسم عزت خدا وقسم بزرگی او کہ من نہ کافرم ونہ ازکلام اوبیرون روندہ ام ونہ مرتدم ونہ
    من الملحدین۔ بل جاء کم الحق فلا تُعرضوا عن الحق کارہین۔ وقد تقوَّی مذہبنا

    ملحدم بلکہ بشما حق رسید۔ پس بکراہت ازان اعراض مکنید۔ ومذہب مابشہادتہائے احادیث

    ولو کان فی السّماوات ونجومہا وشموسہا وأقمارہا أناس ساکنین مطمئنین،

    و اگر در آسمان ہا و ستارہ ہا و آفتاب و ماہتاب مردمان آباد بودندے
    لکان معہم کثیر من الحیوانات والحشرات التی انتقلت أرواحہا من أجساد
    ہر آئینہ لازم بود کہ بان مردم دیگر ازان جانوران ہم بودندے کہ بطور تناسخ صورت آن جانوران
    الآدمیین، ولکان ذٰلک النظام أکملَ وأتمَّ کنظام الأرضین، غیرَ محتاج
    قبول کردہ اند۔ وہر آئینہ آن نظام ہمچو نظام زمین ہا کامل بودے ۔ وبہ دیگر معمورہ

    إلی معمورۃ الآخرین۔ فبأی ضرورۃ تَلْجَأُ الأرواح حینئذ إلی النزول؟

    محتاج نبودے۔ پس درین ہنگام کدام ضرورۃ ارواح راپیش آمدہ بود۔ تابر زمین نازل شوند

    وکیف یستقیم ہٰذا التأویل عند العقول؟ ألیس فی حُماۃ ہٰذہ
    وچگونہ این تاویل نزد عقول صحیح متصورمے تواندشد۔ آیا از پابندان این عقیدہ ہیچکس

    العقیدۃ رجل من المستبصرین؟
    بصیرتے ندارد۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 115
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 115
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/115/mode/1up
    115
    بتظاہر الأحادیث والفرقان، ثم بشہادۃ الأئمۃ وأہل العرفان، ثم بالعقل
    وفرقان قوت یافتہ است باز قوت آن بشہادت ائمہ واہل عرفان دوچند شد۔ باز عقل او را کہ

    الذی ہو مدار التکالیف الشرعیّۃ، ثم بالإلہام المتواتر الیقینی من حضرۃ العزۃ،
    مدار تکالیف شرعیہ است قوت داد۔ باز از الہامات متواترہ یقینیہ قوت یافت
    فکیف نرجع إلی الظن بعد الیقین؟ بل نحن أوینا إلی الرکن الشدید، واعتصمنا
    پس چگونہ ازیقین بسوئے ظن رجوع کنیم بلکہ ما بسوے رکن شدید رجوع کردیم وبرسن خدا تعالیٰ
    بحبل اللّٰہ المجید، وما جئنا بمحدَثات کالمبتدعین۔
    پنجہ زدیم۔ و ہیچ بدعتے ہمچو بدعتیان نیا ور دیم۔
    ثم لَمَّا جرت العادۃ أن کل حشرۃ تتکون فی تلک الأیام، وکذالک وقعت
    بازچون عادت ہم چنین رفتہ است کہ ہر قسم جانور خورد درین موسم پیدامی شود۔ وہم چنین نظام
    فی قانون اللّٰہ صورۃ النظام ، ولا تبلغ إلی ہٰذہ الکثرۃ فی غیر
    قانون الٰہی واقعہ شدہ وبجز این روزہا این کثرت جانوران نمی باشد ۔
    تلک الأیام المعدودۃ، فلو کان سبب ہٰذا انتقال أرواح الناس إلی
    پس اگر سبب آن این باشد کہ در موسم پرشکال ارواح آدمیان در

    الحشرات فی أیام البُسْرات، لکان ہذا الأمر من معضلاتٍ غیر منحلّۃ
    حشرات منتقل مے شوند۔ ہر آئینہ این محل از مشکلات لاینحل خواہد بود
    عند التحقیقات، بل من أمور بدیہی البطلان والمحالات، ومورد کثیر
    بلکہ ازان امور خواہد بود کہ بدیہی البطلان ومحال اند۔ وبسیارے از

    من الاعتراضات، عند کل ذی رأی متین۔
    اعتراض ہا بران وارد خواہند شد۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 116
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 116
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/116/mode/1up
    116
    وقد علمتم أن المسیح الموعود، یکسر الصلیب المعضود، فہٰذا ہو الزمان
    وشما دانستہ اید کہ مسیح موعود صلیب نصاریٰ راکہ حمایت آن کردہ می شود خواہد شکست۔ پس این زمان ہمان زمان ست
    إن کنتم موقنین۔ أما ترون کیف یُعلَی الصلیب، وکیف تُفشَّی فی شأنہ الأکاذیب،
    اگر شما یقین کنندگان ہستید۔ آیا نمی بینید کہ چگونہ شان صلیب بلند کردہ شد۔ وچگونہ خبرہائے دروغ درشان آن
    وإلی أیّ حدود بلغ الأمر، وکثر الخنزیر والخمر، ودِیْسَ الإسلام تحت أقدام
    منتشر میشوند ومے بینید کہ این امر را نوبت بکجا رسیدہ است۔ و خنزیر و خمر بسیارشد۔ واسلام زیر قدم مفسدان و
    المُغْوِین المفسدین؟ ألیس فی أحادیث خیر الکائنات، وأفضلِ الرسل ونُخبۃِ المخلوقات،
    اغواکنندگان پامال گشت۔ آیا این امر در احادیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کہ افضل الرسل وبرگزیدہ مخلوقات ست
    أتظن أن بنی آدم یُذنبون فی تلک الأیام أکثر من أیام أخریٰ، فیموتون

    آیا گمان مے کنی کہ مردمان درہمین روزہا آن قدر گناہ می کنند کہ در روزہائے دیگر نمی کنند۔ پس می میرند
    و ینقلبون إلی الحشرات جزآءً من ربّہم الأعلٰی؟
    و ارواح شان در حشرات برائے سزا دادن داخل کردہ مے شوند۔
    فانظر۔۔ أہذا أمر یقبلہ قلبک بالثلج التام، أو یشہد علیہ قانون اللّٰہ
    پس غور کن آیا این امرے ست کہ دل تو آنرابہ تسلی نام قبول میکند۔ یا قانون خدا ونظام خدا بروگواہی
    وصورۃ النظام؟ ثم إنّا نشاہد أن کثیرًا من الحشرات والدیدان الصغار،
    مے دہد بازمے بینیم کہ بسیارے از جانور ہائے خورد وکرم ہائے خورد
    تخرج من أقصی طبقات الأرض عند حفر الآبار، بل توجد فی میاہہا
    وقت کندیدن چاہ ہا از طبقہ ہائے زیر زمین مے برآیند۔ کہ دور تر از سطح زمین می باشندبلکہ درچاہ ہائے نو
    دیدان دقیقۃ کالصِئبان، لا یخفی عند الامتحان، أو تتراء ی بآلاتِ
    کندیدہ این چنین کرمان وجانوران ہمچو بیضہ سپش یافتہ می شوند کہ پوشیدہ نمی مانند یا بخورد بینہا مشہودمی شوند


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 117
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 117
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/117/mode/1up
    117
    أن المسیح الموعود لا یجیء إلا عند غلبۃ الصّلیب وفتنِہا الموّاجۃ فی الجہات؟
    یافتہ نمی شود کہ ضرور است کہ مسیح موعود درہمان وقت آید کہ وقت غلبہ صلیب باشد و فتن ہائے صلیب ہر طرف درتموج
    فہذا ہو الأصل المحکم لمعرفۃ وقت المسیح ومِن أعظم العلامات۔ فإن کنتم
    باشند پس برائے شناخت وقت مسیح این اصل محکم است واز بزرگتر علامت ہاست۔ پس اگر شما این
    تظنون أن المسیح ما جاء علٰی رأس ہذہ الماءۃ، وفتن النصاری لم تبلغ إلٰی
    گمان میکنید کہ مسیح موعود برسر این صدی نیامدہ ست وفتنہ ہائے نصاریٰ تاہنوز بدرجہ کمال
    غایتہا المقصودۃ، فلزمکم أن تعتقدوا بامتداد ہذہ الفتن إلٰی رأس الماءۃ الثانیۃ، أو
    نرسیدہ اند۔ پس این امر شمارا لازم می آید کہ اعتقاد کنید کہ این فتنہ ہاتا سر صدی دوم طول خواہند کشید۔ یا

    تحدیدِ البصر بالیقین۔ فالآن ما رأیک؟ أتزعم أن الأرواح تنزلت أولًا علٰی

    پس اکنون رائے تو چیست۔ آیا گمان تواین ست کہ اول روحہا برسطح
    سطح الأرض من العلی، ثم خُسفت وبلغت إلی منتہی طبقات الثریٰ؟ فاتق اللّٰہ یا
    زمین نازل شدند باز درزمین فروشدند تاآنکہ تاآخری طبقات زمین رسیدند۔ پس اے مسکین از خدا بترس
    مسکین۔ وإن قلتَ: فما بال الناقصین الذین ماتوا علٰی حالۃ النقصان، وانتقلوا
    اگر بگوئی کہ حال آن ناقصان چیست کہ درحالت نقصان بمردند وازین دنیا
    من ہٰذہ الدنیا مع أثقال العصیان، فإنہم ما یُرَدّون إلی الدنیا لیتدارکوا ما فات، فکیف
    ببارہائے عصیان درگز شتند چراکہ اوشان وسوئے دنیا باز نیایند تاتدارک مافات کنند۔ پس
    یُکمَّلون ویجدون النجاۃ، أو یدخلون فی الجنّۃ غیر مکمّلین، أو یُترَکون إلی

    چگونہ تکمیل ایشان می گردد و چگونہ نجات می یابند۔ آیا این ست کہ درجنت درحالت نقصان داخل کردہ میشوند
    الأبد معذَّبین؟ فاسمع۔۔ إننا نعتقد بأن جہنم مُکمِّلۃٌ للناقصین، ومنبِّہۃٌ للغافلین،
    یاہمیشہ درعذاب خواہند ماند۔ پس بشنوکہ اعتقاد ما این ست کہ دوزخ ناقصان رابکمال میر ساند۔ وغافلان رامتنبہ


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 118
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 118
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/118/mode/1up
    118
    علی رأس ماءۃ أخریٰ من المئین الآتیۃ البعیدۃ۔ فلو کان عمر فتن النصاریٰ إلی
    شورو شغب این فتنہ ہاتا صدی ہائے دیگر خواہد ماند۔ پس اگر ہمین راست ست کہ عمر فتنہ ہائے نصاریٰ تا
    ہذہ الأزمنۃ الطویلۃ، فما بال الإسلام إلی تلک المدۃ یا معشر المتفرسین؟
    زمانہ ہائے دور و درازست پس تااین مدت حال اسلام چہ خواہد شد۔
    وموقظۃ للنائمین۔ وسمّاہا اللّٰہ أُمَّ الداخلین، بما ترُبُّہم کالأمّہات للبنین۔
    مے کند۔ دانانکہ درخوابند ایشان رابیدار میگرداند۔ وخدا تعالیٰ نام او مادر داخل شوندگان داشتہ است کہ ہمچو مادر پرورش میکند
    واعتقاد میداریم کہ دران روز ہر چشمے تیزبین خواہد بود واین تیزی بعد از زمانہ دراز پیدا خواہد شد۔ پس بعد
    شقی سعیدًا بعد حقب من الدوران، ولا یلبثون إلا أحقابًا فی النیران، إلا
    روزگارے دراز ہر بدبختے نیک بخت خواہد شد۔ و توقف شان درجہنم صرف مدتے دراز خواہد بود
    ما شاء اللّٰہ من طول الزمان، فإنّا ما أُعطِینا علم تحدیدہ بتصریح البیان،

    مگر تحدید آن زمانہ درحد علم ما نیست

    فہو زمان أبدی نسبۃً إلی ضعف الإنسان، ومحدود نظرًا علی مِنن المنّان،
    پس آن زمانہ بہ نسبت ضعف انسان ابدی ست۔ وچون نظر براحسان ہائے الٰہی کنیم
    ولا یُترَکون کالأعمٰی إلی الأبد علی وجہ الحقیقۃ، ویکون مآل أمرہم
    پس آن زمانہ محدود است وزمانہ نابینائی را از روئے حقیقت ابدیت و دوام نیست وانجام کار ایشان
    رُحْمَ اللّٰہ والرشد ومعرفۃ الحضرۃ الأحدیۃ، بعد ما کانوا قومًا عمین۔ ونعتقد
    رحمت الٰہی ورشد و معرفت حضرت احدیت خواہد بود بعد زانکہ قومے نابینا بودند و ما اعتقاد
    أن خلود العذاب لیس کخلود ذات اللّٰہ رب الأرباب، بل لکل عذابٍ انتہاءٌ ،

    میداریم کہ دوام عذاب دوزخیان ہمچو دوام ذات باری نیست۔ بلکہ ہر عذاب را انجامے ست


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 119
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 119
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/119/mode/1up
    119
    أرضیتم أن تتزاید فتن الدجالین القِسّیسین وتمتدّ إلی مائتین أو مئین؟ فإن غلبتہم

    آیا بدین امر راضی شدہ آید کہ فتنہ ہائے پادریان تادو صد سال یا چند صدیہائے دیگر در زیادت باشند۔ چرا کہ

    ضروری إلی أیّام ظہور المسیح، کما جاء بالبیان الصریح، فی أنباء خیرالمرسلین۔
    غلبہ پادریان تا ایام ظہور مسیح ضروری ست۔ وہم چنین در احادیث حضرت خیر الرسل آمدہ است۔
    وبعد کلّ لعنٍ رُحْمٌ وإیواءٌ ، وإنّ اللّٰہ أرحم الراحمین۔ ومع ذالک لیسوا سواء
    وبعد ہر *** رحمت وجا دادن ست۔ وخدا ازہمہ رحمت کنندگان در رحمت افزون تر وپیش قدم ست
    فی مدارج النجاۃ، بل اللّٰہ فضّل بعضہم علی بعض فی الدرجات والمثوبات،
    وباوجود این امر مدارج نجات یکسان نیستند بلکہ خدا تعالیٰ بعض را بربعض در درجہ ہا و پاداش ہا بزرگی داد
    وما یرِد علی فعلہ شیء من الإیرادات، إنہ مالک الملک فأعطی بعض عبادہ

    وہیچ اعتراضے برکار اونمی تواند شد۔ چراکہ او مالک الملک است بعض را در کمالات
    أعلی المراتب فی الکمالات، وبعضہم دون ذالک من التفضلات، لیُثبت

    اعلیٰ مراتب بخشید۔ وبعض را از آنہا کم داشت تا ثابت کند کہ
    أنہ ہو المالک یفعل ما یشاء ، لیس فیہ إتلافُ حقّ من حقوق المخلوقین۔
    و مالک الملک است ہرچہ میخواہد میکند۔ درآن حق تلفی احدے نیست

    ولما کان وجود اللّٰہ تعالٰی علّۃً لکل علّۃ، ومبدءً لکل سکون وحرکۃ، وہو
    وہرگاہ کہ وجود خدا علت ہر علت و مبدء ہر حرکت وسکون است۔ و او بر ہر
    قائم علی کل نفس، فلیس من الصواب أن یُعزَی إخلاد العذاب إلی ہٰذا
    جانے قائم ومتصرف وقادرست پس این قرب بصواب نیست کہ ہمیشہ معذب داشتن بسوئے او منسوب
    الجناب، وما کان العبد مُختارًا من جمیع الجہات، بل کان تحت قضاء اللّٰہ

    کردہ شود۔ وبندہ از جمیع جہات مختار نیست۔ بلکہ تحت قضاء و قدر خدا تعالیٰ ست


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 120
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 120
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/120/mode/1up
    120
    فما تأمرون فی ہذہ القضیۃ؟ أترضون بأن یمہلہم اللّٰہ لإغواء الناس إلی تلک
    پس درین مقدمہ رائے شماچیست۔ آیا بدین راضی ہستید کہ خدا تعالیٰ ایشان را برائے اغوائے مردم تابدین
    المدی الطویلۃ، ویُجاح الإسلام من أصولہ المبارکۃ، ولا یبقٰی أحد علی وجہ الأرض
    مدت مدیدہ مہلت دہد۔ واصول مبارکہ اسلام از بیخ برکندہ شوندو ہیچکس ازمسلمانان بروئے زمین نماند
    خالقِ المخلوقات وقیّوم الکائنات، وکان کل قوتہ مفطورۃً مِن یدہ ومن إرادتہ،
    کہ خالق و قیوم ست وہر قوت بندہ پیدا کردہ دست خدا تعالیٰ ست واز
    فلہ دخلٌ عظیم فی شقاوتہ وسعادتہ۔ فکیف یترک عبدًا ضعیفًا فی عذاب
    ارادہ اوست۔ و اورا در شقاوت وسعادت بندہ دخلے عظیم ست۔ پس چگونہ ممکن ست کہ بندہ ضعیف را
    الخلود، مع أنہ یعلم أنہ خالِقُ الشقی والمسعود، والعبدُ یفعل أفعالا ولکنہ أوّلُ
    درعذاب دائمی فرو گزارد باوجودیکہ میداند کہ پیدا کنندہ ہر شقی وسعید خود اوست۔ وبندہ کارہامے کند
    الفاعلین، وکل عبدٍ صُنْعُ یدہ وہو صانع العالمین۔ وإنہ رحیم وجوّاد وکریم، سبقت
    لیکن او اول کسے ست کہ کار کرد۔ وہر بندہ صنعت دست اوست واوصانع ہمہ جہانیان ست۔ واو
    رحمتُہ غضبَہ، ورِفقُہ شِصْبَہ، ولا یُساویہ أحدٌ من الراحمین۔ فلا یُفنی کل الإفناء ،
    رحیم ست وجوادست وکریم ست۔ غضب او بررحمت او پیش قدمی ہاکرد۔ ونرمی اواز سختی او درگزشت و ہیچکس در
    ویرحم فی آخر الأمر وانتہاء البلاء ، ولا یدوس کل الدوس بالإیذاء کالمتشدّدین،

    رحمت برابری اونتواند کرد۔ ونمی خواہد کہ مخلوق رابہمہ وجوہ معدوم کند ودرآخر امر رحمت میفر ماید وبکلی بپانمی کوبد
    بل یبسط فی آخر الأیام یدہ رأفۃً ویأخذ حُزْمۃً من الناریّین۔ فانظر إلی ید اللّٰہ
    بلکہ درآخر ایام دست خود برحمت دراز خواہد کرد۔ ومشتے ازدوز خیان بیرون خواہد آورد۔ پس بسوئے دست خدا

    وحزمتہ، ہل تغادر أحدًا من المعذَّبین؟ وکذالک أشار فی أہل النار وقال
    ومشت اوبنگر۔ آیا این دستے ست کہ معذبے را از گرفتن محروم تواند گذاشت وہمچنین اوخود دربارہ


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 121
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 121
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/121/mode/1up
    121
    من المسلمین؟ أیہا الناس اعلموا أن وقت ظہور المسیح عند اللّٰہ ہو وقت ظہور
    اے مردان بدانید کہ زمانہ ظہور مسیح نزد خدا ہمان زمانہ ظہور فتن صلیب است۔
    فتن الصلیب، ولأجل ذالک قیل ہو یکسر الصلیب، فتدبروا کالمستدلّ اللبیب،
    وبرائے ہمیں گفتہ شد کہ مسیح موعود صلیب راخواہد شکست۔ پس شما ہمچو دانشمندے کہ دلیلے

    قولا کریما، فیہ إطماعٌ عظیم ونسیم الإبشار، فقال:3
    دوزخیان بشارت دادہ است آن بشارتے کہ دروے امیدے بزرگ پیدامی شود۔ پس گفت کہ دوزخیان ہمیشہ درجہنم
    33 ۱؂۔ فانظر إلی استثناۂ ببصر
    خواہند ماند مگر چون خدائے تو ارادہ فرماید چرا کہ خدائے تو ہرچہ میخواہد مے کند۔ پس این استثنا را بنظر
    حدید ونظر رشید، ولا تظن ظن السوء کالیائسین۔
    عمیق بنگر۔ و ہمچو نومیدان ظن بد مکن۔
    والعجب کل العجب من إلٰہ النصارٰی، أنہ بزعمہم صلَب ابنہ وأضاع وحیدہ
    وتمام تر تعجب از خدائے نصرانیان ست۔ کہ اوبگمان نصاریٰ پسر خود را بردار کشید وفرزند

    کالمجنون الغَضبان، وما سلک فی المجازاۃ طریق العدل والرفق والإحسان،
    یکتائے خود را ہمچو دیوانہ غضبناک ضائع کرد۔ ودر جزاء وسزا طریق انصاف ونرمی واحسان را مرعی نداشت
    بل خوّف من العذاب الأبدی الذی لا ینقطع فی حین من الأحیان۔ فأین
    و ازان عذاب ابدی ترسانید کہ بہ ہیچ وقتے منقطع نخواہد شد۔ پس درچنین
    الرحم فی مثل ہٰذا القہّار، الذی فوّض الابن المحبوب إلی الکفّار؟ وما

    قہارے رحم کجاست کہ فرزند محبوب خود را حوالہ کافران کرد۔ وہمچو رحیمان
    خفّف عذابہ کالرحماء الأخیار، بل ألقی عبادہ فی جہنم لأبد الآبدین۔ زاد
    ونیکان در عذاب تخفیف نہ نمود۔ بلکہ بندگان خود را برائے ہمیشہ در جہنم انداخت۔ ودر عذاب


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 122
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 122
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/122/mode/1up
    122

    وقوموا للّٰہ شاہدین۔ ثم من المسلَّمات الأمۃ المرحومۃ، أن المسیح لا یجیء إلا علی
    می جوید تدبر کنید۔ وبرائے خدا بہر شہادت برخیزید۔ بازاز مسلّمات این امت مرحومہ است کہ مسیح ہرگز نخواہد آمد مگر در وقتیکہ
    رأس الماءۃ، فہذا الرأس بزعمکم قد انقضی خالیًا ومضیٰ، وانقطع الرَجَاء إلٰی رأس ماءۃٍ أُخریٰ
    سرصدی باشد۔ پس این سرصدی بزعم شما خالی گذشت وہیچکس نیامد۔ وتا سرصدی آخر از آمدن امید منقطع
    العذاب زیادۃ فاحشۃ مکروہۃ، ثم ادّعی أنہ قتل ابنہ لینجّی المذنبین رحمۃ، فما ہٰذا
    آن زیادتی کرد کہ مکروہ واز حد تجاوز کنندہ است۔ باز دعویٰ کرد کہ اوپسر خود را محض از رحمت برائے رہانیدن
    إلا طریق الظالمین المزوّرین ثم نرجع و نقول إنّ البراہمۃ قد ترکوا سبل الہدی،
    گنہگاران قتل کرد۔ پس این طریق خاصہ مرد مان نیست کہ بسیار ظالم ومکار باشند۔ باز رجوع میکنیم ومیگویم کہ ہندوان

    فلا تتبع خرافات قومٍ نَوکَی، واسألِ اللّٰہ أن یہدیک إلی صراط الراشدین۔
    ترک طریق ہدایت کردند۔ پس آن خرافات راپیروی مکن کہ جاہلان تراشیدہ اند۔ واز خدا بخواہ کہ ترا ہدایت راہ رشیدان کند
    ألا تری أنہم جَمَعوا تناقضات فی خیالا تہم، وأضحکوا الناس بخزعبیلا تہم، و
    آیا نمی بینی کہ اوشان تناقضات را درخیالات خود جمع کردہ اند۔ ومردم رابسخنان باطل خود درخندہ آوردہ اند
    جاء وا بإفکٍ مبین؟ قد لزمہم من جہۃِ عقید تہم أن یَدْعوا ربہم بالتضرعات، لیفنی
    و دروغ صریح آوردہ اند۔ برایشان از عقیدہ ایشان لازم بود کہ از خدائے خود بتضرع تمامتر بخواہند۔ کہ تااوبجز
    کلَّ حیوان من دون رجال یوجد تحت السماوات، من بقرٍ وجاموسٍ وماعزٍ
    مردان تمام آن جانوران را بمیراندکہ زیر آسمان موجود اند۔ ازقسم گاؤہا وگاؤ میش ہا وگوسپندہا
    وغیرہا من الحیوانات، وکلّ امرأۃ زوجًا کانت لہم أو من الأمّہات والبنات والأخوات،
    وغیرہ از جانوران وہمچنان لازم بود کہ ہرزنے را نیز بمیر اند گو اوزوجہ اوشان باشد۔ یا ازمادران ایشان یا از دختران ایشان
    لیستخلص أرواح آباۂم من تناسُخ ومن عذاب مہین* بل کان ہذا الدعاء

    یا ہمشیرگان ایشان تاکہ روحہائے پدران ایشان از تناسخ وعذاب رسوا کنندہ آزاد شوند۔
    نوٹ: ان کان التناسخ ھو الحق فیجب ان یجتنب التزویج کل من تمسک بھذہ الاعتقادات۔ لعل النساء
    و اگر تناسخ حق ست پس واجب است کہ اہل آن از نکاح کردن بپرہیزند کہ شاید زنان منکو حہ دختران باشند یا ہمشیرہ ہائے ایشان یا مادران
    المنکوحات کن بناتھم اواخواتہم او امھاتھم اوامہات الامہات۔ منہ
    ایشان یا مادران مادران ایشان۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 123
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 123
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/123/mode/1up
    123
    ووجب بزعمکم أن تبقی فتنُ قسّیسین أعداء الہدی، مع تزاید ہا إلی تلک المدیٰ،
    گشت۔ وحسب زعم شما این واجب شد کہ فتنہ ہائے پادریان تابدین مدت ہا در تزاید باشند
    فإن وقتہا شریطۃُ وقتِ المسیح کما أخبر سیّد الوریٰ۔ فہٰذا أعظم المصائب علی
    چرا کہ وقت آن فتنہ ہا بطور شرط برائے وقت مسیح موعود است۔ پس این مصیبتے بزرگ براسلام ست
    أہم مقاصد ہم وأعظم مآربہم إن کانوا راسخین علی عقیدتہم ومستیقنین۔
    بلکہ این دعا از اہم مقاصد وبزرگتر مرادات ایشان بود۔ اگر ایشان برعقیدہ خود یقین داشتندے

    ولکنہم یَدْعون خلاف ذالک، وقد حثّہم ’’ویدھم‘‘ علی أن یدعوا ربہم یعطہم

    مگر ایشان برخلاف این دعاہا می کنند۔ و وید ایشان ایشان را رغبت می دہدتا ازو بسیار از بسیار
    کثیر من البقر والفرس ویجعلہم من المواشی متموّلین۔
    گاوان واسپان بخواہند و او شان را از چارپایان مالدار کند۔
    و’’الوید‘‘ مملوٌّ من مثل ہذہ الأدعیۃ، کما لا یخفی علی الذین قرأوا ’’رک وید‘‘ بالبصیرۃ،
    و وید از ہمچو این دعاہا پراست چنانچہ بران کسانے پوشیدہ نیست کہ وید را میخوانند یا از
    وسمعوہ من البراہمۃ متأملین۔ فلو کان ’’الوید‘‘ من عند اللّٰہ، لما وُجِدَ فیہ دعاء
    برہمنان مے شنوند۔ پس اگر وید از طرف خدا تعالیٰ بودے ہرگز ممکن نہ بود کہ چنین
    لا یتأتّی إلا بفسق الفاسقین۔ وتری الہنود کیف یودّون أن یکون لہم أقاطیع
    دعاہا دران موجود بودندے کہ بغیر بدکاری بدکاران حصول آنہا ممکن نیست وتومی بینی کہ چگونہ ہنودمے خواہند
    من البقر والجوامیس ویصرفون ہممہم إلٰی ہذا الأمر مدبّرین، فکأنہم یحبون
    کہ برائے شان رمہ ہا ازگاوان وگاؤ میشان باشند۔ وبرائے این امور بگونا گون تدبیرہا ہمتہائے خود مصروف میدارند پس گویا
    أن تبقی الفاحشۃ إلی أبد الآبدین، بل یحب ویدہم أن لا یقطع أبدًا سلسلۃ ذنب
    اوشان میخواہند کہ بدکاریہا برائے ہمیشہ موجود باشند۔ بلکہ وید ایشان دوست میدارد کہ سلسلہ گناہ گنہگاران گاہے منقطع


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 124
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 124
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/124/mode/1up
    124
    الإسلام أن تعلو شوکۃ الصلیب إلی تلک الأیام البعیدۃ من الأنام، ویمتد زمان إغواء الخواص
    کہ شوکت صلیب تاآن روزہا بماند کہ ہنوز ازخلق بسیار دوراند۔وزمانہ اغوائے مخلوقات بدرازی کشد
    والعوام۔ فما لکم لا تتفکرون، وتبدّلون شُکْرَ نعم اللّٰہ بالکفران وتنکرون؟ وجاء کم
    پس چہ پیش آمد شمارا کہ فکر نمی کنید۔ وبجائے شکر نعمتہائے الٰہی کفران مے ورزید۔ وحق در وقت
    المذنبین۔ وأمّا القول الأحسن الأقوم فی ہذا الباب، والحق القائم علی أعمدۃ الصواب،
    نگردد۔ مگر آن سخنے کہ درین باب احسن دراست ترست۔ وبرستون ہائے صواب قائم است
    فہو الذی بیّنہ اللّٰہ فی الکتاب لقوم طالبین۔ وہو أن ہذا العالم لا یدوم
    پس آن ہمان ست کہ خدا تعالیٰ برائے طالبان درقرآن شریف فرمودہ ست۔ وآن این ست کہ این جہان
    إلی أبد الآبدین، بل لہ انقطاع وانتہاء ، وبعدہ عالم آخر یقال لہ یوم الدّین۔ ولا یُلقَّی
    تاہمیشہ نخواہد ماند۔ بلکہ برائے او انقطاعے وانتہائے ست۔ وپس آنجہانے دیگرست کہ آنرا یوم الدین می نامند
    نعماء ہ إلا الذی اختار الشدائد علی النعماء ، وآثر الآلام علی الآلاء ، وصبر علی أنواع البأساء ،
    ونعمتہائے آن جہان را ہمان کس خواہد یافت کہ سختی ہا را برنعمت ہا اختیار کند۔ ودرد ہا را براسباب آسایش
    لرضاء ربّ العالمین۔ فالذین وصلوا ہٰذہ السعادۃ، وبلغوا الشرف والسیادۃ،
    مقدم دارد۔ وبرانواع سختی ہا برائے رضاء رب العالمین صبر کند۔ پس آنانکہ این سعادت رایا فتند وبزرگی ومہتری
    فہم قومانِ عند الربّ المنّان۔ منہم قوم یجاہدون فی اللّٰہ بأموالہم وأنفسہم،
    رارسیدند۔پس ایشان نزد خدائے منان دو ۲ قوم اند یکے ازیشا ن آن قوم است کہ در راہ خدا تعالیٰ بامال وجان
    ویؤتون فی سبیل اللّٰہ کلَّ أَحَبِّہم وأنفَسِہم، ویشرون نفوسہم ابتغاء مرضاۃ اللّٰہ،
    خود مجاہدہ میکنند وہرچہ ازمال عزیز تردوست میدارند آن ہمہ براہ خدا تعالیٰ می دہند وبرائے تحصیل
    ویؤثرون علی أنفسہم ولو کان بہم خصاصۃ، ویبیتون لربّہم سجّدًا وقیامًا وباکین۔
    رضا مندی ہائے الٰہی جان ہائے خود را میفرو شند۔ وبر نفوس خود دیگران را اختیار میکنند اگرچہ خود در تکلیف و تنگی


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 125
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 125
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/125/mode/1up
    125
    الحق فی وقتہ فتعرضون، وتجعلون حظکم أن تکفّرونی ولا تتّقون۔ أتکفرون
    خود شمارا رسید وشما کنارہ میکنید۔ وحصہ خود این می گردانید کہ مرا کافر قرار دادہ اید ونمی ترسید۔ آیا شما بندہ

    عبد اللّٰہ المأمور، وتَقْفُون ما لیس لکم بہ علم من اللّٰہ الغیور، وتتکلمون مستعجلین؟
    مامور را کافر میگوئید۔ وبران چیزہا اصرارمی کنید کہ علم آنہا شما را ندادہ اند۔ واز روئے جلدی کلام میکنید۔
    ولا یُفرّطون فی حظّ أنفسہم، بل ینفقون أموالہم فی مراضی اللّٰہ، ویعیشون کالفقراء
    باشند۔ وبرائے پروردگار خود درحالت سجدہ وقیام وگریہ شب میگذرانند۔ ودرحظ نفس خود از حد اعتدال بیرون نمی روند
    والمساکین۔ وقوم آخرون یتولّی اللّٰہ أمر نجاتہم، ویفعل بہم أمورًا ما کان لہم أن
    بلکہ مال ہائے خود را در رضا ہائے خدا تعالیٰ خرچ میکنند۔ وہمچو مساکین وفقراء زندگی بسر میکنند۔ وقومے دیگرست کہ خدا خود
    یفعلوہا لنجاۃ أنفسہم، فیصبّ علیہم مصائب وشدائد وأنواع النائبات، ویبتلیہم
    متولی امر نجات شان میگردد۔ وبرائے شان آن کارہا میکند کہ درطاقت شان نبود کہ خود برائے نجات خود کنند۔ پس
    بنقص من الأموال والأنفس والثمرات، ثم یرحمہم بذٰلک، وینزل علیہم صلواتِہ
    برایشان سختی ہاو شدّتہا واقسام حوادث نازل میکند۔ وایشان رابہ نقصان مال وجان وثمرہامی آزماید۔ بازبدین
    وأنواع البرکات، کما ینزل علی أہل الباقیات الصالحات، ویلحقہم بقوم محبوبین۔
    آزمائش برایشان رحم میفرماید وبرایشان رحمت ہاو انواع برکات نازل میفر ماید۔ وبا محبوبان خود ایشان را

    وتُحسَب تلک الآفاتُ عبادۃً منہم، ومجاہدۃً من عند أنفسہم بما صبروا
    پیوند مے بخشد۔ واین آفات را از ایشان درحکم عبادت و مجاہدہ می پندارد چرا کہ اوشان بر
    علیہا مستقیمین۔ فیبلّغہم اللّٰہ مقاماتٍ بلغہا قوم زاہدون صالحون وحزب
    سختی ہا صبر میکنند۔ پس خدا تعالیٰ اوشان رابدان مقامات می رساند کہ مقام زاہدان وصالحان
    عابدون مرتاضون، ویرضیٰ عنہم کما رضی عن قوم یعبدونہ ویؤثرونہ ویجعلہم
    وعابدان ومرتاضان ست و از ایشان آنچنان خوش میشود کہ از قومے خوش شد کہ پرستش اومیکنند و او را


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 126
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 126
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/126/mode/1up
    126
    أنسیتم ما جاء الناموس بہ أو کنتم قومًا غافلین؟ أ تَوانَون فی أمر الدین، وأَخْلَدْتم
    آیا قرآن کریم را فراموش کردہ اید یاخود درغفلت زندگی بسر میکنید۔ آیا در امر دین سستی میکنید۔ وبکوشش تمامتر
    إلی الدنیا مُجِدّین؟ وإذا مررتم بالحق مررتم مستہزئین إلا قلیل من الراشدین۔
    بردنیا افتادہ اید۔ وچون برحق گزر میکنید باستہزا گذر میکنید۔ مگراند کے از ہدایت یابان
    فائزین۔ویختار لکل ما صلح لنفسہ، وہو یعلم مصالح المخلوقین۔
    اختیار میکنند۔ واوشان را از کامیابان میگرداند۔ وبرائے ہریکے آن می پسندد کہ برائے نفس او بہترست۔ و او
    فما بقی محل اعتراض فی ہذا المقام، فإنہم وجدوا جزاء ہم علی الآلام، وأصابہم
    مصالح مخلوق خود را خوب میداند۔ پس دریں جا ہیچ محل اعتراض نماند۔ چرا کہ اوشان جزائے درد ہائے خود یافتند
    حظ کثیر وأُعطوا نعمًا غیر محدودۃ من الفضل التام، ودخلوا فی مقعدِ صدقٍ

    واز فضل کامل خدا تعالیٰ نعمتہائے غیر محدودہ یافتند۔ و درمجلس صدق ہمچو راستبازان بزرگ
    کالأبرار الکرام، ووصلوا اللذّات الأبدیۃ فرحین۔ وورثوا جنۃً لا تنقطع

    داخل کردہ شدند۔ و درحالت خوشی وخرمی لذات ابدیہ رارسیدند۔ و وارث آن جنت شدند کہ درہیچ وقتے
    نعماؤہا ولا تنفد آلاؤہا، ووجدوا نعماءً أبدیۃ بنصبِ أیامٍ قلائل، ودخلوا
    نعمتہائے آن منقطع نخواہند شد۔ وبعوض تکالیف چند روزہ نعمتہائے جاودانی یافتند۔ وبرائے دوام در

    فردوس ربہم خالدین۔ وما ہذہ الدنیا إلا طرفۃ عین تنقضی مرارتہا وحلاوتہا،
    بہشت داخل شدند۔ واین دنیا ہمچو مدت پلک زدن ست۔ تلخی وشیرینی اوہمہ مے گذرد۔
    وتنعدم نضارتہا وطراوتہا، ولا تبقی لذتہا ولا عقوبتہا، فلا تتمایلُ علیہا أعین العارفین۔
    وتازگی او معدوم می شود۔ و لذّت وعقوبت آن باقی نمی ماند۔ پس از ہمین وجہ چشم عارفان برومائل نمی گردد
    ہٰذَا مِمَّا أَلْہَمَنِی رَبِّی فخُذْہا وَکُنْ مِّنَ الشَّاکِرِین۔ منہ۔
    این آن چیز است کہ خدا در دلم انداخت۔ پس بگیرد شکر کن۔ منہ


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 127
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 127
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/127/mode/1up
    127
    وأکثرکم ینظرون إلی أہل الحق بنظر السّخط محقّرین۔ وإنّ سُخط اللّٰہ أکبر
    واکثر شما اہل حق رابنظر غضب واہانت مے بینند۔ وغضب خدا از غضب ایشان
    من سخطہم وہو غیور لعبادہ المأمورین۔
    بزرگترست واو برائے بندگان مامور خود غیرت مے دارد۔
    وما کنتُ أن أفتری علیہ، إنہ ربی أحسنَ مثوای، وإنہ لا یُمہّل المفترین۔
    ومن نہ آنستم کہ برخدا تعالیٰ افترا کنم۔ اوآن خداوندے ست کہ مرارا حتہا بخشید وبمن نیکی ہاکرد۔ واو افترا کنندگان
    وأنتم تعرفون سنن اللّٰہ ثم تنقلبون منکرین۔ وتدرسون کتابہ ثم لا
    را ہرگز مہلت نمی دہد۔ وشما سنتہائے خدارا میدانید باز برگشتہ می شوید۔ وکتاب او را میخوانید۔ بازروز ہائے
    تفہمون أیّام الصّادقین۔ فضّلکمُ اللّٰہ بعقل ودرایۃٍ، وفراسۃٍ مانعۃٍ من غوایۃٍ،
    صادقان را نمی فہمید۔ خدا برشما بعقل و دانش فضل کرد۔ وشمارا فراستے بخشید کہ از گمراہی باز دارد
    فالحجۃ علیکم أَ تَمُّ مِن أحبابکم، وذنبُ الأُمّیّین والمحجوبین کلہ علی رقابکم،
    پس حجت الٰہی برشما از دیگر دوستان شما اکمل و اتم است۔ وگناہ ناخواندگان ومحجوبان ہمہ برگردن شماست
    إن کنتم معرضین۔ وإنی قد بلّغتُ کما أُمرْتُ، وصدَعتُ بما أُلہِمتُ، فالآن
    اگر شما کنارہ کش بمانید۔ ومن چنانکہ حکم کردند تبلیغ کردم۔ والہام الٰہی را پوست کندہ بیان نمودم۔ پس اکنون
    لا عذرلجاحدٍ، ولا محلَّ قولٍ لمعاندٍ، وظہر الأمر وحصحص الحق
    ہیچ منکرے را عذرے باقی نماندہ۔ ونہ ہیچ معاندے راجائے سخن۔ وامر ظاہر شدو حق بظہور پیوست وخدا

    وقطَع اللّٰہ دابِر المرتابین۔ ما بقی الأمر مرموزا مکتومًا، وصار المستور مکشوفًا
    قطع شکوک شک کنندگان کرد۔ اکنون این امر مخفی ومستور نماندہ۔ وہرچہ پنہان بود منکشف گشت۔ پس
    معلومًا، فلا تکتموا الحق بعد ظہورہ إن کنتم صالحین۔
    راستی را پس زانکہ ظاہر شد نپوشید۔ اگر مردان نیکو ہستید۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 128
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 128
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/128/mode/1up
    128
    ولا یختلج فی قلبک أن العلماء ینتظرون نزول المسیح من السّماء ، فکیف نقبل قولًا
    یخالف قول العلماء ؟ فإن وفاۃ المسیح ثابت بالآیات المحکمۃ القاطعۃ،
    و الآثارِ المتواترۃ المتظاہرۃ، فالأمر الذی ثبت بتظاہر الأحادیث والقرآن،
    و الیقین والبرہان، لا یبلغ شأنَہ أمرٌ یؤخذ من ظنون لا مِن سبل الإیقان، وَلا
    یخلو من أوساخ مَسِّ ید الإنسان، فالأمن کل الأمن فی قبول أمر تظاہرَ فیہ
    الحدیث والفرقان، والعقل والوجدان، ولہ نظائر فی کتب الأولین۔ فإن
    النزول علی طریق البروز قد سُلِّمَ فی الصّحف السّابقۃ، وأمّا نزول أحد بنفسہ
    من السّماء فلیس نظیرہ فی الأزمنۃ الماضیۃ۔أما سمعتَ کیف أوَّلَ عیسٰی علیہ السلام
    و در دل تواین نہ بگذرد کہ عالمان این انتظارمیدارند کہ مسیح از آسمان نازل خواہد شد۔ پس چگونہ قول
    عالماں را قبول نکنیم چرا کہ وفات مسیح بآیات محکمہ قطعیتہ الدلالت ثابت است۔ و از روئے
    آثار متواترہ بپایہ ثبوت رسیدہ۔ پس امرے کہ از تظاہر حدیث وقرآن ثابت شدہ است۔ وازیقین
    وبرہان محقق گشتہ بشان آن آن امردیگر نتواند رسید کہ ماخذ آن صرف ظنون اند نہ یقین۔ ونیز از
    چرک ہائے مس انسانی خالی نیست۔ پس ہمہ امن در قبول آن امراست کہ دران حدیث و
    قرآن بہ پشتئ یکدیگر افتادہ اند۔ ونیز عقل و وجدان ونظائر کتب اولین مویّد وشاہدآن ہستند۔ چرا کہ
    نزول از آسمان بطریق بروز امرے ست کہ درصحف سابقہ تسلیم داشتہ شدہ است۔ مگر نزول کسے بذات خود
    از آسمان امرے ست کہ نظیرآن در ازمنہ گزشتہ یافتہ نمی شود۔ آیا نشنیدہ کہ عیسیٰ علیہ السلام
    نبأَ نزولِ إیلیا عند السؤالات، وصرَفہ عن الحقیقۃ إلی الاستعارات؟
    چگونہ دربارہ نزول الیاس تاویل کرد۔ و نزول او را از حقیقت گردانیدہ بصورت استعارہ قرار داد
    والیہود أخذوا بظاہر النصوص وما مالوا إلٰی التأویلات، بل کفّروا المسیح
    مگر یہودیان بظاہر نصوص پنجہ زدند۔ وہیچ تاویلے نکردند بلکہ مسیح رابوجہ تاویل او کافر قرار دادند


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 129
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 129
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/129/mode/1up
    129
    علٰی تأویلہ ورموہ بالتکذیبات، وقالوا ملحد یصرف النصوص عن ظواہرہا ویُعرِض
    عن البیّنات، فغضب اللّٰہ علیہم وجعلہم من الملعونین۔ فاتقوا جُحْرَ الیہود والقول
    المردود، واتقوا موطاءَ قدمِ الفاسقین، واقبَلوا ما قال عیسٰی مِن قبل وفی ہذا
    الحین۔ إن مثل نزول عیسیٰ فی ہذا الوقت الأغسیٰ ، کمثل نزول إیلیا فیما مضیٰ ،
    فاعتبروا یا أولی الأبصار، ولا تختاروا سبل الأشرار، ولا تخالفوا ما بیّن اللّٰہ علٰی
    لسان النبیین۔
    وأمّا ما جاء فی حدیث خیر الأنبیاء ، مِن ذکر دمشق وغیرہ من الأنباء ،
    فأ کثرُہ استعارات ومجازات من حضرۃ الکبریاء ، وتحتہا أسرار فی حلل لطائف الإیماء
    وگفتند ملحدے ست کذاب نصوص را از ظاہر آن می گرداند۔ و از
    بینات اعراض میکند۔ پس خدا تعالیٰ برایشان *** کرد وغضب خود نازل فرمود۔ پس شما از سوراخ یہود پرہیز کنید۔ و
    قول مردود راپیروی مکنید۔ و ازجائے قدم فاسقان دور بمانید۔ و آنچہ عیسیٰ پیش زین گفت واکنون گفت آنرا
    قبول کنید۔ بہ تحقیق مثال نزول عیسیٰ درین وقت تاریخ ہمچو مثال نزول ایلیا ست در وقت گذشتہ۔
    پس اے صاحبان دانش از امرے امرے دیگر را بفہمید۔ وطریق شریران را اختیار مکنید۔ وآن امر را مخالفت مکنید کہ
    خدا تعالیٰ برزبان انبیاء بیان فرمود۔
    مگر آنچہ درحدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ذکر دمشق وغیرہ آمدہ است
    پس اکثر آن از قبیل استعارات و مجازات ست۔ و زیرآن اسرار اند
    کما مضت سنۃ اللّٰہ فی صحف السابقین۔ ثم من الممکن أن ننزل بساحۃ دمشق أو
    چنانچہ درصحف سابقین ہمین سنت گزشتہ است۔ باز از ممکنات کہ ماوقتے بدمشق نزول کنیم یا
    أحدٌ من أتباعنا المخلصین، وما جاء فی الحدیث لفظُ ’’النزول من السّماء ‘‘ لیرتاب
    احدے از اتباع ماداخل شود۔ ودرحدیث لفظ نزول از آسمان نیست تاکسے شک کنندہ


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 130
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 130
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/130/mode/1up
    130
    أحد من المرتابین۔ أو لم تَکْفِکم فی موت المسیح شہادۃُ الفرقان وشہادۃ نبیّنا
    المصطفٰی رسول الرحمٰن؟ فبأی حدیث تؤمنون بعدہما یا معشر الإخوان؟
    ما لکم لا تتفکرون کالمحقّقین؟ أعندکم سندٌ من اللّٰہ ورسولہ خیر الوریٰ، فی
    معنی التوفّی الذی جاء فی القرآن الأزکیٰ، فأنتم تتّکؤن علٰی ذالک السند
    وتسلکون سبل التقٰی، أو تؤوّلونہ من عند أنفسکم ومن الہوٰی؟ فإن کان سند
    فأخرِجوہ لنا إن کنتم صادقین۔ ولن تستطیعوا أن تأتوا بسندٍ، فلا تُخْلِدوا
    إلی فَنَدٍ، إن کنتم متقین۔ وإیاکم والتفسیرَ بالرأی ولا تترکوا الہُدٰی، فتؤخذون
    من مکان قریب ولا یبقٰی لکم عذر ولا حجۃ أخرٰی، فما لکم لا تخافون یوم الدین؟
    شک کند۔ آیا شمارا دربارہ موت مسیح شہادت قرآن شریف کافی نیست۔ وآیا شہادت
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کفایت ندارد۔ پس باوجود این ہر دو گواہان چہ حاجتے بحدیثے دیگرے ماندہ
    اے برادران چہ شد شمارا کہ ہمچو محققان فکر نمی کنید۔ آیا نزد شما از خدا ورسول اودرمعنی توفی کہ درقرآن شریف
    درمحل ذکرحضرت عیسیٰ موجودست سندے ست۔ پس شما بران سند تکیہ میکنید وراہ پرہیز گاری
    اختیارمے کنید۔ یا ازطرف خود تاویل ہامے کنید۔ اگر سندے باشد پس آن سند
    برائے مابیرون آرید اگر میدانید کہ شما برراستی ہستید۔ وہرگز نتوانید کہ سندے پیش کنید۔ بس بسوئے
    دروغ میل مکنید۔ اگر پرہیز گارہستید۔ وخودرا از تفسیر بالرائے دور دارید وہدایت را مکنید۔ ورنہ
    ازمکان قریب گرفتار خواہید شد۔ وہیچ عذر ے وحجتے نخواہد ماند۔ چہ پیش آمد شمارا کہ از روز قیامت نمی ترسید۔

    وأما نحن فما نقول فی معنی التوفّی إلا ما قال خیر البریّۃ، وأصحابہ الذین

    مگر ماکہ ہستیم پس درمعنی توفی ہمان میگوئیم کہ رسول ماصلی اللہ علیہ وسلم گفت۔ ونیز آنچہ اصحاب

    أوتوا العلم من منبع النبوۃ، وما نقبل خلاف ذالک رأیَ أحدٍ ولا قول قائلٍ، إلّا

    او گفتند کہ ازچشمہ نبوت بہرہ ور بودند۔ وآنچہ برخلاف این باشد از قولے ورائے قبول نمے کنیم ۔ مگر


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 131
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 131
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/131/mode/1up
    131
    ما وافقَ قولَ اللّٰہ وقولَ خیر المرسلین۔ وإذا حصحص الحق فی معنی التوفّی
    مِن لسان خاتم النبیین، وثبت أن التوفّی ہو الإماتۃ والإفناء ، لا الرفع
    والاستیفاء ، کما ہو زعم المخالفین۔
    فوجب أن نأخذ الحق الثابت بأیادی الصدق والصفاء ، ولا نبالی قولَ السفہاء
    والجہلاء ، ونؤوّل کل ما خالف الأمر الثابت بالنصوص والبراہین، ولا نقدّم الظنون
    علی الیقین، ولا نؤثر الظلمۃ علی الأنوار، ولا قولَ المخلوق علی قول اللّٰہ عالِمِ الأسرار۔
    أنترک البینات للمتشابہات، أو نضیع الیقینیات للظنیات؟ ولن یفعل مثل ہذا إلا جہول
    أو سفیہ من المتعصبین۔
    آنچہ موافق قول اللہ و رسول باشد۔ وہرگاہ کہ دربارہ معنی متوفی امر حق از زبان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
    ظاہر گشت وثابت شد کہ معنی توفی میرانیدن ست۔ نہ آنکہ برداشتہ شدن
    یاتمامتر گرفتہ شدن۔ چنانکہ زعم مخالفان ست۔
    پس واجب شد کہ ماحق ثابت شدہ را بدستہائے صدق و صفا بگیریم۔ وبقول سفہاء وجہلا ہیچ
    پروائے نداریم۔ وہرچہ از احادیث وآثار مخالف نصوص وبراہین افتادہ است آنرا تاویل کنیم۔ و ظن را
    بریقین مقدم نداریم۔ و نہ تاریکی را برنور مقدم کنیم ونہ قول مخلوق رابر قول خدا مقدم داریم۔
    آیا بینات را برائے متشابہات فرو گزاریم یایقینیات را برائے ظنیّات ضائع کنیم۔ وہمچو این کارے ہرگز کسے
    نخواہد کرد۔ مگر آنکہ جاہلے وسفیہے از متعصبان باشد۔
    ألا ترٰی أن نزول المسیح عند منارۃ دمشق یقتضی أن ینزل ہو بنفسہ
    آیا نمی بینی کہ فرود آمدن مسیح نزد منارہ دمشق میخواہد کہ اوبنفس خود در آنجا فرود آید
    عند تلک البقعۃ، وذٰلک غیر جائز بالنصوص القاطعۃ المحکمۃ۔ ولا شک أنّ
    واین امر از روئے نصوص قاطعہ محکمہ ناجائز وغیر ممکن ست۔ ودرین ہیچ شک


