1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

روایات اصحاب احمد ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ یونی کوڈ۔ جلد 2 تا 5

'حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 23, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    روایات اصحاب احمد ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ یونی کوڈ۔ جلد 2



    بقیہ روایات
    حضرت منشی ظفر احمد صاحب آف کپورتھلہ
    نوٹ: حضرت منشی ظفر احمد صاحب کی روایات نمبر ‘ تا ۱۲ رجسٹر روایات نمبر ۱ میں موجود ہیں۔
    (۱۳) ایک دفعہ ہم مسجد مبارک کے ملحقہ کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت اقدس علیہ السلام اندر سے تشریف لائے۔ اور حضور چشم پرآب تھے۔ حضور کی یہ حالت بہت کم دیکھنے میں آئی ہے۔ مولوی عبدالکریم صاحب نے عرض کیا کہ حضور کیا بات ہے ۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ آج مجھے حسانؓ کے ان اشعار نے بہت رلایا ہے۔
    کُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِیْ فَعَمِی عَلَیْکَ النَّاظِرٗ
    مَنْ شَائَ بَعْدَکَ فَلْیَمُتْ فَعَلَیْکَ کُنْتُ اُحَاذِرٗ
    اور فرمایا ’’کاش یہ رباعی میری ہوتی اور میری تحریریں اس کی ہوتیں۔‘‘
    (۱۴) ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’ یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ کسی شخص کو اگر کوئی گالی دے تو اس کو غصہ کیوں آتا ہے ۔ حالانکہ گالی دینے والا شخص خود اپنی زبان گندی کر رہا ہوتا ہے اور اپنا نقصان کر رہا ہوتا ہے۔‘‘
    (۱۵) حاجی ولی اللہ صاحب آف کپورتھلہ جو براہین احمدیہ کے خریدار تھے اور حضرت مسیح موعود کے شروع میں بہت معتقد تھے۔ ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا کہ ’’تمہارے سوء خاتمہ کا اندیشہ ہے بکثرت آیا جایا کرو تا کہ ایمان کے ساتھ خاتمہ ہو ۔‘‘
    (۱۶) ایک مولوی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بحث کی ۔ حضور نے اپنی صداقت کے دلائل پیش کئے آخر وہ چپ ہو گیا۔ حضور نے فرمایا ’’ آپ سمجھ گئے ہیں‘‘ اس نے کہا کہ ہاں خوب سمجھ گیا ہوں۔ کہ آپ دجال ہیں (نعوذ باللہ) کیونکہ دجال کا کام ہے کہ وہ دوسروں کو خاموش کر دیتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسکرائے وہ بڑا حیران ہوا۔ اور اس نے بٹالہ جا کر حضور کے متعلق ایک اشتہار شائع کیا۔ اور لکھا کہ یہ شخص بڑا مخیر ہے‘ میں نے اس کے منہ پر اس کو دجال کہا لیکن اس کی پیشانی پر ذرا بل نہ آیا پھر میں نے آتے ہوئے اس کو کہا کہ میرے پاس خرچ نہیں تو اس نے پچیس روپے نکال کر دے دئیے۔
    (۱۷) ایک دفعہ میں دس گیارہ بجے کے قریب حضور کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ حضور کی انگلیوں کے درمیان پھنسیاں نکلی ہوئی تھیں۔ اور خارش سے سخت تکلیف تھی۔ اسی دن عصر کے بعد مجھے حاضر ہونے کا موقع ملا تو دیکھا کہ حضور چشم پرآب ہیں میں نے عرض کیا کہ حضور آج خلاف معمول چشم پرآب کیوں ہیں۔ فرمایا کہ انگلیوں کی تکلیف کی وجہ سے میرے دل میں خیال آیا کہ خدا تعالیٰ نے کام تو اتنا بڑا میرے سپرد کیا ہے اور میری صحت کا یہ حال ہے‘ اس خیال کا آنا ہی تھا کہ مجھے ایک پر ہیبت الہام ہوا کہ ’’ تیری صحت کا ہم نے ٹھیکہ لیا ہوا ہے‘‘ اس الہام کے ساتھ میرے جسم کا ذرہ ذرہ کانپ اٹھا اور میں اسی وقت سجدہ میں گر گیا اور بہت دعا وزاری کی جب سر اٹھایا تو خارش وغیرہ کا نام نہ تھا۔ اور مجھے ہاتھ دکھائے جن پر کسی پھنسی کا نشان تک نہ تھا۔
    (۱۸) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام پتلا شوربہ پسند فرمایا کرتے تھے ۔ ایک دفعہ فرمایا کہ سنت یہ ہے کہ تھوڑا سا گوشت ہو اور اس میں ایک لوٹا پانی کا ڈال لیا جائے اور سارے گھر کے لوگ اس کو کھائیں۔
    (۱۹) حضرت عباس کے دعویٰ سے پیشتر میں ر سید کی تفسیر دیکھنے سے ہی وفات مسیح کا قائل تھا۔ میں نے سر سید کے دلائل مولوی بشیر احمد گنگے ہی کو لکھ بھیجے اور لکھا کہ ان دلائل سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت شدہ ثابت ہوتے ہیں یہ حیات مسیح کا عقیدہ کہاں سے لیا گیا ہے ۔ انہوں نے جواب میں لکھا کہ جس طرح حضرت خضر زندہ ہیں اسی طرح مسیح بھی زندہ ہیں میں نے لکھا کہ ہم تو ایک کو رو رہے تھے تم نے ایک اور کو کھڑا کر دیا ۔ حضر کی زندگی کا کیا ثبوت ہے۔ انہوں نے لکھا کہ بعض ضعیف احادیث سے ان کی زندگی ثابت ہے اور ضعیف احادیث کا مجموعہ حسن کو پہنچتا ہے۔ میں نے لکھا کہ پھر محضوع کا مجموعہ ضعیف کو پہنچے گا ۔ اور ضعیف کا حسن کو انہوں نے لکھا کہ ہم اہل ہوا کا جواب نہیں دیا کرتے۔ چونکہ آپ کا مرزا صاحب سے تعلق ہے اس وجہ سے تم کو جواب دیا کیا تھا۔ اور مرزا صاحب کا دعویٰ مجدویت قریب باذعان ہے اور ثبوت یہ ہے کہ وہ قرآن کریم کے معترض کا جواب معقول طور پر ایسا دیتے ہیں کہ معترض کو بخبر تسلیم کے کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ اور خوبی یہ ہے کہ جو معقول جواب آپ دیتے ہیں وہ بقیہ قرآن شریف سے نکال دیتے ہیں۔ مولوی اشرف علی صاحب ان کے شاگرد تھے۔ انہوں نے وہ خطوط مجھ سے لئے۔ بعد میں جب مولوی رشید احمد نے مخالفت کی تو میں نے ان خطوط کو حاصل کرنے کی کوشش کی۔ لیکن وہ نہ مل سکے۔
    (۲۰) حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی بنائی ہوئی نظم خود نہ سنایا کرتے تھے۔ بلکہ خوش الہانی سے کسی اور سے سنا کرتے تھے۔
    (۲۱) حضرت مسیح موعود علیہ السلام بالعموم جمعہ کے دن مہندی لگایا کرتے تھے ۔
    (۲۲) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نظم کو نثر کی طرح جلدی جلدی روانی کے ساتھ لکھا کرتے تھے۔ خواہ وہ اردو کی ہو یا فارسی و عربی کی ۔ جب عربی کی لکھتے تو کبھی کبھی تھوڑی دیر کے بعد گنگناہٹ کی آواز سے پڑھتے جاتے۔
    (۲۳) ایک احمدی گرداور کے متعلق لوگوں نے ذکر کیا کہ وہ جب دورے پر جاتے ہیں تو گھوڑے کے لئے گھاس اور کھانا وغیرہ سب مول لیتے ہیں اور کسی کی ایک پائی کی چیز بھی بغیر قیمت کے استعمال میں نہیں لاتے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا ’’ایسی خشکی بھی نہیں چاہئے میں نے کئی فیصلہ جات پڑھے ہیں اور قانون کی رو سے انہیں بعض اشیاء لینے کی اجازت ہے۔‘‘
    (۲۴) جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دورہ پڑتا تھا۔ تو آپ کا جسم بالکل سرد پڑ جاتا تھا۔ خاص طور پر پائوں بالکل سرد پڑ جاتے تھے۔ ایک دفعہ لدھیانہ میں حضور علیہ السلام کو دورہ پڑا اور آپ کا جسم بالکل سرد ہو گیا۔ آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ کسی آریہ یا عیسائی کا کوئی اعتراض پوچھو تا کہ میرے جسم میں گرمی پیدا ہو جائے میں نے عرض کی حضور اعتراض تو کوئی اس وقت یاد نہیں ۔ فرمایا ہماری کوئی نعت ہی پڑھ دو۔ میں نے خوش الحانی سے ایک نعت پڑھنی شروع کی۔ اتنے میں ایک اعتراض بھی یاد آگیا۔ جو حضرت آدم کے متعلق مخالفین کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ آپ نے اس کا جواب دینا شروع کیا اور جوش میں آپ کو پسینہ آگیا۔ اور دورہ دور ہو گیا کئی دفعہ ایسا اتفاق ہوا اور اعتراض کرنے یا نعت پڑھنے سے آپ کے دورے کی حالت جاتی رہی۔
    (۲۵) ابتدائی الہام میں ایک دفعہ حضرت اقدس مسجد اقصیٰ میں تقریر فرما رہے تھے کہ ایک سکھ داخل ہوا غالباً اس نے شراب پی ہوئی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سخت گندی گالیاں دینی شروع کر دیں لوگوں نے اس کو روکا اور مارنا چاہا۔ لیکن حضور علیہ السلام نے منع فرمایا اور فرمایا کہ کچھ نہ کہو۔ خود ہی بخار نکال کر بس کر دے گا۔ وہاں ایک تھانیدار بھی تھے۔ وہ اس کو پکڑ کر لے گئے اور میاں نظام الدین کی حویلی میں اس کو خوب زدو کوب کیا اور ایک آدمی حضرت صاحب کی خدمت میں بھیجا۔ کہ آپ دو آدمی بھیج دیں جو کہ گواہی دیں تا کہ اس کا چالان کر دیا جائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب اس کا زدو کوب ہونا معلوم ہوا تو آپ نے ناپسند فرمایا۔ اور فرمایا کہ ہمیں اس سے کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔ ہمارے ان کے تعلقات ہیں آپ اس کو چھوڑ دیں۔ میں کوئی چالان کروانا نہیں چاہتا۔
    (۲۶) گورداسپور میں ایک دفعہ تھوڑے سے آدمیوں کے لئے کھانا تیار کیا گیا جو بہت ہی قلیل مقدار میں تھا۔ قریباً دو اڑھائی سیر گوشت ہو گا اتفاقاً شام کی گاڑی سے بہت سے اور دوست آگئے۔ اور وہ عین کھانے کے وقت پہنچے۔ لیکن خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ تھوڑا سا کھانا سب کے لئے کفایت کر گیا۔ حالانکہ آدمی سو کے قریب تھے میں اور منشی عبدالرحمان صاحب نے باورچی سے ذکر کیا تو اس نے کہا یہ تو بڑی آسانی ہے۔ اب زیادہ پکانے کی ضرورت نہیں۔ تھوڑا سا کھانا ہی کافی ہو جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس جب یہ بات پہنچی۔ آپ ناراض ہوئے اور فرمایا کہ ’’ اس طرح خدا تعالیٰ کو آزمانا نہیں چاہئے یہ اس کا فضل ہے کہ اس نے تھوڑا سا کھانا اپنے آدمیوں کے لئے کفایت کر دیا۔‘‘
    (۲۷) میں اپیل نویس تھا اور منشی اروڑا صاحب دسٹرکٹ مجسٹریٹ کے سر رشتہ دار تھے۔ ایک دفعہ میں نے حضور علیہ السلام سے عرض کیا کہ حضور مجھے اپیل نویس ہی رہنے دینا ہے۔؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اس میں آزادی ہے۔ جب آپ چاہتے ہیں آکر مل جاتے ہیں اور مہینہ مہینہ رہ جاتے ہیں پھر خود ہی فرمانے لگے کہ اس طرح ہو جائے کہ آپ منشی اروڑا صاحب کی جگہ ہو جائیں اور وہ کہیں اور چلے جائیں۔ اس کے بعد تھوڑے ہی عرصہ مین منشی صاحب بھونگے کے تحصیل دار ہوکر چلے گئے اور میں ان کی جگہ سر رشتہ دار مقرر ہو گیا۔
    (۲۸) ایک صاحب کرنل الطاف حسین جو بڑے آزاد خیال ا ور انگریزی فیشن کے دلدادہ تھے۔ انگلستان جاکر عیسائی ہو گئے۔ ان ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام آتھم کے ساتھ مناظرہ کے سلسلہ میں امرتسر ٹھہرے ہوئے تھے۔ وہ بھی امرتسر میں تھے۔ ایک دفعہ وہ حضرت صاحب کو ملنے کے لئے آئے۔ حضور علیہ السلام ایک کمرہ میں علیحدہ تھے ہم نے ان کو وہاں بھیج دیا جب وہ باہر نکلے تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ میں نے پوچھا کیا بات ہے تو انہوں نے کہا کہ میں جب کمرہ میں داخل ہوا تو حضرت صاحب نیچے بیٹھے ہوئے تھے اور گو آپ اپنے خیال میں چٹائی پر بیٹھے ہوئے تھے لیکن چٹائی پر صرف آپ کا ایک گھٹنا ہی تھا اور آپ خود زمین پر بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے خیال کیا کہ شاید میں نیچے چٹائی پر بیٹھنا نہیں چاہتا آپ نے فوراً سر پر سے اپنا پٹکا اتارا اور چٹائی پر بچھا کر فرمایا کہ آپ یہاں تشریف رکھیں۔ میں آپ کے حسن اخلاق سے بے حد متاثر ہوا اور میں نے کہا کہ میں بپتسمہ لے چکا ہوں اور شراب کا بھی عادی ہوں ۔ لیکن اس کے باوجود آپ نہایت تپاک سے باتیں کرتے رہے ۔ جس کا مجھ پر اس قدر اثر ہوا کہ میں نے فوراً کلمہ پڑھا۔ اور دوبارہ اسلام قبول کر لیا اور میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے اور اسی حالت میں میں اب باہر آیا ہوں۔
    (۲۹) میں حضور علیہ السلام کی ڈاک پڑھ کر سنا رہا تھا۔ ایک خط پر لکھا ہوا تھا کہ اس کو دوسرا کوئی نہ پڑھے۔ میں نے وہ نہ پڑھا۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا اس کو بھی پڑھو۔ میں نے عرض کیا کہ اس پر یہ لکھا ہوا ہے ۔ آپ نے فرمایا ’’یہ تو دوسرے کو ممانعت ہے۔ ہم تو ایک وجود کا حکم رکھتے ہیں ۔ ‘‘چنانچہ میں نے وہ خط بھی پڑھ کر سنایا۔
    (۳۰) جب اسلامی اصول کی فلاسفی والا لیکچر مولوی عبدالکریم صاحب نے لاہور میں پڑھ کر سنایا تو چیڑ جی جج ہائی کورٹ نے جو اس وقت پریذیڈنٹ تھا۔ اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس میں اسلام کی فتح ہے لیکن مرزا صاحب کی وجہ سے۔ اور جس تعلیم پر مرزا صاحب لوگوں کو چلانے والے ہیں وہ ترقی پر پہنچانے والی ہے۔
    (۳۱) جالندھر میں ایک دفعہ ایک مولوی محمد سلیم نامی آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہا کہ میں آپ سے بحث کرنا چاہتا ہوں آپ کوئی وقت مقرر کریں۔ حضرت اقدس ؑ نے فرمایا کہ ’’کل صبح آپ میرے ساتھ تبادلہ خیالات کے لئے تشریف لائیں‘‘ اس نے کہا کہ صبح تو معذوری ہے میں نہیں آسکتا وہ مولوی میرا واقف تھا اور میں اس کو جانتا تھا کہ وہ صبح کے وقت شراب پیتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ صبح کے وقت مے نوشی کرتے ہیں۔ اس لئے نہیں آسکتے۔ یہ سنتے ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا چہرہ متغیر ہو گیا۔ اور میں نے محسوس کیا کہ حضور علیہ السلام نے میرے اس طرح کہنے کو سخت ناپسند فرمایا ہے ۔ چنانچہ حضور علیہ السلام نے فوراً ہی اس بات پر پردہ ڈالنے کی کوشش فرمائی اور فرمایا کہ ’’ آپ کوئی اور وقت مقرر فرما دیں جو آپ کے لئے مناسب ہو۔ ‘‘
    (۳۲) میاں نظام الدین صاحب جو ایک غریب اور مخلص احمدی تھے ۔ مسجد مبارک میں کھانا کھانے کے لئے بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور دوسرے دوست بھی تشریف فرما تھے۔ بعد میں خواجہ کمال الدین صاحب آئے۔ اور میاں نظام الدین صاحب کو ذرا دروازے کی طرف سرکا کر ان کی جگہ پر بیٹھ گئے۔ اسی طرح دو تین اور آدمی آئے۔ اور انہوں نے میاں نظام الدین کو آہستہ آہستہ سرکانا شروع کیا یہاں تک کہ وہ جوتیوں تک پہنچ گئے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب دیکھا تو سالن کا ایک پیالہ اور کچھ روٹیاں لے کر آپ مسجد کے ساتھ والے کمرے میں چلے گئے اور کہا ’’ آئو میاں نظام الدین ہم الگ بیٹھ کر کھائیں ‘‘۔
    (۳۳) ایک دفعہ ہم بٹالہ سے قادیان جا رہے تھے کہ نہر پر ایک سکھ ملا جو قادیان سے آرہا تھا۔ اس نے کہا کہ آج عجیب بات دیکھی ہے ۔ پوچھنے پر اس نے بتایا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب تالاب کے پاس لڑکوں سے کھیل رہے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر کو جاتے ہوئے قریب سے گزرے۔ آپ نے آواز دی۔ ’’محمود‘‘ صاحبزادہ صاحب بھاگتے ہوئے آئے۔ جب قریب پہنچے تو آپ نے فرمایا: اچھا محمود‘ اگر تم وہی ہو جس کی خبر خدا نے مجھ کو دی ہے تو جائو کھیلو خدا تمہیں خود پڑھائے گا۔‘‘
    (۳۴) میں منشی اروڑا صاحب مرحوم اور محمد خاں صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود ؑ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے روزے کی افطاری کا وقت ہو گیا۔ آپ اندر جا کر شربت کا گلاس لائے میں نے کہا کہ حضور ایک گلاس سے منشی اروڑا صاحب کو کیا بنے گا۔ کل افطاری کے وقت یہ نو گلاس پی گئے تھے۔ حضرت مسیح موعود ؑ ہنس پڑے۔ اور اندر جا کر ایک لوٹا شربت کا بھر کر لائے اور منشی اروڑا صاحب کو پلایا۔
    (۳۵) مارٹن کلارک کے مقدمہ میں جب میں بٹالہ میں حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس وقت میں اپیل نویس تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجھے مقدمے کے متعلق لکھواتے جاتے تھے اس دوران میں آپ نے فرمایا کہ ’’ اگر کوئی بات قانون کے باہر منہ سے نکل جائے تو مجھے متنبہ کر دینا اگرچہ میرے قلم سے قانون کے باہر کوئی بات نہیں نکل سکتی۔ کیونکہ میں نے قانون کی کتابیں اور ہائیکورٹ کے سینکڑوں فیصلے پڑھے ہیں ‘‘پھر آپ نے فرمایا کہ ’’ یہ ضروری ہے کہ جس گورنمنٹ کے ماتحت کوئی رہے اس کے قانون سے بھی واقف ہو۔ ‘‘
    (۳۶) قادیان میں ایک میراں بخش دیوانہ تھا۔ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود ؑ مسجد اقصیٰ کی طرف سے آرہے تھے کہ اس نے اپنے گنوارانا لہجے میں کہا ’’ او غلام احمد ‘‘ آپ نے فرمایا ’’جی‘‘ اس نے کہا سلام بھی کریا کر ‘ آپ نے فرمایا ’’ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ‘‘ پھر آپ نے اس کو چار آنے کے قریب پیسے بھی دئیے۔
    (۳۷) سید فضل شاہ صاحب (برادر سید ناصر شاہ صاحب) ایک عورت پر عاشق ہو گیا۔ اپنے مقصد کے حصول کے لئے بہت جگہ گیا لیکن ناکام رہا۔ آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا مدعا بیان کیا حضور علیہ السلام نے فرمایا ’’ آپ یہاں ہمارے پاس ٹھہریں خدا تعالیٰ سب کچھ کر سکتا ہے۔‘‘ خیر وہ یہیں رہ پڑے تھوڑے عرصہ کے بعد میں نے دیکھا کہ وہ خشوع خضوع کے ساتھ باقاعدگی سے نمازیں ادا کرتے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے؟ کہنے لگے کہ اب میرا دل اس عورت کی طرف سے ہٹ گیا ہے اور اب تو حضرت صاحب کے ساتھ محبت بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے اس عورت کو بھی خواب میں بہت بری حالت میں دیکھا۔ جس سے ان کی طبیعت اس سے بالکل متنفر ہو گئی۔
    (۳۸) بہت دفعہ ایسا ہوتا کہ جب ہم قادیان سے رخصت ہونے لگتے تو حضرت مسیح موعود ؑ دودھ وغیرہ لے آتے اور فرماتے ’’پی لو راستہ میں بھوک نہ لگ جائے‘‘ اور بسا اوقات آپ رخصت کرنے کے لئے نہر تک ساتھ آتے۔
    (۳۹) ایک دفعہ ایک شخص آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے متعلق فرمایا ’’کہ اس کے پھیپھڑے گل رہے ہیں۔‘‘ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب نے اس کا اچھی طرح ڈاکٹری معائنہ کیا اور کہا کہ اس کے پھیپڑوں میں کوئی نقص نہیں۔ لیکن حضرت صاحب نے فرمایا کہ نہیں اس کے پھیپھڑے بالکل گل چکے ہیں اس کے بعد دوسرے دن ہی وہ شخص مر گیا اور دیکھنے پر معلوم ہوا کہ اس کے پھیپھڑے بالکل گلے ہوئے تھے۔
    (۴۰) ابتدائی ایام میں جب چندے وغیرہ مقرر نہ ہوئے تھے اور جماعت کی تعداد بھی تھوڑی تھی ایک دفعہ کثیر تعداد میںمہمان آگئے۔ اس وقت خرچ کی دقت تھی۔ حضرت میر ناصر نوا ب صاحب مرحوم نے میرے روبرو حضرت اقدس علیہ السلام سے خرچ کی کمی کا ذکر کیا اور یہ بھی کہا کہ مہمان زیادہ آگئے ہیں۔ آپ نے حضرت ام المومنین سے کچھ زیور لے کر میر صاحب کو دیا اور کہا کہ ان کو فروخت کر کے گزارہ چلائیں۔ دوسرے یا تیسرے دن پھر میر صاحب نے کہا روپیہ ختم ہو گیا ہے اور اخراجات کی زیادتی ہے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’ ہم نے مسنون طریق پر ظاہرا ً اسباب کی رعایت کر لی ہے اب وہ خود انتظام کرے گا جس کے مہمان ہیں۔ دوسرے ہی دن اس قدر روپیہ بذریعہ منی آرڈر پہنچا کہ سینکڑوں کی نوبت پہنچ گئی۔ پھر آپ نے توکل پر تقریر فرمائی۔ فرمایا ’’جیسا کہ دنیا دار کو اپنے صندوق میں رکھے ہوئے روپے پر اعتبار ہوتا ہے کہ حسب ضرورت جس قدر چاہے گا صندوق کھول کر نکال لے گا۔ ایسا ہی متوکل کو خدا تعالیٰ پر یقین اور بھروسہ ہوتا ہے کہ جس وقت چاہے گا ۔اور اللہ تعالیٰ کا اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہوتا ہے۔‘‘
    (۴۱) ایک دفعہ مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم نے سوال کیا کہ حضور نشان نمائی کے لئے کوئی میعاد مقرر فرما دیتے ہیں کبھی سال کی کبھی چھ مہینہ کی ۔ کیا یہ آپ الہام الہٰی کے ماتحت کرتے ہیں یا اس کی آپ کو اجازت ہے کہ جس قدر چاہیں میعاد مقرر فرما دیں۔ فرمایا ’’نہیں‘‘ مجھے خدا تعالیٰ پر ایسا یقین اور کامل بھروسہ ہے کہ میں بذریعہ دعا خدا تعالیٰ سے وہ نشان میعاد کے اندر ظاہر کروا لیتا ہوں۔‘‘
    (۴۲) حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب جامعہ مسجد دہلی میں نذیر حسین صاحب کے ساتھ مباحثہ کے لئے تشریف لے گئے تو آپ کے ساتھ بارہ آدمی تھے جن میں سے ایک مرتد ہو گیا۔










    روایات
    چوہدری اللہ بخش صاحب احمدی از امرتسر
    تحریر کردہ خاکسار مؤلف روایات صحابہ عبدالقادر
    نام چوہدری اللہ بخش والد کا نام چوہدری رانجھے خاں صاحب تصدیق قلمی ۹۳ء تبلیغ ۹۷ء سے شروع کی۔ مگر بیعت اپریل ۱۹۰۰ء ساکن امرتسر کٹڑہ خزانہ بازار سورج کنڈ۔ موجودہ عمر ۵۷ سال ۔ پیدائش ۱۱ جنوری ۸۱ء ۱۴ شعبان ۱۲۹۸ء بوقت رات۔
    ابتدائی حالات :۔ ۱۸۹۳ء میں ہم ایک برات میں جا رہے تھے دھرم کوٹ کی طرف میرے ماموں صاحب حضرت صاحب کے بڑے مخالف تھے۔ ایک ٹانگہ والا جس کے ٹانگہ میں ہم جا رہے تھے اس کی میرے ماموں کے ساتھ گفتگو ہوئی۔ الہام کا تذکرہ تھا۔ مگر ٹانگے والا کے دلائل زبردست تھے (یہ معلوم نہیں کہ وہ احمدی تھا یا ابھی تک اس نے بیعت نہیں کی تھی۔ جون کا آخری یا جولائی کا شروع تھا) میری عمر اس وقت ۱۲ سال تھی۔ میرے بھائی کی عمر اس وقت ۱۹ سال تھی وہ ۱۸۹۷ء میں قادیان تشریف لائے تھے۔ ان کا نام چوہدری رحیم بخش تھا۔ آتھم کے مناظرہ کو قریباً ایک ماہ گزر چکا تھا ۔آتھم کے مناظرہ کے متعلق مجھے جو روایت پہنچی ہے وہ بڑی ثقہ ہے۔ سید حسین شاہ صاحب ساکن موضع میاں مٹھے کا کٹھالا ضلع گورداسپور برادر فضل شاہ صاحب پولیس میں ملازم تھے ۔ انہوں نے مجھے یہ حالات سنائے تھے۔ میں جھوٹ بولنا سم قاتل سمجھتا ہوں۔ جو کچھ کہوں گا بالکل سچ سچ کہوں گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہی تعلیم ہے۔
    (۱) حضرت صاحب جب امرتسر تشریف لے گئے تو حضرت شیخ نور احمد صاحب مالک پریس ریاض ہند کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے۔ دوستوں نے عرض کی کہ حضور جگہ تنگ ہے۔ فرمایا ’’دل تنگ نہ ہو جگہ تنگ ہو تو کوئی ہرج نہیں‘‘ پھر عرض کی کہ حضور سجدہ نہیں ہوتا۔ فرمایا ’’ایک دوسرے کی پیٹھوں پر کر لو۔‘‘ جب پہلا روز مناظرہ کا تھا تو عیسائیوں نے کوٹھی خوب سجائی ہوئی تھی اور فرش قالین اور کرسیوں سے خوب سجا ہوا تھا۔ حضور علیہ السلام کے لئے ایک نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی کرسی رکھی ہوئی تھی۔ پادری لوگ سڑک پر کوٹھی سے باہر تعظیم کے لئے کھڑے تھے۔ حضور علیہ السلام جس وقت تشریف لے گئے ۔ تو پادری بڑی تہذیب سے پیش آئے۔ حضور نے ان کی پرواہ نہ کی ۔ جب کوٹھی میں پہنچے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرش کو ہٹایا۔ اور ۲۲ مئی ۹۳ء کا دن تھا ۔ پادریوں نے عرض کی کہ حضور کے واسطے کرسی ہے۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اس وقت میں کرسی نہیں لے سکتا۔ کیونکہ یہ مناظرہ مذہبی ہے اس جگہ کرسی کی طلب نہیں ہو سکتی۔ یہاں کام شروع ہونا چاہئے۔ انہوں نے بہت اصرار کیا مگر حضور علیہ السلام نے منظور نہ کیا۔ کرسیاں اور قالین وغیرہ ہٹا دئیے گئے۔ مناظرہ شروع ہو گیا مناظرہ کے دوران میں حسین شاہ صا حب سید کانسٹیبل پانی پینے کے لئے کنوئیں پر گئے وہاں کھانڈ اور آبخورے مٹی کے پڑے تھے اور پادری لوگ جو پانی طلب کرتا اسے شربت بنا کر دیتے تھے۔ شیخ حامد علی صاحب ؓ نے سید حسین شاہ صاحب کو نصیحت کی کہ حضور علیہ السلام سے پہلے دریافت کرو کہ کھانڈ کا شربت پیا جائے یا نہ ۔ حسین شاہ صاحب نے کہا کہ شیخ صاحب آپ ہی حضور سے دریافت کریں۔ شیخ حامد علی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کی کہ جو پانی پینے کنوئیں پر جاتا ہے اس کو کھانڈ ملتی ہے حضور کا کیا ارشاد ہے ۔فرمایا کہ ’’میں خون جگر پی رہا ہوں آپ کھانڈ چاہتے ہیں جس شخص کو شربت کی طلب ہو وہ پانی پئے اور جس کو پانی کی طلب ہو وہ صبر کرے‘‘۔
    میر غلام محمود صاحب رئیس اعظم ‘شیخ غلام حسین صاحب رئیس ‘اعظم خواجہ یوسف شاہ آنریری مجسٹریٹ اور مولوی غلام نبی برادر میاں اسد اللہ خاں وکیل چاروں مناظرہ میں گئے اور خود تمام حالات دیکھے۔ میرغلام محمود صاحب آگے بڑھے اور جس وقت حضور علیہ الصلوۃ والسلام بارہ بجے مناظرہ ختم کر کے باہر نکلے تو میر صاحب نے گاڑی پیش کی کہ حضور گاڑی پر تشریف رکھیں فرمایا کہ ’’یہ نہیں ہو سکتا۔‘‘ میر صاحب نے عرض کی کہ کیوں حضور نے فرمایا ’’ہمارے دوست ہمارے ساتھ ہیں یہ کہاں جائیں ۔ ان کو چھوڑ کر میں نہیں جاسکتا۔ ‘‘میرصاحب نے عرض کی کہ حضور گاڑی پر تشریف رکھیں جو صاحب آپ کے ساتھ ہیں سب کے سب گاڑیوں پر سوار ہو کر جائیں گے۔ میر صاحب رئیس تھے۔ انہوں نے آدمی بھیج کر گاڑیاں منگوا لیں اور تمام کو گاڑیوں پر سوار کر کے مکان پر لے گئے کھانے کا انتظام پہلے سے کیا ہوا تھا۔ باقی روز حضور اور حضور کے ساتھیوں نے وہیں گزارے ۔ وہ چاروں رئیس آپ کے ساتھ ہو گئے۔ جس وقت مجلس مناظرہ ان چاروں نے دیکھی اور معلوم کیا کہ یہ تو اسلام پر قربانی کر رہا ہے ۔اور شہر میں کفر بک رہا ہے یہ حضور کے ساتھ ہو گئے۔
    (۲) بابو محکم دین صاحب مختار جو ۳۱۳ میں شامل ہیں انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ پندرھویں روز جب مناظرہ کے لئے جانا تھا حضرت صاحب نے فرمایا کہ’’ ایک پتھر کا چھوٹا سا ٹکڑا منگوا لو ۔‘‘ جب آیا تو حضور نے پکڑ کر جیب میں ڈال لیا۔ لوگ حیران تھے کہ حضور نا معلوم اس کے ساتھ کیا کریں گے مگر پوچھنے کی جرات نہ پڑتی تھی۔ جب مناظرہ میں جا کر دیکھا تو عیسائیوں نے اندرھے لولے اور لنگڑے لا کر بٹھائے ہوئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ مسیح ناصری نے تو اندھوں کو شفا دی کوڑھے اچھے کئے اور مردہ زندہ کئے اور آپ بھی مسیح ہو آپ ان کو شفا دیں۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے وہ وٹا نکال کر رکھ دیا اور انجیل کا حوالہ نکال کر صفحہ‘ سطر سامنے رکھ کر فرمایا کہ ’’انجیل میں لکھا ہے جس میں ایک رائی کے برابر ایمان ہو وہ پہاڑ کو کہے گا کہ اس جگہ سے اٹھ کر اس جگہ چلا جا تو پہاڑ چلا جائے گا۔ آپ پادری صاحب ہو آپ اس کام میں پہل کرو اب پہاڑ تو یہاں نہیں ہے پتھر کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے اس کو کہو کہ اس جگہ سے اٹھ کر فلاں جگہ چلا جا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حضور اس حوالہ کی تاویل ہے‘ حضور نے فرمایا کہ ’’جو اس کے معنے کرو گے وہی اس کے ہیں۔ پادریوں نے ان اندھوں لؤلوں اور لنگڑوں کو وٹا نکالتے ہی اِدھر اُدھر کر دیا۔
    (۳) مولوی نظام الدین صاحب احمدی نے مجھ سے بیان کیا کہ میں اس مناظرہ میں شامل تھا جس وقت تفریح کی رخصت ہوتی تھی تو پادری لوگ باہر نکل کر چارپائیوں پر بیٹھتے تھے ۔ ایک چارپائی پر ڈاکٹرہنری کلارک لیٹ گیا ۔ میں پانی پینے کے لئے کنوئیں پر گیا تو ڈاکٹر ہنری کلارک پادریوں کو یہ بات کہہ رہا تھا کہ اس شخص کی ایسی میانی رفتار ہے کہ ہم نے اس کو ہر طرح کا چھکہ مارا (پھنسانے کی کوشش کی) مگر یہ کسی طرح بھی قابو نہیں آیا۔ اس کی ایسی میانی رفتار ہے کہ یہ قابو آنے والا نہیں ہے ۔
    (۴) میرے بھائی چوہدری رحیم بخش صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ہنری کلارک ایک جگہ تقریر کر رہا تھا ۔ اس نے اپنی تقریر میں یہ الفاظ بولے۔ کہ محمدیوں میں سے اگر شرم حضور۔ نیک ۔ صالح اور پارسا ہے تو مرزا غلام احمد ہے یہ تقریر غالباً ۹۶ء یا ۹۷ء کی ہے۔
    (۵) قادیان ۱۹۰۰ء اپریل کے ماہ میں بیساکھ کی دو تاریخ کو حضرت سیر کے لئے تشریف لے گئے تو باغ میں ہم نے حضور کے ساتھ بیدانہ کھایا۔ مولوی محمد علی صاحب کامونکے والے نے جو اشعار محمد حسین بٹالوی کے متعلق لکھے تھے اس میں قریباً تمام مشہور مشہور مخالفوں کا ذکر تھا۔ وہ بھی اسی مجلس میں سنائے گئے تھے۔ پنجابی کا من تھی۔ میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں دعا کے لئے بھی عرض کیا تھا۔
    (۶) ۴؍ اپریل ۱۹۰۵ء کے زلزلہ کانگڑہ کے بعد حضرت اقدس علیہ السلام نے کئی اشتہار شائع کئے جن میں ایک الہام یہ بھی تھا کہ ’’ پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پور ہوئی‘‘
    ان اشتہارات کے مطابق جب ۲۸ فروری ۱۹۰۶ء کو زلزلہ آیا تو حضرت اقدس علیہ السلام نے اپنی پیشگوئی کے پورا ہونے پر اشتہار شائع کیا تو میں اس دن قادیان میں موجود تھا۔ حضرت ظہر کی نماز پڑھنے کے لئے تشریف لائے۔ تو فرمایا کہ ’’ میں نے پانچ روپے ٹکٹوں کے لئے دے دئیے ہیں۔ تا مولویوں کو یہ اشتہار بھیج دیا جائے۔ ‘‘نیز فرمایا کہ ’’کیا اب بھی مسیح موعود کا زمانہ نہیں آیا۔ جس کے متعلق لکھا تھا کہ اس کے زمانہ میں بکثرت زلزلے آئیں گے ‘‘اس دن مرزا عزیز احمد صاحب نے بھی بیعت کی تھی۔
    (۷) ۱۹۰۲ء میں غالباً مارچ کا مہینہ تھا ۔ بڑی عید کے روز خطبہ کے بعد حضرت اقدس علیہ السلام نے مسجد اقصیٰ میں تقریر فرمائی جس میں فرمایا کہ ’’میرا یہ عقیدہ ہے کہ خدا بغیر باپ کے پیدا کر سکتا ہے ۔ مگر جس کو وفات دے دے وہ دنیا میں واپس نہیں آسکتا۔‘‘ اس وقت ہم دونوں بھائی یہاں موجود تھے۔
    (۸) ۱۸۹۳ء کا واقعہ ہے (راوی حکیم سلطان احمد صاحب ) کہ جب مولوی عبدالحق صاحب کے ساتھ امرتسر میں مباہلہ ہوا تو مولوی نور احمد صاحب آف لودھی ننگل بھی آئے ہوئے تھے ۔ ایک حکیم سلطان احمد صاحب امرتسر کے تھے (جو راوی ہیں) یہ دونوں مولوی غلام علی صاحب قصوری کے شاگرد تھے ۔ حکیم سلطان احمد صاحب نے مولوی نور احمد صاحب سے کہا کہ ’’ مرزا آیا ہوا ہے ‘‘ مولوی صاحب نے کہا کہ ہاں آیا ہوا ہے ۔حکیم صاحب نے کہا پھر آپ کا کیا خیال ہے ۔ مولوی صاحب نے کہا کہ میں ہوں تو مخالف مگر ایک بات جو ہے کہ اس شخص کی دلیل ہندوستان کے علماء اور عرب شام اور مصر کے بھی اگر ساتھ مل جائیں تو نہیں توڑ سکتے۔ مولوی نور احمد صاحب نے کہا کہ ایک مولوی بھائی صاتھ کے ٹوبے میں رہتا ہے ‘وہ کہتا ہے کہ میرے سامنے مرزا دو باتیں بھی نہیں کر سکتا۔ چلو اس کو ساتھ لے کر بات چیت سنیں۔ جب اس کے مکان پر پہنچے تو اس کو ساتھ لیا جب سندھی خان کے مکان پر گئے ‘جہاں حضور اترے ہوئے تھے۔ دیکھا تو ایک پادری حضور کے پاس بیٹھا تھا۔ پادری نے سوال کیا کہ حضور حدیثوں میں آیا ہے کہ جب مسیح آئے گا ۔ تو ستارے گریں گے ۔حضور نے فرمایا کہ’’ آپ کو نجوم کا علم ہے کہ ستارے کا حجم کتنا ہوتا ہے۔‘‘ پادری نے عرض کیا کہ ایک ستارہ زمین کو ڈھانپ سکتا ہے حضور ے فرمایا جب ایک ستارہ زمین کو ڈھانپ سکتا ہے تو مسیح کہا ں پھرے گا اور یہ’’ ستارے‘‘ جمع کا صیغہ ہے۔ پادری نے عرض کیا کہ حضور پھر اس کی حقیقت کیا ہے ؟ فرمایا ’’کہ ہاں ! میں بتاتا ہوں ۔‘‘ فرمایا کہ ’’ستاروں سے مراد علماء ہوتے ہیں جو حقانی علماء ہوں گے وہ گزر جائیں گے اور جو مسیح کے مقابل پر آئیں گے وہ گندے ہو جائیں گے‘‘ پادری نے کہا یہ بالکل صحیح ہے میری تسلی ہو گئی ہے پھر مولوی ٹوبے والے پیش ہوئے۔ اور کہا کہ مرزا جی ! اسلام کے اصول کیا ہیں حضور نے فرمایا کہ ’’میں تو ایک گائوں کا باشندہ ہوں مولوی صاحب ماشاء اللہ آپ شہر کے باشندے ہیں آپ ہی فرما دیجئے۔‘‘ مولوی صاحب نے کہا کہ ایک قرآن شریف ۔ ایک حدیث اور ایک اجماع ہے۔ حضور نے فرمایا ’’قرآن میں تو آیا ہے انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون مولوی صاحب ! حدیث کا کون نگہبان ہے ۔ باقی رہا اجماع اگر ایک طرف دس اشخاص ہوں اور وہ کذب پر قائم ہوں اور ایک طرف ایک شخص صداقت پر کھڑا ہو تو بولو کس کو مانو گے ‘‘۔ مولوی صاحب نے کہا کہ جو سچا ہو گا ۔ فرمایا کہ ’’خدا کے فضل سے صداقت پر میں ہوں جو میرے مقابل پر ہیں وہ سب جھوٹے ہیں۔‘‘
    (۹) غالباً ستمبر ۱۹۰۰ء میں میں اپنے والد صاحب کو بھی بیعت کرانے کے لئے لایا تھا۔ چند اور آدمی بھی ساتھ تھے۔ ان میں سے ایک شخص قاضی غلام محمد کشمیری بھی تھا۔ اسے مخالفین نے اس لئے بھیجا تھا کہ وہ حضرت اقدس علیہ السلام کے خلاف کچھ مواد جمع کر کے لے آئے تا ہم مخالفت میں ایک اشتہار شائع کریں۔ آتے ہی اس نے حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ میں آپ سے کچھ بات چیت کرنا چاہتا ہوں ۔ فرمایا ‘ ’’بہت اچھا آپ یہاں ٹھہریں ۔ ہم جس وقت فارغ ہوئے۔ آپ کے ساتھ قرآن شریف ۔ سنت رسول اللہ ﷺ حدیث اور عقلی دلائل کی بنا پر باتیں کریں گے۔‘‘ وہ شخص ایسا گھبرایا کہ دوسرے ہی روز کہنے لگا میں واپس جاتا ہوں۔ حضور نے فرمایا ’’چند دن ٹھہر جائو‘‘۔ مگر وہ نہ ٹھہرا اور واپس چلا گیا۔ امرتسر جانے کے بعد مخالفین نے ایک اشتہار شائع کیا۔ اور اسے کہا کہ دستخط کرو۔ اس نے ہر چند دستخط کرنے سے اجتناب کیا۔ مگر بالآخر کر ہی دئیے۔ دستخط کرنے کے چند ہی روز بعد اس کے ہاتھ کو کوئی ایسی بیماری لگی کہ ہاتھ بیکار ہو گیا۔
    (۱۰) نومبر ۱۹۰۵ء میں جب حضور دہلی سے واپس تشریف لائے تو امرتسر کی جماعت نے درخواست کر کے حضور کو ٹھہرا لیا۔ رمضان کا مہینہ تھا حضور نے تقریر شروع فرمائی جس میں اسلام کی صداقت کے ثبوت میں اپنا دعوی الہام پیش فرمایا نیز فرمایا کہ مولویوں نے شور مچا رکھا ہے اور کفر کے فتوے لگا رہے ہیں مگر جب دیکھا کہ پبلک ہماری باتیں سننے کے لئے بیتاب ہے تو مقدمہ بازی شروع کر دی ۔ حضور یہ فرما رہے تھے کہ مفتی فضل الرحمان صاحب نے چائے کی پیالی پیش کر دی۔ حضور نے ہاتھ کے اشارہ سے انہیں روکا۔ دوسری دفعہ انہوں نے پھر پیش کر دی ۔ حضور نے پھر روکا۔ تیسری دفعہ پھر جب انہوں نے پیش کی توحضور نے پی لی۔ جلسہ میں شور مچ گیا کہ یہ رمضان میں چائے پیتے ہیں۔ بابو نظام الدین رئیس اور خلیفہ رجب الدین نے بھی کافی روکا۔ مگر پبلک کا شور کم نہ ہوا۔ آخر تقریر بند کر دی گئی ۔ حضور بند گاڑی کے ذریعہ میر غلام محمود کے مکان پر پہنچائے گئے۔ کنگ صاحب جو کہ اس زمانہ میں امرتسر میں ڈپٹی کمشنر تھے ۔ اس نے کہلا بھیجا کہ آپ پھر تقریر نہ کریں۔ لوگ شور مچاتے ہیں چنانچہ حضور کو تحریراً اطلاع کروائی اور دستخط بھی کروا لئے۔ پھر حضور بیٹھے رہے ۔ وہاں ہی امرتسر کالج کا ایک سکھ نوجوان طالب علم حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی کہ حضور جو معاملہ آپ کے ساتھ ہوا ہے قبل از وقت سارا مجھے دکھلایا گیا تھا۔ پھر جب مجھے بھی قبل از وقت باتوں کا علم ہو جاتا ہے تو مجھ میں اور آپ میں فرق کیا ہوا۔ فرمایا کہ ’’ایک شخص کے پاس ایک روپیہ ہوتا ہے ایک کے پاس دو سو ہوتا ہے کسی کے پاس ہزاروں بھی ہوتے ہیں مگر خزانوں کا مالک ہی بادشاہ کہلاتا ہے (ہاں مجھے یاد آیا کہ امرتسر میں مسٹر کنگ کی طرف سے تقریر نہ کرنے کی تحریری اطلاع اول فتح خاں سب انسپکٹر لایا تھا۔ اس نے حضرت خلیفہ اول سے دانتوں کے درد کا نسخہ بھی دریافت کیا تھا۔ حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ مولی کے ساتھ نشادر لگا کر کھایا کرو۔ )حضور نے مکان پر جا کر یہ بھی فرمایا کہ مولویوں کو مسیح کے ساتھ خاص تعلق ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے مجھے آدم کر کے پکارا تو یہ خاموش رہے۔ نوح کر کے پکارا تو خاموش رہے۔ ابراہیم کر کے پکارا تو نہیں بولے۔ جب کل نبیوں کا خطاب دیا جب بھی خاموش رہے ۔ حتی کہ رسول اللہ صلعم کا نام دیا گیا جب بھی خاموش رہے مگر جب مسیح کا نام دیا تو شور مچانے لگ گئے ہیں۔






    روایات
    مولوی عبیداللہ صاحب لائل پور
    تحریر کردہ خاکسار مؤلف عبدالقادر
    میرا نام عبیداللہ ہے والد کا نام دین محمد صاحب سابقہ پتہ بھوئے وال ضلع امرتسر حال لائلپور ۔ عمر۵۰ سال سے زیادہ میں ۱۹۰۱ء سے لے کر ۱۹۰۴ء تک قادیان میں تعلیم حاصل کرتا رہا ہوں۔ ۱۹۰۴ء میں بیعت کر کے واپس آگیا تھا۔
    مندرجہ ذیل روایات مجھے یاد ہیں۔
    (۱) حضرت میر ناصر نواب صاحب میرے والد صاحب کے دوست تھے۔ اسی وجہ سے میں قادیان پڑھنے کے لئے گیا۔ میرے والدین بھی دو دفعہ وہاں تشریف لے گئے ۔ میری والدہ صاحبہ بیان کرتی تھیں کہ حضرت صاحب الگ ہی ایک کوٹھری میں رہتے تھے اور پڑھتے رہتے تھے۔
    (۲) ایک دفعہ کا واقعہ مجھے یاد ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام سیر کے لئے تشریف لے جا رہے تھے میں بھی ساتھ تھا راستہ میں ایک شخص نے سوال کیا کہ یا حضرت کل نفس ذائقۃ الموت کے مطابق آپ پر بھی وفات کا وقت آنے والا ہے ۔ اور آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد تو ہم ان پر درود بھیجتے ہیں کیا آپ کے لئے بھی کوئی درود شریف پڑھا جائے۔ فرمایا میرے لئے علیحدہ درود کی ضرورت نہیں میں ’’آل‘‘ میں آجاتا ہوں۔
    (۳) حضرت صاحب سیر کے لئے یا تو اس طرف جاتے تھے جدھر اب بہشتی مقبرہ ہے یا جہاں دارالرحمت ہے۔ ایک دفعہ حضور اس طرف بھی تشریف لے گئے جدھر اب اسٹیشن ہے۔
    (۴) ایک دفعہ حضرت صاحب نے مسجد اقصیٰ میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا ’’جس چشمہ کی طرف میں بلاتا ہوں لوگ ابھی تک بہت کم اس طرف آرہے ہیں۔ ‘‘








    روایات
    خدیجہ بیگم صاحبہ زوجہ شیخ عبد الرب صاحب
    بنت میاں جمال الدین صاحب سیکھوانی عمر اندازاً قریباً ۴۵ سال
    پیدائشی احمدی ساکن قادیان حال لائل پور کالونی فلور ملز لائل پور
    تحریر کردہ شیخ عبدالقادر صاحب پسر صحابیہ
    (۱) میری عمر قریباً ۱۱ سال تھی جبکہ ۵۔۶ گائوں کی عورتیں بیعت کرنے کے لئے ہمارے گھر ٹھہریں۔ اور والدہ صاحبہ انہیں بیعت کرانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر تشریف لے گئیں۔ میں بھی ساتھ تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں اطلاع دی گئی۔ حضور اسی وقت تشریف لائے مکان کے صحن میں‘ چونکہ حضور کو بہت بھوک لگی ہوئی تھی اس لئے حضور علیہ السلام نے خادمہ کو کہا کہ جلدی سے میرے لئے ایک پھلکا لے آئو۔ چنانچہ اس نے ایک تھالی میں پھلکا لا کر حضور کے سامنے پیش کر دیا۔ ساتھ سالن کوئی نہ تھا۔ بلکہ حضور کے قریب دیگچی پڑی ہوئی تھی جس میں پانی تھا۔ ممکن ہے شربت ہی ہو۔ مگر مجھ پر ابھی تک یہی اثر ہے کہ وہ خالی پانی ہی تھا۔ حضور نے اس میں سے ایک گلاس بھر کر اس کے ساتھ وہ پھلکا کھایا (چونکہ عورتیں زیادہ تھیں ۔ اس لئے وہ بڑی چارپائی پر بیٹھیں اور حضور علیہ السلام ایک چھوٹی چارپائی پر بیٹھ گئے۔ اور اسی چارپائی پر حضور نے وہ پھلکا بھی کھایا تھا۔) ازاں بعد حضور نے ان عورتوں کی بیعت لی۔
    (۲) جب حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا رخصتانہ ہونے لگا تو ظہر کے بعد کا وقت تھا۔ حضرت اماںجان نے جہیز نکال کر صحن میں رکھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس وقت بیت الدعا میں تشریف رکھتے تھے۔ جب انتظام مکمل ہو چکا تو حضرت اماں جان حضرت صاحب کو سامان دکھانے کے لئے لائیں اور حضرت صاحب صحن کے جنگلے کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور دس پندرہ منٹ تک دیکھتے رہے اور حیران ہو کر مسکرا کر فرمایا بیوی جی یہ کہاں سے آیا؟ یہ کہاں سے آیا؟
    (۳) حضور کا بچا ہوا کھانے کا تبرک کئی دفعہ کھانے کا موقع ملا۔بلکہ ہم گھر میں بھی لے جاتے تھے اور تقسیم کرتے رہتے۔ عموماً جو کھانا بچتا تھا وہ لوگ آپس میں بطور تبرک تقسیم کر لیا کرتے تھے واپس نہیں جاتا تھا۔
    (۴) حضور کو ٹہلنے کی بہت عادت تھی۔ چنانچہ حضور گھر میں بھی اکثر ٹہلا کرتے تھے ۔ کئی دفعہ حضرت اماں جان بھی ساتھ ہی ہوتی تھیں۔ باغ میں بھی میں نے ایک دفعہ حضور کو اماں جان کے ساتھ ٹہلتے ہوئے دیکھا۔
    (۵) حضور کا لباس بالکل سادہ ہوتا تھا۔ کرتے کے بٹن عموماً کھلے ہوتے تھے۔ اس زمانہ میں چار پانچ گرہ کی پھٹی ہوتی تھی۔ آجکل کی طرح اتنی لمبی نہ ہوتی تھی کہ اگر بٹن کھلے رہیں تو سارا سینہ نظر آئے۔ پگڑی بھی حضور کی موٹی ململ کی ہوتی تھی جسے حضور گھر میں یونہی لپیٹ لیا کرتے تھے۔
    (۶) جس دن نواب مبارکہ بیگم کی شادی ہوئی اس دن میں نے دیکھا حضور نے لال دھاری دار کرتہ پہنا ہوا تھا۔ اس کپڑے کو گبرون کہا جاتا تھا۔
    (۷) حضور کے پاس لوگ دوا لینے کے لئے جایا کرتے تھے اور دعا کے لئے بھی حضور کے پاس رقعے جاتے تھے۔
    (۸) حضرت صاحب کے گھر میں سیکھواں کی ایک موچن ملازمہ تھی وہ ہمارے گھر بھی آیا کرتی تھی۔ ایک دفعہ اس نے بیان کیا کہ حضرت صاحب نے مجھے وضو کے لئے دورہ (حضور کی مراد لوہ چینی کا دورہ تھا) لانے کو کہا۔ میں پتھر کی دوری اٹھا کر لے آئی اور سامنے لا کر رکھ دی۔ حضور نے اسے دیکھ کر نہایت نرمی سے اور مسکرا کر فرمایا کہ ’’ مائی جی ‘‘ میری مراد یہ دوری نہیں۔ بلکہ میں نے تو وضو کے لئے لوھے چینی کا دورہ مانگا تھا۔
    (۹) حضرت صاحب کو میں نے کئی دفعہ گھر سے مہمانوں کے لئے کھانا اٹھا کر مسجد میں لے جاتے دیکھا ہے۔

    روایات
    شیر محمد صاحب سیکرٹری تعلیم و تربیت
    تلونڈی جھنگلاں ضلع گورداسپور
    (۱) بندہ صحابہ میں سے نہیں ہے۔ چوہدری محمد بخش صاحب پٹواری و نجواں نے بیان کیا ۔ بمقام گورداسپور میں دوران مقدمہ کرم بھینوی ایک شخص نے حضرت سے سوال کیا ۔ ’’ کہ سنایا گیا ہے کہ آپ نے تنبول کو منع کیا ہے ۔ حضور نے فرمایا کہ ’’میں سخت مخالف ہوں۔ کیونکہ رسول خدا ﷺنے فرمایا ہے کہ جو شخص مقروض ہو اس کے لئے آسمان سے دروازہ رحمت نہیں کھلتا۔ ایک آدمی بہت انسانوں کا مقروض ہو جاتا ہے ‘ بعد میں اولاد ادا نہیں کر سکتی۔ کوئی کہتا ہے تمہاری شادی پر خرچ ہوا۔ کوئی کہتا ہے کہ مشترکہ گھر تھا۔ اس لئے سب دیں لہذا قرضہ بذمہ میت رہ جاتا ہے‘‘ سائل نے کہا ۔ تھوڑی تھوڑی امداد شادی میں آرام کا موجب ہوتی ہے۔ تکلیف نہیں ہوتی۔ حضور نے جواباً فرمایا۔ ’’رسول اللہ ؐ نے فاطمہ کا نکاح کیا مگر پانی کا پیالہ بھی خرچ نہ ہوا‘‘
    (۲) مولوی رحیم بخش صاحب نے بیان فرمایا کہ
    ہم ایک بار حضرت کے ساتھ امرتسر گئے تھے۔ حضور نے فرمایا کہ ’’چلو رام باغ کی سیر کریں۔‘‘ بندہ نے عرض کیا کہ حضور یہ طریق بزرگان کا نہیں ۔ جواباً آپ نے فرمایا کہ ’’ایک بزرگ ساری عمر حجرہ نشین رہا آخر وقت اس نے چاہاکہ میں مرنے والا ہوں مگر کوئی کتاب لکھ جائوں پھر وہ کتاب لکھنے لگے۔ مگر اس کو مثال اور مصالحہ نہ مل سکا۔ جو بھلائی وبرائی میں تمیز کرے۔ پھر اس کو ہاسے و تماشے دیکھنے پڑے۔ اس وجہ سے پھر کتاب مکمل کر سکا۔ ‘‘
    خاکسار
    شیر محمد سکرٹری تلونڈی جھنگلاں

