1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

روحانی خزائن جلد 10 ۔ست بچن ۔ یونی کوڈ

'روحانی خزائن ۔ حضرت مسیح موعودؑ ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏اگست 1, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    روحانی خزائن جلد 10۔ ست بچن۔ یونی کوڈ

    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 109
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 109
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 110
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 110
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 111
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 111
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    لائق توجہ گورنمنٹ
    چونکہ سکھ صاحبوں کے بعض اخبار نے اپنی غلط فہمی سے ہمارے رسالہ ست بچن کو ایسا خیال کیا
    ہے کہ گویا ہم نے وہ رسالہ کسی بدنیتی اور دلآزاری کی نیت سے تالیف کیا ہے اس لئے ہم گورنمنٹ کی حضور میں اس بات کو ظاہر کرنا مناسب سمجھتے ہیں کہ یہ رسالہ جو ست بچن کے نام سے
    موسوم ہے نہایت نیک نیتی اور پوری پوری تحقیق کی پابندی سے لکھا گیا ہے۔ اصل غرض اس رسالہ کی ان بے جا الزاموں کا رفع دفع کرنا ہے جو آریوں کے سرگردہ دیانند پنڈت نے بابانانک صاحب پر
    اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں لگائے ہیں۔ اور نہایت نالائق لفظوں اور تحقیر آمیز فقروں میں باوا صاحب موصوف کی توہین اور تحقیر کی ہے۔ پھر اس کے ساتھ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ نہایت قوی اور
    مضبوط دلائل سے ثابت ہوگیا ہے کہ باوا صاحب اپنے کمال معرفت اور گیان کی وجہ سے ہندوؤں کے ویدوں سے بالکل الگ ہوگئے تھے اور انہوں نے دیکھا کہ جس خدا کی خوبیوں میں کوئی نقص اور
    کسی عیب کی تاریکی نہیں اور ہریک جلال اور قدرت اور تقدس اور کامل الوہیت کی بے انتہا چمکیں اس میں پائی جاتی ہیں۔ وہ وہی پاک ذات خدا ہے جس پر اہل اسلام عقیدہ رکھتے ہیں۔ اس لئے انہوں
    نے اپنی کمال خدا ترسی کی وجہ سے اپنا عقیدہ اسلام ٹھہرایا چنانچہ یہ تمام وجوہات ہم اس رسالہ میں لکھ چکے ہیں اور ایسے واضح اور بدیہی طور پر یہ ثبوت دے چکے ہیں کہ بغیر اس کے ماننے
    کے انسان کو بن نہیں پڑتا اور ماسوائے اس کے یہ رائے کہ باوا صاحب اپنی باطنی صفائی اور اپنی پاک زندگی کی وجہ سے مذہب اسلام کو قبول کر چکے تھے صرف ہماری ہی رائے نہیں بلکہ ہماری
    اس کتاب سے پہلے بڑے بڑے محقق انگریزوں نے بھی یہی رائے لکھی ہے اور وہ کتابیں مدت دراز پہلے ہماری اس تالیف سے برٹش انڈیا میں تالیف ہوکر شائع بھی ہو چکی ہیں چنانچہ میں نے بطور
    نمونہ پادری ہیوز کی ڈکشنری کے چند اوراق انگریزی اس رسالہ کے آخر میں شامل کر دئیے ہیں جن میں پادری صاحب موصوف بڑے دعویٰ سے باوا صاحب کا اسلام ظاہر کرتے ہیں۔ اور یہ ڈکشنری
    تمام برٹش انڈیا میں خوب شائع ہو چکی ہے سکھ صاحبان بھی اس سے بے خبر نہیں ہیں اس صورت میں یہ خیال کرنا کہ اس رائے میں میں ہی اکیلا ہوں یا میں نے ہی پہلے اس رائے کا اظہار کیا ہے یہ
    بڑی غلطی ہے ہاں میں نے وہ تمام دلائل جو دوسروں کو نہیں مل سکے اس کتاب میں اکٹھے کر کے لکھ دئیے ہیں جن محقق انگریزوں نے مجھ سے پہلے یہ رائے ظاہر کی کہ باوا صاحب درحقیقت
    مسلمان تھے ان کے پاس کامل دلائل کا ذخیرہ نہ تھا مگر میری تحقیق سے یہ امر بدیہی طور پر کھل گیا اور میں امید رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ عالیہ پادری ہیوز کی اس رائے پر جو بزبان انگریزی کتاب
    ہذا کے آخر میں شامل ہے۔ توجہ فرماوے اور میں سکھ صاحبوں سے اس بات میں اتفاق رکھتا ہوں کہ بابا صاحب درحقیقت خدا تعالیٰ کے مقبول بندوں میں سے تھے اور ان میں سے تھے جن پر الٰہی
    برکتیں نازل ہوتی ہیں اور جو خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے صاف کئے جاتے ہیں اور میں ان لوگوں کو شریر اور کمینہ طبع سمجھتا ہوں کہ ایسے بابرکت لوگوں کو توہین اور ناپاکی کے الفاظ کے ساتھ یاد کریں
    ہاں میں نے تحقیق کے بعد وہ پاک مذہب جس سے سچے خدا کا پتہ لگتا ہے اور جو توحید کے بیان میں قانون قدرت کا ہمزبان ہے اسلام کو ہی پایا ہے سو میں خوش ہوں کہ جس دولت اور صاف روشنی کو
    مجھے دیا گیا مجھ سے پہلے خدا تعالیٰ کے فضل اور عنایت نے باوا صاحب کو بھی وہی دولت دی سو یہ ایک سچائی ہے جس کو میں چھپا نہیں سکتا اور میں اپنا اور باوا صاحب کا اس میں فخر سمجھتا
    ہوں کہ یہ پاک توحید خدا کے فضل نے ہمیں دی۔
    خاکسار غلام احمد قادیانی ۲۰ نومبر ۱۸۹۵ ؁ء
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 112
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 112
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 113
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 113
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    بسمؔ اللہ الرحمن الرحیم
    نَحمدہٗ و نُصلِّی
    جان فدائے آنکہ او جان آفرید
    دل نثارِ آن کہ زوشد دل پدید
    جان ازو
    پیداست زین مے جویدش
    ربّنا اللّٰہ ربّنا اللّٰہ گویدش
    گر وجود جان نبودی زو عیان
    کی شدی مہر جمالش نقش جان
    جسم و جان را کرد پیدا آن یگان
    زین دود دل سوئے اوچون عاشقان
    اونمک
    ہا ریخت اندر جان ما
    جان جان ماست آن جانان ما
    ہر وجودے نقش ہستی زو گرفت
    جان عاشق رنگ مستی زو گرفت
    ہر کہ نزدش خود بخود جانے بود
    او نہ دانا سخت نادانے بود
    گر وجودِ
    ما نہ زان رحمن ُ بدے
    جان ما باجان او یکسان ُ بدے
    آنکہ جان ما بجانش ہمسر است
    جائے ننگ و عار نے پرمیشر است
    ِ سرّ مفہوم خدائی قدرت است
    منکر آن لائقِ صد *** است
    گرندانی صدق این گفتار را
    ہم زنانک بشنو این اسرار را
    گفت ہر نورے زنور حق بتافت
    ہر وجودے نقش خود زان دست یافت
    وید میگوید کہ ہر جان چون خداست
    خودبخود` نے کردۂ رب
    الوریٰ است
    لیکن این مرد خدا اہل صفا
    یعنی باوا نانک
    آنکہ کرد از کذب قومے را رہا
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 114
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 114
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    گفتؔ ‘ ہرجانی ز دستش شد پدید
    قادر است او جسم و جان را آفرید
    فکر کن درگفتہ این عارفان
    رو ‘ چہ نالی ‘
    بہر وید آریان
    بود نانک ‘ عارف و مرد خدا
    راز ہائے معرفت را رہ کشا
    وید زان راہ معارف دور تر
    ’’سادھ کی مہما نجانے‘‘ بے ہنر
    این نصیحت ‘ گر ز نانک بشنوی
    در دو
    عالم ‘ از شقاوت ہا رہی
    او نہ از خود گفت ‘ این گفتار را
    گوش او بشنید این اسرار را
    وید را ‘ از نور حق مہجور یافت
    از خدا ترسید و ‘ راہ نور یافت
    اے برادر ‘ ہم تو سوئے
    او بیا
    دل چہ بندی ‘ در جہان بے وفا
    اما بعد واضح ہو کہ ہم نے عام فائدہ کے لئے یہ رسالہ جس کے مقاصد کا ذیل میں بیان ہے تالیف کیا ہے اور ہماری غرض اس تالیف سے بجز اس کے اور
    کچھ نہیں کہ آریہ لوگ جو آج کل جلتے ہوئے تنور میں پڑے ہوئے ہیں اور زبان کی ناپاکی اور بیباکی میں اس قدر ترقی کر گئے ہیں کہ کسی وقت بھی ان کے دلوں کو خدا تعالیٰ کا خوف نہیں پکڑتا۔ وہ
    اس حقّانی انسان کی راست گفتاری اور راست روی کو غور سے دیکھیں۔ جس کا اس رسالہ میں ذکر ہے اور اگر ہو سکے تو اس کے نقش قدم پر چلیں اور وہ انسان وہی ایک بزرگ دیوتا ہے جو بابر کے
    زمانہ میں پیدا ہو کر خدا تعالیٰ کے دین کی صداقت کا ایک گواہ بن گیا یہ انسان جس کا ابھی ہم ذکر کریں گے عوام ہندوؤں میں سے نہیں ہے بلکہ ایک ایسا شخص ہے جو لاکھوں آریوں نے اس کی نیک
    بختی اور راست گوئی پر مہر کر دی ہے۔ اور وہ ایک اول درجہ کے ان پیشواؤں میں سے شمار کیا گیا ہے جو ہندوؤں میں گذرے ہیں۔ اور غالباً سترہ۱۷ لاکھ کے قریب پنجاب میں اس کے فدا شدہ چیلے
    موجود ہیں۔ اور وہ وہی مظلوم بزرگ ہے جس کی نسبت ناحق پنڈت دیانند آریوں کے پیشرو نے سخت الفاظ استعمال کئے ہیں۔ اور ہم چاہتے ہیں کہ اس کی سوانح کے ضمن میں دیانند کے بے جا
    اعتراضوں اور سب و شتم کا جواب بھی دے دیں اور وہ یہ ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 115
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 115
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    باواؔ نانک صاحب کے کمالات
    اور ان کی
    ہتک عزت کی غرض سے دیانند کی خرافات
    پنجاب میں غالباً ایسا شخص
    کوئی بھی نہیں ہوگا جو باوا نانک صاحب کے نام سے واقف نہ ہو یا ان کی خوبیوں سے بے خبر ہو۔ اس لئے کچھ بھی ضرورت نہیں کہ ہم ان کی سوانح اور طریق زندگی کی نسبت کچھ مفصل تحریر
    کریں۔ لہٰذا صرف اس قدر لکھنا کافی ہے کہ باوا صاحب موصوف ہندوؤں کے ایک شریف خاندان میں سے تھے۔ سن نو سو ۹۰۰ ہجری کے اخیر میں پیدا ہوئے۔ اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اخلاص
    رکھتے تھے اس لئے بہت جلد زہد اور پرہیزگاری اور ترک دنیا میں شہرت پاگئے اور ایسی قبولیت کے مرتبہ پر پہنچ گئے کہ درحقیقت ہندوؤں کے تمام گذشتہ اکابر اور کل رشیوں رکھیوں اور دیوتوں
    میں سے ایک شخص بھی ایسا پیش کرنا مشکل ہے۔ جو ان کی نظیر ثابت ہو۔ ہمارا انصاف ہمیں اس بات کے لئے مجبور کرتا ہے کہ ہم اقرار کریں کہ بیشک باوا نانک صاحب ان مقبول بندوں میں سے تھے۔
    جن کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے نور کی طرف کھینچا ہے۔ اس میں کچھ بھی شبہ نہیں۔ کہ ایک سچی تبدیلی خدا تعالیٰ نے ان میں پیدا کر دی تھی۔ اور حق اور راستی کی طرف ان کا دل کھینچا گیا تھا۔
    ان کے وقت میں بہت سے جاہل اور شوریدہ مغز ہندو موجود تھے۔ جو اپنے تئیں جوگی یا بیراگی یا سنیاسی وغیرہ ناموں سے موسوم کرتے تھے۔ اور چھپی بدکاریوں کے سہارے سے رہبانیت کا جھنڈا
    بہت اونچا کیا ہوا تھا۔ سو باوا صاحب نے اپنی قوم کو یہ بھی اچھا نمونہ دیا کہ انہوں نے جوگی یا بیراگی یا سنیاسی کہلانے سے نفرت کی۔ وہ اس طور کے برہم چرج سے بکلی بیزار تھے۔ جس میں
    خداداد قوتوں کو ناحق ضائع کر کے الٰہی قانون کو توڑ دیا جائے۔ اسی غرض سے انہوں نے باوجود اپنے کمال
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 116
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 116
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    فقر اوؔ ر زہد کے شادی بھی کی تا لوگوں پر ثابت کریں کہ وید کی تعلیم کا یہ مسئلہ ٹھیک نہیں کہ اعلیٰ مرتبہ کا انسان وہی
    ہے جو برہم چرج یعنی رہبانیت اختیار کرے باوا صاحب نیوگ*کے مسئلہ کے بھی سخت مخالف تھے۔ اور وہ ایسے انسانوں کو جو اپنے جیتے جی اپنی منکوحہ پاک دامن کو عین نکاح کی حالت میں
    اولاد کے لئے یا شہوت فرو کرانے کیلئے دوسروں سے ہم بستر کراویں سخت بے حیا اور د ّ یوث اور ناپاک طبع سمجھتے تھے۔ چنانچہ ان کے ُ پر برکت اشعار ان باتوں پر شہادت دے رہے ہیں جن کو
    ہم انشاء اللہ تعالیٰ کسی دوسرے رسالہ میں مفصل تحریر کریں گے۔ اور اس بارے میں تمام عمل ان کا اسلامی تعلیم کے موافق ہے اور یہ دوسری دلیل اس بات پر ہے کہ وہ وید کی تعلیموں سے سخت
    بیزار تھے۔ اور اسی وجہ سے وہ برہمنوں کے ساتھ ہمیشہ مباحثوں اور مناقشوں میں مصروف رہتے تھے۔ اور کچھ دیانند ہی نے ان کی نسبت بدزبانی نہیں کی بلکہ اس زمانہ میں بھی اکثر نالائق پنڈت ان
    کے دشمن ہوگئے تھے۔ اور اگر اس زمانہ میں ایک گروہ کثیر باوا صاحب کے ساتھ بھی ہم خیال ہو جاتا تو کچھ شک نہیں کہ ان نزاعوں کا ایک بڑے کشت و خون تک انجام ہوتا۔ اور گو باوا صاحب نہایت
    شدت کے ساتھ ایسے مباحثوں میں مصروف تھے۔ اور وید کی رسموں ہوم وغیرہ کو نہایت ناچیز خیال کرتے تھے مگر تاہم چونکہ وہ اکیلے تھے لہٰذا شور و شر کے وقت جاہلوں سے کنارہ کرتے تھے۔
    اور یہ امر حق اور واقعی ہے کہ ان کا دل اس الٰہی محبت سے رنگین ہوگیا تھا جو محض فضل سے ملتی ہے نہ اپنے کسب سے۔ ان کو وہ تمام باتیں بری معلوم ہوتی تھیں جو حق اور حقیقت کے برخلاف
    ہوں۔ ان کا
    وید کی خاص تعلیموں میں سے ایک نیوگ بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر کسی ہندو کے گھر میں اولاد نہ ہو اور کسی وجہ سے مرد ناقابل اولاد ہو مثلاً اس کی منی پتلی ہو۔ یا منی میں کیڑے
    نہ ہوں یا وہ کیڑے کمزور ہوں یا انزال ہی نہ ہوتا ہو یا کسی اور طبی وجہ سے مرد عقیمہ کی طرح ہو یا ہیجڑہ ہو یا لڑکیاں ہی پیدا ہوتی ہوں تو ان سب صورتوں میں وید کی یہ تعلیم ہے کہ مرد اولاد کی
    خواہش سے اپنی عورت کو دوسرے سے ہم بستر کراوے اور اگر کسی جگہ مرد نوکر ہو اور تین برس تک گھر میں نہ آوے گو خرچ بھیجتا ہو۔ اور خط بھی بھیجتا ہو۔ تو اس صورت میں بھی اگر عورت
    کو شہوت غلبہ کرے تو کچھ ضرور نہیں کہ وہ اپنے خاوند کے پاس جاوے بلکہ اپنے اختیار سے کسی دوسرے سے ہم بستر ہو جاوے۔ آریہ دھرم میں اس کا سب ثبوت موجود ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 117
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 117
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    دلؔ محض بناوٹی رسموں اور خود تراشیدہ ریتوں پر راضی نہیں ہوتا تھا۔ اور اس مصفّٰی پانی کے وہ خواہشمند تھے کہ جو
    حقیقت کے چشمہ سے بہتا اور روحانیت کے رنگ سے رنگین ہوتا ہے اس لئے کبھی وہ ان بیراگیوں اور جوگیوں اور سنیاسیوں پر راضی نہ ہوئے۔ جو محض رسم پرستی اور ایک باطل قانون کی پیروی
    سے بیہودہ تخیلات میں دماغ سوزی کر کے اپنی اوقات خراب کیا کرتے تھے۔ باوا صاحب بہت زور لگاتے تھے کہ ہندوؤں میں کوئی روحانی حرکت پیدا ہو اور وہ بیہودہ رسموں اور باطل اعتقادوں سے
    دستکش ہو جائیں۔ اور اسی لئے وہ ہمیشہ برہمنوں کے منہ سے سخت سست باتیں سنتے اور برداشت کرتے تھے۔ مگر افسوس کہ اس سخت دل قوم نے ایک ذرہ سی حرکت بھی نہ کی اور باوا صاحب
    ہندوؤں کی رفاقت سے اس قدر نا امید ہوگئے کہ ان کو اپنے معمولی سفروں کے لئے بھی دو ایسے ہندو خادم نہ مل سکے کہ ان کے خیالات کے موافق ہوں *۔
    پس یہ مقام بھی سوچنے کے لائق ہے
    کہ کیوں ہندوؤں نے باوا نانک صاحب سے اور باوانانک صاحب نے ہندوؤں سے انس نہ کیا اور تمام عمر مسلمانوں سے ہی مانوس رہے اور اسلامی ملکوں کی طرف ہی سفر کرتے رہے۔ کیا اس سے یہ
    نتیجہ نہیں نکلتا کہ باوا صاحب ہندوؤں سے قطع تعلق کر چکے تھے۔ کیا ہندوؤں میں اس کی کوئی نظیر مل سکتی ہے کہ کوئی شخص ہندو ہو کر اپنے تمام تعلقات مسلمانوں سے قائم کرلے۔
    یہ کہنا
    بھی دشنام دہی سے کچھ کم نہیں کہ باوانانک صاحب نے اسلامی سلطنت کا عروج دیکھ کر مسلمانوں کے ساتھ مداہنہ کے طور پر میل ملاپ کر لیا تھا۔ کیونکہ مداہنہ ایک نفاق کی قسم ہے۔ اور نفاق نیک
    انسانوں کا کام نہیں۔ مگر باوا صاحب کی یک رنگی ایسے دلوں پر واضح ہے جس سے ایک فرد بھی انکار نہیں کر سکتا۔ باوا صاحب ایک سیدھے سادے اور صاف دل آدمی تھے۔ اور ایک سچے مسلمان کی
    طرح ان کے عقائد تھے۔ وید کی تعلیم کی طرح ان کا یہ مذہب نہ تھا کہ تمام روحیں اور اجسام خودبخود چلی آتی ہیں۔ بلکہ انہوں نے اس عقیدہ کا بہت زور سے رد کیا ہے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 118
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 118
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    اور اؔ ن کے گرنتھ کو غور سے پڑھنے والے اس بات کو جانتے ہیں کہ ان کا یہ مذہب ہرگز نہیں تھا جو آج کل آریہ لوگ پیش
    کر رہے ہیں۔ یعنی یہ کہ کل جیو قدیم اور خودبخود چلے آتے ہیں ان کا کوئی خالق نہیں بلکہ باوا صاحب اپنے گرنتھ کے کئی مقام میں بتلا چکے ہیں کہ جو آپ ہی آپ بغیر کسی موجد کی ایجاد کے
    موجود ہے وہ صرف پرمیشر ہے اور دوسری سب چیزیں اس کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ ایک چیز بھی ایسی نہیں جو اس نے پیدا نہیں کی اس سے صاف کھل گیا کہ باوا صاحب اپنی سچی معرفت کے زور سے
    ہندوؤں کے ویدوں سے دست بردار ہوگئے تھے۔ اور خدا تعالیٰ کی طرف سے باوا صاحب کو وہ روشنی ملی تھی کہ اگر ویدوں کے رشیوں کی نسبت ثابت کرنا چاہیں تو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ امر
    غیر ممکن ہوگا۔ جب ہم سوچتے ہیں کہ باوا صاحب کے گرنتھ میں کیسی کیسی گیان کی باتیں بھری ہوئی ہیں۔ اور کس قدر باریک معارف کی طرف اشارے پائے جاتے ہیں تو اس کے مقابل پر دیانند کی
    کتابیں ایک مکروہ بھوتنے کی طرح نظر آتی ہیں۔ تو پھر ساتھ ہی اس بات کے تصور سے رونا آتا ہے کہ یہ نالائق ہندو وہی شخص ہے۔ جس نے اپنے پنڈت ہونے کی شیخی مار کر باوا صاحب کو نادان اور
    گنوار کے لفظ سے یاد کیا ہے۔ کیا کوئی یقین کر سکتا ہے کہ جس شخص کے منہ سے ایسے گیان اور معارف کی باتیں نکلیں وہ گنوار یا نادان ہے۔ یہ کیسی ناپاکی طینت ہے کہ پاک دل لوگوں کو جھٹ
    زبان پھاڑ کر برا کہہ دیا جائے۔ آریہ اس بات کو یاد رکھیں تو اچھا ہو کہ دیانند صرف ایک جسمانی خیالات کا آدمی تھا۔ اور ان کتابوں کی تاریکی میں مبتلا تھا جن میں ہر طرح کی برائیاں ہیں۔ اور ایک
    ایسے مذہب کی خاطر جس کی آج تک کوئی خوبی بجز نیوگ اور مخلوق پرستی کے ثابت نہیں ہوئی۔ ناحق بزرگوں اور مہاتما لوگوں کی نندیا کر کے گذر گیا۔ لہٰذا کوئی نیک طینت انسان اس کو اچھا نہیں
    کہتا۔ لیکن باوانانک صاحب تو وہ شخص تھے جن پر اس وقت بیس لاکھ کے قریب انسان جان فدا کر رہے ہیں *۔ یہ بات بالکل سچی ہے کہ باوا صاحب کی ذات میں اس قدر خوبیاں اور نیکیاں جمع تھیں کہ
    دیانند کی
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 119
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 119
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    سارؔ ی زندگی میں ان کی ایک نظیر بھی تلاش کرنا بے فائدہ ہے۔ جس وقت ہم دیانند اور باوا صاحب کی زندگی کا باہم مقابلہ
    کرنا چاہتے ہیں۔ تو ہمیں شرم اور انصاف ہاتھ پکڑ کر روک دیتے ہیں کہ کس کا کس کے ساتھ مقابلہ کیا جاتا ہے۔ دیانند کی سوانح تو وہی سچی معلوم ہوتی ہے جو پچھلے سالوں میں برہموں صاحبوں نے
    شائع کی تھی جس کے لکھنے سے بھی ہمیں شرم آتی ہے لیکن باوا صاحب تو حق اور سچائی سے بھرپور معلوم ہوتے ہیں۔ پھر نہایت ظلم ہے کہ ایک تہی باطن شخص ان کی تحقیر اور توہین میں بڑھتا
    چلا جائے۔ کیا ہریک سچے معتقد کو اس مقام میں غیرت مندی دکھلانا ضروری نہیں۔ کیا اب باوا صاحب باوجود لاکھوں فدا شدہ سکھوں کے غریب اور اکیلے رہ گئے۔ کیا کسی کو ان کی پاک عزت کے
    لئے جوش نہیں‘ بیشک جوش ہوگا مگر اب تک باوا صاحب کے غلاموں کو ان ناپاک الفاظ کی خبر ہی نہیں۔ دیانند کا یہ کہنا کہ باوا صاحب وید کو نہیں مانتے بلکہ جابجا اس کی نندیا کرتے ہیں۔ عجیب
    بیوقوفی ہے کیونکہ جبکہ باوا صاحب نے اپنی روشن ضمیری اور اپنے گیان سے معلوم کرلیا کہ وید کچھ بھی چیز نہیں تو کیوں وہ ناراستی کی راہ اختیار کرتے۔ وہ نعوذ باللہ دیانند کی طرح جہالت اور
    بخل کی تاریکی میں مبتلا نہ تھے اور نہ ہونا چاہتے تھے۔ خدا نے ان کو اس پاک کلام کی برکت
    سے جو چولاصاحب پر لکھا ہوا
    اب تک پایا جاتا ہے وہ علم عطا کیا تھا جس سے دیانند بے نصیب آیا
    اور بے نصیب ہی گیا۔ باوا صاحب اپنا پاک چولا وصیت نامہ کے طور پر اپنی یادگار چھوڑ کر ایک سچا اور حقیقی پیغام دنیا کو پہنچا گئے۔ اب جس کی آنکھیں دیکھ سکتی ہیں وہ دیکھے اور جس کے کان
    سن سکتے ہیں وہ سنے۔ باوا صاحب کی تمام باتوں کا مخرج وہی نور تھا۔ جس کو وہ ایک سوتی کپڑے پر قدرتی حرفوں سے لکھا ہوا حق کے طالبوں کے لئے چھوڑ گئے۔ درحقیقت وہی آسمانی چولا قدرت
    کے ہاتھ کا لکھا ہوا ازلی ھادی کے فضل سے ان کو ملا تھا جس سے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 120
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 120
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    اسؔ کمال تک پہنچ گئے جس کو دنیا کی آنکھیں دیکھ نہیں سکتیں بلکہ دنیا نہیں چاہتی کہ اس نور کا ایک ذرہ بھی پرتوہ ان کے
    دلوں پر پڑے۔ باوا صاحب ایسے وقت میں ظہور فرما ہوئے تھے کہ جب ہندوؤں کی روحانی حیات بالکل بے حس و حرکت ہوگئی تھی۔ بلکہ اس ملک میں مسلمانوں میں سے بھی بہت سے لوگ صرف نام
    کے ہی مسلمان تھے اور فقط ظاہر پرستی اور رسوم میں مبتلا تھے۔ پس ایسے وقت میں خدا تعالیٰ نے باوا صاحب کو حق اور حقیقت طلبی کی روح عطا کی جبکہ پنجاب میں روحانیت کم ہو چکی تھی۔
    اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ بلاشبہ ان عارفوں میں سے تھے جو اندر ہی اندر ذات یکتا کی طرف کھینچے جاتے ہیں۔ اگرچہ ہمیں ان کی ابتدائی زندگی کے حالات اچھی طرح معلوم نہیں۔ لیکن اس میں
    بھی شک نہیں کہ ان کا خاتمہ ایک ایسے صراط مستقیم پر ہوا جس کے رو سے ہریک مومن متقی پر فرض ہے کہ ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھے اور پاک جماعت کے رشتہ میں ان کو داخل سمجھے
    افسوس کہ آریوں کے پنڈت دیانند نے اس خدا ترس بزرگ کی نسبت اس گستاخی کے کلمے اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں لکھے ہیں جس سے ہمیں ثابت ہوگیا کہ درحقیقت یہ شخص سخت دل سیاہ اور
    نیک لوگوں کا دشمن تھا۔ کاش اگر وہ باوا صاحب کا چیلہ نہ بن سکا تو بارے یہ تو چاہئے تھا کہ بلحاظ ایک مقتدائے قوم کے ان کی عزت کا لحاظ رکھتا مگر ایسے جاہلوں کا ہمیشہ سے یہی اصول ہوتا
    ہے کہ وہ اپنی بزرگی کی پٹری جمنا اسی میں دیکھتے ہیں کہ ایسے بزرگوں کی خواہ نخواہ تحقیر کریں۔ اس ناحق شناس اور ظالم پنڈت نے باوا صاحب کی شان میں ایسے سخت اور نالائق الفاظ استعمال
    کئے ہیں جن کو پڑھ کر بدن کانپتا ہے۔ اور کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ اور اگر کوئی باوا صاحب کی پاک عزت کے لئے ایسے جاہل بے ادب کو درست کرنا چاہتا تو تعزیرات ہند کی دفعہ ۵۰۰ اور ۲۹۸ موجود
    تھی۔ مگر نہ معلوم کہ غیرت مند سکھوں نے ایسے یاوہ گو کی گوشمالی کے لئے کیوں عدالت سے چارہ جوئی نہ کی۔ غالباً انہوں نے عمدًاحلم اور برداشت کو قرین مصلحت سمجھایا اب تک دیانند کی
    بدزبانیوں کی خبر ہی نہیں معلوم ہوتا ہے کہ دیانند نے باوا صاحب کے حالات کو اپنے نفس پر خیال کرلیا۔ چونکہ برہمن لوگ جو چار حرف سنسکرت
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 121
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 121
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    کےؔ بھی پڑھ جاتے ہیں پرلے درجہ کے متکبر اور ریاکار اور خود بین اور نفسانی اغراض سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور
    نیز بباعث گم گشتہ طریق اور غبی ہونے کے نادان بھی پرلے سرے کے اس لئے اس نے باوا صاحب کے حالات کو اپنے نفس کے حالات پر قیاس کر کے بکواس کرنا شروع کر دیا۔ اور اپنے خبث مادہ
    کی وجہ سے سخت کلامی اور بدزبانی اور ٹھٹھے اور ہنسی کی طرف مائل ہوگیا۔ اس لئے ہریک محقق جو باوا صاحب سے محبت رکھتا ہے نہ صرف اپنی طرف سے بلکہ اسی نادان پنڈت کے اشتعال دہی
    کی وجہ سے یہ حق رکھتا ہے کہ سچے واقعات کے اظہار سے اس کی پردہ دری بھی کرے۔ اور صاحبو ہم اس بات کے کہنے سے ہرگز رک نہیں سکتے کہ جو حقیقی معرفت کا حصہ باوا صاحب کو
    ملا تھا اس سے یہ خشک دماغ پنڈت بکلی بے نصیب اور بے بہرہ تھا۔ ہریک کو یہ مان لینا ضروری ہے کہ باوا صاحب کو اس لطیف عقل میں سے عنایت ازلی نے حصہ دے دیا تھا۔ جس کے ذریعہ سے
    انسان روحانی عالم کی باریک راہوں کو دیکھ لیتا اور اس حق ذات کی محبت میں ترقی کرتا اور اپنے تئیں ہیچ اور ناچیز سمجھتا ہے مگر کیا اس عقل سے اس پنڈت کو بھی کچھ حصہ ملا تھا۔ ہرگز نہیں۔
    اس کی کتابوں کے دیکھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ نہایت ہی موٹی سمجھ کا آدمی اور باایں ہمہ اول درجہ کا متکبر بھی تھا۔ باوا نانک کی طرف جو تعلیمیں منسوب کی جاتی ہیں ان میں سے ٹھیک ٹھیک ان
    کی تعلیم وہی ہے جو توحید اور ترک دنیا پر مشتمل ہے اور جو مشرکانہ خیالات یا کہانیاں اور خلاف حق باتیں ہیں۔ وہ ان کی طرف ہرگز منسوب نہیں ہو سکتیں۔ ہم کو اقرار کرنا چاہئے کہ باوا صاحب نے
    اس سچی روشنی پھیلانے میں جس کے لئے ہم خدمت میں لگے ہوئے ہیں وہ مدد کی ہے کہ اگر ہم اس کا شکر نہ کریں تو بلاشبہ ناسپاس ٹھہریں گے۔ یہ بات ہمیں تخمیناً تیس برس کے عرصہ سے معلوم
    ہے کہ باوا صاحب الٰہی دین کے ایک پوشیدہ خادم تھے اور ان کے دل میں ایک سچا نور تھا جس کو انہوں نے نا اہلوں سے چھپا رکھا تھا۔ ان کے دل میں ان باتوں کا ایک گہرا یقین ہوگیا تھا کہ دنیا میں ایک
    اسلام ہی مذہب ہے جس میں خدائے واحد لاشریک
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 122
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 122
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    کیؔ وہ تعظیم اور وہ ثنا ہے کہ جو اس کے افعال کی عظمت پر نگاہ کر کے اس کے لئے واجب ٹھہرتی ہے اور ایسا ہی وہ
    پاک اور صاف صاف توحید ہے جس پر صحیفہ قدرت گواہی دے رہا ہے ان کے دل میں یہ بھی یقین ہوگیا تھا کہ قرآنی تعلیم ایسے احکام پر مشتمل ہے جن کا ماننا ایک نیک انسان بن جانے کو لازم پڑا ہوا
    ہے مثلاً جو شخص شراب خواری سے جو شہوت رانی اور عیاشیوں کی جڑھ ہے رک جائے قماربازی سے دست بردار ہو اور عورت مرد کے ناجائز میل جول حتّٰیکہ ایک دوسرے پر نظر ڈالنے سے
    کنارہ کش ہو اور حرام خوری اور رشوت اور سود خوری سے پرہیز کرے اور نا انصافی اور جھوٹ اور غرور اور اسراف اور دنیا پرستی اور خود غرضی اور حرام کاری اور ریاکاری سے دور رہے
    اور عبادت اور محبت الٰہی میں سرگرم ہو اور اپنے دن رات کو ذکر الٰہی سے معمور رکھے اور صلہ رحم اور مروت اور ہمدردی بنی نوع اس کی عادت ہو اور توحید اور لا الٰہ الا اللّٰہ اس کا مذہب ہو
    اور خدا تعالیٰ کو ہریک فیض کا مظہر جانے نہ کہ روحوں کو مع ان کی تمام قوتوں کے اپنے وجود کا آپ خدا سمجھے اور اس غیر مرئی اور غیب الغیب اور غیر محدود طاقتوں والے خدا پر ایمان لاوے
    جس کے پکڑنے اور مصلوب کرنے کیلئے کسی دشمن کے ہاتھ لمبے نہیں ہو سکتے اور نیز زنا اور بے حیائی اور دیوثی سے مجتنب ہو اور پرہیزگاری اور جوان مردی کے اعلیٰ مراتب پر قائم ہو بلکہ
    اس کے مذہب میں کسی ناجائز محل شہوت پر دیکھنا بھی حرام ہو کہ تا دل ناجائز خیالات میں مبتلا نہ ہو جائے اور آخرت کو دنیا پر مقدم رکھے اور حق اللہ اور حق العباد میں ایک ذرہ فتور نہ کرے
    جیسا کہ یہ سب تعلیمیں قرآن میں موجود ہیں۔ تو اس میں کیا شک ہے کہ وہ ایک نیک اور موحد انسان بن جائے گا۔ مگر کیا کسی دوسرے مذہب کی کتاب نے التزام اور تکمیل سے ان تعلیموں کو لکھا ہے
    ہرگز نہیں۔ پس یہ وہی بات تھی جو باوا صاحب کے حق پسند دل پر کھل گئی اور انہوں نے دیکھ لیا کہ کتاب اللہ صرف قرآن ہی ہے۔ اور باقی سب کتابیں تاریکی میں پڑی ہوئی ہیں۔ لہٰذا اسلام کی پاک
    روحانیت ان کے دل میں گھر کر گئی۔ اور نہ صرف اسی قدر بلکہ انہوں نے اس کے نمونے بھی دیکھے اور اس پاک نبی سے آسمانی نور حاصل کرنے والے ستاروں کی طرح
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 123
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 123
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/123/mode/1up
    چمکتےؔ ہوئے مشاہدہ بھی کئے اور درحقیقت یہ سب اسلام کے حقیقی اور روحانی حسن کا نتیجہ تھا کہ جس کی زبردست
    کششوں نے باوا صاحب جیسے صاف باطن رشی کو اس پاک دین کی طرف جھکا دیا۔ برخلاف اس کے جب باوا صاحب نے ویدوں کی تعلیم اور ان کے پیروؤں پر نظر ڈالی تو وہاں بالکل اس پاک تعلیم کے
    برخلاف پایا وہ ویدوں سے کوئی برکت حاصل کرنے سے بکلی نومید ہوگئے۔ اور صاف طور پر انہوں نے بار بار گواہی دی کہ وید روحانی برکتوں سے خالی ہیں چنانچہ ان گواہوں میں سے ایک یہ شعر
    بھی ہے۔ جس پر دیانند نے بہت ہی سیاپا کیا اور ناحق ایسے بزرگ کو گالیاں دی ہیں جس کی نظیر اس کے بزرگوں میں ایک بھی نہیں اور وہ شعر جس کے سننے سے دیانند جل گیا یہ ہے۔
    ’’وید
    پڑھت برہما مرے چاروں وید کہانی‘‘
    ’’سادھ کی مہما وید نجانی‘‘
    یعنی برہما بھی ویدوں کو پڑھ کر مرگیا اور حیات جاودانی حاصل نہ کی۔ چاروں وید سراسر کہانی اور محض یاوہ گوئی
    ہے جن میں کچھ بھی ودیا نہیں۔ اور وہ اُستت اور مہما پرمیشر کی جو عارف بیان کیا کرتے ہیں۔ اور وہ خوبیاں ایشر کی جو سچوں کو معلوم ہوتی ہیں ویدوں کو ان کی کچھ بھی خبر نہیں۔ اگر یہ سوال کیا
    جائے کہ ایسے کلمات باوا صاحب کیوں منہ پر لائے تو اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ باوا صاحب نے وید کو اس کی واقعی رنگت میں دیکھ لیا تھا اور انہیں معلوم ہو چکا تھا کہ ویدوں میں بجز آفتاب
    پرستی اور عناصر پرستی اور ناپاک رسموں کے اور کچھ بھی نہیں۔ اور وہ خوب جانتے تھے کہ جو کچھ اس ملک میں اس قسم کی شرک پائی جاتی ہیں۔ ان تمام گندی نالیوں کا اصل مبدا وید ہی ہے۔ اور وہ
    حق گوئی کی راہ میں ایسے دلیر تھے کہ سچ کہنے کے وقت کسی سے نہیں ڈرتے تھے۔ اس لئے ایسے شعر اُن کے منہ سے نکل گئے۔ اور بلاشبہ یہ بات صحیح ہے کہ ان کو دیانند کی نسبت زیادہ اور
    وسیع تجربہ ویدوں کے بارے میں حاصل تھا۔ اور سچے گیان سے ان کا دل بھر گیا تھا کیونکہ دینی امور میں سچا اور پاک تجربہ اسی کو حاصل ہوتا ہے جو سچے دل سے خدا تعالیٰ کو ڈھونڈتا ہے اور
    ہریک پکش بات کا پلید چولہ اپنے پر سے اتار کر ایک پاک چولہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 124
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 124
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/124/mode/1up
    انصاؔ ف اور حق جوئی کا پہن لیتا ہے تب باوا صاحب کی طرح آسمانی چولا اس کے لئے اترتا ہے جس پر پاک کلام قدرت
    سے لکھا ہوا ہوتا ہے۔ مگر دیانند نے نہ چاہا کہ اس پلید چولے بخل اور تعصب کو اپنے بدن پرسے دفع کرے۔ اس لئے پاک چولا اس کو نہ ملا اور سچے گیان اور سچی ودیا سے بے نصیب گیا۔ باوا
    صاحب نے جوانمردی سے سفلی زندگی کا چولا پھینک دیا۔ اس لئے وہ آسمانی چولا ان کو پہنایا گیا۔ جس پر قدرت کے ہاتھ نے گیان اور معرفت کی باتیں لکھی ہوئی تھیں اور وہ خدا کے منہ سے نکلی
    تھیں۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ جس زبان میں باوا صاحب نے پرورش پائی تھی۔ وہ زبان ویدک سنسکرت سے بہت ہی ملتی تھی۔ اور دراصل وہ تھوڑے تغیر کے بعد ویدک سنسکرت ہی تھی۔ جیسا کہ ہم نے
    کتاب منن الرحمن میں تحقیق اَلْسنہ کے تقریب میں بہت وضاحت کے ساتھ اس مطلب کو لکھا ہے۔ لہٰذا باوا صاحب کو وید کے پڑھنے میں بہت ہی آسانی تھی گویا انہیں کی زبان میں وید تھا۔ اس لئے جو
    کچھ ان کو وید کی اصل حقیقت جاننے میں بہت کچھ موقعہ ملا اور ساتھ اس کے عارفانہ طبیعت کی زیرکی نے بھی مدد دی۔ یہ موقعہ ایسے پنڈت کو کہاں مل سکتا تھا جو ناحق کے تعصب اور فطرتی
    غباوت میں غرق تھا۔ اور دیانند کا نربھو کے لفظ کو پیش کرنا کہ دراصل یہ نربھے ہے اور اس سے باوا صاحب کی جہالت ثابت کرنا نہایت سفلہ پن کا خیال ہے کیونکہ باوا صاحب کا اس کتاب میں
    ویدک سنسکرت پیش کرنا ارادہ نہ تھا۔ افسوس کہ اس زود رنج پنڈت نے ایک ادنیٰ لفظی تغیر پر اس قدر احمقانہ جوش دکھلایا حالانکہ جائز تھا کہ باوا صاحب نے دراصل نربھے ہی لکھا ہو اور پھر سہو
    کاتب سے نربھو ہوگیا ہو۔ اگر اس قدر سہو کاتب ماننے کے لائق نہیں اور خواہ نخواہ باوا صاحب کو ہی ملزم کرنا ہے تو پھر دیانند کے پاس اس بات کا کیا جواب ہے جو اس نے اپنی پہلی ستیارتھ
    پرکاش میں بہت سے امور کو اپنے مذہب کی تعلیم قرار دیا اور جب چاروں طرف سے اعتراض اٹھے۔ اور جواب بن نہ پڑا تو یہ بہانہ بنایا کہ یہ میرا مذہب نہیں یہ کاتب نے آپ لکھ دیا ہوگا۔ اب کوئی
    سوچے کہ کاتب تو صرف ایک لفظ یا دو لفظ کو کم و بیش کر سکتا ہے۔ نہ یہ کہ کئی ورق کاتب اپنی طرف سے لکھے اور
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 125
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 125
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/125/mode/1up
    وہ ؔ چھپ بھی جائیں اور دیانند کو خبر نہ ہو۔ پس یہ بھی ایک باوا صاحب کی کرامت ہے کہ دیانند نے ایک لفظ کا ان پر الزام
    دینا چاہا اور خود اس پر کئی ورقوں کا الزام آگیا۔ علاوہ اس کے باوا صاحب کو حقائق سے بحث اور غرض تھی وہ ناچیز برہمنوں اور کم ظرف پنڈتوں کی طرح صرف الفاظ پرست نہیں تھے۔ اور غالباً
    وہ ان لفظی نزاعوں میں جو برہمنوں کے فرقوں میں ادنیٰ ادنیٰ باتوں میں ہوا کرتی ہیں کبھی نہیں پڑے۔ اور نہ اس جنس کے سفلی خیالات کی ان کے روح میں استعداد تھی۔ دیانند کو باوا صاحب کی تحقیر
    کے وقت شرم کرنی چاہئے تھی کیونکہ وہ خود ایسے موٹے خیالات اور غلطیوں میں گرفتار تھا کہ دیہات کے گنوار بھی اس سے بمشکل سبقت لے جا سکتے تھے۔ دیانند نے باوا صاحب کی باتوں پر
    انصاف کی نظر سے غور نہیں کی۔ اور اپنے نہایت درجہ کے بخل سے ان کے معارف کو چھپانا چاہا۔ اس کی بات بات سے یہ ٹپکتا ہے کہ اس نے نہ صرف بخل اور حق پوشی کی راہ سے بلکہ
    شرارت سے بھی ایک ناجائز حملہ باوا صاحب پر کیا ہے۔ ہم مناسب دیکھتے ہیں کہ مختصر طور پر اس پرچہ میں اس حملہ کا جواب دیدیں۔ چنانچہ ذیل میں بطور قولہ و اقول کے لکھا جاتا ہے۔
    منقول
    از صفحہ ۷۸۶ ستیارتھ پرکاش
    قولہ۔ نانک جی کا آش تو اچھا تھا ۱؂۔ پر ودیا کچھ بھی نہیں تھی۔ یعنی نانک جی جو خدا طلبی اور فقر کے خیال میں لگ گئے یہ خیال تو اچھا تھا مگر علم سے بالکل بے
    بہرہ تھے۔ اقول۔ دیانند کے اس حملہ سے اصل غرض یہ ہے کہ فقر اور جوگ پوری ودیا کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ اور نانک جی علم سے بکلی بے نصیب تھے۔ اس لئے خدا شناسی کا دعویٰ بھی
    صحیح نہیں تھا لیکن یقیناً سمجھنا چاہئے کہ باوا صاحب پر جہالت کا الزام دینے سے خود دیانند نے اپنی پردہ دری کرائی ہے اصل حقیقت یہ ہے کہ دینی علم اور آسمانی معارف جن کا جاننا فقرا کے
    لئے ضروری ہے وہ اس طور سے حاصل نہیں ہوا کرتے جس طور سے دنیوی علم حاصل ہوتے ہیں دنیوی علموں میں کچھ بھی ضروری نہیں کہ انسان ان کی تحصیل کے وقت ہر قسم کے فریب اور
    جعل اور چالاکی
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 126
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 126
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/126/mode/1up
    اور ناؔ پاکی کی راہوں کو چھوڑ دے۔ لیکن دینی علم اور پاک معارف کے سمجھنے اور حاصل کرنے کیلئے پہلے سچی
    پاکیزگی کا حاصل کرلینا اور ناپاکی کی راہوں کا چھوڑ دینا ازبس ضروری ہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے ۱؂ یعنی خدا کی پاک کتاب کے اسرار کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جو پاک دل
    ہیں او رپاک فطرت اور پاک عمل رکھتے ہیں۔ دنیوی چالاکیوں سے آسمانی علم ہرگز حاصل نہیں ہو سکتے پس اگر علوم سے یہی فریب اور تزویر اور انسانی منصوبہ بازیاں اور بخل اور باطل پرستی
    مراد ہے تو ہم بھی دیانند صاحب سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ سب علوم انہیں کو نصیب ہوئے اور باوا صاحب کو حاصل نہ تھے اور اگر علوم سے وہ علوم مراد ہیں جو تقویٰ اور ریاضت اور جوگ اور
    پاک دلی سے حاصل ہوتے ہیں اور پرہیزگار انسانوں پر ہی کھلتے ہیں تو اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ باوا صاحب ان علوم کی روشنی سے منور کئے گئے تھے۔ مگر دیانند ان پاک معارف سے بالکل بے
    خبر تھا اور بے خبر ہی مرگیا۔
    قولہ۔ وید آدی شاستر اور سنسکرت کچھ بھی نہیں جانتے تھے جو جانتے ہوتے تو نربھی شبد کو نربھو کیوں لکھتے۔ اقول۔ یہ صرف تکبر اور خود پسندی کی وجہ سے
    ایک بدگمانی ہے۔ اگر یہ بات سچی ہوتی تو یہ الزام دینا ان پنڈتوں کا حق تھا۔ جو باوا صاحب کے زمانہ میں موجود تھے ہم نے تو سنا ہے کہ باوا صاحب جس پنڈت سے بحث کرتے تھے اس کو لاجواب
    اور ساکت کر دیتے تھے۔ باوا صاحب کے گرنتھ پر غور کرنے والوں پر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ ویدوں کے ان اصولوں سے باوا صاحب نے صاف انکار کر دیا ہے جن کو سچائی کے مطابق نہیں پایا۔ مثلاً
    ویدوں کے رو سے تمام ارواح اور ذرات غیر مخلوق اور انادی ہیں۔ لیکن باوا صاحب کے نزدیک تمام ذرات اور ارواح مخلوق ہیں۔ جیسا کہ وہ فرماتے ہیں۔
    اول اللہ نور اُپایا قدرت کے سب بندے اک نور
    سے سب جگ الجھا کون بھلے کون مندے
    یعنی خدا تعالیٰ نے ایک نور پیدا کر کے اس نور سے تمام کائنات کو پیدا کیا۔ پس پیدائش کی رو سے تمام ارواح نوری ہیں یعنی نیک و بد کا اعمال سے فرق پیدا
    ہوتا ہے ورنہ باعتبار خلقت ظلمت
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 127
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 127
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/127/mode/1up
    محض کوئی بھی پیدا نہیں کیا گیا۔ ہریک میں نور کا ذرہ مخفی ہے۔ اس میں باواصاحب نے آیت
    سے اقتباس کیا ہے۔ اسی لئے
    اللہ اور نور کا لفظ شعر میں قائم رہنے دیا۔ تا اقتباس پر دلالت کرے۔ اور نیز حدیث اول ماخلق اللہ نوری کی طرف بھی اس شعر میں اشارہ کیا ہے اور یہی باوا صاحب کی عادت تھی کہ قرآن شریف کے
    بعض معارف ہندی زبان میں ترجمہ کر کے لوگوں کو فائدہ پہنچاتے چنانچہ ان کے اشعار میں صدہا قرآنی آیتوں کا ترجمہ موجود ہے۔ اسی طرح باوا صاحب کا ایک شعر یہ ہے۔
    جنہاں درشن اِت ہے
    اُہناں درشن اُت جنہاں درشن اِتْ نا اُنہاں اِتْ نہ اُت
    ترجمہ یہ ہے کہ جو لوگ اس جہان میں خدا کا درشن پا لیتے ہیں وہ اس جہان میں بھی پالیتے ہیں۔ اور جو نہیں پاتے وہ دونوں جہانوں میں اس کے
    درشن سے بے نصیب رہتے ہیں۔ اور یہ شعر بھی اس آیت قرآن کا ترجمہ ہے۔
    قولہ ۔چاہتے تھے کہ میں سنسکرت میں بھی پگ اڑاؤں۔ پرنتو بنا پڑھے سنسکرت کیسے آ سکتا ہے یعنی باوا نانک صاحب
    سنسکرت میں خوا نخواہ پاؤں اڑاتے تھے۔ بھلا سنسکرت پڑھنے کے بغیر کیسے آ سکتا ہے۔ اقول۔ یہ کلمہ بھی متکبرانہ ہے۔ دیانند نے چار حرف سنسکرت کے تو پڑھ لئے مگر تکبر کی زہر نے اس کو
    روحانی زندگی سے محروم کر دیا جو نیک دلوں کو حاصل ہوتی ہے۔
    قولہ۔ ہاں ان گرامنیوں کے سامنے جنہوں نے سنسکرت کبھی سنا بھی نہیں تھا سنسکرتی بنا کر سنسکرت کے بھی پنڈت بن گئے ہوں
    گے یعنی ان گاؤں والوں کے سامنے جنہوں نے کبھی سنسکرت سنی بھی نہ تھی ایسی ایسی عبارتیں سنسکرت کی بنا کر پنڈت بن گئے ہوں گے۔ اقول۔ اس نااہل پنڈت کا ارادہ یہ ہے کہ باوا صاحب کو نہ
    صرف نادان اور جاہل کہے۔ بلکہ ان کو فریبی اور مکار بھی بناوے۔ اسی لئے لکھتا ہے کہ جو لیاقتیں ان میں موجود نہیں تھیں۔ عوام کو دھوکہ دینے کے لئے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 128
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 128
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/128/mode/1up
    ان ؔ کا دعویٰ کردیا۔ مگر یہ سب شرارت ہے باوا صاحب ایک خاکسار آدمی تھے۔ پنڈت بننے کا ان کو شوق نہیں تھا۔ یہ
    ریاکاریاں وہ لوگ کیا کرتے ہیں جو دنیا پر نظر رکھتے ہیں۔ مگر افسوس کہ نادان انسان ہرایک آدمی کو اپنے نفس پر قیاس کر لیتا ہے اس لئے یہ مرض اس کا لاعلاج ہے۔
    قولہ۔ جب کچھ ایہمان تھا تو
    مان پرتشتہالئے کچھ دنبہ بھی کیا ہوگا۔ یعنی کچھ لالچ اور دل کی خواہش تھی۔ اس پر کچھ غرور بھی کیا ہوگا۔ اقول۔ اس فقرہ میں دیانند نے یہ ظاہر کیا ہے کہ نانک ایک لالچی اور مغرور آدمی تھا۔ اور
    تمام فقیری اس کی اسی غرض سے تھی۔ اب ناظرین خیال کریں کہ اس سے زیادہ تر سخت الفاظ اور کیا ہوں گے۔ ایسے سکھ صاحبوں پر نہایت افسوس ہے کہ ان کے گرو کی نسبت ایسے ایسے سخت
    کلمے کہے جائیں اور پھر بھی وہ آریوں سے محبت کے تعلقات رکھیں ۔بھلا وہ ذرا انہیں الفاظ سے دیانند کو یاد کر کے کوئی اشتہار دے دیں پھر دیکھیں کہ کیونکر آریہ صبر کرتے ہیں۔ اگر باوا صاحب
    سے سچی محبت اور ان کے لئے سچی غیرت ہے تو اس کا نمونہ دکھلانا چاہئے۔
    قولہ۔ ان سے کوئی وید کا ارتھ پوچھتا جب نہ آتا تب پرتشتہانشٹ ہوتی۔ یعنی اگر کوئی ان سے کوئی وید کا مطلب
    پوچھتا اور ان سے کچھ بن نہ آتا تو سب کاریگری برباد جاتی اور تمام قلعی کھل جاتی۔ اقول۔ یہ تمام گالیاں ہیں اس کا ہم کیا جواب دیں۔ مگر دیانند سے کوئی پوچھے کہ کیا تیری قلعی کھلی یا نہیں۔ کیا
    ایسے عقیدوں کے شائع کرنے سے کہ ہریک جان کا پرمیشر سہارا نہیں اور نجات جاودانی نہیں اور ہریک فیض کا پرمیشر مبدء نہیں اور خاوند والی عورت دوسرے سے ہم بستر ہو۔ کیا اس سے تیری
    تمام کاریگری برباد ہو چکی یا اب تک کچھ باقی ہے۔ دیانند کو اس بات پر سارا غصہ ہے کہ باوا صاحب وید کے ان عقائد کو قبول نہیں کرتے تھے اور انہوں نے بہت زور سے ان باتوں کا رد لکھا
    ہے۔
    قولہ۔ اپنے ششوں کے سامنے کہیں کہیں ویدوں کے ورودہ بولتے تھے اور کہیں اچھا بھی کہا ہے۔ کیونکہ جو کہیں اچھا نہ کہتے تو لوگ ان کو ناستک بناتے جیسے کہ ہے۔ وید پڑھت برہما
    مرے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 129
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 129
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/129/mode/1up
    چاروؔ ں وید کہانی۔ سادھ کی مہما وید نجانی۔ نانک برھم گیانی آپ پرمیشر۔ کیا وید پڑھنے والے مرگئے۔ اور نانک جی آدی اپنے
    کو امر سمجھتے تھے۔ کیا وے نہیں مرگئے۔ وید تو سب ودّیاؤں کا بھنڈار ہے پرنتو جو چاروں ویدوں کو کہانی کہے۔ اس کی سب باتیں کہانی ہوتی ہیں۔ جن مورکھوں کا نام سنت ہوتا ہے وہ بیچارے ویدوں
    کی مہما کبھی نہیں جان سکتے۔ نانک جی اگر ویدوں پر بھروسہ کرتے تو ان کا سمپر ڈالی نہ چلتا نہ وے گورو بن سکتے تھے کیونکہ سنسکرت ودّیا تو پڑھی ہی نہیں تھی تو دوسرے کو پڑھا کر شش
    کیسے بنا سکتے۔ باقی ترجمہ یہ ہے کہ نانک جی اپنے سکھوں کے روبرو وید کے مخالف باتیں کیا کرتے تھے۔ یعنی ایسی تعلیم دیتے تھے جو وید کی تعلیم کے برعکس ہوتی۔ اور کبھی کوئی موافق بات
    بھی کہتے مگر دل سے نہیں بلکہ اس خوف سے کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ یہ خدا کا قائل نہیں یعنی نانک ایک منافق آدمی تھا۔ وہ درحقیقت ویدوں کی تعلیم سے دل سے بیزار تھا کبھی ویدوں کے موافق کوئی
    بات اس لئے کہتا تھا کہ تا ہندوؤں کو دھوکہ دیوے اور وہ لوگ سمجھیں کہ یہ شخص ہندو مذہب سے بکلی دست بردار نہیں سو یہ کارروائی لوگوں کے ڈر سے تھی نہ سچے دل سے اور پھر دیانند اپنی
    اس رائے کی تائید کے لئے کہ نانک درحقیقت ہندو مذہب اور ویدوں سے الگ ہوگیا تھا۔ باوا نانک صاحب کا مندرجہ ذیل شعر اسی غرض سے پیش کرتا ہے اور وہ شعر یہ ہے۔
    وید پڑھت برہما مرے
    چاروں وید کہانی سادھ کی مہما وید نجانی۔ نانک برہم گیانی آپ پرمیشر
    یعنی وید پڑھتے پڑھتے برہما مرگیا اور حیات جاودانی حاصل نہ ہوئی۔ چاروں وید کہانی یعنی یاوہ گوئی ہے اور خدا تعالیٰ کی
    وہ تعریف جو راستباز کیا کرتے ہیں ویدوں کو معلوم نہیں یعنی وہ حمد و ثناء اللہ جلشانہ کی جو صادق کے منہ سے نکلتی ہے اور وہ سچی تعریف اس کی اور سچی شناخت اس کی جو عارفوں کو حاصل
    ہوتی ہے چاروں وید اس سے محروم اور بے نصیب ہیں۔ کیونکہ اے نانک یہ پرمیشر کا خاصہ ہے جو صحیح اور پاک علم سے خاص ہے یعنی ویدوں نے جو صراط مستقیم کو چھوڑ دیا اور گمراہی کی
    راہیں بتلائیں اس میں وید معذور ہیں کیونکہ وہ اس ایشر برہم گیانی کی طرف سے نہیں ہیں۔
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 130
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 130
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/130/mode/1up
    جسؔ کا بیان غلط باتوں سے پاک ہوتا ہے۔ باقی ترجمہ دیانند کی کلام کا یہ ہے۔ کیا وید پڑھنے والے مرگئے اور نانک جی وغیرہ
    گرنتھ والے آپ کو زندہ سمجھتے ہیں یا وہ نہیں مرے۔ وید تو جملہ علوم کا خزانہ ہے جو ویدوں کو کہانی بتائے اس کی سب باتیں کہانی ہیں یعنی وہ خودیاوہ گو ہے (پھر دیانند اشارہ کے طور پر باوا
    صاحب کو ایک گالی دے کر کہتا ہے) جن گنواروں کا نام سنت اور ہادی رکھا گیا یعنی باوا نانک صاحب وہ بیچارے ویدوں کی تعریف کیا جانیں۔ نانک جی اگر ویدوں پر بھروسہ کرتے تو ان کی مکّاری
    کیونکر چل سکتی اور کیونکر گرو بن سکتے۔ کیونکہ آپ تو وہ سنسکرت کے علم سے ناواقف تھے تو پھر دوسرے کو وید پڑھا کر کیونکر اپنا سکھ بناتے۔
    اقول۔ جس قدر دیانند نے باوا صاحب کے نام
    نادان اور جاہل اور فریبی اور گنوار اور مکّار اور دنیا پرست اور لالچی وغیرہ وغیرہ اپنی اس کتاب میں رکھے ہیں۔ درحقیقت وہ تمام غصّہ باوا صاحب کے اس شعر کی وجہ سے اور نیز ان اسلامی
    عقائد کی وجہ سے ہے جو باواصاحب کے اشعار میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔ لیکن اگر یہ متعصب پنڈت خدا ترس ہوتا۔ تو یہ تمام وجوہ باوا صاحب کی عظمت اور بزرگی اور نیک بختی پر دلالت کرتی
    تھیں۔ باوا صاحب ایک راست باز آدمی تھے۔ وہ نادان پنڈتوں کی طرح تعصب اور بخل کے کیچڑ میں مبتلا نہیں تھے۔ اور ان کو وہ روشنی دی گئی تھی جو ان لوگوں کو دی جاتی ہے جو سچے دل سے خدا
    تعالیٰ کو ڈھونڈتے ہیں اور انہوں نے حق الیقین کی طرح سمجھ لیا تھا کہ ہندوؤں کے وید ضلالت اور گمراہی سے بھرے ہوئے ہیں۔ اس لئے انہوں نے فرمایا کہ چاروں وید کہانی اور یاوہ گوئی ہے۔ کوئی
    ودّیا ان میں نہیں۔ اور اسی لئے علانیہ طور پر گواہی دے دی کہ خدا تعالیٰ کی وہ تعریفیں جو راست باز اور عارف اور واصلان درگاہ الٰہی کرتے ہیں۔ وید نے اس پاک ذات کی وہ تعریفیں نہیں کیں۔ پس
    باوا صاحب کا یہ قول سراسر سچ ہے۔ اور آب زر سے لکھنے کے لائق ہے۔ باوا صاحب کے زمانہ پر قریباً چار سو برس گذر گیا۔ اور اب جابجا وید ترجمہ ہو کر مشتہر ہوئے اور معلوم ہوئے کہ ان
    میں بجز عناصر پرستی اور ستارہ پرستی کے اور کچھ نہیں پس درحقیقت
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 131
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 131
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/131/mode/1up
    یہ باؔ وا صاحب کی بڑی کرامت ہے کہ اس زمانہ میں انہوں نے ویدوں کی حقیقت معلوم کرلی جبکہ وید ایسے گم تھے کہ
    گویا نابود تھے۔ لیکن دیانند ایسے زمانہ میں بھی نابینا رہا جبکہ انگلستان اور جرمن وغیرہ میں ویدوں کے ترجمے ہو چکے تھے۔ اور پھر دیانند نے جو طعن کے طور پر لکھا یعنی یہ کہ اگر وید کے
    جاننے والے مرگئے تو کیا باوا نانک ہمیشہ کے لئے زندہ رہ گئے*۔ یہ بھی اس کی کمال نادانی تھی جو باوا صاحب کی باریک اور ُ پرمعرفت بات کو نہ سمجھ سکا۔ باوا صاحب کا یہ مطلب تو نہیں تھا کہ
    وید کے جاننے والے جسمانی موت سے مرے تا باوا صاحب کی موت کا ذکر کرنا اس کو زیبا ہوتا۔ اس بات کو کون نہیں جانتا کہ جسمانی موت ہریک کو درپیش ہے بلکہ باوا صاحب کا تو یہ مطلب تھا کہ
    وہ روحانی زندگی جو سچے مذہب کے پیرو ہونے کی حالت میں اور سچی کتاب کے ماننے کی صورت میں انسان کو ملتی ہے وہ زندگی وید کے ماننے والوں کو نہیں ملی اور سب کے سب گمراہی کی
    موت میں مرگئے۔ اب باوا صاحب پر ان کی موت کی وجہ سے اعتراض کرنا حماقت ہے۔ کیونکہ بلاشبہ وہ پاک توحید اور پاک کلمہ کی برکت سے ہمیشہ کے لئے زندہ رہے بھلا انصافاًسوچو کہ باوا
    صاحب کو فوت ہونے پر قریباً چار سو۴۰۰ برس گذر گئے اور ابتک ان کا چولا جس پر
    لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
    لکھا ہوا ہے جس کو وہ نہایت صدق اور اخلاص سے پہنتے تھے۔ جس کا
    ہریک لفظ ان کی دلی حالت کا ترجمان تھا ان کی اولاد کے پاس موجود ہے۔ پس یہ بھی ایک قسم زندگی کی ہے کہ خدا تعالیٰ نیک لوگوں کے کپڑوں کو بھی ضائع ہونے نہیں دیتا۔ دیکھو آریوں کا دیانند ابھی
    مرا ہے گویا کل فوت ہوا ہے کیا اس کی ایک لنگوٹی بھی جو باندھا کرتا تھا آریوں کے پاس موجود ہے؟ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی توہین کی خدا نے اس کو ذلیل کیا اور باوا نانک صاحب
    نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو اس قدر عزت کی نگاہ سے دیکھا کہ کلمہ طیبہ کا کپڑا اپنا چولا بنا لیا اس لئے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 132
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 132
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/132/mode/1up
    خدا ؔ نے بھی ان کو وہ عزت دی کہ کروڑ ہا آدمی اعتقاد کے ساتھ ان کے پاؤں پر گرے اور حیات روحانی ان کو حاصل ہوئی
    سو ہمیشہ کی زندگی پانے کی یہی راہ ہے جس نے سوچنا ہو سوچ لے۔
    آنانکہ گشت کوچۂ جاناں مقام شان
    ثبت است برجریدۂ عالم دوام شان
    ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق
    میرد کسیکہ
    نیست مرامش مرام شان
    اے مردہ دل مکوش پئے ہجو اہل دل
    جہل و قصور تست نفہمی کلام شان
    قولہ۔ نانک جی کے سامنے کچھ ان کا سمپردائے وبہت سے شش نہیں ہوئے تھے۔ کیونکہ اودہ
    وانوں میں یہ حال ہے کہ مرے پیچھے ان کو سدھ بنا لیتے ہیں۔ ’’پشچات بہت سا مہاتم کر کے ایشر کے سمان مان لیتے ہیں۔‘‘ یعنی نانک جی کا کچھ پورا پورا تسلّط نہیں ہوا تھا۔ اور نہ سکھ ہی
    بنے تھے۔ کیونکہ جاہلوں کا دستور ہے کہ مرنے کے بعد مردوں کو سادھ اور بھگت قرار دیدیتے ہیں۔ اقول۔ پنڈت صاحب کا اس تقریر سے یہ مطلب ہے کہ نانک درحقیقت کوئی اچھا آدمی نہیں تھا۔ مرنے
    کے بعد خواہ نخواہ اس کو بھگت بنایا گیا۔ مگر درحقیقت دیانند کی یہ تمام باتیں ایک ہی کینہ کی وجہ سے ہیں یعنی یہ کہ باوا صاحب وید کو ایک فضول کتاب اور گمراہ کرنے والی کہانی کہتے تھے اور
    یہی جابجا نصیحت کرتے تھے اور ان کی زندگی کے مقاصد میں سے اعلیٰ مقصد یہی تھا کہ وہ لوگوں کو وید سے چھوڑا کر خدا تعالیٰ کے پاک کلام کی جو قرآن شریف ہے مصدق بناویں اور درحقیقت
    ان کا وجود خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا ایک عظیم الشان نمونہ تھا جس کی تمام مسلمانوں کو قدر کرنی چاہئے۔ اس خدا نے جو اپنے پاک نبی کے لئے پتھروں اور درختوں اور درندوں سے گواہی دلائی اس
    آخری زمانہ میں ان کے لئے جو تاریکی میں بیٹھے تھے انہیں میں سے ایک چمکتا ہوا ستارہ نکالا اس نے اس نور کی گواہی دی جو دنیا کو روشن کرنے کے لئے آیا تھا۔ نور کو تاریکی شناخت نہ کر
    سکی آخر اس نے شناخت کیا جس کو نور میں سے حصہ دیا گیا تھا۔ پاک ہے وہ خدا جس نے اسلام کے لئے یہ گواہیاں پیدا کیں۔ اس صادق انسان نے ویدوں کو گمراہی کی تعلیم کہہ کر نا اہل پنڈتوں سے
    گالیاں کھائیں اگر وہ ویدوں سے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 133
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 133
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/133/mode/1up
    بیزاؔ ر نہ ہو جاتے تو کوئی بھی پنڈت ان کو برا نہ کہتا۔ اب تو باوا صاحب ان پنڈتوں کی نظر میں کچھ بھی نہیں وید کے
    مکذب جو ہوئے۔
    قولہ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ویدوں کو نہ سنا نہ دیکھا۔ کیا کریں جو سننے اور دیکھنے میں آوے تو بدہ مان لوگ جو کہ ہٹی درہ گر ہے نہیں دے سب سمپردای والے بیدمت
    میں آجاتے ہیں۔ یعنی نانک وغیرہ اس کے سکھوں نے نہ ویدوں کو سنا نہ دیکھا کیا کریں جو سننے یا دیکھنے میں آویں تو جو عقلمند متعصب نہیں وہ فوراً اپنی ٹھگ بدیا چھوڑ کر وید کی ہدایت میں آجاتے
    ہیں۔ اقول۔ اس تمام تقریر سے پنڈت صاحب کا مطلب صرف اتنا ہے کہ باوا نانک صاحب اور ان کے پیرو ٹھگ ہیں انہوں نے دنیا کے لئے دین کو بیچ دیا۔ مگر ہرچند یہ تو سچ ہے کہ باوا نانک صاحب نے
    وید کو چھوڑ دیا اور اس کو گمراہ کرنے والا طومار سمجھا لیکن پنڈت صاحب پر لازم تھا کہ یوں ہی باوا صاحب کے گرد نہ ہو جاتے اور ٹھگ اور مکاّر ان کا نام نہ رکھتے بلکہ ان کے وہ تمام عقیدے
    جو گرنتھ میں درج ہیں اور مخالف وید ہیں اپنی کتاب کے کسی صفحہ کے ایک کالم میں لکھ کر دوسرے کالم میں اس کے مقابل پر وید کی تعلیمیں درج کرتے تا عقلمند خود مقابلہ کر کے دیکھ لیتے کہ ان
    دو تعلیموں سے سچی تعلیم کونسی معلوم ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ صرف گالیاں دینے سے کام نہیں نکلتا۔ ہریک حقیقت مقابلہ کے وقت معلوم ہوتی ہے اور ناحق گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے۔
    قولہ۔ نانک جی بڑے دھنار اور رئیس بھی نہ تھے۔ پرنتو ان کے چیلوں نے نانک چندو دے اور جنم ساکھی وغیرہ میں بڑے سدھ اور بڑے ایشرج والے لکھے ہیں۔ نانک جی برہما ادی سے ملے بڑی بات
    چیت کی سب نے ان کا مان کیا۔ نانک جی کے وواہ میں گھوڑے‘ رتھ‘ ہاتھی سونا چاندی موتی پنا ادی رتنوں سے جڑے ہوئے پارادار نتھا لکھا ہے۔ بھلا یہ گپوڑے نہیں تو کیا ہے یعنی نانک جی کہیں
    کے مالدار اور رئیس نہیں تھے۔ مگر ان کے چیلوں نے پوتھی نانک چند ودی اور جنم ساکھی وغیرہ میں بڑے دولتمند اور بھگت کر کے لکھا ہے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 134
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 134
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/134/mode/1up
    یہ ؔ بھی لکھا ہے کہ نانک جی کی برہما سے ملاقات ہوئی بڑی بحث کی۔ سب دیوتوں نے ان کی تعظیم کی۔ نانک جی کے بیاہ
    میں گھوڑے ہاتھی رتھ سونا چاندی پنا موتی وغیرہ رتنوں سے جڑے ہوئے تھے اور ان کا کچھ حد و حساب نہ تھا۔ بھلا یہ گپ نہیں تو اور کیا ہے۔
    اقول۔ یہ آخری قول پنڈت دیانند کا ہمارے نزدیک کسی
    قدر صحیح*ہے مگر اس کو باوانانک صاحب سے کچھ تعلق نہیں۔ ہاں اس میں کچھ شک نہیں کہ بعض نادان دوستوں نے کئی طور سے ایسے افتراء کئے ہیں جن میں شاید ان کی یہ غرض تھی کہ باوا
    صاحب کی اس سے تعریف اور بزرگی ثابت ہوگی مگر ان کو یہ خبر نہیں تھی کہ نامعقول اور بیہودہ افتراؤں سے کسی کی بزرگی ثابت نہیں ہو سکتی بلکہ آخرکار یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ایسے مفتری
    اور یاوہ گو لوگوں پر اس بزرگ کی برکات کا کچھ بھی اثر نہ پڑا۔ سو بعض ایسے لوگوں کی نسبت جنہوں نے بے تحقیق باوا صاحب کی سوانح میں غلط باتیں ملا دیں ضرور یہ کہنا پڑتا ہے جو انہوں
    نے احتیاط اور دیانت سے کام نہیں لیا۔ اور ایسی باتیں جو شرم اور حیاء سے بھی بعید ہیں منہ سے نکالیں۔ جیسا کہ یہ ایک جھوٹا قصہ کہ باوا صاحب جب مکہ میں گئے تو جس طرف پاؤں کرتے تھے
    مکہ اسی طرف آ جاتا تھا کیا یہ قصہ مہادیو کی ِ لٹوں سے گنگا نکلنے سے کچھ کم ہے۔ اس قدر تو سچ ہے کہ چونکہ باوا صاحب ملّت اور مذہب کی رو سے اہل اسلام تھے اس لئے حج کرنے کے لئے
    بھی گئے لیکن واقعات صحیحہ پر ایسے حاشیے چڑھا دینا جو سراسر عقل اور قرائن صحیحہ کے مخالف ہیں کسی متدین کا کام نہیں جس شہر کی ایک لاکھ سے زیادہ آبادی ہے وہ کیسے باوا صاحب
    کے پیروں کی طرف معہ تمام باشندوں کے بار بار آتا رہا۔ اور اگر مکہ سے مراد خانہ کعبہ ہے تو پھر ایسا قصہ بجز اس کے کہ مسلمانوں کا دل دکھایا جاوے اور ایک بیہودہ اور بے ثبوت یاوہ گوئی
    سے ان کو ستایا جاوے کوئی اور ماحصل نہیں رکھتا مگر جن لوگوں نے باوا صاحب کو خدا کے برابر بنا رکھا ہے۔ اگر وہ بیت اللہ کی تحقیر کریں تو ہم ان پر کیا افسوس کریں ایسے زمانہ میں جو اکثر