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 132
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 132
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/132/mode/1up
    132
    اعتقاد نزول المسیح عند ذٰلک المکان یخالف أمر موتہ الذی یُفہَم مِن بیّنات
    نصوص القرآن۔ ولأجل ذٰلک ذہب الأئمۃ الأتقیاء إلی موت عیسیٰ، وقالوا
    إنہ مات ولحق الموتٰی، کما ہو مذہب مالک وابن حزم والإمام البخاری، وغیر
    ذٰلک من أکابر المحدثین، وعلیہ اتفق جمیع أکابر المعتزلین۔ وقال بعض کرام
    الأولیاء إن حیاۃ عیسٰی، لیس کحیاۃ نبینا بل ہو دون حیاۃ إبراہیم وموسیٰ،
    فأشار إلی أنّ حیاتہ مِن جنس حیاۃ الأنبیاء ، لا کحیاۃ ہذا العالم کما ہو زعم الجہلاء۔
    واعلم أن الإجماع لیس علٰی حیاتہ، بل نحن أحقّ أن ندّعی الإجماع علی مماتہ
    کما سمعتَ آراء الأوّلین۔
    نیست کہ این اعتقاد نزول مسیح مخالف آن واقعہ موت ست کہ از نصوص قرآن شریف فہمیدہ
    می شود۔ ہمین باعث است کہ امامان پرہیز گاران سوئے موت عیسیٰ علیہ السلام رفتہ اند۔ وگفتہ اند
    کہ اوبمرد وبمردگان پیوست۔ چنانچہ ہمین مذہب مالک رضی اللہ عنہ وامام ابن حزم وامام بخاری وغیرہ
    اکابر محدثین ست۔ وبرہمین مذہب تمام اکابر معتزلہ اتفاق میدارند۔ وبعض بزرگان از
    اولیا گفتہ اندکہ زندگی عیسیٰ از زندگی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کمترست۔ بلکہ از زندگی ابراہیم علیہ السلام وموسیٰ علیہ السلام
    ہم فروتر افتادہ۔ پس درین قول آن بزرگ اشارہ فرمودہ است کہ حیات عیسیٰ از جنس حیات انبیاء ست
    نہ از جنس حیات این دنیا۔ چنانکہ آن زعم جاہلان ست۔ وبدانکہ اجماع برحیات عیسیٰ علیہ السلام ہرگز نیست
    بلکہ ماحق میداریم کہ دعویٰ اجماع برموت اوکنیم۔ چنانچہ پیش زین شنیدی
    وتعلم أن أکثر أکابر الأُمّۃ ذہبوا إلی موتہ بالصّراحۃ، والآخرون صمتوا
    و میدانی کہ اکثر اکابر امت بسوئے موت او رفتہ اند۔ ودیگران بعد شنیدن سخن ایشان
    بعد ما سمعوا قول تلک الأئمۃ، وما ہذا إلا الإجماع عند العاقلین۔ ثم تعلم أنّ
    خاموش ماندند۔ وہمین است کہ آنرا اجماع نام بایدنہاد۔ باز میدانی کہ


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 133
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 133
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/133/mode/1up
    133
    کتاب اللّٰہ قد صرّح ہذا البیان، فمَن خالفہ فقد مان، ولا نقبَل إجماعًا یخالف
    القرآن، وحَسْبُنا کتاب اللّٰہ ولا نسمع قول الآخرین۔ ومِن فضل اللّٰہ ورحمتہ
    أن الصحابۃ والتابعین، والأئمۃ الآتون بعدہم ذہبوا إلی موت عیسیٰ، ورآہ
    نبیّناصلی اللہ علیہ وسلم لیلۃَ المعراج فی أنبیاء ماتوا ودخلوا دارًا أخرٰی،
    ورؤیتہ لیس بباطل بل ہو حق واضح وکشفٌ من اللّٰہ الأعلٰی۔
    فما لک لا تقبل شہادۃ الرسول المقبول، ولا تقبل شہادۃ القرآن
    وترضٰی بالقول المردود کالجہول، ولا تنظر بعین المحققین ثم لا یمکن لأحد
    أن یأتی بأثر من الصحابۃ أو حدیث من خیر البریّۃ، فی تفسیر لفظ التوفّی
    کتاب اللہ بیان موت مسیح بتصریح کردہ است۔ پس ہر کہ مخالف آن بیان گوید دروغ گو ست۔ وماچنین اجماعے
    را قبول نکنیم کہ مخالف قرآن باشد۔ ومارا کتاب اللہ کافی ست وسخن دیگران نمی شنویم۔ واین فضل خدا ورحمت
    او ست کہ صحابہ وتابعین وامامان کہ بعد زیشان آمدند بسوئے موت عیسیٰ علیہ السلام رفتہ اند۔ وآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
    درشب معراج او را در پیغمبرانے دید کہ بمردند و در دار آخرت رسیدند۔ ودیدن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
    باطل نتواند شد بلکہ آن حق واضح وکشف صریح از خدا تعالیٰ ست۔
    پس چہ شد ترا کہ شہادت نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبول نمی کنی ونہ شہادت قرآن رامی پذیری۔
    و ہمچو نادانے بقول مردود و خوش ہستی و بچشم تحقیق نمی بینی باز درحد امکان کسے
    نیست کہ چنین اثرے از صحابہ یا حدیثے از آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیش کند کہ معنی لفظ توفی بجز میرا نیدن چیزے
    بغیرمعنی الإماتۃ، ولا یقدرون علیہ أبدًا ولو ماتوا بالحسرۃ، فأیّ دلیل أکبر
    دیگر دران بیان کردہ باشند۔ وہرگز مخالفان برین قدرت نخواہند یافت اگرچہ از حسرت بمیرند۔ پس کدام دلیل
    من ذلک لو کان فی قلب مثقال ذرۃ من الخشیۃ؟ فإن بحث الوفاۃ والحیاۃ أصلٌ
    ازین بزرگتر خواہد بود۔ اگر در دلے مقدار یکذرہ خوف خدا باشد۔ چرا کہ بحث وفات وحیات عیسیٰ علیہ السلام


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 134
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 134
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/134/mode/1up
    134
    مقدَّم فی ہذہ المناظرات، فلمّا حصحص صدقُنا فی الأصل ما بقی بحث فی
    الفروعات، بل وجب أن نصرفہا إلی معنی یناسب معنی الأصل، کما ہو طریق الدیانۃ
    والعدل، ولن نقبل معانیَ تنافی الأصل وتستلزم التناقض، بل نرجعہا
    إلی الأصل المحکم کالمحققین۔
    وقال بعض المخالفین من العلماء المجادلین: إن معنی التوفّی إماتۃ، و
    لیس فیہ شک ولا شبہۃ، فإنہا ثبت بلسان النبی وصحابتہ، وما کان
    لأحد أن یعصی بیانَ فُوْہتہ، بل فیہ مخافۃُ کفر ومعصیۃٍ، وخوفُ نکال و
    عقوبۃٍ، وخسران الدّین؛ ولکنّا لا نقول أن عیسیٰ علیہ السلام تُوُفِّیَ وصار
    اصل مقدم درین مباحثات است۔ پس ہرگاہ کہ ثابت شد کہ ما دراصل بحث حق بجانب ہستیم۔ پس
    در فروعات بحثے نماند۔ بلکہ مافروعات رابسوئے اصل خواہیم گردانید وآن معنی خواہیم کرد کہ بمعنی اصل مناسبت
    دارند۔چنانچہ طریق عدل و دیانت است۔ وہرگز آن معنی ہا قبول نخواہیم کرد کہ بااصل منافات دارند و
    موجب تناقض باشند۔ بلکہ آنرا سوئے اصل محکم ہمچو محققان رجوع خواہیم داد۔
    و بعض مخالفان ما از علماء چنین گفتہ اند کہ بلاشبہ معنی توفی میرا نیدن است۔ و
    درین ہیچ شک و شبہ نیست۔ چرا کہ این معنی بزبان نبی صلی اللہ علیہ وسلم واصحاب اوثابت شدہ
    ومجال احدے نیست کہ آن معنی را رد کند کہ از دہان مبارک او بیرون آمد اند۔ بلکہ درین انکار اندیشہ
    کفر ومعصیت ست۔ وبیم عذاب وعقوبت وزیان دین ست۔ مگر مااین نمی گوئیم کہ عیسیٰ علیہ السلام بمرد و از میرندگان
    من الأموات، لیلزمنا القول بالبروز فی نبأ خیر الکائنات، بل معنی الآیۃ
    شد۔ تانزول او را بطور بروز اعتقاد داریم۔ بلکہ معنے آیت این ست
    أنہ سیُتَوَفّی بعد نزولہ، فلم یبق من الشبہات، وبطل قول المعترضین۔
    کہ عیسیٰ علیہ السلام بعد نزول وفات خواہد یافت۔ پس بدین توجیہ ہیچ اعتراضے باقی نمی ماند۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 135
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 135
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/135/mode/1up
    135
    و أمّا جوابنا فاعلم أن ہذا القول قد قیل مِن قِلّۃ التدبّر والاستعجال،
    ولو فکّر قائلہ لندم من ہذا القِیل والقال، ولاستغفر کالمذنبین المفرطین۔
    أَمَا تَدَبَّرَ آیۃَ (فلمّا تَوفَّیتَنی) بالفکر والإمعان؟ فإنہ نصٌّ صریح علی أن عیسٰی مات
    فی سابق الزمان، لا أنہ یموت فی حین من الأحیان، فإن الصیغۃ تدل علٰی
    الزمان الماضی، والصرف ہٰہنا کالقاضی۔
    ثم إن کنتَ لا ترضی بحکم الصرف، وتجعل الماضی استقبالًا بتبدیل الحرف،
    فہٰذا ظلمٌ منک ومن أمثالک، ومع ذالک لا یفیدک غلوُّ جدالک، وتکون
    فی ہذا أیضًا من الکاذبین۔ فإن المسیح یقول فی ہذہ الآیات: إن قومی
    مگر جواب ماپس بدانکہ این سخن از قلت تدبر وشتاب کاری گفتہ شدہ است۔
    واگر قائل این سخن فکر کردے البتہ شرمندہ شدے۔ وہمچو گناہگاران استغفار کردے
    آیا او در آیت فلما توفیتنی تدبر نہ کرد و بفکر وغور ندید۔ چرا کہ این آیت نص صریح برین امر است کہ عیسیٰ علیہ السلام
    درزمانہ گزشتہ وفات یافت۔ نہ اینکہ آئندہ در وقتے خواہد مرد۔ چرا کہ این صیغہ دلالت بر زبان
    ماضی میکند وعلم صرف اینجا مثل حاکم است۔
    باز اگر حال چنین ست کہ تو بحکم صرف راضی نیستی۔ وماضی را بہ تبدیل حرف استبقال میگردانی۔ پس این
    ظلمے ست از تو وامثال تو۔ وباوجود این اینجا نزاع تو ہیچ فائدہ ترانمی بخشد۔ وبدین پہلو
    نیز ہم دروغگو ثابت خواہی شد۔ چرا کہ مسیح درین آیات میگوید کہ قوم من بعداز مردن من گمراہ
    قد ضلّوا بعد موتی لا فی الحیاۃ، فإن کنتَ تحسب عیسٰی حیًّا إلٰی ہٰذا الزمان
    شدند نہ در زندگی من۔ پس اگر گمان میکنی کہ عیسیٰ علیہ السلام تا این زمانہ درآسمان زندہ
    فی السماء ، فلزِمک أن تقرّ بأن النصارٰی قائمون علی الحقّ إلٰی ہٰذا العصر لا
    است پس ازین لازم می آید کہ اقرار کنی کہ نصاریٰ ہم تا ہنوز برحق اند نہ از گمراہان و ہوا


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 136
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 136
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/136/mode/1up
    136
    من أہل الضلالۃ والہواء ۔ فأین تذہب یا مسکین، وقد أحاطت علیک
    البراہین، وظہر الحق وأنت تکتمہ کالمتجاہلین۔
    أیہا الغالی اتَّقِ سبلَ الغلواء ، واترُکْ طریق الخیلاء ، ولا تُغضِب اللّٰہ
    بالمعصیۃ، ولا ترِدْ مَورِدَ المأثمۃ، وسارِعْ إلی التوبۃ والمعذرۃ، ولا تکن کالذی
    بَسَأَ بأکل الجیفۃ، وما اکترث لما فیہ من العَذِرۃ، و فِرّ إلی اللّٰہ کالمستغفرین۔
    پرستان پس اے مسکین کجا میروی و بر تو دلائل احاطہ کردہ اند
    وحق ظاہر شد وتو او را ہمچو تجاہل کنندگان می پوشی۔
    اے غلوّ کنندہ از طریق ہائے غلو بپرہیز۔ وراہ تکبر را ترک کن۔ وخدا را بمعصیت درغضب
    میار۔ و درمقام گناہ وارد مشو۔ وبسوئے توبہ ومعذرت جلدی کن۔ وہمچوآن کسے مشوکہبخوردن
    مردار خو گرفتہ است۔ واز گندگی ہائے آن ہیچ پروائے ندارد۔ وبسوئے خدا ہمچو کسے بگریز کہ معافی می خواہد

    اَطِعْ ربَّکَ الجَبّار أھلَ لأَوَامِر
    خدائے خود راکہ جبّار ست واہل احکام اطاعت کن
    وکَیفَ عَلی نَارا النَّھَابِرِتصبِر
    وچگونہ برآتش مصیبت ہاصبر توانی کرد
    وَحُبُّ الھَویٰ واللّٰہِ صِلٌّ مُدمِّرٌ
    ومحبت ہوا و ہوس بخدا ماریست ہلاک کنندہ
    فَلا تختَرُوا الطَغْویٰ فَإنّ إلٰھنَا
    پس از حد در گزشتن اختیار مکنید چرا کہ خدائے ما
    ولا تقعُدَنْ یَا ابْنَ الکِرام بمُفسِدٍ
    وای پسر بزرگان بامفسدے منشین
    وَخَفْ قَھْرَہ وا ترُکْ طریق التجاسرٖ
    وازقہر اوبترس و طریق دلیری ہا بگذار
    وأَنْتَ تَأَذَّی عِنْد حَرّ الھَواجِر
    وتو درتپش ہائے نیم روز تکالیف می برداری وطاقت نداری
    کمَلْمَسِ أفعیٰ ناءِمٍ* فی النَّواظرٖ
    واز بیرون ہمچو جلد مار صاف و ملائم است
    غَیورٌ عَلٰی حُرُما تِہ غَیر قاصِرٖ
    برحدود خود غیرتمندست ومجرمان را معذور نخواہد گذاشت
    فترجِعَ مِن حُبِّ الشّریر کخاسر
    پس از محبت بد سرشت ہمچو زیان کارے خواہی گردید
    * ایڈیشن اول میں غالباً سہوکتابت ہے۔ درست لفظ ’’ناعِمٍ ‘‘ معلوم ہوتا ہے۔(ناشر)


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 137
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 137
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/137/mode/1up
    137
    وَلَا تَحْسَبَنْ ذَنْبًا صَغِیرًا کھیِّنٍ
    و گناہ خورد را آسان مدان

    وآخرُ نُصحِي توبَۃ ثم توبَۃ
    وآخر پند من این ست کہ توبہ کن توبہ کن

    فَإِنّ وَدادَ اللَّمَمِ إِحدَی الکبَاءِرٖ

    چرا کہ دوستی گناہ خورد از گناہان بزرگ است

    وَمَوتُ الفتٰی خَیرٌ لّہٗ مِن مَناکِرٖ

    ومردن مرد از ارتکاب منکرات ومعاصی نیکو ترست


    أیّہا الصّلحاء ! إنّی بلّغتُکم الحق لإ تمام الحجّۃ، ولو کان فیہ بعض المرارۃ، فتدبَّروا

    اے مردان نیک من امر حق را برائے اتمام حجت بشمارسا نیدم۔ اگرچہ دران بعض تلخی ہاست۔ پس تدبر کنید

    نصَرکم اللّٰہ إن اللّٰہ ینصر المتدبّرین۔ ولا یختلج فی قلبکم أن المسیح الموعود

    خدا مدد شماکند۔ وخدا بالضرور مدد کسانے میفرماید کہ تدبر میکنند۔ و در دل شما این نبگذرد کہ مسیح موعود

    یُحارب الکفار، ویقتل الأشرار، ویخرج کملوکٍ مقتدرین۔ ولیست ہٰہنا

    باکافران جنگہا خواہد کرد۔ وشریر اں را خواہد کشت۔ وہمچو بادشاہان خروج خواہد کرد۔ و درینجانہ این قوت
    ہٰذہ القوۃ، وَلا العساکر والشوکۃ، وسطوۃ السلاطین؟
    است۔ نہ لشکرہا و نہ شوکت و نہ دبدبہ شاہانہ۔
    فاعلموا أنّ ہذہ الحکایات والروایات لیست بِصَحِیْحَۃٍ، ویَعرِف سُقْمَہا


    پس بدانید کہ این حکایتہا وروایتہا صحیح نیستند وہرکہ بسلامت طبع در کتب حدیث

    کلُّ من تفکّر بسلامۃ قریحۃ، ویتدبّر کتب المحدّثین۔ وأنتم تعلمون أن صحیح

    فکر کند سقم این روایتہا را خواہد شناخت وشمامیدانید کہ صحیح بخاری
    الإمام البخاری أصح الکتب بعد کتاب اللّٰہ الفرقان، وقد جاء فیہ أن المسیح

    بعد کتاب اللہ از ہمہ کتاب ہا صحیح تراست و درآن آمدہ است کہ مسیح
    ’’یضَع الحربَ‘‘ ففکِّروا بالإمعان۔ فإن ہٰذہ الفقرۃ وأمثالہا تشفیکم
    جنگ نخواہد کرد پس درین فقرہ فکر کنید۔ چرا کہ این فقرہ وامثال آن شمار ا شفا خواہد بخشید


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 138
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 138
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/138/mode/1up
    138
    وتُخرج شکوک الجَنان،لأنہا تدلّ أن المسیح لا تحارب* الناس، بل یُفحم الأعداء
    ویزیل الأوہام والوسواس، ویأتی بکلمات حِکْمِیّۃ، وآیاتٍ سماویّۃ، حَتّٰی
    یُخرِج من الصدور أضغانہا، ویقتُل شیطانہا، ولکن لا بسیوف ورُمح وقناۃ،
    بل بحربۃ من سماوات، ویستفتح بتضرعات وأدعیۃ، لا بسہام وأسنّۃٍ، ولأجل
    ذٰلک لا یحارب یأجوجَ ومأجوج، بل یسأل اللّٰہ أن یعطیہ من لدنہ الغلبۃَ
    وشک ہائے دل بیرون خواہد کرد۔ زیراکہ این فقرہ وامثال آن دلالت میکندکہ مسیح بامردم کارزارے نکند
    بلکہ دشمنان را بازالہ اوہام ووساوس ملزم خواہد کرد۔ وکلمات پرحکمت بیان خواہد فرمود۔ ونشانہائے
    آسمانی خواہد نمود۔ بحد یکہ کینہ ہا از سینہ ہا خواہد ربود۔ وشیطان کینہ وران راقتل خواہد کرد مگرنہ بہ تیغہا ونہ
    بہ نیزہ ہا بلکہ بحربہ آسمانی۔ و فتح خود بتضرعہا و دعاہا بخواہد نہ بہ تیرہا و نیزہ ہا واز ہمین
    سبب ست کہ با یاجوج وماجوج جنگ نخواہد کرد بلکہ از خدا خواہد خواست کہ اورا غلبہ وعروج
    والعروج، فیکون فی آخر الأمر من الغالبین۔
    بخشد۔ پس درآخر امر غالب خواہد شد۔
    فالقول الذی یخالف ہذا الحدیث الصّحیح والخبر الصّحیح
    پس سخنے کہ این حدیث صحیح را مخالف ست۔ وبدین خبر صحیح مخالفت دارد آن سخن
    مردود وباطل ولا یقبلہ إلا جاہل من الجاہلین۔ثم اعلموا أن قتل الناس
    مردود است وباطل وآنرا قبول نخواہد کرد مگر کسے کہ از جاہلان باشد۔ باز بدانید کہ بغیر تفہیم و تبلیغ و
    من غیر تفہیمٍ وتبلیغٍ وإتمامِ حجّۃٍ أمرٌ شنیع لا یرضیٰ بہ أہل فطنۃ،
    اتمام حجت مردم راکشتن امرے زشت ست کہ ہیچ دانشمندے بدان راضی نیست۔ ونہ ہیچ نور فطرت
    ولا نورُ فطرۃ، فکیف یُعزَی إلی اللّٰہ العادل الرحیم، والمنّان الرؤوف الکریم؟
    بدان خوشنودست۔ پس چگونہ این امر بسوئے عادل ورحیم ومحسن ورؤف وکریم نسبت کردہ شود۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 139
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 139
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/139/mode/1up
    139
    ولو کان ہذا جائزًا لکان أحقَّ بہ سَیّدُنا خیر البریّۃ، وقد سمعتم أنہ صبَر مدّۃ
    و اگر این امر جائز بودے۔ پس زیادہ تر حقدار این آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بود۔وشما شنیدہ آید کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
    طویلۃ علی تطاول الکَفَرۃ الفَجَرۃ، ورأی منہم کثیر*من الظلم والأذیّۃ، وأنواع
    تا مدتے برگردن کشی کافران و فاجران صبر کرد۔ و از ایشان بسیارے از ظلم واذیت وگوناگون
    الشدّۃ والصعوبۃ، حتی أخرجوہ من البلدۃ، ثم أہرعوا إلیہ متعاقبین مُغاضبین
    سختی وصعوبت دید۔ تاآنکہ اورا از مکہ معظمہ بیرون کردند۔ باز بطور تعاقب بہ نیت قتل سوئے او بتمامتر
    بنیّۃ القتل و الإبادۃ، فصبر صبرًا لا یوجد نظیرہ فی أَحدٍ من رُسل حضرۃ
    غضب شتافتند۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آن صبر اختیار کرد کہ نظیرآن در پیغمبران پیشین یافتہ
    العزّۃ، حتی بلغ الإیذاء منتہاہ، وطال مَداہ، فہناک نزلت ہٰذہ الآیۃ
    نمی شود۔ تاآنکہ ایذا بنہایت رسید۔ ومدت آن دراز کشید۔ پس درآن وقت این آیت از خدائے سمیع و
    من اللّٰہ السمیع الخبیر: 3
    خبیر نازل شد۔ ومضمون آیت این ست۔ کہ آن گروہے را اجازت مقابلہ میدہیم کہ مظلوم اند۔
    3 ۱؂۔
    وخدا قادر است کہ ایشان را مدد دہد۔
    فانظروا کَیفَ صَبَرَ رَسُول اللّٰہ وَخَیر الرُسُل عَلی ظلم الکَفَرۃ إلٰی
    پس بنگرید کہ چگونہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم برظلم کافران تاروزگارے دراز صبر کرد۔
    برہۃ مِنَ الزَّمَان، وَدفَع بالحَسَنۃِ السّیءۃَ حتی تمّتْ حُجّۃ اللّٰہ الدیّان،
    وجواب بدی بہ نیکی داد تا آنکہ حجت خدائے جزا دہندہ باتمام رسید۔
    وانقطعَتْ مَعَاذِیْر الکافرین۔ فاعلموا أن اللّٰہ لیس کقصّابٍ یعبِط الشاۃَ بغیر
    و ہمہ عذر کافران منقطع شد۔ پس بدانید کہ خدا تعالیٰ مثل آن قصاب نیست کہ بغیر جرمے گو سپند
    * سہو کتابت سے کثیر لکھا گیا ہے۔ درست کثیرًا ہے۔ (ناشر) ۱؂ الحج:


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 140
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 140
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/140/mode/1up
    140
    جریمۃٍ، بل ہو حلیم عادل لا یأخذُ من غیر إتمام حجّۃ، وَہُوَ الّذی أَرْسلنی
    رامی بکشد۔ بلکہ اوحلیم وعادل است کہ بغیر اتمام حجت ہیچکس رانمی گیرد۔ واو ہمان ست کہ مرا از
    من حضرتہ العلیّۃ، فإیاکم وحُجُبَ الجہل والعصبیّۃ۔
    جناب بلند خود فرستاد۔ پس برشماست کہ از جہل وتعصب دور باشید۔
    وکم من العلماء والصلحاء اتّبعونی مع کمال العلم والخبرۃ، و
    وبسیارے از عالمان وصالحان واہل علم ہستند کہ باوجود کمال علم وتجربہ پیروی من کردند۔ ومی کنند
    کُفِّروا ولُعِنوا وأُوذُوا بأنواع الفِرْیۃ والتہمۃ، فاستقاموا بما أشرقَ لہم نورُ الحق
    ومردم اوشانرا کافر قرار دادند وبریشان *** فرستادند وبگونا گون دروغ وتہمت ایذا دادند۔ پس ایشان
    والمعرفۃ، وصدّقوا قولی مستیقنین، وآمَنوا مصدّقین غیر مرتابین، وألّفوا
    استقامت ورزیدند۔ چرا کہ نور حق و معرفت برایشان تافتہ بود۔ وقول مرا بہ تمامتر یقین تصدیق کردند وایمان آوردند
    کُتُبًا ورسائل لیعلم الناس أنہم من الشّاہدین۔ وتری نور الصدق یتلألأ فی
    وہیچ شکے در دل خود نگذاشتند۔ ورسالہ ہا و کتاب ہا تالیف کردند تا مردم بدانند کہ ایشان از گواہان ہستند
    جباہہم، وتخرج کَلِمُ الحِکم من أفواہہم، والاستقامۃُ تترشّح مِن سموۂم، والزہادۃ
    وتومی بینی کہ نور صدق درپیشانیہائے ایشان می درخشد۔ وکلمات حکمت ازدہان شان می برآیند۔ واستقامت
    یُشاہَد فی وجوہہم، لا یجترؤن علی المحارم ویخافون ربّ العالمین، وتتنزّل
    از رفتار شان مترشح میگردد۔ وپرہیز گاری در روہائے ایشان می تابد۔ برمحرمات جرأت نمی کنند۔ واز پروردگار عالمیان
    علیہم سکینۃ کل حین۔ زکّی اللّٰہ جوہر نفوسہم، وزاد عرفانہم، وجلّی مرآۃ إیمانہم،
    مے ترسند۔ وہروقت سکینت برایشان نازل میگردد۔ خدا تعالیٰ جوہر نفسہائے ایشان پاک کرد۔ وعرفان ایشان را
    وسقاہم کأس صدقٍ وعفۃٍ، وأعطاہم أنواع علمٍ ومعرفۃٍ، وأدخلہم فی
    ترقی داد۔ وآئینہ ایمان ایشان را روشن کرد۔ وجامہائے صدق و پرہیز گاری ایشان را نوشانید و گوناگون


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 141
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 141
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/141/mode/1up
    141
    عبادہِ الصَّالِحِین۔ فقاموا لِلّٰہ لإطاعتی، وترکوا إرادتہم لإرادتی، و

    علم و معرفت بخشید۔ ودربندگان نیکوکار داخل کرد۔ پس براہ خدا در اطاعت من استادہ اند۔ وارادہ خودرا

    خالفوا لی أزواجہم وأحبابہم، وأبناء ہم وآباء ہم، وجاء ونی تائبین۔ إنہم

    برائے ارادہ من ترک کردند۔ وزنان خود را و دوستان خود را وپسران خودرا وپدران خود را برائے من مخالفت کردند

    من قوم أثنی علیہم ربّی وألہمنی وقال: ’’ تَرَی أَعْیُنَہُمْ تَفِیضُ مِنَ

    ونزدم توبہ کنندگان آمدند۔ ایشان ازان جماعت ماہستند کہ خدا تعالیٰ تعریف ایشان کرد ومرا الہام داد

    الدَّمْعِ، یُصَلُّونَ عَلَیْکَ۔ رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُنَادِی

    وگفت کہ تومی بینی کہ اشک ہا ازچشم شان روان می گردد۔ برتو درودمی فرستند ومی گویند کہ اے خداوندما

    لِلإِیمَانِ فَآمَنَّا۔ رَبَّنَا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاہِدِینَ۔‘‘

    ما آواز منادی کنندہ راشنیدیم کہ برائے قوی کردن ایمان ہا منادی میکند۔ پس اے خداوندما۔ ما ایمان آوردیم۔ پس مارا

    فہُم مِنّی وأنا منہم، إلا قلیلٌ من الغافلین، فإنہم لحقوا بنا بألسِنہم

    در گواہان بنویس۔ پس ایشان از من اند ومن از ایشانم مگر اند کے از غافلان کہ ایشان بزبانہائے خود بما پیوستند

    لا بقلوبہم، أو أَمْحَلوا بعد شُؤْبُوبِہم، واللّٰہ یعلم ما فی صدور العالمین۔

    نہ بدلہائے خود۔ یا خشک شدند بعدیکہ نوبت باران اخلاص و خدا خوب میداند کہ درسینہ ہائے جہانیان چیست

    فطوبیٰ للَّذین سَمِعُوا وَصَایا الحق واستقامُوا عَلَیہا وما سَمِعُوْا بَعْدُ قولَ
    پس مبارک قومے کہ وصیتہائے حق شنیدند واستقامت ورزیدند وبعد زان نہ سخن زنان خود

    نساۂم أو أبناۂم أو عشیرتہم، وما صاروا کالکسالٰی بل زادوا فی الیقین۔

    شنیدند ونہ سخن پسران خود و نہ سخن قبیلہ خود وبعد از یقین سست نشدند۔

    فالحاصل أن الرشد قد تبیّن، وأظہر اللّٰہ الحق وبیَّن، وأشرقتْ

    پس حاصل کلام این است کہ رشد ظاہر شد۔ وحق پیدا گشت وآن روزہا


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 142
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 142
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/142/mode/1up
    142
    أیام کانت تنتظرہا الأمم وتترجّاہا الفِرق، وکلُّ أمرٍ موعود حانَ، وخُسِفَ القمر
    بتافتند کہ مردم و فرقہ ہا انتظار آنہامی داشتند وہر امر موعود نزدیک رسید۔ وآفتاب وماہ
    وَالشَّمْس فی رمضان، ورأیتم أن القِلاص تُرکتْ، وَالعِشار عُطِّلتْ، والبحار
    را در رمضان خسوف شد۔ و شما دیدہ اید کہ شتران بار برداری و سواری متروک شدند۔ و دریاہا
    فُجّرتْ، وَالصّحف نُشرت، ویَأجوجَ ومَأجوج وأفواجہما أُخرجتْ، والجبال
    شگافتہ شدند۔ وکتب ورسائل واخبار منتشر گشتند۔ ویاجوج وماجوج بیرون آمدند۔ وکوہ ہا
    دُکّتْ، ومُقدِّمات الساعۃ ظہرتْ، والفتن کُملتْ، والأرض زُلزلتْ، والسماء
    کوفتہ شدند۔ ومقدمات قیامت ظاہر گشتند۔ وفتنہ ہا بکمال رسیدند۔ وزمین جنبانیدہ شد۔ وآسمان
    انفجرت، فاتقوا اللّٰہ ولا تکونوا أوّل المعرضین۔
    منفجر گشت۔ پس از خدا بترسید و اول معرضان نشوید۔
    وقد تفرّدتُ بفضل اللّٰہ بکشوفٍ صادقۃٍ، ورؤیا صالحۃ، و
    ومن از بفضل خدا تعالیٰ بکشوف صادقہ و رؤیا صالح و مکالمات الٰہیہ۔ و
    مُکالماتٍ إلہیۃ، وکلماتٍ إلہامیۃ، وعلومٍ نافعۃ، وزادنی ربّی بسطۃً
    کلمات الہامیہ وعلوم نافعہ مخصوصم۔ وخدائے من درعلم ودین مرا
    فی العلم والدّین۔ وَأَرْسلنی مجدِّدًا لہذہ المِاءَۃ، وَسَمّانی عیسیٰ نظرًا علی المفاسد
    معلومات وسیع داد۔ وبرائے این امت مرا مجدد فرستاد۔ ونام من بلحاظ مفاسد موجودہ عیسیٰ
    المَوْجُوْدَۃ، فَإِن أکثرہَا مِن قَومٍ مَسیحیّین۔
    نہاد۔ زیرا کہ اکثر مفسدان از مسیحیان ہستند۔
    ومَن جاء نی بقلب سلیم ونیّۃٍ صَحِیْحۃٍ، وإخلاصٍ تامٍّ وإرادۃٍ صادقۃٍ،
    و ہرکہ بدل سلامت و نیت صحیح و اخلاص تام و ارادت صادقہ نزدم بیاید۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 143
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 143
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/143/mode/1up
    143
    ومکث عندی إلٰی مدۃ، فیکشف اللّٰہ عَلَیہ سِرّی فی صحبتی، ویراہ۱؂ من بعض
    وتا مدتے درصحبت من بماند۔ پس خدا تعالیٰ برو راز من خواہد کشود واز بعض نشانہا
    آیاتٍ و عجائبٍ لإراء ۃ منزلتی، إلا الذین یجیؤننی غافلین منافقین، وَ ل
    وعجائب ہا اورا خواہد نمود۔ تاشناسائے رتبہ من گردد۔ مگر آنانکہ بصورت غافلان ومنافقان می آیند و
    یطلبون الحق کالخَاشِعین التّائبین، فأولئک الذین بعدُوا مِنّی و
    حق راہمچو خاشعان وتائبان نمی جویند۔ پس اینان از من دور ہستند اگرچہ نزدیکان
    لو کانوا قریبین۔ رَضُوا بالبُعد والحِرْمان، وَمَا أرادوا أن یُعطَوا حظًّا من العرفان،
    باشند ایشان بدوری و محرومی راضی شدہ اند۔ و نمی خواہند کہ حظّے از معرفت ایشان را
    وما حملہم علی ذٰلک إلا فساد نیّاتہم، وَقِلّۃ مُبالاتہم، وغفلتہم فی أمر الدین۔
    حاصل گردد۔ وہیچ چیزے بجز فساد نیت ولا پروائی وغفلت دینیہ برین امر ایشان را آمادہ نہ کردہ۔
    والحق والحق أقول، إنّ أحدًا من الناس لا یرانی، إلا بعد ترک الأہواء
    وراست ست وراست میگویم کہ مراہمان کس خواہد دید کہ از ہوا و ہوس وآرزوہا
    والأمانی، وَلَیس مِنّی من یقول: ’’أَبنائی ونسوانی، وبیتی وبُستانی’’، وَإنّہ من
    دست بردار گردد۔ وآن کسے ازمن نیست کہ میگوید پسران من وزنان من۔ وخانہ من وباغ من۔ بلکہ اواز
    المحجوبین۔ وَإنّی جئت قومی لأمنعہم من مساوی الأخلاق وشُعب النفاق،
    محجوبان ست۔ ومن برائے این آمدم کہ از اخلاق بد منع کنم وطریق اخلاص وتوحید بنمائم۔
    واراہم۲؂ طریق المخلصین الموحّدین۔ولا دینَ لنا إلا دین الإسْلام، ولا کتاب لنا
    وہیچ دینے نداریم بجز دین الام وہیچ کتابے نداریم
    إلا الفرقان کتاب اللّٰہ العَلام، ولا نبیّ لنا إلا مُحمّدٌ خاتم النبیّین صَلّی اللّٰہ علیہؔ وسلم
    بجز قرآن شریف وہیچ پیغمبرے نداریم بجز حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہ خاتم الانبیاء
    سہو کتابت ہے درست یُریہ ہے۔(ناشر) ۲؂ سہو کتابت ہے درست اُریھم ہے۔ناشر


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 144
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 144
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/144/mode/1up
    144
    وبارَکَ وَجَعَل أعداء ہ من الملعونین۔ اشہدوا أنّا نتمسّک

    است خدا برو درودہا فرستاد وبرکت نازل کرد وبردشمنان او *** فرود آورد۔ گواہ باشید کہ ما

    بکتاب اللّٰہ القرآن، وَنتّبع أقوال رسول اللّٰہ منبعِ الحق والعرفان، ونقبَل

    بکتاب الٰہی کہ قرآن شریف است پنجہ می زنیم۔ وسخنان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم را کہ چشمہ حق و معرفت است

    ما انعقد علیہ الإجماع بذٰلک الزمان، لا نزید علیہا ولا ننقص منہا،
    پیروی مے کنیم وہمہ آن اموررا قبول مے کنیم کہ درآن زمانہ باجماع صحابہ صحیح قرار یافتند۔ نہ بران امور

    وعلیہا نحیا وعلیہا نموت، وَمَن زاد علٰی ہذہ الشریعۃ مثقال ذرّۃ أو نقص

    زیادہ می کنیم ونہ از آنہا کم میسازیم۔ وبر آنہا زندہ خواہیم ماند وبر آنہا خواہیم مرد۔ وہرکہ بمقداریک ذرہ برین شریعت
    منہا، أو کفر بعقیدۃ إجماعیّۃ، فعلیہ لعنۃ اللّٰہ والملائکۃ والناس أجمعین۔
    زیادہ کرد یاکم نمود یا انکار عقیدہ اجماعیہ کرد۔ پس برو *** خدا ولعنت فرشتگان وہمہ آدمیان ست۔
    ھٰذا اِعتِقادِیْ، وَ ہُو مَقصُودی و مرادی ، و لا أخالف
    این اعتقاد من است وہمین مقصود من است ومراد من۔ ومن
    قومی فی الأصول الإجماعیۃ، وَمَا جئتُ بمحدَثاتٍ کَالفِرق المبتدعۃ،
    باقوم خود در اصول اجماعیہ اختلافے ندارم۔ وہمچو بدعتیان چیزہائے نو پیدا نیاوردہ ام۔

    بید أنی أُرسِلتُ لتجدید الدّین وإصلاح الأمّۃ، علی رأس ہذہ الماءۃ، فأُذکّرہم

    مگر این ست کہ من برائے تازہ کردن دین واصلاح امت برسر این صدی فرستادہ شدہ ام۔ پس ایشان را

    بعض ما نسوا مِن العُلوم الحکمیّۃ ۔ والواقعات الصَّحیْحَۃ الاَصْلیۃ۔ وَجَعَلنی

    بعض آن امور ازعلوم حکمیہ وواقعات صحیحہ یادمی دہانم کہ آن را فراموش کردہ بودند ومرا پروردگار من

    رَبّی عیسی ابن مریم علی طریق البروزات الروحانیۃ لمصلحۃٍ أراد لنفع العامۃ،
    برطریق بروزات روحانیہ عیسیٰ بن مریم گردانید۔ برائے مصلحتے کہ بغرض افادہ مخلوقات


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 145
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 145
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/145/mode/1up
    145
    ولإ تمام الحُجَّۃ علی الکَفَرۃ الفَجَرۃ ولیُکمِّل نَبَأَہ ولیُنجِزَ وَعْدَہ ویُتمّ کلمتہ یُفحِم قومًا مجرمین۔
    ارادہ فرمود۔ ونیز برائے اتمام حجت برکافران وفاجران۔ ونیز بدین غرض کہ تاپیشگوئی خود رابپایہ کمال رساند وقوم مجرمان راملزم کند
    ہٰذَا دَعْوَایَ وتلکَ دَلائلی، وَلَن تَجدوا زَیْغًا فی دَعْوایَ وَمَسَائلی،
    این دعویٰ من است و آن دلائل من است۔ و در دعویٰ ومسائل من ہیچ کجی نیست
    وإن کتابی ہٰذَا لَبلاغٌ لِقَوم طَالبیْن۔ ففکّروا یا علماء القوم، وفتّشوا الأمر
    واین کتاب من برائے طالبان بلاغے است۔ پس اے علماء قوم فکر کنید۔ و قبل از ملامت تفتیش امر
    قَبل اللَوم۔یَا عِبَاد اللّٰہ اسمعوا، واتقوا اللّٰہ ثم اتقّوا، وَإنّی بلّغتُ مَا أمر بہٖ رَبّی،
    کنید۔ اے بندگان خدا بشنوید۔ وبتر سید از خدا باز بترسید۔ ومن آنچہ خدائے من حکم کرد رسانیدم
    وما بقی الإخفاء۔ فاسمعی أیتہا الأرض، واشہدی أیتہا السّماء۔
    پس اے زمین بشنو واے آسمان گواہ باش۔
    وَمَا أخشی الخَلق ومکائدہم، وأتّبع الحق ولا أتّبع زوائدہم، وَإنی
    ومن از مخلوق ومکر ہائے ایشان نمی ترسم۔ وپیروی حق میکنم دامور زائدہ ایشان را پیرو نیستم۔ ومن بر
    واثق بما وَعَدَ رَبِّی، وَہُو مَوئلُ کلِّ أَمَلی وأَرَبی۔ إنّ الأرض وَالسَّماء تتغیران،
    وعدہ رب خود اعتماد کلی دارم۔ و اوجائے بازگشت ہرامید وحاجت من است۔ وزمین وآسمان متبدل می شوند
    والصَّیْف وَالشّتاء ینقلبان، ولکن لا یتغیّر قول الرَّحْمٰن، ولا ینقلب مشیئتہ
    وسرما وتابستان میگردند۔ مگر قول خدا تعالیٰ تبدلے نمی یابد۔ وخواستہ او بمکر انسان منقلب
    بمکر الإنسان، وَإن مُحاربیہ مِن الخاسرین۔ أَیّہا الناس لا تُعرِضوا عن أیام اللّٰہ
    نہ تواندشد۔ وآنانکہ او جنگ میکنند از زیان کاران اند اِے مردمان از روزہائے خدا و روشنی آن اعراض
    وَضیَاۂا، وَلا تغفلوا فحسراتٌ بَعْد انقضاۂا، ولا تَغْلُوا وَلا تظلموا ولا تعتدوا
    مکنید۔ وغافل مشوید کہ پس از گزشتن آن حسرتہا خواہند ماند۔ وغلومکنید وبرجفا کمر مبندید و از حد مگذرید


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 146
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 146
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/146/mode/1up
    146
    إن اللّٰہ لا یُحبّ المعتدین۔ اتقوا اللّٰہ یَا مَعشر المُسْلمین والمسلمات، وَإنما التقوی
    کہ خدا آنا نرادوست نمی دارد کہ ازحد بیرون روند۔ از خدا بترسید اے مردان مسلمان وزنان مسلمہ کہ تقویٰ برائے
    لہذہ الأیّام والأوقات، وفکِّروا وقوموا فُرادَی فُرادَی، ثم فکِّروا کالأتقیاء
    ہمین روز و وقت ہاست۔ ویک یک شدہ بایستید باز مثل پرہیز گاران فکر کنید
    لا کرجُلٍ عَادَی، واسألوا اللّٰہ مبتہلین طالبین۔
    نہ ہمچو شخصے کہ دشمنی می کند۔ واز خدا بتضرع تمام بخواہید۔
    وکیف رضی عقلکم وَإیمانکم، وَدرایتکم وَعرفانکم، بأَوہامٍ لا تجدون
    وچگونہ عقل شما و ایمان شما و دانش شما و عرفان شما بدان اوہام را راضی میگردد کہ از آنہا در
    فی کتاب اللّٰہ أثرًا منہا؟ وتترکون طرق السلامۃ وتُعرضون عنہا، ولا تتّبعون
    کتاب اللہ اثرے و نشانے نیست۔ و راہ سلامتی رامی گزارید۔ و ازان کنارہ میکنید۔ و اصل محکم را کہ
    أصلا مُحکَمًا بَیِّنَ الوقوع، وتأخذون بأنیابکم صُوَرَ مسائلِ الفروع، مع أنہا
    بین الوقوع است پیروی نمی کنید۔ وصورت مسائل فرعیہ را بدندان مے گیرید باوجودیکہ آن
    فی أنفسہا مملوّۃ مِن الاختلافات وَالتناقضات، ثم لا یوجد تطابُقہا بالأصل الذی
    مسائل درحد ذات خود از اختلافات وتناقضات پرہستند۔ باز تطابق آن فروع باصل یافتہ نمی شود
    ہو لہا کالأمّہات، وأین التطابق بل یوجد کثیر من التباین والمنافاۃ۔
    کہ ہمچو امہات برائے فروع است۔ وتطابق کجا بلکہ مبائن ست ومنافات بکثرت موجود است۔
    فانظروا کیف جمعتم فی عقائدکم مِن أنواع الشناعۃ والتناقض و
    پس بنگرید کہ چگونہ درعقائد خود انواع زشتے و تناقض و دروغ جمع کردہ اید۔
    الفریۃ، وأمَدْتم بجہلکم أَعْداء المِلّۃ وعداء الشریعۃ المقدّسۃ، فہم یصولون
    و از نادانی خود دشمنان دین و ملت را مدد دادہ اید۔ پس ایشان


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 147
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 147
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/147/mode/1up
    147
    علی الحق مستہزئین۔
    وَأمّا السّلف الصّالحون فما کانوا کمثلکم فی الاعتقادات، ولا فی الخیالات،
    بل کانوا یُفوّضون إلی اللّٰہ علم المخفیّات، وکانوا متّقین۔وما کان جوابہم فی ہذہ
    المسائل، عند اعتراض المعترض السائل، إلّا تفویض الأمر المخفیّ إلی
    اللّٰہ الخبیر العلیم۔ وکانوا یؤمنون إجمالاً ویُفوّضون التفاصیل إلی اللّٰہ
    الحکیم۔فلأجل ذالک ما بحثوا عن تناقضات ہذہ الأنباء ، وَمَا أرادوا أن یتکلّموا
    فیہا قبل وقوعہا خوفًا من جُناح الزلّۃ والاعتداء ، وقالوا نؤمن بہا ولا ندخل
    فیہا وما کانوا علی أمرٍ مُصرّین۔
    ثم خلف من بعدہم خلف وفَیْجٌ أعوَجُ، أضاعوا وصایاہم
    وسُبُلَہم، وبدأ فیہم التعلّی والتموّج، فتکلموا فی أنباء الغیب بغیر علم مُجترئین۔
    بر حق مے خندند۔
    مگر سلف صالح در اعتقاد وخیال مثل شما نبودند۔
    بلکہ اوشان علم امور پنہانی را بسوئے خدا سپرد میکردند۔ و پرہیزگار بودند۔ وبوقت اعتراض
    جواب ایشان ہمین بود کہ ما این امر پنہان بخدا سپرد کنیم کہ خبیر وعلیم است۔
    وایشان اجمالاً ایمان مے آوردند۔ وتفاصیل راسوئے خدا تعالیٰ حوالہ میکردند
    پس از ہمین سبب است کہ از تناقضات این خبرہا بحثے نکردہ اند۔ ونخواستند کہ قبل وقوع
    این پیشگوئیہادرین کلام کنند ازین اندیشہ کہ مبادا بلغزش وتجاوز از حد مبتلائے گناہ شوند۔ وگفتند کہ ما ایمان
    بدین خبرہائے غیب می آریم ودرین ہا دخل نمی دہیم۔ غرض برچیزے اصرار نمی کردند۔
    باز نااہلان بعد ایشان آمدند کہ گروہ کج طبع بودند وصیت بزرگان و طریقہائے اوشانرا
    ضائع کردند و در او شان این عادت پیدا شد کہ بلندی می نمودند و موج می زدند۔ پس


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 148
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 148
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/148/mode/1up
    148
    وَبَحثوا عن أمور ما کان لہم أن یبحثوا عنہا، فَضلّوا وأضلّوا وکانوا قومًا عمین۔
    أما تری کیف نحتوا مِن عند أنفسہم نزول المسیح من السّماء ؟ ولن تجد
    لفظ السّماء فی ملفوظات خیر الأنبیاء ولا فی کَلِمِ الأوّلین۔
    وَأمّا نفس النزول فہو حق ولا نجادلہم فیہ، ولا نردّہ علیہم بَلْ إنّا نؤمن بہ
    کما یؤمنون وما نحن بمنکرین۔ وَلَیْسَ عنْدنا إلّا تسلیمٌ فی ہٰذا الباب،
    ومَن أنکر فقد کفر بما جاء فی الآثار وَالکتاب، وإنہ من الملحدین۔بید أنّنا نحمِل
    ہذا النزول علی أمرٍ فیہ أمنٌ مِنَ التّناقضات، وَنجاۃ مِن الاعتراضات، وَہُو النزول
    البروزی الذی قد جرت سُنّۃ اللّٰہ علیہ من زمن الأوّلین۔ فلیس إنکارنا إلَّا من
    نزول المسیح بنفسہ مِن السّماوات، فإنہ یخالف سُنن اللّٰہ والبیّنات من الآیات، فإن القرآن
    فرض عَلَیْنا أن نؤمن بوفاۃ المسیح* ونحسبہ من الأموات، فالقول بحیاۃ المسیح
    در خبر ہائے غیب گفتگوہا شروع کردند نہ از بصیرت بلکہ محض از دلیری وازان امور بحث ہا نمودند کہ ہرگز مناسب نبود
    کہ درآنہا افتند۔ پس گمراہ شدند وگمراہ کردند ومردمان کور بودند۔ آیا نمی بینی کہ چگونہ از طرف خود تراشید ندکہ مسیح از آسمان
    نازل خواہد شد حالانکہ در تقریر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم لفظ آسمان ہرگز نیست ونہ در کلام پیشینیان۔
    مگر لفظ نزول پس آن حق است وما درین امر بااوشان مجادلہ نمی کنیم ونہ این را برایشان ردکنیم بلکہ بدان
    ایمان می آریم۔ چنانکہ ایشان ایمان می آرند ومنکر نیستم۔ ودرین مسئلہ نزدما بجز تسلیم ہیچ نیست۔
    وہر کہ انکار کند پس او منکر حدیث و قرآن شد۔ مگر این است کہ ما
    این نزول را برا مرے محمول میکنیم کہ دران امن از تناقضات است و از اعتراضات نجات است۔ و آن نزول
    بروزی است کہ سنت الٰہی برآن رفتہ۔ پس انکار ما صرف ازین امر است کہ مسیح بنفسہ از آسمان
    نازل شود۔ چراکہ این عقیدہ سنت اللہ وبینات قرآن رامخالف افتادہ
    است زیرا کہ قرآن برما این فرض کردہ است کہ مابوفات مسیح ایمان آریم و اورا ا زمردگان پند اریم۔ پس اعتقاد
    قال صاحب الفتح ھذا حدیث صحیح و رجالہ ثقات۔ منہ
    گفتہ اند کہ این حدیث صحیح است و رجال آن ثقات اند۔ منہ
    * نوٹ : جاء فی بعض الاحادیث من رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم بالتصریح۔ ان عمرہ نصف عمر المسیح۔
    در بعض احادیث از رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بتصریح آمدہ است کہ عمر آنحضرت از عمر مسیح نصف است ۔صاحب فتح البیان


