1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

روحانی خزائن جلد 10 ۔آریہ دھرم ۔ یونی کوڈ

'روحانی خزائن ۔ حضرت مسیح موعودؑ ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جولائی 31, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    روحانی خزائن جلد 10۔ آریہ دھرم ۔ یونی کوڈ

    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 1
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 1
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    بسمؔ اللہ الرحمن الرحیم
    اس کریم و رحیم خدا کا ہزار ہزار شکر ہے جس نے قرآن مجید جیسی پاک کتاب بھیج کر اور جناب
    خاتم الانبیاء سید الاولین و الآخرین کو دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث فرما کر وحشی انسانوں کو پھر نئے سرے سے انسانیت سکھلائی اور کروڑ ہا دلوں کو ایمان اور عمل صالح سے منور کیا۔جب ہم
    دیکھتے ہیں کہ اسلام سے پہلے مذہب اور ملّت کس چیز کا نام تھا اور کن طریقوں کو اعمال صالحہ سمجھ رکھا تھا تو اس وقت اسلام کی بے انتہا برکتوں کی قدر معلوم ہوتی ہے اس بات کو کون نہیں
    جانتا کہ اب تک جن عقائد اور اعمال کے پابند دوسرے مذاہب کے لوگ نظر آتے ہیں وہ سب قابل نفرت کام اور بے حیائی کے طریقے ہیں وہ لوگ اس حقیقی خدا کو اپنی کتابوں میں نہیں دکھلاتے جس کو
    قانون قدرت اور صحیفہ فطرت دکھلا رہا ہے بلکہ ایک ایسے نئے اور مصنوعی خدا کو پیش کر رہے ہیں جو کہ انہیں کے خیالات کا بنایا ہوا ہے چنانچہ بعضوں نے توانسان کو ہی خدا بنا رکھا ہے اور
    بعض پتھروں کے آگے سرجھکا رہے ہیں اور بعض سرے سے خدا ہی کو نہیں مانتے اور بعض منہ سے خدا کے وجود کا اقرار تو کرتے ہیں لیکن اس کو روحوں اور مادوں کا پیدا کرنے والا اور ہریک
    فیض کا مبدا اور منبع نہیں سمجھتے بلکہ ہریک جیو کو اپنے قویٰ کا آپ حافظ اور ہریک روح کو اپنی طاقتوں کا آپ ہی نگہبان خیال کرتے ہیں حتی کہ ہریک کیڑے مکوڑے کی جان کو بھی ایسی قدیم اور
    ازلی اور واجب بالذات سمجھتے ہیں کہ جس کی کسی قوت کو خدا کے ہاتھ کی حاجت نہیں اور اس کامل
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 2
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 2
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    اور نورالانوار کے سہارے سے غافل ہیں جس کے وجود کے سوا کوئی ہستی حقیقی نہیں۔ افسوس کہ یہؔ لوگ نہیں سوچتے کہ
    وہی تو ہے جو ہریک فیض کا مبدا اور ہریک زندگی کا سرچشمہ اور ہریک قوت کا ستون اور ہریک وجود کا سہارا ہے اور انہیں معنوں کے رو سے تو اس کو خدا ماننا پڑا ہے سو اسی کا یہ فضل و احسان
    ہے کہ دنیا کو تاریکی اور غفلت اور جہالت میں پاکر ایک نور بھیجا اور وہ نور جس کا نام محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہے دنیا میں آیا اور خدا کا مقدس کلام قرآن شریف اس پر نازل ہوا اور ہم کو علمی
    اور عملی پاکیزگی کیلئے بھی راہیں دکھلائیں۔ پس اس عالیشان نبی اور اس کے آل و اصحاب پر ہماری طرف سے بیشمار درود اور سلام ہو جس نے کروڑ ہا لوگوں کو تاریکی سے نکالا اور پلید عقیدوں
    اور قابل شرم عملوں اور نفرتی رسموں سے رہائی بخشی۔
    اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ بَارِکْ وَسَلِّمْ اٰمِیْن
    امابعد اس مختصر رسالہ کے لکھنے کا یہ موجب ہے کہ ایک ُ مدّت ہوئی کہ مجھے بعض لوگوں
    کی زبانی معلوم ہوا تھا کہ پنڈت دیانند صاحب اپنی کتابوں میں اس بات پر بہت ہی زور دے رہے ہیں کہ آریہ لوگ ضرور رسم نیوگ کو اپنی بیویوں اور بہو بیٹیوں میں وید کی شرائط کے موافق جاری
    کریں۔ میں نے ان خبروں کو سن کر باور نہ کیا اور خیال کیا کہ یہ دشمنوں کا افترا ہوگا بھلا یہ کیونکر ممکن ہے کہ شریف لوگ اپنی پاک دامن عورتوں کو صرف اولاد کی خواہش سے غیر مردوں سے ہم
    بستر کراویں مگر میں چپکے چپکے بعض آریوں سے پوچھتا رہا کہ یہ کیا بات ہے وہ صاف انکار کرتے رہے کہ یہ بیانات غلط ہیں ایسا ہرگز نہیں مگر میں دیکھتا تھا کہ بعض کے چہروں پر انکار کے
    وقت کچھ شرم اور انفعال کے آثار ظاہر ہوتے تھے گویا ان کو ایک بھاری ندامت کا سامنا درپیش ہے لیکن میرے لئے کافی نہ تھا کہ صرف اسی قدر قرائن سے کوئی رائے ظاہرکر سکوں اتنے میں
    ۱۸۸۶ء یا ۱۸۸۷ء میں ایک برہمو صاحب کا ایک رسالہ جو نیوگ کے بارہ میں ستیارتھ پرکاش کے حوالہ سے انہوں نے لکھا تھا مجھ کو ملا۔ اس رسالہ میں صاف طور پر تحریر تھا کہ ایک عورت زندہ
    خاوند والی اولاد کے
    نوٹ:ہمارا منشاء اس رسالہ کے لکھنے سے صرف دو باتیں ہیں(ا) یہ کہ ایسی کتاب یعنی وید جس میں ایسی گندی باتیں لکھی ہیں کیونکر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو سکتی
    ہے۔(۲) یہ کہ تا اس ملک کے لوگ متنبہ ہو کر ایسی فحش اور فسق و فجور کی رسموں سے پرہیز کریں اور نیز گورنمنٹ بھی جس نے ملک کی جسمانی خیر خواہی کے خیال سے پہلے اس سے ستی
    اور جل پروا کی رسم کو بند کر دیا ہے وہ اب تہذیب پھیلانے کی نیت سے اس ناپاک حکم کو بھی بند کر دے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 3
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 3
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    لالچ سے نیوگ کر سکتی ہے یعنی کسی دوسرے سے مجامعت کرا سکتی ہے جب تک کہ اس غیر آدمی کا حمل ٹھہر جائے میں
    نے اس رسالہ کو بھی خوب توجہ سے پڑھا مگر سچ تو یہ ہے کہ مجھے اس رسالہ پر بھی اعتبار نہ آیا اور میں نے یہ خیال کیا کہ غالباً یہ رسالہ پنڈت اگنی ہوتری صاحب کے ہاتھ سے نکلا ہے اور
    میں سنتا ہوں کہ آریہ صاحبوں اور ان کے باہم سخت عداوت ہے اس لئے ممکن ہے کہ پنڈت صاحب نے عداوت کے جوش سے اپنی طرف سے کوئی حاشیہ چڑھا دیا ہو لیکن جب میں ستیارتھ پرکاش کے
    حوالے اس میں دیکھتا تھا تو میرا پھر خیال اس طرف جھک جاتا تھاؔ کہ کیونکر ممکن ہے کہ کوئی ثقہ آدمی چھو۱؂ٹے حوالوں سے ناحق اپنے تئیں الزام کے نیچے لاوے مگر بہرحال اس وقت بھی
    میں قابل تسلی کوئی فیصلہ نہ کرسکا۔ پھر مجھے کلکتہ کے بعض نامی پنڈت صاحبوں کی رائے کی کیفیت بذریعہ ایک اخبار کے معلوم ہوئی جو بڑے جوش سے نیوگ کے مسئلہ کے حامی تھے مگر پھر
    بھی میں نے دل میں کہا کہ کلکتہ ہم سے بہت دور ہے ممکن ہے کہ کسی اخبار والے نے اس میں جھوٹ ملا دیا ہو۔ بالآخر یہ دل میں آیا کہ پنڈت دیانند کی کتابوں کو آپ ہی سنیں اور ساتھ ہی یہ بھی قرین
    انصاف سمجھا گیا کہ اگر دیانند صاحب نے نیوگ کے بارے میں صرف اپنی ہی رائے لکھی ہو اور وید کا کوئی حوالہ نہ دیا ہو تو آریہ مذہب پر حقیقی طور سے کوئی الزام نہیں آ سکتا وید پر تو تبھی الزام
    آئے گا کہ جب وہ ناپاک تعلیم اس کتاب میں پائی بھی جاوے جو الہامی مانی جاتی ہے غرض میں نے یہ طریق فیصلہ قرار دے کر دیانند صاحب کی کتابیں بہم پہنچائیں اور چونکہ سنا گیا تھا کہ پہلے
    چھاپہ کی ستیارتھ پرکاش کو آریہ صاحب قبول نہیں کرتے اس لئے اس تمام فیصلہ کا دوسرے چھاپہ کی ستیارتھ پرکاش پر مدار رکھا گیا چنانچہ وہ کتاب مجلس میں منگوائی گئی اور ایک صاحب ہماری
    جماعت میں سے صفحہ نمبر ۱۱۳ سے عبارت کو پڑھنے لگے اور پڑھتے پڑھتے اس مقام تک پہنچے۔
    (اُتر) ’’نہیں نہیں۔ کیونکہ جو استری پرش برہم چرج میں استھت رہنا چاہیں تو کوئی بھی
    اُپدّرو نہ ہوگا اور جو کل کی پرمپرا رکھنے کے لئے کسی اپنے سوجاتی کا لڑکا گود میں لے لیں گے اس سے کل چلے گا اوروبھی چار نہ ہوگا اور جو برہم چرج نہ کر سکیں تو نیوگ کر کے سنتانوتپتی
    کرلیں‘‘۔* یعنی بے اولادی کی حالت میں دوسرا نکاح کرنا ہرگز درست نہیں اور نہ حاجت ہے کیونکہ دو تدبیریں ایسی ہیں جن سے نکاح کی کچھ بھی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ ایک تو
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 4
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 4
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    یہ کہ جس مرد کی بیوی نہ رہے یا جس بیوی کا خاوند نہ رہے وہ رہبانیت اختیار کرلیں یعنی تارک اور تارکہ ہوکر زندگی بسر
    کریں اور قوم کی ترقی رکھنے کے واسطے کوئی لڑکا اپنی ذات کا متبنّٰیکرلیں اس لڑکے سے خاندان باقی رہے گا اور زنا بھی نہ ہوگا )یعنی نیوگ کی حاجت نہیں پڑے گی( لیکن اگر رہبانیت ۱؂ اختیار
    نہ کرسکیں اور جوش شہوت فروؔ نہ ہو تب نکاح تو کسی طرح کرنا ہی نہیں چاہئے۔ ہاں نیوگ سے شہوت فرو کریں۔ اور اولاد حاصل کرلیں۔۲؂
    یہ ہدایت بیوہ اور رنڈوے مرد کے لئے ہے کہ جب
    عورت مرگئی یا مرد ہی مرگیا تو گویا عیال داری کی صف خدا نے آپ ہی لپیٹ دی اب مجرد رہو اور خوش رہو ایک مدت نکاح کر کے بھی دیکھ لیا اور حظ اٹھا لیا اب سبکدوش ہوکر زندگی بسر کرو۔ اور
    اگر شہوت زور کرے اور رہا نہ جائے تو نکاح کا تو نام مت لو کہ وہ وید کے رو سے حرام ہے ہاں چپکے سے ایک مرد کسی دوسری عورت سے یا ایک عورت کسی دوسرے مرد سے یارانہ جوڑ لیوے
    اور اگر اس سے کامیابی نہ ہو تو دوسرا یا تیسرا خواہ دس ۱۰ تک نوبت پہنچے کچھ مضائقہ نہیں کہ اس میں وید کی آگیا ہے یہی تو وہ کارروائی ہے جس کا وید مقدس میں نام نیوگ ہے اس کے آگے
    نکاح اور تعدد ازواج کیا چیز ہے یہ بہت عمدہ طریق ہے کہ بیوی خاوند کے مرنے کے بعد یا خاوند بیوی کے مرنے کے پیچھے بظاہر جوگی یا جوگن ہی بنی رہی اور شہوت رانی کا کام ایسا عمدہ چلتا
    گیا کہ نکاح والوں کو بھی پیچھے ڈال دیا کیونکہ ایسی عورت جو نکاح کی پابند ہو وہ صرف ایک خاوند کے قید میں رہے گی مگر نیوگ میں تو یہ لطف ہے کہ ہریک نئی رات میں نیا آشنا اس کو مل سکتا ہے
    اور
    ۱؂ حاشیہ: پنڈت صاحب کا یہ مقولہ کہ اوروبھی چار بھی نہ ہوگا یعنی تارکہ رہنے اور لڑکا گود لینے سے مفت میں لڑکا ہاتھ آجائے گا۔ اور زنا تک نوبت نہ پہنچے گی۔ اس مقولہ سے صاف
    ثابت ہوتا ہے کہ پنڈت صاحب اپنے دل میں بیوہ کے نیوگ کو بھی زنا سمجھتے ہیں ورنہ اگر ان کے نزدیک نیوگ زنا نہیں تو نیوگ نہ کرنے کی حالت میں اس قید کی کیا ضرورت تھی معلوم ہوتا ہے کہ
    کانشنس کے جوش نے یہ کلمہ ان کے منہ سے نکلوایا ہے جو ان کے دوسرے بیانات کے مخالف ہے۔ منہ
    نوٹ اگر نیوگ سے شہوت رانی منظور نہیں تھی تو کیوں متبنّٰیبنانے پر کفایت نہیں کی گئی۔
    منہ
    ۲؂ اس تقریر سے معلوم ہوا کہ نیوگ صرف شہوت رانی کی غرض سے ہو سکتا ہے مگر اتنی شہوت رانی کریں کہ اس کے ضمن میں اولاد بھی ہو جائے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 5
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 5
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    پھر اولاد کی بھی کمی نہیں اور ساتھ اس کے بے قیدی اور آزادی بھی۔
    جب میری مجلس میں یہ مقام ستیارتھ پرکاش کا پڑھا
    گیا تو بعض دوست بے اختیار بول اٹھے کہ دیکھو یہ صاف زنا ہے کیونکہ جس حالت میں نکاح نہیں اور بچہ گود لینا اسی لئے موقوف رکھا گیا کہ شہوت رانی مقصود بالذات ہے اور وہ شہوت نکاح کے
    ذریعہ سے پوری نہیں کی گئی تو پھر اگر یہ زنا نہیں تو اور کیا ہے بعض نے یہ بھی کہا کہ اس طریق نیوگ میں اس ہدایت کی رو سے بیوہ یہ بھی اختیار رکھتی ہے کہ اگر بیوہ صبح کو کسی غیر مرد
    سے ہم بستر ہو کر اس کی منی پتلی اور ناقابل اولاد پاوے تو دوپہر کو کسی اور بیرج داتا کے ساتھ سووے اور اگر دوپہر والا بھی اس نقص سے خالی نہ ہو اور ایسی تسلی نہ کر سکا ہو جس سے اولاد
    کی امید ہو سکتی ہے تو شام کو کسی اور سے ہم بستر ہو جاوے اور اگر شام والا بھی نا تمام نکلے تو رات کو اسی آزمائش کیلئے کسی اور جوان کے آگے پڑے پس جو عورت ایک ہی دن میں چار غیر
    آدمی سے سوائے طریق جائز نکاح ہم بستر ہو اگر وہ زانیہ نہیں تو پھر دنیا میں زنا کوئی چیز نہیں دیکھو اور خوب غور کرو کہ جس حالت میں مرد اور عورت دونوں کو اقرار ہے کہ ان میں نکاح کا
    بالکل تعلق نہیں تو پھر ہریک سمجھ سکتا ہے کہ ایسی مقاربت کا کیا نام رکھنا چاہئے اور اس میں اور بیسوا کے پیشہ میں کیا فرق ہے۔ عدم نکاح کی صورت کو خوب یاد رکھو۔
    لیکن میں نے اس مقام
    پر بھی اپنے دوستوں سے اتفاق رائے نہ کیا اور دل میں یہ خیال گذرا کہؔ اگرچہ واقعی اس طور میں زنا کی صورت تو ثابت ہے لیکن ممکن ہے کہ پنڈت دیانند کو اس مسئلہ کے بیان کرنے میں کچھ
    غلطی ہوگئی ہو اور شاید دراصل وید میں لکھا ہو کہ بیوہ اپنی حسب مرضی کسی سے نکاح کرلے مگر میرے دوستوں نے جب کھول کھول کر اس مقام کی عبارتیں پڑھیں اور خوب غور کی گئی۔ تو یہ تو
    یقین ہوگیا کہ دوسرا نکاح تو ہندو مذہب میں قطعاً حرام ہے اور پھر جب نکاح نہیں تو یہ نیوگ دوسرے لفظوں میں حرام کاری کا نام ہے مگر تاہم میری طبیعت نے نہ چاہا کہ صرف بیوہ کے نیوگ پر اپنے
    اعتراض کی بنا کروں اس لئے میں نے کہا کہ آگے پڑھو یہاں تک کہ وہ مقام آگیا جس میں آریہ صاحبوں کا وید ایک زندہ خصم والی عورت کو بھی ہدایت کرتا ہے کہ وہ اولاد نہ ہونے کی حالت میں کسی
    غیر سے ہم بستر ہو
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 6
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 6
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    اس مقام کو پڑھ کر ہریک غیرت مند نے پانچوں انگلیاں منہ میں ڈال لیں اور سب توبہ توبہ کر اٹھے کہ دنیا میں ایسی تعلیمیں بھی
    ہیں کہ بجائے تہذیب اور پاکیزگی سکھلانے کے اپنے پیروؤں کو پہلی حالت سے بھی نیچے گراتی اور ان کی نیک چلنی کا ستیاناس کرتی ہیں میرے دل پر اس وقت بہت ہی صدمہ گذرا اور قریب تھا کہ
    میں آہ مار کر روتا اس خیال سے کہ جن لوگوں کی کتاب کی ایسی تعلیم ہے۔ وہ بھی اسلام کی پاک تعلیم پر اعتراض کرتے اور اس زناکاری کی حالت پر راضی ہو کر تعدد ازواج کے اس مسئلہ پر شور
    مچاتے ہیں جو نکاح کی پابندی سے دراصل انہیں ضرورتوں کی بناء پر ہے جن ضرورتوں نے ان قوموں کی حرام کاری تک نوبت پہنچائی۔ پاک طریق پر اعتراض اور ٹھٹھا اور ناپاکی اور دیوثی پر راضی
    ہونا اور جھوٹے طور پر دوسرے کے نطفہ کو اپنا نطفہ قرار دینا کہ یہ میری ہی اولاد ہے کس قدر سچائی اور حیا اور شرم اور غیرت کا خون کرنا ہے مگر میں اس افسوس کو اندر ہی اندر کھا گیا اور
    چاہا کہ قادیان کے آریوں کو بوجہ حق ہمسائیگی کچھ نصیحت کروں اس لئے میں نے ایک مجلس مقرر کر کے ان میں سے چار آریوں کو بلایا اور ان کے سامنے ستیارتھ پرکاش کا مقام خاص پیش کر کے
    نیوگ کی حقیقت پوچھی گئی سو پہلے تو بعض
    نے کتاب پر ہی اعتراض کیا کہ یہ پہلے چھاپے کی ستیارتھ پرکاش ہے جو غلط ہے اور جب بتلایا گیا اور دکھلایا گیا کہ صاحب یہ وہی دوسرا چھاپا
    ہے تو پھر انہوں نے اپنے دلوں میں یہ گمان کیا کہ مسلمانوں میں سے اس کو کون پڑ ھ سکتا ہے کیونکہ ناگری ہے اس لئے بعض نے چالاکی سے جواب دیا کہ صرف نیوگ بیوہ کے بارے میں ہے اور
    اس کی بھی اصل صورت کو بدل ڈالا تا وہ کارروائی زنا کی ہم شکل ثابت نہ ہو مگر افسوس کہ جب وہ گندی عبارتیں خاوند والی عورتوں کے متعلق کی ان کو پڑھ کر سنائی گئیں تو کچھ بھی شرم ان میں
    پیدا نہ ہوئی بلکہ بعض نے کہا کہ ہم نیوگ کی اس قسم پر بھی راضی ہیں سو ہم ان کی ان بے حیائی کی باتوں کو سنکر چپؔ ہی رہ گئے اور آخر ایک عام ہمدردی نے جوش مارا لہٰذا ہمیں اس للّہی جوش
    نے اس بات پر آمادہ کیا کہ اس بارے میں ایک اشتہار شائع کریں تا شاید کسی طالب حق کو فائدہ پہنچے چنانچہ ہم نے ۳۱ جولائی ۱۸۹۵ء کو ایک اشتہار نیوگ کے متعلق محض ہمدردی بنی نوع کی
    غرض سے شائع کر دیا۔ اور خداتعالیٰ جانتا ہے کہ ہماری نیت اس اشتہار کے جاری کرنے سے بجز اس کے اور
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 7
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 7
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    کچھ نہ تھی کہ کسی طرح ہمارے ہمسایہ آریہ لوگ اس بے حیائی کے کام سے رک جائیں اور اپنی بیویوں کو اس ڈشٹ کرم سے
    ناپاک نہ کریں بلکہ غیرت اور خدا ترسی کو کام میں لاکر ایسی تعلیم سے دست بردار ہو جائیں جو شرم اور غیرت اور عزت کو برباد کرتی ہو کیونکہ ایک غیرت مند انسان کے لئے اس سے زیادہ کیا
    رسوائی ہے کہ اس کی بیاہتا بیوی اور خاندان کی رانی اس کے جیتے جی اسی کی عورت کہلا کر اور اسی کے نکاح میں ہو کر کسی دوسرے سے ہم بستر ہو ایسے آدمی کا تو ڈوب کر مرنا بہتر ہے کہ
    اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے دیکھتے دیکھتے غیر آدمی اس کی عورت سے منہ کالا کرے اور وہ چپ رہے ان وجوہات سے ہمیں امید تھی کہ جیسا کہ ہم نے کمال ہمدردی اور خیر خواہی کے رو
    سے اشتہار کو لکھا تھا ایسا ہی آریہ صاحبان بھی ہمارے اشتہار کو غور اور انصاف سے دیکھیں گے اور ؔ کوشش کریں گے کہ اس بلا سے
    کوئی اس پاک سے جو دل لگاوے
    کرے پاک آپ کو تب
    اس کو پاوے
    آریہ صاحبوں کے ملاحظہ کیلئے ایک ضروری اشتہار
    چونکہ اس وقت کتاب منن الرحمان * میری طرف سے مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں چھپ رہی ہے اور اس کتاب میں ایک
    تقریب پر آریہ صاحبوں اور عام ہندوؤں کے مسئلہ نیوگ کا بھی ذکر کرنا پڑے گا اس لئے میں نے قرین مصلحت سمجھا کہ اس اشتہار کے ذریعہ سے بعض واقف کار آریہ صاحبوں سے بحث کرلوں
    اور پھر اس مسئلہ کو اپنی کتاب میں لکھوں یا اگر وہ مجھے اس کی معقولیت سمجھادیں تو لکھنے سے دستکش رہوں کیونکہ میری نظر میں نیوگ کا عقیدہ ایک ایسا قابل شرم عقیدہ ہے کہ اس کے بیان میں
    گو کیسا ہی
    یہ کتاب دنیا کی زبانوں کی تنقیح اور تحقیق کے لئے میں نے تالیف کی ہے اس کتاب کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ صرف عربی زبان ہی ایسی زبان ہے کہ جو خدائے قادر مطلق کی وحی
    اور الہام سے ابتداء زمانہ میں انسان کو ملی اور وہی اُم الالسنہ یعنی تمام زبانوں کی ماں ہے اور نہ صرف اسی قدر کہ تمام زبانیں اسی میں سے نکلی ہیں بلکہ میں نے اس کتاب میں
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 8
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 8
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    نجات پاویں اور اگر کوئی بات ان کو سمجھ نہ آئے گی تو ہم سے دریافت کرلیں گے یا اگر انکے زعم میں ہم نے خلاف واقعہ لکھا
    ہے تو پنڈت دیانند کے بھومکا اور وید کے حوالہ سے وہ غلطی ہماری ہمیں دکھائیں گے اور ہمیں ملزم کریں گے اور اپنی صحیح تحقیقات معہ وید کے منتر اور پنڈت دیانند کے بھاش کے
    تہذؔ یب
    سے کام لیا جائے پھر بھی بوجہ خبث نفس مضمون کے ناگفتنی باتیں لکھنی پڑتی ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ کوئی صاحب پیچھے سے کوئی بات زبان پر لاویں بلکہ یہ چاہتا ہوں کہ اگر کسی کا کچھ عذر
    ہو تو اب پیش کر لے میں بخوشی اس کے عذر کو سنوں گا اور اگر قبول کے قابل ہو تو قبول کرلوں گا کیونکہ اس جگہ نفسانیت منظور نہیں صرف اظہار حق منظور ہے اب ضروری استفسار ذیل میں
    لکھتا ہوں۔
    استفسار
    اے آریہ صاحبان آپ لوگ اس سے بے خبر نہیں کہ پنڈت دیانند صاحب نے وید کی شرتیوں کے حوالہ سے نیوگ۱؂ کی تفصیل ذکر کرتے ہوئے ایک یہ ہی قسم لکھی ہے کہ اگر
    مرد اس مردی کی قوت سے ناقابل ہو جس سے اولاد پیدا ہو سکے تو وہ اپنی بیوی کو اجازت دیوے تا کسی دوسرے سے اولاد حاصل کرے تب وہ شخص جس کو اجازت دی گئی ہے اسی گھر میں جہاں
    اس عورت کا خاوند رہتا ہے اس کی بیوی سے ہم بستر ہوگا اور نہ صرف ایک دفعہ بلکہ کئی سال تک اور جب تک کہ دس بچے پیدا ہوجائیں وہ اس سے ہم بستری کر سکتا ہے مگر ساتھ یہ بھی حکم ہے کہ
    عورت اپنے خاوند کی خدمت اور سیوا میں بھی لگی رہے اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اسی گھر میں اس د ّ یوث خاوند
    یہ بھی ثابت کیا ہے کہ یہی ایک زبان ہے جو پاک اور کامل اور علوم عالیہ کا
    ذخیرہ اپنے مفردات میں رکھتی ہے اور دوسری زبانیں ایک کثافت اور تاریکی کے گڑھے میں پڑی ہوئی ہیں اس لئے وہ اس قابل ہرگز ہو نہیں سکتیں کہ خدا تعالیٰ کا کامل اور محیط کلام ان میں نازل ہو
    کیونکہ ان زبانوں کی کم مائیگی اور کجی اور ناقص بیانی معارف الٰہیہ کی فوق الطاقت بوجھ کو اٹھا نہیں سکتی۔ غرض اس کتاب میں بڑی صفائی سے اور بڑے روشن اور بدیہی دلائل سے فیصلہ کیا گیا
    ہے کہ خدا تعالیٰ کا پاک اور کامل اور روشن اور پراسرار اور پرحکمت کلام جو دائمی
    ۱؂ شاید آریہ کہیں گے کہ یہ زنا نہیں مگر جس حالت میں خاوند موجود ہے اور بیٹا بھی اسی کا بیٹا کہلائے گا
    اور عورت بھی اسی کی عورت رہے گی اور طلاق دی نہیں گئی تو پھر یہ زنا نہیں تو اور کیا ہے اور منو لکھتا ہے کہ نیوگ کے دنوں میں بھی خاوند کو صحبت کرنے کا اختیار ہے۔(دیکھو منو)
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 9
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 9
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    لکھؔ کر شائع کر دیں گے مگر افسوس کہ یہ امید خلاف واقعہ نکلی اور انہوں نے کیا تو یہ کیا کہ صرف ایک گول مول اور گم
    اشتہار جس پر کوئی تاریخ نہیں محض یاوہ گوئی کے طور پر شائع کر دیا۔ یہ اشتہار ان کا مطبع دھرم پرچارک جالندھر میں چھپا ہے اور ہم نے بار بار اس کو پڑھا کہ کیا اس میں ہمارے سوال کا کوئی
    جواب بھی لکھا ہے تو معلوم
    کا رہنا بھی ضروری ہے جس کی عورت سے دن رات ایک اجنبی اس کی آنکھوں کے سامنے بدکاری کر رہا ہے اور ایسے زانی کا نام جو پرائی عورت سے بدکاری کرے
    وید کی رو سے بیرج داتا ہے اورؔ یہ بھی لکھا ہے کہ وہ بیرج داتا اسی عورت سے اپنے لئے بھی اولاد لے سکتا ہے اور یہ بھی درج ہے کہ اگر کسی عورت کے لڑکیاں ہی پیدا ہوں تو اس کا بھی فرض
    ہے کہ اپنے پتی کی اجازت سے نیوگ کراوے اور کسی بیرج داتا کو اپنے گھر میں بلاوے اور وہ اس کی آنکھوں کے سامنے یعنی اسی گھر میں اس عورت سے صحبت کرے اور ایک دراز مدت تک کرتا
    رہے۔ اب آپ لوگ معاف فرماویں کہ ہم نے آپ کے وید کی تعلیم کا یہ حصہ اس غرض سے نہیں لکھا کہ آپ کے دلوں کو دکھاویں بلکہ صرف اس استفسار کی غرض سے تحریر کیا ہے کہ کیاآپ لوگ
    ایسی شرتیوں کو بھی ایشر بانی سمجھتے ہیں اور کیا آپ لوگوں میں سے کسی کی انسانی حمیت اور غیرت اس بات کو قبول کرتی ہے کہ اس کے جیتے جی نیوگ کے بہانہ سے اس کا چھوٹا بھائی یا
    برادری میں سے کوئی مشٹنڈا اس کی پیاری بیوی پر صحبت کی غرض سے حملہ کرے بلکہ باجازت وید کام بھی کر ڈالے یا کوئی برہمن اس کی عورت کے ساتھ ایسی حرکت کا مرتکب ہو اور وہ
    باوجود قوت اور شہوت اور طاقت اور روبرو موجود ہونے کے الگ ہو بیٹھے اور کچھ چوں نہ کرے بلکہ پاس کی کوٹھڑی میں خاموش بیٹھا رہے اور اپنی آنکھوں سے دیکھے کہ ایک اجنبی اس کی
    سہروں کی منکوحہ اور برات کی بیاہتا سے جو نام و ننگ کے خاندان سے آئی تھی ہم خواب اور بغلگیر ہے اور صرف بوس و کنار پر بس نہیں کیا بلکہ حرکت زنا سے اس کم بخت خاوند کی ساری پت
    اور عزت کو خاک میں ملا دیا اور پھر بھی ذرا غیرت اس کی جوش نہ مارے۔
    ہدایت لیکر دنیا میں آیا ہو وہ صرف اسی زبان میں آ سکتا ہے جو ان معارف اور حقائق کو بیان کرنے کیلئے اپنے اندر
    کامل وسعت رکھتی ہو اس فیصلہ کے مطابق صرف قرآن شریف ہی اللہ تعالیٰ کی وہ کامل کتاب ٹھہرتی ہے جو حقیقی اور کامل اور ابدی تعلیم لے کر دنیا میں آئی اور دوسری کتابیں جو آسمانی کہلاتی
    ہیں اگر مانؔ بھی
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 10
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 10
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    ہوا کہ ہمارے قول کے رد میں ایک ؔ ذرہ بھی تحریر نہیں کیا۔ ہاں بد زبانی بہت کی ہے اور ہمارا نام قدیمی متعصب اور خبیث
    الباطن رکھا ہے اس کا ہمیں رنج نہیں کیونکہ جب چور محاصرہ میں آتا ہے تو حتی الوسع ناجائز حملہ کرتا ہے اسی طرح جب ان کی کچھ بھی پیش نہ گئی تو چند گالیاں ہی دے دیں تا قوم کو خوش کر
    دیں لیکن یہ
    اےؔ آریہ صاحبان میں اس وقت تمہارے ہی پرمیشر کی تمہیں قسم دیتا ہوں اور تمہاری ہی کانشنس کی شہادت تم سے چاہتا ہوں کہ کیا تمہاری مردانہ غیرت اور شریفانہ حمیت اس بات
    پر برداشت کر سکتی ہے کہ یہ بے شرمی کا کام تمہارے گھر میں اور تمہاری نظر کے سامنے ہو اور تم چپکے اس کو دیکھتے رہو اور ایسی تعلیموں سے بیزار نہ ہو۔ جنہوں نے یہ دن تمہیں دکھلائے
    اور *** کا طبق تمہارے گلے میں ڈالا۔ میں اس بات کو خوب جانتا ہوں کہ کس قدر ایک شریف انسان کو قدرتی اور طبعی طور پر اپنی عورت کے لئے حمیت اور غیرت ہوتی ہے یہاں تک کہ اس قدر بھی
    روا نہیں رکھتا کہ اس کے گھر سے اس کی بیوی کی اونچی آواز اٹھے اور اجنبی لوگ اس کو سنیں یہی وجہ ہے کہ کبھی ایک غیرت مند انسان تھوڑے ظن کے ساتھ اپنی عورت کو قتل بھی کر دیتا ہے
    اور زنا کی حالت میں تو ٹکڑے ٹکڑے کرکے کتوں کی طرح پھینک دیتا ہے اور اپنے لئے ایک بے شرمی کی زندگی سے مرنا قبول کرلیتا ہے پھر میں نہیں سمجھ سکتا کہ آپ لوگوں کا وید یہ کیسی ہدایت
    لایا جو انسانی فطرت کی طبعی
    لیں کہ کوئی ان میں سے خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی تو وہ ایک قانون مختص القوم یا مختص القوم کی طرح صرف چند روزہ مصلحت کیلئے آئی ہوگی۔ لھٰذا جیسا کہ
    وہ خود ناقص تھیں ایسا ناقص بولی میں اتریں۔ مگر کامل کتاب کے لئے کامل بولی میں اترنا ضروری تھا کیونکہ کامل اور ناقص کا پیوند درست بیٹھ نہیں سکتا لھٰذاقرآن شریف عربی زبان میں اترا جو اپنے
    ہریک پہلو کے رو سے کامل ہے۔ غرض منن الرحمن کو ہم نے اس مدعا سے تالیف کیا ہے کہ تا کامل بولی کے ذریعہ کامل کتاب کا ثبوت دیں اسی وجہ سے ہم نے اس کتاب کے ساتھ پانچ ہزار روپیہ کا
    اشتہار بھی دیا ہے جو شخص چاہے ہم سے پہلے روپیہ جمع کرا لے اگر وہ ثابت کر دیوے کہ وہ دلائل جو اس طرف سے عربی زبان کے اُمّ الالسنہ اور وحی اللہ ہونے کے بارے میں پیش کئے گئے
    ہیں ایسے دلائل یا ان سے بہتر کسی اور زبان کے بارے میں پیش ہوسکتے ہیں تو وہ پانچ ہزار روپیہ جوجمع کرایا جائے گا اس کا ہوگا۔ یہ اشتہار صرف کہنےؔ کی بات نہیں بلکہ ہماری طرف
    سے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 11
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 11
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    شریفوں کا کام نہیں کہ جھوٹے تو آپ ہوں اور سچے کو گالیاں دیںؔ یہ ہرگز نیک ذاتوں کا کام نہیں اور پھر تعجب کہ ہمیں غلط
    بیانی کا الزام تو لگایا مگر اپنے اشتہار میں کچھ بیان نہ کیا کہ وہ غلط بیانی کیا ہے اور کس شرتی کو ہم نے خلاف واقعہ لکھا اور کس عبارت کو ہم نے محرف کیا اور بڑھا دیا اور کیا گھٹا دیا بلکہ
    بالآخر اسی اشتہار میں اقرار کر دیا کہ
    شرم اور حیا اور حمیت کے برخلاف ہے۔ کیا کوئی شریف الفطرت اس بات پر راضی ہو سکتا ہے کہ اولاد کی خواہش سے یا لڑکیوں کی کثرت کے بعد لڑکا
    پیدا ہونے کی تمنا سے ایک اجنبی کو اپنے گھر میں آپ بلا لاوے اور اپنی عورت کو اس سے ہم بستر کراوے اور آپ الگ بیٹھا جوش شہوت کی حرکات دیکھتا رہے کیا اب بھی آپؔ لوگ اس تعلیم کو خدا
    تعالیٰ کی تعلیم کہیں گے؟ اے میرے پیارے ہموطنو! اس خدا سے ڈرو جو ہرگز ناپاکی کے راہوں کو پسند نہیں کرتا وہ ہرگز نہیں چاہتا کہ اس کے بندوں میں زنا پھیلے اور ّ*** اولاد پیدا ہو۔ ایسی
    بیٹے کی خواہش پر بھی ہزار *** ہے جس کی والدہ اپنا عزیز خاوند چھوڑ کر دوسرے کے آگے پڑتی ہے اور ُ تف اس اولاد پر جو حرام کاری کے ذریعہ سے حاصل کی جاتی ہے۔ عزیزو ذرا سوچو
    کہاں ہے تمہاری شرافت کہاں ہے تمہاری انسانی حمیت کہاں ہے تمہارا کانشنس۔ غیر کا نطفہ تمہارا بیٹا ہرگز نہیں ہوگا۔ اور ناحق بے حیائی سے اپنی عورتوں کی پاک دامنی کو گندگی میں ڈال دو
    گے۔ دنیا میں کنجر سب سے زیادہ بے شرم اور فاسق قوم ہے مگر وہ بھی اپنی بہو سے حرام کاری
    یہ ایمانی اقرار ہے کہ ہریک ایسا شخص جو مقابلہ کرنے کے لئے علمی لیاقت رکھتا ہو یعنی اگر
    وہ انگریزی کا حامی ہے تو انگریزی دان ہو اور اگر سنسکرت کا حامی ہے توسنسکرت دان ہو اس کی درخواست آنے کے وقت نقد پانچ ہزار روپیہ ایسی جگہ جمع کرا دیا جائے گا جو اس کی مرضی کے
    مطابق اور قرین انصاف ہو غرض یہ اس کا حق ہوگا کہ ہر طرح سے پوری تسلی کر لے ہاں اس پر یہ لازم ہوگا کہ ہمارا تحریری اقرارنامہ لے کر اپنی طرف سے بھی یہ اقرار نامہ لکھ دے کہ اگر وہ
    ایک مدت مقررہ تک جس کا تصفیہ بعد میں ہو جائے گا مقابلہ پر کچھ نہ لکھے یا ایسا لکھے جو منصفوں کی نظر میں ہیچ ہو تو اس مدت تک وہ تجارت کے کام کا روپیہ جو اس کے انتظار پر بند رہے گا
    اس کا مناسب ہرجانہ اس کو دینا ہوگا اور یہ روپیہ منصفوں کی ڈگری دینے سے اس شخص کو مل جائے گا جو اپنی زبان کو فضائل خاصہ غالبہ کی رو سے اُمّ الالسنہ ثابت کرے اور اس کا اختیار ہوگا
    کہ باضابطہ رسید کے ذریعہؔ سے وہ تمام روپیہ منصفوں کے پاس ہی جمع کرا دیوے اور ہم اس بات کو بدل قبول کرتے ہیں کہ اس فیصلہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 12
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 12
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    نیوگ سچ ہے *اور ہمارے نیوگ ہو جاتا ہے اب اگرچہ یہ اؔ قرارکافی تھا اور کچھ ضرورت نہ تھی کہ ہم اس رسالہ کو لکھتے
    مگر چونکہ وہ اشتہار چوروں اور خیانت پیشہ لوگوں کی طرح لکھا گیا ہے اور صاحب اشتہار اس عاجز کو غلط بیانی کا الزام بھی دیتے ہیں اور پھر زبان دبا کر نیوگ کا اقرار بھی کئے جاتے ہیں اس
    لئے ہم نے مناسب سمجھا
    نہیں کراتے مگر تم پر افسوس کہ جائز رکھتے ہو کہ تمہاری بہو بھی تمہارے بیٹے کے سوا کسی اور کے پاس جاوے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس زندگی سے مرنا بہتر
    ہے میں نے اسی تفتیش کے لئے قادیان میں ایک جلسہ قرار دیکر آریہ صاحبوں سے اس حقیقت کو دریافت کرنا چاہا چنانچہ ۳۰ جولائی ۱۸۹۵ء کو ایک مسجد میں یہ جلسہ منعقد ہوا۔ اور چار آریہ
    صاحبان شامل جلسہ ہوئے اور جب ان سے دریافت کیا گیا تو بعض نے کہا کہ ہمیں خبر نہیں۔ ہم نے ستیارتھ پرکاش کا یہ مقام نہیں پڑھا اور بعض نے بڑے استقلال سے بیان کیا کہ آریہ دھرم کا صرف
    یہ عقیدہ ہے کہ بیوہ نیوگ کے ذریعہ سے اولاد لے سکتی ہے میں نہیں جانتا کہ انہوں نے اصل واقعہ کو کیوں چھپایا۔
    کے لئے مسلمانوں میں سے کوئی منصف نہ ہو بلکہ اگر مثلاً یہ نزاع آریہ
    صاحبوں کی طرف سے ہو تو ہمیں منظور ہے کہ منصف دو شریف اور فاضل آریہ اور دو معزز اور لائق عیسائی انگریز ہوں اور کثرت رائے پر فیصلہ ہو مگر اس شرط سے کہ وہ کثرت رائے حلف کے
    ساتھ مؤکد ہو۔ اور اگر یہ نزاع بعض پادری صاحبوں کی طرف سے ہو تو ایسا انہیں بھی اختیار ہے کہ اپنے منصف دو عیسائی اور دو اور شخص جو رائے ظاہر کرنے کے قابل ہوں مقرر کرلیں ہمیں یہ
