1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

روایات اصحاب احمد ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ یونی کوڈ۔ جلد6 تا 15

'حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 23, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    روایات اصحاب احمد ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ یونی کوڈ۔ جلد7


    روایت حضرت ڈاکٹر عطر دین صاحب ؓ

    خاکسار نے وٹرنری کالج میں فسٹ ایر کا امتحان دینا تھا۔ حضورؑ سے دعا کے لئے عرض کیا۔
    حضور نے فرمایا۔ تین دفعہ ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الآخرۃ حسنۃ پڑھ لیں۔ پھر اندر جا کر امتحان دے دینا۔ چنانچہ ایسا ہی کیا۔ اور خاکسار پاس ہو گیا۔
    (رجسٹر روایات نمبر7 صفحہ 246 )
    روایت حضرت حکیم دین محمد صاحبؓ
    1902 ء میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام مراز غلام احمد صاحب قادیانی مرحوم و مغفور غالباً مئی 1902 ء میں درد گردہ سے بیمار تھے۔ اور اس تکلیف کے باعث متواتر کئی روز تک غالباً دو ہفتہ تک گھر سے باہر تشریف نہیں لا سکے تھے۔ ان ایام میں ایک روز آنجناب نے اندر سے خدام کو پیغام بھیجا کہ آپ کی شفا کے لئے دعا کی جاوے۔ اس غرض کے ماتحت کل خدام حاضرہ قادیان بمعہ طالب علمان مدرسہ تعلیم الاسلام و سٹاف اور جملہ مہمانان واردہ مہمان خانہ مسجد اقصیٰ میںوضوکر کے گئے۔ اور حضور کی شفایابی کے لئے ہر ایک صاحب نے نوافل میں لمبی لمبی دعا کی۔ بعض احباب اس قدر گریہ وزاری اور آہ و بکا میں مشغول تھے کہ مسجد اقصیٰ میں ایک کہرام مچا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ بندہ بھی اس دعا میں شریک ہوا۔ ایک آدھ روز بعد اللہ تعالیٰ نے حضور کو شفا بخشی۔
    (رجسٹر روایات نمبر13 صفحہ 21`20 )


    روایت حضرت خلیفہ نور الدین صاحب ؓ سکنہ جموں
    حضرت امیر المومنین کی دعا سے شفا
    دسمبر1937 ء میں حضرت خلیفہ نور الدین صاحب کو پھر کاربنکل کا حملہ ہوگیا۔ دو قابل ڈاکٹروں برکت اللہ ایم ۔ بی( لندن) اور بلونت سنگھ صاحب ایسٹ آرسی ایس ای کے زیر علاج تھے۔ دونوں نے مرض کی رفتار کو دیکھ کر اپریشن کا متفقہ مشورہ دیا۔ اور کہا کہ اب سوائے اپریشن کے اور کوئی چارہ کار نہیں۔ مگر خلیفہ صاحب پہلے تلخ تجربہ کی بنا پر اپریشن کے لئے آمادہ نہ تھے۔ آخر حضرت خلیفہ المسیح ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی خدمت میں بیماری کی اطلاع بذریعہ تار دی گئی۔ اور دعا کی درخواست کی گئی۔ حضور نے ارشاد فرمایا۔ کہ اپریشن نہ کروائیں۔ اور زخم کو گلیسرین وغیرہ نئے طریقہ علاج سے صاف کرواتے رہیں۔ انشاء اللہ آرام ہو گا۔ چنانچہ حضور کے ارشاد پر عمل کیا گیا۔ اور زخم کو گلیسرین اور سلفر وغیرہ سے صاف کیا جاتا رہا ۔ جس سے خلیفہ صاحب بکلی صحت یاب ہو گئے۔ اور دونوں ڈاکٹروں کی حیرانگی کی کوئی حد نہ رہی ۔ یہ محض حضرت امیر المومنین (خلیفۃ المسیح الثانیؓ ) کی دعا کا اثر تھا۔
    (رجسٹر روایات نمبر12 صفحہ 87`86 )

    روایت حضرت میاں نظام الدین صاحبؓ ضلع لائلپور
    مجھے ایک میرا احمدی دوست مسمّٰی مستری جھنڈا (مستری غلام نبی لوہار قادیانی کا والد) جو یہاں چک نمبر50 ج ب میں رہا کرتا تھا‘ ملا۔ اور کہا کہ حضرت مسیح موعود اور زمانہ کا امام مہدی آ گیا۔ اور وہ مرزا صاحب قادیانی ہیں۔ میں نے نہ مانا بلکہ سخت مخالفت کی۔ گھر آ کر میں نے سوچا کہ شائد مرزا صاحب سچے ہی ہوں۔ دنیا میں جو کوئی نبی ولی آیا کرتا ہے۔ لوگ اس کی مخالفت تو کیا ہی کرتے ہیں۔ میرے دل میں خوف پیدا ہوا۔ میں نے خدا سے دعا میں کہا کہ اے خدا تو جانتا ہے کہ میں بالکل بے علم۔ یہاں نہ کوئی عالم نہ مولوی۔ میں کہاں جائوں۔ اور کس سے دریافت کروں کہ مرزا صاحب سچے ہیں یا نہیں۔ اے میرے علیم خدا تو ہی بتا کہ
    مرزا صاحب سچے ہیں۔ اگر سچے ہیں تو ماننے کی توفیق دے۔ ورنہ اس سے بچا لے۔ بس دعا کرنی شروع کر دی کہ مرزا صاحب مجھے خواب میں ضرور دکھا دے۔ پہلی اور دوسری رات مجھے کچھ نہ دکھایا گیا۔ تیسری رات ایک آدمی خواب میں نظر آیا۔ اور کہا۔ اٹھ میرے بازو کو پکڑ کر ایک طرف کو لے گیا۔ اور ایک ایسی جگہ پہنچا کہ گویا وہ کچی مسجد ہے۔ اس کے اردگرد چھوٹے تازہ پودوں کا باغ ابھی لگایا جا رہا ہے۔ کچھ آدمی بیٹھے ہوئے ہیں۔ اور درمیان میں کرسی پر ایک صاحب بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں وہاں جا کر اونچی آواز سے بولا۔ مگر میرے ساتھی نے روک دیا کہ یہاں کوئی اونچی آواز سے نہیں بول سکتا۔ بلکہ اونچی آواز سے کھانسنے بھی نہیں دیا جاتا۔ پھر انگلی سے اشارہ کر کے کہا کہ وہ مرزا صاحب کرسی پر بیٹھے ہیں۔ جنہوں نے دعویٰ کیا ہوا ہے۔ (دیکھنے کے متعلق میری دعا تھی سو دکھایا گیا) میں نے صبح اپنی بیوی سے کہا کہ مرزا صاحب واقعی مسیح موعود ہیں۔ میں نے ان کو مان لیا۔ تم بھی مان لو۔ وہ بھی مان گئی۔ پھر اپنے دوسرے کنبہ کو کہا۔ سب مان گئے۔ سوائے میرے بڑے لڑکے محمد عبد اللہ کے۔ جو تین سال کی سخت مخالفت کے بعد بیعت میں داخل ہوا۔ یہ واقعہ لیکھرام کی موت کے دنوں کا ہے۔ حضرت صاحب کو ان کی زندگی میں نہ دیکھ سکا۔ اور نہ ان کے ہاتھ پر بیعت کر سکا۔ پھر خلیفہ اول کے وقت قادیان پہنچا تو وہ خواب والی جگہ بعینہٖ دیکھی گئی۔ یعنی وہ کچی مسجد مسجد نور کی شکل میں اور اردگرد تازہ تازہ باغ کے بوٹے وغیرہ۔ میرا ایمان اور تازہ ہو گیا۔
    (رجسٹر روایات نمبر15 صفحہ 126`125 )

    روایات اصحاب احمد ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ یونی کوڈ۔ جلد9

    نوٹ: خاکسار عرض کرتا ہے کہ نمبر ۴ پر جو روایت میاں عبدالرحیم صاحب نے سنائی ہے وہ میں نے لاہور میں بابو غلام محمد صاحب کو سنائی۔ اس پر انہوں نے از راہ شفقت مندرجہ ذیل باتیں بیان کیں۔
    ۴۔ آدمیوں کی تعداد صحیح یاد نہیں۔ ہاں سولہ یکے تھے۔ مولوی محمد علی صاحب خواجہ کمال الدین صاحب، چوہدری شہاب الدین صاحب، سعدالرین بی۔ اے۔ ایل ایل بی وغیرہ تھے۔ حضور نے لیکچر کی صورت میں ہر ایک کے اعتراض کا جواب بیان کرنا شروع کیا تھا۔ چوہدری شہاب الدین نے کہا کہ یا تو یہ نبی اللہ ہے اور یا یہ جادوگر ہے میں تو بیعت کرتا ہوں۔ تم اپنی اپنی رائے بتائو۔ ۱۸۹۶ء کا واقعہ ہے۔ خواجہ کمال الدین صاحب پہلے بیعت کر چکے ہوئے تھے مگر ہمارے ساتھ بھی گئے ہم سارے ایک رات رہے تھے۔
    حضور نے چارپائیاں تقسیم کیں۔ میں نے مضبوط اور بڑی چارپائی لے لی مگر سر شہاب الدین نے میرا بسترہ اس سے اٹھا کر چارپائی اپنے قبضہ میں کر لی۔ حضرت صاحب کہیں سن رہے تھے۔ مجھے فرمایا آپ کی چارپائی؟ میں نے عرض کیا کہ حضور چوہدری شہاب الدین صاحب نے چھین لی ہے۔ فرمایا آئو میرے ساتھ اور چارپائی دیتا ہوں۔ حضرت صاحب اندر تشریف لے گئے۔ بڑی دیر ہو گئی۔ میں حیران ہوا اور خیال کیا کہ شاید بھول گئے ہیں۔ میں نے اندر جھانکا تو دیکھا کہ حضور کے ہاتھ میں چراغ ہے اور ایک شخص چارپائی بُن رہا ہے۔ میں نے کہاحضور دیا مجھے دے دیں۔ فرمایا اب تو ایک ہی پھیرا باقی ہے۔ یہ اخلاق دیکھ کر مجھ پر اتنا اثر ہوا کہ میرے آنسو نکل آئے اور رو کر چہرہ مبارک کی طرف دیکھ کر کہتا تھا کہ یہ جھوٹوں کا چہرہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اس سے پہلے جب کھانے پر بیٹھے تو میں حضور کے قریب بیٹھا۔ حضور اٹھائیں بٹیر اور فرمائیں کیوں نہیں کھاتے۔ گوشت میرے آگے رکھتے اور فرماتے یہ کھائو یہ گوشت ہے۔ جو چیز حضور میرے آگے رکھتے میرے ساتھی خصوصاً چوہدری شہاب الدین اٹھا لے جاتے مگر حضرت صاحب اور رکھ دیتے۔
    چوہدری شہاب الدین صاحب آج تک کہتے ہیں کہ میں نے جو ۹۶ء یا ۹۵ء میں حضور کو نبی کہا تھا۔ اس پر اب تک قائم ہوں مگر محمد علی نے انکار کر دیا ہے۔ چوہدری صاحب کہتے ہیں کہ نظام ہی میں داخل نہیں مگر اعتقاد رکھتا ہوں۔ اعتقاد اور چیز ہے مگر نظام میں داخل ہونا اور چیز ہے۔
    نوٹ:۔ چوہدری شہاب الدین صاحب اب پنجاب اسمبلی کے پریذیڈنٹ ہیں نظام جماعت میں داخل نہیں۔ چندہ وغیرہ بالکل نہیں دیتے۔ نماز بھی نہیں پڑھتے۔
    خاکسار
    عبدالقادر۔ جامع روایات صحابہ
    ۳۹۔۳۔۲۵







    میاں عبدالرحیم صاحب تابعی نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ بابو غلام محمد صاحب لاہور والوںنے صبح کی نماز کے بعد لاہور کی مسجد میں قرآن کریم کے ایک رکوع کا درس دینے کے بعد فرمایا کہ لاہور سے ہم چالیس نوجوانوں نے جو سارے تعلیم یافتہ تھے یہ ارادہ کیا کہ قادیان جا کر دیکھنا چاہئے کہ مرزا صاحب نے جو اتنا بڑا دعوی کیا ہے آیا اس میں کوئی حقیقت بھی ہے یا نہیں۔ خیر ہم بٹالہ پہنچے اورسولہ یکے کرایہ پر لئے۔ راستے میں ہم نے مشورہ کیا کہ ایک شخص تو سارے اعتراض نہیں کر سکتا ہر شخص الگ الگ اعتراض کرے۔ چنانچہ ہم نے الگ الگ اعتراض سوچ لئے۔ جب حضور سے ملے اور مصافحہ کر کے بیٹھ گئے۔ حضرت صاحب کھڑے ہو گئے اور ایک ایک اعتراض لے کر جواب دینا شروع کر دیا۔ جب ہم نے دیکھا کہ ہمارے سارے اعتراضات حل ہو گئے ہیں تو ہم نے ایک دوسرے کو ٹٹولا جس سے ہماری مراد یہ تھی کہ اب بتائو ۔تقریر سن کر جب ہم نکلے تو پانچ سات آدمیوں نے تو کہا کہ یہ یقینا جادوگر ہے۔ ہم نے پانچ چھ میل پر مشورہ کیا۔ اسے کیسے علم ہو گیا یہ ضرور جادوگر ہے۔ وہ تو چلے گئے مگر سر شہاب الدین ، مولوی محمد علی وغیرہ نے کہا یہ ضرور سچا ہے۔ سوائے قرآن کریم اور حدیث کے اور کچھ پیش نہیں کرتا یہ ضرور نبی ہے۔ خیر سب سے پہلے سر شہاب الدین نے بیعت کے لئے ہاتھ بڑھایا اور پھر باقیوں نے بھی بیعت کر لی۔
    ۵۔ میاں عبدالرحیم صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مولانا راجیکی صاحب کی روایت ہے۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے کس سے سنا۔ انہوں نے بیان فرمایا کہ حضرت صاحب کے زمانہ میں ایک احمدی ۱؎ قادیان آیا۔ اس کا ایک دوست تھا جو بڑا شرابی تھا وہ بھی ساتھ آیا۔ ان دنوں حضرت صاحب باغ میں فردکش تھے۔ حضرت مولانا نورالدین صاحب درس دیا کرتے تھے۔ اس احمدی نے مولوی صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور میرا ایک غیر احمدی ساتھی ہے بڑا شرابی ہے۔ آج درس میں شراب کی مذمت کریں۔ فرمایا بہت اچھا۔ خیر ہم جا کر درس میں بیٹھ گئے آپ نے شراب کی بڑی مذمت کی۔ وہ شخص درمیان سے اٹھ کر چلا گیا اور سوچا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہئے۔ باتیں مولوی صاحب نے بڑی اچھی کی ہیں۔ شراب کو چھوڑوں یا نہ چھوڑوں ۔ پھر کہنے لگا کہ میرے نفس نے مجھے کہا کہ یہ مولوی ہیں اور مولوی لوگ ہمیشہ ہی ایسے وعظ کیا کرتے ہیں۔ چلو شراب پی ہی لو۔ چنانچہ اس نے شراب پی لی۔ پھر وہ حضرت صاحب کی ملاقات کے لئے گئے۔ حضرت صاحب نے ان کو دیکھ کر تقریر فرمائی اور اس تقریر میں بیان کیا کہ ایک بادشاہ تھا جو مٹی بہت کھایا کرتا تھا جس سے وہ سخت بیمار ہو گیا اور کہنے لگا کہ میں مٹی کھایا کرتا تھا مگر مٹی مجھے کھا گئی ہے۔ شہر میں سوگ پڑ گیا لوگ بڑے پریشان ہو گئے۔ ایک درویش کسی راستے پر بیٹھا تھا اس نے کسی سے کہا کہ میں ایک منٹ میں بادشاہ کو مٹی کھانے سے روک سکتا ہوں۔ بادشاہ کو بھی خبر پہنچ گئی وہ درباریوں کو لے کر اس کے پاس پہنچے۔ درویش نے کہا کہ ابھی ہٹا دوں لوگوں کے سامنے یا الگ لے جا کر۔ بادشاہ نے کہا کہ ابھی ہٹا دو۔ اس نے درباریوں کو مخاطب کر کے بہت برا بھلا کہا اور کہا کہ نہ تمہاری اپنی عزتیں محفوظ، نہ تمہاری بیویوں، بہنوں کی محفوظ۔ آج اگر تم پر کوئی بادشاہ حملہ کر دے تو کیا یہ بادشاہ تمہارا اس کا مقابلہ کر سکے گا جو مٹی کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتا۔ بادشاہ ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ مہربانی فرما کر تقریر بند کریں اور میری بادشاہت تباہ نہ کریں۔ میں آئندہ مٹی ہرگز نہیں کھائوں گا۔ حضور کی یہ بات سن کر اس شرابی نے بھی کہا کہ میں اگر آئندہ شراب پی جائوں تو اپنے باپ کا تخم ہی نہیں۔
    ۶۔ میاں عبدالرحیم صاحب نے سید ناصر شاہ صاحب ؓ کی طرف منسوب کر کے ایک واقعہ بیان کیا یہ انہیں یاد نہیں انہوں نے کس سے سنا۔ واقعہ یہ ہے کہ سیدناصر شاہ صاحب نے بیان کیا کسی کے سامنے کہ وہ ایک لڑکی پر عاشق ہو گئے اور اس کے پیچھے ساری جائیداد ضائع کر دی۔ صرف چار سو روپیہ باقی بچا۔ کسی نے کہا کہ تو کیوں دوست ضائع کر رہا ہے۔ قادیان میں ایک مرزا صاحب ہیں۔ جن کی دعائیں بہت قبول ہوتی ہیں۔ وہاں جائو۔ وہ قادیان گئے اور چار سو روپیہ حضرت صاحب کے آگے رکھ دیا اور عرض کیاکہ حضور میں ایک لڑکی پر عاشق ہوں خدا کے لئے وہ مجھے دلا دیں۔ فرمایا بہت اچھا۔ آپ یہاں ٹھہریں ہم انتظام کریں گے ۔ خیر وہ ایک مہینہ وہاں رہے۔ اس وقت میں ان کی حالت میں اس قدر تغیر پیدا ہوا کہ زمین و آسمان بدل گئے۔ حضرت صاحب نے فرمایا کیوں شاہ صاحب لڑکی ملی ہے یا نہیں؟ عرض کیا کہ حضور کچھ نہ پوچھیں۔ میری تو حال ہی بدل گئی ہے۔ اب مجھے وہ لڑکی نہیں چاہئے۔ چنانچہ ان کی بعد کی زندگی بتاتی ہے کہ وہ حضور کے مرتے دم تک شیدائی رہے۔
    ۸۔ میاں بدرالدین صاحب نے میاں عبدالرحیم صاحب سے بیان کیا۔ انہوں نے خاکسار سے بیان کیا کہ میں حضرت صاحب کے گھر رہا کرتا تھا۔ ایک دفعہ ایک باورچی نے مجھے ایک برتن گھی کا دیا اور کہا کہ جا کر میرے گھر دے آئو۔ میں جا رہا تھا کہ راستے میں مولوی محمد علی صاحب مل گئے اور کہا کہ یہ گھی کہاں لے جا رہے ہوں؟ میں نے کہا فلاں باورچی نے دیا ہے اس کے گھر لے جا رہا ہوں۔ کہنے لگے ادھر ائو۔ مجھے حضرت صاحب کے گھر کی طرف لے گئے اور دروازہ کھٹکھٹانے لگے۔ میں نے کہا میں اندر رہتا ہوں۔ میں حضرت صاحب کو بلا لاتا ہوں۔ چنانچہ میں اندر گیا اور حضرت صاحب کو بلا لایا رستے میں بات بھی بتا دی۔ جب حضور باہر تشریف لائے تو مولوی صاحب سے فرمایا کیوں مولوی صاحب کیا بات ہے؟ مولوی صاحب نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔ فرمایا غریب باورچی ہے۔ اسے ضرورت پیش آئی ہو گی۔ اب وہ بیچارہ اتنی ضرورت کہاں سے پوری کرے۔ پھر مجھے فرمانے لگے ’’ کاکا‘‘ گھی ان کے گھر لے جائو اور پھر بھی کبھی اسے کوئی ضرورت پڑے تو اس کے گھر پہنچا دیا کرو۔
    ۹۔ میاں عبدالرحیم صاحب نے خاکسار سے بیان کیا کہ میری بیوی نے لبھو دھوبی کی بیوی سے سنا کہ جب حضرت صاحب کی دہلی میں شادی ہوئی اور حضرت ام المومنین نئے نئے تشریف لائے تو کپڑے ہم ہی دھویا کرتے تھے۔ دہلی میں کپڑے استری ہوا کرتے تھے۔ یہاں استری کوئی تھی نہیں۔ حضرت ام المومنین نے حضرت صاحب سے عرض کیا کہ اس دھوبی سے پھر کپڑے نہ دھلوائیں یہ استری نہیں کرتا۔ حضرت صاحب نے لبھو دھوبی کو بلایا اور فرمایا کہ استری کتنے کی آتی ہے؟ عرض کیا حضور پندرہ سولہ روپیہ کی آتی ہے۔ حضور نے پندرہ سولہ روپے دئیے اور فرمایا استری لے آئو اور ان کے کپڑے استری کیا کرو۔
    ۱۰۔ میاں بدرالدین صاحب نے میاں عبدالرحیم صاحب سے بیان کیا اور انہوں نے خاکسار سے بیان کیا کہ ایک عورت حضرت صاحب گھر سے چاول چرا کر لے جا رہی تھی کسی نے پکڑ لیا۔ حضور کے سامنے پیش کیا۔ حضور نے اس سے پوچھا۔ وہ بولی حضور میٹھے چاول کھانے کو جی چاہتا تھا۔ حضور نے حضرت ام المومنین کو بلایا ۔ فرمایا دیکھو اس عورت کو گڑ اور گھی بھی دو۔تا یہ میٹھے چاول کھا سکے۔ آپ کو نوکروں کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ وہ بھی دل پسند چیزیں کھا سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ ان کا شکریہ یہی ہے کہ نوکر بھی وہ چیزیں کھائیں۔
    ۱۱۔ میاں عبدالرحیم صاحب نے خاکسار سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے والد صاحب سے سنا کہ حضرت مسیح موعود کے ساتھ بیٹھ کر ہم چند آدمی کھانا کھا رہے تھے۔ حضرت صاحب کے آگے جو رکابی تھی۔ جس میں سالن روغن دار تھا۔ ایک شخص نے اس کی طرف دیکھا اور دل میں خیال کیا کہ یہ اچھے مسیح موعود ہیں کھانے میں بھی مساوات نہیں۔ وہ یہ خیال ہی کر رہا تھا کہ حضرت صاحب نے اس کی رکابی اٹھا کر اپنے آگے رکھ دی اور اپنی اس کے آگے رکھ دی۔ کھانا کھا کر جب وہ شخص باہر نکلا تو اس نے یہ واقعہ بیان کیا اور کہا کہ میں بڑا شرمندہ ہوں کہ میرے دل میں یہ خیال آیا۔
    ۱۲۔ میاں عبدالرحیم صاحب نے خاکسار سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے والد صاحب سے سنا کہ ایک دفعہ ہم حضرت صاحب کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے ۔ حضور کبھی اپنے آگے سے گوشت کی بوٹی اٹھا کر دائیں طرف کسی کو دے دیتے کبھی بائیں طرف۔
    ۱۳۔ چوہدری مہر دین صاحب ولد چوہدری اللہ دتا صاحب نے خاکسار سے بیان کیا کہ میری قریباً اٹھارہ سال کی عمر تھی کہ میں گھر سے ناراض ہو کر چک جھمرہ گیا۔راستے میں ایک سکھ مل گیا۔ جس کا نام وساوا سنگھ تھا۔ دراصل وہ موضع ٹھیکری والا کا رہنے والا تھا۔ (یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کا واقعہ ہے) وہ ریل کی پٹری کے ساتھ ساتھ جا رہا تھا۔ میں بھی اسے مل پڑا۔ اس نے پوچھا کہ کہاں جائو گے؟ میں نے کہا کہ میں شتر بے مہار ہوں کسی خاص طرف جانے کا ارادہ نہیں۔ اس نے حقیقت دریافت کی۔ میں نے کہا کہ میری والدہ سوتیلی ہے میںپڑھنا چاہتا ہوں مگر وہ بجائے کسی سمجھدار آدمی کے پاس بٹھانے کے مولویوں کے ساتھ بٹھاتے ہیں جو خود جاہل ہوتے ہیں۔ وہ کہنے لگا کہ اگر پڑھنے کا شوق ہے تو میں تجھے ایک جگہ لے جاتا ہوں جہاں تمہاری تعلیم، لباس، خوراک کا انتظام خاطر خواہ ہو جائے گا۔ میں نے پوچھا کہاں؟ کہنے لگا تحصیل بٹالہ میں ایک موضع قادیان ہے وہاں ایک شخص مرزا غلام احمد رہتا ہے وہ کہتا ہے کہ میں زمانے کا اوتار ہوں۔ اگر تم وہاں پہنچ جائو تو مزگ سے نکل کر سواگ میں داخل ہو جائو گے۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ اسے جانتے ہیں؟ کہنے لگا کہ بچپن میں ہم اکٹھے مویشی وغیرہ بھی چراتے رہے ہیں۔ کبھی کبھی اس کے ساتھ سیر کا بھی موقع مل جاتا تھا۔ میں (نے) پوچھا وہ کیسا آدمی ہے؟ کہنے لگا کہ بہت نیک سیرت انسان ہے۔ خوش خلق ہے۔ ایسا آدمی میں نے نہیں دیکھا یہ واقعی دنیا کا گرو کہلانے کا مستحق ہے۔کہنے لگا اگر تم جانا چاہو تو میں اپنی گرہ سے کرایہ خرچ کر کے تمہیں وہاں پہنچا آتا ہوں۔ خیر ہم سٹیشن کی طرف چل پڑے۔ مگر اتفاق سے میرا ایک رشتہ دارکسی کو گاڑی سے لینے کے لئے آیا تھا۔ سواری نہیں آئی مگر وہ مجھے زبردستی لے گیا۔ چوہدری مہردین صاحب کی عمر اس وقت چھیالیس سال کے قریب ہے اور بیعت انہوں نے ۱۹۲۳ء کے اگست کے مہینے میں کی ہے۔
    ۱۴۔ میاں عبدالرحیم صاحب نے خاکسار سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے والد صاحب سے سنا کہ ان کو رویا میں دکھایا گیا کہ حضرت صاحب تشریف لائے ہیں۔ (وہ ہرسیاں میں رہا کرتے تھے) اور بغل گیر کر کے فرمایا کہ فضل احمد اللہ تعالیٰ آپ کو تین لڑکے دے گا۔ ایک کا نام عبدالغنی۔ دوسرے کا ملک غنی اور تیسرے کا نام نہال غنی ہو گا اور آپ کی عمر پینتالیس سال کی ہو گی۔ اتنے میں مؤذن نے اذان دی۔ میری آنکھ کھل گئی۔ میں خود قادیان کو روانہ ہو گیا۔ حضرت صاحب کی مجلس میں پہنچا۔ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب وغیرہ بیٹھے تھے۔ میں نے خواب کہہ سنائی۔ مولوی عبدالکریم صاحب ہنس پڑے۔ فرمایا۔ میاں فضل احمد پھر سنائو۔ چنانچہ میرے والد صاحب نے پھر خواب سنائی اور عرض کیا کہ آپ ہنس رہے ہیں اور میرے ہوش و حواس خطا ہو رہے ہیں۔ میں نے تو ابھی حضرت صاحب کے بہت نشانات دیکھنے ہیں۔ یہ سن کر حضرت صاحب نے فرمایا۔ کہ میاں فضل احمد اللہ تعالیٰ بڑا بے نیاز ہے۔ اس کے خزانوں میں کسی بات کی کمی نہیں۔ وہ دوگنا کر دیا کرتا ہے۔ اس پر والد صاحب بڑے خوش ہوئے ۔اب خدا تعالیٰ کے فضل سے ان کی عمرپچھتر سال کے قریب ہو چکی ہے اور لڑکے بھی چھ ہو چکے ہیں۔
    روایات
    مفتی چراغ دین صاحب ولد مفتی شہاب الدین صاحب آف بٹالہ
    پیدائش ۱۸۵۶ء بیعت ۱۹۰۲ء
    ۱۔ مفتی صاحب نے خاکسار عبدالقادر سے بیان کیا بٹالہ میں شیخ عبدالرشید صاحب کے مکان پر کہ میں کپورتھلہ میں بسلسلہ ملازمت گیا ہوا تھا۔ کہ سردار خان صاحب جو بڑے مخلص صحابی تھے اور سرکاری بگھی خانہ کے افسر تھے۔ وہ ایک دفعہ مہاراجہ کے ساتھ منصوراں گئے ہوئے تھے اور چارہزار روپیہ کے گھڑے پر سوار تھے۔ پیچھے سائیں تھا جو دو ہزار کے گھوڑے پر سوار تھا ۔ اتفاقاً گھوڑا ایک کھڈ میں گر گیا مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں بال بال بچا لیا۔ انہوں نے کشمیر جانا تھا گھوڑے لے کر ۔ وہ جب امرتسر پہنچے تو انہوں نے خیال کیا کہ میں پہلے قادیان حضرت صاحب سے ملاقات کرنے جائوں گا پھر کشمیر جائوں گا۔ چنانچہ قادیان پہنچے۔ کپورتھلہ کی جماعت پہلے ہی قادیان بقر عید کے موقع پر آئی ہوئی تھی۔ ہم سب حضور کی ملاقات کے لئے گئے اور سردار خان صاحب کا واقعہ سنایا۔ حضور نے فرمایا۔ ’’ محض اللہ کا فضل ہے۔ ‘‘ پھر میں نے عرض کیا کہ حضرت جی! میری نوکری پولیس میں ہے۔ فرمایا۔ ہمارا آدمی ضرور پولیس میں ہونا چاہئے۔ پھر عرض کیا کہ مجھے دردیں ہوتی تھیں۔ افیم کھاتا ہوں۔ فرمایا کہ ’’ ادویات میں سے ہے۔ ‘‘
    ہم نے چونکہ جانا تھا ۔ لنگر کے انتظام کے مطابق کھانا کھالیا مگر حضرت صاحب کو کپورتھلہ کی جماعت سے خاص انس تھا۔ حضور نے الگ اس جماعت کے لئے پلائو تیار کروایا تھا۔ جب تیار ہو چکا تو حضور نے کسی کو فرمایا کہ جماعت کو کھلا دو۔ اس شخص نے عرض کیا کہ حضور وہ تو چلے گئے ہیں۔ فرمایا یکہ پر کھانا بٹالہ لے جائو اور جب وہ سٹیشن پر اتریں تو کھانا پیش کر دو۔ چنانچہ حضور کا آدمی یکہ پر کھانا لے کر ہمارے پاس سے گزر گیا مگر ہمیں علم نہ ہوا۔ جب ہم سٹیشن پر پہنچے تو حضور کی طرف سے کھانا پہلے موجود تھا۔ حضور کے آدمی نے کہا کہ کھانا کھا لیں۔ ہم حیران ہوئے کہ یہ کھانا کہاں سے آیا۔ اس پر اس نے سارا قصہ کہہ سنایا۔
    ۲۔ ایک دفعہ ہم قادیان گئے۔ میں اور محمد خان صاحب مرحوم کا لڑکا عبدالحمید خان حضور کو دبانے لگے۔ ہم نے پورے زور سے دبایا اور آپس میں باتیں کیں کہ حضور میں بہت طاقت ہے۔ ہم نے بڑے زور سے دبایا ہے مگر حضور خاموش رہے ہیں اور فرمایا کچھ نہیں۔ صبح حضور نے تقریر میں فرمایا کہ ہمارے دوست بڑے زور سے مجھے دباتے ہیں مجھے بڑی تکلیف محسوس ہوتی ہے مگر میں خاموش رہتا ہوں کہ تا اپنی خوشی پوری کر لیں۔
    ۳۔ ایک دفعہ میرے چھوٹے بھائی مفتی محمد حسین صاحب نے لکھا کہ ’’ کچھم کرن‘‘ (میں) سخت بیماری ہے طاعون کی۔ لوگوں کو اپنے مردے دفنانے کی فرصت نہیں۔ مجھے کپورتھلہ لکھا کہ آپ آکر میرے بچے لے جائیں۔ میں کسی گائوں میںجا رہتا ہوں۔ میں آیا بچے لے گیا۔ جس رات میں بٹالہ آیا میں نے اپنی والدہ کو کہا کہ میں حضرت صاحب کو سلام کر کے پھر واپس جائوں گا۔ دوسرے دن قادیان گیا دس بجے کا وقت تھا مسجد کی سیڑھیوں کی طرف جو بڑھا تو تین شخص کھڑے تھے۔ کہنے لگے کہ یہ شخص کپورتھلہ سے آیا ہے اور کپورتھلہ کے لوگ خود بخود جا کر دروازہ پر دستک دے کر حضور کو بلا لیتے ہیں۔ انہوں نے مجھے آواز دی اور پوچھا کہ کہاں چلے ہو؟ میں نے کہا اپنے پیر کو ملنے۔ انہوں نے کہا ہمیں بھی لے چلو۔ میں نے کہا بسم اللہ آئیے۔ ان میں سے چاچا بھتیجا زمیندار تھے اور ایک مولوی تھا اور حکیم بھی تھا۔ مجھے کہنے لگا میں نے حضرت صاحب کی تصنیف دیکھی ہے مجھے بیعت اور زیارت کی تڑپ پیدا ہوئی۔ اس شخص کے گھر جس دن لڑکی پیدا ہوئی اسی دن وہ گھر سے چل پڑا اور پڑوسیوں کو کہا کہ میں ایک مریض کو دیکھنے جا رہا ہوں مگر دل میں حضور کا عشق تھا۔ہم دروازے پر گئے دستک دی۔ حضور صاحب باہر تشریف لائے حال سنایا۔ مجھے فرمایا کہ کب سے آئے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ تیرا چوتھا روز ہو گیا ہے کہ کپورتھلہ سے آیا ہوں اس طرح بھائی کے بال بچے لینے گیا تھا ۔ فرمایا کپورتھلہ کا اب کیا حال ہے؟ میں نے عرض کیا کہ پہلے تیس پینتیس مرتے تھے اب پانچ چھ مرتے ہیں۔ فرمایا خاں صاحب آئے تھے اور انہوں نے بھی بتایا تھا۔ میں نے عرض کیا کہ حضور یہ دو پرانے احمدی ہیں اور تیسرے نوارد سندھ حیدر آباد کے ہیں۔ بیعت کے لئے حاضر ہوئے ہیں۔ میرا ہاتھ حضور کے ہاتھ ہی میں تھا۔ اوپر اس شخص نے ہاتھ رکھ لیا۔ بیعت شدہ دوستوں نے بھی اوپر ہاتھ رکھ لئے اور حضور نے بیعت لے لی اور پھر میاں نجم الدین صاحب مرحوم مہتمم لنگرخانہ آگئے۔ ان کو دیکھ کر آپ نے فرمایا کہ مفتی صاحب کو کھانا کھلائو۔ انہوں نے عرض کیا کہ حضور میں تو ہر وقت تیار رہتا ہوں مگر مفتی فضل الرحمان صاحب کپورتھلہ والوں کو اپنے گھر لے جاتے ہیں اور وہیں کھانا کھلاتے ہیں پھر نیچے اتر کر حضرت مولوی صاحب کو ملنے گئے۔ حکیم صاحب جو ہمارے ساتھ تھے انہوں نے کہا کہ وہ جگت استاد ہیں۔ خالی ہاتھ نہیں جانا چاہئے۔ خیر اس نے بازار سے ایک روپیہ کی مٹھائی لی۔ جب مطب میں گئے تو دیکھا کہ ایک الماری کے ساتھ حکیم قطب دین کھڑے تھے مگر سوئے ہوئے۔ ہم نے آگے بڑھ کر حضرت مولوی نورالدین صاحب سے مصافحہ کیا۔ حکیم صاحب نے مٹھائی پیش کی۔ آپ نے مولوی قطب دین صاحب کو آواز دی ایک آواز پر وہ نہ بولے۔ دوسری آواز پر چونک پڑے۔ فرمایا یہ مٹھائی سب دوستوں میں تقسیم کر دو۔
    پھر ہم چاروں آدمی واپس بٹالہ کی طرف چل پڑے۔ راستے میں مولوی صاحب اورزمیندار کا بھتیجا آگے نکل گئے اور میں اور بوڑھا آدمی پیچھے رہ گئے۔ مولوی صاحب نے اس لڑکے کو کہا کہ وہ بوڑھے پیچھے رہ گئے ہیں۔ ذرا ٹھہر جائو۔ خیر وہ ٹھہر گئے۔ جب ہم مل گئے تو اس بوڑھے زمیندار نے کہا کہ یہ رستہ جلد جلد چلنے کا نہیں۔ جتنا گرد اس راہ پر پڑے اتنا ہی ثواب ہے۔
    ہم اس زمانہ میں لنگر کے ٹکڑے ساتھ رکھا کرتے تھے اور اگر کسی کو پیٹ درد ہوتی تھی تو کوٹ کر کھلا دیتے تھے اور اوپر سے گرم پانی پلا دیتے تھے۔ مریض کو آرام آجاتا تھا۔
    راستہ میں زمیندار نے اپنے بھتیجے کو ایک بات سنائی کہ کیا آپ ضلع گوجرانوالہ کے فلاں سردار کو جانتے ہیں؟ اس نے کہا کہ ہاں جانتا ہوں۔ کہنے لگا سردار صاحب اور اس کا بیٹا دونوں احمدی تھے۔ مگر بیوی اور بہو دونوں غیر احمدی تھے۔ اتفاق سے بہو کو طاعون ہو گیا وہ ساس کو کہتی ہے کہ ماں میاں کو بلائو۔ نوکرانی گئی اور بلا کر لائی۔ سردار صاحب دروازے پر کھڑے ہو گئے۔ بہو نے کہا کہ میاں صاحب ایک بیٹی ہوتی ہے اور ایک بیٹی اور بہو ہوتی ہے۔ آپ میرے سامنے کھڑے ہوں۔ سردار صاحب سامنے آگئے۔ لڑکی نے کہا کہ مجھے اس وقت غنودگی میں ایک شخص نے کہا ہے کہ تیرے سسر یا خاوند اگر قادیان سے آئے ہوں تو ان کا کوئی کپڑا اپنے منہ پر رکھ اور کلمہ شہادت پڑھ۔ تو اچھی ہو جائے گی۔ چنانچہ سسر نے پوچھا کہ کوئی کپڑا ہے تو اس لڑکی نے کہا کہ تیرے لڑکے کا پٹکا (سر کا صافہ) پڑا ہے۔ چنانچہ وہ لایا گیا اس لڑکی نے منہ پر رکھا کلمہ شہادت پڑھا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ کہنے لگی میرا بیعت کا خط لکھ دو ۔ساس نے بھی ایسا ہی کہا دونوں نے بیعت کر لی۔
    ۴۔ میرے بھائی کا لڑکا طاعون سے بیمار ہو گیا۔ میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں خط لکھا اور حضور کا ایک کرتہ تھا جو اس کے گلے میں پہنا دیا۔ خط کا جواب آیا جو مفتی محمد صادق صاحب کا لکھا ہوا تھا۔ جس میں لکھا تھا کہ حضور نے دعا کی اور میں بھی دعا کرتا ہوں اللہ شفا عطا فرمائے۔ وہ لڑکا خدا کے فضل سے اچھا ہو گیا اور اب تک زندہ ہے۔ بال بچوں والا ہے۔



    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
    آج مورخہ ۳۹۔۳۔۲۸ کو خاکسار نے صبح کی نماز کے بعد مندرجہ ذیل روایات نوٹ کیں۔
    عمر اس وقت ۶۳ سال سن بیعت ۱۸۸۹ء قادیان جا کر
    ۱۔ میاں عبدالعزیز صاحب المعروف مغل صاحب ولد میاں چراغ دین صاحب نے خاں صاحب سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ جو خیال انسان نے اپنے ذہن میں جمایا ہوا ہوتا ہے جب وہ بظاہر اس کے خلاف دیکھتا ہے تو اس کا دل سخت ہو جاتا ہے۔ چنانچہ حاجی لوگ جب حج کے لئے جاتے ہیں تو ان کے دل میں جو مکہ کا تصور ہوتا ہے کہ وہاں فرشتے نازل ہو رہے ہوں گے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس مکان کی بنیاد رکھی ہے۔ برکات کا نزول ہو رہا ہو گا اور یہ ہو گا اور وہ ہو گا مگر جب اپنے ذہن کا نقشہ وہاں ظاہر میں پورا ہوتا نہیں دیکھتے تو ان کے دل اور سخت ہو جاتے ہیں۔
    ۲۔ ایک دفعہ ہم 8بجے شام کو بٹالہ اترے ہم بیس بائیس آدمی تھے چاند کی روشنی تھی اور گرمیوں کے دن تھے۔ مفتی محمد صادق صاحب بھی تھے بابو غلام محمد صاحب بھی تھے ہم رات کے ساڑھے گیارہ بجے قادیان پہنچے۔ حضور باہر تشریف لائے۔ حافظ حامد علی صاحب کو آواز دی وہ بھی آگئے۔ حضور نے دریافت کیا کہ لنگر میں جا کر دیکھو کوئی روٹی ہے۔ عرض کیا حضور اڑھائی روٹیاں اور کچھ سالن ہے۔ فرمایا وہی لے آئو۔ مسجد مبارک کی اوپر کی چھت پر سفید چادر بچھا کر حضور ایک طرف بیٹھ گئے۔ ہم تمام آس پاس بیٹھ گئے۔ حضور نے ان روٹیوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہمارے آگے پھیلا دئیے۔ مجھے خوب اچھی طرح یاد ہے کہ ہم تمام نے سیر ہو کر کھایا اور پھر بھی وہ ٹکڑے بچے ہوئے تھے۔ جو اسی چادر میں وہ لپیٹ کر لے گیا۔ بابو غلام محمد صاحب نے اس روایت کی تصدیق کی یہ قریباً ۱۸۹۶ء ۱۸۹۷ء کا واقعہ ہے۔
    ۳۔ ایک دفعہ لیکھرام کے قتل کے بعد ہم قادیان گئے۔ حضور نے فرمایا اشتہار لے جائو۔ عنوان جہاں تک مجھے یاد ہے ۔؛ ’’ محمد حسین۔ محمد حسین۔ گنگابش تھا‘‘ گاڑی بٹالہ سے تین بجے چلتی تھی۔ اس لئے ہم نے گیارہ بجے عرض کی کہ حضور ابھی تک اشتہار نہیں ملے (پریس میں مرزا اسماعیل بیگ صاحب تھے) اور وقت ہو گیا ہے۔ حضور نے فرمایا میرا ذمہ رہا آپ گاڑی پر سوار ہو جائیں گے۔ اشتہار قریباً ڈیڑھ یا پونے دو بجے ملے۔ میں ان اشتہاروں کو لے کر جب اڈے پر پہنچا تو سواری نہ ملی۔ میں پیدل چل پڑا اور ساڑھے پانچ بجے بٹالہ پہنچا۔ غالباً مرہم عیسیٰ ساتھ تھے۔ اشتہار قریباً تین چار سو کے قریب تھے۔ سرائے چونکہ سٹیشن کے قریب تھی۔ ہم نے دور سے دیکھا کہ سٹیشن پر شور پڑا ہوا ہے اور بہت بڑا ہجوم ہے۔ لوگوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ چھینے انجن خراب ہو گیا ہے اور ابھی تک نہیں پہنچا۔ پورے چھ بجے گاڑی آئی اور ہم سوار ہو کر رات کے ساڑھے نو بجے لاہور پہنچ گئے۔
    ۴۔ میری دکان نیلے گنبد میں تھی۔ کنفیکشنری(Confectionery) کی۔ اس میں میں بیٹھا ہوا تھا۔ غالباً ۱۸۹۲ء یا ۱۸۹۳ء کا واقعہ ہے۔ ایک شخص محمد رمضان جو کہ نیلا گنبد والی مسجد میں پڑھا کرتا تھا اور بڑا سخت مخالف تھا وہ ایک سکھ کو ساتھ لا کر میرے پاس چھوڑ گیا۔ کہ یہ قادیان کا رستہ پوچھتا ہے۔ (یہ دکان اب مستری موسیٰ کے پاس ہے) اس سکھ کا نام پچھتر سنگھ تھا۔ اسے میں نے غالباً دو آنے کے پیسے دئیے۔ اس نے ہندوئوں کی دکان سے روٹی کھائی ۔ میں نے اسے کہا کہ سواگیارہ آنے کے پیسے بٹالہ تک لگتے ہیں آگے چاہے سواری پر بیٹھ جانا اور خواہ پیدل چلے جانا۔ میں جب پہلے پہل بٹالہ سے قادیان گیا ہوں تو سوا آنہ یکہ کا کرایہ دیا تھا۔ پھر تین آنہ کرایہ ہوا۔ پھر پانچ آنہ پھر اٹھ آنہ پھر چودہ آنہ ۔ پھر پانچ روپے بھی ہم نے دئیے۔ خیر وہ قادیان چلا گیا اور آٹھ دن کے بعد پھر میرے پاس دکان پر آیا۔ اور مجھے اس نے السلام علیکم کہا جس سے میں سمجھ گیا کہ یہ مسلمان ہو چکا ہے۔ اس نے کہا کہ میں صرف آپ کو ملنے کے لئے آیا ہوں۔ میں مسلمان ہو گیا ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت بھی میں نے کر لی ہے اور حضور نے میرا نام عبدالعزیز رکھا ہے۔ پھر وہ بڑا مخلص رہا۔ قریباً اس کی وفات کو دس بارہ سال ہو گئے ہیں۔ میں نے اسے قادیان میں بارہا دیکھا ہے۔ خیر اس نے مجھے آکر سنایا کہ میں ایک عورت پر عاشق تھا اور اس کا خیال میرے دل سے محو نہیں ہوتا تھا۔ میں بہت گرووں کے پاس گیا۔میرے دو ہی سوال تھے کہ یا وہ عورت مجھے مل جائے اور یا اس کا خیال میرے دل سے محو ہو جائے۔ پھر میں مسلمان گدی نشینوں کی طرف رجوع ہوا۔ حتی کہ گولڑے ہی میں ضرب البحر کا چلہ کٹوایا گیا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ پھر کسی نے مجھے مخول سے کہا کہ ’’ مرزے کے پاس جائو۔ اس کا بڑا دعویٰ ہے۔ ‘‘ اس لئے میں نے لاہور میں آکر نیلے گنبد میں پوچھا کہ قادیان کا رستہ بتائو اور محمد رمضان مجھے آپ کے ہاں چھوڑ گیاہے۔ (محمد رمضان جو بعد میں مختار عدالت ہو گیا۔ جب حضرت صاحب دہلی سے واپس تشریف لائے اور امرتسر میں ایک تقریر کے لئے ٹھہرے تو وہ مجھے امرتسر ملا تھا اور کہا کہ مبارک ہو میں بھی احمدی ہو گیا ہوں۔ اب بھی وہ زندہ ہے اور مخلص احمدی ہے) پھر میں حضرت صاحب کے پاس عصر کے قریب پہنچا تو مسجد مبارک میں حضور نے نماز پڑھی تھی میں اوپر چلا گیا اور بے دھڑک حضرت صاحب سے عرض کیا حضور نے ابھی نماز سے سلام ہی پھیرا تھا کہ میرا یہ قصہ ہے۔ ہاتھ جوڑ کر عرض کیا کہ حضور اس طرح میں ایک عورت پر عاشق ہوں۔ میرا برا حال ہے یا مجھے وہ عورت مل جائے یا اس کا خیال میرے ذہن سے اتر جائے۔ حضور نے ایک نظر بھر کر میری طرف دیکھا (حضور اونچا بہت کم دیکھا کرتے تھے ۔ چنانچہ راوی کا بیان ہے کہ میں نے کبھی حضور کو اس طرح دیکھتے نہیں دیکھا) اور فرمایا رات یہاں رہو اور کل چلے جانا۔ وہ کہتا ہے کہ اس نظر کے بعد وہ عورت بالکل بھول گئی۔ رات کو میں نے سید عبدالقادر جیلانی کو خواب میں دیکھا خواب میں مجھے عبدالقادر کا نام بتلایا گیا۔ صبح میں نے لوگوں نے پوچھا تو بتلایا گیا کہ یہ ایک بڑا بزرگ گزرا ہے صبح حضور کی خدمت میں میں نے عرض کیا کہ حضور میں مسلمان ہوتا ہوں۔ فرمایا کچھ ٹھہرو پھر دوسرے یا تیسرے روز حضور نے میرا نام عبدالعزیز رکھا اور مسلمان کر لیا اب میں صرف آپ کو ملنے آیا ہوں ۔ پھر وہ قادیان ہی چلا گیا تھا۔
    ۴۔ سید ناصر شاہ صاحب لاہور میں ملازم تھے۔ اچانک گلگت میں تبدیل ہو گئے میں سید فضل شاہ دونوں مل کر راولپنڈی تک ان کے ساتھ گئے بلکہ سید فضل شاہ صاحب کشمیر تک ساتھ گئے تھے۔ کوئی پندرہ بیس روز ہی گزرے تھے کہ سیدناصر شاہ صاحب پھر لاہور میں آگئے میرے پاس ۔ (لوگ عموماً ہمارے مکان پر ہی اترا کرتے تھے۔ قریباً پندرہ سولہ سال نمازیں بھی وہاں ہی ہوتی رہیں) میں نے کہا کہ شاہ صاحب آپ پھر لاہور آگئے۔ فرمانے لگے کہ رستہ میں بہت برف تھی۔ میں نے تین ماہ کی رخصت لے لی ہے اور قادیان رہنے کے ارادہ سے آیا ہوں۔ پھر وہ قادیان چلے گئے۔ پھر کوئی بائیس روز کے بعد لاہور آگئے اور مجھ کو ساتھ لیا اور کہا کہ میں جموں ملازم ہو گیا ہوں۔ اس لئے مجھے انگریز افسر نے جموں بلایا ہے اس کے لئے کوئی ڈال بنانی ہے۔ چنانچہ انہوں نے کوئی پندرہ روپیہ کی ڈال بنائی تھی۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ انہوں نے یہ بھی فرمایا تھا کہ میں نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے بہت دور تبدیل کر دیا گیا ہے۔ فرمایا کہ آپ کہاں رہنا چاہتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ حضور جموں میں۔ فرمایا اپنے نام کو لکھ کر میرے سامنے لگا دو میں دعا کروں گا۔ چنانچہ ان کو قادیان میں ہی خبر آگئی کہ آپ کی تبدیلی جموں ہو گئی ہے۔ تنخواہ گلگت 80/-ہونے والی تھی مگر جموں 110/-پر گئے۔
    خاکسار عبدالقادر عرض کرتا ہے کہ یہ روایت میں نے خود سید ناصر شاہ صاحب رضی اللہ عنہ سے مسجد اقصیٰ میں سنی ہے۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا تھا کہ حقیقۃ الوحی میں جو دعا آتی ہے کہ آج جو دعائیں کی گئیں ساری قبول ہوئیں جن میں شوکت اسلام بھی ہے۔ یہ مفہوم الہام ہے۔
    ۵۔ میاں صاحب نے فرمایا کہ اس وقت جو گھڑی میرے پاس ہے کہ حضرت اقدس کی جیب کی گھڑی ہے۔ حضرت ام المومنین نے حضور کی وفات کے بعد مجھے عطا فرمائی تھی یہاں لاہور ہی۔ اس گھڑی کو چلتے ہوئے پچاس ہو گئے ہیں آٹھ روز کے بعد اسے ایک دفعہ چابی دینی پڑتی ہے۔ پہلے اس کا کیس چاندی کا تھا میں نے پالش کے لئے ایک شخص فیروزالدین احمدی کو دیا مگر اس سے کہیں گم ہو گیا اب اورکھہیں ہے۔ اس گھڑی کی مرمت میں نے اب تک دو دفعہ کرائی ہے۔ ایک دفعہ چوہدری عبدالرحیم صاحب ہیڈ ڈرافٹس مین سے کرائی ہے اور دوسری دفعہ ایک اور گھڑی ساز سے دوسرے گھڑی ساز نے مجھے اس گھڑی کی مرمت کے بارہ روپے لئے تھے۔ ایک گھڑی ساز جس کا نام عبدالرحمان تھا اور اس نکیس دوسرا لگایا تھا۔ اس نے بیان کیا کہ یہ گھڑی جب نئی خریدی گئی ہے تو کم از کم تین سو روپیہ لگا ہو گا۔
    چوہدری عبدالرحیم صاحب ابھی غیر احمدی ہی تھے کہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت نبی کریم ﷺ کی گھڑی مرمت کے لئے میرے پاس آئی ہے ۔ چنانچہ اتفاق سے میں نے ان کو مرمت کرنے کے لئے دی۔ جب انہوں نے کھولی تو کہنے لگے کہ یہ نبی کریم ﷺ کی گھڑی ہے بالکل وہی نقشہ ہے جو مجھے خواب میں دکھلایا گیا۔ دوسپگرنگ ہیں۔ خاکسار عبدلقادر عرض کرتا ہے کہ اس گھڑی کے ڈائل پر مندرجہ ذیل الفاظ لکھے ہیںجو خوردبین سے دیکھے گئے ہیں اور نقشہ اس کا یہ ہے۔
    ۶۔ ایک دفعہ جب کہ حضور تریاق الٰہی بنا رہے تھے مجھے اتنا یاد ہے کہ اس میں بائیس شیشیاں کونین کی ڈالی تھیں۔ میں حضرت خلیفہ اوّل کے مطب میں بیٹھا تھا۔ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب بھی تھے۔ حضرت صاحب ایک موٹا ڈنڈا لے کر تشریف لائے اور فرمایا کہ مولوی صاحب مجھے الہاماً بتایا گیا ہے کہ یہ دوائی ’’ گرم خشک‘‘ ہے۔ میری سنت ہے کہ اسے لسی سے کھلایا کروں۔ حضرت خلیفہ اوّل نے عرض کیا کہ حضور ٹھیک ہے پھر اور کچھ بھی ڈالتے رہے۔ شاید کافور بھی ڈالا۔
    ۷۔ عبدالحق صاحب غزنوی کے ساتھ جب امرتسر میں مباہلہ ہوا عید گاہ میں عصر کی نماز کے بعد تو میں اس مباہلہ کی تیسری صف میں تھا۔ حضرت خلیفہ اوّل ساتویں صف میں تھے۔ کل تیرہ ہزار آدمیوں کی حاضری تھی۔ عید گاہ میں درخت اگے ہوئے تھے۔ میں امرتسر میں ترشح کے وقت حضور پر چھتری لگا کر چلا کرتا تھا۔ سفید لٹھے کا چوغہ حضور نے پہنا ہوا تھا۔ حضور مباہلہ قبلہ رخ تھے اور عبدالحق کی قبلہ کی طرف پیٹھ تھی۔ عبدالحق کے پیچھے جماعت تھوڑی تھی اور حضور کے پیچھے زیادہ تھی۔ حضرت خلیفہ اوّل حضور کی دعا کو سن کر بیہوش ہو کر گر گئے تھے۔ میں نے خود پانی کا چھٹا حضور کے منہ پر مارا تھا۔ مرزا نواب بیگ نے پنکھا کیا تھا پھر حضور کو ہوش آئی تھی۔ پہلے حضور نے ہاتھ اٹھا کر اونچی آواز سے دعا کی تھی ۔ طرفین کی طرف کے لوگ صفوں میں کھڑے تھے اور تماشائی ادھر ادھر کھڑے تھے۔
    (نوٹ) عبداللہ آتھم کے ساتھ جب مباہلہ ہوا تو چونکہ پچاس پچاس ٹکٹ ہر فریق کو دئیے گئے تھے۔ میں اور مرزا ایوب بیگ دونوں کے پاس صرف ایک ٹکٹ تھا اور ہم باری باری جایا کرتے تھے۔
    مرزا ایوب بیگ کو الہاماً منع کیا گیا تھا کہ وہ اپنی خواب بیان کرے۔ الہام کے الفاظ ’’ لا تقصص رویاک ‘‘ تھے۔ وہ صبح میرے پاس آیا۔ آواز دی عبدالعزیز ۔ عبدالعزیز ۔ میں نیچے آیا۔ کہنے لگے میری خواب سنیں۔ اس لئے سنانے آیا ہوں کہ میں صبح کی نماز پڑھ رہا تھا کہ میری حالت بدل گئی ۔ میں نے دیکھا کہ آنحضرت ﷺ بڑی تیزی سے تشریف لارہے ہیں اور میرے پاس آکر کھڑے ہو گئے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ کہاں تشریف لے چلے ہیں؟ تو فرمایا ۔ ’’ مرزا غلام احمد کی حفاظت کے لئے قادیان چلا ہوں۔‘‘ اس کے بعد ایوب بیگ نے کہا خدا معلوم آج قادیان میں کیا ہے شام کو خیر پہنچی کہ حضرت صاحب کے گھر کی تلاشی ہوئی ہے لیکھرام کے قتل کے سلسلہ میں۔
    ۸۔ حضور جب دہلی سے واپس تشریف لائے تھے ماہ رمضان کا مہینہ تھا۔ میں میرے والد صاحب ا ور مرہم عیسیٰ ہم تینوں یہاں سے گئے تھے اور روزے رکھے ہوئے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ حضور نے ہمارے روزے کھلا دئیے تھے۔ دوسرے دن لیکچر تھا منڈوے میں۔ بابو غلام محمد صاحب نے ’’عجب نور ایست در جان محمد ‘‘ والی نظم پڑھی تھی۔ پہلے حضور نے مجھ سے اور غلام محمد دونوں سے نظم سنی تھی مگر بابو غلام محمد صاحب خوانین کی آواز کو زیادہ پسند کیا تھا۔
    ۹۔ حضرت اقدس وفات سے قبل ایک دفعہ فٹن پر سوار سیر کے لئے جا رہے تھے ایک سائیکل سوار حضور کے آگے تھا اور ایک پیچھے۔ حضور نے واپسی پر مسکرا کر فرمایا کہ سائیکل سوار یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کتے پر چڑھا ہوا۔
    ۱۰۔ ایک دفعہ عصر کے بعد حضور سیر کے لئے میاں میر کی نہر کی طرف فٹن پر تشریف لے گئے۔ لاہور اسٹیشن سے ذرا آگے نکل کر فرمایا کہ واپس چلو۔ جہاں ریلوے ہسپتال ہے وہاں سے ہم واپس ہو گئے جس وقت گھر میں اُترے ہی تھے کہ سخت آندھی آگئی۔
    ۱۱۔ سیر کے وقت اکثر لوگ مسائل پوچھتے تھے اور حضور بیان فرمایا کرتے تھے۔ صبح کی نماز کے بعد آپ تھوڑا بیٹھ کر لوگوں کی رویا سنا کرتے تھے۔ اپنے الہامات یا رویا بیان فرمایا کرتے تھے پھر حضور اندر تشریف لے جایا کرتے تھے اور جب اچھا سورج نکل آتا تھا تو کوئی آٹھ بجے کے وقت سیر کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے ۔ حتی کہ ماہ رمضان میں بھی حضور سیر کو جایا کرتے تھے اکثر موجودہ اسٹیشن کی طرف آیا کرتے تھے۔ چوک میں کھڑے ہو کر مہمانوں کی انتظار فرمایا کرتے تھے ۔ پھر حضرت مولوی صاحب کے دروازے پر کھڑے ہو کر مولوی صاحب کو اطلاع بھجوایا کرتے تھے۔ مولوی صاحب فوراً حاضر ہو جاتے تھے۔ پھر حضور سیر کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ سیر قریباً تین میل ہوا کرتی تھی کبھی کبھی حضور نہر کی طرف بھی آتے تھے۔ جب ہم تھک جایا کرتے تھے تو پانچ چار آدمی ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر حضور کے آگے چل پڑتے تھے اور چند قدم جا کر واپس قادیان کی طرف چل پڑتے تھے۔ حضور بھی پیچھے ہو لیتے تھے پھر ہم پیچھے ہوتے جاتے تھے۔ چونکہ حضور مسائل بیان فرما رہے ہوتے تھے اس لئے ہم عرض نہیں کرتے تھے کہ حضور واپس چلیں۔ سیر میں بعض اوقات اس قدر گرد اڑتی تھی کہ سراور منہ مٹی سے بھر جاتے تھے۔ حضور اکثر پگڑی کے شملہ کو بائیں طرف سے منہ کے آگے رکھ لیا کرتے تھے۔ دائیں ہاتھ میں حضور کے چھڑی ہوتی تھی۔ بعض اوقات لوگوں کے پائوں سے ٹھوکر کھا کر چھڑی گر جاتی تھی تو حضور پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے تھے۔ بلکہ جب کوئی چھڑی پکڑ کر دیتا تو لے لیا کرتے تھے بعض اوقات حضور کے پائوں کو بھی ٹھوکر لگ جایا کرتی تھی۔
    اگر کسی وقت سیر میں حضور پیشاب کے لئے الگ ہوتے تھے تو بہت دور جا کر پیشاب کیا کرتے تھے۔ اور ڈھیلا بیٹھ کر ہی لیا کرتے تھے کھڑے ہو کر ہم نے کبھی ایسا کرتے نہیں دیکھا۔
    میں نے خود کئی دفعہ حضور کے کندھوں سے گردے کو جھاڑا ہے سیر سے واپسی پر ۔ مگر حضور کے گردن کے اوپر سر، چہرہ، بھوئوں یا بالوں پر کسی قسم کا کچھ گردا نہیں ہوتا تھا۔ کیونکہ بعض اوقات سیر میں ہی مہمانوں کی بہت زیادہ تعداد ہوتی تھی۔ جس دن زیادہ تعداد ہوتی اس دن خاص کر حضور ہندو بازار سے گزرا کرتے تھے اور ان لوگوں کو میں نے دیکھا ہے حضور کو دیکھ کر کھڑے ہو جایا کرتے تھے اور سلام سلام عرض کیا کرتے تھے۔
    وفات سے ایک روز قبل حضور کے چہرہ پر کچھ غبار تھا جسے میں دیکھ کر بہت حیران ہوا۔ کیونکہ میں نے پہلے انیس سالہ دور میں کبھی ایسا نہیں دیکھا تھا۔ یہ عصر کا وقت تھا دوسرے دن صبح وفات ہو گئی۔سوٹی عموماً حضور کی نظام آباد کی بنی ہوئی تھی۔ سوٹی موٹے بید کی ہوا کرتی تھی اور اوپر دستہ سینگ کا ہوتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص دستہ پر حضور کا نام کندا کروا کر لایا تھا۔
    حضور جب لاہور میں غالباً ۱۹۰۳ء میں ’’ اسلام اور دیگر مذاہب‘‘ کے موضوع پر لیکچر دینے کے لئے تشریف لائے ۔ حضور میاں معراج دین صاحب کے مکان میں ٹھہرے تھے اور حضور نے حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ اور مولوی عبدالکریم صاحب کو آٹھ نو دن بعد میں بلایا تھا اور مولوی صاحبان ہمارے مکان میں ٹھہرے تھے ۔ گرمی کا موسم تھا ہم نے پانی کے لئے مٹی کے کورے مٹکے لا کر رکھے ہوئے تھے۔ مگر یہاں جو مہمان آتا تھا یہاں اہل و عیال سمیت آتا تھا۔ چنانچہ لاہور، گوجرانوالہ، وزیر آباد، سیالکوٹ ، امرتسر وغیرہ سے مہمان بال بچے سمیت کثرت سے پہنچ گئے تھے اور یوں عام مہمانوں کا اندازا اس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ (۳۶۰۰) چھتیس سو روٹی ایک وقت میں پکا کرتی تھی۔ ہمارے گھروں کے سامنے دکانوں کا ایک بازار لگ گیا تھا۔ تماشائی لوگ ہزاروں کی تعداد میں ہر وقت سامنے کھڑے رہتے تھے۔ مولوی لوگ مجمع میں گالیاں اور اعتراضات کیا کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مولوی ایک شیشم کے درخت پر چڑھ کر بدزبانی کیا کرتا تھا اور اس کا نام پنجابی میں مولوی ٹہلی پڑ گیا تھا۔
    ایک دن حضرت ام المومنین نے میری والدہ کے سامنے حضور سے عرض کیا کہ مٹکوں کا پانی پلید ہو جاتا ہے کیونکہ اس میں سے پانی لے کر عورتیں بچوں کو نہلاتی ہیں کئی قسم کے اس میں ہاتھ پڑتے ہیں۔ حضرت صاحب نے فرمایا دیکھو ٹھنڈا کیسا ہے۔ یہ میری والدہ نے مجھے اپنے مکان پر آکر سنایا تھا۔
    حضور نے انہی ایام میں ایک دن رات کے بارہ بجے مجھے مٹی کا تیل لالٹین میں ڈالنے کے لئے حکم فرمایا تھا کیونکہ دوسرے دن لیکچر تھا اور حضور کی آنکھیں بھی کچھ دکھتی تھیں۔ لنڈے بازار میں ایک نہالا کھتری ہوا کرتا تھا گھوڑوں کا دانہ اور مٹی کا تیل بیچا کرتا تھا اس سے جا کر تیل لایا تھا۔
    مجھے یہ بھی یاد ہے کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے اس رات کان میں درد تھی۔
    مولوی عبدالکریم صاحب نے انہی ایام میں بیان فرمایا تھا کہ جب حضرت خلیفہ اوّل ؓ کو اور مجھے حضور نے قادیان سے بلایا ہے تو بٹالہ کے اسٹیشن پر میں نے حضرت خلیفہ اوّل کی جیبوں کو ٹٹولا تو آپ کی جیب میں دو روپے تھے۔ میں نے مولوی صاحب سے عرض کیا کہ میں نے ٹکٹ آپ سے لینا ہے اور سیکنڈ کلاس کا لینا ہے اور کوئی بیس سے زیادہ آدمی اور بھی ساتھ تھے۔ ان کا بھی ٹکٹ آپ سے ہی لینا ہے ۔ حضرت خلیفہ اوّل نے فرمایا کہ اچھا لے دیں گے۔ ٹکٹ انہوں نے خود خریدے اور سب کو دے دئیے۔ اس پر مولوی صاحب فرماتے تھے کہ مجھے تعجب ہے کہ دو روپے میں ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ لیکچر کے لئے جو دن مقرر تھا شور کی وجہ سے اور مناسب انتظام نہ ہو سکنے کی وجہ سے ڈپٹی کمشنر نے کہلا بھیجا تھا کہ اس کے لئے آپ کوئی اور تاریخ مقرر فرمائیں۔ چنانچہ اس نو انتظام میں اس نے میانمیر سے دو سو سوار رسالہ کا منگوایا تھا۔ لیکچر بھاٹی دروازہ میں منڈوہ رائے میلا رام میں ہوا تھا او رمخلوق تیرہ چودہ ہزار سے زیادہ ہی تھی مولوی عبدالکریم صاحب نے پڑھا تھا۔ آپ کے بعد حضور خودکھڑے ہو کر کچھ تقریر فرمانے لگے تو لوگوں نے شور مچا دیا پھر مولوی عبدالکریم صاحب نے خوش الحانی سے ایک رکوع قرآن مجید کا پڑھا اس پر لوگ خاموش ہو گئے اور حضور نے ایک مختصر سی تقریر فرمائی اور خوشی میں۔ جس سے پیچھے پتہ لگا کہ اس بات سے حضور کا دل بہت خوش ہوا کہ اتنے بڑے مجمع نے میری بات سن لی ہے۔ سٹیج پر جہاں کھڑے ہو کر حضور نے تقریر شروع فرمائی تھی اس سے خوشی میں تقریر کرتے کرتے پانچ چھ قدم آگے بڑھ آئے تھے۔
    کمیٹی کے ایک داروغہ نے سڑک پر چھڑکائو کرا دیا تھا۔ فٹن میں حضور تشریف فرما تھے فٹن میں حضور کے ساتھ رحمت اللہ کوتوال تھا ۔ ڈرائیور کے ساتھ بھی ایک سپاہی بیٹھا ہوا تھا۔ سڑک پر دونوں طرف غیر احمدی ٹولے بنا کر کھڑے تھے اور چھاتیاں پیٹتے تھے۔ہائے ہائے مرزا کی آوازیں میرے کانوں میں ابھی تک گونج رہی ہیں۔
    ایک مولوی غلام اللہ قصوری تھا سفید ریش تھا۔ وہ وعظ کرتا تھا میں نے یہ الفاظ اس کے منہ سے سنے کہ مرزے کے پاس میں گیا اور وہ ایک حجرے میں بیٹھے ہوئے تھے میں نے ان کو جاتے ہی کہا کہ اگر آپ اور میں حجرہ سمیت آسمان پر چلے جائیں پھر بھی میں آپ پر ایمان نہیں لائوں گا۔ میرا تعجب اس وقت حل ہو گیا جب میں کبھی کبھی سوچتا تھا کہ ابوجہل نے آنحضرت ﷺ کی اتنی مخالف کی اور ایسے ہی بیہودہ اعتراض کرتا تھا مگر جب میں نے اس مولوی کو دیکھا تو مجھے وہ بات یاد آگئی کہ ایسے بیہودہ انسان بھی ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ میں نے اس کو ابوجہل کہہ کر آواز بھی دے دی اور پھر میں چلا گیا۔
    میں اور ایوب بیگ مولوی عبداللہ ٹونکی کے مکان پر گئے۔ مولوی عبداللہ ٹونکی کو مرزا ایوب بیگ صاحب نے پوچھا کہ آپ نے ہم کو اور ہمارے آقا کو یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کافر کیوں کہا ہے؟ مولوی صاحب اورنٹیل کالج میں عربی کے پروفیسر تھے اور فتویٰ کفر میں انہوں نے بھی اپنی مہر ثبت کی تھی۔ میرزا صاحب کے سوال پر اس نے کہا کہ چونکہ مولوی غلام دستگیر حضوری، مولوی محمد حسین بٹالوی، مولوی نذیر حسین دہلوی، مولوی عبدالجبار غزنوی نے فتویٰ دیا ہے اس لئے میں نے بھی لکھ دیا تو حضرت مرزا ایوب بیگ ؓ نے اس کو کہا بڑی دلیری سے کہ چونکہ یہ تمام جہنم میں جائیں۔ اس لئے آپ بھی ساتھ جائیں۔ اس پر کہنے لگا میں نے غلطی کی ہے میں نے مرزا صاحب کی کتابوں کو نہیں دیکھا۔ اس پر ہم دونوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سب کتابیں جو اس وقت تک لکھی جا چکی تھیں اس کے گھر جا کر دے آئے اور تین مہینے کے لئے اس سے کہہ دیا کہ آپ ان کا مطالعہ فرما لیں۔ تین ماہ کے بعد ہم پھر گئے۔ پھر کہنے لگا کہ آپ بچے ہیں۔ ابھی آپ نہیں سمجھ سکتے۔ مرزا صاحب نے فرمایا کہ بی ۔ اے پاس تو میں ہوں مگر انگریزی آپ نے پڑھنی ہے تو مجھ سے پڑھ سکتے ہیں۔ اگر مجھے کبھی عربی پڑھنے کی ضرورت ہوئی تو آپ سے پڑھ لوں گا اگر ہم آپ کے خیال میں بچے ہی ہیں تو بچو ں پر تو کوئی حساب کتاب ہی نہیں۔ کیا آپ ایسا ہمیں لکھ کر دے سکتے ہیں پھر اٹھ کر چلے آئے۔
    تیسری دفعہ پھر گئے اور خواجہ کمال الدین کے خسر خلیفہ رجب الدین کو ساتھ لے گئے کیونکہ وہ بوڑھا تھا ہم اس خیال پر اسے ساتھ لے گئے کہ اگر وہ اب کے بھی کہے گا کہ تم ناسمجھ بچے ہو تو ہم خلیفہ صاحب کو پیش کر دیں گے۔ اس پر مولوی عبداللہ نے خلیفہ رجب دین سے یہ باتیں شروع کیں کہ بہت اچھا ہوا کہ مسلمانوں نے آٹا دال کی دکانیں کھول لی ہیں اور مٹی کے برتنوں کی دکانیں بھی کھول لی ہیں۔ یہ لیکھرام کے قتل کے بعد کا واقعہ ہے۔ اس پر ایوب بیگ نے مولوی عبداللہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ الٰہی قیامت کے دن میں خدا کے سائے اسی طرح مولوی عبداللہ کا ہاتھ پکڑ کر کہوں گا کہ الٰہی تین دفعہ ہم اس کے مکان پر چل کر گئے اس نے ہم کو نہیں سمجھایا کہ ہم کیوں کافر ہیں۔ اس پر مولوی عبداللہ ٹونکی نے کہا کہ مجھے اس کی پرواہ نہیں اس پر ایوب بیگ صاحب نے فرمایا کہ اگر آپ خدا تعالیٰ کی بھی پرواہ نہیں۔ کرتے تو میں آپ کو عمر بھر کبھی السلام علیکم نہیں کہوں گا۔ پھر وہاں سے ہم اٹھ کر چلے آئے اور پھر آئندہ اس عہد کو مرزا ایوب بیگ نے اپنی زندگی بھر پورا کیا اور میں نے مولوی عبداللہ کی زندگی تک پورا کیا۔
    نیلے گنبد میں ایک پٹھان مولوی ادھیڑ عمر کا رہا کرتا تھا اس کو میں نے تبلیغ کی تو اس نے تسلیم کیا کہ حضرت مسیح موعود سچے ہیں مگر آپ مجھ کو بے فائدہ آکر تبلیغ کرتے ہیں کیونکہ ہماری قوم میں یہ دستور ہے کہ اگر ہم ایک دفعہ انکار کر دیں تو پھر خدا بھی اگر آکر کہے تو نہیں مانتے۔ میں نے کسی سے سنا تھا کہ وہ خودکشی کر کے مر گیا۔
    ایک اور مولوی جو وہ بھی پٹھان ہی تھا اس کی دکان لوہاری منڈی کے اندر تھی جب ہم وہاں سے گزرا کرتے تھے تو اکثر ہم کو دیکھ کر کہا کرتا تھا کہ کافر جا رہے ہیں۔ میں نے ایک دفعہ اس کو کہا کہ آپ تحقیق تو کریں آخر پر کھ کر تو دیکھیں تو اس نے کہا کہ اگر خدا بھی مجھے آکر کہے تو میں نہیں مانوں گا اس کا بھی حشر ایسا ہی ہوا کہ وہ زہر کھا کر کسی لڑکے کے عشق میں مر گیا۔
    مولوی زین العابدین انجمن حمایت اسلام میں ساتویں ،آٹھویں، نویں، دسویں جماعت کو قرآن پڑھایا کرتے تھے خوش شکل تھے اور جسیم بھی تھے ۔ ہمارے ایک مولوی محمد صاحب کامونکے کے رہنے والے تھے۔ وہ ڈبی بازار میں ایک دکان سے کتاب خرید رہے تھے مولوی زین العابدین ان کا واقف تھا بازار میں جاتے جاتے کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ مولوی صاحب اتنا طاعون پڑا ہے مگر مجھ کو طاعون نہیں ہوا۔ حالانکہ میں مرزا صاحب کا بہت مخالف ہوں اور یہ میری سچائی کا نشان ہے ۔ اس نے ابھی یہ کلمہ پورا ہی کیا تھا کہ اس کو وہاں کھڑے کھڑے طاعون ہو گیا۔ جب وہ گھر پر گیا تو اس کی بیوی اور اس کے لڑکے کو بھی طاعون تھا۔ پہلے دن لڑکا مرا دوسرے دن اس کی بیوی مری اور تیسرے دن وہ خود مر گیا۔ مولوی زین العابدین میرا استاد تھا۔ میں اس سے قرآن کریم پڑھا کرتا تھا جب میں انجمن جماعت اسلام میں پڑھا کرتا تھا ۔
    قادیان کا واقعہ ہے کہ حضور مسجد مبارک کی چھت پر تشریف فرما تھے۔ مولوی عبدالکریم صاحب بھی موجود تھے۔ حضور نے مہمانوں کے لئے پرچیں پیالیاں منگوائی ہوئی تھیں۔ میر مہدی حسین صاحب سے وہ گر گئیں اور چکنا چور ہو گئیں۔ مولوی عبدالکریم صاحب نے عرض کیا کہ حضور آواز آئی ہے معلوم ہوتا ہے میر مہدی حسین صاحب سے پرچیں ٹوٹ گئی ہیں۔ فرمایا میر صاحب کو بلائو۔ میر مہدی حسین صاحب ڈرتے ہوئے سامنے آئے تو حضور نے فرمایا کہ میر صاحب کیا ہوا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ حضور ٹھوکر لگنے سے پیالیاں گر کر ٹوٹ گئی ہیں۔ فرمایا ’’ دیکھو جب گری ہیں تو ان کا آواز کیسا اچھا تھا۔ ‘‘
    ۱۸۹۰ء کا واقعہ ہے کہ حضور مولوی رحیم اللہ صاحب والی مسجد میں ظہر کی نماز پڑھ کر تشریف لا رہے تھے ہم پیچھے تھے سیدمٹھے کی طرف تشریف لا رہے تھے ۔ جہاں محبوب ارئیوں کا مکان ہے حضور اس میں ۲۷ روپیہ لاہور ماہوار کرایہ پر ٹھہرے ہوئے تھے۔ حضور واپس آرہے تھے کہ ہیراسنگھ کے بھائی اللہ دتا نام نے جس نے مہدی کا دعویٰ کیا ہوا تھا اور سنگترے وغیرہ بیچاکرتا تھا حضرت صاحب کو اٹھا کر زمین پر گرا دیا۔ ہم پیچھے کوئی دس گز کے فاصلہ پر تھے۔
    حضور کی پگڑی بھی گر گئی تھی۔ یہ شخص لا الہ الا اللہ مھدی رسول اللہ کہا کرتا تھا۔ مجھے وہ جگہ ابھی تک یاد ہے ہم نے اسے پکڑ لیا تو حضور نے فرمایا چھوڑو۔ حضور اپنے خیال میں جا رہے تھے اور اس کے حملہ سے بالکل بے خبر تھے۔
    حضور رومی ٹوپی پر پگڑی پہنا کرتے تھے اور کبھی پگڑی میں سے حضور کے بال بھی نکل آتے تھے۔ کبھی حضور صرف ٹوپی سے ہی باہر نکل آیا کرتے تھے۔ مگر نماز کبھی بھی صرف (میاں معراج دین صاحب عمر کا بیان ہے کہ جو واقعات ۱۸۹۰ء کے بالمقابل صفحہ پر لکھائے گئے ہیں وہ اس وقت کے ہیں جب حضرت صاحب ’’ فیصلہ آسمانی‘‘ سنانے آئے تھے۔ ) ایک شخص سائیں سراج دین جو پیر گولڑوی کا مرید تھا اور لاہور میں گولڑوی کے مرید اس کی عزت کیا کرتے تھے اور ایک شخص نور دین نابینائی جو ایک مشہور مرید پیر مذکور کا تھا اور ہمارے سلسلہ کا مخالف ہے۔ اس کے مکان پر سائیں مذکور رہا کرتا تھا۔ ایک روز وہ حضرت صاحب سے ملنے کے بہانہ سے آیا اور آکر سامنے بیٹھ گیا جب موقعہ پایا تو اجازت چاہی کہ میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں ۔ حضور نے اجازت دے دی۔ اس نے گالیاں نکالنی شروع کر دیں اور اس قدر گالیاں نکالیں کہ گالیوں کی لغات میں کوئی لفظ اس نے باقی نہ چھوڑا۔ جب ذرا ٹھہر جاتا تو حضرت مسیح موعود فرماتے کہ سائیں صاحب کچھ اور پھر وہ بھڑک اٹھتا اور اور گالیاں شروع کر دیتا۔ حضرت صاحب خاموشی کے ساتھ داڑھی پر ہاتھ رکھے اسے دیکھتے رہے اور سنتے رہے۔ہمیں جوش پیدا ہوا۔ ہم نے اسے سرزنش کرنے کی کوشش کی مگر حضرت صاحب نے منع فرما دیا۔
    اس مکان میں ملاقات کے لئے ہندو عورتیں مرد مسلمان غرض کہ ہر سوسائٹی کے لوگ موافق اور مخالف ملنے آتے تھے۔ ہندو عام طور پر مودب رہتے تھے ان میں بعضے دہریہ بھی ہوتے تھے۔ آریہ اور دہریہ سوالات بھی کرتے تھے اور حضرت صاحب ان کا جواب دیا کرتے تھے وہ ادب سے سنتے رہتے تھے لیکن مسلمانوں نے عام طور پر بازاری لڑکوں کو انگیخت کر کے گالیاں نکلوانے اور پتھر چلوانے کی خدمت اچھی طرح سے ادا کی تھی۔ٹوپی سے حضور نے نہیں پڑھی۔
    میاں معراج دین صاحب عمر فرماتے ہیں کہ پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تقریر فرمائی تھی اور پھر حضرت خلیفہ اوّل نے تقریر کی۔ حاضری قریباً دس ہزار تھی۔ کیونکہ لوگ کوٹھی کے صحن اور آس پاس کے مکانوں کی چھتوں پر اور کوچوں میں اس طرح باہم پیوستگی کی حالت میں کھڑے تھے کہ ہل جل بھی نہیں سکتے تھے۔ حضرت مسیح موعود جب تھک گئے تو اندر کمرے میں تشریف لے گئے۔ ہم نے آپ کو دبانا شروع کیا۔ حضور کے جانے کے معاً بعد حضرت خلیفہ اوّل کھڑے ہو گئے میز کے اوپر بدوی طرز میں اور سب سے پہلے کلمہ شہادت بلند آواز سے اور ایک موثر جذبہ کے ساتھ پڑھا کہ اس وقت ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گردو نواح کی اینٹوں میں سے بھی کلمہ کی آواز گونج رہی ہے۔ آپ کے لیکچر کا حاضرین پر یہ اثر تھا۔ کہ رونے چیخنے اور چلانے کی چاروں طرف سے آوازیں نکل رہی تھیں۔ تقریر کے بعد چند ہندو معززین آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مبارک باد دے کر کہا کہ اگر آپ ایک دفعہ وہی کلمہ پھر پڑھتے تو ہم پورے مسلمان ہو جاتے۔ لیکن آدھے مسلمان تو ہو گئے ہیں۔
    انہی ایام کا واقعہ ہے کہ حضور نے ایک دفعہ پانچ چھ آدمیوں کے ساتھ شاہی مسجد میں نماز پڑھی تھی۔ مولوی رحیم اللہ صاحب نے پڑھائی تھی۔ کچھ لوگوں نے ہمیں روڑے بھی مارے تھے۔
    محبوب رائیوں کے مکان میں مولوی اسماعیل وہابی کے ساتھ پندرہ دن تک حضور کی بحث ہوتی رہی لفظ محدث پر۔ وہ کہتا تھا اس امت میں کوئی محدث نہیں ہوا۔ اگر ہوتا تو عمر ہوتا۔ حضور فرماتے تھے کہ اس امت میں محدث ہوں گے۔ ان میں کا ایک عمر ہے۔ اس بحث کو احمد بابا کریم بخش ٹھیکیدار جن کی مسجد تالاب کے پاس ہے ان کے خاندان میں سے تھا اور حمایت اسلام کے سکول میں ملازم تھا۔ وہ اکثر اس بحث کو لکھا کرتا تھا مجھے علم نہیں کہ وہ لکھا ہوا کہاں گیا۔ مولوی اسماعیل جب لاجواب ہو گیا تو اس نے صلح کر لی۔ صلح نامہ بھی احمد بابا نے لکھا تھا۔
    ایک دن حضرت صاحب نے سید عبدالقادر صاحب جیلانی کے الہامات پیش کئے اور فرمایا کہ دیکھو یہ بھی محدث ہیں۔ اس پر مولوی اسماعیل نے کہا کہ سید عبدالقادر جیلانی کو میں کیا سمجھتا ہوں۔ وہ کوئی میرا خدا ہے۔ اس پر مولوی غلام حسین صاحب جوگمٹی والی مسجد کے امام تھے۔ ان کو پہلے میں نہیں جانتا تھا وہ مجلس میں اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور انہوں نے پنجابی میں اس کو کہا کہ ’’ مولویا کی یبھ یبھ لائی ہوئی ہئی۔ عبدالقادر جیلانی تاں اوہ شخص ہے۔ جس دی لوگ اج تک یارویاں دیندے ہیں۔ اور تیری قبر تے نا کتے نے وی نہیں موترنا۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ مولوی صاحب آپ بیٹھ جائیں۔ مولوی صاحب معاً بیٹھ گئے اور پھر نہیں بولے۔
    صلح کے بعد حضرت صاحب نے ایک مختصر سا اشتہار دیا کہ کل عصر کے بعد چونی منڈی میں میراں بخش کی کوٹھی میں مَیں اپنے عقائد بیان کروں گا۔ حضرت خلیفہ اوّل ؓ بھی چار دن کی رخصت لے کر جموں سے یہاں تشریف لائے ہوئے تھے ۔ چنانچہ عصر کے بعد پہلے حضرت خلیفہ اوّل نے تقریر فرمائی اور اس سے پہلے میںنے شروع تقریر میں کلمہ شہادت کبھی کسی عالم یا مولوی سے نہیں سنا تھا۔ حضرت خلیفہ اوّل نے یہ پہلے پڑھا تھا۔ پھر حضور تقریر کے لئے کھڑے ہوئے اور اپنے عقائد بیان کرنے شروع کر دئیے۔ میں باہر شور کی آواز سن کر چلا گیا میں نے دیکھا کہ وہی مولوی اسماعیل بازار میں کنچنی کی مسجد کے چھجے پر کھڑا ہوا لوگوں کو جوش دلا رہا تھا کہ دیکھو مرزا اتنا کافر ہے کہ وہ فرشتوں کو نہیں مانتا، قیامت کا منکر ہے۔ اس پر بازار میں بڑی مخلوق جمع ہو گئی اور آمد و رفت بند ہو گئی تو میں جلدی سے اندر آیا ۔ حضور کو باہر کے شوروشر اور فساد کی اطلاع دی۔ اس وقت حضور کے ساتھ حکیم محمد حسین صاحب قریشی۔ منشی تاج دین صاحب میاں معراج دین صاحب عمر کے بیان کے مطابق جب حضرت صاحب میراں بخش کی کوٹھی میں ٹھہرے ہیں۔ ۹۲ء کے بعد کا واقعہ ہے اور جو نیچے مولوی محمد حسین صاحب کی مخالفت کا ذکر کیا گیا ہے یہ کوٹھی میں رہائش اختیار کرنے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ یعنی ۹۲ء کا۔
    اس موقع پر بھی حضور نے لیکچر دیا تھا اور حاضرین کی تعداد گو پہلے جتنی نہیں تھی مگر ہزاروں کی تعداد میں تھے۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ عام اعلان نہیں کیا گیا تھا۔
    گرڑ کا نام محمد یاسین ولد حافظ محمود مختار عدالت تھا۔
    مولوی رحیم اللہ صاحب میاں معراج دین صاحب عمر اور میرے خیال میں بابو غلام محمد صاحب بھی تھے۔ انہوں نے مشورہ کر کے مالک مکان سے کہا کہ کسی طرح پچھواڑے کی طرف ہم چلے جائیں تو بہتر رہے گا کیونکہ ادھر فساد کا اندیشہ ہے۔ تو اس نے مکان کے اوپر سے جا کر کسی دوسرے کے مکان میں ایک دروازہ تھا اس کو کھلا کر اسی مکان کے ذریعہ سے ہم کو پچھلی دوسری گلی میں اتارا جو ڈبی بازار کے بالکل قریب ہے اور قریشی صاحب کے مکان کے آگے ہی وہ گلی ہے۔
    ۹۲ء میں حضور پھر تشریف لائے تو میراں بخش صاحب کی کوٹھی میں فردکش ہوئے۔ حضور نے ایک لیکچر دیا جس میں اپنے عقائد بیان کئے۔ ان دنوں مولوی محمد حسین زور کی مخالفت کر رہا تھا اور میں نے خود دیکھا کہ مولوی محمد حسین کے ساتھ تین تین چار چار سو آدمی ہوتا تھا جب وہ بازار میں سے گزرتا تھا۔ اس لیکچر میں کوئی دوسو کے قریب حاضری تھی۔ ہاں باہر لوگ بہت زیادہ تعداد میں شور مچا رہے تھے ایک شخص گرڑ جو ایک مشہور آدمی تھا اور موچی دروازے کا رہنے والا تھا وہ اکثر آکر اعتراضات کیا کرتا تھا۔ ایک دفعہ اس نے میرے سامنے یہ اعتراض کیا حضور کے سامنے ایک ڈسک چوٹا سا پڑا ہوا تھا اس پر حضور کی قلم دوات رکھی ہوئی تھی تو وہ کہنے لگا کہ یہ دوات اگر ہوا میں اُڑ جائے تو پھر میں آپ کو مان لوں گا۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ ان شعبدوں سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟ پورا جواب مجھے یاد نہیں۔
    ایک دفعہ گورداسپور میں پہلے پہلے جب کرم دین کا مقدمہ میں حضور تشریف لے گئے ہیں تو وہاں آپ نے ایک کوٹھی غالباً کرایہ پر لی تھی۔ گرمی کے دن تھے۔ چارپائیاں شام کے بعد ہم نے کوٹھی پر چڑھا دیں اور لکڑی کی سیڑھی لگا کر ہم چھت پر چڑھے۔ حضور بھی چڑھے تو حضور نے فرمایا کہ یہاں سے چارپائیاں نیچے اتار دو۔ کیونکہ حضرت نبی کریم ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ جس چھت کے منڈیر اونچے نہ ہوں وہاں سونا نہیں چاہئے ۔نیچے چارپائیاں اتار ی گئیں حضور ایک کمرے میں سوئے۔ مجھے یاد ہے کہ مفتی صادق صاحب ساری رات حضور کو پنکھا کرتے رہے۔
    گورداسپور یا پٹھانکوٹ میں غالباً مولوی محمد حسین کے ساتھ مقدمہ تھا۔ ڈوئی ڈپٹی کمشنر تھا۔ سردی کا موسم تھا میں حضور کو دباتے دباتے ساتھ ہی لیٹ گیا چارپائی کوئی بھی نہ تھی سب فرش پر ہی سوئے ہوئے تھے ۔ مجھے یاد ہے کہ حضرت خلیفہ اوّل ؓ صبح سے قریباً دو گھنٹہ پہلے اٹھے تو آپ کا پائوں میرے منہ پر آٗیا تھا تو میری نیند کھل گئی۔ میں نے دیکھا کہ حضور کے ساتھ ہی لیٹا ہوا ہوں اس سے پہلے جب میں حضور کے پائوں دبا رہا تھا تو حضور سو گئے ہوئے تھے مگر باریک آواز سے سبحان اللہ الحمدللہ یہ آواز میں نے خوب سنی ہے۔
    ۱۸۹۰ء کا واقعہ ہے کہ محبوب رائیوںکے مکان میں جب حضور فردو کش تھے تو ایک دہریہ آیا وہ حضرت صاحب سے گفتگو کرتا رہتا تھا وہ اعتراض کرتا تھا حضور جواب دیتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ اس کے کسی اعتراض پر جو مجھے لفظوں میں یاد نہیں حضور نے ایک تنکا اٹھایا اور اس کو کہا اس کی کنہہ بتائو کہ یہ کس طرح بنا ہے؟ اس سے وہ اتنا عاجز ہوا کہ کہنے لگا کہ میں پھر آئوں گا حضور مجھے اجازت دیں۔
    مجھے یاد ہے کہ اس مکان میں مولوی اسماعیل نے بحث کے دوران کہا کہ آپ مسیح موعود ؑ کا لفظ کاٹ دیں تب صلح ہو سکتی ہے۔ حضو رنے احمد بابا کو فرمایا کہ آپ یہ لکھ لیں کہ جس طرح حضرت نبی کریم ﷺ نے صلح حدیبیہ میں رسول کا لفظ کاٹا ہے اسی طرح مسیح موعود کا لفظ آپ کاٹ دیں اور نہ لکھیں۔
    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں اور مریم عیسیٰ لاہور سے قادیان کی طرف روانہ ہوئے راستے میں ہم دونوں اس بات پر جھگڑے کہ مریم عیسیٰ کہتا تھا کہ سفر مطلق حرام ہے اور میں کہتا تھا جائز ہے۔ خیر اس بحث میں ہم قادیان پہنچے حضور شام کی نماز کے بعد مسجد مبارک کی شاہ نشین پر بیٹھا کرتے تھے گرمیوں کے دن تھے شام کے بعد حضور وہاں بیٹھے تو میں نے حضور کے پائوں دبانے شروع کئے۔ اس پر حضور نے اس وقت اور بھی آدمی بیٹھے ہوئے تھے مگر حافظ عبدالرحمان امرتسری مصنف کتاب الصرف کو مخاطب کر کے فرمایا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ سفر حرام ہے اور بعض کہتے جائز ہے۔ اس پر ایک تقریر فرمائی جس کا ماحصل یہ تھا کہ بے فائدہ سفر کرنا تو فضول ہے البتہ کسی کام کے لئے کرنا بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔
    مجھے قریباً سو سے زیادہ دفعہ حضور کے ساتھ ایک ہی برتن میں کھانا کھانے کا اتفاق ہوا ہے ۔ حضور دسترخوان کے عرض کی طرف ہمیشہ بیٹھتے تھے۔ روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے پہلے دس گیارہ دسترخوان پر اپنے آگے کر لیتے تھے۔ میں نے حضور کو بوٹی کھاتے کبھی نہیں دیکھا اور نہ ہی دیکھا ہے کہ حضور نے کبھی اچھی طر ڈبو کر لقمہ سالن میں لگایا ہو۔ حضور کریلا کا سالن پسند فرمایا کرتے تھے۔
    شملہ سے ایک احمدی کچھ مٹھائی لایا اس کا ایک پرندہ مینا بھی اس کے ساتھ تھی۔ اس نے مینا کے لئے راستے میں دینے کے لئے بھتی بنائی تھی ( مینا کی خواراک۔ چنے کوٹے ہوئے جس میں نمک اور میٹھا نہیں تھا) وہ بھی اس نے مٹھائی کی ٹوکری پر ہی رکھ دی تھی اس خیال سے کہ قادیان جا کر الگ کر لوں گا مگر وہاں الگ کرنا بھول گیا۔ جب ٹوکری حضور نے کھولی تو حضور کے ہاتھ میں وہ بھتی پہلے آئی وہ بھی ساتھ ہی کھڑا تھا۔ حضور نے کچھ تھوڑی سی کھائی جب اس کی نظر پڑی تو اس نے کہا کہ حضور یہ تو میری مینا کی ہے۔ اس احمدی کا نام شمس الدین تھا۔ فرمایا کہ میں بھی حیران تھا کہ یہ نہ میٹھی ہے نہ نمکین ہے مگر میں اس لئے کھا رہاتھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ جو مجھے فرمایا ہے کہ دور دور سے لوگ تحفے لائیں گے میں نے سمجھا کہ یہ بھی کوئی تحفہ ہے اس لئے میں کھا رہا تھا اور تعجب بھی تھا کہ یہ تحفہ نہ میٹھا ہے نہ پھیکا ہے۔
    حضرت صاحب جب پہلے ہمارے مبارک منزل میں تشریف لائے ہیں تو سیڑھیاں چڑھتے وقت والد صاحب نے عرض کیا کہ حضور آپ دعا فرمائیں۔ فرمایا کہ یہاں نمازیں پڑھی جائیں گی اور خدا تعالیٰ کا ذکر ہو گا اس سے بڑھ کر اور کیا دعا ہو سکتی ہے چنانچہ اس کے بعد سولہ سترہ سال تک یہاں نمازیں پڑھی جاتی رہیں مہمان بھی یہیں اترا کرتے تھے۔
    خاکسار کے اس سوال پر کہ کیا کبھی آپ نے حضرت مسیح موعود کو امامت کرتے دیکھا ہے؟ فرما کہ ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا ہے۔ کہ حضور نے مسجد مبارک میں نماز پڑھائی ہم پیچھے تین آدمی تھے۔ شام اور عشا کی دو نمازیں ہم نے حضور کے پیچھے پڑھیں اور دونوں نمازوں میں حضور نے ’’ قل اعوذ برب الفلق اور فل اعوذبرب الناس‘‘ ایک ایک رکعت میں پڑھا۔ میں بھی مدت تک ایسا ہی کرتا رہا۔ مگر اب چونکہ حضرت خلیفہ ثانی ؓشام کی نماز میں سورہ فیل اور دوسری رکعت میں ’’قل اعوذ برب الناس‘‘ پڑھتے ہیں اور عشا کی نماز والضحیٰ اور والتین پڑھتے ہیں اس لئے میں بھی اب ایسا ہی کرتا ہوں۔
    حضور جب تقریر کرتے تھے تو حضور کی آواز میں خفیف سا تھتھلا پن تھا اور ران پر ہاتھ بھی مارا کرتے تھے۔
    حضور شروع شروع زمانہ میں پہلے بزرگوں کے واقعات سنایا کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ حضور نے سید عبدالقادر صاحب جیلانی کا یہ واقعہ سنایا تھا کہ ایک شخص ایک ہزار روپیہ لے کر سید عبدالقادر جیلانی کے جو پیر تھے شاید ابوسعید ان کا نام تھا ان کے پاس گیا اور عرض کیا کہ حضور دعا کریں میں تجارت کے لئے چلا ہوں تو انہوں نے فرمایا کہ یہ روپیہ تیرا چوری (ہو)جائے گا اور تو قتل ہو جائے گا تو وہ وہاں سے اٹھ کر حضرت سید عبدالقادر جیلانی ؓ کے پاس پہنچا اور اس نے عرض کیا کہ حضور دعا کریں میں تجارت کے لئے چلا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ جا بہت برکت ہو گی۔ وہ چلا گیا۔ پہلی منزل میں ایک جگہ وہ روپیہ بھول گیا ایک منزل جانے کے بعد پھر واپس آیا دیکھا کہ روپیہ وہیں پڑا تھا پھر وہ رات کو سویا اس نے خواب میں دیکھا کہ مجھے کسی نے قتل کر دیا ہے خیر اس کو تجارت میں بہت بڑا فائدہ ہوا۔ وہ ایک مسخرا پن سے حضرت ابوسعید ابولخیر کے پاس گیا تو انہوں نے اس کو دیکھ کر کہا کہ جا عبدالقادر کے پاس جس نے تیری تقدیر بدلنے کے لئے سات دفعہ دعا کی تھی۔
    ایک دفعہ میں نے تذکرۃ اولیاء میں یہ پڑھا کہ امام ابو حنیفہ سے مسجد کے لئے کچھ چندہ مانگنے کے لئے کوئی آدمی آیا۔ آپ نے فرمایا کہ میرا رزق حلال ہے۔ میں کیچڑ پانی میں خرچ نہیں کرنا چاہتا آخر اس نے کہا کچھ تبرکاً دے دیں۔ ایک اٹھنی دی وہ واپس لے آیا اور کہا کہ یہ کھوٹی ہے۔ آپ نے واپس لے لی اور کہا کہ مجھے اس پر شک تھا مگر الحمد للہ کہ یہ بھی مال طیب میں سے ثابت ہوئی ہے اس سے میرے دل میں حضرت ابوحنیفہ کی طرف سے قبض پیدا ہوئی اور یہ مسئلہ کسی طرح حل نہیں ہوتا تھا کہ مسجد کے واسطے انہوں نے ایسے الفاظ کیوں استعمال فرمائے۔ اتفاق سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی مسجد کے لئے کسی نے چندہ مانگا۔ تو حضور نے فرمایا کہ اس سے پہلے امام ابوحنیفہ سے بھی چندہ مانگا گیا تھا انہوں نے اس لئے نہیں دیا تھا کہ لوگ نام کے لئے مسجدیں بناتے ہیں کیونکہ جب تک پہلی مسجدیں آباد نہ ہو ں اور بھرنہ جائیں اس وقت تک دوسری مسجدیں بنانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اور آجکل تو لوگ مسجدیں بنا کر اوپر اپنا نام لکھ دیتے ہیں اس سے میری قبض جو امام صاحب کے متعلق تھی بالکل ہٹ گئی۔
    ایک دفعہ حضور نے فرمایا کہ بو علی سینا ایک دفعہ حضرت ابوالحسن خرقانی کو ملنے کے لئے گئے وہ گھر نہیں تھے۔ ان کی بیوی نے ان کی نسبت یعنی اپنے خاوند ابو الحسن کی نسبت کچھ برابھلا کہا اور کہا کہ آپ اتنے بڑے آدمی ہو کر اس کو کیوں ملتے ہیں؟ اس نے کہا کہ مجھے ضروری کام ہے اس نے کہا کہ وہ جنگل کی طرف لکڑیاں لینے کے لئے گیا ہوا ہے۔ بو علی اس طرف چل پڑا ۔آگے دیکھتا ہے کہ حضرت ابوالحسن شیر پر لکڑیاں کا گٹھا لادے چلے آرہے ہیں اس سے بو علی کو بہت تعجب اور حیرانگی ہوئی تو حضرت ابوالحسن نے آواز دی کہ بو علی تعجب نہ کرجب ایک گرگ جیسی عورت کا بوجھ ہم سہارتے ہیں شیر ہمارا بوجھ سہارتا ہے۔
    جب میں پہلے قادیان گیا تو گول کمرہ میں ٹھہرا مجھے یاد ہے کہ حضور قہوہ اور ہندی خطائیاں لائے تھے وہ قہوہ اتنا لذیذ تھا کہ آج تک مجھے ویسی لذت کبھی نہیں آئی۔ اس کے بعد پھر حضور رات کی روٹی لائے جس کے ساتھ کانسی کے برتن میں آلو گوشت تھے۔ توے کی پکی ہوئی روٹی تھی آلو ثابت تھے یہ قریباً ۱۸۸۹ء کا واقعہ ہے۔ حضرت میان بشیرالدین محمود احمد صاحب کوئی اڑھائی ماہ کے تھے اس وقت میرے ساتھ میرے نانا قائم دین تھے انہوں نے بیعت نہیں کی تھی۔ ایک مدراس کا انگریز بھی تھا اس نے مجھ سے پہلے بیعت کی تھی میرا نام اس کے نام کے بعد حافظ حامد علی صاحب نے لکھا تھا وہ بیعت کر کے اترا ہی تھا کہ پھر میں گیا ابھی تک سو احمدی نہیں ہوا تھا۔ اس وقت تو احمدی نام مقرر ہی نہیں ہوا تھا۔
    اس زمانہ میں مسلمان دکان دار مٹھائی وغیرہ نہیں بناتے تھے۔ حضرت صاحب ہندو دکان دار سے ریوڑیاں منگوایا کرتے تھے حضور گڑ بھی کھانا پسند فرماتے تھے۔
    ایک غفارا جو اس زمانہ میں یکہ بان تھا اس نے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور ایسی حالت میں سو گئے کہ ایک پائوں میں جوتی تھی اور دوسرے میں نہیں تھی۔ جب حضور بیدار ہوئے تو دیکھا کہ صرف ایک جوتی پڑی ہے بہت تلاش کیا مگر دوسری نہ ملی۔ کسی شخص کی نظر حضور کے پائوں پر پڑ گئی عرض کیا کہ حضور کے پائوں میں ہے۔
    حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کو گنے بہت پسند تھے ۔ حضرت مسیح موعود گنے کے ٹکڑے کروا کر ان کی چارپائی کے پاس رکھوا دیتے تھے تا کہ جب چاہیں چوسیں۔ حضرت صاحب اور خلیفہ اوّل کو بھی میں نے گنا چوستے نہیں دیکھا۔ حضرت خلیفہ اوّل سیویاں اکثر کھاتے تھے ۔
    وفات سے پہلے حضور نے روساء کی دعوت کی سب آئے ہوئے تھے سر محمد شفیع صاحب ، سر؛فضل حسین وغیرہ سب تھے محبوب عالم ایڈیٹر پیسہ اخبار بھی تھا۔ اس پر مجھے یاد ہے کہ سر محمد شفیع آرہے تھے تو باہر کچھ مولوی کھڑے تھے ایک مولوی نے کہا کہ آپ مرزا صاحب کی روٹی کھا کر کافر ہو جائیں گے۔ سر موصوف نے کہا کہ اگر تم نے آئندہ کبھی ایسا کہا تو میں تمہیں قید کرا دوں گا۔ خیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کچھ دیر ہو گئی تو روساء نے حضرت مولوی نورالدین صاحب سے کہا کہ آپ ہی کچھ بیان فرمائیں۔ تو حضرت مولوی صاحب نے ایک تقریر شروع کی کوئی قریباً آدھ گھنٹہ تک یا کچھ زیادہ آپ بولتے رہے۔ اچانک دروازہ کھلا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے حضرت مولوی صاحب اسی وقت بیٹھ گئے اور فاصلہ قریباً دس بارہ گز کا تھا۔ تو حضور نے آکر وہیں سے اپنی تقریر کو شروع فرمایا ۔ جہاں سے مولوی صاحب نے چھوڑا تھا۔
    ایک دفعہ میاں چراغ دین صاحب ہمارے والد، میں، مریم عیسیٰ، عبدالمجید اور ہماری والدہ اور میری بیوی قادیان گئے کوئی ۹۸۔۱۸۹۹ء کا واقعہ ہے۔ حضرت صاحب نے عورتوں کو کچھ نصائح فرمائیں۔ حضرت صاحب کی نصائح سن کر پھر وہ حضرت خلیفہ اوّل ؓ کے گھر میں گئیں تو حضرت خلیفہ اوّل نے بھی بالکل وہی نصائح بیان فرمائیں جو حضرت صاحب فرما چکے تھے۔ مفہوم اس کا یہ تھا کہ ناشکری نہیں کرنی چاہئے بچوں کو گالیاں نہیں نکالنی چاہئیں۔ بعض وقت گالی کا اثر سچ مچ ہو جاتا ہے۔
    میں نے حضرت صاحب کو کبھی کسی شخص پر غصہ ہوتے نہیں دیکھا سوائے ایک اندھے حافظ کے کہ کسی بات پر حضور اس سے ناراض ہوئے تھے۔
    ایک دفعہ حضرت صاحب نے فرمایا کہ قادیان دریائے بیاس تک پھیل جائے گا۔
    ایک دفعہ میں نے کسی اور شخص سے سنا تھا کہ حضور نے فرمایا کہ لوگ لاہور کے پاس سے گزریں گے اور کہیں کہ کبھی یہاں شہر بستا تھا۔
    جب حضرت صاحب کو حضرت مسیح ناصری کی وفات کا کوئی نیا ثبوت ملتا تھا یا پھر اسلام کی صداقت کا کوئی نشان ظاہر ہوتا تھا تو خوشی سے آپ کا چہرہ چمک اٹھتا تھا۔ چنانچہ خطبہ الہامیہ کے وقت آپ کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا۔
    آریوں نے ایک اخبار میں لکھا جس کی سرخی تھی کہ ’’ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔‘‘بقر عید کو مرزا صاحب کو بھی کوئی قتل کر دے گا۔ تو پھر کیا یہ پیشگوئی ہو جائے گی؟ اس پر میں اور مرزا ایوب بیگ اور اور بہت سے مہمان جن میں خواجہ کمال الدین ، خلیفہ رجب الدین بھی تھے ہم ایک دن بقر عید سے بھی پہلے قادیان گئے۔ حضور نے حضرت خلیفہ اوّل کو ایک رقعہ پر لکھ بھیجا کہ چونکہ آج دعا کا دن ہے اور حج کا دن ہے باہر جو مہمان آئے ہوئے ہیں ان کے نام آپ مجھے لکھ دیں اور ان کو کہہ دیں کہ وہ حاجتیں اپنی دل میں رکھیں میں ان کے لئے دعا کروں گا۔ میں نے اپنے گھر میں منع کر دیا ہے کہ مجھے کوئی بلائے نہیں اور باہر والوں کو بھی منع کیا ہے۔ حضرت مولوی صاحب نے ہمارے نام لکھے۔ مدرسہ احمدیہ کے گیٹ کے ساتھ کے کمرہ میں کوئی صبح کے آٹھ بجے تھے اندر لکھ کر بھیج دئیے حضور سارا دن دعا کرتے رہے۔ صرف ظہر اور عصر کے وقت باہر آکر نماز پڑھی تھی۔ پھر ہم نے شام کے قریب سنا کہ حضور کچھ بیمار ہو گئے ہیں اور دست آرہے ہیں۔ صبح جب عید کا دن ہوا تو مسجد اقصیٰ میں عید پڑھی گئی حضور بھی عید میں تشریف فرما تھے نماز عیدمولوی عبدالکریم صاحب نے پڑھائی تھی۔ پیچھے فرمایا کہ میں خطبہ خود پڑھوں گا کیونکہ کل جو دعائیں کی ہیں ان کی قبولیت کا نشان مجھے دیا گیا ہے۔ کچھ دیر حضور کھڑے پڑھتے رہے پھر کرسی منگوا دی گئی اور حضور بیٹھ گئے۔ حضور فرماتے جاتے تھے اور مولوی صاحبان لکھ رہے تھے۔ مولوی صاحب نے بہتوں کو کہا کہ جس نے الہام یا وحی کو ہوتے ہوئے نہیں سنا اس وقت دیکھ لے۔ حضور کی آنکھیں بند تھیں اور کبھی کبھی کھولتے تھے۔ اس دن آپ کا چہرہ سورج کی طرح روشن تھا حضور بہت خوشی میں تھے۔ اس دن قریباً تین بجے ہم نے روٹی کھائی تھی کیونکہ مولوی عبدالکریم صاحب نے پیچھے خطبہ کا ترجمہ بھی سنایا تھا۔ پھر مدرسہ احمدیہ میں روٹی کھائی۔ حضرت خلیفہ اوّل نے دو غیر احمدیوں کو دسترخوان سے اٹھا دیا تھا۔ پیچھے پتہ لگا کہ حضور نے فرمایا تھا کہ آج میرے دسترخوان پر کوئی غیر احمدی کھانا نہ کھائے۔ خاص جلدل کا دن تھا۔
    جب کرم دین اور مارٹن کلارک کے مقدمات میں دیکھا ہے تو حضور اس طرح مسیح کی وفات کا ذکر فرماتے تھے کہ حضور کے چہرہ پر رنج وغیرہ کے کوئی آثار نہیں ہوتے تھے۔ یہی حال خلیفۃ المسیح اوّل کا رہا۔ چنانچہ مولوی فضل دین وکیل جو یہاں موچی دروازہ میں رہا کرتے تھے انہوں نے کہا حضرت صاحب کو کہ میرا خیال ہے کہ آپ کے خلاف فیصلہ لکھے گا ۔فرمایا آسمان سے خدا کہتا ہے کہ میں تجھے بری کروں گا اور آپ کہتے ہیں فیصلہ خلاف لکھے گا یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ فضل دین صاحب نے کہا آپ کا معاملہ خدا کے ساتھ عجیب ہے اس وقت سب کے چہرے زرد پڑ گئے تھے مگر حضرت صاحب کے چہرہ پر کوئی ملدل آثار نہ تھے۔
    ایک دفعہ گورداسپور میں حضور نے صاحبزادہ مبارک احمد کو بوسہ دیا تو حضور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کہا ہے کہ اس کو چومو۔
    ایک دفعہ کسی سٹیشن پر حضور ایک مجمع میں بیٹھے ہوئے تھے کہ لیکھرام نے آکر کہا کہ مرزا جی سلام۔ حضور نے اپنے منہ کو دوسری طرف کر لیا پھر اس نے دوسری طرف سے آکر سلام کیا ۔ حضور نے پھر دوسری طرف منہ کر لیا۔ کسی نے کہا کہ حضور لیکھرام سلام کر رہا ہے فرمایا کہ اس کو کہو کہ وہ چلا جائے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ ہمارے آقا کو گالیاں دے اور ہمیں سلام کرے۔
    ایک دفعہ لاہور کے سٹیشن پر میں نے حضرت صاحب کو حصرت ام المومنین کا ہاتھ اپنی بغل میں دبا کر ٹہلتے دیکھا۔ حضرت نواب مبارکہ بیگم بالکل چھوٹی تھیں اور ساتھ ساتھ چل رہی تھیں۔ ایک دفعہ مولوی نورالدین صاحب اپنے مطب میں بیٹھے ہوئے تھے قریباً بارہ ایک بجے کا وقت تھا گرمیوں کے دن تھے۔ حضرت ام المومنین نے اندر سے ایک خادم بھیجا اور اس نے آکر کہا مولوی صاحب حضرت ام المومنین فرماتی ہیں کہ آکر میرا فصد کھول دو۔ فرمایا کہ اماں کو جا کر کہہ دو کہ اس بیماری میں اس وقت میں فصہ کھولنا طب کی رو سے سخت منع ہے پھر وہ کچھ دیر کے بعد اندر سے آئی پھر اس نے یہی کہا۔ حضرت مولوی صاحب نے پھر بھی یہی فرمایا۔ پھر کچھ دیر کے بعد حضرت میاں محمود احمد صاحب تشریف لے آئے ان کو حضرت مولوی صاحب نے گود میں لے لیا اور پوچھا میاں صاحب کس طرح تشریف لائے ؟فرمایا ابا کہتے ہیں کہ آکر فصد کھول دو۔ تو مولوی صاحب اسی وقت چلے گئے اور آکر فصد کھول دیا۔ جب جانے لگے تو ایک شخص غلام محمد صاحب نے کہا کہ آپ تو فرماتے تھے منع ہے ۔ فرمایا اب طب نہیں اب تو حکم ہے۔
    جب مہمان خانہ اس مکان میں ہوتا تھا جہاں آج کل حضرت میاں بشیر احمد صاحب رہتے ہیں تو خواجہ کمال الدین صاحب نے لنگر سے ایک بکرے کا گوشت لیا اور تین سیر گھی کچھ شلجم اور ایک دیگ میں چڑھا کر رات کے وقت پکانا شروع کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اتفاق سے ساڑھے گیارہ بجے مہمانوں کو دیکھنے تشریف لے آئے۔ دیگ کو دیکھ کر فرمایا یہ کیا ہے؟ کسی نے عرض کیا حضور یہ شب دیگ ہے۔ فرمایا شب دیگ کیا ہوتی ہے؟ اس نے کہا حضور کچھ گھی کچھ گوشت اور کچھ شلجم یہ تمام رات پکیں گے۔ فرمایا مجھے تو کچھ ناپسند ہی ہے لنگر سے الگ پکانا۔ جب یہ لوگ سو گئے اور دیگ کے نیچے سے آگ ٹھنڈی ہو گئی تو دس بارہ کتے آگئے اور انہوں نے دیگ کو اوندھا کیااور گوشت کھانا شروع کر دیا۔ جب وہ آپس میں لڑنے لگے تو ان کی نیند کھل گئی انہوں نے کتوں کو ہٹایا اور دیکھا کہ دیگ میں بہت کم سالن رہ گیا ہے اور حضرت صاحب سے جا کر عرض کیا کہ ہم یہ سالن چوہڑوں کو دے دیتے ہیں۔ فرمایا کہ پہلے ان کو کہہ دینا کہ یہ کتوں کا جوٹھاہے۔ پھر ان کا دل چاہے تو لے جائیں چاہے نہ لے جائیں۔ جب چوہڑوں سے جا کر پوچھا تو انہوں نے کہا کہ توبہ توبہ ہم کتوں کا جھوٹا کھانے والے ہیں ؟ غرض دیگ کو پھینک دیا گیا۔
    تو خواجہ کمال الدین صاحب کے منہ سے بے اختیار نکلا کہ ’’ مرزا جی دی نظر لگ گئی ہے۔ ‘‘
    ایک دفعہ گورداسپور میں تھے ظہر کی نماز پڑھ چکے تھے گرمی کا موسم تھا۔ دو بجے کا وقت تھا۔ میں حضور کو پنکھا کر رہا تھا۔ حضور ایک کرسی پر تھے اس کے پیچھے پہنچیں تھیں کچھ لوگ ان پر بیٹھے تھے کچھ چاروں طرف کھڑے تھے حلقہ باندھے۔ اسی کرسی کے پاس ہی چندولال مجسٹریٹ کی میز تھی اچھی بڑی میز تھی۔ پہلے مولوی عبدالکریم صاحب نے گواہی دی پھر حضرت صاحب سے اس نے پوچھا کہ آپ کا الہام ہے ’’ انی مھین من ارادا اھانتک‘‘ میں آپ کی توہین کرں تو حضور نے فرمایا کہ یہ خدا کا کلام ہے اگر آپ بھی کریں۔ اس پر خواجہ صاحب نے کہا کہ یہ وہ پتھر ہے جس پر یہ گرے گا وہ بھی چکنا چور اور جو اس پر گرے گا وہ بھی چکنا چور ۔
    کرم دین کا وکیل محمد عمر بٹالہ کا تھا۔ عدالت باہر درختوں کے نیچے لگ رہی تھی۔
    چنانچہ اس کے بعد پھر وہ ایک واقعہ کی بنا پر (Degrade) ہو کر واپس نصف بنا کر ملتان بھیجا گیا۔
    یہاں لاہور میں خواجہ کمال الدین کے پاس آیا اور پوچھا کہ مرزا صاحب نے میرے متعلق اور تو کچھ نہیں کہا۔
    ایک دفعہ میاں معراج الدین صاحب عمر وغیرہ نے مل کر میری کتاب تذکرۃ الاولیاء اڑا لی میں نے بہت کوشش کی مگر انہوں نے واپس نہ کی۔ میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں لکھ دیا حضور نے انہیں لکھا ۔چنانچہ وہ کتاب فوراً مجھے مل گئی۔
    گورداسپور کے مقدمات کے دوران میں میں یہاں سے ایک کپڑا لے گیا تھا جسے سوزنی کہتے ہیں وہ حضور کے نیچے درختوں کے سایہ میں بچھایا کرتا تھا۔
    حضور جب مجلس میں بیٹھا کرتے تھے تو بسا اوقات آپ کا ہاتھ آپ کی ران پر لگتا تھا اور ایک پائوں دوسری ران پر بھی رکھ کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔
    حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات کے بعد جب آپ نے مدرسہ احمدیہ کا اجرا کیا تو لاہور تشریف لائے اور تاج الدین صاحب کی بیٹھک واقع کشمیری بازار میں لیکچر دیا جس میں لوگوں کو نصیحت کی کہ آج کل دین کا علم مسلمانوں میں نہیں رہا میں ایک مدرسہ کھولنے لگا ہوں لوگ اس میں اپنے بچے داخل کریں۔ حاضری قریباً پانچ سات سو تھی۔
    جعفرز ٹلی باہر کھڑا مجمع ہی گالیاں دے رہا تھا۔ سنہری مسجد کی سیڑھیوں میں کھڑا ہو کر بکواس کر رہا تھا۔ کہہ رہا تھا کہ لوگو! خبردار مرزا کی باتیں نہ سننا۔ پس مدرسہ میں کسی بچے کو مت بھیجو۔ غالباً حضور نے ایک اشتہار بھی دیا تھا ’’انا نحن نزلنا الذکر وانا لحافظون‘‘ کی تشریح تقریر میں فرمائی تھی کہ اللہ تعالیٰ اسی طرح قرآن مجید کی حفاظت فرماتا ہے کہ اس میں حفاظ، مجدد،آئمہ بھیج دئیے ہیں۔
    جب میں نے بیعت کی تو حضور نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ آپ نے کوئی دین کی کتاب پڑھی ہے تو میں نے عرض کیا تھا کہ حضور تذکرۃ الاولیاء پڑھی ہے اس وقت میں سبز رنگ کی مرینہ کی پگڑی پہنے ہوئے تھا۔ حضور عموماً سفید پگڑی پہننا کرتے تھے۔ فوٹو کے وقت آپ نے ایک لنگی پہنی ہوئی تھی جس کا پلہ تلے کا تھا۔
    حضور پگڑی شیشہ کے بغیر ہی باندھ لیا کرتے تھے ۔ جب مولوی محمد حسین کے ساتھ مقدمہ تھا تو اس وقت حضور لنگی باندھے ہوئے تھے۔
    سرخ نبات کا چوغہ بھی میں نے حضرت صاحب کو پہنے دیکھا ہے۔ یہ یاد نہیں کہ آپ کہاں سے واپس آرہے تھے؟ لاہور کے سٹیشن پر غالباً دیکھا تھا۔
    پانی حضور بائیں ہاتھ سے پیتے تھے چونکہ دایاں ہاتھ کو چوٹ لگی ہوئی تھی مگر دایاں ہاتھ گلاس کو لگاتے ضرور تھے۔ نبوت سے پہلے ایک دفعہ حضور غالباً سیڑھیوں سے یا کسی اور جگہ سے گر گئے تھے اسی کا اثر ہاتھ پر آخر تک رہا تھا۔
    ایک دفعہ فرمانے لگے کہ میرے منہ کا ذائقہ بہت پھیکا ہو گیا ہے روزوں کی وجہ سے۔ فرمایا اگر چٹنی ہو تو کھائوں۔ ہم باغ سے املیاں کچیاں لائے چٹنی بنائی حضور نے خود نہیں کھائی تھی غالباً کسی کام لگ گئے۔ وہ پڑی کی پڑی رہ گئی ہم ہی کھا گئے تھے۔
    کھانا کھاتے وقت لقمہ سالن میں ذرا سا چھوتے تھے اچھی طرح ڈبو کر کھاتے میں نے نہیں دیکھا۔ بعض دفعہ میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ حضور پر کھانا کھاتے وقت بھی محویت کا یہ عالم ہوتا تھا کہ اگر کوئی سالن کا برتن آگے سے لے لیتا تو حضور دسترخوان سے ہی لقمہ لگا کر کھاتے رہتے تھے۔
    ایک دفعہ گورداسپور میں اور ایک دفعہ لاہور میں موتیے کا ہار حضور کو پہنے دیکھا۔ حضرت خلیفہ اوّل کو بھی ہم نے ایک دفعہ پھولوں کے بہت سے ہار ڈالے تھے۔
    ایک (دفعہ) مسجد اقصیٰ میں حضور نے گناہ پر ایک تقریر فرمائی اور اتنے باریک گناہ بیان فرمائے کہ سب کو پرسش کا خطرہ لاحق ہو گیا۔ منشی احمدد ین صاحب اپیل نویس گوجرانوالہ کے تھے وہ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت خلیفہ اوّل نے بھی یہ تقریر سن کر اپنی نسبت خطرہ ظاہر کیا تھا۔ جب حضور مسجد سے باہر نکلے تو میں حضور کے داہنے طرف تھا اور منشی صاحب موصوف بائیں طرف تھے اور باقی لوگ ادھر ادھر تھے ۔ کچھ پیچھے تھے۔ منشی احمد دین صاحب نے عرض کیا کہ حضور اس طرح تو ہم سب کی صفائی ہے۔ فرمایا۔ یہ بات بھی ہے جو میں نے بیان کی ہے اور یہ بھی ہے کہ قیامت کے دن بعض ایسے لوگ ہوں گے جن کے اعمال میں ایک نیکی بھی نہیں ہو گی تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ تم نے میرے کسی ولی کی زیارت کی ہے کہ نہیں تو وہ عرض کریں گے الٰہی ارادۃً تو نہیں کی مگر بازار میں فلاں ولی کی زیارت ہو گئی تھی اس پر اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دے گا اور جنت میں داخل کر دے گا۔ ہم اس پر بڑے خوش ہوئے آپ نے فرمایا کہ آپ تو ارادے سے یہاں آتے ہیں۔
    خاکسار کے اس سوال پر کہ کیا کبھی آپ نے حصرت صاحب کو کسی سے بغل گیر ہوتے بھی دیکھا ہے میاں عبدالعزیز صاحب نے فرمایا کہ ہاں صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کو حضور گلے لگا کر ملے تھے جس وقت وہ قادیان سے اپنے وطن واپس جانے لگے تھے ۔ صاحبزادہ صاحب یہاں لاہور تشریف لائے تھے اور ہمارے مکان پر قریباً آٹھ دن ٹھہرے تھے اور جمعہ کی نمازبھی گمٹی مسجد میں پڑھائی تھی۔ اس خطبہ میں آپ نے فرمایا تھا کہ ’’محمد است عین محمد‘‘ یہ الفاظ ابھی تک ہمارے کانوں میں گونج رہے ہیں اور مولوی رحیم اللہ صاحب والی مسجد میں جو ہمارے پہلے مکان کے سامنے تھی جہاں ہم نماز پڑھا کرتے تھے سید صاحب نے یہ نظم لکھی تھی جس کا پہلا شعر یہ ہے۔
    عجب کہ احمد اطہر بایں گزر آمدہ محمد است …………
    یہ نظم شائع ہو چکی ہے۔ صاحبزادہ صاحب نے یہاں غالباً آٹھ نو ٹرنک حدیث اور دیگر علوم کی کتابوں کے لاہور سے خریدے تھے۔ ڈاکٹر غلام محمد صاحب جو پیغامی ہیں اور خواجہ کمال الدین صاحب کے بہنوئی ہیں ان کے بڑے بھائی کی شادی تھی دعوت پر ان کے والد نبی بخش صاحب جو …… کے نام سے مشہور تھے انہوں نے ہم کو بھی اور سید صاحب کو بھی ولیمہ پر آنے کے لئے دعوت دی۔ جب سید صاحب کے آگے روٹی رکھی گئی جو زردہ پلائو وغیرہ مرغن کھانا تھا تو سید صاحب نے فرمایا کہ ایں حرام است اور اٹھ کر چل دئیے۔ ہم پیچھے پیچھے بڑی جلدی جلدی ان کے ساتھ چلے آئے آپ نے اس دن ہمارے گھرسے بھی روٹی نہیں کھائی کہ تم وہاں سے کھا کر آئے ہو گے۔
    پیچھے سے پتہ لگا کہ ولیمہ نکاح سے پہلے تھا اور روپیہ بھی سود پر لیا گیا تھا۔
    حضور کا لباس۔ شلوار پہنے میں نے حضور کو کبھی نہیں دیکھا شرعی پاجامہ حضور پہنتے تھے۔ قمیض فلالین کی گرم ہوتی تھی۔ جن دنوں میں دہلی پہنچے اخبار نے یہ مشہور کیا تھا کہ حضور کو کوڑھ ہو گیا ہے ان دنوں میں حضور اکثر ململ کا کرتہ اور لٹھے کا پاجامہ پہنتے تھے اس کرتہ کے اوپر اور کچھ نہیں ہوتا تھا اور اکثر دیکھا ہے کہ آپ پنڈلیوں سے پاجامہ بھی بار بار اٹھایا کرتے تھے اور بازوئوں سے کرتہ بھی کہنیوں تک اٹھاتے تھے۔ یہاں لاہور میں بکثرت یہ بات مشہور ہو گئی تھی اور بہت سے لوگوں کو ہم دکھانے کے لئے قادیان لے جایا کرتے تھے جن میں سے اکثر بیعت کر کے آتے تھے۔
    سب سے عجیب بات یہ ہے کہ دہلی پہنچ کر ایڈیٹر نے اپنے مکان کے دروازے کے اوپر دیوار پر بڑا موٹا لکھا تھا کہ ’’*** اللہ علی الکاذبین‘‘ جس کا نتیجہ اس پر الٹ پڑا اور وہ تباہ ہو گیا۔
    حضور دوسرے تیسرے روز مہندی لگایا کرتے تھے آخری عمر میں وسمہ بھی لگاتے تھے۔
    ایک دفعہ میں نے ایک اپنی بیوی کو طلاق دے دی وہ قادیان میں حضرت صاحب کے پاس شکایت لے گئی۔ مجھے اور میاں معراج دین صاحب عمر کو حضور نے بلا بھیجا اور پھر ہماری صلح کرا دی۔میاں معراج دین عمر صاحب میرے سگے چچا ہیں میری اور ان کی بیعت کا آٹھ دن کا فرق ہے انہوں نے پہلے بیعت کی تھی۔
    پہلے پہل ایک ایسی لالٹین جس میں مٹی کے تیل کی الگ ڈبی رکھی ہوئی ہوتی تھی کہ سحری کے وقت حضور کے ہاتھ میں ہوتی تھی اور آکر مہمانوں کو بڑے آہستہ سے اٹھاتے تھے اور فرماتے تھے کہ اٹھیں نماز کا وقت ہے اٹھیں نماز کا وقت ہے اور پھر وہی بتی جا کر مسجد میں رکھ دیتے تھے اور اکثر صبح کی نماز مسجد مبارک میں ہی پڑھا کرتے تھے۔
    میرے اس سوال پر کہ کیا حضور نے کبھی بوٹ بھی پہنے ہیں؟ میاں صاحب نے فرمایا کہ ایک دفعہ برائون گرگابی کسی نے لا کر دی تھی مگر دائیں بائیں کے پہننے میں حضور کو تکلیف ہوتی تھی اس لئے حضور نے پہننا چھوڑ دی تھی۔ مفتی صاحب نے دائیں طرف نشان لگا دیا تھا سیاہی کا مگر میاں محمود احمد صاحب نے بائیں طرف بھی ویسا ہی لگا دیا۔ اس پر آپ نے فرمایا اس کو لے جائو۔
    ایک دفعہ ہم نے صبح کی نماز کے بعد دیکھا ہے کہ حضور کے پائوں میں ایک جراب سفید تھی اور ایک سیاہ تھی۔ کسی نے عرض کیا تو حضور جا کر بدل آئے تھے۔
    ایک دفعہ زنانہ پاجامہ پہن کر آگئے تھے مولوی عبدالکریم صاحب نے عرض کیا کہ حضور یہ زنانہ پاجامہ ہے۔ حضور نے فرمایا یہی پڑا تھا پھر اندر جا کر بدل کر تشریف لائے۔
    میرے اس سوال پر کہ حضور ازار بند کس چیز کا پہنا کرتے تھے ؟فرمایا کہ ٹوٹی ریشم کا ازار بند ہوتا تھا جو اصل ریشم نہیں ہوتا ۔مجھے یاد ہے کہ حضور ایک دفعہ یہاں تشریف لائے تو ازار بند کے ساتھ چابیوں کا ایک بڑا گچھا بندھا ہوا تھا جو میاں امیر دین پراچہ کے لئے ابتلاء ہو گیا۔ ان کا لڑکا آجکل کلکتہ میں ہے اور دوست محمد اس کا نام ہے مخلص احمدی ہے۔
    حضور گالیوں کے خطوط کو بھی محفوظ رکھا کرتے تھے۔ ایک دفعہ حضور نے فرمایا کہ گالیوں کے خطوط چار من تول میں ہو گئے ہیں۔ یہ طاعون سے پہلے کا واقعہ ہے پھر طاعون شروع ہو گئی۔
    ایک دفعہ ایک شخص نے 26کی ململ کی پگڑی حضور کو بندھوائی اور پہلی پگڑی لینے کے لئے عرض کی۔ نئی پگڑی پہن کر حضور مسجد اقصیٰ میں تشریف لے گئے عصر کا وقت تھا حضور نے تقریر شروع کی ایک شخص حضور کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا کسی وقت تھوڑی دیر کے بعد حضور کی پگڑی کے شملہ کو کھینچ چھوڑے اسی طرح اس نے تین چار گز کے قریب پھاڑ لی حضور نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
    میں نے دیکھا ہے کہ بعض اوقات بچے حضور کی جیبوں میں ہاتھ ڈال لیتے تھے اور تلاشی لیتے رہتے تھے جب وہ خود نہ چھوڑتے حضور کھڑے رہتے تھے۔
    حضور جب کبھی لاہور تشریف لاتے تو اکثر ہمارے مکان میں ٹھہرا کرتے تھے۔ وفات سے قبل یعنی آخری مرتبہ احمدیہ بلڈنگ والوں کی درخواست (پر) وہاں خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان پر ٹھہرے تھے۔ ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب کے مکان پر حضور کی وفات ہوئی۔
    جب کوئی شخص اپنی بات سناتا تھا تو خواہ کتنا وقت لے لے حضور نے کبھی نہیں کہا کہ بس کرو ۔ ہم لوگ ایسے لوگوں کو ہٹا دیا کرتے تھے چنانچہ مجھے یاد ہے ایک دفعہ خواجہ کمال الدین صاحب (نے) جب ابھی وکیل نہیں بنے تھے حضور کے تین گھنٹے برباد کر دئیے جس سے ہم کو بڑی تکلیف ہوئی۔
    حضرت صاحب خدام کی بڑی دلجوئی فرمایا کرتے تھے حضرت خلیفہ اوّل کا بھی یہی حال تھا۔ چنانچہ ایک دفعہ کسی پیغامی کی بے ادبی پر حضور نے والدم ؓ کو بلا بھیجا تھا ان کے ساتھ میں بھی تھا ہم نے یہاں سے کچھ کیلے لئے تھے رستہ میں وہ کچھ نرم ہو گئے تو جب ہم حضور کے پاس پہنچے تو حضور نے سب سے نرم کیلا پہلے لے کر کھانا شروع کیا اور فرمایا کہ دیکھو کہ مجھ جیسے بوڑھے آدمی کے لئے یہ کیسی اچھی چیز ہے۔
    پھر مولوی صدر دین اور ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب اور ڈاکٹر یعقوب بیگ وغیرہ معافی مانگنے کے لئے اندر آگئے اور کہنے لگے آپ ہمارے باپ ہیں ہمیں معاف کر دیں۔ آپ نے فرمایا یہ انگریزی معافی ہے۔ اچھا۔
    ایک دفعہ حضور یہاں حسب معمول فٹن میں سیر کے لئے گئے تھے۔ رستے میں حضور نے واپسی کا جلد حکم دے دیا تھا جب گھر پہنچے تو سخت اندھیری آگئی۔ وقت کے لحاظ سے اس کے پونے دو روپے بنتے تھے مگر وہ چار روپے مانگتا تھا نانا جان نے کہا کہ ہم حساب کے لحاظ سے یہی دیں گے۔ حضور اس وقت خواجہ صاحب کے مکان کی لکڑی کی سیڑھی چڑھ آئے تھے حضور نے نانا جان کو فرمایا کہ ہاں چار ہی دے دو۔ مانگتاجو ہے۔
    حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام عموماً شام سے لے کر عشا تک خدام میں بیٹھا کرتے تھے اور دینی مسائل پر گفتگو فرمایا کرتے تھے۔
    مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ ایک عیسائی عبدالرحمان بی اے نے جو آج کل لدھیانہ رہتا ہے مسجد اقصیٰ کے پرلے دروازے کی سیڑھیوں سے آپ نکل رہے تھے کہ سوال کیا کہ آپ ہماری تثلیث پر اعتراض کرتے ہیں آپ تو خود تثلیث کے قائل ہیں۔ آپ کی مغرب کی نماز کی تین رکعتیں ہیں اور وتر بھی آپ تین ہی پڑھتے ہیں حالانکہ وتر ایک کو کہتے ہیں۔ حضور نے اس سوال کا بڑا لطیف جواب دیا تھا مگر افسوس کہ مجھے یاد نہیں رہا۔
    حضرت صاحب جب کبھی سیر پر جاتے یا آتے وقت ہندو بازار سے گزرتے تھے تو ہندو سلام کے لئے کھڑے ہو جاتے تھے ۔
    خاکسار کے اس سوال پر کہ کیا حضرت صاحب کے ساتھ مصافحہ کر کے کبھی آپ نے بوسہ بھی دیا ہے؟ فرمایاکہ ہم ہمیشہ حضور کے ہاتھ کو بوسہ دیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ ایک کشمیری آیا اور حضور کے پائوں پر گر پڑا حضور نے اس کو اٹھا دیا اور خلیفہ رجب الدین صاحب کو کہا کہ ان کو سمجھائیں کہ ایسا نہیں کرنا چاہئے۔
    ایک دفعہ مولوی محمد احسن صاحب کو فرمایا کہ یہ جو حدیث میح ہے کہ سوائے مریم اور ابن مریم کے تمام کو شیطان پیدا ہوتے وقت چھوتا ہے اس کا آپ جواب لکھیں۔ کیونکہ حضرت نبی کریم ﷺ اور دوسرے انبیاء بھی اس میں آجاتے ہیں۔ چھ دن کے بعد حضور نے پوچھامولوی صاحب آپ نے اس کا کوئی جواب لکھا؟ مولوی محمد احسن صاحب نے عرض کیا کہ حضور مجھے سمجھ نہیں آیا۔ فرمایا یہ بڑی موٹی بات ہے کہ سوائے ابن مریم کے کسی کی ولادت پر شبہ نہیںکیا گیا۔ اس لئے اس کے یہ معنے بھی کر سکتے ہیں کہ اس سے مراد حضرت مسیح ابن مریم کی ولادت کو الزام سے پاک کرنا تھا اس لئے ایسا فرمایا۔
    ایک دفعہ قادیان میں تقریباً دس بارہ عیسائی پادری آئے۔ چند ہندو اور چند مسلمان بھی ان کے ساتھ تھے ایک یورپین بھی غالباً تھا۔ حضرت صاحب نے چائے ڈبل روٹی وغیرہ کے ساتھ ان کی تواضع کی۔ انہوں نے اعتراضات کئے کہ آپ جو کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں ہر بات ہے۔ ہیضہ کا نسخہ کہاں ہے نیز ہماری مشنری عورتیں جو گھروں میں جا کر عورتو ں کو عیسائی کرتی ہیں ان کا کہاں ذکر ہے اور اس کا کیا ثبوت ہے کہ یہ وہی قرآن ہے جو نبی کریم ﷺ پر نازل ہوا تھا؟ حضور نے فرمایا کہ ہیضہ گرمی یا سردی کے بڑھ جانے سے ہو جاتا ہے اس لئے بہشت میں اللہ تعالیٰ نے کافور اور سونٹھ کا پانی دونوں رکھے ہیں تا کہ طبیعت کو اعتدال میں رکھے اور یہ دونوں چیزیں ہیضے کے واسطے بڑی مفید ہیں۔ فرمایا تمہاری مشنری عورتوں کی بابت آخری سورتوں میں چونکہ آخری زمانہ ہے اس کا ذکر ہے۔ چنانچہ ’’ومن شر النفثت فی العقد ۱؎ ‘‘ یہ آیت تلاوت فرمائی۔ کہ ان عورتوں کے شر سے بچا جو گانٹھ میں پھونک مارتی ہیں۔ چنانچہ پھونک سے مراد منہ کی باتیں گانٹھ سے مراد نکاح ہیں۔ عورتوں کو عیسائی بنا کر نکاح فسق کرا دیتی ہیں۔ تیسرے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ہر صدی کا قران مجید اب تک موجود ہے اس کے رسم خط میں بھی اختلاف نہیں ہوا۔ اور حفاظ اب تک لاکھوں کی تعداد میں چلے آرہے ہیں جو سینہ بسینہ قرآن مجید کو محفوظ کرتے چلے آرہے ہیں اور یہ اس بات کا بڑا قوی ثبوت ہے کہ یہ وہی قرآن مجید ہے جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا تھا۔
    سب سے پہلا جنازہ جو لاہور سے بہشتی مقبرہ میں دفن کرنے کے لئے لے جایا گیا تھا وہ مولوی غلام حسین صاحب کا تھا۔ جن کا ذکر محبوب اریوں کے مکان کے مباحثہ میں آچکا ہے۔ حضرت صاحب نے ان کا جنازہ بھی پڑھایا تھا اور کندھا بھی دیا تھا اور فرمایا تھا کہ میں اس کے علم پر تعجب کیا کرتا تھا۔ میں بھی ان کے جنازہ کے ساتھ گیا تھا۔ بے نظیر عالم تھے۔
    خاکسار کے اس سوال پر کہ کیا آخری عمر میں حضرت صاحب کے چہرہ پر جھریاں پڑ گئی تھیں فرمایا کہ نہیں۔ جب حضور کی وفات ہوئی ہے تو میںجنازہ کے ساتھ قادیان گیا تھا۔ جنازہ باغ والے مکان میں رکھا گیا تھا اور عصر کے وقت تمام لوگوں کو آپ کے چہرہ کی زیارت کرائی گئی تھی۔ اس وقت میں نے حضور کی پیشانی پر بوسہ بھی دیا تھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ حضور سوئے ہوئے ہیں۔ چہرہ پر زردی بھی نہیں تھی۔
    حضور کی وفات پر لاہور کے لوگوں نے بڑا شور مچایا تھا کہ حضور کو ہیضہ ہو گیا ہے اور ہیضہ سے وفات یافتہ کی لاش کو گاڑی میں لے جانے کی اجازت نہ تھی۔ اس لئے ریلوے سول سرجن نے آکر ملاحظہ کیا اور سرٹیفیکیٹ دیا کہ ہیضہ نہیں ہے ۔ لیکن لوگوں نے اس وقت اتنا شور مچایا ہوا تھا کہ پولیس کو لانے کی ضرورت پیدا ہوئی۔ غیر احمدیوں نے ایک جعلی جنازہ بنا کر اس کے منہ پر گند مل کر نہر کے اوپر چارپائی پر منہ ننگا کر کے لٹا چھوڑا تھا اور جو کوئی گزرتا تھا کہتا تھا کہ یہ مرزے کا جنازہ ہے۔
    ایک دفعہ شیخ رحمت اللہ صاحب نے عرض کیا کہ حضور میری دکان کے لئے دعا فرمائیں تو حضور نے فرمایا کہ میں تو دن رات یہی دعا کرتا ہوں کہ خد اتعالیٰ کسی طرح کسر صلیب کر دے اور آپ کو دکان کی فکر پڑی ہوئی ہے۔
    حضور علیہ السلام کے وقت میں جلسہ سالانہ اس جگہ ہوا کرتا تھا جہاں آج کل مدرسہ احمدیہ اور مولوی قطب الدین صاحب کا مطب کی درمیانی جگہ ہے۔ یہاں ایک پلیٹ فارم بنایا گیا تھا جس پر جلسہ ہوتا تھا ۔ حضرت صاحب کے زمانہ میں جلسہ کے دنوں میں عموماً ہم زردہ پلائوں ہی کھایا کرتے تھے ۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ بہت قحط پڑ گیا اور آٹا روپیہ کا پانچ سیر ہو گیا حضرت مسیح موعود کو لنگر کے خرچ کی نسبت فکر پڑی تو آپ کو الہام ہوا ۔ الیس اللہ بکاف عبدہ۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ آج سے لنگر کا خرچ دگنا کر دو۔ بڑا مرغن شوربا پکا کرتا تھا۔
    ایک دفعہ حضرت مولانا نورالدین صاحب ہمارے مکان میں فردکش تھے کہ فرمانے لگے کہ اس خیال سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو وفات مسیح کی کوئی نئی دلیل ملنے پر از حد خوشی ہوتی ہے میں نے علیحدگی میں چار گھنٹے صرف اس مسئلہ پر غور کیا مگر میں گھبرا گیا۔ مگر حضرت مسیح موعود ؑ کئی سال سے اس مسئلہ پر توجہ رکھنے سے نہیں گھبراتے۔ پھر آپ کے ایک واقعہ سنایا کہ طاعون کے دنوں میں ایک دفعہ ہم سب کو فرمایا کہ اندر آجائو۔ چنانچہ بہت سے خاندان اندر چلے گئے اور بانس لگا کر اوپر کپڑے ڈال کر پردے کئے گئے۔ میرے اور حضرت مسیح موعود میں صرف ایک چادر کا پردہ تھا ۔ آدھی رات کے بعد جب کہ تہجد اپنی چارپائی پر ہی پڑھ رہا تھا ۔ کیونکہ اور کوئی جگہ نہ تھی تو حضرت صاحب نے حضرت ام المومنین کو جگایا اور فرمایا کہ اس وقت مسیح کی وفات کا ایک نیا ثبوت ملا ہے تو قریباً آدھ گھنٹہ حضور نے تقریر فرمائی اور حضرت ام المومنین ہاں ہاں کرتے رہے۔ آخر میں حضرت ام المومنین نے عرض کیا کہ حضور ایک دفعہ سنا۔ مر گئے۔ دو دفعہ سنا۔ مر گئے۔ آخر کوئی انتہا بھی ہے۔ فرمایا۔ جب تک میں اس مسئلہ کو پیس نہیں لوں گا تب تک نہیں چھوڑوں گا ۔ کیونکہ اسلام کی اس مسئلہ کی وجہ سے بہت ہتک ہوئی ہے۔
    ایک دفعہ حضور کچھ لکھ رہے تھے تو حضور کے پاس دودھ رکھا گیا تو آپ لکھنے میں مشغول رہے اور دودھ بلی پی گئی۔ دوسرے دن اسی وقت پھر آپ کچھ لکھ رہے تھے تو بلی نے آکر آپ کے پائوں پر پنجہ مارنا شروع کیا گویا وہ دودھ مانگتی تھی۔ تو حضور نے اندر آواز دی کہ اس کے لئے دودھ لائو اور فرمایا کہ دیکھ اس نے اپنی طرف سے پیار کیا ہے اور میرے پائوں کو چھیل دیا ہے۔
    میاں محمد شریف صاحب ای۔ اے۔ سی نے خاکسار سے بیان کیا کہ
    ڈاکٹر نور محمد دندان ساز نے پہلے پہلے بائیسکل خریدی ۔ جب حضرت صاحب تشریف لاتے تو وہ ہمیشہ ساتھ رہتے تھے۔ ایک دفعہ جب حضرت صاحب سٹیشن پر اترے تو وہ سائیکل پر سوار ہو کر ساتھ آرہا تھا ۔ حضرت صاحب کو کسی نے توجہ دلائی کہ حضور یہ نئی سواری نکلی ہے۔ فرمایا۔ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کتے پر سوار ہوتا ہے۔ نیز حضور نے یہ بھی فرمایا تھا کہ گھوڑے کا سوار معزز اور وجیہہ معلوم ہوتا ہے۔
    میاں صاحب نے فرمایا کہ یہ الفاظ میں نے خود حضرت صاحب کی زبان مبارک سے نہیں سنے تھے بلکہ اسی روز کسی اور نے مجھے بتایا تھا کہ آج حضور نے یہ فرمایا ہے۔
    نوٹ:۔ خاکسار عبدالقادر عرض کرتا ہے کہ آج مورکہ 15-8-39کو میاں صاحب موصوف نے فرمایا ہے کہ بائیسکل سوار ڈاکٹر نور محمد صاحب نہیں تھے بلکہ قاضی محبوب عالم صاحب تھے۔
    ایک دفعہ میں اور حضرت والد صاحب قادیان گئے حضرت صاحب نے ہمیں اندر بلا لیا حضور اس وقت چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے اور حضور کا لحاف بڑا موٹا تھا حضور کے آس پاس کتابیں پڑی تھیں۔
    ایک دفعہ ایک بوڑھے احمدی حکیم نے (جس کا نام حکیم فضل الٰہی تھا۔ جو لاہور میں بمقام ستھال رہتے تھے) ذکر کیا کہ حضور بعض اوقات کنچنیاں جو بیمار ہوتی ہیں وہ علاج کے لئے آتی ہیں اور کچھ نذرانہ پیش کرتی ہیں۔ کیا اسے قبول کرنا چاہئے یا نہیں حضور نے فرمایا کہ آپ انہیں کچھ نصیحت کر دیا کریں اور ان سے لیا کچھ نہ کریں۔ اس کے بعد حضور سے کسی نے عرض کیا کہ حضور اگر آپ کو کوئی ایسی چیز تحفۃً پہنچے جو مال حرام سے ہو یا مشتبہ ہو تو آپ تو یہ تحقیقات کرتے ہی نہیں۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ میرے تک حرام پہنچاتا ہی نہیں وہ رستے میں ہی ضائع ہو جاتا ہے کیونکہ اگر میں اس تحقیق میں لگ جائوں تو میرا وقت ضائع جاتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ خود ہی مجھے ایسی چیز نہیں پہنچاتا۔
    چنانچہ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ ایک یکہ ہمارے آگے چل رہا تھا۔ اس میں کچھ مشتبہ مال تھا یکہ ٹوٹ گیا اور وہ مال تمام ریت میں مل گیا جسے وہ اٹھا بھی نہیں سکتا تھا۔ اس پر اس نے کہا کہ یہ مال مشتبہ تھا۔ اس لئے ضائع ہو گیا ہے حضور تک پہنچا ہی نہیں۔
    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میاں فیروزالدین صاحب جو مریم عیسیٰ کے خسر تھے وہ چلم میں آگ لینے کے لئے مہمان خانہ سے نکلے تو سامنے سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لا رہے تھے ۔ انہوں نے چلم کو اپنے چوغے کے نیچے چھپا لیا۔ حضرت صاحب قریب پہنچے تو فرمایا کہ میاں فیروزالدین آپ کے ہاتھ میں کیا ہے؟ آخر ان کو مجبوراً چلم دکھانی پڑی تو آپ نے ہنس کر فرمایا کہ آپ کی عادت ثانیہ ہے اور پھر حضور چلے گئے۔
    مجھے یاد ہے کہ سیٹھ عبدالرحمان صاحب مدراسی کے لئے حضور حقہ مہیا فرمایا کرتے تھے۔
    ایک دفعہ گول کمرہ کے باہر ایک مٹی کا حقہ پڑا تھا۔ حضرت صاحب نے اسے اپنے ہاتھ کے سونٹے سے توڑ دیا اور فرمایا کہ ہم نے ایک موذی کو توڑ دیا ہے ۔ یہ ۱۸۹۲ء کے قریب کی بات ہے جیسا مجھے یاد پڑتا ہے مولوی عبدالکریم صاحب نے اس واقعہ کو دیکھ کر حقہ چھوڑ دیا تھا۔
    ایک دفعہ حضور نے سیر میں میرے والد صاحب میاں چراغ دین صاحب ؓ کو فرمایا کہ میاں صاحب اب آپ پنشن لے لیں اور کوئی دین کا کام کریں۔ اس پر والد صاحب نے دل میں خیال کیا جیسا کہ وہ بیان فرمایا کرتے تھے میں اردو تو لکھ نہیں سکتا انگریزی لکھ سکتا ہوں میں کس طرح خدمت دین کر سکتا ہوں ابھی میں یہ خیال کر ہی رہا تھا کہ حضور نے فرمایا کہ دیکھو آنحضرت ﷺ بھی نہیں پڑھے ہوئے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے کتنا بڑا کام لیا تو اس پر والد صاحب نے پنشن لے لی اور بڑی دیر تک قادیان میں محاسب کا کام کرتے رہے۔ رہتے یہاں لاہور میں ہی تھے مگر ہفتہ میں ایک دفعہ ضرور جایا کرتے تھے۔
    مجھے یاد ہے کہ بشیر اوّل کے پیدا ہونے پر جو دعوت عقیقہ کی گئی تھی اس میں الٰہی بخش اکونٹنٹ مصنف عصائے موسیٰ ، حضرت والد صاحب، منشی عبدالحق، مولوی محمد حسین بٹالوی وغیرہ گئے تھے اور آتی دفعہ اتنی بارش ہوئی تھی کہ بٹالہ تک پانی ہی پانی نظر آتا تھا اور بہت سے آدمی سردی کی وجہ سے بیمار ہو گئے تھے۔
    میرے والد صاحب یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ جب کبھی کوئی اہل حدیث اصحاب کو مسخری کے طور پر کہتا کہ ان میں کوئی اولیا نہیں تو اکثر کر کے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پیش کیا کرتے تھے۔
    ایک دفعہ ہم قادیان میں گئے بارش کی وجہ سے راستے میں بڑا پانی تھا اور بارش بھی ہوتی رہتی تھی۔ ہم حضور سے واپسی کے لئے اجازت طلب کرتے تھے مگر حضور اجازت نہیں دیتے تھے۔ قریباً آٹھ دن کے بعد عصر کے وقت پھر ہم نے اجازت مانگی تو حضور نے فرمایا کل چلے جانا۔ دوسرے دن بٹالہ تک ہم سوکھے پہنچ گئے اور رستہ میں کوئی بارش نہ ہوئی اور پانی بھی سڑک میں نہیں تھا۔
    ایک دفعہ حضرت صاحب کوئی دروازہ لگوا رہے تھے ترکھان رندا کر رہا تھا فرمایا اس کی کیا ضرورت ہے؟
    حضرت مولوی صاحب کا جنازہ حضور علیہ السلام نے پڑھایا تھا ۔ جب حضور جنازہ پڑھ رہے تھے تو ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی تھی ۔ جنازہ حضور نے بہت لمبا پڑھا تھا اور چوتھی تکبیر میں بہت ہی زیادہ وقت لگایا تھا۔ میں جنازہ میں حاضر تھا۔
    جلسہ مذاہب میں تقریر کرنے سے قبل حضرت صاحب نے ایک اشتہار شائع فرمایا تھا جس میں لکھا ہوا تھا کہ ہمارا مضمون سب پر غالب رہے گا ۔ اللہ اکبر خربت خیبر ۱؎ کا الہام بھی اس میں درج تھا۔ وہ اشتہار میںنے لاہور میں تقسیم کیا تھا۔ حضور کی تقریر سے قبل بھی میں ہال کے دروازہ پر کھڑا تھا اور جو شخص اندر جاتا تھا اسے اشتہار دیتا تھا۔
    گورداسپور میں کرم دین کے مقدمہ پر لیئم کذاب کے معانی کی تحقیق کے لئے لغات کی ضرورت جو پیش آئی تو حضور کے فرمان پر ہم لاہور سے بہت سی لغت کی کتابیں لے گئے تھے۔
    حضور نے ایک دفعہ ارادہ فرمایا کہ عربی میں ایک صفحہ لکھ کر عدالت میں رکھا جائے اور مخالف علماء کو کہا جائے کہ اس کا ترجمہ کر دیں اس پر حضور نے مجھ کو اور مرہم عیسیٰ کو فرمایا کہ مولوی عبدالحکیم کلانوالی جو ان دنوں ہمارے نانکے مکان بھاٹی دروازہ میں رہتا تھا فرمایا کہ اس کو کہہ دو کہ اگر وہ عبداللہ ٹونکی سے پڑھنا چاہتا ہے تو ہم اس کو وہ صفحہ پہلے پڑھا دیں گے۔ یہ بات جب ہم نے عبدالحکیم کو سنائی تو وہ بہت خوش ہوا اور کہنے لگا کہ چونکہ حضرت مرزا صاحب ہمارے ہمسائے ہیں (وہ کلانور کا تھا) اس لئے انہوں نے میرا بڑا لحاظ کیا ہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب سیر کے لئے نکلتے تو چوک میں مہمانوں کا انتظار فرماتے پھر حضرت مولوی نورالدین صاحب کے دروازہ پر کھڑے ہو کر ان کو بلواتے۔ حضرت مولوی صاحب فوراً باہر نکل آتے پھر حضور چل پڑتے۔ مولوی صاحب چونکہ حضرت صاحب جتنا تیز نہیں چل سکتے تھے اس لئے پیچھے رہ جاتے تھے ۔ حضرت صاحب کھڑے ہو کر ان کا انتظار فرمایا کرتے تھے۔
    مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب غالباً پٹھانکوٹ سے ریل پر سوار ہو کر واپس تشریف لا رہے تھے اور صبح کی نماز ریل میں ہی پڑھی تھی۔ کسی دوست نے عرض کیا کہ حضور صبح کی سنتیں میری رہ گئی ہیں کیا کروں؟ فرمایا اب پڑھ لو۔ یہ بھی نماز ہی کا حصہ ہیں۔
    خاکسار کے اس سوال پر کہ کیا حضرت صاحب رخساروں اور گردن پر استرا پھر دیا کرتے تھے یا نہیں ؟ فرمایا کہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ حجامت کرواتے وقت حضور نے منہ پر یا گردن پر استرے کا استعمال کروایا ہو۔
    ایک دفعہ حضور کو داڑھ کی درد تھی جس کی وجہ سے حضور جمعہ کے لئے نہیں تشریف لا سکے تھے۔
    خاکسار کے اس سوال پر کہ کیا حضرت صاحب کپڑے استری کروایا کرتے تھے؟ فرمایا کہ حضور نے کبھی کپڑے استری کروانے کا اہتمام نہیں کیا۔
    حضور علیہ السلام کی یہ عادت مبارک میں داخل تھا کہ جب کوئی شخص کوئی چیز مانگتا تو جس قدر گھر میں ہوتی لا کر دے دیتے تھے۔ ایک دفعہ شہتوتوں کا ٹوکڑا اندر گیا ۔ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے آواز دی کہ ہمارا بھی حصہ ہے۔ حضور نے سارا اٹھوا کر ہی باہر بھیج دیا ہم نے خوب سیر ہو کر اشہتوت کھائے اور باقی اندر بھیج دئیے۔
    خاکسار کے اس سوال پر کہ حضور کیا بعض مہمانوں کے کھانے کا خاص اہتمام بھی فرمایا کرتے تھے ؟ فرمایا کہ ہاں ۔ حضرت صاحب بعض مہمانوں کے کھانے کا خاص انتظام بھی فرمایا کرتے تھے۔
    حضرت صاحب جب جہلم تشریف لے گئے تو راستہ میں لاہور بھی ٹھہرے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ’’ارید برکات من کل اطراف‘‘ ۱؎ کا الہام ہمارے ہی مکان پر ہوا تھا اور اس لئے ہم نے اپنے مکان کا نام ’’ مبارک منزل‘‘ رکھ دیا تھا۔ رستے کے سٹیشنوں پر اس قدر ہجوم تھا کہ جس کی کوئی انتہا ہی نہیں۔ دیہاتی لوگ کہتے تھے کہ مرزا گیا مرزا گیا۔ مجھے یاد ہے کہ جہلم لوگوں کا اس قدر ہجوم تھا کہ حضور کی گاڑی لوگوں نے کھینچی تھی تا لوگ گھوڑوں کے نیچے نہ آجائیں ۔ مرہم عیسیٰ سونے کے لئے حضور کی چارپائی کے نیچے گھس گیا تھا ۔لوگوں کا اس قدر ہجوم تھا کہ لوگ کوٹھوں اور درختوں پر کھڑے تھے ۔ جہلم میں ہم نے حضور کی کتاب ’’ مواھب الرحمان‘‘ بھی تقسیم کی تھی۔
    ایک دفعہ حضور سے کسی نے سوال کیا کہ روزہ کے ساتھ آنکھ اگر دکھتی ہو تو اس میں دوائی ڈالنی جائز ہے یا نہیں ؟ تو حضور نے فرمایا کہ یہ سوال ہی غلط ہے۔ جب آنکھ دکھتی ہے تو روزہ ہی کیوں رکھا جائے۔
    ایک دفعہ گورداسپور میں کرم دین کے مقدمہ پر درختوں کے نیچے حضور نے فرمایا کہ خدا کا نام گن گن کر نہیں لینا چاہئے۔ تو اس پر کسی نے کرم دین کو بھی جا کر کہہ دیا تو اس نے اس کو سکھلایا۔ کہ مرزا صاحب کو جا کر کہو کہ نبی کریم ﷺ نے یہ جو فرمایا ہے کہ نماز کے بعد تینتیس دفعہ سبحان اللہ اور تینتیس دفعہ الحمد للہ اور چونتیس دفعہ اللہ اکبر پڑھا کرو یہ بھی تو تعداد اور گنتی ہی ہے۔ اس پر حضور نے فرمایا کہ یہ ٹھیک ہے پہلے عادت ڈلوانے کے لئے ایسا ہی ہونا چاہئے تھا پھر جس وقت محبت پیدا ہو جائے تو اس وقت محبوب کا نام گنتی سے نہیں لیا جاتا ۔ بلکہ ہر وقت ہی یاد رہتا ہے اور گنتی میں ایک یہ بھی نقص ہے کہ انسان اپنے خیال میں چاہتا ہے کہ جلدی ختم ہو جائے اور میں اس سے فارغ ہو جائوں اس پر پھر اس نے مولوی کرم دین کو جا کر کہا۔ اس نے سکھایا کہ پھر نمازوں میں رکعتوں کی تعداد کیوں ہے؟ اس پر حضور نے فرمایا کہ اگر یہ تعداد نہ رکھی جاتی تو اس خاص عبادت میں سخت اختلاف واقع ہو جاتا اور نہ کوئی وقت رہتا اور نہ ہی کوئی تعداد رہتی۔ اس لئے یہ نہایت مناسب تھا کہ اس کی تعداد مقرر کی جائے ۔ اور وقتوں کے لحاظ سے بھی اس کی تعداد ضروری ہونی چاہئے کیونکہ اگر تعداد ضروری نہ ہوتی تو وقتوں کا بھی ذکر نہ کیا جاتا بلکہ یہی کہا جاتا کہ نماز پڑھا کرو۔ حضور نے اس پر بڑی لطیف تقریر فرمائی تھی اس تقریر کو سن کر پھر وہ مولوی کرم دین کے پاس گیا ۔ مگر اس نے پھر کوئی اعتراض نہ کیا مگر اس شخص نے اپنی طرف سے یہ سوال آکر کیا کہ اگر آپ کو کوئی نہ مانے باوجود یکہ وہ اللہ اور رسول پر ایمان لایا ہے اور قرآن مجید کے حکموں پر بھی چلتا ہے تو اس کی نسبت آپ کا کیا خیال ہے؟ فرمایا کہ اپنے علماء سے جا کر یہی سوال کرو کہ آنے والے مسیح اور مہدی کو نہ ماننے والا کیا ہو گا تو اس نے فوراً ہی کہہ دیا کہ وہ تو کافر ہو گا۔ فرمایا بس ہماری طرف سے بھی یہی جواب سمجھ لو۔
    ایک دفعہ کسی نے سوال کیا کہ حدیثوں سے تو یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آنے والے مسیح اور مہدی کے منکر کافر ہوں گے؟ اس پر فرمایا کہ اس سے زیادہ وضاحت سے آنحضرت ﷺ کیا فرماتے کہ میری امت میں سے یہود بھی ہو جائیں گے اور یہ اس لئے فرمایا جیسے یہودی حضرت موسیٰ پر تو ایمان رکھتے تھے۔ مگر حضرت عیسیٰ پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے کافر ہو گئے۔ اس طرح باوجود نبی کریم ﷺ کو ماننے کے آنیوالے مسیح پر ایمان نہ لانا گویانبی کریم ﷺ کا انکار ہے۔ اس لئے حضور نے ان لوگوں کو مثل یہود قرار دیا ہے اور یہ کوئی تعریف نہیں۔
    (۱) ایک دفعہ حضور نے شاہی مسجد میں عصر کی نماز پڑھی ۱۸۹۰ء میں مولوی رحیم اللہ صاحب امام تھے۔ یہ سب سے پرانے احمدی تھے۔ لاہور میں اس مسجد میں ہمیںروڑے بھی پڑے تھے۔
    (۲) ایک مسجد تالاب کے پاس مولوی رحیم اللہ صاحب کی تھی۔ اس میں حضرت صاحب نے کئی نمازیں پڑھی ہیں۔ پہلے جو ہمارے مکان تھے ان کے بالکل سامنے تھی۔ لنگے منڈی کے پاس۔
    (۳) دعویٰ سے قبل حضور چینیاں والی مسجد میں آیا کرتے تھے۔ اس لئے وہاں بھی ضرور نمازیں پڑھی ہوں گی۔ کیونکہ مجھے یاد ہے کہ وہابیوں کو حنفی طعنے کے طور پر کہا کرتے تھے کہ تم میں کوئی ولی اللہ نہیں اگر ہے تو بتائو۔ تو وہ حضرت مسیح موعود کا نام لے کر ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ قادیان میں مرزا غلام احمد صاحب ولی اللہ ہے۔
    (۴) شروع شروع میں جب ہم قادیان جایا کرتے تھے تو ہم نے دیکھا ہے کہ بٹالہ کے سٹیشن پر اور پھر قادیان کی سڑک پر میل میل کے فاصلہ پر مولوی محمد حسین بٹالوی آدمی بٹھا دیا کرتا تھا۔ ہر شخص کے ہاتھ میں ایک بڑا رجسٹر ہوا کرتا تھا جس پر جانے والوں کے نام اور جانے کی غرض کا اندراج کیا جاتا تھا۔ مولوی محمد حسین پوچھا کرتا تھا کہ تم کیوں جاتے ہو اور کس لئے جاتے ہو؟ جب لوگ کہتے کہ حضرت مرزا صاحب کو ملنے کے لئے جاتے ہیں تو وہ ہر ممکن کوشش سے روکا کرتا اور واپس جانے کے لئے کہتا۔ کئی آدمی اس نے واپس بھی کئے۔ اس زمانہ میں اس کی بڑی شہرت تھی لوگ اس کا کہا مانا کرتے تھے۔
    اس زمانہ میں لوگ مولوی محمد حسین کے ڈر کی وجہ سے بھی جانے سے ڈرتے تھے۔ کیونکہ لوگ سمجھتے تھے کہ شاید یہ رجسٹر جو رکھے جاتے ہیں گورنمنٹ کی طرف سے ہیں اور شاید ہمارے خلاف کوئی کارروائی کی جائے۔ مومن تو ان باتوں کی پرواہ نہیں کرتے تھے مگر کمزور لوگ ڈر جاتے تھے۔
    ایک دفعہ حضور مسجد اقصیٰ میں وعظ فرما رہے تھے کہ چند سکھ آگئے۔ پہلے خاموش رہے چپ کر کے بیٹھ گئے ۔ پھر بکواس شروع کر دی غالباً نشہ پیا ہوا تھا۔ حضور نے بڑی نرمی سے ان کو سمجھایا کہ خدا کا گھر ہے میاں شور نہیں کرنا چاہئے۔ حاضرین کی تعداد زیادہ سے زیادہ پندرہ آدمیوں کی ہو گی یہ واقعہ لیکھرام کے قتل سے پہلے کا ہے۔
    لیکھرام کے قتل کے بعد آریہ لوگ پریڈ کے میدان میں ہر روز نیوگ اور طلاق کے متعلق جلسے کیا کرتے تھے۔ مفتی محمد صادق صاحب بھی ان ایام میںیہاں ہوا کرتے تھے۔ مفتی صاحب حضرت صاحب کے پاس قادیان گئے اور عرض کیا کہ حضور روز آریہ جلسے کیا کرتے ہیں اور اسلام کی تعلیم کے خلاف بکواس کرتے ہیں۔ حضور نے فرمایا: کیا آپ جلسے بند کرنا چاہتے ہیں؟ مفتی صاحب نے عرض کیا حضور اگر بند ہو جائیں تو اچھی بات ہے۔ اس پر حضور نے ایک اشتہار شائع کیا جس میں لکھا کہ اگر نیوگ اور طلاق ایک چیز ہے تو ہم تین سو معزز مسلمانوں کے نام لکھتے ہیں جنہوں نے اپنی بیویوں کو طلاق دی ہے۔آپ تین سو معزز آدمیوں کے نام شائع کریں جنہوں نے اپنی بیویوں سے نیوگ کرایا ہو۔ یہ اشتہار جب یہاں تقسیم کیا گیا تو سناتن دھرمیوں اور آریوں میں خوب لڑائی ہوئی یہاں تک کہ سونٹے بھی استعمال کئے گئے۔ سناتن دھرمی کہتے تھے کہ اب کنجر بنو اور نیوگ کرنے والی عورتوں کے نام شائع کرو۔ پھر اس کے بعد آریوں نے نیوگ کی تائید میں کبھی جلسہ نہیں کیا۔
    ایک شخص مولوی دیدار علی شاہ ہوا کرتا تھا۔ وزیر خاں کی مسجد میں امام الصلوٰۃ تھا۔ وہ کہا کرتا تھا کہ منگل کے دن ولی اللہ نہیں مرا کرتے۔ مرزا صاحب منگل کو فوت ہوئے اور ہیضہ سے فوت ہوئے اور اکثر اس کے شاگردوں میں بھی یہ بات پھیلی ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ کے عجائبات ہیں کہ وہ گزشتہ سال منگل کے دن ہیضہ سے مر گیا۔ چار دن اسے ہیضہ رہا اور پھر منگل کے روز مر گیا۔