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 149
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 149
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/149/mode/1up
    149
    وَرجوْعہ إلٰی دار الفانیات، یستلزم إنکارَ القرآن والمحکمات البیّنات، فلَا یتکلم بمثل ہٰذا
    إلّا الذین ہُم غُلْفُ القلوب، وکالمحجوب وَمِن المعرضین۔أنترک لظنونٍ واہیۃٍ
    القرآنَ، وَننبِذ من أیدینا الیقین والعرفان، وَنَرجع إلی أفسَدِ القولِ مِن أصلَحِہ،
    ونُلحِق أنفسَنا بالجاہلین؟ وَمَن یتدبّر آیات اللّٰہ، وَلَا یُعمٰی عینَ تمیُّزِہ مِن بیّنات اللّٰہ،
    فَلا بد لَہ أن یؤمن بمَوت المَسِیح، وَیقرّ بأَن النزول عَلٰی سَبیل البُروز الصّریح،
    ویُعرِض عن الظالمین۔
    أَسمعتم قَبل ذٰلِکَ رجلًا ذَہَبَ مِنَ الدّنیا ثُم نَزَلَ بَعْدَ بُرہۃ من السّماء ؟
    أتجدون نظیرہ فی أحدٍ من الأنبیاء ؟ وَقَد سَمِعتم کَیف أُوِّلَ مِن قبل فی نزول
    إلیاس، یَا أولی الأبْصَار وَالقیاس۔ورأیتم قومًا حملوا قصّۃ نزول إیلیا عَلٰی ظَواہرہا،
    وکفّروا المَسیح بخُبث النَفس وَأباہِرِہا، وَضُرِبَتْ عَلَیہم الذلّۃ وَالمسکنۃ وَجُعلوا مِن الملعونین۔
    حیات مسیح وباز آمدن او در دنیا موجب انکار قرآن ومحکمات آن ست۔پس ہم چنین کلام صرف کسانے خواہند کرد
    کہ دل شان در پردہ است ومثل محجوبان ہستند واز اعراض کنندگان۔ آیا برائے گما نہائے واہیات
    قرآن را ترک کنیم۔ واز دست خود یقین ومعرفت را بیند ازیم۔ واز قول اصلح سوئے قول افسد رجوع کنیم
    وبا نادانان خودرابیا میزیم۔ وہرکہ درآیات خدا تعالیٰ تدبر کند۔ وچشم خودرا از ملاحظہ بینات کورنسازد
    پس اورا ضرور است کہ بموت مسیح ایمان آرد واقرار کند کہ نزول بطور بروز است نہ بطور دیگر
    واز ظالمان اعراض کند۔
    آیا پیش زین شنیدہ اید کہ شخصے سوئے آسمان از دنیا برفت باز بعد از روز گارے از آسمان نازل شد
    آیا شما نظیرآن در احدے از انبیاء می یابید۔ وشما شنیدہ آید کہ چگونہ پیش زین در نزول الیاس
    تاویل کردہ شد۔ اے صاحبان چشم و قیاس۔ وشما قومے رادیدہ آید کہ قصہ نزول ایلیا را برظواہرآن حمل کردند۔
    وازوجہ خبث نفس وپرہائی آن مسیح را کافر قرار دادند۔ وبریشان ذلت ومسکنت انداختہ شد واز ملعونان


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 150
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 150
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/150/mode/1up
    150
    وَإن کنتم لَا تؤمِنُون بمَوت عیسٰی یا مَعشر الإخوان، وترفعونہ حیًّا إلٰی
    عرش الرّحمٰن، فما اٰمنتم بکتاب اللّٰہ الفرقان، فانظروا مَنْ أحقُّ بالأمن
    وَالأَمان، ومَن اتّبع ظنونًا وترَک سُبُل الإیقان۔ ثم أنتم تُکفّرون المُسلمیْن
    وتکذّبون الصّادقین، وتطیلون الألسنۃ علی أہل الحق وَالیَقین۔ أکان ہذا
    طریق التقویٰ والمتّقین؟
    وَقَدْ سَمِعتمْ أنّا قائلون بنزول المَسیح، والمقرّون بہ بالبیان الصّریح، وَ
    إنہ حقّ واجب ولا ینبغی لنا ولَا لِأَحَدٍ أن یُعرض عَنہ کَالمُفسدین، أَو یمتعض مِنْ
    قبولہ کَالمتکبرین۔ فإنہ لا یُعرض عن الحق إلا ظالمٌ معتدٍ خلَّاب، أو فاسق مُزوِّر
    کذّاب، ویُعْرَفُ بقبولہ قلبٌ توّابٌ۔ فالآن انظروا ! أنحن نعرض عَنِ القبول أو
    کنتم معرضین؟ أتظنون أنّ المسیح ابن مریم سیرجع إلی الأرض مِن السّماء ؟ ولا تجدون
    گردانیدہ شدند۔ و اگر شما اے برادران بموت عیسیٰ علیہ السلام ایمان نمی آرید و او را زندہ سوئے
    عرش رحمن می بردارید۔ پس شما بکتاب الٰہی کہ فرقان ست ایمان نیاوردہ آید۔ پس بنگرید کہ کدام کس ازما بامن وامان
    زیادہ ترحق دارد۔ وکدام کس گمانہارا پیروی کرد وراہ یقین را بگذاشت۔ بازشما مسلمانان را کافر قرارمی دہید
    وصادقان را کاذب می انگارید۔ وبر اہل حق ویقین زبانہا دراز می کنید۔ آیا این طریق پرہیزگاری
    و راہ پرہیز گاران است۔
    وشما شنیدہ اید کہ ما بنزول مسیح قائل ہستیم و بابیان صریح اقرار می داریم۔ واین
    حق واجب است نہ مارا شاید ونہ شمارا کہ ازان اعراض کنیم یا دربارہ قبول آن
    مثل متکبران خشمناکی ظاہر کنیم۔ چرا کہ از حق ہمان کس اعراض می کندکہ ظالمے تجاوز کنندہ از حد باشد وفریب
    دہندہ وفاسق وسخن آرایندہ وکذاب بود۔ وبقبول حق شناختہ می شود کہ این دل سوئے حق گروندہ است پس
    اکنون بنگرید آیا ماازحق کنارہ می کنیم یا شما کنارہ می کنید۔ آیا گمان مے دارید کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بسوئے


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 151
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 151
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/151/mode/1up
    151
    لفظ الرجوع فی کَلِمِ سیّدِ الرسل وأفضل الأنبیاء ۔ أَ أُلْہِمْتم بہذا أو تنحِتون
    لفظ الرجوع مِن عند أنفسِکم کَالخَائنین؟
    وَمِنَ الْمَعلُوم أن ہٰذا ہُو اللفظ الخَاص الذی یُستعمل لرَجُل یأتی
    بَعد الذَّہاب، ویتوجّہ مِنَ السَّفر إلی الإیاب، فہذا أبعدُ مِن أبلَغِ الخَلقِ وإمامِ الأنبیاء،
    أن یترک ہٰہنا لفظ الرجوع ویَسْتَعْمل لفظ النزول ولا یتکلم کالفصحاء والبلغاء ، فلا تنظروا کَلامی ہٰذا بنظر الاستغناء ، ولَا تنبذوہ وَراء ظہورکم کَأَہل الکبر والمراء،
    بل فکّروا کلّ الفکر بجمیع قوّۃ الدہاء ، فإنّ ہذا أمرٌ جلیل الخطب عظیم القدر
    فی حضرۃ الکبریاء ، وقبولہ برکۃ، وَتسلیمہ فطنۃ وسعادۃ، وردُّہ بلاء علی أہلہ المخذولین۔
    وَمِنَ العُلماء مَن یقول إن لفظ التوفّی قد یجیء فی لسان العرب بمعنی
    الاستیفاء ، وہوُ المراد ہٰہنا فی کلَام حضرۃ الکبریاء ، وَإذا طُلِبَ مِنہم السّند فَلا
    زمین از آسمان رجوع خواہد کرد۔ حالانکہ لفظ رجوع درکلمات آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نمی یابید۔ آیا این
    شمارا الہام شدہ است یا لفظ رجوع از طرف خود مثل خیانت پیشگان می تراشید۔
    واین معلوم است کہ ہمین یک لفظ است کہ برائے کسانے مستعمل می شود کہ بعد از
    رفتن بازمی آیند پس این امراز فصیح ترین خلائق وامام الانبیاء بسیار دور
    است کہ اینجا لفظ رجوع را ترک کندوبجائے آن لفظ نزول استعمال کند وہمچو فصیحان وبلیغان تکلم نفرماید
    پس این کلام مرا بنظر استغنامبینید وآنرا مثل متکبران پس پشت میندازید
    بلکہ بتمامتر دانش کامل فکر کنید۔ چرا کہ این امر در حضرت خدا تعالیٰ عظیم الشان است وقبول کردن آن برکت است وتسلیم آن دانائی وسعادت است۔ و ردآن براہل مخذول آن بلائے است۔
    وبعض از علماء میگویند کہ لفظ توفی درزبان عرب گاہے بمعنی استیفا می آید
    وہمین معنی در قرآن شریف اینجا مراد است۔ وہرگاہ ازین علماء مطالبہ سند کردہ شود


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 152
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 152
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/152/mode/1up
    152
    یأتون بسند من الشعراء ، وقد کفروا بمعنی بَیَّنَہ خاتَمُ الأنبیاء ، وَمَا أتوا بمعنی
    أبلغ منہ عند الفُصَحاء ، وَمَا أثبتوا دَعْواہم بل نَطَقُوْا کالعامہین۔
    وَمَا أُعطُوا وُسْعۃً فی ہذا اللسان، وَلَا یعلمون إلا الحقد الذی ہو تُراثہم
    من قدیم الزمان۔ فَیَا حَسْرۃ علیہم! ما لہم من معرفۃ فی العربیّۃ، وَلیسَ عند ہم
    مِن غیر الدعاوی الواہیۃ، ومَعَ ذٰلک لا یتناہَون من القیل والقال، وَلا یترکون
    نزاعہم بل یتصدّون لہٰذا النضال، ویقومون مع الجہل المحْکم للجدال، وکذٰلک
    ہَتکوا أستارہم بأیدیہم فی ہذا المقام، بما کانوا غافلین من موارد الکلام۔ سکتوا
    ألفًا، ونطقوا خلفًا، وَمَا نبسوا بکلمۃ حکمیۃ کالعاقلین۔ و أَرْأَوا أنفسہم کمَخاضٍ،
    وَظہروا کخَلِفَۃٍ، ثم إذا حَان النِتاج فما ولدوا إلَّا فأرۃ، أو أشوَہَ وأصغَرَ مِن فُوَیسقۃ۔
    ہذا علمہم، وَأَفسَدُ منہا عملُ تلک العالمین۔یأمرون الناس بالبرّ وینسون أنفسہم،
    پس ہیچ سندے از شعراء عرب نمی آرند۔ وایشان انکار آن معنی کردہ اند کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرمود۔ باز چنان
    معنی پیش نکردند کہ ازمعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نزد فصحاء ابلغ باشد۔ بلکہ ہمچو سرگشتگان کلام کردند۔
    و در زبان عربی ایشان را ہیچ وسعتے ندادہ شد۔ و چیزے نمی دانند بجزآن کینہ کہ آن ورثہ قدیمہ
    ایشان است۔ پس حسرت بریشان کہ درعلم زبان عربی ہیچ معرفت نمی دارند۔ و نزد شان بجز دعویٰ ہائے
    بیہودہ چیزے نیست۔ و باوجود این جہالتہا از قیل و قال باز نمی مانند و نزاع خود را
    نمی گز ارند بلکہ درین کار زار برائے تیر اندازی پیش قدمی ہامی کنند۔ وباجود جہل محکم خود برائے پیکار می خیزند۔ و ہمچنین اینجا
    پردہ ہائے خود بدستہائے خود بدریدند۔ چرا کہ از موارد کلام غافل بودند ازبیان ہزار امرحق ساکت ماندند۔ وچون سخنے برزبان براندند بخطائے فاحش براندند۔ وہیچ کلمہ حکمت چون دانشمندان از زبان شان بیرون نیامد۔ ونفوس خود را ہمچوآن شتران بنمودند کہ آبستنی باشند وہمچوناقہ آبستنی ظاہر شدند۔ باز چون ایام وضع حمل قریب رسیدند۔ پس موشے یازشت تروخورد تراز موشے بچہ دادند۔ این علم ایشان است وعمل این عالمان از علم


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 153
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 153
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/153/mode/1up
    153
    وَیَقُولُون ما لا یفعلون۔ وإذا جُعِلوا حَکَمًا فلا یُقسِطون، ویُحبّون أن یُحمَدوا بما لا یعملوا
    وإذا صلَّوا فصلَّوا مُرائین۔وَیغتابون فی المساجد ویأکلون لَحْم إخوانہم المُسْلمین، إلَّا
    قلیل من الخاشعین۔
    وَأمَّا لفظ التوفّی الذی یُفتّشونہ فی اللّسان العربیّۃ، فاعلم أنہ لا یُستعمل حقیقۃً
    إلّا للإماتۃ فی ہٰذہ اللّہجۃ، سَیّما إذا کان فاعلُہ اللّٰہَ والمفعولُ بہ رَجُلًا أو مِنَ النسوۃ،
    فلا یأتی إلا بمعنی قبض الروح والإماتۃ وَمَا تریٰ خلاف ذالک فی کتب اللغۃ والأدبیّۃ۔ وَ
    مَن فتّش لغات العرب، وأنضی إلیہا رِکاب الطلب، لن یجد ہذا اللفظ فی مثل ہٰذہ
    المقامات إلَّا بمعنی الإماتۃ والإہلاک من اللّٰہ ربّ الکائنات۔ وَقد ذُکِر ہٰذا اللفظ مرارًا فی القرآن، ووضعہاللّٰہ فی مواضع الإماتۃ وأقامہ مقامہا فی البیان۔وَالسِّرُّ فی ذٰلک أن لفظ التوفّی یقتضی وجود شیء بعد الممات، فہذا ردٌّ علی الذین لا یعتقدون ببقاء الأرواح بعد الوفاۃ، فإن لفظ
    فاسد تراست۔ مردم را برائے نیکوئی میفرمایند۔ وخویشتن را فراموش میکنند ومردم رامیگوئیند کہ این کنید وآن کنید وخود نمی کنند۔ وچون حاکم مقرر کردہ شوند۔ پس طریق انصاف نگہ نمی دارند۔ ومیخواہند کہ بدان خوبیہا تعریف کردہ شوند کہ درایشان یافتہ نمی شود۔ وچون نمازمی خوانند پس بریاکاری نماز میخوانند ودر مساجد غیبت مسلمانان میکنند وگوشت برادران مومن میخورند۔ اما لفظ توفی کہ تفتیش آن در زبان عربی می کنند۔ پس بدان کہ این لفظ بطور حقیقت صرف بمعنی میرا نیدن استعمال می یابد۔ بالخصوص چون فاعل او خدا ومفعول انسان از مردان یا زنان باشد
    پس درین صورت ہرگز بجز معنی قبض روح ومیرا نیدن بمعنے دیگر نمی آید۔ و در کتب لغت وادب ہرگز مخالف
    این نخواہید یافت۔ وہرکہ تفتیش لغات عرب کند۔ وشتران جستجو برائے آن لاغر گرداند اوہرگز این لفظ را درمثل این مقامات بجز معنی میرانیدن نخواہد یافت۔ واین لفظ بارہا در قرآن شریف ذکر کردہ شدہ است و
    خدا تعالیٰ این لفظ را در مقام میرا نیدن استعمال کردہ است۔ وقائم مقام لفظ اماتت گردانیدہ۔ وآنرا ترک
    کردن واین را اختیار کردن برائے این حکمت است کہ لفظ توفی بعد میرا نیدن وجودے رامیخواہد کہ باقی ماند۔ ودرین


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 154
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 154
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/154/mode/1up
    154
    التوفّی یؤخذ من الاستیفاء ، وفیہ إشارۃ إلی أخذ شیء بعد الإماتۃ والإفناء ، وَالأخذُ یدلّ علی البقاء ، فإن المعدوم لا یؤخذ ولا یلیق بالأخذ والاقتناء۔َ وہٰذا من العلوم الحِکَمیّۃ القرآنیۃ، فإنہ رجع القومَ إلی لسَانہم المبارکۃ الإلہامیّۃ، لیعلموا أن الأرواح باقیۃ والمعاد حقّ، ولینتہوا مِن عقائد الدہریین والطبعیین۔
    فلما کان الغرض مِن استعمال ہٰذا اللفظ صَرْفَ القلوب إلٰی بقاء الأرواح،
    فمعنی التوفّی إماتۃ مع إبقاء الروح، فخُذِ الحق*وا تّقِ طرق الجُناح۔ ولا یجادل فی ہٰذا
    لما کان الملحوظ فی معنی التوفی مفہوم الاماتۃ مع الابقاء، فلأجل ذٰلک
    لا یستعمل ھٰذا اللفظ فی غیر الانسان، بل یستعمل فی غیرہ لفظ الاماتۃ والاھلاک
    والافناء۔ مثلًا لا یقال توفی اللّٰہ الحمار، أو القنفذ والافعی والفأر، فان
    ارواحھا لیست بباقیۃ کأرواح الآدمیین۔
    رد کسانے ست کہ دہریہ ہستند وبعد از مردن قائل بقاء ارواح نیستند۔ چرا کہ لفظ توفی از لفظ ا ستیفا ماخوذ است ودرین اشارہ بسوئے این معنے است کہ بعداز میرا نیدن چیزے در دست باقیماندہ است۔ وآنچہ بدست آیدآن چیز موجودمے باشد نہ معدوم چرا کہ معدوم این لیاقت ندارد کہ اورا گرفتہ شود یا جمع داشتہ آید۔ زیرا کہ معدوم چیزے نیست واین امر از علوم حکمیہ قرآنیہ است۔ چرا کہ قرآن قوم عرب رابسوئے زبان شان کہ مبارک والہامی است توجہ داد۔ تابدانند کہ ارواح باقی خواہند ماند ومعاد حق است وتاکہ از عقائد دہریہ وطبعیہ باز مانند۔ پس چونکہ غرض از استعمال این لفظ ہمین بود کہ تادلہارا بسوئے بقاء ارواح توجہ دہانیدہ شود۔ پس ازین سبب معنی توفی میرانیدن مع باقی داشتن روح ا ست۔
    ہر گاہ کہ ملحوظ در معنیٰ توفی میرانیدن مع باقی داشتن روح بود۔ پس برائے ہمین سبب این
    لفظ در غیر انسان مستعمل نمی شود۔ بلکہ در غیر انسان لفظ اماتت واہلاک وافناء استعمال می یابد۔ مثلاً
    این نمی گویند کہ خدا تعالیٰ فلان خررا وفات داد یاسنگ پشت یا مار یا موش را متوفی کرد۔ چراکہ
    ارواح این چیز ہا مثل ارواح آدمیان باقی نخواہند ماند۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 155
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 155
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/155/mode/1up
    155
    إِلّا الجَاہل الذی لا یعلم العربیّۃ، أو المتجاہل الذی یُغری مِن خبثہ العامّۃَ۔وَمَن
    انتصب لإزراء ہٰذا الکلام، وقام للتکذیب والإفحام، فعلیہ أن یعرض فی ہٰذا
    الباب شعرًا من أشعار الجاہلیۃ، أو کلامًا من کَلِمِ فصحاء ہٰذہ المِلّۃ۔
    وَإن لم یفعلوا، ولن یفعلوا، وَلَمْ ینتہوا من الشرارۃ، فقد جمعوا ***َین
    لأنفسہم بشامۃ النفس الأمّارۃ۔ اللعنۃ الأولٰی أنہم ما صدّقوا قولَ خیر البریّۃ،
    وما اطمأنت قلوبہم بشہادۃ إمام الملّۃ، واللعنۃ الثانی أنہم فتّشوا اللغۃ شاکّین،
    ثم رجعوا یائسین بالندامۃ التی ہی تشابہ عذاب الہاویۃ، ثم قعدوا مخذولین۔
    واعلم أن أحدًا من رجالٍ ذی غیرۃ، لا یقِف متعمّدًا موقف مندمۃ، إلَّا الذی
    نزع عن نفسہ ثوبَ حیاءٍ وإنسانیۃ، ورضِی بکل تبعۃٍ ومعتبۃٍ، وألحَقَ نفسہ
    بالخاسرین الملومین۔وما تُجادلوننی فی لفظ التوفّی إلّا من السفاہۃ، فإنّی أعلم ما لا
    پس حق رابگیر واز راہ ہائے گناہ بپرہیز۔ وہیچ کس درین بارہ بجز جاہلے کہ عربی نداند خصومت نخواہد کرد۔ یا کسیکہ دانستہ خودرا جاہل نماید ومردم را ازخباثت خود برانگیزد۔ وہرکہ برائے عیب گیری این کلام بایستد و برائے تکذیب و لاجواب کردن قائم شود۔ پس بذمہ این خصومت کنندہ است کہ بتائید دعویٰ خود شعرے از اشعار جاہلیت پیش کند۔ یا کلامے از کلمات فصحاء این ملت بنماید۔ واگر این مردم چنین نکنند وہرگز نخواہند کرد ونہ از شرارت باز آمدند پس برائے نفس خود دو *** را جمع کردند۔ *** اول اینکہ ایشان قول رسول صلی اللہ علیہ وسلم را باور نکردند ولعنت دوم اینکہ ایشان درحالت شک تفتیش لغات کردند باز بحالت نومیدی وبدان ندامتے
    رجوع کردند کہ عذاب جہنم را می ماند۔
    ومیدانم کہ کسے از مرد ان ذی غیرت برجائے کہ ازان ندامت آید نخواہد ایستاد۔ مگر کسے کہ از نفس خود جامہ حیا و انسانیت برکشید وبہر عقوبت وعتابے راضی شد۔ ونفس خود را بآنان آمیخت کہ زیان کاران وملامت برداران اند۔ وبا من در لفظ توفی محض ازراہ سفاہت خصومت میکنند۔ چرا کہ من چیزہا می دانم


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 156
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 156
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/156/mode/1up
    156
    تعلمون۔ وإنی تورّدتُ بحر العربیۃ وتبحّرتُ، وعلَوتُ شوامخَہا وتوغّلتُ، واجتنیتُ ثمارہا
    وتخبّشتُ، وفحّصتُفی کلام القوم وتصحفت* ، فما وجدتُ لفظ التوفی فی کلامٍ أو شعر الشعراء ، إلا بمعنی الإماتۃ مع الإبقاء ، وما استعملوا فی غیرہ إلا بعد إقامۃ القرینۃ
    والإیماء ، وما جاء وا بہ فی صورۃ کون اللّٰہ فاعلًا إلّا بہذا المعنٰی، ویعلمہ کل أحدٍ
    من علماء العرب من الأعلٰی إلی الأدنٰی؛ وإذا کتبتَ مثلًا إلٰی أحدٍ من أہل ہٰذا اللسان،
    أن اللّٰہ تَوَفّی فلانًا من الأحباب أو الجیران، فلا یفہم منہ ہذا العربیّ إلا وفاۃ
    ذٰلک الإنسان، ولا یزعم أبدًا أنہ أنامہ أو رفعہ بالجسم من ذٰلک المکان،
    بل یسترجع علی موتہ کما ہو عادۃ المؤمنین، فویل کل الویل للمنکرین۔
    أفتنحتون للمسیح معنٰی وللعالمین کلہم معانیَ أُخریٰ؟ تلک إذًا قسمۃٌ
    ضیزیٰ۔ فما لکم لا یوقظکم نصاحۃٌُ، ولا یُنبّہکم صراحۃ، ولا ترجعون إلٰی الحق
    کہ شما نمی دانید۔ ومن دریائے علم عربی را وارد شدم وتاعمق آن رسیدم وبرکوہ ہائے بلندآن برآمدم وتوغل ہا میدارم۔ وثمرہ ہائے آنرا چیدم واز ہر طرف گرد آوردم۔ ودر کلام قوم تفحصہا کردم۔ وصفحہ صفحہ دیدم۔پس بجز جسم میرانیدن وروح باقی داشتن معنی توفی در کلامے یا شعر شاعرے نیافتم۔ ودر غیر این معنی این لفظ را بجزآن صورتے خاص استعمال نکردہ اند کہ قرینہ یا اشارتے قائم کردہ باشند۔ ودر صورتے کہ فاعل این لفظ خدا باشد بہ ہمین معنی آوردہ اند نہ بدون آن۔ واین آن امراست کہ این را ہمہ مردم عرب از علماء آن تاعوام آن می دانند۔ واگر مثلاً سوئے یکے از اہل عرب بنویسی کہ فلان شخص را خدا متوفی کرد۔ پس آن شخص عربی بجز این نخواہد فہمید کہ آن شخص وفات یافت واین ہرگز نخواہد فہمید کہ خدا اورا بخوا بایند یا زندہ مع جسم برداشت بلکہ برموت متنبہ شدہ اِنا للّٰہ وانا الیہ راجعون خواہد گفت چنانکہ آن عادت مومنین است۔ پس واویلا برمنکران۔ آیا برائے مسیح معنے خاص می تراشید وبرائے ہمہ جہان معنی دیگر۔ این قسمت مبنی برانصاف نیست۔ چہ شد شمارا کہ ہیچ نصیحتے شمارا بیدار نمی کندو ہیچ تصریحے شمارا خبردار نمی گرداند۔ وہمچو پرہیز گاران
    * سہوکتابت ہے۔ترجمہ کی روشنی میں صحیح لفظ ’’تصفّحت‘‘ ہے۔ناشر


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 157
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 157
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/157/mode/1up
    157
    کالمتقین۔ أ کفّرنی المکفِّرون مع ہٰذا العلم واللیاقۃ؟ أجادلونی بہذا البلاغۃ و
    الطلاقۃ؟ فلیموتوا متندّمین۔ ولا أظن أن یتندّموا۔ إنہم قوم لا یُبالون لعن اللاعنین؛
    إذا أفظعت الوقاحۃُ، فکلُّ خزیٍ الراحۃ۔ أکبّوا علٰی جارہم، وذہلوا
    عن دارہم، فہتک اللّٰہ أستارہم، وجعلہم من المہانین۔ وَسلّطنی علیہم
    فاختفَوا کالطیر فی الوُکنات، واقتنّوا کالوعل عند التعاقبات، وعرَضْنا کَلْکَلَنا
    للمناظرات، فأُہْرِعوا کالأوابد إلی الفلاۃ، وتصدّینا لہم لأنواع الدعوۃ، وما وضعنا
    عن کاہلنا عِصَام ہذہ القِربۃ، وَما کنّا لاغبین۔ نعَب علینا کلُّ أعورَ ذی غوایۃ،
    ونعَق علینا کلُّ ابنِ دایۃ، محرومٍ عن درایۃ، وعوَی کلُّ خلیعٍ خلیعِ الرسن، ونبَح
    کل کلب ولو کان کالیَفَن، فإذا قمنا فکانوا مَدیدَ الوَسَن، أو کانوا من المیتین۔
    لما رأی النَّوکَی خلاصۃَ أَنْضُری فرُّوا وَوَلَّوا الدُّبُر کالمتشوّرِ
    سوئے حق رجوع نمی کنید۔ آیا تکفیر کنندگان بدین علم ولیاقت تکفیر من کردند۔ آیا بدین بلاغت وطلاقت بامن پیکار نمودند۔ پس مے باید کہ بحالت ندامت بمیرند۔ وگمان نمی کنم کہ ایشان متندم شوند۔ چرا کہ ایشان قومے ہستند کہ پروائے *** لا عنان نمی دارند۔ چون بیحیائی از حد در گزشت۔ پس ہر رسوائی حکم راحت دارد۔ بر ہمسایہ خود افتادند وخانہ خودرا فراموش کردند۔ پس خدا تعالیٰ پردہ ہائے ایشان بدریدوایشانرا از مردم ذلیل وحقیر گردانید ومرا برایشان مسلط کرد۔ پس ہمچو پرندگان در آشیانہ ہا پوشیدہ شدند وہمچو بزکوہی بروقت تعاقب راہ کوہ ہا گرفتند۔ وما سینہ خود برائے مناظرات پیش کردیم۔ پس ہمچو چرندگان وحشی سوئے صحرا شتافتند۔ وبرائے انواع دعوت از بہر ایشان آمادہ شدیم۔ واز شانہ خود بند این مشک فروننہادیم۔ ونہ درماندہ شدیم۔ ہرکلاغے گمراہ برما آواز کرد۔ وہر زاغے محروم از عقل برما خروشید۔ وہرگرگے وہربے قیدے بآواز خود درما افتاد۔ وہرسگے اگرچہ چون پیر فرتوت بود عو عو کردن برما آغاز کرد۔ وچون ایستادیم پس گویا ہمہ درخواب بودند۔ یا مردہ بودند۔
    ہر گہ کہ بیوقوفان خلاصہ زرمرا دیدند گریختند وپشتہا ہمچو سرگردانے و پریشانے نمودند


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 158
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 158
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/158/mode/1up
    158
    إنْ یشتِموا فلقد نزَعتُ ثیابہمْ وترکتُہم کالمیّت المتنکّرِ
    ہم یشتِمون ولا أخاف لسَانہم إنی أریٰ أ لطا فَ ربٍّ أکبرِ
    نز لتْ ملا مۃُ لا ئمی مِن حُبّہِ مِنی بمنزلۃِ المحبّ الموثَرِ
    یا لائمی دَعْ کلَّ لوم وانتظِرْ سترَی بروقَ الحق بعد تبصُّرِ
    جَلّت وَصَایانا ہدًی لٰکنّہا کبُرتْ علیک ولیتَہا لم تکبُرِ
    أیہا الناس! تَدبَّروا لطرفۃ عین، ولا تُہلکوا أنفسکم لِمَینٍ۔ إن موت المسیح ثابتٌ
    بالقرآن، ثم بالحدیث، ثم بشہادۃ اللغۃ وأہل اللسان، ثم بالعقل والفراسۃ
    والوجدان، ثم بنظائر سابق الزمان، فلا یزیل الأمرَ الثابت کیدُ الإنسان۔
    والنزول أیضًا حق نظرًا علی تواتُر الآثار، وقد ثبت مِن طرقٍ فی الأخبار،
    فتعالوا إلٰی کلمۃ ترفع ہٰذہ التناقض من بین بعض الأحادیث وبین مجموع
    اگر مراد شنام دہندچہ دور است چراکہ من جامہ ہائے ایشان از تن شان برکشیدم و ہمچو مردہ ناشناختہ ایشان را گزاشتم
    ایشان دشنام می دہند و من از زبان شان نمی ترسم چراکہ من مہربانیہائے رب کبیر خود می بینم
    از محبت خدائے خود ملامت ملامت کنندگانبمنزلہ دوست مخصوص خود مرا می نماید
    اے ملامت کنندہ من ملامت ہا بگذار و صبر کنکہ بعد از چشم بینا حاصل شدن روشنی حق را خواہی دید
    وصیتہائے من ازروئے ہدایت بزرگ ہستند لیکن برتو گران آمدند وکاش گران نیامدندے
    اے مردمان برائے یک طرفۃ العین تدبر کنید وبرائے دروغے نفس خود را ہلاک مکنید۔ یقیناً موت مسیح بقرآن ثابت است۔ باز ثبوت آن بحدیث بہم رسیدہ۔ باز از شہادت لغت واہل زبان ثابت گشتہ۔ باز ازروئے عقل وفراست
    ووجدان۔ وباز بنظائر زمانہ گذشتہ تحقیق این معنی گشتہ۔ پس امر ثابت را فریب انسان دور نتواند کرد
    و نزول از روئے تواتر آثار ہم راست است۔ چرا کہ از طرق متعددہ ثابت گشتہ۔
    پس بسوئے آن کلمہ بیائید کہ این تناقض را از درمیان بعض احادیث ومجموعہ احادیث وفرقان بردارد


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 159
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 159
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/159/mode/1up
    159
    أحادیث أخریٰ والفرقان، فہو البروز الذی ثابت فی سُنن الرحمٰن، ولا
    شک أنّہ یہب أنواع الاطمئنان۔ ولا ریب أنّا إذا اعتمدنا علی طریق البروز فی معنی
    نزول المسیح، کما ذُکر نزول إیلیا بالتصریح، فحینئذ تنطبق العبارات، وترتفع
    الشبہات، وتطمئن قلوب الطّالبین۔ ولولا ہذا فلا سبیل إلٰی أن نعتقد
    مع القرآن بالآثار والأخبار، فالخیر کل الخیر فی عقیدۃ البروز یا أولی الأبصار،
    ولیس ہذا بدعۃ بل قد مضت فیہا نظائر من ربّ العالمین۔
    فاعلموا أیہا الظانون ظن السّوء والازدراء ، والمُہْرعون إلی الجدال
    والمِراء ، أنی ما أرید إلا خیرکم من حضرۃ الکبریاء ، وأقصد أن أنقلکم
    من خَبْتٍ إلی العلیاء ، ومِن ذات حِقاف إلی حدیقۃ النعماء ، ومِن ذات
    کُسور إلی سبیل السواء ، فہل أنتم تریدون خیرکم أو کنتم من الآبین؟
    ۔
    پس آن طریق بروز است کہ درسنت ہائے خدا تعالیٰ ثابت گشتہ۔ ودرین ہیچ شک نیست کہ گونا گون تسلی ہا ازان حاصل می آیند۔ ودرین شبہے نیست کہ ماچون نزول مسیح را برطریق بروز محمول کنیم چنانکہ نزول ایلیا محمول شد۔ پس درین صورت ہمہ عبارات متناقضہ منطبق میشوند وہمہ شبہات
    رفع می گردند۔ واگر این طریق را اختیار نکنیم پس برائے این امر ہیچ صورت نمی بندد کہ بعد از ایمان آوردن برقرآن براخبار وآثار نیز ایمان آریم۔ پس اے صاحبان بصیرت ہمہ خیر درعقیدہ بروز است۔ واین عقیدہ چون بدعتے نیست بلکہ پیش زین نظائر این عقیدہ از خدا تعالیٰ درزمانہ گذشتہ یافتہ می شوند
    پس اے کسانیکہ ظن بدو طریق عیب گیریہا اختیار کردہ آید وسوئے جنگ وخصومت مے شتابید
    من بجز بہبودی شما ہیچ چیزے نمی اندیشم وقصدمی کنم کہ شمارا از زمین
    پست ریگناک بسوئے زمین بلند بیارم۔ واز ریگ کج بسوئے باغ نعمت ہا منتقل کنم واز زمین نشیب وفراز
    بر راہ راست بیارم۔ پس آیا شما خیر خود میخواہید یا از سرکشان ہستید۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 160
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 160
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/160/mode/1up
    160
    ألیس الزمان کَلَیلٍ أرخَی سدولہ، والدینُ کغریب فقَد عُزْہُولہ؟ أتخافون عند قبولی
    أن تفقدوا ما حِیزَ مَغنمًا، أو تُضیعوا الفضل الذی صار بالنَشَب تَوأَمًا؟ کلا۔۔إنہ ظن
    لا یلیق بأہل العلم والمعرفۃ، والعزۃُ کلہا للّٰہ فی ہذہ والآخرۃ۔ إن الرّجال لایخافون
    ولو ذُبِحوا بالمُدیٰ، أو نُزع عنہم ثوب المَحْیا۔
    أما تسلّتْ عِمایاتکم إلی ہذا الزمان؟ وما لی أجد کلَّ أحدٍ منکم ألوَی فی الکلام والبیان؟ وتعلمون أننی ما جئت بمفتریات کأہل الفسق والہنات، وَمَا فتحتُ علیکم باب البدعات، بل ہو حسراتٌ علیکم بعد الممات۔ فأین آذان تسمعون بہا؟ وأین أعین تبصرون بہا؟ وأین قلوب تفقہون بہا؟ وما لکم لا تترکون الخرافات المتدلّسۃ، ولا تقبلون الجواہر النفیسۃ؟ تمنعون المسلمین من المساجد، وتُعظّمون لدنیاکم أہل العَساجد۔حصحص الحق فلا تقبلون، وتبیّن الرشد فلا ترجعون،
    آیا زمانہ بدان شب نمی ماند کہ پردہ ہائے خود فروہشتہ باشد۔ وآیا دین بدان مسافرے نمی ماند کہ شتر خود را بجز گزاشتہ گم کردہ باشد آیا وقت قبول کردن من شمارا این اندیشہ است کہ آن غنیمتہا کہ جمع کردہ آید مفقود خواہند شدیا آن فضیلت را ضائع خواہید کرد کہ بامال توام گشتہ۔ ہرگز چنین نیست بلکہ این ظنے است کہ اہل علم و معرفت رانمی شاید۔ وعزت ہمہ خدا راست چہ درین عالم وچہ در آخرت۔ مردان نمی ترسند اگرچہ باکاردہا ذبح کردہ شوند یا جامہ حیات
    ازتن شان کشیدہ شود۔ آیا تااین وقت کوریہائے شما دور نشدہ۔ وچہ سبب است کہ ہریکے را از شما درکلام وبیان جنگجو می یابم۔ ومیدانید کہ من ہمچو فاسقان وبدکاران چیزہائے افتراء کردہ نیاوردہ ام۔ وبرشما
    دروازہ بدعات نکشادم۔ بلکہ این کاروبار من بعد از مردن برشما حسرتہاست۔ پس کجا آن گوشہا ہستند کہ
    بدانہا بشنوید۔ وکجا آن چشم ہا ہستند کہ بدانہا بہ بینیدوکجا آن دلہا ہستند کہ بدانہا بفہمید۔ وچہ شد شمارا کہ آن خرافات را ترک نمی کنید کہ در تاریکی افتادہ اند جواہر نفیسہ را قبول نمی کنید۔ مسلمانانرا از مساجد منع می کنید۔ وبرائے دنیائے خود اہل زر را تعظیم مے کنید۔ حق ظاہر شد مگر شما قبول نمی کنید۔ و رشد پیدا شد مگر شما رجوع نمی کنید۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 161
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 161
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/161/mode/1up
    161
    وتُکفِّرون أہل القِبلۃ ولا تمتنعون، أتموتونَ فی یَومٍ أو أَنتم من الباقین؟ کیف تجدون
    لذۃ الإیمان بہٰذہ التعصّبات؟ وَمَا بقی حلاوتہ بتکفیر المؤمنین وَالمؤمنات۔ حَسبتم أعراضنا
    کفَیْءٍ، وتُغرُون علینا العوامَّ وتُلقون إلیہم شیءًا بعد شیءٍ ، وأفسدتم الناس بمکائدکم
    وتزویرَاتِکم، وصرفتم قلوبہم عن الحق بخرافاتکم۔ فاعلموا أنّ إثم الأُمّیّین علیکم یا معشر
    الخادعین۔أحسبتم تکفیر المؤمنین أمرًا ہیّنًا، وتکذیب الصّادقین شیءًا خفیفًا،
    وَہُوَ عند اللّٰہ عظیم۔
    وَلَمْ تزالواکنتم مصرّین علی الإنکار، وَمَا شفِقتم وَمَا خشِیتم أَخْذَ القہّار، حَتّٰی
    بلغ أمرنا إلٰی ما بلغ، وردّ اللّٰہ عَلیکم دعواتکم، إنہ لا یُحبّ قومًا مفسدین۔
    أیہا الناس، إنّی مُحقٌّ صادق فی ادّعائی، فإیاکم ومِرائی، وإن کنتم لا تقبلون قولی،
    ولا تخافون صولی، ولا تُہصَرون إلی الہدایۃ، ولا تنتہون من الغوایۃ،
    واہل قبلہ را کافرمی گوئید وبازنمی مانید۔ آیا در وقتے خواہید مرد یا شما از باقیان ہستید۔ بدین تعصب ہا
    لذت ایمان چگونہ می یابید۔ وباتکفیر مومنین ومومنات حلاوت ایمان چہ باقیماندہ۔ شما آبروہائے مارا
    ہمچو مال غنیمت پند اشتہ اید۔ وعوام را برمامی دوانید ودردل شان چیزے بعد چیزے می اندازید۔ وشمابمکر وتزویر
    خود مردم را تباہ کردہ اید۔ واز خرافات خود دل اوشان از حق گردانیدہ اید۔ پس بدانید کہ گناہ نخواندگان برگردن شماست اے گروہ فریب دہندگان۔ آیا شما تکفیر مومنان وتکذیب صادقان امرے سہل پنداشتہ اید۔ وآن
    نزد خدا تعالیٰ امرے بزرگ است۔
    وشما ہمیشہ برانکار اصرار کنندگان بودید۔ وشما از مواخذہ خدا تعالیٰ ہیچ نترسیدید۔ تاآنکہ
    کارما رسید بجائے کہ رسید وخدا دعائے شما برشما رد کرد چرا کہ او مفسدان را دوست نمی دارد۔
    اے مردمان من برحق وصادقم۔ پس ازجنگ من بپرہیزید۔ واگر چنین ہستید کہ نہ قول من قبول می کنید۔
    ونہ از حملہ من می ترسید۔ ونہ سوئے ہدایت کشیدہ می شوید۔ ونہ از گمراہی بازمی مانید۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 162
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 162
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/162/mode/1up
    162
    فَتَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَ نَا وَأَبْنَاءَ کُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَ !کُمْ وَأَنْفُسَنَا
    وَأَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَہِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَۃ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِینَ،
    ونَستفتِحْ فیما وقع بیننا، لیُقضی الأمر، ویظہر الحق، وینجو عباد اللّٰہ من قوم
    کاذبین۔ وإنی أحضر بِرازَ المباہلۃ، مع کتاب فیہ إلہاماتی من حضرۃ العزّۃ،
    فآخذ الکتاب بید التواضع والانکسار، وأدعو اللّٰہ ربَّ العزّۃ والاقتدار، وأقول:
    یا ربّ، إن کنتَ تعلم أن کتابی ہذا مملوٌّ من المفتریات، وَلَیس ہٰذا
    إلہامک وکلامک ومخاطبَاتک مِن العنایات، فتَوَفَّنی إلٰی
    سنۃٍ، وعذِّبنی بعذابٍ ما عذّبتَ بہ أحدًا من الکائنات، و
    أہلِکْنی کما تُہلِک المفترین الکاذبین بأنواع العقوبات، لینجو الأُمّۃُ
    مِن فتنتی وَلیتبیّن ذلّتی علٰی المخلوقات۔
    پس بیائید تا بخوانیم پسران خود را وپسران شمارا و زنان خود را و زنان شمارا و نفسہائے خودرا و
    نفسہائے شمارا باز مباہلہ کنیم و بر دروغ گویان *** فرستیم۔
    و از خدا تعالیٰ در نزاع خود فیصلہ بخواہیم تا امر حق فیصلہ کردہ شود وبندگان خدا از دروغگویان خلاص
    یابند۔ ومن درمیدان مباہلہ باکتاب الہامات خود حاضر خواہم شد۔
    پس کتاب رابدست تواضع وانکسار خواہم گرفت۔ وبدرگاہے خدائے عزیز صاحب اقتدار دعا خواہم کرد۔ واین
    خواہم گفت کہ اے خدائے من اگر میدانی کہ این کتاب من از مفتریات پر است ۔ واین
    نہ الہامات تست نہ کلام تست نہ مخاطبات تست پس مرا تا مدت یکسال
    بمیران ومرا بغداب معذب کن کہ ہیچکس را از مخلوقات بدان معذب نہ کردہ باشی۔ ومرا
    ز انسان ہلاک کن کہ مفتریان و کاذبان را بانواع عقوبت ہلاک میکنی تا این امت از
    فتنہ من نجات یابد وتاکہ ذلت من برمخلوقات ظاہر گردد۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 163
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 163
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/163/mode/1up
    163
    ربِّ، وإن کنتَ تعلم أن ہذہ الکلمات کلماتک وَمِنَ الإلہامات، وَلَسْتُ
    بکاذبٍ عندک بل أنت بعثتَنی عند ظہور الفتن والبدعات، فعذِّبِ
    الذین کفّرونی وکذّبونی ثم حضروا الیوم للمباہلۃ، ولا تُغادِرْ منہم نفسًا سالمۃً
    إلی السنۃ الآتیۃ، وسلِّطْ علی بعضہم الجُذام، وَعَلٰی البعض
    الآلام، وأنزِلْ عَلٰی أَبْصار بعضہم بلاءًا، وسلّط علی البعض صرعًا
    وفالِجًا واستسقاءً، أو داءً آخر أو توفہم معذَّبین۔
    وابْتَل بعضہم بموت الأبناء والأحفاد والأَخْتان، و
    الأزواج والأحباب والإخوان، وعلیکم أن تقولوا آمین۔
    فإنْ یبق أحد منکم سالمًا إلٰی سَنۃٍ فأُقِرّ
    بأنی کاذب وأجیئکم بعجزٍ وتوبۃ، وأحرق کتبی وأشیع ہٰذا الأمر بخلوص نیّۃ،
    و اے خدائے من اگر میدانی کہ این کلمات کلمات تو ہستند۔ و من نزد تو
    دروغ گو نیستم۔ بلکہ تو بروقت ظہور فتنہ ہا وبدعت ہا خود مرا معبوث کردی۔ پس آنان را
    معذب کن کہ مرا کافر قرار دادند وتکذیب من کردند۔ باز امروز برائے مباہلہ حاضر شدند۔ و ازیشان تا
    سال آیندہ یک نفس سلامت مگذار۔ و بر بعض شان جذام را مسلط کن و بر بعض
    دردہا۔ وبرچشم ہائے ایشان بلائے نازل کن۔ وبربعض مرض صرع
    و فالج و استسقا یا مرضے دیگر مسلط کن وبعض را بعذاب موت بمیران۔
    و بعض را بموت پسران و پسرانِ پسران و دامادان و زنان و محبوبان و برادران
    مبتلا کن و بر شما خواہد بود کہ شما آمین بگوئید۔
    پس اگر یکے ہم از شماتا سالے باقی ماند پس من اقرار خواہم کرد کہ من دروغگو ہستم وبعجز وتوبہ پیش شما بیایم۔ وکتاب ہائے خود را بسو زانم۔ واین امر را بخلوص نیت شائع کنم


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 164
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 164
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/164/mode/1up
    164
    وأحسب أنکم من الصّادقین۔
    وأمّا دعاؤکم فلیَدْعُ کل أحدٍ منکم أحکمَ الحاکمین:ربَّنا، إنْ کان ہٰذا
    الرجل کاذبًا فأَنزِلْ علیہ نَکالک، وتَوَفَّہ إلی سَنۃ بعذاب مہین۔ واجعَلِ
    الرِّجْسَ علیہ ونَجّ عبادک منہ یا أرحم الراحمین۔ ربّنا، وإنْ کان صادقًا
    ومن الحضرۃ، فأَنزِلْ علینا رجسًا من السّماء إلی السنۃ، ولا تُغادِرْ منّا أحدًا
    من المباہلین۔ وعذِّبْنا ومزِّقْنا وأہلِکْنا وأَعدِمْنا، وسلِّطْ علینا آفاتٍ و
    أمراضٍ کما تُسلِّط علی المفسدین۔ وعلینا عند ختم دعائکم أن نقول:آمین۔
    ثم علیکم أن تَقدّموا بین یدیکم قبلَ المباہلۃ بالاستخارۃ المسنونۃ،
    وتلتمسوا فضل اللّٰہ بتضرعاتٍ بہذہ الأدعیۃ:ربّنا إن کان ہٰذا ہو الحق
    فلا تجعَلْنا من المحرومین۔ ربّنا وفِّقْنا لنقوم فی سبیلک ولا نعصی الحق
    وخواہم پنداشت کہ شما از صادقان ہستید۔
    مگر مضمون دعائے شما۔ پس باید کہ ہریکے از شما بحضرت احکم الحاکمین این دعا کند کہ اے خدائے ما اگر
    این شخص کاذب است پس برو عذاب خود نازل کن و اورا تا یکسال بعذاب اہانت کنندہ بمیران۔ و
    عذاب ذلیل کنندہ برو مسلط کن۔ وبندگان خودرا اے ارحم الراحمین از وبرہان۔ واگر اے خدائے ما اوصادق است
    واز طرف تست۔ پس برما تا یکسال عذابے از آسمان نازل کن۔ و احدے ازما کہ در مباہلین
    داخل است مگذار۔ و مارا معذب کن وپارہ پارہ کن ومعدوم کن وبرما آفات و امراض مسلط کن
    چنانچہ برمفسدان مسلط میکنی۔ وبرما بروقت ختم دعائے شما لازم خواہد بود کہ بگوئیم: آمین۔
    واین ہم برشما لازم خواہد بود کہ قبل از مباہلہ استخارہ مسنونہ کنید۔
    وفضل الٰہی بتضرعات باین دعا ہا بخواہید۔ اے خدائے ما اگر ہمین حق است پس مارا
    از محرومان مگردان۔ اے خدائے ما مارا توفیق دہ کہ در راہ تو ایستادہ شویم ونافرمان حق نباشیم


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 165
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 165
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/165/mode/1up
    165
    ولا نکون مِن الخاسرین۔ ربّنا نخاف أن نُرَدّ إلیک بوجوہ مُسودّۃ، فارحَمْنا
    ربّنا، واہدنا من لدنک سُبُلَنا، وافتَحْ اعیننا، وأَرِنا طریق الصالحین۔
    فقوموا فی أواخر اللیالی باکین، واسألوا ربکم متضرّعین، ولا تغلُوا فی ظنونکم،
    ولا تیأسوا مِن أیام اللّٰہ، إن أیام اللّٰہ تأتی کالمفاجئین۔
    وآخر العلاج خروجکم إلی بِرازِ المباہلۃ، وعلیکم أن
    لا تکون جماعتکم أقلَّ من العشرۃ الکاملۃ، أو یزیدون ولو إلٰی ألفٍ
    فی تلک السّاہرۃ، لیفتح اللّٰہ بیننا وبینکم ویقطع دابر الفَجَرۃ، ویُتِمّ الحجّۃ
    علی العالمین۔
    ہٰذا آخِرُ حِیَلٍ أردناہ فی ہٰذا الباب، فتدبَّرْ۔
    وادْعُ اللّٰہَ لِطُرق الصّواب، ولا تقعد کالقانطِیْن۔
    واز زیان کاران نشویم۔ اے خدائے مامی ترسیم کہ بروہائے سیاہ بسوئے تو واپس کردہ شویم۔ پس اے خدائے ما
    برما رحم کن و راہ ہائے ما مارا بنما۔ وچشمہائے ما بکشا۔ و راہ صالحان ما را بنما۔
    پس در آخر شب ہا بحالت گریہ بخیزید۔ واز خدا تعالیٰ بتضرع بخواہید۔ ودر گمانہائے خود از حد بیرون
    مروید واز روزہائے خدا نومید نباشید۔ چرا کہ روز ہائے خدا ہمچو ناگاہ آیندگان می آیند۔
    و آخری علاج این است کہ سوئے میدان مباہلہ بیرون آئید۔ وبرشماست کہ جماعت
    شما از دہ مرد کمتر نباشند۔ یازیادہ ازان باشند اگرچہ تا ہزار
    درآن میدان جمع شوند۔ تاکہ خدا تعالیٰ در ما و شما فیصلہ کند وانجام بدکاران بدنماید وحجت خود
    کامل کند۔
    این حیلہ آخری است کہ درین باب خواستیم۔ پس تدبر کن
    واز خدا تعالیٰ راہ ہائے ثواب بخواہ و ہمچو غافلان منشین۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 166
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 166
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/166/mode/1up
    166
    أَلا یَا أیّہَا الحُرُّ الکَریْم