    تقرری بہرحال منظور ہوگی کچھ بھی عذر نہیں ہوگا۔ منہ
    * نوٹ )مُردوں سے نیوگ( ناظرین آپ لوگ اس سے تو واقف ہوگئے کہ ہندو عورتیں شہوات فرو کرنے کیلئے زندہ آشناؤں سے نیوگ
    کراتی ہیں مگر ڈاکٹر برنیئر نے اپنا چشم دید ماجرا اپنی کتاب کے صفحہ ۱۶۲ میں لکھا ہے کہ مردوں سے نیوگ کرنے کی رسم بھی جدید نہیں بلکہ قدیم سے اور پورانی چلی آتی ہے آپ لوگ تعجب کریں
    گے کہ مردوں سے نیوگ کیونکر ہو سکتا ہے مگر اصل بھید کے کھلنے سے کچھ بھی تعجب باقی نہیں رہے گا اب اصل عبارت ہم ذیل میں لکھتے ہیں اور وہ یہ ہے:۔ برہمنوں کا دغا اور فریب یہاں تک
    ہے کہ تاوقتیکہ میں نے قطعی دلیلوں سے بخوبی تحقیق نہ کرلیا مجھ کو اس بات پر یقین نہ آتا تھا کہ یہ لوگ ایک خوبصورت لڑکی کو جگن ناتھ کی مباشرت کیلئے اپنے کسی خاص دن میں انتخاب کرتے
    ہیں اور وہ لڑکی بڑی دھوم دھام سے مورت کے ساتھ مندر کو جاتی اور تمام رات وہاں رہتی ہے اور یہ برہمن اس کو یہ دم دیتے ہیں کہ خود جگ ناتھ جی رات کو تیرے ساتھ آکر رہیں گے اور تو دیوتا
    سے پوچھیو کہ اب کے دفعہ کیسا سماں ہوگا اور آپ کی اس کرپا کے عوض جو آپ مجھ پر کرتے ہیں کس قسم کے پوجا اور چڑھاوا اور رتھ کی روانگی کا جلوس آپ کو پسند ہوگا اور رات کے وقت
    ایک شہوت پرست برہمن ایک چھوٹی سی چور کھڑکی کے راہ سے مندر میں پہنچ جاتا اور اس بیچاری کنواری لڑکی سے جو اس کو جگن ناتھ سمجھی ہوتی ہے ہم بستر ہوتا ہے اور جس بات کی برہمنوں
    کو ضرورت ہو اس کو یقین کرا جاتا ہے اور جب صبح کو ویسے ہی دھوم دھام سے اس لڑکی کو دوسرے مندروں میں لے جاتے ہیں تو برہمن اس سے کہتے ہیں کہ جو کچھ تم نے دیوتا کی زبان سے سنا
    ہے وہ اعلانیہ لوگوں کو سنادو۔ برنیئر صفحہ ۱۶۲ و ۱۶۳
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 13
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 13
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    کہ دروغ گو کواس کے گھر تک پہنچادیں کیونکہ مکاروں اور خیانت پیشوں کی سزا واجبی یہی ہے کہ ان کے خیانت کے
    طریقوں کو پوشیدہ نہ رکھا جائے اور سَتْ اور اَ سَتْ کو نکھیڑا جائے اسی غرض سے ہم نے اس رسالہ کو لکھا ہے تا غلط بیانی کے بیجا الزام کا فیصلہ ہوجائے کیونکہ یہ تین بد زبانیاں جو میری نسبت
    کی گئیں اور کہا گیا کہ یہ شخص غلط بیان اور قدیمی متعصب اور خبیث النفس ہے یہ ایسا خباثت سے بھرا ہوا بہتان ہے کہ کوئی صادق آدمی اس پر صبر نہیں کر سکتا اور نیز اس پر خاموش رہنے
    سے خلق اللہ کو ضرر پہنچتا ہے اور پبلک کو دھوکا لگتا ہے غلط بیانی اور بہتان طرازی راست بازوں کا کام نہیں بلکہ نہایت شریر اور بدذات آدمیوں کا کام ہے کہ جو نہ خدا سے ڈریں اور نہ خلقت
    کے لعن و طعن کی پروا رکھیں اور چونکہ ناحق ان لوگوں نے گالیاں دیکر اور بے وجہ
    میرے خیال میں انسانی شرم نے ان کو اجازت نہیں دی اور جب میرے بعض مخلصوں نے انکو وہ مقام پڑھ کر
    سنایا تو پھر دوسرا عذر یہ پیش ہوا کہ یہ طریق اس حالت میں ہے کہ جب خاوند ہرگز عورت کے پاس جا نہ سکے۔ پھرؔ جب کھول کر بتلایا گیا کہ ستیارتھ پرکاش میں یہ صاف لکھا ہے کہ ایسا نامرد
    ہو جو ناقابل اولاد ہو پس اس میں وہ نامرد بھی داخل ہیں جو صحبت کرنے پر تو پورے قادر ہیں مگر منی قابل اولاد نہیں مثلاً منی میں کیڑے نہیں یا پتلی ہے۔ یہ نہیں لکھا کہ ایسا ہو کہ ہرگز صحبت نہ
    کر سکتا ہو بلکہ یہاں تک لکھا ہے کہ اگر مرد قابل اولاد ہو مگر لڑکیاں ہی پیدا ہوتی ہوں تب بھی نیوگ ہوگا تو یہ جواب سن کر وہ لوگ خاموش ہوگئے اور ان میں سے ایک پنڈت جی بولے کہ بے شک ایسی
    حالتوں میں بھی نیوگ کرانا کچھ مضائقہ نہیں اور ہم ایسے نیوگ پر راضی ہیں۔ غرض اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ عام ہدایت وید کی یہی ہے کہ آریہ لوگ ضرورتوں کے وقت اپنی بیویوں اور بہو بیٹیوں
    سے نیوگ کرایا کریں مگر ظاہر ہے کہ انسانی کانشنس اس کو قبول نہیں کرتا اور انسان کی فطرتی حمیت اور غیرت ہزار بیزاری سے اس کام پر *** بھیجتی ہے اور انسان تو انسان ایک مرغ بھی اپنی
    مرغیوں کے لئے غیرت رکھتا ہے۔ اب حاصل کلام یہ ہے کہ اگر اس بارہ میں کوئی اور آریہ صاحب بھی بحث کرنا چاہتے ہوں تو ہم اپنے خرچ سے ان کو ان کی درخواست پر قادیان میں بلا سکتے ہیں۔
    اور ۱۵۔ اگست ۱۸۹۵ء تک مہلت ہے۔
    راقم
    ۳۱ جولائی ۱۸۹۵ء از قادیان ضلع گورداسپور میرزا غلام احمد
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 14
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 14
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    ہمارے سید و مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر جھوٹا الزام لگا کر ہمارا دل دکھایا ہے اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ اب ان
    باتوں کا ایک جوڈیشل تحقیقات کی طرح فیصلہ ہو جاوے کہ درحقیقت کون غلط بیان اور قدیمی متعصب اور خبیث النفس ہے ؂
    ندارد کسی باتو ناگفتہ کار ولیکن چو گفتی دلیلش بیار
    اسؔ لئے ہم اس
    رسالہ کے ساتھ ایک سو ۱۰۰ روپیہ کا اشتہار بھی دیتے ہیں کہ اگر یہ بات خلاف نکلے کہ پنڈت دیانند نے وید کے حوالہ سے نہ صرف بیوہ کا غیر سے بغیر نکاح کے ہم بستر ہونا ستیارتھ پرکاش میں
    لکھا ہے۔ بلکہ عمدہ عمدہ وید کی شرتیاں کا حوالہ دے کر اس قسم کے نیوگ کو بھی ثابت کر دیا ہے کہ خاوند والی عورت اولاد کے لئے غیر سے نطفہ لیوے اور غیر اس سے اس مدت تک بخوشی ہم
    بستر ہوتا رہے جب تک کہ چند لڑکے پیدا نہ ہو لیں تو ہم اس بیان کے خلاف واقعہ نکلنے کی صورت میں نقد 3سو روپیہ اشتہار جاری کرنے والوں کو دیدیں گے۔ اور اس وقت وہ گالیاں جو اشتہار میں
    لکھی ہیں ہمارے حق میں راست آئیں گی۔ اگر روپیہ ملنے میں شک ہو تو ان چاروں صاحبوں میں سے جو شخص چاہے باضابطہ رسید دینے کے بعد وہ روپیہ اپنے پاس جمع کرالے اور ہر طرح سے تسلی
    کرلیں اور ہمیں یہ ثبوت دیں کہ خاوند والی عورت کا نیوگ جائز نہیں۔ اور اگر اس رسالہ کے شائع ہونے سے ایک ماہ کے عرصہ میں جواب نہ دیں تو ان کی ہٹ دھرمی ثابت ہوگی اور ثابت ہوگا کہ
    درحقیقت وہ لوگ آپ ہی خبیث النفس اور قدیمی متعصب اور غلط بیان ہیں جو کسی طرح ناپاکی کے راہ کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔
    اے منصفو تم خود سوچو کہ ہم اس سے زیادہ کیا کر سکتے ہیں اور اس
    سے بڑھ کر ہمارے صدق کی اور کونسی علامت ہوگی کہ ہم اپنی سچائی کے ثابت کرنے کے لئے نقد 3سو روپیہ ان کو دیتے ہیں اور ان کے پاس جمع کراتے ہیں اب ثابت ہو جائے گا کہ خبیث النفس
    اور متعصب اور سچ سے منہ پھیرنے والا کون ہے یہی تحریر ہماری بجائے اشتہار کے ہے۔
    اب اول ہم وید بھومکا سے وہ مقام ناظرین کو دکھاتے ہیں جس کی طرف ان آریوں نے پناہ لینا چاہا ہے تا
    ہریک منصف کو معلوم ہو کہ حق پوشی کی غرض سے کہاں کہاں یہ لوگ بھاگتے پھرتے ہیں اور آخر وہی بات نکلتی ہے جس کو چھپانا چاہتے ہیں۔
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 15
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 15
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/15/mode/1up
    ویدبہاش بھومکا کی عبارت جو آریوں نے اپنے
    مطلب کے لئے ناتمام لکھی ہے صفحہ ۲۱۱
    نیوگ کرنے میں ایسا نِیم ہے
    کہ جس ستری کا پرش واکسی پرش کی ستری مر جائے، اتھوا ان
    ترجمہ نیوگ کا قاعدہ یہ ہے کہ جس عورت کا خاوند یا جس خاوند کی عورت مر جائے یا عورت مرد کو
    میں کسی پرکار کا ستھر
    روگ ہو جائے، وا نپُنسک بندھیادوش پڑ جائے، اور ان کی یوواوستھا ہو،
    کسی قسم کا مرض لاحق ہوجائے (یعنی مثلاً منی پتلی پڑجائے یا منی میں کیڑے نہ ہوں) یا ہیزی حالت یا خصی پن پیدا ہو
    جائے اور مرد عورت
    تتھاسنتانوتپتّی کی اِچھا ہو، تو اس اوستھا میں ان کا نیوگ ہونا اوشیہ چاہئے۔
    جوان ہوں اور اولاد پیدا ہونے کی خواہش ہو تو اس صورت میں ان کا نیوگ ہونا واجب ہے۔
    اس ؔ
    کا نِیم آگے لکھتے ہیں۔۱؂ صفحہ ۲۱۴۔ )ایمام(
    اس کا قاعدہ وید میں یوں لکھا ہے۔
    ایشور منشیوں کو آگیا دیتا ہے کہ ہے اندر! پتے! اَیشور یہ یُکت ! تو اس ستری کو بیریہ دان دے کے
    ایشر بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اے جوان تو اس عورت کو بیج بخش کر
    سُپتر اور سوبھاگیہ یُکت کر۔ ہے بیریہ پرد! (دشاسیا۲؂) پُرش کے پرتی وید کی یہ آگیا
    اولاد اور بھاگ والی بنا۔ اے بیج
    ڈالنے والے جوان وید کا یہ حکم
    ہے کہ اس وواہت وا نیوجت ستری میں دس سنتان پَرینت اُتپنّ کر، ادھک نہیں۔
    ہے کہ اس منکوحہ اور نیوگن میں دس۱۰ بچوں سے زیادہ مت کر
    (پتی میں۳؂)
    تتھا ہے ستری! تو نیوگ میں گیارہ پتی تک کر۔ ارتھات ایک تو ان میں
    خاوند کے بارے میں ایسا ہی عورت کو حکم ہے کہ اے عورت تو نیوگ گیاراں خصم تک کر۔ یعنی ایک تو ان میں سے
    پرتھم
    وواہت اوردش پرینت نیوگ کے پتی کر، ادھک نہیں۔ اس کی یہ ویوستھا ہے کہ وواہت
    پہلا بیاہ اور دس اُس کے بعد نیوگ کی خاوند اس سے زیادہ نہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ خاوند
    پتی کے مرنے وا
    روگی ہونے سے دوسرے پُرش وا ستری کے ساتھ سنتانوں کے
    مر جانے یا اس کے بیمار ہونے سے عورت دوسرے مرد سے یا مرد دوسری عورت سے اولاد کی
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 16
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 16
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/16/mode/1up
    ابھاؤ میں نیوگ کرے۔ تتھا دوسرے کے بھی مرن وا روگی ہونے کے ا ننتر تیسرے کے ساتھ کر لے۔
    خواہش میں نیوگ کرے۔
    ویسا ہی دوسرے مرد مرنے اور بیمار ہو جانے کے اندر تیسرے مرد کے ساتھ نیوگ
    اسی پرکار دشویں تک کرنے کی آگیا ہے۔
    کرلے۔ اسی طرح دسویں تک نوبت پہنچا دے وید کا یہی حکم ہے۔
    پرنتو ایک کال میں ایک ہی بیریہ داتا پتی رہے۔دوسرا نہیں۔ اسی پرکار پرش کے لئے بھی وواہت
    مگر ایک وقت میں ایک ہی بیج داتا ہو دوسرا جائز نہیں )خاوند جب چاہے صحبت کرے یہ بیرج داتا
    کیلئے قاعدہ ہے( اسی
    ستری کے مر جانے پر ودھوا کے ساتھ نیوگ کرنے کی آگیا ہے۔ اور جب وہ بھی روگی ہو وا مر
    طرح مرد کے واسطے بھی بیاہتا عورت کے مرجانے پر بیوہ عورت
    کیساتھ نیوگ کرنے کی اجازت ہے اور جب وہ بیوہ روگی ہو
    جائے، تو سنتانوتپتّی کے لئے دشم ستری پرینت نیوگ کر لیوے۔۱؂
    جاوے یا مر جائے تو بچے جنانے کے لئے دسویں عورت تک نیوگ
    کرے۔
    ابؔ دیکھو یہ وہی وید بھومکا ہے جس کا قادیان کے آریوں نے حوالہ دیا تھا اور جس کی بناء پر ہماری غلط بیانی ثابت کرنی چاہی تھی سو اس میں بھی خلاصہ مطلب یہی نکلا کہ نیوگ کی
    صورتوں میں سے ایک یہ بھی صورت ہے کہ مرد کی منی کسی بیماری کی وجہ سے قابل اولاد نہ رہے مثلاً منی پتلی پڑ جائے یا اس میں کسی قسم کا احتراق ہو جائے یا منی میں کیڑے نہ ہوں تو ان سب
    صورتوں میں مرد ناقابل اولاد ہوجائے گا اور واجب طور پر نیوگ کرانا پڑے گا اور اکثر الوقوع دنیا میں یہی قسم ہے کیونکہ اور قسمیں یعنی ہیجڑہ ہونا یا خصّی کئے جانا بہت نادر الوقوع ہیں کیونکہ لوگ
    سوچ سمجھ کر ہزار احتیاط اور تفتیش سے اپنی لڑکیوں کی شادی کرتے ہیں ہیجڑوں اور خصّیوں کو کوئی لڑکی نہیں دیتا اور پیچھے سے خصّی کئے جانا یہ ایسا شاذ و نادر ہے جو معدوم کی طرح ہے۔
    آج کل کی جدید تحقیقات کی رو سے تو وہی لوگ نامرد اور ناقابل اولاد سمجھے گئے ہیں کہ گو وہ کیسی ہی قوت باہ رکھتے ہیں مگر ان کی منی میں کیڑے نہیں ہوتے اور بعض وقت بظاہر منی اچھی ہوتی
    ہے اور مرد جوان ہوتا ہے مگر منی اعتدال سے گر جاتی ہے اور یا ایسی صورت ہوتی ہے کہ مرد اپنی فطرت سے عقیمہ عورت کی طرح ہوتا ہے تناسل کے اعضاء درست ہوتے ہیں قوت باہ نہایت تیز
    ہوتی ہے مگر لڑکا لڑکی کچھ بھی پیدا نہیں ہوتا ان تمام صورتوں میں منی کے کیڑوں
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 17
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 17
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/17/mode/1up
    میں ضرور آفت ہوتی ہے یا پیدا ہی نہیں ہوتے یا ضعیف میت کی طرح ہوتے ہیں۔ اس طرح کے لوگ دنیا میں نہ ہزار ہا بلکہ
    لاکھوں موجود ہیں اور بعض بباعث کسی ردّی قسم آتشک اور احتراق منی کے ناقابل اولاد ہو جاتے ہیں یہی قسمیں دنیا میں بکثرت پائی جاتی ہیں مگر ان لوگوں کی شہوت میں کمی نہیں ہوتی بلکہ بعض
    صورتوں میں تو شہوت اوروں سے بھی زیادہ ہوتی ہے اور اطبّاء اور ڈاکٹروں کے نزدیک یہ لوگ نامرد کہلاتے ہیں اور یہ بات بھی فیصلہ شدہ ہے کہ ہمارے اس ملک میں کم سے کم فیصدی ایک مرد ایسا
    ہوتا ہے کہ جس کے کیڑوں میں آفت ہونے کی وجہ سے اولاد نہیں ہوتی یا ہو کر مر جاتی ہے تو اس صورت میں ہریک گاؤں اور قصبہ میں کم سے کم دو تین ہندو عورتوں کو نیوگ کی ضرورت پیش آتی
    ہوگی اور شہروں میں توصدہا جوان عورتوں کا نیوگ کرانا پڑتا ہوگا اور جو صرف شہوت فرو کرنے کے لئے نیوگ ہے وہ اس سے الگ رہا۔
    یہ ڈاکٹری اور طبّی تحقیقاتوں سے ثابت ہو چکا ہے جس
    سے چاہیں دریافت کرلیں۔ اور کسی ایسے قصبہ یا شہر کا نشان نہیں دے سکیں گے جس میں اس قسم کے لوگ نہ پائے جائیں۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ نیوگ جوان عورتوں کا ہی ہوگا کیونکہ پیرانہ سالی
    میں تو عورت خود ناقابل اولاد ہو جاتی ہے اور جب جوان عورت کا نیوگ ہوا اور اس کا خاوند بھی جوان ہے اور قوت باہ پورے طور پر اپنے اندر رکھتا ہے بلکہ قوت کی رو سے بیرج داتا سے کچھ
    زیادہؔ ہی ہے تو اس صورت میں قطع نظر اس بے حیائی اور دیوثی کے جو ایک شخص اپنے ہاتھ سے اپنی جوان عورت کو دوسرے سے ہم بستر کرا دے یہ رشک بھی اس کے لئے تھوڑا نہیں ہوگا کہ
    وہ تمام رات شہوت کے زور سے تڑپتا رہے اور اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی جوان اور خوبصورت عورت دوسرے کے نیچے منہ کالا کراوے اور وہ دیکھے اور صبر کرے۔ میں سچ سچ کہتا
    ہوں کہ اگر وہ بے غیرتی اور دیوثی کی وجہ سے ایسے بیرج داتا سے پرہیز نہیں کرے گا تو البتہ اپنے جوش شہوت کی رقابت سے اس بیرج داتا کو جوتی مار کر نکال دے گا اور آپ اس عورت سے ہم
    بستر ہوگا۔
    بالآخر یاد رہے کہ جن شرتیوں کا حوالہ پنڈت دیانند نے دیا ہے ان سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت حسب ضرورت دس۱۰ مختلف مردوں سے نیوگ کرا سکتی ہے۔
    اب ہم ناظرین کے
    ملاحظہ کے لئے ان ُ شرتیوں کو بھی پیش کرتے ہیں جو ستیارتھ پرکاش میں
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 18
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 18
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/18/mode/1up
    نیوگ کے ایسے قسم کے بارے میں درج ہیں یعنی اس قسم نیوگ کے لئے جو خاوند کے زندہ اور ناقابل اولاد ہونے کی حالت میں
    کرایا جاتا ہے اور وہ یہ ہیں۔
    منتر انیَم اِچَّھس وَ سُوبھگے پَتِم مت رگوید منڈل ۱۰ ۔سُکت ۱۰ ۔منتر ۱۰
    ترجمہ بھاش پنڈت دیانند
    جب پتی سنتانوتپتّی میں اسمرتھ ہووے تب اپنی ستری کو آگیا
    دیوے کہ ہے سوبھگے!
    جب خاوند اولاد جنانے کے قابل نہ رہے تب اپنی بیوی کو حکم دے کہ اے بھاگوان
    سوبھاگیہ کی اِچّھا کرنے ہاری ستری! تو مجھ سے دوسرے پتی کی اِچّھا کر، کیونکہ
    اب مجھ سے
    اولاد کی خواہش کرنے والی عورت تو مجھ سے دوسرے مرد کی درخواست کر کیونکہ اب میرے سے
    سنتانوتپتّیکی آشا مت کر۔
    اولاد ہونے کی امید مت رکھ
    پرنتو اس وواہت
    مہاشیہ پتی کی سیوا میں تتپر رہے ویسے ہی ستری بھی جب روگ آدی
    لیکن اس حقیقی خاوند کی خدمت میں ہر وقت حاضر رہے۔ ایسا ہی عورت بھی جب بیماری وغیرہ
    دوشوں سے گرست ہو کر
    سنتانوتپتّی میں اسمرتھ ہووے تب اپنے پتی کو آگیا دیوے
    سببوں سے اولاد جننے کے قابل نہ رہے تب اپنے خاوند کو حکم دے
    کہؔ ہے سوامی! آپ سنتانوتپتّی کی اِچّھا مجھ سے چھوڑ کے کسی
    دوسری وِدھوا ستری سے
    کہ اے صاحب مجھ سے آس چھوڑیں اور کسی بیوہ عورت سے
    نیوگ کرکے سنتانوتپتّی کیجئے۔ جیسا کہ پانڈو راجا کی ستری کُنتی اورمادری آدی نے
    نیوگ کر کے
    اولاد جنالیں جیسا کہ راجہ پانڈ کی بیویوں کنتی اور مادری نے
    کیا اور جیسا بیاس جی نے چترانگد اور وِچتر ویریہ کے مرجانے کے پشچات ان اپنے بھائیوں کی
    کیا تھا اور جیسا کہ بیاس جی نے
    چترانگد اورپچتربیرج کے مرنے کے بعد اپنے بھاوجوں کے
    ستریوں سے نیوگ کرکے انبِکا میں دھرت راشٹر اور انبالکا میں پانڈو اورداسی میں
    نیوگ سے بچے جنائے تھے۔
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 19
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 19
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/19/mode/1up
    وِدُر کی اتپتّی کی، اتیادی اتہاس بھی اس بات میں پرمان ہیں۔۱؂ منو میں ہے ادھیا۹۔ شلوک ۷۶۔۸۱
    اس باب میں پران بھی حجت
    ہے۔ دیکھو منو ادھیا ۹ شلوک ۷۶۔۸۱
    تشریح
    دیکھو اس منتر میں جو رگوید کے دسویں۱۰ منڈل کا منتر ہے آریہ صاحبوں کا پرمیشر بڑی دیا اور کرپا سے ارشاد فرماتا ہے کہ جب تم میں اولاد
    جنانے کی طاقت نہ رہے یا خود اولاد نہ ہو تو اپنی بیوی کو یہ کہہ دو کہ پتر لینے کے لئے کسی دوسرے شخص سے ہم بستر ہو یہ تو وید منتر تھا پھر اس کو پنڈت دیانند نے مثالوں سے خوب ہی سجایا
    ہے اور پانڈو راجا کی استریوں کا نیوگ کرانا اور راجا کے جیتے جی ان کا دوسروں سے ہم بستر ہونا خوب ہی ثابت کیا ہے۔ پھر کیا اب بھی خاوند والی استری کا نیوگ ثابت نہ ہوا۔
    پرشن۔ جب ایک
    وواہ ہوگا ایکُ پرش کو ایک استری اور ایک استری کو ایکُ پرش رہے گا
    )سوال( جب ایک شادی ہوگی ایک مرد کو ایک عورت اور ایک عورت کو ایک مرد میسر آئے گا
    تب استری گرب وتی استہر
    روگنی اتہوا ُ پرش ویرگھ روگی ہو اور دونو کی ُ یو اوستھا ہو رہا نہ جائے تو
    اس وقت اگر عورت حاملہ یا بیمار ہو ایسے ہی یا مرد بیمار ہو اور دونوں کی عمر جوان ہو رہا نہ جائے تو
    پھر کیا
    کریں۔
    پھر کیا کریں۔
    )اُتّرؔ ( اس کا پریتو اتر نیوگ بشی میں دے چکے ہیں اور گربھ وتی استری سے ایک برش سماگم
    )جواب( اس کا جواب نیوگ میں گذرا اور اگر حاملہ عورت سے
    ایک سال تک جماع
    نہ کرنے کے سمے میں پرش وا استری سے نہ رہا جائے توکسی سے نیوگ کر کے اس کے لئے پُتّر
    نہ کرنے کی حالت میں مرد یا عورت سے رہا نہ جائے تو کسی سے نیوگ
    کرکے اولاد
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 20
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 20
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/20/mode/1up
    اُتپن کردے
    جن دے
    تشریح
    عبارت مذکورہ بالا میں پنڈت دیانند کی تقریر کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اگر عورت کے
    حاملہ ہونے کی حالت میں مرد یا عورت پر ایسی شہوت غالب ہو کہ ان سے رہا نہ جائے تو مرد اور عورت کسی سے نیوگ کر کے اس کو اولاد جن دیں۔ اس تقریر پر بظاہر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ بھلا
    یہ بات تو ممکن ہے کہ مرد نیوگ کر کے کسی اور عورت کو بچے جنا دے مگر یہ کیونکر ممکن ہوگا کہ ایک حاملہ عورت کسی دوسرے سے نیوگ کرکے اس کیلئے جنا دے کیونکہ اس کو تو خود پہلے
    حمل ہے۔ اور ایک یہ بھی اعتراض ہے کہ جس حالت میں مرد اور عورت میں سے کوئی بھی بیمار نہیں تو پھر کیا ضرور ہے کہ وہ دوسرے سے نیوگ کریں کیا وجہ کہ باہم ہم بستر نہ ہوتے رہیں۔ اس
    دوسرے سوال کا جواب تو یہ ہے کہ حمل کی حالت میں وید کی رو سے خاوند کو اپنی عورت سے جماع کرنا حرام ہے لیکن اگر یہ مشکل آ پڑے کہ خاوند اور عورت دونوں نہ رہ سکیں تو اس صورت
    میں وید آگیا یہ ہے۔ کہ دونوں نیوگ سے اپنا منہ کالا کریں۔ اور پہلا سوال یعنی ایک عورت حمل کی حالت میں دوسرا حمل کیونکر کرا سکتی ہے اس کا جواب غالباً پنڈت صاحب یہ سمجھتے ہوں گے کہ
    شو ُ پران کی رو سے جو مسئلہ نیوگ میں حجت ہے حمل پر حمل بھی ہوسکتا ہے لیکن ہم اس مسئلہ میں پنڈت دیانند کی تائید کر کے لکھتے ہیں کہ یہ بیان کچھ شوپران پر ہی موقوف نہیں بلکہ حال کی
    تحقیقات جدیدہ کی رو سے بھی یہ بات ثابت ہوگئی ہے اور ڈاکٹروں نے اس میں مشاہدات پیش کئے ہیں چنانچہ ایک ڈاکٹر صاحب یعنے مصنف رسالہ معدن الحکمت اپنی کتاب کے صفحہ ۶۳ میں لکھتے
    ہیں کہ ایک حمل پہلے حمل کے بعد کچھ دنوں کے فاصلہ سے ٹھہر سکتا ہے اور اس کے ثبوت میں سے ایک یہ ہے کہ بیک صاحب اپنا مشاہدہ لکھتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ۱۷۱۴ء میں ایک گوری
    عورت کے دو لڑکے ایک کالا دوسرا گورا تھوڑی دیر کے بعد فاصلہ سے پیدا ہوئے اور تحقیقات سے معلومؔ ہوا کہ اس کے خاوند کے بعد ایک حبشی نے مجامعت
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 21
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 21
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/21/mode/1up
    کی تھی اسی طرح ڈاکٹر میٹن صاحب نے بیان کیا ہے کہ ایک حمل پر تین مہینے کے وقفہ سے حمل ٹھہر گیا اور دو لڑکے پیدا
    ہوئے اور انہوں نے عمر پائی اور کوئی ان میں سے نہ مرا۔ اس جگہ بظاہر آریہ لوگ اپنے وید پر فخر کر سکتے ہیں کہ یہ بھی ایک ودّیا ہے کہ وید نے یہ بات کہہ کر حاملہ عورت دوسرے سے نیوگ
    کر کے بچہ لیوے۔ یہ جتا دیا کہ حمل پر حمل ہو سکتا ہے لیکن غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ اس سے کوئی بھی ودیا ثابت نہیں ہوتی کیونکہ جبکہ وید کے زمانہ اور بعد میں بھی ہندوؤں میں یہ عام
    عادت رہی ہے کہ خاوند اپنی عورتوں کو نیوگ کے لئے دوسروں کی طرف بھیجتے رہے ہیں پس جبکہ لاکھوں بلکہ کروڑہا عورتیں باوجود زندہ ہونے خاوندوں کے اور باوجود اس کے کہ انہیں کے نکاح
    میں تھیں دوسروں سے ہم بستر ہوتی رہیں تو اس کثرت کی کارروائیوں سے ضرور تھا کہ خودبخود ایسے تجربے حاصل ہو جاتے۔ اور تمہیں معلوم ہے کہ طوائف کے گروہ کو بھی بعض بدکاری کے
    امور میں ایسے تجارب حاصل ہو جاتے ہیں کہ بیچاری پردہ نشیں عورتیں ان سے بے خبر ہوتی ہیں تو کیا یہ کہہ سکتے ہیں کہ طوائف بھی ودّیا کا سرچشمہ ہیں۔ ہاں یہ اشارہ نہایت پاکیزگی سے قرآن
    شریف میں موجود ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۱؂ الجزو نمبر ۲۸ یعنی حمل والی عورتوں کی طلاق کی عدت یہ ہے کہ وہ وضع حمل تک بعد طلاق کے دوسرا نکاح کرنے سے دستکش رہیں۔ اس میں
    یہی حکمت ہے کہ اگر حمل میں ہی نکاح ہو جائے تو ممکن ہے کہ دوسرے کا نطفہ بھی ٹھہر جائے تو اس صورت میں نسب ضائع ہوگی اور یہ پتہ نہیں لگے گا کہ وہ دونوں لڑکے کس کس باپ کے
    ہیں۔
    اور یہ بھی یاد رہے کہ پنڈت صاحب کی اس تحریر سے یہ بھی ثابت ہوا کہ نیوگ صرف اولاد کے لئے نہیں بلکہ جوش شہوت کے فرو کرنے کے لئے بھی نیوگ ہوگا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کیونکر
    یہ جائز ہوتا کہ ایک مرد باوجودیکہ اس کی عورت حاملہ ہے پھر غیر عورتوں سے نیوگ کرتا پھرے اسی طرح صاف طور پر لکھا ہے کہ اگر ایک ہندو بوجہ کسی بیماری وغیرہ کے اپنی عورت کی
    پورے پورے طور پر تسلی نہ کر سکے تو وید آگیا یہ ہے کہ اپنی عورت سے نیوگ کراوے مگر پھر بھی یہ شرط ہے کہ اس وقت تک نیوگ جاری رہے جب تک کہ نیوگ میں سے ہی اولاد ہو جاوے۔ اب ہم
    ان
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 22
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 22
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/22/mode/1up
    بھلے مانسوں کے حق میں کیا لکھیں جو ایسی شرتیوں پر ایمان لاکر پھر اسلام پر اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام کی شادیاں اولاد
    کی غرض سے نہیں بلکہ شہوت رانی کی غرض سے ہیں افسوس خود تو یہ جائز رکھیں کہ اپنے جیتےؔ جی عین نکاح کی حالت میں اپنی عورتوں کا جوش شہوت فرو کرنے کے لئے ان کو دوسروں
    سے ہم بستر کراویں اور ایسی ناپاک دیوثی سے ذرہ بھی شرم نہ کریں۔ اور عورتیں بھی ایسی بھلی مانس ہوں کہ حمل کے دنوں میں بھی صبر نہ کرسکیں اور زندہ موجود خاوند کو چھوڑ کر دوسروں سے
    نیوگ کراتی پھریں تا اپنے شہوت کے جوش کو پورا کریں۔ اور پھر اسلام کے نکاح پر معترض ہوں۔
    اے صاحبان آپ نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ اسلام میں محض شہوت رانی کی غرض
    سے نکاح کیا جاتا ہے ہمیں قرآن نے تو یہ تعلیم دی ہے کہ پرہیز گار رہنے کی غرض سے نکاح کرو۔ اور اولاد صالح طلب کرنے کے لئے دعا کرو جیسا کہ وہ اپنی پاک کلام میں فرماتا ہے ۱؂ الجزو
    نمبر۵۔ یعنی چاہئے کہ تمہارا نکاح اس نیت سے ہو کہ تا تم تقویٰ اور پرہیزگاری کے قلعہ میں داخل ہو جاؤ ایسا نہ ہو کہ حیوانات کی طرح محض نطفہ نکالنا ہی تمہارا مطلب ہو*۔ اور محصنین کے
    لفظ سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ جو شادی نہیں کرتا وہ نہ صرف روحانی آفات میں گرتا ہے بلکہ جسمانی آفات میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے سو قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ شادی کے تین فائدے ہیں۔
    ایک عفت اور پرہیزگاری۔ دوسری حفظ صحت۔ تیسری اولاد۔
    اور پھر ایک اور جگہ فرماتا ہے ۲؂ ا لجزو نمبر ۱۸ سورۃالنور۔یعنی جو لوگ نکاح کی طاقت نہ رکھیں جو پرہیزگار رہنے کا اصل ذریعہ
    ہے تو ان کو چاہئے کہ اور تدبیروں سے طلب عفت کریں چنانچہ بخاری اور مسلم کی حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم
    * حاشیہ۔ واضح ہو کہ احصان کا لفظ حصنسے مشتق ہے اور حصن
    قلعہ کو کہتے ہیں اور نکاح کرنے کا نام احصان اس واسطے رکھا گیا کہ اس کے ذریعہ سے انسان عفت کے قلعہ میں داخل ہو جاتا ہے اور بدکاری اور بدنظری سے بچ سکتا ہے اور نیز اولاد ہو کر
    خاندان بھی ضائع ہونے سے بچ جاتا ہے اور جسم بھی بے اعتدالی سے بچا رہتا ہے پس گویا نکاح ہریک پہلو سے قلعہ کا حکم رکھتا ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 23
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 23
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/23/mode/1up
    فرماتے ہیں کہ جو نکاح کرنے پر قادر نہ ہو اس کے لئے پرہیزگار رہنے کے لئے یہ تدبیر ہے کہ وہ روزے رکھا کرے اور
    حدیث یہ ہے یا معشر الشباب من استطاع منکم الباءَ ۃَ فلیتزوج فانہ اغض للبصر و احصن للفرج و من لم یستطع فعلیہ بالصوم فانّہ‘ لہ وجاء صحیح مسلم و بخاری یعنے اے جوانوں کے گروہ جو کوئی تم
    میں سے نکاح کی قدرت رکھتا ہو تو چاہے۔ کہ وہ نکاح کرے کیونکہ نکاح آنکھوں کو خوب نیچا کر دیتا ہے اور شرم کے اعضاء کو زنا وغیرہ سے بچاتا ہے ورنہ روزہ رکھو کہ وہ خصّی کر دیتا
    ہے۔
    اب ان آیات اور حدیث اور بہت سی اور آیات سے ثابت ہے کہ نکاح سے شہوت رانی غرض نہیں بلکہ بدخیالات اور بدنظری اور بدکاری سے اپنے تئیں بچانا اور نیز حفظ صحت بھی غرض ہے
    اور پھر نکاحؔ سے ایک اور غرض بھی ہے جس کی طرف قرآن کریم میں یعنی سورۃ الفرقان میں اشارہ ہے اور وہ یہ ہے ۱؂ ۔یعنی مومن وہ ہیں جو یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے خدا ہمیں اپنی بیویوں
    کے بارے میں اور فرزندوں کے بارے میں دل کی ٹھنڈک عطا کر اور ایسا کر کہ ہماری بیویاں اور ہمارے فرزند نیک بخت ہوں اور ہم ان کے پیشرو ہوں۔
    پیارے ناظرین!جو کچھ ہم نے اشتہار میں نیوگ
    کے بارے میں لکھا تھا اسی کی تائید میں ہم نے بھومکا اور دیانند کے ویدبہاش کو نقل کر دیا ہے۔ اب ہم ان بدزبانوں سے پوچھتے ہیں جنہوں نے ہم پر بہتان کا الزام لگایا کہ ہم نے وید اور پنڈت دیانند کی
    ستیارتھ پرکاش کا حوالہ دینے میں کونسی خیانت کی ہے یا کس غلط بیانی کے ہم مرتکب ہوئے اور اس مسئلہ کی کس شکل اور اصلیت کو ہم نے بگاڑ دیا ہے خدا تعالیٰ اس کے ساتھ ہوتا ہے جو سچ کہے
    اور عمدًا جھوٹ نہ بولے اور ایسے شخص پر اس کی *** ہے جو محض قومی بردہ اور بخل کی وجہ سے یا باطل کی محبت سے سچ کو چھوڑ دیتا اور جھوٹ کے سرسبز کرنے کے لئے زور لگاتا
    ہے مذہب کی جڑ راستی اور راستی کی محبت ہے مگر پلید روحیں شطرنج بازوں کی طرح صرف چال کے فکر میں رہتی ہیں اور دھرم اور دھرم کے نیک نتیجوں کی کچھ پروا نہیں رکھتیں۔
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 24
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 24
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/24/mode/1up
    سو ایسے لوگ خدا تعالیٰ کی نظر سے پوشیدہ نہیں آخر بری طرح مرتے ہیں کیا یہ سچ نہیں کہ وید نے خود یہ حکم دیا ہے کہ
    زندہ خاوند والی عورت اولاد کے لالچ سے دوسرے شخص سے ہم بستر ہوا کرے کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ پنڈت دیانند نے بھی اُنہیں معنوں کو تسلیم کیا ہے کیا یہ درست نہیں کہ منو نے بھی یہی لکھا
    ہے اور یاگولک نے بھی یہی۔ پھر ذرا سوچو تو سہی کہ کونسی زیادتی ہے جو ہم سے ظہور میںآئی اور کونسا دھوکا ہے جو ہم نے لوگوں کو دیا ہے۔ اب اپنے ان گندے الفاظ کو سوچو جو کاغذ پر قلم
    رکھتے ہی منہ سے نکالے اور کہا کہ یہ تعصب اور اندرونی خبث کا نتیجہ ہے اب سچ کہو کہ کس کا اندرونی خبث ثابت ہوا ہم کسی کو گالی نہیں دیتے اور نہ کسی کو برا کہتے ہیں صرف انصاف کی
    رو سے تمہارے ہی الفاظ تمہیں واپس دیتے ہیں اور آپ لوگوں کا اپنے اشتہار میں یہ لکھنا کہ وید کی رو سے نیوگ کی حقیقت یوں ہے ودہوا استری(یعنی بیوہ عورت) یا جس پرش کی استری مر گئی
    ہو اپنی عمر وید پڑھنے اورست شاستروں کے پڑھنے پڑھانے میں بسر کرے۔ یہ کیسا دھوکا دینا ہے اور کیسا خیانتؔ کا طریق ہے اول تو نہ آپ لوگوں نے اور نہ دیانند نے اس دعویٰ کی تائید میں وید
    کا کوئی منتر لکھا پھر اگر فرض کے طور پر قبول بھی کرلیں کہ یہ وید ہی کے کسی نامعلوم منتر کا ترجمہ ہے تو اس کو ہماری اس بحث سے تعلق ہی کیا ہے اور ہم نہیں جانتے کہ اس کو اس موقع پر
    کیوں پیش کیا گیا ہے ہم نے کب اور کس وقت کہا تھا کہ بیوہ کو شاستر پڑھنا پڑھانا منع ہے بیوہ کے نیوگ کا تو ہم نے پہلے اشتہار میں کچھ بھی ذکر نہیں کیا تھا صرف ایسی عورتوں کے نیوگ کا ذکر
    تھا جن کا خاوند زندہ موجود ہو اور پھر خاوند والی عورتوں کے لئے ہم نے وید اور منو اور دیانند کے بھاش سے نیوگ ثابت کر دیا تھا پھر یہ کیسا خبط ہے کہ ذکر تو خاوند والی عورت کا تھا مگر اشتہار
    شائع کرنے والوں نے اس بحث کی رد میں تو کچھ نہ لکھا اور بیچاری بیوہ کو لے بیٹھے۔ اب ہمیں وہ آپ ہی بتلا دیں کہ کیا یہ پاک باطنی کا طریق ہے یا قدیم تعصب اور اندرونی خبث ہے؟
    اے غافلو!