    روایات
    رحمت اللہ صاحب باغانوالہ پریذیڈنٹ انجمن احمدیہ بنگہ
    (۱) غالباً ۱۹۰۱ء میں خاکسار نے کشتی ٔنوح (تقویۃ الایمان) و’’برکات الدعا ‘‘پڑھ کر جو صرف ایک دن میں ہی پڑھ لیں تھیں۔ اسی دن تحریری بیعت کر لی تھی۔ جس کا جواب بذریعہ حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم مغفور منظوری بیعت و دعا کے پہنچ گیا تھا۔ الحمد للہ
    (۲) چونکہ خاکسار کی پہلی بیوی فوت ہو چکی تھی …… خاکسار کی عمر تخمیناً تیس سال کی تھی ۔ اپنی برادری میں رشتے تو بہت تھے۔ مگر وہ جاہل لوگ ’’مرزائی ہو گیا ہے‘‘ بس یہ کہہ کر خاموش ہو جاتے تھے۔ چونکہ خدا کو عاجز کے لئے کچھ بہتر منظور تھا۔ میں حضرت صاحب کی خدمت مبارک میں دعا کے لئے لکھتا رہتا تھا۔ حضور کا حکم آتا تھا کہ نکاح کرو ہم دعا کریں گے … مختصر عرض کرتا ہوں۔
    (۳) خاکسار نے دارالامان میں پہنچ کر دستی بیعت بمعہ لڑکے محمد اسماعیل کے کی۔ پھر میں سال میں دو تین دفعہ حاضر خدمت ہوتا رہا۔ جب میں حاضر ہوتا تو موسم کے فروٹ ہوں آم وغیرہ یا کوئی سبزی قسم آلو وغیرہ وسنگترہ مالٹا لے آیا کرتا تھا۔ بہ سبب کثرت کاروبار کے اگر خود نہ آسکتا۔ تو بذریعہ ریلوے آم و آلو وغیرہ بھیج دیتا تھا۔ وبیر وغیرہ بھی۔ کیونکہ خاکسار سبزی و ٹھیکہ باغات کا کام کرتا تھا۔ حضور دعا فرماتے تھے غرض میرے مکرم معظم اخویم شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی قصبہ بنگہ میں عاجز کے ہاں تشریف لائے۔ گھر پر کھانا کھانے کے وقت معلوم ہوا کہ میری بیوی تو فوت ہو چکی ہے اور خاکسار کی بیوہ ہمشیرہ میرے بچوں و اپنے دو بچوں (لڑکوں) کی تربیت و امور خانہ داری روٹی وغیرہ وہی کرتی ہے۔ چونکہ مکرم معظم عرفانی صاحب ضلع جالندھر کے باشندے ہیں اور میرے سلسلہ میں داخل ہونے سے ان کو بڑی خوشی ہوئی تھی۔ فرمانے لگے کہ تم نکاح کرو میں نے وہی معاملہ احمدیت والا پیش کر دیا۔ خیر انہوںنے واپس جا کر اپنے اخبار الحکم میں خاکسار و مکرم ومعظم شیخ غلام احمد صاحب واعظ مرحوم مغفور کے رشتوں کے متعلق اخبار میں تحریک شائع کر دی۔ شاید دو تین مرتبہ متواتر شائع ہونے پر ایک معزز دوست نے نکاح و رشتوں کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حکم کا ایک لمبا چوڑا خط جناب شیخ صاحب کے نام اخبار میں شائع کرنے کے لئے بھیجا ۔ جس میںیہ بھی غالباً ذکر تھا۔ کہ جماعت احمدیہ میں دو دوستوں کے نکاح کے متعلق چند مرتبہ تحریک شائع ہو رہی ہے۔ کیا اتنی بڑی جماعت میں دو رشتہ بھی نہیں ہیں ۔ وہ خط مفصل شائع کر کے اتفاقاً موضع کاٹھ گڑھ میں مکرم معظم چوہدری عبدالسلام مرحوم مغفور کی شادی کی تقریب پر تشریف لے جانے کے لئے بنگہ پہنچے۔ چونکہ اسی راستہ سے کاٹھ گڑھ کو جاناپڑتا تھا۔ ابھی گاڑی بنگہ میں نہیں چلنے لگی تھی ۔ پھگواڑہ سے ٹانگوں پر آنا پڑتا تھا وہ بھی صرف نواشہر تک۔ کاٹھ گڑھ کی منزل ان دنوں ذرا دشوار تھی۔ چونکہ چوہدری عبدالسلام صاحب نے ہمیں بھی مدعو کیا ہوا تھا۔ مولانا مولوی غلام رسول صاحب وزیر آبادی و مولانا مولوی فتح الدین صاحب دھرم کوٹی بھی بنگہ میں کاٹھ گڑھ تشریف لے جانے کے لئے مجھے پھگواڑہ و بنگہ کے درمیان ٹانگہ پر سوار ملے۔ پہلے میرا ان کا تعارف نہیں تھا۔ جب ہمارے ٹانگے آپس میں نزدیک ہوئے۔ میں نے حضرت مولانا مولوی غلام رسول صاحب کو (اللہ تعالیٰ ان کوکامل صحت دے) چہرہ سے شناخت کر کے ٹانگہ کو ٹھہرا لیا۔ السلام علیکم کے بعد دریافت پر معلوم ہوا کہ دونوں بزرگ احمدی ہیں الحمد للہ میں نے ان کو بھی وٹانگہ والے کو کہہ دیا کہ مولوی صاحبان کو میری دوکان پر چھوڑ آنا۔ میں پھگواڑہ سے انشاء اللہ ابھی واپس آتا ہوں۔ خیر پھگواڑہ سٹیشن پر مکرم معظم شیخ صاحب عرفانی اسی وقت گاڑی امرتسر والی سے اترے تھے۔ ہم پھر دونوں بنگہ کو ٹانگہ لے کر آگئے تو وہاں اکٹھے ہو گئے۔ خیر ہم نے کاٹھ گڑھ کے لئے مکرم معظم میاں شیر محمد صاحب مرحوم مغفور کا ایک ٹانگہ و ایک گھوڑی کا انتظام کر کے کوئی آٹھ کے قریب احباب بنگہ سے روانہ ہوئے۔ ان دنوں چمکار حق کا بڑا چرچا تھا۔ کاٹھ گڑھ کے احمدی بچے بڑی اچھی طرح پڑھتے تھے۔ خیر الحمد للہ شادی سے فارغ ہومکر عرفانی صاحب گھوڑی پر سوار ہو کر‘ بنگہ کو ہم سب باقی ٹانگہ پر روانہ ہو گئے۔ مکرم عرفانی صاحب چونکہ گھوڑی پر تھے وہ پہلے میری دکان پر پہنچ گئے۔ تو غالباً رشتہ کے متعلق دو تین خطوط جموں فیروز پور وغیرہ سے آئے ہوئے دکان پر پڑے ہوئے تھے۔ تو وہ اٹھا کر پڑھ رہے تھے۔ تھوڑے عرصہ کے بعد جب میں پہنچا۔ تو فرمانے لگے مسکرا کر مبارک ہو۔ انہوں نے کہا کہ اب تم کسی کو کچھ نہ لکھو۔ ہم خود جو مناسب ہو گا کریں گے۔ خیر انہوں نے جموں والا رشتہ پسند فرما کر ان کے ساتھ خط و کتابت قادیان سے شروع کی۔ تحریر سے مکرم معظم جناب قبلہ خواجہ کرمداد خان صاحب چنگوی حال مقیم جموں نے اپنی دونوں باکرہ لڑکیاں قریباً ۱۵‘ ۱۳ سال کی تھیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت مبارک میں ایک کے لئے لکھ بھیجا۔ کہ میں ایک لڑکی میاں رحمت اللہ کو حضور کے منشا و حکم کے بموجب دیتا ہوں ۔ تسپر حضور نے شیخ صاحب کو بلوا کر فرمایا۔ کہ آپ دریافت فرما کر خواجہ صاحب کی ایک لڑکی کا رشتہ میاں رحمت اللہ صاحب سے منظور کروا لیں۔ شیخ صاحب نے فرمایا کہ حضور میاں رحمت اللہ کو جانتے ہیں ۔فرمانے لگے کہ ہاں ہاں وہی ہیں نہ جو ابھی آلوئوں کی بوری بھی لائے تھے۔ شیخ صاحب نے عرض کی حضور وہی ہیں۔ فرمایا ان کو لکھ دو کہ میں ۱۲‘۱۳ سالہ لڑکی خواجہ صاحب کا رشتہ پسند کرتا ہوں ۱؎ ۔ اور یا منظور کرتا ہوں۔ ان کو لکھ دو کہ وہ بھی منظور کر لیں۔ ‘‘ الحمد للہ بس کیا تھا کہ محترم مکرم عرفانی صاحب کا مکتوب گرامی پہنچا۔ کہ حضرت صاحب نے مکرمی خواجہ صاحب کے منچلی باکرہ لڑکی کا رشتہ تمہارے لئے منظور فرمایا ہے ۔ نکاح کے لئے تیار رہیں مجھے فکر بھی ہوا اور خوشی بھی۔ فکر اس لئے کہ پہلے ان سے تعارف بھی نہیں۔ اور وہ راجپوت اور یہ عاجز غریب لاہوریہ ارائیں ہے ۔ ممکن ہے بعد میں کوئی ایسی بات پیدا نہ ہو۔ خوشی اس بات کی کہ حضرت اقدس نے منظور فرمایا ہے انشاء اللہ بابرکت ہو گا۔ خیر میں نے مکرمی عرفانی صاحب کو لکھا کہ آپ خواجہ صاحب کو پھر یہ یاددہانی کروا دیں کہ یہ عاجز قوم کا ارائیں ہے خیر انہوں نے دوبارہ ان کو لکھا۔ تو انہوں نے اپنا ایک لمبا چوڑا خط ان کو لکھا۔ جس میں مختصر یہ خلاصہ بھی تھا کہ میں نے قومیت کا کوئی لحاظ نہیں رکھا۔ ہاں جو قوم حضرت مسیح موعود ؑ نے تیار کی ہے اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی قوم نہیں اور یہ بھی کہا کہ میرا خط بھی اپنے اخبار میں شائع کر دو جو انہوں نے شائع کر دیا۔ چند دن ہی گزرے ہوں گے کہ خواجہ صاحب نے جموں سے ایک مختار نامہ حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم مغفور کے نام لکھ کر ارسال فرمایا کہ اس خیال سے کہ حضرت اقدس کو تکلیف نہ ہو۔ اس لئے آپ مختار ہیں۔ حضرت صاحب کی اجازت سے آپ جس وقت جس دن چاہیں۔ میری لڑکی کا نکاح ولی بن کر میاں رحمت اللہ بنگلہ والہ سے کروا دیں۔ ان دنوں میں جون کا مہینہ تھا غالباً ۔ حضرت صاحب بمع اہل و عیال دیگر صحابہ باغ میں تشریف لے گئے ہوئے تھے۔ مولانا مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم ومکرمی عرفانی صاحب نے باہم مشورہ کر کے حضرت صاحب کی خدمت مبارک میں نکاح کے متعلق عرض کر دیا۔ تسپر حضور نے فرمایا کہ میاں رحمت اللہ کو بلوا لو تا کہ نکاح ہو جاوے۔ پھر فرمایا کہ یہ کام جلد ہو جانا چاہئے ان کو بلوانے کے لئے کسی آدمی کو بھیج دیا جاوے۔ اور اسی وقت فرمایا کہ مولوی یار محمد صاحب (مختار نور پور) جائیں۔ اور شاید کرایہ بھی حضور نے ہی خود دیا۔ اور مبلغ دو روپیہ علاوہ سفر خرچ کے دے کر میاں رحمت اللہ کو کہنا کہ ہمارے لئے دو روپیہ کی دیسی سرخ شکرلیتے آویں۔ اللہ اللہ کیا ہی غریب نوازی تھی۔ الغرض مولوی یار محمد صبح میری دکان پر پہنچ گئے۔ حالات بتلائے۔ کہنے لگے کہ آج ہی چلنا ہے۔ خیر کچھ کھانا وغیرہ کھلا کر میں نے ایک تھیلہ شکر سرخ شاید کچھ قند بھی تیار کیا ……… قادیان میں تانگہ پر مکرمی عرفانی صاحب کے مکان پر پہنچے تو صبح جمعہ تھا۔ شیخ صاحب نے حضرت صاحب کی خدمت میں تحریری عرض کیا کہ رحمت اللہ حاضر ہو گیا ہے تو حکم آیا کہ جمعہ کے بعد عبدالحی کی آمین ہو گی اور انشاء اللہ عصر کے بعد نکاح ہو جائے گا۔ غرض شیخ صاحب نے ایک تھیلہ چھواروں کا بھی عمدہ خرید کروا لیا اور جسے جمعہ کے لئے ہمراہ باغ میں ہی لے گئے۔ جمعہ کے بعد آمین ہوئی۔ حضرت صاحب اندرون خانہ تشریف لے چلے تو پھر عرض کی۔ فرمایا کہ عصر کے وقت مسنون ہے۔ نکاح پڑھا دیا جاوے گا۔ شیخ صاحب نے پھر عرض کی کہ حضور تشریف لائیں گے۔ فرمایا ہاں انشاء اللہ ہم آئیں گے۔ الغرض عصر کی اذان ہوئی احباب آنے شروع ہو گئے اور حضرت اقدس تشریف لائے۔ بعد ازاں حضرت حکیم مولانا نورالدین اعظم (خلیفۃ المسیح الاولؓ) کو فرمایا کہ خطبہ نکاح پڑھیں۔فورا ً حضرت مولوی صاحب کھڑے ہو گئے ۔ تو حضرت مولوی عبدالکریم صاحب ؓ نے عرض کیا کہ اگر حضور کا کچھ کام میں ہرج ہو تو تشریف لے جائیں۔ اور ہمیں نکاح کے متعلق کوئی احکام ہوں تو فرما دیں ۔ فرمایا بڑے مولوی صاحب نکاح پڑھائیں۔ میں انشاء اللہ جا کر دعا کروں گا۔ (یہ مفہوم ہے) پس حضرت اقدس تشریف لے گئے بعد ازاں حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے وہ مختار نامہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم سے لے کر پڑھا۔ تو فرمایا کہ انہوں نے مہر کے متعلق کچھ مقرر کر کے نہیں لکھا۔ مناسب ہے کہ حضرت صاحب سے دریافت فرما لیا جاوے۔ کہ مہر کیا مقرر کیا جاوے۔ (مفہوم) مجھے قدرے تشویش ہوئی کہ حضرت صاحب مہر بہت مقرر فرمایا کرتے تھے مگر معاً مولانا عبدالکریم صاحب مرحوم نے فرمایا کہ حضرت جبکہ خواجہ صاحب نے مجھے مختار بنا دیا ہے تو کیا میں مجاز نہیں ہوں کہ جو مہر میں چاہوں باندھ دوں۔ تسپر حضرت خلیفۃ المسیح اول نے فرمایا کہ ہاں آپ مجاز تو ہیں مگر امام جو موجود ہے۔ ان سے دریافت فرما لیا جاوے تو بہتر ہے ورنہ خیر تسپر حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے فرمایا کہ حضرت صاحب کو کاہے کو تکلیف دیتے ہیں۔ میں ہی مقرر کر دیتا ہوں۔ خیر انہوں نے حضرت عرفانی صاحب سے مشورہ کر کے عاجز سے دریافت کیا کہ کیوں جی جو مہر میں باندھوں منظور ہے۔ میں نے عرض کیا منظور ہے تو انہوں نے اڑھائی سو روپیہ مہر مقرر کر کے حضرت خلیفۃ المسیح اول کی خدمت میں عرض کر دیا جس پر حضور نے اچھا خاصہ خطبہ جو پراز معارف تھا پڑھ کر دعا فرمائی …… خاکسار نے ناچیز سے مبلغ ۵۰ روپیہ سکول کے لئے حضرت صاحب کی خدمت مبارک میں پیش کرنے کے لئے دئیے۔ جو انہوں (شیخ صاحب ناقل) نے ایک رقعہ اجازت کے لئے بھی لکھ کر ساتھ اندرون خانہ کے پاس بھیجا۔ جس پر حضور نے اپنے دست مبارک سے ایک رقعہ لکھ کر ارسال فرمایا۔ جو بطور تبرک وہ بفضلہ تعالیٰ میرے پاس موجود ہے۔ مضمون نقل ذیل ہے۔
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولک الکریم
    مکرمی۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    اللہ تعالیٰ اس تعلق کو مبارک کرے ۔ میں دعا کرتا ہوں آپ کے لئے اجازت ہے۔
    جزاک اللہ ۔
    والسلاَم
    خاکسار
    مرزا غلام احمد
    …دارالامان کو پہلی دفعہ روانگی :۔ دارالامان پہنچے ۔ عصر کی اذان ہو چکی تھی جلدی جلدی وضو کر کے دریافت کر کے مسجد مبارک میں پہنچے۔ حضرت اقدس تشریف لائے حضرت مولوی مولانا عبدالکریم صاحب نے نماز پڑھائی۔ اور حضرت صاحب تشریف لے گئے ۔ہم حیران تھے کہ ملاقات نہ ہوئی تو وہاں کے دوستوں نے فرمایا کہ مغرب کے وقت مسجد کے اوپر کے حصہ میں نمازیں مغرب و عشا ء پڑھی جاتی ہیں اور حضرت صاحب بعد نماز مغرب ٹھہرتے ہیں۔ اور عشاء کی نماز پڑھ کر تشریف لے جاتے ہیں۔ تم اس وقت ملاقات کر لینا۔ خیر ہمیں کچھ تسلی ہوئی۔ مغرب کی اذان ہوئی۔ حضرت صاحب تشریف لائے۔ بعد نماز مغرب تشریف فرما کر سلسلہ کلام شروع ہوا۔ اور ہمیں بھی مصافحہ کا حکم فرمایا۔ اور حضرت خلیفہ اول ؓ کو یہ فرمایا ’’ مولوی صاحب آگے تشریف لائیں‘‘ تسپر ہمیں معلوم ہوا کہ یہ مولوی نورالدین صاحب ہیں اور امام نماز حضرت مولوی عبدالکریم ہیں۔ چونکہ ہم تو دور تھے۔ ابھی ابھی واقفیت بھی نہیں تھی ۔ حضرت اقدس نے پھر ہم سے ایک ایک کا نام دریافت فرمایا اور شہر اور ضلع کا پوچھا۔ ہم نے متفقہ عرض کی کہ ہم نے تحریری بیعت تو کی ہوئی ہے اب ہم دستی بیعت بھی کرنا چاہتے ہیں شاید اچھی طرح سے یاد نہیں کہ ہم نے اسی وقت بیعت دستی کی یا اگلے دن کو‘ مگر وہ کلمات جو حضور فرماتے تھے عاجز کے اندر بجلی کی طرح پڑتے تھے حضور نے لمبی دعا فرمائی۔ ہم نے نذرانہ پیش کیا۔ فرمانے لگے کچھ دن ٹھہرو۔ پھر حضور نماز پڑھ کر تشریف لے گئے کچھ چند ٹھہر کر اجازت لے کر واپس آگئے۔
    پھر میں کبھی کبھی جب فرصت کے ایام ہوتے۔ تو دارالامان پہنچ جاتا۔اب میں حضور کی شفقت کا تھوڑا سا تذکرہ کرتا ہوں ترتیب یاد نہیں ہے۔
    ایک دفعہ بنگہ کے دوستوں نے صلاح کر کے کہ قادیان چلیں مجھے بھی کہا گیا کہ تم بھی چلو۔ میں نے کہا بہت اچھا۔ ہم قریباً قریباً دس بارہ آدمی ہوں گے دارالامان پہنچ کر چند دوست بیمار ہو گئے اور خاکسار بھی بیمار ہو گیا۔ مکرم معظم عرفانی صاحب کو پتہ لگا۔ وہ تشریف لائے انہوں نے واپس جا کر حضرت اقدس کی خدمت مبارک میں رقعہ لکھ دیا کہ جماعت بنگہ کے احباب کچے یا خراب کھانے سے بیمار ہو گئے ہیں۔اور خاکسار رحمت بھی بیمار ہے۔ حضور یا تو مہمانوں کو ہم لوگوں پر تقسیم کر دیا کریں یا پھر مناسب انتظام فرمایا جاوے۔ (غالباً مفہوم ہے اصل الفاظ یاد نہیں) تو مکرمی عرفانی صاحب و دیگر کارکنوں کو حضور نے فوراً طلب فرمایا (جو سنا گیا تھا) ہمارے مہمانون کو تکلیف ہوئی ہے۔ کھانے وغیرہ پکانے میں کس کا قصور ہے ۔
    شیخ صاحب کو فرمایا کہ دریافت کر کے جس کا قصور ہو اس کو علیحدہ کر دو۔ اور کارکن مقرر کر لو۔ خیر پھر ان لوگوں نے معافی مانگ لی۔ تو حضور نے معاف فرما دیا ۔ شیخ صاحب نے پرہیزی کھانا بھجوایا ۔ خاکسار شرمندہ تھا۔ میں نے شیخ صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ نے حضرت صاحب کو تکلیف دی ہے۔ میں تو شرمندہ ہوں کہنے لگے نہیں۔ یہ ہم لوگوں کا فرض ہے خیر خدا کے فضل سے ہم سب حضرت صاحب کی دعائوں کے طفیل بالکل رو بصحت ہو کے دو چار دن ٹھہر کر واپس آگئے۔
    ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے موقع پر جماعت بنگہ کو رہائش کے لئے حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کے مکان کے صحن میں تنبو ملے تھے ۔ جمعہ کے دن حضرت صاحب کی تقریر ہوتی تھی۔ جو مسجد اقصیٰ میں جلسہ ہوتا تھا۔ تو خاکسار نے اس روز صبح کو کھانا نہ کھایا۔ کہ حضرت صاحب کی تقریر اچھی طرح سے سن سکیں۔ جو غالباً پنج ارکان اسلام تھے۔ بعد جلسہ بارش ہو گئی۔ سردی کا موسم تھا ۔ ہمارے دوستوں کو بھی اور مجھے بھی بھوک کی شدت تھی مگر روٹی کے لئے بڑی مشکل ہو رہی تھی ۔ مکرم شیخ صاحب نے بھی بڑی کوشش کی ۔ مگر جماعت سیالکوٹ وغیرہ کے احباب کثرت سے تھے۔ وہ ہمیں روک بن جاتے تھے۔ خاکسار غالباً تین دفعہ احباب کو لے کر جب آواز آتی تھی جماعت بنگہ آوے حاضر ہوتا۔ ادھر بارش بھی ہو رہی تھی ۔ سردی بھی بڑی تھی۔ مگر اندر داخل نہ ہو سکتے تھے۔ چونکہ عاجز نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا۔ بھوک کی بھی شدت تھی احباب کو کہا کہ چلو میرے ساتھ تم کو دودھ ڈبل روٹی وغیرہ کھلا لائوں۔ چند احباب تو مکرمی مرزا محمد اسماعیل صاحب مرحوم دودھ فروش کی دوکان سے کھا پی کر واپس تنبئوں میں آکر لیٹ گئے‘ ان ایام میں کوئی دوکان روٹی وغیرہ کی نہیں تھی۔ مگر بغیر روٹی کے سیری نہ ہوتی تھی ۔ الحمد للہ کچھ قدرے اطمینان ہو گیا اور لیٹ گئے سردی بھی کافی تھی۔ بوندیں بھی برس رہی تھیں۔ جب رات قریباً نصف سے بھی زیادہ گزر گئی تو کارکنان ہمارے تنبو میں آئے کہ چلو جن دوستوں نے کھانا نہیں کھایا مگر بسبب سردی و بارش کی تکلیف سے احباب نے انکار کر دیا۔ کہ اب انشاء اللہ صبح ہی کھائیں گے۔ خیر لیٹ رہے۔ جب قریبا۵؍ ۴ بجے کا وقت ہوا تو یہ آوازیں سنائی دیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا عالم الغیب نے اطلاع دی ہے کہ رات تیرے مہمان بھوکے رہے ہیں۔ اس پر حضرت صاحب نے اکثر کارکنوں کو سنتے تھے کہ طلب فرمایا ہوا ہے خیر الحمد للہ یہ عاجز بھی ان بھوکے مہمانوں میں تھا۔ اور از دیاد ایمان ہوا۔ صبح معلوم ہوا کہ حضرت صاحب نے کارکنوں کو فرمایا کہ آپ کا انتظام اچھا نہیں تھا ۔ آپ کو چاہئے تھا کہ مہمانوں کے ڈیروں پر کھانا بھجواتے شاید انہوں نے عرض کی کہ حضور برتن وغیرہ گم ہو جانے کا اندیشہ تھا۔ ان دنوں برتن غالباً چینی کے تھے۔ حضور نے فرمایا کہ برتن وہ میرے تھے ۔ یا تمہارے تھے ۔ خدا نے بھیجے تھے وہ اور بھیج دیتا۔ مہمانوں کو تو تکلیف نہ ہوتی خیر صبح ہوتے ہی کھانا کھایا۔ اکثر دوست معلوم ہوا تھا کہ بھوکے رہے تھے۔ اللہ اللہ کیا ہی مہمان نوازی ہے۔
    ایک دفعہ جلسہ قریب آگیا۔ خاکسار نے دعاء استخارہ کیا تو غنودگی میں چند مرتبہ زبان پر یہ الفاظ جاری ہوئے۔
    بکوشید اے جوانان تا دردین قوت شود پیدا۔
    الحمد للہ عاجز ہر جلسہ پر حضور کی موجودگی میں خدا کے فضل سے بمع احباب بنگہ حاضر ہوتا رہا تھا۔
    ایک دفعہ جب کہ مسجد اقصیٰ میں احباب اس وقت کے لحاظ سے کثرت سے آئے تھے ۔ کچھ لوگ مسجد کے اوپر بھی تھے۔ کچھ دوکانوں پر تھے۔ اور پاس کے کچے مکان پر جبکہ ایک ہندو شاید آریہ کے تھے ان پر بھی دوستوں نے کپڑے بچھائے ہوئے تھے۔ حضور تشریف لائے تو جس جگہ خاکسار قبلہ والد صاحب (حضرت اقدس کے والد صاحب ۔ ناقل) کی قبر کے نزدیک بیٹھا تھا۔ بسبب لوگوں کی کثرت کے میرے پاس ہی کھڑے ہو کر رومال مبارک سامنے رکھ کر جس میں شاید ایک گھڑی بھی بندھی ہوئی تھی دو رکعت ادا کیں۔ خاکسار حضور کے اسوہ حسنہ کو دیکھتا رہا دونوں پائوں مبارک پیچھے سے قریباً ملے ہوئے تھے اور ہاتھ مبارک چھاتی مبارک پرتھے۔ جیسا کہ مکرم معظم عرفانی صاحب اپنی کتاب نماز احمدیہ میں لکھا ہے۔ غرض حضور پڑھ کر بیٹھ گئے دوستوں نے عرض کی کہ حضور آگے تشریف لاویں۔ فرمایا یہیں اچھا ہے یا کچھ اور الفاظ تھے۔ کوئی دوست جاتا تھا۔ مصافحہ کر لیتا تھا۔
    ایک معزز دوست نے حاضر ہو کر اچھے خاصے نوٹ پیش کئے۔ حضور نے اسی طرح کیسہ مبارک میں ڈال لئے۔ اور اس کو کچھ نہیں پوچھا۔ معاً ایک میرے جیسا غریب دوست مثل میرے و مکرم و معظم میاں شیر محمد یکہ بان کے جس کے کپڑے بھی بالکل پرانے تھے ۔ مصافحہ کر کے حضور کے سامنے ہی بیٹھ گیا ۔ حضور اس سے اس طرح مخاطب تھے کہ گویا کوئی پرانا قریبی دوست ہے۔ ’’ آپ کہاں سے تشریف لائے‘ ریل کہاں تک جاتی ہے‘ پیدل کتنا چلنا پڑتا ہے‘ آپ ریل پر آئے ہو یا پیدل غرض بہت کچھ پوچھتے رہے۔‘‘ (مفہوم قریباً قریباً ہے) خاکسار نے خیال کیا کہ اس دوست نے اچھا کافی نذرانہ پیش کیا مگر اس کی طرف اتنی توجہ نہیں فرمائی بلکہ نام بھی نہیں پوچھا۔ میرے جیسے غریب پر اس قدر غریب نوازی دیکھ کر وہ پہلا شخص تو دل میں کچھ خیال کرتا ہی ہو گا۔ واللہ اعلم۔
    اسی وقت ایک دوست نے غالباً دس روپیہ کا نوٹ پیش کیا شاید حضور نے پہلے تو کچھ خیال نہ فرمایا۔ اس دوست نے عرض کی کہ حضور یہ عاجز کی طرف سے ہے نوٹ واپس دے کر فرمایا کہ ابھی تم اس سے کچھ کاروبار کرو۔ پھر خدمت کر لینا۔ (مفہوم یہی ہے) پھر وہی ہندو نے مکان پر چڑھ کر سخت بدزبانی شروع کر دی کہ تم بڑے بے حیاء ہو وغیرہ وغیرہ۔ نیچے اتر آئو۔ اور پیٹھوں پر سجدہ کر لینا٭۔ وہ شخص سخت بکواس کرتا رہا۔ حضور کے معزز خادم و جوشیلے نوجوان بڑے جوشوں پر تھے۔ مگر حضور کی تعلیم ان کے دلوں پر اثر کئے ہوئے تھی ۔خیر حضور سے بعد نماز پوچھا گیا کہ حضور منبر کہاں رکھا جائے۔ فرمایا جہاں تمہاری مرضی ہو کھڑا کر دو۔ خیر حضور کے لئے باہر ہی (لفظ مشکوک ہے صاف پڑھا نہیں جاتا۔ مولف) شاید منبر رکھا گیا تو حضور نے اپنی تقریر میں پھر اس ہندو کو و دیگر آریوں کو مخاطب کیا۔ جس پر حضور نے فرمایا کہ یہ سب مکان خالی ہو جائیں گے شاید یہ بیوگان سے بھر جائیں گے (مفہوم یہی ہے) جس پر حضور نے ’’ قادیان کے آریہ اور ہم ‘‘رسالہ لکھا تھا۔ الحمد للہ۔
    میں نے ناچیز سی رقم مبلغ پانچ روپیہ حضور کے نام کرم دین کے مقدمہ میں خرچ کرنے کے لئے بھیجی تھی جس پر حضور نے خوشی کا اظہار فرما کر دعا فرمائی تھی۔ الحمد للہ
    ایک دفعہ خاکسار قادیان گیا تو پھر ان دنوں بھی حضور باغ میں تشریف لے گئے ہوئے تھے۔ اور سید مہدی حسن صاحب مرحوم و مغفور (اگر تو سید میر مہدی حسین صاحب مراد ہیں تو بفضل خدا زندہ موجود ہیں ۔ ناقل) کی ڈیوٹی تھی کہ کسی دوست کو بلا اجازت ملاقات کے لئے نہ جانا چاہئے میں نے باغ پہنچ کر حضرت سید مہدی حسن صاحب سے کہا کہ میں نے ملاقات کرنی ہے انہوں نے رقعہ حضرت صاحب کی خدمت میں میرا نام لکھ کر بھیجا حضور نے اپنے دست مبارک سے یہ الفاظ لکھے۔ ’’ مکرمی محبی سیدی مہدی حسن صاحب۔ میاں رحمت اللہ صاحب کے لئے اجازت ہے۔ ‘‘ اللہ اللہ کیسے مبارک الفاظ تھے۔ نیچے لکھا۔ خاکسار مرزا غلام احمد۔ اللہ اللہ وسلام سید صاحب کے بھی آنسو بر آئے۔ خاکسار حاضر خدمت ہوا۔ شاید ناچیز نے آلو بوری میں تھے پیش کئے ۔دعا کے لئے عرض کر کے رخصت طلب کر کے چلا آیا۔
    پھر جب حضرت صاحبزادہ مبارک احمد صاحب کا انتقال جس روز ہوا تھا۔ خاکسار بمع اپنی بیوی و بھاوجہ و ہمشیرہ و لڑکی وغیرہ بہمراہی میاں سندھی شاہ و اس کی اہلیہ کے اسی روز دارالامان پہنچے۔ ہمارا ٹانگہ جب (لفظ پڑھا نہیں جاتا۔ ناقل) کے قریب پہنچا تو مستورات ہماری مستوارات کو دیکھ کر اکٹھی ہو گئیں۔ کہنے لگیں تم مرزا صاحب کے آئے ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہاں تو کہنے لگیں کہ اس کا تو پت مر گیا مگر جگر ینہہ جیڈا (بھینس ) ہے کوئی نہیں رویا۔ خیر میں اور میاں سندھی شاہ صاحب مکرمی شیخ صاحب کے مکان پر ایک کمرہ میں ٹھہر گئے۔ اور عورتیں اوپر چلی گئیں۔ تھوڑا عرصہ ٹھہرے تھے کہ اذان ہو گئی۔ ہماری مستورات حضرت اقدس کے گھر مبارک میں تشریف لے گئیں تا کہ حضرت صاحب کی زیارت سے مستفیض ہوں اور دستی بیعت کریں۔ خاکسار کی اہلیہ و ہمشیرہ و بھاوجہ صاحبہ وعزیز محمد اسماعیل کی بیوی ناچیز سے پارچات ام المومنین کے لئے و حضرت صاحب کے لئے جو غریبانہ طرز زمیندارہ تھے۔ ہاں حضرت ام المومنین کے جوڑوں پر کسی قدر گوٹہ وغیرہ لگا ہوا تھا۔ اور میری ہمشیرہ ایک پرانے زمانہ کا تانبے کا طشت جو خاصا کافی وزنی تھا وہ بھی لے گئی تھیں ۔ چونکہ حضرت اقدس پیشتر مسجد میں نماز کے لئے تشریف لے گئے تھے۔ وہ حضرت ام المومنین سے باتیں کرتی رہیں۔ (ہماری مستورات کی زبانی باتیں یہ ہیں تحریر کرتا ہوں) ام المومنین نے ہر ایک کا نام پوچھا۔ اور خاکسار کے تعلقات دریافت فرماتی رہیں۔ فرمایا کہ حضرت صاحب نماز سے فارغ ہو کر ابھی تشریف لائیں گے۔ تو میں انشاء اللہ تمہارے ساتھ چل کر خود حضرت صاحب سے ملاقات و بیعت کرائوں گی۔ ‘‘ ہم نے مسجد میں حضور سے ملاقات و مصافحہ وغیرہ کیا پھر حضور اندر تشریف لے گئے۔ (زبانی مستورات کے ہمیں رات کو گفتگو سننے کا موقع ملا) ساری مستورات نے ہمیں بتلایا کہ حضرت صاحب جب نماز سے فارغ ہو کر تشریف لائے تو ام المومنین ہمیں لے کر حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو پہلے ام المومنین نے خاکسار کی بیوی کا تعارف کرایا۔ جس پر حضور نے فرمایا کہ یہ خواجہ صاحب کی لڑکی ہیں۔ ہم نے نکاح کروایا ہے ۔ ہاں ہاں میاں رحمت اللہ صاحب باغانوالے بھی آئے ہوئے ہیں ۔ مسجد میں ہیں غرض مستورات کا تعارف ہو گیا۔ اور بیعت بھی ہو گئی۔ حضور نے کچھ نصائح بھی شاید فرمائیں۔ یاد نہیں ہے ۔ پھر انہوں نے علیحدہ علیحدہ نقدی ناچیز سا نذرانہ پیش کر کے پارچات پیش کئے تو حضور ا ن پارچات ناچیز سے جو تھے دست مبارک سے پکڑ پکڑ کر حضرت ام المومنین کو دکھلاتے اور فرماتے جاتے یہ دیکھو یہ دیکھو یہ میاں رحمت اللہ کی بیوی یہ تمہارے لئے اور یہ میرے لئے لائی ہیں۔ اور کیسی عمدہ و نفیس ہیں۔ بار بار یہ کلمات فرماتے جاتے۔ اور ام المومنین صاحبہ کو دیتے جاتے۔ غرض ہر ایک کے علیحدہ علیحدہ پارچات لے کر اسی طرح فرماتے رہے۔ اور بعد ازاں میری ہمشیرہ کا لگن دیکھ کر اور قدرے ہاتھ سے اٹھا کر فرمانے لگے۔ بیوی صاحبہ یہ دیکھو میاں رحمت اللہ کی ہمشیرہ کیسا عمدہ لگن تمہارے لئے لائی ہیں ۔ غرض رات کو مستورات نے ہمیں سب ماجرا سنایا۔ اور مبارک احمد کی وفات کا دیکھ کر ان کو سبق مل گیا۔ اور ان کے لئے اس اسوہ حسنہ ہوا …… خاکسار اپنے نام کے ساتھ ہمیشہ سبزی فروش ہی لکھا کرتا تھا۔ تو عہد خلافت ثانیہ میں ایک دفعہ بوقت ملاقات شیخ عرفانی صاحب نے ذکر کر دیا کہ میاں رحمت اللہ صاحب کو حضرت اقدس نے باغانوالہ فرمایا تھا۔ اسی وقت حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے فرمایا کہ’’ میاں تم آئندہ سبزی فروش کی بجائے باغانوالہ ہی لکھا کرو۔‘‘ یہ حضرت صاحب کی زبان مبارک کے کلمات بابرکت ہوتے ہیں ۔ یہ وہ بابرکت کلمہ تھا کہ اس عاجز کو خدا تعالیٰ تین تین چار چار باغات ثمردار عطا فرماتا رہا۔ اب چونکہ ضعیف العمر ہو گیاہوں اور مالی کمزوری بھی ہو گئی ہے اور کام بھی نہیں ہو سکتا ٹھیکہ جات نہیں لیتا۔ ہاں ایک دو باغ اپنی پہلی بیوی کے بیٹے اسماعیل کو لے دیتا ہوں۔ ……… غرض چند ایک دن کے بعد واپسی کا ارادہ کیا۔ مگر حضرت صاحب کی طبیعت ناساز ہو گئی۔ حضور تشریف مسجد میں نہ لا سکے۔ تو خاکسار نے ایک رقعہ تحریری برائے طلب اجازت و مبلغ دس روپیہ ناچیز نے اپنے و میاں سندھی شاہ صاحب کی طرف سے ہمراہ رقعہ اندرون خانہ ارسال کئے تو حضور نے اپنے دست مبارک سے ایک علیحدہ رقعہ لکھ کر کے۔
    محبی مکرمی۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مبلغ دس روپیہ پہنچ گئے۔ جزاک اللہ احسن الجزاء اللہ تعالیٰ دنیاکے مکروہات سے بچاوے۔ اورخاتمہ بالخیر کرے آپ کے لئے اجازت ہے۔
    خاکسار
    مرزا غلام احمد۔
    اللہ اللہ سب خدا کے فضل سے ہوا۔ اور میرے از دیاد ایمان کا بفضلہ تعالیٰ موجب ہوا۔ وہ رقعہ بفضلہ تعالیٰ موجود ہے۔
    خاکسار دارالامان میں گیا ہوا تھا کہ نماز ظہر کے بعد مکرمی شیخ عرفانی صاحب نے بعد نماز حضور کی خدمت مبارک میں عرض کیا کہ حضور حضرت مولانا مولوی عبداللطیف صاحب شہید مرحوم و مغفور ؓ (اللہ کی ہزار ہزار برکتیں ہوں ان پر) کی خبر شہادت اخبار وطن میں شائع ہوئی ہے۔ فرمایا وطن اخبار کوئی جھوٹی تو خبر نہیں شائع کیا کرتا۔ انہوں نے کہا کہ حضوراکثر وہ احتیاط تو کرتا ہے ۔ فرمایا ابھی ہمارے اخبار اس پر کچھ نہ شائع کریں۔ انشاء اللہ ہم خود لکھیں گے۔ میں نے عرض کیا کہ حضور اب مخالف ہمیں طعنے دیں گے کہ دیکھو تمہارا مولوی کابل میں کس طرح مارا گیا‘ فرمایا ’’کیا ہمارے مخالفوں کو شرم نہیں آئے گی اس پر حضور نے تذکرۃ الشہادتین لکھا۔
    جن دنوں حضور نے رسالہ الوصیت لکھا تھا اس سے کچھ عرصہ بعد میں نے عرض خدمت بذریعہ خط کیا کہ عاجز کو حضور اپنا مستعمل پارچہ بطور تبرک عنایت فرما دیں۔ چند دنوں بعد حضور نے ازراہ نوازش اپنا ایک کر تہ مبارک میرے مکرم معظم شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کے ہاں بمع ایک رقعہ کے بھیجا کہ ہمارا یہ کرتہ اور ساتھ اس کے ایک رسالہ الوصیت بھیج دو‘ میرے مکرم شیخ صاحب نے بذریعہ ڈاک کرتہ و رسالہ خاکسار کو بھیج دیا گو رسالہ الوصیت چند ایک ہمیں پہلے پہنچ ہی چکے تھے۔ شیخ صاحب نے تحریر فرمایا کہ یہ رسالہ حکماً بطور تبرک ہے ۔ خاکسار نے اس رسالہ کو جلد کروا کر اپنی کتب میں رکھا ہوا ہے۔
    خدا کی قدرت جس روز لاہور میں حضور کا وصال ہوا تو ہمیں پوسٹ آفس بنگہ کے بابو کی معرفت پتہ ملا کہ حضرت صاحب کا وصال ہو گیا ہے۔ اسی روز سپرنٹنڈنٹ پوسٹ آفس جو ایک مخالف تھا آیا ہوا تھا۔ بابو چونکہ خاکسار کا واقف تھا۔ خاکسار بمع چند احباب کے ڈاکخانہ میں گیا کہ بذریعہ تار دریافت کروں۔ اور دلوں میں گھبراہٹ اور بے چینی بڑھتی جاتی تھی اور تردد میں پڑے ہوئے تھے۔ میں نے بابو صاحب سے کہا کہ ہمارا ایک تار لاہور دے دو۔ سپرنٹنڈنٹ صاحب نے کہا کہ تم ویسے ہی دریافت کرو کہ کیا معاملہ ہے جواب سے معلوم ہوا کہ حضور کا وصال ہو گیا ہے جنازہ قادیان لے جانے کی تیاری ہو رہی ہے وہ سپرنٹنڈنٹ دل میں تو خوش معلوم ہوتا تھا۔ اور بابو کو کہتا تھا کہ پھر پوچھو اب کیا ہو رہا ہے گویا ہمیں وہاں کے شور وشر سے بھی پتہ لگ گیا۔ اور ہم واپس دوکانوں پر آگئے۔ ہم سب دوست پریشان اور تردد میں پڑ گئے کہ یہ کیا ہو گیا۔ دکانیں بند کرنے کے لئے میں نے سب دوستوں کو کہا کہ سب مسجد میں جمع ہوں۔ قریباً دن کے دس بجے ہوں گے احباب مسجد میں جمع ہوتے گئے عاجز کو معاً خیال آیا کہ حضور نے رسالہ الوصیت جو حکماً بھجوایا ہے وہ پڑھ کر دوستوں کو سنانا چاہئے خاکسار پڑھتا جاتا تھا اور آنکھیں آنسوئوں سے لبریز تھیں مگردل کوڈھارس بھی ہوتا گیا۔ وہ رسالہ مبارک اور کرتہ مبارک بھی بفضلہ تعالیٰ موجود ہے۔
    میرے عزیز مکرم شیخ محمود احمد صاحب نے حضور کے بال مبارک مجھے عنایت فرمائے۔ اور مکرم معظم حکیم حضرت مفتی فضل الرحمان صاحب نے ساتھ ہی ایک ٹکڑا دستار مبارک (لنگی) حضرت خلیفہ اول ؓ کا عنایت فرمایا۔ خاکسار نے گھر پر آکر بالوں کو ایک کاغذ میں لپیٹ کر اوپر وہی لنگی کا ٹکڑا لپیٹ کر اور اور کاغذ اور کپڑا چڑھا کر بطور گیند بنوا کر بدن کے نیچے حصہ میں بنیان میں ایک کیسہ تھا اس میں ڈالے رکھتا تھا ۔ سردی کا موسم آگیا اور زور بارش ہو رہی تھی اور ہوا بھی سرد چل رہی تھی بہ بسبب وجع المفاصل کے ڈاکٹری مشورہ سے رات کو ایک انگیٹھی پر خوب گرم گرم کوئلے ڈال کر تمام بدن کے کپڑوں کو سینک کر پھر پہننا پڑتا۔ میں نے بنیان اتار کر اپنی چھوٹی دونوں لڑکیوں کو دے دی ۔ کہ ایک ایک طرف سے دوسری دوسری طرف سے پکڑ کر کوئلوں کی انگیٹھی پر اونچی رکھ کر سینک کر مجھے دینا۔ خاکسار چارپائی پر لحاف اوڑھے بیٹھا رہا۔ انگیٹھی میں آنچ کوئلہ بڑی تیز تھی تمام چوبارہ گرم ہو رہا تھا۔ یونہی لڑکیوں نے بنیان کو الٹ پلٹ کیا وہ گیند سی کیسہ سے نکل کر انگیٹھی میں گر پڑی جب ایک لانبوسا نکلا تو میں نے پوچھا بچہ یہ کیا ہے انہوں نے کہا ابا جی کچھ چیز جل رہی ہے میں نے جب خیال کیا کہ او ہو یہ تو بال مبارک ہے میں نے کہا جلدی سے چمٹا لائو وہ چمٹا لینے دوڑیں مگر وہ جل چکی تھی۔ چمٹا آنے پر میں نے کہا کہ اچھا نکال کر خاکستر ہی رکھ لیں گے۔ آہستہ سے وہ جلی ہوئی گیند چمٹا سے پکڑ کر باہر ورے کر کے رکھ دی کہ سرد ہونے پر خاکسار اس کی راکھ رکھ لے گا۔ خیر جب وہ سرد ہو گئی تو ہاتھ سے اوپر کی تہ آہستہ آہستہ اتار دی۔ تو نیچے جب حضرت خلیفہ اول ؓ کا لنگی مبارک کا ٹکڑا آیا تو وہ بفضلہ تعالیٰ بدستور دیکھا۔ اس کے ایک سرے کو خفیف سا داغ لگ کر آگ آگے نہیں چلی ۔ اس کو کھولا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بال مبارک بعینہ اسی طرح موجود تھے۔ میں نے کثرت سے حتی المقدور درود شریف پڑھنا شروع کیا۔ سالم رات خدا کے برگزیدہ کی یاد میں بفضلہ تعالیٰ گذاری۔ اور بار بار حضرت صاحب کا الہام مبارک ۔ الحمدللہ۔’’ آگ سے ہمیں مٹ ڈرا ‘ آگ ہمای غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے ۔ پڑھ پڑھ کر از دیاد ایمان کا بفضلہ تعالیٰ موجب ہوا۔ صبح میں نے اکثر دوستوں کے پاس فرداً فرداً ذکر کیا اور وہ بال مبارک بھی دکھلائے چند ایک غیر احمدیوں نے بھی دیکھے پھر میں نے اس کوبطور تعویذ اپنی بیوی سے ایک نفیس سے کپڑے کے کڑے میں سلوا کر اپنی ایک جیب میں زور سے باندھ رکھا۔ پھر خاکسار 25؍اگست 36ء ٭قادیان دارالامان چلا آیا تو حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے مسجد اقصیٰ میں اپنے درس مبارک میں برگزیدہ بندوں کے ذکر میں آگ میں جلنے سے محفوظ رہنے کا ذکر فرمایا۔ تو میں دوسرے روز ملاقات کے لئے حاضر ہوا تو میں نے سارا واقعہ اور وہ تعویذ بھی دکھلا کر عرض کر دیا حضور نے دعا فرمائی۔ بعد ازاں دوست وقتاً فوقتاً میرے پاس آکر دریافت فرماتے رہے قریباً ایک سال کے دوران میں وہ تعویذ کہیں گم ہو گیا شاید کیا وجہ ہوئی۔ شاید کیا وجہ ہوئی۔ اس پر میرے مکرم دوست میاں عبدالرحیم حال باورچی لنگرخانہ نے کہا کہ میرے پاس حضرت اقدس کے بال مبارک ہیں۔ میں تم کو اور دے دوں گا افسوس نہ کریں اور اپنا واقعہ بھی سنایا کرتے تھے پھر میرے اصرار پر انہوں نے اپنے پاس سے بال مبارک دئیے جو ایک کاغذ میں تھے عرصہ پونے دو سال کے بعد بحکم حضرت خلیفہ المسیح الثانی عاجز بنگہ چلا آیا۔ اب وہ بال مبارک بطورتعویز کے گلے میں لٹکایا ہوا ہے َ اللھم صلی علی محمد وعلی آل محمد وعلی عبدہ المسیح الموعود وصلی اللہ وبارک وسلم انک حمید مجید ۔
    ایک دفعہ چند دوستوں کے ہمراہ غالباً ماہ بیساکھ میں جو کہ ہمارا اکثر فرصت کا مہینہ ہوتا ہے زیارت کے لئے حضرت اقدس کی خدمت مبارک میں حاضر ہوئے غالباً مغرب کی نماز کے بعد مسجد مبارک کے اوپر کے حصے میں بعد نماز میں نے عرض کیا ۔ کہ حضور ہمارے علاقہ میں باغات کے ٹھیکے کئی کئی ماہ پیشتر ہی ہو جاتے ہیں ہمیں کیا حکم ہے ؟ فرمایا ’’ ہمارے خیال میں تو پھل لگا ہوا دیکھ کر لینا اچھا ہے۔ ‘‘ پھر میں نے عرض کی کہ حضور پھر ہم اس طرح سے خالی رہ جاتے ہیں ( اس وقت حضور کے باغ کا سودا حضرت قبلہ میر صاحب کر چکے تھے) اور اس وقت حضور کے باغ کا بھی سودا ہو چکا ہے۔ تو اب ہم ٹھیکہ کر لیں۔ فرمایا ’’ہمارے باغ میں اور بھی کئی جنسیں ہیں ۔ اور اب تو آم بھی شاید لگ چکے ہیں جو کچے بھی کام آسکتے ہیں ۔ (مفہوم غالباً یہی تھا) اس وقت حضرت خلیفہ اول بھی شاید پاس ہی تشریف فرما تھے۔ فرمایا مولوی صاحب ! حدیث شریف میں ٹھیکہ باغات کے متعلق کیا حکم ہے ‘ انہوں نے فرمایا حضور بمع زمین ٹھیکہ جائز ہے۔ خیر میں نے چند ایک باغ بنگہ میں جو پھل لگے ہوئے ‘ آکر خریدے تو وہ خدا کے فضل سے جیسا کہ حضور نے فرمایا تھا اچھے رہے۔ الحمد للہ
    ایک دفعہ خاکسار بہمراہی مکرم معظم چوہدری احمد یار صاحب لدھیانوی مرحوم مغفور۔ چوہدری غلام نبی خان صاحب قادیان دارالامان میں حاضر ہوئے۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ حضرت اقدس گورداسپور کرم دین کے مقدمے کی تاریخ پیشی پر تشریف لے گئے ہیں تین چار روز حضور کا انتظار کیا پھر معلوم ہوا کہ حضور ابھی تشریف نہیں لائیں گے۔ چونکہ تاریخ کافی نزدیک نزدیک دنوں کی پڑتی ہیں۔ وہاں عارضی قیام فرمائیں گے ہم مایوس ہو کر اگلے روز واپس بنگہ کے ارادہ سے چل پڑے۔ بٹالہ پہنچ کر مشورہ کیا کہ چلو گورداسپور چلیں۔ گورداسپور والی بھی گاڑی آنیوالی تھی۔ تینوں ٹکٹ گورداسپور کے لے لئے۔ گورداسپور سٹیشن پر جب گاڑی سے اترکر میں تینوں ٹکٹ بابو کو دینے لگا تو اس نے ٹکٹ لے کر میری طرف دیکھ کر کہا کہ آپ باہر نہ جائیں یہاں اس کمرہ میں ٹھہریں کہ یا الٰہی یہ کیا معاملہ ہے۔ ہماری ٹکٹوں میں کوئی غلطی نہیں ہے۔ پھر ہمارا کیا قصور ہے۔ تو ہی ہم عاجز مسافروں کی مدد فرما ئیو بھائی احمد یار صاحب بھی صوفی مزاج تھے ۔ ضعیف العمر تھے۔ دعائیں کرتے رہے۔ گاڑی دینا نگر ‘ پٹھانکوٹ کی طرف روانہ ہو گئی۔ بابوصاحب فارغ ہو کر ہمارے پاس آگئے۔ دیکھ کر فرمانے لگے خاکسار کو مخاطب کر کے کہ کیا آپ نے مجھے پہچانا نہیں۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ کہنے لگے کہ میرا نام اللہ بخش ہے ۔ میں میاں جی رحمت اللہ صاحب گڑھی راہوں کا بیٹا ہوں۔ جو تمہارے ابتدائی استاد ہیں۔ ان کو ابھی تک آپ سے بڑی محبت ہے وہ ابھی چند روز ہوئے۔ قریباً ماہ ڈیڑھ ماہ بعد یہاں سے تشریف لے گئے ہیں وہ اکثر تمہارا ذکر کرتے تھے۔ بوقت روانگی بھی فرماتے تھے کہ میں ان کو مل کر ہی آتا ہوں۔ اور جاتا ہوا بھی ان کے ملے بغیر گھر نہیں جاتا امید ہے وہ اب بھی تمہیں مل کر ہی گئے ہوں گے۔ واقعہ میں وہ آتے ہوئے بھی اور جاتے ہوئے بھی خاکسار کے ہاں ٹھہر کر ہی گئے تھے اور تمہارا ذکر بھی کیا تھا ۔ مگر چونکہ یاد نہیں تھا اور میں نے تم کو چھوٹی عمر میں دیکھا ہوا تھا ۔ خیر انہوں نے سایہ میں چارپائیاں بچھا دیں اور دودھ اور برف منگا کرلسی پلائی۔ ……… غرض بابو اللہ بخش سے فارغ ہو کر حضرت صاحب کی جائے قیام پر حاضر ہوئے تو اس وقت ایک بالا خانہ پر ایک اچھی چارپائی پر حضور تشریف فرما تھے۔ چاند بدر کا روشن مکھڑا دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا الحمد للہ ۔
    خواجہ کمال الدین صاحب و چند معززین بھی حاضر تھے ہم بھی بعد مصافحہ بیٹھ گئے ۔ تھوڑی دیر کے بعد کچھ آفیسرز مجسٹریٹ تحصیلدار صاحبان اور بھی دوست میرٹھ وغیرہ کی طرف سے تشریف لائے۔ وہ چند ایک چھوٹی چھوٹی پٹاریاں سردے خربوزوں کی لائے تھے۔ وہ انہوں نے حضور کی خدمت میں پیش کیں تو خواجہ صاحب نے فرمایا کہ حضور کھائیں گے ۔فرمایا اچھا۔ اس پر انہوں نے ایک خربوزہ کی ایک پھانک انگلی سے موٹی چھیل کر دی ۔ تو حضور تھوڑی سی منہ مبارک میں ڈال لیتے اور سبحان اللہ کا شمار نہیں کہ کھاتے کھاتے وہی ایک پھانک کتنی دفعہ کہا ہو گا۔ خواجہ صاحب نے پوچھا حضور خربوزہ کیسا ہے فرمایا سبحان اللہ بہت عمدہ ہے پھر انہوں نے دوسرے خربوزے سے ایک پھانک اسی قدر دی۔ جب حضور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء سے اس پھانک کو ختم کر چکے تو خواجہ صاحب نے اور پیش کرنی چاہی ۔حضور نے فرمایا ’’بس جزاک اللہ‘‘۔ اب باقی دوست کھائیں۔ ‘‘ تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ ’’ہم نے تو کھا لئے مگر گھر والوں نے نہیں کھائے کیاکچھ باقی ہیں۔ عرض کی۔ حضور ہیں۔ شاید ایک دو پٹاریاں باقی تھیں۔ اچھی طرح سے یاد نہیں رہا۔ فرمایا ’’قادیان میں بھیج دو۔ ‘‘ تو بھیج دئیے گئے ہوں گے۔ اللھم صلی علی محمد وعلی آل محمد وعلی عبدہ المسیح الموعود
    دوسرے روز تاریخ تھی۔ کچہری میں سڑک پر جامنوں کے پیڑوں کے نیچے دری بچھائی ہوئی تھی اور رتھ (بہلی) ایک طرف کھڑی تھی۔ حضرت اقدس دری پر تشریف فرما تھے دیگر احباب‘ صحابہ حضرت اقدس حلقہ باندھے بیٹھے تھے‘ خاکسار ان بھی تینوں حاضر مجلس ہوئے کچھ دینی باتیں شروع تھیں ایک مولوی انجمن حمایت اسلام لاہور کا دوسرا شاید مولوی کرم دین تھا حاضر خدمت ہو۔ کردوزانو بیٹھ گئے۔ خاکسار بھی حضور کے سامنے ہی بیٹھا تھا۔ میرے مکرم معظم حکیم مولوی فضل دین صاحب بھیروی نے عرض کی کہ حضور یہ میاں رحمت اللہ بنگہ والے ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ ہاں‘ مجھ سے حضور کچھ گفتگو شفقت پدرانہ سے بڑھ کر فرماتے رہے۔ جو یاد نہیں رہی ہے۔ معاً حضور نے ان دونوں مولویوں کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا۔ تو اس لاہور والے مولوی کو فرمایا کہ کیا آپ انجمن حمایت اسلام لاہور کے ممبر ہیں اور چندہ کے لئے دورہ پر ہیں اس نے کہا کہ حضور ہاں ۔فرمایا کہ ’’انجمن حمایت اسلام نے اسلام کے کیا کام کئے ہیں۔ ‘‘وہ تو خاموش ہی رہا۔ حضور نے فرمایا۔ کہ’’ اپنے علماء کو کہیں کہ ہمارے ساتھ فیصلہ کر لیں یا تو ہمیں بلوا لیں اور یا وہ ہمارے پاس آجاویں۔ ان کا خرچ وغیرہ ہم برداشت کریں گے اگر وہ سچے ہوئے تو ہم اپنے مریدوں کو کہہ دیں گے کہ وہ حمایت اسلام کو چندہ دیں اگر وہ ایک روپیہ بھی دیں گے تو سالانہ ہزاروں روپوں کی آمدنی ہو جائے گی اور انجمن حمایت اسلام کی خاصی ترقی ہو گی۔ ‘‘(مفہوم غالباً یہی تھا قریب قریب) وہ مولوی تو خاموش تھے ۔ تو پھر حضور نے تقریر شروع کر دی۔ فرمایا میں تو گوشہ نشینی کو پسند کرتا تھا اور گوشہ نشین تھا۔ خداتعالیٰ بار بار فرماتا کہ باہر نکلو کہ تم سے کام لینا ہے۔ میں حیران تھا کہ مجھ سے کیا کام لینا ہے خدا تعالیٰ نے بار بار ہمیں بتلایا ہے کہ مسیح ناصری فوت ہو گئے ہیں اب تو ہی مسیح و مہدی ہے تو بتلائو کہ اگر میں اس کو چھپائوں تو (نعوذ باللہ) گنہگار ٹھہروں۔ ہمیں مخالفت کی پرواہ نہیں حضور نے فلما تو فیتنی پر تقریر شروع کی ہوئی تھی۔ خاکسار حضور کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھتا تھا مگر تاب نہ لا سکتا تھا۔ چاند بدر تھا افسوس کہ ایڈیٹر صاحب محمد افضل بدر رتھہ میں سوئے رہے۔ غالباً نصف گھنٹہ تقریر ہو چکی تھی کہ مکرم معظم شیخ عرفانی صاحب تشریف لائے تو انہوں نے شاید بقیہ تقریر قلمبند کی اچھی طرح سے یاد نہیں ہے غرض وہ مولوی صاحبان مبہوت ہو کر بیٹھے رہے تو حاضری کے لئے آواز پڑ گئی۔
    حضور آہستہ آہستہ تشریف لے گئے۔ (یاد آیا تھوڑا عرصہ پہلے حضور ایک لوٹا لے کر پانی کا خود ہی اٹھا کر جائے ضرور بھی تشریف لے گئے تھے) فارغ ہو کر کچہری سے حضور قیام گاہ پر تشریف لے آئے۔ بالاخانہ پر سیڑھیوں کے سامنے حضور کا پلنگ بچھا ہوا تھا سورج غروب ہو گیا تھا نماز کے لئے اذان ہو گئی یاد نہیں رہا کہ نماز کھانا کھانے سے پہلے پڑھی یا بعد میں مگر جمع نماز کی تھی۔ باورچی حاضر خدمت ہوا۔ کہ حضور کھانا تیار ہے۔ فرمایا پھر لے آئو۔ ہم غریب شمالی جانب ایک گوشہ میں تینوں اکٹھے بیٹھے تھے چونکہ وہاں معززین روساء و افسران وکیل وغیرہ بیٹھے تھے۔ ہم نے مشورہ کیا کہ ہم نیچے چلے جائیں۔ اور وہاں بیٹھ کر کھانا کھا لیں گے۔ تو ہم وہاں سے اٹھ کر جب حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے سے گزرنے لگے تو فرمایا۔ ’’آپ کہاں جاتے ہیں‘‘ عرض کی کہ حضور ہم نیچے بیٹھ کر کھانا کھائیں گے فرمایا’’ کیوں یہاں جگہ نہیں ہے۔‘‘ عرض کی کہ حضور جگہ تو ہے فرمایا ’’پھر وہیں بیٹھو۔‘‘ ہم واپس وہیں بیٹھ گئے کھانا آیا حضور کی خدمت میں رکھاگیا۔ دوست یکے بعد دیگرے پلنگ پر ساتھ شامل ہوتے گئے۔ حتی کہ حضور ایک پائے تک پہنچ گئے اللہ اللہ کیسے اخلاق تھے۔ عاجز کے ایمان کی ترقی کا یہ بھی نظارہ ہوا۔ جو آج تک بفضلہ پیش نظر ہے اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد وعلی خلفائہ وعلی عبدک المسیح الموعود وبارک وسلم۔
    ایک دفعہ پرائیویٹ خط کے ذریعہ حکم آیا کہ فنانشل کمشنر صاحب قادیان تشریف لا رہے ہیں ۔ ہر ایک جماعت سے ایک ایک دو دو نمائندے حاضر ہوں۔ تو راہوں سے حکیم حاجی رحمت اللہ صاحب ۔ کریام سے حاجی غلام احمد صاحب۔ بنگہ سے خاکسار بمع اپنے بیٹے اسماعیل کے حاضر ہوئے۔ جس جگہ ہائی سکول ہے غالباً وہاں کیمپ لگایا گیا تھا۔ خاکسار شاید کچھ فروٹ ایک ہینڈ ٹوکری میں لے گیا تھا۔ پہلے تو کیمپ میں حاضر ہوئے۔ صاحب کی آمد کا انتظار تھا۔ معززین کرسیوں پر تشریف فرما تھے۔ حضرت خلیفہ اول ؓ ایک طرف کرسی پر تشریف فرما تھے۔ صاحب بہادر بمع چار پانچ انگریزوں کے تشریف لائے۔ ایک ڈپٹی کمشنر صاحب گورداسپور (کنگ صاحب) ایک ہمارے علاقہ میں پلیگ ڈیوٹی پر تھے۔ وہ کینرے صاحب تھے جومہتمم بندوبست گورداسپور تھے۔ خیر عجیب نظارہ تھا۔ آتے ہی مولوی صاحب حضرت خلیفہ اول سے شروع ہو کر (غالباً خلیفہ اول کھڑے نہیں ہوئے تھے۔ شاید ایک رقعہ دیا تھا) آہستہ آہستہ ایک ایک احباب سے ہاتھ ملاتے ہوئے اپنے اپنے تنبوئوں میں چلے گئے خواجہ کمال الدین صاحب و مولوی محمد علی صاحب غالباً انٹرویو کرتے تھے۔ پھر شاید اپنے خیمہ میں فنانشل صاحب نے خواجہ کمال الدین و مولوی محمد علی صاحب کو و غالباً مکرمی عرفانی صاحب کو بھی بلوایا تھا۔ معلوم ہوا تھا کہ ان انگریزوں نے حضرت اقدس کی ملاقات کی خواہش کی تھی۔ جس پر ہمارے معززین نے فرمایا کہ آپ ان کی دعوت قبول فرما لیں۔ چونکہ ہمارے حضرت صاحب مہمان نواز ہیں۔ ممکن ہے وہ کھانا کھلانے کے وقت تشریف لے آویں۔ مگر ہم وعدہ نہیں کرتے۔ اس پر انہوں نے مکرم معظم حضرت مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم سے سنا ہے کہ پوچھا تھا کہ آگے کبھی کسی انگریز آفیسر نے آپ کی خاندان کے ہاں دعوت کھائی ہے اور خود بھی ان انگریزوں نے میٹنگ کی تھی انہوں نے دعوت منظور کر کے ڈپٹی کمشنر صاحب کو حضرت صاحب کی خدمت مبارک میں دعوت منظور کر کے شہر میں بھیجا ۔ جس پر اکثر دوست بھاگ بھاگ کر ڈپٹی کمشنر سے آگے پہنچ گئے۔ خاکسار کا لڑکا محمداسماعیل بھی ماشاء اللہ دوڑ میں ہوشیار تھا۔ وہ فروٹ کی ٹوکری بھی ساتھ لئے سیڑھیوں کے اوپر چڑھ کر جو پاس دروازہ ہے دستک دیتا تھا کہ خاکسار بھی پہنچ گیا ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مہندی لگائے ہوئے تھے دروازہ پر تشریف لائے۔ غالباً مکرمی عرفانی صاحب و دیگر احباب بھی پہنچ گئے۔ عرض کی کہ ڈپٹی کمشنر صاحب نیچے کھڑے ہیں اور سلام عرض کرتے ہیں۔ فرمایا بہت اچھا ہمارا بھی سلام کہہ دو عرض کیا کہ حضور انہوں نے دعوت قبول فرما لی ہے۔ کیا تیار کیا جاوے فرمایا۔ جو وہ کھایا کرتے ہیں تیار کروا لو۔ پھر عرض کیا گیا کہ وہ حضور کی ملاقات کے خواہاں ہیں۔ فرمایا وہ کھانا کس وقت کھایا کرتے ہیں عرض کیا گیا کہ غالباً چار بجے کھاتے ہیں۔فرمایا ہم جب سیر کو جائیں گے تو ممکن ہے کہ ادھر کو چلے جائیں۔ مگر ہم وعدہ نہیں کرتے (مفہوم غالباً یہی تھا) میں نے فروٹ کی ٹوکری پیش کی۔ حضور اپنے دست مبارک سے ہی اٹھا کر اندر تشریف لے گئے۔ اللھم صل علی محمد وعلی خلفاء محمد وعلی عبدہ المسیح الموعود وبارک وسلم اس روز عجیب نظارہ تھا۔میرے خیال میں مخالفین بھی کثرت سے آئے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔ان افسران کے خانساموں وغیرہ سے پوچھا بھی شاید گیا کہ کیا کیا چیز پکائی جائے الغرض کھانا تیار ہوا اور چار بجے سے قبل شاید کیمپ میں پہنچایا گیا۔ لوگوں کی نظریں حضرت صاحب کی طرف تھیں اور مخالفین بھی دیکھنے کے لئے میدان کیمپ میں موجود نظر آتے تھے کہ چار بجے تو حضرت اقدس سیڑھیوں سے چوک میں سیر کے لئے تشریف لائے اور اسی طرف کو چل پڑے۔ کثرت سے دوست ساتھ تھے جب کچھ قریب پہنچے تو انگریز افسران کو خبر دی گئی کہ حضرت صاحب تشریف لا رہے ہیں وہ فوراً اپنے اپنے کیمپوں سے نکل کر اس بڑے گیٹ پر جو ویلکم وغیرہ سے آراستہ کیا گیا تھاآکھڑے ہوئے۔ جونہی حضرت صاحب دروازہ پر تشریف فرما ہوئے انہوں نے اپنی اپنی ٹوپیاں سروں پر سے اتار کر ہاتھوں میں لے لیں۔ اور پہلے فنانشل صاحب نے ہاتھ ملائے بعدہ باقی سب نے۔ پھر فنانشل صاحب نے حضور کے کندھے مبارک پر ہاتھ رکھے ہوئے اپنے خیمے کے دروازہ پر پہنچ کر شاید چک بھی اپنے ہی ہاتھ سے اٹھا کر پہلے حضرت صاحب کو کرسی پر بٹھایا پھر باقی انگریز بھی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ اندر جانے کے لئے عام ممانعت کر دی گئی غالباً خواجہ کمال الدین صاحب و مولوی محمد علی صاحب و شاید مرزا سلطان احمد اندر گئے اور شیخ عرفانی صاحب کو بحیثیت ایڈیٹر ڈائری حضرت کے لئے اجازت دی گئی تو خاکسار کو مختصر انہیں کی زبانی معلوم ہوئیں۔ جو قدرے یاد رہیں۔ ممکن ہے بہت سی باتیں بھول گئی ہوں۔ شیخ صاحب فرماتے تھے کہ ڈپٹی کمشنر کنگ صاحب تو ٹکٹکی لگائے حضرت صاحب کے چہرہ مبارک کی طرف ہی دیکھتا رہا تھا۔ فنانشل صاحب و حضرت صاحب کے درمیان جوگفتگو ہوئی ۔ حضرت صاحب نے فرمایا تھا کہ انشاء اللہ جوں جوں میری جماعت ترقی کرے گی تو گورنمنٹ کو معلوم ہو جائے گا کہ دنیا میں اگر وفادار قوم ہو گی تو میری قوم ہو گی۔ تین دفعہ کہنے کے بعد فنانشل صاحب نے کھڑے ہو کر حضور کو رخصت کیا۔ یہ مفہوم مکرمی شیخ صاحب کی زبانی سنا تھا۔ اخبار الحکم میں بھی شائع ہو گیا تھا۔ اللھم صل علی محمد وعبدہ المسیح الموعود اور بھی چند ایک واقعات بسبب طوالت چھوڑتا ہوں۔ وہ بھی سب زیادتی ایمان کا ہی موجب ہیں۔
    حضرت صاحبزادہ میاں مبارک احمد کی وفات عاجز کی اہلیہ و میاں سندھی شاہ کی بیوی کے لئے جو کہ اس روز قادیان پہنچ گئی تھیں۔ اسوہ حسنہ ہوئے۔کیونکہ کچھ عرصہ کے بعد خاکسار کا پہلا بچہ فوت ہو گیا تو میری اہلیہ نے وہی نمونہ بفضلہ تعالیٰ دکھلایا۔ بعد ازاں دوسرا بچہ احسان اللہ بھی فوت ہوا تو خدا کے فضل سے وہی نمونہ دکھلایا۔ بعد ازاں خداوند کریم نے تین لڑکے ہدایت اللہ ۔ عطاء اللہ ۔عنایت اللہ اور تین لڑکیاں عنایت فرمائیں جن کا ذکر پیچھے کر آیا ہوں۔ الحمد للہ ثم الحمد للہ
    پھر تھوڑے عرصہ کے بعد میاں سندھی شاہ صاحب کا بچہ فوت ہو گیا تھا تو اس کی بیوی نے بھی خدا کے فضل سے وہی نمونہ دکھلایا ۔ اللھم زد فزد
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے معاً بعد خاکسار و مکرم حاجی غلام احمد صاحب کریام سے حضرت خلیفہ اول ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بیعت کی۔ اس وقت ایک خط بیرون ہند سے حضرت خلیفہ اول ؓ کی خدمت میں آیا جو حضور نے پڑھ کر دوستوں کو سنایا کہ یہ خط فلاں جگہ سے (نام یاد نہیں رہا) آیا ہے۔ وہاں کے دوست لکھتے ہیں کہ ہم نے انگریزی اخباروں میں حضرت صاحب کے وصال کا پڑھا۔ مگر یہ خیال کر کے کہ ایک نہ ایک روز اس مبارک وجود نے ہم سے جدا ہونا ہی تھا۔ مگر ہمیں معلوم نہیں کہ اب قادیان میں کیا ہو رہا ہے۔ مگر ہم سب حضور کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں کیونکہ حضرت اقدس کی زندگی مبارک میں ہی ہمارا یقین تھا کہ آپ ابوبکر صدیق ؓ ثانی ہیں۔ اس لئے خدا آپ کو ہی خلیفہ بنائے گا۔ (مفہوم قریباً قریباً یہی تھا) فرمایا کہ دیکھو کیا میں نے ان لوگوں کو لکھایا کہا تھا (کچھ ایسے ہی الفاظ تھے) کہ مجھے تم خلیفہ ماننا یہ ہوتا ہے خدائی انتخاب(مفہوم)
    ایک بات یاد آگئی جلسہ کے ایام پر حضرت خلیفہ اول ؓ مدرسہ کے صحن میں مصافحہ کر رہے تھے دوست نذرانے پیش کر رہے تھے خاکسار حضور کے دائیں جانب کھڑا تھا جب ایک ہاتھ روپوں سے پر ہو گیا تو حضور نے عاجز کو مخالب کر کے فرمایا کہ پلہ کرو۔ میں نے اپنے کرتہ کو جو اور موٹے کرتوں وغیرہ کے اوپر کسی قدر باریک تھا۔ دونوں ہاتھوں سے دونوں سرے کرتے کے پکڑے۔ حضورمیری جھولی میں اپنے ہاتھ مبارک سے روپے ڈالتے جاتے تھے ۔ غالباً نوٹ بھی تھے وہ کرتہ چونکہ باریک تھا پلہ بھارا ہو کر نیچے کو جاتا تھا اس کی مدد کے لئے اس کے نیچے کے کرتے کا پلہ ساتھ ملا لیا۔ اچھا خاصا وزن ہو گیا۔ حضور نے درمیان میں ہی مصافحہ بند کر دیا۔ اور آہستہ سے چل دئیے میں حیران تھا کہ مجھے کچھ حکم نہیں فرمایا میں نے جلدی سے دونوں ہاتھوں سے روپوں کو تھامے ہوئے حضور کے پیچھے پہنچ کر عرض کی کہ حضور یہ روپے لیں۔ شاید یہ بھی فرمایا کہ ہم کیا کریں۔ مگر ارشاد فرمایا کہ مولوی محمد علی کو دے دو۔ میں نے مسجد مبارک میں اس کمرہ میں جو مسجد مبارک کے ساتھ ہے۔ مولوی صاحب کو روپیہ ان کے آگے دری پر ڈال دئیے۔ عرض کی کہ حضرت مولوی صاحب نے بھجوائے ہیں۔ شاید میں نے کہا بھی کہ گن لیں۔ انہوں نے شاید کہا کہ گن ہو گئے۔ (اچھی طرح سے یاد نہیں) غرض میری اس تحریر سے پیغامی صاحبان کا وہ اعتراض ہے جو انہوں نے حضرت خلیفہ اول ؓ پر دربارہ نذرانہ کیا تھا۔ اس وقت میں نے یہ امر غالباً مولوی محمد علی صاحب کو بذریعہ تحریر لاہور قادیان یاد دلایا تھا۔ جس کا کوئی جواب نہیں آیا۔ بعد ازاں شاید خلیفہ اول ؓ نذرانہ خود لینے لگ گئے تھے۔ واللہ اعلم
    ایک واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یاد آگیا وہ بھی مختصر عرض ہے کہ ایک دفعہ عاجز کو حضور نے جبکہ خواجہ کمال الدین صاحب کے ساتھ شاید دو معززین لاہور سے ہمراہ لائے تھے چونکہ حضرت اقدس کی طبیعت مبارک ناساز تھی ۔ حضور اس روز شام کی نماز تک بھی تشریف نہ لائے تھے تو خواجہ صاحب نے حضور کی خدمت مبارک میں شاید تحریری یا زبانی پیغام ملاقات کے لئے بھیجا جس پر حضور نے مسجد مبارک کے اوپر کے حصہ کے شمالی جانب ملحقہ کمرہ ہے ۔ اس میں حضور پلنگ پر لیٹے ہوئے تھے ۔ مجھے بھی خواہش ہوئی کہ عاجز بھی ملاقات کے لئے عرض کر دے کیونکہ میرا جلدی واپسی کا ارادہ تھا۔ میں نے بذریعہ شاید خادم عرض پہنچائی تو حضور نے فرمایا کہ ان کو بلوا لو۔ اللہ اللہ کیا ہی غریب نوازی ہے حاضر خدمت ہوا مصافحہ کیا دیکھا کہ پلنگ پر تو شک جو بچھی ہوئی تھی ۔ اس کے کنارہ سے روئی باہر نکلی ہوئی چند ایک جگہ سے نظر آتی تھی۔ خیر خواجہ صاحب بمع ساتھیوں کے قدرے گفتگو کر کے واپس چلے آئے۔ خاکسار شاید چند منٹ حضور کے کلمات طیبات سے بفضلہ تعالیٰ مستفیض ہوا اجازت واپسی ‘بعد دعا فرمائی۔ الحمد للہ۔ اب عرصہ قریباً دو سال کا ہوا ہو گا کہ خاکسار نے ایک تو شک مسجد مبارک کے دروازہ پر بطور چک لٹکتی دیکھی۔ تو وہی توشک یاد آجاتی۔ خاکسار بھی اس دروازہ کے پاس نماز کے لئے بیٹھا تھا۔ اب بھی اکثر ویسا ہی کرتا ہوں۔ ان ایام میں اس دروازہ کے پاس بیٹھ کر وہاں میں اپنا ایک دوپٹہ بچھا دیا کرتا تھا ۔ جس پر سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام قدم مبارک رکھتے ہوئے مسجد میں تشریف فرما ہوتے تھے۔ سو وہ دوپٹہ بھی خاکسار نے حضور کے کرتہ کے ساتھ ہی رکھا ہوا ہے جو بہت کہنہ ہو گیا ہے جس میں کرتہ مبارک محفوظ ہے الحمد للہ۔ ثم الحمد للہ۔
    ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول ؓ کے ابتدائی عہد خلافت میں مجھے تار پہنچی کہ حضرت میاں صاحب (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز) بنگہ تشریف لا رہے ہیں۔ ہمیں بڑی خوشی ہوئی۔ میں نے جماعت کے دوستوں کو جمع کیا ہم استقبال کے لئے دو ڈیڑھ میل جرنیلی سڑک پھگواڑہ والی پر پہنچ گئے۔ ابھی چونکہ ریل گاڑی بنگہ تک نہیں چلی تھی پھگواڑہ سے تانگوں وغیرہ پر آمد ورفت تھی۔ مگر حضور کا بہت انتظار کیا اور پھگواڑہ کی گاڑی کے ٹائم پر قریباً دو اڑھائی گھنٹے گزر گئے تو بہت دوست مایوس ہو کر واپس آگئے۔ میرے ایک دوست ڈاکٹر عبداللہ خاں اسسٹنٹ سرجن انچارج ہسپتال بنگہ تھے گو وہ مخالف تھے۔ مگر میرے سامنے بظاہر مخالفت نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے بھی سنا تو کہنے لگے کہ جب حضرت صاحبزادہ صاحب تشریف لاویں تو کم سے کم پہلے ناشتہ میرے ہاں تناول فرماویں۔ میں نے ان کے بار بار کے اصرار پر منظور کر لیا۔مگر حضرت صاحب تشریف نہ لائے۔ رات ہو گئی ساری رات اکثر دوست اسی خیال میں رہے اڈہ پر بھی آدمی تعینات کر چھوڑا۔ مگر حضور صبح قریباً ۹ بجے ہمارے ایک احمدی میاں چانن یکہ بان مرحوم برادر خورد میاں شیرمحمد یکہ بان مرحوم بنگہ کے تانگے پر بہمراہی حضرت سید میر محمد اسحاق صاحب خاکسار کی دکان پر جو متصل کوتوالی واقع ہے تشریف لائے۔ دکان کے اندر زمین پر دری یا چوتہی وغیرہ اور کچھ گلدستے وغیرہ آگے سے بچھے ہوئے تھے ۔ حضور بعد السلام علیکم و مصافحہ کے تشریف فرما ہوئے۔ شہر میں یہی عام چرچا تھا۔ ہمارے احمدی دوست بھی سنتے ہی یکے بعد دیگرے آتے گئے۔ اور اکثر دیگر مذاہب کے لوگ بھی کوئی باہر سے ہی زیارت کر لیتا کوئی اندر آجاتا۔ ڈاکٹر صاحب عبداللہ خاں صاحب کو بھی پتہ لگا تو وہ ناشتہ سینیوں وغیرہ میں رکھ کر شاید دو آدمیوں کے ہاتھوں لے کر شاید برہنہ پائوں حاضر ہوئے۔ اور دوزانو بیٹھ کر کل کے انتظار کا ذکر کیا فرمانے لگے کہ میاں حبیب الرحمان صاحب حاجی پور تحصیل پھگواڑہ والوں کو بھی کسی طرح معلوم ہو گیا تھا تو وہ سٹیشن پھگواڑہ پر موجود تھے۔ پھر وہ ہمیں حاجی پور میں ہی لے گئے اس لئے ہم لیٹ ہو گئے۔ غرض دوپہر کا کھانا بھی حضورنے عاجز کے غریب خانہ پر تشریف لے جا کر تناول فرمایا۔ رات کو دوسرے دوستوں نے کھانے کا انتظام کیا۔ ساتھ ہی گھر پر تشریف لے جانے کے لئے بھی مجھے کہتے تو میں عرض کر دیتا کہ حضور دوست گھر پر لے جانا چاہتے ہیں حضور فرماتے کہ بہت اچھا چلو۔ غرض حضور دو رات بنگہ ٹھہرے چونکہ حضور نے کاٹھ گڑھ ضلع ہوشیار پور میں وہاں کے دوستوں کی خواہش پر تشریف لے جانا تھا۔ سو حضور صبح کاٹھ گڑھ تشریف لے گئے۔ واپسی پر کریام لنگڑوعہ ۔ راہوں وغیرہ سے وہاں کے دوستوں کے اصرار پر تھوڑا تھوڑا عرصہ ٹھہرتے ہوئے غالباً ۴‘۵ بجے شام بنگہ میں تشریف لائے۔ صبح کو عاجز کے غریب خانہ پر تشریف لے جا کر کھانا تناول فرمایا اور دعا فرمائی۔ بعد ازاں میری بھاوجہ صاحبہ نے عرض کیا کہ میری لڑکی کی نسبت رحمت اللہ کے لڑکے میاں اسماعیل سے ہوئی ہوئی ہے سو میں حضور کو ولی مقرر کرتی ہوں۔ خاوندم فوت ہو چکا ہے۔ سو حضور جب چاہیں نکاح پڑھا دیں۔ سو جلسہ سالانہ پر حضور نے مسجد مبارک میں حضرت خلیفۃ المسیح اولؓ کی خدمت میں نکاح کے لئے عرض کیا تو حضرت خلیفہ اولؓ نے نکاح پڑھا تھا۔
    کچھ عرصہ کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد بھی چھائونی جالندھر سے بنگہ تشریف لائے تھے۔ راہوں ۔ کریام ۔ کھماچوں بھی تشریف لے گئے تھے اب عاجز کی دیرینہ خواہش ہے کہ حضرت صاحبزادہ سیدنا مرزا بشیر احمد صاحب بھی تشریف لاویں۔
    ایک دفعہ عہد خلافت ثانیہ میں حضور نے ہر ایک جماعت کے پریذیڈنٹ و سیکرٹری صاحب کو قصرخلافت میں ملاقات کا موقع دیا۔ فرمایا کہ مجھے تعارف ہو جاوے مکرم و معظم شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی تعارف کرواتے تھے۔ پریذیڈنٹ یا سیکرٹری اپنا اپنا نام بتلاتا تھا۔ جب خاکسار کی باری آئی تو مصافحہ کے وقت میں نے عرض کیا کہ حضور میرا نام رحمت اللہ سکنہ بنگہ ہے۔ اللہ اللہ ۔ مسکرا کر فرمایا۔ کہ میاں رحمت اللہ میں آپ کا نام بھی نہیں جانتا اب تو بنگہ میں گاڑی چلی گئی ہے ہم تو تانگہ میں گئے تھے ۔ شیخ صاحب نے عرض کی کہ یہ اپنے نام کے ساتھ احمدی سبزی فروش لکھا کرتے ہیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو باغانوالہ (رحمت اللہ باغانوالہ) فرمایا تھا۔ اس پر حضور نے فرمایا کہ وہی مبارک ہے۔ جو حضرت اقدس کی زبان مبارک سے صادر ہوا ہے۔ یہی لکھا کرو۔ مبارک ہے۔ تب سے عاجز رحمت اللہ باغانوالہ احمدی لکھتا ہے ۔ ورنہ یہ عاجز کیا اور اس کی حیثیت کیا ہے ۔ یہ بھی خدا کا فضل ہے ۔ا س سے پہلے حضور نے حقیقۃ الوحی میں رحمت اللہ سبزی فروش احمدی ہی لکھا ہے سب خدا کے فضل و کرم سے ہے۔
    اب میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز حضرت صاحبزادگان سیدنا مرزا بشیر احمد صاحب و مرزا شریف احمد صاحب حضرت ام المومنین مدظلہا تعالیٰ کی خدمت مبارک میں خاتمہ بالخیر کے لئے دعا کا خواستگار ہوں۔ نیز میرے بعد بھی اور اب بھی جو میرے مکرم معظم بزرگان سلسلہ عالیہ احمدیہ عاجز کا ٹوٹا پھوٹا مضمون پڑھیں۔ تو میرے خاتمہ بالخیر کے لئے نیز بعد میں خاکسار کی مغفرت کے لئے دعائوں سے امداد فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔ نیز خاکسار کے بیوی بچوں کے لئے بھی دعا فرما ویں۔ کہ یہ سب خادم دین۔ نیک ۔ متقی ۔ صالح ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کا حافظ و ناصر رہے۔ آج کل عاجز کے دو بچے عزیز ہدایت اللہ احمدی۔ عطاء اللہ احمدی جو میٹرک فسٹ ڈویژن میں پاس ہو چکے ہیں دہلی میں امیدوار ہیں سو ان کی مستقل ملازمتوں کے لئے دینی و دنیوی ترقی کے لئے دعائیں فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔
    وآخر دعونا الحمد للہ رب العالمین
    والسلام
    خاکسار
    رحمت اللہ باغانوالہ احمدی
    پریذیڈنٹ انجمن احمدیہ بنگہ ضلع جالندھر
    بقلم خود ۳۸-۰۷-۰۷