    روایات
    میاں خیرالدین صاحب سراج ولد میاں غلام قادر صاحب
    سکنہ لدھیانہ حال دارالرحمت قادیان
    سن بیعت ۱۹۰۲ء عمر ۶۰سال سے اوپر
    میاں خیرالدین صاحب نے خاکسار سے مسجد احمدیہ لاہور میں ۳۹۔۳۔۲۸ کو بیان کیا کہ میں لودھیانہ میں شمس الدین ، امین الدین کی دکان پر ملازم تھا۔ بوٹوں کی دکان تھی کہ ایک دن چندولال مجسٹریٹ آگیا یہ بھی لودھیانہ کا ہی تھا اس نے مالک دکان سے پوچھا کہ آپ کا تعلق کس سوسائٹی سے ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اہل سنت والجماعت سے پھر اس نے حضرت صاحب کے مقدمہ کا ذکر شروع کر دیا کہ کبھی کچھ لکھتا ہے کبھی کچھ۔ میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ مقدمہ دیکھنا چاہئے میں اس وقت احمدی بن چکا تھا۔ پھرمیں ہر پیشی پر لودھیانہ سے قادیان آتا رہا اور حضرت صاحب کے ساتھ گورداسپور جاتا رہا۔
    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت صاحب بمع خدام گورداسپور پہنچ گئے شام کا وقت تھا اور صبح پیش ہونا تھا مگر قانون کی کتابیں قادیان بھول گئے تھے۔ یہ تجویز ہوئی کہ کتابیں رات کو ہی منگوائی جائیں شیخ یعقوب علی صاحب نے چار روپیہ میں آنے جانے پر ایک یکہ کرایہ پر کر دیا اور مجھے اور ایک اور آدمی کو جسے چابیاں اور خط دیا گیا قادیان بھیجا ہم رات کو قادیان پہنچ گئے۔ حضرت صاحب کے مکان کے اردگرد لڑکے مشلیں جلا کر پہرہ دے رہے تھے ہم نے کتابیں نکالیں اور صبح کی نماز گورداسپور جا پڑھی۔
    چند ولال ایک بڑا متعصب آریہ تھا ۔حضرت صاحب درختوں کے نیچے ایک دری پر بمع خدام بیٹھا کرتے تھے کسی شخص نے آکر کہا کہ حاکم آپ کے برخلاف ہے۔ آپ صلح کر لیں ورنہ ممکن ہے کہ قید کر دے۔ آپ کہنی کے بل لیٹے ہوئے تھے کہ یکدم اٹھے اور بڑے زور سے فرمایا کہ ’’ میں تو اس کو عدالت کی کرسی پر نہیں دیکھتا۔ ‘‘ نیز فرمایا کہ ’’ میں ان ہتھکڑیوں کو بوسہ دوںگا جو حضور کے دین کی خاطر مجھے پہننی پڑیں۔ ‘‘
    میاں معراج دین صاحب عمر نے بیان فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کے مقدمہ کے دوران میں چندولال کو بحیثیت مجسٹریٹ ایک پھانسی کے مجرم کی پھانسی پر حاضر ہونے کا حکم ہوا جب کہ عام طور پر قاعدہ ہوتا ہے کہ آخری الفاظ مجرم کے مجسٹریٹ اور کلرک اور ایک عہدہ دار لکھتے ہیں لیکن چندولال اس واقعہ سے اس قدر خائف ہوا کہ وہ لکھ نہ سکا اور مجرم کی پھانسی کو دیکھ کر غش کھا کر گرپڑا اس پر ڈپٹی کمشنر گورداسپور نے رپورٹ کی جس پر اسے منصف بنا کر واپس کر دیا گیا۔
    چندولال کی سختی کی وجہ سے خواجہ کمال الدین صاحب نے انتقال مقدمہ کی درخواست دی چنانچہ ڈپٹی کمشنر کے روبر وعلی وال پیشی ہوئی مگر نامنظور ہوئی۔
    پھر اس کی نقل لے کر چیف کورٹ میں درخواست دی گئی وہاں بھی نامنظور ہوئی۔ پھر چندولال کی عدالت میں ہی پیش ہونا پڑا۔ایک یا دو پیشیاں پیش ہو کر ایک پیشی سے قبل حضرت صاحب کی طبیعت خراب ہو گئی اور ایک انگریز ڈاکٹر کو رات کے وقت بلایا گیا وہ سول سرجن تھا اس نے حضور کا معائنہ کیا۔ مجھے یاد ہے کہ ڈاکٹر نے کہا کہ آگے کی طرف جھک کر نہ بیٹھیں کیونکہ اس طرح پھیپھڑے پر دبائو پڑتا ہے۔ اس نے غالباً لکھا کہ دو ماہ آپ کو آرام کرنا چاہئے آپ عدالت میں اس عرصہ میں پیش نہیں ہو سکتے۔ حضرت صاحب نے اسے بیس روپے فیس دلوائی۔ ہم رات ہی سٹیشن پر پہنچ گئے اس عرصہ میں چندولال تبدیل کر ملتان چلا گیا۔ بعد میں آتمارام آیا ۔ چنانچہ جب ہم دو ماہ کے بعد تاریخ پر آئے تو عدالت کی کرسی پر آتما رام کو بیٹھے دیکھا جو لنگڑا تھا۔ اس نے مقدمہ کو از سر نو شروع کیا اور چندولال سے بھی زیادہ سختی کرنی شروع کر دی۔ جھگڑا سارا کذاب اور لئیم کے الفاظ پر تھا۔ ان الفاظ کے متعلق حضرت صاحب کے وکیل جو کتاب پیش کرتے تھے وہ لے کر رکھ لیا کرتا تھا مگر کرم دین کے وکیل کے زبانی الفاظ پر ہی اکتفا کر لیتا تھا۔
    اس مقدمہ کے دوران میں بعض غیر احمدی معززین نے حضور کی خدمت میں درخواست کی کہ آپ کرم دین کے ساتھ صلح کر لیں۔ حضور نے فرمایا کہ
    ہمارا تو کوئی مقدمہ نہیں کرم دین اگر آپ کی بات مان لے تو ہمارا معاملہ تو طے شدہ ہے اور ہم نے کوئی دعویٰ نہیں کیا۔ اس عدالت میں ہم راضی نامہ کر لیتے ہیں اور اپنا مقدمہ خدا کے سپرد کرتے ہیں وہ جو چاہے فیصلہ کرے۔
    مگر کرم دین نے معززین کی بات کو ماننے سے انکار کر دیا اس پر جماعت اس طرف سے ایک ’’ صلح نامہ‘‘ شائع کروا یا گیا جس میں اس واقعہ کا ذکر ہے۔ اس کی غرض لوگوں کو اصل واقعہ سے مطلع کرنا تھا۔
    اس مقدمہ کے دوران میں کسی شخص نے کہا کہ آتما رام کہتا ہے یہ شکار میرے قابو آیا ہے اس پر آپ لیٹے ہوئے تھے جوش سے فرمایا بیوقوف ہے۔ آگے بھی کچھ الفاظ فرمائے جو پوری طرح یاد نہیں۔ دوران مقدمہ میں آتما رام کا ایک لڑکا فوت ہو گیا۔ ایک روز شام کے وقت چند مستورات آئیں کسی نے کہا کہ دوست ذرا باہر ہو جائیں۔ تین یا چار عورتیں تھیں جن میں آتما رام کی بیوی بھی تھی ایک عورت نے ان میں سے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ مہاراج! یہ آتما رام کی بیوی ہے اور پر ارتضا (کے) واسطے آئی ہے ۔ فرمایا اس کو کہہ دو کہ اپنے خاوند کو کہے کہ میرے مقدمہ کا فیصلہ کر دے جو اس کا دل چاہے میرا دل خود دعا کرے گا اور فرمایا کہ جائو چنانچہ ان کو اس وقت واپس کر دیا گیا ۔ ہم یہ باتیں برآمدہ میں کھڑے سن رہے تھے۔ اس کے بعد آتما رام کا دوسرا لڑکا فوت ہو گیا۔ مقدمہ کا فیصلہ سنانے میں تین چار دن باقی تھے کہ آریوں نے ایک جلسہ گورداسپور میں کیا لیکچروں کے بعد عام لوگ چلے گئے اور آریوں نے ایک خفیہ کمیٹی کی اور مثل پر آتما رام کے ہاتھ سے حکم لکھایا کہ مرزا صاحب کو ایک ماہ کی قید کا حکم سنایا جائے۔ اس خفیہ کمیٹی میں اخبار عام کا ایک ایڈیٹر یا مالک بھی موجود تھا۔ اس نے لاہور جا کر اخبار عام کے ٹائٹل پیج کے نیچے حاشیہ میں لکھا کہ لاہور میں عام افواہ ہے کہ مرزاغلام احمد کو ۲۸ دن کی قید ہو گئی ہے۔ مجھے پورے الفاظ یاد نہیں کافی عرصہ تک میں نے وہ پرچہ محفوظ رکھا مگر اب محفوط نہیں ہے۔ دوسرے دن اس کی میز پر وہی اخبار عام آگیا اب اسے فکر پڑی۔ کہ قبل از وقت یہ بات لکھی گئی ہے اس لئے اس کو فیصلہ بدلنا پڑا۔ جس روز حکم سنانا تھا ہفتے کا روز تھا تین بج کر کچھ منٹ گزر چکے تھے پولیس کے چوبیس پچیس سپاہی ہتھکڑیوں کے ساتھ کھڑے تھے۔ خواجہ کمال الدین صاحب عدالت کے کمرہ کے برآمدے میں ٹہل رہے تھے کہ آواز پڑی وہ اندر چلے گئے۔ آتما رام نے حکم سنایا کہ مرزا غلام احمد کو ۵۰۰ جرمانہ حکیم فضل دین کو ۲۰۰ جرمانہ کرم دین ۵۰ روپیہ۔ خواجہ صاحب نے جیب سے نوٹ نکالا یا چیک اس کی میز پر رکھا۔ یہ میری امانت ہے باقی دلائو۔
    کرم دین کو جرمانہ اس لئے ہوا تھا کہ غالباً نزول مسیح جس میں اس کے خط طبع کئے گئے تھے ابھی شائع نہیں ہوئی کہ اس نے پریس سے کسی ذریعہ سے نکلوالی تھی۔ اور شیخ یعقوب علی نے سرقہ کا دعویٰ کر دیا تھا۔
    میاں معراج دین صاحب عمر۔
    حضرت مسیح موعود گورداسپور میں جس چارپائی پر سویا کرتے تھے اس چارپائی کے نیچے میں سویا کرتا تھا۔ میں اور خواجہ کمال دین اور دوسرے صاحبان بھی اس مقدمہ کے متعلق بہت تشویش میں رہتے تھے۔ خواجہ کمال دین نے اور میں نے حضرت صاحب کے حضور میں اپنی تشویش کا اظہار بھی کر دیا تو اس کے جواب میں حضرت صاحب نے فرمایا کہ ہمیں تو اپنے مولا پر اتنا بھروسہ ہے۔ کہ اگر مجسٹریٹ نے ہمارے برخلاف لکھنے کے لئے قلم اٹھائی تو جو کچھ اس کی قلم سے نکلے گا وہ ہمارے حق میں ہو گا۔ آپ نے ایک سیشن جج کا واقعہ سنایا کہ ایک شخص کا لڑکا خون کے مقدمے میں ملزم قرار پا کر اس کی عدالت میں پیش ہوا جیوری نے بھی اس کے برخلاف فیصلہ دے دیا اور جج نے اس کے برخلاف پھانسی کا حکم لکھنے کے لئے لمبا چٹھا لکھا۔ لیکن سارا چٹھا اس کے برخلاف لکھتے ہوئے اور دلائل اس کے پھانسی دینے کی تائید میں زور سے تحریر کرنے کے بعد آخری حکم میں لکھ دیا کہ میں بری کرتا ہوں۔ عام طور پر یہ قاعدہ ہے کہ حکم سنانے سے پہلے اپنی تحریر کو جج پڑھ لیا کرتے ہیں۔ اس نے جب آخیر میں اپنا حکم بریت کا دیکھا تو بہت جھنجھلایا اور وہ صفحہ پھاڑ کر نیا صفحہ لکھنے بیٹھا تا کہ سزا کا حکم لکھے ۔ لیکن جب اس آخری فقرہ پر پہنچا اس کے ہاتھ نے وہی کچھ لکھا جو پہلے لکھا تھا۔ یعنی اس کی بریت پھر دوبارہ اس نے اپنے فیصلہ کو جب پڑھا تو پھر زیادہ جھنجھلایا اور وہ صفحہ پھاڑ کر تیسری بار لکھنے کو بیٹھا۔ تیسری بار جب ختم کیا اور پڑھنے لگا تو پھر بھی وہی لکھا کہ میں اس کو بری کرتا ہوں اس پر نے گھبرا کر کہہ دیا کہ اب میرے اختیار سے یہ بات باہر ہو گئی ہے بس اس نے بریت کا حکم دے دیا۔
    چونکہ تمام اعضاء انسان کے خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں اس لئے اگر وہ ہمارے برخلاف فیصلہ لکھنے کے لئے بھی اٹھے گا تو اس کا ہاتھ اور اس کی قلم اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہماری بریت کا حکم لکھیں گے۔ یعنی ہم تشویش میں رہا کرتے تھے اور حضور ہم کو مختلف قسم کے واقعات بیان فرما کر تسلی دیا کرتے تھے۔ اس موقع پر یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ جب حضرت صاحب مندرجہ بالا واقعہ بیان فرما رہے تھے تو آپ کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا اور بڑے جوش اور جلال سے آپ نے فرمایا کہ اگر مجسٹریٹ ہمارے برخلاف لکھنے کے لئے قلم اٹھائے گا تو جو کچھ اس سے نکلے گا وہ ہمارے بریت کے متعلق اور ہمارے حق میں ہو گا خدا تعالیٰ نے ہم کو ایسی ہی بشارت دی ہوئی ہے۔
    میاں معراج دین صاحب عمر
    حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید جب قادیان سے واپس اپنے وطن کو جا رہے تھے تو واپسی پر میرے پاس لاہور میں پندہ دن ٹھہرے تھے۔ ایک نظم انہوں نے مجھے فی البدیہ فارسی میں لکھوائی تھی جو چھپ چکی ہے۔ بہت سی کتابیں خرید کی تھیں لاہور سے حضرت صاحب کی تو ساری کتابیں ان کے پاس تھیں۔ لاہور سے وہ کتابیں خریدی تھیں جن میں حضرت صاحب کے دعویٰ کی تائید موجود تھی۔
    ان دنوں میں صاحبزادہ صاحب کی طبیعت میں بہت جوش بھرا ہوا تھا اور اکثر فرمایا کرتے تھے کہ سر زمین افغانستان خون مراے خواہد۔ یہ الفاظ فرماتے وقت اپنا ہاتھ اپنے گلے پر پھیرا کرتے تھے۔
    ایک دن منشی نبی بخش صاحب جو شملہ میں ملازم تھے اور لاہور کے رہنے والے احمدی تھے موچی دروازہ پتھرانوالی حویلی میں ان کا مکان ہے ان کے لڑکے کی شادی تھی۔ شادی کی دعوت کی تقریب پر وہ خود صاحبزادہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ میری دعوت قبول فرمائیں چنانچہ بہت اصرار کے بعد صاحبزادہ صاحب نے دعوت قبول کی۔ دوسرے دن صبح وقت مقررہ پرمیں انہیں لے کر منشی صاحب کے مکان پر پہنچا اور دعوت خانہ میں حسب ہدایت ان کے منتظمان نے صاحبزادہ صاحب کو بٹھایا۔
    جب کھانا (جو کہ پلائو۔ زردہ۔ قورما) سامنے لا کر دھرا گیا تو صاحبزادہ صاحب بہت طیش میں آئے چہرہ سرخ ہو گیا او رمجھے بہت سختی سے کہا کہ مرا گوہ مے خورانی اور یہ کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے اور مجھے حکم دیا برخیز۔ جوتا لے کر باہر دوڑ پڑے اور میں ان کے پیچھے ان کا جوتا خود لینا چاہتا تھا لیکن انہوں نے مجھ کو نہیں دیا خود پہن کر بہت تیزی کے ساتھ واپس مسجد کی طرف چل پڑے ۔راستے میں ایک دکان نانبائی کی تھی جس پر نان تیار پڑے تھے مجھے ایک چونی نکال کر دی اور حکم دیا کہ اس کے نان لے آئو۔ میں نے عرض کیاکہ میں لے آتا ہوں آپ چونی رہنے دیں لیکن انہوں نے نہ مانا۔ میں نان لے کر رومال میں لپیٹ کر پیچھے بھاگا جب مسجد میں پہنچے تو پھر مجھے حکم دیا کہ بازار سے سالن لائو۔ چنانچہ میں سالن لے آیا اور آپ نے مع اپنے دوستوں کے وہ نان اور سالن کھایا۔
    منشی نبی بخش صاحب ایک مخلص احمدی تھے مگر خلافت ثانیہ کے وقت وہ غیر مبائعین میں شامل ہو گئے۔ اب تک زندہ ہیں ان کے لڑکے کا نام ڈاکٹر غلام محمد ہے جو خواجہ کمال الدین کا بہنوئی ہے اور زندہ موجود ہے۔
    اس واقعہ سے پہلے ہم ایک فقیر صاحب کا واقعہ سنا کرتے تھے جس کی سمجھ نہیں آیا کرتی تھی جو ایک دفعہ لاہور کی سنہری مسجد میں آیا ہوا تھا ۔ شام کے قریب اس کے پاس ایک آدمی ایک طباق میں زردہ اور پلائو بھرا ہوا لایا اور فقیر صاحب کے آگے رکھ کر کہا کہ تناول فرمائیے۔فقیر صاحب نے اسے دیکھتے ہی کہا کہ اس کو اٹھا لو یہ گوہ کے کیڑے میں نہیں کھاتا۔ وہ شخص بہت ناراض ہوا اور اونچی اونچی شور مچا دیا۔ امام مسجد نے سن کر کہا کہ یہ بڑے متکبر لوگ ہیں ان کو پلائو زردہ بھی پسند نہیں آتا ہمارے پاس لائو ۔ چنانچہ مولوی صاحب نے لے لیا بعد میں تحقیقات سے معلوم ہوا کہ دراصل لانے والا ایک کنجر تھا اور اس نے اپنی لڑکی کی میڈھی کھلائی کی نیاز کی تھی۔





    روایات
    میاں عبداللہ خان صاحب ولد نواب خاں صاحب
    سکنہ مالو کے بھگت ڈاکخانہ قلعہ صوباسنگھ ضلع سیالکوٹ براستہ کلاسوالہ
    سن بیعت 1900ء یا 1901ء بذریعہ خط عمر تقریباً 57`56سال
    مگر میں نے حضرت مسیح موعود ؑ کو دیکھا نہیں۔
    میاں عبداللہ خاں نے مجھ سے بیان کیا کہ جس سال تحصیل ظفروال (میں) طاعون پڑی ہے اس سال میں پلیگ کلرک مقرر ہو کر سیالکوٹ سے ظفروال گیا۔ صبح کے وقت چوہدری محمد حسین صاحب ؓ ساکن تلونڈی عنایت خاں نے مجھے کہا کہ کیا تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ مانتے ہو؟ میں نے سائنس کے لحاظ سے کہا کہ نہیں۔ میرے دل میں کوئی تعصب کسی قسم کا نہیں تھا۔ آپ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلو ٰۃ والسلام حضرت مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ مسیح آنے والا میں ہوں اور مسیح بنی اسرائیل فوت ہو گیا ہے۔ میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں حضور کو نبی تسلیم کر کے بیعت کا خط اسی وقت لکھ دیا پھر میں ملازمت کے سلسلہ میں کراچی اور پھر افریقہ چلا گیا۔ میرے والد غیر احمدی تھے وہ بیعت کے وقت بالکل مخالف نہیں تھے لیکن علاقہ کے وہابیوں میں سرکردہ آدمی تھے لوگوں نے انہیں اکسایا ۱۹۱۱ء میںکہ آپ کا لڑکا مرزائی ہو گیا ہے آپ نے مجھے افریقہ میں خط لکھ دیا کہ حضرت صاحب کو میرے الفاظ کہو اگر نہ کہو گے تو میں تم کو اپنی جائیداد سے عاق کر دوں گا ۔میں اس وقت سلطان حمود سٹیشن پر سٹیشن ماسٹر تھا میں نے آٹھ دس دن خط اپنے پاس رکھا ایک رات کو اپنی بیوی سے عشاء کی نماز کے وقت اس کا ذکر کیا۔ بیوی بالکل ان پڑھ تھی اس نے کہا کہ جب یہ لوگ حضرت صاحب کو مہدی ماننے کے لئے تیار نہیں تو ہم کو برا کہنے کے لئے کیوں کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ہمارا انتظام پہلے ہی کر دیا ہے۔آپ لکھ دیں کہ ہم ایسا کرنے کے لئے تیار نہیں آپ بے شک ہمیں جائیداد سے عاق کر دیں۔ میں نے ایسا ہی لکھ دیا۔ میرے والد نے جواب دیا کہ تم میرے اکلوتے بیٹے ہو تم ہی میرے وارث ہو میں نے لوگوں کے اکسانے سے ایسا کہہ دیا تھا۔میں نے دوبارہ بھی لکھا مگر ان کا یہی جواب آیا۔ میں جب رخصت پر آیا تو کوئی نو بجے کا وقت تھا میں اور بھائی محمد حسین صاحب اور بھائی محمد عالم صاحب مرحوم والد صاحب کے ساتھ تبادلہ خیالات کر رہے تھے اور بحت گرما گرم تھی۔ میرے والد صاحب نے کہا کہ میں مرزا صاحب کو اس وقت سے جانتا ہوں جب آپ سیالکوٹ میں ملازم تھے میں آپ کو ملا کرتا تھا آپ بہت نیک آدمی تھے۔ مجھے یاد ہے کہ میرے روبرو ایک مسلمان زمیندار سیالکوٹ کے مشرق کی طرف سے کسی گائوں کا رہنے والا آپ کے پاس آیا اور مرزا صاحب کو کہنے لگا کہ مرزا جی میں خیال کرتا ہوں کہ آپ وہ مہدی معلوم ہوتے ہیں جو آنے والا ہے۔ اس وقت مرزا صاحب کی عمر بیس، اکیس سال کی تھی اور میری عمر بھی قریباً قریباً اتنی ہی تھی۔
    جب میرے والد صاحب کی زبان سے یہ الفاظ نکلے تو میں نے اپنے والد صاحب سے عرض کیا کہ آپ کے روبرو اس زمیندار کی زبان سے حضرت صاحب کی نسبت ایسے لفظ نکلنے یہ آپ کے لئے اللہ تعالیٰ نے حجت قائم کی ہے مگر والد صاحب فرمانے لگے کہ خواہ مرزا صاحب سچے ہوں میں نہیں مانوں گا اس پر ہم لوگوں نے استغفار پڑھا اور اٹھ کر چلے گئے۔
    ایک واقعہ میاں عبداللہ خاں صاحب نے یہ بھی بیان کیا کہ مجھے یاد نہیں کہ میں نے مسجد مبارک میں یہ واقعہ اس آدمی کی زبان سے سنا ہے یا اخبار الفضل میں پڑھا ہے ۔ بیماری کی وجہ سے میری یادداشت درست نہیں رہی۔ واقعہ یوں ہے کہ ضلع گجرات کا ایک شخص بہت بوڑھا بیان کرتا تھا کہ اس کو پیٹ میں بہت بڑی بھاری تلی تھی ۔وہ بیان کرتا تھا کہ میں بہت سارے حکماء اور ڈاکٹروں اور پیروں کے پاس گیا مگر میرا کوئی علاج نہ کر سکا۔ مجھے سوائے موت کے کوئی چیز نظر نہیں آتی تھی۔ میں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا قادیان میں دعویٰ سنا اور اپنی مصیبت اور ضرورت کی وجہ سے کسی طرح قادیان پہنچا دن کے وقت۔ نماز ظہر یا عصر کے وقت حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت اقدس گفتگو کے لئے بیٹھ گئے۔ میں نے حضرت صاحب سے سارا قصہ کہہ سنایا حضور نے فرمایا کہ تم اپنا کرتہ اوپر اٹھائو۔ میں نے کرتہ اوپر اٹھایا اور حضور نے میرا پیٹ جو بہت بڑا ہوا تھا اس پر ہاتھ پھیرا اسی وقت میرا پیٹ ایسا معلوم ہوا کہ گویا کبھی یہ بیماری مجھے ہوئی ہی نہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس شخص نے یہ بھی بیان کیا تھا کہ میں نے حضرت اقدس سے مسیح ناصری علیہ السلام کے معجزات بیماری رفع کرنے کے حضرت صاحب کو جتلائے تھے چنانچہ اس نے بیان کیا کہ اگر کسی شخص نے مسیح محمدی کا معجزہ دیکھناہے تو مجھے آکر دیکھ لے میرے گائوں کے لوگوں سے میری پہلی حالت دریافت کرے۔





    روایات
    ملک خدا بخش صاحب ولد ملک غلام محمد صاحب
    عمر قریباً ۵۴سال
    سن بیعت ۱۹۰۷ء ۔ سن زیارت ۱۹۰۸ء
    (۱) میرے پاس منشی حسن بخش صاحب اپیل نویس بٹالوی قوم ککے زئی نے بیان کیا کہ وہ اور حضور مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اکٹھے پٹوار کا کام سیکھتے تھے اور انہوں نے بیان فرمایا کہ حضور اپنے اخراجات گھر سے منگواتے تھے اور اپنے گھوڑے کا خرچ بھی اپنی جیب سے خرچ کیا کرتے تھے۔ اگرچہ ہم اپنے اخراجات اور گھوڑے کے اخراجات زمینداروں سے لے کر کیا کرتے تھے۔
    ان کے بیان سے مجھ پر یہ اثر ہو رہا تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اعلیٰ اخلاق کے بہت مداح ہیں منشی صاحب اس وقت فوت ہو چکے ہیں انہوں نے بیعت نہیں کی۔
    (۲) میاں فیروزالدین صاحب جنرل فورمین سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور قوم ککے زئی نے میرے پاس بیان کیا کہ پادری فورسن صاحب ہر اتوار عیسائیت پر لیکچر دیا کرتے تھے ایسا اتفاق ہوتا رہا ہے کہ پادری صاحب موصوف نے جب اپنا لیکچر ختم کیا مسیح موعود علیہ السلام کے ایک خادم نے چھپا ہوا پرچہ پڑھ کر سنایا۔ اور وہ ایسا ہوتا تھا گویا کہ پادری صاحب موصو ف کے اسی لیکچر کا جواب ہے جو کہ ابھی ابھی انہوں نے بیان کیا ہے چنانچہ انہوں نے مجھے ایک نہایت ہی چھوٹا سا ٹریکٹ اس وقت کا چھپا ہوا بھی دیا تھا اور بیان فرمایا تھا کہ یہ ان میں کا ایک ہے۔
    میاں فیروزالدین صاحب بھی غیر احمدی تھے۔
    (۳) میرے روبرو ایک واقعہ ہوا ہے کہ حضور مسیح موعود علیہ السلام جب کہ پیغام صلح تحریر فرما رہے تھے کاتب کو مسودہ کی کاپی دینے کے لئے ایک منٹ کے لئے باہر تشریف لائے۔ اس وقت ایک بڑا مجمع خدام کا حضرت مولوی نورالدین صاحب ؓ کے گرد بیٹھا ہوا تھا کسی دوست نے کہا کہ حضور باہر تشریف لائے ہیں۔ اس آواز پر سوائے مولوی صاحب کے سب اٹھ کر اس طرح باہر گئے جیسے کہ پرندوں کے کسی بیٹھے ہوئے جھنڈ پر ایک کنکری پھینک دی جاتی ہے اور حضرت صاحب کی طرف بھاگ گئے۔
    (۴) میں نے مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نماز کی حالت میں دیکھا ہے۔ آپ کھڑے ہونے کی صورت میں اپنی گردن دائیں بازو کی طرف جھکائے ہوئے ہوتے تھے۔
    (۵) میں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو تقریر فرماتے ہوئے دیکھا ہے یہ وہ تقریر ہے جو روساء لاہور کو دعوت دی گئی تھی اور حضور نے اس موقع پر ایک تقریر فرمائی تھی حضور تقریر فرماتے وقت ایسے معلوم ہوتے تھے گویا کہ ایک تصویر ہے جو بول رہی ہے آنکھیں بند معلوم ہوتی تھیں اور کوئی حرکت ہاتھ پائوں سے نہیں فرماتے تھے ۔ حضور کے ہاتھ میں سونٹی بھی تھی۔
    (۶) مذکورہ بالا تقریر کے اختتام پر حضور کی خدمت میں ایک گلاس دودھ پیش کیا گیا حضور نے دودھ پیا اور کچھ دودھ چھوڑ دیا ۔ہم خدام کے ہاتھ میں خوش قسمتی سے وہ گلاس جس میں دودھ تھا آگیا ہم اس پر اس طرح جھپٹے اور کوشش کی کہ اس میں سے کچھ حصہ لیا جائے۔ چنانچہ ہم کئی ایک گتھم گتھا بھی ہوئے دودھ جو فرش پر بھی گرا تھا اس کو بھی اپنی زبانوں سے اٹھا لیا۔


    روایات
    بابو غلام محمد صاحب ثانی ریٹائرڈ ہیڈ ڈرافٹسمین ولد غلام محمد اوّل
    مسجد احمدیہ لاہور میں فرمایا :۔
    (۱) حضرت خلیفۃ المسیح اوّل فرمانے لگے کہ ہر ایک کا جی چاہتا ہے کہ مرزا صاحب مجھ سے پیار کریں۔ کیا تمہارا بھی جی چاہتا ہے؟ فرمایا جاتی دفعہ مجھے ملنا میں تمہیں ایک نسخہ بتائوں گا۔ میں ملنے جانے لگا تو فرمایا کہ پائنچوں کے اندر سے ہاتھ ڈال کر پنڈلیوں کو پورے زور سے دبانا اور جو کچھ گزرے مجھے بتانا۔ خیر میں گیا اور میں نے ایسا ہی کیا۔ فرمایا۔ بابو صاحب میں آپ کو جانتا ہوں خوب جانتا ہوں آپ کا نام بابو غلام محمد ہے آپ ریلوے میں ملازم ہیں آپ لاہور سے آتے ہیں اکثر آپ کے ساتھ قریشی صاحب آتے ہیں اور اکثر تھوڑے عرصہ کے لئے آپ آتے ہیں اور جلدی چلے جاتے ہیں آپ حیران ہوں گے کہ میں اتنے آدمیوں میں سے پہچان کیسے سکتا ہوں۔ میں کسی کو آواز سے پہچانتا ہوں کسی کے لباس سے پہچانتا ہوں کسی کی پگڑی کی بندش سے پہچانتا ہوں میں سب کو پہچانتا ہوں۔ میں نے پھر حضرت خلیفہ المسیح اوّل کی خدمت میں آکر رپورٹ کی۔ فرمایا دیکھو میں نے کیسا اچھانسخہ بتایا تھا۔
    (۲) حضرت خلیفۃ المسیح اوّل نے میرے ذمہ ایک کام لگایا مجھ سے پوچھا کہ آج مرزا سلطان احمد صاحب آئے تھے؟ میں نے کہا ہاں ہمارے ساتھ نماز پڑھی۔ یہ کوئی ۱۸۹۶ء کے قریب کا واقعہ ہے۔ مجھے فرمانے لگے کہ حضرت صاحب کہہ دنیا کہ مرزا سلطان احمد صاحب نے آج ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے۔ میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں ایسا ہی عرض کیا کہ حضور مرزا سلطان احمد صاحب نے آج ہمارے ساتھ نماز پڑی ہے ۔فرمایا نال میں نے عرض کیا ہاں حضور پڑھی ہے۔
    بابو غلام محمد صاحب ثانی سے فرمایا۔ کہ صاحبزادہ عبداللطیف صاحب نے ایک بہت قیمتی اور شاہانہ چوغہ حضور کی خدمت میں تحفۃً پیش کیا۔ خواجہ کمال الدین صاحب موجود تھے انہوں نے درخواست کی کہ حضور یہ چوغہ مجھے دے دیں۔ آپ نے ان کے حوالہ کر دیا۔
    ایک دفعہ عید کے موقع پر پھر مرزا سلطان احمد صاحب نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی۔ حضرت خلیفہ اوّل نے فرمایا! بابو غلام محمد صاحب میری بات یاد ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں۔ فرمایا مرزا سلطان احمد صاحب آئے ہوئے ہیں ہمارے ساتھ نماز پڑھیں گے۔ میں نے عرض کیا ضرور پڑھیں گے۔ فرمایا! حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کرنا۔ میں نے عرض کیا حضرت صاحب کی خدمت میں تو فرمایا۔ خوب۔
    تیسرے موقع پر بھی ایسا ہی کیا۔ میں نے حضرت صاحب کی خدمت عرض کیا تو فرمایا دیکھو ہمیں کسی کے ساتھ بغض تھوڑا ہی ہے۔ اگر وہ خدا سے سنوار لیں تو ہماری خوشی ہے۔ جب یہ میں نے مولوی صاحب سے بیان کیا تو فرمایا آج میدان مار آئے ہو۔ مراد یہ تھی کہ حضرت صاحب ضرور مرزا سلطان احمد صاحب کے لئے دعائیں کریںگے۔
    عید کا موقع تھا میں حضور کے داہنی طرف بیٹھا تھا۔ حضور نے فرمایا کہ مجھے ابھی غنودگی سی ہو گئی اور میں نے دیکھا کہ میرے دائیں بائیں رحمت اللہ کے بچے ہیں اور مجھے مخاطب ہو کر فرمایا کہ رحمت اللہ سے مراد اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔
    ۱۹۰۵ء سفر دہلی۔ حضور جب امرتسر تشریف لا چکے تھے کہ ہم لاہور سے پہنچے۔ میل کے آنے سے پہلے ہم نے تمام سامان حضور کا سٹیشن پر پھیلادیا لمبی قطار میں اور ہر ایک بکس اور ہر ایک چیز پر ایک ایک آدمی کو متعین کیا اور یہ بھی تقسیم کی کہ میر ناصر نواب صاحب بچوں کو سنبھالے رکھیں۔ حضور کی نظر پڑی کہ تمام سامان بکھرا پڑا ہے اور ایک لمبی قطار میں دیکھ کر فرمایا کہ یہ کیوں؟ ہم نے کہا کہ حضور میل ٹرین تھوڑے وقفے کے لئے ٹھہرتی ہے۔ اس لئے ہر شخص اپنے اپنے سامان کے چڑھانے میں کوشاں ہو گا تب آسانی سے حضور سوار ہو سکیں گے۔ اس پر حضور نے فرمایا یہ تو افراتفری ہوئی میں ایسی افراتفری سے سوار نہیں ہونا چاہتا۔ سامان ایک جگہ کر لو ۔ ہم کسی ایسی گاڑی میں سوار ہوں گے جس میں یہ افراتفری نہ ہو۔ امرتسر سٹیشن پر دری بچھوا کر حضور تشریف فرما ہوئے مع خدام۔ اتنے میں ظہر کا وقت آگیا۔ حضور نے فرمایا نماز کی تیاری کے لئے وضو کا سامان کیا جائے۔ حضور وضو کر کے تشریف لائے تو دری پر ادھر ادھر دیکھ رہے تھے کسی نے پوچھا حضور کیا تلاش کرتے ہیں؟ فرمایا یہاں میری پگڑی تھی۔ ساری دری پر پگڑی کہیں نظر نہ آتی تھی۔ جب ہم تلاش کر رہے تھے تو جب خواجہ صاحب کے قریب جاویں تو ایک طرف کا گھٹنا اٹھا کر دکھا دیں کہ ادھر نہیں۔ دوسری طرف سے تلاش کرتے آویں تو دوسرا گھٹنا اٹھا کر دکھا دیں یہ ادھر نہیں۔ جب آپ کواٹھا کر تلاش کی گئی تو نیچے سے پگڑی نکل آئی۔ حضور یہ دیکھ کر مسکرا پڑے۔ درمیان میں بات آگئی کہ ایک دفعہ حضرت صاحب مع خدام تشریف فرما تھے کہ خواجہ کمال الدین صاحب آگئے۔ جب ادھر ادھر دیکھا تو حضور کی نظر پڑ گئی پاس پلنگ پڑا تھا فرمایا خواجہ صاحب آپ پلنگ پر بیٹھ جائیں۔ کہنے لگے الامر فوق الادب اور پلنگ پر بیٹھ گئے۔
    خیر حضور نے پگڑی سر پر باندھ کر نماز ادا فرمائی جب ایکسپریس ٹرین آئی تو حضور سوار ہو گئے۔سیکنڈ کلاس کے ایک کمپارٹمنٹ میں حضور مع عیال سوار ہوئے دوسرے میں حضرت سیٹھ عبدالرحمان صاحب مدراسی اور خاکسار سوار ہوئے۔ دوران سفر میں مَیں نے اور سیٹھ عبدالرحمان صاحب مدراسی نے کھانا کھایا۔ کھانے سے فارغ ہو کر سیٹھ صاحب نے فرمائش کی کہ کھانا تو کھا لیا اب مٹھائی کھلائو ۔خاکسار نے کہا کہ کسی سٹیشن پر گاڑی کھڑی ہو تو مٹھائی بھی آپ کو کھلا دیں گے۔ سیٹھ صاحب نے ہنس کر فرمایا آپ میری بات ہی نہیں سمجھے۔ کچھ سنائو۔ میں نے حضور کی ایک نعت پڑھنی شروع کی ’’ بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا‘‘ کہ اتنے میں حضور نے درمیان کے پارٹیشن پر ہاتھ مارا۔ سیٹھ صاحب نے کہا ٹھہرو ٹھہرو حضرت صاحب بلا رہے ہیں۔ اتنے میں سیٹھ صاحب نے بھی کھڑکی میں سے سر نکالا تو حضرت صاحب نے بھی سر نکالا ہوا تھا۔ فرمایا نعت کس نے پڑھی۔ سیٹھ صاحب نے کہا بابو غلام محمد نے۔ فرمایا کہ میں محمود کو ادھر بھیجتا ہوں ان کو کہیں کہ تلفظ صحیح کرا لیں۔ اتنے میں حضرت امیر المومنین دونوں بازوئوں میں سے کھڑکی میں سے لٹکائے گئے اور ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اپنے کمرہ میں لا کر یہ خیال کیا کہ یہ بچہ ہماری اردو کی کیا اصلاح کرے گا ۔اتنے میں نعت صفا کرنی چاہی مگر میاں صاحب نے لفط لفظ پر مجھے ٹوکا اور ایک ایک لفظ کو کئی کئی دفعہ سمجھایا میں ایسا شرمندہ ہوا کہ میرا سارا جسم پسینے سے تر ہو گیا۔ آپ فرمائیں (آ۔ای۔نہ) اور میں کہوں (آئینہ۔ آ۔اے۔نہ)۔ غرض بار بار میرا تلفظ صحیح کرائیں۔ مگر میں پہلے کی طرح ہی کہتا جائوں۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ جب دہلی سے واپس آویں تو آپ یہ نظم جو میاں صاحب سے صفا کروا لی گئی ہے۔ پڑھیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اس طرح سے بھی لوگ حق قبول کر لیتے ہیں جب ہم دہلی سے آویں تو مجھے یاد دلانا کہ آپ سے یہ نظم پڑھوائی جائے۔ غرض دلی پہنچے۔ ایک محلہ چتلی قبر جہاں میر ناصر نواب صاحب کے رشتہ دار رہتے تھے ایک بہت بڑا مکان پہلے ہی سے لے رکھا تھا جا کر اترے۔ ایک روز اہل محلہ مل کر اندر آگھسے حویلی کے اندر اور کہا کہ حضور باہر تشریف لاویں۔ مکان کے قریب ہی مسجد ہے اس میں آکر نماز پڑھا کریں۔ آپ نے فرمایا میں شر سے بچنے کے لئے اندر ہی پڑھ لیتا ہوں۔ انہوں نے بار بار مجبور کیا کہ مسجد کے ہوتے ہوئے آپ اندر کیوں پڑھتے ہیں؟ آپ باہر آویں سخت اصرار کرتے رہے کہ حضور باہر تشریف لا کر نماز پڑھا کریں۔ کہ اتنے میں ان لوگوں کی موجودگی میں ہی نماز کی تکبیر ہو گئی۔ میں حضور کے بائیں طرف صف میں کھڑا ہوا ایک رکعت ہونے کے بعد پیچھے کچھ گڑ بڑ سی ہوئی تو میں نے سوچا کہ ایسا نہ ہو ان میں سے کوئی حضور پر وار کر دے۔ میں نے ایک لٹھہ اٹھا لیا اور کھڑا ہو گیا۔ حضور نے جب سلام پھیرا تو میں نماز کی نیت کرنے لگا تو حضور نے فرمایا کہ آپ کی نماز تو ہو گئی اب چاہے پڑھو یا نہ پڑھو۔ میں ایک رکعت پڑھ چکا تھا فرمایا یہ جنگ کا میدان ہے اور تم حفاظت کر رہے تھے چنانچہ میں نے پھر بقیہ رکعتیں نہیں پڑھی تھیں تو اتنے میں دہلی میں کھانے کا وقت جو ہوا تو کچھ مولیاں ٹکڑے کر کے دسترخوان پر پھینک دی گئیں۔ خواجہ صاحب نے مولیاں اکٹھی کر کے کھانا شروع کر دیں اور دو پیسے جیب میں سے نکال کر منتظمین کی طرف ہاتھ بڑھایا کہ ان کی اور مولیاں لے آئو۔ انہوں نے جواب دیا شام کو پھر اور آجائیں گی آپ گھبراتے کیوں ہیں۔ خیر وہ کافی مولیاں لے آئے اتنے میں خواجہ صاحب کو بہت سی مولیاں کھانے پر پیاس لگی۔ انہوں نے ایک چھوٹی سے کٹوری ہتھیلی پر رکھ کر خواجہ صاحب کو پیش کی۔ خواجہ صاحب نے لوٹے پر ہاتھ ڈالا تو انہوں نے کہا نہیں نہیں آپ کٹورے پر ہاتھ ڈالیں۔ خواجہ صاحب نے وہ کٹوری منہ پر لگائی اور کہا کہ اوپر سے پانی گراتے چلے جائو۔
    حضور کا نظام الدین اولیاء زری زرلفت کے مزار پر جانا۔
    مزار پر بند گاڑیاں لے کر نیچے تو حضور روضہ نظام الدین اولیاء پر فاتحہ کے لئے کھڑے ہوئے ۔بابا چٹو دادا حضرت حکیم قریشی محمد حسین صاحب تو اپنا جوتا اٹھا کر لاحول پڑھتے ہوئے بھاگ اٹھے اور خلیفہ رجب الدین صاحب کہنے لگے کس زن طلاق کا یہاں آنے کو جی چاہتا ہے خدا کی قسم قے آتی ہے مگر لانے والا زبردست ہے۔ خواجہ صاحب اور خلیفہ صاحب درخت کی ٹہنیوں کو پکڑے ہوئے لٹک رہے تھے اور حضور دعا کر رہے تھے۔ (چٹو نے بیعت نہیں کی ہوئی تھی حضرت صاحب نے اس کے متعلق فرمایا تھا کہ یہ بہت بوڑھا ہو چکا ہے اور ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق ۱؎ کا مصداق ہو چکا ہے) حضور علیہ السلام نے روضے کے قریب کھڑے ہو کر اس قدر لمبی دعا کی کہ قریباً سب کے سب تھک گئے اور جب حضور نے دعا کو ختم کیاتو خاکسار قریب کھڑا تھا مخاطب ہو کر فرمایا یہ مقامات بھی قبولیت کے ہوتے ہیں یہاں دعا جلد سنی جاتی ہے۔
    بابو صاحب کا بیان ہے۔
    کہ نبی بخش جس کی دعوت پر صاحبزادہ عبداللطیف صاحب نے کھانا نہیں کھایا تھا اور جب کھانا سامنے پیش ہوا تو اسے گوہ قرار دے گر بھاگ گئے تھے وہ شادی کا انتظام دراصل سوری روپیہ لے کر کیا گیا تھا۔
    میں آپ لوگوں کے سبب سے جلدی فارغ ہو گیا کہ آپ لوگوں کو تکلیف تھی ورنہ میں نظام الدین سے باتوں میں لگا رہتا تو آپ سب کے سب گھبرا جاتے یہ بڑا بااقتدار انسان ہے جس کو دلی والوں نے قبول کر لیا ۔ میں تو کئی دفعہ دلی میں آیا جس طرح سے پتھریلی زمین دہلی کی ہے اس سے زیادہ پتھر دل یہاں کے لوگوں کو پایا۔ اتنے میں ایک مجاور اونچی آواز سے بولا کہ کوئی وثیقہ نہیں ہے۔ کوئی پنشن نہیں ہے میں جاروب کش ہوں اور مزار کی خدمت کرتا ہوں کوئی تنخواہ دار نوکر نہیں ہوں۔ اس پر حضور نے جیب میں ہاتھ ڈال کر چاندی کی دونی نکالی اور ایک مٹی کی صراحی جو مزار کے سرہانے پڑی تھی اس میں ڈال دی اور میری مخاطب ہو کر کہا آپ لوگ بھی کچھ کچھ اس میں ڈال دیں چنانچہ سب سے ادھنیاں ،پیسے اور دونیاں اس میں ڈالیں (اس زمانہ میں آنہ کا سکہ نہیں ہوتا تھا۔)
    اتنے میں ایک شخص چٹائی پر لیٹا ہوا پاجامے کی جگہ ایک لنگی باندھے ہوئے گلے اور سروپاسے برہنہ کسی کتاب کا لیٹ کر مطالعہ کر رہا تھا اس کا نام بعد میں دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ آپ خواجہ حسن نظامی صاحب ہیں اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور دونوں ہاتھ جوڑ کر حضور علیہ السلام کی خدمت میں زور سے عرض کیا کہ غلام کی بھی ایک آرزو ہے للہ سن لیں اور کہا کٹیا میں تشریف لا کر ایک پیالی چائے نوش فرما لیں۔ اس پر حضور نے خندہ پیشانی سے دعوت کو قبول کیا اور ایک چھوٹی سی کھڑکی میں سے حضور اس کے اندر تشریف لے گئے اور بھی چائے کے شوقین ساتھ چلے گئے اور حضور نے اندر بیٹھ کر چائے نوش فرمائی۔ حضرت باقی باللہ کی مزار پر بھی گئے مگر میں وہاں موجود نہیں تھا۔ مزارات پر حضور تشریف لے جاتے رہے میں سوائے نظام الدین کے دوسروں پر نہیں جا سکا۔ بازار میں آنے پر میان معراج دین صاحب عمر ؓ اور خواجہ صاحب کھڑے ہوگئے۔ ایک انگور بیچنے والا بازار میں اپنی چھابڑی کا ہوکا دے رہا تھا ’’ کابل قندھار سے لائے ہوئے انگور میوے‘‘ خواجہ صاحب نے کہا کہ انگور خریدو میں نے اسے کہا کہ سیر بھر دو۔ وہ کہے دوں چھٹانک بھر گویا اس کے نزدیک چھٹانک سے بڑھ کر کوئی کھا ہی نہیں سکتا۔ جب اسے بار بار سمجھایا گیا تو ایک دکان سے سیر کا بٹا لایا ہم کھا گئے پھر اوپر لے کر کھا ئے۔ دہلی سے واپسی پر جب امرتسر پہنچے تو رمضان کا مہینہ تھا ایک حویلی امرتسر میں حضور کے لئے تجویز ہوئی ہوئی تھی وہاں حضور آکر اترے۔ رات کو بالاخانہ پر سوئے ہوئے تھے کہ حافظ فضل احمد صاحب گجراتی نے خاکسار کو جگایا اور کہا کہ جلدی سے اٹھ کر بانگ دو اور بڑے زور سے بانگ دو ۔ ادھر لوگ سحریاں کھا رہے تھے ادھر میں نے بانگ کہہ دی لوگوں نے گالیاں دینی شروع کر دیں۔ حضور نے فرمایا کس نے بانگ دی کس نے بانگ دی؟ حضرت مولوی نورالدین صاحب ساتھ تھے (اور امرتسرمیں پہنچے تھے) فرمایا کہہ دو بلال کی بانگ تھی۔ میں نے ایسا ہی عرض کر دیا اور کہا کہ حافظ فضل احمد صاحب نے کہا تھا حضور نے خاموشی اختیار کی ۔ صبح تھیٹر ہال میں جلسہ ہوا مجھے حکم ہوا کہ نظم پڑھیں۔ میں نے خوب عمدگی سے نظم ادا کی تو حاضرین نے توجہ سے سنی جب حضور بیان کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو حاضرین نے شور مچا دیا۔ پہلا امر شور پڑنے کا یہ ہوا کہ کسی نے ٹیبل پر چائے لا کر رکھ دی ۔ میرے قریب میر ناصر نواب بیٹھے تھے ۔ کہنے لگے دیکھو یہ کیا بیوقوفی ہے۔ کیا کسی نے چائے مانگی تھی اب دیکھو اور مصیبت بنتی ہے حضور بائیں ہاتھ سے اٹھائیں گے اور لوگ شور مچائیں گے (کیونکہ حضور کے دائیں ہاتھ میں تکلیف تھی۔ بائیں سے چیز اٹھاتے تھے اور دائیں ساتھ لگا لیتے تھے) خیر حضور نے چائے اٹھائی اور پھر رمضان میں۔ لوگوں نے شور مچا دیا,
    بابو صاحب!
    ایک موقع پر دس بارہ آدمی ہم حضور کے دسترخوان پر قادیان پہنچے حضور نے چائے پیش کی۔ یکے بعد دیگرے سب نے کہا حضور ہم تو چائے پی چکے ہیں حضور اٹھاتے پیالیاں اور خواجہ صاحب کے آگے رکھ دیتے اور فرمایا خواجہ صاحب سب پی جائیں گے۔ خواجہ صاحب نے کہا الامر فوق الادب اور سب پی گئے یہ قریباً ۱۹۰۴ء کا واقعہ ہے۔
    مولوی عبدالکریم صاحب ،خواجہ صاحب، لاہور کے بہت سے دوست محرم کی دسویں کے روز قادیان میں مولوی محمد علی صاحب کے کمرہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک سینی میں بہت سے مٹی کے پیالے کھیر سے بھرے ہوئے اور ان پر کیسر لگا ہوا حضرت ام المومنین نے بھیجے۔ مولوی عبدالکریم صاحب نے رومال اٹھا کر جو دیکھا کہ کھیر کے پیالے ہیں اور محرم کی دسویں تاریخ ہے سخت برہم ہو کر اٹھ کر بھاگے لاحول ولا قوۃ الا باللہ کہنے لگے۔ ہم نے کہا آسمانی چیز ہے چنانچہ ہم نے کھا لئے۔
    دہلی کا ایک اور واقعہ پہلے ذکر کرنا بھول گیا ۔ میر ناصر نواب صاحب کو درد قولنج ہو گئی اور سخت ہائے وائے کرتے ہوئے حضور کو تیمارداری کے لئے بلایا۔ حضور نے تیمارداری کی دوائیں دیں اور ساری رات جاگتے رہے ۔ حتی کہ صبح تک درد کو افاقہ ہوا دوپہر کو جب ذرا قیلولہ کے لئے لیٹے تو میر صاحب نے زور سے ہائے کی۔ حضرت صاحب اٹھ کر بھاگے کہ شاید میر صاحب کو پھر درد اٹھا ہے اور پوچھا کہ میر صاحب خیر ہے کیا ہوا ؟میر صاحب نے عرض کیا کچھ نہیں حضور اچھا بھلا ہوں۔ حضور مسکراتے ہوئے مجلس میں واپس آئے تو کہا انسان انسین کا بنا ہوا ہے ہر چیز سے انس ہو جاتا ہے اب میر صاحب کو بیماری سے ہی انس ہو گیا ہے۔ اب ان کی ہائے وائے بے ساختہ نکل جاتی ہے۔
    آمدم برسر مطلب:۔ پھر مجھے حضور نے نعت پڑھنے کا ارشاد فرمایا میں پھر کھڑا ہو گیا جب تک نعت پڑھتا رہا سب خاموش ہو کر سنتے رہے۔ جب نعت ختم کی تو شیخ یعقوب علی صاحب نے کھڑے ہو کر حاضرین کو مخاطب کر کے کہا کہ ہم لوگ دور دراز سے صرف اس لیکچر کے لئے آئے ہیں اگر تم لوگ سننا نہیں چاہتے تو خاموش تو ہو جائو ہمیں ہی سننے دو یا چلے جائو۔ پھر حضرت صاحب کھڑے ہوئے اور بیان کرنا شروع فرمایا مگر انہوں نے اس قدر شور مچایا کہ ایک حرف بھی نہ سننے دیا۔
    جب حضور نے دیکھا کہ نہیں سنیں گے تو پھر حضور کو ایک دوسرے رستے سے باہر نکال دینا تجویز ہوا۔
    حاضرین کو مشغول رکھنے کے لئے خلیفہ رجب الدین صاحب کو کھڑا کر دیا گیا۔ خیر جب حضور کو بندگاڑی میں سوار کرایا گیا تو اس کی سب کھڑکیاں بند کر دی گئیں۔ درمیانی ایک طرف کی کھڑکی نہ تھی اس میں مَیں پائیدان پر کھڑا ہو کر کھڑکی کی جگہ کھڑا ہو گیا تا کہ اندر کوئی اینٹ پتھر نہ جا سکے۔ اس قدر پتھرائو کیا گیا کہ ہر ایک نے جھولیاں بھری ہوئی تھیں ہم نے سمجھا کہ پتھروں کی کوئی مشین چل رہی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس قدر پتھر وہ جمع کر سکتے تھے انہوں نے جمع کئے۔ حضرت صاحب کے ساتھ جہاں تک رہنے کا اتفاق ہوا ہے اس قدر پتھر میرے خیال میں اور کہیں نہیں پڑے۔ جب گاڑی اشرار کے زد سے نکلی تو سامنے کی طرف سے ایک لمبی ریش والا مولوی داڑھی منہ میں ڈال کر بہت بڑا لٹھ لے کر گھماتا ہوا آیا اور اس زور سے گاڑی پر لٹھ مارا کہ لکڑی کی جھرمنیاں ٹوٹ گئیں۔ لٹھ کا درمیانہ حصہ میری کمر پر لگایا۔ حضور نے زور سے پوچھا یہ کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ ایک مولوی نے لٹھ مارا ہے اور یہ جھرمنیاں کھڑکی کی ٹوٹ گئی ہیں۔ فرمایا۔ آپ کے تو نہیں لگی؟ میں نے عرض کیا درمیانہ حصہ تھا اگر سرا لگتا تو شاید میری بھی کمر ٹوٹ جاتی۔ حضور بہت متاسف ہوئے اور اکثر یاد دلایا کرتے تھے کہ وہ امرتسر کا لٹھ ۔
    چنانچہ میری بھاوج صاحبہ نے حضور سے بیعت کرنے کے لئے کہا اور عرض کیا کہ میں بابو غلام محمد صاحب بھائی کی بیوی ہوں۔ تو حضور نے تامل فرمایا اور کہا کہ سوچ لو۔ بابو غلام محمد کو وہ لٹھ پڑا تھا کہ اگر وہ اس کا سرا ان کی کمر پر پڑتا۔ تو ان کی ہڈیاں ٹوٹ جاتیں۔ احمدیت میں یہ چیزیں لازمی ہیں تم ان چیزوں کے لئے تیار ہو۔ اس نے کہا حضور میں حاضر ہوں بیعت لے لیں۔ چنانچہ بیعت حضور نے لے لی۔
    حضور عورتوں کی بیعت ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں لیا کرتے تھے بلکہ کسی کپڑے کے ذریعہ بیعت لیا کرتے تھے۔
    احمدیہ بلڈنگ میں حضور نماز جمعہ ادا فرما رہے تھے دہنے کنارے پر حضور کھڑے ہوئے پہلی صف میں ۔ شامیانہ اوپر نصب کیا گیا ہوا تھا کہ دفعتاً غیر احمدیوں نے اس کا رسہ کاٹ دیا اور شامیانہ حضور کی طرف گرا میں حضور کے ساتھ کھڑا تھا میں نے ہاتھ اٹھا کر اسے تھام لیا۔ جب حضور نماز سے فارغ ہوئے تو میری طرف دیکھ کر مسکرائے۔ میں نے کہا حضور اٹھیں گے تو چھوڑوں گا چنانچہ حضور اٹھے اور میں نے شامیانہ کو پھر باندھا۔ یہ حفاظت حضور کی احمدیہ بلڈنگ میں مَیں نے نماز چھوڑ کر کی اور نماز ظہر کی پڑھی۔ یہ فتویٰ دریافت کرنے کے بغیر ہی پڑھ لی تھی۔
    حضور علیہ السلام مقدمات ک پیروی کے لئے جب گھر سے روانہ ہوتے تو پورے دولھا بنے ہوئے ہوتے تھے۔ نہایت اعلیٰ قسم کی لنگی بندھے ہوئے ہوتے تھے جس میں دونوں طرف گز گز بھر زرد ذری کا کام کیا ہوا ہوتا تھا ۔ چوغہ بڑا قیمتی ہوا کرتا تھا جس پر طلائی کترن لگی ہوئی ہوتی تھی۔ چوغہ کے بازوئوں پر بھی تین تین چار چار بند کترن کے لگے ہوئے ہوتے تھے گلے اور سینے کی جگہوں پر بھی کترن اور بٹنو ں کی جگہ پر طلائی چاند لگے ہوئی ہوتے تھے اور تکمے بھی طلائی ہوا کرتے تھے اور بڑے زرق برق لباس سے حضور سوار ہو کر تشریف لے جاتے تھے۔
    ہم لوگ جب مقدمہ پر جاتے تو سخت رنجیدہ خیالات لے کر وہاں پہنچتے ۔ مگر جب حضور کا چہرہ مبارک دیکھتے کہ حضور مسکرا رہے ہیں تو ہمارا بھی غم غلط ہو جاتا حتی کہ حضور سلف صالحین کے اکثر قصے بیان فرماتے اور کچھ ایسی طرز سے بیان فرماتے کہ سب کے سب ہنسنے لگتے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ فرمایا میں تمہیں رلانے کے لئے نہیں آیا اور ’’ فلیضحکوا قلیلا ولیبکوا کثیرا ۱؎ ‘‘ یہود کے لئے ہے۔ میں یہ نہیں چاہتا کہ تمہیں ہر وقت رلاتا رہوں۔
    ادھر طاعون زوروں پر ہے ادھر مقدمات کے لئے ہم گھروں سے باہر ہیں۔ میدان میں دری بچھی ہوئی ہے حضور اوپر تشریف فرما ہیں اور قادیان میں دولہا کی طرح بیٹھے رہتے تھے اور علی الاعلان ہر بات کو فرما دیتے تھے۔ جس بات کو ہمارے وکلا پوشیدہ رکھتے تھے حضور برسر مجلس اس کا اظہار فرما دیتے اور کبھی کسی بات کو پوشیدہ نہ رکھتے۔ نبوت کی شان خاص ہے کبھی حضور اشارے سے باتیں نہیں کرتے تھے۔
    مجھے یاد ہے کہ گورداسپور میں حضور تشریف فرما تھے کہ ایک دفعہ غیر احمدیوں، سکھوں اور ہندوئوں (کا)ہاتھ جوڑے ہوئے ایک گروہ آکر کھڑا ہو گیا اور عرض کیا کہ للہ ہمارے واسطے دعا کریں ہم طاعون سے تباہ ہو گئے ہیں۔ مجھے خیال پیدا ہوا کہ حضور کا الہام’’ یا مسیح الخلق عدوانا ۲؎ ‘‘پورا ہو رہا ہے۔ حضور نے ان کی الحاج پر دعا کی کہ خدا ان کی مشکلات کو حل کر دے اور ان پر سے طاعون اٹھ جائے۔
    مولوی عبدالکریم صاحب سردرد اور بخار کے سبب سے صاحب فراش ہو گئے۔ ادھر شاہ دین سٹیشن ماسٹر بھی بخار میں مبتلا تھے ۔ حضور مجلس میں نماز کے لئے تشریف لائے کچھ دیر بیٹھنے کے بعد آپ نے فرمایا کہ مولوی صاحب کیا حال ہے؟ ایک آدمی نے اٹھ کر مولوی صاحب سے دریافت کیا آپ نے جواب دیا ’’دس دے‘‘ بتا دے کہ بخار بھی ہے اور سردرد بھی ہے۔ پھر انتظار کے بعد حضور نے فرمایا کہ پوچھو نماز پڑھائیں گے؟ مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضور مجھ سے تو اٹھا بھی نہیں جاتا ۔ ظہر کو دیر ہو رہی تھی کہ حضور (سے)کہنے لگے۔ حضور خواجہ صاحب، مولوی محمد علی اور حکیم فضل دین صاحب موجود ہیں کیا وہ نماز پڑھا دیں؟ اکثر کا نام لیا گیا مگر حضور خاموش بیٹھے رہے۔ کچھ انتظار کے بعد حضور خود مصلیٰ پر تشریف فرما ہوئے اور ظہر پڑھائی۔ ہم سب نے حضور کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ بہت ہی ہلکی نماز تھی سجد سے بھی ہلکے تھے۔ اسی طرح عصر کے وقت بھی حضور خود کھڑے ہوئے اور عصر بھی حضور نے پڑھائی۔ مغرب کی نماز بھی حضور نے ہی پڑھائی۔ دونوں رکعتوں میں حضور نے قل ھواللہ احد اور قل اعوذ برب الناسیا قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھی تھیں۔حتیٰ کہ عشا بھی انہی ہلکی ہلکی سورتوں کے ساتھ پڑھائی۔
    یوں معلوم ہوتا تھا کہ جہاں ہم کھڑے ہیں ہمارے سجدوں اور گھٹنوں کے درمیان ایک نور کی لہر جاری ہے۔ اس وقت ہمارے قلوب میں یہ جذبہ شدت سے موجزن ہو رہا تھا کہ ہم مسیح وقت کی اقتدا میں نمازیں ادا کر رہے ہیں بعض کی چیخیں نکل رہی تھیں۔
    آتما رام سے پہلے چندولال کے وقت میں حضور فرمانے لگے کہ یہ شخص بڑا بدباطن ہے اس کے اندرونے کا پتہ ہی نہیں چلتا ۔ سامنے آتا ہے تو ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو جاتا ہے اور بڑی لجاجت سے پیش ہو کر کہتا ہے کہ حضور میرا عہدہ ہی کچھ اس قسم کا ہے کہ میں قدموں پر نہیں گر سکتا۔ سارا دن بٹھا کر کہہ دیتا ہے کہ کل تشریف لاویں۔ روز ایسا ہی کرتا ہے۔
    آتمارام کی عدالت میں جب حکم سنانے کا وقت آگیا تو اس وقت بہت سی پولیس بلوائی گئی تھی اور چھڑکائو کرایا گیا تھا اور ساری کچہری کو پولیس نے محصور کیا ہوا تھا۔ ایسے وقت میں خواجہ صاحب نے یہی معنی کئے کہ یہ سزا دے دے گا اور خاکسار کو مخاطب ہو کر انہوں نے کہا کہ حضرت صاحب سے مخاطب ہو کر یہ میرا پیغام دو کہ یہ شخص بدی پر تلا ہوا نظر آتا ہے اگر حضور حکم دیں تو تین وکلا بلوا لئے جائیں محمد شاہ وکیل لاہور سے اور فضل دین صاحب بھی اور تیسرا میں ہوں۔ ایک کو ڈویژنل کورٹ میں بھیج دیا جائے۔ دوسرے کو گورنر کے پاس جو دورے میں ہے اور تیسرا میں یہاں رہتا ہوں۔ جب میں نے حضور سے جا کر بیان کیا تو حضرت بہت ہنسے۔ فرمانے لگے کہ کشمیری ہے نہ دل چھوڑ بیٹھا ہے۔ فرمایا جاکر ان کو کہو آج تک ہم آپ کی باتوں کی قانونی اقتدا کرتے رہے اب خدا پر چھوڑ دو۔ میں نے جا کر ایسا کہہ دیا خواجہ صاحب بہت برا منہ بنا کر سر نیچا کر کے کھڑے ہو گئے۔ باقی باتیں شائع ہو چکی ہیں۔
    جب حضرت صاحب کا یہ جواب میں نے پہنچایا تو ذراتامل کر کے خواجہ صاحب جرات کر کے ایک تھانیدار کی بغل میں سے نکل کر عدالت میں جا داخل ہوئے پولیس روک رہی تھی اور کسی کو اندر نہیں جانے دیتی تھی۔ خواجہ صاحب نے اندر جا کر مجسٹریٹ سے کہا کہ کیا آپ نے حکم دیا ہے کہ اندر کوئی نہ آئے حتی کہ وکیل تک بھی نہ آسکے۔ اس نے کہا کہ میں نے توکوئی حکم نہیں دیا۔ خواجہ صاحب نے کہا کہ میں تو گھنٹوں سے انتظار کر رہا تھا کہ کسی ڈھب سے اندر پنچوں مگر پولیس کسی کو اندر نہ آنے دیتی تھی۔ یہ خواجہ صاحب نے بڑی جرات کا کام کیا۔
    خاکسار کا نکاح کا ارادہ تھا جو ایک ہندو ڈویژنل جج کی مسلمان دوہتری کے ساتھ قرار پایا یہاں تک کہ برات میرے مکان پر جمع ہو چکی تھی۔ ادھر فرنی، زردہ اور قورمے کی دیگیںبرات کے لئے پک چکی تھیں اور بہت سامان یخنی وغیرہ کا تیار ہو چکا تھا۔ کہ حضور کا ایما پہنچا کہ یہاں شادی نہ کرو۔ قریشی محمد حسین صاحب نے کہا ’’ھن لباس لکم وانتم لباس لھن ۱؎ ‘‘ شرط ہے۔ وہ تمہارا لباس نہیں ۔ تم اس کا لباس ہو سکتے ہو۔ اس لئے حضور کی مرضی ہے کہ نکاح اس جگہ نہ کیا جائے۔ میں نے فوراً باراتیوں کو اپنے والد صاحب کی معرفت کہلا بھیجا کہ آپ سب چلے جائیں اور قریشی صاحب کو متعین کیا کہ وہ جس طرح سے ہو سکے لڑکی والوں کے گھر جا کر اس معاملہ کو رفع دفع کر دیں۔ چنانچہ انہوں نے ان کا خرچہ اپنے ذمہ لے کر یا جس طرح سے بھی ان سے ہو سکا اس معاملہ کو رفع دفع کر دیا۔ میں دوسری صبح حضور علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا۔ سخت قلق تھا۔ حضور اٹھے اور فرمایا آئو سیر کو چلیں۔ حضرت حکیم الامت مولوی نورالدین صاحب کو بھی ساتھ لیا اور ہم تینوں سیر کے لئے باہر نکل گئے۔ حضور فرمانے لگے مولوی صاحب ان کو وہ بات سنائو جو ایک درویش کی نسبت آپ سنایا کرتے ہیں کہ وہ نواب ہو گیا۔ ایک نوابہ کے ساتھ نکاح کے سبب سے نواب ہو گیا اور خطاب بھی مل گیا نوابی کا اور مال بھی مل گیا اور بیوی بھی مل گئی۔ مولوی صاحب کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا مگر مولوی صاحب وہ کیا کہتا تھا۔ مولوی صاحب نے جواب دیا حضور وہ کہتا تھا کہ تین دن فاقہ رہ کر سوکھے ٹکڑے ملتے تو اس نوابی پر ان کو ترجیح دیتا۔ میں اس زندگی سے بیزار اور سخت متنفرہوں۔ پھر حضور نے میری طرف مخاطب کر کے فرمایا۔ ایک شخص صبح کے لئے گیا ۔ کافی رقم زاد راہ کی اس کے پاس تھی جو قزاقوں نے اس سے چھین لی۔ وہ خانہ کعبہ کا غلاف پکڑ کر رو رہا تھا کہ ظہر سے عصر عصر سے مغرب اور مغرب سے عشا ہو گئی اور وہ اسی طرح ف تھامے ہوئے رو رہا تھا۔ کسی نے اس کی دلجوئی کے لئے اسے پوچھا کہ بھئی اتنا رونا کہ عشا کا وقت آگیا اور تم رو رہے ہو۔ کیا ایسی بڑی مصیبت تم پر پڑ گئی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اس کا زاد راہ چھین لیا گیا ہے اور اسے مانگنے کی عادت نہیں اب وہ گھر پر کس طرح پہنچے۔ یہی الحاج کے ساتھ دعا کر رہا ہوں کہ خدایا مجھے بغیر کسی سے مانگنے کے گھر تک پہنچا دے۔ اس بزرگ نے اسے مشورہ دیا کہ تہجد کے وقت ایک شخص منہ چھپائے ہوئے خانہ کعبہ میں داخل ہو گا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہو کر واپس نکلے تو اس سے اپنا پنجاب کو جانا بیان کرنا۔ تمہاری مشکل حل ہو جائے گی۔ چنانچہ وہ اس کے انتظار میں رہا اور بموجب اس بزرگ کے فرمانے کے تہجد کے وقت ایک شخص کو منہ چھپائے ہوئے اندر جاتے دیکھ کر خوش ہوا کہ ایک بات تو پوری ہوئی۔ اب کافی دیر تک وہ بزرگ اندر رہا۔ نماز سے فارغ ہو کر جب وہ باہر نکلا تو اس مسافر نے اس کا کپڑا پکڑ لیا اور قریب ہو کر کہا کہ اس نے پنجاب جانا ہے۔ اس بزرگ نے کہا آئو اور اسے ساتھ لے کر چل پڑا۔ ابھی روشنی زیادہ نہ ہوئی تھی کہ سامنے ایک جھنڈ درختوں کا نظر آیا اور اس بزرگ نے کہا کہ تم پنجاب میں ہو اور یہ میرا گائوں ہے۔ آئو کچھ ٹکڑا کھاتے جائو۔ جب آبادی میں گئے تو ایک مکان کے نیچے اس مسافر کو کھڑا کر کے بزرگ بالا خانہ پر چڑھ گئے اوپر سے اس کی بیوی کی ایک گھنونی آواز آئی جو سخت گندی گالیاں دے رہی تھی۔ حضور اس موقع پر ہنس کر فرمانے لگے کہ ٹھپ ٹھپ کی آواز بھی آئی۔ جس سے مترشح ہوتا تھا کہ اسے جوتیاں پڑ رہی تھیں۔ فرمایا دیکھو ایک طرف سے تو یہ معراج دے رکھا ہے کہ خانہ کعبہ میں صبح کی نماز ادا کرتا ہے اور دوسری طرف بیوی کا یہ حال ہے کہ جوتے پڑتے ہیں۔ گویا مجھے فرما رہے تھے کہ اگر تمہارا نکاح یہاں ہو جاتا تو تمہاری زندگی تلخ ہو جاتی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ اس لڑکی کا ایک بی ۔ اے ۔ ایل ایل کے ساتھ نکاح ہوا اور وہ ایک لڑکی پیدا ہونے پر لڑکی چھوڑ کر بھاگ گئی اور وکیل صاحب اس لڑکی کی پرورش کے لئے دربدر ہو رہے تھے یہ دیکھ کر میں نے خدا کا شکریہ ادا کیا اور حضرت مسیح موعود ؑ کے لئے دعائیں کیں۔ چنانچہ اب تک بھی وہ لڑکی کسی کے گھر آباد نہیں۔ آوارہ ہی پھر رہی ہے۔ اس لڑکے کے ماموں نے ایک گمنام چٹھی حضور علیہ السلام کی خدمت میں لکھی کہ غلام محمد فورمین ہماری لڑکی کو بھگا لے جانا چاہتا تھا۔ آپ نے یہی اس کو تلقین کی ہے ۔ حضور کو نکاح والا سارا قصہ معلوم تھا۔ اس لئے حضور نے مجھے تنہائی میں طلب فرمایا اور مسجد کے ساتھ والے کمرہ میں سب دروازے بند کر کے خاکسار کو فرمانے لگے کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ میں زمین پر بیٹھنے لگا حضور چارپائی پر تشریف فرما تھے مجھے کہنے لگے نہیں نہیں اٹھو۔ چارپائی پر بیٹھو میں بیٹھ گیا۔ تو فرمایا کہ بتائو اصل معاملہ کیا ہے؟ عرض کیا کہ حضور میں نے کبھی کوئی کوشش اس کے متعلق نہیں کی خواہ وہ اس سے ملتا جلتا ہو یا الگ ۔
    ایک روز دوپہر کے وقت حضور کھانستے ہوئے مسجد میں سے اٹھے اور ایک کھڑکی جو مسجد سے خراس کی طرف تھی اس میں سے لعاب دہن باہر پھینکا اور میری طرف مخاطب ہو کر فرمایا’’ ایک زانی قطب ہو سکتا ہے اسی طرح ایک قطب زانی بھی ہو سکتا ہے‘‘۔ حضور کی مراد یہ تھی کہ زانی اگر ترقی کرے تو ایک قطب کا مقام حاصل کر سکتا ہے ایسے ہی اگر ایک قطب تنزل کرے تو ایک زانی ہو سکتا ہے۔ میں نے تو اس کے یہی معنے کئے کہ’’ لاتایئسوا من روح اللہ۱؎‘‘ خدا سے ناامید نہ ہونا چاہے اگر تقویٰ اختیار کیا جائے تو انسان قطب بن سکتا ہے۔ میں نے حضور کے اس فرمان کے کبھی معنے دریافت نہیں کئے۔ میرے اس سوال پر کہ آپ کے فقرہ ’’ خواہ وہ اس سے ملتا جلتا ہو یا الگ ‘‘کا کیامطلب ہے؟ بابو صاحب نے فرمایا کہ اس فقرہ سے میری مراد یہ ہے کہ خواہ یہ نیچے والا واقعہ اوپر کے قصہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہو یا نہ ۔ مجھے علم نہیں۔
    اس کے بعد ایک دفعہ ایک اور معاملہ درپیش آیا کہ جماعت کے ایک بہت بڑے مقتدر وکیل صاحب اپنی ہمشیرہ کا رشتہ میرے ساتھ کرنا چاہتے تھے اور ادھر ایک اور معزز دوست اپنی لڑکی کا رشتہ مجھے دینا چاہتے تھے کیونکہ انہوں نے میرے ہاتھ میں حضور علیہ السلام کا ایک رقعہ دیکھا ۔ جس پر لکھا ہوا تھا ’’ بہتر ہے دوسری شادی کر لیں۔ ‘‘ حضور علیہ السلام نے جب خاکسار کو بلا کر کہا کہ میری رائے میں ایک شادی یہاں آکر کر لیں۔ اگلی بیوی بھی رہنے دیں۔ چنانچہ مجھے دو لڑکیاں دکھائیں اور کہا کہ نہ اس وکیل صاحب کی ہمشیرہ اور دوسرے معزز شخص کی لڑکی۔ تم ان میں سے دیکھو۔ کس سے شادی کرنا پسند کرنا چاہتے ہو؟ اس طرح سے دیکھو جس طرح اس ڈویژنل جج کی دوہتی سے کرنا چاہتے تھے۔ اس محبت کے ساتھ اگر ان میں سے کسی کے ساتھ شادی کرنا چاہو تو تمہارے ساتھ ایک کی شادی کر دیں گے اور سابقہ بیوی میں سے بھی اولاد ہو گی۔ چنانچہ اس وقت اس بیوی سے ایک لڑکی اور ایک لڑکا خدا کے فضل سے موجود ہے اور یہ حضور کی پیشگوئی کے مطابق ہے۔ حضور نے جب دوسری شادی کی نسبت فرمایا تو عاجز نے یہ کہا کہ حضور پہلی بیوی کب پسند کرے گی کہ اس کا گزارہ تقسیم کر دیا جائے۔ فرمایا ’’ اونٹ اڑبندے ای لدیندے ہن‘‘ میری منشاء ہے تمہاری ایک بیوی قادیان میں رہے اور ایک لاہور میں۔ یہ جو دیکھی ہیں ان کے علاوہ اور بہت سی لڑکیاں ہیں ’’ میرے نزدیک تقویٰ قائم کرنے کے لئے اگر سو بھی کی جائے تو جائز ہے‘‘۔
    میں نے عرض کیا کہ جب پہلی بیوی سے اولاد ہو جائے گی تو پھر مجھے دوسری بیوی گھر میں لانے کی کیا ضرورت۔ ہاں اگر حضور الہاماً فرماتے ہیں تو میں ابھی کر لیتا ہوں ۔ فرمایا کہ فلاں لڑکی توبڑی خدمتگذار ہے اور میری بڑی خدمت کرتی ہے۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ وہ یا دوسری۔ وہ بھی بڑی خدمت گزار ہے اگر تم اسی طرح سے جس طرح وہاں کرنا چاہتے تھے کرنا چاہو تو نکاح کرو۔
    میں نے عرض کیا کہ حضور یہ جو اگلے دن حضور کا ایک الہام چھپا ہے۔ ’’بہتر ہے کہ دوسری شادی کر لیں۱؎۔ ‘‘ یہ کہیں میرے واسطے ہی تو نہیں حضور مسکرا کر اٹھ گئے اور کوئی جواب نہیں دیا۔
    البدر میں عابد علی شاہ کا یا کسی بزرگ کا الہام چھپا ہوا ہے جو میرے ہاں اولاد ہونے سے بہت پہلے کا ہے۔ وہ الہام یہ ہے۔ ’’ غلام محمد۔ غلام محمد۔ غلام محمد۔ تین دفعہ یکے از ہر سہ‘‘ خدا کی قدرت کا عجب نمونہ ہے کہ میرے والد صاحب کی پیدائش پر دادا صاحب نے ان کا نام غلام محمد رکھا۔ خاندان کے کسی بزرگ نے غلام غوث کہا مگر دادا صاحب نے اصرار کیا کہ اس کے پیر نے اس کا نام غلام محمد رکھا ہے۔ میری پیدائش پر جب میرا نام بھی غلام محمد تجویز ہوا تو پھر دادا صاحب نے کہا کہ یہ الٹی بات ہوئی تم بھی غلام محمد یہ بھی غلام محمد ۔ چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح اوّل سے میرے ہاں لڑکا ہونے پر جب دریافت کیا گیا کہ حضور اس کا نام ’’ مہدی عیسیٰ کرشن‘‘ رکھ لوں تو آپ نے اپنی قلم سے تحریر فرمایا۔ میرے نزدیک لفظ محمد میں یہ سارے آجاتے ہیں۔ چنانچہ میرے لڑکے کا نام غلام محمد ثالث ہے۔ حضور نے غلام محمد ہی نام تجویز فرمایا تھا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیش گوئی کے مطابق اس بیوی میں سے نرینہ اولاد میرے ہاں غلام محمد ثالث ہے اور اس کی ہمشیرہ امۃ اللہ بیگم یہ دونوں بموجب حضور کی پیشگوئی کے خدا کے فضل سے زندہ موجود ہیں۔
    سفر جہلم میں حضور علیہ السلام مصروف تھے اور ادھر ایک پارٹی ایک چالبازی میں لگی ہوئی تھی۔ انہوں نے ایک سرٹیفیکیٹ تیار کیاجس میں یہ لکھا کہ کمیٹی (مراد انجمن) کو پورا حق ہے کہ وہ جو کچھ بھی کرے اس کی کوئی اپیل نہ ہو۔ اس سرٹیفیکیٹ پر جہلم میں دستخط کرائے گئے۔ مجھے یاد ہے کہ تمام دوستوں سے بالکل علیحدہ ایک کمرہ میں خوا جہ کمال الدین صاحب نے حضرت صاحب کی خدمت میں درخواست کی کہ اس پر دستخط فرمادیں۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ ہاں انجمن ہی سب کچھ کرتی ہے اور دستخط کر دئیے۔ جب خوا جہ صاحب باہر نکلے تو ان لوگوں نے ایک دوسرے کو مبارک بادیں دیں۔ پھر اس سرٹیفیکیٹ کے نیچے کپڑا لگا کر اسے محفوظ کر لیا۔
    مجھے یاد ہے کہ خلافت اولیٰ کی ابتداء میں خواجہ صاحب نے ایک بڑا لمبا چوڑا مضمون لکھا اور تمام جماعت لاہور کو اکٹھا کر کے وہ سنایا بعد میںوہ سرٹیفیکیٹ پڑھ کر سنایا اور قریباً قریباً جماعت لاہور کے تمام بڑے ممبروں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے انجمن کو یہ اختیارات ایسے دئیے ہیں جن پر کوئی اپیل نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ ۱۹۰۵ء میں ایک دفعہ خواجہ صاحب نے مالک وطن اخبار کے ساتھ ایک معاہدہ کیا کہ ریویو عام مسلمانوں کا ایک آرگن ہو جائے۔ جس میں مرزا صاحب کا کوئی ذکر نہ کیا جائے گا اور کل دنیا کے مسلمان اس کی سپورٹ کریں گے ۔ صرف قرآن ہی بیان کرے گا اور احمدیہ خیالات کا اظہار نہیں کرے گا یہ جب ہو گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس کا علم ہوا تو میں مولوی محمد علی صاحب کے کمرہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے اور حضور کا چہرہ سرخ تھا اور رنج سے مولوی محمد علی صاحب کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا۔ مولوی صاحب مَیں وہ قرآن دیکھنے آیا ہوں جس میں میرا ذکر نہ ہو سخت رنج کے ساتھ حضور نے فرمایا۔ مجھے وہ قرآن دکھائو جس میں میرا ذکر نہ ہو اور قرآن کا وہ کون سا حصہ ہے جس میں میرا ذکر نہ ہو۔ مولوی صاحب تو رونے لگ پڑے۔ حضرت صاحب بار بار کہتے تھے کہ مجھے وہ قرآن دکھائو۔
    وہ سرٹیفیکیٹ جس کا ذکر کیا گیا ہے وہ صرف مصالحات قبرستان کے متعلق انجمن کے اختیارات پر مشتمل تھا مگر ان لوگوں نے ایسی چالبازی سے لکھا کہ جس سے مترشیح ہو۔ کہ ہر حالت میںانجمن تمام دنیا کی احمدیت پر حاکم ہو گی اور اس کے فرامین پر کوئی اپیل نہ ہو سکے گی۔
    حضرت صاحب ۱۹۰۸ء میں جب آخری مرتبہ لاہور میں تشریف لائے تو مجھے یاد ہے کہ خواجہ کمال الدین صاحب نے اپنے مکان پر ہی جب کہ حضور ایک کمرے میں وعظ فرما رہے تھے دوسرے کمرہ میں میری طرف مخاطب ہو کر کہا کہ دیکھو (حضرت صاحب کی ہاتھ کر کے) کیا پٹھ (پاکھنڈ) مچایا ہو یا ہیں۔ کہنے لگا کہ کیا آپ نے وصیت پڑھی ہے ۔ میں نے کہا خوب پڑی ہے۔پھر کہا دیکھا ہے اس میں اپنی اولاد کے لئے کوئی قانون ہی نہیں رکھا۔
    کہنے لگا چوغہ صاحبزادہ عبداللطیف والا میرے پاس ہے وہ میں پہن لیتا ہوں ۔ آپ سب کشمیری مجھے پیر بنا لیں اور میرے پیچھے پیچھے ہاتھ باندھ کر چلا کریں اور کہا کریں خواجہ پیرا دستگیرا بے نظیرا پارلا۔ نیز کہا کہ اس لٹریچر کی برکت سے اتنا روپیہ کمائیں گے کہ گاڑی کے چھکڑے روپوں کے بھر بھر کر لائیں گے کیونکہ ایسا لٹریچر دینا ہی کہیں بھی نہیں۔ ایک مولوی محمد علی قادیان میں ہے اسے لاہور میں لے آئیں گے اور یہ میرے بائیں ہاتھ کا کرتب ہے۔ ریویو یہاں سے نکلا کرے گا۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جب آخری دفعہ لاہور ہی تشریف فرما تھے تو مولوی محمد علی صاحب بھی قادیان سے کچھ دنوں کے بعد آئے اور ایک رقعہ لکھا جس میں لکھا ہوا تھا۔
    سیدی و مولائی۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ’’خاکسار نے لنگر کا خرچ اس ماہ صرف اٹھارہ روپیہ میں پورا کیاہے۔ ‘‘
    رقعہ اندر بھیج دیا اور مجھے کہنے لگے کہ حضورکا خرچ پر کوئی کنٹرول نہیں۔ میں نے کہا کہ اگر اعتراض کرتے ہو تو تمہارا بیڑا غرق ہے۔ وہاں خرچ آج کل کیسے ہو سکتا ہے۔ کیونکہ دولہا تو یہاں ہے برات وہاں کیسے جا سکتی ہے؟ لنگر کا خرچ جو آپ نے اٹھارہ روپے کئے وہ بھی نہ کرتے تو گذاراہو سکتا تھا۔ بھلا بتائو تو سہی وہاں مہمان کون کون سے ہیں اور کیا تمہاری زیارت کے لئے گئے تھے۔ کہنے لگے۔
    بات یہ ہے کہ وہاں زیور بن جاتے ہیں ۔ لنگر پر بہت کم خرچ ہوتا ہے۔
    ایک دفعہ میں نے دو ہاف پونڈ حضور کو نذرانہ کے طور پر پیش کئے حضور نے جیب میں اور روپوں میں ڈال لئے۔ اندر تشریف لے جانے پر وہ پونڈ نکال کر بچوں کو دئیے اور فرمایا کہ دیکھو یہ کیسی خوبصورت پائیاں ہیں۔ میری محمد اسماعیل صاحب قریب تھے انہوں نے ان سے لے کر جو دیکھا تو وہ ہاف پونڈ تھے۔ انہوں نے حضرت صاحب سے عرض کی کہ حضور یہ تو ہاف پونڈ ہیں اور پندرہ روپیہ کی مالیت کے ہیں۔ پائیاں نہیں ہیں۔ اس پر میر صاحب نے باہر آکر دریافت کیا کہ اس وقت کسی نے مسجد میں نذرانہ دیا ہے۔ کوئی افریقہ سے آئے ہیں انہوں نے تو نہیں دیا۔ خاکسار نے کہا کہ میں نے دو ہاف پونڈ دئے ہیں۔ اس پر میر صاحب سے حضور کو جا کر بتایا کہ یہ پائیاں نہیں ہیں۔ ہاف پونڈ ہیں جو بابو غلام محمد نے دئیے ہیں۔
    حضور کی یہ عادت تھی کہ نذرانہ لیتے ہوئے کسی کے منہ کی طرف نہیں دیکھتے تھے اور نہ ہی رقم کی طرف دیکھتے تھے بلکہ لے کر جیب میں ڈال لیتے تھے۔
    ایک شخص محمد علی شاہ صاحب ٹھیکیدار تھے انہوں نے لنگر کی امداد کے لئے کچھ روپے بھیجے۔ حضرت صاحب کا چہرہ سرخ ہو گیا اور فرمایا لنگر ان کے روپوں کا محتاج نہیں اور واپس کر دئیے۔ یہ شخص غیر احمدی تھا سلسلہ کی مدد کرتا رہتا تھا مگر اس وقت وہ روپے واپس کرتے ہوئے فرمایا۔ کہ لنگران کے روپوں کا محتاج نہیں ہے۔
    ایک زمیندار نے سیکنڈہینڈ فراک کوٹ تین یا پونے تین روپے کا خرید کر کے حضور کی خدمت میں پیش کیا اور عرض کیا کہ حضور یہ پہنیں۔ بار بار کہنے لگا کہ حضور اسے میرے سامنے پہنیں۔ حضور نے فرمایا۔ مَیں پہن لوں گا۔ عرض کیا کہ حضور نہیں آپ ابھی پہنیں۔ چنانچہ حضور نے پہلا کوٹ اتار کر وہ سیکنڈ ہینڈ کوٹ پہن لیا۔
    ایک دفعہ بہت سے آم کہیں سے آئے۔ حضور نے ان کو ایک چارپائی پر پھیلا دئیے اور اردگرد اور چارپائیاں بچھا دیں پھر ہم تمام مہمانوں کو بلا لیا اور فرمایا یہ کھائو۔
    ایک دفعہ کنوئیں کے ’’اولو‘‘ میں بہت سے آم پھینکوا دئیے اور دوستوں کو فرمایا کہ کھائو۔
    ایک دفعہ بیدانہ کے ٹوکرے رکھ کر آس پاس چارپائیاں بچھا کر فرمایا کہ کھائو۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام ابتدا میں کھانا اندر سے خود اٹھا کر لاتے تھے۔ ذرا سی دیر کے بعد فرماتے میں اندر سے گرم روٹی لاتا ہوں۔ داہنے ہاتھ والے کو چیز دینے میں ہمیشہ مقدم فرمایا کرتے تھے۔ اس لئے ہم بھی داہنے ہاتھ بیٹھنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔
    مولوی عبدالکریم صاحب نے حضور سے درخواست کی کہ حضور بابو غلام محمد صاحب کباب بہت اچھے بناتے ہیں۔ حضور سفارش کریں ہمیں یہ کباب کھلائیں۔ حضور نے فرمایا۔ کہ ان کی آرزو بھی پوری کریں۔ میں اٹھا اور بڑی مسجد والی گلی کے اندر ایک قصاب کی دکان تھی وہاں جا کر میں نے قیمہ کٹوانا شروع کیا۔ دل میں خیال تھا کہ حضرت کی محبت سے محروم کر کے مولوی نے مجھے کس مصیبت میں ڈالا۔ اس خیال میں تھا کہ حضور مع خدام اس قصاب کی دکان پر آنکلے اور فرمایا کہ میں نے سیر کے لئے جانا تھا خیال کیا کہ چلو اس راستے سے چلے جاتے ہیں بابو صاحب کو بھی ساتھ لے لیں گے۔ بس میں ساتھ ہو لیا اور سیر میں شریک ہو گیا اور پھر کباب تیار کر کے سب کو کھلائے۔
    ایک دن حضرت صاحب نے فرمایا کہ میں تو ایک ادھیلے میں گذارا کر سکتا ہوں۔ مجھے ان(دوستوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا) کی فکر رہتی ہے۔
    حضور کی عادت تھی کہ گھڑی کو رومال میں روپوں کے ساتھ ہی باندھ لیا کرتے تھے جب میں جاتا تو حضور اسے کھول کر فرماتے۔ بابو صاحب یہ تو بند ہی ہے۔ میں عرض کرتا کہ حضور اگر اسے ہر روز چابی دی جائے تو تب چلتی ہے۔ جب چابی لگا کر وقت درست کر کے دیں تو حضور دیکھ لیتے۔ جب پھر دوسری اتوار کو جاتا تو پھر بند ہوتی۔
    پھر ایک شخص نے بمبئی سے ایک کلاک بھیجا جو اب مسجد مبارک میں آویزاں ہے۔ حضور نے فرمایا کہ ایک اندر بھی لگا دو۔ میں لاہور سے ایک کلاک لے گیا جو آدھے گھنٹے کے بعد بھی بجا کرتا تھا۔ یعنی بارہ کے بعد ساڑھے بارہ پھر ایک بجے ایک بجایا پھر ڈیڈھ بجے آدھے پر ایک بجا۔ حضور نے فرمایا یہ لے جائو۔ یہ تو ہمیشہ ایک بجاتا ہے۔ہمیں وہ کلاک چاہئے کہ جو صرف ۱۔۲۔۳۔۴۔۵ بجائے درمیان میں آدھ گھنٹہ گزرنے کے بعد ایک نہ بجایا کرے۔ پھر میں ایک اور لے گیا مگر اس بہانہ سے مجھے حضرت صاحب کے ساتھ گھنٹوں علیحدہ گزارنے کا موقعہ ملتا رہا۔ کبھی حضور سٹول لاتے کہ اس پر کھڑے ہو کر لگائو۔ کبھی کیل لاتے۔ کبھی لوہے کا حمام دستہ لاتے اور فرماتے اس کے ساتھ ٹھونکو۔ میں سٹول پر چڑھتا تو حضور اس سٹول کو پکڑ لیتے۔
    میں جب کلاک لگا کر آتا اور پھر دوسرے اتوار کو جاتا تو فرماتے کہ یہ تو دوسرے دن ہی بند ہو گیا تھا اور آپ کہتے تھے کہ آٹھ دن تک چلا کرے گا۔ پھر میں تنہائی میں حضور کے پاس جا کر غور کرتا کہ کیوں بند ہو گیا ہے۔ تو دیکھتا کہ حضور نے دوائی کی شیشیاں اور پڑیاں وغیرہ اس کے پاس اندر رکھی ہوئی ہیں جن کی وجہ سے Pendulumہل نہ سکتا اور گھڑی بند ہو جاتی۔ میں پھر عرض کرتا کہ حضور اس میں تو سامان رکھا ہوا ہے۔ اب یہ کیسے چلتا ۔ فرماتے کہ بچوں سے دوائی بچا کر رکھتا ہوں ۔ میں نے عرض کیا کہ حضور ان شیشیوں کے لئے تو الماری چاہئے ورنہ کلاک نہیں چلے گا۔
    میں نے بیعت کی تو میری داڑھی منڈھی ہوئی تھی۔ ہاتھوں میں سونے کی انگوٹھیاں تھیں۔ کان میں بالیاں تھیں۔ بٹن سونے کے تھے اس پر مولوی عبدالکریم صاحب نے حضور سے عرض کیا کہ حضور اس کو کہیں داڑھی رکھے۔ مسکرا کر فرمانے لگے۔’’دین کا داڑھی پر انحصار نہیں ہے‘‘۔جب یہ لوگ ہماری داڑھی دیکھیں گے آپ کی داڑھی دیکھیں گے اور دوسروں کی داڑھیاں دیکھیں گے یہ بھی رکھ لیں گے۔ اگر داڑھی ہی دین کے لئے لازمی ہوتی تو ہمارے زمانہ میں ایک شخص کی اتنی لمبی داڑھی تھی کہ جب وہ کھڑے ہو کر کھولتا تو ایک دو بل اس کے پائوں میں بھی پڑتے۔ پھر مولوی عبدالکریم نے میرے کان اور بٹن دکھائے اور کہا حضور یہ سارا سونا پہنا ہوا ہے۔ حضور نے فرمایا: کہتے ہیں محی الدین ابن عربی کے کوٹ کے تکمے سونے کے تھے اور کوٹ سترہ روپے گزر کا تھا بلکہ بعض اوقات سو روپے گز کا کپڑا بھی پہنتے تھے۔ کسی نے ان کو کہا کہ یہ تو تبذیر ہے تو آپ نے فرمایاـ:’’ من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ والطیبات من الرزق۱؎‘‘ ۔ پھر فرمایا آہستہ آہستہ سب باتیں خود بخود کرنے لگ جائیں گے ۔ چنانچہ بعد میں مَیں نے سونا اتار دیا اور ایک میری ٹوپی تھی جو سیکنڈ ہینڈ میں نے تیس روپیہ میں بیچی تھی۔ حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی چھوٹے سے تھے میرے لباس اور ٹوپی کو دیکھ کر اندر بھاگے کہ نواب محمد علی صاحب آگئے۔ نواب محمد علی صاحب آگئے۔ انہوں نے سمجھا کہ شاید یہی نواب ہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام ظہر سے پہلے تشریف لاتے کبھی کبھی قمیض بھی گرمی کی وجہ سے اتار دیتے تھے۔ حضور کا جسم نہایت ہی خوبصورت تھا۔
    ایک دفعہ مولوی عبدالکریم صاحب نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور غلام محمد کو کہیں کہ بانگ کہے۔ حضرت صاحب مسکرا کر فرمانے لگے کیا حرج ہے بانگ دے دو۔ میں نے عرض کیا بہت اچھا حضور۔ جب میں اذان کہنے لگا ۔ (ظہر کی اذان) تو مولوی عبدالکریم صاحب اپنی جگہ سے اٹھے اور حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور یہ آواز نہیں نکالتا۔ اس کو کہیں کہ آواز نکالے۔ حضرت صاحب مسکرا کر خاموش ہو گئے مگر مولو صاحب نے اٹھ کر میرے کان پکڑ لئے اور فرمایا۔ زور سے اور زور سے۔
    حضور اکثر جب تشریف فرما ہوتے سلف صالحین کی باتیں کیا کرتے۔ ایک موقع پر خاکسار کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ ابوالحسن کاایک مرید جنگل میں ایسے موقع پر گھر گیا کہ قریب ہی سامنے سے ایک شیر نمودار ہوا۔ اس نے زور زور سے الحا ح کے ساتھ کہا خدا کے واسطے اے شیر مجھ سے ٹل جا۔انہوں نے کئی دفعہ خدا کا واسطہ ڈال کر شیر کو کہا مگر وہ غراتا ہوا ان پر حملہ آور تھا۔ پھر وہ بولا۔ ابوالحسن فرقانی کا واسطہ ڈالتا ہوں مجھ پہ حملہ نہ کر۔ تو شیر شرمندہ ہو کر اور منہ نیچے کر کے لوٹ گیا۔ حضور نے فرمایا کہ خدا کے واسطے پر تو شیر ٹلا نہیں۔ غراتا ہوا قریب آتا گیا۔ مگر ابوالحسن کے واسطے کیوں ٹل گیا؟ اس میں ایک راز ہے کہ وہ شخص ابھی ابوالحسن تک پہنچا تھا خدا تک اس کی رسائی نہ تھی۔ اس لئے جب خدا کے واسطے ڈالے تو شیر نے اس کی پرواہ نہ کی۔ کیونکہ وہ شخص تو خدا کا واقف ہی نہ تھا۔ ہاں ابوالحسن تک اس کی پہنچ تھی۔
    ایک دفعہ مولوی محمد علی صاحب کو سخت بخار ہوا اور بن ران پر بھی درد محسوس ہو رہا تھا وہ بیچارہ طاعون کے ڈر سے رو رہا تھا۔ مجھے کہنے لگا کہ طاعون ہو گئی ہے بن ران پر بھی درد ہو رہی ہے اور ایسی ٹھیس معلوم ہوتی ہے جیسے کوئلہ دھرا ہوا ہے۔ اتنے میں حضور علیہ السلام تشریف لائے اور حضور کے کان میں آواز پہنچ چکی تھی کہ مولوی محمد علی صاحب رو رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ مجھے طاعون ہو گئی ہے۔ حضور علیہ السلام تشریف لائے اور زور سے بولے کہ کہاں ہے بخار؟ حضور نے جب اس کے جسم پر ہاتھ رکھا تو بالکل بالکل نہیں تھا۔
    اکثر حضور معزز اور مخلص مہمانوں کو رخصت کرنے کے لئے کچھ دور ساتھ بھی جاتے تھے۔ چنانچہ ڈاکٹر بوڑھے خان صاحب جو ایک بڑے متقی احمدی تھے وہ جب آخری دفعہ قادیان گئے تو حضور سے رخصت ہونے کے لئے حاضر ہوئے۔ حضور ان کے ساتھ ہوئے اور فرمایا۔ چلئے میں بھی آپ کے ساتھ ساتھ چلتا ہوں۔ چنانچہ یکہ خالی ساتھ تھا۔ حضور علیہ السلام اور خدام بھی ساتھ تھے جو سیر کے لئے نکلے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے رستہ میں کئی ایک دفعہ اصرار کیا کہ حضور اب واپس تشریف لے جائیں مگر حضور باتیں کرتے کرتے موڑ تک تشریف لے گئے۔ اس کے چند دن بعد اطلاع موصول ہوئی کہ ڈاکٹر صاحب فوت ہو گئے ہیں اور اس کی وجہ یہ پیش آٖئی کہ وہ کسی مریض کا آپریشن کر رہے تھے کہ ان کے ہاتھ پر نشتر لگ گیا اور اس نشتر کی زہر سے ان کی موت واقع ہو گئی۔
    بعض مہمانوں کا دستور تھا کہ یکہ ساتھ لیتے سامان لدا کر پھر اجازت کے لئے جاتے۔ چنانچہ ایک روز ڈاکٹر یعقوب بیگ مع عیال جانے کے لئے یکہ لے کر آئے اور اجازت طلب کی ۔ یہاں تک کہ ڈاکٹر صاحب یکے پر سوار ہو کر روانہ ہو گئے تو حضور باہر تشریف لائے۔ پوچھا ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب کہاں ہیں ؟ دوستوں نے کہا کہ وہ تو چلے گئے حضور ۔فرمایا کوئی آدمی دوڑ کر ان کو واپس لے آٖئے اکثر احباب دوڑ اٹھے اور ان کے یکے کو راستے میں جا لیا کہ حضور واپس بلاتے ہیں۔ اس پر ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب واپس لوٹ آئے اور اطلاع کرائی کہ میں واپس آگیا ہوں۔ کہ اتنے میں آندھی کا سخت طوفان آیا۔ بارش بھی ساتھ تھی۔ اس طوفان کو دیکھ کر ہم نے کہا کہ حضور نے معجزہ کے طور پر ان کو واپس بلایا ہے۔ اس قدر آندھی آٖئی تھی کہ کئی درخت اکھڑ کر گر گئے تھے اور رستہ بھی اکثر بند ہو چکا تھا۔
    خاکسار اور حکیم محمد حسین صاحب قریشی اکثر اکٹھے قادیان جاتے اور واپس آتے تھے ۔ اتوار کے روز عموماً ٹرینوں کے متصل ہونے کی وجہ سے عموماً پانچ ہی منٹ حضور سے ملاقات کے لئے ملتے۔ جب حضور کو اطلاع ہوتی تو اکثر حضور جس طرح بیٹھے ہوئے باہر تشریف لے آتے۔ فرمایا کہ یہ آپس میں جزو لاینفک ہیں۔ قریشی صاحب آئیں تو سمجھا جاتا ہے غلام محمد ساتھ ہو گا۔ غلام محمد صاحب آئیں تو ہم سمجھ لیتے ہیں کہ قریشی صاحب ساتھ ہوں گے۔
    بات یہ تھی کہ مجھے اتوار کی رخصت ہوتی ہے اور اسی وقت واپس آنا ضروری ہوتا تھا اور حکیم صاحب کا کارخانہ تھا ۔
    ایک دفعہ قریشی صاحب نے حضور سے مع عیال قادیان جانے کی اجازت مانگی۔ جب بٹالے پہنچے تو اس قدر بارش شروع ہوئی کہ ان کو سرائے میں مع عیال رہنا پڑا۔ قریباً پانچ چھ دن تک سرائے ہی میں مقیم رہے ۔ جب بارش تھمی تو انہوں نے اپنے آدمی کو بھیجا کہ حضور سے پوچھیں کہ اب رستہ تو پانی سے اٹا پڑا ہے میں آئوں یا واپس لوٹ جائوں؟حضور نے اس آدمی کو بہلی پر سوار کروا کر بھیجا کہ قریشی صاحب کو لے آئو۔ حضور نے پیغام بھیجا کہ چلے آئو۔ آسمان کا کام ہے برسا نا اور زمین کا کام ہے اس کو جذب کرجانا۔ بے شک چلے آٖئو۔ چنانچہ پانچ چھ روز کی بارش کے بعد قریشی صاحب بخیریت پہنچ گئے۔
    باہر جب حضور تشریف لاتے تو عام طور پر حضور لاہور کے مہمانوں سے لاہور کا حال پوچھتے۔ ایک دفعہ جب قریباً لاہور طاعون سے صاف ہو گیا تو خاکسار نے حضور کی خدمت میں عرض کی کہ حضور اب تو لاہور میں بالکل کوئی کیس نہیں ہوتا۔ طاعون بالکل چلی گئی ہے۔ مخاطب ہو کر فرمایا کہ بالکل طاعون چلی جائے کوئی کہیں کیس نہ ہو سننے بھی نہ آئے کہ کہیں کوئی کیس ہوا ہے اور اطمینان ہو جائے سب کا کہ طاعون چلی گئی۔ مگر طاعون پھر آئے گی اور ایسی آئے گی کہ اگلا طاعون کا وقت بھی بھول جائے گا۔ چنانچہ بعد میں پھر اس قدر طاعون پڑی کہ لوگ پہلی طاعون کو بھول گئے۔
    گورداسپور کے مقدمہ کے دوران میں ایک رات ٹرین سے ہم اترے اور سخت ہوا تیز چلی۔ موسم سرما کا تھا۔حضور علیہ السلام ایک کوٹھی میں فردکش ہوئے اور آتے ساتھ ہی حکم دیا کہ تکان ہے اب سب سو جائیں۔ ہم سب اپنا اپنا بستر لے کر لیٹ گئے۔ کچھ دیر بعد حضور اپنے بستر سے اٹھے اور دبے پائوں ایک چھوٹی سے لالٹین لئے ہوئے ہر ایک کا بستر ٹٹولا کہ تا یہ معلوم کریں کہ کسی کے پاس بسترا ناکافی تو نہیں۔ جس کسی کا بستراکم دیکھتے حضور اپنے بستر پر سے جا کر کوئی ایک کپڑا اٹھا لاتے اور اس پر ڈال دیتے۔ جس طرح سے ماں اپنے بچوں کی حفاظت ایسے سردی کے وقت میں کرتی ہے۔ حضور نے اپنے بسترا میں سے پانچ سات کپڑے نکال کر مہمانوں پر ڈال دئیے۔ میں جاگ رہا تھا اور حضور کی اس شفقت کو دیکھ رہا تھا۔
    پھر جب زیادہ دیر ٹھہرنا پڑا تو حضور نے ایک کرایہ پرمکان لے لیا۔ جس میں باقاعدہ لنگر اور مہمانخانہ کا انتظام کیا گیا۔
    خواجہ کمال الدین صاحب یہ کوشش کیا کرتے تھے کہ مقدمات کے متعلق حضور کے ساتھ آہستہ سے الگ گفتگو کریں مگر حضور ہر بات تمام لوگوں کے ساتھ بیان فرما دیا کرتے تھے۔ حتیٰ کہ کچہری کے احاطہ میں بھی حضور ایسا ہی کرتے تھے۔ خواجہ کمال صاحب چیختے تھے کہ حضور یہ کیا کرتے ہیں۔ مَیں معاملات کو پوشیدہ رکھتا ہوںمگر حضور تمام احباب کے سامنے بیان فرما دیتے ہیں۔
    کچہری کے میدان میں جب ایک بہت بڑی دری بچھی ہوتی تو آنے والے احباب وہاں آکر بیٹھ جاتے۔ تو کبھی اگر حضور رفع حاجت کے لئے اٹھتے تو حافظ حامد علی صاحب کو آواز دیتے وہ ایک چھوٹا سا تانبے کا لوٹا پانی سے بھر کر ساتھ ہو لیتے اور کھیت میں جو قریب ہی تھا حضور رفع حاجت کے لئے اندر چلے جاتے۔ لوٹا بہت چھوٹا تھا جس سے آبدست بھی کرتے اور کبھی اسی سے پھر وضو بھی کر لیتے۔ میرے خیال میں اس لوٹے میں ڈیڑھ سیر کے قریب پانی آجاتا تھا۔
    لاہور میں ایک جلسہ تجویز ہوا جو داتا گنج بخش کے عقب میں ہوا تھا۔ ایک سٹیج میں جس کے دونوں طرف قریباً پچاس پچاس سائبان لگائے گئے ۔ ایک سائبان سولہ مربع گز کا ہوتا تھا۔ حفاظت کے لئے گورنمنٹ نے خود اپنا ذمہ لیا تھا۔ چنانچہ گاڑی کے ساتھ پانچ پانچ سات سات سوار پولیس کے تھے۔ مگر باوجود اس کے میرے بھائی پہلوان کریم بخش صاحب اور ڈاکٹر اسماعیل خان صاحب دونوں حضرت صاحب کی پیٹھ کی طرف حفاظت کے لئے کھڑے تھے۔
    سپرنٹنڈنٹ پولیس نے لیکچر کے بعد اندر سٹیج کے کمر کھولی اور ہائے کہہ کر بولا کہ آج تو خدا کے بیٹے نے مار ڈالا۔ کہنے لگا ۔ رات کے دو بجے سے میں اٹھا ہوں اور اب تک آرام کا موقع نہیں ملا۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام آخری سفر میں جب لاہور تشریف لائے تو اکثر تیسرے پہر فٹن پر سوار ہو کر سیر کے لئے میانمیر کی طرف تشریف لے جاتے۔ ملک مبارک علی صاحب اپنی گاڑی پر مع اپنے ساتھیوں کے حضور کی گاڑی کے پیچھے کچھ فاصلے پر رہتے اور اکثر احباب جو پیدل پہلے ہی پہنچے ہوئے ہوتے صرف حفاظت کے طور پر دور دور فاصلے پر کہیں نہ کہیں کھڑے رہتے۔ چنانچہ میں بھی اکثر حفاظت کے لئے پہلے ہی نکل جایا کرتا تھا۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے چائے کے لئے خلیفہ رجب الدین صاحب کو کہا تو اس نے کہا کہ مجھے بواسیر بادی ہے اور اگر میں ایک گھونٹ بھی چائے کا پی لوں تو سارا دن خارش میں مبتلا رہوں گا۔ چائے آنے پرحضور نے فرمایا کہ اب دیکھیں گے کس طرح خارش ہوتی ہے؟ لوگوں نے کہا کہ اب تو حکم ہو گیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے ایک پیالی چائے کی پی اور خارش بالکل جاتی رہی۔
    جب مہمان آتے تو حضورجہاں جہاں کوئی مہمان آتا خادم جس کا نام چراغ تھا اسے کہتے کہ جہاں کوئی مہمان ہووہیں چائے لے جائو۔ چنانچہ جہاں ہم ہوتے تھے چائے پہنچ جاتی تھی۔
    ابتداء میں یہ بھی حکم تھا کہ مہمانوں کو صبح وضو کے لئے گرم پانی دیا جائے اور جو دوسرے اوقات میں بھی گرم پانی کے بغیر وضو نہ کر سکیں ان کو ہر نماز کے وقت گرم پانی دیا جائے۔ چنانچہ حکیم قریشی محمد حسین صاحب کو ہر نماز سے قبل وضو کے لئے گرم پانی ملتا تھا۔
    ایک دفعہ حضور نے ایک جنازہ اتنا لمبا پڑھایاکہ قریب تھا کہ ہم گر جائیں۔ یہ یاد نہیں رہا کہ کس کا جنازہ تھا۔ نماز سے فارغ ہونے پر ایک دیہاتی دوڑا آیا اور عرض کیا کہ حضور میری ماں کا جنازہ بھی پڑھ دیں۔ مسکرا کر فرمایا کہ اس کا بھی پڑھا ہے تمہارا بھی پڑھا ہے اور (مقتدیوں کی طرف اشارہ فرما کر کہا) ان سب کا بھی پڑھا ہے۔
    حضور اکثر مزاح بھی فرمایا کرتے۔ ایک دفعہ فرمایا کہ جاٹوٍٍٍٍٍٍٍٍٍں نے مل کر مراثی کو کہا کہ تُو بھی نماز پڑھا کر۔ اس نے کہا کہ نماز اگر پڑھوں تو کیا دو گے۔ انہوں نے کہا کہ فصل کاٹنے پر ایک ایک پولی دیں گے نیز کہا کہ چالیس روز تک تو نماز پڑ ھ کے دیکھ لے پھر تو خود بخود پڑھا کرے گا۔ جب کٹائی کا موقع آیا تو پھر وہ ثابت بھری (جس قدر بوجھ انسان اٹھا سکے) کی بجائے آدھی آدھی بھری دینے لگے تو وہ آدھی آدھی بھی لے کر جاٹوں سے مخاطب ہوا اور کہا کہ مجھے بھی علم تھا کہ تم چالباز ہو۔ میں بھی بغیر وضو کے ہی نماز پڑھتا رہا ہوں۔
    ایک سارنگی والا مراثی حضور کے پاس بطور سائل دروازہ مکان پر پہنچا۔ حضور نے اسے چونی دی۔ اوپر سے میر ناصر نواب صاحب آگئے۔ حضرت صاحب اندر جا چکے تھے۔ میر صاحب نے اسے دیکھ کر بہت ڈانٹ ڈپٹ کی اور کہا کہ خبردار جو کبھی پھر یہاں آئے۔ دوسرے دن پھروہ آگیا۔ حضرت صاحب اسے دینے کے لئے باہر آئے توآگے دیکھا کہ سائل غائب ہے۔ اس نے کہیں میر صاحب کی شکل دیکھ لی تھی۔ کسی کو فرمایا کہ جائو اس سارنگی والے سائل کو تلاش کرو۔ کسی نے کہا کہ حضور وہ تو بھاگ گیا ہے۔ فرمایا جائو تم بھی بھاگ کر اسے بلا لائو۔ خیر وہ آیا اور میر صاحب کو دیکھ کر ڈرا۔ حضرت صاحب نے میر صاحب کو فرمایا کہ میر صاحب! یہ بے چارہ کیا کرے اسے اور تو کوئی کسب آتا ہی نہیں۔ آپ اسے کوئی کسب سکھا دیں۔ یہ پھر نہیں بجایا کرے گا۔ پھر اس میراثی کو تنہائی میں فرمایا کہ جتنے روز تم یہاں رہو سارنگی نہ بجایا کرو۔ میر صاحب مارتے ہیں۔ چپکے سے زنجیر ہلا دیا کرو۔ میں تمہیں کچھ نہ کچھ دے دیا کروں گا۔ چنانچہ جب تک وہ قادیان میں رہا۔ چار آنے لے جاتا رہا۔
    عندالتذکرہ فرمانے لگے کہ ملاں لوگ بڑے حریص ہوتے ہیں۔ فرمایا۔ ہماری اس مسجد (اقصیٰ) کے ملاں کا باپ مر گیا۔ اس کے دو لڑکے تھے ۔ فرمایا کہ وہ دونوں آپس میں لڑنے لگے اور کہا کہ آپس میں علاقہ تقسیم کر لو۔ اب جو انہوں نے تقسیم کی اس پر پھر ان کا تنازعہ بڑھ گیا۔ مسجد میں لوگ جمع ہوئے کہ تا ان کے جھگڑا کا فیصلہ کر دیا جائے۔
    تماشا دیکھنے کے لئے بچے اور بڑے سب مجلس میں موجود تھے۔ لوگوں نے کہا کہ اس تقسیم پر تمہیں اعتراض کیا ہے؟ تو ایک نے کہا کہ جتنے بچے ہیں وہ سب میری طرف کر دئیے ہیں۔ ان کی طرف ہاتھ کر کے کہنے لگا بھلا بتائو تو یہ کب مرنے لگے ہیں اور اگر مریں گے بھی تو ان کے کپڑوں کا مجھے کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے؟ اور جتنے بوڑھے ہیں اس (دوسرے کی طرف اشارہ کر کے) نے اپنی طرف کر لئے ہیں جو بہت جلد مرنے والے ہیں اور تمام کپڑے یہ لے جانے والا ہے۔ حضرت صاحب یہ واقعہ سنا کر بہت ہنسے۔
    حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ کی شادی سے قبل فرمایا تھا کہ ایسی جگہ شادی کرو جہاں بچے زیادہ ہوں۔ خاکسار بھی رڑکی حضرت امیر المومنین کی برات دیکھنے کے لئے گیا مگر میرے جانے پر حضرت مولوی نورالدین صاحب اور میر ناصر نواب وغیرہ سب رخصت ہو چکے تھے۔ میں جب گیا تو انہوں نے شلغم گوشت پکا ہوا اور روٹی میرے سامنے رکھے جو میں نے کھائی اور واپس آگیا۔
    عید کا موقع تھا۔ قاری غلام حٰمیم کے مکان کے سامنے جو بڑا بڑ کا درخت ہے۔ (یعنی ڈھاب کے کنارے پر پل کے نزدیک ) اس کے نیچے عید کی نماز کے لئے حضور تشریف لائے۔ حضرت مولوی نورالدین صاحب نے دھوبی کے دھوئے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور سر پر ٹوپی پہنی ہوئی تھی۔ حضرت صاحب نے ا ن کو مخاطب کر کے فرمایا مولوی صاحب ! عید کا روز ہے ۔ جائیے جا کر کپڑے تبدیل کر آئیے۔ چنانچہ مولوی صاحب اٹھے اور گھر سے سارا لباس تبدیل کر کے پھر واپس تشریف لائے اور نماز پڑھائی۔
    جب کبھی بھی کوئی حضور سے وظائف کے متعلق سوال کرتا کہ حضور وظیفہ کے لئے کیا پڑھنا چاہئے تو حضور فرمایا کرتے کہ درود اور استغفار کثرت سے پڑھو۔ یہی ایک وظیفہ کافی ہے۔ بعض نے پوچھا کہ حضور کتنی دفعہ درود شریف پڑھوں اور استغفار کتنی دفعہ کروں۔ فرمایا کہ خود تو بے حساب مانگتے ہو اور خدا کے لئے تعداد پوچھتے ہو۔ کثرت سے درود شریف پڑھو اور کثرت سے استغفار کرو۔
    مولوی غلام حسین صاحب امام مسجد گمٹی والی مسجد لاہور کا جنازہ لے کر ہم حضور علیہ السلام کی خدمت میں قادیان پہنچے۔ معتمدین نے اعتراض کیا کہ ان کی وصیت کوئی نہیں۔ فرمایا ۔ ان کی وصیت کی کیا ضرورت ہے۔ یہ تو مجسم وصیت ہیں۔ یہ ہوئے، خلیفہ ہدایت اللہ لاہوری ہوئے۔ ایسے لوگوں کی وصیت کی کیا ضرورت ہے؟
    مولوی صاحب حد درجہ کے متقی تھے۔ حضور کے عاشق تھے اور دینی کاموں پر ہر وقت کمر بستہ رہتے تھے اور خلیفہ ہدایت اللہ صاحب کے متعلق مجھے افسوس ہے کہ ان کے ورثا نے ان کو یہاں دفن کر دیا ہے۔ وہ صندوق میں نہیں ۔ ورنہ میں اپنے خرچ پر قبر اکھیڑ کر ان کی لاش کو قادیان لے جاتا۔ ایک تیسرے شخص کا نام بھی حضور نے لیا تھا مگر وہ مجھے یاد نہیں رہا۔
    میرا ایک لڑکا فوت ہو گیا جو چند ایک ماہ کا تھا۔ حضور نے پوچھا کہ کیا بات ہے۔ لاہور کا کیا حال ہے؟ میں نے کہا کہ حضور لاہور میں بیماری وغیرہ تو ہے مگر میرا ایک لڑکا چند ماہ کا فوت ہو گیا ہے۔ فرمایا نہ تو آپ نے اس کے پیدا ہونے پر ہم کو اطلاع دی نہ بیمار ہونے پر اطلاع دی۔ آپ نے مجھے اطلاع کیوں نہ دی؟ اس وقت مجھ پر یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ اگر میں دعا کے لئے حضور کی خدمت میں لکھتا تو بچہ یقینا بچ جاتا۔ کیونکہ ہم سب کا یہ دستور تھا کہ جب کسی کا کوئی عزیز بیمار ہوتا ۔ ادھر ہم خط لکھتے ادھر وہ اچھا ہو جاتا۔ اگر حالت خطرناک ہوتی تو ہم ایک آدمی خط دے کر بھیج دیتے کہ حضور کی خدمت میں جا کر عرض کرو کہ فلاں بیمار ہے اور جس کو بھیجتے تو اس کو ہدایت کرتے کہ جس وقت تم پہنچو خواہ رات کا وقت ہی کیوں نہ ہو۔ فوراً زنجیر ہلا کر حضور کی خدمت میں خط پیش کرو اور دعا کے لئے عرض کرو۔
    قادیان میں بعض دفعہ دیہاتی عورتیں جن کے ہاتھ گوبر سے بھرے ہوئے اور کپڑے بھی میلے کچیلے ہوتے۔ حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتیں کہ مرزا جی! کاکی بیمار ہو گئی ہے۔ ہوش میں نہیں آتی۔ بہت بخار چڑھا ہوا ہے۔ پھر ہاتھوں کی طرف اشارہ کر کے کہتیں کہ دیکھو نہ ہم ہاتھ بھی دھو کر نہیں آئیں۔
    ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ایک عورت جس کے ہاتھ گوبر سے بھرے ہوئے تھے ۔ حضور کے پاس آئی اور عرض کیا کہ میری کاکی بخار سے بیمار ہے اور بالکل بے ہوش ہے۔ فرمایا کیا کوئی برتن بھی لائی ہو۔ اس نے گوبر بھرے ہاتھوں سے ایک مٹی کا پیالہ حضور کی خدمت میں پیش کر دیا۔ حضور نے پیالہ لے کر روح کیوڑا سے بھر دیااور کوئی پانچ رتی کے قریب کستوری دی اور فرمایا کہ دو دفعہ آدھ آدھ پیالہ اور یہ دوائی کھلا دو۔نیز فرمایا۔ کہ مجھے اطلاع کرنا کہ بچی کا کیا حال ہے؟
    قادیان کے ہندو آریہ مخالف سلسلہ کے منتظمین سے شامیانے عاریۃً مانگنے کے لئے آئے۔ منتظمین نے جواب دے دیا۔ وہ حضور علیہ السلام کی خدمت میں جا پہنچے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ بچی کی شادی ہے برات آنے والی ہے اور آپ کے منتظمین شامیانہ نہیں دیتے۔ حضور نے اسی وقت بلوایا اور منتظمین کو کہا کہ خود جا کر لگوائو اور خود ہی اتار کر لے آنا۔ ان بیچاروں کو کیا علم کہ کس طرح لگایا جاتا ہے۔
    مسجد مبارک کے قریب ایک پرانا مکان گرا ہوا موجود تھا۔ جس کو خراس کہتے تھے۔ مولوی عبدالکریم صاحب نے خاکسار کو کہا کہ ایک ہزار روپیہ قرضہ دو۔ ہم نے بندوبست کیا ہے کہ یہ خراس خرید کر مسجد سے ملا دیا جائے۔ مں بواپس ریل لاہور آیا اور روپیہ لے کر واپس گیا۔ حضور علیہ السلام جب تشریف لائے تو مولوی صاحب نے عرض کی کہ حضور ہم نے ہزار روپیہ قرضہ کا بندوبست کیا ہے اور اس خراس کا سودا کر کے مسجد میں ملا دینے کی تجویز ہے۔ حضور کا کیا ارشاد ہے؟ حضور نے میری طرف مخاطب ہو کر فرمایا ۔ گھبرائو نہیں۔ یہ ساری زمینیں تمہاری ہو جائیں گی۔ اس طرح خریدنے میں قیمت بڑھ جائے گی اور میں جو کہتا ہوں کہ جتنی یہ زمینیں ہیں ساری کی ساری تمہاری ہو جائیں گی۔ اس وقت سلسلہ کے پاس کوئی زمین نہ تھی۔ آج خدا کے فضل سے لکھوکھا روپیہ کی زمینیں موجود ہیں۔
    نوٹ: ۱۹۰۴ء میں جس مقام پر داتا گنج بخش کے پیچھے حضور کا لیکچر ہوا تھا۔ اس زمانہ میں وہاں کوئی آبادی نہ تھی۔ بلکہ کمپنیاں اپنا ٹمپریری سٹیج بنا کر کھیل وغیرہ کیا کرتی تھیں اور بڑے بڑے لیکچر بھی وہیں ہو جایا کرتے تھے۔ اس جگہ کو ان وجوہات کی وجہ سے منڈوہ بھی کہتے ہیں۔ بریڈا ہال اس کے پاس ہی تعمیر ہوا ہے۔ پہلے جب کہ برف کی مشینیں نہیں ہوا کرتی تھیں اس میدان میں برف جمائی جاتی تھی اور اس کا طریق یہ تھا کہ نیچے کسیر بچھائی جاتی تھی اور اوپر مٹی کی رکا بیاں پانی سے بھر کررکھی جاتی تھیں۔ جب رات کو وہ جم جاتیں تو اس وقت مزدور کھرپے سے وہ برف اکھاڑ کر ٹوکریوں میں ڈالتے اور ٹوکریاں اٹھا کر کھاتے میں ڈالتے اور لکڑی کے لمبے لمبے بانسوں سے جنہیں دموسے کہتے ہیں کوٹتے جاتے جب وہ کھاتہ بھر جاتا تو اسے مٹی سے بند کر دیتے اور گرمیوں میں نکال کر وہی برف استعمال کرتے تھے۔
    حضور علیہ السلام نے ۴؍ اپریل ۱۹۰۵ء کے زلزلہ کے بعد سب کو حکم دیا کہ ایک چھت والے مکانوں میں رہاکرو اور کئی منزلوں والے مکانوں میں رہنا چھوڑ دو۔ چنانچہ حضور نے بھی اپنے مکان سے اتر کر باغ میں خیمے لگا کر رہنا شروع فرما دیا۔ باقی قادیان کے احمدیوں نے بھی چار چار درختوں کے گرد کپڑا لپیٹ کر اپنا اپنا مکان بنا لیا۔ کئی مہینوں کے بعد حضور گھر تشریف لے گئے مگر گھر کے ساتھ ہی ایک خیمہ بھی لگا ہوا تھا۔ ایک رات بڑا لمبا زلزلہ آیا ۔ میں صبح مسجد میں بیٹھا تھا کہ حضور نے دروازہ کھولا اور میری طرف مخاطب ہو کر کہا کہ رات تو اتنا لمبا زلزلہ آیا تھا کہ میں نے سمجھا کہ شاید دنیا کا خاتمہ ہے۔ غنی ذات ہے ۔میرا اس وقت یہی خیال ہوا کہ شاید دنیا کو الٹ دے۔ ہم تو بال بچے کو لے کر اس وقت خیمہ میں آگئے تھے۔
    ایک زمانہ ایسا آیا کہ عام طور پر لوگ دعا کے لئے تار دیا کرتے اور قلی کے پیسے بھی ساتھ جمع کرا دیا کرتے کہ بٹالہ سے قلی اس وقت تار لے کر جائے۔ پھر ہم لوگوں نے یہ تجویز کیا کہ اپنا آدمی بھیج دیتے اور جس وقت وہ پہنچے اسی وقت دعا کے لئے عرض کرتا۔ ادھر ہمارا آدمی روانہ ہوتا اور ادھر مریض کی حالت بدلنی شروع ہو جاتی۔
    ایک روز میں نے عرض کیا کہ ایک سٹیم کوچ تجویز ہوئی ہے جو لائن پر چلے گی اور برانچ لائنوں میں جہاں ایک ہی گاڑی آتی ہے اور پھر چوبیس گھنٹے تک کوئی گاڑی نہیں آتی۔ جب تیس چالیس آدمی جمع ہو جائیں تو وہ اسی وقت مسافروں کو لے کر چل دیا کرے گی۔ فرمانے لگے اب تو یکے ہیں نہ۔ پھر ٹانگے اور ٹمٹمیں ہوں گی۔ پھر بہت ہی قسم کی نئی نئی سواریاں ہوں گی جو اس وقت تمہارے ذہن میں بھی نہیں آسکتیں۔
    لاہور کے متعلق جو بعض لوگوں نے روایت کی ہے کہ حضور نے پیشگوئی کے رنگ میں فرمایا تھا کہ لوگ کہیں گے کہ یہاں کبھی لاہور ہوتا تھا۔ وہ میرے خیال میں پیشگوئی نہیں تھی۔ میں اس وقت خود موجود تھا۔ دنیا کے تغیرات کا عام ذکر ہو رہا تھا۔ حضور نے فرمایا کہ ہاں اس طرح سے ہوتا ہے۔ زمانہ بدلتا رہتا ہے اور ہر چیز ترقی کرتی اور پھر تنزل اختیار کر لیتی ہے۔ ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ لوگ کہیں گے یہاں لاہور ہوتا تھا۔
    خو ا جہ کمال الدین صاحب کو ایک روز مخاطب کر کے فرمایا کہ خوا جہ صاحب یہ جو یہود کی طرح آپ سرمنڈوا چھوڑتے ہیں مجھے یہ بہت برا معلوم ہوتا ہے۔ اس وقت خوا جہ صاحب ننگے سر حضور کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ جب حضور کی یہ بات سنی تو اسی وقت پگڑی سر پر رکھ لی۔
    خاکسار نے ایک روز دو سو روپیہ مولوی محمد علی صاحب کے پاس رکھا کہ اس کی کوئی زمین خرید دو۔ اتنے میں حضرت صاحب تشریف لے آئے مولوی صاحب نے مخاطب ہو کر عرض کی کہ حضور بابو غلام محمد صاحب نے یہ دو سو روپیہ دیا ہے کہ ان کی کوئی زمین خرید دیں۔ میری طرف مخاطب ہو کر فرمایا میں نے آگے بھی کہا ہے جلدی نہ کرو یہ ساری زمینیں تمہاری ہو جائیںگی۔ ابھی وقت نہیں آیا۔ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ اس وقت کچھ نہ خریدا جائے۔
    اس زمانہ میں ہماری قادیان میں یہ حالت تھی کہ اگر کوئی احمدی کسی زمیندار کے کھیت میں پاخانہ پھر لیتا تو وہ زمیندا اسے مجبور کرتا کہ اسے ہاتھوں سے اٹھا کر اپنی جھولی میں ڈال۔
    (۱) ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ غیر مبائعین نے ایک منصوبہ سوچا اور ایک جھوٹا الزام ایک بہت بڑی ہستی پر تراشنا چاہا۔ حضور نے فرمایا کہ وہ لکھ کر مجھ سے شرعی فیصلہ طلب کریں میں پورا پورا انصاف کروں گا۔ وہ الزام ایسا تھا کہ اگرنہ ثابت ہو تو انہیں سزا ہو اور اگر ثابت کریں تو انہیں سزا ہو۔ مگر شرعی فیصلہ لینے سے انہوں نے خاموشی اختیار کر لی۔
    (۲) سیالکوٹ میں جب حضور تشریف لے گئے تو خاکسار بھی وہاں اپنے رشتے داروں کے ہاں جا کر ٹھہرا۔ جس روز حضور کی واپس تھی اس روز ہمارے رشتے داروں میں سے ایک شخص نے ایک بھری مجلس میں بیٹھ کر کہا کہ مرزا صاحب فٹ بورڈ پر پائوں رکھتے ہوئے پھسل گئے اور گاڑی کے نیچے آکر کٹ گئے۔ اس مجلس میں میرا مذاق اڑانا چاہا۔ میں نے اسے کہا کہ حضور تو خدا کے فضل سے نہیں کٹے۔ مگر تمہارا حشر یہی ہو گا۔ چنانچہ ۱۹۳۴ء میں بقر عید سے ایک روز پہلے وہ یہاں ہمارے ہاں آیا ۔ ہم نے اسے کہا کہ کل تو بقرعیدہے رہ جائو۔ مگر اس نے جانے پر اصرار کیا اور یہاں سے روانہ ہو کر شاہدرہ سٹیشن پر کیلے لینے کے لئے ٹرین پر سے اترا۔ واپسی پر ٹرین چلنے لگی اس نے گاڑی کے ہینڈل کو تھاما مگر پکڑ نہ سکا اور نیچے گر کر کٹ کر مر گیا اور لاش ہمارے ہاں لائی گئی اور ہم نے ہی اس کو دفن کیا۔ میں نے اس مجمع میں جو اس کی لاش دیکھنے کے لئے آیا تھا کہا کہ یہ اس شخص کی لاش ہے جس نے آج سے تیس سال پہلے حضرت مرزا صاحب کے متعلق کہا تھا کہ حضور گاڑی کے نیچے آکر کٹ کر مر گئے ہیں۔
    (۳) عزیز ولد محمد علی بھوپڑی (یہ شخص ہمارے سلسلہ کا سخت معاند تھا۔ قریشی صاحب کا بھائی تھا۔ اس کا باپ محمد علی بھوپڑی سخت گندہ دہن اور دشمنِ سلسلہ تھا۔) نے ایک بھری مجلس میں کہا ۔بڑا افسوس ہے آج مرزا صاحب پر کیس چلا اور آج ہی مجسٹریٹ نے سزا دے دی ۔ میں ان کو جیل خانہ میں دیکھکر آیا ہوں۔ خاکسار کے آنسو نکل آئے ا ور رو کر کہا کہ یقینا یقینا تو جیل میں جائے گا اور میں ان آنکھوں سے تجھے ضرور دیکھوں گا۔ تھوڑے ہی عرصہ بعد قریشی محمد حسین صاحب خاکسار کے پاس آئے اور بغیر کسی قسم کے ایما کے مجھے کہا کہ ڈلہوزی چلو میں ڈلہوزی کے لئے تیار ہو گیا۔ جب ان کے ساتھ ٹرین پر سوار ہوا تو انہوں نے کوئی ذکر نہیں کیا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں اور کیوں جا رہے ہیں؟ راستہ میں اس ٹرین سے بہت سے نقصان بھی ہوئے مگر ہم نے اپنا عزم نہ بدلا۔ گائیں اور کتے مرے۔ ایک گوالہ بھی ٹرین کے نیچے آکر مر گیا۔ پھر بھی خرابی میں ہم چار بجے سے قبل ڈلہوزی پہنچ گئے۔ ڈلہوزی پہنچ کر بھی قریشی صاحب نے مجھ سے ذکر نہیں کیااور کچہری کی طرف چل پڑے۔ جب ہم کچہری میں پہنچے تو اس عزیز کو بھورے جیل کے کپڑے پہنے ہوئے عدالت میں ہیندبکف دیکھا۔ بیڑی بھی لگی ہوئی تھی۔اسے دیکھ کر میری چیخ نکل گئی اور میں نے دل میں کہا کہ خداتعالیٰ نے خوب بدلا لیا۔ ہم نے صرف اس کو دیکھا اور پھر واپس چلے آئے اپنے کسی احمدی دوست کو بھی نہیں ملے۔ ہم نے اس سفر میں اس کام کے سوا اور کوئی کام نہیں کیا۔ غالباً قدرت ہمیں اس کو ایسی حالت میں دکھانے کے لئے ہی لے گئی تھی۔ عزیز مذکور ڈیرہ دون سے لواطت کے الزام میں گرفتار ہوا تھا۔
    ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک شخص بہت بڑا دولت مند حسین بخش نام ہمارے محلہ کا رہنے والا گمٹی بازار میں چلتے ہوئے میری گردن پر بازو رکھ کر گویا ہوا کہ بڑا افسوس ہے کہ تمہارا مرزا قید ہو گیا اور خدا کی قسم کہ میں خود اسے جیل میں دیکھ کر آیا ہوں۔ میں نے اس کا بازو گردن پر سے ہٹا کر روتی ہوئی آواز میں کہا کہ وہ تو نہیں قید ہوئے مگر یقینا تم جیل میں جائو گے۔ وہ بڑا باحیثیت اور لاکھوں میں تھا۔ چند ہی روز کے بعد اس نے ایک مکان کئی جگہ گروی رکھنے کے جرم میں گرفتار ہو کر جیل میں جانے کا وہ نظارہ مجھے دکھا دیا اور اپنے کیفر کردار کو پہنچ گیا۔ میں نے عدالت میں دیکھا مجسٹریٹ نے حکم دیا کہ فوراً اسے جیل میں لے جائو۔ میں اس کے ساتھ جیل تک گیا۔
    گورداسپور کے مقدمہ میں امرتسر سے جب وارنٹ نکلے میں مسجد پٹولیاں والی لوہاری منڈی لاہور میں گیا جہاں جماعت علی شاہ صاحب اترا کرتے تھے۔ شام کے قریب جماعت علی شاہ صاحب نے ایک پارٹی کو اکٹھا کر کے کچھ کانا پھوسی کی۔ ان میں سے حافظ شہاب الدین نام مجھے اشارہ کر کے مجلس سے دور نکل کر ملے اورمجھے کہا پتہ ہے کہ کیا باتیں ہم کر رہے تھے۔ میں نے کہا مجھے علم نہیں تو اس نے کہا کہ مرزا صاحب کے وارنٹ نکلوانے کی خوشی میں پیر صاحب یہاں آئے تھے اور کہا تھا کہ وارنٹ امرتسر سے نکلوا کر آیا ہوں۔ سب دوست کل چلیں اور گاڑی پر جا کر یہ نظارہ دیکھیں ۔ حافظ شہاب الدین نے مجھ سے کہا کہ تم ابھی چلے جائو اور مرزا صاحب کو جا کر اس بات کی اطلاع دے دو تا کہ ضمانت کا انتظام کر لیں۔ میں نے اس کو کہا کہ میں ابھی ابھی قادیان سے آیا ہوں۔ حضرت صاحب کا الہام ہے جس کامفہوم یہ ہے کہ کچھ آگ کی چنگاریاں مجھ پر پڑیں جو میرے تک آتے ہوئے بھسم ہو گئیں۔ کوئی فکر کی بات نہیں ہے۔ حضور نے اس کے معنے یہ کئے کہ کوئی شر پیدا ہو گا مگر اللہ ہمیں اس سے محفوظ رکھے گا۔ میںنے حافظ شہاب الدین کو کہا کہ یہ بغلیں بجائیں۔ مگر ہم تو حضور کی زبان سے سن کر آئے ہیں کہ کوئی مقدمہ کی صورت اگر ہو گی تو ہم کامیاب ہوں گے لہذا میں تو پورا یقین رکھتا ہوں کہ یہ لوگ جو حضور کو گرفتار دیکھنا چاہتے ہیں ناکام رہیں گے۔ اس نے کہا تمہاری مرضی میں نے تو تمہیں دوستانہ طور ر کہا ہے۔شہاب الدین مذکور مسجد پٹولیاں والی کا امام تھا۔
    ایک دفعہ خاکسار لوہاری دروازے سے گزر رہا تھا کہ جعفر زٹلی نے کہا کہ مرزا صاحب فوت ہو گئے ہیں۔ کچھ اہل ہنود یہ سن کر بولے کہ میاں یہ روز ہی مرزا صاحب کو مارتا ہے۔ کئی دفعہ اس نے ایسا کیا ہے۔ ہم آریہ ہیں مگر آرزو رکھتے ہیں کہ اگر مرزا صاحب یا مرزا صاحب کی مثال کوئی آدمی اس علم اور فضل کا ہمارے دیکھنے میں ہماری جماعت میں آتا تو ہم اسے اوتار مانتے مگر یہ لوگ کس دریدہ دہی سے گالیاں دیتے ہیں اور اس کے لئے کیا کچھ تجویز کرتے ہیں۔ کاش کہ وہ ہم میں آتے۔ آخری دفعہ جب حضور نے پیغام صلح لکھا ہے ہم نے وہ چھپوا کر یونیورسٹی ہال میں وہ لیکچر سنانا تجویز کیا۔ چیف کورٹ کے چیف جسٹس پر تول چندر پریذیڈنٹ ہوئے۔ لیکچر پرامن طور پر سنایا گیا۔ یہ لیکچر حضور کی وفات کے بعد خواجہ کمال الدین صاحب نے پڑھا تھا۔ بڑے بڑے اہل ہنود کی ایک پارٹی لیکچر سننے کے بعد اور لیکچر پر رائے زنی کرتے ہوئے نکلی۔ جن کا چیف ماسٹر ایشری پرشاد نام ایک بہت بڑا پالیٹشن گویا ہوا۔
    ’’ سودا بڑا مہنگا ہے۔ مگر جس قیمت پر بھی ملے اسے خرید لو۔ ‘‘
    ہال حاضرین سے بالکل پُر تھا۔
    جب حضور نے ۱۹۰۴ء میں یہاں لیکچر دیا تو جو داروغہ صفائی کے انتظام کے لئے مامور تھا۔ اس نے صفائی کرانے اور چھڑکائو کرانے میں حد سے زیادہ کوشش کی اور کہا کہ وائسرائے کے آنے پر بھی اس قسم کی صفائی آج تک ہم نے کبھی نہیں کرائی۔ اس اس جگہ سے کوڑا اٹھایا گیا ہے جہاں سے پہلے کبھی نہیں اٹھوایا گیا تھا۔ داروغہ بعد میں اس لیکچر سے متاثر ہو کر احمدی ہو گیا تھا۔ پھر تحصلیدار چنگی ہو گیا تھا۔
    غالباً ۱۸۹۲ء یا بعد کا ذکر ہے کہ حضور جب یہاں لاہور میں تشریف رکھتے تھے تو ایک دفعہ مفتی محمد صادق صاحب بیمار تھے ان کی خبر لینے کے لئے حضور لنگے منڈی تالاب کے قریب ان کی جائے رہائش پر تشریف لے گئے۔ ہم بھی ساتھ گئے۔ مکان چھوٹا تھا ہم باہر کھڑے رہے۔ مجھے یاد ہے کہ حضور نے میاں کریم بخش والی مسجد میں نماز پڑھی تھی اور امام ایک شخص ترک تھا جو یورپین معلوم ہو تا تھا۔ وہ شخص بڑا مضبوط اور قد آور جوان تھا۔
    جب کبھی روزہ رکھ کر مہمان حضور کی خدمت میں پہنچتے تو حضور اندر سے کھانا لاتے اورت فرماتے کھائو۔ سفر میں روزہ نہیں ہوتا۔ جب بعد میں پھر رکھنا ہی پڑے گا تو بھوکا رہنے سے فائدہ کیا۔
    جب کوئی کسی فقرہ یا مثال کے الٹے معنی کرتا تو حضور فرمایا کرتے تھے کہ یہ تو اس انگریز کی طرح معنے کرتے ہیں کہ جب اس کو کہا گیا کہ اس شعر کے معنے کرو۔ کہ
    ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے۔ اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے
    تو اس نے کہا۔ کہ ہم ہوں یا تم ہوں یا امیر ہوں۔ ایک موٹا رسا لے کر اس کی زلفوں کے ساتھ باندھ کر قید کر دئیے جائیں۔
    جب حضور کوئی مقولہ ………… بیان فرماتے تو فرماتے۔
    ایہہ انگریزی معنے کردا اے۔ کسی انگریز نے کہا۔ کہ میں پنجابی کا امتحان پاس کر کے آیا ہون۔ کسی شخص نے کہا کہ صاحب ایک گل پوچھئے تو ابھی ……………… کھائو۔ اس نے کہا کہ بھوسہ کو تو میں جانتا ہوں گائے بیل کھاتے ہیں مگر……… نہیں جانتا حالانکہ مراد یہ تھی کہ گھبرا جائو۔