    ذرا آنکھیں کھولو اور دل کو سیدھا کرو اور سوچو کہ اس وقت بحث تو یہ ہے کہ ہم وید کی ُ شرتی اور پنڈت دیانند کے بھاش سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ جو آریہ بیوی والا ہو اور رنڈا
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 25
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 25
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/25/mode/1up
    نہ ہو اور کسی وجہ سے قابل اولاد نہ رہا ہو گو کیسا ہی مردی کی طاقتیں رکھتا ہو تو وید مقدس کی یہ آگیا ہے کہ اس کی جورو
    دوسرے سے اولاد حاصل کرے اور جب تک پتر کا نطفہ نہ ٹہرے تب تک یہ کارروائی برابر چلی جائے۔ یہی مضمون تھا جو ہم نے پہلے اشتہار میں لکھا تھا جس کو آپ لوگوں نے کہا کہ یہ خبث نفس
    اور متعصبانہ جوش سے لکھا ہے۔ مگر افسوس تو یہ آتا ہے کہ ایسے سفلہ پن کے گندے الفاظ منہ پر لاکر پھر ہمارے اشتہار پر رد کیا لکھا کیا ردّ اسی کو کہتے ہیں کہ خاوند والی کو چھوڑ کر بیوہ پر
    جاپڑے۔ ان بے تعلق قصوں کو درمیان میں لانا شاید اس غرض سے ہوگا کہ تا اصل بحث کی طرف لوگ توجہ نہ کریں اور اس طرح پر پردہ پوشی ہو جائے لیکن اس خائنانہ طریق کو کوئی منصف پسند نہ
    کرے گا کاش اگر ایسے بیہودہ اشتہار دینے کی جگہ چپ ہی رہتے تو ہمیں یقین ہو جاتا کہ یہ لوگ بھلے مانس اور اشراف ہیں۔ سچی بات کو دیکھ کر چپ ہی کر گئے مگر اب تو انہوں نے مدت کے بعد
    پھر اپنا گند ہم پر ظاہر کیا اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس گندی تعلیم کو وہ کیونکر اور کس تدبیر سے چھپاتے ہیں یا اپنی عملی زندگی میں اپنی بے اولاد عورتوں کا نیوگ کراکر ہمیں دکھاتے ہیں۔ بُرا نہ مانیں یہ
    کوئی بے جا بات ہم نے نہیں کہی جو باتیں وید کی رو سے درست اور وید کی آگیا کے نیچے آگئی ہیں ان کا آریوں کے لئے کرنا دھرم اور نہ کرنا مہاپاپ ہے کیونکہ وید منسوخ تو نہیں ہوا تا یہ کہا
    جائے کہؔ پہلے یہ بات جائز تھی اور اب ناجائز ہوگئی ہے اور جب ایسے مہان پرش جیسے دیانند اور یاگولک اور منوجی نیوگ پر زور دیویں اور وید کی شُرتیاں سنا دیں اور راجہ پانڈ کی رانیاں نیوگ
    کر کے دکھلاویں تو پھر کوئی آریہ مہاں پاپی ہی ہوگا جو اب بھی یقین نہ کرے۔
    پنڈت دیانند صاحب ستیارتھ پرکاش میں صاف لکھتے ہیں کہ نیوگ کے روکنے میں پاپ ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جس کا
    روکنا پاپ ہے اس کا بجا لانا کس قدر واجبات سے ہے سو اے آریو دوڑو ثواب حاصل کرو تا ایسا ہو کہ ہریک کی بیوی کے نیوگ سے دس۱۰ دس۱۰ پتر ہوں جائے شرم!!! اور میں سوچ میں ہوں کہ
    آپ لوگ کیوں بیچارے منو کے گرد ہوگئے کہ اس نے نیوگ کا مسئلہ آپ گھڑ لیا ہے ذرا سوچو کہ اگر منو کی کتاب مذہبی نہیں تھی تو دیانند نے کیوں اس کا حوالہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 26
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 26
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/26/mode/1up
    دیا یہ کس کو معلوم نہیں کہ منو ہندو دھرم میں ایک مسلم رشی ہے اور منوسمرتی کے ادھیا (۱)میں لکھا ہے کہ اس وقت کے
    رشیوں نے اقرار کیا کہ وید کا جاننے والا منو ہی ہے۔ غرض منو ایسا مسلم ہے کہ عدالت انگریزی بھی ہندوؤں کے مذہبی مقدمات کو منو کے دھرم شاستر کی رو سے فیصلہ کرتی ہے پس یہ صحیح
    نہیں ہے کہ منو ملحدانہ زندگی بسر کرتا تھا اور وید کی پیروی سے اس نے استعفا دے رکھا تھا سب ہندو منو کو ایک بزرگ منش جانتے ہیں اور اگر فرض بھی کرلیں کہ منو اپنی تمام باتوں میں ویدوں کا
    تابع نہیں تو پھر اس بات کا کیا جواب ہے کہ نیوگ کا مسئلہ کچھ منو کا ہی خاص عقیدہ نہیں یہ تو آریہ دھرم میں ایک متفق علیہ عقیدہ ہے *اور یہ بھی یاد رہے کہ پنڈت دیانند نے بھی نیوگ کے ثبوت
    میں علاوہ وید کے منو کا حوالہ دیا ہے اب کیا دیانند کی بھی عقل ماری گئی تھی کہ جو ایک ایسے آدمی کا حوالہ دیتا ہے جو اپنے بیان میں وید کا ماہر نہیں۔ پھر جبکہ بڑے بڑے دھرم مورت لوگ منو کو
    ایسا سمجھتے رہے کہ وہ اپنے ہریک قول میں وید کا پیرو ہے اور دیانند ستیارتھ پرکاش میں اس کی بہت تعریف کرتا ہے تو پھر اس کی گواہی کو منظور نہ کرنا اگر ہٹ دھرمی نہیں تو اور کیا ہے۔ اور
    اگرآپ لوگ منو سے ناراض ہیں تو منو کو جانے دیں مگر یہ تو فرمائیے کہ کچھ وید پر تو ناراضگی نہیں مجھے تو معلوم ہوتا ہے کہ اصل ناراضگی آپ کی وید پر ہی ہے۔ منو پر تو بظاہر دانت پیسے
    جاتے ہیں۔ وہ بیچارہ ایسی شرتیوں کو وید میں پاکر کیونکر اور کہاں چھپا سکتا تھا کیا دیانند ان شرتیوں کو چھپا سکا۔ کیا آپ لوگوں کے بڑے مہاراج یاگولک جی بھاشکار ویدان شرتیوں کو چھپا سکے تو
    پھر ایک دفعہ آپ لوگ ہاتھ دھو کر غریب منو کے پیچھے کیوں پڑ گئے یہ تو ظلم ہے اور اگر کہو کہ منو کے بعض دوسرے مقامات میں عام بدفعلیؔ
    * نوٹ۔ نیوگ صرف عقیدہ ہی نہیں بلکہ
    قدیم سے آریوں کا اس پر عملدرآمد ہے راجہ پانڈ کی رانیوں کا نیوگ تو ابھی بیان ہو چکا ہے اور ڈاکٹر برنیئر اپنی کتاب وقائع سیروسیاحت میں لکھتا ہے کہ جگناتھ کے مقام پر صدہا جوان عورتیں نیوگ
    کرانے والی دیکھی گئیں جو یہ پاک کام صرف بیراگیوں اور جوگیوں سے ہی کراتی تھیں اور ان کے لئے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی۔ اور پھر اسی کتاب کے صفحہ ۹۶ میں ایک ہندو خاندانی سے نقل
    کر کے لکھا ہے کہ وہ کشمیر کے ایک ضلع میں گیا تو اس ضلع کے ہندوؤں نے اس کو خاندانی پاکر اپنی جوروان پیش کیں تا وہ ان سے ہم بستر ہوویں اور ایک معزز آدمی کی نسل سے انہیں فخر حاصل
    ہو۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 27
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 27
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/27/mode/1up
    کا بھی جواز پایا جاتا ہے *اس لئے ہم منو کی پیروی نہیں کرسکتے تو اس کا جواب یہ ہے کہ منو کو ایسی بدفعلیوں کے لئے
    بھی کوئی وید کی شرتی ضرور ملی ہوگی اور جبکہ خاندان کی ترقی کے لئے منکوحہ عورتوں کو آپ لوگوں کا وید وہ نالائق اجازت دیتا ہے کہ جس کا ہم کئی مرتبہ ذکر کر چکے ہیں تو پھر اس سے بڑھ
    کر اور بے حیائی کیا ہوگی۔ جس سے منو نے آپ لوگوں کا دل دکھایا ہے سب سے گندہ مسئلہ تو نیوگ کا ہے پھر جب وہ وید میں موجود ہے۔ تو کہنا چاہئے کہ وید میں سب کچھ ہے اور اگر یہی سچ تھا
    کہ بیگانہ نطفہ بھی اپنا نطفہ ٹھہر سکتا ہے تو پھر چاہئے تھا کہ بیرج داتا کی امراض متعدیہ نطفہ کے ساتھ نہ آویں بلکہ جس نے متبنّٰی کیا ہے اس کی متعدی مرضیں متبنّٰی کو لگ جائیں۔ پھر جبکہ قانون
    قدرت جو حقیقی بیٹے کے متعلق ہے بدل نہ سکا تو نسب میں کیونکر تبدیلی واقع ہوگی۔
    اور اس وقت یہ بیان کرنا بھی ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ ہندوؤں میں نیوگ کا مسئلہ ایک نہایت مشہور مسئلہ
    ہے یہاں تک کہ بعض نے اس کو صرف دینی واجبات سے ہی خیال نہیں کیا بلکہ بڑے ثواب کا ذریعہ خیال کیا ہے اور پُرانے وید کے مفسروں نے بھی اس مسئلہ کو بڑی تفصیل سے لکھا ہے چنانچہ آپ
    لوگ یاگولک جی کے نام سے واقف ہوں گے جن کا ابھی میں نے ذکر کیا ہے جن کا وید بھاش بڑے معتبر پایہ کا سمجھا جاتا ہے اور جو آریہ ورت کے بڑے نامی فاضل اور اول درجہ کے وید دانوں میں
    سے شمار کئے گئے ہیں وہ اپنی کتاب یاگولک سمرتی کے ۶۸۔ اشلوک میں لکھتے ہیں کہ جب عورت کو اپنے شوہر کے ساتھ مجامعت کرنے سے اولاد نہ پیدا ہو اور نہ آئندہ امید ہو تو حیض سے فارغ
    ہوتے ہی
    منو پر یہ الزام ٹھیک نہیں کہ اس نے نیوگ کا مسئلہ لکھا ہے کیونکہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ نیوگ کی تعلیم خود وید میں موجود ہے اس میں نہ کوئی منو کا گناہ ہے نہ یاگولک کا نہ دیانند کا نہ
    پوران والوں کا۔ ہاں بظاہر یہ الزام منو پر لگ سکتا ہے کہ اس نے تمام ہندو عورتوں کو زنا کی رغبت دی ہے کیونکہ اس نے لکھا ہے کہ بدفعلی عورتوں کی جبلی عادت ہے۔ اور زنا کی حالت میں عورت
    کی سزا صرف اسی قدر ہے کہ اگر نطفہ قرار پکڑ گیا ہو تو اس کا خصم اس کو اپنے نطفہ سے پاک کرے اور اگر قرار نہیں پکڑا تو حیض کا خون آتے ہی وہ آپ ہی پاک ہو جائے گی لیکن سوامی دیال نے
    جو کچھ بازاری عورتوں کی نسبت لکھا ہے وہ بھی اس سے کم نہیں کیونکہ وہ لکھتے ہیں کہ اگر بازاری عورت حرام کاری سے انکار کرے اور خرچی لے چکی ہو تو وہ اس خرچی کا دوچند دام واپس
    کرے اور اگر بدفعلی کا وعدہ کر دیا ہو اور ابھی کچھ نہ لیا ہو تو جس قدر لینے کا وعدہ تھا اسی قدر بطور تاوان دیوے یہی حکم مرد کی نسبت ہے۔ لیکن درحقیقت یہ وید مقدس کے قوانین ہیں اس میں نہ
    منو پر کچھ دوش آ سکتا ہے نہ سوامی دیال وغیرہ پر۔ دیکھو ترجمہ یاگولک سمرت ادھیا۲ شلوک ۲۹۶۔
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 28
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 28
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/28/mode/1up
    اپنے باپ وغیرہ بزرگوں سے اجازت لیکر اپنے دیور یا کسی اور ایسے ہی رشتہ دار کے ساتھ اسکے بدن میں گھی ملوا کر
    حاملہ ہونے تک مقاربت کر سکتی ہے اور وہ لڑکا بیج داتا اور کھیت دونوں کے مرنے کی پند دینے والا اور دونوں کی طرف سے ورثہ حاصل کرنے والا دھرم پورک ہوگا یعنی عین حلال کا فرزند وید کے
    موافق۔ اب کہو اؔ ے حضرات اب بھی تسلی ہوئی یا نہیں اور کیا اب بھی شک ہے کہ ہم نے غلط بیانی کی۔ ہم بڑے شائق ہیں کہ آپ لوگ کوئی دوسرا اشتہار بھی نکالیں تاہم دیکھیں کہ ایک سچی حقیقت
    کے پوشیدہ کرنے کیلئے کہاں تک انسانی منصوبہ پیش کیا جا سکتا ہے یہ تجربہ ہو چکا ہے کہ جب یہ مسئلہ کسی آریہ صاحب کو کسی مجلس میں سنایا جاتا ہے تو پہلے تو اس کی کانشنس کی
    زبردست تاثیر اس کو یک لخت منکر ہونے کی طرف جھکاتی ہے اور پھر وہ شخص لاچار ہوکر اس مسئلہ کو دیانند یا منو کے سر پر تھوپتاہے اور پھر اس بات کے کھلنے سے کہ درحقیقت یہ وید ہی کا
    مسئلہ ہے ایک عجیب طور کا انفعال اس کے شامل حال ہو جاتا ہے مگر تعجب یہ کہ اتنی ندامتیں اٹھا کر پھر بھی خداتعالیٰ کا خوف دل کو نہیں پکڑتا پنڈت گورودت نے بھی جس کو دیانند کے دوسرے
    نمبر پر سمجھا گیا تھا اپنے ایک انگریزی رسالہ میں اس مسئلہ کی صحت کا اقرار کیا ہے مگر ہمیں تعجب ہے کہ گوردت تو باوجود اپنی انگریزی دانی اور سنسکرت کی استعداد کے بے تردد قبول کرلے
    کہ یہ مسئلہ حقیقت میں وید میں موجود ہے اور ایسا ہی پنڈت دیانند کھلے کھلے بیان سے اس کا مصدق ہو اور وید کی آگیا پیش کرے۔ منو اس کے عمل کے لئے تاکید کرے یاگولک اس دستور کو وید کی
    ہدایت کے موافق بیان فرماویں مگر چند بازاری قادیان کے جو محض ناخواندہ ہیں شور مچاویں کہ یہ مسئلہ صحیح نہیں کیا ان تمام پنڈتوں میں اتنی عقل کا بھی مادہ نہیں تھا جو ان لوگوں میں موجود ہے
    دنیا میں تعصب اور طرف داری کی کوئی حد بھی ہوتی ہے مگر یہ لوگ تو حد سے گذر گئے ہندوؤں میں یہ مسئلہ ایسا ہے جس میں نادان شور مچاوے اور دانا شرمندہ ہو۔ چند سال ہوئے ہیں کہ اسی مسئلہ
    میں ایک معزز آریہ اور ایک برہمو کی بحث ہوئی جب برہمو نے کتابیں دکھلائیں وید کی شرتیاں پیش کر دیں اور دیانند کا بھاش بھی دکھا دیا تو وہ آریہ چونکہ شریف تھا دیکھتے ہی ندامت میں غرق ہوگیا۔
    اور عذر کیا کہ بھائی مجھے پہلے خبر نہ تھی کہ یہ گند بھی وید میں موجود ہیں اور اسی دن سے آریہ مت سے دستبردار ہوا۔ اس معزز آریہ کی کارروائی سے جو ایک برہمو رسالہ میں چھپی ہے صاف
    ثابت ہوتا ہے کہ اس قوم میں
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 29
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 29
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/29/mode/1up
    شریف آدمی بھی ہیں جو عزت اور غیرت اور حیا رکھتے ہیں اس لئے امید کی جاتی ہے کہ وہ اس رسالہ سے بہت نفع اٹھائیں
    گے بلکہ ایسے تمام لوگ جو اس مسئلہ کی تہ تک پہنچے ہوئے ہیں وہ ہرگز ان نادانوں سے اتفاق نہیں کریں گے جو ایک مشہور عقیدہ کو چھپانا چاہتے ہیں اکثر شریف آریہ ہرگز نہیں چاہتے کہ اس
    مسئلہ کا ذکر بھی کیا جائے کیونکہ ان کی انسانی حمیت اور غیرت کسی طرح اس قابل شرم عقیدہ کو قبول نہیں کر سکتی بھلا کون اس دیوثی کو پسند کرے کہ زندہ اور جیتا جاگتا ہو کر اپنی نیک چلن
    عورت کو جو عین نکاح کے قید میں ہے اپنے ہاتھ سے دوسرے سے ہم بستر کراوے اورؔ آپ باہر کسی چٹائی پر لیٹا رہے یہی تو بات ہے کہ قادیان کے غیرت مند آریہ وید کی اس ہدایت کو نہیں مانتے
    ہاں یہ ان کی نادانی ہے کہ جب ان کے وید کی اس تعلیم کو جو نیوگ ہے قابل اعتراض ٹھہرایا جائے تو وہ طیش میں آکر مسلمانوں کو طلاق کے مسئلہ سے الزام دینا چاہتے ہیں حالانکہ ایک مسلمان ہرگز
    اس طعنہ سے شرمندہ نہیں ہوگا کہ اس نے ایک نابکار عورت کو اس کی کسی بدعملی اور بدچلنی اور ناپارسائی کی وجہ سے طلاق دے دی ہے اوراس مطلقہ ناپاک سیرت کو کوئی اور شخص نکاح میں
    لایا ہے بلکہ خوش ہوگا کہ اس نے ایک سڑے ہوئے اور متعفن عضو کو اپنے صحیح و سالم وجود میں سے کاٹ کر الگ پھینک دیا اور اس کی زہرناک ہمسائیگی سے نجات پائی۔ اگر کسی ہندو کی نظر میں
    ضرورتوں کے وقت میں بھی طلاق قابل اعتراض ہے تو یہ ایک دوسرا اعتراض ہندو مذہب پر ہوگا کہ ایک ہندو جس کی عورت زناکاری کی حالت میں بھی ہو تو چاہئے کہ ہندو اس گندے عضو کو اپنے
    وجود میں سے نہ کاٹے اور اس بات پر راضی رہے کہ اس کے گھر میں زنا ہوتا رہے اور ایک عورت اس کی بیوی کہلا کر پھر اسکے سامنے اوروں سے بدکاری میں زندگی بسر کرے بیشک وید کی
    تعلیم یہی ہے مگر اسلامی تعلیم اس کے برخلاف ہے اور ایک مسلمان کی غیرت اور عفت ہرگز اس بات کو روا نہیں رکھے گی کہ ایک پلید چلن عورت کو اپنا جوڑا قرار دے غرض غیرت مندوں کے
    نزدیک ضرورتوں کے وقت طلاق ہرگز قابل اعتراض نہیں بلکہ اعتراض اس حالت میں ہوگا کہ ایک عورت کو بدکار پا کر پھر نکاح کا تعلق اس سے قائم رکھے اور دیوث بن کر گذارہ کرتا رہے۔ پس ایک
    مسلمان ایک مرتبہ نہیں بلکہ ہزار مرتبہ اقرار کر سکتا ہے کہ اس نے فلاں عورت کو کسی مکروہ حالت اور ناپاکی میں پاکر ایک متعفن عضو کی طرح اپنے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 30
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 30
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/30/mode/1up
    وجود میں سے کاٹ دیا اور بعد طلاق اور تیاگ کے فلاں شخص کے نکاح میں وہ آگئی لیکن ایک آریہ کے لئے یہ اقرار مرنے سے
    کچھ کم نہیں کہ آج ہم نے اولاد کے لئے اپنی فلاں پاکدامن اور منکوحہ عورت کو فلاں شخص سے ہم بستر کیا ہے پس نیوگ میں اور طلاق میں یہ فرق ہے کہ نیوگ میں تو ایک بے غیرت انسان اپنی
    پاکدامن اور بے لوث اور منکوحہ عورت کو دوسرے سے ہم بستر کرا کر دیوث کہلاتا ہے اور طلاق کی ضرورت کے وقت ایک باغیرت مرد ایک ناپاک طبع عورت سے قطع تعلق کر کے دیوثی کے الزام
    سے اپنے تئیں بری کر لیتا ہے۔
    بالآخر یہ بھی یاد رہے کہ نیوگ کی رسم ایسی نہیں ہے کہ جو پہلے تھی اور اب ترک کی گئی ہے بلکہ برابر آریوں میں پوشیدہ طور پر ہو رہی ہے * اور ضرورتوں
    کے وقت ہریک ادنیٰ اعلیٰ اس رسم کا پابندؔ معلوم ہوتا ہے ابھی ہم نے ایک بڑے نامی رئیس کا حال سنا ہے جو اس نے اپنی پیاری اور جوان بیوی سے اولاد کی خواہش سے نیوگ کرایا ہے اسی طرح
    ہریک طرف سے یہ خبریں پہنچ رہی ہیں معلوم ہوتا ہے کہ آریہ لوگ اب وید کی اس تعلیم پر پورے پورے طور پر کاربند ہونا چاہتے ہیں مگر چونکہ انسانی کانشنس اس گندہ کام کو قبول نہیں کرتا اس لئے
    پوشیدہ طور پر یہ کارروائیاں شروع ہوگئی ہیں عجیب باتیں سنی جاتی ہیں*
    + نوٹ۔ جس حالت میں نیوگ وید کا حکم ہے اور بقول آریہ پنڈتوں کے وید کے احکام قابل منسوخی نہیں تو پھر رسم نیوگ
    ترک کیونکر ہو سکتی ہے کیا کسی زمانہ میں وید منسوخ ہو سکتا ہے۔ منہ
    یہ ایک دھوکہ کی بات ہے کہ نیوگ کرانے کے وقت ہمیشہ مرد پر ہی الزام دیا جاتا ہے کہ وہ ناقابل اولاد ہے اور اسی خیال
    سے عورت کو دوسرے سے ہم بستر کراتے ہیں۔ گو کبھی کبھی یہ بھی ممکن ہو کہ مرد بانجھ کی طرح ہو یا اس کی منی میں کیڑے نہ ہوں یا اس کی منی پتلی ہو یا چربی سے منافذ بند ہوگئے ہوں۔ اور اس
    وجہ سے اولاد نہ ہو سکے مگر طبّی تحقیقات سے یہ زیادہ تر ثابت ہے کہ اولاد نہ ہونے کی حالت میں اکثر عورتوں کے ہی رحم وغیرہ میں قصور ہوتا ہے اس لئے ہم آریوں کو نیک صلاح دیتے ہیں کہ
    جھٹ پٹ اپنی عورتوں کو دوسروں سے ہم بستر نہ کرا دیا کریں پہلے ڈاکٹر کو بلا کر عورت کے رحم اور دوسری اندرونی بناوٹ کا حال بذریعہ آلات دریافت کرالیں ایسا نہ ہو کہ دراصل عورت کا ہی
    قصور ہو اور پھر وہ ناحق ساری عمر بدکاری کراتی رہے اور آخر بوجہ عقیمہ ہونے کے ناکام رہے اور کوئی بچہ نہ ہو یہ صلاح نیک ہے ضرور اس پر عمل کریں اگر وید نے نہیں بیان کیا تو اس کی
    غلطی ہے۔
    مرد باید کہ گیرد اندر گوش درنبشتست پند بر دیوار ۱؂ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 31
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 31
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/31/mode/1up
    ایک معزّ ز آریہ کے گھر میں اولاد نہیں ہوتی دوسری شادی کر نہیں سکتا کہ وید کی رو سے حرام ہے آخر نیوگ کی ٹھہرتی ہے
    یار دوست مشورہ دیتے ہیں کہ لالہ صاحب نیوگ کرائیے اولاد بہت ہو جائے گی ایک بول اٹھتا ہے کہ مہرسنگھ جو اسی محلہ میں رہتا ہے اس کام کے بہت لائق ہے لالہ بہاری لال نے اس سے نیوگ
    کرایا تھا لڑکا پیدا ہوگیا۔ یہ لالہ لڑکا پیدا ہونے کا نام سن کر باغ باغ ہوگیا۔ بولا مہاراج آپ ہی نے سب کام کرنے ہیں میں تو مہر سنگھ کا واقف بھی نہیں۔ مہاراج شریر النفس بولے کہ ہاں ہم سمجھا دیں
    گے رات کوآجائے گا۔ مہرسنگھ کو خبر دی گئی وہ محلہ میں ایک مشہور قمار باز اول نمبر کا بدمعاش اور حرام کار تھا۔ سنتے ہی بہت خوش ہوگیا اور انہیں کاموں کو وہ چاہتا تھا پھر اس سے زیادہ اس
    کو کیا چاہئے تھا۔ ایک نوجوان عورت اور پھر خوبصورت شام ہوتے ہی آ موجود ہوا۔ لالہ صاحب نے پہلے ہی دلالہ عورتوں کی طرح ایک کوٹھری میں نرم بستر بچھوا رکھا تھا اور کچھ دودھ اور حلوا
    بھی دو برتنوں میں سرہانے کی طاق میں رکھوا دیا تھا تا اگر بیرج داتا کو ضعف ہو تو کھاپی لیوے۔ پھر کیا تھا آتے ہی بیرج داتا نے لالہ دیوث کے نام و ناموس کا شیشہ توڑ دیا اور وہ بدبخت عورت تمام
    رات اس سے منہ کالا کراتی رہی اور اس پلید نے جو شہوت کا مارا تھا نہایت قابل شرم اس عورت سے حرکتیں کیں اورؔ لالہ باہر کے دالان میں سوئے اور تمام رات اپنے کانوں سے بے حیائی کی
    باتیں سنتے رہے بلکہ تختوں کی دراڑوں سے مشاہدہ بھی کرتے رہے۔ صبح وہ خبیث اچھی طرح لالہ کی ناک کاٹ کر کوٹھری سے باہر نکلا لالہ تو منتظر ہی تھے دیکھ کر اس کی طرف دوڑے اور بڑے
    ادب سے اس پلید بدمعاش کو کہا۔ سردار صاحب رات کیا کیفیت گذری اس نے مسکرا کر مبارک باد دی اور اشاروں میں جتا دیا کہ حمل ٹھہر گیا لالہ دیوث سن کر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ مجھے تو
    اسی دن سے آپ پر یقین ہوگیا تھا جبکہ میں نے بہاری لال کے گھر کی کیفیت سنی تھی اور پھر کہا وید حقیقت میں ودیا سے بھرا ہوا ہے کیا عمدہ تدبیر لکھی ہے جو خطا نہ گئی۔ مہر سنگھ نے کہا کہ
    ہاں لالہ صاحب سب سچ ہے کیا وید کی آگیا کبھی خطا بھی جاتی ہے میں تو انہی باتوں کے خیال سے وید کو ست ودیاؤں کا پستک مانتا ہوں۔ اور دراصل مہرسنگھ ایک شہوت پرست آدمی تھا۔ اس کو کسی
    وید شاستر اور شرتی شلوک کی پروا نہ تھی اور نہ اُن
    * نوٹ۔ یہ قصہ جو ہم نے لکھا ہے فرضی نہیں مگر ہم نہیں چاہتے کہ کسی کی پردہ دری کریں اس لئے ہم نے ناموں کو کسی قدر بدلا کر لکھ
    دیا ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 32
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 32
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/32/mode/1up
    پر کچھ اعتقاد رکھتا تھا اس نے صرف لالہ دیوث کی حماقت کی باتیں سن کر اس کے خوش کرنے کے لئے ہاں میں ہاں ملا دی
    مگر اپنے دل میں بہت ہنسا کہ اس دیوث کی پتر لینے کے لئے کہاں تک نوبت پہنچ گئی پھر اس کے بعد مہر سنگھ تو رخصت ہوا اور لالہ گھر کی طرف خوش خوش آیا اور اسے یقین تھا کہ اس کی
    استری رام دئی بہت ہی خوشی کی حالت میں ہوگی کیونکہ مراد پوری ہوئی۔ لیکن اس نے اپنے گمان کے برخلاف اپنی عورت کو روتے پایا اور اس کو دیکھ کر تو وہ بہت ہی روئی یہاں تک کہ چیخیں نکل
    گئیں۔ اور ہچکی آنی شروع ہوئی۔ لالہ نے حیران سا ہو کر اپنی عورت کو کہا کہ ’’ہے بھاگوان آج تو خوشی کا دن ہے کہ دل کی مرادیں پوری ہوئیں اور بیج ٹھہر گیا پھر تو روتی کیوں ہے؟ وہ بولی
    میں کیوں نہ روؤں تو نے سارے کنبے میں میری مٹی پلید کی اور اپنی ناک کاٹ ڈالی اور ساتھ ہی میری بھی اس سے بہتر تھا کہ میں پہلے ہی مرجاتی۔ لالہ دیوث بولا کہ یہ سب کچھ ہوا مگر اب بچہ
    ہونے کی بھی کس قدر خوشی ہوگی وہ خوشیاں بھی تو تُو ہی کرے گی مگر رام دئی شاید کوئی نیک اصل کی تھی اس نے ُ ترت جواب دیا کہ حرام کے بچہ پر کوئی حرام کا ہی ہو تو خوشی مناوے لالہ تیز
    ہو کر بولا کہ ہے ہے کیا کہہ دیا یہ تو وید آگیا ہے عورت کو یہ بات سن کر آگ لگ گئی بولی میں نہیں سمجھ سکتی کہ یہ کیسا وید ہے جو بدکاری سکھلاتا اور زنا کاری کی تعلیم دیتا ہے یوں تو دنیا کے
    مذاہب ہزاروں باتوں میں اختلاف رکھتے ہیں مگر یہ کبھی نہیں سنا کہ کسی مذہب نے وید کے سوا ؔ یہ تعلیم بھی دی ہو کہ اپنی پاک دامن عورتوں کو دوسروں سے ہم بستر کراؤ۔ آخر مذہب پاکیزگی
    سکھلانے کے لئے ہوتا ہے نہ بدکاری اور حرام کاری میں ترقی دینے کے لئے۔ جب رام دئی یہ سب باتیں کہہ چکی تو لالہ نے کہا کہ چپ رہو اب جو ہوا سو ہوا۔ ایسا نہ ہو کہ شریک سنیں اور میرا ناک
    کاٹیں۔ رام دئی نے کہا کہ اے بے حیا کیا ابھی تک تیرا ناک تیرے منہ پر باقی ہے ساری رات تیرے شریک نے جو تیرا ہمسایہ اور تیرا پکا دشمن ہے تیری سہروں کی بیاہتا اور عزت کے خاندان والی سے
    تیرے ہی بستر پر چڑھ کر تیرے ہی گھر میں خرابی کی اور ہریک ناپاک حرکت کے وقت جتا بھی دیا کہ میں نے خوب بدلا لیا۔ سو کیا اس بے غیرتی کے بعد بھی تو جیتا ہے۔ کاش تو اس سے پہلے ہی مرا
    ہوتا۔ اب وہ شریک اور پھر دشمن باتیں بنانے اور ٹھٹھا کرنے سے کب باز رہے گا بلکہ وہ تو کہہ گیا ہے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 33
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 33
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/33/mode/1up
    کہ میں اس فتح عظیم کو چھپا نہیں سکتا کہ جو آج وساوامل کے مقابل پر مجھے حاصل ہوئی۔ میں ضرور رام دئی کا سارا نقشہ
    محلہ کے لوگوں پر ظاہر کروں گا سو یاد رکھ کہ وہ ہریک مجلس میں تیرا ناک کاٹے گا اور ہریک لڑائی میں یہ قصہ تجھے جتائے گا اور اس سے کچھ تعجب نہیں کہ وہ دعوے کر دے کہ رام دئی میری
    ہی عورت ہے کیونکہ وہ اشارہ سے یہ کہہ بھی گیا ہے کہ آئندہ بھی میں تجھے کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ لالہ دیوث نے کہا کہ نکاح کا دعویٰ ثابت ہونا تو مشکل ہے البتہ یارانہ کا اظہار کرے تو کرے تا
    ہماری اور بھی رسوائی ہو بہتر تو یہ ہے کہ ہم دیش ہی چھوڑ دیں۔ بیٹا ہونے کا خیال تھا وہ تو ایشر نے دے ہی دیا بیٹے کا نام سن کر عورت زہر خندہ ہنسی اور کہا کہ تجھے کس طرح اور کیونکر یقین
    ہوا کہ ضرور بیٹا ہوگا اول تو پیٹ ہونے میں ہی شک ہے اور پھر اگر ہو بھی تو اس بات پر کوئی دلیل نہیں کہ لڑکا ہی ہوگا کیا بیٹا ہونا کسی کے اختیار میں رکھا ہے کیا ممکن نہیں کہ حمل ہی خطا جائے
    یا لڑکی پیدا ہو لالہ دیوث بولے کہ اگر حمل خطا گیا تو میں کھڑک سنگھ کو جو اسی محلہ میں رہتا ہے نیوگ کے لئے بلا لاؤں گا عورت نہایت غصہ سے بولی کہ اگر کھڑک سنگھ بھی کچھ نہ کر سکا تو
    پھر کیا کرے گا لالہ بولا کہ تو جانتی ہے کہ نرائن سنگھ بھی ان دونوں سے کم نہیں اس کو بلا لاؤں گا۔ پھر اگر ضرورت پڑی تو جیملؔ سنگھ، لہنا سنگھ، بوڑ سنگھ، جیون سنگھ، صوبا سنگھ، خزان
    سنگھ، ارجن سنگھ، رام سنگھ، کشن سنگھ، دیال سنگھ سب اس محلہ میں رہتے ہیں اور زور اور قوت میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں میرے کہنے پر سب حاضر ہو سکتے ہیں عورت بولی کہ میں اس
    سے بہتر تجھے صلاح دیتی ہوں کہ مجھے بازار میں ہی بٹھا دے تب دس۱۰ بیس کیا ہزاروں لاکھوں آ سکتے ہیں منہ کالا جو ہونا تھا وہؔ تو ہو چکا مگر یاد رکھ کہ بیٹا ہونا پھر بھی اپنے بس میں نہیں
    اور اگر ہوا بھی تو تجھے اس سے کیا جس کا وہ نطفہ ہے آخر وہ اسی کا ہوگا اور اسی کی خو بو لائے گا کیونکہ درحقیقت وہ اسی کا بیٹا ہے اس کے بعد رام دئی نے کچھ سوچ کر پھر رونا شروع کیا
    اور دور دور تک آواز گئی اور آواز سن کر ایک پنڈت نہال چند نام دوڑا آیا اور آتے ہی کہا کہ لالہُ سکھ تو ہے یہ کیسی رونے کی آواز آئی۔ لالہ ناک کٹا چاہتا تو نہیں تھا کہ نہال چند کے آگے قصہ بیان
    کرے مگر اس خوف سے کہ رام دئی اس وقت غصہ میں ہے اگر میں بیان نہ کروں تو وہ ضرور بیان کردے گی کچھ کھسیانا ہوکر زبان دباکر
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 34
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 34
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/34/mode/1up
    کہنے لگا کہ مہاراج آپ جانتے ہیں کہ وید میں وقت ضرورت نیوگ کیلئے آگیا ہے۔ سو میں نے بہت دنوں سوچ کر رات کو نیوگ
    کرایا تھا مجھ سے غلطی ہوئی کہ میں نے نیوگ کے لئے مہرسنگھ کو بلالیا پیچھے معلوم ہوا کہ وہ میرے دشمن کرم سنگھ کا بیٹا اور نہایت شریر آدمی ہے وہ مجھے اور میری استری کو ضرور خراب
    کرے گا اور وہ وعدہ کر گیا ہے کہ میں یہ ساری کیفیت خوب شائع کروں گا نہال چند بولا کہ درحقیقت بڑی غلطی ہوئی اور پھر بولا کہ وساوامل تیری سمجھ پر نہایت ہی افسوس ہے کیا تجھے معلوم
    نہ تھا کہ نیوگ کے لئے پہلا حق برہمنوں کا ہے اور غالباً یہ بھی تجھ پر پوشیدہ نہیں ہوگا کہ اس محلہ کی تمام کھترانی عورتیں مجھ سے ہی نیوگ کراتی ہیں اور میں دن رات اسی سیوا میں لگا ہوا ہوں
    پھر اگر تجھے نیوگ کی ضرورت تھی تو مجھے بلا لیا ہوتا سب کام سدّھ ہو جاتا اور کوئی بات نہ نکلتی اس محلہ میں اب تک تین ہزار کے قریب ہندو عورتوں نے نیوگ کرایا ہے مگر کیا کبھی تم نے اس کا
    ذکر بھی سنا یہ پردہ کی باتیں ہیں سب کچھ ہوتا ہے پھر ذکر نہیں کیا جاتا لیکن مہر سنگھ تو ایسا نہیں کرے گا ذرہ دو چار گھنٹوں تک دیکھنا کہ سارے شہر میں رام دئی کے نیوگ کا شوروغوغا ہوگا۔ لالہ
    دیوث بولا کہ درحقیقت مجھ سے سخت غلطی ہوئی اب کیا کروں۔ اس وقت شریر پنڈت نے جو بباعث نہ ہونے رسم پردہ کے رام دئی کو دیکھ چکا تھا کہ جوان اور خوش شکل ہے نہایت بے حیائی کا
    جواب دیا۔ کہ اگر اسی وقت رام دئی مجھ سے نیوگ کرے تو میں ذمہ وار ہوتا ہوں کہ مہر سنگھ کے فتنہ کو میں سنبھال لوں گا اور پہلا حمل ایک شکی بات ہے اب بہرحال یقینی ہو جائے گا تب وساوامل
    دیوث تو اس بات پر بھی راضی ہوگیا مگر رام دئی نے سنکر سخت گالیاں اس کو نکالیں تب وساوامل نے پنڈت کو کہا کہ مہاراج اس کا یہی حال ہے ہرگز نیوگ کرنا نہیں چاہتی پہلے بھی مشکل سے
    کرایا تھا جس کو یادؔ کر کے اب تک رو رہی ہے کہ میرا منہ کالا کیا اسی سے تو اس نے چیخیں ماری تھیں جن کو آپ سن کر دوڑے آئے تب وہ شہوت پرست پنڈت وساوامل کی یہ بات سن کر رام دئی
    کی طرف متوجہ ہوا اور کہا نہیں بھاگوان نیوگ کو برا نہیں ماننا چاہئے یہ وید آگیا ہے مسلمان بھی تو عورتوں کو طلاق دیتے ہیں اور وہ عورتیں کسی دوسرے سے نکاح کرلیتی ہیں سو جیسے طلاق
    جیسے نیوگ بات ایک ہی ہے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 35
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 35
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/35/mode/1up
    اگر کوئی مسلمان تمہیں نیوگ کا طعنہ دے تو تم طلاق کا طعنہ دے دیا کرو مگر نیوگ سے انکار مت کرو۔ کہ اس میں کچھ بھی
    دوش نہیں بیشک مزہ سے نیوگ کرو اگر ہم سے ناراض ہو تو خیر کسی اور سے۔ ایک سے نہیں دوسرے سے دوسرے سے نہیں تیسرے سے آخر ضرور مطلب حاصل ہوگا۔ تمہاری پڑوسن ہر دئی نے
    پندرہ برس تک مجھ سے ہی نیوگ کرایا تھا ایشر کی کرپا سے دش پتر ہوئے جو اب تک زندہ موجود ہیں اور ایک مدرسہ میں پڑھتا ہے چنانچہ اب تک رلیارام ہر دئی کا شوہر ہمارا احسان مند ہے اور بہت
    کچھ سیوا کرتا ہے اور ہمارا گن گاتا ہے کہ تم نے ہی مجھے پتر دئیے تم بھی اگر چاہو تو ہم حاضر ہیں اور تمہاری ابھی وستھا کیا ہے تیر ہ ۳۱ چودہ ۴۱ سال کی عمر ہوگی برابر نیوگ کراتی رہو۔ ہاں
    یہ مشورہ ضرور دیتا ہوں کہ برہمن کا بیج چاہئے موتی جیسے پتر ہوں گے اور کیا چاہتی ہو۔
    رام دئی یہ باتیں سن کر آگ بگولا ہوگئی اور بولی کہ اے پاجی پنڈت تیری استری نرائن دئی کو بھی تو اب
    تک کوئی لڑکا پیدا نہیں ہوا تو اس کا نیوگ کیوں نہیں کراتا تا اچھے اچھے سندر بچے پیدا ہوں بلکہ میں نے تو سنا ہے کہ تیری لڑکی بشن دئی بھی اب تک بچوں کو ترستی ہے اس کا بھی نیوگ کرا۔ تب
    پنڈت رام دئی کی یہ باتیں سنکر اندر ہی اندر جل گیا اور مارے غصہ کے منہ لال ہوگیا کہ اس نے میری استری اور بیٹی کا کیوں نام لیا اور بہت جل سڑ کر بولا کہ ہم نیوگ کرایا نہیں کرتے۔ ہم تو ہمیشہ
    بیرج داتا ہی مقرر کئے جاتے ہیں۔ رام دئی نے کہاکہ اب مجھے معلوم ہوا کہ تمہیں لوگ قوم کی مٹی پلید کر رہے ہو اگر تم سچ مچ وید کو سچا جانتے تو پہلے وید کے ایسے حکموں پر تم آپ ہی عمل کر
    کے دکھلاتے پر عمل کرنا تو کہاں تم تو ایسی نصیحت کو سن بھی نہیں سکتے اس سے صاف ظاہر ہے کہ تم لوگ صرف منہ سے ہی وید وید کرتے ہو اور حقیقت میں وید کی تعلیموں سے سخت بیزار ہو
    اور ہر بات میں اپنا پہلو اوپر ہی رکھا ہے نیوگ کا مسئلہ بھی شاید اسی لئے بنایا گیا کہ تا برہمنوں کی زناکاری اس پردہ میں چھپی رہے ورنہ اپنی بے اولاد عورتوں اور بہو بیٹیوں کا نیوگ کیوں نہیں
    کراتے۔ کیا وہ اس شہرؔ میں کم ہیں۔ پنڈت بولا بھاگوان تجھے خبر نہیں تمام رشی رکھی نیوگ کراتے آئے ہیں لیکن ایک برہمنی کھتری سے نیوگ نہیں کرا سکتی اور برہمن ایک لاکھ کھترانی سے بھی کر
    سکتا ہے یہی بھید ہے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 36
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 36
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/36/mode/1up
    کہ ہمارے نیوگ کی تمہیں خبر نہیں ہوتی۔ رام دئی نے کہا کہ نیوگ تو بجائے خود ایک حرام کاری تھی مگر اس حرام کاری کو تم
    نے اور بھی ظلم سے بھر دیا کہ کھتریوں کی عورتیں تم سے زنا کراویں مگر تمہاری عورتیں کھتریوں کے نزدیک نہ جاویں سچ تو یہ ہے کہ تم نے نیوگ کا بہانہ کر کے بیچارے کھتریوں سے کوئی پرانا
    بدلا لیا اور کھتریوں کو یہ موقعہ نہ دیا۔ پنڈت نے کہا کہ بھاگوان یہ ہماری طرف سے نہیں یہی وید آگیا ہے۔ رام دئی کو سن کر پھر آگ لگ گئی اور کہا کہ یہ کیسا وید اور کیسی اس کی تعلیم ہے کہ ایک
    تو حرام کاری اور پھر طرفداری اور رام دئی نے یہ بھی کہا کہ اگر ایشر عام لوگوں اور اپنے بھگتوں میں اپنے پاک قانون میں دیا اور کرپا کے لحاظ سے کچھ امتیاز رکھے تو وہ اور بات ہے کیونکہ
    خاص بندوں کا معاملہ خصوصیت کو چاہتا ہے لیکن کھتری اور برہمن میں یہ فرق رکھنا سمجھ نہیں آتا اور پھر فرق بھی حرام کاری میں برہمن کو دو حصہ حرام کاری کی اجازت ہے یعنی اپنی قوم اور
    دوسری تمام ہندو قوموں کے لئے بھی اور یہ وسیع مہربانی کسی دوسری قوم پر نہ ہوئی۔ پنڈت بولا کہ رام دئی افسوس کہ تو وید کے بھید کو نہیں سمجھی کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔ بات تو یہ ہے کہ
    برہمن وید شاستر کے پڑھنے پڑھانے میں عمر بسر کرتے ہیں اور انہیں میں سے اکثر سادھو اور جوگی اور بیراگی بھی ہوتے ہیں اور ان شغلوں کی وجہ سے اکثر وہ غریب اور کنگال ہی رہتے ہیں اول
    تو ان میں بیاہ کرنے کی گنجائش ہی نہیں ہوتی اور اگر ہو بھی تو کہاں سے کھلاویں نہ بیوپار نہ کھیتی نہ نوکری نہ کوئی اور ذریعہ مال جمع کرنے کا رکھتے ہیں اس لئے ایشر نے ان کا جوش شہوت
    فرو کرنے کے لئے نیوگ بنا دیا اور یہی بھید ہے کہ برہمن آریہ کے ہریک قوم کی استری سے نیوگ کر سکتا ہے مگر دوسری قوموں کو یہ اختیار حاصل نہیں ان کے لئے یہ فخر کافی ہے کہ برہمن کا بیج
    ان کی اولاد میں بکثرت ہو۔ رام دئی نے کہا پنڈت جی اب آپ زیادہ تکلیف نہ اٹھاؤ مجھے وید کی ساری حقیقت معلوم ہوگئی پہلے تو میرے دل میں یہی کھٹکا تھا کہ وید توحید کی راہ صاف طور پر نہیں
    بتلاتا جہاں دیکھو وایو اور جل اور اگنی اور چاند اور سورج اور ستاروں کی پرستش اور مہماں نظر آتی ہے کہیں بھی یہ ہدایت نہ دی کہ ایشر کے سوا کسی اور چیز کی پرستش مت کرو۔ سارا وید ورق
    ورق کر کے دیکھو لو۔ کہیں ایسی شرتی نہ پاؤ گے جس کے معنے لا الٰہ الا اللہ ہوں یعنی یہ معنے کہ ایک خدا ہی ہے جس کو پوجنا چاہئے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 37
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 37
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/37/mode/1up
    اور کوئی چیز پوجنےؔ کے لائق نہیں نہ زمین کی چیزوں میں سے نہ آسمان کی چیزوں میں سے نہ چاند نہ سورج نہ وایو نہ
    جل اگر کوئی ایسی شرتی ہے تو بھلا پنڈت جی پیش تو کرو سو ایک تو وید کی اسی خرابی پر رونا آتا تھا اب دوسری خوبی وید کی یہ بھی معلوم ہوئی کہ وید پاکدامن عورتوں کی عزت کو بھی خراب کرنا
    چاہتا ہے اگر خواہ نخواہ بناوٹی اولاد کے لئے تعلیم تھی تو یہ کہنا کافی تھا کہ گود میں بچہ لے لو حالانکہ وید نے آپ ہی بتلایا تھا کہ گود لینے سے بھی متبنّٰی ہو سکتا ہے پھر اس سے کنارہ کرنا اور
    نیوگ کو واجب ٹھہرانا بجز حرام کاری شائع کرانے کے اور کس بناء پر مبنی ہوسکتا ہے۔ یہ باتیں کہہ کر رام دئی نے رو دیا کہ درحقیقت وید ہی نے آریہ ورت کا ستیاناش کر دیا اگر وید آتش پرستی کی
    تعلیم نہ کرتا تو وہ لاکھوں آدمی اس دیس میں ہرگز نہ پائے جاتے جو اس زمانہ میں بھی اگنی پوجا میں مشغول ہیں۔ جن چیزوں کی وید نے تعظیم بیان کی انہیں چیزوں کی ہماری قوم میں قدیم سے پرستش
    جاری ہے پھر رام دئی نے پنڈت کو مخاطب کر کے یہ بھی کہا کہ یہ جو تو نے کہا کہ آریوں میں نیوگ ایسا ہے جیسا کہ مسلمانوں میں طلاق اس سے معلوم ہوا کہ تم اس گند کو کسی طرح چھوڑنا نہیں
    چاہتے اور زور لگا رہے ہو کہ کسی طرح یہ چھپا ہی رہے بھلا پنڈت جی طلاق کو نیوگ سے کیا مناسبت اور نیوگ کو طلاق سے کیا نسبت۔ مسلمان ہمارے پڑوسی ہیں اور اس بات کو ہم خوب جانتے ہیں
    کہ مسلمانوں میں نکاح ایک معاہدہ ہے جس میں مرد کی طرف سے مہر اور تعہد نان و نفقہ اور اسلام اور حسن معاشرت شرط ہے اور عورت کی طرف سے عفت اور پاکدامنی اور نیک چلنی اور
    فرمانبرداری شرائط ضروریہ میں سے ہے اور جیسا کہ دوسرے تمام معاہدے شرائط کے ٹوٹ جانے سے قابل فسخ ہو جاتے ہیں ایسا ہی یہ معاہدہ بھی شرطوں کے ٹوٹنے کے بعد قابل فسخ ہو جاتا ہے
    صرف یہ فرق ہے کہ اگر مرد کی طرف سے شرائط ٹوٹ جائیں تو عورت خودبخود نکاح کے توڑنے کی مجاز نہیں ہے جیسا کہ وہ خودبخود نکاح کرنے کی مجاز نہیں بلکہ حاکم وقت کے ذریعہ سے
    نکاح کو توڑا سکتی ہے جیسا کہ ولی کے ذریعہ سے نکاح کو کرا سکتی ہے اور یہ کمی اختیار اس کی فطرتی شتاب کاری اور نقصان عقل کی وجہ سے ہے لیکن مرد جیسا کہ اپنے اختیار سے معاہدہ
    نکاح کا باندھ سکتا ہے ایسا ہی عورت کی طرف سے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 38
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 38
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/38/mode/1up
    شرائط ٹوٹنے کے وقت طلاق دینے میں بھی خود مختا رہے سو یہ قانون فطرتی قانون سے ایسی مناسبت اور مطابقت رکھتا ہے
    گویا کہ اس کی عکسی تصویر ہے کیونکہ فطرتی قانون نے اسؔ بات کو تسلیم کرلیا ہے کہ ہریک معاہدہ شرائط قراردادہ کے فوت ہونے سے قابل فسخ ہو جاتا ہے اور اگر فریق ثانی فسخ سے مانع ہو تو وہ
    اس فریق پر ظلم کر رہا ہے جو فقدان شرائط کی وجہ سے فسخ عہد کا حق رکھتا ہے جب ہم سوچیں کہ نکاح کیا چیز ہے تو بجز اس کے اور کوئی حقیقت معلوم نہیں ہوتی کہ ایک پاک معاہدہ کی شرائط
    کے نیچے دو انسانوں کا زندگی بسر کرنا ہے۔ اور جو شخص شرائط شکنی کا مرتکب ہو وہ عدالت کی رو سے معاہدہ کے حقوق سے محروم رہنے کے لائق ہو جاتا ہے اور اسی محرومی کا نام دوسرے
    لفظوں میں طلاق ہے لہٰذا طلاق ایک ایسی پوری پوری جدائی ہے جس سے مطلقہ کی حرکات سے شخص طلاق دہندہ پر کوئی بد اثر نہیں پہنچتا یا دوسرے لفظوں میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک
    عورت کسی کی منکوحہ ہو کر نکاح کے معاہدہ کو کسی اپنی بدچلنی سے توڑ دے تو وہ اس عضو کی طرح ہے جو گندہ ہوگیا اور سڑ گیا یا اس دانت کی طرح ہے جس کو کیڑے نے کھا لیا اور وہ اپنے