    روایات
    میاں نظام الدین صاحب سیکرٹری انجمن احمدیہ
    سکنہ نیگری ڈاکخانہ خاص براستہ پھرالہ تحصیل نواں شہر ضلع جالندھر
    خاکسار ۱۹۰۰ء میں اہلحدیث تھا۔ ہمارے گائوں میں چوہدری نواب خان صاحب غالباً ۱۹۰۱ء میں احمدی ہوئے تھے۔ وہ بھی پہلے اہلحدیث تھے۔ جس وقت چوہدری نواب خان احمدی ہو گئے تو ہمارا آپس میں بحث مباحثہ ہوتا رہا وہ بیچارہ بے علم تھا جس وقت ہم سوال کرتے وہ پیادہ بنگہ سے ہمارے سوالوں کا جواب لاتے ۔ آخر جس وقت ہماری ایک سال کے بعد تسلی ہو گئی تو بندہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بذریعہ خط بیعت کر لی۔ یہ واقعہ ۱۹۰۳ء کا ہے۔ پھر غالباً ۱۹۰۴ء میں ایک شخص محمد اسماعیل صاحب کو ساتھ لے کر ایک رات راستہ میں گزار کر پاپیادہ قادیان پہنچے۔ قادیان شریف ہم قریباً دن کے گیارہ بجے پہنچے۔ ہم سے ایک آدمی نے دریافت کیا شاید وہ غیر احمدی ہونگے؟ پوچھا کہ خاکساران نے مرزا صاحب کے پاس جانا ہے۔ اس نے کہا کہ آگے یہ جو مکان نظر آتے ہیں سب مرزا صاحب کے ہیں اور آگے جو سفید کپڑوں والے آدمی نظر آئیں گے سب مرزائی ہیں۔ جس وقت آگے چلے تو ہم کو وہی آدمی ملے کیونکہ مہمان خانہ اور لنگرخانہ کا کوئی علم نہ تھا۔ ان سے دریافت کیا کہ مرزا صاحب کو ملنا ہے انہوں نے بڑی محبت سے پوچھا کہ تم نے روٹی کھالی ہے ۔ ہم نے کہا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تم یوں کہو کہ ہم حضرت صاحب کے مہمان ہیں یہ راستہ لنگرخانہ کو جاتا ہے‘ پہلے روٹی کھائو‘ پھر لنگرخانہ بند ہو جائے گا ۔جس وقت ہم لنگرخانہ گئے ہم کو راستہ میں روٹی نہ ملنے کی وجہ سے بہت بھوک لگی ہوئی تھی ۔ منشاء کے مطابق کھانا تھا۔ ہم نے بڑی تسلی سے روٹی کھائی۔ گویا کہ عمر میں ایسی لذت کا کھانا کبھی نہ کھایا تھا۔ روٹی کھانے کے بعد ہم مہمان خانہ کو چلے گئے۔ مہمان خانہ اس وقت بہت چھوٹا سا تھا۔ جو مہمان آتے وہ چارپائی پر کوئی کپڑا وغیرہ رکھ جاتے پھر اس چارپائی کو کوئی نہ اٹھاتا۔ ہم ایک گھنٹہ وہاں بیٹھے رہے پھر مسجد مبارک میں اذان ہو گئی ۔ اذان ہوتے ہی ہم مسجد شریف میں پہنچ گئے ۔ جس وقت ہم مسجد میں پہنچے تو بعد میں مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم تشریف لائے۔ جس وقت مولوی عبدالکریم صاحب دیکھے تو ہم دونوں آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ یہی مرزا صاحب ہیں۔ مولوی صاحب ایک لڑکے کو قرآن شریف بلند آواز اور خوش الحانی سے پڑھانے لگے۔ اور فرمانے لگے کہ اس طرح پڑھو۔ پھر ایک گھنٹہ تک مسجد مبارک بھر گئی۔ اس وقت مسجد مبارک میں چھ آدمی قطار میں بڑی مشکل سے کھڑے ہو سکتے تھے۔ سنتیں پڑھ کر ہر ایک آدمی بیٹھتا جاتا تھا۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک تاکی کے راستہ سے جو بائیں طرف تھی تشریف لائے تو سب آدمی اٹھ کر کھڑے ہو گئے ۔ بہت جلد تکبیر شروع ہو گئی نماز مولوی عبدالکریم صاحب نے پڑھائی۔ اور حضرت صاحب نے دائیں طرف کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد جس وقت پیچھے کو دیکھا کہ حضرت نواب صاحب محمد علی خاں رئیس مالیر کوٹلہ جیسے جگہ نہ ہونے کے سبب ہمارے جوتوں کی جگہ نماز گزار رہے تھے ۔ گویا کہ چھوٹا بڑا سب ایک ہی ہیں جس جگہ کوئی کھڑا ہو گیا کوئی ہلا نہ سکتا تھا۔ پھر ہم نے اونچی آواز سے کہا کہ حضور ہم نے بیعت کرنی ہے۔ حضرت صاحب نے جواب دیا۔ابھی ٹھہرو دیکھو۔ پھر ہم واپس مہمان خانہ آگئے۔ دو یوم باجماعت نماز پڑھتے رہے۔ تیسرے روز جمعہ تھا۔ مولوی عبدالکریم صاحب نے خطبہ عربی میں پڑھا۔ نمازکے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا ۔ مولوی صاحب ؟ مولوی صاحب نورالدین خلیفہ اول ؓ تیسری سطر سے اٹھ کر حاضر ہوئے کہا حضور ؟ آپ نے ارشاد فرمایا مجھ کو وحی ہوئی ہے کہ ’’ روحانی عالم کا دروازہ تم پر کھل گیا ہے‘‘ ۔جس پر حضرت خلیفہ وقت فرمانے لگے حضور مبارک ہو۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیٹھ گئے ہم نے آنجناب سے عرض کی کہ حضور بہت آدمی بیعت کے لئے چند روز سے آئے ہوئے ہیں۔ حضور نے فرمایا کر لیویں چونکہ خاکسار پہلے تھا اس لئے خاکسار عاجز نے اپنا دائیاں ہاتھ حضور پر نورکے دائیں ہاتھ پر رکھا اور آدمی میری پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئے ۔ حضور شرائط بیعت پڑھاتے جاتے تھے۔ ہم پڑھتے جاتے تھے ۔ بیعت کرنے کے بعد اور آدمی چلے گئے تھے بعد نماز مغرب ہم تینوں محمد اسماعیل صاحب اور نواب خاں صاحب جو اسی روز قادیان شریف آئے تھے بیٹھے رہے۔ بعد میں ہم نے حضور خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ حضور سفر میں کتنی منزل طے کرنے کے بعد نماز میں کسر کرنی چاہئے تو مولوی صاحب بڑی محبت سے ہمارے پاس آبیٹھے اور فرمانے لگے سفر میں جس کو آپ پنجابی میں وانڈہ کہتے ہو یعنی جبکہ وانڈے جاویں اور اپنا گھر نظر نہ آوے اس جگہ نماز میں کسر کرنی چاہئے آنجناب اس مسئلہ کو اس طرح سمجھا رہے تھے جیسے خاکساران ناواقف ہیں۔ یہ مسئلہ حضور کی زبانی ہم نے خود سنا تھا۔
    مولوی کریم بخش صاحب سکنہ بنگہ فرماتے تھے۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے ابھی مسیحیت کا دعویٰ بھی نہ کیا تھا اور لوگوں میں چرچا ہو گیا تھا کہ یہ آدمی کوئی ولی اللہ اور مجدد وقت ہوں گے ۔ یہ بات سننے پر میں قادیان شریف گیا۔ اور ایک آدمی سکنہ پھگواڑہ اپنے ہمراہ تھا۔ جس دن قادیان شریف پہنچے اس دن رمضان شریف کا چاند نظر آیا۔ رات کا کھانا نوکر لایا۔ ہم نے کھا لیا۔ سحری کا کھانا نہ ہم نے کھایا اور نہ نوکر لایا۔ سو بندہ نے بغیر کھانے کے روزہ رکھ لیا اور دوسرے آدمی نے نہ رکھا۔ معلوم ہونے پر کہ حضور بٹالہ تشریف لے گئے ہیں ہم صبح ہی بٹالہ روانہ ہو گئے ۔ جس وقت بٹالہ حضور کے پاس پہنچے۔ تو دیکھا کہ بہت سے آدمی حضور پر نور کے پاس بیٹھے ہیں اور مولوی محمد حسین بٹالوی کھڑے ہیں جا کر سلام علیک عرض کیا حضور نے اسی وقت نوکر سے کہا کہ ان کو نانبائی کی دکان پر لے جائو اور کھانا کھانے کے بعد باتیں کریں گے اس پر میں نے کہا حضور مجھ کو روزہ ہے اس آدمی کو روزہ نہیں ہے۔ اس کو کھانا کھلا دیویں حضور نے ارشاد فرمایا ’’آپ نے کیوں روزہ رکھا ہے ‘‘میں باوجود مولوی ہونے کے سوچتا تھا کہ کیا جواب دوں۔ میں ابھی بولا بھی نہ تھا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی کہنے لگے کہ خیر جی روزہ رکھ لیا تو کوئی حرج نہیں۔ اس پر حضور نے فرمایا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں تو خیر کا لفظ نہیں فرمایا صاف لفظوں میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اور دنوں میں گنتی پوری کرو‘‘۔ اس پر مولوی صاحب چپ ہو گئے ۔میں سمجھ گیا کہ یہ شخص اس زمانہ میں کچھ نہ کچھ بنے گا۔ یہ روایت مولوی کریم بخش بنگہ کی زبانی سنی تھی۔ حلفیہ ہے۔
    نواب خاں احمدی سکنہ نیگری فرماتے تھے کہ جس وقت میں احمدی ہوا تو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ حضور میں اکیلا ہی گائوں میں احمدی ہوں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ’’ مومن اکیلا نہیں رہ سکتا آپ دعائیں کریں۔ اور حضور علیہ السلام نے حکم دیا کہ اس کو کشتی نوح دے دی جاوے‘‘۔ اسی وقت کشتی نوح دے دی گئی۔ یہ تحفہ بہت عرصہ رہا۔ اس سے بڑی محبت سے پڑھا کر سنتے رہے۔ اور لوگوں کو سناتے رہے۔ ایک دفعہ موضع کرور ضلع ہوشیار پور سے ایک آدمی ابراہیم خان نیگری مہمان آیا۔ اس کی چار بہنیں نیگری بیاہی ہوئی تھیں۔ انہوں نے نواب خاں سے کہا کہ چوہدری صاحب یہ کتاب پڑھنے کے لئے مجھے دے دیویں۔ ان کے بہت اصرار کرنے کے بعد نواب خاں صاحب نے ان کو کتاب کشتی نوح چند روز کے لئے دے دی۔ ابراہیم خاں کتاب لے کر کرور ضلع ہوشیارپور پہنچ گئے۔ جس وقت وہاں کے ملوں اور قاضیوں نے یہ کتاب پڑھی تو ان کے دلوں کو آگ لگ گئی۔ انہوں نے ابراہیم خاں کی رضامندی لے کر یہ کتاب جلا دی۔ اور کہا یہ کتاب بہت بری ہے اس کا اثر گائوں میں بہت برا پڑے گا۔
    کتاب مقدس کا جلانا ہی تھا کہ ایک اجنبی آدمی موضع کرور ضلع ہوشیار پور چلا گیا اور ابراہیم خاں ولد شیر جنگ خان سے کہنے لگا کہ سردار خان آپ کا داماد نیگری بستر مرگ پر پڑا ہے اس کا منہ دیکھنا ہے تو دیکھ لیویں۔ شیر جنگ اپنے داماد کی یہ خبر سنتے ہی بے چین ہو گئے اور اس اجنبی آدمی سے کہنے لگے کہ تم کون ہو اس نے کہا کہ میں بروالہ ہوں۔ تو چوہدری شیر جنگ خان کہنے لگے میں نیگری کے ہر ایک آدمی کو جانتا ہوں۔ اور تم کو میں نے نیگری کبھی نہیں دیکھا۔ اور نہ تم نیگری کے ہو بہت اصرار کے بعد چوہدری صاحب کہنے لگے اچھا کوئی نہیں اور روٹی کے لئے کہا تو اجنبی نے جواب دیا کہ میں روٹی نہیں کھاتا اس پر چوہدری صاحب اور وہ اجنبی دونوں نیگری کو روانہ ہوئے۔ ابھی آدھی منزل طے ہوئی تھی کہ وہ اجنبی کہنے لگا میں نے پاخانہ جانا ہے آپ یہاں ٹھہریں اس پر چوہدری صاحب دو تین گھنٹے کے بعد اور آوازیں دینے کے بعد جب نیگری نہ آیا تو چلے گئے۔ وہ اجنبی سکنہ محالوں متصل نواشہر چلا گیا جس جگہ کہ سردار خان شیر جنگ کے داماد کی رشتہ داری تھی۔ جا کر ان سے کہنے لگا کہ تم آرام سے بیٹھے ہو سردار خان نیگری والا سخت بیمار ہے جاکر ان کی خبر لے لیویں۔ پھر اسی روز بغیر روٹی کھانے کے سکنہ محالوں سے منگل دریا سے پار پہنچ گئے جس جگہ کہ چوہدری شیر خان بیاہے ہوئے تھے ۔ ان سے کہنے لگا کہ شیر جنگ خاں صاحب مر گیا ہے۔ یہ خبر سنتے ہی عورتیں پیٹنے لگ گئیں۔ اور مرد کرور پہنچنے کی تیاری کرنے لگے ‘اور اجنبی آدمی سے کہا کہ روٹی کھائو اس نے جواب دیا کہ مجھ کو بھوک نہیں ہے اور میں نے اب ہی چلے جانا ہے۔ منگل والوں نے دریافت کیا کہ تم کون ہو اس نے جواب دیا کہ میںکرور کا کمہار ہوں۔ انہوں نے کہا ہم کرور کے تمام کمہاروں کو جانتے ہیں اور تم کو کبھی نہیں دیکھا ۔اس پر ان کو شک پڑ گئی۔ بہت اصرار کے بعد مان گئے۔ منگل والوں نے کہا کہ کل ہم اکٹھے چلیں گے۔ اجنبی آدمی نے کہا کہ میں نے اب ہی چلے جانا ہے۔
    جتنی منزل ایک دن میں اس اجنبی آدمی نے کی ہے اتنی کوئی آدمی منزل نہیں کر سکتا۔ خیر منگل والے سکنہ کرور پہنچ گئے اور سکنہ کرور والے منگل ‘محالوں والے سکنہ نیگری پہنچ گئے ان سب گائوں میں ہل چل مچ گئی اور حیران ہو گئے کہ کیا ہوا سکنہ کرور اورنیگری رونے پیٹنے کے بعد دریافت کیا گیا سب خیریت ہے اور اجنبی آدمی کی تصدیق کی گئی سب نے کہا کہ ایسا اجنبی آدمی ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس کے سر پر ٹسری پگڑی تھی۔ پھر ابھی شیر جنگ خان نیگری ہی تھا کہ دوسرے روز بیمار ہو کر تیسرے روز فوت ہو گیا۔ اس کے قریبی بھی اور اس کا لڑکا ابراہیم خاں اس کی لاش کرور لے گیا اور چند روز کے بعد ہی شیر جنگ کا دوسرا لڑکا بیمار ہو کر مر گیا۔ اور چند ماہ کے بعد اس کا داماد مولا بخش‘ حقیقی بھائی سردار خاں نیگری والا فوت ہو گیا۔ جس وقت یکدم یہ موت کا سلسلہ شروع ہو گیا تو ڈر کے مارے ابراہیم ولد شیر جنگ خان ‘چوہدری نواب خان احمدی سے معافی کے لئے نیگری آیا تو معافی مانگی اور کہنے لگا کہ مجھ سے غلطی ہو گئی تو نواب خان نے کہا کہ میں کیا معافی دے سکتا ہوں اللہ معاف کرے۔ شیر جنگ خان کا خاندان نیست و نابود ہو گیا اور ابراہیم خاں ملک جاوا میں ایک مہلک مرض میں مبتلا ہو گیا ہے۔
    یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا معجزہ ہے جس کو ان گائوں کا ہر ایک فرد جانتا ہے جس کو شک ہو وہ تصدیق کر سکتا ہے ۔
    روایت یعنی تصدیق غیر احمدیاں موضع نیگری
    (۱) سردار خان سکنہ نیگری (۲) نواب خان ولد موجے خان نیگری
    (۳) اللہ بخش سکنہ نیگری (۴) صوبے خان نمبردار نیگری
    (۵) مولیٰ بخش (۶) جنت بی بی دختر شیر جنگ
    (۷) حسن بی بی دختر شیر جنگ
    احمدی صاحبان
    نواب خان صاحب مرحوم۔
    غلام قادر خان۔
    نظام الدین سیکرٹری سکنہ نیگری۔









    روایات
    ڈاکٹر سلطان علی صاحب
    تحریر کردہ چوہدی محمد شریف صاحب بی ۔ اے۔ نیروبی
    میں نے ۱۸۸۹ء میں ممباسہ (مشرقی افریقہ) سے حضرت مسیح موعود ؑ کی بیعت بذریعہ خط کی۔ میری بیعت کے خط کے جواب میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب کا خط آیا تھا۔ جس میں انہوں نے استغفار پڑھنے کی تاکید کی تھی۔
    ۱۹۰۱ء میں میں قادیان گیا اور بوقت نماز مغرب قادیان مسجد مبارک میں پہنچا جو اس وقت چھوٹی سی تھی۔ مغرب کے بعد میرے ایک دوست نے جو ہم وطن بھی تھے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ افریقہ سے آئے ہیں اور چند سال ہوئے کہ انہوں نے حضور علیہ السلام کی بیعت کی تھی۔ حضور نے مجھ سے افریقہ کے احمدی دوستوں کے حالات دریافت فرمائے۔ پھر ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی اور میرے ساتھی کو تاکید کی کہ کھانے اور بستر وغیرہ کا خیال رکھیں۔ جب ہم رات کو مہمان خانہ میں سوئے تو ایک صاحب دودھ لائے اور فرمایا کہ حضرت صاحب نے آپ کے لئے بھیجا ہے۔
    دوسرے دن فجر کی نماز کے بعد میرے ساتھی نے عرض کیا کہ یہ واپس جانا چاہتے ہیں کیونکہ رخصت بالکل تھوڑی تھی۔ حضور نے اجازت عطا فرمائی۔ اور جماعت کے احباب کو السلام علیکم کہنے کا ارشاد فرمایا۔


    روایات
    چوہدری بشیر احمد صاحب ولد چوہدری غلام احمد صاحب بی ۔ اے
    سکنہ چہور کاہلواں تحصیل پسرور ضلع سیالکوٹ حال ایڈیشنل جج مطالبہ خفیفہ دہلی۔
    پیدائشی احمدی تخمیناً ۱۸۹۹ء یا ۱۹۰۰ء سن زیارت ۱۹۰۵ء یا ۱۹۰۶ء
    میں اپنے والد صاحب مرحوم ‘والدہ صاحبہ مرحومہ و دادی صاحبہ مرحومہ کے ساتھ قادیان آیا تھا۔ میرے والد صاحب‘ میری والدہ صاحبہو دادی صاحبہکو بیعت کرانے کے لئے اس موقعہ پر قادیان آئے تھے جس وقت میری والدہ صاحبہاور دادی صاحبہنے بیعت کی ہے میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا۔ حضور کا لباس تقریباً وہی تھا جو فوٹو میں ہے۔ بیعت لیتے وقت حضور پنڈلی پر ہاتھ پھیرتے تھے۔ اس موقع پر حضور نے زنان خانہ میں ہی شام کی نماز کرائی تھی جس میں مستورات کے ہمراہ میں بھی شامل ہوا تھا۔ نماز ایک بڑے تخت پوش پر کرائی تھی۔
    پچھلے پہر کا وقت تھا کہ میں اپنی والدہ صاحبہاور دادی صاحبہکے ہمراہ حضور کے مکان میں تھا اس وقت حضور ٹہل رہے تھے۔




    روایات
    حکیم دین محمد صاحب سکنہ قادیان محلہ دارالرحمت حال کراچی
    تحریر کردہ خاکسار عبدالقادر مؤلف روایات صحابہ برحکام کراچی۔۳۸-۰۶-۱۳
    کل مورخہ ۳۸-۰۶-۱۲ کو قریباً ۱۰ بجے صبح جناب حکیم دین محمد صاحب نے خاکسار سے بیان فرمایا کہ جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جنازہ لاہور سے اٹھایا گیا اور ریل گاڑی کے ذریعہ حضور کا جسداطہر بٹالہ پہنچا تو چونکہ جنازہ رات کی گاڑی سے پہنچا تھا اس لئے رات وہیں پلیٹ فارم پر ہی رکھا گیا۔ دوسرے روز علی الصبح نمازیں پڑھ کر جسم مبارک بکس سے نکال کر ایک چارپائی پر رکھا گیا اورساتھ بانس باندھ لئے گئے اور وہاں سے کندھوں پر اٹھا کر ہم لوگوں نے قادیان کا رخ کیا۔ قادیان والوں کو چونکہ اطلاع مل چکی تھی اس لئے وہ بھی نہر تک پہنچے ہوئے تھے۔ نہر سے جنازہ انہوں نے اٹھایا اور دارلامان تک پہنچایا قادیان پہنچتے قریباً ۹-۱۰ بج چکے تھے چونکہ تمام لوگ جو لاہور سے جنازہ کے ساتھ آئے تھے ان کو کھانا کھائے قریباً ۲۴ گھنٹے گزر چکے تھے اس لئے حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفۃ المسیح اول ؓ نے فرمایا کہ جنازہ کو باغ والے مکان میں رکھ دو اور منہ کھلا رکھو تا تمام لوگ زیارت کر لیں اور جو ساتھ آئے ہیں وہ تمام لنگرخانہ چلیں۔ لنگرخانہ والوں کو کھانا تیار کرنے کا حکم دے دیا گیا ۔ تمام لوگوں نے کھانا کھایا اور پھر تیسرے پہر حضور کا جسداطہر سپرد خاک کیا گیا ان للہ وانا الیہ راجعون۔
    قبر پر دعا کرنے کے بعد جب ہم قادیان کو چلنے لگے تو حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفۃ المسیح الاول ؓ اس قدر کمزور ہوئے ہوئے تھے کہ ایک ہاتھ میرے کندھے پر اور ایک چوہدری فتح محمد صاحب سیال کے کندھے پر رکھ کر چل رہے تھے رستہ میں آپ نے فرمایا کہ آج کے واقع (انتخاب خلافت) سے پتہ لگتا ہے کہ شیعہ جھوٹے ہیں جو کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے موقعہ پر صحابہ نے اختلاف کیا تھا۔

    روایات
    خان زادہ امیر اللہ خان صاحب
    موضع و ڈاکخانہ اسماعیلیہ سب آفس کالوخاں ضلع مردان
    کمترین نے ۱۹۰۴ء میں بذریعہ خط مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بیعت کا شرف حاصل کیا تھا۔ یہ یاد نہیں رہا کہ ۱۹۰۵ء یا ۱۹۰۶ء میں یہ عاجز بہمراہی خان بہادر غلام حسن خان صاحب پشاوری جلسہ سالانہ پر دارلامان قادیان گیا تھا۔ خان بہادر غلام حسن خان صاحب کی لڑکی جو جناب صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی بیوی ہیں وہ بھی بمع اپنی والدہ اس سفر میں دارالامان قادیان واپس اپنے گھر جارہی تھیں الغرض جب ہم بٹالہ سٹیشن پر پہنچے بوقت دن دوپہر کو تو قادیان سے بیل گاڑی (رتھ)صاحبزادہ صاحب کی بیوی کے لئے اسٹیشن پر موجود تھا۔ صاحبزادہ صاحب موصوف کی بیوی بمع اپنی والدہ (رتھ) بیل گاڑی میں قادیان روانہ ہوئیں اور یہ عاجز بمع خان بہادر غلام حسن خان پشاوری یکہ پر جس میں چار آدمی بمشکل سختی سے بیٹھ سکتے تھے قادیان روانہ ہو گئے۔ سورج غروب ہونے کو تھا جبکہ ہم دارالامان پہنچ گئے۔ الحمد للہ ثم الحمد للہ ثم الحمد للہ رب العالمین-
    مسجد مبارک کے نیچے کے کمرہ میں ہم کو ڈیرہ دیا گیا۔ صبح کی نماز کے بعد غلام حسن خان صاحب اور پشاور کے احمدی جب اپنے کمرہ میں آبیٹھے تو غلام حسن خان صاحب کے ساتھ مولوی یا حکیم فضل دین صاحب مرحوم چارپائی پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ اتنے میں مفتی محمد صادق صاحب خراماں خراماں تشریف لائے اور غلام حسن خان صاحب سے مخاطب ہوئے اور پورے بلند آواز سے کہا کہ آج رات کو حضرت صاحب کو الہام ہوا ’’یاایھا النبی اطعموا الجائع والمعتر‘‘۔ ہم جتنے آدمی کمرے میں بیٹھے تھے سن رہے تھے خبر نہیںغلام حسن خان صاحب نبوت سے کیوں انکار کرتے ہیں۔ استغفراللہ۔ استغفراللہ ۔ استغفراللہ مفتی محمد صادق صاحب فرمانے لگے حضرت صاحب نے اسی وقت ناظر ضیافت کو بلایا کہ سب کمروں میں پھرو کوئی مہمان بھوکا رہا ہے۔ خدائے تعالیٰ کو اپنے مہمانوں کا کتنا فکر ہے ۔ یہ مسیح موعود کے مہمان خدا کے مہمان ہیں سبحان اللہ! خدائے تعالیٰ کو ان مہمانوں کی خاطر ومدار کا کتنا فکر ہے۔ اس کے ایک گھنٹہ بعد جناب خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم ہمارے کمرے میں خوش خوش داخل ہوئے کہا کہ میں نے جناب حضرت مسیح موعود صاحب سے خاص کر پشاور و مردان کی جماعت کی ملاقات کی اجازت حاصل کی ہے۔ اٹھو۔ حضرت مسیح موعودصاحب سے ملاقات کر لو۔ چنانچہ ہم سب پشاور مردان کی جماعت حضرت صاحب کی خدمت میں دارالبرکات یا بیت الدعا کا کمرہ تھا حاضر ہوئے۔ مسیح علیہ السلام نے مہندی لگائی ہوئی تھی ۔ حضرت صاحب سے پہلے کچھ باتیں ہوئیں اس کے بعد بیعت لیا گیا۔ میں اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکریہ ادا کرتا ہوں کہ سب سے پہلے مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ میں میرا ہاتھ مولا کریم نے دے دیا۔ الحمد للہ ۔ الحمد للہ ۔ الحمد للہ۔ ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب- آمین یا رب العالمین
    میرے ہاتھ پر اور کندھوں پر اور بھائیوں نے ہاتھ رکھ کر بیعت کی میں کیسا خوش قسمت ہوں۔ مولا کریم مجھ کو اپنے بھائیوں سمیت مرنے تک مسیح ؑ کی پاک بیعت کی پاک شرائط پر کاربند رکھے۔ اللھم آمین۔ الغرض جلسہ سالانہ مسجد اقصیٰ میں تھا جس میں قریباً پانچصد آدمی حاضر تھے۔ حضرت صاحب نے بہت خوشی ظاہر کی۔ مسجد کے جنوبی جانب آریہ نے اپنے کوٹھے پر چڑھ کر احمدیوں کو بہت برا بھلا کہا اور اپنے کوٹھے سے سب کو نیچے اتارا۔ مسیح علیہ السلام نے ہاتھ اوپر اٹھا کر کہا۔ چپ رہو۔ الغرض حضرت صاحب نے دوران تقریر میں کہا کہ شاہی خیمہ کے پاس کسی بدمعاش کا خیمہ قائم نہیں رہتا۔ الغرض تقریر میں کچھ ایسا جذبہ تھا کہ میں خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ اس وقت کا موجود جارج شاہ برطانیہ کو میں اپنے گھر کے کتے کے برابر حیثیت نہیں دیتا تھا۔ غرض جب جلسہ ختم ہوا پشاور و مردان کے احباب واپس گھر روانہ ہوئے۔
    میں نے گھر سے جاتے وقت دل میں یہ عہد کیا تھا کہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے خلوت میں ملوں گا چنانچہ جب پشاور و مردان کی جماعتیں گھروں کو جلسے کے بعد واپس ہوئیں تو میں صبح دس بجے کے قریب مسجد مبارک میں کھڑکی کے پاس بیٹھ گیا اور کھڑکی کھٹکھٹائی۔ کہ مردان کی جماعت کا ایک غریب شخص حضور سے ملنا چاہتا ہے ۔ چنانچہ خادمہ حضرت صاحب کے پاس جا کر مجھے واپس آکر کہنے لگی کہ کھڑکی کے اندر آئو۔ جب میں مسجد مبارک کی کھڑکی سے دروازہ مسیح ؑ کے گھر میں داخل ہوا تو دیکھا مسیح کے گھر کا دروازہ روبہ مشرق تھا۔ دروازہ کے شمال کی طرف ایک چارپائی پڑی تھی۔جس میں روبہ مغرب حضرت صاحب بیٹھے تھے اور پائوں زمین پر تھے۔ شمالی جانب تخت پوش نماز کا تھا۔ اور مغربی چارپائی پر دو احمدی مجھ سے پہلے حضرت صاحب نے بلائے تھے۔ مجھے حضرت صاحب نے اپنے ساتھ چارپائی پر پائنتی کی طرف بٹھا لیا میں چپکا بیٹھا رہا۔ حضرت صاحب اور ان دو احمدیوں کی آپس میں باتیں ہو رہی تھیں۔ وہ احمدی کہتا تھا کسی غیر احمدی کی بابت۔ کہ حضور وہ منافق ہے۔ حضرت صاحب فرمانے لگے نہیں نہیں تم اس کے لئے کم از کم چالیس رات دعائیں کرو۔ اور صدقہ کرو۔ اللہ تعالیٰ وہ (غیر حاضر شخص) ہمیں دے گا نا امید مت ہو۔ وہ ہر دو احمدی میں نہ جانتا تھا کہ کون اور کہاں کے ہیں۔ اس کے بعد حضرت صاحب مجھ کو مخاطب ہوئے اور فرمانے لگے آپ کو کچھ کہنا ہے ۔ میں نے ان احمدیوں سے شرم کے مارے حضرت صاحب کے کان کے نزدیک ہو کر عرض کیا کہ حضور میں اپنی بیوی سے تنگ ہوں ‘ ناراض ہوں۔ حضرت صاحب مجھے فرمانے لگے میں دعا کروں گا۔ تم بھی دعا کرو۔ خفا نہ ہونا۔ اللہ تعالیٰ اصلاح کرے گا۔ پھر ہم تینوں کو حضرت صاحب نے ان احمدیوں کے کہنے پر اس کھڑکی مسجد مبارک کے راستہ رخصت کر دیا۔ چنانچہ میں رخصت ہو کر گھر پہنچا مجھے یاد نہیں کہ اس سال یا دوسرے سال میری بیوی نے شرح صدر سے بذریعہ خط بیعت کی۔ الحمد للہ۔ جو تہجد گزار ہے اور ہم خوب محبت سے آپس میں خدا کی یاد میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ الحمد للہ
    پھر دوسری دفعہ حضرت صاحب کی زندگی میں جناب خواجہ کمال الدین صاحب و مولوی محمد علی صاحب غیر مبائع مردان تشریف لائے تھے اور کہتے تھے کہ ریونیو کمشنر یا فنانشل کمشنر قادیان آرہے ہیں۔ چنانچہ سرحد کے معزز احمدی احباب قادیان پہنچ جائیں چنانچہ مجھے بھی حکم ملا کہ تم نے بھی قادیان جانا ہے۔ مجھے وہ سن اور تاریخ یاد نہیں رہا چنانچہ میں بھی قادیان پہنچ گیا اور صبح کے وقت حضرت صاحب نے قادیان سے شمالی جانب وہ پیپل کا درخت جو ہائی سکول کے جانے کے رستہ پر واقع ہے سب احباب کو دیدار اور مصافحہ کا شرف بخشا۔ جس میں یہ عاجز بھی شامل تھا۔ الحمد للہ۔ دوسرے دن وہ ریونیو کمشنر صبح کے وقت اس پیپل کے شمالی جانب جبکہ سب حاضرین قادیان کے احباب کو ایک انتظام کے ماتحت کھڑا کیا تھا۔ تشریف لائے۔ اور خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز ان کے ساتھ گھوڑے پر سوار تھے۔ کچھ اور سوار بھی تھے ہم سب کو صاحب سے پورا پورا انٹرڈیوس (Introduce)کرایا گیا۔ پھر صاحب بہادر شاید قادیان کے اندر تشریف لے گئے۔ غرض میں دو دفعہ حضرت مسیح موعود ومہدی موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں قادیان گیا تھا۔ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود صاحب سے دعا مانگی تھی بذریعہ خط۔ ایک دفعہ ہمارے ساتھ ہمارے چچیرے بھائی کی لڑائی شروع ہوئی اور یہاں تک نوبت پہنچی کہ یا ہم لڑائی میں زخمی اور مریں گے یا ہمارا چچیرا بھائی۔ غرض میں نے حضرت صاحب کو مفصل خط لکھ کر دعا کے لئے عرض کی۔ حضرت صاحب نے دعا کی اور مجھے لکھا۔ دعا کی گئی ہے تم بھی دعا کرو کلمہ تمجید۔ درود۔ استغفار بہت بہت روز مرہ پڑھا کرو۔ چنانچہ خط کے واپسی جواب پر قدرت خداوند عین دوران مقدمہ فوجداری میں ہفتہ عشرہ کے اندر اندر ہمارا چچیرا بھائی راہ ملک عدم ہوا۔ اور ہمیں آرام ملا۔ الحمد للہ ۔ الحمدللہ۔ الحمد للہ غرض وہ نہایت ہی مبارک زمانہ تھا۔
    خواب کی باتیں حضرت مسیح موعود سے جبکہ میں قادیان گیا نہ تھا۔ دن کے وقت میں نے خواب میں دیکھا کہ ہم تین احمدی یہ عاجز امیر اللہ احمدی و بابو عالمگیر خاں مرحوم و غیر مبائع دلاور خان روبہ جنوب قطار میں کھڑے ہیں۔ ہمارے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام و خلیفہ اول نورالدین علیہ الرحمۃ روبہ شمال کھڑے ہیں مسیح علیہ السلام نے ہاتھ بڑھا کر میرے سینہ کی طرف انگلی کر کے خلیفہ اول رضی عنہ کو فرمایا یہ جنتی ہے ۔ پھر دوسرے احمدی کی طرف انگلی سے اشارہ کر کے…… یہ بھی۔ تیسرے کی نسبت کچھ نہ کہا۔ چونکہ مسیح موعود کی طرف میں ٹکٹکی لگائے ہوئے تھا۔ میں تمیز نہ کر سکا کہ ہر دو احمدیوں میں سے مسیح موعود کا اشارہ کس کو تھا۔ اس کے بعد نظارہ اچانک بدل گیا دیکھتا ہوں کہ ہم چار احمدی ایک یہ راقم اور مولوی عطاء اللہ مرحوم ۔ عالمگیر خان۔ غیر مبائع دلاور خان اکٹھے بیٹھے ہیں۔ جس طرح روٹی کھانے کے لئے بیٹھتے ہیں۔ ہم آپس میں کہتے ہیں کوئی کہتا ہے میں باز ہوں کوئی کہتا ہے میں کائوس ہوں۔ ایک کہتا ہے میں کبوتر ہوں۔ دوسرا کہتا ہے میں چکور ہوں۔ اتنے میں خلیفہ اول ؓ تشریف لائے۔ فرمایا تم اس کے لئے نہیں پیدا ہوئے۔ کہ میں باز ہوں کائوس ہوں کبوتر ہوں۔ چکور ہوں۔ کہو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ تیسرا کلمہ پڑھنے پر میں بیدار ہوا خواب سے۔ وقت ظہر کا تھا۔ ایک بالشت بھر سایہ دیوار کا تھا۔ جب اگلے سال میں قادیان گیا تو وہی حلیہ خواب میںمسیح کا اور خلیفہ اول کا پایا ۔ الحمد للہ
    دوسرا خواب قادیان میں خلیفہ اول ؓ کے خلافت کے زمانہ میں ۲۲ دن زیر علاج خلیفہ اول رضی اللہ عنہ حکیم الامت ۔ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم و ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور دو اور احمدی ڈاکٹروں سے میری تشخیص کرائی۔ انہوں نے اپریشن کا مشورہ دیا۔ میں خوش ہوا۔ رات کو مہمان خانہ کے کمرہ میں مسیح موعود علیہ السلام میرے سرہانے کھڑے فرما رہے تھے کہ اپریشن نہیں طاعون ہے۔ اور تعبیر بھی مجھے سمجھایا گیا کہ طاعون بمعنی موت ہے۔ میں نے صبح خلیفہ اول ؓ کو خواب کا ذکر کیا حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔ مسیح موعود ؑ درست فرماتے ہیں۔ اپریشن نہیں چاہئے۔
    تیسری دفعہ اپنے گھر میں خواب دیکھا۔ میں نے دوسرے روز جلسہ سالانہ پر جانے کا ارادہ کیا تھا مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا حامد علی کا بھی خیال رکھنا۔ چنانچہ میں نے جلسہ سالانہ پر قادیان جا کر ایک روپیہ حامد علی صاحب خادم مسیح موعود کو دیا میں نے حامد علی صاحب خادم مسیح موعود ؑ کو لکھا کہ رویاء میں
    مسیح علیہ السلام نے مجھے حکم دیا ہے کہ حامد علی کا بھی خیال رکھنا۔ پس یہ ایک روپیہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔حامد علی صاحب روئے۔ انبیاء کیسے رحیم و کریم ہوتے ہیں۔ اپنے خادم کا بھی انہیں فکر ہے۔ پھر اپنے پیارے بیٹوں کا انہیں فکر نہ ہو گا جو لاہور میں ایک بے شرم اور اس کے ہم خیال مسیح علیہ السلام کے اہل بیت پر ناجائز حملے کرتے ہیں۔ محمد علی لاہوری اور اس کے ہم خیال دشمن خدا و رسول مقبول ﷺ ہیں۔
    ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوہاب-
    آمین یا رب العالمین۔
    خانزادہ امیر اللہ احمدی
    ۳۸-۰۴-۲۵