    روایات
    مولوی محب الرحمان صاحب ولد میاں حبیب الرحمان صاحب
    رئیس حاجی پور ڈاکخانہ پھگوارہ۔ ریاست کپورتھلہ
    عمر قریباً ۵۰سال ۔ سن بیعت ۱۸۹۹ء
    مسجد احمدیہ لاہور میں صبح کی نماز کے بعد خاکسار سے بیان فرمایا ) ۳۹۔۳۔۲۹کو ۔مَیں حضرت والد صاحب کے ہمراہ ۹۹ء میں قادیان گیا تھا بٹالہ سے یکہ پر سوار ہو کر ہم قادیان پہنچے۔ جس وقت یکہ مہمانخانہ کے دروازے پر پہنچا تو والد صاحب یکہ پر سے کود کر بھاگتے ہوئے چلے گئے ۔ یکہ والے نے اسباب باہر نکالا اور میں وہاں حیران کھڑا تھا کہ والد صاحب خلاف عادت اس طرح کود کر بھاگ گئے ہیں کیا بات ہے۔ تھوڑے عرصہ میں حافظ حامد علی صاحب باہر آئے اور انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ یہ اسباب یہاں حبیب الرحمان صاحب کا ہے؟ مجھ سے اثبات میں جواب سن کر وہ اسباب مہمانخانہ میں لے گئے اور میں بھی ساتھ چلا گیا۔ کچھ دیر کے بعد والد صاحب واپس تشریف لے آئے۔ اگلے روز صبح کو بعد نماز فجر والد صاحب مجھے اپنے ہمراہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مکان پر لے گئے۔ کمرہ کے دروازہ پر پہنچنے پر حضرت صاحب نے دروازہ خود کھولا اور ہم اندر اس کمرہ میں داخل ہوئے جو بیت الفکر کے ساتھ والا کمرہ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تخت پوش پر جس کے سامنے ایک میز رکھی تھی اور اس پر بہت ساری کتابیں تھیں تشریف فرما تھے۔ ہم دونوں ایک چارپائی پر بیٹھ گئے جو قریب میں ہی تھی۔ والد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ بہت دیر تک باتیں کرتے رہے اس دوران میں آپ نے تصویر کے متعلق دریافت کیا کہ حضور کی تصویر کے متعلق کیا ارشاد ہے؟ حضرت صاحب نے بڑے تعجب سے فرمایا اچھا آپ نے بھی تصویر خریدی ہے ہمارا یہ منشا تو نہ تھا کہ دوست اسے اپنے پاس رکھیں۔ اچھا اگر آپ نے خرید لی ہے تو اسے کہیں ڈال چھوڑیں۔ والد صاحب نے یہ بھی دریافت کیا کہ آیا زیور پر بھی زکوۃ ہے؟ آپ نے فرمایا کہ استعمال والی چیز پر زکوۃ تو نہیں ہے مگر کسی غریب کو کسی تقریب پر استعمال کے لئے دے دیا جائے تو اچھا ہے اس طرح اس کی زکوۃ بھی نکل جاتی ہے۔ پھر آپ نے دریافت کیا کہ بعض لوگ غلہ جمع کر چھوڑتے ہیں تا کہ مہنگا ہونے پر اسے فروخت کریں اس کے متعلق کیا ارشاد ہے؟ آپ نے فرمایا۔ یہ جائز نہیں۔
    اس کے بعد والد صاحب نے عرض کیا کہ میں محب الرحمان کو بیعت کے لئے لایا ہوں۔ آپ نے فرمایا اس کی تو بیعت ہی ہے۔ والد صاحب نے عرض کیا کہ میں چاہتا ہوں کہ بیعت کر لے تو دعائوں میں شامل ہو جائے گا ۔ فرمایا اچھا آج شام کو بیعت لے لیں گے چنانچہ اس دن شام کو بعد نماز مغرب خاکسار نے اور بھی دوستوں کے ساتھ بیعت کی۔ اس وقت میں سمجھا کہ والد صاحب (اس روز) یکہ سے والہا نہ طریق پر اتر کر حضرت مسیح موعود سے ہی ملنے گئے تھے۔ والد صاحب کا معمول تھا کہ قادیان پہنچتے ہی پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے ہوتے تھے اور روزمرہ صبح کے وقت بھی علیحدگی میں حاضر خدمت ہوتے تھے۔
    ایک روز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام قریباً چاشت کے وقت سیر کے لئے تشریف لائے۔ خدام چوک میں انتظار میں کھڑے تھے خاکسار بھی ان میں کھڑا تھا۔ حضرت صاحب نے والد صاحب کو مخاطب ہو کر دریافت فرمایا کہ چائے آپ نے پی لی ہے؟ والد صاحب نے عرض کیا کہ نہیں حضرت میں کوئی عادی نہیں۔ اس پر حضرت صاحب واپس تشریف لے گئے اور خادم کے ہاتھ ایک قلفی دان میں چائے بھیجی اور فرمایا آپ پی آئیں ۔ والد صاحب نے معذرت بھی کی لیکن آپ نے ا صرار کیا کہ نہیں۔ چنانچہ میں اور والد صاحب چائے پینے کے لئے بالاخانہ میں آگئے۔ والد صاحب نے جلدی جلدی دو چار گھونٹ پئے اور واپس چلے گئے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ واسللام وہاں انتظار کر رہے تھے ۔ میں اطمینان سے چائے پیتا رہا۔ تھوڑی د یر بعد والد صاحب اوپر آئے اور کہا کہ جلدی کرو حضرت صاحب تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ چنانچہ میں بھی چائے ختم کر کے نیچے اتر آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام خدام کے ساتھ سیر کے لئے روانہ ہو گئے۔ تھوڑی دور جا کر آپ نے مجھے فرمایا کہ تم آرام کرو تھک جائو گے۔ اگلے روز میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہمراہ سیر کو چلا گیا۔ جب ایک گائوں کے قریب پہنچے تو ایک سکھ عورت نے عرض کیا کہ آپ ذرا ٹھہریں دودھ پی جائیں اور وہ دودھ لائی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تھوڑا سا دودھ پیا اور باقی ہم نے پی لیا ۔ اس وقت قریباً سات آٹھ آدمی ساتھ تھے۔
    شام کے وقت کھانا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مسجد مبارک کی چھت پر مہمانوں کے ساتھ تناول فرمایا کرتے تھے۔ پہلے دن مَیں یہ دیکھ کر بہت متعجب ہوا کہ دوست حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے سے روٹیاں کھینچ لیتے ہیں۔ میں اس کو اس وقت بے ادبی خیال کرتا تھا اور والد صاحب بھی حضرت صاحب کے پس خوردہ کے حصول کی کوشش میں دوسروں کے ساتھ شامل تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام خود بھی دوستوں کو اپنے سامنے سے کھانا اٹھا اٹھا کر دیا کرتے تھے اور کھانے کے لئے اصرار کیا کرتے تھے۔ میں ان دنوں گوشت نہیں کھاتا تھا کیونکہ مجھے کتے نے کاٹا تھا اور جو بعد میں استعمال کرتا تھا اس میں گوشت کا پرہیز تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہر کھانے پر دریافت فرمایا کرتے تھے کہ محب الرحمان کے واسطے بے گوشت کا کھانا آیا ہے یا نہیں؟
    ایک دفعہ مسجد مبارک میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف فرما تھے کسی صاحب نے کہا کہ یہ نبی ہیں۔ میں نے اس وقت بہت غور اور توجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دیکھا اور دل میں خیال کیاکہ خدا تعالیٰ کے نبی کو دیکھنے کا موقع ملا ہے۔
    ایک دن مغرب کی نماز کے بعد حسب معمول حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مسجد مبارک کی چھت پر شاہ نشین پر تشریف فرما تھے اور بھی دوست بیٹھے ہوئے تھے غالباً حضرت مفتی محمد صادق صاحب کہیں باہر سے تشریف لائے تو تھوڑی دیر باتیں کرنے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دریافت فرمایا کہ آپ نے نماز پڑھ لی ہے یا نہیں ؟ مفتی صاحب نے عرض کیا کہ حضور اب پڑھتا ہوں۔ مفتی صاحب وضو کر کے آئے ہوئے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ ہاں درمیانی وقت ہے دونوں نمازیں پڑھ لیں یعنی مغرب اور عشا۔ اس وقت میں نے آسمان پر نظر کی شفق میں سرخی تھی۔
    ایک بار جمعہ کی نماز کے بعد جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے مکان کو تشریف لے جا رہے تھے میں بھی حضور کے پیچھے پیچھے جا رہا تھا۔ مسجد اقصیٰ کی سیڑھیوں پر سے جب حضور اترے تو حضور کا کوٹ جو لمبا تھا میرے پائوں کے نیچے آگیا مجھے اس کا علم نہیں ہوا ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ٹھہر گئے اور کچھ دیر ٹھہرے رہے اتفاقاً میری نظر اپنے پیروں پر پڑ گئی تو میں نے فوراً پیر ہٹائے اور نہایت شرمندہ ہوا۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھا اور روانہ ہو گئے۔ حضرت صاحب کے ساتھ اور آدمی بھی تھے جو حضور کے ٹھہرے کے ساتھ ٹھہرے رہے اور حیران تھے کہ حضرت صاحب چلتے کیوں نہیں۔
    میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نماز میں بصورت نیت باندھے ہوئے دیکھا حضور نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر اس طرح رکھا ہوا تھا کہ آپ کے ہاتھ کی انگلیاں بائیں ہاتھ کی کہنی سے قریباً چار پانچ انگل کے قریب ورے تھیں اور کلائی کے جوڑ آگے پیچھے تھے یعنی ایک ہاتھ کی کلائی دوسرے ہاتھ کی کلائی کے بالکل اوپر نہیں تھی بلکہ دائیں ہاتھ کی کلائی ذرا آگے تھی اور حضور نے ہاتھ سینہ سے ذرا نیچے باندھے ہوئے تھے ۔
    میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ظہر کی پہلی سنتیں دو ادا کرتے ہوئے کئی بار دیکھا ہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سنتیں اکثر گھر سے پڑھ کر آیا کرتے تھے یا واپس تشریف لے جا کر پڑھتے تھے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جمعہ کی پہلی سنتیں چار ادا فرمایا کرتے تھے اور بعد میں دو۔ جمعہ والے دن میں نے بغور دیکھا ہے کہ اگر تکلیف ہوتی تو سنتیں گھر جا کر پڑھتے ورنہ مسجد میں ہی ادا فرما لیا کرتے تھے۔
    سجدے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو میں نے اس طرح دیکھا ہے کہ حضور کے ہاتھوں کی انگلیاں کانوں کے بالمقابل اور اندر کی طرف ہوتی تھیں۔ کہنیاں باہر کی طرف نکلی ہوئی ہوتی تھیں۔
    ایک بار میں نئے مہمان خانہ میں جس میں اب حضرت مرزا بشیر احمد صاہب کا مکان ہے ٹھہرا ہوا تھا۔ شام کے وقت چاند دیکھ کر میں بآواز بلند ہلال وخیر ورشد ۔ ہلال وخیر ورشد۔ اللھم اھلہ علینا بالامن والایمان والسلامۃ والسلام پڑھتا ہوا باہر سے آرہا تھا کہ میری نظر اوپر کی طرف پڑی تو دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اوپر کے دروازہ میں چاند دیکھ کر دعا مانگ رہے تھے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام دعا کے وقت اپنے دونوں ہاتھ چہرے کے ساتھ لگا لیا کرتے تھے ۔ چہرہ حضور کا نظر نہیں آتا تھا ۔ ’’اس موقع پر میاں عبدالعزیز صاحب نے فرمایا کہ حضور کے ہاتھوں کے انگوٹھے آنکھوں کے قریب لگے ہوئے ہوتے تھے مگر ہاتھ چہرہ کے ساتھ لگے ہوئے میں نے نہیں دیکھے۔‘‘
    میں نے متعدد بار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ کھڑے ہو کر مسجد مبارک کے اگلے حصہ میں جہاں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کھڑے ہوتے تھے نماز پڑھی ہے۔
    حضور کا لباس:۔
    حضرت صاحب ان دنوں میں جو پاجامہ پہنا کرتے تھے اسے شرعی پاجامہ کہا جاتا تھا۔ یعنی شلوار کی طرح کھلا نہیں ہوتا تھا پہنچہ زیادہ چوڑا نہیں ہوتا تھا ۔کرتہ کلیوں والا پہنا کرتے تھے کف بعض اوقات بغیر بٹن کے سلے ہوئے ہوتے تھے۔ کوٹ لمبا ہوتا تھا۔ میں نے حضور کو دو کوٹ پہنے بھی دیکھاہے۔ نیچے بند گلے والا اور اوپر چوغہ اور کوٹ کی طرز کا۔ عمامہ سفید ہوتا تھا۔ ایک دو دفعہ میں نے عمامہ میں ترکی ٹوپی بھی دیکھی ہے۔
    غالباً ظہر کی نماز کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مسجد مبارک میں تشریف فرما تھے کسی دوست کے دریافت کرنے پر آپ نے اپنی پشمینے کی چادر اکٹھی کر کے اس پر ہاتھ مار کر پہلے منہ پر مسح فرمایا اور پھر کوٹ کے اوپر ہی کہنیوں تک مسح کر کے بتایا اور فرمایا کہ ضروری نہیں ہے کہ آستین اٹھا کر مسح کیا جائے۔ آستین کے اوپر بھی ہو سکتا ہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جنازہ کی نماز خود پڑھا یا کرتے تھے اور تکبیر رقت آمیز آواز میں فرماتے تھے۔
    ایک دفعہ جمعہ کے دن میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ریشمی لمبا چوغہ پہنے ہوئے دیکھا ۔ جس کے نیچے سوتی کپڑا لگا ہوا تھا۔
    ایک دفعہ میں بورڈنگ ہائو س میں بیمار تھا میرے ایک اور ساتھی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دعا کے لئے لکھا ۔میں نے بھی اسی چھوٹے سے کاغذ پر دعا کے لئے درخواست کر دی۔ حضرت صاحب نے اس کاغذ کے پشت پر دونوں کو الگ الگ جواب دیا یعنی اس دوست کی تحریر کے پیچھے اس کو اور میری تحریر کے عقب میں مجھے جواب دیا کہ انشاء اللہ دعا کروں گا۔

    روایات
    میر مسعود احمد صاحب ولد میر حسن دین صاحب
    سکنہ سیالکوٹ شہر
    عمر قریباً 47سال ۔ سن بیعت 1904ء بمقام جہلم
    (۱) میرے والد صاحب ا ور میں اکٹھے راولپنڈی سے جہلم پہنچے۔ عدالت کے احاطہ کے باہر میدان میں چند آدمیوں کے ہمراہ میں اور والد صاحب بیٹھے تھے۔ مخالف مولوی بھی بکثرت حضرت صاحب کے خلاف پبلک کو اشتعال دلانے کے لئے اطراف و اکناف سے آئے ہوئے تھے۔ چنانچہ مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی جو رشتے میں میرے ماموں ہیں وہ بھی سیالکوٹ سے آئے ہوئے تھے۔ وہ ایک مجمع میں حضور کے خلاف تقریر کر رہے تھے کہ سب انسپکٹر پولیس نے انہیں ہنٹر لگائی ۔ میرے والد صاحب نے مجھے فرمایا۔ مسعود دیکھو کہ تیرے ماموں کو مار پڑ رہی ہے۔ میں نے دریافت کیا کہ کیوں؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت صاحب کے خلاف یہ تقریر کر رہے ہیں اور عدالت میں شور سنائی دے رہی ہے ۔ چنانچہ ان کو عدالت کے برآمدہ سے دھکے مار کر باہر نکال دیا گیا۔ پھر جب عام بیعت ہوئی تو میں نے بھی بیعت کر لی۔
    (۲) حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عادت تھی کہ جب کوئی مکان بنواتے تو میرے والد صاحب کو بلا لیا کرتے تھے ۔ چنانچہ جب وہ مہمانخانہ بننے لگا جو اب حضرت میاں بشیر احمد صاحب کے مکان میں شامل ہے تو حضرت صاحب نے حسب معمول میرے والد صاحب کو بلایا ۔ والد صاحب تین ماہ کی رخصت لے کر قادیان چلے گئے میں بھی ساتھ تھا۔ بمع بال بچے آپ تشریف لے گئے تھے۔ حضرت نے فرمایا کہ امرا مہمانوں کے واسطے مہمانخانہ دور بھی ہے اور موزوں بھی نہیں۔ آپ اسی جگہ نیا مہمانخانہ بنا دیں اور میرے آنے کے لئے سیڑھیوں کا رستہ ایسا بنائیں کہ میں جلدی سے دوستوں کے پاس آجا سکوں۔ باہر جانے اور آنے کی تکلیف زیادہ ہوتی ہے لیکن یہ خیال رہے کہ جگہ زیادہ نہ خرچ ہو ۔ اس لئے چھوٹی سی لکڑی کی فرشی سیڑھی بنائی گئی۔ موسم گرمی کا تھا۔
    سیڑھیاں مکمل ہو چکی تھیں مگر چھت ڈالنی ابھی رہتی تھی کہ حضرت صاحب تشریف لے آئے حضور کے سر پر پکھا تھا جو غالباً دھوپ سے بچنے کے لئے رکھا ہوا تھا اور ننگے سر تھے۔ میرے والد صاحب نے عرض کیا کہ حضور اتنی گرمی میں تشریف لائے ہیں۔ فرمایا کہ ہاں گرمی تو بہت پڑ رہی ہے ایسے ہی آگیا ہوں۔ میرے والد صاحب نے عرض کیا کہ مزدور بے چارے پانی بار بار پی رہے ہیں اور میرا بھی گرمی سے یہی حال ہے۔ بار بار پانی پیتا ہوں۔ حضور نے فرمایا کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ کہیں سے برف بھیج دے۔ ابھی دس منٹ ہی بمشکل گزرے ہوں گے کہ حضرت صاحب ایک بڑا برتن شربت کا بنا کر لے آئے۔ دروازہ سے نکلتے ہی آوازیں دینی شروع کر دیں مستری صاحب مستری صاحب۔ میں نے یا غالباً کسی اور شخص نے والد صاحب کو کہا کہ حضرت صاحب آپ کو بلا رہے ہیں۔ میرے والد صاحب جلدی سیڑھیوں پر چڑھ گئے اوپر سے حضرت صاحب بھی سیڑھیوں کے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا سن لی ہے ابھی ایک یکہ بٹالہ سے برف کا آیا ہے اور ایک گلاس بھر کر میرے والد صاحب کو دیا اور فرمایا کہ پہلے آپ پی لیں ۔ چنانچہ انہوں نے پیا۔ میں نے بھی غالباً دو گلاس پیئے تھے پھر دوسرے مزدوروں نے پئے۔ حضرت صاحب اندر تشریف لے گئے۔
    جس وقت حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات ہوئی ہے ہم وہاں ہی تھے حضرت صاحب نے نماز جنازہ خود پڑھائی تھی۔ جب میت کو گھر سے اٹھایا گیا تو موٹی موٹی بوندیں شروع ہو گئیں نماز جنازہ کے وقت اچھی موٹی موٹی بوندیں پڑتی رہیں۔ بعد نماز جنازہ حضور نے فرمایا کہ یہ خدائی بندہ ایسا نیک تھا کہ آسمان بھی اس کے لئے رو رہا ہے۔ قبر کے تیار ہونے پر میرے والد صاحب کو فرمایا کہ آپ قبر ذرا دیکھ لیں۔ والد صاحب نے عرض کیا کہ حضور درست ہے۔ فرمایا یہاں مولوی صاحب کی لاش کو امانت کے طور پر دفن کرنا ہے۔ اوپر ڈاٹ ایسے طریق سے لگائیں کہ بکس خراب نہ ہو تا کہ بعد میں دوسرے قبرستان میں موزوں جگہ دفن کئے جا سکیں پھر حضور تشریف لے گئے۔
    جب حضور کھانا کھایا کرتے تھے تو دسترخوان کے عرض کی طرف بیٹھا کرتے تھے۔ عموماً حضور کھانا سب سے پہلے شروع فرمایا کرتے تھے اور سب کے آخر تک کھاتے رہتے تھے۔ بمشکل ایک روٹی یا سوا روٹی غالباً کھاتے ہوں گے ۔کھانے کے بعد چھوٹے چھوٹے کافی ٹکڑے پرندوں کو ڈالنے کے لئے اوپر لے جایا کرتے تھے۔
    حضرت صاحب عموماً اوپر ٹہلتے ٹہلتے لکھا کرتے تھے ایک دوات ایک طرف رکھی ہوئی ہوتی تھی اور دوسری دوسری طرف جب حضور ایک کاغذ لکھ لیتے تو نیچے رکھتے جاتے۔ جب ہم جاتے تو فرماتے کہ یہ کاغذ نیچے مولوی صاحب کے پاس لے جائو چنانچہ ہم نیچے مولوی صاحب کو دے دیتے۔ مولوی صاحب کا نام مجھے یاد نہیں ۔ ایک دفعہ مہمانخانہ کے انچارج نے عرض کیا کہ حضور کتے بہت سخت تنگ کرتے ہیں اگر حضور حکم دیں تو ان کو مروا دیا جائے۔ فرمایا۔ میاں یہ کیوں کہتے ہو کہ حکم دیں تو مروا دیا جائے۔ یہ کیوں نہیں کرتے کہ ان کو روٹے دے دیا کرو۔ جب ان کا پیٹ بھر جائے گا تو خود بخود چلے جایا کریں گے۔


    روایات
    منشیقاضی محبوب عالم صاحب ولد میاں غلام قادر صاحب
    سکنہ لاہور
    سن بیعت 1898ء ۔عمر قریباً 62سال
    میں جب طالب علم تھا آٹھویں جماعت میں تو حنفی اور وہابی لوگوں کی یہاں لاہور میں بہت بحث ہوا کرتی تھی۔ میں حنفی المذہب تھا۔ مجھے شوق پیدا ہوا کہ وہابیوں کی مسجد میں بھی جائوں۔ چنانچہ میں نے چینیاں والی مسجد میں جانا شروع کیا جب میں ان کی مجلس میں بیٹھا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ قال اللہ اور قال الرسول کے سوا کچھ نہیں کہتے۔ میری طبیعت کا رجحان پھر اہلحدیث کی طرف ہو گیا۔ بعض وقت وہابیوں کی مجلس میں حضرت صاحب کا بھی ذکر آجایا کرتا تھا کہ وہ کافر ہیں اور ان کا دعویٰ مسیحیت اسلام کے خلاف ہے۔ طبعاً مجھے پھر اس طرف توجہ ہوئی ۔ چنانچہ ایک شخص حضرت ولی اللہ صاحب ولد بابا ہدایت اللہ کوچہ چابک سواراں احمدی تھے۔ میں ان کی خدمت میں جانے لگا اور ان سے حضرت صاحب کے متعلق کچھ معلومات حاصل کیں۔انہوں نے مجھے استخارہ کرنے کے واسطے توجہ دلائی چنانچہ ان سے میں نے طریق استخارہ سیکھ کر اور دعائے استخارہ یاد کر کے استخارہ کیا رات کے دو بجے۔ دوسرے روز میں ابھی استخارہ کی دعا پڑھ کر سویا ہی تھا کہ رویا میں مجھے کسی شخص نے کہا کہ آپ اٹھ کر دو زانو بیٹھیں کیونکہ آپ کے پاس حضرت رسول کریم ﷺ تشریف لا رہے ہیں اور مجھے بھی زینے سے کسی آدمی کے چڑھنے کی آواز آئی چنانچہ میں رویا ہی میں دو زانوبیٹھ گیا۔ اتنے میں مَیں نے دیکھا کہ ایک نہایت تبرک سفید لباس میں انسان آیا ہے اور انہوں نے ایک بازو حضرت مرزا صاحب کو پکڑ کر میرے سامنے کھڑا کر دیا ہے اور فرمایا: ھذا الرجل خلیفۃ اللہ واسمعوا واطیعوا ـ پھر وہ واپس تشریف لے گئے اور حضرت صاحب میرے پاس کھڑے ہو گئے اور اپنی ایک انگلی اپنی چھاتی پر مار کر کہا ۔
    ’’ ایہو رب خلیفہ کیتا اسنو مہدی جانو‘‘
    پھر ایک اور نظم کی رباعی بھی پڑھی لیکن میں بھول گیا ہوں۔ اس کا مطلب بھی یہی تھا کہ میں مسیح موعود ہوں میں پھر بیدار ہو گیا۔ صبح میں بجائے سکول جانے کے قادیان روانہ ہو گیا گاڑی بٹالہ تک تھی اور قریباً شام کے وقت وہاں پہنچتی تھی۔ میں بٹالہ کی مسجد میں جو اڈا کے سامنے چھوٹی سی ہے نماز پڑھنے کے لئے گیا ۔ مغرب کی نماز پڑھ رہا تھا کہ لوگوں نے پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں اور کہاں کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا لاہور سے آیا ہوں اور قادیان جانے کا ارادہ ہے۔ انہوں نے حضرت صاحب کو بہت گالیاں دیں اور مجھے وہاں جانے سے روکا۔ جب میں نے اپنا مصمم ارادہ ہی ظاہر کیا تو انہوں نے مجھے مسجد سے نکال دیا میں اڈہ میں آگیا۔ مگر کچھ لوگ اڈا پر بھی میرے پیچھے آئے اور مجھے ہر چند قادیان جانے سے روکا اور کہا کہ اگر تم طالب علم ہو تو ہم تمہیں یہاں بڑے میاں کے پاس بٹھا دیں گے اور تمہاری رہائش اور لباس کا بھی انتظام کر دیں گے مگر میں نے عرض کیا کہ میں پہلے ہی لاہور میں پڑھتا ہوں اس لئے مجھے یہاں پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ میں قادیان میں حضرت صاحب کی زیارت کے لئے جا رہا ہوں۔ اس پر انہوں نے زیادہ مخالفت شروع کی مگر میں نے پروا نہ کی اور قادیان کی طرف شام کے بعد ہی چل پڑا۔ اندھیرا بہت تھا۔ رات کا کافی حصہ گزر چکا تھا اور راستہ پہلے دیکھا ہوا نہیں تھا۔ میں غلطی سے چراغ کو دیکھ کرجو دور جل رہا تھا مسانیاں چلا گیا وہاں نماز عشا ہو چکی ہوئی تھی۔ ایک آدمی مسجد میں بیٹھا ذکر الٰہی کر رہا تھا اس نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں جائیں گے اور کہاں سے آئے ہیں؟ میں نے کہا لاہور سے آیا ہوں اور حضرت مرزا صاحب کو ملنا چاہتا ہوں اس نے جواباً کہا کہ یہ تو مسانیاں ہے قادیان نہیں۔ قادیان یہاں سے دور ہے اور تم یہاں سو جائو صبح کے وقت جانا۔ راستہ مخدوش ہے چنانچہ میں وہاں مسجد میں لیٹ گیا اور چار بجے کے قریب جب چاند چڑھا تو میں نے اس شخص کو کہا کہ مجھے رستہ دکھا دو۔ وہ مجھے وڈالہ تک چھوڑ گیا اور مجھے سڑک دکھا گیا چنانچہ میں نے صبح کی نماز نہر پر پڑھی اور سورج نکلنے کے قریباً ایک گھنٹہ بعد قادیان پہنچ گیا۔ قادیان کے چوک میں جا کر میں نے ایک شخص سے پوچھا کہ بڑے مرزا صاحب کہاں ہیں؟ اس نے مجھے کہا کہ وہاںنہا کر سامنے مکان کی حویلی میں تخت پوش پر بیٹھے حقہ پی رہے ہیں۔ میں سنتے ہی آگے بڑھا تو میں نے دیکھا کہ ایک معمر شخص نہا کر تخت پوش پر بیٹھا ہے اور بدن بھی ابھی اس کا گیلا ہی ہے اور حقہ پی رہا ہے۔ مجھے بہت نفرت ہوئی اور قادیان آنے کا افسوس ہوا۔ میں مایوس ہو کر واپس ہوا۔ موڑ پر مجھے ایک شخص شیخ حامد علی صاحب ملے۔ انہوں نے مجھے پوچھا کہ آپ کس جگہ سے تشریف لائے ہیں اور کس کو ملنا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا میں نے جس کو ملنا تھا اس کو میں نے دیکھ لیا ہے اور اب واپس لاہور جا رہا ہوں۔ میرے اس کہنے پر انہوں نے مجھے فرمایا کہ کیا آپ مرزا صاحب کو ملنے کے لئے آئے ہیں تو وہ یہ مرزا نہیں ہے وہ اور ہیں اور میں آپ کو ان سے ملا دیتا ہوں۔ تب میری جان میں جان آئی اور میں کسی قدر تسکین پذیر ہوا۔ حامد علی صاحب نے مجھے فرمایا کہ آپ ایک رقعہ لکھ دیں میں اندر پہنچاتا ہوں۔ جس میں میں نے مختصراً یہ لکھا کہ میں طالب علم ہوں لاہور سے آیا ہوں۔ زیارت چاہتا ہوں اور آج ہی واپس جانے کا ارادہ ہے۔ حضور نے اس کے جواب میں کہلا بھیجا کہ مہمانخانہ میں ٹھہریں اور کھانا کھائیں اور ظہر کی نماز کے وقت ملاقات ہو گی۔اس وقت میں ایک کتاب لکھ رہا ہوں اور اس کا مضمون میرے ذہن میں ہے اگر میں اس وقت ملاقات کے لئے آیا تو ممکن ہے کہ وہ مضمون میرے ذہن سے اتر جائے اس واسطے آپ ظہر کی نماز تک انتظار کریں۔ مگر مجھے اس جواب سے کچھ تسلی نہ ہوئی میں نے دوبارہ حضرت کو لکھا کہ میں تمام رات مصیبت سے یہاں پہنچا ہوں اور زیارت کا خواہش مند ہوں۔ للہ مجھے اسی وقت شرف زیارت سے سرفراز فرمائیں۔ تب حضور نے مائی دادی کو کہا کہ ان کو مبارک مسجد میں بٹھائو اور میں ان کی ملاقات کے لئے آتا ہوں۔ مجھے وہاں کوئی پندہ منٹ بیٹھنا پڑا ۔ اس کے بعد حضور نے مائی دادی کو بھیجا کہ ان کو اس طرف بلائو۔ حضرت صاحب اپنے مکان سے گلی میں آگئے اور میں بھی اس گلی میں آگیا۔ دور سے میری نظر جو حضرت صاحب پر پڑی تو وہی رویا میں جو شخص مجھے دکھایا گیا تھا بعینہٖ وہی حلیہ تھا۔ حضرت صاحب کے ہاتھ میں عصا بھی تھا پگڑی بھی تھی۔ گویا تمام وہی حلیہ تھا۔ اس سے قبل مجھے دادی کی معرفت معلوم ہوا تھا کہ حضرت صاحب کپڑے اتار کے تشریف فرما ہیں مگر چونکہ اللہ تعالیٰ کو مجھے رویا والا نظارہ دکھانا منظور تھا۔ اس لئے حضور نے جو لباس زیب تن فرمایا وہ بالکل وہی تھا جو میں نے رویا میں دیکھا تھا۔ میں حضرت صاحب کی طرف چل پڑا تھا اور حضرت صاحب میری طرف آرہے تھے گول کمرہ کے دروازہ سے ذرا آگے میری اور حضرت صاحب کی ملاقات ہوئی۔ میں نے حضرت صاحب کو دیکھتے ہی پہچان لیا کہ یہ خواب والے ہی بزرگ ہیں اور سچے ہیں چنانچہ میں حضور سے بغل گیر ہو گیا اور زار زار رونے لگا۔ میں نہیں سمجھتا کہ وہ رونا مجھے کہاں سے آیا اور کیوں آگیا مگر میں کئی منٹ تک روتا ہی رہا ۔ حضور مجھے فرماتے تھے ۔ صبر کریں۔ صبر کریں۔ جب مجھے ذرا رونا تھم گیا اور مجھے ہوش قائم ہوئی تو حضور نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں؟ میں نے عرض کیا لاہور سے۔ حضور نے فرمایا کیوں آئے؟ میں نے کہا زیارت کے لئے۔ حضور نے فرمایا کوئی خاص کام ہے؟ میں نے پھر عرض کیا کہ صرف زیارت ہی مقصد ہے۔ حضور نے فرمایا۔ بعض لوگ دعا کرانے کے لئے آتے ہیں اپنے مقاصد کے لئے۔ کیا آپ کو بھی کوئی ایسی ضرورت درپیش ہے؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی ضروت درپیش نہیں۔ تب حضور نے فرمایا کہ مبارک ہو۔ اہل اللہ کے پاس ایسے بے غرض آنا بہت مفید ہوتا ہے ۔ (یہ غالباً حضرت صاحب نے مجھ سے اس لئے دریافت فرمایا تھا کہ ان ایام میں حضور نے ایک اشتہار شائع فرمایا تھا ۔ جس میں لکھا تھا کہ بعض لوگ میرے پاس اس لئے آتے ہیں کہ اپنے مقاصد کے لئے دعا کرائیں) اس کے بعد حضور نے مجھے فرمایا کہ آپ حامد علی کے ساتھ مہمانخانہ میں جائیں اور ظہر کے وقت میں پھر ملاقات کروں گا۔ میں مہمانخانہ میں چلا گیا وہاں کھانا کھایا۔ ذرا آرام کیا ظہر کی اذان ہوئی مجھے پہلے ہی حامد علی صاحب نے فرمایا تھا کہ آپ پہلی صف میں جا کر بیٹھ جائیں۔ چنانچہ میں اسی ہدایت کے ماتحت پہلی صف میں ہی قبل از وقت جا بیٹھا۔ حضور تشریف لائے نماز پڑھی گئی ۔ نماز کے بعد حضور میری طرف مخاطب ہوئے اور فرمایا کہ آپ کب جانا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا حضور ایک دو روز ٹھہروں گا ۔ حضور نے فرمایا کم از کم تین دن ٹھہرنا چاہئے ۔ دوسرے روز ظہر کے وقت میں نے بیعت کے لئے عرض کی۔ حضور نے فرمایا کہ ابھی نہیں۔ کم از کم کچھ عرصہ یہاں ٹھہریں۔ ہمارے حالات سے آپ واقف ہوں اس کے بعد بیعت کریں ۔ مگر مجھے پہلی رات ہی مہمانخانہ میں ایک رویا ہوئی جو یہ تھی۔ میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک نور نازل ہوا اور وہ میرے ایک کان سے داخل ہوا اور دوسرے کان سے تمام جسم سے ہو کر نکلتا ہے اور آسمان کی طرف جاتا ہے اور پھر ایک طرف سے آتا ہے اور اس میں کئی قسم کے رنگ ہیں۔ سبز ہے، سرخ ہے، نیل گوں ہے۔ اتنے ہیں کہ گنے نہیں جا سکتے تھے۔ قوس قزا کی طرح تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ تمام دنیا روشن ہے اور اس کے اندر اس قدر سرور اور راحت تھی کہ میں اس کو بیان نہیں کر سکتا۔ مجھے صبح اٹھتے ہی یہ معلوم ہوا کہ رویا کا مطلب یہ ہے کہ آسمانی برکات سے مجھے وافر حصہ ملے گا اور مجھے بیعت کر لینی چاہئے۔ اسی رویا کی بنا پر میں نے حضرت صاحب سے دوسرے روز ظہر کے وقت بیعت کے لئے عرض کیا مگر حضور نے منظور نہ فرمایا اور تین دن کی شرط کو برقرار رکھا۔ چنانچہ تیسرے روز ظہر کے وقت میں نے عرض کیا کہ حضور مجھے شرح صدر ہو گیا ہے اور للہ میری بیعت قبول کر لیں۔ چنانچہ حضور نے میری اپنے دست مبارک پر بیعت لی اور میں رخصت ہو کر لاہور آگیا۔ چوتھے روز میں سکول گیا تو مجھے ایک شخص مرزا رحمت علی صاحب آف ڈسکہ جو انجمن حمایت اسلام میں ملازم تھے نے اپنے پاس بلایا اور فرمایا کہ تم چار دن کہاں تھے؟ میں نے صاف صاف ان سے عرض کر دیا کہ میں قادیان گیا تھا۔ انہوں نے کہا بیعت کر آئے ؟میں نے کہا ہاں۔ انہوں نے فرمایا کہ یہاں مت ذکر کرنا۔ میں بھی احمدی ہوں اور میں نے بھی بیعت کی ہوئی ہے مگر میں یہاں کسی کو نہیں بتاتاتا کہ لوگ تنگ نہ کریں ۔ مگر میں نے ان سے عرض کیا کہ میں تو اس کو پوشیدہ نہیں رکھوں گا چاہے کچھ ہو۔ چنانچہ ہمارے استاد مولوی زین العابدین صاحب جو مولوی غلام رسول قلعہ والوں کے بھانجے تھے اور ہمارے قرآن، حدیث کے استاد تھے۔ ان سے میں نے ذکر کیا کہ میں احمدی ہو گیا ہوں اس پر انہوں نے بہت برا منایا اور دن بدن میرے ساتھ سختی کرنی شروع کر دی۔ حتیٰ کہ وہ فرماتے تھے کہ جو مرزا کو مانے سب نبیوں کا منکر ہوتا ہے اور اکثر مجھے وہ کہتے تھے کہ توبہ کرو اور بیعت فسخ کر لو مگر میں ان سے ہمیشہ قرآن شریف کے ذریعہ حیات وفات مسیح پر گفتگو کرتا۔ جس کا وہ کچھ جواب نہ دیتے اور مخالفت میں اس قدر بڑھ گئے کہ جب ان کی گھنٹی آئے تو وہ مجھے مخاطب کرتے تھے ۔او مرزائی بنچ پر کھڑا ہو جا۔ میں ان کے حکم کے مطابق بنچ پرکھڑا ہو جاتا اور پوچھتا کہ میرا کیا قصور ہے؟ وہ کہتے کہ یہی کافی قصور ہے کہ تم مرزائی ہو اور کافر ہو۔ کچھ عرصہ میں نے ان کی اس تکلیف دہی کو برداشت کیا ۔ پھر مجھے ایک دن خیال آیا کہ میں پرنسل کو جو نومسلم تھے اور ان کا نام حاکم علی تھا۔ کیوں نہ جا کر شکایت کروں کہ بعض استاد مجھے اس وجہ سے مارتے ہیں کہ میں احمدی کیوں ہو گیا ہوں۔ اس پر انہوں نے ایک سرکلر جاری کر دیا کہ مذہب کے اختلاف کی وجہ سے کوئی مدرس کسی لڑکے کو کوئی سزا نہ دے۔ چنانچہ اس آرڈر کے آنے پر مولوی زین العابدین صاحب اور ان کے ہم خیال استاد ڈھیلے پڑ گئے اور مجھ پر جو سختی کرتے تھے اس میں کمی ہو گئی۔ خدا کے فضل سے میں حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوتا تو اپنی تکالیف کا ذکر کرتا ۔ حضور تسلی دیتے اور فرماتے کہ کوئی بات نہیں خدا تعالیٰ فضل کرے گا۔ چنانچہ امتحان مڈل میں مَیں فیل ہو گیا اور میرے مخالف استادوں نے مجھے یہی کہا کہ یہ مرزے کی برکت ہے کہ تم ناکام ہوئے۔ میں حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضور سے یہ عرض کیا کہ لوگ مجھے یہ طعنہ دیتے ہیں کہ تم کو مرزائی ہونے کی وجہ سے یہ سزا ملی ہے کہ تم فیل ہو گئے ہو۔ حضور نے مسکرا کر فرمایا یہ کوئی بات نہیں۔ رزق پاس اور فیل ہونے پر نہیں ملتا خدا بہتر کرے گا۔ پس میں لاہور چلا آیا اور یہاں کچھ ٹیوشنز کا کام شروع کر دیا اور پھر مجھے ایک دو جگہ نوکری مل گئی۔ یہاں لاہور میں ہی مَیں نوکری کرتا رہا۔ اس کے بعد مجھے ایک جگہ شادی کا خیال ہو گیا وہ میرے قریبی رشتہ دار ہی تھے ۔ میں نے حضرت اقدس کی خدمت میں دعا کے لئے لکھا۔ حضور نے فرمایا کہ دعا کروں گا ۔ چنانچہ میں اکثر دعا کرانے کے لئے لکھتا رہا۔ چنانچہ حضرت پر خدا تعالیٰ نے کس ذریعہ سے ظاہر کیا کہ یہ رشتہ اس کے لئے مناسب نہیں۔ مفتی محمد صادق صاحب کو حکم دیا کہ آپ ہماری طرف سے منشی محبوب عالم کو لکھ دیں کہ اس رشتہ کا خیال چھوڑ دیں اور ایک تمثیل بھی لکھوائی جس میں لکھا کہ حضرت سید عبدالقادر جیلانی فرماتے تھے کہ ایک شخص باغ کے اندر سیر کے لئے داخل ہوا۔ اور پہلے ہی پودے کے پھول کو دیکھ کر یہ خیال کرے کہ اس سے بہتر اور نہیں ہو گا تو وہ باقی باغ کی سیر سے محروم رہے گا اور اسی اصول پر حضور نے مجھ سے عہد لکھوایا کہ آئندہ میں اس رشتے کے واسطے کبھی خواہش نہیں کروں گا۔ چنانچہ میں نے حضرت کو لکھ کر بھیج دیا لیکن میں پھر اس جذبہ سے باز نہ رہ سکا۔ میں نے اپنے خلاف عہد حضرت صاحب کو روزانہ خط لکھنا شروع کر دیا کہ خدا قادر ہے اور اس کی قدرت کا کوئی انتہا نہیں۔ ممکن ہے کوئی ذریعہ ایسا نکل آئے جس سے میں یہاں کامیاب ہو جائوں۔ چنانچہ میں حضور کو روزانہ کئی سال تک خط لکھتا رہا۔ ایک خط میں نے حضور کو لکھا کہ جو پیر اپنے مرید کو اس دنیا میں جہنم سے نہیں نکال سکتا۔وہ آخرت میں کیا فائدہ دے گا۔ کم از کم حضور اگر وہ عورت مجھے نہیں دلا سکتے تو اس جہنم سے جس میں پڑا ہوا ہوں مجھے نکالیں اور میرا دل اس سے پھر جائے۔ چنانچہ مولوی عبدالکریم ؓ کا کارڈ میرے پاس پہنچا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ آج رات میں محبوب عالم کے لئے دعا کر رہا تھا کہ مجھے الہام ہوا۔ ’’ دل پھیر دیا گیا۔۱؎ ‘‘ یا تو یہ عورت آپ کو مل جائے گی یا پھر آپ کو اس کا خیال ہی نہیں آئے گا۔ اس سے قبل ایک رات مجھے بھی رویا میں دکھایا گیا کہ میرے اور اس عورت کے رشتہ داروں کے درمیان ایک دیوار ہے جو زمین سے لے کر آسمان تک کھینچ گئی ہے اور میں ادھر نہیں جا سکتا اور وہ ادھر نہیں آسکتے اور مجھے بتایا گیا یہ دیوار جہنم ہے۔ جس کا مطلب مجھے سمجھ آیا کہ اس کو عبور نہیں کیا جا سکتا۔ پس اس دن سے مجھے اس کا کبھی خیال پیدا نہیں ہوا۔
    اس رویا اور الہام سے قبل ایک دفعہ میں نے حضور کو لکھا کہ اگر شرعاً جائز ہو اور حضور اجازت دیں تو میں اس عورت کو نکال کر ہمراہ لا سکتا ہوں۔ جب یہ کارڈ میں ڈال چکا تو رات بھی مجھے نیند نہیں آئی اور بے کلی رہی اور صبح کو ہی میں نے قادیان کا رخ کیا۔ چنانچہ میں قادیان پہنچا ۔ حضور کو اندر اطلاع کروائی۔ حضور فوراً ننگے سر باہر تشریف لے آئے فرمانے لگے وہ عورت کہاں ہے؟ میں نے کہا حضور میں اس کو ساتھ تو نہیں لایا کیونکہ حضور کی طرف سے مجھے کوئی جواب نہیں گیا ۔ حضور نے فرمایا کہ تم نے بہت اچھا کیا کہ زنا سے بچ گئے اس طرح سے کسی عورت کو نکال کر لانا نکاح نہیں ہو سکتا بلکہ زنا ہی رہتا ہے اور مومن کی یہ شان کے خلاف ہے اور قرآن شریف میں یہ لکھا ہے کہ۔ ’’فانکحوھنباذن اھلھن ۱؎ ‘‘ بغیر اجازت ولی کے کوئی نکاح نہیں ہو سکتا۔ نیز حضور نے فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں دعا قبول نہیں ہوتی آج رات میں نے سوائے آپ کے لئے اور کوئی دعا نہیں کی اور میری دعا ہی آپ کو یہاں کھینچ لائی ہے اور آپ اس گناہ سے بچ گئے ہیں اور اب آپ چھ ماہ تک قادیان میں ہی ٹھہریں۔ چنانچہ میں وہاں قادیان میں ٹھہر گیا اور ضیاء الاسلام مطبع میں حضرت صاحب کی کتابیں چھپوانے پر میری ڈیوٹی لگ گئی۔ مرزا اسماعیل بیگ پریس میں تھے اور میں ان کا نگران تھا۔ حضرت صاحب کو صاف اور ستھری کتابیں چھپوانے کا از حد خیال تھا۔
    ایک دفعہ حضرت مرزا اسماعیل بیگ نے میری شکایت کی کہ یہ بے جا تنگ کرتے ہیں اور چھاپنے نہیں دیتے۔ حضور نے مجھے طلب فرمایا۔ میں حاضر ہوا۔ فرمایا۔ کیا بات ہے؟ میں نے وہ کاغذ جو ردی چھپے ہوئے تھے پیش کر دئیے۔حضور ایک ایک کو دیکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ مرزا اسماعیل بیگ یہ تو خراب ہے یہ چھپائی تو واقعی خراب ہے حتی کہ سارے ورق دیکھ کر یہی فرمایا کہ یہ چھپائی تو خراب ہے۔ آپ نے مرزا اسماعیل کو مخاطب کرکے فرمایا آپ ان کے کہنے پر کام کریں اور میں نے ان کو رکھا ہی اس لئے ہے کہ کتاب صاف اور ستھری چھپے۔ چھ ماہ تک میں نے مطبع میں کام کیا جب چھ ماہ گزر گئے میں نے حضور سے اجازت طلب کی ۔ حضور نے فرمایا آج نہ جائو کل چلے جانا۔ مگر میں نے اپنے اجتہاد سے کام لیا اور سمجھ لیا کہ اجازت ہو گئی ہے اب آج کیا اور کل کیا ۔ آج ہی چلو۔ چنانچہ میں گائوں والے راستے سے چل پڑا۔ عصر کا وقت تھا اچانک بادل چڑھا اور موسلا دھار بارش شروع ہو گئی اس کثرت سے بارش ہوئی کہ الامان میں بڑی مشکل سے نہر پرپہنچا اور سورج غروب ہو گیا۔ بارش اور ہوا کا تیز ہونا کپڑوں کا گیلا ہونا اور پیدل ہونا اور رستہ میں کیچڑ اور پانی کابکثرت ہونا یہ ایسی باتیں تھی کہ جن کو دیکھ کر مجھے حضور کے ارشاد کی قدر معلوم ہوئی اور میں نے سوچا کہ میں نے بہت غلطی کی ہے۔ چنانچہ میں نے رات دس بجے برلب سڑک درختوں کے اندر بٹالہ میں جو ایک چھوٹی سی مسجد ہے وہاں پہنچ کر کپڑے نچوڑے اور مسجد کے اندر بیٹھ رہا۔ ساری رات وہیں پڑا رہا۔چار بجے صبح کو گیلے ہی کپڑے پہن کر گاڑی پر سوار ہوا اور لاہور پہنچا۔ یہاں پہنچ کر میں ایک بائیسکل کی دکان پر ملازم ہو گیا۔ تھوڑا عرصہ میں نے ملازمت کی پھر میں قادیان چلا گیا اور قادیان کی رہائش کو مقدم کیا پھر حکیم فضل دین صاحب بھیروی کے پاس میں ملازم ہو گیا کیونکہ مطبع کے منتظم اعلیٰ وہی تھے۔ سات روپے ماہوار میری تنخواہ مقرر ہوئی۔ اس پر حضرت مولوی حکیم الامت نورالدین رضی اللہ نے مجھے مبارکباد دی کہ آپ نے فضل دین سے سات روپے ماہوار نوکری لی ہے۔ یہ تو کسی منشی کو پانچ روپے سے زیادہ نہیں دیا کرتے۔ چنانچہ میں کچھ عرصہ ان کی ملازمت میں رہا۔ اس عرصہ میںپھر لاہور سے جس دکان پر میں ملازم تھا انہوں نے حضرت صاحب کی خدمت میں لکھا کہ آپ کا مرید محبوب عالم ہمارا ملازم تھا نوکری چھوڑ کر وہاں چلا گیا ہے آپ اس کو ہدایت فرماویں کہ واپس آجائے کیونکہ وہ دیانتدار آدمی ہے ہمیں اس کی ضرورت ہے۔ چنانچہ حضرت صاحب کو جب یہ خط ملا حضور نے مجھے طلب فرمایا اور حکم دیا کہ آپ فوراً لاہور چلے جائیں۔ اس دکاندار نے آپ کی بہت تعریف لکھی ہے۔ اس واسطے ہمارا بھی خیال ہے کہ آپ ان کے پاس پہنچ جائیں۔ چنانچہ میں لاہور آگیا اور بیس روپیہ ماہوار پر ملازم ہو گیا۔ دو سال کے بعد اس پروپرائٹر دکان نے جس کا نام اللہ بخش تھا اور وہ غیر احمدی تھا۔ میاں محمد موسیٰ کو اپنی تجارت میں حصہ دار کر لیا اب میں بجائے ایک شخص کے دو کا ملازم ہو گیا مگر قدرت خداوندی سے اللہ بخش علیحدہ ہو گیا اور محمد موسیٰ دکان کا واحد مالک ہو گیا اور مجھے مینجر رکھ لیا اب میں نے میاں موسیٰ صاحب کو تبلیغ شروع کی۔ چنانچہ ان کو قادیان بھیجا مگر وہ شامت اعمال سے قادیان سے بغیر بیعت کے واپس آگئے۔ بعد ازاں میں ان کو کبھی کبھی اخبار بدر سناتا رہا۔ پھر میں نے ان کو ایک دن ایک حدیث کا ذکر سنایا کہ ایک بدوی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے انحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے کہا کہ کیا آپ خدا کی قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ آپ خدا کے رسول ہیں تو آنحضرت ﷺ نے قسم کھا کر کہا کہ میں خدا تعالیٰ کا رسول ہوں۔ تب اس بدوی نے بیعت کر لی اور اپنے قبیلہ کو بھی بیعت کے لئے حاضر کیا۔ یہ واقعہ جب میں نے حضرت میاں محمد موسیٰ صاحب کو سنایا تو ان کے دل پر بھی اس کا خاص اثر ہوا۔ چنانچہ انہوں نے اس وقت ایک کارڈ حضرت صاحب کی خدمت میں لکھا کہ کیا آپ خدا کی قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ آپ مسیح موعود ہیں۔ یہ کارڈ جب حضرت صاحب کی خدمت میں پہنچا تو حضور نے مولوی عبدالکریم صاحب کو حکم دیا کہ لکھ دو۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں وہی مسیح موعود ہوں جس کا وعدہ آنحضرت ﷺ نے اس امت کو دیا۔ اس کارڈ میں مولوی عبدالکریم صاحب نے اپنی طرف سے بھی ایک دو فقرے لکھ دئیے جن کا مطلب یہ تھا کہ آپ نے خدا کے مسیح کی قسم دی ہے اب آپ یا تو ایمان لاویں یا عذاب خداوندی کے منتظر رہیں ۔وہ کارڈ جب پہنچا تو میاں محمو موسیٰ صاحب نے اپنی اور اہل و عیال کی بیعت کا خط لکھ دیا۔ اس طرح سے میں اب اکیلا نہ رہا بلکہ میرے ساتھ خدا تعالیٰ نے ان کو بھی شامل کر دیا۔
    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت ام المومنین کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لاہور تشریف لائے ۔ حضرت ام المومنین کو عجائب گھر میں چھوڑ کر آپ ہماری دکان پر تشریف لے آئے۔ میں نے حضور کو اندر آنے کی التجا کی ۔ حضور نے فرمایا نبی دکان میں نہیں بیٹھا کرتے۔ کرسی باہر لے آئیں۔ یہیں بیٹھیں گے۔ چنانچہ میں نے کرسی دکان کے باہر کھلی جگہ میں بچھائی حضور تشریف فرما ہوئے اور پانی طلب فرمایا۔ میں نے دودھ کی لسی پیش کی حضور نے میری طرف دیکھا اور مسکرائے اور فرمایا کہ میں نے تو پانی مانگا تھا۔ غالباً ساتھ ہی فرمایا کہ مجھے نزلہ کی شکایت ہے یا زکام ہے اس لئے میں لسی نہیں پیتا۔ میرے اصرار کرنے پر ایک گھونٹ نوش فرما کر برکت دی ۔ پھر میں نے پانی منگوا دیا۔ حضور نے پیا۔ اتنے میں ایک شخص آیا اس کا نام محمد امین تھا وہ بوٹوں کی دکان کا سوداگر تھا۔ مجمع کو دیکھ کر کہنے لگا کہ کیا ہے کون ہے ؟ ان لوگوں میں سے کسی نے کہا کہ مرزا صاحب قادیانی ہیں۔ چنانچہ وہ آگے بڑھا مجمع کو چیرتا ہوا حضور کے سامنے کھڑا ہو گیا اور نہایت گستاخی اور بے باکی سے یادجال یا کافر کہہ کر السلام علیکم کہا۔ حضور مسکرائے اور فرمایا کہ دجال بھی اور سلام علیکم بھی یہ دو متضاد باتیں کس طرح جمع ہو سکتی ہیں۔ اس پر حضور نے ایک تقریر فرمائی۔ جس کا خلاصہ میں اپنے الفاظ میں عرض کرتا ہوں۔ حضور نے فرمایا کہ مسلمانوں کی انتہائی بدنصیبی ہے کہ ان کے درمیان دجال پیدا ہو گیا جب کہ ان کو ضرورت تھی کہ کوئی مصلح آتا۔ اس وقت مسلمانوں کی حالت ایسی پراگندہ ہے اور شیرازہ ان کا ایسا بگڑا ہوا ہے کہ ایسے نازک وقت میں بھی خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کے لئے ہادی بھیجا مگر وہ بدقسمتی سے اسے دجال سمجھ رہے ہیں۔ اس موضوع پر کوئی آدھا گھنٹہ تقریر فرمائی۔ وہ بہت شرمندہ ہوا اور خاموش ہو گیا۔ حضور پھر عجائب گھر تشریف لے گئے۔
    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں قادیان میں تھا۔ ۴؍ اپریل ۱۹۰۵ء کے زلزلہ کے بعد حضور کو بار بار زلزلہ کے الہامات ہو رہے تھے۔ چنانچہ حضور نے قادیان سے باہر مرزا سلطان احمد کے باغ سے اگلے باغ میں جو حضور کا اپنا تھا قیام فرمایا۔ حضرت ام ا لمومنین اس مکان میں تھیں جو باغ میں ہے۔ اور حضور ایک زمین پر خیمہ میں تھے۔ حضرت ام المومنین نے میر مہدی حسین کو فرمایا کہ شہر جائوا ور عرق
    لے آئو ۔ چنانچہ ایک مرتبان شیشے کا ان کو دیا کہ اس کو بھر لائو۔ اس کے اوپر چٹ لکھی ہوئی تھی عطیہ از محبوب عالم جے پور۔ یہ ْشخص قاضی اسلم کا بھائی تھا۔ وہ مہدی حسین کے ہاتھ میں تھا۔ مجھے اس نے کہا ۔ آئو۔ دونوں چلیں۔ میں بھی ساتھ ہو گیا اور دونوں روانہ ہو گئے۔ جب مرزا سلطان احمد صاحب کے باغ میں پہنچے تو میر مہدی حسین صاحب نے مجھے کہا کہ لو یہ مرتبان پکڑو۔ چنانچہ میں نے ان سے مرتبان لے لیا جب وہ مرتبان میرے ہاتھ میں آگیا تو جونہی میں نے دونوں ہاتھ سے پکڑا اور اوپر کا حصہ میرے ہاتھ میں رہ گیا اور دوسرا دوسرے ہاتھ میں ۔ گویا دو ٹکڑے ہو گیا۔ میں حیران ہو گیا کہ یہ کیا ہو گیا۔ میر مہدی حسین صاحب نے مجھے کہا کہ یہ حضرت ام المومنین نے مجھے دیا ہے اور اب آپ کو ان کے پاس جواب دہی کے لئے چلنا پڑے گا۔ چنانچہ میں اور وہ حضرت ام المومنین کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوئے ۔ دروازے پر دستک دی۔ اتفاق سے حضرت ام المومنین ہی اندر سے بولیں کہ کیا ہے؟ کون ہے؟ مہدی حسین نے کہا کہ حضور مہدی حسین ہوں۔ فرمایا کیا بات ہے؟ مہدی حسین نے کہا کہ وہ مرتبان جو حضور نے عرق لانے کے لئے دیا تھا محبوب عالم نے توڑ ڈالا ہے۔ حضرت ام المومنین نے فرمایا کہ ان کو حضرت صاحب کے پاس لے جائو ۔وہاں سے ہم خیمہ کی طرف آئے ۔ عصر کا وقت تھا۔ حضور کرسی پر تشریف فرما تھے۔ السلام علیکم کے بعد حضور نے اندر آنے کی اجازت دی۔ اب میں ڈرتے ڈرتے اندر گیا اور دل میں میرے کئی قسم کے خیالات تھے کہ معلوم نہیں اب کیا سزنش ہو گی۔ بدن پسینے سے تر ہو رہا تھا۔ خوف سے دم خشک ہورہا تھا۔ جب حضور کی خدمت میں پیش ہوا اور مہدی حسین نے وہی اپنا بیان دیا کہ محبوب عالم نے مرتبان توڑ ڈالا ہے۔ میں دل میں خیال کرتا تھا کہ حضرت پوچھیں گے کس طرح توڑا ہے اور کیسے ٹوٹا ہے مگر حضور نے کچھ نہیں فرمایا۔ مہدی حسین کی بات سن کر فرمایا کہ بہت ہی اچھا ہوا مرتبان ٹوٹ گیا اگر یہ برتن ٹوٹیں نہیں تو ہمارے گھر میں اس کثرت سے جمع ہو جائیں کہ ہمارے رہنے کے لئے کہیں جگہ ہی نہ ملے۔ میں اس جواب سے اس قدر خوش ہوا کہ میرا تمام رنج و فکر کا فور ہو گیا اور مجھے کچھ کہنے کی دلیری ہو گئی۔ چنانچہ میں نے حضرت کی خدمت میں عرض کیا کہ میں کل پرسوں تک لاہور جانے والا ہوں۔ ایک مرتبان حضور کے واسطے خرید کر کے بھیج دوں گا۔ اس پر حضور نے فرمایا یہ شرعاً منع ہے۔ تاوان لینا شریعت میں جائز نہیں۔ ہاں اگر کوئی تحفۃً بھیج دے ہم قبول کر لیتے ہیں لیکن اس طرح معاوضہ میں لینا جائز نہیں ہے۔ بس حضور سے یہ مسئلہ اس وقت ہم نے سیکھا ہم خوشی خوشی وہاں سے الوداع ہو کر واپس آگئے۔ چنانچہ اس کے بعد میں نے کبھی اپنے کسی نوکر سے اگر کوئی چیز اس سے ٹوٹ جائے تو تاوان نہیں لیا۔
    اب پھر گزشتہ بات کا ذکر کرتا ہوں کہ میں بیس روپیہ ماہوار پر ملازم ہوا تھا۔ بعد میں ترقی کر کے مجھے ۱۱۰ روپیہ ماہوار ملنے لگے اور قریباً پچیس سال تک اس دکان میں ملازمت کی اور جتنے لوگوں نے میرے ساتھ مڈل پاس کیا تھا اور سرکاری ملازمتیں حاصل کی تھیں جب وہ کبھی مجھے ملتے تو یہی کہتے کہ آپ مزے میں ہیں ہمیں تو بڑی مصیبت ہے اور ہم بڑی تکلیف میں ہیں۔ حضور کی دعا سے میرا زمانہ ملازمت نہایت ہی امن سے گذرا۔ چنانچہ حضرت نانا جان مجھے فرمایاکرتے تھے کہ تم تو ملازم نہیں ہو بلکہ مالک ہو۔ ملازمت کے دوران میں ہمارے رشتہ دار جو لاہور میں پولیس میں ملازم
    تھے ان کا نام میاں صدرالدین تھا۔ ان کی بیوہ نے پیغام بھیجا اپنے لڑکے کے ہاتھ کہ آپ ہمارے ہاں شادی اگر کرنا منظور کریں تو ہم تجویز کرتے ہیں ۔ مگر اس میں بھی ایک شرط تھی کہ مرزائیت سے توبہ کریں۔ میں نے ان کو کہا کہ یہ ناممکن بات ہے۔شادی کے لئے تو میں تیار ہوں مگر احمدی سے توبہ نہیں کر سکتا۔ حضرت صاحب کی خدمت میں مَیں نے لکھا حضور نے جواب دیا کہ اس جگہ آپ شادی کرنے کی کوشش کریں اور اگر کوئی مشکلات پیش آویں تو ہمیں لکھیں اور اگر نقدی کی ضرورت پیش آئے تو ہم مدد بھی کر دیں گے۔ میں نے یہاں سلسلہ شروع کیا۔ ان کی طرف سے یہ اصرار ہوتا تھا کہ احمدیت سے توبہ کرنا شرط ہو گی مگر والدہ ان لڑکوں کی اس شرط کے خلاف تھی۔ چنانچہ میں نے ان کو اپنا مذہب لکھ کر دے دیا کہ یہی میرا مذہب ہے کہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام خدا کی طرف سے نبی ہیں اور مہدی ہیں اور محمد رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ ہیں میں ان کی بیعت میں ہوں ۔ چنانچہ میرا ……… بھی مان گئے اوریہ شرط اڑا دی۔ وہاں میرا نکاح ہو گیا اور حضور کو میں نے لکھا کہ نکاح ہو گیا۔ حضور نے لکھا کہ یہ عورت آپ کے لئے بہت مبارک ہے۔ چنانچہ اب میری اہلیہ سے بیس بچے پیدا ہوئے جن میں سے چار لڑکے اور پانچ کیاں زندہ موجود ہیں اور بیوی بھی زندہ موجود ہے اور سب احمدیت کے فدائی ہیں اور سچے خادم ہیں۔ بڑے لڑکے کا نام محمود احمد ہے۔ اس سے چھوٹے کا نام مسعود احمد ہے۔ اس سے چھوٹے کا رشیداحمد ۔ سب سے چھوٹے کا ناصر احمد۔
    ۱۹۲۵ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے عہد مبارک میں مجھے میاں محمد موسیٰ صاحب نے ملازمت سے الگ کر دیا۔ میرے پاس کوئی سرمایہ نہیں تھا۔ میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں دعا کے لئے عرض کیا۔ حضور نے دعا فرمائی اور آپ کی دعا کی برکت سے میرے لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان کر دئیے کہ میرے لئے سرمایہ مہیا ہو گیا اور میرے اپنے کاروبار میں خدا نے برکت رکھ دی۔ اب چودہ سال ہو گئے ہیں کہ اپنی دکان کر رہا ہوں۔ حضرت صاحب کی دعا سے سب کام اللہ تعالیٰکے فضل سے ہو رہے ہیں۔
    ایک دفعہ حضور لاہور میں تشریف لائے ۔ الٰہی بخش اکائونٹنٹ کے مکان پر مولوی محمد حسین بٹالوی سے وفات و حیات مسیح پر مناظرہ مقرر ہوا۔ حضرت صاحب وقت مقررہ پر پہنچ گئے مگر مولوی محمد حسین بٹالوی قریباً ایک گھنٹہ لیٹ پہنچے۔ لوگوں نے ملامت کی کہ آپ بہت دیر سے آئے ہیں ہمارا آپ نے وقت حرج کیا ہے اور ہمیں شرمندہ کیا ہے۔ مولوی صاحب کہنے لگے جلدی جلدی جیسے کہ ان کی عادت تھی کہ کہاں ہے کافر۔ کہاں ہے وہ کافر؟ لوگوں نے منع کیا کہ آپ اس وقت ہمارے نمائندہ ہیں۔ ایسے الفاظ نہ کہیں مگر وہ کہتے ہی گئے اور اندر چلے گئے۔ جب حضور کو دیکھا تو کہنے لگے میں اس کافر سے بحث نہیں کرتا۔ چنانچہ غصہ میں گالیاں دیتا باہر نکل گیا اور لوگ بلاتے ہی رہ گئے۔ حضور نے وہاں قرآن اور حدیث کی رو سے وفات مسیح پر مختصر سی تقریر کی اور پھر تشریف لے گئے۔
    الٰہی بخش چونکہ حضرت صاحب کا بڑا مخالف تھااور حضرت اقدس نے اس کے متعلق پیشگوئی فرمائی تھی کہ یہ طاعون سے ہلاک ہو گا۔ یہ سنہری مسجد کے پیچھے ایک مکان میں رہتا تھا۔ چنانچہ لاہور میں جب طاعون پڑا تو اس نے اپنے بال بچہ کو باہر بھجوا دیا اور آپ اکیلا یہاں رہ گیا۔ اس کو طاعون ہو گیا اور وہ اس مکان میں مر گیا۔ دو تین دن تک اس کی لاش کو کسی نے اٹھایا نہیں۔ اس کے تین چار ہمجولی تھے۔ شمس الدین سکرٹری حمایت اسلام ۔ کرم بخش مطبع والا وغیرہ آئے۔ ان کو جب اس کی موت کا علم ہوا تو انہوں نے اس کے چھپانے کی کوشش کی کہ کسی طرح سے اس بات کا علم نہ ہو کہ یہ طاعون سے مرا ہے۔ تا لوگوں کو یہ علم نہ ہو جائے کہ مرزا صاحب کی پیشگوئی پوری ہو گئی ہے اور اندر ہی اندر اس کو ٹھکانے لگانے کی کوشش کرتے رہے۔ مگر جرات نہیں پڑتی تھی آخر مزدوروں کے ذریعہ سے اس کی لاش کو اٹھوا کر بغیر غسل دئیے اس کو دفن کروا دیا۔
    زین العابدین حمایت اسلام میں ملازم تھا اور ہمارا استاد تھا۔ اکثر کہا کرتا تھا کہ اگر مرزا صاحب سچے ہیں تو میں طاعون سے کیوں ہلاک نہیں ہوتا۔ چنانچہ اس نے ایک روز کشمیری بازار میں ایک احمدی مولوی محمد علی صاحب سیالکوٹی سے بحث کرتے ہوئے مباہلہ کر دیا کہ اگر میں جھوٹا ہوں اور مرزا صاحب سچے ہیں تو میں طاعون سے ہلاک ہو جائوں۔ چنانچہ اس مباہلہ کے سات روز بعد ہی وہ خود بھی اور اس کی بیوی بھی اور اس کے لڑکے لڑکیاں بھی سب طاعون سے ہلاک ہو گئے۔
    نور محمد میرا چچا تھا اور موضع بھڑی چٹھہ تحصیل حافظ آباد ضلع گوجرانوالہ میں رہتا تھا۔ میں ایک دفعہ اس کے پاس گیا۔ تبلیغ کی۔ دوران گفتگو میں اس نے بھی یہ بات کہی کہ اگر مرزا صاحب سچے ہیں تو میں جو ان کا بہت مخالف ہوں مجھے طاعون کیوں نہیں آتی اور جہلا اورناواقف جو مرزا صاحب کے دعویٰ کو جانتے ہی نہیں طاعون سے مر رہے ہیں۔ اس کی اس دیدہ دلیری سے میں گھبرا کر بغیر اس کے گھر سے کھانا کھائے چلا آیا۔ جب میں لاہور پہنچا ایک ہفتہ کے بعد میرے بھائی نے مجھے خط لکھا کہ چچا نور احمد مع اپنے لڑکوں کے طاعون سے مر گیا ہے۔ میں نے اس واقعہ کی خبر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لکھی۔ چنانچہ حضور نے اس کو بطور نشان حقیقۃ الوحی میں درج فرما لیا۔
    لاہور میں ایک وکیل ہوتے تھے ان کا نام کریم بخش عرف بکرا تھا۔ وہ بڑی فحش گالیاں حضرت کو دیا کرتے تھے۔ ایک دن دوران بحث اس نے کہا کون کہتا ہے مسیح مر گیا۔ میں نے جواباً کہا کہ میں ثابت کرتا ہوں کہ مسیح مر گیا۔ اس نے اچانک ایک تھپڑ بڑے زور سے مجھے مارا۔ اس سے میرے ہوش پھر گئے اور میں گر گیا۔ جب میں وہاں سے چلا آیاتو اگلی رات میں نے رویا میں دیکھا کہ کریم بخش عرف بکرا ایک ٹوٹی ہوئی چارپائی پر پڑا ہے اور اس کی چارپائی کے نیچے ایک گڑھا ہے اس میں وہ گر رہا ہے۔ اور نہایت بے کسی کی حالت میں ہے۔ صبح میں اٹھ کر اس کے پاس گیا اور میں
    نے اسے کہا کہ مجھے رویا میں بتایا گیا ہے کہ تو ذلیل ہو گا۔ چنانچہ تھوڑے عرصہ کے بعد اس کی ایک بیوہ لڑکی کو ناجائز حمل ہو گیا۔اس نے کوشش کرکے جنین کو گروایا مگر اس سے لڑکی اور جنین دونوں کی موت واقع ہو گئی۔ پولیس کو جب علم ہوا تو اس کی تفتیش ہوئی۔ جس سے اس کا کافی روپیہ ضائع گیا اور عزت بھی برباد ہوئی۔ وہ شرم کے مارے گھر سے باہر نہیں نکلتا تھا۔ مجھے جب علم ہوا تو میں اس کے گھر گیا اسے آواز دی۔ وہ باہر آیا میں نے کہا کہ حضرت مسیح موعود کی مخالفت کا وبال چکھ لیا ہے یا ابھی اس میں کچھ کسر باقی ہے۔ اس نے مجھے بہت گالیاں دیں اور شرمندہ ہو کر اندر چلا گیا پھر کبھی میرے سامنے نہیں آیا۔
    حکیم محمد علی صاحب موجد روح جیون پوٹی شاہی طبیب ریاست جموں و کشمیر تھے۔ وہ لاہور میں سکونت پذر ہوئے پنشن لے کر۔ میں اس کے ہاں ملازم تھا وہ بھی اکثر مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت کیا کرتا تھا اور بہت بدزبانی کیا کرتا تھا۔ چنانچہ ایک دن دوران گفتگو میں اس نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ ا لصلوٰۃ و السلام کی شان مبارک میں دیوث کا لفظ استعمال کیا۔ میں نے رات کو بہت دعائیں کیں اور استغفار کیا کہ ایسے شخص سے میں نے کیوں گفتگو کی جس نے ایسی بے ادبی کی ہے۔ مگر رات کو مجھے خداوندکریم نے رویا میں دکھایا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام میاں چراغ الدین مرحوم کے مکان میں تشریف فرما ہیںاور میں حاضر خدمت ہوا ہوں۔ جب میں نے حضور کو السلام علیکم کہا تو حضور نے جواب دیا وعلیکم السلام فرما کر مجھ سے پوچھا کہ وہ شخص جو ہمیں دیوث کہتا ہے کہاں ہے؟ میں نے باہر کی طرف دیکھا تو محمد علی آرہا تھا۔ میں نے عرض کیا کہ حضور وہ محمد علی حکیم ہے باہر آرہا ہے۔ حضور نے فرمایا کہ اس کو کہہ دو ہم آپ سے ملاقات نہیں کرتے کیونکہ آپ دیوث ہیں۔ اس رویا کے بعد چند ہفتے گزرے اس کی لڑکی ایک کلرک کے ساتھ بھاگ
    گئی اور گوجرانوالہ میں ایک محکمہ خفیہ کے افسر نے ان کو پکڑ لیا۔ اس کلرک نے کیا یہ میری بیوی ہے اور اس لڑکی نے کہا کہ یہ میرا ملازم ہے چونکہ دونوں کے بیان متضاد تھے پولیس کو شبہ ہوا انہوں نے گوجرانوالہ کے سٹیشن پر ان کو گاڑی سے اتارلیا اور ڈپٹی کمشنر صاحب کے پیش کیا۔ وہاں لڑکی نے بیان دیا کہ میرا باپ دیوث ہے اور میری شادی نہیں کرتا میں مجبوراً اس آدمی کے ساتھ ایک نواب زادہ کے پاس جا رہی ہوں میرا اس کے ساتھ دوستانہ تعلق ہے۔ اس ڈپٹی کمشنر نے لڑکی کو بہت سمجھایا کہ تمہارے باپ کی ہتک ہے تم اس کے پاس واپس چلی جائو۔ مگر اس نے واپس جانے سے انکار کیا اور کہا کہ باپ مجھے مار ڈالے گا۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ہم اس بات کا انتظام کر دیں گے۔ چنانچہ اس نے پولیس کی نگرانی میں لڑکی کو لاہور کے ڈپٹی کمشنر کے پاس بھیج دیا اور لکھا کہ یہ لڑکی باپ کے حوالہ کی جائے مگر اس سے ضمانت لے لی جائے کہ اسے کوئی تکلیف نہ دے ۔ چنانچہ ڈپٹی کمشنر نے حکیم صاحب کو طلب کیا اور کچہری میں جاتے ہی حکیم صاحب کو ڈانٹا اور کہا کہ تم بڑے دیوث ہو اپنی لڑکی کی حفاظت نہیں کرتے اور تم بڑے بے شرم ہو جو ان لڑکی کا کہیں رشتہ نہیں کر دیتے۔ یہ لڑکی تمہارا حاضر ہے پانچ ہزار روپیہ کی ضمانت لائو تمہارے حوالہ کی جائے گی ۔ غالباً یہ ضمانت شمس الدین سیکرٹری حمایت اسلام نے دی اور لڑکی حکیم صاحب کو دے دی گئی اور اس طرح تمام شہر میں حکیم صاحب دیوث مشہور ہوئے۔ پھر کچھ عرصہ کے بعد وہی لڑکی بھاگ گئی اور عیسائی ہو گئی جو اب تک زندہ موجود ہے۔ باقی اس کی چھ لڑکیاں بھی عیسائی ہیں۔ بیوی اس کی عیسائی ہو کر فوت ہوئی ہے۔ اس کی بڑی لڑکی کا نام عمدہ بیگم تھا۔
    جب حضور لاہور میں تشریف لائے آخری بار تو ہر روز شام کو سیر کے لئے حضرت ام المومنین کے ہمران فٹن پر تشریف لے جایا کرتے تھے اور میں بائسیکل پر حضور کی اردل میں ہوتا تھا۔ ایک اور شام کے وقت جب ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب کے مکان پر بعد سیر پہنچے تو فٹن والا کچھ کرایہ زیادہ مانگتا تھا اور حضرت نانا جان کچھ کم دیتے تھے حتی کہ کچھ جھگڑا ہو گیا۔ جب جھگڑا کی آواز حضرت صاحب کو پہنچی تو حضرت بنفس نفیس باہر تشریف لے آئے اور فرمایا کیا بات ہے؟ میر صاحب نے کہا یہ لوگ بڑے بے ایمان ہوتے ہیں کرایہ زیادہ مانگتے ہیں ہم نے جو مناسب تھا دے دیا ہے۔ حضور نے اس فٹن والے کوچوان کو بلایا اور کہا کہ اور کیا چاہئیے ۔ اس نے کہا حضور ایک روپیہ مجھے اور ملنا چاہئیے۔ حضور اندر گئے اور ایک دو منٹ کے بعد ایک روپیہ لا کر اس کو دے دیا اور میر صاحب کو فرمانے لگے کہ مزدوری سے کم نہیں دینا چاہئے چنانچہ وہ کوچوان بہت خوش ہوا اور حضور کے اخلاق کی بہت تعریف کی۔
    ایک دفعہ میں لاہور سے قادیان گیا کیونکہ میں حضرت صاحب کو روزانہ خط لکھا کرتا تھا اس واسطے حضرت اقدس کو بھی میرے ساتھ بہت محبت ہو گئی جب کبھی میں لاہورسے جاتا فوراً ہی مجھے شرف ملاقات بخشتے۔ کبھی مجھے اندر بلاتے کبھی خود باہر تشریف لاتے۔ایک دفعہ میں قادیان گیا تو حضور مسجد مبارک میں تشریف لائے اور فرمانے لگے آپ یہاں بیٹھ جائیں میں آپ کے لئے کچھ کھانا لاتا ہوں۔ چنانچہ میں باری کے آگے بیٹھ گیا۔ حضور اندر تشریف لے گئے کوئی پندرہ بیس منٹ کے بعد سویوں کی ایک تھال اپنے دست مبارک میں اٹھائی ہوئی میرے لئے لے آئے اور فرمانے لگے یہ ابھی آپ کے لئے اپنے گھر والوں سے پکوا کر لایا ہوں۔ میں بہت شرمسار ہوا کہ حضور کو تکلیف ہوئی مگر دل میں مَیں خوش بھی ہوا کہ حضرت اقدس کے دست مبارک سے مجھے یہ پاکیزہ غذامیسر ہوئی ہے۔ چنانچہ میں نے سویاں کھائیں اور بہت خدا کا شکر ادا کیا۔ پھر حضور نے مجھے رات کو فرمایا کہ آج آپ یہیں سوئیں۔ چنانچہ مسجد کے ساتھ کے باری والے کمرہ میں اکیلا سویا مگر مجھے رات بھر نیند نہ آئی اور میں جاگتا ہی رہا اور دعائیں کرتا رہا اور دل میں خیال کرتا تھا کہ میرا یہاں سونا کسی غفلت کا موجب نہ ہو۔تا کہ حضرت کو روحانی طور پر یہ معلوم نہ ہو جائے کہ میں سویا رہا ہوں اس خوف سے میں جاگتا رہا اور درود شریف پڑھتا رہا اور دعائیں کرتا رہا۔ جب چار بجے حضور خود میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ آپ جاگیں اب نماز کا وقت ہونے والا ہے۔ میں تو پہلے ہی جاگتا تھا اٹھ کھڑا ہوا اور مسجد مبارک میں آگیا۔ اتنے میں اذان ہوئی اور حضرت اقدس بھی تشریف لائے اور نماز پڑھی۔
    ایک دفعہ میں لاہور سے گیا۔ میں نے اپنے آنے کی اطلاع حضرت اقدس کو لکھ دی اور آپ حضرت حکیم الامت مولانا نورالدین کی مجلس مبارک میں آبیٹھا۔ اتنے میں مائی دادی آئی کہ محبوب عالم جو لاہور سے آیا ہے اس کو حضرت بلا رہے ہیں۔ حضرت مولوی صاحب نے میری طرف دیکھا اور تبسم فرمایا اور کہا کہ کام بن گیا ہے۔ جائیے۔ جب میں چلا میرے پیچھے پیچھے حافظ غلام رسول وزیر آبادی بھی چلے آٖئے۔ غالباً حافظ صاحب نے یہ سمجھا ہو گا کہ پردہ تو ہو گا ہی میں بھی مل لوں گا۔ چنانچہ میں جب حضرت صاحب کے پاس اندر چلا گیا میرے پیچھے ہی معاً حضرت حافظ صاحب بھی داخل ہو گئے۔ حضرت اقدس نے السلام علیکم کے بعد حضرت حافظ صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ حافظ صاحب آپ بلا اجازت تشریف لائے ہیں قرآن شریف کے یہ خلاف ہے۔ اس پر حافظ صاحب بہت نادم ہوئے مگر حضرت اقدس نے میری طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ منشی صاحب آپ نے میرا نیا بیت الدعا دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا حضور نہیں۔ آپ نے فرمایا وہ سامنے ہے آپ جا کر دیکھیں۔ میں بیت الدعا کے اندر چلا گیا اور وہاں دو نفل نماز پڑھی۔ اتنے میں حافظ صاحب اپنی بات چیت کر کے فارغ ہو گئے اور ان کو حضرت صاحب نے رخصت کر دیا۔ میں بھی دعا سے فارغ ہو گیا پھر میں حضرت کی خدمت میں آگیا۔ صحن میں چارپائی پر حضرت صاحب لیٹے ہوئے تھے میں پائوں دبانے لگ گیا۔ حضرت صاحب میرے ساتھ باتیں کرتے رہے۔ وہ باتیں رشتہ کے متعلق ہی تھیں۔ کوئی آدھے گھنٹہ سے زیادہ میں نے حضرت صاحب سے باتیں کیں۔
    ایک دفعہ حضرت صاحب خوا جہ کمال الدین صاحب کے مکان پر لاہور میں تشریف فرما تھے۔ ایک سیاح انگریز جو غالباً امریکن تھا وہ اور اس کی لیڈی ملاقات کے لئے آئے ۔ حضور نے ان کوشرف ملاقات بخشا۔ اس نے کچھ سوالات اپنی پاکٹ بک میں لکھے ہوئے تھے وہ پوچھنے چاہتا تھا۔ وہ انگریزی میں گفتگو کرتا تھا اور اس کا ترجمہ مفتی محمد صادق کی موجودگی میں خوا جہ کمال الدین یا مولوی محمد علی صاحب کرتے تھے مجھے صحیح طور پر یاد نہیں رہا کہ ان دونوں میں سے کون تھا۔ ابھی سلسلہ سوال و جواب کا شروع نہیں ہوا تھا حضرت کرسی پر ہی تشریف فرما تھے حضور کا چہرہ متغیر ہوتا چلا گیا اور بدن سرد ہوتا چلا گیا۔ مجھے مفتی صاحب نے فرمایا کہ میز کے نیچے ہو کر حضرت صاحب کے پائوں دبائو۔ چنانچہ میں اس میز کے نیچے گھس گیا اور حضرت صاحب کے پائوں کو دبانا شروع کیا۔ میں نے دیکھا کہ میرے ہاتھ گویا برف پر ہیں۔ میں بہت زور سے ملتا تھا ۔ حضرت اقدس کے پائوں میں کچھ گرمائی آئی تھی یہ کیفیت کوئی دس منٹ تک رہی۔ اس کے بعد حضرت صاحب کا چہرہ سرخ ہوتا چلا گیا اور بدن میں حرارت آتی گئی۔ یہاں تک کہ حضرت صاحب کا چہرہ خوب سرخ ہو گیا اور آواز بھی اونچی ہوگئی۔ مفتی صاحب نے مجھے فرمایا کہ حضرت صاحب پر خاص حالت طاری ہے جو عام طور پر الہام کی صورت میں ہوتی ہے۔ چنانچہ حضور نے خود فرمایا کہ مجھے خدا نے ابھی ان کے سوالوں کے جوابات سمجھائے ہیں۔ چنانچہ وہ انگریز ایک ایک سوال کرتا تھا اور حضرت اس کا جواب دیتے تھے اور ترجمان ترجمہ کر کے سناتا تھا۔ کیونکہ حصرت اردو میں فرماتے تھے اس لئے میں سب سوالوں کو سمجھتا تھا۔
    پہلا سوال جو اس نے حضرت صاحب سے دریافت کیا یہ تھا کہ آپ کے سچا ہونے کی دلیل کیا ہے؟
    حضور نے جواباً فرمایا تھا کہ آپ کا یہاں آنا ہی میری سچائی کی دلیل ہے۔ وہ حیران ہوا اور پوچھنے لگا ۔ کہ میرا آنا آپ کی سچائی کی کیسے دلیل ہو گیا۔ حضور نے فرمایا کہ آج سے کئی سال پہلے خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تیرے پاس دور دور سے لوگ آئیں گے۔ اس وقت مجھے یہ کہاں معلوم تھا کہ آپ امریکہ سے میری ملاقات کے لئے آئیں گے۔ بہر حال یہ خدا کا کلام ہے جو آج پورا ہوا۔ پھر وہ کوئی بعد الموت حالت کے متعلق سوال کرتا تھا حضرت صاحب جواب دیتے رہے۔ پھر اس نے کہا کہ میں قادیان آنا چاہتا ہوں حضور اجازت دیں۔ فرمایا ہاں آپ آ سکتے ہیں۔ چنانچہ وہ پھر گیا اور ملاقات کی مگر میں اس وقت لاہور میں ہی تھا۔ اس نے یہ بات کہی تھی کہ میرے یہ سوال ہیں میں دنیا میں بہت پھرا ہوں۔ مگر ان کو جوابات سوائے آپ کے اور کہیں سے نہیں ملے۔
    انہی ایام میں سر فضل حسین ملاقات کے لئے آئے اور خواجہ کمال الدین نے حضور سے عرض کیا کہ میاں فضل حسین ملنے کے لئے آئے ہیں۔ چنانچہ حضرت صاحب باہر تشریف لائے۔ گلی میں چارپائی بچھائی گئی وہاں حضرت صاحب بیٹھ گئے اور ریویو کے متعلق سرفضل حسین نے تجویز پیش کی کہ یہ رسالہ بہت مفید کام کر رہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں لاکھوں کی تعداد میں شائع ہو۔ ہم اس کے روپیہ کا انتظام خود کریں گے حضور کو کوئی دقت نہ ہو گی۔ صرف ہم یہ چاہتے ہیں کہ حضور اس میں اپنے الہامات اور دعویٰ شائع نہ فرمایا کریں۔ حضرت صاحب نے خواجہ کمال الدین کو مخاطب کر کے فرمایا کہ خواجہ صاحب آپ کی کیا رائے ہے؟ خواجہ صاحب بولے کہ حضرت یہ تجویز مجھے بڑی پسند ہے اور یہ کام مبارک ہے۔ ہم حضور کے الہام کسی علیحدہ رسالہ میںہ شائع کر دیا کریں گے۔ مولوی محمد علی صاحب نے بھی قریب قریب یہی رائے دی۔ حضرت صاحب کا چہرہ سرخ ہو گیا اور حضور نے تقریر فرمائی۔ خواجہ صاحب کو مخاطب کیا اور فرمایا کہ خواجہ صاحب آپ پھر مردہ اسلام کو لوگوں کے سامنے پیش کریں گے۔ خدا کی تازہ بتازہ وحی اور الہام جو مجھ پر نازل ہوتا ہے اس کو چھور دیا جائے تو باقی اسلام کیا رہ جاتا ہے۔ وہ مردہ اسلام تو پہلے ہی لوگوں کے پاس ہے۔ پھر میرے آنے کی کیا ضرورت ہے۔ مجھے تو خدا نے اسی لئے بھیجا ہے کہ میں اسلام کو زندہ نشانوں کے ساتھ تازہ کروں۔ روپیہ کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں۔ پس وہ شرمندہ ہوئے اور سر فضل حسین ناکام واپس چلا گیا۔
    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت صاحب مع حضرت ام المومنین شالامار باغ سے سیر کر کے واپس آرہے تھے ۔ حضور فٹن پر سوار تھے اور میں سائیکل پر سوار تھا اور ساتھ ساتھ آرہا تھا۔ حضور نے اپنا سر مبارک فٹن کی باری سے باہر نکالا اور میری طرف دیکھا اور تبسم فرما کر کہا کہ سائیکل پر سوار انسان ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کتے پر سوار ہے۔میں بھی حضور کی یہ بات سن کر ہنس پڑا۔ چونکہ فٹن پر سے اگر سائیکل کو دیکھا جائے تو سائیکل بہت نیچی معلوم ہوتی ہے اور ہینڈل بائیسکل کا بالکل کتے کے کانوں کی طرح معلوم ہوتا ہے۔ اس لئے حضور نے یہ فرمایا۔ اس زمانہ میں فٹن بہت اونچی ہوا کرتی تھی۔ دو گھوڑے آگے ہوتے تھے۔ اس وقت ٹانگہ کا کوئی رواج نہیں تھا یا یکہ یا فٹن۔
    حضور کا حکم تھا کہ جب ہم سیر کے لئے جائیں تو کوئی نہ کوئی سائیکل سوار ساتھ رہے کیونکہ بعض دفعہ کوئی فوری ضرورت پیش آجاتی ہے چنانچہ میں اکثر اس خدمت کو بجالاتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ حضور حضرت ام المومنین کے ساتھ لارنس گارڈن میں تشریف فرما تھے کہ حضرت ام المومنین نے فرمایا مجھے سخت پیاس لگی ہے۔ حضرت اقدس نے مجھے فرمایا کہ کیا کہیں سے دودھ اور برف مل سکتی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ ہاں حضرت سب کچھ مل سکتا ہے۔ اس پر میں بائیسکل لے کر لارنس گارڈن کے باہر دکان پر گیا معلوم کیا کہ دودھ اور برف موجود ہے برتن نہیں تھا۔ پاس ہی باغ میں ایک کنواں تھا وہاں مالی سے میں نے ایک ٹنڈ لینے کی اجازت لی اس نے مجھے ’’مھل‘‘ سے کھول کر دی۔ میں وہ لے گیا اور اس میں دودھ اور برف لایا۔ حضرت صاحب کو پیش کیا۔ حضرت ام المومنین نے بھی پیا اور بڑی خوشی کا اظہار فرمایا۔فرمایا یہ آپ کو ٹنڈ کہاں سے ملی؟ عرض کیا حضور اس کنوئیں سے مالی سے مانگ کر لایا ہوں۔ فرمایا اب اس کو واپس دے آئو۔ چنانچہ میں گیا اور اس کو واپس دے آیا۔ یہ آخری بار آنے کی بات ہے۔
    اسی سفر کا ایک اور واقعہ ہے بلکہ بالکل آخری واقعہ ہی یہ ہے۔ عصر کا وقت تھا۔ حضرت ام المومنین نے فرمایا کہ چلو سیر کو چلیں۔ میں باہر برآمدے میں کھڑا سن رہا تھا۔ حضرت نے فرمایا چند سطریں رہ گئی ہیں پھر ہمارا کام ختم ہو جائے گا۔ چنانچہ حضور کوئی آدھے گھنٹے کے بعد فارغ ہوئے اور جب باہر تشریف لائے تو ایک صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا آج ہم نے اپنا کام ختم کر دیا ہے۔ پھر فٹن پر سوار ہو کر سیر کو چلے گئے۔ ٹھنڈی سڑک سے ہو کر انار کلی میں آٖئے۔ حضورنے مجھے حکم دیا کہ کیسری کی دکان پر فٹن کھڑی کرنا۔ چنانچہ کیسری کی دکان پر جب ہم پہنچے فٹن کھڑی کی۔ حضور نے فرمایا کہ لیمن کی دو بوتلیں تھوڑی برف ڈال کر لائیں۔ چنانچہ دو بوتلیں مع برف حضرت کی خدمت میں پیش کیں۔ ایک حضرت ام المومنین نے اور ایک حضرت صاحب نے نوش فرمائیں۔ حضرت ام المومنین نے مجھے فرمایا کہ وہ دہلی والا کچوڑیاں بنا رہا ہے اس سے دو آنہ کی کچوڑیاں لائیں۔ چنانچہ میں گیا اور دو آنہ کی کچوڑیاں لا کر حضرت کی خدمت میں دے دیں۔ پھر وہاں سے لوہاری دروازے سے ہوتے ہوئے ریلوے روڈ پر سیر کرتے کراتے خواجہ کمال دین کے مکان پر مغرب کے وقت کے بعدپہنچ گئے۔ میں پھر گھر چلا گیا اور صبح میں سیدھا مکان پر چلا گیا۔ آٹھ بجے کی ڈاک جب چٹھی رساں لایا توچٹھی رساں نے مجھے کہا کہ مرزا صاحب فوت ہو گئے ہیں۔ وہاں بہت خلقت جمع ہے آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟ بہت ناراض ہوا اور سخت ست کہا مگر مجھے کوئی یقین نہیں تھا کہ حضرت صاحب کی وفات ہو گئی۔ اتنے میں ایک اور شخص نے آکر کہا کہ تمہارا مرزا فوت ہو گیا تب میں نے اس کو بھی شرمندہ کیا اور کہا کہ تم لوگ ہمیشہ جھوٹ کہنے کے عادی ہو۔ مگر ان دو پیغاموں سے میرا دل تشویش میں پڑ گیا۔ میں نے ایک اپنا خاص ملازم سائیکل سوار بھیجا کہ جائو خبر لائو کیا بات ہے؟ میرا آدمی جا چکا تھا کہ تھوڑے عرصہ کے بعد شیخ رحمت اللہ صاحب مالک انگلش وئیر ہائوس مع خواجہ کمال الدین صاحب میری دکان پر ٹانگے میں پہنچ گئے اور کہا کہ حضرت اقدس کا وصال ہو گیا ہے۔ تب میرا دل پژ مردہ ہو گیا اور میں سکتہ کی حالت میں ہو گیا کہ یا الٰہی یہ کیا ماجرا ہے۔ میں نے بھی سائیکل اٹھائی اور بھاگا۔ جب وہاں پہنچا تو غیر احمدیوں کا بے شمار ہجوم باہر نعرے لگا رہا تھا اور بکواس کر رہے تھے۔ میں جب اندر گیا حضرت مولوی نورالدین صاحب بیٹھے تھے اور وفات کا ذکر ہو رہا تھا۔ پھر مجھے یقین ہوا کہ واقعی وفات ہو گئی ہے۔ میں اور ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ سڑک پر کھڑے تھے کہ ایک شخص مخالف جو وہ بھی ڈاکٹر ہی تھا اور اس کا نام سعید تھا۔ اس نے آکر ہمیں مخاطب کیا اور کہا کہ مرزا فوت ہو گیا ہے۔ اب بتائو تمہاری پیشگوئیاں کہاں گئیں اور وہ کس طرح پوری ہوئیں؟ میں حیران تھا کہ میں کیا جواب دوں۔ میں خاموش رہا مگر ڈاکٹر محمد حسین صاحب نے جواب دیا کہ وہ پیشگوئیاں اب ہمارے ذریعہ پوری ہوں گی۔ مجھے ان کے اس جواب سے بہت فائدہ پہنچا۔
    پھر ڈاکٹر محمد حسین اور مرزا یعقوب بیگ سول سرجن کو لائے۔ سول سرجن کا نام غالباً Canagaume کینگیم تھا۔ ان ایام میں قانون تھا کہ جب تک سول سرجن کا سرٹیفیکیٹ نہ تو لاش باہر نہیں لے جا سکتی تھی۔ اب نامعلوم کیا قانون ہے؟ اس نے آکر لاش کا ملاحظہ کیا اور سرٹیفیکیٹ دیا۔ غالباً اس نے یہ لکھا تھا کہ گردے کی تکلیف سے وفات واقعہ ہوئی ہے۔ پھر اس کے بعد میں اور نور محمد جو بعد میں مرتد ہو گیا اور خلیفہ رجب الدین اور چند اور دوستوں نے ڈاکٹر محمد حسین کے مکان میں نیچے غسل دیا اور کفن دیا۔ اتنے میں خلیفہ رجب الدین کو خیال آیا کہ باہر لوگ مشہور کر رہے ہیں کہ مرزا صاحب کے ہاتھ پائوں میں کوڑھ ہو گیا ہے اور یہ بات بعد میں آنے والے لوگوں کے لئے پریشان کا موجب ہو گی۔ ہم کیوں نہ لوگوں کو زیارت کرائیں۔ چنانچہ میں نے خلیفہ رجب الدین کی اس بات سے اتفاق کیا۔ میں اور خلیفہ صاحب سڑک پر چلے گئے اور سڑک پر جا کر آواز دی۔ کہ مرزا صاحب وفات پا گئے ہیں جو شخص زیارت کرنا چاہے بلاتمیز مذہب و ملت زیارت کر سکتا ہے۔ چنانچہ پچاس پچاس چالیس چالیس لوگ اکٹھے آتے تھے اور ہم نے حضرت صاحب کے پائوں اور ہاتھ اور منہ کھلا رکھا ہوا تھا۔ لوگ زیارت کر کے جاتے تھے اور ہندو لوگ میت کو دیکھ کر ہاتھ جوڑ کر سلام کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ تو زندہ ہی لیٹے ہوئے ہیں ان کے چہرہ پر موت کا کوئی نشان نہیں ہے۔ اس روز ہم نے بعد دوپہر تک لوگوں کو پے در پے زیارت کرائی۔
    پیر جماعت علی نے باہر سڑک پر جمگٹھا لگایا ہوا تھا اور لوگوں کو کہتا تھا کہ مرزا صاحب کو نعوذ باللہ جذام ہو گیا ہے کبھی کہتا ہیضہ سے مر گئے ہیں۔ لوگوں نے اس کی باتوں سے متاثر ہو کر شہر میں ایک جلوس نکالا ایک آدمی کا منہ کالا کر دیا اس کو میت بنا کر چارپائی پر لٹا دیا اور بازاروں میں پھراتے تھے اور کہتے تھے ہائے ہائے مرزا مر گیا اور بھی اس قسم کی بے ہودہ آوازیں نکالتے تھے۔ موچی دروازہ وغیرہ میں اس کو پھرایا گیا۔
    غرض جب لوگ زیارت کر چکے تو خلیفہ رجب الدین نے اپنی کنگی جیب سے نکالی اور حضرت کی داڑھی مبارک میں کنگھی کی تا کہ بال سیدھے ہو جائیں اور جو بال اس میں سے کنگھی کے ساتھ نکلے وہ اس نے اپنے پاس رکھ لئے۔
    اس کے بعد حضرت کا جنازہ اٹھا کر صندوق میں برف ڈال کر بند کر دیا گیا۔ اوپر روئی رکھ دی گئی اور گاڑی پر بٹالہ تک لے گئے۔ میں اسی بوگی میں بیٹھا تھا جس میں لاش تھی۔ ایک دو اور آدمی بھی تھے جن کے نام اس وقت مجھے یاد نہیں۔
    شیخ رحمت اللہ صاحب نے جب اپنے بھائی محبوب علی سے دکان الگ کی اور ٹھنڈی سڑک پر لے گئے حضرت اقدس لاہور میں تھے۔ انہوں نے حضرت صاحب کو بلایا اور دکان میں سے گزار کر مکان کے پیچھے جو کمرہ تھا اور نشست گاہ کا کام دیتا تھا اس میں لے جانے کی کوشش کی۔ مگر حضرت صاحب نے دکان سے گزر کر جانا منظور نہ کیا کسی دوسرے رستہ سے گزر کر وہاں پہنچے۔ فرمایا تھا کہ ہم دکان سے گزر کر نہیں جائیں گے۔ میں بھی حضرت صاحب کے ساتھ ہی اس کمرہ میں گیا تھا۔ باتیں ہوتی رہیں۔ شیخ صاحب نے بمبئی کے سرخ کیلوں کا ایک گچھا پیش کیا۔ حضور نے فرمایا مجھے زکام ہے میں نہیں کھا سکتا۔ اس نے بہت اصرار کیا کہ حضور ایک تو کھائیں حضور نے اس کے اصرار پر ایک کیلا اپنے ہاتھ میں لیا اور چھیل کر تناول فرمایا جس سے حضور کو کچھ تکلیف ہوئی اور فرمایا تھا کہ کیلے کی وجہ سے ریزش زیادہ ہو گئی ہے۔ پھر حضور وہاں سے باہر کی طرف سے ہی تشریف لے آئے دکان کے اندر سے نہیں گزرے۔
    حضرت صاحب نے جب الوصیت رسالہ تصنیف فرمایا اور مسجد مبارک میں تشریف لائیاور مجھے ہی فرمایا کہ کوئی دوست باہر ہوں ان کو بلا لائو۔ کیونکہ نماز کا وقت نہیں تھامیں لوگوں کو اکٹھا کر کے لے آیا۔ خوا جہ کمال الدین صاحب بھی آگئے غالباً ڈاکٹر یعقوب بیگ اور ڈاکٹر محمد حسین میں سے بھی کوئی موجود تھا۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ڈاکٹر یعقوب بیگ تھے۔ جب لوگ اکٹھے ہو گئے تو فرمایا کہ مجھے اپنی وفات کے متعلق بار بار الہام ہوئے ہیں اور اس کثرت سے ہوئے ہیں کہ انہوں نے میری ہستی کی بنیاد کو ہلا دیا ہے۔ تب میں نے چاہا کہ جماعت کے لئے کوئی لائحہ عمل بنائوں۔ چنانچہ میں نے ایک وصیت لکھی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ لوگوں کو سنا دوں۔ سب نے کہا کہ بہت اچھا۔ حضور اندر تشریف لے گئے اور مسودہ اٹھا لائے اور خواجہ کمال الدین کو ہی فرمایا کہ آپ پڑھ کر سنائیں۔ چنانچہ مسجد مبارک میں احباب کے درمیان وہ مسودہ پڑھا گیا۔ سب نے پسند کیا ۔ مجلس برخاست ہو گئی۔ حضرت اندر تشریف لے گئے۔ چند ایک دوست بیٹھے رہے۔ ان میں مَیں اور خواجہ کمال الدین صاحب موجود تھے۔ خواجہ صاحب نے ایک دوست کو مخاطب ہو کر کہا کہ دیکھو مرزا نے کیا ڈھنگ نکالا ہے کہ مرنے کے بعد بھی روپیہ ہی روپیہ آتا رہے۔ یہ بات مجھے اس وقت نہایت مکروہ معلوم ہوئی مگر میں چونکہ نو عمر تھا جرات نہ ہوئی کہ خواجہ صاحب سے کہتا کہ ایسے الفاظ آپ نے کیوں بولے ہیں؟ مگر میری طبیعت نے اس وقت یہ اندازہ ضرور لگایا کہ یہ منافقانہ بات ہے۔
    مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین پشاور میں مل کر وکالت کیا کرتے تھے۔ دونوں شریک تھے۔ مولوی محمد علی تو قادیان آگئے مگر خواجہ صاحب وہاں ہی رہے۔ اب حضرت صاحب پر مقدمات جو تھے غالباً کرم الدین کے مقدمات کا ذکر ہے کہ ان کی پیروی کے لئے خواجہ صاحب پشاور سے آئے۔ حضرت اقدس مبارک مسجد میں تشریف لائے۔ خواجہ صاحب نے نہایت رونی شکل بنا کر عرض کیا کہ حضرت خدا اور رسول ہی جانتا ہے کہ کس طرح یہاں پہنچا ہوں۔ بیوی کا زیور گروی رکھ کر کرایہ کے لئے رقم حاصل کر کے یہاں تک پہنچا ہوں۔ حضرت فرمانے لگے خواجہ صاحب آپ کو روپیہ کی ضرورت ہے۔ آئیے۔ حضرت اندر گئے اور خواجہ صاحب بھی ہمراہ گئے ایک ٹرنک کھولا اور دو تین بک بھر کر خواجہ کی جھولی میں ڈال دئیے اور فرمایا خواجہ صاحب بس کہ اور ۔ خواجہ نے کہا کہ بس حضور اب تو بہت ہو گئے۔ خواجہ صاحب نے وہ روپیہ بعد میں مسجد مبارک میں گِنا تو قریباً تین سو روپیہ تھا۔ خواجہ صاحب دوسرے دن گورداسپور چلے گئے ۔ حضرت نے وہ روپیہ ان گنت ہی اس کی جھولی میں ڈالا اور حضرت کی یہ عام عادت تھی کہ روپیہ خادموں کو بھی گن کر نہیں دیتے تھے پورااعتماد اور اعتبار رکھتے تھے۔ جہاں تک مجھے رہنے کا اتفاق ہوا ہے کبھی کسی خادم سے حضرت نے حساب نہیں مانگا۔ بلکہ جب کوئی مانگتا حضرت اسے دے دیتے۔
    گورداسپور دوران مقدمات میں حضرت صاحب نے وہیں رہنا شروع کر دیا۔ ایک دن کسی ریڈر نے خواجہ صاحب کے کان میں کہہ دیا کہ کل وہ فیصلہ سنائے گا اور مرزا صاحب کو سزا دینے کا خیال رکھتا ہے آپ کوئی بندوبست کریں۔ چنانچہ خواجہ صاحب گھبرائے ہوئے حضرت صاحب کے اس مکان میں تشریف لائے جہاں حضرت صاحب تشریف فرما تھے ۔ میں بھی خواجہ صاحب کے پیچھے ہو لیا۔ جب ہم داخل ہوئے حضرت صاحب چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ ہم پاس بیٹھ گئے۔ خواجہ صاحب نے وہ تشویشناک بات حضرت صاحب سے کہی کہ مجسٹریٹ صاحب ارادہ قید کرنے کا ہے یا کہا کہ جسمانی سزا دینے کا ہے۔ جونہی حضرت صاحب کے کان میں یہ آواز پہنچی حضرت اٹھ بیٹھے اور فرمانے لگے ۔ خواجہ صاحب! کیا وہ خدا کے شیر پر ہاتھ ڈالے گا۔ وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ خدا نے میرے سے وعدہ کیا ہے کہ میں تیری حفاظت کروں گا۔ ہم مطمئن ہو گئے اور باہر آگئے۔ دوسرے دن ڈپٹی کمشنر کے کمرہ کے اہلکار نے آکر ہمارے سامنے کہا کہ مجسٹریٹ نے فیصلہ حضرت صاحب کے خلاف کیا تھا یعنی اس نے بدنی سزا دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اور ڈپٹی کمشنر کے پاس منظوری لینے کے لئے یا مشورہ کے لئے گیا تھا۔غالباً اب بھی یہی قانون ہے کہ مجسٹریٹ کو اہم معاملات میں ڈپٹی کمشنر سے پوچھنا پڑتا ہے۔ مگر جب ڈپٹی کمشنر نے وہ فیصلہ پڑھا تو کہا کہ نہیں نہیں یہ فیصلہ ٹھیک نہیں ہے اگر جرم ثابت ہے تو صرف جرمانہ کی سزا ہو گی ۔ چنانچہ مجبوراً اس نے پانچ سو روپیہ جرمانہ کر دیا اور فیصلہ پانچ بجے سنایا اور دن بھی ہفتے کا تھا۔ اس کا منشا یہ تھا کہ آ نے والا دن تو قید میں رہیں مگر روپیہ کا انتظام پہلے سے کیا گیا تھا فوراً اس کے حوالہ کر دیا گیا جو عدالت عالیہ سے اپیل پر واپس مل گیا۔
    نکاح کے متعلق میں نے حضرت صاحب کو لکھا تھا کہ آپ تو واقعی پیر کامل ہیں۔ مگر جب میری قسمت اچھی نہیں تو مجھے اس کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے ۔ میں نے کارڈ پر لکھا تھا کہ ’’ تہیدستان قسمت راچہ سود از رہبر کامل‘‘ جس سے میرا منشا یہی بتانے کا تھا کہ آپ تو رہبر کامل ہیں۔ مگر میری قسمت جب اچھی نہیں تو میرا کیا بن سکتا ہے۔ حضرت صاحب نے مولوی عبدالکریم صاحب کو فرمایا کہ ان کو لکھو کہ مایوسی اچھی نہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے مجھے لکھا اور ساتھ ہی اپنی طرف سے بھی لکھا کہ ’’ خبردار خبردار ! ایسا نہ ہو۔ کہ یہ دنیا کی کیچڑ میں آپ پھنس جائیں۔ یہ دلدل ہے یہاں پائوں بچا کر آپ کو چلنا چاہئے۔ ‘‘ مجھے اس خط سے کچھ شرمندگی ہوئی۔
    ایک دفعہ میں قادیان میں گیا۔ حضرت صاحب سے مسجد مبارک میں ملاقات کی۔ حضور ہنسے اور مسکرائے اور فرمایا کہ آپ نے دعا کا پہاڑ بنانا ہے۔ آپ کے لئے دعا میں نے بہت کی ہے اور مجھے کامل یقین ہے کہ خدا میری دعا کو ضائع نہیں کرے گا۔ جب حضرت صاحب نے بہشتی مقبرہ کے لئے اپنی طرف سے زمین دی تو اس کا نقشہ بنانے کے لئے میاں محمد موسیٰ صاحب کو کہا۔ چنانچہ انہوں نے اس کا نقشہ تیار کیا اور اس جگہ نشان کر کے جس جگہ حضرت صاحب خود مدفون ہیں عرض کیا کہ یہ جگہ مجھے دی جائے۔ حضرت مسکرائے اور فرمایا کہ’’ ماتدری نفس بای ارض تموت۱؎ ‘‘۔ اس پر حاجی صاحب خاموش ہو گئے ۔ بعد ازاں وصال ہونے پر حضرت صاحب خود وہاں دفن ہوئے۔
    ہمارے محلہ میں ایک غیر احمدی فالودہ بنایا کرتے تھے۔ جب حضرت صاحب خواجہ
    کمال الدین کے مکان پر تشریف لائے تو اس فالودہ بنانے والے نے مجھے کہا کہ اگر حضور سے اجازت لے دیں تو میں حضور کو فالودہ پلانا چاہتا ہوں۔ چنانچہ میں نے حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کی۔ حضور نے منظور فرما لیا۔ چنانچہ وہ سب سامان لے کر وہاں چلا گیا۔ حضرت صاحب خواجہ کمال الدین کے صحن میں پلنگ پر تشریف فرما تھے۔ میں نے اس کو پیش کیا۔ حضور نے ازراہ کرم فرمایا کہ آپ فالودہ بنائیں۔ چنانچہ وہ باہر بیٹھ گیا اور اس نے ایک پیالہ فالودہ کا بنا کر حضور کو پیش کیا حضور نے اس کو نوش فرمایا اور بہت پسندیدگی کا اظہار کیا۔ فرمایا کہ یہ فالودہ بہت عمدہ ہے۔ پھر اس نے دس بارہ پیالے بنا کر اندر بھیجے۔سب نے پئے۔ جب وہ فالودہ پلا چکا تو حضرت صاحب نے دو روپے نکال کر مجھے دئیے کہ اس کو آپ دے دیں۔ چنانچہ میں نے وہ دو روپے میاں عمر دین فالودہ بنانے والے کو دئیے۔ مگر اس نے لینے سے انکار کر دیا اور مجھے کہا کہ مجھے حضرت کے حضور پیش کرو۔ چنانچہ میں اس کو حضرت کی خدمت میں لے گیا۔ اس نے حضرت کے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے اور کہا کہ حضرت مجھے دو روپے درکار نہیں۔ میں نے بطور ہدیہ فالوہ پیش کیا ہے۔اس کے اصرار پر حضرت صاحب نے روپے واپس لے لئے اور اس کوجزاکم اللہ احسن الجزاء فرمایا۔ اب اس کے لڑکے اچھے عہدوں پر سرفراز ہیں اور وہ خود فوت ہو چکا ہے۔
    جس وقت میرا نکاح حضرت صاحب کی دعا کی برکت سے ہو گیا تو میں نے اپنی ساس کو تبلیغ کی وہ بہت متاثر ہوئی۔ ایک دن اس نے مجھے اپنا زیور اتار کر دے دیا کہ یہ حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کر دو اور ان سے عرض کرو کہ اس کا عوض مجھے قیامت کو ملے۔ چنانچہ میں وہ زیور لے کر قادیان گیا اور حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کیا کہ یہ میری ساس نے دیا ہے اور اس نے عرض کیا ہے کہ اس کا عوض قیامت میں مجھے ملے۔ حضور نے وہ قبول فرمایا اور زبان مبارک سے فرمایا انشاء اللہ تعالیٰ اس کا عوض ان کو مل جائے گا۔ایک مدت کے بعد جب وہ فوت ہو گئیں او رمیں نے ان کا جنازہ نہ پڑھا کیونکہ انہوں نے بیعت نہیں کی تھی۔ جب میں حضرت اقدس کی خدمت میں گیا (قریباً ۱۹۰۶ء کا واقعہ ہے) اور میں نے عرض کیا کہ وہ فوت ہو گئی ہیں مگر میں نے ان کا جنازہ نہیں پڑھا۔ حضور نے فرمایا ان کا جنازہ پڑھ لینا چاہئے تھا کیونکہ انہوں نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ وہ احمدی ہیں۔
    میاں معراج الدین صاحب عمر کے رشتہ داروں میں سے ایک شخص میاں فیروز الدین صاحب تھے۔ وہ میاں سلطان کے متبنیٰ بھی تھے ۔ وہ جب بڑھاپے کو پہنچ گئے تو ان کے گھٹنے اپنے آپ نہیں ہل سکتے تھے کوئی دوسرا آدمی ان کو کھڑا کرتا تھا تو وہ چل پڑتے تھے۔ جب وہ خواجہ کمال الدین کے مکان پر حضرت صاحب کی ملاقات کو گئے اور حضرت کی کرسی کے پاس ہی بیٹھ گئے ۔ حضرت نے از راہ تِرحم پوچھا ۔ میاں صاحب کیا تکلیف ہے؟ تو اس نے جواب میں کہا کہ حضور کا کتا ہوں اور تنگ حال ہوں گھٹنے نہیں چلتے ۔ حضور نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اس کے گھٹنے پر پھیرنا شروع کیا ۔ کوئی دو تین منٹ تک حضور نے دونوں گھٹنوں پر اپنا دست مبارک پھیرا اور فرمایا اٹھ بیٹھو۔ چنانچہ میاں فیروزالدین اٹھ بیٹھااور چلنے لگا۔ بس پھر باقی عمر کا حصہ اس کو گھٹنے کی کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ وہ خوب چلتے تھے اور کہتے تھے کہ مجھے حضور کا خیر پڑ گیا ہے۔
    میرے پیٹ کے بائیں طرف رسولی ہو گئی۔ میں ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے پاس ہی رہا کرتاتھا۔ (ڈاکٹر صاحب ۲۶؍ اپریل اور ۲۷؍ اپریل کی درمیانی رات کو دس بجے فوت ہو گئے ہیں اور ہمیںا بھی اطلاع ملی ہے)۔ انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ آپ اس کا جلدی آپریش کرائیں۔ میں نے ان کو کہا کہ میں حضرت اقدس سے پوچھ کر آپریش کراوئں گا۔ چنانچہ میں قادیان میں گیا حضرت اقدس مسجد مبارک میں تشریف فرما تھے۔ میں نے رونی شکل بنائی مایوس تو پہلے ہی تھا۔ عرض کیا کہ حضرت میں تو اب بہت خوفزدہ ہوں ڈاکٹر میرا پیٹ چاک کریں گے پتہ نہیں نتیجہ کیا ہو گا۔ تب حضور نے آنکھیں کھولیں اور میری طرف دیکھا حضور کی آنکھوں سے محبت کا اظہار ہو ا تھا۔ فرمایا کہاں ہے رسولی؟ میں نے کپڑا اٹھایا اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر اپنی رسولی پر رکھا۔ حضور نے اپنا دست مبارک تین چار دفعہ اس پر پھیرا اور فرمایا تین چار سال تک کوئی آپریشن نہ کرائیں۔ بعض رسولیاں بڑھا نہیں کرتیں۔ اگر اس عرصہ کے بعد ضرورت ہوئی تو آپریش کرا لینا۔ چنانچہ اس بات کو اب چھتیس سال کا عرصہ گزر رہا ہے مگر وہ وہاں کی وہیں ہے آگے نہیں بڑھی۔ جب لاہو ر میں حضرت صاحب ایک لیکچر کے ارادہ سے تشریف لائے کسی شخص نے ایک کارڈ لکھا کہ جب آپ باہر نکلیں گے میں آپ کا پیٹ چاک کر دوں گا۔ حضرت صاحب نے اس کو معمولی سمجھ کر اس کی طرف التفات نہ کی مگر یہ بات باہر نکلتے نکلتے کہیں پولیس کے محکمے میں پہنچ گئی۔ وہاں سے کوئی افسر دریافت کرنے کے لئے آگیا کہ کیا ایسا کوئی کارڈ آیا ہے؟ حضور نے فرمایا کہ ہاں ایسا کارڈ آیا ہے۔ ان کے طلب کرنے پر حضور نے وہ کارڈ ان کے حوالہ کر دیا وہ کارڈ لے گئے۔ دو دن بعد ڈپٹی کمشنر صاحب نے کہلا بھیجا کہ حضور اگر پسند فرمائیں تو اس لیکچر کو لیٹ کر دیں تا کہ گورنمنٹ حفظ امن کے لئے انتظام کرلے۔ چنانچہ حضور نے اس کو دوسرے ہفتہ پر ملتوی کر دیا۔ سرکار نے اس کا انتظام باحسن طریق کیا۔ جس دن حضور کا لیکچر تھا میاں معراج الدین کے مکان میں حضرت صاحب تشریف فرما تھے۔ یہاں سے لیکچر منڈوہ تک جو لیکچر گاہ تھا پولیس ، فوج، رسالہ کا کافی انتظام تھا۔ چھڑکائو کا بڑا انتظام تھا۔ کوتوال شہر رحمت اللہ خان تھا۔ اس کے نام آرڈر تھا کہ حضرت اقدس کو اپنی قیام گاہ سے لے کر جلسہ گاہ تک پہنچانا۔ اور جلسہ گاہ سے پھر قیام تک واپس پہنچانا چنانچہ وہ باوردی آئے انہوں نے مجھ سے ہی آکر پوچھا کہ حضرت صاحب کہاں ہیں؟ میں نے عرض کیا حضرت صاحب اوپر ہیں۔ اس نے کہا کہ میں حضرت صاحب کی خدمت میں اوپر جانا چاہتا ہوں اور وہاں سے ان کو ساتھ نیچے لائوں گا۔ چنانچہ ہم نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کیا۔ حضور نے فرمایا اوپر آجائیں۔ وہ اوپر گیا حضرت صاحب کو سلام کیا اور عرض کیا کہ حضور تشریف لے چلیں۔ حضرت صاحب اس کے ساتھ نیچے اتر آئے اور فٹن میں بیٹھ گئے۔ وہ بائیں طرف بیٹھ گیا میں باہر فٹن کے فٹ پاتھ پر کھڑا ہو گیا۔ کوئی ایک دوست آگے بھی کھڑے ہو گئے۔ کوئی پیچھے بھی کھڑے ہو گئے۔ فٹن آہستہ آہستہ چل پڑی فٹن کے آگے ایک رسالہ تھا اور پیچھے بھی سوار تھے اور سڑک دو رویہ پولیس کافی تعداد میں کھڑی تھی۔ سوار بھی پھر رہے تھے اور گوروں کی پلٹنیں اس کے علاوہ تھیں جو پھر رہی تھیں۔ لوگ کہتے تھے کہ یہ مرزا ہے یا کٹک آیا ہے۔ (کٹک کے معنے فوج ہی فوج کے ہیں) جب وہاں منڈوہ میں پہنچے تو اس کے اردگرد بھی گورا پلٹنیں تھیں اور کچھ فاصلہ پر بھی کافی انتظام پولیس کا تھا۔ جب اندر داخل ہوئے مولوی عبدالکریم صاحب نے لیکچر پڑھنا شروع کیا۔ ہزارہا آدمیوں کا مجمع تھا سناٹا چھایا ہوا تھا۔ مولوی عبدالکریم صاحب کی آواز تھی کہ حشر تھا۔ بعض گورے کہتے تھے کہ اتنا لائوڈ(اونچا) بولنے والا ہم نے اپنی لائف میں نہیں سنا۔ منڈوہ کے باہر بھی فرلانگ فرلانگ پر مولوی صاحب کی آواز جاتی تھی اور صحیح سنی جاتی تھی۔ جب لیکچر ختم ہوا تو لوگوں کے اصرار پر حضرت صاحب بھی کھڑے ہوئے کیونکہ حضور کی زبان مبارک سے کچھ سننا چاہتے تھے۔ چنانچہ حضرت صاحب کھڑے ہوئے اور کچھ منٹ تقریر فرمائی جو بہت توجہ سے سنی گئی۔ اس انتظام کے ماتحت دعا کے ماتحت جلسہ برخاست ہوا اور حضور قیام گاہ پرتشریف لائے بخیروعافیت۔ سولہ دن آپ کا قیام لاہور میں رہا۔ کھانے کا انتظام جن احباب کے سپرد تھا ان میں مَیں بھی شامل تھا۔
    غالباً خلیفہ رجب الدین نے کسی مہمان کو کہہ دیا کہ پانی بھی ساتھ پیو۔ یہ بات کسی طرح سے حضرت اقدس کی خدمت میں پہنچ گئی کہ مہمانوں کو تنگ کیا جاتا ہے اور کھانا خاطر خواہ نہیں ملتا۔ حضور باہر تشریف لائے اور دروازہ میں کھڑے ہو کر فرمایا کون منتظم ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ حضور ہم حضور کے خادم ہیں۔ حضور نے فرمایا۔ میں نے سنا ہے کہ لوگوں کو کھانا اچھا نہیں ملتا اور بعض کو کہا جاتا ہے کہ بازار سے کھا لو۔ کیا یہ صحیح بات ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ حضرت بے تکلفی میں کسی نے کسی کو کہا ہے ورنہ انتظام سب ٹھیک ہے۔ فرمایا نہیں ہم اپنے لنگر کا انتظام خود کریں گے۔ مہمان ہمارے ہیں؟ اور لنگر کا انتظام بھی ہمارے ہی ذمہ عائد ہوتا ہے۔ بعض دوستوں نے مل کر معافی کی درخواست کی اورآئندہ احتیاط کا وعدہ کیا۔ حضور نے معاف فرمایا اور لنگر جماعت کی طرف سے ہی جاری رہا۔
    جلسہ سالانہ کا موقع تھا اور یہ مہمانخانہ نیا ہی بنا تھا۔ (میاں بشیر احمد والا مکان) خواجہ کمال الدین صاحب کو خیال آیا کہ آج شب دیگ پکائیں ۔ شب دیگ یہ ہوتی ہے کہ ایک بکرا ثابت ذبح کر کے اس میںکچھ شلجم آدھے آدھے کرا کر اور ایک کافی مقدار گھی کی ڈال دی جائے اور ساری رات وہ چولہے پر رہے۔ خواجہ کمال الدین نے لنگرخانہ میں یہ آرڈر دے دیا کہ ایک بکرا ذبح کر کے فوراً لائو اور کافی مقدارمیں شلجم لائو۔ گھی بھی کافی مقدار میں منگوا لیا اور شام کے وقت باورچی کو بلا کر کہا کہ دیگ چولہے پر رکھ دو۔ دسمبر کا مہینہ تھا۔ گوشت بھون کر اس میں شلجم ڈال کر چولہے پر رکھ دیا گیا۔ وہ پک رہاتھا اور خواجہ صاحب تو کسی اور جگہ ٹھہرے ہوئے تھے میں اس مہمانخانہ میں ہی ٹھہرا ہوا تھا۔ مجھے سیڑھیوں سے کسی کے اترنے کی آواز آئی میں چوکنا ہو گیا۔ جب میں نے دیکھا تو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نیچے اتر رہے ہیں وقت قریباً گیارہ بارہ بجے رات کا تھا۔ حضور نے مجھے فرمایا یہ کیا پک رہا ہے؟ میں نے کہا حضور یہ شب دیگ ہے۔ حضور نے فرمایا شب دیگ کیا ہوتی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اس میں گوشت شلجم اور گھی ہے اور ساری رات پکے گی۔ فرمایا یہ کس نے پکوائی ہے؟ میں نے عرض کیا حضور یہ خواجہ کمال الدین صاحب نے پکوائی ہے۔ حضور نے یہ سن کر خاموشی اختیار کی اور حضرت صاحب کا چہرہ کسی قدر متغیر ہو گیا اور حضور واپس تشریف لے گئے۔ میں وہاں لیٹا ہوا تھا۔ رات کا کافی حصہ گزر گیا ۔ آگ سرد ہو گئی تین چار کتے آئے انہوں نے دیگ کو نیچے پھینکا اور گوشت وغیرہ کھانے لگے۔ جب سحری کا وقت ہوا اور ہم نے دیکھا کہ دیگ نیچے پڑی ہے اور کتے کھا رہے ہیں۔ ہم نے خواجہ صاحب کو بلایا وہ بھی تشریف لے آئے دیکھ کر بہت پریشان ہوئے۔ فرمانے لگے یہ باقی جو بچ گئی ہے اس کا کیا کیا جائے؟ آپ ہی فرمانے لگے کہ حضرت صاحب سے نماز کے بعد مسئلہ پوچھیں گے کہ آیا چوہڑے کو دے دی جائے جائز ہے۔ اس وقت نماز کے بعد حضور نے فرمایا کہ ایسا کرنے سے پہلے چوہڑے کو پوچھ لینا چاہئے کہ آیا وہ کتے کا جھوٹا کھانا پسند کرے گا۔ اس کے بعد کچھ الفاظ فرمائے جن کا مفہوم یہ تھا کہ حضور نے دیگ پکانے کو اسراف قرار دیا ہے۔ جب دن چڑھنے پر چوہڑے سے پوچھا گیا تو اس نے کہا میاں آپ ہی کھائوہم نہیں کھاتے۔
    لاہور لیکچر کے بعد پھر حضور سیالکوٹ تشریف لے گئے میں بھی ساتھ تھا۔ وہاں حضرت صاحب نے کرشن کا دعویٰ پبلک میں علی الاعلان پیش فرمایا۔ وہاں کے تمام علماء نے فیصلہ کیا کہ جو شخص مرزا صاحب کا لیکچر سنے گا اس کو زن طلاق ہو جائے گی۔ اس لیکچر میں بڑی اینٹیں پڑی تھیں اور ریل کے بھی شیشے توڑے تھے۔ پولیس کا بہت اچھا انتظام تھا دوران لیکچر میں لوگ نہ بول سکے مگر باہر بڑا شور تھا۔ ریلوے گارڈ نے لوگوں کو گاڑی کے شیشے توڑنے سے منع کیا مگر وہ باز نہ آئے اور کہا کہ اس میں مرزا ہے۔
    لیکچر امرتسر :۔ جب حضور دہلی سے واپس آئے رمضان شریف کے دن تھے۔امرتسر کی جماعت کے اصرار پر حضور وہاں ٹھہر گئے۔ وہاں منڈوہ میں جماعت نے ایک لیکچر کا انتظام کیا۔ دوران لیکچر میں عطاء اللہ بخاری اور اس کے ہم نشین طالب علم آئے وہ کچھ ابتری ڈالنا چاہتے تھے مگر موقع کی تلاش میں تھے۔ اتنے میں حضرت صاحب کے سامنے کسی نے چائے پیش کر دی۔ حضور نے واپس کر دی پھر تھوڑی دیر کے بعد دوسری دفعہ چائے پیش کی پھر بھی حضور نے واپس کی۔ تیسری دفعہ اصرار پر حضور نے ایک دو گھونٹ پی لئے۔ اس پر مخالفین نے شورڈالا کہ رمضان میں چائے پی جا رہی ہے اور ان کو یہ ایک موقع ہاتھ آیا اس پر انہوں نے بڑا شور ڈالا۔ حضور نے فرمایا میں تو مسافر ہوں مجھ پر روزہ فرض نہیں۔ یہ آپ کا شور بے فائدہ ہے لیکن اس پر بھی لوگ شرارت سے باز نہ آئے اور شوروشر زیادہ ہو گیا۔ اس پر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے بلند آواز سے اہل امرتسر کو شرم دلائی کہ تم نہیں جانتے کہ تمہارے درمیان اس وقت ایک خدا کا نبی کھڑا ہے۔ تم اس کی پوزیشن سے واقف نہیں۔ اس لئے میں تم سے اپیل کرتا ہوں کہ تم خاموش ہو کر حضرت صاحب کا کلام سنو۔ اس پر شور کم ہوا اور دوبارہ حضرت صاحب نے تقریر شروع کی۔حضرت صاحب نے اپنا لیکچر ختم کیا تو حضرت صاحب کو پچھلی طرف سے منڈوہ سے باہر نکالا گیاکیونکہ اگلی طرف بہت شریر لوگ تھے۔ جب حضرت صاحب فٹن پر سوار ہو گئے تو لوگوں نے اس قدر پتھر برسائے کہ کئی آدمی زخمی ہو گئے اور حضرت صاحب کی گاڑی کے بھی شیشے ٹوٹے۔ اس سڑک پر یوں معلوم ہوتا تھا کہ پتھروں کا کسی نے بیج ڈالا ہے۔ پتھر ہی پتھر سڑک پر نظر آٹے تھے۔ جب حضور اپنی قیام گاہ پر تشریف لے گئے تو کچھ روسا شہر آئے اور معذرت کی کہ بعض شریروں نے یہ شرارت کی ہے۔ فرمایا کہ اہل امرتسر نے طائف والوں کی سنت پوری کر دی۔