    تَدَبَّرْ یَہْدِکَ المَوْلَی الرَّحیْم
    وَلا تبخَلْ ولا تقصُدْ فسادا

    أتُطفء ما حَضَا الربُّ العظیم
    وَمَا جِئنَا الوریٰ فی غیرِ وقتٍ

    وَقَد ہَبّتْ لِقارِءِہا النَّسِیْم
    مَن رَجَع مِن قولہ بَعْدَ ما نطق بالخطأ فلہ أجر عظیم فی حضرۃ الکبریاء ، و
    یُحشَر مَعَ المتقین، وینال جزیل الثواب، وعظیم الأجر فی دار المآب، الّتی لا
    موت بعد حیاتہا، ولا انقطاع لنعیمہا ولذاتہا۔ فمن قام ابتغاءً لمرضاۃ اللّٰہ
    فلہ ثواب ذالک فی ملکوت السّماء ، ویُکرَم فی حضرۃ العزۃ ویُجزیٰ بأحسن الجزاء۔
    فعلیکم یا معشر الإخوان، أَنْ تسمعوا قولی لِلّٰہ الدَّیّان، وتجتنِبوا سُبل الطغیان،
    وإیاکم والکبرَ والمبالاۃ ، واتقوا اللّٰہ واذکروا المجازاۃ، واتقوا سیر أرباب الدنیا
    والمحجوبین۔ ولا تقرؤوا کتابی ہٰذا واجدین علیّ أو کارہین، وعسٰی أَنْ تحسبوا
    اے مرد آزاد و کریم

    تدبر کن خدائے رحیم ترا راہ نماید
    و بخل مکن و قصد فساد مکن

    آیا میخواہی کہ آنچہ خدا افروختہ است آنرافرو میرانی
    و ما بے وقت نزد مردم نیامدیم

    و نسیم بروقت خود وزیدہ است
    وہر کہ از قول خود رجوع کند بعد زانکہ بخطا کلام کردہ بود۔ پس او را در حضرت کبریاء اجرے عظیم است۔ و
    باپرہیز گاران حشر او خواہد بود۔ وثواب بزرگ واجر عظیم درآخرت خواہد یافت۔ و دانی کہ آخرت
    چیست آن آخرت کہ پس از زندگی آن موت نیست ونعیم و لذات آنرا انقطاع نیست۔ پس ہر کہ برائے حصول خوشنودی خدا تعالیٰ بایستد پس برائے او ثواب آن در ملکوت آسمان است و او درحضرت عزت بزرگی خواہد یافت ونیکو ترجزا وپاداش دا دہ خواہدشد۔ پس اے معشر برادران برشماست کہ برائے خدائے جزا دہندہ سخن مرا بشنوید و از راہ بے اعتد الیہا دور بمانید واز تکبر ولا پروائی خود را دور دارید واز خدا بترسید وروز جزا را یاد کنید وازسیرت ارباب دنیا ومحجوبان پرہیز کنید۔ واین کتاب را در حالت غصہ و کراہت مخوانید۔ و نزدیک است کہ شما امرے را بر


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 167
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 167
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/167/mode/1up
    167
    أمرًا علی صورۃ والحقیقۃُ خلاف تلک الصورۃ، وعسٰی أن تظنوا أمرًا
    خلاف حقیقۃ وہو عین تلک الحقیقۃ، فإنکم ما تدرون لُبَّ النوامیس
    الإلہیّۃ، وتتکلمون مستعجلین غیر مفکِّرین۔ انظروا کیف تہتمّون لأمور دنیاکم، وإنْ نزل بلاء علیہا فلا تصبرون علٰی بلواکم، وتسعون حق السعی لتدفعوا ما آذاکم، وتنفقون لدفعہ أموالکم وأوقاتکم وقواکم، وتتوجہون بکل فکرکم ونُہاکم، ولا تقعدون کالصّابرین۔ فلما کانت عنایتکم بہٰذا القدر إلی أشیاء فانیۃ ذاہبۃٍ بعد وقتٍ ومُہْلۃ، فکیف تغفلون من الأمور الباقیۃ الأبدیۃ، التی توصل فقدانہا إلی النیران المحرقۃ ؟ أتؤثرون الفانیات علی الباقیات، وتریدون
    الحیاۃ الدنیا وتنسون خلود الجنات؟
    أیہا الناس! زکُّوا نفوسکم، واجتبوا جذباتکم، وطہِّروا خطراتکم و
    صورتے پندارید و حقیقت برخلاف آن صورت باشد۔ و نزدیک است کہ شما امرے را خلاف
    حقیقت انگارید و آن عین آن حقیقت باشد۔ چرا کہ شما مغز اسرار الٰہی نمی فہمید۔
    و از شتاب کاری بغیر فکر کردن گفتگو می کنید بہ بینید کہ دربارہ امور دنیوی خود چہ اہتمام ہا
    می کنید۔ واگر چیزے از بلابران امور نازل شود۔ پس برآن بلاصبر نتوانید کرد۔ وتمامتر سعی بجامی آرید تا آن چیزرا
    دفع کنید کہ اذیت دادہ است وبرائے دفع آن مالہائے خود را ووقتہائے خود راوقوتہائے خود را خرچ میکنید۔ وبہمہ فکرو دانش سوئے آن متوجہ میشوید وہمچو صابران نمی نشینید۔ پس ہرگاہ کہ سوئے آن چیزہائے فانیہ این توجہ وعنایت شمااست کہ در وقتے باشند و در وقتے دیگر نباشند۔ پس چگونہ در امور باقیہ ابدیہ غفلت می ورزید۔ آن امور کہ گم شدن
    آنہا تا آتشہائے سوزندہ میرساند۔ آیا شما چیز ہائے فانیہ را بر چیز ہائے باقیہ اختیارمی کنید۔ و دوام
    بہشت ہا یاد نمی دارید۔
    اے مردمان نفسہائے خود را پاک کنید و از جذبات خود دور بمایند وخیالہائے دل ونیات را پاک


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 168
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 168
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/168/mode/1up
    168
    نیّاتکم، وانظروا إلی الحق متأمّلین۔ لا تخدعنَّکم أخبار باردۃ، وخرافات واہیۃ،
    ولا ینبغی أن تلتفتوا إلیہا وتنبذوا کلام اللّٰہ وراء ظہورکم غافلین۔
    وقد سمعتم أنّ موت نبّی اللّٰہ عیسٰی ثابت بکلام ربّ العالمین۔
    والأحادیث ساکتۃ فی رفعہ الجسمانی، وما فی یدیکم إلا الأمانی، وما ثبت
    فیہ أثرٌ مِن خاتم النبیین۔ وما نطق فیہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم
    بکلمۃ۔ ولا تفوّہَ بلفظۃ واحدۃ۔ وتعلمون أن النزول فرعٌ للصعود* فَلمّا
    لم یثبت الصّعود فالنزول رجاءٌ باطل، فلا تأخذوا بالقول المردود۔ وإن
    تُعرضوا عن نصیحتی، ولم تعملوا علٰی وصیتی، فأخاف عَلَیکم أن تُحسبوا فی الذین
    کنید۔ وسوئے حق بنگاہ تامل بنگرید۔ باید کہ شمار اخبر ہائے سرد و سخن ہائے خرافات واہیات فریب ندہند۔
    ونمی سزد کہ سوئے چنین سُخنہا التفات کنید۔ و کلام خدا را پس پشت خود بیندازید۔
    وشما شنیدہ اید کہ موت عیسیٰ علیہ السلام بقرآن ثابت است۔
    واحادیث دربارہ رفع جسمانی او ساکت اند۔ و در دست شما بجز آرزوہا ہیچ نیست۔ ودربارہ رفع ہیچ اثرے
    از خاتم النبین صلی اللہ علیہ و سلم ثابت نشدہ۔ وآنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم ہیچ لفظے درین بارہ برزبان نیاوردہ ومیدانید کہ نزول برائے صعود فرع است۔ پس ہرگاہ کہ صعود
    * الحاشیۃ: الرفع الذی جاء فی ذکر عیسٰی علیہ السلام فی القرآن۔ فھو
    آن رفع کہ در ذکر عیسیٰ علیہ السلام در قرآن شریف آمدہ است۔ آن رفع
    لیس رفع جسمانی ولذالک قُدِّمَ علیہ لفظ التوفّی فی البیان۔ لیعلم
    جسمانی نیست۔ واز بہر ہمین بر سر آن لفظ توفی بیان کردہ شد۔ تا کہ مردم بدانند کہ آن
    الناس انہ رفع روحانی کما جرت علیہ سنۃ اللّٰہ بعد موت اھل الایمان۔
    رفع روحانی است چنانکہ برآن سنت خدا تعالیٰ برائے مومنان بعد از مردن شان رفتہ
    فانھم یرفعون الی اللہ بعد قبض الروح و یدخلون فی نعیم الجنان۔ فرحین
    چراکہ اوشان بعد از مردن سوئے خدا تعالیٰ برداشتہ می شوند ودر بہشت بحالت خوشی داخل کردہ مے شوند


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 169
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 169
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/169/mode/1up
    169
    لم یثبت الصّعود فالنزول رجاءٌ باطل، فلا تأخذوا بالقول المردود۔ وإن
    تُعرضوا عن نصیحتی، ولم تعملوا علٰی وصیتی، فأخاف عَلَیکم أن تُحسبوا فی الذین
    یغمِّطون نعم اللّٰہ ویقطعون ما أمر اللّٰہ بہ أن یوصل، ویمدّون أعناقہم
    جَاحدین۔ وما کنتُ بِدْعًا فی ہذا الأمر وما جئت شیئا إمْرًا، فکیف تؤاخذوننی
    وَالآیات نزلت لیقضی بین الیھود والمسیحیین۔ فان الیھود زعموا ان المسیح
    کان من الکاذبین۔ و ملعونًا و ما کان من المقربین المرفوعین۔ و قالوا انّہ
    صُلب والمصلوب لا یُرفع الی اللّٰہ بحکم التوراۃ بل یُلعن من حضرتہ و یُجعل مِن المردودین۔ و قال النصاریٰ انہ ابن اللّٰہ فصُلب لانجاء الخلق و مُنع
    من الرفع فی اول الامر و لُعن و عُذّب واُدخل فی جھنم الی ثلٰثۃ ایام کالفاسقین۔
    ثُم رفع الی العرش وآواہ اللّٰہ الٰی یمینہ الٰی ابد الآبدین۔ فالیھود ذھبوا الٰی
    جسمانی ثابت نشد پس نزول امیدے باطل است۔ پس قول مردود را مگیرید۔ واگر از نصیحت من کنارہ کنید وبر وصیت من عمل نکنید۔ پس برشمامی ترسم کہ ازان مردم شمار کردہ شوید کہ نعتمہائے الٰہی را شکر نمی کنند۔ وہرچہ برائے پیوند کردن آن حکم است آنرا قطع می نمایند۔ وگرد نہائے خود را از روئے انکار دراز می کشند۔و درین امر من اول کسے نیستم ومن امرے نیاوردہ ام کہ کسے نیاوردہ۔ پس گونہ مراسخت
    واین آیت برائے فیصلہ کردن در یہود و نصاریٰ نازل شدہ است چراکہ یہود زعم کردند کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام
    از کاذبان بودند۔ و نعوذ باللہ ملعون بودند۔ و از انان نبودند کہ بسوئے خدا تعالیٰ رفع ایشان میشود
    و گفتند کہ او مصلوب شد۔ و بحکم تورات مصلوب از رفع محروم می ماند بلکہ او از جناب باری ردّ کردہ میشود
    و نصاریٰ گفتند کہ عیسیٰ پسر خدا بود و برائے نجات خلق مصلوب شد۔ و در ابتدا از رفع
    منع کردہ شد۔ و ملعون شد و معذّب شد۔ و تاسہ روز چون بدکاران داخل جہنم گردید۔
    باز رفع اوسوئے عرش خدا تعالیٰ شد۔ و خدا اورا بجانب راست خود جاداد۔ پس یہود بسوئے تفریط و شتم و


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 170
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 170
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/170/mode/1up
    170

    وترہقوننی عَنْ أمری عُسْرا ؟ أعُمِّیتْ علَیْکم أقوال الأولین؟ بل ہو نبأ عظیم
    کنتم عنہ معرضین۔ لا تظلموا أنفسکم وأْتونی بصفاء نیّۃ، یدرَأ اللّٰہ عن
    قلوبکم کل شبہۃ، وینزل علیکم أنوار سکینۃ۔
    وتعلمون أن فتن النصاریٰ وغلوَّہم فی الخزعبیلات، کانت تقتضی حَکمًا
    تفریط و ھمط واھباطٍ۔ والنصاریٰ مع التفریط الی افراط۔ فبیّن اللّہ ما کان احق واقوم فی امر عیسٰی۔ فقال انہ ما صُلب بل توفی بحتف انفہ والحق بالموتٰی۔ ثم رُفع کالمقربین من غیر ان یُلعن و یُدخل فی اللظیٰ۔ فالحَاصِل انَّ ھٰذا قَضَاء مِن اللّہ الاعلٰی۔ بَیْن الیَھُود وَالنَصَاریٰ لیُبرّء عَبْدہ مِنْ بُھتَان اللَعْن*
    وَ عَدم الرفعَ و یقضی بمَا ھُوَ احقّ وَ اَوْلیٰ
    میگیرید و در مشکلہامے اندازید۔ آیا برشما سخنہائے اولین پوشیدہ شدند۔ بلکہ آن چیزیست بزرگ کہ ازان
    کنارہ کش شدہ اید۔ برخود ظلم مکنید وبصفاء نیت نزدم بیائید۔ خدا ہر شبہ شما از دل شما
    دور خواہد کرد۔ ونور اطمینان برشما نازل خواہد کرد۔
    و میدانید کہ فتنہ ہائے نصاریٰ وجوش ایشان در امور باطلہ یک حکم را از خدا میخواست۔
    فرو افگندن رفتند۔ و نصاریٰ باتفریط افراط راہ ہا اختیار کردند۔ پس خدا تعالیٰ آنچہ راست
    بود بیان فرمود کہ مسیح مصلوب نشدہ است تا از رفع محروم ماند۔ بلکہ بموت خود بمرد
    باز بغیر ملعون شدنمرفوع شد و رفع او ہمچو رفع مومنان شد
    پس حاصل کلام این است کہ این حکم فیصل از خدا تعالیٰ در یہود و نصاریٰ است۔
    تا خدا تعالیٰ بندہ خود را از تہمت *** و عدم رفع بری کند۔
    پس خدا تعالیٰ بدین حکم اختلاف را از میان برداشت۔
    پس آن خدائے کہ مسیح را از صلیب یہود نجات دادہ بسوئے مقام بلند برداشت
    * الحاشیہ : لولا ھذا الغرض لکان ذکر التطھیر لغوا بعد ذکر الرفع فان عدم الرفع الجسمانی لیس بعیب واجب الدفع۔ منہ

    اگر این غرض نبودے البتہ ذکر تطہیر بعد ذکر رفع لغو بودے۔ چرا کہ عدم رفع جسمانی آن عیبے نیست کہ دفع آن واجب باشد۔ منہ


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 171
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 171
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/171/mode/1up
    171
    مِن ربّ السّماوات، فاللّٰہ الذی نجّی المسیح مِنْ صَلیْب الیَہُود، ورفعہ
    إلی المقام الأعلٰی، أراد أن یُنجّیہ من صَلیْب النصَاریٰ مَرّۃ أُخریٰ،
    فأرسلَنی حَکَمًا عَدْلًا لہٰذہ الخُطّۃ، وسَمّانی باسمہ لأکسر الصّلیْب وأُتِمَّ
    ما بقی منہ من فرائض النّصیحَۃ، فکلّ ما أفعل کان علیہ
    فحکم بینھم فیما اختلفوا فیہ۔ و ھو خیر الحاکمین۔
    و لو لا ھٰذا الغرض فما کان وجہ لذکر ھٰذہ القصۃ۔ بل لو فُرضت
    القصۃ علٰی خلاف ھٰذہ الصّورۃ۔ لکان لغوًا کلھا و محل اعتراض علٰی
    فعل حضرۃ العزۃ۔ الم تکن ارض اللہ واسعۃ فیخفی المسیح فی مغارۃ
    مِن المغارات۔ کما اخفی افضل الرسل عند التعاقبات۔ ففکر ایّ حاجۃ اشتدّت
    لرفعہ الَی السّمٰوٰت۔ اخشی اللّٰہ رعب الیہود المخذولین۔ و ظنّ انھم
    پس آن خدائے کہ مسیح را از صلیب یہود نجات دادہ بسوئے مقام بلند برداشت
    ارادہ کرد کہ بار دوم او را از صلیب نصاریٰ نجات دہد۔
    پس مرا بطور حکم عدل وبرائے این کار فرستاد ونام من مسیح نہاد تاکہ من صلیب را بشکنم۔ و کارے کہ از
    مسیح باقی ماندہ بود باتمام رسانم۔ پس ہمہ آنچہ من مے کنم او کردے۔
    پس حکم کرد در آنچہ اختلاف مے داشتند
    پس اگر این غرض نبودے پس برائے ذکر این قصّہ ہیچ و جہے نبود بلکہ اگر این قصّہ را برخلاف
    این صورت فرض کردہ شود ہمہ قصّہ لغو و محل اعتراض بر حضرت باری مے گردد۔
    آیا زمین خدا فراخ نبود پس می بالیست کہ در غارے از غار ہا پوشیدہ
    کردے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم را بوقت تعاقب پوشیدہ کرد۔ پس فکر کن کہ کدام حاجتے پیش
    آمدہ بود کہ مسیح رابر آسمان برد۔ چہ خدا از رعب یہود بترسید و گمان کرد کہ ہر جا کہ در زمین پوشیدہ


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 172
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 172
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/172/mode/1up
    172
    لو کان فی قید الحیات، وکذٰلک قدّر عالم المغیبات۔ وَجئت بعدہ عَلٰی قدر
    جَاءَ ہُو مِن بَعْد مُوسٰی، وإنّ فی ذالک لآیۃً لأولی النُّہٰی۔ وَمِن
    آیات اللّٰہ أنہ أخفی فی عدد اسمی عددَ زمانی، وإن شئتَ ففکِّر فی
    غلام أَحْمَد قادِیَانی
    فذٰلک خاتَمُ ربِّ العالمین، وفیہ إشارۃ إلٰی أنہ جعلنی لہذہ الملّۃ مجدِّد
    الدّین، ولا یقبَل العقل السّلیم أن یصمت اللّٰہ الغیور عند ہٰذہ الفتن
    العظیمۃ، حتی لا یبعث مجدِّدًا علی رأس ہذہ الماءۃ۔ أتطمئن قلوبکم بأن
    یخرجونہ من الارضین۔ الا تعلم انّ اللّٰہ حکیم لا یفعل فعلًا الا بقدر ضرورۃٍ
    ولا یتوجہ الٰی لغوٍ بغیر حکمۃ داعیۃ۔ فایّ حکمۃ الجاء اللّہ لرفع المسیح الی
    السماء۔ اما وجد موضعًا فی الارض للاخفاء۔ ففکّر کالمبصّرین۔ منہ
    اگر درقید حیات بودے۔ وہمچنین خدائے عالم الغیب مقرر کرد۔ ومن بعد از مسیح بمقدار آن زمانہ
    آمدہ ام کہ او بعد از موسیٰ علیہ السلام آمدہ بود۔ و درین مناسبت برائے عقلمندان نشانے است۔ واز
    نشانہائے خدا یکے این است کہ او در عدد نام من عدد زمانہ مرا پوشیدہ داشتہ است۔ واگر خواہی در عد د فکر کن۔
    غلام احمد قادیانی
    پس این مہر خداست و درین اشارہ است کہ او خدا تعالیٰ مرا مجدد این صدی گردانیدہ است
    وہیچ عقل سلیم قبول نمی کند کہ خدائے غیور بر وقت این فتنہ ہا خاموش ماند۔
    تاآنکہ برسر این صدی ہیچ مجددے را نفرستد۔ آیا دلہائے شما بدین امر
    کنم ایشان خواہند برآورد۔ آیا نمی دانی کہ خدا حکیم است ۔ ہر کارے کہ میکند صرف بقدر ضرورت
    میکند۔ و بسوئے لغو بغیر حکمت داعیہ توجہ نمی فرماید۔ پس کدام حکمت خدا را برائے رفع مسیح بیقرار کرد۔
    آیا ہیچ مکان برائے پوشیدن او بر زمین نماندہ بود۔ پس ہمچو بینایان بیندیش۔ منہ


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 173
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 173
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/173/mode/1up
    173
    یری اللّٰہ ہذہ البلایا تتنزل علی الأمۃ الضعیفۃ، ثم لا یتوجہ إلی دفعہا ولا
    لإزالۃ ہذہ الظلمۃ، ولا یبدء شیء من نصرۃ حضرۃ الکبریاء ، ولا تتنزل رحمتہ
    عند کمال ہذا البلاء ، وتسبّ ذراری الشیطان أولیاءَ الرحمٰن فرحین مطمئنین
    ألا تنظرون کیف بلغت غشاوۃ الجہل منتہاہا، وکیف نسیت کل نفسٍ عقباہا، إلا التی حفظہا اللّٰہ وحماہا۔ ألا تشاہدون کیف زادت
    الملل الضالۃ فی طغواہا، ووقع الفتور فی سفینۃ الحق ومجراہا ومرساہا؟
    ألا یصرخ الوقت لمجدّد الدین؟ ألم یأنِ للذین ظُلموا أن یُنصَروا
    من ربّ العالمین؟ أتنتظرون وقت استئصال الإسلام، وَقَدْ
    وَصََل إلٰی شفا حفرۃٍ دینُ سیّد الأنام؟ مالکم
    لا تغتمّون کالمواسین؟
    اطمینان میگیرند کہ خدا بہ بیند کہ این آفات برامت ضعیفہ نازل می شوند وباز برائے دفع آن آفات ودور کردن تاریکی متوجہ نگردد۔ و چیزے از مدد خدا تعالیٰ ظاہر نشود۔ وہیچ رحمتے بروقت
    نزول این بلا نازل نشود۔ واولاد شیطان اولیاء رحمن را دشنام ہا دہد۔ در حالیکہ خوش ومطمئن اند۔
    آیا نمی بینید کہ چگونہ پردہ جہل تا انتہائے آن رسید۔ وچگونہ ہر نفس عاقبت خود را فراموش کرد۔
    مگر آنکہ خدا حفاظت او کرد و نگہ داشت۔ آیا مشاہدہ نمی کنید کہ چگونہ ملت ہائے
    گمراہ شدہ در تجاوز از حد زیادتہا کردند۔ ودرکشتی حق وجاری کردن ولنگر نہادن آن چہ فتورہا افتاد۔
    آیا وقت موجودہ برائے مجدد دین فریاد ہانمی کند۔ آیا برائے مظلومان وقت نصرت ہنوز نرسیدہ است۔ آیا وقتے را انتظار مے کنید کہ اسلام از بیخ برکندہ گردد۔ حالانکہ
    دین آنحضرتصلی اللہ علیہ و سلم تا سوراخ ہلاکت رسید۔ چہ شدشمارا
    کہ ہمچو غمخواران غمگین نمی شوید۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 174
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 174
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/174/mode/1up
    174
    أحاط الناسَ مِن طَغوَی ظلامٌ

    عَلاماتٌ بہَا عُرِفَ الإمامُ
    فلا تعجَبْ بما جئنا بنورٍ

    بَدَتْ عینٌ إذا اشتدّ الاُوامُ
    أیأتی مسیحکم بعد تفطُّر السّماء واختلال النظام؟ ما لکم لا تعرفون الأوقات
    ولا تفکّرون فی الأیام؟ ألا ترون أنّ الآفات نزلت، والآیات ظہرت، والمعاصی کثرت، والفتن تواترت، والمصیبۃ جَلّتْ۔ ألیست فیکم نفس مُفکّرۃ۔
    أو تحبّون الدنیا الخاسرۃ، أو یءِستم من رحمۃ الحضرۃ الأحدیۃ، أو رجعتم
    إلٰی الجاہلیۃ، ورُددتم فی الحافرۃ؟ أتظنون أنّ اللّٰہ مَا بعث مجدّدًا لإصلاح
    ہٰذہ المَفْسدۃ، علی رأس ہٰذہ الماءۃ؟ أو بَذل سننہ عند ہذہ الفتن المہلکۃ ؟
    ألم یکن حاجۃٌ إلٰی روح القدس عند کثرۃ الشیاطین؟ فلا تمیلوا
    کل المیل وانظروا کَلِمَ اللّٰہ متدبرین۔ ألا ترون نیران الفتن وزمان المحن؟
    تاریکی طاغی گشتن برمردم احاطہ کرد این آن نشانیان ہستند کہ بدانہا امام شناختہ شد
    پس ازان نور ہیچ تعجب مکن کہ آور دیم حقیقت این است کہ چون مردم را بشدت حرارت تشنگی گرفت چشمہ از غیب ظاہر شد
    آیا مسیح شما بعد شگافتن آسمانہا واختلال نظام خواہد آمد۔ چہ شد شمارا کہ وقتہا را شناخت نمی کنید
    ودر روزہا فکر نمی نمائید۔ آیا نمی بینید کہ آفات فرود آمدند۔ ونشانہا ظاہر شدند۔ وگناہان بسیار گشتند۔ وفتن ہاپیہم پدید آمدند۔ ومصیبت بسیار بزرگ شد۔ آیا درشما ہیچ جانے فکر کنندہ نیست۔
    یا این جہان پرزیان را دوست میداریدیا از رحمت الٰہی نومید شدہ اید۔ یا سوئے جاہلیت رجوع کردہ اید۔ وسوئے مکانے باز گشتہ اید کہ از آنجا ترقی کردہ بودید۔ آیا گمان شما این است کہ خدا ہیچ مجددے را برائے اصلاح این مفسدہ برسر این صدی نفرستادہ است۔ یا در وقت این فتنہ ہائے ہلاک کنندہ سنت خود را
    تبدیل کرد۔ آیا وقت کثرت شیاطین حاجت روح القدس نبود۔ پس از راہ
    راست دور نروید و کلام خدا را بتدبر بنگرید۔ آیا شما آتش فتنہ ہا وزمانہ محنتہا را نمی بینید۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 175
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 175
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/175/mode/1up
    175
    وتسمعون ثم لا تسمعون، وتُنادَون ثم تصمِتون، کأنکم متُّمْ أو أُغمِیَ علیکم
    کالمصروعین۔ وإذا نطقتم نطقتم کالعادین، وإذا بطشتم بطشتم جَبّارین،
    وإذا ناظرتم فناظرتم بآراء أنحَف من المغازل، وأضعف مِن الجوازل،
    وأحاطت بکم أخلاط الزمر من ذو الغمر۱؂ ، فجعلتموہم کأنفسکم من الضالین۔
    أُعطیتم مفاتیح الہدایۃ، فاستبدلتم الغیَّ بالرشد والدرایۃ، وتمایلتم
    إلی الجہل کالمُحبّین۔
    ومنکم قوم أغرَوا علیّ العامۃ، وندّدوا بأنہ ترَک الکتاب و
    السنۃ، ألا لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین المفترین، الذین یستمرّون علٰی
    غیّہم، ولا یتناہَون عن زہوہم وبغیہم، وَمَا کانوا منتہین۔ وما
    ظلمونا ولٰکن ظلموا أنفسہم، وسقط المکر علٰی وجوہ الماکرین۔ أشاعوا
    وشنوید وباز نمی شنوید۔ وشمارا آواز دادہ می شود وباز خاموش میمانید۔ گویا مردہ ایدیا ہمچو مصروعان برشما
    غشی افتادہ۔ وچون سخن میگوئید ہمچو ظالمان سخن میگوئید۔ وچون حملہ میکنید پس ہمچو جابران حملہ می کنید
    وچون مناظرہ میکنید پس رائے ظاہر میکنید کہ ضعیف تر از دوک باشد و کمزور تر از بچہ کبوتر۔
    وعوام را از نادان گرد خود جمع کردہ اید۔ پس ایشان را ہمچو خود گمراہ ساختہ اید۔
    شمارا کلید ہائے ہدایت دادند۔ پس بجائے ہدایت گمراہی را گرفتہ اید۔ وہمچو محبت کنندگان
    برجہل نگونسار شدہ اید۔
    و ازشما قومے ہستند کہ برمن عوام را برانگیختند وچنین ظاہر کردند کہ این شخص کتاب و
    سنت را ترک کردہ است۔ خبردار باشید کہ *** خدا برکاذبان ومفتریان است۔ آنانکہ برگمراہی خود مداومت
    می ورزند۔ واز کار باطل وبغاوت خود باز نمی آیند و نہ باز آیندگان ہستند۔ وبرما جفا نکردند
    مگر برنفس ہائے خود جفا میکنند۔ ومکر برروئے مکر کنندگان افتاد۔ کارہائے جہالت خود را
    سہوکتابت معلوم ہوتا ہے۔ درست ’’ذوی الغمر‘‘ ہے ناشر


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 176
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 176
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/176/mode/1up
    176
    جہلا تہم فی الجرائد، وکادوا کالصّائد، وجاء وا بزُور مبین۔ ولما رأیت
    أنہم أخلَوا کِنانتہم، وقضوا من المفتریات لُبانتہم، أشعتُ ما أشعت
    کما ہو فرض الصادقین، فأعرضوا عن نِضالی، وفرّوا مِن عَسّالی،
    ووارَوا وجوہہم کالکاذبین۔
    أیہا الناس! ارقعوا علٰی ظَلْعِکم ولا تظلموا، وانتہوا ولا تفرطوا،
    واحذروا ولا تجترؤوا، واذکروا الموت ولا تغفلوا، واذکروا آباء کم الغابرین۔
    أتظنون أنکم تُتر!کون فی الدنیا ولذّاتہا، ولا تُقادون إلٰی الحاقّۃ ومُجازاتہا،
    ولا تُساقون إلٰی مالک یوم الدین؟ ما لکم لا تنتہجون مہجۃ الاہتداء ،
    ولا تعالجون داء الاعتداء ، وتمرّون بالحقّ محقرِّین؟
    اعلموا أن فضل اللّٰہ معی، وأن روح اللّٰہ ینطق فی نفسی،
    در اخبارہا شائع کردند۔ وہمچو شکاریان مکرہا نمودند۔ و دروغے صریح آور دند۔ پس ہرگاہ کہ دیدم
    کہ اوشان تیردان خودہا خالی نمودند۔ و از مفتریات حاجت روائی خود کردند۔ شائع کردم
    آنچہ شائع کردم چنانچہ فرض صادقین است۔ پس از مقابلہ من کنارہ جو شدند۔ واز نیزہ من بگریختند
    و روہائے خود را ہمچو کاذبان پوشانیدند۔
    اے مردمان برجانہائے خود نمی کنید وظلم مکنید۔ و باز ایستید و کار را بافراط
    مرسانید۔ وبترسید و دلیری مکنید و مرگ خود را یادکنید و غافل مباشید۔ و پدران خود را کہ گذشتہ اند یاد کنید
    آیا گمان می کنید کہ شما دردنیا ولذات آن گزاشتہ خواہید شد۔ وسوئے قیامت وپاداش آن کشیدہ نخواہید شد
    وسوئے مالک یوم جزاء ہمچو گرفتاران روانہ نخواہید شد۔ چہ سبب است کہ راہ راست را نمی گیرید۔
    وبیماری تجاوز ازحد را علاج نمی کنید۔ وبرحق چون میگزرید بہ تحقیرمے گزرید۔
    بدانید کہ فضل خدا بامن است۔ و روح خدا در من سخن ہا مے کند۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 177
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 177
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/177/mode/1up
    177
    فلا یعلم سرّی، ودخیلۃ أمری إلا ربّی، ہُوَ الذی نزل علی وجعلنی من
    المنوّرین۔ وکم مِن آیاتٍ کُشفتْ علیکم ثم تمرّون بہا غافلین۔ ألا ترون أن الخسوف
    والکسوف ما کانا فی قدرتی ولا قدرتکم؟ بل کان جمعُہما فی رمضان خلافَ
    مُنْیتکم، فرأیتم الآیتین المذکورتین کارہین۔ فکأنّ اللّٰہ عذّبکم بما لا تہویٰ
    أنفسکم، فما فکرتم کالراشدین۔ولو کان فی قدرتکم لَحَوَّلْتم الشمس والقمر من مکان
    خسوفہما ونلتم إلَی السّماء لتغییر صفوفہما لو کنتم قادرین۔ فسوّد اللّٰہ وجوہکم
    ورَضَّ فُوْہَکم، وما استطعتم أن تردّوا فعل اللّٰہ فکَنَسْتم نادمین۔
    أتُقسِمون أنکم رضیتم بہذا الفعل مِنَ الرحمٰن، وما جادلتموہ بأنفسکم
    کالشیطان، وما أخذکم القبض کالغضبان؟ فأَقسِموا إن کنتم صادقین۔ أتُقسِمون
    أنکم رضیتم بموت ’’آتہم‘‘ بعد ما أخفی الحق وما أقسَمَ؟ فأَقْسِموا إن کنتم
    پس ہیچکس راز من وحقیقت اندرونی من بجز خدائے من نمی داند۔ ہمان است کہ برمن فرود آمد ومرا از روشن شدگان گردانید۔ وبسیارے از نشانہا است کہ برشما کشادہ شدند باز برآنہا بحالت غفلت میگذرید۔ آیا نمی بینید کہ
    خسوف وکسوف نہ درقدرت من بود نہ در قدرت شما۔ بلکہ جمع شدن آن ہر دو درماہ رمضان خلاف مراد شما
    بود۔ پس شما آن ہر دوآیات ذکر کردہ شدہ را درحالت کراہت مشاہدہ کردید۔ پس گویا خدا تعالیٰ بچیزے شمارا
    عذاب کرد کہ دل شمانمی خواست۔ پس ہمچو صاحبان رشد ہیچ فکرے نکردہ اید۔ واگر در قدت شما بودے البتہ شما آفتاب وماہتاب را ازمقام خسوف وکسوف بمقامے دیگر منتقل کردندے۔ پس خدا روہائے شمارا سیاہ کرد و
    دہن شمارا بکوفت ودر طاقت شما نماند کہ فعل خدا را از حالت آن بگردانید۔ پس ہمچو شرمندگان پوشیدہ شدید۔
    آیا قسم میخورید کہ شمابدین فعل خدا تعالیٰ راضی بودید۔ و در د لہائے خود ہمچو شیطان با او
    جنگ نکردہ اید۔ وشمارا ہمچو خشمناکانقبض نگرفتہ است۔ پس قسم خورید اگر راست گو ہستید۔ آیا قسم میخورید کہ
    شما بموت عبد اللہ آتھم عیسائی راضی شدہ اید بعد زانکہ او حق را پوشیدہ داشت و قسم نخورد۔ پس قسم خورید


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 178
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 178
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/178/mode/1up
    178
    صادقین۔ أتُقسِمون أنکم رضیتم بما أیّدنی ربّی، وأکرمنی وأعزّنی، وزاد کل
    یوم حزبی؟ فأَقْسِموا إن کنتم صادقین۔ أتُقْسِمون أنکم رضیتم بما أخزاکم ربی
    بحذائی، وما استطعتم أن تکتبوا شیءًا فی العربیۃ کإملا!ئی؟ فأَقْسِموا إن
    کنتم صادقین۔ أ تُقْسِمون أنکم رضیتم بما قصّرتم عن فہم القرآن،
    فما استطعتم أن تکتبوا مثل ما کتبتُ من معارف الفرقان، وَمَا قدرتم أَنْ
    تبارزونی فی ہذا المیدان؟ فأَقْسِموا إن کنتم صادقین۔
    وقد شہد صالح علٰی صدقی من قبلی وقبل دعوتی، وقال
    إنہ ہو عیسٰی المسیح الآتی، وسمّانی وسمّٰی قریتی، وقال لفتاہ ہذا ما
    أُنْبِئتُ مِن ربّی، فخُذْ مِنّی ہذہ وصیّتی، وقال: إن العلماء یکفّرونہ ویکذّبونہ،
    فلا تقعد معہم وتَذکَّرْ نصیحتی۔ فلما کبر فتاہ وشاخ أدرکَ وقتی، فجاء نی
    اگر راستگو ہستید۔ آیا قسم میخورید کہ شمابآن تائیدات خدائے من کہ لازم حال من اند خوشنود ہستید۔ وشمارا آن ہمہ اکرام و اعزاز الٰہی کہ دوبارہ من مبذول است خوش مے آید۔ پس قسم خوریدا گرراست گو ہستید۔ آیا قسم میخورید کہ شما بدین فعل حق راضی بودید کہ او بمقابلہ من شمارا رسوا کرد۔ و در قدرت شما نماند کہ چیزے بمقابل من در عربی بنویسید۔ پس قسم خورید اگر راستگو ہستید۔ آیا قسم میخورید کہ شما بدان قصور راضی شدہ اید کہ دربارہ فہم قرآن در شما ثابت شد
    پس شمارا این طاقت نماند کہ آنچہ من نوشتم بنو یسید۔ و شمارا این قدرت نشد کہ
    درین میدان مقابلہ من کنید۔ پس قسم خورید اگر بر راستی ہستید۔
    و بہ تحقیق نیک بختے قبل از من وقبل از دعوت من برصدق من گواہی داد۔ وگفت
    این ہمان عیسیٰ مسیح است کہ خواہد آمد۔ و نام من و نام دہ من بر زبان راند۔ و مرید خود را کہ کریم بخش
    نام داشت گفت کہ این خبر از خدائے خود یافتم۔ پس این نصیحت من از من بگیر وگفت علماء آن وقت او را کافر
    خواہند قرارداد وتکذیب او خواہند کرد بااوشان منشین و نصیحت من یاد دار۔ پس ہرگاہ کہ آن مردیکہ سن رسید


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 179
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 179
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/179/mode/1up
    179
    فی وقت غُربتی، وقال: عندی لک شہادۃ فاسمع مِنّی کلمتی، فرویٰ
    ما سمع من شیخہ بعین باکیۃ، ودموع متحدّرۃ، حتی ہیّج عبرتی، ثم
    أشاع کما أوصاہ شیخہ الولیّ ہٰذا الخبر، وبلّغ حالفًا ومہلِّلا إلٰی کل
    أُذن ہذا الأثر، وأشعتُ بإیماۂ رسالۃً مطبوعۃً، وأودعتُہا أخبارًا
    مسموعۃً، وزاحمَہ علماء تلک الخِطّۃ، وکادوا کل کَیْد لیصرفوہ عَنْ ہذہ
    الشہادۃ، فقال: لا أکتمہا أبدا ولا أتعامٰی بعد البصیرۃ، فأشاعہا حق الإشاعۃ،
    وبَلّغہا إلٰی الخواص والعامۃ، ثم توفاہ اللّٰہ ورفعہ إلی مقرّ المؤمنین۔
    فبَیِّنُوا۔۔ أتُقسِمون أنکم رضیتم بہذہ الآیۃ من الرّحمٰن، وما
    کرہتم وما غاضبتم فی قلوبکم بالعدوان؟ فأَقْسِموا إن کنتم صادقین۔
    أہذہ کانت تُقاتکم ودیاناتکم أن شیخًا کبیرًا من المسلمین رویٰ ہذہ
    و پیرشد وقت مرا یافت۔ پس درحالت مسافرت من نزدم آمد وگفت برائے تو نزد من گواہی است۔ پس
    کلام من بشنو۔ پس ہرچہ از شیخ خودشنیدہ بود بمن روایت کرد و درحالت روایت چشم او گریان بود واشک ہائے
    او جاری بودند۔ بحدیکہ مرا مستعد گریہ کرد۔ باز ہمچنان کہ شیخ خدا رسیدہ او وصیت کردہ بود این خبر را
    درمردم شائع کرد وبقسم و کلمہ تشہد این نشان رابہر گوشے رسانید۔ ومن باشارہ او یک رسالہ کہ دران این روایت بود طبع کردہ شائع کردم ودرآن رسالہ آن اخبار مسموعہ درج کردم۔ وعلماء آن نواح مزاحم اوشدند۔و از ہر قسم مکرے کردند تا اورا ازین شہادۃ باز دارند۔ پس گفت کہ من ہرگز این گواہی را پوشیدہ نخواہم کرد۔ وبعد از بصیرت کور نخواہم شد۔ پس آن
    گواہی را در خاص وعام چنانچہ باید شائع کرد۔ باز خدا تعالیٰ اورا وفات داد۔ وسوئے قرار گاہ مومنان برداشت۔
    پس قسم خورید آیا شما بدین نشان الٰہی راضی شدہ اید۔ وہیچ
    کراہت نکردہ اید ونہ در دلہائے خود بظلم صریح خشمناک شدہ اید۔ پس قسم خورید اگر شما برراستی ہستید۔
    آیا این پرہیز گاری شما بود واین دیانت بود کہ پیرے بزرگ از مسلمانان این روایت را بقسم وکلمہ تشہد بیان کرد۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 180
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 180
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/180/mode/1up
    180
    الروایۃ مُقسِمًا باللّٰہ ومہللًا فولّیتم معرضین؟ مع أن أشہادًا عَدْلًا مِن قومہ
    شہدوا علی أنہ من الصّالحین الصّادقین المصلّین الصائمین الزاہدین۔
    وکذٰلک نبّہکم اللّٰہ کل مرّۃ، فما تنبّہتم کالمسترشدین۔
    أ تُقسِمون أنکم رضیتم بما لم یسمع اللّٰہ دعواتکم، وحفظنی
    وعصمنی وکرّمنی وأرغمَ أنفکم لسوء نیّاتکم؟ فأَقْسِموا إن کنتم صادقین۔
    فإن کنتم تظنون أنکم علی الحق ونحن علی الباطل، فلمَ یعذّبکم اللّٰہ بما لا
    ترضون بہ من الدلائل، وتتربصون علینا الذلۃ فتؤخذون فیہا منخوسین۔
    بل اللّٰہ یکسِر جبتکم فی کل آن، ویُعلی عبدہ ببرہان، ویمزّق أجیاد
    المستکبرین۔ فما لکم لا تُرفِؤن بالاستغفار، ولا تدرکون وقت الاعتذار،
    ولا تتوبون خائفین؟ وإنّی بزعمکم أخادع الناس وأُضِلّ الوریٰ،
    پس شما اعراض کردید۔ باوجودیکہ بسیارے از گواہان عادلان کہ از قوم او بودند گواہی دادند
    کہ او نیک بخت وراست گو و پابند صوم و صلٰوۃ و مردے زاہد است۔
    وہمچنین خدا تعالیٰ ہر بار شمارا خبر دار کرد پس ہمچو ہدایت مندان خبردار نشدید۔
    آیا قسم میخورید کہ شما بدین امر راضی شدہ اید کہ خدا تعالیٰ بددعا ہائے شمارا قبول نکرد ومرا نگہداشت
    وبزرگی داد وشمارا بباعث بدنیتی شما ذلت داد۔ پس قسم خورید اگر بر راستی ہستید۔
    پس اگر شما گمان می کنید کہ شما برحق ہستید وما بربا طلیم۔ پس چرا خدا تعالیٰ شمارا بآن دلائل
    کہ خلاف رضائے شماست عذاب می دہد۔ وبرما امید ذلت میدارید وہمہ ذلت برشما می افتد۔
    بلکہ خدا تعالیٰ ہر دم بت شما را می شکند۔ وبندہ خود را بہ حجت بلند می گرداند۔ وگردن متکبران را می شکند
    پس چہ شد شمارا کہ جامہ دریدہ خود را باستغفار پیوند نمی کنید۔ ووقت عذر آوردن رانمی دریا بید
    وہمچو ترسندگان توبہ نمی کنید۔ ومن بگمان شما مردم را فریب مے دہم و مخلوق را گمراہ مے کنم۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 181
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 181
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/181/mode/1up
    181
    وأفتریٰ علَی اللّٰہ وأترک سبل التقویٰ، وفی نفسی معہا رزائل أُخریٰ،
    وأنتم قوم مُطہّرون لا عیب فیکم ولا طغویٰ، ثم مع ذٰلک یخزیکم اللّٰہ ویعذبکم
    بعذاب أَدْفَی، فلا تقدرون علی أن تردّوا عذابہ ولا تأتوننی معارضین۔
    وإن اللّٰہ قد أنزل علیّ غیثَ نعماء مِدْرارًا ظاہرۃً وباطنۃ، وأنعم علیّ
    فی الأولٰی والآخرۃ، وفتح علیّ أبوابًا من الإلہامات، وحدائق من
    المکاشفات، فمن یمکث عندی نحو أربعین یومًا فأرجوا أنہ یریٰ شیءًا
    منہا، فہل لکم أن تعارضوا أو تُعرِضون عنہا؟
    وإن اللّٰہ بشّرنی وقال: ’’یا أحمدُ أجیب کلَّ دعائک، إلّا فی
    شرکائک*، فأجاب دعواتٍ ضاق المقام عن الإتیان بذکر إجمالہا،
    * الحاشیۃ: لھذہ الفقرۃ قصّۃ لا یقتضی المقام ذکرھا۔ منہ
    وبر خدا تعالیٰ افترامی کنم و راہ تقویٰ رامے گذارم۔ و در نفس من سوائے این رزیلت ہا بسیار اند
    وشما قومے پاک ہستید نہ درشما عیبے ونہ ہیچ زیادتی۔ باز بااین ہمہ خدا تعالیٰ شمارا رسوامی کند و بعذاب خستہ کنندہ
    وکشندہ می میراند۔ پس ہیچ قدرت ندارید کہ عذاب او را رد بکنید و نہ بامن درمقام معارضہ می آئیند
    و خدا تعالیٰ برمن باران نعمت ہا کہ متواتر می بارد فرود آورد و در ظاہر و باطن و اول و آخر مرا نعمت ہا داد
    و برمن دروازہ از الہامات کشود و باغہائے مکاشفات
    مفتوح کرد۔ پس ہرکہ نزد من تاچہل روز بماند۔ پس امید دارم کہ چیزے از آنہا خواہد دید۔
    پس آیا شما معارضہ توانید کرد یا کنارہ میکنید۔
    و خدا مرا بشارت داد۔ وگفت کہ اے احمد من ہر دعائے تو قبول خواہم کرد۔ مگر دربارہ
    شرکاء تو۔ پس بان کثرت دعاہائے من قبول کرد کہ این مقام این قدر ہم گنجائش ندارد کہ بطور اجمال
    متعلق این فقرہ قصہ ایست کہ بدین مقام ذکر آن مناسبت ندارد۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 182
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 182
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/182/mode/1up
    182
    فضلًا عن إدراج تفاصیلہا وکیفیۃ کمالہا، فہل لکم أن تعارضونی فیہا أو
    تنقلبون معرضین؟
    وإنّ اللّٰہ بشّرنی فی أبنائی بشارۃً بعد بشارۃٍ حتی بلّغ عددَہم
    إلٰی ثلاثۃ، وأنبأنی بہم قبل وجودہم بالإلہام، فأشعتُ ہذہ الأنباء قبل
    ظہورہا فی الخواص والعوام، وأنتم تتلون تلک الاشتہارات، ثم تمرّون بہا غافلین
    من التعصبات، وبشّرنی ربّی برابعٍ رحمۃً، وقال إنّہ
    یجعل الثلا!ثۃ أربعۃ، فہل لکم أن تقوموا مزاحمۃ،
    وتمنعوا مِن الإرباع المُرْبِعین؟ فکیدوا کیدا إن کنتم صادقین۔
    وقد کتبنا ذٰلک فی اشتہار من قبل من سنین، فاقرأوہ متأمّلین، إنّ فی
    ذٰلک لآیات للناظرین۔ ثم کُرّر علیّ صورۃ ہذہ الواقعۃ، فبینما أنا کنت بین
    ذکر آنہا را بیان کنم۔ چہ جائیکہ بہ تفصیل بنویسم وکمال عظمت آنہا بیان کنم۔ پس آیار غبتے دارید کہ در قبولیت دعاہا
    بمن مقابلہ کنید یا بحالت اعراض مے گریزید۔
    وخدا تعالیٰ دربارہ پسران من مرا خوشخبری بر خوشخبری داد۔ تاآنکہ عدد آناں را تاسہ رسانید۔
    ومرا ازان ہرسہ پسر قبل وجود آنان بذریعہ الہام خود خبر داد۔ پس من این خبرہا را قبل
    ظہور آنہا درخواص وعوام شائع کردم۔ وشما آن اشتہارات می خوانید۔ باز از تعصبات خود غافل می روید
    وخدائے من مرا از روئے رحمت بہ پسر چہارم مژدہ داد۔ وگفت کہ آن پسر سہ را
    چہار خواہد کرد۔ پس آیا شمارا طاقت است کہ برائے مزاحمت برخیزید۔
    وچہار شوندگان را از چہار شدن مانع آئید۔ پس مکرے کنید تا این پیشگوئی را باز دارید۔
    و سالہا شد کہ ما این الہام را در اشتہارے نوشتہ ایم۔ پس آن اشتہار را بتامل بخوانید کہ
    در ان برائے بینندگان نشانہا است۔ باز صورت این واقعہ برمن مکرر کردہ شد۔ پس درآن وقتیکہ من