    لوگ تربیت یافتہ ہوگئے ہیں اور صدق اور کذب میں تمیز کرنے کا مادہ بہتوں میں پیدا ہوگیا ہے۔ ایسے لغو قصے مشہور کرنا ایک طور سے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 135
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 135
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/135/mode/1up
    اپنےؔ مذہب کی آپ ہجو کرنا ہے۔ اگر باوا صاحب مکہ میں حج کی نیت سے نہیں گئے تھے بلکہ کرامت دکھلانے گئے تھے
    تو چاہئے تھا کہ کعبہ کو اسی جگہ چھوڑ آتے جس طرف پیر تھے۔ اگر زیادہ نہیں تو اپنے مقام مخصوص سے دس بیس قدم ہی کم و بیش ادھر ادھر کر آتے یا اپنے پیچھے پیچھے کعبہ کو اپنے گھر تک
    لے آتے تا اس کرامت کو دوسرے سکھ بھی دیکھ لیتے۔ مگر چونکہ اب تک کعبہ اُسی جگہ ہے جس جگہ پر وہ قدیم سے چلا آتا ہے اور مکہ والے باوا نانک صاحب کے نام سے بھی ناواقف ہیں قطع نظر
    اس سے جو کوئی ایسا اعجوبہ یاد رکھتے ہوں تو صاف ظاہر ہے کہ یہ نہایت مکروہ جھوٹ کسی شریر انسان کا افتراء ہے۔ باوا صاحب نے ہرگز ایسا دعویٰ نہ کیا۔ مکہ اسلام کا مرکز ہے۔ اور لاکھوں
    صلحاء اور علماء اور اولیاء اس میں جمع ہوتے ہیں۔ اور ایک ادنیٰ امر بھی جو مکہ میں واقع ہو فی الفور اسلامی دنیا میں مشہور ہو جاتا ہے پھر ایسا عظیم الشان واقعہ جس نے اسلام اور قانون قدرت دونو
    کو زیر و زبر کر دیا۔ اور پھر ایسے نزدیک زمانہ کا کہ جس پر ابھی پورے چار سو۴۰۰ برس بھی نہیں گذرے۔ وہ لاکھوں آدمیوں کو فراموش ہو جائے اور صرف سکھوں کی جنم ساکھیوں میں پایا جائے
    کیا اس سے بڑھ کر اور کوئی بھی قابل شرم جھوٹ ہوگا۔ عجیب تر یہ کہ ان قصوں میں یہ بیان ہوا ہے کہ باوا صاحب نے مکہ میں پنجابی بھاشا میں باتیں کیں اور مکہ کے رہنے والوں نے بھی پنجابی
    میں باتیں کیں۔ پھر باوا صاحب مدینہ میں پہنچے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا روضہ بھی ان کے پیروں کی طرف آیا۔ اور وہاں باوا صاحب نے پنجابی بھاشا میں شعر بنائے اور لوگوں نے
    پنجابی میں جواب دئیے۔ اب فرمائیے کہ یہ کس قدر جھوٹ ہے ظاہر ہے کہ عرب کے باشندے ہندی زبان کو نہیں سمجھ سکتے۔ پھر انہوں نے باوا صاحب کی بھاشا کو کیا سمجھا ہوگا۔ اگر یہ قصہ
    صحیح تھا تو باوا صاحب کی پہلی کرامت یہ چاہئے تھی کہ وہ عربی زبان والوں سے عربی میں ہی بات کرتے اور ان کے سنانے کیلئے عربی میں شعر بناتے نہ کہ پنجابی میں اور وہ عربی تقریر جو
    باوا صاحب عربوں کے ساتھ کرتے اور وہ عربی اشعار جو ان کو سناتے وہ سب جنم ساکھی یا گرنتھ میں لکھنے چاہئے تھے۔ اگر ایسا کرتے تو بیشک کسی قدر بات بن جاتی۔ مگر اب تو بجز مضحکہ
    عقلاء کے اور کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ پھر مکہ میں پہنچنے کے واقعات بھی
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 136
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 136
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/136/mode/1up
    خوؔ ب صحیح لکھے ہیں۔ جیسا کہ جنم ساکھی میں بیان کیا ہے کہ کعبہ میں ایک پتھر رکھا ہوا ہے۔ اس کو دھوتے ہیں اور
    نالیوں سے اس کا پانی بہتا ہے اسی پانی کو آب زمزم کہتے ہیں۔ اب کہو کہ اگر ایسے خلاف واقعہ اور سراسر جھوٹ بات کو باوا نانک صاحب کی طرف منسوب کیا جائے تو کیا یہ ماننا نہیں پڑے گا
    کہ نعوذ باللہ باوا صاحب کو جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔ تمام لوگ جانتے ہیں کہ آب زمزم ایک کنوئیں میں سے نکلتا ہے۔ اور وہ کنواں حضرت ابراہیم ؑ کے وقت سے مکہ میں موجود ہے۔ اس کو
    خانہ کعبہ اور سنگ اسود سے کچھ تعلق نہیں۔ پھر لکھا ہے کہ باوا صاحب کی امام اعظم سے مکہ میں ملاقات ہوئی حالانکہ امام اعظم صاحب باوا نانک صاحب کی پیدائش سے سات سو برس پہلے فوت
    ہو چکے تھے۔ مکہ میں تو ان کی قبر بھی نہیں۔ غرض ایسی قابل شرم باتیں اور نہایت مکروہ جھوٹ جنم ساکھیوں میں پائے جاتے ہیں کہ جو نہ صرف منقول کے مخالف بلکہ عقل اور نقل دونوں کے
    مخالف ہیں۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ باوا صاحب کی وفات کے بعد بہت افتراء ان پر کئے گئے ہیں۔ اور ان افتراؤں کا وہی زمانہ تھا۔ جبکہ باوا صاحب کے بعد بعض نافہموں کے دلوں میں اسلام کے
    ساتھ کچھ تعصب پیدا ہوگئے تھے۔ یہ وہی لوگ تھے جو باوا صاحب کے نقش قدم پر قائم نہ رہے اس لئے ان کو یہ مشکلیں پیش آئیں کہ وہ تمام امور جو باوا صاحب کے اسلام پر دلالت کرتے تھے ان سب
    کی ان کو تاویلیں کرنی پڑیں۔ مگر چونکہ علم تاریخ اور علم بلاد سے بکلی محروم تھے۔ اس لئے جس قدر انہوں نے جھوٹی تاویلیں کیں اسی قدر ان کی دروغ گوئی نہایت فضیحت کے ساتھ ثابت ہوئی اور
    وہ جھوٹ مخفی نہ رہ سکا۔ بلکہ تاریخ دانوں اور جغرافیہ دانوں نے ان پر ٹھٹھا اڑایا اور اب تک اڑاتے ہیں۔ اگر وہی جاہلیت کا زمانہ رہتا جو آج سے پچاس برس پہلے تھا۔ تو شاید یہ تمام نامعقول باتیں
    بعض سادہ لوحوں کی نظر میں قبول کے لائق ہوتیں۔ مگر اب زمانہ اس طرز کا نہیں رہا اور معقولیت کی طرف بہت پلٹا کھا گیا ہے اور لوگوں کی نظریں باریک اور حقیقت شناس ہوگئی ہیں۔ اب ایسی
    باتوں کے ماننے کا وقت گذر گیا کہ باوا صاحب نے مدینہ میں بیٹھ کر بالا کی آنکھیں بند کرائیں تو وہ آنکھ بند کرتے ہی کیا دیکھتا ہے کہ پنجاب میں اپنے گاؤں میں بیٹھا ہے ان جنم ساکیوں۱؂
    کے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 137
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 137
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/137/mode/1up
    137 corrupted
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 138
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 138
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/138/mode/1up
    ترجمہؔ ہے یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ بجز چند اشعار کے جو الحاق اور جعلسازی کے طور پر باوا صاحب کی طرف منسوب
    کئے گئے ہیں باقی کل اشعار جو باوا صاحب کے منہ سے نکلے ہیں وہ قرآن مجید کی متفرق آیتوں کے ترجمے ہیں۔ ہم نے بہت فکر اور غور سے گرنتھ کو پڑھا ہے اور جہاں تک انسانی طاقت ہے خوب
    ہی سوچا ہے آخر نہایت صفائی سے یہ فیصلہ ہوا کہ باوا نانک صاحب نے قرآن شریفؔ
    بہت شوخ تو یہ غلطی ہوگی کہ رنگ کے لحاظ سے ان میں وہ مقابلہ ثابت کریں جو ضدوں میں ہوتا ہے
    لیکن مراتب کے لحاظ سے ان میں باہم تفاوت ہو سکتا ہے۔ یعنی ایک بہت شوخ رنگ ہے اور ایک کم اور ایک اس سے کم یہاں تک کہ ایک اس ادنیٰ مرتبہ پر ہے جس نے رنگ میں سے بہت ہی کم حصہ لیا
    ہے سو ایسا شخص جو ربانی فیض کے رنگ سے کم حصہ رکھتا ہے اسی کو قرآنی اصطلاح میں شقی کہتے ہیں اور جس نے کافی حصہ لیا اس کا نام سعید ہے۔ خدا تعالیٰ نے اپنی پاک کلام میں مخلوقات
    کو سعادت اور شقاوت کے دو حصوں پر تقسیم کر دیا ہے مگر ان کو حسن اور قبح کے دو حصوں پر تقسیم نہیں کیا اس میں حکمت یہ ہے کہ جو خدا تعالیٰ سے صادر ہوا اس کو ُ برا تو نہیں کہہ سکتے
    کیونکہ اس نے جو کچھ بنایا وہ سب اچھا ہے ہاں اچھوں میں مراتب ہیں۔ پس جو شخص اچھا ہونے کے رنگ میں نہایت ہی کم حصہ رکھتا ہے وہ حکمی طور پر ُ برا ہے اور حقیقی طور پر کوئی بھی برا
    نہیں۔ خدا فرماتا ہے کہ میری مخلوق کو دیکھ کیا تو اس میں کوئی بدی پاتا ہے سو کوئی تاریکی خدا تعالیٰ سے صادر نہیں ہوئی بلکہ جو نور سے دور جا پڑا وہ مجازاً تاریکی کے حکم میں ہوگیا۔ باوا
    صاحب کے گرنتھ میں اس کا بہت بیان ہے اور ہریک بیان قرآن سے لیا گیا ہے۔ مگر اس طرح نہیں کہ خشک تقلید کے لوگ لیتے ہیں۔ بلکہ سچی باتوں کو سن کر باوا صاحب کی روح بول اٹھی کہ یہ سچ
    ہے پھر اس تحریک سے فطرت نے جوش مارا اور کسی پیرایہ میں بیان کر دیا۔ غرض باوا صاحب تناسخ کے ہرگز قائل نہ تھے اور اگر قائل ہوتے تو ہرگز نہ کہتے کہ ہریک چیز خدا سے پیدا ہوئی اور
    کوئی بھی چیز نہیں جو اس کے نور سے پیدا نہیں ہوئی۔ اور یاد رہے کہ باوا صاحب نے اپنے اس قول میں بھی قرآنی آیت کی طرف اشارہ کیا ہے اور وہ یہ ہے۱؂
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 139
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 139
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/139/mode/1up
    کی آیتوں سے اپنے گرنتھ کو جمع کیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ قرآن شریف کی بہت تلاوت کرتے تھے۔ اکثر مساجد میں جاتے
    اور صلحاء وقت سے قرآن سنتے اور پھر قرآنی مضامین کو نظم میں لکھتے تا قوم کو ایک حکمت عملی کے ساتھ کلام الٰہی سے فائدہ پہنچاویں۔ ہمارا ارادہ تھا کہ ہم اس رسالہ میں دکھلاویں کہ کس عمدہ
    طور سے باوا صاحب نے جابجا قرآنی آیات کا
    یعنی خدا ہی کے نور سے زمین و آسمان نکلے ہیں اور اسی کے نور کے ساتھ قائم ہیں یہی مذہب حق ہے جس سے توحید کامل ہوتی ہے اور خدا شناسی
    کے وسائل میں خلل نہیں ہوتا مگر جو شخص کہتا ہے کہ خدا خالق نہیں وہ گویا یہ کہتا ہے کہ خدا نہیں کیونکہ عام عقلیں خدا کو خدا کے کاموں سے پہچانتی ہیں پھر اگر خدا ارواح اور ذرات عالم کا
    خالق نہیں تو وسائل معرفت مفقود ہو جائیں گے یا ناقص ہوکر بے فائدہ ٹھہریں گے لیکن جس نے خدا کا خالق الارواح ہونا مان لیا وہ تناسخ کے مسئلہ کو کسی طرح مان نہیں سکتا کیونکہ جس خدا نے
    خالق ہونے کی حیثیت سے پہلی دنیا کو کمی بیشی کے ساتھ پیدا کیا یعنی کسی کو انسان بنایا کسی کو گھوڑا وغیرہ اور اس وقت یعنی ابتدا میں گذشتہ اعمال کا وجود نہ تھا کیونکہ خود روحیں نہ تھیں تو
    پھر اعمال کہاں سے ہوتے تو اس صورت میں وہ خدا جو اپنے اختیار سے برابر مخلوقات میں کمی بیشی کرتا آیا اب کیونکر وہ اعمال کے سوا کمی بیشی نہیں کر سکتا لہٰذا جو لوگ تناسخ یعنی اواگون کو
    مانتے ہیں۔ وہ جب تک تمام روحوں کو انادی اور غیر مخلوق قرار نہ دیں تب تک ممکن نہیں کہ تناسخ کا خیال بھی ان کے دلوں میں آ سکے کیونکہ جبکہ ان کا یہ مذہب ہے کہ ہریک روح اور ہریک جسم
    مخلوق ہے تو اس صورت میں انہوں نے مان لیا کہ کمی بیشی خدا کے ارادہ سے ہے نہ کہ کسی گذشتہ عمل کی وجہ سے تو تناسخ جاتا رہا۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ تناسخ ماننے والے کسی طرح موحد
    نہیں ہو سکتے کیونکہ ان کا تناسخ کا مسئلہ تبھی چلتا ہے جب ذرہ ذرہ کو قدیم اور غیر مخلوق اور انادی اور اپنے وجود کا آپ ہی خدا قرار دیدیں مگر کیا ایسا مذہب اس شخص کی طرف منسوب کر
    سکتے ہیں جو توحید کے دریا میں بڑے زور سے تیر رہا ہے اور کسی چیز کا وجود بجز وسیلہ قدرت کے خودبخود نہیں سمجھتا کیا وہ بزرگ جس کے چولے پر لکھا ہوا ہے کہ خدا تمام ارواح اور تمام
    موجودات
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 140
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 140
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/140/mode/1up
    ترجمہؔ اپنے اشعار میں کیا ہے۔ مگر چونکہ یہ رسالہ مختصر ہے اس لئے ہم انشاء اللہ ایک مبسوط رسالہ میں اس کا مفصل
    بیان کریں گے بالفعل جس ذکر کو ہم نے ابھی چھیڑا تھا وہ یہ ہے کہ باوا صاحب کے اشعار میں کیوں اختلاف پایا جاتا ہے اور کیونکر فیصلہ کریں کہ متناقض اشعار میں سے بعض ان کی طرف سے اور
    بعض دوسروں کی طرف سے ہیں۔ سو ہم بیان کر چکے ہیں کہ اختلاف محض اس وجہ سے
    کا خالق ہے اس کی نسبت ایک سیکنڈ کیلئے بھی ہم گمان کر سکتے ہیں کہ نعوذ باللہ وہ اس گندے اعتقاد کو
    پسند کرتا تھا۔ دوسر۲ی یہ کہ اواگون کے لئے شرط ہے کہ کسی کو کبھی جاودانی مکتی نہ ہو اور ہمیشہ خواہ نخواہ مقدس لوگ بھی جونوں میں پھنسے رہیں یہاں تک کہ ایک ایسا شخص بھی جو مثلاً ایک
    زمانہ میں ایک بڑا اوتار ہو چکا ہے اس اعتقاد کے رو سے ممکن ہے کہ وہ کسی دوسرے زمانہ میں اواگون کے چکر میں آکر نجاست کا کیڑا بن جائے اور یہ اعتقاد باوا نانک صاحب کا ہرگز نہیں بلکہ
    وہ تو جاودانی مکتی کے قائل ہیں۔ اور ان کا اعتقاد ایسا نہیں کہ پرمیشر ایک شخص کو قرب کی عزت دے کر اور اسی پر اس کی وفات کر کے پھر اس کو ذلیل کرے۔ تیسر۳ی یہ کہ باوا صاحب اس بات
    کے قائل ہیں کہ خدا کریم اور رحیم ہے۔ اور توبہ قبول کرنے والا اور گنہ بخشنے والا اور پروردگار ہے اور یہ سب باتیں اواگون کے عقیدہ کے مخالف ہیں اور باوا صاحب نے صرف ان کو اپنے گرنتھ
    میں ہی بیان نہیں کیا بلکہ چولا صاحب میں قرآنی آیات کے حوالہ سے بار بار لکھ دیا ہے کہ خدا غفور اور رحیم اور توّّاب اور اپنے بندوں کو بخشنے والا ہے۔ اور ہم باوا صاحب کے گرنتھ میں سے یہ
    مقامات نہ ایک جگہ بلکہ صدہا جگہ پیش کر سکتے ہیں اور تمام عقلمند جانتے ہیں۔ اور آریوں کو بھی اس بات کا اقرار ہے کہ جو شخص یہ تینوں اسلامی عقیدے رکھتا ہو وہ ہرگز اواگون کا قائل نہیں ہو
    سکتا مگر اس صورت میں کہ دیوانہ یا پرلے درجہ کا جاہل ہو۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی بے ادبی نہیں ہوگی کہ نعوذ باللہ اواگون کو باوا صاحب کا عقیدہ ٹھہرا دیا جاوے کیونکہ خدا کو
    خالق مان کر اور نجات کو ابدی سمجھ کر اور یہ اعتقاد رکھ کر خدا گناہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 141
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 141
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/141/mode/1up
    ہےؔ کہ جو لوگ باوا صاحب سے بہت پیچھے آئے انہوں نے باوا صاحب کے قدم پر قدم نہیں رکھا اور انہوں نے مخلوق
    پرستی کی طرف دوبارہ رجوع کر دیا اور لوگوں کو دیویوں اور دیوتوں کی پرستش کے لئے رغبت دلائی اور نیز اسلام سے ان کو تعصب ہوگیا اور دوسری طرف انہوں نے یہ دیکھا کہ باوا صاحب
    سراسر اسلام کی تائید کئے جاتے ہیں اور تمام باتیں ان کی مسلمانوں
    بخش دیتا ہے پھر تناسخ کا قائل ہونا اسی شخص کا کام ہے جو پرلے درجہ کا جاہل ہو۔ جو اپنے کلام میں متناقض بیانوں کو جمع
    کرے اور اس پر اطلاع نہ رکھے۔ اس وقت گرنتھ ہمارے پاس موجود ہے اور نہ آج سے بلکہ تیس برس سے ہم باوا صاحب کے اصل عقائد کا پتہ لگانے کیلئے جہاں تک انسانی طاقت ہے خوض کر رہے
    ہیں اور ہماری کامل تحقیقات نے یہی فیصلہ دیا کہ باوا صاحب رحمۃ اللہ سچے مسلمان اور ایسے صادق تھے کہ اسلام کے انوار حاصل کرنے کے لئے ساری زندگی بسر کر دی ہریک شخص اپنے منہ
    سے تو کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ باوا صاحب جیسا نمونہ دکھلانا مشکل ہے وہ ان میں سے تھے جن کو خدا کا ہاتھ صاف کرتا رہا ہے خدا ان کو دور سے کھینچ لایا اور پھر دور
    تک آگے لے گیا۔ تیس۳۰ برس کا عرصہ ہوا کہ مجھے صاف صاف مکاشفات کے ذریعہ سے ان کے حالات دریافت ہوئے تھے۔ اگر میں جزماً کہوں تو شاید غلطی ہو مگر میں نے اسی زمانہ میں ایک
    دفعہ عالم کشف میں ان سے ملاقات کی یا کوئی ایسی صورتیں تھیں جو ملاقات سے مشابہ تھیں چونکہ زمانہ بہت گذر گیا ہے اس لئے اصل صورت اس کشف کی میرے ذہن سے فرو ہوگئی ہے۔ غرض
    باوا صاحب تناسخ کے قائل ہرگز نہیں تھے اور کوئی اس بات سے دھوکا نہ کھاوے کہ ان کے بعض اشعار میں ایسے اشارات پائے جاتے ہیں کیونکہ اگر فرض کے طور پر چند اشعار پائے جائیں جن
    کی ہم تاویل نہ کر سکیں تو پھر ہم ان کے ان بہت سے اشعار کو جو قریباً ان کا سارا گرنتھ ہے کہاں پھینک دیں جو تناسخ کے اصولوں سے مخالف ہیں اس لئے یا تو ہم ان کی تاویل کریں گے اور یا الحاقی
    ماننا پڑے گا کیونکہ بزرگوں کی کلام میں تناقض روا نہیں ہم نے بہت دیکھا ہے اور تحقیق سے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 142
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 142
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/142/mode/1up
    کےؔ رنگ میں ہیں اس لئے انہوں نے باوا صاحب کے اشعار میں اپنی طرف سے اشعار ملا دئیے۔ جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ ان
    اشعار میں تناقض پیدا ہوگیا۔ مگر صاف ظاہر ہے کہ کسی سچیار اور عقلمند اور صاف دل انسان کی کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی پاگل اور مجنون یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر
    ہاں میں ہاں ملا دیتا ہو اس کا کلام بے شک متناقض ہو جاتا ہے۔ رہا یہ فیصلہ کہ ہم کیونکر ان تمام اشعار میں سے کھرے کھوٹے میں فرق کر سکیں اور کیونکر سمجھیں کہ ان میں سے یہ یہ اشعار باوا
    صاحب کے منہ سے نکلے ہیں اور یہ یہ اشعار جو ان پہلے شعروں کی نقیض پڑے ہیں وہ کسی اور نے باوا صاحب کی طرف منسوب کر دئیے ہیں۔ تو واضح رہے کہ یہ فیصلہ نہایت آسان ہے چنانچہ
    طریق فیصلہ یہ ہے کہ ان تمام دلائل پر غور اور انصاف سے نظر ڈالی جاوے جو باوا صاحب کے مسلمان ہو جانے پر ناطق ہیں سو بعد غور اگر یہ ثابت ہو کہ وہ دلائل صحیح نہیں ہیں اور دراصل باوا
    صاحب ہندو ہی تھے اور وید کو مانتے تھے۔ اور اپنی عملی صورت میں انہوں نے اپنا اسلام ظاہر نہیں کیا بلکہ اسلام کی عداوت ظاہر کی تو اس صورت میں ہمیں اقرار کرنا پڑے گا کہ جو کچھ باوا
    صاحب کی نسبت مسلمانوں کا یہ پرانا خیال چلا آتا ہے کہ درحقیقت وہ مسلمان ہی تھے اور پانچ وقت نماز بھی پڑھتے تھے اور حج بھی کیا تھا۔ یہ خیال صحیح نہیں ہے اور اس صورت میں وہ تمام
    اشعار الحاقی مانے جائیں گے جو باوا صاحب کے اسلام پر دلالت
    یہ فیصلہ لکھا ہے چاہئے کہ کوئی جلدی سے انکار نہ کرے یہی سچ ہے اور ماننا پڑے گا۔ پھر یہ بھی یاد رہے کہ صوفی لوگ اسی
    زندگی میں ایک قسم کے اواگون کے قائل ہیں۔ اور ہریک آن کو وہ ایک عالم سمجھتے ہیں اور نیز کہتے ہیں کہ انسان جب تک کمال تک نہیں پہنچتا وہ طرح طرح کے حیوانوں سے مشابہ ہوتا ہے اسی لئے
    اہل کشف کبھی انسان کو کتے کی صورت میں دیکھتے ہیں اور پھرد وسرے وقت میں بیل کی صورت پر اس کو پاتے ہیں۔ ایسا ہی صدہا صورتیں بدلتی رہتی ہیں اور مدت کے بعد انسان بنتا ہے تب جنموں
    کی بہانسے ٹوٹتی ہے۔ پس کیا تعجب کہ باوا صاحب کی بھی یہی مراد ہو ورنہ آریوں کے تناسخ سے باوا صاحب صریح منکر ہیں۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 143
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 143
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/143/mode/1up
    کرؔ تے ہیں اور ہم تسلیم کرلیں گے کہ شایدکسی مسلمان نے موقعہ پاکر گرنتھ میں داخل کر دئیے ہیں لیکن اگر دلائل قاطعہ
    سے یہ ثابت ہو جائے کہ باوا صاحب نے اسلام کے عقائد قبول کر لئے تھے اور وید پر ان کا ایمان نہیں رہا تھا تو پھر وہ چند اشعار جو باوا صاحب کے اکثر حصہ کلام سے مخالف پڑے ہیں جعلی اور
    الحاقی تسلیم کرنے پڑیں گے یا ان کے ایسے معنے کرنے پڑیں گے جن سے تناقض دور ہو جائے اور ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں- کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل
    کہلاتا ہے یا منافق۔ پس بڑی بے ادبی ہوگی کہ متناقض باتوں کا مجموعہ باوا صاحب کی طرف منسوب کیا جائے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ باوا صاحب نے ایسے مسلمانوں اور قاضیوں مفتیوں کو بھی اپنے
    اشعار میں سرزنش کی ہو جنہوں نے اس حق اور حقیقت کو چھوڑ دیا جس کی طرف خدا تعالیٰ کا کلام بلاتا ہے اور محص رسم اور عادت کے پابند ہوگئے چنانچہ قرآن شریف اور حدیث میں بھی ہے کہ
    ایسے نمازیوں پر لعنتیں ہیں جن میں صدق اور اخلاص نہیں اور ایسے روزے نری فاقہ کشی ہے جن میں گناہ ترک کرنے کا روزہ نہیں۔ سو تعجب نہیں کہ غافل مسلمانوں کے سمجھانے کے لئے اور اس
    غرض سے کہ وہ رسم اور عادت سے آگے قدم بڑھا ویں باوا صاحب نے بعض بے عمل مولویوں اور قاضیوں کو نصیحت کی ہو۔
    اب ہم کھول کر لکھتے ہیں کہ ہماری رائے باوا نانک صاحب کی نسبت
    یہ ہے۔ کہ بلاشبہ وہ سچے مسلمان تھے اور یقیناً وہ وید سے بیزار ہو کر اور کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
    سے مشرف ہو کر اس نئی زندگی کو پا چکے تھے جو بغیر خدائے تعالیٰ کے
    پاک رسول
    کی پیروی کے کسی کو نہیں مل سکتی۔ وہ ہندوؤں کی آنکھوں سے پوشیدہ رہے
    اور پوشیدہ ہی چلے گئے اور اس کے
    دلائل ہم ذیل میں لکھتے ہیں۔
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 144
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 144
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/144/mode/1up
    دلیلؔ اول۔ باوا نانک صاحب کا وصیت نامہ جو سکھوں
    میں چولا صاحب کر کے مشہور ہے
    یہ وصیت نامہ جس کو
    سکھ لوگ چولا صاحب کے نام سے موسوم کرتے ہیں بمقام ڈیرہ نانک جو ضلع گورداسپور پنجاب میں واقع ہے اس مکان گوردوارہ میں نہایت اعزاز اور اکرام سے رکھا ہوا ہے۔ جس کو کابلی مل کی اولاد
    نے جو باوا صاحب کے نسل میں سے تھا خاص اس تبرک کے لئے بنوایا ہے اور پہلا مکان جو چولا صاحب کے لئے بنوایا گیا تھا کہتے ہیں کہ اس پر کئی ہزار روپیہ سے کچھ زیادہ خرچ آیا تھا۔ غرض
    یہ چولا صاحب اس قدر عزت سے رکھا گیا ہے کہ دنیا میں بڑھ کر اس سے متصور نہیں اور یہ ایک سوتی کپڑا ہے جو کچھ خاکی رنگ اور بعض بعض کناروں پر کچھ سرخی نما* بھی ہے۔ سکھوں کی
    جنم ساکھی* کا یہ بیان ہے کہ اس میں تیس۳۰ سیپارہ قرآن شریف کے لکھے ہوئے ہیں۔ اور نیز وہ تمام اسماء الٰہی بھی اس میں مکتوب ہیں جو قرآن کریم میں ہیں۔ اور سکھوں میں یہ امر ایک متفق علیہ
    واقعہ کی طرح مانا گیا ہے کہ یہ چولا صاحب جس پر قرآن شریف لکھا ہوا ہے۔ آسمان سے باوا صاحب کے لئے اترا تھا اور قدرت کے ہاتھ سے لکھا گیا اور قدرت کے ہاتھ سے سیا گیا اور قدرت کے
    ہاتھ سے باوا صاحب کو پہنایا گیا۔ یہ اشارہ اس بات کی طرف بھی تھا کہ اس چولا پر آسمانی کلام لکھا ہوا ہے۔ جس سے باوا صاحب نے ہدایت پائی۔ اور ہم نے ان بیانات پر پورا بھروسہ نہ کر کے خود
    اپنے خاص دوستوں کو اس کی پوری پوری تحقیقات کے لئے موقعہ پر بھیجا اور ان کو تاکید سے کہا کہ کسی کے کہنے پر ہرگز اعتبار نہ کریں اور خود توجہ سے اپنے آنکھ سے اس کپڑے کو دیکھیں
    کہ اس پر کیا لکھا ہوا ہے۔ چنانچہ وہ قادیان سے روانہ ہو کر ڈیرہ نانک میں پہنچے اور اس موقعہ پر گئے۔ جہاں چولا کی زیارت کے لئے ایک مندر بنایا گیا ہے اور کابلی مل کی اولاد کو ملے۔ اور وہ
    لوگ خاطرداری اور تواضع سے پیش آئے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 145
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 145
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/145/mode/1up
    145 corrupted
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 146
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 146
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/146/mode/1up
    146 corrupted
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 147
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 147
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/147/mode/1up
    147 corrupted
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 148
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 148
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/148/mode/1up
    148 corrupted
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 149
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 149
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/149/mode/1up
    149 corrupted
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 150
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 150
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/150/mode/1up
    150 corrupted
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 151
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 151
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/151/mode/1up
    151 corrupted
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 152
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 152
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/152/mode/1up
    152 corrupted
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 153
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 153
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/153/mode/1up
    اورؔ ان کو چولہ دکھلایا گیا اور انہوں نے کلمہ طیّبہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ چولہ پر لکھا ہوا دیکھا اور ایسا ہی کئی
    اور آیات دیکھیں اور واپس آکر تمام حال ہمیں سنایا۔ لیکن ہم نے ان کے بیان پر بھی اکتفا نہ کیا۔ اور سوچا کہ باوا نانک کی اسلام کے لئے یہ ایک عظیم الشان گواہی ہے اور ممکن ہے کہ دوسروں کی
    روایتوں پر تحقیق پسند لوگوں کو اعتماد نہ ہو اور یا آئندہ آنے والی نسلیں اس سے تسلی نہ پکڑ سکیں اس لئے یہ قرین مصلحت معلوم ہوا کہ آپ جانا چاہئے تا صرف شنید پر حصر نہ رہے اور اپنی ذاتی
    رویت ہو جائے۔ چنانچہ ہم بعد استخارہ مسنونہ تیس ستمبر ۱۸۹۵ء کو پیر کے دن ڈیرہ نانک کی طرف روانہ ہوئے اور قریباً دس۱۰ بجے پہنچ کر گیارہ بجے چولا صاحب کے دیکھنے کے لئے گئے۔
    اور ایک جماعت مخلص دوستوں کی میرے ساتھ تھی۔ جو چولا صاحب کے دیکھنے میں میرے شریک تھی۔ اور وہ یہ ہیں۔
    (۱) اخویم مولوی حکیم نور الدین صاحب بھیروی
    )۳( اخویم مولوی
    محمد احسن صاحب امروہی
    (۵) اخویم منشی غلام قادرصاحب فصیح سیالکوٹی
    )۷( اخویم شیخ عبدالرحیم صاحب نو مسلم
    )۹( سید محمد اسماعیل دہلوی
    )۲( اخویم مولوی
    عبدالکریم صاحب سیالکوٹی
    )۴( اخویم شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی
    )۶( اخویم میرزا ایوب بیگ صاحب کلانوری
    )۸( اخویم میر ناصر نواب صاحب دہلوی
    )۱۰( شیخ حامد
    علی تھ غلام نبی
    چنانچہ ایک مخلص کی نہایت درجہ کی کوشش اور سعی سے ہم کو دیکھنے کا وہ موقعہ ملا کہ اس جگہ کے لوگوں کا بیان ہے کہ جہاں تک یاد ہے ایسا موقع کسی کو بھی نہیں ملا
    یعنی یہ کہ چولا صاحب کی تمام تحریرات پر ہمیں اطلاع ہوگئی اور ہمارے لئے وہ بہت ہی اچھی طرح کھولا گیا۔ اس پر تین ۳۰۰سو کے قریب یا کچھ زیادہ رومال لپیٹے ہوئے تھے اور بعض ان میں
    سے بہت نفیس اور قیمتی تھے۔
    * نوٹ۔ وہ میرے دوست جو مجھ سے پہلے میرے ایما سے ڈیرہ نانک میں گئے اور چولہ صاحب کو دیکھ کر آئے ان کے نام یہ ہیں۔ )۱( مرزا یعقوب بیگ صاحب
    کلانوری )۲( منشی تاج دین صاحب اکونٹنٹ دفتر ریلوے لاہور۔ )۳( خواجہ کمال الدین صاحب بی اے لاہور )۴( میاں عبدالرحمن صاحب لاہوری۔ اور مرزا یعقوب بیگ نے چولہ دکھانے والوں
    کو ایک روپیہ بھی دیا تھا۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 154
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 154
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/154/mode/1up
    کچھؔ تو ریشمی رومال تھے اور کچھ سوتی اور بعض پشمینہ کے تھے اور بعض پشمینہ کے شال اور ریشمی کپڑے ایسے
    تھے کہ ان کی بنت میں کچھ لکھا ہوا تھا اس غرض سے کہ تا معلوم ہو کہ یہ فلاں راجہ یا امیر نے چڑھائے ہیں ان رومالوں سے جو ابتدا سے ہی چڑھنے شروع ہوگئے یہ یقین کیا جاتا ہے کہ جو کچھ
    اس چولہ کی اب تعظیم ہوتی ہے وہ صرف اب سے نہیں بلکہ اُسی زمانہ سے ہے کہ جب باوا نانک صاحب فوت ہوئے۔ غرض جب ہم جاکر بیٹھے تو ایک گھنٹہ کے قریب تک تو یہ رومال ہی اترتے رہے۔
    پھر آخر وہ کپڑا نمودار ہوگیا جو چولا صاحب کے نام سے موسوم ہے۔ درحقیقت یہ نہایت مبارک کپڑا ہے جس میں بجائے زری کے کام کے آیات قرآنی لکھی ہوئی ہیں۔ چنانچہ ہم نے اس کپڑا کا نقشہ
    اسی رسالہ میں لکھ کر ان تمام قرآنی آیات کو جا بجا دکھلا دیا ہے۔ جو اس کپڑے پر لکھی ہوئی ہم نے دیکھی ہیں۔ اس وقت یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کپڑے کے دکھلانے کے وقت دکھلانے والوں کو کچھ
    شرم سی دامنگیر ہو جاتی ہے اور وہ حتی المقدور نہیں چاہتے کہ اصل حقیقت سے لوگ اطلاع پاجائیں کیونکہ جو عقیدہ باوا صاحب نے اس کپڑا یعنی چولا صاحب کی تحریروں میں ظاہر کیا ہے وہ ہندو
    مذہب سے بکلی مخالف ہے اور اسی وجہ سے جو لوگ چولا صاحب کی زیارت کراتے ہیں وہ بڑی احتیاط رکھتے ہیں اور اگر کوئی اصل بھید کی بات دیکھنا چاہے تو ان کا دل پکڑا جاتا ہے مگر چونکہ
    ناخواندہ محض ہیں اس لئے کچھ طمع دینے سے دکھلا دیتے ہیں اور ہم نے جب دیکھنا چاہا تو اول انہوں نے صرف لپیٹا ہوا کپڑا دکھایا۔ مگر کچھ تھوڑا سا کنارہ اندر کی طرف کا نمودار تھا۔ جس کے
    حرف مٹے ہوئے تھے اور پشت پر ایک اور باریک کپڑا چڑھا ہوا تھا اور اس کی نسبت بیان کیا گیا کہ یہ وہ کپڑا ہے کہ جس کو ارجن صاحب کی بیوی نے اپنے ہاتھ سے سوت کات کر اور پھر بنوا کر
    اس پر لگایا تھا اور بیان کرنے والا ایک بڈھا بیدی باوا صاحب کی اولاد میں سے تھا جو چولا کو دکھلا رہا تھا۔ اور اس نے یہ بھی کہا کہ جو کچھ اس پر لکھا ہوا ہے وہ انسان کا لکھا ہوا نہیں بلکہ قدرت
    کے ہاتھ سے لکھا ہوا ہے۔ تب ہم نے بہت اصرار سے کہا کہ وہ قدرتی حروف ہم دیکھنا چاہتے ہیں۔ جو خاص پرمیشر کے ہاتھ کے ہیں اور اسی لئے ہم دور سے آئے ہیں تو پھر اس نے تھوڑا سا پردہ
    اٹھایا جس پر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 155
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 155
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/155/mode/1up
    نہاؔ یت خوشخط قلم سے لکھا ہوا تھا اور پھر اس بڈھے نے چاہا کہ کپڑے کو بند کر لے مگر پھر اس سے بھی زیادہ اصرار
    کیا گیا اور ہریک اصرار کرنے والا ایک معزز آدمی تھا اور ہم اس وقت غالباً بیس کے قریب آدمی ہوں گے اور بعض اسی شہر کے معزز تھے جو ہمیں ملنے آئے تھے۔ تب اس بڈھے نے ذرا سا پھر پردہ
    اٹھایا۔ تو ایک گوشہ نکلا جس پر موٹے قلم سے بہت جلی اور خوشخط لکھا ہوا تھا۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پھر اس بڈھے نے بند کرنا چاہا مگر فی الفور اخویم شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی نے
    مبلغ تین روپیہ اس کے ہاتھ پر رکھ دئیے جن میں سے دو روپیہ ان کے اور ا یک روپیہ مولوی محمد احسن صاحب کی طرف سے تھا اور شیخ صاحب پہلے اس سے بھی چار روپیہ دے چکے تھے۔ تب
    اس بڈھے نے ذرہ اور پردہ اٹھایا۔ یک دفعہ ہماری نظر ایک کنارہ پر جا پڑی جہاں لکھا ہوا تھا انّ الدّین عنداللّٰہ الاسلام یعنی سچا دین اسلام ہی ہے اور کوئی نہیں۔ پھر اس بڈھے میں کچھ قبض خاطر پیدا
    ہوگئی تب پھر شیخ صاحب نے فی الفور دو روپیہ اور اس کے ہاتھ پر رکھ دئیے یہ دو روپیہ اخویم مولوی حکیم نور دین صاحب کی طرف سے تھے اور پھر اس کے خوش کرنے کے لئے شیخ صاحب
    نے چار روپیہ اور اپنی طرف سے دیدئیے اور ایک روپیہ اور ہمارے ایک اور مخلص کی طرف سے دیا۔ تب یہ چودان روپیہ پاکر وہ بڈھا خوش ہوگیا اور ہم بے تکلف دیکھنے لگے۔ یہاں تک کہ کئی پردے
    اپنے ہاتھ سے بھی اٹھا دئیے۔ دیکھتے دیکھتے ایک جگہ یہ لکھا ہوا نکل آیا اشھد ان لا الہ الا اللہ و اشھد ان محمدًا عبدہ و رسولہ۔ پھر شیخ رحمۃ اللہ صاحب نے اتفاقاً دیکھا کہ چولہ کے اندر کچھ
    گردوغبار سا پڑا ہے۔ انہوں نے تب بڈھے کو کہا کہ چولہ کو اس گرد سے صاف کرنا چاہئے لاؤ ہم ہی صاف کر دیتے ہیں یہ کہہ کر باقی تہیں بھی اٹھادیں۔ اور ثابت ہوگیا ہے کہ تمام قرآن ہی لکھا ہے
    اور کچھ نہیں۔ کسی جگہ سورۃ فاتحہ لکھی ہوئی ہے اور کسی جگہ سورۃ اخلاص اور کسی جگہ قرآن شریف کی یہ تعریف تھی کہ قرآن خدا کا پاک کلام ہے اس کو ناپاک لوگ ہاتھ نہ لگاویں۔ معلوم ہوتا ہے
    کہ خدا تعالیٰ نے اسلام کے لئے باوا صاحب کا ایسا سینہ کھول دیا تھا کہ اللہ رسول کے عاشق زار ہوگئے تھے۔ غرض باوا صاحب کے اس چولہ سے نہایت قوی روشنی اس بات پر پڑتی ہے کہ وہ دین
    اسلام پر
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 156
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 156
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/156/mode/1up
    نہایتؔ ہی فدا ہوگئے تھے اور وہ اس چولہ کو اسی غرض سے بطور وصیت چھوڑ گئے تھے کہ تا سب لوگ اور آنے والی
    نسلیں ان کی اندرونی حالت پر زندہ گواہ ہوں اور ہم نہایت افسوس کے ساتھ لکھتے ہیں کہ بعض مفتری لوگوں نے یہ کیسا جھوٹ بنا لیا کہ چولے پر سنسکرت اور شاستری لفظ اور زبور کی آیتیں بھی
    لکھی ہیں۔ یاد رہے کہ یہ بالکل جھوٹ اور سخت مکروہ افترا پردازی ہے اور کسی شریر انسان کا کام ہے نہ بھلے مانس کا۔ ہم نے بار بار کھول کے دیکھ لیا تمام چولہ پر قرآن شریف اور کلمہ طیبہ اور
    کلمہ شہادت لکھا ہوا ہے اور بعض جگہ آیات کو صرف ہندسوں میں لکھا ہوا ہے مگر زبور اور سنسکرت کا نام و نشان نہیں ہریک جگہ قرآن شریف اور اسماء الٰہی لکھے ہیں جو قرآن شریف میں ہیں معلوم
    ہوتا ہے کہ یہ جھوٹ صرف اس لئے بنایا گیا کہ تا لوگ یہ سمجھ جاویں کہ چولا صاحب پر جیسا کہ قرآن شریف لکھا ہوا ہے وید بھی لکھا ہوا ہے مگر ہم بجز اس کے کیا کہیں کہ *** اللہ علی الکاذبین۔
    باوا صاحب تو چولے میں صاف گواہی دیتے ہیں کہ بجز دین اسلام کے تمام دین جھوٹے اور باطل اور گندے ہیں۔ پھر وہ وید کی تعریف اس میں کیوں لکھنے لگے۔ چولا موجود ہے جو شخص چاہے جاکر
    دیکھ لے۔ اور ہم تین ہزار روپیہ نقد بطور انعام دینے کے لئے طیار ہیں اگر چولہ میں کہیں وید یا اس کی شرتی کا ذکر بھی ہو یا بجز اسلام کے کسی اور دین کی بھی تعریف ہو یا بجز قرآن شریف کے
    کسی اور کتاب کی بھی آیتیں لکھی ہوں۔ ہاں یہ اقرار ہمیں کرنا مناسب ہے کہ چولا صاحب میں یہ صریح کرامت ہے کہ باوجودیکہ وہ ایسے شخصوں کے ہاتھ میں رہا جن کو اللہ و رسولؐ پر ایمان نہ
    تھا اور ایسی سلطنت کا زمانہ اس پر آیا جس میں تعصب اس قدر بڑھ گئے تھے کہ بانگ دینا بھی قتل عمد کے برابر سمجھا جاتا تھا مگر وہ ضائع نہیں ہوا۔ تمام مغلیہ سلطنت بھی اس کے وقت میں ہی
    ہوئی اور اسی کے وقت میں ہی نابود ہوگئی مگر وہ اب تک موجود ہے اگر خدا تعالیٰ کا ہاتھ اس پر نہ ہوتا تو ان انقلابوں کے وقت کب کا نابود ہو جاتا مقدر تھا کہ وہ ہمارے زمانہ تک رہے اور ہم اس کے
    ذریعہ سے باوا صاحب کی عزت کو بے جا الزاموں سے پاک کریں اور ان کا اصل مذہب لوگوں پر ظاہر کر دیں۔ سو ہم نے چولہ کو ایسے طور سے دیکھا کہ غالباً کسی نے بھی ایسا دیکھا نہیں ہوگا
    کیونکہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 157
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 157
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/157/mode/1up
    نہ صرؔ ف ظاہری نظر سے کامل طور پر دیکھا بلکہ باطنی نظر سے بھی دیکھا اور وہ تمام پاک کلمات جو عربی میں لکھے
    تھے جن کو ہریک سمجھ نہیں سکتا وہ ہم نے پڑھے اور ان سے نہایت پاک نتائج نکالے سو یہ دیکھنا ہم سے پہلے کسی کو نصیب نہیں ہوا۔ اس وقت تک چولہ باقی رہنے کی یہی حکمت تھی کہ وہ ہمارے
    وجود کا منتظر تھا۔
    بعض لوگ انگد کے جنم ساکھی کے اس بیان پر تعجب کریں گے کہ یہ چولہ آسمان سے نازل ہوا ہے اور خدا نے اس کو اپنے ہاتھ سے لکھا ہے۔ مگر خدا تعالیٰ کی بے انتہا قدرتوں
    پر نظر کر کے کچھ تعجب کی بات نہیں کیونکہ اس کی قدرتوں کی کسی نے حد بست نہیں کی کون انسان کہہ سکتا ہے کہ خدا کی قدرتیں صرف اتنی ہی ہیں اس سے آگے نہیں۔ ایسے کمزور اور تاریک
    ایمان تو ان لوگوں کے ہیں جو آج کل نیچری یا برہمو کے نام سے موسوم ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ باوا صاحب کو یہ قرآنی آیات الہامی طور پر معلوم ہوگئے ہوں اور اذن ر ّ بی سے لکھے گئے ہوں۔
    لہٰذا بموجب آیت ۱؂ وہ سب فعل خدا تعالیٰ کا فعل سمجھا گیا ہو۔ کیونکہ قرآن آسمان سے نازل ہوا ہے اور ہریک ربانی الہام آسمان سے ہی نازل ہوتا ہے دین اسلام درحقیقت سچا ہے اور اس کی تائید میں
    خدا تعالیٰ بڑے بڑے عجائبات دکھلاتا ہے اگرچہ اس غیب الغیب کا وجود اس آگ سے بھی زیادہ مخفی ہے جو پتھروں اور ہریک جسم میں پوشیدہ ہے مگر تاہم کبھی کبھی اس وجود کی دنیا پر چمکار پڑتی
    رہتی ہے۔ ہریک چیز میں عنصری آگ ہوتی ہے۔ مگر دلوں میں خدا تعالیٰ نے اپنی ذات کی شناخت کی ایک آگ رکھی ہے۔ جب کبھی بے انتہا دردمندی کی چقماق سے وہ آگ بھڑک اٹھتی ہے تو دل کی آنکھوں
    سے وہ غیر مرئی ذات نظر آ جاتی ہے اور نہ صرف یہی بلکہ جو لوگ اس کو سچے دل سے ڈھونڈتے ہیں اور جو روحیں ایک نہایت درجہ کی پیاس کے ساتھ اس کے آستانہ کی طرف دوڑتی ہیں۔ ان کو
    وہ پانی بقدر طلب ضرور پلایا جاتا ہے جس نے اپنے قیاسی اٹکلوں سے خدا تعالیٰ کو پہچانا اس نے کیا پہچانا۔ درحقیقت پہچاننے والے وہی ہیں جن پر خدا تعالیٰ نے آپ ارادہ کر کے اپنا چہرہ ظاہر کر
    دیا ہے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 158
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 158
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/158/mode/1up
    سو اؔ یسے پہچاننے والے کبھی خوارق کے ذریعہ سے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف کھینچے جاتے ہیں تا ان کی کمزوریاں دور ہو
    جاویں اور ان کا دل یقین سے بھرجاوے پھر اس سے کیوں تعجب کرنا چاہئے کہ یہ چولا قدرت سے ہی لکھا گیا ہو چونکہ باوا صاحب طلب حق میں ایک پرند کی طرح ملک بملک پرواز کرتے پھرے اور
    اپنی عمر کو اس راہ میں وقف کر دیا اور خدا تعالیٰ سے چاہا کہ سچا مذہب ان پر ظاہر ہو سو خدا تعالیٰ نے ان کا صدق دیکھ کر ان کو ضائع نہ کیا بلکہ وہ چولا ان کو عطا کر دیا۔ جس پر قدرت کے تمام
    نقوش ہیں ایسا کیا تا ان کا اسلام پر یقین بڑھ جائے اور تا وہ سمجھیں کہ بجزلا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے اور کوئی سبیل نجات نہیں سو انہوں نے اس چولہ کو اسی غرض سے پہنا کہ تا اس
    چولے کو اپنی نجات کا ذریعہ قرار دیں اور تمام دنیا کو اپنے اسلام پر گواہ کر دیں۔
    بعض نادان آریوں نے بغیر حوالہ کسی کتاب کے محض شرارت سے یہ بات بنائی ہے کہ وہ چولا باوا صاحب کو
    ایک فتح کے بعد ایک قاضی سے بطور نشان فتح ملا تھا لیکن ایسے متعصب لوگ یہ نہیں سوچتے کہ چولا صاحب پر تو اس مضمون کی آیتیں لکھی ہیں کہ فقط اسلام ہی سچا ہے اور اسلام ہی حق ہے اور
    محمد رسول اللہ خدا کے سچے نبی ہیں اور خدا وہی سچا خدا ہے جس نے قرآن کو اتارا۔ پھر اگر باوا صاحب ان آیات کے منکر تھے تو انہوں نے چولے کی اس قدر کیوں عزت کی نعوذ باللہ اگر ان کی
    نظر میں وہ کلام ناپاک تھا تو چاہئے تھا کہ پیروں کے نیچے روندا جاتا اور نہایت بے عزتی کی جاتی یا ایک عظیم الشان جلسہ میں اس کو جلا دیا جاتا۔ مگر باوا صاحب نے تو ایسا نہ کیا بلکہ ہریک کو یہ
    کہتے پھرے۔ کہ یہ خدا کے ہاتھ کا کلام لکھا ہوا ہے اور یہ کلام خدا کی قدرت ہی نے لکھا اور اسی کی قدرت کے ہاتھ نے ہی مجھ کو پہنایا۔ اور اس کلام کی دلوں میں اس قدر عزت جمائی کہ ان کے
    تمام جانشین اس چولہ کی تعظیم کرتے رہے اور جب کوئی بلا پیش آتی اور کوئی سختی نمودار ہوتی یا کوئی عظیم الشان کام کرنا ہوتا تو اس چولہ کو سر پر باندھتے اور کلام الٰہی سے جو اس پر لکھا ہوا
    ہے برکت چاہتے۔ تب
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 159
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 159
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/159/mode/1up
    خدا ؔ تعالیٰ وہ مراد پوری کر دیتا۔ اور اب تک جو عرصہ چار۴۰۰ سو برس کا گذرتا ہے اس چولہ سے مشکلات کے وقت
    برکتیں ڈھونڈتے اور بے اولادوں کے لئے کلام الٰہی سے لونگ وغیرہ چھوا کر لوگوں کو دیتے ہیں اور بیان کیا جاتا ہے کہ اس کی عجیب تاثیرات ہوئی ہیں غرض وہ برکتوں کے حاصل کرنے کا ذریعہ
    اور بلاؤں (کے) دفعہ کرنے کا موجب سمجھا جاتا ہے اور صدہا روپیہ کے شال اور ریشمی کپڑے اس پر چڑھے ہوئے ہیں اور کئی ہزار روپیہ خرچ کر کے اس کے لئے وہ مکان بھی بنایا گیا اور
    اسی زمانہ میں ایک نہایت مبالغہ کے ساتھ انگد صاحب نے جو باوا صاحب کے جانشین تھے اس چولے کی بہت سی برکتیں اپنی جنم ساکھی میں تحریر کیں اور اس کو آسمانی چولہ تسلیم کیا ہے اور اس
    جنم ساکھی میں یہ بھی بیان ہے کہ وہ کلام جو چولے پر لکھا ہوا ہے خدا تعالیٰ کا کلام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک دنیا اس کی تعظیم کے لئے الٹ پڑی اور نہایت سرگرمی سے اس کی تعظیم شروع ہوئی۔
    اس صورت میں کوئی یقین کر سکتا ہے کہ یہ سب اکرام اور اعزاز ایک ایسے کپڑے کے لئے تھا جس پر ایک مفتری اور دروغ گو کا ناپاک کلام لکھا ہوا ہے نہ خدا تعالیٰ کا اور یہ سب تعظیمیں ان الفاظ
    کی تھیں جو نعوذ باللہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں بلکہ کسی جھوٹے کا اپنا کلام تھا جس میں ہر طرح کی برائیاں تھیں۔ جس قدر برابر چار سو برس سے چولہ صاحب کی آیتوں کی تعظیم ہو رہی ہے کیا
    کبھی باوا صاحب کے ہاتھ سے یہ عزت وید کو بھی نصیب ہوئی۔ کیا کوئی ایسا چولہ بھی سکھ صاحبوں کے پاس موجود ہے جس پر وید کی شرتیاں لکھی ہوئی ہوں اور اس کی بھی یہی تعظیم ہوتی ہو
    جیسی کہ اس چولہ کی ہوتی ہے اور اس پر بھی ہزار ہا روپیہ کے دو شالے چڑھتے ہوں اور اس کی نسبت بھی کہا گیا ہو کہ یہ چولہ بھی آسمان سے ہی اترا ہے اور یہ شرتیاں پرمیشر نے اپنے ہاتھ
    سے لکھی ہیں۔ اب یہ کیسا ظلم ہے کہ حق کو چھپایا جاتا ہے اور سراسر خلاف واقعہ کہا جاتا ہے کہ باوا صاحب ایک قاضی صاحب سے فتح کے طور پر یہ چولا لائے تھے۔ حالانکہ وہ کتاب جو
    عرصہ چار سو برس سے گورو انگد نے جو جانشین باوا صاحب کا ہے لکھی ہے جو انگد کی جنم ساکھی کہلاتی ہے جس سے پہلے سکھ صاحبوں کے ہاتھ میں کوئی ایسی کتاب نہیں جو باوا صاحب کے
    سوانح کے متعلق ہو۔ اس میں صاف لکھا ہے کہ قرآن
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 160
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 160
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/160/mode/1up
    قدرؔ ت کے ہاتھ سے چولے پر لکھا ہوا تھا اور ایک بادشاہ نے چاہا کہ وہ آسمانی چولا باوا صاحب سے چھین لے مگر وہ
    چھین نہ سکا اور اس چولہ کی برکت سے باوا صاحب سے بڑی بڑی کرامات ظاہر ہوئیں۔ اب فرمائیے کہ انگد کے بیان کے مخالف اور کونسی معتبر کتاب آپ کے ہاتھ میں ہے ذرہ اس کو پیش تو کرو
    اور یاد رکھو کہ باوا صاحب سچے مسلمان تھے* اور وید کو اپنے صاف بیان سے گمراہی کی کتاب ٹھہرا چکے تھے اور وہ بابرکت چولا ان کے اسلام کا گواہ تھا۔ پھر اب کیونکر اس کھلے کھلے سچ
    پر تاریکی کا پردہ ڈال دیا جاوے جو شخص اوسط درجہ کے ثبوت سے انکار کرے اس کا نام متعصب ہے اور جو شخص کھلے کھلے سچ سے منکر ہو بیٹھے اس کا نام بے حیا اور بے شرم ہے مگر
    مجھے ہرگز امید نہیں کہ سکھ صاحبوں کی طرف سے جو باوا صاحب سے سچی محبت رکھتے ہیں۔ ایسے حق پوشی کے کلمات شائع ہوں یہ تو سب کچھ آریوں کے حصہ میں آگیا۔ جنہوں نے ہٹ
    دھرمی کو اپنا ورثہ بنا لیا ہے۔ باوا صاحب تو ہمیشہ فتح یاب تھے۔ کتنے چولے انہوں نے اکٹھے کئے تھے۔ حیف ہے ان لوگوں کی سمجھ پر جو اب تک حقیقت سے غافل ہیں۔ چاہئے کہ ذرہ دو دن حرج
    کر کے ڈیرہ نانک میں چلے جائیں اور چولہ صاحب کی بچشم خود زیارت کریں۔ تا معلوم ہو کہ جس چیز کو حقیر سمجھا جاتا ہے کیا اس کی ایسی ہی تعظیم ہوتی ہے اگر کہو کہ تعظیم اس لئے ہے کہ
    باوا صاحب نے اس کو پہنا تھا اور باوا صاحب کے ہاتھ اس کو لگے تھے تو ایسا خیال سخت نادانی ہے کیونکہ باوا صاحب اس چولہ سے پہلے ننگے تو نہیں پھرتے تھے۔ کم سے کم اخیر زندگی تک
    شاید ہزاروں چولے پہنے ہوں گے پھر اگر باوا صاحب کے پوشش کے لحاظ سے یہ تعظیم ہوئی تو بجائے اس کے ان کا کوئی اور چولا محفوظ رکھنا چاہئے تھا ایسے چولہ کے رکھنے کی کیا ضرورت
    تھی جس سے لوگوں کو دھوکا لگتا تھا اور نیز قرآنی آیات کے لکھنے سے اس کی پاکیزگی پر داغ بھی لگ گیا تھا اور اس کے کلمہ طیبہ سے جو اس پر لکھا ہوا ہے صاف سمجھا جاتا ہے کہ باوا صاحب
    اس کلمہ کے مصدق ہیں اور اس پر ایمان لائے ہیں اگر وہ کلام خدا کا کلام نہ ہوتا تو چولہ اس کلام سے پلید ہو جاتا۔ کیونکہ اگر قرآن شریف خدا تعالیٰ کا کلام نہیں اور نعوذ باللہ کسی کاذب کا کلام ہے تو
    بلاشبہ وہ کپڑا پاک نہ رہا
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 161
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 161
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/161/mode/1up
    جسؔ پر نعوذ باللہ نقل کفر کفر نباشد۔ یہ ناپاک کلام لکھا گیا اور پھر وہ مکان بھی ناپاک ہوگیا جس میں یہ رکھا گیا اور پھر باوا
    صاحب کو کیا کہیں جو ایسے ناپاک چولے کو پہنی پھرے۔ جس میں پہلی نظر میں ہی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا نظر آتا ہے چاہئے تھا کہ وید کی شرتیاں لکھا کر کوئی چولہ پہنتے تا اس کی
    برکت سے مکتی ہو جاتی۔ اے نالائق آریو! کیوں اس قدر باوا صاحب کی بے ادبی کر رہے ہو۔ کیا وہ گالیاں بس نہیں تھیں جو ایک نا اہل پنڈت نے اپنی ستیارتھ پرکاش میں دیں کیا باوا صاحب کے لئے
    کوئی بھی غیرت کرنے والا باقی نہیں رہا!!! بیشک وہ چولا اپنی ان تمام پاک آیتوں کے ساتھ جو اس پر لکھی ہوئی ہیں باوا صاحب کی ایک پاک یادگار ہے اور پاک ہے وہ مکان جس میں وہ رکھا گیا اور
    پاک ہے وہ کپڑا جس پر وہ آیات لکھی گئی ہیں اور پاک تھا وہ وجود جو اس کو پہنے پھرتا تھا اور *** ہے ان پر جو اس کے برخلاف کہیں اور مبارک وہ ہیں جو چولا صاحب کے کلام سے برکت
    ڈھونڈھتے ہیں۔
    نظم
    یہی پاک چولا ہے سکھوں کا تاج
    یہی کابلی مل کے گھر میں ہے آج
    یہی ہے کہ نوروں سے معمور ہے
    جو دور اِس سے اُس سے خدا دور ہے
    یہی جنم ساکھی میں
    مذکور ہے
    جو انگد سے اس وقت مشہور ہے
    اسی پر وہ آیات ہیں بیّنات
    کہ جن سے ملے جاودانی حیات
    یہ نانک کو خلعت ملا سرفراز
    خدا سے جو تھا درد کا چارہ ساز
    اسی سے وہ
    سب راز حق پاگیا
    اسی سے وہ حق کی طرف آگیا
    اسی نے بلا سے بچایا اسے
    ہر اک بد گہر سے چھوڑایا اسے
    ذرا سوچو سکھو یہ کیا چیز ہے
    یہ اس مرد کے تن کا تعویذ ہے
    یہ اس
    بھگت کا رہ گیا اک نشاں
    نصیحت کی باتیں حقیقت کی جاں
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 162
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 162
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/162/mode/1up
    گرنتھوؔ ں میں ہے شک کا اک احتمال
    کہ انساں کے ہاتھوں سے ہیں دست مال
    جو پیچھے سے لکھتے لکھاتے
    رہے
    خدا جانے کیا کیا بناتے رہے
    گماں ہے کہ نقلوں میں ہو کچھ خطا
    کہ انساں نہ ہووے خطا سے جدا
    مگر یہ تو محفوظ ہے بالیقین
    وہی ہے جو تھا اس میں کچھ شک نہیں
    اسے سر
    پہ رکھتے تھے اہل صفا
    تذلل سے جب پیش آتی بلا
    جو نانک کی مدح و ثنا کرتے تھے
    وہ ہر شخص کو یہ کہا کرتے تھے
    کہ دیکھا نہ ہو جس نے وہ پارسا
    وہ چولہ کو دیکھے کہ ہے
    رہنما
    جسے اس کے مَتْ کی نہ ہووے خبر
    وہ دیکھے اسی چولہ کو اک نظر
    اسے چوم کر کرتے رو رو دعا
    تو ہو جاتا تھا فضل قادر خدا
    اسی کا تو تھا معجزانہ اثر
    کہ نانک بچا جس
    سے وقت خطر
    بچا آگ سے اور بچا آب سے
    اسی کے اثر سے نہ اسباب سے
    ذرہ دیکھو انگد کی تحریر کو
    کہ لکھتا ہے اس ساری تقریر کو
    یہ چولا ہے قدرت کا جلوہ نما
    کلام خدا اس
    پہ ہے جابجا
    جو شائق ہے نانک کے درشن کا آج
    وہ دیکھے اسے چھوڑ کر کام و کاج
    برس گذرے ہیں چار سو ۴۰۰ کے قریب
    یہ ہے نو بنواک کرامت عجیب
    یہ نانک سے کیوں رہ گیا اک
    نشاں
    بھلا اس میں حکمت تھی کیا درنہاں
    یہی تھی کہ اسلام کا ہو گواہ
    بتادے وہ پچھلوں کو نانک کی راہ
    خدا سے یہ تھا فضل اس مرد پر
    ہوا اس کی دردوں کا اک چارہ گر
    یہ مخفی
    امانت ہے کرتار کی
    یہ تھی اک کلید اس کے اسرار کی
    محبت میں صادق وہی ہوتے ہیں
    کہ اس چولہ کو دیکھ کر روتے ہیں
    سنو مجھ سے اے لوگو نانک کا حال
    سنو قصّۂِ قدرتِ
    ذوالجلال
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 163
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 163
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/163/mode/1up
    وہ ؔ تھا آریہ قوم سے نیک ذات
    خردمند خوش خو مبارک صفات
    ابھی عمر سے تھوڑے گزرے تھے سال
    کہ دل میں
    پڑا اس کے دیں کا خیال
    اسی جستجو میں وہ رہتا مدام
    کہ کس راہ سے سچ کو پاوے تمام
    اُسے وید کی راہ نہ آئی پسند
    کہ دیکھا بہت اس کی باتوں میں گند
    جو دیکھا کہ یہ ہیں سڑے اور
    گلے
    لگا ہونے دل اس کا اوپر تلے
    کہا کیسے ہو یہ خدا کا کلام
    ضلالت کی تعلیم ناپاک کام
    ہوا پھر تو یہ دیکھ کر سخت غم
    مگر دل میں رکھتا وہ رنج و الم
    وہ رہتا تھا اس غم سے ہر دم
    اداس
    زباں بند تھی دل میں سو سو ہراس
    یہی فکر کھاتا اسے صبح و شام
    نہ تھا کوئی ہمراز نے ہمکلام
    کبھی باپ کی جبکہ پڑتی نظر
    وہ کہتا کہ اے میرے پیارے پسر
    میں حیراں ہوں
    تیرا یہ کیا حال ہے
    وہ غم کیا ہے جس سے تو پامال ہے
    نہ وہ تیری صورت نہ وہ رنگ ہے
    کہو کس سبب تیرا دل تنگ ہے
    مجھے سچ بتا کھول کر اپنا حال
    کہ کیوں غم میں رہتا ہے اے
    میرے لال
    وہ رو دیتا کہہ کر کہ سب خیر ہے
    مگر دل میں اک خواہش سیر ہے
    پھر آخر کو نکلا وہ دیوانہ وار
    نہ دیکھے بیاباں نہ دیکھا پہاڑ
    اوتار اپنے موہنڈوں سے دنیا کا بار
    طلب
    میں سفر کرلیا اختیار
    خدا کے لئے ہوگیا دردمند
    تنعم کی راہیں نہ آئیں پسند
    طلب میں چلا بیخود و بیحواس
    خدا کی عنایات کی کر کے آس
    جو پوچھا کسی نے چلے ہو کدھر
    غرض کیا
    ہے جس سے کیا یہ سفر
    کہا رو کے حق کا طلب گار ہوں
    نثار رہ پاک کرتار ہوں
    سفر میں وہ رو رو کے کرتا دعا
    کہ اے میرے کرتار مشکل کشا
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 164
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 164
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/164/mode/1up
    میںؔ عاجز ہوں کچھ بھی نہیں خاک ہوں
    مگر بندۂِ درگہِ پاک ہوں
    میں قرباں ہوں دل سے تیری راہ کا
    نشاں دے مجھے
    مردِ آگاہ کا
    نشاں تیرا پا کر وہیں جاؤنگا
    جو تیرا ہو وہ اپنا ٹھہراؤنگا
    کرم کر کے وہ راہ اپنی بتا
    کہ جس میں ہو اے میرے تیری رضا
    بتایا گیا اس کو الہام میں
    کہ پائیگا تو مجھ کو اسلام
    میں
    مگر مرد عارف فلاں مرد ہے
    وہ اسلام کے راہ میں فرد ہے
    ملا تب خدا سے اسے ایک پیر
    کہ چشتی طریقہ میں تھا دستگیر
    وہ بیعت سے اس کے ہوا فیضیاب
    سنا شیخ سے ذکر راہِ
    صواب
    پھر آیا وطن کی طرف اس کے بعد
    ملے پیر کے فیض سے بخت سعد
    کوئی دن تو پردہ میں مستور تھا
    زبان چپ تھی اور سینہ میں نور تھا
    نہاں دل میں تھا درد و سوز و نیاز
    شریروں سے چھپ چھپ کے پڑھتا نماز
    پھر آخر کو مارا صداقت نے جوش
    تعشق سے جاتے رہے اس کے ہوش
    ہوا پھر تو حق کے چھپانے سے تنگ
    محبت نے بڑھ بڑھ کے دکھلائے
    رنگ
    کہا یہ تو مجھ سے ہوا اک گناہ
    کہ پوشیدہ رکھی سچائی کی راہ
    یہ صدق و وفا سے بہت دور تھا
    کہ غیروں کے خوفوں سے دل چور تھا
    تصور سے اس بات کے ہو کے زار
    کہا
    روکے اے میرے پروردگار
    ترے نام کا مجھ کو اقرار ہے
    ترا نام غفّار و ستّار ہے
    بلا ریب تو حیّ و قدّ وس ہے
    ترے بن ہر اک راہ سالوس ہے
    مجھے بخش اے خالق العالمین
    تو سُبّوح وَ
    إِنّی من الظالمین
    میں تیرا ہوں اے میرے کرتار پاک
    نہیں تیری راہوں میں خوف ہلاک
    تیرے در پہ جاں میری قربان ہے
    محبت تیری خود مری جان ہے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 165
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 165
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/165/mode/1up
    وہ ؔ طاقت کہ ملتی ہے ابرار کو
    وہ دے مجھ کو دکھلا کے اسرار کو
    خطاوار ہوں مجھ کو وہ رہ بتا
    کہ حاصل ہو جس
    رہ سے تیری رضا
    اسی عجز میں تھا تذلل کے ساتھ
    کہ پکڑا خدا کی عنایت نے ہاتھ
    ہوا غیب سے ایک چولہ عیاں
    خدا کا کلام اس پہ تھا بے گماں
    شہادت تھی اسلام کی جابجا
    کہ سچا
    وہی دین ہے اور رہنما
    یہ لکھا تھا اس میں بخطَِِّّ جلی
    کہ اللہ ہے اک اور محمدنبیصلیاللہ
    ہوا حکم پہن اس کو اے نیک مرد
    اتر جائیگی اس سے وہ ساری گرد
    جو پوشیدہ رکھنے کی تھی اک
    خطا
    یہ کفارہ اس کا ہے اے باوفا
    یہ ممکن ہے کشفی ہو یہ ماجرا
    دکھایا گیا ہو بہ حکم خدا
    پھر اُس طرز پر یہ بنایا گیا
    بحکم خدا پھر لکھایا گیا
    مگر یہ بھی ممکن ہے اے پختہ کار
    کہ خود غیب سے ہو یہ سب کاروبار
    کہ پردے میں قادر کے اسرار ہیں
    کہ عقلیں وہاں ہیچ و بیکار ہیں
    تویک قطرہ داری زعقل و خرد
    مگر قدرتش بحربے حدّ و عدّ
    اگر بشنوی قصّۂِ
    صادقان
    مجنبان سر خود چو مستہزیان
    تو خود را خردمند فہمیدۂ
    مقامات مردان کجا دیدۂ
    غرض اس نے پہنا وہ فرخ لباس
    نہ رکھتا تھا مخلوق سے کچھ ہراس
    وہ پھرتا تھا کوچوں میں
    چولہ کیساتھ
    دکھاتا تھا لوگوں کو قدرت کے ہاتھ
    کوئی دیکھتا جب اسے دور سے
    تو ملتی خبر اس کو اس نور سے
    جسے دور سے وہ نظر آتا تھا
    اسے چولہ خود بھید سمجھاتا تھا
    وہ ہر
    لحظہ چولے کو دکھلاتا تھا
    اسی میں وہ ساری خوشی پاتا تھا
    غرض یہ تھی تا یار خورسند ہو
    خطا دور ہو پختہ پیوند ہو
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 166
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 166
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/166/mode/1up
    جوؔ عشاق اس ذات کے ہوتے ہیں
    وہ ایسے ہی ڈر ڈر کے جاں کھوتے ہیں
    وہ اس یار کو صدق دکھلاتے ہیں
    اسی غم
    میں دیوانہ بن جاتے ہیں
    وہ جاں اس کی رہ میں فدا کرتے ہیں
    وہ ہر لحظہ سو سو طرح مرتے ہیں
    وہ کھوتے ہیں سب کچھ بصدق و صفا
    مگر اس کی ہو جائے حاصل رضا
    یہ دیوانگی عشق
    کا ہے نشان
    نہ سمجھے کوئی اس کو جز عاشقان
    غرض جوش الفت سے مجذوب وار
    یہ نانک نے چولا بنایا شعار
    مگر اس سے راضی ہو وہ دلستان
    کہ اس بن نہیں دل کو تاب و تواں
    خدا کے جو ہیں وہ یہی کرتے ہیں
    وہ *** سے لوگوں کی کب ڈرتے ہیں
    وہ ہو جاتے ہیں سارے دلدار کے
    نہیں کوئی ان کا بجز یار کے
    وہ جاں دینے سے بھی نہ گھبراتے ہیں
    کہ سب
    کچھ وہ کھو کر اسے پاتے ہیں
    وہ دلبر کی آواز بن جاتے ہیں
    وہ اس جاں کے ہمراز بن جاتے ہیں
    وہ ناداں جو کہتا ہے دربند ہے
    نہ الہام ہے اور نہ پیوند ہے
    نہیں عقل اس کو نہ کچھ غور
    ہے
    اگر وید ہے یا کوئی اور ہے
    یہ سچ ہے کہ جو پاک ہو جاتے ہیں
    خدا سے خدا کی خبر لاتے ہیں
    اگر اس طرف سے نہ آوے خبر
    تو ہو جائے یہ راہ زیر و زبر
    طلبگار ہو جائیں اس
    کے تباہ
    وہ مر جائیں دیکھیں اگر بند راہ
    مگر کوئی معشوق ایسا نہیں