    روایات
    بابو فقیر اللہ صاحب ولد منشی غلام محمد صاحب پنشنر
    سن بیعت ۱۹۰۲ء ۔ سن زیارت ۱۹۰۵ء ۔ عمر قریباً ۴۳سال
    (۱) ۴؍ اپریل ۱۹۰۵ء کو جب فجر کی نماز کے بعد دوسرا زلزلہ کا جھٹکا آیا تو حضور گھر سے باہر تشریف لائے اور مسجد میں جو کھڑکی ہے اس کے پاس آکر سجدہ میں گر گئے۔ جو آدمی وہاں موجود تھے قریباً پانچ سات آدمی تھے وہ بھی حضور کو سجدہ میں دیکھ کر سجدہ میں گر گئے۔
    (۲) حضور کو میں نے خربوزے اور ریوڑیاں کھاتے دیکھا ہے۔
    (۳) سیر کو جاتے حضور کی رفتار بہت تیز ہوتی تھی اکثر ننگل اور بڑ کی طرف جاتے تھے۔ بسراواں کی طرف جاتے بھی دیکھا ہے۔
    (۴) زلزلہ کے دنوں میں جب حضور باغ میں تشریف فرما تھے تو حضور مع حضرت ام المومنین اور بچوں کے باغ میں سیر کر رہے تھے۔ ہم چبوترہ پر بیٹھے تھے حضور وہاں تشریف لائے۔ میں حضور کی تعظیم کے لئے کھڑا ہو گیا مگر حضور نے فرمایا ۔ نہیں نہیں۔ بیٹھو ۔ چنانچہ تھوری دیر بیٹھ کر میں چلا گیا۔




    روایات
    میاں محمد شریف صاحب ای۔ اے۔ سی ولد میاں سراج دین صاحب
    سکنہ لاہور
    عمرقریباً ۵۵سال ۔حال مہاجر قادیان۔ بیعت۔ لیکھرام کے قتل سے
    ایک دن پہلے عیدکے دن قادیان میں
    (۱) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات سے ایک یا دو ماہ بیشتر خاکسار بمع اپنے تایا میاں چراغ دین صاحب ؓ قادیان گیا اور جاتے ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ آپ کے مکان کی پچھلی طرف ملاقات کی۔ گرمی کا موسم تھا اور آپ کھانڈ کا شربت بنوا کر اندر سے میرے تایا صاحب کے لئے لائے تھے جو کہ میں نے بھی پیا تھا۔ وہ چند منٹ کی ملاقات کھڑے کھڑے ہی ہوئی تھی۔ اس وقت دوران گفتگو میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ الفاظ فرمائے کہ جلدی جلدی آنا چاہئے اب وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے۔ اس وقت میں ان الفاظ کا مطلب نہیں سمجھ سکا۔ لیکن یہ الفاظ مجھے اچھی طرح یاد رہے اور بعد میں جب آپ کی وفات ہوئی تو مجھے مطلب سمجھ آیا۔
    (۲) حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جب کوئی شخص کسی مسئلہ کے متعلق سوال کرتا تو آپ بڑی تفصیل کے ساتھ اس کا جواب دیا کرتے تھے۔ مگر اپنی وفات سے پہلے دن یعنی 25مئی کے دن عصر کے وقت جب آپ نماز کے لئے باہر تشریف لائے یعنی خوا جہ کمال الدین صاحب کے مکان کے اس کمرہ میں جہاں نماز پڑھی جاتی تھی تو ایک غیر احمدی مسمی ڈاکٹر محمد سعید صاحب نے آکر آپ سے چند سوالات کئے جن کے جواب میں حضرت صاحب نے مختصر سی تقریر کر کے یہ فرمایا کہ میں سب کچھ اپنی کتابوں میں لکھ چکا ہوں اور اپنا کام ختم کر چکا ہوں۔ اس پر ڈاکٹر صاحب نے پھر سوال کیا تو آپ نے پھر بھی وہی الفاظ دوہرائے۔ یہ الفاظ سن کرمیں حیران ہوا کہ حضرت صاحب نے خلاف معمول آج تفصیل کے ساتھ جواب نہیں دیا۔ چنانچہ اگلے دن صبح کے وقت آپ کی وفات ہوئی تو خاکسار کو ان الفاظوں کا مطلب سمجھ آیا۔
    (۳) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات سے چند دن پہلے ایک جلسہ خواجہ صاحب کے مکان پر منعقد کیا گیا تھا۔ جس میں کہ شہر لاہور کے معززین کو دعوت طعام دے کر بلایا گیا تھا تا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تقریر سن سکیں۔ لیکن اس دن صبح کے وقت آپ کو اس قدر دست آئے کہ آپ بہت کمزور ہو گئے اور پھر آپ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو طاقت عطا فرمائے تا کہ آپ تقریر فرما سکیں۔ اس کے بعد آپ باہر تشریف لائے اورشہر کے معززین میں قریباً ایک گھنٹہ تقریر کی۔ تقریر کے دوران میں ایک شخص شیخ فضل الٰہی بیرسٹر ایٹ لاء نے کہا کہ اب بڑی دیر ہو گئی ہے اور کھانے کا وقت ہو گیا ہے اس لئے تقریر ختم فرماویں۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سامعین سے دریافت کیا کہ اب کھانے کا وقت ہو گیاہے۔کیا میں اب تقریر ختم کروں یا آپ کچھ اور سننا چاہتے ہیں؟ ایک شخص مرزا جلال الدین بیرسٹر نے کھڑے ہو کر جواب دیا کہ وہ کھانا تو ہم ہر روز کھایا کرتے ہیں۔ لیکن جو کھانا آج آپ ہمیں کھلا رہے ہیں وہ ہم نے کبھی نہیں کھایا۔ اس واسطے آپ اپنی تقریر جاری رکھیں۔ چنانچہ حضرت صاحب نے تقریر جاری رکھی جو کہ شام تک جاری رہی۔
    (۴) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام لاہور میں قیام کے دوران میں پچھلے پہر ایک فٹن میں سوار ہو کر حضرت ام المومنین علیہ السلام کو ساتھ لے کر سیر کے لئے روزانہ باہر تشریف لے جایا کرتے تھے۔واپسی پر آپ انار کلی میں کیسری کی دکان پر گاڑی کو کھڑا کر کے اس میں بیٹھے بیٹھے سوڈا واٹر پیا کرتے تھے۔ جو غالباً جنجر پانی ہوتا تھا۔
    ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بڑے بازار میں صحابہ سمیت سیر کے لئے باہر تسریف لے جا رہے تھے کہ ایک بڈھا فقیر سڑک پر بیٹھا ہوا بھیک مانگ رہا تھا۔ اس نے روٹی کا سوال کیا۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جاتے جاتے کھڑے ہو کر اپنی جیب میں سے ایک رومال نکالا جس میں کچھ پیسے بندھے ہوئے تھے اور دو پیسے نکال کر اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو دئیے اور فرمایا کہ اس فقیر کو دے دو۔ جب خاکسار نے یہ دیکھا کہ حضرت صاحب نے بازار کے سوال فقیر کو روٹی مانگنے پر بجائے ایک پیسہ کے دو پیسے دے دئیے ہیں تو خاکسار نے بھی یہ طریقہ اختیار کیا کہ بازار کے سوالیوں کو بجائے ایک پیسے کے دو یا زیادہ دئیے جائیں۔ کیوں کہ عام طور پر دو پیسے میں ایک آدمی روٹی کھا سکتا ہے۔
    اپریل ۱۹۰۵ء میں مَیں نے بی اے کا امتحان پاس کیا تو میں قادیان میں تھا اور وہ بڑے زلزلہ کے ایام تھے۔ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تحریری مشورہ کیا کہ آیا مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے میں انگلینڈ جائوں یا نہ۔ اس پر آپ نے مجھے یہ لکھا کہ استخارہ کیا جائے اور اپنے رشتہ داروں سے مشورہ بھی کر لیا جائے۔ اس کے معاً بعد اتفاق سے آپ مسجد مبارک کے چھوٹے کمرے میں مولوی محمد علی صاحب کے ساتھ کسی امر کے متعلق گفتگو کرنے کے لئے تشریف لائے وہاں میں بھی تھااور کوئی نہیں تھا۔ حضرت صاحب نے مولوی محمد علی صاحب کے ساتھ گفتگو جب ختم کر لی تو پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور دریافت فرمایا کہ آپ انگلینڈ کون سی تعلیم حاصل کرنے کے لئے جانا چاہتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ قانونی تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ ہے۔ اس پر آپ نے مجھے فرمایا کہ میں آپ کا انگلینڈ جانا پسند نہیں کرتا۔ کیونکہ وہاں نوجوانوں کے لئے بڑا ابتلاء ہے۔ مذہب کے ساتھ تعلق وہاں کے لوگوں کا بہت کم ہوتا ہے اور اگر کوئی شخص خدا کا نام لے تو اس پر لوگ ہنستے ہیں اور آج کل کے دنوں میں جب کہ زلزلے آرہے ہیں اس لئے ایسی جگہ پر رہنا بڑا خطرناک ہے۔ اگر کوئی زلزلہ انگلینڈ میں آجائے تو شہر کے تباہ ہوجانے کا اندیشہ ہے کیونکہ لندن کا شہر بالکل کھلا ہے اس کے نیچے زمین میں پانی اور بجلی کی نالیاں اس قدر ہیں کہ اگر وہ پھٹ جائیں تو بڑی تباہی کا اندیشہ ہے۔
    اس مختصر سی تقریر سننے کے بعد خاکسار نے فوراً اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر اقرار کیا کہ اب میں آئندہ کبھی انگلینڈ جانے کا نام نہیں لوں گا۔ اس کے بعد خاکسار نے اس جگہ وکالت کا امتحان پاس کر لیا اور چند سال وکالت کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے ای۔ اے۔ سی کا عہدہ مل گیا۔
    (۵) میرے پھوپھا میاں رمضان شاہ تھے۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ۱۹۰۴ء میں یہاں تشریف لائے تو ہمارے احاطہ میں یعنی میاں چراغ دین صاحب کے احاطہ میں حضرت صاحب کرسی پر بیٹھ کر تقریر فرما رہے تھے اور اس تقریر کے دوران میں بعض وقت حضور کے دہن مبارک سے بولتے وقت لعاب دہن کے باریک باریک قطرات نکل رہے تھے۔ میاں رمضان شاہ صاحب حضور کے قدموں میں بیٹھے تھے انہوں نے منہ کھول دیا تا کوئی کوئی قطرہ جو گر رہا ہے میرے منہ میں گرے۔
    چنانچہ انہوں نے بعد میں مجھے بتایا کہ میں نے اس غرض کے لئے منہ کھول دیا تھا کہ لعاب دہن کا جو قطرہ گرے وہ میرے منہ میں پڑے۔ میاں رمضان صاحب میاں محمد شاہ صاحب و میاں ولایت شاہ صاحب سکنہ شاہ مسکین کے والد تھے۔
    (۶) ایک دفعہ گرمی کے موسم میں ظہر کے وقت حضور مسجد مبارک میں نماز پڑھنے کے لئے جب تشریف لائے اور بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک صحابی نے عرض کیا کہ حضور آج کل کشمیر میں بڑا اچھا موسم ہے۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ قادر ہے کہ یہاں ہی کشمیر بن جائے چنانچہ نماز پڑھنے کے بعد جب حضور اندر تشریف لے گئے تو یکایک بارش شروع ہو گئی اور ٹھنڈی ہوا چلنے لگی۔ حالانکہ حضور کے فرمانے سے پہلے بادلوں وغیرہ کے کوئی آثار نہ تھے۔
    حضرت صاحب جب جہلم تشریف لے گئے تو راستے میں میرے تایا میاں چراغ دین صاحب کے مکان پر واقع لاہور پر ایک رات ٹھہرے تھے۔ اس رات حضور نے بزبان فارسی ایک گھنٹہ تقریر فرمائی تھی جو کہ دو معزز پٹھانوں کو تبلیغ کے لئے کی گئی تھی اور وہ شہر سے حضور کو ملنے کے لئے آئے تھے۔ پھر سید عبداللطیف صاحب شہید نے ان کو تبلیغ کی۔
    میں نے کسی سے سنا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کسی موقع پر یہ فرمایا تھا کہ ہمارے لئے چائے ایسی ہے کہ جیسے کفار کے لئے شراب۔
    جب حضرت صاحب ۱۹۰۴ء میں لاہور تشریف لائے تو حضور نے لیکچر موسومہ اسلام اور دیگر مذاہب لکھنا شروع کیا جو کہ آپ نے ایک رات میں ہی بیٹھ کر لکھا۔ گرمی کا موسم تھا اور روشنی کا انتظام کافی نہ تھا صرف ایک لالٹین تھی۔آپ میاں معراج دین صاحب کے مکان میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ رات کو بڑی دیر تک لکھنے کی وجہ سے آپ کی آنکھیں دکھنے لگ گئیں اس پر آپ نے اپنی آنکھوں میں سرمہ ڈالا جو اتنا زیادہ تھا کہ وہ پلکوں کے اردگرد لگا ہوا نظر آتا تھا۔
    ان دنوں میں خاکسار بھی اسی مکان کے نچلے حصہ میں رہتا تھا۔
    ایک دفعہ میری دادی کو طاعون ہو گیا میں اس وقت قادیان میں تھا۔ مجھے وہاں اطلاع ملی میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ذکر کیا تو آپ نے مجھے فرمایا کہ آپ وہاں نہ جائیں چنانچہ لاہور جانے سے رک گیا۔ اس کے چند روز بعد مجھے اطلاع ملی کہ میری دادی فوت ہو گئی ہے۔
    حضور جب سیر کے لئے تشریف لے جاتے تھے تو تمام ساتھی حضور کا کلام سننے کی خاطر آپ کے بہت قریب ہو کر چلنا چاہتے تھے۔ اس کوشش میں بعض وقت لوگوں کے پائوں حضور کی ایڑی پر جا پڑتے تھے اور آپ کی ایڑی کو زخمی کرتے تھے اور آپ کا جوتابھی اتر جایا کرتا تھا۔ لیکن آپ پیچھے پھر کر بھی نہیں دیکھتے تھے۔ اس تکلیف کو دور کرنے کے لئے احباب نے یہ طریق اختیار کر لیا کہ چند آدمی آپس میں اپنے اپنے ہاتھوں کو پکڑ کر حضرت صاحب کے اردگرد گھیرا ڈال دیتے تھے تا کہ لوگ آپ کے بہت قریب نہ آسکیں اور حضور کو تکلیف نہ ہو۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب ۱۹۰۴ء میں ’’ اسلام اور دیگر مذاہب‘‘ کے موضوع پر لیکچر دینے کے لئے لاہور کے بریڈ لا ہال میں تشریف لے گئے تو لیکچر حضرت مولوی عبدالکریم نے پڑھا۔ اس کے بعد سامعین جن میں غیر احمدی اور ہندو وغیرہ بھی کثرت سے تھے اور کل مجمع کئی ہزار کا تھا اور لوگ سٹیج سے بہت فاصلہ پر بیٹھے ہوئے تھے تو سامعین کے یہ اصرار کرنے پر کہ ہم حضرت صاحب کی زبان مبارک سے کچھ سننا چاہتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو سٹیج پر کرسی پر تشریف فرما تھے کھڑے ہو گئے اور تقریر شروع کی۔ اس وقت خاکسار نے یہ بغور دیکھا کہ آپ اس قدر پیچھے کی طرف جھکے ہیں یعنی چھاتی کو اتنا زیادہ باہر نکال کر جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ حضور پر ایک جلالی رنگ آیا ہوا ہے۔ خاکسار کو یہ خیال پیدا ہوگیاکہ پیچھے کی طرف اس قدر جھکے ہیں کہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں پیچھے کی طرف گر نہ جائیں۔ لیکن دراصل وہ ایک جلالی رنگ تھا۔ جس کا مشاہدہ قدرت نے کر دیا۔ کیونکہ لوگوں کے اصرار پر آپ یکدم کھڑے ہو گئے تھے۔ اور ایسی تقریر کرنی پڑی۔ جو دور بیٹھے ہوئے لوگوں تک پہنچانی ضروری تھی۔ اخباروں کے رپورٹروں نے وہ تقریر موقعہ پر قلمبندکر لی تھی۔





    روایات
    قاضی عبدالغفور صاحب ولد قاضی عبداللہ شاہ صاحب
    ساکن جھانسی حال راولپنڈی
    ٍ عمر ۴۶ سال سے کچھ اوپر
    (۱) ۱۹۰۶ء میں بھی اپنے بڑے بھائی حافظ مراد بخش صاحب کے ساتھ راولپنڈی سے قادیان گیا حضور مسجد مبارک کی سیڑھیوں سے اتر رہے تھے کہ ایک شخص غالباً حکیم شاہ نواز صاحب ساکن راولپنڈی نے حضور کو سترہ پونڈ ایک تھیلی میں نذرانہ دیا۔ حضورنے وہ تھیلی لے کر جیب میں ڈال لی۔ نیچے ایک سائل کھڑا تھا اس نے سوال کر دیا حضور نے وہی تھیلی جیب سے نکال کر اس کے ہاتھ میں رکھ دی۔ حکیم صاحب مذکور نے جب حضور کو ایسا کرتے دیکھا تو عرض کیا کہ حضور اس تھیلی میں سترہ پونڈ تھے۔ فرمایا یہ اس کے تھے اس کو پہنچ گئے پھر آپ خاموش ہو گئے۔
    (۲) میں اور میرے بڑے بھائی حافظ صاحب حضور کو دبا رہے تھے ۔ حضور لیٹے ہوئے تھے مسجد مبارک میں۔ آپ نے فرمایا کہ میاں مراد بخش صاحب میرے پہلو میں درد ہوتا ہے پتہ نہیں کیا بات ہے؟ بھائی صاحب نے جب اندر ہاتھ ڈالا تو حضور کی جیب سے ایک پتھر برامد ہوا۔ میرے بھائی نے عرض کیا کہ حضور جیب میں سے یہ پتھر نکلا ہے۔ فرمایا ہاں معلوم ہو گیا یہ میاں کی شرارت ہے انہوں نے ڈال دیا اور تین دن سے مجھے یہاں درد ہوتا تھا۔
    (۳) عصر کے وقت حضور مسجد مبارک میں تشریف لائے تو وہاں چند آدمی بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے درمیان حضرت مولانا نورالدین صاحب بھی تشریف فرما تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آکر حضرت خلیفہ اوّل سے فرمایا کہ ان لوگوں کو کچھ نصیحتاً درس دیں تو حضرت خلیفہ اوّل نے فرمایا کہ ’’ جی ہن ایناں نوں کی نصیحت ہووے گی ۔ ہنے ای کسی نے میرے بوجھے وچوں دو روپئیے کٹھ لیتے نہیں۔‘‘ اس کے بعد حضور نے بہت لمبی تقریر فرمائی مگر وہ مجھے یاد نہیں۔ بہت عجیب تقریر تھی کوئی شخص ایسا نہیں تھاجو رو نہیں رہا تھا۔
    (۴) ایک دفعہ میں اور میرے بھائی حافظ مراد بخش صاحب جب کہ پہلی دفعہ ملاقات کے لئے غالباً ۱۹۰۵ء میں گئے تھے تو دیکھا کہ حضور کے مکان کے باہر ایک چارپائی بچھی ہوئی تھی جس پر پانچ چھ دیہاتی دوست بیٹھے ہوئے تھے۔ میرے بھائی نے ان لوگوں سے پوچھا کہ کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام ابھی باہر نہیں نکلے؟ انہوں نے کہا کہ ابھی تک نہیں تشریف لائے ہم بھی حضور ہی کا انتظار کر رہے ہیں۔ اتنے میں حضور تشریف لے آئے سب کے سب کھڑے ہو گئے۔ آپ نے مسکر اکر فرمایا کہ نہیںنہیں آپ بیٹھے رہیں آپ لوگ ہمارے مہمان ہیں۔ میرے بھائی نے ایک کشمیری چوغہ اور ایک مراد آبادی لوٹا پیش کیا ۔ حضور نے اس لوٹے کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ لوٹا تو مراد آباد کا بنا ہوا بہت خوبصورت ہے۔ پھر آپ نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر پیار کیا اور فرمایا کہ میاں مراد بخش صاحب کیا یہ آپ کا لڑکا ہے؟ بھائی صاحب نے فرمایا کہ نہیں حضور یہ میرا چھوٹا بھائی ہے۔ پھر حضور نے فرمایا کہ میاں مراد بخش صاحب آپ تھکے ہوئے ہیں بیٹھ جائیں۔ کیونکہ آپ پیدل چل کر بٹالہ سے آئے ہیں حالانکہ ہم نے ذکر بھی نہ کیا تھا۔ حضور ایک چھابہ میں ہمارے لئے روٹی لائے اور کچھ سالن تھا اور ایک بڑے کٹورے میں سیر ڈیڈھ سیر دودھ تھا۔ (پشاوری کٹورا تھا) ایک ہاتھ میں کٹورا تھا اور ایک ہاتھ میں چھابہ۔ فرمایا کہ آپ یہ ناشتہ کھائیے کھانا تیار ہو جائے گا اور میں کچھ گرم پانی آپ کے لئے بھجواتا ہوں پھر تھوڑی دیر کے بعد آپ خود ہی پانی لائے اور فرمایا کہ آپ تھکے ہوئے ہیں کیونکہ آپ پیدل چل کر بٹالہ سے آرہے ہیں پائوں میں تکلیف ہو گی۔ آپ دھو ڈالئے تا کہ تھکان اتر جائے اور آرام فرمائیں۔
    روایات
    میاں معراج دین صاحب عمر
    لاہور نے تیس مارچ ۳۹ء کو بیان فرمایا
    مسجد احمدیہ میں خاکسار کے سوالات پر
    (۱) سفر ملتان۔ سفر ملتان کا واقعہ یہ ہے کہ ایڈیٹر ناظم الہند لاہور کے برخلاف کسی نے ملتان میں مقدمہ کیا ہوا تھا۔ اس نے اپنی صفائی کی شہادت میں شرارتاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو طلب کر ایا تھا۔ ناظم غالی شیعہ تھا اور مرثیہ خوان اور شاعر بھی تھا ہمارے سلسلہ کا بہت مخالف تھا۔ ملتان کے سفر کے ہمراہی حضرت خلیفہ اوّل، خاکسار ، حضرت مولوی عبدالکریم صاحب، خواجہ کمال الدین صاحب وغیرہ تھے۔ راستہ میں اکثر سٹیشنوں پر لوگ ملاقات کے لئے آتے تھے جن میں غیر احمدی بھی بکثرت ہوتے تھے۔ جب ہم ملتان پہنچے تو وہاں استقبال کا بہت بڑا انتظام کیا گیا تھا۔ مولوی بدرالدین صاحب ہیڈ ماسٹر اسلامیہ سکول ایک بہت بڑے بارسوخ آدمی تھے۔ تمام سکول کے لڑکوں کی سڑک پر دو رویہ جماعت بندی کی یک رنگ پگڑیاں بندھائے ہوئے اور ہاتھوں میں جھنڈیاں دئیے ہوئے جن میں مختلف قسم کے فقرات لکھے ہوئے تھے کھڑا کیا ہوا تھا۔ جب ہم گزرتے تھے تو لڑکے دعائیہ کلمات ۔ السلام علیکم اور بعض نظمیں پڑھتے تھے پھر ہم فرودگاہ پر پہنچے ۔ انہوں نے ہی مکان کا انتظام کیا ہوا تھا۔ وہاں شہر کے ہر طبقہ کے لوگ مؤدبانہ آتے اور ملاقات کرتے۔ گردیزی خاندان کا ہیڈ جو بہت بڑا مشہور رئیس تھا اکثر آیا کرتا تھا۔ شہر کے لوگ عموماً آپ کا ذکر مؤدبانہ طریق سے کرتے تھے۔ میں نے وہاں وہ بدزبانی اور بے ادبی نہیں سنی جو دوسرے شہروں میں سننے کا اتفاق ہوا تھا۔ چونکہ ناظم نے محض شرارت کی و جہ سے آپ کو تکلیف دینے کے لئے بلایا تھا۔ اصل واقعہ کے متعلق آپ کو وہاں جانے سے قبل کوئی کسی قسم کا علم نہیں تھا۔ اس لئے اس نے کوئی سوال نہیں کئے تھے۔ ملتان ہم دو دن اور تین راتیں ٹھہرے تھے۔ چونکہ حضرت خلیفہ اوّل ہمارے ساتھ تھے وہاں ان سے علاج کروانے کے لئے لوگ اس طرح ہجوم کر کے آتے تھے جس طرح پیاسی قوم چشمہ پر بھاگی آتی ہے۔ لاہور میں آکر حضرت صاحب شیخ رحمت اللہ صاحب کے مکان پر فردکش ہوئے تھے۔ شیخ صاحب ان دنوں اپنے بھائی کے ساتھ شریک کار تھے۔ ان کی دکان کا نام بمبئی ہائوس تھا جو موجودہ مارکیٹ کے سامنے ایک عمارت میں تھی۔
    حضرت صاحب نے اس کی اوپر کی منزل میں تقریر بھی فرمائی تھی۔ ان دنوں میں مومی تصویروں کا ایک تماشا آیا ہوا تھا جو اس مکان کے سامنے تھا اس میں کئی قسم کی مومی تصویریں تھیں۔ انسانی اعضاء کے بھی مومی مجسمے تھے۔ جیسے انسان کا دل ، دانت، ہڈیاں، دماغ وغیرہ وغیرہ۔ سارے اعضا انسانی دئیے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ اور بھی بعض نظارے تھے۔ ان تصویروں کو بھی حضرت صاحب نے دیکھا تھا۔ فرمایا تھا کہ علمی رنگ میں اسی قسم کی تصویروں سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔
    (۲) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو لاہور ریلوے سٹیشن پر کچھ دیر انتطار کرنے کی ضرورت پڑی۔ حضرت ام المومنین بھی آپ کے ساتھ تھیں۔ حضرت مسیح موعود حضرت ام المومنین کو اپنے ساتھ لے کر او ران کا ہاتھ اپنی بغل میں لے کر سٹیشن پر آزادی سے ٹھہل رہے تھے۔ اس پر مولوی عبدالکریم صاحب نے حضرت خلیفہ اوّل ؓ کو کہا کہ آپ جا کر کہیں۔ حضرت مولوی نورالدین نے فرمایا کہ مجھے تو اتنی جرات نہیں پڑ سکتی اس پر مولوی عبدالکریم صاحب خود گئے۔ حضور نے فرمایا کہ لوگ کیا کہیں گے کیا یہ کہ مرزا اپنی بیوی کے ساتھ پھر رہا ہے۔
    مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ یہ واقعہ لاہور ریلوے سٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر ۱ پر اور مشرقی پل کے قریب کا ہے۔
    (۳) سفر جہلم میں امرتسر کے مقام سے ایک لیڈی نے حضرت صاحب کو دیکھنا شروع کیا وہ ایک جرنیل کی بیوی تھی۔ ولایت سے آرہی تھی۔ ہجوم کو دیکھ کر حیران رہ گئی لاہور آکر پھر اس نے ہجوم دیکھا ادھر ادھر پھرتی رہی۔ آخر مجھ سے انگریزی میں سوال کیا کہ یہ کون ہے اور ہجوم اس قدر کیوں ہے؟ میں نے جواب دیا کہ یہ خداوند یسوع مسیح اپنی دوسری بعثت میں آیا ہوا ہے۔ اس نے کہا یہ تو انسان ہے مگر وہ خدا تھا۔ میں نے جواب دیا کہ وہ مریم مقدسہ کا بیٹا تھا اور وہ چونکہ انسان تھی۔ اس لئے یہ ممکن نہیں ہو سکتا کہ عورت کے پیٹ سے خدا پیدا ہو۔ پھر اس نے کہا کہ کیا میں ان کے قریب جا سکتی ہوں۔ میں نے انتظام کر دیا اس نے قریب جا کر ہاتھ ملانا چاہا مگر حضرت صاحب نے اس کی طرف توجہ بھی نہ کی اس پر اس نے حضور کا فوٹو لے لیا۔
    (۴) ہماری جماعت جماعت کے ایک بزرگ منشی احمد دین صاحب لاہوری گورنمنٹ پنشنر ہیں۔ ان کی عمر اس وقت سو سال کے قریب ہے۔ جب حضرت مسیح موعود کی گاڑی لاہور سٹیشن پر کھڑی تھی تو سپرنٹنڈنٹ پولیس اور چند اور آدمی حفاظت کے لئے گاڑی کے قریب کھڑے تھے۔ منشی احمد دین صاحب نے حضرت مسیح موعود سے مصافحہ کرنے کے لئے ہاتھ بڑھایامگر سپرنٹنڈنٹ پولیس نے اپنی ننگی تلوار الٹی کرکے ان کے ہاتھ پر رکھ دی اور کہا کہ ہاتھ پیچھے ہٹالو۔ اُنھوں نے جواب دیاکہ میں ان کا مرید ہوں اور مصافحہ کرنا چاہتا ہوں۔ مگر اس انگریز سپرنٹنڈنٹ نے جواب دیا کہ ہم نہیں جانتے آپ کون ہیں؟ اس وقت ہم ان کی حفاظت کے ذُمہ وار ہیں۔ اس وقت دوست دشمن کی تحقتق نہیں کی جا سکتی آپ ہاتھ ہٹا لیں۔ ہمارا فرض ہے کہ بٹالہ سے جہلم تک اور جہلم سے واپس بٹالہ تک بخیریت ان کو پہنچا دیں۔ اس لئے ہم کسی کو اجازت نہیں دے سکتے۔
    جہلم کرم دین کا وکیل محمد دین تھا۔ محمد حسن بھینی کرم دین کا بہنوئی تھا۔ کرم دین نے حضرت صاحب کے خلاف مقدمہ محمد حسن کی توہین کا دائر کیا ہوا تھا۔ جس میں حکیم فضل دین صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب بھی ملزم تھے۔ اس مقدمہ میں پہلی بحث یہ تھی کہ آیا سالے کو کیوںکر یہ حق پہنچتاہے کہ وہ اپنے بہنوئی کے متعلق ازالہ حیثیت عرفی کا دعویٰ کر سکے۔ تو قانونی تقریر کے علاوہ محمد دین وکیل کرم دین نے ایک یہ شعر بھی عدالت میں پڑھ کر سنایا کہ سالہ ایسا رشتہ دار ہوتا ہے جس کے متعلق مشہور ہے۔
    ساری خدائی اک طرف جواد کا بھائی اک طرف
    اس کے بعد مقدمہ خارج ہو گیا۔ جج کا نام گنگارام سنسار چند۔ ایم ۔ اے تھا۔ مولوی محمد علی صاحب بھی ساتھ تھے۔








    روایات
    میاں الہ یار صاحب ٹھیکیدار ولد میاں گلاب دین صاحب ٹھیکیدار
    ساکن بلہو وال ضلع گورداسپور تحصیل بٹالہ حال مہاجر قادیان
    سن بیعت ۱۸۹۱ء ۔عمر ۹۸ سال
    بچپن کے حالات:۔ میری کوئی چھ سات برس کی عمر تھی اور حضور کی سترہ اٹھارہ برس کی اندازاً۔ میری ہمشیرہ کی قادیان میں شادی ہوئی ہوئی تھی نیز میرے بڑے بھائی کی شادی بھی یہاں ہوئی ہوئی تھی اس واسطے میں اکثر یہاں ہی رہا کرتا تھا اور حضور سے اکثر ملاقات رہتی تھی۔ مسجد اقصیٰ ان دنوں چھوٹی سی ہوا کرتی تھی اور پانچ سات لڑکے پڑھا کرتے تھے۔ ان دنوں اذان دینابڑا مشکل کام تھا۔ نئے نئے انگریز آئے تھے۔ ایک دفعہ کسی نے اذان دی تو لوگوں نے شور مچا دیا کہ ہمارے آٹے خراب ہو گئے ہیں ۔ مگر چونکہ انگریزوں کی حکومت آچکی تھی اس لئے کچھ کر نہ سکے۔
    حضرت صاحب بھی اس مسجد میں پڑھا کرتے تھے مگر ہمیشہ دوسرے بچوں سے الگ ہی ایک کونہ میں بیٹھا کرتے تھے۔ ایک شخص سندھی شاہ بچوں کو پڑھایا کرتا تھا جو کہ کِرم کا رہنے والا تھا جو غالباً ضلع لدھیانہ میں ہے۔
    ان ایام میں بچے عموماً گلستان بوستان پڑھا کرتے تھے۔ بچپن میں حضور کو لوگ ولی ولی کہا کرتے تھے۔
    ایک دفعہ میں حضور کے ساتھ حضور کے گھر چلا گیا۔ حضور بالاخانہ میں رہا کرتے تھے۔ ایک خادم جس کا نام پیدی تھا کمہاری تھی حضور کے گھر رہا کرتی تھی۔ اس نے آوازیں دینا شروع کیں کہ کھانا تیار ہے لے لو۔ حضور نے ایک رسی کے ساتھ ایک برتن بندھا ہوا تھا نیچے لٹکا دیا۔ اس نے روٹی اس میں رکھ دی۔ حضور ے اوپر کھینچ لی اور کھانے میں مشغول ہو گئے اور ہاتھ میں کتاب تھی۔ کتاب پڑھتے جاتے تھے اور نیچے سے لقمہ لے کر کھاتے جاتے تھے۔ ایک لڑکا جس کا نام حکم دین تھا اور کاکا کاکا کے نام سے مشہور تھا۔ اس نے آہستہ سے روٹی پیچھے کھینچ لی۔ حضور نے ایک دو دفعہ ہاتھ نیچے کیا مگر روٹی نہ ملی۔ حضور نے نیچے دیکھا جب حضور کو علم ہوا کہ حکم دین نے کھینچ لی ہے تو فرمایا ’’اچھا تم کھانا چاہتے ہو ہاں کھا لو۔ ‘‘
    حضور کے گھر کی ڈیوڑھی میں ایک کلدار چکی ہوا کرتی تھی جو بہت ہلکی چلتی تھی۔ اس زمانہ میں وہ چکی بہت بڑے بڑے امیروں میں گھروں میں ہی مل سکتی تھی۔
    حضور گھر سے چنے کے دانے لایا کرتے تھے اور ہم بھنا لایا کرتیے تھے۔ حضور تھورے سے کھاتے تھے اور باقی تقسیم کر دیتے تھے۔
    حضور کھیل میں بہت کم شریک ہوا کرتے تھے مگر کبھی کبھی کھیل بھی لیتے تھے۔ ایک زمانہ میں مَیں نے حضور کو ریتی چھلہ میں کافی مدت روزانہ دوڑتے دیکھا۔ حضور ہمیشہ دوڑ میں آگے نکل جایا کرتے تھے۔ حضور کے ساتھ اس دوڑ میں تین آدمی اور ہوا کرتے تھے۔ ایک نظام دین موچی دوسرے طفی شاہ اور تیسرے امام دین جولاہا۔ یہ دوڑ میل میل لمبی ہو جایا کرتی تھی۔ نظام دین اور طفی شاہ تو یہاں ہی رہے اور یہاں ہی فوت ہوگئے۔نظام دین کی قبر میرے احاطہ میں ہے مگراب مٹ چکا ہے۔ طفی شاہ کی عبدالرحمان مٹھائی والے والی دکان میں قبرہے مگر اس کا نشان بھی مٹ چکا ہے۔ امام الدین کہیں چلا گیا اور یہ سنا گیا کہ یہی آوازیں دیتا تھا کہ امام مہدی پیدا ہو گیا ۔ مسیح پیدا ہو گیا۔ مختلف شہروں میں وہ یہ آوازیں دیتا تھا۔ ابھی حضور کا دعویٰ نہیں تھا بلکہ براہین احمدیہ بھی تصنیف نہیں کی تھی۔اس کے بعد حضور چھ سات سال کے لئے بالکل گھر میں ہی رہے۔ عبادت ہی میں مشغول رہتے تھے۔ اس کے بعد آپ پر ایسا زمانہ آیا کہ باہر سے خال خال لوگ حضور کی زیارت کے لئے آنا شروع ہو گئے۔ حضور اس زمانہ میں ولی ولی کے نام سے مشہور تھے۔
    حضور کو میں نے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ بازو پکڑتے بھی دیکھا ہے۔ جس وقت حضور سیالکوٹ میں ملازم تھے۔ ایک دفعہ حضور کے لئے حضور کی والدہ نے دو پوشاکیں اور کچھ پنیاں ایک شخص منگل حجام کے ہاتھ روانہ کیں۔ منگل آتی دفعہ ہمارے گائوں سے گزرا تھا اس نے ہمیں بتایا کہ جب میں یہ چیزیں لے کر سیالکوٹ گیا اور حضور کے آگے رکھ دیں تو حضور نے فرمایا جو تیرے حصہ میں آتا ہے تم لے لو اور جو میرا حصہ ہے مجھے دے دو۔ میں نے کہا کہ حضور یہ آپ کے لئے ہیں۔ اماں جان نے آپ کے لئے بھیجی ہیں۔ فرمایا تو اتنی دُور اٹھا کر لایا ہے تم اپنا نصف حصہ ضرورلے لو۔ خیر مجھے ایک پوشاک اور کچھ پنیاں دے دیں اور فرمایا کہ اماں جان کو جا کر کہنا کہ مجھے یہاں سے جلد واپس منگوا لیں میرا دل یہاں نہیں لگتا۔ لوگ ناجائز کاموں میں زندگی بسر کرتے ہیں اور میرا دل ان کو دیکھ کڑھتا ہے۔
    چنانچہ حضور جب ملازمت سے واپس آئے تو میں نے حضور سے یہ واقعہ پوچھا۔ حضور نے فرمایا یہ صحیح بات ہے۔ منگل نے جو اس قدر میرے لئے تکلیف کی تو اس کا حصہ ضرور اسے دینا چاہئے تھا۔
    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت صاحب کی عمر پچیس اور تیس سال کے درمیان ہو گی کہ آپ کے والد صاحب کا موروثیوں سے جھگڑا ہو گیا۔ وہ درخت کاٹ لیا کرتے تھے مگر آپ کے والد صاحب فرماتے تھے کہ زمین ہماری ہے اور درخت بھی ہمارے ہیں یہ کیوں کاٹتے ہیں؟ ایک دفعہ انہوں نے موروثیوں پر دعویٰ کر دیا اور حضور کو مقدمہ کی پیروی کے لئے گورداسپور بھیجا۔ حضور کے ساتھ بطور گواہ ایک شخص لدہا خاکروب اور دوسرا حکم دین تھا ۔ ایک گھوڑا ساتھ تھا مگر حضور پیدل ہی گئے حضور نے پسند نہ فرمایا کہ یہ لوگ پیدل چلیں اور میں سوار ہو کر چلوں۔ جب نہر سے گزر کر … ……… والا گائوں میں پہنچے تو سایہ میں آرام کرنے کے لئے بیٹھ گئے۔ ساتھیوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ابا جان یونہی زبردستی کرتے ہیں درخت کھیتی کی طرح ہوتے ہیں یہ غریب لوگ ہیں اگر کاٹ لیا کریں تو کیا حرج ہے۔ میں تو یہ نہیں کہہ سکتا کہ مطلقاً یہ ہمارے ہی ہیں۔ ہاں ہمارا حصہ ہو سکتا ہے۔ موروثیوں کو آپ پر اس قدر اعتماد تھا کہ جب حضور عدالت میں پہنچے اور مجسٹریٹ نے مورثیوں کو کہا کہ کیا معاملہ ہے تو انہوں نے عرض کیا کہ حضور مرزا صاحب سے دریافت کر لیں۔ چنانچہ مجسٹریٹ نے حضور سے پوچھا۔ حضور نے فرمایا کہ میرے نزدیک تو درخت کھیتی کی طرح ہیں جس طرح کھیتی میں ہمارا حصہ ہے ویسے ہی درختوں میں ہے۔ چنانچہ مقدمہ موروثیوں کے حق میں ہو گیا۔
    جب حضور واپس قادیان پہنچے اور اندر بیٹھ گئے تو بڑے مرزا صاحب نے حکم دین سے پوچھا کہ کیا فیصلہ ہوا ہے؟ اس نے کہا کہ میں تو باہر تھا مرزا صاحب اندر گئے تھے۔ حضرت صاحب کو بلایا حضور نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔ بڑے مرزا صاحب بہت ناراض ہوئے اور حضور کو ملاں ملاں کہہ کر کوسنے لگے اور فرمایا کہ گھر سے نکل جائو اور گھر والوں کو کہا کہ ان کو کھانا ہرگز نہ دو۔ دو تین دن تو گائوں میں ہی رہے اماں جان روٹی بھیج دیا کرتی تھیں پھر بڑے مرزا صاحب سخت ناراض ہوئے۔ حضور گھر سے دانے لائے میں نے بھنا کر دئیے پھر حضور بٹالہ چلے گئے وہاں کوئی دو ماہ رہے۔ اس کے بعد بڑے مرزا صاحب نے واپس بلا لیا کیونکہ بیمار ہو گئے تھے۔
    ایک دفعہ میرے بڑے بھائی محمد اکبر نے مرزا اعظم بیگ کے مختار بڈھے مل سے ڈھک کے درختوں کا ٹھیکہ لیا جو گائوں سے لے کر عید گاہ تک پھیلے ہوئے تھے۔ یہ ۱۸۸۸ء کی بات ہے۔ حضور نے ہماری ضیافت کی ہمارے ساتھ کچھ مزدور تھے ہم دس بارہ آدمی تھے۔ حضور نے دو مجموں میں کچھ زردہ پلائو بھیجا۔ عبداللہ حجام کا باپ اٹھا کر لایا تھا ہم کھانا دیکھ کر حیران ہو گئے کیونکہ لوگ بہت تھے اور کھانا تھوڑا تھا۔ ہم پریشان ہوئے کہ ہم نے خود بھی کھانے کا انتظام نہیں کیا اور انہوں نے بہت تھوڑا بھیجا ہے۔ پھر ہم نے کہا کہ پہلے یہ کھا لیں پھر اور تیار کر لیں گے۔ چنانچہ ہم نے خوب سیر ہو کر کھایا مگر کھانا پھر بھی بچ گیا اور ہم نے دوسرے روز بھی وہی کھایا۔ رات کو پھر کھانا تیار کیا۔ اس قسم کا لذید اور خوش دار کھانا میں نے عمر بھر کبھی نہیں کھایا۔
    بٹالہ ہم کوئی پچیس سال رہے ہیں۔ ہمارے بڑے بھائی محمد اکبر وہاں ٹھیکے کا کام کرتے تھے۔ وہاں ہمارے مکان بھی تھے۔ حضور نے جب دوسری شادی کی اور واپس تشریف لائے تو بٹالہ میں ہم نے حضور کی دعوت کی تھی۔ حضور ہمارے ہاں ہی ٹھہرے تھے فضل دین کی حویلی میں۔ ہم نے اس کے بعد مکان بنائے تھے۔
    جب حضور مارٹن کلارک والے مقدمہ میں گئے تو ہم بھی ساتھ تھے اوراحاطہ کچہری میں چادریں بچھا کر بیٹھے تھے۔ ان دنوں ہم نمازیں اکٹھی پڑھا کرتے تھے ہم جمعہ مولوی محمد حسین صاحب کی اقتدا میں ہی پڑھا کرتے تھے۔ میرے بھائی محمد بخش نے جو حضور سے حسن ظن رکھتے تھے مگر مولوی محمد حسین صاحب سے بھی ان کا تعلق تھا جب مولوی محمد حسین حضور کے خلاف اور ڈاکٹر مارٹن کلارک کے حق میں شہادت دے کر باہر نکلے اور چادر پر بیٹھ گئے تو ان کو بڑا غصہ لگا اور چادر انہوں نے یہ کہہ کر کھینچ لی کہ تم تو عیسائی کے حق میں اور مسلمان کے خلاف شہادت دے کر آئے ہو۔ اٹھو یہاں سے یہ کہہ کر اس نے چادر ان کے نیچے سے کھینچ لی۔ اس کے بعد اسے بھی مولوی محمد حسین سے سخت نفرت ہو گئی اور حضور سے اخلاص پیدا ہو گیا۔
    چنانچہ مجھے یاد ہے کہ جب حضور بری ہو گئے تو میں اور محمد بخش ایک روپیہ کے پتاشے لے کر چھوٹی مسجد میں ظہر کے وقت گئے۔ ہم نے حضور کی خدمت میں پیش کئے اور عرض کیا کہ حضور کچھ لے لیں تا باقی مقدمہ میں بریت کی خوشی میں تقسیم کئے جائیں۔ حضور نے فرمایا تقسیم کر دو ہم نے پھر عرض کیا کہ حضور کچھ لے لیں مگر حضور نے پھر بھی یہی فرمایا کہ تقسیم کر دوں۔ تیسری دفعہ پھر عرض کیا اور محمد بخش نے حضور کا ہاتھ پکڑ کر عرض کیا کہ پہلے حضور لیں اس پر حضور نے چند پتاشے لے کر پاس رکھ لئے اور ہمیں ایسا کرنے پر بہت شرمندگی ہوئی چنانچہ آج تک اس واقعہ کو یا د کر کے میں شرمندہ ہوتا ہوں۔
    مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ ہمارے کام میں نقصان ہوا میں نے حلوا بنایا اور بیچنا شروع کیا۔ حضور کے گھروں کے پاس جا کر بھی آواز دی کہ ’’لے لو حلوا۔ لے لو حلوا‘‘۔ حضرت ام المومنین نے حضرت مسیح موعود کی خدمت میں عرض کیا کہ ٹھیکیدار نے یہ کیا کام سنبھالا ہے؟ حضور نے فرمایا بیچارہ کیا کرے۔ حضرت ام المومنین نے کہا کوئی نوکری کر لے۔ فرمایا پڑھا لکھا نہیں ہے۔ عرض کیا کوئی زمینداری کا کام کرے یا گدھے لے کر محنت مزدوری کر لے۔ فرمایا اس میں اللہ برکت ڈالے گا۔
    جب حضور کی لڑکی فوت ہو گئی تو پرانے قبرستان میں دفن کرنے کے لئے لے گئے۔ مجھے یاد ہے کہ حضور نے جنازہ خود پڑھایا تھا اور قریباً آدھ گھنٹہ لمبی دعا کی تھی۔
    مجھے یاد ہے کہ جب حضور صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کو الوداع کہنے کے لئے موڑ تک گئے تو واپسی پر بٹراں کے رستے واپس آئے۔ راستہ میں ایک جوہڑ کے پاس آکر بڑی لمبی دعا کی اور ساتھیوں کو کہا کہ شہزادہ صاحب کے خاتمہ بالخیر کے لئے دعا مانگو۔ میں نے اتنی لمبی دعا نہ پہلے ہوتے دیکھی نہ بعد میں۔ کم از کم ایک گھنٹہ حضور نے یہ دعا کی تھی۔
    صاحبزادہ صاحب نے جاتی دفعہ کہا تھا کہ یا تو سارا کابل احمدی ہو جائے گا اور یا میں زندہ نہیں رہوں گا۔
    ایک دفعہ حضور سیر کر کے باغ سے واپس آرہے تھے کہ مالی نے عرض کی کہ حضورزمیندار نے قیمتی درخت کا ٹہنہ کاٹ لیا ہے۔ حضور نے توجہ نہ کی۔ اس نے پھر کہا۔ حضور نے پھر بھی توجہ نہ کی۔ اس نے تیسری دفعہ عرض کیا ۔ فرمایا یہ میرا کام نہیں۔ میں اس غرض کے لئے نہیں آیا میر صاحب یا دوسرے منتظمین کو کہو۔ یہ ان دنوں کا واقعہ ہے جب مرزا نظام الدین اور امام الدین ، کمال الدین صاحب وغیرہ جو ہڑسے مٹی نہیں لینے دیا کرتے تھے ۔ ایک دفعہ حضور نے مجھے مٹی لینے کے لئے بھیجا۔میرے ساتھ امام الدین اور ماہی کمہار تھے۔ ان کے ساتھ گدھے بھی تھے۔ ہم ڈھاب سے مٹی کھود رہے تھے کہ مرزا نظام الدین کے آدمی آگئے۔ ہمیں مارا بھی اور کدالیں بھی چھین لیں۔ ہم نے حضرت صاحب کے پاس آکر شکایت کی۔ فرمایا یہ ان کی ناسمجھی ہے۔ ہم مالک ہیں مگر آپ اور پیسے لے جائیں اور نئی کدالیں خرید کر اس جگہ سے مٹی لائیں جہاں یہ جھگڑا نہ کریں۔ ہم نے عرض کیا حضور آپ کی ملکیت ہے۔ فرمایا گھبرائو نہیں۔ وہ وقت آنے والا ہے جب یہ جھگڑے مٹ جائیں گے۔ اب صبر سے کام لو۔ ہم مسجد میں اوپر نماز پڑھا کرتے تھے مگر یہ لوگ نیچے احاطہ میں باجے اور طبلے بجایا کرتے تھے۔ حقہ اور بھنگ عام استعمال کرتے تھے۔
    ایک دفعہ جب کہ لیکھرام قادیان میں آیا ہوا تھا۔ حضرت صاحب سیر کے لئے باہر تشریف لائے ہم دو تین آدمی ساتھ چل پڑے۔ حضور کو اس حالت میں دیکھ کر وہ حیران ہوا اور خیال کیا کہ آج حضور کے ساتھ آدمی کم کیوں ہیں۔ا بھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ ایک کافی مجمع آدمیوں کا حضور کے ساتھ ہو لیا۔ اس دن حضور بسراواں کی طرف تشریف لے گئے اور جاتی دفعہ قرآن مجید کی بعض آیات کی تفسیر کی تھی۔ جس جگہ اب درد صاحب کی کوٹھی ہے اس سے ذرا پرے دائیں طرف حضور نے پیشاب بھی کیا تھا مگر لوگوں سے بہت دور جا کر۔
    ایک دفعہ حضور سیر کے لئے بھنگواں کی طرف تشریف لے گئے اور’’ یا مسیح الخلق عدوانا۱؎ ‘ ‘کی تفسیر فرمائی۔





    روایات
    سید محمد شاہ صاحب ولد سید رمضان شاہ صاحب
    سکنہ شاہ مسکین ضلع شیخوپورہحال لاہور
    عمر قریباً ۵۷ سال
    سن بیعت ۱۸۹۶ء ۔ سن زیار ت شروع ۱۸۹۲ء
    (۱) موضع فیض پور کلاں جو اس زمانہ میں ضلع لاہور میں شامل تھا مگر اب ضلع شیخوپورہ میں ہے وہاں ایک مولوی حسن دین امام مسجد تھے۔ ان کا اور ہمارے خاندان کا بہت تعلق تھا وہ اکثر ہمارے ہاں آیا جایا کرتے تھے۔ جس وقت ہم احمدی ہوئے انہوں نے بڑی مخالفت شروع کی۔ حضرت مسیح موعود پر بہت ناجائز تہمتیں لگاتے رہے اور یہ کہا کرتے تھے کہ ان کے پاس عورتیں اور وہ ہمیشہ بدکاری کرتے رہتے ہیں۔( نعوذ باللہ) ۔ایک دن خداوند کریم کی غیرت نے تقاضا کیا۔ اسی الزام میں وہ مولوی پکڑا گیا اور نمبرداروں نے جو اس کے بڑے معتقد تھے اسے گائوں سے نکال دیا اور عورت کے رشتہ داروں نے اس کو داڑھی سے پکڑ کر بندر کی طرح نچایا۔ اس وقت مولوی مذکور کی عمر قریباً ساٹھ ستر سال کی ہو گی۔ ایک سال کے بعد پھر نمبرداروں کو سو دو سو روپیہ دے کر وہ اس گائوں میں آیا اور وہیں مر گیا۔
    (۲) ۱۹۰۴ء کا واقعہ ہے کہ جب حضور یہاں لاہور تشریف لائے اور میاں معراج دین صاحب کے مکان پر فردکش ہوئے تو میرا بھائی پیر سردار شاہ صاحب ایک نابینا مسمی امام الدین حجام کو بیعت کرانے کے لئے لائے اور مجھے رقعہ لکھ کر دیا کہ حضرت صاحب کے پاس پہنچا دو۔میں وہ رقعہ لے کر اوپر گیا۔رقعہ دیکھ کر ہی حضور سیڑھی میں تشریف لائے میں سیڑھی میں کھڑا تھا۔ حضور نے فرمایا سردار احمد شاہ کون ہے؟ میں نے عرض کی حضور میرا بھائی ہے۔ ایک شخص بیعت کرنی چاہتا ہے۔ حضور اسی وقت نیچے والی بیٹھک میں تشریف لے آئے اور مسمی امام الدین کی بیعت لے کر پھر اوپر چلے گئے۔
    (۳) ۱۹۰۴ء میں جب حضور یہاں تشریف فرما تھے اس وقت میاں سر اج دین صاحب کے احاطہ میں حضور کا ایک لیکچر تھا۔ (میاں سر اج دین صاحب میاں محمد شریف صاحب ای۔ اے ۔ سی کے والد تھے۔) میرے والد صاحب جنہوں نے اس وقت تک بیعت نہیں کی تھی حضور کے عین پائوں کے نیچے بیٹھ گئے۔ یہ مجھے یاد نہیں کہ حضور نے لیکچر کھڑے ہو کر دیا تھا یا بیٹھ کر دیا تھا مگر بہر حال حضور کے منہ سے اس وقت دوران تقریری میں ہلکے ہلکے قطرات لعاب کے گرے۔ میرے والد صاحب نے اپنا منہ کھول کر وہ لعاب اپنے منہ میں لے لیا اور لیکچر کے بعد ہی بیعت کر لی۔
    (۴) آخری دفعہ جب حضرت صاحب لاہور تشریف لائے جمعہ کا دن تھا۔ میں دفتر سے آیا۔ میں جب آیا حضور خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان سے اتر رہے تھے۔ حضور اکیلے تھے۔ میں فوراً نیچے گیا اور حضور کو چھتری کا سایہ کیا اور حضور کے ہمراہ مسجد تک گیا۔ جس وقت حضور مسجد میں داخل ہوئے تمام لوگ تعظیم کے لئے کھڑے ہو گئے۔حضرت صاحب اندر تشریف لے گئے مگر میں اندر نہ جا سکا کیونکہ بھیڑ اس قدر تھی کہ کہیں جگہ نہ مل سکی۔ جوتیوں میں ہی جمعہ کی نماز پڑھی۔
    (۵) جب حضور آخری بار یہاں تشریف لائے تو جس دن حضرت صاحب کی وفات ہوئی غیر احمدیوں نے ایک لڑکے کا منہ کالا کر کے اسے کانو کی ایک ارتھی بنا کر لٹا دیا اور چار لڑکوں نے اٹھا لیا۔ ایک مولوی سرخ داڑھی والا پیچھے پیچھے سر سے ننگا چل پڑا۔ وہ کہتا تھا ہائے ہائے مرزا مر گیا۔ پیچھے تمام آوارہ گرد اس فقرہ کو دوہراتے تھے۔ پھر وہ کہتا تھا۔
    ’’ بولو رام‘‘ اس پر تمام ’’ بولو رام‘‘ کہتے تھے۔ جس سے ان کی مراد یہ تھی کہ حضور نعوذ باللہ مسلمان نہیں تھے۔
    (۶) جن دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مکان کی تلاشی لیکھرام کے قتل کے سلسلہ میں ہوئی ہم ایک دن یہاں لاہور میں لنگے منڈی والی مسجد میں مرزا ایوب بیگ ؓ کے پیچھے صبح کی نماز پڑھ رہے تھے۔ مرزا صاحب مرحوم کی عمر اس وقت سترہ اٹھارہ سال تھی۔ سلام پھرنے کے بعد انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سجدہ میں نبی کریم ﷺ کو دیکھا ہے۔ آپ فوجی لباس میں ہیں ہاتھ میں تلوار ہے اور بھاگے بھاگے جا رہے ہیں۔ میں نے عرض کی حضور کیا بات ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ مرزا غلام احمد صاحب کی آج تلاشی ہونی ہے۔ میں قادیان ان کی حفاظت کے لئے جا رہا ہوں۔
    (۷) ایک دفعہ مسجد اقصیٰ میں حضور تشریف فرما تھے۔ ہجوم اس قدر زیادہ تھا کہ مسجد میں سما نہیں سکتا تھا۔ مجبوراً بعض لوگ متصل مکانوں پر چڑھ گئے۔ ہندوں وغیرہ نے شکایت کی کچھ برا بھلا بھی کہاکہ لوگ ہمارے مکانوں کو خراب کر رہے ہیں۔ حضور نے فرمایا ان کے مکانوں کی طرف فوراً تار لگا دو تا کوئی آدمی ادھر نہ جا سکے۔ نواب محمد علی صاحب نے فوراً اس امر کی تعمیل کی اور تار لگوا دی۔





    روایات
    حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسیٰ ولد میاں چراغ الدین صاحب
    سکنہ لاہور
    سن بیعت جنوری ۱۸۹۲ء ۔ سن زیارت حضرت اقدس ۱۸۹۲ء
    میں سر سید مرحوم کا لٹریچر پڑھا کرتا تھا۔ چنانچہ ان کی اخبار تہذیب الاخلاق اور تفسیر کا کل مجموعہ اس وقت تک میرے پاس موجود ہے۔ سیر سید مرحوم کے مضامین سے مجھے خاص دلچسپی دین کے ساتھ پیدا ہو گئی تھی۔ اس کے بعد حضرت صاحب کا تذکرہ سُنا۔ اور کچھ حضرت صاحب کے اشتہارات بھی دیکھے۔ براہین احمدیہ بھی پڑھنے کا موقع ملا۔ اس سے میرے دل میں حضرت صاحب کی محبت کا جوش پیدا ہوا اور میں قادیان گیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح اوّل ؓ کی وساطت سے حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضور کی بیعت سے مشرف ہوا۔
    اس زمانہ میں حضرت صاحب چھوٹی مسجد میں مہمانوں کے ساتھ مل کر کھانا کھایا کرتے تھے اور شام کے وقت شاہ نشین پر بیٹھ کر پندو نصائح فرمایا کرتے تھے۔ دو تین برس تک جب جب میرا جانا قادیان میں ہوا تو حضور کی صحبت میں بہت ہی عظیم الشان روحانی فائدہ اور تسکین اور اطمینان قلب پیدا ہوا اور حضور کے ساتھ ہر دفعہ طعام کھانے اور کلام کرنے کا موقع ملتا رہا۔
    میرا تعارف حضرت مسیح موعود کے سوال پر حضرت خلیفۃ المسیح اوّل نے کرایا تھا کہ یہ میاں محمد سلطان مرحوم جو لاہورمیں ایک رئیس اعظم اور نواب اور چیفس آف دی پنجا ب میں سے ہیںان کے خاندان میں سے ہیں اور میاں چراغ الدین صاحب کے فرزند اکبر ہیں اور میاں صاحب رئیس لاہور ہیں۔ اہلحدیث ہیں مولوی محمد حسین بٹالوی کے ہم جلیس ہیں۔ حضرت صاحب بہت خوش ہوئے اور میری بیعت کو بھی ایک آیت اللہ قرار دیا۔ حضور کی جو محبت مجھ عاجز سے تھی وہ اس سے ظاہر ہے کہ حضور جب جب میں حضور کی خدمت میں جاتا اور جہاں حضور ہوتے اپنے مکان کے اندر تک مجھے بلا لیتے اپنے پاس بٹھاتے اور بڑی محبت سے میرے ساتھ کلام فرماتے رہتے۔ مجھے حضرت صاحب کے ساتھ خاص محبت اور خلوص پیدا ہوتا گیا اور میں حضرت صاحب کی خدمت میں بار بار حاضر ہوتا تھا۔ تو حضور بہت خوش ہوتے تھے اور جب حضور سے رخصت کے لئے عرض کرتا تھا تو فرماتے تھے کہ ایک دن اور ٹھہر جائو۔ جس پر میں حضور کے حکم سے ایک دن اور ٹھہر جاتا تھا۔ کبھی کبھی رات کو آدھی رات کو بھی قادیان پہنچنے کا ہمیں موقع ملتا تھا تو اس وقت بھی حضور کا ملازم کھانا میرے لئے لے آیا کرتا تھا۔ کبھی دودھ کبھی چاول کبھی سویاں کبھی شوربا وغیرہ مگر یہ غذا تازہ ہوتی تھی اور حضور اپنے پاس سے بھیجتے تھے۔ اور صبح کی نماز کے وقت عموماً نام ے کر یاد فرماتے تھے کہ رات ہمارے دوستوں میں سے فلاں شخص آیا ہے وہ کہاں ہے؟ تو میں حضور کی خدمت میں حاضر ہو جاتا تھا۔ حضور بہت خوش ہوتے تھے اور مسجد میں کچھ دیر تک گفتگو فرما کر اندر تشریف لے جاتے تھے۔
    ایسے ہی کئی موقعے اس عاجز کو ملے پھر جب عبداللہ آتھم کے ساتھ امرتسر میں حضور کا مباحثہ ہوا۔ اس مباحثہ میں داخلہ بذریعہ ٹکٹ تھا ایک ٹکٹ مجھے بھی دیا گیا تھا۔ میں پندرہ دن ہی اس مباحثہ میں حاضر رہا تھا اور میری اکثر عادت تھی کہ میں حضور سے مسائل کے متعلق بہت سوال کیا کرتا تھا اور حضور نہایت ہی خوش اسلوبی اور محبت سے میری تسلی فرماتے تھے۔ اس مباحثہ کے دوران میں شام کے وقت جب حضور اپنے فرود گاہ پر تشریف لائے تو حضرت خلیفہ ثانی اس وقت بہت ہی چھوٹے تھے اور حضور ان کو گود میں اٹھا کر باہر لے آیا کرتے تھے۔
    عموماً میری زیادہ مجلس حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے ساتھ ہی رہتی تھی۔ درس قرآن کریم و حدیث و طب تمام میں شامل ہوا کرتا تھا۔
    مباہلہ میں جو عبدالحق غزنوی کے ساتھ ہوا تھا اس میں مَیں بھی شامل تھا۔ حضرت صاحب کے ساتھ پہلو میں کھڑا تھا اور میرے والد بزرگوار بھی مبا ہلہ میں آئے ہوئے تھے۔ ابھی انہوں نے بیعت نہیں کی تھی مگر جب حضرت کی دعائیں اور اس میدان میں خدا کے حضور التجائیں اور سخت عذاب کی اپنے لئے درخواست بشرط جھوٹا ہونے کے جب میرے والد صاحب نے سنیں تو ان کا دل بھی پگھل گیا اور وہ آمادہ بیعت ہو گئے۔ اس کے بعد حضرت صاحب کی محبت ان کے دل میں بڑھتی گئی۔ یہاں تک کہ وہ قادیان میں تشریف لے گئے اور بیعت کر لی۔
    حضرت خلیفۃ المسیح اوّل ان دنوں لاہور ہی میں تھے جب لیکھرام کے قتل کا واقعہ ہوا۔ لیکھرام شاہ عالی میں رہتا تھا۔ اس قتل سے پہلے رمضان شریف میں آریہ سماج مندر میں جو وچھو والی میں تھا وہ میرے ساتھ اور صوفی نبی بخش صاحب اور ایک اور صاحب تھے جن کا نام یاد نہیں ہم تینوں اس سے روح و مادہ کے متعلق مباحثہ کیا کرتے تھے۔ وہ قرآن مجید پر حملے کرتا تھا ہم اس کا جواب دیتے تھے۔ خدا کی شان ہے کہ رمضان کے آخری ہفتہ میں ہم نے اس سے مباحثات چھوڑ دئیے اور اس سے کہا کہ اب عنقریب تم خدا کے عذاب میں مبتلا ہونے والے ہو۔ اور بڑے مجمعے میں ہم نے حضرت مسیح موعود کی وہ پیشگوئی پڑھ کر سنائی اور ابھی دس دن نہ گزرے تھے کہ وہ قتل ہو گیا۔ میرے والد صاحب چونکہ بہت ہی رفیق القلب تھے ان کو خوف پیدا ہوا کہ میرا بچہ جو مباحثات میں جایا کرتا تھا کوئی ہندو اس پر الزام نہ عائد کر دے۔ خدا کا شکر ہے کہ اس کے بعد ہندو مسلم کا سوال پیدا ہو کر حضرت صاحب کی پیشگوئی کا علی الاعلان سب مسلمانوں نے اقرار کیا کہ واقعی حضور مسیح موعود کی یہ پیشگوئی عظیم الشان پیرایہ میں پوری ہوئی ہے۔
    میں ایک بات کا بیان کرنا بھول گیا اور وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے عبداللہ آتھم کے متعلق جو پیشگوئی فرمائی تھی۔ جب اس کا اعلان ہو گیااور میں لاہور ہی آیا تو مولوی کرم بخش صاحب۔

    روایات
    سید محمد اشرف صاحب ولد مولوی سید علی محمد صاحب
    سکنہ لاہور
    سن بیعت ۱۹۰۴ء ۔ سن زیارت ۱۹۰۳ئ۔عمر قریباً ۶۲ سال
    (۱) جب میں ۱۹۰۳ء میں گیا تو اس وقت میں اور حکیم غلام نبی زبدۃ الحکماء لاہور خلیفہ اوّل کے مہمان تھے۔ خلیفہ اوّل نے ہمارا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تعارف کرایا۔ ان دنوں مسیح موعود کوئی کتاب لکھ رہے تھے جس کا حضور نے ذکر کیا۔ حکیم غلام نبی صاحب کہنے لگے اگر آپ اجازت دیں تو میں یہ کتاب چھپوا کر لوگوں میں مفت تقسیم کروں مگر حضرت صاحب نے فرمایا : نہیں ہماری جماعت ہی یہ کام کرے گی۔
    (۲) بیعت کرنے کے بعد میں اکثر قادیان جایا کرتا تھا۔ ایک دفعہ میں اور خواجہ کمال الدین مرحوم قادیان گئے۔ رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ میں نے اور انہوں نے حضرت صاحب کو اطلاع کرائی حضور نے ہمیں اس وقت اپنے کمرہ میں بلا لیا ۔ وہاں دو پلنگ پڑے تھے جن پر بستر بچھے ہوئے تھے۔ وہ دونوں پلنگ ہم دونوں کے لئے خالی کر دئیے اور آپ دوسرے کمرہ میں تشریف لے گئے۔ خواجہ صاحب نے کہا کہ آج ہم اتفاق سے یہاں سوئے ہوئے ہیں یہ کمرہ بیت الدعا کا ہے۔ بہتر ہے کہ آج صبح تہجد میں اٹھ کر دعا کریں۔ میں تہجد میں اٹھا اور دعا کی اس کے بعد اذان ہو گئی۔ ہم نے مسجد میں باجماعت نماز پڑھی۔ میں رات کی کم خوابی کی وجہ سے پھر لیٹ گیا اور مجھے پھر نیند آگئی۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ مسیح موعود میرے پاس تشریف لائے ہیں اور حضور نے کچھ بات کہی ہے مگر اسے نہیں سمجھا۔ آپ نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ میری بات سمجھ گئے؟ میں نے کہا نہیں۔ پاس حضرت مولوی نورالدین صاحب کھڑے تھے آپ نے ان کو فرمایا۔ مولوی صاحب آپ سمجھ گئے ہوں گے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہاں۔ اس کے بعد حضور نے کچھ مٹھائی جلیبی کی قسم کی مجھے کھانے کو دی۔ میں نے یہ خواب خواجہ صاحب کو سنایا مگر آپ نے کہا کہ اس کی تعبیر مسیح موعود سے ہی پوچھیں۔ اس کے بعد حضرت صاحب تشریف لائے۔ اندر سے ہی ہمارے لئے چائے لائے اور لنگر سے بھی منگوائی۔ چائے پی لینے کے بعد میں نے خواب سنایا تو حضور نے فرمایا کہ آپ کو ترقی ملے گی اس خواب کی یہ تعبیر ہے۔
    جب میں قادیان سے واپس لاہور آیا تو میرے دفتر کے ایک ہندو افسر نے کہا کہ شاہ صاحب مبارک ہو کہ افسر نے آپ کی ترقی کی سفارش کی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ تو مجھے تین رو زسے معلوم ہے۔ اس نے کہا کہ یہ کیسے؟ میں نے کہا کہ میںنے قادیان میں خواب دیکھا ہے اور وہ خواب اس کو سنایا اور حضرت کی فرمودہ تعبیر بھی سنائی۔ وہ کہنے لگا کہ آپ کو مرزا صاحب کے کہنے پر اتنا اعتبار ہے۔ میں نے کہا ہاں۔ اس نے کہا اگرآپ اجازت دیں تو میں دوسرے آدمی کی ترقی کے لئے کوشش کروں۔ میں نے کہا ہاں بے شک کریں۔ غرضیکہ اس نے بڑی کوشش کی مگر آخر کار ترقی مجھے ہی ملی اور وہ ہندو مان گیا۔
    اس کے علاوہ میں صدر انجمن احمدیہ کا آڈیٹر مقرر ہو گیا اور یہ کام میں دو سال تک کرتا رہا۔ ان ایام میں میر ناصر نواب صاحب نے میرے پاس ایک بل بھیجا جس میں کچھ مزدوروں کی اجرت تھی اور کچھ اینٹیں مسیح موعود سے خریدی گئی تھیں۔ میں نے رسیدپر اعتراض کیا کہ مزدوروں کی برآمد پیش کرو جس پر ان کے انگوٹھے لگے ہوئے ہوں اور جس سے آپ نے اینٹیں خریدی ہیں ان کی بھی رسید پیش کرو۔ اس پر نانا جان خفا ہو کر مسیح موعود کے پاس گئے کہ مرید ہو کر ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں۔ مسیح موعود نے فوراً رسید لکھ دی اور باقی برآمد کے لئے کہا کہ بنا کر پیش کرو۔حساب کے معاملہ میں حضور اس قدر صفائی پسند تھے۔
    بٹالہ کے سٹیشن پر اکثر مولوی محمد حسین بٹالوی مل جاتا تھا۔ کیونکہ وہ میرا پرانا واقف تھا۔ سلسلہ کے متعلق اس سے باتیں ہوتی تھیں اور جب میں وہ باتیں قادیان پہنچ کر حضرت صاحب کو سنایا کرتا تھا۔ حضور بہت خوش ہوتے تھے اور اکثر سیر میں میرے ساتھ ہی باتیں کرتے رہتے تھے۔ بلکہ ایک دفعہ مجھے مولوی محمد علی نے کہا کہ اور لوگ بھی مسیح موعود سے باتیں کرنے آتے ہیں مگر آپ کسی کو وقت نہیں دیتے۔ میں نے کہا کہ میں ان لوگوں کو نہیں روکتا جو آگے آئے باتیں کرے۔
    سیر میں اکثر جس جگہ حضور کا دل چاہتا تھا زمین پر بیٹھ جاتے تھے۔ اگر خادم کوئی کپڑا بچھانا چاہیں تو بعض اوقات اسے منظور نہیں کرتے تھے۔
    سیر اکثر ریتی چھلے کی طرف یا جس طرف خلیفۃ المسیح ثانی کی کوٹھی ہے جایا کرتے تھے۔
    کھانا کھاتے وقت عمدہ عمدہ بوٹیاں اور چیزیں جو دسترخوان پر ہوتی تھیں دوستوں کو کھلایا کرتے تھے اور خود ہنستے جاتے تھے اور دوستوں کو کھلاتے جاتے تھے اور آپ کم کھاتے تھے۔
    میں صبح کو اپنے مکان کوچہ کندی گراں لاہور میں بیٹھا تھا کہ حافظ محمد حسین ڈنگوی جو کہ مسیح موعود کے پرانے خدام میں سے تھے فوت ہو چکے تھے اور ان کی بیوی جو کہ نابینا تھی ہمارے مکان پر آئی کہ میرے بچے کے لئے دوائی لا دو۔ کیونکہ میں ڈاکٹر محمد حسین صاحب کے مکان پر گئی تھی اور میں نے سنا ہے کہ مسیح موعود سخت بیمار ہیں اس لئے وہ کہتے ہیں کہ مجھے فرصت نہیں۔ میں اس کی دوائی کا انتظام کرنے کے بعد احمدیہ بلڈنگ کو بھاگا ۔ وہاں جب پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سڑک پر بڑی مخلوق اکٹھی ہے۔ اور سیڑھیوں پر ایک پٹھان سونٹا لئے بیٹھے ہیں اور کسی کو جانے نہیں دیتے۔ میں وہاں کھڑا جانے کے لئے اصرار کر رہا تھا کہ ڈاکٹر محمد حسین مرحوم نے مجھے دیکھ لیا اور اس نے اندر آنے کی اجازت دی۔ میں جا کر حضور کے پلنگ پر بیٹھ گیا اور آپ کو دبانا شروع کیا۔ کہ صبح آٹھ بجے کا وقت تھا۔ مفتی محمد صادق، مولوی صدرالدین اور ایک اور پٹھان اور میں چاروں آدمی آپ کی ٹانگیں دبا رہے تھے اور آپ کا رنگ کبھی سرخ ہو جاتا تھا اور کبھی زرد۔ کوئی آدھ گھنٹہ کے بعد سول سرجن لاہور آپ کو دیکھنے کے لئے آگیا اور ہم دوسرے کمرہ میں چلے گئے۔ اس کے بعد مستورات آگئیں۔ اس کے تھوڑا عرصہ بعد حضور کا وصال ہو گیا۔ میں وہاں سے سیدھا اپنے افسر کی کوٹھی پر گیا اور اس سے دو روز کی چھٹی لے کر جنازہ کے ساتھ روانہ ہو گیا۔ رات ہم بٹالہ سٹیشن پر رہے۔ پلیٹ فارم پر دریاں بچھائی گئیں اور علی الصبح کوئی چار بجے کے قریب جنازہ لے کر وہاں سے قادیان شریف کو روانہ ہوئے۔ قادیان کے موڑ پر مولوی محمد علی، مولوی شیر علی صاحب اور بہت سے احباب استقبال کے لئے آئے ہوئے تھے۔ پھر جنازہ باغ میں لے گئے اور وہیں جنازہ پڑھا گیا۔ خلیفہ اوّل مرحوم( کو) سب نے اتفاق رائے سے خلیفہ تسلیم کیا۔ اس کے بعد انہوں نے جنازہ پڑھا اور جنازہ دفن کرنے کے بعد سب نے خلیفہ اوّل کی بیعت کی اور ہم لاہور واپس آئے۔




    روایات
    مرزا احمد صادق صاحب ولد مرزا امیر الدین صاحب
    سکنہ لاہور
    سن بیعت ۱۹۰۴ء ۔ سن زیارت حضرت اقدس ۱۹۰۲ئ۔عمر قریباً ۵۰ سال
    (۱) مجھے اتنا یاد ہے کہ حضرت صاحب نے جہاں اب مسجد احمدیہ ہے وہاں کھڑے ہو کر تقریر کی تھی۔ جس میں ایک فقرہ یہ تھا کہ عیدین بھی ہوتی ہیں اور جمعہ بھی مسلمانوں کے لئے ایک عید ہے۔ لیکن سب سے بڑھ کر انسان کے لئے خوشی کا دن وہ ہے جس دن اس کے گناہ معاف ہو جائیں۔
    (۲) ایک دفعہ دوران مقدمہ کرم دین میں مَیں گورداسپور گیا اور سات دن وہاں رہا۔ گورداسپور میں جو ہندو تھا نے دار متعین تھا وہ گجرات کا رہنے والا تھا اور اس کا بیٹا بھی ان دنوں وہاں موجود تھا جس کا نام جگن ناتھ تھا۔ وہ مجھے طالب علمی کی حیثیت میں ہم سکول ہونے کی وجہ سے جانتا تھا۔ اس نے مجھے تعجب سے پوچھا کہ تم یہاں کیسے آئے ہو؟ میں نے اسے بتایا کہ یہاں ہمارے حضرت صاحب کا مقدمہ ہے اور میں حضور کے دیدار کے لئے آیا ہوا ہوں۔ اس پر اس نے تحکمانہ لہجے میں تھانیدار کا بیٹا ہونے کی وجہ سے مجھے کہا کہ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ میں قید نہیں ہوں گا۔ لیکن میں تمہیں بتاتا ہوں کہ یہ قید ہو جائیں گے۔
    (۳) میاں چراغ الدین صاحبؓ مرحوم کے مکان پر میں ایک دفعہ بیٹھا ہوا تھا یہ ۱۹۰۹ء کا واقعہ ہے۔ کہ حضرت میاں چراغ الدین صاحب نے مجلس میں بیٹھے ہوئے حضرت مسیح موعود کا تذکرہ کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ ہمارے دفتر میں ایک بنگالی کلرک تھا جو مسمریزم جانتا تھا اور اس کی قوت مسمریزم اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ وہ صندوقچہ میں پڑے ہوئے یا جیب میں پڑے ہوئے خط کا مضمون بتا دیتا تھا اور اس کی اس قوت سے چیف انجینئر تک بھی متاثر تھے اور اس سے ڈرتے تھے۔ ایک دفعہ اس بنگالی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحقیر کرتے ہوئے تکبرانہ طور پر میاں صاحب مرحوم کو کہا کہ تمہارے مرزا صاحب کیا غیب کی ماتیں بتاتے ہیں اگر وہ میرے سامنے ہوں تو پھر تم کو ان کی حیثیت معلوم ہو جائے۔ میں اس کے اس چیلنج کے مدنظر ایک دفعہ اسے قادیان میں لے گیا اوراس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں تشریف فرماتھے۔ ہم دونوں چھوٹی مسجد کی باہر والی تنگ سیڑھیوں کے رستہ سے اندر داخل ہوئے۔ میں اس کے آگے آگے تھا۔ جب میں مسجد مبارک کے اندر پہنچ گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ بنگالی بدحواس ہو کر پیچھے کی طرف بھاگا اور میں اس کے اس فعل پر حیران ہوا اور اس کے پیچھے سیڑھیوں سے نیچے اتر آیاا ور میں نے اسے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا ہے؟ اس نے میاں صاحب کو بتایا کہ وہاں تو کمرے میں دو شیرتھے جن کے خوف کی وجہ سے میں وہاں ٹھہر نہیں سکا۔ کیا آپ نے وہ شیر نہیں دیکھے؟
    خاکسار عبدالقادر عرض کرتا ہے کہ جس وقت مرزا محمد صادق صاحب نے روایت مجھ سے مسجد احمدیہ میں جمعہ کی نماز کے بعد۳۹۔۴۔ ۲۹کو بیان فرمائی اس وقت میاں عبدالعزیز صاحب المعروف فضل دین میان چراغ دین صاحب بھی موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جہاں تک مجھے یاد ہے۔ میاں صاحب فرمایا کرتے تھے کہ وہ دو تین سیڑھیاں نیچے بھی گر گیا تھا۔
    (۴) میرے والد صاحب جو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے اور بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں۔ معمولی درجہ کے تعلیم یافتہ تھے لیکن ان کو خواب کی تعبیر بیان کرنے کا خوب ملکہ تھا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ گجرات شہر میں سید اکبر علی شاہ پنشنر رسالدار کے ہاں چند ہم عمر دوست بیٹھے ہوئے تھے کہ سید اکبر علی شاہ نے میرے والد صاحب سے کہا کہ میاں امیر الدین مجھے ایک خواب کی تعبیر بتائیں یہ کہہ کر اس نے ایک خواب بیان۔ کی میرے والد صاحب نے وہ خواب سن کر اس سے کہا کہ رسالدار صاحب یہ خواب آپ نے آج سے کم از کم تیس پنتیس سال پہلے دیکھی ہے آج نہیں دیکھی۔ میرے والد صاحب کی یہ بات سن کر رسالدار مذکور بہت حیران ہوا۔ بلکہ ششد رہ گیا اور کہنے لگا میاں امیر الدین تعبیر بعد میں بتانا پہلے یہ بتائو کہ تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا کہ یہ خواب آج سے تیس پنتیس سال پہلے کی ہے۔ والد صاحب نے اسے کہا کہ جو واقعہ اس خواب میں بیان کیا گیا ہے اس کو گزرے ہوئے چونکہ تیس تیس سال ہو گئے ہیں۔ اس لئے میں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ یہ خواب اس وقت سے پہلے کی ہے جب وہ واقعہ ظہور پذیر ہوا تھا۔ اس پر رسالدار صاحب نے کہا کہ اچھا تعبیر بتائو۔ والد صاحب نے اس سے کہا کہ اس خواب میں حضرت مرزا صاحب یعنی مسیح موعود کی بعثت کا ذکر ہے اور چونکہ تم سید ہو اور لوگوں کی نگاہیں تمہاری طرف ہیں۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے اس خواب کے ذریعہ تم پر یہ فرض قرار دیا ہے۔ کہ تم مسیح موعود کی آمد کا اعلان کرو۔ یہ سن کر رسالدار مذکور کہنے لگا۔ ’’او میاں بلی نوں چھچھڑیاں دیاں خواباں‘‘۔