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 183
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 183
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/183/mode/1up
    183
    النوم والیقظۃ، فتحرَّکَ فی صُلبی روحُ الرابع بعالم المکاشفۃ،
    فنادی إخوانَہ وقال: بینی وبینکم میعاد یومٍ من الحضرۃ۔
    فأظن أنہ أشار إلٰی السنۃ الکاملۃ، أو أمدٍ آخر من ربّ العالمین۔
    واعلموا أن اللّٰہ ینصرنی فی کل موطن، ویخزیکم من کل محتضنٍ،
    ویردّ کیدکم علیکم یا معشر الکائدین۔ وإن کنتم تزدرینی عینُکم فتعالوا نجعل اللّٰہ
    حَکَمًا بیننا وبینکم۔ أتریدون أن یظہر مَینُنا أو مینُکم؟ فتعالوا نَقُمْ تحت مجاری الأقدار
    مباہلین، وإن کنتم تُعرضون عن المباہلۃ، فأْتونی وامکثوا عندی إلی السنۃ الکاملۃ،
    لأریکم بعض آیات حضرۃ العزۃ إن کنتم طالبین۔ وإن کنتم تُعرضون عن رؤیۃ
    ہذہ الآیات، فلکم أن تعارضونی فی معارف القرآن والنکات، ولن تقدروا علیہا
    ولو متّم حاسرین۔ فإنہ علم لا یمسّہ إلا الذی کان من المطہَّرین۔ فإن لم تفعلوا
    در حالتے بودم کہ جامع خواب وبیداری بودد رپشت من روح آن چہارم بجنبید۔
    پس برادران خودر اندا درداد۔ وگفت درمن ودرشما میعاد یک روز است۔
    پس گمان میکنم کہ از یک روز اشارہ سوئے یک سال است یا مدتے دیگر است از خدا تعالیٰ۔
    وبدانید کہ خدا تعالیٰ مرا در ہر میدانے فتح میدہد۔ واز ہر کنار شمارا رسوامی گرداند۔ و
    مکر شما برشمامی افگند۔ واگر چشم شما مرا حقیر مے شمارد پس بیائید تاخدارا درما
    وشماحکم مقرر کنیم۔ آیامی خواہید کہ دروغ مایا دروغ شما ظاہر شود۔ پس بیائید کہ با مباہلہ زیر مجاری قدرت الٰہی
    بالیستیم۔ واگر شما از مباہلہ کنارہ میکنید پس نزدم بیائید وتاسالے کامل نزدم بمانید۔
    تاشمارا بعض نشان حضرت عزت بنمایم اگر شما طالب حق ہستید۔ واگر شما از دیدن این نشانہا کنارہ
    میکنید۔ پس اختیار شما است کہ در معارف قرآن ونکات آن بامن معارضہ کنید۔ وہرگز بران قادر نخواہید شد
    اگرچہ بحسرت بمیرید۔ چرا کہ علم قرآن علمے است کہ بجز پاک شدگان دیگرے را در آن کوچہ راہے نیست


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 184
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 184
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/184/mode/1up
    184
    ہذا فعارِضونی فی إنشاء لسان العرب، فإن العربیۃ لسان إلہامیۃ،
    لا یُکمَّل فیہا إلا نبیّ أو ولی من النُخب۔ وإن لم تبارزوا فیہا، ولن تبارزوا،
    فاکتبوا کتابًا وأکتبُ کتابا لإصلاح مفاسد ہذہ الأیام، ورَدِّ النصاری وفِرقٍ
    أخریٰ من عَبَدۃِ الأصنام، وإفحامِہم بالبرہان التام، وعلینا أن لا نقول
    شیئا من عند أنفسنا ولا أنتم من عند أنفسکم، إلّا من کتاب اللّٰہ العزیز العلّام۔
    وَلَن تفعلوا ذٰلک أبدا ولن تُعطَوا عزّۃَ ہذا المقام، فإن ہذا فعلٌ من أفعال
    إمام الوقت ومُزیلِ الظلام، الذی أُیِّدَ بروح من اللّٰہ وزِیْدَ بسطۃً فی العلم و
    أُعطیَ بلاغۃ الکلام۔ وإن تغلبوا فی أحد منہا فلستُ من اللّٰہ العلام۔ فإن
    أعرضتم عن کل ما عرضنا علیکم، فما بقی عذر لدیکم، وشہدتم أنکم من الکاذبین۔
    أتکذبوننی من غیر علم، ثم إذا دعوناکم ففررتم جاحدین غیر مبالین؟
    پس اگر این کارنتوانید کرد۔ پس در انشاء زبان عرب بمن مقابلہ کنید۔ زیرا کہ آن زبان الہامی است۔ و
    درو بجز نبی یا ولی دیگرے مکمل نتواندشد۔ واگر درآن مقابلہ نتوانید کرد پس کتابے بنویسید ومن نیز
    بنویسم کہ مشتمل باشد براصلاح مفاسد این زمانہ۔ ورد نصاریٰ۔ وردّ دیگر
    فرقہ ہا ازبت پرستان۔ وساکت کردن اوشان بحجت کامل اما باید کہ ہرچہ نویسیم
    از قرآن بنویسیم
    وہرگز چنین نتوانید کرد۔ واین مقام عزت ہرگز شمارا دادہ نخواہد شد۔ چرا کہ این کار ازکارہائے امام وقت است کہ دور کنندہ تاریکی است۔ واز روح القدس تائید یافتہ۔ ودرعلم و بلاغت وسعت
    حاصل کردہ پس اگر شما ازین ہا دریکے غالب شوید پس من از خدا تعالیٰ نیستم۔ پس اگر شما ازہمہ آنچہ پیش کردم کنارہ کنید۔ پس عذر شما باقی نماند۔ وشما خود گواہ خواہید شد کہ دروغگو ہستید۔
    آیا بدون علمے تکذیب من میکنید۔ باز چون بخوانیم پس درحالت انکار ولاپروائی می گریزید۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 185
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 185
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/185/mode/1up
    185
    وذَکرنا ہذہ الآیات تلذُّذًا بالنعم الرحمانیۃ، وشکرًا للتفضلات الربّانیۃ،
    ثم إتمامًا للحجۃ علی الطبائع الشیطانیۃ، واستزادۃً لنعم ربّ العالمین،
    إذ بالشکر تدوم النعم وتزید الآلاء وتثبُت عطایا أرحم الراحمین۔
    فالحاصل أنّنی قد عرضتُ ہذہ الأمور دعوۃً للطلباء ، ورحمًا
    علی الأتقیاء الضعفاء ۔ فمن کان فی شک من أمری، وکان مُکفِّرَ زُمَری، فعلیہ
    أن یسعٰی إلیَّ بقدم الرضاء ، ویختار طریقًا من ہذہ الطرق للاہتداء ،
    لا للمِراء وطلب العَلاء ، ولا یرضی بغشاوۃ الجہل والخطاء ، ویأتینی
    کالمتواضعین۔ فأرجو أن یرحمہ اللّٰہ ویجعلہ من المطمئنین۔ بید أنی ما أُمِرتُ
    أن أدعو الذین ینحتون الآیات من عند أنفسہم ومن أمانی الجَنان، ثم
    یقولون أَرِنا ہذہ لو کنتَ من الرحمٰن، وإن لم تأت بہا فلسنا بمؤمنین۔ أولئک
    وما این نشانہارا محض از روئے لذت یافتن بہ نعتمہائے الٰہی نوشتیم۔ ونیز بہ نیت شکر خدا تعالیٰ
    واتمام حجت برطبائع شیطانیہ وبطمع زیادت نعمت باری تعالیٰ بنگا شتیم۔
    چرا کہ شکر کردن موجب دوام نعمت وزیادت وثبات آن می گردد۔
    پس حاصل کلام این است کہ من این امور را بطور دعوت طالبین پیش کردم۔ و بطور رحم
    برپرہیز گاران کمزور بیان نمودم۔ پس ہرکہ در امر من شک دارد۔ و مکفر جماعت من باشد۔ پس برو
    لازم است کہ بقدم رضاء سوئے من بدود۔ و راہے را ازین رہ ہا برائے ہدایت یافتن نہ برائے جنگ و
    بلندی جستن اختیار کند۔ و باپردہ جہل وخطا راضی نشود۔ و نزدم ہمچو تواضع
    کنندگان بیاید۔ پس امید میدارم کہ خدا تعالیٰ برو رحم فرماید و اورا اطمینان بخشد۔ مگر این است کہ من
    برائے این کار مامور نشدہ ام کہ کسانے را بخوانم کہ از طرف خود نشانہا بتراشند۔ باز مرا
    گویند کہ این نشانہا مارا بنما۔ اگر از طرف خدا تعالیٰ ہستی۔ واگر ننمائی پس ما ازقبول کنندگان نیستیم۔ این مردم


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 186
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 186
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/186/mode/1up
    186
    الذین یحبون آراء ہم، ویریدون أن یأمروا اللّٰہ لیتبّع أہواء ہم، فیُترَکون فی
    الضلالۃ خالدین۔ وإنّ اللّٰہ لَن یَرفع حجبہم ولن یزکّیہم، إنہم کانوا مستکبرین۔
    إلا الذین تابوا وأصلحوا فأولئک من المرحومین۔ ما کان اللّٰہ محکومَ أحد فی
    البلاد، وہو القاہر فوق عبادہ لا کالغلمان والعباد، سبحان ربی!
    ہل کنتُ إلّا بشرًا من المأمورین۔
    ثم القوم احتجّوا علیّ بأمور نذکرہا برعایۃ الاختصار،
    لنستأصل کل ما أوردوا علی سبیل الاعتذار، ولنکشف باب الحق علی
    الطالبین۔ فمنہا أنہم یقولون إن ’’آتم‘‘ ما مات فی المیعاد، بل مات بعدہ
    وما ثبت إیمانہ بالأشہاد، ولم یثبت أنہ کان من الخائفین الراجعین۔
    فاعلم أن نبأ موتہ کان مشروطًا بعدم الرجوع إلٰی الحق والصواب،
    کسانے ہستند کہ بارائے ہائے خود محبت می کنند ومیخواہند کہ برخدا تعالیٰ این حکم کنند کہ تا پیروی آرزو ہائے ایشان
    کند۔پس برائے ہمیشہ درضلالت گزاشتہ می شوند۔ وخدا تعالیٰ ہرگز حجاب شان دور نخواہد کرد ونہ ایشانرا پاک خواہد نمود
    چرا کہ ایشان متکبر اند۔ مگر آنانکہ توبہ کردند واصلاح حال نمودند۔ پس ایشان از جملہ کسانے ہستند کہ برایشان رحمت
    خدا تعالیٰ است۔ خدا در زمین ہا محکوم احدے نیست او بر بندگان خود غالب است۔ نہ مثل غلامان وبندگان۔ خدائے من
    پاک است نمی شاید کہ بدو این بے ادبی ہا کردہ آید۔ ومن چیزے نیستم مگر یک بندہ مامور۔
    باز قوم من برمن در چند امور حجت ہا گرفتند کہ برعایت اختصار ذکرآن امور مے کنم۔
    تاکہ ماآن ہمہ خیالات را از بیخ برکنیم کہ برسبیل عذر بیان کردہ اند۔ وتاکہ ما دروازہ حق برطالبان کشائیم۔
    پس ازان اعتراضہا یکے این است کہ عبد اللہ آتھم نصرانی در میعاد پیشگوئی نمردہ است بلکہ بعد از
    گزشتن میعاد مردہ ۔وایمان او ازروئے گواہان بپایہ ثبوت نرسیدہ ونہ ثابت گشتہ کہ او بترسید ورجوع بحق
    آورد۔ پس بدانکہ خبر موت او مشروط بعدم رجوع الی الحق بود۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 187
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 187
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/187/mode/1up
    187
    وما کان کحُکْمٍ قطعی کما فہِم بعض الدوابّ۔ ثم کان من المشروط فی حیاتہ
    أن یثبُت علی الحق بعد القبول، وإن لم یثبت فکان حُکْم الموت لذٰلک الجہول،
    فتمّتْ کلمۃ ربّنا صدقًا وحقًّا ولو أنکرہا بعض الجاہلین۔
    وقد سمعتَ أنّہ مات بعد الإخفاء وعدم الإظہار، وإغضاب الربّ
    بالإصرار علَی الإنکار، وکذٰلک کان إلہام ربّ العالمین۔ أفلا ترون موت
    ہذا الجاہل الکفّار، کیف فاجأہ بعد الإصرار علٰی الإنکار؟ وقد کُتِبَ قبل موتہ
    ذٰلک کلُّہ فی إلہام اللّٰہ القہّار، وصُرِّحَ أنہ سیؤخذ ویُمات بعد إخفاء الشہادۃ
    والغلوّ والاستکبار، ثم طُبع وأُرسلَ فی البلاد والدیار۔ وما مات ’’آتم‘‘ إلا بین
    سبعۃ أشہر من الاشتہار الأخیر، وکان ذٰلک الاشتہار نبأ موتہ وکالنذیر۔
    أفلا یتدبرون إلہاماتی، ولا یفکرون فی کلماتی، ویمرّون ضاحکین علٰی آیاتی،
    ومثل حکم قطعی نبود چنانکہ بعض چارپایان فہمیدہ اند۔ باز دربارہ زندہ ماندن او شرط الہام این ہم بود
    کہ بعد از رجوع الی الحق برحق قائم بماند۔ ودرصورت عدم ثبات برحق نیز بران جاہل حکم موت بود۔ پس گفتہ
    پروردگار ما حقاً وصدقاً بکمال رسید۔ اگرچہ بعض جاہلان درانکار باشند۔
    وتوشنیدی کہ عبد اللہ آتھم بعد از اخفاء وعدم اظہار وبعد خشمناک کردن رب خود
    باصرار برانکار بمرد۔ وہمچنین الہام خدا تعالیٰ بود۔ آیا شما موت این نادان
    کافر را نمی بینید۔ کہ چگونہ بعد از اصرار بر انکار بطور ناگہانی رسید۔ وپیش از موت او این ہمہ
    در الہام الٰہی نوشتہ شد۔ وتصریح کردہ شد کہ او بعد اخفائے شہادت وتکبر و ازحد
    درگزشتن بسزائے موت ماخوذ خواہد شد۔ باز این اشتہار مطبوع شد وجابجا فرستادہ شد۔ واز اشتہار اخیر
    ہنوز ہفت ماہ نگذشتہ بود کہ آتھم بمرد۔ واین اشتہار برائے او پیغام رسانندہ موت وترسانندہ بود
    آیا این مردم در الہام من تدبر نمی کنند ودرکلمات من فکرے نمی نمایند۔ وتمسخر کنان برنشانہائے من بگذرند


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 188
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 188
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/188/mode/1up
    188
    رضوا بہذہ الدنیا ونسوا یوم الدین، فکیف أُداوی خَتْمَ قلوبہم وأقفال ربّ العالمین؟
    فالحاصل أن ’’آتم‘‘ خشِی فی المیعاد نبأَ الرحمٰن، ورجع إلی الحق
    بخوف الجَنان، لأنّہ ظنّ أن رِحْلتہ قربت ودنت، وخیامہ طُوِیَتْ، و
    أوتادہا قُلِعتْ، فخشِی علٰی نفسہ کالمأخوذین۔ فکان حقہ أن یُمہَل إلٰی
    زمان الاجتراء ، وتُرک إلی ساعۃ المراء والإباء ، فمہّلہ اللّٰہ إلی وقت رجَع
    إلی کفرہ وطغٰی، ثم أماتہ تعذیبًا فی الدنیا والأخریٰ، وکذٰلک مضت سنّتہ فی
    الأولین۔ وأمّا خوف’’آتم‘‘ من اللّٰہ القہار، فلا یخفی علیک عند التعمق فی الأخبار۔
    ألا تریٰ أنہ بعد ما سمع منی نبأ العذاب۔ کیف ألقی نفسہ فی أنواع الاضطراب،
    وانقطع من الأحزاب والأ تراب، واختار کمجنونین شدائدَ الاغتراب، وأَنْأَتْہ
    الدہشۃُ عن الأہل والأحباب، حتی طارت حواسّہ من الہیبۃ، وأصابت
    بدنیا راضی شدند وآخرت را فراموش کردند۔ پس چگونہ مہر دلہائے ایشان وقفلہائے خدا تعالیٰ را علاج کنم۔
    پس حاصل کلام این است کہ او در میعاد پیشگوئی از خبر خدا تعالیٰ بترسید وسوئے حق بخوف دل
    رجوع کرد۔ چرا کہ او ظن کرد کہ وقت کوچ او نزدیک رسید۔ وخیمہ ہائے او تہ کردہ شدند۔ و
    میخہائے آن خیمہ ہاکندہ شد۔ پس برجان خود ہمچو گرفتاران بترسید۔ لہذا این حق او بود کہ تا زمانہ بیباکی اورا
    مہلت دادہ شود وتاساعت جنگ و انکار گزاشتہ شود۔ پس خدا تعالیٰ او را تا وقتے مہلت داد
    کہ سوئے کفر خود رجوع کرد وطاغی شد۔ باز برائے سزا دادن در پنجہ موت گرفتار کرد۔ وہمچنین سنت خدا تعالیٰ
    در پیشینیان گزشتہ است۔ مگر ترسیدن اواز خدا تعالیٰ۔ پس بدان کہ آن امریست کہ بعد از فکر کردن دراخبار برتو پوشیدہ نخواہد ماند۔ نمی بینی کہ او بعد از شنیدن خبر موت چگونہ جان خودرا در انواع بیقراری ہا انداخت۔
    و از گروہ خود و یاران خود جدائی ہا اختیار کرد۔ و ہمچو دیوانگان مصیبت ہائے مسافرت برخود پسندید۔ و
    دہشتے کہ در دل نشستہ بود ہمان دہشت او را از اہل و دوستان دور انداخت۔ تا بحدّیکہ از ہیبت آن


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 189
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 189
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/189/mode/1up
    189
    عقلَہ صَابۃٌ من کمال الخشیۃ، وطفِق یجشَأ من بلدٍ إلٰی بلدٍ کالمجنون،
    ویجوب کل طریق کالذی یطوّحہ طوائح المنون۔ورآہ أناس کثیر فی زمن السیاحۃ،
    وہو یبکی أو لہ رنّۃ النیاحۃ، وشہدوا أنہ کان بادیَ الغمّۃ کثیر الکربۃ، کالذی
    یموت من الغُلّۃ، أو کالمجرمین المأخوذین۔
    فلا شک أنہ خشِی وتنزَّلَ إلی الخوف من طغیانہ، ولا ریب أن زواجرَ
    نَبَءِنا نجَعتْ فی جَنانہ، وقرَعت کلماتی صِماخَ آذانہ، فخاف بہا قَہْرَ حضرۃ الکبریاء
    وانتہج علی قدرٍ مہجّۃَ الاہتداء ، علی طریق الإخفاء ۔ ثم قسا قلبہ بعد الأمن
    من الفَناء ، وإن اللّٰہ لا یعذب خائفین فی ہذہ الدنیا حتی یغیّروا سیر الخائفین۔ وإنہ أقرّ
    بخوفہ عند أحبابہ، وأخبرہم عمّا جریٰ علیہ فی أیام اضطرابہ، وکل أمر أخفاہ
    من جمعہ، أبدأہ سیل دمعہ، وکل ما ستر من المَین، أبدَئتْہ دموع العین۔
    پیشگوئی حواس او پریدند۔ وعقل اورا از کمال خوف عارضہ دیوانگی لاحق شد۔ وشروع کرد کہ از شہرے بشہرے
    ہمچو دیوانہ میگشت۔ وہر راہے را ہمچو شخصے می برید کہ اورا حوادث روزگار دور می اندازند۔ ومردم بسیار اورا
    در زمانہ سیاحت دیدند کہ او میگریست یا آواز گریستن میداشت وگواہی دادن کہ آثار غم برو ظاہر بودند وبسیار
    بیقراری مے کرد۔ ہمچو کسے کہ از تشنگی می میرد یا ہمچو مجرمانے کہ گرفتارمی باشند۔
    پس ہیچ شک نیست کہ او بترسید واز طغیان خود سوئے خوف فرود آمد۔ وپیشگوئی ما در دل او
    اثر کرد۔ وصماخ گوش اورا کلمات من بکوفت۔ پس بباعث آن کلمات از قہر باری تعالیٰ
    بترسید۔ وقدرے بطریق پوشیدہ راہ راست اختیار کرد۔ باز چون از موت بے غم شد دل او
    سخت گشت۔ و خدا تعالیٰ ترسندگان را درین دنیا سزا نمی دہد تاوقتیکہ سیرت ترسیدن را تبدیل نکنند۔واو نزد دوستان
    خودرا اقرار خوف خود کرد۔ و او شان راازان ہمہ ماجرا خبرداد کہ در روزہائے بیقراری بر وگزشتہ بود۔ و
    ہر امرے کہ او از جماعت خود پنہان داشت سیلاب اشک او او را ظاہر کرد۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 190
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 190
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/190/mode/1up
    190
    ومَن دلَف إلیہ کالمفتّشین، وجَدہ کالمجانین، وخابطًا کالمصابین، ورأی
    أنہ یمضی الأیام کیوم حامِی الوَدیقۃ، ویصیح کضالّ من الطریقۃ، ویُزجّی
    الأوقات بہموم وأفکار، کأنّ التلف استشفّہ بآثار۔ ومَن انتہی من أحبابہ
    إلٰی فِناۂ، وتصدّیٰ لاستنشاء أنباۂ، وجَدہ کمختلّ الحواسّ، بادی الإیجاس،
    وما رآہ فی فرح، بل فی غمّ وترح۔ثم إذا انسلخت أشہر المیعاد، وظن أنہ نجا، أخفی سِرَّ خوفہ
    وما أبدیٰ، ولکنہ ما استطاع أن یخفی قرائن إیجاسہ، فنحَت تأویلاتٍ بتعلیم خنّاسہ،
    وقال لا شک أنی أنفدتُ أیام المیعاد بالخوف والارتعاد، ولکنی ما خفت نبأَ
    الإلہام، بل خفت أعداءً صالوا علیّ کالضر!غام، فإنہم أغرَوا علیَّ فی مقامی الأول
    حیّۃً مُعلَّمۃً من أنواع الحیل ورأیتہا کالصائلین۔ ففررتُ علٰی خوف منہا إلٰی البلدۃ
    الثانیۃ، لَعَلِّی أُعصَم مِن ہذہ الزبانیۃ، ولکن ما تُرِکتُ فیہ کالمؤمنین، بل صَال علیّ
    وہرکہ مثل تفتیش کنندگان پیش اورفت اورا مثل دیوانگان یافت۔ ودست و پازنندہ مثل مجنونان مشاہدہ کرد۔
    و او را دید کہ او روزہائے خود مثل روزیکہ بسیار گرم باشد می گذارد۔ وہمچو کسیکہ ازراہ دورمی افتد وفریادہا
    می کند ووقتہائے خودرا در فکر و غم میگذارد۔ گویا ہلاکت اورابہ نشانہا نوشیدہ است۔ وہرکہ بصحن خانہ او رسید
    وبرائے دریافت خبرہائے او قدم خود پیش انداخت او را مثل بدحواس وصریح خوف زدہ دید۔ وا ورا درشادمانی
    ندید بلکہ درغم واندوہ یافت۔ باز چون ماہ ہائے میعاد در گزشتند وگمان کرد کہ نجات یافتہ است۔ راز ترسیدن خودرا پوشیدہ کرد وظاہر نکرد۔ مگراین نتوانست کہ قرائن ترسیدن را پوشیدہ کند۔ پس بہ تعلیم شیطان خود تاویل ہا تراشید وگفت درین شک نیست کہ من درایام پیشگوئی می ترسیدم۔ لیکن من از پیشگوئی نترسیدہ ام۔ بلکہ ازان
    دشمنان ترسیدم کہ برمن چون شیر حملہ کردند۔ چرا کہ اوشان در مقام اول من برمن مارے تعلیم یافتہ
    برانگیختند۔ وآن مار را چون حملہ کنندگان دیدم۔ پس ازان خوف بسوئے شہرے دیگر گریختم۔
    تاکہ من ازان سرہنگان عذاب نجات یابم۔ لیکن درآن شہر نیز ہم ہمچو امن یابان گذاشتہ نشدم بلکہ در آنجا


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 191
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 191
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/191/mode/1up
    191
    بعض رجال مُسلّحین۔ ثم فررت إلی الخَتَن الثانی، فصال العدا کما صالوا
    قبل إتیانی۔ وإنہم کانوا ملا!ئکۃ سفّاکین، فرأیتہم فی کل مقام تبوّأتُہ، وفی
    کل بلد وطّأتہ، ورأیتہم مخوّفین، وکانوا یتبوّء ون الرماح نحوی کالقاتلین۔ فلأجل ذلک فررت من بلدۃ إلی بلدۃٍ لمّا خوّفونی بقناۃ وصَعْدۃٍ، ورُمحٍ و
    مَشْرَفیّۃ وفحیحِ تِنِّینٍ، وأرادوا أن یَسُمُّونی فاجئین۔ ولما جشَأ جَنانی
    کالمخنوق، وہاجت الہموم کالسَّہوق، رأیت أن أُلقی بآخر المقام جِرانی،
    وأتخذ أہلَ خَتَنی جیرانی، وأُلقی عصا التَّسْیار کالقاطنین۔
    ہذہ ظنون أظہرہا بعد انقضاء المیعاد، وما تفوّہَ بلفظۃٍ
    مِن مثلہا فی المیعاد عند الأشہاد، وما أشاع ظنونہ فی الجرائد، وما اطلعَ علیہ
    أحدًا من العوام والعمائد، بل ما رافَعَ إلی الحکّام، وما أخبر حاکمًا عن ہذہ
    بعض مردان مسلح برمن حملہ کردند۔ باز بسوئے دامادے دیگر بگریختم۔ پس دشمنان درآنجا نیز ہم چنان
    حملہ کردند کہ پیش زان کردہ بودند۔ وایشان را بہر مقامے کہ اقامت کردم وبہر زمینے
    کہ زیر پا سپردم دیدم کہ مے ترسانند۔ وہمچو قاتلان بمقابل من نیزہ ہا راست کردند۔
    پس از ہمین سبب از شہرے بشہرے بگریختم۔ چرا کہ مرا نیزہ ہا وشمشیر و آواز مار بترسانیدند۔
    وارادہ زہر خورانیدن من کردند۔ وچون دل من ہمچو مخنوقے
    تنگ شد۔ ومانند بادسخت غمہا برخاستند مناسب دیدم کہ گردن خودرا در مقام آخر خود
    بیفگنم۔ ومردمان داماد خود را ہمسایہ خود گردانم۔ ودر آنجا چوب سیرافگندہ اقامت اختیار کنم
    این گمان ہا است کہ بعد از انقضائے میعاد آنہا را ظاہر کرد۔ وقبل گزشتن میعاد ہیچ لفظے
    از مثل آن برزبان نیاورد۔ ونہ در اخبار شائع کنایند۔ و نہ کسے را از عوام و
    خواص اطلاع داد۔ و نہ نزد حکام فریاد خود برو۔ و ہیچ حاکمے را ازین دردہا آگہی نداد۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 192
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 192
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/192/mode/1up
    192
    الآلام، وأمضَی الوقت کالصّائمین۔ثم أقرّ معہا برؤیۃ ملا ئکۃ العذاب، والخوف والاضطراب،
    وأقرّ أنہ أنفد الأیام خافًا، وخشِی موتًا زُعافًا، وظن أنہ من الدارسین۔ فانظروا
    إلی حیّۃٍ یذکرہا۔۔ أتقبَلہا فراسۃٌ أو تنکرہا؟ فافہموا السرّ إن کنتم متدبرین۔
    ثم تعلمون أنہ ہرب من مکان إلی مکان، ومن جیران إلی جیران،
    ولفظتْہ بلدۃٌ إلی بلدان، ولکن مع ذٰلک ما أظہر فی المیعاد عذرا نحَت بعدہ
    کشیطان، وما بکی عند حکّام ولا أعوان، ولا رجال ولا نسوان ولا بنین۔
    أیقبل عقل فی مثل ہذہ الخصومات وزوبعۃ التعصبات والنقمات،
    أن یصبر الرجل الذی ہُوَ عدوُّ دیننا وحاسدُ عِرضنا
    عند ہذہ السطوات، ولا یأخذنا ولا یرفع إلَی القُضاۃ؟ بل کان علیہ
    أن یُفشِی جریمتنا، ویُثبِت صریمتنا، وأذاقنا جزاء السّیئات۔
    وچون خاموشان وقت را گزرانید۔ باز بااین ہمہ اقرار کرد کہ او فرشتگان عذاب را دیدہ است وسختی خوف کشیدہ
    واقرار کرد کہ او روزہائے خود را درنہایت خوف گزرانید واز موت ناگہانی ترسید وگمان کرد کہ اوازنا پدید شوندگان است
    پس بسوئے مارے کہ ذکر میکند۔ نگہ بکنید۔ آیا فراستے این را قبول میکنید یا انکار میکند۔ پس اگر تدبردارید راز را بفہمید۔
    و تو میدانی کہ اواز مکانے سوئے مکانے بگریخت۔ واز ہمسائیگان سوئے ہمسائیگان رفت
    وزمینے او را سوئے زمینے انداخت۔ مگر او در میعاد نزد ہیچکس از حاکمان ومددگاران ومردان و
    زنان وپسران آن امر را ظاہر نکرد کہ بعد از گزشتن میعاد تراشید۔
    آیا ہیچ عقلے در مثل این خصومتہا وباد گرد تعصب ہا وکینہ ہا قبول مے کند۔
    کہ آن شخصے کہ دشمن دین ما وحاسد آبروئے ماباشد۔ او بروقت چنین
    حملہ ہا صبر کند۔ ومارا گرفتار نکند ونزد حکام نرساند۔ بلکہ بر وواجب بود
    کہ جرم مارا شائع کردے۔ وقصد مارا بپایہ ثبوت رسایندے۔ وجزائے بدی مارا چشانیدے


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 193
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 193
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/193/mode/1up
    193
    أما رأیت أن ’’آتم‘‘ وقومہ کیف فرحوا بعد المیعاد باطلًا، ورقص کل أحد
    خاتلًا، ورمٰی من قوس الخبث عاتلًا، فکیف أعرضوا عن مثل ذٰلک الفتح
    المبین؟ أہذا أمر یقبلہ عقل الثقات، أَو یطمئن بہ قلب العاقلین
    والعاقلات؟ أہذا ہُو المرجوّ من ہؤلاء الدجّالین أعداء الدین وأعداءِ
    خیرِ الکائنات؟ ففکِّروا إن کنتم مؤمنین۔
    ألا ترون أنّ رسائلہم وجرائدہم مملوّۃ من إہانۃ دین الإسلام
    وخیر الأنام، فکیف غَضّوا أبصَارہم فی مثل ہذا
    المقام؟ وواللّٰہ إنہم عدو لی وعدو لسیّدی المصطفٰی، وحِراصٌ علیّ لو
    یقدرون علٰی نوعٍ من الأذی ولو کسَرْنا بیضۃً من بیضہم، لحثّوا الحکام علینا
    بتحریضہم، فکیف صبروا علٰی ما رأوا مِنّا سطواتٍ للإہلاک،
    آیا ندیدی کہ آتھم وقوم او بعد از گزشتن میعاد براہ باطل چہ شادی ہا کردند وہریکے ازایشان بطور فریب
    دادن رقص ہا کرد۔ وکمان خباثت را بزور تمام کشیدہ تیرانداخت۔ پس چگونہ از چنین فتحے ظاہر اعراض کردند
    آیا این امریست کہ عقل مردمان ثقہ آن را قبول کند۔ یا دل عقلمندان بدان اطمینان یابد
    آیا ازین دجالان کہ دشمنانِ دین و دشمنان آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم ہستند ہمین
    امید باید داشت۔ پس اگر ایمان دارید فکر کنید۔
    آیا نمی بینید کہ رسائل واخبار این قوم از اہانت دین اسلام وپیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و سلم پرہستند۔ پس چگونہ درمثل این مقام چشم پوشی اختیار کردند۔
    وبخدا اینان دشمن من ودشمن آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم ہستند وبرمن حریص ہستند اگر
    برائے ایذائے من موقعہ یابند۔ واگر مایک بیضہ از بیضہ ہائے ایشان بشکینم۔ ہرآئینہ باغوائے خود
    حکام را برما برانگیزانند۔ پس چگونہ بعد از دیدن حملہ ہائے ما کہ برائے قتل آتھم بودند صبر کردند۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 194
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 194
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/194/mode/1up
    194
    وحرکات کالسفّاک؟ أَدَرَءُوا بالحسنۃ، وما أرادوا جزاء السیءۃ بالسیءۃ؟
    رأوا صولۃً أولٰی منا فعفوا وصبروا، ثم رأوا صولۃ ثانیۃ فعفوا وصبروا، ثم رأوا
    ثالثۃ فعفوا وصبروا، وکذٰلک عملوا إلٰی سطوات ثلاث! فأَقْسِموا
    أہذہ أخلاق تلک الشیاطین؟
    أتُفتی فراستکم أن ہؤلاء الأشرار الکفّار، والأعداء
    الفجّار، الذین سبقوا کل قوم فی عداوۃ الملۃ الإسلامیۃ، والشریعۃ
    الربانیۃ، وجدونا مجرمین سفاکین، ثم آلَونا خَبالاً عافین؟ بل ہو
    مکرٌ وحیلۃ لإخفاء الخوف الذی ظہر من آتم بأنواع الارتعاد، فی أیام المیعاد،
    ولذٰلک ما تألَّی وما رفع الأمر إلٰی حکام ہذہ البلاد، وولّی ومکر وقال
    نحن قوم نجتنب الألایا، وقد حلَف من قبل فی القضایا۔ والحلف واجب
    آیا جواب بدی بہ نیکی دادند۔ ونخواستند کہ بدی رابدی پاداش دہند۔ ازما حملہ اول دیدند۔ پس درگزاشتند وصبر کردند۔ باز حملہ دوم دیدند پس درگزاشتند وصبر کردند۔ باز
    حملہ سوم دیدند پس درگزاشتند وصبر کردند۔ وہمچنین تاسہ حملہ صابر ماندند۔ پس قسم خورید
    آیا ہمین اخلاق این شیاطین است۔
    آیا فراست شما فتویٰ می دہد کہ این شریران وکافران ودشمنان بدکار کہ در عداوت
    ملت اسلام از ہر قوم سبقت بردہ اند۔
    مارا مجرم اقدام خونریزی یافتند۔ باز درتباہ کردن ماکوتاہی کردند ودر گزاشتند۔ بلکہ این ہمہ مکر وحیلہ برائے پوشیدن آن خوف است کہ درایام میعاد از آتھم ظاہرشد۔
    و از ہمین سبب او قسم نخورد ونہ نزد حاکمے استغاثہ برد۔ و رو گردانید ومکر کرد وگفت
    کہ ماقومے ہستیم کہ قسم نمی خورند۔ وحالانکہ پیش ازین در بسیارے از مقدمات عدالت ہا قسم بخورد وبرائے رفع نزاع


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 195
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 195
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/195/mode/1up
    195
    عندہم لرفع الخصومۃ، ومَن أبی فہو عندہم من الفَجَرۃ، وقد حلَف یسوعُہم
    والآخرون من الحواریّین وأئمۃ النصرانیۃ۔ وقال کلارک أن القَسم
    عندنا کالخنْزیر عند المسلمین! وقد أکل خنْزیرَ الحلفِ
    کلّ أحد من القسّیسین، وبولص الذی کان رئیس المفترین۔
    فانظروا إلی ’’آتم‘‘ وکذبِہ الصریح، وعملِہ القبیح، کیف أعرض
    عن الإقسام، خوفا من قہر اللّٰہ العلام؟ وکنت أعطیہ مالا کثیرًا علٰی إیلا ۂ،
    وقلتُ خُذْ مِنّی قبل حلفک لو کنت تشکّ فی قضاۂ۔بل زدتُ
    وعد الصلۃ مِن ألفٍ إلٰی آلافٍ، ولو استزاد لزدناہ من غیر إخلاف۔
    فکان فرضہ أن یجیئنی جارًّا ذیلَ الطرب، ویحلف ویُشیع صدقہ
    فی العجم والعرب، ولکنہ فرّ کالمبہوت، وخرّ کالمکبوت، وأَعْقبَہ
    قسم در مذہب عیسائیان واجب است وہرکہ انکار کند از بدکاران است۔ ویسوع ایشان و حواریان
    و دیگر اکابر نصرانیان قسم خوردند۔ و ڈاکٹر کلارک گفت کہ قسم نزد ما ہمچو
    خنزیر است نزد مسلمانان۔ حالانکہ این خنزیر قسم را ہر فردے از پادریان خوردہ است
    وخود پولس کہ رئیس مفتریان بود خوردہ۔
    پس آتھم وکذب صریح وعمل قبیح اورا بہ بینید۔ چگونہ از قسم خوردن اعراض کرد۔ ازین خوف کہ مبادا قہر الٰہی برو نازل گردد۔ ومن اورا برقسم خوردن اومالے کثیر می دادم
    وگفتم کہ اگر ترا شکے است پس این مال قبل از قسم خوردن از من بگیر۔ بلکہ من
    وعدہ انعام را ازیک ہزار تا چند ہزار زیادہ کردم۔ واگر ازان ہم زیادہ خواستے البتہ بغیر تخلف وعدہ
    زیادہ می کردم۔ پس برو فرض بود کہ بشادی دامن کشان پیش من آمدے وقسم خوردے وراستی خودرا
    در عرب وعجم شائع کردے۔ مگر او ہمچو سراسیمہ بگریخت۔ وہم چو کسیکہ دست زور آورے بروافتد


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 196
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 196
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/196/mode/1up
    196
    طائفُ الہول کالمجانین۔ فظہر من ہذا ضَحْضاحُہ، وہتَک وجاحَہ، و
    حصحَصَ الحقُّ وبدا کذب الخائنین۔ثم کان علیہ عند الإعراض عن الحلف
    أن یأتی بدلائل علٰی بہتانہ، ویُثبِت بأشہادٍ مضمونَ ہذیانہ، ولکنہ ما
    جاء بدلیل علی تلک الخرافات، وما صرخ علٰی بابِ حاکم عند ہذہ
    الآفات، کما ہو سیرۃ المظلومین۔ فأیّ دلیل أکبر من ہذا علٰی
    مفتریاتہ، وعلٰی کذبہ وخزعبیلا تہ عند الناظرین؟ وإنہ أقرّ غیر
    مرۃ أنہ خشِی علٰی نفسہ فی تلک الأیام، ووجد ما یجد الموقِن بقرب الحِمام۔
    وبعد ما خرج من سجن الأحزان، ومارِسْتان الذوبان،
    أہرَعَ الناس لِلُقَاہ، وعجبوا بِمُحَیّاہ، فمن حَدّق إلی أساریرہ، وفکّر فی
    شخیرہ، علم أنہ بدّل الہیءۃ السابقۃ، وأطفأ النار المُضْطرمۃ، وظہر
    فرو افتاد وہمچو دیوانگان بار بار اورا جنون افتاد۔ پس ازین حرکت پایاب او معلوم شد وپردہ او دریدہ گشت
    وحق ظاہر شد و دروغ خیانت پیشگان پدید آمد۔ باز برو واجب بود کہ اگر قسم نخوردہ بود
    بارے بدلائل دعویٰ بہتان خود را بپایہ ثبوت رسایندے۔ واز روئے گواہان ہذیان خود را ثابت کردے۔ مگر او
    برین خرافات ہیچ دلیلے نیا ورد۔ ونہ بروقت این آفات بر در حاکمے فریاد کرد
    چنانکہ آن طریق مظلومان است۔ پس بر مفتریات او ازین بزرگتر کدام دلیل
    خواہد بود وبرکذب واباطیل او ازین ظاہر ترکدام شہادتے نزد ناظرین ضروری است۔ و او
    بارہا اقرار کرد کہ او برجان خود ترسیدہ است۔ وآن غم دید کہ کسے بیند کہ بر نزدیکی موت خود
    یقین دارندہ باشد۔ وچون از زندان غمہا وبیمارستان گداختن بیرون آمد۔
    مردم برائے دیدن او شتا فتند وبر زندگی او تعجب کردند۔ وہرکہ بتامّل نشانہائے چہرہ او دید۔ ودر آواز او
    غور کرد۔ بدانست کہ اوہیئت سابقہ را مبدل کردہ است۔ وآتش افروختہ را منطفی گردانیدہ۔ و


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 197
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 197
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/197/mode/1up
    197
    کالمساکین۔ وبکیٰ مرارًا فی کل نادٍ رحیب، بتذلّل عجیبٍ، فسمع من کان
    فی بُہْرۃ الحلقۃ وحوالیہا، وفہِم أنہ خشِی قنا الموت وعوالیہا، وأمضی الأیام
    کالمضطرین۔ وأمّا قومہ فنسوا ما کان فی إلہامی من قید الاشتراط، الذی
    کان فیہ کالمناط، ومَا فکروا فی خوفہ الذی بلغ إلی الإفراط، وتعامَوا من
    الغیظ والاحتلاط، وأرَوا کلَّ خبثہم کالشیاطین، وأبدوا نواجذَ طیشٍ
    وغضب، وغیظ ولہبٍ، وکانوا معتدین۔
    وأَخْنَتْ علیّ السفہاءُ ورفقاؤہ الجہلاء ، وقالوا إنا مِن
    الغالبین۔ وفہّمناہم فما أقلعوا عن الجہلات، وانصلتوا کل الانصلات، وأضرموا
    نار الوغٰی، والتہبوا کجَمْرٍ الغَضی، ومَا أَنْقَروا وما فکّروا، بل اضطرموا وتنکّروا،
    وأبرزوا عربدۃً واعتداءً ، وافترَوا أشیاءً ، وتمایلوا علٰی سبٍّ واستجراحٍ،
    ہمچو مسکینان ظاہر شدہ۔ وبارہا در مجلس ہائے فراخ بتذلّل عجیب بگریست۔ پس ہر کہ درمیان
    حلقہ جماعت یا گرد آن بود شنید وفہمید کہ او از نیزہ ہائے موت وسرآن نیزہ ہا ترسید۔ وہمچو بیقراران
    روزہا گزرانید۔ مگر قوم او شرط الہام مرا فراموش کردند آن شرط کہ مدار مفہوم الہام بود۔ ودر خوف آتھم ہیچ فکرے نکردند آن خوف کہ بافراط رسیدہ بود۔ واز غضب
    وخشمناک شدن کور گشتند۔ وہر خباثت خود را ہمچو شیاطین نمودند۔ ودندان طیش وغضب
    ظاہر کردند۔ وخشم وافروختگی نمودند۔ واز حد تجاوز کنندگان بودند۔
    ومردم سفیہ و رفیقان جاہل او برمن بہ سخت گوئی زبان کشادند۔ وگفتند کہ ما غالبیم۔
    وما ایشان رافہمانیدیم پس از جہالتہا باز نہ ایستادند۔ وبغایت درجہ از حد در گزشتند۔ وآتش جنگ
    افروختند۔ وہمچو اخگر درخت غصا۰ افروختند۔ وباز نہ ایستادند ونہ فکر کردند بلکہ بیفروختند وخصومت
    وجنگ وزیادتی را ظاہر کردند۔ وبہتانہا بستند۔ وبردشنام دہی وعیب گیری و استہزاء مائل شدند


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 198
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 198
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/198/mode/1up
    198
    وشتمٍ ومزاحٍ، واعتدَوا ہذیانًا وبہتانًا، وطاروا إلینا زُرافاتٍ ووُحْدانًا کالمجانین۔
    وأخفَوا الحقیقۃ کالحُوَّل المحتال، أو المغطّی الدجّال، وکانوا یستہزؤن
    سائرین فی الأسواق، کما ہی عادۃ الفسّاق، وکانوا یزیّنون الکذب والافتراء ،
    وکل أحد قال فینا أشیاء کما شاء ، وقد استتلَوا الصبیانَ والسفہاء
    مستہزئین۔ وکانوا یخدعون الناس بنبأٍ ما فہِموہ، أو فہِموہ ثم حرّفوہ، و
    عثَوا فی الأمصار مفسدین۔ وسعٰی معہم علماؤنا کساعٍ، بل کسِباعٍ، لابِسِی
    جلدِ النمر، وہاجمی ہجوم السیل المنہمِر، واتبعوا النصاریٰ وزخارفَ زورہم،
    ونبذوا لباس التقویٰ وراء ظہورہم، مجترئین۔ وأرادوا جَوْحَنا بحصائد اللسان۔
    وغوائل الافتنان، وأیّدوا النصاریٰ کالشاہدین۔ وکان کلٌّ کحسینٍ
    بطالویّ أو شیخ نجدیّ بعیدًا من الدیانۃ والدّین۔
    و در ہذیان وبہتان ازحد درگزشتند۔ وسوئے ماگروہے گروہے ویکے یکے پریدند۔
    واصل حقیقت راہمچو مکاران وحیلہ گران۔ ودجالان حقیقت پوشان پوشیدہ داشتند وباستہزاء
    در بازار ہا بگشتند۔ وچون فاسقان تمسخر را عادت کردند۔ وکذب وافترا را مزین کردہ بمردم نمودند
    وہریکے ازیشان ہرچہ خواست درحق ماگفت۔ ودر وقت استہزا کود کان وسفیہان را در پس خود کردند
    ومردم را بخبرے فریب می دادند کہ خود نہ فہمیدند۔ یافہمیدند مگر تحریف می کردند
    وبطور فساد انگیزی در شہرہا بگشتند۔ وعلماء ما با اوشان ہمچو نمّامان بودند۔ نے نے بلکہ ہمچو درندگان پوست
    پلنگ پوشیدہ رفیق شدند۔ وہمچو سیلے کہ بزودی وتیزی می آید بناگاہ برما افتادند۔ وعیسائیان ودر وغہائے آراستہ
    او شانرا پیرو شدند۔ ولباس تقویٰ را پس پشت خود انداختند۔ وخواستند کہ باد اسہائے زبانہا استیصال ماکنند واز غوائل فتنہ اندازی مارا تباہ گردانند۔ وہمچو گواہان تائید عیسائیان کردند۔ وہریکے ازیشان مثل محمد حسین
    بٹالوی یا شیطان نجدی از دیانت ودین دور بود۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 199
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 199
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/199/mode/1up
    199
    والعجب أن ’’آتم‘‘ کان مُرِمًّا لا یترَمْرَمُ، وصامتًا لا یتکلّمُ، بل کتب إلیّ
    أنّی بریّ منہم ومِن فعلہم، وأعلم أنّہم من الجَاہلین المعتدین، ثم بعد مَلِیٍّ
    قسَا قلبہ وصار من الغاوین۔ ومع ذٰلک ما أشرکَ نفسہ فی سبّہم و
    بہتانہم، وسفاہتہم وہذیانہم، وتنحّی عنہم وقعد کالمعتزلین المختفین۔
    ولو کان یحسبنی کذّابًا، ویحسب نفسہ مظلومًا مصابًا، لکان حَقّہ أن
    یکون أوّل المکذّبین وأوّل اللاعنین، بل کان الواجب علیہ أن یشیع
    کذبی بالاشتہارات، ثم لا یقنَع بہا ویرفع إلی الحکام للمکافاۃ، لکنّہ ما فعل ذٰلک بل صمت کَالمتخوفین۔ وأنت تعلم أنہ إن کان مُطّلعًا علٰی کذبی، وکان ظہر علیہ خبث قلبی، مع أنہ تأذّی کلَّ الأذیٰ بسببی، فکان من مقتضی
    الفطرۃ الإنسانیّۃ، والضرورۃ الدینیّۃ والعقلیّۃ، أن تتحرک غضبہ کالطوفان،
    وتعجب اینکہ عبد اللہ آتھم بالکل ساکت وخاموش بود کہ یک لفظے ہم برزبان نمی آورد وہیچ کلامے نمی کرد
    بلکہ سوئے من نوشت کہ من ازین مردم وکار این مردم بیزارم ومیدانم کہ ایشان از نادانان وتجاوز کنندگان ہستند۔
    باز بعد از مدتے قلیل دل او سخت شد و از گمراہان شد و باوجود امر خویشتن را در دشنام و
    بہتان وہذیان اوشان شریک نکرد۔ بلکہ از و شان یکسو ماندہ۔ وہمچو گوشہ نشینان پوشیدہ نشستہ۔
    و اگر او مرا کذاب خیال کردے وخویشتن را از مظلومان شمر دے۔ پس ہر آئینہ حق او بود کہ
    از ہمہ تکذیب کنندگان اول تکذیب من کردے واز ہمہ لاعنان اول لاعن او بودے بلکہ برو واجب بود
    کہ باشتہارات کذب مرا شائع کردے۔ باز بدین قدر کفایت نکردے بلکہ بذریعہ حکام مرا سزا دہانیدے۔ مگر
    او چنین نکرد بلکہ ہمچو ترسندگان خاموش شد۔ و تو میدانی کہ اگر او برکذب من اطلاع یافتہ بود۔ وخبث دل من
    برو منکشف گشتہ بود۔ باوجود این امر کہ از سبب من تکالیف برداشتہ ومحنت کشیدہ بود۔پس درین
    صورت مقتضائے فطرت انسانی وتقاضائے ضرورت عقلیہ دینیہ این بود کہ غضب او مثل طوفان جنبش کردے۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 200
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 200
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/200/mode/1up
    200
    ویشتعل لمجازاۃ العدوان۔ فما منعہ أنہ صار کالمیّت المَدفُون، واختفیٰ
    کالمتندم المحزون؟ ألیس ہذا مقام یحار فیہ الفہم، وتہیج الظنون
    ویفرُط الوہم؟ ثم دعوتُہ للحلف لکشف الحق علی العوام، ووعدتُہ قنطارًا
    علی الإقسام، لا یسیرا من الحُطام، لیرجع برُدْنٍ ملآن وقلبٍ جَذْلان،
    فولّی وما تألّی۔ ثم ***ُہ لعنًا کبیرًا، فقلت لعنۃُ اللّٰہ علیک إن
    أعرضت مَزیرًا، وما جئتنی وما ترکت تزویرا، فما جاء وما حلَف،
    وتذکر رُزْءًا سلَف، وظَنّ أنہ الآن من المأخوذین۔
    وکفاک ما ظہر منہ عند سماع نبأ الموت، وتراء ت لہ
    آثار الفوت، وأخذہ خافٌ حتی ظہر التغیر فی الصّوت، وطفق یفرّ
    کصید مذعور یجوب البیداء ، ولا یریٰ شجراءَ ولا مرداء ، وترَک سبل العاقلین۔
    وبرائے پاداش ظلم مشتعل گشتے۔ پس اورا این چہ پیش آمد کہ ہمچومیت دفن کردہ گردید۔ وچون شرمندہ
    غمناک پوشیدہ گشت۔ آیا این آن مقام نیست کہ درآن عقل انسان متحیر میشود۔ وگمان ہا در دل
    می آیند۔ ووہم زیادت میکند۔ باز اورا برائے قسم بخواندم تاکہ حق برعوام ظاہر گردد۔ وبرقسم خوردن وعدہ
    مالے کثیر دادم۔ نہ اندکے ازمال۔ تاکہ آستین خود از مال پر کند وبادل شادان باز گردد۔
    پس رو بگردانید وقسم نخورد۔ باز برو *** فرستادم۔ وگفتم کہ خدا برتو *** کند اگر از روئے سخت دلی
    کنارہ کنی۔ ونزدم نیائی ودروغ آرائی را نگذاری۔ پس نیامد ونہ قسم خورد۔ ومصیبت اول را یاد کرد۔ وگمان کرد کہ اکنون اواز گرفتاران خواہد شد۔
    و ترا این امر کافی است کہ وقت شنیدن خبر موت چہ حرکت ہا ازو صادر شد
    ونشانہائے در گزشتن برائے او ظاہر شدند۔ واو را خوفے شدید گرفت تا آنکہ در آواز وتغیرے پدید آمد
    وچنانکہ شکارے ترسندہ بیابان را قطع میکند۔ ونہ زمینے درختناک می بیند ونہ بے درخت ہمچنین بگریخت۔ وراہ ہائے عاقلان ترک کرد۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 201
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 201
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/201/mode/1up
    201
    ثم إذا رأی أن الخوف لا یخفی، وأن لیس الناظرون کالأعمٰی، فاشتہر أن الصائلین فی
    کل مکان قفَوہ، وما وجدوا قصرًا إلا علَوہ، حتی بُہِتَ مِن نمط تعاقُبہم،
    وَمَا رأی راجِلَہم ولا راکِبَہم۔ فما أمہلَہ ہذا الخوف، بل احترق منہ الجوف،
    ورآہ الزائرون أنہ یُمضی وقتہ بالبکاء والزفرات، ویجری مِن مُقْلتہ سیلُ
    العَبرات، ولا کدمعِ المِقْلات، وکان یستیقن أنہ المغلوب، وسیَعْلَق بہ
    الشَّعوبُ۔ فکما أنّ القنص عند حسِّ جوارح باطشۃٍ یختفی فی سرحۃٍ کثیفۃ
    الأغصان وَریقۃِ الأفنان، ویواری عِیانَہ تحت کل عِیصۃ، بإرعاد
    فریصۃ، کذٰلک تاہَ کالمجانین۔
    ثم نحَت مِن بعد المیعاد، علٰی طریق الإفناد، أن جَمْعَنا حَلّوا بساحتہ،
    وعجَروا علیہ شاہرِی سیوفِہم لإبادتہ، لیغتالوہ کالمفاجئین۔ فمِن
    باز چون دید کہ خوف پوشیدہ نتواند ماند۔ وبینندگان ہمچو کوران نیستند۔ پس مشہور کرد کہ حملہ کنندگان در
    ہر مکانے پس اور فتند۔ وہیچ کاخے نیا فتند کہ بران نہ برآمدند۔ تاآنکہ از طریق تعاقب شان مبہوت شد۔
    ونہ پیادہ شان دید ونہ سوار شان۔ پس این خوف اورا نگذاشت بلکہ ازان بیم اندرون او بسوخت۔
    وملاقات کنندگان اورا دیدند کہ وقت خود بگریہ وآہ ہا می گذارد۔ واز چشم او سیلاب اشک ہا میرود۔ و
    می گرید۔ ونہ ہمچو گریستن زنے کہ پسران او مردہ باشند۔ وگویا او یقین می کند کہ او مغلوب است۔ وعنقریب مرگ
    بدو خواہد آویخت۔ پس مثل آن صیدے کہ بوقت دریافتن جانوران شکاری کہ برو حملہ می کنند در درختے پوشیدہ میشود
    کہ شاخہائے آن بانبوہ باشند ونیز شاخہائے پر برگ باشند۔ وزیر ہر درختے کلان وجود خود را می پوشاند۔ واز
    شدت خوف گوشت شانہ خود را می لرزاند۔ ہم چنین این شخص از جنون وخوف سرگردان می گشت۔
    باز بر طریق دروغ گفتن بعد ا زگذشتن میعاد این تراشید۔ کہ گروہ ما بساحت خانہ او در آمدند۔
    وشمشیرہا برکشیدہ برائے اہلاک او حملہ کردند۔ تا بیک ناگاہ اورا قتل کنند۔ پس ازین