    کہ عاشق سے رکھتا ہو یہ بغض و کیں
    خدا پر تو پھر یہ گماں عیب ہے
    کہ وہ راحم و عالم الغیب ہے
    اگر وہ نہ
    بولے تو کیوں کر کوئی
    یقیں کر کے جانے کہ ہے مختفی
    وہ کرتا ہے خود اپنے بھگتوں کو یاد
    کوئی اس کے رہ میں نہیں نامراد
    مگر وید کو اس سے انکار ہے
    اسی سے تو بے خیر و بیکار
    ہے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 167
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 167
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/167/mode/1up
    کرؔ ے کوئی کیا ایسے طومار کو
    بلا کر دکھاوے نہ جو یار کو
    وہ ویدوں کا ایشر ہے یا اک حجر
    کہ بولے نہیں
    جیسے اک گنگ و کر
    تو پھر ایسے ویدوں سے حاصل ہی کیا
    ذرہ سوچو اے یارو بہر خدا
    وہ انکار کرتے ہیں الہام سے
    کہ ممکن نہیں خاص اور عام سے
    یہی سالکوں کا تو تھا مدعا
    اسی سے تو کھلتی تھیں آنکھیں ذرا
    اگر یہ نہیں پھر تو وہ مرگئے
    کہ بیسود جاں کو فدا کر گئے
    یہ ویدوں کا دعویٰ سنا ہے ابھی
    کہ بعد ان کے ملہم نہ ہوگا کبھی
    وہ کہتے ہیں یہ کوچہ
    مسدود ہے
    تلاش اس کی عارف کو بیسود ہے
    وہ غافل ہیں رحماں کے اس داب سے
    کہ رکھتا ہے وہ اپنے احباب سے
    اگر ان کو اس رہ سے ہوتی خبر
    اگر صدق کا کچھ بھی رکھتے
    اثر
    تو انکار کو جانتے جائے شرم
    یہ کیا کہہ دیا وید نے ہائے شرم
    نہ جانا کہ الہام ہے کیمیا
    اسی سے تو ملتا ہے گنج لقا
    اسی سے تو عارف ہوئے بادہ نوش
    اسی سے تو آنکھیں کھلیں
    اور گوش
    یہی ہے کہ نائب ہے دیدار کا
    یہی ایک چشمہ ہے اسرار کا
    اسی سے ملے ان کو نازک علوم
    اسی سے تو ان کی ہوئی جگ میں دھوم
    خدا پر خدا سے یقیں آتا ہے
    وہ باتوں سے
    ذات اپنی سمجھاتا ہے
    کوئی یار سے جب لگاتا ہے دل
    تو باتوں سے لذت اٹھاتا ہے دل
    کہ دلدار کی بات ہے اک غذا
    مگر تو ہے منکر تجھے اس سے کیا
    نہیں تجھ کو اس رہ کی کچھ بھی
    خبر
    تو واقف نہیں اس سے اے بے ہنر
    وہ ہے مہربان و کریم و قدیر
    قسم اس کی۔ اس کی نہیں ہے نظیر
    جو ہوں دل سے قربان ربّ جلیل
    نہ نقصاں اٹھاویں نہ ہوویں ذلیل
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 168
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 168
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/168/mode/1up
    اسیؔ سے تو نانک ہوا کامیاب
    کہ دل سے تھا قربان عالی جناب
    بتایا گیا اس کو الہام میں
    کہ پائے گا تو مجھ کو اسلام
    میں
    یقین ہے کہ نانک تھا ملہم ضرور
    نہ کر وید کا پاس اےُ پرغرور
    دیا اس کو کرتار نے وہ گیان
    کہ ویدوں میں اس کا نہیں کچھ نشان
    اکیلا وہ بھاگا ہنودوں کو چھوڑ
    چلاّ مکہ کو ہند
    سے منہ کو موڑ
    گیا خانہ کعبہ کا کرنے طواف
    مسلماں بنا پاک دل بے خلاف
    لیا اس کو فضل خدا نے اٹھا
    ملی دونوں عالم میں عزت کی جا
    اگر تو بھی چھوڑے یہ ملک ہوا
    تجھے بھی یہ
    رتبہ کرے وہ عطا
    تو رکھتا نہیں ایک دم بھی روا
    جو بیوی سے اور بچوں سے ہو جدا
    مگر وہ تو پھرتا تھا دیوانہ وار
    نہ جی کو تھا چین اور نہ دل کو قرار
    ہر اک کہتا تھا دیکھ کر اک
    نظر
    کہ ہے اس کی آنکھوں میں کچھ جلوہ گر
    محبت کی تھی ۶سینہ میں اک خلش
    لئے پھرتی تھی اس کو دل کی تپش
    کبھی شرق میں اور کبھی غرب میں
    رہا گھومتا قلق اور کرب میں
    پرندے بھی آرام کرلیتے ہیں
    مجانیں بھی یہ کام کر لیتے ہیں
    مگر وہ تو اک دم نہ کرتا قرار
    ادا کر دیا عشق کا کاروبار
    کسی نے یہ پوچھی تھی عاشق سے بات
    وہ نسخہ بتا جس سے جاگے
    تو رات
    کہا نیند کی ہے دوا سوز و درد
    کہاں نیند جب غم کرے چہرہ زرد
    وہ آنکھیں نہیں جو کہ گریاں نہیں
    وہ خود دل نہیں جو کہ بریاں نہیں
    تو انکار سے وقت کھوتا ہے کیا
    تجھے
    کیا خبر عشق ہوتا ہے کیا
    مجھے پوچھو اور میرے دل سے یہ راز
    مگر کون پوچھے بجز عشق باز
    جو برباد ہونا کرے اختیار
    خدا کے لئے ہے وہی بختیار
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 169
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 169
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/169/mode/1up
    جوؔ اس کیلئے کھوتے ہیں پاتے ہیں
    جو مرتے ہیں وہ ز دہ ہو جاتے ہیں
    وہی وحدہ لا شریک اور عزیز
    ہیں اس کی ما د
    کوئی بھی چیز
    اگر جاں کروں اس کی راہ میں فدا
    تو پھر بھی ہ ہو شکر اس کا ادا
    میں چولے کا کرتا ہوں پھر کچھ بیاں
    کہ ہے یہ پیارا مجھے جیسے جاں
    ذرا ج م ساکھی کو پڑھ اے
    جواں
    کہ ا گد ے لکھا ہے اس میں عیاں
    کہ قدرت کے ہاتھوں کے تھے وہ رقم
    خدا ہی ے لکھا بہ فضل و کرم
    وہ کیا ہے یہی ہے کہ اللہ ہے ایک
    محمد بی اس کا پاک اور یک
    بغیر اس کے
    دل کی صفائی ہیں
    بجز اس کے غم سے رہائی ہیں
    یہ معیار ہے دیں کے تحقیق کا
    کھلا فرق دجال و صدیق کا
    ذرہ سوچو یارو گر انصاف ہے
    یہ سب کشمکش اس گھڑی صاف ہے
    یہ نانک
    سے کرنے لگے جب جدا
    رہے زور کر کر کے بے مدعا
    کہا دور ہو جاؤ تم ہار کے
    یہ خلعت ہے ہاتھوں سے کرتار کے
    بشر سے نہیں تا اوتارے بشر
    خدا کا کلام اس پہ ہے جلوہ گر
    دعا کی تھی اس نے کہ اے کردگار
    بتا مجھ کو رہ اپنی خود کر کے پیار
    یہ چولہ تھا اس کی دعا کا اثر
    یہ قدرت کے ہاتھوں کا تھا سربسر
    یہی چھوڑ کر وہ ولی مرگیا
    نصیحت تھی مقصد
    ادا کر گیا
    اسے مردہ کہنا خطا ہے خطا
    کہ زندوں میں وہ زندہ دل جا ملا
    وہ تن گم ہوا یہ نشاں رہ گیا
    ذرا دیکھ کر اس کو آنسو بہا
    کہاں ہے محبت کہاں ہے وفا
    پیاروں کا چولا ہوا کیوںُ
    برا
    وفادار عاشق کا ہے یہ نشاں
    کہ دلبر کا خط دیکھ کر ناگہاں
    لگاتا ہے آنکھوں سے ہوکر فدا
    یہی دیں ہے دلدادگاں کا سدا
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 170
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 170
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/170/mode/1up
    مگرؔ جس کے دل میں محبت نہیں
    اسے ایسی باتوں سے رغبت نہیں
    اٹھو جلد تر لاؤ فوٹوگراف
    ذرا کھینچو تصویر
    چولے کی صاف
    کہ دنیا کو ہرگز نہیں ہے بقا
    فنا سب کا انجام ہے جز خدا
    سو لو عکس جلدی کہ اب ہے ہراس
    مگر اس کی تصویر رہ جائے پاس
    یہ چولا کہ قدرت کی تحریر ہے
    یہی
    رہنما اور یہی پیر ہے
    یہ انگد نے خود لکھدیا صاف صاف
    کہ ہے وہ کلام خدا بے گزاف
    وہ لکھا ہے خود پاک کرتار نے
    اسی حیّ و قیّوم و غفّار نے
    خدا نے جو لکھا وہ کب ہو خطا
    وہی
    ہے خدا کا کلام صفا
    یہی راہ ہے جس کو بھولے ہو تم
    اٹھو یارو اب مت کرو راہ گم
    یہ نور خدا ہے خدا سے ملا
    ارے جلد آنکھوں سے اپنے لگا
    ارے لوگو تم کو نہیں کچھ خبر
    جو کہتا
    ہوں میں اس پہ رکھنا نظر
    زمانہ تعصب سے رکھتا ہے رنگ
    کریں حق کی تکذیب سب بیدرنگ
    وہی دین کے راہوں کی سنتا ہے بات
    کہ ہو متقی مرد اور نیک ذات
    مگر دوسرے سارے ہیںُ
    پرعناد
    پیارا ہے ان کو غرور اور فساد
    بناتے ہیں باتیں سراسر دروغ
    نہیں بات میں ان کے کچھ بھی فروغ
    بھلا بعد چولے کے اےُ پرغرور
    وہ کیا کسر باقی ہے جس سے تو دور
    تو ڈرتا
    ہے لوگوں سے اے بے ہنر
    خدا سے تجھے کیوں نہیں ہے خطر
    یہ تحریر چولہ کی ہے اک زبان
    سنو وہ زباں سے کرے کیا بیان
    کہ دین خدا دین اسلام ہے
    جو ہو منکر اس کا بد انجام
    ہے
    محمد وہ نبیوں کا سردار ہے
    کہ جس کا عدو مثل مردار ہے
    تجھے چولے سے کچھ تو آوے حیا
    ذرا دیکھ ظالم کہ کرتا ہے کیا
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 171
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 171
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/171/mode/1up
    کہوؔ جو رضا ہو مگر سن لو بات
    وہ کہنا کہ جس میں نہیں پکش پات
    کہ حق جو سے کرتار کرتا ہے پیار
    وہ انساں
    نہیں جو نہیں حق گذار
    کہو جبکہ پوچھے گا مولیٰ حساب
    تو بھائیو بتاؤ کہ کیا ہے جواب
    میں کہتا ہوں اک بات اے نیک نام
    ذرہ غور سے اس کو سنیو تمام
    کہ بیشک یہ چولہ ُ پر از نور
    ہے
    تمرّد وفا سے بہت دور ہے
    دکھائیں گے چولہ تمہیں کھول کر
    کہ دو اُس کا اُتّر ذرا بول کر
    یہی پاک چولہ رہا اک نشاں
    گرو سے کہ تھا خلق پر مہربان
    اسی پر دوشالے چڑھے اور
    زر
    یہی فخر سکھوں کا ہے سربسر
    یہی ملک و دولت کا تھا اک ستوں
    عمل بد کئے ہوگئے سرنگوں
    خدا کے لئے چھوڑو اب بغض و کیں
    ذرا سوچو باتوں کو ہو کر امیں
    وہ صدق و محبت
    وہ مہر و وفا
    جو نانک سے رکھتے تھے تم برملا
    دکھاؤ ذرا آج اس کا اثر
    اگر صدق ہے جلد دوڑو ادھر
    گرو نے تو کر کے دکھایا تمہیں
    وہ رستہ چلو جو بتایا تمہیں
    کہاں ہیں جو نانک
    کے ہیں خاک پا
    جو کرتے ہیں اس کے لئے جاں فدا
    کہاں ہیں جو اس کے لئے مرتے ہیں
    جو ہے واک اس کا وہی کرتے ہیں
    کہاں ہیں جو ہوتے ہیں اس پر نثار
    جھکاتے ہیں سر اپنے کو کر
    کے پیار
    کہاں ہیں جو رکھتے ہیں صدق و ثبات
    گرو سے ملے جیسے شیر و نبات
    کہاں ہیں کہ جب اس سے کچھ پاتے ہیں
    تعشق سے قرباں ہوئے جاتے ہیں
    کہاں ہیں جو الفت سے سرشار
    ہیں
    جو مرنے کو بھی دل سے تیار ہیں
    کہاں ہیں جو وہ بخل سے دور ہیں
    محبت سے نانک کی معمور ہیں
    کہاں ہیں جو اس رہ میں ُ پرجوش ہیں
    گرو کے تعشق میں مدہوش ہیں
    کہاں ہیں
    وہ نانک کے عاشق کہاں
    کہ آیا ہے نزدیک اب امتحاں
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 172
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 172
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/172/mode/1up
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 173
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 173
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/173/mode/1up
    گرو ؔ جس کے اس رہ پہ ہوویں فدا
    وہ چیلہ نہیں جو نہ دے سرجھکا
    اگر ہاتھ سے وقت جاوے نکل
    تو پھر ہاتھ مل مل
    کر رونا ہے کل
    نہ مردی ہے تیر اور تلوار سے
    بنو مرد مردوں کے کردار سے
    سنو آتی ہے ہر طرف سے صدا
    کہ باطل ہے ہر چیز حق کے سوا
    کوئی دن کے مہمان ہیں ہم سب
    سبھی
    خبر کیا کہ پیغام آوے ابھی
    گرو نے یہ چولا بنایا شعار
    دکھایا کہ اس رہ پہ ہوں میں نثار
    وہ کیونکر ہو ان ناسعیدوں سے شاد
    جو رکھتے نہیں اس سے کچھ اعتقاد
    اگر مان لو گے
    گرو کا یہ واک
    تو راضی کرو گے اسے ہو کے پاک
    وہ احمق ہیں جو حق کی راہ کھوتے ہیں
    عبث ننگ و ناموس کو روتے ہیں
    وہ سوچیں کہ کیا لکھ گیا پیشوا
    وصیت میں کیا کہہ گیا بر
    ملا
    کہ اسلام ہم اپنا دیں رکھتے ہیں
    محمد کی رہ پر یقیں رکھتے ہیں
    اٹھو سونے والو کہ وقت آگیا
    تمہارا گرو تم کو سمجھا گیا
    نہ سمجھے تو آخر کو پچھتاؤ گے
    گرو کے سراپوں کا
    پھل پاؤ گے
    چولہ کی مختصر تاریخ
    کتاب ساکھی چولا صاحب سے یہ ثابت ہے کہ جب باوا نانک صاحب کا انتقال ہوا تو یہ چولا انگد صاحب کو جو پہلے جانشین باوا صاحب کے تھے ملا جس کو
    انہوں نے گدی پر بیٹھنے کے وقت سر پر باندھا اور ہمیشہ بڑی تعظیم و تکریم کے ساتھ اپنے پاس رکھا۔ چنانچہ پانچویں گرو ارجنداس صاحب کے وقت تک ہریک گرو اپنی گدی نشینی کے وقت اس کو
    مبارک سمجھ کر سر پر رکھتا رہا اور ان میں ایک فرض کی طرح یہ عادت تھی کہ بڑے بڑے درباروں میں اور عظیم الشان مہموں کے وقت یہ چولہ سر پر رکھتے اور اس سے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 174
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 174
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/174/mode/1up
    برکتؔ ڈھونڈھتے اور ایک مرتبہ ارجن داس صاحب کے وقت میں امرت سر کا تالاب بن رہا تھا۔ اور بہت اخلاص مند سکھ
    اس کے کھودنے میں مصروف تھے تو ایک شخص طوطارام جو زمین کھودنے میں لگا ہوا تھا اور ارجنداس صاحب سے بہت ہی اعتقاد رکھتا تھا۔ اس کے اخلاص کو ارجنداس صاحب نے دیکھ کر اسے
    کہا کہ میں تجھ سے خوش ہوں اس وقت جو کچھ تو نے مجھ سے مانگنا ہے مجھ سے مانگ اس نے کہا کہ مجھے سکھی دان دو یعنی ایسی چیز دو جس سے مجھے دین کی ہدایت ہو۔ تب ارجن صاحب
    سمجھ گئے کہ یہ چولہ مانگتا ہے کیونکہ سچے دین کی ہدایتیں اسی میں موجود ہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ تو نے تو ہمارے گھر کی پونجی ہی مانگ لی پھر سر سے اتار کر اس کو چولہ دیدیا کہ لے اگر
    ہدایت چاہتا ہے تو سب ہدایتیں اسی میں ہیں۔ لیکن پھر وہی چولہ ایک مدّت کے بعد کابلی مل کو جو باوا نانک صاحب کے اولاد میں سے تھا مل گیا اور اب تک بمقام ڈیرہ نانک ضلع گورداسپورہ پنجاب انہیں
    کی اولاد کے پاس موجود ہے جس کا مفصل ذکر ہم کر چکے ہیں۔ اس چولہ کے لئے ایک شخص عجب سنگھ نام نے ایک بڑا مکان ڈیرہ نانک کی شرقی جانب میں بنایا تھا۔ اور جو لوگ چولہ پر رومال
    چڑھاتے رہے ان میں سے جو بعض کے نام معلوم ہوئے وہ یہ ہیں:
    راجہ صاحب سنگھ۔ راجہ بھوپ سنگھ۔ نروان پریتم داس۔ راجہ پنا سنگھ۔ راجہ ٹیلا۔ ہری سنگھ ناوا۔ عجب سنگھ۔ دیوان موتی رام۔
    راجہ صاحب پٹیالہ۔ سردار نہال سنگھ چھاچی اور ایسا ہی برہماشکارپور دکن۔ کشمیر۔ بخارا۔ بمبئی وغیرہ ملکوں کے لوگ اب تک اس چولہ پر رومال چڑھاتے رہے اس چولہ کا ہر سال میلہ ہوتا ہے اور
    دور دور ملکوں سے لوگ آتے ہیں۔ اور صدہا لوگ ملک سندھ کے اور نیز بخارا کے بھی جمع ہوتے ہیں اور ہزار ہا روپیہ کی آمدن ہوتی ہے۔ بخارا میں باوا نانک صاحب کو نانک پیر کر کے بولتے ہیں*اور
    اس کو ایک مسلمان فقیر سمجھتے ہیں اور اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ
    * نوٹ۔ ایک شخض جو بخارا میں دس سال رہ آیا ہے وہ بیان کرتا ہے کہ بخارا میں آج کل باوا نانک صاحب کو باوا ننو کہتے
    ہیں۔ نانک کے لفظ سے کوئی واقف نہیں اور محمد شریف صاحب پشاوری لکھتے ہیں کہ کابل میں دو مقام نانک کے نہایت مشہور ہیں ایک مکان ایک گاؤں میں ہے جس کا نام خواجہ سرائے ہے اور کابل
    سے سات کوس کے فاصلہ پر ہے اور دوسرا مقام قلعہ بلند میں ہے جو کابل سے بیس کوس کے فاصلہ پر ہے اور وہاں کے اکثر لوگ اس کو مسلمان خیال کرتے ہیں۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 175
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 175
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/175/mode/1up
    انؔ ملکوں میں علانیہ طور پر مسلمان رہا اور ایک پرہیزگار اور نیک بخت مسلمان کی طرح نماز اور روزہ کی پابندی اختیار کی
    یہ تو ظاہر ہے کہ ان ملکوں کے لوگ ہندوؤں سے بالطبع کراہت کرتے ہیں۔ اور ان کو کافر اور بے دین سمجھتے ہیں پھر وہ باوا صاحب کی تعظیم و تکریم بغیر ان کے ثبوت اسلام کے کیونکر کر سکتے
    تھے غرض بخارا کے لوگوں میں یہ واقعہ مشہورہ ہے کہ باوا نانک صاحب مسلمان تھے اور نانک صاحب کے بعض فارسی اشعار انہیں کے سنانے کے لئے بنائے گئے تھے۔ چنانچہ یہ شعر بھی انہیں
    میں سے ہے۔
    یک عرض کردم پیش تو درگوش کن کرتار حقا کریم کبیر تو بے عیب پروردگار
    غرض اس بات کے ثبوت کے لئے کہ چولہ درحقیقت نانک صاحب کی طرف سے ہی ہے یہ وجوہ کافی
    اور شافی اور تسلی بخش ہیں کہ اسی چولہ کا ذکر انگد اور بالا کی اس جنم ساکھی میں مذکور ہے جو اسی زمانہ میں تالیف ہوئی۔ پھر دوسرا ثبوت وہ کتاب ہے جو کابلی مل کی اولاد کے ہاتھ میں ہے
    جس کا نام چولہ ساکھی ہے جس میں لکھا ہے کہ یہ چولہ نانک صاحب کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملا تھا اور جتنے گرو بعد میں ہوئے ہیں سب کا اس چولہ سے برکت ڈھونڈنا اس میں مذکور ہے یہ
    دوسرا ثبوت اس بات پر ہے کہ چولہ خود نانک صاحب کا ہی تھا جس کی نسبت ابتدا سے یقین کیا گیا تھا کہ اس میں بہت سی برکتیں ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ تیسرا ثبوت یہ ہے کہ چولہ کی
    تعظیم اور تکریم برابر چار سو برس سے چلی آتی ہے۔ پس یہ عملی حالت جو ہریک زمانہ میں ثابت ہوتی چلی آئی ہے جس کے ساتھ پرانے زمانہ سے میلے اور جلسے بھی ہوتے چلے آئے ہیں اور
    راجوں اور امیروں کا اس پر دوشالے چڑھانا ثابت ہوتا چلا آیا ہے۔ یہ ثبوت بھی نہایت اعلیٰ درجہ کا ثبوت ہے اور پھر اس کے مقابل یہ عذر کرنا کہ دراصل باوا صاحب کو فتح کے طور پر بخارا کے
    قاضی سے یہ چولا ملا تھا نہایت پوچ اور لچر خیال اور کسی سخت مفتری اور متعصب اور خیانت پیشہ آدمی کا منصوبہ ہے جو بالا کی جنم ساکھی کے برخلاف ہے اور کوئی کتاب اس کے اثبات میں
    پیش نہیں کی گئی بلکہ انگد اور بالا صاحب کی جنم ساکھی ایسے کاذب کا منہ سیاہ کر رہی ہے اور افسوس یہ کہ باوجود اس نہایت مکروہ افتراء کے یہ مفتری طریق تحقیق کو بھی بھول گیا۔
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 176
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 176
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/176/mode/1up
    کیونکہؔ اس عذر کے پیش کرنے سے پہلے یہ ثابت کرنا چاہئے تھا کہ مسلمانوں میں یہی رسم ہے کہ جس سے شکست
    کھاویں اس کو چولہ بنا کر دیا کرتے ہیں اور یہ بھی خیال نہیں ہو سکتا کہ ایسا چولہ پہلے کسی قاضی کے پاس موجود ہو اور باوا صاحب نے زبردستی فتح پاکر اس سے چھین لیا ہو۔ کیونکہ اس بات کو
    فتح سے کچھ تعلق نہیں کہ اگر کسی مذہبی مباحثہ میں کوئی غالب ہو تو وہ اس بات کا مجاز سمجھا جائے کہ کسی کا اثاث البیت یعنی گھر کا مال اپنے قبضہ میں لے آوے پھر فتح پانا بھی سراسر
    جھوٹ ہے۔ اگر باوا صاحب مذہبی امور میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرتے پھرتے اور جابجا اسلام کی تکذیب کرتے تو پھر ان کے جنازہ پر مسلمانوں کا یہ جھگڑا کیوں ہوتا کہ یہ مسلمان ہے۔ اور صدہا
    مسلمان جمع ہو کر ان کا جنازہ کیوں پڑھتے۔ صاف ظاہر ہے کہ جو شخص مذہبی امر میں لڑنے جھگڑنے والا ہو۔ اس کے دشمن دین ہونے میں کسی کو اشتباہ باقی نہیں رہتا۔ پھر اگر باوا صاحب حقیقت
    میں اسلام کے دشمن تھے تو کیوں ان کا جنازہ پڑھا گیا اور کیوں انہوں نے بخارا کے مسلمانوں کی طرف اپنی سخت بیماری کے وقت خط لکھا کہ اب میری زندگی کا اعتبار نہیں تم جلد آؤ اور میرے
    جنازہ میں شریک ہو جاؤ کیا کبھی کسی مسلمان نے کسی پادری یا پنڈت کے مرنے کے بعد اس کی نماز جنازہ پڑھی یا اس میں جھگڑا کیا یہ نہایت قوی دلیل اس بات پر ہے کہ وہ دین اسلام کے ہرگز
    مکذب نہ تھے بلکہ مسلمان تھے تبھی تو علماء صلحاء ان سے محبت رکھتے تھے۔ ورنہ ایک کافر سے محبت رکھنا کسی نیک بخت کا کام نہیں چشتیہ خاندان میں اب تک باوا صاحب کے وہ اشعار زبان زد
    خلائق ہیں جن میں وہ اسلام اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی حمد و ثناء کرتے ہیں اور وہ اشعار چونکہ اکابر کے سینہ بسینہ چلے آئے ہیں اس لئے گرنتھ کے اشعار سے جو دو سو برس کے بعد عوام
    الناس کی زبان سے لکھے گئے بہت زیادہ معتبر اور سند پکڑنے کے لائق ہیں چنانچہ ان میں سے ایک یہ شعر ہے ؂
    کلمہ کہوں تو کَلْ پڑے بن کلمہ کَلْ نا جہاں کلمہ کہو لئے سب کل کلمہ میں
    ما
    یعنی مجھے اسی میں آرام آتا ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہوں اور بغیر اس کے مجھے آرام نہیں آتا جہاں کلمہ کا ذکر ہو تو تمام آرام اس سے مل جاتے ہیں۔ اور یہ یقین اور بھی زیادہ
    ہوتا ہے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ باوا صاحب ایک مدت دراز تک اسلامی ملکوں میں رہے اور تمام مسلمانوں نے ان سے محبت کی بلکہ نانک پیر ان کو
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 177
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 177
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/177/mode/1up
    حاشیہؔ متعلق صفحہ ۵۶ ست بچن و صفحہ ۱۷۶ جلدھٰذا
    اس بات کا لکھنا بھی ناظرین کیلئے فائدہ سے خالی نہیں کہ
    جس قدر ہم بابا نانک صاحب کے اسلام کے بارہ میں لکھ چکے ہیں صرف اسی قدر دلائل نہیں بلکہ سکھ صاحبوں کی اور کئی پورانی کتابیں ہیں جن سے صاف صاف طور پر باوا صاحب کا اسلام ثابت ہوتا
    ہے چنانچہ منجملہ ان کے بھائی گورداس صاحب کی واراں ہے جس میں صفحہ باراں میں یہ لکھا ہے۔
    ’’بابا )یعنی نانک صاحب( پھر مکہ میں گیا نیلے کپڑے پہن کر ولی بن کر عاصا ہاتھ میں
    کتاب بغل میں )یعنی قرآن بغل میں( کوزہ اور مصلّٰی ساتھ اور بانگ دی یعنی نماز کیلئے اذان کہی اور مسجد میں جاکر بیٹھے جہاں حاجی لوگ حج گذارتے ہیں۔ دیکھو واراں بھائی گورداس مطبوعہ
    مطبع مصطفائی لاہور صفحہ ۱۲ سم ۱۹۴۷ ‘‘۔
    اب غور کرنا چاہئے کہ یہ طریق کہ نیلے کپڑے پہننا اور عصا ہاتھ میں لینا اور کوزہ اور مصلّٰی ساتھ رکھنا اور قرآن بغل میں لٹکانا اور خانہ
    کعبہ کا قصد کر کے ہزاروں کوس کی مسافت قطع کر کے جانا اور وہاں مسجد میں جاکر قیام کرنا اور بانگ دینا کیا یہ نشان مسلمانوں کے ہیں یا ہندوؤں کے ظاہر ہے کہ مسلمان ہی حج کے لئے نیلے
    کپڑے پہن کر جایا کرتے ہیں۔ عصا بھی مسلمانوں کا شعار ہے۔ اور مصلّٰی ساتھ رکھنا نمازیوں کا کام ہے۔ اور قرآن ساتھ لینا نیک بخت مسلمانوں کا طریق۔ اگر کہو کہ یہ لباس اور یہ طریق مکر اور
    فریب سے اختیار کیا تھا۔ تو تم آپ ہی منصف بن کر جواب دو کہ کیا تمہارا نور قلب اور کانشنس بابا نانک صاحب کی نسبت یہ بات جائز رکھتا ہے کہ انہوں نے باوجود اس یک رنگی کے جو خدا تعالیٰ
    کے لئے اختیار کی تھی پھر مکر اور فریب کے طریق کو بھی ہاتھ سے نہ چھوڑا اور بہروپیوں کی طرح باہر سے مسلمان بن کر اور اندر سے ہندورہ کر حاجیوں کے ساتھ مل کر مکہ میں چلے گئے۔
    میں اس وقت اس بات پر زور دینا نہیں چاہتا کہ یہ طریق کیسا ایک نیک انسان کے حالات کے مخالف ہے بلکہ میں کہتا ہوں۔ کہ اگر ایک معمولی چال چلن کا انسان بھی ایسی فریب کی کارروائی کرے تو
    وہ بھی قابل ملامت ہوگا۔ مثلاً اگر کوئی مسلمان کہلا کر پھر زُنَّا ر پہن لے اور پیشانی پر قشقہ لگا کر اور بتوں کو بغل میں دبا کر جے گنگا جے گنگا۔
    + نوٹ۔ قرآن شریف کا نام کتاب بھی ہے۔ اللہ
    تعالیٰ فرماتا ہے۔۲؂
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 178
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 178
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/178/mode/1up
    کرتا ؔ ہوا ہندوؤں کے ساتھ مل کر گنگا پر جاکر اشنان کرے تو اگرچہ وہ دل سے مسلمان ہو۔ مگر میں اس کو ایک نیک انسان
    نہیں سمجھوں گا۔ کیونکہ اگر اس کو خدا تعالیٰ پر بھروسہ ہوتا تو وہ اپنے ہریک مطلب کو نہ کسی فریب کے ذریعہ سے بلکہ خدا تعالیٰ کے ذریعہ سے ہی حاصل کرنا چاہتا۔
    سو کوئی پاک طبع ایسے
    انسان پر کسی طرح راضی نہیں ہو سکتا جو دین کے شعار کو بعض نفسانی اغراض کے لئے چھوڑتا ہے ظاہر ہے کہ جب بابا نانک صاحب فریب کے طور پر مسلمان بن کر مکہ میں گئے ہوں گے۔ تو راہ
    میں بار بار ان کو اپنے قافلہ کے ساتھ جھوٹ بولنا پڑتا ہوگا۔ اور ہریک کو محض دروغ گوئی کے طور پر کہتے ہوں گے کہ میں مسلمان ہوں اور دکھلانے کے لئے کلمہ بھی پڑھتے ہوں گے۔ اور پنج وقت
    نماز بھی پڑھتے ہوں گے کیونکہ یہ تو ظاہر ہے کہ جو کوئی مسلمانوں کے ساتھ مل کر اور بظاہر مسلمان بن کر سفر کرے وہ نماز پڑھنے سے اپنے تئیں روک نہیں سکتا بالخصوص جبکہ کسی نے
    حاجیوں کے ساتھ خانہ کعبہ کا قصد کیا ہو تو کیونکر ممکن ہے کہ وہ جماعت کے ساتھ نماز نہ پڑھے اور قافلہ کے لوگ اس سے دریافت نہ کریں کہ کیا وجہ کہ آج تو نے نماز نہیں پڑھی۔ غرض ایسا
    مکروہ فریب کہ اندر سے ہندو ہونا اور بظاہر کلمہ بھی پڑھنا روزہ بھی رکھنا اور حاجیوں کے ساتھ حج کرنے کے لئے جانا کسی نیک انسان سے ہرگز صادر نہیں ہو سکتا بلکہ ایسی حرکتیں صرف ان
    لوگوں سے سرزد ہوتی ہیں جن کو خدا تعالیٰ پر بھی ایمان نہیں ہوتا اور نفسانی اغراض کے لئے بہروپیوں کی طرح اپنی زندگی بسر کرتے ہیں بہتر ہے کہ سکھ صاحبان ایک منٹ کے لئے اس کیفیت کا
    خاکہ اپنے اندر کھینچیں اور آپ ہی سوچیں کہ ایسی حرکات ایک پارسا انسان کے چال چلن کو داغ لگاتی ہیں یا نہیں راستبازوں کی زندگی نہایت صفائی اور سادگی سے ہوتی ہے وہ اس طرح کے فریبوں
    سے طبعاً کراہت کرتے ہیں جو ان کی یک رنگی میں خلل انداز ہوں اور میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ یہ افترا کہ گویا مکہ بابا صاحب کے پیروں کی طرف پھرتا تھا نہایت مکروہ افترا ہے مجھے معلوم ہوتا
    ہے کہ یہ بیہودہ باتیں اس وقت کتاب میں ملائی گئیں ہیں کہ جب بابا نانک صاحب کا حج کرنا بہت مشہور ہوگیا تھا اگر معقولی طور پر کچھ باتیں زیادہ کی جاتیں تو شاید بعض لوگ دھوکا میں آجاتے مگر
    اب اس زمانہ میں اس نامعقول جھوٹ کو کوئی طبیعت قبول نہیں کر سکتی میں ان لوگوں کے ساتھ اتفاق نہیں کر سکتا جو کہتے ہیں۔ کہ بابا صاحب مکہ میں نہیں گئے۔ کیونکہ جب تک کسی بات کی کچھ
    اصلیت نہ ہو محض افترا کے طور پر کسی مشہور انسان کی سوانح میں اتنا بڑا
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 179
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 179
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/179/mode/1up
    جھوؔ ٹ لکھ دینا ایک ایسی جرأت ہے جس پر لاکھوں انسانوں کا اتفاق کرلینا خلاف قیاس ہے۔ ماسوا اس کے بابا نانک صاحب کا
    حج کے لئے جانا صرف سکھوں کی کتابوں سے ہی نہیں سمجھا جاتا بلکہ چشتی خاندان کے بہت سے ثقہ لوگ ابتک سینہ بہ سینہ یہ روایت کرتے آئے ہیں کہ بابا نانک صاحب ضرور حج کے لئے مکہ
    میں گئے تھے پس اتنا بڑا واقعہ جو سکھوں اور مسلمانوں میں متفق علیہ ہے کیونکر یک لخت جھوٹ ہو سکتا ہے ہاں جو زواید ملائے گئے ہیں جو نہ صرف اسلامی روایتوں کے مخالف بلکہ عقل اور
    قیاس اور تاریخ کے بھی مخالف ہیں وہ بے شک افتراء اور جھوٹ ہے بہتر ہو کہ اب بھی سکھ صاحبان جنم ساکھیوں میں سے ان بے جا زواید کو نکال دیں کیونکہ یہ نامعقول اور پرتعصب قصے واقعات
    صحیحہ کو ایک کلنک کی طرح لگے ہوئے ہیں اور اب وہ زمانہ نہیں کہ کوئی زیرک ان کو قبول کرے اگر ایسے قصے ہندوؤں کے تیرتھوں اور مقامات متبرکہ اور درباروں کی نسبت کوئی مسلمان پیش
    کرتا تو کیا بجز دل دکھانے کے اس کا کوئی اور نتیجہ بھی ہوتا جبکہ معقول باتیں بھی عدالتوں میں بجز تسلّی بخش ثبوت کے قابل پذیرائی نہیں ہوتیں تو ایسی بیہودہ اور نامعقول باتیں جو تاریخی ثبوتوں
    کے بھی مخالف ہیں کیونکر اور کس طرح قبول ہو سکتی ہیں۔
    پھر اسی بھائی گورداس کی واران میں ہے کہ بابا نانک جب بغداد میں گیا تو شہر میں جاکر باہر اپنا ڈیرہ لگایا اور دوسرا شخص بابا کے
    ساتھ بھائی مردانہ تھا۔ جاکر بانگ دی اور نماز کو ادا کیا دیکھو واراں گورداس صفحہ ۱۳ مطبوعہ مطبع مصطفائی لاہور سم ۱۹۴۷ پھر اس میں اور جنم ساکھی بھائی منی سنگھ میں لکھا ہے کہ بغداد میں
    بابا صاحب کی ملاقات پیر دستگیر محی الدین یعنی سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور بہت گفتگو ہوئی۔ دیکھو جنم ساکھی بھائی منی سنگھ صفحہ ۴۲۶ مطبوعہ مطبع مصطفائی سم ۱۹۴۷
    ۔
    اب ناظرین خود سوچ لیں کہ بابا نانک صاحب تو سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے فوت ہونے سے چار سو برس بعد ہوئے ہیں پھر کیسے سیّد موصوف سے بابا صاحب کی ملاقات ہوگئی۔ یہ
    کس قدر بیہودہ جھوٹ ہے غرض ان تمام افتراؤں کو الگ کر کے اصل بات یہی ثابت ہوتی ہے کہ بابا صاحب ضرور مکہ میں حج کے لئے گئے تھے اور پھر سید عبدالقادر جیلانی کے روضہ کی زیارت
    کے لئے بغداد میں بھی گئے اور جو اس پر زواید ملائے گئے ان کے بے اصل اور دروغ ہونے پر
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 180
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 180
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/180/mode/1up
    یہ ثبوؔ ت کافی ہے کہ وہ نہ صرف معقولی طریق کے برخلاف ہیں۔ بلکہ واقعات صحیحہ کے بھی مخالف ہیں۔ اب ان کو
    سچ وہی سمجھے کہ نرا پاگل ہو جائے کاش اگر ایسے جھوٹ ملانے والوں کو کچھ تاریخ دانی سے بھی حصہ ہوتا تو ایسا سفید جھوٹ بولنے سے شرم کرتے۔ بابا نانک صاحب کا قارون سے ملاقات کرنا
    باوا فرید شکر گنج سے ملنا کیسی قابل ہنسی باتیں ہیں جو جنم ساکھیوں میں لکھی گئی ہیں تمام لوگ جانتے ہیں کہ قارون تو حضرت موسیٰ کے وقت میں ایک بخیل دولتمند تھا جس کو فوت ہوئے تین ہزار
    برس سے بھی زیادہ مدت گذر گئی اس کی ملاقات بابا نانک صاحب سے کیونکر ہوگئی اور باوا فرید صاحب دو سو برس باوا نانک صاحب کے وجود سے پہلے دنیا سے گذر گئے۔ ان سے ملاقات ہونے کے
    کیا معنی یہ تمام امور اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ ان جنم ساکھیوں میں حق کے چھپانے اور تعریف میں مبالغہ کرنے کے لئے بہت ناجائز افترا کئے گئے ہیں۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 181
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 181
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/181/mode/1up
    لقبؔ دیا اور ایسا ہونا ممکن نہ تھا جب تک باوا نانک صاحب ان ملکوں میں اپنا اسلام ظاہر نہ کرتے اب حاصل کلام یہ ہے کہ
    یہ چولہ جو کابلی مل کی اولاد کے ہاتھ میں ہے باوا نانک صاحب کی طرز زندگی اور ان کی ملت و مشرب کا پتہ لگانے کے لئے ایسا عمدہ ثبوت ہے کہ اس سے بہتر ملنا مشکل ہے میں نے اس ثبوت
    میں بہت غور کی اور بہت دنوں تک اس کو سوچتا رہا آخر مجھے معلوم ہوا کہ باوا صاحب کے اندرونی حالات کے دریافت کرنے کے لئے یہ وہ اعلیٰ درجہ کا ثبوت ہے جس پر سکھ صاحبوں کو فخر
    کرنا چاہئے بلاشبہ اُنہیں لازم ہے کہ اگر باوا نانک صاحب سے اُنہیں سچی محبت ہے تو اِس بزرگ چولہ کو تحقیر کی نگاہ سے نہ دیکھیں بلکہ اس کو سرمایہ افتخار سمجھیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ
    گرنتھ ایک زمانہ دراز یعنی دو سو برس کے بعد جمع کیا گیا ہے اور گرنتھ دانوں کو اس بات کا اقرار ہے کہ اس میں بہت سے اشعار باوا صاحب کی طرف منسوب کر دئیے گئے حالانکہ وہ اشعار
    دراصل ان کی طرف سے نہیں ہیں اس صورت میں گرنتھ موجودہ باوا صاحب کی قطعی اور یقینی سوانح پیش کرنے کے وقت حجت قاطعہ کے طور پر پیش نہیں ہو سکتا ہاں یہ شرف اور منزلت چولہ
    صاحب کو حاصل ہے کہ جو نہ دو ۲۰۰سو برس بعد بلکہ نانک صاحب کے ہاتھ سے ہی ان کے جانشینوں کو ملا اور تاریخی تواتر سے اب تک نہایت عزت کے ساتھ محفوظ رہا۔
    مجھے معلوم ہوا ہے
    کہ بعض سکھ صاحبان میری اس تحریر سے ناخوش ہیں بلکہ سخت ناراض ہیں کہ کیوں باوا نانک صاحب کو مسلمان قرار دیا گیا ہے لیکن مجھے نہایت شبہ ہے کہ وہ اس بات کو سمجھے بھی ہوں کہ
    میں نے کن دلائل سے باوا صاحب کو مسلمان یقین کیا ہے انہیں معلوم ہو کہ میں نے باوا صاحب کو مسلمان نہیں ٹھہرایا بلکہ اُنہیں کے پاک افعال اور اقوال ہریک منصف کو اس رائے کے ظاہر کرنے
    کے لئے مجبور کرتے ہیں جو میں نے ظاہر کی یوں تو سکھ صاحبوں سے ہندو صاحب تعداد میں بہت زیادہ ہیں اور ان کے پنڈت بھی اس قدر ہیں کہ شاید سکھ صاحبوں کی کل مردم شماری بھی اس قدر نہ
    ہو مگر میں نے کسی کی نسبت یہ رائے ظاہر نہیں کی کہ فلاں پنڈت درپردہ مسلمان تھا۔ کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ درحقیقت وہ دشمن دین ہیں اور وہ راست بازی جس کو ہم اسلام سے تعبیر کرتے ہیں اس
    کا ہزارم حصہ بھی
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 182
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 182
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/182/mode/1up
    انؔ میں موجود نہیں مگر ہم اگرچہ دونوں آنکھیں بھی بند کرلیں پھر بھی کسی طرح باوا صاحب کے اسلام کو چھپا نہیں سکتے
    انہوں نے فی الواقع اسلامی عقائد کو سچ اور صحیح اور درست جانا اور اپنے اشعار میں ان کی گواہی دی اور نیز اپنے اشعار میں صاف اقرار کیا کہ مدار نجات لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے اور
    اسلام کے مشائخ سے بیعت کی اور اولیاء کے مقابر پر چلہ نشینی اختیار کر کے نماز اور روزہ میں مشغول رہے اور دو حج کئے اور اپنے چولہ صاحب کو آئندہ نسلوں کے لئے ایک وصیت نامہ چھوڑ
    گئے۔ اب بھی اگر باوا صاحب مسلمان نہیں تو اس سے زیادہ کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ بلاشبہ باوا صاحب کے قول اور فعل سے ان کا اسلام ایسا ثابت ہوتا ہے کہ جیسے نصف النہار میں آفتاب چاہئے کہ
    ہریک مسلمان ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھے اور اخوت اسلامی میں داخل تصور کرے۔ ہاں یہ بات سچ ہے کہ باوا صاحب مسیح ابن مریم کے نزول اور حیات کے قائل نہیں تھے بلکہ اسی بروز کے
    قائل تھے جو صوفیوں میں مسلّم ہے یعنی بعض وقت بعض گذشتہ صلحاء کی کوئی ہم شکل روح جو نہایت اتحاد اُن سے رکھتی ہے۔ دنیا میں آ جاتی ہے اور اِس روح کو اُس روح سے صرف مناسبت ہی
    نہیں ہوتی بلکہ اُس سے مستفیض بھی ہوتی ہے اور اس کا دنیا میں آنا بعینہٖ اُس روح کا دنیا میں آنا شمار کیا جاتا ہے اِس کو متصوفین کی اصطلاح میں بروز کہتے ہیں سو اس کے باوا صاحب قائل
    ہیں باوا صاحب کے چولہ میں یہ تحریر موجود ہے کہ خدا وہ سچا خدا ہے جس کا نہ کوئی باپ نہ بیٹا اور نہ ہمسر ہے اور ایسے اشارے انہوں نے اپنے شعروں میں بھی بہت کئے ہیں۔ اس سے کچھ
    تعصب نہیں کہ باوا صاحب کو کشفی طور پر معلوم ہوگیا ہو کہ تین سو۳۰۰ برس کے بعد اس ملک ہند پر نصاریٰ کا تسلّط ہوگا اور ان کے ایسے ہی عقیدے ہوں گے سو انہوں نے نصیحت کے طور پر
    سمجھا دیا کہ اگر ان کا زمانہ پاؤ تو ان کے مذہب سے پرہیز کرو کہ وہ لوگ مخلوق پرست اور سچے اور کامل خدا سے دور اور بے خبر ہیں۔ اور درحقیقت باوا صاحب جس خدا کی طرف اپنے اشعار
    میں لوگوں کو کھینچنا چاہتے ہیں اس پاک خدا کا نہ ویدوں میں کچھ پتہ لگتا ہے اور نہ عیسائیوں کی انجیل محرف مُخرّ ب میں۔ بلکہ وہ کامل اور پاک خدا قرآن شریف کی مقدس آیات میں جلوہ نما ہے
    چنانچہ میں ابھی نمونہ کے طور پر لکھوں گا۔ اور آئندہ قصد رکھتا ہوں کہ باوا صاحب
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 183
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 183
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/183/mode/1up
    کے ؔ کل اشعار کی نسبت یہ ثبوت دوں کہ درحقیقت ہریک عمدہ مضمون انہوں نے قرآن شریف سے ہی لیا ہے اور نہ صرف
    اس قدر بلکہ اس کو اپنا اعتقاد ٹھہرا دیا ہے۔ مجھے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سکھ صاحبوں نے کبھی پوری توجہ باوا نانک صاحب کے قول اور فعل پر غور کرنے کے لئے نہیں کی ورنہ میں کیونکر یقین
    کروں کہ اگر وہ ایک محیط اور گہری نظر ان کے افعال اور اقوال اور طرز زندگی پر کرتے اور ان کی تمام قوتوں اور فعلوں کو یکجائی نظر سے دیکھتے تو پھر اس نتیجہ تک نہ پہنچتے جس تک خدا
    تعالیٰ نے مجھے پہنچایا۔ مگر اب مجھے امید ہے کہ میری کتاب کی تحریک سے بہت ایسے لوگ جو شریف اور پاک دل ہیں ان تمام سچائیوں سے فائدہ اٹھائیں گے جو میں نے اس کتاب میں لکھی ہیں اور
    اگر میری ان تحریروں سے ایک نیک دل انسان بھی اپنے تئیں ان غلطیوں سے بچا لے گا جن میں وہ مبتلا تھا تو میں اس کا اجر پاؤں گا۔
    باوا نانک صاحب کی اسلام پر دوسری دلیل
    انکے وہ چلّے ہیں
    جو انہوں نے اسلام کے
    مشہور اولیاء اور صلحاء کی مقابر پر بغرض
    استفاضہ کئے
    تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ باوا صاحب نے بمقام سرسہ شاہ عبدالشکور صاحب کی خانقاہ پر
    چالیس۴۰ دن تک ایک چلہ کیا جیسا کہ صلحاء مسلمانوں کا طریق ہے مسجد کے قریب ایک خلوت خانہ بنا کر اس میں نماز نوافل پڑھتے رہے اور فرائض پنجگانہ جماعت کے ساتھ مسجد میں ادا کرتے
    رہے اور اسی غرض سے انہوں نے اپنا خلوت خانہ روبقبلہ بنایا تا وہ مسجد البیت کی طرح ہو جاوے۔ اب اس خلوت خانہ کا نام چلہ باوا نانک کر کے مشہور ہے اور پنجاب اور سندھ وغیرہ سے سکھ
    صاحبان اس چلہ کی زیارت کرنے کے لئے گروہ در گروہ آتے ہیں۔ اور بہت کچھ روپیہ چڑھاتے ہیں اور وہ روپیہ ان مجاور مسلمانوں کو ملتا ہے جو شاہ عبدالشکور صاحب کی خانقاہ پر مقرر ہیں
    کیونکہ باوا صاحب نے یہ چلہ اس خانقاہ کے قریب اس غرض سے کیا کہ باوا صاحب کو شاہ عبدالشکور صاحب کے کامل ولی ہونے پر نہایت اعتقاد تھا اور وہ جانتے تھے کہ اولیاء کے مقامات کے
    قریب خدا تعالیٰ کی برکتیں نازل ہوتی ہیں۔ اور وہ زمین نہایت مبارک
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 184
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 184
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/184/mode/1up
    ہوؔ تی ہے جس میں خدا تعالیٰ کے پیارے بندے سوئے ہوئے ہیں سو اسی غرض سے انہوں نے ان کی خانقاہ کے پاس عبادت
    کے لئے اپنا خلوت خانہ بنایا۔ ہم نے جو اپنے ایک مخلص ڈاکٹر محمد اسماعیل خاں صاحب کو موقعہ پر تحقیقات کرنے کی غرض سے بھیجا تو انہوں نے کامل تحقیقات کر کے کاغذات متعلقہ تحقیقات
    جو نہایت تشفی بخش تھے ہماری طرف روانہ کئے چنانچہ ان میں سے ایک موقعہ چلہ کا نقشہ ہے جو اس رسالہ کے ساتھ شامل کیا گیا۔ جس کو منشی بختاور سنگھ صاحب سب اوورسیر نے بہت
    تحقیق کے ساتھ طیار کیا کاغذات آمدہ سے یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ باوا نانک صاحب نے بعض اور مشاہیر بزرگان اسلام کی خانقاہوں پر بھی چلہ کیا ہے چنانچہ ایک چلہ حضرت معین الدّ ین صاحب
    چشتی کی خانقاہ پر بمقام اجمیر کیا اور ایک چلہ بمقام پاک پتن اور ایک چلہ بمقام ملتان لیکن چونکہ وقت تنگ تھا اس لئے ہم نے صرف چلہ سرسہ اور چلہ ملتان پر کفایت کی سو سرسہ کے چلہ کی
    کیفیت تو ہم بیان کر چکے اور نقشہ بھی اس رسالہ کے ساتھ آویزاں ہے۔* مگر ملتان کے چلہ کی کیفیت بتفصیل ذیل ہے۔
    ملتان کے چلّہ کی کیفیت
    میں نے اپنے ایک معزز دوست کو جو ایسے
    امور کی تحقیقات کیلئے ایک طبعی جوش رکھتے تھے اس بات کیلئے تکلیف دی کہ وہ ملتان میں جاکر برسر موقعہ یہ تحقیقات کریں کہ درحقیقت باوا نانک صاحب نے ملتان میں کوئی چلہ کیا ہے یا نہیں
    چنانچہ ۳۰ ستمبر ۱۸۹۵ء کو ان کا خط معہ نقشہ موقعہ کے بذریعہ ڈاک مجھ کو ملا جسکی اصل عبارت ذیل میں لکھی جاتی ہے۔
    بحضرت جناب مسیح موعود مہدی زمان مرزا صاحب دام
    برکاتہٗ
    بعد سلام نیاز کے گذارش ہے کہ سرفراز نامہ حضور کا شرف صدور لاکر باعث سعادت دارین ہوا۔ کمترین برائے تعمیل ارشاد ۲۷ ستمبر ۱۸۹۵ء کو ملتان میں پہنچا۔ عندالتحقیقات معلوم
    ہوا کہ باوا نانک صاحب نے روضہ مبارک حضرت شاہ شمس تبریز پر چالیس روز تک چلہ کیا تھا۔ نقشہ روضہ شامل عریضہ ہذا ارسال ہے نقشہ میں دکھایا گیا ہے کہ روضہ کے جانب جنوب میں وہ
    مکان ہے جو چلہ نانک کہلاتا ہے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 185
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 185
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/185/mode/1up
    روؔ ضہ کی دیوار جنوبی میں ایک مکان محراب دار دروازہ کی شکل پر بنا ہوا ہے۔ اس پر یااللّٰہ کا لفظ لکھا ہوا ہے اور ساتھ
    اس کے ایک پنجہ بنا ہوا ہے اس شکل پریااللّٰہ ۔ اس جگہ کے ہندو مسلمان اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ یہ لفظ یا اللہ کا باوا صاحب نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا اور پنجہ کی شکل بھی اپنے ہاتھ سے
    بنائی تھی۔ دیوار کے ساتھ پائین دیوار میں ایک مکان کا یہ نشان بنا ہوا ہے۔
    یہ جگہ ڈیڑھ گز قریب طول میں اور ایک گز عرض میں ہے اور یہ بات ملتان کے ہندو مسلمانوں کے نزدیک مسلّم ہے کہ اس
    جگہ باوا نانک صاحب چالیس روز چلّہ میں بیٹھے تھے۔ چنانچہ ہندو لوگ اس جگہ کو متبرک سمجھ کر زیارت کرنے کو آتے ہیں اور ایسا ہی سکھ بھی زیارت کے لئے ہمیشہ آتے رہتے ہیں۔ اس روضہ
    کے اندرونی احاطہ میں ایک مسجد بھی واقع ہے جو نقشہ میں دکھائی گئی ہے اور وہ باوانانک صاحب کے چلّہ سے بہت قریب ہے صرف پانچ چھ کرم کا فرق ہے اور باواصاحب کا یہ مکان چلہ رو بقبلہ
    ہے جس میں * قبلہ کی طرف منہ کرنا چلہ کش کا اصل مقصود پایا جاتا ہے اور روضہ کے گرداگرد ایک مکان مسقف بنا ہوا ہے جس کو یہاں کے لوگ غلام گردش کہتے ہیں جس کا نمونہ نقشہ میں
    علیحدہ دکھلایا گیا ہے نانک صاحب کی جائے نشست غلام گردش کے اندر ہے جو جگہ مسقف ہے اور بحسیس شاہ صاحب رئیس ملتان سجادہ نشین شمس تبریز سبزواری کی زبانی معلوم ہوا کہ جب باوا
    نانک صاحب بیت اللہ شریف سے واپس تشریف لائے تو حج خانہ کعبہ سے فراغت کرتے ہی ملتان میں آئے۔ ** اور روضہ مبارک شاہ شمس تبریز صاحب پر چالیس روز
    * نوٹ۔ ہم پہلے لکھ
    چکے ہیں کہ باوا صاحب کا وہ مکان چلہ جو سرسہ میں بنا ہوا ہے وہ بھی روبقبلہ ہے اور اب ہمارے اس دوست کی تحریر سے معلوم ہوا ہے کہ یہ چلہ بھی روبقبلہ باوا صاحب نے بنایا تا نماز پڑھنے
    کے لئے آسانی ہو۔ اور مسجد کے قریب بنایا تا فرضی نمازیں جماعت کے ساتھ مسجد میں سہولیت سے ادا کریں- اب ان روشن ثبوتوں کے مقابل پر باوا صاحب کے اسلام سے انکار کرنا گویا دن کو
    رات کہنا ہے۔ م۔ غ۔ا
    **نوٹ۔ اللہ اللہ یہ شخص کیسا دین اسلام کی محبت میں فنا ہوگیا تھا اور خدا جوئی اور محبت الٰہی کی آگ کیسی اور کس قدر اس کے دل میں جوش زن تھی اور کس زور و شور
    سے اس کے اندر آگ بھڑک رہی تھی اور وہ کیا شے تھی جو اس کو ایسا بے آرام کر رہی تھی جو مکہ معظمہ میں مدت دراز تک رہ کر پھر نہ چاہا کہ گھر میں جاکر آرام کرے بچوں کی محبت میں
    مشغول ہو۔ بلکہ سیدھا ملتان میں پہنچا اور شمس تبریز کے روضہ کے قرب و جوار میں ریاضت اور مجاہدہ شروع کیا۔ چاہئے کہ ہر یک سستی کا مارا دنیا میں غرق نام کا مسلمان بلکہ مولوی اس مرد
    خدا کی سرگرمی کے طرف خیال کر کے عبرت پکڑے اور مرنے سے پہلے متنبہ ہو جائے کہ پھر یہ موقعہ دوسری مرتبہ ہرگز نہیں ملے گا کہ دنیا میں آوے اور خدا تعالیٰ کے راضی کرنے کے لئے
    دل و جان سے مجاہدات کرے۔ یارو یہی چند روز ہیں جس نے سمجھنا ہو سمجھ لیوے اے سونے والو جاگو اور اگر رات ہے تو دن کا انتظار مت کرو اور اگر دن ہے تو رات کے منتظر مت رہو کہ
    پیچھے سے بے فائدہ رونا ہوگا اور دل کو جلا دینے والی حسرتیں کبھی منقطع نہیں ہوں گی۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 186
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 186
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/186/mode/1up
    چلّہؔ میں بیٹھے رہے اور ان کا ورد خدا تعالیٰ کے ناموں میں سے ھُوْکے نام کا وِرد تھا۔ کیونکہ شاہ شمس تبریز کا بھی یہی
    وِرد تھا۔ اور اکثر وہ یہ مصرع پڑھا کرتے تھے۔
    بجز یاھُوْ و یامن ھُوْ دگر چیزے نمید انم
    بحسیس شاہ صاحب کا یہ بھی بیان ہے کہ باوا صاحب کا باپ مسمی بھائی کالو اور ان کا دادا مسمی بھائی
    سوبھا بھی حضرت شاہ شمس تبریز صاحب کے سلسلہ کے مرید تھے اسی لئے باوا نانک صاحب بھی اسی سلسلہ میں مرید ہوئے۔ یہ تو سجادہ نشین صاحب کا بیان ہے جو ملتان کے رئیس بھی ہیں۔ مگر
    اس کے مطابق ہی سید حامد شاہ صاحب گردیزی رئیس ملتان اور خلیفہ عبدالرحیم صاحب جو خاص مجاور روضہ موصوفہ کے ہیں گواہی دیتے ہیں۔ ان کا بیان ہے کہ یہ ایک مشہور واقعہ متواتر
    روایتوں سے چلا آتا ہے اور عام اور خاص اور ہندو اور مسلمان اس پر متفق ہیں کہ روضہ موصوفہ کے ساتھ باوانانک صاحب نے ایک خلوت خانہ بنا کر چالیس روز تک اس میں چلہ کیا تھا اور جو دیوار
    پر یا اللہ کا لفظ لکھا ہوا اب تک موجود ہے۔ اور ساتھ اس کے ایک پنجہ ہاتھ کی شکل پر بنایا ہوا ہے۔ یہ دونوں یادگار بھی باوا نانک صاحب کے ہی ہاتھ کی ہیں۔ لہٰذا ہندو لوگ باوا صاحب کی تحریر اور
    نشان کی بہت تعظیم کرتے ہیں۔ یہ واقعات ہیں جو موقعہ کی تحقیقات سے معلوم ہوئے اور یہ بات بالکل صحیح ہے کہ باوا نانک صاحب کے اس جگہ چلّہ بیٹھنے اور یا اللہ کا لفظ لکھنے اور اس جگہ
    پنجہ کی شکل بنانے میں ہندو اور مسلمان دونوں قوموں کو اتفاق ہے۔
    * نوٹ۔ ڈاکٹر ٹرمسپ کا یہ قول کہ یہ بات قرین قیاس معلوم نہیں ہوتی کہ نانک مکہ میں بھی گیا ہو سراسر قلت تدبر اور کم
    سوچنے کی وجہ سے ہے جس حالت میں ڈاکٹر صاحب خود گرنتھ کے ترجمہ میں باوا نانک صاحب کا یہ قول لکھ چکے ہیں کہ ان کا یہ عقیدہ تھا کہ بجز شفاعت محمد مصطفٰیصلی اللہ علیہ و سلم کوئی
    شخص نجات نہیں پائے گا تو ایسے صدق اور اعتقاد کے آدمی پر یہ بدظنی کرنا کہ ان کا مکہ میں جانا ایک موضوع قصہ معلوم ہوتا ہے صحیح نہیں ہے۔ ہاں وہ نامعقول زوائد جو ساتھ لگائے گئے ہیں وہ
    بیشک سراسر افترا ہے اور حج کے لئے مکہ میں باوا صاحب کا جانا چشتی خاندان کے صوفیاء میں سینہ بسینہ روایت چلی آتی ہے۔ چنانچہ ابھی اوپر بیان ہو چکا ہے بلکہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ
    باوا صاحب دو برس برابر مکہ معظمہ میں رہے اور مکہ معظمہ کی طرف انہوں نے دو سفر کئے اور دو حج کئے۔ پس ثابت شدہ باتیں کیونکر ُ چھپ سکتی ہیں۔ م۔غ۔ا ۔
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 187
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 187
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/187/mode/1up
    اورؔ کوئی کسی قسم کا عذر اور شک نہیں کرتا اور کسی کو اس کی تسلیم اور تصدیق میں انکار نہیں ہے۔
    الراقم آپ کا
    نیازمند
    نیاز بیگ از ملتان ۲۸ ستمبر ۱۸۹۵ء
    یہ وہ خط ہے جو میرزا صاحب مقدم الذکر نے کمال تحقیقات کے بعد ہماری طرف لکھا۔ اور اس کے ساتھ انہوں نے نہایت محنت اور تحقیق سے ایک
    نقشہ موقعہ چلہ کا بھی مرتب کر کے بھیج دیا ہے۔ اور وہ یہ ہے۔
    نوٹ :۔ اللہ کا اسم قرآنی اسماء میں سے اسم اعظم ہے اور باوا صاحب کا یا اللہ اپنے ہاتھ سے لکھنا اور پھر اس کے نیچے اپنے
    ہاتھ کی شکل بنا کر رکھ دینا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اے وہ اللہ جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم پر ظاہر ہوا دیکھ کہ میں تیری طرف آگیا ہوں اور تیرا تابعدار ہوگیا ہوں سو تو رحم کر کے
    میری دستگیری کر کہ میں تیرے ہی آستانہ پر گرا ہوں۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 188
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 188
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/188/mode/1up
    اخباؔ ر خالصہ بہادر نمبر۶ مورخہ ۳۰ ستمبر ۱۸۹۵ء
    اس اخبار کے ایڈیٹر صاحب کو یہ بات نہایت مستبعد معلوم ہوئی
    ہے کہ باوانانک صاحب اہل اسلام میں سے تھے۔ اس لئے وہ نہایت سادگی سے فرماتے ہیں کہ اصل بات یہ ہے کہ باوا صاحب نہ ہندومت کے پابند تھے اور نہ مسلمان تھے بلکہ صرف واحد خدا پر ان کا
    یقین تھا۔ اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ ایڈیٹر صاحب کی اس تقریر کا خلاصہ یہی ہے کہ باوا صاحب نہ تو وید کو پرمیشر کی طرف سے جانتے تھے اور نہ قرآن شریف کو ہی منجانب اللہ تسلیم
    کرتے تھے اور ان دونوں کتابوں میں سے کسی کا بھی الہامی ہونا قبول نہیں کرتے تھے۔ لیکن وید کی نسبت تو یہ قول اڈیٹر صاحب کا بے شک صحیح ہے۔ کیونکہ اگر باوا صاحب وید کے پابند ہوتے تو
    اپنے شبدوں میں بار بار یہ اقرار نہ کرتے کہ خدا ارواح اور اجسام کا خالق ہے اور نجات جاودانی ہے اور خدا توبہ اور عاجزی کرنے کے وقت گناہ بخش دیتا ہے اور الہام کا دروازہ بند نہیں ہے
    کیونکہ یہ سب باتیں وید کے اصول کے مخالف ہیں اور باوا صاحب نے اس پر بس نہیں کیا بلکہ چاروں ویدوں کو کہانی یعنی محض یاوہ گوئی قرار دیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ چار۴وں وید عارفوں کی
    راہ سے بے خبر ہیں۔ سو باوا صاحب کی ان تمام باتوں سے بلاشبہ یقینی طور پر کھل گیا ہے کہ باوا صاحب نے ہندو مذہب کو چھوڑ دیا تھا اور ہندوؤں کے وید اور ان کے شاستروں سے سخت بیزار
    ہوگئے تھے مگر یہ بات صحیح نہیں ہے کہ باوا صاحب ہندو مذہب کو چھوڑ کر پھر بالکل لامذہب ہی رہے کیا باوا صاحب اس قدر بھی نہیں سمجھتے تھے کہ وہ خدا کہ جس نے نوع انسان کو اس کی
    جسمانی محافظت کے لئے سلاطین کی قہری حکومتوں کے نیچے داخل کر دیا۔ اس نے روحانی بلاؤں سے بچانے کے لئے جو انسان کی فطرت کو لگی ہوئی ہیں کوئی قانون اپنی طرف سے ضرور بھیجا
    ہوگا۔ آڈیٹر صاحب فرماتے ہیں کہ باوا صاحب واحد خدا پر یقین رکھتے تھے۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ یقین ان کو کیونکر اور کس راہ سے حاصل ہوا اگر کہو کہ صرف عقل اور فہم سے سو واضح ہو کہ
    یہ بات ہزارہا
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 189
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 189
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/189/mode/1up
    صادؔ قوں اور عارفوں کی شہادتوں سے ثابت ہو چکی ہے۔ خدا تعالیٰ کی شناخت کے لئے عقل ناکافی ہے دنیا میں دنیوی علوم
    بھی تعلیم کے ذریعہ سے ہی حاصل ہوتے رہے ہیں اور اگر مثلاً ایک کروڑ شیر خوار بچہ کو بھی کسی تہہ خانہ میں تعلیم سے دور رکھ کر پرورش کیا جاوے تو قطع نظر اس سے کہ وہ بچے علوم
    طبیعی و طبابت و ہیئت وغیرہ خود بخود سیکھ لیں کلام کرنے سے بھی عاجز رہ جائیں گے اور گنگوں کی طرح ہوں گے اور ان میں سے ایک بھی خودبخود پڑھا لکھا نہیں نکلے گا۔ پھر جبکہ دنیوی علوم
    بلکہ علم زبان بھی بغیر تعلیم اورسکھلانے کے نہیں آ سکتے تو اس خدا کا خودبخود پتہ کیونکر لگے جس کا وجود نہایت لطیف اور ایک ذرہ سے بھی دقیق تر اور غیب در غیب اور نہاں در نہاں ہے۔ اس
    لئے یہ گمان نہایت سادہ لوحی کا خیال ہے کہ وہ عاجز انسان جو صدہا تاریکیوں میں پڑا ہوا ہے وہ اس ذات بیچوں اور بیچگوں اور وراء الورا ء اور نہایت پوشیدہ اور الطف اور ادق کو خودبخود دریافت
    کرے اور اس سے زیادہ کوئی شرک بھی نہیں کہ انسان جو ایک مرے ہوئے کیڑے کی مانند ہے یہ ُ پرتکبر دعوے کرے کہ میں خود بغیر امداد اس کی چراغ ہدایت کے اس کو دیکھ سکتا ہوں بلکہ قدیم سے
    یہ سنت اللہ ہے کہ جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے وہ آپ اپنے برگزیدہ بندوں پر اپنا موجود ہونا ظاہر کرتا رہا ہے اور بغیر ذریعہ خدا کے کوئی خدا تک پہنچ نہیں سکا اور وہی شخص اس کی ہستی پر
    پورا یقین لا سکا جس کو خود اس قادر مقتدر ذوالجلال نے اناالموجود کی آواز سے تسلی بخشی اور یا وہ شخص جو ایسی آواز سننے والے کے ساتھ محبت کے پیوند سے یک دل و یکجان ویکرنگ ہوگیا سو
    دنیا میں یہ دو ہی طریق ہیں جو خدا تعالیٰ کے قدیم قانون قدرت میں پائے جاتے ہیں اور چونکہ خدا تعالیٰ نے ابتداء سے یہی چاہا کہ اس کی مخلوقات یعنی نباتات جمادات حیوانات یہاں تک کہ اجرام علوی
    میں بھی تفاوت مراتب پایا جائے اور بعض مفیض اور بعض مستفیض ہوں اس لئے اس نے نوع انسان میں بھی یہی قانون رکھا اور اسی لحاظ سے دو طبقہ کے انسان پیدا کئے۔ اول وہ جو اعلیٰ استعداد
    کے لوگ ہیں جن کو آفتاب کی طرح بلاواسطہ ذاتی روشنی عطا کی گئی ہے۔ دوسرے وہ جو درجہ دوم کے آدمی ہیں جو اس آفتاب کے واسطہ سے نور حاصل کرتے ہیں اور خودبخود حاصل نہیں کر
    سکتے۔ ان دونوں طبقوں کے لئے آفتاب اور ماہتاب نہایت عمدہ نمونے ہیں جس کی طرف قرآن شریف میں ان لفظوں میں
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 190
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 190
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/190/mode/1up
    اشارؔ ہ فرمایا گیا ہے کہ۱؂جیسا کہ اگر آفتاب نہ ہو تو ماہتاب کا وجود بھی ناممکن ہے۔ اسی طرح اگر انبیاء علیہم السلام نہ
    ہوں جو نفوس کاملہ ہیں تو اولیاء کا وجود بھی حیزّ امکان سے خارج ہے اور یہ قانون قدرت ہے جو آنکھوں کے سامنے نظر آ رہا ہے چونکہ خدا واحد ہے اس لئے اس نے اپنے کاموں میں بھی وحدت
    سے محبت کی اور کیا جسمانی اور کیا روحانی طور پر ایک وجود سے ہزاروں کو وجود بخشتا رہا۔ سو انبیاء جو افراد کاملہ ہیں وہ اولیاء اور صلحاء کے روحانی باپ ٹھہرے جیسا کہ دوسرے لوگ ان
    کے جسمانی باپ ہوتے ہیں۔ اور اسی انتظام سے خدا تعالیٰ نے اپنے تئیں مخلوق پر ظاہر کیا تا اس کے کام وحدت سے باہر نہ جائیں اور انبیاء کو آپ ہدایت دیکر اپنی معرفت کا آپ موجب ہوا اور کسی
    نے اس پر یہ احسان نہیں کیا کہ اپنی عقل اور فہم سے اس کا پتہ لگا کر اس کو شہرت دی ہو بلکہ اس کا خود یہ احسان ہے کہ اس نے نبیوں کو بھیج کر آپ سوئی ہوئی خلقت کو جگایا اور ہریک نے اس
    وراء الورا ء اور الطف اور اد ّ ق ذات کا نام صرف نبیوں کے پاک الہام سے سنا اگر خدا تعالیٰ کے پاک نبی دنیا میں نہ آئے ہوتے تو فلاسفر اور جاہل جہل میں برابر ہوتے دانا کو دانائی میں ترقی کرنے کا
    موقعہ صرف نبیوں کی پاک تعلیم نے دیا اور ابھی ہم بیان کر چکے ہیں کہ جبکہ انسان بچہ ہونے کی حالت میں بغیر تعلیم کے بولی بولنے پر بھی قادر نہیں ہو سکتا۔ تو پھر اس خدا کی شناخت پر جس کی
    ذات نہایت دقیق در دقیق پڑی ہے کیونکر قادر ہو سکتا ہے۔
    اب ہم پوچھتے ہیں کہ اگر باوا صاحب ان پاک نبیوں کو کاذب جانتے تھے۔ جو ابتداء سے ہوتے چلے آئے ہیں جنہوں نے وحدانیت الٰہی سے
    زمین کو بھر دیا تو باوا صاحب نے خورد سالی کی حالت میں اور ایسا ہی ان کے باپ اور دادا نے اللہ جلّ شانہٗ کا نام کہاں سے سن لیا یہ تو ظاہر ہے کہ باوا صاحب تو کیا بلکہ ان کے باپ بھائی کالو
    اور دادا صاحب بھائی سوبھا بھی خدا تعالیٰ کے نام سے بے خبر نہ تھے۔ سو اگر باوا صاحب ہی سچی معرفت کے بانی مبانی ہیں تو ان کے وجود سے پہلے یہ پاک نام کیوں مشہور ہوگیا۔ پس اس دلیل
    سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کے مقدس اور پاک لوگ ابتداء سے ہوتے رہے ہیں جو اس سے الہام پاکر اس کی خبر لوگوں کو دیتے رہے مگر سب سے بڑے ان میں سے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 191
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 191
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/191/mode/1up
    وہیؔ ہیں جن کی بڑی تاثیریں دنیا میں پیدا ہوئیں اور جن کی متابعت سے بڑے بڑے اولیاء ہریک زمانہ میں ہوتے رہے سو وہ
    جناب سید الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کی امت کی تعداد انگریزوں نے سرسری مردم شماری میں بیس کروڑ لکھی تھی۔ مگر جدید تحقیقات کی رو سے معلوم ہوا ہے کہ دراصل
    مسلمان روئے زمین پر چورانوے کروڑ ہیں*۔ اور باوا نانک صاحب اس بات کے بھی قائل ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں بڑے بڑے اولیاء گذرے ہیں۔ تبھی تو باوا صاحب صدق دل
    سے شیخ معین الدین چشتی صاحب کے روضہ پر چالیس۴۰ دن تک چلہ بیٹھے رہے تا ان کی روح سے برکتیں اور فیض حاصل ہو اور دل صاف ہوکر یاد الٰہی میں حضور پیدا ہو۔ پھر وہاں سے اٹھ کر
    بمقام سرسہ شیخ عبدالشکور سلمی کے روضہ پر چالیس۴۰ دن تک چلہ نشین رہے اور تسبیح اور نماز اور استغفار اور درود شریف میں مشغول رہے پھر پاک پتن میں باوا فرید صاحب کے روضہ پر چلہ