    روایات
    چوہدری کرم دین صاحب سکنہ کھاریاں ضلع گجرات
    تحریر کردہ چوہدری حاجی ایاز خان بی ۔ اے ۔ ایل ۔ ایل ۔ بی پسر صحابی مذکور از زیچوسلوویکیا
    جب حضرت صاحب کے جہلم آنے کے متعلق افواہ تھی اس وقت تمہاری والدہ (حسین بی بی ) کو خواب میں اللہ تعالیٰ سے معلوم ہوا کہ یہ جو شخص جہلم آنیوالا ہے اور لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں وہ سچا ہے چنانچہ صبح کو تمہاری والدہ نے مجھے کہا کہ یہ بڑی خوش قسمتی ہو گی اگر تم اس پاک مرد (یعنی حضرت مسیح موعودؑ) کی زیارت کرو اور بیعت کرو۔ چنانچہ جس دن حضرت صاحب جہلم پہنچے اس دن کھاریاں اور دوسرے سٹیشنوں پر اس قدر ہجوم ایک دن پہلے سے جمع ہو رہا تھا کہ حضور کو دیکھنے کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔ اس لئے مقدمہ کی تاریخ کے دن تمہاری والدہ نے سحری کے وقت مجھے تازہ روٹی پکا کر دی اور میں کھا کر پیدل جہلم چلا گیا اور کچہری کے احاطہ میں مشکل سے پہنچاکیونکہ لوگ کئی کئی حیلے کر کے حضرت صاحب کی شکل مبارک دیکھنے کے لئے ترس رہے تھے ۔ڈپٹی صاحب کی کوٹھی کے پرے بہت خوبصورت داڑھیوں والے مولوی لوگ وعظ کرتے تھے اور کہہ رہے تھے ۔ ’’ او خلقتے خدا دے او سچا مہدی او سچا مسیح او بڑیاں اڈیکاں والا مسیح او آگیا ہے من لو تے ویلا جے۔ ‘‘ یعنی اے مخلوق خدا وہ سچا مسیح موعود اور مہدی مسعود جس کی مدتوں سے انتظار تھی وہ آگیا ہے اب وقت ہے ۔ اس پر ایمان لائو۔ ہمارے کھاریاں کے احمدی کچھ دن پہلے جہلم چلے گئے ہوئے تھے ۔ کیونکہ وہاں لنگر اور پہرے کا انتظام کرناتھا۔ حضرت صاحب جب ڈپٹی کی کچہری میں داخل ہوئے تو ایک دو منٹ بعد ہی کمرہ سے باہر آگئے اور دھوم مچ گئی کہ آپ بری ہو گئے ہیں اور بگھی میں بیٹھ کر سٹیشن کو حضور چلے گئے۔ میں حیران تھا کہ حضور تک کس طرح رسائی ہو اور بیعت کس طرح کروں۔ چنانچہ معلوم نہیں حضور شہر کی جانب سے ہو کر سٹیشن کو گئے یا دوسرے راستہ کی سڑک سے لیکن میں دوڑ کر سیدھا سٹیشن پہنچا۔ حضور گاڑی میں بیٹھ گئے اور پولیس نے سب آدمیوں کو سٹیشن کے باہر کر دیا۔ جنگلے کے پار جدھر دیکھو جہاں تک نظر جاتی تھی آدم ہی آدم نظر آتا تھا۔ جب پولیس نے ہمیں پلیٹ فارم سے باہر نکالنا چاہا تو میری نظر ایک کانٹے والے یعنی ریلوے پوائنٹس مین پر جا پڑی جس کا نام عبداللہ تھا اور وہ موضع بوڑے جنگل کا رہنے والا تھا اور کبڈی اور کشتی لڑنے میں مشہور تھا۔ اور میرا واقف تھا۔ …… اس کو میں نے کہا کہ کوئی صورت کرو کہ مجھے پولیس باہر نہ نکالے میں نے قریب ہو کر مرزا صاحب کی زیارت کرنی ہے ۔ چنانچہ عبداللہ کانٹے والے نے میرے ہاتھ میں ایک ریلوے جھنڈی دے دی۔ ایک اس کے ہاتھ میں تھی۔ اور ایک دوسری میرے ہاتھ میں اور ہم دونوں اس طرح ٹہلنے لگے جیسے کہ میں بھی ریلوے ملازم ہوں۔ اب صرف چند آدمی تھے اور باقی مخلوق جنگلے کے باہر ۔ میں نے جھنڈی وہیں پھینکی اور جس ڈبہ میں حضرت صاحب تھے اس کی طرف بڑھا حضرت صاحب نے جیب سے گھڑی نکالی اور فرمایا ’’ ابھی تو دس منٹ باقی ہیں آواز دو ’’ جس نے بیعت کرنی ہے کر لو‘‘ بیعت کا لفظ حضور کے منہ میں تھا کہ میں کھڑکی کے سامنے پائیدان پر موجود اور آگے بڑھا۔ ایک مولوی صاحب نے باہر نکل کر بیعت کے لئے لوگوں کو آواز دی۔ اور ابھی آواز کے لئے باہر نکلے تھے کہ میں نے ذرا اور آگے سر جھکایا تو حضرت صاحب نے میری طرف متوجہ ہوتے ہوئے فرمایا ’’ بیعت کرنی ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ۔ ’’ جی صاحب میرے‘‘ چنانچہ حضور نے میرا ہاتھ اپنے دست مبارک میں لے لیا۔ اور کلمہ شہادت پڑھایا۔ اور‘ اور کئی باتیں۔ جیسے شرک نہیں کروں گا سچ بولوں گا۔ وغیرہ جو اب مجھے یاد نہیں …… مگر جب حضور نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور ادھر سے ایک مولوی صاحب کی آواز بیعت کے لئے نکلی۔ تو جو لوگ سٹیشن کے برآمدہ میں تھے یا جنگلہ کے باہر وہ سب ٹوٹ پڑے اور جنگلہ پھاند کر ایک آن میں پلیٹ فارم پر کر دیا۔ اور حضور نے فرمایا ’’ اس کے بازو پر ہاتھ رکھ لو‘‘ مگر یہ تو پہلے چار پانچ آدمیوں نے ہی میری کہنی اور بازو پر ہاتھ رکھے تھے اور اب تو ہجوم تھا۔ حضور نے فرمایا کہ ’’ اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ لو اور جو اس کے پیچھے ہیں وہ اسی طرح ایک دوسرے کے کندھوں اور بازوئوں پر‘‘ پس میرا ہاتھ حضرت صاحب کے ہاتھ میں تھا اور باقی نہ معلوم کہاں تک پیچھے کو کندھوں پر ہاتھ رکھنے کا سلسلہ تھا۔ حضرت صاحب نے میرا ہاتھ خوب مضبوط پکڑا ہوا تھا۔ اور آنکھیں قریباً بند تھیں۔ حضور کی پگڑی برف کی طرح سفید تھی۔ اور پگڑی کے نیچے کلاہ نہیں تھا۔ بلکہ رومی ٹوپی کی طرح کچھ تھا۔ اور پھند نا بھی سیاہ رنگ کا پگڑی سے اوپر کو نکل کر لٹک رہا تھا۔ جو بہت ہی خوبصورت معلوم ہوتا تھا۔ جب بیعت لے چکے تو حضور نے گھڑی نکال کر دیکھتے ہوئے فرمایا کہ ایک منٹ باقی ہے ۔ دوستوں کو گاڑی سے علیحدہ کرنا چاہئے کہ کوئی حادثہ نہ ہو۔ (یہ حضرت اقدس کے اصل الفاظ نہیں۔ مگر مفہوم یہ تھا لفظ آگے پیچھے ہوں تو ہوں ) چنانچہ لوگ تھوڑے سے گاڑی سے ہٹ گئے لیکن میں نے دروازہ کا ڈنڈا پکڑے رکھا اور گاڑی نہایت آہستگی سے حرکت میں آئی اور میں نے حسرت بھری نگاہوں سے حضور کو دیکھا تو حضور نے ذرا آگے جھک کر میری پشت پر تھپکی دی اور فرمایا ’’ اچھا خدا نگہبان‘‘ (میں نے والد صاحب سے پوچھا تھا کہ یہ لفظ خدا حافظ تھا یا خدا نگہبان تو والد نے فرمایا کہ خدا نگہبان ہی تھا) چنانچہ حضور کے اتنا فرمانے پر میں پائیدان سے نیچے اتر آیا اور بس کیا سنائوں ۔عجب ہی رنگ اور عجیب ہی سماں تھا۔ اس قدر مخلوق قیامت کو ہی نظر آئے تو آئے ورنہ کیا درخت اور کیا زمین مخلوق سے لدے ہوئے تھے۔ ‘‘ فقط بیعت کے وقت والد صاحب کی عمر ۵۲ سال تھی۔ اس وقت اٹھاسی (۸۸) سال ہے۔
    خاکسار
    محتاج دعا
    حاجی احمد خاں ایاز بی اے ایل ایل بی۔مجاہد (تحریک جدید) زیچو سلوویکیا




    روایات
    مکرم مولاداد خان پنشنر
    از سارچور
    (۱) ۱۸۸۰ء سے پہلے کاواقعہ ہے جبکہ میری ۱۰۔۱۱ سال کی ہو گی میں نے خواب میں دیکھا۔ کہ ایک بڑا گروہ آدمیوں کا کمر بستہ ہے اور ایک شخص ان کے آگے آگے وہ بھی کمر بستہ جا رہا ہے۔ سر سے اور گلے سے سب برہنہ معلوم ہوتے ہیں۔ کمروں میں پٹکے بندے ہوئے ہیں۔ سب سے اگلا جو ہے وہ پیشرو معلوم ہوتا ہے۔ وہ کہتا ہے ’’ ہفت زمین ہفت آسمان از خویش پیدا میکنم‘‘ اور پیچھے والے سب یک زبان کہتے ہیں ’’از خویش پیدا میکنم از خویش پیدامیکنم‘‘ اسی طرح کہتے اور جھومتے جاتے ایک پختہ چار دیواری میں جاداخل ہوئے۔
    (۲) ۱۹۰۶ء کو میرے بڑے بھائی عبدالحکیم تپ سے بیمار تھے۔ ان کا علاج ایک طبیب مولوی جو سلسلہ کا سخت مخالف تھا کر رہا تھا۔ اور اس کا بڑا بھائی شمس الدین احمدی تھا۔ وہ گائوں موضع دودہ علاقہ سکرشکر میں ہے۔اس طبیب مولوی نے حضرت اقدس کی شان میں ناملائم الفاظ استعمال کئے میں موجود نہ تھا بھائی جو بیمار تھے انہوں نے روکا جب میں باہر سے آیا تو وہ مولوی چلا گیا تھا۔ بھائی صاحب نے نہایت رنجیدہ لہجہ میں کہا کہ میں اس طبیب کا علاج نہیں کراتا۔ اس نے حضرت صاحب کی شان میں گستاخی کی ہے۔ غرض وہ مولوی راستہ میں ہی طاعون کا شکار ہو گیا۔ پھر میں بھائی صاحب کو اپنے ساتھ بہاول نگر لے گیا۔ وہاں دو اسسٹنٹ سرجن علاج کرتے رہے۔ مگر آخر انہوں نے جواب دے دیا کہ اب یہ بچ نہیں سکتے ۔ علاج ترک کر دو اور پیسہ خراب نہ کرو۔ تب میں نے بعد اس وقت ایک سال کے حضرت اقدس کے حضور خط لکھا۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے جواباً تحریر فرمایا کہ فکر نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کر سکتا ہے۔ ہم دعا کریں گے۔ تم بھی دعا کرو۔ انشاء اللہ صحت ہو جائے گی۔ اس خط کے دوسرے دن میں نے دیکھا کہ ان کا تپ جاتا رہا۔ میں نے کہا اب آپ کو تپ نہیں ہے میں نے اٹھا کر بٹھایا اور خود سہارا دے کر بیٹھ گیا۔ تو بھائی صاحب نے کہا میرا سینہ جو جلتا تھا اب سرد ہے میں نے کہا میں نے حضرت اقدس کے حضور لکھا تھا۔ حضور نے جواباً تحریر فرمایا ہے کہ’’ ہم دعا کریں گے خدا تعالیٰ شفا دے گا‘‘۔ تب سن کر کہنے لگے اوہو ہن میں نہیں مردا۔ مسیح نے مردہ زندہ کیتا اے۔ اس کے بعد وہ احمدی ہو گئے۔ یعنی بیعت کر لی اور پوری صحت ہو گئی۔
    مولاداد خان پنشنر از سارچور






    روایات
    نیاز اللہ خان احمدی
    ساکن شاہجہانپور حال فیض آباد
    (۱) میں اپنے ماموں صاحب و ممانیصاحبہکے ہمراہ ۱۹۰۲ء میں قادیان شریف گیا تھا۔ برادرم حشمت اللہ (مرحوم) بھی ہمراہ تھا۔ قادیان پہنچ کر ہم دونوں بھائیوں نے حضرت مسیح موعود کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کی۔ ماموں صاحب مرحوم اور ممانی صاحبہجو بفضلہ حیات ہیں۔ بہت پہلے بیعت کر چکے تھے۔ ممانی صاحبہحضرت صاحب کے مکان میں رہتی تھیں اور ہم لوگ مدرسہ احمدیہ میں رہے۔ تیسرے روز ممانی صاحبہنے ہم کو قدرت اللہ خان مرحوم جو کہ شاہجہانپور کے رہنے والے تھے اور حضرت صاحب کے گھر میں سودا وغیرہ لا کر دیا کرتے تھے ان سے کہا کہ نیاز اللہ کو میرے پاس بلا لانا انہوں نے آکر مجھے کہہ دیا کہ آپ کو ممانی صاحبہبلاتی ہیں۔ میں زنانے مکان کی ڈیوڑھی میں ان کے ہمراہ گیا ۔ انہوں نے پکار کر کہہ دیا کہ نیاز اللہ آئے ہیں۔ اور وہ چلے گئے کچھ دیر میں ممانی صاحبہآگئیں اور مجھ سے باتیں کرنے لگیں کہ حضرت صاحب جس کمرہ میں رہتے ہیں اس کے دروازہ کے پاس ایک کتا پڑا رہتا ہے اور حضور اس کے برتن میں خود اپنے ہاتھ سے پانی ڈال دیتے ہیں اور وہ کتا (صحیح لفظ نہ معلوم کیا ہے کتا پڑھا جاتا ہے۔ ناقل) کسی سے کچھ بولتا نہیں ہے۔ جب کوئی آتا ہے تو وہ منہ اٹھا کر اس کو دیکھ لیتا ہے یہ ذکر وہ کر ہی رہی تھیں کہ حضور اندر سے تشریف لائے۔ میں نے سامنے ہو کر السلام علیکم عرض کیا۔ اور ممانی صاحبہنے حضور سے عرض کیا کہ حضور ہمارے شہر میں لوگ بہت مخالف ہیں۔اور بہت ستاتے ہیں اور ہر طرح پریشان کرتے ہیں حضور نے فرمایا کہ ’’صبر کرو ۔ یہ مانیں گے اگر یہ نہ مانے تو ان کی اولاد مانے گی اور اگر اولاد نہ مانی تو اولاد کی اولاد مانے گی اور تم دیکھو گی۔‘‘
    یہ کہہ کر آپ تشریف لے گئے اور میں بھی چلا آیا۔ چنانچہ ممانی صاحبہبفضلہ اس وقت حیات ہیں اور انہوں نے وہ حالت جو اس وقت مخالفت کرنیوالوں کی تھی وہ بھی دیکھی تھی اور اس وقت جو حالت ہے یعنی اب وہ مخالفت نہیں رہی بلکہ ان میں سے اکثر خود جماعت میں شامل ہوئے یا ان کی اولاد جماعت میں شامل ہے یہ حالت بھی دیکھ رہی ہے اور اس طرح حضور کا فرمان پوری شان کے ساتھ ہم سب پورا ہوتا دیکھ رہے ہیں۔
    (۲) ایک روز مسجد مبارک میں تشریف فرما تھے اور وحی کی نسبت گفتگو فرما رہے تھے فرمایا کہ ’’کبھی تو ذرا سی غنودگی سی طاری ہوتی ہے اور کسی پکارنے والے کی طرح بڑی خوش الحانی سے بات سنائی دیتی ہے اور کبھی آنکھوں کے سامنے ایک تختہ بہت خوشخط لکھا ہوا آجاتاہے اور نوٹ کر لیتا ہوں۔‘‘








    روایات
    جناب غلام حسین صاحب نمبردار
    سیالکوٹی عارف والا ضلع منٹگمری
    بیعت ۱۹۰۰ء -جس زمانہ میں مَیں نے بیعت کی تھی اس وقت ایک جائیداد کا مقدمہ ہم کو پڑا ہوا تھا جس کا فیصلہ ہمارے خلاف ہو چکا تھا اور ہم نے اپیل کی ہوئی تھی ۔ تمام مخالفین سلسلہ ہم سے کہتے تھے کہ اگر تم اس مقدمہ میں کامیاب ہو جائو گے تو ہم مرزا صاحب کو سچا سمجھیں گے چنانچہ میں نے ایک طول طویل خط حضرت مسیح موعود کی خدمت میں لکھا کہ یہ لوگ اس مقدمہ میں ہماری کامیابی کو آپ کی صداقت کی دلیل سمجھتے ہیں اور سلسلہ حقہ کا یہ نشان سمجھیں گے حضور دعا فرماویں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں کامیابی دے اور عزت بچائے کیونکہ یہ مقدمہ طوالت پکڑ چکا ہے اور بہت خرچ اٹھ چکا ہے جس کا اثر ہماری اولادوں پر پڑے گا۔ چند یوم کے بعد حضور کی طرف سے ایک خط آیا کہ ’’ دعا کی گئی ہے تم خدا سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو۔ ‘‘ چوہدری نصراللہ خاں صاحب مرحوم اس وقت غیر احمدی تھے اور ہمارے وکیل تھے خدا تعالیٰ نے ایسا معجزہ دکھایا کہ اپیل ہمارا نامنظور ہو گیا۔ مخالف وکیل پنڈت بیلی رام جموں چلا گیا۔ ہمارے وکیل چوہدری نصر اللہ خاں صاحب کو جج صاحب نے بتا بھی دیا کہ اپیل تمہارے مخالف ہے۔ ادھر مخالف فریق ہمارے پیچھے لگ گیا کہ آئو صلح کر لیں چنانچہ وہ جائیداد ہم نے نصفا نصفی تقسیم کر لی اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا سے ہر ایک نقصان سے بچا لیا۔
    (۲) ایک دفعہ ہم قادیان گرمی کے موسم میں گئے میری بیوی اس وقت میرے ساتھ تھی۔ ملاقات کے موقع پر میری بیوی سے حضرت مسیح موعود نے دریافت فرمایا کہ ’’لڑکی تم کچھ پڑھی ہوئی ہو اس نے جواب دیا کہ ہاں حضور میں قرآن شریف باترجمہ پڑھی ہوئی ہوں اور تفسیر محمدی بھی پڑھی ہوئی ہوں چنانچہ آپ نے اس سے قرآن شریف ترجمہ کے ساتھ سنا۔ آپ نے فرمایا ’’ ترجمہ وہی ہے جو تم نے پڑھا ہوا ہے لیکن سمجھ میں فرق پڑ گیا ہے ۔ میری منشا ہے کہ چند یوم یہاں ٹھہرو۔ اور مجھ سے پڑھ کر جائو۔ تو جا کر عورتوں کو تبلیغ کرو کیونکہ عورتیں عورتوں کو اچھی طرح تبلیغ کر سکتی ہیں۔ ‘‘
    اگلے روز صبح کے وقت حضور نے میری بیوی کو سورۃ فاتحہ کا سبق دینا شروع کیا۔ اس وقت میری بیوی کی گود میں ایک چھوٹی لڑکی تھی میمونہ بیگم اس لڑکی کا نام تھا۔ ایک آنکھ اس کی خراب تھی اور پانی بہتا رہتا تھا ہمیں خطرہ تھا کہ آنکھ ضائع ہو جائے گی سبق دیتے وقت لڑکی نے رونا شروع کر دیا اور دونوں آنکھیں خراب ہو گئیں۔ حضور کو سبق دینا دشوار ہو گیا۔ میں خلیفہ اول کے شفاخانہ میں بیٹھا ہوا تھا۔ حضور نے ایک خادمہ کے ساتھ لڑکی کو شفاخانہ بھیج دیا اور حضرت مولوی صاحب کو لڑکی خادمہ نے کہا کہ مولوی صاحب حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ ’’ اس لڑکی کی آنکھوں میں کچھ ڈال دیں اچھی ہو جائیں گی۔ ‘‘ چنانچہ مولوی صاحب نے فوراً اس کی آنکھوں میں ایک شیشی سے پانی سا ڈال دیا۔ لڑکی کی آنکھوں کو فوراً آرام آگیا۔ اور ایک آنکھ کا نقص خاص بھی جاتا رہا۔ جب تک وہ لڑکی زندہ رہی اس وقت تک وہ معجزہ کے طور پر ہم لوگوں کو دکھایا کرتے تھے ۔
    (۳) ایک دفعہ جب پہلے پہل میں بمع والد صاحب قادیان گیا تو حضرت صاحب مسجد مبارک کے شمالی مکان میں داڑھی مبارک کو مہندی لگائے ایک تخت پوش پر بیٹھے تھے۔ غالباً جمعہ کا روز تھا۔ السلام علیکم اور مصافحہ کے بعد حضور نے تخت پوش پر ہمیں جگہ دی اور پیچھے سرک گئے۔ پھر جو آدمی مسجد مبارک میں تھے ان کو بھی پتہ ہو گیا وہ لوگ آنے شروع ہو گئے جو آدمی آتا اس سے مصافحہ کر کے جگہ دیتے اور آپ پیچھے ہٹ جاتے حتی کہ حضور تخت پوش کے ایک پائے پر جا بیٹھے۔ اور تمام تخت پوش پر ہو گیا۔
    (۴) ایک دن صبح کے وقت حضور موضع بھینی کی طرف سیر کو نکلے خاکسار بھی ساتھ تھا۔ میں نے دریافت کیا کہ یا حضرت مقروض کو قربانی دینی جائز ہے ۔ آپ نے فرمایا ’’ نہیں مقروض پہلے اپنا قرضہ ادا کرے پھر قربانی دیوے ‘‘ پھر نواب ناصر صاحب (نانا جان) نے سوال کیا۔ کہ اگر نقد روپیہ یہاں بھیج دیا جائے تو جائز ہے ۔ فرمایا ’’ نہیں قربانی ذبح کو کہتے ہیں‘‘ پھر نانا صاحب نے سوال کیا کہ اگر گوشت فروخت کر کے یہاں بھیج دیا جاوے تو کیا حرج ہے۔ پھر حضور نے زور سے فرمایا۔’’ میر صاحب ! یہ جائز نہیں ہے ۔ کیونکہ جو غریب ہمسائے ہوتے ہیں وہ امید رکھتے ہیں کہ فلاں آدمی قربانی کرے گا تو ہم گوشت کھائیں گے ۔ پھر وہ کہیں گے کہ اندر ہی اندر قربانی کا گوشت غبن کر گئے۔ قربانی اس جگہ کرو اور قربانی کا گوشت ہمسائیوں کو دو خواہ کسی قوم کا ہو۔ ہاں کھالیں تمہارا اختیار ہے۔ یہاں بھیج دو۔ ‘‘
    (۵) ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے موقع پر ایک عیسائی عبدالحق مسلمان ہوا تھا۔ صبح کے وقت حضور قادیان کے شمال کی طرف سیر کرنے کو گئے تو دروازہ سے نکلتے ہی آپ نے فرمایا کہ میاں عبدالحق کہاں ہے اس نے کہا کہ میں حاضر ہوں۔ اس کو آپ نے اپنی بائیں طرف کر لیا اور ہم بہت سے آدمیوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر حلقہ باندھ لیا۔ ہندو بازار کی طرف گلی تنگ تھی اس سبب سے کسی کا پائوں حضرت کی سونٹی پر آجاتا تو چھڑی ہاتھ سے گر جاتی اور کسی کا پائوں آپ کی پاپوش پر پڑ جاتا تو آپ بار بار فرماتے جاتے کہ محبت کے مارے گرتے ہیں پھر بازار سے نکل کر حضور نے تقریر شروع کر دی۔ حضور نے فرمایا کہ ’’ مسیح کو جب بھوک لگی تو وہ انجیر کے پاس پھل لینے کے لئے گیا۔ تو اس کو یہ پتہ نہ لگا کہ انجیر کے ساتھ پھل ہے بھی یا نہیں۔ دیکھو باپ تو غیب دان ہے۔ بیٹا غیب دان ہی نہیں۔ اچھا فرض کیا اگر پھل نہیں تھا تو اس سے پھل لے بھی نہ سکا۔ دیکھو باپ تو قادر ہے ۔ بیٹا قادر ہی نہیں‘‘ پھر زور سے آپ نے فرمایا کہ ’’ جو آج میرے ہاتھ پر نشان ظاہر ہو رہے ہیں۔ اگر عیسیٰ زندہ ہو تو وہ بھی دیکھ کر شرمندہ ہو جائے۔ ‘‘ پھر حضور نے فرمایا کہ ’’ میاں عبدالحق تم یہاں ٹھہرو اور قرآن شریف پڑھ کر جانا کیونکہ ہم نے سنا ہے کہ سرا جدین عیسائی نے تم کو کہا ہے کہ قادیان سے آکر پھر بھی مجھ کو ملنا۔ امید ہے کہ وہ تم کو ملے گا مگر جب آدمی مسلح ہو کر نکلتا ہے تو جو ڈاکو اور چور ملے اس کا سر کاٹ دیتا ہے تم قرآن شریف پڑھ کر جانا ۔
    (۶) ایک دفعہ حضور سیر سے واپس آرہے تھے تو ایک آدمی راستہ میں ہاتھ باندھے کھڑا تھا اور رو کر اس نے عرض کیا کہ یا حضرت میری ایک عرض ہے آپ کھڑے ہو گئے اور فرمایا ’’کہ تمہاری کیا عرض ہے ‘‘ اس نے کہا کہ میں مسجد کا عہدہ دار بھی ہوں اور قبر کا گدی نشین بھی ہوں میں نے آپ کو بہت سے گالیاں دی ہوئی ہیں آج میں نے توبہ کی ہے اور آپ کو مہدی اور مسیح موعود میں نے مان لیا ہے آپ نے ہنس کر فرمایا کہ ’’اگر تم نے سچے دل سے توبہ کی ہے تو اللہ تعالیٰ نے تمہارے گناہ معاف کر دئیے۔ اگر گناہ معاف نہ کئے جائیں تو توبہ کے معنے ہی کیا ہوئے۔‘‘
    (۷) ایک دفعہ مسجد مبارک میں امریکہ کا اخبار انگریزی کسی نے پڑھا یا کسی نے ذکر کیا کہ پنجاب میں عیسائیت کم ہو گئی ہے ڈپٹی کمشنروں کو چاہئے کہ تبلیغ کریں۔ حضرت مسیح موعود نے سن کر فرمایا کہ ’’ وہ پھرے نتھہ گھڑانے کو وہ پھرے ناک وڈنے کو‘‘ ہم تو کہتے ہیں کہ قریب وقت ہے ہم ان کی عیسائیت ہی پنجاب سے اٹھا دیں گے۔ کیا ڈپٹی کمشنر یہ کہے گا کہ اگر تو عیسائی ہو جائے تو میں فیصلہ تمہارے حق میں لکھوں گا۔ اب عیسائیت کہاں بڑھے۔
    (۸) جن دنوںطاعون کا زور تھا۔ آپ نے فرمایا کہ ’’طاعون کے دنوں میں بیٹر نہیں کھانا چاہئے کیونکہ یہودیوں پر طاعون من و سلوٰی ہی سے پڑی تھی اور من و سلوٰی یہی بٹیر تھے۔ (یہ تخصیص بیماری کے دنوں کے لئے ہے ہمیشہ کے لئے نہیں)
    خاکسار
    غلام حسین نمبردار سیالکوٹی
    پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ عارف والا ضلع منٹگمری
    ۳۸-۰۴-۱۴



    روایات
    قاضی قمر الدین صاحب سیکرٹری تعلیم و تربیت
    جماعت احمدیہ شکار ڈاکخانہ دھاریوال ضلع گورداسپور
    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ خاکسار قادیان گیا ہوا تھا۔ اور حضور باغ میں سکونت اختیار کئے ہوئے تھے تاریخ و سن وغیرہ محفوظ نہیں۔ باغ میں رہائش کا ہی پختہ پتہ ہے۔ ایک رات میں پرانے مہمان خانہ میں جو مشرق کی طرف پہلا کمرہ ہے ۔ شام کے بعد ایک چارپائی پر بیٹھا ہوا تھا۔ کہ حافظ صاحب حامد علی مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے باغ سے اور ہاتھ میں بتی جلتی تھی۔ اس بتی سے مجھے دیکھ کر کہتے کہ بھائی قمر دین بھائی قمر دین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مجھے حکم ہے کہ میرے گھر کی حفاظت کے لئے مہمان خانہ سے دو درویش شخص سادہ لوح جن کو آپ جانتے ہوں۔ وہاں سلا دئیے جائیں۔ ایک آپ چلیں ‘میں نے جواب دیا کہ الحمد للہ کہ اگر یہ اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی مجھ بے مقدار پر ہوئی۔ میں نے کہا جناب حافظ صاحب غلام و چاکر حاضر ہوں۔ جناب حافظ صاحب مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر دوسرے کمرے کی طرف دیکھا تو ایک سائیں دیوان شاہ صاحب بڑے راستباز خوش خو۔ عاشق۔ مخلص سکنہ نارووال والے معلوم ہوئے۔ حافظ صاحب مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سائیں دیوان شاہ صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا جو کچھ کہ مجھے فرمایا تھا۔ وہ بھی یہ سن کر پیغام آقا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بڑے خوش ہوئے اور خوشی کے مارے اچھل پڑے اور ہم دونوں ہی ہمراہ حضرت حافظ صاحب مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد مبارک شریف کو چلے۔ میں حافظ صاحب مرحوم کا واقف تھا۔ آپ مجھے جانتے تھے کہ قمر دین شکار کا رہنے والا ایک غریب احمدی ہے اور میں بھی آپ کو خوب جانتا تھا کہ آپ حضور کی نوازش اور مہربانی میں گداز اور مخمور ہیں اور حضور کے عاشق غلام چاکر صحیح فطرت بے مثال ہیں اور سائیں جی صاحب کو بھی حافظ صاحب جانتے تھے کیونکہ سائیں صاحب بڑے غریب اور عیالدار تھے۔ مالی حالت بہت کمزور تھی اور کبھی کبھی نارووال سے موضع شکار میں سفر کی حالت میں آتے جاتے وقت میرے گنہگار کے پاس رہتے اور میں بھی چونکہ غریب مالی حالت کمزور اور دونوں دکھ درد کی باتیں کیا کرتے تھے۔ اور میں بھی سائیں صاحب سے کبھی دریافت کیا کرتا کہ آپ کو قادیان شریف جانا کوئی خاص کام کی وجہ سے ہے یا شوق ملاقات سے جا رہے ہیں تو آپ یہ فرماتے کہ میں چونکہ غریب ہوں چندہ تو دے نہیں سکتا اس لئے جا رہا ہوں کہ مہمان خانہ کی چارپائیاں بن آئوں۔ تا کہ میرے سر سے چندہ اتر جائے۔ غرض ہم دونوں مسجد مبارک پر چڑھ گئے اور حافظ صاحب فرمانے لگے کہ تم یہ بتائو کہ تم کہاں کہاں سونا پسند کرتے ہو ۔ سائیں دیوان شاہ صاحب تو فرمانے لگے کہ میں تو اس باری کے آگے ہی مسجد میں فرش پر لیٹوں گا ۔ جہاں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لایا کرتے ہیں اور میں نے کہا کہ حضور میں تو دوسری باری جو اندر کی سیڑھیاں مسجد مبارک کو چڑھتی ہیں اس باری کے اندر حضور پر نور علیہ الصلوۃ والسلام کے مکان میں لیٹوں گا۔ غرض سائیں صاحب وہاں لیٹ گئے۔ اور میں اندر حضور پر نور علیہ الصلوۃ والسلام کے خانہ مبارک میں چارپائی پر لیٹ گیا اور رات گزاری الحمد للہ ہرطرح سے ہماری نگرانی میں بفضل خدا کے فضل ہی رہے۔
    (۲) دیگر یہ بات بھی مجھے تاریخ و سن محفوظ نہیں۔ کہ میں اور دو تین اور بھائی احمدی اور ایک بچہ ایک بھائی احمدی کا جو کہ عارضہ پیٹ سے تھا۔ ملاقات کے واسطے مشورہ کیا‘ تو بعض نے ہمیں کہا کہ حضور تو گھر ہوں گے۔آپ اوپر چلے جائیں تو آواز کر دیں ۔ حضور ملاقات کے واسطے آجائیں گے۔ جب ہم مکان کے اوپر چڑھ گئے تو اس مکان پر کوئی منزل تو نہیں تھی ۔ہم نے آوازیں کیں۔ حضور چند منٹ کے بعد ہمارے سامنے طرف جو مغرب کی طرف ہے چڑھ آئے اور ہم نے آگے ہو کر السلام علیکم اور مصافحے کئے۔ غرض بعد اس کے حضور پر نور نے فرمایا کہ وہ چارپائی اٹھا لائیں اور اوپر بیٹھیں۔ غرض ہم نے انکار کیا کہ حضور ہم فرش پر بیٹھ جائیں گے۔ آپ کو لا دیتے ہیں۔ غرض جب ہم نے دیکھا کہ حضور چارپائی لانے کی آپ جرات کرنے لگے تو ہمیں ندامت ہوئی اور ہم میں سے ایک نے فوراً چارپائی مکان سے اٹھائی اور لا کر بچھا دی ۔بعد اس کے حضور بیٹھے تھے اور ہمیں فرمانے لگے کہ آپ چارپائی پر بیٹھیں۔ ہم اصرار کرتے رہے کہ حضور ہی چارپائی پر تشریف رکھیں ہم حضور کے قدموں میں ہی اچھے ہیں۔ مگر حضور نے منظور نہیں فرمایا۔ جب تک بٹھا نہیں لیا ‘آپ بھی نہیں بیٹھے۔ اللہ! اللہ! ہم سب کی ایسی پوزیشن اور لیاقت کہ کھدر کے کپڑے اور غریب سادہ مسکین‘ حضور میٹھی میٹھی اور دھیمی دھیمی باتیں ہم سے فرماتے رہے۔ غرض وہ باتیں اب مجھے یاد نہیں بعد ازاں وہ جو لڑکا تھا اور اس کے پیٹ میں عارضہ تھا اس کے والد نے اس بچہ کی بابت حضور سے سوال کیا کہ یہ بچہ حضور کے معائنہ کے قابل ہے۔ آپ نے فرمایا کہ’’ مولوی حکیم نورالدین صاحب کے پاس لے جائیں وہ خوب دیکھیں گے ‘‘ بس بعد اس کے ہم السلام علیکم خدمت میں کہہ کر اتر آئے۔
    (۳) دیگر ایک دفعہ میں مسجد مبارک میں تھا کہ ہجوم خلقت تھی۔ نماز کی انتظار تھی کہ پڑھیں حضور علیہ الصلوۃ والسلام بیٹھے تھے اور باتیں ہو رہی تھیں۔ ایک انسپکٹر تعلیم غیر احمدی تھے مگر خدا کے فضل سے احمدی ہونے کی نیت سے اخلاص ان کو کھینچ لایا۔ حضور سے مصافحہ کیا او ر باادب بیٹھ گئے حضور والا نے دریافت کیا کہ آپ کہاں سے تشریف لائے ہیں جواب دیا کہ حضور میں ضلع میانوالی سے آیا ہوں۔ حضور نے فرمایا کہ ’’پشاور سے پرے کتنے میل ہے‘‘۔ انہوں نے بتایا او ر بعدہ انسپکٹر صاحب نے کئی بار یہ بھی دہرایا کہ حضور وہاں ہی میاں سلطان احمد صاحب تعینات ملازم ہیں مگر حضور نے اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور معلوم ہوتا تھا کہ حضور اس بات کو شاید سنتے ہی نہیں۔ غرض حضور نے انسپکٹر صاحب سے دریافت کیا کہ آپ کو میری بابت کس طرح معلوم ہوا وہ کون سے ذریعے تھے ۔انسپکٹر صاحب نے جواب دیا کہ حضور جب میں دیہاتوں میں دورہ تعلیم کے واسطے جاتا تو کئی ایسے اتفاق ہوتے کہ بات چیت کرنی پڑ جاتی اور سننی بھی پڑ جاتی تھی پھر مجھے اس کے بعد کتابوں کا شوق ہوا جب حضور کی کتابیں پڑھیں تو زیادہ توجہ ہوئی پھر میں اپنے مقام سے دوسرے لوگوں سے حضور کی کتابیں منگوا لیتا اور محبت سے پڑھتا اب تو میں قربان ہی ہو کر آیا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ آپ کتنا عرصہ ٹھہریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک ہفتہ ٹھہروں گا۔ بعد اس کے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ قادیان گائوں ایک چھوٹا سا ہے مگر خفیہ طور پر دور دور کے لوگ اسے جانتے ہیں کہ ایک شخص نے بڑی دور سے مجھے خط تحریر کیا اور پتہ یہ لکھا کہ ملک پنجاب قادیان پہنچے تو اس پتہ سے مجھے خط مل گیا۔ بعد اس کے نماز باجماعت ہوئی تو ہم نماز سے فارغ ہو کر چلے گئے۔
    (۴) ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں قادیان مہمان خانہ میں تھا حضور کی حیات میں حافظ حامد علی صاحب رضی اللہ عنہ ہمیشہ مہمانوں کو سردی کے دنوں میں چارپائی و رضائی لحاف دیا کرتے تھے۔ حضور سیر کو باہر جایا کرتے تھے اور آپ کی طبع علیل تھی حضور نے شاید رات کو ہی ایک چھوٹا سا اشتہار شائع کرا دیا جس پر یہ تھا کہ میری طبیعت علیل ہے دوست میرے پیچھے پیچھے چلیں تا کہ مجھے تکلیف نہ ہو۔ بفضل خدا ایسا ہی ہوا۔ جب حضور واپس آئے تو ہائی سکول کی طرف تشریف لے گئے تھے آپ نے حکم دیا کہ سب دوست بڑے بازار سے ہی آئیں۔ حضور نے پوڑیوں پر چڑھتے وقت بڑی خوشی کا اظہار کیا کہ میں احباب پر بڑا خوش ہوں۔ ایسا ہی ہونا چاہئے میرے حکم کی تعمیل خوب کی۔ بعد اس کے اوپر تشریف لے گئے۔
    (۵) اس سے پہلے ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضور کی طبع کچھ ملول ہی تھی۔ حضور جب سیر کو نکلے تو بڑے بازار سے نکلتے ہی اتنی گردوغبار احباب کے زیادہ انبوہ ہونے کی وجہ سے نکل اٹھی کہ حضور پر نور کا چہرہ وریش مبارک گرد آلودہ ہو گئے۔ حضور نے اپنی دستار مبارک کا شملہ منہ پر لے لیا اور جو کہ ایک لسوڑی ریتی چھلہ کی مغرب کی طرف بڑھی ہوئی تھی اس کے نیچے ٹھہر گئے اور سیر کو ملتوی کر دیا۔ وہاں کھڑے ہو گئے اور احباب نے حلقہ باندھ لیا اور مصافحوں کی صور ت پیدا ہو گئی۔ بعد اس کے واپس تشریف گھر لے گئے وہ لسوڑی کسی وجہ سے جل گئی تھی اب تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے گری ہوئی کو کاٹ کر کام میں لائی گئی ہے ۔فقط
    (۶) میری بیعت کا واقعہ یوں ہوا کہ میں موضع چک بردے ارائیاں جو دھاریوال کے قریب کہیں ہیں وہاں تھا۔ ہمشیرہ کے گھر ۔ تو میں نے افواہ سنی غیر احمدیوں سے کہ مرزا صاحب تو فوت ہو گئے ہیں مگر کئی قبریں کھودی ہیں پر وہ گر جاتی ہیں۔ غرض ان کی یہ تھی اس سے کہ چونکہ مرزا صاحب کی شامت اعمال کی وجہ سے نعوذ باللہ من ذلک قبر زمین جگہ نہیں دیتی میں بڑا گھبرایا اور وہاں سے رات رہ کر چل دیا۔ جب میں موضع ڈاہری والا داروغیاں پہنچا تو وہاں ایک کمہار جس کا نام عمر دین تھا مجھے ملا وہ میرا واقف تھا۔ اس نے کہا کہ میرے گھر چل بیٹھو میں آتا ہوں میں تھوڑا عرصہ اس کے گھر ٹھہرا تو اور لوگوں سے بھی دریافت کیا تو وہ کہنے لگے کہ بڑا نامی معروف انسان اس دنیا سے رحلت کر جائے تو کیا اڑھائی کوس تک خبر نہ ملے۔ یہ بات غلط ہے غرض میں پھر وہاں سے اسی فکر میں چلا تو جب قادیان پہنچا یہ میری پہلی دفعہ تھی۔ میں پوچھتا کمہاروں کے محلے جا پہنچا۔ اور حضور مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان دنوں باغ میں تشریف رکھتے تھے ۔ غرض جو مہر دین کمہار کے پاس ایک مسجد ہے ۔ شاید وہی مسجد تھی جو کہ اس زمانہ میں کچی تھی اور غیر احمدیوں کی ہو گی۔ میں نے وہاں ظہر کی نماز پڑھی اور نماز ادا کر کے اب میں کوچہ کمہاراں سے حضور پر نور کی جگہ رہائش معلوم کرتا ہوں کہ حضور کی ملاقات کس جگہ پر ہو سکتی ہے۔ لوگوں نے کہا کہ اگر مرزا صاحب کو ملنا ہے تو باغ میں چلو۔ اگر ان کے گھر جانا ہے تو اس طرف جانب مشرق چلے جائو۔ غرض میں ڈھاب کے درمیان سے ہو کر بڑا باغ جو آموں والا ہے اس میں چلا گیا تو اس باغ میں نماز ظہر کھڑی ہوئی۔تو میں نے جلدی سے بھاگ کر وہاں ایک کنواں تھا اس کے حوض پر بیٹھ کر وضو کیا۔ وہاں میرے ساتھ حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ بھی وضو کرتے ہیں مگر میں نہیں جانتا کہ آپ ہیں ۔ وضو کرتے ہی جماعت کے ساتھ مل گئے اور میں بھی حضور کے ساتھ جا کھڑا ہوا۔ مگر میرے دل میں یہ بار بار آتا تھا کہ شاید یہی مولوی نورالدین صاحب ہوں ۔ جماعت ختم ہو چکی تو میں نے عرض کی کہ بابا جی میں نے حضرت جی کی بیعت کرنی ہے میرا یہ کہنا ہی تھا کہ جناب نے مجھے فوراً بازو بغل سے پکڑ حضور کے پاس لے گئے جہاں آپ بیٹھے تھے اور مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی مصلیٰ امامت پر تشریف فرما تھے ۔ جناب مولوی صاحب نے مجھے حضور مسیح موعود کے جائے نماز پر آگے بٹھا دیا ۔ اور حضور کی خدمت میں یہ الفاظ پیش کئے کہ حضور اس بچہ نے بیعت کرنی ہے حضور نے فرمایا کہ مولوی صاحب ٹھہریں ابھی بیعت لیتا ہوں اس وقت حضور مسیح موعود علیہ السلام کو دو الہام انگریزی ہوئے تو وہ الہام حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم لکھ رہے تھے۔ بعد اس کے لوگ ہجوم کھڑے تھے اور حضور کی خدمت میں اپنی خوابیں بیان کر رہے تھے جو کہ خوفناک تھیں کوئی چھترا کا حملہ بتاتا تھا کوئی کچھ پھر مولوی صاحب نے عرض کی کہ حضور اس بچہ کی بیعت لیں۔ پھر حضور نے ارشاد فرمایا کہ’’ مولوی صاحب ذرا ٹھہریں میں ابھی بیعت لیتا ہوں۔‘‘ کیونکہ حضور لوگوں کی خوابیں سن رہے تھے اور خوفناک تھیں حضور نے فرمایا کہ یہ خوابیں میرے الہاموں کی موید ہیں۔ حضور نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ چونکہ چترا کے حملہ سے مراد زلزلے کا ہی حملہ ہوتا ہے اچانک ہی زلزلہ آتا ہے اورچترا بھی ایسا ہی حملہ کرتا ہے۔ پھر جناب مولوی صاحب نے عرض کی کہ حضور اس بچہ کی بیعت لیں پھر حضور نے میری طرف متوجہ ہو کر میرا ہاتھ بڑے پیار سے پکڑا اور اپنے دست مبارک میں لے لیا اور شرائط بیان فرمانے شروع کئے اور کئی لوگوں نے اپنی دستاروں کے ذریعہ بیعت کی اور کئی لوگوں نے میری پشت پر ہاتھ رکھا پھر عام بیعت سلسلہ اس طرح ہوا۔ سبحان اللہ! یہ وقت کیسا عجیب منظر تھا اور اس وقت دل پگھل گئے اور آنسو جاری تھے اور بڑے دلسوز سے دعائیں ہو رہی تھیں بلکہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اب آسمان سے کوئی ابر رحمت اگر جناب الٰہی سے ملے تو اس مبارک مقام پر ہی برس رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے نشانات کے ظہور کا وقت تھا۔ انذاری پیشگوئیاں پوری ہو رہی تھیں اور ایک اور عجیب بات تھی کہ سبحان اللہ جو کہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرآن شریف پڑھتے وقت تسخیر دل تھی‘ عدیم المثال ہے ۔ کچھ ایسے جناب باری تعالیٰ نے جناب کے لہجہ طرز میں عاشقان دل کوذبح کرنے والے لذات اور صیقل دل کرنے والے حسنات کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے تھے کہ نہ آج تک میں نے قرآن شریف ایسا سنا ہے۔ سبحان اللہ کوئی ایسا رکوع نہیں خالی جاتا تھا کہ جس میں خشعون کی روز روشن کی طرح تصدیق نہ ہو۔ اور لوگوں کے دل پاکبازوں جیسے نہ ہو جاتے ہوں اور نہ کوئی سجدہ ایسا خالی جاتا تھا کہ جس میں طالبان حق گڑ گڑا نہ اٹھیں۔ غرض یہ نظریہ مجھے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے بلبل زار اس گل رعنا کے فراق اور دوری کی وجہ سے تڑپ رہی ہوتی ہے کہ ہمیں مل جائے۔ سبحان اللہ! کیا ہی عجیب منظر تھا۔ جو اب آنکھوں سے اوجھل ہو گیا مگر روحانیت میں ویسا ہی ہے بلکہ زمانہ کے لحاظ سے اس سے بھی بڑھ کر فقط ۔ الحمد للہ
    خاکسار قاضی قمر الدین سیکرٹری تعلیم و تربیت شکار



    روایات
    میاں محمد اسد اللہ احمدی ولد عزیز بخش احمد ی
    ساکن تیجہ کلاں حال وارد امرتسر سٹیشن رائل ہوٹل دوکان نمبر ۲
    حضرت میاں مبارک احمد صاحب مرحوم جن دنوں سخت بیمار تھے جمعہ کا روز تھا خاکسار اور ایک غیر احمدی مسمی ابراہیم ہرکارہ ڈاک جو کہ اب تک زندہ موجود ہے اور ایک تیسرا شخص وہیں کا رہنے والا جس کا پورا پتہ یاد نہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ملاقات اور میاں مبارک احمد صاحب کی تیمارداری کے واسطے گھر پر گئے۔ ہم تینوں ایک چارپائی پر جو کہ صحن میں پڑی ہوئی تھی بیٹھ گئے چند منٹ کے بعد حضور پرنور اندر سے تشریف لائے ہم تینوں کھڑے ہو گئے مگر آپ نے بڑے زور اور اصرار سے فرمایا کہ بیٹھ جائو۔ مگر ہماری یہ خواہش تھی کہ ہم کھڑے رہیں یا زمین پر بیٹھ جائیں یا کم از کم چارپائی کی پائنتی پر بیٹھیں مگر باوجود ہماری کوشش کے آپ پائنتی پر بیٹھ گئے۔
    میاں صاحب مبارک احمد کی صحت کے متعلق دریافت کیا تو فرمایا اس وقت تکلیف زیادہ ہے شاید جمعہ کی نماز بھی گھر میں ہووے۔ مگر آپ کے چہرہ مبارک پر ذرہ بھی افسردگی نہ تھی یہ نمونہ تھاآپ کے مساوات کا جو کہ میرا چشم دید ہے۔
    محمد اسداللہ احمدی ولد عزیز بخش احمدی
    ساکن تیجہ کلاں حال دارد امرتسر اسٹیشن رائل ہوٹل دکان نمبر ۲
    ۳۸-۰۴-۲۶


    روایات
    جناب ڈاکٹر عبداللہ صاحب از مشرقی افریقہ
    تحریر کردہ چوہدری محمد شریف صاحب بی ۔ اے ۔
    میں ۱۹۰۶ء میں افریقہ سے قادیان گیا۔ ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہمراہ باہر سیر کو گئے تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے دوران تقریر میں ’’ لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون ‘‘ کی تشریح فرمائی اور مثال دے کر اس کو اس طرح واضح کیا کہ فرض کریں۔ آپ کا دل پلائو کھانے کو چاہتا ہے اور آپ نے خواہش سے پلائو تیار کرایا ہے پھر جب وہ پک کر اور تیار ہو کر آپ کے سامنے آگیا تو عین اس وقت ایک سوالی بھی سامنے آجاتا ہے اس وقت اگر آپ اس کو دس روپے بھی دے دیں تو یہ موجب رضائے الٰہی نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی حقیقی رضا کا موجب یہ بات ہو گی کہ وہ اپنی پسندیدہ پلائو کی پلیٹ (Plate) آپ خدا تعالیٰ کے لئے اس سوالی کو دے دیں۔
    (۲) یہ بات کئی دفعہ مشاہدہ کی گئی کہ سیر کو جاتے وقت حضور کے عصا مبارک پر لوگوں کے پائوں غلطی سے پڑ جاتے اور بار بار عصا ہاتھ سے گر جاتا۔ اور میرا ندزہ ہے کہ دو میل کی سیر میں بعض اوقات پندرہ بیس دفعہ ایسا ہو جاتا۔ لیکن حضور نے کبھی ایک دفعہ بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ تا کہ کسی کو اپنی غلطی پر ندامت نہ ہو۔ یہ امر حضور کے بے انتہا رحم اور عفو کو ظاہر کرتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ حضور کے کس طرح یہ ارشاد خداوندی پیش نظر رہتا تھا کہ لا تسئم عن الناس۔
    (۳) ایک دفعہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام سیر سے واپس تشریف لا رہے تھے تو صاحبزادہ مبارک احمد صاحب مرحوم آگے سے آملے۔ اور انہوں نے کچھ عربی اشعار پڑھنے شروع کر دئیے۔ حضور ان کے سننے کے لئے ٹھہر گئے۔ یہ بات حضور کی بچوں کے ساتھ شفقت کو ظاہر کرتی ہے ۔ مجھے اب یہ یاد نہیں کہ وہ اشعار حضور کے اپنے کہے ہوئے تھے یا کسی اور کے ۔ لیکن اتنا یاد ہے کہ ان میں طوطے کا کچھ ذکر آتا تھا۔
    (۴) ایک دفعہ سیر سے واپسی پر حضور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم رضی اللہ عنہ کی قبر پر ٹھہر گئے ۔ اور بہت لمبی دعا فرمائی۔ جہاں تک مجھے یاد ہے اس وقت مقبرہ بہشتی والے قطعہ میں صرف حضرت مولوی عبدالکریم صاحب ہی کی قبر تھی۔
    (۵) حضور سیر سے واپسی پر دفتر محاسب کے پاس جو سیڑھی ہے۔ وہاں سے گھر تشریف لے جاتے تھے۔ ایک دفعہ حضور جب سیر سے واپس آکر وہاں کھڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے موقع عطا کیا کہ حضور کی پاپوش مبارک سے گرد صاف کر دوں۔ اور جیسا ہی میں گرد صاف کرنے کے بعد کھڑا ہوا تو حضور کی طرف نگاہ کی اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں کہ اس وقت مجھے آپ کے چہرہ اور پیٹھ پربجز نور کی کرنوں کے اور کچھ نظر نہ آیا۔
    (۶) بعض اوقات حضور اپنے مکان میں ٹہلتے ہوئے پرانے مہمان خانے کے ساتھ والی گلی سے نظر آتے تھے۔ اور اس وقت حضور کے چشم کا صرف اوپر کا حصہ یعنی سر اور منہ ہی نظر آتے تھے۔ اور آپ کے ٹہلنے کی کیفیت سے یوں معلوم ہوتا تھا کہ حضور لکھنے میں مصروف ہیں اور حضور کے عشاق نہایت محبت سے وہیں سے زیارت کرتے رہتے تھے۔
    (۷) انہی دنوں مسجد اقصیٰ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے ایک نہایت عمدہ تقریر فرمائی تھی اور اس وقت حضور کی عمر بہت چھوٹی تھی۔ غالباً پندرہ سولہ سال کی ہو گی۔
    (۸) جب میں قادیان بٹالہ سے جا رہا تھا۔ تو اسی وقت ایک بوڑھے نابینا احمدی بھی قادیان جانے والے تھے انہوں نے کہا کہ کسی یکہ پر کچھ جگہ میرے لئے ہے؟ اس پر میں نے کہا کہ آپ ہمارے یکہ میں آجائیں۔ انہوں نے کہا کہ نہیں میرے پاس ایک اٹھنی موجود ہے ۔ میں اپنے خرچ پر قادیان جائوں گا۔ اس سے منجملہ وقار اور غیرت اور سوال سے نفرت کے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ لوگ باوجود اس غربت کے اپنی زندگی اسی میں پاتے تھے کہ بار بار قادیان آئیں۔
    (۹) ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سیر کے لئے تشریف لے جارہے تھے۔ تو میں نے مولوی محمد علی صاحب (حال امیر غیر مبائعین) کو دیکھا کہ یہ گرد سے بچنے کے لئے جس میں عشاق مسیح موعود چلنا اپنے لئے باعث صد خوشی اورمسرت سمجھتے تھے باہر کھیتوں میں ہو کر چلتے تھے اور رومال اپنے ناک سے لگا رکھا تھا۔ حضرت نواب محمد علی خاں صاحب بھی ایک طرف ہو کر چلتے تھے۔ لیکن چونکہ ان کی تربیت اور رنگ کی تھی اس لئے یہ بات ان کی ذات کے لئے نرالی نہ تھی اور مولوی محمد علی صاحب کے متعلق میرا خیال ہوتا ہے کہ یہ خواہ مخواہ کی ریس کر کے جس کے یہ اہل نہ تھے ۔ اس مقام سے گر گئے اور آخر قادیان کی بابرکت خاک سے ہمیشہ کے لئے محروم ہو گئے۔
    (۱۰) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں مَیں ہمیشہ حضور کے نام اپنا چندہ بھیجتا رہا۔ مجھے صحیح طور پر یاد نہیں رہا شاید حضور کی عمر کے آخری دو سال منتظمین کے اصرار سے میں نے دوسرے مقرر کردہ دوستوں کے نام ارسال کرنا شروع کر دیا تھا۔ لیکن اغلب یہی ہے کہ سوائے شاذو نادر کے میںکسی اور کو چندہ بھیجنا برداشت نہ کرتا تھا۔ اور میری یہی خواہش رہتی تھی کہ آنحضور ہی کی خدمت میں براہ راست چندہ ارسال کروں۔
    دستخط
    عبداللہ احمدی
    ۳۸-۰۱-۱۶
    نیز جناب ڈاکٹر صاحب موصوف نے بیان فرمایا کہ میں قادیان میں ہی تھا کہ ایک شخص کے متعلق یہ چرچا ہوا کہ وہ آگ میں سے صحیح و سلامت گزر جاتا ہے ۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اگر وہ میرے سامنے آگ میں داخل ہو تو ہرگز اس میں سے نہ نکلے۔
    والسلام
    خاکسار محمد شریف
    آج مورخہ 27فروری کو محترمی ڈاکٹر عبداللہ احمدی صاحب نے مندرجہ ذیل حالات جو بعد میں ان کو یاد آئے عاجز کو لکھوائے
    مسجد مبارک بہت چھوٹی ہوا کرتی تھی اس میں میرے خیال میں چار آدمی ایک صف میں کھڑے ہوا کرتے تھے ۔ اس کے آگے ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جس میں حضرت خلیفہ اول امام ہو کر نماز پڑھایا کرتے تھے۔ عاجز نے بھی اس چھوٹے کمرے میں بسبب جگہ نہ ہونے کے حضور خلیفہ اول کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز ادا کی۔ اس مسجد کے د ا ہنی طرف میرے خیال میں ایک دروازہ تھا۔ اس دروازے میں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لایا کرتے تھے۔ اور اس دروازے سے ذرا آگے ہو کر دیوار کے ساتھ حضور نماز کے لئے کھڑے ہو جایا کرتے تھے ۔ کندھے کی اونچائی کے بالمقابل دیوار پر ایک داغ تھا۔ دوستوں نے بھی بتایا کہ یہ داغ حضرت مسیح موعود ؑ کے کندھے کا ہے۔ کبھی حضور بیمار ہوتے تو نماز میں اس دیوار سے سہارا لیتے یا شاید کہا کہ دوران سر کے وقت سہارا لیتے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تقویٰ پر بہت زور دیا کرتے تھے۔ بلکہ حضور علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ میں تقویٰ اللہ دنیا میں قائم کرنے کے لئے آیا ہوں۔
    اس مسجد کے سامنے ایک چھوٹا سا کمرہ ہوا کرتا تھا جس میں رسالہ ریویو آف ریلیجنز کا دفتر ہوا کرتا تھا۔ اور اس میں مولوی محمد علی صاحب بیٹھا کرتے تھے ۔ اس کمرے میں مولوی صاحب موصوف نے میرے سوال پر کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبی ہیں۔ سوال یہ تھا کہ پہلا مسیح نبی تھا۔ مسیح محمدی بھی نبی ہونا چاہئے۔
    راقم خاکسار
    محمد شریف احمدی بی ۔ اے
    از نیروبی مشرقی افریقہ
    عبداللہ احمدی
    ۳۷-۰۲-۲۷