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 202
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 202
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/202/mode/1up
    202
    مثل ہذہ الافتراء ات ونحت البہتانات، ظہَر عُجَرُہ وبُجَرُہ، وعُرِفَ نجمُہ وشجرہ،
    وظہر أنہ ہاب الإسلامَ، ولو أخفی المرام۔ ألا تعلم أنّہ کیف أقرّ بأنہ خاف
    حَیّۃً، ومن المعلوم أن الحیّۃ ما کان مأمورۃ منا ولا معلَّمۃً، وتلدغ الحیّۃ
    بأمر اللّٰہ لا بأمر الإنسان، فثبت أنہ خشِی قہر الدیّان، وأوجس فی نفسہ
    خِیفۃَ نبأِ الرحمٰن، وہذا ہو شرط الرجوع الذی کان فی إلہام المنّان،
    فانتفع من الشرط بخوف الجَنان، ثم ستر الأمر کالماکرین۔
    وإن قصۃ الحیّۃ تشہد بکمال الصفاء ، أن الخوف کلہ کان
    من قدر السّماء ، لا من ہٰؤلاء وہؤلاء ۔ وقد سمعتَ أنّی دعوتہ للإیلاء ،
    فکان ہو الخوف الذی رجَعہ إلٰی الإباء ۔ وقُلت إنّی مجیزک کالغرماء ،
    ولو شئت اجمَعْ عَنّی قبلَہ عند أحد من الأمناء ، فخاف عُکّازتی، مع أنہ
    افتراہا وبہتان ہا حقیقت پوشیدہ او منکشف گشت و نبات او و درخت او شناختہ شد۔
    و ظاہر شد کہ او ضرور از ہیبت اسلام بترسید۔ اگرچہ این مقصد را پنہان داشت۔ آیا نمی دانی کہ او چگونہ اقرار کرد
    کہ اواز مار بترسید۔ واین ظاہر است کہ مار از ماحکم یافتہ نبود ونہ تعلیم یافتہ۔ ومار بامر خدا تعالیٰ می گزد
    نہ بامر انسان۔ پس ثابت شد کہ اواز قہر خدائے جزاء دہندہ بترسید ودردل خود خوف
    پیشگوئی پوشیدہ داشت۔ واین ہمان شرط رجوع است کہ در الہام بود۔
    پس بباعث خوف ازان شرط منتفعشد۔ باز حقیقت حال را ہمچو مکر کنندگان پوشیدہ کرد۔
    وقصہ مار بکمال صفائی گواہی می دہد کہ ہمہ خوف از تقدیر آسمان بود۔
    نہ ازین گروہ وازان گروہ۔ وتوشنیدی کہ من اورا برائے قسم خور دن خواندہ بودم
    پس ہمان خوف او را از قسم خور دن باز داشت۔ ومن بدو گفتم کہ ہمچو تاوان دہندگان ترا زرکثیر
    انعام خواہم داد۔ واگر بخواہی پیش از قسم خوردن نزد امینے زر انعام جمع کنانی۔ پس از عصائے من بترسید۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 203
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 203
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/203/mode/1up
    203
    اطّلع علٰی إجازتی، وإذا ولّی وما تألّی۔ فقلتُ: یا ہذا قد آلَوا مِن قبل خواص
    أئمّتک، وأکابر ملّتک، أ أنت أفضل منہم أو تحسبہم من الفاسقین؟
    فما رد قولی وما آلٰی کالصادقین۔ فکِذْبُہ شیء لا یختفی بإخفاء ، ولا یستقیم
    بافتراء ، بل ہو أجلی البدیہیات، وأسنی المسلَّمات، ولکن المخالفین قوم
    أعماہم إعصار التعصب والشحناء ، کما یُعشی الہجیر عینَ الحرباء۔ فلا شک
    أن الحق أبلَجَ، والباطل لَجْلَجَ، واسودّت وجوہ المبطلین۔ ولا ریب أن
    موت ہذا الکذّاب، أمات کلَّ مکذّب فی ہذا الباب۔ وَإنی أریٰٰ
    أنّ الألسنۃ قد زُمّت ۔ والحجّۃ قد تمّتْ۔
    وظہر الحق ولو کانوا کارہین۔
    وقد ذکرنا قبل موت ’’آتم‘‘ فی الاشتہارات السابقۃ، أنہ
    باوجود این امر کہ بر انعام من اطلاع یافت پس ہرگاہ کہ رو گردانید و قسم نخورد۔ گفتم کہ اے فلان بہ تحقیق قبل از تو
    خواص پیشوایان تو قسم ہا خوردند۔ آیا تواز آنان بزرگتر ہستی یا تو آنان را از فاسقان می شماری۔
    پس نہ قول مرا رد کرد ونہ ہمچو صادقان قسم خورد۔ پس دروغ او چیزیست کہ از پوشیدن پوشیدہ نمی شود
    وبافتراء صورت درستی نمی پذیرد۔ بلکہ آن اجلی۱ بدیہیات وروشن ترین مسلمات است۔ مگر مخالفان قومے ہستند کہ
    باد گرد تعصب وکینہ چشم شان کور کردہ است۔ چنانکہ دوپہر چشم حربا را کورمی کند۔ پس ہیچ شک
    نیست کہ راستی در خشید وباطل رو بزوال نہاد۔ و روئے باطل پرستان سیاہ شد۔ وہیچ شک نیست
    کہ موت این کذاب ہر مکذب این امر را بمیرانید۔ ومن مے بینم
    کہ بر زبان ہا لگام دادہ شد۔ وحجت باتمام رسید۔
    وحق ظاہر شد اگرچہ ازان کراہت می داشتند۔
    وما قبل از موت آتم در اشتہارات سابقہ ذکر کردیم کہ او بعد از انکار


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 204
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 204
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/204/mode/1up
    204
    یموت بعد الإنکار من الرجوع والإنابۃ، والإصرار علی الکذب والفِریۃ،
    فنُوالی شکر اللّٰہ المنّان، أنہ فعَل کما کُتب قبل ہذا الزمان، وأتمّ کما
    کنت ألہَجُ بشوق الجنان، ومات ’’آتم‘‘ بعد مرور نصفٍ من الأشہر المسیحیۃ،
    وما نفعہ فرارہ من البلدۃ إلی البلدۃ، وإن شئت فافہَمْ زمان وفاتہ من ہٰذہ الفقرۃ۔ ہوَی دجّالٌ بَبٌّ فی عذاب الہاویۃ المہلکۃ۔ وہٰذہ
    آیۃ من آیات حضرۃ العزۃ، فإنہ ما ترکہ حیًّا إذا ترک سبل الدیانۃ، بل
    أخفاہ تحت التربۃ، إذا ما أخفٰی سرّ الحقیقۃ۔ فحصحص الحق وزہق الباطل
    وبطلت دقاریر الکَفَرۃ، فأَنَّی تُسحَرون یا أہل البخل والعصبیۃ؟ ألم یأنِ لکم
    أن تتوبوا یا متخلفی القافلۃ، فقوموا وأَمہِلوا بعض ہذا التدلّل
    والنخوۃ، ولا تبارزوا اللّٰہ مجترئین۔
    رجوع واصرار بر دروغ خواہد مرد۔
    پس ما شکر خدائے منان متواترمی کنیم کہ او چنانکہ پیش زین نوشتہ شدہ بود ہمچنان کرد۔ و ز انسان بکمال
    رسانید کہ من بشوق دل آرزو می کردم۔ وآتم بعد گزشتن نصف ازماہ ہائے عیسائیان یعنی در ماہ جولائی ۱۸۹۶ء بمرد۔
    وگریختن اواز شہرے بشہرے او را فائدہ نہ داد۔ واگر بخواہی تاریخ وفات اورا ازین فقرہ مندرجہ ذیل
    معلوم کن۔ دجال فربہ آتھم بد اطوار در ہاویہ ہلاک کنندہ افتاد۔ واین
    نشانہائے خدا تعالیٰ است چرا کہ او آتھم را زندہ نگذاشت وقتیکہ دید کہ اوراہ حق را گزاشتہ است
    بلکہ اورا زیر خاک پوشیدہ کرد۔ چون دید کہ او راز حقیقت را پوشیدہ کردہ است۔ پس حق ظاہر شد وباطل گریخت
    ودرو غہائے کفر باطل شد۔ پس اے بخیلان ومتعصبان از حق کجا میروید وکدام جادوئے شمارا مسخر کردہ
    اے پس ماندگان قافلہ آیا ہنوز وقت شمانرسیدہ است کہ توبہ کنید۔ پس برخیزید وبعض نازہا وتکبرہا
    بگذارید۔ ومقابلہ خدا تعالیٰ از دلیری مکنید۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 205
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 205
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/205/mode/1up
    205
    أیہا الأناس! إن ’’آتم‘‘ ماتَ، وبازی الحق علی الباطل خاتَ، فَارْقُوا
    علٰی ظَلْعِکم واذکروا الأموات، وتوبوا مسترجِعین۔ وإن التقویٰ
    لیس فی لِمَّۃٍ مَشیطۃ، ولُحًی طویلۃٍ، وکِعابٍ مکشوفۃٍ، وعمائم ملفوفۃ،
    وشوارب مقطوعۃ، ورسوم مجموعۃ، إنما التقویٰ فی اختیار الصواب
    بعد الخطاء، والرجوع إلی الحق بعد الإدراء ، والالتیاع بذکر أیام الإباء،
    والتناہی عن القوم المفسدین، وترکِ بخل النفس وکبرہا للّٰہ ربّ
    العالمین۔ وإن الأتقیاء یُسَرّون بقبول الحق کسرورہم بلقاء الفٍ لقِی
    بعد الفقدان، أو حصولِ مرام تأتّٰی بعد الحرمان، وإذا ذُکّروا فیتذکرون
    متواضعین۔ فأحسِنوا النظر فی الأعمال، أتجدون تقواکم کمثل ہذہ
    الأمثال؟ ما لکم لا تتناہون عن الفساد، ولا تہولکم تہاویلُ المعاد؟
    اے مردمان بہ تحقیق آتھم بمرد۔ وباز حق بر باطل بحملہ تمامتر افتاد۔ پس برنفس خود
    نرمی کنید ومردگان را یادکنید۔ وبانّا للہ گفتن توبہ کنید۔ و تقویٰ درین امر نیست
    کہ موہائے خود را بشانہ مصفا دارید۔ وریشہارا در از بگذارید۔ وکعبین برہنہ ودستارہا خوب پیچیدہ
    وبروت بریدہ۔ وہمہ رسوم ظاہری اسلام در نفس خود جمع کردہ شوند۔ بلکہ حقیقت تقوی این است
    کہ بعد از خطا ثواب را اختیار کنید۔ وبعد از آگاہا نیدن سوئے حق رجوع فرمائید۔ وایام سرکشی را یاد کردہ
    غمگین شوید۔ واز مفسدان دور نشینید۔
    وپرہیز گاران بقبول حق چنان خوش می شوند کہ بدیدن دوستے خوش میشوند کہ بعد از
    گم شدن ملاقات کرد۔ یا مثل شخصے خوش میشوند کہ بعد از نومیدی مقصود خود را یافت۔ وچون یاد دہانیدہ شوند بتواضع یادمی آرند۔ پس در اعمال خود نیکو نظر کنید۔ آیا شما پرہیز گاری خود را مانند این مثال ہا می یابید۔ چہ شد شمارا کہ از فساد باز نمی آئید۔ وخو فہائے سخت قیامت شمارا نمی ترساند


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 206
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 206
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/206/mode/1up
    206
    أصاب بستانکم جائحۃٌ، فکیف ألْہَتْکم غفلۃٌ یا معشر النائمین؟ إن فی موت
    ’’ آتم‘‘ لآیات لأولی الأبصار۔ أما قرأتم من قبل اشتہاری فی ہذہ الأخبار؟
    فالآن لا ینکرہا إلّا حزب الشیاطین۔
    تَذَکَّرْ مَوْتَ دَجَّالٍ رُذَالٍ

    وَقُوْدِ النَّارِ اا تَمَ ذِی الْخَبَالِ
    اَ تَاہُ الْمَوْتُ بَعْدَ کَمَالِ دَجْلٍ

    وَاِنْکَارٍ وَّ مَکْرٍ فِی الْمَقَالِ
    اَرَاہُ اللّٰہُ ھَاوِیَۃً وَّ ذُلاًّ

    وَفِی النِّیْرَانِ اُلْقِیَ کَالدَّمَالِ
    کَمِثْلِیْ کَانَ فِیْ عُمْرٍ وَّسِنٍّ

    سَمِیْنَ الْجِسْمِ اَبْعَدُ مِنْ ھُزَالِ
    وَمَا اَرْدَاہُ اِلَّاحُبُّ کُفْرٍ

    وَاَحْبَابٍ وَّ اَمْلَاکٍ وَّمَالِ
    فَرَی اَرْضًا بِخَوفٍ بَعْدَ اَرْضٍ

    فَمَانَفَعَتْہُ حِیَلُ الْاِنْتِقَالِ
    وَدُقَّتْ ھَامَۃُ الْکَذَّابِ حَقًّا

    بِاَطْرَافِ الزِّجَاجِ اَوِ الْعَوَالِیْ
    باغ شمارا آفتے رسید۔ پس چگونہ غفلت شمارا باز داشتہ است۔ بہ تحقیق درموت آتھم برائے بینندگان نشان ہاست۔ آیا شما پیش زین اشتہار من دربارہ این خبرہا نخواندہ اید۔
    پس اکنون منکر آن بجز گروہ شیطانان ہیچکس نخواہد ماند
    مردن آن دجال کمینہ را یاد کن کہ ہیزم آتش آتھم مفسد است
    بعد کمال دجالیت و انکار و مکر در گفتگو موت برو وارد شد
    خدا تعالیٰ او را جہنم و ذلت بنمود و ہمچو سرگین خشک در آتش انداخت
    او در عمر و سِنّ مانند من بود فربہ جسم واز لاغری دور بود
    وہیچ چیزے بجز حب کفر او را ہلاک نہ کرد و دیگر اسباب ہلاکت محبت دوستان کافر و محبت ملک و مال بود
    واز شدتِ خوف زمینے را بعد زمینے بریدپس حیلہ تبدیل جاہا ہیچ نفع اورا نہ بخشید
    و در حقیقت سرِاین کذاب باطراف پائین و اطراف سرنیزہ ہا کوفتہ شد


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 207
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 207
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/207/mode/1up
    207
    وَقَدْ ھَابَ الْمَنَایَا ثُمَّ اَنْسٰی

    زَمَانَ الْمَوْتِ مِنْ زَھْوِ الضَّلَالِ
    فَفَکِّرْ کَیْفَ اَدْرَکَہُ الْمَنِیَّہ

    مُُقَدَّرَۃً لَّہُ بَعْدَ الْخَبَالِ
    تَوَفَّاہُ الْمُھَیْمِنُ عِنْدَ خُبْثٍ

    وَاِصْرَارٍ عَلٰی سُبُلِ الْوَبَالِ
    فَاَیْنَ الْیَوْمَ ٰا تَمُ یَاعَدُوِّیْ

    اَ لَمْ یَرْحَلْ اِلٰی دَارِ النَّکَالِ
    اَلَمْ یَثْبُتْ بِفَضْلِ اللّٰہِ صِدْقِیْ

    اَ لَمْ یَظْھَرْ جَزَآءُ الْاِفْتِعَالِ
    وَمَا نَجَّاہُ عِیْسٰی وَالصَّلِیْبُ

    وَلَمْ یَعْصِمْہُ اَحَدٌ مِّنْ عِیَالِ
    تَجَلَّتْ اایَۃُ الرَّبِّ الْعَظِیْمِ

    فَاَیْنَ الطَّاعِنُوْنِ مِنَ الدَّلَالِ
    وَاَیْنَ اللَّاعِنُوْنَ بِصَدْرِ نَادٍ

    وَاَیْنَ الضَّاحِکُوْنَ مِنَ الْحَوَالِیْ
    وَاَیْنَ السَّاخِرُوْنَ مِنَ الْاَدَانِیْ

    وَمِنْ اَھْلِ الْمَطَابِعِ کَالرِّءَاِل
    فُؤَادِیْ قَدْ تَاَذَّی مِنْ اَذَاھُمْ

    وَقَلْبِیْ دُ ّ َق مِنْ قِیْلٍ وَّقَالِ
    واز موت بترسید باززمانہ موت را از تکبر ضلالت فراموش کرد
    پس فکر کن کہ چگونہ موت اورا دریافت آن مرگ کہ بعد از مفسد گشتن برائے او مقدر بود
    خدا تعالیٰ او را در وقت خباثت و اصرار بر راہ وبال بمیرانید
    پس اے دشمن من امروز آتھم کجاست آیا بسوئے دار العقوبت کوچ نکردہ است
    آیا بفضل خدا تعالیٰ صدق من ظاہر نشدآیا جزائے بہتان و دروغ گفتن بظہور نرسید
    واورا نہ عیسیٰ علیہ السلام نجات داد و نہ صلیب نجات داد و کسے از عیال او اورا نہ رہانید
    نشان آن قادر ظاہر شد کہ خدائے بزرگ است پس کجا ہستند آنانکہ از ناز طعنہ می زدندے
    و کجا کسانے ہستند کہ بحیثیت صدر نشینی مجلس برمن *** کردندے و کجا کسانے ہستند کہ از گرد ا گرد مجلس خندہ ہامی زدندے
    و کجا از کمینہ مردم تمسخر کنندگان ہستندو کجا مہتممان وایڈیٹران مطابع ہستند کہ بہ بچگان شتر مرغ میمانند
    دل من از ایذائے شان آزارہا یافت و دل من از قیل وقال شان کوفتہ شد


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 208
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 208
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/208/mode/1up
    208
    اَطَالُوْا السنَ التَّذْمِیْمِ ظُلْمًا

    فَاُمْرِرْنَا کَاِمْرَارِ الْحِبَالِ
    وَقَالُوْا کَاذِبٌ یُؤْذِی الْاُنَاسَا

    وَ یَعْلَمُ مَنْ یَّرَانِیْ سِرَّ حَالِیْ
    وَ مَلَأُوْا کُلَّ قِرْطَاسٍ بِذَمِّیْ

    فَاَصْبَحْنَا کَمَجْرُوْحِ الْقِتَالِ
    وَمَا خَافُوْا عِقَابَ اللّٰہِ رَبِّیْ

    اِذَا مَا جَاوَزُ وْا سُبُلَ اعْتِدَالِ
    فَسَلْ ھُمْ اَیْنَ آتَمُ فِی النَّصَارٰی

    اَرُوْنِیْ فِی الْجُمُوْعِ اَوِالْعِیَالِ
    اَمَا مَاتَ الَّذِیْ زََعَمُوْہُ حَیًّا

    اَمَا دُفِنَ المُکَذِّبُ فِی الدِّحَالِ
    اَمَا شَاھَتْ وُجُوْہُ الْمُنْکِرِیْنَا

    فَقُوْمُوْا وَاشْھَدُوْا لِلّٰہِ لَا لِیْ
    وَلَمْ یَقْتُلْہُ مِنْ اَمْرِیْ ثُبُوْنٌ

    وَلٰکِنْ جَذَّہُ حِبٌّ قَلَا لِیْ
    بَدَتْ آ!یَاتُ رَبِّیْ مِثْلَ شَمْسٍ

    فَمَا بَقِیَ الظَّلامُ وَلَا اللَّیَالِیْ
    سِھَامُ الْمَوْتِ مَاطَاشَتْ بِمَکْرٍ

    وَاِنَّ اللّٰہَ یُخْزِیْ کُلَّ غَالِیْ
    ایشان زبان ہا مذمت کردن برما ازراہ ظلم کشادند پس از شدت گرفت شان چنان سخت تافتہ شدیم کہ رسن رامی تابند
    و گفتند شخصے دروغگو ست کہ مردم را ایذا مے دہد ورازحال من کسے میداند کہ مرا می بیند
    وہر کاغذے را بہ بدگوئی ما پر کردند پس ہچمو مجروحان جنگ صبح کردیم
    و مواخذہ خدا راہیچ پروائے نداشتندواز راہ ہائے اعتدال تجاوز کردند
    پس ازیشان بپرس کہ آتھم کجاست مراشکل اوبنمائید در گروہے باشد یاد رعیال
    آیا آنکس نمردہ است کہ اورا زندہ پنداشتندآیا تکذیب کنندہ درمغاکہا دفن کردہ نشد
    آیا روئے منکران سیاہ نشدہ است پس برخیزیدو برائے خدا نہ برائے من گواہی دہید
    و او را جماعت می نکشتہ است بلکہ آن دوست او ر اکشت کہ برائے من اورا دشمن گرفت
    نشانہائے خدائے من مثل آفتاب ظاہر شدندپس نہ تاریکی ماند و نہ شب ہا
    و تیرہائے مرگ از مکر آتھم خطا نرفتندو خدا ہر غلوّ کنندہ را رسوا مے کند


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 209
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 209
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/209/mode/1up
    209
    تَوَفّٰی کَاذِبًا رَبٌّ غَیُوْرٌ

    وَمَا آوَاہُ اَحَدٌ مِّنْ مَّوَالِیْ
    تُوُفِّیَ وَالسُّیُوْفُ مُسَلَّلَاتٌ

    عَلٰی اَمْثَالِہِ مِنْ ذِی الْجَلَالِ
    تَجَلّٰی صِدْقُنَا وَالصِّدْقُ یَجْلُوْ

    فَاَشْرَقْنَا کَاِشْرَاقِ اللَّاٰلِیْ
    فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْنَا یَا ابْنَ ضِغْنٍ

    وَخَفْ سُوْءَ الْعَوَاقِبِ وَالْمَآلِ
    نَزَلْنَا مَنْزِلَ الْاَضْیَافِ مِنْکُمْ

    فَنَرْجُوْ اَنْ تَقُوْلُوْا لِیْ نَزَالِ
    وَلِیْ فِیْ حَضْرَ ۃِ الْمَوْلٰی مَقَامٌ

    وَشَأْنٌ قَدْ تَبَاعَدَ مِنْ خَیَالِ
    وَصَافَانِیْ وَ وَافَانِیْ حَبِیْبِیْ

    وَاَرْوَانِیْ بِکَأْسَاتِ الْوِصَالِ
    اَرَانِی الْحُبُّ مَوْتِیْ بَعْدَ مَوْتِیْ

    وَاَنْأَی تُرْبَتِیْ فَبَدَا زُلَالِیْ
    وَجَدْنَا مَاوَجَدْنَا بَعْدَ وَجْدٍ

    وَاِقْبَالِیْ اَ تٰی بَعْدَ الزَّوَالِ
    اِذَا اَنْکَرْتُ مِنْ نَفْسِیْ بِصِدْقٍ

    فَوَافَانِیْ حَبِیْبِیْ رَوْحُ بَالِیْ
    خدائے غیور دروغ گو را بمیرانیدو ہیچکس از دوستان اورا در پناہ خود نیا ورد
    او بمرد و شمشیر ہا بر امثال او از خدا تعالیٰ کشیدہ ہستند
    صدق ما ظاہر شد و صدق چیزیست کہ بالضرور روشن میشود پس ہمچو درہائے تابان درخشیدیم
    پس اے انسان کینہ ور برما جلدی مکن واز سوء انجام و سوء خاتمہ بترس
    ما ہمچو مہمانان نزد شما فرود آمدیم پس امیدداریم کہ بگوئید کہ نزد ما فرود آمد
    ومرادر حضرت مولیٰ کریم مقامے است و شانے است کہ از خیالہا برتر است
    و دوست من با من محبت صافی کرد و نزدم آمدو مرا باجامہائے و صال سیراب کرد
    محبت الٰہی مرا مرگ من بعد مرگ من بنمود و خاک مرا ازمن دور کرد پس آب زلال پیدا شد
    ہر چہ یافتیم از غم و اندوہ یافتیم و اقبال من بعد زوال من آمد
    در وقتے کہ من از نفس خود انکار کردم پس دوست من و آرامِ جان من نزدم آمد


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 210
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 210
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/210/mode/1up
    210
    اَطَعْتُ النُّوْرَ حَتّٰی صِرْتُ نُوْرًا

    وَلَایَدْرِیْ خَصِیْمٌ سِرَّحَالِيْ
    طَلَعْتُ الْیَوْمَ مِنْ رَبٍّ رَحِیْمٍ

    وَجَلَّتْ شَمْسُ بَعْثِیْ فِي الْکَمَالِ
    فَلَا تَقْنُطْ مِنَ اللّٰہِ الرَّءُ وْفِ

    وَقُمْ وَبِتَوْبَۃٍ نَحْوِیْ تَعَالِ
    قَرَیْنَا مِنْ کَمَالِ النُّصْحِ فَاقْبَلْ

    قِرَانَا بِالتَّھَلُّلِ کَالرِّجَالِ
    وَخَیْرُ الزَّادِ تَقْوَی الْقَلْبِ لِلّٰہِ

    فَخُذْ اِیَّاہُ قَبْلَ الْاِرْتِحَالِ
    وَفَکِّرْ فِیْ کَلَامِیْ ثُمَّ فَکِّرْ

    وَلَا تَسْلُکْ کَمَرْءٍ لَا یُبَالِیْ
    ثم العلماء أوسعونی سبًّا، وأوجعونی عتبًا فی خَتَنِ ’’أحمد‘‘، وقالوا
    إنہ ما مات فی المیعاد کما وُعِد فی الإلہام وأُکِّدَ، بل نجدہ ببَخْتٍ أسعَدَ، و
    عیشٍ أرغَدَ، وما نریٰ أثرًا فیہ من ضعف المریرۃ، ولا عُسْرًا فی امتراء المِیرۃ،
    وإنہ حیٌّ سالِمٌ إلی ہذا الحین۔ أَمّا الجَواب فاعلم أنّ ہذا الإلہام
    من نوررا اطاعت کردم بحدیکہ خود نور شدم پس ہیچ خصومت کنندہ را ز حال من نمی داند
    امروز از طرف ربّ رحیم خود طلوع کردم وآفتاب بعث من درکمال بزرگیہا حاصل کرد
    پس از خدائے مہربان نومید مباش و بر خیز و توبہ کن و نزد من بیا
    بکمال اخلاص دعوت شما کردیم پس این دعوت راہمچو مردان بخندہ پیشانی قبول کن
    و نیکو ترین زاد از خدا ترسیدن است پس بگیر آنرا قبل از کوچ کردن
    و فکر کن در کلام من باز فکر کن و ہمچو لاپروائے مرو
    باز علماء مرا دربارہ داماد میرزا احمد بیگ ہوشیار پوری بسیار بدگوئی کردند۔ وبسرزنش ہا دل مرا
    ایذا دادند۔ وگفتند کہ داماد احمد بیگ درمیعاد پیشگوئی نمردہ است۔ واین برخلاف آن وعدہ تاکیدی است
    کہ در الہام بود۔ بلکہ اورا بہ بخت نیکتر و عیش فراخ ترمی یا بیم وہیچ اثرے از ضعف طبیعت وتنگی تحصیل رزق نمی بینیم
    و او تا این وقت زندہ سلامت موجود است۔ اما الجواب۔ پس بدان کہ این الہام


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 211
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 211
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/211/mode/1up
    211
    کان مشتملًا علی الشُّعبتین، شُعبۃ فی موت ’’أحمد‘‘ وشعبۃ فی خَتَنِہ الذی
    جعلہ کقُرّۃِ العین۔ فأتمَّ اللّٰہ شعبۃً أولٰی فی المیعاد، ومات ’’أحمد‘‘ کما
    أُخْبِرَ فی إلہام رب العباد، وتلظَّی أقاربہ مِن ہمِّ موتہ، وقد لاحت
    لک تفاصیل فوتہ، فلا بدّ لک أن تقرّ بصدق ہذہ الشعبۃ بالیقین۔
    وأمّا الشعبۃ الثانیۃ التی تتعلق بخَتَنِہ وفوتہ، فلا یختلج فی
    صدرک تأخیر موتہ، فإنہ أمرٌ لا تفہمہ إلّا بعد الإحاطۃ علٰی الواقعات، فإذا فہِمتَ
    فیظہر علیک خطَائک کالبدیہیات، وتقرّ بأنّ الشیطان أنساک طریق الحق
    والحقیقۃ، وبَعَّدَک عن الصراط والطریقۃ، وأراد أن تلحقک بالغاوین۔
    فالآن نقصّ علیک القصۃ، لتطّلع علی الحقیقۃ وتجد منہا الحصّۃ،
    ولتکون من المستبصرین۔ فاعلم أنّ زوجۃ ’’أحمد‘‘ وأقاربہا کانوا من
    بر دو شاخ مشتمل بود شاخ اول آن دربارہ موت میرزا احمد بیگ ہوشیار پوری بود۔
    وشاخ دوم دربارہ مرگ داماد او کہ ہمچو قرہ العین او را بود۔ پس خداتعالیٰ شاخ اول را کہ موت احمد بیگ است
    درمیعاد پیشگوئی باتمام رسانید و صدق آن ظاہر کرد واحمد بیگ مطابق الہام خدا تعالیٰ وفات یافت۔
    و دل اقارب او از موت او بسوخت۔ وتفصیل وفات یافتن او بر تو ظاہر است۔ پس ترا این امر ضروری افتاد
    است کہ بصدق شاخ اول اقرار کنی۔ واما شاخ دوم کہ متعلق بداماد احمد بیگ ومردن او ست پس سینہ ترا این نگیرد
    کہ چرادر موت او تاخیر شد۔ زیر آنکہ این امرے است کہ این را بجز احاطہ بر واقعات نتوانی فہمید۔ وچون فہمیدی
    پس برتو خطائے تو ظاہر خواہد شد۔ واقرار خواہی کرد کہ شیطان ترا راہ حق وحقیقت فراموش
    کنانیدہ است وازراہ حق دور انداختہ است۔ وارادہ کردہ است کہ ترابگمراہان آمیزد۔
    پس اکنون این قصہ بر تو می خوانیم۔ تابرحقیقت مطلع شوی وازان حصہ یابی۔
    وتا از جملہ صاحبان بصیرت شوی۔ پس بدان کہ زنِ احمد بیگ و دیگر اقارب اواز قبیلہ من بودند


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 212
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 212
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/212/mode/1up
    212
    عشیرتی، وکانوا لا یتخذون فی سبل الدین وَتِیرتی، بل کانوا یجترؤن علی السیئات
    وأنواع البدْعات، وکانوا فیہا مُفرطین۔ فأُلْہِمتُ من الرحمٰن أنہ معذِّبُہم
    لو لم یکونوا تائبین۔ وَقَال لیْ رَبِِّی إنہم إن لم یتوبوا ولم یرجعوا فنُنزِل علیہم
    رِجْسًا من السماوات، ونجعل دارہم مملوّۃ مِنَ الأرامل والثیّبات، و
    نتوفّٰہم أباتِرَ مخذولین۔ وإن تابوا وأصلحوا فنتوب علیہم بالرحمۃ، ونغیّر
    ما أردنا من العقوبۃ، فیظفرون بما یبتغون فرحین۔ فنصحتُ لہم
    إتمامًا للحجّۃ، وقلتُ استغفِروا ربّکم ذی المغفرۃ فما سمعوا کلماتی، وزادوا فی
    معاداتی فبدا لی أن أشیع الاشتہار فی ہذا الباب، لعلہم یتقون ویرجعون
    إلٰی طرق الصواب، ولعلہم یکونون من المستغفرین۔
    فأشعتُ الاشتہارَ، وَأنا فی ’’ہُشْیَار‘‘، فنبذوہ وراء ظہورہم
    وعادت شان بود کہ اوشان در راہ ہائے دین طریقہ من اختیار نمی کردند بلکہ بربدی ہا و
    گونا گون بدعت ہا دلیری می کردند۔ واز حد در گزشتہ بودند۔ پس از خدا تعالیٰ الہام یافتم کہ اگر اوشان
    تائب نشدند او آنا نرا در عذاب گرفتار خواہد کرد۔ ومرا پروردگار من گفت کہ اگر این مردم توبہ نکردند نہ از
    بد روشی ہا باز آمدند۔ پس ما بر ایشان از آسمان عذاب نازل خواہیم کرد۔ وخانہ اوشان را از بیوگان پر خواہیم کرد
    واگر توبہ کردند واصلاح خود نمودند پس مابرحمت سوئے شان رجوع
    خواہیم نمود۔ و خانہ اوشان را از بیوگان پرخواہیم کرد۔ وارادہ عقوبت را تبدیل خواہیم کرد۔ پس آنچہ میخواہند
    بخوشی خاطر خواہند دید۔ وایشان را برائے اتمام حجت نصیحت کردم وگفتم کہ از خدائے بخشندہ مغفرت بخواہید۔ پس سخن من نشنیدند و در دشمنی افزودند۔ پس در دلم آمد کہ درین بارہ اشتہارے شائع کنم۔ شاید این مردم بترسند و بسوئے راہ صواب رجوع کنند۔ وشاید از خدا تعالیٰ آمرزش بخوا ہند۔
    پس اشتہار را شائع کردم۔ ومن دران وقت در شہر ہوشیار پور بودم۔ مگر اوشان آن اشتہار


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 213
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 213
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/213/mode/1up
    213
    غیر مبَالین۔ وکان ذٰلک أول الاشتہارات فی ہذہ المقدّمۃ، والبواقی
    التی أُشیعتْ بعدہا فہی لہا کالأنباء المفصّلۃ المصرّحۃ، وکالتفصیل
    للعبارات المُجْملۃ السابقۃ۔ وأنت تعلم أنّ وعید ذٰلک الاشتہار کان
    مشروطًا بشرط التوبۃ، لا کالعقوبۃ القطعیّۃ الواجبۃ النازلۃ من
    غیر المُہْلۃ۔ وإن شئت فاقرأْ اشتہارًا مِنّی طُبع فی ’’غوضفٍ‘‘ من السنوات
    المسیحیۃ، لِغَضْفِ کبرِ ہذہ الفءۃ الباغیۃ۔ فلما لم ینتہوا بہذا
    الاشتہار، ولمَ یترکوا طریق التبار، فکشف اللّٰہ علیّ أمورًا لتلک الفءۃ، وأنا
    بین النوم والیقظۃ، وکان ہذا الکشف تفصیل ذٰلک الإلہام فی المرّۃ الثانیۃ۔
    وبیانہ أنی کنت أرید أن أرقُد، فإذا تمثّلتْ لی أمُّ زوجۃ ’’أحمد‘‘،
    ورأیتہا فی شأنٍ أحزَنَنی وأرجَدَ، وہو أنی وجدتُہا فی فزع شدید عند
    را بہ لاپروائی پس پشت خود اند اختند۔ وآن اول اشتہار بود کہ درین مقدمہ شائع کردم۔ وباقی ہمہ اشتہارات
    کہ بعدازان شائع کردم تفصیل آن اجمال بود۔
    و تو میدانی کہ وعدہ عذاب آن اشتہار مشروط بشرط توبہ بود۔ نہ مثل آن سزائے کہ قطعی باشد وبغیر توقفے و مہلتے فرود آید۔
    و اگر بخواہی آن اشتہار من بخوان کہ در ۱۸۸۶ء یک ہزار وہشتصد وہشتادوشش مسیحی
    برائے شکستن کبر آن گروہ باغی جاری کردہ بودم۔ پس ہرگاہ اوشان بدین اشتہار از
    بدی ہائے خود باز نیامدند وطریق ہلاکت را نگذاشتند۔ پس خدا تعالیٰ برائے این گروہ چند امور دیگر بر من ظاہر کرد
    ومن دران وقت در حالتے بودم کہ بین بین خواب وبیداری می باشد۔ واین کشف تفصیل آن الہام بمرتبہ دوم بود
    وبیان آن این است کہ من ارادہ خفتن می داشتم کہ ناگاہ مادر زنِ احمد بیگ در حالت کشفی برمن
    متمثل شد۔ و اورا در حالے دیدم کہ مرا غمگین کرد و بدن من بلرزانید۔ وآن این است کہ وقت ملاقات اورا در خوف


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 214
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 214
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/214/mode/1up
    214
    التلاقی، وعبراتہا یتحدّرن من المآقی، فقلت: أیتہا المرأۃ توبی توبی
    فإنّ البلاء علٰی عَقِبِکِ۔ أی علٰی بنتِک وبنتِ بنتک۔ ثم تنَزّلتُ مِن ہذا
    المقام، وفُہِّمتُ مِن رَبّی أنہ تفصیل الإلہام السابق مِن اللّٰہ العلام،
    وأُلقِیَ فی قلبی فی معنی العَقِب من الدیّان أن المراد ہٰہنا بنتہا وبنت بنتہا لا أحدٌ
    من الصبیان، ونُفِث فی رُوعی أن البلاء بلاء انِ، بلاء علٰی بنتہا وبلاء
    علٰی بنت البنت مِنَ الرَّحْمٰن، وأنہما متشابہان من اللّٰہ أحکم الحاکمین۔*
    وإذا رجعتُ لتفتیش لفظ العَقِب إلی اللغات العربیۃ، فإذا فراستی صحیحۃ مطابقۃ
    شدید یافتم۔ ودیدم کہ اشکہائے اواز چشمان او روان ہستند۔ پس گفتم کہ اے زن توبہ کن توبہ کن
    کہ بلا برعقب تو نازل شدنی است۔ یعنی بلا بردختر تو و دختر دختر توفر ود آمدنی است۔ باز ازین مقام کشفی
    فرود آمدم۔ واز خدائے خود فہمانیدہ شدم کہ این تفصیل الہام سابق است۔
    و دربارہ معنی عقب در دل من انداختند کہ مراد ازان اینجا دختر آن زن کہ زو جہ احمد بیگ است و دخترآن دختر است نہ احدے از پسران۔ ودر ضمیر من دمیدند کہ بلائے کہ در عبارت کشف مذکور است آن دو بلا ہستند بلائے بر دختر مذکور یعنی زوجہ احمد بیگ است وبلائے دیگر بر دختر دختر است۔ وآن ہر دو بلا باہم مشابہت میدارند۔
    وچون برائے تفتیش لفظ عقب سوئے لغت عرب رجوع کردم۔ پس آن الہام خود مطابق بیان کتب
    الحاشیہ۔ قد سمع منی ھذا الکشف بمقام ھوشیار پور قبل موت احمدبل قبل اشاعۃ
    ایں کشف را بمقام ہوشیار پور پیش از مردن میرزا احمد بیگ بلکہ پیش از اشاعت این ہمہ واقعات
    واقعات کلھا رجل من ولد شیخ صالح غزنوی۔ وکما تعلم کان ھذا الرجل ابن تقی۔ ونسیت
    شخصے از من شنیدہ بود کہ از پسران مولوی عبد اللہ غزنوی مرحوم است وچنانکہ میدانی این شخص پسر پرہیزگارے
    الیوم اسمہ واعرف وجھہ۔ لعل اسمہ عبدالرحیم او عبد الواحد علی اختلاف انتقال الخیال
    بود۔ وامروز نام او فراموش کردم و روئے او می شناسم۔ شاید نام او عبد الرحیم یا عبد الواحد بود کہ ذہن بسوئے این
    واظنّ انہ لا ینکرہ عندالسوال۔ واللہ یعلم ما فی البال۔ وھو اعلم مافی صدور العٰلمین
    ہر دو انتقال می کند۔ وگمان میدارم کہ او وقت پر سیدن انکار نخواہد کرد۔آئندہ خداتعالیٰ حال دل بہتر می داند۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 215
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 215
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/215/mode/1up
    215
    بالمعانی المرویّۃ، فشکرتُ اللّٰہ مؤیّد الملہَمین۔
    فالحاصل أن اللّٰہ صرّح فی ہذا الکشف ما أراد من نوع التخویف
    والإنذار، وأشار إلی أنّ الآفۃ علٰی زوج ’’أحمد‘‘ وبنتہا من اللّٰہِ
    القہار۔ ومع ذٰلک حث علَی التوبۃ والاستغفار، وأومأَ بہ أن العذاب
    یؤخَّر بالتضرع والرجوع إلٰی الغفار، ولا یحل الغضب إلّا عند الإباء ،
    والاجتراء والاعتداء ، ومن تاب واستغفر فلہ حظ من رحمۃ حضرۃ
    الکبریاء ، ولا یأخذہ عذاب مہین، إلا بعد العود إلٰی سیر الفاسقین۔
    لغت عرب یا فتم۔ پس خدائے ملہم را شکر کردم۔
    پس حاصل کلام این است کہ خدا تعالیٰ درین کشف تصریح آن انذار وتخویف کرد کہ
    در ارادہ او بود واشارت فرمود کہ آفت برزن احمد بیگ ودختر احمد بیگ است۔
    وباجود این انذار سوئے توبہ واستغفار رغبت داد واشارت کرد کہ در صورت
    توبہ و استغفار در عذاب تاخیر خواہد شد۔ وغضب الٰہی صرف در وقت بیباکی و نافرمانی نازل
    خواہد شد۔ وہرکہ توبہ کند حصہ از رحمت خواہد یافت۔
    ودر عذاب مبتلا نخواہد شد۔ مگر دران صورتے کہ باز سوئے سیرتہائے فاسقان عود کنند
    ومعہ اشھاد اٰخرون کانوا ھناک حاضرین۔ واظنّ انّ احدا منھم کان بابو الٰہی بخش

    وبا او گواہانے دیگر نیز ہستند کہ در آنجا حاضر بودند۔ وگمانم چنیں است کہ یکے از یشان بابو الٰہی بخش
    اکونتنت الملتانی۔ ومحمد یعقوب اخ الحافظ محمد یوسف ومعہ محمد یوسف
    کونٹنٹ ملتانی است۔ ودوم محمد یعقوب برادر حافظ محمد یوسف وخود محمد یوسف نیز ہست ودیگر اکثرے از
    وکثیر من المسلمین۔ وعفا اللہ عنی ان کنت اخطأ ت فی ذکر احد منھم۔ فانی
    مسلمانان نیز ہستند۔ واگر من در ذکر نام احدے خطا کردم پس خدا تعالیٰ مرا معاف دارد۔ چرا کہ من
    لست احصیھم بالیقین وقد مضٰی علٰی ھذا احدی عشرۃ من سنین۔ منہ
    بالیقین این نامہا نہ شمردم وبرین واقعہ یازدہ سال گذشتہ اند۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 216
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 216
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/216/mode/1up
    216
    فأشعتُ ہذا الکشف بالاشتہار، کما أشعت إلہامی قبلہ لہدایۃ الأحرار۔
    ثم إذا مضٰی علیہ ملِیٌّ من الزمان، أُلْہِمتُ فیہمْ مرّۃ ثالثۃ مِن اللّٰہ الدیّان،
    وتجلّٰی ہذا الإلہام کالنور فی الظہور، ورفع الحجب کلہا من السرّ المستور،
    وکانہذا شرحًا مبسوطا للإلہامات السابقۃ، وتفصیلا للکَلِم المجمَلۃ
    الکشفیۃ، وبیانًا واضحًا للسامعین۔
    وبیانہ أن اللّٰہ خاطبنی فی عشیرتی المعتدین، وقال: ’’کذّبوا بآیاتی وکانوا بہا مستہزئین، فسیکفیکَہم اللّٰہُ ویردّہا إلیک، لا تبدیلَ لکلمات اللّٰہ، إن ربّک فعّالٌ لما یرید۔ فأشار فی لفظ ’’فسیکفیکَہم اللّٰہُ‘‘ إلٰی أنہ یرُدّ بنتَ ’’أحمد‘‘ إلیّ بعد إہلاک المانعین۔ وکان أصل المقصود الإہلاک،
    وتعلم أنہ ہو المَلاک، وأما تزویجہا إیّای بعد إہلاک الہالکین والہالکات،
    پس این کشف را باشتہار شائع کردم۔ ہمچنان کہ الہام پیشین را برائے ہدایت آزاد منشان شائع کردہ بودم
    پس چون برشائع کردن این اشتہار مدتے از زمانہ گزشت دربارہ آن مردم بمرتبہ سوم مرا الہام شد۔
    و این الہام در ظہور مانند نور تجلی کرد۔ وہمہ حجاب ہا کہ برراز پوشیدہ بود از میان برداشت۔
    و این الہام برائے الہامات سابقہ بطور شرحے بود مبسوط۔
    وبرائے کشوف مجملہ تفصیلے بود واضح۔
    وبیان آن این است کہ خدا تعالیٰ مرا دربارہ قبیلہ من مخاطب کرد و گفت کہ این مردم مکذب آیات من ہستند وبدانہا استہزا می کنند۔ پس من ایشانر انشانے خواہم نمود۔ وبرائے تو این ہمہ را کفایت خواہم شد۔ وآن زن را کہ زن احمد بیگ را دختر است باز بسوئے تو واپس خواہم آورد۔ یعنی چونکہ اواز قبیلہ بباعث نکاح اجنبی بیرون شدہ باز بتقریب نکاح تو بسوئے قبیلہ رد کردہ خواہد شد۔ در کلمات خدا ووعدہ ہائے او ہیچکس تبدیل نتواند کرد۔ وخدائے توہرچہ خواہد آن امر بہرحالت شدنی است ممکن نیست کہ در معرض التوا بماند۔ پس خدا تعالیٰ بلفظ فسیکفیکہم اللّٰہ سوئے این امر اشارہ کرد کہ او


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 217
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 217
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/217/mode/1up


    فہو لإعظام الآیۃ فی عین المخلوقات بإدراج المشکلاتالمعضلات، أو لِحِکَمٍ أخریٰ من عالم
    المغیبات، أو لرحمٍ علی المصابین والمصابات، فإنہ یضع المرہم بعد الجرح،
    ویعطی الفرح بعد الترح، ولا یرید أن یجیح عبادہ المستضعفین۔ ومَن أزیدُ
    منہ جُودا و رحمًا؟ وہو أَرْحم الراحمین۔
    وإنی أجد إشارۃً فی الاشتہار الأول فی ہذا الباب، من اللّٰہ الراحم الوہّاب، فإنہ قفّی بذکر رحمتہ بعد ذکر عقوبات نازلۃ علی ہذہ الفءۃ،
    وبعد ذکر أراملہم ومصائبہم المتفرقۃ، فخاطبنی بنہجٍ کأنّہ یشیر إلٰی الرحم
    علیہم فی الأیام الآتیۃ، فقال :’’یبارکک اللّٰہ ببرکات مستکثرۃ، ویُعمَر بک بیتٌ
    مخرَّبٌ، ویُملأُ بک مِن برکات دارٌ مخوّفۃٌ۔فہذہ إشارۃ إلی زمان یأتی
    علیہم بعد زمان الآفات۔ عند وُصْلۃ مقدّرۃ موعودۃ فی الاشتہارات،
    وتتم یومئذ کلمۃ ربّنا، وتسودّ وجوہ عِدانا، ویظہر أمر اللّٰہ ولو کانوا کارہین۔

    دختر احمد بیگ را بعد میرا نیدن مانعان بسوئے من واپس خواہد کرد۔ واصل مقصود میرا نیدن بود۔ و تومیدانی کہ ملاک این امر
    میرا نیدن است وبس۔ واما تزویج آن زن با من بعد ہلاک کردن ہلاک شوندگان پس آن مشکل الوقوع مشکلات اند کہ
    برائے بزرگ کردن نشان درچشم مردم داخل نشان کردہ شدہ۔ یا برائے حکمت ہائے دیگر کہ خدا میداند یا بطور رحم برمصیبت
    زدگان چرا کہ او بعداز زخم رسانیدن مرہم می نہد وبعد از غمگین کردن فرحت می بخشدونمی خواہد کہ بکلی استیصال بندگان کمزور
    کند وازورحیم تر وکریم ترکیست۔ ومن در اشتہار اول دربارہ رحم الٰہی کہ خدائے کہ رحم کنندہ وتوبہ پذیر ندہ است اشارتے
    مے یابم۔ چرا کہ او بعد ترسانیدن این مردم وذکر بیوگان ایشان ومصیبت ہائے ایشان ذکر رحمت خود
    آور دہ است پس مرا بطرزے مخاطب کرد کہ گویا او بسوئے این امر
    اشارہ میفر ماید کہ درآخر ایام بران مردم رحم خواہد کرد۔ پس گفت کہ خدا تعالیٰ تراببر کت ہائے بسیار برکت یافتہ خواہد کرد
    وبتویک خانہ ویران آباد کردہ خواہد شد وبتویک خانہ ویران از برکت ہا پرکردہ خواہد شد کہ خانہ ترسانندہ وخوفناک است
    یعنی از غایت وحشت وویرانی کہ در دست از دیدن آن مردمان را خوف می آید۔ پس اشارت بسوئے آن زمانہ
    است کہ برایشان بعد زمانہ آفات خواہد آمد۔ نزد آن پیوندے کہ مقدر و در اشتہارات وعدہ دادہ شدہ است۔ وآن روز