    نشین ہوئے پھر مکہ معظمہ میں جاکر فریضہ حج بجالائے اور پھر مدینہ منورہ میں پہنچ کر چاکران حضرت نبوی کے سلسلہ میں سعادت حاصل کی اور مجھے تحقیقی طور پر اس بات کا پتہ نہیں ملا
    کہ مدینہ منورہ میں کتنی مدت رہے مگر مکہ سے گیارہ دن میں مدینہ منورہ میں پہنچے چنانچہ علاوہ سینہ بسینہ روایتوں کے بالا کی جنم ساکھی میں بھی یہی لکھا ہے۔ پھر مدینہ سے فارغ ہو کر اپنے
    مرشد خانہ میں بمقام ملتان پہنچے
    یہ ایک نہایت غلط اور خلاف واقعہ بلکہ بدیہی البطلان بات مشہور تھی کہ مسلمانوں کی تعداد صفحہ دنیا میں صرف بیس۲۰ کروڑ ہے کیونکہ اب جدید تحقیقات
    سے اور نہایت واضح دلائل اور روشن قرائن سے ثابت ہوگیا ہے کہ دراصل اہل اسلام کی تعداد روئے زمین پر چورانوے۹۴ کروڑ ہے۔ چنانچہ یہی مضمون بعض انگریزی
    اخبارات میں بھی چھپ
    گیا ہے اوراس تعداد کی تقسیم اس طرح پر کرتے ہیں۔ آئندہ ہریک کو احتیاط رکھنی چاہئے کہ گزشتہ غلطی پر بھروسہ کر کے مسلمانوں کی تعداد کو صرف بیس کروڑ نہ سمجھ لے کیونکہ یہ جدید تحقیق
    کوئی نظری اور مشتبہ امر نہیں ہیں بلکہ اس کی وجوہ بہت صاف اور بدیہی اور نظروں کے سامنے ہیں یہ قاعدہ ہے کہ ابتدائی تحقیقاتیں ہمیشہ خام اور ناقص ہوتی ہیں اور آخری تحقیقات ایک محیط اور
    کامل تحقیقات ہوتی ہے جس سے پہلی غلطیاں نکل جاتی ہیں عقلمند کو چاہئے کہ غلط خیال کو چھوڑ دے۔ منہ
    برہما اور ہندوستان ۷ کروڑ
    ملایا اور سیام ۴ کروڑ
    جزائر شرق الہند ۱۰
    کروڑ
    چین ۶ کروڑ
    چینی تاتار ۱۰ کروڑ
    تاتار تبت اور سائبیریا ۲۰ کروڑ
    افغانستان معہ جمیع حدود ۱۴ کروڑ
    ایران معہ جمیع متعلقات ۶ کروڑ
    عرب ایک کروڑ
    یورپ کے مختلف
    حصص بلغاریہ ہنگریآسٹریا ایک کروڑ
    باقی بلاد افریقہ وغیرہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 192
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 192
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/192/mode/1up
    اور ؔ چالیس روز تک روضہ شاہ شمس تبریز پر چلہ میں بیٹھے اور یہ وہ باتیں ہیں جو ایسی طور پر ثابت ہوگئی ہیں جو حق
    ثابت ہونے کا ہے پھر اسی پر باوا صاحب نے کفایت نہیں کی بلکہ ان لوگوں کی طرح جو غلبہ عشق میں دیوانہ کی مانند ہو جاتے ہیں۔ چولہ پہنا جس پر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا تھا۔ ہم باوا
    صاحب کی کرامت کو اس جگہ مانتے ہیں اور قبول کرتے ہیں کہ وہ چولہ ان کو غیب سے ملا اور قدرت کے ہاتھ نے اس پر قرآن شریف لکھ دیا۔ ان تمام امور سے ثابت ہے کہ باوا نانک صاحب نے دل و
    جان سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت کو قبول کیا۔ اور نیز ان کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی امت میں اعلیٰ درجہ کے اولیاء پاک زندگی والے ہوئے
    ہیں۔ تبھی تو وہ بعض ہندوستان کے اولیاء کی مقابر پر چلہ کشی کرتے رہے۔ اور پھر بغداد میں جاکر سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے روضہ پر خلوت گزین ہوئے۔ اگر باوا صاحب نے اس
    عظمت اور وقعت کی نظر سے کسی اور مذہب کو بھی دیکھا ہے تو ان تمام واقعات کے مقابل پر وہ واقعات بھی پیش کرنے چاہئے ورنہ یہ امر تو ثابت ہوگیا کہ باوا صاحب ہندو مذہب کو ترک کر کے
    نہایت صفائی اور صدق سے اسلام میں داخل ہوگئے۔ ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو کہ کیسے زبردست قرائن ننگی تلواریں لے کر آپ کے شبہات کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہے ہیں تمام واقعات جو ہم نے لکھے
    ہیں۔ ان کو نظر یک جائی سے دل کے سامنے لاؤ تا اس سچے اور یقینی نتیجہ تک پہنچ جاؤ جو مقدمات یقینیہ سے پیدا ہوتا ہے اور یہ بڑی نادانی ہے کہ کوئی واہیات اور بے سروپا شعر ناحق باوا صاحب
    کی طرف منسوب کر کے اس کو ایک یقینی امر سمجھ لیں۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ باوا صاحب کے زمانہ کے بعد متعصب لوگوں نے بعض اقوال افترا کے طور پر ان کی طرف منسوب کر دئیے
    ہیں۔ گرنتھ کے بعض اشعار اور بعض مضامین جنم ساکھیوں کے نہایت مکروہ جعل سازیوں سے لکھے گئے ہیں اس کی یہ وجہ تھی کہ متعصب لوگوں نے جب دیکھا کہ باوا صاحب کی تحریروں سے تو
    صاف اور کھلی کھلی ان کا اسلام ثابت ہوتا ہے تو ان کو اسلام کا مخالف ٹھہرانے کیلئے جعلی طور پر بعض شبد آپ بنا کر ان کی طرف منسوب کر دئیے اور جعلی قصے لکھ دئیے اور وہ دو طور کی
    چالاکی عمل میں لائے ہیں اول ایسے اشعار جو باوا صاحب کے اسلام پر دلالت کرتے تھے۔ گرنتھ سے عمداً خارج رکھے حالانکہ چشتی خاندان کے فقراء جن کے سلسلہ میں باوا صاحب مرید تھے اب
    تک سینہ بہ سینہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 193
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 193
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/193/mode/1up
    انؔ کو یاد رکھتے چلے آئے ہیں اور ان کی بیاضوں میں اکثر ان کے ایسے اشعار ہیں جن میں بجز مدح و ثناء حضرت محمد
    مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم اور اپنے اقرار توحید اور اسلام کے اور کچھ نہیں مگر خدا کی قدرت ہے کہ جس قدر گرنتھ اور جنم ساکھیوں میں اب تک ایسے اشعار باقی ہیں وہ بھی اس قدر ہیں کہ اگر
    چیف کورٹ میں بھی سکھ صاحبان اور مسلمانوں کا یہ مقدمہ پیش ہو تو چیف کورٹ کے ججوں کو یہ ڈگری بحق اہل اسلام صادر کرنی پڑے کہ بے شک باوا نانک صاحب مسلمان تھے۔ اصول تحقیقات میں
    یہ قاعدہ مسلم ہے کہ اگر شہادتوں میں تناقض واقع ہو تو وہ شہادتیں قبول کی جائیں گی جن کو غلبہ ہو اور جن کے ساتھ اور ایسے بہت قرائن ہوں جو ان کو قوت دیتے ہوں۔ اسی اصول پر روز مرّہ ہزار
    ہا مقدمات عدالتوں میں فیصل ہوتے ہیں۔ اور نہ صرف دیوانی بلکہ خونی مجرم بھی جو اپنی صفائی کے گواہ بھی پیش کرتے ہیں۔ ثبوت مخالف کے زبردست ہونے کی وجہ سے بلاتامل پھانسی دئیے جاتے
    ہیں۔ غرض جو لوگ عقلمند ہوتے ہیں وہ بچوں اور کم عقلوں کی طرح کسی ایسی بیہودہ بات پر تسلّی پذیر نہیں ہو سکتے جو بڑے اور زبردست ثبوتوں کے مخالف پڑی ہو یہ تو ظاہر ہے کہ جب کسی
    فریق کو خیانت اور جعلسازی کی گنجائش مل جائے تو وہ فریق ثانی کا حق تلف کرنے کے لئے دقیق در دقیق فریب استعمال میں لاتا ہے اور بسا اوقات جھوٹی اسناد اور جھوٹے تمسکات بنا کر پیش کر
    دیتا ہے مگر چونکہ خدا نے عدالتوں کو آنکھیں بخشی ہیں اس لئے وہ اس فریق کے کاغذات پیش کردہ پر آپ غور کرتے ہیں کہ آیا ان میں کچھ تناقض بھی ہے یا نہیں۔ پھر اگر تناقض پایا جائے تو انہیں
    باتوں کو قبول کرتے ہیں۔ جن کو غلبہ ہو اور ان کے ساتھ بہت سے قرائنی ثبوت اور تائیدی شہادتیں ہوں۔ اب تمام سکھ صاحبان اس بات پر غور کریں کہ اگر فرض کے طور پر ان کے ہاتھ میں دوچار شبد
    ایسے ہیں جو باوا نانک صاحب کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں اور اسلام کی تکذیب پر مشتمل ہیں اور ان کے وہی معنی ہیں جو وہ کرتے ہیں اور دوسرے معنے کوئی نہیں تو پھر وہ ان بھاری ثبوتوں کے
    مقابل پر کیا چیز اور کیا حقیقت ہیں جو سکھ صاحبوں کی انہیں کتابوں سے نکال کر ایک ڈھیر لگا دیا گیا ہے اگر ان کے ہاتھ میں تکذیب اسلام کے بارے میں کوئی شعر ہے جو باوا نانک صاحب کی طرف
    منسوب کرتے ہیں تو ہم نے بھی تو وہی کتابیں پیش کی ہیں جو ان کے مسلّم ہیں اپنے گھر سے تو کوئی بات پیش نہیں کی پس غایت درجہ یہ کہ اس ذخیرہ اور ان چند شعروں میں
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 194
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 194
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/194/mode/1up
    تناؔ قض ہو سو جس طرف کثرت دلائل ہے اس کو قبول کرو اور جو کم ہے اس کو ردّکرو اور دفع کرو تا تمہاری کتابوں میں
    تناقض نہ رہے اب کیا اس بدیہی بات سے کوئی آنکھ بند کرلیگا۔ اس طرف تو دلائل قاطعہ کا ایک ڈھیر ہے مگر سکھ صاحبوں کے ہاتھ مخالفانہ بحث کے وقت خالی ہیں۔
    اور آپ کا یہ خیال کہ نانک
    صاحب ان تمام الہامی کتابوں کو جھوٹی خیال کرتے تھے جو ان کے وجود سے پہلے دنیا میں پائی جاتی تھیں یہ کیسا بیہودہ خیال ہے کیا نانک صاحب کی پیدائش سے پہلے دنیا ابتدا سے جھوٹ میں
    گرفتار تھی اور ہمیشہ یہ زمین راست بازوں سے خالی رہی ہے جب نانک صاحب پیدا ہوئے تو دنیا نے ایک بھگت کا منہ دیکھا جو سچا اور حلال کھانے والا اور لالچ سے پاک تھا۔ کیا ایسا تعصب آپ کا
    کسی کو پسند آئیگا یا کوئی عقل اور کانشنس اس کو قبول کرلیگی اور کیا کوئی پاک طبع اور منصف مزاج اس بات کو مان لیگا کہ نانک صاحب کے وجود سے پہلے یہ دنیا بے شمار زمانوں سے گمراہ ہی
    چلی آتی تھی اور جب سے کہ خدا نے انسان کو پیدا کیا جس قدر لوگوں نے باخدا اور ملہم ہونے کے دعوے کئے ہیں وہ سب جھوٹے تھے اور دنیا کے لالچوں میں گرفتار اور حرام خور تھے کوئی بھی
    ان میں ایسا نہیں تھا جس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے سچا الہام ملا ہو اور اس محبوب ازلی سے سچا پیوند ہوا ہو سب کے سب دنیا پرست تھے۔ جو دنیا کی خواہشوں میں پھنس کر خدا کے نام کو بھول
    گئے تھے اور دنیا کے لالچ میں لگ گئے تھے اور سب ایسے ہی تھے جنہوں نے خدا کا نام بھلایا اور لوگوں سے اپنا نام کہلایا اور وہ سب ایسے ہی نبی اور رسول اور اوتار اور رشی تھے جو حرام کو
    حلال سمجھ کر کھاتے رہے اور کچھ خدا کا خوف نہ کیا۔ مگر نانک صاحب نے حلال کھایا اور خدا کے بیشمار بندوں میں سے جو دنیا کی ابتداء سے ہوتے آئے ہیں صرف ایک نانک صاحب ہی ہیں جو دنیا
    کی لالچوں سے پاک تھے اور حرام نہیں کھاتے تھے۔ جن کو خدا تعالیٰ کے سچی معرفت حاصل ہوئی اور سچا گیان ملا اور سچا الہام ملا۔ اب بتلاؤ کہ کیا ایسا خلاف واقعہ خیال کسی عارف اور نیک
    بخت کا ہو سکتا ہے کہ وہ یہ کہے کہ مجھ سے پہلے سب ناپاک اور مفتری اور جھوٹے اور لالچی پیدا ہوتے رہے ایک سچا اور حلال کھانے والا میں ہی دنیا میں آیا اور اگر کہو کہ باوا نانک صاحب بجز
    حضرت نبیّنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کے اور بہت سے کامل بندوں کو مانتے تھے کہ جو نہ صرف کامل تھے بلکہ دوسروں
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 195
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 195
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/195/mode/1up
    کو کماؔ ل تک پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی و الہام سے مشرف کر کے بھیجے گئے تو جیسا کہ میں نے
    ابھی لکھا ہے ایسے شخص کی باوا صاحب کی طرف سے نظیر پیش ہونی چاہئے جس کی کتاب کی پیروی سے چورانوے کروڑ انسان نے مخلوق پرستی اور بت پرستی سے نجات پاکر اس اقرار کو اپنے
    دل اور جان میں بٹھایا کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کو نہیں پوجوں گا اور پھر ایسے مو ّ حد اور نبی اللہ کو باوا صاحب نے مان لیا ہو۔ کیونکہ اگر باوا صاحب نے کسی ایسے کامل کے کمال
    کی تصدیق نہیں کی جو آپ بھی کامل تھا اور کروڑ ہا انسانوں کو اس نے توحید اور کمال توحید تک پہنچایا۔ تو پھر باوا صاحب پر وہی پہلا اعتراض ہوگا کہ نعوذ باللہ خدا نے باوا صاحب کو وہ آنکھیں
    نہیں دی تھیں جن آنکھوں سے وہ ان کاملوں کو شناخت کر سکتے جو باوا صاحب کے وجود سے پہلے دنیا کی اصلاح کے لئے آتے رہے کیونکہ یہ بات تو صریح باطل ہے اور کسی طرح صحیح نہیں ہو
    سکتی کہ باوا صاحب سے پہلے دنیا ابتداء سے تاریکی میں تھی اور کوئی کامل خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسا نہیں آیا تھا کہ جو نہ صرف آپ مو ّ حد ہو بلکہ کئی کروڑ انسانوں کو اس نے توحید پر قائم
    کیا ہو صرف باوا صاحب ہی دنیا میں ایسے آئے جو مو ّ حد اور حلال خور اور لالچوں سے پاک تھے جنہوں نے سکھوں کو کامل توحید پر قائم کیا اور اللہ اور بندوں کے حقوق کی نسبت پورا پورا بیان کر
    دیا۔ اور حلال حرام کے مسائل سارے سمجھا دئیے اور پھر ببداہت ایسا خیال کرنا جبکہ باطل اور ہادی قدیم کی عادت کے برخلاف ہے تو بیشک باوا صاحب نے کسی ایسے کامل کا اپنے اشعار میں ذکر
    کیا ہوگا جو خدا سے کمال پاکر دنیا میں آیا۔ اور کروڑ ہا انسانوں کو توحید اور خدا پرستی پر قائم کیا۔ پس جب ہم ایسے شخص کا نشان باوا صاحب کے شبدوں میں ڈھونڈتے ہیں تو جابجا سیدنا و مولانا
    محمد مصطفی صلعم کا ذکر باوا صاحب کے شعروں میں پاتے ہیں۔ اور ضرور تھا کہ باوا صاحب ہندو مذہب کے ترک کرنے کے بعد اسلام میں داخل ہوتے کیونکہ اگر ایسا نہ کرتے تو خدا کے قدیم
    سلسلہ سے الگ رہنے کی وجہ سے بے دین کہلاتے۔ ہاں یہ بات بالکل سچ ہے کہ باوا صاحب وید سے اور وید پرستوں سے بالکل الگ ہوگئے تھے تبھی تو انہوں نے کہا کہ برہما بھی روحانی حیات سے
    محروم گیا یہی سبب تھا کہ باوا صاحب سے اس قدر ہندو متنفر ہوگئے تھے۔ اور اس قدر ان کو پاک حالت سے دور اور کراہت کرنے کے لائق سمجھتے تھے کہ جہاں وہ کسی دوکان وغیرہ
    پر
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 196
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 196
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/196/mode/1up
    اتفاؔ قاً بیٹھ جاتے تھے تو ہندو سمجھتے تھے کہ یہ جگہ پلید ہوگئی اور پنڈت لوگ فتوے دیتے تھے کہ اب یہ جگہ ایسی
    ناپاک ہوگئی ہے کہ جب تک اس پر گؤ کے گوبر سے لپائی نہ کی جائے گی تب تک یہ کسی طرح پھرپوتّر نہیں ہو سکتی۔ سو ہندو لوگوں کو جو وہم کے مارے ہوئے ہیں ان کے قدم قدم پر گوبر کی لپائی
    کرنی پڑتی تھی۔ لیکن اگر باوا صاحب کے صدہا شبدوں اور صاف شہادتوں اور روشن ثبوتوں سے قطع نظر کر کے یہ فرض کیا جائے کہ قرآن شریف کے بھی وہ مکذب تھے۔ اور ہمارے پاک نبی حضرت
    محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کو خدا تعالیٰ کی طرف سے سچا نبی نہیں سمجھتے تھے اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی امت کے اولیاء باوا فرید اور شمس تبریز اور معین الدّ ین چشتی
    وغیرہ کو جو اس وقت بہت شہرت رکھتے تھے باخدا آدمی خیال کرتے تھے بلکہ سب کو لالچی اور گمراہ خیال کرتے تھے تو اس صورت میں ضرور یہ سوال ہوگا کہ وہ کون سچے لوگ ہیں جن کو باوا
    صاحب پاک دل اور پرمیشر کے بھگت مانتے تھے اور اگر نہیں مانتے تھے تو کیا ان کا یہ اعتقاد تھا کہ جس قدر لوگ ان کے وجود سے پہلے دنیا کی اصلاح کے لئے آئے ان سب کو ناپاک جانتے اور
    لالچی اور نفسانی خیال کرتے تھے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ وید سے تو وہ الگ ہی ہو چکے تھے اور ویدوں کے درخت کو اچھا پھل لانے والا درخت نہیں جانتے تھے تبھی تو پنڈتوں نے یہ فتویٰ دیا کہ اس
    شخص کے بیٹھنے سے زمین پلید ہو جاتی ہے جہاں بیٹھے اس زمین کو دھو ڈالو اور آپ کو بھی تو اقرار ہے کہ وہ ہندو نہیں تھے لیکن کوئی پاک دل یہ بات تو نہیں کہہ سکتا کہ مجھ سے پہلے سب
    جھوٹوں نے ہی َ مت چلائے ہیں اس بات کا ضرور جواب دینا چاہئے کہ باوا صاحب کو گذشتہ نبیوں میں سے کسی نبی کے سچا ہونے کا اقرار تھا کیونکہ اگر نعوذ باللہ یہ بات سچ نہیں کہ خدا تعالیٰ نانک
    صاحب کے وجود سے پہلے ہی ہزاروں لاکھوں کروڑوں کو اپنی ذات کی اطلاع دیتا رہا ہے اور بے شمار صادق اور خدا تعالیٰ کے پاک نبی دنیا کو الٰہی روشنی دکھلانے کیلئے بندوں کی طرف سے
    بھیجے گئے ہیں اور بے شمار الہام پانے والے اور وحی پانے والے اور سچے دل والے اور دنیا کی خواہشوں کو چھوڑنے والے اور حلال کھانے والے اور پاک دل والے اور معرفت والے اور گیان والے
    نانک صاحب سے پہلے دنیا میں ظاہر ہوتے رہے ہیں تو یہ دوسری بات بھی ہرگز سچی
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 197
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 197
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/197/mode/1up
    نہیںؔ ہوگی کہ باوا نانک صاحب کو خدا تعالیٰ سے سچا پیوند ہوگیا تھا اور انہوں نے سچا الہام پالیا تھا اور وہ حلال کھانے
    والے اور دنیا کی خواہشیں چھوڑنے والے تھے کیونکہ جس خدا کی ابتداء سے یہ عادت ہی نہیں کہ وہ دلوں کو پاک کرے اور لالچوں سے رہائی بخشے اور حرام کھانے سے بچاوے اور اپنے الہام سے
    مشرف کرے وہ نانک صاحب سے خلاف عادت کیوں ایسا کرنے لگا لیکن اگر واقعی اور سچی بات یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی نہ اب سے بلکہ ابتدا سے یہی عادت ہے کہ وہ غافلوں کو جگانے کیلئے بعض
    خاص بندوں کو اپنی معرفت آپ عطا کر کے دنیا میں بھیجتا ہے جن کو دوسرے لفظوں میں ولی یا پیغمبر کہتے ہیں۔ تو پھر جو شخص ایسے پاک بندوں سے انکار کرے اور الٰہی انتظام کے قدیم فلسفہ کو
    نہ سمجھے تو کیا ایسے شخصوں کو ہم یا کوئی دوسرا شخص بھگت یا سدھ کے نام سے موسوم کر سکتا ہے اور کیا اس کی نسبت کسی عارف کو ایک ذرا گمان بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اس سچی معرفت
    سے حصہ پانے والا تھا جو قدیم سے صادقوں کو ملتی آئی ہے کیونکہ جب اس کا ایسے صادقوں پر بھی ایمان نہیں جنہوں نے کروڑہا دلوں میں صدق برسا دیا بلکہ ان کو لالچی اور حرام خور جانتا ہے
    تو ایسے شخص کو کون حلال خور اور بھلا مانس کہہ سکتا ہے پس پھر ہم منصفوں سے سوال کرتے ہیں اور ان سے انصاف چاہتے ہیں کہ کیا نعوذ باللہ باوا نانک صاحب یہی اعتقاد رکھتے تھے کہ مجھ
    سے پہلے خدا تعالیٰ کا بندوں کی اصلاح کے لئے کوئی انتظام نہ تھا اور مصلح کے نام سے تمام لوگ ٹھگ اور لالچی اور دنیا پرست ہی آتے رہے اور اگر یہ اعتقاد نہیں رکھتے تھے تو اس بزرگ مصلح
    اور نبی اللہ حضرت محمد مصطفیٰصلی اللہ علیہ و سلم سے بڑھ کر باوا صاحب کی نظر میں اور کون آدمی تھا جس نے کروڑ ہا انسانوں کو بتوں اور عیسیٰ پرستی اور مخلوق پرستی سے نجات دے کر
    کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ پر قائم کر دیا تھا اور ایسا نمونہ باوا صاحب کی آنکھوں کے سامنے اور کون تھا جس نے مخلوق پرستی کی جڑ کو کاٹ کر دنیا کے اکثر ملکوں میں توحید کا باغ لگا دیا تھا کیونکہ
    اگر کوئی نمونہ نہیں تھا تو پھر وہی ناپاک اعتقاد لازم آئے گا کہ گویا باوانانک صاحب کا یہی گمان تھا کہ ان سے پہلے تمام دنیا ابتدا سے ظلمت میں ہی پڑی رہی اور کوئی جگانے والا پرمیشر کی طرف
    سے دنیا میں نہ آیا لیکن اگر باوا صاحب کا یہ اعتقاد تھا کہ بیشک دنیا میں مجھ سے پہلے ایسے کامل بندے آئے جنہوں نے کروڑہا دلوں کو الہام الٰہی کی روشنی سے توحید کی طرف کھینچا تو یہ بار
    ثبوت باوا صاحب کی
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 198
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 198
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/198/mode/1up
    گردؔ ن پر ہوگا کہ ان آنے والوں میں سے کوئی اعلیٰ سے اعلیٰ نمونہ ایسے انسان کا پیش کریں جس کی اصلاح سے کروڑہا
    انسان توحید کی روشنی میں داخل ہوگئے ہوں مگر کیا انہوں نے ایسا نمونہ پیش کیا اور کیا کسی ایسے کامل کا اپنے اشعار میں نام لکھا جس نے کروڑہا انسانوں کو بت پرستی اور مخلوق پرستی اور طرح
    طرح کے شرک اور بدعت اور بے حیائی کے کاموں سے چھوڑایا ہو لیکن آپ لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایسے کسی عظیم الشان مصلح کا نام نہیں لکھا جو خدا سے الہام یافتہ ہو اور خدا کے کروڑ ہا
    بندوں کے دلوں پر اس کی اصلاح کا اثر ہوا ہومگر آپ لوگ اس بے جا تعصب سے نانک صاحب کو مورد اعتراض کرتے ہیں کیونکہ یہ بات تو کوئی قبول نہیں کرے گا کہ نانک صاحب کے وجود سے
    پہلے تمام زمانہ ابتدائسے گمراہ ہی چلا آتا تھا اور نانک صاحب ہی ایسے پیدا ہوئے جو ہدایت یافتہ اور پاک دل اور پرمیشر کے بھگت تھے کیونکہ ایسے عقیدہ سے خدا تعالیٰ پر اعتراض آتا ہے۔ سو آپ
    لوگ غور سے توجہ کریں کہ ایسی باتوں سے جو آپ کر رہے ہیں نانک صاحب کی راستبازی بھی ثابت کرنا محالات سے ہے اگر باوا صاحب درحقیقت راستباز تھے اور ملہم تھے اور دنیا کی خواہشوں
    میں پھنسے ہوئے نہیں تھے تو ضرور ان کا یہ اعتقاد ہونا چاہئے تھا کہ راست بازی صرف انہیں سے شروع نہیں ہوئی کیونکہ پرمیشر انہیں کے وقت سے پیدا نہیں ہوا۔ اور نہ اس کی ہدایت کی نظر
    انہیں کے وقت سے شروع ہوئی جو ازلی ہے اس کے سب کام ازلی ہیں کیا ان کا یہ گمان تھا کہ ان کا پرمیشر ایک تنگدل شخص ہے جس کا دل نہیں چاہتا کہ کسی کو فیض پہنچاوے صرف بے شمار
    برسوں کے گذرنے کے بعد نانک صاحب پر ہی مہر ہوگئی لیکن اگر ان کا ایسا گمان نہ تھا اور خدا تعالیٰ کی رحمت کے میدان کو تنگ نہیں سمجھتے تھے تو یہ سچا گیان ضرور ان کو نصیب ہونا چاہئے
    تھا کہ خدا قدیم سے اپنے بندوں کو ہدایت کرتا آیا ہے اور جب کبھی دنیا بگڑ گئی اور زمین فساد اور پاپ سے بھر گئی تبھی خدا نے کسی خاص فرد میں سچائی کی روح پھونک دی اور خاص روشنی اور
    الہامی عرفان دے کر ہزاروں کو ایک ہی چراغ سے منور کیا جیسا کہ وہ ہمیشہ ایک ہی انسان سے ہزاروں کو پیدا کر دیتا ہے۔ اب ہم پھر پوچھتے ہیں کہ کیا یہ کامل گیان باوا صاحب کو حاصل تھا یا نہیں
    تھا۔ اور اگر حاصل تھا تو اس کا نمونہ انہوں نے اپنے اشعار اور اپنی باتوں میں کیا بتایا کیا کسی ایسے شخص کا نام بتایا جو ان سے پہلی دنیا کو روشن
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 199
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 199
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/199/mode/1up
    کرؔ نے کے لئے آیا تھا اور کروڑہا مخلوق کو توحید کی روشنی سے منور کر کے چلا گیا۔ کیونکہ اگر نہیں بتایا تو اس
    صورت میں نانک صاحب کی تمام معرفت خاک میں ملتی ہے اور ہمیں امید نہیں کہ اس وقت راستی کے ساتھ آپ جواب دیں کیونکہ تعصب اور بخل سخت بلا ہے۔ اس لئے آپ کی طرف سے ہم ہی جواب
    دیتے ہیں۔ آپ اس کو غور سے پڑھیں۔
    پس واضح ہو کہ نانک صاحب نے اس عظیم الشان مصلح نبی اللہ کا نام جو ہادی ازلی کی قدیم سنت کا اپنی نمایاں ہدایتوں کے ساتھ گواہ ہے محمد مصطفی
    رسولؐ اللہ بیان کیا ہے اور نہ صرف بیان بلکہ صدق دل سے اس سرور پاکان پر نانک صاحب ایمان لائے ہیں چنانچہ ہم کچھ تھوڑا نمونہ کے طور پر ذیل میں لکھتے ہیں اور حق کے طالبوں سے امید
    رکھتے ہیں کہ ایک صاف دل اور پاک نظر کے ساتھ ان بیانات پر نظر ڈالیں اور اس سچے حاکم سے ڈر کر جس کی طرف آخر جانا ہے۔ آپ ہی منصف بن جائیں کہ کیا یہ شہادتیں جو باوا صاحب کے منہ
    سے نکلیں۔ ایسی شہادتوں کے بعد باوا صاحب کے اسلام میں کچھ شک رہ سکتا ہے۔ چنانچہ ان میں سے باوا نانک صاحب کی وہ سی حرفی ہے جو ساکھی کلاں یعنی بالا والی ساکھی میں لکھی ہوئی ہے
    اور وہ یہ ہے۔
    ساکھی بھائی بھالے والی وڈی صفحہ ۲۲۰`۲۲۲
    )یعنی ساکھی کلاں بالا والی جس کو انگد کی ساکھی بھی کہتے ہیں(
    آکھے قاضی رکن دین سنئے نانک شاہ
    تر ہی حرف
    قرآن دے ساجے آپ الٰہ
    معنے اک اک حرف تے کہئے کر تدبیر
    جس مراتب کو پہنچیا کے سادھو کے پیر
    الف بے فرمائے معنے کر کے بیان
    تسیں بھی آکھو شاہ جی سچی رب کلام
    صفت
    تمامی رب دی سبہا کھول سنائے
    آکھے قاضی رکن دین کہئے برا خدائے
    ہندو مسلمان دوئے دِسدے ہن گمراہ
    باجہوں جھگڑے ہور نہ ڈھونڈے سچ نہ راہ
    جہڑی گل خدائے دی کہے نہ کوئی
    مول
    کارن لالچ دنی دے جھگڑے رام رسول
    راہ سچاواں دسئے جے دس آوے جیو
    حجت حاجت ورج کر رہے نمانا تھیو
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 200
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 200
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/200/mode/1up
    200 corrupted
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 201
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 201
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/201/mode/1up
    201 corrupted
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 202
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 202
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/202/mode/1up
    202 corrupted
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 203
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 203
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/203/mode/1up
    عمل کمائیے جیکو پار اواس
    بن عملاں ناہیں پائے مرئیے پچھوتاس
    ایسا عمل ثابت کریں جیسا کہ پارہ آگ پر قائم النار ہو
    جاتا ہے
    عمل کے بغیر خدا نہیں مل سکتا حسرتوں کیساتھ جان نکل جاتی ہے
    غنیمت رکن دی جنہیں سواتا آپ
    اس پنجرے وچ کھیل ہے ناں تس مائی نہ باپ
    وہ لوگ غنیمت ہیں جنہوں نے
    پہچانا اللہ تعالیٰ کو
    اس پنجرہ میں ایک ایسی بازی ہے جس کی نہ ماں ہے نہ باپ ہے
    فارق تے اوبھئے جو چلیں مرشد بھائے
    آپ کیا تحقیق تن رنگا رنگ ملائے
    حق و باطل میں فرق کرنیوالے
    نجات پاگئے جو ہادی کے حکم پر چلے
    جنہوں نے خود روی اختیار کی انہوں نے حق اور باطل میں خلط ملط کر دیا
    کلمہ اک یاد کر اور نہ بھاکھو بات
    نفس ہوائے رکن دی تس سوں ہویں
    مات
    ایک لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ یاد کر اور کسی بات کا خیال نہ کر
    کیونکہ اے رکن دین اس کلمہ سے نفس اور ہوا دونوں مات ہو جائینگے
    قرار نہ آوئی جت من اُپچے چاؤ
    تے پارس
    کنچن تھئے جن بھٹیا ہر راؤ
    جس دل میں خواہش پیدا ہو اوسکو آرام نہیں آتا
    وہ لوگ سونا اور پارس ہوگئے جنہوں نے خدا کی پرستش کی
    *** برسر تنہاں جو ترک نماز کریں
    تھوڑا بہت کھٹیا
    ہتھو ہتھ گوبن
    ان لوگوں پر *** ہے جو نماز کو ترک کریں
    جو کچھ تھوڑا بہت عمل کیا تھا اس کو بھی دست بدست ضائع کیا
    مرشد من تون من کتیباں چار
    من توں اک خدائے نوں خاصا جس
    دربار
    اور ایک خدا مان جس کا دربار خاص ہے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 204
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 204
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/204/mode/1up
    204 corrupted
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 205
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 205
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/205/mode/1up
    اگرؔ کسی کو اپنی کوتہ اندیشی کی وجہ سے یہ شبہ گذرے کہ یہ نصیحتیں تو نانک صاحب نے دوسروں کو دی ہیں۔ مگر آپ
    اس کے پابند نہیں تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ نیک آدمیوں کی یہی نشانی ہے کہ وہ ایسی نصیحت کسی دوسرے کو ہرگز نہیں دیتے جس کے آپ پابند نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۱؂ کیا تم لوگوں کو
    نیک باتوں کے لئے نصیحت کرتے ہو اور اپنے آپ کو بھلا دیتے ہو یعنی آپ ان نیک باتوں پر عمل نہیں کرتے۔ اور اگر کہو کہ نانک صاحب ان باتوں کو اپنے دل میں اچھی باتیں نہیں سمجھتے تھے مگر
    پھر بھی دوسروں کو ان کی پابندی کے لئے نصیحت کرتے تھے تو یہ طریق نہایت ناپاکی کا طریق ہوگا۔ کیونکہ ُ برے عقیدوں اور غلط خیالوں پر قائم رہنے کے لئے لوگوں کو نصیحت کرنا اچھے آدمیوں
    کا کام نہیں ہے۔
    بالآخر یہ بھی واضح رہے کہ جو لوگ گرنتھ میں سے کوئی امر مخالف تعلیم اسلام نکالنا چاہتے ہیں ایسی سعی اور کوشش ان کی محض دھوکا اور خیانت کی راہ سے ہوگی کہ وہ
    غلطی سے یا عمداً بد دیانتی سے ایسے شعر پیش کریں جو درحقیقت باوا نانک صاحب کی طرف سے نہیں بلکہ گرنتھ جمع کرنے والوں نے خود بنا کر ناحق ان کی طرف منسوب کر دئے ہیں چنانچہ یہ
    امر گرنتھ دانوں میں ایک مسلم اور مانی ہوئی بات ہے کہ بہت سے ایسے شعر گرنتھ میں موجود ہیں جن کی اصل مصنف باوا نانک صاحب نہیں ہیں بلکہ صرف فرضی طور پر ان شعروں کے آخر میں نانک
    کا اسم ملا دیا گیا ہے اور ایک ناواقف یہی خیال کرتا ہے کہ گویا وہ باوانانک صاحب کے ہی شعر ہیں پس یہ امر بھی بددیانتی میں داخل ہے کہ کوئی شخص دیدہ دانستہ ایسا شعر اس غرض سے پیش کر
    دیوے کہ تا لوگ اس کو باوا نانک صاحب کا شعر سمجھ کر اس دھوکہ میں پڑ جائیں کہ گو یہ باوا نانک صاحب کے وہی شعر ہیں جو گرنتھ کے ایسے مقام میں لکھے گئے ہیں جہاں یہ لفظ موجود ہے کہ
    آسا محلہ پہلا یا گوڑی محلہ پہلا اور یہ امر گرنتھ دانوں میں ایک متفق علیہ امر ہے۔ کہ نانک صاحب کا اسم کسی مصلحت سے اور شعروں کے اخیر میں بھی ملا دیا گیا ہے جو درحقیقت باوا نانک
    صاحب کی طرف سے نہیں ہیں مگر جو اشعار خاص باوا صاحب کے مونہہ سے نکلے ہیں یعنی جن کی نسبت یہ عقیدہ گرنتھ جمع کرنے والوں کا ہے کہ یہ شعر خود اُن کے بنائے ہوئے ہیں ان کی
    انہوں نے یہی علامت رکھی ہے کہ ان
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 206
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 206
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/206/mode/1up
    اصطلاؔ حی الفاظ کے نیچے اس کو لکھتے ہیں کہ آسا پہلا محلہ یا گوڑی پہلا محلہ مگر چونکہ گرنتھ کے اشعار باوا
    صاحب سے دو سو برس بعد بلکہ اس کے پیچھے بھی لکھے گئے ہیں اور ان کے جمع کرنے کے وقت کوئی ایسی تنقید اور تحقیق نہیں ہوئی کہ جو تسلی بخش ہو لہٰذا ضرورت نہیں کہ بغیر باضابطہ
    تحقیق کے خواہ نخواہ قبول کئے جائیں بلکہ تناقض کے وقت وہ حصہ اشعار کا ہرگز قابل پذیرائی نہیں ہوسکتا جو ایسے دوسرے حصہ کا نقیض پڑا ہو جس کی صحت مختلف طریقوں اور انواع اقسام
    کے قرینوں اور یقینی اور قطعی شواہد کی تائیدسے بپایہ ثبوت پہنچ گئی ہو۔ مگر تاہم سکھ صاحبوں کی یہ خوش قسمتی ہے کہ ایسے اشعار جو گرنتھ کے پہلے محلہ میں لکھے گئے ہیں قریباً وہ سارے
    ایسے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی اسلامی تعلیم سے مخالف نہیں اور نہ ان میں کوئی لفظ تکذیب اور توہین اسلام کا موجود ہے بلکہ وہ اسلامی تعلیم سے عین موافق ہیں اور اگر کوئی کسی شعر کو
    اسلامی تعلیم کے مخالف سمجھے یا اس میں کوئی توہین کا لفظ خیال کرے تو یہ اُس کے فہم کی غلطی ہے۔ ہاں اگر شاذ و نادر کے طور پر کوئی ایسا شعر ہو بھی جو الحاق کے طور پر عمداً یا سہواً ان
    سے ملایا گیا ہو تو ایسا شعر حصہ کثیرہ کے نقیض واقع ہونے کی وجہ سے خود ردی کی طرح ہوگا اور اعتبار سے ساقط ہوگا اور اس کے جھوٹا ٹھہرانے کے لئے نانک صاحب کے دوسرے شعر اور
    نیز دوسرے آثار یقینی اور قطعی ذریعہ ہوگا۔ کیونکہ کسی ایک شعر کے مقابل پر صدہا شعروں اور دوسرے روشن ثبوتوں کا باطل ہونا غیر ممکن ہے بلکہ وہی باطل ٹھہرے گا جو اس قطعی ثبوت کے
    مقابل پڑا ہے مگر پھر بھی اس صورت میں کہ اس کے کوئی اچھے معنے نہ ہو سکیں۔
    یہ دھوکا بھی رفع کرنے کے لائق ہے کہ بعض نادان خیال کرتے ہیں کہ باوا نانک صاحب کے بعض اشعار میں
    سے تناسخ یعنی اواگون کا مسئلہ پایا جاتا ہے اور یہ اسلامی اصول کے برخلاف ہے سو واضح ہو کہ اسلام میں صرف وہ قسم تناسخ یعنی اواگون کے باطل اور غلط ٹھہرائے گئے ہے جس میں گذشتہ
    ارواح کو پھر دنیا کی طرف لوٹایا جاوے لیکن بجز اس کے اور بعض صورتیں تناسخ یعنی اواگون کی ایسی ہیں کہ اسلام نے ان کو روا رکھا ہے چنانچہ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسلامی تعلیم سے ثابت
    ہے کہ ایک شخص جو اس دنیا میں زندہ موجود ہے جب تک وہ تزکیہ نفس کر کے اپنا سلوک
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 207
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 207
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/207/mode/1up
    تمامؔ نہ کرے اور پاک ریاضتوں سے گندے جذبات اپنے دل میں سے نکال نہ دیوے تب تک وہ کسی نہ کسی حیوان یا کیڑے
    مکوڑے سے مشابہ ہوتا ہے اور اہل باطن کشفی نظر سے معلوم کر جاتے ہیں کہ وہ اپنے کسی مقام نفس پرستی میں مثلاً بیل سے مشابہ ہوتا ہے یا گدھے سے یا ُ کتے سے یا کسی اور جانور سے اور
    اسی طرح نفس پرست انسان اسی زندگی میں ایک جون بدل کر دوسری جون میں آتا رہتا ہے ایک جون کی زندگی سے مرتا ہے اور دوسری جون کی زندگی میں جنم لیتا ہے۔ اسی طرح اس زندگی میں ہزارہا
    موتیں اس پر آتی ہیں اور ہزارہا جونیں اختیار کرتا ہے اور اخیر پر اگر سعادت مند ہے تو حقیقی طور پر انسان کی جون اس کو ملتی ہے اسی بناء پر خدا تعالیٰ نے نافرمان یہودیوں کے قصہ میں فرمایا
    کہ وہ بندر بن گئے اور سؤر بن گئے سو یہ بات تو نہیں تھی کہ وہ حقیقت میں تناسخ کے طور پر بندر ہوگئے تھے بلکہ اصل حقیقت یہی تھی کہ بندروں اور سوء روں کی طرح نفسانی جذبات ان میں پیدا
    ہوگئے تھے۔ غرض یہ قسم تناسخ کی اسی دنیا کی زندگی کے غیر منقطع سلسلہ میں شروع ہوتی ہے اور اسی میں ختم ہو جاتی ہے اور اس میں مرنا اور جینا اور آنا اور جانا ایک حکمی امر ہوا کرتا ہے
    نہ واقعی اور حقیقی ۔اور دوسری قسم تناسخ کی وہ ہے جو قیامت کے دن دوزخیوں کو پیش آئے گی اور وہ یہ ہے کہ ہر ایک دوزخی جس گندے جذبہ میں گرفتار ہوگا اسی کے مناسب حال کسی حیوان کی
    صورت بنا کر اس کو دوزخ میں ڈالا جائے گا مثلاً جو لوگ شکم پرستی کی وجہ سے خدا سے دور پڑگئے وہ ُ کتوں کی شکل میں کر کے دوزخ میں گرائے جائیں گے اور جو لوگ شہوت کے جماع کی
    وجہ سے خدا تعالیٰ کے حکم سے روگردان ہوگئے۔ وہ سؤروں کی شکل میں دوزخ میں گرائے جائیں گے اور جن لوگوں نے نافرمانی کر کے بہت سے حیوانوں کے ساتھ مشابہت پیدا کرلی تھی وہ بہت
    سی جونوں میں پڑیں گے اس طرح پر کہ ایک جون کو ایسی حالت میں ختم کر کے جو موت سے مشابہ ہے دوسری جون کا چولہ پہن لیں گے۔ اسی طرح ایک جون کے بعد دوسری جون میں آئیں گے اور
    نہ ایک موت بلکہ ہزاروں موتیں ان پر آئیں گی۔ اور وہ موتیں وہی ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے ثبورکثیرکے لفظ سے قرآن شریف میں بیان کیا ہے۔ مگر مومنوں پر بجز ایک موت کے جو موتۃ اولٰی ہے اور
    کوئی موت نہیں آئے گی۔ تیسری قسم
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 208
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 208
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/208/mode/1up
    تناسخؔ کی جو قرآن میں بیان ہے یہ ہے جو انسانی نطفہ ہزارہا تغیرات کے بعد پھر نطفہ کی شکل بنتا ہے مثلاً اول گندم کا
    دانہ ہوتا ہے اور ہزاروں برس اس کی یہ صورت ہوتی ہے کہ زمیندار اس کو زمین میں بوتا ہے اور وہ سبزہ کی شکل پر ہوکر زمین سے نکلتا ہے آخر دانہ بن جاتا ہے پھر کسی وقت زمیندار اس کو بوتا
    ہے اور پھر سبزہ بنتا ہے اسی طرح صدہا سال ایسا ہی ہوتا رہتا ہے اور ہزارہا قالب میں وہ دانہ آتا ہے یہاں تک کہ اس کے انسان بننے کا وقت آ جاتا ہے تب اس دانہ کو کوئی انسان کھا لیتا ہے اور اس
    سے انسانی نطفہ بن جاتا ہے۔ جیسا کہ مثنوی رومی میں ہے۔
    ہفصد و ہفتاد قالب دیدہ ام بارہا چوں سبزہ ہا روئیدہ ام
    سو باوا صاحب کے کسی شعر میں اگر کوئی اشارہ تناسخ یعنی اواگون کی طرف
    پایا جاتا ہے سو وہ اشارہ درحقیقت ان تین تناسخوں میں سے کسی تناسخ کی طرف ہے جو قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے*۔ نہ اس وید والے تناسخ کی طرف جس کیلئے ضرور ہے کہ انسان خدا تعالیٰ
    کے خالق ہونے سے انکار کرے اور نجات کو ابدی نہ سمجھے اور خدا تعالیٰ کی نسبت یہ عقیدہ رکھے کہ وہ گنہ نہیں بخشتا۔ اور کسی کی توبہ قبول نہیں کرتا اور کسی پر رحم نہیں کرتا اور ظاہر ہے
    کہ باوا صاحب ایسے گندے عقیدوں سے سخت بیزار تھے وہ خدا تعالیٰ کو روحوں اور جسموں کا پیدا کنندہ جانتے تھے اور نجات ابدی پر اعتقاد رکھتے تھے اور اللہ جلّ شانہٗ کو گناہ بخشنے والا
    یقین رکھتے تھے اور اُن کا یہ صاف اور کھلا کھلا عقیدہ تھا کہ انسان بیل۔ گدھا ایسا ہی ہریک جاندار خدا تعالیٰ نے آپ اپنی مرضی سے اور اپنے ارادہ سے پیدا کیا ہے اور کوئی روح قدیم نہیں بلکہ تمام
    روحیں اسی کی پیدائش ہیں۔ پھر اس عقیدہ والا آدمی ہندوؤں کے اواگون کو ماننے والا کیونکر ہو سکتا ہے۔ دیکھو باوا صاحب فرماتے ہیں۔
    سو کیوں منو وسارئی جا کے جیا پران ِتس وِن سب اپو ّ تر ہے
    جیتا پہنن کھان
    یعنی اسکوکیوں دل سے فراموش کرتاہے جسکی پیدائش روح اورجسم ہے اس کے بغیر تمام کھانا پہننا ناپاک ہے
    اب دیکھو باوا صاحب اس شعر میں صاف اقرار کرتے ہیں کہ جیو
    اور جسم دونوں خداتعالیٰ کی پیدائش اور اسکی ملکیت ہیں مگر تناسخ والے تو ایسا نہیں کہتے۔ اس سے تو انکا تناسخ ٹوٹتا ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 209
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 209
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/209/mode/1up
    پھرؔ ایک اور شعر میں فرماتے ہیں جس کے جیا پران ہیں من و ّ سےُ سکھ ہو۔ یعنی جس کی پیدائش روح اور جسم ہیں وہ دل
    میں آباد ہو تو راحت اور آرام ہو۔ غرض باوا صاحب وید والے تناسخ کے قائل نہ تھے صرف اس تناسخ کے قائل تھے جس کا قرآن شریف میں ذکر ہے۔ وید والے تناسخ کا قائل بجز دہریہ اور نیم دہریہ کے
    اور کوئی نہیں ہو سکتا۔
    پھراڈیٹر صاحب پرچہ خالصہ بہادر جنم ساکھی کے چند شعر لکھ کر ان سے یہ نتیجہ نکالنا چاہتے ہیں کہ باوا نانک صاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے
    نہیں تھے۔ بلکہ مکذب تھے اور وہ شعر یہ ہیں۔
    ِلکھ محمد ؐ ایک خدا الکھ سچا بے پروا کئی محمد کھڑے دربار شمار نہ پاویں بے شمار
    رسول رسال دنیا میں آیا جب چاہا تب پھیر منگایا یونہی کہا
    ہے نانک بندے پاک خدا اور سب گندے
    اب میں سوچ میں ہوں کہ اڈیٹر صاحب نے ان اشعار کو کیوں پیش کر دیا۔ اگر ان کی اس مصرعہ پر نظر ہے کہ ’’پاک خدا اور سب گندے‘‘ تو اس سے لازم
    آتا ہے کہ نانک صاحب بھی گندے ہی تھے۔ کیونکر اگر بجز خدا تعالیٰ کے تمام بندے گندے ہی ہیں تو اس قاعدہ کلیہ سے نانک صاحب بھی باہر نہیں رہ سکتے کیونکہ وہ بھی بندہ ہی ہیں۔ نانک صاحب خدا
    تو نہیں ہیں۔ تا پاک ہوں افسوس کہ آڈیٹر صاحب نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بغض کی وجہ سے باوا نانک صاحب کی عزت اور راستبازی کا بھی کچھ خیال نہیں کیا۔ اللہ اللہ!!! ُ بغض اور
    تعصب بھی کیسی ُ بری بلا ہے۔ جس سے انسان دیکھتا ہوا نہیں دیکھتا اور سنتا ہوا نہیں سنتا اور سمجھتا ہوا نہیں سمجھتا۔اڈیٹر صاحب آپ خوب یاد رکھیں اس کے یہ معنی نہیں ہیں جو آپ سمجھے*
    ہیں۔ بلکہ یہ معنی ہیں کہ حقیقی چشمہ پاکی اور پاکیزگی کا خدا تعالیٰ کی ذات ہی ہے اور راست بازوں کو پاکی اور پاکیزگی خدا سے ہی ملتی ہے ورنہ انسان کی حقیقت پر اگر نظر کریں تو وہ ایک
    ناکارہ بوند سے پیدا ہوتا ہے اس لئے وہ ہیچ محض ہے مگر اللہ تعالیٰ کی عنایتیں اس کے مقبول بندوں کو پاک کرتی ہیں خدا تعالیٰ کا تمام وجود انسان کے فائدہ کیلئے ہے لہٰذا خدا تعالیٰ کی پاکی بھی انسان
    کے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 210
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 210
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/210/mode/1up
    پاکؔ بنانے کیلئے ہے جس طرح دریا میں بار بار غسل کرنے سے کسی کے بدن پر میل باقی نہیں رہ سکتی اسی طرح جو لوگ
    خدا تعالیٰ کے ہی ہو جاتے ہیں اور اس کے سچے فرمانبردار بن کر دریائے رحمت الٰہی میں داخل ہو جاتے ہیں بلاشبہ وہ بھی پاک ہو جاتے ہیں مگر ایک اور قوم بھی ہے جو مچھلیوں کی طرح اس دریا
    میں ہی پیدا ہوتی ہے اور اس دریا میں ہی ہمیشہ رہتی ہے اور ایک دم بھی اس دریا کے بغیر جی نہیں سکتی۔ وہ وہی لوگ ہیں جو پیدائشی پاک ہیں اور ان کی فطرت میں عصمت ہے انہیں کا نام نبی اور
    رسول اور پیغمبر ہے۔ خدا تعالیٰ دھوکا کھانے والا نہیں وہ انہیں کو اپنا خاص مقرب بناتا ہے جو مچھلیوں کی طرح اس کی محبت کے دریا میں ہمیشہ فطرتاً تیرنے والے ہیں اور اسی کے ہو رہتے ہیں
    اور اسی کی اطاعت میں فنا ہو جاتے ہیں۔ پس یہ قول کسی سچے راستباز کا نہیں ہو سکتا کہ خدا تعالیٰ کے سوا درحقیقت سب گندے ہی ہیں اور کوئی نہ کبھی پاک ہوا نہ ہوگا گویا خدا تعالیٰ نے اپنے
    بندوں کو عبث پیدا کیا ہے بلکہ سچی معرفت اور گیان کا یہ قول ہے کہ نوع انسان میں ابتدا سے یہ سنت اللہ ہے کہ وہ اپنی محبت رکھنے والوں کو پاک کرتا رہا ہے ہاں حقیقی پاکی اور پاکیزگی کا چشمہ
    خدا تعالیٰ ہی ہے جو لوگ ذکر اور عبادت اور محبت سے اس کی یاد میں مصروف رہتے ہیں خدا تعالیٰ اپنی صفت ان پر بھی ڈال دیتا ہے تب وہ بھی اس پاکی سے ظلی طور پر حصہ پا لیتے ہیں جو خدا
    تعالیٰ کی ذات میں حقیقی طور پر موجود ہے مگر بعض کیلئے رحمت الٰہی ابتدا سے ہی سبقت کرتی ہے۔ اور وہ مادر زاد مورد عنایت ہوتے ہیں خدا تعالیٰ ان کو ابتداء سے ہی نالائق جذبات سے محفوظ
    رکھتا ہے اور نہ صرف اسی قدر بلکہ ان کی فطرت میں خدا شناسی اور خدا ترسی اور صبر اور استقامت کا مادہ سب سے زیادہ ہوتا ہے اور بالطبع وہ گناہ سے ایسا ہی نفرت کرتے ہیں جیسا کہ دوسرے
    لوگ گناہ سے محبت کرتے ہیں۔ اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ ہمیشہ سے سب لوگ گندے ہی چلے آتے ہیں اور اس فطرت کے لوگ دنیا میں پیدا ہی نہیں ہوتے کہ جو خدا تعالیٰ سے پاکی حاصل کریں وہ
    خود گندہ اور نابینا ہے مگر باوا نانک صاحب کی نسبت ہم ایسا عقیدہ ہرگز نہیں رکھتے بلکہ ہم نہایت پختہ یقین سے کہتے ہیں کہ نالائق اور نادان لوگوں نے جن کو سچے گیان اور پاک معرفت کی کچھ
    خبر نہیں۔ باوا صاحب پر یہ تہمتیں لگا دی
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 211
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 211
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/211/mode/1up
    ہیںؔ اور ہرگز ان کا یہ مذہب نہیں چنانچہ ہمارے اس دعوے پر ان کے دوسرے شعر گواہ ہیں اور یہ شعر بھی تو گرنتھ
    صاحب میں اب تک موجود ہے سکھ داتا گورسینوئیں سب اوگن کڈھے دھو یعنی آرام کے دینے والے خدا کو پوجنا چاہئے جو تمام بد اعمالیوں کو نکال کر دھو ڈالنا ہے۔ پھر یہ شعر بھی گرنتھ صاحب میں
    ہے۔
    جن کیتا تسے نجانئے من مکھ پس ناپاک گن گوبند نت گاوئین اوگن کٹن ہار
    یعنی اگر اپنے پیدا کرنے والے کو نہ جانیں تو منہ دل دونوں پلید ہیں اور اگر خدا تعالیٰ کی صفت ثنا کریں تو وہ تمام
    ناپاکیاں بیماریاں دور کردیگا۔ دیکھو ان شعروں میں صاف اقرار ہے کہ خدا تعالیٰ کے قرب سے انسان پاک ہو جاتا ہے پھر یہ مقولہ کیونکر درست ہو سکتا ہے کہ بجز خدا تعالیٰ کے سب ناپاک اور گندے
    ہیں ہریک بات کے لفظ پکڑ لینے اور حقیقت سے غافل رہنا یہ بڑی غلطی ہے مثلاً یہ شعر گرنتھ صاحب میں موجود ہے۔
    کہو نانک ہم نیچ کرما سرن پڑیگی راگہو سرما
    یعنی اے نانک اس بات کا
    اقرار کر دے کہ میں بدعمل آدمی ہوں قدموں پر گرے ہوئے کا لحاظ رکھ لو۔ یعنی اگرچہ میں نہایت ہی بدعمل ہوں مگر اے خالق تیرے قدموں پر آگرا ہوں سو اس لحاظ سے کہ میں قدموں پر آگرا ہوں
    مجھے بخش دے۔ اب نہایت بے ادبی ہوگی اگر کوئی صرف لفظوں کا لحاظ کر کے یہ کہے کہ نعوذ باللہ باوانانک صاحب کا چال چلن اچھا نہیں تھا کیونکہ وہ آپ اقرار کرتے ہیں کہ میں نیچ کرم آدمی
    ہوں تو یہ سخت جہالت اور تعصب ہے کیونکہ یہ مقولہ ان کا مقام انکسار میں اللہ جلّ شانہٗ کے سامنے ہے ایسا ہی یہ مقولہ ان کا بجز خدا کے تمام مخلوق گندی ہیں مقام انکسار میں ہوگا اور اس کے
    یہ معنی ہوں گے کہ حقیقی پاکی صرف خدا کیلئے مسلّم ہے اور باقی سب لوگ اس کے پاک کرنے سے پاک ہوتے ہیں اور ان معنوں سے یہ مضمون قرآن کریم کی تعلیم سے موافق پڑے گا کیونکہ اللہ جلّ
    شانہٗ بہشتیوں کی زبان سے فرماتا ہے۔۱؂ یعنی سب تعریف اس خدا کو جس نے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 212
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 212
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/212/mode/1up
    ہمیںؔ بہشت میں داخل ہونے کیلئے آپ ہی سب توفیق بخشی آپ ہی ایمان بخشا آپ ہی نیک عمل کرائے آپ ہی ہمارے دلوں کو
    پاک کیا اگر وہ خود مدد نہ کرتا تو ہم آپ تو کچھ بھی چیز نہ تھے اور پھر فرماتا ہے ۱؂ یعنی یہ دعا کرو کہ ہم تیری پرستش کرتے ہیں اور تجھ سے ان تمام باتوں میں مدد چاہتے ہیں سو یہ تمام اشارے
    نیستی اور تذلل کی طرف ہیں۔ تا انسان اپنے تئیں کچھ چیز نہ سمجھے۔
    اس وقت باوانانک صاحب کے ایک دو شعر اور مجھے یاد آگئے جن میں انہوں نے کسر نفسی کے ساتھ جناب الٰہی میں مناجات
    کی ہے جیسا کہ وہ گرنتھ صاحب میں فرماتے ہیں۔
    اسی بول وگاڑ وگاڑیں بول توں نظری اندر تولیں تول
    یعنی ہم بکواسی لوگ ہیں بات بگاڑ لیتے ہیں تو اپنی نظر کے اندر وزن کرلیتا ہے پھر ایک جگہ
    باوا صاحب فرماتے ہیں۔
    توں بھرپور جانیاں میں دور جو کچھ کرے سو تیرے حضور
    یعنی توں ہرجگہ ہے مگر میں نے دور خیال کیا۔ جو کچھ کریں سو تیرے حضور میں کرتے ہیں۔ پھر ایک جگہ
    کہتے ہیں۔
    توں دیکھیں ہم مکرّ پاؤ تیرے کم نہ تیرے ناؤ
    یعنی تو دیکھ رہا ہے اور ہم اپنے ُ برے کاموں سے منکر ہوتے ہیں نہ تیرے حکم پر چلتے ہیں اور نہ تیرا نام لیتے ہیں۔ اب کیا یہ خیال کیا
    جائے کہ نانک صاحب درحقیقت ایسے کلمے منہ پر لایا کرتے تھے جن سے بات بگڑ جاتی تھی اور نیز خدا تعالیٰ کو دور خیال کرتے تھے اور اپنے ُ برے کاموں کو چھپایا کرتے تھے اور خدا تعالیٰ کے
    حکم پر نہیں چلتے تھے اور نہ اُس کا نام لیتے تھے ایسا ہی باوا نانک صاحب گرنتھ کے صفحہ ۲۱۹ میں فرماتے ہیں۔
    واہ واہ ساچے میں تیری ٹیک ہوں پاپی توں نرمل ایک
    یعنی اے سچے مجھے
    تیرا آسرا ہے میں سخت بدکار ہوں اور تو بے عیب ہے۔ اور پھر فرماتے ہیں۔
    شب روز گشتم در ہوا کردم بدی خیال گاہے نہ نیکی کار کردم مم این چنین احوال
    بدبخت ہمچو بخیل غافل بے نظر بے
    باک نانک بگوید جن ترا تیرے چاکران پا خاک
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 213
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 213
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/213/mode/1up
    یعنیؔ میں ہمیشہ حرص و ہوا کے پیچھے ہی پڑا رہا کبھی نیکی کا کام نہ کیا ایسا ہی میرا ہمیشہ حال رہا بدبخت ہوں بخیل
    ہوں غافل ہوں میں صاحب نظر نہیں ہوں اور بے خوف ہوں اور تیرے چاکروں کا خاک پا ہوں اور پھر ایک اور جگہ فرماتے ہیں۔
    ہم اوگن آرے تون سن پیارے تدھ بھاوے سچ سو
    یعنی ہم گنہگار ہیں
    اے پیارے وہی سچ ہے جو تجھے اچھا معلوم ہو۔ اب کیا آپ لوگ ان ابیات کو حقیقت پر حمل کر کے باوانانک صاحب کو ایسا ہی خیال کرو گے جیسا کہ وہ ان شعروں میں اپنی نسبت خیال کرتے ہیں بلکہ
    یہی معنے کرو گے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی عظمتوں پر نظر کر کے اپنے تئیں ہیچ سمجھا پس ایسا ہی نوع انسان کیلئے ان کا کلام ہے کہ بغیر خدا تعالیٰ کے فضل کے کوئی پاک نہیں کہلا سکتا۔
    پھر عقل مند سوچ سکتا ہے کہ یہ شعر کہ ’’لکھ محمد ایک خدا۔ا لکھ سچا ہے بے پروا‘‘ اس کے یہی معنے ہیں کہ محمدؐ اور خدا کی عظمت میں غور کر۔ کیونکر لکھنا غور کرنے اور فکر کرنے
    کو کہتے ہیں جیسا کہ الکھ کے معنے ہیں فکر اور عقل سے باہر۔ پھر یہ قول نانک صاحب کا ’’کئی محمد کھڑے دربار۔ شمار نہ پاویں بے شمار‘‘ اس کے یہی معنے ہیں کہ خدا کے مقرب اور
    پیارے بے شمار ہیں جن کو اُس کے دربار خاص میں جگہ ہے۔ اب آنکھیں کھول کر دیکھو کہ کیا اس شعر سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی تعریف نکلتی ہے یا مذمت نکلتی ہے بلکہ نانک صاحب
    نے خدا تعالیٰ کے ہریک پیارے کا نام محمد رکھ دیا کیونکہ محمد کے معنے عربی میں یہ ہیں کہ نہایت تعریف کیا گیا یعنی جو شخص خدا تعالیٰ کا نہایت ہی پیارا ہو اس کو محمد کہتے ہیں۔ پس نانک
    صاحب فرماتے ہیں کہ محمد یعنی خدا تعالیٰ کا پیارا ایک نہیں ہے بلکہ بے شمار پیارے ہیں جن کو اس کے دربار میں رسائی ہے سو ان شعروں میں تو نانک صاحب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی
    نبوت کا صاف اقرار کر دیا ہے۔ اور اگر فرض کے طور پر کوئی ایسا شعر ہو جو مذمت پر دلالت کرتا ہو تو وہ گندہ شعر نانک صاحب کا کبھی نہیں ہوگا کیونکہ وہ جابجا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم
    کی تعریف کرتے ہیں جیسا کہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 214
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 214
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/214/mode/1up
    وہ ؔ ایک شعر میں گرنتھ میں فرماتے ہیں ’’برکت تن کو اگلی پڑھتے رہن درود‘‘ یعنی جو لوگ نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر
    درود بھیجتے ہیں انہیں کو آنے والے زمانہ میں برکت ملے گی۔ اور پھر ایک شعر گرنتھ میں فرماتے ہیں ’’کرنی کعبہ سچ پیر کلمہ کرم نواج‘‘ یعنی نیک کام کعبہ کے حکم میں ہیں جن کی طرف منہ
    کرنا چاہئے اور سچ بولنا مرشد کے حکم میں ہے جس سے رہ ملتی ہے اور کلمہ یعنی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ وہ چیز ہے جس سے قسمت کھلتی ہے اور عمل نیک ہو جاتے ہیں اب فرمائیے کہ کیا
    ایسا شخص جو اس قدر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت رکھتا ہے کیا اس کی نسبت گمان کر سکتے ہیں کہ کوئی خلاف تہذیب کا کلمہ اس کے منہ سے نکلا ہوگا۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ
    گرنتھ صاحب کے ایسے اشعار جو تناقض کے مرض میں مبتلا ہیں تو اس کا یہ سبب نہیں کہ باوا نانک صاحب کی کلام میں تناقض تھا بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ تمام اشعار دو سو بلکہ تین سو برس
    بعد میں جمع کئے گئے اور ہر یک شعر کے پیچھے نانک کا اسم خواہ نخواہ لگا دیا گیا اگرچہ حال کے گرنتھ دان یہ بیان کرتے ہیں کہ جس شبد پر آسا محلہ پہلایا گوڑی محلہ پہلا لکھا ہوا ہو وہ تو
    درحقیقت نانک صاحب کا ہی شعر ہے اور نہیں تو دوسرے جانشینوں کا شعر ہے لیکن جس حالت میں ہریک شعر کے آخر میں نانک کا لفظ پایا جاتا ہے تو یہ ایک نہایت قابل اعتراض کارروائی ہے کیونکہ
    سراسر خلاف واقعہ اور جعل کے رنگ میں ہے اور اس صورت میں اُن شعروں سے بھی امان اٹھ گیا جو دراصل باوا نانک صاحب کے ہوں گے۔ اور اب کئی سو برس کے بعد کون فیصلہ کر سکتا ہے کہ
    ان میں سے نانک صاحب کے کون سے شعر اور دوسروں کے کون سے شعر ہیں جن لوگوں نے بے محل اپنے شعروں کے اخیر پر نانک کا لفظ ملا دیا ان لوگوں نے اور کیا کچھ دخل نہیں دیا ہوگا۔ پھر
    جبکہ یہ کارروائی دو سو برس بعد بلکہ مدت کے بعد کی کارروائی ہے تو ایسے مجموعہ پر کیونکر بغیر دوسرے شواہد کے بھروسہ ہو سکتا ہے اگرچہ یہ بھی ممکن ہے کہ باوا صاحب کے اس ابتدائی
    زمانہ کے بھی بعض شعر ہوں جبکہ انہوں نے ابھی اسلامی ہدایت سے شرف حاصل نہیں کیا تھا اور خیالات میں الٰہی روشنی حاصل نہیں ہوئی تھی اور ان خطاؤں اور غلطیوں میں پڑے ہوئے تھے جن
    کا ان کو خود اقرار ہے لیکن چونکہ ان شعروں کے جمع کرنے میں پوری
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 215
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 215
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/215/mode/1up
    احتیاؔ ط سے کام نہیں لیا گیا اس لئے باوجود اس خیال کے یہ دوسرا شبہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ باوا صاحب کے اشعار میں
    اجنبی اشعار بہت ملائے گئے ہیں اور ان کے نام سے اپنا ِ سکہ چلایا گیا ہے پھر جس گرنتھ میں ایسا گڑبڑ پڑا ہوا ہے وہ بجز کسی خاص معیار کے ہرگز قبول کرنے کے لائق نہیں اور عندالعقل چولہ
    صاحب اور باوا صاحب کے چلوں سے بڑھ کر اور کوئی معیار نہیں اور نیز باوا صاحب کے وہ اشعار بھی معیار میں داخل ہیں جن میں انہوں نے صاف اقرار کیا ہے کہ بغیر اسلام کے کسی کی نجات
    نہیں اور یہ عقیدہ باوا صاحب کی آخری عمر کا معلوم ہوتا ہے اور یہ کچھ عجیب نہیں کہ ابتدائی عمر کے خیالات آخری عمر کے خیالات سے کچھ تناقض رکھتے ہوں بلکہ حقیقتاً ایسا ہی معلوم ہوتا
    ہے کہ باوا صاحب رفتہ رفتہ حق کی طرف جھکتے چلے آئے ہیں یہاں تک کہ آخری عمر میں چولہ بنا کر اسلامی شعار ظاہر کرنے کے لئے پہن لیا اور آخری عمر میں ہی حج کیا اور آخری عمر میں
    ہی چلہ کشی کی۔ سو آخری عمر کے قول اور فعل قابل اعتبار ہیں اور اس کے مخالف سب ردّی۔
    بالآخر یہ بھی یاد رہے کہ باوا نانک صاحب کے اشعار پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ باوا
    صاحب اپنی گذشتہ زندگی کو نہایت غفلت اور خطا و سہو کی طرف منسوب کرتے ہیں اور اپنی ذات کی نسبت بار بار یہ لفظ استعمال کرتے ہیں کہ پاپی اور نیچ اور غفلت سے بھرا ہوا اور بخیل اور
    غافل وغیرہ وغیرہ سو اس صورت میں کچھ تعجب کی بات نہیں کہ جیسا کہ اڈیٹر صاحب خالصہ بہادر فرماتے ہیں کہ باوا نانک صاحب حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی نسبت اپنے اشعار
    میں ہتک آمیز الفاظ بھی استعمال میں لاتے رہے ہیں یہ بھی کسی ایسے زمانہ کے واقعات ہوں جبکہ باوا صاحب اس حجاب اور غفلت میں پڑے ہوئے تھے جس کا ان کو خود اقرار ہے کیونکہ باوا صاحب
    اپنے بے شمار گناہوں کا خود اقرار کرتے ہیں اور اپنی گذشتہ غلطیوں کے آپ اقراری ہیں جیسا کہ وہ گرنتھ کے صفحہ ۲۲۴ میں فرماتے ہیں۔
    جیتا سمندر ساگر نیر بھریا تے تے اوگن ہمارے دیا کرو
    کچھ مہر اُپا ہو ڈبدے پتھر تارے
    یعنی جس قدر سمندر پانی سے بھرا ہوا ہے اسی قدر ہمارے گناہ اور عیب ہیں کچھ رحم اور مہر کرو اور ایسے پتھروں کو
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 216
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 216
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/216/mode/1up
    تارؔ دو کہ قریب ہے جو ڈوب جائیں۔ پھر صفحہ ۳۲۸ گرنتھ میں فرماتے ہیں۔
    ہم پاپی ِ نرگن کو گن کرے پربھ ہوئے دیال
    نانک جن ترے
    یعنی ہم بڑے گنہگار ہیں کوئی نیکی نہیں کیا نیکی کریں خدافضل کرے توتب ہم تریں یعنی نجات پاویں۔ اسی طرح چولہ صاحب میں یہ لکھا ہوا موجود ہے
    اشھد ان لا الہ الا اللہ و اشھد
    انّ محمدًا عبدہ و رسولہٗ
    یعنی اے خدا تو پاک ہے تیرے سوا اور کوئی نہیں میں ظالموں میں سے تھا اور اب میں گوا ہی دیتا ہوں کہ سچا خدا اللہ ہے اس کے ساتھ اور کوئی معبود نہیں اور میں گواہی
    دیتا ہوں کہ محمد اس کا بندہ اور اس کا پیغمبر ہے۔ اب دیکھو کہ کس تضرع اور عاجزی سے باوانانک صاحب اپنے گناہوں کا اقرار کر کے صاف کہتے ہیں کہ میں پہلے اس سے ظالم تھا اور اب میں
    مانتا ہوں کہ اللہ سچ اور محمدؐ اس کا رسول برحق ہے۔ سو ان کے اس تمام بیان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے اوائل زمانہ میں اس معرفت سے بے خبر تھے کہ دین الٰہی دین اسلام ہے اگرچہ وہ
    تعصب سے ہمیشہ دور رہے اور خدا تعالیٰ نے ان کا دل ہندوؤں کے تعصب سے خالی پیدا کیا تھا اور حق کی طلب ہوش پکڑتے ہی ان کو دامنگیر ہوگئی تھی مگر بشری غفلت کی وجہ سے اوائل ایام میں
    اس زندگی کے چشمہ سے بے خبر تھے جس کا نام اسلام ہے اس لئے کچھ تعجب کی بات نہیں کہ وہ پہلے دنوں میں اپنے شعروں میں ایسے خیالات ظاہر کرتے ہوں جو اسلام کے مخالف ہوں اور
    تکذیب کے رنگ میں ہوں مگر جب ان کو یہ سمجھ آگئی کہ درحقیقت اسلام ہی سچا ہے اور فی الواقعہ حضرت محمد مصطفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سچے پیغمبر اور خدا کے پیارے ہیں تب تو