    میاں محمد صاحب ولد میاں اللہ بخش صاحب
    (۱) میاں صاحب مذکور صحابی نہیں ہیں بلکہ آپ نے خلیفہ ثانی کے عہد میں بیعت کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں پٹیالہ میں ملازم تھا وہاں میرے ایک دوست بابو الہ داد خاں متوطن نابھہ رہا کرتے تھے۔ وہ گورنمنٹ کی ملازمت سے ریٹائرڈ ہو کر پٹیالہ ریاست میں ملازم تھے۔ ان کی عمر اس وقت قریباً ساٹھ سال کی تھی ۔ یہ واقعہ قریباً سن ۱۹۱۵ء کے قریب کا ہے ۔ جب ہم دونوں پٹیالہ کی ملازمت سے فارغ ہو کر لاہور آئے تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ جب کبھی کوئی شخص چینیاں والی مسجد میں دعا کرانے کے لئے آیا کرتا تھا تو ہم اسے قادیان جا کر دعا کرانے کے لئے تحریک کیا کرتے تھے۔ اس لئے ہم سب لوگ حضرت مرزا صاحب کو اپنے زمانہ کا ولی اللہ سمجھتے تھے لیکن جب مبارک احمد فوت ہوئے اس وقت ہمارا رجوع مرزا صاحب سے ہٹ گیا۔





    روایات
    مرزا محمد اسماعیل صاحب ولد مرزا فتح محمد صاحب
    سن بیعت ۱۸۹۷ء ۔ عمر قریباً ۵۵سال
    (۱) خاکسار کو مرزا خدا بخش صاحب جو خاکسار کے ماموں تھے قادیان ۱۸۹۷ء میں لے گئے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ اس زمانہ میں ہائی سکول نہیں تھا۔ بلکہ ہم آریوں کے ایک سکول میں پڑھا کرتے تھے۔ ایک لڑکا مظہرقیوم جو پیر افتخار احمد صاحب کا لڑکا تھا میرے ساتھ سکول جایا کرتا تھا۔ اریہ سکول ایک چوبارہ میں تھا۔ آریہ ماسٹر اسلام پر اعتراض کیا کرتے تھے۔ ہم آکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وہ اعتراض بیان کیا کرتے تھے۔ حضور نے فرمایا۔ کہ یہ بات درست نہیں کہ ہمارے بچے آریہ سکول میں تعلیم حاصل کریں۔ ہمیں اپنا سکول کھولنا چاہئے۔ اس پر آپ نے ایک اشتہار دیا۔




    روایات
    میاں معراج الدین صاحب پہلوان ولد میاں فضل الدین صاحب
    محلہ پڑنگاں لاہور
    سن بیعت ۱۹۰۰ء یا اس سے قبل بذریعہ خط۔ زیارت قریباً ۱۸۹۸ء
    (۱) میاں عبدالعزیز صاحب المعروف مغل ہمارے محلہ میں تبلیغ کیا کرتے تھے۔ ہم چھوٹے چھوٹے تھے۔ لیکھرام کا قتل تازہ تازہ ہوا تھا۔ حضرت صاحب ہمارے اس بازار بھاٹی دروازہ میں سے گزرے۔ حضور کے ساتھ کوئی تیس کے قریب آدمی تھے۔ مجھے اور میاں مولا بخش صاحب دکاندار کو جب علم ہوا کہ حضرت صاحب بازار سے گزر رہے ہیں تو ہم دوڑ کر آئے تا کہ حضور کی زیارت ہو جائے۔ جب ہم بازار میں پہنچے تو حضرت صاحب تشریف لے آئے۔ میاں مولا بخش نے پہلے ایک اچھا سا کلمہ کہا پھر کہا سبحان اللہ۔ یہ منہ جھوٹوں کا نہیں ہو سکتا۔ مولا بخش صاحب احمدی نہیں ہوئے تھے مگر مخالفت بھی کبھی نہیں کی۔
    (۲) مجھے یاد ہے کہ مسلمانوں نے تجارت میں جو ترقی کرنا شروع کی ہے تو وہ لیکھرام کے قتل کے واقعہ کے بعد کی ہے۔ کیونکہ لیکھرام کے قتل پر بہت شور پڑا تھا اور ہندو مسلمان میں ایک شدید چپقلش پیدا ہو گئی تھی۔ مٹھائی وغیرہ کی مسلمانوں کی کوئی دکان نہیں تھی۔ ہندوئوں نے مسلمان بچوں کو مٹھائی اور ریوڑیوں وغیرہ میں زہر دینا شروع کر دیا۔ مجھے یاد ہے کہ میرا ایک دوست تھا جسے لوگ اٹھا کر لا رہے تھے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ایک ہندو نے اسے حلوا کھلایا ہے اور وہ بیہوش ہو گیا ہے۔ ایسے ہی کئی واقعات ہوئے اس پر مسلمانوں نے میٹنگیں کیں اور پختہ عہد کیا کہ ہندوئوں کے ہاتھ سے نہیں کھائیں گے۔ چنانچہ اس کے بعد مسلمانوں نے اپنی دکانیں کھولنا شروع کر دیں اور آج خدا تعالیٰ کے فضل (سے) ہرکھانے و الی چیز مسلمان دکانوں سے مل سکتی تھی۔ اس زمانہ میں بڑا مذہبی جوش تھا۔ آریہ اور عیسائی بازاروں میں کھڑے ہو کر تقریریں کیا کرتے تھے۔ یہ واقعات میاں عبدالعزیز نے بھی بیان کئے بلکہ زیادہ انہیں ہی یاد ہیں۔ اس زمانہ میں حضرت صاحب نے جو ان قوموں پر اعتراض کئے تھے اکثر مسلمانوں کی نوک زبان پر تھے اور جب لوگ ان لیکچراروں پر اعتراضات کیا کرتے تھے تو وہ کہا کرتے تھے افسوس! ہمیں وقت نہیں اور یہ کہہ کر چلے جایا کرتے تھے۔
    مولوی ٹہلی جو میاں عبدالعزیز صاحب فضل صاحب مکان کے سامنے ایک شیشم کے درخت پر چڑھ کر بکواس کیا کرتا تھا۔ ایسا ذلیل ہوا۔ کہ بالکل مخبوط الحواس ہو کر پھٹے پرانے کپڑوں کی گانٹھ پیٹھ کے پیچھے رکھتا تھا اور سر پر بھی چیتھڑے ہوتے تھے اور پاگلوں کی طرح پھرا کرتا تھا۔ اسی حالت میں مر گیا۔
    ایک شخص پیر بخش ہوا کرتا تھا اور رسالہ تائیداد اسلام کا ایڈیٹر تھا۔ ایک دفعہ اس نے ہماری دکان پر (یعنی بھاٹی دروازہ میں) اس نے کہا کہ تم کہا کرتے ہو۔’’ انی مھین من اراداھانتک۱؎ ‘‘ مرزا صاحب کا الہام ہے۔ میں ایک لبے عرصہ سے تو ہین کر رہا ہوں۔ مجھے کچھ نہیں ہوتا۔ شیخ عطاء اللہ صاحب نے کہا کہ آج کی تاریخ نوٹ کر لو۔ یہ شخص پکڑا گیا ہے۔ چنانچہ اس کا لڑکا حکومت افغانستان کی طرف سے ولایت ایک مشینری خریدنے کے لئے گیا ہوا تھا۔ بڑا امیر تھا مگر ولایت میں ہی مر گیا۔ اس کی وفات کی خبر جب پیر بخش کو پہنچی تو وہ اس کے لئے ایک بجلی تھی جو اس پر گری ۔ اس پر فالج گرا اور وہ مر گیا۔


    روایات
    میاں خدا بخش نیاریہ ولد میاں خیرالدین صاحب
    سکنہ شاہدرہ ضلع شیخوپورہ
    عمر تقریباً ۶۶ سال
    سن بیعت ۱۹۰۱ء یا ۱۹۰۲ء بذریعہ خط ۔ سن زیارت ۱۹۰۳ء
    افسوس مجھے بات کوئی یاد نہیں۔






    روایات میاں اللہ بخش صاحب ولد میاں خیر الدین صاحب شاہدرہ
    ۱۹۰۰ء سے قبل بیعت قادیان جا کر دستی ۔ عمر قریباً ۶۰سال۔خواندہ
    (۱) میں اور حکیم احمد دین صاحب کے بڑے بھائی محمد دین صاحب اکٹھے گئے تھے۔ ان دنوں یہ بات بڑے زورشور سے مشہور تھی کہ حضرت صاحب کو (نعوذ باللہ) کوڑھ ہو گیا ہے۔ مولوی عبدالکریم صاحب موجودہ بک ڈپو والے مکان میں بیٹھے تھے۔ ہم نے سمجھا کہ یہی مسیح موعود ہیں۔ جب پتہ لگا کہ یہ نہیں تو آگے بڑھے۔ مولوی صاحب کے مطب میں گئے وہاںبھی پتہ لگا کہ حضرت صاحب یہ نہیں۔ پھر ظہر کی نماز کے وقت حضرت صاحب تشریف لائے ہم نے دیکھا کہ کوڑھ کا نام و نشان نہ تھا۔
    (۲) ہم آٹھ دس دن رہے تھے۔ حضرت صاحب روٹی مہمانوں کے ساتھ بیٹھ کر کھایا کرتے تھے۔ چھوٹا چھوٹا لقمہ لیتے تھے اور شوربہ کے ساتھ ذرا سا بھگو لیتے تھے۔
    (۳) حضرت صاحب نے ہم سے پوچھا تھا کہ آپ کو تبلیغ کیسے پہنچی؟ ہم نے عرض کیا کہ میاں عبدالعزیز صاحب لاہور سے آیا کرتے تھے اور ان کے ذریعہ سے ہم احمدی ہوئے ہیں۔ حکیم احمد دین صاحب بھی ان کی تبلیغ سے ہی احمدی ہوئے تھے۔
    روایات
    میاں چراغ دین صاحب ولد میاں خیر الدین صاحب کمہار
    شاہدرہ
    بیعت وفات سے دو تین روز قبل۔ عمر۶۲سال
    حکیم احمد دین صاحب جب حضور کی ملاقات کے لئے لاہور جانے لگے تو میں نے انہیں مخول کیا ۔ حکیم صاحب نے کہا کہ یار تم اپنے آدمی ہو کر مخول کرتے ہو۔ یہ بات سن کر مجھے کچھ شرم سی محسوس ہوئی اور میرا دل نرم ہو گیا۔ ان کے کہنے پر میں بھی حضور کو دیکھنے کے لئے ساتھ چل پڑا مگر بیعت کا ہرگز کوئی ارادہ نہیں تھا۔ جب خوا جہ کمال الدین صاحب کے مکان پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ حضرت صاحب کی طبیعت علیل ہے۔ مخلوق بے شمار جمع تھی۔ حضور کی خدمت میں کسی نے عرض کیا کہ ہجوم بہت زیادہ ہے حضور کی زیارت کرنا چاہتے ہیں۔ حضور نے باری سے سرنکالا میں نے اندازہ لگایا کہ یہ چہرہ ہرگز جھوٹوں کا نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ میں نے بیعت کر لی۔



    نوٹ :۔ ایک شخص میاں چراغ دین صاحب شاہدرہ میں آج ۳۹۔۴۔۲۵کو ملے۔ ان کی عمر اس وقت ۷۵سال ہے۔ انہوں نے قریباً ۱۹۱۲ء میں بیعت کی ہے ۔ ان کی بیعت کا واقعہ دلچسپ اور سبق آموز ہے۔ اس لئے درج کیا جاتا ہے وہ صحابی نہیں ہیں۔
    فرماتے ہیںکہ میرے لڑکے میان سراج الدین اور میاں معراج دین احمدی تھے انہوں نے حضرت صاحب کی زندگی میں حضور کی بیعت کی تھی۔ انہوں نے مجھے کہا کہ چلو چل کر نماز پڑھ لو ۔ میں آگیا۔ میاں احمد دین صاحب جو مشہور حکیم تھے جمعہ کا خطبہ پڑھ رہے تھے۔ میری بیوی کو فوت ہوئے ہوئے بارہ تیرہ دن گزرے تھے ۔ مسجد شاہدرہ کے صحن میں بیٹھے بیٹھے مجھ پر ایک کیفیت طاری ہو گئی اور میری بیوی میرے سامنے آکھڑی ہوئی اس نے مجھے کہا کہ آپ شش و پنج میں کیوں پڑے ہیں۔ بیعت کر لو۔ یہی سیدھا راستہ ہے میں نے کہا کہ تو پردہ میں تھی لوگوں کے سامنے کیوں آگئی؟ اس نے کہا کہ میں پردہ میں ہوں کیا آپ کو اس مسجد میں میرے سوا اور کوئی نظر آرہا ہے یا آپ کسی کی آواز سن رہے ہیں؟ میں نے کہا نہیں۔ اس وقت سچ مچ مجھے وہی نظر آرہی تھی اور میں اس کے ساتھ باتیں کر رہا تھا۔ میں نے کہا اب تم جائو میں بیعت کر لوں گا۔ اس نے کہا میں جمعہ پڑھ کر جائوں گی۔ میں نے کہا کہ تم اکیلی کس طرح کھڑی ہو گی۔ اکیلی عورت کو توجمعہ پڑھنے کی مردوں کے پیچھے اجازت ہی نہیں۔ اس نے کہا کہ میں بھاگو کو کہہ آئی ہوں وہ آتی ہے ہم دو ہو جائیں گیاور نماز پڑھ لیں گی۔ اس نے مجھے کہا کہ پل صراط جس کا ذکر آتا ہے وہ یہی دنیا ہے اگر دنیا سے کوئی صحیح و سلامت ایمان کے ساتھ گزر جائے تو اسے اور کوئی پل صراط نہیں گزرنا پڑتی۔ آپ مان لیں یہی سیدھا راستہ ہے۔ خطبہ کے بعد میں نے حکیم صاحب کو یہ ساری خواب سنائی اور خط کے ذریعہ بیعت کر لی۔


    روایات
    ملک میرالٰہی صاحب ولد ملک صدرالدین صاحب
    بیعت ۱۸۹۸ء بذریعہ خط۔ زیارت کچھ عرصہ بعد لاہور میں۔
    عمر قریباً ۵۶سال۔ خواندہ
    (۱) مجھے ایک خواب آئی تھی کہ میری شادی ہو گئی ہے مگر نکاح نہیں ہوا۔ میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں خط لکھا کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ حضور نے جواب دیا کہ تیری ترقی یا تنزل تیرے حق میں مفید نہ ہو گی۔ میں اس وقت ڈاکخانہ کے محکمہ میں اوور سیئر تھا۔ جب حضور کا خط پہنچا تو اس کے تیسرے چوتھے روز مجھے چٹھی رساں کر دیا گیا اور حضور کے یہ الفاظ پورے ہو گئے۔
     
  2. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    روایات اصحاب احمد ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ یونی کوڈ۔ جلد10


    روایات
    حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی
    بیعت 1897ء بذریعہ خط۔سن زیارت 1899ء عمر قریباً 60سال
    (۱) ۱۸۹۹ء میں جب خاکسار اور مولوی امام الدین صاحب نے بیعت کی تو حضور نے فرمایا کہ نماز میں اپنی زبان میں دعا کیا کرو۔ اس وقت مولانا امام الدین صاحب نے عرض کی کہ نماز کے اندر اپنی ساری زبان میں جو پنجابی زبان ہے دعا کرنا نماز کو توڑے گا تو نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جواب میں فرمایا ’’ ٹوٹی ہوئی تو نماز آگے ہی ہے۔ میں نے تو نماز کو جوڑنے کے لئے یہ کہا ہے۔ ‘‘ پھر مولوی صاحب خاموش ہو گئے لیکن بیعت کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد پر جو نماز میں اپنی زبان میں دعا کرنے کے متعلق تھا۔ اس پر مولوی صاحب فقہاء کی پرانی طرز کی بنا پر اس سوال کے اٹھانے کو مَیں نے سخت محسوس کیا۔ کہ جو کچھ حضرت صاحب نے فرمایا ہے۔ وہی درست اور صحیح امر ہے۔ اب بیعت کے بعد اس کے خلاف کسی بات کا اظہار کرنا مناسب نہ تھا۔
    (۲) بیعت کے بعد میں قریباً ہر سال ایک دفعہ کم از کم قادیان میں جاتا رہا۔ جب تک کہ حضرت اقدس زندہ رہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا عموماً یہ طرز تھا کہ صبح کو سیر کے لئے قریباً 8بجے باہر تشریف لے جاتے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اپنی معمولی چال سے چل رہے ہیں لیکن اس چال میں ایک نہایت ہی ……………… محسوس ہوتی تھی۔ اور جس طرح آنحضرت ﷺ کی نسبت رکھا ہے کہ آپ کی رفتار میں حسن خراش کا جلوہ نظر آٹا تھا۔ ویسے ہی مسیح موعود علیہ السلام کی رفتار میں یہ خوبصورتی محسوس ہوتی تھی۔ اور باوجود یکہ حضور معمولی طور پر چلتے ہوئے معلوم ہوت یتھے۔ مگر اس معمولی رفتار میں بھی تیزی اس حد تک ہوتی تھی کہ لوگ دوڑ دوڑ کر ستاھ ملتے تھے۔
    ایک واقعہ اس سیر کے متعلق مجھے اید ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کھارے کی طرف جو رستہ جاتا ہے اس طرف تشریف لے گئے۔ راستہ میں بوجہ ان پودوں کے جن کو پنجابی میں ’’ ملہے‘‘ کہتے ہیں اور کتابوں میں ان کا نام جنگلص میر یا کنار حوائی آیا ہے۔ وہ چھوٹے چھوٹے پودے کانٹے دار کئی جگہ راستوں میں ہوا کرتے تھے۔جب وہ راستے میں آئے تو وہاں سے رستہ کئی شاخوں پر منقسم ہو گیا۔ اور مختلف دوست مختلف شاخوں میں سے گزرنے لگے۔ مجھے یاد ہے کہ میں حضرت مسیح موعود کے دائیں دست مبارک کے ساتھ ساتھ آگے قدموں کے بالکل پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ کہ آٗے وہ ملہے کا پودہ آگیا۔ تو وہاں مجھے اس پودے کی وجہ سے ٹھوکر لگی۔ جس کی وجہ سے میں آٗے گزرنے لگا۔ لیکن گرنے سے بچ گیا۔ اور حضرت مسیح موعود کی چھڑی جو حضور کے ہاتھ میں تھی میرا کرتہ جو ململ کا تھا۔ اس چھڑی کے لگنے کے سبب سے پھٹ گیا۔ حضرت صاحب کھڑے ہو گئے۔ اور میری طرف دیکھنے لگے اسی جگہ ایک کانٹا اسی خاردار پودے کا میرے پائوں کے اگلے حصہ کی اوپر کی طرف تین اگلی لمبے نظم کے ساتھ خراش پیدا کرنے والا ہوا۔ جس سے خون بھی نکلا۔ لیکن مجھے بوجہ اس جذبہ محویت کے جو حضرت صاح بکی طرف متوجہ ہونے کے باعث تھا۔ کچھ اتنا محسوس نہ ہوا۔ حضرت صاحب ذرا ٹھہر کر پھل چل پڑے۔ جب واپس آئے تو میرا وہ کرتہ جہاں سے پھٹا تھا۔ اور حضرت صاحب کی چھڑی سے پھٹا تھا۔ بہت ہی پیارا لگ رہا تھا۔ بعد میں میں نے بطور تبرک گھر میں محفوظ رکھا۔کہ یہ حضرت صاحب کے ذریعہ ایک چیز بطور یادگار کے مجھے حاصل ہوئی ہے۔ اور وہ نشان اس کانٹے کا جو میرے پائوں کے اگلے حصہ کی طرف پایا گیا۔ ایک عرصہ دراز تک رہا۔ اور بہت حقیقیت سا اب بھ ہے۔اس کو دیکھ کر مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ سیر والا واقعہ یاد آجاتا ہے۔ اس لئے یہ خراش والا نشان بھی مجھے بہتے پیارا لگتا ہے۔
    (۳) اسی طرح ایک واقعہ میں نے قادیان میں ہی سنا کہ یہاں ایک ………… آیا ہے جو غالباً ضلع سیالکوٹ کا تھا۔ اس کی نسبت یہ سنا کہ اس نے حضرت مسیح موعود سے درخواست کی ہے کہ حضور میری بیعت لے لیں تو حضرت صاحب نے خلاف معمول اس سے فوراً بیعت لے لی۔ حالانکہ آپ کا معمول یہ تھا کہ آپ جب کبھی کوئی شخص حضور کی ملاقات کو آتا اور بیعت کی درخواست کرتا تو فوراً بیعت نہ لینے بلکہ اسے ارشاد فرماتے کہ چند روز اور ٹھہرو۔ اور اچھی طرح تحقیق کر لو جب پورا اطمینان ہو جائے اس وقت بیعت کر لینا۔ لیکن اس ………… کے متعلق اس طرح کا معاملہ نہیں ہوا تھا بلکہ حضور نے اس سے فوراے بیعت لے لی۔ جب کسی نے اس سے پوچھا کہ آپ نے بیعت کر لی ہے آپ کچھ روز یہاں ٹھہریں اور حضرت اقدس کی محبت سے فیض حاصل کریں تو اس نے کہا کہ ہمیں صرف اس بیعت کی ہی ضرورت تھی اور جس کام کی ضرورت تھی جب وہ ہو گیا تو اب میں واپس جاتا ہوں اس نے کہا کہ آپ کو بیعت کی تحریک کیسے ہوئی تو اس نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ آسمان پر اعلان کیا گیا ہے کہ جو لوگ مسیح موعود کی بیعت نہیں کرتے ان کو آسمان سے نیچے گرا دیا جائے۔ چنانچہ اس حکم کی تعمیل میں جو بڑے بڑے بزرگ اور روحانی لوگ آسمان پر تھے۔ اور انہوں نے حضرت مسیح موعود کی بیعت نہیں کی تھی ان کو نیچے گرایا جانے لگا۔ اسی سلسلہ میں خدا کا ایک فرشتہ جو اس کام کے لئے مامور تھا۔ میری طرف بھی آیا میں نے کہا کہ میں ابھی بیعت کر لوں گا مجھے آسمان سے گرا کر زمین پر نہ پھینکا جائے اس وجہ سے اور اس تحریک کی بنا پر میں بیعت کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ میرا اپنا خیال یہ ہے کہ اس مجذدب کا نام فقیر محمد تھا۔ جو سیالکوٹ کے ’’ اَیک ‘‘ نام نالے کے کنارے کی کسی بستی میں رہنے والا تھا اور وہ وہی ہے۔ جس نے بیعت کے بعد حضرت مسیح موعود کی تائید اور تصدیق میں ایک اشتہار بھی شائع کیا تھا۔ اور وہ اشتہار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بھی پہنچایا گیا جس اشتہار کو حضرت مسیح موعود نے اپنی کتاب حجۃ اللہ میں نقل فرما کر شائع بھی کیا ہے۔
    (۴) گورنمنٹ کی طرف سے جب سلسلہ احمدیہ کے قائم ہونے کے بعد پہلی دفعہ مردم شماری کا انتظام ہونے لگا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بھی یہ سوال پیش کیا گیا کہ حضور کی جماعت کا نام مردم شماری میں کس نام سے موسوم ہونا چاہئے۔ حضرت صاحب غالباً جمعہ کی نماز کے بعد وہاں مسجد اقصیٰ میں ہی احباب کے ساتھ بیٹھ گئے اور اس سوال کے متعلق مشورہ فرمانے لگے کہ ہمارے فرقہ کا نام مردم شماری میں کیا ہونا چاہئے۔ اس پر مختلف دوستوں نے مختلف نام پیش کئے۔ حضرت مسیح موعود نے ’’ احُدی مسلمان‘‘ نام پسند کیا۔ اور پھر اس پر ایک اشتہار شائع فرما کر جماعت کو اطلاع کی گئی کہ مردم شماری میں اگر ہماری جماعت کے متعلق پوچھا جائے تو انہیں اپنے فرقے کا نام احمدی مسلمان لکھانا چاہئے۔
    جنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس پہلی مردم شماری میں مجھے بھی یہ سعادت نصیب ہوئی کہ میں نے بھی ’’ احمدی مسلمان‘‘ اپنے آپ کو لکھوا دیا۔
    (۵) ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کو میں نے ایک عربی قصیدہ سنایا۔ مسجد مبارک میں مغرب کی نماز کے بعد چھت پر میں قصیدہ سنانے گیا اور ذیل کا شعر جب میں نے پڑھا جو یہ ہے۔
    اتویدونا بحمقکم دجالکم بحیاۃ عسیٰ اللہ الذات
    اس شعر میں مَیں نے اسلام کے علماء جو سلسلہ احمدیہ کے مخالف اور دشمن تھے ان کو مخاطب کرتے ہوئے یہ شعر کہا تھا۔ جس کا یہ مطلب ہے کہ کیا تم اپنی حماقت سے اپنے دجال کی تائید کرتے ہو۔ عیسیٰ علیہ السلام کی حیاۃ کے ذریعہ جو ………… کا تو نہیں البتہ مردوں کا سردار ہے۔
    حضرت صاحب نے جب یہ شعر سنا تو اپ نے اس شعر کو بہت ہی پسند فرمایا اور فرمایا کہ یہ شعر بہت ہی اچھا ہے۔ اس کو دوبارہ پڑھو۔ چنانچہ خاکسار نے اس شعر کو پھر دہرا کر پڑھا۔ اس کے بعد یہ شعر مجھے اب تک یاد ہی رہتا ہے۔ اور جب میں اسے پڑھتا ہوں تو وہ سماں اور وہ منظر حضرت مسیح موعود کی مجلس کا میری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ اور روح کو مسرت بھی ہوتی ہے اور اس پیارے مسیح کی فرقت کے بارث طبیعت ایک حزن و غم اور حسرت بھی محسوس کرتی ہے۔ سو یہ شعر بھی میرے لئے حضرت مسیح موعود کی یادگاروں میں سے بطور ایک یادگار کے ہے۔
    (۶) ایک دفعہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک عربی قصیدہ سنایا۔ عشاء کے وقت سنایا۔ اور صبح جمعہ کا دن تھا۔ میں بمعہ مولوی محمد بخش صاحب جو مظفر گڑھ کے باشندہ تھے اور احمدی تھے۔ اب فوت ہو چکے ہیں۔ …………………… ہم دونوں بازار میں دہی لانے کے لئے گئے کہ تا ہم جمعہ کے لئے غسل کریں بازار سے جب ہم واپس آئے اور مسجد مبارک کی اندرونی سیڑھیوں کے پاس آئے۔ تو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی جو اس وقت قریب البلوغ تھے۔ حضرت مسیح موعود کے فرمانے پر مھجے بلانے کے لئے مکان سے اترے تھے تا وہ مجھے حضرت مسیح موعود کے فرمان سے اطلاع دیں کہ حضرت اقدس آپ کو یاد کرتے ہیںچنانچہ آپ نے مجھے فرمایا کہ آپ کا نام مولوی غلام رسول ہے۔ میں نے عرض کیا کہ ہاں جناب ۔ غلام رسول میرا ہی نام ہے۔ فرمایا کہ اوپر حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کی انتظار میں کھڑے ہیں۔اور دو آدمی مجھ سے پہلے آپ کو بلانے کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ جس وقت حضرت صاحبزادہ صاحب نے مجھے اس امر سے اطلاع دی تو میں مارے غم کے مرزا ……… ہو گیا۔ کہ حضرت اقدس نے مجھے بلانے کے لئے تین آدمی بھیجے۔ خدا جانے کیا بات ہے اس کا میرے قلب پر بہت ہی بڑا بار محسوس ہوا۔ کہ خدا جانے کوئی میرے متعلق عتاب کی بات ہے یا کوئی منذر امر ہے جس کے لئے مجھے یاد فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ میں جب سیڑھیون سے چڑھ کر دروازے پر پہنچا۔ تو حضرت مسیح موعود نہایت ہی سادہ حالت میں سر کے اوپر لال رنگ کی رومی ٹوپی اوڑھے کھڑے تھے۔ بالوں میں حصورت سادگی کے ساتھ اششانہ کیفیت تھی۔ قمیص اور اس پر ایک واسکٹ پہنی ہوئی تھی۔ ہاتھ میں حضور کے ایک کتاب پکڑی ہوئی تھی جس کی بالکل نئی جلد بندھی ہوئی تھی۔ اس کا نام مواھب الرحمان تھا۔ حضور نے مجھے دے کر فرمایا کہ یہ کتاب میں نے خود جلد کرائی تھی اور راب آپ کو دیتا وہں کہ آپ اسے پڑھیں۔ اس کے معاً بعد فرمایا کہ کیا آپ کے پاس اعجاز احمدی جو میری کتاب ہے وہ بھی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ حضور میرے پاس اعجاز احمدی موجود نہیں فرمایا یہاں ہی ٹھہرو میں وہ بھی ابھی لاتا ہوں۔ چنانچہ حضور جا کر فوراً وہ بھی لے آئے اور میرے ہاتھ میں دے کر فرمایا کہ بھی میں نے انے لئے جلد کرائی تھی پھر معاً فرمایا کہ کیا آپ کے پاس نسیم دعوت بھی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ حضور وہ بھی میرے پاس موجود نہیں۔ فرمایا۔ ابھی ٹھہرو میں وہ بھی لے آتا ہوں۔ چنانچہ حضور جا کر نسیم دعوت بھی لے آٖے۔ا ور لا کر میرے ہاتھ میں دے د فرمایا کہ یہ کتابیں میں نے اپنے لئے جلد کرائی تھیں اور مجھے یاد ہے کہ ان دنوں حضور کی کتابیں قاضی ضیاء الدین صاحب قاضی کوٹی جو ضلع گوجرانوالہ کے رہنے والے تھے اور لوگوں کی مخالفت کی وجہ سے وہ ہجرت کر کے دارالامان میں آگئے تھے وہ مہمان خانہ کے ایک چھوٹے سے کمرہ میں جو دروازہ سے دائیں طرف تھا۔ رہتے تھے۔ کتابوں کئی جلدیں کیا کرتے تھے۔ بلکہ اس فن کے ہاتھ ہے۔ حضرت مسیح موعود کی کتابوں کی جگہ میں بھی انہوں نے ہی کی تھیں۔ میرے پاس اگرچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تبرکات سے ایک رومال اور ایک جائے نماز جو چھوٹی دری کی صورت میں تھا اور میرے مکرم و محترم جانب ڈاکٹر رشید الدین صاحب ؓ جو سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے خسر تھے۔ کا عطا فرمودہ تھا۔ وہ دونوں ایک ……… کا شخص مجھ سے بار بار منت اور سماجت کرنے کے بعد حاصل کر کے لے گیا اور اس نے اس قدر سماجت کا اظہار کے ساتھ مجھ سے وہ پلب کیا کہ آپ لوگوں نے جو حضرت مسیح موعود کے صحابی ہیں ان کی بار بار زیارت کی ہے۔ اور یہ زیارت ہے آپ لوگوں کے لئے ایک بیش بہا خدا کی برکت کا خزانہ ہے۔ یہ تبرک خدا کے لئے ہمیں عطا کرو۔ اس لئے مجھے اس کے بار بار منت اور سماجت سے بھرے ہوئے الفاظ سے شرم محسوس کرتے ہوئے اسے یہ تبرکات دینے پڑے۔ اور آج کل میرے پاس تبرکات سے صرف حضرت اقدس کے بال مبارک ہیں۔ جو میاں غلام رسول صاحب حجام امرتسری صحابی حضرت مسیح موعود سے حاصل کئے ہیں۔ انہوں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بغرض حصول سعادت حجامت بنائی تھی اور بال حا کئے تھے مجھے اگرچہ ان تبرکات کے حصول سے بھی خاص مسرت حاصل ہوئی لیکن جس قدر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ان کتابوں کے عطیہ سے مجھے مسرت اور بہت بڑی مسرت حاصل ہوئی۔ اس کا میں اندازہ نہیں کر سکتا۔یہ وہ سعادت اوربرکت کا خزانہ مجھے عطا فرمایا گیا جو میرے لئے ایک باعث فخر مباھات ہے اور جن کو میں جب دیکھتا ہوں تو اس وقت ایک مسرت کی لہر میرے اندر دوڑنے لگ جاتی ہے۔
    ایک دفعہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو شام کی نماز کے بعد جب کہ حضرت مسیح موعود شہ نشین پر تشریف فرما تھے اور صحابہ حضور کے اردگرد پروانوں کی طرح بجذیہ اشتیاق حلقہ نشین ہو کر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ایک عربی قصیدہ پڑھ کر سنایا۔ جس کا پہلا شعر یہ تھا۔
    حامدا للحمید باللجب مرسل الرسل منزل الکتب
    یہ قصیدہ ۳۳ اشعار کا تھا۔ اس کے بعد مجھے صبح کے وقت حکم ملا کہ احمدی مدرسے میں جہاں عارضی طور پر ایک استاد کی ضرورت تھی وہاں مجھے لگایا جائے یہ تجویز احمدی مدرسہ کے منتظمین کی طرف سے پاس ہو کر مجھے تعلیم دینے پر تعینات کیا گیا۔ ان دنوں عزیز مکرم و محترم جناب حافظ روشن علی صاحب بھی احمدیہ مدرسہ میں پڑھا کرتے تھے۔ اور ……… عرصہ میں وہاں متعین رہا۔ حافظ صاحب مرحوم بھی مجھ سے پڑھتے تھے۔ اس وقت ان کے نصاب تعلیم میں صحیح مسلما ور ………… حصہ سوم بھی شامل تھا۔ چنانچہ ان دونوں کتابوں کے اسباق بھی مجھ سے ہی پڑھا کرتے اور اس طرح کچھ عرصہ میں نے احمدیہ مدرسہ میں بھی کام کیا۔
    ایک موقعہ پر میں اپنے گائوں موضع راجیکی ضلع گجرات کی رمضان کا سارا مہینہ اعتکاف بیٹھا تھا۔ اور اس اعتکاف میں زیادہ تر میرا شغل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مدح میں ایک قصیدہ تحریر کرنا تھا۔ وہ قصیدہ آخری رمضان تک تیار ہو گیا جس کے ۳۶۰ کے قریب شعر تھے۔ اس قصیدہ کے لکھنے کے قوت مجھے باوجود اس کے کہ عربی زبان میں اتنی دسترس نہ تھی۔ مگر خدا تعالیٰ کی طرف سے قصیدہ کے نظم کرنے میں میری ایسی تائید فرمائی گئی کہ جو میری قابلیت سے بہت بڑھ کر تھی۔ اس قصیدہ کے وقت مجھے روحانی برکات سے اس قدر سعادت نصیب ہوئی کہ ہر ایک رات میں جس وقت بھی میری آنکھ لگتی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت نصیب ہو جاتی اور کبھی ایک ایک رات میں تین تین چار چار دفعہ حضرت مسیح موعود کی زیارت نصیب ہوئی۔ جب ذرا آنکھ لگتی۔ فوراً زیارت نصیب ہوتی۔ اور کئی دفعہ دیکھا کہ حضرت مسیح موعود اور میں دونوں ایک ہی برتن میں کھانا کھا رہے ہیں۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بہت ہی خوش اور مسرور مجھے نظر آتے ہیں۔ اور میں آپ کی شفقت اور مودت اپنے متعلق محسوس کرتا ہوں۔ ایک رات مین نے خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہمارے گائوں میں تشریف فرما ہیں(اور یہ واقعہ اس رمضان کا ہے) اس وقت حضور کے اردگرد کئی آدمی کھڑے ہیں میرے دل میں اس وقت یہ خیال پیدا ہوا کہ اس مجمع میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مدح میں کوئی قصیدہ پڑھنا چاہئے۔پھر معاً میرے خیال میں آیا۔ کہ اس وقت کونسا قصیدہ سنایا جاوے یہ خیال آیا ہی تھا کہ آسمان سے زور کی آواز میرے کانوں تک پہنچی کہ وہ قصیدہ سنائو جس کا مطلع ہے۔
    قلبی میردم بجیشہ مترشدا ان احمد اللہ الحمید المرشدا
    وھوالذی فی ذاتہ وصفاتہ فرد دلیس کمثلہ شی بدا
    یہ شعر اسی قصیدہ کے ابتدائی شعر ہیں جس کو میں رمضان میں لکھ رہا تھا۔ تب میں نے جب آسمان سے یہ سنا کہ وہ قصیدہ سنائو کہ جس کا مطلع ہے۔ قلبی پردم تو میں نے یہ قصیدہ خواب میں ہی سنایا اور سناتے سناتے پیدا ہو گیا۔ اس کے بعد جب میں دارالامان گیا تو جس رات میں نے جانا تھا۔ اس رات یا اس سے پہلے ایک رات میں نے دیکھا کہ میں دارالامان گیا ہوں۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت اقدس میں میں نے ایک نہایت ہی خوبصورت اور قیمتی کپڑا پیش کیا ہے۔ اس کے بعد میں پیدا ہو گیا۔ پھر جب میں دارالامان پہنچا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام باغ میں تشریف رکھتے تھے اور حضور ایک پلنگ پر تشریف فرما تھے۔ اور حضرت نورالدین صاحب اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب بھی پاس تھے ایسا ہی کئی اور اصحاب بھی موجود تھے۔ حضرت خلیفۃ اوّل کی خدمت میں مَیں نے عرض کیا کہ میں نے ایک قصیدہ لکھا ہوا ہے۔ جو میں حضرت اقدس کو سنانا چاہتا ہوں۔ انہوں نے فوراً حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کیا۔ اور مجھے اجازت مل گئی۔ میں نے اس قصیدہ کے سنانے سے پہلے اس رویا کا ذکر بھی سنا دیا کہ جس میں آسمان سے آواز آئی تھی کہ وہ قصیدہ سنائو۔ جس کا مطلع ہے۔
    قلبی میردم رنو۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہایت ہی خوشی سے اجازت دی۔ میں نے وہ قصیدہ پڑھ کر سنایا۔ حضور نے سننے کے بعد فرمایا کوئی دو سو کے قریب شعر ہوں گے۔ میں نے عرض کیا کہ حضور تین سو ساٹھ شعر ہیں۔
    ایک دفعہ اس قصیدہ کا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس قصیدہ کے سنانے کا ذکر سید محمد اسحاق صاحب جو حضرت ام المومنین کے چھوٹے بھائی ہیں۔ سے ذکر ہوا۔ تو انہوں نے فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام نے اس قصیدہ کے سننے سے بہت ہی مسرت محسوس فرمائی ہے۔ اور اس کا قرینہ یہ ہے کہ حضور نے تین سو ساٹھ اشعار کو دو سو کی تعداد میں خیال فرمایا۔
    ایک دن میں نے شام کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک نظم سنائی اور چونکہ موسم گرما تھا اور ہم کئی احمدی دوست گجرات کے اکٹھے ہی واپس جانے والے تھے اور موسم گرما کی شدت کی وجہ سے ہم نے پسند کیا۔ کہ چاند کی چاندنی ہے اور رات روشن ہے۔ اس نے ہم عشاء کی نماز پڑھ کر حضرت صاحب سے اجازت لے کر ٹھنڈے ٹھنڈے بٹالہ چلے جائیں اور وہاں سے گاڑی پر سوار ہو جائیں۔ چنانچہ عشاء کے بعد جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اندر جانے لگے تو میں نے آٗے ہو کر مصافحہ بھی کیا اور عرض کیا کہ حضور ہم اس وقت واپس وطن کو جا رہے ہیں۔ حضور دعا فرماویں۔ حضور نے فرمایا کہ ’’ آپ کبھی کبھی ملا کریں۔ اچھا خدا حافظ۔ ‘‘
    حضور کے بظاہر تو یہ دونو فقرے عام لوگوں کے رسمی کلام کی طرز پر معمولی سمجھے جاتے تھے۔ لیکن خدا کے نبی کے مونہہ کی باش منصب نبوت کے لحاظ سے اپنی حقیقت کے لحاظ سے معمولی نہیں ہوتے۔بلکہ برکات ……… کے ماتحت ان میں کئی اسرار مغمر ہوتے ہیں۔ چنانچہ یہ دونوں کلمے جو حضرت اقدس کی زبان مقدس سے نکلے۔ ان کی حقیقت بھی ایسی ہی تھی۔ حضرت مسیح موعود کا یہ پاک فقرہ جو حضور اقدس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ آپ کبھی کبھی ملا کریں۔ اس فقرہ سے مجھے آنحضرت ﷺ کی ایک حدیث ایک ایسے مفہوم کے لحاظ سے حل ہوئی جس سے اب تک مجھے لطف آتا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوھریرہ کو مخاطب کر کے فرمایا تھا یا ابا ھریرۃ زرنی غباء نزدوحبا۔ جس کا مطلب عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسے ابوہریرہ ہر روز میری ملاقات کو نہ آیا کر۔ بلکہ کبھی کبھی ملاقات کو آنا چاہئے۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت شریفہ اور اخلاق کریم جو عام طور پر حضور اقدس کی محبتوں کی طفیل ہمیں معلوم ہو سکے۔ جن کا ظہور علاوہ منہاج نبوت کے دستور کے آنحضرت ﷺ کے بروز اکمل اور منظور تم ہونے کی وجہ سے یہ سمجھ میں آئے کہ خدا کے نبی فیض صحبت سے مستفیض ہونے والے کو اس بات کی طرف توجہ دلا سکتے ہیں کہ لوگ کثرت سے حضور کے پاس آٖیں۔ اور بار بار آئیں اور اگر کسی کو روزانہ فیض صحبت سے فیضیاب ہونے کا موقعہ نہ مل سکے تو پھر اس کے لئے کم از کم اس بات کی طرف ہی توجہ دلانا مناسبسمجھتے ہیں کہ وہ کبھی کبھی ہی ملاقات کریں اور ملاقات کا موقعہ نکالیں۔ یہ کبھی بھی ممکن نہیں کہ نبی جو صاحب خلق عظیم کی شان رکھنے والا ہوتا ہے وہ کسی روز آںے والے اور ملنے والے کو اس بات سے روکے۔ کہ وہ روزانہ ملاقات نہ کرے بلکہ اسے کہے کہ بجائے روزانہ ملاقات کے کبھی کبھی ملا کریں۔ پس آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد کہ زانی غبا تزدوحبا ۔ کہ اے ابوہریرہ کبھی کبھی ملا کر۔ حقیقت میں اس کا یہ مطلب ہے کہ اگر روزانہ ملاقات نہیں ہو سکتی۔ تو کبھی کبھی ہی ملا کریں۔ تا کثرت ملاقات سے اور بار بار ملنے سے محبت میں ترقی ہو۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ نے اس کے بعد بجائے کبھی کبھی ملنے کے حضور کے منشا اور پسندیدگی کو ملحوظ رکھتے ہوئے روزانہ بالتزام حضور کی ملاقات کو اختیار کیا۔ اور اس کا نتیجہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ کو مرحیاۃ آنحضرت جو کتب حدیث میں آپ کی طرف بکثرت منسوب پائی جاتی ہیں۔ اسی کثرت ملاقات کا ہی نتیجہ ہے۔ پس حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مجھے مخاطب کر کے یہ فرمانا کہ آپ کبھی کبھی ملا کریں یہ روزانہ ملاقات کے لحاظ سے کبھی کبھی کافقرہ استعمال نہیں فرمایا گیاتھا ۔ بلکہ ایک لمبے وقفہ کی ملاقات کے بالمقابل قریب کے دققہ کے لحاظ سے ’’ کبھی کبھی ‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا ۔ اس کا یہی مطلب تھا کہ اگر کثرت کے ساتھ روزانہ ملاقات کا بوجہ دوری وطن موقعہ نہیں مل سکتا۔ تو کبھی کبھی ہی آکر مل جانا چاہئے۔ پس آنحضرت مسیح موعود کے اس فقرہ سے مجھے آنحضرت صلعم کی وہ حدیث ان معنوں میں حل ہو گئی اور میرے نزدیک آنحضرت صلعم کی اس حدیث کا یہ مطلب لینا کہ زرنی غبا کے فقرہ سے آنحضرت صلعم نے ہر روز ملاقات سے منع کیا ہے۔ درست نہیں ہے۔ کیونکہ زرنی امر کا صیغہ ہے۔ جس کے معنے ہیں میری ملاقات کر اور غباً کے معنے ہیں کبھی کبھی جس کا مفہوم بالکل صاف ہے کہ صیغہ امر تعمیل ارشاد میں ملاقات کو چاہتا ہے نہ کہ ملاقات کی نفی کو۔ اور غباً کثرت ملاقات کے بالمقابل کمی کے معنوں میں نہیں بلکہ عدم تیسر کثرت ملاقات بطور …… مواقع زیارت و ملاقات۔ کہ اگر عام طور پر کثرت سے نہیں ملاقات کر سکتے تو کبھی کبھی ہی ملاقات کر لینی چاہئے۔
    اور دوسرا فقرہ جو حضور نے فرمایا تھا کہ اچھا خدا حافظ یہ فقرہ بھی عام لوگوں کی طرح بطور رام کے نہ تھا۔ بلکہ جو واقعات پیش آنے والے تھے۔ ان کے متعلق ایک ایسی حقیقت اپنے اندر رکھتے تھے جس میں شان نبوت کا راز مضمر تھا۔ جب ہم حضور سے رخصت ہو کر قادیان مقدس سے باہر نکلے تو نکلتے ہی ایک بہت بڑا سانپ چاند کی چاندنی میں راستہ کے کنارے پر نظر آیا۔ ہمارے پائوں کی آہٹ سے اس نے اپنی پھونکار کی آواز نکالی اور کوئی ہاتھ دو ہاتھ کے قریب اونچا کھڑا ہو گیا۔ ہم نے اسے دیکھ کر ذرا فاصلے سے گزرنا پسند کیا پھر وہ کسی اور طرف نکل گیا اور ہم دوسری طرف آگے نکل گئے۔ اس کے بعد راستہ میں ایک گائوں آیا۔ اس گائوں کے قریب ہمارے پائوں میں دو تین سانپ ادھر ادھر گزرتے ہوئے ہمارے پائوں کے اوپر سے گزر گئے۔ ایک سناپ میرے پائوں کے اوپر سے گزرنے لگا مجھے محسوس ہوا تو میں نے اپنے پائوں کو جھٹکا دیا اور وہ دور جا پڑا۔ اسی طرح ایک اور گائوں کے پاس سے گزرنے لگے تو وہاں بھی راستہ میں ہمیں دو سانپ ملے۔ اور جب تلونڈی کے پاس گئے جو بٹالہ کے پرانے راستہ میں سڑک پر ایک گائوں ہے جس کو تلونڈی گرنتھیاں کہتے ہیں اس کے پاس پھر راستے میں سانپ ملے۔ غرضیکہ اس راستہ میں بار بار سانپوں سے ہمارا تصادم ہوا اور ہر ایک موقعہ پر باوجود سانپورں کی اس کثرت کے خدا تعالیٰ نے ہم سب کو جو سات آٹھ کے قریب تھے ان کے شر سے محفوظ رکھا اور جب ہم بٹالہ کے اسٹیشن پر پہنچے اور ہم نے بار بار سانپوں کے تصادم کا تذکرہ کیا تو اس وقت میرے دل میں یہ بات یقین کے ساتھ محسوس ہوئی کہ بار بار سانپوں کا راستہ میں متصادم ہونا اور پھر ہمارا ان سے اس طرح سے محفوظ رہنا کہ کسی کو بھی کوئی گزند نہیں پہنچ سکا یہ حضرت اقدس احمد نبی اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس برکات نبوت سے محلو اور مشمون فقرہ جو حضور اقدس کی زبان مبارک سے نکلا تھا کہ اچھا خدا حافظ ۔ یہ سراسر اس کی تحصیل برکت سے ہے کہ ہم سب کے سب محفوظ رہے۔
    اس سے ظاہر ہے کہ خدا کے نبیوں کے منہ سے کسی فقرہ یا حکم کا نکلنا عام لوگوں کی طرح نہیں ہوا کرتا۔ مثلاً اسی فقرہ کو دیکھو کہ اس چھوٹے سے فقرہ میں کئی اسرار کی باتیں مضمر تھیں۔ ایک لفظ اچھا جو ہمارے لئے اچھا یعنی خیروبرکت کا موجب تھا کیونکہ ہم نے مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاک فقرہ کی برکات کو مشاہدہ کیا۔ پھر خدا حافظ کا لفظ ایسا ہے کہ جس میں یہ پیشگوئی تھی کہ راستہ میں کوئی ایسی ابتلائی ……… پیش آنے والی ہے جیسے کہ کئی جگہ سانپوں کے تصادم سے اس کی حقیقت ظاہر ہوئی۔ اور پھر خدا حافظ کی دعا سے جو نہ صرف دعا تھی بلکہ ہماری حفاظت کے لئے پیشگوئی کے طور پر ایک حفاظت اور برکت کا سامان اپنے اندر رکھتی تھی۔ اس سے وہ ہمارے لئے باعث بشارت ہوئی۔ اور ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے کئی جگہ سانپوں کے شر سے محفوظ رہے۔
    ایک دفعہ میں دارالامان ہی تھا یہ غالباً ۱۹۰۵ء کا واقعہ ہے کہ میاں عبدالحمید خاں صاحب کپورتھلوی جو خانصاحب میاں محمد خاں صاحب کے فرزند اکبر ہیں وہ میاں محمد خاں صاحب جن کو نسبت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ازالہ اوہام میں خاص الفاظ میں تعریف فرمائی ہے۔ خاں صاحب عبدالحمید خاں نے مجھے کہا کہ آپ کپورتھلہ مین چلیں اور وہاں کچھ روز ہمارے ………… بغرض درس و تدریس و تبلیغ قیام کریں میں نے عرض کیا کہ میں دارالامان میں ہی قیام رکھوں گا اور جانا پڑا تو واپس وطن کو جائوں گا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اگر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عریضہ لکھ کر اپ کے نام حکم لکھا دوں تو کیا آپ پھر بھی نہ جائیں گے۔ میں نے کہا پھر میں کیسے نہیں جائوں گا پھر تو مجھے ضروری جانا ہو گا۔ چنانچہ انہوں نے ایک رقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلالم کی خدمت میں لکھا کہ مولوی غلام رسول راجیکی کو ارشاد فرمایا جائے کہ وہ میرے ساتھ کپورتھلہ جائیں اور وہاں درس و تدریس اور تبلیغ کے لئے کچھ روز قیام رکھیں۔ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس رقعہ کے جواب میں زبانی ہی کہلا بھیجا کہ ہاں وہ جا سکتے ہیں۔ میری طرف سے اجازت ہے۔ پھر میں ان کے ساتھ کپورتھلہ گیا اور وہاں چھ ماہ کے قریب درس و تدریس اور تبلیغ کا کام کرتا رہا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ کی اجازت اور حضور کے ارشاد سے یہ پہلا موقعہ مجھے میسرآیا جس میں مَیں نے محض اسلام کی خدمت کے لئے یہ سفر کیا مَیں اس وقت بالکل نوجوان عمر تھا۔ کپورتھلہ میں ایک رات مجھے خواب آیا کہ ایک ہاتھی ہے میں اس کے نیچے آگیا ہوں اور اس کا پیٹ میرے اوپر ہے جب صبح ہوئی تو خان صاحب عبدالمجید خان صاحب نے مجھے کہا کہ مولوی صاحب آج دریائے بیاس میں طغیانی آئی ہوئی ہے اور ہم ہاتھیوں پر بغرض سیر و تفریح وہاں دریا کا نظارہ دیکھنے کے لئے جانے کے لئے تیار ہیں آپ بھی ضرور تشریف لے چلیں۔ میں نے عرض کیا کہ میں نہیں جا سکتا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آج رات میں نے ایک سخت منذر خواب دیکھا ہے اور وہ یہ ہے کہ مَیں ہاتھی کے نیچے آگیا ہوں لیکن انہوں نے یہ خواب سن کر بھی برابر اصرار ہی کرتے رہے اور میں بار بار انکار کرتارہاکیونکہ میرے قلب پر اس خواب کا بہت برا محیب اثر مستولی ہو رہا تھا۔ اور جب میں نے خان صاحب سے یہ فقرہ سنا کہ وہ فرماتے ہیں کہ دریا پر جانے کے لئے ہاتھیوں پر سوار ہو کر جانا ہے تو ہاتھیوں کا نام سن کر اور بھی میرے دل پر اس خواب کا شدید اثر محسوس ہوا پھر میں نے بھی شدت کے ساتھ انکار کیا اور ساتھ جانے سے اعراض کیا پھر خان صاحب کے ساتھ اور کئی دوست بھی جانے کے لئے مصر ہوئے ان دوستوں کے بے حد اصرار کی وجہ سے آخر میں نے سمجھا کہ قضاء و قدر یہی مقدر معلوم ہوتی ہے کہ جو کچھ وقوع مین آنا ہے وہ ہو کر رہے۔ تب میں بادل نخواستہ ان کے ساتھ تیار ہو گیا اور دوستو ں نے کئی ہاتھی تیار کئے اور تین ہاتھی تھے یا چار جن پر دوست سوار ہوئے مجھے بھی خان صاحب موصوف نے اپنی معیت میں ایک ہاتھی پر سوار کیا۔ جب دریا پر گئے تو قضاء قدر نے ظاہری ہاتھیوں کی صور ت میں تو اس منذر خواب کی حقیقت ظاہر نہ ہونے دی اس کے لئے ایک دوسرا پیرا یہ اختیار کیا کہ جب ہم ہاتھیوں سے اتر کر بر لب تدریا کھڑے ہو کر نظارہ کرنے لگے تو ایک نواجوان کو دیکھا کہ اس طغیانی کے موقع پردریا کا پل جو اپنے نیچے کئی درے رکھتا تھا وہ اس کے قریب کے درے سے پل کے اوپر سے چھلانگ لگا کر کود پڑا پھر پل کے نیچے سے قریب کے درے سے گذر کر دوسری طرف نکل آیا۔ میں بھی کچھ کچھ طیراکی جانتا تھا میں نے اسے کہا کہ بھائی آپ قریب کے درے سے گزرتے ہیں بات تب ہو کہ آپ کسی دور کے درے سے گزریں اس نے کہا دریا زوروں پر ہے کیونکہ طغیانی کا موقع ہے اس لئے کسی دور کے درے سے پل کے نیچے سے گزرنا اس وقت بہت مشکل ہے میں نے کہا کہ تیراکی آتی ہے تو پھر کس بات کا خوف ہے اس نے کہا کہ آپ تیراکی جانتے ہیں میں نے کہا ہاں کچھ جانتا ہوں اس نے کہا پھر آپ ہی گزر کر دیکھائیں۔ میں نے کہا بہت اچھا۔ میں نے لنگوٹ پہن کر دور کے درے سے گزرنے کی غرض سے پل کے اوپر سے چھلانگ لگائی۔ پہلی دفعہ تو میں درے کے پل کے نیچے سے صاف گزر گیا لیکن دوسری دفعہ پھر اور دور کے درے سے گزرنے کے لئے چھلانگ لگانے لگا جب پل کے اوپر سے میں نے چھلانگ لگائی تو اتفاق سے جہاں میں نے چھلانگ لگائی اور گرا وہ سخت بھنور اور گرداب کی جگہ تھی جہاں پانی چکی کی طرح بہت ہی بڑے زور سے چکر کھا رہا تھا۔ میں گرتے ہی اس گرداب میں پھنس گیا اور ہر چند کوشش کی کہ وہاں سے نکل سکوں لیکن میری کوشش عبث ثابت ہوئی آخر میں اسی گرداب میں کچھ وقت تک پانی کی زبردست طاقت کے نیچے دب گیا اور میرے لئے بظاہر اس گرداب سے نکلنا محال ہو گیا اور میری مقابلہ کی قوتیں سب کی سب بے کار ہونے لگیں اور مجھے ایسا محسوس ہوا کہ دو تین منٹ کے اندر اندر اب میری زندگی کا نظام درہم برہم ہو کر میرا کام تمام کر دیا جائے گا۔ اس وقت سب احباب جو پل کے اوپر سے میری اس حالت کا نظارہ کر رہے تھے وہ شور کرنے لگے کہ ہائے افسوس مولوی صاحب گرداب میں پھنسنے سے زندگی کے آخری دم توڑنے کو ہیں اس وقت عجیب بات قضاء و قدر کے تصرف کی یہ تھی کہ احباب باوجود واویلا کرنے اور شور مچانے کے کہ میں ڈوب رہا ہوں انہیں یہ بات نہ سوجھ سکی کہ وہ سر سے پگڑی اتار کر میری طرف پھینک دیتے۔ تا میں اس پگڑی کا ایک سرا پکڑ کر کچھ بچائو کی صورت اختیار کر سکتا۔ مگر یہ خیال کسی کی سمجھ میں نہ آسکا۔ اب میری حالت اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ عالم اسباب کے لحاظ سے بالکل مایوس کن حالت ہو رہی تھی۔ اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ میری زندگی کا سلسلہ اب صرف چند لمحوں تک ختم ہو جانے والا ہے۔ اور آخری سانس میں جو لے رہا ہوں اتنے میں قضاء وقدر نے ایک دوسرا سین بدلا اور حضرت خالق الاسباب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طفیل برکت جن کی اجازت اور ارشاد کے نیچے خاکسار نے کپورتھلہ کا سفر اختیار کیا تھا میری حفاظت اور بچائو کے لئے بالکل ایک نئی تجلی قدرت کی نمایاں فرمائی اور وہ اس طرح کہ میں جس گرداب میں غوطے کھا رہا تھا اور کبھی نیچے اور کبھی اوپر اور کبھی پانی کے اندر اور کبھی پانی سے باہر سر نکالتا تھا اور جو کچھ یہ ہو رہا تھا میری طاقت اور اختیار سے باہر کی بات تھی اس وقت پانی اپنی تغیانی اور طاقت کے ساتھ مجھ پر پورے طور پر متصرف نظر آتا تھا کہ ناگاہ کسی زبردست ہاتھ نے مجھے اس گرداب کے چکر سے باہر پھینکا اور زور کے ساتھ اتنا دور پھینکا کہ میں کنارے کی طرف ایک ببول کا بہت بڑا درخت جو دریا کے کنارہ سے دریا کے اندر دور تک گرا پڑا تھا اس کی شاخیں میرے ہاتھ میں محض قدرت کے تصرف سے آگئیں اور میں سنبھل گیا اور شاخوں کا سہارا لے کر دیر تک آرام کی خاطر وہاں خاموش کھڑا رہا۔ پھر خدا کے ہاں محض حضرت خیر الراحمین کے فضل و کرم سے میں باہر سلامتی کے کنارے تک پہنچ گیا اس وقت مجھے وہ خواب اور اس کی یہ تعبیر آنکھوں کے سامنے آگئی اور مجھے اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قضاء و قدر رویا میں ہاتھی کے نیچے آنے کی تعبیر میں کبھی ہاتھی کی جگہ کوئی دوسری آفت بھی ظاہر کر دیتی ہے۔ حالانکہ اس سفر میں ہاتھی پر ہی ہم سوار ہو کر ہی دریا پر پہنچے لیکن رویا کا انذاری پہلو ہاتھی کی جگہ دریا کے حادثہ کی صورت میں ظاہر ہوا دوسرے مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ گرداب سے میرا بچ جانا بطفیل برکات حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہوا تھا اور آپ کی اجازت اور ارشاد کے ماتحت میرا کپورتھلہ مین آنا اور خدمت سلسلہ میں تبلیغی کام کرنا اس کی وجہ سے میں ہلاکت سے بچایا گیا ورنہ اسباب کے لحاظ سے حالات بالکل مایوس کن نظر آتے تھے ہاں جب میں دریا سے واپسی پر ہاتھی پر بمعہ احباب کپورتھلہ شہر میں آیا تو خان صاحب موصوف کی والدہ ماجدہ نے جب یہ ماجرہ سنا تو انہیں میری اس تکلیف سے سخت ہی صدمہ محسوس ہوا اور آپ نے ایک دیگ پکا کر میری سلامتی کے شکریہ میں مساکین کو کھانا کھلایا اور میری اس تکلیف سے سب احباب نے بھی سخت تکلیف محسوس کی اور میری سلامتی کے شکریہ میں بار بار خدا تعالیٰ کے شکریہ کا اظہار فرمایا اور میں تو جب بھی وہ واقعہ یاد آتا ہے حضرت خیر الراحمین حضرت خیر المحسنین کے اس عظیم الشان احسان اور منت کریمانہ اور عنایت محسنانہ سے اس پیارے خدا کے حضور اپنی ممنون اور متاثر روح کے ساتھ اپنی جبین نیاز کو جھکاتے ہوئے وہ کچھ محسوس کرتا ہوں کہ جذبۂ تشکر وامتنان سے دل میں رقت اور آنکھوں میں آنسو بھر آتے ہیں اور اس وقت میرا روم روم اپنے پیارے مولیٰ کی حمد و ثناء کا گیت گاتا ہوا اپنے پیارے مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذیل کے الفاظ میں شکریہ کا اظہار کرتا ہے ۔
    لک الحمد یا ترسی وحرذی وجوسقی بحمدک یروی کل من کان یستقی
    بذکرک یجری کل قلب قداعتقی بحبک یحی کل میت ممزق
    ولیس لقلبی یاحفیظی وملجائی سواک مریح عند وقت التازق
    یمیل الورٰی عندالکروب اے الورے وانت لنا کیف کسیت مسردٰق
    نیز یہ کلام منظوم بھی
    ہر کسے دستے بدامانے زند تابذیل حی و قیوم واحد
    خاکسار
    غلام رسول راجیکی
    8-6-1939
    ایک دفعہ میں دارالامان میں گیا۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جب بعد نماز مجلس احباب میں تشریف فرما ہوتے تو خاکسار ا ن معزز احباب کی موجودگی میں بوجہ شرم کے ان کے حلقہ سے گزر کر حضرت اقدس تک پہنچنے سے محروم رہتا۔ اتفاق سے تین دن تک ایسا ہی ہوتا رہا۔ اس کے بعد میں نے حضرت مسیح موعود کی خدمت اقدس میں ایک عریضہ لکھا۔ جس میں مَیں نے یہ تحریر کیا کہ حضور میں تین دن سے آیا ہوا ہوں۔ لیکن اتفاق سے مجھے ملاقات نصیب نہیں ہو سکی۔ اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ حضور بعد نماز جب بھی حلقہ احباب ہی تشریف فرما ہوتے ہیں۔ تو میرے لئے بوجہ شرم کے حلقہ احباب سے گزر کر حضور تک پہنچنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ اسی طرح تین دن گزر گئے ہیں کہ میں حضور کی ملاقات سے محروم رہا ہوں۔ اس کے بعد میرے دل میں یہ بات بھی سمجھ میں آٖی کہ کیوں نہ ایسا کیا جائے۔ کہ اوّل وقت جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز ادا فرماتے ہیں۔ حضور کے بالکل قریب نماز ادا کی جائے۔ اور جب حضور فارغ ہو کر وہاں ہی تشریف فرما ہوں تو وہاں فوراً قریب جگہ میں بیٹھ جائوں۔ اور اس طرح سے ملاقات کر لی جائے۔ لیکن پس تجویز پر بھی میرے دل میں یہ خیال بار بار کھٹکتا کہ کہیں یہ بھی جرات بے باکی میں داخل نہ ہو۔ اس لئے میں کچھ متراد اور شامل سا ہو گیا۔ لیکن دوسرے دن ظہر کی نماز کے وقت اتفاق سے قدرت نے ایسے سامان پیدا کر دئیے کہ نمازی ابھی بالکل تھوڑے ہی آئے تھے اور کچھ غریب سے صحابی پہلے آئے تھے کہ میں بھی ان کے پاس نماز ادا کرنے کے لئے مسجد مبارک میں جا بیٹھا ۔ اور پھر تھوڑی دیر کے بعد احباب آنے لگے اور چھوٹی مسجد پر ہو گئی۔ بعد ادائے نماز حضر ت مسیح موعود حسب معمول حلقہ احباب میں تشریف فرما ہوئے۔ اور مجھے بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے موقعہ مل گیا اس وقت حضرت مولوی عبدالکریم ۔ حضرت مولانا نورالدین صاحب اور حضرت نواب صاحب اور حضرت مولوی برہان الدین صاحب۔ قاضی ضیاء الدین صاحب وغیرہ وغیرہ احباب بھی حضرت مسیح موعود کے قریب بیٹھ گئے۔ اور میں نے آٗے ہو کر حضور سے مصافحہ کیا۔ اور مصافحہ کے وقت حضور نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا ۔ ’’ کیوں جی آپ اتنے دن سے آئے ہوئے ہیں اور ملاقات نہیں ہوئی ۔ یہ کیابات ہے۔‘‘ میں نے عرض کیا کہ حضور یہ بعض بزرگ ہستیاں حضور کے پاس بیٹھی ہوئی ہوتی ہیں اس لئے ان سے گذر کر آگے ہونے سے شرم محسوس ہوتی رہی ہے۔ حضور نے اس وقت اپنے کمال ترحم اور شفقت کی وجہ سے مجھے فرمایا کہ ’’ خواہ کوئی بھی بیٹھا ہوا ہو۔ آپ گزر کر میرے پاس آبیٹھا کریں۔‘‘ یہ شفقت اور رحمت سے بھرا ہوا فقرہ جب بھی مجھے یاد آتا ہے۔ میرے روح اور دل تمام کوفت دور ہو جاتی ہے۔ اور ایک کمال مسرت اور لذت مجھے محسوس ہوتی ہے۔ جو حبط بیان سے باہر ہے۔ اور اگر مجھے ایک بہت بڑا خزانہ دنیوی مال و متاع کا مل جائے تو اس سے میرے دل کو ایسی مسرت اور لذت محسوس نہ ہو سکے۔ جس قدر کہ ان الفاظ مقدسہ مبارکہ سے حاصل ہوتی ہے۔ لیکھرام کے قتل سے چار روز قبل کی بات ہے یا بعد کی۔ کہ ہمارے گائوں راجیکی میں ایک سپاہی گشت پر آیا۔ اس کے پاس درثمین کے چند اوراق اور آئینہ کمالات اسلام حضرت اقدس کی کتاب تھی۔ مولوی امام الدین صاحب نے اس کی کتابوں کو ہاتھ لگانا چاہا۔ اس نے کہا کہ آپ ہاتھ نہ لگائیں۔ کیونکہ جس انسان کی یہ کتابیں ہیں وہ میرے نزدیک بہت بڑا روحانی انسان ہے۔ اور آپ لوگ علماء کہلاتے ہیں۔ اگر آپ نے کوئی بے ادبی کا حکم کہا تو وہ مجھ پر گراں گذرے گا۔ ہاں اگر علمی رنگ میں آپ دیکھ کر فائدہ اٹھانا چاہیں تو آپ دیکھ سکتے ہیں۔ بلکہ رکھ بھی سکتے ہیں وہ گشت پر آگے نکل گیا۔ مولوی صاحب نے کتابیں رکھ لیں۔ اگلے روز میں مولوی صاحب کی بیٹھک میں گیا۔ درثمین کے اوراق پر نظر پڑی۔ میں نے اسے کھولا پہلی نظم یہ تھی۔ عجب نوریست درکان محمد …… جوں جوں پڑھتا گیا۔ میری قلبی کیفیت متفیر ہوتی گئی۔ جب آخری شعر پر پہنچا تو بہت رویا اور اس قدر بیتاب ہوا کہ جس کی کوئی انتہا نہیں۔ مولوی صاحب باہر نکلے۔ میں نے سوال کیا کہ یہ بزرگ جن کے یہ اشعار ہیں کب گزرے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ اس شخص کا نام مولوی غلام احمد ہے اور قادیان ضلع گورداسپور میں اب بھی موجود ہے۔ میں نے کہا۔ اس شخص کے برابر رسول کریم ْ کا عاشق دنیا میں کوئی نہیں۔ مولوی صاحب نے کہا وہ تو مہدی اور مسیح ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ میرے دل میں بیتابانہ طور پر خیال آیا کہ یہ کیا بات ہے ۔ دوسرا ورق الٹا تو یہ نظم دیکھی۔
    ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے
    کوئی دین دین محمد سا نہ پایا ہم نے
    پھر میں نے حضرت اقدس کی خدمت میں خط لکھا۔ حضور کے دعویٰ کی تصدیق کی ۔ اور لکھا کہ۔
    گرنبند برقد شیپر چشم چشم آفتاب راچہ گناہ
    حضرت صاحب نے خاکسار کو چند رسالہ جات بھیج دئیے۔
    اس وقت تک میں نے ابھی مشنری مولانا روم کا پہلا …… ہی پڑھا تھا کہ ادھر سے توجہ ہٹ گئی۔ جنگل میں نکل جاتا اور سردھوکر اوپر مٹی ڈال لیتا۔ منہ میں مٹی ڈال لیتا۔ او ر رو رو کر دعائیں کرتا۔ نفل پڑھتا۔ روزے رکھتا۔ لوگوں سے اکثر الگ رہتا۔
    پثر میں نے بیعت کر لی۔ حضرت اقدس کی کتابیں پڑھیں۔ ایک جوش پیدا ہوا۔ اور تبلیغ شروع کر دی۔ ان ایام میں میری تبلیغ کا طریق تھا کہ جہاں چار پانچ آدمی اکٹھے بیٹھے دیکھتا۔ جاتے ہی السلام علیکم کہہ کر کہتا کہ مبارک ہو۔ لوگ متوجہ ہو کر پوچھتے کہ کیا بات ہے یہی کہتا کہ حضرت امام مہدی آگئے ہیں۔ اس پر کوئی نہیں اڑاتا۔ کوئی مخول کرتا۔ کوئی مزید تفصیل سے پوچھتا۔ غرضیکہ کسی نہ کسی رنگ میں بات شروع ہو جاتی اور میں تبلیغ کا موقعہ نکال لیتا۔
    مولوی امام الدین صاحب ۱۸۹۷ء میں مجھ سے پہلے بھی ایک دفعہ قادیان جا چکے تھے۔ مگر مخالفانہ خیالات لے کر آئے تھے۔ مگر جب مجھے بار بار خوابیں آٖیں اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلعم قادیان آئے ہیں۔تو ان پر بھی اثر ہوا۔ اور ہم دونوں نے ۹۹ء میں جا کر بیعت کی۔ جب ہم مسجد مبارک کے پاس پہنچے تو مولوی صاحب سیڑھیوں پر آگے آگے تھے اور میں پیچھے پیچھے ۔ میں نے یہ بات سنی ہوئی تھی کہ بزرگوں کو خالی ہاتھ نہیں ملتا چاہئے میں نے پیچھے سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر ایک روپیہ نکالا۔ مولوی صاحب حضرت صاحب سے ملے۔ حضرت صاحب نے مولوی صاحب کو کہا کہ جو لڑکا آپ کے پیچھے ہے اس کا بلائو۔ میں جب حاضر ہوا تو حضور علیہ السلام کی بزرگ شان کا تصور کر کے میری چیخیں نکل گئیں۔ حضرت صاحب میری پیٹھ پر بار بار ہاتھ پھیرتے اور تسلی دیتے مگر میں روتا ہی جاتا۔
    ہم بدھ وار گئے تھے۔ ار جمعرات کی شام کو دستی بیعت کی۔ حضرت صاحب نے فرمایا کثرت کے ساتھ درود شریف کا ورد کیا کرو اور استغفار پڑھا کرو۔ نیز نماز میں اپنی زبان میں دعائیں کیا کرو۔ اس پر مولوی صاحب نے سوال کیا جس کا ذکر گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔
    حضرت اقدس فرمایا کرتے تھے کہ مومن کا نام اجو خدا تعالیٰ نے عبد رکھا ہے تو یہ اس لئے کہ تا خدا تعالیٰ کی طرف سے جو حکم آٖے اسے قولا اور عملاً تسلیم کرنے میں ذرا بھی چوں و چراں نہ کرے۔ اور جو کچھ خدا تعالیٰ کا حکم ہو اسے خوشی سے قبول کرے۔ اور اس پر طریق …………کی شان دیا کرتے تھے۔ کہ ایسا رستہ جو کوٹ کر بالکل ہموار کیا جائے۔ جس پر چلنے سے بوجہ نشیب و فراد نہ ہونے کے چلنے والے کو کہیں سے بھی ٹھوکر نہ لگے اسے طریق معبد کہتے ہیں۔ گویا عبد بھی طریق معبد کا عزیز پر جب خدا تعالیٰ کے حکموں کے سامنے ایسا سر تسلیم خم کرنے والا ہے کہ جو حکم آوے اس کے لئے اس کے نفس کی طرف سے کسی طرح کی بھی روک اعتقاداً یا قولاً یا عملاً نہ پائی جائے۔ اس وقت یہ عبد کہلاتا ہے گو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الفاظ کچھ اور ہوں۔ لیکن جو الفاظ میں نے اپنے کانوں سے سنے قریباً قریباً ان کا مفہوم بھی ہے۔ جو عرض کیا گیا ۔ مسجد مبارک والی اندرونی سیڑھی ایک دروازہ دائیں طرف تھا جس کے اندر ایک چھوٹا سا صحن ہوتا تھا۔سیڑھی لکڑی کی ہوتی تھی۔ ایک روز حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نماز عصر کے لئے وضو فرما رہے تھے کہ اتفاق سے میں بھی وہاں کھڑا تھا۔ اور ایک اور صاحب بھی میرے ساتھ کھڑے تھے۔ انہوں نے حضرت مسیح موعود سے عرض کیا کہ مسیحوں (جرابوں) کے اوپر مسح کرنا جائز ہے۔ حضرت اقدس اس وقت وضو فرما رہے تھے اور حضور کے پائوں میں جرابیں تھیں اور سر کا مسح فرما چکے تو حضور نے اس کے بعد جرابوں پر مسح کیا۔ اور فرمایا کہ ہم تو مسح کر لیا کرتے ہیں۔ یعنی ہمارے نزدیک جرابوں پر مسح کر لینا جائز ہے۔
    میں بیعت سے پہلے بعض وظائف بطور ………………… کیا کرتا تھا۔ جن میں سے صبح کے وقت بعد نامز فجر سورۃ یٰسین اور اس کے بعد درود مستفاث درود کبریت احمد اور درود اکبر اور درود وصال پڑھا کرتا تھا۔ اور حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کی ایک کتاب الذکر الجمیل نام جو مطبوعہ تھی اور جس میں ذکر کے طریقے یک ضربی دونوں۔ سرخربی۔ چارضربی کے طریق پر بیان کئے گئے ہیں اس کے مطابق بھی ذکر کیا کرتا تھا۔ علاوہ اس کے اپنے جد امجد حضرت مولانا نور صاحب کی کتاب وسیلہ الایمان جس میں انہوں نے دو طرح کے ذکر بیان فرمائے ہیں ایک کا نام مقام محمود اور دوسرے کا نام سلطان النصیر ہے۔ اور پھر اس میں منازل سلوک کے طے کرنے کے لحاظ سے جو مدار فقر کا طریق بیان کیا ہے۔ چار چیزیں۔ بیان فرمائی ہیں کم خوردن و کم خفتن اور کم گفتن و کم صحبت باخلق درشتن اسی طرح کے بعض وظائف قادری طریق کے جو حضرت سید عبدالقادر جیلانی کے فرمائے ہوئے جو اسبوع شریف کے نام سے مشہور ہیں۔ یعنی ہفتہ کے سات روز کے لئے سات قسم کے الگ الگ اذکار مقرر ہیں۔ پڑھا کرتا تھا۔ ان وظائف کے موقعہ پر جب مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت کا زمانہ قریب ہوا۔ تو میں نے ایک خواب دیکھا کہ زیک بہت بڑا اژدھا ہے جس کے حلقہ کے اندر میں گھرا ہوا ہوں۔ اس اژدھا کی موٹائی اور سطح کی بلندی اس قدر اونچی تھی جو ایک انسان کے سینے تک پہنچتی تھی۔ میں اس اژدھا کے حلقہ کے اندر بہت گھبرایا ہوا معلوم ہوتا ہوں۔ اس وقت حضرت سید عبدالقادر جیلانی کا خیال میرے ذہن میں آیا کہ اگر وہ اس وقت تشریف فرما ہوتے تو میری امداد فرماتے اور مجھے اس بلا سے مخلصی نصیب ہوتی یہ خیال آیا ہی تھا کہ معاً حضرت سید عبدالقادر جیلانی تشریف لے آئے اور اس اژدھا کے حلقے سے باہر کھڑے ہو کر اپنے بازوئوں کو میری طرف لمبا کیا اور آپ کے بازوئوں کی لمبائی اس قدر پائی گئی جس سے انہوں نے مجھے میرے دونو بازوئوں سے پکڑ کر اس حلقہ سے باہر لا کر کھڑا کر دیا اس کے بعد میں بیدار ہو گیا۔ ایسا ہی اس کے بعد میں نے ایک دفعہ نماز شام اور نماز عشا میں مجھے نہایت ہی اعلیٰ شوق اور ذوق اور حضور قلب سے نماز ادا کرنے کا موقعہ میسر آیا۔ اور اس قدر لذت اور محویت مجھے محسوس ہوئی جس کی وجہ سے میں نے نماز شام کی ادائیگی کے بعد نماز عشا تک اپنا وقت اسی حالت میں گذارا ۔ پھر نماز عشا کو بھی اس لذت اور ذوق سے ادا کیا۔ اور نمازی لوگ مسجد سے چلے گئے اور میں وہیں بیٹھا رہا۔ یہ موقع سعداللہ پور کی مسجد کا واقعہ ہے۔ اس کے بعد ایک دوست نے کھانے کے لئے مجھے کہا میں نے انگلی سے اشارہ کیا کہ مجھے کھانے کی اشیاء نہیں ۔ اور پھر اسی حالت میں سو گیا۔ وہ قریباً ایسی ہی نماز تھی جس کی مثال اس سے پہلے میں نے کسی نماز میں نہ پائی۔ پھر میں اسی حالت میں سو گیا۔ خواب میں مَیں نے دیکھا کہ مَیں نے پرواز کیا ہے اور گو اس سے پہلے بھی کئی دفعہ اور بارہا خواب میں پرواز کرنے کی حالت مجھے پیش آئی تھی۔اور آسمان کی طرف پرواز کرنے کا کئی دفعہ روزہ میں مشاہدہ میں آیا۔ لیکن اس دفعہ میں نے دیکھا۔ کہ میں پرواز کرتیہوئے پہلے آسمان پر گیا اور پھر وہاں سے دوسرے پرپھر تیسرے چوتھے پانچویں چھٹے پر پھر ساتویں آسمانوں سے گزرنے کے بعد میں اس بلندی پر ہنچا جہاں مجھے محسوس ہوتا تھا کہ یہ وہ بلندی ہے جسے لامکان کہتے ہیں۔ اس وقت یہ عجیب بات محسوس ہوتی تھی کہ باوجودیکہ ایک طرف وہاں میرا پرواز لامسکان میں محسوس ہوتا تھا۔ دوسری طرف مجھے یہ محسوس ہوتا تھا۔ کہ میں پرواز کی حد کے اوپر ہوں۔ جب مجھے بغداد کا دل میں خیال آیا۔ تو اس کے ساتھ ہی معاً حضرت سید عبدالقادر جیلانی کا خیال بھی آٗیا۔ اور اس وقت مجھے یہ محسوس ہوا کہ ………… اس وقت حضرت سید صاحب زندہ موجود ہیں پھر ساتھ ہی میرے دل میں یہ ارادہ پیدا ہوا کہ چلو سید عبدالقادر جیلانی کی زیارت کریں۔ تب میں بغداد میں اترا۔ اور سید صاحب کو ایک پلنگ پر بیٹھے پایا۔ وہ پلنگ شمالاً جنوباً بچھا ہوا تھا۔ آپ کا منہ مشرق کی طرف تھا اور میں آپ کے پائوں ………… جہاں آپ کی ………… مبارک تھی۔ بیٹھ گیا۔ آپ نے میری پیٹھ پر ہاتھ پھیرا۔ اور فرمایا حق سبحانہ سبحان نور۔ آخری فقرہ گو بلحاظ ادب اور قاعدہ نحو کے سبحان نور کے چاہئیے تھا۔ مگر آپ نے اس وقت ایسا ہی فرمایا۔ اس وقت میں ایک نئے روحانی نفح سے بوھر گیا۔ اور پھر میں نے دوبارہ رواز کیا۔ اور میرا وہ پرواز مشرق کی سمت کو تھا۔ مجھے اس رویا سے اور اس سے پہلی رویا کے متعلق یہ تعبیر معلوم ہوئی۔ مسجد وہ اژدھا دنیا تھی جو سانپ کی طرح اوپر سے خوبصورت اور نرم محسوس ہوتی ہے لیکن اندر سے زہریلی چیز ہے۔ اور پردندال رویا کی تعبیر یہ معلوم ہوئی کہ آنحضرت صلعم کا ارشاد کہ الصلوٰۃ معراج المومن کے رو سے ایک مومن کو جو نماز کو کامل شرائط اور کامل آداب کے ساتھ ادا کرے۔ اب بھی اس کو روحانی رقعت اور روحانی پرواز معراج کے معنوں میں نصیب ہو سکتا ہے۔ اور حضرت سید عبدالقادر جیلانی کا اس رویا کے ساتھ متعلق اسبات پر دلالت کرتا تھا کہ حضرت عبدالقادر کی نماز بھی حدیث الصلوٰۃ معراج المومن کی مصداق ہوتی تھی۔
    ان واقعات سے مجھے اس بات کی بھی سمجھ آئی۔ کہ ایسا انسان جو اپنے دائرہ ……… کے اندر اپنی وسعت کے مطابق خلوص قلب سے محض للبیت کی غرض سے کو ئی نیکی کرے۔ تو اس کو روحانی برکات سے بقدار مناسب نصیب مل جاتا ہے۔ لیکن جب میں نے حضرت مسیح موعود کی بیعت کی اور میں نے حضور اقدس کی خدمت میں یہ لکھا کہ میں اس قسم کے وظائف کیا کرتا ہوں اور یہ بھی عرض کیا کہ جب سے میں بیعت کر آیا ہون اسی طرف سے پیر جن کے مرید ان کے کہنے سے ان کا تصور پکاتے ہیں۔ میں اس خیال سے کہ جب ادنیٰ پیروں کا ان کے مرید تصور پکاتے ہیں تو میرے پیشوا اور مرشد جو خدا کے مسیح موعود اور امام مہدی ہیں۔ میں ان کا تصور کیوں نہ پکائوں۔ آپ کا تصور جو ان سب پیرون کے تصور سے زیادہ بابرکت اور مفید اور مناسب ہو گا ۔ جب حضرت اقدس کی خدمت میں مَیں نے یہ خط لکھا کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے ہاتھ کا لکھا ہوا خط حضرت مسیح موعود کی طرف سے موصول ہواو جس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ ’’ تصور مخلوق سے بخبر شرک کے اور کوئی نتیجہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے اللہ کا اسم ہی کافی ہے۔ اور درود شریف وہ پڑھنا چاہئے جس پر آنحضرت ﷺ کی سنت کی مہر ہو۔ ‘‘
    اس والانامہ کے محصول ہونے کے بعد میں نے اسی دم تصور کو بھی ترک کر دیا اور سابقہ سلسلہ وظائف بھی یکدم موقوف کر دے۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ پیر جو اپنے تصور کی تاکید کرتے رہتے ہیں۔ دراصل ان کا منشا یہ ہوتا ہے کہ ہمارا تصور کرتے کرتے لوگوں کو ہر وقت ہمارا خیال رہے گا۔ اور وہ ہماری مریدی سے نکل نہیں سکیں گے۔ چنانچہ اس قسم کی کئی مثالیں میرے مشاہدہ میں آچکی ہیں۔ کہ کسی شخص کو اس کے پیر نے کہا کہ میرا تصور کرتے رہا کرو۔ اس کے تصور کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس شخص کو ہر وقت ہی اس کا خیال رہنے لگا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی پیری کا رعب ہر وقت اس پر چھایا رہا۔ اور ہر بات ہر وقت میں وہ اپنے آپ کو پیر کے قبضہ میں محسوس کرتا رہا۔
    مجھے حضرت صاحب کو دبانے کا بہت موقع ملا ہے۔ حضرت صاحب کا جسم بڑا مضبوط تھا۔
    اعجاز المسیح کی تصنیف کے وقت میں قادیان میں ہی تھا ایک دفعہ اس دوران میں حضور سیر کو تشریف لے گئے اور حضور نے فرمایا کہ میں نے اعجازالمسیح کتاب کے متعلق دعا کی تھی کہ اللہ تعالیٰ اس کو اعجازی شان عطا کرے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف آج منگل کی رات کو منعہ ………… اسماء کے الفاظ میں الہام ہوا ہے۔ جو اس دعا کی قبولیت پر دلالت کرتا تھا۔ جس میں یہ بشارت دی گئی کہ آسمان سے ایک روکنے والے نے روک دیا ہے۔ ایسے شخص کو جو اس کے جواب کے لئے مقابل میں کھڑا ہو کر لکھتا جائے گا۔ اس پر حضرت خلیفۃ المسیح اوّل نے عرض کیا کہ آج ہی رات میں نے ایک خواب دیکھا ہے کہ راولپنڈٌ کی طرف سے ہمارے بعض مخالفوں کی قلیبی اور دورتیں چھینی گئی ہیں۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ خواب اس الہام کی تائید کرتی ہے اس الہام کی بنا پر حضرت اقدس نے اعجاز المسیح کے ٹائٹل پیج پر یہ عبارت لکھی ’’ انہ کراب لیس لہ جواب فمن قسام للجواب وتنمر فسوف یریٰ انہ تندم وتذمر‘‘ جب پہلی دفعہ طاعون کی وبا پڑی اور ہمارے گائوں میں بھی چوہے مرنے لگے اور بعض آدمی بھی مبتلائے وبا ہو گئے تو بعض غیر احمدی جو ہامرے سخت مخالف تھے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اگر ان مرزائیوں میں سے کوئی طاعون سے مرے تو ان کی کوئی شخ قبر نہ کھودے اور نہ ہی کفن دفن میں کوئی ان کی مدد کرے میں نے حضرت مسیح موعود کو خط لکھا اور دعا کی درخواست کی۔ اس پر رات کو میں نے ایک خواب دیکھا کہ مسیح موعود علیہ السلام ہمارے مکان کی چھت پر کھڑے ہیں اس کے بعد میں بیدار ہو گیا اس کے بعد جب تک طاعون کا سلسلہ قائم رہا۔ غیر احمدی ہلاک ہوتے رہے لیکن حضرت اقدس کی برکت سے ہمارے گھر میں ایک چوہا تک بھی نہ مرا۔ اور جب بہت سے مخالف طاعون سے ہلاک ہو گئے تو اب ان کی کچھ سمجھ میں آیا کہ مخالف ملا تو یہ کہتے ہیں کہ طاعون کی وبا مرزا اور مرزائیوں کی وجہ سے پھیلی ہے لیکن مرزائی تو سب کے سب محفوظ ہیں۔ اور ایک چوہا بھی ان کے گھر سے نہیں مرا۔ اور ہم لوگ جو اپنے آپ کو پکا مومن اور مسلمان سمجھ رہے ہیں ہم ہلاک ہو رہے ہیں۔ اس کے بعد بعض آدمی ہمارے گھر میں آکر ہم سے دعا کی درخواست کرتے اور پانی دم کرانے کے لئے کہتے۔ یہ اس خیال سے کہ شاید یہ لوگ مرزا صاحب کے دعویٰ کی تصدیق میں اور آپ پر ایمان لانے میں صادق ہی ہوں اور ساتھ ہی طاعون کے خوف سے دل میں اس قدر ڈر محسوس ہوتا تھا کہ جس کی وجہ سے آکر کہتے کہ ہم جناب مرزا صاحب کو ہرگز برا نہیں کہیں گے۔ اس لئے ہمارے لئے دعا کرنا۔ کہ اللہ تعالیٰ ہمیں طاعون سے محفوظ رکھے۔ تو حضرت مسیح موعود کی دعا کی برکت سے خدا تعالیٰ نے ہمیں طاعون سے بالکل محفوظ رکھا اور ہمارے گھر کے دس گیارہ آدمی تھے جو خدا کے فضل سے محفوظ رہے۔ عذاب طاعون سے محفوظ رہنا مسیح موعود کا ایک نمایاں نشان تھا اس پہل دفعہ کے طاعون کے بعد بعض لوگوں نے بیعت بھی کر لی تھی جو اب فوت ہو چکے ہیں۔
    ایک دفعہ میں نے عربی میں حضرت اقدس علیہ السلام کو خط لکھا جس کا جواب حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے قلم سے عربی میں دیا گیا۔ جس میں یہ فقرات اب تک مجھے یاد ہیں کہ
    قد بلغ مکتوبک وسر یمطابعۃ المسیح الموعود عایۃ السرور واثنی علیک
    ایک دوسرے موقعہ پر پھر میں نے ایک عربی میں خط لکھا جس کا جواب صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب کا لکھا ہوا تھا جس کے بعض الفاظ یہ تھے کہ
    آپ کا خط حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پہنچاجس کا جملہ جملہ اور لفظ لفظ …… اور………کی کیفیت پر دلالت کرتا تھا۔
    میاں غلام حیدر صاحب مرحوم جو نہایت ہی مخلص احمدی تھے اور ۱۳۲۳ھ میں جس سال کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کا انتقال ہوا اس سال ان کی وفات ہوئی وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابی تھے اور نہایت ہی مخلص احمدی تھے ان کے اخلاص کا یہ حال تھا۔کہ ان کے شر کا جو برادری سے تھے انہوں نے کئی طرح سے ان کو نقصان پہنچایا اور ان کے کھیتوں کو اجاڑا اور تباہ کیا محض اس لئے کہ انہوں نے احمدیت کو کیوں قبول کیا ہے۔ اور تکلیف دینے کی غرض یہ تھی کہ وہ احمدیت کو ترک کر دیں انہوں نے بعض کتب احادیث اور عربی زبان کی مجھ سے پڑھی تھیں۔ میں نے جب ان کو تبلیغ کی تو وہ حضرت اقدس مسیح موعود کے متعلق حسن ظن ہو گئے اور وعدہ کیا کہ میں قادیان بھی چلوں گا ۔ چنانچہ وہ میرے ساتھ ۱۹۰۱ء میں دارالامان گئے۔ صبح حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر کو تشریف لے جاتے تھے۔ ہم بھی دونوں دوسرے صحابہ کی معیت میں حضرت اقدس کے ساتھ سیر کو گئے۔ واپسی پر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام چوک سے گزر کر سیڑھیوں پر چڑھنے لگے تو ابھی ایک پائوں سیڑھی پر رکھا ہی تھا کہ میں نے عرض کیا کہ حضور یہ میرے چچازاد بھائی ہیں اور حضور کی زیارت کے لئے اپنے وطن سے اس جگہ آئے ہیں تب حضرت اقدس فوراً ان کی طرف متوجہ ہو گئے۔ اور نہایت ہی شفقت بھرے الفاظ سے ان سے مخاطب ہوئے۔ حضور نے فرمایا کہ آپ کا اسم شریف انہوں نے عرض کیا کہ میرا نام غلام حیدر ہے۔ پھر حضرت نے فرمایا۔ کہ آپ کچھ روز ٹھہریں گے؟ انہوں نے عرض کیا کہ بہت اچھا پھر حضرت صاحب اوپر تشریف لے گئے۔ حضرت اقدس کے اس مخاطبہ کا اث ان کے دل پر اس قدر ہوا کہ وہ چشم پرآب ہو کر بار بار حضور کے خلق اور شفقت کا ذکر فرماتے اور کہتے کہ اتنی بڑی شان کا انسان میرے جیسے حقیر کو آپ کے لفظ سے مخاطب کرتا ہے۔ اس کی نظر اور دنیا کی پیروں اور بزرگوں میں ہرگز نہیں پائی جاتی۔ چنانچہ وہ حضورکے اخلاق کریمانہ سے بہت ہی متاثر ہوئے۔ اور درخواست کی کہ حضور میرے بیعت قبول کریں۔ پھر انہو ں نے بیعت کر لی۔ بیعت کے بعد انہوں نے نہایت ہی اخلاص کے ساتھ احمدیت کا پاک نمونہ دکھایا۔ وہ ۱۳۲۳ھ میں فوت ہوئے تھے اور حضرت اقدس ۱۳۳۶ھ میں فوت ہوئے تھے۔ حضرت اقدس کی وفات کے موقعہ پر میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود کے وصال کے موقعہ پر جنت کو خاص طور پر آراستہ پیراستہ کیا جا رہا ہے اور آراستہ پیراستہ کرنے والوں میں یہ شخص بھی ہیں ۔ اس سے مجھے بہت خوشی ہوئی اور اس سے مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ خدا کے فضل سے ان کا خاتمہ بالخیر ہو رہے۔
    میاں غلام محمد صاحب جو قوم کے ارائیں تھے اور موضع سعد اللہ پور تحصیل پھالیہ ضلع گجرات کے باشندہ تھے وہ میرے ذریعہ ہی خدا کے فضل سے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے تھے۔ ایسا ہی ان کی برادری کے سب لوگ بھی۔ بلکہ موضع سعد اللہ پور کے امام مسجد مولوی غوث محمد صاحب جو اہلحدیث فرقہ کے فرد تھے وہ بھی خدا کے فضل سے میری تبلیغ کے ذریعہ احمدی ہوئے تھے۔
    میاں غلام محمد صاحب کو ایک عصبی درد اٹھا کرتاتھا جو سر سے ہو کر آنکھ کے پاس سے گزرتا ہوا بعض ڈاڑھوں سے ہو کر ٹھوڑی تک پہنچتا تھا۔ اور درد کے وقت ان کی حالت یہ ہو جاتی تھی کہ اپنے دونوں ہاتھوں سے سر اور آنکھ اور ٹھوڑی کو بوجہ شدت تکلیف کے دبا کر گردن کو نیچے جھکا لیتے تھے اور دیکھنے والوں کو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس کو نہایت ہی سخت تکلیف ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی اس بیماری کا کئی جگہ سے علاج کرایا۔ جہاں جہاں بھی انہوں نے طبیبوں اور ڈاکٹروں کئے پاس سے علاج کرایا کہیں سے بھی افاقہ کی صوت نہ ہو سکی۔ چنانچہ اسی تکلیف میں سالہا سال گزر گئے انہوں نے اسی کے متعق یہ بھی ذکر کیا کہ اس بیماری کا ڈاکٹروں اور طبیبوں کو کچھ بھی پتہ نہیں لگ سکا۔ کہ یہ کیا بیماری ہے۔ اور اس کا سبب کیا ہے؟ آخر ایک دن میں انہیں کہا کہ اگر آپ قادیان چلیں تو وہاں حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب سے بھی علاج کروا کر دیکھیں شاید فائدہ ہو جائے اور حضرت اقدس سے بھی دعا کرائیں۔ چنانچہ وہ قادیان بھی گئے میں وہاں موجود تھا وہ کچھ عرصہ تک حضرت مولوی صاحب سے دوائی لے کر استعمال کرتے رہے لیکن ان کو کچھ افاقہ نہ ہوا۔ ایک دن میں نے ایک پنجابی نظم لکھ کر جو میاں غلام محمد صاحب کی طرف سے تھی اور بغرض درخواست دعا تھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور اس وقت پیش کی جبکہ حضور سیر سے واپس تشریف لائے اور سیڑھیوں پر چڑھ کر دروازے سے ساتھ کے چھوٹے سے صحن میں داخل ہوئے۔ جس سے آگے مکان والا دروازہ ہے۔ جب حضرت اقدس نے دروازے کے اندر دو تین ہی قدم اٹھائے ہوں گے کہ ہم دونوں حضور کے آٗے پیش ہو گئے اور وہ رقعہ درخواست دعا والا پیش کر دیا اس کا آخری شعر جو میاں غلام محمد کی طرف سے میں نے لکھا تھا وہ اب تک مجھے یاد ہے اور میاں غلام محمد صاحب مرحوم بھی زندگی بھر اس شعر کو پڑھا کرتے تھے وہ شعر یہ ہے۔
    نام غلام محمد میرا میں تیر وچ غلاماں بھر کے نظر کرم دی میں ول تکیں پاک اماما
    اس شعر کو پڑھ کر حضور نے ان کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا آپ کا نام غلام ہے؟ پھر میری طرف توجہ فرما کر فرمایا کہ یہ نظم آپ نے لکھی ہے میں نے عرض کیا حضور میں نے ہی لکھی ہے۔ حضور نے میاں غلام محمد کی طرف اچھی طرح سے بنظر شفقت دیکھا اور فرمایا کہ ہم دعا کریں گے۔
    اس کے بعد ہم نیچے اتر آئے اور غلام محمد کو اس وقت سے افاقہ ہو گیا اور اس کی تکلیف رفع دفع ہو گئی اور پھر عرصہ دراز تک اس تکلیف نے عود نہ کیا یہ مسیحائی اعجاز بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نشانہائے برکت و صداقت سے ہے۔
    ایک موقعہ پر جبکہ میں قادیان میں ہی تھا۔ شاید ۱۹۰۵ء کا واقعہ ہے یا ۱۹۰۶ء کا کہ سکندر خاں صاحب مرحوم سکنہ موضع رجوعہ تحصیل پھالیہ ضلع گجرات اور ان کے بڑے بھائی ان کا نام عمر تھا۔ اور ان سے چھوٹے کا نام جنجر تھا۔ یہ تینوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت کے لئے گئے۔ صبح جب حضرت اقدس سیر کو تشریف لے گئے۔ تو بہت سے احباب حضرت اقدس کی معیت میں تھے اور ہم بھی ساتھ جا رہے تھے۔ سکندر خاں اور ان کے دوسرے بھائی محض اُمی تھے مگر زمینداروں کی ممباس بات کرنے کا سلیقہ ان کو خوب حاص تھا۔ چنانچہ وہ کسی مجلس میں بات کرنے میں دوڑ سکتے نہیں تھے۔ خصوصاً سکندر خاں کو یہ ملکہ خوب حاصل تھا۔ سیر میں چلتے چلتے سکندر خاں نے حضرت اقدس کے بالک ساتھ ہو کر عرض کیا کہ حضور کیا قیامت کے دن بھی ہم حضور کے ساتھ اسی طرح ہوں گے؟ اور کچھ ایسے ہی الفاظ اور کہے جو مجھے اس وقت یا دنہیں۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ ایسے الفاظ یا ایسی باتیں سوئے ادب سے ہیں۔ پھر وہ خاموش ہو گیا۔اخبار الحکم یا بدر میں بھی اس کے متعلق کسی ڈائری میں ذکر ہے۔ ہاں سکندر خاں کا نام نہیں۔ اس ڈائری میں لفظ سوئے ادب موجود ہے۔
    حضرت اقدس کا یہ بھی طرز تھا کہ جب دیہاتی لوگ بیعت کر چکتے تو حضور ان کو ٹھیٹھ پنجابی میں کچھ نصائح فرمایا کرتے تھے۔ جو ان کے مناسب حال انہیں کی زبان ہوا کرتے تھے۔
    جب سید عبداللطیف صاحب قادیان میں تشریف فرما تھے۔ میں بھی قادیان میں گیا ہوا تھا۔ حضرت سید عبداللطیف اور میں دونوں ایک ہی کمرہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ میرے پاس ایک چھوٹی سی حمائل ہوا کرتی تھی۔ میں اس کی تلاوت کیا کرتا۔ حضرت مولوی صاحب بھی قرآن کریم یا حضرت کی کتب کا مطالعہ کرتے۔ حضرت اقدس جب نماز کے وقت تشریف لائے۔ تو بعض دفعہ سید عبداللطیف کی خاطر فارسی زبان میں بھی کچھ فقرات فرما دیتے۔ جیسا کہ جب حضور جہلم میں تشریف لے گئے۔ تو وہاں بھی حضرت سید عبداللطیف صاحب حضرت کے ساتھ تھے میں بھی ساتھ ہی تھا۔ وہاں عدالت کی کوٹھیوں کے پاس لوگوں کی درخواست پر حضرت اقدس نے تقریر فرمائی تو پہلے حضرت سید صاحب کی خاطر فارسی زبان میں ہی تقریر شروع فرمائی تھی۔ لیکن اس فارسی زبان کو سمجھنے والے چونکہ بہت کم تھے اس لئے حضرت مولوی عبداللطیف صاحب نے عرض کیا کہ حضور میں اردو سمجھ لیتا ہوں۔ حضور اردو میں تقریر فرمائیں۔ دوسرے لوگوں کی بھی یہی خواہش تھی۔ حضرت سید عبداللطیف کا یہ شیوہ تھا۔ کہ حضرت اقدس کے منہ کی طرف منہ کر کے بیٹھتے تھے۔ اور ہم تن گوش ہو کر حضور کی باتوں کے سننے میں محو ہو جاتے تھے کبھی کبھی آپ کی آنکھوں سے تاثرات کیو جہ سے آنسو بہنے لگ جاتے تھے اور ایک شخص جس کا ذکر کسی ڈائری میں بھی ہے کہ اس نے آکر حضرت اقدس کے ساتھ گستاخانہ گفتگو کی تھی جس پر حضرت سید عبداللطیف صاحب کو سخت جوش آگیا۔ اور جوش غضب سے اس پر ہاتھ اٹھانے لگے تھے کہ حضرت اقدس نے آپ کو روک لیا یہ واقعہ بھی میری موجودگی کا ہی ہے۔ پھر جب سید عبداللطیف صاحب کابل کو واپس جانے کے لئے تیار ہوئے تو حضرت اقدس آپ کو الوداع کرنے کے لئے بطور مشایعت نہر تک تشریف لے گئے میں بھی دوسرے احباب کی طرح حضور کی ……… میں تھا جس وقت حضرت سید صاحب رخصت ہونے لگے اور آخری مصافحہ کیا تو حضور کے قدموں پر اشکبار آنکھوں کے ساتھ جھک گئے۔ جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ آپ حضور کے قدموں پر گر کر قدمبوسی کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود نے آپ کو ہاتھ سے روک دیا۔ وہ اٹھے ہی تھے اس پر حضور نے فرمایا اورخوق الادب۔ پھر وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔سید صاحب ایک عجیب دردمندانہ کیفیت کے ساتھ آنسو بہاتے جاتے تھے ۔ سید صاحب حضرت صاحب کے سامنے ٹانگو پر سوار نہیں ہوئے بلکہ بہت دور جا کر جب حضرت صاحب دکھائی نہ دیتے تھے سوار ہوئے۔
    حضور کی کتاب مواھب الرحمان جو جہلم کے مقدمہ کی پیشی سے پہلے ہی چھپ کر شائع ہو چکی تھی سید عبداللطیف صاحب بھی اس کو پڑھ لیا تھا۔ اور عجیب بات ہے کہ حضرت اقدس کی طرف سے اس میں یہ پیشگوئی جو ذیل کے الفاظ وحی سے شائع کی گئی تھی۔ یعنی قتل خیبۃ وزید ھیبۃ یہ سید عبداللطیف کے ہی متعلق تھی۔جب کہ براہین احمدیہ میں بھی شاتان تذبی … کی وحی ان ہی کے متعلق ایک کافی عرصہ پہلے شائع ہو چکی تھی اس وقت خدا کی مصلحت کے نیچے یہ بات منشکف نہ ہوئی تھی کہ ان پیشگوئیوں کے مصداق وہ مقدس جانثار اور جانباز عاشق جو سر زمین کابل کے لخت جگر اور اس سنگلاخ زمین کی ندات آخر میں قیمتی ہیرے اور……………… جو سید عبداللطیف اور آپ کے شاگردوں ……… کے وجود میں ظاہر ہونے والے تھے میں نے جب سید عبداللطیف کی شہادت کا واقعہ سنا تو میں اپنے گھر میں اپنی کوٹھری کو بند کر کے سختی بیتابی کے ساتھ اس واقعہ ہائلہ سے متاثر ہو کر اپنے دل کو درد مند پایا۔ اور بے ساختہ میرے منہ سے چیخیں نکلتی تھیں اور ساتھ ہی ان عاشقان پاک ………… کے لئے دعائیں نکلتی تھیں اس پر میں نے ایک مرثیہ بھی لکھا تھا پیر عبدالحی عرب نے اپنے اس اشتہار کے حاشیہ میں لکھ کر شائع کیا ۔ جس اشتہار کی سرخی نجط صنعت شاتان تذبحان تھی اس کے ابتدائی دو تین شعر یہ ہیں
    شاتان تزبیحان کہ وحی خدا شداست۔ بنگر نشان عالم غیب از کی شد است
    آں صیت حق کہ رفت ورت مدفع عالم
    صاحب دے ز خطہ کامل شیدہم عبداللطیف نام کہ مردے خداشد است
    خردہ چہ خوش شنید کہ آمد مسیح ما یعنی ظہور مہدی موعود ماشر اسب
    جہل میں جب حضور فارسی میں حضرت صاحبزادہ صاحب کے لئے تقریر فرما رہے تھے تو لوگوں کی خواہش پر اردو میں تقریر شروع کی۔ اس تقریر میں حضور نے فرمایا کہ اسلامی فرقوں میں اس ذرا اختلاف ہے کہ امام مہدی اور مسیح موعود جو حکم عدل ہے وہ آکر سب فرقوں کی روایات کی تصدیق کیسے کر سکتا ہے جب کہ بعض فرقوں کی روائتیں بعض کے خلاف ہیں۔ اور اس عورت میں کہ روایتوں میں اختلاف ہے۔ ضرور ہے۔ کہ مسیح موعود جو حکم اور عدل ہو کر آئے گا وہ ان کے درمیان فیصلہ کے قوت بعض کو صحیح اور بعض کو غلط قرار دے۔ اب جس فرقہ کی روایات کی تصدیق کرے گا وہ راضی رہے گی مگر جن کی روایتوں کو غلط قرار دے وہ ناراض ہوں گے۔تو سب فرقوں کو راضی کرنا حکم عدل کا کام نہیں ۔ پھر اگر …… سب فرقوں کی متضاد روایتوں کو ماننے کے لئے ہی آتا ہے تو پھر وہ حکم اور عدل کیسے ہو سکتا ہے پس اس نے تو اپنی منوانے کے لئے آنا ہے نہ کہ فرقوں کی ماننے کے لئے اس پر حضور نے ایک شخص کا واقعہ بطور مثال کے ذکر کیا ۔ کہ
    ایک شخص تھا اس کی دو لڑکیاں تھیں۔ ایک لڑکی بیٹ میں بیاہی ہوئی تھی۔ اور دوسری بار میں۔ جب بارش ہوتی اور دریا میں طغیانی آتی تو بیٹ میں بوجہ طغیانی کھیت تباہ ہو جاتے اور بعض مکانات بھی گر جاتے اور جب خشک سالی ہوتی تو بار کے لوگ تکلیف اٹھاتے جب بیٹ میں طغیانی سے نقصان پہنچا تو بیبٹ والی اپنے باپ کے گھر آجاتی اور باپ دوسرے سے کہتی کہ تو نے مجھے بیبٹ میں بیانا تھا اب کھیت بھی تباہ ہو گئے مکان بھی گر گیا وہاں رہوں تو کہاں رہوں اس لئے مجبوراً باپ کے ہاں آنا پڑا۔ جب خشک سالی ہوتی تو بار کی لڑکی بوجہ شدت قحط کے باپ کے گھر آجاتی اور کہتی کہ تو نے مجھے بار میں بیانا تھا اب بارش نہ ہونے سے قحط کی تکلیف کے سبب وہاں مجھے سخت تکلیف ہے اگر میں باپ کے ہاں نہ آئوں تو کہاں جائوں۔
    اس پر باپ کہنے لگا کہ مجھے بہت سخت تکلیف ہوتی ہے کہ اگر بیبٹ والی لڑکی اسلام میں ہوتی ہے تو بار والی تکلیف میں اور اگر بار والی آرام میں ہوتی ہے تو بیبٹ والی تکلیف میں ہوتی ہے دونوں میں سے ایک نہ ایک کی طرف سے مجھے ہمیشہ ہی تکلیف رہتی ہے۔
    اسی طرح آپ نے فرمایا کہ بیبٹ اور بار کی لڑکیوں کی طرح ان اسلامی فرقوں کے اختلاف ہیں۔
    جب حضرت اقدس جہلم سے گاڑی پر سوار ہوئے تو جماعت کے دوست کبھی ساتھ تھی میں بھی ساتھ تھا۔ راستے میں جہاں گاڑی کسی اسٹیشن پر ٹھہرتا وہاں لوگ ہجوم درہجوم دیکھنے کے لئے آتے یوں معلوم ہوتا تھا کہ فرشتوں نے لوگوں کے کانوں میں پھونک دیا تھا کہ حضور کی گاری آرہی ہے۔ کیوں دور دور سے لوگ دکھنے کے لئے آئے تھے۔ بعض سٹیشنوں پر جہلم اور لالہ موسیٰ کے درمیان تھے میں نے بعض دیہاتیوں کی زبان سے سنا کہ وہ بلند آواز سے یہ فقرہ کہتے تھے کہ ’’ کھٹ کے میاندی تھالی۔ خلقت ویکھدی رہی گڈی لگھ گئی مرزے والی۔ ‘‘
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب نماز کے لئے کھڑے ہوئے تھے تو پائوں کی شکل یہ ہوا کرتی تھی یعنی ایڑیوں کا درمیانی فاصلہ تھوڑا ہوا کرتا تھا مگر پنجوں کا فاصلہ زیادہ ہوا کرتا تھا۔
    میں جب پہلی مرتبہ حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت اقدس کی طبیعت چونکہ بالک …… سے پاک اور اپنے اندر کمال مادگی رکھتی تھی اس لئے کسی موقعہ پر تبسم اور ہنسنے کا موقعہ ہوتا۔ تو آپ خوب ہنستے ایک دفعہ یورپ کے پاریوں کا کوئی واقعہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے بیان کیا اس پر آپ خوب ہنسے تو تبسم کی حد سے زیادہ کیفیت اپنے اندر رکھتا تھا اور جب کہ حدیثوں میں آتا ہے کہ ضحک رسول اللہ صلعم حتی ……… کبھی کبھی ہنسنے سے ایسی کیفیت بھی پائی جاتی تھی جب میں نے حضور نے اس طرح ہنستے ہوئے دیکھا تو میں چونکہ صوفیا کے حالات پڑھنے ولا اور خود تصوف کا مذاق رکھنے والا تھا۔ اور زیادہ تر میری ذہنیت اس وقت تک یہی تھی کہ اہل اللہ تو خدا تعالیٰ کی خشیت سے روتے ہی رہتے ہیں مگر یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح موعود اور مہدی معود اس قدر ہنستے ہیں غرضیکہ مجھے بہت تعجب پیدا ہوا۔ رات کو مجھے یہ الہام ہوا۔ فتبسم فوکا۔ صبح کے وقت میں نے حضرت خلیفہ اوّل ۔ مولوی محمد احسن وغیرہ کے سامنے تھوڑی ہے اس لئے لوگ مسیح سے زیارت کر لیں جگہ کی تنگی کی وجہ سے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ابھی تشریف نہیں لائے تھے جو کوچے کے ساتھ کا کمرہ ہے اس کی چھت پر انتظام تھا اس چھت پر ابھی کوئی چار پانچ آدمی ہی کھڑے انتظار کر رہے تھے مگر کوچے میں لوگ بہت کھڑے تھے میں چوہدری عبداللہ خاں بہلول پوری دونوں جامع مسجد احمدیہ والے کوچے سے ہو کر اس چھوٹی مسجد کی طرف زیارت کی خاطر آئے ۔ ہمیں پتہ لگا کہ دروازہ بند کیا گیا ہے اور اوپر بھی صرف چار پانچ آدمی ہیں۔ ہم نے اس خیال سے کہ ابھی چھت پر گنجائش ہے اوپر چڑھنے کی کوشش کی۔ سعادت اور برکت سے زیادہ مستفیض ہونے کا موقعہ ملے گا۔ میرا وجود ہلکا اور پھر پتلا تھا۔ اندر جذبہ محبت بھی تھا۔ میں نے چوہدری صاحب کو کہا کہ اس وقت تو کچھ عشق ہی کام کرے گا۔ چوہدری صاحب نے کہا کس طرح۔ میں نے کہا دیکھو تو سہی۔ میرے پاس ایک سرخی مائل کوئی تھی۔ وہ ہلکی پھلکی سی تھی۔ میں نے ان کو کہا یہ پکڑو۔ میں پیچھے ہٹ کر دوڑ کر اس قدر اچھلا کہ چھت کی منڈیر کو پکڑ لیا۔ اور اوپر چڑھ گیا وہ حیران ہو گئے انہوں نے اوپر لوئی پھینکی میں نے جہاں حضرت صاحب کے بیٹھنے کا امکان تھا۔ بٹھا دی۔ اتنے میں حضرت صاحب تشریف لائے اور اس کے اوپر کھڑے ہو گئے۔ حضور نے وہاں آکر نصیحت کے طور پر کچھ باتیں فرمائیں اور کچھ ذکر سنایا۔ اور اس کے بعد پھر اندر تشریف لے گئے چوہدری صاحب نے نیچے سے ہی زیارت کی مگر مجھے مافحہ کا بھی موقعہ مل گیا۔ اس لوئی کو تبرک کے طور پر بڑی محبت سے گھر لے جا کر محفوظ کر لیا اور بہ نگاہ محبت و عظمت ہمیشہ دیکھتا رہا۔
    لاہور میں جب میاں چراغ الدین صاحب کے احاطہ میں حضرت صاحب کا لیکچر ہونے لگا تو لیکچر سے پہلے بابا پیغمبرا سنگھ جو اس وقت تک احمدی نہیں تھے لیکن ان کے دل میں حضرت صاحب کی محبت اور اخلاص پیدا ہو چکا تھا۔ اپنی جھولی پھولون سے بھر کر لایا اور لوگوں میں سے گزر کر حضرت اقدس کی طرف پڑھنے لگا۔ لوگوں نے اس کی ظاہری شکل دیکھ کر یہ خیال کیا کہ یہ بری نیت سے آیا ہے اور شاید حضرت اقدس پر حملہ کرے۔ اس لئے بعض نے ان کو روکنا چاہا۔ میں بھی اس مجمع میں موجود تھا۔ حضرت اقدس کے قریب ہی بیٹھا تھا۔ حضرت اقدس نے فرمیاا کہ اس کو مت روکو۔ آنے دو۔ وہ پھولوں کی مٹھی بھر کر حضرت اقدس کی طرف پھینکتا اور منہ سے یہ بات کہتا کہ جو پتھر پھینکے گا اس پر پتھر پھینکے جائیں گے اور جو پھول برسائے گا اس پر پھول برسیں گے بار باریہی کہتا جاتا تھا۔ جب حضرت کے قریب پہنچا تو بعض احباب جو حضرت اقدس کے قریب بیٹھے تھے انہوں نے اسے کہا کہ اب آپ بیٹھ جائیں پھر وہ بیٹھ گیا۔ حضرت اقدس نے تقریر فرمائی۔ جو توبہ کے موضوع پر تھی۔ اس تقریر میں آپ نے فرمایا۔
    اگرچہ دنیا میں بہت سے خوشی کے دن ہوتے ہیں جن میں سے حضرت اقدس نے عیدین کا بھی ذکر کیا۔ اور شادی اور بچوں کی پیدائش کا بھی ذکر کیا ۔ لیکن فرمایا کہ ان سب سے زیادہ خوشی کا وہ دن ہے جس دن بندہ اپنے گناہوں سے سچی توبہ کر کے اپنے خدا سے صلح کر لیتا ہے ۔ ۱۹۰۵ء میں جب حضرت اقدس زلزلہ کے خیال سے باغ میں تشریف فرما تھے۔ ان دنوں میں حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ؓ سے طب پڑھا کرتا تھا۔اور اس سے پہلے جب میں قادیان مقدس میں جاتا۔ خلیفہ اوّل ؓ فرمایا کرتے۔ کہ آپ مجھ سے طب پڑھیں۔ میں آپ کو جلدی پڑھا دوں گا لیکن چونکہ ان دنوں مجھے طب سے دلچسپی نہ تھی اس لئے میں عرض کر دیتا کہ مجھے طب کی جگہ تصوف سے شغف ہے ۔ اس لئے جناب مجھے تصوف کی باتیں سنا دیا کریں۔ لیکن حضرت خلیفہ اوّل ؓ ہر دفعہ طب پڑھنے کی تاکیدہ فرماتے۔ آخر ۱۹۰۵ء میں اصرار سے فرمایا اور بڑی شفقت سے فرمایا کہ آپ ذہین ہیں۔ میں آپ کو بہت جلد طب پڑھا دوں گا۔ چنانچہ آپ نے چند طب کی کتابیں مجھے پڑھائیں اور طب کے قواعد اور ضوابط سے مجھے آگاہ فرمایا۔ اور ان دنوں میں بھی باغ میں ہی قیام رکھتا تھا۔ ایک دن میرے دل میں خیال آیا کہ لوگ اپنے پیشوائوں سے کئی رنگوں میں برکت حاصل کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ مسیح موعود کے بالمقابل بالکل ادنیٰ درجہ رکھتے ہیں۔ حضرت اقدس کی شان بلحاظ شان نبوت و رسالت و مسیحیت و مہدیت ان سے بہت بلند و برتر ہے۔ اس لئے آپ سے پانی دم کراکر اگر پی لیا جائے اور دوسرا اپنے سینے پر حضرت مسیح موعود سے دم کرایا جائے اور ہاتھ پھرایا جائے تو بہت ہی باعث برکت ہو گا۔ پہلے تو مجھے اس کام کی تیاری کے لئے بہت ہی شرم سی محسوس ہوئی اور میں جھجکا ۔ پھر مجھے محسوس ہوا کہ یہ شرم مجھے ایک فیض سے محروم کر دے گی پھر کچھ مجھے جرات سی پیدا ہو گئی اور میں نے ایک برتن لے کر جو گلاس یا پیالہ کی شکل میں تھا اس میں پانی ڈال کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور دم کے لئے پیش کیا حضور نے ازراہ شفقت اس پر دم کیا اور میں نے وہ پی لیا۔ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام باغ میں غالباً نماز ظہر یا عصر کے بعد خیمے کے طرف تشریف لے جا رہے تھے ۔ تو میں آپ کے ساتھ ہو گیا۔ اور میں نے کچھ شرم سی محسوس کرتے ہوئے گزارش کر دی کہ حضور میرے سینے پر دم بھی کریں اور ہاتھ بھی پھیریں۔ چنانچہ حضرت اقدس نے ازراہ کمال شفقت وترحم بڑی خوشی سے میرے سینے پر دم بھی کیا اور ہاتھ بھی پھیرا۔ میں نے دم کرانے اور ہاتھ پھرانے کے وقت سینے سے اپنی قمیض کو اٹھا لیا تھا۔ اور اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک طرح کی برکت کے حاصل کرنے کا موقع عطا فرمایا۔
    غالباً ۰۳ء کا واقعہ ہے میں دارالامان کی طرف جا رہا تھا راستہ میں میری کچھ رقم نقصان ہو گئی۔ مگر مجھے علم نہ ہوا۔ جب میں قادیان مقدس پہنچا تو میں نے اپنی رقم کو ٹٹول کر دیکھنا چاہا تو مجھے معلوم ہوا کہ کچھ رقم راستہ میں کہیں گر گئی ہے۔ اور اب میرے پاس صرف ایک دونی ہے۔ اور حضرت اقدس کی خدمت میں خالی ہاتھ حاضر ہونا بھی سخت ناگوار محسوس ہوتا ہے۔ ادھر مرلی میں یہ خیال آیا کہ اور نہیں تو دونی کے پتاشے لے کر ہی پیش کر دے جائیں زیادہ نہ سہی۔ کچھ ہی پیش ہو جائے اور ساتھ شرم بھ سخت محسوس ہوتی تھی۔ آخر بار بار سوچنے سمجھنے کے بعد یہی دل میں قرار پایا۔ کہ گو پتاشوں کا پیش کرنا بوجہ ایک حقیر نذر کے قابل شرم ہے لیکن بالکل خالی ملنے سے تو پھر بھی بہتر ہے یہ خیال کر کے میں نے بازار سے دونی کے پتاشے لئے اور ایک دو پٹہ میں باندھ لئے حضرت اقدس جب نماز سے فارغ ہو کر اندر جانے لگے تو یں نے وہ پیش کر دئیے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بہت خوشی سے وہ حقیر نذر قبول فرمائی۔
    صوفیا کا عام شیوہ یہی پایا جاتا ہے اور ہمارا خاندان بھی صوفی مذاق رکھتا ہے اور کسی مقدس انسان اور بزرگ ہستی کی ملاقات کے لئے ضروری سمجھا جاتا ہے کہ خالی ہاتھ ملاقات نہ کی جائے۔بلکہ کچھ نہ کجھ بطور نذر کا پیش کیا جائے جب تک حضرت مسیح موعود زندہ رہے پھر خلیفہ اوّل کا زمانہ آیا پھر اب خلیفہ ثانی کا زمانہ ہے آج تک میرا یہی شیوا رہا ہے کہ میں حتی الوسع خالی ہاتھ نہیں ملا۔ بلکہ اگر میرے پاس کچھ بھی نہ ہو تو خالی ہاتھ ملاقات کرنے سے یہ بہتر سمجھتا ہوںکہ کسی سے قرض لے کر نذر پیش کر دوں۔ خالی ہاتھ ملنے کو سخت محسوس کرتا ہوں۔ اور اس کی زیادہ تر وجہ یہ بھی ہے کہ میں نے حضرت اقدس سے کئی بار یہ بھی سنا ہوا تھا کہ اہل اللہ کو خالی ہاتھ نہیں ملنا چاہئے کچھ نہ کچھ نذر پیش کرنا شیوہ حسن ارادت سے ہے چنانچہ ایک دفعہ حضرت اقدس سے میں نے خیالہ والی مکایت سنی کہ حضرت باوا فرید شکر گنج کے پاس ایک شخص جس کا قبالہ گم ہو گیا تھا دعا کرانے کے لئے آیا جب اس نے دعا کے لئے عرض کیا کہ میرا قیالہ گم ہو گیا ہے تو آپ نے فرمایا کہ حلوا کھلائو۔ پہلے تو وہ یہ بات سن کر کچھ متردد ہوا۔ کہ یہ عجیب بزرگ ہیں کہ دعا کے لئے حلوا طلب فرماتے ہیں لیکن پھر اس نے کہا کہ چلو کونسی بڑی بات ہے پھر وہ حلوائی کی دکان پر گئے اور جس کاغذ پر وہ حلوا رکھ کر دینے لگے وہ اس کا قبالہ تھا۔ وہ فوراً بول اٹھا یہ میرا قبالہ ہے یہ مجھے دے دو۔ چنانچہ اسے وہ قبالہ مل گیا جب وہ حلوا لے کر حضرت فرید گنج کی خدمت میں پیش ہوا۔ تو عرض کیا کہ حضرت مجھے گم شدہ قیالہ حلوائی کی دکان سے مل گیا ہے ۔ اس وقت انہوں نے فرمایا کہ حلوے کی تو ہمیں اتنی ضرورت نہ تھی لیکن جو تو نے دعا کی درخواست کی تو میرے دل میں آیا کہ دعا بجز تعلق کے نہیں ہوتی کچھ نہ کچھ تعلق ہونا چاہئے اس وقت میرے دل میں یہی خیال ایا کہ میں اس کو اس تعلق کے لئے حلوا کے متعلق فرمائش کروں اور اب خدا تعالیٰ نے تیرا اس طرح سے بھی کام کر دیا ہے۔
    دوسرے حضرت اقدس ایک اہل اللہ کا ذکر سنایا کرتے تھے ۔ فرمایا:۔
    ایک بزرگ تھے ان کے پاس دو شخص آئے ایک نے ان کی خدمت میں روپیہ پیش کیا اور دوسرے نے مسواک ۔ روپیہ پیش کرنے والے کے ساتھ انہوں نے زیادہ توجہ فرمائی اور مسواک والے کی طرف کم ۔ جب وہ دونو چلے گئے تو بعض ارادتمندوں نے عرض کیا کہ حضور روپیہ والے کی طرف جناب نے زیادہ توجہ فرمائی ہے اور مسواک والے کی طرف کم اس کی کیا وجہ ہے ۔ فرمایا کہ جس نے روپیہ پیش کیا ہے اس نے نفس کی جڑکاٹ کر پیش کیا ہے اور جس نے مسواک پیش کی ہے اس نے درخت کی جڑھ کاٹ کر پیش کی ہے اس لئے میرے نزدیک نفس کی جڑ کاٹ کر پیش کرنے والا زیادہ اخلاص اور اثبار کی وجہ سے توجہ کا زیادہ مستحق تھا۔اس طرح کی باتوں کے سننے سے میرے دل پر بھی ایک گہرا اثر محسوس ہوتا ہے۔ کہ میں جب بھی کسی اہل اللہ سے ملوں۔ تو خالی ہاتھ نہ ملوں۔
    حضرت اقدس جب ۰۴ء میں سیالکوٹ میں تشریف لائے اور حضور نے وہاں ایک مضمون لیکچر دینے کے لئے تحریر فرمایا اور لیکچر سے پہلے وہ طبع بھی کرایا گیا اس کا نام ’’ اسلام‘‘ حضور نے تجویز فرمایا۔ جہاں وہ طبع ہو رہا تھا میں اور میاں معراج الدین صاحب لاہوری اس مطبع میں گئے اور مطبع والے نے کاہ کہ یہ جو ٹائٹل پیج ہے اسلام نام کے سوا کچھ اور الفاظ بھی اگر تجویز ہو جاتے تو اچھا تھا کیونکہ جگہ خالی ہے۔ اس وقت ہم دونوں نے جواب میں یہی کہا کہ اس جگہ اگر کچھ لکھا جائے تو حضرت مسیح موعود کے کلمات طیبہ سے ہی کچھ تحریر ہونا چاہئے ۔ اس نے کہا پھر انہی کلمات سے کچھ لکھا دیجئے۔ تو اس پر چند شعر لکھے ہوئے ہیں جو ازالہ اوہام کے قصیدہ الہامیہ کے ہیں۔ وہ میاں معراج الدین صاحب اور میری تجویز سے لکھے گئے تھے۔
    لیکچر کا انتظام ایک سرائے میں کیا گیا تھا وہ اس قدر کشادہ تھی کہ اس میں ہزارہا انسان سما سکتے تھے حضرت مسیح موعود کا یہی خیال تھا کہ اس مضمون کو مولوی عبدالکریم صاحب پڑھ کر سنائیں گے لیکن ان کی طبیعت ناساز ہو گئی مگر جب لیکچر کا وقت آیا تو حضرت مولوی عبدالکریم صاحب بھی تشریف لے گئے حضور کی دعا سے انہیں کچھ افاقہ ہو گیا۔حضرت اقدس نے فرمایا ہم دعا کریں گے آپ لیکچر سنانا شروع کریں۔ چنانچہ مولوی صاحب نے جب مضمون سنایاتو باوجود یکہ وہ مضمون اچھا مبسوط ہے مولوی صاحب موصوف نے نہایت خوبی سے اسے سنایا اور سنانے کے وقت ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہر بعد کے منٹ میں ان کی آواز سے صحت کے آثار اور تبرقی ہو رہے ہیں۔ اس لیکچر خدا تعالیٰ کے فضل سے مجھے بھی سننے کی سعادت نصیب ہوئے ہیں۔ جیسے کہ اس سے پہلے لاہور کا لیکچر جو مولوی صاحب موصوف نے ہی پڑھ کر سنایا تھا۔ اسے سننے کی سعادت بھی مجھے نصیب ہوئی تھی۔
    اس سیالکوٹ والے لیکچر میں یہ ایک نئی بات حضرت اقدس نے مسیح فرمائیتھی کہ میں علاوہ مسیح موعود اور مہدی موعود ہونے کے ہندوئون کے لئے کرشن ہوں۔ چنانچہ کرشن ہونے کا دعویٰ پہلی دفعہ اس پبلک جلسہ میں پیش فرمایا۔ جب عام اور خاص لوگ یعنی احمدی اور غیر احمدی دونو حضرت اقدس کے اس دعویٰ سے آٗاہ ہوئے کہ آپ کرشن ہونے کے بھی مدعی ہیں تو بعض سادہ احمدیوں کو بعض غیر احمدیون نے ……… دیا۔ کہ لواب تو مرزا خود اپنے منہ سے کافر ہو گیا۔ کیونکہ کرشن ہندو تھا اور ہندو کافر ہوتے ہیں۔ لہٰذا مرزا صاحب نے اب تو اپنے منہ سے مان لیا ہے کہ وہ کافر ہیں۔ جن سادہ احمدیوں کو بعض غیر احمدیوں نے یہ ……… دیا جب وہ ان کی باتیں سن کر ڈیرہ پر پہنچے جہاں مہمانوں کے قیام کا انتظام تھا تو میں بھی وہاں موجود تھا۔ چنانچہ وہ حیرت زدہ اور افسردہ خاطر ہو کر ان منانطات کا ذکر کرنے لگے۔اور اس کا جواب چاہا۔ چنانچہ خدا کے فضل سے مجھے توفیق ملی اور میں نے نہایت وضاحت سے ان کی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا قرآن کریم اور حضرت اقدس کے کلمات سے ان کی تسلی ہوئی۔ ورنہ وہ فقت متردو ہو گئے تھے۔
    نوٹ:۔ جس قدر حضرت اقدس کے متعلق روایات میں نے لکھائی ہیں۔ میں ان کے متعلق یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ حضرت اقدس کے بعینہٖ الفاظ ہیں۔ بہت ممکن ہے بلکہ یقینی ہے کہ اکثر الفاظ حضرت اقدس کے نہیں۔ لیکن یہ میں ضرور کہوں گا کہ مفہوم حضرت اقدس کا جو مجھے سمجھ آیا تھا یقینا یہی ہے جو میں نے بیان کیا ہے۔
    خاکسار ابوالبرکات غلام رسول راجیکی قدسی
    12-6-39
    نوٹ از طرف جامع روایات صحابہ :۔ خاکسار ۳۹۔۶۔۶ کو روایات جمع کرنے کے لئے گجرات آیا اور آج ۳۹۔۶۔۱۲ کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں کے صحابہ کرام سے روایات لینے کا کام مکمل ہوا۔ چونکہ حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی بھی اپنے دورہ کے سلسلہ میں یہاں ہی قیام پذیر تھے۔ اس لئے ان سے بھی روایات لیں۔ بلکہ زیادہ تر اپنے اس دورہ میں پہلے گجرات آنے کا امیرا مقصد ہی یہ تھا کہ حضرت مولوی صاحب سے روایات لوں۔ کیونکہ قادیان میں ان کو فرصت نہیں ملتی۔
    خاکسار
    عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۲