    روایات
    چوہدری غلام احمد خاں صاحب ایڈووکیٹ
    میونسپل کمشنروامیر جماعت احمدیہ پاک پتن
    حضرت مسیح موعود ؑ کی زندگی میں ۱۹۰۴ء کا ذکر ہے کہ میں بعمر پندرہ سال کالڑکا تھا کہ میرے وطن سڑوعہ ضلع ہوشیار پور میں اخویم چوہدری محمد علی خاں صاحب مرحوم اور اخویم چوہدری نور احمد خاں صاحب حال محرر مقبرہ بہشتی قادیان نے مجھے احمدیت کی تبلیغ کی۔ …………
    غالباً ۱۹۰۵ء کے موسم سرما کا ذکر ہے جبکہ میں آٹھویں جماعت میونسپل بورڈ مڈل سکول راہوں ضلع جالندھر میں تعلیم پاتا تھا۔ کہ ایک شب میں نے رویا دیکھا کہ میں اور ایک اور لڑکا مسمیٰ عبداللہ (قوم جٹ سکنہ جاڈل ضلع جالندھر) جو کہ میرا ہم جماعت تھا کھیل کود یعنی ورزش کے میدان سے اپنی جائے رہائش (بورڈنگ ہائوس اہل اسلام جو کہ شہر میں بڑے بازار کے نزدیک ہوا کرتا تھا) کو آرہے تھے۔ چونکہ وہ میدان شہر کے جانب شمال واقع ہے ۔ اس لئے ہم شہر میں شمالی سمت سے داخل ہونے والے تھے۔ کہ وہاں ایک گلی میں آنحضرت محمد رسول اللہ صلعم دکھائی دئیے حضور کا رخ شہر کی طرف تھا۔ اس واسطے میں شہر کی طرف پیٹھ کرتا ہوا اور اپنا رخ جانب شمال کرتاہوا حضور کی طرف بڑھا اور السلام علیکم کہا اور دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔ حضور کے سر پر سفید پگڑی نہایت سادگی سے بندھی ہوئی تھی کالا لمبا چوغہ اور سفید پاجامہ زیب تن تھے۔ گندمی رنگ تھا۔ بال سیدھے تھے۔ آنکھیںٹوپی دار تھیں پیشانی فراخ اور اونچی تھی۔ بڑھی ہوئی اونچی ناک تھی۔ ریش مبارک کے بال سیدھے اور لمبے اور سیاہ تھے۔ چہرے پر کوئی شکن نہیں تھا بلکہ خوبصورت نورانی اور چمکدار تھا۔ قد درمیانہ تھا۔ خواب میں حضور سرور کائنات سے ملاقات کر کے دل میں لذت اور سرور حاصل ہوتا تھا۔ اور دل نہایت خوش و خرم تھا۔ یہاں تک کہ بیداری پر بھی وہی لذت اور سرور موجود تھا۔ خواب کا دل پر ایسا گہرا نقش ہوا کہ میں آج یہ سطور لکھتا ہوا بھی اس پاک نظارے سے محظوظ اور مسرور ہو رہا ہوں اور اس کا دل سے مٹنا ممکن نہیں ۔ تبلیغ احمدیت تو مجھے ہو چکی تھی اور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لا چکا تھا۔ اور بعض ابتلائوں میں بھی اس ایمان پر قائم رہ چکا تھا۔ مگر بعد ازاں بعض وجوہات سے پھر مخالف ہو گیا حتی کہ اس خواب سے اڑھائی سال بعد جب میں نے حضرت مسیح موعود کو بتاریخ ۱۸؍مئی ۱۹۰۸ء لاہور میں پہلی دفعہ دیکھا تو مجھے فوراً مذکورہ بالا خو اب یاد آگیا کیونکہ خواب میں جس شخص کو حضرت محمد رسول اللہ صلعم دیکھا تھا بعینہ وہی شخص حضرت مرزا غلام احمد قادیانی نظر آرہا تھا۔دونوں کا حلیہ اور لباس ہوبہو ملتا تھا۔ سرمو کے برابر بھی ذرا فرق نہ تھا۔ وہی تمام جسم وہی گندمی رنگ اور وہی سیدھے بال اور وہی سفید پگڑی اور اس کی وہی بندش اور وہی کالا لمبا چوغہ اور وہی سفید پاجامہ غرضیکہ ہوبہو وہی شخص تھا جس کو میں نے خواب میں حضرت محمد رسول اللہ صلعم دیکھا تھا البتہ میرے ہم جماعت عبداللہ کی بجائے میرے ہمراہ چوہدری عبدالحی خاں صاحب احمدی کاٹھ گڑھی جو کہ اب پنشنر پوسٹ ماسٹر ہیں تھے اور دراصل عبدالحی عبداللہ ہی ہے۔ جس نے مجھے اس وقت اشارہ کیا کہ مصافحہ کر لو۔ چنانچہ میں نے ان کے اشارہ پر حضرت مسیح موعود ؑ کو السلام علیکم عرض کیا اور جواب میں وعلیکم السلام سنا۔ چونکہ میرے اور حضرت مسیح موعود کے درمیان چند آدمی بیٹھے ہوئے تھے ۔ اس واسطے جب میںنے کھڑے ہو کر حضور سے مصافحہ کے واسطے ہاتھ آگے بڑھائے اور حضور تک پہنچ نہ سکے تو پھر آپ نے اپنے زانوئوں کے بل کھڑے ہو کر اس عاجز کو مصافحہ کا شرف بخشا۔ السلام علیکم اور وعلیکم السلام کا تبادلہ مصافحہ کے وقت ہی ہوا تھا۔ اس دن سے ایک دن پہلے حضور نے لاہور میں روساء اور امرا کے روبرو تقریر کی تھی۔ اور یہ حضور کی آخری تقریر تھی۔ میں اس روز بھی حضور کی زیارت کے واسطے آیا تھا۔ مگر حضور اس وقت تقریر کر رہے تھے۔ اور سید محمد اشرف صاحب راہوں والے دروازے پر دربان تھے۔ جنہوں نے باوجود میری منت اور سماجت کے جلسہ گاہ کے اندر داخل ہونے نہ دیااور کہا کہ اندر جانے کی اجازت نہیں۔ غالباً اس تقریر کی وجہ سے حضور کا گلہ بیٹھا ہوا تھا اور صاف آواز نہیں نکلتی تھی۔ جب حضور بولتے تھے تو بعض اوقات اپنے زانوئوں کے اوپر ہاتھ بھی مارتے تھے ایک احمدی نے اپنے دو لڑکے بعمر دس ۔ بارہ سال بیعت کے لئے پیش کئے آپ نے ان کے سروں پر ہاتھ پھیرا۔ مسکرا کر مسرت کا اظہار فرمایا۔ اور کچھ گفتگو بھی کرتے رہے۔ لڑکوں کی کم سنی کی وجہ سے بیعت نہ لی ۔ اس احمدی کو فرمایا۔ کہ جب آپ احمدی ہیں تو آپ کے بچے بھی ہماری بیعت میں شامل ہیں۔ (مفہوم) چوہدری عبدالحی صاحب نے اشارہ کر کے بتایا کہ وہ مولوی نورالدین صاحب بیٹھے ہوئے ہیں (رضی اللہ عنہ) وہ حضرت مسیح موعود ؑ کے دائیں طرف دیوار کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر حضور نے نماز ظہر ادا کرنے کا حکم دیا اور سب لوگ نماز کے لئے کھڑے ہو گئے ۔ اور حضور بھی کھڑے ہو گئے۔ اس وقت میں حضور کا چہرہ بار بار دیکھتا ہوا اور اپنے رویا کا بار بار خیال کرتا ہوا اندرونی حجاب کے شش و پنج میں غور کرتا ہوا ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کی کوٹھی (واقعہ احمدیہ بلڈنگس لاہور) سے باہر نکل آیا۔ راستہ میں سوچتا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کی عمر دراز کرے ۔ شاید میرا حجاب دور ہو جائے لیکن ستیاناس ہو اندھی تقلید اور بدظنی اور جہالت کا جن کی وجہ سے حضور کی زندگی میں حضور کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا زریں موقع کھو دیا۔ مورخہ ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو دن کے دس بجے اسلامیہ کالج لاہور کے سائنس کے کمرے میں پروفیسر مولوی حاکم علی صاحب کا لیکچر سن رہا تھا۔ کہ یکایک کسی نے آکر کہا کہ مرزا مر گیا۔ وہاں سناٹا چھا گیا۔ میرے تو دل ہی دل میں طوطے اڑ گئے۔ وہاں فسٹ ائیر کلاس میں ہمارے ساتھ ایک احمدی طالب علم تھا اور وہ میاں امجد حسین تھا جو کہ برادر خورد سر میاں فضل حسین صاحب بیرسٹر مرحوم تھا۔ وہ تو پژمردہ اور افسردہ سا ہو گیا۔ میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے سمجھا کہ شاید میں اسے تنگ کرنے کی خاطر دیکھ رہا ہوں چنانچہ اس نے میری طرف گھورا اور میں نے اس سے فوراً معافی مانگ کر اس کو یقین دلایا کہ میرا وہ منشا نہ تھا جو آپ سمجھے ہیں۔ ادھر پروفیسر صاحب موت کی خبر لانیوالے کو کہہ رہے تھے کہ اس خبر کی تصدیق کر لو۔ ایسا نہ ہو کہ اب موت کا بہانہ بنا لیا ہو اور پھر زندہ ہو جانے کا معجزہ بنا لے اور کہہ دے کہ میں بند لفافہ میں آسمان سے پیغام لایا ہوں۔ وہ شخص چلا گیا اور پھر خبر لایا کہ مرزا صاحب فی الواقع فوت ہو چکے ہیں۔ پروفیسر صاحب نے اپنی بعض حرکات سے خوشی کا اظہار کیا جو کہ مجھے بہت ہی ناپسند تھیں۔ پھر ہمیں جلدی ہی چھٹی ہو گئی میں اپنا بستہ یعنی جزدان اٹھا ڈیرہ نجابت خاں کی طرف چل پڑا ان دنوں میں وہاں ہی رہا کرتا تھا۔ جب میں کالج کی حدود سے باہر کیلیانوالی سڑک پر گیا (یہ وہی سڑک ہے جو کہ احمدیہ بلڈنگس کے عین سامنے ہے) تو دیکھا کہ اخویم چوہدری محمدعلی خاں صاحب اور چوہدری عبدالحی خاں صاحب مذکوراں تیز تیز قدم اٹھاتے جلدی جلدی چلے آتے ہیں اور احمدیہ بلڈنگس کی طرف جا رہے ہیں ۔ میں نے ان دونوں سے اظہار ہمدردی کیا اور ان کے ساتھ چل پڑا۔ میں ان کے ساتھ ان کے پیچھے پیچھے صرف چند قدم چل سکا کیونکہ وہ اس قدر تیز تھے کہ میں ان کے ساتھ مل نہ سکا۔ میرا خیال تھا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں گے مگر اس وقت انہوں نے میری پرواہ نہ کی اور میں واپس ہٹ آیا۔ لاہور میں موت کی یہ خبر آناً فاناً پھیل گئی اسی دن سنا تھا کہ شریروں نے شرارتیں کیں۔
    چوہدری محمد علی خاں صاحب مذکور بعد ازاں بتلایا کرتے تھے کہ جب حضور کا جنازہ گاڑی میں سے بٹالہ سٹیشن پر اتارا گیا تو کچھ عرصہ پلیٹ فارم پر پڑا رہا۔ اور تجویزیں ہو رہی تھیں کہ کس طرح قادیان پہنچایا جاوے۔ بعض کہتے کہ بیل گڈا (یعنی بہلی رتھ۔ ناقل) لائو۔ اور بعض کچھ اور تجویزیں پیش کرتے تھے۔ اتنے میں مَیں آگے بڑھا اور کہا کہ اتنی بڑی جماعت ہے جنازہ کو کندھوں کے اوپر اٹھا کر کیوں نہیں لے جاتے اور خود اپنے ہاتھوں سے جنازہ کو اٹھانے لگ پڑا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ احمدیوں نے حضور کا جنازہ ہاتھوں ہاتھ اٹھا لیا اور کندھوں پر قادیان پہنچایا گیا۔ پھر وہ کہا کرتے تھے کہ جب جنازہ قادیان کے نزدیک پہنچا تو آگے سے مولوی محمد علی صاحب (امیر غیر مبائعین) پہنچے۔ ادھر سے خواجہ صاحب مولوی صاحب کی طرف بڑھے۔ دونوں ایک دوسرے سے گلے لگ کر ملے۔ اس وقت مولوی محمد علی صاحب اونچی آواز سے رو رہے تھے۔ اس پر قاضی امیر حسین صاحب مرحوم نے مولوی صاحب کی طرف لپک کر ڈانٹا کہ اس طرح عورتوں کی طرح رونا شریعت کے خلاف ہے۔ یہ بات کر کے چوہدری صاحب موصوف کھل کھلا کرہنسں پڑا کرتے تھے۔ اور سامعین کو بھی ہنسا دیا کرتے تھے۔
    حضرت مسیح موعود ؑ کے صحابی شیخ نیاز محمد صاحب کمپونڈر جو کہ پاکپتن میں بہت عرصہ اور کئی مرتبہ کمپونڈر رہے ہیں۔ وہ بیان کیا کرتے ہیں کہ جب بٹالہ سے قادیان کو حضور کا جنازہ کندھوں پر لے جا رہے تھے تو راستہ میں آگے سے آتا ہوا ایک زمیندار ملا وہ غیر احمدی تھا۔ اس نے دریافت کیا کہ یہ کس کا جنازہ ہے۔ شیخ صاحب کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ مرزا صاحب کا۔ پھر اس زمیندار نے خود ہی کہا کہ’’ قادیان والے مرزا دا۔‘‘ میں نے کہا ہاں اس پر وہ شخص یک لخت زمین پر بیٹھ گیااس وقت وہ سہمگین اور غمگین دکھائی دیتا تھا۔ جب وہ کچھ عرصہ کے بعد سنبھلا تو اس نے کہا کہ اس جیسا شخص دنیا میں پیدا نہ ہو گا۔ چند اورتعریفی کلمات اس نے بیان کئے وہ ابھی زمین پر افسوس ناک حالت میں بیٹھا ہی تھا کہ ہم اسے چھوڑ کر جنازہ کے ساتھ آگے بڑھے۔
    پھر موسم بہار ۱۹۰۹ء میں ماموں صاحب مذکور اپنے بعض تازہ الہامات اور رویا اور کشوف کی بنا پر اچانک احمدی ہو گئے۔ اور حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفۃ المسیح موعود اول کی بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں منسلک ہو گئے۔ ماموں صاحب نے مجھے اس بات کی اطلاع اسلامیہ کالج لاہور میں دی۔ اور میں ان کا خط پڑھ کر ہکا بکا رہ گیا۔ اور ان کو جواب میں تحریر کیا کہ آپ اپنے پیر صاحب کی اس قدر تعریفیں کیا کرتے تھے۔ اسی وجہ سے میں حضرت مسیح موعود کی بیعت نہ کر سکا۔ ماموں صاحب نے مجھے یہ بھی لکھا تھا کہ ۱۹۰۵ء میں میرا احمدیت کے متعلق اعتقاد اور ایمان بالکل درست تھا اب مجھے بھی بیعت کر لینی چاہئے ۔ چنانچہ اس وقت میں نے ایک ہفتہ تک استخارہ کیا اور دعا کی۔ بعض رویا صادقہ دیکھے۔ جن کی بنا پر میں نے بذریعہ خط حضرت خلیفۃ المسیح اول کی بیعت کر لی جو کہ ۹ ؍اپریل ۹ئ٭ کو منظور و مقبول ہوئی۔ الحمد للہ علی ذلک
    میری بیعت پر اسلامیہ کالج لاہور اور اس کے بورڈنگ میں زبردست شور مچا اور یہ شور پورے ایک ماہ تک رہا۔ عربی کے پروفیسران مولوی اصغر علی صاحب روحی اور مولوی احمد علی صاحب اور مولوی محمد عمر صاحب پروفیسر فارسی ہرسہ پروفیسروں نے مجھے الگ الگ بلا کر سمجھانے کی کوشش کی مگر ان تلوں میں تیل نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے میری تائید و نصرت کی اور مجھے ثابت قدمی اور استقامت بخشی اور ان سب لوگوں پر زبردست حجت قائم ہو گئی۔ الحمد للہ علی ذلک
    اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک رویا میں صحابی قرار دیا ہے اور ایک رویا میں تابعی۔ مجھے نہیں معلوم کہ صحابی مسیح موعود ہوں یا تابعی۔ واللہ اعلم بالصواب
    عاجز چوہدری غلام احمد خاں ایڈووکیٹ و میونسپل کمشنر و امیر جماعت احمدیہ پاک پٹن

    حالات و واقعات زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام
    از حضرت مولوی عبدالسمیع صاحب امروہوی (صحابی)
    تحریر کردہ بشارت احمد پسرمولوی عبدالسمیع صاحب
    کمترین اپنی یاد پر ۱۸۹۶ء یا ۱۸۹۷ء کا بیعت کنندہ ہے واللّٰہ اعلم کیونکہ جب کمترین اور کمترین کے والد بزرگوار جناب مولوی الٰہی بخش صاحب مرحوم ومغفور علیہ الرحمۃ جناب مولوی محمد احسن صاحب مرحوم کے ساتھ قادیان دارالامان تشریف لائے تھے اس وقت آتے ہوئے امرتسر شیخ نور احمد صاحب کے مکان پر ٹھہرے تو جناب شیخ یعقوب علی صاحب مدظلہ ایڈیٹراخبار الحکم اپنا پریس وغیرہ قادیان شریف نہیں لائے تھے۔ ہم آٹھ دس یوم امرتسر رہے جلسہ سالانہ قریب تھا۔ اس لئے قادیان دارالامان چلے آئے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اس وقت حضور انور مسجد مبارک کے پہاڑ کی جانب جو بیت الفکر کمرہ ہے اس کے صحن میں تشریف فرماتھے۔ میرے والد صاحب مرحوم کو مولوی محمد احسن صاحب مرحوم نے کہا۔ میاں اللہ بخش صاحب حضرت کے ہاتھ چوم لو۔ والد صاحب مرحوم نے بلا کسی اشارہ اور بلا کسی تخصیص حضور کی نشست کے فوراً حضور ہی کے ہاتھ مصافحہ کرتے ہوئے ہاتھ چوم لیا۔ یہ پہلی کرامت صداقت کی تھی۔ ورنہ خوبصورت جسم لحیم اکثر اصحاب حضور کے اردگرد موجود تھے والد بزرگوار کے ساتھ کمترین مدح خوانی کیا کرتا تھا۔ مولوی صاحب موصوف نے والد صاحب مرحوم مغفور سے مخاطب ہو کر کہا حضرت کو نظمیںسنائیے۔ درثمین کی نظمیں اردو فارسی سنائیں۔ حضور انور نے مکرر فرمایا اور پڑھو۔ کمترین بھی پڑھتا رہا۔ غرض اڑھائی ماہ قادیان میں قیام رہا۔ برابر وقتاً فوقتاً حضور انور کو دیگر اوقات میں دوستوں کی فرمائش پر دوستوں کے قیام گاہوں میں نظمیں پڑھ کر سناتے رہے۔ جلسہ سالانہ کے ایک ہفتہ بعد حضور سیر کے لئے تشریف لے جانے لگے ہم سیر میں حضور کے ساتھ رہتے۔ والد صاحب مرحوم مغفور بہت جوشیلے دین متین کے لئے غیرت مند اور بہت متقی پابند احکام الہی تھے۔ ہمیشہ سے محقق تھے اسی باعث نور احمدیت سے خدا تعالیٰ نے مستفیض فرمایا۔ اسی واسطے ہمیشہ حضرت اقدس سے اکثر مسائل استصواب کرتے رہتے تھے۔ اس وقت کمترین کی عمر دس بارہ سال سے زائد ہو گی۔ کیونکہ ہر طرح کا ہوش اور سمجھ اس احقر کو تھی۔ ایک مرتبہ دوران سیر میں والد صاحب مرحوم نے حضور سے وتر کے متعلق دریافت کیا۔ حضور وتر کیا ایک رکعت کو کہتے ہیں اور وہ کس طرح ادا کیا جائے۔ حضور انور نے فرمایا تین رکعت کی نیت باندھ کر دو پڑھ کر سلام پھیر دو‘ کھڑے ہو کر رفع یدین کر کے ہاتھ باندھ لو پھر الحمد شریف اور اس کے ساتھ دوسری سورۃ پڑھ کر رکوع کرو اور پھر قیام میں بعد سمع اللہ لمن حمدہ کے جتنی چاہو دعائیں مانگو۔ سجدہ کر کے التحیات پڑھ کر تشہد پڑھ کر سلام پھیر دو۔ حضور نے فرمایا میں اسی طرح پڑھتا ہوں۔ دوسری صورت وہی ہے جو عام طور پر پڑھی جاتی ہے۔ ایک مرتبہ کا ذکر ہے ایک دفعہ کا ذکر ہے مولوی کرم دین جہلمی نے اپنے بھائی محمد حسین بھینی کے رہنے والے کی ہتک کا دعویٰ حضرت اقدس پر ضلع جہلم میںدائر کیا تھا۔ جو اس نے حضور کی تفسیر اعجاز المسیح کا رد کرنا چاہا تھا۔ اور کچھ نوٹ حضور کی کتاب پر جواباً اعجاز المسیح کا جواب لکھنے والا ہلاک ہو جائے گا۔ لہذا میری پیشگوئی پوری ہو گئی اور یہ نوٹ اس کرم دین نے حضور کو معرفت حکیم مولوی فضل دین بھیروی پہنچائے تھے۔ بعداشتہار وہ انکاری ہو گیا اور اس نے دعویٰ ازالہ حیثیت عرفی کا دائر کر دیا۔ اس پر حضور جہلم میں جو تاریخ مقرر کی گئی تھی تشریف لے جا رہے تھے۔ چند روز بیشتر ایک کتاب مواہب الرحمان حضور نے تصنیف کی جس میں کرمدین کو لئیم کذاب لکھا ہے اس کو جب حضور تصنیف فرما رہے تھے اس وقت کمترین حضور کے کمرہ کے برابر بیت الفکر میں سویا کرتا تھا۔ جو مسجد مبارک کے دائیں پہلو میں ہے۔ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ حضور اندر سے رات کے وقت ۲۔۳ بجے دروازہ کھول کر تشریف لاتے اور آواز دیتے میاں عبدالسمیع اس آواز پر میری آنکھ فوراً کھل جاتی گویا کہ جاگ ہی رہا تھا اور حضور فرماتے کہ’’ یہ کاپی لے جائو اور صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب کو دے آئو‘‘۔ میں لے جاتا اور دے آتا اکثر ایسا موقع ہوتا۔ چونکہ ایک مدت تک میں وہیں سوتا رہا حضور رات کے وقت تشریف لاتے۔ اور کوئی خدمت اس قسم کی میرے سپرد فرماتے۔ ایک مرتبہ کا ذکر ہے گورداسپور میں مقدمہ تھا جو کرم دین نے فوراً اپنے ازالہ کا دعویٰ کیا تھا کہ مجھ کو حرام زادہ کہا گیا ہے وہاں پر حضور مسیح موعود علیہ السلام تاریخ پر تشریف لے گئے تھے ۔ کمترین بھی موجود تھا۔ آپ کے بستر کی چادر اور تکیے کا غلاف کسی قدر میلا ہو گیا تھا ابو سعید عرب ایک شخص رنگون کا رہنے والا بھی وہاں ہی موجود تھا۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ میاں عبدالسمیع حضرت صاحب کے بستر کی چادر اور تکیے کا غلاف میلا ہو گیا ہے اس کو بدل دینا چاہئے۔ کمترین نے حضرت اقدس کی خدمت میں ان کی اجازت چاہی حضور ان کو دھوبی کو دے دیا جائے۔ حضور نے فرمایا کہ’’ میاں عبدالسمیع ان کو کیا دھوبی کو دیتے ہو یہ تو ابھی کوئی یوں ہی لے جائے گا اور جس نے دیکھ لیا وہ چھوڑے گا نہیں‘‘ اس وقت حضور یہ مسکراتے ہوئے فرما رہے تھے جس کا نقشہ میری آنکھوں میںاب تک کھنچا ہوا ہے یہ سن کر مجھے بھی بہت بشاشت ہوئی اور وہیں ان کو رکھ کر حضور کے کسی کام کو چلا گیا واپسی پر نہ معلوم کہ کس کے نصیب میں یہ نعمت غیر مترقبہ آئی اس کا میں بھی افسوس ہی کرتا رہا۔
    ایک مرتبہ کا ذکر ہے اس مقدمہ کے دوران میں ایک تاریخ لمبی ہو گئی تھی تو حضور نے فرمایا میرا خیال ہے کہ لاہور جا کر ایک تبلیغی مضمون سنایا جاوے۔ چنانچہ حضرت اقدس تشریف لے گئے کمترین بھی اپنے ذوق شوق میں کسی طرح پہنچ گیا رات کو ہم لوگ میاں معراج الدین صاحب کے مکان پر مقیم رہے۔ صبح کو لیکچر تھا جو ہندو کا منڈوہ تھا۔ غالباً شاہ کنڈ میں ہے ۔وہاں پر علی الصبح جب ہم پہنچے تو وہ منڈوہ بھرا ہوا تھا کشاں کشاں ہم کو جگہ ملی۔ اس کے بعد سات یا آٹھ بجے جلسہ شروع ہوا مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے حضور کا لیکچر پڑھا۔ جس کی گیلریاں او راحاطہ کے باہر تک لوگ بھرے ہوئے تھے۔ دو انسپکٹر پولیس درمیان میں بیٹھے ہوئے تھے چہار اطراف میں سپاہیوں کا پہرہ تھا جب ذرا کوئی چہ میگوئی کرتا تو انسپکٹر پولیس درمیان سے صرف لفظ پولس کہتا۔ اور وہ سپاہی جو پہرے پر تعینات تھے اپنے ان رولوں سے جو چوبی تھے خاموش کراتے۔ اس کے بعد معلوم ہوتا تھا کہ وہ چہ میگوئیاں ایک دوسرے سے لیکچر کے سننے پر ہوتی تھیں۔ چنانچہ بڑی خاموشی سے لیکچر سنایا گیا۔ اور پھر وہاں آکر اشرار لوگوں نے شور مچانا شروع کیا مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم سے خواجہ کمال الدین صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ایک رکوع قرآن کریم آپ پڑھ دیں۔ تا کہ شور و غوغا کم ہو جائے چنانچہ ایسا کیا گیا جب آپ نے رکوع شروع کیا تو ایک دم سب خاموش ہو گئے اور کان لگا کر سننے لگے اسی اثناء میں ٹم ٹم اور بند گاڑیاں تیار تھیں اس میں حضرت اقدس اور علماء سوار ہو کر روانہ ہو گئے۔ اور وہ لوگ جلسہ گاہ میں مولوی صاحب کی قرات سننے میں مشغول رہے ۔ کمترین بھی حضرت کی گاڑی کے پیچھے پیچھے چند دوسرے احمدی دوستوں کے ہمراہ روانہ ہو لیا۔ راستے میں اکثر مخالف مولویوں کو دیکھا کہ کوئی اپنے ہاتھ کاٹ رہا تھا اور کہتا تھا کہ میں کتا ہوں اگر مرزا صاحب میرے قابو چڑھ جائیں تو اس طرح کاٹوں اور کوئی کپڑے پھاڑ کر کہتا کہ میں بندر ہوں اگر حضرت مرزا صاحب میرے ہاتھ لگ جاویں تو اس طرح آپ کو پھاڑوں‘ کوئی ہاتھ میں بھس لے کر کھاتا تھا اور کہتا تھا کہ میں ایسا جانور ہوں کہ بھوسہ سمجھ کر بھی نہ چھوڑوں۔ تو کمترین کو اس وقت یہ آیت شریفہ یاد آئی جو یہود سے تعلق رکھتی ہے کہ وجعل منھم القردۃ والخنازیر وعبد الطاغوت (المائدہ :61) یعنی بنا دیا ہم نے ان کو بندر اور سور اور پجاری بتوں کا۔ بالکل یہی نظارہ تھا۔ غرض یہ دیکھتے ہوئے ہم اپنے قیام گاہ پر چلے آئے پھر شاید دوسرے روز قادیان شریف واپس آگئے۔ اسی اثناء میں یعنی دوران مقدمہ میں حضرت اقدس جب کچہری تشریف لے جایا کرتے تو کمترین نے ہر روز ورد کیا ہوا تھا کہ گاڑی پر سوار ہوتے وقت حضور کو پان بنوا کر پیش کرتا۔ حضور تبسم فرما کر نوش فرما لیتے۔ سامنے حضور کے خواجہ کمال الدین بھی ہوتے ان کو دے دیا کرتا وہ بہت مشکور ہو کر کہتے بڑی مہربانی اور مسکرا دیتے۔
    ایک مرتبہ اسی اثناء میں کمترین کے گھر سے ایک خط موصول ہوا کہ تمہارے والد سخت بیمار ہیں تم کو یاد کرتے ہیںاحقرنے حضرت مکرمی مولوی نورالدین خلیفۃ المسیح اول مدظلہ العالی کی خدمت اقدس میں عرض کیا آپ نے فرمایا ضرور جانا چاہئے۔ حضرت صاحب سے اجازت لے لو۔ حضور کی خدمت میں ایک عریضہ لکھ کر کمترین نے بھیجا اور درخواست کی کہ کوئی لباس حضور کا اترا ہوا مل جاوے تو بہت ہی بہتر ہو گا حضور نے ایک رومال اپنا دستی مرحمت فرما کر اجازت دے دی۔ اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ ’’میاں عبدالسمیع سفر میں کپڑے وغیرہ بسبب طوالت کم لائے گئے ہیں اس وجہ سے یہ رومال دینا مناسب ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے والد صاحب کو صحت عنایت فرماوے۔ میں دعا کرتا ہوں‘‘ اور یہ حضور نے روبرو کمترین کو بدیں الفاظ ہی فرمایاتھا۔ کمترین جب کبھی حضور کی خدمت میں امروہہ سے حاضر ہوتا تو صورت دیکھ کر ہاتھ مصافحہ کے لئے بڑھاتے۔ اور مسکراتے۔ کمترین کے حضور کے ہاتھ چومنے پر چہرہ مبارک سے بڑی بشاشت ظاہر ہوتی اور فرماتے آگئے تم اچھے رہے پھر اس کے بعد اگر حضور قیام فرماتے یا بیٹھ جاتے تو برابر بلا کسی بڑے چھوٹے بزرگوں کے ادب ملحوظ رکھتے ہوئے حضور کے قدموں میں بیٹھ جاتا۔ اور برابر جب تک تشریف فرما رہتے آپ کے پنڈلیاں۔ پائوں دباتا رہتا۔ یہاں تک بعد نماز مغرب موسم گرما میں حضور مسجد مبارک کے اوپر جو تین رخی فصیل ہوتی تھی اس پر شرقی طرف آپ تشریف فرما ہوتے اور دونوں پہلوئوں میں اور بزرگ مولوی عبدالکریم صاحب یا حضرت خلیفہ اول حضرت مفتی صاحب تشریف فرما ہوتے تھے اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب اکثر اخبار ڈوئی جھوٹے نبی کا امریکہ کا ذکر سنایا کرتے اور کمترین سب میں آگے بڑھ کر آپ کے قدم دبایا کرتا۔ موسم سرما میں بھی اسی طرح سے مغرب سے عشاء تک حضور کے قدموں میں بیٹھا رہتا تھا ۔ عشاء کی نماز کے لئے جب نماز کھڑی ہوتی تو آگے جو کھڑکی بنی ہوئی تھی اس میں تین آدمی کھڑے ہو سکتے تھے اور پیچھے جو صفیں قائم ہوتی تھیں اس میں چھ آدمیوں کی صف ہوتی تھی۔ اگلی دریچی میں جس میں جھک کر نکلا جاتا تھا ایک کٹویا تھی جس میں درمیان میں مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم ایک طرف کوئی اور لڑکا غالباً مولوی محمد احسن کا اسماعیل لڑکا ایک جانب کمترین نماز ادا کرتے تھے۔ بعدہ حضرت صاحب جب اندر تشریف لے جاتے تب ہم وہیں بیت الفکر میں سو جاتے اور باقی نمازی اپنے مکانوں کو چلے جاتے۔ مولوی محمد احسن صاحب بیت الفکر کے سامنے ایک کوٹھری تھی اس میں رہتے تھے ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ اس مقدمہ کے دوران میں کچہری کے میدان میں درختوں کے نیچے بمع حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیٹھ جاتے تھے جب تک کہ مقدمہ پیش ہو جاوے۔ وہیں سب لوگ بیٹھے رہتے۔ اتفاق سے ایک روز ایک آریہ گھوڑے پر سوار آیا اور اتر کر کہنے لگا کہ حضرت صاحب سے مجھے نیاز حاصل کرنا ہے خواجہ کمال الدین صاحب نے اسے کہا حضور تشریف فرما ہیں ملاقات کر لو۔ وہاں آکر حضور کی خدمت میں دعا سلام کر کے بیٹھ گیا اثناء گفتگو میں نبی کریم ﷺ کی شان میں کچھ الفاظ ناشائستہ اس آریہ کی زبان سے نکلے۔ حضور جری اللہ یہ سنتے ہی یہ الفاظ فرماتے ہوئے کھڑے ہو گئے ’’کہ ہم ہرگز ایسے خبیث دلوں سے گفتگو نہیںکرتے جو سرور عالم کی شان میں اس طرح بے ادبی سے پیش آوے‘‘۔ اور کھڑے ہو کر آپ نے ٹہلنا شروع کر دیا۔ برابر آپ میدان میں جو درختوں کا سایہ تھا آپ ٹہلتے رہے جس سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ باغیرت انسان کی شان جو اپنے نفس کے لئے نہیں نبی کریم صلعم کی توہین کا اس قدر جوش آیا۔ اور وہ اپنے ضبط تحمل میں باقابو رہا۔ یہی ایک نبی کی شان ہے۔ غیر نبی کو یہ تحمل مزاجی اور نفس کشی ہرگز میسر نہیں ہو سکتی۔ باربار کمترین حضور کے چہرہ مبارک پر نظر کرتا تھا۔ جو سرخ ہو رہا تھا آپ اپنی زبان مبارک سے کچھ نہ فرماتے سوائے ٹہلنے کے۔ اس پر اس آریہ کو خواجہ کمال الدین صاحب نے کہا جا تجھے شرم کرنی چاہئے۔ ایک انعام (نوٹ) لفظ صاف پڑھا نہیں جاتا ۔ ناقل) جس کے ساتھ سو دو سو آدمی جانثار موجودہیں ایسے الفاظ ناشائستہ کہنا کیا تیری حمیت اور غیرت تقاضا کرتی ہے اگر وہ اس وقت حکم دے دے تو تیرا نام نشان تک باقی نہ رہے کیا تم لوگوں کی یہی تہذیب رہ گئی ہے کہ دوسروں کے بزرگوں کی توہین کرو۔ جس کو جانور بھی پسند نہیں کرتے۔ وہ بہت ذلیل ہو کر کھسکتا ہوا چلا آیا۔
    بہت سارے واقعات ہیں جو انشاء اللہ تعالیٰ کسی وقت اطمینان سے بیٹھ کر ضبط قلم کر سکوں گا ۔ وماتو فیقی الاباللّٰہ ۔
    یہ نمونتاً بسبب عجلت سفر کے قلمبند کئے گئے ہیں۔ آپ بزرگ دعا کریں خداوند کریم مجھے توفیق دے۔ کہ حضرت احمد نبی جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء کے خادموں میں میرا بھی نام ہو۔ تا قیامت میں آپ کے قدموں میں رہوں۔ میرے عزیز اقارب کو خدا تعالیٰ احمدیت کی سلک مروارید میں منسلک ہونے اور رہنے کی توفیق عطا فرماوے۔ اور میری اولاد کو خادم دین رہنے کی توفیق دے۔ اور جو ان الفاظ کو پڑھے دعا فرماوے خدا تعالیٰ قبول فرماوے ۔ آمین ثم آمین۔
    خاکسار عبدالسمیع
    (بیان) مولوی عبدالسمیع صاحب امروہی
    14-10-38


    روایات
    جمال الدین فیض اللہ چکی
    سن بیعت ۱۸۹۸ء
    ’’ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا مناظرہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ بمقام لدھیانہ بر دکان مولوی محمد حسین صاحب رئیس لدھیانہ۔ ‘‘
    خاکسار کو سن اور ماہ یاد نہیں رہا۔ ہاں اتنا یاد ہے کہ موسم گرما تھا جب مناظرہ ہوا تھا خاکسار نے ابھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت نہیں کی تھی۔ حسن ظنی تھی۔ مناظرہ چار بجے شام وقت ہوا تھا۔ خاکسار اس مناظرہ میں موجود تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بطرز سادگی ایک چٹائی پر رونق افروز تھے۔ اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی چٹائی پر قالین بچھا کرگائو تکیہ لگا کر بیٹھے ہوئے تھے گویا یہ فخریہ نشست تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃوالسلام نے ایک حدیث فرمودہ رسول اللہ ﷺ تحریراً مولوی محمد حسین صاحب کے پیش کی۔ پڑھ کر مولوی صاحب موصوف طیش میں آگئے۔ اپنی جگہ سے اٹھ کر حضرت ممدوح کی طرف حملہ آوروں کی طرح آئے۔ لیکن پولیس کا انتظام تھا۔ پولیس نے مولوی محمد حسین صاحب کو روک لیا۔ ازاں بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک کشف مولوی عبداللہ صاحب مرحوم غزنوی کا لکھ کر مولوی محمد حسین صاحب کے پاس بھیجا جس جگہ بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ کشف یہ تھا کہ مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کا کشف ہے کہ میں نے دیکھا کہ قادیان میں آسمان سے نور آیا بہت لوگوں نے وہ نور لیا۔ میری اولاد محروم رہ گئی اور مولوی محمد حسین صاحب کا پیرہن پارہ پارہ ہوا ہوا ہے ۔ یہ کشف کی عبارت پڑھتے ہی مولوی صاحب بٹالوی بڑے طیش میں آگئے۔ اپنی نشست سے اٹھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر حملہ کرنے آئے پولیس نے پھر روک دیا۔ اور حضرت صاحب سے کہا کہ آپ تشریف لے جائیں۔ یہ شخص یعنی مولوی محمد حسین صاحب فساد کرنا چاہتے ہیں چنانچہ حضرت صاحب اسی وقت گاڑی میں سوار ہو کر چلے گئے۔ پیچھے مولوی محمد حسین صاحب نے اپنے دونو بازو اپنے سر سے اونچے کر کے یہ لفظ کہے کہ مرزا یہ حدیث بخاری سے نکال لائے تو میری دونوں عورتوں پر طلاق۔ کیونکہ اس حدیث کا حوالہ حضرت صاحب نے بخاری شریف کا دیا ہوا تھا۔
    جبکہ طلاق کا مولوی محمد حسین صاحب نے کہا تو اس مجمع میں ایک شخص کھڑا تھا۔ نہ معلوم کون تھا اس نے مولوی بٹالوی صاحب کو مخاطب کر کے کہا عورتیں تو لاہور میں ہیں ان کو طلاق کیوں دے رہے ہو یہ کلمہ سن کر احقر وہاں سے چلا گیا۔
    خاکسار کو مناظرہ میں موجود ہونے کا موقع اس لئے ملا تھا۔ احقر محکمہ نہر میں لدھیانہ میں ملازم تھا اور گاہے بگاہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حضور میں بھی بوقت فرصت حاضر ہو جایا کرتا تھا۔ اتنا یاد ہے جو لکھ کر پیش حضور کیا جا رہا ہے۔
    خاکسار جمال الدین فیض اللہ چکی
    (اصحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام)
    بیعت شدہ 1898ء
    تحریر 1-4-38




    روایات
    عطاء اللہ صاحب احمدی
    از چک نمبر 163 ڈاکخانہ شیر گڑھ تحصیل میلسی ضلع ملتان
    ماموں صاحب …… نے ایک دفعہ ذکر کیا کہ جب میں نے یعنی ماموں صاحب شاہ دین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی۔ تو میں نے اپنی عادت کے مطابق چونکہ ہمارا خاندان بھی پنجاب میں ایک مشہور گدی نوشاہی قادری طریقہ ہے ‘ مالک ہے اور پیری مریدی کا کام کرتے ہیں اور ہم بھی کرتے تھے اور ہمیں بھی لوگ سجدہ سلام وغیرہ کرتے تھے اس لئے میں نے بھی یعنی ماموںصاحب شاہ دین صاحب نے حضور کو سجدہ کر دیا۔ تو حضور نے میرا سر پکڑ لیا۔ فرمانے لگے میں تو ان باتوں کو مٹانے کے لئے آیا ہوں۔ خدا کے سوا کسی کو سجدہ کرنا ناجائز ہے۔ پس حضور کی اتنی بات ہے جو عاجز کو یاد ہے۔





    روایات
    منشی عبدالمجید خاں صاحب پنشنر سکنہ پالم پور
    تحریر کردہ منشی محمد دین صاحب مختار عام صدر انجمن قادیان
    عمر قریباً ۸۳ سال حال پنشنر نے بیان کیا
    کمترین نے ۱۹۰۰ء غالباً مارچ یا اپریل میں (جبکہ میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں ریڈر تھا۔ دو ہفتہ کی رخصت لے کر قادیان گیا تھا) جا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی چھوٹی مسجد مبارک میں بعد نماز ظہر بیعت کی تھی۔ اس دن مولوی نورالدین صاحب‘ مولوی عبدالکریم صاحب ۔ مولوی فضل دین صاحب بھی تھے۔
    حضور نے بیعت لے کر یہ فرمایا تھا کہ
    ’’ تقویٰ و طہارت میں زور دینا اور اپنے دل کو مضبوط رکھنا‘ ڈھل مل یقین نہ ہو جانا۔ کیونکہ مخالفت کا بہت زور ہے۔ ‘‘
    ۳۔۴ دن ہم رہے اس وقت میرے ساتھ منشی شبابت خاں والد ڈاکٹر مطلوب خاں …بھی تھے اور مرزا رحیم بیگ سکنہ دھرم سالہ بھی تھے۔
    حضور نے ہمیں قادیان رہنے کے لئے زور دیا تھا کہ چند دن ٹھہرو چونکہ رخصت تھوڑی تھی اس لئے ہم ۴۔۵ دن ٹھہر کر واپس آگئے۔ حضور ہم سے بہت شفقت کے ساتھ پیش آئے اور فرمایا کہ
    ’’ یہ پہاڑ کی بوٹیاں ہیں‘‘
    اس کے بعد بھی میں کئی دفعہ قادیان جاتا آتا رہا ہوں۔
    عبدالمجید خان
    3-5-38

    روایات
    میاں عبداللہ صاحب احمدی ولد فضل دین صاحب
    جنڈوساہی تحصیل ڈسکہ ۔ ضلع سیالکوٹ۔
    بیعت ۱۹۰۱ء سن زیارت ۱۹۰۲ء
    میں نے اللہ تعالیٰ کو صرف حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہی پہچانا۔
    میری عمر صرف باراں تیراں برس کی تھی کہ مجھے یہ خیال پیدا ہوا کہ خدا اور اللہ اور رب جو ہر وقت لوگ کہتے رہتے ہیں۔ کوئی کہتا اللہ چاہے‘ کوئی کہتا خدا کی مرضی‘ کوئی کہتا ہے رب دے گا‘ وہ کون ہے اور کہاں رہتا ہے‘ کیا کھاتا ہے‘ اس کا ماں باپ کہاں رہتا ہے اس کی شکل کیسی ہے وغیرہ وغیرہ ……… اسی عرصہ میں میں نے حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ کا نام سنا کہ آپ بڑے بزرگ صاحب علم ہیں تب میں چل کر آپ کی خدمت میں جموں گیا آپ نے دریافت کیا کس طرح آئے ہو۔ میں نے عرض کی زیارت کے لئے ۔دو گھنٹہ آپ کی مجلس میں بیٹھ کر اجازت لے کر واپس چلا آیا۔ مگر مجھے معلوم ہوا کہ یہ کوئی نیک شخص ہے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد مجھے خبر ہوئی قادیان میں ایک مرزا غلام احمد صاحب بڑے صاحب علم ہیں میں نے آپ کی خدمت میں خط لکھا۔ جناب مرزا غلام احمد صاحب کان علم۔ آپ مجھے بتائیں خلف الامام الحمد پڑھنا درست ہے ‘رفع یدین کرنی جائز ہے۔ آمین بالجہر کہنا درست ہے ۔
    آپ نے جواب لکھا فان تنازعتم فی شی فردوہ الی اللہ والرسول جب کوئی جھگڑا کسی بات میں چھڑ جائے تواللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو۔ الحمد پڑھنا فرض ہے ۔ رفع یدین وغیرہ جھگڑا کے لئے نہ ہو اخلاص سے کرو۔ اسی دن سے میں نے الحمد شریف امام کے پیچھے پڑھنا شروع کیا۔ اور بے شک و شبہ پڑھتا رہا۔ مگر اس کے سال بعد مجھے معلوم ہوا کہ آپ نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں ان کی جگہ بھی میں ہی آیا ہوں۔ میں نے یہ سن کر بہت فکر کیا کہ بڑے بڑے علماء ان کے مرید بھی ہیں اور مخالف بھی ہیں جیسے کہ مولوی نورالدین صاحب شاہی حکیم جموں نے آپ کی بیعت کر لی ہے۔اور میاں نذیر حسین صاحب دہلوی نے آپ پر کفر کا فتویٰ لگایا ہے میں ان علماء کا معتقد تھا اس لئے بہت ہی فکر دامنگیر ہوا۔ اور رات دن میں اسی فکر میں رہتا کہ خداوندا مجھے خود تو کوئی علم نہیں اور علماء کوئی کچھ کہتا ہے کوئی کچھ کہتا ہے کس طرح فیصلہ ہو۔ اسی خیال میں ایک دن راجپوتانہ کی …ایک چھوٹی سی پہاڑی پر چلا جا رہا تھا کہ یہ خیال مجھ پر غالب آگیا اور میں چلتا چلتا ٹھہر گیا تو ایک غیب سے زور کی آواز آئی کہ دعا کرو‘یہ آواز سن کر مجھے بہت ہی خوشی ہوئی اور تھوڑی دیر تک میں بھاگتا ہی چلا گیا اور مسجد میں جا کر سر سجدہ میں رکھ دیا اور دعا مانگنی شروع کر دی اور ان الفاظ میں دعائیں مانگنی شروع کیں ۔کہ’’ الٰہی مجھے تو کوئی علم نہیں تو سب کچھ جانتا ہے اگر یہ تیرا سچا مہدی ہے اور مجھے اپنے فضل سے سمجھ عطا فرما کہ تا میں ان کی بیعت کر لوں‘ اگر سچا نہیں تو مجھے بچا۔ غرض مجھے چار ماہ دعائیں مانگتے مانگتے گزر گئے اور میں نے بڑے درد دل اور جوش اور عاجزی سے دعائیں کیں۔ تو ایک دن کا ذکرہے کہ میں حافظ محمد صاحب لکھو کے کی تصنیف احوال الاخرت میں علامات مہدی پڑھ رہا تھا۔ جب میں نے یہ شعر پڑھا کہ
    ’’ تیر ہویں چن سیتویں سورج گرہن ہو سی اوس سالے‘‘ تو مجھے اللہ تعالیٰ نے اس طرح بتایا جس طرح کوئی استاد شاگرد کو بتاتا ہے۔ فرمایا ’’مرزا غلام ہی مہدی ہے ‘‘ اور مجھے حضرت مرزا غلام احمد کا نام کہ یہی سچا مہدی اس وقت ہے۔ مفصل طور پر بتایا گیا کہ کوئی شک شبہ نہ رہا………۔
    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں قادیان کو آرہا تھا لاہور کے سٹیشن پر مجھے شیخ حامد علی صاحب ملے انہوں نے مجھے ایک ٹوکری دی۔ جس میں کچھ روغن حنا کی بوتلیں تھیں اور کچھ مولیاں تھیں کچھ پان تھے۔جب ظہر کی نماز کے وقت وہ ٹوکری حضور کی خدمت میں پیش کی تو حضور نے فرمایا’’ ساڈے گھر پہنچا دو‘‘۔ یعنی ہمارے پہنچا دو۔
    والسلام
    عبداللہ احمدی مقام جنڈو ساہی انجمن احمدیہ ضلع سیالکوٹ
    مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت سے پہلا نام میراں بخش پیشہ تجارت
    17-4-38
     
  2. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    روایات اصحاب احمد ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ یونی کوڈ ۔ جلد 3

    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم

    روایات
    جناب برکت علی صاحب مرزا ۔پنجاب سپورٹ اینی آبادپارک لکھنؤ
    بندہ ۴ اپریل ۱۹۰۵ء کے زلزلہ عظیم میں بھاگسو ضلع کانگڑہ بمقام ایردھرم سالہ ایک مکان کے نیچے دب گیا تھا اور بصد مشکل باہر نکالا گیا تھا۔ اس موقعہ کے چشم دید گواہ بابو گلاب دین صاحب اوور سیئر پنشنر جو ان ایام میں وہاں پر بطور سب ڈویژنل آفیسر تعینات تھے۔ آج سیالکوٹ میں زندہ موجود ہیں۔ اس واقعہ کے ایک دو ماہ قبل جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس زلزلہ عظیم کی پیشگوئی شائع فرمائی تھی۔ بندہ خود بھی قادیان دارالامان موجود تھا اور حضور کے شائع فرمودہ اشتہارات ہمراہ لے کر دھرم سالہ چھائونی پہنچا اور وہ اشتہارات متعدد اشخاص کو تقسیم بھی کئے تھے چونکہ بندہ وہاں بطور کلرک کام کرتا تھا اور عارضی ملازمت میں مجھے فرصت حاصل تھی۔ اس لئے بندہ وہا ںوقتاً فوقتاً مرزا رحیم بیگ صاحب احمدی صحابی کو بھی ملنے جایا کرتا تھا۔ مرزا صاحب موصوف مغلیہ برادری کے ایک بڑے خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے دوسرے بھائی احمدی نہ تھے صرف ان کی اپنی بیوی بچے ان کے ساتھ احمدی ہوئے اور باقی تمام لوگ ان کی سخت مخالفت کرتے تھے۔ اس زلزلہ میں وہ سب خزانہ محفوظ رہا اور بعض اور احمدی بھی جو مختلف اطراف سے وہاں پہنچے ہوئے تھے سب کے سب اس زلزلہ کی تباہی میں بچ گئے حالانکہ وہاں کا اندازہ میرے خیال میں نوے فیصدی جانوں کا نقصان تھا۔ اور ایسے شدید زلزلہ میں ہم سب احمدیوں کا بچ جانا ایک عظیم الشان نشان تھا۔ اس کی تفصیل اگر پوری تشریح سے لکھوں تو یقینا ہر طالب حق خداتعالیٰ کی نصرت کو احمدیوںکے ساتھ دیکھ سکے گا۔ کیونکہ میرے اہل و عیال بلکہ خانصاحب گلاب خاںصاحب کے اہل و عیال اور مستری اللہ بخش صاحب سیالکوٹی اور انکے ہمراہ غلام محمد مستر ی اور دوسرے احمدی احباب کے اس زلزلہ کی لپیٹ سے محفوظ رہنے کے متعلق جو قدرتی اسباب ظہور میں آئے ان میں ایک ایک فرد کے متعلق جدا جدا نشان نظر آتا ہے خصوصاً مستری الٰہی بخش صاحب کی وہاں سے ایک دن قبل اتفاقی روانگی اور ہمارے اہل و عیال کی کچھ عرصہ قبل وہاں سے وطن کی طرف مراجعت کرنا اور زلزلہ سے پیشتر بعض احباب کا دکان سے باہر نکل جانا اور زلزلہ میں دب کر عجیب و غریب اسباب سے باہر نکلنا سب باتیں بطور نشان تھیں اور میرا ارادہ ہے کہ اس پر تفصیل سے ایک مضمون لکھ کر ارسال خدمت کروں۔ لیکن فی الحال مختصراً ا ن مقامات کا تذکرہ کیا گیا ہے جن کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ملاقات کے سلسلہ میںپیش آئے ہیں۔ اس زلزلہ کے کچھ دن بعد جب خاکسار قادیان میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضور ان ایام میں آم کے درختوں کے سایہ میں مقبرہ بہشتی کے ملحقہ باغ میں خیمہ زن تھے۔ جب بندہ نے حضور سے ملاقات کی تو حضور نے میرے متعلق کئی سوال کئے کہ آپ مکان کے نیچے دب کر کس طرح زندہ نکل آئے تو بندہ نے حضور کی خدمت میں عرض کی کہ مجھے مستری اللہ بخش صاحب احمدی کی چارپائی نے بچایا جو ایک بڑی دیوار کو اپنے اوپر اٹھائے رکھا اور مجھے زیادہ بوجھ میں نہ دبنا پڑا۔ ایسے ہی حضور نے اور احمدیوں کے متعلق سوالات کئے اور بندہ نے سب دوستوں کے محفوظ رہنے کے متعلق شہادت دی۔ حالانکہ حضور اس سے قبل اشتہار میں شائع فرما چکے تھے کہ زلزلہ میں ہماری جماعت کا ایک آدمی بھی ضائع نہیں ہوا اور مجھے یقین ہے کہ حضور کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کا علم ہوچکا تھا ورنہ مجھ سے قبل دھرم سالہ سے کوئی احمدی حضور کی خدمت میںحاضر نہیں ہوا پس حضور سے بندہ کی ملاقات جو زلزلہ کانگڑہ کے بعد ہوئی اس میں احمدیوں کے بچ جانے کوحضور نے ایک نشان قرار دیا ہے۔ اور خصوصاً میرا اپنا زلزلہ میں دب کر بچ جانا نشان ہے جس کا بذریعہ تحریر اعلان کردیا گیا ہے۔ مبارک وہ جو اس چشم دید نشان سے عبرت پکڑیں اور خدا کے فرستادہ پر ایمان لائیں۔ فقط
    خاکسار برکت علی مرزا
    پنجاب سپورٹ اینی آباد پارک لکھنؤ


    روایات
    میاں غلام رسول صاحب ولد میاں چراغ دین صاحب
    سن بیعت ۱۸۹۸ء معرفت بابو عبدالکریم صاحب پوسٹل کلرک
    گوجرانوالہ ہیڈ آفس
    ۱۔ میں اور بھائی میراں بخش صاحب احمدی درزی جب پہلی دفعہ قادیان گئے تاکہ خدا کے پیارے مسیح کی زیارت کریں تو معلوم ہوا کہ حضور مسجد مبارک میں تشریف فرما ہیں۔ ہم دونوں وہاں چلے گئے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت حاصل کی۔ مصافحہ کرنے کے بعد حضور نے ہم سے دریافت کیا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو۔ تو ہم نے جواب دیا کہ حضور ہم گوجرانوالہ کے رہنے والے ہیں اس کے بعد ہم نے حضور کو بیعت لینے کے لئے کہا تو حضور نے ہم دونو ںکی اور ایک اور کی بیعت لی ۔ ہماری بیعت ختم ہونے کے بعد ایک لدھیانہ کے آدمی نے عرض کی کہ حضور میری بیعت بھی لیں تو حضور نے فرمایا کہ تمہاری بیعت کل لی جائیگی اس کے بعد ہم واپس چلے آئے۔ دوسری صبح جب حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کو ملنے کے لئے گئے تھے حضور ہم دونوں کو ساتھ لے کر سیر کو چل پڑے ۔ تھوڑی دور جاکر حضور نے ہمیں حکم دیا کہ ہم حضرت مولوی نور الدین صاحب کو بلا لائیںتوبھائی میرا ںبخش صاحب حضرت مولوی صاحب کو بلا لائے۔ حضرت مولوی صاحب کے آنے پر حضور ہم سب کو لے کر سیر کے لئے چل پڑے۔ رستے میں حضور حضرت مولوی صاحب کے ساتھ باتیں کرتے جاتے تھے جو کہ مجھے یاد نہیں۔ کبھی کبھی حضرت مولوی صاحب چلتے چلتے پیچھے ر ہ جاتے تھے اور حضور کھڑے ہوکر انہیں ساتھ ملا لیتے تھے اور پھر چل پڑتے تھے۔
    ۲۔ ایک دفعہ گرمی کے دنوں میں حضرت اقدس مسیح موعود مہدی مسعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مسجد مبارک کی چھت پر بعد نماز مغر ب تشریف فرما تھے اور حضور کے پاس حضرت مولوی نور الدین صاحب اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب بھی تشریف رکھتے تھے اتنے میں غالباً مولوی محمد علی صاحب امیر غیر مبائعین آئے اور حضور سے عرض کیا ۔ کہ ’’حضور میرے کام کرنے کا کچھ فائدہ نہیں کیونکہ مولوی صاحب (حضرت مولوی عبدالکریم صاحب ) ہم پر بدظنی کرتے ہیں۔‘‘ یہ سن کر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے جواب دیا کہ ’’جو شخص حضور کو مسیح موعود سمجھتا ہے ہمیں اس پر کوئی بدظنی نہیں۔ حضرت مولوی صاحب کا یہ جواب سن کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مسکرا کر فرمایا کہ ’’اب تو معاملہ ہی صاف ہوگیا ہے۔‘‘
    ۳۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مقدمہ جہلم پر تشریف لے گئے تھے تو میں حضور کی زیارت حاصل کرنے کے لئے گوجرانوالہ اسٹیشن پر گیا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام گاڑی میں کھڑکی کے ساتھ ٹیک لگائے پلیٹ فارم کی مخالف طرف تشریف رکھے ہوئے تھے اور کوئی کتاب پڑھ رہے تھے ہم نے حضور کے ساتھ مصافحہ کیا اور باہر نکل آئے اس دن مستری عبدالقادر غیر احمدی ہمیں ملا اور ہمیں کتاب منن الرحمان دکھائی اور کہا کہ ’’مرزا صاحب یہ کتاب گاڑی میں بیٹھے ہوئے پڑھ رہے تھے اور میں نے گاڑی کی دوسری طرف سے ہوکر یہ کتاب حضور کی پشت کی طرف سے ہاتھ بڑھا کر پکڑ لی اور مرزا صاحب نے کتاب کو چھوڑ دیا ۔ اور میں گھر لے کر آگیا‘‘ نہ ہی حضور نے ان کی طرف دیکھااور نہ ہی کوئی سوال کیا کہ کیوں کتاب کو پکڑا ہے۔
    ۴۔ جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سیالکوٹ میں لیکچر دے کر واپس قادیان تشریف لے جارہے تھے تو میں اور میرا بھائی غلام قادر (غیر مبائع) مالٹے لے کر حضور کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے (گوجرانوالہ اسٹیشن پر لے گئے) جب ہم حضور کی خدمت میں مالٹے پیش کرنے لگے تو چند مالٹے ریل کی پٹری پر گر پڑے۔ یہ دیکھ کر حضور نے فرمایا کہ ’’غریبوں کے مالٹے بھی گر گئے‘‘ اور پھر مالٹے حضور نے لے لئے اور ہم واپس چلے آئے۔
    ۵۔ ایک دفعہ بھائی میراں بخش صاحب ‘فضل کریم صاحب‘ اسماعیل صاحب ‘فضل دین صاحب سب درزی بھائی مل کر قادیان گئے۔ جب ہماری روحانی والدہ کو معلوم ہوا کہ گوجرانوالہ کے درزی آئے ہوئے ہیں۔ اس لئے انہوں نے ہم سے دریافت کیا کہ کیا ’’وہ ہمار ے بچوں کے کپڑے سی سکتے ہیں‘‘ تو ہم نے جواب دیا کہ ہاں ہم سی سکتے ہیں۔ اس پر انہوں نے مسجد مبارک میں مشین ‘ کپڑا اور بچوں کو جن کے کپڑے سینے تھے بھیج دیا۔ ہم کپڑ ے بھی سیتے رہے اور ساتھ ساتھ حضور کا پس خوردہ بھی کھاتے رہے ۔ جب ہم کپڑے سی چکے تو حضور نے ہم سے مزدوری دریافت کی۔ تو ہم نے مزدوری لینے سے انکار کردیا۔ اور کہا کہ ہمیں حضور کچھ انعام دے دیں تو بہتر ہوگا۔ اس پر حضور نے ہم سے دریافت کیا کہ ہم کیا انعام چاہتے ہیں تو ہم نے جواب دیا کہ حضور اپنے تن کا کوئی کپڑا عنایت فرمادیں۔ اس پر حضور نے پانچ کرتے ململ کے ہمیں دیئے۔ جو کہ ہم نے آپس میں بانٹ لئے جو کرتہ میرے حصہ میں آیا وہ میرے پاس اب تک موجود ہے۔
    (نوٹ) چونکہ میں ان پڑھ ہوں۔ اس لئے میں یہ تمام روایات اپنے پوتے عبدالرشید احمدی سے لکھوا کر ارسال کررہا ہوں ۔ یہ تمام روایات بالکل سچ لکھی گئی ہیں اور شک و شبہ کی کوئی بات ہی نہیں ہے میرا انگوٹھا بھی فارم پرلگا ہوا ہے۔
    نشان انگوٹھا
    میاں غلام رسول احمدی





    روایات
    قاضی عبدالقادر صاحب ولد قاضی نور علی صاحب
    پتہ سابق قاضی عبدالقادر صاحب کلرک دفتر اکائونٹنٹ جنرل پنجاب لاہور پتہ حال قاضی عبدالقادر صاحب پنشنر ریٹائرڈ ہیڈ کلرک خزانہ گوجرانوالہ
    سن بیعت یاد نہیں۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جہلم بمقدمہ کرم دین وغیرہ تشریف لے گئے تھے واپسی پر میں نے لاہور (میں) شرف بیعت حاصل کیا اس وقت حضور کے ہمراہ صاحبزادہ حضرت عبداللطیف صاحب کابلی شہید تھے۔
    بیعت کے بعد جتنی دفعہ حضور لاہور تشریف فرما ہوئے۔ میں زیارت کے لئے حاضر خدمت ہوا اور قادیان دارالامان میں کئی دفعہ جاکر زیارت حاصل کی۔ لاہور حضور عموماً میاں معراج الدین صاحب عمر کے مکانات پر فروکش ہوتے۔ حضور لاہور جب میاں معراج الدین صاحب کی بلڈنگز میں تقریر فرما رہے تھے تو ملا جعفر زٹلی نے آکر واویلا کیا۔ سردی کاموسم تھا ۔ حضور بمعیت حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید فارسی میں تقریر فرما رہے تھے۔ اس وقت حضور کے مخاطب ایوب خا ںپٹھان تھے جو وہاں تقریر سننے کے لئے حاضر تھے۔ ایوب خان کا قاضی‘ اور بڑے بڑے امیر حاضر تھے۔ لاہور کے ا سٹیشن پر حضور تشریف فرما تھے۔ اور ساتھ حضرت مفتی محمد صادق صاحب تھے۔ جب چند انگریز حضور کی زیارت کو آئے۔ قادیان میں ’’خدا کی مہر اور خدا کی فیلنگ نے کتنا بڑا کام کیا‘‘ ٭کا الہام میرے روبرو ہوا۔


    روایات
    خوا جہ محمد شریف صاحب ابن شیخ صاحب الدین صاحب
    پتہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی میں اندرون
    بھاٹی (دروازہ لاہور )پتہ حال ڈھینگڑہ ہائوس گوجرانوالہ
    سن بیعت : پیدائشی احمدی سن پیدائش : ۱۸۹۶ء
    سن زیارت۔ غالباً ۱۹۰۴ء میں جب حضور نے لاہور بھاٹی دروازہ کے باہر منڈوہ میں لیکچر دیا تھا۔ میں اس لیکچر میں شامل ہوا تھا۔
    خاص حالات ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب لاہور تشریف لاتے اور حضرت ام المومنین صا حبہ ساتھ ہوتیں تو ہماری دادی اماں ہمیں ہر روز حضور کے پاس لے جاتی تھیں۔ ہم صبح دس بجے کے قریب جاتے تھے اور شام کو پانچ چھ بجے اجازت لے کر واپس آتے تھے۔
    ایک دفعہ حسب معمول میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے قریباً شام کے وقت اجازت لینے کے لئے حاضر ہوا تو اس وقت حضور ایک چار پائی پر تشریف فرماتھے اور شام کا کھانا کھارہے تھے اور حضور کا ایک صاحبزادہ صاحب جو کہ اب مجھے یاد نہیں کہ کون تھے ساتھ کھانا کھا رہے تھے۔ حضور نے ازراہِ تلطف دستر خوان پر سے دو روٹی اٹھا کر اپنے دست ِمبارک سے مجھے دے دیں جو میں لے کر اپنی دادی اما ںکے پاس آگیا۔ وہ روٹیاں ہم لے کر گھر آگئے اور گھر میں سب نے تبرک کے طور پر کھائیں۔ جب حضرت مسیح موعودؑ کا وصال ہوا اس وقت میں لاہور میں ہی تھا اور سنٹرل ماڈل سکول لاہور کی پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ فقط۔
    خاکسار
    خواجہ محمد شریف بقلم خود
    اپنا فوٹو بھی ارسال خدمت ہے۔

    روایات
    میاں اللہ بخش صاحب ابن میاں غلام رسول صاحب کلرک ڈاکخانہ
    راولپنڈی ڈویژن حال رخصتی معرفت بابو عبدالکریم صاحب کلرک ڈاک خانہ گوجرانوالہ
    سن بیعت :پیدائشی احمدی سن پیدائش :غالباً ۱۸۹۳ء
    سن زیارت :۱۹۰۸ء سے پہلے کئی بار زیارت نصیب ہوئی۔ مگر آخری زیارت ۱۹۰۸ء میں بمقام لاہور اچھی طرح یاد ہے۔
    خاص حالات ۱۹۰۸ء میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام لاہور میں تشریف لائے تھے اور رئوسائے شہر لاہور کو دعوت دی تھی اور حضور نے احمدیہ بلڈنگز میں تمام معززین کے سامنے ایک تقریر کی تھی اس وقت میں بھی اور میرے والد صاحب بھی اس تقریر میں شامل ہوئے تھے۔ اور خوا جہ صاحب مرحوم نے ہمیں اندر آنے کی اجازت دی تھی۔ کیونکہ عام اجازت نہیں تھی۔ جس وقت تقریر کے لئے حضورتشریف لائے تھے تو گلی میں کمرہ کے دروازہ کے قریب بہت لوگ جمع تھے۔ جنہوں نے حضور سے مصافحہ کیا اور حضور کا پاک چہرہ دیکھا۔ حضور کے ساتھ ہم بھی اندر کمرے میں گئے۔ تقریر کے شروع میں حضور کی آواز بہت دھیمی تھی۔ مگر بعد میں اونچی ہوگئی۔ غالباً اس روز پچھلے وقت بعد نماز ظہر یا عصر حضور خوا جہ صاحب کی بیٹھک میں تشریف لائے۔ یہ بیٹھک برلب سڑک ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح اول بیٹھک میں مریضوں کو دیکھ رہے تھے اور فرش پر بیٹھے تھے پاس ہی ایک کرسی رکھی تھی حضور وہاں آکر تشریف فرما ہوئے اور خاموشی سے بیٹھ گئے۔ احباب کثرت سے بیٹھے تھے اور باقی آخری حصہ میں کھڑے تھے۔ کسی شخص نے عرض کیا کہ حضور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے متعلق کچھ بیان فرمادیں۔ اس پر حضور نے حیرانگی سے فرمایا کہ ہماری ساری عمر حضرت عیسٰی علیہ السلام کی وفات ثابت کرتے کرتے گزر گئی۔ کیا اب بھی ضرورت ہے کہ اس کے متعلق کچھ کہا جاوے اور پھر حضور نے تقریر شروع کردی۔
    خاکسار
    اللہ بخش