    شدید درد سے ہر وقت تمام بدن کو ستاتا اور دکھ دیتا ہے تو اب حقیقت میں وہ دانت دانت نہیں ہے اور نہ وہ متعفن عضو حقیقت میں عضو ہے اور سلامتی اسی میں ہے کہ اس کو اکھیڑ دیا جائے اور کاٹ
    دیا جائے اور پھینک دیا جائے یہ سب کارروائی قانون قدرت کے موافق ہے۔ عورت کا مرد سے ایسا تعلق نہیں جیسے اپنے ہاتھ اور اپنے پیر کا لیکن تاہم اگر کسی کا ہاتھ یا پیر کسی ایسی آفت میں مبتلا ہو
    جائے کہ اطباء اور ڈاکٹروں کی رائے اسی پر اتفاق کرے کہ زندگی اس کی کاٹ دینے میں ہے تو بھلا تم میں سے کون ہے کہ ایک جان کے بچانے کے لئے کاٹ دینے پر راضی نہ ہو پس ایسا ہی اگر
    تیری منکوحہ اپنی بدچلنی اور کسی مہان پاپ سے تیرے پر وبال لاوے تو وہ ایسا عضو ہے کہ بگڑ گیا اور سڑ گیا اور اب وہ تیرا عضو نہیں ہے اس کو جلد کاٹ دے اور گھر سے باہر پھینک دے ایسا نہ
    ہو کہ اس کی زہر تیرے سارے بدن میں پہنچ جائے۔ اور تجھے ہلاک کرے پھر اگر اس کاٹے ہوئے اور زہریلے جسم کو کوئی پرند یا درند کھالے تو تجھے اس سے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 39
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 39
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/39/mode/1up
    کیا کام کیونکہ وہ جسم تو اسی وقت سے تیرا جسم نہیں رہا جبکہ تو نے اس کو کاٹ کر پھینک دیا*اب جبکہ طلاق کی ایسی
    صورت ہے کہ اس میں خاوند خاوند نہیں رہتا اور ؔ نہ عورت اس کی عورت رہتی ہے اور عورت ایسی جدا ہو جاتی ہے کہ جیسے ایک خراب شدہ عضو کاٹ کر پھینک دیا جاتا ہے تو ذرہ سوچنا چاہئے
    کہ طلاق کو نیوگ سے کیا مناسبت ہے طلاق تو اس حالت کا نام ہے کہ جب عورت سے بیزار
    بعض ہندو نہایت نادانی کی وجہ سے بول اٹھتے ہیں کہ مسلمانوں کی حدیثوں میں لکھا ہے کہ آدم نے
    بوجہ ضرورت اپنی بیٹیاں اپنے بیٹوں کو بیاہ دی تھیں سو یہ کام کیا نیوگ سے کچھؔ کم ہے سو ایسے ہندوؤں کو یاد رہے کہ یہ بیان نہ قران مجید میں پایا جاتا ہے نہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی
    حدیث میں اور اگر ہے تو دکھلاؤ۔ ہاں بعض مسلمانوں کا یہ قول ضرور لکھا ہے کہ حضرت آدم کے وقت چونکہ اور انسان دنیا میں نہ تھے اس لئے خدا نے یہ کیا کہحوا ان کی بیوی ہمیشہ لڑکی اور
    لڑکا توام جنتیں اور حضرت آدم پہلے پیٹ کی لڑکی کو دوسرے پیٹ کے لڑکے کے ساتھ شادی کر دیتے لیکن اس قول کا قائل نہ تو قرآن سے کوئی سند لایا اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی
    کوئی حدیث اس نے پیش کی اس لئے یہ قول مردود ہے اور جس طرح منو یا باوانانک کے ایسے مسائل جو وید کے مخالف ہیں آریہ نہیں مانتے اسی طرح ہم بھی ایسی باتوں کو نہیں مانتے اور حیا اور
    انصاف کے برخلاف ہے کہ ہمارے سامنے ایسی باتیں پیش کی جائیں کہ جو نہ قرآن میں نہ حدیث میں موجود ہیں اور نہ ان پر مسلمانوں کا عمل ہے اور جس نامعلوم شخص کا یہ قول ہے معلوم ہوتا ہے
    کہ اس نے اس بات کے تصور سے کہ حضرت آدم کے وقت میں تو دنیا میں کوئی اور انسان نہیں تھا پھر ان کی اولاد کے کہاں رشتے ہوئے یہ بات ضرورتاً اپنے دل سے بنالی کہ شاید یہی انتظام ہوگا
    کہ ذرہ پیٹ کے لحاظ سے تبدیلی کر کے نکاح کرا دیا جاتا ہوگا۔ مگر اسے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ حضرت آدم کی اولاد چالیس۴۰ لڑکے تھے اور ان سے پوتے پڑوتے وغیرہ ہو کر حضرت آدم کے
    جیتے جی چالیس ہزار آدمی دنیا میں ہوگیا تھا اگر اضطراری طور پر کوئی ایسا کام جائز بھی رکھا جاتا تو دور کے رشتوں سے ہوتا اور یہ بھی ممکن ہے کہ جیسے حضرت حوا حضرت آدم کی پسلی
    سے نکالی گئیں ایسا ہی ہریک لڑکے کی جورو اس کی پسلی سے نکالی گئی ہو یا ممکن ہے کہ حضرت آدم کی طرح جورواں بھی الگ پیدا ہوگئی ہوں کیونکہ جس نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا وہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 40
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 40
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/40/mode/1up
    ہوکر بکلی قطع تعلق اس سے کیا جائے مگر نیوگ میں تو خاوند بدستور خاوند ہی رہتا ہے اور نکاح بھی بدستور نکاح ہی کہلاتا ہے
    اور جو شخص اس غیر عورت سے ہم بستر ہوتا ہے اس کا نکاحؔ اس عورت سے نہیں ہوتا اور اگر یہ کہو کہ مسلمان بے وجہ بھی عورتوں کو طلاق دے دیتے ہیں تو تمہیں معلوم ہے کہ ایشر نے
    مسلمانوں کو لغو کام کرنے سے منع کیا ہے جیسا کہ قرآن میں ہے 3 ۱؂اور قرآن میں بے وجہ طلاق دینے والوں کو بہت ہی ڈرایا ہے۔ ماسوا اس کے تم اس بات کو بھی تو ذرا سوچو کہ مسلمان اپنی
    حیثیت کے موافق بہت سا مال خرچ کر کے ایک عورت سے شادی کرتے ہیں اور ایک رقم کثیر عورت کے مہر کی ان کے ذمہ ہوتی ہے اور بعضوں کے مہر کئی ہزار اور بعض کے ایک لاکھ یا کئی لاکھ
    ہوتے ہیں اور یہ مہر عورت کا حق ہوتا ہے اور طلاق کے وقت بہرحال اس کا اختیار ہوتا ہے کہ وصول کرے اور نیز قرآن میں یہ حکم ہے کہ اگر عورت کو طلاق دی جائے تو جس قدر مال عورت کو
    طلاق سے پہلے دیا گیا ہے وہ عورت کا ہی رہے گا۔ اور اگر عورت صاحب اولاد ہو تو بچوں کے تعہد کی مشکلات اس کے علاوہ ہیں اسی واسطے کوئی مسلمان جب تک اس کی جان پر ہی عورت کی
    وجہ سے کوئی وبال نہ پڑے تب تک طلاق کا نام نہیں لیتا بھلا کون ایسا پاگل ہے کہ بے وجہ اس قدر تباہی کا بوجھ اپنے سر پر ڈال لے بہرحال جب مرد اور عورت کے تعلقات نکاح باہم باقی نہ رہے تو
    پھر نیوگ کو اس سے کیا نسبت جس میں عین نکاح کی حالت میں ایک شخص کی عورت دوسرے
    آدم کے لڑکوں کی جورواں بھی اسی طرح پیدا کر سکتا تھا۔ غرض چونکہ خدا تعالیٰ کی پاک کتاب میں
    اس کا کچھ بھی ذکر نہیں اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث میں کچھ ذکر ہے اس لئے ایسے سوالوں کے وقت ہمارا یہیؔ جواب ہے کہ اس وقت جو کچھ خدا تعالیٰ کی تقدس اور حکمت
    کے مناسب ہوگا وہی کام خدا تعالیٰ نے کیا ہوگا بے حیائی کے کاموں سے تو وہ آپ منع فرماتا ہے اور چونکہ تعطل صفات خداتعالیٰ پر جائز نہیں اور ہمارے آدم سے پہلے بھی کئی امتیں دنیا میں ہو چکی
    ہیں اس لئے یہ بھی کچھ تعجب کی بات نہیں کہ آریہ لوگ جو کروڑ ہا برسوں کا دعویٰ کرتے ہیں ان پر وبال آنے کے بعد کچھ لڑکیاں ان کی باقی رہ گئی ہوں انہیں لڑکیوں سے حضرت آدم کے لڑکوں
    نے نکاح کرلیا ہو۔ پس اس صورت میں تو مسلمان آریوں کے داماد ثابت ہوئے اور یہ بات قرین قیاس بھی معلوم ہوتی ہے کیونکہ لکھا ہے کہ حضرت آدم مع اپنے لڑکوں کے ہندوستان میں تشریف لائے اور
    غالباً یہ تشریف لانا شادی کی تقریب پر ہوگا۔ واللہ اعلم۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 41
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 41
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/41/mode/1up
    شخص سے ہم بستر ہو سکتی ہے پھر طلاق مسلمانوں سے کچھ خاص بھی نہیں بلکہ ہریک قوم میں بشرطیکہ دیوث نہ ہوں نکاح کا
    معاہدہ صرف عورت کی نیک چلنی تک ہی محدود ہوتا ہے اور اگر عورت بدچلن ہو جائے تو ہریک قوم کے غیرتمند کو خواہ ہندو ہو خواہ عیسائی ہو بدچلن عورت سے علیحدہ ہونے کی ضرورت پڑتی ہے
    مثلاً ایک آریہ کی عورت نے ایک چوہڑے سے ناجائز تعلق پیدا کرلیا ہے چنانچہ بارہا اس ناپاک کام میں پکڑی بھی گئی۔ اب آپ ہی فتویٰ دو کہ اس آریہ کو کیا کرنا چاہئے کیا ؔ نکاح کا معاہدہ ٹوٹ گیا یا
    اب تک باقی ہے۔ کیا یہ اچھا ہے کہ وہ مسلمانوں کی طرح اس عورت کو طلاق دیدے یا یہ کہ ایک دیوث بن کر اس آشنا پر راضی رہے یا مثلاً ایک عورت علاوہ بدکار ہونے کے خاوند کے قتل کرنے کے
    فکر میں ہے تو کیا یہ جائز ہے کہ اس کا خاوند ایک مدت تک اس کی بدکاری کو دیکھتا رہے اور اس پر خوش رہے اور آخر اس فاسقہ کے ہاتھ سے قتل ہو غرض یہ مثال نہایت درست ہے کہ گندی عورت
    گندے عضو کی طرح ہے اور اس کا کاٹ کر پھینکنا اسی قانون کے رو سے ضروری پڑا ہوا ہے جس قانون کے رو سے ایسے عضو کاٹے جاتے ہیں اور چونکہ ایسی عورتوں کو اپنے پاس سے دفع کرنا
    واقعی طور پر ایک پسندیدہ بات اور انسانی غیرت کے مطابق ہے اس لئے کوئی مسلمان اس کارروائی کو چھپے چھپے ہرگز نہیں کرتا مگر نیوگ چھپ کر کیا جاتا ہے کیونکہ دل گواہی دیتا ہے کہ یہ ُ برا
    کام ہے۔
    جب رام دئی یہ سب باتیں کہہ چکی تو پنڈت سخت نادم ہوکر لاجواب ہوگیا اور کہا کہ اب مجھے سمجھ آگیا کہ نیوگ حقیقت میں خباثت کا ہی کام ہے تبھی تو چھپ کر کیا جاتا ہے کیونکہ
    انسانی فطرت اور انسانی کانشنس اس کو مردانہ غیرت کے برخلاف سمجھتے ہیں پس نیوگ اور طلاق کو ایک ہی رنگ میں سمجھنا ٹھیک نہیں۔ یہ بات فی الحقیقت سچی ہے کہ نکاح مرد اور عورت میں
    ایک عہد ہے اور وہ بدعہدی کے بعد قائم نہیں رہ سکتا اور جو شخص اپنی عورت کو بدکار پاکر پھر بھی اس سے قطع تعلق نہیں کرتا وہ حقیقت میں دیوث اور بے غیرت ہی ہے اور حقیقت میں ایسی
    عورت سے قطع تعلق نہ کرنا اس مثال کے نیچے داخل ہے کہ ایک شخص ایسے عضو کو بھی اپنے وجود کا ٹکڑا ہی سمجھے جو سڑ گل گیا اور جو بدبو سے دماغ کو پریشان کرتا ہے اور اپنی عفونت
    سے چنگے بھلے وجود کو دکھ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 42
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 42
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/42/mode/1up
    دے رہا ہے بیشک ایسے عضو کو جلد کاٹ دینا چاہئے ایسا نہ ہو کہ تمام بدن ہی تباہ ہو جائے۔ مگر نیوگ کی حالت میں تو وہ
    عورت کسی طرح سڑے ہوئے عضو کی مانند نہیں ہوسکتی۔ اور ایک تندرست عضو کی طرح ہوتی ہے جو بدن کی جز ہے اور ایک بھلے مانس کے نکاح میں ہوتی ہے۔ اور پھر عین منکوحہ ہونے کی حالت
    میں دوسرے سے ہم بستر کرائی جاتی ہے یہ درحقیقت بے غیرتی اور بے شرمی کی با ت ہے کیا کہیں ہمارے ویدوں کے رشی بھی بڑے ہی سیدھے تھے جنہوں نے ایسی ایسی باتیں لکھ دیں۔ رام دئی نے
    کہا کہ ایسی باتیں کسی سیدھے کا کام نہیں بلکہ بے غیرت کا کام ہے جس نے تمام دنیا کی کانشنس کی مخالفت کی دنیاؔ کے مذاہب میں ہزاروں اختلاف ہیں ضرورتوں کے وقت طلاقیں بھی ہوتی چلی
    آئی ہیں مگر ایسا تو کسی مذہب ملّت میں سنا نہیں گیا اور نہ کوئی ایسی کتاب دیکھی کہ اس درجہ بے غیرتی کی تعلیم دیوے کہ ایک عورت باوجود قید نکاح اور زندہ ہونے خاوند کے اس لالچ سے
    دوسروں سے ہم بستر ہوتی پھرے کہ تا ان سے اولاد حاصل کرے پنڈت نے کہا کہ ہاں رام دئی یہ سب سچ ہے اب مجھے شرمندہ تو مت کر میں خوب سمجھ گیا کہ نیوگ کی تعلیم سراسر گندی تعلیم ہے
    اور دھرم کی بات تو یہی ہے کہ نیوگ کو طلاق سے کچھ نسبت نہیں جو عورت طلاقن ہو چکی وہ خاوند والی تو نہیں کہلاتی اور تمام لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ اب یہ فلاں شخص کی عورت نہیں مگر
    نیوگ میں تو نکاح قائم ہوتا ہے اور عورت اپنے مرد کی وارث ہوتی ہے اور اس کے گھر میں آباد ہوتی ہے مگر اس لئے بدفعلی کراتی ہے کہ تا اس کے لئے اولاد حاصل کر لے لیکن ہم لوگ لاچار ہوکر
    مسلمانوں کو یہی جواب دیدیا کرتے ہیں کیا کریں دل نہیں چاہتا کہ وید پر داغ لگاویں۔
    رام دئی نے کہا کہ پنڈت جی یہ تو ہٹ دھرمی ہے کہ وید کی محبت سے حق کو چھپاویں طلاق تو ایک سخت
    رسوائی سے نجات پانے کے لئے آخری علاج ہے مگر نیوگ اپنے ہاتھ سے ایک رسوائی پیدا کرنا ہے اور تم خود سوچو کہ جب ایک عورت نکاح کے عہد پر جو پاکدامنی اور نیک چلنی اور فرمانبرداری
    ہے قائم نہ رہی تو انجام کار بجز طلاق کے اور کیا علاج ہے اسی لئے گورنمنٹ انگریزی کو بھی اپنی قوم کے لئے ضرورتوں کے وقت طلاق کا قانون پاس کرنا پڑا۔ جن لوگوں کی عورتیں
    بدکار
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 43
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 43
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/43/mode/1up
    ہو جاتی ہیں اور وہ اپنی عورتوں کو طلاق نہیں دیتے اور ان کی بدکاری سے کراہت نہیں کرتے بلکہ کسی آشنا کو گھر میں دیکھ
    کر واپس چلے جاتے ہیں ان کی لوگ کچھ تعریف نہیں کرتے بلکہ چاروں طرف سے ان پر لعنتیں پڑتی ہیں اور دیوث کہلاتے ہیں اگر وہ انسانی غیرت سے طلاق دیتے تو کوئی بھی ان کو ُ برا نہ کہتا اس
    سے ثابت ہے کہ اس دنیا کے پیدا کرنے والے نے انسانوں کی عام فطرت میں یہ غیرت رکھ دی ہے کہ وہ ہرگز راضی نہیں ہوتی کہ ایک عورت منکوحہ نکاح کی حالت میں اپنے خاوند کی زندگی میں
    کسی دوسرے سے خرابی کرے اور جن لوگوں میںیہ فطرتی غیرت باقی نہیں رہی۔ وہ اس گندے اور سڑے ہوئے عضو کی طرح ہیں جو اپنی صحت کی تمام قوتوں کو کھو چکا ہے۔ یہی سبب ہے کہ
    انسانی غیرت نے طلاق کو بے کراہت جائز رکھا اور نیوگ کو جائز نہ رکھا۔ پس اسی باعثؔ سے عام ہندو اس نیوگ کے عمل کو اپنی بہو بیٹیوں اور بیویوں سے چھپا چھپا کر کراتے ہیں اور کھلے طور
    پر کوئی شخص اپنی استری یا بیٹی کو کسی غیر سے ہم بستر نہیں کراتا پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسانی غیرت کے زور نے وید پر ایمان لانے سے روک دیا اگر یہ حکم انسانی غیرت کے موافق ہوتا
    تو تمام ہندو کھلے کھلے طور پر کر کے دکھلاتے اب کیسی بے شرمی ہے کہ کھلے طور پر نیوگ پر عمل کر کے نہیں دکھلاتے اور پھر طلاق سے اس کو مشابہت دیتے ہیں بھلا اگر اپنی بات میں سچے
    ہیں تو جیسے مسلمان ضرورتوں کے وقت کھلے کھلے طور پر طلاق دیدیتے ہیں اور کسی سے نہیں ڈرتے ایسا ہی ہندو بھی اس عمل کو مرد میدان بن کر دکھلاویں مثلاً اسی شہر میں دس۱۰ بیس۲۰ ہندو
    اپنی عورتوں کو دوسروں سے ہم بستر کراویں اور اشتہار دے دیں کہ آج رات فلاں فلاں لالہ صاحب اور فلاں فلاں پنڈت صاحب نے اپنی جوان عورت کو فلاں فلاں شخص سے اولاد کی غرض سے یا
    شہوت فرو کرانے کیلئے ہم بستر کرا دیا ہے اورجب تک اپنی عورتوں کو غیروں سے ہم بستر نہ کراویں تب تک ان کو طلاق وغیرہ کا نام لے کر کسی الزامی جواب دینے کا حق نہیں پہنچتا۔ کیونکہ
    مسلمانوں کی کارروائی منافقانہ نہیں وہ جس بات کو اللہ و رسول کا حکم قرار دیتے ہیں اس کے بجا لانے میں کسی سے نہیں ڈرتے اور نہ کسی کی ملامت کا اندیشہ کرتے ہیں پس اگر ہندو بھی
    درحقیقت نیوگ کے مسئلہ کو سچا ہی سمجھتے ہیں اور برکتوں کے حاصل کرنے کا ذریعہ قرار
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 44
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 44
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/44/mode/1up
    دیتے ہیں تو الزامی جوابوں سے پہلے اپنی عورتوں سے کھلے کھلے طور پر نیوگ کرا کر دکھلائیں ورنہ جھوٹے ُ مردار ہیں۔ یہ
    بات سن کر پنڈت جی چپکے ہی کھسک گئے پھر بات نہ کی۔
    قادیان کے آریوں کے ان اعتراضوں کا جواب جو انہوں نے اپنے اشتہار میں لکھے ہیں
    اوّل۔ اسلام کی تعلیم میں عورت کو محض ایک
    ذریعہ شہوت رانی کا سمجھا گیا ہے۔ الجواب ہم اسی رسالہ میں لکھ چکے ہیں کہ اسلام نے نکاح کرنے سے علت غائی ہی یہی رکھی ہے کہ تا انسان کو وجہ حلال سے نفسانی شہوات کا وہ علاج میسر
    آوے جو ابتدا سے خدا تعالیٰ کے قانون قدرت میںؔ رکھا گیا ہے اور اس طرح اس کو عفت اور پرہیزگاری حاصل ہوکر ناجائز اور حرام شہوت رانیوں سے بچا رہے کیا جس نے اپنی پاک کلام میں
    فرمایاکہ ۱؂ یعنی تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں اس کی نسبت کہہ سکتے ہیں کہ اس کی غرض صرف یہ تھی کہ تا لوگ شہوت رانی کریں اور کوئی مقصد نہ ہو کیا کھیتی سے صرف لہو و لعب
    ہی غرض ہوتی ہے یا یہ مطلب ہوتا ہے کہ جو بیج بویا گیا ہے اس کو کامل طور پر حاصل کرلیں۔ پھر میں کہتا ہوں کہ کیا جس نے اپنی مقدس کلام میں فرمایا ۲؂ یعنی تمہارے نکاح کا یہ مقصود ہونا
    چاہئے کہ تمہیں عفت اور پرہیزگاری حاصل ہو اور شہوات کے بدنتائج سے بچ جاؤ۔ یہ نہیں مقصود ہونا چاہئے کہ تم حیوانات کی طرح بغیر کسی پاک غرض کے شہوت کے بندے ہو کر اس کام میں
    مشغول ہو کیا اس حکیم خدا کی نسبت یہ خیال کر سکتے ہیں کہ اس نے اپنی تعلیم میں مسلمانوں کو صرف شہوت پرست بنانا چاہا اور یہ باتیں فقط قرآن شریف میں نہیں بلکہ ہماری معتبر حدیث کی دو
    کتابیں بخاری اور مسلم میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے یہی روایت ہے اور اعادہ کی حاجت نہیں ہم اسی رسالہ میں لکھ چکے ہیں قرآن کریم تو اسی غرض سے نازل ہوا کہ تا ان کو جو بندہ
    شہوت تھے خدا تعالیٰ کی طرف رجوع دلا وے اور ہریک بے اعتدالی کو دور کرے۔ عرب میں صدہا بیویوں تک نکاح کر لیتے تھے اور پھر ان کے درمیان
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 45
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 45
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/45/mode/1up
    اعتدال بھی ضروری نہیں سمجھتے تھے ایک مصیبت میں عورتیں پڑی ہوئی تھیں جیسا کہ اس کا ذکر جان ڈیون پورٹ اور
    دوسرے بہت سے انگریزوں نے بھی لکھا ہے۔ قرآن کریم نے ان صدہا نکاحوں کے عدد کو گھٹا کر چار تک پہنچا دیا بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا ۱؂ یعنی اگر تم ان میں اعتدال نہ رکھو تو پھر ایک
    ہی رکھو۔ پس اگر کوئی قرآن کے زمانہ پر ایک نظر ڈال کر دیکھے کہ دنیا میں تعدد ازدواج کس افراط تک پہنچ گیا تھا اور کیسی بے اعتدالیوں سے عورتوں کے ساتھ برتاؤ ہوتا تھا تو اسے اقرار کرنا پڑے
    گا کہ قرآن نے دنیا پر یہ احسان کیا کہ ان تمام بے اعتدالیوں کو موقوف کر دیا لیکن چونکہ قانون قدرت ایسا ہی پڑا ہے کہ بعض اوقات انسان کو اولاد کی خواہش اور بیوی کے عقیمہ ہونے کے سبب سے
    یا بیوی کے دائمی بیمار ہونے کی وجہ سے یا بیوی کی ایسی بیماری کے عارضہ سے جس میں مباشرت ہرگز ناممکن ہے جیسی بعض صورتیں خروج رحم کی جن میں چھونے کے ساتھ ہی عورت کی
    جان نکلتی ہے اور کبھی دس۱۰ دس۱۰ سال ایسی بیماریاں رہتی ہیں۔ اورؔ یا بیوی کا زمانہ پیری جلد آنے سے یا اس کے جلد جلد حمل دار ہونے کے باعث سے فطرتاً دوسری بیوی کی ضرورت پڑتی
    ہے اس لئے اس قدر تعدد کے لئے جواز کا حکم دے دیا اور ساتھ اس کے اعتدال کی شرط لگا دی سو یہ انسان کی حالت پر رحم ہے تا وہ اپنی فطری ضرورتوں کے پیش آنے کے وقت الٰہی حکمت کے
    تدارک سے محروم نہ رہے جن کو اس بات کا علم نہیں کہ عرب کے باشندے قرآن شریف سے پہلے کثرت ازدواج میں کس بے اعتدالی تک پہنچے ہوئے تھے ایسے بیوقوف ضرور کثرت ازدواجی کا
    الزام اسلام پر لگائیں گے مگر تاریخ کے جاننے والے اس بات کا اقرار کریں گے کہ قرآن نے ان رسموں کو گھٹایا ہے نہ کہ بڑھایا پس جس نے تعدد ازدواج کی رسم کو گھٹایا اور نہایت ہی کم کر دیا اور
    صرف اس اندازہ پر جواز کے طور پر رہنے دیا جس کو انسان کی تمدن کی ضرورتیں کبھی نہ کبھی چاہتی ہیں کیا اس کو کہہ سکتے ہیں کہ اُس نے شہوت رانی کی تعلیم سکھائی ہے؟
    اس جگہ ہم
    جان ڈیون پورٹ کی کتاب سے اور دوسرے چند فاضل انگریزوں کی بعض
    نوٹ۔ جان ڈیون پورٹ اپنی کتاب کے صفحہ ۸۵ میں لکھتے ہیں کہ اہل عرب میں ایک سے زیادہ بیویاں کرنے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 46
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 46
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/46/mode/1up
    عبارتیں حاشیہ میں نقل کر کے لکھتے ہیں تا معلوم ہو کہ مخالف لوگوں نے بھی باوجودیکہ نہیں چاہتے تھے کہ تائید اسلام میں
    کچھ لکھیں مجبور ہو کر اس شہادت کو ادا کر دیا ہے ہاں بعض بدذات پادری جو اپنے فطرؔ تی تعصب کے ساتھ جہالت کو بھی جمع رکھتے تھے انہوں نے شیاطین کی طرح بہت افترا کئے اور صدہا
    اعتراض اسلام اور قرآن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر جما دئیے مگر دیکھنا چاہئے کہ ان
    کا قدیم سے رواج چلا آتا تھا آپ کے احکام نے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیم نے
    کثرت نکاح کے طریق کو جو اہل مشرق میں بہت رواج پاگیا تھا کم کر دیا یعنی گھٹا دیا وہ لوگ علاوہ کثرت ازدواج کے اپنی رشتہ دار عورتوں سے بھی خراب ہوا کرتے تھے مگر آپ کی تعلیم سے وہ
    باتیں بالکل معدوم ہوگئیں۔ کوئی آدمی ایسا نہیں کہ جو قرآن شریف پڑھے اور اس کے دل پر خوف کا اثر نہ ہو۔ حقیقت میں یہ بات ناممکن ہے کہ ایک شخص بانی مذہب ہو اور وہ ایسی باتیں نکالے جن سے
    بدکاری رائج ہو اور پھر اس کے مذہب میں بالکل کامیابی حاصل ہو جائے لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس مذہب کے مسائل کی سختی ہی زیادہ اس کی کامیابی کی باعث ہوئی ہے اور پھر صفحہ۱۷۲ میں
    لکھتے ہیں کہ مشرق میں بہت سے نکاح کرنے کی رسم حضرت ابراہیمؑ کے وقت سے ہی چلی آتی ہے اور یہ بات انجیل کے بہت سے فقروں سے ثابت ہے کہ یہ رسم انجیل کے زمانہ میں بھی ُ
    برے خیال سے نہیں کی گئی ایسا ہی پروفیسرمارس صاحب اسلامی تعلیم کے اعتدال کی تعریف کر کے اخیر میں لکھتے ہیں کہ جب عیسائی مذہب ؔ کے پیچ در پیچ اور ناقابل فہم عقیدوں پر خیال کیا
    جاتا ہے تو شاید ایک فلاسفر دین اسلام کی خوبی اور صفائی عقائد اور سادگی اور اس کا بناوٹ سے پاک ہونا دیکھ کر آہ کر کے پچھتاوے کہ میرا مذہب ایسا کیوں نہ ہوا *پھر گبن صاحب اپنی تاریخ میں
    لکھتے ہیں کہ آپ کے زمانہ میں یہودیوں میں جورواں کرنے کی کوئی حد نہ تھی اور مجوسیوں نے اپنی ماؤں کو بھی اپنے لئے مباح کر لیا تھا۔ ایسا ہی عرب بھی بلاتعیّن جوروئیں رکھتے تھے اور انکی
    اخلاقی حالت یہاں تک بگڑ گئی تھی کہ میراث کے مال کی طرح باپ کی منکوحہ عورتوں کو بھی باہم بانٹتے تھے اور تمام عورتیں بلا کسی امتیاز کے مردوں کی وحشیانہ خواہشوں کے پورا کرنے کا آلہ
    سمجھی جاتی تھیں بلکہ بعض قبائل یمن میں جو کسی قدر یہودی اور
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 47
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 47
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/47/mode/1up
    اعتراضوں کا ان کے پاس ثبوت کیا ہے۔ کیا قرآن شریف سے یا کسی حدیث صحیح سے انہوں نے لئے ہیں۔ ہمیں تو ان نادانوں پر
    نہایت افسوس کے ساتھ رونا آتا ہے کہ جنہوں نے جلد بازی سے نہ صرف اپنے تئیںؔ تباہ کیا بلکہ بعض متعصب آریوں کو بھی ساتھ ہی لے ڈوبے یہ کمینہ طبع لوگ نکتہ چینی کے لئے تو حریص
    تھے ہی اس پر چند شریر اور نادان عیسائیوں کی کتابیں ان کو مل
    کسی قدر صابی تھے یعنی ستارہ پرست تھے ایک عورت کے کئی کئی خصم ہوتے تھے اور ہندوؤں کی قدیم رسم کی طرح یہ رسم بھی
    بے تکلف جاری تھی کہ جب عورت اپنی معمولی حالت کے بعد غسل سے فارغ ہوتی تو کمبخت بے حیا شوہر اس کو کہتا کہ فلاں شخص کو بلا بھیج اور حمل کے آثار ظاہر ہونے تک بڑی احتیاط کے
    ساتھ جورو سے کنارہ کش رہتا اور اس سے یہ غرض ہوتی کہ بچہ شریف اور نجیب شخص کے تخم سے ہو اور اس سے بڑھ کر یہ رسم تھی جو چند آدمی جو شمار میں دس سے کم ہوتے اکٹھے ہو کر
    ایک عورت کے پاس جاتے اور اس سے ہم بستر ہوتے۔ اور پھر لکھتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سب خرابیوں کو دور فرمایا اور نکاح کو ایک معاہدہ قرار دیا گیا اور ہریک افراط کو دور
    کر دیا گیا اور تشریح کی گئی کہ کن عورتوں کے ساتھ نکاح ہونا چاہئے اور کس حد تک اور وہ حدود مقرر کئے گئے جو عقل اور اخلاق کے برخلاف نہیں اور جب ہم عرب جاہلیت کی کثرت ازواج اور
    اس طرز سلوک کا خیال کرتے ہیں جو وہ اپنی عورتوں کے ساتھ کرتے تھے اور پھر اس حالت پر غور کرتے ہیں کہ جو اسلام کے طفیل سے ان کو حاصل ہوئی تو ہمارا دل ایک فخر آمیز تعجب سے بھر
    جاتا ہے اور یقین ہوتا ہے کہ انسان کے دلؔ پر اس قسم کا تصرف کہ جس نے ان شہوت پرستوں کی حالتوں کو بالکل پھیر دیا بے شبہ وہ ربانی تصرف تھا اور ایزک ٹیلر صاحب نے افریقہ میں مذہب
    اسلام کی نسبت بحث کرتے ہوئے قصبہ وولورہمپٹن کے چرچ کانگریس کے روبرو اپنی رائے حسب ذیل بیان کی۔ تعدد ازواج ایک بڑا دقیق مسئلہ ہے موسیٰ نے اس کو نہیں روکا اور داؤد جس کا خدا کا
    سا دل تھا اس کو عمل میں لایا اور انجیل میں صاف طور سے ممنوع نہیں ہے محمد ؐ نے تعدد ازواج کی بے حد اجازت کو محدود کر دیا۔ تعدد ازواج کے سبب مسلمانوں میں بدکاری کم ہے ہم کو خبردار
    ہونا چاہئے کہ شاید ایک برائی کو بے وقت دور کرنے میں ہم اس کی جگہ ایک اس سے زیادہ ُ بری ُ برائی قائم کر دیں۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 48
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 48
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/48/mode/1up
    گئیں اور شیطانی جوش نے یہ تلقین دی کہ یہ سب سچ ہے لہٰذا اس روسیاہی اور ندامت کا انہوں نے بھی حصہ لیا جو اب نادان
    پادریوں کے منہ پر نمایاں ہے میرے نزدیک جھوٹا ثابت ہونے کی ذلت ہزاروں موتوں سے بدتر ہے اگر عیسائی سچے تھے تو اب ہماری باتوں کا کیوں جواب نہیں دیتے۔ اگر وہ عربی میں دخل رکھتے
    تھے تو ہم نے نورالحق کو تالیف کر کے پانچ ہزار روپیہ کا اشتہار دیا اور کہا کہ یہ روپیہ اپنے پاس ہی جمع کرالیں اور عربی میں بالمقابل کتاب لکھ کر دکھلاویں سو ایسے چپ ہوئے کہ گویا مرگئے
    کیا یہی وہ لوگ تھے جن کی شہادت قرآن کریم کی نکتہ چینی میں قبول کی گئی کسی کتاب کی تعلیم پر ذاتی حملہ کرنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ اول اس کتاب کی زبان بھی معلوم ہو ورنہ صرف دخل
    بیجا اور شیطانی حرکت ہوگی۔ ہاں اس صورت میں ایک شخص جو زبان سے ناواقف ہے اعتراض کر سکتا ہے۔ جب اعتراض کی بناء ایسے فاضل اور مسلم لوگوں کی شہادت پر ہو جو زبان کے ماہر اور
    دینی اسرار کے محقق مانے گئے ہیں جیسا کہ ہم نے نیوگ کا اعتراض دیانند کے وید بھاش کے مطابق اور منو اور یاگولک جی اور گوردت اور پوران وغیرہ کے حوالہ سے کیا ہے سو ایسے نہایت بزرگ
    اعتراضوں میں جو قوم کے برگزیدہ اور مسلم پیشواؤں کے حوالوں پر مبنی ہوں جن کی شہادت کو ماننا ضروری ہو ہریک کو حق پہنچتا ہے کہ ان لوگوں کو ملزم کرے جو لوگ ان کی شہادت کو ایک قطعی
    اور یقینی شہادت سمجھتے ہیں مگر یہ تو نہایت بے ایمانی اور بد ذاتی ہے کہ آپ تو زبان میں کچھ بھی مہارت نہ رکھیں اور ان معانی کو قبول نہ کریں جو قوم کے پیشوا بتلاتے ہیں اور ایسے معانی پیش
    کریں کہ نہ تو قوم کے پیشوا نے بتلائےؔ اور نہ ان لوگوں نے جو اس پیشوا کے بعد بطور نائب کے تسلیم کئے گئے تھے اور نہ مسلم العلم والفضل اکابر قوم نے ان معنوں کی طرف کوئی بھی اشارہ
    کیا یہی خیانتیں ہیں جو نادان پادریوں سے ظہور میں آئیں خدائے کامل و قدوس پر تو ماں کی حاجت کا بھی داغ لگایا اور اس پاک تعلیم پر اعتراض کیا جس کی راستی پر ایک ایسا بادیہ نشین بھی گواہی دے
    سکتا ہے جو زمین و آسمان کی بناوٹ کو سوچ کر اس کے خالق کا پتہ لگانا چاہے۔
    دوسرا سوال۔ مسلمان حیض کے دنوں میں بھی عورت سے جدا نہیں ہوتے۔ الجواب۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ ان
    بہتان طراز لوگوں کا یہ کیسا اعتراض ہے یہ لوگ جھوٹ بولنے کے وقت کیوں
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 49
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 49
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/49/mode/1up
    خدا تعالیٰ سے نہیں ڈرتے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۱ ؂ (الجزو نمبر ۲ سورۃ البقرۃ) یعنی حیض کے دنوں میں عورتوں سے کنارہ
    کرو اور ان کے نزدیک مت جاؤ یعنی صحبت کے ارادہ سے جب تک کہ وہ پاک ہولیں۔ اگر ایسی صفائی سے کنارہ کشی کا بیان وید میں بھی ہو تو کوئی صاحب پیش کریں لیکن ان آیات سے یہ مراد نہیں کہ
    خاوند کو بغیر ارادہ صحبت کے اپنی عورت کو ہاتھ لگانا بھی حرام ہے یہ تو حماقت اور بیوقوفی ہوگی کہ بات کو اس قدر دور کھینچا جائے کہ تمدن کے ضرورات میں بھی حرج واقع ہو اور عورت کو
    ایام حیض میں ایک ایسی زہر قاتل کی طرح سمجھا جائے جس کے چھونے سے فی الفور موت نتیجہ ہے۔ اگر بغیر ارادہ صحبت عورت کو چھونا حرام ہوتا تو بیچاری عورتیں بڑی مصیبت میں پڑ جاتیں۔
    بیمار ہوتیں تو کوئی نبض بھی دیکھ نہ سکتا گرتیں تو کوئی ہاتھ سے اٹھا نہ سکتا اگر کسی درد میں ہاتھ پیر دبانے کی محتاج ہوتیں تو کوئی دبا نہ سکتا اگر مرتیں تو کوئی دفن نہ کر سکتا کیونکہ ایسی پلید
    ہوگئیں کہ اب ہاتھ لگانا ہی حرام ہے سو یہ سب نافہموں کی جہالتیں ہیں اور سچ یہی ہے کہ خاوند کو ایام حیض میں صحبت حرام ہو جاتی ہے لیکن اپنی عورت سے محبت اور آثار محبت حرام نہیں
    ہوتے۔
    تیسرا سوال۔ کیا طلاق میں غیرت سے کام لیا گیا ہے کہ ایک شخص غصہ سے اپنی عورت کو ماں بہن کہہ کر طلاق دیدے تو اسے پھر عورت بنانا اور گھر میں لانا جائز نہیں جب تک تین
    مہینے غیر شخص کا بستر گرم نہ کرلے۔
    الجواب۔ یہ اعتراض صرف ہندوؤں کے تعصب اور بہتان تراشی اور دروغ گوئی پر ہی دلیل نہیں بلکہ ؔ اس بات پر بھی دلیل ہے کہ کس قدر یہ نادان فرقہ
    تعلیم قرآن کے پاک اصولوں سے بے خبر ہیں۔ اے لالہ صاحبان اس سے بڑھ کر اور کوئی بھی بد ذاتی نہیں کہ ایک بے اصل افترا کو ایسے الفاظ میں پیش کریں جس سے یہ یقین دلانا منظور ہو کہ ہمیں
    اس میں یقینی اور قطعی علم ہے۔
    اب میں آپ لوگوں کی کیا کیا غلطی دور کروں کہ آپ لوگوں نے اس سوال کو غلطیوں کی معجون بنا دیا۔ اول تو کسی جاہل کا غصہ میں ماں بہن کہہ دینا طلاق کا
    موجب ہی نہیں ہو سکتا
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 50
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 50
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/50/mode/1up
    اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے
    ۔ ۔ ۱؂۔(الجزو نمبر ۲۸ سورۃ المجادلہ)
    یعنی جو شخص اپنی عورت کو ماں کہہ بیٹھے تو وہ
    حقیقت میں اس کی ماں نہیں ہو سکتی انکی مائیں وہی ہیں جن سے وہ پیدا ہوئے سو یہ ان کی بات نامعقول اور سراسر جھوٹ ہے اور خدا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے اور جو لوگ ماں کہہ
    بیٹھیں اور پھر رجوع کریں تو اپنی عورت کو چھونے سے پہلے ایک گردن آزاد کر دیں یہی خدائے خبیر کی طرف سے نصیحت ہے اور اگر گردن آزاد نہ کر سکیں تو اپنی عورت کو چھونے سے پہلے
    دو مہینہ کے روزے رکھیں اور اگر روزے نہ رکھ سکیں تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاویں۔ اب فرمائیے کہ جھوٹے بدذات کو کیا سزا دی جاوے جس نے ناحق افترا کر کے اپنی طرف سے یہ بات بنائی
    کہ ماں کہنے کی حالت میں ایسی طلاق ہو جاتی ہے کہ پھر جب تک عورت دوسرا خصم نہ کرلے خاوند کی طرف رجوع نہیں کر سکتی ایسے دروغ گوؤں کو اگر ایک مرتبہ بھی سزا ہو جائے تو پھر
    آئندہ جھوٹ بنانے پر جرأت نہ کریں دیکھو کیسی بے حیائی اور افترا پردازی ہے کہ نیوگ کی بات پر غصہ کر کے قرآن پر افترا باندھا۔ یہ غصہ وید پر کرنا چاہئے تھا جس نے ہندوؤں کی عزت کو خاک
    میں ملا دیا ایسا کہ وہ منہ دکھانے کے لائق بھی نہ رہے۔ پھر یہ غصہ منو پر کرنا چاہئے تھا جس نے وید کی ان شرتیوں کو شائع کیا پھر یاگولک وید کا بھاشیکار اس غصہ کے لائق تھا جس نے یہ تفسیر
    لکھ کر سارے آریہ ورت میں شائع کی پھر پورانوں پر ؔ یہ غصہ چاہئے تھا جنہوں نے گھر گھر یہ خوشخبری سنائی اور پھر دیانند کو کچھ سزا دینی چاہئے تھی جس نے اس زمانہ میں وید کا پردہ فاش
    کیا۔ پھر گوردت بھی کسی قدر مار کھانے کے لائق تھا جس نے نیوگ کے جواز پر انگریزی رسالے لکھے اور میدان میں
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 51
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 51
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/51/mode/1up
    کھڑے ہو کر دعویٰ کیا کہ وید کی رو سے زندہ خاوند والی کا نیوگ جائز ہے۔ لیکن ان بھلے مانسوں نے قرآن کی تعلیم پر کیوں
    افتراء کیا۔ اب ہمیں دکھلاویں کہ قرآن کریم میں یاکسی حدیث میں کہاں ہے کہ جو اپنی عورت کو ماں کہہ بیٹھے پھر وہ عورت تب اس کے گھر میں آباد ہو سکتی ہے جبکہ دوسرے کے نکاح میں آجاوے
    اور تین مہینے اس کے گھر میں آباد رہے اور اگر دکھلا نہ سکیں تو بجز اس کے کیا کہیں۔ کہ
    *** اللّٰہ علی الکاذبین
    جس کی تعلیم یہ خیانت ہے ایسے دیں پر ہزار *** ہے
    اب ہم ان نادانوں
    پر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ قرآن میں کونسی ہدایتیں ہیں جن کی پابندی کے بعد پھر ایک شخص طلاق دینے کا مجاز ہوتا ہے اور وہ یہ ہیں۔
    ۱؂
    یعنی جن عورتوں کی طرف سے ناموافقت کے آثار
    ظاہر ہو جائیں پس تم ان کو نصیحت کرو اور خواب گاہوں میں ان سے جدا رہو اور مارو (یعنی جیسی جیسی صورت اور مصلحت پیش آوے) پس اگر وہ تمہاری تابعدار ہو جائیں تو تم بھی طلاق وغیرہ
    کا نام نہ لو اور تکبر نہ کرو کہ کبریائی خدا کے لئے مسلّم ہے یعنی دل میں یہ نہ کہو کہ اس کی مجھے کیا حاجت ہے میں دوسری بیوی کر سکتا ہوں بلکہ تواضع سے پیش آؤ کہ تواضع خدا کو پیاری
    ہے اور پھر فرماتا ہے کہ اگر میاں بیوی کی مخالفت کا اندیشہ ہو تو ایک منصف خاوند کی طرف سے مقرر کرو اور ایک منصف بیوی کی طرف سے اگر منصف صلح کرانے کے لئے کوشش کریں گے تو
    خدا توفیق دے دے گا۔ اور پھر فرمایا۔
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 52
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 52
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/52/mode/1up
    ۱؂ ۔۔۔ ۲؂۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۳؂ ۔
    ترجمہ۔ جو لوگ اپنی بیویوں سے جدا ہونے کے لئے قسم کھا لیتے ہیں وہ طلاق دینے میں
    جلدی نہ کریں بلکہ چار مہینے انتظار کریں۔ سو اگر وہ اس عرصہ میں اپنے ارادہ سے باز آجاویں پس خدا کو غفور و رحیم پائیں گے اور اگر طلاق دینے پر پختہ ارادہ کرلیں سو یاد رکھیں کہ خدا
    سننے والا اور جاننے والا ہے یعنی اگر وہ عورت جس کو طلاق دی گئی خدا کے علم میں مظلوم ہو اور پھر وہ بد دعا کرے تو خدا اس کی بد دعا سن لے گا۔ اور چاہئے کہ جن عورتوں کو طلاق دی گئی
    وہ رجوع کی امید کے لئے تین حیض تک انتظار کریں اور ان تین حیض میں جو قریباً تین مہینے ہیں دو دفعہ طلاق ہوگی یعنی ہر یک حیض کے بعد خاوند عورت کو طلاق دے اور جب تیسرا مہینہ آوے تو
    خاوند کو ہوشیار ہو جانا چاہئے کہ اب یا تو تیسری طلاق دے کر احسان کے ساتھ دائمی جدائی اور قطع تعلق ہے اور یا تیسری طلاق سے رک جائے اور عورت کو حسن معاشرت کے ساتھ اپنے گھر میں
    آباد کرے اور یہ جائز نہیں ہوگا کہ جو مال طلاق سے پہلے عورت کو دیا تھا وہ واپس لے لے اور اگر تیسری طلاق جو تیسرے حیض کے بعد ہوتی ہے دیدے تو اب وہ عورت اس کی عورت نہیں رہی
    اور جب تک وہ دوسرا خاوند نہ کرلے تب
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 53
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 53
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/53/mode/1up
    تک نیا نکاح اس سے نہیں ہو سکتا )یعنی ایسے شخص کی سزا یہی ہے کہ جو باوجود ہدایت متذکرہ بالا کے پھر نہ سمجھے اور
    چونکہ یہ عورت اب اس کی عورت نہیں رہی اس لئے وہ خاوند کرنے میں اختیار کلّی رکھتی ہے( اور پھر فرمایا کہ جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ مدت مقررہ تک پہنچ جائیں اور عدت کی میعاؔ
    د گذر جائے تو ان کو نکاح کرنے سے مت روکو یعنی جب تین حیض کے بعد تین طلاقیں ہو چکیں عدت بھی گذر گئی تو اب وہ عورتیں تمہاری عورتیں نہیں ان کو نکاح کرنے سے مت روکو اور خدا سے
    ڈرو اور ان کو عدت کے دنوں میں گھروں میں سے مت نکالو مگر یہ کہ کوئی کھلی کھلی بدکاری ان سے ظاہر ہو اور جب تین حیض کی مدت گذر جائے تو پھر بعد اس کے احسان کے ساتھ رکھ لو یا
    احسان کے ساتھ اس کو رخصت کر دو۔ اگر کوئی تم میں سے خدا سے ڈرے گا یعنی طلاق دینے میں جلدی نہیں کرے گا اور کسی بے ثبوت شبہ پر بگڑ نہیں جائے گا تو خدا اس کو تمام مشکلات سے
    رہائی دے گا اور اس کو ایسے طور سے رزق پہنچائے گا کہ اسے علم نہیں ہوگا کہ مجھے کہاں سے رزق آتا ہے اور جو عورتیں حیض سے نومید ہوگئی ہیں ان کی مہلت طلاق بجائے تین حیض کے
    تین مہینہ ہیں اور جو خدا سے ڈرے گا یعنی طلاق دینے میں جلدی نہیں کرے گا خدا اس کے کام میں آسانی پیدا کر دے گا۔ یہ خدا کا حکم ہے جو تمہاری طرف اتارا گیا اور جو خدا سے ڈرے گا یعنی
    طلاق دینے میں جلدی نہیں کرے گا اور حتی الوسع طلاق سے دستبردار رہے گا خدا اس کے تمام گناہ معاف کر دے گا اور اس کو بہت بڑا اجر دے گا*
    اگر کوئی عورت اذیت اور مصیبت کا باعث ہو
    تو ہم کو کیونکر یہ خیال کرنا چاہئے کہ خدا ہم سے ایسی عورت کے طلاق دینے سے ناخوش ہوگا۔ میں دل کی سختی کو اس شخص سے منسوب کرتا ہوں جو اس عورت کو اپنے پاس رہنے دے نہ اس
    شخص سے جو اس کو ایسی صورتوں میں اپنے گھر سے نکال دے ناموافقت سے عورت کو رکھنا ایسی سختی ہے جس میں طلاق سے زیادہ بے رحمی ہے طلاق ایک مصیبت ہے جو ایک بدتر مصیبت کے