    بقیہ روایات حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی
    ایک دفعہ میں اور مولوی امام الدین صاحب حضرت اقدس کی ملاقات کے لئے قادیان گئے تو حضرت اقدس ان ایام میں مسجد مبارک میں مہمانون کے ساتھ ہی کھانا تنازول فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ ہم بھی جتنے دن وہاں ٹھہرے حضور کے ساتھ ہی کھانا کھاتے رہے۔ جس دن ہم نے واپس آنا تھا ۔ اس دن اتفاق سے مہمانوں کے لئے بٹیرے پکائے گئے تھے اور ہر ایک مہمان کے آگے دو دو تین تین بٹیرے رکھے گئے تھے اور غالباً ان بٹیروں میں سبز چنے بھی تھے اتفاق سے میں اور مولوی صاحب حضرت اقدس کے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے تھے ۔ قاضی اکمل صاحب بن مولوی امام الدین صاحب ایک عرصہ سے بیمار تھے مولوی صاحب کے دل میں سورالمومن شفا کے رو سے یہ خواہش پیدا ہوئی کہ حضرت اقدس کا پس کوردہ بطور تبرک کے حاصل کیا جائے اور قاضی اکمل کو رکھ دیا جائے۔ تا اللہ تعالیٰ اس کو شفا بخشے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام باوجود اس کے کہ بہت کم کھاتے تھے اور چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جو صرف نام کا ہی لقمہ ہوتا تھا اٹھا کر سالن سے لگا کر کبھی کبھی منہ میں ڈال لیتے۔ اور جب تک مہمان کھانا کھانے سے فارغ نہ ہو لیتے اس سلسلہ کو جاری رکھتے اور آہستہ آہستہ کوئی نہ کوئی چھوٹے سے چھوٹا لقمہ سالن سے چھو کر منہ میں ڈال لیتے اور کھانا کھانے کے وقت ساتھ ساتھ گفتگو کا سلسلہ بھی جاری رکھتے جب سب احباب کھانا کھا چکے تو بعد فراغت طعام مولوی صاحب نے حضرت اقدس کی خدمت میں پس خوردہ کے لئے درخواست کی۔ حضرت صاحب نے اجازت بخشی۔ اور مولوی صاحب نے مجھے فرمایا۔کہ حضرت اقدس کا یہ پس خوردہ لے لو میں نے جن جن روٹیوں پر حضرت صاحب کا ہاتھ لگا ہوا تھا وہ بھی اٹھا لیں اور حضرت اقدس کے سامنے جو پکے ہوئے بٹیرے تھے وہ بھی اٹھا لئے۔ مولوی صاحب سے میں نے واپسی پر عرض کر دی کہ اس تبرک میں بھی فائدہ اٹھانا چاہتا ہوں۔ چنانچہ دو بٹیرے اور کچھ روٹی راستے میں مَیں نے کھا لیا اور ایک بٹیر اور کچھ روٹی مولوی صاحب قاضی اکمل کے لئے لے گئے میں لاہور اتر گیا ۔ مولوی صاحب نے قاضی صاحب کو وہ تبرک کھلا دیا۔ جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک لمبی بیماری سے جو باوجود کئی قسم کے معاملہ مداوا کے دور نہ ہوئی تھی۔ حضرت اقدس کا تبرک کھانے سے دور ہو گئی۔
    الراقم خاکسار عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۲








    روایات
    ڈاکٹر علم الدین صاحب ولد میاں قطب الدین صاحب
    سکنہ کٹریانوالہ ضلع گجرات
    عمر قریباً 70سال۔ بیعت ۹۷ء
    یہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو مرزا ایوب بیگ میرے دوست تھے میں لاہور کالج میں پڑھا کرتا تھا۔ پہلی دفعہ جب میں بیعت کرنے کے لئے گیا تو ظہر کی نماز کا وقت تھا۔ ہر طرف سے اسلام علیکم ۔ السلام علیکم کی آواز ہی آتی تھی۔ میں نے حضرت صاحب کو دیکھ کر حضور کی خدمت میں بیعت کی درخواست کی۔ حضور نے فرمایا۔ ابھی نہی۔ روزانہ یہی فرماتے رہے جس روز میں نے واپس آنا تھا۔ اس روز بیعت قبول فرمائی۔
    میں مورتھ ائیر میں تھا میں چونکہ غیر معمولی ذہن تھا۔ اس لئے کتابیں نہیں خریدا کرتا تھا۔ بلکہ پروفیسر جو لیکچر دیا کرتے تھے وہ مجھے یاد رہتے تھے ویں نے حضرت اقدس کی خدمت میں امتحان میں کامیابی کے لئے دعا کی درخواست کی ۔ فرمایا۔ ’’ کتابوں کو شروع سے لے کر آخر تک پڑھو۔ غور سے پڑھو۔ محنت کرو۔ اور پھر دعا کرو۔ میں بھی دعا کروں گا ۔ اللہ تعالیٰ کامیاب کرے گا۔ اس سے میں نے یہ نتیجہ نکالا کہ یہ شخص نہایت صادق ہے۔ تصنع اس کی طبیعت میں ہرگز نہیں۔ اگر کوئی اور پیر ہوتا تو کہتا میں دعا کروں گا۔ تم ضرور کامیان ہو جائو گے۔ حضور کے ارشاد کی تعمیل میں مَیں نے دسمبر میں کتابیں خریدیں۔ اور پھر انہیں پڑھا۔ اور مارچ میں امتحان دیا۔ اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطا فرمائی۔ میرے ذہن میں جو حضرت صاحب کا تصور تھا وہ یہ تھا کہ لمبا جیہ ہو گا ۔ تسبیح ہاتھ میں ہو گی۔ اور پیروی کے لئے متکبر ہوں گے اور لوگوں کے ہاتھ اچھی طرح سے پیش نہیں آتے ہوں گے لیکن جب حضور کو دیکھا اور ملاقات کی تو آپ کی سادگی ۔ اخلاق۔ اور خوش مزاجی کو دیکھ کر دل پر بہت اثر ہوا۔ اس زمانہ میں جب ہم قادیان جاتے تھے تو اول تو بٹالہ اسٹیشن سے اترتے ہی مولوی محمد حسین کے ایجنٹ روکتے تھے اور پھر قادیان کے قریب جو نہر ہے وہاں ان لوگوں نے ایک چھلوداری لگائی ہوئی تھی اور حقہ دین کا انتظام تھا جانے والے لوگوں کو روکا کرتے تھے۔
    (۲) ہماری موجودگی میں حضرت اقدس ایک کتاب تصنیف فرما رہے تھے پانچ سات صفحات کی اندر سے ایک کاپی آئی۔ حضور نے کسی مولوی صاحب کو کہا کہ پڑھ کر سنائو۔ انہوں نے پڑھنا شروع کیا حضور لوگوں سے فرماتے کہ اگر کوئی بات قابل اصلاح ہو تو بتانے جانا۔ عام لوگ تو بول پڑتے تھے مگر حضرت خلیفہ اوّل کو میں نے دیکھا کہ سب کے آخر میں جوتیوں میں سر نیچا کر کے بیٹھا کرتے تھے اگر حضرت صاحب بلاتے تو بولتے مجھے یاد ہے کہ جب وہ کاپی پڑھی جا رہی تھی تو ایک شخص نے عرض کیا کہ حضور اس مقام پر فلاں حدیث ہونی چاہئے حضور نے فرمایا ہاں ضرور ہونی چاہئے اور پڑھنے والے کو کہا کہ حاشیہ پر نوٹ کر لو۔ ابھی چند ہی سطریں آگے پڑھی تھیں کہ وہ حدیث آگئی۔ ایسا موقعہ تین چار دفعہ پیش آیا کہ کوئی نہ کوئی مولوی صاحب بولتے اور عرض کرتے کہ حضور اس جگہ فلاں بات کا اضافہ ہونا چاہئے۔ حضور فرماتے ہاں نوٹ کر لو۔ آگے وہی بات آجاتی۔
    اس سے میں نے یہ نتیجہ نکالا کہ یا تو حضرت صاحب ان لوگوں کی حد سے زیادہ دلجوئی کرتے ہیں اور یا ان کو علم ہی نہیں ہوتاکہ کیا لکھ رہے ہیں قلم ان کے ہاتھ میں آتا ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ لکھاتا ہے لکھتے جاتے ہیں۔
    (۳) میرے بھائی کے دو بچے مادر زاد گونگے بہرے تھے۔ بیعت کے بعد میں نے ان کے لئے دعا کی درخواست کی۔ اور عرض کیا کہ حضور ان کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کی قوت شنوائی اور گویائی کو درست کر دے۔ فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کے حضور گستاخیہے۔ کہ جو طاقتیں اللہ تعالیٰ نے پیدا ہی نہیں کیں ان کے متعلق یہ کہنا کہ یہ پیدا ہوں ایسی ہی بات ہے جیسے کہا جائے کہ بھیڑ گھوڑا بن جائے یا گدھا ہاتھی پھر فرمایا آپ ڈاکٹرہو کر ایسی دعائیں کراتے ہیں اس پر خاموش ہو گیا اور میری طبعیت پر بڑا اثر ہوا۔
    (۴) میری موجودگی میں سیالکوٹ کی طرف سے تین مولوی لمبی داڑھیوں والے آئے اور آکر حضور کی بڑی تعریف کی اور کہنے لگے کہ تسلیم کرتے ہیں کہ آپ اسلام کے شیدائی ہیں دن رات اسلام کی خدمت پر کمر بستہ رہتے ہیں اور فے الواقع آپ اس زمانہ کے امام ہیں مگر یہ جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ آپ نے کیا ہے اگر آپ یہ چھوڑ دیں تو سارا زمانہ آپ کو امام ماننے کے لئے تیار ہے۔ حضور کو یہ سن کر بڑا جوش آگیا۔حضور نے فرمایا کہ کیا تم لوگ سمجھتے ہو کہ میں نے یہ منصوبہ کیا ہے اور دن بھر میں اندر بیٹھ کر ……… اور بناوٹ سے خدا تعالیٰ پر اقترا کو …… رہتا ہوں اور پھر باہر آکر سنا دیتا ہوں کیا صداقت اور جھوٹ کا اجتماع بھی کبھی ہوا ہے کہ ایک طرف تو آپ کہتے ہیں کہ میں اسلام کا ایک بے نظیر خادم ہوں اور زمانہ کا امام کہلانے کا مستحق ہوں دوسری طرف اپ کہتے ہیں کہ میں اس قدر گندہ ہوں کہ نعوذ باللہ خدا پر اقترا کرتا رہتا ہوں۔ یہ بھلا کیسے ہو سکتا ہے غرضیکہ آپ نے ایک لمبی اور پرجوش تقریر فرمائی۔ آپ اس قسم کی …… باتیں کر رہے تھے کہ نماز عصر کا وقت ہو گیا کسی نے تکبر کہہ دی حضور نے فرمایا ۔ ذرا ٹھہرو۔ اس نے سنا نہیں بلکہ تکبر جاری رکھی۔ پھر آپ نے ذرا اونچی آواز سے فرمایا کہ ذرا ٹھہرو۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جو کام ہم کر رہے ہیں۔ یہ نماز نہیں یہ بھی نماز ہی ہے۔
    (۵) میں حضور کو دبایا کرتا تھا۔ میں نے دیکھا کہ بعض دفعہ بعض بدفطرت اور شریر انسان بھی حضور کی صحبت میں باہر سے آکر بیٹھ جایا کرتے تھے اور حضور کو دبانے لگ جاتے تھے۔ ایک دفعہ ایک شخص حضور کو دبا رہا تھا۔ کہ پائوں میں سوئی چبھو دی۔ حضور نے پائوں کھینچ لیا مگر اسے کچھ نہیں کہا تھوڑی دیر کے بعد پھر اس نے پائوں پکڑ کر دبانا شروع کر دیا۔اور پھر سوئی چبھوئی۔ پھر حضور نے پیر کھینچ لیا اور اسے کچھ بھی نہیں کہا۔
    (۶) اس زمانہ میں اذان کے وقت مخالف لوگ مسجد کے نیچے سیٹیاں بجایا کرتے تھے اور ’’ دھوتا‘‘ بھی بجایا کرتے تھے۔
    (۷) حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں لنگر خانہ کا کوئی الگ انتظام نہیں ہوا کرتا تھا۔ بلکہ حامد علی آیا کرتا تھا اور عرض کرتا کہ حضور فلاں فلاں چیز کی ضرورت ہے۔ حضور جیب میں ہاتھ ڈالتے اور جتنے روپے ہوتے مٹھی بھر کر بغیر گننے کے ان کے حوالہ کر دیتے۔
    (۸) حضور سی رکو جایا کرتے تھے تو بعض اوقات آپ کی جوتی کسی کا پائوں یا ٹھوکر لگنے سے پائوں سے نکل جاتی یا چھڑی گر پڑتی۔ تو حضور پیچھے مڑ کر نہ دیکھتے بلکہ اگر کوئی پکڑ ا دیتا تو پکڑ لیتے ورنہ آگے چلے جاتے۔
    (۹) ایک دفعہ آپ مہمانوں کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے آپ نے بائیں ہاتھ سے پانی پیا۔ ایک مولوی صاحب نے اعتراض کیا کہ آپ نے بائیں ہاتھ سے پانی پیا ہے۔ جو خلاف سنت ہے ۔ فرمایا۔ آپ نے توجہ نہیں کی میں تو لقمہ بھی بائیں ہاتھ سے ہی کھا رہا ہوں یہ دیکھئے میرے بائیں ہاتھ میں پھوڑا ہے۔ حضور نے دائیں ہاتھ پر پلیٹس باندھی ہوئی تھی۔
    (۱۰) ایک دفعہ آپ نے مجھے یا کسی اور کو مخاطب کر کے پیر کا قصہ سنایا۔کہ ایک آدمی ایک پیر کے پاس مرید بننے کے لئے گیا۔ پیر نے اسے دو روٹیاں اور ایک کڑچھی دال کی دی۔ اس نے کڑچھی دال کی بہت جلدی ختم کر لی اور اور دال کا مطالبہ کیا تو اسے پھر اور دال دی گئی اس نے اسے بھی ختم کر کے تیسری دفعہ مطالبہ کیا جب کھانے سے فارغ ہوا تو اس نے اپنے آپ کو بیعت کے لئے پیش کیا پیر نے فرمایا۔ بھئی تو دو روٹیوں کو دال کی کڑچھی کے ساتھ نہیں نبھا سکا تو میرے ساتھ مریدی کو کیا بنھا سکے گا یہ تو بڑا مشکل کام ہے اس نے اس کی بیعت لینے سے انکار کر دیا۔
    (۱۱) حضور کی آنکھوں میں غض بصر اس قدر تھا کہ کوئی شخص نہیں کہہ سکتا تھا کہ اس نے کبھی حضور نے ’’آنو‘‘ کو دیکھا ہو۔ حضور کا چہرہ بڑا سرخ ہوا کرتا تھا۔
    خاکسار
    ڈاکٹر علم الدین
    ۲۹۔۶۔۱۰








    روایات
    ملک برکت علی صاحب ولد ملک وزیر بخش صاحب
    سکنہ گجرات
    عمر قریباً 70سال سن بیعت ۹۸ء
    میں یہاں سے تعلیم حاصل کر کے لاہور میں ملازم ہو گیا۔ وہاں جو دفتر کے کلرک تھے انہوں نے پیر جماعت علی شاہ کی بیعت کی اور مجھے بھی تحریک کی۔ میں نے بھ ان کے کہنے سے پیر صاحب کی بیعت کر لی۔ اور ہر روز صبح و شام دتر کے وقت کے علاوہ ان کی صحبت میں رہوں گا۔ جب عرصہ گزر گیا اور میری طبیعت پر کوئی اثر پیدا نہ ہوا۔ اور نہ ہی میں نے کوئی روحانی ترقی حاصل کی تو پیر صاحب سے سوال کیا کہ مجھے بیعت کئے ہوئے اس قدر عرصہ گزر گیا ہے مگر میری حالت میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی۔پیر صاحب نے کہا کہ آپ مجاہدات کریں اور اس حد تک میرا تصور کریں کہ میرا نقش ہر وقت آپ کے سامنے رہے پھر آپ کو بارگاہ الٰہی میں رسائی حاصل ہو گی۔ میں عرصہ تک ان کا تصور بھی کرتا رہا مجاہدات بھی بڑے کئے۔ مگر کوئی فائدہ حاصل نہ ہوا اکونٹنٹ جنرل کے دفتر میں ایک شخص میاں شرف الدین صاحب ہوا کرتے تھے وہ احمدی تو نہ تھے ۔ مگر حضرت صاحب کجی کتابیں پڑھا کرتے تھے انہوں نے مجھے کہا کہ آپ کو پیر صاحب کی بیعت کئے ہوئے اتنا عرصہ گزر گیا ہے مگر آپ کی حالت میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی میں نے کہا کہ میں تو ہر روز پیر صاحب کو یہی کہتا ہوں کہ کیا وجہ ہے کہ میری حالت میں کوئی تغیر پیدا نہیں ہوتا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں آپ کو کوئی کتاب دوں تو کیا آپ پڑھیں گے۔ میں نے کہا ضرور۔ آپ دیں میں انشاء اللہ ضرور پڑھوں گا۔ اس پر انہوں نے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک کتاب مطالعہ کے لئے دی۔ مین نے اس کا مطالعہ کیا پھر انہوں نے دوسری دی یہاں تک کہ چار کتابیں میں نے پڑھ لیں۔ ایک کے بعد ایک دن میں نے پیر صاحب کی خدمت میں حضرت صاحب کا ذکر کیا اور پوچھا کہ ان کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے ۔ مجھے پیر صاحب نے کہا کہ نہ ہم ان کو اچھا کہتے ہیں نہ برا۔ میں اس جواب پر بہت متعجب ہوا۔ مگر اس وقت خاموش ہو گیا۔ ایک روز پھر میں نے یہی سوال کر دیا۔ پیر صاحب نے پھر وہی جواب دیا۔ اور ساتھ ہی یہ کہا کہ ’’ مگر نہ ان کی کوئی کتاب پڑھو۔ اور نہ وعظ سنو۔ ‘‘ میں حیران ہوا کہ ایک طرف تو ان پر تواچھا یا برا ہونے کے متعلق کوئی فتویٰ نہیں لگاتے اور دوسری طرف کہتے ہیں کہ نہ ان کی کتابیں پڑھو اور نہ وعظ سنو۔ میں نے کہا کہ کیا آپ نے ان کی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے؟ اس پر پیر صاحب جوش میں آگئے۔ اور کہنے لگے کہ ہمیں کیا ضرورت پڑی ہے کہ ہم ان کی کتابیں پڑھیں۔ علماء نے ان پر کفر کا فتویٰ جو لگا دیا ہے ان کا یہ جواب سن کر میرے ذہن میں حضرت اقدس کی تحریرات کا نقشہ کھینچ گیا۔ جن میں حضور نے مخالف علما کے کفر کے فتویٰ کا ذکر کر کے فرمایا تھا کہ یہ لوگ نہ میری کتابیں پڑھی ہیں اور نہ میرے خیالات کو انہیں سننے کا موقعہ ملا ہے۔ مگر محض مولوی محمد حسین کے کہنے پر یک طرفہ فتویٰ لگا دیا ہے۔
    میں نے دل میں کہا کہ پیر صاحب کی بھی یہی حالت ہے کہ بالکل یک طرفہ فتویٰ لگا رہے ہیں۔ یہ باتیں سن کر میں پیر صاحب سے بدظن ہو گیا۔ اور واپس آکر تحقیقات میں مشغول ہو گیا۔ ان ایام میں عبداللہ آتھم کے متعلق حضور کے اشتہارات نکل رہے تھے اور عیسائی کی طرف سے بھی اشتہارات نکلا کرتے تھے۔ میں فریقین کے اشتہارات کو ایک فائل کی صورت میں محفوظ کر رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ حضرت اقدس کی پیشگوئی آتھم کے بارہ میں بالکل صحیح پوری ہو گئی ہے اس کے بعد لیکھرام کے متعلق حضور کے اشتہارات اور تحریرات نکلنا شروع ہو گئیں۔ ان کو بھی میں فائل میں محفوظ کرتا گیا۔ اس پر دو واقعات کے گزرنے کے بعد مجھے حضرت اقدس کی صداقت کے متعلق اطمینان ہو گیا۔ اور میں نے بیعت کا خط لکھ دیا۔ پھر قریباً ۱۹۰۱ء یا ۱۹۰۲ء میں قادیان جا کر دستی بیعت کی۔
    میں بیعت کرنے کے لئے امرتسر انٹر کلاس میں سوار ہوا۔ میرے کمرہ میں ایک شخص اور بھی تھا۔ میں نے اس سے سوال کیا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں اس نے جواب دیا کہ قادیان جا رہا ہون میں نے کہا کیا آپ احمدی ہیں؟ کہنے لگا نہیں ۔ میں نے پوچھا پھر کس غرض کے لئے آپ قادیان جا رہے ہیں۔ اس نے کہا میرا قصہ بہت لمبا ہے۔ میں نے کہا آپ سنائیں تو سہی۔ اس نے پھر کہا کہ میرا قصہ بہت لمبا ہے میں نے کہا ہم دونو فارغ ہیں۔ آپ سنائیں۔ سفر کٹ جائے گا۔ اس پر اس نے کہا۔ کیا آپ اتنا لمبا قصہ سنیں گے۔ میں نے کہا اچھی طرح سے سنوں گا۔ آپ سنائیں۔ اس نے جیب سے ایک فیصلہ کی نقل نکالی اور میرے ہاتھ میں دے دی میں نے کہا کہ آپ بتائیں کہ یہ کیا فیصہ ہے اس پر اس نے کہا کہ میں ملٹری میں صوبیدار تھا وہاں ایک لاکھ روپیہ کے قریب عین ہو گیا اور سب کچھ میرے دستخطوں سے ہوا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ میں اور تین چار اور آدمی حوالات میں ہو گئے اور مقدمہ عدالت میں چلا گیا۔ اس عرضہ میں ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اور میرے اور دو دوست ایک سڑک پر جا رہے ہیں میں یکایک دائیں طرف ایک پاخانہ کے گہرے گڑھے میں گر گیا ہوں اور اس میں غرق ہوتا جا رہا ہوں۔ ان دوستوں سے میں نے مدد چاہی مگر وہ ہنستے ہوئے آگے چلے گئے ۔ حتی کہ میں ہفتہ تک اس گندگی میں غرق ہو گیا۔ اس پر ایک بوڑھے شخص نے آکر میری طرف ہاتھ لمبا کیا اور کہا کہ میرا ہاتھ پکڑ کر باہر آجائو۔ میں نے ہاتھ پکڑ لیا اور سہارا لے کر کہا کہ آپ بوڑھے ہیں ایسا نہ ہو کہ آپ مجھے نکالتے نکالتے خود بھی اس میں گر جائیں۔ اس نے کہا کہ ’’ نہیں اور مجھے کھینچ کر باہر نکال دیا۔ اور خوف آگے کو چل پڑے۔ میں نے پیچھے سے آواز دی کہ ذرا ٹھہریں۔ مجھے بتائیں کہ آپ کون ہیں۔ مگر انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس پر میں ان کو پیچھے پیچھے چل پڑا وہ ایک مسجد میں گئے اور وہاں نماز ہو رہی تھی اور اس میں شامل ہونے لگے۔ میں نے کہا مہربانی فرما کر مجھے تو بتلائیں کہ آپ کون ہیں انہوں نے جواب دیا کہ نماز ہو رہی ہے نماز میں شامل ہو جائو میں نے کہا کہ میری گندگی سے بھرا ہوا ہوں۔ ایسے کیسے شامل ہو سکتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ کواں پاس ہے نہالو۔ اور شامل ہو جائو۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا اور جماعت میں شامل ہو گیا۔ جب سلام پھیرا تو میری آنکھ کھل گئی۔ اس جماعت میں ایک امام تھا۔ اور میرے علاوہ دو مقتدی اور تھے ان میں سے ایک وہ تھا جس نے مجھے باہر نکالا تھا۔اس خواب کے بعد میں تو بری ہو گیا اور باقیوں کو سزا ہو گئی بری ہونے کے بعد میں نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔اور اس فکر میں گھومتا رہا کہ معلوم کروں کہ وہ کون شخص تھا۔ جس نے مجھے گندگی سے نکال اور امام کون تھا جس نے نماز پڑھائی تھی ۔ می اب پیروں اور فقیروں کے پاس جا کر اس شخص کی تلاش کرتا رہا۔ کافی دیر تک گھوما مگر مجھے اس شخص کا پتہ نہ لگا۔ اس اتنا میں مَیں چاچڑاں شریف گیا اور پیر غلام فرید صاحب سے ملاقات کی۔ ان کو دیکھتے ہی میں نے بیان کیا کہ یہ شخص مقتدیوں میں سے ایک ہے میں نے ان کی خدمت میں سارا واقعہ سنایا اور سوال کیا کہ آپ بتائیں کہ مجھے کس شخص نے نکالا تھا اور امام کون تھا ۔ انہوں نے فرمایا کہ نکالنے والا …… ضلع گجرات میں رہتا ہے اور متصل تھانہ پولیس ایک پہاڑی میں اسی کا قیام ہے میں نے اتنا ہی سنا تھا کہ چل پڑا۔ اس خوشی میں امام کے متعلق میں نے سوال نہ کیا اور یہ خیال کیا کہ اس شخص سے ہی امام کے متعلق دریافت کر لوں گا۔ میں جب ……… پہنچا تو پولیس کی چوکی کے اس شخص کے متعلق دریافت کیا انہوں نے بتایا کہ اس پہاڑی میں فقیر رہتا ہے جس کو دو وقت کھانا ہم بھیجتے ہیں میں اس فقیر کو جا کر ملا میں نے فوراً پہچان لیا کہ یہ وہی شخص ہے۔ جس نے مجھے اس گندگی سے نکالا تھا۔ میں نے اس سے دریافت کیا مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا کیونکہ وہ مجذدب تھا۔ میں نے اسے دبانا شروع کر دیا دن کو کھانا گائوں سے جا کر کھا آتا اور پھر اس کے پاس جا کر اسے دبانے لگ جاتا اس حالت میں مجھے کچھ دن گزر گئے ایک دن اس نے آنکھ کھولی اور پوچھا کہ کیا کہتا ہے میں نے اسے تمام ماجرا سنایا اور پوچھا کہ آپ فرمائیں کہ وہ امام کون ہے اس نے کہا کہ ’’ گھبرانا نہیں چاہئے وہ مل جائے گا‘‘ یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گئے پھر کچھ عرصہ تک میں دباتا رہا۔ پھر ایک دن انہوں نے آنکھ کھولی میں نے پھر وہی سوال کیا انہوں نے پھر وہی جواب دیا اور خاموش ہو گئے۔ میں گھبرا گیا۔ اور دل میں خیال کیا کہ چاچڑاں شریف والوں سے ہی دریافت کر لیتا تو اچھا تھا۔ چنانچہ پھر چاچڑاں شریف گیا وہاں جا کر معلوم ہوا کہ پیر غلام فرید صاحب کا انتقال ہو گیا ہے ناچار پھر واپس آیا جب میں یہاں پہنچا تو معلوم ہوا کہ یہ مجذوب صاحب بھی فوت ہو گئے ہیں اس پر میں بہت گھبرایا اور پریشانی کی ہالت میں اسی امام کی تلاش کرنے لگا۔ اس تلاش میں قریبا دو سال گزت گئے میرے ضلع جھنگ میں مربع ہیں اور وہاں خان محمد افضل خاں صاحب ڈپٹی کمشنر ہیں انہوں نے مجھے کہا کہ اتنا عرصہ آپ نے تلاش کی کیا قادیان میں جو مرزا صاحب ہیں ان وک بھی دیکھا ہے میں نے کہا نہیں انہوں نے کہا ممکن ہے وہی ہو۔ اس لئے میں اب قادیان جا رہا ہوں۔ اس پر میں نے اس کو تبلیغ کرنا شروع کیا مگر اس نے کہا کہ ہزار تبلیغ کرو میں تو سوائے اس امام کے اور کسی کی بیعت نہیں کروں گا۔ جب ہم بٹالہ پہنچے تو ایک مسجد میں نماز کے لئے گئے اس نے اپنا بسترہ میرے سپرد کیا اور آپ پیشاب کے لئے گیا ۔ میں نے نماز پڑھی اور اس کا انتظار کیا مگر وہ بہت دیر کے بعد آیا میں اسے غصے ہوا اور کہا کہ اتنی دیر میں تو میں نے قادیان پہنچ جانا تھا۔ اس نے کہا کہ جب میں پاخانہ پھرنے جاتا ہوں تو میری مقعد باہر نکل آتی ہے اور پھر میں اس دوائی سے جس پر میرا سوا روپیہ روز خرچ ہوتا ہے صاف کر کے اندر کرتا ہوں۔ اس لئے مجھے دیر ہو جاتی ہے۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر مجھے رحم آیا اور میں خاموش ہو گیا۔ اور اسے کہا کہ نماز پڑھ لو۔ پھر چلیں گے۔ چنانچہ اس نے نماز پڑھی۔ پھر ہم چل پڑھے۔ جب قادیان پہنچے تو مہمان خانہ میں ٹھہرے۔ دوسرے دن حضرت اقدس نماز ظہر کے لئے تشریف لائے مگر وہ بیچارہ اپنی بیماری کی وجہ سے جلد فارغ نہ ہو سکا اس روز حضور پھر تشریف نہ لائے۔ دوسرے دن جب تشریف لائے تو وہ شخص پھر بھی موجود نہ ہو سکا۔ لیکن نماز کے ختم ہونے پر پہنچ گیا۔ اور حضرت صاحب کو دیکھتے ہی چلا اٹھا۔ کہ میری مراد آج پوری ہو گئی۔ جس کے لئے میں مدت سے سرگردان تھا۔ پھر اس نے حضرت صاحب کو اپنا تمام واقعہ کھڑے کھڑے سنایا۔ اور اپنی بیماری کا بھی ذکر کیا۔ اور دعا کے لئے بھی درخواست کی۔ اور اس وقت بیعت بھی کر لی بیعت کے بعد حضور نے اسے کہا کہ اب آپ کا کیا ارادہ ہے ٹھہرنے کا یا چلے جانے کا اس نے کہا کہ اب تو میں آپ کی بیعت میں ہوں اب ارادہ آپ کا ہے۔ میرا کچھ نہیں۔ جب تک حضور کی طرف سے حکم نہیں ہو گا میں نہیں جائوں گا۔ میں وہاں تین چار روز رہا۔ اس عرصہ میں وہ کہتا تھا کہ اب میری بیماری میں سے چارکونہ باقی رہ گئی ہے۔ پھر میں چلا آیا۔
    حضرت اقدس کے زمانوں چونکہ مسجد چھوٹی ہوا کرتی تھی۔ اس لئے جب آدمی زیادہ ہوتے تو چھت پر جہاں حضور تشریف فرما ہوتے تھے۔ جہاں کسی کی جگہ مل جاتی۔ وہ بیٹھ جاتا اور ہم تن گوش ہو کر حضور کی باتوں کو سنتا۔ بعض غیر احمدی معترض ہوتے کہ اپ پیر ہیں اور نیچے بیٹھے ہیں مگر مرید شہ نشین پر اوپر بیٹھے ہیں۔ حضرت صاحب فرماتے کہ معذوری ہے جگہ تنگ ہے۔ لوگ مجھے پوچھنے کے لئے نہیں آئے بلکہ تقویٰ اور طہارت کی باتیں سننے کے لئے آئی ہیں اور میں تو انسان پرستی تو دور کرنے کے لئے آیا ہوں۔
    ایک دفعہ جبکہ میں بھوچرا بنگلہ نہر لوئر جہلم ضلع سرگودہا میں تھا کہ ایک سب ڈویثنل افسر مسٹر ہاورڈ میرے خلاف ہو گیا۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ یہ دیانت تھا اور پہلے کلرک کے ساتھ مل کر کھایا کرتا تھا۔ مگر جب میں گیا تو میں نے ایسے بل بنانے سے انکار کر دیا۔ اور کہا آپ میرمنٹ بکس میں درج کر کے دے دیں۔ میں بل بنا دوں گا۔ لیکن کتاب میں مَیں درج نہیں کروں گا۔ اس پر وہ پگڑ گیا اور میرے خلاف رپورٹ کر دی۔ اور مجھے معطل کر دیا۔ وجہ یہ لکھی کہ میں اس کو بدمعاشی کی وجہ سے معطل کرتا ہوں لیکن افسر بالا نے لکھا کہ اس پر چارج شیٹ لگائو۔ اور جواب لے کر بھیجو۔ اس وقت جو جرم مجھ پر لگایا گیا وہ کوئی بھی جرم نہ ھتا بلکہ اس قسم کی باتیں تھیں کہ اس نے فلانے کاغذ پر دستخط کئے ہیں۔ لیکن لفظ ہڑتال نہیں لکھا۔ ایسی باتوں کا میں نے مدلل جواب دے دیا۔ خیر بکس چل پڑا۔ اور تین ہیتہ تک چلتا رہا۔ میںنے حضرت اقدس کی خدمت میں دعا کے لئے درخواست کی۔ حضور کی طرف سے ایک کارڈ پر جواب آیا کہ دعا کی ہے۔ اللہ تعالیٰ رحم کرے گا۔ اتفاق سے یہ خط ایک شخص …… ……………… کے ہاتھ آگیا۔ اور اس نے پڑھ لیا۔ اس نے مجھے آکر کہا کہ مقدمہ آپ کے حق میں ہو گیا ہے ۔ اور آپ بری ہو گئے ہیں ۔ میں حیران ہوا اور پوچھا کہ آپ کو کیسے علم ہوا۔ اس نے وہ کارڈ مجھے دیا ۔ اور کہا اس پر لکھا ہوا ہے …………پڑھا اور کہا کہ یہاں تو یہ نہیں لکھا۔کہ آپ بری ہو گئے ہیں وہ بولا کہ اتنے بڑے خدا کے بندے نے آپ کے لئے دعا کی ہے بھلا اب کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ بری نہ ہوں۔ چنانچہ اس خط کے مطابق تھوڑے ہی عرصہ کے بعد میں بری ہو گیا۔ اور باوجود اس بات کے کہ میں کلرک تھا۔ اور جھگڑا ایک انگریز سب ڈویژنل افسر کے ساتھ تھا۔ مگر اس مقدمہ کی تفتیش کے لئے سپرنٹنڈنٹ اور چیف انجینئر مسٹر بینٹن تک آئے اور خوب اچھی طرح سے انکواری کی اور مجھے بری کیا ۔
    دستخط ملک برکت علی
    عبدالقادر ۳۹۔۶۔۱۰





    روایات
    میاں امیر دین صاحب ولد میاں نورالدین صاحب
    عمر قریباً 72سال سن بیعت ۱۸۹۲ء اندازاً
    حضرت اقدس دعویٰ کے بعد مختلف جگہوں کے سفر کر کے سیالکوٹ تشریف لے گئے۔ تو وہاں میں نے بیعت کی۔ میں ۳۱۳ صحابہ میں داخل ہوں۔ مجھے یہ علم نہیں کہ میرا نام کس نمبر پر ہے۔ گجرات میں سب سے پہلا احمدی ہوں۔
    جب حضرت صاحب کا ذکر سنا۔ تو ناواری کی وجہ سے قادیان نہ جا سکا۔ سنا کہ حضرت اقدس سیالکوٹ آرہے ہیں۔ دل مین خیال آیا کہ ایسے شخص کو ضرور دیکھنا چاہئے جو الہام کا مدعی ہے (دراصل میں احُدیت کی طرف مائل نہیں تھا۔ ہاں حضرت اقدس کو دیکھنے کا شوق تھا۔ مگر مذہبی لحاظ سے میں عیسائیت کا مداح تھا۔) خیر گھر سے ایک روپیہ ہاتھ لگ گیا۔ اور گاڑی پر سوار ہو گیا دو آدمی اور بھی حضور سے ملاقات کرنے والے یہاں سے سوار ہوئے۔ جب سیالکوٹ پہنچے تو پندرہ بیس آدمی ایسے مل گئے جو حضرت صاحب سے ملاقات کرنا چاہتے تھے۔ بعض مخالف تھے اور بعض مداح تھے۔ جس جگہ حضرت اقدس ٹھہرے ہوئے تھے وہاں پہنچے۔ حضرت کے اطلاع کرائی گئی حضور تشریف لائے۔ ایک مولوی نے حضور کے ساتھ حیاۃ مسیح پر بحث کی۔ حضرت اقدس نے ایسے مسکت جوابات دے کہ لاجواب ہو گیا۔ پھر میں نے کچھ سوال کئے۔ حضور نے میرے سوالات کے بھی جوابات دئیے۔ حضور جوابات دے کر اوپر تشریف لے گئے شیخ رحمت اللہ صاحب بھی وہاں موجود تھے۔ رہتے لاہور میں تھے مگر گجرات کے باشندہ تھے۔ اس لئے واقف تھے۔ مجھے کہنے لگے کیوں میاں امیر الدین بیعت کرنی ہے یا نہیں۔ میں تو حضرت اقدس پر فدا ہو چکا تھا۔ میں نے کہا ہاں کر لیتا ہوں۔ حضرت اقدس کو اطلاع کرائی گئی حضور نے مجھے اوپر بلا لیا اور میری بیعت قبول فرمائی ۔ بیعت کے بعد ایک شخص سے میں نے ازالہ اوہام کی دونوں جلدیں ادھار لیں۔ چھوٹی تختی پر تھیں۔ یہاں آکر ان کی قیمت بھیج دی میں نے جب اس کتاب کو پڑھا تو میرا دل یقین سے بھر گیا۔
    یہاں مجھے بعض لوگوں نے کہا کہ تو مرزا صاحب کا مرید ہے مولوی برہان الدین جہلمی بھی ا کا مرید ہے۔ مولوی صاحب کا بھتیجا یہاں عیسائی بنا بیٹھا ہے۔ میں نے اسے تلاش کیا کرایہ دے کر قادیان بھیجا۔ مگر حضرت صاحب نے اس کی بدچلنی کے باعث وہاں سے اسے نکال دیا۔ اس کا نام عبدالحمید تھا۔ پھر وہ بٹالہ آیا۔ اور وہ مقدمہ بنا۔ ڈاکٹر کلارک والے قصیدہ کے نام سے مشہور ہے۔ حضرت اقدس نے مجھے تار دلوایا۔ میں وہاں پہنچا۔ اور بٹالہ میں سارا مقدمہ میری آنکھوں کے سامنے ہوا۔
    کتاب البریہ میں میرا نام میراں بخش لکھا ہوا ہے۔ یہاں ہی میراں بخش کے نام سے مشہور تھا۔ میں نے مدار ستارہ کو بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔
    ہم جب قادیان جایا کرتے تھے تو حضرت ہمیشہ ہشاش بشاش ہوتے تیھے۔ میں نے حصرت صاحب کو غصہ میں کبھی نہیں دیکھا۔ میں سیر میں حضرت اقدس کے پیچھے رہتا تھا۔ کئی دفعہ میرا پیر حضرت اقدس کی سوٹی کو لگا۔ اور وہ گر گئی۔ حضرت نے مڑ کر نہیں دیکھا۔ میں خود کر پکڑاتا رہا۔ کھانا حضرت صاحب خود اندر سے لایا کرتے تھے۔
    کسی شخص نے میرے سامنے سوال کیا کہ آیا غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھی جا سکتی ہے ۔ فرمایا غیروں کے پیچھے نماز پڑھنا قطعاً حرام ہے۔
    ایک دفعہ میں نے تنگدستی کی عرض کی فرمایا ’’ کثرت سے درود شریف پڑھا کرو۔ اور کثرت سے استغفار کرو۔ ‘‘ اس وظیفہ سے یہ مشکل حل ہو گئی۔
    حضرت صاحب جب خطبہ الہامیہ سنا کر نکلے تو راستہ میں فرمایا کہ ’’ جب میں ایک فقرہ کہہ رہا ہوتا تھا۔ تو مجھے پتہ نہیں ہوتا تھا کہ دوسرا فقرہ کیا ہو گا۔ لکھا ہوا سامنے آجاتا تھا۔ اور میں پڑھ دیتا تھا۔ ‘‘
    حضور بہت ٹھہر ٹھہر کر اور آہستہ آہستہ پڑھ رہے تھے۔
    (دستخط میاں امیر الدین صاحب)
    عبدالقادر








    روایات
    چوہدری احمد دین صاحب وکیل گجرات
    ولد چوہدری نتھو خاں صاحب
    سکنہ شادی وال طرف اچھرکی
    عمر قریباً 62سال سن بیعت ۱۹۰۵ء غالباً
    میں اسلامیہ ہائی سکول راولپنڈی میں ٹیچر تھا۔ وہاں ایک احمدی کتب فروش تھا۔ اس سے کتابیں لے کر پڑھیں ان دنوں مذہب کی طرف میری توجہ نہ تھی۔ ایک مضمون مندرجہ ریویو آف ریلیجنز دربارہ حقیقت نماز پڑھا۔ اس کے پڑھنے سے مجھ پر خاص اثر ہوا۔ اس کے بعد پھر اور رسائل دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ پھر میں سکول کی نوکری چھوڑ کر کوہاٹ چلا گیا۔ وہاں میں نے کتابیں پڑھیں۔ اور اخبارات کا بھی مطالعہ کیا۔ پھر میرے دل میں یہ تحریک پیدا ہوئی کہ میں خوف قادیان جا کر دیکھوں۔ میں نے نئے مہمان خانہ میں جو اس وقت ابھی بنا ہی تھا۔ اکیلے حضرت اقدس کی بیعت کی۔ اس وقت حافظ غلام رسول صاحب وزیر ابادی بھی موجود تھے۔ حضرت اقدس نے ایک کتاب مواھب الرحمان بطور تحفۃً دی۔ پھر میں کوہاٹ واپس چلا گیا۔ غالباً ۱۹۰۶ء میں پھر واپس اپنے وطن شادی وال چلا گیا۔ غالباً …………… میں پھر قادیان گیا ……………………… لے گیا۔ حضرت کے پیش کیا آپ نے فرمایا کہ آج میری طبیعت اچھی نہیں ہے ۔ پھر کسی دن سنانا۔ پھر دوسرے یا تیسرے دن میں نے وہ قصیدہ حضور کو سنایا اور حضور نے جزاک اللہ فرمایا۔ اور غالباً دعا بھی میرے لئے کی۔ وہ قصیدہ اخبار الحکم میں چھپا تھا۔ میں آٹھ دس دن تک قادیان میں رہا۔
    اس کے بعد پھر ۱۹۰۸ء میں اپریل یا مئی میں مَیں نے لاہور میں ملاقات کی۔ میں نے حضور کی خدمت میں ایک واقعہ عرض کیا کہ میرے ایک دوست کو بیگم بھوپال کے حکم سے سکول کی ہیڈ ماسٹری سے اس لئے علیحدہ کر دیا گیا کہ وہ احمدی تھا۔ اگر وہ احمدی نہ تھا صرف احمدیوں سے محبت کرتا تھا ۔ بیگم بھوپال نے اس کو بلایا اور کہا کہ میرے خیال میں حضرت عیسیٰ فوت ہو چکے ہیں اس واقعہ کو سن کر حضرت نے فرمایا کہ وہ عورت دانا اور سمجھدار ہے۔ اس ضمن میں آپ نے فرمایا کہ مجھے بادشاہ دکھلائے گئے ہیں جو گھوڑوں پر سوار ہیں اور میری جماعت میں داخل ہیں۔ پھر میں شادی وال اپنے وطن چلا آیا۔ اور وہاں میں ایک دوست کے خط سے معلوم ہوا کہ حضور کا انتقال ہو گیا ہے۔
    راولپنڈی میں کتابیں دیکھنے سے پہلے میں نے ایک خواب دیکھا کہ گویا حضرت داتا گنج بخش صاحب کا روضہ ہے۔ اور مجھے اس وقت ایسا معلوم ہوا کہ یہ پیغمبر ﷺ کا روضہ ہے جس پر کہ چاندی کا کٹہرہ لگا ہوا ہے۔ ایک شخص کے ہاتھ میں پھولوں کا ہار تھا۔ اس نے قبر کے اوپر ہو کر وہ ہار اپنے دونوں ہاتھوں سے نیچے کیا تو اس کے ہاتھ نیچے چلے گئے یہاں تک کہ مجھے معلوم ہوا کہ جسم مطھر کے نیچے اس نے وہ پھولوں کا ہار رکھ دیا ہے۔ جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ مدفون ایک بارہ سالہ لڑکا کی شکل میں باہر نکل آیا اور سب سے پہلے انہوں نے مجھ سے معانقہ کیا اس لڑکے کی شکل حضرت مرزا صاحب کی شکل سے ملتی تھی۔ میں نے اس وقت خیال کیا کہ ………… وعدہ الٰہی کے خلاف کس طرح دنیا میں زندہ ہو سکتے ہیں۔ اس وقت یہ بھی خیال آیا کہ مرزا صاحب جو بروز محمد صلعم کا دعویٰ کرتے ہیںتو یہ وہی واقعہ نہ ہے۔ اتنے میں مجھے جاگ آگئی۔ اس خواب سے مجھ پر حضرت صاحب کی صداقت کے متعلق کچھ اثر ہوا۔
    خاکسار عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۰
    دوسری دفعہ جب میں قادیان گیا تو دو پٹھان افغانستان کی طرف سے حضور کی خدمت میں جبکہ حضور مسجد مبارک میں تشریف رکھتے تھے آٖے۔ ان سے حضور نے افغانستان کے احمدیوں کے حالات دریافت کئے انہوں نے کہا کہ چونکہ اس طرف کے لوگ ان کو تنگ بہت کرتے ہیں۔ اس لئے وہ احمدیت کا اظہار رکھنے بندوں نہیں کرتے۔ اس پر حضور نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ کے صحابہ بہت دکھ اٹھاتے تھے۔ اور جانیں دے دیتے تھے تو یہ لوگ جانوں کی کیوں پرواہ کرتے ہیں۔
    دوسرا واقعہ یہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب سے حضور نے دریافت کیا کہ مسٹر رسل رب نو مسلم امریکہ کی خط و کتابت ہے یا نہیں تو معلوم ہوا کہ اس کی کوئی خط و کتابت نہیں ۔ اس پر فرمایا۔ کہ معلوم ہوتا ہے کہ اب وہ ہمارے سلسلہ کے ساتھ متعلق نہیں رکھتا۔ اور اس ضمن میں یہ بھی فرمایا کہ مذہب اسلام اس صداقت کے دلائل دے دیتا کوئی خاص امتیاز نہیں ہر ایک شخص جو فکر کرے وہ دلائل دے سکتا ہے۔ لیکن روحانی برکت بغیر اس سلسلہ کے حاصل نہیں ہو سکتی۔






    روایات
    ملک عطاء اللہ صاحب ولد ملک محمد رمضان صاحب
    سکنہ گجرات
    عمر قریباً 51سال ۔سن بیعت 1۱۹۰ء یا 1902ء
    میرے پھوپھہ مولوی میر احمد شاہ صاحب یہاں اسلامیہ سکول میں ٹیچر تھے۔ وہ اکثر حضرت صاحب کی عربی کتابیں پڑھا کرتے تھے۔ احمدی نہیں تھے۔ میں طالب علم ہی تھا۔ ایک دن ان کے پاس بیٹھا تھا۔ وہ غالباً نورالحق پڑھ رہے تھے۔ میں نے سوال کیا کہ آپ مرزا صاحب کی کتابیں پڑھتے رہتے ہیں۔ مرزا صاحب نے ان میں کیا لکھا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ مرزا صاحب نے اپنی کتاب میں اپنے دعویٰ کو دوہرایا ہے۔ اگر دلائل دیکھیں تو پھر پیش کچھ نہیں جاتی۔ ان کے یہ الفاظ مجھ پر اس رنگ میں اثر انداز ہوئے۔ کہ میں حیرت میں پڑ گیا۔ اور خیال کیا کہ اتنا بڑا عالم ہو کر مانتا بھی نہیں اور یہ بھی سمجھتا ہے کہ ان دلائل کا کجوئی جواب نہیں۔
    یہاں ہسپتال میں دو شخص احمدی تھے ایک میاں امام الدین ہیڈ کمیونڈر اور دوسرے میاں احمد دین کمیونڈر۔ میری ان سے گفتگو ہوئی۔ اس سے میں قائل ہو گیا کہ اگر نبی کریم ﷺ فوت ہو چکے ہیں تو حضرت مسیح ہرگز زندہ نہیں ہو سکتے۔
    ہماری رادری میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی غالباً چجازاد بہن عائشہ کی شادی ہوئی ہوئی تھی ۔ میں اس کے پاس اکثر آیا جایا کرتا تھا۔ اور وہ ہمیشہ مجھے بیعت کے لئے تحریک کیا کرتی تھی۔ ایک روز میں اور اس کا خاوند دونوں بیٹھک میں بیٹھے ہوئے تھے۔ کہ اس نے اپنے لڑکے محمد اشرف کو جس کی عمر اس وقت قریباً پانچ سال کی تھی۔ سو پوسٹ کارڈ ہاتھ میں دے کر ہمارے پاس بھیجا۔اور اس نے آکر کہا۔ کہ ابا جی۔ اماں نے یہ دو کارڈ دئیے ہیں۔ اور کہتی ہیں کہ ایک تمہارا ابا بیعت کے لئے لکھ دے اور ایک تمہارا چچا۔ ہم دونوں اس وقت بیعت کے خط لکھ دے۔
    قبولیت بیعت کا خط حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے قلم کا لکھا ہوا ہمیں موصول ہوا۔ جس میں مولوی صاحب نے بڑی وشی کا اظہار کیا الفاظ یہ تھے۔ کہ حضرت صاحب بیعت قبول کرتے ہیں میں بہت خوش ہوا ہوں۔
    مولوی کرم دین بھین والے کے مقدمہ کے سلسلہ میں جب حضرت صاحب جہلم تشریف لے گئے تو میں اس گاڑی میں یہاں سے سوار ہوا۔ ہر سٹیشن پر بے شمار ہجوم ہوتا تھا۔ جہلم بھی بہت بھیڑ تھی۔ تحصیلدار غلام حیدر کے سیر و انتظام تھا۔ انہوں نے خوب انتظام کیا۔ جب حضور کچہری تشریف لے گئے تو عدالت کے سامنے میدان میں حضرت مسیح موعود کے لئے ایک کرسی بچھائی گئی اردگرد اصحاب کا حلقہ تھا۔ جس میں صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کابل اور عجب خان تحصیلدار آف زین بھی شامل تھے۔ حضرت صاحب نے گفتگو کی ابتداء اپنے فارسی شعر۔
    آسمان بارونشان اسوقت میگوید زیں۔ ایں ارشاید از بے تصدیق من ایستادہ ازر۔
    سے شروع کی۔ میرے لئے آسمان نے بھی گواہی دی اور زمین نے بھی گواہی دی۔ مگر یہ لوگ نہیں مانتے۔ فرمایا کہ مانیں گے اور ضرور مانیں گے۔ بلکہ میرے مرنے کے بعد میری قبر کی مٹی بھی کھود کر کھا جائیں گے اور کہیں گے کہ اس میں بھی برکت ہے۔ مگر اس وقت کیا ہو گا۔
    جب مر گئے تو آئے ہمارے مزار پر
    پتھر پڑیں صنم تیرے ایسے پیار پر۔
    حضرت صاحب کا یہ فرمانا تھا کہ صاحبزادہ صاحب اور عجب خان زار زار رونے لگے مخلوق بہت تھی۔ پھر اندر عدالت میں تشریف لے گئے۔ مکان پر واپس جا کر بیعت شروع ہوئی۔ مخلوق اس قدر تھی کہ پگڑیان باہم باندھ کر بیعت لی جاتی تھی۔ ایک سرا حضرت صاحب کے ہاتھ میں ہوتا تھا۔ اور باقی پگڑی لوگوں کے ہاتھ میں ہوتی تھی۔
    عطاء اللہ بقلم خود
    عبدالقادر۔ گجرات
    ۳۹۔۶۔۱۰








    روایات
    میاں رحیم بخش صاحب ولد میاں عبداللہ صاحب
    سکنہ گجرات
    عمر قریباً73`72سال سن بیعت 7۱۹۰ء
    ایک شخص تاج الدین یہاں رہتا ہے بڑا سخت مخالف ہے۔ (اس کے دو لڑکے احمدی ہیں) اس نے بیعت سے ایک سال پہلے مجھے کہا کہ ملک جاپان مذہب کی تلاش میں ہے۔ صرف ایک شخص مرزا غلام احمد کافی ہے۔ اسلام کی طرف سے۔ اس کے مقابل میں کوئی کھڑا نہیں ہو سکتا۔ کہنے لگا میں اس کی باتیں سن ہیں۔ خواہ اسے ولی سمجھو یا جادوگر سمجھو۔ لیکن جو شخص اس کے پاس جاتا ہے اس کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔
    میں ایک سکھ مہتمم ہندویست ضلع گورداسپور کا ملازم تھا۔ ایک دن قادیان کا دورہ تھا۔ سردار صاحب نے مجھے کہا کہ منشی صاحب آپ عقلمند آدمی ہیں۔ آئو آج تمہیں ایک بزرگ آدمی کی ملاقات کرائیں۔ ت شناخت کرنا۔ کہ کیسا ادمی ہے۔
    پھر ہم حضرت صاحب کو ملنے کے لئے گئے۔ حضرت صاحب ایک چٹائی پر تشریف فرما تھے اور اوپر ایک چادر اوڑھی ہوئی تھی زمیندار سے آدمی معلوم ہوتے تھے۔ سردار صاحب جوتی اتار کر حضرت صاحب کے پاس گئے اور آپ کے پائوں دبانے شروع کر دئیے۔ اور عرض کی کہ حضور میری ایک عرض ہے۔ مگر آپ نے کوئی جواب نہ دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد پھر سردار صاحب نے عرض کی۔ مگر جواب نہ ملا۔ تیسری دفعہ پھر عرض کی۔ حضور نے فرمایا۔ خدا تعالیٰ ظالم کو پسند نہیں کرتا۔ تم اس کے لئے دعا کرو۔ وہ تمہارے ساتھ مہربانی سے پیش آئے گا۔ تاج الدین کہتا ہے کہ میں غضب سے بھر گیا کہ معمولی آدمی ہے اتنے اعلیٰ افسر کے ساتھ اچھی طرح بات نہیں کی۔ نہ ہی تعظیم کے لئے کھڑا ہوا ہے۔
    سردار صاحب کھڑے ہو گئے اور بہت تعظیم س واپس ہوئے۔ قادیان سے باہر نکل کر ہم دونوں گھوڑوں پر سوار ہو گئے۔ سکھ سردار نے کہا تاج الدین تم نے یہ ادمی دیکھا ہے۔ میں نے کہا ہاں۔ خوب دیکھا ہے کہنے لگا کیسا آدمی ہے۔ میں نے کہا ہاں خوب دیکھا ہے بڑا متکبر ہے آپ کی تعظیم کے لئے کھڑا بھی نہیں ہوا۔ سردار صاحب نے کہا تم کچھ بھی نہیں سمجھے۔ یہ خدا کا بندہ ہے اگر میرے ساتھ بات کرتا تو میرا رونا ہی بند نہ ہوتا۔ اس نے مجھے صبر کی تعلیم دی ہے۔ اور ایسی دی ہے کہ میں اپنے افسر کے لئے بدعا کرانا چاہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ اسے تباہ کر دے۔ کیونکہ میرے گھر میں بیماری ہے دو دن کی بھی رخصت نہیں دیتا۔ گالیاں دیتا ہے۔ میں اب اس کے لئے ترقی کی دعا کروں گا یہ سبق مجھے اس شخص نے دیا ہے۔
    تاج الدین کہتا ہے کہ جب سردار صاحب اپنے افسر کے پیش ہوئے گورداسپور میں تو اس افسر نے سردار صاحب کو کہا کہ سردار صاحب میں اپ پر بہت خوش ہوں۔ آپ کا کام نہایت اعلیٰ اور تسلی بخش ہے۔ کیا آپ چھٹی چاہتے ہیں؟ میں آپ کو چھٹی دینے کے لئے تیار ہوں۔ آٹھ دن چاہتے ہو میں نے کہا ہاں۔ کہا۔ بہت اچھا جائو۔ اگر پھر ضرورت پڑے تو گھر سے لکھ دینا۔
    جب باہر نکلے تو مجھے کہا کہ تاج الدین یہ خدا کے اس بندہ کی تعلیم کا اثر ہے۔ کہ افسر خود مجھے رخصت دینے کے لئے کہتا ہے۔
    تاج الدین نے مجھے کہا کہ خواہ اس کو اولیائی سمجھو یا جادوگری خواہ معجزہ۔ مگر یہ شخص ہے جس کا ہم پلہ دنیا میں کوئی نہیں۔
    یہ بات سن کر مجھ پر یہ اثر ہوا کہ میں ایسے شخص وک ضرور دیکھوں گا۔ میں اسی ……… میں تھا کہ مجھے ایک شخص محمد ابراہیم احمدی ملا۔ چند باتیں میری ان سے ہوئیں۔ میں قائل ہو گیا۔ رات کو مجھے خواب آئی کہ ہم چاروں بھائی ایک پہاڑ کی غار میں ……… ہوئے ہیں راستہ نہیں ملتا۔ میں ایک طرف سے چڑھ کر اوپر آٗیا ہوں۔ میں نے دیکھا کہ ریل چل رہی ہے۔ مگر زمین سے بہت اونچی ہے۔ میں حیران ہوں کہ کیسے چڑھوں۔ اور ہر ایک شخص کھا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ نیچے جو اس آسمان سے لٹک رہی ہے۔ اس کو پکڑو۔ تب اوپر چڑھ سکتے ہو۔
    صبح ابراہیم صاحب میرے پاس آئے میں نے خواب سنائی۔ انہوں نیق رآن نکال کر مجھے بتایا کہ واعتصموا بحبل اللہ کا مفہوم ہے۔ میں نے بیعت کا خط لکھ دیا۔
    جواب آیا۔ کہ بیعت منظور ہے۔ مگر قادیان میں ضرور آئو۔ میں نے اسی وقت قادیان کی تیاری کی۔ امرتسر کے سٹیشن پر جب میں بٹالہ والی گاڑی پر سوار ہوا تو دو تین سکھ میرے کمرے میں تھے بہت بوڑھے تھے۔ مجھے پوچھا کہ کہاں جاتے ہو۔ میں نے کہا قادیان۔ انہوں نے کہا مرزے کی قادیان میں کہا ۔ ہاں۔ مگر بتائو تو سہی وہ کیسا ہے کہے لگے بڑا مشہور ہے۔ وہ خدائی کا دعویٰ کرتا ہے۔ میں نے (از راہ شرارت) کہا میں مرزا صاحب کو جانتا ہوں۔ سیالکوٹ میں وہ اور میرا باپ دونوں ملازم تھے اور ایک مٹیاری پر عاشق تھے وہ مل کر بھنگ وغیرہ پیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا میاں یہ ہرگز مت کہو۔ وہ تو ایک سادھو آدمی ہے۔ اور ایک نہایت صادق اور امین آدمی ہے وہ ایسا مشہور ہے کہ لوگ اس کی مثال پیش کیا کرتے ہیں۔ اگر کوئی سچ بولے تو ہمارے ہاں لوگ کہتے ہیں کیا تو مرزا غلام مرتضیٰ کا لڑکا ہے ’ وہ ہمارے ساتھ بچپن میں کھیلتا رہا ہے۔ اور کتاب سنایا کرتا تھا۔ رئیس کا لڑکا تھا۔ ہم ادب کرتے تھے۔ وہ دن بدن تبدیل ہوتا گیا۔ اور ایک زمانہ اس پر یہ آیا کہ اندر ہی رہنے لگا باہر نکلتا ہی نہیں تھا۔ اندر ہی اندر جادو پکاتا رہا ہے۔ اور قادیان کے اردگرد چار چار میل پر اس نے جادو کر دیا ہے۔ کسی مذہب کا کوئی شخص اس کے پاس آئے تو وہ اس کے مذہب سے اپنے آپ وک سچا ثابت کر کے دکھا دیتا ہے۔ اور اس کے مذہب کو جھوٹا ثابت کر دیتا ہے وہ کہتا ہے میں آسمانوں سے آٓا ہوں۔ میں نے ان سے یہ باتیں سن لیں۔ پھر جب قادیان میں مہمان خانہ میں اترا تو وہاں تین چار لڑکے تھے۔ میں ان سے تیزی کے ستاھ باتیں کرتا تھا۔ مگر وہ نرمی سے پیش آتے تھے۔ مگر ان کی تربیت کو دیکھنا چاہتا تھا۔ مگر وہ میری سختی کے مقابل میں بڑٓ نرمی اور اخلاق سے پیش آتے تھ۔ میں نے کہا ۔ میں مرزا صاحب کو ملنا چاہتا ہوں۔ وہ کہنے لگے کہ اس وقت سیر کو تشریف لے گئے ہیں۔ ملنا مشکل ہے۔قادیان پھرتے پھرتے میرا بڑا دل گھبرایا اور سخت گرمی کی وجہ سے ارادہ کیا کہ واپس چلا جائوں۔ راستہ میں ایک عرب ملا ۔ اس نے کہا۔ بھائی صاحب آپ قادیان آئے ہیں۔ حضرت صاحب کو ضرور دیکھ جائیں۔ یہ زمانہ پھر ہاتھ نہیں آئے گا۔ لوگ آویں گے۔ مگر یہ وجود پھر نہیں ملے گا۔ مگر میں نے پرواہ نہ کی۔ اور ٹانگے والے کو کہا کہ ابھی چلو۔ اتنے میں اذان ہو گئی۔ میں نے کہا اب نماز پڑھ کر جائوں گا۔ میں واپس آیا۔ مسجد کی طرف۔ وہ عرب ملا اور اس نے مجھے کہ اکہ بھائی صاہِ مین اس وقت سے سجدہ میں پڑ کر آپ کے لئے دعا کرتا رہا ہون۔ کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ٹھہرا دے۔ تا آپ حضرت صاحب کو دیکھ لیں۔خیر میں نے حضرت صاحب کو دیکھا۔ حضور مجلس میں آکر بیٹھ گئے میں سامنے کھڑا تھا۔ میری داڑھی سر اور مونچھیں منڈھی ہوئی تھیں۔ حضرت صاحب سر نیچے کر کے بیٹھے تھے۔ میں نے دل میں کہا کہ جب تک میں اس شخص کا چہرہ نہیں دیکھوں گا یقین کامل نہیں ہو گا ۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے چہرہ اٹھا کر دیکھا میں نے دل میں کہا کہ آپ صادق ہیں۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد سر اٹھا کر دیکھا۔ میں نے کہا اتا دصدقتات آپ صادق ہیں۔ تیسری دفعہ پھر دیکھا ۔ میں تو قربان ہی ہو گیا ۔ پھر نماز کھڑی ہوئی۔ حضرت صاحب نماز پڑھتے اندر جانے لگے ایک شخص دروازہ کے پاس کھڑا ہو گیا۔ عرض کی۔ حضور میرے لئے دعا کریں فرمایا ’’ آپ تو میری بیعت میں ہیں میں تو دشمنوں کے لئے بھی دعا کرتا ہوں۔ ‘‘ پھر میں واپس گجرات آگیا۔
    (نوٹ) میاں رحیم بخش صاحب ان پڑھ ہیں۔ مگر بہت ہوشیار ہیں۔ باتوں سے ہرگز پتہ نہیں لگتا کہ ان پڑھ ہیں۔ زبان صاف ہے۔
    (میرے رو برو یہ واقعات بھائی رہیم بخش نے بیان کئے۔ عطاء اللہ بقلم خود)
    نوٹ:۔ آج مورخہ ۳۹۔۶۔۱۲ کو خاکسار گجرات کے صحابہ کرام سے روایات حاصل کر کے گوجرانوالہ پہنچا۔ اور اب گوجرانوالہ کے صحابہ کرام سے انشاء اللہ روایات لکھوں گا۔ وما تفیتی الاباللہ العلی النجم ۔
    خاکسار
    عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۲







    روایات
    میاں غلام محمد صاحب ولد میاں امیر بخش صاحب۔
    سکنہ گوجرنوالہ محلہ بھگوان پورہ
    عمر قریباً65سال سن بیعت 3۱۹۰ء یا 1904ء
    میں پہلے حنفی تھا۔ پھر وہابی ہوا۔ مگر اطمینان نصیب نہ ہوا۔ دل میں خواہش رہتی تھی کہ خدا تعالیٰ حضرت امام مہدی کو مبعوث فرمائے۔ تو اس کی فوج میں شامل ہو جائوں۔ ایک دفعہ خواب میں مجھے حضرت اقدس کی شبیہ مبارک دکھلائی گئی۔ میں قادیان گیا تو ………… وہی نقشہ دیکھا اور بیعت کر لی۔ مجھے حضرت اقدس کی کوئی بات یاد نہیں ہاں اتنا یاد ہے کہ میرے ساتھ میرے تایا صاحب میاں کریم بخش بھی تھے۔ جب ہم بیعت کر چکے تو تین دن رہے تو حضرت صاحب نے فرمایا کہ مہمان کو پندرہ دن ٹھہرنا چاہئے۔ اگر پندرہ دن نہ رہے تو کم از کم ہفتہ تو رہنا چاہئے۔ میرے تایا نے عرض کیا کہ حضور پیچھے ہمارے ہاں بیماری تھی مگر جب ہم آئے ہیں تو کم ہو گئی تھی۔ رات مجھے خواب آٖی ہے کہ دھواں کا ایک بگولا ہمارے گائوں میں گھس گیا ہے اور ایک جاٹ کہتا ہے کہ میرے اوپر پانی ڈالو۔ حضرت اقدس نے یہ خواب سن کر فرمایا کہ اب بیماری آپ کے گائوں میں بڑھ گئی ہے۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۲
    نوٹ:۔ میاں غلام محمد صاحب ان پڑھ ہیں ۔ دستخط نہیں کر سکتے۔
    روایات
    خلیفہ نظام الدین صاحب ولد میاں روڑا صاحب
    سکنہ سیالکوٹ حال گوجرانوالہ
    عمر قریباً60سال سن بیعت 2۱۹۰ء یا 1903ء
    میںسیالکوٹ سے شکارپور (سندھ) نوکری کے لئے گیا تھا۔ حضرت اقدس کے خلاف بہت شور سنا۔ امرتسر میں میرے دوست تھے۔ وہاں سے میں امرتسر آیا۔ امرتسر سے سیالکوٹ جانے کا ارادہ تھا۔ مگر میں سویا ہی رہا۔ اور دو گاڑیاں سیالکوٹ کو چلی گئیں جب بیدار ہوا تو معلوم ہوا کہ گاڑیاں چل گئی ہیں معاً دل میں خیال پیدا ہوا کہ مرزا صاحب کا گائوں نزدیک ہے ان کو دیکھنا تو چاہئے پھر پوچھا کہ بٹالہ کو کب گاڑی جائے گی لوگوں نے کہا کہ ابھی آدھ گھنٹہ بعد جائے گی۔ میں نے ٹکٹ لیا اور بٹالہ پہنچ گیا۔ بٹالہ سے پیدل قادیان گیا۔ قریباً عصر کے وقت وہاں پہنچا۔ اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی سے ملا۔ وہ میرے سیالکوٹ کے واقف تھے۔ وہ بڑے خوش ہوئے۔ عصر کے ساتھ نمازیں پڑھیں۔ دوسرے روز صبح حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے اندر اطلاع کروائی اور تاکی کے پاس حضور نے میری بیعت لی۔
    حضرت صاحب کا چہرہ دیکھ کر ہی میرے دل میں تسلی ہو گئی تھی کہ دنیا جھوٹی ہے۔ مگر یہ چہرہ جھوٹا نہیں۔ حضور کے چہرہ میں خاص کشش تھی۔ ایک ایسا نور برستا تھا۔ جو دلوں کو موہ لیتا تھا۔
    الراقم
    عبدالقادر ۳۹۔۶۔۱۲
    روایات
    میاں کرم الٰہی صاحب جراح ولد میاں محمد بخش صاحب
    سکنہ گوجرنوالہ
    عمر قریباً56سال۔ سن بیعت1900ء
    میرے والد صاحب احمدی تھے۔ اس لئے میں بھی اپنے آپ کو احمدی ہی سمجھتا تھا۔ والد صاحب نے قریباً ۱۸۹۲ء میں بیعت کی تھی۔ میں نے ۱۹۰۰ء میںبذریعہ خط بیعت کی تھی جس کا جواب حضرت اقدس کی طرف سے یہ آیا تھا کہ۔
    ’’ بیعت منظور ہے۔ اللہ تعالیٰ استقامت عطا فرمائے۔ صائب کا مقابلہ کرو اللہ تعالیٰ کامیاب فرمائے گا۔ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ ‘‘
    یہ حضور کے الفاظ کا مفہوم ہے۔
    ۱۹۰۳ء میں جب حضرت اقدس جہلم جا رہے تھے تو حضور کی زیارت کی۔ حضرت صاحب کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی یہاں ایک شخص غلام قادر مستری چکڑالوی رہتا ہے۔ اب بھی زندہ ہے۔ اس نے اس کتاب کو ہاتھ لگایا ۔ حضرت اقدس نے وہ کتاب چھوڑ دی اور وہ لے کر واپس آگیا۔ سارا سٹیشن مخلوق سے پر تھا۔ اور حضرت صاحب کی زیارت کوئی مشکل ہو رہی تھی۔
    پھر میں ۱۹۰۴ء میں لاہور حضرت اقدس کی زیارت کے لئے اور لیکچر سننے کے لئے گیا۔ اس وقت باتیں کوئی نہٓں ہوئیں۔ مخالفین کی طرف سے اینٹیں برس رہی تھیں۔ کرم الٰہی بقلم خود
    الراقم۔ عبدالقادر۔ ۳۹۔۶۔۱۲
    روایات
    میاں صاحب دین صاحب ڈینگرہ ولد شیک محمد بخش صاحب
    سکنہ گوجرنوالہ
    عمر قریباً60سال۔ سن بیعت1892ء
    (۱) میں اپنی روایات بھیج چکا ہوں۔ ایک بات مجھے یاد ہے اور وہ یہ کہ میں نے بہت سی خوابیں دیکھی تھیں بیعت کرنے سے پیشتر بیعت کرنے کے بعد میں نے تعبیر دریافت کرنے کے لئے حضور کی خدمت میں وہ خوابیں لکھیں۔ حضور کی طرف سے یہ جواب آیا۔
    ’’ ہمارے ماننے سے یہ تمام خوابیں پوری ہو گئی ہیں۔ ‘‘
    الراقم
    عبدالقادر
    ۲۹۔۶۔۱۲
    (۲) جس جگہ ّآجکل اخبار الوطن کی بلڈنگ ہے۔ وہاں ایک احاطہ تھا۔ جس مین احمدی اکٹھے ہو گئے۔ وہاں حضرت اقدس نے ایک لیکچر دیا تھا۔ وہاں احمدیوں نے حضور کی خدمت میں نذرانے پیش کئے۔ حضرت اقدس نے ایک بند گلے والی واسکٹ پہنی ہوئی تھی۔ جس کے جیب بڑے بڑے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ وہ جیب دونوں روپوں سے بھر گئے تھے ایک جیب کو خواجہ کمال الدین صاحب نے درست بھی کیا تھا کہ روپے گر نہ جائیں۔
    (۳) وہاں حضرت اقدس کی خدمت میں ایک دودھ کا گلاس بھی پیش کیا گیا تھا۔ حضرت اقدس نے صرف ایک گھونٹ پیا تھا۔ باقی ہم لوگ پی گئے۔
    (۴) ۱۹۰۴ء میں جب حضرت اقدس لیکچر کے لئے لاہور تشریف لائے تھے ۔









    روایات
    چوہدری عبدالعزیز صاحب ولد چوہدری احمد دین صاحب
    سکنہ گوجرنوالہ
    عمر قریباً50سال سے اوپر۔ سن بیعت1905ء
    میں نے سب سے پہلے حضرت اقدس کو اس وقت دیکھا جبکہ حضور جہلم تشریف لے جا رہے تھے۔ حضور کو گاڑی میں دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ آپ بالکل سچے ہیں۔ یہاں لوگوں میں عام مشہور تھثا کہ مرزا صاحب قادیان والے یہاں سے گزرنے والے ہیں۔ اس لئے بیشمار لوگ حضور کو دیکھنے کے لئے سٹیشن پر گئے تھے۔ اور میرے نانا چوہدری غلام حسین صاحب ٹیچر مشن سکول گوجرانوالہ اور میرے چچا محمد عبداللہ صاحب بھی گئے تھے۔ مگر بیعت صرف میں نے ہی کی۔ میرے بعد میری والدہ اور میرے بھائیوں اور بیٹوں نے بیعت کر لی تھی۔
    میں یہاں سے لاہور کالج میں تعلیم کامل کرنے کے لئے گیا تھا۔ وہاں سے میں اور میاں محمد رمضان صاحب قادیان حضور کی زیارت کے لئے گئے۔ ایک رات ہم وہاں رہے تھے صبح جب واپس آنے لگے تو حضور نے خود اپنی زبان مبارک سے فرمایا کہ ذرا ٹھہر جائو۔ پھر ہم نے کھانا کھایا۔ اور دوپہر کو جب چلنے لگے اور اجازت مانگی تو حضور اجازت بھی عطا فرمائی اور فرمایا کہ یہاں کثرت سے آیا کرو۔ میں نے دستی بیعت بھی کر لی تھی مگر میرے ساتھی نے بیعت نہیں کی تھی۔ حضور نے ہمیں آتی دفعہ ایک پروٹھا اور کچھ سالن بھی رومال میں باندھ کر اپنے ہاتھ سے عطا فرمایا تھا کچھ میں نے کھایا اور باقی گھر میں آکر تقسیم کر دیا تھا۔
    جب میں نے یہاں سے بیعت کا خط لکھا تو اس کا جواب حضور نے یہ دیا تھا۔ بیعت قبول ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو دین و دنیا میں برکت دیوے۔ غالباً یہ خط کہیں گھر سے مل بھی جائے گا۔
    ۱۹۰۶ء میں جب مَیں نے انجینئرنگ کلاس کا امتحان دیا تو اس سے قبل حضور کی خدمت اقدس میں دعا کے لئے لکھا تھا۔ وہاں سے جواب آیا تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو کامیاب کرے۔ چنانچہ مَیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کامیاب ہو گیا تھا۔
    جب حضور کی وفات ہوئی اور مجھے علم ہوا تو میں فوراً قادیان پہنچا مگر حضور کو دفن کر دیا گیا تھا۔
    نوٹ:۔ جب ہم قادیان گئے تھے تو حضور نے ہم کو گول کمرہ میں بلایا تھا۔ حضور خیر گیری بھی کرتے تھے۔ ایک دو دفعہ فرمایا کہ لڑکے کوئی تکلیف تو نہیں۔ ہم نے عرض کیا کہ نہیں حضور کوئی تکلیف نہیں۔ ایک شخص دودھ بھی لایا ھتا۔ حضرت نے فرمایا تھا کہ لڑکے کیسے آئے ہو۔ میں نے عرض کیا حضور ملاقات کے لئے آیا ہوں۔ بذریعہ خط بیعت کی ہوئی ہے۔ فرمایا ’’ دستی بھی کرنی ہے۔ ‘‘ میں نے عرض کیا حضور کرنی ہے۔ چنانچہ شام کے بعد دستی بیعت کر لی۔
    عبدالعزیز بقلم خود
    ۳۹۔۶۔۱۲




    روایات
    شیخ محمد اسماعیل صاحب ولد شیخ بابو جمال الدین صاحب
    سکنہ گوجرنوالہ
    عمر قریباً47-1/2سال
    (۱) میرے والد صاحب نے ۱۸۹۸ء کے قریب حضرت اقدس کی بیعت کی تھی۔ وہ ومیلی میں سٹیشن ماسٹر تھے کہ وہاں ایک شخص نے حضرت اقدس کا ذکر کیا۔ انہوں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ قادیان جا کر اس شخص کو ضرور دیکھتا ہے۔ چنانچہ وہ رخصت لے کر گوجرانوالہ آئے اور یہاں سے قادیان گئے۔ بغیر کسی دلیل کے حضرت اقدس کا چہرہ دیکھ کر ہی وہ ایمان لے آئے۔
    (۲) مجھے یاد ہے کہ میرے والد صاحب منشی مولا بخش صاحب مرحوم اور میں ایک دفعہ حضرت اقدس کی خدمت میں واپسی کی اجازت لینے کے لئے گئے۔ حضرت اقدس نے بہت سی باتیں کیں۔ مگر مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ حضور نے فرمایا جلدی جلدی قادیان آیا کرو۔
    (۳) میں جب پہلی دفعہ قادیان گیا تو بہت چھوٹا تھا۔ مولوی عبدالکریم صاحب ہمارے رشتے دار تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس لڑکے کو واپس بھیج دو۔ کہ یہاں مر جاوے گا۔ میں ہر وقت روتا رہتا تھا۔
    (۴) دوسری دفعہ میں وہاں آٹھویں کلاس میں جا کر داخل ہوا۔ مجھے کئی دفعہ حضرت اقدس کو مسجد مبارک کی چھت پر دبانے کا موقع ملا ہے۔
    (۵) میں جب دسویں کلاس میں پڑھتا تھا۔ تو حضرت کے مکانوں کے اردگرد ہمارا پہرہ ہوا کرتا تھا۔ چنانچہ مجھے یاد ہے کہ ہم پہرہ ابھی دے رہے تھے کہ ہم نے حضرت اقدس کی وفات کی خبر سنی حضور کے زمانہ میں جب ہم پہرہ دیتے تھے تو ہمارے ہاتھوں میں لاٹھیاں ہوا کرتی تھیں۔
    محمد اسمٰعیل بقلم خود
    ۳۹۔۶۔۱۳
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۳







    روایات
    میاں محمد ابراہیم صاحب ولد میاں محمد بخش صاحب
    سکنہ گوجرنوالہ
    پیدائشی احمدی ۔ عمر قریباً45-44سال
    میں نے سب سے پہلے حضرت اقدس کو اس وقت دیکھا جبکہ حضور جہلم تشریف لے جا رہے تھے۔ واپسی پر بھی دیکھا تھا۔ پھر لاہور ۱۹۰۴ء میں ۔ پھر ۱۹۰۵ء میں مَیں قادیان گیا۔ قادیان جانے سے پہلے مجھے ایک خواب ائی تھی۔ جس کا مفہوم یہ تھا کہ مَیں نے خواب میں دیکھا کہ والد صاحب گھر سے باہر گئے ہوئے ہیں۔ اور گھر میں صرف مَیں اور میری چھوٹی ہمشیرہ ہیں۔ دیکھا کہ دو آدمی دروازے پر آئے دستک دی اور آواز بھی دی۔ مَیں نے باہر نکل کردروازہ کھولا وہ دونوں میری درخواست پر اندر تشریف لے آئے مَیں نے دیکھا کہ ہمارے گھر کے صحن میں ایک دری اور تین کرسیاں بچھی ہوئی ہیں۔ سامنے ایک نہر بھی پڑی ہے۔ میں نے ان کو کرسیوں پر بٹھا دیا۔ اور چھوٹی ہمشیرہ کو کہا کہ ان کے لئے چائے تیار کرو۔ وہ کوٹھے پر ایندھن لینے کے لئے ابھی وہ سیڑھیوں میں ہی تھی ایک سیاہ رنگ کا اچھے قد و قامت کا سانڈ اندر آیا اور ان آدمیوں کو دیکھ کر فوراً واپس ہو گیا۔ اور سیڑھیوں پر چڑھنے لگا میں نے شور ڈال دیا کہ میری ہمشیرہ کو مار دے گا۔ شور سن کر پہلے سیاہ داڑھی والے مہمان اٹھنے لگے ہیں مگر سرخ داڑھی والے نے کہا کہ چونکہ یہ کام آپ نے میرے سپرد کیا ہوا ہے اس لئے یہ میرا کام ہے ۔ چنانچہ وہ گئے میں بھی پیچھے ہو لیا۔ ہمشیرہ دیوار کے ساتھ لگ گئی ایسے خچھ خراش لگی ہے مگر زخم نہیں لگا۔ہم اوپر چلے گئے۔ سانڈ ہماری مغربی دیوار پر انجن کی شکل میں تبدیل ہو گیا اور دیوار پر اگے پیچھے چلنے لگا جب دیوار کے آخری کونے پر پہنچا تو اس مہمان سے سونٹا مارا اور پیچھے کی طرف گر کر چور چور ہو گیا۔ ہم واپس آگئے اور وہ مہمان پھر کرسی پر بیٹھ گئے اور چائے پی۔ مجھے بھی انہوں نے پلائی۔ چائے پینے کے بعد کچھ دیر وہ بیٹھے رہے۔ باتیں کرتے رہے۔ پھر کہنے لگے برخوردار ہمیں دیر ہو گئی ہے اجازت دو۔ تا کہ ہم جائیں۔ میں نے عرض کیا کہ آپ مجھے بتائیں تو سہی کہ آپ کون ہیں تا میں اپنے والد صاحب کو بتا سکوں میرے اس عرض پردہ دونوں خفیف سے مسکرائے کالی داڑھی والے نے کہا کہ میرا نام محمد ہے اور ان کا نام احمد ہے۔ میں نے یہ سن کر نبی کریم ﷺ کا دامن پکڑ لیا۔ اور عرض کیا کہ پھر مجھے کچھ بتائیں۔ انہوں نے عربی زبان میں ایک کلمہ کہا جو مجھے یاد نہ رہا۔ مگر اس کا مفہوم جو اس وقت میرے ذہن میں تھا۔ وہ یہ تھا کہ تیری زندگی کے تھوڑے دن بہت آرام سے گزریں گے پھر میں نے مصافحہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے باپ کو ہمارا السلام علیکم کہہ دینا۔ وہ باہر نکل گئے میں نے ان کو رخصت کیا ۔ ان کے جانے کے بعدمَیں ہی میرے والد صاحب آگئے میں نے سارا قصہ سنایا۔ وہ فوراً باہر گئے اتنے میں میری نیند کھل گئی۔ جس کا باعث یہ ہوا کہ میرے باپ نے آواز دی کہ اٹھ کر نماز پڑھو۔
    میں نے اپنے والد صاحب کو یہ خواب سنائی اس دن جمعہ تھا۔ جمعہ کے وقت میں نے منشی احمد دین صاحب اپیل نویس کو وہ خواب سنائی انہوں نے حضرت اقدس کی خدمت میں خود لکھ کر یا مجھ سے لکھوا کر بھیج دی۔ اس لڑکے کو ساتھ لے آئو۔ چنانچہ جلسہ پر میں گیا۔ جب ہم مسجد مبارک میں گئے تو دو تین بزرگ بیٹھے تھے۔ ہم نے ان سے مصافحہ کیا۔ پھر حضور بیٹھ گئے۔ منشی احمد دین صاحب نے عرض کی کہ حضور یہ وہ لڑکا ہے۔ جس کو خواب آئی تھی۔ حضور نے مجھے اپنی گود میں بٹھا لیا۔ا ور فرمایا۔ کہ وہ خواب سنائو۔ چنانچہ میں نے وہ خواب سنائی۔ پھر اندر سے کھانا آیا۔ حضور نے کھایا۔ اور دوستوں نے بھی کھایا۔ گوشت ۔ پلائو اور روٹیاں تھیں۔ جب حضرت اقدس کھانا کھا چکے تو تبرک ہمارے درمیان تقسیم کر دیا۔ ہم نے وہاں بیٹھے ہی کھایا۔
    میرے والد صاحب نے عرض کی کہ حضور مجھے کوئی تبرک عنایت فرما دیں۔ حضور نے اندر سے ایک کرتہ منگوا دیا۔ جو اب تک میرے پاس موجود ہے۔
    (۲) ایک دفعہ حضرت اقدس سیر کو تشریف لے جا رہے تھے ہم بھی ساتھ ہو گئے۔ اتنے میں ایک انگریز اور اس کی لڑکی بھی آگئے۔ حضرت اقدس بہت تیز چل رہے تھے۔ اور ہم سے بہت آگے تھے۔ وہ انگریز ہم سے آٗے ہو گیا اور حضرت صاحب کی خدمت میں پیچھے سے ہی آواز دے کر کہا کہ آپ کی صداقت کا کوئی نشان۔ حضرت اقدس تھوڑی دیر کھڑے ہوئے اور جواب دیا کہ میری صداقت کے آپ نشان ہیں۔ وہ خاموش ہو گئے اور حضرت اقدس آگے چل پڑے۔ سیر بہشتی مقبرہ کی طرف تھی۔
    (۳) لاہور میں حضرت اقدس کا ایک لیکچر ہوا۔ میں بمعہ والد صاحب کے گیا۔ حضور ایک مکان کے برآمدہ میں تقریر کر رہے تھے۔ آگے بڑا صحن تھا جو بالکل بھرا ہوا تھا۔ باہر مخالفین از حد شور مچا رہے تھے اور اندر اینٹیں اور روڑے پھینک رہے تھے۔ لوگوں کو اندر آنے سے روکتے تھے۔ میں اور والد صاحب تقریر سننے کے لئے بیٹھ گئے۔ دوران تقریر میں مَیں نے دیکھا کہ حضرت اقدس اپنی ران پر ہاتھ مارتے تھے۔ اور بعض اوقات ٹھہر ٹھہر کر بولتے تھے۔ میں نے اپنے والد صاحب کو کہا کہ حضرت اقدس اس طرح تقریر کر رہے ہیںپہلوان کشتی لڑتے ہیں۔ یہ انبیاء کا کام نہیں۔ والد صاحب نے اس وقت حافظ محمد کھوکھے والے کا یہ شعر پڑھا کہ ’’ بولن لگا اڑ کے بولے پٹان تے ہتھ مارے۔‘‘ یہ تو حضور کی صداقت کا نشان ہے۔ اس پر میں خاوش ہو گیا۔ اور گھر میں آکر احوال الاخرہ سے وہ شعر دیکھا۔
    محمد ابراہیم بقلم خود
    ۳۹۔۶۔۱۳

    روایات
    خواجہ محمد شریف صاحب ولد شیخ صاحب دین صاحب
    سکنہ گوجرانوالہ
    عمر قریباً 43سال ۔ پیدائشی احمدی
    میں نے حضرت اقدس کی زیارت ۱۹۰۴ء میں لاہور کے مقام پر کی۔ اور حضور کا لیکچر سنا۔ میرے والد صاحب لاہور میں ملازم تھے۔ میری دادی اماں مجھے حضرت اقدس کے گھر میں لے جایا کرتی تھیں۔ ایک دن کا واقعہ ہے کہ حضرت اقدس مغرب کی نماز سے پہلے کوٹھے پر کھانا کھا رہے تھے کہ دادی اماں نے مجھے فرمایا کہ حضرت اقدس سے اجازت لے آئو۔ تا ہم گھر واپس جائیں۔ میں حضور کے پاس گیا۔ حضرت صاحب کے ساتھ حضرت مرزا محمود احمد صاحب بھی کھانا کھا رہے تھے۔ حضرت اقدس نے مجھے اپنے کھانا میں سے دو پھلکے دئیے۔ جو میں لے کر واپس آگیا اور پھر ہم گھر چلے گئے۔
    وفات کے وقت میں لاہور میں تھا۔ مگر قادیان نہیں جا سکا تھا۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۳


    روایات
    میاں میراں بخش صاحب ہیڈ ماسٹرولد میاں شرف الدین صاحب
    سکنہ گوجرانوالہ
    عمر قریباً 70سال ۔ سن بیعت 1900ء قریباً
    میں اپنی روایات لکھ کر ارسال کر چکا ہوں۔ بیعت کی تحریک اس طرح پیدا ہوئی تھی کہ ہمارے بھائی غلام رسول صاحب ہم سے پہلے احمدی ہو چکے تھے۔ مگر ان پڑھ تھے۔ میں جب دکان سے اپنے گھر کی طرف جاتا تھا تو راستہ میں ان سے ملا کرتا تھا۔ ان کے ساتھ سلسلہ کی باتیں بھی ہوتی تھیں۔ میں چونکہ مخالف تھا۔ اس لئے ان کو جھوٹا کہا کرتا تھا۔ لیکن جب گھر آکر سوچتا تو نفس کہتا کہ گویہ ان پڑھ ہے۔ مگر اس کی باتیں لاجواب کہیں۔ ایک دفعہ میرے بھائی نے مجھے کچھ ٹریکٹ دئیے جو میں نے پٹھے ان کا مجھ پر بہت گہرا اثر ہوا۔ اس پر میں نے خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا شروع کر دی۔ ایک رات خواب میں دیکھا کہ میں اپنی چارپائی سے اٹھ کر پیشاب کرنے گیا ہوں۔ مگر دیکھتا ہوں کہ باری کھلی ہے۔ میں حیران ہوا کہ آج باری کیوں کھلی ہے۔ میں جب باری کی طرف گیا تو دیکھا کہ ایک بزرگ ہاتھ میں کتاب لئے پڑھ رہے ہیں۔ میں نے سوال کیا کہ یہ کونسی کتاب ہے جو آپ پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہ کتاب مرزا صاحب کی ہے۔ اور ہم تمہارے لئے ہی لائے ہیں۔ جب انہوں نے کتاب دی تو میں نے کہا کہ یہ تو چھوٹی تختی کی کتاب ہے۔ میں نے ان کو ٹریکٹ دیکھے ہیں وہ بڑی تختی کے ہوتے ہیں وہ بزرگ بولے کہ مرزا صاحب نے یہ کتاب چھوٹی تختی کی چھپوائی تھی اس پر میری آنکھ کھل گئی۔
    میں نے خیال کیا کہ شاید رات کو میں دعا کر کے ان خیالات میں سویا تھا۔ یہ ان کا ہی اثر ہو۔ مگر جب میں ظہر کی نماز پڑھنے کے لئے اپنے گھر کی طرف آیا تو غلام رسول کی دکان پر ایک شخص بیٹھا ہوا ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔ میں نے کہا یہ کونسی کتاب ہے۔ جو پڑھ رہے ہو۔ میاں غلام رسول صاحب نے اس کے ہاتھ سے کتاب لے کر میرے ہاتھ میں دے دی۔ اور کہا کہ تم جو کتاب مانگتے تھے یہ کتاب آپ کے لئے ہی میں لایا ہوں۔ یہ آپ لے لیں۔ میں نے کتاب کو دیکھ کر کہا کہ یہ کتاب رات خواب میں مجھے مل چکی ہے۔ اس پر میں ازالہ اوہام کے دونوں حصوں کو غور سے پڑھا۔ اور اپنے دل سے سوال کیا کہ کیا اب بھی تمہیں کوئی شک و شبہ باقی ہے۔ میرے دل نے جواب دیا کہ اب کوئی شبہ باقی نہیں رہا۔ اس لئے میں نے بیعت کا خط لکھ دیا۔
    میراں بخش بقلم خود
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۳
    (۲) ایک دفعہ حضرت اقدس مسجد مبارک کے اوپر تشریف فرما تھے۔ حضرت خلیفہ المسیح اوّل ایک طرف اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب دوسری طرف تھے۔ درمیان میں حضرت اقدس تشریف فرما تھے۔ حضور نے ایک پیر کا واقعہ سنایا کہ اس نے اپنے مرید کو ایک وظیفہ بتایا اور ہدایت کی کہ جس وقت تم یہ وظیفہ پڑھنے لگو اس وقت بندر کا تصور اپنے ذہن میں نہ آنے دینا۔ مگر جب وہ شروع کرتا تھا تو فوراً بندر کا خیال اس کے دل میں آجاتا تھا۔ ایسا ہی ہم نے بھی سورہ فاتحہ کی تفسیر لکھی ہے۔ جب لوگ نماز میں الحمد شریف پڑھیں گے تو اس میں جو ہماری پیشگوئی ہے۔ اس کی طرف فوراً ان کا خیال چلا جائے گا۔
    (۳) میری موجودگی میں وہاں ایک عیسائی لڑکا گیا۔ اس نے ایک کاغذ پر کچھ اعتراضات لکھے ہوئے تھے۔ اور دل میں یہ بات رکھی ہوئی تھی کہ اگر حضرت صاحب نے ان اعتراض کا جواب بغیر دیکھنے کے دے دیا۔ تو میں ان کو سچا سمجھ لوں گا۔ چنانچہ جب حضرت اقدس سیر کو تشریف لے گئے میں بھی ساتھ تھا۔ دوران سیر میں حضرت اقدس نے ایک تقریر کی جو بالکل الگ سوالات کے جوابات پر مشتمل تھی۔ جب حضور واپس تشریف لائے تو اس لڑکے نے مسجد اقصیٰ میں میری موجودگی میں یہ بیان کیا کہ واقعی میرے سوالات کے جوابات حضور کی تقریر میں آگئے ہیں۔
    ۱۹۰۲ء میں حضرت اقدس نے لاہورمیں لیکچر دیا تو میں میز کے سامنے بیٹھا تھا اور حضور کے چہرہ مبارک کی طرف میری نگاہ تھی۔ لیکچر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب پڑھ رہے تھے۔ دوران لیکچر میں ایک طرف شور اٹھا اور آوارہ گرد نوجوانوں نے کچھ شرارت کرنا چاہی۔ میں نے دیکھا کہ حضور نے اس طرف نظر بھر کر دیکھا اس کے بعد وہ شور بند ہو گیا۔
    میران بخش بقلم خود
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۴
    ایک دفعہ ہم بکلوہ پہاڑ پر کام کے لئے جا رہے تھے میرے ساتھ میرا بھانجا قمر الدین بھی تھا۔ راستہ میں ہمیں ایک بوڑھا سکھ ملا ہم نے اس سے پوچھا کہ آپ کاہں کے رہنے والے ہیں۔ اس نے کہا کہ قادیان کا باشندہ ہوں۔ میں نے کہا کہ کیا مرزا صاحب کو جانتے ہو۔ وہ بولا کہ ان کے بچپن کے حالات سے بھی اچھی طرح واقف ہوں۔ ان کے والد کو بھی جانتا ہوں۔ میں نے کہا کہ مرزا صاحب کی بابت کچھ سنائو۔ کہنے لگا کہ ’’ زیادہ تو وہ اندر ہی رہتے تھے۔ آدمی بڑے نیک تھے مگر یہ دعویٰ کر کے کام خراب کر لیا ہے خواہ مخواہ لوگ ان کے مخالف ہو گئے ہیں۔ ‘‘
    اس زمانہ میں یہ بات عام طور پر مشہور تھی کہ حضرت اقدس کو نعوذ باللہ کوڑھ کی بیماری ہے۔ چنانچہ ایک دفعہ میں قادیان سے واپس گوجرانوالہ آیا ہی تھا کہ ایک شخص امام الدین نام درزی جسے لوگ اس کے میرے افعال کی وجہ سے پھٹکا کہا کرتے تھے وہ دوڑتا دوڑتا میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ جس کا تو مرید ہے وہ تو کوڑھا ہے۔ اس کے ہاتھ کی انگلیاں گل چکی ہیں۔ اور وہ ہر وقت برقعہ پہنے رکھتا ہے میں نے کہا میں ابھی قادیان سے آرہا ہوں۔ اس شخص کا چہرہ تو ایسا خوبصورت ہے کہ ہر وقت اس پر نور برستا رہتا ہے۔ تم کو یہ بات کس نے بتائی۔ میران بخش بقلم خود
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۴








    روایات
    حکیم عبدالرحمان صاحب ولد حکیم اللہ دتا صاحب
    سکنہ گوجرانوالہ
    عمر قریباً 46سال ۔ سن بیعت 1904ء
    میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اپنے والد صاحب کو احمدی پایا ہے۔ میرے والد صاحب ۳۱۳ صحابہ کی فہرست میں شامل ہیں۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے خواب میں دو جنگلے دیکھے۔ لوگوں سے پوچھا کہ یہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آچ قیامت کا دن ہے۔ اور تمام مخلوقات اکٹھی ہو رہی ہے۔ یہ سن کر میں بھی جنگلہ کی طرف گیا ۔ دورندہ میں داخل ہوا تو بعض لوگوں نے کہا کہ پہلے بائیں طرف جائو۔ جو شخص آدھ سے ہو کر آئے گا اسے دائیں طرف جانے کی اجازت مل سکتی ہے۔ میں اسی طرف گیا تو دیکھا کہ حضرت مرزا صاحب کا دربار لگا ہوا ہے اور بے شمار مخلوق پاس موجود ہے۔ میں نے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد مجھے اجازت دی گئی کہ اب آپ دائیں طرف جا سکتے ہیں۔ ادھر گیا تو دیکھا کہ آنحضرت ﷺ تشریف فرما ہیں۔ میں بڑا خوش ہوا۔ پھر نیند سے بیدار ہو گیا۔
    ان کے بیعت کرنے کا واقعہ اس طرح ہے کہ وہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ میان ایک مولوی علائو الدین صاحب رہا کرتے تھے ان کی یہاں قریب ہی ایک مسجد بھی ہے۔ میرے والد صاحب ان کے پاس پڑھا کرتے تھے۔ ایک دن عشاء کے وقت وضو کرتے کرتے میرے والد صاحب نے مولوی صاحب سے پوچھا کہ مولوی صاحب آجکل آسمان سے تارے بہت ٹوٹتے ہیں ۔ اس کی کیا وجہ ہے۔ مولوی صاحب نے کہا کہ امام مہدی آںے والا ہے۔ آسمان پر اس کی آمد کی خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔ والد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ جند دن کے بعد میں نے حضرت اقدس کا زکر سنا۔ اور قادیان جا کر بیعت کر لی۔ واپس آکر مولوی صاحب کو بھی کہا کہ میں نے تو بیعت کر لی ہے ۔ آپ کا کیا خیال ہے۔ مگر وہ خاموش ہو گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد آہستہ سے بولے کہ میاں بات تو سچی ہے۔ مگر ہم دنیا دار جو ہوئے۔
    میں قریباً ۱۰ سال کا تھا کہ وہ مجھے قادیان لے گئے۔ اور قادیان کے اردگرد سیر کرائی۔ جب ہم مسجد نور کے پاس پہنچے جو کہ ابھی بی ہوئی نہیں تھی غالباً بنیادیں رکھی گئی تھیں۔ فرمایا کہ یہاں ہم پہلے پہلے جب حضرت اقدس کے ستاھ آیا کرتے تھے حضور وہاں بیٹھ جاتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ اس وقت آپ لوگ یہاں کا ہی اور سرکنڈا دیکھتے ہیں۔ ایک وقت یہاں خوب رونق ہو گی۔ فرمایا کرتے تھے کہ جب ہم حضور کے ساتھ سیر کو جاتے تھے ۔ تو حضرت مولوی نورالدین صاحب پیچھے رہ جاتے تھے۔ حضرت اقدس کبھی کبھی ٹھہر کر مولوی صاحب کو آواز دے کر کسی مسئلہ کے متعلق دریافت فرمایا کرتے تھے۔ فرماتے تھے کہ مولوی صاحب یہ مسئلہ کس طرح ہے۔ مولوی صاحب دوڑ کر ملتے اور حضور سے گفتگو فرماتے ۔ پھر حضرت صاحب چل پڑتے اور پھر یہی واقعات پیش آتے۔
    ایک دفعہ مجھے ڈھاب کے پاس لے جا کر فرمانے لگے کہ یہ ڈھاب وہ ہے جس کا حدیث میں بھی ذکر ہے کہ امام مہدی ایسی جگہ سے پیدا ہو گا جس کے پاس ڈھاب ہو گی۔
    والد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میں قادیان گیا اور دو چار روز ٹھہرنے کے بعد اجازت مانگی۔ حضور نے فرمایا کہ ابھی ٹھہرو۔ دو چار روز کے بعد پھر گیا۔ مگر حضور نے پھر بھی یہی فرمایا کہ ابھی اور ٹھہرو۔ دو تین دفعہ ایسا ہی فرمایا۔ یہاں تک کہ دو اڑھائی مہینے گزر گئے۔ پھر میں نے عرض کیا کہ حضور اب مجھے اجازت دیں فرمایا بہت اچھا۔ میں نے کتاب ازالہ اوہام کے متعلق حضور کی خدمت میں عرض کیا حضور نے میر مہدی حسین شاہ صاحب کے نام ایک رقعہ لکھ دیا میں وہ رقعہ لے کر گیا تو میر صاحب نے کہا کہ لوگ یونہی تنگ کرتے ہیں۔ اور مفت کتابیں مانگتے ہیں حالانکہ روپیہ نہیں ہے اور ابھی فلاں فلاں کتاب چھپوانی ہے میں نے کہا پھر آپ میرا رقعہ دے دیں۔ انہوں نے رقعہ واپس دے دیا۔ پوچھا کہ کیا کتابیں آپ کو مل گئی ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ حضور وہ تو اس طرح فرماتے تھے۔ یہ سن کر حضرت صاحب ننگے پیر میرے ساتھ چل پڑے۔ اور میر صاحب کو فرمایا کہ آپ کیوں فکر کرتے ہیں جس کا یہ کام ہے وہ اس کو ضرور چلائے گا۔ آپ کو میرا رقعہ دیکھ کر فوراٹ کتابیں دے دینی چاہئے تھیں۔ آپ ابھی سے گھبرا گئے۔ یہاں تو بڑی مخلوق آئے گی اور خزانے تقسیم ہوں گے۔ اس پر انہوں نے کتابیں دے دیں اور میں لے کر واپس آگیا۔
    بقلم خود خاندانی حکیم عبدالرحمن
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۴
    میرے والد صاحب جب بیعت کر کے چک نمبر ۲۷۶ ڈکخانہ گوجرہ ضلع لائل پور میں گئے تو اس علاقہ میں انہوں نے خوب تبلیغ کی۔ ان لوگوں نے ان کو اپنا امام مقرر کر لیا۔ جب قرآن مجید پڑھانے لگے اور وفات مسیح کا ذکر آیا تو خوب کھول کر بیان کیا ۔ وہ لوگ حیران ہو گئے ایک شخص وزیر دین اس چک کا نمبردار تھا۔ اب فوت ہو گیا ہے۔ اس کا لڑکا چراغ الدین نمبردار ہے اور مخلص احمدی ہے۔ وزیر دین نے کہا کہ کلیم صاحب مجھے دیگ کی ضرورت ہے۔ چلو آپ کے شہر گوجرانوالہ میں چلتے ہیں۔ وہاں دیگیں اچھی بنتی ہیں۔ والد صاحب نے رستہ میں کہا کہ بٹالہ میں دیگیں نہایت اعلیٰ بنتی ہیں۔ چلو وہاں جا کر لے آتے ہیں۔ جب بٹالہ پہنچے تو والد صاحب نے چوہدری وزیر دین کو کہا کہ یہاں نزدیک ہی قادیان میں مرزا صاحب رہتے ہیں میں ان کی بیعت کر چکا ہوں وہ سچے ہیں۔ آپ بھی چلیں۔ چوہدری صاحب نے کہا کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ وہ ضرور سچے ہیں کیونکہ سیالکوت میں مَیں اور مرزا صاحب اکٹھے ملازم تھے۔ میں پٹواری تھا۔ اور وہ دفتر میں کام کیا کرتے تھ۔ انہوں نے کبھی رشوت نہیں لی اور نہ کبھی جھوٹ بولا ہے۔ بڑے پرہیزگار اور متقی تھے۔ ایسا شخص کبھی جھوٹا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ چلو میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں چنانچہ چوہدری صاحب نے فوراً جا کر بیعت کر لی۔
    بقلم خود خاندان حکیم عبدالرحمن
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۴








    روایات
    منشی غلام حیدر صاحب سب انسپکٹر اشتمال اراضی
    ولد میاں محمد بخش صاحب
    سکنہ گوجرانوالہ حال قادیان محلہ دارالرحمت
    میں نے حضرت اقدس کی بیعت ۱۹۰۸ء میں بذریعہ خط کی ہے۔ جس کا جواب قادیان میں میرے پاس محفوظ پڑا ہے۔ مگر افسوس کہ حضور کی زیارت نہیں ہو سکی۔ دیگر احباب سے جو روایات سنی ہیں۔ وہ سناتا ہوں۔
    (۱) منشی احمد دین صاحب اپیل نویس گوجرانوالہ نے بیان کیا کہ میرا ایک دوست تھا ۔ میں نے کوشش کی کہ وہ اہمدی ہو جائے۔ حضرت اقدس لاہور تشریف لائے ہوئے تھے۔ میں اس کو ساتھ لے گیا۔ اس شخص نے بیعت کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ مگر حضرت اقدس نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ اور اس کی بیعت منظور نہ فرمائی۔
    (۲) انہوں نے یہ بھی بیان کیا تھا کہ میں جب حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا۔ تو عموماً حضور کے سامنے ہو کر نذر پیش نہیں کیا کرتا تھا۔ ایک دفعہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے مجھے نصیحت کی کہ ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ سامنے ہو کر نذر پیش کرنی چاہئے۔ کیونکہ بعض اوقات ان لوگوں کی جب نظر پڑ جاتی ہے۔ تو انسان کا بیڑا پار ہو جاتا ہے۔ پھر ایک دفعہ میں نے سامنے ہو کر مالی تنگی کی وجہ سے کم نذرانہ پیش کیا۔ حضور نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ برکت دے۔ چنانچہ اس واقعہ کے بعد ایک شخص نے مجھے بہت سے روپے دئیے میں نے بہت انکار کیا مگر اس نے کہا کہ میں نے ضرور آپ کو یہ ………… چنانچہ اس رقم سے میری مالی تنگی دور ہو گئی۔
    (۳) حافظ احمد دین صاحب ساکن کجو چک ضلع گوجرانوالہ نے مجھ سے بیان کیا کہ میں ایک دفعہ حضرت صاحب کی خدمت شروع ایام میں حاضر ہوا۔ حضور کی مجلس میں مجھے ایسا معلوم ہوا کہ میرے بدن میں ………… چل رہی ہیں۔ میں نے حضور کی خدمت میں عرض کی کہ حضور میں بہت گناہگار ہوں۔ حضور نے ایک دعا کرنے کی تاکید فرمائی۔ جو اب مجھے یاد نہیں۔ حافظ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں نے پھر عرض کی کہ حضور میں بہت گنہگار ہوں۔ مگر حضور نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ معاف کر دے گا۔ غلام حیدر ………… گوجرانوالہ
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۴
    خاکسار ۱۵ جون کو گوجرانوالہ سے چل کر قریباً ۱۰ بجے سیالکوٹ پہنچا۔ عبدالقادر





    سیالکوٹ کے صحابہ
    ۱۔ میاں فیروز الدین صاحب ۲۔ میاں محمد عبداللہ صاحب
    ۳۔ میاں گلاب الدین صاحب ۴۔ میاں اللہ دتا صاحب
    ۵۔ میاں شیر خان صاحب ۶۔ میاں گلاب خان صاحب
    ۷۔ عنایت اللہ صاحب ۸۔ میاں الف دین صاحب
    ۹۔ میاں غلام قادر صاحب ۱۰۔ میاں عبدالعزیز صاحب
    ۱۱۔ میاں محمد مسعود صاحب ۱۲۔ محمد نواز خان صاحب
    ۱۳۔ شیخ مہر الدین صاحب ۱۴۔ حافظ محمد شفیع صاحب
    ۱۵۔ میاں عبدالعزیز صاحب ۱۶۔ میاں نبی بخش صاحب
    ۱۷۔ مستری محمد دین صاحب ۱۸۔ میاں عمر الدین صاحب
    ۱۹۔ مہر عمر الدین صاحب ۲۰۔ میاں میراں بخش صاحب
    ۲۱۔ حاجی عبدالعظیم صاحب ۲۲۔ چوہدری محمد دین صاحب
    ۲۳۔ مہر غلام حسن صاحب ۲۴۔ امام الدین صاحب
    ۲۵۔ امام الدین ولد نور دین صاحب ۲۶۔ بابو محمد دین ڈپٹی ہیڈ ماسٹر
    ۲۷۔ منشی احمد دین صاحب



    روایات
    میاں فیروز الدین صاحب ولد میاں گلاب الدین صاحب
    سکنہ سیالکوٹ
    عمر قریباً 62سال ۔ سن بیعت 1892ء
    میرے دادا صاحب کا نام میاں نظام الدین تھا۔ جس زمانہ میں حضرت اقدس علیہ السلام یہاں ملازمت کے سلسلہ میں تشریف لائے تھے۔ میرے دادا صاحب نے ان کو محلہ سالوگجر میں مکان کرایہ پر لے کر دیا تھا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے میرے دادا صاحب سے ایک چھ ماسہ سونے کی انگوٹھی بنوا کر بھی گھر بھیجی تھی۔ میرے دادا صاحب کے ساتھ حضور علیہ السلام کے گہرے تعلقات تھے۔ دادا صاحب کی وفات ۱۹۰۵ء میں ہوئے ہے۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ جس زمانہ میں حضرت اقدس یہاں ملازم تھے تو ……………… میں جو عیسائیوں کا مرکز ہے۔ کتابیں لے کر ان سے بحث مباحثہ کے لئے تشریف لے جاتے تھے۔ جس مکان میں حضور رہتے تھے۔ صرف اس وقت لوگوں کو پتہ لگتا تھا۔ جبکہ حضور کچہری میں تشریف لے جاتے تھے۔ یا واپس آٹے تھے۔ باقی وقت اندر ہی گزارتے تھے۔ یہاں ایک حکیم منصب علی صاح رہا کرتے تھے۔ وہ حضرت صاحب سے ملاقات کے لئے جایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی کہ میں کیمیا گری جانتا ہوں۔ اگر حضور چاہیں تو میں لکھانے کے لئے تیار ہوں۔ مگر حضور نے فرمایا کہ یہ کیا بلا ہے۔ مجھے اس کی ضرورت نہیں۔
    جب حضور علیہ السلام نے مسیحیت کا دعویٰ کیا تو میرے دادا صاحب نے کچھ عرصہ کے بعد حضور علیہ السلام کی بیعت کر لی۔ اور سارے خاندان کو کہا کہ میں ان کا اس زمانہ سے واقف ہوں۔ جبکہ حضور یہاں ملازم تھے۔ اس لئے آپ لوگ میرے سامنے بیعت کر لیں۔ یہ مونہہ جھوٹوں کا نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ ۱۸۹۲ء میں ہمارے سارے خاندان نے بیعت کر لی۔
    سب سے پہلے ہمارے چچا میاں میراں بخش صاحب نے ہم تمام کی طرف سے بیعت کا خط لکھا۔ پھر ہم سارے قادیان گئے۔ اور جا کر بیعت کی۱۸۹۲ء کے جلسہ سالانہ میں۔ جلسہ مسجد اقصیٰ میں ہوا تھا۔ سیالکوٹ کی جماعت کو رہائش کے لئے مسجد مبارک میں جگہ ملی تھی۔ کھانے کی ایک ہی دیگ تمام لوگوں کے لئے تیار کی گئی تھی۔ میٹھا پلائو پکایا گیا تھا۔
    جس وقت حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے مجھے میاں فیروزالدین صاحب میاں میران بخش صاحب۔ حاجی فضل الدین صاحب اور میاں عبدالعزیز صاحب کو مسجد مبارک کی سیڑھیوں پر چڑھتے دیکھا تو فرمایا کہ اب میں سمجھتا ہوں کہ سارا سیالکوٹ احمدی ہو گیا ہے۔ جبکہ میاں نظام الدین کے خاندان کے افراد یہاں آگئے ہیں۔
    ۱۹۰۴ء میں جب حضرت اقدس یہاں تشریف لانے لگے تو میں استقبال کے لئے گوجرانوالہ گیا تھا۔ جب حضور گکھڑ کے سٹیشن پر پہنچے تو دریافت فرمایا کہ کیا یہاں ہماری جماعت کا کوئی آدمی نہیں؟ میں نے عرض کیا کہ حضور یہاں تو کوئی نہیں۔ جب وزیرآباد کے سٹیشن پر پہنچے تو شیخ محمد جان وغیرہ نے سٹیشن پر چائے کا انتظام کیا ہوا تھا۔ پھر گائوں وہاں سے چل کر سودھرا پہنچی تو وہاں بھی حضور نے دریافت فرمایا کہ کیا یہاں ہماری جماعت کا کوئی آدمی ہے میں نے عرض کیا کہ حضور یہاں بھی کوئی نہیں۔ پھر بیگووال کا سٹیشن آیا وہاں بھی حضور نے دریافت فرمایا وہاں قاسم دین صاحب بیگووال کے زرگر ملے گو انہوں نے اس وقت تک بیعت نہیں کی ہوئی تھی مگر حضور سے ان کو محبت تھی۔ پھر سمبڑیال کا سٹیشن آیا وہاں بھ حضور نے دریافت کیا۔ وہاں حسن محمد صاحب ککے زئی موجود تھے وہاں سے چل کر سیالکوٹ پہنچے۔ تو چونکہ سٹیشن پر بہت بڑا ہجوم تھا۔ اس لئے حضور کا ڈبہ گاڑی سے کاٹ کر پھاٹک سرزئی مہاراج جموں والے تک لے جایا گیا۔ وہاں سے حضور دو گھوڑوں والی فٹن پر معہ اپنے خاندان کے سوار ہو کر حکیم خام الدین صاحب کے ہاں تشریف لے آئے۔ گاڑی تو سام کے قریب آگئی تھی مگر چونکہ ہجوم بہت تھا۔ اس لئے قریباً ۸ بجے شام کو وہاں سے روانگی ہوئی۔ اکتوبر کا مہینہ تھا۔ لوگوں نے روشنی کے لئے پیالوں میں بنولے ڈال کر تیل میں بھگوئے ہوئے تھے اور روشنی کی ہوئی تھی۔ خلقت مکانوں پر اس قدر زیادہ تھی کہ جس کا شمار کرنا مشکل ہے۔ بازاروں میں اس قدر اثر دھام تھا کہ گاڑی بالکل آہستہ آہستہ چل رہی تھی۔
    حضرت اقدس نے لیکچر سیالکوٹ میر خام الدین صاحب کے مکان کی چھت پر لھکا تھا۔ چار دو اتیں چاروں دیواروں پر رکھی ہوئی تھیں قریباً عصر کے وقت تھا۔ حضور کہتے کہتے لکھتے تھے اور کبھی کبھی سجدہ میں بھی گر جاتے تھے۔ یہ تمام نظارہ ہم نے اپنے مکانکی چھت پر کھڑے ہو کر دیکھا تھا۔ اور اور بھی بہت سے لوگ ہمارے مکان پر یہ نظارہ دیکھنے کے لئے جمع ہو گئے تھے۔ ہمارا مکان اس مکان سے نزدیک تھا۔ اور اونچا بھی تھا۔ اس سے تمام نظارہ دکھائی دیتا تھا۔
    جس قدر ورق حضور لکھ لیتے تھے نیچے کاتب کے پاس بھیجتے جاتے تھے۔ کاتب سراج الدین ساہو والے کا رہنے والا تھا۔ جب حضور مہاراج کی سرائے میں لیکچر دینے کے لئے تشریف لے جانے لگے تو راستہ میں دو دروازہ محلہ جنڈانوالہ کی مسجد میں ایک شخص حافظ سلطان محمد لڑکے پڑھایا کرتا تھا۔ اس نے لڑکوں کی چٹھی دے دی۔ اور ان کی جھولیوں میں راک بھر دی اور کہا کہ جس وقت مرزا صاحب یہاں سے گزر گیا۔ تم تمام کے تمام راک پھینک دینا۔ مگر حضرت صاحب چونکہ بند گاڑی میں تھے اس لئے صحیح و سلامت وہاں سے گزر گئے۔
    سرائے کے اردگرد پیر جماعت علی شاہ کے مریدوں نے چار اکھاڑیلگائے ہوئے تھے۔ اور لوگوں کو اندر جانے سے روکتے تھے۔ مولوی ابراہیم بھی ان میں شامل تھا۔ پیر جماعت علی شاہ پرانے ذبح خانہ کے پاس کھڑا تھا۔ اب اس جگہ مستری فتح محمد نے مکان بنایا ہوا ہے۔ حافظ ظفر شہباز خان کے اڈے میں کھڑا تھا۔ یہ شخص پیر جماعت علی شاہ صاحب دریاں بازو تھا۔ یہ تمام ملاں بڑے زور شور سے لوگوں کو اشتعال دلا رہے تھے۔ اور اندر جانے سے بھرتے تھے۔
    جب لیکچر شروع ہوا۔ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے پڑھا دیا۔ ایک شخص مسمی احمد دین سلہریا تھا۔ وہ جب سرائے میں گیا تو کچھ آدمی دوڑ کر اس کے پیچھے گئے اور اسے اٹھا کر واپس لائے کہ وہ لیکچر سننے نہ جائے چنانچہ جس مقام پر پیر جماعت علی شاہ کھڑا تھا۔ وہاں اسے چھورا ۔ مگر وہ پھر دوڑ کر چلا گیا۔
    جب حضور واپس تشریف لے گئے تو میں میرے چچا میراں بخش صاحب شیخ مولا بخش صاحب بوٹ فروش ملک حیات محمد صاحب سب انسپکٹر پولیس سکنہ گڑھی ……… حافظ آباد۔ سید امیر علی صاحب سب انسپکٹر۔ میران بخش صاحب عطار وغیرہ وغیرہ وزیر آباد تک گئے تھے۔
    جس وقت حضور کی گاڑی کچہری والے پھاٹک سے گزرے تو اگے مخالف لوگ بالکل برہنے کھڑے تھے۔ اور آوازیں کس رہے تھے اور گاڑی پر پتھر برسا رہے تھے۔
    ہم نے واپس آکر دیکھا۔ تو معلوم وہا کہ اشرار پارٹی نے مولوی برہان الدین صاحب جہلمی کو زخمی کر دیا ہے۔ میرے بھائی بابو عزیز دین صاحب کا ہونٹ پتھر لگنے سے پھٹ گیا تھا۔ شیخ مولا بخش صاحب بوٹ فروش کے مکان کے شیشے توڑ دئیے۔ ان کے گملے پھولدار پودوں کے برباد کر دئیے۔
    میں جہلم بھی حضور کے ساتھ گیا تھا۔ اس سفر میں بھی رستہ میں بے شمار مخلو تھی۔ جب جہلم پہنچے تو دو یورپین لیڈیوں نے پوچھا کہ یہ ہجوم کیوں ہے۔ کسی دوست نے کہا کہ مسیہ موعود علیہ السلام ہیں انہوں نے کہا ذرا ہٹ جائو ہم فوٹو لینا چاہتی ہیں۔ چنانچہ لوگ پیچھے ہٹ گئے اور انہوں نے فوٹو لے لیا ۔ صبح تاریخ تھی تمام کچہری میں چھٹی ہو گئی۔ صرف اس مجسٹریٹ کی عدالت کھلی رہی جس میں حضور علیہ السلام نے جانا تھا۔
    کچہری کے صحن میں ایک دری بچھی ہوئی تھی اس پر ایک کرسی بچھی تھی۔ حضور اس کرسی پر تشریف فرما تھے۔ مخلوق بے شمار تھی ۔ پندرہ بیس گز کے فاصلہ پر مولوی ابراہیم سیالکوٹی نے بھی اڈہ جمایا ہوا تھا۔حضور نے فرمایا کہ میرے کہنے پر لوگوں نے مجھے مانا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں۔ اگر میں نے اپنے پاس سے یہ افتراء کیا ہے تو اس کی سزا مجھے ملے گی۔ جن لوگوں نے مانا ہے ان کو سزا نہیں ملے گی۔ چنانچہ مولوی ابراہیم صاحب کے آگے میز پر ایک کتاب پڑی تھی اس نے وہ ہاتھ سے اٹھا کر اوپر کی اور کہا کہ اس طرح مسیح آسمانوں پر چلا گیا ہے۔ اس مجمع میں ایک فقیر بھی بیٹھا ہوا تھا جس کا نام سائیں آزاد تھا۔ بھورے کا کرتہ اس نے پہنا ہوا تھا۔ اس نے بڑے زور سے کہا کہ ’’ او بابا کیوں جھوٹ بولتے ہو۔ اور لوگوں کو بہکاتے ہو۔ قرآن مجید میں سے کل نفس ذائقۃ الموت کاٹ …… ہیں …… اس نے بڑے زور سے یہ کہا جس سے وہ فقیر پسینہ پسینہ ہو گیا۔ پھر کہا۔ کہ میں مرزا صاحب کا مرید نہیں ہوں۔ مگر میں حق کو نہیں چھپانا چاہتا۔
    جس کمرہ میں حضور سوئے ہوئے تھے اس کے ساتھ کے کمرہ میں مَیں اور میرا بھائی تاج الدین سوئے ہوئے تھے۔ چونکہ وہ بیمار تھے اور ساری رات کھانستے رہے تھے۔ اس لئے صبح حضور علیہ السلام نے دریافت کیا کہ ساتھ کے کمرہ میں کون کھانستا رہا ہے۔ ہم میں سے کسی نے کہا تھا کہ وہ بیمار تھے۔ اس لئے کھانستے رہے۔
    ہم حضور کے پاس ہی بیٹھے تھے۔ کہ صاحبزادہ عبداللطیف صاحب نے عرض کیا کہ حضور میرا خون بدن میں سے ٹپک رہا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ یہ کابل میں آبپاشی کا کام کرے گا۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۵
    ایک دفعہ مسجد مبارک میں حضور عصر کی نماز کے بعد تشریف فرما تھے مختلف پیشوں کا ذکر ہوا۔ حضور نے فرمایا کہ جو لوگ زرگری کا کام کرنے والے ہیں ان میں ایمان کم ہے۔ یہ سن کر میرے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور دعا کی کہ یا اللہ اولاد کو بچانا۔ چنانچہ خدا کے فضل سے اولاد بچ گئی۔
    ایک دفعہ میر ناصر نواب صاحب فرمانے لگے ۔ حضور یہ جو نانبائی ہے یہ روٹیاں …… ہے۔ حضور خاموش رہے دوسرے دن پھر عرض کیا۔ حضور خاموش رہے۔ تیسرے دن پھر عرض کیا۔ فرمایا میر صاحب یہ تو ایک روٹی کے لئے دو دفعہ دوزخ میں جاتا ہے ایک دفعہ نکالنے کے لئے اور ایک دفعہ لگانے کے لئے۔ اس سے بڑھ کر میں اس کو کیا سزا دوں اگر کوئی اس سے اچھا آپ کو ملتا ہے تو لے آئو۔
    ۱۹۰۴ء میں جب حضور لاہور میں تھے۔ تو ایک مولوی وزیر آباد کا تھا ٹہلی پر چڑھ کر اپنی داڑھی نوچتا تھا اور کہتا تھا کہ اگر مرزا صاحب نیچے اتریں تو اس طرح ان کی داڑھی نوچوں۔
    میاں غلام محی الدین یہاں ایک احمدی ہوا کرتے تھے۔ اور لکڑیاں بیچا کرتے تھے۔ حضرت خلیفہ اوٍّ سے انہوں نے ایک ہزار روپیہ قرض لیا۔ مگر حضرت خلیفہ اوّل نے ان سے کوئی …… نہ لی۔ جب بہت تفاق کیا مگر اس نے دینے سے انکار کر دیا تو حضرت اقدس کے حضور شکایت کی حضور نے فرمایا آپ نے قرآں کے حکم کے خلاف کیا ہے۔ اس واسطے اس کی مرضی ہے دے۔ مرضی ہے نہ دے۔ چنانچہ غلام محی الدین نے وہ روپیہ نہیں دیا تھا۔
    میرے دادا صاحب نے سنایا تھا کہ جس روز حضرت اقدس نے کچہری سے استتقا دیا تھا اور قادیان روانہ ہونے لگے تھے تو ڈپٹی کمشنر ضلع نے حضرت صاحب کو ملاقات کے لئے بلایا تھا۔ اور کچہری میں چھٹی کر دی تھی۔ اس خیال سے کہ ویسا سخص کچہری سے جا رہا ہے۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۶
    خاکسار عبدالقادر عرض کرتا ہے کہ سیالکوٹ میں غالباً میاں فیروزالدین صاحب نے ہی مجھے سنایا تھا کہ حضرت اقدس علیہ السلام لاہور میں کشمیری بازار میں جا رہے تھے کہ ایک بدبخت انسان نے اپنے دونوں ہاتھ حضرت کے سر پرمارے جس سے حضور کی دستار مبارک گر گئی۔ احباب نے اسے پکڑنا چاہا مگر حضور نے فرمایا چھوڑ دو۔ اور پھر اس مسئلہ کے متعلق باتیں کرتے چلے گئے۔ جس کے متعلق پیچھے سے کرتے چلے آرہے تھے۔ اس واقعہ کا ذکر تک نہ کیا۔