    روایات
    میاں میراں بخش صاحب ولد میاں شرف الدین صاحب درزی
    خاص شہر گوجرانوالہ آبادی چاہ روڈا محلہ احمدپورہ
    سن بیعت : ۱۸۹۷ء یا ۱۸۹۸ئ سن زیارت : ۱۹۰۱ء
    قدمیانہ جگوں سوہنا وچ دلاں دے وسے
    عاشق جاناں گھول گھماون جان وچ ہوٹھاں ہسے
    موٹی نظر والے نوں ماجبھوں جامے نظر نہ آوے
    دوئی دور لے جاوے اوہنوں ویکھدیاں بھل جاوے
    جنہاں نوں رب دیدے دتے اصل حقیقت پائی
    باجھوں یار قدیمی اوہناں چیز نہ ڈٹھی کائی
    خاص حالات :خاکسار نے حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ السلام کی بیعت قریباً ۱۸۹۷ء یا ۱۸۹۸ء میں کی۔ مگر اپنے والد صاحب سے کچھ عرصہ تک اس امر کا اظہار نہ کیا۔ آخر کب تک پوشیدہ رہ سکتا تھا۔ بھید کھل گیا۔ تو والد صاحب نے خاکسار کو صاف جواب دے کر گھر سے نکال دیا تو خاکسار نے خدا رازق پر توکل کرکے ایک الگ دکان کرایہ پر لے لی۔ تنگ دستی تو تھی ہی مگر دل میں شوق تھا کہ جس طرح بھی ہوسکے بموجب حیثیت حضرت اقدس علیہ السلام کے لئے ایک پوشاک بنا کر اور اپنے ہاتھ سے سی کر حضور کی خدمت میں پیش کی جائے۔ (گر قبول افتد زر ہے عزو شرف) اس خیال سے میں نے ایک کرتہ ململ کا اور ایک شلوار لٹھہ کی اور ایک کوٹ صرف سیاہ رنگ کا اور ایک دستار ململ کی خرید کر اور اپنے ہاتھ سے سی کر پوشاک تیار کرلی اور قادیان شریف کا کرایہ ادھر ادھر سے پکڑ پکڑا کر قادیان شریف پہنچ گیا۔ دوسرے روز جمعہ کا دن تھا۔ اس لئے خیال تھا کہ اگر ہوسکے تو یہ ناچیز اور غریبانہ تحفہ آج ہی حضور کی خدمت بابرکت میں پہنچ جائے تو شاید حضور جمعہ کی نماز سے پہلے ہی پہن کر اس غریب کے دل کوخوش کردیں۔ غرض اس سوچ بچار میں قاضی ضیاء الدین صاحب (خدا ان پر بڑی بڑی رحمتیں نازل فرماوے) کی دکان پر پہنچ گیا اور ان کے آگے اپنی دلی خواہش کا اظہار کردیا۔ و ہ سنتے ہی کہنے لگے کہ چل میاں میں تم کو حضور کی خدمت میں پہنچا دیتا ہوں چنانچہ وہ اسی وقت اٹھ کر مجھے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں لے گئے اس وقت حضور علیہ السلام ایک تخت پوش پر بیٹھے ہوئے کچھ لکھ رہے تھے اور خو ا جہ صاحب کمال الدین تخت پوش کے سامنے ایک چٹائی پر بیٹھے ہوئے تھے ہم دونوں بھی وہاں خو ا جہ صاحب کے پاس بیٹھ گئے۔ خو ا جہ صاحب نے دریافت کیا کہ اس وقت آپ کیسے آئے تو قاضی صاحب نے میری خواہش کا اظہار کردیا۔ خواجہ صاحب تھوڑی دیر خاموش رہ کر میری طرف مخاطب ہوئے اور کہا کیوں میاں میں ہی تمہاری وکالت کردوں۔ میں نے کہا یہ تو آپ کی نہایت ہی مہربانی ہوگی اس پر خواجہ صاحب نے مجھ سے وہ کپڑے لے کر حضور علیہ السلام کے پیش کردئیے اور ساتھ ہی یہ عرض بھی کردی کہ حضور اس لڑکے کی خواہش ہے کہ حضور ان کپڑوںکو پہن کر جمعہ کی نماز پڑھیں۔ خواجہ صاحب کی یہ بات سن کر حضور فیض گنجور نے کپڑے اٹھا کر پہننے شروع کردیئے۔ مگر جب کوٹ پہنا تو وہ بہت تنگ تھا میں نے عرض کی کہ حضور کوٹ بہت تنگ ہے اگر اس کو اتار دیں تو میں اس کو کچھ کھول دوں۔ حضور نے کوٹ اتار کر مجھے دے دیا میں جلدی سے اٹھ کر بازار میں آیا اور ایک درزی کی دکان پر بیٹھ کر کوٹ کی پیٹھ کا سارا دبائو کھول دیا اور پھر حضور کی خدمت میں حاضر ہوگیا ۔ حضور نے کوٹ پہن لیا۔ مگر اب بھی کوٹ کے بٹن بخوبی حضور کی خواہش کے مطابق نہیں مل سکتے تھے۔ مگر حضور نے کھینچ تان کر بٹن لگا ہی لئے اور کچھ بھی خیال نہ کیا کہ یہ کپڑے حضور کے پہننے کے لائق بھی ہیں یا نہیں۔
    میرے مولا تو اپنے ایسے رحیم و کریم بندہ پر ہزار در ہزار رحمتیں اور برکتیں نازل فرما۔ آمین۔ آمین۔آمین
    ایک دفعہ مسجد مبارک کی چھت پر بوقت نماز حضرت اقدس علیہ السلام مسجد کی شاہ نشیں پر رونق افروز تھے اورحضور کی دا ہنی طرف حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ اور بائیں طرف حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ بیٹھے ہوئے تھے۔ اور فاتحہ خلف امام کا تذکرہ شروع تھا۔ اس وقت حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک شخص ایک پیر کے پاس گیا اور اپنی کسی حاجت روائی کے لئے عرض کیا تو پیر صاحب نے فرمایا کہ اس سیفی کا ذکر کیا کرو۔ تمہاری مشکل حل ہوجائیگی۔ بشرطیکہ سیفی کے ورد کی طرف تمہارا خیال بندر کی طرف نہ جائے پھر کیا تھا جب وہ سیفی کا ورد شروع کرے فوراً بندر کی شکل سامنے آجائے چونکہ سورۃ فاتحہ میں ہماری بابت زبردست پیشگوئی ہے اس لئے جب کوئی شخص سمجھ کر سورۃ فاتحہ کی تلاوت کرے گا فوراً اس کا خیال اس پیشگوئی کی طرف منتقل ہوجائے گا۔
    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ خاکسار اور فضل کریم اور فضل دین اور غلام رسول اور اسماعیل ہم سب درزی بھائی مل کر قادیان شریف گئے۔ تو جاتی دفعہ حکیم صاحب مولوی محمد دین خدا ان پر اپنے فضل کی بارشیں نازل فرمائے انہوں نے کچھ کپڑامجھے دیا اور کہا کہ یہ کپڑا میری بیوی کو پہنچا دینا۔ جب ہم قادیان شریف میں پہنچے تو میں وہ کپڑا لے کر حضرت اقدس علیہ السلام کے دروازہ پر گیا۔ اور آواز دی تو اندر سے وہ ملازمہ جو دادی صا حبہ کے نام سے مشہور تھیں باہر آئیں تو میں نے ان کو وہ کپڑا دے کر کہا کہ یہ حکیم محمد دین صاحب کی بیوی کا ہے ان کو دے دیں۔ جب دادی صا حبہ نے وہ کپڑا جاکر دیا۔ تو حکیم صاحب کی بیوی نے کہا کہ دریافت کرو کہ یہ کپڑا لانے والا کون شخص ہے۔ تو دادی صاحبہ نے پھر باہر آکر مجھ سے دریافت کیا کہ آپ کا کیا نام ہے تو میں نے کہا کہ میرا نام میراں بخش درزی ہے۔ دادی صاحبہ نے جب جاکر میرا نام بتلایا تو اس وقت ہماری روحانی والدہ صاحبہ بھی پاس تھیں انہوں نے درزی کا نام سن کر دادی صاحبہ سے کہا کہ اگر وہ درزی کا کام جانتے ہیں تو ہمارے بچوں کے کچھ کپڑے سینے والے ہیں ان سے دریافت کرو کہ کیا وہ کپڑ ے سی سکتے ہیں ۔اس پر داد ی صاحبہ نے آکر خاکسار سے دریافت کیا کہ مائی صاحبہ کہتے ہیں کہ میرے بچوں کے کچھ کپڑے سینے والے ہیں کیا آپ سی سکتے ہیں ۔میں نے عرض کیا ہاں بخوشی سی سکتے ہیں۔ اس پر دادی صاحبہ نے کہا کہ آپ مسجد میں جاکر ٹھہریں میں وہاں کپڑے بھی اور مشین بھی پہنچا دیتی ہوں۔ تب میں نے اپنے سب بھائیوں کو خبرکر دی اور سب کے سب مسجد مبارک میں جاکر بیٹھ گئے۔ اتنے میں دادی صا حبہ کپڑے اور مشین لے کر مسجدمیں آگئیں۔ ہم نے دادی صا حبہ سے کہاکہ جن بچوں کے کپڑے سینے ہیں ان کو بھی یہاں لے آئو تاہم ان کا ماپ لے لیں تو دادی صاحبہ سب بچوں کو ساتھ لے کر مسجد میں آگئیں۔ جس میں حضرت مبارک احمد علیہ الرحمۃ اور حضرت میاں صاحب خلیفۃ المسیح الثانی علیہ السلام بھی تھے۔ ہم نے سب کا ماپ لے لیا۔ اور کپڑے سینے شروع کردیئے۔ دادی صاحبہ وقتاً فوقتاً ہمارے پاس آتی جاتی تھیں تو ہم نے دادی صاحبہ سے عرض کیا کہ آپ کچھ ہمارا کام بھی کریںگی تو انہوں نے کہا کہ بتلائو آپ کیا چاہتے ہیں تو ہم نے کہا کہ جب تک ہم یہاں کام کرتے ہیںآپ ہمارے لئے حضرت اقدس علیہ السلام کا پس خوردہ لے آیا کریں۔ دادی صاحبہ نے کہا بہت اچھا میں لے آیا کرونگی۔ پس جب تک ہم کپڑے سیتے رہے۔ دادی صاحبہ ہمیںحضرت اقدس کا پس خوردہ لاکر دیتی رہیں۔ جب کپڑے تیار ہوگئے۔ تو ہم نے دادی صاحبہ سے کہا کہ یہ کپڑے حضرت اقدس علیہ السلام کے پاس لے جانا اور کہناکہ یہ بچوں کے کپڑے ہیں جو گوجرانوالہ سے درزی آئے ہوئے ہیں انہوں نے سیئے ہیں۔ تو جب حضور علیہ السلام کے پاس کپڑے لے کر گئی تو حضور نے فرمایا کہ جائو ان سے دریافت کرو کہ ان کپڑو ںکی مزدوری ان کو کیا چاہئے۔ تو دادی صاحبہ نے آکر ہمیں کہا کہ حضرت صاحب مزدوری دریافت کرتے ہیں۔ تو ہم نے کہا کہ ہم نے مزدوری لینے کے لئے یہ کپڑے نہیں سیئے۔ ہاں اگر حضور مہربانی فرمائیں تو کچھ انعام دے دیں۔ دادی صاحبہ نے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں جاکر عرض کی تو حضور نے فرمایا کہ دریافت کرو ۔ کیا انعام چاہتے ہو ۔ہم نے کہا کہ حضور اپنے تن کا کوئی کپڑا عنایت فرمادیں۔ جب دادی صاحبہ نے جاکر کہا کہ درزی حضور کے تن کا کپڑا مانگتے ہیں تو حضور نے فرمایا کہ کتنے آدمی ہیں دادی صاحبہ نے کہا کہ پانچ آدمی ہیں۔ تو حضرت اقدس علیہ السلام نے پانچ کرتے ململ کے دادی صاحبہ کے ہاتھ بھیج دئیے۔ پس ہم نے ایک ایک کرتہ بانٹ لیا اور خداوند کریم کا بہت شکر بجا لائے کہ اس دفعہ قادیان شریف آنا ہمارے لئے کیسا مبارک ہوگیا۔ الحمدللہ۔

    روایات
    سردار کرمداد خاں صاحب دوالمیال
    ۱۹۰۷ء میں جب احمدیوں کے محلہ میں ایک دو آدمی طاعو ن سے فوت ہوگئے تو سید لعل شاہ امام مسجد شرقی دو المیال نے مولوی احمد دین کو جو اس وقت زندہ تھے چکوال میں خط لکھا کہ دو المیال میں طاعون شروع ہوگئی ہے اور لطف یہ ہے کہ مرزائی ہی اس کا شکار ہورہے ہیں جب ہم کو اس بات کا علم ہوا کہ شاہ صاحب بڑی خوشیاں منا رہے ہیں تو ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ السلام کی خدمت میں خط لکھا کہ حضور دعا فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ جماعت کو اس عذاب سے بچائے اور ہمارے مخالفین کو ہم پر ہنسنے کا موقع نہ دے۔ اس خط کا جواب حضرت اقدس نے اپنے قلم سے تحریر فرمایا کہ جگہ کو بدل دو ‘صدقہ خیرات سے کام لے کر کثرت کے ساتھ دعائیں کرو اور جو لوگ ہنستے ہیں ان کو ہنسنے دو ان کی نوبت بھی آرہی ہے۔ چنانچہ چند یوم کے بعد طاعون نے شاہ صاحب کے محلہ میں قیامت برپا کردی اور اس قدر موتیں ہوئیں کہ مردوں کو اٹھانے کے لئے بجائے چار آدمیوں کے دو آدمیوں کا ملنا بھی مشکل ہوگیا وہی لوگ جو پہلے ہم پر ہنستے تھے اپنی تباہی کو دیکھ کر کہنے لگے کہ طاعون نے مرزائیوں کی گردن پر ہاتھ رکھا مگر وہ چھڑا گئے اور ہم کو اس نے کمرسے پکڑ کر زمین پر گرا دیا۔ (یہ الفاظ انہوں نے اس کھیل کو مدِنظر رکھ کر کہے جس کو اس علاقہ میں کوڈی کہتے ہیں) ایک پنشنر صوبیدار فتح دین نام جو شاہ صاحب کا معتقد اور تیز مزاج تھا۔ جب اس کا لڑکا طاعو ن سے مر گیا تو وہ او لعل شاہ پکار کر گالیاں دیتا کہ تونے مکانو ںکو نہ چھوڑ نے کا فتویٰ دے کر ہم کو تباہ کردیا۔ غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ السلام کے فرمودہ کے مطابق تھوڑے دنوں کے بعد ہم پر ہنسنے والوں کے گھروں سے رونے اور چیخنے کی آواز آنے لگی اور جس طرح حضور نے فرمایا کہ ان کی باری بھی آرہی ہے ہم نے وہ نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔قادیان کے خط کے مقابلہ میں چکوال کے خط کا جو حشر ہوا وہ باشندگان دوالمیال سے مخفی نہیں۔


    بقیہ روایات
    حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی تحریرکردہ
    برکات احمد صاحب ابن مولانا غلام رسول صاحب راجیکی
    ۱۔ ایک دفعہ صبح ۹ بجے کے قریب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھ پر انگلیوں کے درمیان کثرت سے چھوٹی چھوٹی پھنسیاں نکلی ہوئی تھیں اور خارش سے حضور کو سخت تکلیف تھی اسی دن عصر کے وقت جب حضور کی خدمت میں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضور چشم پر آب ہیں۔ میں نے عرض کی کہ حضور آپ خلاف معمول چشم پُر آب کیوں ہیں۔ حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ سخت تکلیف کی وجہ سے میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ خدا تعالیٰ نے میرے سپرد کام تو اس قدر بڑا کیا ہے اور میری صحت کا یہ حال ہے۔ اس خیال کا میرے دل میں آنا ہی تھا کہ مجھے سخت ہیبت ناک الہام ہوا کہ ’’تیری صحت کا ہم نے ٹھیکہ لیا ہوا ہے‘‘۔ فرمایا کہ اس سے میرے بدن کا لرزہ لرزہ (نقل بمطابق اصل) کانپ اٹھا اور میں نے سجدہ میں گر گر کر بہت ہی دعا کی۔ اور بہت زاری کی جس کا یہ اب تک اثر ہے جب سر اٹھا کر دیکھا تو پھنسیاں اور خارش وغیرہ کا نام تک نہیں۔ اس کے بعد حضور علیہ السلام نے مجھے اپنے ہاتھ دکھائے تو ان پر پھنسی وغیرہ کا کوئی نشا ن تک نہ تھا۔
    ۲۔ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام ہمیشہ پتلا شوربہ پسند فرمایا کرتے تھے ایک دفعہ فرمایا کہ سنت یہ ہے کہ تھوڑا سا گوشت ہو۔ اور اس میں ایک لوٹا پانی کا ڈال دیا جائے تاکہ گھر کے سب لوگ استعمال میں لائیں۔
    ۳۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی بنائی ہوئی نظم کو خود کبھی نہیں سنایا کرتے تھے۔
    ۴۔ حضرت اقدس بالعموم جمعہ کے دن مہند ی لگایا کرتے تھے۔
    ۵۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو جب دورہ پڑتا تھا تو حضور کا جسم بالکل سرد پڑ جاتا تھا۔ خاص طور پر پائوں بالکل برف کی مانند سرد ہوجاتے تھے ۔ ایک دفعہ لدھیانہ میں حضور علیہ السلام کو دورہ پڑا اور آپ کا جسم بالکل سرد ہوگیا۔ حضرت اقدس نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ کسی آریہ یا عیسائی کا کوئی اعتراض پوچھو تاکہ میرے جسم میں گرمی پیدا ہوجائے ۔میں نے عرض کی کہ حضور اعتراض تو کوئی یاد نہیں۔ فرمایا اچھا ہماری کوئی نعت ہی پڑھو۔ میںنے ایک نعت خوش الحانی سے پڑھ کر سنائی۔ اس کے بعد مجھے حضرت آدم کے متعلق ایک اعتراض بھی یاد آگیا۔ میں نے وہ اعتراض حضور علیہ السلام کے سامنے کیا۔ حضور علیہ السلام نے بڑے جوش کے ساتھ تفصیل سے اس کا جواب دیا۔ اور حضور علیہ السلام کو پسینہ آگیا اور جسم گرم ہوگیا اور تکلیف جاتی رہی۔ اس طرح کئی دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ جب حضور علیہ السلام کو دورہ پڑتا تو حضور علیہ السلام کوئی اعتراض کرنے یا نعت پڑھنے کا ارشاد فرماتے۔
    ۶۔ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعویٰ سے پیشتر ہی میں سرسید کی تفسیر کے دیکھنے سے وفات مسیح کا قائل تھا۔ الخ
    (نوٹ۔ یہ روایات اس سے قبل رجسٹر پر نقل کی جاچکی ہیں۔خاکسار عبدالقادر مرتب)
    ۷۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیشہ گرم کپڑے زیب تن فرمایا کرتے تھے۔





    روایات
    نواب خاں صاحب ولد شیخ احمد خان ساکن ہرانا تحصیل پنڈی گھیپ
    خاکسار مسمی نواب خاں ولد شیخ احمد خان ساکن ہرانا تحصیل پنڈی گھیپ ضلع کیمل پور کا رہنے والا ہے اور میری قوم جودھڑا راجپوت ہے۔ اس شہر کو جس شخص مسمی پیرا خاں نے آباد کیا تھا۔ اس کی اولاد میں سے ہم ہیں اور میں نے حضور کے ابتدائی دعویٰ کے ایام میں بیعت کی ہے۔ اور اب میں ان تمام واقعات کو بیان کرتا ہو ںجو کہ اس ضمن میں پیش ہیں۔ میری عمر گیارہ سال کی تھی جبکہ میرے والد صاحب فوت ہوگئے ایک دن مسجد میں بغرض تعلیم گیا تو ایک مولوی صاحب میاں یحیٰی میکی ڈوک والے مسجد میں وعظ کررہے تھے لوگو ںنے کہا کہ زمانہ بہت خراب ہوگیا ہے اور کوئی شخص ایک دوسرے کا لحاظ نہیں کرتے اورہمدردی بالکل اٹھ گئی ہے ۔ ماں بیٹی ا ور باپ بیٹے میں اختلاف نظر آتا ہے بیویاں اپنے خاوندوں کی عزت نہیں کرتیں گویا کہ عورتوں کا راج ہے ۔اس پر مولوی صاحب نے کہا کہ یہ زمانہ ضلالت کا زمانہ ہے‘ پھر لوگوں نے سوال کیا کہ یہ زمانہ بدلے گا بھی کہ نہ ؟ انہوں نے کہا کہ امام مہدی کا زمانہ اب بالکل قریب آگیا ہے جس کے طفیل پھر دنیا میں ہدایت قائم کی جائے گی مگر ابھی اس کے دعویٰ میں کافی عرصہ رہتا ہے۔ لوگوںنے پوچھا کہ وہ دعویٰ کب کرے گا اور و ہ وقت چودھویں صدی کا ہوگا ابھی چودھویں صدی کے آنے میں پچیس سال رہتے ہیں اور چودھویں صدی کا کچھ زمانہ گزرنے کے بعد وہ دعویٰ کریگا۔ لوگوں نے کہا کہ اس کے نشانات کیا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت وہ دعویٰ کریگا تو لوگ (جس طرح پہلے رسولوں کے ساتھ بغاوت کرتے رہے ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کو تیرہ آدمیوں نے تسلیم کیا تھا) اس کے مخالف ہوجائیںگے اور طرح طرح کے جھوٹے الزام اس پر لگائیں گے۔ مگر جو لوگ اس کو مان لیں گے خدا تعالیٰ ان کے سب گناہ معاف کردے گا گویا وہ معصوم بچوںکی طرح ہونگے۔ لوگوں نے کہا ۔مکہ میں پیدا ہوگا اور سیدوں کے گھر میں ہوگا۔ آپؐ کے خاندان سے ہوگا۔ مولوی صاحب نے کہا جہاں اللہ کی مرضی ہوگا۔ اللہ کی چیز ہے جس جگہ چاہے پیدا ہو گا۔ لوگوں نے پھر کہا کہ ہمیں پورے پورے حالات بتائیں تاکہ جس وقت وہ دعویٰ کرے تو کوئی دوسرا آدمی ہم کو دھوکہ نہ دے سکے تو اس پر انہوں نے کہا کہ اس وقت تک ہم تم مرچکے ہونگے اور ہمارے بیٹے بھی مر چکے ہونگے اور میرے پوتے بھی اس برکت سے محروم رہ جائیں گے اور اس کو قبول نہ کریں گے اس زمانہ میں ایک کالا سا گدھا ہوگا جو سینکڑوں میلوں کا رستہ بڑی جلدی طے کیا کریگا۔ اور ہزاروں من بوجھ اٹھایا کریگا۔ چنانچہ یہ جو ہمارا گائوں ہے اگر اس کے تمام آدمی اور مکان مال مویشی یعنی سب چیزیں اٹھالے تو بھی بڑا تیز چلے گا۔ اور لاہور کا سبزی فروش صبح اٹھ کر شام کو پشاور سے سبزی بیچ کر واپس گھر آجایا کریگا۔ اس زمانہ میں نہروں سے دریا سوکھ جائیں گے اور زمین بڑی زرخیز ہوگی۔ یہ سن کر جو جوان جوان لڑکے وہاں موجود تھے۔ وہ یہ کہہ کر مخول کرنے لگے۔ کہ دیکھو مو لوی صاحب کیسی گپیں ہانکتے ہیں وہ بھی کوئی گدھا ہوگا جو اتنا بوجھ اٹھا سکے گا۔
    اس کے بعد زمانہ گزرتا گیا اور ہم بال بچے والے ہوگئے اور اسی اثناء میں ریل وغیرہ بھی ایجاد ہوگئی۔ انہی ایام میں مجھ پر ایک مقدمہ ہوا۔ جس کے لئے مجھے راولپنڈی آنا پڑا۔ واپسی پر راستہ میں مَیں ایک مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے گیا۔ تو وہاں چند آدمی یہ باتیں کررہے تھے کہ پنجاب میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے ہم نے نماز پڑھی اور اپنے گائوں چلے گئے۔ پھر ہمیں مقدمہ میں آنے کے لئے بار بار موقع ملا۔ مگر ہم اس مسجد میں کبھی نہ آئے۔ چھ مہینہ کے بعد میں اور میرا بھائی پھر تاریخ پر آئے تو اس مسجد میں بھی آگئے اور عصر کی نماز پڑھنے لگے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں چند آدمی باتیں کررہے ہیں اور ایک آدمی باہر سے آیا تو اندر کے آدمیوں نے کہا کہ کوئی تازہ خبر سنائو۔ اس پر اس نے کہا کہ اس پنجاب والے آدمی نے اب مہدی ہونے کا دعویٰ بھی کردیا ہے وہ تو ایک جادوگر ہے۔جو بھی کوئی بڑا مولوی اس کے پاس جاتا ہے۔ اس پر اپنا اثر ڈال کر اسے اپنے ساتھ ملا لیتا ہے۔ چنانچہ جہلم کا بڑا مولوی اس کے پاس گیا تو اس کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا۔ میں نے جب یہ سنا تو میرے دل میں خیال آیا کہ اسے ضرور دیکھنا چاہئے اگر تو مجھے وہ سچا نظر آیا تو اس سے مقدمہ کے بارے میں دعا کرائونگا۔ سو جس وقت مجھ کو میرے بھائیوں نے گائوں جانے کے لئے کہا میں نے انکار کردیا۔ اور وہیں رہا۔ صبح جس وقت اٹھا نماز ادا کی اور رتے گائوں چلا گیا۔ وہاں ایک مولوی صاحب پرانے واقف تھے۔ اس سے پنجاب کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا کہ کس لئے جارہے ہو۔ میں نے کہا کہ سیر کو جارہا ہوں۔ اس پر اس نے بتایا کہ یہاں سے جہلم کا ٹکٹ لے لو۔ میں نے جہلم کا ٹکٹ خرید لیا اور جہلم پہنچ گیا۔ وہاں میں غفور خاں سیشن جج کے پاس ٹھہرا۔ اور صبح اٹھ کر وزیر آباد کا ٹکٹ لے لیا۔ اور وہاں ایک مسجد میں امام کے پاس رہا۔ صبح اٹھ کر شہر میں سیر کے لئے گیا تو وہاں میں نے دیکھا کہ لوگ حضرت امام مہدی کو بہت گندی گالیاں نکال رہے ہیں۔ ڈر کی وجہ سے میں نے کسی سے اپنے مقصد کا ذکر نہیں کیا۔ مگر خدا نے مجھ کو خود ہی راستہ بتایا۔ وہ اس طرح کہ ایک آدمی مجھے ملا اور اس نے مجھے کہاکہ یہاں کیا کررہے ہو۔ اگر سیرکی غرض ہے تو وہاں سیر کا لطف آئیگا۔ اس پر میں نے ٹکٹ خریدا۔ امرتسر پہنچ گیا۔ وہاں ڈپٹی قمرالدین گجراتی کے پاس ٹھہرا تو اس نے مجھ سے آنے کا سبب پوچھا میں نے کہا کہ نوکری کے لئے آیا ہوں وہ مجھے اس وقت ساتھ لے کر ایک خوا جہ کی دکان پر لے گیا اور کہا کہ یہ ہمارا اپنا آدمی ہے اور اچھا شریف آدمی ہے مگر مقدموں نے اسے خراب کردیا ہے۔ اب یہ نوکری کی تلاش میںہے اس لئے اب تم اس کو اپنے پاس نوکر رکھ لو۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس کو چار دن کے بعد پندرہ روپیہ پر نوکر رکھ لیں گے۔ اور صبح دس بجے حاضر ہوکر شام چار بجے چھٹی ہوا کرے گی۔ اس کے بعد ہم وہاں سے واپس آگئے۔ اور چوتھے د ن کی انتظار کرنے لگے۔ ان چار دنوں میں میں نے ایک دن جبکہ میں سیر کررہا تھا تو کیا دیکھا کہ ایک جگہ ایک طرف سے آدمی اندر جاتے ہیں اور دوسری طرف سے نکلتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ اندر ایک حکیم بیٹھا ہوا ہے ۔ ایک مریض آیا اور اس نے کہا کہ مجھے اس دوائی سے کوئی فائدہ نہیںہوا۔ اس پر اس نے کہا کہ میں نے تو تم کو قادیان کے مغلوں والی دوائی دی ہے۔ جس وقت وہ مریض باہر نکلا تو میں نے کہا کہ قادیان کے مغل کون ہیں تو اس نے کہا کہ تمہیں ابھی تک پتہ نہیں۔ اس ایسے تیسے نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور نیا مذہب نکالا ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ وہ گائوں کدھر کو ہے۔ اس نے کہا کہ یہاں سے بٹالہ کے ساڑھے چار آنے لگتے ہیں۔ اور اس سے آگے پیدل ہی قادیان چلے جاتے ہیں۔ اس پر میں اس سے جدا ہوگیا اور قمر دین کے مکان کی طرف دعائیں کرتا ہوا چلا آیا کہ یا خدا تو ہی اب مجھے قادیان پہنچا دے۔ مکان پر پہنچا تو ڈپٹی صاحب نے نوکر کو کہا کہ اس کو کھانا کھلا دو اور دوسرے آدمی کو کہا کہ تم جاکر ڈاک لے آئو۔ میں کھانا کھا ہی چکا تھا کہ ڈاک آگئی اور ڈپٹی صاحب نے مجھے بلا کر کہا کہ میری تو تبدیلی لدھیانہ ہوگئی ہے اب تم کیا کروگے میں نے دل میں کہا کہ شکر ہے کہ اب میرا چھٹکارا ہوگیا۔ میں نے ڈپٹی صاحب کو کہا کہ اگر آپ کی تبدیلی ہوئی ہے تو میں اب گھر جاتا ہوں اس پر میں سٹیشن کی طرف دوڑا۔ مگر مجھے بٹالہ نام بھول گیا تھا۔ اب میں حیران تھا کہ کروں کیا۔ مجھے صرف اتنا یاد تھا کہ جہاں میں نے جانا ہے وہاں کے ساڑھے چار آنے لگتے ہیں۔ سو میں نے پیسے نکالے اور کھڑکی پر چلا گیا اور کہا کہ ٹکٹ دے دو۔ اس نے کہا۔ کہاں کا۔ میں نے کہا کہ ساڑھے چار آنہ کا جہاں کا بھی ٹکٹ آتا ہے دے دو۔وہ حیران ہوگیا۔ پھر کچھ سوچ کر کہا کہ بٹالہ کا ٹکٹ لینا ہے۔ تو مجھے بھی یاد آگیا۔ میں نے کہا ہاں اس پر اس نے مجھے ٹکٹ دے دیا۔ اور میں بٹالہ سٹیشن پر پہنچ گیا۔ میں نے جونہی شہر میں قدم رکھا۔ مجھے دو آدمی ملے۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا۔ کہاں سے آئے ہو اور کدھر جانا ہے۔ میں نے کہا کہ میں راولپنڈی سے برائے سیر پھر رہا ہوں۔ اس پر وہ مجھے ایک مسجد میں لے گئے۔ اور بڑے اچھے کھانے میرے سامنے رکھ دیئے۔ مگر مجھے شک پڑا کہ کوئی ٹھگ ہیں۔ جو کہ مجھے لوٹنا چاہتے ہیں۔ اس لئے میں نے کھانا وغیرہ کوئی نہ کھایا۔ مگر صرف اتنا پوچھا کہ شہر کا کوئی بڑا آدمی بتائو۔ اس پر انہوں نے یہ نام لئے۔ ڈپٹی غلام فرید اور ایک تحصیل دار صاحب اور میر احمد شاہ وکیل۔ میں نے کہا کہ مجھے میر احمد شاہ وکیل کے گھر کارستہ بتادو۔ وہ میرے ایک مقدمہ میں وکیل رہ چکے تھے۔ ان دو آدمیوں نے ایک ٹانگہ والے کو بلا کر کہا کہ اس کو وکیل صاحب کے مکان پر پہنچا دو۔ میں ٹانگہ پر سوار ہوگیا۔ تو انہوں نے کہا کہ دوران سیر میں ایک بات کا خیال رکھنا۔ میں نے کہا کہ وہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تحصیل میں ایک آدمی نے نبوت اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور وہ بڑا ٹھگ ہے۔ اس کے جال میں نہ پھنسنا۔میں نے ان کو کہا کہ اچھا ۔ٹانگہ چل پڑا اور وکیل صاحب کا مکان آگیا ۔ میں ٹانگہ سے اترا تو ٹانگہ والے کو پیسے دینے لگا مگر اس نے انکار کردیا اور کہا کہ میرا ان کے ساتھ ٹھیکہ ہے۔ میں ان سے خود ہی پیسہ لے لونگا۔ میں نے کہا اچھا جائو۔ وہ چلا گیا اور میں وکیل صاحب کے مکان پر گیا۔ تو نوکر نے مجھے اندر نہ جانے دیا۔ اس لئے میں قریب کی ایک مسجد میں وقت گزارنے کے لئے جا بیٹھا۔ جس وقت وکیل صاحب آنیوالے تھے ۔ میں آگیا۔ اور ان کو راستہ سے ہی ملا۔ وہ مجھے بڑی اچھی طرح اندر لے گئے اور چارپائی وغیرہ دے دی۔ دوسرے دن ایک نوکر کو ساتھ دیا کہ اس کو شہر کی سیر کرائو اور خود کچہری میں چلے گئے۔ شہر میں سیر کے دوران میں مجھے حضور کو گالیاں دیتے ہوئے کافی لوگ دکھائی دیئے۔ اور میرے دل کو سخت صدمہ پہنچا۔ اسی طرح دوسرے دن بھی ہوا۔ شام کو جب گھر واپس آئے تو قادیان کا ایک سید ڈیرہ پر موجود پایا۔ جو کہ وکیل صاحب کے پاس آیا تھا میں اور وہ رات کو اکٹھے رہے ۔ اور قادیان کے متعلق خوب باتیں ہوتی رہیں۔ اور میں نے اس سے راستہ وغیرہ بھی اچھی طرح پوچھ لیا۔ اس نے مجھے راستہ کی تمام نشانیاں بتادیں۔ وہ صبح ہونے سے پہلے ہی قادیان روانہ ہوگیا اور میں صبح ہوکر روٹی وغیرہ کھا کر وکیل صاحب سے گھر جانے کے لئے رخصت لے کر قادیان کی طرف روانہ ہوگیا۔ جس وقت قادیان پہنچا تو یہاں پر کیا دیکھتا ہوں کہ بالکل معمولی سا گائوں ہے۔ مکان کہیں کہیں ہیں۔ نہ کوئی روٹی کھانیکی دکان ہے اور نہ اور کچھ۔ میں نے اسی سید کی تلاش کی اور اس کے پاس رات ٹھہرا۔ اور صبح حضورکی ملاقات کے لئے گیا۔ مسجد میں پوچھا کہ حضور کب تشریف لائیں گے تو معلوم ہوا کہ دو بجے آئیںگے۔ میں وضو وغیرہ کرکے مسجد میں بیٹھ گیا۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ حضور تشریف لے آئے اور میں رخ انور دیکھتے ہی سمجھ گیا کہ حضور خدا کی طرف سے ہیں۔ میں نے مصافحہ وغیرہ کیا۔ مجھ سے پوچھا کہ کہاں سے آئے ہو۔ میںنے سب کچھ بتادیا۔ حضور نے فرمایا کہ کیوں آئے ہو۔ میں نے کہا کہ حضور کی زیارت کے لئے آیا ہوں۔ اس کے بعد حضور نماز پڑھانے لگے۔ اس وقت ہم صرف تین آدمی مقتدی تھے۔ جن کو حضورنماز پڑھا رہے تھے۔ نماز پڑھانے کے بعد حضور اندر تشریف لے گئے ۔ اس کے بعد عصر کا وقت آگیا۔ میرے دل میںحضور کو دیکھنے کا پھر بہت شوق ہوا۔ مگر معلوم ہوا کہ حضور اب تشریف نہیں لائیں گے۔ اس لئے میں مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے کے لئے چلا گیا۔ اس کے بعد مؤذن نے مجھے وہاں سے نکال دیا۔ (مؤذن نے جھگڑا کیا۔ تو ایک ہندو نے کہا کہ کیا بات ہے؟ میں نے کہا یہ مؤذن مسجد میں رہنے نہیں دیتا۔ اس نے کہا۔ آئو میںجگہ دیتا ہوں) میں مسجد سے نیچے اتر گیا۔ تو مجھے ایک ہندو ملا۔ اور اس نے مجھ سے کہا۔ کہ کیا بات ہے۔ میں نے کہا۔ کہ میں مسافر آدمی ہوں۔ اس نے کہا کہ چلو دھرم سالہ میں رہو۔ تمہارا خاطر خواہ انتظام کیا جائیگا۔ میں اس کے ساتھ چلا گیا اور رات دھرم سالہ میں کاٹی اور صبح کی نماز مسجد اقصیٰ میں اداکی اور نو بجے کے قریب اپنے گائوں کی طرف روانہ ہوا۔ جس وقت میں امرتسر پہنچا اور سٹیشن پر گاڑی کا انتظار کررہا تھا تو میرے پاس ہی دو تین آدمی بیٹھے یہ کہہ رہے تھے کہ دریا تو نہروں سے نکالے جانے سے بالکل خشک ہوا ہے۔ اب اس میں آدمی پیدل پانی میں سے چل کرپار ہوسکتا ہے۔ یہ سن کر مجھے اس گائوں والے مولوی کی بات یاد آگئی۔ اتنے میں میں نے گاڑی کو دور سے آتے ہوئے دیکھا اور میں نے دل میں سوچا کہ کالے گدھے سے یہی مطلب ہے۔ کیونکہ گاڑی میں سے بے شمار مال اتارا گیا۔ اور لوگوںکے اترنے سے سٹیشن بھرپور ہوگیا۔ پس یہ دو باتیں تو میرے دل پر نقش ہوگئیں۔ آگے دیکھئے؟ جس وقت میں گاڑی پر سوار ہوگیا تو جو راستہ یعنی راولپنڈی تک کا جو کئی دنوں میں طے ہوتا تھا۔ اب کی دفعہ صرف ایک دن میں طے ہوگیا۔پس یہ بھی ایک بات پوری ہوگئی۔ کہ لاہور کا سبزی فروش پشاور جاکر ایک ہی دن میں سبزی بیچ کر واپس آجایا کرے گا۔ چونکہ مجھ پر مقدمہ تھا۔ اس لئے خداتعالیٰ نے مجھے اسی دن راولپنڈی پہنچا دیا۔ کہ جس دن ہماری تاریخ تھی۔ حضور کی زیارت کا ہونا تھا کہ مجھ پر ہر طرف سے کامیابی ہی کامیابی دکھائی دینے لگی۔ جس وقت میں منصفی میں پہنچا تو جس کھتری نے مجھ پر مقدمہ کیا تھا وہ ایک جگہ بیٹھا تھا مجھ کو دیکھ کر اٹھا اور جس کپڑے پر خود بیٹھا تھا مجھ کو بیٹھنے کے لئے کہا۔ میں حیرا ن کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ یہی وہ کھتری ہے جو کل ہی میرے خون کا پیاسا تھا۔ مگر آج یہ حالت ہے ۔ اس نے کہا۔ کہ میں نے آج تک ہزاروں مقدمہ لوگوں پر کئے۔ مگر ایسی تکلیف کسی میں نہیں اٹھائی۔ اس لئے اب صلح کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ مجھے اپنے کرایہ پر شہرمیںلے گیا۔ اور وہاں پر بڑا عالیشان کھانا کھلایا۔ اور پھر اپنے خرچ پر مجھے اپنے گائوں پہنچا دیا۔
    تین سال کے بعد میں پھر قادیان آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اب بفضل خدا کافی احمدی ہوگئے ہیں اور اب پہلے سے زیادہ انتظام ہے۔ پہلی دفعہ تو سونے کے لئے کہیں جگہ نہیں تھیں مگر اب کی دفعہ کھانے پینے اٹھنے بیٹھنے کا اچھا خاصا انتظام ہوگیا تھا۔ کھانا پکانے کے لئے ایک باورچی تھا جو کہ سب کچھ خود ہی کرتا تھا۔ اس دفعہ مجھ کو رستہ میں وہ وہ لوگ کثیر تعداد میں دکھائی دیئے جو کہ حضور کے متعلق بد زبانی سے کام لیتے تھے۔ اور دل ہلا دینے والی گالیاں اور بکواس کرتے تھے۔ قادیان میںکچھ دیر رہنے کے بعد میں پھر اپنے وطن چلا گیا۔ ان دنوں میں بالکل ہی اس بات سے ناواقف تھا۔ کہ بیعت بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ میں سمجھتا تھا کہ بس دیدار کرنے سے ہی آدمی احمدی ہوجاتا ہے۔ اس لئے میں نے کوئی بیعت وغیرہ نہ کی اور دو دفعہ صرف زیارت کرکے ہی واپس جاتا رہا۔ مگر چونکہ حضور کی محبت دل میں بیٹھ چکی تھی ۔ اس لئے بار بار قادیان آنے کو جی چاہتا تھا۔ مگر حالات چونکہ اجازت نہ دیتے تھے۔ اس لئے میں قادیان نہ آسکتا تھا۔ پھر بھی میں نے کوشش کی اور پھر تین سال کے بعد تیسری دفعہ قادیان آیا۔ جب یہاں پہنچا تو مجھے حضرت خلیفۃ المسیح اوّلؓ سے ملنے کا شرف حاصل ہوا۔ حضور نے مجھ سے سب کچھ پوچھا کہ آئے کہاں سے ہو اور کس لئے آئے ہو۔ تو میںنے سب کچھ الف سے ی تک بتادیا۔ حضور نے حیران ہوکر پوچھا کہ تین دفعہ قادیان آچکے مگر بیعت نہ کی۔ میں بھی حیران ہی ہوگیا کہ بیعت کیا ہوتی ہے جو لوگ حضور کے پاس بیٹھے تھے۔ انہوں نے بھی کہا کہ یہ آدمی دو تین دفعہ قادیان آچکا ہے ۔ مگر بیعت نہیں کی۔ یہ سن کر حضور مجھے اپنے ساتھ بحضور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام لے گئے اور بیعت کرائی اور میرا نام رجسٹر پر لکھ دیا اور انگوٹھابھی اس پر چسپاں کردیا۔ ایک بات جو میں بھول گیا تھا۔ وہ یہ ہے کہ وہ جو اس گائوں والے مولوی صاحب نے کہا تھا کہ میرے پوتے بدنصیب رہ جائینگے اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نہیں مانیں گے۔وہ آج کل میں اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہوں کہ وہ کس طرح جماعت احمدیہ کے خلاف بدزبانی سے کام لے رہے ہیں۔





    روایات
    میاں فضل کریم صاحب درزی احمدی
    اندرون دروازہ ٹھاکر سنگھ گوجرانوالہ
    ۱۔ اس عاجز نے بیعت تو بذریعہ خط ۱۹۰۵ء سے پہلے ہی کی تھی۔ مگر پھر جب میں ۱۹۰۵ء میں قادیان گیا اور جاکر دستی بیعت کی۔ اور حضور سے واپس آنے کی اجازت مانگی تو حضور نے فرمایا کہ ابھی چند روز اور ٹھہرو۔ اس کے بعد پھر میرے اجازت طلب کرنے پر حضور نے اجازت دیدی اور اسکے بعد میں نے حضور سے کوئی وظیفہ پڑھنے کا طلب کیا تو حضور نے فرمایا کہ درود شریف جو نماز میں پڑھا جاتا ہے وہی پڑھا کرو۔
    ۲۔ پھر دوسری دفعہ ۱۹۰۶ء میں پانچ چھ آدمی مل کر گئے تو اس وقت ہم کچھ حنا اور چند ایک روغنی ہانڈیاں بطور تحفہ لے گئے تھے۔ جب حضور کو معلوم ہواکہ ہم درزی ہیں تو حضور نے ہم کو کچھ کپڑے سینے کو دیئے اور باورچی کو کہا کہ ان کو کچھ اچھا کھانا دو لیکن ہم نے عرض کیا کہ حضور ہم کو کچھ پس خوردہ مرحمت فرماویں۔ چنانچہ وہ بھی اندر سے آتا رہا اور جب کام ختم ہوگیا تو ہم واپس آنے لگے تو ہم نے دعا کے لئے درخواست کی ۔ چنانچہ حضور نے ہم سب کو اندر بلا کر کھڑے ہوکر دعا کی۔ اور وہ دعا ابھی تک ہم کو آتی ہے۔ اس کے بعد ہم سے کپڑوں کی مزدوری دریافت کی۔ہم لینا تو نہیں چاہتے تھے لیکن حضور کے اصرار سے ہم نے حضور کے کرتے مانگے تو ہم کو اندر سے ایک ایک کرتہ مل گیا جو ابھی تک ہمارے پاس محفوظ ہیں۔
    ۳۔ پھر ۱۹۰۸ء میں جب حضور لاہور تشریف لائے ۔ میں ایک مکان بنوا رہا تھا۔ میں اپنی بیوی کو لے کر جو کہ حجیروں سے بیمار تھی۔ حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور دعا کے لئے درخواست کی۔ حضور نے فرمایا کہ بچے کا دودھ چھڑا دو اور ہم دعا کریں گے اور وہاں پھر خواجہ کمال الدین صاحب نے ایک خاص لیکچر کا انتظام کروایا ہوا تھا جس پر منشی احمد دین نے ایک رقعہ کے ذریعے اندر جانے کی اجازت طلب کی اور لیکچر سنا۔ اور ساڑھے ۱۲ بجے خواجہ صاحب نے عرض کی کہ اب لیکچر بند کردیں۔ لوگ کھانا کھانا چاہتے ہیں۔ لیکن حضور نے جواب دیا کہ ہم نے بھی صرف دوا ہی پی ہے اس پر ایک سامعین نے فوراً کہا کہ وہ کھانا تو ہم ہر روز کھاتے ہی رہتے ہیں‘ یہ روحانی غذا کبھی کبھی ملتی ہے اس لئے جاری رکھا جائے۔اس پر حضور نے ایک گھنٹہ مزید تقریر فرمائی اور ہم واپس گوجرانوالہ آگئے۔
    فضل کریم درزی احمدی
    گوجرانوالہ اندرون دروازہ ٹھاکر سنگھ








    روایات
    منشی احمد دین صاحب سیالکوٹی ولد میاں عیدا صاحب
    محلہ کشمیری ۔ شہر سیالکوٹ
    اس عاجز نے ۱۸۹۶ء میںحضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کی ہوئی ہے۔ یہ عاجز کبھی کبھی جلسہ سالانہ پر جایا کرتا تھا۔ ۱۸۹۸ء کو بھی یہ عاجز جلسہ سالانہ پر گیا ہوا تھا۔ حضرت صاحب سیر کو گئے تو بندہ بھی ساتھ تھا۔ مجھے خوب یاد ہے کہ جہاں اب بورڈنگ بنا ہوا ہے وہاں ایک جنگلی بوٹی قدآدم سے کچھ چھوٹی بہت ہوتی تھی۔ آپ ایک جگہ کھڑے ہوگئے تو کسی دوست نے اپنی چادر وہاں بچھا دی اور حضور چادر پر بیٹھ گئے او رمولوی مبارک علی صاحب مرحوم جو چھائونی سیالکوٹ کے باشندے تھے ایک قصیدہ فارسی زبان میں اپنی دوری اور معافی کا پڑھنا شروع کیا۔ حضرت بہت دیر تک سنتے رہے اور فرمایا اچھا ۔تو وہاں سے اٹھ کر چل دیئے۔ مفتی محمد صادق صاحب آپ کے گرد حلقہ باندھے چلا کرتے۔ چونکہ مفتی صاحب ان دنوں جوان تھے پھر بھی حضرت صاحب کی رفتار کی برابری مشکل ہی کرتے تھے۔ وہاں سے مسجد مبارک میں آگئے۔
    ایک مرتبہ یہ عاجز بڑی عید پر ماسٹر عبدالعزیز صاحب مرحوم کے ساتھ گیا۔ ان دنوں موسم گرما تھا اور نماز عید ریتی چھلا میں جو بڑ کا درخت ہے اسکے نیچے نماز عیدپڑھی گئی تھی۔ خطبہ حضرت خلیفۃ المسیح اول ؓ نے پڑھا تھا۔ اور شام کو مسجد مبارک کی چھت پر آپ بیٹھتے تھے اور کھانا بھی وہیں کھایا جاتا تھا۔ مسجد کی چھت پر پانچ آدمی صف میںکھڑے ہوتے اور مولوی صاحب مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نماز پڑھایا کرتے تھے نماز کے بعد کھانا کھلایا جاتا۔ اس وقت ٹین کی پیالیاں ہوا کرتی تھیں۔ ان میں سالن ہوتا۔ روٹی جس وقت رکھی جاتی۔ تو آپ روٹی کو توڑ توڑ کر چھوٹے چھوٹے نوالے کھاتے۔ کچھ ٹکڑے نیچے رہ جاتے مگر سالن ویسا ہی پڑا رہتا کسی دوست کو سالن کی ضرورت ہوتی فوراً آپ دے دیتے۔
    ایک مرتبہ یہ عاجز جلسے کے دنوں گیا۔ تو ان دنوں مسجد اقصیٰ میں ہی جلسہ ہوا کرتا تھا۔ آپ کرسی پر کھڑے ہوکر لیکچر دے رہے تھے۔ اس وقت دو اڑھائی سو کے قریب آدمی ہونگے مگر آپ بڑے جوش سے تقریر کررہے تھے۔ چہرہ مبارک نہایت سرخ اور جوش سے بھرا ہوا تھا۔ قریباً چار پانچ گھنٹے آپ نے تقریر کی۔ اسی طرح دوسرے د ن بھی۔ ا ن دنوں چونکہ اس عاجز کی مالی حالت اچھی نہ تھی۔ اور ہر جلسہ پر پہنچنے کی طاقت نہ تھی۔ یہ چند باتیں جو یاد ہیں عرض کردی ہیں۔
    خاکسار
    منشی احمد دین احمدی
    ولد میاں عیدا
    از شہر سیالکوٹ محلہ کشمیری بقلم خود
    اپریل ۱۹۳۸ء




    روایات
    سید سیف اللہ شاہ صاحب ولد سید اسد اللہ شاہ صاحب
    ساکن بیج بیاڑہ تحصیل و ضلع اسلام آباد کشمیر
    عمر بحساب قمر تقریباً۵۸ سال
    ۱۔ میری پیدائش ۱۲۹۹ھ کے شروع میں ہوئی ہے۔ چونکہ یہاں پیری مریدی کا رواج زوروں پر تھا۔ اس لئے بچپن سے ہی میری یہ آرزو تھی کہ مجھے کوئی ایسا کامل پیر ملے جو سب سے اعلیٰ پایہ کا ہو جس کے ذریعہ میں ہدایت پائوں بلکہ اس آرزو کے پورا ہونے کے لئے میں بکثرت دعائیں بھی کیاکرتا تھا۔
    ۲۔ غالباً ۱۲۔۱۳ سال کی عمر تھی کہ خواب میں اپنے آپ کو موضع یاڑی پورہ میں پایا۔ (اس وقت تک میں یاڑی پورہ سے ناآشنا تھا) دیکھا کہ ہزاروں لوگ جمع ہوگئے ہیں اور اس جگہ احمدیوں کی مسجد ہے۔ اس جگہ ایک ٹیلا جو قریباً چھ سات گز اونچا تھا نظر آیا اور اس پر ایک صاحب بیٹھے ہیں اور لوگ اس ٹیلے کے نیچے سے انکی زیارت اور آداب کرکے گزرتے ہیں۔ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں تو مجھے کہا گیاکہ یہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں تو میں نے کمال مسرت سے بے تحاشا ٹیلے پر چڑھ کر اور ان کے سامنے کھڑا ہوکر السلام علیکم عرض کیا اور حضور نے وعلیکم السلام فرمایا۔ اور پھر میں نزدیک ہوکر ان کے سامنے بیٹھ گیا تو یک لخت میرے دل میں وہی ہمیشہ کی آرزو یاد آگئی تو میں نے دل میں کہا کہ اب ان سے بڑھ کر مجھے اور کس پیر یا رہبر کی ضرورت ہے۔ میں انہی سے بیعت کرونگا۔ تو میں نے عرض کی کہ یا حضرت میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ تو حضو رنے فرمایا۔ اچھا ہاتھ نکالو۔ تو میں نے ہاتھ نکالا تو حضور نے میرے داہنے ہاتھ کو اپنے داہنے دست مبارک میںپکڑا۔ اور فرمایا۔ کہ کہو الَلّٰہُ رَبِّیْ تو میں نے الَلّٰہُ رَبِّیْکہا۔ اتنے میں مَیںبیدار ہوگیا۔ بیدار ہوکر جلدی بیدار ہونے پر مجھے نہایت افسوس آیا کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کررہا تھا مگر افسوس کہ جلدی بیدار ہوگیا۔ اس کے بعد وہ مقدس صورت ہمیشہ میرے سامنے آجاتی تھی۔ اور رخ منور کا عکس میری لوح دل سے کبھی محو نہ ہوتاتھا۔ گویا میرے دل پر وہ نقشہ جم گیا تھا۔ اس رویاکی تعبیر آگے کھل جائے گی۔
    ۳۔ میرے والد صاحب سید اسد اللہ شاہ صاحب ہر سال پنجاب میں مریدوں کے دورے کے لئے جایا کرتے تھے واپسی پر پنجاب کے حالات بتاتے تھے۔ کبھی کبھی یہ بھی بیان کرتے تھے کہ پنجاب کے ایک قادیان نام گائوں میںایک شخص مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور اسلام کی بہت تائید کرتے ہیں اور آریوں اور عیسائیوں کو مناظروں میں لاجواب کرتے ہیں۔ کوئی شخص ان کے ساتھ مناظرہ کرنے کی تاب نہیں لاتا ہے اور مستجاب الدعوات بھی ہیں اور پیشگوئیا ںبھی بہت کرتے ہیں۔ جو پوری بھی ہوتی ہیں۔ پھر کہتے تھے کہ اگر ہم ان کو مسیح موعود نہ بھی مانیں یا کہیں۔ لیکن مجدد ّ تو ضرور ہیں۔ لوگوں نے کئی بار ان سے پوچھا کہ اگر آپ کی رائے میں وہ مجددّ ہیں تو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیوں کرتے ہیں۔ مسیح تو آسمان سے نازل ہونگے۔ تو کہتے تھے کہ شاید اس میں کوئی مصلحت ہوگی کیونکہ وہ تو ہر طرح سے اسلام کی تائید کرتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ ۔ان باتوں کا میرے دل پر کچھ اثر تھا۔
    ۴۔ سولہ سالگی میں میری والدہ صاحبہ وفات پاگئیں۔ اور مجھے والد صاحب اپنے ساتھ پنجاب لے گئے۔ وہاں مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متفرق ٹریکٹ ملے۔ اورمیں نے بغور ان کا مطالعہ کیا ان کے مطالعہ سے مسیح موعود اور مہدی موعود ہونے کا مجھے پورا پورا یقین ہوگیا اور والد صاحب بھی مجھے کبھی کبھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتابیں دیاکرتے تھے۔
    ۵۔ پھر کچھ سال مَیں یوں ہی احمدی رہا۔ باوجود یکہ ہر سال میں والد صاحب کے ساتھ پنجاب جایا کرتا تھا۔ لیکن بیعت کرنی میسر نہ ہوتی تھی۔ ہاں خط و کتابت کا سلسلہ باقاعدہ جاری تھا۔ کئی بار اپنے والد صاحب کو کہتا تھا کہ مجھے قادیان لے چلو کہ میں بیعت کرونگا۔ لیکن وہ مجھے یہ کہہ کر ٹال دیا کرتے تھے کہ ہمارا پیشہ پیری مریدی کا ہے۔ ہمار ے لئے بڑی مصیبت ہوگی ۔ آگے کبھی لے چلوں گا۔
    ۶۔ میری والدہ صاحبہ کی وفات کے بعد میرے والد صاحب نے دوسری شادی کرلی تھی۔ اس لئے گھر میں ناچاقی ہوگئی تو میں سسرال کے ہاں جارہا۔ اب مجھے والد صاحب کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہ رہی۔ تو میں نے بیعت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی خدمت میں خط روانہ کیا۔ جس کے جواب کا نقل یہ ہے غالباً یہ۱۳۲۳ھ تھا۔
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ‘و نصلی
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
    آپ کا خط آیا۔
    حضرت اقدس نے آپ کی درخواست بیعت قبول کی اور آپ کے حق میں دعا فرمائی۔
    والسلام
    ا / مارچ ۶ء
    افتخار احمد از قادیان
    ۷۔ پھر والد صاحب کی وفات کے بعد ماہ مئی ۱۹۰۸ء میں یہ خاکسار لاہور پہنچا وہاں معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام خواجہ کمال الدین صاحب کے مکا ن پر تشریف فرما ہیں۔ تو میں وہاں گیا۔ وقت شاید دس بجے دن کا تھا۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اندر تشریف فرما تھے۔ اس وقت ایک امریکن انگریز مع میم صاحبہ اور ایک چھوٹے لڑکے کے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ملاقات کو آیا اور کہا کہ میں مرزا صاحب سے ملنا چاہتا ہوں۔ حاضرین نے پوچھا کہ کیا کام ہے۔کہا کہ مجھے وجود باری تعالیٰ کے متعلق کچھ سوالات ہیں۔ میں نے اب تک ہندوستان کے مشہور ہندو ‘مسلم ‘عیسائی علماء سے ان سوالات کے متعلق پوچھا مگر اب تک مجھے کسی جگہ تسلی نہ ہوئی اور اب یہاں آیا ہوں تو اس کو کہا گیا کہ حضرت صاحب دو بجے باہر تشریف لائیں گے تو وہ چلے گئے اور میں بھی اپنے ڈیرہ پر واپس گیا۔ پھر میں دو بجے کو جو آیا تو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بیٹھک کے مشرقی کمرے میں تشریف فرما ہیں اور کسی امریکن انگریزکے ساتھ گفتگو فرما رہے ہیں۔ اس کمرے کی کھڑکی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بالمقابل تھی۔ اور اس کھڑکی کا ایک شیشہ ٹوٹ کر گر گیا تھاتو میں اسی میں سے اندر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف دیکھنے لگا۔ جب میری نظر چہرہ مبارک پر پڑی تو مجھے وہی خواب والا نقشہ سامنے آیا۔ یعنی ہو بہو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وہی صورت دیکھی جو میں نے خواب مذکور میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھی تھی۔ ایک سرمو کی تفاوت نہ تھی۔
    ۸۔ القصہ امریکن انگریز وجود باری تعالیٰ کے متعلق سوالات کرتا تھا اور خواجہ صاحب ان سوالات کا ترجمہ اردو میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو سناتے تھے۔ اورحضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جواب دیتے تھے اور خواجہ صاحب ان جوابات کا ترجمہ انگریزی ‘ امریکن انگریز کو سناتے تھے ۔ بعض دفعہ امریکن انگریز سوال کرتا تھا اور خواجہ صاحب ترجمہ کرنے لگتے تھے۔ مگر حضرت صاحب فرماتے تھے کہ میں نے کہا ۔ تقریباً ایک گھنٹہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس کمرے میں ٹھہر کر باہر بیٹھک میں تشریف لائے اور بیٹھ گئے اور امریکن انگریز کے بقیہ سوالات کل پیش کرنے کا ارشاد ہوا۔
    ۹۔ میں نے السلام علیکم عرض کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام نے وعلیکم السلام فرمایا۔ تو میں نے بغیر کسی کلام کے پہلی بار ہی عرض کیاکہ حضرت میں بیعت کرنی چاہتا ہوں تو حضور نے مجھے ہاتھ اور زبان مبارک سے ذرا ٹھہرنے کا ارشاد فرمایا یعنی ذرا ٹھہرو (آہستہ) تو میں بیٹھ گیا۔ اس وقت اس مجلس میں بہت صاحب تھے۔ چونکہ میںنووارد تھا۔ اس لئے سب کا نام بتا نہیں سکتا۔ لیکن جو یاد ہیں وہ یہ ہیں۔
    حضرت خلیفۃ المسیح اول ؓ ۔ مفتی محمد صادق صاحب (ایڈیٹر بدر) قاضی اکمل صاحب (مینجر بدر) مفتی فضل الرحمان صاحب ‘ پیر محمد منظور صاحب‘ مولوی غلام رسول صاحب راجیکی‘ عبدالحی صاحب‘ نانا جان صاحب ‘ ایک امرتسر کا حجام‘ مولوی محمد اسحاق صاحب‘ مولوی محمد سعید صاحب وغیرہ وغیرہ۔ پھر مختلف باتوں پر بات چیت رہی۔ ان دنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کتاب ’’پیغام صلح‘‘ تصنیف فرما رہے تھے۔ اصحاب نے عرض کیا کہ اس کتاب کاکیا نام رکھا جائے تو فرمایا کہ میں نے تو نام رکھا ہوا ہے۔ عرض کیا کہ کیا نام ۔فرمایا: ’’پیغام صلح‘‘۔ یہ نام سن کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی معجز بیانی پر اہل مجلس نے رقص کیا۔ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلا م نے فرمایا کہ بیعت کرنیوالے آگے آجائیں تومیں اور دو اور آدمی بیعت کے لئے حاضر ہوئے تو ہم تینوں کے ہاتھ اکٹھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے دست مبارک میں لے کر بیعت فرمائی اور دعا فرمائی۔ پھر عصر کی نماز ہوئی۔ مولوی صاحب (حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ) نے امامت کی اور حضرت صاحب اندر تشریف لے گئے۔
    ۱۰۔ دوسرے د ن پھر امریکن انگریز آیا اور بقیہ سوالات اسی کمرے میں کئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تمام سوالات کا جواب فرمایا اور اس کو اچھی طرح وجود باری کے متعلق اطمینان ہوا۔ ہم نے بھی اس امریکن سے پوچھا تو اس نے کہا بس آج مجھے اطمینان ہوا۔ آج تک کسی جگہ میں نے تسلی نہ پائی تھی۔ چونکہ ان دنوں بدر کا عملہ وہیں تھا۔ اس لئے وہ مضمون بدر میں چھپ گیا۔ اور اخبار کے سرورق پر انگریزی حروف میں بدر لاہور لکھا گیا۔ پھر جب جمعہ کا دن آیا تو نماز جمعہ بھی میں نے وہیں پڑھی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ نے خطبہ پڑھا اور نماز پڑھائی۔ ان دنوں میں مَیں نے کئی بار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے مصافحہ بھی کیا اور ہاتھ بھی چوما اورکچھ نذرانہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے دست مبارک میں رکھا۔ اور اس نذرانہ میں دونیاں چونیاں بھی تھیں۔ اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس نذرانہ کو اپنی مٹھی میں دبا کر پاکٹ میں ڈال دیا۔ دوسرے دن میں وہاں سے رخصت ہوکر دو تین دن کے بعد ایک گائوں موضع پنڈی تتار متصل اسٹیشن کٹھالہ ضلع گجرات پنجاب میں پہنچا لیکن کسی مجبوری کی وجہ سے لاہور واپس نہ جاسکا ۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔
    چونکہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیادہ صحبت میسر نہ ہوئی۔ اس لئے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مزید چشم دید حالات کی واقفیت نہیں ہے۔ مگر خط و کتابت تحریری بیعت سے قبل اور بعد رہی۔ جن میں سے اکثر خطوط ایک احمدی بھائی خواجہ غلام احمد جو پانپوری کے مکان سے گم ہوگئے اور تین موجود ہیں۔ ایک کی نقل اوپر دی گئی۔ دو کی نقل مطابق اصل دوسرے صفحہ پر درج کرونگا۔ البتہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی بہت صحبت اٹھائی ہے اور اس وقت ا ن کے کئی خطوط اور ایک رومال موجود ہے۔
    ۱۱۔ قبل از تحریری بیعت میں نے الٰہی بخش‘ رحیم بخش تاجران کتب شہر گجرات پنجاب سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے موئے مبارک ( سر مبارک کے بال) حاصل کئے ہیںاور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (کے)غالباً ایک امرتسری حجام سے لئے تھے ۔ جو اس وقت میرے پاس موجود ہیں۔
    ۱۲۔ میری تحریری بیعت سے پہلے قصبہ ہذا میں ایک اور احمدی خواجہ غلام احمد پانپوری تھا۔ اس کے لڑکے کو روتے وقت کھانسی سے سانس باہر کھینچا جاتا تھا اور کئی منٹ تک واپس نہ آتا تھا۔ اوربے ہوش ہوجاتا تھا تو میں نے اس کے کہنے پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دعا کے لئے لکھا ۔ ابھی اس خط کا جواب نہ آیا تھا کہ وہ لڑکا اس عارضہ سے نجات پاگیا۔ جب خط کا جواب آیا۔ تو اس میںلکھا تھا کہ حضرت اقدس نے دعا فرمائی تو معلوم ہوا کہ جس روز حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دعا فرمائی تھی۔ اسی روز لڑکا بھی صحت یاب ہوگیا تھا۔
    ۱۳۔ میں چونکہ یہاں ایک ہی احمدی پڑھا لکھا تھا۔ دوسرا غلام احمد پانپوری تھا۔ مگر وہ اَن پڑھ تھا۔ اس لئے میرے ساتھ ہی زیادہ مخالفت رہی۔ یہاں کے واعظوں ‘ مولویوں نے میرے ساتھ بائیکاٹ کردیا۔ مجھے قتل کی دھمکیاں بھی دی گئیں تو میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں لکھتا تھا تو ان کی دعا کی برکت سے مجھے مخالفوں سے کوئی ضرر نہ پہنچا۔
    دوسرے کارڈ کی نقل
    بسم اللہ الرحمان الرحیم نحمدہ و نصلی
    مکرمی اخویم سلمہ اللہ تعالیٰ
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔
    خط آیا۔حضرت صاحب نے پڑھا۔ دعا کی ہے اللہ تعالیٰ فضل فرما وے۔
    والسلام
    از قادیان
    افتخار احمد
    کارڈ کا پتہ ۔ بخدمت شریف سیف اللہ شاہ صاحب دیوبیج بہاڑہ کشمیر ۱۷ ستمبر ۱۹۰۶ء
    تیسرے کارڈ کی نقل
    بسم اللہ الرحمان الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    برادرم غلام احمد صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بہ نسبت جنازہ مخالفین حضرت اقدس بارہا فیصلہ دادہ اند ۔او اینست کہ چونکہ نماز جنازہ دعا است۔ لہذا جائز است ۔ البتہ ایں گفتہ اند۔ کہ پس مخالف نہ باشد۔البتہ اگر آں مخالف دیں چنیں بود کہ در جنازہ او شریک شدن موجب بے غیرتی باشد تابایں وجہ درست نہ باشد۔
    فقط ۲۵ /مارچ ۶ء
    محمد سرور احمدی بحکم حضرت مسیح موعود علیہ السلام
    کارڈ کا پتہ ۔ برادرم خواجہ غلام احمد احمدی پانپوری بیج بہاڑہ کشمیر
    ۱۴۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو شاید دہلی میں کسی مولوی نے پوچھا کہ اگر حضرت عیسیٰ فوت ہوئے تو ان کی قبر کہاں ہے۔ حضرت صاحب نے فرمایا تھا کہ جن نبیوں کی قبریں نامعلوم ہیں ۔ کیا وہ سب زندے ہیں۔ یہ واقعہ یہاں کے احمدیوں نے بھی سنا۔ تو یاڑی پورہ کے ایک احمدی زبردست خاں نے کہا۔ اگر وہ مولوی مجھ سے پوچھتا تو میں اس کو یہ جواب دیتا کہ کیا حضرت مسیح موعود نبیوں کے چروا ہے تھے کہ ان کی لاشیں یا نمونے موجود رکھتے۔ تا لوگوں کو دکھلاتے۔ یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس کسی کشمیری احمدی نے بیان کی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تبسم فرمایا۔
    ۱۵۔ میں بیعت سے پہلے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نبی مانتا رہا اور بعد بھی۔ اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کو خلیفہ برحق سمجھتا رہا۔ اور اب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز کو خلیفہ برحق سمجھتا ہوں۔ اورمجھے اس اعتقاد میں ذرہ بھر شک نہیںہے اور اللہ تعالیٰ نے خود مجھے احمدیت کی طرف رہنمائی کی ہے۔ کسی کی تبلیغ سے میں احمدی نہیں ہوا۔
    خاکسار
    سید سیف اللہ شاہ احمدی
    ۱۱ /مارچ ۱۹۳۸ء