    عوض اختیار کی جاتی ہے تمام معاہدے بدعہدی سے ٹوٹ جاتے ہیں پھر اس پر کون سی معقول دلیل ہے کہ نکاح کا معاہدہ ٹوٹ نہیں سکتا۔
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 54
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 54
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/54/mode/1up
    سوالؔ چوتھا۔ اب دیکھئے کہ لفظ زنا کس موقعہ کے لئے موزوں ہے رسول خدا حضرت محمد صاحب کا اپنے متبنّٰیبیٹے کی بہو
    مسماۃ زینب کی خواہش کرنا اور اس کے معقول عذر پر یہ بہانہ کرنا کہ خدا تعالیٰ نے عرش پر اپنی زبان مبارک سے میرا اور تیرا نکاح پڑھ دیا ہے۔ الجواب اے لالہ صاحبان آپ لوگوں نے ہمارے سید
    و مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر جو تمام پرہیزگاروں اور پاک دلوں کے سردار ہیں زنا کی تہمت لگائی اگرچہ تعزیرات ہند دفعہ ۲۹۸ کی رو سے ایسے شخصوں کی توہین کے مقدمہ میں جو
    ایک عظیم الشان پیشوا کی نسبت کی گئی ہے۔ سزا تو یہ ہے کہ کم سے کم عدالت سے ڈاڑھی اور موچھ منڈوا کر برس برس کی قید ہو اور پیچھے کھترانیوں اور مصرانیوں کو بجز نیوگ کرانے کے اور
    کوئی صورت کارروائی کے لئے باقی نہ رہے لیکن بالفعل ہم اس امید سے برداشت کرتے ہیں کہؔ تا
    اور کیا وجہ کہ نکاح کی نوعیت تمام معاہدوں سے مختلف ہے۔ عیسیٰ نے زنا کی شرط سے طلاق
    کی اجازت دی مگر آخر اجازت تو دیدی۔ نکاح ملاپ کے لئے ہے اس لئے نہیں کہ ہم دائمی تردد اور نزاع کے باعث سے پریشان خاطر رہیں۔ خلاصہ تقریر جان ملٹن۔ اگر مرد کسی دوسری جگہ چلا
    جائے اور اپنے گھر پر حاضر نہ ہو تو آریوں کی عورتوں کو چاہئے کہ میعاد مقررہ کے بعد نیوگ یعنی کسی دوسرے سے ہم بستر ہوکر اولاد جن لیں کسی کی اجازت کی بھی ضرورت نہیں اور وید آگیا
    موافق بیان پنڈت دیانند کے یہ ہے۔ وواہت استری جووواہت پتی دھرم کے ارتھ پردیش میں گیاؔ ہو تو آٹھ برش۔ ودیا اور کیرتی کے لئے گیا ہو تو چھ۶ اور دھن ادی کامنا کے لئے گیا ہو تو تین برش تک باٹ
    دیکھے پشچات نیوگ کر کے سنتان اوتپتی کر لے۔ جب وداہت پتی آوے تب نیوکت پتی چھوٹ جاوے۔
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 55
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 55
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/55/mode/1up
    شاید تم آئندہ باز آجاؤ۔
    اب ہم ان آریوں کے اس ُ پر افترا اعتراض کی بیخ کنی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جو انہوں نے زینب
    کے نکاح کی نسبت تراشا ہے۔ ان مفتری لوگوں نے اعتراض کی بنا دو باتیں ٹھہرائی ہیں (ا) یہ کہ متبنّٰی اگر اپنی جورو کو طلاق دے دیوے تو متبنّٰی کرنے والے کو اس عورت سے نکاح جائز نہیں
    (۲) یہ کہ زینب آنحضرت کے نکاح سے ناراض تھی تو گویا آنحضرت نے زینب کے معقول عذر پر یہ بہانہ گھڑا کہ مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے سو ہم ان دو باتوں کا ذیل میں جواب دیتے ہیں۔
    امر
    اول کا جواب۔ یہ ہے کہ جو لوگ متبنّٰیکرتے ہیں ان کا یہ دعویٰ سراسر لغو اور باطل ہے کہ وہ حقیقت میں بیٹا ہو جاتا ہے اور بیٹوں کے تمام احکام اس کے متعلق ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ قانون قدرت اس
    بیہودہ دعویٰ کو رد کرتا ہے اس لئے کہ جس کا نطفہ ہوتا ہے اسی کے اعضاء میں سے بچہ کے اعضاء حصہ لیتے ہیں اسی کے قویٰ کے مشابہ اس کے قویٰ ہوتے ہیں اور اگر وہ انگریزوں کی طرح
    سفید
    پس جس حالت میں ہندوؤں کی عورتیں ایسی آزاد ہیں کہ خاوند مثلاً نوکر چاکر ہے کوئی مفقود الخبر اور گمشدہ نہیں خط روز آتے ہیں مقام شہر کا نام معلوم ہے اگر چاہیں تو آسانی سے وہاں جا
    سکتے ہیں مگر پھر بھی وید نے یہ تعلیم نہیں دی کہ ضرورت شہوت کے وقت میں خاوندوں کے پاس چلی جائیں۔ خاص کر جب خاوند ایک جگہ نوکر اور بڑے معزز عہدہ پر ہو مثلاً ڈپٹی کمشنر ہو تو
    روپیہ کی بھی کمی نہیں مگر پھر بھی وید نے زناکاری کی رغبت دی اس سے معلوم ہوا کہ وید کے رشیوں کو زنا بہت ہی پیارا تھا تبھی تو حلال وجہ کے جماع کی پرواہ نہ رکھ کر نیوگ کو ہی پسند کیا
    بہرحال جس حالت میں وید کی آگیا کے بموجب اس صورت میں بھی ایک ہندو عورت نیوگ کرا سکتی ہے۔ جبکہ ایک جگہ خاوند نوکر ہو اور وید نے یہ حکم نہیں دیا کہ عورت خاوند کے پاس چلی جاوے
    بلکہ نیوگ کرانے کی اجازتؔ دے دی ہے تو پھر جب کوئی آریہ جیل خانہ میں قید ہو تو اس صورت میں تو ہندو عورت کو نیوگ کے لئے اعلیٰ درجہ کا حق پیدا ہوگا۔ کیونکہ وہ جیل خانہ میں نہیں جا
    سکتی تھی۔
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 56
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 56
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/56/mode/1up
    رنگ رکھتا ہے تو یہ بھی اس سفیدی سے حصہ لیتا ہے اگر وہ حبشی ہے تو اس کو بھی اس سیاہی کا بخرہ ملتا ہے اگر وہ آتشک
    زدہ ہے تو یہ بیچارہ بھی اسی بلا میں پھنس جاتا ہے۔ غرض جس کا حقیقت میں نطفہ ہے اسی کے آثار بچہ میں ظاہر ہوتے ہیں جیسی گیہوں سے گیہوں پیدا ہوتی ہے اور چنے سے چنا نکلتا ہے پس اس
    صورت میں ایک کے نطفہ کو اس کے غیر کا بیٹا قرار دینا واقعات صحیحہ کے مخالف ہے۔ ظاہر ہے کہ صرف منہ کے دعویٰ سے واقعات حقیقیہ بدل نہیں سکتے مثلاً اگر کوئی کہے کہ میں نے سم
    الفار کے ایک ٹکڑہ کو طباشیر کا ٹکڑہ سمجھ لیا تو وہ اس کے کہنے سے طباشیر نہیں ہو جائے گا اور اگر وہ اس وہم کی بناء پر اسے کھائے گا تو ضرور مرے گا جس حالت میں خدا نے زید کو بکر کے
    نطفہ سے پیدا کر کے بکر کا بیٹا بنا دیا تو پھر کسی انسان کی فضول گوئی سے وہ خالد کا بیٹا نہیں بن سکتا اور اگر بکر اور خالد ایک مکان میںؔ اکٹھے بیٹھے ہوں اور اس وقت حکم حاکم پہنچے کہ زید
    جس کا حقیقت میں بیٹا ہے اس کو پھانسی دیا جائے تو اس وقت خالد فی الفور عذر کر دے گا کہ زید حقیقت میں بکر کا بیٹا ہے میرا اس سے کچھ تعلق نہیں۔ یہ ظاہر ہے کہ کسی شخص کے دو باپ تو
    نہیں ہو سکتے پس اگر متبنٰی بنانے والا حقیقت میں باپ ہوگیا ہے تو یہ فیصلہ ہونا چاہئے کہ اصلی باپ کس دلیل سے لا دعویٰ کیا گیا ہے۔
    غرض اس سے زیادہ کوئی بات بھی بیہودہ نہیں کہ خدا کی
    بنائی ہوئی حقیقتوں کو بدل ڈالنے کا قصد کریں۔ دو باتیں ہندوؤں میں قدیم سے چلی آتی ہیں۔ بیٹا بنانا اور خدا بنانا۔ بیٹا بنانے کے لئے تو بڑا عمدہ طریق نیوگ ہے اور خدا اس طرح بناتے ہیں کہ سالگرام کے
    پتھر پر معمولی منتر پڑھ کر جس کو اواہن کا منتر بھی کہتے ہیں اپنے ہی وہم سے یہ یقین کر لیتے ہیں کہ اب اس میں پرمیشر داخل ہوگیا ہے مگر آریوں نے پرمیشر بننے کے طریق سے تو انکار کر دیا
    ہے مگر بیٹا بنانے کا نسخہ اب تک ان کی نظر میں قابل پسند ہے مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اول آریہ لوگ گود میں بیگانہ بچہ لے کر بیٹا بناتے تھے پھر یہ بات کچھ بناوٹی سی معلوم ہوئی لہذا اس کے قائم
    مقام نیوگ نکالا کہ تا اپنی عورت کو دوسرے سے ہم بستر کرا کر اس کا نطفہ لے لیں تا نطفہ کے اجزاء جورو کے اجزاء سے مل جائیں اور اس طرح پر کچھ مناسبت پیدا
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 57
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 57
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/57/mode/1up
    ہو جائے مگر اس قابل شرم زناکاری کے بعد بھی مرد کو اس نطفہ سے کچھ تعلق نہیں کیونکہ وہ غیر کا نطفہ ہے اب چونکہ
    عقل کسی طرح قبول نہیں کر سکتی کہ متبنیٰ درحقیقت اپنا ہی لڑکا ہو جاتا ہے اس لئے ایسے اعتراض کرنے والے پر واجب ہے کہ اعتراض سے پہلے اس دعوے کو ثابت کرے اور درحقیقت اعتراض
    تو ہمارا حق ہے کہ کیونکر غیر کا نطفہ جو غیر کے خواص اپنے اندر رکھتا ہے اپنا نطفہ بن سکتا ہے پہلے اس اعتراض کا جواب دیں اور پھر ہم پر اعتراض کریں اور یہ بھی یاد رہے کہ زید جو زینب
    کا پہلا خاوند تھا وہ دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام تھا آپ نے اپنے کرم ذاتی کی وجہ سے اس کو آزاد کر دیا اور بعض دفعہ اس کو بیٹا کہا تا غلامی کا داغ اس پر سے جاتا رہے چونکہ
    آپ کریم النفس تھے اس لئے زید کو قوم میں عزت دینے کے لئے آپ کی یہ حکمت عملی تھی مگر عرب کے لوگوں میں یہ رسم پڑ گئی تھی کہ اگر کسی کا استاد یا آقا یا مالک اس کو بیٹا کر کے پکارتا تو
    وہ بیٹا ہی سمجھا جاتا یہ رسم نہایت خراب تھی اور نیز ایک بیہودہ وہم پر اس کی بنا تھی کیونکہ جبکہ تمام انسان بنی نوع ہیں تو اس لحاظ سے جو برابر کے آدمی ہیں وہ بھائیوں کی طرح ہیں اور جو
    بڑے ہیں وہ باپوں کی مانند ہیں اور چھوٹے بیٹوںؔ کی طرح ہیں۔ لیکن اس خیال سے اگر مثلاً کوئی ہندو ادب کی راہ سے قوم کے کسیُ مسِن آدمی کو باپ کہہ دے یا کسی ہم عمر کو بھائی کہہ دے تو
    کیا اس سے یہ لازم آئے گا کہ وہ قول ایک سند متصور ہو کر اس ہندو کی لڑکی اس پر حرام ہوجائے گی یا اس کی بہن سے شادی نہیں ہو سکے گی اور یہ خیال کیا جائے گا کہ اتنی بات میں وہ حقیقی
    ہمشیرہ بن گئیں اور اس کے مال کی وارث ہوگئیں یا یہ ان کے مال کا وارث ہوگیا۔ اگر ایسا ہوتا تو ایک شریر آدمی ایک لاولد اور مالدار کو اپنے منہ سے باپ کہہ کر اس کے تمام مال کا وارث بن جاتا
    کیونکہ اگر صرف منہ سے کہنے کے ساتھ کوئی کسی کا بیٹا بن سکتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ صرف منہ سے کہنے سے باپ نہ بن جائے پس اگر یہی سچ ہے تو مفلسوں ناداروں کے لئے نقب زنی یا
    ڈاکہ مارنے سے بھی یہ عمدہ تر نسخہ ہو جائے گا یعنی ایسے لوگ کسی آدمی کو دیکھ کر جو کئی لاکھ یا کئی کروڑ کی جائیداد رکھتا ہو اور لاولد ہو کہہ سکتے ہیں کہ میں نے تجھ کو باپ بنایا پس اگر
    وہ حقیقت میں باپ ہوگیا ہے تو ایسے مذہب کی رو سے لازم آئے گا کہ اس لاولد کے مرنے کے بعد سارا
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 58
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 58
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/58/mode/1up
    مال اس شخص کو مل جائے اور اگر وہ باپ نہیں بن سکا تو اقرار کرنا پڑے گا کہ یہ مسئلہ ہی جھوٹا ہے۔ اور نیز ایسا ہی ایک
    شخص کسی کو بیٹا کہہ کر ایسا ہی فریب کر سکتا ہے اب چلو کہاں تک چلتے ہو ذرا اپنے وید کی سچائی تو ثابت کرو۔ بہتیرے راجے اور مہاراجے اپنی وفادار رعیت کو بیٹے اور بیٹیاں ہی سمجھتے
    ہیں اور ساتھ ہی ان کی لڑکیاں بھی لے لیتے ہیں اور بہتیرے لوگ محبت یا ادب سے کسی کو باپ اور کسی کو بیٹا کہہ دیتے ہیں مگر ان کے وارث نہیں ہو سکتے۔
    اب جاننا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے
    قرآن کریم میں پہلے ہی یہ حکم فرما دیا تھا کہ تم پر صرف ان بیٹوں کی عورتیں حرام ہیں جو تمہارے صلبی بیٹے ہیں۔ جیسا کہ یہ آیت ہے۔
    ۱؂ یعنی تم پر فقط ان بیٹوں کی جورؤان حرام ہیں جو
    تمہاری پشت اور تمہارے نطفہ سے ہوں۔ پھر جبکہ پہلے سے یہی قانون تعلیم قرآنی میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہو چکا ہے اور یہ زینب کا قصہ ایک مدت بعد اس کے ظہور میں آیا۔ تو اب ہریک
    سمجھ سکتا ہے کہ قرآن نے یہ فیصلہ اسی قانون کے مطابق کیا جو اس سے پہلے منضبط ہو چکا تھا۔ قرآن کھولو اور دیکھو کہ زینب کا قصہ اخیری حصہ قرآن میں ہے مگر یہ قانون کہ متبنّٰی کی جورو
    حرام نہیں ہو ؔ سکتی یہ پہلے حصہ میں ہی موجود ہے اور اس وقت کا یہ قانون ہے کہ جب زینب کا زید سے ابھی نکاح بھی نہیں ہوا تھا تم آپ ہی قرآن شریف کو کھول کر ان دونوں مقاموں کو دیکھ لو
    اور ذرہ شرم کو کام میں لاؤ۔
    اور پھر بعد اس کے سورۃ الاحزاب میں فرمایا۔ ۲؂ یعنی خدا تعالیٰ نے کسی کے پیٹ میں دو دل نہیں بنائے پس اگر تم کسی کو کہو کہ تو میرا دل ہے تو اس کے پیٹ میں
    دو دل نہیں ہو جائیں گے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 59
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 59
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/59/mode/1up
    دل تو ایک ہی رہے گا اسی طرح جس کو تم ماں کہہ بیٹھے وہ تمہاری ماں نہیں بن سکتی اور اسی طرح خدا نے تمہارے منہ
    بولے بیٹوں کو حقیقت میں تمہارے بیٹے نہیں کر دیا۔ یہ تو تمہارے منہ کی باتیں ہیں اور خدا سچ کہتا ہے اور سیدھی راہ دکھلاتا ہے تم اپنے منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کے نام سے پکارو یہ تو
    قرآنی تعلیم ہے مگر چونکہ خدا تعالیٰ کو منظور تھا کہ اپنے پاک نبی کا نمونہ اس میں قائم کر کے پورانی رسم کی کراہت کو دلوں سے دور کر دے سو یہ نمونہ خدا تعالیٰ نے قائم کیا کہ آنحضرت صلی
    اللہ علیہ و سلم کے غلام آزاد کردہ کی بیوی کی اپنے خاوند سے سخت ناسازش ہوگئی آخر طلاق تک نوبت پہنچی۔ پھر جب خاوند کی طرف سے طلاق مل گئی تو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و
    سلم کے ساتھ پیوند نکاح کردیا۔ اور خدا تعالیٰ کے نکاح پڑھنے کے یہ معنی نہیں کہ زینب اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا ایجاب قبول نہ ہوا اور جبرًا خلاف مرضی زینب کے اس کو گھر میں آباد
    کر لیا یہ تو ان لوگوں کی بدذاتی اور ناحق کا افترا ہے جو خدا تعالیٰ سے نہیں ڈرتے بھلا اگر وہ سچے ہیں تو اس افترا کا حدیث صحیح یا قرآن سے ثبوت تو دیں۔ اتنا بھی نہیں جانتے کہ اسلام میں نکاح
    پڑھنے والے کو یہ منصب نہیں ہوتا کہ جبرًا نکاح کردے بلکہ نکاح پڑھنے سے پہلے فریقین کی رضامندی ضروری ہوتی ہے۔ اب خلاصہ یہ کہ صرف منہ کی بات سے نہ تو بیٹا بن سکتا ہے نہ ماں بن
    سکتی ہے۔ مثلاً ہم آریوں سے پوچھتے ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی شخص غصہ میں آکر یا کسی دھوکہ سے اپنی عورت کو ماں کہہ بیٹھے تو کیا اس کی عورت اس پر حرام ہوجائے گی اور طلاق پڑ
    جائے گی اور خود یہ خیال بالبداہت باطل ہے کیونکہ ؔ طلاق تو آریوں کے مذہب میں کسی طور سے پڑ ہی نہیں سکتی خواہ اپنی بیوی کو نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ ماں کہہ دیں یا دادی کہہ دیں۔ تو
    پھر جبکہ صرف منہ کے کہنے سے کوئی عورت ماں یا دادی نہیں بن سکتی تو پھر صرف منہ کی بات سے کوئی غیر کا نطفہ بیٹا کیونکر بن سکتا ہے اور کیونکر قبول کیا جاتا ہے کہ درحقیقت بیٹا ہوگیا
    اور اس کی عورت اپنے پر حرام ہوگئی خدا کے کلام میں اختلاف نہیں ہو سکتا پس بلاشبہ یہ بات صحیح ہے کہ اگر صرف منہ کی بات سے ایک آریہ کی عورت اس کی ماں نہیں بن سکتی تو اسی طرح
    صرف منہ کی بات سے غیر کا بیٹا بیٹا
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 60
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 60
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/60/mode/1up
    بھی نہیں بن سکتا۔
    اور دوسری جز جس پر اعتراض کی بنیاد رکھی گئی ہے یہ ہے کہ زینب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و
    سلم کو قبول نہیں کیا تھا صرف زبردستی خدا تعالیٰ نے حکم دے دیا۔ اس کے جواب میں ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ یہ ایک نہایت بد ذاتی کا افتراء ہے جس کا ہماری کتابوں میں نام و نشان نہیں۔ اگر سچے
    ہیں تو قرآن یا حدیث میں سے دکھلاویں کیسی بے ایمان قوم ہے کہ جھوٹ بولنے سے شرم نہیں کرتی۔ اگر افتراء نہیں تو ہمیں بتلا ویں کہاں لکھا ہے کیا قرآن شریف میں یا بخاری اور مسلم میں۔ قرآن
    شریف کے بعد بالاستقلال وثوق کے لائق ہماری دو ہی کتابیں ہیں ایک بخاری اور ایک مسلم*۔ سو قرآن یا بخاری اور مسلم سے اس بات کا ثبوت دیں کہ وہ نکاح زینب کے خلاف مرضی پڑھا گیا تھا۔ ظاہر
    ہے کہ جس حالت میں زینب زید سے جو آنحضرت کا غلام آزاد تھا راضی نہ تھی اور اسی بناء پر زید نے تنگ آکر طلاق دی تھی اور زینب نے خود آنحضرت کے گھر میں ہی پرورش پائی تھی اور
    آنحضرت کے اقارب میں سے اور ممنون منت تھی تو زینب کے لئے اس سے بہتر اور کونسی مراد اور کونسی فخر کی جگہ تھی کہ غلام کی قید سے نکل کر اس شاہ عالم کے نکاح میں آوے جو خدا کا
    پیغمبر اور خاتم الانبیاء اور ظاہری بادشاہت اور ملک داری میں بھی دنیا کے تمام بادشاہوں کا سرتاج تھا جس کے رعب سے قیصر اور کسریٰ کانپتے تھے۔ دیکھو تمہارے ہندوستان کے راجوں نے محض
    فخر حاصل کرنے کے لئے مغلیہ خاندان کے بادشاہوں کو باوجود ہندو ہونے کے لڑکیاں دیں اور آپ درخواستیں دے کر اورتمنا کر کے اس سعادت کو حاصل کیا اور اپنے مذہبی قوانین کی بھی کچھ
    رعایت نہ رکھی بلکہ اپنے گھر وں میں ان لڑکیوں کو قرآن شریف پڑھایا اور اسلام کا طریق سکھایا اور مسلمان بنا کر بھیجا حالانکہ یہ تمام بادشاہ اس عالیشان جناب کے آگے ہیچ تھے جس کے آگے دنیا
    کے بادشاہ جھکے ہوئے تھے کیاؔ کوئی عقل قبول کر سکتی ہے کہ ایک ایسی عورت جو
    *نوٹ۔ صحیح مسلم اس شرط سے وثوق کے لائق ہے کہ جب قرآن یا بخاری سے مخالف نہ ہو اور بخاری
    میں صرف ایک شرط ہے کہ قرآن کے احکام اور نصوص صریحہ بینہ سے مخالف نہ ہو اور دوسری کتب حدیث صرف اس صورت میں قبول کے لائق ہوں گی کہ قرآن اور بخاری اور مسلم کی متفق علیہ
    حدیث سے مخالف نہ ہوں۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 61
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 61
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/61/mode/1up
    اس ذ ّ لت سے تنگ آگئی تھی جو اس کا خاوند ایک غلام آزاد کردہ ہے وہ اس غلام سے آزاد ہونے کے بعد اس شہنشاہ کو قبول نہ
    کرے جس کے پاؤں پر دنیا کے بادشاہ گرتے تھے بلکہ دیکھ کر رعب کو برداشت نہیں کر سکتے تھے چنانچہ لکھا ہے کہ ایک مرتبہ ایک ملک کا بادشاہ گرفتار ہوکر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے
    روبرو پیش کیا گیا اور وہ ڈر کر بید کی طرح کانپتا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اس قدر خوف مت کر۔ میں کیا ہوں ایک بڑھیا کا بیٹا ہوں جو باسی گوشت کھایا کرتی تھی سو ایسا خاوند جو دنیا کا بھی بادشاہ اور
    آخرت کا بھی بادشاہ ہو وہ اگر فخر کی جگہ نہیں تو اور کون ہو سکتا ہے۔ اور زینب وہ تھی جس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے زید کے ساتھ آپ شادی کی تھی اور آپ کی دست پروردہ تھی اور
    ایک یتیم لڑکی آپ کے عزیزوں میں سے تھی جس کو آپ نے پالا تھا وہ دیکھتی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویاں عزت کے تخت پر بیٹھی ہیں اور میں ایک غلام کی جورو ہوں اسی وجہ
    سے دن رات تکرار رہتا تھا۔ اور قرآن شریف بیان فرماتا ہے کہ آنحضرت اس رشتہ سے طبعاً نفرت رکھتے تھے اور روز کی لڑائی دیکھ کر جانتے تھے کہ اس کا انجام ایک دن طلاق ہے چونکہ یہ آیتیں
    پہلے سے وارد ہو چکی تھیں کہ منہ بولا بیٹا دراصل بیٹا نہیں ہوسکتا تھا۔ اس لئے آنحضرت کی فراست اس بات کو جانتی تھی کہ اگر زید نے طلاق دے دی تو غالباً خدا تعالیٰ مجھے اس رشتہ کے لئے
    حکم کرے گا تا لوگوں کے لئے نمونہ قائم کرے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور یہ قصہ قرآن شریف میں بعینہٖ درج ہے۔
    پھر پلید طبع لوگوں نے جن کی بدذاتی ہمیشہ افترا کرنے کی خواہش رکھتی ہے
    خلاف واقعہ یہ باتیں بنائیں کہ آنحضرت خود ز ینب کے خواہشمند ہوئے حالانکہ ز ینب کچھ دور سے نہیں تھی کوئی ایسی عورت نہیں تھی جس کو آنحضرت نے کبھی نہ دیکھا ہو یہ زینب وہی تو تھی
    جو آنحضرت کے گھر میں آپ کی آنکھوں کے آگے جوان ہوئی اور آپ نے خود نہ کسی اور نے اس کا نکاح اپنے غلام آزاد کردہ سے کر دیا اور یہ نکاح اس کو اور اس کے بھائی کو اوائل میں نامنظور
    تھا اور آپ نے بہت کوشش کی یہاں تک کہ وہ راضی ہوگئی۔ ناراضگی کی یہی وجہ تھی کہ زید غلام آزاد کردہ تھا۔ پھر یہ کس قدر بے ایمانی
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 62
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 62
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/62/mode/1up
    اور بد ذاتی ہے جو واقعات صحیحہ کو چھوڑ کر افترا کئے جائیں قرآن موجود بخاری مسلم موجود ہے نکالو کہاں سے یہ بات
    نکلتی ہے کہ آنحضرت زینب کے نکاح کو خود اپنے لئے چاہتے تھے۔ کیاؔ آپ نے زید کوکہا تھا کہ تو طلاق دیدے تا میرے نکاح میں آوے بلکہ آپ تو بار بار طلاق دینے سے ہمدردی کے طور پر منع
    کرتے تھے۔ یہ تو وہ باتیں ہیں جو ہم نے قرآن اور حدیث میں سے لکھی ہیں۔ لیکن اگر کوئی اس کے برخلاف مدعی ہے تو ہماری کتب موصوفہ سے اپنے دعوے کو ثابت کرے۔ ورنہ بے ایمان اور خیانت
    پیشہ ہے۔ اور یہ بات جو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے نکاح پڑھ دیا۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ یہ نکاح میری مرضی کے موافق ہے اور میں نے ہی چاہا ہے کہ ایسا ہوتا مومنوں پر حرج باقی نہ
    رہے۔
    یہ معنے تو نہیں کہ اب زینب کے خلاف مرضی اس پر قبضہ کرلو ظاہر ہے کہ نکاح پڑھنے والے کا یہ منصب تو نہیں ہوتا کہ کسی عورت کو اس کے خلاف مرضی کے مرد کے حوالہ کر
    دیوے بلکہ وہ تو نکاح پڑھنے میں ان کی مرضی کا تابع ہوتا ہے سو خدا تعالیٰ کا نکاح یہی ہے کہ زینب کے دل کو اس طرف جھکا دیا اور آپ کو فرما دیا کہ ایسا کرنا ہوگا تا امت پر حرج نہ رہے۔ اب
    بھی اگر کوئی باز نہ آوے تو ہمیں قرآن اور بخاری اور مسلم سے اپنے دعوے کا ثبوت دکھلاوے کیونکہ ہمارے دین کا تمام مدار قرآن شریف پر ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث قرآن کی
    مفسر ہے اور جو قول ان دونوں کے مخالف ہو وہ مردود اور شیطانی قول ہے یوں تو تہمت لگانا سہل ہے۔ مثلاً اگر کسی آریہ کو کوئی کہے کہ تیری والدہ کا تیرے والد سے اصل نکاح نہیں ہوا۔ جبراً اس
    کو پکڑ لائے تھے اور اس پر کوئی اطمینان بخش ثبوت نہ دے اور مخالفانہ ثبوت کو قبول نہ کرے۔ تو ایسے بدذات کا کیا علاج ہے ایسا ہی وہ شخص بھی اس سے کچھ کم بدذات نہیں جو مقدس اور
    راستبازوں پر بے ثبوت تہمت لگاتا ہے۔ ایماندار آدمی کا یہ شیوہ ہونا چاہئے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 63
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 63
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/63/mode/1up
    کہ پہلے ان کتابوں کا صحیح صحیح حوالہ دے جو مقبول ہوں اور پھر اعتراض کرے ورنہ ناحق کسی مقدس کی بے عزتی کر
    کے اپنی ناپاکی فطرت کی ظاہر نہ کرے۔ جب ہم سوچتے ہیں کہ کیوں خدا تعالیٰ کے مقدس اور پیارے بندوں پر ایسے ایسے حرام زادے جو سفلہ طبع دشمن ہیں جھوٹے الزام لگاتے ہیں تو بجز اس کے
    اور کوئی سبب معلوم نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ ارادہ فرماتا ہے کہ تا نور کے مقابل پر ظلمت کا خبیث مادہ بھی ظاہر ہو جاوے کیونکہ دنیا میں اضداد اضداد سے پہچانی جاتی ہیں۔ اگر رات کا اندھیرا نہ
    ہوتا تو دن کی روشنی کی خوبی ظاہر نہ ہو سکتی۔ پس خدا تعالیٰ اس طور سے پلید روحوں کو مقابل پر لاکر پاک روح کی پاکیزگی زیادہ صفائی سےؔ کھول دیتا ہے۔
    پانچواں اعتراض۔ بھلا اس مسئلہ
    پر بھی کبھی توجہ فرمائی ہے کہ حضرت رسول خدا محمدؐ صاحب کا اپنی بیوی حضرت عائشہ نو سالہ سے ہم بستر ہونا کیا اولاد پیدا کرنے کی نیت سے تھا۔
    اما الجواب۔ یہ اعتراض محض جہالت
    کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ کاش اگر نادان معترض پہلے کسی محقق ڈاکٹر یا طبیب سے پوچھ لیتا تو اس اعتراض کرنے کے وقت بجز اس کے کسی اور نتیجہ کی توقع نہ رکھتا کہ ہریک حقیقت شناس کی
    نظر میں نادان اور احمق ثابت ہوگا۔ ڈاکٹر مون صاحب جو علوم طبعی اور طبابت کے ماہر اور انگریزوں میں بہت مشہور محقق ہیں وہ لکھتے ہیں کہ گرم ملکوں میں عورتیں آٹھ یا نو برس کی عمر میں
    شادی کے لائق ہو جاتی ہیں۔ کتاب موجود ہے تم بھی اسی جگہ ہو اگر طلب حق ہے تو آکر دیکھ لو۔ اور حال میں ایک ڈاکٹر صاحب جنہوں نے کتاب معدن الحکمت تالیف کی
    نوٹ۔ یہ وہی آریہ ہیں جن
    کے باپ دادے اسلامی بادشاہت کے زمانہ میں اسلام کے امراء کے آگے ہاتھ جوڑتے اور پاؤں پر گرتے تھے کہ حضور ہم وفادار رعیت ہیں اب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو گالیاں دیتے ہیں سو
    ہماری گورنمنٹ انگریزی کے بھی وہ تہ دل سے خیر خواہ نہیں ہو سکتے اسلام کے بادشاہوں نے ان کو وزارت کے عہدے بھی دیدئیے تھے پھر جب ان سے ان کا یہ سلوک ہے جو ان کے ایسے محسن
    تھے تو پھر ہماری گورنمنٹ کی سخت غلطی ہوگی جو ان احسان فراموشوں پر کوئی زیادہ بھروسہ رکھے گورنمنٹ کو چاہئے کہ اس تجربہ سے فائدہ اٹھاوے جو اسلامی سلطنت کو ان لوگوں کی فطرت
    کی نسبت ہو چکا ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 64
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 64
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/64/mode/1up
    ہے۔ وہ اپنی کتاب تدبیر بقاء نسل میں بعینہ یہی قول لکھتے ہیں جو اوپر نقل ہو چکا۔ اور صفحہ ۴۶ میں لکھتے ہیں کہ ڈاکٹروں
    کی تحقیقات سے یہ ثابت ہے کہ نو یا آٹھ یا پانچ یا چھ برس کی لڑکیوں کو حیض آیا۔ یہ کتاب بھی میرے پاس موجود ہے جو چاہے دیکھ لے۔ ان کتابوں میں کئی اور ڈاکٹروں کا نام لے کر حوالہ دیا گیا ہے
    اور چونکہ یہ تحقیقاتیں بہت مشہور ہیں اور کسی دانا پر مخفی نہیں اس لئے زیادہ لکھنے کی حاجت نہیں۔ اور حضرت عائشہ کا نو سالہ ہونا تو صرف بے سروپا اقوال میں آیا ہے۔ کسی حدیث یا قرآن
    سے ثابت نہیں لیکن ڈاکٹر واہ صاحب کا ایک چشم دید قصہ لینسٹ نمبر ۱۵ مطبوعہ اپریل ۱۸۸۱ء میں اس طرح لکھا ہے کہ انہوں نے ایسی عورت کو جنایا جس کو ایک برس کی عمر سے حیض آنے
    لگا تھا اور آٹھویں برس حاملہ ہوئی اور آٹھ۸ برس دس۱۰ مہینہ کی عمر میں لڑکا پیدا ہوا۔
    اب اے نادان آریو کسی کنوئیں میں پڑکر ڈوب مرو کہ تحقیق کی رو سے تمہارا ہریک الزام جھوٹا نکلا۔ یہی
    سزا ایسے لوگوں کی ہے جو ہمیشہ بخل اور تعصب سے بات کرتے ہیں کبھی ساری
    عمر میں بھی ان کو خیال نہیں آتا کہ کسی سچائی کو بھی قبول کرلیں۔
    اے غافلو۔ کیا تم ہمیشہ زندہ رہو گے
    کیا کبھی تم پوچھے
    نہیں جاؤ گے۔ کیوں حد سے بڑھتے ہو
    کچھ اس مالک کا خوف کرو جو کبھی
    شریر کو بے سزا
    نہیں چھوڑے گا۔
    تَمَّت
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 65
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 65
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/65/mode/1up
    حاشیہؔ متعلقہ صفحہ ۴۳ ۱؂ آریہ دھرم
    آریہ لوگ جب اُس اعتراض کے وقت جو نیوگ پر وارد ہوتا ہے بالکل لاجواب اور
    عاجز ہو جاتے ہیں تو پھر انصاف اور خدا ترسی کی قوت سے کام نہیں لیتے۔ بلکہ اسلام کے مقابل پر نہایت مکروہ اور بے جا افتراؤں پر آجاتے ہیں۔ چنانچہ بعض تو مسئلہ طلاق کو ہی پیش کرتے ہیں۔
    حالانکہ خوب جانتے ہیں کہ قدرتی طور پر ایسی آفات ہریک قوم کے لئے ہمیشہ ممکن الظہور ہیں جن سے بچنا بجز طلاق کے متصور نہیں۔ مثلاً اگر کوئی عورت زانیہ ہو تو کس طرح اس کے خاوند کی
    غیرت اس کو اجازت دے سکتی ہے کہ وہ عورت اس کی بیوی کہلا کر پھر دن رات زناکاری کی حالت میں مشغول رہے۔ ایسا ہی اگر کسی کی جورو اس قدر دشمنی میں ترقی کرے کہ اس کی جان کی
    دشمن ہو جاوے اور اس کے مارنے کی فکر میں لگی رہے تو کیا وہ ایسی عورت سے امن کے ساتھ زندگی بسر کر سکتا ہے۔ بلکہ ایک غیرت مند انسان جب اپنی عورت میں اس قدر خرابی بھی دیکھے کہ
    اجنبی شہوت پرست اس کو پکڑتے ہیں اور اس کا بوسہ لیتے ہیں اور اس سے ہم بغل ہوتے ہیں اور وہ خوشی سے یہ سب کام کراتی ہے تو گو تحقیق کے رو سے ابھی زنا تک نوبت نہ پہنچی ہو بلکہ وہ
    فاسقہ موقع کے انتظار میں ہو۔ تاہم کوئی غیرت مند ایسی ناپاک خیال عورت سے نکاح کا تعلق رکھنا نہیں چاہتا۔ اگر آریہ کہیں کہ کیا حرج ہے کچھ مضائقہ نہیں تو ہم ان سے بحث کرنا نہیں چاہتے
    ہمارے مخاطب صرف وہ شریف ہیں جن کی فطرت میں خدا تعالیٰ نے غیرت اور حیاء کا مادہ رکھا ہے اور وہ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ عورت کا جوڑا اپنے خاوند سے پاکدامنی اور فرماں برداری
    اور باہم رضامندی پر موقوف ہے اور اگر ان تین۳ باتوں میں سے کسی ایک بات میں بھی فرق آجاوے تو پھر یہ جوڑ قائم رہنا محالات میں سے ہو جاتا ہے انسان کی بیوی اس کے اعضاء کی طرح ہے۔ پس
    اگر کوئی عضو سڑ گل جائے یا ہڈی ایسی ٹوٹ جائے کہ قابل پیوند نہ ہو۔ تو پھر بجز کاٹنے کے اور کیا علاج ہے اپنے عضو کو اپنے ہاتھ سے کاٹنا کوئی نہیں چاہتا کوئی بڑی ہی مصیبت پڑتی ہے تب
    کاٹا جاتا ہے*۔ پس جس حکیم مطلق نے انسان کے مصالح لئے نکاح تجویز کیا ہے اور چاہا
    * نوٹ۔ خدا تعالیٰ نے جو ضرورتوں کے وقت میں مرد کو طلاق دینے کی اجازت دی اور کھول کر یہ نہ
    کہا کہ عورت کی زناکاری سے یا کسی اور بدمعاشی کے وقت اس کو طلاق دی جاوے اس میں حکمت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ستّاری نے چاہا کہ عورت کی تشہیر نہ ہو۔ اگر طلاق کے لئے زنا وغیرہ
    جرائم کا اعلان کیا جاتا تو لوگ سمجھتے کہ اس عورت پر کسی بدکاری کا شبہ ہے یا فلاں فلاں بدکاری کی قسموں میں سے ضرور اس نے کوئی بدکاری کی ہوگی مگر اب یہ راز خاوند تک محدود رہتا
    ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 66
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 66
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/66/mode/1up
    ہے کہ مرد اور عورت ایک ہو جائیں۔ اُسی نے مفاسد ظاہر ہونے کے وقت اجازت دی ہے کہ اگر آرام اس میں متصور ہو کہ کرم
    خوردہ دانت یا سڑے ہوئے عضو یا ٹوٹی ہوئی ہڈی کی طرح موذی کو علیحدہ کر دیا جائے تو اسی طرح کاربند ہوکر اپنے تئیں فوق الطاقت آفت سے بچالیں کیونکہ جس جوڑ سے وہ فوائد مترتب نہیں ہو
    سکتے کہ جو اس جوڑ کی علت غائی ہیں بلکہ ان کی ضد پیدا ہوتی ہے تو وہ جوڑ درحقیقت جوڑ نہیں ہے۔
    اورؔ بعض آریہ عذر معقول سے عاجز آکر یہ جواب دیا کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں حلالہ
    کی رسم نیوگ سے مشابہ ہے یعنی جو مسلمان اپنی جورو کو طلاق دے وہ اپنی جورو کو اپنے پر حلال کرنے کے لئے دوسرے سے ایک رات ہم بستر کراتا ہے تب آپ اس کو اپنے نکاح میں لے آتا ہے۔
    سو ہم اس افترا کا جواب بجز لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین اور کیا دے سکتے ہیں۔ ناظرین پر واضح رہے کہ اسلام سے پہلے عرب میں حلالہ کی رسم تھی لیکن اسلام نے اس ناپاک رسم کو قطعاً حرام کر دیا
    اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسے لوگوں پر *** بھیجی ہے جو حلالہ کے پابند ہوں چنانچہ ابن عمر سے مروی ہے کہ حلالہ زنا میں داخل ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت
    ہے کہ حلالہ کرنے کرانے والے سنگسار کئے جاویں۔ اگر کوئی مطلقہ سے نکاح کرے تو نکاح تب درست ہوگا کہ جب واقعی طور پر اس کو اپنی جورو بنا لے اور اگر دل میں یہ خیال ہوکہ وہ اس حیلہ
    کے لئے اس کو جورو بناتا ہے کہ تا اس کی طلاق کے بعد دوسرے پر حلال ہو جائے تو ایسا نکاح ہرگز درست نہیں اور ایسا نکاح کرنے والا اس عورت سے زنا کرتا ہے اور جو ایسے فعل کی ترغیب
    دے وہ اس سے زنا کرواتا ہے۔ غرض حلالہ علمائے اسلام کے اتفاق سے حرام ہے اور اَئمہ اور علماء سلف جیسے حضرت قتادہ۔ عطا اور امام حسن اور ابراہیم۔ نخعی۔ اور حسن بصری اور مجاہد اور
    شعبی اور سعید بن مسیب اور امام مالک۔ لیث۔ ثوری۔ امام احمد بن حنبل وغیرہ صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین اور سب محققین علماء اس کی حرمت کے قائل ہیں اور شریعت اسلام اور نیز لغت عرب
    میں بھی زوج اس کو کہتے ہیں کہ کسی عورت کو فی الحقیقت اپنی جورو بنانے کے لئے تمام حقوق کو مدنظر رکھ کر اپنے نکاح میں لاوے اور نکاح کا معاہدہ حقیقی اور واقعی ہو نہ کہ کسی دوسرے
    کے لئے ایک حیلہ ہو اور قرآن شریف میں جو آیا ہے 3 ۱؂ اس کے یہی معنے ہیں کہ جیسے دنیا میں
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 67
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 67
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/67/mode/1up
    نیک نیتی کے ساتھ اپنے نفس کی اغراض کے لئے نکاح ہوتے ہیں ایسا ہی جب تک ایک مطلقہ کے ساتھ کسی کا نکاح نہ ہو اور
    وہ پھر اپنی مرضی سے اس کو طلاق نہ دے تب تک پہلے طلاق دینے والے سے دوبارہ اس کا نکاح نہیں ہوسکتا *۔ سو آیت کا یہ منشاء نہیں ہے کہ جورو کرنے والا پہلے خاوند کے لئے ایک راہ بنادے
    اور آپ نکاح کرنے کے لئے سچی نیت نہ رکھتا ہو بلکہ نکاح صرف اس صورت میں ہوگا کہ اپنے پختہ اور مستقل ارادہ سے اپنے صحیح اغراض کو مدنظر رکھ کر نکاح کرے ورنہ اگر کسی حیلہ کی
    غرض سے نکاح کرے گا۔ تو عندالشرع وہ نکاح ہرگز درست نہیں ہوگا اور زنا کے حکم میں ہوگا۔ لہٰذا ایسا شخص جو اسلام پر حلالہ کی تہمت لگاناؔ چاہتا ہے اس کو یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام کا یہ
    مذہب نہیں ہے اور قرآن اور صحیح بخاری اور مسلم اور دیگر احادیث صحیحہ کی رو سے حلالہ قطعی حرام ہے اور مرتکب اس کا زانی کی طرح مستوجب سزا ہے۔
    اور بعض آریہ نیوگ کے مقابل
    پر اسلام پر یہ الزام لگانا چاہتے ہیں کہ اسلام میں متعہ یعنی نکاح موقت جائز رکھا گیا ہے جس میں ایک مدت تک نکاح کی میعاد ہوتی ہے اور پھر عورت کو طلاق دی جاتی ہے۔ لیکن ایسے معترضوں کو
    اس بات سے شرم کرنی چاہئے تھی کہ نیوگ کے مقابل پر ُ متعہ کا ذکر کریں۔ اول تو متعہ صرف اس نکاح کا نام ہے جو ایک خاص عرصہ تک محدود کر دیا گیا ہو پھر ماسوا اس کے ُ متعہ اوائل اسلام میں
    یعنی اس وقت میں جبکہ مسلمان بہت تھوڑے تھے صرف تین دن کے لئے جائز ہوا تھا اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ وہ جواز اس قسم کا تھا جیسا کہ تین دن کے بھوکے کے لئے مردارکھانا
    نہایت بے قراری کی حالت میں جائز ہو جاتا ہے اور پھر ُ متعہ ایسا حرام ہوگیا جیسے ُ سور کا گوشت اور شراب حرام ہے اور نکاح کے احکام نے ُ متعہ کے لئے قدم رکھنے کی جگہ باقی نہیں رکھی۔
    قرآن شریف میں نکاح کے بیان میں مردوں کے حق عورتوں پر اور عورتوں کے حق مردوں پر قائم کئے گئے ہیں اور ُ متعہ کے مسائل کا کہیں ذکر بھی نہیں۔ اگر اسلام میں ُ متعہ ہوتا تو قرآن میں نکاح
    کے مسائل کی طرح ُ متعہ کے
    * نوٹ۔ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ قرآن شریف میں یہ شرط جو ہے کہ اگر تین طلاق تین طہر میں جو تین مہینہ ہوتے ہیں دی جائیں۔ تو پھر ایسی عورت خاوند سے
    بالکل جدا ہو جاوے گی اور اگر اتفاقاً کوئی دوسرا خاوند اس کا اس کو طلاق دیدے تو صرف اسی صورت میں پہلے خاوند کے نکاح میں آ سکتی ہے ورنہ نہیں یہ شرط طلاق سے روکنے کے لئے ہے تا
    ہریک شخض طلاق دینے میں دلیری نہ کرے اور وہی شخص طلاق دے جس کو کوئی ایسی مصیبت پیش آگئی ہے جس سے وہ ہمیشہ کی جدائی پر راضی ہوگیا اور تین مہینے بھی اس لئے رکھے گئے تا
    اگر کوئی مثلاً غصہ سے طلاق دینا چاہتا ہو تو اس کا غصہ اتر جائے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 68
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 68
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/68/mode/1up
    مسائل بھی بسط اور تفصیل سے لکھے جاتے لیکن کسی محقق پر پوشیدہ نہیں کہ نہ تو قرآن میں اور نہ احادیث میں ُ متعہ کے
    مسائل کا نام و نشان ہے لیکن نکاح کے مسائل بسط اور تفصیل سے موجود ہیں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ ہریک قوم میں جو ایک امر عامہ خلائق کے متعلق جائز یا واجب قرار دیا جاتا ہے تو اس امر کی بسط اور
    تفصیل سے مسائل بھی بیان کئے جاتے ہیں مثلاً نیوگ جو ہندوؤں میں ایک امر واجب العمل ہے۔ تو ان کی کتابوں میں اس کی تفصیل بھی بیان کی گئی ہے مثلاً لکھا گیا ہے کہ نیوگ تین قسم پر ہے (۱) اول
    بیوہ عورتوں کا نیوگ کیونکہ بیوہ کو وید کی رو سے نکاح کی اجازت نہیں اور یہ بھی وید کا مسئلہ ہے کہ نجات کے لئے اولاد کا حاصل کرنا ضروری ہے اس لئے بیوہ کو نیوگ کی اجازت دی گئی اس
    طرح پر کہ وہ اپنے دیور یا کسی برہمن سے ہم بستر ہو کر اولاد حاصل کرے (۲) دوسری قسم نیوگ کی یہ ہے کہ اگر کسی مرد کے گھر میں اولاد نہ ہو اور نہ اولاد ہونے کے آثار پائے جائیں تو
    اسے چاہئے کہ اپنی عورت کو اولاد حاصل کرنے کے لئے دوسرے سے ہم بستر کراوے اور اس طرح سے اولاد حاصل کرے(۳) تیسری قسم نیوگ کی یہ ہے کہ اگر مثلاً مرد کہیں باہر نوکری پر گیا
    ہو اور اس کو رخصت نہ مل سکے تو عورت کو روا ہے کہ دوسرے سے ہم بستر ہوکر اپنی شہوت کو فرو کرے اور ان تینوں قسموںؔ کے متعلق احکام بھی ہیں مثلاً
    ایک یہ کہ جو عورت زندہ خاوند
    والی اولاد کے لئے دوسرے سے ہم بستر ہو اس کو چاہئے کہ اپنے خاوند کو بھی خدمت سے محروم نہ رکھے اور اس کی خدمت کے لئے بھی جایا کرے۔
    دوسرے وید مقدس کا یہ حکم ہے کہ جو