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 218
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 218
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/218/mode/1up


    وإن اللّٰہ غالب علٰی أمرہ وإن اللّٰہ یخزی قومًا فاسقین۔ فأہلکَ کما وعد فی
    ’’فسیکفیکَہم‘‘ أربعۃً منہم بعد تزویجہا، وعاث فیہم ذئبُ الآفات عَقِبَ
    تزلیجہا، کما لا یخفٰی علی المطلعین۔ فإنہ أہلکَ أباہا وعمّتَیْہا
    وجدّتَہا، وکان کل أحد من الغالین المعتدین۔ والآن ما بقی إلا واحد
    من الہالکین۔ فانظروا إلی حکم اللّٰہ کیف أتی الأرض من أطرافہا، وانتظِروا
    ساعۃ یوفی فیہا شَظافَہا۔ إنہ لا یبطل قولہ، وإنہ لا یخزی قومًا ملہَمین۔
    واعلم أن حرف الفاء علٰی لفظ ’’فسیکفیکَہم اللّٰہ‘‘ من الرحمن
    بعد ذکر تکذیب أہل الطغیان، کان إشارۃً إلٰی أنّ العذاب لا ینْزل إلّا
    عند التکذیب والعدوان۔ فلما کذّبوا بعد التزویج وقاموا بالاستہزاء
    وآذونی بأنواع الإیذاء ، فأمات اللّٰہ أباہا ’’أحمد‘‘ وبدّل ضحکہم بالبکاء ،
    وغشِیہم من الغم ما غشِی قومَ یونس عند إیناس آثار العذاب، وألقاہم

    کلمہ پروردگار ما باتمام خواہد رسید وروئے دشمنان سیاہ خواہد شد وامر خدا ظاہر خواہد شد اگرچہ اوشان کراہت کنندگان
    باشند وخدا برامر خود غالب است۔ وخدا قوم فاسقان را رسوامی کند۔ پس خدا تعالیٰ چنانکہ درآیت فسیکفیکہم اللہ وعدہ
    کردہ بود چارکس ازیشان بمیرانید۔ وبراوشان بعد این پیوند اجنبی گرگ آفات بتاخت چنانچہ برواقفان پوشیدہ نیست
    چرا کہ خدا تعالیٰ پدرآن زن موعود فیہ را وہر دو عمّہ اورا ومادر مادر اورا کہ بیخ فساد بودند بمیرانید واز آنان صرف
    شخصے واحد ماند کہ بروحکم ہلاکت است۔ پس بسوئے حکمتہائے خدا تعالیٰ نظر کنید کہ چگونہ درین پیشگوئی از اطراف
    شروع کرد۔ پس انتظار آن روز کنید کہ درآن سختی آن بکمال خواہد رسید۔ چرا کہ او قول خود را باطل نمی کند
    وملہمان خودرا رسوا نمی گرداند۔ وبدانکہ حرف فاء کہ برلفظ فسیکفیکہم واقع است۔
    این سوئے این امر اشارہ بود کہ عذاب در صورت
    تکذیب وغلو در تکذیب واقع خواہد شد۔ پس چون آن مردم بعد نکاح کردن دختر خود برتکذیب کمر بستند
    وبگونہ گون گفتارہا مرا ایذا دادند۔ پس خدا تعالیٰ پدر آن زن موعود فیہ را یعنی احمد بیگ را حسب وعدہ درمیعاد
    پیشگوئی بمیرانید۔ و وقت مردن احمد بیگ آن غم واندوہ قوم اورا رسید کہ قوم یونس را بعد دیدن نشانہائے عذاب


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 219
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 219
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/219/mode/1up


    موتُ المائت وخوفُ نفس الخَتَن فی أنواع الاضطراب۔ ولما بلغ
    نساءَ ہم نعیُ موت ’’أحمد‘‘، وکنَّ مِن قبل کرجل أکفَرَ وأکنَدَ، عطَطْنَ
    جیوبہن، وأسلْنَ غروبہن، وصککن خدودہن، وتذکرن عنودہن، و
    ہاجت البلابل، وانقضّ علیہن من المصائب الوابل، واہتزّت الأرض
    تحت أقدامہن، ثم تمثَّلَ موتُ الخَتَن فی أوہامہن، وطفِقن یقُلْن و
    الدموع تجری من العیون: ہذا ما وعد الرحمٰن وصدَق المرسلون۔
    فالحاصل أن ہؤلاء أوجسوا فی أنفسہم خیفۃ، وظنوا أنّ
    خَتَنہم سیموت کما مات صہرہ عقوبۃً، فإنہما کانا غَرَضَین مقصودین فی
    إلہام واحد، وکان موت أحدہما للآخر کشاہد، ومن المقتضٰی الفطرۃ
    الإنسانیۃ أنہا تقیس بالأحوال الموجودۃ للأشیاء علی أحوال أشیاء أخریٰ
    تضاہیہا بنحو من الأنحاء ، فتفہَم أن واقعات آتیۃ لیست إلا کمثل


    رسیدہ بود۔ واوشان را موت احمد بیگ وبعد زان اندیشہ موت داماد خود در گونا گون بیقراری ہا انداخت۔ وچون
    زنان اقارب احمد بیگ را خبر موت احمد بیگ رسید۔ وقبل ازان مثل شخصے بودند کہ سخت منکر وناشکر گزار باشد۔ گریبان
    خودرا دریدند۔ و اشکہائے خود ریختند۔ ورخسارہائے خود را مجروح کردند۔ وگمراہی خودرا یاد کردند۔ واندوہ ہا
    در دلہا جوشیدند۔ واز مصیبت باران عظیم برایشان فرو افتاد۔ و زمین زیر قدمہائے ایشان
    بلرزید۔ باز موت داماد دروہم ہائے ایشان متمثل شد۔ وشروع کردند کہ میگفتند بحالتیکہ
    اشک از چشمہا روان بود۔ کہ این ہمان وعدہ است کہ خدا تعالیٰ کردہ بود وفرستادہ خدا راستگو برآمد۔
    پس حاصل کلام این است کہ این مردم در دل خود خوف را بطور پنہان نشانیدند وگمان کردند کہ
    داماد اوشان نیز خواہد مرد چنانکہ خسر او بمرد۔ چرا کہ آن ہر دو نشانہ الہام واحد بودند۔
    و موت یکے از ایشان برائے موت دیگرے بطور گواہ بود۔ واین تقاضائے فطرت انسانی است
    کہ آن براحوال اشیاء موجودہ احوال آن اشیاء را قیاس می کند کہ بدان اشیاء
    مشابہت می دارند۔ پس می فہمد کہ واقعات آئندہ بالضرور مثل آن واقعات ظاہر خواہند شد


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 220
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 220
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/220/mode/1up



    نظائرہا المشہودۃ، وتستنبط الأحکام المنتظرۃ من الأحکام الواردۃ، و
    کذٰلک جرت عادۃ المتوسمین۔ فلما انکشف علٰی عشیرتی بموت ’’أحمد‘‘ النظیر
    وبدأ المَثَل الکبیر، فخافوا خوفًا کثیرًا مع إکثار البکاء ، ونسوا طریق
    التمسخر والاستہزاء ، وزُمّتْ ألسنہم وصاروا کالمبہوتین۔ وتنصّلوا
    من ہفوتہم، وتندموا علٰی فوہتہم، وخضعت أعناقہم کالمصابین۔
    و قد علمتَ أ نّ ہذ ا الإ لہا م کا ن لإنذار ہٰذہ العشیرۃ،
    وکان الوعید وشرطہ لتلک الفءۃ، وما کان لِخَتَنہم دخلٌ فی ہذہ
    القصۃ۔ ثم لیس من المعقول أن یُظَنّ أن قلب ختنہم بقی علی الجرء ۃ
    السابقۃ، مع معاینۃ موت صہرہ الذی کان شریکہ فی نبأ الہلاکۃ،
    بل شہد الشاہدون أنہ خاف خوفًا شدیدًا بعد ہذہ الواقعۃ، وکاد
    أن تزہق نفسہ بعد سماع ہذہ المصیبۃ، وخشی علی نفسہ، و

    کہ بظہور پیوستند۔ چرا کہ دران ہر دو مشابہت درمیان است۔ واحکام منتظرہ را از احکام واردہ استنباط می کند
    وعادت صاحبان فراست برہمین رفتہ۔ پس ہرگاہ برقبیلہ من از موت میرزا احمد بیگ نظیرے ظاہر شد۔ و
    مثالے بزرگ پیدا گشت۔ پس بسیار ترسیدند و گریہ ہا کردند۔ وطریقہ تمسخر وخندیدن
    را فراموش نمودند۔ وبر زبان شان لگام دادہ شد ومثل مبہوتان شدند۔ واز لغزش گناہ خود
    بیزاری جستند۔ واز گفتہ خود پشیمان شدند۔ وگردن شان ہمچو مصیبت زدگان بخمید۔
    و تو دانستۂ کہ این الہام برائے ترسانیدن ہمین قبیلہ بود۔
    واین وعید وشرط این وعید برائے ہمین گروہ بود۔ ودرین مقدمہ داماد او شانرا ہیچ دخلے نبود۔
    باز این امرہم معقول نیست کہ دل داماد اوشان بعد مشاہدہ موت خسر خود بر دلیری سابقہ قائم
    ماندہ باشد حالانکہ آن ہر دو شریک یک پیشگوئی بودند۔
    بلکہ گواہان گواہی دادہ اند کہ او بعد از واقعہ موت خسر خود بغایت درجہ ترسید۔ و نزدیک بود
    کہ جان او بعد از شنیدن این حادثہ برآید وبرجان خود بترسید


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 221
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 221
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/221/mode/1up


    حسِب النکاح آفۃ من الآفات السماویۃ، وإن کنت فی شک فاسأل
    العارفین الناظرین۔
    فالحاصل أنہم لمّا تخوّفوا بعد موت ’’أحمد‘‘، وخوّف ہلاکُہ
    کلَّ أحد وأرجَدَ، فکان حَقّہم أن ینتفعوا بشرط الإلہام،
    فإن العذاب کان مشروطًا لا حُکمًا قطعیًا کما ہو وہم العوام۔ فاسألْ
    أہل ’’أحمد‘‘ ما جری علٰی زوجہ الأرملۃ بعد موتہ فی المیعاد، وکیف
    صُبّتْ علیہا مصائب وہجَم الہموم علی الفؤاد، وما بقِی لہا ثِمالٌ ولا نَوِیٌّ
    ولا متکفّلُ الأولاد، وقعدتْ کالمساکین بعد کونہا کالفَیّاد، وکیف
    سمعتْ نعیَہ بعینٍ عَبْرَی، وقلب علی جمر الغضا، وکیف جریٰ علیہا
    ما جریٰ۔ ثم أکلہا خوفُ موت الختن بعد ہذا النَآد، وأنفدتْ
    أیامَ المیعاد بالارتعاد۔ وکذٰلک فزعتْ أمُّہا وأخواتہا وذُبْنَ فی فکرِ

    ونکاح را آفتے از آفات آسمانی انگاشت و اگر تو درین شک داری پس از آنان
    بپرس کہ شناسندگان حقیقت وبینندگان حال اند۔
    پس حاصل کلام این است کہ چون او شان از موت میرزا احمد بیگ بترسیدند۔ و موت او
    ہریکے را ازیشان بترسانید وبلرزانید۔ پس این حق اوشان بود کہ از شرط الہام منتفع شوند۔
    چرا کہ عذاب مشروط بود نہ حکمی قطعی چنانکہ وہم عوام است۔ پس
    خویشان احمد بیگ متوفی را بپرس کہ بعد از مردن او درمیعاد برزوجہ بیوہ اوچہ ماجرا گذشت ۔ وچگونہ
    مصیبت ہا بروریختند وغمہا بردل ہجوم کردند۔ وہیچ پناہ و رفیق ومہتمم کار ومتکفل
    اولاد اورا نماند وہمچو عاجزان ومسکینان بعد زانکہ بخوشی خرامان می رفت فرو نشست۔ وچگونہ
    خبر موت اورا بچشم گریان ودل بریان شنید۔ وچگونہ برو گذشت آنچہ
    گزشت۔ باز او را خوف مردن داماد بعد ازین سختی بخورد۔ وایام میعاد مردن
    داماد را بلرزہ بدن گزرانید۔ و ہم چنین مادر او و ہمشیرگان او در فکر موت داماد بگداختند


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 222
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 222
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/222/mode/1up


    موت الختن، وشربن کأسات الحزن، وجعلن عمرن أوقاتہن بالصلاۃ
    والدعوات، والصیام والصدقات۔ وما رَقَأَ لَہن من الہمّ دَمْعۃٌ،
    وتمثّلَ لہن لِختنہن فی کل وقت مَنِیّۃٌ، فاسأل أہل ہذہ القریۃ
    إن کنت من المرتابین۔
    فالحاصل أنہم لمّا تابوا تاب اللّٰہ علیہم بالرحمۃ
    والمغفرۃ، کما ہی سنۃ قدیمۃ من السنن الإلٰہیّۃ، فإنہ لا یلغی شرط
    وعیدہ ولا یترک طریق المعدلۃ، ولا یظلم کالمعتدین۔ وعلیک
    أن تقرأ اشتہاراتی السابقۃ، وتجمع فی نظرک المقامات المتفرقۃ،
    فإذا فعلتَ ذٰلک فتصل إلٰی نتیجۃ صحیحۃ، وتطلع علٰی شروط صریحۃ
    وتنجو من طریق الخطأ والخاطئین۔ وقد علمت أنی أشعت فی ہذا
    الأمر اشتہاراتٍ ثلاثٍ فی الأوقات المتفرقۃ، وما کان إلہام فی ہذہ


    و جامہائے اند وہ بنوشیدند۔ و شروع کردند کہ اوقات خود را بنماز ودعاہا
    و روزہ ہا و صدقہ ہا معمور ساختند۔ واشک شان از غم باز نہ ایستاد۔
    و برائے داماد شان ہر دم موت نصیب العین شان بود۔ پس مردمان این دہ را از حال شان بپرس
    اگر ترا دربیان ما شکے است۔
    پس حاصل کلام این است کہ چون آن مردم سوئے خدا تعالیٰ رجوع کردند خدا تعالیٰ بہ رحمت
    ومغفرت رجوع کرد۔ چنانکہ آن سنت قدیمہ خدا تعالیٰ است۔ چرا کہ او شرط وعید خود را
    باطل نمی کند وطریق عدالت را فرو نمی گذارد۔ وہمچو ظالمان ازحد تجاوز نمی کند۔ وبر تو لازم است
    کہ تو آن اشتہارت من بخوانی کہ سابق شائع کردہ شدہ اند۔ ولازم است کہ ہمہ مقامات متفرقہ را در نظر خود جمع کنی
    پس ہرگاہ کہ چنین کنی پس بالضرور تا نتیجہ صحیحہ خواہی رسید۔ وبر شروط صحیحہ اطلاع خواہی یافت
    واز طریق خطا و خطا کاران نجات خواہی یافت۔ وترا معلوم است کہ دراین امرسہ متفرق اشتہارات
    شائع کردہ ام ودرین مقدمہ ہیچ الہامے نبود کہ باآن


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 223
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 223
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/223/mode/1up


    المقدمۃ إلَّا کان معہ شرط کما قرأتُ علیک فی التذکرۃ السابقۃ۔
    ألم تُنَبَّأُوا بما أشعتُ فی السنوات الماضیۃ، فأین تذہبون کالثاغیۃ
    أو الراغیۃ، ولا تفکرون کالعاقلین؟
    ثم ما قلتُ لکم إن القضیۃ علی ہذا القدر تمّتْ، والنتیجۃ الآخرۃ
    ہی التی ظہرت، وحقیقۃ النبأ علیہا ختمت، بل الأَمْر
    قائم علٰی حَالہ، ولا یردّہ أحد باحتیالہ، والقدر
    قدر مُبْرَم مِن عند الربّ العظیم، وسیأتی وقتہ بفضل
    اللّٰہ الکریم۔ فوالذی بعَث لنا محمدن المصطفی،
    وجعلہ خیر الرسل وخیر الوریٰ، إن ہٰذا حق
    فسوف تریٰ۔ وإنی أجعلہذا النبأ معیارا لصدقی أو کذبی،
    وَمَا قُلتُ إلَّا بعد ما أُنْبِئتُ من رَبّی۔ وإن عشیرتی سَیَرجعُون مرۃ أخریٰ

    شرطے نبود۔ چنانکہ در تذکرہ سابقہ نزد تو بیان نمودم۔
    آیا آنچہ در اشتہارات سابقہ شائع کردم ازان شمارا اطلاعے نشد۔ پس ہمچو گو سپندان یا شتران
    کجا می روید۔ وہمچو عاقلان فکر نمی کنید۔
    باز شمارا این نگفتہ ام کہ این مقدمہ برہمین قدر باتمام رسید۔ ونتیجہ آخری ہمان است
    کہ بظہور آمد۔ وحقیقت پیشگوئی برہمان ختم شد۔ بلکہ اصل امر
    برحال خود قائم است۔ وہیچ کس باحیلہ خود اورا رد نتواند کرد۔ واین تقدیر از خدائے بزرگ
    تقدیر مبرم است۔ و عنقریب وقت آن خواہد آمد۔
    پس قسم آن خدائے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم را برائے ما مبعوث فرمود۔ و او را
    بہترین مخلوقات گردانید کہ این حق است وعنقریب خواہی دید۔ و من این را
    برائے صدق خود یا کذب خود معیار می گردانم۔
    ومن نگفتم الا بعد زانکہ از ربّ خود خبردادہ شدم۔ وبہ تحقیق قبیلہ من عنقریب بار دوم سوئے فساد



    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 224
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 224
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/224/mode/1up



    إلَی الفساد، ویتزایدون فی الخبث والعناد، فینزل یومئذ الأمر المقدر
    من رب العباد۔ لا رادَّ لما قضیٰ، ولا مانِعَ لما أعطی۔ وإنی أراہم
    أنہم قد مالوا إلٰی سِیَرِہم الأولٰی، وَقست قلوبہم
    کما ہی عادۃ النَّوکَی، ونسوا أیام الفزع وعادوا إلٰی التکذیب والطغویٰ،
    فسَینزل أَمْر اللّٰہ إذا رأیٰ أنہم یَتزایدون، وما کان اللّٰہ
    أن یعذّب قومًا وہم یخافون۔
    فاعْلموا أیّہا المکذّبون الغَالون، أن صدقنا سیُشرِق
    کذُکاءٍ فی الضیاء ، وزُورکم یفشو إلی ضواحی الزوراء ، أتمنعون
    ما أراد اللّٰہ ذو العزۃ والعلاء ؟ أیبلغ مکرکم إلٰی ذُرَی السّماء ؟ فکیدوا کل
    کید کان عندکم ولا تُمہِلونِ فی الإیذاء ، ثم انظروا إلی نصرۃ ربّ العالمین۔
    یا حَسْرۃً علٰی علماء ہذا الزمان! ما بقی فیہم نور فراسۃٍ وغاضَ دَرُّ الإمعان،

    رجوع خواہند کرد۔ ودرخبث وعناد ترقی خواہند نمود۔ پس آن روز امر مقدر از خدا تعالیٰ نازل خواہد شد
    ہیچکس قضاء او را رد نتواند کرد۔ وعطائے او را منع نتواند نمود۔ ومن می بینم
    کہ اوشان سوئے عادتہائے پیش میل کردہ اند۔ ودلہائے شان سخت شد
    چنانکہ عادت جاہلان است۔ وایام خوف را فراموش کردند۔ وسوئے زیادتی وتکذیب عود نمودند
    پس عنقریب امر خدا برایشان نازل خواہد شد چون خواہد دید کہ ایشان در غلو خود زیادت کردند۔
    وخدا قومے را عذاب نمی کند چون می بیند کہ ایشان می ترسند۔
    پس بدانید اے مکذبان وغلو کنندگان کہ صدق من ہمچو آفتاب روشن
    خواہد شد۔ ودروغ شما تاکنار ہائے بغداد منتشر خواہد شد۔ آیا شما آنچہ
    خدا خواستہ است آن را منع می کنید۔ آیا مکر شما تا بلندی آسمان خواہد رسید۔ پس ہر مکرے
    کہ میدارید بمن کنید۔ ومرا مہلت ندہید۔ باز نصرت خدا تعالیٰ را بہ بینید۔
    اے حسرت برعلماء این زمانہ ہیچ نور فراست درایشان نماند وشیر فکر کردن ایشان فرو رفت


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 225
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 225
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/225/mode/1up


    سمَّعْناہم فلا یسمعون، وقرَیناہم فلا یقبَلون، ولا یقرأون کتبی
    إلا کارہین، ویفرّون منا مستنفرین۔
    ثم أنتم تعلمون یا أولی الألباب، أن قوم یونس عُصموا
    من العذاب، مع أنہ لم یکن شرط التوبۃ فی نبأ اللّٰہ ربّ الأرباب،
    ولأجل ذٰلک ذہب یونس مغاضبًا من حضرۃ الکبریاء ، وتاہَ فی فلوات الابتلاء،
    ولذٰلک سمّاہ اللّٰہ یُونس لأنہ أُوْنِسَ بعد الإبلاس، وفاز بعد الیأس، وما
    أضاعہ أرحم الراحمین۔ فلا شک أن البلاء کلہ ورَد علیہ عدم الشرط
    فی نبأ الرّحمٰن، ولو کان شرط یعلمہ لما فرّ کالغضبان، ولما تاہ کالمبہوتین۔
    ولمّا ترک یونس بسوء فہمہ الاستقامۃَ والاستقلال، وتحرّی الجلاء
    والانتقال، أدخلہ اللّٰہ فی بطن الحوت، ثم نبذہ الحوت فی عَراء السُّبْرُوت،

    ماایشان راشنوانیدیم پس نشنیدند۔ ودعوت کردیم پس قبول نکردند۔ وکتابہائے مرا نمی خوانند۔ مگر
    از روئے کراہت۔ واز ما بنفرت می رمند۔
    باز اے دانشمندان شما می دانید کہ قوم یونس از عذاب محفوظ داشتہ
    شدہ اند۔ حالانکہ در پیشگوئی خدا تعالیٰ ہیچ شرط توبہ نبود۔
    و از ہمین سبب یونس بحالت غضب از خدا تعالیٰ برفت۔ ودر بیابانہائے ابتلاء آوارہ شد
    واز ہمیں سبب خدا تعالیٰ نام او یونس نہاد۔ چرا کہ بعد از نومید شدن انس داد ہ شد۔ وبعداز نومیدی مراد یافت۔
    و خدا تعالیٰ او را ضائع نکرد۔ پس ہیچ شک نیست کہ تمام بلا از ہمین وجہ بریونس افتاد کہ درپیشگوئی
    ہیچ شرط نبود۔ واگر شرطے بودے کہ یونس او را دانستے پس چرا ہمچو غضبناک بگریختے وہمچو مبہوتان آوارہ شدے۔
    پس چون یونس استقلال را از بد فہمی خود ترک کرد وجلا وطنی وانتقال را اختیار
    نمود۔ خدا تعالیٰ او را در بطن ماہی داخل کرد۔ باز در میدان زمین خشک و بے نبات افگند۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 226
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 226
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/226/mode/1up


    ورأی کلَّ ذٰلک بما أعلنَ ضجرَ قلبہ بالحرکۃ من المقام، وفارقَ مقرَّہ من
    غیر إذن اللّٰہ العلاَّم، وفعَل فِعل المستعجلین۔ وإدخالہ فی بطن
    الحوت کان إشارۃ إلی مُحاوتۃٍ صَدَرَ منہ کالمبہوت، وکذٰلک سمّاہ
    اللّٰہ ذا النون، بما ظہر منہ حِدّۃٌ ونُونٌ، بالغضب المکنون، ولا یلیق لأحد
    أن یغضب علٰی ربّ العالمین۔
    فالحاصل أنّ قصۃ یونس فی کلام اللّٰہ القدیر، دلیل علٰی أنہ
    قد یؤخَّر عذاب اللّٰہ من غیر شرط یوجب حکم التأخیر، کما أُخِّرَ فی نبأ
    یونس بعد التشہیر، فکیف فی نبأ یوجد فیہ شرط الرجوع؟ ففکِّر بالخضوع
    والخشوع، ولا تنسَ حظّک مِنَ التقویٰ والدین۔ وإن قصۃ یونس موجودۃ
    فی القرآن والکتب السابقۃ والأحادیث النبویۃ، ولیس ہناک ذکرُ شرط

    واین ہمہ بلاہا برائے ہمین دید کہ از حرکت مقامے تنگی دل خود را ظاہر کرد ومقام خود را بغیر اذن الٰہی
    ترک نمود وہمچو شتاب کاران ازو فعلے صادر شد۔ودر شکم حوت او را داخل کردن
    اشارۃ سوئے محاوتت یعنی خشمناکی بود کہ از یونس مثل مبہوتان ظاہر شد۔ وہم چنین خدا تعالیٰ
    نام یونس ذاالنون نہاد۔ چرا کہ ازو نون یعنی تیزی ظاہر شد۔ زیرا کہ او غضبناک شد۔ وہیچ کس را نمی سزد
    کہ برخدا تعالیٰ خشمناک شود۔
    پس حاصل کلام این است کہ قصّہ یونس برین امر دلیل است کہ گاہے عذاب الٰہی بغیر شرطے
    کہ درپیشگوئی مذکور باشد تاخیر می پذیرد۔ چنانچہ درپیشگوئی یونس
    کہ ہیچ شرطے نمی داشت تاخیر عذاب شد۔ پس چگونہ تاخیر عذاب در چنین پیشگوئی کہ درو شرط رجوع مندرج است
    قابل اعتراض متصور تواند شد۔ پس از روئے خضوع وخشوع فکر کن وحصہ خود را کہ در تقویٰ ودین می باید فراموش مکن۔
    وقصہ یونس در قرآن شریف وکتب سابقہ واحادیث نبویہ موجود است۔ ودر آنجابا ذکر عقوبت ذکر ہیچ


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 227
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 227
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/227/mode/1up


    مع ذکر العقوبۃ، وإن لم تقبَل فعلیک أن تُرینا شرطًا فی تلک القصۃ، فلا
    تکنْ کالأعمٰی مع وجود البصارۃ۔ واعلم أن الشرط لم یکن أصلا فی القصۃ
    المذکورۃ، ولأجل ذلک ابتُلِیَ یونس وصار من الملومین، ونزلت علیہ
    الہموم، وأخذہ الضجرُ المذموم، حتی استشرفَ بہ التلَفُ، ونسِی کلَّ
    بلاء سلَف، وظنّ أنہ من المُفتَنین۔ فما کان سبب افتنانہ إلّا أنّہ
    استیقن أنّ العذاب قطعیٌّ لا یُرَدّ، وأنہ سیقع فی المیعاد کما یودّ، فانقضٰی
    المیعاد وما استَنْشیٰ من العذاب ریحًا، وما استغشیٰ لباسًا مریحًا، فأضجرَہ
    ہذا الادّکار، واستہوتْہ الأفکار، وکان رأَی القومَ غالین فی المِراء ، ومُنْبرین
    بالإباء ، فحسِب أنہ من المغلوبین۔ فقال لن أرجع إلیہم کذّابًا ولن أسمع لعن
    الأشرار، وما رأیٰ طریقًا یختارہ، فألقٰی نفسہ فی البحر الزَخّار، فتدارکَہ رحمُ ربّہ

    شرطے موجود نیست۔ واگر قبول نکنی پس بر تو واجب است کہ دران قصہ مارا شرطے بنمائی۔ پس
    باوجود بصارت ہمچو نابینا مشو وبدانکہ در قصہ مذکور ہرگز شرطے نبود۔
    وبرائے ہمین یونس علیہ السلام را ابتلا پیش آمد ومورد ملامت گردید۔ وبر وغمہا وارد شدند
    وتنگی دل او را گرفت حتیّٰ کہ حالت او تا بموت رسید وہر بلا گذشتہ
    را فراموش کرد۔ وگمان کرد کہ درفتنہ عظیم افتادہ است وسبب بلائے او بجز این ہیچ نبود کہ او یقین کرد کہ
    عذاب قطعی است کہ رد نخواہد شد۔ وبالضرور چنانکہ خواہش او ست در میعاد واقع خواہد شد۔ پس میعاد
    گزشت۔ واز عذاب ہیچ بوئے نشمید۔ ونہ لباس راحت رسانندہ را پوشید۔ پس یاد
    این واقعہ دل اورا تنگ کرد۔ وفکرہا او را فرو افگند۔ و قوم را دیدہ بود کہ درخصومت غلوّ می کنند۔ ودر انکار
    پیشقدمی ہامی نمایند۔ پس دانست کہ من مغلوب شدم۔ پس گفت کہ من ہرگز درحالت کذاب قرار دادہ شدن سوئے
    اوشان نخواہم رفت۔ ولعن وطعن شریران نخواہم شنید۔ وہیچ راہے ندید کہ آنرا اختیار کند۔ ناچار خویشتن را بدریا


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 228
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 228
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/228/mode/1up


    والتقمَہ الحوت بحکم اللّٰہ الجبّار، ورأی ما رأی بقلب حزین۔ فمن المعلوم أنہ
    لو کان شرط فی نزول العذاب، لما اضطر یونس إلٰی ہذا الاضطراب، وما فرّ
    کالمتندمین۔ أما تقرأ کتب الأولین وقول خاتم النبیّین؟ أتجد فیہا أثرًا من
    الشرط؟ فأَخْرِجْ لنا إن کنت مِنَ الصادقین۔
    فالآن ما رأیک فی أنباء قُیِّدتْ بشرط الرجوع والتوبۃ ؟
    ألیس بواجب أن یرعی اللّٰہ شروطہ بالفضل والرحمۃ؟ وقد قرأنا
    علیک تفاصیل ہذہ القصۃ، وفتحنا علیکم أبواب المعرفۃ
    والیقین۔ فما لکم لا ترون الحق بنور الفراسۃ؟ وتسقُطون کالأَذِبّۃ
    علی النجاسۃ، وتُعرِضون عن الشہد والقَنْد، وتسعون إلٰی عَذِرَۃ الفِریّۃ
    والفَند، ولا تبتغون لذاذۃ الطیّبات، وتموتون للخبیثات، وطِبْتم نفسًا بإلغاء

    در انداخت۔ پس رحمت الٰہی تدارک او فرمود و بحکم او تعالیٰ ماہی او را در اندر ون خود فروبرد۔ وبدل غمناک دید
    آنچہ دید پس این معلوم است کہ اگر در نزول عذاب شرطے بودے۔ پس یونس تابدین بیقراری حالت خود را
    نہ رسانیدی۔ وہمچو شرمندگان نگریختے۔ آیا کتب پیشینیان نمی خوانی وقول خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم را نشنیدہ۔ آیا
    دران کتابہا نشانے از شرط می بینی۔ پس اگر صادق ہستی برائے ماآن شرط را برون آرو مارا بنما۔
    پس اکنون رائے تو در آن پیشگوئی ہا چیست کہ بشرط رجوع وتوبہ مقیّد اند۔
    آیا واجب نیست کہ خدا تعالیٰ از فضل ورحمت رعایت شرط ہائے خود کند ۔ وما بر تو
    تفصیل ہائے این قصہ پیش زین خواندہ ایم۔ وبر تو درہائے یقین ومعرفت
    کشادہ ایم۔ پس چہ شد شمارا کہ بنور فراست حق را نمی بینید۔ وہمچو مگسان برنجاست خود را
    می افگنید۔ و از شہد و قند کنارہ می کنید۔ وسوئے پلیدی دروغ وفریب
    می شتابید۔ ولذت چیزہائے پاک را نمی خواہید۔ وبرائے چیزہائے پلید می میرید۔ وبرین امر خوش شدہ اید کہ حق


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 229
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 229
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/229/mode/1up


    الحقّ والدین، ونبذتم حُکم دیّان غمَرتْ مواہبُہ العالمین۔

    بِوَحْشِ الْبَرِّ یُرْجَی الْاِ ءْتِلَافُ
    وَکَیْفَ الْاِ ءْتِلَافُ بِمَنْ یَّعَافُ
    قرینا المُعرضین بطیّباتٍ
    فردّوا ما قرینا ھم وَعافوا
    بِحُمْقٍ یَّحْسَبُوْنَ الدَّرَّ ضَرًّا
    وَاَجْیَافُ الْفَسَادِ لَہُمْ جُوَافُ
    فَمَااَرْدَی الْعِدَا اِلاَّ اِبَاءٌ
    وَظَنُّ السَّوءِ فِیْنَا وَاعْتِسَافُ
    کِلَابُ الْحَیِّ قَدْ نَبَحُوْا عَلَیْنَا
    وَلَا یَدْرُوْنَ حِقْدًا مَّاالْعَفَافُ
    وَقَدْ صِرْنَا حُدَیَّا النَّاسِ طُرًّا
    وَبُرْھَانِیْ لِمُرَّانِیْ ثِقَافُ
    اَرَی ذُلًّا بِسُبْلِ الْحَقِّ عِزًّا
    وَوَھْدِیْ فِیْ رِضَا الْمَوْلٰی شِعَافُ
    وَاِنَّ اللّٰہَ لَایُخْزِیْنِ اَبَدًا
    اَ نَا الْبَازِی الْمُوَقَّرُ لَا الْغُدَافُ
    فَمَا لِلْعَالِمِیْنَ نَسُوْا مَقَامِیْ
    قُلُوْبٌ فِیْ صُدُوْرٍ اَوْ وِحَافُ



    ودین را باطل کنید۔ وحکم آن جزا دہندہ را افگندہ اید کہ بخششہائے او جہانیان را فرو گرفتہ است۔

    باچرندگان جنگلی سازواری ممکن است
    و چگونہ سازواری بدان کس ممکن است کہ کراہت میدارد
    ما کنارہ کنندگان را بطعامہائے طیب دعوت کردیم
    پس دعوت مارا ردّ کردند و کراہت کردند
    از روئے حماقت شیر را ضرردہندہ خیال می کنند
    و مردارہائے فساد نزد ایشان ماہی است
    پس دشمنان را ہیچ چیزے بجز سرکشی
    و ظن بددرما و ازحد بیرون شدن ہلاک نکردہ است
    سگانِ قبیلہ بر ما عو عو کردند
    و از کینہ نمی دانند کہ پرہیزگاری چہ چیز است
    و ما برائے تمام مردم بطریق مقابلہ و معارضہ بر خاستیم
    و دلیل من برائے نیزہ من ہمچوچیزیست کہ بدان نیزہ را راست میکنند
    من ذلّت را در راہ خدا تعالیٰ عزت مے بینم
    و زمین پست من در رضائے مولیٰ حکم سرکوہ ہا می دارد
    و خدا ہرگز مرا رسوا نخواہد کرد
    کہ من باز بزرگ قدرم کہ کلاغ سیاہ
    پس علما را چہ شد کہ مقام مرا فراموش کردند
    دلہا در سینہ ہا ہستند یا سنگ ہائے سیاہ در آغوشہا می دارند


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 230
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 230
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/230/mode/1up


    وَقَامُوْا کَالسِّبَاعِ لِھَتْکِ عِرْضِیْ
    وَمَابَقِیَ الْوِفَاقُ وَلَا الْوِلَافُ
    وَلَا یَدْرُوْنَ مَاحَالِیْ وَقَالِیْ
    فَاِنَّ مَقَامَنَا قَصْرٌنِیَافُ
    تَرَاھُمْ مُّفْسِدِیْنَ مُکَذِّبِیْنَا
    وَسِیْرَتُہُمْ عُنُوْدٌ وَّانْتِسَافُ
    فَمِنْ کُفْرَانِھِمْ ظَھَرَ الْبَلَایَا
    وَقَحْطٌ ثُمَّ ذَافٌ وَّانْجِعَافُ
    وَاِنَّ الْمُلْکَ اَجْدَبَ مَعَ وَبَاءٍ
    وَیُرْجٰی بَعْدَہُ سَبْعٌ عِجَافُ
    اِذَا مَاجَاءَ اَمْرُ اللّٰہِ مَقْتًا
    فَلَا اَعْنَابَ فِیْہِ وَلَا السُّلَافُ
    وَھٰذَا کُلُّہٗ مِنْ سُوْءِ عَمَلٍ
    وَبِرٍّضَیَّعُوْہُ وَمَا تَلَافُوْا
    فَتُوْبُوْا اَ یُّھَا الْغَالُوْنَ تُوْبُوْا
    وَاَرْضُوْا رَبَّکُمْ تَوْبًا وَّ صَافُوْا
    وَخَافَ اللّٰہَ اَھْلُ الْعِلْمِ لٰکِنْ
    غَوِیٌّ فِی الْبَطَالَۃِ لَا یَخَافُ
    لَہُ شِیَمٌ کَاَنَّ الْبِیْشَ فِیْھَا
    وَمَعَھَا عُجْبُہُ سَمٌّ زُعَافُ

    و ہمچودرندگان برائے دریدن عزّت من برخاستند
    ونہ در ایشان موافقت باقی ماند و نہ الفت
    و نمی دانند کہ حال و قال ما چیست
    چراکہ مقام ما محلّے بلند است
    می بینی ایشان را مفسد و مکذّب
    و سیرتِ ایشان ازراہ برگشتن و سخن نا تمام گفتن است
    پس از شامتِ کفران ایشان بلاہا ظاہر شد
    و قحط و وبا و سرعت موت و نیستی پدید آمد
    و در ملک قحط افتاد و وبا نیز ہست
    و اندیشہ است کہ این قحط تا ہفت سال نکشد
    و چون امر خدا از غضب او خواہد رسید
    پس در ملک نہ انگور خواہد ماند نہ شیرہ انگورونہ شراب
    و این ہمہ از بد عملی ہا ست
    وازوجہ آن نیکی کہ ضائع کردند و باز تلافی آن نہ نمودند
    پس اے غلو کنندگان توبہ کنید توبہ کنید
    و خدائے خود را بتوبہ و اخلاص راضی کنید
    واہل علم از خدا بترسیدند
    لیکن در شہر بٹالہ گمراہے است بطّال کہ نمی ترسد
    اور اچنان خصلتہا ہستند کہ گویا زہر بیش درآن خصلتہا است
    و باوجود آن عجب او برائے او زہر قاتل است


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 231
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 231
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/231/mode/1up


    لَہُ عِنْدَ اللُّبَانَۃِ کُلُّمَیْلٍ
    وَ تَلْبِیَۃٌ بِطَوْعٍ وَّالطَّوَافُ
    وَلَمَّا حَازَ مَطْلَبَہُ وَاَقْنٰی
    فَبَارَی کَالْعِدَا وَ بَدَا الْخِلَافُ
    عَلَی الْاِسْلَامِ ھٰذَا الرَّجُلُ رُزْءٌ
    وَمَقْصَدُہُ فَسَادٌ وَّازْدِھَافُ
    ثم من اعتراضات العلماء وشبہاتہم التی أشاعوہا فی الجہلاء ،
    أنہم قالوا إن ہذا الرجل لا یعلم شیئا من العربیۃ، بل لا حظَّ لہ من الفارسیۃ،
    فضلًا مِن دَخْلِہ فی أسالیب ہذہ اللّہجۃ، ومع ذٰلک مدحوا أنفسہم وقالوا
    إنا نحن من العلماء المتبحرین۔ وقالوا إنہ کُلّ ما کتب فی اللسان العربیۃ، من العبارات
    المحبَّرۃ، والقصائد المبتکرۃ، فلیس خاطِرُہ أبا عُذْرہا، ولا قریحتہ صدفَ لآلیہا
    ودُررِہا، بل ألّفہا رجل من الشامیین، وأخذ علیہ کثیرا من المال کالمستأجرین،
    فلیکتُبْ الآن بعد ذہابہ إن کان من الصادقین۔

    او را وقت حاجت تمامتر میل است
    و جواب دادن باطاعت و گرد گشتن
    پس ہر گاہ کہ مطلب خود را گرد آورد و ذخیرہ کرد
    پس ہمچو دشمنان بمقابلہ بر آمد و بمخالفت ظاہر شد
    این شخص بر اسلام مصیبتے است
    و مقصد او فساد و دروغ است
    باز از اعتراضات علماء وشبہات ایشان کہ درجہلا شائع کردہ اند۔ یکے این است
    کہ ایشان گفتند کہ این شخص از علم لسان عربی ہیچ چیزے نمی داند۔ بلکہ او را از فارسی ہم بہرہ نیست
    قطع ازین امر کہ در اسلوبہائے این زبان دخلے داشتہ باشد۔ وبااین ہمہ خویشتن را تعریف کردند کہ ما
    از علماء متبحرین ہستیم۔ وگفتند کہ او ہمہ آنچہ در زبان عربی نوشتہ است وعبارات آراستہ
    وقصیدہ ہائے نوخاستہ گفتہ آن ہمہ طبعزاد او نیستند ونہ در ہائے صدف طبیعت او
    بلکہ شخصے از شامییّن آنرا تالیف کردہ۔ وبرآن تالیف مالِ کثیر ہمچو اجرت یا بان گرفتہ۔
    پس باید کہ اکنون این شخص بعد رفتن آن شامی بنویسد اگر از صادقان است۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 232
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 232
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/232/mode/1up


    فیا حسرۃً علیہم ! إنہم لا یستیقظون من نعاس الارتیاب، ولا
    یسرحون النواظر فی نواضر الصدق والصواب، ولا ینتہجون مہجّۃ المنصفین۔
    وترکوا اللّٰہ لأَشاوِی حقیرۃٍ، وأہواء صغیرۃ، فإلامَ یعیشون کالمتنعمین؟
    یُصَأْصِؤن کما یصأصأ الجَرْوُ ولا یستبصرون، ویضاہی بعضہم بعضًا فی
    الجہل فہم متشابہون۔ وإذا قیل لہم تعالوا إلٰی حقٍّ ظہَر، وقمرٍ بہَر، فتشمئزّ
    قلوبہم ویہربون مستنفرین۔ أولئک الذین ہتک اللّٰہ أسرارہم، وکدّر
    أنظارہم، فتراہم کالعَمِین۔ یریدون أن یفسدوا فی الأرض عند إصلاحہا
    وجزَّءُ وا الأمانۃ والدین۔
    أ تنفعہم أقوالہم إذا سُئل ما أفعالہم، أو یفیدہم إفنادہم
    إذا ظہر فسادہم، أو یُبرَّؤون مع کونہم من الفاسقین؟ لا یتّقون عالِمَ سریرتِہم،

    پس برین مردم حسرتہاست کہ از خواب شبہات ہشیار نمی شوند ودیدہ ہائے
    خود را در چراگاہ صدق وصواب نمی چرانند وراہ منصفان نمی گیرند۔
    وخدا تعالیٰ را برائے چیز ہائے اندک وخواہش ہائے کوچک گذاشتہ اند۔ پس تاکجا در عیش ہا خواہند ماند
    ہمچو بچہ سگ بغیر چشم کشادن امید دیدن می دارند۔ وہیچ نمی بینند۔ وبعضے ازیشان بعض دیگر را درجہل میماند
    وباہم مشابہت دارند۔ وچون ایشان را گفتہ شود کہ سوئے آن حق بیائید کہ ظاہر شد۔ وسوئے آن ماہ بیائید کہ بتافت
    پس دلہائے شان منقبض میشوند ودرحالت نفرت میگریزند۔ این مردم کسانے ہستند کہ خدا تعالیٰ راز ہائے ایشانرا
    دریدہ است وچشمہائے ایشانرا مکدر گردانیدہ۔ پس ہمچو نابینا یان ایشانرا می بینی۔ وقت اصلاح زمین زمین را تباہ می کنند
    وامانت ودین را پارہ پارہ کردہ اند۔
    آیا وقتیکہ از افعال شان سوال خواہد شد اقوالِ شان ایشانرا فائدہ خواہند بخشید۔ یا چون فساد ایشان
    ظاہر خواہد شد۔ دروغ گفتن ایشان ایشانرا سودمند خواہد افتاد۔ یا باوجود فاسق بودن ایشان


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 233
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 233
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/233/mode/1up


    ولا ینتہُون عن صَغیرتہم ولا کبیرتہم، ویعثُون فی الأرض مُعتدین۔ یترکون أوامر اللّٰہ
    ولا یکترثون، ویتبعُون زہوہم ولا یُبَالون، ویسعون إلی السیئات ولا ینتہون۔
    أیظنّون أنّہم یُترکون فی الدنیا ولذّاتہا، ولا یُقادون إلٰی الحاقّۃ ومجازاتہا، ولا یُؤخذون
    کالمفسدین؟ أیحسبون أنہم لیسوا بمَرْأَی رقیبِہم، ولا بمشہد حسیبہم؟
    ألایعلم اللّٰہ ما یجترحون کالخائنین؟
    یلِجون غابۃ الشیطان، ویذَرون حدیقۃ الرحمٰن، ویمرّون بالحق
    مُستہزئین۔ وإذا قیل لہم اقبَلوا الحق کما قبِل العلماء وأْتُونی کما أتی الأتقیاء ، صعّروا
    خدودہم کالمستکبرین۔ وقالوا لولا ألَّف بعدَ الشامیِّ کتابًا، إنْ کان صادقًا
    لا کذّابًا، فلیأتِنا الآن بکتاب بعدہ إن کان من المؤلّفین۔
    فجئنا الآن لنؤتیہم نظیرہا، بل کبیرہا، واللّٰہ موہن کَیْد

    بری کردہ خواہند شد۔ از دانائے اندرون خود نمی ترسند۔ ونہ از صغیرہ باز میمانند ونہ از کبیرہ۔ و در زمین مفسدانہ تجاوز ہامی کنند۔
    اوامر الٰہی را می گذارند وہیچ پروائے ندارند۔ وناز وتکبر خود را پیروی می کنند وباآن ہمہ لا ابالی مزاج اندو سوئے بدی ہا
    می شتابند وبازنمی ایستند۔ آیا گمان ایشان این است کہ درلذات دنیا گزاشتہ خواہند شد وسوئے قیامت وجزائے
    آن کشیدہ نخواہند شد۔ وہمچو مفسدان گرفتار نخواہند شد۔ آیا گمان شان این است کہ اوشان زیر نظر وزیر نگاہ رقیب و
    حسیب خود نیستند۔ آیا خدا تعالیٰ آن کارشان نمی بیند کہ ہمچو خیانت پیشگان می کنند۔
    در مغاک شیطان داخل می شوند۔ وحدیقہ رحمان را می گذارند۔ وبرحق درحالت استہزاء
    کردن می گذرند۔ وچون ایشان را گفتہ شود کہ حق را قبول کنید چنانکہ علماء قبول کردہ اند۔ ونزدم بیائید چنانکہ
    پرہیز گاران آمدہ اند۔ رخسار ہائے خود را ہمچو متکبران کج می کنند۔ وگفتند کہ اگر این شخص صادق است وکذاب نیست
    پس چرا بعد رفتن عرب شامی کتابے دیگر تالیف نکرد۔ پس اگر درحقیقت مؤلّف است باید کہ اکنون کتابے دیگر ما را
    بنماید۔ پس اکنون ما آمدیم تاکہ نظیرآن کتابہا بلکہ بزرگتر آنہا ایشان را دہیم۔ وخدا مکر دروغگویان را


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 234
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 234
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/234/mode/1up


    الکاذبین۔ وقد ألّفنا ہذہ الرسالۃ، ورتّبناہا کما رتّبنا الرسائل السابقۃ،
    لنُدحض حجّتہم، ونقطع أُرُومتَہم، ونمزّق مَعاذیر المبطلین۔ وإن ہذا منّی فی
    العربیّۃ کآخر الکتب، وأودعتہا مِن مُلح الأدب، والأشعار النُخب، لیکون
    صاتًّا لدفعِ صخب الصاخبین، ولنہدم دار المفترین من بنیانہا، وندوس
    جیفۃ وجودہم فی مکانہا، ولنلطم علٰی وجوہ المجترئین۔
    وإنّ کمالی فی اللسان العربی، مع قلۃ جہدی وقصور طلبی، آیۃٌ
    واضحۃ من ربی، لیُظہِر علی الناس علمی وأدبی، فہل مِن مُعارِض فی جموع
    المخالفین؟ وإنی مع ذٰلک عُلِّمتُ أربعین ألفًا من اللغات العربیّۃ،
    وأُعطیتُ بسطۃً کاملۃ فی العلوم الأدبیۃ، مع اعتلالی فی أکثر الأوقات
    وقلّۃ الفترات، وہذا فضل ربی أنہ جعلنی أبرَعَ مِن بنی الفُرات، وجعلنی أعذبَ

    سست کنندہ است۔ وما این رسالہ را تالیف کردیم وہمچو رسائل سابقہ ترتیب آن نمودیم۔
    تاحجت مخالفان بشکنیم وبیخ اوشان برکنیم۔ وعذر بطالان پارہ پارہ کنیم۔ واین رسالہ از من درزبان عربی
    مثل آخری کتاب است۔ ودرآن گونا گون سخنان نمکین ادب وبرگزیدہ اشعار ودیعت نہادم تاکہ
    این کتاب برائے دفع شور شورکنندگان شدید الصوت باشد۔ وتاکہ ماخانہ مفتریان را از بنیاد آن ویران کنیم۔ و
    مردار وجود ایشان را درجائے آن پامال کنیم۔ وبر روئے بے باکان طمانچہ زنیم۔
    وکمال من در زبان عربی باوجود قلت کوشش وجستجوئے من نشانے است از خدا تعالیٰ۔
    تاعلم وادب مرا برمردم ظاہر کند۔ پس آیا در مخالفان معارض کنندہ موجود است
    ومن با این ہمہ چہل ہزار لفظ درلغت عرب تعلیم دادہ شدہ ام
    ومعلومات کاملہ وسیعہ در علوم ادبیہ مرا عطا کردہ اند۔ باوجود آنکہ در اکثر اوقات بیمارمی باشم
    وایام صحت درمیان کم می باشند۔ واین فضل خدائے من است۔ او مرادر فصاحت ازان چہار کس ونداء عباسیہ


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 235
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 235
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/235/mode/1up