    روایات
    ملک عمر خطاب صاحب سکنہ خوشاب
    پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ شاہ پور صدر
    خاکسار جب سن بلوغت کو پہنچا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دعویٰ مامور من اللہ سننے میں آیا۔ شوق پیدا ہوا کہ جس قدر جلدی ہوسکے خدمت میں پہنچ کر بیعت کا شرف حاصل کرے۔ بفضل ایزدی سال ۱۹۰۵ء میں اپنے دلی ارادہ کے ماتحت قادیان پہنچا۔ ایک چھوٹی سی بستی اور کچی دیواروں کا مہمان خانہ اور چند طالب علموں کا درس جس کی تدریس مولانا حضرت حکیم نور الدین اعظم رضی اللہ عنہ کررہے تھے نظر سے گزرے۔ اس قدر دعویٰ اور موجودہ بستی پر حیرانگی کا ہونا ممکنات سے تھا۔ مگر باوجود اس کے قلب صداقت پر شاہد تھا۔ لبیک کہتا ہوا بغیر ملنے مولوی صاحب موصوف کے جو ہموطن تھے ایک عریضہ حضور کی خدمت میں اندر بھیجا۔ اس میں عرض ہوا کہ حضور باہر تشریف لائیں بیعت کرنی ہے اور آج ہی واپس جانا ہے۔ حضور نے تحریری جواب بھیجا کہ وسمہ لگایا ہوا ہے ابھی ایک بجے اذان ہوگی مسجد مبارک میں آجائوںگا۔ اسی اثناء میں دو شخص قوم سکھ مہمانخانہ میں دوڑتے ہوئے آگئے۔ وہاں سوائے خاکسار کے اور کوئی نہ تھا۔ کہنے لگے۔ حجام کو جلدی بلوا دیں کیس کٹوانے ہیں اور بیعت کرنی ہے۔ خاکسار نے ناواقفی کا اظہار کیا حجام کا ملنا بہت مشکل تھا۔ اس آمد کی اطلاع بھی حضور کو خاکسار نے بذریعہ عریضہ بھیجی۔ حضورنے اس پر بھی مندرجہ بالا جواب دیا۔ خاکسار نے ان کی گھبراہٹ کی نسبت دریافت کیا تو بتلایا کہ ہم دونوں بھائی قادیان کے نزدیک رہنے والے ہیں اور چھائونی میاں میر فوج میں ملازم ہیں۔ باپ کے بیمار ہونے پر گھر آئے ان کو سخت تکلیف ہورہی تھی۔ سکھ قوم کے ایک بزرگ نے ہمارے باپ کو کہا کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہپڑھو تاکہ تمہاری جان بحق ہو۔ ہمارے باپ نے ایسا ہی کیا اور جان بحق ہوگئے۔ ہم پر اس کا یہ اثر ہوا کہ بجائے اخیر وقت کے پہلے اس کلمہ کو پڑھ لینا چاہئے۔ مرزا صاحب نے دعویٰ کیا ہوا تھا۔ دوسرے دن مستورات کو اپنے ارادہ کے ساتھ ملانے کے لئے کہا۔ مگرانہوں نے شور مچا دیا۔ قوم سکھ جمع ہوگئی۔ ہم نے ان سے قادیان کی طرف فرار اختیار کیا۔ وہ ڈانگ سوٹا لئے تعاقب کو آرہے ہیں۔ جلدی کی ضرورت ہے۔ اسی اثناء میں اذان ہوگئی۔ خاکسار مع ان کے مسجد مبارک پہنچا۔ چھوٹی سی مسجد اس قدر بھری ہوئی تھی کہ تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ جو تیوں میں حیران کھڑا ہوگیا۔واقفیت بھی کسی سے نہ تھی معاً حضرت صاحب نے محراب والا دروازہ کھولا۔ اور لوگ کھڑے ہوگئے۔ خاکسار لوگوں کی ٹانگوںسے گزرتا ہوا حضورکے آگے جا کھڑا ہوگیا۔ حضور بیٹھ گئے ۔خاکسار حضور کے آگے بیٹھ گیا۔ حضور نے پوچھا تم کون ہو۔ عرض کیا بیعت کے لئے آیا ہوں عریضہ خاکسار نے بھیجا تھا۔ مولوی صاحب نے دیگر لوگوں کے لئے جو خاکسار سے پہلے بیعت کے لئے بیٹھے تھے ۔ بیعت کرنے کو عرض کی۔ حضور نے خاکسار کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہاتھ پر رکھ لیا۔ اور فرمایا کہ اس بچہ پر ہاتھ رکھو۔ چنانچہ حضور کے حکم کے مطابق سب نے خاکسار کی پشت پر ہاتھ رکھا۔ بیعت ہوئی۔ حضور نے دعا فرمائی۔ پھر نماز ہوئی۔ الحمد للہ رب العالمین۔
    ملک عمر خطاب سکنہ خوشاب احمدی
    بقلم خود


    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    روایات
    خانصاحب سید ضیاء الحق ضلع کٹک
    چونکہ اس خاکسار کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے لہذا عرض ہے کہ حسب ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز خاکسار یہ چند سطور اپنی نسبت عرض کرتا ہے گزشتہ واقعات جہاں تک میرے ذہن میں یاد تھے خاکسار نے اس کو لکھ دیا ہے۔ ورنہ اس کی بابت میرے پاس کوئی تحریری نوٹ نہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔
    (۱) نام: خانصاحب سید ضیاء الحق ۔(۲) ولدیت :سید ظہور الحق صاحب مرحوم ۔(۳) سکونت: محلہ چرام پور عرف گوہالی پور پرگنہ سونگڑہ ضلع کٹک صوبہ اڑیسہ۔ (۴)عمر : تا روز تحریر (یعنی ۱۰/ مارچ ۱۹۳۸ئ) ۶۱ برس چھ مہینہ تئیس دن ۔ (۵)تاریخ بیعت :جہاں تک یاد ہے ۱۹۰۰ء میں خاکسار حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت میں داخل ہوا۔
    (۶)حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ملاقات کی تاریخ بمعہ حالات قیام وغیرہ۔ ہم تین احمدی اشخاص یعنی یہ خاکسار اور اس کے خالہ زاد بھائی سید اکرام الدین صاحب مرحوم اور انکے بہنوئی سید نیاز حسین صاحب مرحوم سونگڑہ سے روانہ ہوکر کلکتہ ہوتے ہوئے قادیان پہنچے۔ جہاں تک یاد ہے ۱۹۰۰ء کے اکتوبر میں تعطیل دسہرہ کے دوران میں یہ سفر واقعہ ہوا۔ مگر تاریخ یاد نہیں۔ ہم تینوں قریباً دس گیارہ بجے دن کو قادیان پہنچے اور اسی دن بوقت نماز ظہر بوساطت مولوی محمد احسن صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے مسجد مبارک میں ملاقات ہوئی۔ اور اسی دن بعد نماز مغرب مسجد مبارک میں ہم تینوں نے معہ دیگر نووارد حاضرین بیعت کی۔ ملاقات کے وقت حضور نے جب میرا نام دریافت فرمایا تو میں نے اپنا نام ضیاء الحق کہا۔ اور حضور نے دہرا کر فرمایا ضیاء الحق۔ (حضور نے حرف ق کوک کی طرح تلفظ فرمایا) یہ میرے لئے سننے کا پہلا موقع تھا کہ پنجاب میں عام بول چال میںحرف ق کو حرف ک کی طرح لوگ بول دیا کرتے ہیں۔ حضور نے مولوی محمد احسن صاحب کو فرمایا کہ ان تینوں کو سلسلہ کی کچھ کتابیں پڑھنے کودی جاویں۔ خاکسار نے عرض کیا کہ فتح اسلام ‘ توضیح مرام و ازالہ اوہام و اعلام الناس وشمس بازغہ مصنفہ مولوی محمد احسن صاحب وغیرہ پڑھی ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خوشی کا اظہار فرمایا۔ حضور نے تاکید کردی تھی کہ لنگر خانہ میں ہم تینوں اڑیسہ کے مہمانوں کے لئے چاول کا بندوبست کردیا جاوے۔ ہم قریب سات دن تک قادیان میں ٹھہرے ۔ ہم تینوں ہر روز بعد نماز مغرب حضور کے پیر دبانے والوں میں شریک ہوتے تھے۔ مگر خداموں کی کثرت کی وجہ سے پیر کا کوئی حصہ ملنا دشوار ہوجاتا تھا۔ حضور کا پیر خوب مضبوط معلوم ہوتا تھا۔ نیز ہر روز صبح بعد ناشتہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ سیر میں ہم شریک ہوتے تھے۔حضور خوب تیز چلتے تھے۔ حتیٰ کہ بعض ہمراہیوں کو دوڑنا پڑتا تھا۔ حضور کے چھتری برداری کا فخر ایک عرب غالباً مولوی ابو سعید صاحب کو ملتا تھا۔ ایک روز کا ذکر ہے کہ میں نے حضور سے دریافت کیا کہ ہمارے محلہ کی مسجد میں ہم کس طرح نماز ادا کریں۔ حضور نے دریافت فرمایا کہ کیا غیر احمدی نماز ادا کرنے کی اجازت دیں گے۔ تو میں نے عرض کیا کہ ہمارے محلہ کی مسجد میں نماز ادا کرنے سے ہم کو کون روک سکتا ہے؟ حضور نے فرمایاکہ اگر کوئی روک نہیں تو علیحدہ نماز ادا کرلی جاوے ورنہ نہیں۔ شروع میں ہم کو خبر نہ تھی کہ مخالفت اس قدر ہوگی کہ محلہ کی مسجد میں نماز ادا کرنا تو درکنار اس کے اندر جانے کی بھی اجازت نہ ہوگی اور برادری سے قطع تعلق ہوگا اور ہم کو کافرضال و مضل کا خطاب دیا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔
    دوسرے ایک دن کا ذکر ہے کہ جب حضور سیر سے واپس آکر مکان کے اندر جارہے تھے تو کسی نے ذکر کردیا کہ فلاں شخص فلاں اعتراض کرتا ہے مجھ کو یاد نہیںکہ وہ اعتراض کیا تھا۔ حضور اندر مکان کو تشریف لیتے لیتے ٹھہر گئے اور آپ کی گفتگو سے معلوم ہوتا تھا کہ آپ بہت جوش کے ساتھ اس اعتراض کی تردید کرتے تھے اور آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا تھا ۔ ہر روز بعد نماز مغرب حضور مع خدام و نووارد مہمان مسجد مبارک میں نماز عشاء تک ٹھہرتے تھے اور مختلف خبر و اخبار سنتے رہتے تھے۔ ہم تینوں نہایت آرام و اطمینان کیساتھ قریب سات دن تک قادیان درالامان میں قیام کرکے واپس آگئے۔ فقط
    خاکسار
    سید ضیاء الحق عفی عنہ
    پریذیڈنٹ انجمن احمدیہ سونگڑہ
    ضلع کٹک ‘ صوبہ اڑیسہ
    مکرر عرض ہے کہ اس عریضہ کے ہمراہ خاکسار کا ایک فوٹو بھی ارسال کیا گیا ہے۔ فقط
    خاکسار ضیاء الحق عفی عنہ








    روایات
    رحمت اللہ صاحب احمدی پنشنر سیکرٹری تبلیغ سنگرور‘ ریاست جیند
    ’’میرا نام رحمت اللہ خلف مولوی محمد امیر شاہ صاحب قوم قریشی سکنہ موضع بیرمی ضلع لدھیانہ ہے۔ خدا نے اپنے فضل و رحم سے مجھے چن لیا اور غلامی ء حضور سے سرفراز فرمایا ورنہ من آنم کہ من دانم۔ تفصیل اس کی یہ ہے ۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے چند ماہ لدھیانہ میں قیام فرمایا میری عمر اس وقت قریباً ۱۷ ۔ ۱۸ برس کی ہوگی اور طالب علمی کا زمانہ تھا۔ میں حضور کی خدمت اقدس میں گاہ بگاہ حاضر ہوتا۔ مجھے وہ نور جو حضور کے چہرہ مبارک پر ٹپک رہا تھا نظر آیا جس کے سبب سے میرا قلب مجھے مجبور کرتا کہ یہ جھوٹوںکا منہ نہیں ہے مگر گرد و نواح کے مولوی لوگ مجھے شک میں ڈالتے۔ اسی اثناء میں حضورکا مباحثہ مولوی محمد حسین بٹالوی سے لدھیانہ میں ہوا۔ جس میں میں شامل تھا۔ اس کے بعد خدا نے میری ہدایت کے لئے ازالہ اوہام کے ہر دو حصّے بھیجے۔ وہ سراسر نوُر و ہدایت سے لبریز تھا۔ خدا جانتا ہے کہ میں اکثر اوقات تمام رات نہیں سویا۔ اگر کتاب پر سر رکھ کر غنودگی ہوگئی تو ہوگئی۔ ورنہ کتاب پڑھتا رہا۔ اور روتا رہاکہ خدا یہ کیا معاملہ ہے کہ مولوی لوگ کیوں قرآن شریف کو چھوڑتے ہیں؟ خدا جانتا ہے کہ میرے دل میں شعلہ عشق بڑھتا گیا۔ میں نے مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کو لکھا کہ حضرت مرزا صاحب عیسیٰ علیہ السلام کی وفات تیس آیات سے ثابت کرتے ہیں۔ آپ براہ مہربانی حیات کے متعلق جو آیات و احادیث ہیں تحریر فرمادیں اور ساتھ جو تیس آیات قرآنی جو حضرت مرزا صاحب لکھتے ہیں تردید فرما کر میرے پاس بھجوادیں۔ میں شائع کرادونگا۔ جواب آیا کہ آپ عیسیٰ کی حیات و ممات کے متعلق حضرت مرزا صاحب یا اس کے مریدوں سے بحث مت کرو۔ کیونکہ اکثر آیات وفات ملتی ہیں۔ یہ مسئلہ اختلافی ہے اس امر پر بحث کرو کہ مرزا صاحب کس طرح مسیح موعودؑ ہیں؟ جواب میں عرض ہوا کہ اگر حضرت عیسیٰ ؑفوت ہوگئے ہیں تو حضرت مرزا صاحب صادق ہیں۔ جوا ب ملا کہ آپ پر مرزا صاحب کا اثرہوگیا ہے۔ میں دعا کروں گا۔ جواب میں عرض کیا گیا۔ کہ آپ اپنے لئے دعا کرو۔ آخر میں آستانہ الوہیت پر گرا اور میرا قلب پانی ہوکر بہہ نکلا۔ گویا میں نے عرش کے پائے کو ہلادیا۔عرض کی ۔ خدایا ! مجھے تیری خوشنودی درکار ہے۔ میں تیرے لئے ہر ایک عزت کو نثار کرنے کو تیارہوں۔ اور ہر ایک ذلت کو قبول کروں گا۔ تو مجھ پر رحم فرما۔ تھوڑے ہی عرصہ میں میں اس ذات کی قسم کھاتا ہوں۔ جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ بوقت صبح قریباً چار بجے ۲۵ دسمبر ۱۸۹۳ء بروز سوموار جناب سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ تفصیل اس خواب کی یہ ہے کہ خاکسار موضع بیرمی میں نماز عصر کا وضو کررہا تھا۔ کسی نے مجھے آکر کہا کہ رسول عربی آئے ہوئے ہیں اور اسی ملک میں رہیں گے۔ میں نے کہا۔ کہاں ؟ اس نے کہا یہ خیمہ جات حضور کے ہیں۔ میں جلد نماز ادا کرکے گیا۔ حضور چند اصحاب میں تشریف فرما تھے۔ بعد سلام علیکم مجھے مصافحہ کا شرف بخشا گیا۔ میں با ادب بیٹھ گیا۔حضور عربی میں تقریر فرما رہے تھے۔ خاکسار اپنی طاقت کے موافق سمجھتا تھا اور پھر اردو بولتے تھے۔ فرمایا۔ میں صادق ہوں۔ میری تکذیب نہ کرو۔ وغیرہ وغیرہ۔ میں نے کہا آمنا و صدقنا یا رسول اللہ۔تمام گائوں مسلمانوں کا تھا مگر کوئی نزدیک نہیں آتا تھا۔ میں حیرا ن تھا کہ خدایا ! یہ کیا ماجرا ہے؟ آج مسلمانوں کے قربان ہونے کا دن تھا گویا حضور کا ابتدائی زمانہ تھا۔ گو مجھے اطلاع دی گئی تھی کہ حضور اسی ملک میں تشریف رکھیں گے ۔ مگر حضور نے کوچ کا حکم دیا۔ میں نے رو کر عرض کی۔ حضور جاتے ہیں۔ میں کس طرح مل سکتا ہوں۔ میرے شانہ پر حضور نے اپنا دست مبارک رکھ کر فرمایا۔ گھبرائو نہیں۔ ہم خود تم کو ملیں گے۔ تفہیم ہوئی کہ حضرت مرزا صاحب رسول عربی ہیں۔ مجھے فعلی رنگ سمجھایا گیا۔ الحمد للہ ثم الحمدللہ۔
    میں نے بیعت کا خط لکھ دیا۔ مگر بتاریخ ۲۷ دسمبر ۱۸۹۸ء بروز منگل قادیان حاضر ہوکر بعد نماز مغرب بیعت کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ خدا کے فضل نے مجھے وہ استقامت عنایت فرمائی کہ کوئی مصائب مجھے تنزل میں نہیں ڈال سکا۔ مگر یہ سب حضور کی صحبت کا طفیل تھا جو بار بار حاصل ہوئی اور ان ہاتھوں کو حضور کی مٹھیاں بھرنے کا فخر ہے۔ گو مجھے اعلان ہونے پر رنگا رنگ کے مصائب پہنچے مگر خدا نے مجھے محفوظ ہی نہیں رکھا بلکہ اس نقصان سے بڑھ کر انعام عنایت کیا۔ اور میرے والد اور بھائی اور قریبی رشتہ دار احمدی ہوگئے۔ الحمد للہ۔ اگر طوالت کا خوف نہ ہوتا تو میں چند واقعہ اور تحریر کرتا۔ اور یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ درود تاج احمدی ہونے کے بعد بھی پڑھا کرتا تھا۔ میرے استاد مولوی عبدالقادر صاحب لدھیانوی جو میرے بعد احمدی ہوگئے تھے۔ مجھے منع فرماتے تھے کہ شرک ہے مت پڑھا کرو۔ میں نے کہا کہ مسیح موعودؑ سے کہلا دو۔ پھر چھوڑ دوں گا۔ اتفاقاً کسی جلسہ سالانہ پر خاکسار اور مولوی صاحب بھی موجود تھے۔ حضور ہوا خوری کے لئے نکلے۔ مولوی صاحب نے اس موقع پر عرض کیا کہ حضور منشی رحمت اللہ صاحب درود تاج پڑھتے ہیں۔ میں نے منع کیا کہ یہ شرک ہے۔ حضور نے میری طرف مخاطب ہوکر فرمایا۔ کیا ہے ۔ درود تاج پڑھو۔ میں نے پڑھ کر سنایا ۔ فرمایا۔ اس میں تو شرک نہیں۔ مولوی صاحب نے عرض کیا کہ اس میں یہ الفاظ ہیں۔ دافع البلاء و الوباء و القحط و المرض و الالم ۔ تو حضور نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ کو لوگوں نے سمجھا نہیں۔ اس میں کیا شک ہے۔ کہ حضور کا نام دافع البلاء اور وبا ہے بہت لمبی تقریر فرمائی۔ مولوی صاحب خوش ہوگئے۔ اور فائدہ عام کے لئے تحریر کیا گیا۔
    فقط والسلام ۲۰ /فروری ۱۹۳۸ء
    خاکسار
    رحمت اللہ احمدی پنشنر
    سیکرٹری تبلیغ سنگرور ریاست جیند
    نوٹ: تصویر روانہ کی جاتی ہے۔ مگر اچھی طرح سے نہیں آئی۔ اگر حکم ہوگا تو اور اچھی طرح کراکر بھیجی جاوے گی۔



    روایات
    میاں اللہ دتہ صاحب صحابی جماعت احمدیہ ترگڑی
    جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بمع شہزادہ عبداللطیف صاحب شہید مقدمہ کرم الدین کے لئے جہلم تشریف لے جارہے تھے اس موقع پر ریلوے (سٹیشن)گوجرانوالہ گاڑی کے کمرہ میں شرف زیارت حاصل کیا اور بعد ازاں خط کے ذریعہ اسی سال میں نے بیعت کرلی۔ جب لاہور میں پیغام صلح کا مضمون حضرت اقدس کسی مکان میں لکھ رہے تھے۔ تو میاں غلام حیدر موچی چھوٹے قد کاآدمی تھا۔ میں نے کھڑے ہوکر غلام حیدر کو اٹھا کر اوپر کو کسی ذریعہ اندر داخل کردیا کسی اور آدمی نے اندر جانے سے روکا۔ اس وقت حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے اندر داخل ہوتے وقت دیکھ لیا اور روکنے والے کو کہا کہ یہ شخص بڑی محنت کرکے اندر داخل ہوا ہے اس کو اندر آنے دو۔ چنانچہ وہ اندر چلا گیا اور ملاقات کی۔
    بعد ازا ںحضرت صاحب نے بیعت لینے کا اعلان کیا کہ جس جس نے بیعت کرنی ہے وہ ایک دوسرے کی پیٹھ پر ہاتھ رکھتے جاویں۔ ایک آدمی نے ہاتھ رکھا۔ دوسرے اس کی پیٹھ پر ہاتھ رکھتے گئے۔ ایک آدمی نے آگے بڑھ کر ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔ تو حضرت صاحب نے فرمایا کہ جب مامور من اللہ کے آئو تو گستاخی نہیں کرنی چاہئے اور ایک دوسرے کی پیٹھ یا ہاتھ پر جتنی دور چلا جاوے۔ وہ مامور من اللہ کا ہاتھ ہوگا۔ جب نماز مغر ب کا وقت تھا حضرت صاحب سیر سے واپس آرہے تھے اور لوگ نماز کی طیاری میں مصروف تھے۔ تو میں نے حضرت اقدس کو سیڑھی پر مصافحہ کرکے دعا کی درخواست اور اپنے والد میاں جمال الدین صاحب کے لئے دعا کی درخواست کی۔ کہ میرا والد سلسلہ کا سخت مخالف ہے۔ حضرت اقدس نے دریافت کیا کہ اس کا کیا نام ہے؟ میں نے اس کا نام جمال الدین بتایا۔ پھر میرا نام دریافت کیا تو اللہ دتہ بتایا۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ تم دعائوں میںلگے رہو اور ہم بھی دعا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ دعائوں کو ضائع نہیں کرے گا۔ پھر رخصت ہوتے وقت بھی حضرت اقدس نے یہی کلمات فرمائے اور اندر چلے گئے اور والد صاحب نے بعد ازاں سخت مخالفت کی۔ سولہ سال برابر مخالفت پر اڑا رہا۔ مگر دعا برابر کرتا رہا۔
    ایک دفعہ جلسہ پر جانے کے لئے میں نے ان کو تحریک کی۔ کہ آپ کم از کم قادیان جلسہ دیکھو۔ کیونکہ زندگی کا کوئی اعتبار نہیں۔ چنانچہ جلسہ پر آنے سے پہلے والد صاحب نے کہا کہ مجھ سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جب تک حق اور جھوٹ نہ دیکھوں۔ مجھے موت نہیں آئے گی۔ تمہارے کہنے پر نہیں جائوں گا۔ چنانچہ والد صاحب اپنی مرضی سے جلسہ پر آگئے اور جلسہ کے دوران میں بیعت کرلی۔ اور بعد ازاں ایک سال تک زندہ رہے اور ۲۴ء ؁٭بروز جمعہ مارچ شروع میں فوت ہوگئے۔ انا اللہ و انا الیہ راجعون۔
    میاں اللہ دتہ احمدی موصی نمبر ۳۱۹۰
    جماعت ترگڑی گوجرانوالہ
    ٭ ۲۴ئ؁ سے مراد ۱۹۲۴ئ؁ ہے۔






    روایات
    حامد حسین خان صاحب خلف محمد حسین خانصاحب
    متوطن مراد آباد
    ’’میں ۱۹۰۲ء میں علی گڑھ کالج سے آکر میرٹھ میں ملازم ہوا تھا۔ میری ملازمت کے کچھ عرصہ بعد مکرمی خانصاحب ذوالفقار علی خانصاحب بہ سبیل تبادلہ بعہدہ انسپکٹر آبکاری میرٹھ میں تشریف لے آئے۔ آپ چونکہ احمدی تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرچکے تھے۔ لہذا آپ کے گھر پر دینی ذکر و اذکار ہونے لگا اور شیخ عبدالرشید صاحب زمیندار ساکن محلہ رنگساز صدر بازار میرٹھ کیمپ اور مولوی عبدالرحیم صاحب وغیرہ خانصاحب موصوف کے گھر پر آنے جانے لگے۔ خانصاحب موصوف سے چونکہ مجھ سے بوجہ علی گڑھ کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے محبت تھی اس لئے میری نشست و برخاست بھی خانصاحب کے گھر پر ہونے لگی۔ چنانچہ میں نے کتابیں دیکھنے کا شوق ظاہر کیا۔ تو حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی چھوٹی چھوٹی تصانیف خانصاحب نے مجھ کو دیں۔ جو میں نے (غالباً میں نے برکات الدعا اول پڑھی تھی) پڑھیں۔ اس کے بعد عسل مصفٰی مجھ کو دی گئی۔ وہ میں نے دیکھنا شروع کی ہی تھی کہ مولوی محمد احسن صاحب امروہوی خانصاحب کے یہاں تشریف لائے اور میرٹھ میں مناظرہ کے طرح پر گئے۔ اس وقت صرف ایک ہی مسئلہ زیر بحث تھا اور وہ وفات مسیح کا مسئلہ تھا۔ مناظرہ وغیرہ تو میرٹھ کے شریر اور فسادی لوگوں کے باعث نہ ہوا۔ لیکن مولوی محمد احسن صاحب مرحوم کی تقریر ضرور میں نے وفات مسیح کے متعلق سنی۔ میرٹھ کی پبلک سے جو جھگڑا مناظرہ کے متعلق ہوا۔ اس کے حالات ایک رسالہ کی صورت میں شائع کئے گئے۔اس میںمیرا نام بھی ہے۔ (غالباً وہ دارالامان کی لائبریری میں ہوگا۔ اگر دارالامان کی لائبریری میں نہ ہو تو شیخ عبدالرشید صاحب زمیندار ساکن محلہ رنگساز صدر بازار کیمپ میرٹھ کے پاس ہوگا) اس کے بعد ہم کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے ملنے کا اشتیاق ہوگیا اور میں نے خانصاحب موصوف سے عرض کیا کہ اگر حضرت اقدس میرٹھ کے قرب و جوار میں تشریف لاویں تو آپ مجھ کو ضرور اطلاع دیں۔ ایسے عظیم الشان شخص کو نہ دیکھنا بڑی بدنصیبی ہے۔ اس وقت بیعت کرنے کا مجھ کو خیال بھی نہ تھا۔ اس کے بعد ۱۹۰۴ء میں زلزلہ عظیمہ آیا جس کے متعلق یہ کہا گیا کہ یہ حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئی کے مطابق آیا ہے۔ اس کے بعد ایک دن خانصاحب موصوف نے مجھ سے فرمایا کہ حضرت مسیح موعودؑ دہلی تشریف لارہے ہیں۔ کیا آپ زیارت کے لئے چلیں گے۔ میں نے آمادگی ظاہر کردی۔ حضرت اقدس جب دہلی تشریف لائے تو خانصاحب موصوف نے مجھ سے چلنے کے لئے ارشاد فرمایا۔ چنانچہ میں ان کے ہمراہ دہلی روانہ ہوگیا۔ دہلی میں حضرت اقدسؑ کا قیام الف خان والی حویلی میں جو محلہ چتلی قبر میں واقع ہے تھا۔ میں اور خانصاحب موصوف بذریعہ ریل دہلی پہنچے۔ اس وقت غالباً ۱۲ یا ایک بجے کا وقت تھا۔ حضرت اقدس مسیح موعودؑ مکا ن کے اوپر کے حصہ میں تشریف رکھتے تھے۔ اور نیچے اور دوست ٹھہرے ہوئے تھے۔ مکان میں داخل ہوتے ہوئے میری نظر مولوی محمد احسن صاحب پر پڑی۔ چونکہ ان سے تعارف میرٹھ کے قیام کے وقت سے ہوچکا تھا۔ میں ان کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگا۔ تھوڑی دیر میں غالباً خانصاحب نے جو اس برآمدہ میں بیٹھے تھے جس کے اوپر کے حصہ میںحضرت اقدسؑ کا قیام تھا۔ مجھ کو اپنے پاس بلالیا۔ میں ایک چارپائی پر پائینتی کی طرف بیٹھ گیا اور باتیں کرنے لگا۔ جہاں میں بیٹھا تھا ۔اس کے قریب ہی زینہ تھا جس کے ذریعہ حضرت اقدسؑ اوپر تشریف لے جاتے تھے۔ اس طرف میری پشت تھی تھوڑی دیر بعد حضرت اقدسؑ کوٹھی پر سے نیچے تشریف لائے۔ میری چونکہ سیڑھیوں کی طرف پشت تھی۔ میں نے حضرت اقدسؑ کو اوپر سے نیچے تشریف لاتے ہوئے نہیں دیکھا۔ حضور آہستگی سے اتر آئے اور میرے برابر پلنگ کی پائینتی پر بیٹھ گئے۔
    (نوٹ۔ یہ واقعہ حضورکی سادگی اور بے تکلفی پر دلالت کرتا ہے) جب حضور بیٹھ گئے تو کسی نے مجھ کو بتلایاکہ حضرت صاحب تشریف لے آئے ۔ اس وقت میں گھبرا کر وہاں سے اٹھنا چاہتا تھا کہ حضرت صاحب نے ارشاد فرمایا کہ یہاں ہی بیٹھے رہیں۔ یہ یاد نہیں کہ حضور نے مجھ کو بازو سے پکڑ کر بٹھا دیا یا صرف زبان سے ارشاد فرمایا۔ حضرت صاحب کے تشریف لانے کے بعد تمام دوستوں کو جو مکان کے مختلف حصوں میں قیام پذیر تھے۔ اطلاع ہوگئی۔ اور مکان میں ایک ہل چل مچ گئی۔ اس قدر یاد ہے کہ غالباً خانصاحب نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ میرٹھ سے آئے ہیں۔ اتنے میںخواجہ صاحب آئے۔ ان کے ہمراہ اور کوئی صاحب بھی تھے۔ میں نہ خواجہ صاحب سے واقف تھا نہ کسی اور دوست سے واقف تھا۔ حضرت اقدسؑ نے خواجہ صاحب سے مولوی نذیر احمد صاحب کے متعلق کچھ سوال کیا جو مجھ کو یاد نہیں۔ نہ یہ یاد ہے کہ خواجہ صاحب نے کیا جواب دیا؟ بہر حال خواجہ صاحب دن بھر کے حالات سناتے رہے۔ تھوڑی دیر کے بعد کسی نے اذان وہیں دے دی۔ چبوترہ پر فرش بچھادیا گیا اور نماز ظہر و عصر پڑھی گئی۔ میںنے بھی نماز جماعت سے پڑھی۔ صحیح یاد نہیں کس نے نماز پڑھائی۔ نماز سے فارغ ہوکر حضور نے بیعت کے متعلق ارشاد فرمایا۔اس پر کسی نے زور سے کہا کہ جو دوست بیعت کرنا چاہتے ہوں وہ آگے آجائیں۔ چنانچہ بہت سے دوست آگے ہوئے اور میں سب سے پیچھے رہ گیا۔ حضور نے بیعت شروع کرنے سے قبل ارشاد فرمایا کہ جو دوست مجھ تک نہیں پہنچ سکتے۔ وہ بیعت کرنے والوں کی کمر پر ہاتھ رکھ کر جو میں کہوں وہ الفاظ دہراتے جائیں۔ میں اس وقت بھی خاموش الگ سب سے پیچھے بیٹھا رہا۔ اور ہاتھ بیعت کرنیوالوں کی کمر پر نہیں رکھا۔ جب حضرت صاحب نے بیعت شروع کی تو میرا ہاتھ بغیر میرے ارادے کے آگے بڑھا اور جو صاحب میرے آگے بیٹھے ہوئے بیعت کے الفاظ دہرا رہے تھے ان کی کمر پرپہنچ گیا۔ مجھ کو خوب یاد ہے کہ میرا ہاتھ میرے ارادے سے آگے نہیں بڑھا بلکہ خود بخود آگے بڑھ گیا اور پھر میں نے بھی الفاظ بیعت دہرانے شروع کردئیے۔ جب حضرت اقدسؑ نے رب انی ظلمت نفسی کی دعا کا ارشاد فرمایا سب نے اس کو دہرایا۔ میں نے بھی دہرایا۔ لیکن جب حضرت صاحب نے اس کے معنے اردو میں فرمانے شروع کئے اور بیعت کنندوںکو دہرانے کا ارشاد فرمایا۔ میں نے جس وقت وہ الفاظ دہرائے تو اپنے گناہوں کو یاد کرکے سخت رقت طاری ہوگئی۔ یہاں تک کہ اس قدر زور سے میں چیخ کر رونے لگا کہ سب لوگ حیران ہوگئے اور میں روتے روتے بے ہوش ہوگیا۔ مجھ کو خبر ہی نہیں رہی کہ کیا ہورہا ہے؟ جب دیر ہوگئی تو حضرت اقدسؑ نے ارشاد فرمایا کہ پانی لائو۔ وہ لایا گیا۔ اور حضور نے اس پر کچھ پڑھ کر میرے اوپر چھڑکا یہ مجھ کو خانصاحب سے معلوم ہوا۔ ورنہ مجھ کو کچھ خبر ہی نہ رہی تھی۔ ہاں! اس قدر یاد ہے کہ حالت بے ہوشی میں میں نے دیکھا کہ مختلف رنگوں کے نور کے ستون آسمان سے زمین تک ہیں۔ اس کے بعد مجھ کو کسی دوست نے زمین سے اٹھایا۔ میں بیٹھ گیا۔ مگر میرے آنسو نہ تھمتے تھے۔ اس قدر حالت متغیر ہوگئی تھی کہ میرٹھ میں آکر بھی بار بار روتا تھا۔ پھر خانصاحب موصوف نے میرے نام بدر و ریویو جاری کرادیا۔ بدر میں حضرت اقدسؑ کی وحی مقدس شائع ہوتی تھی۔ اس سے بہت محبت ہوگئی اور ہر وقت یہ جی چاہتا تھا کہ تازہ وحی سب سے پہلے مجھ کو معلوم ہوجائے۔ پھر جلسہ پر دارالامان جانے لگا۔ اور برابر جاتا رہا۔
    حضرت اقدس علیہ السلام کو دعائوں کیلئے خط لکھتا رہتا۔ ایک خط کا جواب حضرت اقدسؑ نے اپنے دست مبارک سے دیا تھا وہ میرے پاس اب تک موجود تھا۔ لیکن جب میرٹھ سے پنشن کے بعد ہجرت دارالامان کو کی۔ تو کہیں کاغذات میں مخلوط ہوگیا یا ضائع ہوگیا اگر مل گیا تو پیش کردوں گا۔
    ۱۹۰۷ء میں جلسہ کے موقع پر میں قادیان حاضر ہوا۔ غالباً صبح کی نماز کے لئے یا نماز کے بعد مسجد مبارک میں اوپر زینہ پر چڑھ رہا تھا۔ حکیم عبدالصمد صاحب ساکن انچولی ضلع میرٹھ میرے ہمراہ تھے۔ ناگاہ حضرت اقدسؑ نے اس دروازہ میں سے (جو مسجد مبارک میں ہے۔ جس میں سے حضرت امیر المومنین اب مسجد مبارک میں تشریف لاتے ہیں اور اسی میں سے تشریف لے جاتے ہیں) آواز دی کہ مفتی صاحب کو بلائو۔ اس وقت اور بہت سے دوست زینہ پر موجود تھے۔ کسی نے عرض کیا کہ حضور مفتی صاحب آتے ہیں۔ تھوڑی دیر کے بعد مفتی صاحب مکر م تشریف لے آئے۔ چونکہ زینہ میں بہت سے دوست جمع ہوگئے تھے۔ اس خیال سے کہ حضور کا ارشاد سنیں کہ مفتی صاحب کو کیا حکم ہوتا ہے؟ بڑی تنگی تھی بڑی مشکل سے مفتی صاحب کے لئے جگہ کی گئی اور مفتی صاحب دروازہ کے قریب پہنچ گئے۔ اس وقت حضور نے ارشاد فرمایا کہ ہم کو آج شب کو یہ الہام ہوا ہے۔ ’’یا نبی اطعم الجائع و المعتر٭‘‘ اور یہ فرمایا کہ ’’آج
    ٭تذکرہ میں اس الہام کے الفاظ یوں ہیں ’’یا ایھا النبی اطعموا الجائع و المعتر‘‘
    (بدر جلد۷ نمبر ۱ مورخہ ۹ جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۱ ۔ تذکرہ صفحہ۷۴۶ مطبوعہ ۱۹۶۹ئ)
    پہلی مرتبہ ہم کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح مخاطب فرمایا ہے۔ آپ جاکر دیکھیں کہ کچھ مہمان بھوکے تو نہیں رہے۔‘‘ مفتی صاحب پنسل کاغذ ہمراہ لے گئے تھے۔ فوراً مفتی صاحب نے اول وحی الٰہی کو نوٹ کیا اسکے بعد مہمانخانہ میں پہنچے۔ (اس وقت مہمان خانہ وہا ںنہ تھا جہاں اب ہے) دریافت کرنے سے معلوم ہوا کہ رات بعض دوست جو دیر سے باہر سے آئے تھے بھوکے رہ گئے اور کھانا نہ مل سکا۔ مفتی صاحب نے واپس آکر حضرت اقدسؑ کو رپورٹ عرض کی۔ پھر ہم چلے آئے۔
    ایک مرتبہ میں جلسہ پر آیا ہوا تھا اور حضور سیر کو تشریف لے جانے لگے تو مجھ کو کسی دوست نے بتلایا کہ حضور سیر کو تشریف لے جارہے ہیں۔ میں بھی ہمراہ ہوگیا۔ سب دوست ہمراہ تھے۔ حضور کے گرد حلقہ باندھے ہوئے جارہے تھے۔ مجھ کو مرزا یعقوب بیگ صاحب مرحوم نے اس حلقہ کے اندر لے لیا اور میں حضور کے کلمات مبارک سنتا ہوا سیر میں ہمراہ رہا۔ جہاں تک مجھ کو یاد ہے۔ حضور اس دن ریتی چھلہ کی طرف سیر کو تشریف لے گئے تھے۔ وہاں جاکر کسی دوست نے کچھ اشعار بھی سنائے۔ مسجد اقصیٰ میں بھی میں نے حضرت اقدس کی تقریر سنی تھی اور کچھ کلمات مبارک کہیں نوٹ کئے تھے۔ لیکن وہ نوٹ بک اب مجھے ملی ہے افسوس ہے۔ یہ واقعات جو میں نے تحریر کئے ہیں۔ ترتیب وار نہیں کیونکہ تاریخیں یاد نہیں ہیں۔
    نوٹ ۔ یہ سب واقعات حافظہ سے لکھے ہیں۔ لیکن میرے پاس نوٹ بک میں تحریر نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ جہاں تک حافظہ نے مدد دی ہے۔ صحیح صحیح لکھے ہیں۔ اگر کہیں حافظہ نے غلطی کی ہو تو اللہ تبارک و تعالیٰ مجھ کو معاف فرماوے۔
    والسلام
    حامد حسین خان
    خلف محمد حسین خان متوطن مراد آباد
    محلہ مغلپورہ ۔ ثم میرٹھی ۔ ثم قادیانی


    روایات
    محمد عبداللہ صاحب ولد محمد رمضان صاحب ہیڈ ماسٹر مڈل سکول
    چک رامداس تحصیل بھلوال
    خاکسار نے بوساطت مولوی اللہ دتہ صاحب ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر سکنہ قلعہ دیدار سنگھ ضلع گوجرانوالہ حال مہاجر قادیان دارالامان مارچ ۱۹۰۸ء میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام لاہور تشریف فرما تھے مولوی صاحب کے ساتھ لاہو رجاکر حضرت صاحب کے دست مبارک پر بیعت کی۔ ہم صرف ایک ہی رات وہاں رہے۔ اس تھوڑے سے عرصہ میں فرمایا ہوا مندرجہ ذیل کلام حضور کا یاد رہا ہے۔
    ۱۔ خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان واقع برلب سڑک کیلیانوالی میں بیٹھے ہوئے تھے۔ کافی مجمع تھا حضور بیٹھے بیٹھے کلام فرما رہے تھے کہ ایک بوڑھے دوست نے غالباً ان کی نظر بھی کمزور تھی۔ عرض کی۔ حضور میرے لئے دعا فرماویں۔حضور نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا ! بابا! آپ کا کیا نام ہے؟ اس نے عرض کی حضور میرا نام مستقیم ہے۔ پھر حضور نے فرمایا۔ اچھا بابا! خدا آپ کو مستقیم کرے۔
    ۲۔ صبح کا وقت تھا۔ تھوڑا سا دن چڑھا ہوا تھا۔ حضور باہر سے غالباً بند گاڑی پر تشریف لائے اور اتر کر ڈاکٹر سید محمد حسین شاہد صاحب کے مکان کے اندر تشریف لے گئے۔ خدّام باہر زیارت کے لئے منتظر تھے۔ حضور جب اندر سے اسی مکا ن کے برآمدہ میں تشریف لائے جو برلب سڑک تھا۔ تو دوستوںکو مصافحہ کا موقع ملا۔ حضور کھڑے کھڑے مصافحہ فرما رہے تھے کہ ایک افغان دوست جو سرحدی علاقہ کا تھا۔ (پشاور کی طرف کا) فوراً پائوں پر گر پڑا۔ اور سجدہ کی صورت بن گئی۔ حضرت صاحب نے فوراً جھک کر اس کو اٹھایا اور فرمایا کہ یہ شریعت میں منع ہے۔ سجدہ صرف خدا کے لئے ہے۔ پھر حضور بیٹھ گئے۔ اثنائے گفتگو میں ایک دوست نے جو شیعہ سے احمدی ہوا ہوا تھا۔ایک طویل گفتگو شروع کردی۔ حضور تو خاموش رہے دوسرے دوستوں نے تنگ آکر اس دوست سے عرض کی کہ اس سلسلہ کو ختم کریں۔ حضرت صاحب کا کلام ہمیں سننے دیں۔ جس کے لئے ہم آئے ہوئے ہیں۔ آخر وہ دوست خاموش ہوگئے اور حضرت صاحب اپنے پاک کلام سے مستفید فرماتے رہے۔
    نوٹ۔ خاکسار نے جب بیعت کی۔ اس وقت مڈل سکول قلعہ دیدار سنگھ ضلع گوجرانوالہ میں تھرڈ ماسٹر تھا۔ اور مولوی صاحب اسی سکول میں سیکنڈ ماسٹر تھے۔ ہم دونوں کشمیری الاصل ہیں۔ اس وقت میری سکونت احمد نگر ضلع گوجرانوالہ میں تھی۔ مگر اب مستقل سکونت وزیر آباد گلی آبکاری کہنہ ضلع گوجرانوالہ میں ہے۔
    خاکسار
    محمد عبداللہ احمدی ہیڈ ماسٹر مڈل سکول چک رامداس
    تحصیل بھلوال ضلع شاہ پور
    متوطن وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ
    ۳۸۔۳۔۱





    روایات
    مولوی فتح علی صاحب احمدی منشی فاضل دوالمیال ضلع جہلم
    میں نے ۴ ء ؁٭میں بمع بال بچہ آکر حضور مسیح موعود علیہ السلا م کے ہاتھ پر بیعت کی اور حضور کی حیات مقدس میں ہر سال بمع بال بچہ ہی حضور کی خدمت اقدس میںپہنچتا رہا اور جب کبھی حضور باہر نماز کے لئے تشریف لاتے اور مسجدمیں بیٹھتے تو ہم دو المیال کی جماعت جو پانچ سات کس تھے پاس بیٹھتے اور حضور کی زبان مقدس کے الفاظ سے فیض اٹھاتے تھے اور چند دفعہ دعا کے لئے بھی عرض کی گئی تھی۔ اس وقت وہ چھوٹی سی مسجد جس میں پانچ چھ آدمی بصد مشکل کھڑے ہوسکتے تھے۔ پھر مسجد مبارک وسیع کی گئی۔ ایک دفعہ ہماری جماعت کے امام مسجد مولوی کرمداد صاحب نے عرض کی کہ حضور ہماری مسجد میں قدیم سے ایک امام سید جعفر شاہ صاحب ہیں۔ وہ حضور کے معتقد ہیں وہ آپ کو مانتے ہیں۔ لیکن غیرو ںکی بھی گاہ بگاہ جنازوں میں یا نمازوں میں اقتداء کرتے ہیں۔ میں نے عرض کی کہ وہ شخص یہاں تک معتقد ہے کہ ایک دفعہ مجھ سے اس نے خط لکھوایا اور یہ لفظ لکھوائے کہ میںحضور کے کتوں کا بھی غلا م ہوں۔ اگر کسی وقت جہالت یا نادانی سے کمی بیشی ہوگئی تو حضور فی سبیل اللہ معاف فرماویں۔ تو حضور نے فرمایا کہ جب وہ اب تک دنیا کی لالچ یا خوف سے غیروں کے پیچھے نماز یاجنازہ پڑھتا ہے تو کب اس نے ہم کو مانا۔ آپ اس کے پیچھے نمازیں مت پڑھو۔ میں اس وقت حضرت ام المومنین کے حکم سے اندر سے مشین سلائی منگا کر حضرت صاحبزادہ شریف احمد جو اس وقت آٹھ دس سال کے ہونگے کا کوٹ گرم طیار کررہا تھا۔ کیونکہ ہماری مستورات جو تقریباً پانچ سات ہمیشہ ہمارے ساتھ آتی تھیں وہ حضور کے اندر ہی رہتی تھیں۔ اس نے بتلایا کہ عبدالعزیز کا اَبّا درزی کا
    ٭ ۴ئ؁ سے مراد ۱۹۰۴ئ؁ ہے۔
    کام جانتا ہے۔اور ہم تین چار دفعہ جلسہ سے بعد مارچ اپریل میں قادیان آتے تھے اور اندر ہماری مستورات بغیر بستر کے آتی تھیں اور حضور سے عرض کرتی تھی کہ حضور ہم نمک کھیوڑہ کے اسٹیشن پر دس گیارہ میل پہاڑ کا سفر جو اترائی چڑھائی ہے آتے ہیں۔ اس واسطے ہمارے مرد اور ہم عورتیں بستر اٹھا کر نہیں لاسکتیں۔ تو حضور ہمیشہ ہمارے لئے حامد علی کو فرماتے تھے کہ حامد علی دو المیال والوں کو رضائیاں دینا وہ بستر نہیں لاسکتے۔
    ایک دفعہ میری اہلیہ کو درد دانت شروع ہوا۔حضور کی ذات میں اس قدر ہمدردی اور شفقت علی خلق اللہ کوٹ کوٹ کر بھری تھی کہ تین چار د ن میں میرے پاس پوچھنے کے لئے آئے اور مولوی صاحب کو رقعہ لکھا کر کوئی دوائی درد کی بھیج دیویں۔ سبحان اللہ۔ اللھم صل علی محمد و علی آل محمد و علی عبدہ المسیح الموعودؑ۔
    میرا لڑکا عبدالعزیز مرحوم بھی جو سات آٹھ سال کا تھا جو میرے ساتھ آتا رہا اور حضور کی درثمین کے اشعار نہایت خوش آوازی سے پڑھتا تھا ۔ جلسوں میں بھی اور حضور کے اندر بھی آکر سناتا تھا۔ حضور اس سے بہت پیار کرتے تھے۔ دو المیال والوں کی درخواستیں یہی اندر میںحضور کو پہنچا تا تھا۔ ایک دفعہ محمد علی ولد نعمت نے ایک عرضی کسی خاص دعا کے لئے لکھا کر عبدالعزیز کو دی کہ حضور کو دے آوے اور گھر جانے کی اجازت لے آوے۔ چونکہ ابھی سویرا ہی تھا اور حضور نماز فجر کے بعد رضائی اوڑھ کر بمع بچوں کے لیٹے ہوئے تھے۔ یہ بھی بچہ تھا اس قدر ادب و احترام کو نہیں سمجھتا تھا کہ حضور آرام کررہے ہیں۔ فوراً حضور کے چہرہ مبارک سے رضائی اٹھالی۔ اور وہ رقعہ دیا اور ساتھ اجازت جانیکی بھی مانگی۔ قربان ہوں میرے ماں باپ کہ ذرا بھی حضور کے چہرہ مبارک پر ملال نہ آیا کہ ارے بیوقوف ! ہم کو بے آرام کردیا بلکہ پیارسے کہا کہ’’ اچھا اجازت ہے‘‘۔ یہ تھے حضور کے اخلاق فاضلہ جن نے تمام مخلوقات کو اپنا گرویدہ بنالیا۔
    خاکسار مولوی فتح علی احمدی
    منشی فاضل دوالمیال ضلع جہلم

    روایات
    میاں فضل الدین صاحب
    تیجہ کلاں معرفت نور احمد صاحب قریشی
    میں اپنے ایک دوست محمد اسد اللہ ولد میاں عبدالعزیز صاحب احمدی اور ایک غیر احمدی دوست جو کہ سید قوم سے تھے بروز بدھ وار ۱۹۰۷ء شام کو قادیان پہنچے۔ اور صبح کو اگلے دن بروز جمعرات یہ انتظار تھی کہ آج حضرت مسیح موعودؑ باہر تشریف لاوینگے اور بہت لوگ یہ انتظاری کئے بازار میں بیٹھے تھے اور اس بات کے منتظر تھے کہ حضور براستہ بازار باہرکو تشریف لاوینگے۔تو اسی اثناء میں کسی دوست نے بآواز بلند کہا کہ حضرت صاحب توباری کے راستہ باہر نکل گئے۔ جس وقت یہ آواز کانوں میں پڑی تو سب دوست بڑی تیزی سے باہر کی طرف بھاگے جن میں خواجہ کمال الدین لاہوری اور شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کو میں اچھی طرح جانتا ہوں اور نواب صاحب مالیر کوٹلہ بھی اس اجتماع میں تھے ۔ اس وقت جبکہ دوست بھاگے ۔ صبح دس بجے کا وقت تھا۔ لوگوںکے بھاگنے کی وجہ سے اس قدر گرد و غبار ہوا کہ سورج کی روشنی مدھم پڑ گئی۔ دوسری جگہ دور دھوپ معلوم ہوتی تھی مگر اس جگہ پر تمام چھائوں ہوگئی سورج نظر نہ آتا تھا۔ اور اس وقت عام دوستوں کو یہ بات کرتے سنا کہ یہ ایک پیشگوئی تھی جو چوبیس سال کے بعد آج پوری ہوئی ہے۔ اسی دوران میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ کو دوستوں نے گھیر لیا۔ یہاں تک کہ چلنا دشوار ہوگیا اور ریتی چھلہ میں جو اب بڑ کا درخت موجود ہے اسکے دوسری طرف یعنی مغرب کی جانب ایک لسوڑی کا درخت تھا۔ اب وہ غالباً کاٹا گیا ہے۔ اس لسوڑی کی جڑ پر حضور نے بایاں قدم مبارک رکھا اور کھڑے ہوگئے ۔ بعد اس کے سڑک کے دونوں طرف لوگ کھڑے ہوگئے اور شہر کی جانب سے ایک ایک دوست یکے بعد دیگرے مصافحہ کرکے آگے چلتے جاتے۔ علاوہ اس کے اور کوئی بات کرنے کی اجازت نہ تھی۔ اس کے بعد دوسرا دن چڑھا۔ وہ دن جمعہ کا تھا اور صبح ہی یہ اعلان ہوگیا کہ روٹی کھانے کے بعدتمام دوست جلدی مسجد اقصیٰ میں پہنچ جاویں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور کارروائی جلسہ شروع ہوئی۔ حضرت حافظ روشن علی صاحب مرحوم رضی اللہ عنہ اور حضرت حافظ مولوی غلام رسول صاحب راجیکی نے تقریر فرمائی۔ حتّٰی کہ جمعہ کی نماز کا وقت ہوگیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی تشریف لے آئے۔اس وقت مسجد کا تمام صحن وغیرہ آدمیوں سے بھر چکا تھا اور مینار کے پاس آپ کے گھر کی جانب جہاں لوگوں نے جوتیاں اتاری ہوئی تھیں۔ آپ وہیں کھڑے ہوگئے۔ لوگوں نے ارادہ کیا کہ حضور آگے تشریف لے جائیں۔ مگر حضور نے وہیں کھڑا رہنا پسند فرمایا۔ تو لوگوں نے جوتیاں وغیرہ ہٹا کر وہیں مصلّٰی بچھا دیا اور حضور نے وہیں نماز جمعہ باجماعت ادا کی۔ بعدہ ‘حضور کی تقریر کا وقت آیا تو حضور نے نہایت اعلیٰ تقریر فرمائی اور تقریرکا موضوع یہ تھا کہ جو بھی بندہ خدا کا اللہ کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ان کے ساتھ مولوی لوگ یونہی کرتے چلے آئے ہیں۔ چنانچہ اس وقت حضور نے حضرت شمس اور حضرت منصور اور امام ربانی مجدّد الف ثانی اور پیران پیر سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کا ذکر خاص طور پر کیا کہ علماء وقت نے ان کے ساتھ بھی کمی نہیں کی اور فرمایا کہ اب بھی ایک مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسر میں ہے اور بڑا لاٹ مولوی ہے۔ اس نے میرا نام (نعوذ باللّہ من ذلک) دجال و کافر رکھا ہوا ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ خدااسے ہدایت دے۔ میرے خیال میں یہ حضور کے آخری تقریری فقرے تھے۔ اور جلسہ برخاست ہوا۔
    اب ایک اور صداقت کی نشانی میرے والد صاحب کی زبانی ۔ یعنی میری پیدائش کی کہانی کہ میرے والد صاحب کے ہاں اولاد نرینہ نہ بچتی تھی۔ قبل اس کے میرے تین بھائی فوت ہوچکے تھے اور ایک بھائی جو مجھ سے دس سال عمر میں بڑے اور زندہ ہیں۔ خدا تعالیٰ انہیں زندہ سلامت رکھے۔ آمین۔ وہی آپ کے اکلوتے بیٹے تھے بعد دس سال گزر گئے۔ تو اس دوران میں آپ کے یہاں کوئی اولاد نہ ہوئی۔ والد صاحب فرماتے کہ جب میں نہرکے پل جو چیمہ کا پل ہے۔ ذرا آگے کی جانب ہوا۔ تومیرے دل میں یہ خیال قدرتاً پیدا ہوا کہ اب اگر خدا تعالیٰ اپنی بارگاہ سے فرزند عطا کرے تو کیا ہی بہتر ہو۔ کیونکہ وہ پیدائشی احمدی ہوگا۔ تو اس کا نام کیا رکھنا چاہئے تو دل سے آواز آئی کہ اس کا نام نور احمد رکھوں گا۔ سو خدا تعالیٰ نے اسی سال یعنی ۱۹۰۸ء میں میری پیدائش کی۔ تو میرے والد صاحب نے میرا نام نور احمد رکھا۔
    خاکسار
    الراقم قریشی نور احمد
    ولد میاں فضل دین تیجہ کلاں
    میرے والد صاحب کا پتہ و نام
    میاں فضل الدین صاحب احمدی قریشی
    ولد میاں مہتاب الدین صاحب قریشی
    ساکن تیجہ کلاں ڈاک خانہ خاص ضلع گورداسپور ۳۸۔۱۔۱۸