    انہوں نے اپنی پہلی زندگی کا چولہ اتار دیا اور اسلامی چولہ پہن لیا اور یہ چولہ جو اب تک کابلی مل کی اولاد میں چلا آتا ہے یہ درحقیقت طرز زندگی کے تبدیل کرنے کا نشان ہے پہلا چولہ انکار کا
    اتار کر اور آگ میں جلا کر یہ چولہ اقرار کا خدا تعالیٰ کے فضل نے ان کو پہنا دیا جو اب تک چار سو برس سے موجود ہے اور باوا صاحب کی آخری عمر کی سوانح کا ایک
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 217
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 217
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/217/mode/1up
    زندؔ ہ گواہ ہے اور اسی کو باوا صاحب اپنے مذہب اور ملت کی یادگار چھوڑ گئے اور اگر ان کے فوت ہونے کے بعد ان کے
    گھر میں سے ان کی طریق زندگی کا نشان برآمد ہوا تو یہی چولہ برآمد ہوا کوئی گرنتھ کی جزبر آمد نہیں ہوئی بلکہ دو سو تین سو برس بعد عوام الناس کی زبانی اکٹھا کیا گیا پس جب کہ ایک برس کے
    فرق سے بھی ہزاروں تغیر اور تبدل پیدا ہو جاتے ہیں پھر دو سو تین سو برس کے فرق کے بعد کیا کچھ تغیرات اور تحریفات نہیں ہوئے ہوں گے اور یاد رہے کہ دو سو برس کے بعدمیں جمع کیا جانا ان
    گورؤں کے شعروں کی نسبت ہے جو گورو ارجن داس صاحب سے پہلے گذر چکے لیکن جو گورو۔ گورو ارجن داس صاحب کے بعد آئے ان کے اشعار تو قریباً تین سو برس کے بعد میں لکھے گئے ہوں
    گے اور اب تک ٹھیک پتہ نہیں کہ وہ کس نے لکھے اور ان کا جمع کرنا گورو ارجن داس کی طرف کیوں منسوب کیا گیا کیونکہ گورو ارجن داس صاحب تو ان سے پہلے فوت ہو چکے تھے پھر عجیب تر
    یہ کہ ان شعروں کے آخر میں بھی نانک کا لفظ لگایا گیا اور صدہا شعر باوا نانک صاحب کے ایسے ترک کئے گئے اور گرنتھ میں نہیں لکھے گئے جن میں باوا صاحب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی
    تعریف اور اسلام کی تعریف اور اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کرتے تھے۔ چنانچہ چشتی سلسلہ کے لوگ جن کے ساتھ ان کا تعلق تھا اب تک ان شعروں کو یاد کرتے اور پڑھتے ہیں۔ ان تمام امور پر نظر
    ڈال کر ایک حق کا طالب جلد سمجھ سکتا ہے کہ باوا نانک صاحب کے مذہب کی اصل حقیقت دریافت کرنے کیلئے صرف موجودہ گرنتھ پر مدار رکھنا سخت غلطی ہے۔ اس کو کون نہیں جانتا کہ موجودہ
    گرنتھ کی صحت کے بارہ میں بہت سی پیچیدگیاں اور دقتیں واقع ہوگئی ہیں اور وہ تمام اشعار دو تین سو برس تک ایک پوشیدگی کے گہرے پانی میں غوطہ لگانے کے بعد پھر ایسے زمانہ میں ظاہر ہوئے
    جس میں سکھ صاحبان کے اصل مذہب کا رنگ بدل چکا تھا اور وہ اپنی اس حالت میں اس قسم کے شعر ہرگز جمع نہیں کر سکتے تھے جن میں باوا صاحب کے مسلمان ہونے کی تصریحات تھیں اور ایسے
    بے ثبوت اور بے سند طور پر وہ جمع کئے گئے کہ جن میں جعلسازوں کو بہت کچھ خلط ملط کرنے کا موقعہ تھا گورو ارجن داس صاحب کی گو کیسے ہی نیک نیت ہو
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 218
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 218
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/218/mode/1up
    مگرؔ جن لوگوں کے زبانی وہ شعر جمع کئے گئے تھے ان کی درایت اور روایت ہرگز قابل اعتماد نہیں۔ باوا صاحب کے ہاتھ
    سے جو چیز آج تک دست بدست چلی آتی ہے اور جو ان کے فوت ہونے کے بعد ان کے گھر میں پائی گئی وہ فقط چولہ صاحب ہے ہریک منصف کو چاہئے کہ اگر باوا صاحب کے مذہب کی اصل حقیقت
    دریافت کرنا ہے تو اس بارہ میں چولہ صاحب کی شہادت قبول کرے کہ باوا صاحب کا چولہ باوا صاحب کا قائم مقام ہے ہاں دوسری موافق شہادتیں جو گرنتھ وغیرہ سے ملتی ہیں وہ بھی کچھ تھوڑی
    نہیں ہیں مگر چولہ صاحب بہرحال سب سے مقدّم اور زندہ گواہ ہے۔
    باوانانک صاحب کے اسلام پر خلاصہ دلائل
    ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ باوا صاحب وید کی خراب تعلیموں کو دیکھ کر بالکل
    اس سے دست بردار ہوگئے تھے اور ہمیں غور کرنے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ باوا نانک صاحب کی زندگی تین زمانوں پر مشتمل تھی اور وہ فوت نہیں ہوئے جب تک تیسرا زمانہ اپنی زندگی کا نہ
    پالیا۔
    )ا( پہلا زمانہ وہ تھا کہ جب وہ رسم اور تقلید کے طور پر ہندو کہلاتے تھے۔ پس اس زمانہ کے شبد یعنی شعر اُن کے اگر ہندو مذہب کے مناسب حال ہوں تو کچھ بعید نہ ہوگا۔
    )۲( اور
    دوسرا زمانہ باوانانک صاحب پر وہ آیا جبکہ وہ ہندو مذہب سے قطعاً بیزار ہوگئے۔ اور وید کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگے سو وہ تمام شعر ان کے جو ویدوں کی مذمت میں ہیں درحقیقت اسی زمانہ
    کے معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن اس دوسرے زمانہ میں باوا صاحب کو اسلام سے بھی کچھ ایسا تعلق نہیں تھا کیونکہ ابھی ان کا گیان اس درجہ تک نہیں پہنچا تھا جس سے وہ الٰہی دین کی روشنی کو پہچان
    سکتے بلکہ اس مرتبہ میں ان کی معرفت کچھ دُھندلی سی اور ابتدائی درجہ میں تھی۔ اس لئے کچھ تعجب نہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی کے اس دوسرے مرحلہ میں ایسی باتیں بھی کہی ہوں یا ایسے
    شعر بھی بنائے ہوں جو کامل سچائی کے مخالف ہوں )۳( تیسرا زمانہ باوا صاحب پر وہ آیا جبکہ ان کی معرفت کامل ہوگئی تھی اور وہ جان چکے تھے کہ پہلے خیالات میرے خطا سے خالی نہ
    تھے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 219
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 219
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/219/mode/1up
    اسؔ لئے اکثر جناب الٰہی میں رو رو کر گذشتہ زندگی کے بارہ میں بہت عذر معذرت کرتے تھے اور اسی آخری حصہ عمر
    میں انہوں نے دو حج کئے اور دو برس تک مکہ اور مدینہ میں رہے اور صلحائے اسلام کے روضوں پر چلے گئے اور پرانی زندگی کا بالکل چولہ اتار دیا اور نئی زندگی کا نشان دہ چولہ پہن لیا۔ جس کی
    ہریک طرف میں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا اب تک موجود ہے اور ان کا خاتمہ بہت عمدہ ہوا اور مجمع کثیر کے ساتھ مسلمانوں نے ان پر نماز جنازہ پڑھی۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔
    سکھ
    صاحبان اس بات پر بھی غور کریں کہ باوانانک صاحب کلام الٰہی کے قائل تھے اور جابجا گرنتھ میں بار بار کہہ چکے ہیں کہ خدا کی ہدایت اور خدا کی کلام کے سوا کوئی شخص اس کی رہ کو نہیں پا
    سکتا۔ جیسا کہ وہ فرماتے ہیں۔
    جیہی توں مت دے تیہی کوئی پاوے تدھ آپے بھاوے تیویں چلاوے
    یعنی جسے تو نصیحت دے ویسے کوئی تجھے پا سکتا ہے تجھے جو اچھا لگا وہی کام تو چلاتا ہے۔
    اور پھر فرماتے ہیں
    حکمے آیا حکم نہ بوجھے حکم سوارن ہارا
    یعنی انسان حکم سے آیا اور حکم نہیں پہچانتا۔ اور خدا کے حکم سے ہی انسان کی اصلاح ہوتی ہے۔ اور ایسے شعر صدہا ہیں۔ اور
    کوئی اس سے انکار نہیں کر سکتا اور سب کا خلاصہ یہ ہے کہ خداتعالیٰ کے الہام اور کلام کی پیروی کرنی چاہئے تب راہ ملے گی لیکن باوا صاحب نے کسی جگہ یہ دعویٰ نہیں کیا کہ یہ گرنتھ کے
    اشعار جو میرے منہ سے نکلتے ہیں الہامی ہیں یا خدا کا کلام ہے۔ بلکہ اپنا نام شاعر رکھا ہے جیسا کہ وہ فرماتے ہیں۔ دیکھو صفحہ۹۶۳
    ساس ماس سب جیو تمہارا توں میں کھرا پیارا
    نانک
    شاعراینو کہت ہے سچے پروردگارا
    یعنی سانس اور گوشت اور جان تمہاری طرف سے ہیں اور تو مجھے بہت پیارا ہے۔ نانک شاعر اسی طرح کہتا ہے اے سچے پروردگار۔ اب ظاہر ہے کہ اگر یہ
    کلام نانک صاحب کا خدا تعالیٰ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 220
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 220
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/220/mode/1up
    کیؔ طرف سے ہوتا تو وہ اپنا نام ان شعروں میں شاعر نہ رکھتے پس جبکہ نانک صاحب کا یہ اپنا ہی کلام ہوا اور دوسری
    طرف ان کا یہ اقرار ہے کہ بغیر پیروی ست گور کے حکم یعنی خداتعالیٰ کی کلام کے کوئی انسان نجات نہیں پا سکتا۔ پس اب یہ سوال بالطبع ہوتا ہے کہ باوا صاحب نے پرمیشر کی رضا حاصل کرنے
    کیلئے کس کتاب الٰہی کی پیروی کی اور اپنے سکھوں کو کس کتاب الہامی کی ہدایت دی اس سوال کا جواب ہم اس رسالہ میں بخوبی دے چکے ہیں کہ باوا صاحب قرآن شریف کی پیروی کرتے رہے اور
    اسی کی پیروی کی انہوں نے نصیحت کی۔
    اور اگر کوئی انسان ان تمام باتوں سے قطع نظر کر کے باوا صاحب کے ان عقائد پر نظر غور ڈالے جو گرنتھ میں ان کی طرف سے منقول ہیں اور ان کے
    اشعار میں پائے جاتے ہیں تو بہت جلد یقین کر لے گا کہ ان عقیدوں کا پتہ بجز اسلام کے اور کسی دین میں نہیں ملتا۔ پس یہ بھی ایک پختہ دلیل اس بات پر ہے کہ باوا صاحب نے اسلامی عقائد ہی قبول
    کئے اور انہیں کو اپنا عقیدہ ٹھہرا لیا تھا پھر ہم ایسے عقیدہ والے کو اگر مسلمان نہ کہیں تو ہمیں بتلاؤ کہ اور کس مذہب کی طرف اس کو منسوب کریں۔ چنانچہ اس وقت چند شعر باواصاحب کے بطور
    نمونہ کے اس جگہ لکھے جاتے ہیں ان کو سکھ صاحب غور سے پڑھیں کہ یہ عقیدے کس مذہب کے ہیں۔ منجملہ ان کے یہ شعر ہے۔
    ہربن جیو جل بل جاؤ میں اپنا گور پوچھ دیکھا اور ناہیں تھاؤ
    یعنی اے جاندارو خدا کے سوا جل جاؤ گے میں اپنے مرشد سے پوچھ لیا اور کوئی جگہ نہیں۔
    اب واضح ہو کہ یہ اس آیت قرآنی کا ترجمہ ہے۱؂ یعنی جو لوگ نافرمان اور بدکار ہیں اور نفس اور ہوا
    کے تابع ہیں وہ جہنم میں داخل ہوں گے اور وہاں جلیں گے اور اسی کے مطابق ایک دوسری آیت ہے اور وہ یہ ہے۔
    یعنی اپنے رب کو بہت ہی یاد کرو تا دوزخ کی آگ سے نجات پاؤ۔ اب ظاہر ہے کہ
    نافرمانی کی حالت میں
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 221
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 221
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/221/mode/1up
    آگؔ میں جلنا ہندوؤں کا مذہب نہیں بلکہ ان کا مذہب تو اواگون اور جونوں میں پڑنا ہے اور عیسائیوں کے مذہب میں بھی یہ تعلیم
    نہیں کہ خدا سے سچی محبت کر کے انسان دوزخ سے بچ جاتا ہے کیونکہ ان کے مذہب میں مدار نجات حضرت مسیح کی خودکشی پر ایمان لانا ہے سو یہ محض قرآنی تعلیم ہے جو باوا صاحب نے بیان
    کی۔ قرآن ہی یہ تعلیم دیتا ہے کہ ۱؂ یعنی جہنم کی آگ سے وہ بچے گا جو اپنے تئیں نفس پرستی اور تمام نافرمانیوں سے پاک کرے گا ۔اور پھر ایک اور شعر باوا صاحب کا ہے اور وہ یہ ہے۔
    کیتیان
    تیری قدرتیں کی وڈی تیری دات کیتی تیرے جیا جنت صفت کریں دن رات
    یعنی کس قدر تیری قدرتیں ہیں اور کس قدر تیری بخشش اور عطا ہے اور کس قدر تیری مخلوق ارواح اور اجسام ہیں جو دن
    رات تیری تعریف کرتے ہیں یہ شعر بھی قرآن شریف کی آیات کا ترجمہ ہے کیونکہ اللہ جلّ شانہٗ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔
    یعنی خدا وہ قادر ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں وہ نہایت
    بزرگ اور صاحب عظمت ہے اور اس کی نعمت اور بخشش اس قدر ہے کہ اگر تم اس کو گننا چاہو تو یہ تمہاری طاقت سے باہر ہے اور کوئی چیز نہیں جو خدا کی حمد و ثناء میں مشغول نہیں ہریک چیز
    اس کے ذکر میں لگی ہوئی ہے۔ اب دیکھو باوا صاحب کا یہ شعر انہیں آیات کا ترجمہ ہے ۔لیکن یہ شعر وید کے عقیدہ کے صریح برخلاف ہے۔ کیونکہ وید کی رو سے پرمیشر کی عطا اور بخشش کچھ
    بھی چیز نہیں سب کچھ اپنے عملوں کا پھل ہے اور وید اس بات کا بھی قائل نہیں کہ آگ اور پانی اور ہوا وغیرہ خدا تعالیٰ کی صفت و ثنائیں کر رہے ہیں۔ بلکہ وید تو ان چیزوں کو خود پرمیشر ہی قرار
    دیتا ہے اور اگر یہ کہو کہ یہ نام اگرچہ مخلوق کے ہیں مگر پرمیشر کے بھی یہ نام ہیں تو اس بات کا ثبوت دینا چاہئے کہ جیسا کہ قرآن بیان کرتا ہے کہ چاند سورج ستارے پانی آگ مٹی ہوا سب خدا کی
    مخلوق ہے اور اسی کی تعریف کر رہے ہیں اور ان چیزوں
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 222
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 222
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/222/mode/1up
    میںؔ سے کسی کی پرستش جائز نہیں ایسا ہی وید میں بھی یہ بیان موجود ہے مگر یہ بات ہرگز نہیں تعصب سے ضد کرنا اور
    بات ہے لیکن ثبوت دینا اور بات ہے سو باوا صاحب نے یہ تمام مضمون قرآن شریف سے لئے ہیں اور پھر باوا صاحب کا ایک شعر یہ ہے۔
    او چوتھان سوہاوناں اوپر محل مرار سچ کرنی دے پائے در
    گھر محل پیار
    یعنی وہ بہشت اونچا مکان ہے اس میں عمارتیں خوبصورت ہیں اور راست بازی سے وہ مکان ملتا ہے اور پیار اس محل کا دروازہ ہے جس سے لوگ گھر کے اندر داخل ہوتے ہیں اور یہ
    شعر اس آیت سے اقتباس کیا گیا ہے جو قرآن شریف میں ہے۔
    یعنی جو لوگ راستباز ہیں اور خدا سے ڈرتے ہیں انہیں بہشت کے بالا خانوں میں جگہ دی جائے گی جو نہایت خوبصورت مکان اور آرام
    کی جگہ ہے دیکھو اس جگہ صریح باوا صاحب نے اس آیت کا ترجمہ کر دیا ہے کیا اب بھی کچھ شک باقی ہے کہ باوا صاحب قرآن شریف کے ہی تابعدار تھے اس قسم کا بیان بہشت کے بارہ میں وید میں
    کہاں ہے بلکہ انجیل میں بھی نہیں تبھی تو بعض نابینا عیسائی اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن میں جسمانی بہشت کا ذکر ہے مگر نہیں جانتے کہ قرآن بار بار کہتا ہے کہ جسم اور روح جو دونوں خدا تعالیٰ
    کی راہ میں دنیا میں کام کرتے رہے ان دونوں کو جزا ملے گی یہی تو پورا بدلہ ہے کہ روح کو روح کی خواہش کے مطابق اور جسم کو جسم کی خواہش کے مطابق بدلہ ملے لیکن دنیوی کدورتوں اور
    کثافتوں سے وہ جگہ بالکل پاک ہوگی اور لوگ اپنی پاکیزگی میں فرشتوں کے مشابہ ہوں گے اور بایں ہمہ جسم اور روح دونوں کے لحاظ سے لذت اور سرور میں ہوں گے اور روح کی چمک جسم پر پڑے
    گی اور جسم کی لذت میں روح شریک ہوگا اور یہ بات دنیا میں حاصل نہیں ہوتی بلکہ دنیا میں جسمانی لذت روحانی لذت سے روکتی ہے اور روحانی لذت جسمانی لذت سے مانع آتی ہے مگر بہشت میں
    ایسا نہیں ہوگا بلکہ اس روز دونوں لذتوں کا ایک دوسری پرعکس پڑے گا اور اسی حالت کا نام سعادت عظمیٰ ہے غرض باوا صاحب نے یہ نکتہ معرفت
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 223
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 223
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/223/mode/1up
    قرآؔ ن شریف سے لیا ہے کیونکہ دوسری تمام قومیں اس سے غافل ہیں اور ان کے عقیدے اس کے برخلاف ہیں۔ پھر
    باواصاحب کا ایک شعر یہ ہے۔
    کیتا اکھن آکھئے اکھن ٹوٹ نہ ہو منگن والے کیتڑی داتا ایکو سو
    جس کے جیا پران ہیں من وسّے سکھ ہو
    یعنی کس قدر کہیں کہنے کی انتہا نہیں۔ کس قدر مانگنے
    والے ہیں اور دینے والا ایک ہے جس نے روحوں اور جسموں کو پیدا کیا وہ دل میں آباد ہو جائے تو آرام ملے یہ شعر ان قرآنی آیتوں کا اقتباس ہے ۱؂ ۵؂ یعنی زمین پر کوئی بھی ایسا چلنے والا نہیں جس
    کے رزق کا خدا آپ متکفل نہ ہو وہی ایک سب کا رب ہے اور اس سے مانگنے والے تمام زمین و آسمان کے باشندے ہیں۔ جان کی قسم ہے اور اس ذات کی جس نے جان کو اپنی عبادت کے لئے ٹھیک ٹھیک
    بنایا کہ وہ شخص نجات پا گیا جس نے اپنی جان کو غیر کے خیال سے پاک کیا۔ اس آیت میں یہ نہیں کہا کہ جس نے اس محبوب کو اپنے اندر آباد کیا جیسا کہ باوا صاحب نے کہا حقیقت یہ ہے کہ خدا
    تعالیٰ تو اندر میں خود آباد ہے صرف انسان کی طرف سے بوجہ التفات الی الغیر دوری ہے پس جس وقت غیر کی طرف سے التفات کو ہٹا لیا تو خود اپنے اندر نور الٰہی کو مشاہدہ کرلے گا خدا دور نہیں
    ہے کہ کوئی اس طرف جاوے یا وہ اس طرف آوے بلکہ انسان اپنے حجاب سے آپ ہی اس سے دور ہے پس خدا فرماتا ہے کہ جس نے آئینہ دل کو صاف کرلیا وہ دیکھ لے گا کہ خدا اس کے پاس ہی ہے
    جیسا کہ دوسری جگہ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔
    یعنی ہم انسان سے اس کی رگ جان سے بھی قریب تر ہیں۔ یہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جیسا کہ حبل الورید کے خون کے نکلنے سے
    انسان کی موت ہے۔ ایسا ہی خدا تعالیٰ سے دور پڑنے میں انسان کی موت ہے بلکہ اس سے زیادہ تر۔
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 224
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 224
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/224/mode/1up
    پھرؔ باوا صاحب فرماتے ہیں۔
    اک تل پیارا وسرے روگ وڈامن ماہین کیون درگہ پت پائے جان ہر وسے من ماہیں
    یعنی
    اگر ایک ذرہ محبوب فراموش ہو جائے تو میرا دل بہت بیمار ہو جاتا ہے اور اس درگاہ میں کیونکر عزت ملے اگر اللہ دل میں آباد نہ ہو۔
    اور قرآن شریف میں ہے۔
    یعنی تم مجھ کو یاد کرو میں تمہیں
    یاد کروں گا۔ نیکوکار آدمی یعنی جو خدا سے دل لگاتے ہیں وہ آخرت میں نعمتوں میں ہوں گے اور تختوں پر بیٹھے ہوئے خدا تعالیٰ کو دیکھیں گے وہ عزت پانے والے بندے ہیں۔ اور جو یہاں اندھا ہے وہ
    وہاں بھی اندھا ہی ہوگا۔ یعنی جس کو اس دنیا میں خدا کا درشن حاصل ہے اس کو اس جہاں میں بھی درشن ہوگا اور جو شخص اس کو اس جگہ نہیں دیکھتا آخرت میں بھی اس عزت اور مرتبہ سے
    محروم ہوگا۔ اب دیکھو اس شعر کا تمام مضمون قرآن شریف ہی سے لیا گیا ہے اور اسلام کے عقیدہ کے موافق ہے اور ہندوؤں کے وید سے اس کا کچھ تعلق نہیں پس کیا ابھی تک سمجھ نہیں آیا کہ باوا
    صاحب ہریک امر میں اسلامی عقائد کے موافق بیان کرتے جاتے ہیں اور قرآن کے سرچشمہ سے ہریک نکتہ معرفت لیتے ہیں۔
    اور پھر باوا صاحب ایک شعر میں فرماتے ہیں۔
    ونج کرو ونجاریو وکھر
    ولے ہو سمال
    تیسی دست و ساہئیے جیسی نبھے نال اگے ساہ سو جان ہے لیسی دست سمال
    جنہاں راس نہ سچ ہے کیوں تنہاں سکھ ہو کھوٹے ونج ونجئے من تن کھوٹا ہو
    یعنی اے بیوپاریو اسباب
    کو سنبھالو۔ ایسی چیز لو جو ہمراہ جائے آگے مالک علیم و خبیر ہے وہ دیکھ بھال کر اسباب لے گا جن کی متاع کھوٹی ہے ان کو آرام کیونکر ملے گا۔ کھوٹے بیوپار سے دل اور جسم کھوٹا
    ہوگا۔
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 225
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 225
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/225/mode/1up
    یہ تماؔ م مضمون ان مفصلہ ذیل قرآنی آیات میں ہے غور سے دیکھو اور وہ یہ ہیں۔
    یعنی اے وے لوگو جو ایمان لائے کیا
    تمہیں ایک سوداگری کی خبر دوں جو تمہیں دردناک عذاب سے نجات دے۔ یعنی یہ سوداگریاں جو تم کر رہے ہو یہ خساروں سے خالی نہیں اور ان میں آئے دن عذاب بھگتنا پڑتا ہے سو آؤ تمہیں وہ
    سوداگری بتلادیں جس میں نفع ہی نفع ہے اور خسارہ کا احتمال نہیں اور وہ یہ ہے کہ خدا اور اس کے بھیجے ہوئے پر ایمان لاؤ *اور اپنے مال اور جان کے ساتھ خدا کی راہ میں کوششیں کرو اگر
    تمہیں سمجھ ہو تو یہی سوداگری تمہارے لئے بہتر ہے جس سے تمہارا روحانی مال بہت بڑھ جائے گا۔ اے ایمان والو خدا سے ڈرتے رہو اور ہریک تم میں سے دیکھتا رہے کہ میں نے اگلے جہان میں
    کونسا مال بھیجا ہے اور اس خدا سے ڈرو جو خبیر اور علیم ہے اور تمہارے اعمال دیکھ رہا ہے یعنی وہ خوب جاننے والا اور پرکھنے والا ہے اس لئے
    خدا کے بھیجے ہوئے پر ایمان لانا جس کو
    عربی زبان میں رسول کہتے ہیں اسلئے ضروری ہے کہ خدا نہایت پوشیدہ اور وراء الورا ء اور نہاں در نہاں ہے اور اسکی ذات کے مشاہدہ کرنیوالے اسکے رسول ہیں جن کو وہ آپ تعلیم دیکر بھیجتا
    ہے اور انسان اپنی ابتدائی حالت میں اس دقیق در دقیق ذات کو خودبخود اور محض اپنی آنکھوں کی قوت سے دیکھ نہیں سکتا ہاں اسکے رسول کے خوردبین کے ذریعہ سے دیکھ سکتا ہے غرض جس
    شخص کو خدا نے اپنی معرفت سے آپ رنگین کر دیا ہے اس سچے گورو کے ذریعہ سے خداتعالیٰ کو طلب کرنا یہی سیدھی راہ ہے اور ایسے کامل گورو کا پیرو اس روشنی سے حصہ پالیتا ہے یہی
    طریق ابتداء سے جاری ہے کہ جیسے انسان سے انسان پیدا ہوتا ہے ایسا ہی خدا کے حق جو بندے خدا کے کامل بندوں کے ذریعہ سے روحانی وجود پاتے ہیں اور یہ قدیم نظام الٰہی ہے۔ آریوں کے مذہب
    میں یہ بھی ایک نقص ہے کہ وہ نور جو ایک سینہ سے دوسرے سینہ میں جاتا ہے اور رسول جو سچا گرو اور روحانی باپ ہے اسکا نور جو محبت کی نالی سے اسکے پیروؤں میں آتا ہے اس ضروری
    تعلیم کا ذکر وید میں کچھ بھی نہیں بلکہ وید کے رسولوں کا پتہ ہی نہیں۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 226
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 226
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/226/mode/1up
    وہ تمہاؔ رے کھوٹے اعمال ہرگز قبول نہیں کرے گا۔اور جنہوں نے کھوٹے کام کئے انہیں کاموں نے ان کے دل پر زنگار
    چڑھا دیا۔ سو وہ خدا کو ہرگز نہیں دیکھیں گے۔ اب غور اور انصاف سے دیکھنا چاہئے کہ باوا صاحب صریح صریح قرآنی آیات سے اقتباس کر رہے ہیں اور قرآنی عقیدہ کو بیان فرما رہے ہیں اگر ان کا
    قرآن کی طرف رجوع نہیں تھا تو کیوں انہوں نے قرآنی تعلیم کو اپنا عقیدہ ٹھہرایا۔ دین میں داخل ہونا اور کس کو کہتے ہیں اسی کو تو کہتے ہیں کہ کسی دین کی تعلیموں کو سچ سمجھ کر انہیں کے
    موافق اپنا اعتقاد ظاہر کرنا۔ پھر باوا نانک صاحب فرماتے ہیں۔
    جیتا دیہیں تیتا ہوں کھاؤ
    نانک ایک کہے ارداس
    بیادر نہیں کے درجاؤ
    جیوپنڈ سب تیرے پاس
    یعنی جس قدر تو دیوے اسی قدر
    ہم کھاتے ہیں دوسرا دروازہ نہیں جس پر جاویں نانک ایک ہی عرض کرتا ہے کہ روح اور جسم سب تیرے پاس ہیں یہ مضمون نانک صاحب نے ان آیات قرآنی سے لیا ہے۔۲؂ یعنی ہم نے تمہارے کھانے
    پینے اور دوسری حاجات کی چیزیں تم میں تقسیم کر دی ہیں کسی کو تھوڑی اور کسی کو بہت دی ہیں اور بعض کا بعض سے مرتبہ زیادہ کر دیا ہے اور خدا تعالیٰ کے ملک سے جو زمین و آسمان ہے تم
    باہر نہیں جا سکتے۔ جہاں جاؤ گے خدا کا غلبہ تمہارے ساتھ ہوگا ۔ب دیکھو باوا صاحب نے صریح ان آیتوں سے اپنا مضمون بنایا ہے اور یہ مضمون اواگون کے عقیدے سے بالکل مخالف ہے کیونکہ
    اواگون والا یہ نہیں کہے گا کہ رزق کی کمی بیشی خدا تعالیٰ کی تقدیر سے ہے بلکہ وہ تو اپنی تمام عزت اور ذلت کو اپنے پہلے عملوں کی طرف منسوب کرے گا۔ اور روحوں کا خالق خدا تعالیٰ کو
    کبھی نہ مانے گا ۔پھر باوانانک صاحب فرماتے ہیں۔
    تیرا حکم نہ جاپے کتیرا لکھ نہ جانے کو جے سو شاعر میلئے تل نہ پوجاوے ہو
    یعنی تیرے حکم کی تعداد کسی کو معلوم نہیں اگر سو شاعر جمع
    کریں تو ایک تل بھر بھی پورا نہ کر سکیں
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 227
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 227
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/227/mode/1up
    ابؔ آپ لوگ ذرا غور کر کے دیکھیں کہ یہ مضمون باواصاحب نے قرآن شریف کی اس آیت سے لیا ہے۔۱؂ یعنی کہہ کہ اگر
    خدا کے کلموں کیلئے سمندر کو سیاہی بنایا جاوے تو سمندر ختم ہو جائے گا قبل اس کے جو خدا کے کلمے ختم ہوں اگرچہ کئی ایک سمندر اسی کام میں اور بھی خرچ ہو جاویں۔
    پھر باوا صاحب اسی
    شبد کے آخر میں کہتے ہیں۔
    قیمت کنے نہ پائیا سب سن سن آکھن سو
    یعنی خدا کی اصل حقیقت کا اندازہ کسی کو معلوم نہیں صرف سماعی باتوں پر مدار رہا مطلب یہ کہ ایمان کے طور پر خدا کو
    مانا گیا مگر اصل کنہ اس کی کسی کو معلوم نہ ہوئی۔ یہ شعر درحقیقت اس آیت کا ترجمہ ہے۔
    یعنی خدا کو آنکھیں نہیں پا سکتیں اور وہ آنکھوں کو پا سکتا ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا
    تعالیٰ کی کنہ کوئی عقل دریافت نہیں کر سکتی پھر باوا صاحب ایک شبد میں گرنتھ میں فرماتے ہیں۔
    پیر پیغمبر سالک سہدے اور شہید شیخ مشائخ قاضی ملا در درویش رسید
    برکت تن کو اگلی
    پڑھدے رہن درود
    یعنی جس قدر پیر پیغمبر اور سالک اور شہید گذرے اور شیخ مشائخ اور قاضی ملا اور نیک درویش ہوئے ہیں ان میں سے انہیں کو برکت ملے گی جو جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ
    علیہ و سلم پر درود بھیجتے ہیں۔ یہ اشارہ اس آیت کی طرف ہے۔
    ۳؂ ۴؂ یعنی اللہ اور تمام فرشتے اس کے اس نبی پر درود بھیجتے ہیں اے وے لوگو جو ایمان دار ہو تم بھی اس پر درود اور سلام
    بھیجو۔ اے نبی ان کو کہہ دے کہ اگر تم خدا سے پیار کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے پیار کرے اور تمہارے گناہ بخش دیوے۔ اب ناظرین غور سے دیکھیں
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 228
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 228
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/228/mode/1up
    ۔
    کہؔ باوا صاحب نے یہ تمام شبد انہیں آیتوں سے نقل کئے ہیں قبول نہ کرنا اور دانستہ ضد کرنا یہ اور بات ہے ورنہ باوا
    صاحب کا منشاء آفتاب کی طرح چمک رہا ہے کہاں تک اس کو کوئی چھپاوے اور کب تک اس کو کوئی پوشیدہ کرے اور پھر ایک اور شبد میں باوا صاحب فرماتے ہیں۔
    پوچھ نہ ساجی پوچھ نہ ڈھائی
    پوچھ نہ دیوے لئے
    اپنی قدرت آپے جانے آپے کرن کرے
    سبناں دیکھے ندرکرے َ جے بھاوے تین دے
    یعنی نہ پوچھ کر وہ بناتا ہے اور نہ پوچھ کر وہ فنا کرتا ہے اپنی قدرت آپ ہی جانے اور
    آپ ہی کاموں کا کرنے والا ہے سب کو دیکھتا ہے نظر کرتا ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ اب پوشیدہ نہ رہے کہ یہ شبد مفصلہ ذیل آیات سے لیا گیا ہے۔
    یعنی خدا اپنے کاموں کا آپ ہی وکیل ہے کسی
    دوسرے کو پوچھ پوچھ کر احکام جاری نہیں کرتا اسکا کوئی بیٹا نہیں اور اسکے ملک میں اسکا کوئی شریک نہیں اور ایسا کوئی اسکا دوست نہیں جو درماندہ ہوکر اس نے اسکی طرف التجا کی اسکو
    نہایت بلند سمجھ اور اسکی نہایت بڑائی کر۔ اللہ باریک نظر سے اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے جسکو چاہتا ہے دیتا ہے۔ ہریک جان پر وہ کھڑا ہے اسکے عمل مشاہدہ کر رہا ہے پھر ایک اور شعر باوا صاحب
    کا ہے۔
    سُن من بھولے باورے گور کی چرنی لاگ
    ہر جپ نام دھائے توں جم ڈر پی دکھ بھاگ
    یعنی اے نادان دل مرشد کے قدم پر لگ جااللہ کے نام کا وظیفہ کر ملک الموت ڈر جائے گا
    اور
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 229
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 229
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/229/mode/1up
    دکھ ؔ بھاگ جائے گا یہ تمام شبد اس آیت قرآنی کا ترجمہ ہے۔۲؂ یعنی جو لوگ خدا کے ہو رہتے ہیں۔ ان کو کسی کا خوف باقی
    نہیں رہتا اور وہ غم نہیں کرتے سو تم خدا تعالیٰ کی طرف بھاگو۔
    اسی طرح ایک اور شعر باواصاحب کا ہے اور وہ یہ ہے۔
    شبد مرے سو مر رہے پھر مرے نہ دو جی وار
    شبد ہی تین پائی
    ہرنامے لگے پیار
    یعنی جو شخص خدا تعالیٰ کے کلام کی پیروی میں مر رہے ایسے لوگ پھر نہیں مریں گے خدا کی کلام سے خدا ملتا ہے اور اس سے محبت پیدا ہوتی ہے۔ یہ شعر باوا صاحب کا ان
    آیات سے لیا گیا ہے۔۔۴؂
    یعنی متقی امن کے مقام میں آگئے وہ بجز پہلی موت کے جو ان پر وارد ہوگئی پھر موت کا مزہ نہیں چکھیں گے اور خدا ان کو جہنم کے عذاب سے بچائے گا اس میں بھید یہ
    ہے کہ مومن متقی کا مرنا چارپایوں اور مویشی کی طرح نہیں ہوتا بلکہ مومن خدا کیلئے ہی جیتے ہیں اور خدا کیلئے مرتے ہیں اسلئے جو چیزیں وہ خدا کیلئے کھوتے ہیں ان کو وہ واپس دی جاتی ہیں
    جیسا کہ امام المومنین سید الانبیاء صلی اللہ علیہ و سلمکے حق میں اللہ جلّ شانہٗ نے فرمایا۔۵؂ یعنی کہہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا مرنا اور میرا جینا سب اللہ تعالیٰ کیلئے ہے اور اسی
    بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے۔
    یعنی جو لوگ میری کلام کی پیروی کریں نہ ان پر کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں سو یہ موتیں اور ذلتیں جو دنیا پرستوں پر آتی ہیں۔ ان
    موتوں کے خوف سے وہ لوگ رہائی پا جاتے ہیں۔ جو کہ خود رضائے الٰہی میں فانی ہو کر روحانی طور پر موت قبول کرلیتے ہیں پھر ایک شعر میں باوا صاحب فرماتے ہیں اور وہ یہ ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 230
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 230
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/230/mode/1up
    دیاؔ وان دیال توں کر کر دیکھیں ہار دیا کریں پربھ میل لہہ کہن میں ڈاہ اسار
    یعنی تو مہربان دینے والا ہے اور کر کر کے
    دیکھتا ہے اگر تو مہربانی کرے تو اپنے ساتھ میل لے ایک لمحہ میں ٹہادے اور اسارے یہ شعر باوا صاحب کا اس آیت قرآنی کے مطابق ہے۔
    ۲؂ یعنی خدا جس کو چاہتا ہے اس کو اپنی طرف کھینچ
    لیتا ہے اور جو اس کی طرف جھکتا ہے اس کو وہ راہ دکھاتا ہے ہریک دن وہ ہریک کام میں ہے کسی کو بلاوے اور کسی کو رد کرے اور کسی کو آباد کرے اور کسی کو ویران کرے اور کسی کو عزت دے
    اور کسی کو ذلت دے اور پھر باوانانک صاحب کا ایک یہ شعر بھی ہے۔
    تیاگی من کی متڑی و ساری دوجی بھاوجی او
    ایتو پاوے ہر دساور نہ لگے تتی واو جیو
    یعنی دل کی خواہش کو ترک کر
    دیوے دوسرا خیال چھوڑ دیوے اس طرح خدا کا دیدار پاوے تو اس کو ہوا گرم نہ لگے۔ یہ شعر اس آیت سے اقتباس کیا گیا ہے۔یعنی جو شخص خدا تعالیٰ کا دیدار چاہتا ہے چاہئے کہ وہ ایسے کام کرے
    جن میں فساد نہ ہو یعنی ایک ذرہ متابعت نفس اور ہوا کی نہ ہو اور چاہئے کہ خدا کے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک نہ کرے نہ نفس کو نہ ہوا کو اور نہ دوسرے باطل معبودوں کو اور پھر دوسری جگہ
    فرماتا ہے ۴؂ یعنی جو شخص خدا سے ڈرے اور اپنے نفس کو اس کی نفسانی خواہشوں سے روک لیوے۔ سو اس کا مقام جنت ہوگا جو آرام اور دیدار الٰہی کا گھر ہے اور پھر باوا صاحب ایک شعر میں
    فرماتے ہیں۔
    سب دنیا آون جاونی مقام ایک رحیم
    یعنی تمام دنیا فنا ہونے والی ہے ایک خدا باقی رہے گا۔ اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ یہ بالکل اس آیت کے مطابق ہے کہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 231
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 231
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/231/mode/1up
    یعنیؔ ہریک چیز فنا ہونے والی ہے اور ایک ذات تیرے رب کی رہ جائے گی۔ اور پھر باوا صاحب ایک شعر میں فرماتے
    ہیں۔
    گورمکھ تو ل تلاسی سچ تُرا جی تول اسامنسا موہنی گورٹھا کے سچ بول
    یعنی خدا سچے ترازو سے تولے گا پورا پورا تول۔ اور امید اور طول امل تجھ کو برباد کر رہے ہیں ایک خدا کو مضبوط
    پکڑلے اور سچ بول۔ اب دیکھو باواصاحب نے وہ عقیدہ اس جگہ ظاہر کیا ہے جو قرآن نے مسلمانوں کو عقیدہ سکھلایا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں وارد ہے۔
    یعنی اس دن اعمال تو لے جائیں گے اور
    ایک تاگے کے برابر کسی پر زیادتی نہیں ہوگی۔ اے وے لوگو جو ایمان لائے ہو خدا سے ڈرو اور وہ باتیں کیا کرو جو سچی اور راست اور حق اور حکمت پر مبنی ہوں۔ اور خدا کو یاد کر اور اس کی
    طرف جھکا رہ۔ اور پھر باوانانک صاحب ایک شعر میں فرماتے ہیں۔
    ورناں ورن بھانے جے کئی وڈاکرے
    اے وڈے ہتھ وڈیاں جے بھاوے تن دے
    یعنی طرح طرح کی اس کی تقدیر ہے جس کو
    چاہے بڑا کرے اسی بڑے کے ہاتھ بڑائیاں ہیں جس کو چاہے دیدے۔ اب دیکھو ایسے طور سے تقدیر کو ماننا خاص اسلام کا اعتقاد ہے اور یہی تعلیم تمام قرآن میں بھری پڑی ہے اور ہریک عزت اور ذلت
    خدا تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہے جس کو چاہتا ہے عزیز بنا دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے مگر وید کے ماننے والوں کا یہ ہرگز اعتقاد نہیں وہ تو انسان کے ذرہ ذرہ رنج اور راحت کو
    کسی پہلے نامعلوم جہنم* کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ ۔۵؂ یعنی آپ خدا نے ہریک چیز کو پیدا کیا اور اس کا اندازہ بھی آپ اپنے اختیار سے مقرر کر دیا اور نیز فرماتا
    ہے۔ ۶؂ یعنی کوئی حادثہ نہ زمین پر نازل ہوتا ہے اور نہ تمہاری جانوں پر مگر وہ سب لکھا ہوا ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 232
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 232
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/232/mode/1up
    یعنیؔ مقدر ہے اور ایسا ہی اللہ جلّ شانہٗ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔۱؂ یعنی خدا جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس
    کو چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔
    پھر باوا صاحب ایک شعر میں فرماتے ہیں۔
    آپے نیڑے دور آپے منجھ میان
    آپے دیکھے سُنے آپے قدرت کرے جہان
    یعنی وہ آپ ہی نزدیک ہے اور آپ ہی دور ہے اور
    آپ ہی درمیان ہے اور آپ ہی دیکھتا سنتا اور آپ ہی قدرت سے جہان بنایا۔ اب ناظرین دیکھیں اور سوچیں کہ اس اعتقاد کو وید کے اعتقاد سے کچھ بھی نسبت نہیں۔ وید کا یہ اعتقاد ہرگز نہیں کہ تمام
    جہان کو خدا نے قدرت سے پیدا کیا یہ تعلیم اسی کتاب کی ہے جس میں یہ لکھا ہے۔ ۲؂ یعنی سب تعریفیں اللہ کی ذات کو ہیں جس نے تمام عالم پیدا کئے اور اسی نے فرمایا۔ ۔ یعنی وہ پہلے بھی ہے اور
    پیچھے بھی اور ظاہر بھی ہے اور چھپا ہوا بھی وہ آسمان میں ہے یعنی دور ہے اور زمین میں ہے یعنی نزدیک ہے اور جب میرے پرستار تجھ سے پوچھیں تو میں نزدیک ہوں یعنی دوستوں کیلئے نزدیک اور
    دشمنوں کے لئے دور اور جانوں کہ خدا انسان اور اس کے دل کے درمیان آ جاتا ہے یعنی جیسا کہ دور اور نزدیک ہونا اس کی صفت ہے۔ ایسا ہی درمیان آجانا بھی اس کی صفت ہے۔
    پھر باوا نانک
    صاحب گرنتھ صاحب میں ایک شبد میں فرماتے ہیں۔
    توں مار جوالیں بخش ملا جیون بھاویں تیون نام جپا
    یعنی تو مار کر زندہ کرنے والا ہے اور گناہ بخش کر پھر اپنی طرف ملانے والا جس طرح
    تیری مرضی ہو اسی طرح تو اپنی پرستش کراتا ہے۔ اب ہریک شخص سوچ لے کہ یہ عقیدہ اسلام کا ہے یا آریوں کا آریہ صاحبان بھی اگر چاہیں تو گواہی دے سکتے ہیں کہ وید کی رو سے جی اٹھنا ثابت
    نہیں اور نیز
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 233
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 233
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/233/mode/1up
    یہ بھیؔ ثابت نہیں کہ پرمیشر توبہ قبول کرلیتا ہے اور گناہ بخش دیتا ہے یہ تو عقیدہ اسلام کا ہے جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ
    قرآن شریف میں فرماتا ہے۔
    یعنی انسان کہتا ہے کہ ایسی ہڈیوں کو کون نئے سرے زندہ کرے گا جو سڑ گل گئی ہوں ان کو کہہ دے وہی زندہ کرے گا جس نے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا اور وہ ہریک طور
    سے پیدا کرنا جانتا ہے گناہوں کو بخشتا اور توبہ قبول کرتا ہے۔ اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے۔
    ۳؂ یعنی تم اس خدا سے کیوں انکار کرتے ہو جس نے تمہیں موت کے بعد زندگی بخشی پھر تمہیں موت
    دیگا اور پھر زندہ کرے گا اور پھر اس کی درگاہ میں حاضر کئے جاؤ گے۔
    غرض باوا صاحب کا تمام کلام اسلام کے عقیدے سے ملتا ہے اور اگر کوئی شخص بشرطیکہ متعصب نہ ہو ایک سرسری
    نظر سے بھی دیکھے تب بھی وہ حق الیقین کی طرح سمجھ جائے گا کہ باوا صاحب کا کلام قرآنی تعلیم اور قرآنی حقائق معارف کے رنگ سے رنگ پذیر ہے اور وہ تمام ضروری عقیدے اسلام کے جو
    قرآن شریف میں درج ہیں باوا صاحب کے کلام میں مذکور ہیں۔ پس اس جگہ بالطبع یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ اگر باوا صاحب نے وید کو ترک کرنے کے بعد اسلام کی طرف رجوع نہیں کیا تھا تو پھر انہوں
    نے اسلام کے عقیدے کیوں اختیار کر لئے تمام جہان کی کتابیں اکٹھی کر کے دیکھو باوا صاحب کے اشعار اور ان کے منہ کی باتیں بجز قرآن شریف کے اور کسی کتاب کے ساتھ مطابقت نہیں کھائیں
    گی اور اسی پر بس نہیں بلکہ باوا صاحب نے تو علانیہ کہہ دیا کہ بجز متابعت حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کسی کی نجات نہیں چنانچہ ہم ابھی اس رسالہ میں بعض محقق انگریزوں کی
    شہادت بھی اس بارہ میں پیش کریں گے اور ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ باوا صاحب کی اصل سوانح دریافت کرنے کیلئے چولہ صاحب نہایت عمدہ رہنما ہے جس پر صدہا سال سے اتفاق چلا آتا ہے باوا
    صاحب کی وفات کے بعد
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 234
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 234
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/234/mode/1up
    انؔ کے گھر سے نہ کوئی وید نکلا اور نہ کوئی شاستر برآمد ہوا اور نہ وہ گرنتھ کے اشعار اپنے گھر میں لکھ کر چھوڑ گئے
    اور نہ کسی دیوتے یا دیوی کی مورت برآمد ہوئی نکلا تو چولہ صاحب نکلا جس کی تمام زمین زری کے کام کی طرح قرآنی آیات سے بھری ہوئی ہے۔ باوا صاحب سے سچی محبت کرنے والوں کو چاہئے
    کہ اس بات کو ردی کی طرح پھینک نہ دیں۔ اگر چولہ صاحب ُ پر برکت یادگار نہ ہوتی تو کبھی کا ضائع ہو جاتا ایک طرف چولہ صاحب کو دیکھئے اور دوسری طرف انگد صاحب کی جنم ساکھی نے اس
    بات کو تصدیق کرلیا ہے کہ جو کلام چولہ پرلکھا ہوا ہے وہ قدرت کے ہاتھ سے لکھا گیا ہے۔ اب سوچ لو کہ جو قدرت کے ہاتھ سے لکھا گیا وہ کس کا کلام ہوا خدا کا یا انسان کا۔ غرض بھائی بالا صاحب
    کی جنم ساکھی جو اسی زمانہ میں لکھی گئی تصدیق کرتی ہے کہ قرآن خدا کا کلام ہے پس کیا اس سے زیادہ کوئی اور بھی ثبوت ہوگا کہ چولہ صاحب اس وقت سے اب تک موجود ہے اور انگد صاحب
    کی جنم ساکھی بھی اس وقت سے اب تک موجود ہے ہم اپنے گھر سے کوئی چیزپیش نہیں کرتے۔ چولہ صاحب بھی آپ کے پاس موجود ہے اور جنم ساکھی انگد صاحب کی بھی آپ کے پاس موجود ہے۔
    آپ چاہو رد کرو خواہ قبول کرو۔
    باوا نانک صاحب کی وفات کے متعلق بعض واقعات
    جبکہ ہم نے نہایت پختہ دلائل سے باوا صاحب کا اسلام اس کتاب میں ثابت کیا تو یہ بھی قرین مصلحت دیکھا کہ
    باوا صاحب کے وقت وفات پر بھی کچھ بحث کی جائے کیونکہ یہ بات ظاہر ہے کہ جس شخص نے اپنے مذہبی عقائد سے ہاتھ نہ دھویا ہو اور اپنی قوم کے پرانے عقیدہ پر پختہ ہو اور اسی پر اس کا
    انتقال ہو تو اس کے اخیر وقت پر جو اس کی زندگی کے دائرہ کا آخری نقطہ ہے ہریک خویش و بیگانہ معلوم کرلیتے ہیں جو اپنی قوم کے مذہب پر ہی اس کا خاتمہ ہوا۔ اگر کوئی غیر شخص اس کے فوت
    ہونے کے وقت خواہ نخواہ اس کی قوم کا جاکر مزاحم ہو کہ یہ شخص ہمارے مذہب میں تھا اس کی لاش ہمارے حوالہ کرو تا اس کو ہم اپنے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 235
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 235
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/235/mode/1up
    طریقؔ پر دفن کریں۔ اور اپنے مذہب کے رو سے جنازہ وغیرہ جو کچھ مذہبی امور ہوں بجا لاویں تو اس کی وہ بات سخت
    اشتعال کا موجب ہوگی اور کچھ تعجب نہیں کہ قوم مشتعل ہوکر اس گستاخ اور بے ادب کو مار پیٹ کر کے نہایت ذلت سے سزا دیں کیونکہ ایسا دعویٰ صرف شخص متوفی کی ذات پر ہی مؤثر نہیں بلکہ
    اس دعویٰ سے ساری قوم کی سبکی ہوتی ہے اور نیز اس مذہب کی توہین بھی متصوّ ر ہے۔ اب ہم جب دیکھتے ہیں کہ باوا نانک صاحب کی وفات پر کوئی اس قسم کا ماجرا پیش آیا یا نہیں اور اگر پیش آیا
    تو قوم کے بزرگوں نے اس وقت کیا کیا تو صاف ثابت ہوتا ہے کہ ان کی وفات کے وقت ہندو مسلمانوں کا ضرور جھگڑا ہوا تھا۔ ہندو باوا صاحب کی نعش کو جلانا چاہتے تھے اور مسلمان ان کے اسلام
    کے خیال سے دفن کرنے کیلئے اصرار کرتے تھے اس تکرار نے ایسا طول کھینچا کہ جنگ تک نوبت پہنچی انگریزی مورخ سب اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ مسلمانوں نے آکر نہایت زور کے ساتھ
    دعویٰ کیا کہ باوا صاحب ہم میں سے تھے ان کی نعش ہمارے حوالہ کرو۔ تا اسلام کے طریق پر ہم ان کو دفن کریں۔ پھر تعجب یہ کہ باوا صاحب کی قوم کے بزرگوں میں سے جن کے سامنے یہ دعویٰ
    ہوا اس بات کا ردّ کوئی بھی نہیں کر سکا کہ ایسا دعویٰ کیوں کیا جاتا ہے کہ باوا صاحب مسلمان تھے بلکہ قوم کے بزرگ اور دانشمندوں نے بجائے رد کے یہ بات پیش کی کہ باوا صاحب کی نعش چادر
    کے نیچے گم ہوگئی ہے اب ہندو مسلمان نصف نصف چادر لے لیں اور اپنی اپنی رسوم ادا کریں۔ چنانچہ مسلمانوں نے نصف چادر لے کر اس پر نماز جنازہ پڑھی اور دفن کردیا* اور ہندوؤں نے دوسرے
    نصف کو جلا دیا۔ یہ انگریزی مورخوں نے سکھ صاحبوں
    * نوٹ۔ باوا صاحب کا جنازہ پڑھا جانا بہت قرین قیاس ہے کیونکہ گرنتھ صاحب میں ایک شعر ہے جس میں باوا صاحب نے بطور پیشگوئی
    کے اپنا جنازہ پڑھے جانے کے بارہ میں فرما دیا ہے جیسا کہ وہ فرماتے ہیں۔
    دنیا مقام فانی تحقیق دل دانی۔ مم سرمو عزرائیل گرفتہ دل ہیچ ندانی۔ زن پسر پدر برادران کس نیست دستگیر۔ آخر بیفتم
    کس ندارد و چوں شود تکبیر۔ یعنی دنیا فنا کا مقام ہے یہ تحقیقی بات ہے اس کو دل سے سمجھ۔ میرے سر کے بال عزرائیل کے ہاتھ میں ہیں اے دل تجھے کچھ بھی خبر نہیں عورت لڑکا باپ بھائی کوئی
    بھی دستگیری نہیں کر سکتا۔ آخر جب تکبیر یعنی نماز جنازہ میرے پر پڑھی جائے گی تو میں اس وقت بیکس ہوں گا اور بیکس ہوکر گرا ہوا ہوں گا۔ اب تکبیر کا لفظ ایسا کھلا ہے کہ ہریک جانتا ہے کہ
    موت کے وقت تکبیر انہیں کیلئے ہوتی ہے جن کا جنازہ پڑھتے ہیں۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 236
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 236
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/236/mode/1up
    کیؔ معتبر کتابوں سے لکھا ہے اور ساتھ اس کے یہ بھی بیان کیا ہے کہ قیاس میں آتا ہے کہ کوئی مرید نعش کو پوشیدہ طور
    پر نکال کر لے گیا ہوگا لیکن ایسے مورخوں کو سوچنا چاہئے تھا کہ یہ عجیب قصہ باوا صاحب کی وفات کا اور پھر ان کی نعش کے گم ہونے کا حضرت مسیح علیہ السلام کے قصہ سے بہت ملتا ہے
    کیونکہ یہی واقعہ وہاں بھی پیش آیا تھا اور حضرت مسیح کی نعش کے چورایا جانے کا اب تک یہودیوں کو شبہ چلا جاتا ہے چنانچہ انجیل متی ۲۷ باب ۶۲ آیت میں ہے کہ دوسرے روز جو تیاری کے
    دن کے بعد ہی سردار کاہنوں اور فریسیوں نے مل کر پلاطس کے پاس جمع ہو کے کہا کہ (۶۳) اے خداوند ہمیں یاد ہے کہ وہ دغا باز (یعنی حضرت مسیح) اپنے جیتے جی کہتا تھا کہ میں تین دن
    بعد جی اٹھوں گا۔ (۶۴) اسلئے حکم کر کہ تیسرے دن تک قبر کی نگہبانی کریں۔ نہ ہو کہ اس کے شاگرد رات کو آکر اسے چرالے جائیں اور لوگوں سے کہیں کہ وہ مردوں میں سے جی اٹھا ہے تو یہ
    پچھلا فریب پہلے سے بدتر ہوگا۔ غرض جب اسی الزام کے نیچے عیسائی صاحبوں کا عقیدہ بھی ہے تو پھر باوانانک صاحب کے قصہ پر یہ اعتراض بے جا ہے بالخصوص جب باوا صاحب کے گرنتھ
    میں اس قسم کے شعر بھی پائے جاتے ہیں کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی محبت میں مرے ہوئے ہوں وہ پھر بھی زندہ ہو جایا کرتے ہیں تو ایسے شعر ان کے اس واقعہ کے اور بھی مو ّ ید ٹھہرتے ہیں۔ اگر یہ
    خیال درست بھی ہو کہ در پردہ کوئی مرید باوا صاحب کی نعش نکال کر لے گیا تھا۔ تو کچھ شک نہیں کہ ایسا مرید کوئی مسلمان ہوگا۔ اس پر ایک قرینہ قویہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں ایک جھوٹی قبر بنانا
    اور صرف کپڑا دفن کرنا اور اس کو قبر سمجھنا ایک فریب اور گناہ میں داخل ہے مسلمان ہرگز ایسا نہیں کر سکتے اور اگر ان کو صرف چادر ملتی تو وہ تبرک کے طور پر اپنے پاس رکھتے اور ہرگز نہ
    چاہتے کہ اس کو دفن کریں بجائے نعش کے چادر یا کسی اور کپڑہ کا دفن کرنا کسی جگہ اسلام میں حکم نہیں اور نہ قرآن اور حدیث میں اس کا کچھ نشان پایا جاتا ہے بلکہ یہ دجل اور فریب کے قسم میں
    سے ہے جو شریعت اسلام میں کسی طرح جائز نہیں دوسرا قرینہ یہ ہے کہ اس وقت پنجاب میں حنفی مذہب کے مسلمان تھے اور حنفی مذہب کی رو سے بجز حاضری نعش کے نماز جنازہ درست نہیں
    پھر ان حنفی مسلمانوں نے جبکہ باوا صاحب کی نماز جنازہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 237
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 237
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/237/mode/1up
    پڑھیؔ تو اس صورت میں ماننا پڑتا ہے۔ کہ کسی طرح باوا صاحب کی نعش پر ان مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا تھا اور پھر ہندوؤں
    کے آنسو پوچھنے کیلئے اس قصہ کو پوشیدہ رکھا گیا۔ اسی لئے باوا صاحب کا کریاکرم ہونا ثابت نہیں مگر بالاتفاق جنازہ ثابت ہے اور باوا صاحب کی یہ پیشگوئی کہ میرا جنازہ پڑھا جائے گا اسی
    صورت میں کامل طور پر تکمیل پاتی ہے کہ جب کہ نعش کی حاضری میں جیسا کہ عام دستور ہے جنازہ پڑھا گیا ہو لیکن یہ دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ باوا صاحب کی نعش ہرگز جلائی نہیں گئی۔
    کیونکہ نعش کا جلانا کسی طرح مخفی نہیں رہ سکتا۔ اگر نعش کو جلاتے تو باوا صاحب کے پھول بھی گنگا میں پہنچاتے یا کریاکرم بھی کرتے مگر ایسا ہرگز نہیں ہوا۔ پھر ایک تیسرا قرینہ یہ ہے کہ باوا
    صاحب جنم ساکھی کلاں یعنی انگد کی جنم ساکھی میں دفن کئے جانا پسند کرتے ہیں اس سے صاف طور پر نکلتا ہے کہ باوا صاحب نے پوشیدہ طور پر دفن کئے جانے کیلئے اپنے مرید مسلمانوں کو
    وصیت کی ہوگی کیونکہ انسان جس چیز کو پسند کرتا ہے اس کے حاصل کرنے کیلئے تدبیر بھی کرتا ہے اور ایسے موقعہ پر بجز وصیت کے اور کوئی تدبیر نہیں۔
    پھر ہم اصل مطلب کی طرف عود
    کر کے لکھنا چاہتے ہیں کہ باوا صاحب کی وفات کے وقت جب بعض مسلمانوں نے باوا صاحب کے وارثوں کے پاس آکر جھگڑا کیا کہ باوا صاحب مسلمان تھے اور ہم اسلام کے طور پر ان کی گور
    منزل کریں گے تو جس قدر بزرگ باوا صاحب کے جانشینوں اور دوستوں اور اولاد میں سے وہاں بیٹھے تھے کوئی ان کی بات پر ناراض نہ ہوا۔ اور کسی نے اٹھ کر یہ نہ کہا کہ اے نالائقو! نادانو اور
    آنکھوں کے اندھو اور بے ادبو!!! یہ تم کیسے بکواس کرنے لگے۔ کیا باوا صاحب مسلمان تھے تا ان کی نعش ہم تمہارے سپرد کر دیں اور تم اس پر جنازہ پڑھو اور دفن کرو۔ اے احمقو!!! کیا
    تمہیں معلوم نہیں وہ تو اسلام کے سخت دشمن تھے اور تمہارے نبی کو جس کی شرع کی رو سے تم جنازہ
    نوٹ۔ جنم ساکھی کلاں صفحہ ۲۰۲۶ میں باوا صاحب کا یہ شعر قبر کے بارے میں
    ہے
    داغ پوتر دہر تری جو دہرتی ہوے سمائے تان نکٹ نہ آوے دوزخ سندی بھا
    یعنی جو لوگ داغ سے پاک ہوکر قبر میں داخل ہوئے دوزخ کی بھاپ ان کے نزدیک بالکل نہیں آئے گی۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 238
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 238
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/238/mode/1up
    پڑھنا ؔ چاہتے ہو جھوٹا جانتے تھے اور گندی گالیاں نکالا کرتے تھے بلکہ چاہئے تھا کہ قوم کے بزرگ ایسی بے ادبی سے
    سخت جوش میں آکر ایسے جاہلوں کو دوچار سوٹے لگا دیتے اور دروغ گو کو اس کے گھر تک پہنچانے کیلئے چند شعر باوا صاحب کے ان کو سنا دیتے جن میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی
    تکذیب ہوتی کم سے کم وہ شعر تو ضرور سنانے چاہئے تھے جو پرچہ خالصہ بہادر تیس ستمبر ۱۸۹۵ء میں صفحہ ۵و۶ میں درج ہیں مگر یہ کیا بھول کی بات ہوگئی کہ ان بزرگوں نے ان گستاخوں اور
    جھوٹوں اور بے ادبوں کو نہ ڈنڈوں کی مار کی نہ جھڑکا نہ گالیاں دیں اور نہ باوا صاحب کے ایسے شعر ان کو سنائے جن سے ثابت ہوتا ہو کہ وہ اسلام سے سخت بیزار تھے اور ہمارے نبی صلی اللہ
    علیہ و سلم کو سچا نبی اور سچا پیغمبر نہیں سمجھتے تھے۔ اور شعر بنا بنا کر گالیاں دیا کرتے تھے۔ بلکہ ان بزرگوں نے جب مسلمانوں کی یہ درخواست سنی کہ ہم باوا صاحب کی نعش پر جنازہ ہی
    پڑھیں گے تو ذرہ بھی یہ جواب نہ دے سکے کہ تمہیں جنازہ پڑھنے کا کیا استحقاق ہے اور ایک ہندو جو اسلام کا مکذب ہے کیوں مسلمان اس کا جنازہ پڑھیں بلکہ انہوں نے ایک عذر درمیان لاکر جس کی
    حقیقت خدا کو معلوم ہے باوا صاحب کی چادر کو نصفا نصف کر کے ہندو مسلمان دونوں کو دیدیا تا مسلمان اس پر جنازہ پڑھ کے دفن کریں اور ہندو اس کو جلا دیں اور معلوم ہوتا ہے کہ باوا صاحب بھی
    مسلمانوں کی رعایت کرنا چاہتے تھے ورنہ کیا ضرور تھا کہ ان کا جسم گم ہوتا سو جسم اسی لئے گم ہوا کہ تاہندو ان کی نعش پر قابض نہ ہوں اور جسم گم ہونے کے اشارہ سے باوا صاحب کا مذہب
    سمجھ لیں غرض جن بزرگوں نے اپنی خوشی اور رضا سے مسلمانوں کو جنازہ پڑھنے اور دفن کرنے کیلئے چادر کا نصف ٹکڑا دے دیا۔ ان کی یہ عملی کارروائی صاف شہادت دیتی ہے کہ وہ بدل اس
    بات پر راضی ہوگئے کہ اگر مسلمان لوگ باوا صاحب کو مسلمان سمجھتے ہیں تو ان کا اختیار ہے کہ ان کو مسلمان سمجھیں اور ان پر جنازہ پڑھیں اور نہ صرف راضی ہوئے بلکہ چادر کا ٹکڑا دے کر
    ان کو جنازہ پڑھنے کی ترغیب بھی دی۔ پھر جس صورت میں وہ بزرگ جنہوں نے باوا صاحب کو دیکھا تھا ان لوگوں پر ناراض نہ ہوئے جنہوں نے باوا صاحب کو مسلمان قرار دیا ان پر جنازہ پڑھا ان
    کی قبر بنائی بلکہ انہوں نے چادرکا نصف ٹکڑا
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 239
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 239
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/239/mode/1up
    دےؔ کر آپ چاہا کہ وہ لوگ اپنے خیال کو پورا کریں تو اب ہم منصف مزاج سکھ صاحبوں سے پوچھتے ہیں کہ جو تحریر پرچہ
    خیر خواہ عام امرت سر مرقومہ ۲۶ ؍اکتوبر ۱۸۹۵ء میں اس مضمون کی چھپی ہے کہ کچھ عجب نہیں کہ ست بچن کا زہر اگلا ہوا ایک نئی رست خیزکے باعث ہو اور ایک دوسرے ۱۸۵۷ء کا پیش
    خیمہ ہو۔ کیا یہ ان بزرگوں کی رائے اور خیال کے موافق ہے جنہوں نے جانشینی کے پہلے موقعہ میں ہی نہایت نرمی سے یہ فیصلہ دیا کہ مسلمان اپنے زعم اور خیال کے موافق باوا صاحب کی گور
    منزل کریں اور ہندو اپنے زعم کے موافق کریں تو کیا اس فیصلہ کا خلاصہ مطلب یہ نہیں تھا کہ باوا نانک صاحب کی نسبت ہریک شخص ہندوؤں اور مسلمانوں میں سے اپنی رائے زنی میں آزا دہے۔ جو
    لوگ باوا صاحب کو مسلمان خیال کرتے ہیں وہ مسلمان خیال کریں جنازہ پڑھیں ان کا اختیار ہے اور ہندو جو کریں ان کا اختیار۔ پھر جبکہ باوا صاحب کے بعد پہلی جانشینی کے وقت میں ہی پہلے جانشیں
    اور مہاتما آدمیوں کے عہد میں جو بیشک خداترسی اور عقلمندی اور حقیقت فہمی اور واقعہ شناسی میں آپ صاحبوں سے ہزار درجہ بڑھ کر تھے یہ فیصلہ ہوا جو اوپر لکھ چکا ہوں تو پھر ایسی مقدس
    چیف کورٹ کے فیصلہ سے جس کی صداقت پر آپ کو بھروسہ چاہئے تجاوز کرکے اس عاجز کی اس رائے کو ہنگامہ محشر کا نمونہ سمجھنا کیا ایسا کرنا اچھے اور شریف آدمیوں کو مناسب ہے اے
    معزز سکھ صاحبان! آپ یاد رکھیں کہ یہ وہی مسلمانوں کی طرف سے مدلل دعویٰ ہے جس کی ڈگری آپ کے خدا ترس بزرگ مسلمانوں کو دے چکے ہیں اور ان کے حق میں اپنی قلم سے فیصلہ کر
    چکے ہیں اب ساڑھے تین سو برس کے بعد آپ کے یہ عذر معذرت خارج از میعاد ہے کیونکہ مقدمہ ایک بااختیار عدالت سے انفصال پا چکا ہے اور وہ حکم قریباً چار۴۰۰ سو برس تک واقعی اور صحیح
    مانا گیا ہے اور آج تک کوئی جرح یا حجت اس کی نسبت پیش نہیں ہوئی تو کچھ شک نہیں کہ اب وہ ایک ناطق فیصلہ قرارپا گیا جس کی ترمیم تنسیخ آپ کے اختیار میں نہیں۔ آپ لوگ ان بزرگوں کے
    جانشین ہیں جو اس جھگڑے کے اول مرتبہ کے وقت مسلمان دعویداروں سے نہایت نرمی سے پیش آئے تھے اور ایک ذرہ بھی ہندوؤں
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 240
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 240
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/240/mode/1up
    کا لحاؔ ظ نہیں کیا تھا سو ہم لوگ آپ کے دلی انصاف سے وہی امید رکھتے ہیں جس کا نمونہ آپ صاحبوں کے معزز بزرگوں
    اور حلیم مزاج گوروؤں سے ہمارے بھائی دیکھ چکے ہیں اور آپ صاحبوں پر یہ پوشیدہ نہیں کہ یہ رائے ہماری کچھ جدید رائے نہیں جس صورت میں ان روشن ضمیر بزرگوں نے اس رائے کو نفرت
    کی نگاہ سے نہیں دیکھا جن کے سامنے یہ واقعات موجود تھے بلکہ مسلمانوں کے دعویٰ کو قبول کیا۔ تو آپ صاحبوں کو بہرحال ان کے نقش قدم پر چلنا چاہئے اور مجھ سے پہلے یہی رائے بڑے بڑے
    محقق انگریز بھی دے چکے ہیں اور وہ کتابیں برٹش انڈیا میں شائع بھی ہو چکی ہیں ہاں ہم نے تمام دلائل کو اس رسالہ میں جمع کر دیا ہے۔ غرض ہماری یہ رائے ہے جو نہایت نیک نیتی سے کامل
    تحقیقات کے بعد ہم نے لکھی ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ آپ انکار کے وقت جلدی نہ کریں اور ان عالیشان بزرگوں کو یاد کریں جو آپ سے پہلے فیصلہ دے چکے ہیں اور نیز آپ ان حلیم بزرگوں کے
    بزرگ اخلاق یاد کریں جنہوں نے دعویدار مسلمانوں کو درشتی سے جواب نہ دیا اور مسلمانوں کی رائے کو رد نہ کیا اور یہ ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ نعوذ باللہ انہوں نے منافقانہ کارروائی کی ہو اور
    مسلمانوں کو خوش کر دیا ہو کیونکہ وہ لوگ خدا ترس اور خدا سے ڈرنے والے اور خدا پر بھروسہ رکھنے والے تھے وہ مخلوق کی کیا پرواہ رکھتے تھے خاص کر ایسے موقعہ پر ہمیشہ کیلئے ایک داغ
    کی طرح ایک الزام باقی رہ سکتا تھا بلکہ درحقیقت وہ دلوں میں سمجھتے تھے کہ باوا صاحب کا ہندوؤں سے تو فقط یہ تعلق تھا کہ وہ اس قوم میں پیدا ہوئے اور مسلمانوں سے یہ تعلقات تھے کہ
    درحقیقت باوا صاحب اسلامی برکتوں کے وارث ہوگئے تھے اور ان کا اندر اس وحدہ لاشریک کی معرفت اور سچے کرتار کی محبت سے بھر گیا تھا جس کی طرف اسلام بلاتا ہے اور وہ اس نبی کے
    مصدق تھے جو اسلام کی ہدایت لے کر آیا تھا۔ اسی واقعی علم کی وجہ سے وہ مسلمانوں کو رد نہ کر سکے۔ غرض پہلے ہمارے بھائیوں نے تو ان بزرگوں کے اخلاق کا نمونہ دیکھا اور اب ہم آپ
    صاحبوں کے اخلاق کا عمدہ نمونہ دیکھنے کیلئے خدا تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں اور اس بات کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ ہم باوا صاحب کی خوبیوں اور بزرگیوں کو مسلمانوں میں شائع کرنا چاہتے ہیں
    اور یقیناً یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 241
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 241
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/241/mode/1up
    کہؔ ہماری اس تحریر سے جو حق اور اصل حقیقت پر مشتمل ہے نیک طبع اور سعادت مند مسلمانوں میں صلح کاری اور
    مدارات کا مادہ آپ لوگوں کی نسبت ترقی کرے گا اور محبت اور اتفاق جس کے بغیر دنیوی زندگی کا کچھ بھی لطف نہیں روز بروز زیادت پذیر ہوگی اور ہمیں باوا صاحب کی بزرگیوں اور عزتوں میں
    کچھ کلام نہیں اور ایسے آدمی کو ہم درحقیقت خبیث اور ناپاک طبع سمجھتے ہیں جو ان کی شان میں کوئی نالائق لفظ منہ پر لاوے یا توہین کا مرتکب ہو۔
    ہم اس بات کو بھی افسوس سے لکھنا چاہتے ہیں
    کہ جو اسلامی بادشاہوں کے وقت میں سکھ صاحبوں سے اسلامی حکومتوں نے کچھ نزاعیں کیں یا لڑائیاں ہوئیں تو یہ تمام باتیں درحقیقت دنیوی امور تھے اور نفسانیت کے تقاضا سے ان کی ترقی ہوئی
    تھی اور دنیا پرستی نے ایسی نزاعوں کو باہم بہت بڑھا دیا تھا مگر دنیا پرستوں پر افسوس کا مقام نہیں ہوتا بلکہ تاریخ بہت سی شہادتیں پیش کرتی ہے کہ ہریک مذہب کے لوگوں میں یہ نمونے موجود ہیں