    روایات
    میاں محمد عبداللہ صاحب ولد میاں نظام الدین صاحب
    سکنہ سیالکوٹ محلہ کوچہ حسین شاہ
    عمر قریباً 50سال ۔ سن بیعت 1903ء
    ہمارے خاندان میں پہلے حاجی فضل الدین صاحب نے ۱۸۹۲ء میں قادیان جا کر بیعت کی تھی۔ حاجی صاحب میرے چچازاد بھائی تھے۔ انہوں نے میرے والد صاحب اور دیگر میرے بھائیوں کو ۱۹۰۳ء تک تبلیغ کی میرے والد صاحب نے ایک رات خواب دیکھا کہ قادیان کی طرف سے ایک پورے قد کا چاند بہت خوش نما روشنی دے رہاہے۔ جس کی تعبیر میرے والد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر کی۔ اور ہم سب نے اُس دن بذریعہ خط بیعت کر لی۔ جب حضور ۱۹۰۴ء میں لاہور تشریف لائے تو ہم نے سب لاہور جا کر حضور کے دست مبارک پر بیعت کی۔ پھر آپ سیالکوٹ تشریف لائے جتنے دن حضور سیالکوٹ رہے۔ میں نے مخالف مولویوں کایہ نظارہ دیکھا کہ آٹھ آٹھ دس دس گز پر ایک ایک مولوی کھڑا حضور کے برخلاف زہر اُگل رہا تھا۔ ہم لوگ اُن کے بکواس کو سن کر برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ قریباً ضلع بھر کے موٹے موٹے ہندو زیارت کے لئے اور لیکچر سننے کے لئے آئے ہوئے تھے۔
    کئی مرتبہ میرے والد صاحب نے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت اقدس سیالکوٹ تشریف لائے اور میر حکیم حسام الدین صاحب کی بیٹھک میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص نے آکر مصافحہ کیا اور رقت سے اس کی بے اختیار چیخیں نکل گئیں۔ تمام جسم تھرانے لگا میں نے یہ انوکھا نظارہ دیکھ کر اپنے استاد مولوی غلام ہسن صاحب سے ذکر کیا وہ چونکہ مخالف تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک علم ہوتا ہے اور کچھ نہیں۔ میں نے اس وقت تک بیعت نہیں کی تھی۔
    ایک دفعہ میں قادیان جلسہ سالانہ پر گیا۔ حضور علیہ السلام نے مسجد نور میں لیکچر دیا لیکچر میں ایک بات یہ بیان کی تھی کہ پانی کو خواہ کتنا گرم کر دو پھر بھی جب وہ آگ پر پڑے گا تو اسے بجھا دے گا۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۵
    میں نے سنا ہوا تھا کہ قیامت کے روز خدا کے بندے شناخت کئے جائیں گے میرے دل میں خیال آیا کہ میں زیادہ سے زیادہ ایک آدھ دن قادیان میں رہنا ہے خدا جانیں پھر حضور کی ملاقات نصیب ہو یا نہ ہو میں اپنے خیال میں حضور علیہ السلام کے چہرے مبارک کے آثار اپنے دل میں قائم کرنے لگا تو مجھے حضور کے چہرے مبارک کی پیشانی کے دو بل ذہن نشین ہو گئے اور میں واپس سیالکوٹ چلا آیا حضرت اقدس جب سیالکوٹ ملازم تھے اس وقت کے لوگوں میں جن کوحضور کے ساتھ کچھ تھوڑا بہت تعارف ہوا ان سب نے حضور علیہ السلام کی نسبت یک زبان سے یہی کہا کہ جب آپ کچہری جانے تو سڑک کے اس نے سے نہ جائے بلکہ سڑک کے نیچے اتر کر جائے۔ چھپ چھپ کر جائے جب گھر آئے تو سو اے خراں شریف کی تلاش کے کون شغل نہ کرے حضور کی صحبت میں مولوی غلام حسن صاحب بھی سامل ہوئے تھے جب حضور ملازمت چھوڑ کر قادیان تشریف لے گئے تو مولوی غلام حسن صاحب کہا کرتے تھے کہ اگر کسی نے خدا کا بندہ دیکھنا ہو تو قادیان میں مرزا غلام احمد کو دیکھو۔ کیونکہ ان کو الہام ہوتے ہیں۔ مولوی غلام حسن صاحب درس قرآن دیتے تھے ان کی مجلس قریب سارے کے سارے بیعت میں خدا کے فضل سے شامل ہو گئے۔ یہاں تک کہ مولوی فیض الدین صاحب مرحوم مغفور جو ان کے خاص شاگردوں میں تھے وہ بھی ۱۹۰۴ء میں جب حضور سیالکوٹ تشریف لائے بیعت میں شامل ہو گئے۔ مگر افسوس کہ ان کو آج ان کی قربانیوں سے ایک مسجد جامع احمدیہ اور مہمان خانہ اور گرلز سکول زندہ نشان پاتی ہیں بیعت کرنی نصیب ہوئی۔









    روایات
    میاں گلاب الدین صاحب ولد میاں حسن بخش صاحب
    سکنہ سیالکوٹ محلہ حکیم حسام الدین
    عمر قریباً 53سال ۔ سن بیعت 1904ء
    حضرت اقدس جب ۱۹۰۴ء میں یہاں تشریف لائے تھے تو میں نے بیعت کی تھی۔ میرے والد صاحب اس وقت سے حضرت اقدس کے معتقد تھے۔ جبکہ حضور بیعت لیتے ہی نہیں تھے۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ دعا کرنی تو حضرت اقدس مرزا صاحب نے سکھائی ہے ۔ یہاں ایک مشہور اہلحدیث مولوی غلام حسن ہوا کرتے تھے۔ وہ حضرت صاحب کی بہت تعریف کیا کرتے تھے۔ ان کے سارے شاگرد سوائے مولوی ابراہیم کے احمدی ہو گئے۔ مگر افسوس کہ ان کو احمدیت نصیب نہ ہوئی۔
    حضرت اقدس حکیم میر حسام الدین صاحب کے مکان پر تشریف فرما تھے۔ جو اس مسجد سے جہاں بیٹھ کر یہ الفاظ لکھے جا رہے ہیں اور جس میں حصرت اقدس نمازیں پڑھا کرتے تھے تھوڑی دور واقع ہے۔ حضرت اقدس ان کے مکان کے اوپر لیکچر لکھ رہے تھے اور ہم دیکھ رہے تھے حضور چلتے چلتے لکھتے تھے اور شیخ مولا بخش صاحب اور چوہدری مولا بخش صاحب کے سپرد چھپوانے کا انتظام تھا۔ جتنا حضور لکھتے تھے وہ نیچے کاتب کو لا کر دیتے تھے۔
    گلاب الدین بقلم خود
    ۳۹۔۶۔۱۶
    روایات
    میاں اللہ دتا صاحب ولد میاں قمرالدین صاحب ورک
    سکنہ سیالکوٹ
    عمر قریباً 62سال ۔ سن بیعت 1894ء قریباً
    میںنے قادیان میں اکیلے جا کر بیعت کی تھی۔ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب میرے ماموں زاد بھائی تھے اور بہنوئی بھی تھے۔
    مولوی صاحب نے حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کی تھی کہ حضور یہ میرے بھائی آوارہ بہت رہتے ہیں۔ ان کے لئے دعا کریں اس پر حضور ہاتھ اوپر اٹھا کر دعا کی تھی۔ مجھے بھی حضور نے نیک کام کرنے کی ہدایت کی تھی۔ دنیا کی بے ثباتی کے متعلق بھی کچھ فرمایا تھا۔ مگر مجھے باتیں یاد نہیں۔
    میرے بڑً بھائی منشی محمد اسماعیل صاحب سیالکوٹی مہاجر قادیان مجھ سے ناراض رہتے تھے۔ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے ہماری اس ناچاقی کا حضرت صاحب سے ذکر کر دیا۔ حضور نے منشی صاحب کو بلا کر فرمایا کہ آپ اپنے بھائی سے کیوں ناراض رہتے ہیں۔ انہوں ن ے کہا کہ حضور وہ آوارہ ہے۔ اور شراب پیتا ہے۔ حضرت صاحب نے فرمایا۔ اپنے آوارہ بھائی کو سمجھانا چاہئے نہ کہ قطع تعلق کرنا چاہئے۔ میری تو یہ حالت ہے کہ اگر مجھے کوئی بھائی شارع عام میں گرا ہوا مل جائے تو بھی اسے اپنے کندوں پر اٹھا کر گھر لانے کے لئے تیار ہون۔ پھر پہلے اس کی خاطر تواضع کروں گا۔ صبح نہلا دھلا کر اسے نصیحت کروں گا۔ اور اس کے لئے دعا کروں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ اس پر فضل کرے گا۔ یہ طریق ہے اپنے بھائیوں سے برتائو کا نہ کہ قطع تعلق کرنا۔ اس پر میرے بھائی میرے پاس آئے اور مجھ سے صلح کی۔
    حضرت صاحب جب یہاں تشریف لائے تھے تو مولوی عبدالکریم صاحب نے حضور کی اور تمام سیالکوٹ جماعت کی دعوت کی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ حضور کے لئے کوئلوں پر سینکی ہوئی روٹی لائی گئی تھی ہم لوگ کھانا کھلانے پر مامور تھے۔
    الراقم عبدالقادر
    (میاں الہ دتا صاحب آنکھوں سے معذور ہیں۔ دستخط نہیں کر سکتے)
    ہاں مجھے یاد ہے کہ مولوی صاحب جب آخری بیماری میں بیمار ہوئے تو میں ان کے سرہانے کھڑا تھا۔ ڈاکٹر موجود تھے۔ اور ان کے بائیں بازو کو چیرا دینا چاہتے تھے۔ مولوی صاحب نے کہا کہ جب تک حضرت اقدس نہ آجائیں چیرا ہرگز نہ دینا۔ پھر حضرت صاحب تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ مولوی صاحب کیا حال ہے۔ عرض کیا اللہ کا احسان ہے مگر ذرا اپنا ہاتھ مبارک دیں اور میرے سینہ پر رکھیں۔ پھر کہا کہ دیکھئے حضرت جی میرا سینہ کیسا سرد ہے۔ بس میری تمنا اللہ تعالیٰ نے پوری کر دی ہے۔ میں یہی چاہتا تھا کہ میرا خاتمہ بالخیر ہو۔ اور حضور کے قدموں کے نیچے ہو۔ حضور نے فرمایا کہ مولوی صاحب الل سے لو۔ آخری سانس تک ناامید نہیں ہونا چاہئے۔ بہت تسلی دی۔ دوسرے دن مولوی صاحب فوت ہو گئے۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۶


    روایات
    میاں شیخ مہر الدین صاحب ولد میاں شیخ فضل الٰہی صاحب
    سکنہ سیالکوٹ
    عمر 40سال سے زائد ۔ بیعت پہلے بذریعہ خط پھر1908ء میںدستی
    میں شیخ مولا بخش صاحب کے پاس ملازم تھا۔ حضرت اقدس جب ۱۹۰۸ء میں لاہور تشریف لائے تو شیخ صاحب بھی اپنے لڑکے کو اور مجھے لے کر گئے۔ ان کا مقصد دراصل یہ تھا کہ لڑکے کو جو بیمار رہتا ہے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ کو دکھائیں۔
    جب ہماری حضرت اقدس سے ملاقات ہوئی تو شیخ صاحب نے اپنے لڑکے کو حضور کی خدمت میں پیش کر کے کہا کہ حضور یہ بھی حضور کا مرید ہے۔ حضور نے فرمایا کہ ’’ ہاں تیس سال کے پہلے انسان کا پتہ نہیں ہوتا۔ ‘‘ خدا کی قدرت اب وہ غیر مبائع ہے۔ ’’ غیر مبائع بھی ایسا کہ جو اپنے سسرال کو لکھ کر دے چکا ہے کہ میرا احمدیت سے کوئی تعلق نہیں۔ کیونکہ اب اس نے دوسری شادی کرنی تھی اور سسرال والے کہتے تھے کہ یہ تحریر لکھ کر دو کہ تم احمدی نہیں۔ چنانچہ اس نے یہ تحریر لکھ دی۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۶


    روایات
    میاں محمد نواز خان صاحب ولد عطا محمد خان صاحب
    سکنہ ڈیرہ اسماعیل خاں حال سیالکوٹ
    عمر قریباً 50سال ۔ سن بیعت 1907ء
    میں غیر احمدی تھا مگر میری بیوی احمدی تھی۔ حافظ عبدالعزیز صاحب احمدی کی ہمشیرہ تھی۔ حضرت صاحب جب ۱۹۰۴ء میں سیالکوٹ تشریف لائے تو اس وقت مولوی ثنا اللہ صاحب نے سخت مخالفت کی تھی۔ اس شورش کے بعد میں مولوی مبارک علی صاحب کے ساتھ سالانہ جلسہ پر گیا۔ مولوی عبدالواحد صاحب جو آجکل میرٹھ میں سائیکل مرچنٹ ہیں وہ بھی ساتھ تھے۔ خواجہ کمال الدین صاحب اور ڈاکٹر بشارت احمد صاحب نے بھی بیعت کرانے میں میری امداد کی۔ مولوی صدرالدین صاحب میرے دوست تھے۔ میرا حضور سے تعارف کرایا گیا۔ مگر میں حضور سے بات کرنے میں حجاب رکھتا تھا۔ مولوی مبارک علی صاحب نے عرض کی کہ حضور یہ علاقہ صوبہ سرحد کے ہیں۔ سیالکوٹ میں ملازمت کے سلسلہ میں رسالہ نمبر ۱۵ میں اسکوڈر لائٹر ہیں ۔ بیوی ان کی احمدی ہ۔ بہت لگائو ہے۔ لیکن والدین کی مخالفت سے بہت ڈرتے ہیں اور بیعت کے لئے یہ آئے ہیں۔ حضور نے فرمایا بغیر مشکلات اور تکالیف کے کوئی اعلیٰ چیز میسر نہیں ہوتی۔ اور پھر خدا تعالیٰ کی ہستی کو حاصل کرنے کے لئے اگر انسان مشکلات میں مبتلا نہ ہو تو کس طرح صادق الایمان ہو سکتا ہے۔ ‘‘ اس کے بعد حضور نے میری بیعت لی۔ بیعت کرنے والے اور بھی بہت سے دوست تھے۔ یہ بیعت مسجد اقصیٰ میں ہوئی۔ تب میں بیعت کر کے سیالکوٹ ایا اور نماز جمع پڑھنے کے لئے غلام قادر اینڈ سنز صدر بار سیالکوٹ حسن کا سارا خاندان احمدی تھا۔ ان کو ہمراہ نماز پڑھنے کو جا رہا تھا کہ مسجد کے کونے میں میرے والد صاحب۔ چچا اور چند ایک فوجی سپاہیوں نے مجھ کو پکڑ لیا اور مجھے ملزم کی طرح گرفتار کر کے کور نمبر 32کے حوالات میں بند کر دیا۔ غلام قادر صاحب اور جند اور معزز احمدی انسپکٹر پولیس کے پاس گئے اور تمام حالات ان کو سنائے۔ انسپکٹر صاحب فوراً موقعہ پر آئے اور حوالات سے مجھے رہائی دلائی رہائی کے بعد انہوں نے مجھے کہا کہ یا تو تم میرے گھر سے نکل جائو یا اس بیوی کو طلاق دے دو۔ کیونکہ اس کی وساطت سے تم نے اپنا دین خراب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ میں نے تو دین کو سنوارا ہے۔ خراب نہیں کیا۔ اور نہ میں اپنی بیوی میں کوئی نقص دیکھتا ہوں۔ ہاں خوبیاں بیشمار ہیں۔ اخیر میرے رشتہ دار چچا۔ تایا۔ والد صاحب اور محلہ داروں نے مجھے ہو کر کہا کہ ایسی ……… میں کہ تم احمدی ہو۔ ان کے ساتھ رہ نہیں سکتے۔ میری بیوی کے زیورات ۔ کپڑے اور میرے کپڑے اور سامان سب کچھ اپنے قبضہ میں کر لیا اور مجھ کو گھر سے نکال دیا۔ اس کے بعد وہ میرے رسالہ میں گئے جہاں میں ملازم تھا۔ وہاں کہا کہ چونکہ یہ عیسائی ہو گیا ہے اس لئے یہ اب اسلامی رسالہ میں ملازمت کے لائق نہیں رہا۔ اخیر جب میں نے رسالہ میں بھی بہت تکلیف اٹھائی تو اپنا نام خارج کرا لیا۔ اس کے بعد میں نے حافظ عبدالعزیز صاحب کی امداد سے سلسلہ چھاپہ خانہ میں ملازمت کی اور آج تک اپنے وطن نہیں گیا۔ اور والدین اور رشتے داروں کو چھوڑ دیا۔ اور خدا کی رضا کے ساتھ اکیلا گزارا کر رہا ہوں۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۶
    ایک اور قابل ذکر بات یاد آگئی۔ ۱۹۰۶ء میں یہاں سیالکوٹ میں طاعون کا از حد زورشور تھا۔ رسالہ بند ہو گیا۔ ہر طرف مردے ہی مردے نظر آتے تھے۔ مولوی مبارک صاحب صدر میں مولا بخش صاحب کے مکان پر ……… رہے تھے ۔ میں لیٹا ہوا تھا۔ مجھے بھی طاعون کی گلٹی نکل آٖی۔ میں نے دعا کی کہ یا مولا میں نے وت تیرے مامور کو مان لیا ہے اور مجھے بھی گلٹی نکل آئی ہے۔ بس اب میں تو گیا۔ مگر خدا کی قدرت کہ صبح تک وہ گلٹی غائب ہو گئی۔ اور میرا ایک ساتھی محمد شاہ ہوا کرتا تھا ۔ اسے میں نے دیکھا کہ مرا پڑا ہے۔ محمد شاہ اور میں دونوں ایک کمرہ میں رہتے تھے۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۶








    روایات
    حافظ محمد شفیع صاحب ولد منشی فقیر اللہ صاحب
    سکنہ سیالکوٹ
    عمر قریباً 70سال ۔ سن بیعت 1891ء
    جن ایام میں حضرت اقدس علیہ السلام یہاں کچہری میں ملازم تھے۔ میرے والد صاحب امریکن مشن کے سکول میں مدرس تھے۔ حضرت صاحب کے ساتھ ان کی بہت دوستی تھی۔ یہاں سے نزدیک ہی ایک بیٹھک ہے جس میں حضرت اقدس ان ایام میں رہا کرتے تھے۔ ایک اور شخص خلیل نام تھا۔ اس کے ساتھ بھی حضرت اقدس کو محبت تھی۔ جب حضور کچہری سے تشریف لائے تھے۔ خلیل اور میرے والد صاحب دونوں اپ کے پاس پہنچ جاتے تھے۔
    ہمارے محلہ جنڈانوالہ میں جو کنواں ہے اس کا پانی بہت ٹھنڈا تھا۔ حضرت اقدس فرمایا کرتے تھے۔ ’’ فقیر اللہ بھائی ٹھنڈا پانی پلائو۔ ‘‘ کبھی خلیل کو بھی کہتے تھے۔
    ایک روز کا ذکر ہے کہ آپ بیٹھک میں جو چوبارہ کی صورت میں تھی۔ بیٹھے ہوئے تھے۔ اچانک آپ باہر نکل آئے ۔ فرمانے لگے۔ فقیر اللہ بھائی جلدی باہر آجائو۔ اور خلیل آپ بھی چلے آٖیں۔ جلد ہی باہر آجائو۔ جس وقت دونوں باہر آگئے۔ چوبارہ کی چھت اس وقت گر گئی۔ اس پر آپ نے وہ مکان چھوڑ دیا۔ اور پھر کشمیری محلہ میں میرے نانا فضل الدین صاحب کے مکان کا ایک حصہ لیا۔ وہ مکان اب ماسٹر عبدالعزیز صاحب کے پاس ہے۔ ماسٹر صاحب فوت ہو گئے ہیں۔ بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں۔ اب مکان میں ان کے بچے رہتے ہیں۔کچہری سے حضور جب واپس آتے تھے۔ دروازہ بند کر لیتے تھ۔ صحن میں ٹہل کر قرآن مجید پڑھا کرتے تھے۔ قرآن پڑھتے پڑھتے سجدہ میں گر جاتے تھے۔ اور آدھا آدھا گھنٹہ سجدہ میں رہتے تھے۔ میری والدہ اور ماموں ذکر کرتے تھے۔ کہ جب حضرت اقدس سجدہ سے اٹھتے تھے۔ تو ہم دیکھتے تھے کہ زمین آنسوئوں سے تر ہو گئی تھی۔
    نوٹ :۔ میری والدہ صاحبہ کی وفات کو ابھی سال ہی گزرا ہے۔ ایک سو آٹھ سال کی عمر پا کر فوت ہوئی ہیں۔ گزشتہ مئی میں ان کی وفات ہوئی ہے۔ ان کی صحت اس وقت تک اچھی تھی۔
    حضرت اقدس کی روتی میرے نانا صاحب کے گھر میں ہی دونوں وقت پکا کرتی تھی۔ میری والدہ حضور کی خدمت میں روٹی پہنچایا کرتی تھی۔ کبھی نانا صاحب روٹی لایا کرتے تھے۔ کبھی ماموں صاحب ۔
    جب کچہری سے تنخواہ آتی تو اپنا خرچ رکھ کر باقی بیوہ عورتوں میں یا تو نقدی کی صورت میں تقسیم کر دیتے یا کپڑے بنا دیتے۔ میں نے اپنے ماموں سے سنا انہوں نے حضرت صاحب کی بیعت نہیں کی۔ ان کو تین دفعہ ان کے والد صاحب خواب میں دکھائی دئیے اور انہوں نے فرمایا کہ تم کیوں نامراد دنیا سے گزر رہے ہو۔ اور بیعت نہیں کرتے۔ میرا نانا صاحب کی وفات کو عرصہ گزر چکا ہے ۔ میں اس وقت قریباً بیس بائیس سال کا ہوں گا۔
    یہ ساری باتیں میں نے اپنی والدہ اور ماموں سے سنی ہیں۔ یہ چوبارہ کے گرنے والی بات میں نے خلیل سے سنی ہے۔ ان کی وفات 70سال کی عمر میں ہوئی تھی۔ ان کی وفات کو بھی بیس پچیس سال گزر چکے ہیں۔ افسوس کہ حضور از حد تو یقین کرنے کے باوجود وہ بھی حضور کی خدمت میں حاضر نہ ہو سکے۔ ارادہ کرتے رہے۔
    ہمارے استاد حافظ سلطان نے لڑکوں سے حضور پرراکھ پھینکوائی تھی۔
    جب حضور یہاں سے تشریف لے گئے۔ تو جن لوگوں نے ۱۹۰۴ء میں سخت مخالفت کی تھی۔ ان کے نام حضرت اقدس کی خدمت میں حضور کے فرمان کے مطابق لکھے تھے۔ وہ آدمی یہ تھے۔
    (۱) حافظ امام الدین کبوتراں والی مسجد میں پڑھے تھے مگر امام اراضی یعقوب کی مسجد کے تھے۔
    (۲) چراغ ماشکی بڑا سخت مخالف تھا۔
    (۳) ایک غلام محمد ولد جانی تھا یہ بھی سخت معاند تھا۔
    (۴) حافظ سلطان میرے استاد وغیرہ وغیرہ ۔ حافظ سلطان جنڈانوالہ محلہ میں رہتا تھا۔ ایک ہفتہ میں ان کے خاندان کے ۳۳ افراد طاعون سے ہلاک ہو گئے۔ ان کے محلہ میں سے کوئی شخص گزرتا نہیں تھا۔سارے معاند جن کا ہم نے حضور کی خدمت میں نام لکھا تھا۔ طاعون سے ہلاک وہ گئے اور ہم نے یہ عبرتناک نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
    ۱۹۰۴ء میں جب حضرت اقدس یہاں تشریف لائے تھے۔ تو حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سے دریافت کیا کہ میاں فضل الدین کی اولاد سے کوئی یہاں موجود ہے یا نہیں۔ مولوی صاحب نے عرض کیا کہ ان کی لڑکی اور دو لڑکے زندہ ہیں یعنی میری والدہ اور ماموں۔ چونکہ ماموں مخالفین کے ساتھ تعلق رکھتے تھے اس لئے نہ میں نے ان کو کہا اور نہ وہ ملے۔ ہاں میری والدہ کی حضور سے ملاقات ہوئی تھی۔ میں مولوی عبدالکریم صاحب کے فرمان کے مطابق والدہ کو حضور کے پاس لے گیا تھا۔ حضور نے میری والدہ سے میرے والد صاحب کی بابت پوچھا کہ ان کی وفات کب ہوئی ہے۔ عرض کیا کہ حضور میری عمر ۲۵ سال کی تھی جب ان کی وفات ہوئی ہے۔ میں نے اپنے چار بچوں کو محنت مشقت کر کے پالا ہے۔
    نوٹ:۔ ایک میں تھا تین بہنیں تھیں۔
    میرا تعارف مولوی عبدالکریم صاحب نے کرایا تھا۔ عرض کیا کہ حضور کہ فقیراللہ کا لڑکا ہے۔ حضور نے بڑی محبت سے میرے ساتھ مصافحہ کیا اور پیٹھ پر تھپکی دی۔
    میری والدہ صاحبہ نے سنایا کہ حضرت اقدس جب کچہری سے واپس تشریف لایا کرتے تھے تو گائوں کے زمیندار بھی پیچھے پیچھے آیا کرتے تھے۔ حضور میرے نانا صاحب کو فرمایا کرتے کہ فضل دین ان کو سمجھا دو کہ میرے پیچھے نہ آیا کریں۔ چنانچہ میرے نانا صاحب ان کو کہتے کہ ان کو اگر ملنا ہو تو کچہری میں ہی ملا کرو۔ یہاں ان سے کیا لینا ہے۔
    والدہ صاحبہ فرمایا کرتی تھیں کہ حضرت اقدس نے کبھی آنکھ اٹھا کر کسی کو نہیں دیکھا تھا۔ کچہری جاتے تو بھی نیچی نظر کر کے گزر جاتے اور واپس آتے تو بھی اسی طرہ سے۔
    والدہ صاحب نے ۱۹۰۴ء میں بیعت کی تھی۔
    میں نے ۱۸۹۱ء میں بذیعہ خط بیعت کی تھی۔ میں نے قرآن مجید کا ترجمہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سے پڑھا تھا۔ عربی کی چند کتب بھی ان سے پڑھی تھیں۔ قرآں مجید حافظ سلطان سے حفظ کیا تھا۔ جس کا ذکر پہلے گذر چکا ہے۔میں گیارہ ماہ کا تھا کہ میرے والد صاحب کی وفات ہوئی اور تین سال کا تھا کہ چیچک کے نکلنے سے میری بینائی بھی جاتی رہی۔
    جب طاعون زور کی پڑی ۱۹۰۴ء میں حضور کے لیکچر کے بعد تو میں ان ایام میں فیروز پور تھا۔ ہمارا تمام محلہ طاعون سے تباہ ہو گیا مگر میری والدہ اور میرا خاندان محفوظ رہے۔
    میری بیعت کا واقعہ اس طرح ہے کہ ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک سانپ میری طرف دوڑتا ہوا آرہا ہے۔ ایک بزرگ بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ چمٹا سے پکڑ کر اس سانپ کو چولہے میں جلا دو۔ تمہارے پاس ہی چولہے میں آگ جل رہی ہے۔ میں نے اس سانپ کو پکڑ کر چولہے میں ڈال دیا۔ اس کے جلنے کی اس قدر بو ائی کہ جب حیران ہو گیا اور تین دن تک میرے دماغ میں وہ بو رہی۔ اور میں اپنے آپ سے تین دن بو کی وجہ سے بیزار رہا۔ مولوی صاح کو بھی میں نے بتایا کہ میرے دماغ مین اس خواب میں جو سانپ جلایا تھا اس کی بو آرہی ہے۔
    خدا کی قدرت صبح کو میں بازار میں گیا اور ایک شخص سلے جن میں سے تل نکلتے ہیں۔ پیچ رہا تھا۔ اسے میں اپنے مکان پر لے آیا۔ اور اس کے سر سے وہ سلے اتار کر مین نے اندازہ کیا کہ کتنے دران کے ہیں۔ منشی عبداللہ صاحب معاد کی والدہ مائی بھاگن تھی وہ دروازہ میں کھڑی تھی اس نے کہا کہ ہائے نی میں مر گئی میں نے کہا مائی تجھے کیا ہوا ہے کہنے لگی تیرے پائوں پر سانپ چڑھ رہا ہے میری جوتی پر سانپ کی سری پہنچ چکی تھی میں چھلانگ لگا کر پرے جا پڑا۔ تتھو ایک ہمسایہ تھا۔ اس نے میرے ہاتھ سے سوٹی لے کر اس سے اس سانپ کو مار دیا۔میں نے مولوی صاحب سے ان تمام باتوں کا ذکر کیا اور ساتھ ہی چو نکہ خواب میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ یہ مرزا صاحب ہیں۔ مسیح موعود جو تمہیں کہہ رہے ہیں کہ سانپ کو چولھے مین ڈال دو۔ اس لئے اس بات کا بھی ذکر کیا۔ مولوی صاحب نے مجھے تحریک کی کہ بیعت کر لو۔ اس وقت تک مولوی عبدالکریم صاحب نے ہجرت نہیں کی تھی۔ یہاں ہی رہا کرتے تھے۔ ان کی تحریک پر میں نے بیعت کر لی ۱۸۹۱ء میں۔
    نشان انگوٹھا حافظ محمد شفیع صاحب
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۶





    روایات
    میاں عبدالعزیز صاحب ولد میاں وزیر احمد صاحب
    سکنہ سیالکوٹ شہرمحلہ حکیم حسام الدین
    عمر قریباً 65`64سال ۔ سن بیعت 1897ء
    میں نے پہلے بذریعہ خط بیعت کی تھی۔ پھر مسجد اقصیٰ میں جا کر دستی بیعت بھی کی تھی۔ چونکہ اب میں بیمار ہوں۔ جوڑون میں درد رہتی ہے۔ اس لئے حافظہ درست نہیں رہا۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۶





    روایات
    میاں نبی بخش صاحب ولد میاں عبداللہ صاحب
    سکنہ سیالکوٹ
    عمر قریباً 80سال ۔ سن بیعت 1904ء
    حضرت اقدس نے ابھی دعویٰ نہیں کیا تھا کہ میں نے جواب دیکھا کہ حضرت اقدس جس مکان میں یہاں رہتے تھے ۔ اس کے چبوترے پر بیٹھے ہیں اور خلقت آپ سے مصافحہ کرتی جاتی ہے۔ اور جو لوگ مصافحہ کرتے ہیں وہ جنت کی طرف چلے جاتے ہیں۔
    جس وقت حضرت اقدس ۱۹۰۴ء میں یہاں تشریف لائے تھے۔ میں نے حضور کی شکل دیکھ کر فوراً پہچان لیا کہ یہی وہ شخص تھا جس کو میں نے خواب میں دیکھا تھا۔ اس وقت مجھے پتہ لگا کہ جو مکان میں نے دیکھا تھا اس مین حضور ملازمت کے ایام میں رہ بھی چکے ہیں۔ وہ مکان اب ماسٹر عبدالعزیز صاحب کے قبضہ میں ہے وہ خود تو فوت ہو چکے ہیں۔ مگر ان کی اولاد اس مکان میں رہتی ہے۔
    نشان انگوٹھا۔ میاں نبی بخش صاحب
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹؍۶؍۱۶

    روایات
    مستری محمد الدین صاحب ولد مستری الہ دین صاحب
    سکنہ سیالکوٹ
    عمر قریباً 70سال ۔ سن بیعت 1891ء یا 1892ء
    میںمولوی غلام حسن صاحب کے ……… میں شامل ہوا کرتا تھا۔ مولوی احمد دین صاحب جو مولوی محمد ابراہیم سیالکوٹی کے رشتے دار تھے وہ حضرت اقدس کا ایک اشتہار لے آئے اور مولوی غلام حسن صاحب کے پیش کر دیا درس ان کے گھر میں ہی ہوتا تھا۔ اور اس وقت گھر میں ہی درس رہے رہے تھے۔ انہوں نے وہ اشتہار پڑھا تمام مجلس سمیت انہوں نے دعا کی کہ یا الٰہی اگر یہ سچا امام مہدی ہے تو ہمیں ماننے کی توفیق عطا فرما پھر کتابیں نکالنے لگے ۔ مجھے اس بات سے تکلیف ہوئی کہ جب ہم نے دعا کی ہے تو پھر یہاں ……… نکالنے کی کیا ضرورت ہے۔ میں نے سیالکوٹ سے کسی احمدی کی تلاش کی۔ مگر مجھے کوئی نہ ملا۔ پھر میں نے سنا کہ جموں میں بعض احمدی ہیں۔ میں جموں گیا ۔ خلیفہ نورالدین صاحب سے ملاقات کی۔ وہ پہلے کے دوست تھے۔ احمدی ہو چکے تھے۔ ان کے ہمراہ جا کر بیعت کی مولوی عبدالکریم صاحب قادیان میں موجود تھے۔ انہوں نے حضور سے میرا تعارف کرایا۔ کہ یہ سیالکوٹ کا رہنے والا ہے پہلے اکیلے اہلحدیث ہوئے اب اس طرف آئے ہیں۔ حضرت صاحب یہ سن کر بڑے خوش ہوئے اور بیعت قبول فرما لی۔جب میں واپس آیا تو آتی دفعہ ازالہ اوہام کی ایک کاپی ساتھ لایا۔ جب مولوی غلکام حسن نے مجھے دیکھا تو کہا کہ کیا ازالہ لائے ہو۔ میں نے کہا ہاں لایا ہوں۔ کہنے لگ ادھر لائو۔ مرزا صاحب فرشتوں کے منکر ہیں۔ میں تمہیں دکھاتا ہوں۔ میں نے ٹائیٹل پیج ہی دیکھا تو اوپر لکھا ہوا تھا ۔ امنت باللہ وملائکۃ وکتبہ ورسلہ پھر میں مولوی صاحب کے پاس نہیں گیا۔
    جس رمضان میں سورج اور چاند کو گرہن لگا ہے۔ اس میں مولوی غلام حسن صاحب سناروں والی مسجد میں ایک حافظ کے پیچھے تراویح پڑھا کرتے تھے۔ قادیان سے کچھ اشتہار ائے میں وہ لے کر سیدھا مسجد میں گیا اور مولوی صاحب کو دے دیا۔ مولوی صاحب نے وہ اشتہار ہاتھ سے چھوڑ دیا۔ ایک شخص محمد عبداللہ ہوا کرتا تھا۔ اس نے کہا کہ مولوی صاحب مرزائی تو سب نیازیں دے رہے ہیں کیونکہ چاند کو گرہن لگ رہا ہے۔ اور آپ نے اشتہار ہی چھوڑ دیا ہے۔ اور کہنے لگے کہ وہ چاند کو گرہن تو اس کی پہلی تاریخ کو لگے گا۔
    مولوی میر حسن صاحب جو ایک مشہور عالم تھے وہ بھی اس جگہ موجود تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ مولوی صاحب اس دن تو چاند ہی مشکل سے نظر آتا ہے۔ اور یہ تو دھوکے والی بات بن جاتی ہے۔
    عبداللہ نے مولوی محمد لکھوکے والے کی کتاب کا حوالہ دیا کہ وہ لکھتا ہے۔ ’’ تیر……… ………… سورج گرہن ہوسی …………‘‘ مولوی صاحب کہنے لگے کہ مولوی محمد کوئی رسول ہے کہ اس کی بات مانی جائے۔ عبداللہ نے کہا کہ وہ تو حدیث کا ترجمہ کر رہا ہے۔ اس پر مولوی صاحب خاموش ہو گئے۔
    اس کے بعد میں احُد پور ریاست بہاولپور میں چلا گیا ۔ بڑی مدت وہاں رہا۔ حضرت اقدس کو میں نے لکھا کہ یا حضرت میری اولاد نہیں بچتی۔ حضور نے جواب میں لکھا کہ کم از کم چھ ماہ اور زیادہ سے زیادہ ایک سال اپنی عورت کو اپنے سے الگ کر دو۔ آپ کے لئے دعا کی گئی ہے۔ اور دوا بھی زیر تجویز ہے۔ بعد میں لکھیں گے۔ چنانچہ میں نے عورت کو گھر بھیج دیا آٹھ بچے فوت ہو چکے تھے۔ حضور کی دعا کے نتیجہ اللہ تعالیٰ نے ایک لڑاک دیا جس کا نام عبدالرحمان ہے اور اب تک خدا تعالیٰ کے فضل سے زندہ موجود ہے۔ جب حضرت اقدس ۱۹۰۴ء میں یہاں تشریف لائے اور میں نے اس لڑکے کو پیش کیا تو فرمایا کہ ’’ انشاء اللہ یہ لڑکا حیاتی والا ہو گا۔ ‘‘
    بہاولپور سے میں ایک دفعہ بمعہ اہل و عیال گیا ۔ حضور نے میری ایک لڑکی کے متعلق فرمایا کہ اسے کسٹرائیل دیا کرو وہ لڑکی دعا کرانے کے پہلے کی تھی۔ وہ فوت ہو گئی۔
    حضور نے اس دفعہ فرمایا کہ آپ جب آیا کریں تو اپنے روزار ساتھ لایا کرو۔
    چنانچہ پھر جب میں قادیان گیا تو اپنے اوزار ساتھ لے کر گیا۔ اور اندر کہلوا بھیجا کہ حضرت میں اپنے اوزار لے کر آیا ہوں کوئی کام بتایا جائے۔ حضور نے بلوایا اور مرمت کے کام بتائے۔ میں نے وہ کام کئے پھر فرمایا کہ دیکھو نوکری کی بابت کچھ خیال نہ کرنا کسان کی فصل کبھی لگتی ہے اور کبھی نہیں لگتی اگر ہمیشہ لگے تو وہ خدا سے بھای غافل ہو جائے۔
    تین دن کے بعد میں واپس چلا آیا۔ اور پھر جا کر نوکر ہو گیا۔ کئی ماہ کے بعد پھر نوکری چھوڑی۔ اور سارا سامان لے کر قادیان پہنچ گیا۔ تین دن رہا۔ کام کیا پھر رخصت مانگی۔ حضور نے رخصت دی۔ اور ایک کو بلایا۔ فرمایا ان کا سامان بٹالہ پہنچائو۔ وہنگی میں سامان لاد لیا۔ جب بٹالہ پہنچے تو آگے ایک ٹانگے والا مل گیا میں نے جھور کو واپس کر دیا اور ٹانگے والے کے ساتھ چھرانہ کر کے یہاں بٹالہ پہنچایا۔ سیالکوٹ پہنچنے کے بعد یہاں سے پانچ چھ میل کے فاصلہ پر ایک بنگلہ ہے۔ وہاں بخاری کا کام کیا کرتا تھا۔ کہ خبر ملی کہ حضور کی وفات ہو گئی ہے ۔ میں انگریز افسر سے اجازت لے کر فوراً قادیان پہنچا۔ مگر حضور کی لاش مبارک کو دفن کیا جا چکا تھا۔
    مستری محمد الدین بقلم خود
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۶
    ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ میں مسجد مبارک میں گیا۔ چند علماء موجود تھے جو کسی شادی سے واپس آئے تھے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام جب تشریف لائے تو پہلا سوال یہ کیا کہ سنائو کوئی پادری یا کوئی مولوی سفر میں ملا تھا۔ ہر ایک نے اپنا اپنا واقعہ بیان کیا۔ حضرت صاحب بہت خوش ہوئے اور پھر شام کی نماز پڑھی گئی۔
    میرے دل میں اس وقت خیال آیا کہ حضور کو اگر فکر ہے تو دین کی۔ حضور نے یہ ہرگز نہیں پوچھا کہ شادی میں کیا حالات پیش آئے بلکہ اگر کچھ پوچھا ہے تو دین کی بات ہی پوچھی ہے۔
    ایک دفعہ میں قادیان گیا کسی جلسہ کے موقع تھا اڑھائی تین سو آدمی مسجد اقصیٰ میں جمع تھے۔ بابا ہدایت اللہ لاہوری بھی اس مجلس میں موجود تھے۔ اتنے میں حضرت اقدس کی عمر کا کوئی شخص اٹھا۔ اور حضور سے بغل گیر ہو گیا اور زار زار رونے لگا۔ جب ذرا دیر ہو گئی تو لوگوں نے تقاضا کیا کہ بھئی اب چھوڑو۔ ہمیں کچھ سننے بھی دو۔ اس شخص نے کہا کہ آپ لوگ اس شخص کے مرتبہ سے ناواقف ہیں۔ کہ وہ امام مہدی ہے جس کی انتظار میں ہمارے باپ دادا گزر گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس امام کا زمانہ عطا کیا ہے۔ اس لئے میں مجبور ہوں۔
    حضرت اقدس جب جہلم تشریف لے گئے تو احاطہ کچہری میں ایک کرسی پڑی تھی جو حضور کے لئے بچھائی گئی تھی۔ اس پر حضور تشریف فرما ہوئے ۔ حضور کا بیٹھنا تھا کہ چاروں طرف سے لوگ ہجوم کر کے آگئے میں حضور کے بالکل قریب بیٹھا تھا۔ ایک شخص نے فارسی زبان میں کوئی سوال کیا ۔ حضرت اقدس نے فارسی میں ہی جواب دینا شروع کیا اس پر کسی شخص نے عرض کیا کہ حضور ہمیں فارسی کی سمجھ نہیں آتی حضور اردو میں تقریر کریں۔ حضور نے فرمایا کوئی سوال کرو ۔ اس پر کسی شخص نے ایک سوال کیا جس کے جواب کے ضمن میں حصور نے ایک مثال بھی پیش کی کہ ایک شخص تھا اس کی دو لڑکیاں تھیں۔ ایک بیٹ میں رہتی تھی دوسری بار میں۔ جب بارش ہوتی تو بیٹ والی کی وجہ سے اس کو فکر پڑ جاتی اور جب خشک سالی ہوتی تو بار والی کی وجہ سے اس کو تکلیف ہوتی۔ غرضیکہ اس طرح کی ایک مثال بیان کی جسے میں صحیح صحیح بیان نہیں کر سکتا۔ مستری محمد الدین بقلم خود
    الراقم عبدالقادر۔ ۳۹۔۶۔۱۷
    روایات
    میاں عمر الدین صاحب ولد میاں نتھو صاحب
    سکنہ محلہ اراضی یعقوب۔سیالکوٹ
    عمر قریباً 60سال ۔ سن بیعت 1897ء
    ہمارے محلہ میں غلام حسن ۔ غلام حسین نمبردار اور غلام علی تینوں بھائی احمدی تھے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات وفات کے متعلق مولوی ابراہیم صاحب سے دریافت کرو کہ کیا ہم صحیح کہتے ہیں یا غلط۔ ہم تین چار مخالف آدمی مولوی ابراہیم کے پاس گئے۔ اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا۔ جو دلائل ہم زندگی کے متعلق دیا کرتے تھے۔ میں ابراہیم کے پاس جا کر ان کے مخالف احمدیوں کے دلائل دینے لگ پڑا۔ میں نے مولوی ابراہیم صاحب سے تحریر مانگی۔ مگر اس نے انکار کر دیا۔ اور کہا کہ میں یوں سمجھتا ہوں تحریر نہیں دیتا۔ اس نے غصہ میں آکر میرے ایک ساتھی تو چپیڑ ماری۔ ہم اس کا یہ سلوک دیکھ کر واپس چلے آئے اور بذریعہ خط میں نے بیعت کر لی۔ میرا ایک اور ساتھی تھا اس کا نام بھی عمرالدین تھا۔ اس نے میرے بعد بیعت کی۔
    بیعت کے ایک ماہ بعد میں قادیان دستی بیعت کرنے کے لئے گیا او ربیعت کی۔
    بقلم خود عمرالدین
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۶

    روایات
    میاں مہر عمر الدین صاحب ولد مہر منصب دار صاحب
    سکنہ سیالکوٹ
    عمر قریباً 70سال ۔ سن بیعت 1893ء
    میرے تایازاد بھائی مہر غلام حسن صاحب پہلے احمدی تھے یہ ہمیں تحریک کیا کرتے تھے یہاں کے لوگوں میں حصرت اقدس کے متعلق بہت بری بری باتیں مشہور تھیں۔ کہ نعوذ باللہ ان کو کوڑھ ہو گیا ہے۔ وغیرہ وغیرہ
    ہم یہاں سے تین آدمی پیدل چلے۔ قادیان پہنچے۔ تو حضور کی بیعت کی۔ حضور صبح سیر کو اس طرف گئے جہاں اب ہائی سکول اور مسجد نور ہے۔ بُڑھ کے درخت کے نیچے کھڑے ہو رک کہا کہ یہاں ایک زمانہ میں مکان ہی مکان ہوں گے۔ اس وقت وہ جگہ بالکل بیابان تھی۔ دو دفعہ یہ فقرہ کہہ کر حضور وہان سے واپس آگئے۔ چند آدمی ساتھ تھے۔ پھر ہم واپس آگئے۔
    مہر عمر الدین
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۶
    نوٹ:۔ مہر غلام حسن صاحب جن کا اوپر ذکر آچکا ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ۱۸۹۸ء میں بیعت کی تھی اور مہر عمر الدین صاحب نے میرے بعد بیعت کی ہے۔ ان کا یہ بیان کہ ۱۸۹۳ء میں انہوں نے بیعت کی ہے۔ ان کی حافظہ کی کمزوری ہے۔ عبدالقادر
    روایات
    میاں میراں بخش صاحب ولد میاں رسول بخش صاحب
    سکنہ سیالکوٹ
    عمر قریباً 80`70کے درمیان ہے۔ ۔ سن بیعت 1893ء قریباً
    ہم جلسہ پر قادیا گئے تھے وہاں جا کر بیعت کی ۔ حضور فرمایا کرتے تھے کہ یہاں بار بار آیا کرو۔ یہ مسیح کا زمانہ ہے۔ جس کی لوگ انتطار کرتے تھے۔ یہ پھر ہاتھ نہیں آئے گا۔
    ایک دفعہ میں سخت بیمار ہو گیا تھا۔ یہاں تک کہ صرف پنجر رہ گیا تھا۔ میں نے حضور کی خدمت میں دعا کے لئے لکھا۔حضور کی طرف سے جواب آیا کہ دعا کی گئی ۔ اللہ تعالیٰ شفا دے گا۔ اس کے بعد میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اچھا ہو گیا۔ حالانکہ بڑے بڑے لائق حکیم لا علاج سمجھ چکے تھے اور علاج بند کر دیا تھا۔
    میراں بخش
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۶


    روایات
    حاجی عبدالعظیم صاحب ولد شیخ قطب الدین صاحب
    سکنہ سیالکوٹ
    عمر قریباً70سال ۔ سن بیعت 1904ء
    میں پٹواری تھا۔ سرانوالی کے مولوی عبدالحکیم نے مجھے ایک کتاب عیسائی موسیٰ دی۔ اور تاکید کی کہ اسے پڑھو۔ جب میں نے اسے پڑھا تو وہ دلائل بعد معلوم ہوا اور احمدی کے اچھے۔ پھر میں نے بیعت کر لی خط لکھ کر۔
    حضور نے جواباً لکھا کہ آپ کشتی نوح پڑھا کریں۔ چنانچہ سب سے پہلے میں نے کشتی نوح منگوا کر پڑھی اور اب خدا کے فضل سے میرے پاس دوہزار کتاب ہے۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۶



    روایات
    چوہدری محمد دین صاحب ہیڈ ماسٹر ولد چوہدری امیر بخش صاحب
    سکنہ سیالکوٹ
    عمر قریباً 65سال ۔ سن بیعت 1903ء
    میں نے کبھی حضور کی مخالفت نہیں کی۔ بلکہ بڑے شوق سے میر حامد شاہ صاحب ۔ مولوی عبدالکریم صاحب کی مجلس میں جا کر ان کی باتیں سنا کرتا تھا۔ ان کی باتیں مجھے بہت پایری معلوم ہوتی تھیں۔
    جس دن عبداللہ آتھم نے مرنا تھا۔ احمدی بڑی بیتابی سے اس کی وفات کے تار کی آمد کی انتظار کر رہے تھے۔ میں بھی منتظر تھا۔ جب وقت گزر گیا اور البدر میں خبر آئی کہ ان کو نہ مرنے کے باوجود یہ پیشگوئی سچی نکلی۔ کیونکہ اس میں لکھا ہوا تھا کہ اگر وہ رجوع کرے گا تو بچ جائے گا۔ پہلے ان الفاظ کی طرف کسی کا خیال نہیں تھا۔ پھر غَر سے پڑھا تو یقین ہو گیا کہ یہ پیشگوئی سچی ہو گئی۔
    میں ۱۹۰۳ء میں راولپنڈی میں تھا۔ کہ سنا کہ حضرت صاحب جہلم مقدمہ کے لئے تشریف لا رہے ہیں۔ میں جہلم سحری کے وقت اسٹیشن پر اترا۔ میرے ساتھ ایک سیالکوٹ کا خوچہ تھا۔ میں نے اسے کہا کہ تم کہاں جاتے ہو کہنے لگا کہ مرزا کو دیکھنے چلا ہوں۔ میں نے کہا کیا دیکھنے جاتا ہے کہنے لگا کہ انہوں نے ہاتھوں میں گتھلیاں ڈالی ہوئی ہیں اور منہ پر کپڑا ڈالے رکھتے ہیں میں نے اس کو کہا اگر ایسا نہ ہوا تو پھر اس نے پھر یہی بات دہرائی مجھے اس پر غصہ آیا اور کہا چلو میں تمہیں ابھی دکھاتا ہوں۔ جب ہم کوٹھی کے پاس پہنچے تو وہ کھسک گیا فجر کا وقت تھا۔ کوٹھی کے اندر مولوی محمد احسن صاحب وعظ کر رہے تھے۔ میں نے خیال کیا کہ یہ مرزا صاحب ہیں۔ جب انہوں نے وعظ میں حضرت صاحب کا ذکر کیا تو میں سمجھا کہ یہ مرزا صاحب نہیں ہیں۔ اس کے بعد روٹی کا وقت ہوا۔ سیالکوٹ کے ایک منشی عبداللہ تھے وہ بھی روٹی لگا رہے تھے مجھے دیکھ کر کہا کہ آپ بھی بیٹھ کر روٹی کھا لیں۔ میں نے کہا اچھا۔ مگر میں نے کھائی نہیں۔ میں مرزا صاحب کی تلاش میں تھا۔ میں کوٹھی میں گیا تو مرزا صاحب حضرت مولوی نورالدین صاحب وغیرہ کھانا کھا رہے تھے۔ میرے خیال میں اس وقت آیا کہ اگر مجھے کوئی کہے کہ اس جگہ کھانا کھا لو تو مین بیٹھ جائون میں یہ خیال ہی کر رہا تھا کہ اس منشی عبداللہ نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا ار کہا کہ یہاں بیٹھ جائو اور کھانا کھا لو می اس جگہ بیٹھ گیا۔ حضرت صاحب بھی اس جگہ کھانا کھا رہے تھے۔ میرے دل میں خیال آیا کہ اگر مرزا صاحب کی پلیٹ سے کوئی لقمہ مل جائے تو بڑا خوش قسمت ہوں گا۔ اسی وقت مولوی عبدالکریم صاحب نے حضرت صاحب کے آٗے سے وہ پلیٹ اٹھالی۔ خود بوھی اس میں سے تبرک کھایا اور وہ پلیٹ گھومتی گھومتی میرے پاس بھی پہنچ گئی۔ چنانچہ مجھے بھی اس میں سے ایک لقمہ مل گیا۔
    اس کے بعد اعلان کیا گیا کہ جن وگوں نے بیعت کرنی ہے وہ کر لیں۔ بے شمار لوگ بیعت کے لئے جمع ہو گئے ۔ میں بہت دور بیٹھا ہوا تھا۔ میرے دل میں خیال آیا کہ اگر حصرت صاحب کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت کی جائے تو وہ ٹھیک ہو گی اور میں ایسا ہی کروں گا۔ جو منتظم تھے وہ کہنے لگے کہ بھائی ذرا آگے آگے ہو جائو۔ آگے ہوتے ہوتے میں حضرت صاحب کے نزدیک پہنچ گیا ۔ اور جو کچھ میرے دل میں خیال آیا تھا۔ خدا نے پورا کر دیا۔ اور میرا ہاتھ حضرت صاحب کے ہاتھ پر رکھا گیا۔ باقی لوگوں نے میرے ہاتھ پر اور کندھوں پر اور پگڑیوں کے ذریعہ بیعت کی۔ پھر حضور کچہری میں تشریف لے گئے۔
    ……………… کے احاطہ میں مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی نے بھی مخالفت کرنے کے لئے ایک سٹیج لگا دیا اور لیکچر دینا شروع کیا۔ غلام حیدر تحصیلدار صاحب آئے اور اس سے پوچھا کہ تم کون ہو۔ اس نے جواب دیا کہ مَیں مرزا صاحب کی مخالفت میں لیکچر دینے آیا ہوں۔ اس نے کہا کہ یہاں سے چلے جائو۔ ورنہ دوسری گارروائی کی جائے گی۔ وہ اس وقت وہاں سے چلا گیا۔ بعد میں کورٹ سے اواز پڑی ۔ حضرت اقدس ۔ خواجہ کمال الدین وغیرہ اندر چلے گئے بہت بھیڑ تھی۔ اندر جانا مشکل تھا۔ مگر میں غسل خانہ کے رستہ سے ہو کر اندر چلا گیا۔ حضرت اقدس کو مجسٹریٹ نے کرسی دی۔ حضور بیٹھ گئے۔ کرم دین نے کہا کہ مجھے بھی کرسی دو۔ مجسٹریٹ نے کہا کہ مرزا صاحب تو کرسی نشین ہیں اور رئیس اعظم ہیں۔ اس کے ہاتھ میں مثل تھی۔ وہ بولا کہ یہ محمد حسین کون ہے۔ اس نے کہا کہ میرا بہنوئی ہے۔ مجسٹریٹ نے کہا کہ اچھا جائو۔ مقدمہ خارج تمہاری اس کے ساتھ کوئی ایسی رشتہ داری نہیں ہے کہ دعویٰ کر سکو۔ سالہ رشتہ دار نہیں تھا۔ تم اس کے کسی رشتہ دار کو کہو کہ وہ دعویٰ کرے۔
    ایک دفعہ میں مقدمہ کے دوران میں گورداسپور گیا۔ ……… میں مولوی ثناء اللہ کو دیکھا۔ وہ بھی جا رہا تھا۔ رستہ میں اس نے کسی برف بیچنے والے کا لوٹا لیا اس نے بہت گلایاں دیں جب اسے پتہ لگا کہ یہ تو مولوی ثناء اللہ ہے تو وہ بہت توبہ کرنے لگا اور کہنے لگا کہ میں سمجھا تھا کہ کوئی مرزئی ہے۔ خیر جب میں گورداسپور پہنچا تو حضور کی انتظار کرنے لگا حضور اندر تھے۔ اتنے میں خلیفہ رشید الدین صاحب بھی گاڑی سے تشریف لے آئے۔ میں نے خیال کیا کہ یہ حضور کے رشتہ دار ہیں۔اب حضور بہت جلد باہر تشریف لائیں گے۔ مگر حضور اپنی مرضی سے کچھ دیر کے بعد تشریف لائے۔ اور خلیفہ صاحب سے صرف اس قدر پوچھا کہ آپ کب آئے ہیں۔ انہوں نے عرض کیا کہ حضور ابھی آیا ہوں۔ فرمایا آپ اچھے ہیں۔ بس اتنا ہی کہا ۔ میرا خیال تھا کہ رشتہ داری کی وجہ سے بیوی بچے وغیرہ سب کا حال پوچھیں گے۔ میں نے مصافحہ کر کے مولوی ثناء اللہ والی بات سنائی۔ حضور خفیف سے مسکرائیے۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۶
    روایات
    مہر غلام حسن صاحب ولد میاں مہر نتھو نمبردار
    عمر قریباً 70سال ۔ سن بیعت قریباً 1898ء یا 1889ء
    بیعت سے ایک سال قبل میں نے خواب میں دیکھا اس وقت ہم چکڑالوی تھے۔ اس سے پہلے اہلحدیث تھے۔ ہمارے محلہ میں ایک شخص احمدی آگیا۔ ہم نے اس کا مسجد میں نماز پڑھنا اور کوئیں سے پانی بھرنا بند کر دیا تھا۔ اس لئے کہ ہم اسے دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے تھے۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ ہمارے کوئیں کے مغرب کی طرف امریکن پادریوں کی ایک کوٹھی ہے۔ میں نے دیکھا کہ مغرب کی طرف ایک راستہ ہے۔ راستہ مین ایک آدمی کھڑا ہے۔ اس نے ایک پتنگ اڑائی ہے۔ میں اس ادمی کی طرف بھی دیکھ رہا ہوں اور اس آدمی کو بھی اسی اثنا میں مَیں نے دیکھا کہ اس کوٹھی میں ایک مرقع تخت بچھا ہے۔ اس پر ایک خوبصورت لڑکا بیٹھا تیسری بچا رہا ہے۔ اور تخت ہوا میں لہرا رہا ہے۔ وہ بوڑھا آدمی جو پتنگ اڑا رہا تھا اس نے پتنگ اس لڑکی کی طرف اڑایا۔ یہاں تک کہ پتنگ لڑکے کے سر کے ساتھ لگا۔ اس کا لگنا ہی تھا کہ دھواں پیدا ہو گا۔ نہ وہ تخت رہا نہ لڑکا۔ سب کچھ دھواں ہو گیا۔ پہلے لڑکی کی شکل سیاہ ہوئی۔ پھر دھواں ہو گیا۔ مگر پتنگ کو کوئی نقصان نہ پہنچا۔
    پھر میں نے مولوی فیض دین صاحب کو اس مسجد کبوتراں والی میں آکر خواب سنائی۔ مگر انہوں نے کہا کہ یہ یونہی خیال ہے جانے دو۔
    دوسری خواب :۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ ہم دونوں بھائی بازار میں جا رہے تھے تمام بستی ہندوئوں کی تھی۔ ایک بوڑھے شخص کو ہم نے قرآن پڑھتے سنا۔ جب ہم واپس آئے تو پھر بھی وہ پڑھ رہا تھا۔ می نے دل میں خیال کیا کہ یہ شخص پکا مسلمان اور بے دھڑک آدمی ہے جو ہندوئوں کی بستی میں قرآن پڑھ رہا ہے۔ بیعت کے بعد جب حضرت صاحب کا فوٹو دیکھا تو پتہ لگا کہ یہ وہی شخص ہے جو شخص پہلی خواب میں پتنگ اڑا رہا تھا۔ وہ بھی یہی شخص تھا۔
    بیعت کا واقعہ۔ اس مسجد میں مَیں اور مولوی فیض دین صاح بیٹھے تھے ایک شخص بنام رحیم بخش صاحب قوم درزی یہاں آیا آکر کہنے لگا کہ مولوی صاحب آج طبیعت بہت پریشان ہے۔ میں نے اس کی وجہ پوچھی۔ تو وہ بیان کرنے لگی کہ حامد شاہ ایک فرشتہ اور باخدا آدمی ہے۔ ہندو مسلمان ان کی تعریف کرتے ہیں۔ آج ان سے بہت غلطی ہوئی ہے۔ آج انہوں نے اپنے ماموں عمر شاہ کو کہا ہے کہ ماموں جان آپ کا حضرت ابن مریم کے تعلق کیا خیال ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ بیٹا میرا تو یہی مذہب ہے کہ وہ زندہ آسمان پر ہیں کسی زمانہ میں امت محمدیہ کی اصلاح کے لئے آئیں گے۔ شاہ صاحب نے کہا کہ ماموں صاحب آج سے آپ میرے امام نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ یہ عقیدہ مشیرکانہ ہے۔ کہ ایک انسان کو حی و قیوم اور لازوال مانا جائے۔ دوسری بات یہ کہ سید و مولا سرورکائنات کی اس عقیدہ سے بٹی ہتک ہوتی ہے کہ وہ تو زمین میں مدفون ہوں۔ اور حضرت عیسیٰ آسمان پر اٹھائے جائیں۔ عمر شاہ نے اس پر کہا کہ اچھا بیٹا آپ آگے کھڑے ہوا کریں۔ اور میں پیچھے پڑھا کروں گا۔
    میں نے یہ باتیں سنتے ہی کہا کہ مولوی صاحب میں نے مان لیا ہے کہ مسیح مر گیا ہے اگر مسیح زندہ رہیں تو توحید میں بڑا فرق آتا ہے۔ آپ یہ مت خیال کریں۔کہ احمدی ہوں۔ میں ابھی تک احمدی نہیں۔ مگر مرزا صاحب کی یہ بات ضرور سچی ہے۔ میں کبھی گوارا نہیں کر سکتا کہ محمد رسول اللہ صلعم کی ہتک کی جائے۔ مولوی صاحب نے میرے منہ کے آگے ہاتھ رکھ دیا۔ میں نے کہ ا۔ مولوی صاحب کیوں روکتے ہیں؟ مولوی صاحب نے کہا کہ اگر آپ کا عقیدہ ہو گیا ہے کہ مسیح مر گیا ہے۔ تو اتنا جوش و خروش دکھانے کی کیا ضرورت ہے۔ میں نے کہا مولوی صاحب مسجد سے نکلتے ہی منادی کرتا چلا جائوں گا۔کہ اگر حضرت عیسیٰ آسمان پر ہے ت ومحُد رسول اللہ کی ہتک ہے یہ میری جان گوارا نہین کر سکتی میں نے جاتے ہی اپنے والد صاحب کو سمجھایا اور میرا بڑا بھائی غلام حسین جو عارف والے کا امیر جماعت ہے۔ وہ دونوں جل کر آٗ بگولا ہو گئے اور میرا نام دجال۔ ملعو ن وغٓرہ رکھا۔
    مجھے یہ خیال آیا کہ کل مجھ پر مولویوں کا حملہ ہو گا۔ میں نے رات کے وقت اس احمدی کو جس کو ہم نے مسجد سے روکا تھا۔ ایک نوکر کے ذریعہ بلایا میں نے اسے پوچھا کہ کیا مرزا صااحب نے وفات مسیح پر کوئی دلیل بھی دی ہے یا یوں ہی کہہ دیا ہے۔ اس نے کہا تیس آیات پیش کی ہیں۔ میں نے حیران ہو کر کہاکہ ہم دن رات قرآن پڑھتے ہیں اور ہمیں معلوم نہیں یہ کی بات ہے ایک ہی ایت ہمیں بتا دو اس نے ساتویں سپاری کی آیت ۔ فلما توفیتنی بتادی میں نے کہا کہ اب میری تسلی ہو گئی۔ اب کوئی مولوی میرا مقابلہ نہیں کرے گا۔ فجر کے وقت مولوی غلام حسن صاحب اور مولوی فیض دین صاحب اور دو تین اور ادمی میرے بھائی کے ہمراہ آٖے میں مسجد کے دروازہ میں کھڑا تھا کہ یہ جا پہنجے۔ مولوی غلام حسن نے کہا کہ مسیہ کے آپ کیوں دشمن ہوئے ہیں۔ میں نے کہا کہ مولوی صاحب میں نے کیا دشمنی کی ۔ وہ کہنے لگے کہ آپ کا بھائی کہتا ہے کہ یہ مسیح کی موت کا قائل ہوگیا ہے۔ میں نے کہا مولوی صاحب کیا کریں وہ تو خود انہی موت کا اقرار کر رہا ہے اور اٌ کی مثال مدعی مست اور گواہ چست کی ہے مولوی صاحب نے کہا کہاں لکھا ہے۔ میں نے کہا ۔ قرآن میں وہ کہنے لگے کون قران۔ جو مرزا صاحب نے بنا دیا میں نے کہا مولوی صاحب ذرا ہوش سے بولیں۔ خدا پر حملہ کر رہے ہیں کیونکہ وہ تو فرماتا ہے کہ میرے قرآن کی کوئی …… نہیں لا سکتا۔ اور یہ کہہ رہے ہیں کہ نے لگے کہاں لکھا ہے۔ میں نے ساتویں پارہ کی آیت پڑھی۔ کہنے لگے ہم تمہیں ایک ہی گر بتاتے ہیں کہ ان بے ایمانوں کے ساتھ بات نہ کی جائے بلکہ نظر کے ستاھ نظر ملائی جائے۔ تو بھی ان کا اثر ہو جاتا ہے۔ میں نے کہا مولوی صاحب سچائی کا اثر ایسے ہی ہوا کرتا ہے۔ مولوی صاحب واپس ہو کر چلے گئے۔ میرا بھائی جو مخالف تھا۔ وہ تیردلی میں چلا گیا۔ میں نے بیعت کر لی والد صاحب اور بیوی کو بھی سمجھا لیا۔ گویا سب کو سمجھا لیا۔ بھائی کو تیردلی میں جا کر سمجھ آئی وہ دس ماہ کے بعد واپس چلے آئے اور آتے ہی بیعتکر لی۔ اب خدا کے فضل سے ہمارے محلہ میں سو ڈیڑھ سو افراد احمدی ہیں۔
    بھائی صاحب کی واپسی پر والد صاحب سید حامد شاہ صاحب اور بھئای صاحب قادیان گئے وہ جب واپس آئے تو ہ چار آدمی تبلیغ کرتے کرتے پیدل چل پڑے۔ اور بیعت دستی کی۔
    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں ۔ میری بیوی۔ بڑا بھائی۔ اس کی بیوی قادیان گئے ہم نے ایک مکانکرایہ پر لیا ہوا تھا۔ رات کو ہم اس مکان میں رہتے تھے۔ دن کو ہماری مستورات اور بچے حضرت صاحب کے مکان میں رہتے تھے۔ ہم مہمانخانہ میں۔
    میرے بھائی کی لڑکی آنکھین بچپن سے ہی بیمار رہتی تھیں۔ چونکہ وہ لڑکی حضرت صاحب کے پاس رہتی تھی۔ حضرت نے اپنے ایک خادم کے ساتھ اس لڑکی کو بھیجا اور فرمایا کہ مولوی صاحب کو جا کر کہو کہ کچھ اس لڑکی کی آنکھوں میں ڈال دو۔ چنانچہ مولوی صاحب نے کوئی چیز ڈال دی۔ پھر عمر بھر اس لڑکی کی نظر خراب نہیں ہوئی۔
    میری لڑکی مولوی نذیر احمد کی ہمشیرہ چھوٹی سی تھی۔ وہ بیت الذکر میں گئی اور حضرت صاحب کی جھجر سے آنجواہ لے کر پانی پینے لگ گئی حضرت صاحب نے فرمایا کہ لڑکی یہ آنجورہ تو ہی لے جا۔
    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں قادیان میں گیا۔ حضرت صاحب فرمانے لگے کہ بتائو۔ سیالکوٹ میں طاعون کا کیا حال ہے۔ میں نے دور دست کا ذکر کیا۔ ساتھ ہی میں نے ایک خواب بیان کیا کہ یا حضرت میں نے دیکھا کہ ہمارے مکان پر پولیس کے آدمی بندوقوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ آپ کا گھر طاعون سے محفوظ رہے گا۔ آپ کا خدا حافظ ہے۔
    ایک دفعہ میں اور میرا بھائی حضرت صاحب کے ساتھ سیر کو جا رہے تھے کہ میرے بھائی صاحب نے سوال کیا کہ یا حضرت عقیقہ کے بکرے یہاں بھیج دئیے جائیں۔ یاقیمت یہاں بھیج دی جائے۔ مگر حضرت صاحب نے فرمایا کہ نہیں ایسا نہیں ہونا چاہئے ہاں کھالیں یہاں آنی چاہئیں۔
    حضور نے فرمایا بعض غریب ہمسائے ہوتے ہیں۔ ان کے دل میں آرزو ہوتی ہے کہ ہمیں گوشت دیا جائے۔ تو ایسا کرنے سے ان کی بھی حق تلفی ہوتی ہے۔
    ہم دو دو گھنٹے حضرت صاحب کو دبایا کرتے تھے۔
    ایک دفعہ طاعون پڑی۔ ہم قادیان گئے۔ قادیان میں گئے سات آٹھ دن ہوئے تھے کہ مخالفین نے کوشش کی کہ سیالکوٹ کے آدمی یہاں آئے ہوئے ہیں اور وہاں طاعون پڑی ہوئی ہے۔ ان کو نکلوا دیا جائے۔ لیکن خدا کی حکمت ہم نے عشاء کی نماز میں ہی حضرت صاحب سے اجازت لے لی اور سیالکوٹ کی طرف روانہ ہوئے۔ جب حضرت صاحب ۱۹۰۴ء میں یہاں تشریف لائے تو ایک فتن پر حضور خود سوار تھے۔ اور ایک پر حضرت ام المومنین تھے۔ اس فٹن کی حفاظت حضرت نانا صاحب میں اور ایک دو آدمی اور کر رہے تھے۔ حضرت اقدس کی فٹن پہلے مکان پر پہنچ گئی اور حضور اوپر تشریف لے گئے۔ ہم پیچھے تھے ۔ حضور نے جب دیکھا کہ پیچھے ساتھ فٹن نہیں ہے تو اوپر سے نیچے اتر آئے ا ور فرمایا ہمارے گھر کے لوگ کہاں ہیں اتنے میں ہم پہنچ گئے۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۶




    روایات
    منشی احمد دین صاحب ولد میاں عبداللہ
    سکنہ سیالکوٹ
    عمر قریباً 82سال ۔ سن بیعت1896ء
    حضرت مولوی عبدالکریم صاحب ہمارے رشتہ دار تھے۔ وہ یہاں قرآن کریم کا درس دیا کرتے تھے اور درس کے دوران میں ہی ہم احمدی ہو گئے۔ بیعت پہلے بذریعہ خط کی۔ پھر قادیان گئے۔
    شام کے وقت چھوٹی مسجد میں کھانا کھایا کرتے تھے حضرت صاحب چھوٹے چھوٹے لقمے بنا لیا کرتے تھے ہم تو سمجھتے تھے کہ آپ کھاتے ہی کچھ نہیں بعض اوقات اپنے آگے سے چیزیں اٹھا کر دوسرون کو دیا کرتے تھے۔
    ایک دفعہ غالباً ۱۸۹۸ء میں ہم قادیان گئے۔ مولوی مبارک علی صاحب بھی ساتھ تھی۔ انہوں نے سیر کے دوران پر حضور کو ایک قصیدہ سنایا۔ حضرت صاحب سنتے رہے۔ مولوی صاحب نے بری عاجزی سے دعا کی درخواست کی۔ فرمایا ا۔ اچھا۔
    غالباً ۱۸۹۹ء کے جلسہ میں مسجد اقصیٰ میں حضور نے دو کرسیوں پر کھڑے ہو کر تقریر کی۔ ایک کرسی نیچے تھے ایک اوپر اور اوپر حضور کھڑے تھے۔
    میرے لڑکے ابھی احمدی نہیں تھے۔ میں نے حضرت اقدس کی خدمت میں ان کے لئے دعا کی درخواست کی۔ خدا کے فضل سے میرے لڑکے احمدی ہو گئے۔اور اب مخلص احمدی ہیں۔
    الراقم عبدالقادر۔ ۳۹۔۶۔۱۶
    روایات
    حسین بی بی زوجہ مستری غلام قادر صاحب
    سکنہ سیالکوٹ
    عمر قریباً 49`48سال ۔ سن بیعت 1808ء
    مستری غلام قادر صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ۔
    حضرت صاحب لاہور میں جب آخری بار تشریف لائے تو میری بیوی نے حضور کی بیعت کی۔ وہ کہتی ہیں کہ حضرت صاحب نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا آپ کا میاں آپ کے ساتھ ہے جو اس نے عرض کیا حضور ساتھ ہی ہے۔ فرمایا کیا کام کرتے ہیں عرض کیا راج ہیں۔ فرمایا ۔ اپ کچھ پڑے ہوئے بھی ہیں ؟ فرمایاہاں کچھ پڑھی ہوئی ہوں۔ کتابیں پڑھ لیتی ہوں۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۶



    روایات
    میاں محمد شریف صاحب ولد میاں حسین بخش صاحب گوندل
    عمر قریباً 52سال ۔ سن بیعت1904ء پیدائشی احمدی
    حضرت اقدس جب یہاں ملازم تھے تو میاں فضل الدین صاحب کے مکان میں رہتے تھے۔ ان کے لڑکے ……… نے جس کی وفات کو پانچ چھ سال ہوئے ہیں۔ مجھ سے بیان کیا۔ کہ حضرت اقدس جب کچہری سے واپس تشریف لاتے تھے تو دروازہ میں داخل ہو کر دروازہ بند کرنے کے لئے پیچھے مڑ کر یعنی دورازہ کی طرف نہیں دیکھتے تھے۔ بلکہ داخل ہوتے ہی ہاتھوں کو پیچھے کر کے دروازہ بند کر دیتے تھے۔ ہم یہ نظارہ کوٹھے پر کھڑے دیکھا کرتے تھے۔ پھر حضرت اقدس قرآن کریم ہاتھ میں لے کر صحن میں ٹہلتے ٹہلتے پڑھا کرتے تھے اور کبھی کبھی سجدہ میں گر جاتے تھے جب اٹھتے تو سجدہ کی جگہ تر ہوتی تھی۔
    ہمارے مکان اور ان کو مکان کی دیوار ایک ہی ہے۔
    جب حضور یہاں ۱۹۰۴ء میں تشریف لائے تھے اور حکیم میر حسام الدین صاحب کے مکان پر ٹھہرتے تھے۔تو چونکہ بیعت کرنے والے بہت تھے حضور نے ایک …… نیچے لٹکا دی تھی اور فرمایا تھا کہ اسے پکڑ لو۔ (محمد شریف)
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۷

    روایات
    میاں محمد امام الدین ولد منشی نظام الدین قوم ارائیں
    سکنہ موضع پکا گڑھا تحصیل سیالکوٹ
    عمر 67سال ۔ سن بیعت 1904ء
    میری پیدائش ۱۸۷۲ء کی ہے۔ جب میری عمر دس سال کی تھی میرے والد صاحب نے مجھے مسجد میں تعلیم کے لئے داخل کیا۔ مسجد میں دو سال تک تعلیم حاصل کی بعد ازاں مشن سکول میں داخل ہوا۔ چونکہ وہاں انجیل کی پڑھائی ہوتی تھی۔ اس لئے وہ سکول چھوڑنا پڑا اور گورنمنٹ سکول میں داخل ہوا۔ اینگلو نیکلریڈل اس سکول میں پاس کیا۔ اور جماعت نہم میں چھ ماہ تک تعلیم پاتا رہا۔ ان دنوں میں صاحب ڈپٹی کمشنر منٹگمری ضلع کے افسر اعلیٰ تھے اور زمینداروں کو بہت اچھی نظر سے دیکھتے تھے۔ کیونکہ میں نے مڈل پاس کیا ہوا تھا۔ انہون نے میرا نام بہ زمرہ امید دوران منع کر لیا۔ ضلع میں چونکہ اور بھی زمیندار امیدوار تھے۔ قریباً دو سال تک میں اسرار رہا اور سکیم جولائی ۹۰ کو مستقل محرر جوڈیشنل ہو کر محمکہ جج خفیفہ چھائونی سیالکوٹ میں مقرر ہوا۔ قریباً دس سال تک وہاں ملازمت کی۔ اس اثناء میں مولوی مبارک علی صاحب جامع مسجد صدر میں امام مسجد تھے۔ اور اکثر اوقات میں ان کے پاس مسجد میں جایا کرتا تھا۔ اور انہی ایام میں حضرت اقدس کا ذکر خیر بھی ہوا کرتا تھا۔ اور میں بھی اکثر اوقات ان کے پاس پڑھ کر سنا کرتا تھا۔ انہی ایام میں میری تبدیلی ضلع سیالکوٹ میں ہو گئی۔ اور سید میر حامد شاہ صاحب کی صحبت میں اکثر اوقات مجھے رہنا پڑا۔ ان ایام میں میرے والد صاحب علی بخش مختار عدالت کے کلرک تھے۔ ان کے پاس غلام محی الدین ٹال والے کی آمدو رفت تھی۔ ان کا ٹال ٹبہ سادھوں کے متصل تھا۔ میرے والد صاحب اور غلام محی ٹھیکیدار کی حضرت اقدس کے متعلق اکثر گفتگو ہوا کرتی تھی۔ اور میں بھی بیٹھا کرتا تھا۔ آخر کار ایک دن شیخ مولوی بخش بوٹ فروش کے ساتھ حضرت اقدس کا ذکر ہوا۔ انہوں نے قادیان میں جانے کی خواہش ظاہر کی۔ میں نے بھی ان کے ساتھ اتفاق کیا۔ میں نے کئی دفعہ حضرت صاحب کو خواب میں دیکھا تھا ۔ لیکن میرا ارادہ تھا کہ تا وقتیکہ میں خود حضور کا چہرہ نہ دیکھ لوں۔ میری تسلی نہیں ہوسکتی۔ اس لئے میں ان کے ہمراہ قادیان گیا۔ جب میں نے خواب میں حضرت صاحب کو دیکھ اتو حضور سفید گھورے پر سفید پوشاک پہنے سوار تھے۔ گندم رنگ تھا۔ اور دو آدمی سفید پوش ایک طرف اور دو ایک طرف تھے۔ ایک پانچواں آدمی تھا جس نے مجھے اشارہ کر کے کہا کہ وہ گھوڑے پر سوار مسیح موعود ہیں۔ جب میں قادیان میں گیا تو ہوبہو وہی شکل وج مجھے خواب میںدکھائی گئی تھی۔ نظر آئی۔ چنانچہ میں نے بیعت کر لی۔
    بیعت کے بعد میں نے اپنی عاقبت کے متعلق چند ایک سوال کئے۔ حضور نے فرمایا کہ استغفار کثرت سے پڑھا کرو۔
    میرے والد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ حضرت صاحب ضلع سیالکوٹ میں بعہدہ محرر معاق تھے۔ اور محلہ میر حکیم حسام الدین صاحب میں بودوباش رکھتے تھے۔ میریوالد صاحب حکیم صاحب کے پاس اکثر آیا جایا کرتے تھے۔ اور دوستانہ تعلقات رکھتے تھے۔ اس سلسلہ میں ان کو اکثر حضرت صاحب کی زیارت بھی ہوا کرتی تھی۔ والد صاحب نے یہ بھی ذکر کیا تھا کہ جب وہ کچہری سے فارغ ہوتے تھے تو قرآن ……… میں لے کر بعض اوقات پادریوں کی کوٹھی میں بحث کے لئے جایا کرتے تھے۔ جب شہر سے کچہری آئے تو قرآن ہاتھ میں ہوتا تھا۔
    ایک دفعہ جب میں سویا ہوا تھا۔ رات کا پچھلا حصہ باقی تھا۔ تو مجھے یہ الفاظ دکھلائے گئے ۔ اعتصموا باللہ وکیلا ۔ الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۷
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
    خاکسار آج ۳۹۔۶۔۱۸ کو سیالکوٹ سے روانہ ہو کر چونڈہ پہنچا
    روایات
    میاں رحیم بخش صاحب و میاں فتح دین صاحب
    عمر قریباً 70سال ۔ سن بیعت 1897ء
    جس روز عبدالحق غزنوی کے ساتھ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مباہلہ امرتسر میں ہوا۔ میرے والد اصحب اس مباھلہ میں موجود تھے۔ وہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ جس وقت حضرت صاحب نے دعا مانگی۔ حضرت مولانا نورالدین صاحب کو غشی آگئی۔ وہ برداشت نہ کر سکے۔ والد صاحب کہتے ہیں کہ حضرت صاحب کو دیکھ کر میرے دل نے گواہی دی کہ یہ زمینی شخص نہیں۔ بلکہ آسمانی ہے ۔ چنانچہ وہ جب یہاں چونڈہ میں آئے تو انہوں نے آکر اپنے قبیلہ میں اس سلسلہ کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ تو کوئی عجیب ہی سلسلہ ہے۔ فرشتے لوگ ہیں۔ چنانچہ میں میرے والد ۔ میرے تایا بلکہ سارے خاندان نے ہی بیعت کر لی۔
    میں بھی امرتسر میں ………… کا کام رکتا تھا۔ مجھے قادیان جانے کا اس قدر شوق تھا کہ آٹھ دس روز کے بعد میں باقاعدہ قادیان جایا کرتا تھا۔ اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ بس دنیا کے دھندوں سے امن میں آگیا ہوں۔گویا بہشت میں ہوں۔ حضور کی صحبت سے جو لذت اور سرور حاصل ہوتا تھا۔ وہ بیان سے باہر ہے۔ وہ کوئی دنیا ہی علیحدہ تھی جس کی تلاش صفحہ ہستی پر ناممکن ہے۔ جس وقت میں پہلی دفعہ قادیان گیا ہوں۔ ایک کچا مہمانخانہ تھا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ کا قاعدہ تھا کہ نماز پڑھ کر اندر تشریف لے جاتے تھے۔ شام کی نماز کے بعد حضرت اقدس مسجد کے اوپر شہ نشین پر بیٹھا کرتے تھے میں حضور کو دبایا کرتا تھا۔ میں پہلوان ہوں وہ جوانی کا زمانہ تھا۔ میں پورے زور سے حضور کو دبایا کرتا ھتا۔ لیکن حضرت اقدس نے کبھی نہیں فرمایا کہ آہستہ دبائو۔
    مولوی عبدالکریم صاحب نماز پڑھایا کرتے تھے۔
    ایک دن نیا چاند چڑھا تو آپ نے حاضرین سمیت دعا مانگی محمد حسین بٹالوی کی بابت ایک دن ذکر ہوا۔ فرمایا مجھے معلوم ہوتا ہے کہ یا تو وہ خاموش ہو جائے گا یا بیعت کر لے گا۔ ایک دن کا واقعہ ہے کہ ظہر کی نماز کے بعد حضرت صاحب اندر چلے گئے۔ ہم نے پیچھے سنتیں پڑھیں۔ اتنے میں باری کے رستہ سے حضور نے حضرت خلیفہ اوّل کو بلایا۔ حضور کوئی کتاب لکھ رہے تھے۔ اور حکیم صاحب سے اس کے متعلق کوئی حوالہ پوچھنا تھا یا کوئی بات پوچھنی تھی میں نے اس باری سے جب حضور کو دیکھا ۔ حضور کے سر پر پگڑی نہیں تھی۔ پٹے رکھے ہوئے تھے۔ اس نظارہ کی مین کیفیت بیان نہیں کر سکتا وہ مکان مجھے نور سے بھرا ہوا نظر اتا تھا۔ چہرہ کی وجہ سے مکان منور ہو رہا تھا۔ آح اس نورانی چہرہ کا جب بھی تصور اتا ہے جی میں عجب قسم کے خیالات موحزن ہوتے ہیں۔ اس وقت کا نقشہ اب تک میری آںکھوں میں ہے۔
    حضور نے حضرت خلیفہ اوّل سے کوئی بات دریافت کی۔ وہ باہر اگئے۔ اور حضور نے پھر اندر سے کنڈا لگا لیا۔
    ایک دن کا واقعہ ہے کہ حضرت صاحب تشریف فرما تھے ایک شخص ۶۰۔ ۷۰ برس کا تھا۔ اس نے عرض کی کہ یا حضرت میں نے قرض بہت دینا ہے۔ حضور میرے لئے دعا کریں۔ فرمایا آپ استغفار کیا کریں۔ اس نے عرض کیا یا حضرت میں لا الہ الا انت سبحانک کا کلمہ نہ پڑھا کروں فرمایا یہ بھی استغفار ہے وہ بھی استغفار ہے۔ یہہ ہی پڑھا کرو۔
    میں جب جہلم کرم دین کے مقدمہ پر گیا تو میں اور خواجہ کمال الدین نے حضور کے اردگرد حلقہ باندھ لیا۔ کیونکہ ہجوم بے شمار تھا۔غلام حیدر تحصیلدار نے جب مجھے دیکھا تو چونکہ میں بڑا جوان تھا۔ اس نے سمجھا کہ شاید یہ کوئی غیر آدمی ہے اس نے مجھے دو سوٹیاں بھی ماریں۔ مجھے اس کی یہ حرکت دیکھ کر بڑا غصہ ایا قریب تھا کہ میں اسے مکہ مارتا۔ مگر میں نے ہاتھ اٹھای اہی تھا کہ ایک ساتھ کے احمدی نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کہ اسے نہ مارنا یہ تو ہماری امداد کر رہا ہے تحصیلدار پتلے جسم کا تھا اور میں اس کے مقابلہ میں بہت مضبوط اور تناور تھا۔
    وہاں ہری سنگھ نے کوٹھی دی تھی۔ جہلم والوں نے ہزارہا مخلوق کی جو مہمان نوازی کی ۔ اس کی کوئی حد ہی نہیں۔ حضرت عبداللطیف شہید آپ کے ساتھ تھے۔
    صبح جب عدالت میں آئے حضور فٹن پر تھے۔ مگر سڑک کے اردگرد اس قدر خلقت تھی کہ چلنے کے لئے رستہ نہیں ملتا تھا۔ بڑی مشکل سے فٹن کچہری میں پہنچی۔ کچہری کے احاطہ میں آپ کرسی پر بیٹھ گئے۔ احمدی دری پر بیٹھ گئے۔ آپ نے کچھ تقریر کی ۔جس کی بعض باتیں یاد ہیں۔ فرمایا۔ کاذب کا چہرہ ہی پہچانا جاتا ہے۔ فرماا سورج تو اب سر پر آگیا ہے مگر یہ اندھے کہتے ہیں کہ ابھی سورج چڑھا ہی نہیں یہ سن کر احمدیوں کی چیخیں نکل گئیں اور وہ زار زار رونے لگ گئے۔ مولوی عبدالکریم سیالکوٹی کی تھوڑے فاصلہ پر تقریر کر رہا تھا۔ اور حضور کے خلاف اشتعال دلا رہا تھا۔ حضور اندر تشریف لے گئے۔ اور عدالت میں کرسی پر تشریف فرما ہوئے۔ مولوی ابراہیم بھی اٗے بڑھا۔ اسے کسی اہلکار نے دوتین سوٹیاں ماریں۔ مولوی ابراہیم میرا رشتہ دار تھا میں نے اس کی یہ حالت دیکھی پھر میں نے اسے دیکھا کہ کافی فاصلہ پر ایک بیری کے درخت کے نیچے اپنے بھائی چوہدری اللہ دتا کے ستاھ بیٹھا تھا۔ میں نے دل میں کہا کہ دیکھو دنیا میں ہی اللہ تعالیٰ نے اسے کیا زلیل کر دیا ہے۔ کہ کوئی اسے پوچھتا ہی نہیں۔
    عدالت میں حضرت صاحب نے فرمایا کہ ان سے پوچھو کہ حقیقی وارث کے ہوتے کبھی سالہ کوئی مرحوم کا ورثہ پہنچا ہے اس کا جوا ب مخالف وکیل کوئی نہ دے سکے۔
    اس دن یا اگلے دن صبح حضرت کوٹھی کے احاطہ میں چارپائی پر تشریف فرما تھے۔ میں نے عرض کی کہ یا حضرت آپ دعا کریں میرے دل میں خدا کی محبت اور اس کا عشق پیدا ہو جائے۔ ایک شخص اس تھا۔ اس نے کہا کہ آپ نے بیعت کی ہوئی ہے۔ حضرت صاحب نے فرمایا یہ تو پرانا صحابی ہے۔ میں بڑا خوش ہوا کہ آپ کی یاد بہت ہے اور اس مسکین کو بھ یاد رکھا ہے۔ فرمایا کہ محبت دوسری …… میں ہے جب بازار مین آپ جا کر کسی خوبصورت چیز کو دیکھیں تو آپ کے دل میں محبت پیدا ہو گی۔ اسی طرح خدا کو دیکھنے سے محبت پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا اپنے آپ کو ظاہر کرنا اس کے اختیار میں ہے۔ اس لئے بہت دعائیں مانگو۔ تا وہ خود انا چہرہ ظاہر کرے۔
    پھر ہم جہلم سے چلے آٖے۔ وزیر آباد سے میں اس طرف چلا آیا ہاں مجھے یاد آیا کہ جاتی دفعہ رستہ میں جس سٹیشن پر سے ہم گزرے ہمیں اعلیٰ اعلیٰ کھانے پہنچتے رہے۔
    ایک دن جلسہ کے دوران میَ مَیں صبح کے وقت مسجد اقصیٰ کے بازار میں گیا۔ حضور سیڑھی سے اتر کر اکیلے نیچے تشریف فرما ہوئے میں پاس تھا۔ السلام علیکم عرض کر کے مصافحہ کیا آپ نے فرمایا دیکھو آج مجھے رات کی وحی ہوئی ہے۔ حضور نے عربی پڑھی۔ اس کا ترجمہ کیا کہ اے نبی کلھتے بھکیاں نوں منگن والیاں نوں تے نہ منگن والیاں نوں۔ اتنے میں حضر خلیفہ اوٍّ اور بعض اور لوگ جمع ہو گئے لیکن آپ نے مخاطب اس عاجز کو ہی رکھا۔ بڑً آدمیوں کے آنے پر حضور ان کی طرف بالکل متوجہ نہیں ہوئے۔ فرمایا مجھے معلوم ہوتاہے کہ خدا تعلایٰ کی طرف سے مجھے آٗاہ کیا گیا ہے۔ شاید کچھ مہمان بھوکے رہے ہیں۔ حضرت خلیفہ اوٍّ نے عرض کی کہ حضور میں نے بھی سنا ہے۔ کہ ایک مہمان نے سالن مانگا ہے مگر باورچی نے کہا آپ آگے لے چکے ہیں۔ حضور نے فرمایا اگر وہ سو دفعہ بھی مانگتا تو سو دفعہ ہی دینا چاہئے تھا۔ باورچی کو ہرگز یہ نہیں کہنا چاہئے تھا کہ آپ نے آگے لیا ہے۔
    پھر تجویزیں کرنے لگے کہ کس طرہ کھانا کھلایا جایا کرے۔ آخر یہ فیصلہ ہوا کہ جس جس جگہ کوئی جماعت ٹھہری ہوئی ہو وہان ہی کھانا پہنچایا جائے۔ اس وقت سے اب تک اس تجویز پر عمل ہو رہا ہے۔
    پھر فرمایا سیر کو جانا ہے ۔ پانچ پانچ آدمیوں کی لائنیں ہو جائیں اور بازار سے گزریں۔
    حضرت اقدس۔ خلیفہ اوّل اور مولوی عبدالکریم صاحب آگے آگے چل پڑے۔ یہ نظارہ دیکھ کر ہندو لوگ پھر دوسری قومیں حیران ہو گئیں۔ آپ نے اس روز تقریر کی۔ یاتیک من کل فج عمیق ………… من کل فج عمیق کی تشریح کجی۔ تقریر کے دورنا میں ایسا سماں تھا کہ گویا کوئی شہر خموشاں میں تقریر کر رہا ہ۔ خلقت بالکل خاموش تھی اور کوئی آواز نہیں آٹی تھی صرف حضور کی ہی آواز آرہی تھی۔ میرے پاس ایک احمدی پٹھان تھا اس کا بچہ شروع تقریر میں رونے لگا مں نے اسے کہا کہ اس بچہ کو مہرنای کر کے گھر چھوڑ آئو۔ اس نے کہا کہ اگر مجھے کوئی قتل کر دے تو وہ پسند کروں گا مگر یہاں سے اٹھنا پسند نہیں کروں گا۔ اس پر میں خاموش ہو گیا۔ اور ہمہ تن تقریر سننے میں مصروف ہو گیا۔ ایک شخص باہر سے ایا۔ اور عرض کیا کہ حضور ساتھ والے گھر کے جو برہمن ہیں ۔ گالیاں دے رہے ہیں۔ حضور ن فرمایا کیوں ناراض ہوئے ہیں۔ عرض کیا کہ ان کے مکان پر خلقت چڑھ گئی ہے ۔ فرمایا لوگوں کو کہو کہ فوراً اتر آجائیں۔ ان کو کیوں تکلیف دی گئی ہے۔ ان کو ہرگز کچھ مت کہو۔ بے شک گالیاں دی تم خاموش رہو۔ انجمن والوں نے راتو رات ہی حد بندی کر دی ۔ حضرت اقدس اس قدر امن پسند تھے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔
    حضرت خلیفہ اوّل نے تقریر کی ۔ جس میں فرمایا کہ دیکھو آئندہ سال کو شاید ہماری اور آپ کی ملاقات ہو یا نہ ہو۔انسانی زندگی کا کوئی اعتبار نہیں۔
    میں دیکھتا تھا کہ حضرت اقدس کی ………… میں زیادہ رہنے والے لوگ انسان نہیں تھے۔ فرشتے تھے۔ ان میں دنیاداری کا ہرگز ہرگز کوئی رنگ نہیں تھا۔ وہ دنیا می تھے مگر دنیا سے بالکل الگ تھے۔
    حضرت صاحب عورتوں اور بچوں کے حق میں بہت تاکید فرمایا کرتے تھے کہ ان کو خوش رکھا کرو ۔ اس زمانہ میں عورتوں کی عزت کو قائل ہی آپ نے کیا ہے۔
    عاجز کے ساتھ بہت مہربانی اور محبت سے پیش آیا کرتے تھے۔ حضرت خلیفہ ثانی کبھی کبھی حضور کی انگلی کو پکڑ کر مسجد میں آیا کرتے تھے۔
    ایک دفعہ حضرت خلیفہ اوّل درس دے رہے تھے حضور کا بچہ عبدالحی بھی اس مجلس میں تھا وہ آپ کی پگڑی اتار لیتا تھا۔ اور کہتا تھا کہ ابا مجھے باندھو۔ آپ اس کو باندھتے تھے وہ بار بار ایسا کرتا۔ آپ اس کی ہر بات مانتے میں نے دیکھا کہ ایک دفعہ بھی آپ نے اسے نہیں جھڑکا۔
    ایک دفعہ ہمیں نقصان ہوا۔ میں نے حضرت خلیفہ اوّل کی خدمت میں عرض کیا آپ نے بڑی دلجوئی کی۔ اب خیال آتا ہے کہ کاش ہم اس مبارک زمانہ میں اس جگہ جا کر ڈیرہ لگا لیتے اور برکتوں سے مالا مال ہو جاتے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب یہ باتیں میاں رحیم بخش صاحب نے بیان کیں تو بے اختیار ان کے آنسو نکل آئے۔ رحیم بخش بقلم خود
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۸
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں رحیم بخش صاحب کی عمر ۷۰ سال ہے۔ مگر اب بھی اس قدر مضبوط ہیں کہ مضبوط سے مضبوط آدمی کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اعصاب مضبوط ہیں۔ صحت نہایت اعلیٰ ہے۔
    خاکسار
    عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۸



    روایات
    عالم بی بی صاحبہ بنت مستری کرم الٰہی صاحب
    زوجہ مستری محمد شفیق صاحب
    عمر43سال ۔ سن بیعت بچپن میں
    میں سکول میں پڑھا کرتی تھی۔ معراج بی بی صاحبہ ……… میں نے حضرت امام مہدی کی نشانیاں پڑھی ہوئی تھیں کہ بال سیدھے ہوں گے۔ رنگ گندم گون ہو گا۔ اک …… …… ان پر ہاتھ ماریں گے وغیرہ وغیرہ۔ جب میں دس سال کی تھی تو اپنی پھوپھی کے ساتھ سیالکوٹ ۱۹۰۴ء میں گئی۔ میری پھوپھی نے کاہ کہ دیکھ لو۔ تمام وہ نشانیاں جو کاسن میں لکھی ہوئی ہیں۔ حضور میں پائی جاتی ہیں۔ اس پر میں نے غور سے ہر چیز کو دیکھا ۔ حضرت صاحب میر حامد شاہ صاحب کے مکان پر کھانا کھا رہے تھے وہاں ہی میں نے حضرت اقدس کی بیعت بھی کر لی تھی۔ والدین پہلے ہی احمدی تھے۔ میں پیدائشی احمدی بھی ہوں۔
    عالم بی بی بعلم خود
    سیکرٹری مستورات چونڈہ


    روایات
    چوہدری حسن محمد صاحب ولد چوہدری برہان بخش صاحب
    سکنہ چونڈہ
    عمر80سال ۔ سن بیعت قریباً 1904ء
    حضرت اقدس سیالکوٹ تشریف لائے ہو ئے تھے۔ کہ میں سیالکوٹ گیا میں نے غور سے دیکھا کہ مجھے ہزاروں کے مجمع میں کوئی چہرہ حضرت اقدس کی مثل نظر آئے مگر نہ آیا۔
    سیالکوٹ یہاں سے دس کوس ہے۔ ہم روزانہ شام کو پیدل آتے تھے ۔ اور علی الصبح پیدل چلے جاتے تھے ۔ تین دن تک
    حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا چہرہ دیکھ کر ہی ہم تو لٹو ہو گئے اور وہیں سیالکوٹ میں ہی بیعت کر لی۔ فالحمد للہ علی ذلک
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۸



    روایات
    چوہدری رسول بخش صاحب ولد چوہدری اللہ بخش صاحب
    سکنہ چونڈہ
    عمر60سال ۔ سن بیعت 1899ء بذریعہ خط
    یہاں ایک مولوی رحیم بخش صاحب تھے۔ وہ ہمیں ایک کتاب سنایا کرتے تھے اور حضرت صاحب کا ذکر کیا کرتے تھے ۔ ان کی باتیں سن کر میرا دل احمدیت کی وجہ سے مائل ہو گیا۔ اور پھر چوہدری مولا بخش صاحب نے جو احمدی تھے۔ میری بیعت کا خط لکھ دیا۔ چونکہ میرے سارے رشتے دار غیر احمدی تھے۔ اس لئے افسوس کہ میں حضور کی خدمت میں ان کی سخت مخالفت کے باعث قادیانی حاضر نہ ہو سکا۔ اور جس وقت حضور سیالکوٹ تشریف لائے۔ میں سخت بیمار تھا۔ لہذا یہ موقع ہی زیارت کا ہاتھ سے نکل گیا۔ لیکن خدا تعالیٰ کے فضل سے میں احمدیت پر ہمیشہ ثابت قدم رہا ہوں اور حضور کی وفات کے بعد متواتر قادیان جاتا رہا ہوں۔
    کھیواچمجو ایک گائوں یہاں سے نو دس میل کے فاصلہ پر ہے وہاں ایک دوست فضل دین مخلص احمدی رہا کرتے تھے۔ قریباً ان کو اشتعال کو پندرہ سال گذر چکے ہیں۔ اس وقت ان کی عمر ۶۵ سال کے قریب تھی۔ وہ یہاں چونڈہ میں تشریف لایا کرتے تھے۔ چونکہ اوائل میں وہ قادیان رہ چکے تھے۔ اس لئے حضور علیہ السلام کے دعویٰ سے قبل کی زندگی کے اہھت سے وہ بخوبی واقف تھے۔
    ایک دفعہ انہوں نے سنایا کہ بچپن میں میرے والدین فوت ہو گئے۔ چونکہ میرے نانکے قادیان کے قریب تھے۔ اس لئے میں نانکے جانے کے ارادہ سے گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ جس وقت ڈیرہ بابا نانک پہنچا تو رات پڑ گئی۔ چونکہ بھوک لگی ہوئی تھی اور مانگنے سے شرم آتی تھی۔ اس لئے ایک دیوار کے ساتھ کھڑے وہ کر رونے لگ پڑا۔ اتنے میں ایک بیوہ عورت آگئی جس کا بچہ فوت ہو گیا تھا۔ وہ مجھے اپنے گھر لے گئی اور بچوں کی طرح رکھنا شروع کیا۔ پھر اس نے مجھے ایک بکری لے دی جسے میں باہر چرایا کرتا تھا۔ اور ہم دونوں اس کا دودھ پیا کرتے تھے۔ قریباً دو تین ماہ ہوئے ہوں گے کہ ریوڑ چرانے والوں نے جن کے ستاھ میری واقفیت ہو چکی تھی۔ مجھے کہا کہ کلانور میں ایک برات آنے والی ہے وہاں گانا بجانا ہو گا چلو چل کر سنیں۔ میں ساتھ چل پڑا۔ وہاں گانا سنا وہ بارات قادیان سے آئی تھی۔ اس میں بعض دوست آتشبازی بنانے والے بھی تھے۔ انہوں نے مجھے پوچھا کہ تم کہان کے رہنے واے ہو۔ میں نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔ انہوں نے کہ اہمارے ساتھ چلو ہم تمہیں آرام میں رکھیں گے میں ان کے ساتھ قادیان چلا گیا اور نا کے گھر قریباً دو چار ماہ رہا۔ ایک دن میں حضرت صاحب کے دروازہ کے پاس بیٹھ کر میں نے مرزے کے بیت پڑھنے شروع کر دئیے۔ حضرت اقدس نے بڑے بھائی مرزا غلام قادر بیمار تھے۔ ان کو میری آواز پسند آئی۔ انہوں نے آدمی بھیج کر مجھے اندر بلا لیا۔ مین ہاضر ہوا۔ فرمانے لگے وہ بیت پڑھو۔ مگر میں شرم کے باعث چپ کر گیا۔ گر ان کے مجبور کرنے پر چند بیت پڑھے پھر انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم کون ہو۔ میں نے انا سارا حال کہہ سنایا۔ انہوں نے فرمایا ہمارے پاس ہی رہا کرو۔ میں نے کہا بہت اچھا۔ انہوں نے اچھے پکڑً مجھے پہننے کے لئے دئیے۔ جب تک وہ زندہ رہے میں ان کے ساتھ رہا۔ جب ان کی وفات ہو گئی میں حضرت مسیح موعود کے ستاھ رہنے لگ پڑا۔ حضرت اقدس مسجد میں رہا کرتے تھے۔ ہم چار آدمی حضور کی خدمت میں رہا کرتے تھے۔ کھانا لینے کے لئے ایک شخص ہم میں سے گھر جاتا تھا اور وہ لایا کرتا تھا۔ جسے ہم پانچوں مل کر کھا لیا کرتے تھے۔ کچھ عرصہ کے بعد آپ نے اپنا کھانا الگ رکھنا شروع کر دیا اس کھانے میں سے کچھ حصہ آپ الگ رکھ چھوڑا کرتے تھے۔ پھر کچھ عرصہ کے بعد جو کھایا کرتے تھے اس میں سے بھی کم کھانا شرو ع کیا آہستہ آہستہ اور گھٹانا شروع کیا۔ حتی کہ اپنے کھانے کا 1/4 حصہ کھانے لگے۔ پھر کئی دن تک کھانا کھاتے ہی نہیں تھے۔ عبادت کی یہ حالت تھی کہ گھر کی طرف سے جس چیز کی ضرورت کا تقاضا آتا تھا۔ ہمیں بھیج کر گھر بھجوا دیتے تھے۔ ورنہ آپ قرآن مجید اور حدیث کی کتابوں میں مشغول رہتے تھے۔ رات کو ایک بجے کے قریب حضور نماز کے لئے اٹھتے تھے۔ اور ہمیں تو اس وقت پتہ لگتا تھا جب حضور صبح کی ازان دیا کارتے تھے۔ ازان دینے سے پہلے انی کے چار لوٹے بھر کر ہمارے سرہانے رکھ دیا کرتے تھے۔ اور پھر ہمیں بیدار کرتے تھے جو اٹھتا وہ اٹھتا۔ اور جو نہ اٹھتا اسے تنگ نہ کرتے ۔ پھر نماز پڑھتے۔
    پھر مرزا سلطان احمد ملازم ہو گئے۔ اور ایک آدمی ملازم حضور سے مانگا۔ حضور نے میرے متعلق فرمایا کہ اس کو لے جائو۔ میرا دل تو ہرگز حضور کو چھوڑنے کو نہیں چاہتا تھا۔ مگر تعمیل ارشاد کی خاطر جانا پڑا۔ مرزا سلطان احمد صاحب کے پاس رہ کر چونکہ کثرت سے مال ملتا تھا۔ اس لئے میں نے اپنی زندگی خوب عیش و عشرت میں گزاری۔ حتی کہ دن سے بالکل غافل ہو گیا۔ مگر حضرت صاحب سے محبت باقی تھی ایک دن کا واقعہ ہے کہ ہم لاہور میں تھے مرزا سلطان احمد صاحب تحصیلدار تھے تحصیلد کے دروازہ پر ہم نے ایک اشتہار دیکھا جو حصرت اقدس کا تھا۔ اس میں حضور نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ مرزا سلطان احمد نے جب وہ اشتہار دیکھا تو ان کو بہت رنج پہنچا مجھے یھ بتایا۔ میں نے کہا حضرت صاحب جھوٹ نہیں بول سکتے۔ اگر آپ نہیں مانتے تو میں آپ کے پاس رہنے کے لئے تیار نہیں۔ یہ کہہ کر میں پھرقادیان چلا گیا۔ اور حضرت اقدس کی بیعت کر لی اور وہاں رہنا شروع کر دیا۔ حضور کی خدمت کرتا رہا۔ حضرت خلیفہ اوّل بھی وہاں رہا کرتے تھے۔ حضور کی اس زمانہ میں بڑی سخت مخالفت ہوا کرتی تھی حضور کے رشتہ دار اور گائوں والے بڑا تنگ کیا کرتے تھے۔ مگر حضور کو ملنے والوں کی تعداد آہستہ آہستہ بڑھنا شروع ہو گئی۔ یہاں تک کہ کھانا کھانے کے وقت بیس پچیس آدمی ہو جایا کرتے تھے۔
    مرزا سلطان احمد صاحب کے ساتھ رہ کر چونکہ مجھے روپیہ بکثرت ملتا تھا۔ اس لئے عیش وعشرت میں پڑ کر میں نامرد ہو گیا تھا۔ جب حضرت اقدس کی خدمت میں آیا تو حضور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دو لڑکے دے گا۔ میں حیران تھا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے اور ابھی تو میری شادی بھی نہیں ہوئی۔ مگر تھوڑا ہی عرصہ گذرا کہ میرے نانکے میں سے چند ادمی ائے اور مجھے کہا کہ ہم نے تمہیں بہت تلاش کیا ہے۔ ہماری لڑکی جوان ہو گئی ہے ہم تمہاری شادی اس کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ وہ شادی ہو گئی اور ہم میاں بیوی قادیان رہنے لگ پڑے خدا کے فضل سے دو لڑکے بھی پیدا ہوئے میری بیوی نے مجھے بار بار کہنا شروع کیا کہ ہمیں واپس وطن جانا چاہئے میرا دل تو نہیں چاہتا تھا مگر اس کے بار بار کہنے سے میں نے حضرت اقدس کی خدمت میں اجازت کے لئے درخواست کی۔ حضرت نے فرمایا تم قادیان ہی رہو ۔ میں خاموش ہو گیا بیوی نے پھر تقاضا شروع کیا میں نے حضور کی خدمت میں ھپر عرض کیا فرمایا کون فضل دین اجازت مانگتا ہے میں نے عرض کیا حضور کا پرانا خادم فرمایا قادیان سے تعلق نہ چھوڑنا اور میر حامد شاہ کو خط لکھ دیا کہ ان کی زمین ہے اس کے متعلق ان کی امداد کرنا۔ چنانچہ ان کی امداد سے میری زمین واپس مل گئی اور خدا کے فضل سے ہم نے باعزت اپنے گائوں میں رہنا شروع کیا۔ مگر قادیان سے تعلق نہ رکھنے کی وجہسے دینی حالت وہ نہ رہی جو قادیان میں تھی۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۸



    روایات
    چوہدری نبی بخش صاحب ولد چوہدری امیر بخش صاحب
    سکنہ چونڈہ
    عمر80سال ۔ سن بیعت 1905ء
    میں جموں میں وکالت کرتا تھا۔ جس زمانہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے مسیحیت کا دعویٰ کای میں وہیں تھا۔ لوگوں میں عام چرچا ہوا ایک دفعہ چند معزز دوست جمع تھے۔ ان میں قادیان کے پنڈ……… داس بھی تھے۔ وہ گورنر جموں کے سر رشتہ دار تھے۔ اور بہت معزز عہدہ پر مامور تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں قادیان کا باشندہ ہوں۔ اور مرزا صاحب کا ہم عمر ہوں۔ مین اس امر کی شہادت دیتا ہوں کہ مرزا صاحب نے بچپن میں کبھی جھوٹ نہیں بولا آپ راستبازی کے لحاظ سے ہم میں مشہور تھے۔ ہم راستبازی میں ان کو بطور مثال پیش کیا کرتے تھے۔
    ان کی یہ گواہی سن کر میری طبیعت پر آپ کی صداقت کے متعلق خاص اثر ہوا۔ اس کے بعد میں نے وکالت چھوڑ کر ملازمت اختیار کر لی۔ میں کناہ میں نائب تحصیلدار تھا۔ اور وہاں چوہدری غلام احمد صاحب انسپکٹر ڈاکخانہ میرے پاس آیا کرتے تھے۔ چونکہ ہم ہموطن تھے اس لئے وہ میرے پاس ہی آکر قیام کیا کرتے تھے وہ احمدی تھے۔ مجھے تبلیغ بھی کرتے تھے اور رسالہ ریویو آف ریلیجنز مطالعہ کے لئے دیا کرتے تھے۔ اس رسالہ نے بھی مجھ پر خاص اثر کیا تھا۔ میرا ایک مسلمان سیاہ نویس ہوا کرتا تھا۔ میں اس کے ساتھ سرینگر گیا اور وہاں حضرت مسیح کی قبر دیکھی۔ وہاں جو حجاور تھے ان سے دریافت کیا کہ یہ کس کی قبر ہے انہوں نے بتایا کہ یوزاسف کی قبر ہے میں نے پوچھا تم کو کیسے پتہ لگا۔ کہنے لگے یہ نام سینہ بسینہ ہم تک پہنچا ہے۔ اس بات نے بھی مجھ پر اثر کیا۔ اس کے بعد میں نے بذریعہ خط بیعت کر لی۔
    چند اور باتیں بھی میری بیعت کا لوک ہوئی ہیں اور وہ پہلے زمانہ کی ہیں۔ میں لاہور میں اسلامیہ کالج کی برانچز کا ناظم ہوا کرتا تھا اور ہم نے ایک مشترکہ مکان کرایہ پر لیا ہوا تھا۔ جس میں میں مولوی محمد علی۔ چوہدری شہاب الدین۔ چوہدری سردار خان وغیرہ رہا کرتے تھے۔ مولوی محدم علی کالج میں پروفیسر تھے۔ چوہدری شہاب الدین بھی پروفیسر تھے۔ مولوی محمد علی کا اور میرا کمرہ ساتھ ساتھ تھا۔ درمیان میں دروازہ تھا۔ باورچی بھی ہمارا ایک تھا۔ جب حصرت اقدس نے دعویٰ کیا اور چند سال گزر گئے تو مولوی محمد علی اور شہاب الدین کی حضرت صاحب کے متعلق بحث رہا کرتی تھی۔ یہ لوگ تاش بہت کھیلا کرتے تھے اور لا کالج میں تعلیم حٗاصل کیا کرتے تھے۔ مولوی محمد علی حضرت صاحب کی تعریف کیا کرتے تھے ۔ اور شہاب الدین مخالفت۔ ایک دن مولوی محمد علی کالج سے آئے اور قادیان کو چلے گئے۔ پیچھے شہاب الدین آئے مجھ سے پوچھا مولوی صاحب کہاں گئے میں نے کہا قادیان ۔ کہنے لگے میں ابھی واپس لاتا ہوں ۔ چنانچہ وہ بھی گئے میں نہیں کہہ سکتا کہ اور کون کون گئے۔ مگر بہر حال یہ دونوں گئے۔ اور واپس آکر انہوں نے بیان کیا کہ جب ہم پہنچے تو مولوی محمد علی بیعت کر چکے تھے۔ چوہدری صاحب نے کاہ زرا مجھے رمزا صاحب سے ملائو۔ تا میں ان سے باتیں کروں۔ مولوی محمد علی نے کہا پہلے مولوی نورالدین صاحب سے گفتگو کرو۔ پھر مرزا صاحب سے کر لینا۔ چنانچہ حضرت خلیفہ اوّل سے باتیں کر کے ہی صداقت ان پر کھل گئی اور حضرت صاحب کے پاس جا کر تو بالکل نرم ہو گئے اور بیعت کر کے واپس آئے اور پھر آکر حضور کی صداقت پر عام گفتگوئیں کرتے رہے۔ ان باتوں کا بھی مجھ پر اثر تھا۔
    مجھے یاد ہے کہ جب ایک شخص سراحمدین عیسائی نے کچھ سوالات اسلام پر کئے اور ان سوالوں کا عام چرچا ہوا تو حضرت اقدس نے ان کا جواب لکھا اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کو لاہور میں سنانے کے لئے بھیجا حضرت مسیح موعود کا مضمون اور مولوی عبدالکریم سنانے والے۔ بس پھر انہوں نے اسلامیہ کالج کی پرانی بلڈنگ میں سنانے میں کمال ہی کر دیا۔ انگریز آفیسر۔ سیڑھیاں۔ پ]ادری وغیرہ سب موجود تھے اور سب حیرت میں تھے جب لیکچر ختم ہوا تو پادری پر بڑا رعب طاری ہوا۔ خواجہ کمال الدین نے بیان کیا کہ جب مین چونکہ مسن کالج میں تعلیم حاص کرتا رہا ہوں اس لئے وہاں تعلقات کی وجہ سے کبھی کبھی جایا بھی کرات ہوں۔ میں جو لیکجر کے بعد وہان گیا تو پرنسپل کو دیکھا کہ وہ طلباء کو نصیحت کر رہا تھا۔ کہ مرزا صاحب کا لیکچر سننا تو درکنار نہ ان کی کتابیں دیکھی نہ ان کو مریدوں کے پاس جائو یہ شخض عیسائی مذہب کا بڑا دشمن ہے اس مذہب سے بہت پرہیز کرو۔ اس میں عسائیت قائم رہ سکتی ہے۔ اس مذحب کا علاج عیسائیت کی موت ہے۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۸





    روایات
    میاں امام الدین صاحب ولد میاں نور ماہی صاحب
    سکنہ چونڈہ
    عمر81سال ۔ سن بیعت قریباً 1906ء
    میں اپنے بھائی کے پاس امرتسر گیا ہواتھا۔ وہاں سے میں نے پشمیمہ لیا۔ اور اپنے بھائی کو کہا کہ میں تو قادیان کے راستہ جائوں گا۔ حضرت مرزا صاحب کی زیارت بھی ہو جائے گی۔ محمد بخش ………… دکان سے میں نے پشمیتہ خریدا تھا۔ اس کو جب اس امر کا علم ہوا تو اس نے مجھے کہا کہ تم وہاں کیا لینے کے لئے جاتے ہو۔ مرزا صاحب کو تو نعوذ باللہ کوڑھ ہوا ہوا ہے۔ اور ہاتھ پیر گل چکے ہیں میں نے کہا میںجائوں گا تو ضرور اور دیکھوں گا۔ چنانچہ میں گیا اور حضور کا چہرہ نور سے پر دیکھا عصر کی نماز ہو رہی تھی۔ جب ہم پہنچے میرے ساتھ ایک اور آدمی تھا۔ نماز کے بعد لوگ حضرت صاحب کے اردگرد بیٹھ گئے۔ میں نے کہا میں بہت دور سے آیا ہوں۔ مجھے بھی زیارت کر لینے دو خیر مجھے بھی جگہ مل گئی۔ میں نے بیعت کی درخواست کی۔ فرمایا امرتسر کے ایک ہندوستان سے ہم نے شام کا وعدہ کیا ہے۔ آپ بھی اس کے ساتھ بیعت کر لینا اس کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحب سے عرض کیا۔ حضور مولوی ثناء اللہ اک خط آیا ہے۔ حضور نے اس کے جواب کے لئے حضرت مولوی صاحب کو ہدایات دیں۔
    شام کو بیعت کی۔ میرا ہاتھ حضرت اقدس کے ہاتھ پر تھا۔ اور اس ہندوستانی دوست کا ہاتھ میرے ہاتھ پر تھا۔ (امام الدین احمدی)
    روایات
    چوہدری رحمت خان صاحب ولد چوہدری امین بخش صاحب
    سکنہ چونڈہ
    عمر60سال ۔ سن بیعت قریباً 1904ء
    میری بیعت کا واقعہ اس طرح ہے کہ خواب میں مَیں گھر سے نکلا۔ تو باہر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بمعہ چوہدری مولا بخش بھٹی ۔ چوہدری غلام حسین ۔ مولوی رحیم بخش ۔ مولوی شمس الدین ۔ مولوی الف دین۔ مولوی عنایت اللہ۔ رحمت خاں جٹ وغیرہ کے ساتھ باہر کھڑے تھے۔ اور اس وقت بازار سے آٖے تھے۔ چوہدری مولا بخش صاحب نے مجھے کہا کہ اب بیعت کر لو۔ اس سے اچھا وقت اور کون ہو گا۔ حضرت صاحب خود یہاں تشریف لائے ہوئے ہیں۔ میں ساتھ ہو گیا۔ یہ ساری پارٹی پہلے چوہدری مولا بخش کے کوئیں پر گئی۔ پھر ہمارے کوئیں پر۔ وہاں حضرت صاحب نے نماز پڑھائی۔ نماز پڑھنے کے بعد میں بیدار ہو گیا۔
    حضور کی شبیہ مبارک میرے دل میں اس طرح گڑ چکی تھی کہ کبھی بھول ہی نہیں سکتی تھی۔ صبح اٹھ کر میں گھر آیا۔ کرایہ لے کر قادیان کا رخ کیا۔ اور بیعت کی۔ تین وہاں ٹھہرا رہا۔
    حضور کی زندگی میں تین دفعہ مجھے قادیان جانے کا اتفاق ہوا۔
    بقلم خود رحمت خان سفید پوش چونڈہ
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۸
    روایات
    سردار بیگم صاحبہ زوجہ چوہدری محمد حسین صاحب
    سکنہ تلونڈی عنایت خان
    عمر62سال ۔ سن بیعت 1904ء
    میرے خاوند چوہدری محمد حسین صاحب چند ماہ پہلے اہمدی ہو چکے تھے اور حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعریفیں بیان کیا کرتے تھے۔ اتنے میں حضرت اقدس سیالکوٹ تشریف لائے۔ میں بھی سیالکوٹ پہنچی اور حضور کی صبح آٹھ بجے کے قریب بیعت کی۔ دس بجے کے قریب پھر میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ میرا لڑکا محمد عظیم بھی ساتھ تھا۔ اس وقت قریباً تیس سال کا تھا۔ اس کی آںکھیں بہت دکھتی تھیں۔ میں نے عرض کی کہ حضور اس کی آنکھوں پر اپنا لب مبارک لگائیں حضور نے فرمایا میں دعا کروں گا۔ میں نے عرض کیا کہ حضور دعا بھی کرں اور لب بھی لگا۔ دوسری دفعہ پھر حضور نے فرمایا میں دعا کروں گا۔ میں نے عرض کیا کہ حضور ہمارے مرشد جو مکان شریف والیت تھے ان سے ہم لب لگوا لیا کرتے تھے۔ فرمایا میں مامور ہو کر آیا ہون مسکرائے اور دونوں انگھوں کو لب لگا کر محمد عظیم کی دونوں آنکھوں میں لگائے۔
    شام کے وقت پھر عرض کی کہ حضور اس کے لئے پانی دم کر دیں۔ مگر حضور نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے۔ اور میں واپس چلی آئی۔
    پھر مولوی محمد حسین والے مقدمہ میں ہم گئے۔ لنگرخانہ کا انتظام بٹالہ میں تھا۔ حضرت صاحب بھی بٹالہ میں تھے۔ ہم رات کے وقت قادیان گئے۔ عزیز محمد لطیف دال روٹی لایا۔ اتنے میں حضرت اقدس تشریف لائے اور ساتھ ہی ٹہلنے لگے اور آواز دی۔ بسم اللہ دی اماں۔ اس نے نہ سنا پھر فرمایا عسکری کی اماں (یہ خادمہ بھی) اس نے عرض کیا۔ حضور کیا بات ہے۔ فرمایا یہ میرے مہمان ہیں میرے کھانے میں سے روز ان کو تھوڑا سا لقمہ دے دیا کرو۔ پھر اس نے ایک پھلکا ۔تھوڑاسا قیمہ جو گنڈھے کے آس اس آ تھا۔ اس کے بعد سہارنپوری آموں کی ایک ٹوکری آگئی۔ حضرت صاحب نے ایک آم عزیز محمد لطیف کے ہاتھ میں دے دیا۔
    ہم کھانا کھا کر وہیں سو رہے۔ ایک ہی چارپائی پر میں بمعہ بچوں لیٹی وہئی تھی۔ پیچھے سے دادی صاحبہ آئیں اور کہا کہ نیچے اتر جائو مگر میں نہ اتری۔ انہوں نے اور دیگر عورتون میں بہتیرا زور لگای مگر میں نے ان کی ایک بات نہ مانی۔ اور وہیں سوئی رہی۔ اتنے میں حضرت صاحب تشریف لائے اور ٹہلنے لگے۔ لدھیانے کا پائجامہ تھا۔ ململ باریک کا کرتہ تھا جس کے کندھے پر پٹی تھی۔ سر پر لنگی تھی۔ پیروں میں دہلی لی لال کھال کی جوتی تھی۔ اور ایک طرف ایک سٹول پڑا تھا اس پر دوات تھی دوسری طرف بھی ایک چھوٹے سے میز پر دوات تھی۔ حضور ٹہلتے ٹہلتے لکھ رہے تھے۔ ایک لیمپ کے پاس کھڑے ہو کر حضور کچھ لکھ لیتے۔ اور پھر چل پڑتے تھے۔ پھر دوسرے لیمپ کے پاس آکر کھڑے ہو جاتے تھے۔ جب درمیان میں چلتے تھے تو درمیان میں کوئی دعا بھی پڑھتے تھے۔ جو صاف سنائی نہ دیتی تھی۔ اور جب تہجد کی نماز کے لئے اٹھے تو دادی صاحبہ نے مجھے بھی اٹھا دیا۔ میں نے بھی تہجد کی نماز پڑھی۔ حضور کو سردرد کا دورہ تھا۔ اس لئے حضور نے عشا اور صبح کی نمازیں گھر میں ہی پڑھی تھیں۔ ہم نے بھی حضور کے پیچھے دونوں نمازیں پڑھیں۔ صبح کی نماز کے بعد حضور لیٹ گئے۔ سید عبدالستار شہا صاحب کی بڑٓ لڑکی نیچے سے آٖی اور حضور کو دبانے لگی میں نے جب اسے دیکھا تو میں بھی حضور کے پاس گئی اور حضور کو دبانے لگ پڑی۔ عورتوں نے اپنے اپنے ایمان کی زیادتی کے لئے دعا کے لئے عرض کی۔ میں نے بھی عرض کی۔ فرمایا میں بہت دعا کروں گا۔ میں نے عرض کیا حضور مجھے قرآن شریف نہیں آتا۔ فرمایا قاعدہ لے کر پڑھو۔ میں حضور کو دبا رہی تھی کہ سید عبدالستار شاہ کی لڑکی نے مجھے کہا کہ آپ بیوی جی کو دبائیں ۔ میں نے دیکھا کہ ان کو پائوں میں سونے کے چھلے تھے میں نے کہا کہ بیوی جی آپ کے پائوں میں سونے کے چھلے ہیں آپ کو گناہ نہیں ہوتا۔ بیوی صاحبہ نے پوچھا آپ کسی ہندوئوں کے گائوں کی ہیں۔ میں نے ابھی جواب نہیں دیا تھا کہ حضرت اقدس نے فرمایا کہ کیا آپ ہندوئوں کے گائوں کی رہنے والی ہیں۔ میں نے عرض کیا حضور میں ہندئوں کے گائوں کی رہنے والی ہوں۔فرمایا۔ گناہ ہوتا ہے اس وجہ سے کہ آئے مامور کو نہ مانا جائے۔ پھر فرمایا۔ گناہ ہوتا ہے اس وجہ سے کہ رب کی نافرمانی کی جائے۔ نماز نہ پڑھی جائے۔ … …… کھائی جائے۔ کسی کی چیز چرائی جائے۔ اپنی زینت کا بے محل اظہار کیا جائے۔ خاوند کی نافرمانی کی جائے۔ پھر فرمایا ۔ پہاڑوں سے ایک کان نکلتی ہے جو کبھی سیاہ ہوتی ہے کبھی سفید۔ کبھی پیلی۔ سیاہ کو لوٹا کہتے ہیں سفید کو چاندی اور پیلی کو سونا۔ فرمایا پہلے زمانہ کے بادشاہ سزاء کے طور پر لوگوں کو ایسے زیور پہنایا کرتے تھے پھر عورتوں نے خوبصورتی کے طور پر پہننے شروع کر دئیے۔ چاندی اور سونا تو اس طرح استعمال میں آنے لگا اور سوان کاموں میں استعمال ہونے لگا۔ اس کے استعمال سے کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ اس کے بعد حضور سو گئے اور میں اٹھ کر اپنے بچوں کے پاس آگئی۔
    دوسری دفعہ جب پھر میں گئی تو بائیس دن قیام کا موقع ملا۔ اس دفعہ میں بہشتی مقبرہ کی طرف حضور کے ساتھ سیر کو جایا کرتی تھی۔ بچوں کو ساتھ لے جایا کرتی تھی۔ حضور کے ہاتھ میں سوٹی ہوا کرتی تھی۔ گو چھوٹے چھوٹے بچوں کو اٹھا کر تیز چلنا تکلیف دہ تھا۔ مگر میں ضرور ساتھ جاتی تھی۔ حضور جس طرف اب دارالانوار ہے اس طرف جایا کرت تھے۔ پھر بہشتی مقبرہ میں آم کے درختوں کے نیچے گھاس پر لیٹ جایا کرتے تھے۔ ہم حضور کو دبایا کرتی تھیں۔اور دعا کے لئے عرض کیا کرتی تھیں۔ ایک دفعہ میں نے عرض کیا۔ حضور میرا کوئی الگ کوٹھا نہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ ہمارا کوئی الگ مکان ہو جائے یہ عرض میں نے بار بار کی۔ فرمایا میں دعا کروں گا۔ حضرت ام المومنین نے کہا آپ ہر بار مکان کے لئے دعا کراتی ہیں۔ اپنے ایمان کے لئے اور اپنی عاقبت کے لئے دعا کرایا کرو۔ فرمایا جس کو کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ وہی طلب کرتا ہے۔ اس کے بعد میں ہر وقت ایمان کے لئے دعا کی درخواست کرنے لگی۔
    ایک دفعہ پھر ہم گئے۔ حضرت ام المومنین قادیان نہیں تھے۔ بلکہ لاہور گئے ہوئے تھے۔ جب وہ واپس آئے تو چونکہ بٹالہ سے قادیان کا سفر خراب تھا۔ دھکے لگتے تھے۔ حضرت اماں جان بھی چونکہ ساتھ تھے اور بہت بوڑھے تھے۔ ان کو بھی فیٹن میں بہت تکلیف ہوئی تھی۔ ہچکولے لگے تھے۔ حضرت ام المومنین نے عرض کیا کہ حضور اگر فٹن کو پیے لگ جائیں تو بہتر ہو۔ میں نے بھی عرض کیا کہ مجھے بھی راستہ میں بڑی تکلیف ہوئی ہے۔ ٹانگہ کبھی لاہور ہوتا تھا۔ کبھی نیچے حضرت ام المومنین نے کہا کہ سب احمدی مل کر سڑک کو ……… بنوا لو۔حضرت صاحب نے فرمایا۔ کہ گھبرائو نہیں ۔ کوئی دن وہ ہو گا جب یہاں گاڑی آجائے گی۔
    بیوی جی۔ اماں جان اور حضرت میر ناصر نواب صاحب لاہور کپڑے خریدنے لگے تھے۔ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی شادی ہونے والی تھی۔ وہ کپڑے لائے۔ تو حضرت صاحب کے سامنے رکھ دئیے۔ نیچے سے کسی شخص نے آواز دی کہ حضور لنگر کے لئے آٹا کی ضرورت ہے۔ حضور ے دادی صاحبہ کو کہا کہ دادی میری صندوقچی لائو۔ وہ اٹھا لائی۔ حضور کے …………… کے ساتھ کنجیوں کا گچھا تھا۔ ایک چابی لگا کر کچھ روپے دئیے اور دادی کو دے کر فرمایا کہ باہر دے دو۔ پھر کپڑے دیکھے۔ فرمایا میں تو کپاس (یعنی سوتی) کپڑا کو پسند کرتا ہوں۔ میرے نزدیک تو کیا ہی کپڑا اچھا ہے۔ میرے بچے رونے لگے۔ حضور نے فرمایا۔ دال اور پھلیاں ان بچوں کو دے دو۔ یہ چیزیں وہ لاہور سے لائے تھے۔ حضرت خلیفہ اوّل کی بیوی نے بک بھر کر میرے بچون کو دال پھلیاں دے دیں۔ پھر ہمیں کہا گیا کہ اب عورتیں چلی جائیں حضرت صاحب نماز پڑھنا چاہتے ہیں۔ حضرت اقدس اشراق کی نماز بند کمرہ کے اندر پڑھا کرتے تھے۔
    میں جب بھی جایا کرتی تھی۔ دعا کے لئے عرض کرتی تھی اور حضور فرمایا کرتے تھے کہ میں دعا کروں گا۔
    نوٹ:۔ مندرجہ بالا روایات محترمہ سردار بیگم صاحبہ زوجہ چوہدری محمد حسین صاحب نے آج ۳۹۔۶۔۱۹ کو اپنے گھر پر خاکسار سے بیان کیں۔
    خاکسار
    عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۹
    چوہدری صاحب نے پہلے دسویں حصہ کی وصیت کی ہوئی تھی۔ پھر جب تیسرے حصہ کی وصیت کے لئے حضرت اقدس نے اعلان کیا تو سب سے پہلے چوہدری صاحب نے تیسرے حصہ کی وصیت کی۔ بعض لوگوں نے کہا کہ پہلے ذرا سوچ لو۔ حضور مسکرائے اور فرمایا یہ شخص اپنا صدق ظاہر کر رہا ہے۔ آپ کیوں روکتے ہیں۔ چوہدری صاحب جب گھر آئے تو مجھ سے ذکر کیا اور میں نے بھی تیسرے حصہ کی وصیت کر دی۔ میں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سے چوہدری صاحب کے قدموں میں جگہ بھی حاصل کر لی ہوئی ہے۔ اور دعا کرتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے وہاں پہنچائے۔
    خاکسار
    عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۹