    بیانًا من الماء الفُرات۔ وکما جعلنی من الہادین المہدیین، جعلنی أفصح المتکلمین۔
    فکمْ مِن مُلح أُعطیتُہا، وکم من عذراءَ عُلِّمتُہا! فمن کان مِن لُسْنِ العلماء ،
    وحوَی حُسْنَ البیان کالأدباء، فإنی أستعرضہ لو کان من المعارضین المنکرین۔
    وقد فُقْتُ فی النظم والنثر، وأُعطیتُ فیہا نورًا کضوء الفجر، وما ہٰذا
    فِعْلَ العبد، إنْ ہٰذا إلّا آیۃ ربّ العالمین۔ فمن أبٰی بعد ذٰلک وانزویٰ، وما بارزَنی وما
    انبریٰ، فقد شہِد علٰی صدقی ولو کتم الشہادۃ وأخفٰی۔ یا حسرۃ علی الذین
    یذکروننی بإنکار! لِمَ لا یأ توننی فی مِضمار؟ یشہَقون فی مکانہم کحمار، ولا
    یخرجون کمُمار، إنْ ہم إلا کعُودٍ ما لہ ثمر، أو کنخل لیس علیہ تمر، ثم مع ذٰلک
    یخدعون الجاہلین۔ إنْ ہم إلّا کدارٍ خَرِبۃٍ، أو جُدْرانٍ منقضّۃ۔یُعلّمون الناس ما لا
    یعمَلون، ویقولون ما لا یفعلون۔خبَتْ نارہم، وتَواری أُوارہم، وختم اللّٰہ علٰی قلوبہم،

    افزون ترکرد کہ ابوالحسن علی ابوعبداللہ جعفر وابو عیسیٰ ابراہیم وپدر ایشان محمدبن موسیٰ بن حسن بن فرات بود۔ ومرا دربیان شیرین تر
    از آب شیرین کرد۔ وچنانکہ مرا از ہادیان مہدیان ساخت ہمچنان مرا افصح المتکلمینکرد۔ پس بسیارے از نمکین
    سخنان ہستند کہ مرا عطا کردند وبسیارے از نوپیدا نکات ہستند کہ مرا تعلیم آن دادند۔ پس آنکہ از زبان آوران علماء باشد وہمچو
    ادبیان حسن بیان را جمع کردہ باشد۔ من اورا برائے معارضہ می خوانم اگر از معارضین و منکرین باشد۔ ومن در نظم و نثر فائق شدم
    ودران ہر دو مرا ہمچو روشنی صبح نورے عطا فرمودہ اند واین فعل بندہ نیست۔ این نشان ربّ العالمین است۔ پس
    ہرکہ بعدزین ازمعارضہ انکار کرد ویکسونشست وبمقابلہ درمیدان نیامد ونہ پیشقدمی کرد۔ پس اوبرصدق من گواہی
    داد اگرچہ شہادت را پوشیدہ داشتہ با شد۔ اے حسرت برآنانکہ مرا بانکار یاد می کنند۔ باز درمیدانے بمقابلہ من نمی
    آیند۔ ہمچو خربرمکان خود آوازہا بردارند۔ وچون جنگ کنندہ بیرون نمی آیند۔ ایشان ہمچو شاخے ہستند کہ اورا ہیچ
    ثمرے نیست۔ یا ہمچو درخت خرما ہستند کہ برو ہیچ خرما نیست۔ باز بدین حالت جاہلان را فریب می دہند۔ ایشان
    چیزے نیستند مگر چون یک خانہ ویران۔ یا مانند دیوار ہائے کہ فرو افتادہ باشند۔ مردم را چیز ہامی آموزند کہ خود


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 236
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 236
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/236/mode/1up


    وأبادہم بعد شحوبہم، فتراہم کأموات غیرِ أحیاء ساقطین۔ وکان فی ہذہ
    الدیار تسعۃُ رَہْطٍ من الأشرار، وکانوا مفسدین فی الأرض ولا ینتہجون
    مہجّۃ الخِیار، وما کانوا صالحین۔ ووجدتُہم فی الکبر والإباء ، کالجُملۃ
    المتناسبۃ الأجزاء ، أو کأمراض متشابہۃ فی الخبث والإیذاء ، ورأیتُ کلّہم
    من المعادین المعتدین۔
    فمنہم رجلٌ أَمْرَتْسَری یقال لہ ’’الرسل البابا‘‘۔ إنہ امرؤ لا یعرف
    صدقًا ولا صوابا، وکذّب بآیاتنا کِذّابا۔ وخالَطہ زُمَرٌ من السفہاء ، فقعدوا
    بحذاء شمس کالحِرباء ، وقالوا إنا نرید أن نعارضک کالأدباء ، ولکنا لا نجیئک
    کما ترید بل أْتِنا کالغرباء ، وإذا جئت فنبارز کالمعارضین۔
    فعُفْتُ المسعی فی أوّل نظری إلی الجہلاء، وأخذتْنی أَنَفۃٌ أن


    برانہا عمل نمی کنند۔ وآنچہ میگویند خود بجا نمی آرند۔ آتش شان مردہ است وگرمی شان پوشیدہ شدہ۔ وخدا تعالیٰ
    بردلہائے شان مہر کردہ است۔ وبعد لاغرشدن اوشان اوشان را ہلاک کردہ۔ پس می بینی کہ ایشان مثل آن مردگانے
    افتادہ ہستند کہ درآنہا روح زندگی نیست۔ ودرین دیار نہ۹ کس از شریران بودند کہ در زمین فساد میکر دند وطریق نیکان
    اختیار نمی نمودند ونہ خود نیکوکار بودند۔ ومن اوشان را در تکبر وسرکشی مانند آن جملہ ہا یافتم کہ اجزائے آنہا باہم متناسب
    میباشد یا مثل آن بیماری ہا یافتم کہ درخبث وایذا دادن باہم مشابہ می باشند۔ وآن ہمہ را از دشمنان تجاوز کنندگان یافتم
    پس از آنہا شخصے است باشندہ امرتسر کہ او را رسل بابا می گویند۔ او مردے است کہ راہ
    صدق و صواب رانمی شناسد۔ وتکذیب نشانہائے مابغایت درجہ کردہ است۔ وگروہے از سفیہان بااو مخالطت
    کردہ۔ وبمقابلہ من ہمچو آفتاب پرست نشستند وگفتند کہ مامیخواہیم کہ ہمچو ادیبان باتو معارضہ کنیم۔ مگر نزد تو نخواہیم
    آمد۔ چنانکہ تو می خواہی بلکہ تونزدما بیا۔ وچون آمدی پس معارضہ خواہیم کرد۔
    پس در اول خیال ازین امر کراہت کردم کہ نزد جاہلان روم۔ ومرا ازین تنگ آمد کہ در مجلس


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 237
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 237
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/237/mode/1up


    أحضُر مجلس الحمقاء ، ثم رأیتُ أن لا تعنیفَ علی من یأتی الکنیف۔ فقبِلتُ کُلّ ما
    قالوا، ومِلتُ إلی مَا مَالوا، وکتبت إلیہم أنی أقبل أن أکتب مناضِلا فی ندوتکم،
    فعلیکم أن تکتبوا مثل ما أکتب أمام مُقْلَتکم، أو أَسْمِعونی ما أکتب
    کما زعمتم کمال درایتکم، فصمتوا وسکتوا کأنہم من المیتین۔
    وقد أُشیعَ بعدہ الاشتہارُ وأُفْشِیَ الأخبار، وأمضَضْناہم وأحفَظْناہم فصمتوا کرجلٍ ألثَغَ،
    وسکتوا کالذی علٰی تُرْبِ الہوان مُرِّغَ، فانقلبنا عنہم کالمنصورین۔ فیا حسرۃ علی ’’الرسل البابا‘‘
    إنہ ما خاف ربًّا توّابًا، ورأی ذُلاًّ وتبابًا، وإنہ شبَّ نارًا ثم أخمدہا خوفًا واضطرارًا، وجال فی
    شجون، ثم خاف مخلبَ مَنون، ونسی کل مجون، ومع ذٰلک ما ترک سِیَرَ المتکبرین۔
    اَ لَا اَ یُّھَا الْاَبَّارُ مِثْلَ الْعَقَارِبِ
    اِلَامَ تُرِیْ کِبْرًا وَّ لَیَّ الشَّوَارِبِ
    وَمَا اَنْتَ اِلاَّ قَطْرَۃٌ تَحْتَ وَھْدَۃٍ
    فَلَا تَتَصَاوَمْ* بِالْبُحُوْرِ الزَّغَارِبِ

    احمقان حاضر شوم۔ باز خیال کردم کہ ہرکہ دربیت الخلاء می رود برو ہیچ اعتراضے نمی کنند۔ پس ہرچہ گفتند
    قبول کردم وبہر سوئے کہ میل کردند میل کردم۔ وسوئے ایشان نوشتم کہ من قبول می کنم کہ در مجلس شما بطور مقابلہ
    بنویسم۔ پس برشما لازم خواہد بود کہ مانند من شماہم در آنجا بنویسید۔ یا اگر این نتوانید کرد۔ پس بنویسم مرا بشنوانید۔
    پس خاموش ماندند۔ ومثل مردگان ساکت شدند۔
    وبعدزان اشتہار شائع کردہ شد۔ وخبر را فاش کردہ شد۔ واوشان رابسو ختیم وبغضب آوردیم پس ہمچو مرد زبان شکستہ
    خاموش ماندند۔ ومانند کسے کہ برخاک مذلت غلطانیدہ شود ساکت شدند۔ پس ما ازیشان ہمچو فتحیابان باز گردیدیم پس بررسل بابا
    حسرتہاست کہ اواز خدائے توّاب نترسید۔ وخواری وہلاکت رادید۔ وآتشے را افروخت۔ باز از روئے اضطرار و خوف فرو
    میرانید۔ ودرراہِ بیابانہا جولان کرد۔ باز از پنجہ مرگ بترسید۔ وہمہ بیباکی فراموش کرد۔ وبا این ہمہ سیرت تکبر را نگذاشت
    اے نیش زنندہ مانند عقرب تابکے کبر خودخواہی نمودو تابکے بروت خودرا پیچ خواہی داد
    و توازین زیادہ نیستی کہ یک قطرہ زیرمغاکے ہستی پس بادریا ہائے بزرگ خویشتن را مکوب


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 238
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 238
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/238/mode/1up


    ومن التسعۃ الذین أشرتُ إلیہم رُجَیلٌ یقال لہ ’’أَصْغَر‘‘، وإنہ یزعم
    فی نفسہ کأنہ أکبر، ویزدرینی مفتریًا مِن غیر استحیاء ، ویسبّنی فی محافل وأملاء ،
    فسیعلم کیف یُجعَل من الأصغرین۔ إنہ یتبع الہویٰ، ولا یَجْری طَلْقًا مع التقویٰ۔
    یرید أن یفضّ ختوم الشہوات ولو بالجنایات، ویجتنی قطوف اللذات ولو بالمحرّمات۔
    وکذٰلک تأہّبت لہ الرفاق، وازداد من المنافقین النفاق، واستحکمَ فی الطباع
    الذمیمۃ، حتی سبق إخوانَہ فی النمیمۃ۔ ومَا أریٰ مَدْحَرۃً لشیطانہ، إلّا أن أدعوہ
    لامتحانہ، فأُقبِل علیہ إقبالَ طالبٍ المناضلَ، لیتبیّن أمر الجاہل والفاضل۔
    وإنہ کان یطلبنی لِوَغاہ، فالیوم نُرضیہ بما یہواہ۔ وقد خاطبتُہ من
    قبل ذاتَ العُوَیم، لأزیل ما علا قلبَہ کالغَیم، فقلتُ آتِنی کالرائد وتمتَّعْ من الموائد،
    فإن کنتَ رأیناک کسحابِ مُطَیرٍ، أو ثبت معک مِن البلاغۃ کمَیْرٍ، فنؤمن بک

    وازان نُہ کس کہ سوئے اوشان اشارت کردہ ام مرد کے است کہ نام او اصغر علی است۔ واو نفس خود را
    گمان می کند کہ گویا او اکبر است۔ ومحض از روئے افترا وترک حیا عیب گیری من می کند۔ ودرمجالس وگروہ مردم بدگوئی
    من میکند۔ پس عنقریب خواہد دانست کہ چگونہ از کمتران کردہ خواہد شد او پیروی خواہش خود میکند ویک تگ نیزہم با
    تقویٰ نمی رود۔ میخواہد کہ مہرہائے آرزوہا را بشکند واگرچہ باگناہان شکستہ باشد۔ ومیوہ ہائے لذات را بچنیدواگرچہ
    بامحرمات چیدہ باشد وہمچنین رفیقان بد وجمع شدند۔ واز صحبت منافقان نفاق زیادہ گشت۔ ودر سرشت نکوہیدہ مستحکم شد۔
    تاآنکہ درغمازی از برادران خود درگزشت۔ ومن آن حربہ کہ شیطانش را از و دور کند بجز این امر نمی بینم کہ
    امتحانش کنم۔ پس سوئے او ہمچو جویندہ محاربہ متوجہ می شوم تاکہ در جاہل وفاضل فرق پیدا شود۔
    و او مرا برائے پیکار خود می طلبد۔ پس امروز آرزوئے اورا باودادہ اورا خوش کنیم۔ ومن پیش ازین درسالے از سالہا
    اورا مخاطب کردہ بودم تاکہ آن ابررا ازدل او بردارم کہ بردلش برآمدہ است۔ پس گفتم کہ ہمچو جویائے آب وعلف نزدم بیا
    واز خوانہائے ماتمتع بردار۔ پس اگر ماترا ہمچو ابراندک بارندہ ہم یافتیم یا با تو ہمچو قوت لا یموت بلاغتے ثابت شد۔ پس مابتو


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 239
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 239
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/239/mode/1up


    وبحسن بیانک، ونشیعُ صفاتِ علوِّ شأنِک، فیسُوغ لک بعدہ أن تغلّطنا فی إملا ئنا،
    وتأخذ أغلاط إنشائنا، کما أنت تظن کالجاہلین الغافلین۔ ومع ذٰلک نحسبک
    أنک ذو مِقْوَلٍ جَرِیٍّ، ونابغۃُ کلام عربیّ، ویجوز لک ما لا یجوز لغیرک من ازدراء
    والطعنِ علی إملاء ، وتُحمَد عند الناس کالفاضلین المؤدّبین۔
    وأما طَرْزُ ازدرائک، قبل إثبات علمک وعلائک، فما ہٰذا إلا لُبوسُ
    سفیہٍ یترک الحیاء ، وعادۃ ضریرٍ لا یریٰ الأضواء ، فیحسَب النہار المنیر
    ظلامًا، والوابلَ جَہامًا۔ وإن کنتَ من رجال ہذا المضمار، وولیجۃ أہل ہذہ
    الدار، فأَرِنا کمال إنشائک قبل ازدرائک، وأْتِ بکتاب من مثل ہذا الکتاب،
    ثم اجعلْ بینی وبینک حَکَمًا أحدًا من أولی الألباب؛ فإن شہِد الحَکَم
    علی کمالک وحسن مقالک، وظنّ أنک جئت بأحسن من کلامی، وأریتَ نظامًا

    وحسن بیان تو ایمان خواہیم آورد وصفات علو شان ترا شائع خواہیم داد۔ پس بعد ازان ترا جائز خواہد بود کہ غلطی ہائے
    املاء ما بیان کنی وخطاہائے مارا بگیری۔ چنانکہ ہمچو جاہلان وغافلان گمان میداری۔ وباوجود این خواہیم پنداشت کہ
    صاحب زبان فصیح ہستی۔ ونابغہ کلام عربی۔ وبرائے تو آن نکتہ چینی جائز خواہد شد کہ برائے دیگران جائز نیست۔
    وتواہل این خواہی گردید کہ عیب من بگیری وبر املاء من طعنہ زنی۔ ونزد مردم ہمچو فاضلان ادب دہندگان تعریف کردہ
    خواہی شد۔ مگر طرز عیب گیری تو قبل از ثابت کردن علمیت وبلندی تو۔ پس این لباس مردکِ کمینہ است
    کہ حیارا می گزارد۔ وعادت نابینائے ست کہ روشنی ہا رانمی بیند۔ پس روز روشن را تاریکی می
    پندارد۔ وباران بزرگ را ابربے آب می انگارد۔ واگر تو از مردان این میدان ہستی۔ واز
    خاصان اہل این خانہ ہستی۔ پس مارا کمال انشاء خود بنما۔ قبل زینکہ نکتہ چینی کنی۔ وکتابے مثل این
    بیار۔ باز در من وخود منصفے از دانایان مقررکن۔ پس اگر آن منصف برکمال تو وحسن
    مقال تو گواہی دہد وگمان کند کہ تو کلامے احسن از کلام من آوردی۔ ونظامے نمودی کہ از


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 240
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 240
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/240/mode/1up


    أجمل من نظامی، فلک مِن بعد أن تتخذ جِدِّی عبثًا، وتجعَل تِبری خَبَثًا، و
    أن تحسب دُرِّی الغُرَّ کلیلٍ دامسٍ، وبیانی الواضحَ کطریقٍ طامس، وتُشیع
    عِثاری فی العالمین۔ وإن لم تفعل، ولن تفعل، فاتّقِ لعن اللاَّعنین۔
    اَ لَا لَا تَعِبْنِیْ کَالسَّفِیْہِ الْمُشَارِزِ
    وَاِنْ کُنْتَ قَدْ اَزْمَعْتَ حَرْبِیْ فَبَارِزِ
    وَاِنَّکَ تَذْکُرُنِیْ کَرَجُلٍ مُّحَقِّرٍ
    وَتَلْمِزُنِیْ فِیْ کُلِّ ٰانٍ کَمَارِزِ
    وَاِنَّا سَمِعْنَا کُلَّ مَا قُلْتَ نَخْوَۃً
    اَتَحْسَبُ خَضْرَاءِیْ بِحُمْقٍ کَتَارِزِ
    وَمَا کُنْتُ صَوَّالًا وَّلٰکِنْ دَعَوْتَنِیْ
    وَقَدْبَانَ اَنَّکَ تَزْدَرِیْنِیْ کَغَارِزِ
    وَ لَاخَیْرَ فِیْ طَغْوَاکَ یَا ابْنَ تَکَبُّرٍ
    وَیَفْقَأُ رَبِّیْ عَیْنَ دُوْنٍ مُّعَارِزِ
    فَحَرِّجْ عَلٰی نَفْسٍ تُبِیْدُکَ وَاجْتَنِبْ
    مَنَاھِجَ فَقْاأ فَاجَءَتْکَ کَفَارِزِ
    وَ لَا تَنْتَھِجْ سُبُلَ الْغَوَایَۃِ وَاکْتَءِبْ
    عَلٰی مَاعَرَاکَ وَتُبْ بِقَلْبٍ اٰرِزِ

    نظام من اجمل است۔ پس بعد زان ترا اختیار خواہد بود کہ سخن تحقیق مرا عبث شماری وزر مرا چیزے فاسد خیال کنی و
    اختیار تو خواہد بود کہ در روشن مرا مثل شب تاریک پنداری۔ وبیان واضح را ہمچو راہ ناپدید خیال کنی۔ ولغزش مرا در
    جہانیان شائع کنی۔ واگر چنین نکنی وہرگز نخواہی کرد۔ پس از *** *** کنندگان بترس
    خبردار باش ہمچو سفیہ جنگ کنندہ عیب من مکن
    واگر برین آمادہ شدی کہ بامن جنگ کنی پس بہ میدان جنگ برون آ
    و تو مرا مثل تحقیر کنندہ یاد می کنی
    وہمچو گزندہ درہر وقت عیب من مے گیری
    وماہمہ آنچہ از تکبر گفتی شنیدہ ایم
    آیا سبزہ مرا ہمچو چیزے خشک می انگاری
    ومن نمی خواستم کہ بر تو حملہ کنم لیکن تو خود مرا خواندے
    وظاہر شد کہ ہمچو سپو زندہ سوزن عیب من می گیری
    ودرین کہ از حد درگزشتی اے پسر تکبر ہیچ نیکی نیست
    وخدائے من کمینہ جنگ کنندہ را کورمے کند
    پس نفس ہلاک کنندہ را سخت بگیر
    وازراہ ہائے آن کوری بپرہیزکہ ہمچو جداکنندہ چیزے ازچیزے ناگاہ تراگرفت
    پس طریق گمراہی را اختیار مکن
    وبلائے کہ برتوآمدہ است ازان غمگین باش وبادل ثابت توبہ کن


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 241
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 241
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/241/mode/1up


    ومن المعترضین المذکورین شیخٌ ضالّ بطالویٌّ وجارٌ غویٌّ، یقال لہ
    محمّد حُسَیْن، وقد سبق الکلَّ فی الکذب والمَین۔ وإنہ أبی
    واستکبر، وأشاع الکبر وأظہر، حتی قیل إنہ إمام المستکبرین ورئیس
    المعتدین، ورأس الغاوین۔ ہو الذی کفّرنی قبل أن یکفّر الآخرون، واعترض
    علی کتبی وأظہر جہلہ المکنون۔ فقال إن تلک الکتب مشحونۃ من الأغلاط،
    وساقطۃ فی وحل الانحطاط، ولیست کماءٍ مَعین۔ وإن ہذا الرجل من
    الجاہلین، وکل ما یوجد فی کتبہ مِن مُلحہا وقیافیہا، فلیس قریحتُہ حجرَ
    أثافیہا، بل تلک کَلِمٌ خرجت من أقلام الآخرین۔
    فقلتُ: یا شیخَ النَّوکَی، وعدوَّ العقل والنُّہٰی، إن کتبی مبرَّأۃ مما
    زعمتَ، ومنزّءۃ عما ظننت، إلَّا سہو الکاتبین، أو زیغ القلم بتغافُل مِنّی لا

    ویکے از اعتراض کنندگان شیخ گمراہ ساکن بٹالہ است کہ ہمسایہ گمراہ ماست۔ او را
    محمد حسین مے گویند۔ واز ہمہ در دروغ و ناراستی سبقت بردہ است۔ و او انکار کرد
    وتکبر نمود وتکبر را شائع کردہ وظاہر ساخت تاآنکہ گفتہ شد کہ اوامام متکبر ان است۔ و رئیس
    تجاوز کنندگان۔ وسر گمراہان است۔ اوہمان شخص است کہ پیش از ہمہ مرا کافر گفت۔ وبرکتابہائے
    من اعتراض کرد۔ وجہل خود ظاہر نمود۔ پس گفت کہ این کتابہا از غلطی ہا پر ہستند ودرگل
    انحطاط فرو افتادہ اند۔ وہمچو آب صافی نیست۔ واین شخص از جاہلان است
    وہرچہ از کلمات نمکین وقافیہ ہا در کلام او یافتہ مے شود۔ پس آن طبعزاد او و
    سنگ طبیعت اونیست بلکہ این کلمات از قلمہائے دیگران برآمدہ اند۔
    پس گفتم کہ اے شیخ احمقان ودشمن عقل و دانش۔ بہ تحقیق کتاب ہائے من ازآنچہ گمان کردی
    بری ہستند۔ واز آنچہ زعم تست منزہ ہستند۔ مگر سہو کاتب یا کجی قلم از تغافل من نہ مثل جہل جاہلان


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 242
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 242
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/242/mode/1up


    کجہل الجَاہِلین۔ فإن قدرتَ أن تُثبِت فیہا عِثارًا، فخُذْ منّی بحذاء کل لفظٍ غلطٍ
    دینارًا، واجمَعْ صَریفًا ونِضارًا، وکُنْ من المتمولین۔ وہذا صلۃٌ تلائم ہواک، و
    تَقَرُّ بہ عیناک، وتستریح بہ رجلاک، فتنجو من السفر الدائم، ولا تتیہ کالشحّاذ
    الہائم، وتقعد کالمتنعمین، وتغنی بہ عن جعائل أخریٰ ومکائد شتی، وإشاعۃ
    ’’عدوِّ السُنّۃ‘‘، ووعظ الدجل والفِریۃ، وتعیش کالمستریحین۔
    بید أنی أرید أن أری قبلہ رَیَّا فصاحتک، وأشاہد أَریجَ بلاغتک، لأفہم
    أنک من علماء ہذہ الضاعۃ ومن أہل تلک الصّولۃ، ولستَ
    من الجاہلین المحجوبین العمین۔
    فا!تفقَ لوَشْلِ حَظِّہ المبخوس ونَکْدِ طالِعِہ المنحوس، أنہ ما قبِل
    ہذہ الصلۃ، وما سنّٰی نفسہ لیقبل ہذہ الشریطۃ، وخشِی الذلۃ

    پس اگر تو می دانی کہ درآن کتابہا لغزشے ثابت کنی پس از من بمقابلہ ہر لفظ غلط دینارے بگیر
    و سیم وزر را جمع کن۔ واز مالداران بشو۔ واین آن انعام است کہ مناسب حال خواہش
    تست۔ وبد وچشم تو خنک خواہد شد۔ دہرد وپائے توازان آرام خواہند گرفت۔ پس از سفر دائمی نجات خواہی یافت وہمچو
    سرگردان آوارہ نخواہی گردید۔ ومثل متنعمان خواہی نشست۔ وبدین مال از مزدوری ہائے دیگر وفریب ہائے
    گوناگون واشاعۃ السنہ کہ دراصل عدو السنہ است واز دجل وفریب بے نیاز خواہی شد۔ وہمچو آرام یا بان زندگی خواہی
    گذرانید۔ مگر این است کہ می خواہم کہ قبل ازین امر خوشبوئے فصاحت ترابینم وبوئے بلاغت تو مشاہدہ
    کنم۔ تابہ بینم کہ تو از علمائے این ضاعت ہستی۔ واز آنا ن ہستی کہ اہل این حملہ ہستند۔ و از
    جاہلان ومحجوبان ونابینایان نیستی۔
    پس بباعث کم نصیبی وبدبختی طالع منحوس او این اتفاق افتاد کہ او این انعام را قبول نکرد
    وخویشتن را بر بلندی آمادگی نیا ورد تاشرط مارا قبول کند۔ واز ذلت ورسوائی


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 243
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 243
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/243/mode/1up


    والفضیحۃ، وتواری کالمتخوفین، وقال لو نشاء لقلنا مثل ہذا ولکنا لسنا
    بفارغین۔ وما خرج من بیتہ، وما رأی نموذجَ زیتہ، وما تفوّہَ إلا کالمتصلفین۔
    وتحرّیتُ فی صِلتی مرضاتَہ، لأنقُد بحیلۃٍ حَصاتَہ، وأَمخض لبنہ وأُرِی جہلاتہ۔
    فکأن النعاس راودَ آماقَہ، أو الخنّاس حبَّب إلیہ إباقَہ، فرأیتُ أن حَرَّہ
    قد باخَ، وعَزْمَہ ہرِم وشاخَ، وتراء ی کالمُضْمَحِلّین۔
    وواللّٰہ إنی أستیقن أنہ لا یقدر علی إملاء سطر أو سطرین، وکل ما
    یقول یقول من المَین، بل لا أظن أن یقدر علٰی فہم مقالی، ویبیّن فی المجلس
    فَحْواءَ أقوالی، وإنہ من الکاذبین۔ وإنی أعرفہ من قدیم الزمان، ولکنّی کنتُ
    أستر حالہ وأسعٰی للکتمان، بل إذا نطق أحد لإفشاء سِرّہ، فطویتُہ علٰی غَرِّہ،
    وصُنْتُ عِرضہ من الناہشین۔ثم رأیت أنہ لا یسدَر عند غلواۂ، ولا ینْزع عن نفسہ

    خود بترسید۔ وہمچو ترسندگان پوشیدہ گشت۔ وگفت اگر بخواہیم مثل این بگوئیم۔ ولیکن مارا فراغتے
    نیست۔ و از خانہ خود بیرون نیامد۔ و نمونہ زیت خود نہ نمود۔ وبجز لاف زنی ہیچ سخنے نکرد۔
    ومن در انعام خود رضائے اورا خیال کردم۔ تا بکدام حیلہ عقل اورا بیاز مایم۔ واز شیرا و مسکہ برون آرم وجہل او
    بنمایم۔ پس گویا خواب اورا نزد خود خواند۔ یا شیطان اورا رغبت گریختن داد۔ پس دیدم کہ تمام گرمی او
    سرد شد۔ وقصد او پیر فرتوت گشت۔ وہمچو مضمحلان شکل نمود۔
    وبخدا مرا یقین است کہ او برنو شتن یک سطر یا دو سطر ہم قادر نیست۔ وہرچہ
    می گوید از دروغ میگوید۔ بلکہ مرا این گمان ہم نیست کہ او سخن من بفہمد۔ ودر مجلس مضمون قول من
    بیان تواند کرد۔ واواز دروغ گویان است۔ ومن اورا از زمانہ قدیم می شناسم۔ لیکن من حال
    اورا پوشیدہ می داشتم۔ بلکہ چون کسے برائے دریدن پردہ او گفتگو کردے۔ پس من آن گفتگو را بر شکن آن
    می پیچیدم۔ وآبروئے او را از گزند رسانندگان محفوظ داشتم۔ باز دیدم کہ او در وقت تجاوز ازحد ہیچ پروائے ندارد۔ واز نفس خود جامہ


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 244
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 244
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/244/mode/1up


    ثوبَ خیلا ۂ، ولا یترک سیر جہلا تہ، ولا یتوب من خزعبیلا تہ، بل یظن
    أنہ ینفعہ کیدُہ، ویُسخَّر بہ صیدہ۔ فلما رأیت أن أعمالہ ستُوبِقہ، وأن دلالہ
    سیُقلِقہ، أشعتُ من سیئاتہ بعض الہنات، وإنّمَا الأعْمَالُ بِالنیّات، وعلیہا
    مدار المجازاۃ۔ ثم نعود إلٰی قصتنا الأولٰی، فاعلم أنہ دعانا ثم أبٰی، وما حملہ علٰی
    ذٰلک إلا خوف أحرقَہ بنار اللظٰی، فإنہ قرأ کتبنا فوجدہا کدُرٍّ أجلٰی، فأوجس فی
    نفسہ خیفۃً وما أبدیٰ، وأنقضَ ظہرہ ما رأیٰ۔ فما تمالک أن یشجّع قلبَہ المزء ودَ، و
    یحضر الموطن الموعود، ویُری جَناہ والعُودَ۔ بل أشار إلٰی رُجَیلٍ وَغْبٍ، وفرخٍ لیس علیہ
    إلا زَغْبٌ، واحتال وقال إنی لن أخرج من جُحْری، وہذا تلمیذی قد رُبِّیَ فی
    حِجری، فبارِزْہ إن کنت من المبارزین، وإنی أنساب کالتِّنِّین من خوف القاتلین۔
    فقلت یا ہٰذا، لا تحسب أن تنجو من مخلبی بکید، ولو صرتَ جدَّ أبَازَید،

    پندار را برنمی کشد۔ وسیرتہائے جہالت را نمی گذارد۔ واز کار ہائے باطل خود توبہ نمی کند۔ بلکہ گمان مے کند کہ مکر او اورا
    نفع خواہد داد۔ واز مکر او شکار او در قابوئے او خواہد آمد۔ پس چون دیدم کہ اعمال او عنقریب اورا ہلاک خواہند کرد۔ وناز
    او عنقریب اورا بے آرام خواہد نمود۔ بعض بدیہائے اورا شائع کردم۔ واعمال بہ نیت ہاوابستہ اند۔ ومدار مجازات برنیت ہا
    ست۔ باز ما سوئے قصہ اول عودمی کنیم۔ پس بدان کہ اول او مارا بخواند باز سر بتافت واین کنارہ کشی ازین سبب از وصادر
    شد کہ اورا آن خوف گرفت کہ بنار دوزخ اورا بسوز انند۔ چرا کہ او کتابہائے مارا مثل گوہر تابان یافت۔ پس در دل خود خوف
    نشانید وظاہر نہ کرد۔ وآنچہ دیدہ بود کمر او را بشکست۔ پس مالک این امر نماند کہ دل ترسندہ خود را دلیر تو اند کرد۔ و
    درمیدان بحث حاضر تواند شد و ثمرہ خود را وشاخ خود را بنماید۔ بلکہ سوئے مرد کے احمق اشارہ کرد۔ آن مرد کے کہ چوزہ است
    خورد واندک موہائے باریک برخود دارد۔ وحیلہ کرد وگفت کہ من از سوراخ خود ہرگز بیرون نخواہم آمد۔ واین شاگرد من است
    ودرکنار من پرورش یافتہ۔ پس اگر خواہی با او مقابلہ کن۔ ومن در سوراخ خود واپس می روم ہمچنان کہ مارا ز اندیشہ کشندگان
    بسوراخ خود می خزد۔ پس گفتم اے فلان این گمان مکن کہ ازپنجہ من بمکرے نجات خواہی یافت۔ اگرچہ ابو زید اہل مقامات


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 245
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 245
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/245/mode/1up


    وإنی أعلم حیل الماکرین۔ ألا تعلم أنہ مِن أدنٰی تلامیذک، وما شرِب إلا جرعۃ
    من نبیذک، فإنہ لیس کمثلک فی الطاقۃ العلمیۃ، ولا علی غَلْوَۃ من مراحلک
    المعلومۃ، فضلا مِن أن یکون أکبر منک فی العلوم، فلا تفوّض أمرک إلٰی الغبیّ
    الزَّغوم، ولا تکن من الخادعین۔ وأنت تعلم أنہ کابن بُوْحِک، أو شقیق روحک،
    وما شرب إلا من صَبوحک، وقد غُذِّیَ بلُبانتک، فقِصّتُہ تُطوَی بقصّتک،
    وبعد ہزیمتک ہزیمتہ بیّن، وإذا مزَّقْنا الصَلْبَ فقد کُسِرَ لیِّنٌ۔ فإذا سمع قولی،
    ورأی صَولی، ففرَّ کفَرِّ الوَعْلِ، وانساب إلی جُحرہ بالمَعْلِ، ونسِی کلَّ أریز کالمتندمین۔
    وأحفظتُہ بکَلِمٍ مؤلمۃ، وألفاظ موجعۃ، لعلّہ یقوم لمناضلۃ، ویأتینی لمصارعۃ،
    فما أتی المضمار، وحسِب أنہ یلِج النار، واختفی کالمذروعین۔
    ثم ما غبر علی ذٰلک الزمان إلا شہر أو شہران، حتی أشاع فی تحقیری رسالۃ،

    را پدر پدر شوی۔ ومن حیلہ ہائے مکر کنندگان رامی شناسم۔ آیا نمی دانی کہ اواز ادنیٰ شاگردان تست۔ واز نبیذ تو بجزیک
    جرعہ ہیچ نخوردہ۔ زیرانکہ او درطاقت علمیہ مانند تونیست۔ ونہ از مراحل معلومہ تو برفاصلہ یک تیر
    پرتاب است۔ قطع نظر ازینکہ درعلوم از تو بزرگتر باشد۔ پس امر خود را سوئے کند ذہنے
    مسپار۔ کہ فروماندہ درسخن است واز مکاران مشو۔ وتومیدانی کہ او مثل پسر نفس تو یا برادر خورد روح تست۔
    واز شراب تو خوردہ است۔ واز شیر تو پرورش یافتہ۔ پس قصہ او بقصہ توطے خواہد شد۔
    وبعد شکست تو شکست او ظاہر است۔ وچون سخت را پارہ پارہ کردیم پس شکستن نرم ظاہر است۔ پس چون قول مرا
    شنید وحملہ مرادید ہمچو بزکوہی بگریخت۔ وسوئے سوراخ خود بشتابی رجوع کرد۔ وہمہ جوش را ہمچو شرمندگان فراموش
    نمود۔ ومن او را بکلمات درد رسانندہ درغضب آوردم والفاظ دلآزار گفتم۔ تاباشد کہ او برائے جنگ من برخیزد۔ وبرائے
    باہمی کشتی نزد من بیاید۔ پس بمیدان نیامد وگمان کرد کہ داخل آتش خواہد شد۔ وہمچو ترسندگان پوشیدہ شد۔
    باز برین امر بجز ماہے یا دو ماہ نگذشت کہ یک رسالہ در تحقیر من شائع کرد۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 246
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 246
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/246/mode/1up


    وعزا إلیّ زندقۃ وضلالۃ، لیستر بہ جہلا یُخزیہ، ویزیّن شأنہ فی أعین تابعیہ،
    ویکثّر سوادَ طالبیہ، ویؤذی قلوب المسترشدین۔ فلما رأیت أنہ أفاق من
    إغماۂ، وضحک بعد بکاۂ، ورجع إلٰی أدراجہ، واستراح بعد انزعاجہ،
    ورقأتْ دَمْعتُہ، وانفثأتْ لَوعتُہ، رأیت أن أُتمّ علیہ الحجۃ مرّۃ ثانیۃ،
    وأسلّط علیہ من الحق زبانیۃ، فالیوم قمتُ لہذا المرام، لعل اللّٰہ
    یہدیہ إلٰی دار السلام۔ إنہ یحول بین المرء وقلبہ وإنہ یشفی المؤوفین۔
    فیا أیہا الشیخ الضالّ، والمفتری البطّال، ألم یأن لک أن تتوب
    وتلیِّن البال؟ أ تفرح بحیاۃ فیہ البلایا، وفی آخرہا المنایا؟ طالما أیقظتُک
    بالوصایا، ووضعتُ أمام عینیک المرایا، ثم أقسمتُ لعلّک تطمئنّ بالألایا،
    فقلتُ واللّٰہ إنی لست بمفتری وأعوذ بربّ البرایا، أن أسعی إلی الخطایا،


    وسوئے من زندقہ وگمراہی را منسوب کرد۔ تاکہ بدین حیلہ آن جہل را بپوشدکہ اورار سوامی کند۔ وشان خود را درچشم
    تابعین خود زینت دہد۔ وگروہ طالبان را بیفزائد۔ ودل مردم رشید را بیازا رد۔ پس چون دیدم کہ اواز غشی خود
    بہوش آمد وبعد گریستن بخندید۔ و سوئے راہ ہائے خود واپس رفت۔ وبعد رنج آرام یافت۔
    و اشک او بایستاد۔ و سوزش او کم شد۔ مناسب دیدم کہ حجت را برو تمام کنم۔
    واز حق سیاست کنندگان را برو مسلط کنم۔پس امروز برائے ہمین مطلب استادہ ام۔ شاید اللہ تعالیٰ سوئے دار السلام
    او را ہدایت نماید۔ بہ تحقیق خدا تعالیٰ در انسان ودل او حائل میشود۔ وآفت زدگان را شفامی بخشد۔
    پس اے شیخ گمراہ ومفتری بطال آیا تا ہنوز برائے تو وقت نرسیدہ است کہ توبہ کنی
    و دل تو نرم گردد۔ آیا بدین زندگی خوش میشوی کہ درآن آفات اند ودر آخر او مرگہاست۔ مدتے شد
    کہ من بوصیت ہا ترا بیدار می کنم۔ وپیش چشم تو آئینہ ہا نہادم۔ باز قسم خوردم شاید تو بقسم مطمئن شوی
    پس گفتم کہ بخدا من مفتری نیستم وپناہ خدا می گیرم کہ سوئے خطاہابپویم۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 247
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 247
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/247/mode/1up


    فما ظننتَ إلَّا ظن السوء وما تکلمتَ إلَّا کالمجترئین۔ أیہا الشیخ إن الدنیا فانیۃ،
    والذی یبقی فہی حضرۃٌ ربانیۃ۔ تریٰ رجلا متنعما فی المساء ، ثم تریٰ ذاتَ بکرۃ أنہ
    لیس من الأحیاء۔ والموتُ یُہلک أفعًی أعجزَ الراقِی، وکلّ شیءٍ فانٍ ویبقی وجہ
    اللّٰہ الباقی۔ وأَیْمُ اللّٰہِ، إنّ دِیمتی قد انہلّت من الرحمن، لا من مساعی الإنسان،
    ولذٰلک دعوتک أن تأتینی کصدیق حمیم، فأظہرتَ نفسک کصدید حمیم۔
    وإنی أُیّدتُ من اللّٰہ القدیر، وأُعطیت عجائب من فضلہ الکثیر۔ومن آیاتہ
    أنہ علّمنی لسانا عربیّۃ، وأعطانی نکاتا أدبیۃ، وفضّلنی علٰی العالمین
    المعاصرین۔ فإنْ کنتَ فی شکّ من آیتی، وتحسب نفسک حُدَیَّا بلاغتی،
    فتحامَ القالَ والقیل، واکتُبْ بحذائی الکثیر أو القلیل، وجَدِّدِ التحقیق
    ودَعْ ما فات، وبارِزْ فی موطن وعَیِّنْ لہ المیقات۔ وعلیّ وعلیک أن نحضر

    پس تو بجز ظن بدہیچ نکردی وبجز بیباکی ہیچ گونہ کلام نکردی۔ اے شیخ دنیا فانی است ۔
    وآنچہ باقی خواہد ماند آن ذات الٰہی است۔ وشخصے را بوقت شام در خوشحالی می بینی باز در صُبحی می بینی کہ اواز
    زندگان نیست۔ وموت آن مار را ہم میکشد کہ ازوا فسون کنندگان عاجزمی آیند۔ وہر چیز در معرض فناست و
    خدائے کہ نام او باقی است باقی خواہد ماند۔ وبخدا کہ باران پیوستہ من از خدا تعالیٰ ریختہ است نہ از کوشش ہائے انسان
    واز ہمین سبب ترا خواندہ بودم کہ ہمچو دوست صادق نزدم بیائی۔ پس خویشتن را ہمچو زرد اب ظاہر کردی۔
    ومن از خدائے قدیر تائید یافتہ ام۔ واز فضل او کہ بسیار است عجائب اموردادہ شدہ ام۔ واز نشانہائے او
    یکے این است کہ او مرا علم زبان عربی بیا موخت۔ ومرا نکات آن زبان بخشید۔ ومرا بر عالمان این زمانہ
    فضیلت داد۔ پس اگر تو از نشان من درشک ہستی۔ ونفس خود را معارض بلاغت من می پنداری۔
    پس ہمہ قال وقیل بگزار وبمقابل من کثیر نویسم یا قلیل بنویس۔ واز سر نو تحقیق کن
    وگزشتہ را ترک کن۔ ودر میدانے بمقابلہ من بیاو تاریخ حاضری مقرر کن۔ وبرمن وبرتو واجب خواہد بود کہ


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 248
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 248
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/248/mode/1up


    یوم المیقات بالرأس والعین، ونناضل فی الإملاء کالخصمَین۔ فإن زدتَ
    فی البلاغۃ وحسن الأداء ، وجئت بکلام یسرّ قلوب الأدباء ، فأتوب علی یدک
    من کل ما ادّعیتُ، وأحرق کل کتاب أشعتُہ أو أخضیتُ۱؂ ، وواللّٰہ إنی أفعل
    کذلک، فانظُرْ أنی أقسمتُ وآلَیتُ۔ فارحَمِ الأمّۃ المرحومۃ، وعالِجِ الفتن المعلومۃ،
    فإن الفتن کثرت، والآفات ظہرت، وکُفِّرَ فوج من المسلمین من غیر حق
    والألسنُ فیہم طالت، فقُمْ رحمک اللّٰہ ولا تقعد کالمنافقین۔
    ألا تستیقن أنک من العلماء الراسخین، والأدباء القادرین، ثم مع
    ہذا تعلم أن اللّٰہ مؤیّد الصادقین، ومُخزی الکاذبین، واللّٰہ مولٰی أہل الحق
    ولا مولٰی للمفترین۔ وإن لم تقدر علٰی المقابلۃ، ولم تقم للمناضلۃ، فرضیتُ
    بأن تُسْمِعَنی ما أکتُب من العبارات الأنیقۃ، والجمل الرشیقۃ،


    در روز مقرر بچشم وسر حاضر شویم۔ ودر املاء ہمچو دوخصم محاربہ کنیم۔ پس اگر تو در بلاغت
    وحسن ادا غالب آمدی۔ وکلامے آوردی کہ دل ادباء را مسرت رساند۔ پس من بردست تو از ہمہ آنچہ
    دعویٰ کردم توبہ خواہم کرد۔ وہر کتابے کہ شائع کردم یا ہنوز شائع نکردم خواہم سوخت۔ وبخدا من ہم چنین
    خواہم کرد۔ پس بہ بین کہ من قسم خوردہ ام۔ پس برامت مرحوم رحم کن۔ وفتن ہائے معلومہ را تدبیر فرما۔
    چرا کہ فتنہ ہا بسیار شدہ اند۔ وآفت ہا بظہور آمدہ اند۔ و گروہے کثیر مسلمانان ناحق کافر قرار دادہ شدہ اند
    و زبان ہا در ایشان در از شدند۔ پس برخیز خدا بر تو رحم کند وہمچو منافقان منشین۔
    آیا یقین نمی داری کہ تو از علماء راسخین و ادباء قادرین ہستی باز با این ہمہ
    میدانی کہ خدا مویّد صادق خواہد بود۔ وکاذبان را رسوا خواہد کرد۔ و خدا اہل حق را مولیٰ است
    ومفتریان را ہیچ مولیٰ نیست۔ واگر بر مقابلہ من قادر نتوانی شد۔ وبرائے معارضہ نتوانی برخاست۔ پس من بدین
    قدر ہم راضی ہستم کہ آن عبارات خوب وجملہ ہائے مرغوب کہ من نویسم مرا بشنوائی۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 249
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 249
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/249/mode/1up


    وکفانی لو فُزتَ بہٰذاالطریقۃ، وأظہرتَ ما قلتُ علی الحاضرین۔ ولکنی جَرّبتُکَ
    مُذْ أعوام، أنک لا تقوم فی مقام، ولا ترید قطع خصام، وتنحِت فی آخر الأمر
    حیلًا واہیۃ، ومعاذیر منسوجۃ کاذبۃ، وتفرّ کالمحتالین۔ فعلیک أن
    لا تحتال کأیام سابقۃ، وتحضر علی المیقات فی رِیاغۃٍ مقرَّرۃ، فإن کنتَ غالبًا
    وفاءَ أمرُک إلی غلبۃ ورشاد، فأَخفِض لک جناحَ انقیاد، وأتوب علٰی یدیک
    باعتقاد، کالذی قفَل من ضلال إلی سَداد۔ فأَلْفِتُ الیوم وجہی إلیک یا أبا المِراء،
    وإلٰی إخوانک من العلماء ، وأدعوکم إلٰی مأدُبتی الجَفَلَی، وأبلّغ دعوتی إلی
    أہل الحضارۃ والفلا، فعلیکم أن لا تعرضوا عن ہذہ الدعوۃ کما أبیتم ذات
    مرۃ فی الأیام السابقۃ، فإن ہذا یقضی بین الصادقین والکاذبین،
    وتتجلّٰی منہ آیۃ رب العالمین، وتستبین سبیل المجرمین۔


    واگر بدین طریق کامیاب شدی۔ واز گفتار من حاضرین را مطلع گردانیدی مرا ہمین قدر کافی است۔ مگر من از سالہا
    ترا آز مودم کہ تو در ہیچ مقامے نتوانی ایستاد۔ ونمی خواہی کہ ہیچ خصومتے را قطع کنی۔ و در آخر کار حیلہ ہائے سست
    مے تراشی۔ وعذر ہائے از دروغ بافتہ درمیان می آری۔ ومثل حیلہ گران می گریزی۔ پس برتو لازم خواہد بود کہ
    ہمچو روز ہائے گذشتہ حیلہ ہا درمیان نیاری۔ وبروقت میعاد درکشتی گاہ مقررہ حاضر شوی۔ پس اگر تو غالب شدی
    وامر تو سوئے غلبہ وسامان رجوع کرد۔ پس برائے تو بازوئے اطاعت خمیدہ خواہم کرد۔ وبردست تو باعتقاد توبہ
    خواہم نمود۔ مثل آن کسے کہ از گمراہی سوئے صلاحیت رجوع کرد۔ پس امروز روئے خود سوئے تو وسوئے برادران تو
    از علماء متوجہ کردم۔ وشمارا سوء مہمانی عام خود می خوانم۔ وہمہ باشندگان شہر و جنگل را
    دعوت من است۔ پس برشما لازم است کہ ازین دعوت اعراض مکنید۔ چنانچہ پیش زین یکدفعہ
    انکار کردہ اید۔ چرا کہ این تجویز در صادقان وکاذبان فیصلہ خواہد کرد۔
    وازو نشان خدا تعالیٰ ظاہر خواہد شد۔ وراہ مجرمان مکشوف خواہد گردید۔


    Ruhani Khazain Volume 11. Page: 250
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 250
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=11#page/250/mode/1up


    بید أنی لا أظن أن تحضُروا لفصل ہذہ القضیۃ، والرجاء منقطع
    منک ومن أمثالک فی ہذہ الخطّۃ، فکأنی أستنزل العُصْمَ من المَعاقل،
    أو أطلب الولد من الثاقل۱؂ ، أو أستقری الدُہْن من الحدید، أو أبغی الطِیب
    من الصدید، وأری أنی أرجع إلیکم کالخاطئین، وأضیع وقتی فی سؤالی
    من المحرومین۔ وإنی لم أفعل ذالک لو لم یکن مقصدی إتمام الحجۃ،
    وإظہار الحق علی الخاصۃ والعامۃ۔ وإنی أدعوکم أوّلاً إلی المباہلۃ، فإن لم
    تقبلوا فأدعوکم إلٰی أن یجیئنی أحد منکم لرؤیۃ آیتی ویلبث عندی إلی السنۃ
    الکاملۃ، وإنلم تقبلوا فأدعوکم إلی المناضلۃ فی العربیۃ، بالشریطۃ المذکورۃ
    والآتیۃ، وإن لم تستطیعوا فُرادیٰ فُرادیٰ، فما أضیّق الأمر علی من عادی، بل
    آذن لکم أن یجلس بعضکم بالبعض کالناصرین۔

    مگر من یقین نمی کنم کہ برائے فیصلہ این مقدمہ شما حاضر خواہید شد۔ واز تو واز امثال تو درین کار بزرگ امید
    منقطع است۔ پس گویا کہ من بزہائے کوہی را از بلندی کوہ ہا میخوانم
    یا اززن فرزند مردہ فرزندمی خواہم۔ یا ازآہن دہن را تلاش می کنم۔ یا از زرداب خوشبو
    می جویم۔ ومی بینم کہ این خطا من است کہ سوئے شما متوجہ می شوم۔ وبسوال از محرومان وقت خودرا
    ضائع می کنم۔ ومن این چنین نکردمے اگر مقصد من اتمام حجت واظہار حق نبودے۔
    ومن شمارا اول سوء مباہلہمی خوانم۔ پس اگر قبول نہ کنید
    پس این دعوت می کنم کہ تاسالے کسے از شما نزد من بماند۔ تانشانم بیند۔ واگر این
    ہم قبول نہ کنید۔ پس برائے معارضہ زبان عربی میخوانم۔ بشرطیکہ مذکور است ونیز آئندہ ذکر آن خواہد آمد۔ واگر
    یک یک طاقت ندارید۔ پس بر دشمنان خود امر را تنگ نمی کنم۔ بلکہ شمارا اجازت می دہم
    کہ بعض بعض را مددگار شوند۔
     
    Last edited: ‏جنوری 22, 2018

اس صفحے کو مشتہر کریں