    عورت کسی دوسرے سے ہم بستر ہو وہ اس آشنا کے گھر میں جاکر اس سے ہم بستر نہ ہو بلکہ چاہئے کہ اس آشنا کو اپنے خاوند کے گھر میں بلاوے اور اسی گھر میں اس سے ہم بستر ہو۔
    تیسرے
    یہ بھی لکھا ہے کہ مرد نیوگ کرنے والا اپنے بدن کو تیل مل لے یعنی عضو تناسل کو۔
    چوتھے پنڈت دیانند نے وید کی رو سے یہ بھی تاکید کی ہے کہ نیوگ میں سخت صحبت نہ ہو۔
    پانچویں یہ
    قواعد بھی مقرر کر دئیے گئے ہیں کہ اتنے عرصہ میں اتنی مرتبہ صحبت ہو اس سے کم نہ ہو نہ اس سے زیادہ ہو اور اتنے بچے لئے جائیں اس سے زیادہ نہ ہوں۔
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 69
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 69
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/69/mode/1up
    چھٹے یہ بھی حکم ہے کہ جو بچہ نیوگ سے پیدا ہوگا وہ اسی مرد کا ہوگا جس نے اپنی عورت کو اولاد کی خواہش سے کسی
    دوسرے سے ہم بستر کرایا ہے۔ اس مرد کا ہرگز نہیں ہوگا جس کے نطفہ سے وہ پیدا ہوا ہے۔
    ساتویں یہ بھی حکم ہے کہ وہ بیٹا جو بیرج داتا یعنی نیوگ کرنے والے کے نطفہ سے پیدا ہوا ہے وہ اُسی
    مرد کا وارث ہوگا جس نے اپنی عورت کو اولاد کی خواہش سے دوسرے سے ہم بستر کرایا ہے۔ اور بیرج داتا یعنی جس کا نطفہ عورت کے اندر گیا ہے کچھ حق اس لڑکے پر نہیں رکھے گا اور کوئی
    ادب اور لحاظ اس کا حق کے طور پر نہیں ہوگا اور لڑکا اس کے مال کا وارث نہیں ہوگا بلکہ اسی مرد کا وارث ہوگا جس نے اپنی پاک دامن عورت کو اولاد کی خواہش سے دوسرے سے ہم بستر کرایا
    ہے۔ اسی طرح اور بھی احکام نیوگ کے ہیں جو ہم لکھ چکے ہیں لیکن قرآن اور حدیث کے دیکھنے والوں پر ظاہر ہوگا کہ اسلام میں متعہکے احکام ہرگز مذکور نہیں نہ قرآن میں اور نہ احادیث میں۔ اب
    ظاہر ہے کہ اگر متعہ شریعت اسلام کے احکام میں سے ایک حکم ہوتا تو اس کے احکام بھی ضرور لکھے جاتے اور وراثت کے قواعد میں اس کا بھی کچھ ذکر ہوتا۔ پس اس سے ظاہر ہے کہ متعہ اسلامی
    مسائل میں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اگر بعض احاد حدیثوں پر اعتبار کیا جائے تو صرف اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ جب بعض صحابہ اپنے وطنوں اور اپنی جورؤں سے دور تھے تو ایک دفعہ ان کی
    سخت ضرورت کی وجہ سے تین دن تک متعہ ان کے لئے جائز رکھا گیا تھا اور پھر بعد اس کے ایسا ہی حرام ہوگیا جیسا کہ اسلام میں خنزیر و شراب وغیرہ حرام ہیں اور چونکہ اضطراری حکم جس
    کی ابدیت شارع کا مقصوؔ د نہیں شریعت میں داخل نہیں ہوتے اس لئے متعہ کے احکام قرآن اور حدیث میں درج نہیں ہوئے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ اسلام سے پہلے متعہ عرب میں نہ صرف جائز بلکہ
    عام رواج رکھتا تھا اور شریعت اسلامی نے آہستہ آہستہ عرب کی رسوم کی تبدیلی کی ہے سو جس وقت بعض صحابہ متعہ کے لئے بیقرار ہوئے سو اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انتظامی
    اور اجتہادی طور پر اس رسم کے موافق بعض صحابہ کو اجازت دے دی کیونکہ قرآن میں ابھی اس رسم کے بارے میں کوئی ممانعت نہیں آئی تھی پھر ساتھ ہی چند روز کے بعد نکاح کی مفصل اور
    مبسوط ہدایتیں قرآن میں نازل ہوئیں جو متعہ کے مخالف اور متضاد تھیں اس لئے ان آیات سے متعہ کی قطعی طور پر حرمت ثابت ہوگئی۔ یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ گو متعہ صرف
    تین
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 70
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 70
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/70/mode/1up
    دن تک تھا مگر وحی اور الہام نے اس کے جواز کا دروازہ نہیں کھولا بلکہ وہ پہلے سے ہی عرب میں عام طور پر رائج تھا
    اور جب صحابہ کو بے وطنی کی حالت میں اس کی ضرورت پڑی تو آنحضرتؐ نے دیکھا کہ متعہ ایک نکاح مو ّ قت ہے۔ کوئی حرام کاری اس میں نہیں کوئی ایسی بات نہیں کہ جیسی خاوند والی
    عورت دوسرے سے ہم بستر ہو جاوے بلکہ درحقیقت بیوہ یا باکرہ سے ایک نکاح ہے جو ایک وقت تک مقرر کیا جاتا ہے تو آپ نے اس خیال سے کہ نفس متعہ میں کوئی بات خلاف نکاح نہیں۔ اجتہادی
    طور پر پہلی رسم کے لحاظ سے اجازت دیدی لیکن خدا تعالیٰ کا یہ ارادہ تھا کہ جیسا کہ اور صدہا عرب کی بیہودہ رسمیں دور کر دی گئیں ایسا ہی متعہ کی رسم کو بھی عرب میں سے اٹھا دیا جاوے
    سو خدا نے قیامت تک متعہ کو حرام کر دیا۔ ماسوا اس کے یہ بھی سوچنا چاہئے۔ کہ نیوگ کو متعہ سے کیا مناسبت ہے نیوگ پر تو ہمارا یہ اعتراض ہے کہ اس میں خاوند والی عورت باوجود زندہ ہونے
    خاوند کے دوسرے سے ہم بستر کرائی جاتی ہے۔ لیکن متعہ کی عورت تو کسی دوسرے کے نکاح میں نہیں ہوتی۔ بلکہ ایک باکرہ یا بیوہ ہوتی ہے جس کا ایک مقررہ وقت تک ایک شخص سے نکاح پڑھا جاتا
    ہے۔ سو خود سوچ لو کہ متعہ کو نیوگ سے کیا نسبت ہے اور نیوگ کو متعہ سے کیا مناسبت۔
    پھر ماسوا اس کے ہم یہ کہتے ہیں کہ درحقیقت یہ اسلام ہی میں خوبی ہے کہ اس میں ایک موقت نکاح بھی
    حرام کر دیا گیا ہے ورنہ دوسری قوموں پر نظر ڈال کر معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ادنیٰ ادنیٰ ضرورتوں کے لئے زناکاری کو بھی جائز رکھا ہے بھلا ایک دانشمند نیوگ کے مسئلہ پر ہی غور کرے کہ
    صرف اولاد کے لالچ کی وجہ سے اپنی پاکدامن عورت کو نامحرم کے بستر پر لٹا دیا جاتا ہے حالانکہ نہ اس عورت کو طلاق دی گئی نہ خاوند کے تعلقات اس سے ٹوٹے ہیں بلکہ وہ خاوند کی سچی
    خیر خواہ بن کر اس کے لئے اولاد پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ایسا ہی عیسائیوں میں کوئی ایسی تعلیم نہیں جو ایک نوجواؔ ن عورت کو دوسرے نوجوان اجنبی مرد سے ہم بغل ہونے سے روکے اور
    مرد کو اس عورت کا بوسہ لینے سے منع کرے بلکہ یورپ میں یہ تمام مکروہ باتیں نہایت بے تکلفی سے رائج ہیں اور پردہ پوشی کے لئے ان کاموں کا نام پاک محبت رکھا جاتا ہے۔ سو یہ ناقص تعلیم کے
    بدنتائج ہیں۔ اسلام میں یہ دستور تھا کہ اگر کوئی ایسے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 71
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 71
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/71/mode/1up
    سفر میں جاتا جس میں کئی سال کی توقف ہوتی تو وہ عورت کو ساتھ لے جاتا یا اگر عورت ساتھ جانا نہ چاہتی تو وہ ایک دوسرا
    نکاح اس ملک میں کرلیتا۔ لیکن عیسائی مذہب میں چونکہ اشد ضرورتوں کے وقت میں بھی دوسرا نکاح ناجائز ہے اس لئے بڑے بڑے مدّ بر عیسائی قوم کے جب ان مشکلات میں آ پڑتے ہیں تو نکاح کی
    طرف ان کو ہرگز توجہ نہیں ہوتی اور بڑے شوق سے حرام کاری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ جن لوگوں نے ایکٹ چھاؤنی ہائے نمبر ۱۳ ،۱۸۸۹ء پڑھا ہوگا وہ اس بات کی شہادت دے سکتے ہیں کہ عیسائی
    مذہب کی پابندی کی وجہ سے ہماری مد ّ بر گورنمنٹ کو بھی یہی مشکلات پیش آگئیں۔ ناظرین جانتے ہیں کہ یہ گورنمنٹ کس قدر دانا اور دور اندیش اور اپنے تمام کاموں میں بااحتیاط ہے اور کیسی کیسی
    عمدہ تدابیر رفاہ عام کے لئے اس کے ہاتھ سے نکلتی ہیں اور کیسے کیسے حکماء اور فلاسفر یورپ میں اس کے زیر سایہ رہتے ہیں مگر تاہم یہ دانا گورنمنٹ مذہبی روکوں کی وجہ سے اس کام میں
    احسن تدابیر پیدا کرنے سے ناکام رہی ہے۔ یوں تو اس گورنمنٹ نے اپنی تدبیر اور حکمت اور ایجادات سے یونانیوں کے علوم کو بھی خاک میں ملا دیا مگر جس انتظام میں مذہب کی روک واقع ہوئی اس کے
    درست کرنے اور ناقابل اعتراض بنانے میں گورنمنٹ قادر نہ ہو سکی اس بات کے سمجھنے کے لئے وہی نمونہ ایکٹ نمبر ۱۳ ،۱۸۸۹ء کافی ہے کہ جب گوروں کو اس ملک میں نکاح کی ضرورت ہوئی
    تو مذہبی روکوں کی وجہ سے نکاح کا انتظام نہ ہو سکا اور نہ گورنمنٹ اس فطرتی قانون کو تبدیل کر سکی جو جذبات شہوت کے متعلق ہے۔ آخر یہ قبول کیا گیا کہ گوروں کا بازاری عورتوں سے ناجائز
    تعلق ہو۔ کاش اگر اس کی جگہ پر متعہ بھی ہوتا تو لاکھوں بندگان خدا زنا سے تو بچ جاتے۔ ایک مرتبہ گورنمنٹ نے گھبرا کر اس قانون کو منسوخ بھی کر دیا مگر چونکہ فطرتی قانون تقاضا کرتا تھا کہ
    جائز طور پر یا ناجائز طور پر ان جذبات کا تدارک کیا جائے کہ جن سے جسمانی بیماریاں زور مارتی ہیں لہٰذا اسی پہلے قانون کے جاری کرنے کے لئے اب پھر سلسلہ جنبانی ہو رہی ہے اور ہم مناسب
    دیکھتے ہیں کہ اس جگہ اخبار عام ۹ نومبر ۱۸۹۵ء کا وہ مضمون جو اس بحث کے متعلق ہے بجنسہٖ لکھ دیں۔
    اور وہ یہ ہے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 72
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 72
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/72/mode/1up
    قانوؔ ن دکھائی
    وزارت کے تبدیل ہوتے ہی ولایت کے نامور اور سربر آوردہ اخبار ٹائمز نے جس زور شور سے قانون
    دکھائی کو پھر جاری کرنے کے سلسلہ جنبانی کی ہے وہ ناظرین پر ظاہر کی جا چکی ہے۔ کنسرویٹو وزارت سے جو سرکاری عہدہ داران کی رائے کو ہمیشہ بڑی وقعت سے دیکھتی ہے امید ہو سکتی
    ہے کہ بالضرور وہ اس معاملہ پر اچھی طرح غور کرے گی۔ کیونکہ اس قانون کی منسوخی کے وقت سرجارج وایٹ صاحب کمانڈر انچیف افواج ہند نے جو ُ پرزور مخالفانہ رائے ظاہر کی تھی وہ اس
    قابل ہے کہ ضرور کنسرویٹو گورنمنٹ اس پر توجہ کرے گورنمنٹ ہند بھی اس قانون کے منسوخ کرنے پر رضامند نہ تھی پس ان واقعات کی رو سے پورے طور پر خیال ہو سکتا ہے کہ قانون دکھائی پھر
    جاری کیا جاوے اس میں شک نہیں ہے کہ قانون دکھائی کے منسوخ ہونے کے دن سے گورہ سپاہیوں کی حالت بہت خراب ہوگئی ہے۔ دیکھا جاتا ہے کہ برٹش کے بہادر سپاہی بازاروں میں آتشک کی
    مریض فاحشہ عورتوں کے ساتھ خراب ہوتے پھرتے ہیں۔ جس کا نتیجہ حسب رائے کمانڈر انچیف صاحب بہادر بہت خوفناک نکلنے کی امید ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ سرکاری طور پر ہمیں اس بات کی
    خبر نہیں ملی کہ سال ۱۸۹۴ء ؁میں کتنے گورے سپاہی مرض آتشک میں مبتلا ہوئے۔ گو مخالفان قانون دکھائی نے مہم چترال کی گورہ فوج کی صحت کو دیکھ کر نہایت مسرت ظاہر کی تھی اور کہا تھا
    کہ مویدان قانون دکھائی کی یہ رائے کہ اس قانون کے منسوخ ہونے سے تمام گورہ سپاہ مرض آتشک وغیرہ میں مبتلا ہو جاوے گی غلط ٹھہرتی ہے۔ مگر یہ واقعہ اس قابل نہیں ہے کہ جس سے تشفی ہو
    سکے کیونکہ مہم چترال میں چیدہ اور تندرست جوان بھیجے گئے تھے نیز لڑائی اور جنگلی ملک کی وجہ سے وہ کہیں خراب ہوکر بیمار نہیں ہو سکتے تھے۔ اس امر کا دہرانا ضروری نہیں کہ گورے
    سپاہی چونکہ بالکل کم تعلیم یافتہ اور دیہاتی نوجوان ہیں نیز بوجہ گوشت خور ہونے کے وہ زیادہ گرم مزاج کے ہیں۔ اس لئے ان سے نفسانی خواہش روکے رکھنے کی امید رکھنا محض لاحاصل ہے۔
    قانون دکھائی کے جاری ہونے کے دنوں ہر ایک گورہ پلٹن کے لئے کسبی عورتیں ملازم رکھی جاتی تھیں جن کا ہمیشہ ڈاکٹری معائنہ ہوتا رہتا تھا اور تمام گورہ لوگوں کو ان ملازم رنڈیوں کے علاوہ اور
    جگہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 73
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 73
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/73/mode/1up
    جانے کی بھی شاید ممانعت تھی اس طریق سے ان کی صحت میں کسی قسم کا خلل واقع نہیں ہوتا تھا۔ نیز اس طریق کے بند
    ہونے کی وجہ سے اور بھی کئی ایسی وارداتیں ہوئی ہیں جن سے اہل ہند کیؔ طرف سے بہت ناراضی پھیلتی جاتی ہے جن میں سے میاں میر کا مقدمہ زنا بالجبر جو گورہ سپاہیوں کی طرف سے ایک
    بدصورت بڈھی اور اندھی عورت سے کیا گیا تھا۔ قابل غور ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ مدراس کے صوبہ میں ہوا جہاں ایک ریلوے پھاٹک کے چوکیدار نے ہندوستانی عورتوں کی عفت بچانے میں اپنی جان دے
    دی تھی۔ اگر چندے گورے سپاہیوں کے لئے انتظام سرکاری طور پر نہ کیا گیا تو علاوہ اس کے کہ تمام فوج بیماری سے ناکارہ ہو جائے ملک میں بڑی بھاری بددلی پھیلنے کا اندیشہ ہے اور یہ دونوں
    امور قیام سلطنت کے لئے غیر مفید ہیں۔ اس وقت جبکہ قانون دکھائی کو پھر جاری کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہمیں یہ ظاہر کر دینا بھی نہایت ضروری ہے کہ اگر اب پھر قانون مذکور جاری کیا
    جاوے تو گورنمنٹ ہند اور خصوصاً کمانڈر انچیف افواج ہند کو یہ بھی ضرور انتظام کرنا چاہئے کہ بجائے ہندوستانی عورتوں کے یورپین عورتیں ملازم رکھی جاویں کیونکہ قانون دکھائی کے متعلق
    ہندوستانی اور انگریز مخالفین کا سب سے بڑا اعتراض یہی تھا کہ ہندوستان کی غریب عورتوں کو دلالہ عورتوں کے ذریعہ سے اس فحش ملازمت کی ترغیب دی جاتی ہے اور بعض اوقات نہایت کمینہ
    فریبوں سے اچھے گھروں کی یتیم لڑکیوں کو اس پیشہ کے لئے مجبور کیا جاتا ہے اور یہی وجہ تھی جس سے ہند کے بہت سے باشندگان نے قانون دکھائی کی منسوخی میں معمول سے بڑھ کر انٹرسٹ
    لیا تھا۔ ورنہ کسی معمولی سمجھ کے آدمی کو بھی ان بدمعاش عورتوں سے ہرگز ہمدردی نہیں ہو سکتی تھی۔ قانون دکھائی کے مکرر اجراء کی کوشش محض اسی غرض سے کی جاتی ہے کہ گورہ
    سپاہیوں کی خواہش نفسانی کو پورا کرنے کے لئے سرکاری طور پر انتظام کیا جاوے ورنہ دیسی لوگوں کی بہتری کا اس میں ذرا بھی خیال نہیں۔ اس لئے اگر مخالفین قانون مذکور کی دل جوئی گورنمنٹ
    کو منظور ہو۔ تو یہی ایک طریق ہے جس سے بلا قانون مذکور کے جاری کرنے کے مقصد مطلوبہ حاصل ہوسکتا ہے۔ اگر حسب تجویز ہماری کے یوروپین سپاہیوں کے لئے یوروپین عورتیں بہم پہنچائی
    جائیں تو ان سے مرض آتشک کا خدشہ نہیں رہ سکتا کیونکہ ایک تو یورپ میں مرض مذکور شاید ہوگا ہی نہیں دوم ان عورتوں کو بروقت بھرتی ہونے کے دایہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 74
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 74
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/74/mode/1up
    ڈاکٹروں کے ذریعہ مثل فوجی سپاہیوں کے ملاحظہ کرایاجاوے گا اس سے فریقین کے مرض مذکور سے پاک ہونے کی وجہ
    سے ڈاکٹری معائنہ کی ہمیشہ کے لئے ضرورت ہی نہ رہے گی۔ اس طرح بغیر قانون دکھائی جاری کرنے کے سپاہیوں کی خواہش نفسانی کے لئے عمدہ طور سے انتظام ہو سکتا ہے۔
    اس بات سے تو
    کوئی انکار ہی نہیں کر سکتا کہ ولایت میں مثل ہندوستان کے فاحشہ عورتیں موجود ہیں۔ اس لئے گورنمنٹ کو اس انتظام میں ذرا بھی دقت نہ ہوگی بلکہ ہمیں یقین ہے کہ یورپ کی ؔ مہذب کسبیاں بہادر
    سپاہیوں کو خوش رکھنے کے لئے نہایت خوشی سے اپنی خدمات سپرد کر دیں گی۔ رہی یہ بات کہ ان عورتوں کے ہندوستان لانے اور واپس لے جانے میں گورنمنٹ کو رقم کثیر خرچ کرنی پڑے گی۔ اس
    کا ہندوستان کے باشندوں کو ذرا بھی رنج نہ ہوگا جہاں وہ ملٹری ڈیپارٹمنٹ کے اخراجات کے لئے پہلے سے ہی لاتعداد روپیہ خوشی سے دیتے ہیں اس رقم کے اضافہ سے بھی ہرگز انہیں اختلاف نہ
    ہوگا بلکہ وہ اس تجویز کو جس سے ہندوستان کی بدبخت عورتوں کی عفت بچ رہے گی اور برٹش گورنمنٹ کے بہادر گورے سپاہی تندرست اور خوش رہ سکیں گے۔ نہایت خوشی سے پسند کریں
    گے۔
    اگر گورنمنٹ ہند کو یہ مطلوب ہے کہ ہندوستان کے نوجوان بھی جن میں دیسی پلٹنوں اور رسالوں کے سپاہی بھی شامل ہیں بازاری عورتوں کے ذریعہ مریض ہونے سے بچ رہیں تو ہم تمام
    ہندوستان کی فاحشہ عورتوں کیلئے قانون دکھائی کے جاری ہونے کو صدق دل سے پسند کرتے ہیں۔ کسی شریف ہندوستانی کو ان بدکار فاحشہ عورتوں کے ساتھ جو تمام قسم کے لوگوں کیلئے باعث
    خرابی ہیں۔ ذرا بھی ہمدردی نہیں ہوسکتی۔ ہم قبل ازیں بارہا کہہ چکے ہیں کہ ایسی عورتوں کیلئے جنہوں نے اپنے خاندان کے ناموس کو خیرباد کہہ دی ہے قانون دکھائی کی آزمائش باعث شرم نہیں ہو
    سکتی ہے وہ عورتیں جو تھوڑے سے پیسوں میں بھنگی کے ساتھ منہ کالا کرنے کو تیار ہیں۔ معزز ڈاکٹر کے معائنہ سے کب شرمسار ہو سکتی ہیں۔ بے شک یہ افسوسناک امر ہے کہ عورتوں کی عفت کا
    مردوں کے ذریعہ امتحان کرایا جائے۔ مگر کیا ہوسکتا ہے ان بے شرم بدذات عورتوں کیلئے جنہوں نے دنیا کی شرم کو بالائے طاق رکھ دیا ہے حق بات تو یہ ہے کہ قانون دکھائی کی ہندوستان میں سخت
    ضرورت ہے۔ جب یہ قانون جاری تھا تو ہر
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 75
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 75
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/75/mode/1up
    ایک بدکار عورت کو خوف ہوتا تھا کہ اگر وہ فحش پیشہ اختیار کرے گی تو اسے قانون دکھائی کی سخت آزمائش بھی برداشت
    کرنی پڑے گی۔ بہت سی عورتیں اسی خوف کی وجہ سے اپنی زندگی خراب کرنے سے بچ رہتی تھیں۔ اس زمانہ میں جبکہ دکھائی کا طریق بند ہے۔ مرض آتشک کے ادویات کے اشتہارات کثرت سے
    شائع ہوتے ہیں۔ جو اس امر کا کافی ثبوت ہیں کہ ملک میں مرض آتشک بہت پھیلا ہوا ہے اول تو ہمیں اس خراب فرقہ کے وجود سے ہی سخت اختلاف ہے مگر ایسے زمانہ میں جبکہ اخلاق اور مذہب کی
    سخت کمزوری ہو رہی ہے یہ امید کرنا فضول ہے کہ یہ شیطانی فرقہ نیست و نابود ہوجائے گا۔ اسؔ لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ ان کے لئے کوئی ایسا قانون بنایا جائے جس سے یہ اخلاق اور مذہب
    کو بگاڑنے کے علاوہ عوام کی صحت کو ہمیشہ کے لئے خراب کرنے کے قابل نہ رہ سکیں اور وہ قانون صرف قانون دکھائی ہی ہے۔ ہم نہایت شکرگزار ہوں گے اگر دوبارہ ہند میں قانون دکھائی جاری
    کیا جاوے گا۔ مگر یہ شرط ضرور ساتھ ہے کہ گورہ لوگوں کے لئے یورپین رنڈیاں بہم پہنچائی جاویں۔ یقین ہے کہ گورنمنٹ ہند اور معزز ہمعصران اس معاملہ پر ضرور توجہ اور غور فرماویں
    گے۔
    جن کو رسم نیوگ پیاری ہے
    دین و دنیا میں ان کی خواری ہے
    جس کے دیں میں ہے ایسی بے شرمی
    عقل و تہذیب سے وہ عاری ہے
    جن کو آتی نہیں نیوگ سے عار
    ان کی شیطان
    نے عقل ماری ہے
    بید کی کھل گئی حقیقت کل
    اب تو ناحق کی پردہ داری ہے
    جس کے باعث یہ گندگی پھیلی
    وہ تو اک خبث کی پٹاری ہے
    دوسرا بیاہ کیوں حرام نہ ہو
    جبکہ رسم نیوگ
    جاری ہے
    کیوں نہ پوشیدہ ہو نیوگ کی رسم
    اس کے اظہار میں تو خواری ہے
    چپکے چپکے حرام کروانا
    آریوں کا اصول بھاری ہے
    آد سے یہ خبیث اور بد رسم
    بید کے خادموں میں
    ساری ہے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 76
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 76
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/76/mode/1up
    زن بیگانہ پر یہ شیدا ہیں
    جس کو دیکھو وہی شکاری ہے
    لائق سوختن ہیں ان کے مرد
    ان کی ناری ہر ایک ناری
    ہے
    واہ وا کیا دھرم ہے کیا ایمان
    جس میں واجب حرام کاری ہے
    آریو! دل میں غور سے سوچو
    شرم و غیرت کہاں تمہاری ہے
    جس کو کہتے ہیں آریوں میں نیوگ
    ناک کے کاٹنے کی
    آری ہے
    کچھ نہیں سوچتے یہ دشمن شرم
    کہ یہ پوشیدہ ایک یاری ہے
    مرتکب اس کا ہے بڑا دیوث
    اعتقاد اس پہ بدشعاری ہے
    غیر مردوں سے مانگنا نطفہ
    سخت خبث اور نابکاری
    ہے
    غیرؔ کے ساتھ جو کہ سوتی ہے
    وہ نہ بیوی زن بزاری ہے
    ہے وہ چنڈال دشٹ اور پاپی
    جفت اس کی کوئی چماری ہے
    ہیں کروڑوں نیوگ کے بچے
    آریہ دیس میں یہ خواری
    ہے
    ایسی اولاد پر خدا کی مار
    یہ نہ اولاد قہر باری ہے
    نام اولاد کے حصول کا ہے
    ساری شہوت کی بیقراری ہے
    بیٹا بیٹا پکارتی ہے غلط
    یار کی اس کو آہ و زاری ہے
    دس سے
    کرواچکی زنا لیکن
    پاک دامن ابھی بچاری ہے
    لالہ صاحب بھی کیسے احمق ہیں
    ان کی لالی نے عقل ماری ہے
    گھر میں لاتے ہیں اس کے یارونکو
    ایسی جورو کی پاسداری ہے
    اس کے
    یاروں کو دیکھنے کے لئے
    سر بازار ان کی باری ہے
    جورو جی پر فدا ہیں یہ جی سے
    وہ نیوگی پہ اپنے واری ہے
    شرم و غیرت ذرا نہیں باقی
    کس قدر ان میںُ بردباری ہے
    ہے قوی
    مرد کی تلاش انہیں
    خوب جورو کی حق گذاری ہے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 77
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 77
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/77/mode/1up
    تاکہ کروائیں پھر اسے گندی
    پاک ہونے کی انتظاری ہے
    یعنی حیض سے پاک ہونے کی انتظاری ہے
    خاک میں ملتے ہیں
    پسر کے لئے
    کیا مزاجوں میں خاکساری ہے
    قابل شرم بھیک لیتے ہیں
    بھیک کی رسم یہ نیاری ہے
    گھر بہ گھر ہیں نیوگ کے چرچے
    نہ حیا ہے نہ شرمساری ہے
    گو زمانہ میں روشنی
    پھیلی
    ان پہ اندھیرا اب بھی طاری ہے
    کیا کریں وید کا یہی ہے حکم
    ترک کرنا گناہ گاری ہے
    ہے یہ قرآن کی دشمنی کا وبال
    بالیقین رائے یہ ہماری ہے
    بعضؔ آریہ اپنے تئیں نہایت
    منصف مزاج ظاہر کر کے کہا کرتے ہیں کہ درحقیقت ہم بھی نیوگ کو نہایت ناپاکی کا طریق سمجھتے ہیں اور جیسا کہ لوگ خیال کرتے ہیں ہم دیانند کی ساری باتوں کے پیرو نہیں یہ صرف دیانند کا
    خیال ہے اور وید مقدس کا دامن اس سے پاک ہے۔ بھلا یہ ممکن ہے کہ کوئی بھلامانس ایسی گندی حرکت کرے اور اگر وید میں یہ گندی تعلیم ہوتی تو بڑے بڑے ودّیا دان کیونکر اس کو مانتے۔ اور نیز اگر
    وید میں ایسی گندی تعلیم ہوتی تو عمدہ تعلیمیں کیونکر اس میں درج ہوسکتیں۔ سو ان صاحبوں کا جواب یہ ہے کہ ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ دیانند کی واقفیت آپ لوگوں کی واقفیت سے بہت زیادہ
    تھی اور وہ بھی آپ لوگوں کی طرح وید کے لئے غیرت رکھتا تھا۔ پس اگر وید میں یہ مسئلہ یقینی اور واقعی طور پر نہ ہوتا تو وہ دانستہ ایسا کلنگ وید پر ہرگز نہ لگاتا بلکہ اگر اس کیلئے ممکن ہوتا تو وہ
    آپ لوگوں سے ہزار حصہ زیادہ کوشش کرتا کہ تا یہ گندی تعلیم وید کی ظاہر نہ ہو۔ اب خود سوچنا چاہئے کہ دیانند کو کیا کچھ مشکلات پیش آئے اور خدا جانے کس قدر صراحت سے اور کھلے کھلے
    طور پر نیوگ کی تعلیم اس نے وید میں دیکھی جس کو وہ کسی حیلہ اور تدبیر سے چھپا نہ سکا آخر اس کو اقرار کرنا ہی پڑا اور اس بات پر جم گیا کہ خیر نیوگ میں کچھ مضائقہ نہیں۔
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 78
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 78
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/78/mode/1up
    اور پھر دیانند نے وید کی صاف صاف شرتیاں نیوگ کے بارے میں لکھ دیں اور خوب تاڑ تاڑ کر سکتوں اور شرتیوں کے حوالے
    دئیے۔ اب دیانند پر کون الزام لگا سکتا ہے کہ اس نے اپنی طرف سے نیوگ کا مسئلہ گھڑ لیا ہے۔ اور یہ کہنا کہ اگر وید ایسا ہوتا تو پھر ودّیادان لوگ کیونکر اس کو مانتے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بڑے
    بڑے ودیاوان بھی نیوگ کو مانتے رہے ہیں بلکہ وہ لوگ اپنے گھروں میں نیوگ کراتے رہے ہیں جو اپنے وقت کے رشی اور رکھی اور اوتار تھے کیا پانڈوں اور ان کی جورو کی کتھا آپ نے نہیں پڑھی اگر
    نہیں پڑھی تو اب ضرور پڑھیں کہ کیسے مہاتما نیوگ کے کاربند رہے ہیں اور نیوگ بھی زندہ خاوند والی عورت کا۔ اور پھر سوا اس کے غور کرنا چاہئے کہ کیا منوجی ودّیان کم تھے یا یاگولک جی کی
    ودیا میں کچھ کلام تھا بلکہ یہ تمام لوگ ہندو دھرم کے ستون اور مدارالمہام گذرے ہیں اور وید کی دوسری عمدہ تعلیمیں جن کا آپ نے ذکر کیا ہے میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس سے کونسی تعلیم مراد ہے۔
    وید میں سے اگر فضول قصے اور بے سروپا کہانیاں الگ کر دی جائیں تو باقی خلاصہ اس کا صرف دو تین باتیں رہ جاتی ہیں یعنی عناصر پرستی اور آفتاب پرستی اور ستارہ پرستی اور نیوگ۔ پس اگر
    یہی عمدہ تعلیم ہے تو آپ سے کیا بحث کریں۔ ہاں ایک تناسخ بھی ہے مگر سوچنے سے آپ معلوم کر سکتے ہیں کہ یہ تناسخ ہی وید پر اول درجہ کا داغ ہے جس کی وجہ سے آپ کا پرمیشر تمام خدائی
    طاقتوں سے معطل ہوگیا اور معزول راجوں کی طرح صرف نام کا پرمیشر رہ گیا اور اگر غور کر کے دیکھو تو یہ تناسخ پرمیشر کے وجود کا دشمن ہے۔ آواگون یعنی تناسخ کے ماننے والے پرمیشر کو
    ہرگز مان نہیں سکتے۔ اور نیز آواگون میں بھی ایک نیوگ کی رگ ہے کیونکہ اگر آواگون کی صورت میں کسی شخص کی فوت شدہ والدہ جو اس کی پیدائش کے وقت ہی فوت ہوگئی تھی پھر جنم لے کر اس
    کی عورت بنائی جاوے تو کیونکر وہ شناخت کر سکتا ہے کہ یہ میری والدہ ہے۔ غرض کہ وید کی پاک تعلیمیں یہی ہیں جو ایک دوسرے سے مشابہ ہیں اور نیوگ کی حالت میں تو ایک آریہ آپ زندہ موجود
    ہو کر اپنی بیوی کو عین بیوی ہونے کی حالت میں دوسرے سے ہم بستر کراتا ہے مگر تناسخ یعنی آواگون میں اپنی ماں سے بھی ہم بستر ہو سکتا ہے۔ پس وید کی مقدس تعلیمیں سب مساوی ہیں۔ ایں خانہ
    تمام آفتاب ست۔ منہ
    * **
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 79
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 79
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/79/mode/1up
    نوٹسؔ
    بنام آریہ صاحبان و پادری صاحبان و دیگر صاحبان مذاہب مخالفہ ان مسلمانوں کی
    طرف سے جن کے نام
    نیچے درج ہیں و نیز ایک التماس
    گورنمنٹ عالیہ کی
    توجہ کے لائق
    اے صاحبان مندرجہ عنوان نہایت ادب اور تہذیب سے آپ صاحبوں کی خدمت میں عرض ہے کہ ہم سب فرقے مسلمان اور
    ہندو اور عیسائی وغیرہ ایک ہی سرکار کے جو سرکار انگریزی ہے رعایا ہیں۔ لہٰذا ہم سب لوگوں کا فرض ہے کہ ایسے امور سے دستکش رہیں جن سے وقتاً فوقتاً ہمارے حکام کو دقتیں پیش آویں یا بیہودہ
    نزاعیں باہمی ہوکر کثرت سے مقدمات دائر ہوتے رہیں اور نیز جبکہ ہمسائیگی اور قرب و جوار کے حقوق درمیان ہیں تو یہ بھی مناسب نہیں کہ مذہبی مباحثات میں ناحق ایک فریق دوسرے فریق پر بے
    اصل افترا قائم کر کے اس کا دل دکھاوے اور ایسی کتابوں کے حوالے پیش کرے۔ جو اس فریق کے نزدیک مسلم نہیں ہیں یا ایسے اعتراض کرے جو خود اپنے دین کی تعلیم پر بھی وارد ہوتے ہیں۔ چونکہ
    اب تک مناظرات و مباحثات کے لئے کوئی ایسا قاعدہ باہم قرار یافتہ نہیں تھا جس کی پابندی یاوہ گو لوگوں کو ان کی فضول گوئی سے روکتی۔ لہٰذا پادریوں میں سے پادری عماد الدین و پادری ٹھاکر داس و
    پادری
    پادری صاحبان اگر ہماری اس نصیحت کو غور سے سنیں تو بیشک اپنی بزرگی اور شرافت ہم پر ثابت کریں گے اور اس حق پسندی اور صلح کاری کے موجب ہوں گے جس سے ایک راستباز
    اور پاک دل شناخت کیا جاتا ہے۔ اور وہ نصیحت صرف دو باتیں ہیں جو ہم پادری صاحبوں کی خدمت میں
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 80
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 80
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/80/mode/1up
    فنڈل صاحب وغیرہ صاحبان اور ؔ آریہ صاحبوں میں سے منشی کنہیالال الکھ دہاری اور منشی اندرمن مراد آبادی اور لیکھرام
    پشاوری نے اپنا یہی اصول مقرر کر لیا کہ ناحق کے افتراؤں اور بے اصل روایتوں اور بے بنیاد قصوں کو واجبی اعتراضات کی مدافعت میں پیش کیا۔ مگر اصل قصور تو اس میں پادری صاحبوں کا ہے
    کیونکہ ہندؤں نے اپنے ذاتی تعصب اور کینہ کی وجہ سے جوش تو بہت دکھلایا مگر براہ راست اسلام کی کتابوں کو وہ دیکھ نہ سکے وجہ یہ کہ بباعث جہالت اور کم استعدادی دیکھنے کا مادہ نہیں تھا۔
    سو انہوں نے اپنی کتابوں میں پادریوں کے اقوال کا نقل کر دینا غنیمت سمجھا۔ غرض ان تمام لوگوں نے بے قیدی اور آزادی کی گنجائش پاکر افتراؤں کو انتہا تک پہنچا دیا اور ناحق بے وجہ اہل اسلام کا
    دل دکھایا اور بہتوں نے اپنی بد ذاتی اور مادری بدگوہری سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر بہتان لگائے۔ یہاں تک کہ کمال خباثت اور اس پلیدی سے جو ان کے اصل میں تھی اس سید المعصومین
    پر سراسر دروغ گوئی کی
    عرض کیا چاہتے ہیں۔
    ا ول یہ کہ وہ اسلام کے مقابل پر ان بیہودہ روایات اور بے اصل حکایات سے مجتنب رہیں جو ؔ ہماری مسلم اور مقبول کتابوں میں موجود نہیں اور
    ہمارے عقیدہ میں داخل نہیں اور نیز قرآن کے معنی اپنے طرف سے نہ گھڑ لیا کریں بلکہ وہی معنی کریں جو تواتر آیات قرآنی اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہوں اور پادری صاحبان اگرچہ انجیل کے
    معنے کرنے کے وقت ہریک بے قیدی کے مجاز ہوں۔ مگر ہم مجاز نہیں ہیں اور انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارے مذہب میں تفسیر بالرائے معصیت عظیمہ ہے۔ قرآن کی کسی آیت کے معنی اگر کریں تو
    اس طور سے کرنے چاہئے کہ دوسری قرآنی آیتیں ان معنوں کی مؤیّد اور مفسّر ہوں اختلاف اور تناقض پیدا نہ ہو۔ کیونکہ قرآن کی بعض آیتیں بعض کے لئے بطور تفسیر کے ہیں اور پھر ساتھ اس کے یہ
    بھی ضروری ہے کہ کوئی حدیث صحیح مرفوع متصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بھی انہیں معنوں کی مفسر ہو کیونکہ جس پاک اور کامل نبی پر قرآن نازل ہوا وہ سب سے بہتر قرآن شریف کے
    معنی جانتا ہے۔ غرض اتم اور اکمل طریق معنے کرنے کا تویہ ہے لیکن اگر کسی آیت کے بارے میں حدیث صحیح مرفوع متصل نہ مل سکے تو ادنیٰ درجہ استدلال کا یہ ہے کہ قرآن کی ایک آیت کے
    معنی دوسری آیات بینات سے کئے جاویں۔
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 81
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 81
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/81/mode/1up
    راہ سے زنا کی تہمت لگائی۔ اگر غیرت مند مسلمانوں کو اپنی محسن گورنمنٹ کا پاس نہ ہوتا تو ایسے شریروں کو جن کے
    افترا میں یہاں تک نوبت پہنچی وہ ؔ جواب دیتے جو ان کی بد اصلی کے مناسب حال ہوتا۔ مگر شریف انسانوں کو گورنمنٹ کی پاسداریاں ہر وقت روکتی ہیں اور وہ طمانچہ جو ایک گال کے بعد دوسری
    گال پر عیسائیوں کو کھانا چاہئے تھا ہم لوگ گورنمنٹ کی اطاعت میں محو ہو کر پادریوں اور ان کے ہاتھ کے اکسائے ہوئے آریوں سے کھا رہے ہیں۔ یہ سب ُ بردباریاں ہم اپنی محسن گورنمنٹ کے لحاظ
    سے کرتے ہیں اور کریں گے کیونکہ ان احسانات کا ہم پر شکر کرنا واجب ہے جو سکھوں کے زوال کے بعد ہی خدا تعالیٰ کے فضل نے اس مہربان گورنمنٹ کے ہاتھ سے ہمارے نصیب کئے اور نہایت
    بدذاتی ہوگی اگر ایک لحظہ کے لئے بھی کوئی ہم میں سے ان نعمتوں کو فراموش کر دے جو اس گورنمنٹ کے ذریعہ سے مسلمانوں کو ملی ہیں بلاشبہ ہمارا جان و مال گورنمنٹ انگریزی کی خیر خواہی
    میں فدا ہے اور ہوگا۔ اور ہم غائبانہ اس کے اقبال کے لئے دعا گو ہیں اور اگرچہ گورنمنٹ
    لیکن ہرگز یہ درست نہیں ہوگا کہ بغیر ان دونوں قسم کے التزام کے اپنے ہی خیال اور رائے سے معنی
    کریں کاش اگر پادرؔ ی عماد الدین وغیرہ اس طریق کا التزام کرتے تو نہ آپ ہلاک ہوتے اور نہ دوسروں کی ہلاکت کا موجب ٹھہرتے۔
    دوسری نصیحت اگر پادری صاحبان سنیں تو یہ ہے کہ وہ
    ایسے اعتراض سے پرہیز کریں جو خود ان کی کتب مقدسہ میں بھی پایا جاتا ہے مثلاً ایک بڑا اعتراض جس سے بڑھ کر شاید ان کی نظر میں اور کوئی اعتراض ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر نہیں
    ہے وہ لڑائیاں ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو باذن اللہ ان کفار سے کرنی پڑیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر مکہ میں تیرہ برس تک انواع اقسام کے ظلم کئے اور ہریک طریق
    سے ستایا اور دکھ دیا اور پھر قتل کا ارادہ کیا جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو معہ اپنے اصحاب کے مکہ چھوڑنا پڑا اور پھر بھی باز نہ آئے اور تعاقب کیا اور ہریک بے ادبی اور تکذیب کا
    حصہ لیا اور جو مکہ میں ضعفاء مسلمانوں میں سے رہ گئے تھے ان کو غایت درجہ دکھ دینا شروع کیا لہذا وہ لوگ خداتعالیٰ کی نظر میں
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 82
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 82
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/82/mode/1up
    کی عنایات سے ہریک کو اشاعت مذہب کے لئے آزادی ملی ہے لیکن اگر سوچ کر دیکھا جائے تو اس آزادی کا پورا پورا فائدہ
    محض مسلمان اٹھا سکتے ہیں اور اگر عمداً آپ نہ اٹھاویں تو ان کی بدقسمتی ہے وجہ یہ ہے کہؔ گورنمنٹ نے اپنی عام مہربانیوں کی وجہ سے مذہبی آزادی کا ہریک قوم کو عام فائدہ دیا اور کسی کو
    اپنے اصولوں کی اشاعت سے نہیں روکا لیکن جن مذہبوں میں سچائی کی قوت اور طاقت نہیں اور انکے اصول صرف انسانی بناوٹ ہیں اور ایسے قابل مضحکہ ہیں جو ایک محقق کو ان کی بیہودہ کتھا اور
    کہانیاں سنکر بے اختیار ہنسی آجاتی ہے کیونکر ان مذہبوں کے واعظ اپنی ایسی باتوں کو وعظ کے وقت دلوں میں جما سکتے ہیں اور کیونکر ایک پادری مسیح کو خدا کہتے ہوئے ایک دانشمند شخص کو
    اس حقیقی خدا پر ایمان رکھنے سے برگشتہ کر سکتا ہے جس کی ذات مرنے اور مصیبتوں کے اٹھانے اور دشمنوں کے ہاتھ میں گرفتار ہونے اور پھر مصلوب ہو جانے سے پاک ہے اور جس کا جلالی نام
    قانون قدرت کے ہریک صفحہ میں چمکتا ہوا نظر آتا ہے۔ ہم نے خود بعض منصف مزاج عیسائیوں
    اپنے ظالمانہ کاموں کی وجہ سے اس لائق ٹھہر گئے کہ ان پر موافق سنت قدیمہ الٰہیہ کے کوئی
    عذاب نازل ہو اور اس عذاب کی وہ قومیں بھی سزاوار تھیں جنہوں نے مکہ والوں کو مدد دی اور نیز وہؔ قومیں بھی جنہوں نے اپنے طور سے ایذا اور تکذیب کو انتہا تک پہنچایا۔ اور اپنی طاقتوں سے
    اسلام کی اشاعت سے مانع آئے سو جنہوں نے اسلام پر تلواریں اٹھائیں وہ اپنی شوخیوں کی وجہ سے تلواروں سے ہی ہلاک کئے گئے اب اس صورت کی لڑائیوں پر اعتراض کرنا اور حضرت موسیٰ اور
    دوسرے اسرائیلی نبیوں کی ان لڑائیوں کو بھلا دینا جن میں لاکھوں شیرخوار بچے قتل کئے گئے کیا یہ دیانت کا طریق ہے یا ناحق کی شرارت اور خیانت اور فساد انگیزی ہے۔ اس کے جواب میں
    حضرات عیسائی یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائیوں میں بہت ہی نرمی پائی جاتی ہے کہ اسلام لانے پر چھوڑا جاتا تھا اور شیرخوار بچوں کو قتل نہیں کیا۔ اور نہ عورتوں کو
    اور نہ بڈھوں کو اور نہ فقیروں اور مسافروں کو مارا۔ اور نہ عیسائیوں اور یہودیوں کے گرجاؤں کو مسمار کیا۔ لیکن اسرائیلی نبیوں نے ان سب باتوں کو کیا۔ یہاں تک
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 83
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 83
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/83/mode/1up
    سے خلوت میں سنا ہے کہ جب ہم کبھی مسیح کی خدائی کا بازاروں میں وعظ کرتے ہیں۔ تو بعض وقت مسیح کے عجز اور
    اضطرار کی سوانح پیش نظر آجانے سے بات کرتے کرتے ایسا انفعال دل کو پکڑتا ہے کہ بس ہم ندامت میں غرق ہی ہو جاتے ہیں۔ غرض انسان کو خدا بنانے والا کیا وعظ کرے گا۔ اور کیونکر اس عاجز
    انسان میں اس قادر خدا کی عظمت کا نمونہ دکھاؔ ئے گا جس کے حکم سے ایک ذرہ بھی زمین و آسمان سے باہر نہیں اور جس کا جلال دکھلانے کے لئے سورج چمکتا اور زمین طرح طرح کے پھول
    نکالتی ہے ایسا ہی ایک آریہ کیا وعظ کرے گا کیا وہ دانشمندوں کے سامنے یہ کہہ سکتا ہے کہ تمام روحیں اور ان کی قوتیں اور طاقتیں اپنے وجود کی آپ ہی خدا ہیں اور کسی کے سہارے سے ان کا
    وجود اور بقاء نہیں اور یا یہ کہہ سکتا ہے کہ وید کی یہ تعلیم عمدہ ہے کہ خاوند والی عورتیں اولاد کی غرض سے دوسروں سے ہم بستر ہو جایا کریں۔ ابھی ہمیں تجربہ ہوا ہے کہ جب ہماری بعض
    جماعت کے لوگوں نے کسی آریہ یا انکے پنڈت سے نیوگ کی حقیقت بازار میں پوچھی جہاں بہت سے آدمی موجود تھے تو وہ آریہ
    کہ تین لاکھ سے بھی کچھ زیادہ شیرخوار بچے قتل کئے گئے گویا
    حضرات پادریوں کی نظر میں اس نرمی کی وجہ سے اسلام کی لڑائیاں قابل اعتراض ٹھہریں کہ ان میں وہ سختی نہیں جو حضرت موسیٰ اور دوسرے اسرائیلی نبیوں کی لڑائیوں میں تھی اگر اس درجہ
    کی سختی پر یہ لڑائیاں بھی ہوئیں تو قبول کرلیتے کہ درحقیقت یہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ؔ ہیں۔ اب ہریک عقلمند کے سوچنے کے لائق ہے کہ کیا یہ جواب ایمانداری کا جواب ہے حالانکہ آپ ہی
    کہتے ہیں کہ خدا رحم ہے اور اس کی سزا رحم سے خالی نہیں۔ پھر جب موسیٰ کی لڑائیاں باوجود اس سختی کے قبول کی گئیں اور خدا تعالیٰ کیطرف سے ٹھہریں تو کیوں اور کیا وجہ کہ یہ لڑائیاں جو
    الٰہی رحم کی خوشبو ساتھ رکھتی ہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوئیں اور ایسے لوگ کہ ان باتوں کو بھی خدا تعالیٰ کے احکام سمجھتے ہیں کہ شیرخوار بچے ان کی ماؤں کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے
    کئے جائیں اور ماؤں کو ان کے بچوں کے سامنے بے رحمی سے مارا جاوے وہ کیوں ان لڑائیوں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ سمجھیں جن میں یہ شرط ہے کہ پہلے مظلوم ہو کر پھر ظالم کا مقابلہ
    کرو۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 84
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 84
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/84/mode/1up