    کہ راج اور بادشاہت کی حالت میں بھائی کو بھائی نے اور بیٹے نے باپ کو اور باپ نے بیٹے کو قتل کر دیا۔ ایسے لوگوں کو مذہب اور دیانت اور آخرت کی پرواہ نہیں ہوتی اور وہ لوگ دنیا میں بہت ہی
    تھوڑے گذرے ہیں جو حکومتوں اور طاقتوں کے وقت میں اپنے غریب شریکوں یا پڑوسیوں پر ظلم نہیں کرتے اور ظاہر ظاہر یا پوشیدہ عملی حکمتوں سے دوسری ریاستوں کو تباہ اور نیست و نابود کرنا
    نہیں چاہتے اور ان کے کمزور اور ذلیل کرنے کی فکر میں نہیں رہتے مگر ہریک فریق کے نیک دل اور شریف آدمی کو چاہئے کہ خود غرض بادشاہوں اور راجوں کے قصوں کو درمیان میں لاکر خواہ نہ
    خواہ ان کے بیجا کینوں سے جو محض نفسانی اغراض پر مشتمل تھے۔ آپ حصہ نہ لے وہ ایک قوم تھی جو گذر گئی ان کے اعمال ان کیلئے اور ہمارے اعمال ہمارے لئے۔ ہمیں چاہئے کہ اپنی کھیتی میں
    ان کے کانٹوں کو نہ بوئیں اور اپنے دلوں کو محض اس وجہ سے خراب نہ کریں کہ ہم سے پہلے بعض ہماری قوم میں سے ایسا کام کر چکے ہیں ہاں اگر ہم باوجود اپنی دلی صفائی اور سچائی کے اور
    باوجود اس کے کہ اپنے غیب دان خدا کے روبرو صادق اور قوموں کے ہمدرد ہوں اور کوئی بد اندیشی اور کھوٹ ہمارے دل میں نہ ہو پھر بھی کھوٹوں اور بد اندیشوں اور مفسدوں میں سے شمار
    کئے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 242
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 242
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/242/mode/1up
    جاؔ ئیں تو اس کا علاج ہمارے پاس کچھ نہیں ؂
    تو انم کہ ایں عہد و پیماں کنم کہ جان در رہِ خلق قربان کنم
    تو انم کہ سر
    ہم درین رَہ دہم ولے بدگمان راچہ درمان کنم
    اور اب میں مناسب دیکھتا ہوں کہ باوا صاحب کی وفات پر جو مسلمانوں کا ہندوؤں سے جھگڑا ہوا تھا اس کو بھائی بالا صاحب کی جنم ساکھی سے نقل
    کروں تا معلوم ہو کہ باوا صاحب کے اسلام کے بارے میں پہلا مدعی میں ہی نہیں ہوں۔ سو وہ عبارت یہ ہے۔
    سری ٹھاکر جی نانک جی کو آپ نے انگان میں ملائے لیا۔ تاں پھیر اوتھے پروار
    ترجمہ۔ خدا تعالیٰ نے نانک جی کو اپنے وجود میں ملا لیا یعنی باوا صاحب فوت ہوگئے۔ تب وہاں مجلس
    وچ کھائے پی گئے۔ سب ایکتر ہوئے کر لگے بیراگ کرنے جاں اتنے
    میں ایک شور پڑ گیا سب
    اکٹھے ہوکر غم کرنے لگے اتنے میں
    میں سری بابے کے مرید پٹھان سی وہ کہن ہم سری بابے جی کا دیدار کراں گے
    باوا صاحب کے مرید جو پٹھان تھے وہ کہنے لگے کہ ہم باوا صاحب کا دیدار
    کریں گے
    تاں ہندواں کہیا۔ بھائی اب تمہار وسما نہیں۔ تاں پٹھاناں کہیا ہمارا پیر ہے
    تب ہندوؤں نے کہا کہ بھائی اب تمہارا وقت نہیں تب پٹھانوں نے کہا کہ وہ ہمارا پیر ہے
    تے اسیں ضرور
    دیدار کراں گے۔ اور جو پیراں دا راہ ہے۔ سو ہم کراں گے
    ہم اس کا ضرور دیدار کریں گے۔ اور جو پیروں کیلئے مسلمان رسوم ادا کرتے ہیں۔ ہم کریں گے*
    * نوٹ۔ ایسے لوگ جو مسلمان اور پھر
    باوا صاحب کے مرید تھے ان کا دفن اور جنازہ کیلئے اصرار کرنا اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ باوا صاحب نے جو ان کے مرشد تھے اسلام کے مخالف ان کو کوئی تعلیم نہیں دی تھی اور نہ
    اسلام کے حکموں اور عملوں سے ان کو برگشتہ کیا تھا ورنہ اگر باوا صاحب ہندو تھے یا اسلام کے مخالف تھے تو باوا صاحب کی تاثیر ان میں یہ چاہئے تھی کہ وہ کم سے کم اسلام کے حکموں سے
    لاپروا ہو جاتے اور ان کو فضول سمجھتے نہ یہ کہ باوا صاحب کے مرید اور ہمراز ہوکر ان کے دفن اور جنازہ کیلئے جھگڑتے کیونکہ جس شخص کا مرشد اور مرشد بھی ایسا کامل جیسا کہ باوا
    صاحب تھے ایک دین کو جھوٹا سمجھتا ہو تو غیر ممکن ہے کہ اس کے مرید جو اس کے پیرو ہیں اسی دین کے موافق اس کی تجہیز تکفین کرنا چاہیں جس دین سے وہ ان کو روکتا رہا۔ باوا صاحب ہندو
    مذہب میں پیدا ہوئے تھے اور ہندوؤں میں ایک زمانہ تک پرورش پائی تھی۔ پس ممکن تھا کہ ظاہری تعلقات کی وجہ سے ہندوؤں کو
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 243
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 243
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/243/mode/1up
    تاںؔ ہندو مسلماناں دا جھگڑا ودھ گیا۔ ہندو کہن نہیں دیکھنے دیناں تاں مسلمان
    تب ہندو مسلمانوں کا جھگڑا بڑھ گیا ہندو
    کہتے تھے کہ ہم باوا صاحب کو دیکھنے نہیں دیں گے اور مسلمان
    کہن اساں دیدار کرناں ہے ۔ جاں بہت واد ہوا۔ پٹھان کہن گور منزل کراں گے
    کہتے تھے کہ ہم نے دیدار کرنا ہے جب بہت فساد
    ہوا تب پٹھانوں نے کہا کہ ہم تجہیز تکفین اور جنازہ
    تاں وچہ بھلے لوکاں کہیا اندر چل کے دیکھو تاں سہی جاں دیکھیا تاں
    وغیرہ سب رسوم اسلام ادا کریں گے تب اچھے لوگوں نے درمیان ہوکر
    کہا کہ ذرا اندر چل کے تو دیکھو جب اندر جا کر دیکھا تو
    چادر ہی ہے۔ بابے دی دِہ ہے نہیں دوہاں دا جھگڑا چک گیا۔ جتنے
    معلوم ہوا کہ فقط چادر ہی پڑی ہے جسم نہیں ہے تب دونوں گروہ کا
    جھگڑا فیصلہ ہوگیا جس قدر
    سکھ سیوک تھے سب رام رام کر اوٹھے لگے صفتاں کرن واہ باباجی توں دھن
    سکھ مرید تھے سب اللہ اللہ کر اٹھے اور صفتیں کرتے تھے کہ واہ باوا صاحب آپ
    دھن
    ہیں۔ سب کہن سری نانک جی پر تکہیا پرمیشر دی مورت سی۔ ان کی قدرت
    ہیں سب کہتے تھے کہ نانک صاحب ظاہر ظاہر مظہر الٰہی تھے ان کی قدرت لکھی
    لکھی نہیں سی جاندی تے
    اساں سیوا بھی ناکیتی۔تے مسلمان بھی
    نہیں جاتی اور ہم نے کچھ خدمت نہ کی اور مسلمان بھی
    بابے دا کھیل دیکھ کر لگے صفتاں کرن۔ دھن خدائے ہے تے دھن بابا نانک
    باوا صاحب کا یہ کام
    دیکھ کر تعریف کرن لگے کہ کیا ہی وہ قادر خدا ہے اور کیا ہی اچھا باوا
    جی ہے جسدی قدرت لکھی نہیں گئی۔ ہندو مسلمان سب تارے ہیں
    نانک تھا جس کی قدرت لکھی نہیں گئی سب ہندو مسلمانوں
    کو اس نے تار دیا
    بقیہ نوٹ۔ دھوکا لگا ہو اور باوا صاحب کے اندرونی حالات کا ان کو اصل پتہ نہ ہو مگر جو مسلمان اپنے مذہب کے متعصب مرید ہوئے تھے اگر وہ باوا صاحب کو ہندو سمجھتے تو
    ان کے ہرگز مرید نہ ہوتے اور اگر مرید ہوتے تو اسلام سے دست بردار ہو جاتے لیکن ان کا دفن اور جنازہ کیلئے جھگڑنا اس بات پر پختہ دلیل ہے کہ وہ باوا صاحب کو مسلمان ہی سمجھتے تھے اور
    خود بھی اسلام پر قائم اور مضبوط تھے اگر مرشد اسلام کو برا جانتا ہے تو مرید اسلام پر کیونکر قائم رہ سکتا ہے بلکہ یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ خود باوا صاحب نے ان کو سمجھا رکھا تھا کہ تم
    نے ضرور جنازہ پڑھنا۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 244
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 244
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/244/mode/1up
    پھیرؔ ہندواں اک چادر لیکے ببان میں رکھ کے چکھا میں جلائی تے مسلماناں
    پھر ہندوؤں نے ایک چادر لے کر اور سیڑھی
    پر رکھ کر چکھا میں جلا دی اور مسلمانوں
    ادھی چادر دفن کیتی۔ دوہاں آپو اپنے دھرم کرم کیتے۔ تے
    نے نصف چادر لے کر دفن کر دی اور دونوں فریق نے اپنی اپنی رسم کے موافق تجہیز تکفین کی
    یعنی
    بابا جی بیکنٹھ کو سن دھے گئے۔ تے سری بابے جی دے چلانے
    اپنے مذہبی واجبات جنازہ وغیرہ بجالائے اور باوا صاحب معہ جسم کے بہشت میں داخل ہوگئے* اور ایک سکھ نے جس
    کا
    کی کتھا بڈھے نے سری انگد جی تے بالے کی ہور سنگت کے حضور سنائی
    نام بڈھا تھا باوانانک صاحب کے فوت ہونے کی کتھا انگد صاحب اور بالا صاحب اور دوسرے مجمع کے حضور
    سنائی
    دیکھو جنم ساکھی کلاں بھائی بالے والی صفحہ ۶۱۷
    باوا نانک صاحب کے اسلام پر اسلام کے مخالفوں کی شہادتیں
    برگ صاحب ترجمہ سیر المتأخرین جلد اول صفحہ ۱۱۰ کے ایک نوٹ
    میں لکھتے ہیں کہ بابا نانک نے اپنی ابتدائی عمر میں ایک اسلامی معلم سے تعلیم پائی اور ایک شخص سید حسین نام نے بابا نانک کی ایام
    یہ تعلیم بالکل قرآن شریف کی تعلیم ہے کہ جسم کے ساتھ انسان
    بہشت میں داخل ہوگا لیکن وید کی تعلیم بالکل اس کے برخلاف ہے کیونکہ وید کی رو سے صرف روح کو مکتی ملتی ہے اور جسم مکتی خانہ میں داخل نہیں ہوتا اور اسی وجہ سے ہندو لوگ جسم کو جلا
    دیتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک اس کا تعلق مرنے کے ساتھ بالکل ختم ہو جاتا ہے لیکن مسلمان اپنے ُ مردوں کو دفن کرتے ہیں۔ کیونکہ اسلامی تعلیم کے رو سے جسم کا روح سے تعلق باقی رہتا ہے اور وہ
    ابدی تعلق ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوگا اسی تعلق کی وجہ سے بہشت میں بہشتیوں کا جسم لذت میں شریک ہو جائے گا اور دوزخ میں دوزخیوں کا جسم عذاب میں شریک ہوگا اور باوا صاحب نے جو
    مسلمانوں کی مقابر پر چلہ کشی کی یہ بھی صاف دلیل اس بات پر ہے کہ باوا صاحب اس تعلق کو مانتے اور قبول کرتے تھے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 245
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 245
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/245/mode/1up
    طفوؔ لیت میں اسلام کی بڑی بڑی مصنفات ان کو پڑھائیں۔ ڈاکٹر ٹرمپ صاحب اپنے ترجمہ گرنتھ نمبر الف صفحہ ۴۲ میں
    لکھتے ہیں کہ بابا نانک صاحب کا جنم ساکھی میں ایک یہ شعر ہے کہ قیامت کے دن نیک کام والوں کی کوئی پُرسش نہیں ہوگی اے نانک نجات وہی پائیں گے جن کی پناہ حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہوں
    گے۔ لیکن افسوس کہ ٹرمپ نے اپنے ترجمہ گرنتھ میں باوا نانک صاحب کی نسبت یہ بھی نکتہ چینی کی ہے کہ نانک کوئی محقق اور نکتہ رس آدمی نہیں تھا۔ اسلئے اس کا مشرب علمی اصول پر مبنی
    نہیں اسے باقاعدہ مدرسہ کی تعلیم نہیں ملی تھی اسلئے وہ اپنے خیالات نہایت غیر منتظم اور پریشان اسلوب سے ظاہر کرتا تھا اور ٹرمپ صاحب نے ایک طنز اور ٹھٹھے کے طور پر دیباچہ صفحہ ۶
    میں لکھا ہے کہ جنم ساکھیوں میں نانک کا پانچواں سفر گورکھ ہتری کی طرف بیان کیا گیا ہے مگر اب تک جغرافیہ دانوں کو اس مقام کا کچھ پتہ نہیں ملا۔ ڈاکٹر نے اپنے تعصب سے گو باوا صاحب کو
    ہندو قرار دیا ہے مگر جس مقام پر اس نے باوا صاحب کے اس شعر کا ترجمہ کیا ہے کہ بغیر شفاعت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی نجات نہیں پائے گا وہاں گھبرا کر اس کو کہنا پڑا کہ
    یہ آخری شعر ظنی اور نانک کے مشرب کے برخلاف ہے اگرچہ اس میں اس کا نام بھی ہے اسلئے کہ اس میں نانک نے صاف صاف اقرار کیا ہے کہ بغیر شفاعت اسلام کے نبی محمد مصطفی صلی اللہ
    علیہ وسلم کے کسی کو نجات نہیں ملے گی لیکن واضح رہے کہ ڈاکٹر ٹرمپ صاحب کا یہ خیال کہ یہ شعر جس سے نانک کا اسلام سمجھا جاتا ہے نانک کے مشرب کے برخلاف ہے سراسر تعصب کے
    راہ سے ہے کیونکہ خود ٹرمپ صاحب نے اپنے ترجمہ میں بابا نانک صاحب کے وہ بہت سے اشعار لکھے ہیں جو باوا صاحب کے اس شعر کے موید ہیں۔ اور نہ ایک نہ دو بلکہ بیسیوں ایسے اشعار کا
    ترجمہ اپنی قلم سے کیا ہے پھر اس شعر پر تعجب کرنا اگر تعصب نہیں تو اور کیا ہے۔ ٹرمپ صاحب نے اپنے ترجمہ میں برابر اول سے آخر تک ان اشعار کو تصریح سے لکھا ہے کہ باوا نانک صاحب
    خدا تعالیٰ کو روحوں اور جسموں کا خالق جانتے تھے اور توبہ قبول ہونے اور حشر جسمانی کے قائل تھے نجات کو جاودانی سمجھتے تھے اور خدا تعالیٰ کو وحدہٗ لاشریک اسلامی تعلیم کے
    موافق
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 246
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 246
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/246/mode/1up
    سمجھتےؔ تھے تو پھر یہ شعر ان کے مشرب کے مخالف کیوں ہوا افسوس کہ ٹرمپ صاحب نے اس بات سے بھی آنکھیں بند
    کرلیں کہ باوا صاحب گرنتھ میں خود اقرار کرتے ہیں کہ بغیر کلمہ پڑھنے کے بخت بیدار نہیں مل سکتا اور بغیر درود پڑھنے کے آخرت کے برکات حاصل نہیں ہو سکتیں۔ اور جنم ساکھی کلاں کے وہ
    اشعار بھی ٹرمپ کو یاد نہ رہے جس میں لکھا ہے کہ وہ لوگ *** ہیں جو نماز نہیں پڑھتے۔ کیا یہ تمام اشعار ٹرمپ صاحب کی نظر سے نہیں گذرے تعجب کہ ڈاکٹر ٹرمپ صاحب خود اپنے ہاتھ کی
    تحریروں کے برخلاف رائے ظاہر کر رہے ہیں اور گو اُن کا بیان ہے کہ میں نے سات برس محنت کر کے گرنتھ کا ترجمہ لکھا ہے مگر ان کی رائے ایسی ہلکی اور خفیف اور سطحی ہے کہ اگر ایک
    گہری نگاہ کا آدمی سات دن بھی اس بارے میں کوشش کرے تو بے شک اس کی مخالفانہ رائے ان کے سات برس کی رائے پر غالب آجائے گی۔ ہمیں ٹرمپ صاحب کے بیان پر نہایت افسوس آیا ہے کہ وہ
    اقرار کے ساتھ پھر انکار کو جمع کرتے ہیں اور اس نتیجہ تک نہیں پہنچ سکے جس تک ایک صاف دل اور محقق آدمی پہنچ جاتا ہے بہرحال ہم نے ان کی وہ شہادت جس نے ان کو نہایت گھبراہٹ میں ڈال
    دیا ہے انہیں کی کتاب میں سے نقل کر کے اس جگہ لکھ دی ہے یعنی باوا صاحب کا یہ مقولہ کہ بغیر شفاعت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی کو نجات نہیں ملے گی ایسی باتوں کو یقینی
    طور پر قبول کرنے کیلئے یہ قرینہ کافی ہے کہ یہ تمام کتابیں سکھ صاحبوں کی قلم سے نکلی ہیں اور وہ کسی طرح اس بات پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ باوا صاحب کے اسلام کی نسبت کوئی اشارہ
    بھی ان کی کتابوں میں پایا جائے پس جو کچھ برخلاف منشاء ان کی کتابوں میں اب تک موجود ہے یہ قوی دلیل اس بات پر ہے کہ یہ باتیں باوا صاحب کی نہایت یقینی تھیں اور بہت شہرت پا چکی تھیں
    اسلئے وہ لوگ باوجود سخت مخالفت کے پوشیدہ نہ کر سکے اور نہ اپنی کتابوں سے مٹا سکے اور بہرحال ان کو لکھنا پڑا مگر ان کا درجہ ثبوت کم کرنے کیلئے یہ دوسری تدبیر ان کو سوجھی کہ ان
    کے مخالف باتیں بھی لکھ دیں پس اس صورت میں وہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 247
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 247
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/247/mode/1up
    مخالفؔ باتیں ظنی اور مشتبہ ٹھہریں گی جو نفسانی اغراض کی تحریک سے لکھی گئیں نہ ایسی باتیں جن کے لکھنے کا کوئی
    بھی محرک موجود نہیں تھا اسی وجہ سے دانشمند انگریزوں نے باوا صاحب کے اسلام کا صاف اقرار کر دیا ہے اور ہماری طرح یہی رائے لکھی ہے کہ باوا نانک صاحب درحقیقت مسلمان تھے۔ چنانچہ
    ہم ذیل میں بطور نمونہ پادری ہیوز صاحب کی رائے باوانانک صاحب کی نسبت لکھتے ہیں جن کی نظر ڈاکٹر ٹرمپ صاحب کے ترجمہ پر بھی گذر چکی ہے اور جنہوں نے اور بہت سی تحقیقات بھی
    علاوہ اس کے کی ہے ناظرین کو چاہئے کہ اس کو غور سے پڑھیں اور وہ یہ ہے۔
    ہیوز ڈکشنری آف اسلام صفحہ ۵۸۳ و ۵۹۱
    سکھوں کی ابتدائی روایات کو بغور پڑھنے سے پختہ طور پر ثابت
    ہوتا ہے کہ نانک نے درحقیقت ایسا مذہب بایں غرض ایجاد کیا کہ اسلام اور ہندو مذہب میں مصالحت ہو جائے۔ جنم ساکھیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اوائل عمر میں نانک )بایں کہ ہندو تھا( صوفیوں کی
    تاثیر سے سخت متاثر ہوا اور ان صوفیوں کی پاک صاف طرز زندگی نے جو ان دنوں بکثرت شمالی ہند اور پنجاب میں منتشر تھے بڑا گہرا اثر اس پر کیا اس بات سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ جس
    ہندو پر اہل اسلام کی تاثیر ہوگی اس کے کوائف میں تصوف کے نشان پائے جائیں گے چنانچہ یہی وجہ ہے کہ سکھوں کے گروؤں کی تعلیمات میں ہم صاف صاف تصوف کی آمیزش پاتے ہیں اور اس میں
    شک نہیں کہ پہلے گورو فقراء کے لباس اور وضع میں زندگی بسر کرتے تھے اور اس طریق سے صاف ظاہر کرتے تھے کہ مسلمانوں کے فرقہ صوفیہ سے ہمارا تعلق ہے تصاویر میں انہیں ایسا دکھایا
    گیا ہے کہ چھوٹے چھوٹے گلدستے ان کے ہاتھوں میں ہیں )جیسے مسلمانوں کا طریق تھا( اور طریق ذکر کے ادا کرنے پر آمادہ ہیں۔ نانک کی نسبت جو روایات جنم ساکھی میں محفوظ ہیں۔ پوری
    شہادت دیتی ہیں کہ اسلام سے اس کا تعلق تھا۔ مذکور الصدر )نواب دولت خان قاضی اور نانک کی گفتگو( بیان سے صاف پایا جاتا ہے کہ نانک کے پہلے بلا فصل خلفاء یقین رکھتے تھے کہ نانک اسلام
    سے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 248
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 248
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/248/mode/1up
    بہتؔ قریب ہوگیا تھا اور ہمیں خود اس وقت کی تحریروں کو دیکھ کر اس امر کی تصدیق ہوتی ہے اور اس میں کوئی بھی شبہ
    نہیں رہتا اور درحقیقت اور بہت سی شہادتیں اور خود نانک کا مذہب بھی اس شک کو باقی رہنے نہیں دیتا نانک کے حالات سے یہ بھی واضح ہوگا کہ مسلمان بھی اس کو تعظیم کی نگاہ سے دیکھتے تھے
    اور نانک بھی ان سے ایسی صاف باطنی سے ملتا کہ کھلا کھلا مسجدوں میں ان کے ساتھ جاتا اور اس چال سے اپنے ہندو دوستوں اور ہمسایوں کو سخت اضطراب میں ڈالتا کہ وہ درحقیقت مسلمان ہے۔
    جب نانک اور شیخ فرید نے سفر میں مرافقت اختیار کی تو لکھا ہے کہ یہ ایک گاؤں بسیار نام میں پہنچے* اور جہاں بیٹھتے تو ان کے اٹھ جانے کے بعد وہاں کے ہندو لوگ اس جگہ کو گائے کے گوبر
    سے لیپ کر پاک کرتے۔ اس کا باعث صاف یہ ہے کہ سخت پابند مذہب ہندو ان دونوں رفیقوں کی نشست گاہوں کو ناپاک خیال کرتے تھے اگر نانک مذہب کے لحاظ سے ہندو رہتا تو ایسی باتیں اس کی نسبت
    کبھی مذکور نہ ہوتیں۔ ان نتائج کی بڑی مویّد وہ روایت ہے جو نانک کے حج مکہ کے سفر کی نسبت ہے اگرچہ ڈاکٹر ٹرمپ کی سفر مکہ کے بارے میں یہ رائے ہے کہ یہ قصہ موضوعہ معلوم ہوتا ہے
    مگر بہرحال اس داستان کی ایجاد ہی صاف بتاتی ہے کہ نانک کے محرم راز دوست نانک کے مذہبی حالات پر نظر کر کے سفر حج کو کچھ بھی بعید از عقل نہیں سمجھتے تھے نانک کے مقالات میں اس
    سے منقول ہے کہ اس نے کہا۔ اگرچہ وہ مرد ہیں مگر حقیقت میں عورتیں ہیں جو محمد مصطفی اور کتاب اللہ (قرآن) کے احکام کی تعمیل نہیں کرتے‘‘ نانک اسلام کے نبی محمدؐ کی شفاعت کا
    اعتراف کرتا ہے اور بھنگ شراب وغیرہ اشیاء کے استعمال سے منع کرتا ہے۔ دوزخ بہشت کا اقرار کرتا اور انسان کے حشر اور یوم الجزا کا قائل ہے سو لاریب یہ اقوال جو نانک کی طرف منسوب ہیں
    صاف ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اسلام کا قائل اور معتقد ہے۔
    نوٹ۔ اس سے ثابت ہے کہ صلحاء اہل اسلام کی صحبت میں رہ کر کیسی کیسی پاک تاثیریں ہندوؤں کے دلوں میں ہوتی رہی ہیں جن سے تھوڑے
    ہی عرصہ میں چھ کروڑ ہندو مسلمان ہوگیا۔ منہ
    * نوٹ۔ بسیار کسی گاؤں کا نام نہیں مترجم کی غلطی ہے۔ اصل مطلب یہ ہے کہ وہ بہت سے دیہات میں پھرے اور ہندو سخت بغض سے پیش آئے
    کیونکہ بسیار بہت کو کہتے ہیں۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 249
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 249
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/249/mode/1up
    پنڈؔ ت دیانند کی باوانانک صاحب کی
    نسبت رائے
    ہم پہلے اس سے پنڈت دیانند کے ان تمام اعتراضات کا جواب دے
    چکے ہیں جو اس نے باوا صاحب کی نسبت اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں لکھے ہیں لیکن اس وقت ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ اس کی وہ تمام عبارت جو باوا صاحب کے متعلق ستیارتھ پرکاش میں ہے
    سکھ صاحبوں کے ملاحظہ کیلئے اس جگہ تحریر کر دیں تا معلوم ہو کہ پنڈت دیانند اور ان کے پیرو آریہ درحقیقت باوا صاحب کی عزت اور بزرگی کے ذاتی دشمن ہیں اور تا وہ اس بات پر غور کریں
    کہ ہم نے باوا صاحب کی نسبت جو کچھ لکھا ہے وہ ان کی کمال معرفت اور سچے گیان کے مناسب حال ہے لیکن دیانند نے اس بات پر بہت زور مارا ہے کہ تا خواہ نہ خواہ باوا صاحب کو نادان اور
    گیان اور ودیا سے محروم ٹھہراوے مگر یہ درحقیقت اس کی غلطی ہے جو اس کی دلی تاریکی کی وجہ سے اس پر غالب آگئی ہے سچا گیان اور سچی معرفت انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنے
    سے ملتی ہے یہی وجہ ہے کہ دیانند کا کلام باوجود اس دعوے وید دانی کے نہایت بے برکت اور خشک اور سچی معرفت اور گیان سے ہزاروں کوس دور اور بات بات میں خود پسندی اور تکبر اور
    سطحی خیال کی بدبوؤں سے بھرا ہوا ہے لیکن باوا صاحب کا کلام ایسے شخص کا کلام معلوم ہوتا ہے جس کے دل پر درحقیقت خدا تعالیٰ کی محبت اور عشق نے غلبہ کیا ہوا ہے اور ہریک شعر توحید
    کی خوشبو سے بھرا ہوا معلوم ہوتا ہے دیانند کی کلام پر نظر ڈال کر فی الفور دل گواہی دیتا ہے کہ یہ شخص ایک موٹے خیال کا آدمی اور صرف لفظ پرستی کے گڑھے میں گرفتار اور فقر اور جوگ کے
    سچے نور سے بے نصیب اور محروم ہے لیکن باوا صاحب کی کلام پر نگاہ کر کے یقین آجاتا ہے کہ اس شخص کا دل الفاظ کے خشک بیابان کو طے کر کے نہایت گہرے دریائے محبت الٰہی میں غوطہ
    زن ہے پس باوا صاحب کی مثال دیانند کے ساتھ ایک ہرے بھرے باغ اور خشک لکڑی کی مثال ہے ہمارے یہ کلمات نہ کسی کی خوشامد کیلئے اور نہ کسی کو رنج دینے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 250
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 250
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/250/mode/1up
    250 corrupted
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 251
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 251
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/251/mode/1up
    251 corrupted
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 252
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 252
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/252/mode/1up
    252 corrupted
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 253
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 253
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/253/mode/1up
    253 corrupted
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 254
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 254
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/254/mode/1up
    254 corrupted
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 255
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 255
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/255/mode/1up
    255 corrupted
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 256
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 256
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/256/mode/1up
    256 corrupted
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 257
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 257
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/257/mode/1up
    257 corrupted
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 258
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 258
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/258/mode/1up
    258 corrupted
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 259
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 259
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/259/mode/1up
    باوا ؔ نانک صاحب کی بعض کرامات کا ذکر
    یہ بات اللہ جلّ شانہٗ کی عادت میں داخل ہے کہ جب ایک انسان اپنے دل
    سے اپنی جان سے اپنے تمام وجود سے اس کی طرف جھک جاتا ہے اوراپنی زندگی کا اصل مقصد اسی کو ٹھہراتا ہے اور غیر سے قطع تعلق کرتا اور اس کی محبت سے بھر جاتا ہے تو پھر وہ قادر و
    کریم و رحیم خدا ایک خاص طور سے اس سے تعلق پکڑتا ہے اور ایک ایسے نئے رنگ میں اس پر تجلی فرماتا ہے جس سے دنیا غافل ہوتی ہے سو جو کچھ اس کے کامل اخلاص اور کامل صدق اور کامل
    وفا کی پاداش میں عنایت الٰہی وقتاً فوقتاً اس کی عزت ظاہر کرتی ہے مثلاً مشکلات کے وقت میں اس کی دستگیری فرماتی ہے اور ناقدر شناسوں پر اس کا قدر و منزلت کھول دیتی ہے اور اس کے دوستوں
    پر فضل اور احسان کا پرتوہ ڈالتی ہے اور اس کے موذی دشمنوں کو قہر کے ساتھ پکڑتی ہے اور اس کو معارف اور دقائق سے حصہ بخشتی ہے اور اس کی قبولیت کو دنیا میں پھیلا دیتی ہے اور اس کے
    ہریک قول اور فعل میں برکت رکھ دیتی ہے اور اس کے ہریک بوجھ کی آپ متکفل ہو جاتی ہے اور عجیب طور پر اس کی تمام حاجتوں کو پورا کر دیتی ہے تو ان تمام صورتوں کا نام کرامت ہے اور جب
    انسان خدا کا ہو جاتا ہے تو خدا اس کا ہو جاتا ہے اور جب خدا اس کا ہو جاتا ہے تو بہتوں کو جو اس کے نیک بندے ہیں اس کی طرف رجوع دیتا ہے اور یہ تمام عنایات ربّانیہ اس بندہ کی کرامات میں
    داخل ہوتی ہیں سو چونکہ باوا نانک صاحب درحقیقت خدا تعالیٰ کے مخلص بندوں میں سے تھے اور اپنی زندگی میں ایک کھلی کھلی تبدیلی کر کے اللہ جلّ شانہٗ کی طرف جھک گئے تھے اسلئے عنایات
    ربانیہ نے وہ کرامات بھی ان میں ظاہر کیں جو خدا تعالیٰ کے مقبول بندوں میں ظاہر ہوا کرتی ہیں۔
    چنانچہ نسخہ انڈیا آفس میں لکھا ہے کہ جب قاضی نے باوانانک صاحب پر بدظنی کی کہ یہ کیوں ایسا
    کہتا ہے کہ نہ ہندو ہے نہ مسلمان ہے تو باوانانک صاحب نے اپنی فوق الفطرت قوت سے قاضی کے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 260
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 260
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/260/mode/1up
    خیالاؔ ت کا اندازہ کرلیا اور قاضی کو انہوں نے کہا کہ سچا مسلمان اپنے آپ کو پاک اور بے لوث بناتا ہے اس میں
    راستبازی صبر اور صداقت قولی ہوتی ہے جو کچھ قائم ہے اس میں کسی کو مضرّ ت نہیں پہنچاتا اور جو کچھ مردہ ہے اس کو نہیں کھاتا )یعنی کسی کی غیبت نہیں کرتا( اے نانک ایسا ہی مسلمان
    سیدھا جنت میں جاتا ہے جب نانک نے یہ فقرے ابیات میں پڑھے تو اس وقت جتنے ہندو مسلمان بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کہا کہ بابانانک میں خدا بول رہا ہے۔ از نسخہ انڈیا آفس صفحہ ۳۶ سے ۴۱
    تک۔
    اب جاننا چاہئے کہ باوانانک صاحب کی اس تقریر سے دو کرامتیں ظاہر ہوتی ہیں (۱) اوّل یہ کہ جب قاضی نے ایک ایسی جگہ پر جہاں باوا صاحب موجود نہیں تھے یہ تذکرہ کیا کہ نانک یہ کیا
    کہتا ہے کہ نہ ہندو ہے نہ مسلمان ہے تو باوا صاحب نے اس ذکر کو جو غائبانہ ہوا تھا کشفی طور پر معلوم کرلیا اور قاضی کو اپنے ابیات میں یہ جتلا دیا کہ اسلام کی مذمت میرا مقصود نہیں بلکہ
    مقصود یہ ہے کہ اس زمانہ کے اکثر مسلمان رسم اور عادت کے طور پر مسلمان ہیں اسلام کی حقیقت ان میں نہیں پائی جاتی سچا مسلمان راستباز اور پاک طبع ہوتا ہے اور نیز جتلا دیا کہ مردہ کھانا
    یعنی ِ گلہ کرنا مسلمانوں کا کام نہیں چونکہ قاضی نے غائبانہ باوا صاحب کا ِ گلہ کیا تھا۔ اور قرآن میں ہے کہ ِ گلہ کرنا مردہ کھانے کے برابر ہے اسلئے باوا صاحب نے قاضی کو متنبہ کر دیا کہ تو
    نے مسلمان کہلا کر میرا گلہ کیوں کیا۔ کیا تجھے خبر نہیں کہ اپنے بھائی کا گلہ کرنا مردہ کھانا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے۱؂ یعنی ایک مسلمان کو چاہئے کہ دوسرے مسلمان کا گلہ نہ
    کرے کیا کوئی مسلمان اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاوے )۲( دوسری یہ کرامت تھی کہ اسلام کی ٹھیک حقیقت بتلا دی کیونکہ صبر اور استقامت کے ساتھ تمام راست
    بازی کی راہوں کو پورا کرنا اور پاک اور بے لوث زندگی اختیار کرنا یہی اسلام کی جڑھ اور اصل حقیقت ہے اور باقی تمام شریعت کے احکام اس اجمال کی تفصیل ہیں چنانچہ ہم عنقریب کسی قدر
    حقیقت اسلام کی بیان کریں گے۔
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 261
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 261
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/261/mode/1up
    اورؔ منجملہ باوا صاحب کی کرامات کے چولا صاحب بھی ایک بڑی کرامت ہے ہم نے خود اپنی جماعت کے ساتھ ڈیرہ نانک
    میں جاکر چولا صاحب کو دیکھا ہے ایسے لطیف اور خوبصورت حرفوں میں قرآن شریف کی آیتیں لکھی ہوئی ہیں کہ ایسے کپڑے پر اس خوبصورتی کے ساتھ لکھنا انسان کا کام معلوم نہیں ہوتا اور جابجا
    ایسے خوبصورت دائرے ہیں جو گویا نہایت عمدہ پرکار کے ساتھ کھینچے گئے ہیں اور جس عمدگی سے کسی جگہ موٹے حروف ہیں اور کسی جگہ باریک حرفوں میں قرآنی آیات لکھی گئی ہیں اور
    نہایت موزوں مقامات میں رکھی گئی ہیں ان پر نظر غور کر کے تعجب آتا ہے کہ کیونکر ایسے ایک معمولی کپڑے پر ایسی لطافت سے یہ تمام آیتیں لکھی گئیں ہیں۔ اور ایک جگہ کلمہ
    لَا الٰہ الّا اللّٰہ
    محمّد رسُوْل اللّٰہِ
    نہایت موٹا اور جلی لکھا ہوا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ پڑھنے والوں کے دلوں کو اپنی لطافت اور ُ حسن سے اپنی طرف کھینچ رہا ہے غرض وہ تمام نقوش قدرتی ہی معلوم ہوتے
    ہیں اور پھر عجب تر یہ کہ باوجود صدہا حوادث کے جو ملک پنجاب پر وارد ہوتے رہے ان سب کے صدمہ سے چولہ صاحب اب تک محفوظ رہا سو بلاشبہ اول درجہ کی کرامت باوا صاحب کی وہی
    چولہ ہے جن لوگوں نے چولہ صاحب کو نہیں دیکھا یا غور کے ساتھ نظر نہیں کی وہ اس کی عظمت کو پہچان نہیں سکتے لیکن جو لوگ غور سے دیکھیں گے ان کو بے شک خدا تعالیٰ کی قدرت یاد آئے
    گی اور بلاشبہ اس وقت جنم ساکھی کلاں یعنی بھائی بالا والی کے جنم ساکھی کا وہ بیان ان کی نظر کے سامنے آجائے گا جس میں لکھا ہے کہ وہ قرآنی آیات قدرت کے ہاتھ سے چولہ صاحب پر لکھی
    گئی ہیں۔*
    اور بعض کرامات باوانانک صاحب سے مجھ کو سردار سیوا سنگھ سپرنٹنڈنٹ مدرسہ خالصہ بہادر امرت سر نے بذریعہ اپنے خط ۲۸ ستمبر ۱۸۹۵ء اطلاع دی چنانچہ بعینہٖ ان کے
    خط کی عبارت ذیل میں لکھی جاتی ہے اور وہ یہ ہے۔
    سلطان پور میں نواب دولت خاں لودھی اور قاضی کے ساتھ نانک صاحب
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 262
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 262
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/262/mode/1up
    کا نماؔ ز پڑھنا *ان دونوں کی حضوری نہ ہونے سے نیت سے علیحدہ ہونا نواب دولت خاں نے سبب پوچھا کہ آپ نے نماز کو
    کیوں توڑا۔ گورو نانک صاحب نے فرمایا کہ اس وقت آپ کابل میں گھوڑے خریدتے پھرتے تھے۔ قاضی کو بتلایا کہ ان کی گھوڑی بیاہی تھی صحن میں کھڑا تھا اندیشہ ہوا کہ کہیں اس میں بچھیرانہ گر
    پڑے۔ دونوں صاحبوں نے قبول کیا کہ ٹھیک نماز کے وقت ہمارے خیال ٹھکانے نہ تھے۔
    اور منجملہ انکی کرامات کے جو سیوا سنگھ صاحب نے اپنے خط میں لکھی ہیں ایک یہ ہے کہ وہ لکھتے ہیں کہ
    حسن ابدال کے متّصل ایک جگہ پنجہ صاحب ہے وہاں نانک صاحب کا بابا ولی قندھاری کے ساتھ یہ ماجرا گذرا کہ ولی قندھاری صاحب پہاڑ کے اوپر ایک چشمہ کے متصل رہتے تھے۔ اتفاق سے وہاں
    گورونانک صاحب اور مردانہ جا نکلے۔ مردانہ نے گورو صاحب سے التماس کی کہ اگر حکم ہوتو میں پانی لے آؤں انہوں نے اجازت
    بعض سکھ صاحبان اپنی ناواقفی کے سبب سے باوانانک صاحب
    کے اسلام سے انکار کرتے ہیں اور جب ان کے اسلام کا ذکر کیا جائے تو ناراض ہوتے ہیں مگر ان میں سے جو صاحب اپنے مذہب کے واقف اور عقلمند ہیں وہ خود ان کے اسلام کا اقرار کرتے ہیں دیکھو
    سردار سیوا سنگھ نے اپنے خط ۲۸ ستمبر ۱۸۹۵ء میں کیونکہ صاف صاف اقرار کر دیا کہ باوانانک صاحب نے نواب دولت خان اور قاضی کے ساتھ نماز پڑھی اور ان کی عدم حضور نیت کی وجہ سے
    پھر نماز سے علیحدہ ہوگئے ظاہر ہے کہ اگر باوا صاحب کی عادت نماز پڑھنا نہ ہوتا اور وہ اپنے تئیں غیر مسلمان سمجھتے تو مسلمانوں کے ساتھ نماز میں ہرگز شامل نہ ہوتے پس نمازیوں کے ساتھ
    ان کا نماز میں کھڑا ہو جانا ایک نہایت پختہ دلیل اس بات پر ہے کہ وہ نماز پڑھا کرتے تھے اور یہ بات ہماری طرف سے نہیں بلکہ سردار سیوا سنگھ صاحب کے خط کا بیان ہے جو خالصہ بہادر
    امرتسر مدرسہ کے سپرنٹنڈنٹ ہیں اور عرصہ قریب دس سال کا ہوا ہے کہ ایک صاحب بھائی نرائن سنگھ نام جن کو آد گرنتھ کنٹھ تھا امرتسر سے قادیان میں تشریف لائے اور بازار میں ہماری مسجد کے
    قریب انہوں نے وعظ کیا اور بہت سے مسلمان اور ہندو ان کی باتیں سننے کیلئے جمع ہوئے اور اس تقریر کی اثناء میں انہوں نے بیان فرمایا کہ باوا نانک صاحب پانچ وقت نماز پڑھا کرتے تھے ہندو یہ
    بات سنکر سخت ناراض ہوئے اور قریب تھا کہ ان پر حملہ کریں مگر مسلمانوں نے ان کی حمایت کی اور انہوں نے فرمایا کہ یہ لوگ سب نادان ہیں ان کو خبر نہیں جو باتیں میں بیان کرتا ہوں ان کے
    بڑے بڑے ثبوت میرے پاس ہیں مگر ہندو بیٹھ نہ سکے اور برا کہتے چلے گئے۔ یہ واقعہ قریباً صدہا ہندوؤں اور مسلمانوں کو قادیان میں معلوم ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 263
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 263
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/263/mode/1up
    دےؔ دی جب مردانہ اوپر گیا تو بابا ولی قندھاری نے اس سے کہا کہ تمہارے ساتھ بھی تو صاحب کرامات ہیں* وہاں ہی پانی
    کیوں نہیں نکال لیتے۔ اس نے گرو صاحب سے آکر اسی طرح عرض کر دیا گورو صاحب نے برچھی گاڑ کر وہاں سے پانی نکال لیا۔ ولی صاحب کا پانی خشک ہوگیا انہوں نے طیش میں آکر پہاڑ کو ان
    پر گرانا چاہا بابا نانک صاحب نے ہاتھ سے تھام دیا۔ چنانچہ پانچ انگل کا نشان ابتک موجود ہے۔
    از انجملہ سیوا سنگھ صاحب کے خط میں ایک یہ کرامت لکھی ہے کہ باوا نانک صاحب نے ایک ریٹہ کے
    درخت کو میٹھا کر دیا اور صاحب موصوف اپنے خط میں لکھتے ہیں کہ اس درخت کی اصل جگہ مجھ کو معلوم نہیں کوئی تو دارجیلنگ کی طرف بتلاتا ہے کوئی اوڑیسہ کی طرف بتلاتا ہے بادی یا بیدی
    وہاں سے لاتے ہیں یہ پھل بہتوں نے کھائی ہیں اور میں نے بھی کھایا ہے۔ ایسا ہی اور بھی کرامات سردار سیوا سنگھ صاحب نے لکھے ہیں مگر افسوس کہ ہم بباعث بڑھ جانے رسالہ کے تمام کرامات
    کو نہیں لکھ سکتے ہمارے نزدیک بابانانک صاحب کا چولہ صاحب اور ان کے اشعار جو حقائق اور معارف سے پر ہیں اعلیٰ درجہ کی کرامت ہے اور ایک نہایت عجیب پیشگوئی چولہ صاحب میں پائی
    جاتی ہے اور وہ ایک ایسی عظیم الشان کرامت ہے کہ اگر باوا صاحب کی طرف سے کوئی کرامت منقول نہ ہوتی تو وہی ایک کافی تھی اور وہ یہ ہے کہ چولہ صاحب پر بار بار قرآن کی اس آیت کو لکھا
    ہے کہ ۱؂ یعنی کہہ خدا وہ عظیم الشان خدا ہے جو اس سے پاک ہے جو کسی عورت کے پیٹ سے نکلے اور جنایا جائے اور ہریک چیز اس کی طرف محتاج ہے اور وہ کسی کی طرف محتاج نہیں اور
    اس کا کوئی قرابتی اور ہم جنس نہیں نہ باپ نہ ماں نہ بھائی نہ بہن اور نہ کوئی
    *نوٹ:صاحب کرامات کا لفظ بھی باوا نانک صاحب کے اسلام پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اہل اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ
    اگر کسی ایسے شخص سے کوئی اعجوبہ امر صادر ہوجو مسلمان نہیں تو اس کے اس اعجوبہ کا نام کرامت نہیں رکھتے بلکہ اس کا نام استدراج رکھتے ہیں سو بابا ولی قندھاری نے جو باوا نانک
    صاحب کو صاحب کرامت قرار دیا جو اس سے صاف طور پر پایا گیا کہ انہوں نے کشفی طور پر معلوم کرلیا کہ باوا صاحب اہل اسلام ہیں ورنہ بابا قندھاری ان کا نام صاحب کرامت نہ رکھتا بلکہ ان کو
    صاحب استدراج کہتا اور بابا نانک صاحب نے بھی اس لفظ کو رد نہیں کیا اور مردانہ کا پانی کے لئے جانا صاف دلالت کرتا ہے کہ باوا صاحب بلا کراہت مردانہ کے ہاتھ سے کھا پی لیتے تھے ایسے
    ملکوں میں باوا صاحب کا دو دو برس رہنا جہاں ہندوؤں کا نام ونشان نہ تھا جیسا کہ ملک عرب کیا بغیر کھانے پینے کے ممکن تھا۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 264
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 264
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/264/mode/1up
    ہمؔ مرتبہ اور پھر یہ کمال کیا ہے کہ لَمْ یَلِدْ کا لفظ جس کے یہ معنی ہیں کہ خدا کسی کا بیٹا نہیں کسی کا جنایا ہوا نہیں خدا
    کے ننانوے اسماء کے ساتھ ملایا ہے مثلاً کہا ہے وہ قُدُّوس ہے کسی کا بیٹا نہیں وہ قیوم ہے کسی کا جنایا ہوا نہیں وہ قادر ہے کسی کے پیٹ سے نہیں نکلا غرض ان صفات کو بار بار ذکر فرمایاہے جس
    سے انسان نہایت اطمینان سے یہ سمجھتا ہے کہ باوا صاحب نے عیسائی مذہب کے بارے میں پیشگوئی کی ہے گویا یہ جتلا دیا ہے کہ تین سو برس کے بعد عیسائی مذہب پنجاب میں پھیلے گا اور خبردار
    کر دیا ہے کہ وہ لوگ باطل پرست اور کاذب ہیں اور ناحق ایک عاجز انسان کو خدا بنا رہے ہیں ان کے فریب میں نہ آنا اور ان کے مذہب کو قبول نہ کرنا کہ وہ جھوٹے مکار ہیں۔ ہم جب اس پیشگوئی کو
    دیکھتے ہیں تو ایک نہایت عظمت اس کی ہمیں معلوم ہوتی ہے اور پھر کمال یہ ہے کہ قرآنی آیات کے ساتھ اس کو بیان کیا ہے اس میں یہ اشارہ ہے کہ اس ُ پر آشوب زمانہ میں تم اسلام میں داخل ہو جاؤ
    کہ یہی دین الٰہی جس نے کوئی بناوٹی خدا پیش نہیں کیا۔ اسی طرح چولہ صاحب میں بار بار یہ بیان کیا گیا ہے کہ خدا وہ خدا ہے جس نے روحوں اور جسموں کو پیدا کیا ہے اور ایک وقت آنیوالا ہے جو
    مردے جی اٹھیں گے اور خدا انصاف کرے گا اور یہ اشارات باوا صاحب کے اشعار میں بھی پائے جاتے ہیں بعض اشعار میں وہ خدا کے خالق الارواح ہونے اور دارالجزاء پر اس قدر زور دیتے ہیں کہ
    گویا وہ ایک آنیوالے فرقہ کے وجود کی خبر دے رہے ہیں اور چولہ صاحب اور ان کے بعض اشعار سے جو ایک ذخیرہ کثیرہ ہے صریح یہ پیشگوئی محسوس ہوتی ہے کہ وہ دیانند اور اس کے بدرہ فرقہ
    کی خبر دے رہے ہیں یہ ایسی پیشگوئیاں ہیں جو ایک دانشمند نظر تامل کے بعد ضرور ان پر یقین کر لے گا اور ہم نے بہت سوچا کہ اس میں کیا بھید ہے کہ باوانانک صاحب کے چولہ پر باربار لا الہ الا
    اللّٰہ محمّد رسول اللہ لکھا گیا ہے اور باربار یہ ذکر کیا گیا ہے کہ قرآن ہی ایک ایسی کتاب ہے جس سے خداتعالیٰ کی راہ ملتی ہے حالانکہ صرف ایک مرتبہ لکھنا کافی تھا آخر اس میں یہ بھید معلوم ہوا
    کہ باواصاحب کے چولہ پر یہ بھی ایک قسم کی پیشگوئی اس تاریک زمانہ کے لئے ہے کیونکہ اس پُرفریب زمانہ نے بہت سی آنکھوں میں غبار ڈال دی ہے اور بہت سے باطل
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 265
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 265
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/265/mode/1up
    خداؔ پوجے جاتے ہیں پس گویا چولہ صاحب بزبان حال ہر یک مذہب کے انسان کو کہہ رہا ہے کہ اے غافل تو کہاں جاتا ہے
    اور کن خیالات میں لگا ہے اگر سچے مذہب کا طالب ہے تو ادھر آ اور اس خدا پر ایمان لا جس کی طرف لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ بلاتا ہے کہ وہی غیرفانی اور کامل خدا اور تمام عیبوں سے منزّ ہ
    اور تمام صفات کاملہ سے متصف ہے۔
    باوانانک صاحب پر پادریوں کا حملہ
    یہ عجیب بات ہے کہ اس زمانہ کے پادری جس قدر دوسرے مذاہب پر نکتہ چینی کرنے کے لئے اپنا وقت اور اپنا مال
    خرچ کر رہے ہیں اس کا کروڑواں حصہ بھی اپنے مذہب کی آزمائش اور تحقیق میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ جو شخص ایک عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے اور اس ازلی ابدی غیرمتغیر خدا پر یہ
    مصیبت روا رکھتا ہے کہ وہ ایک عورت کے پیٹ میں نو مہینہ تک بچہ بن کر رہا اور خون حیض کھاتا رہا اور انسانوں کی طرح ایک گندی راہ سے پیدا ہوا اور پکڑا گیا اور صلیب پر کھینچا گیا۔ ایسے
    قابل شرم اعتقادوالوں کو چاہئے تھا کہ کفارہ کا ایک جھوٹا منصوبہ پیش کرنے سے پہلے اس قابل رحم انسان کی خدائی ثابت کرتے اور پھر دوسرے لوگوں کو اس عجیب خدا کی طرف بلاتے مگر میں
    دیکھتا ہوں کہ ان لوگوں کو اپنے مذہب کا ذرہ بھی فکر نہیں۔ تھوڑے دن ہوئے ہیں کہ ایک پرچہ امریکن مشن پریس لودھیانہ میں سے پنجاب ریلیجسبک سوسائٹی کی کارروائیوں کے واسطے ایم وایلی
    مینجر کے اہتمام سے نکلا ہے جس کی سرخی یہ ہے۔ وہ گرو جو انسان کو خدا کا فرزند بنا دیتا ہے اس پرچہ میں سکھ صاحبوں پر حملہ کرنے کے لئے آدگرنتھ کا یہ شعر ابتدائی تقریر میں لکھا
    ہے۔
    جے سوچاندا اوگوین سورج چڑھے ہزار
    ایتے چانن ہندیاں گوربن کھور اندھار
    یعنی اگر سوچاند نکلے اور ہزار سورج طلوع کرے تو اتنی روشنی ہونے پر بھی گورو یعنی مرشد اور ہادی
    کے بغیر سخت اندھیرا ہے پھر اس کے بعد لکھا ہے افسوس کہ ہمارے سکھ بھائی ناحق دس بادشاہیوں کو گورو مان بیٹھے ہیں اور اس ست گوروکو نہیں ڈھونڈتے جو منش کو دیوتا بنا سکتا ہے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 266
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 266
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/266/mode/1up
    پھر آؔ گے لکھتاہے کہ وہ ست گورو یسوع مسیح ہے جس نے اپنی جان قربان کی اور گنہگاروں کے بدلے آپ *** ہوا۔ اس
    کے ماننے سے لوگ گناہوں سے پاک ہو جاتے ہیں‘‘ اور پھر سکھ صاحبوں کو مخاطب کر کے لکھتا ہے کہ جن لوگوں کو آپ اب تک گورو سمجھے بیٹھے ہیں اور ان سے روشنی پانے کی امید رکھتے
    ہیں وہ لوگ اس لائق نہیں ہیں کہ آپ کے تاریک دل کو روشن کریں ہاں اس گورو یسوع مسیح میں یہ خاصیت ہے کہ کیسا ہی دل تاریک اور ناپاک کیوں نہ ہوو ہ اس کو روشن اور پاک کر سکتا ہے غرض یہ
    کہ تم یسوع کو خدا کر کے مان لو۔ پھر تم خاصے پاک اور پوتر ہو جاؤ گے اور سب گناہ جھڑ جائیں گے اور منش سے دیوتا بن جاؤ گے۔ مگر افسوس کہ یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ اگر انسانوں کو ہی خدا
    بنانا ہے تو کیا اس قسم کے خدا ہندؤوں میں کچھ کم ہیں۔ باوانانک صاحب ہندؤوں کے مت سے کیوں بیزار ہوئے اسی لئے تو ہوئے کہ ان کا وید بھی فانی چیزوں کو خدا قرار دیتا ہے اور پانی اور آگ اور ہوا
    اور سورج اور چاند کو پرستش کے لائق سمجھتا ہے اور اس سچے خدا سے بیخبر ہے جو ان سب چیزوں کو پیدا کرنے والا ہے پھر جبکہ باواصاحب اس سچے خدا پر ایمان لائے جس کی بے مثل اور
    کامل ذات پر زمین و آسمان گواہی دے رہا ہے اور نہ صرف ایمان لائے بلکہ اس کے انوار کی برکتیں بھی حاصل کر لیں تو پھر ان کے پیرؤں کی عقلمندی سے بہت بعید ہے کہ وہ اس تعلیم کے بعد جوان
    کو دی گئی ہے پھر باطل خداؤں کی طرف رجوع کریں۔ ہندو لوگ ہزارہابرس ایسے خداؤں کی آزمائش کر چکے ہیں اور نہ سرسری طور پر بلکہ بہت تحقیق کے بعد ایسے خدا ان کو چھوڑنے پڑے اب
    پھر اس جھوٹی کیمیا کی تمنا ان کی دانشمندی سے بہت دور ہے ۔باوانانک صاحب نے اس خدا کا دامن پکڑا تھا جو مرنے اور جنم لینے سے پاک ہے اور جو لوگوں کے گناہ بخشنے کے لئے آپ ***
    بننے کا محتاج نہیں اور نہ کسی کی جان بچانے کے لئے اپنی جان دینے کی اس کو حاجت ہے مگر ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ عیسائیوں کا یہ کیسا خدا ہے جس کو دوسروں کے چھوڑانے کے لئے بجز
    اپنے تئیں ہلاک کرنے کے اور کوئی تدبیر ہی نہیں سوجھتی۔ اگر درحقیقت زمین و آسمان کا مدبر اور مالک اور خالق یہی بیچارہ ہے تو پھر خدائی کا انتظام سخت خطرہ میں ہے۔ بے شک یہ خواہش تو
    نہایت
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 267
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 267
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/267/mode/1up
    عمدہ ؔ ہے جو انسان گناہ سے پاک ہو مگر کیا گناہ سے پاک ہونے کا یہی طریق ہے کہ ہم کسی غیر آدمی کی خودکشی پر
    بھروسہ رکھ کر اپنے ذہن میں آپ ہی یہ فرض کر لیں کہ ہم گناہ سے پاک ہو گئے بالخصوص ایسا آدمی جو انجیل میں خود اقرار کرتا ہے جو میں نیک نہیں وہ کیونکر اپنے اقتدار سے دوسروں کو نیک بنا
    سکتا ہے اصل حقیقت نجات کی خداشناسی اور خدا پرستی ہے۔ پس کیا ایسے لوگ جو اس غلط فہمی کے دوزخ میں پڑے ہوئے ہیں جو مریم کا صاحبزادہ ہی خدا ہے وہ کیسے حقیقی نجات کی امید رکھ
    سکتے ہیں ا نسان کی عملی اور اعتقادی غلطیاں ہی عذاب کی جڑھ ہیں وہی درحقیقت خدا تعالیٰ کے غضب سے آگ کی صورت پر متمثل ہوں گی اور جس طرح پتھر پر سخت ضرب لگانے سے آگ نکلتی
    ہے اسی طرح غضب الٰہی کی ضرب انہیں بداعتقادیوں اور بدعملیوں سے آگ کے شعلے نکالے گی اور وہی آگ بداعتقادوں اور بدکاروں کو کھا جائے گی جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ بجلی کی آگ کے ساتھ
    خود انسان کی اندرونی آگ شامل ہو جاتی ہے تب دونوں مل کر اس کو بھسم کر دیتی ہیں۔ اسی طرح غضب الٰہی کی آگ بداعتقادی اور بداعمالی کی آگ کے ساتھ ترکیب پا کر انسان کو جلا دے گی اسی
    طرف اشارہ کر کے اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے ۱؂ یعنی جہنم کیا چیز ہے۔وہ خدا کے غضب کی آگ ہے جو دلوں پر پڑے گی یعنی وہ دل جو بداعمالی اور بداعتقادی کی آگ اپنے اندر رکھتے ہیں وہ
    غضب الٰہی کی آگ سے اپنے آگ کے شعلوں کو مشتعل کریں گے۔ تب یہ دونوں قسم کی آگ باہم مل کر ایسا ہی ان کو بھسم کرے گی جیسا کہ صاعقہ گرنے سے انسان بھسم ہو جاتا ہے پس نجات وہی
    پائے گا جو بداعتقادی اور بدعملی کی آگ سے دور رہے گا ۔سو جو لوگ ایسے طور کی زندگی بسر کرتے ہیں کہ نہ تو سچی خدا شناسی کی وجہ سے ان کے اعتقاد درست ہیں اور نہ وہ بداعمالیوں سے
    باز رہتے ہیں بلکہ ایک جھوٹے کفارہ پر بھروسہ کر کے دلیری سے گناہ کرتے ہیں وہ کیونکر نجات پا سکتے ہیں یہ بے چارے ابتک سمجھے نہیں کہ درحقیقت ہر یک انسان کے اندر ہی دوزخ کا شعلہ
    اور اندر ہی نجات کا چشمہ ہے دوزخ کا شعلہ فر و ہونے سے خود نجات کا چشمہ جوش مارتا ہے اس عالم میں خدا تعالیٰ یہ سب باتیں محسوسات کے رنگ میں مشاہدہ کرادے گا اگر
    عیسائیوں
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 268
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 268
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/268/mode/1up
    کو اؔ س سچے فلسفہ کی خبر ہوتی تو مارے شرمندگی کے کسی کو منہ نہ دکھا سکتے ہزاروں فسق و فجور او رمکر اور فریب
    کے ساتھ یہ دعوے کرنا کہ ہم گناہ سے پاک ہو گئے ہیں عجیب قسم کی چالاکی ہے جس مذہب کا یہ اصول ہے کہ مسیح کی خود کشی نے تمام عبادتوں اور نیک کاموں او رنیک عملوں کو نکما اور ہیچ کر
    دیا ہے اور ان کی ضرورت کچھ بھی باقی نہیں رہی کیا ایسے عقیدے کے لوگوں کی نسبت کچھ امید کر سکتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی بندگی میں دل لگاویں اور سچے دل سے تمام بدکاریوں کو چھوڑ دیں۔
    پھر جبکہ ایسے قابل شرم عقیدہ میں گرفتار ہوکر انواع اقسام کی غفلتوں اور فریبوں اور ناجائز کاموں میں گرفتار ہو رہے ہیں تو تعجب ہے کہ اپنے حال پر کچھ بھی نہیں روتے اور اپنی مصیبت پر ایک
    ذرہ ماتم نہیں کرتے بلکہ خود اندھے ہو کر دوسرں پر کمی بصارت کی تہمت لگاتے ہیں ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ جسقدر باوانانک صاحب کے اشعار میں توحید الٰہی کے متعلق اور سچی وحدانیت کے
    بیان کرنے میں عمدہ عمدہ مضامین پائے جاتے ہیں اگر وہ موجودہ انجیلوں میں پائے جاتے تو ہمیں بڑی ہی خوشی ہوتی مگر ایسے جعلی کتابوں میں سچے حقائق اور معارف کیونکر پائے جائیں جو حقیقی
    خدادانی اور حقیقی خدا پرستی اور حقیقی نجات کے بھید سے بہت ہی دور جا پڑے ہیں۔ نادانوں کے منہ پر ہر وقت کفارہ اور مسیح کی خود کشی اور ایک فانی انسان کا خدا ہونا چڑھا ہوا ہے اور باقی
    تمام اعمال صالحہ سے فراغت کر رکھی ہے بیشک خدا کے بندوں اور اپنے بنی نوع کے لئے جان دینا اور انسان کی بھلائی کے لئے دکھ اٹھانا نہایت قابل تعریف امر ہے مگر یہ بات ہرگز قابل تعریف
    نہیں کہ ایک شخص بے اصل وہم پر بھروسہ کر کے کنوئیں میں کود پڑے کہ میرے مرنے سے لوگ نجات پا جائیں گے جان قربان کرنے کا یہ طریق تو بے شک صحیح ہے کہ خدا کے بندوں کی معقول
    طریقہ سے خدمت کریں اور ان کی بھلائی میں اپنے تمام انفاس خرچ کردیں اور ان کے لئے ایسی کوشش کریں کہ گویا اس راہ میں جان دے دیں مگر یہ ہرگز صحیح نہیں ہے کہ اپنے سر پر پتھر مارلیں
    یا کنوئیں میں ڈوب مریں یا پھانسی لے لیں اور پھر تصور کریں کہ اس بے جا حرکت سے نوع انسان کو کچھ فائدہ پہنچے گا عیسائیوں کو سمجھنا چاہئے کہ باوانانک صاحب حقیقی نجات کی راہوں کو
    خوب معلوم کر چکے تھے وہ سمجھتے تھے کہ وہ پاک ذات بجز اپنی
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 269
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 269
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/269/mode/1up
    سعیؔ اور کوشش کے نہیں ملتا اور وہ خوب جانتے تھے کہ خدا ہر یک جان سے اُسی جان کی قربانی چاہتا ہے نہ کسی غیر
    کی۔ زید کی خودکشی بکرکے کام نہیں آتی ۔ بات یہی سچ ہے کہ خدا کو وہی پاتے ہیں جو آپ خدا کے ہو جاتے ہیں جو لوگ ہر ایک ناپاکی کے دروازے اپنے پر بند کرتے ہیں اُنہیں پر اُس پاک کے
    دروازے کھولے جاتے ہیں۔
    اسلام کیا چیز ہے
    جبکہ ہم اس ثبوت کے دینے سے فارغ ہو چکے کہ درحقیقت بابا نانک صاحب ان پاک طبع بزرگوں میں سے تھے جن کے دلوں پر اسلام کا نور چمکا تو
    اب اس سوال کا جواب باقی رہا کہ اسلام کیا چیز ہے سو واضح ہو کہ خدا تعالیٰ نے ہر ایک چیز کو دنیا میں پیدا کر کے اس کی پیدائش کے مناسب حال اس میں ایک کمال رکھا ہے ۔جو اس کے وجود کی
    علت غائی ہے اور ہر یک چیز کی واقعی قدروقیمت اسی صورت میں ہوتی ہے کہ جب وہ چیز اپنے کمال تک پہنچ جائے مثلاً بیلوں میں کلبہ رانی اور آب پاشی اور باربرداری کا ایک کمال ہے اور گھوڑوں
    میں انسانوں کی سواری کے نیچے ان کی منشا کے موافق کام دینا ایک کمال ہے اور اگرچہ ان کمالات تک پہنچنا ان جانوروں کی استعداد میں داخل ہے مگر تا ہم کاشت کاروں اور چابک سواروں کی تعلیم
    سے یہ کمالات ان کے ظہور میں آتے ہیں کیونکہ وہ لوگ ریاضت اور تعلیم دینے سے ایسی طرز سے ا ن جبلی استعدادوں کو ان جانوروں میں پیدا کر دیتے ہیں جو اُن کے اپنی منشا کے موافق ہوں پس
    اس قاعدہ کے رُو سے ماننا پڑتا ہے کہ انسان بھی کسی کمال کے حاصل کرنے کے لئے پیدا کیاگیا ہے کیونکہ جبکہ دنیا کی کسی چیز کا وجود عبث اور بے کار نہیں تو پھر انسان جیسا ایک نادرالخلقت
    جاندار جس میں بہت سی عمدہ اور بے مثل قوتیں پائی جاتی ہیں کیونکر اپنی خلقت کی رو سے محض بے فائدہ اور نکما ٹھہر سکتا ہے۔ لیکن یہ گمان نہیں ہو سکتا کہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 270
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 270
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/270/mode/1up
    انساؔ ن کا عمدہ کمال یہی ہے کہ وہ کھانے پینے اور ہر یک قسم کی عیاشی اور دولت اور حکومت کی لذات میں عمر بسر
    کرے کیونکہ اس قسم کی لذات میں دوسرے جانور بھی اس کے شریک ہیں بلکہ انسان کا کمال ان قوتوں کے کمال پر موقوف ہے جو اس میں اور اس کے غیر میں مابہ الامتیاز ہیں اور انسان کے دین کا
    کمال یہ ہے کہ اس کی ہر یک قوت میں دین کی چمک نظر آوے اور ہر یک فطرتی طاقت اس کی ایک دین کا چشمہ ہو جاوے او روہ قوتیں یہ ہیں۔
    عقل۔ عفت۔ شجاعت۔ عدل۔ رحم۔ صبر۔ استقامت۔ شکر۔
    محبت۔ خوف۔ طمع ۔ حزن۔ غم۔ ایثار۔ سخاوت۔ ہمت۔ حیا۔ سخط۔ غضب۔ اعراض۔ رضا۔ شفقت۔ تذلل ۔ حمد۔ ذم۔ امانت۔ دیانت۔ صدق۔ عفو۔ انتقام۔ کرم۔ جود۔ مواسات ذکر۔ تصور۔ مروت۔ غیرت۔ شوق۔
    ہمدردی۔ حلم۔ شدت۔ فہم۔ فراست۔ تدبیر۔ تقو ٰی۔ فصاحت۔ بلاغت۔ عمل جوارح ذوق۔ اُنس ۔ دعا۔ نطق۔ ارادہ۔ تواضع۔ رفق۔ مدارات۔ تحنن۔ وفا۔ حسن عہد۔ صلہ رحم۔ وقار۔ خشوع۔ خضوع۔ زہد۔ غبطہ۔ ایجاد۔
    معاونت طلب تمدن۔ تسلیم۔ شہادت صدق۔ رضابقضا۔ احسان۔ توکل۔ اعتماد۔ تحمل۔ ایفاء عہد۔ تبتل۔ اطاعت۔ موافقت۔ مخالطت۔ عشق۔ فنا نظری۔ تطہر۔ فکر۔ حفظ ۔ادراک۔ بغض۔ عداوت۔ حسرت۔ اخلاص۔
    علم الیقین۔ عین الیقین۔ حق الیقین۔ جہد۔ توبہ۔ ندامت۔ استغفار۔ بذلِ روح۔ ایمان۔ توحید۔ رویا۔ کشف۔ سمع۔ بصر۔ خطرات۔ یہ تمام قوتیں انسان میں بھی پائی جاتی ہیں اور کوئی دوسرا جاندار ان میں شریک
    نہیں۔ اور اگرچہ بظاہر ایک ایسا شخص جس کو تدبر اور تفکر کرنے کی عادت نہیں کہہ سکتا ہے کہ ان قوتوں میں کئی ایک ایسی قوتیں بھی ہیں جن میں بعض دوسرے جانور بھی شریک ہیں مثلاً محبت یا
    خوف یا عداوت مگر پوری پوری غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ یہ شراکت صرف صورت میں ہے نہ کہ حقیقت میں۔ انسانی محبت اور خوف اور عداوت انسانی عقل اور معرفت اور تجربہ کا ایک نتیجہ
    ہے پھر جبکہ انسانی عقل اور معرفت اور تجربہ دوسرے حیوانات کو حاصل نہیں ہو سکتا تو پھر اس کا نتیجہ کیونکر حاصل ہو سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ انسانی محبت اور خوف اور عداوت کا کوئی
    انتہا نہیں انسانی محبت رفتہ رفتہ عشق تک پہنچ جاتی
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 271
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 271
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/271/mode/1up
    ہےؔ ۔ یہاں تک کہ وہ محبت انسان کے دل میں ا س قدر گھر کر جاتی ہے کہ اس کے دل کو چیرکر اندر چلی جاتی ہے اور
    کبھی اس کو دیوانہ سا بنا دیتی ہے او رنہ صرف محبوب تک ہی محدود رہتی ہے بلکہ انسان اپنے محبوب کے دوستوں سے بھی محبت کرتا ہے اور اس شہر سے بھی محبت کرتا ہے جس میں وہ رہتا ہے
    اور ان اوضاع اور اطوار سے بھی محبت کرتا ہے جو محبوب میں پائے جاتے ہیں اوراس ملک سے بھی محبت کرتا ہے جہاں محبوب رہتا ہے ایسا ہی انسانی عداوت بھی صرف ایک شخص تک محدود
    نہیں رہتی اور بعض اوقات پشتوں تک اس کا اثر باقی رہتا ہے ایسا ہی انسانی خوف بھی دور دراز نتیجہ سے پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ آخرت کا خوف بھی دامنگیر ہو جاتا ہے لہٰذا دوسرے حیوانات کی قوتیں
    انسانی قوتوں کے منبع اور سرچشمہ میں سے ہرگز نہیں ہیں۔ بلکہ وہ ایک طبیعی خواص ہیں جو بے اختیار ان سے ظہور میں آتے ہیں اور جو کچھ انسان کو دیا گیا ہے وہ انسان ہی کے ساتھ خاص
    ہے۔
    اب جاننا چاہئے کہ جس قدر انسان کو قوتیں دی گئی ہیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے ان کو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے اپنے محل پر خرچ کرنا اور ہر یک قوت کا خداتعالیٰ کی مرضی اور رضا کے
    راہ میں جنبش اور سکون کرنا بھی وہ حالت ہے جس کا قرآن شریف کی رو سے اسلام نام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اسلام کی یہ تعریف فرماتا ہے۔ ۱؂ یعنی انسان کا اپنی ذات کو اپنے تمام قویٰ
    کے ساتھ خداتعالیٰ کی راہ میں وقف کر دینا اور پھر اپنی معرفت کو احسان کی حد تک پہنچا دینا یعنی ایسا پردہ غفلت درمیان سے اٹھانا کہ گویا خداتعالیٰ کو دیکھ رہا ہے یہی اسلام ہے پس ایک شخص کو
    مسلمان اس وقت
    وَجہٌ کے اصل معنی لغت کی رو سے مُنہ کے ہیں چونکہ انسان منہ سے شناخت کیا جاتا ہے۔ اور کروڑہا انسانوں میں مابہ الامتیاز منہ سے قائم ہوتا ہے اس لئے اس آیت میں منہ
    سے مراد استعارہ کے طور پر انسان کی ذات اور اس کی قوتیں ہیں جن کی رو سے وہ دوسرے جانوروں سے امتیاز رکھتا ہے گویا وہ قوتیں اس کی انسانیت کا مُنہ ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 272