    روایات
    میاں اللہ رکھا صاحب راجپوت ولد میاں امیر صاحب
    سکنہ نوشہرہ ککے زئیاں
    عمر65۔ 70سال ۔ سن بیعت 1894-93ء
    میاں عبداللہ صاحب ۔ جو یہاں ہماری جماعت کے امام تھے۔ اور مجھ سے پہلے بیعت کر چکے تھے۔ ان کی شادی سیالکوٹ ہوئی ہوئی تھی۔ مگر ان کی بیوی ان کے پاس رہنا نہیں چاہتی تھی۔ وہ تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد سیالکوٹ چلی جایا کرتی تھی۔ اور جب وہ سیالکوٹ اسے لینے کے لئے جاتے تو وہاں ان کی بے عزتی کی جاتی۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے حضرت اقدس کی خدمت میں یہ سارا واقعہ لکھ کر دعا کے لئے درخواست کی۔ حضور نے فرمایا۔ آپ کے لئے دعا کی گئی۔میں ان سے قرآن پڑھا کرتا تھا۔دوسرے یا تیسرے دن میں ان کے پاس قرآن پڑھا کرتا تھا۔ کہ انہوں نے فرمایا کہ میں آپ کو ایک عجیب واقعہ سناتا ہوں۔ میری بیوی نے سنایا کہ میں کل یا پرسوں کہا کہ میں اپنے گھر سیالکوٹ میں سوئی ہوئی تھی کہ ایک شخص جس کی ………………… رنگ کی تھی۔ وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ جلدی اپنے خاوند کے پاس چلی جائو میں پھر سو گئی اور پھر وہ شخص آیا اور اس نے سختی سے کہا کہ ابھی اپنے خاوند کے پاس چلی جائو۔ غرض رات میں کئی دفعہ یہ واقعہ پیش آیا اور صبح میں اپنے بھائی کو ساتھ لے کر یہاں آگئی ہوں ۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۱۹
    روایات
    میاں عبداللہ ولد محمد حسن صاحب
    سکنہ کھیوہ
    عمر65۔60سال ۔ سن بیعت اندازاً 1903ء
    خاکسار نتھے خاں اور اسماعیل غلام قادر نے مولوی محمد عبداللہ صاحب کی تبلیغ نے اکٹھے بیعت کی۔ غالباً۱۹۰۳ء میں ۔ مَیں غلام قادر اور عبداللہ اکٹھے قادیان گئے تھے۔ اور تین راتیں وہاں رہے تھے۔ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام سیر کے لئے اس طرف جاتے تھے۔ جس طرف اب ہائی سکول ہے۔ مسجد نور کے پاس جو بڑ کا درخت ہے وہاں کھڑے ہو جایا کرتے تھے۔ اور فرمایا کرتے تھے کہ کوئی وقت آئے گا کہ یہاں آبادی ہو گی۔ اس زمانہ میں اس بڑ کے پاس لوگ ڈر کیوجہ سے نہیں جاتے تھے اور جب حضرت صاحب تشریف لے جاتے تو کہتے کہ چونکہ بہت سے لوگ ساتھ ہوتے ہیں۔ اس لئے جن کچھ نہیں کہتے۔ غرضیکہ بالکل بیابان جگہ تھی۔
    حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نماز پڑھایا کرتے تھے۔ اور حضور علیہ السلام ان کے دائیں طرف کھڑے ہوتے تھے۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۲۰

    روایات
    میاں موسیٰ خان صاحب ولد جہانداد
    سکنہ کھیوہ ضلع سیالکوٹ
    عمر60سال ۔ سن بیعت اندازاً 1897ء
    میں نے بیعت ۱۸۹۷ء میں بذریعہ خط بیعت کی تھی۔ اور پھر حضور علیہ السلام کی زندگی میں تین دفعہ قادیان بھی گیا ہوں۔ مجھے اس قدر یاد ہے کہ حضور علیہ السلام اصحاب کی مجلس میں بیٹھے تھے۔ میں حضور کو دبانے لگا فرمایا نہ دبائو۔ میرے پائوں کو درد ہو رہی ہے۔ پھر میں نے عرض کیا کہ حضرت میرے جسم پر ہاتھ پھیریں۔ اس پر حضور نے میری پیٹھ پر ہاتھ پھیرا۔ اور فرمایا جلدی جلدی قادیان آیا کرو۔
    ایک شخص نو مسلمو تھا۔ اس نے حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کی کہ حضور مجھے اجازت دیجئے۔ فصل تیار ہے۔ میں نے تقسیم کرانی ہے۔ فرمایا کتنی فصل ہے؟ اس نے عرض کیا کہ حضور بہت زیادہ ہے ۔ میں نے تو بہت سے گائوں چھوڑ کر خدا تعالیٰ کا دروازہ اختیار کیا ہے؟ آپ کچھ روز اور ٹھہریں۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۲۰
    سیالکوٹ میں حضرت اقدس نے زمینداروں کو مخاطب کر کے ایک نصیحت کی تھی کہ زمیندار دو باتیں یاد رکھیں۔ اوّل نماز کو چھوٹا نہ کیا کریں۔ دوم۔ کسی کی کھیتی میں مویشی نہ چھوڑا کریں۔ زمیندار لوگوں کو کام بہت پیارا ہوتا ہے اور وہ نماز کو مختصر کرتے ہیں اور جب کھیتوں سے واپس آتے ہیں تو مویشیوں کو رستہ کے کھیتوں میں چراتے آتے ہیں۔ ان دونوں باتوں کے متعلق احتیاط کرنی چاہئے۔









    روایات
    میاں جلال الدین صاحب ولدمیاں بوٹا خان
    سکنہ کھیوہ ضلع سیالکوٹ
    عمر70سال ۔ سن بیعت اندازاً 1903ء
    میں نے پہلے خط کے ذریعہ بیعت کی تھی۔ پھر حضور کی خدمت میں قادیان حاضر ہو کر بھی بیعت کی ۔ میرے ساتھ قریباً ۴۔۵ آدمیوں نے بیعت کی۔ بیعت کے بعد ایک شخص نے عرض کی۔ یا حضرت میرے لئے دعا کریں۔ فرمایا ہم سب کے لئے دعا کریں گے۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۲۰
    روایات
    میاں نتھے خان ولد میاں سلطان بخش صاحب
    سکنہ کھیوہ ضلع سیالکوٹ
    عمر60سال ۔ سن بیعت 1897ء
    مجھے صرف اس قدر یاد ہے کہ حضرت صاحب نے تقریر کرتے کرتیی فرمایا تھا یہاں قادیان میں بڑی دور دور سے خلقت آئے گی۔
    ایک دفعہ مسجد اقصیٰ کے قریب ہندوئوں نے شور مچایا۔ آپ نے فرمایا آپ لوگ خاموش رہیں۔ اگر یہ لوگ زیادتی بھی کریں تو ان کو کرنے دو۔ ایک وقت آئیت گا کہ یہ مکانات وغیرہ سب کچھ تمہارے قبضہ میں آجائے گا۔
    الراقم عبدالقادر




    روایات
    مولوی محمد عبداللہ صاحب ولد چوہدری عطرالدین صاحب
    سکنہ کھیوہ ضلع سیالکوٹ
    عمر85-80سال ۔ سن بیعت 1897ء
    میرا استاد مولوی سلطان احمد صاحب صوفی آدمی تھا۔ مل پور میں رہا کرتا تھا۔ مولوی صاحب مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کے مرید تھے۔ ان کے زریعہ میں بھی عبداللہ صاحب اس زمانہ میں لوگ ان کو وہابی سمجھ کر شہر میں داخل نہیں ہونے دیتے تھے۔ اور ……… مولوی صاحب فوت ہو گئے۔ پھر میں اکیلا امرتسر مولوی عبداللہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ چند روز ان کے پاس رہا۔ وہ اپنے الہام رویا اور کشوف سنایا کرتے تھے۔ اور الہام ہونے کے متعلق دلائل بھی بتایا کرت تھے۔ مجھے یقین ہو گیا کہ اولیاء اللہ کو الہام ہو سکتا ہے۔ ھپر جب میں نے یہ سنا کہ حضرت مرزا صاحب الہام کا دعویٰ کرتے ہیں تو اس وقت میرے دل میں حضرت اقدس کی محبت داخل ہو گئی۔ پھر میں نے ………………… ۹۲ء ۔ ۹۳ئ۔ میں پڑھی۔ میری طبیعت پربڑا اثر ہوا۔ پھر میں حضرت صاحب کی تحریرات اور مولوی محمد حسین بٹالوی کی تحریرات بالمقابل دیکھتا رہا۔ مولوی محمد حسین کے دلائل سے میں یہی سمجھتا رہا۔ کہ یہ کمزور ہیں۔ ان کا میری طبیعت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ حضرت صاحب کے دلائل بھی مضبوط معلوم ہوتے تھے۔ اور روحانی بھی ظاہر ہوتی تھی۔ دن بدن محبت بڑھتی گئی اور میری طبیعت پر گہرا اثر ہوتا گیا۔ تحقیقات جاری رکھی۔ ……… کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ۱۸۹۷ء میں مَیں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود میرے سامنے ہیں۔ میرا منہ مشرق کی طرف ہے۔ حضرت اقد سکا چہرہ مبارک میری طرف ہے۔ حضرت خلیفہ المسیح ثانی حضرت صاحب کے دائیں طرف ہیں۔ اس وقت میرے خیال میں حضرت خلیفۃ المسیح کی عمر ۹۸ برس کی تھی۔ حضرت اقد سنے خلیفہ ثانی کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے فرمایا وہ اہمد جو آگے تھا وہ پیغمبر تھا۔ اور تبع پیغمبر سے نہ تھا۔ اور وہ احمد جو اب ہے (اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے خلیفہ ثانی سے اشارہ سے پوچھا کہ وہ احمد جو اب ہے اس سے مراد کون ہے۔ آپ نے بھی اشارہ کے ساتھ ہی سمجھایا کہ اس سے مراد آپ ہیں۔) متبع پیغمبر ہے۔ ‘‘
    اس کے بعد میںنے بیعت کا خط لکھ دیا۔ کچھ عرصہ کے بعد میں قادیان گیا اور دستی بیعت کی۔ اس زمانہ مین بعض لوگ مجھے یہ کہا کرتے تھے کہ تیرا مذہب ……… ہے۔ تبلیغ میں بیعت سے پہلے بھی کیا کرتا تھا۔ اور بیعت کے بعد تو میں نے اس قدر تبلیغ کی کہ سینکڑوں لوگ میرے ذریعہ جماعت میں داخل ہوئے۔
    موضع کلاس والا میں ایک شخص میرا دوست عمر دین کشمیری تھا۔ اس نے خواہش کی کہ میں قادیان جائوں میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں خط لکھا کہ عمر دین چاہتا ہے کہ میں قادیان جائوں۔ اس کو کس وقت قادیان آنا چاہئے۔ حضرت صاحب نے حکم بھیجا کہ جب آپ جلسہ پر قادیان آویں تو اس کو بھی ساتھ لے آنا۔
    ایک شخص ابراہیم نام کھیوہ کا باشندہ تھا اس نے عبدالمحی عرب کی کوئی کتاب چرالی۔ عرب صاحب نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کی ۔ حضرت صاحب نے میرے نام خط لکھا کہ اس اس طرح ابراہیم عرب صاحب کی کتابیں چرا کر لے گیا ہے۔ اس کو کہو کہ کتابیں واپس کرے اور تو بہ کرے۔ اور اگر توبہ نہ کرے تو پھر قادیان میں نہ آئے۔
    ایک دفعہ میں نے خط لکھا کہ اگر کوئی مسئلہ میں نے پوچھنا ہو تو مجھے اجازت ہے آپ س پوچھ لوں۔ جواب آیا کہ جو مسئلہ آپ نے پوچھنا ہے وہ مولوی نورالدین صاحب سے پوچھیں۔ اس کے جواب میں پھر میں نے عرض کی کہ مولوی صاہِ کی علمی فضیلت کا میں قائل ہوں۔ اور یہ بھی جانتا ہوں کہ مولوی صاحب آپ کی صحبت میں ہیں او رمیں رو پڑا ہوا ہوں۔
    فرق است میاں آنکہ یارش در بر بآنکہ دو جشم انتظارش بردر
    اس واسطے میرے اور مولوی صاحب کے درمیان بڑا فرق ہے وہ حضور کے سامنے میں دور۔ علمی طور پر وہ افضل۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ جو سوال کروں حصور ہی سے کروں۔ اس کا جواب آیا کہ جو کچھ آپ نے پوچھنا ہو بے شک پوچھ لیں۔ میں جواب دوںگا۔ میں نے اپنے لڑکے محمد اسماعیل کی شادی کے موقع پر سوال لکھ بھیجا کہ میرے رشتہ دار مجبور کرتے ہیں کہ آتشبازی اور باجہ میں بارات کے ساتھ لائوں۔ اس کے متعلق کیا حکم ہے۔ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے مجھے اس خط کا جواب دیا کہ مومن بڑا قوی ہوتا ہے اس کو کوئی مجبور نہیں کر سکتا۔ تو پھر میں آتشبازی نہ لے گیا۔
    ایک دفعہ میں حضرت صاحب کی زیارت کے لئے حاضر ہوا۔ حضرت اس وقت ایک جگہ کھڑے تھے۔ ایک صحابی حضرت صاحب کے پاس کھڑا تھا۔ اس نے مجھے دیکھ کر حضرت صاحب کو کہا کہ یہ مولوی عبداللہ کھیوے والا ہے۔ اس کے ساتھ بڑے مقابلے ہوئے ہیں۔ لیکن ہر میدان میں اس کو اللہ تعالیٰ غلبہ دیتا رہا ہے۔ حضرت صاحب نے فرمایا ’’ ہاں حق کو ہمیشہ غلبہ ہی ہوتا ہے‘‘ یہ کلمہ مبارک اس برکت والے مہینہ سے سن کر میری تسلی ہوئی۔ اور بڑی خوشی ہوئی اور مجھے یقین ہو گیا کہ اس مونہہ سے یہ کلمہ نکلا ہے۔ مجھے امید ہ وگئی ہے کہ میںحق پر رہوں گا۔ اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ مجھے غلبہ ہی دے گا۔ و اللہ تعالیٰ نے اس وقت سے اب تک کسی مقابلہ میں مجھے شکست نہیں ہونے دی۔ غلبہ ہی بخشا ہے۔
    جب میں قادیان گیا اور حضرت خلیفۃ المسیح اوّل کو ملا تو میں نے اپنی ضمیر سے پوچھا اگر یہ شخص کوئی دعویٰ کرے تو مان سکتا ہے یا نہیں؟ میرے دل نے جواب دیا کہ کسی کی پیروی میں یہ شخص جو دعویٰ بھی کرے میں ماننے کے لئے تیار ہوں۔ اگر خود یہ دعویٰ کرے کہ میں مامور ہوں تو میں نہیں مانتا۔ جب حضرت صاحب کی زیارت کی تو دیکھتے ہی نہ دل نہ سوال نہ جواب۔ بس اطاعت ہی اختیار کر لی۔
    ایک دفعہ حضرت صاحب کے ساتھ سیرکو گیا۔ تو دیکھا دوست کوئی آگے کوئی پیچھے کوئی دائیں کوئی بائیں۔ میں نے سوچا کہ مجھے کس طرف ہونا چاہئے۔ میری سمجھ میں آیا کہ حضرت صاحب کے پیچھے پیچھے ہو جائوں جہاں سے وہ قدم اٹھائیں وہاں قدم رکھوں ایسا ہی کرتا گیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جب قدم اٹھاتے تو اس جگہ میں پائوں رکھتا۔ ایک دفعہ حضرت صاحب کے پائوں پر پائوں لگا میری جوتی حضرت اقدس کی جوتی پر پڑگئی۔ حضرت اقدس نے ذرا سا منہ پیچھے کی طرف کر کے دیکھا مگر مجھے ہرگز کچھ نہیں فرمایا۔
    مسجد مبارک میں ایک دفعہ حضرت صاحب تشریف رکھتے تھے۔ بہت دوست بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے مجلس کے بیچ میں گزر کر حضور سے مصافحہ کیا حضور فرمانے لگے آپ کا نام کیا ہے’ میں نے عرض کیا میرا نام عبداللہ ہے۔ کنیت میری ابو محمد ہے۔ حضور نے مولوی محمد علی صاحب سے فرمایا کہ ان کا نام دیو محمد عبداللہ ہے۔
    ایک دفعہ ایک زمیندار نے سوال کیا حضور میں مقروض ہو گیا ہوں۔ میرے سر پر بڑا قرض ہو گیا ہے۔ فرمایا استغفار کرو۔ دعائیں مانگو۔ اللہ تعالیٰ فصل میں برکت دے۔ اپنا فضل کر کے قرض اتار دے گا۔
    ایک شخص نے سوال کیا کہ اگر مقتدی رکوع میں مل جائے تو اس رکعت ہوتی ہے یا نہیں۔ فرمایا اس کی رکعت ہو جاتی ہے اس نے عرض کی کہ اہلحدیث کہتے ہیں نہیں ہوتی۔ فرمایا۔ سارے اہلحدیث یہ نہیں کہتے اور جو کہتے ہیں وہ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ اس نے الحمد شریف نہیں پڑھا۔ اس واسطے اس کی رکعت نہیں ہوئی۔ مگر یہ مانا جائے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ حنفیوں میں بہت اکابر۔ اولیا اللہ گزرے ہیں اور حنفیوں کے مذہب میں الحمد شریف امام کے پیچھے نہیں پڑھا جاتا۔ تو ماننا پڑے گا کہ وہ اولیاء اللہ بے نماز ہی رہے۔ ان کی کوئی ن ماز نہیں ہوتی۔ جب گھر سے نمازی نکلتا ہے تو اپنی نیت کے مطابق وہ نماز میں ہی ہوتا ہے۔
    ایک دفعہ حضرت صاحب تقریر فرما رہے تھے تو آپ نے بڑے جوش سے فرمایا کہ یہ جو قادیان میں ہندو آریہ وغیرہ ہیں ان سے پوچھو کہ کوئی ایسا موقع ان کو ملا ہے جب انہوں نے میری مخالف نہ کی ہو۔ اور مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی۔ اور کوئی ایسا بھی موقع ہوا ہے جبکہ مجھے ان کو نفع پہنچانے کا موقع ملا ہے اور میں نے فع نہیں پہنچایا۔
    جس وقت حٍضرت صاحب نے الوصیت لکھی۔ اس وقت تقریر میں فرمایا اب میرے انتقال کا وقت نزدیک آگیا ہے اور ابھی میری جماعت کمزور ہے اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے چھوٹے چھوٹے بچوں کی ماں مر جاتی ہے۔ یہ الفاظ حضرت صاحب کے بہت ہی موثر تھے۔ اور بڑے ہی درد سے حضرت صاحب سے فرمائے تھے۔
    ایک دفعہ میں جلسہ کے دنو ں میں قادیان گیا۔ میراں بخش حجام کی حویلی میں چلا گیا۔ اس نے عزت کے ساتھ مجھے بٹھایا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ بابا تیری عمر کتنی ہے۔ اس نے جواب دیا کہ میں مرزا صاحب سے بڑا ہوں۔ مرزا غلام قادر صاحب سے بھی بڑا ہوں۔ میں نے اس سے دریافت کیا کہ آپ کو ان کے ابتدائی حالات معلوم ہوں گے۔؍ اس نے کہا کہ میں ان کے گھر کا نائی ہوں۔ مجھے سب حالات معلوم ہیں۔ میں نے کہا۔ ابتدا سے لے کر سارے حالات سنائو۔
    اس نے کہا کہ مولوی فضل صاحب کو بڑے مرزا صاحب نے ان کو پڑھانے کے لئے پانچ روپیہ تنخواہ پر ملازم رکھا۔ کچھ صرفو نحو کے رسالہ اس نے پڑھائے وہ چلا گیا۔
    پھر ایک اور مولوی کو کچھ زیادہ تنخواہ پر رکھا وہ شیعہ تھا۔ ہم لوگوں نے عرض کی کہ مرزا صاحب یہ مولوی شیعہ ہے۔ غلام احمد کا اعتقاد خراب کر دے گا۔ بڑے مرزا صاحب نے فرمایا کہ ہم نے مذہبی علم اس سے تھوڑا ہی پڑھانا ہے کوئی طب کے رسالے پڑھائے گا۔ کچھ رسالے اس نے بھی پڑھائے اور وہ بھی چلا گیا۔
    لالہ بھیم سین وکیل سیالکوٹ ان سے واقفیت رکھتا تھا۔ اس کے زریعہ سیالکوٹ میں ملازم ہو گئے۔ مرزا صاحب نے مجھے فرمایا کہ سیالکوٹ جائو۔ اور یہ کرو کہ غلام احمد کچھ کرتا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ سفر دور ہے۔ بڑے مرزا صاحب نے فرمایا کہ دور تو ہے مگر جانا بھی ضروری ہے۔ میں سیالکوٹ گیا آپ کو ملا ادھر ادھر دیکھا اور عرض کیا کہ مرزا صاحب کوئی چولھا وغیرہ نہیں ہے۔ کھانے کا کیا انتظام ہے ؟ شاید آپ کا نوکر دو گلیاں مانگ لاتا ہو گا۔ (یہ میں نے مذاقاً کہا) فرمانے لگے ہم نے کھانے وغیرہ کا انتظام کیا کرنا ہے ہم نے یہاں کوئی مستقل رہنا ہے۔ اگلے روز میں وہاں سے رخصت ہوا۔ فرمایا ۔ یہ دو روپے میرے پاس ہیں یہ لے لو ۔ میں نے کہا ایک آٹھ آنے مجھے کافی ہیں۔ میں پہنچ جائوں گا۔ آپ دو آدمی ہیں۔ ایک آپ ایک نوکر۔ کچھ کھانے پینے کے واسطے اپنے لئے بھی رکھیں۔ فرمایا اگر میرے پاس کچھ زیادہ روپے ہوتے تو اور بھی دے دیتا۔ یہ لے لو۔
    بڑے مرزا صاحب کو آکر ملا۔ فرمایا سنائو کچھ کرنا ہے میں نے عرض کی کرنا اس نے کیا ہے کسی وقت ایا جاتے۔ چنانچہ سچ مچ نوکری چھوڑ کر چلے آئے۔یہاں آکر کہا کہ مجھے ایک کوٹھا دے دو۔ اور کتابیں دے دو۔ میں یہ کام کروں گا۔ کتاب ہاتھ میں لے کر اس کوٹھے میں پھرتے رہے۔ کتاب لے کر ادھر ادھر ٹہلتے رہے۔ پھر پھر کر کوٹھا نیچا کر دیا۔ کتابوں کا ڈھیر لگا رہتا تھا اور اپ کتابوں کے پاس ایک روز سوئے ہوئے تھے کہ مرزا صاحب نے مجھے فرمایا دیکھو میں ڈرتا ہوں کہ غلام اہمد کسی روز کتابوں کے نیچے آکر دب نہ جائے۔ اندر ہی رہتے تھے۔ کتابیں ہی دیکھتے رہتے تھے۔ بڑے مرزا صاحب فوت ہو گئے ہم لوگ گئے پھر آپ کے پاس کہ حضرت اب تو آنکھیں کھولو۔ فرمایا اب کیا ہوا ہے۔ ہم لوگوں نے کہا کہ آپ کا بھائی لائق تھا وہ فوت ہو گیا۔ آپ کے والد صاحب فوت ہو گئے قادیان کی نمبرداری باتی دیہات کی تعلقداری یہ سب کام آپ نے کرنے ہیں برادری جمع ہو کر آپ کو سرداری کی دستار پہنائے گی۔ آپ نے فرمایا کہ ہم سے یہ کام نہیں ہو سکتا۔ نہ ہم نے کرنا ہے اور نہ ہم سے ہو سکتا ہے ہم لوگوں نے کہا کہ کون کرے گا۔ فرمایا سلطان احمد جو ہے۔ ہم لوگوں نے عرض کی کہ سلطان احمد غلام قادر کا ……… ہے۔ سرداری غلام قادر کے گھر چلی جائے گی۔ فرمایا کچھ پرواہ نہیں۔ ہم سے یہ کام نہیں ہو سکتا۔ اس نائی نے کہا کہ یہان تو ہم نے یہی کچھ دیتا ہے۔ اب جو باہر سے خقت آتی ہے۔ اس کی ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ باہر اس نے کیا جادو کیا ہے۔ یہاں تو اندر ہی بیٹھا رہتا تھا۔ خاکسار راقم المعروف کے سوال پر مولوی عبداللہ صاحب نے فرمایا کہ یہ نائی اس وقت تو غیر احمدی تھا۔ بعد کا مھجے علم نہیں۔
    سیالکوٹ جب لیکجر کے لئے حضور تشریف لائے جس صبح کو لیکچر ہونا تھا۔ اس رات مجھے خواب مین دکھایا گیا کہ حضرت صاحب نے اس لیکچر میں کوئی ایسی بات بتانی ہے۔ جو پہلے ہم لوگوں کو یاد نہیں۔ اور ’’ ام‘‘ کے لفظ سے استدلال کرتا ہے یہ خواب میں نے ایک دوست کو صبح سنا دی۔ راجہ کی سرائے میں لیکچر پڑھا گیا۔ مولوی عبدالکریم صاحب نے پڑھا۔ اس لیکجر میں حضرت صاحب نے یہ دعویٰ کیا کہ میں کرشن ہوں ۔ یہ نئی بات تھی جو پہلے ہم کو نہیں معلوم تھی اس لیکچر میں حضور نے یہ بھی بیان کیا کہ دنیا کی عمر سات ہزار برس ہے۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ قیامت کا وقت کسی کو معلوم نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تو کہا جاتا ہے کہ ماں اپنے بچہ کو نو ماہ کے بعد جنتی ہے اور وقت کسی کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کس وقت جنے گی۔ ایسا ہی دنیا کی عمر سات ہزار برس ہے اور قیامت کی گھڑی کو کوئی نہیں جانتا۔
    جب سیالکوٹ سے واپس تشریف لے گئے میں بھی اسی گاڑی پر سوار ہو گیا وزیر آباد گاڑی کھڑی ہوئی۔ رستہ میں ہر جگہ جہاں گاڑی کھڑی ہوتی تھی میں جا کر مصافحہ کرتا تھا۔ وزیر آباد کے سٹیشن پر ایک پادری آگیا اس نے مسیہ کے متعلق کوئی گفتگو کی فرمایا کہ مسیح دو ہیں پہلے وہ مسیح تھا ابن مریم۔ اب اس وقت میں مسیح ہوں مسیح ایک نہیں دو ہیں وہ بھی مسیح تھا میں بھی مسیح ہوں۔
    کسی شخص نے مجھ سے بیان کیا مجھے اس کا نام یا دنہیں رہا۔ ہاں بات اچھی طرح یاد ہے کہ حضرت صاحب ملازمت کے ایام میں کچہری سے واپس آرہے تھے اور ایک سکھ بھی ساتھ تھا۔ سکھ نے کہا کہ کوئی شخص دوڑ میں میرا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ آپ کو غیرت آگئی اٌ نے فرمای میں دوڑ سکتا ہوں۔ چنانچہ آپ نے دوڑ میں اس کے ساتھ مقابلہ کیا۔ اور آگے نکل گئے۔[
    خاکسار راقم المعروف عرض کرتا ہے کہ سیالکوٹ میں میں نے بھی یہ بات غالباً میان فیروز الدین صاحب زرگ سے سنی ہے۔ بات اچھی طرح یاد ہے۔ لیکن راوی کے متعلق یعین سے نہیں کہہ سکتا۔پہلے کھانا کھانے کا یہ انتظام ہوا کرتا تھا کہ ایک ہی دفعہ سب کو بٹھا کر کھانا کھلا دیا جاتا ہے۔ ایک دفعہ دو دفعہ کھلانے کا انتظام کیا گیا۔ ایک آدمی بھوکا رہا۔ صبح حضرت اقدس ے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ ایک آدمی بھوکا رہا ہے اسکی حالت آسمان تک پہنچی ہے اور وہان سے مجھے خبر آئی ہے ۔ یا ایھالنبی اطعموا الجائع والمعتر ۔
    جب حضرت اقدس علیہ السلام سیالکوٹ لیکچر کے لئے تشریف لائے اس سے چند روز پہلے بوڑھیا ہمارے گائوں میں آئی اس کا نام دولتے تھا۔ اور وہ موضع بھوپال والے کی تھی۔ سقہ قوم میں سے تھی۔ مستوارات میں بیٹھ کر رونے لگے اور جہاں بھی بیٹھے روتی ہی رہے۔ مستورات نے اسے کہا کہ باہر مولوی صاحب ہیں ان کے پاس جا وہ میرے پاس آئی اور رونے لگی۔ میں نے کہا مائی کیوں روتی ہے اس نے کہاکہ میں نے ایک چیز خواب میں دیکھی ہے وہ نظر نہیں آتی۔ پنجاب میں تلاش کیا ہے عرب میں جا کر تلاش کیا ہے مگر وہ نظر نہیں آٖی میں نے کہا تو اپنا پتہ لکھا دے میں تمہیں خط لکھوں گا تم آجانا۔ اور وہ چیز دیکھ لینا۔ جب سیالکوٹ کے جلسہ کی تاریح مقرر ہوئی تو می نے اسے خط لکھ دیا کہ سیالکوٹ میں فلاں تاریخ تک آجائو۔ اور میر حسام الدین یا سید حامد شاہ صاحب کے مکان کا پوچھ لینا جب حضرت اقدس سیالکوٹ تشریف لائے تو وہ بوڑھیا بھی وہاں آٗئی۔ میں اور مولوی برہان الدین صاحب مرحوم جہلمی اور چند سوست اور میر حامد شاہ صاحب والی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے باہر سے کسی شخص نے میرا نام لے کر بلایا۔ میں باہر نکل آیا ۔ مسجد کے باہر مائی دولتے کھڑی تھی۔ میں نے کہا۔ آگئی کہنے لگی اپنے گائوں کی بی بیوں کو جا کر کہہ دینا کہ وہ مائی جو روتی تھی اب نہیں روتی جو کچھ اس نے دیکھنا تھا دیکھ لیا۔
    بعد ازاں وہ بی بیاں جو اس وقت حضرت صاحب کے پاس موجود تھیں ان میں سے ایک عورت راجن بی بی تھی اس نے بیان کیا کہ جب یہ بوڑھیا آئی اور حصرت صاحب کو دیکھا تو اپنے دونو ہاتھ پھیلا لئے اور کہا کہ ’’ ہو شاباشے تو یہاں پنجاب میں ہی تھا میں تو عرب میں بھی تجھے ڈھونڈتی پھری۔ ‘‘
    ضلع شیخوپورہ میں ایک گائوں جو کہ سید والا سے قریب ہے۔ اس لا نام ’’ڈھونی‘‘ ہے۔ اس گائوں کے ساتھ ہی میرے خاندان کی کچھ زمین ہے۔ میں ہواں گیا وہاں ایک مجھے پرانا احمدی ملا۔ جس کا اسم شریف میاں نور محمد تھا۔ میاں نور کہہ کر لوگ ان کو بلاتے تھے ۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ میاں صاحب یہاں جنگل میں آپ کو مسیح موعود کا کس طرح پتہ لگ گیا۔ انہوں نے فرمایا کہ یہاں فرید والا تھے ایک مست بزرگ تھے۔ میں ان کا مرید تھا۔ جب مرزا صاحب کا نام سنا۔ تو میںنے ان سے زکر کیا کہ لوگ مرزا صاحب کا ذکر کرتے ہیں۔ حضرت یہ کیا بات ہے وہ بزرگ بولے کہ مرزا صاحب سچے ہیں۔ آپ ان کی بیعت کریں۔ میں نے کہا کہ آپ کی بیعت کی ہوئی ہے۔ ٹوٹ جائے گی۔ فرمایا ہماری بیعت محض محبت کی ہے یہ نہیں ٹوٹتی۔ اب زمانہ کا مالک آگیا ہے سب کو اس کی بیعت کرنی چاہئے میں نے باطن میں بیعت کی ہوئی ہے۔ زندہ رہا۔ تو ظاہر می ںبھی بیعت کروں گا۔ پھر مجھے خوابوں کا سلسلہ جاری ہوا۔ خواب میں قادیان کے سب مکان دیکھے۔ پھر میں سید والا میں مولوی جمال الدین صاحب کے پاس گیا۔ ان سے میں نے مرزا صاحب کے متعلق سوال کیا۔ مولوی صاحب نے فرمایا کہ اگر میں سچ سچ بتائوں گا تو تو جمعہ پڑھنے نہیں آئے گا۔ میں نے کہا آپ ضرو سچ بتائیں ۔ میں ضرور آیا کروں گا۔ انہوں نے کہا مرزا صاحب سچے ہیں۔ میں نے بیعت کی ہوئی ہے ۔ میں نے کہا جب آپ قادیان جانے کا ارادہ کریں۔ تو مجھے خبر دیں میں ضرور ساتھ چلوں گا۔ جب مولوی صاحب نے خبر دی تو میں قادیان ان کے ستاھ گیا۔ جب قادیان پہنچے تو میں نے مولوی صاحب کو کہا اب آپ میرے پیچھے چلین ۔ میں نے خواب میں سارے مکان دیکھے ہوئے ہیں۔ چنانچہ میں نے ان کو سارے مکان دکھائے۔ ان وہ میاں نور صاحب فوت ہو چکے ہیں۔ اللہ انہیں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
    خاکسار
    ابو محمد عبداللہ ولد چوہدری عطر دین باجوہ
    ساکن موضع کھیوہ باجوہ تحصیل پسرور ضلع سیالکوٹ







    روایات
    چوہدری نواب الدین صاحب ولد چوہدری گوڈر صاحب
    سکنہ صابو بھنڈیار
    عمر58سال ۔ سن بیعت 1905ء
    میں نے امرتسر کے مقام پر حضور علیہ السلام کی اس دن بیعت کی تھی جس دن حضور نے دہلی سے واپسی پر وہاں لیکچر دیا تھا۔
    میں یہاں سے قادیان جانے کا ارادہ سے گیا تھا۔ مگر راستہ میں ایک شخص ملا۔ اس نے کہا کہ حضرت صاحب تو امرتسر ہیں۔ مین امرتسر گیا۔جس مکان پر حضرت صاحب تشریف رکھتے تھے اس کے دروازہ پر ایک احمدی اور ایک پولیس مین کا پہرہ تھا۔ مجھے بھی کجھ عرصہ دروازہ پر انتطار کرنا پڑا۔ ازر پھر حضرت اقدس کی پگڑی کی وساطت سے بیعت کی۔
    ایک دن قادیان میں حضرت صاحب سیر کو جا رہے تھے۔ میرا پائوں حضور کی چھڑی پر پڑ گیا۔ چھڑی گر گئی ۔ میں نے اٹھا کر پیچھے سے پکڑا دی۔ جب کافی دور نکل گئے تو مفتی صاحب نے عرض کی کہ حضوور اب کافی دور نکل آئے ہیں۔ فرمایا اَر اور پھر واپس ہو گئے۔
    ایک دفعہ میں حضور کو دبا رہا تھا۔ میں نے زور زور سے دبانا شروع ۔ حضور نے فرمایا۔ چھوڑ دو۔
    نواب الدین
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۲۲
    گھٹیالیاں کے صحابی
    ۱۔ سیر نذیر حسین شاہ صاحب
    ۲۔ چوہدری علی محمد صاحب
    ۳۔ چوہدری سید محمد صاحب
    ۴۔ حسین کشمیری صاحب
    ۵۔ چوہدری متاب الدین صاحب
    ۶۔ صوفی گلاب صاحب
    ۷۔ مولوی شاہ محمد صاحب
    ۸۔ چوہدری حیات محمد صاحب
    ۹۔ بدر دین صاحب





    روایات
    چوہدری محمد علی صاحب ولد چوہدری شاہ دین صاحب
    سکنہ گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ
    عمر60سال ۔ سن بیعت 1904ء
    میرے والد صاحب سیالکوٹ جلسہ میں شمولیت کے لئے تشریف لے گئے۔ جب واپس تشریف لائے تو انہوں نے آکر تبلیغ شروع کی۔ وہ خود بیعت کر کے آئے تھے۔ ان کی تبلیغ سے گھٹیالیاں کے لوگ دھڑا دھڑ بیعت کرنے لگے۔ غالباً غلام رسول بسرا سے میں نے سنا کہ حضرت صاحب نے جب یہ دیکھا کہ کثرت سے گھٹیالیاں کے لوگ بیعت کر رہے ہیں تو فرمایا کہ ’’ یہ گھٹیالیاں ہے یا کوئی شہر‘‘ اس موقعہ پر چوہدری محمد علی صاحب کے بھائی احمد علی نے کہا کہ یہ روایت صحیح ہے اور غلام رسول نے میرے سامنے ہمارے چبوترے پر بیٹھ کر یہ بات سنائی تھی۔
    میرے والد صاحب ہاتھ میں تسبیح رکھا کرتے تھے۔ حضرت صاحب نے ان کو ہاتھ میں تسبیح دیکھ کر فرمایا کہ یہ کس لئے ہے عرض کیا خدا کا نام حضور گن گن کر لیتا ہوں۔ فرمایا کیا آپ خدا کو جتلاتے ہیں کہ اتنی بار ہم نے تیرا نام لیا ہے۔
    ایک دفعہ حضرت اقدس سیر کو تشریف لے گئے ۔ ریتی چھلہ کے بڑ کے پاس تھہر گئے اور دوستوں نے حلقہ باندھ لیا۔ چوہدری مولا بخش چونڈہ والوں نے عرض کیا کہ حضور کرسی لائوں۔ فرمایا نہیں۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے الہام ہو چکا ہے کہ لا تسئم من الناس وہ بڑ اب موجود تو ہے مگر خشک ہو چکا ہے۔
    ایک دفعہ جبکہ سارے لوگ سوئے ہوئے تھے دو آدمی لالٹین لے کر پھر رہے تھے۔ ہمارے پوچھنے پر کہنے لگے کہ حضرت صاحب کو الہام ہوا ہے کہ بھوکوں کو کھانا کھلائو۔ چنانچہ دو آدمی ان کو مل گئے اور پھر ان کو کھانا کھلایا گیا۔
    چوہدری غلام رسول صاحب نے سنایا کہ ہمارے ساتھ ایک پٹواری قادیان میں گیا۔ وہ احمدی تھا۔ مگر جب اس نے دیکھا کہ حضرت صاحب کے گھر کی باری مسجد میں کھلتی ہے مگر حضور نماز کو تشریف نہیں لائے۔ تو اس کے دل میں حضور کے اعلیٰ مقام کی نسبت شک پیدا ہوا پھر وہ موقع پا کر ۸۔۹ بجے اندر حضرت اقدس کی ملاقات کے لئے گیا دیکھا کہ حضرت اقدس نے ایک بہت موٹا لحاف اوڑھا ہوا ہے اور فرمایا کہ آج مجھے اس قدر دست آئے ہیں کہ جسم میں بالکل طاقت نہیں رہی۔ یہاں تک کہ ساتھ مسجد ہے ۔ مسجد تک نماز کے لئے بھی نہیں جا سکا۔ ‘‘ یہ سن کر اس کی تسلی ہو گئی۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۲۲
    میرے والد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ جب میں نے حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت کی اور یہ اقرار کیا کہ میں دین کو دنیا پر مقدم کروں گا۔ تو میں سر سے لے کر پیر تک کانپ اٹھا۔ بیعت کے بعد واپسی کے لئے اجازت مانگی۔ فرمایا کچھ اور ٹھہرو۔ ایک دن کے بعد پھر عرض کیا کہ حضور زمینداری کا کام ہے۔ اجازت عطا فرماویں۔ فرمایا اچھا جائیں۔ مگر جا کر قرآن کریم پڑھیں۔گائوں میں آکر میں نے سیپارہ لیا اور قرآن کریم پڑھنا شروع کیا۔ پھر الحکم البدر وغیرہ خریدتا رہا۔
    ایک دفعہ والد صاحب نے عرض کیا کہ حضور ہمارے گائوں میں ایک دوسرے کے ساتھ شرارت بہت رہتی ہے۔ حضور خاموش رہے۔ دوسری دفعہ پھر عرض کیا حضرت اقدس نے متوجہ ہو کر فرمایا کہ شریروں کو شریف بنانے کی کوشش کریں ان کے ساتھ مل کر شرارتی نہ بنیں۔
    الراقم عبدالقادر
    روایات
    سید نذیر حسین شاہ صاحب ولد سید نیاز علی شاہ صاحب
    سکنہ گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ
    عمر55سال ۔ سن بیعت 1904ء برمقام سیالکوٹ
    میرے والد صاحب خود بیعت لیا کرتے تھے۔ مگر حضرت مصلح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ان کو اس قدر محبت تھی کہ اپنے مریدوں اور شاگردوں کو کہا کرتے تھے کہ جائو اور مرزا صاحب کی بیعت کرو۔
    ہم مسجد میں تھے کہ ایک شخص سید شیر شاہ نام چند اشتہار لایا۔ اور میرے والد صاحب کو دئیے۔ ان اشتہارات میں مباحثہ امرتسر کا ذکر تھا اور وہ شخص امرتسر سے ہی آرہا تھا۔ میں نے وہ پڑھے اور ان کا مجھ پر اثر ہوا۔
    پھر جب سورج اور چاند کو گرہن لگا تو اس وقت میں اپنے گھر تھا۔ میرے والد صاحب یہ کہہ رہے تھے کہ یہ حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا نشان ہے۔ اس بات کا بھی مجھ پر اثر ہوا۔
    پھر مولوی قطب الدین صاحب ایک موقعہ پر یہاں تشریف لائے اور ایک مولوی عبدالصمد کوٹلی بہاراں کا ان کے ساتھ بحث کے لئے آیا۔ پہلے بحث نیکے پنڈ مسجد میں شروع ہوئی۔ مولوی عبدالصمد حب للہ بغض للہ بار بار کہتا تھا اور مووی قطب الدین صاحب معاویہ اور علی کی باتیں کر رہے تھے کہ والد صاحب نے دونوں کو روک دیا اور فرمایا کہ آج جمعہ ہے تمام لوگوں کے سامنے باتیں کرو۔ چنانچہ جمعہ کے لئے لوگ جمع ہوئے اور مولوی عبدالصمد نے خطبہ شروع کیا۔ اس خطبہ میں بھی وہ حب للہ بغض للہ کے الفاظ بار بار کہتا تھا۔ اور حضرت اصحب کے خلاف بھی کچھ اس نے کہا۔ یہ بکواس سن کر مولوی قطب الدین میرے والد صاحب کے پاس آئے اور کچھ کان میں کہہ کر پھر واپس اپنی جگہ چلے گئے۔ اور کھڑے ہو کر مولوی عبدالصمد کو کہنے لگے کہ خطبہ بند کردو ۔ میں یہ بکواس نہیں سن سکتا۔ وہ باز نہ آیا مولوی نے دوبارہ کہا ۔ اس پر وہ بیٹھ گیا اور دوسرا خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا مگر اس کطبہ میں بھی حضور کے خلاف بوکاس کرنے لگا۔ مولوی صاحب نے پھر اسے روکا۔ جب وہ نماز کے لئے آٗے مصلیٰ پر کھڑا ہونے لگا تو مولوی صاحب نے کہا کہ اس مولوی کے پیچحھے میری نماز نہیں ہو سکتی اس مولوی نے کہا کہ تمہارے پیچھے میری نماز نہیں ہو سکتی۔ اس پر میرے والد صاحب نے نماز پرھائی۔ نماز کے بعد متوفیک پر بحث ہوئی۔ مولوی عبدالصمد نے دوران بحث میں پانی مانگا اور بدحواس سا ہو گیا۔ اس پر گائوں والوں کو محسوس ہوا کہ وہ جھوٹا ہے۔ اور احمدیت کی طرف ان کا رجوع ہوا۔ اس وقت تک اس گائوں میں کوئی احمدی نہیں تھا۔ اس گفتگو کا بھی مجھ پر خاص اثر ہوا۔
    میرے والد صاحب کی وفات ۱۹۰۳ء میں ہوئی ہے ۔ ان کی وفات کے معاً بعد حضرت اقدس کی طرف سے ان کے نام رسالہ دافع البلاء آیا جو میں نے وصول کیا۔ مرض الموت میں والد صاحب نے مجھے وصیت کی تھی کہ حضرت مرزا صاحب نے نبوت کا دعویٰ کیا ہوا ہے۔ مخالفت نہ کرنا اور مانلینا۔ اس وقت تک ہمارے گائوں میں کوئی احمدی نہ تھا۔جب حضرت اقدس سیالکوٹ تشریف لے گئے تو گھٹیالیاں میں چونکہ احمدیت کے متعلق ایک روپیدا ہو چکی تھی۔ اس لئے یہاں سے سترہ اٹھارہ آدمی گئے تھے اور قریباً سب نے بیعت کر لی تھی۔ بیعت کا واقعہ یوں ہے کہ جس روز حضرت اقدس نے سیالکوٹ جانا تھا۔ اس سے ایک روز ہم پہلے گئے تھے۔ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب پانچ سات روز پہلے گئے ہوئے تھے اور حضرت مولوی نورالدین صاحب غالباً ایک دن پہلے گئے تھے۔ کیونکہ میں نے ان کو مسجد میں دیکھا تھا۔ ہم لوگ چوہدری محمد امین صاحب وکیل کے ڈیرہ پر اترے ہوئے تھے اور وہ سخت دہریہ تھا۔ مگر چونکہ ہمارے اس کے ساتھ تعلقات تھے۔ اس لئے ہم اس کے پاس ٹھہرا کرتے تھے۔ وہ حضرت خلیفہ اوّل کے پاس اپنے اعتراضات لے کر گئے۔ جب واپس آئے تو جوہدری شاہد دین صاحب نے انہیں پوچھا کہ بتائو۔ مولوی نورالدین صاحب سے مل آئے۔ انہوں نے اور کہا کہ مذہبی مناظرہ کی شطرنج میں دوسرا چالا یہ شخص چلنے ہی نہیں دیتا۔ بالکل بند بند کر دیتا ہے۔ نیز کہا کہ آج مجھے خدا پر ایمان ہو گیا ہے۔ چونکہ اس روز حضرت صاحب کی آمد آمد تھی ۔ اس لئے عصر کے وقت ہی تمام شہر کے معززین اور مضافات کے لوگ جوق در جوق سٹیشن پر جانے لگے۔ ہم بھی نیچے گئے۔ حضور کی گاڑی شام کے وقت سٹیشن پر پہنچی۔ اور جس ڈبہ میں حضور تھے۔ اسے کاٹ کر راجہ کی سررے کے پاس لے جایا گیا۔حضور ایک فٹن پر سوار ہوئے د رویہ قطاروں میں لوگ کھڑے تھے اور پولیس گشت کر رہی تھی۔ حضرت صاحب کے ساتھ ایک شخص لیمپ لے کر کھڑا تھا۔ اور کہتا تھا کہ یہ مرزا صاحب ہیں بعد میں وہ شخص مجھے ملا اور چونکہ احمدی ہونے کی وجہ سے اس سے واقفیت ہو گئی وہ کلیم عطا محمد صاحب گودھ پور والے تھے۔
    وہاں مولوی عبدالکریم صاحب نے جمعہ کی نماز پڑھائی میں بالکل حضرت صاحب کے پاس کھڑا تھا۔ اور حضور ہی کی طرف میری توجہ تھی۔ جمعہ کے بعد حضور کے لئے ایک کرسی بچھائی گئی۔ حضور تشریف فرما ہوئے اور سورۃ فاتحہ کی تفسیر کی۔ جس وقت حضور سورۃ فاتحہ پڑھ رہے تھے ویں نے دل مین خیال کیا کہ یہ بالکل بھولی بھالی شکل کا انسان ہے جو تقریریں ان کی طرف منسوب کی جاتی ہیں۔ ان کی ہرگز نہیں ہو سکتیں۔ مگر جب حضور نے تقریر فرمائی تو میرا سارا شک رفع ہو گیا۔ اس تقریر میں حضور نے فرمایا کہ لوگ خدا تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہیں کہ وہ رب العالمین ہے۔ مالک یوم الدین ہے۔ اور چاہتے ہیں کہ گمرہای کے ازالہ کا اللہ کوئی علاج کرے۔ مگر جب اللہ تعالیٰ نے علاج کا سامان کیا ہے تو لوگ منکر ہو رہے ہیں۔ کیا خدا تعالیٰ ظالم کہ ایک تو امت گمراہ وہ رہی ہے اور دوسرے ان میں ایک دجال کو بھیج کر انہیں اور گمراہ کرے۔ یہ سوچتے نہیں اس تقریرکا لوگوں پر اس قدر اثر ہوا کہ بے شمار مخلوق نے بیعت کی۔ مجھے چوہدری اللہ دتا صاحب خاناں والی والے نے کہا کہ بیعت کرو۔ کیا دیکھتے ہو۔ ان کی تحریک سے میں نے دستی بیعت کر لی۔ اس سے پہلے میں حضرت اقدس کی ہر مجمع میں تائید کیا کرتا تھا۔ مگر ابھی تک بیعت نہیں کی تھی۔
    ہاں ایک بات یاد آئی۔ جب حضرت صاحب فٹن پر سوار ہوئے تو ایک شخص جو میرے پاس کھڑا تھا۔اس نے کہا کہ یہ مونہہ جھوٹے کا نہیں۔ میرے مونہہ نے حضرت صاحب کو دیکھ کر بے اختیار یہ کلمہ نکلا کہ اس نے کبھی آسمان کو نہیں دیکھا ہو گا۔
    حضرت صاحب کی نظر اس وقت بھی نیچی تھی۔
    ایک دفعہ حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کی گئی کہ حضور مکان کے یچے خلقت بیشمار جمع ہے۔ حضور کو دیکھنا چاہتی ہے۔ حضور نے باری میں سے چہرہ مبارک باہر نکالا۔ مخلوق اس قدر ٹوٹ پڑی کہ قریب تھا کہ کئی لوگ دب جائیں اس پر حضور کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ حضور چہرہ مبارک اندر کر لیں۔ ورنہ کوئی حادثہ ہو جائے گا۔ چاننچہ حضور نے چہرہ اندر کر لیا۔اگلے سال شروع سرما میں چوہدری غلام رسول صاحب کانواں چوہدری غلام رسول صاحب بسرا اور چوہدری شہاب الدین صاحب قادیان دیکھنے کے لئے۔ ساتھ ہم نے عیسیٰ چوکیدار لیا۔ جب قادیان پہنچے تو مہمانخانہ میں بیٹھ کر حضرت اقدس کی خدمت میں رقعہ لکھا کہ ہم حضور کی بیعت کرنا چاہتے ہیں۔ حضور نے اس رقعہ کی پشت پر لکھا ’’ مکرمی السلام علیکم۔ بعد ظہر ملاقات ہو گی اور بیعت لی جائے گی۔ ‘‘ یہ الفاظ ہم پڑھ نہ سکے دوسروں سے پڑھانے کی کوشش کی وہ بھی نہ پڑھ سکے کسی نے کہا شیخ یعقوب علی صاحب کے مکان پر ایک شخص کرم علی کاتب ہے اس کے پاس جائو چنانچہ کاتب صاحب نے ہمیں وہ الفاظ پڑھ کر سنائے ظہر کی نماز کے لئے ہم مسجد میں گئے۔ غالباً نماز حضرت خلیفہ اوّل نے پڑھائی تھی۔ حضرت صاحب دائیں طرف تھے نماز کے بعد ہم حضور کے اردگرد بیٹھ گئے۔ میں نے عرض کی کہ حضور سچی بات تو یہ ہے کہ ہم نے بیعت کی ہوئی ہے۔ مگر اس بیعت کی وجہ صرف حضور کے دلائل اور نشانات ہیں۔ دلائل آپ پر چسپان ہوتے ہیں۔ نشانات سارے سچے ہیں۔ مگر حضور کے ساتھ مہبت پیدا نہیں ہہوئی۔ فرمایا۔
    ’’ گناہ کا سبب ہے۔ استغفار کرو۔‘‘
    ہم نے استغفار شروع کیا۔ اور اس روز سے حضور کے ساتھ ایسی محبت پیدا ہوئی کہ دنیا کی اور کسی چیز سے ایسی محبت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
    ہاں ابھی حضرت صاحب ماہر نہیں تشریف لائے تھے کہ چوہدری غلام رسول اصحب نے کہا حضرت صاحب آگئے۔ میں نے کہا کیسے ۔ کہنے لگا مجھے جھلک نظر آئی ہے۔ چنانچہ فوراً ہی حضرت صاحب تشریف لے آئے۔
    چوہدری شہاب الدین اور غلام رسول بسرا اور عیسیٰ خان چوکیدار نے دستی بیعت کرنی تھی۔ ہم نے بھی ان کے ساتھ دوبارہ بیعت کر لی۔ بیعت کے بعد حضرت صاحب نے مختصر الفاظ میں بیعت کا مفہوم بیان کیا۔
    اسی سال جلسہ سالانہ پر پھر کافی آدمی گئے۔ باغ میں ہم کو اتارا گیا۔ کیونکہ لوگ زیادہ تھے۔ رات کو ایک مسئلہ کے متعلق مولوی ابراہیم صاحب بقاپوری اور مولوی جمال الدین سیکھواں والے اور چوہدری اللہ دتا مانانوالی والوں میں بحث ہو گئی۔ یہ تینوں حضرات کہتے تھے کہ حضرت اقدس صحابہ کرام کے بھی امام ہیں۔ میں کہتا نہیں۔ نہیں۔ صبح میں نے لکھ کر حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کیا۔ میں نے لکھا کہ
    ۱۔ کیا حضور صحابہ کے امام ہیں؟
    ۲۔ بازار میں جس نرخ پر غلہ بک رہا ہے اگر کوئی شخص ادھار کم نرخ پر دے تو جائز ہے یا نہیں؟
    جواب مفتی صاحب کا لکھا ہوا ملا کہ ’’ حضرت صاحب کے حضور پیش کیا گیا ۔ حضور فرماتے ہیں کہ امام اپنے پچھلوں کا ہوتا ہے نہ پہلوں کا دوسرے مسئلہ کا جواب یہ تھا کہ جس نرخ پر کوئی چاہے فروخت کرے جائز ہے۔ (نوٹ یہ حضور کی تحریر کا مفہوم ہے۔ الفاظ نہیں)
    دوسرا مسئلہ میں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے حضور بھی پیش کیا۔ حضور نے بھی فرمایا۔ جائز ہے۔ میں نے عرض کیا کہ حضور لکھ دیں۔ حضور نے فرمایا جائو مولوی محمد اسماعیل صاحب مفتی سلسلہ سے لکھا ہو۔ میں ان کے پاس گیا انہوں نے کہا ناجائز ہے۔ نیر صاحب پاس بیٹھے تھے انہوں نے کہا کہ میرے سامنے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے فرمایا ہے کہ جائز ہے۔ مولوی صاحب کو فکر پڑ گئی ۔ کتابیں دیکھنے لگے۔ آخر لکھ دیا کہ میری غلطی تھی دراصل جائز ہے۔ میں نے کسی اخبار میں بھی یہ مسئلہ غالباً فاروق میں چھپوا دیا تھا۔
    صبح حضور جس طرف اب سٹیشن ہے سیر کو تشریف لے گئے۔ حضور تیز چل رہے تھے۔ میں پیچھے پیچھے تھا۔ پہنچ نہیں سکتا تھا۔ حضرت خلیفہ اوّل ؓ بھی پیچھے تھے۔ اور کمزور لوگ جو حضرت اقدس تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ ان کے گرد جمع ہو گئے۔ جب حضرت خلیفہ اوّل نے دیکھا کہ کچھ لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے آپ جلال میں آٗئے اور فرمایا کہ مسیح موعود کے ہوتے ہوتے میری گرد مت جمع ہو۔ جائو آگے دوڑو۔ میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ سیر میں کچھ لوگ میرے گرد جمع ہوں اور کچھ حضرت صاحب کے گرد ۔ یہ ۱۹۰۶ء کا واقعہ ہے۔
    پھر ہم ۱۹۰۷ء میں گئے۔ میرے ساتھ چوہدری غلام رسول صاحب کانواں اور چوہدری شہاب الدین صاحب ؓ ۔ نواب خان ۔ ہاشم چار آدمی تھے۔ جب ہم قادیان پہنچے تو ہم نے سوچا کہ مہمانخانہ سے جارپائیاں باغ میں اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ وہاں آزادی سے رہیں گے اور حقہ دین پئیں گے۔ لنگرخانہ کے مہتمم نے ہمیں منع کیا کہ چارپائیاں مت لے جائو۔ ہم نے کہا ہم ضرور لے جائیں گے۔ اس نے کہا مین حضرت مسیح موعود کے پاس شکایت کروں گا۔ ہم نے کہا ہم آپ کی شکایت کریں گے۔ اس پر وہ خاموش ہو گیا اور ہم چارپائیاں لے کر باغ میں چلے گئے۔ ظہر کی نماز کے لئے ہم بہت جلد مسجد میں آگئے۔ جس جگہ حضرت صاحب بیٹھا کرتے تھے میں اس کے قریب بیٹھ گیا۔ پھر مفتی صاحب آگئے۔ مفتی صاحب کے بعد حضرت خلیفہ رشید الدین صاحب آٗئے ان کے ہاتھ میں ایک انگریزی اخبار تھی۔ غالباً سول ملٹری گزٹ تھا۔ انہوں نے مفتی صاحب کو کہا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے اعلان کیا ہے کہ خونی مہدی کوئی نہیں آئے گا۔ یہ اخبار مین اور حضرت صاحب کو سنائیں۔ جب حضرت صاحب تشریف لے آئے تو مفتی صاحب نے اس اخبار کا مضمون حضور کو سنایا۔ حضور نے فرمایا۔ مولوی محمد احسن صاحب کو بلائو۔ یہ مولوی محمد حسین کے دوست ہیں۔ پھر فرمایا مولوی نورالدین صاحب کو بلائو۔ پھر فرمایا مولوی محمد علی صاحب کو بھی بلا لو۔
    جب حضرت خلیفۃ المسیح اوّل آئے تو ان کے بیٹھنے کے لئے جگہ نہیں تھی اور جس قدر لوگ بیٹھے تھے سب بڑے بڑے تھے۔ میں ان میں معمولی حیثیت کا تھا۔ مین حضور کو دبا رہا تھا۔ میں نے نظر نیچی کر لی۔ تا کہ مجھے اٹھنے کے لئے کوئی اشارہ نہ کرے۔ حضرت صاحب بے قرار تھے کہ مولوی صاحب کو کوئی جگہ دے میں نے حضور کی بے قرار کو دیکھ کر مناسب جانا کہ میں ہی اٹھوں۔ میں نے عرض کیا کہ حضور حضرت مولوی صاحب میری جگہ بیٹھ جائیں۔ فرمایا بہت اچھا۔ میں اٹھا ۔ حضرت مولوی صاحب بیٹھ گئے۔ میں پیچھے کھڑا ہو گیا۔ اور پنکھا کرنے لگا۔
    مولوی محمد علی صاحب کھڑے ہو گئے۔ حضرت صاحب نے فرمایا مولوی صاحب آپ یہ اخبار سنائیں۔ انہوں نے صرف اردو میں مضمون بیان کیا تو حضرت اقدس اور اصحاب کے درمیان کچھ باتیں ہوئیں۔ جن میں مولوی محمد حسین کی اس دوانگی چال کا ذکر ہوا۔ پھر نماز کے بعد مین نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور ہمارے گائوں میں طاعون پڑی ہے۔ اور باوجود اس کے کہ احمدیوں کی گائوں میں کثرت ہے۔ مگر خدا کے فضل سے ایک چوہا بھی احمدیوں کے گھروں میں نہیں مرا۔ حضور نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کو فرمایا دیکھئے مولوی صاحب اس سے بڑھ کر ہماری صداقت کا اور کیا نشان ہو سکتا ہے۔ پھر چونکہ سخت گرمی تھی۔ مولوی صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ مولوی صاحب کل آپ استسقا کی نماز پڑھائیں۔ گرمی شدید ہو گئی ہے جب شام ہوئی تو حضرت مولوی صاحب نے مسجد میں اعلان کیا کہ حضرت اقدس نے ارشاد فرمایا ہے کہ کل استسقا کی نماز پڑھی جائے۔ اس لئے کل دس بجے احباب مسجد اقصیٰ میں جمع ہو جائیں ہم مسجد سے واپس آئے ہی تھے کہ کالی گھٹا چھا گئی اور اندھیری بھی آئی۔ ہم نوجوان تھے جلدی جلدی باغ میں گئے۔ اور چار پائیاں مہمانخانہ میں اٹھا لائے۔ ابھی بمشکل ہم مہمانخانہ میں پہچے تھے کہ بارش برسنے لگی اور اس قدر برسی کہ قادیان کی گلیوں میں ڈیڑھ ڈیڑھ فٹ پانی بہنے لگا۔ ہم زمیندار تھے۔ ہم نے خیال کیا کہ دوسرے زمیندار کماد بیج لیں گے اور ہم رہ جائیں گے اس لئے ہم علی الصبح وہاں سے چل پڑے۔ جب ڈوالہ گھتھیاں پہنچے تو آگے بارش کا نام و نشان نہیں تھا۔ زمین بالکل خشک پڑی تھی۔ اس سفر کا ہی واقعہ ہے کہ حضرت اقدس باغ میں سیر کے لئے تشریف لائے۔ پیچھے دس بارہ عورتیں تھیں۔ حضرت صاحب کے گلے میں ایک قمیض دھاری دار تھی اور سر پر رومی ٹوپی پر پگڑی اور پائجامہ اس قسم کا تھا۔ کہ اسے سلوار نہیں کہا جا سکتا۔ مگر تنگ بھی نہیں تھا۔ باغ میں ایک چبوترہ تھا۔ حضرت اقدس اس پر آکر بیٹھ گئے۔ پانی کی ضرورت پیش آئی۔ حضور خود کوئیں پر پانی لینے کے لئے آئے۔ میں نے آگے بڑھ کر لوٹا پانی کا بھر دیا۔ پھر حضور عورتوں کے پاس تشریف لے گئے۔ اور وہاں عورتوں نے بھی نماز پڑھی۔ اور حضرت اقدس نے بھی غالباً نفل پڑھے تھے۔ قریباً ۱۰۔۱۱ بجے کا وقت تھا۔
    ایک دفعہ جلسہ پر ہم گئے۔ ہمارا دل چاہتا تھا کہ حضور کو راضی کریں ہم نے درخواست لکھی کہ حضور ہم نذرانہ دینا چاہتے ہیں۔ حضور نے اس وقت درخواست منظور نہ کی۔ ظہر کے وقت حضور مسجد مبارک میں تشریف لائے مسجد بھری ہوئی تھی۔ ایک شاعر حضور کے سامنے نظم پڑھ رہا تھا۔ احمد حسین ان کا نام تھا۔ اور لائل پور کا رہنے والا تھا ان کے بعد ایک اور بوڑھے شاعر نے نظم پڑھی جس کے اشعار کے پیچھے اہستہ آہستہ کے الفاظ آتے تھے۔ چونکہ وہ بوڑھا تھا اس لئے پڑھتا بھی آہستہ آہستہ تھا۔ مجھے اس کے اشعار سن کر ہنسی آئی۔ میں اس وقت حضرت اقدس کو دبا رہا تھا۔
    مصرعہ یہ تھا۔
    ’’ بنے گا شہر اعظم قادیان آہستہ آہستہ‘‘
    اس وقت میں نے کسی سے پوچھا کہ کیا حضرت اقدس کی کوئی پیشگوئی ہے کہ قادیان شہر اعظم بن جائے گا۔ اس نے کہا ہاں۔میں نے اس وقت دل میں کہا کہ اگر یہ شہر پڑھے گا تو غالباً ہم تو نہ دیکھ سکیں گے۔ ہمارے بیٹے پوتے ہی دیکھیں گے۔ مگر اب ہم خود دیکھ رہے ہیں۔
    ایک دن حضرت اقدس کھارے کی طرف سیر کو تشریف لے گئے۔ میں ابھی پیچھے تھا کہ دادی نے آواز دی کہ حضرت صاحب سیر کو تشریف لے گئے ہیں اور حفیظہ روتی ہے۔ کیا کوئی آدمی یہاں موجد ہے جو اسے حضرت صاحب تک پہنچائے۔ میں نے کہا میں لے جاتا ہوں۔ میں نے صاحبزادی صاحبہ کو اٹھا لیا اور حضرت صاحب کے پیچھے تیز تیز چلنے لگا حضور کی رفتار تو پہلے ہی ہم سے بہت زیادہ تھی۔ اس لئے مجھے کافی تگ و دو کرنی پڑی۔ رستہ میں کئی لوگوں نے کہا کہ لائو ہم اٹھا لیتے ہیں۔ مگر میرے دل میں یہ بات تھی کہ میں خود حضور کو دوںگا۔ تو ساتھ ہی حضور سے مصافحہ بھی کروں گا۔ اس لئے میں زیادہ وکشش سے چلنے لگا ۔ قریب پہنچ کر میں نے کسی کو کہا کہ حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کرو کہ حفیظہ پیچھے آرہی ہے۔ اس نے حضور کی خدمت میں عرض کی ۔ حضور ٹھہر گئے میں نے صاحبزادی صاحبہ کو حضرت اقدس کے حوالہ کیا اور مصافحہ کیا۔ نیز عرض کی کہ حضور سید عبدالستار شاہ صاحب السلام علیکم عرض کرتے تھے۔ حضرت صاحب نے فرمایا وعلیکم السلام وہ آئے نہیں۔ میں نے عرض کیا کہ حضور انہوں نے کوشش بہت کی ہے مگر چھٹی نہیں ملی۔ اس کے بعد حضور آٗے کو چل پڑے۔ امۃ الحفیظہ کو اٹھایا ہوا تھا۔ اور صاحبزادہ مبارک احمد نے حضرت اقدس کی انگلی پکڑی ہوئی تھی۔
    اس سفر کا واقعہ ہے کہ میں نے چوہدری مولا بخش صاحب چونڈہ والوں کو کہا کہ آپ کوئی ایسا انتظام کریں تو اردگرد حلقہ گھٹیالیاں والوں کا ہو۔ حضرت صاحب جب تشریف لائے تو چوہدری صاحب نے گھٹیالیاں والوں کو آواز دی کہ حضرت صاحب سیر کو چلے ہیں وہ آجائیں اور حلقہ باندھ لیں۔ حضرت صاحب ہندو بازار سے گزرے تھے ہم تیز تیز چل رہے تھے ۔ جہاں بازار ختم ہوتا ہے بائیں طرف ایک لسوڑے کا درخت تھا۔ حضرت صاحب اس کے نیچے ٹھہر گئے۔ ہم نے حلقہ باندھا۔ ایک طرف سے لوگ آتے تھے اور مصافحہ کر کے دوسری طرف گزر جاتے تھے۔ میں اور چوہدری مولا بخش صاحب پاس تھے۔گھٹیالیاں والوں اور آس پاس کے علاقہ کے لوگوں کا تعارف میں کراتا تھا۔ اور باقی ضلع کے لوگوں کا چوہدری صاحب کراتے تھے۔ لوگوں نے اس قدر نذرانہ دیا کہ حضور کے جیب بھرگئے۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ اس وقت نذرانہ کوئی نہ دے۔ میں نے عرض کی کہ حضور تھک گئے ہوں گے۔ میں کرسی لاتا ہوں۔ فرمایا کوئی ضرورت نہیں۔ پھر حضور واپس تشریف لائے پھر جلسہ شروع ہوا۔ مسجد اقصیٰ میں حضرت مفتی صاحب نے حضور کے لئے ایک مصلیٰ بچھایا جس پر خوشبو لگی ہوئی تھی۔ میں اس مصلیٰ کے پاس کھڑا ہو گیا اور خیال کرنے لگا کہ آج حضرت صاحب کے پاس کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کا موقعہ ملے گا۔ مگر جب حضرت اقدس تشریف لائے۔ تو سب سے پیچھے کھڑے ہوئے اور وہیں نماز پڑھی۔ نماز کے بعد میں فوراً حضور کو دیکھنے کے لئے پیچھے گیا ۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت اقدس منبر پر تشریف لائے۔اور تقریر کی ابتداء اس طرح کی کہ آچ میں سیر کو گیا تھا۔ ایک دوست نے کہا کہ کرسی اور دیتا ہوں۔ مگر میں نے اس لئے انکار کر دیا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے … …………………… کہ لوگ بہت آئیں گے۔ تھک نہ جانا۔ اور نہ ہی ……… …………… ہونا۔
    ایک شخص خوشحال برہمن تھا۔ سفید داڑھی ۔ چندمیائی ہوئی آنکھیں اور بدصورت چہرہ والاتھا۔ اس کا مکان مسجد کے پاس تھا۔ چونکہ مسجد میں جگہ کم تھی لوگوں نے اس کے مکان کی چھت پر کپڑے بچھا کر نمازیں پڑھنا شروع کیں۔ اس نے زور زور سے گالیاں دینی شروع کیں۔ حضور کو پتہ لگا۔ فرمایا۔ تمام نیچے اتر آئیں۔ دوسرے روز دیکھا کہ اس طرف تار لگی ہوئی تھی۔
    سید نذر حسین پریزیڈنٹ جماعت احمدیہ گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ بقلم خود
    الراقم عبدالقادر
    روایات
    چوہدری سید محمد صاحب ولد چوہدری خدا داد صاحب
    سکنہ گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ
    عمر60سال ۔ سن بیعت 1905ء
    ہم پر اثر تو سیالکوٹ میں ہی ہو گیا تھا۔ ہم وہاں ایک مقدمہ کے لئے گئے ہوئے تھے۔ مگر بیعت یہاں آکر خط کے ذریعہ کی تھی۔ پھر قادیان جا کر دستی بیعت بھی کی۔
    حضرت اقدس نے ایک دفعہ وعظ یں فرمایا تھا کہ میرے آںے کی دو غرضیں ہیں۔ اوٍّ حصرت عیسیٰ کی وفات ثابت کرنا۔ دوم شیطان کو مارنا
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۲۲




    روایات
    حسین کشمیر ی ولد حیات محمد صاحب
    سکنہ گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ
    عمر60سال ۔ سن بیعت 1905ء
    میں حضرت صاحب کی زندگی میں تین دفعہ قادیان گیا ہوں۔ جب ہم قادیان جاتے تھے تو اگر حضرت اقدس کی ملاقات اس وقت ہوتی جب حضور بیٹھے ہوئے ہوتے تو حضور کو دبانے لگ جاتے اور اگر حضور کھڑے ہوتے تو مصافحہ کرتے اور حضور کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ الگ کرنے کو جی نہ چاہتا۔ حضور کبھی اپنا ہاتھ نہیں کھینچتے تھے۔
    لنگر خانہ میں جو روٹی پکانے والا تھا وہ ذرا سخت آدمی تھا۔اور مہمانوں کے ساتھ درشتی سے پیش آتا تھا۔ حضرت صاحب کے پاس کسی نے شکایت کر دی۔ حضرت صاحب نے فرمایا وہ غریب کیا کرے ایک روٹی کی خاطر دو دفعہ دوزخ میں جاتا ہے اگر کسی دوست کو اعتراض ہو تو وہ کوئی اور انتظام کر دے اور ایسے آدمی کو لائے جو مہمانوں سے خوش خلقی سے پیش آئے۔
    نوٹ:۔ میں ان پڑھ ہوں۔ حضرت صاحب کا مفہوم میرے خیال میں یہی تھا ممکن ہے کچھ فرق بھی ہو۔ ہمارے دل میں یہ خواہش رہتی تھی کہ حضرت اقدس آنکھ اٹھا کر دیکھیں مگر حضور نہیں دیکھتے تھے۔
    حسین بقلم خود
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۲۳
    روایات
    چوہدری متاب الدین ولد چوہدری برخوردار صاحب
    سکنہ گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ
    عمر62-60سال ۔ سن بیعت قریباً1905ء
    میں ہیر رانجھا سنا کرتا تھا۔ اس میں لکھا تھا کہ جھوٹوں پر خدا کی *** ہوتی ہے۔ ہمارے گائوں میں کافی لوگ احمدی ہو چکے تھے۔ میرے دل میں خیال آیا اگر جھوٹے ہوتے تو ہلاک ہو جاتے ۔ میں نے بھی جا کر بیعت کر لی۔
    غالباً ۱۹۰۷ء کا واقعہ ہے کہ حکم ہوا کہ حضرت صاحب سیر کو چلے ہیں۔ گھٹیالیاں والے حضور کے گرد حلقہ باندھیں ، ہم کافی نوجوان تھے۔ ہم نے حلقہ باندھ لیا۔ حضرت اقدس ہندو بازار سے گزرے۔ حضرت اقدس انہی عام اقتار سے چل رہے تھے مگر ہم دوڑ رہے تھے۔ ریتی چھلہ میں پیپل کے نیچے جا کر حضرت اقدس کھڑے ہو گئے۔ اور جماعتوں کی ملاقاتیں شروع ہو گئیں۔ ابھی بمشکل آدھی جماعتوں نے ہی ملاقات کی ہو گی کہ حضور واپس چل پڑے۔ {متاب الدین بقلم خود}
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۲۳


    روایات
    چوہدری شاہ محمد صاحب ولد چوہدری نواب الدین صاحب
    سکنہ گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ
    عمر60سال ۔ سن بیعت 1905ء
    ایک دن میں مسجد مبارک میں حضور کے پاس بیٹھا تھا۔ حضور کو دبا رہا تھا۔ میں نے سوال کیا کہ غیر احمدیوں کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہئے اور ان کا جنازہ پڑھنا چاہئے یا نہیں۔ حضور نے پہلے سوال کا جواب یہ دیا کہ ان لوگوں کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرنا چاہئے اور دوسرے سوال کا جواب نفی میں دیا اور فرمایا کہ احمدیوں کے اپنے امام کے پیچھے ہی نماز کی اجازت ہے۔ غیروں کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔ {شاہ محمد بقلم خود}
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۲۴



    روایات
    میاں گلاب الدین صاحب ولد میاں گھسیٹا صاحب
    سکنہ گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ
    عمر106سال ۔ سن بیعت
    ابھی حضرت اقدس علیہ السلام نے دعویٰ نہیں کیا تھا۔ کہ سید نیاز علی شاہ صاحب کی تحریک پر میں حضرت اقدس کو ملنے کے لئے قادیان گا۔ غالباً ۱۸۸۸ء تھا۔میں پانچ چھ دن حضرت صاحب کے پاس رہا۔ حضور نے پوچھا کہ کچھ پڑھے ہوئے ہو۔ میں نے عرض کیا۔ حضور نہیں۔ فرمایا معلوم تو ایسا ہوتا ہے کہ کچھ نہ کچھ پڑے ہوئے ہوں۔ میں نے عرض کیا کہ حضور درویشوں کی صحبت میں رہتا ہوں ورنہ پڑھا ہوا کچھ نہیں۔ فرمایا یا حی یا قیوم پڑھا کرو۔ اس وقت حضرت صاحب فجر اور عصر کی نماز پڑھایا کرتے تھے۔ اور پھر حجرہ میں تشریف لے جاتے تھے۔ وہاں میرے سوا ایک اور تھا اس کے بعد حضرت صاحب کی زندگی میں مَیں قادیان گیا ہی نہیں۔ مگرا حمدی شروع سے اپنے آپ کو سمجھ رہا ہوں ہاں خلیفہ اور خلیفہ ثانی کے زمانہ میں جاتا رہا ہوں
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۲۴


    روایات
    چوہدری حیات محمد صاحب ولد چوہدری رانجھا صاحب
    سکنہ گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ
    عمر75سال ۔ سن بیعت 1883ء
    میںنے جب سنا کہ حضرت صاحب نے دعویٰ کیا ہے تو ہم تین چار آدمی اکٹھے گئے اور جا کر بیعت کر لی۔ حضرت صاحب نے دریافت فرمایا تھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں۔ ہم نے عرض کی کہ حضور گھٹیالیاں سے آئے ہیں۔ افسوس ہے کہ مجھے کوئی بات یاد نہیں۔
    حیات محمد بقلم خود





    روایات
    میاں بدرالدین صاحب ولد میاں ……صاحب
    سکنہ گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ
    عمر61سال ۔ سن بیعت 1905ء
    ہم یہاں سے دس بارہ آدمی قادیان جانے کے ارادہ سے چلے۔ امرتسر تک پیدل گئے ۔ وہاں سے گاڑی پر سوار ہو کر بٹالہ پہنچے۔ نمبردار حیات محمد صاحباور امیر بخش کشمیری نے کہا کہ میاں بدرالدین پانی لائو۔ میں پانی لینے ایک مسجد میں گیا۔ دوست ساتھ تھے۔ مسجد میں ایک اندھا حافظ تھا۔ اس نے کہا کون ہے میں نے کہا مسلمان ہیں کہنے لگا کہاں جانا ہے میں نے کہا قادیان۔ کہنے لگا اتر جائو کافرو۔ بے ایمانو لوٹا واپس دو۔ لوٹا لے کر اس نے توڑ دیا کہ کافر بے ایمان کے ہاتھ لگ گئے ہیں جس جگہ ہم جائیں کوئی نہ رہنے دے بارہ بجے رات کے قریب ہم بازار میں گھوم رہے تھے کہ ایک لمبے کرتے والا درویش ملا اس نے کہا کہاں پھر رہے ہو۔ ہم نے ساری حقیقت کہہ سنائی۔ وہ ہمیں اپنے ساتھ لے گیا کھانا کھلایا۔ پھر ہم نے نماز پڑھی۔ عل الصبح اس نے ایک آدمی بھیج کر قادیان کے رستہ پر لگا ۱۱ بجے کے قریب ہم قادیان پہنچے۔ حضور کو اندر اطلاع کروائی۔ فرمایا فوراً ان کے لے کھانے کا انتظام کرو۔ خود بھی باہر تشریف لائے۔ اور مسجد میں بیٹھ کر سامنے کھانا کھلوایا۔تھوڑی دیر کے بعد ظہر کی اذان ہوئی۔ حضرت اقدس تشریف لائے۔ ہم نے بیعت کے لئے درخواست کی۔ اور رستہ کے واقعات بھی سنائے۔ حضور نے فرمایا احمدی ہونا بہت مشکل کام ہے اور بڑا کٹھن راستہ ہے۔مگر جو شخص صبر کرے گا وہ مراد کو پائے گا ایک زمانہ آنے والاہے جب کسی کو تمہاری طرف دیکھنے کی جرات بھی نہیں ہو گی۔ جب بیعت کرنے لگے تو چوہدری بہار دل باری کے ساتھ بیٹھے تھے۔ حضرت نانا جان نے ان کو کہا کہ ایک طرف ہو بیٹھو۔ چوہدری بہاول نے کہا میں یہاں ہی بیٹھوں گا۔ یہ مسجد ہے اور مسجد سے روکنے کا کسی کو حق نہیں ۔ نانا جان نے کہا کہ میں مسجد سے نہیں روکتا رستہ سے اٹھاتا ہوں۔ یہ جھگڑا حضرت صاحب تک پہنچا حضور نے حضرت نانا جان کو روک دیا۔
    پھر حضور نے فرمایا کہ آپ میں سے جو علم والا آدمی ہے وہ آٗے ہو جائے ہم نے سید احمد شاہ کو آگے کیا اور اس نے حضرت صاحب کے ہاتھ میں ہاتھ دیا ہم نے اوپر ہاتھ رکھے اور بیعت کر لی۔ بیعت کے بعد حضرت صاحب نے کافی دیر نصیحت کی۔ اور پھر تشریف لے گئے۔
    دوسرے دن علی الصبح نماز کے بعد ہم نے واپسی کی اجازت مانگی۔ فرمایا۔ جائو اللہ آپ پر رحم کرے۔
    ایک دن حضرت صاحب نے فرمایا کوئی شخص لودی ننگل جا سکتا ہے چوہدری الہ داد خان نے کہا حضور میں تیار ہوں۔ فرمایا۔ آپ کمزور ہیں۔ کسی اور کا نام لو۔ انہوں نے کہا۔ مولوی خیرالدین دھاڑیوال والے جانتے ہیں۔ حضور نے ان کو بلایا۔ اور فرمایا کیا آپ لودی ننگل کو جانتے ہو۔ مولوی خیر الدین صاحب نے عرض کیا حضور اچھی طرح سے جانتا ہوں۔ اور مولوی نوراحمد صاحب سے پڑھتا بھی رہا ہوں۔ فرمایا مولوی نوراحمد صاحب کو ہی بلانا ہے۔ صبح گورداسپور تاریخ ہے۔ ان کو جا کر کہو کہ جس حالت میں ہوں فوراً گورداسپور پہنچیں۔ مگر اکیلے چلے جائو گے۔ ڈر تو نہیں لگے گا۔ عرض کیا حضور خواہ کچھ ہو ۔ میں ضرور جائوں گا۔ چنانچہ وہ گئے اور مولوی نور احمد صاحب کو صبح گورداسپور بھیجا۔
    ایک دفعہ بابا ……… فلاسفر حضرت صاحب کو گالیاں دے رہا تھا۔ میاں امام الدین اور جمال الدین نے اس کو مارا۔ حضرت صاحب کو جب علم ہوا۔ تو فوراً روک دیا۔ فرمایا مت مارو۔ ہمیں تو روزانہ گالیوں سے بھرے ہوئے خطوط آتے ہیں۔ ہمیں صبر کرنا چاہئے۔
    الراقم عبدالقادر
    روایات
    میاں سندر حسین کمہار ولد میاں کرم الٰہی صاحب
    سکنہ چندرکے
    عمر65سال ۔ سن بیعت 1905ء
    ایک دفعہ میں قادیان تھا۔ جمعہ کی نماز کے بعد حضرت اقدس علیہ السلام تشریف فرما ہوئے اور فرمایا کہ ایک دفعہ ہم گورداسپور میں تھے۔ نہانے کی ضرورت پیش آئی۔ مگر لکڑی نہیں ملتی تھی۔ جس سے پانی گرم کیا جائے اس وقت ہم نے ایک پادریوں کی کتاب جلا کر پانی گرم کیا۔ اس موقعہ پر حضور مسکرائے ۔ اور فرمایا کہ کبھی شیطان بھی کام دے جاتا ہے۔
    حضرت اقدس جب سیر کو تشریف لے جاتے تو آہستہ چلتے معلوم ہوتے تھے مگر خلقت دوڑتی جاتی تھی۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۲۴



    روایات
    چوہدری الہ بخش صاحب ولد چوہدری مدھاوا صاحب
    سکنہ منگولے
    عمر50سال ۔ سن بیعت 1905ء
    میں نے ۱۹۰۵ء میں بذریعہ خط بیعت کی تھی ۔ مگر افسوس کہ حضرت اقدس کو دیکھ نہیں سکا۔ مجھے دوسرے احباب سے سنی ہوئی بعض باتیں یاد ہیں۔
    ۱۹۰۵ء میں حج کرنے کے لئے گیا۔ جدہ میں شیخ یعقوب علی صاحب ملے انہوں نے بھی ہمارے ساتھ حج کیا۔ نیر صاحب بھی ساتھ تھے۔
    شیخ یعقوب علی صاحب نے سنایا کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب جب شروع شروع میں قادیان تشریف لائے تو حضرت اقدس نیا نہیں اپنے مکان کی نچلی منزل میں رہائش کے لئے جگہ دی۔ مولوی صاحب کے پاس ایک بکری بھی تھی۔ جس کی خوراک کے لئے باہر سے بیری کی ٹہنیاں بھی لانی پڑتی تھیں۔ حضرت ام المومنین کو ایک تو بیری کی خشک ٹہنیوں اور کانٹوں کی وجہ سے تکلیف ہوئی۔ دوسرے بکری جو ہر وقت میاں میاں کرتی تھی۔ اس سے بھی ان کو تکلیف ہوتی تھی۔ انہوں نے حضرت اقدس علیہ السلام سے دریافت کئے بغیر حضرت مولوی صاحب کے لئے ایک اور مکان تجویز کر دیا۔ حضرت مولوی صاحب اس مکان میں چلے گئے۔ دوسرے دن جو ظہر کی نماز تک حضرت اقدس علیہ السلام کے کان میں ’’ میاں میاں‘‘ کی آواز نہ پڑی۔ تو حضور نے دریافت فرمایا کہ آچ بکری کی آواز کیون نہیں آتی۔ خدام نے عرض کیا کہ حضرت مولوی صاحب حضرت ام المومنین کے ارشاد پر دوسرے مکان میں تشریف لے گئے ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ اس وقت مولوی صاحب کو اس مکان میں واپس لایا جاوے۔ پھر فرمایا کہ جہاں جگہ تنگ ہو اور بسنے والے زیادہ ہوں اس مکان میں خدا تعالیٰ کی خاص رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں۔
    شیخ صاحب نے بیان کیا کہ حضور علیہ السلام سالن اس قدر کم کھاتے تھے کہ روٹی کھا چکنے کے بعد سالن کی پیالی ویسے کی ویسی معلوم ہوتی تھی۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۲۴







    روایات
    میاں سیف اللہ صاحب ولد میاں کرم الٰہی صاحب
    سکنہ چندرکے
    عمر60سال ۔ سن بیعت 1904ء بمقام سیالکوٹ
    (۱) میں ایک دفعہ قادیان گیا۔ کسی شخص نے حضرت اقدس کے سامنے پچاس ساٹھ روپے کی ڈھیری لگا دی۔ مگر حضرت اقدس نے اس طرف توجہ بھی نہ کی اتنے میں ایک بڑھیا جو غالباٹ ہندنی تھی اور اس کے ساتھ ایک بچہ تھا اس نے کپڑے میں گڑ کی ایک ڈھیلی بندھی ہوئی تھی۔ اس عورت نے عرض کی کہ حضور یہ بچہ آپ کے لئے گڑ کی ڈھیلی لایا ہے۔ حضور اس کے لئے دعا کریں۔ حضور نے فرمایا بہت اچھا اور بڑے خوش ہوئے۔ اور اس بچہ کے ہاتھ سے گڑ کی ڈھیلی بمعہ کپڑے کے لے لی۔ اور کندھے پر ڈال لی۔
    (۲) میرا بھائی سید احسن جب قادیان گیا تو شرم کے مارے بیعت کے لئے آگے نہیں بڑھتا تھا۔ لوگوں نے بیعت کر لی مگر وہ آگے نہ بڑھا۔ جب سارے بیعت کر چکے تو قریب ہوا۔ مگر ہاتھ نہ بڑھاتا تھا۔ حضرت اقدس نے خود اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور بیعت لی۔
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں سندر حسین نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۲۴

    روایات
    میاں فضل الدین صاحب ولد بھاگ
    سکنہ منگولے
    عمر62سال ۔ سن بیعت 1905ء
    حضرت صاحب مسجد اقصیٰ میں تھے۔ چند آدمی جگہ کی تنگی کی وجہ سے ایک ہندو کے مکان پر چڑھ گئے۔ اس نے گالیاں دیں۔ حضرت صاحب نے فرمایا فوراً نیچے اتر آئو۔ چنانچہ دوسرے دن وہاں تار لگی ہوئی تھی۔
    مسجد مبارک میں حضرت صاحب کو کسی نے اطلاع دی کہ آریوں نے ڈھاب میں ایک دیوار کھڑی کی ہے ۔ فرمایا۔ ان کو جا رک کہہ دو کہ اس وقت ہمارے مہمان آئے ہوئے ہیں۔ وہ دیوار نہ بنائیں۔ فساد کا اندیشہ ہے۔ بعد میں فیصلہ کر لیا جائے گا۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۲۴



    روایات
    میاں محمد اسحاق صاحب ولد میاں الہ دتا صاحب
    سکنہ منگولے
    عمر53-52سال ۔ سن بیعت 1905ء
    میں ۱۹۰۵ء کے جلسہ سالانہ پر گیا۔ حضرت اقدس نے تقریر میں فرمایا۔ آپ لوگ صحابہ جیسا ایمان پیدا کریں۔ دنیا میں جس قدر انبیاء آئے ہیں۔ اور انہوں نے جماعتیں پیدا کی ہیں۔ صحابہ جیسی جماعت کسی نے پیدا نہیں کی۔ پھر فرمایا۔ صحابہ میں سے بھی حضرت ابوبکر جیسا ایمان پیدا کرو۔ تیسرے حضرت اقدس نے یہ آٓت پڑھی۔ فھم من قف نہبہ اانھم من ینظر وما بدلوا تبدیلا -
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۲۴



    روایات
    میاں نصراللہ خان ولد میاں چوہدری شاہ محمد صاحب نمبردار
    سکنہ منگولے
    عمر35سال ۔ سن بیعت پیدائشی احمدی
    میرے باپ صحابی تھے۔ انہوں نے سنایا کہ ایک ڈاکو تھا۔ تمام بدیاں اس میں پائی جاتی تھیں۔ اس نے کسی شخص وک کہا کہ کیا میرا بھی دنیا میں کوئی علاج کر سکتا ہے۔ اس شخص نے کہا ہاں قادیان میں ایک شخص ہے۔ تم اس کے پاس جائو۔ چنانچہ وہ حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوا۔ فرمایا جب کسی بدی کا خیال آئے موت کو مدنظر رکھا کرو۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۲۴




    روایات
    چوہدری حاکم دین صاحب ولد چوہدری طالع صاحب
    سکنہ میانوالی خانانوالی
    عمر80سال ۔ سن بیعت 1902ء
    میرا بھائی احمدی تھا۔ اور مولوی تھا۔ ہم حیران ہوتے تھے کہ اس کو کیا ہو گا۔ پہلے موحد بان۔ اب احمدی ہو گیا ہے ہمیں اس سے بڑٓ نفرت ہو گئی۔ وہ ہمیں سمجھاتا رہا قلعہ صوبہ سنگھ سے مولوی فضل کریم بھی سمجھانے کے لئے آتے تھے۔ مگر ہمیں سمجھ نہیں آتی تھی۔ پھر ایک مناظرہ ہوا۔ احمدیوں کی طرف سے رحیم بخش عرضی نویس …… کا تھا۔ اور غیر احمدیوں کی طرف سے مولوی شاہ محمد آف قلعہ میاں سنگھ تھا۔ غیر احمدی مولوی صرف رقعہ اللہ کو ہی پیش کرتا تھا۔ مگر احمدی قرآن کریم کی کئی آیتیں پڑھ کر استدلال کرتا تھا۔ اس وقت ہمیں سمجھ آئی کہ یہ لوگ بھی مسلمان ہیں۔ پہلے ہم احمدیون کو عیسائیوں کی طرح سمجھتے تھے۔ وہاں ہی میں نے احمدیون کے پیچھے نماز پڑھی۔ راستہ میں سوچ اپھر بھائی کے ساتھ قادیان گیا۔
    میں پہلے اس شخص کے پاس گیا۔ جو بڑوں کا بالاشاہ کہلاتا تھا۔ وہ خود تو موجود نہ تھا۔ اس کا بالکا ملا۔ وج بوڑھا تھا۔ اس سے میں نے پوچھا کہ مرزا صاحب کی ابتدائی زندگی کے متعلق آپ کو کوئی واقفیت ہے؟ کہنے لگا پہلے تو نور علی نور تھا بڑی عبادت کیا کرتا تھا۔ مگر اب اسے غلطی لگ گئی ہے۔ پھر ایک اور فقیر سے پوچھا کہ کیا آپ احمدی ہیں ؟ کہنے لگا نہیں۔ میں نے کیا۔ کیوں کہنے لگامجھ پر مرزا صاحب کے رشتہ دارون نے دعویٰ کیا تھا کہ جہاں یہ رہتا ہے یہ مکان اس کا نہیں ہے۔ میں نے مرزا صاحب کو ہی صفائی میں طلب کر لیا۔ مرزا صاحب نے عدالت میں کہہ دیا کہ یہ غریب فقیر ہے۔ مکان اس کے پاس ہی رہے۔ تو کوئی ہرج نہیں اس پر مکان مجھے مل گیا۔ مرزا صاحب کے رشتہ دار ان پر بڑے خفا ہوئے میں نے کہا پھر بھی تجھ پر مزا صاحب کی سچائی نہیں کھلی کہنے لگا ات یہ ہے کہ یہ جو شرطیں لگاتا ہے ان پر چلنا مشکل ہے۔ ان دونون فقیروں کی باتوں سے میں نے اندازا لگایا کہ جو شخص پہلے نور علی نور تھا۔ اب وہ جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ اس پر میں نے بیعت کر لی اورپھر کئی دفعہ حضور کی زندگی میں قاگیا۔ سیالکوٹ لیکجر کے موقعہ پر بھی گیا۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۲۵






    روایات
    چوہدری عبداللہ خان صاحب ولد چوہدری الٰہی بخش صاحب
    سکنہ داتازیدکا
    عمر62سال ۔ سن بیعت 1902ء یا 1903ء
    میں ۱۸۹۳ء میں سیالکوٹ تعلیم حاصل کیا کرتا تھا حضرت مولوی عبدالکریم صاحب وہاں قرآن مجید کا درس دیا کرتے تھے۔ حضرت چوہدری نصراللہ خان صاحب کے ساتھ میں بھی ان کا درس سننے کے لئے جایا کرتا تھا۔ گو مجھے سمجھ نہیں تھی مگر چونکہ حضرت مولوی صاحب خوش لکان تھے اس لئے دلچسپی پیدا ہو گئی تھی۔ مولوی صاحب توفی کے لفظ پر بہت زور دیا کرتے تھے۔ میں نے چوہدری صاحب سے گھر آخر پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ مولوی صاحب نماز روزہ کی تاکید کی بجائے توفی پر زور دیتے ہیں۔ انہوں نے اس کی وجہ بتلائی بہر حال اس زمانہ میں مجھے حضرت اقدس علیہ السلام کی ذات سے کچھ واقفیت ہو گئی۔ پھر میں اپنے گائوں آگیا۔ اور زمیندارہ کاموں میں مصروف ہو گیا۔ ۱۹۰۲ء میں یہاں گرمی کے موسم میں دو مولوی آئے ایک فضل کریم صاحب مرحوم قلعہ صوبہ سنگھ کے اور دوسرے عبدالحی۔؍ موخرالزکر نے حضرت صاحب کے خلاف ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ یہ کفر کی حالت میں ہی مرا ہے مگر مولوی فضل کریم صاحب میرے ساتھ ہی ایمان لائے تھے یہ دونوں مولوی صاحبان ایک رات میرے پاس ٹھہرے۔ میں نے حضرت کے متعلق ان سے دریافت کیا پہلے مولوی فضل کریم بولے اور کہا کہ وہ کافر ہیں میں نے کہا کہ تحقیقات کے بغیر کافر کہنا بجا نہیں۔ پھر مولوی عبدالحی بولے کہ اچھا دکاندارتو ضرور ہے میں نے کہا اگر دکاندار ہوتے تو وہ چیز پیش کرتے جسے ہر شخص خوشی سے لیتا۔ ایسا مہنگا سودا نہ پیش کرتے۔
    اس واقعہ کے بعد میرے دل میں بہت تحریک ہوئی اور میں تحقیقات کرتا رہا۔ جنوری یا فروری ۱۹۰۳ء میں مولوی فضل کریم صاحب یہاں تشریف لائے۔ میں نے ان کو علیحدگی میں حضرت صاحب کی بابت پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا کہ جس طرح وہابی لوگوں کو لوگ ناپسند کرتے تھے مگر وہ سچے نکلے ایسے ہی گو آجکل حضرت مرزا صاحب کی مخالفت کی جاری ہے۔ مگر آخر یہ سچے ہی نکلیں گے۔ اس پر میںنے کہا کہ پھر اٌ بیعت کیوں نہیں کر لیتے۔ انہوں نے کہا کہ مخالفت بہت ہو گی۔ میں نے کہا کہ میں زمیندار ہوں اپنی روزی کما کر کھاتا ہوں اور اپ حکیم میں تلوانے نہیں۔ اس لئے آج ہی ہمیں بیعت کا خط لکھنا چاہئے۔ چنانچہ ہم نے بیعت کا خط لکھ دیا۔ جمعہ کا دن تھا۔ میں نے یہاں اعلان کر دیا کہ میں نے حضرت مرزا صاحب کی بیعت کر لی ہے۔ اور مولوی نے قلعہ میں اعلان کر دیا۔ پھر مخالفت ہوتی رہی۔ ۱۹۰۳ء میں پہلی دفعہ مئی یا جون میں قادیان گیا۔ شام کے بعد حضرت اقدس مسجد کے اوپر شہ نشین پر تشریف رکھتے تھے کسی آدمی نے ذکر کیا کہ آپ کا فلاں مرید طاعون سے مر گیا ہے حضور نے جواباً فرمایا کہ اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو پہاڑ پر اونٹ پر سوار ہو کر جا رہا تھا کہ اسے بجلی نے آلیا وہ شخص بھی نیم حکیم تھا اور طاعون والوں کا علاج کیا کرتا تھا لہذا جب وہ خود طاعون کے گھر میں گیا تو محفوظ کیسے رہ سکتا تھا۔
    ایک دفعہ ستمبر کے مہینہ میں چوہدری نصراللہ خاں صاحب اور میں ظہر کے وقت قادیان پہنچے۔ وضو کر کے جماعت میں شامل ہو گئے نماز کے بعد حضرت صاحب محربا میں تشریف فرما ہو گئے۔ چوہدری صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا۔ چوہدری صاحب ابھی آئے ہو کھانا کھا لو۔ چوہدری صاحب نے مسکرا کر عرض کیا کہ حضور کھانے کا کوئی وقت ہے؟ مسکرا کر فرمایا چوہدری صاحب کھانے کا بھی کوئی وقت ہوتا ہے جب بھوک لگی ھکا لیا۔ حضور نے خادم کو بھیجا کھانا تیار کروا کر لایا اور ہم نے مولوی محمد علی صاحب کے کمرہ میں بیٹھ کر کھایا۔اسی سال کا ……… بارش بڑی ہوئی تھی جس مکان میں آجکل حضرت میاں بشیر احمد صاحب ہیں یہ مہمانخانہ ہوا کرتا تھا۔ ہم اس جگہ ٹھہرے ہوئے تھے۔ میاں نجم الدین لنگر خانہ کے مہتمم تھے۔ لوگوں نے حضرت صاحب کو آَاز دے کر عرض کیا کہ حضور ایک پٹھان ہے اور وہ گوشت کے بغیر کھانا نہیں کھاتا۔ حضور نے فرمایا اس کو گوشت پکا دو۔ میاں نجم الدین صاحب نے عرض کی کہ حضور بارش کی وجہ سے قصابوں نے گوشت کیا نہیں۔ حضور نے فرمایا اچھا مرغ تیار کر کے کھلا دو۔
    ایک دن وہ پھر آئے اور حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور ایک پٹھان ہے جو کہتا ہے میں نے کھچڑی کھانی ہے۔ فرمایا ان کو کھچڑی پکا دو۔
    عبداللہ خاں امیر جماعت احمدیہ داتہ زیدکا بقلم خود
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۲۶





    روایات
    چوہدری غلام حسین صاحب ولد چوہدری شمس الدین صاحب
    سکنہ گھٹیالیاں
    عمر60سال ۔ سن بیعت 1905ء
    (۱) ہم نے عرض کیا کہ حضور بڑے بڑے کوٹوں والے ہم زمینداروں کو حضور کے نزدیک نہیں آنے دیتے۔ فرمایا اچھا۔ ان کوٹوں والوں کو پیچھے ہٹا دیا جائے اور آپ لوگ آگے آجائیں۔ چنانچہ بڑے بڑے لوگ پیچھے ہٹا دئے گئے۔ اور ہمیں حضور کے اردگرد حلقہ باندھنے کا موقع ملا۔ ہم ریتی چھلہ کے بڑ کے درخت تک حضور کے ساتھ رہے اور واپسی میں بھی۔
    (۲) گرمی کی شدت تھی۔ حضور اندر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ نفل پڑھو۔ دونوں نے نفل پڑھنے شروع کئے۔ (استقاد) ابھی ایک ہی رکعت پڑھی تھی کہ بارش برسنی شروع ہوئی۔ اور اکفی بارش ہوئی۔
    (۳) ایک دفعہ ہم نے عرض کیا کہ حضور ہمارے گائوں میں بیماری پڑ گئی ہے ۔ فرمایا تم اچھے ہو جائو۔ بیماری تمہاری دروازوں کی جوتی کی طرح ہو جائے گی۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۲۶

    روایات
    میاں محمد رشید صاحب ولد حکیم عطاء ربی صاحب
    سکنہ ڈلہ حال گھنوکے ڈاکخانہ قلعہ صوبہ سنگھ ضلع سیالکوٹ
    عمر41سال ۔ سن بیعت پیدائشی احمدی
    صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب میرے کلاس فیلو تھے۔ اور ہم اکٹھے کھیلا کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ حضرت خلیفہ اوٍّ ایک دفعہ بیمار ہوئے ان کی چارپائی اس مکان میں تھی۔ جس میں اب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رہتے ہیں۔ حضرت خلیفہ اوٍّ چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے اور میں اور صاحبزادہ صاحب ادھر ادھر پھر رہے تھے کبھی چارپائی کے نیچے سے بھی گزر جاتے تھے اتنے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیڑھی سے نیچے تشریف لائے آپ کے سر پر رومی ٹوپی تھی جس کے اوپر کی طرف چار سوراخ تھے گلے میں صدری تھی۔ اور پائجامہ نہ تنگ تھا نہ کھلا۔ پائوں میں جوتی تھی۔ حضور کی تشریف آوری پر کسی خادم نے حضرت خلیفہ اوٍّ کی چارپائی کے پاس کرسی بچھا دی ۔ حضور اس پر بیٹھ گئے۔ اور حضرت خلیفہ اوٍّ سے باتیں کرتے رہے۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۲۷
    ہم ہائی سکول میں پڑھا کرتے تھے میرے ساتھ ایک طالب علم محمد عبداللہ افریقی مرحوم بھی تھے۔ وہ مجھ سے بڑے تھے۔ انہوں نے خواب دیکھا کہ ایک بھینا قادیان کی طرف آرہا ہے۔ اور جب بستی کے قریب پہنچا ہے تو سونگھ کرایک طرف کو چلا گیا ہے۔ وہ خواب اس نے دوسرے لڑکوں کو سنائی۔ پھر غالباً مولوی سکندر علی صاحب جو ہمارے استاد تھے ان تک پہنچی انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت اقدس میں تحریر کر دی۔ حضور نے خواب میں پڑھ کر فرمایا کہ نفل پڑھو۔ اور سکول اور دفاتر میں چھٹی کر دو۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے خاص فضل کیا ہے ہر کسی کو طاعون سے بچایا ہے اس لئے تمام احمدی نفل پڑھیں۔








    روایات
    میاں طالب دین صاحب ولد میاں کرم بخش صاحب
    سکنہ ڈلہ حال گھنوکے ڈاکخانہ قلعہ صوبہ سنگھ ضلع سیالکوٹ
    عمر55سال ۔ سن بیعت 1904ء
    (۱) جس روز حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کا صندوق پرانے قبرستان سے نکال کر بہشتی مقبرہ میں لایا گیا ۔ میں وہاں ہی تھا۔ بہشتی مقبرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے ایک کرسی پکڑائی فرمایا۔ سیدھے چلے چلو۔ ایک جگہ پہنچ کر پھر فرمایا اب دوسری طرف سیدھے چلو۔ غرضیکہ چاروں طرف پیمائش کی۔ گویا قبرستان کی حدود کی تعین کی۔
    (۲) حضرت مسیح موعود ایک دفعہ جمعہ کی نماز کے لئے مسجد اقصیٰ میں تشریف لائے اور جوتیوں کی جگہ بیٹھ گئے۔ پیچھے سے حضرت خلیفہ اوّل آئے وہ بھی جوتیوں کو ادھر ادھر کر کے بیٹھ گئے۔ خطبہ ایک اور مولوی صاحب نے پڑھا۔ میں حضرت صاحب کو جمعہ سے پہلے لپٹ گیا۔ مگر پہلے عیسائی قوم میں تھا۔ ابھی تک مسلمان نہیں ہوا تھا۔ اس لئے میں نے نماز نہیں پڑھی تھی۔ پھر میں نے بیعت کر لی تھی۔
    (۳) ایک دفعہ میں نے حضرت مسیح موعود کی خدمت میں درخواست کی کہ حضور میری طرف بھی نظر کرم ہو۔ فرمایا ’’ آپ کو قرآن مجید آجائے گا۔ ‘‘ بعد میں حضرت خلیفہ اوّل نے بھی اپنی خلافت میں یہی فرمایا تھا۔ اب خدا کے فضل سے مجھے قرآن مجید آتا ہے۔
    الراقم عبدالقادر
    روایات
    چوہدری جیون خاں صاحب ولد چوہدری اروڑا صاحب
    سکنہ ڈلہ حال گھنوکے سیالکوٹ
    عمر75سال ۔ سن بیعت 1904ء
    میں حضرت صاحب کو قادیان میں دبا رہا تھا کہ غیر احمدیوں کا ذکر چل پڑا۔ فرمایا یہ لوگ ناسمجھ ہیں۔ ان کی حالت بچوں کی سی ہے۔ جیسے چھوٹا بچہ والدین پر لوبی بھی کر دیتا ہے والد کی داڑھی بھی پکڑ لیتا ہے۔ مگر جب اسے ہوش آتی ہے اور سمجھدار ہو جاتا ہے تو والدین کے برابر بھی ادب کی وجہ نہیں بیٹھتا۔ یہی حال ان لوگوں کا ہے۔ جب ان کو سمجھ آجائے گی تو مخالفت اور گالیاں ترک کر دیں گے۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۲۷



    روایات
    میاں فضل احمد صاحب پٹواری حلقہ گورداسپور ننگل
    {بذریعہ تحریر بیان کیا}
    حضرت والد صاحب مرحوم کا نام منشی محمد اسماعیل باپ کا نام محمد علی قوم راجپوت منہاس ساکن آلووال تحصیل گورداسپور تھا۔ جو موضع پسنانوالہ میں پٹواری تھے۔؍ جو قادیان سے پانچ کوس کے فاصلہ پر ہے۔ اور انہوں نے غالباً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت بذریعہ خط ۱۸۹۶ء تا ۱۸۹۸ء میں کی تھی۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا شرف زیارت اور ملاقات ۱۸۹۲ء کے قریب غالباً پہلے حاصل کیا تھا۔ میرے خیال میں انہوں نے فرمایا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت سے پہلے شاید دو دفعہ ملاقات حاصل کرنے کا انہیں موقعہ نصیب ہوا تھا۔
    ایک دفعہ کے ذکر میں فرمایا کہ میں اور میرے چچا صاحب مرحوم مولوی نظام الدین صاحب جو دہلی سے تعلیم حاصل کر کے آئے ہوئے تھے۔ ان کے ہمراہ حضرت صاحب کی ملاقات کی۔ اور اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چند رویا اور الہام اور کشوف کا ذکر فرمایا۔ تو مولوی نظام الدین صاحب نے عرض کیا کہ آپ ان کو ظاہر نہ کریں۔ مگر حضرت مسیح موعود علیہا لسلام نے پورے وثوق کے ساتھ انہیں یقین دلایا کہ یہ میرے خدا کی فرمائی ہوئی ہیں۔ میں ان کو ظاہر کرنے سے رک نہیں سکتا۔
    دوسری دفعہ کی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے بتلایا کہ دوپہر کا وقت ھتا اور حٗضور کے گھر شرقی جانب جو گلی چھتی ہوئی تھی۔ یعنی نواب صاحب اور حضرت مسیح موعود کے گھر کے درمیان کا حصہ جہاں اکثر کیچڑ رہا کرتا تھا۔ وہاں حضرت مسیح موعود کی چارپائی پٹھے کے بان سے بنی ہوئی جس میں موٹی موٹی رسیاں دور دور فاصلہ پر تنی ہوئی ہوتی ہیں۔ اس پر آرام فرما رہے تھے۔ ہم دو تین آدمی تھے ہماری اچھی طرح آپ نے تواضع کی۔ اور پانی وغیرہ پلوایا۔ اس وقت حضرت صاحب نے فرمایا کہ مولوی محمد حسین صاحب تو شملہ بیٹھے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہاں ہی شملہ بھیج دیا ہے۔ کیونکہ وہاں خوب سرد ہوا آرہی تھی۔ باقی باتیں تو فردی کو یاد نہیں رہیں۔ کیونکہ جب یہ ذکر ہوا تھا۔ تو فدوی ابھی بچہ ہی تھا۔
    ایک بات وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی شخص سے اس طرح ذکر کر رہے تھے کہ حضرت کے حضور کسی دوست نے عرض کیا کہ مسجد میں جماعت ہو رہی ہے اور ایک شخص اس وقت وہاں پہنچتا ہے جبکہ اس کو پورا یقین ہے کہ جماعت نہ مل سکے گی اگر میں وضوکر کے شامل ہونا چاہوں یا کسی نمازی کا ہی جو جماعت میں شامل ہو وضو ایسے وقت میں ٹوٹ جائے اور وہ جماعت کے ثواب سے محروم نہ رہنا چاہتا ہو ۔ تو وہ کیا کرے۔ کیا تیمم کر کے شامل ہو جائے یا اس کو وضو کر کے شامل ہونا پڑے گا اور جماعت کے ثواب کا استفادہ سے محفوم رہے گا۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو تنگ کرنا نہیں چاہتا اور وہ رحیم ہے۔ موقعہ کے لحاظ سے جو اس کو میسر ہو سکے کرے۔ اللہ تعالیٰ اس کے ثواب کو ضائع نہ کرے گا۔ اور جماعت میں شریک ہو جاوے۔
    والسلام
    خاکسار
    فضل احمد پٹواری حلقہ گورداسپور ننگل
    ۳۹۔۲۔۷

    روایات
    مولوی غلام نبی صاحب دھری سابق مدرس مدرسہ احمدیہ
    نوٹ از خاکسار عبدالقادر۔نیچے جو روایت درج کی جا رہی ہے یہ مولوی صاحب نے میاں اللہ یار صاحب ٹھیکیدار سے سنی ہے۔ ٹھیکیدار صاحب چونکہ ان پڑھ ہیں اور کسی واقعہ کو بالکل اس کی شکل میں بیان نہیں کر سکتے۔ بلکہ واقعہ کا جو اجمالی اثر ان کی طبیعت پر ہوتا ہے وہی بیان کرتے ہیں۔ دوسرے یہ واقعہ گورداسپور کے مقدمہ کے متعلق ہے۔ جس کا ذکر اخبارات مین اور بعض تعلیم یافتہ لوگوں کی روایات میں بکثرت آچکا ہے۔ اس لئے صرف ضروری حصہ کو منع کیا جاتا ہے۔
    مولوی صاحب فرماتے ہیں بیان کیا میرے پاس میاں اللہ یار صاحب بٹالوی نے … ……… (کارروائی مقدمہ سے فارغ ہونے کے بعد۔ عبدالقادر)
    ہم نے رات گورداسپور میں گزاری۔ صبح اپنی اپنی جگہ روانہ ہوئے اور قریب تھا۔ کہ حضور بھی سوار ہوئے۔ اتنے میں حضور کو کشف یا الہام ہوا کہ راستہ بٹالہ والا خطرناک ہے۔ اس لئے حضور نے حکم دیا کہ یکے لائو۔ تو اسی وقت تین یکے لائے گئے تواس وقت حضور نے فرمایا کہ یہ وجہ راستہ کے بدلنے کی ہے تو حضور کچی سڑک پر قادیان پہنچے اور ادھر ایک ……… حضور کی خاطر بٹالہ بھیجا گیا شیخ یعقوب علی صاحب تھے۔ جب پل پہرہ پہنچے تو پل پر ایک بناوٹی میلہ مخالفوں نے بنا رکھا تھا۔ جس میں مسانیا اور بٹالہ کے مخالف تھے یہ مشورہ کیا کہ جب مرزا صاحب پل پر پہنچ گئے توپل کے مغربی سمت پھینک دیں گے تو مرزا صاحب وہیں مر جاویں گے تو جلدی ہو گا کسی ایک پر اس کا اثر نہ پڑے گا۔ جب بٹالہ سے رتھ روانہ ہو کر پل کے قریب آیا۔ تو مخالف حسب مشورہ دوڑ کر رتھ پر پڑ گئے۔ اور خیال کیا کہ رتھ میں مرزا صاحب ہی ہیں تو لوگوں نے رتھ پر حملہ کیا۔ جب دیکھا کہ اپنی مرزا صاحب سے خانی ہے اور سوار اور لگ ہیں۔ تو انہوں نے ابتدائی محلہ کی ضربی پر افسوس کیا۔ اور شیخ یعقوب علی صاحب کو کچھ چوٹیں آئیں۔
    ٹھیکیدار الہ یار صاحب نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بٹالہ گئے قریباً ۱۸۸۰ء تھا اور ہماری دکان متصل ذیل گھر جس میں لکڑٓ تھی میں اور محمد اکبر ؓ اس دکان میں کام کرتے تھے حضور اس دکان میں ٹھہرے لیکن بھائی اکبر موجود نہ تھے۔ صرف میں اور ایک ہمارا ملازم تھا۔ نماز مغرب کا وقت آگیا۔ حضور نے نماز کا حکم دیا۔ اور ہمارے ملازم کو حکم دیا کہ تم نماز پڑھائو۔ اس نے عرض کجیا کہ حضور ہی پڑھائیں۔ پھر مجھے مخاطب ہوئے اور فرمایا کہ اللہ یار تمہارے میں کون امام ہے میں نے عرض کیا کہ حضور ہی امام ہیں۔ پھر حضور نے نماز پڑھائی۔ اور میری ضیافت حضور نے قبول فرمائی صبح کا کھانا بھی حضور نے پسند فرمایا۔ اور حضور وہاں کسی مقدمہ کے لئے تشریف لے گئیہوئے تھے اور صبح کے کھانے میں دو چار حضور کے ملاقاتی بھی شریک ہوئے لیکن مجھے یہ یادنہیں کہ حضور دوسرے روز دہلی گئے یا لاہور اور یہ کہ حضور کے ساتھ جو خادم تھا۔ اس کا کا کیا نام تھا۔
    میاں اللہ یار صاحب نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے بلایا۔ فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ لکڑی ہے میں نے عرض کیا کہ حضور کچھ بیری کیکر پیپل ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ مہمانخانہ میں کچھ چارپائیاں بنیں گی۔ان کے لئے پائوں کی ضرورت ہے۔ میں نے عرض کیا کہ حضور پیپل کی لکڑٓ ہے اس کے پائے بنوا دیتا ہوں۔ ایک شخص کہنے لگا کہ حضور پیپل کی لکڑی تو ناقص ہوتی ہے اس کے پائے دیر پا نہٓں ہوتے۔ فرمایا جس کے لئے بننے ہیں وہ غریب نہیں وہ عتی ذات ہے۔ پہلی پوشاک خراب ہونے پر نئی بنا دیتا ہے وہاں کچھ پرواہ نہیں۔ مجھے بیس چارپائیوں کے بنانے کا حکم دیا۔ میں بیس چارپایوں کے پائوں کا حکم لے کر چلنے کو تھا کہ ایک لوہار آٗیا اور اپنی تکلیف کا ذکر کیا جو کہ اب غیر احمدیوں کی طرف سے ملتی تھی۔ مجھے اکیلے پا کر گائوں میں ستاتے ہیں۔ دعا فرماویں کہ اللہ تعالیٰ ان کی سختی سے بچائے۔ میری ’’ ادھرن‘‘ چرالے گئے ہیں کام نہیں کر سکتا۔ فرمایا خدا تعالیٰ پر توکل رکھو ۔ اللہ تعالیٰ تمہارا حامی و ناصر ہو گا ۔ یقینا یاد رکھو جو خدا کا ہو جاتا ہے خدا اس کا ہو جاتا ہے خدا کو اگر تم نے نہ چھوڑا تو تمہارا سامان مہیا کر دے گا ہم بھی دعا کریں گے۔ اس وقت جو وہاں کچھ آدمی مسجد مبارک میں موجود تھے۔ ان کو الہامات سنائے اور میں حضور کے پائوں دبانے کے لئے بیٹھ گیا۔ اور حضور انگلیوں میں اگلیاں ڈاکر کر دبانے کو پسند فرماتے تھے۔ مجلس میں کسی آیت کا اگر ذکر ہوتا تو دیر تک اس کی توضیح فرماتے رہتے۔ ایسے ہی حدیث کا بھی ۔ اور لوگوں کی باتیں بھی سناتے۔
    میں نے منار کے بھٹہ کے لئے جو ایندھن مہیا کیا تو جو قیمت حضور عنایت کرتے وہ گن کر نہیں دیتے تھے بلکہ کپڑا روپوں کا ہوتا میرے سامنے رکھ دیتے اور فرماتے کہ جس قدر تمہارا ہوتا ہے لے لو۔
    حضور کی سیر میں جو معمولی چال ہوتی لوگوں کو اس چال میں دوڑ دوڑ کر ملنا پڑتا۔
    حضور نے ایک دفعہ فرمایاکہ اللہ یار کا بھائی محمد اکبر تو بڑا آدمی ہے لیکن وہ خود ایک معمولی آدمی ہے۔ میں نے حضور سے عرض کیا کہ حضور میرے پاس جو مال تھا۔ وہ تو ختم ہو چکا ۔ اب حضور میری جال یہاں چاہئیں لگا دیں اور مجھے ترقی کے لئے کوئی تدبیر بتائیں۔ تو حضور نے فرمایا کہ نماز سنوار کر پڑھو۔ اور درود شریف اور استغفار اور لاحول کی کثرت کرو۔ اور الحمد شریف کا ورد رکھو۔ اور ’’معمولی‘‘ کا لفظ میں نے اپنی طرف سے نہیں کہا۔ بلکہ خدا کی طرف سے کہا۔
    ایک دفعہ جبکہ میں حلوا بیچتا تھا۔ حضور سے کہا گیاکہ اللہ یار اب حلویبیچتا ہے۔ فرمایا کہ شمع پر پروانے مختلف رنگ اختیار کر رہے ہیں۔ یہ زیادہ لکھا پڑھا نہیں۔
    بازار میں شیخ محمد اسماعیل صاحب سر ساوی نے مجھے کہا کہ تم لوگوں کو جوہڑ کی مچھلیاں تل کر کھلاتے ہو۔ میں نے کہا اچھا آپ کے لئے گھر سے پکڑ کر لائوں گا۔ اور تل کر دوں گا۔ اس پر حضور نے چھت پر سے ٹہلتے ٹہلتے فرمایا خوب جواب دیا۔
    جب کہ قادیان میں طاعون پڑی میں بھی بموجب حکم اپنی بیمار بیوی کو باہر لے گیا تھا۔ اور بیوی ایسی بیمار ہوئی کہ اس کی زندگی صرف چھاتی کے سانس سے معلوم ہوتی تھی۔ باقی کا دھڑ مردہ ہو چکا تھا۔ بازار میں سوم راج۔ بھگت راج اور اچھر ہے۔ جنہوں نے شبہ چنتنک اخبار نکالا تھا۔ اور پوچھا کہ کہاں اج رہے ہو۔ میں نے کہا میری بیوی طاعون سے بیمار رہے تو کہنے لگا کہ ……… نے کشتی بنائی ہے۔ تم اس میں کیوں نہ بیٹھ گئے۔ میں نے کہا کہ ہم تو کشتی میں ہی بیٹھے ہیں مگر تم وہ میئرے جائو۔ جو نوح کے وقت مخالفوں نے بنائے تھے۔ اور ان میں بیٹھنے والے غرق ہوئے سو جب حضور سے بیماری کا ذکر کیا تو حضور نے مجھے سیڑھیوں میںٹھہرنے کا حکم دیا۔ اور فرمایا کہ تم بیماری والے گھر سے آئے ہو۔ میں نے حضور سے بھگت رام وغیرہ کی بات کا ذکر کیا۔ حضورنے فرمایا دیکھو مسیح مردے زندہ کرتا تھا۔ لیکن وہ حقیقی مردہ نہ ہوتے تھے۔ وہ اس قسم کے تھے جو اس وقت ہماری جماعت میں ہیں ایک ٹھیکہ دار کی بیوی اور دوسرے محمد دین (ماسٹر محمد دین جواس وقت طالب علم تھے اور آج کل ۱۹۳۷ء میں ہیڈ ماسٹر ہائی سکول ہیں) جب میں دوا لے کر آیا۔ تو اس وقت بیوی بے ہوش تھی۔ اس بیہوشی میں دو بجے تک رہی اور حضور نے دوا دیتے وقت فرمایا کہ ہم بھی دعا کرتے ہیں۔ تم بھی دعا کرو ۔ دوائی سفید رنگ کی مسور کے دانوں کے برابر تھی۔ ۲ بجے کو مجھے آواز آئی کہ ’’خطرہ نہ کرو‘‘ اور بیوی نے ہوش میں آکر کہا (جی مجھے پانی دو) میں نے دوائی بعد مشک کے عرق کے بیوی کو کھلا دی۔ قریباً تین بجے ہوں گے جبکہ بیوی نے کہا کہ مجھ اٹھائو۔ جب بٹھایا اور میں نے گھر میں ہی نماز پڑھی اور قرآ ن شریف لے کر نکلا تھا کہ آواز آئی کہ ٹھیکہ دار باہر آئو۔ سوم راج۔ اچھر اور ملاوامل کا توالہ مر گئے ہیں۔ ان کو جلانے کے لئے لکڑی دو۔ الحمدللہ کہ یہ دونوں مرد زندہ ہو کر اس وقت ۱۹۳۷ء تک بقیہ حیات ہیں۔ اور دشمن اسی وقت مر گئے۔
    بیان کیا میرے پاس منشی غلام محمد صاحب پنشنر نے انہوں نے سنا اپنی زوجہ ……… سے۔ انہوں نے سنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے اس حال میں کہ آپ گھر میں تھے اور آپ کے ارگرد بچے عورتیں تھیں۔ کو میرا دل چاہتا ہے کہ اپنا قائمقام محمود کو بنا دوں۔ مگر لوگوں کی باتوں سے ڈرتا وہں کہ یہ بھی ایک دنیا دار ہے یہ ۱۹۰۶ء یا ۱۹۰۵ء کا واقعہ ہے۔
    میرے پاس میاں عبداللہ ارائیں پسر جھنڈو نے بیان کیا کہ میں چھوٹا سا تھا اور اپنے والد کے ہمراہباغ میں تھا۔ کہ حضرت مسیح موعود تشریف لائے حضرت اماںجان اور انہ معلوم اور کون کون تھیں۔ حضور نے چٹنی کے سامان کے متعلق پوچھا تو ہم نے عرض کیا کہ مرچ بھی ہے اور دھنیا بھی ہے۔ اور دوری بھی ہم نے حاضر کر دی۔ تو حضرت اماں جان نے فرمایا کہ دوری کو اور ڈنڈے کو دھولوں۔ حضرت نے یہ سن رک رفرمایا کہ کیوں یہ مسلمان نہیں۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بندہ خاکسار نے جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پھرتے پھرتے لکھ رہے تھے اور حضور کا چہرہ مجھے مسجد کی چھت سے نظر آرہا تھا۔ پوچھا کہ حضور میرے باپ کے سر قرض تھا۔ اس کی ادائیگی کا کیا طریق اختیار کروں۔ فرمایا مولوی صاحب سے پوچھ لو۔ یہ سوال مجھے اس وقت تک خوندامت کرتا رہتا ہے جب بھی یاد آجاوے۔ کیونکہ حضور کا یہ وقت کام کا ہوتا تھا۔ میں نے کیوں نہ یہ سوال مجلس میں کیا اور یہ آیت بسا اوقات شرمندہ کرتی ہے۔ جب کبھی مجھے یاد آتی ہے۔ قلو انہم صبر واحتی تخرج البہم ۔
    میں بھوپال میں رہتا تھا اور ایک اہلحدیث نے مجھ سے کچھ قرض لیا تھا۔ اور وہ ایک پنجابی تھا۔ میں نے پنجاب آکر بھی اور جب مصر چلا گیا (تو بھی)کبھی اس سے خط و کتابت نہ کی۔ اور نہ اس سے مطالبہ کسی اور رنگ میں کیا لیکن وہ خود ہی قرض معاف کرانے آیا کچھ تھوڑا سا اس نے دیا بھی اس کی ملاقات کے لئے جب میں نے حضور پر نور سے عرض کیا تو حضور نے ازراہ کرم فرمایا کہ اچھا ان کو بلائو کہ ہم دونوں نے اس کے لئے ہی دروازہ پر جا کر اس کی ملاقات کے لئے عرض پہنچائی تو آں کرم فرما ہستی نے اس مہمان کی دہلیز پر آکر مصافحہ کا شرف بخشا اور واپس تشریف لے گئے۔
    محترم شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے بیان کیا کہ عام طور پر حضرت اقدس گورداسپور کو براستہ بٹالہ تشریف لے جاتے آتے ہوئے سیدھے تتلہ وغیرہ کی طرف سے آتے۔ لیکن ایک دفعہ حضور نے تتلہ کی طرف سے سفر کیا۔ اور چار بجے رات کو نکلے کہ نہر پر جا کر نماز فجر ادا کریں۔ تتلے سے ورے کچھ لوگوں نے حملہ کر دیا اس خیال پر کہ حضور اکیلے ہوں گے۔ مگر ان کے حملہ پر جب ہم نے شور کیا تو وہ بھاگ گئے یہ ۳ ء یا ۴ء کی بات ہے۔ (میاں) شادیخان صاحب حضرت صاحب کے ہمراہ تھے۔ اور ہم دوسرے یکہ میں تھے۔ یکے تین تھے اور جب وہ لوگ بھاگ گئے تو حضور ہنسے (اور فرمایا) کہ یہ لوگ سمجھے ہوں گے کہ بڑا روپیہ لائے ہوں گے۔







    روایات
    چوہدری محمد دین صاحب ولد چوہدری عمر الدین صاحب
    سکنہ قلعہ صوبہ سنگھ ضلع سیالکوٹ
    میں نے ۱۹۰۵ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر قادیان جا کر بیعت کی۔ اس وقت میری عمر قریباً ۱۶۔ ۱۷ سال کی تھی اور مجھے قریباً دس دن حضور کی خدمت میںرہنے کا موقعہ ملا۔ مجھے جو کچھ اس وقت کے متعلق یاد ہے۔ بیان کرتا ہوں۔ میں نے دیکھا کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی امام الصلوٰۃ ہوا کرتے۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کے ساتھ دائیں طرف کھرے ہوتے ایک دن (رات کا زکر ہے کہ) رات ابھی نصف گئی (تھی) کہ حضرت مسیح موعود کے مکان کے ساتھ ایک مکان تھا۔وہاں کچھ شور پڑا۔ تو حضور نے آواز سن کر فرمایا گھوڑا بچ گیا؟ تو سننے والوں نے کہا کہ یا حضرت بچ گیا۔ نماز ادا ہو جانے کے بعد حضور مسجد میں بیٹھا کرتے۔ اور مجھے کئی دعہ حضور کو مٹھیاں بھرنے کا (دبانے کا) موقعہ بھی ملا اس وقت خواجہ کمال الدین صاحب کو بھی حضور کی خدمت میں دیکھا۔
    الراقم عبدالقادر
    ۳۹۔۶۔۲۸


    روایات
    چوہدری عبدالرحیم صاحب ولد چوہدری محکم الدین صاحب
    سکنہ قلعہ صوبا سنگھ ضلع سیالکوٹ
    قریباً ۱۹۰۱ء کا واقعہ ہے کہ مجھے مع چوہدری عمر الدین صاحب و چوہدری پیر محمد صاحب کے ایک کام کے سلسلہ میں علاقہ گورداسپور میں جانے کا اتفاق ہوا۔ تو ہم سب ک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ۴۔۵ دن تک رہنے کا اتفاق ہوا۔ جہاں تک مجھے اید ہے حضور باقی نمازوں میں تو پڑھنے کے بعد فوراً تشریف لے جاتے صرف مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد مسجد میں تشریف رکھتے اور عشاء تک بیتھے ہوئے احباب سے باتیں کرتے رہے۔ ایک دن جب ہم نے واپس آنا تھا تو حضور سے رخصت طلب کی حضور نے اجازت دی میرے ہمراہی چوہدری عمر الدین صاحب نے حضور سے کسی اپنے خط کے متعلق دریافت کیا تو حضور نے فرمایا استغفار بہت زیادہ کیا کرو۔ اس وقت میری عمر قریباً ۷۰ سال کی ہے۔
    ہم سب نے حضور سے جب قادیان گئے تب بھی مصافحہ کیا۔ اور آتے وقت بھی اجازت طلب کی اور مصافحہ کیا۔ اور جو نشانات ہم اپن