    یا پنڈت شرمندہ ہوا اور چپکے سے کہا کہ آپ اندر چل کر مجھ سے یہ گفتگو کریں بازار میں لوگ سن کر ہنسی کرتے ہیں اب
    ظاہر ہے کہ جن لوگوں کا اپنا ہی یہ حال ہے کہ ایسے عقائد اور اعمال کی نسبت اپنا ہی کانشنس ان کا ان کے عقیدہ کو دھکے دیتا ہے اور قبول نہیں کرتا تو پھر وہ غیروں کو کیا وعظ کریں گے۔ اس لئے
    مسلمانوں کو نہایت ہی گورنمنٹ کا شکر گذار ہونا چاہئے کہ گورنمنٹ کے اس قانون کا وہی اکیلے فائدہ اٹھا رہے ہیں بیچارے پادری صدہا روپیہ خرچ کر کے ایک ہندو کو قابو میں لاتے ہیں اور وہ آخر
    بعد آزمائش مسلمانوں کی طرف آ جاتا ہے اور یا صرف پیٹ کا بندہ ہو کر محض دنیوی لالچ سے انہیں میں گذارہ کرتا ہے لیکن ہمیں اپنے دلآزار ہمسایوں مخالفوں سے ایک اور شکایت ہے اگر ہم اس
    شکایت کے رفع کے لئے اپنی محسن اور مہربان گورنمنٹ کو اس طرف توجہ نہ دلاویں تو کس کو دلاویں اور وہ یہ ہے کہ ہمارے مذہبی مخالف صرف بے اصل روایات اور بے بنیاد قصوں پر بھروسہ
    کر کے جو ہماری کتب مسلّمہ اور مقبولہ کی رو سے ہرگز ثابت نہیں ہیں بلکہ منافقوں کے مفتریات ہیں ہمارا دل دکھاتے ہیں اورؔ ایسی باتوں سے ہمارے سید و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی ہتک
    کرتے ہیں اور گالیوں تک نوبت پہنچاتے ہیں جن کا ہماری معتبر کتابوں میں نام و نشان نہیں۔ اس سے زیادہ ہمارے دل دکھانے کا اور کیا موجب ہوگا کہ چند بے بنیاد افتراؤں کو پیش کر کے ہمارے اس
    سید و مولیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم پر زنا اور بدکاری کا الزام لگانا چاہتے ہیں جس کو ہم اپنی پوری تحقیق کی رو سے سید المعصو مین اور ان تمام پاکوں کا سردار سمجھتے ہیں جو عورت
    کے پیٹ سے نکلے اور اس کو خاتم الانبیاء جانتے ہیں کیونکہ اس پر تمام نبوتیں اور تمام پاکیزگیاں اور تمام کمالات ختم ہو گئے۔ اس صورت میں صرف یہی ظلم نہیں کہ ناحق اور بے وجہ ہمارا دل
    دکھایا جاتا ہے اور اس انصاف پسند گورنمنٹ کے ملک میں ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم کو گالیاں دی جاتی ہیں اور بڑے بڑے پیرایوں میں ہمارے اس مقدس مذہب کی توہین کی جاتی ہے۔ بلکہ یہ
    ظلم بھی ہوتا ہے کہ ایک حق اور راست راست امر کو محض یاوہ گوئی کے ذخیرہ سے مشتبہ اور کمزور کرنے کے لئے کوشش کی جاتی ہے اگر گورنمنٹ کے بعض اعلیٰ درجہ کے حکام دو تین روز
    اس بات پر
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 85
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 85
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/85/mode/1up
    بھی خرچ کریں کہ ہم میں سے کسی منتخب کے روبرو ایسے بیجا الزامات کی وجہ ثبوت ہمارے مذکورہ بالا مخالفوں سے
    دریافت فرماویں تو زیرک طبع حکام کو فی الفور معلوم ہو جائے گا کہ کس قدر یہ لوگ بے ثبوت بہتانوں سے سرکار انگریزی کی وفادار رعایا اہل اسلام پر ظلم کر رہے ہیں۔ ہم نہایت ادب سے گورنمنٹ
    عالیہ کی جناب میں یہ عاجزانہ التماس کرتے ہیں کہ ہماری محسن گورنمنٹ ان احسانوں کو یاد کر کے جواب تک ہم پر کئے ہیں ایک یہ بھی ہماری جانوں اور آبروؤں اور ہمارے ٹوٹے ہوئے دلوں پر
    احسان کرے کہ اس مضمون کا ایک قانون پاس کر دیوے یا کوئی سرکلر جاری کرے کہ آئندہ جو مناظرات اور مجادلات اور مباحثات مذہبی امور میں ہوں ان کی نسبت ہریک قوم مسلمانوں اور عیسائیوں
    اور آریوں وغیرہ میں سے دو امر کے ضرور پابند رہیں۔
    (۱) اول یہ کہ ایسا اعتراض جو خود معترض کے ہی الہامی کتاب یا کتابوں پر جن کے الہامی ہونے پر وہ ایمان رکھتا ہے وارد ہو سکتا ہو
    یعنی وہ امر جو بنا اعتراض کی ہے ان کتابوں میں بھی پایا جاتا ہو جن پر معترض کا ایمان ہے ایسے اعتراض سے چاہئے کہ ہریک ایسا معترض پرہیز کرے۔
    (۲) دوم اگر بعض کتابوں کے نام
    بذریعہ چھپے ہوئے اشتہار کے کسی فریق کی طرف سے اس غرض سے شائع ہوگئے ہوں کہ درحقیقت وہی کتابیں ان کی مسلم اور مقبول ہیں تو چاہئے کہ کوئی معترض ان کتابوں سے باہر نہ جائے اور
    ہریک اعتراض جو اس مذہب پر کرنا ہو انہیں کتابوں کے حوالہ سے کرے اور ہر گز کسی ایسی کتاب کا نامؔ نہ لیوے جس کے مسلّم اور مقبول ہونے کے بارے میں اشتہار میں ذکر نہیں۔ اور اگر اس
    قانون کی خلاف ورزی کرے تو بلاتامل اس سزا کا مستوجب ہو جو دفعہ ۲۹۸ تعزیرات ہند میں مندرج ہے۔ یہ التماس ہے جس کا پاس ہونا ہم بذریعہ کسی ایکٹ یا سرکلر کے گورنمنٹ عالیہ سے چاہتے
    ہیں اور ہماری زیرک گورنمنٹ اس بات کو سمجھتی ہے کہ اس قانون کے پاس کرنے میں کسی خاص قوم کی رعایت نہیں بلکہ ہریک قوم پر اس کا اثر مساوی ہے اور اس قانون کے پاس کرنے میں بے
    شمار برکتیں ہیں جن سے عامہ خلائق کے لئے امن اور عافیت کی راہیں کھلتی ہیں اور صدہا بیہودہ نزاعوں اور جھگڑوں کی صف لپیٹی جاتی ہے اور اخیر نتیجہ صلح کاری اور ان شراتوں کا دور ہو
    جانا ہے جو فتنوں
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 86
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 86
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/86/mode/1up
    اور بغاوتوں کی جڑھ ہوتے ہیں اور دن بدن مفاسد کو ترقی دیتے ہیں اور ہماری قلم جو ہریک وقت اس گورنمنٹ عالیہ کی مدح و
    ثناء میں چل رہی ہے اس قانون کے پاس ہونے سے اپنی گورنمنٹ کو دوسروں پر ترجیح دینے کے لئے ایک ایسا وسیع مضمون پائے گی جو آفتاب کی طرح چمکے گا اور اگر ایسا نہ ہوا تو خدا معلوم کہ
    روز کی لڑائیوں اور بیہودہ جھگڑوں کی کہاں تک نوبت پہنچے گی بے شک اس سے پہلے توہین کے لئے دفعہ ۲۹۸ تعزیرات میں موجود ہے لیکن وہ ان مراتب کے تصفیہ پا جانے سے پہلے فضول اور
    نکمی ہے اور خیانت پیشہ لوگوں کے لئے گریزگاہ وسیع ہے۔
    اور پھر ہم اپنے مخالف فریقوں کی طرف متوجہ ہو کر کہتے ہیں کہ آپ لوگ بھی برائے خدا ایسی تدبیر کو منظور کریں جس کا نتیجہ
    سراسر امن اور عافیت ہے اور اگر یہ احسن انتظام نہ ہوا تو علاوہ اور مفاسد اور فتنوں کے ہمیشہ سچائی کا خوں ہوتا رہے گا اور صادقوں اور راستبازوں کی کوششوں کا کوئی عمدہ نتیجہ نہیں نکلے گا
    اور نیز رعایا کی باہمی نا اتفاقی سے گورنمنٹ کے اوقات بھی ناحق ضائع ہوں گے اس لئے ہم مراتب مذکورہ بالا کو آپ سب صاحبوں کی خدمت میں پیش کر کے یہ نوٹس آپ صاحبوں کے نام جاری
    کرتے ہیں اور آپ کو یاد دلاتے ہیں کہ ہماری کتب مسلّمہ مقبولہ جن پر ہم عقیدہ رکھتے ہیں اور جن کو ہم معتبر سمجھتے ہیں بہ تفصیل ذیل ہیں:
    اوّل قرآن شریف۔ مگر یاد رہے کہ کسی قرآنی آیت
    کے معنے ہمارے نزدیک وہی معتبر اور صحیح ہیں جس پر قرآن کے دوسرے مقامات بھی شہادت دیتے ہوں کیونکہ قرآن کی بعض آیات بعض کی تفسیر ہیں اور نیز قرآن کے کامل اور یقینی معنوں کے
    لئے اگر وہ یقینی مرتبہ قرآن کے دوسرے مقامات سے میسر نہ آ سکے یہ بھی شرط ہے کہ کوئی حدیث صحیح مرفوع متصل بھی اس کی مفسر ہو غرض ہمارے مذہب میں تفسیر بالرائے ہرگز جائز
    نہیں پس ہریک معترض پر لازم ہوگا کہ کسی اعتراض کے وقت اس طریق سے باہر نہ جائے ۔دوم۔ دوسری کتابیں جو ہماری مسلم کتابیں ہیں ان میں سے اول درجہ پر صحیح ؔ بخاری ہے اور اس کی وہ
    تمام احادیث ہمارے نزدیک حجت ہیں جو قرآن شریف سے مخالف نہیں اور ان میں سے دوسری کتاب صحیح مسلم ہے اور اس کو ہم اس شرط سے مانتے ہیں کہ قرآن اور صحیح بخاری سے مخالف نہ ہو
    اور
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 87
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 87
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/87/mode/1up
    تیسرے درجہ پر صحیح ترمذی۔ ابن ماجہ۔ مؤطا۔نسائی۔ ابن داؤد۔ دارقطنی کتب حدیث ہیں جن کی حدیثوں کو ہم اس شرط سے
    مانتے ہیں کہ قرآن اور صحیحین سے مخالف نہ ہوں یہ کتابیں ہمارے دین کی کتابیں ہیں اور یہ شرائط ہیں جن کی رو سے ہمارا عمل ہے اب ہم قانونی طور پر آپ لوگوں کو ایسے اعتراضوں سے روکتے
    ہیں جو خود آپ کی کتابوں اور آپ کے مذہب پر وارد ہوتے ہیں کیونکہ انصاف جن پر قوانین مبنی ہیں ایسی کارروائی کو صحت نیت میں داخل نہیں کرتا اور ہم ایسے اعتراضوں سے بھی آپ لوگوں کو منع
    کرتے ہیں جو ان کتابوں اور ان شرائط پر مبنی نہیں جن کا ہم اشتہار میں ذکر کرتے ہیں کیونکہ ایسی کارروائی بھی تحقیق حق کے برخلاف ہے پس ہریک معترض پر واجب ہوگا کہ کسی اعتراض کے
    وقت ان کتابوں اور ان شرائط سے باہر نہ جائے اور ضروری ہوگا کہ اگر آئندہ آپ صاحبوں میں سے کوئی صاحب ہماری کسی تالیف کا رد لکھے یا رد کے طور پر کوئی اشتہار شائع کریں یا کسی مجلس
    میں تقریری مباحثہ کرنا چاہیں تو ان شرائط مذکورہ بالا کی پابندی سے باہر قدم نہ رکھیں یعنی ایسی باتوں کو بصورت اعتراض پیش نہ کریں جو آپ لوگوں کی الہامی کتابوں میں بھی موجود ہوں اور
    ایسے اعتراض بھی نہ کریں جو ان کتابوں کی پابندی اور اس طریق کی پابندی سے نہیں ہیں جو ہم اشتہار میں شائع کر چکے ہیں۔ غرض اس طریق مذکورہ بالا سے تجاوز کر کے ایسی بیہودہ روایتوں
    اور بے سروپا قصوں کو ہمارے سامنے ہرگز پیش نہ کریں اور نہ شائع کریں جیسا کہ یہ خائنانہ کارروائیاں پہلے اس سے ہندوؤں میں سے اندرمن مراد آبادی نے اپنی کتابوں تحفہ اسلام و پاداش اسلام
    وغیرہ میں دکھلائیں اور پھر بعد اس کے یہ ناپاک حرکتیں مسمی لیکھرام پشاوری نے جو محض نادان اور بے علم ہے اپنی کتاب تکذیب براہین اور رسالہ جہاد اسلام میں کیں اور جیسا کہ یہی بیہودہ
    کارروائیاں پادری عماد الدین نے اپنی کتابوں میں اور پادری ٹھاکرداس نے اپنے رسائل میں اور صفدر علی وغیرہ نے اپنی تحریروں میں لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے کیں اور سخت دھوکے دے دے کر
    ایک دنیا کو گندگی اور کیچڑ میں ڈال دیا اور اگر آپ لوگ اب بھی یعنی اس نوٹس کے جاری ہونے کے بعد بھی اپنی خیانت پیشہ طبیعت اور عادت سے باز نہیں آئیں گے تو دیکھو ہم آپ کو ہلا ہلا کر متنبہ
    کرتے ہیں کہ اب یہ حرکت آپ کی صحت نیت کے خلاف سمجھی جائے گی اور محض دلآزاری اور توہین کی مد میں متصور ہوگی۔ اور اس صورت میں ہمیں استحقاق ہوگا کہ عدالت سے اس افتراء اور
    توہین اور دلآزاری کی چارہ جوئی کریں اور دفعہ ۲۹۸
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 88
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 88
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/88/mode/1up
    تعزیرات ہند کی رو سے آپ کو ماخوذ کرائیں اور قانون کی حد تک سزا دلائیں کیونکہ اس نوٹس کے بعد آپ اپنی ناواقفی اور
    صحت نیت کا عذر پیش نہیں کر سکتے اور آپ سب صاحبوں کو بھی اختیار ہوگا کہ اپنی مقبولہ مسلّمہ کتابوں کا اشتہار دے دیں اور بعد اس کے اگر کوئی مسلمان معترض اپنے اعتراض میں آپ کے
    اشتہار کا پابند نہ ہو اور کوئی ایسا اعتراض کرے کہ جو ان کتابوں کی بناء پر نہ ہو جن کے مقبول ہونے کی نسبت آپ اشتہار دے چکے ہیں یا کوئی ایسا امر مورد اعتراض ٹھہراوے جو خود اسلام کی
    تعلیم میں موجود ہے تو بے شک ایسا معترض مسلمان بھی آپ لوگوں کے اشتہار کے بعد اسی دفعہ ۲۹۸ کی رو سے سزا پانے کے لائق ہوگا جس دفعہ سے ہم فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ اب ذیل میں اس نوٹس
    دینے والوں کے دستخط اور مواہیر ہیں۔ فقط
    قادؔ یان
    حضرت اقدس امام انام مہدی و مسیح موعود میرزا غلام احمد علیہ السلام حضرت مولوی حاجی حافظ حکیم نور الدین صاحب بھیروی ثم قادیانی
    حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی۔ مولوی حکیم فضل دین بھیروی۔ صاحبزادہ محمد سراج الحق صاحب جمالی نعمانی قادیانی سابق سرساوی۔ سید ناصر نواب صاحب دہلوی حال قادیانی
    صاحبزادہ افتخار احمد صاحب لدھیانوی قادیانی صاحبزادہ منظور محمد صاحب۔ مولوی حاجی حافظ احمد اللہ خان صاحب مولوی نور الحسن صاحب روالی منشی محمد خاں صاحب کپورتھلہ قاضی ضیاء
    الدین صاحب قاضی کوٹی ضلع گوجرانوالہ شیخ عبدالرحیم صاحب نو مسلم سابق لیس دفعدار رسالہ نمبر ۱۴ چھاؤنی سیالکوٹ مولوی قطب الدین صاحب بدوملوی مفتی فضل الرحمن صاحب مدرس جموں۔
    منشی جلال الدین صاحب میر منشی رجمنٹ نمبر ۱۲ سواران بنگال۔ منشی غلام محمد صاحب خوشنویس امرتسری مولوی فیض احمد صاحب جہلمی میرزا یعقوب بیگ صاحب طالب علم اسسٹنٹ سرجن
    کلاس میڈیکل کالج لاہور میرزا ایوب بیگ صاحب طالب علم بی اے کلاس گورنمنٹ کالج لاہور شیر محمد خاں صاحب طالب علم ایف اے کلاس لاہور۔ شیخ غلام محی الدین صاحب کتب فروش جہلم مرزا
    اسماعیل قادیانی
    بابو غلام رسول صاحب سابق اسٹیشن ماسٹر راولپنڈی ڈسٹرکٹ۔ شیخ عبداللہ صاحب پٹواری سنوری شیخ حامد علی صاحب قادیانی منشی تاج دین صاحب کلرک اگزیمنر آفس ریلوے
    لاہور منشی نبی بخش صاحب کلرک شیخ عبدالرحمن صاحب شیخ عبدالعزیز صاحب شیخ مسیح اللہ صاحب شاہجہان پوری حاجی وریام صاحب خوشابی سید مقبول حسن صاحب ڈیرہ اسماعیل خاں۔ سید
    محمد کبیر صاحب دہلوی۔ شیخ شہاب الدین صاحب۔
    سیالکوٹ
    مولوی عبدالکریم صاحب مولوی حکیم ابو یوسف محمد مبارک علی صاحب منشی غلام قادر فصیح صاحب رئیس مالک پنجاب پریس۔ سید
    حامد شاہ صاحب اہلمد معافیات سید محمود شاہ صاحب شیخ مولا بخش صاحب سوداگر سید امیر علی شاہ صاحب سارجنٹ ڈسکہ میاں شادی خاں صاحب میاں عطا محمد صاحب اوورسیر غلام حیدر خان
    صاحب ڈپٹی انسپکٹر نارووال۔ عبدالعزیز صاحب۔
    بھیرہ ضلع شاہ پور
    شیخ فضل الٰہی صاحب آنریری مجسٹریٹ۔ شیخ غلام نبی صاحب وائس پریذیڈنٹ میونسپل کمیٹی میاں غلام محمد صاحب
    ضلعدار
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 89
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 89
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/89/mode/1up
    انہار پیر چن صاحب چودھری حافظ دل احمد صاحب بی اے سیکنڈ ماسٹر گورنمنٹ سکول مولوی گل محمد صاحب مدرس بورڈ
    سکول بابو غلام جیلانی صاحب مدرس سکول پنڈ دادن خاں۔ شیخ نذیر محمد صاحب فارسٹ انجینئر۔ شیخ علی محمد صاحب انگلش ٹیچر بورڈ سکول۔ شیخ عبدالعزیز صاحب ایف اے۔ شیخ محمد مبارک
    صاحب اپیل نویس ملک سمند خاں صاحب عرضی نویس۔ سید لال شاہ صاحب عرضی نویس۔ قاضی غلام شاہ صاحب سوداگر اسپاں قاضی مولا بخش صاحب ذیلدار و میونسپل کمشنر چنیوٹ حکیم علاء الدین
    صاحب شخپوری سردار محمد چراغ خان صاحب رئیس ساہیوال کرسی نشین درباری نمبر اول و جاگیردار نسلًا بعد نسلٍ واہل جیوری و ممبر ڈسٹرکٹ بورڈ۔ مخدوم محمد صدیق صاحب مخدوم محمد عثمان
    صاحب میاں الہ بخش صاحب نمبردار جہول پور بابو محمد اسحاق صاحب اوورسیر۔ قاضی سید امام شاہ صاحب عرضی نویس۔ راجہ کرم داد خاں صاحب ذیلدار ملک وال۔
    راجہ محمد خاں صاحب
    ذیلدر کوٹ احمد خاں۔
    راجہ خاں صاحب ذیلدار جیون وال۔
    راجہ محمد حیات خاں صاحب ذیلداردیہی۔
    میاں عالم دین صاحب ذیلدار نمتاس۔ میاں شیخ صدر الدین صاحب پراچہ میونسپل کمشنر
    ومالگذار۔ منشی محمد پناہ صاحب سوداگر چرم و مالگذار۔سید ستار شاہ صاحب مالگذار علی پور۔ سید امام شاہ صاحب سربراہ ذیلدارو مالگذار علی پور۔ پیر لقمان شاہ صاحب نمبردار۔ شیخ عالم دین
    صاحب پٹواری۔ بابو غلام محمد صاحب مختار و سیکرٹری۔ سید زمان شاہ صاحب عرضی نویس۔ عباس خاں صاحب بہرت۔ مفتی الٰہی بخش صاحب مفتی محمد حسین صاحب مدرس سکول۔ حکیم فضل
    احمد صاحب طبیب سرکار۔ مولوی علی محمد صاحب روالی مولوی محمد یٰسین صاحب ڈہڈی۔ شیخ دین محمد صاحب ملازم نہر شیخ محمد امین صاحب سابق کرنل فوج سفر مینا امیر صاحب والئی کابل۔
    شیخ سراج الدین صاحب پراچہ سوداگر کابل۔ میاں شیخ محمد بخش صاحب تلوار چنیوٹی ملک غلام محمد خاں صاحب راجڑ ملک دوست محمد خان صاحب نمبردار بھولوال
    میاؔ ں رحیم بخش صاحب
    مختار عام ملک حاکم خان صاحب۔ خان بہادر ملک حسن خاں صاحب نمبردار راجڑ۔ ملک جلال خان صاحب نمبردار جہاوا۔ ملک جوایا خاں صاحب چوہدری محمد بخش صاحب نمبردار پنڈی کوٹ چوہدری
    پیرو نمبردار ایضاً۔ شیخ صدر الدین صاحب قریشی و نمبردار چوہدری ولی داد صاحب جہانیوالہ۔ میاں گل محمد صاحب مختار ملک شیر محمد خاں بہادر چوہدری غلام محمد نمبردار ٹھائر چوہدری زیادہ
    صاحب نمبردار چوہدری ہادو صاحب نمبردار ایضاً۔ شیخ الہ بخش صاحب رئیس شیخپور۔ سلطان عارب خاں صاحب ذیلدار کٹہا ملک شیر محمد ولد سلطان مقرب مولوی عبدالکریم صاحب اخوند میاں خدا
    بخش میاں غلام حسین صاحب میاں محمد رفیق صاحب مدرس اینگلو سنسکرت اسکول شیخ محمد حسن صاحب کاتب مستری قطب الدین صاحب مستری اسماعیل صاحب مستری قمر الدین صاحب مستری
    غلام نبی صاحب مستری نور احمد صاحب مستری محمد اسلام صاحب حکیم احمد دین صاحب مولوی سردار محمد صاحب برادر زادہ مولوی نور الدین صاحب محمد عبدالرحمن صاحب طالب علم ہائی
    سکول میاں عالم دین صاحب۔ مولوی احمد دین صاحب مدرس عربی سکول بھیرہ میاں خادم حسین صاحب مدرس اینگلو سنسکرت سکول بھیرہ۔ حکیم شیخ قادر بخش صاحب احمد آبادی۔ میاں نجم الدین
    صاحب بابو امام الدین صاحب سب اوورسیر۔ محمد حیات صاحب نقشہ نویس میاں محمد صدیق صاحب پٹواری۔ مولوی عالم دین صاحب قریشی میاں کامل الدین صاحب قریشی حکیم مولوی شیر محمد
    صاحب ہجن۔ میاں شیر علی صاحب ایف اے کلاس۔ مولوی نظام الدین صاحب مدرس۔
    لاہور
    چوہدری نبی بخش صاحب بی اے اسلامیہ کالج خواجہ کمال الدین صاحب بی اے پروفیسر اسلامیہ کالج
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 90
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 90
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/90/mode/1up
    خواجہ ضیاء الدین صاحب ایضاً۔ ایضاً۔ ایضاً
    میر عبدالواحد۔ ایضاً۔ ایضاً۔ ایضاً۔
    منشی عبداللہ صاحب۔ ایضاً۔ ایضاً۔
    ایضاً
    مولوی فضل کریم صاحب " " "
    مولوی محمد علی صاحب ایم اے پروفیسر اسلامیہ کالج
    منشی سعد الدین خاں صاحب بی اے محمد ایوب صاحب
    بی۔ او۔ ایل چوہدری سردار
    خاں صاحب ملازم دفتر
    اکونٹنٹ جنرل پنجاب۔ مولوی احمد صاحب
    ایضاً۔ ایضاً۔ سید خورشید انور صاحب
    " " منشی رحیم بخش صاحب
    " " مرزا محبوب بیگ صاحب
    ایضاً
    میاں حفیظ اللہ صاحب " معلّم ایل ایل بی اے کلاس ۔منشی محمد الدین صاحب " پروفیسر بہاولپور کالج۔ مولوی عمرالدین صاحب ایم اے سنٹرل ماڈل سکول۔ شیخ عبدالقادر صاحب بی اے۔
    سب اڈیٹر اخبار پنجاب۔ غلام حسین صاحب بی اے ہیڈ ماسٹر تلہ گنگ۔
    از دفتر اگزامینر ریلوے لاہور
    مولا بخش صاحب محمد علی صاحب۔ غلام حسین صاحب حافظ فضل احمد صاحب۔ خلیفہ محمد
    شریف صاحب۔ منشی غلام محمد صاحب۔ فضل الدین صاحب۔ نظام الدین صاحب۔ محمد یوسف صاحب۔ معراج الدین صاحب۔*
    دفتر لوکو لاہور
    عبدالرحمن صاحب کلرک علم الدین صاحب "
    بوٹا خاں صاحب " خدا بخش صاحب "
    گیلانی بخش صاحب " شہاب الدین صاحب "
    وزیر شاہ صاحب " میر امیر شاہ صاحب " **
    دفتر اکونٹنٹ جنرل پنجاب
    غلام
    محمد صاحب کلرک منشی نظام الدین صاحب "
    شرف الدین صاحب محمد علی صاحب منشی احمد دین صاحب خوشدل نجابت اللہ صاحب۔ اللہ بخش صاحب محمد یاسین صاحب نوازش علی صاحب
    میر میراث علی صاحب۔
    متعلمان ٹریننگ کالج لاہور
    اللہ داد خاں صاحب محمد نواز خاں صاحب۔ سراج الحق صاحب سید فرزند علی صاحب محمد تقی صاحب خدا بخش صاحب صدر دین صاحب
    رحمت اللہ صاحب خورشید عالم صاحب کرم دین صاحب۔ اس فہرست کے ۵۱ نام ہیں اس قدر بطور اختصار لکھے گئے ہیں۔
    تاجران لاہور
    شیخؔ محمد رفیع صاحب اینڈ برادرس سوداگران
    انارکلی۔ حافظ محمد حسین صاحب سوداگر مینجر محمد رفیع صاحب۔ شیخ نبی بخش صاحب سوداگر مینجر کشمیری شاپ۔ رمضان خان اینڈ کو انارکلی شیخ رحمت اللہ صاحب سوداگر بمبئی ہاؤس شیخ
    قادر بخش صاحب سوداگر انارکلی حاجی کریم بخش صاحب سوداگر انارکلی نواب محمد ابراہیم صاحب پروپرائٹر ویسٹرن سوپ کمپنی۔ حاجی عبدالرحیم و محمد یعقوب سوداگران انارکلی شیخ نصیر الدین
    محمد یعقوب صاحب مالک ڈرکٹ حال لاہور انارکلی غلام محی الدین صاحب۔ پروپرائٹر ٹیرسٹیم کمپنی شیخ غلام حسین غلام حیدر صاحب مالکان وکٹر کلاتھ کمپنی لاہور۔ سیٹھ غلام علی صاحب انارکلی
    شیخ محمد عیدو صاحب سوداگر انارکلی حسن علی اسماعیل جی صاحب سوداگر انارکلی شیخ محمد عارف محمد اسحاق صاحب سوداگران انارکلی ۔
    * نوٹ۔ اس دفتر کے کل نام ۲۱ ہیں۔** اس
    دفتر کے کل نام ۳۲ ہیں اور لاہور کے ایک ہزار سے زیادہ نام ہیں بباعث طوالت تھوڑے لکھے گئے ۔فقط
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 91
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 91
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/91/mode/1up
    ڈاکٹر کلن خاں صاحب سرجن ڈینٹسٹ انارکلی۔ خلیفہ رجب الدین صاحب رئیس و سوداگر برنچ لاہور۔ محمد چٹو صاحب
    سوداگر ریشم۔ شیخ محمد عالم صاحب مینجر گجراتی شاپ انارکلی۔ شیخ احمد بخش صاحب تاجر چرم " حاجی شیخ رحمت اللہ صاحب " شیخ محمد صدیق صاحب مینجر ویسٹرن سوپ کمپنی
    شیخ محبوب بخش صاحب سوداگر انارکلی۔
    اَئمہ مساجد لاہور
    مولوی محمد یار صاحب امام مسجد طلائی۔ مولوی غلام حسین صاحب امام مسجد گمٹیحافظ غلام علی صاحب محمد علی صاحب مفتی
    فصیح الدین صاحب۔ عبداللطیف صاحب حافظ اللہ دتا صاحب مولوی جواہر علی صاحب مولوی عنایت اللہ صاحب امام مسجد پرانی انارکلی۔ مولوی حسام الدین صاحب محلہ ستھاں مولوی نور الدین
    صاحب امام مسجد " خلیفہ امام الدین صاحب امام غلام محمد صاحب ولد مولوی فتح محمد صاحب امام مسجد لوہاری منڈی امام محمد عالم صاحب مولوی احمد دین صاحب۔ مولوی حافظ وزیر محمد
    صاحب امام غلام محمود صاحب۔
    رؤساء لاہور
    ڈاکٹر عبدالرحیم صاحب گمٹی بازار۔ ماسٹر شیر محمد صاحب آرٹ سکول احمد رضا خاں صاحب رئیس رامپور حال وارد لاہور۔ میر تقی صاحب
    مدرس ایچ سن سکول منشی کرم الٰہی صاحب دفتر نہر محمد لطیف خاں صاحب ڈپٹی انسپکٹر حاجی عبدالحکیم خاں صاحب ٹھیکہ دار میاں فرید بخش صاحب نقشہ نویس دفتر نہر چناب سرکل میاں چنن
    دین صاحب پنجاب بنک لاہور نواب الدین صاحب نقشہ نویس بھاٹی دروازہ منشی میراں بخش صاحب اکونٹنٹ محکمہ نہر بھاٹی دروازہ کریم بخش صاحب کاردار زمیندار بھاٹی دروازہ محمد ابراہیم خاں
    صاحب اوورسیر ملازم امیر کابل خورشید عالم صاحب کلرک چیف کورٹ پنجاب نصیر الدین صاحب نقشہ نویس جلال الدین صاحب نقشہ نویس۔ حسین بخش
    صاحب نقشہ نویس میراں بخش صاحب
    نقشہ نویس احمد بخش صاحب نقشہ نویس مفتی غلام حیدر صاحب سٹورکیپر نہر چناب شیخ کریم الدین صاحب پنشنر ماسٹر غلام نبی صاحب ہیڈ ماسٹر مڈل سکول اسلامیہ کالج۔ ماسٹر کریم خاں صاحب
    ناظم پرائمر عبدالشکور خاں صاحب دفتر فنانشل کمشنر پنجاب پیر محمد عثمان صاحب ملک ہیرا صراف صاحب محلہ ککے زئی الٰہی بخش صاحب سوداگر پشمینہ کوچہ جراحاں میاں چنن دین صاحب ہیڈ
    کلرک ٹریفک آفس لاہور میاں اسلام الدین صاحب کلرک ایضاً میاں سیف الدین صاحب ایضاً حافظ عبدالعزیز صاحب نقشہ نویس دفتر چیف انجینئر ریلوے۔ منشی نور الٰہی صاحب ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ضلع لاہور۔
    حکیم مبارک دین صاحب بھاٹی دروازہ مرزا فدا حسین صاحب کلرک ریلوے عبدالرحمن صاحب ڈسٹرکٹ اوورسیر عبداللطیف صاحب شاہ دین صاحب مینجر مطبع پنجاب آبزرور محمود علی خاں صاحب
    نقشہ نویس دفتر سول سیکرٹریٹ گورنمنٹ پنجاب محمدفضل علی صاحب کمیشن ایجنٹ سعادت علی خاں صاحب نائب داروغہ آبکاری لاہور منشی کرم الٰہی صاحب مہتمم مدرسہ نصرت الاسلام۔ مولا
    بخش صاحب مالک نیولائل پریس۔ شیخ گلاب الدین صاحب انور علی صاحب پنشنر خواجہ عزیز الدین صاحب سوداگر برنچ جلال الدین صاحب محرر چونگی بابو عید محمد صاحب نقشہ نویس دفتر فنانشل
    کمشنر۔ عبداللہ خاں صاحب فدا علی صاحب کلرک دفتر نہر۔ شیخ گلاب دین صاحب مختار عدالت میاں مہتاب الدین صاحب سپروائزر پبلک ورکس ڈاکٹر غلام علی صاحب ایل ایم ایس مرزا امان اللہ بیگ
    صاحب پنشنر۔ منشی محمد امیر الدین صاحب کوٹھی دار منشی خیر الدین صاحب۔ حاجی محمد عبدالصمد صاحب میونسپل کمشنر و ٹھیکہ دار لاہور۔
    وزیرؔ آباد ضلع گوجرانوالہ
    مولوی عنایت اللہ
    صاحب مدرس مدرسہ مانانوالہ قاضی سید محمد صاحب ذمہ دار ومالگذار کوٹ قاضی۔ قاضی سراج الدین صاحب نمبردار " مولوی وزیر محمد صاحب مدرس اول عربی وفارسی
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 92
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 92
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/92/mode/1up
    شیخ غلام قادر صاحب سوداگر چرم منشی نبی بخش صاحب مدرس مشن سکول شیخ محمد حیات صاحب تاجر کتب بابو فضل
    دین صاحب گڈس کلرک شیخ پیر محمد صاحب سوداگر۔ غلام رسول صاحب نقشہ نویس میاں شیخ محمد دین صاحب محرر کمیٹی۔ میاں شیخ نیاز احمد صاحب سوداگر۔ حکیم سلطان علی صاحب۔ شیخ دین
    محمد صاحب ٹھیکہ دار۔ منشی نجم الدین صاحب اسٹام فروش میاں عمر بخش صاحب سوداگر چوب۔ سید اکبر علی شاہ صاحب شیخ فتح دین صاحب سوداگر۔ شیخ احمد جان صاحب۔ ماسٹر عنایت اللہ
    صاحب مشن سکول۔ شیخ الہ بخش صاحب سوداگر آہن۔ حافظ گلاب خاں صاحب سارٹرسفری ڈاک قاضی محمد یوسف صاحب مالگذار۔
    جموں
    خلیفہ نور الدین صاحب تاجر کتب مولوی محمد صادق
    صاحب فارسی مدرس ہائی سکول۔ خواجہ جمال الدین صاحب لاہوری بی۔ اے ہیڈ ماسٹر ہائی سکول۔ محمد شاہ صاحب ٹھیکہ دار۔ مستری محمد عمر صاحب۔ مستری محمد دین صاحب ملازم ریلوے احمد
    پور۔ حافظ محمد دین صاحب ٹھیکیدار وردی پولیس۔ میاں اللہ دتا صاحب سوداگر چرم شیخ محمد الدین صاحب سوداگر چرم۔ منشی نبی بخش صاحب سوداگر۔ اللہ دتا صاحب۔
    خوشاب ضلع شاہ پور
    پنجاب
    مولوی حبیب شاہ صاحب۔ قریشی بلند خاں صاحب۔ سید حیدر شاہ صاحب مولوی فضل الدین خاں صاحب۔ مولوی غلام احمد صاحب کھبکّی مولوی فتح دین صاحب مولوی غلام احمد صاحب بہادر
    خاں صاحب ذیلدار و رئیس سید عبدالمجید شاہ صاحب قریشی جوائی خاں صاحب انہیر عالم خاں صاحب میونسپل کمشنر پیر رنگ شاہ صاحب قریشی۔ پیر غلام مرتضیٰ شاہ صاحب قریشی۔ پیر جمال الدین
    صاحب قریشی مولوی دین محمد صاحب قریشی۔ سید راجہ شاہ صاحب۔ سید ستار شاہ صاحب۔ سید جلال شاہ صاحب سید عالم شاہ صاحب عبدالمجید۔
    گوڑیانی ضلع رہتک
    وزیر محمد خاں ہیڈ
    ماسٹرمدرسہ گوڑیانی۔عبدالصمد خاں صاحب دفعدار۔ محمد اسماعیل خاں صاحب ہاسپٹل اسسٹنٹ کڑیانوالہ ضلع۔ ایاز محمد خاں صاحب نائب مدرس کلانور ضلع گجرات پنجاب۔ امیر خاں صاحب محرر
    کمیٹی۔ عطا محمد خاں صاحب ذیلدار و ممبر ڈسٹرکٹ بورڈ شاہ محمد خاں صاحب سوداگر عمدہ خاں صاحب سیکنڈ ماسٹر مڈل سکول بہادر گڑھ۔ سردار خاں صاحب دفعدار سلوتری نمبر ۳ رسالہ پنجاب
    کریم بخش صاحب سوداگراسپاں قاضی سید محمود الحسن صاحب قادری۔ قاضی عزیز الحسن صاحب سید رحمت علی شاہ صاحب عنایت خاں صاحب جمعدار۔ محمد سعید خاں صاحب سوداگراسپاں
    عبداللطیف خاں صاحب سوداگر قاضی محمد یعقوب صاحب محمد یقوب خاں صاحب سوداگر عبدالمناف صاحب سوداگر عبدالصمد صاحب سوداگر خدا بخش صاحب پنشن خوار ریاست گوالیار۔ الٰہی بخش
    صاحب سوار پنشن خوار۔ غلام دین خاں صاحب سوداگراسپاں ڈاکٹر محمد ظہیر الدین خاں صاحب منظور احمد صاحب سوداگراسپاں
    نیاز احمد صاحب سوداگراسپاں عطا محمد خان صاحب "
    " نیاز محمد خان صاحب " " سردار خاں صاحب " " عبداللہ خاں صاحب " " محمد حسن خاں صاحب " " عبدالرزاق خاں صاحب " "
    جہلم
    منشی
    محمد نواب خاں صاحب تحصیلدار جہلم مولوی برہان الدین صاحب میاں عبداللہ خاں برادر تحصیلدار جہلم شیخ غلام محی الدین صاحب عرضی نویس مولوی حافظ محمد قاری صاحب مولوی غلام علی
    صاحب رہتاسی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ بندوبست مولوی گلاب دین صاحب مدرس رہتاس اللہ دتا صاحب نائب محافظ دفتر سپرنٹنڈنٹ جھنگ محمد امین صاحب تاجر کتب مولوی خان ملک شیخ غلام نبی صاحب تاجر
    راولپنڈی ساکن کہوتیاں۔ شیخ ابراہیم صاحب جہلم۔
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 93
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 93
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/93/mode/1up
    الہ آباد
    شیخ عبدالغنی صاحب کمپوزیٹر۔
    سید رمضان علی صاحب ہیڈ کانسٹیبل پولیس دفترالہ آباد۔
    سید جیون علی
    صاحب " سید فرزند حسین صاحب ایضاً۔ سید دلدار علی صاحب سب انسپکٹر۔ سید احسان علی صاحب زمیندار مہروند۔ سید اہتمام علی صاحب ہیڈ کانسٹیبل پنشنر۔ شیخ امیر علی صاحب پنشنر
    عبدالغنی صاحب ہیڈ کانسٹیبل پنشنر۔ سید منصب علی صاحب ڈاکٹرؔ محلہ کٹڑہ شیخ نعمت اللہ صاحب ہیڈ کانسٹیبل شیخ غلام محمد صاحب انسپکٹر پولیس محمد احمد خاں صاحب ہیڈ کانسٹیبل پنشنر
    محمد عبدالرحمن خاں صاحب ایضاً۔ سید نیاز علی صاحب بدایونی محلہ دوندی پور حال محرر ملک ریاست رام پور قاضی احسن الدین صاحب قریشی اکبر آبادی پولیس الہ آباد حاجی نجف علی صاحب
    شیخ حرمت علی صاحب کراری محلہ باراں دری خدا بخش صاحب ولد غوث محمد صاحب تاجر جونپوری حال الہ آباد شیخ اکبر علی صاحب حسینی خاں صاحب محلہ کٹڑہ سعد اللہ خاں صاحب محلہ
    کٹڑہ۔
    انبالہ
    بابو محمد صاحب ہیڈ کلرک دفتر نہر۔ میاں محمد اسماعیل صاحب نقشہ نویس۔
    کپورتھلہ
    منشی ظفر احمد صاحب اپیل نویس میاں روشن دین صاحب ٹھیکیدار منشی اروڑا صاحب
    نقشہ نویس عدالت منشی عبدالرحمن صاحب اہلمد جرنیلی قاضی شیخ احمد صاحب منشی فیاض علی صاحب محرر پلٹن نمبر اول حسو خاں صاحب میاں حبیب الرحمن صاحب مالک و نمبردار موضع حاجی
    پور میاں سردار خاں صاحب کورٹ دفعدار رسالہ امپیریل سروس مولوی محمد حسین صاحب کھیوٹ دار موضع بھاگو ارائیں حکیم سید مہتاب علی صاحب اہلمد نظامت۔ بشیر احمد کانسٹیبل۔
    قصور
    شیخ امین الدین صاحب میونسپل کمشنر۔ مرزا فضل بیگ صاحب مختار
    حکیم فتح محمد صاحب ڈاکٹر بوڑا خاں صاحب اسسٹنٹ سرجن مولوی فضل حق صاحب مدرس مدرسہ اسلامیہ سکول
    میاں حسین خاں صاحب ٹھیکیدار سکول۔
    لدھیانہ
    منشی رحیم بخش صاحب ممبر میونسپل کمیٹی لدھیانہ منشی عبدالحق صاحب لدھیانہ شیخ شہاب الدین صاحب لدھیانہ۔ منشی ابراہیم صاحب تاجر
    قاضی خواجہ علی صاحب ٹھیکیدار شکرم۔ شہزادہ عبدالمجید صاحب محلہ اقبال گنج مولوی نور محمد صاحب مانگٹ۔ تاج محمد صاحب کلارک میونسپل کمیٹی کرم الٰہی صاحب کانسٹیبل مرزا حکیم
    رحمت اللہ صاحب تاجر کتب۔ سید عنایت علی شاہ صاحب محلہ صوفیاں۔
    پشاور
    مولوی غلام حسن صاحب رجسٹرار۔ بابو الہ بخش صاحب جیلمی کلارک محکمہ ملٹری ورکس چھاؤنی کوہ چراٹ
    علاقہ پشاور۔ شیخ عبدالرحیم صاحب محلہ کوٹلہ فیلباناں۔ احمد جان ولد محمد کمال صاحب محلہ نو۔
    بٹالہ
    منشی عبدالعزیز صاحب عرف نبی بخش نمبردار و ممبر کمیٹی۔ بابو علی محمد صاحب
    مالک مطبع شعلہ نور میاں محمد امین صاحب میاں محمد اکبر صاحب ٹھیکیدار لکڑی۔
    پٹیالہ
    ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب سول سرجن چھاؤنی پٹیالہ۔ شیخ منشی محمد حسین صاحب مراد آبادی۔ شیخ
    عبیداللہ صاحب مولوی حافظ عظیم بخش صاحب مولوی محمد یوسف صاحب سنوری۔
    بلاد متفرقات
    ڈاکٹر عبدالشکور صاحب سرسہ ضلع حصار۔ مولوی غلام امام صاحب
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 94
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 94
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/94/mode/1up
    صاحب عزیز الواعظین منی پور ملک آسام۔ منشی زین الدین صاحب محمد ابراہیم صاحب انجینئر چیچ پو کلی کالی چوکی بمبئی۔
    سید تفضل حسین صاحب تحصیلدار شکوہ آباد ضلع مین پوری۔ منشی عبدالعزیز صاحب محرر دفتر نہرجمن غربی دہلی۔ سیٹھ عبدالرحمن صاحب حاجی اللہ رکھا صاحب تاجر ساجن کمپنی مدراس۔ سیٹھ
    محمد صالح صاحب مدراس۔ سیٹھ علی محمد صاحب بنگلور مولوی حسن علی صاحب واعظ اسلام بھاگلپور صوبہ بہار مولوی انوار حسین خاں صاحب رئیس شاہ آباد ضلع ہردوئی شیخ مولوی حسین عرب
    صاحب یمانی محدث بھوپال مولوی محمد بشیر صاحب بھوپال سابق مہتمم مدارس ریاست مذکور ۔ابوالحبیب محبوب احمد صاحب مدرس مدرسہ ملتان بابو الہ بخش صاحب گڈس کلرک ریلوے سٹیشن پھلور
    منشی محمد فضل حق صاحب مختار کار ساکن سراوہ ضلع میرٹھ۔ میاں عبدالواسع صاحب۔ مولوی عبداللہ صاحب ملتان اندرون پاک دروازہ۔ سید خصلت علی شاہ ڈپٹی انسپکٹر ڈنگہ ضلع گجرات بابو غلام
    محی الدین صاحب گڈس کلرک پھلور۔ چوہدری رستم علی صاحب ڈپٹی انسپکٹر گورداسپور۔ مولوی سید محمد عسکری خاں صاحب تحصیلدار کٹڑہ ضلع الہ آباد مولوی میر مردان علی صاحب منتظم صدر
    محاسب سرکار نظام حیدر آباد۔ مولوی سید ظہور علی صاحب وکیل حیدر آباد دکن شیخ یوسف علی صاحب رئیس نشام ضلع حصار سارجنٹ درجہ اول انسپکٹری ریاست جیند مرزا محمد امین بیگ صاحب
    رئیس بھالوجی ریاست کھتیڑؔ ی علاقہ جے پور۔ خلیفہ رشید الدین صاحب ڈاکٹر چکروتہ مولوی جمال دین صاحب سید والہ ضلع منٹگمری مولوی عبداللہ صاحب ٹھٹہا شیر کا ضلع منٹگمری حاجی سید
    عبدالہادی صاحب سب اوورسیر ضلع شملہ میرزا نیاز بیگ صاحب ضلع دار نہر ضلع ملتان منشی احمد جان صاحب مدرس گوجرانوالہ۔ غلام جیلانی صاحب مدرس گہڑونوہ مولوی وزیر الدین صاحب
    مدرس مدرسہ ریاست نادون مولوی حاکم شاہ صاحب ؍؍ امانت خان صاحب عرضی نویس مولوی عبدالحکیم صاحب آصف موضع دہار واڑ علاقہ بمبئی مولوی محمد افضل صاحب کلہ ضلع گجرات پنجاب۔
    مولوی محمد اکرم صاحب ؍؍
    مولوی محمد شریف صاحب ؍؍ ؍؍
    مولوی نظام الدین صاحب رنگ پور ضلع جھنگ۔ حافظ نور احمد صاحب سوداگر لدھیانہ مولوی سید تلطّف حسین صاحب تاجر دہلوی
    پاٹک حبش خاں محمد عبدالرحیم صاحب موس پاٹر صدر انبالہ۔ فضل حسین صاحب قصبہ جھابو ضلع بجنور حافظ امام الدین صاحب امام مسجد کپورتھلہ مستری جانی صاحب کپورتھلہ حافظ محمد علی
    صاحب امام مسجد کپورتھلہ۔ میاں محمد صاحب زمیندار بوٹ کپورتھلہ مولوی صادق حسین صاحب اٹاوہ۔
    امرتسر
    شیخ یعقوب علی صاحب اڈیٹر اخبار فیروز۔ میاں عطاء اللہ صاحب سوداگرمس۔
    میاں قطب الدین صاحب سوداگرمس مولوی قاضی سید امیر حسین صاحب مدرس مدرسہ اسلامیہ۔ مولوی غلام محمد صاحب مختار عدالت و سپرنٹنڈنٹ مطبع روز بازار۔ حافظ عبدالرحمن صاحب ملازم
    محکمہ مال دفتر صاحب ڈپٹی کمشنر میاں فیروز الدین صاحب سوداگر و پروپرائٹر اخبار فیروز۔ میاں علی محمد صاحب مدرس ایم بی سکول مولوی نیاز علی خاں صاحب سوداگر مالک مطبع وکیل پنجاب
    شیخ کرم الٰہی صاحب سارجنٹ پولیس میاں اسد اللہ صاحب سوداگر پشمینہ میاں غلام رسول صاحب ٹھیکیدار مستری کریم بخش صاحب میاں خیر الدین صاحب ٹھیکیدار حکیم رحیم بخش صاحب‘ میاں
    نور الدن صاحب سوداگر پشمینہ ‘ محمد غلام قادر صاحب ٹھیکیدار داروغہ فضل الدین صاحب میاں حبیب اللہ خاں صاحب میاں خیر الدین صاحب سوداگر حافظ احمد صاحب سوداگر میاں محمد عبداللہ
    صاحب شال مرچنٹ۔ میاں نتھو شاہ صاحب گدی نشین لوپو کے تحصیل اجنالہ۔
    ہوشیارپور و جالندھر
    امیر المومنین صاحب سر رشتہ دار محکمہ نہر منٹگمری باشندہ ہوشیارپور احمد جان صاحب
    امین محکمہ نہر ساکن نندا چور ضلع ہوشیار پور حکیم غلام رسول صاحب۔ شیخ رحمت علی صاحب کتب فروش۔ شیخ مہر علی صاحب رئیس اعظم ہوشیارپور شیخ جان محمد صاحب ممبر میونسپل
    کمیٹی شیخ محمد بخش صاحب
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 95
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 95
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/95/mode/1up
    طالب علم گورنمنٹ کالج لاہور۔ مستری محمد صدیق صاحب فیض محمد صاحب تار بابو ہوشیارپور۔ محمد حیات خاں صاحب
    عرضی نویس حسین بخش صاحب ٹھیکیدار جالندھر۔ محی الدین صاحب پوسٹل کلارک ہوشیارپور۔ حکیم غلام رسول صاحب شیخ رحمت علی صاحب تاجر کتب۔ عبدالعلی صاحب رئیس جالندھر۔ شیخ محمد
    بخش صاحب عرضی نویس۔ سید محبوب عالم صاحب سربراہ ذیلدار جالندھر۔ محمد وزیر علی صاحب رئیس جالندھر شیخ شادی صاحب سوداگر۔ فضل الدین صاحب سوداگر۔ شیخ عمر بخش صاحب وقائع
    نگار۔ شیخ محمد بخش صاحب سوداگر۔ برکت علی صاحب۔ مولوی عبدالکریم صاحب رحمت علی صاحب کلرک محکمہ ڈاک پیر بخش صاحب سوداگر
    شمس الدین صاحب سوداگر چرم۔ امام الدین
    صاحب ؍؍
    کرم الٰہی صاحب سوداگر۔ اللہ یار صاحب ایضاً۔ چراغ الدین صاحب ؍؍ حاجی خلیل اللہ صاحب۔ خدا بخش صاحب سوداگر۔ سید رستم علی صاحب۔ محمد علی صاحب نمبردار بستی سید
    مہتاب علی صاحب۔ سید سندی شاہ صاحب حسنی چشتی۔ منشی علی گوہر خاں صاحب برنچ پوسٹ ماسٹر۔ عمر بخش صاحب مختار عدالت۔ سید محمد صاحب منشی فاضل صاحب مدرس نواب خاں
    صاحب۔ شیخ نور احمد صاحب۔ محمد بخش خان صاحب مثل خواں۔ ولی احمد خان صاحب نائب شرف۔ سید امیر الدین صاحب نقل نویس صدر۔ محمد عالم خان صاحب نائب شرف۔ محمد گوہر صاحب سابق