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 272
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/272/mode/1up
    کہہؔ سکتے ہیں کہ جب یہ تمام قوتیں اس کی خدا تعالیٰ کے راہ میں لگ جائیں اور اس کے زیر حکم واجب طور پر اپنے اپنے
    محل پر مستعمل ہوں اور کوئی قوت بھی اپنی خود روی سے نہ چلے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ نئی زندگی کامل تبدیلی سے ملتی ہے اور کامل تبدیلی ہرگز ممکن نہیں جب تک انسان کی تمام قوتیں جو اس کی
    انسانیت کا نچوڑ اور لب لباب ہیں اطاعت الٰہی کے نیچے نہ آجائیں اور جب تمام قوتیں اطاعت الٰہی کے نیچے آگئیں اور اپنے نیچرل خواص کے ساتھ خط استقامت پر چلنے لگیں۔ تو ایسے شخص کا نام
    مسلمان ہوگا لیکن ان تمام قوتوں کا اپنے اپنے مطالب میں پورے پورے طور پر کامیاب ہو جانا اور رضائے الٰہی کے نیچے گم ہو کر اعتدال مطلوب کو حاصل کرنا بجز تعلیم الٰہی اور تائید الٰہی غیر ممکن
    اور محال ہے اور ضرور تھا کہ کوئی کتاب دنیا میں خداتعالیٰ کی طرف سے ایسی نازل ہوتی کہ جو اسلام کا طریق خدا کے بندوں کو سکھاتی کیونکہ جس طرح ہم اپنے ماتحت جانوروں گھوڑوں گدھوں
    بیلوں وغیرہ کو تربیت کرتے ہیں تا ان کی مخفی استعدادیں ظاہر کریں اور اپنی مرضی کے موافق ان کو چلاویں۔ اسی طرح خدا تعالیٰ پاک فطرت انسانوں کی فطرتی قوتیں ظاہر کرنے کیلئے ان کی طرف
    توجہ فرماتا ہے اور کسی کامل الفطرت پر وحی نازل کر کے دوسروں کی اس کے ذریعہ سے اصلاح کرتا ہے تا وہ اس کی اطاعت میں محو ہو جائیں۔ یہی قدیم سے سنت اللہ ہے اور ہمیشہ خدا تعالیٰ
    ہریک زمانہ کی استعداد کے موافق اسلام کا طریق اس زمانہ کو سکھلاتا رہا ہے۔
    اور چونکہ پہلے نبی ایک خاص قوم اور خاص ملک کیلئے آیا کرتے تھے اس لئے ان کی تعلیم جو ابھی ابتدائی تھی
    مجمل اور ناقص رہتی تھی کیونکہ بوجہ کمی قوم اصلاح کی حاجت کم پڑتی تھی اور چونکہ انسانیت کے پودہ نے ابھی پورا نشوونما بھی نہیں کیا تھا اسلئے استعدادیں
    بھی کم درجہ پر تھیں اور اعلیٰ
    تعلیم کی برداشت نہیں کر سکتی تھیں پھر ایسا زمانہ آیا کہ استعدادیں تو بڑھ گئیں مگر زمین گناہ اور بدکاری اور مخلوق پرستی سے بھر گئی اور سچی توحید اور سچی راستبازی نہ ہندوستان میں باقی
    رہی اور نہ مجوسیوں میں اور نہ یہودیوں میں اور نہ عیسائیوں میں اور تمام قوتیں ضلالت اور نفسانی جذبات کے نیچے دب گئیں اس وقت خدا نے قرآن شریف کو اپنے پاک نبی محمد مصطفیٰ صلی اللہ
    علیہ وسلم پر نازل کر کے دنیا کو کامل اسلام
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 273
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 273
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/273/mode/1up
    سکھاؔ یا اور پہلے نبی ایک ایک قوم کیلئے آیا کرتے اور اسی قدر سکھلاتے تھے جو اسی قوم کی استعداد کے اندازہ کے موافق
    ہو اور جن تعلیموں کی وہ لوگ برداشت نہیں کر سکتے تھے وہ تعلیمیں اسلام کی ان کو نہیں بتلاتے تھے اسلئے ان لوگوں کا اسلام ناقص رہتا تھا یہی وجہ ہے کہ ان دینوں میں سے کسی دین کا نام اسلام
    نہیں رکھا گیا۔ مگر یہ دین جو ہمارے پاک نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت دنیا میں آیا اس میں تمام دنیا کی اصلاح منظور تھی اور تمام استعدادوں کے موافق تعلیم دینا مدنظر تھا اسلئے
    یہ دین تمام دنیا کے دینوں کی نسبت اکمل اور اتم ہوا اور اسی کا نام بالخصوصیت اسلام رکھا گیا اور اسی دین کو خدا نے کامل کہا جیسا کہ قرآن شریف میں ہے۔ ۱؂ یعنی آج میں نے دین کو کامل کیا اور
    اپنی نعمت کو پورا کیا اور میں راضی ہوا جو تمہارا دین اسلام ہو۔ چونکہ پہلے دین کامل نہیں تھے اور ان قوانین کی طرح تھے جو مختص القوم یا مختص الزمان ہوتے ہیں اسلئے خدا نے ان دینوں کا نام
    اسلام نہ رکھا اور ضرور تھا کہ ایسا ہوتا کیونکہ وہ انبیاء تمام قوموں کیلئے نہیں آئے تھے بلکہ اپنی اپنی قوم کیلئے آتے تھے اور اسی خرابی کی طرف ان کی توجہ ہوتی تھی جو ان کی قوم میں پھیلی
    ہوئی ہوتی تھی اور انسانیت کی تمام شاخوں کی اصلاح کرنا ان کا کام نہیں تھا کیونکہ ان کے زیر علاج ایک خاص قوم تھی جو خاص آفتوں اور بیماریوں میں مبتلا تھی اور ان کی استعدادیں بھی ناقص تھیں
    اسی لئے وہ کتابیں ناقص رہیں کیونکہ تعلیم کی اغراض خاص خاص قوم تک محدود تھے مگر اسلام تمام دنیا اور تمام استعدادوں کیلئے آیا اور قرآن کو تمام دنیا کی کامل اصلاح مدنظر تھی جن میں عوام
    بھی تھے اور خواص بھی تھے اور حکماء اور فلاسفر بھی اس لئے انسانیت کے تمام قویٰ پر قرآن نے بحث کی اور یہ چاہا کہ انسان کی ساری قوّ تیں خدا تعالیٰ کی راہ میں فدا ہوں اور یہ اسلئے ہوا کہ
    قرآن کا مدنظر انسان کی تمام استعدادیں تھیں اور ہریک استعداد کی اصلاح منظور تھی اور اسی وجہ سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم خاتم النبیین ٹھہرے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے
    ہاتھ پر وہ تمام کام پورا ہوگیا جو پہلے اس سے کسی نبی کے ہاتھ پر پورا نہیں ہوا تھا۔ چونکہ قرآن کو نوع انسان کی تمام استعدادوں سے کام پڑتا تھا اور وہ دنیا کی عام اصلاح کیلئے نازل
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 274
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 274
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/274/mode/1up
    کیا ؔ گیا تھا اسلئے تمام اصلاح اس میں رکھی گئی اور اسی لئے قرآنی تعلیم کا دین اسلام کہلایا اور اسلام کا لقب کسی
    دوسرے دین کو نہ مل سکا کیونکہ وہ تمام ادیان ناقص اور محدود تھے غرض جبکہ اسلام کی حقیقت یہ ہے تو کوئی عقلمند مسلمان کہلانے سے عار نہیں کر سکتا ہاں اسلام کا دعویٰ اسی قرآنی دین نے
    کیا ہے اور اسی نے اس عظیم الشان دعویٰ کے دلائل بھی پیش کئے ہیں اور یہ بات کہنا کہ میں مسلمان نہیں ہوں یہ اس قول کے مساوی ہے کہ میرا دین ناقص ہے۔
    یہ بات بھی مجھے بیان کرنا
    ضروری ہے کہ وہ حقیقی خوش حالی جس کی طلب نے انسان کو مذہب کا طالب بنایا ہے بجز اسلام کے اور کسی جگہ مل نہیں سکتی جس وقت اس ضروری سوال پر ہم غور کرتے ہیں کہ کیونکر ہم
    نہایت خوشحالی سے اس ُ پرفتنہ دنیا سے سفر کر سکتے ہیں تو ہماری روح جو سچے اور کامل آرام کو چاہتی ہے معاً یہ جواب دیتی ہے کہ ہماری کامل اور لازوال خوش حالی کیلئے دو چیزوں کی
    ضرورت ہے۔
    اول۔ یہ کہ اس فانی زندگی کے فانی تعلقات میں ہم ایسے اسیر اور مقید نہ ہوں کہ ان کا چھوڑنا ہمارے لئے عذاب الیم ہو۔
    دوم۔ یہ کہ ہم درحقیقت خدا تعالیٰ کو ان تمام چیزوں پر مقدم
    رکھ لیں اور جس طرح ایک شخص بالارادہ سفر کر کے ایک شہر کو چھوڑتا اور دوسرے شہر میں آ جاتا ہے اسی طرح ہم اپنے ارادہ سے دنیا کی زندگی کو چھوڑ دیں اور خدا کے لئے ہریک دکھ کو قبول
    کریں اگر ہم ایسا کریں تو اپنے ہاتھ سے اپنے لئے بہشت کی بنیادی اینٹ رکھیں گے اسلام کیا چیز ہے؟ یہی کہ ہم اس سفلی زندگی کو کھو دیں اور نابو دکریں اور ایک اور نئی پاک زندگی میں داخل ہوں
    اور یہ ناممکن ہے جب تک کہ ہمارے تمام قویٰ خدا کی راہ میں قربان نہ ہو جائیں اسلام پر قدم مارنے سے نئی زندگی ملتی ہے اور وہ انوار اور برکات حاصل ہوتے ہیں کہ اگر میں بیان کروں تو مجھے
    شک ہے کہ اجنبی لوگوں میں سے کوئی ان پر اعتبار بھی کرلے گا۔ خدا ہے۔ اور اس کی ذات پر ایمان لانا اور درحقیقت اسی کا
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 275
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 275
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/275/mode/1up
    ہوؔ جانا یہی راہ ہے جس کا نام اسلام ہے لیکن اس راہ پر وہی قدم مارتا ہے جس کے دل پر اس زندہ خدا کا خوف ایک قوی اثر
    ڈالتا ہے۔ اکثر لوگ بیہودہ طریقوں پر نجات کے خواہشمند رہتے ہیں لیکن اسلام وہی طریق نجات بتاتا ہے جو درحقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے ازل سے مقرر ہے اور وہ یہ ہے کہ سچے اعتقاد اور پاک
    عملوں اور اس کی رضا میں محو ہونے سے اس کے قرب کے مکان کو تلاش کیا جائے اور کوشش کی جائے کہ اس کا قرب اور اس کی رضا حاصل ہو کیونکہ تمام عذاب خدا تعالیٰ کی دوری اور غضب
    میں ہے پس جس وقت انسان سچی توبہ اور سچے طریق کے اختیار کرنے سے اور سچی تابعداری حاصل کرنے سے اور سچی توحید کے قبول کرنے سے خدا تعالیٰ سے نزدیک ہو جاتا ہے اور اس کو
    راضی کرلیتاہے تو تب وہ عذاب اس سے دور کیا جاتا ہے لیکن یہ سوال کہ کیونکر انسان جھوٹے عقیدوں اور باطل خیالات میں مبتلا ہو جاتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ انسان اس وقت غلط خیالات اور
    بدعقائد میں پھنس جاتا ہے جبکہ خدا تعالیٰ کی سچی وحی کی پیروی نہیں کرتا بلکہ اپنے خود تراشیدہ خیالات یا اپنے جیسے کسی دوسرے انسان کے خیالات کا پیرو بن جاتا ہے یہ تو ظاہر ہے کہ انسان
    غلطی سے بچ نہیں سکتا اور اس کی فطرت پر سہو و نسیان غالب ہے پھر ایسی راہ میں جو نہایت باریک اور ساتھ اس کے نفسانی جذبات بھی لگے ہوئے ہیں کیونکر بچ سکتا ہے لہٰذا تمام سچے طالبوں
    اور حقیقی راست بازوں نے اس بات کی تصدیق پر اپنے سرجھکا دئیے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی رضامندی کی راہوں کو دریافت کرنے کیلئے اسی کی وحی اور الہام کی ضرورت ہے۔ حق کے طالب کیلئے
    سب سے پہلے ضروری یہی مسئلہ ہے کہ کسی طرح خدا تعالیٰ کی ہستی اور وجود پر یقین کامل پیدا ہو جائے لیکن جو ذات بالکل پوشیدہ اور غیب الغیب اور وراء الورا ہے انسان محض اپنی کوششوں
    اور اپنے ہی خود ساختہ گیان اور معرفت سے اس پر یقین کامل نہیں لا سکتا بلکہ یک طرفہ کوششوں کا آخری نتیجہ شک اور وہم اور ہستی باری کا انکار ہے۔ کیونکہ جو شخص دس۱۰ یا بیس۲۰ برس یا
    مثلاً پچاس برس تک خدا تعالیٰ کی طلب میں لگا رہے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 276
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 276
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/276/mode/1up
    اور زؔ مین و آسمان کے عجائبِ قدرت دیکھ کر اس بات کی ضرورت کو تسلیم کرے کہ اس احسن ترتیب اور ابلغ ترکیب اور ُ
    پرحکمت اشیاء کا ضرور کوئی خالق ہوگا تو بالطبع اس کو اس بات کی طرف رغبت پیدا ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی اس کو کوئی نشان ملے صرف خود ساختہ خیالات ہی پر مدار نہ رہے
    لیکن جب ایک زمانہ دراز تک اس خالق کی طلب میں رہ کر پھر بھی اس طرف سے کوئی آواز نہ آوے اور کوئی نشان پیدا نہ ہو تو وہ یقین جو اس نے محض اپنی عقل کی تراش خراش سے پیدا کیا تھا آخر
    وہ بھی ایک بوسیدہ عمارت کی طرح گر جائے گا اور اس کا پچھلا حال پہلے حال سے بدتر ہوگا کیونکہ یہ انسان میں ایک فطرتی خاصیت ہے کہ اگر اپنے وجود کے تمام زور اور تمام قوت سے ایک چیز
    کو ڈھونڈے اور طلب کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھے اور پھر بھی وہ چیز میسر نہ آوے تو اس چیز کے وجود کی نسبت اس کا اعتقاد قائم نہیں رہتا بالخصوص اگر کسی ایسے شخص کو ڈھونڈتا ہو
    جس کی نسبت اس کا یہ اعتقاد بھی ہو کہ وہ میری اس کوشش اور اضطراب سے واقف ہے اور میری اس بیقراری پر مطلع ہے تو پھر اگر اس کی طرف
    سے کوئی پیغام نہ پہنچے تو بلاشبہ انکار
    اور نومیدی کا موجب ہوگا۔
    پس اس تحقیق کی رو سے یہ بات ثابت شدہ امر ہے کہ
    خدا تعالیٰ پر سچا یقین بغیر ذریعہ وحی اور الہام کے ہرگز
    حاصل نہیں ہو سکتا۔ اور اب ہم ہریک مذہب
    کا معیار بیان کرتے ہیں اور تینوں مذہبوں
    آریہ۔ عیسائی۔ اسلام
    کو بالمقابل لکھ کر کھرے کھوٹے
    کی تمیز ناظرین پر ہی
    چھوڑتے ہیں۔
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 277
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 277
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/277/mode/1up
    فطرؔ تی معیار سے مذاہب کا مقابلہ
    اور گورنمنٹ انگریزی کے احسان کا کچھ تذکرہ
    میرے خیال میں مذاہب کے
    پرکھنے اور جانچنے اور کھرے کھوٹے میں تمیز کرنے کیلئے اس سے بہتر کسی ملک کے باشندوں کو موقعہ ملنا ممکن نہیں جو ہمارے ملک پنجاب اور ہندوستان کو ملا ہے اس موقع کے حصول کیلئے
    پہلا فضل خدا تعالیٰ کا گورنمنٹ برطانیہ کا ہمارے اس ملک پر تسلط ہے۔ ہم نہایت ہی ناسپاس اور منکر نعمت ٹھہریں گے اگر ہم سچے دل سے اس محسن گورنمنٹ کا شکر نہ کریں جس کے بابرکت
    وجود سے ہمیں دعوت اور تبلیغ اسلام کا وہ موقع ملا جو ہم سے پہلے کسی بادشاہ کو بھی نہیں مل سکا کیونکہ اس علم دوست گورنمنٹ نے اظہار رائے میں وہ آزادی دی ہے جس کی نظیر اگر کسی اور
    موجودہ عملداری میں تلاش کرنا چاہیں تو لاحاصل ہے کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ہم لنڈن کے بازاروں میں دین اسلام کی تائید کیلئے وہ وعظ کر سکتے ہیں جس کا خاص مکہ معظمہ میں میسر آنا ہمارے
    لئے غیر ممکن ہے اور اس گورنمنٹ نے نہ صرف اشاعت کتب اور اشاعت مذہب میں ہر یک قوم کو آزادی دی بلکہ خود بھی ہریک فرقہ کو بذریعہ اشاعت علوم و فنون کے مدد دی اور تعلیم اور تربیت
    سے ایک دنیا کی آنکھیں کھول دیں۔ پس اگرچہ اس محسن گورنمنٹ کا یہ احسان بھی کچھ تھوڑا نہیں کہ وہ ہمارے مال اور آبرو اور خون کی جہاں تک طاقت ہے سچے دل سے محافظت کر رہی ہے اور
    ہمیں اس آزادی سے فائدہ پہنچا رہی ہے جس کیلئے ہم سے پہلے بہتیرے نوع انسان کے سچے ہمدرد ترستے گذر گئے لیکن یہ دوسرا احسان گورنمنٹ کا اس سے بھی بڑھ کر ہے کہ وہ جنگلی وحشیوں
    اور نام کے انسانوں کو انواع و اقسام کی تعلیم کے ذریعہ سے اہل علم و عقل بنانا چاہتی ہے ہم دیکھتے ہیں کہ اس گورنمنٹ کی متواتر کوششوں
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 278
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 278
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/278/mode/1up
    سےؔ وہ لوگ جو قریب قریب مویشی اور چارپایوں کے تھے کچھ کچھ حصہ انسانیت اور فہم و فراست کا لے چکے ہیں اور
    اکثر دلوں اور دماغوں میں ایک ایسی روشنی پیدا ہوگئی ہے جو علوم کے حصول کے بعد پیدا ہوا کرتی ہے۔ معلومات کی وسعت نے گویا ایک دفعہ دنیا کو بدل دیا ہے لیکن جس طرح شیشے میں سے روشنی
    تو اندر گھر کے آ سکتی ہے مگر پانی نہیں آ سکتا اسی طرح علمی روشنی تو دلوں اور دماغوں میں آگئی ہے مگر ہنوز وہ مصفا پانی اخلاص اور روبحق ہونے کا اندر نہیں آیا جس سے روح کا پودا
    نشوونما پاتا اور اچھا پھل لاتا لیکن یہ گورنمنٹ کا قصور نہیں ہے بلکہ ابھی ایسے اسباب مفقود یا قلیل الوجود ہیں جو سچی روحانیت کو جوش میں لاویں۔ یہ عجیب بات ہے کہ علمی ترقی سے مکر اور
    فریب کی بھی کچھ ترقی معلوم ہوتی ہے اور اہل حق کو ناقابل برداشت وساوس کا سامنا ہے ایمانی سادگی بہت گھٹ گئی ہے اور فلسفیانہ خیالات نے جن کے ساتھ دینی معلومات ہم قدم نہیں ہیں ایک زہریلا
    اثر نو تعلیم یافتہ لوگوں پر ڈال رکھا ہے جو دہریت کی طرف کھینچ رہا ہے۔ اور واقعی نہایت مشکل ہے کہ اس اثر سے بغیر حمایت دینی تعلیم کے لوگ بچ سکیں پس وائے برحال اُس شخص کے جو
    ایسے مدرسوں اور کالجوں میں اس حالت میں چھوڑا گیا ہے جبکہ اس کو دینی معارف اور حقائق سے کچھ بھی خبر نہیں۔ ہاں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس عالی ہمت گورنمنٹ نے جو نوع انساں کی ہمدرد
    ہے۔ اس ملک کے دلوں کی زمین کو جو ایک بنجر پڑا ہوا تھا اپنے ہاتھ کی کوششوں سے جنگلی درختوں اور جھاڑیوں اور مختلف اقسام کے گھاس سے جو بہت اونچے اور فراہم ہوکر زمین کو ڈھک رہے
    تھے پاک کر دیا ہے اور اب قدرتی طور پر وہ وقت آ گیا ہے جو سچائی کا بیج اس زمین میں بویا جائے اور پھر آسمانی پانی سے آبپاشی ہو پس وہ لوگ بڑے ہی خوش نصیب ہیں جو اس مبارک گورنمنٹ
    کے ذریعہ سے آسمانی بارش کے قریب پہنچ گئے ہیں مسلمانوں کو چاہئے کہ اس گورنمنٹ کے وجود کو خدا تعالیٰ کا فضل سمجھیں اور اس کی سچی اطاعت کیلئے ایسی کوشش کریں کہ دوسروں
    کیلئے نمونہ ہو جائیں۔ کیا احسان کا عوض احسان نہیں۔ کیا نیکی کے بدلہ نیکی کرنا لازم نہیں سو چاہئے کہ ہریک شخض سوچ لے۔
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 279
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 279
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/279/mode/1up
    اور ؔ اپنا نیک جوہر دکھلاوے اسلامی شریعت کسی کے حق اور احسان کو ضائع کرنا نہیں چاہتی پس نہ منافقانہ طور پر بلکہ
    دل کی سچائی سے اس محسن گورنمنٹ سے اطاعت کے ساتھ پیش آنا چاہئے۔ کیونکہ ہمارے دین کی روشنی پھیلانے کیلئے پہلی تقریب خدا تعالیٰ نے یہی قائم کی ہے۔
    پھر دوسرا ذریعہ جو مذاہب
    کے شناخت کرنے کا ہمارے ملک میں پیدا ہوگیا چھاپے خانوں کی کثرت ہے کیونکہ ایسی کتابیں جو گویا زمین میں دفن تھیں ان چھاپہ خانوں کے ذریعہ سے گویا پھر زندہ ہوگئیں یہاں تک کہ ہندوؤں کا وید
    بھی نئے اوراق کا لباس پہن کر نکل آیا گویا نیا جنم لیا اور حمقاء اور عوام کی بنائی ہوئی کہانیوں کی پردہ دری ہوگئی۔
    تیسرا ذریعہ راہوں کا کھلنا اور ڈاک کا احسن انتظام اور دور دور ملکوں سے
    کتابوں کا اس ملک میں آجانا اور اس ملک سے ان ملکوں میں جانا یہ سب وسائل تحقیق حق کے ہیں جو خدا کے فضل نے ہمارے ملک میں موجود کر دئیے جن سے ہم پوری آزادی کے ذریعہ سے فائدہ اٹھا
    رہے ہیں یہ سب فوائد اس محسن اور نیک نیت گورنمنٹ کے ذریعہ ہمیں ملے ہیں جس کیلئے بے اختیار ہمارے دل سے دعا نکلتی ہے لیکن اگر یہ سوال ہو کہ پھر ایسی مہذب اور دانا گورنمنٹ ایسے
    مذہب سے کیوں تعلق رکھتی ہے جس میں انسان کو خدا بنا کر سچے خدا کے بدیہی اور قدیم اور غیر متغیر جلال کی کسر شان کی جاتی ہے۔ تو افسوس کہ اس سوال کا جواب بجز اس کے کچھ نہیں کہ
    سلاطین اور ملوک کو جو ملک داری کا خیال واجبی حد سے بڑھ جاتا ہے لہٰذا تد ّ بر اور تفکر کی تمام قوتیں اسی میں خرچ ہو جاتی ہیں اور قومی حمایت کی مصلحت آخرت کے امور کی طرف سر اٹھانے
    نہیں دیتی اور اسی طرح ایک مسلسل اور غیر منقطع دنیوی مطالب کے نیچے دب کر خدا شناسی اور حق جوئی کی روح کم ہو جاتی ہے اور بایں ہمہ خدا تعالیٰ کے فضل سے نومیدی نہیں کہ وہ اس
    باہمت گورنمنٹ کو صراط مستقیم کی طرف توجہ دلاوے۔ ہماری دعا جیسا کہ اس گورنمنٹ کی دنیوی بھلائی کیلئے ہے ایسا ہی آخرت کیلئے بھی ہے پس کیا تعجب ہے کہ دعا کا اثر ہم دیکھ
    لیں
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 280
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 280
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/280/mode/1up
    اسؔ زمانہ میں جبکہ حق اور باطل کے معلوم کرنے کیلئے بہت سے وسائل پیدا ہوگئے ہیں ہمارے ملک میں تین بڑے مذہب
    بالمقابل کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں ان مذاہب ثلٰثہ میں سے ہریک صاحب مذہب کو دعویٰ ہے کہ میرا ہی مذہب حق اور درست ہے اور تعجب کہ کسی کی زبان بھی اس بات کے انکار کی
    طرف مائل نہیں ہوتی کہ اس کا مذہب سچائی کے اصولوں پر مبنی نہیں۔ لیکن میں اس امر کو باور نہیں کر سکتا کہ جیسا کہ ہمارے مخالفوں کی زبانوں کا دعویٰ ہے ایسا ہی ایک سیکنڈ کیلئے ان کے دل
    بھی ان کی زبانوں سے اتفاق کر سکتے ہیں۔ سچے مذہب کی یہ ایک بڑی نشانی ہے کہ قبل اس کے جو ہم اس کی سچائی کے دلائل بیان کریں خود وہ اپنی ذات میں ہی ایسا روشن اور درخشاں ہوتا ہے کہ
    اگر دوسرے مذاہب اس کے مقابل پر رکھے جائیں تو وہ سب تاریکی میں پڑے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور اس دلیل کو اس وقت ایک دانشمند انسان صفائی سے سمجھ سکتا ہے جبکہ ہریک مذہب کو اس کے
    دلائل مخترعہ سے علیحدہ کر کے صرف اس کے اصل الاصول پر نظر کرے یعنی ان مذاہب کے طریق خدا شناسی کو فقط ایک دوسرے کے مقابل پر رکھ کر جانچے اور کسی مذہب کے عقیدہ
    خداشناسی پر بیرونی دلائل کا حاشیہ نہ چڑھاوے بلکہ مجرد عن الدلائل کر کے اور ایک مذہب کو دوسرے مذہب کے مقابل پر رکھ کر پرکھے اور سوچے کہ کس مذہب میں ذاتی سچائی کی چمک پائی
    جاتی ہے اور کس میں یہ خاصیت ہے کہ فقط اس کے طریق خداشناسی پر ہی نظر ڈالنا دلوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے مثلاً وہ تین مذہب جن کا میں ابھی ذکر کر چکا ہوں یہ ہیں آر۱یہ۔ عیسا۲ ئی۔ اسلا۳م
    اگر ہم ان تینوں کی اصل تصویر دکھلانا چاہیں تو بتفصیل ذیل ہے۔
    آریہ مذہب کا ایک ایسا خدا ہے جس کی خدائی اپنی ذاتی قوت اور قدرت پر چلنا غیر ممکن ہے اور اس کی تمام امیدیں ایسے وجودوں
    پر لگی ہوئی ہیں جو اس کے ہاتھ سے پیدا نہیں ہوئے حقیقی خدا کی قدرتوں کا انتہا معلوم کرنا انسان کا کام نہیں مگر آریوں کے پرمیشر کی قدرت
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 281
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 281
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/281/mode/1up
    انگلیوؔ ں پر گن سکتے ہیں۔ وہ ایک ایسا کم سرمایہ پرمیشر ہے کہ اس کی تمام قدرتوں کی حد معلوم ہو چکی ہے اور اگر اس
    کی قدرتوں کی بہت ہی تعریف کی جائے تو اس سے بڑھ کر کچھ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اپنے جیسی قدیم چیزوں کو معماروں کی طرح جوڑنا جانتا ہے اور اگر یہ سوال ہو کہ اپنے گھر سے کونسی چیز
    ڈالتاہے تو نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کچھ نہیں۔ غرض اس کی طاقت کا انتہائی مرتبہ صرف اس حد تک ہے کہ وہ موجودہ روحوں اور اجسام صغار کو جو قدیم اور اس کے وجود کی طرح انادی
    اور واجب الوجود ہیں جن کی پیدائش پر اس کے وجود کا کچھ بھی اثر نہیں باہم پیوند کر دیتا ہے لیکن اس بات پر دلیل قائم ہونا مشکل ہے کہ کیوں ان قدیم چیزوں کو ایسے پرمیشر کی حاجت ہے جبکہ کل
    چیزیں خودبخود ہیں ان کے تمام قویٰ بھی خودبخود ہیں اور ان میں باہم ملنے کی استعداد بھی خودبخود ہے اور ان میں قوت جذب اور کشش بھی قدیم سے ہے اور ان کے تمام خواص جو ترکیب کے بعد بھی
    ظاہر ہوتے ہیں خود بخود ہیں تو پھر سمجھ نہیں آتا کہ کس دلیل سے اس ناقص اور ناطاقت پرمیشر کی ضرورت ثابت ہوتی ہے اور اس میں اور اس کے غیر میں مابہ الامتیاز بجز زیادہ ہوشیار اور ذہین
    ہونے کے اور کیا ہو سکتا ہے۔ اس میں کیا شک ہے کہ آریوں کا پرمیشر ان بے انتہا قدرتوں سے ناکام ہے جو الوہیت کے کمال کے متعلق ہیں اور یہ اس فرضی پرمیشر کی بدقسمتی ہے کہ اس کو وہ کمال
    تام میسر نہ ہو سکا جو الوہیت کا پورا جلال چمکنے کیلئے ضروری ہے اور دوسری بدنصیبی یہ ہے کہ بجز چند ورق وید کے قانون قدرت کی رو سے اس کے شناخت کرنے کی کوئی بھی راہ نہیں
    کیونکہ اگر یہی بات صحیح ہے کہ ارواح اور ذرات اجسام معہ اپنی تمام قوتوں اور کششوں اور خاصیتوں اور عقلوں اور ادراکوں اور شعوروں کے خودبخود ہیں تو پھر ایک عقل سلیم ان چیزوں کے
    جوڑنے کیلئے کسی دوسرے شخص کی ضرورت نہیں سمجھتی وجہ یہ کہ اس صورت میں اس سوال کا جواب دینا امکان سے خارج ہے کہ جو چیزیں اپنے وجود کی قدیم سے آپ ہی خدا ہیں اور اپنے
    اندر وہ تمام قوتیں بھی رکھتی ہیں جو ان کے باہم جوڑنے کیلئے ضرور ی ہیں تو پھر جس حالت میں ان کو اپنے وجود کیلئے پرمیشر کی حاجت نہیں ہوئی اور اپنی
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 282
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 282
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/282/mode/1up
    قوتوؔ ں اور خاصیتوں میں کسی بنانے والے کی محتاج نہیں ٹھہریں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ان کو باہم تعلق کیلئے کسی
    دوسرے جوڑنے والے کی حاجت پڑگئی حالانکہ روحوں کے ساتھ ان کے قویٰ کا جوڑنا اور ذرات اجسام کے ساتھ ان کی قوتوں کا جوڑنا یہ بھی ایک جوڑنے کی قسم ہے پس اس سے تو یہ ثابت ہو گیاہے
    کہ ان قدیم چیزوں کو جیسا کہ اپنے وجود کیلئے کسی خالق کی ضرورت نہیں اور اپنی قوتوں کیلئے کسی موجد کی حاجت نہیں ایسا ہی باہم جوڑ پیدا ہونے کے لئے کسی صانع کی حاجت نہیں اور یہ
    نہایت بیوقوفی ہوگی کہ جب اول خود اپنی ہی زبان سے ان چیزوں کی نسبت مان لیں کہ وہ اپنے وجود اور اپنی قوّ توں اور اپنے باہم جوڑ کیلئے دوسرے کے محتاج نہیں تو پھر اسی منہ سے یہ بھی کہیں
    کہ بعض چیزوں کے جوڑنے کیلئے ضرور کسی دوسرے کی حاجت ہے پس یہ تو ایک دعویٰ ہوگا جس کے ساتھ کوئی دلیل نہیں۔ غرض اس عقیدہ کی رو سے پرمیشر کا وجود ہی ثابت کرنا مشکل ہوگا
    سو اس انسان سے زیادہ کوئی بدقسمت نہیں جو ایسے پرمیشر پر بھروسہ رکھتا ہے جس کو اپنا وجود ثابت کرنے کیلئے بھی بباعث کمی قدرت کے کوئی عمدہ اسباب میسر نہیں آ سکے۔ یہ تو ہندوؤں
    کے پرمیشر میں خدائی کی طاقتیں ہیں اور اخلاقی طاقتوں کا یہ حال ہے کہ وہ انسانوں کی طاقتوں سے بھی کچھ گری ہوئی معلوم ہوتی ہیں چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک نیک دل انسان بارہا ایسے
    قصورواروں کے قصور بخش دیتا ہے جو عجز اور نیاز کے ساتھ اس سے معافی چاہتے ہیں اور بارہا اپنے کرم نفس کی خاصیت سے ایسے لوگوں پر احسان کرتا ہے جن کا کچھ بھی حق نہیں ہوتا لیکن
    آریہ لوگ اپنے پرمیشر کی نسبت یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ان دونوں قسموں کے خلقوں سے بھی بے نصیب ہے اور ان کے نزدیک ہریک گناہ کروڑ ہا جونوں کا موجب ہے اور جب تک کوئی گنہگار بے انتہا
    جونوں میں پڑ کر پوری سزا نہ پالے تب تک کوئی صورتَ مخلصی نہیں اور ان کے عقیدہ کی رو سے یہ امید بالکل بے سود ہے کہ انسان کی توبہ اور پشیمانی اور استغفار اس کے دوسرے جنم میں
    پڑنے سے روک دے گی یا حق کی طرف رجوع کرنا گذشتہ ناحق کے اقوال و اعمال کی سزا سے اُسے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 283
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 283
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/283/mode/1up
    بچا ؔ لے گا۔ بلکہ بیشمار جونوں کا بھگتنا ضروری ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتا اور کرم اور جود کے طور پر کچھ
    بخشش کرنا تو پرمیشر کی عادت ہی نہیں۔ جو کچھ انسان یا حیوان کوئی عمدہ حالت رکھتا ہے یا کوئی نعمت پاتا ہے وہ کسی پہلی جون کا پھل ہے مگر افسوس کہ باوجودیکہ آریوں کو وید کے اصولوں پر
    بہت ہی ناز ہے مگر پھر بھی یہ وید کی باطل تعلیم ان کی انسانی کانشنس کو مغلوب نہیں کرسکی اور مجھے ان ملاقاتوں کی وجہ سے جو اکثر اس فرقہ کے بعض لوگوں سے ہوتی ہیں یہ بات بارہا تجربہ
    میں آ چکی ہے کہ جس طرح نیوگ کے ذکر کے وقت ایک ندامت آریوں کو دامنگیر ہو جاتی ہے اسی طرح وہ نہایت ہی ندامت زدہ ہوتے ہیں جب کہ ان سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ پرمیشر کی قدرتی اور
    اخلاقی طاقتیں کیوں ایسی محدود ہوگئیں جن کی شامت سے اس کی خدائی بھی عندالعقل ثابت نہیں ہو سکتی اور جس کی وجہ سے بدنصیب آریہ دائمی نجات پانے سے محروم رہے۔ غرض ہندوؤں کے
    پرمیشر کی حقیقت اور ماہیت یہی ہے کہ وہ اخلاقی اور الوہیت کی طاقتوں میں نہایت کمزور اور قابل رحم ہے اور شاید یہی سبب ہے کہ ویدوں میں پرمیشر کی پرستش چھوڑ کر اگنی اور وایو اور چاند
    اور سورج اور پانی کی پرستش پر زور ڈالا گیا ہے اور ہریک عطا اور بخشش کا سوال ان سے کیا گیا ہے کیونکہ جبکہ پرمیشر آریوں کو کسی منزل تک نہیں پہنچا سکتا بلکہ خود پوری قدرتوں سے
    محروم رہ کر نامرادی کی حالت میں زندگی بسر کرتا ہے تو پھر دوسرے کا اس پر بھروسہ کرنا صریح غلطی ہے۔ ہندوؤں کے پرمیشر کی کامل تصویر آنکھوں کے سامنے لانے کیلئے اسی قدر کافی ہے
    جو ہم لکھ چکے۔
    اب دوسرا مذہب یعنی عیسائی باقی ہے جس کے حامی نہایت زور و شور سے اپنے خدا کو جس کا نام انہوں نے یسوع مسیح رکھا ہوا ہے بڑے مبالغہ سے سچا خدا سمجھتے ہیں اور
    عیسائیوں کے خدا کا حلیہ یہ ہے کہ وہ ایک اسرائیلی آدمی مریم بنت یعقوب کا بیٹا ہے جو ۳۲ برس کی عمر پاکر اس دارالفنا سے گذر گیا۔ جب ہم سوچتے ہیں کہ کیونکر وہ گرفتار ہونے کے وقت ساری
    رات دعا کر کے پھر بھی اپنے مطلب سے نامراد رہا اور ذلت کے ساتھ پکڑا گیا
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 284
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 284
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/284/mode/1up
    اور ؔ بقول عیسائیوں کے سولی پر کھینچا گیا اور ایلی ایلی کرتا مرگیا تو ہمیںیک دفعہ بدن پر لرزہ پڑتا ہے کہ کیا ایسے انسان
    کو جس کی دعا بھی جناب الٰہی میں قبول نہ ہو سکی اور نہایت ناکامی اور نامرادی سے ماریں کھاتا کھاتا مرگیا قادر خدا کہہ سکتے ہیں ذرا اس وقت کے نظارہ کو آنکھوں کے سامنے لاؤ جبکہ یسوع
    مسیح حوالات میں ہوکر پلاطوس کی عدالت سے ہیرودوس کی طرف بھیجا گیا۔ کیا یہ خدائی کی شان ہے کہ حوالات میں ہوکر ہتھکڑی ہاتھ میں زنجیر پیروں میں چند سپاہیوں کی حراست میں چالان ہو کر
    جھڑکیاں کھاتا ہو ا گلیلکی طرف روانہ ہوا۔ اور اس حالت ُ پر ملالت میں ایک حوالات سے دوسری حوالات میں پہنچا۔ پلاطوس نے کرامت دیکھنے پر چھوڑنا چاہا اس وقت کوئی کرامت دکھلا نہ سکا۔
    ناچار پھر حراست میں واپس کر کے یہودیوں کے حوالہ کیا گیا اور انہوں نے ایک دم میں اس کی جان کا قصہ تمام کر دیا۔
    اب ناظرین خود سوچ لیں کہ کیا اصلی اور حقیقی خدا کی یہی علامتیں ہوا
    کرتی ہیں کیا کوئی پاک کانشنس اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ وہ جو زمین و آسمان کا خالق اور بے انتہا قدرتوں اور طاقتوں کا مالک ہے وہ اخیر پر ایسا بدنصیب اور کمزور اور ذلیل حالت میں ہوجائے
    کہ شریر انسان اس کو اپنے ہاتھوں میں مل ڈالیں۔ اگر کوئی ایسے خدا کو پوجے اور اس پر بھروسہ کرے تو اسے اختیار ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ اگر آریوں کے پرمیشر کے مقابل پر بھی عیسائیوں
    کے خدا کو کھڑا کر کے اس کی طاقت اور قدرت کو وزن کیا جائے تب بھی اس کے مقابل پر بھی یہ ہیچ محض ہے کیونکہ آریوں کا فرضی پرمیشر اگرچہ پیدا کرنے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتا لیکن
    کہتے ہیں کہ پیدا شدہ چیزوں کو کسی قدر جوڑ سکتا ہے مگر عیسائیوں کے یسوع میں تو اتنی بھی طاقت ثابت نہ ہوئی جس وقت یہودیوں نے صلیب پر کھینچ کر کہا تھا کہ اگر تو اب اپنے آپ کو بچائے
    تو ہم تیرے پر ایمان لاویں گے تو وہ ان کے سامنے اپنے تئیں بچا نہ سکا ورنہ اپنے تئیں بچانا کیا کچھ بڑا کام تھا صرف اپنے روح کو اپنے جسم کے ساتھ جوڑنا تھا سو اس کمزور کو جوڑنے کی بھی
    طاقت نہ ہوئی پیچھے سے پردہ داروں
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 285
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 285
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/285/mode/1up
    نے ؔ باتیں بنا لیں کہ وہ قبر میں زندہ ہوگیا تھا مگر افسوس کہ انہوں نے نہ سوچا کہ یہودیوں کا تو یہ سوال تھا کہ ہمارے
    روبرو ہمیں زندہ ہو کر دکھلاوے پھر جبکہ ان کے روبرو زندہ نہ ہو سکا اور نہ قبر میں زندہ ہو کر ان سے آکر ملاقات کی تو یہودیوں کے نزدیک بلکہ ہریک محقق کے نزدیک اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ
    حقیقت میں زندہ ہوگیا تھا اور جب تک ثبوت نہ ہو تب تک اگر فرض بھی کرلیں کہ قبر میں لاش گم ہوگئی تو اس سے زندہ ہونا ثابت نہیں ہو سکتا بلکہ عندالعقل یقینی طور پر یہی ثابت ہوگا کہ درپردہ کوئی
    کرامات دکھلانے والا چورا کر لے گیا ہوگا دنیا میں بہتیرے ایسے گذرے ہیں کہ جن کی قوم یا معتقدوں کا یہی اعتقاد تھا کہ ان کی نعش گم ہو کر وہ معہ جسم بہشت میں پہنچ گئی ہے تو کیا عیسائی قبول
    کرلیں گے کہ فی الحقیقت ایسا ہی ہوا ہوگا مثلاً دور نہ جاؤ بابا نانک صاحب کے واقعات پر ہی نظر ڈالو کہ ۱۷ لاکھ سکھ صاحبوں کا اسی پر اتفاق ہے کہ درحقیقت وہ مرنے کے بعد معہ اپنے جسم کے
    بہشت میں پہنچ گئے اور نہ صرف اتفاق بلکہ ان کی معتبر کتابوں میں جو اسی زمانہ میں تالیف ہوئیں یہی لکھا ہوا ہے۔ اب کیا عیسائی صاحبان قبول کر سکتے ہیں کہ حقیقت میں بابا نانک صاحب معہ
    جسم بہشت میں ہی چلے گئے ہیں افسوس کہ عیسائیوں کو دوسروں کیلئے تو فلسفہ یاد آجاتا ہے مگر اپنے گھر کی نامعقول باتوں سے فلسفہ کو چھونے بھی نہیں دیتے۔ اگر عیسائی صاحبان کچھ انصاف
    سے کام لینا چاہیں تو جلد سمجھ سکتے ہیں کہ سکھ صاحبوں کے دلائل بابا نانک صاحب کی نعش گم ہونے اور معہ جسم بہشت میں جانے کے بارے میں عیسائیوں کے مزخرفات کی نسبت بہت ہی قوی
    اور قابل توجہ ہیں اور بلاشبہ انجیل کی وجوہ سے زبردست ہیں کیونکہ اول تو وہ واقعات اسی وقت بالا والی جنم ساکھی میں لکھے گئے مگر انجیلیں یسوع کے زمانہ سے بہت برس بعد لکھی گئیں پھر
    ایک اور ترجیح بابانانک صاحب کے واقعہ کو یہ ہے کہ یسوع کی طرف جو یہ کرامت منسوب کی گئی ہے تو یہ درحقیقت اس ندامت کی پردہ پوشی کی غرض سے معلوم ہوتی ہے جو یہودیوں کے
    سامنے حواریوں کو اٹھانی پڑی کیونکہ جب یہودیوں نے یسوع کو صلیب پر کھینچ کر پھر اس سے یہ معجزہ چاہا کہ اگر وہ اب زندہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 286
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 286
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/286/mode/1up
    ہوکرؔ صلیب پر سے اتر آئے تو ہم اس پر ایمان لائیں گے تو اس وقت یسوع صلیب پر سے اتر نہ سکا پس اس وجہ سے یسوع
    کے شاگردوں کو بہت ہی ندامت ہوئی اور وہ یہودیوں کے سامنے منہ دکھانے کے قابل نہ رہے لہٰذا ضرور تھا کہ وہ ندامت کے چھپانے کیلئے کوئی ایسا حیلہ کرتے جس سے سادہ لوحوں کی نظر میں
    اس طعن اور ٹھٹھے اور ہنسی سے بچ جاتے۔ سو اس بات کو عقل قبول کرتی ہے کہ انہوں نے فقط ندامت کا کلنک اپنے منہ پر سے اتارنے کی غرض سے ضرور یہ حیلہ بازی کی ہوگی کہ رات کے
    وقت جیسا کہ ان پر الزام لگا تھا یسوع کی نعش کو اس کی قبر میں سے نکال کر کسی دوسری قبر میں رکھ دیا ہوگا اور پھر حسب مثل مشہور کہ خواجہ کا گواہ ڈڈو کہہ دیا ہوگا کہ لو جیسا کہ تم
    درخواست کرتے تھے یسوع زندہ ہوگیا مگر وہ آسمان پر چلا گیا ہے لیکن یہ مشکلیں بابانانک صاحب کے فوت ہونے پر سکھ صاحبوں کو پیش نہیں آئیں اور نہ کسی دشمن نے ان پر یہ الزام لگایا اور نہ
    ایسے فریبوں کیلئے ان کو کوئی ضرورت پیش آئی اور نہ جیسا کہ یہودیوں نے شور مچایا تھا کہ نعش چرائی گئی ہے کسی نے شور مچایا سو اگر عیسائی صاحبان بجائے یسوع کے بابانانک صاحب کی
    نسبت یہ عقیدہ رکھتے تو کسی قدر معقول بھی تھا مگر یسوع کی نسبت تو ایسا خیال صریح بناوٹ اور جعلسازی کی بدبو سے بھرا ہوا ہے۔
    اخیر عذر یسوع کے دکھ اٹھانے اور مصلوب ہونے کا یہ
    بیان کیا جاتا ہے کہ وہ خدا ہوکر پھر اسلئے سولی پر کھینچا گیا کہ تا اس کی موت گناہگاروں کیلئے کفارہ ٹھہرے لیکن یہ بات بھی عیسائیوں کی ہی ایجاد ہے کہ خدا بھی مرا کرتا ہے گو مرنے کے بعد
    پھر اس کو زندہ کر کے عرش پر پہنچا دیا اور اس باطل وہم میں آج تک گرفتار ہیں کہ پھر وہ عدالت کرنے کیلئے دنیا میں آئے گا اور جو جسم مرنے کے بعد اس کو دوبارہ ملا وہی جسم خدائی کی حیثیت
    میں ہمیشہ اس کے ساتھ رہے گا ۔مگر عیسائیوں کا یہ مجسم خدا جس پر بقول ان کے ایک مرتبہ موت بھی آ چکی ہے اور خون گوشت ہڈی اور اوپر نیچے کے سب اعضاء رکھتا ہے یہ ہندوؤں کے ان
    اوتاروں سے مشابہ ہے جن کو آج کل آریہ لوگ بڑے جوش سے چھوڑتے جاتے ہیں صرف فرق یہ ہے کہ عیسائیوں کے خدا نے تو صرف ایک مرتبہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 287
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 287
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/287/mode/1up
    مریم ؔ بنت یعقوب کے پیٹ سے جنم لیا مگر ہندوؤں کے خدا بشن نے نو مرتبہ دنیا کے گناہ دور کرنے کیلئے تولد کا داغ اپنے
    لئے قبول کرلیا خصوصاً آٹھویں مرتبہ کا جنم لینے کا قصہ نہایت دلچسپ بیان کیا جاتا ہے چنانچہ کہتے ہیں کہ جب زمین دیئتوں کی طاقت سے مغلوب ہوگئی تو بشن نے آدھی رات کو کنواری لڑکی کے
    پیٹ سے پیدا ہوکر اوتار لیا اور جو پاپ دنیا میں پھیلے ہوئے تھے ان سے لوگوں کو چھوڑایا۔ یہ قصہ اگرچہ عیسائیوں کے مذاق کے موافق ہے مگر اس بات میں ہندوؤں نے بہت عقلمندی کی کہ
    عیسائیوں کی طرح اپنے اوتاروں کو سولی نہیں دیا اور نہ ان کے *** ہونے کے قائل ہوئے۔ قرآن شریف کے بعض اشارات سے نہایت صفائی کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو خدا بنانے کے موجد
    پہلے آریہ ورت کے برہمن ہی ہیں اور پھر یہی خیالات یونانیوں نے ہندوؤں سے لئے آخر اس مکروہ اعتقاد میں ان دونوں قوموں کے فضلہ خوار عیسائی بنے۔ اور ہندوؤں کو ایک اور بات دور کی سوجھی
    جو عیسائیوں کو نہیں سوجھی اور وہ یہ کہ ہندو لوگ خدائے ازلی ابدی کے قدیم قانون میں یہ بات داخل رکھتے ہیں کہ جب کبھی دنیا گناہ سے بھر گئی تو آخر ان کے پرمیشر کو یہی تدبیر خیال میں آئی
    کہ خود دنیا میں جنم لے کر لوگوں کو نجات دیوے اور ایسا واقعہ صرف ایک دفعہ نہیں ہوا بلکہ ہمیشہ ضرورت کے وقتوں میں ہوتا رہا لیکن گو عیسائیوں کا یہ تو عقیدہ ہے کہ خدا تعالیٰ قدیم ہے اور
    گذشتہ زمانہ کی طرف خواہ کیسے ہی اُ وپر سے اوپر چڑھتے جائیں اس خدا کے وجود کا کہیں ابتداء نہیں اور قدیم سے وہ خالق اور رب العالمین بھی ہے لیکن وہ اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ وہ ہمیشہ
    سے اور غیر متناہی زمانوں سے اپنے پیارے بیٹوں کو لوگوں کیلئے سولی پر چڑھاتا رہا ہے بلکہ کہتے ہیں کہ یہ تدبیر ابھی اس کو کچھ تھوڑے عرصہ سے ہی سوجھی ہے اور ابھی بڈھے باپ کو یہ
    خیال آیا ہے کہ بیٹے کو سولی دلا کر دوسروں کو عذاب سے بچاوے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اس بات کے ماننے سے کہ خدا قدیم اور ابد الآباد سے چلا آتا ہے یہ دوسری بات بھی ساتھ ہی ماننی پڑتی ہے کہ
    اس کی مخلوقات بھی بحیثیت قدامت نوعی ہمیشہ سے ہی چلی آئی ہے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 288
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 288
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/288/mode/1up
    اورؔ صفات قدیمہ کے تجلیات قدیمہ کی وجہ سے کبھی ایک عالم مکمن عدم میں مختفی ہوتا چلا آیا ہے اور کبھی دوسرا عالم
    بجائے اس کے ظاہر ہوتا رہا ہے اور اس کا شمار کوئی بھی نہیں کر سکتا کہ کس قدر عالموں کو خدا نے اس دنیا سے اٹھا کر دوسرے عالم بجائے اس کے قائم کئے چنانچہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں
    یہ فرما کر کہ ہم نے آدم سے پہلے جان کو پیدا کیا تھا اسی قدامت نوع عالم کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ لیکن عیسائیوں نے باوجود بدیہی ثبوت اس بات کے کہ قدامت نوع عالم ضروری ہے پھر اب تک
    کوئی ایسی فہرست پیش نہیں کی جس سے معلوم ہو کہ ان غیر محدود عالموں میں جو ایک دوسرے سے بالکل بے تعلق تھے کتنی مرتبہ خدا کا فرزند سولی پر کھینچا گیا کیونکہ یہ تو ظاہر ہے کہ بموجب
    اصول عیسائی مذہب کے کوئی شخص بجز خدا کے فرزند کے گناہ سے خالی نہیں پس اس صورت میں تو یہ سوال ضروری ہے کہ وہ مخلوق جو ہمارے اس آدم سے بھی پہلے گزر چکی ہے جن کا ان
    بنی آدم کے سلسلہ سے کچھ تعلق نہیں ان کے گناہ کی معافی کا کیا بندوبست ہوا تھا اور کیا یہی بیٹا ان کو نجات دینے کیلئے پہلے بھی کئی مرتبہ پھانسی مل چکا ہے یا وہ کوئی دوسرا بیٹا تھا جو پہلے
    زمانوں میں پہلی مخلوق کیلئے سولی پر چڑھتا رہا جہاں تک ہم خیال کرتے ہیں ہمیں تو یہ سمجھ آتا ہے کہ اگر صلیب کے بغیر گناہوں کی معافی نہیں تو عیسائیوں کے خدا کے بے انتہا اور اَنْ گنت بیٹے
    ہوں گے جو وقتًافوقتًا ان معرکوں میں کام آئے ہوں گے اور ہریک اپنے وقت پر پھانسی ملا ہوگا پس ایسے خدا سے کسی بہبودی کی امیدر کھنا لاحاصل ہے جس کے خود اپنے ہی نوجوان بچے مرتے رہے۔
    228
    امرت سر کے مباحثہ میں بھی ہم نے یہ سوال کیا تھا کہ عیسائی یہ اقرار کرتے ہیں کہ ان کا خدا کسی کو گناہ میں ہلاک کرنا نہیں چاہتا پھر اس صورت میں ان پر یہ اعتراض ہے کہ اس خدا
    نے ان شیاطین کی پلید روحوں کی نجات کیلئے کیا بندوبست کیا جن پلید روحوں کا ذکر انجیل میں موجود ہے* کیا کوئی ایسا بیٹا بھی دنیا میں آیا۔ جس نے شیاطین کے گناہوں کے
    * نوٹ۔ اسلامی
    تعلیم سے ثابت ہے کہ شیاطین بھی ایمان لے آتے ہیں چنانچہ ہمارے سید و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 289
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 289
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/289/mode/1up
    لئےؔ اپنی جان دی ہو یا شیاطین کو گناہ سے باز رکھا ہو اگر ایسا کوئی انتظام نہیں ہوا تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسائیوں
    کا خدا اس بات پر ہمیشہ راضی رہا ہے جو شیاطین کو جو عیسائیوں کے اقرار سے بنی آدم سے بھی زیادہ ہیں ہمیشہ کی جہنم میں جلا وے پھر جبکہ ایسے کسی بیٹے کا نشان نہیں دیا گیا تو اس صورت
    میں عیسائیوں کو اقرار کرنا پڑا کہ ان کے خدا نے شیاطین کو جہنم کیلئے ہی پیدا کیا ہے۔ غرض بیچارے عیسائی جب سے ابن مریم کو خدا بنا بیٹھے ہیں بڑی بڑی مصیبتوں میں پڑے ہوئے ہیں کوئی ایسا
    دن نہیں ہوگا کہ خود انہیں کی روح ان کے اس اعتقاد کو نفرت سے نہیں دیکھتی ہوگی۔ پھر ایک اور مصیبت ان کو یہ پیش آئی ہے کہ اس مصلوب کی علّت غائی عندالتحقیق کچھ ثابت نہیں ہوتی اور اس
    کے صلیب پر کھینچے جانے کا کوئی ثمرہ بپایہ ثبوت نہیں پہنچتا کیونکہ صورتیں صرف دو ہیں۔
    (ا) اول۔ یہ کہ اس مرحوم بیٹے کی مصلوب ہونے کی علّت غائی یہ قرار دیں کہ تا اپنے ماننے
    والوں کو گناہ کرنے میں دلیر کرے اور اپنے کفارہ کے سہارے سے خوب زورشور سے فسق و فجور اور ہریک قسم کی بدکاری پھیلاوے سو یہ صورت تو ببداہت نامعقول اور شیطانی طریق ہے اور
    میرے خیال میں دنیا میں کوئی بھی ایسا نہیں ہوگا کہ اس فاسقانہ طریق کو پسند کرے اور ایسے کسی مذہب کے بانی کو نیک قرار دے جس نے اس طرح پر عام آدمیوں کو گناہ کرنے کی ترغیب دی ہو
    بلکہ تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ اس طرح کا فتویٰ وہی لوگ دیتے ہیں جو درحقیقت ایمان اور نیک چلنی سے محروم رہ کر اپنے اغراض نفسانی کی وجہ سے دوسروں کو بھی بدکاریوں کے جنم میں ڈالنا
    چاہتے تھے اور یہ لوگ درحقیقت ان نجومیوں کے مشابہ ہیں جو ایک
    فرمایا کہ میرا شیطان مسلمان ہوگیا ہے غرض ہر ایک انسان کے ساتھ ایک شیطان ہوتا ہے اور مطہر اور مقرّ ب انسان کا شیطان
    ایمان لے آتا ہے مگر افسوس کہ یسوع کا شیطان ایمان نہیں لا سکا بلکہ الٹا اس کو گمراہ کرنے کی فکر میں ہوا اور ایک پہاڑ پر لے گیا اور دنیا کی دولتیں دکھلائیں اور وعدہ کیا کہ سجدہ کرنے پر یہ تمام
    دولتیں دے دوں گا اور شیطان کا یہ مقولہ حقیقت میں ایک بڑی پیشگوئی تھی اور اس بات کی طرف اشارہ بھی تھا کہ جب عیسائی قوم اس کو سجدہ کرے گی تو دنیا کی تمام دولتیں ان کو دی جاویں گی سو
    ایسا ہی ظہور میں آیا جن کے پیشوا نے خدا کہلا کر پھر شیطان کی پیروی کی یعنی اس کے پیچھے ہولیا ان کا شیطان کو سجدہ کرنا کیا بعید تھا غرض عیسائیوں کی دولتیں درحقیقت اسی سجدہ کی وجہ
    سے ہیں جو انہوں نے شیطان کو کیا اور ظاہر ہے کہ شیطانی وعدہ کے موافق سجدہ کے بعد عیسائیوں کو دنیا کی دولتیں دی گئیں۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 290
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 290
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/290/mode/1up
    شارؔ ع عام میں بیٹھ کر راہ چلتے لوگوں کو پھسلاتے اور فریب دیتے ہیں اور ایک ایک پیسہ لیکر بیچارے حمقاء کو بڑے تسلی
    بخش الفاظ میں خوشخبری دیتے ہیں کہ عنقریب ان کی ایسی ایسی نیک قسمت کھلنے والی ہے اور ایک سچے محقق کی صورت بنا کر ان کے ہاتھ کے نقوش اور چہرہ کے خط و خال کو بہت توجہ سے
    دیکھتے بھالتے ہیں گویا وہ بعض نشانوں کا پتہ لگا رہے ہیں۔ اور پھر ایک نمائشی کتاب کے ورقوں کو جو صرف اسی فریب دہی کیلئے آگے دھری ہوتی ہے الٹ پلٹ کر یقین دلاتے ہیں کہ درحقیقت
    پوچھنے والے کا ایک بڑا ہی ستارہ قسمت چمکنے والا ہے غالبا کسی ملک کا بادشاہ ہو جائے گا ورنہ وزارت تو کہیں نہیں گئی اور یا یہ لوگ جو کسی کو باوجود اس کی دائمی ناپاکیوں کے خدا کا مورد
    فضل بنانا چاہتے ہیں ان کیمیا گروں کی مانند ہیں جو ایک سادہ لوح مگر دولتمند کو دیکھ کر طرح طرح کی لاف زنیوں سے شکار کرنا چاہتے ہیں اور ادھر ادھر کی باتیں کرتے کرتے پہلے آنیوالے کیمیا
    گروں کی مذمت کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ جھوٹے بدذات ناحق اچکّوں کے طور پر لوگوں کا مال فریب سے کھسکا کر لے جاتے ہیں اور پھر آخر بات کو کشاں کشاں اس حد تک پہنچاتے ہیں کہ صاحبو
    میں نے اپنے پچاس یا ساٹھ برس کی عمر میں جس کو کیمیاگری کا مدعی دیکھاجھوٹا ہی پایا۔ ہاں میرے گوروبیکنٹھ باشی سچے رسائنی تھے کروڑ ہا روپیہ کا دان کر گئے مجھے خوش نصیبی سے باراں
    برس تک ان کی خدمت کا شرف حاصل ہوا اور پھل پایا۔ پھل پانے کا نام سن کر ایک جاہل بول اٹھتا ہے کہ بابا جی تب تو آپ نے ضرور سائن کا نسخہ گورو جی سے سیکھ لیا ہوگا۔ یہ بات سن کر بابا جی
    کچھ ناراض ہوکر تیوری چڑھا کر بولتے ہیں کہ میاں اس بات کا نام نہ لو ہزاروں لوگ جمع ہو جائیں گے ہم تو لوگوں سے چھپ کر بھاگتے پھرتے ہیں۔ غرض ان چند فقروں سے ہی جاہل دام میں آ جاتے
    ہیں پھر تو شکار دام افتادہ کو ذبح کرنے کیلئے کوئی بھی د ّ قت باقی نہیں رہتی خلوت میں راز کے طور پر سمجھاتے ہیں کہ درحقیقت تمہاری ہی خوش قسمتی ہمیں ہزاروں کوسوں سے کھینچ لائی ہے
    اور اس بات سے ہمیں خود بھی حیرانی ہے کہ کیونکر یہ سخت دل تمہارے لئے نرم ہوگیا اب جلدی کرو اور گھر سے یا مانگ کر دس ہزار کا طلائی زیور لے آؤ ایک ہی رات میں دہ چند ہو جائے گا مگر
    خبردار کسی کو
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 291
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 291
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/291/mode/1up
    میرؔ ی اطلاع نہ دینا کسی اور بہانہ سے مانگ لینا قصہ کوتاہ یہ کہ آخر زیور لے کر اپنی راہ لیتے ہیں اور وہ دیوانے دہ
    ۱۰چند کی خواہش کرنے والے اپنی جان کو روتے رہ جاتے ہیں یہ اس طمع کی شامت ہوتی ہے جو قانون قدرت سے غفلت کر کے انتہا تک پہنچائی جاتی ہے مگر میں نے سنا ہے کہ ایسے ٹھگوں کو یہ
    ضرور ہی کہنا پڑتا ہے کہ جس قدر ہم سے پہلے آئے یا بعد میں آویں گے یقیناًسمجھو کہ وہ سب فریبی اور بٹ مار اور ناپاک اور جھوٹے اور اس نسخہ سے بیخبر ہیں۔ ایسا ہی عیسائیوں کی پٹری بھی
    جم نہیں سکتی جب تک کہ حضرت آدم سے لے کر اخیر تک تمام مقدس نبیوں کو پاپی اور بدکانہ نہ بنالیں۔*
    (۲) دوسری صورت اس قابل رحم بیٹے کے مصلوب ہونے کی یہ ہے کہ اس کے سولی
    ملنے کی یہ علّت غائی قرار دی جائے کہ اس کی سولی پر ایمان لانے والے ہریک قسم کے گناہ اور بدکاریوں سے بچ جائیں گے اور ان کے نفسانی جذبات ظہور میں نہ آنے پائیں گے مگر افسوس کہ
    جیسا کہ پہلی صورت خلاف تہذیب اور بدیہی البطلان ثابت ہوئی تھی ایسا ہی یہ صورت بھی کھلے کھلے طور پر باطل ہی ثابت ہوئی ہے کیونکہ اگر فرض کیا جائے کہ یسوع کا کفارہ ماننے میں ایک
    ایسی خاصیت ہے کہ اس پر سچا ایمان لانے والا فرشتہ سیرت بن جاتا ہے اور پھر بعدازاں اس کے دل میں گناہ کا خیال ہی نہیں آتا تو تمام گذشتہ نبیوں کی نسبت کہنا پڑے گا کہ وہ یسوع کی سولی اور
    کفارہ پر سچا ایمان نہیں لائے تھے کیونکہ انہوں نے تو بقول عیسائیاں بدکاریوں میں حد ہی کردی کسی نے ان میں سے بت پرستی کی اورکسی نے ناحق کا خون کیا اور کسی نے اپنی بیٹیوں سے بدکاری
    کی اور بالخصوص یسوع کے دادا صاحب داؤد نے تو سارے ُ برے کام کئے ایک بیگناہ کو اپنی شہوت رانی کیلئے فریب سے قتل کرایا اور دلالہ عورتوں کو بھیج کر اس کی جورو کو منگوایا اور اس کو
    شراب پلائی اور اس سے زنا کیا اور بہت سا مال حرام کاری میں ضائع کیا اور تمام عمر سو۱۰۰ تک بیوی رکھی۔ اور یہ حرکت بھی بقول عیسائیاں زنا میں داخل تھی اور عجیب تر یہ کہ روح القدس
    بھی ہر روز اس پر نازل ہوتا تھا اور زبور بڑی سرگرمی سے اتر رہی تھی مگر افسوس کہ نہ تو روح القدس نے اور
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 292
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 292
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/292/mode/1up
    نہ ؔ یسوع کے کفارہ پر ایمان لانے نے بدکاریوں سے اس کو روکا آخر انہی بدعملیوں میں جان دی اور اس سے عجیب تر یہ
    کہ یہ کفارہ یسوع کی دادیوں اور نانیوں کو بھی بدکاری سے نہ بچا سکا حالانکہ ان کی بدکاریوں سے یسوع کے گوہر فطرت پر داغ لگتا تھا۔ اور یہ دادیاں نانیاں صرف ایک دو نہیں بلکہ تین ہیں۔ چنانچہ
    یسوع کی ایک بزرگ نانی جو ایک طور سے دادی بھی تھی یعنی راحاب کسبی یعنی کنجری تھی دیکھو یشوع ۲۔۱)اور دوسری نانی جو ایک طور سے دادی بھی تھی اس کا نام تمر ہے یہ خانگی بدکار
    عورتوں کی طرح حرامکار تھی دیکھو پیدائش ۳۸۔۱۶ سے ۳۰ اور ایک نانی یسوع صاحب کی جو ایک رشتہ سے دادی بھی تھی بنت سبع کے نام سے موسوم ہے یہ وہی پاکدامن تھی جس نے داؤد کے
    ساتھ زنا کیا تھا*دیکھو ۲ سموئیل ۱۱۔۲
    اب ظاہر ہے کہ ان دادیوں اور نانیوں کو یسوع کے کفارہ کی ضرور اطلاع دی گئی ہوگی اور اس پر ایمان لائی ہوں گی کیونکہ یہ تو عیسائیوں کا اصول ہے کہ
    پہلے نبیوں اور ان کی امت کو بھی یہی تعلیم کفارہ کی دی گئی تھی اور اسی پر ایمان لا کر ان کی نجات ہوئی پس اگر یسوع کے مصلوب ہونے کا یہ اثر سمجھا جائے کہ اس کی مصلوبیت پر ایمان لاکر
    گناہ سے انسان بچ جاتا ہے تو چاہئے تھا کہ یسوع کی دادیاں اور نانیاں زناکاریوں اور حرامکاریوں سے بچائی جاتیں مگر جس حالت تمام پیغمبر باوجودیکہ بقول عیسائیاں یسوع کی خودکشی پر ایمان
    لاتے تھے۔ بدکاریوں سے نہ بچ سکے اور نہ یسوع کی دادیاں نانیاں بچ سکیں تو اس سے صاف طور پر ثابت ہوگیا کہ یہ جھوٹا کفارہ کسی کو نفسانی جذبات سے بچا نہیں سکتا اور خود مسیح کو بھی بچا
    نہ سکا۔
    ہمارے سید و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ میری والدہ سے لیکر حوّا تک میری ماؤں کے سلسلہ میں کوئی عورت بدکار اور زانیہ نہیں اور نہ مرد زانی اور بدکار ہے
    لیکن بقول عیسائیوں کے ان کے خدا صاحب کی پیدائش میں تین زنا کار عورتوں کا خون ملا ہوا ہے حالانکہ توریت میں جو کچھ زانیہ عورتوں کی اولاد کی نسبت لکھا ہے وہ کسی پر پوشیدہ نہیں۔
    منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 293
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 293
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/293/mode/1up
    دیکھوؔ وہ کیسے شیطان کے پیچھے پیچھے* چلا گیا حالانکہ اس کو جانا مناسب نہ تھا اور غالباً یہی حرکت تھی جس کی
    وجہ سے وہ ایسا نادم ہوا کہ جب ایک شخص نے نیک کہا تو اس نے روکا کہ مجھے کیوں نیک کہتا ہے حقیقت میں ایسا شخص جو شیطان کے پیچھے پیچھے چلا گیا کیونکر جرأت کر سکتا ہے کہ اپنے
    تئیں نیک کہے یہ بات یقینی ہے کہ یسوع نے اپنے خیال سے اور بعض اور باتوں کی وجہ سے
    آجکل کے یورپین فلاسفر باوجود عیسائی ہونے کے اس بات کو نہیں مانتے کہ درحقیقت یسوع کو
    شیطان پھسلا کر ایک پہاڑی پر لے گیا تھا کیونکہ وہ لوگ شیطان کے تجسم کے قائل نہیں بلکہ خود شیطان کے وجود سے ہی منکر ہیں لیکن درحقیقت علاوہ خیالات ان فلاسفروں کے ایک اعتراض تو
    ضرور ہوتا ہے کہ اگر یہ واقعہ شیطان کی رفاقت کا یہودیوں کے پہاڑوں اور گذرگاہوں میں ہوتا تو ضرور تھا کہ نہ صرف یسوع بلکہ کئی یہودی بھی اس شیطان کو دیکھتے اور کچھ شک نہیں کہ شیطان
    معمولی انسانوں کی طرح نہیں ہوگا بلکہ ایک عجیب و غریب صورت کا جاندار ہوگا جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتا ہوگا۔ پس اگر درحقیقت شیطان یسوع کو بیداری میں دکھائی دیا تھا تو چاہئے تھا
    کہ اس کو دیکھ کر ہزارہا یہودی وغیرہ اس جگہ جمع ہو جاتے اور ایک مجمع اکٹھا ہو جاتا لیکن ایسا وقوع میں نہیں آیا۔ اسلئے یورپین محقق اس کو کوئی خارجی واقع قبول نہیں کر سکتے بلکہ وہ ایسے
    ہی بیہودہ تخیلات کی وجہ سے جن میں سے خدائی کا دعویٰ بھی ہے انجیل کو دور سے سلام کرتے ہیں چنانچہ حال میں ایک یورپین عالم نے عیسائیوں کی انجیل مقدس کی نسبت یہ رائے ظاہر کی ہے
    کہ میری رائے میں کسی دانشمند آدمی کو اس بات کے یقین دلانے کو کہ انجیل انسان کی بناوٹ بلکہ وحشیانہ ایجاد ہے صرف اسی قدر ضرورت ہے کہ وہ انجیل کو پڑھے پھر صاحب بہادر یہ فرماتے
    ہیں کہ تم انجیل کو اس طرح پڑھو جیسے کہ تم کسی اور کتاب کو پڑھتے ہو اور اس کی نسبت ایسے خیالات کرو جیسے کہ اور کتابوں کی نسبت کرتے ہو اپنی آنکھوں سے تعظیم کی پٹی نکال دو اور
    اپنے دل سے خوف کے بھوت کو بھگا دو اور دماغ اوہام سے خالی کرو تب انجیل مقدس کو پڑھو تو تم کو تعجب ہوگا کہ تم نے ایک لحظہ کیلئے بھی کیونکر اس جہالت اور ظلم کے مصنف کو عقلمند اور
    نیک اور پاک خیال کیا تھا ایسا ہی اور بہت سے فلاسفر سائنس کے جاننے والے جو انجیل کو نہایت ہی کراہت سے دیکھتے ہیں وہ انہیں ناپاک تعلیموں کی وجہ سے متنفّر ہوگئے۔ جن کو ماننا ایک عقلمند
    کیلئے درحقیقت نہایت درجہ جائے عار ہے مثلاً یہ ایک جھوٹا قصہ کہ ایک باپ ہے جو سخت مغلوب الغضب اور سب کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور ایک بیٹا ہے جو نہایت رحیم ہے جس نے باپ کے
    مجنونانہ
    * نوٹ۔ عیسائیوں میں جس قدر کوئی فلسفہ کے مینار پر پہنچتا ہے اسی قدر انجیل اور عیسائی مذہب سے بیزار ہو جاتا ہے یہاں تک کہ ان دنوں میں ایک میم صاحبہ نے بھی عیسائی عقیدہ
    کے رد میں ایک رسالہ شائع کیا ہے مگر اسلامی فلاسفروں کا اس کے برعکس حال ہے بو علی سینا جو رئیس فلاسفر اور بد مذہب اور ملحد کر کے مشہور ہے وہ اپنی کتاب اشارات کے اخیر میں لکھتا
    ہے کہ اگرچہ حشر جسمانی پر دلائل فلسفیہ قائم نہیں بلکہ اس کے عکس پر قائم ہوتے ہیں مگر چونکہ مخبر صادق صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے اسلئے ہم اس پر ایمان لائے ہیں۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 294
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 294
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/294/mode/1up
    بھیؔ اپنے تئیں نیک کہلانے سے کنارہ کشی ظاہر کی مگر افسوس کہ اب عیسائیوں نے نہ صرف نیک قرار دے دیا بلکہ خدا بنا
    رکھا ہے غرض کفارہ مسیح کی ذات کو بھی کچھ فائدہ نہ پہنچا سکا اور تکبر اور خودبینی جو تمام بدیوں کی جڑ ہے وہ تو یسوع صاحب کے ہی حصہ میں آئی ہوئی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس نے آپ خدا
    بن کر سب نبیوں کو رہزن اور بٹمار اور ناپاک حالت کے آدمی قرار دیا ہے حالانکہ یہ اقرار بھی اس کی کلام سے نکلتا ہے
    غضب کو اس طرح لوگوں سے ٹال دیا ہے کہ آپ سولی پر چڑھ گیا۔ اب
    بیچارے محقق یورپین ایسی بے ہودہ باتوں کو کیونکر مان لیں ایسا ہی عیسائیوں کی یہ سادہ لوحی کے خیال کہ خدا کو تین جسم پر منقسم کر دیا۔ ایک وہ جسم جو آدمی کی شکل میں ہمیشہ رہے گا جس کا