    شرف عدالت حال پنشنر حکیم ابراہیم صاحب بستی شاہ قلی۔ سید قاضی دوست محمد صاحب آنریری مجسٹریٹ شہر جالندھر۔ نیاز محمد صاحب وکیل۔ مرزا نواب بیگ صاحب سارجنٹ درجہ اول۔ محمد
    اکبر علی صاحب نمبردار بستی۔ سید غلام حسین صاحب۔ ڈاکٹر سید احمد شاہ صاحب مترجم کمشنری۔ مولوی رحمت علی صاحب غلام حسین صاحب سابق صوبہ دار میجر سردار بہادر آنریری
    مجسٹریٹ و سب رجسٹرار شہر جالندھر۔ حیدر خاں صاحب نمبردار افغاناں۔
    مالیرؔ کوٹلہ
    نواب صاحب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ۔ مولوی مرزا
    خدا بخش صاحب اتالیق نواب
    صاحب موصوف۔ نواب خاں صاحب حکیم الہ بخش صاحب۔
    بلاد متفرقات
    منشی عبدالمجید صاحب محرر دفتران گورداسپور۔ شہامت خاں صاحب عرضی نویس نادون ضلع کانگڑہ۔ عبدالرحمن خاں
    صاحب مختار عدالت۔ سلیمان علی صاحب ناظر کمشنری جالندھر۔ برکت علی خاں صاحب نائب تحصیلدار۔ برکت علی شاہ صاحب عرضی نویس مولوی حکیم فضل محمد صاحب محمدبرکت علی صاحب
    کلرک پبلک بک چھاؤنی جالندھر۔ شاہ دین صاحب عرضی نویس محمد بخش صاحب اپیل نویس فتح گڑھ۔ غلام رسول صاحب نائب مدرس سکول بجواڑہ۔ غیاث الدین صاحب طالب علم ایف اے کلاس۔ رانا
    محمد بخش صاحب ذیلدار ہریہ۔
    سہارنپور وغیرہ
    عبدالحمید صاحب سہارنپور۔ محمد خان صاحب سامانہ ریاست پٹیالہ۔ محمد یاسین خاں صاحب پوٹہر ضلع سہارن پور محمد عارف صاحب ساکن
    تھانہ بہون ضلع مظفرنگر۔ احمد حسن صاحب گنگوہ ضلع سہارنپور۔ محمد امیر خاں صاحب پٹہٹر ضلع سہارنپور۔ علی محمد صاحب سہارنپور۔ عبداللطیف خاں صاحب پٹواری۔ فہیم الدین صاحب تاجر
    کتب سہارنپور محمداسماعیل صاحب جلد گر ریاست مالیرکوٹلہ۔ عبدالعزیز صاحب سہارنپور۔ امیر حسن صاحب ساکن سہارن پور غلام محمد خاں صاحب ساکن سہارنپور۔ محمد نعیم خاں صاحب
    آنریری مجسٹریٹ و رئیس سہارنپور۔احسان الحق صاحب گنگوہ ضلع سہارن پور۔ محمدیوسف صاحب رئیس انصاری۔ رحمت اللہ خاں صاحب سہارنپوری۔ محمد حسین صاحب سوداگر۔ حاجی محمد عمر
    صاحب سوداگر سہارنپور احمد بیگ صاحب " " حافظ محمد حسین صاحب " " حاجی محمد اسماعیل صاحب " " نور احمد احمد صاحب " " محمد ابراہیم صاحب رئیس
    سہارنپور فضل رحیم صاحب رئیس سہارنپور مولوی قمر الدین صاحب
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 96
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 96
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/96/mode/1up
    مدرس عربی سہارنپور۔ محمد زکریا صاحب ساکن سہارنپور۔ امام علی صاحب نمبردار بلاس پور ضلع سہارنپور۔ علاؤ الدین
    صاحب سہارن پور۔ احمد جان صاحب سہارن پور۔ احمد حسین صاحب سہارنپور۔ محمد یاسین صاحب سوداگر سہارن پور۔ زین الدین احمد صاحب سوداگر سہارنپور۔ منشی رحیم بخش صاحب سہارن
    پور۔ محمد ابراہیم صاحب سہارن پور۔ نبی بخش صاحب سہارن پور حمید اللہ صاحب سہارنپور۔ محمد ابراہیم صاحب سوداگر سہارنپور۔ وحید خاں صاحب امروہہ ضلع مراد آباد۔ حکیم اللہ خان صاحب
    ضلع بلند شہر۔ ظہور اللہ صاحب کھاتولی ضلع مظفر نگر اللہ دیا صاحب تھانہ بہون ضلع مظفر نگر ۔نبی بخش صاحب حسین بخش صاحب " " منظور محمد صاحب " " رحیم بخش
    صاحب " " محمد اسماعیل صاحب رئیس سہارنپور۔ سید حید رحسن صاحب سہارنپور۔ مناظر الدین سہارن پور۔ محمد صدیق صاحب سہارنپور۔ حافظ نور رمضان صاحب پانی پت ضلع کرنال
    محمد عمر الدین عبدالرحمن صاحب سہارنپور۔ ذوالفقار خاں صاحب سوداگر سہارن پور۔ محمد ابراہیم صاحب سہارنپور۔ سرفراز خاں صاحب تھانہ دار پنشنر سہارنپور۔ عمر خان صاحب؍؍ ؍؍حافظ
    کریم بخش صاحب " عبدالکریم صاحب " عبدالحی و کریم بخش صاحبان " علاؤ الدین صاحب مدرس مدرسہ انجمن اسلام سہارن پور ساکن نور محل ضلع جالندھر۔
    ملتان و علاقہ ملتان
    مرزا نیاز بیگ صاحب ساکن کلانور ضلع گورداسپور۔ الطاف حسین صاحب سب اوورسیر موہال نہر سدہ نی ملتان۔ عبدالغنی صاحب سب اورسیر" میاں محمد صاحب ٹھیکیدار۔ محمد بخش صاحب
    مجیٹھہ موہال نہر سدہ نی اسسٹنٹ سب اوورسیر۔ محب علی صاحب گرداور ملتان امام بخش پنسال نویس اللہ دتہ صاحب گرداور نہر راجباہ ہتار ضع ملتان۔ غلام صاحب چپراسی
    موہال نہرسدہ نی
    محمود بخش صاحب گرداور راجباہ ہتار ضلع ملتان۔ نبی بخش صاحب گرداور نہر " " برکت علی صاحب گرداور نہر " " الٰہی بخش صاحب امیدوار ساکن ملتان سابق محرر محکمہ انہار
    ملتان۔ اللہ داد صاحب گرداور نہر " " محمد حسن خاں صاحب زمیندار۔ مہتاب نمبردار موضع ہتار ضلع ملتان۔
    اجناؔ لہ ضلع امرتسر وغیرہ
    برکت علی شاہ صاحب اجنالہ ضلع امرتسر
    ڈاکٹر محمد یاسین صاحب وٹرنری اسسٹنٹ جسروال ضلع امرتسر امام الدین صاحب دوکان دار " " کرم الدین صاحب منصرم ساکن فتح گڑھ ضلع لاہور۔ مولوی غلام صاحب مدرس اول جسروال
    ضلع امرتسر شیخ نبی بخش صاحب دوکان دار " " بلند خاں صاحب رئیس نیپال ضلع امرتسر۔ حیدر حسین صاحب قانون گوئی اجنالہ ضلع امرت سر۔ محمد وارث صاحب محرر " " فضل
    الدین صاحب عرضی نویس " " علی بخش صاحب نمبردار ملک پور ضلع امرتسر کریم بخش صاحب نمبردار " " عبدالواحد صاحب پٹواری " " روڈے خاں صاحب جمعدار ملک پور۔
    " پیر بخش صاحب لوہار ساکن لوہار کہ ضلع " حسن محمد صاحب شیخ دلاور صاحب زمیندار۔ نبی بخش صاحب مدرس اجنالہ ضلع امرت سر۔ محسن علی دوم مدرس اجنالہ؍؍۔ متوطن قلعہ سو
    بہا سنگہ سیالکوٹ۔ غلام دستگیر صاحب نائب مدرس اجنالہ متوطن جسروال شیخ رحیم بخش صاحب۔ قطب شاہ صاحب۔ غلام حسین صاحب قاضی۔ قاضی غلام رسول صاحب جسروال ؍؍ کرم الدین صاحب
    پٹواری پنال " خدا بخش صاحب نائب تحصیلدار حصہ دار مڈہ پہلووال ضلع " غلام رسول صاحب امام مسجد مڈہ پہلووال " عبداللہ خان صاحب پنشن خوار جسروال " محمد ابراہیم صاحب
    لوہیاں " شیخ رحمت اللہ صاحب سوداگر جسروال " شیخ عمر بخش صاحب
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 97
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 97
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/97/mode/1up
    حوالدار عیسیٰ پور "خلیل خاں صاحب اعلیٰ نمبردار عمر پور " شاہ سوار صاحب مالک عمر پور " ابراہیم خاں
    صاحب حصہ دار عمرپور " فتح خاں صاحب حصہ دار عمرپور " فضل الدین صاحب موروثی عمر پور " فیروز خاں صاحب حصہ دار عمر پور " دین محمد صاحب اجنالہ " میاں ہیرا
    صاحب زمیندار کمال پور میاں بڈہا صاحب حصہ دار و ساہوکار نسوکی " نبی بخش صاحب راجپوت چماری " اللہ داد خاں صاحب ولد علی اکبر خاں صاحب نمبردار محلانوالہ قاضی امام الدین
    صاحب نسوکے " چوہدری امام الدین صاحب علاقہ امرتسر غلام محمد صاحب نمبردار کمال پورخرد " محمد یار علی نمبردار شہزادہ " مقبول حسین صاحب ہیڈ ماسٹر سکول رامداس "
    فضل حسین صاحب گرداور قانون گوئی حلقہ چماری ضلع امرتسر۔ قاضی اکبر علی صاحب وثیقہ نویس تبڑھ کلاں " گلو خاں صاحب نمبردار اعلیٰ " " ہاشم علی صاحب وثیقہ نویس "
    حکیم گوہر علی صاحب " " صادق شاہ صاحب چمیاری " محمد خاں صاحب نمبردار جسروال ضلع امرتسر۔
    بلاد متفرقات
    فتح محمد صاحب بزدار بلوچ ساکن لیہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خاں
    سید بہادر علی شاہ صاحب چنیوٹ ضلع جھنگ عبداللہ خاں صاحب لیہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان شمس الدین صاحب میونسپل کمیٹی کشمیر ساکن بھیرہ ضلع شاہپور پیر بخش صاحب تاربابو وزیر آباد ضلع
    گوجرانوالہ مولاداد صاحب اسسٹنٹ مینجر سیالکوٹ۔ غلام جیلانی صاحب
    سوداگر سیالکوٹ۔ محمد ابراہیم صاحب " امرتسر مولا بخش صاحب گماشتہ۔ غلام رسول صاحب سوداگر " اللہ بخش
    سابق ڈپٹی انسپکٹر لاہور " شیخ عبداللہ صاحب قریشی جزیرہ مکہ معظمہ۔ محمد حافظ صاحب ڈپٹی انسپکٹر کشمیر ساکن بھیرہ ضلع شاہ پور رحیم بخش صاحب نقشہ نویس لاہور محمد شریف صاحب
    ٹھیکہ دار ہیلاں ضلع گجرات نور علی صاحب سوداگر پشاور " کرم الدین صاحب سوداگر وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ۔ شیخ عبدالغفار صاحب سوداگر کشمیر " محمد خلیل صاحب سوداگر "
    " سید غلام رسول صاحب واعظ کشت دار جموں۔ شہاب الدین صاحب منصرم کشمیر ارجن ضلع راولپنڈی۔ عبدالعزیز صاحب سوداگر کشمیری غلام محمد " " عبدالرحیم صاحب سوداگر "
    عبدالعزیز صاحب سابقہ منشی حوالات کشمیر۔ سید حسن علی صاحب منصرم بندوبست بٹالہ ضلع گورداسپور۔ حاجی محمد نور دین صاحب سابق وزیراعظم راجہ جموں۔ غلام جیلانی صاحب سوداگر
    ماسٹر خدا بخش صاحب کشمیر۔ حبیب اللہ صاحب شال مرچنٹ کشمیر۔ سید حبیب شاہ صاحب خلف غلام محی الدین صاحب لدھیانہ۔ فضل الٰہی صاحب سب اوورسیر۔ مولوی محمد حافظ اللہ صاحب
    کشمیری۔ بابو محمد دین صاحب دفتر رزیڈنسی کشمیر۔ بابو دل محمد صاحب ایضاً۔ مصطفیٰ شاہ صاحب خانقاہ شاہ ہمدان رحمت اللہ علیہ ۔مہر صدر الدین صاحب " مہر بہار شاہ صاحب " محمد
    حسین سراج صاحب ایرانی۔ محمد حسن سراج صاحب ایرانی۔
    نوٹ: ان صاحبوں کے سوا اور بہت سے صاحب ہیں جنہوں نے نوٹس پر دستخط کئے ہیں۔ اگر سب لکھے جاتے تو چار ہزار سے
    زیادہ نوبت پہنچتی۔ مگر طول سے اندیشہ کر کے اسی قدر پر کہ )۷۰۴( ہیں کفایت کی گئی ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 98
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 98
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/98/mode/1up
    بسمؔ اللہ الرحمن الرحیم
    نحمدہٗ و نصلّی علٰی رسولہ الکریم
    السّلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ۔ اما بعد اے
    غمخواران دین اسلام و محبان خیر الانام علیہ الف الف سلام میں اس وقت ایک نہایت ضروری التماس آپ لوگوں کی خدمت میں پیش کرتا ہوں اور
    خدا تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں
    کہ اس التماس کے
    قبول کرنے کے لئے آپ لوگوں کے سینوں کو کھولے اور اس مقصد کے فوائد آپ لوگوں کے دلوں میں الہام کرے کیونکہ کوئی امر گو کہ کیسا ہی عمدہ اور سراسر خیر اور مصلحت پر مبنی ہو مگر تب
    بھی اس کی بجا آوری کے لئے جب تک خدا تعالیٰ سے قوت نہ ملے ہرگز انسان ضعیف البنیان سے ہو نہیں سکتا اور وہ
    التماس یہ ہے
    کہ آپ صاحبوں پر یہ بات پوشیدہ نہیں ہوگی کہ ان دنوں میں
    دینی مباحثات و مناظرات کا اس قدر ایک طوفان برپا ہے کہ جہاں تک تاریخ وفا کر سکتی ہے اس کی کوئی نظیر پہلے زمانوں میں معلوم نہیں ہوتی۔ اور اس معاملہ میں اس قدر تالیفات بڑھ گئی ہیں کہ
    پادری صاحبان کی ایک رپورٹ میں میں نے پڑھا ہے کہ چند سال میں چھ کروڑ کتابیں ان کی طرف سے شائع ہوئیں۔ ایسا ہی اہل اسلام کی طرف سے کروڑ ہا تو نہیں مگر صد ہا رسالوں تک تو نوبت پہنچی
    ہوگی اور آریہ صاحبوں کی کتابیں جو اسلام کے مقابل پر یا عیسائیوں کے مقابل لکھی گئیں اگرچہ تعداد میں تو کم ہیں مگر گالیاں دینے اور دل آزار کلمات لکھنے میں اول نمبر پر ہیں اور یہ بے تہذیبی
    اور بد زبانی دن بدن بڑھتی جاتی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے کہ جو کسی قوم کے پیشوا کو گالی دینا اس کا اصول نہیں کیونکہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ ہم ان پیمبروں پر
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 99
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 99
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/99/mode/1up
    ایمان لائے ہیں جن کا ذکر قرآن میں ہے اور یہ بھی ہمارا عقیدہ ہے کہ ہریک قوم میں کوئی نہ کوئی مصلح گذرا ہے اور ہمیں یہ
    بھی تعلیم دی گئی ہے کہ ہم پورے علم کے بغیر کسی کی نسبت کوئی رائے ظاہر نہ کریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۱؂ * سو یہ پاک عقائد ہمیں بے جا بدزبانیوں اور متعصبانہ نکتہ چینیوں سے
    محفوظ رکھتے ہیں مگر ہمارے مخالف چونکہ تقویٰ کی راہوں سے بالکل دور اور بے قید اور خلیع الرسن ہیں اور قرآن کریم جو سب سے پیچھے آیا ان کو طبعاً برا معلوم ہوتا ہے لہٰذا وہ جلد فحش گوئی
    اور بدزبانی اور توہین کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور سچی باتوں کے مقابل پر افتراؤں سے کام لیتے ہیں چنانچہ اس تیس سال کے عرصہ میں ہمارے مخالفوں نے اس قدر فحش گالیاں جناب رسول اللہ
    صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی کتابوں میں دی ہیں اور اس قدر افترا اسلامی تعلیم پر کئے ہیں کہ میں یہ دعویٰ سے کہتا ہوں کہ آپ لوگ تیرہ سو گذشتہ سالوں میں یعنی اسلام کے ابتدائی زمانہ سے آج تک
    اس کی نظیر نہیں پاؤ گے اور اسی پر بس نہیں بلکہ یہ ناجائز طریق ترقی پر ہے اس لئے ہریک ایسے سچے مسلمان کا فرض ہے کہ جو درحقیقت اپنے تئیں مسلمان سمجھتا ہے کہ ایسے موقعہ پر بے
    غیرتوں اور بے ایمانوں کے رنگ میں بیٹھا نہ رہے بلکہ جیسا کہ اپنی حفظ عزت کے لئے کوشش کرتا ہے اور جب عزت برباد ہونے کا کوئی موقعہ پیش آوے تو جہاں تک طاقت وفا کرتی اور بس چل
    سکتا ہے اپنی آبرو کے بچاؤ کے لئے کوئی تدبیر باقی نہیں چھوڑتا۔ بلکہ ہزارہا روپیہ پانی کی طرح بہا دیتا ہے ایسا ہی شریف اور سچے مسلمانوں کے لئے بھی زیبا ہے کہ اس پیارے رسول کی عزت
    کے لئے بھی جس کی شفاعت کی امید رکھتے ہیں کوشش کریں اور ایمانی نمونہ دکھلانے سے نامراد نہ جائیں۔
    شاید بعض صاحبوں کی یہ رائے ہو کہ کیا ضرور ہے کہ اسلام کی طرف سے مذہبی
    تالیفات ہوں اور کیوں اس طریق کو اختیار نہ کیا جائے کہ مخالفوں کی تحریرات کا جواب ہی نہ دیں۔ اس کے جواب میں عرض کیا جاتا ہے کہ اوّل تو کوئی مذہب بغیر دعوت اور امر معروف اور نہی
    منکر کے قائم نہیں
    * نوٹ۔ یعنی جس بات کا تجھ کو یقینی علم نہیں دیا گیا۔ اس بات کا پیروکار مت بن اور یاد رکھ کہ کان اور آنکھ اور دل جس قدر اعضاء ہیں ان سب اعضاء سے بازپرس ہوگی۔
    منہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 100
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 100
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/100/mode/1up
    رہ سکتا۔ اور اگر ایسا ہونا فرض بھی کرلیں تو پھر اسلام جیسا کوئی مذہب مصیبت زدہ نہیں ہوگا کیونکہ جس حالت میں پادری
    صاحبان و آریہ صاحبان وغیرہ پورے زوروشور سے اسلام پر حملہ کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کو نابود کر دیں اور ہریک رنگ سے کیا علم طبعی کے نام سے اور کیا علم طب اور تشریح کے
    بہانہ سے اور کیا علم ہیئت کے پردہ میں انواع اقسام کے دھوکے لوگوں کو دے رہے ہیں اور ٹھٹھے اور ہنسی اور تحقیر کو انتہا تک پہنچا دیا ہے۔ پھر اگر ہمارے معزز بھائیوں کی طرف سے یہی تدبیر
    ہے کہ چپ رہو اور سنے جاؤ تو یہ خاموشی مخالفوں کی یک طرفہ ڈگری کا موجب ہوگی اور نعوذ باللہ ہماری خاموشی ثابت کر دؔ ے گی کہ ہریک الزام ان کا سچا ہے اور اگر ہم الزامی جواب دیں
    چنانچہ کئی سال سے دئیے جاتے ہیں تو کوئی ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اور ہمارا وقت برباد جاتا ہے اور بار بار وہی باتیں اور وہی بہتان ہتک آمیز الفاظ کے ساتھ سناتے ہیں جو لوگ حیا اور شرم کو
    چھوڑ دیں ان کا منہ بجز قانون کے اور کون بند کرے۔ اور ہم اپنے بھائیوں کے صوابدید سے کل مناظرات اور مباحثات اور تحریر اور تقریر سے دست بردار ہو سکتے ہیں اور چپ رہ سکتے ہیں مگر کیا
    ہمارے معزز بھائی ذمہ دار ہو سکتے ہیں کہ مخالفانہ حملہ کرنے سے ہندوستان کے تمام پادریوں اور آریوں اور برہموؤں کو بھی چپ کرا دیں گے اور اگر نہیں کرا سکتے اور ان کی گالیوں اور سب و
    شتم کی کوئی اور تدبیر ان کے ہاتھ میں نہیں تو پھر یہ بات کیوں حرام ہے کہ ہم اپنی محسن گورنمنٹ سے اس بارہ میں مدد لیں اور ان آئندہ خطرات سے اپنی قوم اور نیز دوسری قوموں کو بھی بچا لیں
    جو ایسے بے قیدی کے مناظرات میں ضرور ی الوجود ہیں۔
    سو بھائیو یہ تدبیر عمدہ نہیں ہے کہ ہر روز ہم گالیاں سنیں اور روا رکھیں کہ ہندوؤں کے لڑکے بازاروں میں بیٹھ کر اور عیسائیوں کی
    جماعتیں ہریک کوچہ گلی میں ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کو گندی گالیاں نکالیں اور آئے دن ُ پر توہین کتابیں شائع کریں۔ بلکہ اس وقت ضروری تدبیر یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا منہ بند کر نے کے
    لئے سرکاری قانون سے مدد لیں۔ اور اس درخواست کے موافق جو گورنمنٹ کی توجہ کے لئے علیحدہ لکھی گئی ہے اس مضمون کا گورنمنٹ عالیہ
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 101
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 101
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/101/mode/1up
    سے قانون پاس کراویں کہ آئندہ مناظرات و مجادلات میں بغرض رفع فتنہ و فساد عام آزادی اور بے قیدی کو محدود کر دیا
    جاوے اور ہریک قوم کے لوگ اعتراض اور نکتہ چینی کے وقت ہمیشہ دو باتوں کے پابند رہیں۔
    )۱( یہ کہ ہریک فریق جو کسی دوسرے فریق پر کوئی اعتراض کرے تو صرف اس صورت میں
    اعتراض کرنے کے وقت نیک نیت سمجھا جائے کہ جب اعتراض میں وہ باتیں نہ پائی جائیں جو خود اس کے مسلم عقیدہ میں پائی جاتی ہیں یعنی ایسا اعتراض نہ ہو جو وہ اس کے عقیدہ پر بھی وارد ہوتا
    ہو اور وہ بھی اس سے ایسا ملزم ہو سکتا ہو جیسا کہ اس کا مخالف اور اگر کوئی اس قاعدہ سے تجاوز کرے اور وہ تجاوز ثابت ہو جاوے تو بغیر حاجت کسی دوسری تحقیقات کے یہ سمجھا جاوے کہ
    اس نے محض بدنیتی سے ایک مذہبی امر میں اپنے مخالف کا دل دکھانے کے لئے یہ حرکت کی۔
    )۲( یہ کہ ہریک معترض ایسے اعتراض کرنے کا ہرگز مجاز نہ ہو کہ جو ان کتب مشتہرہ کے
    مخالف ہو۔ جن کو کسی فریق نے حصر کے طوؔ ر پر اپنی مسلّمہ کتابیں قرار دے کر ان کی نسبت اشتہار شائع کرایا ہے اور اگر کوئی شخص ایسا کرے تو قانوناً یہ قرار دیا جاوے کہ اس نے ایک ایسا
    امر کیا جو نیک نیتی کے برخلاف ہے اور جو شخص ان دونوں تجاوزوں میں سے کوئی ایک تجاوز کر کے یا دونوں کر کے کسی قسم کی صریح ہجو یا اشارہ یا کنایہ سے کسی فریق کا دل دکھاوے تو وہ
    دفعہ ۲۹۸ تعزیرات کا مجرم قرار دے کر اس سزا کا مستوجب سمجھا جائے جو قانون کی حد تک ہے۔
    یہ قانون ہے جس کا پاس کرانا ضروری ہے۔ سو اے بزرگو اور دین اسلام کے غمخوارو برائے
    خدا اس تحریر پر غور کر کے اس درخواست کو اپنے دستخطوں سے مزین کرو جو اس قانون کے پاس کرنے کے لئے لکھی گئی ہے تا فساد انگیز جھگڑے کم ہو جائیں اور گورنمنٹ کو آرام ملے۔ اور
    ملک میں صلح کاری اور امن پیدا ہو اور ملک کے باشندوں کے کینے ترقی کرنے سے روکے جائیں بھائیو اس قانون کے پاس ہونے میں بہت ہی برکتیں ہیں اور سچے دین کو اس سے بہت ہی مدد ملتی ہے
    اور مفسدوں اور افترا پردازوں کے منہ بند ہو جاتے ہیں۔ گورنمنٹ کے کسی منشاء کے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 102
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 102
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/102/mode/1up
    مخالف یہ کارروائی نہیں بلکہ ہماری دانا گورنمنٹ خود ایسی باتوں کو ہمیشہ سوچتی ہے جس سے اس ملک کے فتنے اور فساد
    کم ہوں اور لوگ ایک دل ہوکر گورنمنٹ کی خدمت میں مشغول رہیں اور نیز یہ وہ مبارک طریق ہے جن سے آئندہ بے جا حملہ کرنے والے رک جائیں گے اور ہریک جاہل متعصب مناظرہ اور مجادلہ کے
    لئے ُ جرأت نہیں کر سکے گا اور یہ امر تمام ان لوگوں کے لئے مفید ہے جو یاوہ لوگوں کا کسی تدبیر سے منہ بند کرنا چاہتے ہیں۔ اور اگر کسی صاحب نے ایسے مبارک محضر پر دستخط نہ کئے جس
    سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی عزت مفتری لوگوں کے افتراؤں سے بچ جاتی ہے اور اسلام بہت سے کمینہ اور سراسر دروغ حملوں سے امن میں آجاتا ہے تو اس کا اسلام نہایت بودا اور
    تاریکی میں پڑا ہوا ثابت ہوگا اور ہم عزم بالجزم رکھتے ہیں کہ جیسا کہ اس موقع پر ہم دینی غم خواروں کا باعزت نام مخلصانہ دعائے خیر کے ساتھ نہایت شوق سے شائع کریں گے تا ان کی مردی اور
    سعادت عامہ خلائق پر ظاہر ہو ایسا ہی ہم ایک ُ پر درد تقریر کے ساتھ ان بخیل اور پست فطرت لوگوں کے نام بھی اپنے رسالہ میں شائع کر دیں گے جنہوں نے ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفیٰ خاتم
    الانبیاء فخر الاصفیاء کی حمایت عزت کے لئے کچھ بھی غم خواری اور حمیت ظاہر نہ کی۔ بھائیو کیا یہ مناسب ہے کہ آپ لوگ تو عزت کی کرسیوں پر بیٹھیں اور بڑے بڑے القاب پائیں اور ہمارے
    پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو ہریک طرف سے گالیاں دی جائیں اور تحریر اور تقریر میں سراسر افتراء سے نہایت بے عزتی اور توہین کی جائے اور آپ لوگ ایک ادنیٰ تدبیر کرنے سے بھی
    دریغ کریں۔ نہیں ہرگز نہیں۔ شریف اور نجیب لوگ ہرگز دریغ نہیں کریں گے اور جو خبیث النفس دریغ کرے گا وہ مسلمان ہی نہیں۔
    مبادا دل آن فرو مایہ شاد کہ از بہر دنیا د ہددیں بباد
    راقم خاکسار
    خادم دین مصطفی غلام احمد قادیانی
    ۲۲ ستمبر ۱۸۹۵ء
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 103
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 103
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/103/mode/1up
    یہؔ وہ درخواست ہے جو بمراد منظوری گورنمنٹ میں بعد تکمیل دستخطوں کے بھیجی جائے گی
    درخواست
    یہ
    درخواست مسلمانان برٹش انڈیا کی طرف سے جن کے نام ذیل میں درج ہیں بحضور جناب گورنر جنرل ہند دام اقبالہ اس غرض سے بھیجی گئی ہے کہ مذہبی مباحثات اور مناظرات کو ان ناجائز جھگڑوں
    سے بچانے کے لئے جو طرح طرح کے فتنوں کے قریب پہنچ گئے ہیں اور خطرناک حالت پیدا کرتے جاتے ہیں اور ایک وسیع بے قیدی ان میں طوفان کی طرح نمودار ہوگئی ہے دو۲ مندرجہ ذیل شرطوں
    سے مشروط فرما دیا جاوے اور اسی طرح اس وسعت اور بے قیدی کو روک کر ان خرابیوں سے رعایا کو بچایا جاوے جو دن بدن ایک مہیب صورت پیدا کرتی جاتی ہیں جن کا ضروری نتیجہ قوموں میں
    سخت دشمنی اور خطرناک مقدمات ہیں۔ ان دو شرطوں میں سے پہلی شرط یہ ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام وہ فرقے جو ایک دوسرے سے مذہب اور عقیدہ میں اختلاف رکھتے ہیں اپنے فریق مخالف پر کوئی
    ایسا اعتراض نہ کریں جو خود اپنے پر وارد ہوتا ہو یعنی اگر ایک فریق دوسرے فریق پر مذہبی نکتہ چینی کے طور پر کوئی ایسا اعتراض کرنا چاہے جس کا ضروری نتیجہ اس مذہب کے پیشوا یا کتاب
    کی کسر شان ہو جس کو اس فریق کے لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے مانتے ہوں تو اس کو اس امر کے بارے میں قانونی ممانعت ہو جائے کہ ایسا اعتراض اپنے فریق مخالف پر اس صورت میں ہرگز نہ
    کرے جبکہ خود اس کی کتاب یا اس کے پیشوا پر وہی اعتراض ہو سکتا ہو۔ دوسری شرط یہ ہے کہ ایسے اعتراض سے بھی ممانعت فرما دی جائے جو ان کتابوں کی بناء پر نہ ہو جن کو کسی فریق نے
    اپنی مسلم اور مقبول کتابیں ٹھہرا کر ان کی ایک چھپی ہوئی فہرست اپنے ایک کھلے کھلے اعلان کے ساتھ شائع کرا دی ہو اور صاف اشتہار دیدیا ہو کہ یہی وہ کتابیں ہیں جن پر میرا عقیدہ ہے اور جو
    میری مذہبی کتابیں ہیں سو ہم تمام درخواست کنندوں کی التماس یہ ہے کہ ان دونوں شرطوں کے بارے میں ایک قانون پاس ہو کر اس کی خلاف ورزی کو ایک مجرمانہ حرکت قرار دیا جاوے اور ایسے تمام
    مجرم دفعہ ۲۹۸ تعزیرات ہند یا جس دفعہ کی رو سے سرکار مناسب سمجھے سزایاب ہوتے رہیں۔ اور جن ضرورتوں کی بناء پر ہم رعایا سرکار انگریزی کی اس درخواست کے لئے مجبور ہوئے ہیں وہ
    بتفصیل ذیل ہیں۔
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 104
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 104
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/104/mode/1up
    اوّلؔ یہ کہ ان دنوں میں مذہبی مباحثوں کے متعلق سلسلہ تقریروں اور تحریروں کا اس قدر ترقی پذیر ہوگیا ہے اور ساتھ ہی
    اس کے اس قدر سخت بدزبانیوں نے ترقی کی ہے کہ دن بدن باہمی کینے بڑھتے جاتے ہیں اور ایک زور کے ساتھ فحش گوئی اور ٹھٹھے اور ہنسی کا دریا بہہ رہا ہے اور چونکہ اہل اسلام اپنے برگزیدہ
    نبی اور اس مقدس کتاب کے لئے جو اس پاک نبی کی معرفت ان کو ملی نہایت غیرت مند ہیں لہٰذا جو کچھ دوسری قومیں طرح طرح کے مفتریانہ الفاظ اور رنگارنگ کی ُ پرخیانت تحریر اور تقریر سے ان
    کے نبی اور ان کی آسمانی کتاب کی توہین سے ان کے دل دُکھا رہے ہیں یہ ایک ایسا زخم ان کے دلوں پر ہے کہ شاید ان کیلئے اس تکلیف کے برابر دنیا میں اور کوئی بھی تکلیف نہ ہو اور اسلامی اصول
    ایسے مہذبانہ ہیں کہ یاوہ گوئی کے مقابل پر مسلمانوں کو یاوہ گوئی سے روکتے ہیں مثلاً ایک معترض جب ایک بے جا الزام مسلمانوں کے نبی علیہ السلام پر کرتا ہے اور ٹھٹھے اور ہنسی اور ایسے
    الفاظ سے پیش آتا ہے جو بسا اوقات گالیوں کی حد تک پہنچ جاتے ہیں تو اہل اسلام اس کے مقابل پر اس کے پیغمبر اور مقتدا کو کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ اگر وہ پیغمبر اسرائیلی نبیوں میں سے ہے تو
    ہریک مسلمان اُس نبی سے ایسا ہی پیار کرتا ہے جیسا کہ اس کا فریق مخالف وجہ یہ کہ مسلمان تمام اسرائیلی نبیوں پر ایمان رکھتے ہیں اور دوسری قوموں کی نسبت بھی وہ جلدی نہیں کرتے کیونکہ
    انہیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ کوئی ایسا آباد ملک نہیں جس میں کوئی مصلح نہیں گذرا اس لئے کہ گذشتہ نبیوں کی نسبت خاص کر اگر وہ اسرائیلی ہوں ایک مسلمان ہرگز بدزبانی نہیں کر سکتا بلکہ
    اسرائیلی نبیوں پر تو وہ ایسا ہی ایمان رکھتا ہے جیسا کہ نبی آخر الزمان کی نبوت پر۔ تو اس صورت میں وہ گالی کا گالی کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ہاں جب بہت دکھ اٹھاتا ہے تو قانون کی رو سے
    چارہ جوئی کرنا چاہتا ہے مگر قانونی تدارک بدنیتی کے ثابت کرنے پر موقوف ہے جس کا ثابت کرنا موجودہ قانون کی رو سے بہت مشکل امر ہے لہٰذا ایسا مستغیث اکثر ناکام رہتا ہے اور مخالف فتح یاب
    کو اور بھی توہین اور تحقیر کا موقعہ ملتا ہے اس لئے یہ بات بالکل سچی ہے کہ جس قدر تقریروں اور تحریروں کی رو سے مذہب اسلام کی توہین ہوتی ہے ابھی تک اس کا کوئی کافی تدارک قانون میں
    موجود نہیں۔ اور دفعہ ۲۹۸ حق الامر کے ثابت کرنے کے لئے کوئی ایسا معیار اپنے ساتھ نہیں رکھتی جس سے صفائی کے ساتھ نیک نیتی اور بد نیتی میں تمیز ہو جائے یہیؔ سبب ہے کہ نیک نیتی
    کے
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 105
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 105
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/105/mode/1up
    بہانہ سے ایسی دلآزار کتابوں کی کروڑوں تک نوبت پہنچ گئی ہے لہٰذا ان شرائط کا ہونا ضروری ہے جو واقعی حقیقت کے
    کھلنے کے لئے بطور موید ہوں اور صحت نیت اور عدم صحت کے پرکھنے کے لئے بطور معیار کے ہو سکیں سو وہ معیار وہ دونو شرطیں ہیں جو اوپر گذارش کر دی گئی ہیں۔ کیونکہ کچھ شک نہیں کہ
    جو شخص کوئی ایسا اعتراض کسی فریق پر کرتا ہے جو وہی اعتراض اس پر بھی اس کی الہامی کتابوں کی رو سے ہوتا ہے یا ایسا اعتراض کرتا ہے جو ان کتابوں میں نہیں پایا جاتا جن کو فریق
    معترض علیہ نے اپنی مسلّمہ مقبولہ کتابیں قرار دے کر ان کے بارے میں اپنے مذہبی مخالفوں کو بذریعہ کسی چھپے ہوئے اشتہار کے مطلع کر دیا ہے تو بلاشبہ ثابت ہو جاتا ہے کہ شخص معترض نے
    صحت نیت کو چھوڑ دیا ہے تو اس صورت میں ایسے مکار اور فریبی لوگ جن حیلوں اور تاویلوں سے اپنی بدنیتی کو چھپانا چاہتے ہیں وہ تمام حیلے نکمے ہو جاتے ہیں اور بڑی سہولت سے حکام پر
    اصل حقیقت کھل جاتی ہے اور اگرچہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یاوہ گو لوگوں کی زبانیں روکنے کے لئے یہ ایک کامل علاج ہے مگر اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ بہت کچھ یاوہ گوئیوں اور ناحق کے
    الزاموں کا اس سے علاج ہو جائے گا۔
    دوسری ضرورت اس قانون کے پاس ہونے کے لئے یہ ہے کہ اس بے قیدی سے ملک کی اخلاقی حالت روز بروز بگڑتی جاتی ہے ایک شخص سچی بات کو سن
    کر پھر اس فکر میں پڑ جاتا ہے کہ کسی طرح جھوٹ اور افتراء سے مدد لے کر اس سچ کو پوشیدہ کر دیوے اور فریق ثانی کو خواہ نخواہ ذلت پہنچاوے سو ملک کو تہذیب اور راست روی میں ترقی
    دینے کے لئے اور بہتان طرازی کی عادت سے روکنے کے لئے یہ ایک ایسی عمدہ تدبیر ہے جس سے بہت جلد دلوں میں سچی پرہیزگاری پیدا ہو جائے گی۔
    تیسری ضرورت اس قانون کے پاس
    کرنے کی یہ ہے کہ اس بے قیدی سے ہماری محسن گورنمنٹ کے قانون پر عقل اور کانشنس کا اعتراض ہے چونکہ یہ دانا گورنمنٹ ہر یک نیک کام میں اول درجہ پر ہے تو کیوں اس قدر الزام اپنے ذمہ
    رکھے کہ کسی کو یہ بات کہنے کا موقعہ ملے کہ مذہبی مباحثات میں اس کے قانون میں احسن انتظام نہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی بے قیدی سے صلح کاری اور باہمی محبت دن بدن کم ہوتی جاتی ہے اور
    ایک فریق دوسرے فریق کی نسبت ایسا اشتعال رکھتا ہے کہ اگر ممکن ہو
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 106
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 106
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/106/mode/1up
    تو اؔ س کو نابود کر دیوے اور اس نااتفاقی کی جڑ مذہبی مباحثات کی بے اعتدالی ہے گورنمنٹ اپنی رعایا کے لئے بطور معلّم
    کے ہے۔ پھر اگر رعایا ایک دوسرے سے درندہ کا حکم رکھتی ہو تو گورنمنٹ کا فرض ہے کہ قانونی حکمت عملی سے اس درندگی کو دور کر دے۔
    چوتھی یہ کہ اہل اسلام گورنمنٹ کی وہ وفادار رعایا
    ہے جن کی دلی خیر خواہی روز بروز ترقی پر ہے۔ اور اپنے جان و مال سے گورنمنٹ کی اطاعت کے لئے حاضر ہیں اور اس کی مہربانیوں پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اور کوئی بات خلاف مرضی
    گورنمنٹ کرنا نہایت بے جا خیال کرتے ہیں اور دل سے گورنمنٹ کے مطیع ہیں پس اس صورت میں ان کا حق بھی ہے کہ ان کی دردناک فریاد کی طرف گورنمنٹ عالیہ توجہ کرے۔ پھر یہ درخواست
    بھی کوئی ایسی درخواست نہیں۔ جس کا صرف مسلمانوں کو فائدہ پہنچتا ہے اور دوسروں کو نہیں بلکہ ہریک قوم اس فائدہ میں شریک ہے اور یہ کام ایسا ہے جس سے ملک میں صلح کاری اور امن پیدا ہوتا
    ہے اور مقدمات کم ہوتے ہیں اور بدنیت لوگوں کا منہ بند ہوتا ہے اور جیسا کہ بیان کیاگیا ہے۔ اس کا اثر مسلمانوں سے خاص نہیں ہریک قوم پر اس کا برابر اثر ہے۔ آخر ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ
    ہماری اس گورنمنٹ کو ہمیشہ کے اقبال کے ساتھ ہمارے سروں پر خوش و خرم رکھے اور ہمیں سچی شکرگذاری کی توفیق دے اور ہماری محسن گورنمنٹ کو اس مخلصانہ اور عاجزانہ درخواست کی
    طرف توجہ دلا وے کہ ہریک توفیق اسی کے ارادہ اور حکم سے ہے۔ آمین
    الملتمسین
    اہل اسلام رعایا گورنمنٹ جن کے نام علیحدہ نقشوں
    میں درج ہیں۔ مورخہ ۲۲ ستمبر ۱۸۹۵ء
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 107
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 107
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/107/mode/1up
    باعث تالیف آریہ دھرم و ست بچن
    یہ بات ہریک کو معلوم ہے کہ ہم برسوں تک آریوں کے مقابل پر بالکل خاموش رہے قریباً
    چود۱۴اں برس کا عرصہ ہوگیا کہ جب ہم نے پنڈت دیانند اور اندرمن اور کنہیا لال کی سخت بدزبانی کو دیکھ کر اور انکی گندی کتابوں کو پڑھ کر کچھ ذکر ہندوؤں کے وید کا براھین احمدیہ میں کیا تھا
    مگر ہم نے اس کتاب میں بجز واقعی امرکے جو ویدوں کی تعلیم سے معلوم ہوتاتھا ایک ذرا زیادتی نہ کی لیکن دیانند نے اپنی ستیارتھ پرکاش میں اور اندرمن نے اپنی کتابوں میں اور کنہیا لال نے اپنی
    تالیفات میں جس قدر بدزبانی اور اسلام کی توہین کی ہے اس کا اندازہ ان لوگوں کو خوب معلوم ہے جنہوں نے یہ کتابیں پڑھی ہوں گی خاص کر دیانند نے ستیارتھ پرکاش میں وہ گالیاں دیں اور سخت زبانی
    کی جن کا مرتکب صرف ایسا آدمی ہوسکتا ہے جس کو نہ خداتعالیٰ کا خوف ہو نہ عقل ہو نہ شرم ہو نہ فکر ہو نہ سوچ ہو غرض ہم نے ان سفلہ مخالفوں کے افتراؤں کے بعد صرف چند ورق براہین میں
    آریوں کے خیالات کے بارہ میں لکھے اور بعدازاں ہم باوجودیکہ لیکھرام وغیرہ نے اپنی ناپاک طبیعت سے بہت سا گند ظاہر کیا اور بہت سی توہین مذہب کی بالکل خاموش رہے ہاں سرمہ چشم آریہ اور
    شحنہ حق جن کی تالیف پر نوبرس گذر گئے آریوں کی ہی تحریک اور سوالات کے جواب میں لکھے گئے چنانچہ سرمہ چشم آریہ کا اصل موجب منشی مرلیدھر آریہ تھے جنہوں نے بمقام ہوشیارپور
    کمال اصرار سے مباحثہ کی درخواست کی اور سرمہ چشم آریہ درحقیقت اس سوال جواب کا مجموعہ ہے جو مابین اس عاجز اور منشی مرلیدھر کے مارچ ۱۸۸۶ء میں ہوا۔ پھر ان کتابوں کی تالیف
    کے بعد آج تک ہم خاموش رہے اور چوداں۱۴ برس سے آج تک یا اگر ہوشیارپور کے مباحثہ سے حساب کرو تو نو۹ برس سے آج تک ہم بالکل چپ رہے اور اس عرصہ میں طرح طرح کے گندے رسالے
    آریوں کی طرف سے نکلے اور گالیوں سے بھری ہوئی کتابیں اور اخباریں انہوں نے شائع کیں مگر ہم نے بجز اعراض اور خاموشی کے اور کچھ بھی کارروائی نہیں کی پھر جب آریوں کا غلّو حد سے
    زیادہ بڑھ گیا اور ان کی بے ادبیاں انتہا تک پہنچ گئیں تو اب یہ رسالہ آریہ دھرم لکھا گیا ہمارے بعض اندھے مولوی جو ہریک بات میں ہم پر یہ الزام لگاتے ہیں اور آریوں اور عیسائیوں کو بالکل معذور
    سمجھ کر ہریک سخت زبانی ہماری طرف منسوب کرتے ہیں انکو کیا کہیں اور انکی نسبت کیا لکھیں وہ تو بخل اور حسد کی زہر سے مرگئے اور ہمارے بغض سے اللہ اور رسول ؐ کے بھی دشمن
    ہوگئے۔ اے سیہ دل لوگو! تمہیں صریح جھوٹ بولنا اور دن کو رات کہنا کس نے سکھایا گو یہ سچ ہے کہ ہم نے براھین میں ویدوں کا کچھ ذکر کیا مگر اس وقت ذکر کیا کہ جب دیانند ہمارے نبی صلی
    اللہ علیہ و سلم کو اپنی ستیارتھ پرکاش میں صدہا گالیاں دے چکا اور اسلام کی سخت توہین
    Ruhani Khazain Volume 10. Page: 108
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۰- آریہ دھرم: صفحہ 108
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=10#page/108/mode/1up
    کرچکا اور ہندو بچے ہریک گلی کوچہ میں اسلام کے منہ پر تھوکنے لگے پس کیا اس وقت واجب نہ تھا کہ ہم بھی کچھ ویدوں
    کی حقیقت کھولیں اور آیۂ کریمہ 3 ۱؂ پر عمل کر کے اپنے مولیٰ کو راضی کریں اور پھر اس وقت سے آج تک ہم خاموش رہے لیکن آریوں کی طرف سے اس قدر گندی کتابیں اور گندی اخباریں توہین
    اسلام کے بارے میں اس وقت تک شائع ہوئیں کہ اگر ان کو جمع کریں تو ایک انبار لگتا ہے یہ کیسا خبث باطن ہے کہ مسلمان کہلا کر پھر ظلم کے طور پر ان لوگوں کو ہی حق بجانب سمجھتے ہیں جو
    سالہا سال سے ناحق شرارت اور افتراء کے طور پر اسلام کی توہین کر رہے ہیں۔ اے مولویت کے نام کو داغ لگانے والو!!! ذرا سوچو کہ قرآن میں کیا حکم ہے کیا یہ روا ہے کہ ہم اسلام کی توہین
    کو چپکے سنے جائیں۔ کیا یہ ایمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو گالیاں نکالی جائیں اور ہم خاموش رہیں ہم نے برسوں تک خاموش رہ کر یہی دیکھا ہم دکھ دئیے گئے اور صبر کرتے رہے
    مگر پھر بھی ہمارے بد گمان دشمن باز نہ آئے اگر تمہیں شک ہے اگر تمہارا یہ خیال ہے کہ ہم نے ہی عیسائیوں اور آریوں کو توہین مذہب کے لئے برانگیختہ کیا ہے ورنہ یہ بے چارے نہایت سلیم
    المزاج اور اسلام کی نسبت خاموش تھے بے ادبی اور توہین نہیں کرتے تھے اور نہ گالیاں نکالتے تھے تو آؤ ایک جلسہ کرو پھر اگر یہ ثابت ہو کہ زیادتی ہماری طرف سے ہے اور ابتداسے ہم ہی محرک
    ہوئے اور ہم نے ہی ان لوگوں کے بزرگوں کو ابتداءً گالیاں دیں تو ہم ہر ایک سزا کے سزاوار ہیں لیکن اگر اسلام کے دشمنوں کا ہی ظلم ثابت ہو تو ایسے خبیث طبع مولویوں کو کسی قدر سزا دینا ضروری
    ہے جو ہماری عداوت کیلئے اسلام کو درندوں کے آگے پھینکتے ہیں ہریک امر کی حقیقت تحقیقات کے بعد کھلتی ہے اگر سچے ہیں تو ایک جلسہ کریں پھر اگر ہم کاذب نکلیں تو بیشک ہندوؤں اور عیسائیوں
    کی تائید میں ہماری کتابیں جلا دیں اور ہرگز ایسا جلسہ نہیں کریں گے۔ کیونکہ ان *** لوگوں کے اب دل مجذوم ہوگئے ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ محض افترا کے طور پر بخل کے تقاضا سے ان کے منہ
    سے یہ باتیں نکل رہی ہیں لیکن باوا نانک صاحب کے بارہ میں جو ہم نے رسالہ ست بچن لکھا ہے اس میں ہم نے باوا صاحب کی نسبت کوئی توہین کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ ہمارا یہ رسالہ ان کی
    تعریف اور توصیف سے بھرا ہوا ہے اور ہم ایسے نیک منش اور قابل تعریف انسان کی مذمت کرنا سراسر خبث اور ناپاکی کا طریق جانتے ہیں اور ہماری رائے ان کی نسبت یہی ہے کہ وہ سچے دل سے
    خدا تعالیٰ کی راہ میں فدا تھے اور ان لوگوں میں سے تھے جن پر خدا تعالیٰ کی برکات نازل ہوتی ہیں۔
    والسلام علٰی من اتبع الھدی
    الراقم خاکسار
    غلام احمد
     
    Last edited: ‏جنوری 22, 2018

اس صفحے کو مشتہر کریں