    نام ابن اللہ ہے دوسرے وہ جسم جو کبوتر کی طرح ہمیشہ رہیگا جس کا نام روح القدس ہے تیسرے وہ جسم جس کے دہنے ہاتھ بیٹا جا بیٹھا ہے۔ اب کوئی عقلمند ان اجسام ثلاثہ کو کیونکر قبول کرے لیکن
    شیطان کی ہمراہی کا الزام یوروپین فلاسفروں کے نزدیک کچھ کم ہنسی کا باعث نہیں بہت کوششوں کے بعد یہ تاویلیں پیش ہوتی ہیں کہ یہ حالات یسوع کے دماغی قویٰ کے اپنے ہی تخیلات تھے اور اس
    بات کو بھی مانتے ہیں کہ تندرستی اور صحت کی حالت میں ایسے مکروہ تخیلات پیدا نہیں ہو سکتے بہتوں کو اس بات کی ذاتی تحقیقات ہے کہ مرگی کی بیماری کے مبتلا اکثر شیاطین کو اسی طرح
    دیکھا کرتے ہیں وہ بعینہٖ ایسا ہی بیان کیا کرتے ہیں کہ ہمیں شیطان فلاں فلاں جگہ لے گیا اور یہ یہ عجائبات دکھلائے اور مجھے یاد ہے کہ شاید چوبیس برس کا عرصہ گذرا ہوگا کہ میں نے خواب
    میں دیکھا کہ ایک جگہ شیطان سیاہ رنگ اور بدصورت کھڑا ہے اول اس نے میری طرف توجہ کی اور میں نے اس کو منہ پر طمانچہ مار کر کہا کہ دور ہو اے شیطان تیرا مجھ میں حصہ نہیں اور پھر
    وہ ایک دوسرے کی طرف گیا اور اس کو اپنے ساتھ کر لیا اور جس کو ساتھ کرلیا اس کو میں جانتا تھا اتنے میں آنکھ کھل گئی اسی دن یا اس کے بعد اس شخص کو مرگی پڑی جس کو میں نے خواب میں
    دیکھا تھا کہ شیطان نے اس کو ساتھ کرلیا تھا اور صرع کی بیماری میں گرفتار ہوگیا اس سے مجھے یقین ہوا کہ شیطان کی ہمراہی کی تعبیر مرگی ہے پس یہ نہایت لطیف نکتہ اور بہت صاف اور
    عاقلانہ رائے ہے کہ یسوع دراصل مرگی کی بیماری میں مبتلا تھا اور اسی وجہ سے ایسی خوابیں بھی دیکھا کرتا تھا۔ اور یہودیوں کا یہ الزام کہ تو بعل زبول کی مدد سے ایسے کام کرتا ہے اس رائے
    کا موّ ید اور بہت تسکین بخش ہے۔ کیونکہ بعل زبول بھی شیطان کا نام ہے اور یہودیوں کی بات اس وجہ سے بھی درست اور قرین قیاس معلوم ہوتی ہے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 295
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 295
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/295/mode/1up
    کہؔ وہ خود بھی نیک نہیں ہے مگر افسوس کہ تکبر کا سیلاب اس کی تمام حالت کو برباد کر گیا ہے کوئی بھلا آدمی گذشتہ
    بزرگوں کی مذمت نہیں کرتا لیکن اس نے پاک نبیوں کو رہزنوں اور بٹماروں کے نام سے موسوم کیا ہے اس کی زبان پر دوسروں کیلئے ہر وقت بے ایمان حرام کار کا لفظ چڑھا ہوا ہے کسی کی نسبت ادب
    کا لفظ استعمال نہیں کیا کیوں نہ ہو خدا کا فرزند جو ہوا۔ اور پھر جب دیکھتے ہیں کہ یسوع کے کفارہ نے حواریوں کے دلوں پر کیا اثر کیا کیا وہ اس پر ایمان لا کر گناہ سے باز آگئے تو اس جگہ بھی
    سچی پاکیزگی کا خانہ خالی ہی معلوم ہوتا ہے یہ تو ظاہر ہے کہ وہ لوگ سولی ملنے کی خبر کو سن کر ایمان لا چکے تھے لیکن پھر بھی نتیجہ یہ ہوا کہ یسوع کی گرفتاری پر پطرس نے سامنے کھڑے
    ہوکر اس پر *** بھیجی باقی سب بھاگ گئے اور کسی کے دل میں اعتقاد کا نور باقی نہ رہا۔ پھر بعد اس کے گناہ سے رکنے کا اب تک یہ حال ہے کہ خاص یورپ کے محققین کے اقراروں سے یہ بات
    ثابت ہے کہ یورپ میں حرام کاری کا اس قدر زور ہے کہ خاص لنڈن میں ہر سال ہزاروں ّ*** بچے پیدا ہوتے ہیں اور اس قدر گندے واقعات یورپ کے شائع ہوئے ہیں کہ کہنے اور سننے کے لائق
    نہیں شراب خوری کا اس قدر زور ہے کہ اگر ان دوکانوں
    بقیہ حاشیہ۔ کہ جن لوگوں کو شیطان کا سخت آسیب ہو جاتا ہے اور شیطان ان سے محبت کرنے لگتا ہے تو گو ان کی اپنی مرگی وغیرہ
    اچھی نہیں ہوتی مگر دوسروں کو اچھا کر سکتے ہیں کیونکہ شیطان ان سے محبت کرتا ہے اور ان سے جدا ہونا نہیں چاہتا مگر نہایت محبت کی وجہ سے ان کی باتیں مان لیتا ہے اور دوسروں کو ان کی
    خاطر سے شیطانی مرضوں سے نجات دیتا ہے اور ایسے عامل ہمیشہ شراب اور پلید چیزیں استعمال کرتے رہتے ہیں اور اول درجہ کے شرابی اور کھاؤ پیو ہوتے ہیں چنانچہ تھوڑا عرصہ گذرا ہے کہ
    ایک شخص اسی طرح مرض بیہوشی میں گرفتار تھا اور کہتے ہیں کہ وہ دوسرے لوگوں کے جنات کو نکال دیا کرتا تھا غرض یسوع کا یہ واقعہ شیطان کے ہمراہ کا مرض صرع پر صاف دلیل ہے اور
    ہمارے پاس کئی وجوہ ہیں جن کے مفصل لکھنے کی ابھی ضرورت نہیں اور یقین ہے کہ محقق عیسائی جو پہلے ہی ہماری اس رائے سے اتفاق رکھتے ہیں انکار نہیں کریں گے اور جو نادان پادری
    انکار کریں تو ان کو اس بات کا ثبوت دینا چاہئے کہ یسوع کا شیطان کے ہمراہ جانا درحقیقت بیداری کا ایک واقعہ ہے۔* اور صرع وغیرہ کے لحوق کا نتیجہ نہیں مگر ثبوت میں معتبر گواہ پیش کرنے
    چاہئیں جو رویت کی گواہی دیتے ہوں اور معلوم ہوتا ہے کہ کبوتر کا اترنا اور یہ کہنا کہ تو میرا پیارا بیٹا ہے درحقیقت یہ بھی ایک مرگی کا ایک دورہ تھا جس کے ساتھ ایسے تخیلات پیدا ہوئے بات یہ
    ہے کہ کبوتر کا رنگ سفید ہوتا ہے اور بلغم کا رنگ بھی سفید ہوتا ہے اور مرگی کا مادہ بلغم ہی ہوتا ہے سو وہ بلغم کبوتر کی شکل پر نظر آگئی اور یہ جو کہا کہ تو میرا بیٹا ہے اس میں بھید یہ ہے کہ
    درحقیقت مصروع مرگی کا بیٹا ہی ہوتا ہے اسی لئے مرگی کو فن طبابت میں ام الصبیان کہتے ہیں یعنی بچوں کی ماں۔ اور ایک مرتبہ یسوع کے چاروں حقیقی بھائیوں نے اس وقت کی گورنمنٹ میں
    درخواست بھی دی تھی کہ یہ شخص دیوانہ ہوگیا ہے اس کا کوئی بندوبست کیا جاوے یعنی عدالت کے جیل خانہ میں داخل کیا جاوے تاکہ وہاں کے دستور کے موافق اس کا علاج ہو تو یہ درخواست بھی
    صریح اس بات پر دلیل ہے کہ یسوع درحقیقت بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہوگیا تھا۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 296
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 296
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/296/mode/1up
    کو ؔ ایک خط مستقیم میں باہم رکھ دیا جاوے تو شاید ایک مسافر کی دو منزل طے کرنے تک بھی وہ دوکانیں ختم نہ ہوں۔ عبادات
    سے فراغت ہے اور دن رات سوا عیاشی اور دنیا پرستی کے کام نہیں پس اس تمام تحقیقات سے ثابت ہوا کہ یسوع کے مصلوب ہونے سے اس پر ایمان لانے والے گناہ سے رک نہیں سکے *بلکہ جیسا
    کہ بند ٹوٹنے سے ایک تیز دھار دریا کا پانی اردگرد کے دیہات کو تباہ کر جاتا ہے ایسا ہی کفارہ پر ایمان لانے والوں کا حال ہو رہا ہے اور میں جانتا ہوں کہ عیسائی لوگ اس پر زیادہ بحث نہیں کریں گے
    کیونکہ جس حالت میں ان نبیوں کو جن کے پاس خدا کا فرشتہ آتا تھا یسوع کا کفارہ بدکاریوں سے روک نہ سکا تو پھر کیونکر تاجروں اور پیشہ وروں اور خشک پادریوں کو ناپاک کاموں سے روک سکتا ہے
    غرض عیسائیوں کے خدا کی کیفیت یہ ہے جو ہم بیان کرچکے۔
    تیسرا مذہب ان دومذہبوں کے مقابل پر جن کا ابھی ہم ذکر کر چکے ہیں اسلام ہے اس مذہب کی خدا شناسی نہایت صاف صاف اور انسانی
    فطرت کے مطابق ہے اگر تمام مذہبوں کی کتابیں نابود ہو کر ان کے سارے تعلیمی خیالات اور تصورات بھی محو ہو جائیں تب بھی وہ خدا جس کی طرف قرآن رہنمائی کرتا ہے آئینہ قانون قدرت میں صاف
    صاف نظر آئے گا اور اس کی قدرت اور حکمت سے بھری ہوئی صورت ہریک ذرّہ میں چمکتی ہوئی دکھائی دے گی۔ غرض وہ خدا جس کا پتہ قرآن شریف بتلاتا ہے اپنی موجودات پر فقط قہری حکومت
    نہیں رکھتا بلکہ موافق آیۃ کریمہ ۱؂ کے ہریک ذرہ ذرہ اپنی طبیعت اور روحانیت سے اس کا حکم بردار ہے۔ اس کی طرف جھکنے کے لئے ہریک طبیعت میں ایک کشش پائی جاتی ہے اس کشش سے ایک
    ذرہ بھی خالی نہیں اور یہ ایک بڑی دلیل اس بات پر ہے کہ وہ ہر یک چیز کا خالق ہے کیونکہ نور قلب اس بات کو مانتا ہے کہ وہ کشش جو اس کی طرف جھکنے کیلئے تمام چیزوں میں پائی جاتی ہے وہ
    بلاشبہ اسی کی طرف سے ہے جیسا کہ قرآن شریف نے اس آیت میں اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ۲؂ یعنی ہریک چیز اس کی پاکی اور اس کے محامد بیان کر رہی ہے اگر خدا ان چیزوں کا خالق
    نہیں تھا تو ان چیزوں میں خدا کی طرف کشش کیوں پائی جاتی ہے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 297
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 297
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/297/mode/1up
    ایکؔ غور کرنے والا انسان ضرور اس بات کو قبول کرلیگا کہ کسی مخفی تعلق کی وجہ سے یہ کشش ہے پس اگر وہ تعلق
    خدا کا خالق ہونا نہیں تو کوئی آریہ وغیرہ اس بات کا جواب دیں کہ اس تعلق کی وید وغیرہ میں کیا ماہیت لکھی ہے اور اس کا کیا نام ہے کیا یہی سچ ہے کہ خدا صرف زبردستی ہریک چیز پر حکومت کر
    رہا ہے اور ان چیزوں میں کوئی طبعی قوّ ت اور شوق خدا تعالیٰ کی طرف جھکنے کا نہیں ہے معاذ اللہ ہرگز ایسا نہیں بلکہ ایسا خیال کرنا نہ صرف حماقت بلکہ پرلے درجہ کی خباثت بھی ہے مگر
    افسوس کہ آریوں کے وید نے خدا تعالیٰ کی خالقیت سے انکار کر کے اس روحانی تعلق کو قبول نہیں کیا جس پر طبعی اطاعت ہریک چیز کی موقوف ہے اور چونکہ دقیق معرفت اور دقیق گیان سے وہ
    ہزاروں کوس دور تھے لہٰذا یہ سچا فلسفہ ان سے پوشیدہ رہا ہے کہ ضرور تمام اجسام اور ارواح کو ایک فطرتی تعلق اس ذات قدیم سے پڑا ہوا ہے اور خدا کی حکومت صرف بناوٹ اور زبردستی کی
    حکومت نہیں بلکہ ہریک چیز اپنی روح سے اس کو سجدہ کر رہی ہے کیونکہ ذرہ ذرہ اس کے بے انتہا احسانوں میں مستغرق اور اس کے ہاتھ سے نکلا ہوا ہے مگر افسوس کہ تمام مخالف مذہب والوں نے
    خدا تعالیٰ کے وسیع دریائے قدرت اور رحمت اور تقدس کو اپنی تنگ دلی کی وجہ سے زبردستی روکنا چاہا ہے اور انہیں وجوہ سے ان کے فرضی خداؤں پر کمزوری اور ناپاکی اور بناوٹ اور بے جا
    غضب اور بے جا حکومت کے طرح طرح کے داغ لگ گئے ہیں لیکن اسلام نے خداتعالیٰ کی صفات کاملہ کی تیز رودھاروں کو کہیں نہیں روکا وہ آریوں کی طرح اس عقیدہ کی تعلیم نہیں دیتا کہ زمین و
    آسمان کی روحیں اور ذرات اجسام اپنے اپنے وجود کے آپ ہی خدا ہیں اور جس کا پرمیشر نام ہے وہ کسی نامعلوم سبب سے محض ایک راجہ کے طور پر ان پر حکمران ہے اور نہ عیسائی مذہب کی
    طرح یہ سکھلاتا ہے کہ خدا نے انسان کی طرح ایک عورت کے پیٹ سے جنم لیا اور نہ صرف نو مہینہ تک خون حیض کھا کر ایک گنہگار جسم سے جو بنت سبع اور تمر اور راحاب جیسی حرامکار
    عورتوں کے خمیر سے اپنی فطرت میں ابنیّت کا حصہ رکھتا تھا خون اور ہڈی اور گوشت کو حاصل کیا بلکہ بچپن کے زمانہ میں جو جو بیماریوں کی صعوبتیں ہیں جیسے خسرہ چیچک دانتوں کی تکالیف
    وغیرہ تکلیفیں وہ سب
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 298
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 298
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/298/mode/1up
    اٹھاؔ ئیں اور بہت سا حصہ عمر کا معمولی انسانوں کی طرح کھو کر آخر موت کے قریب پہنچ کر خدائی یاد آگئی مگر
    چونکہ صرف دعویٰ ہی دعویٰ تھا اور خدائی طاقتیں ساتھ نہیں تھیں اس لئے دعویٰ کے ساتھ ہی پکڑا گیا بلکہ اسلام ان سب نقصانوں اور ناپاک حالتوں سے خدائے حقیقی ذوالجلال کو منزہ اور پاک سمجھتا
    ہے اور اس وحشیانہ غضب سے بھی اس کی ذات کو برتر قرار دیتا ہے کہ جب تک کسی کے گلے میں پھانسی کا رسہ نہ ڈالے تب تک اپنے بندوں کے بخشنے کیلئے کوئی سبیل اس کو یاد نہ آوے اور
    خدا تعالیٰ کے وجود اور صفات کے بارے میں قرآن کریم یہ سچی اور پاک اور کامل معرفت سکھاتا ہے کہ اس کی قدرت اور رحمت اور عظمت اور تقدس بے انتہا ہے اور یہ کہنا قرآنی تعلیم کے رو
    سے سخت مکروہ گناہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی قدرتیں اور عظمتیں اور رحمتیں ایک حد پر جا کر ٹھہر جاتی ہیں یا کسی موقعہ پر پہنچ کر اس کا ضعف اسے مانع آ جاتا ہے بلکہ اس کی تمام قدرتیں اس
    مستحکم قاعدہ پر چل رہی ہیں کہ باستثناء ان امور کے جو اس کے تقدس اور کمال اور صفات کاملہ کے مخالف ہیں یا اس کے مواعید غیر متبدلہ کے منافی ہیں باقی جو چاہتا ہے کر سکتا ہے مثلاً یہ نہیں
    کہہ سکتے کہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے اپنے تئیں ہلاک کر سکتا ہے کیونکہ یہ بات اس کی صفت قدیم حیّ و قیّوم ہونے کے مخالف ہے وجہ یہ کہ وہ پہلے ہی اپنے فعل اور قول میں ظاہر کر چکا ہے کہ
    وہ ازلی ابدی اور غیر فانی ہے اور موت اس پر جائز نہیں ایسا ہی یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ کسی عورت کے رحم میں داخل ہوتا اور خون حیض کھاتا اور قریباً نو ماہ پورے کر کے سیر ڈیڑھ سیر
    کے وزن پر عورتوں کی پیشاب گاہ سے روتا چلاتا پیدا ہو جاتا ہے اور پھر روٹی کھاتا اور پاخانہ جاتا اور پیشاب کرتا اور تمام دکھ اس فانی زندگی کے اٹھاتا ہے اور آخر چند ساعت جان کندنی کا عذاب
    اٹھا کر اس جہان فانی سے رخصت ہو جاتا ہے کیونکہ یہ تمام امور نقصان اور منقصت میں داخل ہیں اور اس کے جلال قدیم اور کمال تام کے برخلاف ہیں۔
    پھر یہ بھی جاننا چاہئے کہ چونکہ اسلامی
    عقیدہ میں درحقیقت خدا تعالیٰ تمام مخلوقات کا پیدا کرنیوالا ہی ہے اور کیا ارواح اور کیا اجسام سب اسی کے پیدا کردہ ہیں اور اسی کی قدرت سے ظہور پذیر ہوئے ہیں
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 299
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 299
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/299/mode/1up
    لہٰذا ؔ قرآنی عقیدہ یہ بھی ہے کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ ہر ایک چیز کا خالق اور پیدا کنندہ ہے اسی طرح وہ ہر ایک چیز کا واقعی
    اور حقیقی طور پر قیوم بھی ہے یعنی ہر ایک چیز کا اسی کے وجود کے ساتھ بقا ہے اور اس کا وجود ہریک چیز کے لئے بمنزلہ جان ہے اور اگر اس کا عدم فرض کرلیں تو ساتھ ہی ہریک چیز کا عدم ہوگا۔
    غرض ہریک وجود کے بقا اور قیام کے لئے اس کی معیت لازم ہے لیکن آریوں اور عیسائیوں کا یہ اعتقاد نہیں ہے آریوں کا اس لئے کہ وہ خدا تعالیٰ کو ارواح اور اجسام کا خالق نہیں جانتے اور ہریک
    چیز سے ایسا تعلق اس کا نہیں مانتے جس سے ثابت ہو کہ ہریک چیز اسی کی قدت اور ارادہ کا نتیجہ ہے اور اس کی مشیت کے لئے بطور سایہ کے ہے بلکہ ہریک چیز کا وجود ایسے طور سے مستقل
    خیال کرتے ہیں جس سے سمجھا جاتا ہے کہ ان کے زعم میں تمام چیزیں اپنے وجود میں مستقل طور پر قدیم اور انادی ہیں پس جبکہ یہ تمام موجود چیزیں ان کے خیال میں خدا تعالیٰ کی قدرت سے نکل
    کر قدرت کے ساتھ قائم نہیں تو بلاشبہ یہ سب چیزیں ہندوؤں کے پرمیشر سے ایسی بے تعلق ہیں کہ اگر ان کے پرمیشر کا مرنا بھی فرض کرلیں تب بھی روحوں اور جسموں کا کچھ بھی حرج نہیں
    کیونکہ ان کا پرمیشر صرف معمار کی طرح ہے اور جس طرح اینٹ اور گارا معمار کی ذاتی قدرت کے ساتھ قائم نہیں تا ہریک حال میں اس کے وجود کا تابع ہو۔ یہی حال ہندوؤں کے پرمیشر کی چیزوں کا
    ہے سو جیسا کہ معمار کے مرجانے سے ضروری نہیں ہوتا کہ جس قدر اس نے اپنی عمر میں عمارتیں بنائی ہوں وہ ساتھ ہی گر جائیں ایسا ہی یہ بھی ضرور نہیں کہ ہندوؤں کے پرمیشر کے مرجانے
    سے کچھ بھی صدمہ دوسری چیزوں کو پہنچے کیونکہ وہ انکا قیوم نہیں* اگر قیوم ہوتا تو ضرور ان کا خالق بھی ہوتا۔ کیونکہ جو چیزیں پیدا ہونے میں خدا کی قوت کی محتاج نہیں وہ قائم رہنے میں بھی
    اس کی قوت کے سہارے کی حاجت نہیں رکھتیں اور عیسائیوں کے اعتقاد کی رو سے بھی ان کا مجسم خدا قیوم الاشیاء نہیں ہو سکتا کیونکہ قیوم ہونے کیلئے معیت ضروری ہے اور ظاہر ہے کہ
    عیسائیوں کا خدا یسوع اب زمین پر نہیں کیونکہ اگر زمین پر ہوتا تو ضرور لوگوں کو نظر آتا جیسا کہ اس زمانہ میں نظر آتا تھا جبکہ پلاطوس کے عہد میں اس کے ملک میں موجود تھا پس جبکہ وہ زمین
    پر موجود نہیں تو زمین کے لوگوں کا
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 300
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 300
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/300/mode/1up
    قیوم ؔ کیونکر ہو۔ رہا آسمان سو وہ آسمانوں کا بھی قیوم نہیں کیونکہ اس کا جسم تو صرف چھ سات بالشت کے قریب ہوگا پھر
    وہ سارے آسمانوں پر کیونکر موجود ہو سکتا ہے تا ان کا قیوم ہو لیکن ہم لوگ جو خدا تعالیٰ کو رب العرش کہتے ہیں تو اس سے یہ مطلب نہیں کہ وہ جسمانی اور جسم ہے اور عرش کا محتاج ہے بلکہ
    عرش سے مراد وہ مقدس بلندی کی جگہ ہے جو اس جہان اور آنے والے جہان سے برابر نسبت رکھتی ہے اور خدا تعالیٰ کو عرش پر کہنا درحقیقت ان معنوں سے مترادف ہے کہ وہ مالک الکونین ہے
    اور جیسا کہ ایک شخص اونچی جگہ بیٹھ کر یا کسی نہایت اونچے محل پر چڑھ کر یمین و یسار نظر رکھتا ہے۔ ایسا ہی استعارہ کے طور پر خدا تعالیٰ بلند سے بلند تخت پر تسلیم کیا گیا ہے جس کی نظر
    سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں نہ اس عالم کی اور نہ اس دوسرے عالم کی ہاں اس مقام کو عام سمجھوں کے لئے اوپر کی طرف بیان کیا جاتا ہے کیونکہ جبکہ خدا تعالیٰ حقیقت میں سب سے اوپر ہے
    اور ہریک چیز اس کے پیروں پر گری ہوئی ہے تو اوپر کی طرف سے اس کی ذات کو مناسبت ہے مگر اوپر کی طرف وہی ہے جس کے نیچے دونوں عالم واقع ہیں اور وہ ایک انتہائی نقطہ کی طرح ہے
    جس کے نیچے سے دو عظیم الشان عالم کی دو شاخیں نکلتی ہیں اور ہریک شاخ ہزار ہا عالم پر مشتمل ہے جن کا علم بجز اس ذات کے کسی کو نہیں جو اس نقطہ انتہائی پر مستوی ہے جس کا نام عرش
    ہے اس لئے ظاہری طور پر وہ اعلیٰ سے اعلیٰ بلندی جو اوپر کی سمت میں اس انتہائی نقطہ میں متصور ہو۔ جو دونوں عالم کے اوپر ہے وہی عرش کے نام سے عندالشرع موسوم ہے اور یہ بلندی
    باعتبار جامعیت ذاتی باری کی ہے تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ وہ مبدء ہے ہریک فیض کا اور مرجع ہے ہریک چیز کا اور مسجود ہے ہریک مخلوق کا اور سب سے اونچا ہے اپنی ذات میں اور صفات
    میں اور کمالات میں ورنہ قرآن فرماتا ہے کہ وہ ہریک جگہ ہے جیسا کہ فرمایا ۱؂ جدھر منہ پھیرو ادھر ہی خدا کا منہ ہے اور فرماتا ہے ۲؂ یعنی جہاں تم ہو وہ تمہارے ساتھ ہے اور فرماتا ہے ۳؂
    یعنی ہم انسان سے اس کی رگ جان سے بھی زیادہ نزدیک ہیں یہ تینوں تعلیموں کا نمونہ ہے۔
    والسّلام علی من اتبع الھُدٰی
    تمّت
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 301
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 301
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/301/mode/1up
    حاشیہؔ متعلقہ صفحہ ۱۶۴
    مرہم حواریّین جس کا دوسرا نام مرہم عیسیٰ بھی ہے
    یہ مرہم نہایت مبارک مرہم ہے جو
    زخموں اور جراحتوں اور نیز زخموں کے نشان معدوم کرنے کے لئے نہایت نافع ہے۔ طبیبوں کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ مرہم حواریوں نے حضرت عیسیٰ کے لئے تیار کی تھی یعنی جبکہ حضرت عیسیٰ
    علیہ السلام یہود علیہم اللعنت کے پنجہ میں گرفتار ہوگئے اور یہودیوں نے چاہا کہ حضرت مسیح کو صلیب پر کھینچ کر قتل کریں تو انہوں نے گرفتار کر کے صلیب پر کھینچنے کی کارروائی شروع
    کی مگر خدا تعالیٰ نے یہود کے بد ارادہ سے حضرت عیسیٰ کو بچا لیا۔ کچھ خفیف سے زخم بدن پر لگ گئے* سو وہ اس عجیب و غریب مرہم کے چند روز استعمال کرنے سے بالکل دور ہوگئے یہاں
    تک کہ نشان بھی جو دوبارہ گرفتاری کیلئے کھلی کھلی علامتیں تھیں بالکل مٹ گئے۔ یہ بات انجیلوں سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ جب حضرت مسیح نے صلیب سے نجات پائی کہ جو درحقیقت دوبارہ
    زندگی کے حکم میں تھی تو وہ اپنے حواریوں کو ملے اور اپنے زندہ سلامت ہونے کی خبر دی۔ حواریوں نے تعجب سے دیکھا کہ صلیب پر سے کیونکر بچ گئے اور گمان کیا کہ شاید ہمارے سامنے ان
    کی روح متمثل ہوگئی ہے تو انہوں نے اپنے زخم دکھلائے جو صلیب پر باندھنے کے وقت پڑ گئے تھے تب حواریوں کو یقین آیا کہ خدا تعالیٰ نے یہودیوں کے ہاتھ سے ان کو نجات دی۔ حال کے
    عیسائیوں کی یہ نہایت سادہ لوحی ہے کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ یسوع مسیح مرکر نئے سرے زندہ ہوا۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ خدا جو محض قدرت سے اس کو زندہ کرتا۔ اس کے زخموں کو بھی
    اچھا کر دیتا۔ بالخصوص جبکہ کہا جاتا ہے کہ دوسرا جسم جلالی ہے جو آسمان پر اٹھایا گیا اور خدا کی داہنی طرف جابیٹھا۔ تو کیا قبول کر سکتے ہیں کہ جلالی جسم پر بھی یہ زخموں کا کلنک باقی رہا
    اور مسیح
    *حاشیہ۔ قرآن شریف میں جو وارد ہے ۱؂ یعنی عیسیٰ نہ مصلوب ہوا نہ مقتول ہوا۔ اس بیان سے یہ بات منافی نہیں ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر زخمی ہوگئے۔ کیونکہ
    مصلوبیت سے مراد وہ امر ہے جو صلیب پر چڑھانے کی علت غائی ہے اور وہ قتل ہے اور کچھ شک نہیں کہ خدا تعالیٰ نے دشمنوں کے اس اصل مقصود سے ان کو محفوظ رکھا۔ اس کی مثال ایسی ہے
    جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی نسبت فرمایا ہے ۲؂ یعنی خدا تجھ کو لوگوں سے بچائے گا حالانکہ لوگوں نے طرح طرح کے دکھ دئیے وطن سے نکالا۔ دانت شہید کیا انگلی
    کو زخمی کیا اور کئی زخم تلوار کے پیشانی پر لگائے ۔سو درحقیقت اس پیشگوئی میں بھی اعتراض کا محل نہیں کیونکہ کفار کے حملوں کی علت غائی اور اصل مقصود آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم
    کا زخمی کرنا یا دانت کا شہید کرنا نہ تھا بلکہ قتل کرنا مقصود بالذات تھا سو کفار کے اصل ارادے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو خدا نے محفوظ رکھا اسی طرح جن لوگوں نے حضرت مسیح
    کو سولی پر چڑھایا تھا۔ ان کی اس کارروائی کی علت غائی حضرت مسیح کا زخمی ہونا نہ تھا بلکہ ان کا اصل ارادہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی کے ذریعہ سے قتل کر دینا تھا سو خدا نے ان کو
    اس بد ارادہ سے محفوظ رکھا اور کچھ شک نہیں کہ وہ مصلوب نہیں ہوئے پس قول ماصلبوہ ان پر صادق آیا۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 302
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 302
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/302/mode/1up
    نےؔ خود اپنے اس قصہ کی مثال یونس کے قصہ سے دی اور ظاہر ہے کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں مرا نہیں تھا پس اگر
    مسیح مر گیا تھا تو یہ مثال صحیح نہیں ہو سکتی بلکہ ایسی مثال دینے والا ایک سادہ لوح آدمی ٹھہرتا ہے جس کو یہ بھی خبر نہیں کہ مشبّہ اور مشبّہ بہٖ میں مشابہت تامہ ضروری ہے۔
    غرض اس
    مرہم کی تعریف میں اس قدر لکھنا کافی ہے کہ مسیح تو بیماروں کو اچھا کرتا تھا مگر اس مرہم نے مسیح کو اچھا کیا انجیلوں سے یہ پتہ بھی بخوبی ملتا ہے کہ انہیں زخموں کی وجہ سے حضرت مسیح
    پلاطوس کی بستی میں چالیس۴۰ دن تک برابر ٹھہرے اور پوشیدہ طور پر یہی مرہم ان کے زخموں پر لگتی رہی آخر اللہ تعالیٰ نے اسی سے ان کو شفا بخشی اس مدت میں زیرک طبع حواریوں نے یہی
    مصلحت دیکھی کہ جاہل یہودیوں کو تلاشی اور جستجو سے باز رکھنے کے لئے اور نیز ان کا ُ پر کینہ جوش فرو کرنے کی غرض سے پلاطوس کی بستیوں میں یہ مشہور کر دیں کہ یسوع مسیح آسمان
    پر معہ جسم اٹھایا گیا اور فی الواقعہ انہوں نے یہ بڑی دانائی کی کہ یہودیوں کے خیالات کو اور طرف لگا دیا اور اس طرف پہلے سے یہ انتظام ہو چکا تھا اور بات پختہ ہو چکی تھی کہ فلاں تاریخ
    پلاطوس کی عملداری سے یسوع مسیح باہر نکل جائے چنانچہ ایسا ہی ہوا اور حواری ان کو کچھ دور تک سڑک پر چھوڑ آئے اور حدیث صحیح سے جو طبرانی میں ہے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ
    علیہ السلام اس واقعہ کے بعد ستاسی۸۷ برس زندہ رہے اور ان برسوں میں انہوں نے بہت سے ملکوں کی سیاحت کی اسی لئے ان کا نام مسیح ہوا۔ اور کچھ تعجب نہیں کہ وہ اس سیاحت کے زمانہ میں
    تبت میں بھی آئے ہوں جیسا کہ آجکل بعض انگریزوں کی تحریروں سے سمجھا جاتا ہے ڈاکٹر برنیئر اور بعض دوسرے یوروپین عالموں کی یہ رائے ہے کہ کچھ تعجب نہیں کہ کشمیر کے مسلمان باشندہ
    دراصل یہود ہوں پس یہ رائے بھی کچھ بعید نہیں کہ حضرت مسیح انہیں لوگوں کی طرف آئے ہوں اور پھر تبت کی طرف رخ کرلیا ہو اور کیا تعجب کہ حضرت مسیح کی قبر کشمیر*یا اس کے نواح
    میں ہو۔ یہودیوں کے ملکوں سے ان کا نکلنا اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ نبوت ان کے خاندان سے خارج ہوگئی۔ جو لوگ اپنی قوت عقلیہ سے کام لینا نہیں چاہتے ان کا منہ بند کرنا مشکل ہے مگر مرہم
    حواریّین نے اس بات کا صفائی سے فیصلہ کر دیا کہ
    * حاشیہ در حاشیہ۔ ڈاکٹر برنیر اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’’کشمیر میں یہودیت کی بہت سی علامتیں پائی جاتی ہیں چنانچہ پیر پنجال سے
    گذر کر جب میں اس ملک میں داخل ہوا تو دیہات کے باشندوں کی صورتیں یہود کی سی دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی ان کی صورتیں اور ان کے طور طریق اور وہ ناقابل بیان خصوصیتیں جن سے ایک سیاح
    مختلف اقوام کے لوگوں کی خودبخود شناخت اور تمیز کر سکتاہے۔ سب یہودیوں
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 303
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 303
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/303/mode/1up
    حضرؔ ت مسیح کے جسم عنصری کا آسمان پر جانا سب جھوٹے قصے اور بیہودہ کہانیاں ہیں اور بلاشبہ اب تمام شکوک و
    شبہات کے زخم اس مرہم سے مندمل ہوگئے ہیں۔ عیسائیوں اور نیم عیسائیوں کو معلوم ہو کہ یہ مرہم معہ اس کے وجہ تسمیہ کے طب کی ہزار ہا کتابوں میں موجود ہے اور اس مرہم کا ذکر کرنے والے
    نہ صرف مسلمان طبیب ہیں بلکہ مسلمان۔ مجوسی۔ عیسائی سب اس میں شامل ہیں۔ اگر چاہیں تو ہم ہزار کتاب سے زیادہ اس کا حوالہ دے سکتے ہیں اور کئی کتابیں حضرت مسیح کے زمانہ کے قریب
    قریب کی ہیں اور سب اس پر اتفاق رکھتی ہیں کہ یہ مرہم حواریوں نے حضرت مسیح کے لئے یعنی ان کے زخموں کے لئے تیار کی تھی دراصل یہ نسخہ عیسائیوں کی پرانی قرابادینوں میں تھا جو
    یونانی میں تالیف ہوئی تھیں پھر ہارون اور مامون کے وقت میں وہ کتابیں عربی میں ترجمہ ہوئیں اور یہ خدا تعالیٰ کی قدرت کا ایک عظیم الشان نشان ہے کہ یہ کتابیں باوجود امتداد زمانہ کے تلف نہیں ہو
    سکیں یہاں تک کہ خدا ئے تعالیٰ کے فضل نے ہمیں ان پر مطلع کیا۔ اب ایسے یقینی واقعہ سے انکار کرنا خدا تعالیٰ سے لڑائی ہے۔ ہمیں امید نہیں کہ کوئی عقلمند عیسائیوں اور مسلمانوں میں سے اس
    سے انکار کرے کیونکہ اعلیٰ درجہ کے تواتر کا انکار کرنا حماقت بلکہ دیوانہ پن ہے۔
    اور وہ کتابیں جن میں یہ مرہم مذکور ہے درحقیقت ہزار ہا ہیں جن میں سے ڈاکٹر حنین کی بھی ایک کتاب ہے جو
    ایک پورانا عیسائی طبیب ہے ایسا ہی اور بہت سے عیسائیوں اور مجوسیوں کی کتابیں ہیں جو ان پورانی یونانی اور رومی کتابوں سے ترجمہ ہوئی ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے عہد کے قریب
    ہی تالیف ہوئی تھیں اور یہ خوب یاد رکھنا چاہئے کہ اسلامی طبیبوں نے یہ نسخہ عیسائی کتابوں سے ہی نقل کیا ہے مگر چونکہ ہر ایک کو وہ سب کتابیں میسّر نہیں ہو سکتیں لہٰذا ہم چند ایسی کتابوں کا
    حوالہ ذیل میں لکھتے ہیں جو
    بقیہ حاشیہ در حاشیہ۔ کی پورانی قوم کیسی معلوم ہوتی تھیں میری بات کو آپ محض خیالی ہی تصور نہ فرمائیے گا ان دیہاتوں کے یہودی نما ہونے کی نسبت ہمارے
    پادری صاحبان اور اور بہت سے فرنگستانیوں نے بھی میرے کشمیر جانے سے بہت عرصہ پہلے ایسا ہی لکھا ہے۔ دوسری علامت یہ ہے کہ اس شہر کے باشندے باوجودیکہ تمام مسلمان ہیں مگر پھر
    بھی ان میں سے اکثر کا نام موسیٰ ہے۔ تیسرے یہاں یہ عام روایت ہے کہ حضرت سلیمان اس ملک میں آئے تھے۔ چوتھے یہاں کے لوگوں کا یہ بھی گمان ہے کہ حضرت موسیٰ نے شہر کشمیر ہی میں
    وفات پائی تھی اور ان کا مزار شہر سے قریب تین میل کے ہے۔ پانچویں عموماً یہاں سب لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ایک اونچے پہاڑ پر جو ایک مختصر اور نہایت پورانا مکان نظر آتا ہے اس کو حضرت
    سلیمان نے تعمیر کرایا تھا اور اسی سبب سے اس کو آج تک تخت سلیمان کہتے ہیں۔ سو میں اس بات سے انکار کرنا نہیں چاہتا کہ یہودی لوگ کشمیر میں
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 304
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 304
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/304/mode/1up
    اسؔ ملک میں یا مصر میں چھپ کر شائع ہوگئی ہیں اور وہ یہ ہیں۔
    بوعلی سینا کا قانون مطبوعہ مصر 228 علامہ شارح
    قانون 228 قرشی شارح قانون 228 شفاء الاسقام جلد دوم
    صفحہ ۴۰۵ قلمی قلمی قلمی ورق ۶۴`۶۵
    کامل الصناعہ مطبوعہ مصر تصنیف علی ابن العباس المجوسی تذکرہ داؤد انطاکی مطبوعہ
    مصر
    صفحہ ۶۰۲ صفحہ ۳۰۳` ۳۳۳ باب حرف المیم ۔
    اکسیر اعظم جلد رابع 228 میزان الطب 228 قرابادین قادری 228 ذخیرہ خوارزم شاہ
    صفحہ ۳۰۳ صفحہ ۱۵۲ باب میم
    امراض جلد صفحہ ۵۰۸
    ریاض الفوائد 228 منہاج البیان 228 قرابادین کبیر جلد۲ 228 قرابادین بقائی جلد دوم
    صفحہ ۵۷۵ صفحہ ۴۹۷
    لوامع شبریہ تصنیف سید حسین شبرکاظمی
    228 قرابادین حنین بن اسحاق عیسائی 228 قرابادین رومی
    اور اگر بڑی بڑی کتابیں کسی کو میسر نہ آویں تو قرابادین قادری تو ہر جگہ اور ہر شہر میں مل سکتی ہے اور اکثر دیہات کے نیم حکیم
    بھی اس کو اپنے پاس رکھا کرتے ہیں سو اگر ذرہ تکلیف اٹھا کر اس کے صفحہ ۵۰۸ باب بستم امراض جلد میں نظر ڈالیں تو یہ عبارت اس میں لکھی ہوئی پائیں گے ’’مرہم حواریین کہ مسمی ست
    بمرہم سلیخا*و مرہم رسل و آنرا مرہم عیسیٰ نیز نامند و اجزائے ایں نسخہ دوازدہ عدد است کہ حواریین جہتہ عیسیٰ علیہ السلام ترکیب کردہ برائے تحلیل اورام دخنازیر و طواعین و تنقیہ جراحات از
    گوشت فاسد و اوساخ وجہت رومانیدن گوشت تازہ سودمند‘‘ ۔اور اس جگہ نسخہ کے اجزاء لکھنے کی حاجت نہیں کیونکہ ہر ایک شخص قرابادین وغیرہ کتابوں میں دیکھ سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ شبہ پیش
    ہو کہ ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰ کو نبوت سے پہلے کہیں سے چوٹیں لگی ہوں یا گر گئے ہوں یا کسی نے مارا ہو اور حواریوں نے ان کے زخموں کے اورام اور قروح
    بقیہ حاشیہ در حاشیہ۔ آکر
    بسے ہوں پہلے رفتہ رفتہ تنزل کرتے کرتے بت پرست بن گئے ہوں گے اور پھر آخر اور بت پرستوں کی طرح مذہب اسلام کی طرف مائل ہوگئے ہوں گے‘‘ یہ رائے ڈاکٹر برنیر کی ہے جو انہوں نے
    اپنی کتاب سیر و سیاحت میں لکھی ہے۔ مگر اسی بحث میں انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’غالباً اسی قوم کے لوگ پیکن میں موجود ہیں جو مذہب موسوی کے پابند ہیں اور ان کے پاس توریت اور
    دوسری کتابیں بھی ہیں۔ مگر حضرت عیسیٰ کی وفات یعنی مصلوب ہونے کا حال ان لوگوں کو بالکل معلوم نہیں‘‘ ڈاکٹر صاحب کا یہ فقرہ یاد رکھنے کے لائق ہے کیونکہ آج تک بعض نادان عیسائیوں کا
    یہ گمان ہے کہ حضرت عیسیٰ کے مصلوب ہونے پر یہود اور نصاریٰ کا اتفاق ہے اور اب ڈاکٹر صاحب کے قول سے معلوم ہوا کہ چین کے یہودی اس قول سے اتفاق نہیں رکھتے اور ان کا یہ مذہب
    نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ سولی پر مر گئے اور ڈاکٹر صاحب نے جو کشمیریوں کے یہودی الاصل ہونے پر دلائل لکھے ہیں یہی دلائل ایک غور کرنے والی
    * نوٹ۔ قرابادین قادری میں سلیخا کا
    لفظ ہے مگر شیخ بو علی سینا کے قانون میں بجائے سلیخا کے دشلیخا لکھا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ عبرانی یا یونانی لفظ ہے جس کے معنی بار۱۲اں کے ہیں۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 305
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 305
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/305/mode/1up
    کیؔ تکالیف کیلئے یہ نسخہ تیار کیا ہو تو اسکا جواب یہ ہے کہ نبوت سے پہلے حواریوں سے انکا کچھ تعلق نہ تھا بلکہ
    حواریوں کو حواری کا لقب اسی وقت سے ملا کہ جب وہ لوگ حضرت عیسیٰ کی نبوت کے بعد ان پر ایمان لائے اور انکا ساتھ اختیار کیا اور پہلے تو انکا نام مچھیے یا ماہی گیر تھا سو اس سے صاف تر
    اور کیا قرینہ ہوگا کہ یہ مرہم اس نام کی طرف منسوب ہے جو حواریوں کو حضرت مسیح کی نبوت کے بعد ملا اور پھر
    بقیہ حاشیہ در حاشیہ۔ نگاہ میں ہمارے متذکرہ بالا بیان پر شواہد بینہ ہیں یہ
    واقعہ مذکورہ جو حضرت موسیٰ کشمیر میں آئے تھے چنانچہ ان کی قبر بھی شہر سے قریباً تین میل کے فاصلہ پر ہے صاف دلالت کرتا ہے کہ موسیٰ سے مراد عیسیٰ ہی ہے کیونکہ یہ بات قریب قیاس
    ہے کہ جب کشمیر کے یہودیوں میں اس قدر تغیر واقع ہوئے کہ وہ بت پرست ہوگئے اور پھر مدت کے بعد مسلمان ہوگئے تو کم علمی اور لاپروائی کی وجہ سے عیسیٰ کی جگہ موسیٰ انہیں یاد رہ گیا
    ورنہ حضرت موسیٰ تو موافق تصریح توریت کے حورب کی سرزمین میں اس سفر میں فوت ہوگئے تھے جو مصر سے کنعان کی طرف بنی اسرائیل نے کیا تھا اور حورب کی ایک وادی میں بیت فغفور
    کے مقابل دفن کئے گئے دیکھو استثناء ۳۴ باب درس ۵۔ ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ سلیمان کا لفظ بھی رفتہ رفتہ بجائے عیسیٰ کے لفظ کے مستعمل ہوگیا۔ ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰ نے پہاڑ پر عبادت
    کے لئے کوئی مکان بنایا ہو کیونکہ یہ شاذ و نادر ہے کہ کوئی بات بغیر کسی اصل صحیح کے محض بے بنیاد افترا کے طور پر مشہور ہو جائے۔ ہاں یہ غلطی قریب قیاس ہے کہ بجائے عیسیٰ کے عوام
    کو جو پچھلی قومیں تھیں سلیمان یاد رہ گیا ہو اور اس قدر غلطی تعجب کی جگہ نہیں۔ چونکہ یہ تین نبی ایک ہی خاندان میں سے ہیں اس لئے یہ غلطیاں کسی اتفاقی مسامحت سے ظہور میں آگئیں تبت
    سے کوئی نسخہ انجیل یا بعض عیسوی وصایا کا دستیاب ہونا جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے کوئی عجیب بات نہیں ہے کیونکہ جب قرائن قویہ قائم ہیں کہ بعض نبی بنی اسرائیل کے کشمیر میں ضرور آئے گو
    ان کے تعین نام میں غلطی ہوئی اور ان کی قبر اور مقام بھی اب تک موجود ہے تو کیوں یہ یقین نہ کیا جائے کہ وہ نبی درحقیقت عیسیٰ ہی تھا جو اول کشمیر میں آیا اور پھر تبت کا بھی سیر کیا اور کچھ
    بعید نہیں کہ اس ملک کے لوگوں کے لئے کچھ وصیتیں بھی لکھی ہوں اور آخر کشمیر میں واپس آکر فوت ہوگئے ہوں۔ چونکہ سرد ملک کا آدمی سرد ملک کو ہی پسند کرتا ہے اس لئے فراست صحیحہ قبول
    کرتی ہے کہ حضرت عیسیٰ کنعان کے ملک کو چھوڑ کر ضرور کشمیر میں پہنچے ہوں گے۔ میرے خیال میں کسی کو اس میں کلام نہ ہوگا کہ خطہ کشمیر کو خطہ شام سے بہت مشابہت ہے پھر جبکہ
    ملکی مشابہت کے علاوہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 306
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 306
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/306/mode/1up
    ایکؔ اور قرینہ یہ ہے کہ اس مرہم کو مرہم رسل بھی کہتے ہیں۔ کیونکہ حواری حضرت عیسیٰ کے رسول تھے۔ اور اگر یہ
    گمان ہو کہ ممکن ہے کہ یہ چوٹیں حضرت مسیح کو نبوت کے بعد کسی اور حادثہ سے لگ گئی ہوں اور صلیب پر مر گئے ہوں جیسا کہ نصاریٰ کا زعم ہے
    بقیہ حاشیہ در حاشیہ۔ قوم بنی اسرائیل بھی
    اس جگہ موجود تھی تو حضرت مسیح اس ملک کے چھوڑنے کے بعد ضرور کشمیر میں آئے ہوں گے مگر جاہلوں نے دور دراز زمانہ کے واقعہ کو یاد نہ رکھا اور بجائے عیسیٰ کے موسیٰ یا سلیمان یاد
    رہ گیا۔ اخویم حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب فرماتے ہیں کہ میں قریباً چودہ۱۴ برس تک جموں اور کشمیر کی ریاست میں نوکر رہا ہوں اور اکثر کشمیر میں ہر ایک عجیب مکان وغیرہ کے دیکھنے
    کا موقعہ ملتا تھا لہٰذا اس مدت دراز کے تجربہ کے رو سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر برنیر صاحب نے اس بات کے بیان کرنے میں کہ اہل کشمیر یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ کشمیر میں موسیٰ کی قبر
    ہے غلطی کی ہے جو لوگ کچھ مدت کشمیر میں رہے ہیں وہ اس بات سے بے خبر نہیں ہوں گے کہ کشمیر میں موسیٰ نبی کے نام سے کوئی قبر مشہور نہیں ڈاکٹر صاحب کو بوجہ اجنبیت زبان کے ٹھیک
    ٹھیک نام کے لکھنے میں غلطی ہوگئی ہے یا ممکن ہے کہ سہو کاتب سے یہ غلطی ظہور میں آئی ہو اصل بات یہ ہے کہ کشمیر میں ایک مشہور و معروف قبر ہے جس کو یوز آسف نبی کی قبر کہتے ہیں
    اس نام پر ایک سرسری نظر کر کے ہر ایک شخص کا ذہن ضرور اس طرف منتقل ہوگا کہ یہ قبر کسی اسرائیلی نبی کی ہے کیونکہ یہ لفظ عبرانی زبان سے مشابہ ہیں مگر ایک عمیق نظر کے بعد نہایت
    تسلی بخش طریق کے ساتھ کھل جائے گا کہ دراصل یہ لفظ یسوع آسف ہے یعنی یسوع غمگین۔ اسف اندوہ اور غم کو کہتے ہیں چونکہ حضرت مسیح نہایت غمگین ہوکر اپنے وطن سے نکلے تھے اس
    لئے اپنے نام کے ساتھ آسف ملالیا مگر بعض کا بیان ہے کہ دراصل یہ لفظ یسوع صاحب ہے پھر اجنبی زبان میں بکثرت مستعمل ہوکر یوز آسف بن گیا۔ لیکن میرے نزدیک یسوع آسف اسم بامسمّٰی ہے اور
    ایسے نام جو واقعات پر دلالت کریں اکثر عبرانی نبیوں اور دوسرے اسرائیلی راست بازوں میں پائی جاتی ہیں چنانچہ یوسف جو حضرت یعقوب کا بیٹا تھا اس کی وجہ تسمیہ بھی یہی ہے کہ اس کی
    جدائی پر اندوہ اور غم کیا گیا جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ نے اس بات کی طرف اشارہ فرما کر کہا ہے ۔ ۱؂ پس اس سے صاف نکلتا ہے کہ یوسف پر اسف یعنی اندوہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 307
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 307
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/307/mode/1up
    توؔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تو ثابت ہو چکا ہے کہ یہ چوٹیں نبوت کے بعد لگی ہیں اور ظاہر ہے کہ اس ملک میں نبوت کا
    زمانہ صرف تین برس بلکہ اس سے بھی کم ہے پس اگر اس مختصر زمانہ میں بجز صلیب کی چوٹوں کے کسی اور حادثہ سے بھی یسوع کو چوٹیں لگی تھیں اور ان چوٹوں کے لئے یہ مرہم طیار ہوئی
    تھی تو اس دعویٰ کا بار ثبوت عیسائیوں کی گردن پر ہے جو حضرت عیسیٰ کو جسم سمیت آسمان پر چڑھا رہے ہیں یہ مرہم حواریّین متواترات میں سے ہے اور متواترات علوم حسیہ بدیہہ کی طرح
    ہوتے ہیں جن سے انکار کرنا حماقت ہے
    بقیہ حاشیہ در حاشیہ۔ کیا گیا اس لئے اس کا نام یوسف ہوا ایسا ہی مریم کا نام بھی ایک واقعہ پر دلالت کرتا ہے اور وہ یہ کہ جب مریم کا لڑکا عیسیٰ پیدا ہوا
    تو وہ اپنے اہل و عیال سے دور تھی اور مریم وطن سے دور ہونے کو کہتے ہیں اسی کی طرف اللہ جلّ شانہٗ اشارہ فرما کر کہتا ہے ۱؂ یعنی مریم کو کتاب میں یاد کر جبکہ وہ اپنے اہل سے ایک شرقی
    مکان میں دور پڑی ہوئی تھی سو خدا نے مریم کے لفظ کی وجہ تسمیہ یہ قرار دی کہ مریم حضرت عیسیٰ کے پیدا ہونے کے وقت اپنے لوگوں سے دور و مہجور تھی یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ
    اس کا لڑکا عیسیٰ قوم سے قطع کیا جائے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا اور حضرت مسیح اپنے ملک سے نکل گئے اور جیسا کہ بیان کیاگیا ہے کشمیر میں جاکر وفات پائی اور اب تک کشمیر میں ان کی قبر
    موجود ہے یُزَارُ وَ یُتَبَرَّکُ بِہٖ ہاں ہم نے کسی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت مسیح کی بلاد شام میں قبر ہے مگر اب صحیح تحقیق ہمیں اس بات کے لکھنے کیلئے مجبور کرتی ہے کہ واقعی قبر
    وہی ہے جو کشمیر میں ہے اور ملک شام کی قبر زندہ درگور کا نمونہ تھا جس سے وہ نکل آئے اور جب تک وہ کشمیر میں زندہ رہے ایک اونچے پہاڑ کی چوٹی پر مقام کیا گویا آسمان پر چڑھ گئے۔
    حضرت مولوی نور دین صاحب فرماتے ہیں کہ یسوع صاحب کی قبر جو یوز آسف کی قبر کر کے مشہور ہے وہ جامع مسجد سے آتے ہوئے بائیں طرف واقع ہوتی ہے جب ہم جامع مسجد سے اس مکان
    میں جائیں جہاں شیخ عبدالقادر رضی اللہ عنہ کے تبرکات ہیں تو یہ قبر تھوڑی شمال کی جانب عین کوچہ میں ملے گی اس کوچہ کا نام خانیار ہے اور یہ اصل قدیم شہر سے قریباً تین میل کے فاصلہ پر
    ہے جیسا کہ ڈاکٹر برنیر نے لکھا ہے پس اس بات کو بھی خیانت پیشہ عیسائیوں کی طرح ہنسی میں نہیں اڑانا چاہئے کہ حال میں ایک انجیل تبت سے دفن کی ہوئی نکلی ہے جیسا کہ وہ شائع بھی ہو چکی
    ہے بلکہ حضرت مسیح کے کشمیر میں آنے کا یہ ایک دوسرا قرینہ ہے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ اس انجیل کا لکھنے والا بھی بعض واقعات کے لکھنے میں غلطی کرتا ہو جیسا کہ پہلی چار انجیلیں بھی
    غلطیوں سے بھری ہوئی ہیں۔ مگر ہمیں اس نادر اور عجیب ثبوت سے بکلی ُ منہ نہیں پھیرنا چاہئے جو بہت سی غلطیوں کو صاف کر کے دنیا کو صحیح سوانح کا چہرہ دکھلاتا ہے۔
    واللہ اعلم
    بالصواب۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 308
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 308
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/308/mode/1up
    اگرؔ یہ سوال پیش ہو کہ ممکن ہے کہ چوٹوں کے اچھا ہونے کے بعد حضرت عیسیٰ آسمان پر چڑھائے گئے ہوں تو اس کا
    جواب یہی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کو آسمان پر چڑھانا ان کا منظور ہوتا تو زمین پر ان کیلئے مرہم طیار نہ ہوتی آسمان پر لیجانے والا فرشتہ انکے زخم بھی اچھے کر دیتا اور انجیل میں دیکھنے والوں کی
    شہادت رویت صرف اس قدر ہے کہ ان کو سڑک پر جاتے دیکھا اور تحقیقات سے ان کی قبر کشمیر میں ثابت ہوتی ہے اور اگر کوئی خوش فہم مولوی یہ کہے کہ قرآن میں ان کی رفع کا ذکر ہے تو
    اسکے جواب میں یہ التماس ہے کہ قرآن میں رفع الی اللہ کا ذکر ہے نہ رفع الی السّماء کا پھر جبکہ اللہ جلّ شانہٗ نے یہ فرمایا ہے کہ۱؂ تو اس سے قطعی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ رفع موت کے بعد
    ہے کیونکہ آیت کے یہ معنی ہیں کہ میں تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا سو اس میں کیا کلام ہے کہ خدا کے نیک بندے وفات کے بعد خدا کی طرف اٹھائے جاتے ہیں۔ سو وفات کے بعد نیک
    بندوں کا رفع ہونا سنت اللہ میں داخل ہے مگر وفات کے بعد جسم کا اٹھایا جانا سنت اللہ میں داخل نہیں اور یہ کہنا کہ توفی کے معنی اس جگہ سونا ہے سراسر الحاد ہے کیونکہ صحیح بخاری میں ابن
    عباس سے روایت ہے کہ متوفیک ممیتک اور اس کی تائید میں صاحب بخاری اسی محل میں ایک حدیث بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے لایا ہے پس جو معنی توفی کے ابن عباس اور خود رسول
    اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے مقام متنازعہ فیہ میں ثابت ہوچکے اسکے برخلاف کوئی اور معنی کرنا یہی ملحدانہ طریق ہے مسلمان کیلئے اس سے بڑھ کر اور کوئی ثبوت نہیں کہ خود آنحضرت صلی
    اللہ علیہ و سلم نے مقام متنازعہ فیہ میں یہی معنی کئے پس بڑی بے ایمانی ہے جو نبی کریم کے معنوں کو ترک کر دیا جائے اور جبکہ اس جگہ توفی کے معنی قطعی طور پر وفات دینا ہی ہوا تو پھر یہ
    نہیں کہہ سکتے کہ وفات آئندہ کے زمانہ میں ہوگی کیونکہ آیت۲؂ صاف صاف بتلا رہی ہے کہ وفات ہو چکی وجہ یہ کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ جناب الٰہی میں عرض کرتے ہیں کہ
    عیسائی میری وفات کے بعد بگڑے ہیں پھر اگر فرض کرلیں کہ اب تک حضرت عیسیٰ فوت نہیں ہوئے تو ساتھ ہی ماننا پڑے گا کہ ابتک عیسائی بھی نہیں بگڑے حالانکہ ان کم بختوں نے عاجز انسان کو
    خدا بنا دیا اور نہ صرف شرک کی نجاست کھائی بلکہ سوء ر کھانا شراب پینا زنا کرنا سب انہی لوگوں کے حصہ میں آگیا کیا کوئی دنیا میں بدی ہے جو ان میں پائی نہیں جاتی کیا کوئی ایسا بدکاری کا کام
    ہے جس میں یہ لوگ نمبر اول پر نہیں۔ پس صاف ظاہر ہے کچھ یہ لوگ بگڑ گئے اور شرک اور ناپاکیوں کا جذام ان کو کھا گیا۔ اور اسلام کی عداوت نے ان کو تحت الثریٰ میں پہنچا دیا اور نہ صرف آپ
    ہی ہلاک ہوئے بلکہ انکی ناپاک زندگی نے ہزاروں کو ہلاک کیا یورپ میں کتوں اور کتیوں کی طرح زناکاری ہو رہی ہے شراب کی کثرت شہوتوں کو ایک خطرناک جوش دے رہی ہے اور ّ*** بچے
    لاکھوں تک پہنچ گئے ہیں یہ کس بات کا نتیجہ ہے اسی مخلوق پرستی اور کفارہ کے ُ پرفریب مسئلہ کا۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 309
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 309
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/309/mode/1up
    حاشیہ در حاشیہ متعلقہ حاشیہ صفحہ ۱۶۴
    ہمارے متعصب مولوی ابتک یہی سمجھے بیٹھے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ
    السلام معہ جسم عنصری آسمان پر چڑھ گئے ہیں اور دوسرے نبیوں کی تو فقط روحیں آسمان پر ہیں مگر حضرت عیسیٰ جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر موجود ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ صلیب پر چڑھائے
    بھی نہیں گئے بلکہ کوئی اور شخص صلیب پر چڑھایا گیا لیکن ان بیہودہ خیالات کے رد میں علاوہ ان ثبوتوں کے جو ہم ازالہ اوہام اور حمامتہ البشریٰ وغیرہ کتابوں میں دے چکے ہیں ایک اور قوی ثبوت
    یہ ہے کہ صحیح بخاری صفحہ ۳۳۹ میں یہ حدیث موجود ہے لعنۃ اللہ علی الیھود والنصاری اتخذوا قبور انبیاء ھم مساجد۔ یعنی یہود اور نصاریٰ پر خدا کی *** ہو جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو
    مساجد بنالیا یعنی ان کو سجدہ گاہ مقرر کر دیا اور ان کی پرستش شروع کی۔ اب ظاہر ہے کہ نصار ٰی بنی اسرائیل کے دوسرے نبیوں کی قبروں کی ہرگز پرستش نہیں کرتے بلکہ تمام انبیاء کو گنہگار
    اور مرتکب صغائر و کبائر خیال کرتے ہیں۔ ہاں بلاد شام میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کی قبر کی پرستش ہوتی ہے اور مقررہ تاریخوں پر ہزارہا عیسائی سال بسال اس قبر پر جمع ہوتے ہیں سو اس
    حدیث سے ثابت ہوا کہ درحقیقت وہ قبرحضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہی قبر ہے جس میں مجروح ہونے کی حالت میں وہ رکھے گئے تھے اور اگر اس قبر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر سے
    کچھ تعلق نہیں تو پھر نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول صادق نہیں ٹھہرے گا اور یہ ہرگز ممکن نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسی مصنوعی قبر کو قبر نبی قرار دیں جو محض
    جعلسازی کے طور پر بنائی گئی ہو ۔کیونکہ انبیاء علیہم السلام کی شان سے بعید ہے کہ جھوٹ کو واقعات صحیحہ کے محل پر استعمال کریں پس اگر حدیث میں نصاریٰ کی قبر پرستی کے ذکر میں اس
    قبر کی طرف اشارہ نہیں تو اب واجب ہے کہ شیخ بطالوی اور دوسرے مخالف مولوی کسی اور ایسے نبی کی قبر کا ہمیں نشان دیں جس کی عیسائی پرستش کرتے ہوں یا کبھی کسی زمانہ میں کی ہے۔
    نبوت کا قول باطل نہیں ہو سکتا چاہئے کہ اس کو سرسری طور پر نہ ٹال دیں اور ردی چیز کی طرح نہ پھینک دیں کہ یہ سخت بے ایمانی ہے بلکہ دو باتوں سے ایک بات اختیار کریں۔ (۱) یا تو اس قبر
    کا ہمیں پتا دیویں جو کسی اور نبی کی کوئی قبر ہے اور اس کی عیسائی پرستش کرتے ہیں۔ (۲) اور یا اس بات کو قبول کریں کہ بلاد شام میں جو حضرت عیسیٰ کی قبر ہے جس کی نسبت سلطنت
    انگریزی کی طرف سے پچھلے دنوں میں خریداری کی بھی تجویز ہوئی تھی جس پر ہر سال بہت سا ہجوم عیسائیوں کا ہوتا ہے اور سجدے کئے جاتے ہیں وہ درحقیقت
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 310
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 310
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/310/mode/1up
    وہی قبر ہے جس میں حضرت مسیح مجروح ہونے کی حالت میں داخل کئے گئے تھے پس اگر یہ وہی قبر ہے تو خود سوچ لیں
    کہ اسکے مقابل پر وہ عقیدہ کہ حضرت مسیح صلیب پر نہیں چڑھائے گئے بلکہ چھت کی راہ سے آسمان پر پہنچائے گئے۔ کس قدر لغو اور خلاف واقعہ عقیدہ ٹھہرے گا ۔لیکن یہ واقعہ جو حدیث کی
    رو سے ثابت ہوتا ہے یعنی یہ کہ ضرور حضرت عیسیٰ قبر میں داخل کئے گئے یہ اس قصہ کو جو مرہم حواریین کی نسبت ہم لکھ چکے ہیں نہایت قوت دیتا ہے کیونکہ اس سے اس بات کیلئے قرائن قویہ
    پیدا ہوتے ہیں کہ ضرور حضرت مسیح کو یہودیوں کے ہاتھ سے ایک جسمانی صدمہ پہنچا تھا مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ صلیب پر مر گئے تھے کیونکہ توریت سے ثابت ہے کہ جو مصلوب ہو وہ
    *** ہے اور مصلوب وہی ہوتا ہے جو صلیب پر مرجاوے وجہ یہ کہ صلیب کی علت غائی قتل کرنا ہے سو ہرگز ممکن نہیں کہ وہ صلیب پر مرے ہوں کیونکہ ایک نبی مقرب اللہ *** نہیں ہو سکتا اور
    خود حضرت عیسیٰ نے آپ بھی فرما دیا کہ میں قبر میں ایسا ہی داخل ہوں گا جیسا کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں داخل ہوا تھا یہ ان کے کلام کا ماحصل ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ قبر میں زندہ
    داخل ہوئے اور زندہ ہی نکلے جیسا کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں زندہ داخل ہوا اور زندہ ہی نکلا کیونکہ نبی کی مثال غیر مطابق نہیں ہو سکتی سو وہ بلاشبہ قبر میں زندہ ہی داخل کئے گئے اور یہ مکر
    اللہ تھا تا یہود ان کو مردہ سمجھ لیں اور اس طرح وہ ان کے ہاتھ سے نجات پاویں۔ یہ واقعہ غار ثور کے واقعہ سے بھی بالکل مشابہ ہے اور وہ غار بھی قبر کی طرح ہے جو اب تک موجود ہے اور غار
    میں توقف کرنا بھی تین دن ہی لکھا ہے جیسا کہ مسیح کے قبر میں رہنے کی مدت تین دن ہی بیان کی گئی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے واقعہ ثور کی یہ مشابہت جو مسیح کی قبر سے ہے
    اس کا اشارہ بھی حدیثوں میں پایا جاتا ہے اسی طرح ہمارے سید و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے لئے یونس نبی سے مشابہت سے ایک اشارہ کیا ہے۔ پس گویا یہ تین نبی یعنی محمدصلی
    اللہ علیہ و سلم اور مسیح اور یونس علیہ السلام قبر میں زندہ ہی داخل ہوئے اور زندہ ہی اس میں رہے اور زندہ ہی نکلے* اور خداتعالیٰ جانتا ہے کہ یہی بات صحیح ہے جو لوگ مرہم حواریین کے
    مضمون پر غور کریں گے وہ بالضرور اس نکتہ تک پہنچ جائیں گے کہ ضرور حضرت مسیح مجروح ہونے کی حالت میں قبر میں زندہ داخل کئے گئے تھے پلاطوس کی بیوی کی خواب بھی اسی کے
    موید ہے کیونکہ فرشتہ نے اسکی بیوی کو یہی بتلایا تھا کہ عیسیٰ اگر صلیب پر مرگیا تو اس پر اور اسکے خاوند پر تباہی آئے گی۔ مگرکوئی تباہی نہیں آئی۔ جس کا یہ نتیجہ ضروری ہے کہ مسیح
    صلیب پر نہیں مرا۔ منہ
    * نوٹ۔ یوسف علیہ السلام کا کنوئیں میں سے زندہ نکلنا بھی اسی سے مشابہ ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 311
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 311
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/311/mode/1up
    mankind, in facts the word here ascribed to Nanak contain a
    full confession of Islam.
    TRANSLATIONBY Dr. ERNEST TRUMP
    JANAM SAKHI OF BABA NANAK.
    INTRODUCTION
    PAGE 41, XLI AND XLII.
    His Worship (the prophet) has said in his decision and the book:
    Dogs who
    watch well at night-time are better than not praying men.
    The watches, who do not wake and, remain
    asleep after the cal (to prayer),
    In their bone is uncleanness; though men, they are like
    women,
    Who do not obey Sunnat and divine commandment nor the order of book:
    They are burnt in hell,
    like roasted meat put on a spit.
    Great misery befall them, who are drinking Bhang and Wine,
    ؔ A pig
    is interdicted from liquor and beer, nor is it Bhang drinking.
    Who walk according to the advice of
    their lust they will suffer great pain;
    At the day of the resurrection there will be a clamour of
    noise.
    At that day of the mountains will fly about as when cotton is corded,
    O Kazi, none other
    will sit (there), God himself will stand.
    According to justice all will be decided, the tablet is
    handed over at the gate.
    Just inquiries are made there; by whome sins were committed,
    They are
    bound thrown into hell, with a layer (of earth) on their neck and with a black face.
    The doors of
    good works will be unconcerned at that day.
    Those will be rescued. O, Nanak whose shelter his
    worship (the prophet) is.
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 312
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 312
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/312/mode/1up
    Companion of Nanak, and if all other tradition had failed this
    alone would have been enough to establish the eclectic character of early Sikhism. The first greeting
    of these famous men is significant enough. Sheikh Farid exclamed " Allah, Allah O, Darwesh, " to
    which Nanak replied "Allah is object of my efforts O Farid! come, Sheikh Farid ! Allah Allah (only)
    is ever my object.
    An intimacy at once sprang up between these two remarkable men, and Sheikh Farid
    accompanied Nanak in all his wanderings for the next twelve years.
    As soon as Nanak and his friend
    Sheik Farid began to travel in company, it is related that they reached a place called Bisiar where
    the people applied cow-dung to every spot on which they had stood, as soon as they departed, the
    obvious meaning of this is, that orthodox Hindu considered every spot polluted which Nanak and his
    companion had visited. This could never had been related of Nanak had he remained a Hindu by
    religion. In this next journey Nanak is said to have visited Patan, and there he met with Sheikh
    Ibrahim who saluted him as a Muslim, and had a conversation with him on the unity of God.
    In precise
    cinfirmity with this deduction is the tradition of Nanak's pilgrimage to Makka. The particulars of
    his visit to that holy place are fully given in all accounts of Nanak`s life, and although, as Dr.
    Trumpp reasonably concludes the whole story is a fabrication yet the mere invention ؔ of the tale is
    enough to prove that those who intimately knew Nanak considered his relationship to Muhammadanism
    sufficiently close to warrant the belief in such a pilgrimage in the course of his teachings in
    Mukkah Nanak is made to say: "Though men they are like woman who do not obey the Sunnat, and divine
    commandment, nor the order of the book (the Quran) )I.C.M.E No 1728 for 212) He also admitted the
    intercession of Muhammad, denounced the drinking of bhang, wine &c., acknowleged the existence of
    hell,
    the punishment of the wicked and the ressurrection of
     
    Last edited: ‏جنوری 22, 2018

اس صفحے کو مشتہر کریں