    روایات
    مستری علی احمد صاحب نائی والا ضلع سیالکوٹ
    میرے والد صاحب نے ۱۸۹۸ء میں بیعت کی تھی۔ میں پیدائشی احمدی ہوں۔ میرے والد صاحب بہشتی مقبرہ میں دفن ہیں۔ ۱۹۰۴ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیالکوٹ میں تشریف لائے تھے میں اس وقت بچہ تھا میری عمر اس وقت قریباً ۱۲ یا تیرہ سال کی ہوگی۔ جب حضور سیالکوٹ میں تشریف لائے۔ اس وقت شام ۶ بجے کے قریب گاڑی اسٹیشن پر پہنچ گئی۔ جمعرات کا دن تھا۔ لوگو ںکا اتنا ہجوم تھا کہ خدا کی پناہ! بصد مشکل حضور اپنے قیام گاہ میں تشریف لائے۔ جناب سیّد حامد شاہ صاحب کے والد سیّد حسام الدین کے مکان پر آپ کا قیام گاہ کیا گیا۔ مخالفت کا یہ حال تھا کہ علمائوں نے فتویٰ جاری کردیا کہ جو شخص مرزا قادیانی کو دیکھے گا اس کا نکاح قائم نہیں رہے گا۔ باوجود ایسی مخالفت کے لوگوں کا یہ حال تھا کہ علمائوں کو اپنے فتوے بھول گئے۔ حضور کی آمد پر جمعہ حضور نے خود پڑھایا تھا۔ سینکڑوں آدمی بیعت میں شامل ہوئے۔ حضور ایک مکان جو دو منزل کا تھا وہاں تشریف فرما تھے۔ وہاں جناب نے ایک کتاب طیار کی۔ جس کا نام لیکچر سیالکوٹ رکھا گیا۔ مگر جب حضور مکان پر کتاب تحریر کررہے تھے۔ مخالف لوگ شور کررہے تھے کہ مرزا صاحب باہر نکل کر وعظ نہیں کرسکتے۔ جب حضور تک یہ خبر پہنچائی گئی تو حضور نے فرمایا کوئی جگہ مقرر ہو۔ مگر حضور نے ایک دن اس مکان کی کھڑکی کھول دی۔ خلقت اتنی جمع ہوگئی کہ بازار وں میں تمام راستے بند ہوگئے۔ لوگوں کو اتنا دیکھنے کا شوق تھا کہ باوجود پولیس کا کافی انتظام تھا پھر بھی خلقت کا یہ حال تھا کہ خون ہوجانے کا خطرہ تھا۔ مگر جو وعظ کرنے کے لئے جگہ مقرر کی گئی۔ وہ ’’ مہاراجے جموں کی سراں‘‘ تھی۔ حضور نے وہاں جاکر لیکچر دیا۔ حضور نے فرمایا کہ میں کرشن سے بڑھ کر ہوں۔ اگر اہل ہنود جنت میں جانا چاہتے ہوں تو مجھ کو کرشن اوتار مان کر میری بیعت کرلیں۔ مگر مخالفت کا یہ حال تھا کہ تمام علماء و مولوی و گدی نشین سیّد لوگو ںکو منع کررہے تھے کہ کوئی لیکچر گاہ میں نہ جائے۔ بلکہ ایک سیّد پنجاب میں بڑا مشہور و معروف جس کا نام جماعت علی موضع علی پور ضلع سیالکوٹ سے آیا ہوا تھا۔ اس نے یہ اعلان کردیا کہ ایک برتن میں تیل گرم کیا جائے۔ اس کے گرم ہونے پر میں اور مرزا قادیانی اس میں داخل کئے جاویں۔ جو زندہ بچ جاوے وہ سچا ہوگا۔ آخر جب حضور نے سنا تو یہ لوگ قرآن مجید سے ان واقف ہیں۔ آخر حضور صبح کی گاڑی سے قادیان تشریف لائے۔ مگر مخالف لوگوں کا یہ حال تھا کہ چلتی گاڑی پر پتھر پھینکے اور برہنہ ہوکر گاڑی کی طرف کھڑے ہوگئے۔ عرب کے لوگوں کا یہ حال نہ تھا۔ مگر سیالکوٹی بدمعاشوں نے ایسا کیا۔ مگر جب حضور قادیان تشریف لائے۔ سیالکوٹ کا یہ حال ہوا کہ ایک مولوی صاحب جن کا نام فیض الدین تھا ان کے احمدی ہونے پر لوگوں نے شور کردیا۔ ایک مسجد کا وہ امام تھا۔ مگر مسجد پر غیر احمدی اپنا قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ آخری احمدی وغیر احمدی وہاں نماز ادا کرتے رہے۔ آخر مقدمہ چلا تو مسجد خدا نے احمدیوں کو دے دی جو اب تک احمدی اس پر قابض ہیں۔ وہ مسجد جس کا نام’’ کبوتراں والی‘‘ تھا وہ اب ’’جامع مسجد احمدیہ ‘‘کے نام پر مشہور ہے۔
    والسلام
    مستری علی احمد از نائی والا ضلع سیالکوٹ
    ڈاک خانہ پیرو چک بتاریخ ۱۲ فروری ۳۸ئ؁*
    * ۳۸ئ؁ سے مراد ۱۹۳۸ئ؁ ہے۔



    روایات
    شیخ قدرت اللہ صاحب ولد شیخ کریم بخش صاحب
    سیکرٹری انجمن احمدیہ نابہہ
    بزمانہ گرہن چاند و سورج کا ‘ رمضان میں بعدالت مجسٹریٹ ضلع ایلوہ ریاست نابہہ سرشتہ دار تھا۔ اس وقت زبانی میا ںکریم بخش صاحب نمبردار موضع ارے پور ‘بعثت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حال معلوم ہوا۔ مگر بوجہ عدیم الفرستی و عدم توجہگی احکام مذہبی سرسری خیال کرتا رہا۔ مگر یہ خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ کبھی بھی مخالفت کا حرف زبان پر نہیں آیا۔ کچھ عرصہ کے بعد جب میں نابہہ صدر مقام میں تبدیل ہوکر پہنچا۔ مولوی عظیم اللہ صاحب اہل حدیث جو حدیث کے عالم تھے۔ بمع انکے چند رفقاء کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں داخل ہوچکے تھے جناب مولوی صاحب موصوف کی تلقین فرمانے پر اس عاجز کو بھی شرف بیعت حاصل ہوا۔ محلہ کی مسجد میں جب نماز باجماعت ادا کرنے میں دقت واقع ہونے لگی تب ہمارے مکان کے صحن میں چھپر ڈال کر عارضی انتظام کرلیا گیا۔ کچھ دنوں کے بعد خدا تعالیٰ نے مختصر جیسی جگہ قیمت پر دلادی پھر وہاں پر ایک مختصر جیسا کوٹھہ بشکل مسجد تعمیر کرلیا گیا۔ مہاراجہ نیرا سنگھ صاحب بہادر والئی نابہہ کی خدمت میں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر ہوا تو مہاراجہ صاحب موصوف نے ہمارے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کا شوق ظاہر فرما کر حضرت صاحب کو نابہہ لانے کے واسطے کہا۔ حضور کی خدمت میں جب گزارش کیا گیا تو حضور نے فرمایا کہ ’’پیاسا خود چشمہ کے پاس آیا کرتا ہے چشمہ چل کر نہیں جاتا‘‘ یہی جواب مہاراجہ صاحب سے عرض کیا گیا اور ایک فوٹو حضور کا پورے قد کا مہاراجہ صاحب کے ملاحظہ کیواسطہ پیش کیا گیا۔ مہاراجہ صاحب نے نہایت مودبانہ طور پر کھڑے ہوکر فوٹو لیا اور غور سے دیکھنے کے بعد فرمایا کہ شکل و صورت سے یہ سچے معلوم ہوتے ہیں اور مبلغ گیارہ روپیہ نذرانہ پیش کیا جو قادیان حضرت اقدس کی خدمت مبارک میں بھیج دیا گیا۔ مہاراجہ صاحب حسن ظنی کے طور سے بمقابلہ فتاوٰی علمایان غیر احمدی ۔ احمدی جماعت کا فتویٰ صحیح تصور فرمایا کرتے ہیں۔ مہاراجہ صاحب کے انتقال کے بعد غیر احمدیوں نے ہماری مسجد کے متعلق ریاست میں خلاف ورزی کی شکایت کی ۔ ریاست کا حکم ہے کہ جو لوگ مندر شوالہ یا مسجد وغیرہ معبد تعمیر کریں۔ چونکہ ان کے بعد ان معبدوں کی خبر گیری نہیں ہوتی۔ خراب خستہ حالت میں چراغ بتی بھی نہیں ہوتی۔ تعمیر کرنے والوں سے دو ہزار روپیہ امانت رکھایا جایا کرے تاکہ اس روپیہ سے ریاست اس کی حفاظت کا انتظام کیا کرے۔ ہم نے کوئی روپیہ امانت میں نہیں رکھا تھا نہ اس قدر گنجائش تھی۔ چونکہ مشیت ایزدی سے ہماری مسجد بوجہ تنگی بے رخ تھی۔ ریاست نے وہ شکایت خارج کردی کہ اس کی گنبد وغیرہ بمثل مسجد نہیں۔ نماز پڑھنے کے لئے محض جگہ ہے۔ شکایت کنندگان بھی چند دنوں میں ہی بیماریوں کی شدت سے فوت ہوگئے۔ دس بارہ سال ہوئے۔ شہر میں نالیاں اور سڑکیں جب نکالی گئیں۔یہ ہماری مختصر جیسی مسجد بھی سڑک کی سطح سے نیچے ہوگئی۔ قابل استعمال نہ رہی۔ آخر اس کو شہید کرنا پڑا اور تعداد افراد جماعت کے لحاظ سے بھی اس میں گنجائش ادائیگی نماز نہ رہی تھی۔ ریاست میں مالی تنگی کا اظہار کرکے جو امداد کی میں نے درخواست دی۔ تو ریاست سے ۶۰۰ روپیہ امداد اً دیا گیا اور جو ہمارے ملنے والے غیر احمدی ملازم و غیر ملازم تھے ان سے پانچ سو روپیہ چندہ ہوگیا۔ کچھ جماعت نے چندہ کیا۔ خدا کے فضل سے نہایت شاندار مسجد بلاگت پندرہ سو روپیہ تیار ہوئی۔ اور فرش دری مسجد کے واسطے بھی جناب ہوم ممبر صاحب سردار بہادر ہرگوردیال سنگھ صاحب نے بلاگت ۷۰ روپیہ اپنے گرہ سے تیار کردیا۔ اور عید گاہ پہلے ہی ہمارے پاس نہیں تھی ایک سردار کے باغ میں پڑھا کرتے ہیں اس نے آج کل کے ہوا مخالف سے متاثر ہوکر ہم کو روک دیا۔ اس کے متعلق ریاست میں کوشش کی گئی۔ تو کونسل ریاست نے براہ مہربانی پانچ بیگھہ اراضی نہری سرکاری باغ میںسے کا ٹ کر عید گاہ کے واسطے بطور معافی دے دی۔ اراضی کاشت پر دے دی گئی ہے۔ اس کی آمد سے مصارف مسجد چل جاتا ہے اور ۱۵۰ روپیہ صرف کرکے خدا کے فضل سے مسجد عید گاہ ہم نے علیحدہ تیار کرلی ہے۔ انجمن احمدیہ رجسٹرڈ ہوچکی ہے۔ بمقابلہ دوسری انجمن ہا مذاہب بوجہ امن پسند ہونے جماعت احمدیہ کی فیس رجسٹری بھی ریاست نے معاف کردی ہے۔ مختلف صیغہ جات میں کام کرنے کے بعد مہاراجہ صاحب نے مجھے منصف ضلع ایلوہ میں مقرر کیا اور وہاں سے ترقی دے کر ہائیکورٹ ریاست میں رجسٹرار مقرر فرمایا۔ تنخواہ کے علاوہ مبلغ ۳۰ روپیہ ماہوار بصلہ دیانتداری و نیک چلنی ریاست نے تاحیات عطا کیا۔ ۱۹۲۶ء میںمَیں نے ۱۰/۱ حصہ کی وصیت کی اور کل جائیداد کا ۱۰/۱ حصہ اس وقت نقد داخل کردیا گیا اور روز وصیت سے آمد ہر قسم کا ۱۰/۱ حصہ ہی وصیت کیا ہوا ہے۔ اور اب خدا کے فضل سے ۱۹۳۷ء میں حسب الارشاد حضرت خلیفۃ المسیح ثانی وصیت میں اضافہ کرکے ۹/۱ حصہ کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ماہ بماہ چندہ بھیج دیا جاتا ہے۔ رجسٹراری ہائیکورٹ سے ۱۹۲۹ء میں اجازت حج بیت اللہ شریف حاصل کی۔ بعد ادائیگی فریضہ حج بیت اللہ ریاست نے ۴۸ سالہ سروس کے بعد مجھ کو نصف تنخواہ پر پنشن عطا کردی۔ اور پنشن کے علاوہ الائونس دیانتداری و نیک چلنی جو مہاراجہ صاحب نے عطا کیا تھا وہ علیحدہ ملتا ہے۔ پنشن حاصل کرنے سے پہلے انجمن کا کام مالی وغیرہ میں نے سپرد کیا ہوا تھا۔ جب سے پنشن ہوئی ہے اس وقت سے انجمن کے تمام کاروبار سیکرٹری و امارت وغیرہ کا وصولی چندہ و حساب کتاب کا میں نے بوجہ فراغت کاروبار اپنے ذمہ لے لیا ہے اور مسجد میں امامت کا کام بھی سرانجام دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے اور سلسلہ کی خدمت کی توفیق ملتی رہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت مبارک میں چند بار حاضری کا موقع میسر آتا رہا۔ ۱۹۰۸ء میں جبکہ حضور علیہ السلام لاہور تشریف رکھتے تھے۔ میں ریاست کی طرف سے سرمدی وکیل ضلع فیروزپور میں نامور تھا۔ وہاں سے جماعت فیروز پور شہر کی طرف ایک مقدمہ ناطہ رشتہ ایک صاحب احمدی تحصیل ایرہ ضلع فیروزپور کو پیش کرنے کے واسطے حضور علیہ السلام کی خدمت میںحاضر ہوا تھا۔ جو جو ارشاد اس مقدمہ میں حضرت اقدس نے فرمایا تھا وہ قبل ازیں بذیل روایات علیحدہ روانہ ہوچکا ہے۔ اور جو عطیہ مواقعات ریاست پر سرکار سے جملہ مذاہب کے معبدو ںکو سالانہ ملتا ہے اسی قدر ہماری مسجد کو ملتا ہے اور اب سرکاری عدالت میں یہ مسجد احمدیہ باضابطہ درج ہوگئی ہے۔ دو ہزار کے داخلائے امانت کا ریاست نے ہمارے سے مطالبہ چھوڑ دیا ہے۔

    مورخہ ۲ ۱فروری ۱۹۳۸ء
    بندہ شیخ قدرت اللہ عفی عنہ
    سیکرٹری انجمن احمدیہ نابہہ

    روایت
    دولت خانصاحب بیری ڈاک خانہ اونکھ ضلع گورداسپور
    نام دولت خان راجپوت ولدیت غلام جیلانی خان عمر ۵۵ سال اصل وطن بیری ڈاک خانہ اونکھ ضلع گورداسپور۔ دستی بیعت کی ۱۹۰۷ء اندازاً ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا ۱۹۰۷ء ۔حضور نے مجھ سے پوچھا کہ کیا حال ہے۔ اس کے بعد کھانے کے متعلق دریافت فرمایا۔ حضور نے دریافت فرمایا تھا کہاں سے آئے ہو؟ جس کا جوا ب میں نے دیا کہ حضور موضع بیری سے۔ اسکے بعد حضور نے نماز پڑھائی اور ہم نے حضور کی اقتداء میںنماز ظہر پڑھی۔






    روایات
    ولیداد خان صاحب ولد مل خان قوم راجپوت ساکن مراڑہ تحصیل نارووال
    میں نے دسمبر ۱۹۰۷ء میں جلسہ سالانہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ مبارک پر بیعت کی تھی۔ تاریخ جلسہ سے ایک دن پہلے رات کو قادیان پہنچا۔ صبح جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے گھر سے باہر تشریف لانا تھا تو میں نے دیکھا کہ مسجد مبارک کے پاس بہت بڑا ہجوم ہے۔ آدمی ایک دوسرے پر گر رہے تھے۔ میں چونکہ نووارد تھا۔ میں دوسری گلی پر کھڑا ہوکر دعا مانگ رہا تھا۔ کہ اے مولا کریم اگر حضور اسی گلی سے تشریف لے آویں تو سب سے پہلے میںمصافحہ کرلوں۔ اسی وقت کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مع خلیفۃ المسیح ثانی اسی رستہ تشریف لے آئے۔یک لخت مجھے ایسا معلوم ہوا جس طرح سورج بادل سے نکلتا ہے اور روشنی ہوجاتی ہے۔ میں نے دوڑ کر سب سے پہلے مصافحہ کیا۔ حضور آریہ بازار کے راستہ باہر تشریف لے گئے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ نواب محمد علی خانصاحب کے باغ کا جو شمالی کنارہ ہے۔ وہاں سے حضور واپس ’’پرتے‘‘۔ غالباً مسجد نور یا مدرسہ احمدیہ کا مغربی حد ہے۔ وہاں حضور بیٹھ گئے۔ صحابہ کرام گرد جمع تھے۔ اور میر حامدشاہ صاحب مرحوم سیالکوٹی نے کچھ نظمیں اپنی بنائی ہوئی سنائیں۔ اس وقت اس طرف آبادی کا نام و نشان نہ تھا۔ پھر حضور مسجد اقصیٰ میں تشریف لے آئے اور لیکچر دیا۔ اس وقت مسجد میں داخل ہونے کے لئے ایک ہی دروازہ تھا اور مسجدکے صحن کے برابر ایک ہندو کے مکان کی چھت تھی۔ بہت سے آدمی جلدی جلدی اسکے مکان کی چھت پر سے گزر کر مسجد کے صحن میں داخل ہوئے۔تو اس ہندو نے بہت سی گالیاں نکالیں اور کسی احمدی نے اسکی گالیوں کا جواب نہ دیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے لیکچر میں خوشنودی کا اظہار فرمایا کہ ’’میں جماعت میں یہی روح دیکھنی چاہتا ہوں۔‘‘ یہ مکان اب مسجد اقصیٰ کے صحن میں شامل ہوگیا ہے۔
    مئی ۱۹۰۸ء میںایک اہلحدیث نمبردار نے مجھے کہا کہ اگر مرزا صاحب سچے ہیں تو مجھے طاعو ن کا پھوڑا نکلے۔ میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں خط لکھا کہ ایک نمبردار مجھے اس طرح کہتا ہے۔ ان دنوں حضرت صاحب لاہور تھے۔ حضور نے لکھا کہ اس کو کہہ دو کہ وہ توبہ کرلے۔ وہ لائل پور کے ضلع میں اپنے مربع میں رہتا تھا۔ میں نے سنا کہ معاملہ سرکاری وصول کرکے داخل کرنے کے لئے گیا۔ جب معاملہ داخل کرکے گھر واپس آنے کو تھا۔ گاڑی میں نہیں بیٹھا تو طاعون کا پھوڑا نکلا اور مر گیا۔ یہ عبرتناک انجام اس نمبردار کا ہوا۔ ۳۷۔۱۲۔۸
    رقیمہ نیاز ولیداد خان ولد مل خاں قوم راجپوت
    ساکن موضع مراڑہ تحصیل نارووال
    ضلع سیالکوٹ بقلم خود
    کمترین کی عمر ۶۵ سال ہوگی۔






    روایات
    عبداللہ صاحب چپڑاسی نظامت بھوانی گڑھ ریاست پٹیالہ
    بہت دیر ہوئی کہ بندے نے پہلے بذریعہ خط کے آپ کی (یعنی حضرت مسیح موعودؑ کی) بیعت کی پھرمیں کچھ دیر بعد مقام قادیان شریف پہنچا۔ وہاں پہنچ کر ہم نے پرانے مہمان خانہ میں رونق بخشی۔ جب نماز عصر کے بعد فراغت ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ جس صاحب نے بیعت کرنی ہے تو کرلو۔ اس وقت پھر ہم نے آپ کے ہاتھ بیعت کی ۔ اسی وقت تمام لوگ مجھے محبت سے پیش آئے۔اور ہم نے وہ حالت بھی دیکھی تھی کہ جب چھوٹے چھوٹے برتنوں میں یعنی کنڈ میں آٹا گوندھا جاتا تھا اور وہیں مہمانوں کو کھلایا جاتا تھا۔ اور مسجد اقصیٰ میں آپ درخت چھوٹے سے ملکر کھڑے ہوجاتے تھے اور صفیں چاروں طرف بچھ جایا کرتی تھیں۔ آپ وعظ فرمایا کرتے تھے یا مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اولؓ وعظ فرماتے تھے اور ا نکی آنکھیں ٹوپی دار ہوتی تھیں۔ اور آپ ؑکی داڑھی کو مہندی لگی ہوتی تھی۔ آپ وعظ سے فارغ ہوکر گھر تشریف لے جاتے اورمغرب کے وقت تشریف لاکر باجماعت نماز ادا کرتے۔ اگلے روز صبح کے وقت لوگ مسجد میں جمع ہوئے۔ میں بھی شامل تھا۔ مولوی نور الدین صاحب نماز پڑھاتے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو مسجد اقصیٰ سے ایک مولوی ڈبہ سا تشریف لائے ۔انہوں نے آکر شور مچایا کہ وہاںبازار میں اور مسجد کے اردگرد بہت غلاظت موجود ہے۔ لہذا اس کو اٹھوایا جائے۔ مولوی صاحب نے فرمایا کہ کسی کو ۲ آنے کی مزدوری دے کر غلاظت کو اٹھوا دو۔ میرے سے رہا نہ گیا میں نے کہا کہ ہاں بھائی ! دو چار آنے دے کر اٹھوا دے۔ آپ نے فرمایا کہ جو چار آنے کہتا ہے وہ خود اپنے پاس سے چار آنے دیدے۔ لہذا میں نے اپنی گرہ سے چار آنہ دیدئیے۔ آپ نے فرمایا کہ آئندہ کے لئے صرف دوآنہ ہی ملا کرینگے اور مینارہ مسجد صرف قد آدم جتنا تھا زیادہ نہ تھا۔ جہاں مدرسہ ہے اور مسجد نور ہے اور بورڈنگ ہے وہاں پر میدان تھا۔ اب آپ رونق دیکھتے ہیں اور میں نے اپنے ہاتھ سے بہت سی چارپائی بھی بنی تھیں۔ وہ مجھے کہنے لگے کہ کچھ محنتا نہ لے لو۔ مگر میں نے کہا کہ محنتانہ لینا کچھ اچھا نہیں۔
    زیادہ آداب والسلام
    مورخہ ۳ ماگھ ۱۹۹۵ء بکرم
    از طرف عبداللہ چپراسی نظامت بھوانی گڑھ عرف ڈھونڈاں
    حال مقیم تلونڈی ملک ڈاک خانہ خاص تحصیل بھوانی گڑھ ریاست پٹیالہ








    روایات
    میاں نور الدین صاحب احمدی کھاریاں ڈاک خانہ کھاریاں
    کمترین کی پچاس سال کی تصدیق مسجد چینیاں والی لاہور میں ایک منٹ بلکہ ایک سیکنڈ دیکھنے کے بعد انکار نہیں کیا۔بیعت بعد میں کی۔ مسجد میں جس وقت آپ تشریف لائے۔ میں چار رکعت سنت پڑھ کر بیٹھا ہوا تھا۔ آپ نے میرے نزدیک آکر نماز شروع کردی اور آپ کی دستار مبارک سیاہ رنگ اور کوٹ الپا٭کے کا اور کالا رومال ‘میں نماز پڑھتے دیکھ کر تصدیق کرلی بعد نماز جمعہ آپ چل پڑے اور میں بھی ساتھ چل پڑا۔ اور چالیس آدمی آپ کے ساتھ چل پڑے۔ کشمیری بازار میں پیچھے تاڑی بجی۔ امیر الدین کوٹھی دار کی بیٹھک میں آپ پہنچے کہ میں بھی پاس تھا۔ آپ نے حکیم صاحب کو کہا۔ حکیم صاحب جی! جناب میں اسی واسطے ایسی مسجدوں سے منع کرتا ہوں۔ جب تقریر شروع ہوئی تو پہلے میرا ایمان تھا۔ حکیم صاحب کی برکت ہے۔ جب آپ کی تقریر سنی تو حکیم صاحب بلکہ صد حکیم صاحب مقابلہ نہیں کرسکتے۔۔۔۔۔۔
    میرا بال بچہ بہت ہے اور میںایمان سے سچ سچ کہتا ہوں۔ عمر ۷۵ سال اورایک پائوں سے لنگڑا ہوں اور موصی ہوں بیوی ایک موصی ہے اور لڑکی بھی موصی ہے۔ اس لڑکی کا نام جنت بی بی ہے۔ اس کو آپ کی دعائوں سے لڑکا ملا۔ وہ بھی فوت ہوگیا۔ پھر وہ حیران سخت ہے۔ آپ دعا کریں کہ اس کو نعم البدل ملے اورمیرے حق میںدعا کریں۔ میاں نور دین احمدی از کھاریاں
    ڈاک خانہ کھاریاں
    میں بہت مسکین ہوں۔ کام کاج نہیں کرسکتا میرے حق میں دعا کریں
    ٭(الپا کا یعنی سیاہ یا دوسرے رنگوں کے ایک کپڑے کو کہا جاتا ہے جس سے کوٹ بنائے جاتے اور گرمیوں میں پہنے جاتے ہیں۔ (فیروز اللغات)

    روایات
    ماسٹر محمد پریل صاحب ساکن کمال ڈیرو سندھ
    ’’اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ و اشھد ان محمداً عبدہ ورسولہ۔‘‘ اما بعد ۔اس عاجز نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ماہ جولائی ۱۹۰۵ء میں حضرت جری اللہ فی حلل الانبیاء کے ہاتھ پر دست بیعت ہوا تھا۔ اس زمانہ میں مسجد مبارک بہت چھوٹی تھی۔ چار پانچ آدمی صف میں بیٹھتے تو جگہ بھر جاتی۔ اس ماہ میں بہت گرمی تھی۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جب مسجد میں تشریف آور ہوتے تو میں پنکھا چلاتا تھا۔ مولوی محمد علی لاہوری پارٹی والے کا دفتر مسجد مبارک کے اوپر تھا۔ ایک دن مولوی محمد علی صاحب کو کچھ حضور کے آگے گزارش کرنی تھی اس کا خیال تھا کہ بیٹھ کر گزارش کروں۔ مگر بیٹھنے کی جگہ نہ تھی۔ یہ عاجز حضرت اقدس کے زانو مبارک سے اپنے زانوں ملا کر پنکھا چلاتا تھا۔ مولوی محمد علی نے ایک آدمی کو اشارہ کیا کہ اس کو پیچھے ہٹنے کے لئے اشارہ کرو۔ میں اشارہ پر پیچھے ہٹنے لگا۔ تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے میرے زانو پر ہاتھ مار کر فرمایا۔ مت ہٹو۔ تو یہ عاجز پھر پنکھا چلانے لگا۔ اور مولوی محمد علی صاحب نے کھڑے ہوکر گزارش کی۔ حضرت اقدس نے اس کو مناسب جواب دیا۔ مولوی صاحب تحریر کرکے چلے گئے۔ اس زمانہ میں تو اس بات کا خیال نہیں رہا۔ لیکن اب اس بات سے بہت سرور اور لذت آتی ہے کیونکہ میں ایک ادنیٰ آدمی اور بے سمجھ اردو بھی پوری نہیں آتی تھی۔ اور مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے اور عالم تھامگر نبی اللہ کی نظر میں ادنیٰ اور اعلیٰ ایک ہی ہوتا ہے۔ یہ عاجز ۱۵ دن صحبت میں رہا۔ ہر ایک دن میں حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نورانی چہرہ روشن دیکھنے میں آتاتھا۔ اس عاجز کو یہی معلوم ہوتا کہ اب حمام خانہ سے غسل کرکے آگئے ہیں۔ اور سر مبارک کے بالوں (جو کندھے برابر تھے) سے گویا موتیوں کے قطرے گر رہے ہیں۔ اس عاجز نے پانزدہ روز میں حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے چہرہ مبارک میں غم نہیں دیکھا۔ جب بھی مجلس میں آتے۔ خوش خندہ پیشانی ہوتے۔ دیگر یہ بات دیکھنے میں آئی کہ مولوی محمد احسن صاحب امروہوی اور دیگر علماء بڑے بڑے‘ حدیثوںکی کتابیں لے آتے۔ اور عرض کرتے۔ کہ حضور اس کتاب میں یہ حدیث ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ تو حضور علیہ السلام نے کبھی بھی نہیں کہا کہ اچھا کتاب دیکھوں تو جواب دیتا ہوں۔ مگر فوراً فرماتے کہ یہ مطلب ہے۔ بس! مولوی وہ بات نوٹ کر کے چلے جاتے۔ اس سے عاجز پر یہ اثر ہوا کہ آیا نبیوںکی یہ ہی شان ہے۔ الحمد للہ علی فضلہ و احسانہ۔ زیادہ خیریت والسلام مع الاکرام۔

    عاجز محمد پریل ولد قائم الدین سندھی
    احمدی از کمال ڈیرو ضلع نواب شاہ سندھ
    ۳۷۔۱۲۔۶






    روایت
    غلام محمد صاحب ساکن تلونڈی جھنگلاں ضلع گورداسپورہ
    خاکسار کو اچھی طرح یاد ہے کہ حضور نے فرمایا تھا کہ امام مہدی کا زمانہ جو ہوگا اس میں ایک آگ کا شعلہ نمودار ہوگا اور اس کا پتہ نہیں لگے گا۔ حضور کے کہنے کے دو تین ماہ بعد ہی وہ آگ نمودار ہوئی اور اس کا پتہ نہ لگا اور جو جو باتیں حضور نے اپنے منہ سے کہی تھیں ۔ میں نے اپنے آنکھوں سے دیکھ لی ہیں کہ وہ حرف بحرف پوری ہوتی رہی ہیں اور کوئی بھی انکی ایسی بات نہیں جو سچی نہ ہوئی ہو۔ میں اپنے ایمان کی گواہی سے کہتا ہوں کہ حضور کی ہر بات سچی نکلی ہے۔
    والسلام
    عرضے
    خاکسار غلام محمد احمدی
    ساکن موضع تلونڈی جھنگلاں
    ضلع گورداسپور
    ۳۸۔۱۔۱۳



    روایات
    احمد دین صاحب ولد حافظ پیر بخش صاحب
    ساکن ڈنگہ ضلع گجرات
    عاجز جو ن ۱۸۹۷ء بتقریب جلسہ جوبلی ملکہ معظمہ بہ ہمراہی سید خصلت علی شاہ صاحب مرحوم سب انسپکٹر پولیس تھانہ ڈنگہ ضلع گجرات و حافظ احمد دین صاحب مرحوم درزی استاذی ام و میاں کرم دین صاحب مرحوم مدرس و حافظ کرم دین صاحب مرحو م احمدی ایک رئویا کی بناء پر آیا وہ رئویا جنوری ۱۸۹۵ء بمقام پنیالہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان دیکھا تھا۔ اور یکم جو ن۱۸۹۷ء جبکہ عاجز رخصت پر گھر ڈنگہ آیا تو وہ رئویا مولوی کرم الدین صاحب احمدی مرحوم کے آگے بیا ن کی۔ انہوں نے جناب سید صاحب مرحوم کے آگے بیان کی۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ رئویا دارالامان کا نقشہ ہے اور وہ بزرگ سرخ ریش مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں۔ وہاں چلو تصدیق کرلو۔ حافظ احمد دین صاحب مرحوم استاذی ام کے آگے بیان کیا کہ سید صاحب مرحوم رئویا کے متعلق فرماتے ہیںکہ یہ رئویا مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق ہے چونکہ وہ احمدیت کے مخالف تھے۔ سیخ پا ہوگے۔ آخر بڑی منت و سماجت سے ان کو اس بات پر راضی کیا کہ ایک دفعہ وہاں جاکر حالت دیکھنی چاہیئے۔ انہوں نے فرمایا کہ تم بچے ہو وہاں بڑا جادو کا کام ہے۔ جو شخص قادیان کا کھانا کھالے اور مرزا صاحب کے پاس جاوے جادو سے مطیع کرلیتے ہیں۔ میں خود تمہارے ساتھ چلتا ہوں لیکن اس شرط پر کہ نہ قادیان سے کوئی کھائیںگے نہ وہاں ٹھہریں گے۔ آخر جلسہ جشن جوبلی جس کی تاریخ مجھے یاد نہیں جون ۱۸۹۷ء تھا ۔ دارالامان آئے۔ بہشتی مقبرہ سے پرلی طرف ننگل کے کنویں پر جس پر پختہ خانقاہ بنی ہوئی ہے ٹھہرے ۔ رات وہیں رہے۔ ننگل سے روٹی لائے۔ ۳ بجے دوپہر کے بعد یہاں آئے تھے۔ قادیان سے باہر کی طرف سے بڑے باغ سے ہوکر اس کنویں پر چلے گئے۔ شاہ صاحب موصوف سید ھے قادیان آئے۔ ان کا ایک نوکر ہم کو کنوئیں پر چھوڑ کر وہ بھی شاہ صاحب کے پاس چلا گیا۔ شام کے بعد شاہ صاحب کا نوکر آیا کہ تھوڑی دیر کے لئے قادیان آئو۔ استاذی ام نے فرمایا کہ اس شرط پر چلتے ہیں کہ کھانے کے لئے مجبور نہ کیا جائے۔ اس نے کہا۔ اچھا آئو۔ اس کے ساتھ آئے۔ جب ہم آئے۔حضرت اقدس مسجد مبارک کے چھت پر جنوبی شہ نشین پر رونق فرما تھا۔ ہم نے ’’سلام علیکم‘‘ نہ کیا۔ میں نے حضرت اقدس کو دیکھتے ہی استاذی ام کو کہا کہ یہ وہی بزرگ ہیں جن کو میں نے خواب میں دیکھا تھا۔ انہو ںنے فرمایا خاموش رہو۔ میرے کچھ اعتراض ہیں وہ دل میں ہیں۔ اگر یہ سچے ہیں تو میرے اعتراضوں کا خود بخود جواب دیں گے۔ ورنہ صبح واپس چلے جائینگے۔ حضرت اقدس نے تقریر شروع کردی۔ اس وقت حضور انور نے جمع نماز۔ قادیان کے لنگر کے نہ کھانے کے متعلق بڑی زور سے تقریر کی اور کفار مکہ کے یہی اعتراض دہرائے پھر نماز کا وقت ہوگیا۔ ہم باہر کنوئیں پر چلے گئے۔ رات کے وقت شیخ علی محمد صاحب مرحوم ڈنگوی بھی آگیا۔ رات کنوئیں پر سوئے۔ ۴ بجے صبح کو میں نے دیکھاکہ حافظ صاحب لالٹین جلا کر کچھ لکھ رہے ہیں۔ میںنے کہاکہ کیا لکھ رہے ہیں۔ وہ رونے لگ پڑے۔ فرمایا خواب لکھ رہا ہوں۔ بتلاتا نہیں۔ پھر بڑے زور سے رونے لگے۔ جس پر باقی ساتھی بھی اٹھ بیٹھے۔ آخر فرمانے لگے کہ چلو قادیان چلیں۔ ہم نے کہا نماز پڑھ کر چلیں گے۔ فرمانے لگے۔ جب تک خواب کا فیصلہ نہ ہوجائے۔ ہماری نماز نماز نہیںہے۔ پھر کپڑو ںکے پاس مجھے بٹھا کر ہر سہ ہمراہی قادیان چلے آئے۔ میں وہاں بیٹھا تھا۔ آٹھ بجے دن کے سب واپس آئے۔ میں نے کہا کہ اتنی دیر کیوںکی؟ استاد صاحب فرمانے لگے کہ میں نے بیعت کرلی ہے بستر اٹھائو۔ قادیان چلیں۔ بستریں اٹھا کر حضرت خلیفۃ المسیح اول کے درسگاہ میں آگئے۔ اس دن وہ جلسہ جشن جوبلی تھا۔ پھر میں نے بھی دوسرے دن بیعت کرلی ۔ اس کے بعد اکتوبر ۱۸۹۸ء میں آیا۔ فضل حق پادری کا سارامباحثہ میں نے خود سنا اور اس کا اسلام لانا میں نے دیکھا۔ ۱۱ /نومبر ۱۸۹۹ء کو جلسہ الوداع کے موقع پر بھی آیا۔ سردار فضل حق ساکن بگہ نے مسجد اقصیٰ میں میری موجودگی میں اپنا رسالہ فضل حق سنا کر اعلان اسلام کیا۔
    خاکسار احمد دین ولد حافظ پیر بخش احمدی
    ساکن ڈنگہ ضلع گجرات بقلم خود


    روایات
    عظیم صاحب احمدی سہرانی موضع حاجی کماند
    تحصیل و ضلع ڈیرہ غازی خاں
    میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دست بستہ عرض کی کہ حضور مجھے دعا فرماویں کہ وہاں بڑے بڑے عالم ہیں مقابلہ کریں گے انہی ایام میں وفات مسیح کا ذکر شب و روز رہتا تھا۔ حضور نے فرمایا۔ ’’کوئی مولوی آپ کا مقابلہ نہیں کرے گا ‘‘سو آج تک کوئی مولوی مقابلہ نہیں کرسکا۔ (یہ معجزہ ہی خیال کرتا ہوں) ۔
    ۲۔ میں نے پھر عرض کی کہ نیا رشتہ کر کے آیا ہوں حضور نرینہ اولاد کے لئے دعا فرماویں۔ حضور نے فرمایا ’’آپ کو اللہ تعالیٰ نرینہ اولاد عطا فرمائے گا۔‘‘ سو اب دو بیٹے مخلص احمدی موجود ہیں۔
    ۳۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ حضور مسجدکے قریب کے مکان میں یا حی یا قیوم فرمایا کرتے تھے اور ہماری نیند اکھڑ جاتی تھی اور ہم تہجد پڑھتے ۔
    ۴۔ پھر میں نے تعویذوں کے لئے عرض کیا کہ میں بڑے تعویذ دیا کرتا ہوں۔ یہ ہی کہہ رہا تھا کہ حضور نے فرمایا یہ کام آئندہ نہ کرنا۔ گناہ ہے۔
    دستخط کمترین عظیم احمدی سہرانی
    بیعت سن ۱۹۰۱ئ؁انیس سو ایک میں کی گئی۔ اس وقت میری عمر چالیس سال کے قریب تھی۔ اب ۷۷ برس کے قریب ہوگئے ہیں۔ تحصیل و ضلع ڈیرہ اسماعیل خان موضع حاجی کماند سکنہ بستی سہرانی۔

    روایات
    نظام الدین صاحب معرفت نظام اینڈ کوشہر سیالکوٹ
    خاکسار شہر سیالکوٹ کا رہنے والا ذات ریکھی قوم موجودہ‘ لوہا رو ترکھان جو کہلاتی ہے۔ کا ایک فرد ہے۔ کام سپورٹس کا کرتا ہوں۔ ۱۸۹۵ء میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم و مغفور کا درس قرآن شریف سنا کرتا تھا۔ ان کی صحبت سے متاثر ہوکر ۱۸۹۶ء کے ماہِ دسمبر میں جلسہ دھرم مہوتسو میںبہمراہی مولوی صاحب مرحوم لاہور گیا اور و ہ جلسہ تمام کا تمام بغور سنتا رہا۔ دن کو جلسہ ہوتا تھا تو رات کو شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم کی کوٹھی پر قیام رہتا تھا۔ وہا ںپر شیخ صاحب کی پرہیز گاری اور دین داری یعنی نماز کی پابندی اور تہجد گذاری بھی دیکھنے میں آتی تھی۔ جلسہ مہوتسو میں میرے پاس بیٹھنے والوں میں سے ایک جج صاحب تھے۔ ان کا رنگ سانولہ سا تھا۔ اور ان کو غالباً ملک خدا بخش یا ملک اللہ بخش کہتے تھے۔ وہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تقریر کے پڑھے جانے کے دوران میں زار زار روتے تھے۔ وہیں سٹیج پر مفتی محمد صادق صاحب بھی تھے۔ انہوں نے غالباً سبز چوغہ پہنا ہوا تھا اور فل بوٹ پائوں میں رکھتے تھے۔ ان کی شکل وہاں پہلے دیکھنے میں آئی تھی۔ جلسہ کا اثر سب پر تھا اور سب پر ایک سناٹا چھایا ہوتا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کی قدرت و جبروت کا ایک نظارہ تھا۔ جلسہ کے اختتام کے بعد مولوی صاحب کے ہمراہ قادیان پہنچ گئے۔ وہاں حضرت اقدس کی زیارت کی۔ جو نہایت پر نورشکل تھی۔ دیکھنے والے پر بغیر اثر کئے نہ رہتی تھی۔ ان دنوں مسجد مبارک کے مشرق جو چھوٹی کوٹھڑی ہے۔ وہاںپانی کے گھڑے اور وضو کا سامان ہوتا تھا۔ ظہر کی نماز سے پہلے حضرت اقدس تشریف لے آئے۔ اور کسی نے کہہ دیا کہ دو آدمی بیعت کریں گے۔ چنانچہ بندہ اس وقت اسی وضو خانہ میں وضو کررہا تھا۔ تو حضور نے آواز دی۔ کہ آئو میاں نظام الدین ! بیعت کرلو۔ بندہ آگے بڑھا اور حضور کے دست مبارک پر ہاتھ رکھ کر بیعت کی۔ دوسرے ہاتھ والے آدمی سیّد محمد علی شاہ صاحب تھے۔ جو پنشنر تھے جو بعد میں خوابیں سنایا کرتے تھے۔ اس کے بعد بندہ گھر واپس آگیا اور پھر مولوی صاحب مرحوم کا درس سنتا رہا۔ مستری حسن دین صاحب سیالکوٹی میرے دوست تھے۔ وہ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مکان بنانے کے لئے قادیان روانہ ہوئے۔ تومجھے بھی شوق تھا۔ اس شوق کی وجہ سے انہوں نے مجھے بھی ساتھ لے لیا۔ اور کہا کہ اگر کچھ وہاں کام بھی مل گیا تو کرلینا۔ چنانچہ ہم جب دونوں قادیان آگئے۔ تو حضرت اقدس کا رہنے والا دالان بننا شروع ہوگیا۔ وہ معماری کے کام میں لگ گئے اور بندہ ترکھانوںکے کام میں لگ گیا۔ اس دوران میں حضرت اقدس کے ساتھ کھانا کھانے اور نمازیں ادا کرنے کا موقع ملتا رہا۔ فا لحمد للہ علیٰ ذالک۔
    ایک دن حضرت صاحب کے سامنے یہ عاجز کھانا کھا رہا تھا تو حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام روٹیاں پکڑ پکڑ کر میری طرف کرتے گئے اور فرمانے لگے ۔’’ تو تم کھانا بہت کھائو۔ کیونکہ تمہارا کام سخت ہے یا اسی قسم کے الفاظ تھے۔‘‘ جن کا یہ مفہوم تھا۔ ایک مرتبہ نماز ظہر پڑھ کر اندر گئے تو غالباً عصر کے وقت حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی آمین لکھ کر لے آئے اور حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ مرحوم سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ یہ میں محمود کی آمین ان کی والدہ کی طرف سے لکھ لایا ہوں۔ آپ دیکھ لیں۔ چنانچہ حضرت خلیفہ اول ؓ نے وہ آمین دستی لکھی ہوئی وہیں پڑھی۔ ایک مرتبہ اوپر کی چھت پر نماز مغرب سے پہلے حضور تشریف لائے۔ تو حضرت خلیفہ اول صاحبؓ مرحوم سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ مجھے آج الہام ہوا تھا ’’ بَرَائً * ‘‘تو اس پر مولوی صاحب کچھ دھیمی آواز سے فرماتے رہے۔ جو غالباً اس معنوں کے مختلف پہلوئوں کے متعلق تھا۔ایک معنٰی مجھے ہی یاد ہے کہ بے قصور ٹھہرایا جانا تھا۔ چنانچہ ان دنوں میں عبدالحمید جو حضرت مولوی برہان الدین صاحب کے کنبہ کے آدمیوں میں سے تھا آگیا اور کچھ دن نمازیں پڑھتا رہا اور مزدوری بھی کرتا رہا اور پھر چلا گیا۔ اسی عبدالحمید نے مارٹن کلارک والا مقدمہ بنایا۔ جس کی تفصیل حضرت اقدس نے کتاب البریہ میں
    * الہام کی مکمل عبارت ہے ۔ ’’فبراہ اللہ مما قالوا ۔‘‘
    (تذکرہ صفحہ ۶۲ مطبوعہ ۱۹۶۹ئ)
    دی ہوئی ہے۔ غرض مجھے اتنا یاد ہے کہ حضرت اقدس ؑاس الہام کے بیان کرتے وقت کچھ مغموم سے تھے۔ مگر دیر تک باتیں ہوتی رہیں جو بندہ اپنی کم بضاعتی کے باعث سب محفوظ نہ رکھ سکا۔ اس وقت حضور کے پاس سوائے بندہ کے اور کوئی خادم موجود نہ تھا۔ اسی مقدمہ کے دوران میں بندہ بھی کچھ دن گورداسپور میں رہا۔ اور چوہدری رستم علی خان صاحب مرحوم کے ڈیرے پر رہتا تھا۔ انہوں نے ازراہ شفقت حضرت اقدسؑ کی فارسی نظم جو ازالہ اوہام میں الہامی نظم ہے۔ سبقاً سبقاً پڑھا دی۔ اسی دوران میں عبدالحمید نے معافی مانگ کر جب اصل راز بتایا تو چوہدری رستم علی خان صاحب نے مجھے فوراً دوڑایا کہ حضرت اقدس کی خدمت میںیہ پیغام پہنچا دو کہ عبدالحمید نے سچ سچ اور اصلی بیان دے دیا ہے۔ جس سے مقدمہ الٹ گیا ہے۔ یہ پیغام لے کر یہ عاجز حضر ت اقدس کی خدمت میںپہنچا۔ اس وقت حضور کے پاس سوائے بندہ کے اور کوئی خادم موجود نہ تھا اور جو حالات انہوں نے بتائے تھے اپنی ناقص عقل کے مطابق حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں عرض کردیئے۔ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے رنگ میں تبدیلی آگئی اور چہرہ حضور کا مانند سورج کے چمک رہا تھا اور کچھ فرماتے رہے ۔ جن کو میرا دماغ محفوظ نہیں رکھ سکا۔ اتنا یاد ہے کہ حضور نے فرمایا کہ ہم نے ڈیڑھ سو( ۱۵۰) بڑے بڑے آدمیوں کے نام گواہ صفائی میں لکھوائے ہیں۔ اس لئے انہوں نے از سر نو تحقیقات کی وغیرہ وغیرہ۔ یہ مفہوم ہی تھا۔ اصل الفاظ کو کیچ کرنے کی اہلیت نہ تھی۔ اسی مقدمہ کے دوران میں ایک دفعہ گورداسپور سے بٹالہ پہنچے تو آگے جانے کا وقت نہ رہا اور بٹالہ میں ٹھہرنا پڑا۔ حضرت کے ہمراہ سب غلام رات سرائے میں ننگی زمین پر سو گئے اور وہاں کثرت سے گدھوں کی لید پڑئی ہوئی تھی۔ زمین بہت گرم تھی اور سرائے بہت گندی تھی۔ مگر حضرت اقدس نے فرمایا۔ سب سو جائو۔ تو ہم سب لوگ رات وہیں پڑے رہے۔ میرا مطلب اس بات کے ذکر کردینے کا یہ ہے کہ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نازک مزاج نہ تھے۔ بلکہ بڑے جفاکش اور بہادر تھے۔ ایسی چھوٹی چھوٹی باتو ںکی طرف دھیان نہ دیتے تھے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جماعت سیالکوٹ نے جلسہ پرآنا تھا۔ سید میر حامد شاہ صاحب مرحوم اس وقت کے جنرل سیکرٹری تھے بلکہ سب کچھ وہی تھے۔ چندہ اکٹھا ہوا تو اس کی تعداد چودہ سو روپیہ تک پہنچ گئی۔ شاہ صاحب مرحوم نے ان روپوں کی اشرفیاں یعنی پونڈ بدلوائے۔ جب قادیان پہنچے تو ایک بڑی سینی میںوہ پونڈ مزین کرکے ایک طرف مصری کا بڑا ٹکڑا رکھ کر اور سج سجا کر حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے پہنچے۔ اس وقت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب والا مکان بطور مہمانخانہ استعمال ہوتا تھا۔ عصر کے بعد حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لائے تو میر صاحب نے وہ سینی پیش کردی۔ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا بلکہ جہاںتک میرا خیال ہے اور مجھے یاد ہے حضرت نے بائیں ہاتھ سے جلدی جلدی وہ پونڈ جیب میں ڈال لئے۔ اور جلد تشریف لے گئے اور غالباً سوائے السلام علیکم کے اور کچھ بات نہ کی۔ یہ حضور کی غناء ذاتی تھی۔ ا ن پونڈوں کے ڈھیر کو نگاہ پھیر کر بھی نہ دیکھا تھا اور نہ ہی لانے والوں کو اس کی وجہ سے خاص عزت یا اکرام بخشا تھا۔ بلکہ ایک معمولی بات کی طرح بھی توجہ نہ دی تھی۔
    ایک مرتبہ جلسہ سالانہ سے رخصت ہو کر گھر واپس جانے کے لئے حضرت اقدس کے حضور اجازت لینے کے لئے حاضر ہوئے۔ تو حضور رخصت دے کر اندرون کی کھڑکی سے اندر جانے لگے۔ تو میرے ہمراہ ایک صاحب ملتان کے رہنے والے بھی تھے۔ انہوں نے اجازت حاصل کرلینے کے بعد اپنی ملتانی زبان میں کہا کہ حضرت ’’میں کو کوئی وظیفہ ڈسونا !‘‘ تو حضور مسکرا پڑے اور فرمانے لگے کہ درود شریف کثرت سے پڑھا کرو۔ یہی وظیفہ ہے۔ ایک دفعہ باغ میں بہار کے موسم میں دوستوں کو ساتھ لے کر گئے۔ تو خادموں سے کہا ’’توت کی کھاریاں بھر لائو‘‘ ۔ چنانچہ دو کھاریاں توت اور شہتوت دوستوں کے سامنے رکھ دیں اور خود بھی حضور کچھ کھانے لگے۔ اس پارٹی میں کوئی بہت صحابی نہ تھے۔ غالباً پندرہ بیس آدمی ہونگے۔ خاکسار بھی اس پارٹی میں شامل تھا۔
    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ڈھاب کا کنارہ بھرکر اس جگہ ایک پلیٹ فار م سا بنایا گیا تھا اور مٹی ڈلوائی گئی تھی۔ اور یہ وہ جگہ ہے جہاں آج کل مرزا مہتاب بیگ صاحب درزی خانہ والے کی دکان ہے اور کچھ بک ڈپو اور گلی والی زمین میں شامل ہوگی۔ یہاں جلسہ سالانہ ہوا تو مولوی برہان الدین صاحب مرحوم ومغفور دوستو ںکو اپنے لوہے کے لوٹے سے جو ان دنوں اپنے کندھے پر اٹھایا کرتے تھے پانی پلاتے رہے تھے۔ مولوی صاحب مرحوم پانی پلاتے پلاتے ناچنے لگ گئے اور دوستوں سے کہا کہ پوچھوں میں کون ہوں اور کیوں ناچ رہا ہوں؟ دوستوں میں سے کسی نے کہا کہ حضرت خود ہی فرمائیے۔ تو فرمانے لگے۔ کہ میں ’’مسیح دا چپڑاسی‘‘ ہوں۔ میں اس خوشی میں آکر ناچ رہا ہوں کہ میں مسیح کا چپڑاسی ہوں۔ ایک مرتبہ حسین کامی جب رخصت ہونے لگا تو حضرت اقدس اس کو الوداع کہنے کے لئے باہر تشریف لائے اور احمدیہ چوک میں کھڑے تھے اس کا یکہ تیار تھا۔ اس نے فارسی میں غالباً یہ دریافت کیا کہ آپ کے ہاں کی کونسی چیز اچھی ہوتی ہے؟ تو حضور واپس آن کر گڑ کی ایک ڈھیلی ساتھ لے گئے یا کسی خادم سے منگوائی۔ صحیح یاد نہیں اور حسین کامی کو کہا کہ ’’چیزے بخورید‘‘ مگر اس نے گڑ نہ کھایا۔ کچھ کچھ بارش شروع تھی۔ حضرت اقدس اس کو الوداع کہہ کر واپس تشریف لے آئے۔ بندہ اس واقعہ کے وقت حضرت کے پاس کھڑا تھا۔ حضور کے پرانے گھر میں نیچے آنے کے لئے ایک ’’باری‘‘ ہوا کرتی تھی۔ بندہ ان دنوں اس باری کے سامنے کام نجاری کا کیا کرتا تھا۔ حضور ایک دن جلدی جلدی نیچے اترے مگر بہت جلد واپس تشریف لے گئے۔ تو چڑھتے وقت حضور کو ’’باری‘‘ بڑے زور سے سر میں لگی۔ بندہ اس وقت دیکھ رہا تھا۔ حضرت اقدس بغیر کسی درد محسوس کئے اور سر کو بغیر ملنے کے اندر تشریف لے گئے اور کوئی تکلیف محسوس نہ کی۔
    ان دنوں حضرت ام المومنین کبھی کبھی دن ڈھلے قرآن شریف پڑھا کرتے تھے۔ ایک دن حسب معمول آپ قرآن شریف پڑھ رہی تھیں تو حضرت اقدس آپ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے دلائل دے رہے تھے۔ اس دن حضرت ام المومنین وہی جگہ تلاوت فرما رہی تھیں۔ جہاں ’’یا عیسٰی انی متوفیک‘‘ آتا ہے۔ یہ خادم جب حضرت اقدس سے رخصت ہوا۔ تو حضور نے دو تین کتابیں مرحمت فرمائیں۔ ایک ازالہ اوہام دوسری دافع الوساوس اور تیسری سرمہ چشم آریہ۔ اور ساتھ اپنی دستار مبارک بھی عطا فرمائی۔ مگر وہ دستار اس نالائق نے اپنے سر پر باندھ کر حسب معمول ضائع کردی۔ یہ میری بے عقلی اور کم فہمی تھی۔ حضرت اقدس نے حقیقتہ الوحی میں نشان نمبر ۱۳۹ جدید ایڈیشن ص ۳۲۳ (روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۳۶)میں خاکسار کا ذکر کیا ہوا ہے۔ وہ نظام الدین یہی عاجز ہے۔ دعا فرماویں اللہ تعالیٰ پردہ پوشی فرماوے اور خاتمہ بالخیر کرے۔ آمین۔
    والسلام
    خاکسار نظام الدین معرفت نظام اینڈ کو شہر سیالکوٹ
    ۱۹۳۷/۱۲/۱۴
    اوربھی بعد میں کچھ واقعات یاد ہیں۔ میں آگے عرض خدمت کردوں گا۔ و باللہ التوفیق۔ دعا کے لئے درخواست ہے۔ خدارا دعا فرماویں۔ تکلیف میں ہوں۔ تحدیث بالنعمۃکے طور پر عرض کردینا ضروری سمجھتا ہوا ذیل کا واقعہ لکھ دیتا ہوں۔ ورنہ ’’ایاز قدر خویش بشناس‘‘ کو ہمیشہ مدنظر رکھتا ہوں۔ مستری محمد قاسم صاحب نے سنایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل خاص سے خلافت ثانیہ کو شناخت کرنے کو بذریعہ خواب توفیق عطا فرمائی۔ ورنہ میرا بھی حشر اچھا نہ ہوتا۔ وہ سناتے ہیںکہ مجھے خواب آئی کہ کچھ لوگ کشتی میں سوار ہیں جو احمدی ہیں اور ان میں سے چند ایک کو پہچان سکا۔ان میں سے جو کشتی چلانے والا ملاح تھا وہ یہ عاجز تھا۔ جیسا کہ وہ بیان کرتے ہیں۔ چنانچہ واقعہ بھی یوں ہوا کہ حضور کا وہ اشتہار ’’ کون ہے جو خدا کے کام کو روکے؟ ‘‘بندہ ہی قادیان سے لایا تھا اور جماعت کے سامنے پیش کردیا تھا۔ مگر میر حامد شاہ صاحب مرحوم مغفور نے ہاتھ میں لے کر پھینک دیا تھا۔ اور کہا تھا۔ ’’لے جائو تم ‘ایسے اشتہار نہیں سنتے اور نہ سناتے ہیں‘‘ واللہ اعلم انجام بخیر کس کا ہو؟ اور کس کا نہ ہو۔ ڈرنے کا مقام ہے۔ مگر یہ درست ہے کہ سیالکوٹ کی تمام جماعت قریباً پہلے پہل ’’لاہوری‘‘ ہوگئی تھی۔ سوائے دو ایک کے اور سب لوگ شدید مخالف ہوگئے تھے۔ مگر آہستہ آہستہ پھر واپس آگئے۔ فا لحمدللہ۔
    تتمہ۔ ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ اس زمانہ میں دستور تھا کہ پہلے سب مہمان گول کمرہ میں جمع ہوجایا کرتے تھے تو حضرت اقدس فداہ ابی وامی کو اطلاع پہنچائی جاتی کہ حضور تمام خادم حاضر ہیں۔ ایک دن حضرت اقدس پہلے ہی تشریف فرما ہوگئے تو حضرت خلیفہ اول حضرت مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ بھی تشریف نہ لائے تھے تو اس غلام کو حضور نے فرمایا کہ ’’جائو مولوی صاحب کو بلا لائو‘‘ بندہ دوڑتا ہوا مطب میں گیا اور حضرت اقدس کا ارشاد عرض کیا۔ حضرت خلیفہ اول رضی عنہ فرمانے لگے کہ حضرت تشریف لے آئے ہیں؟ بندہ نے ’’ہاں‘‘ میں جواب دیا اور کہا کہ جناب کو یاد فرمایا ہے۔ اس پر حضرت خلیفہ اول مطب سے دوڑ پڑے اور گول کمرہ تک دوڑتے ہوئے حاضر ہوئے۔ مجلس میںحضرت خلیفہ اول عموماً سرنگوں رہتے تھے۔ سوائے اس صورت کے کہ حضرت اقدس خود مخاطب فرماویں۔ ورنہ دیر تک سر نگوں رہتے تھے۔
    میرے لئے بڑے شکر کا مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے 41 سال تک مقدس زمین میں پھرنے کی توفیق بلا کسی وقفہ کے عطا فرمائی۔ ہر سال دو تین مرتبہ سے زیادہ دارالامان جانے کا اتفاق ہوتا۔ ہر جلسہ اور مجلس شوریٰ میں حاضر رہا۔ فالحمدللہ علی ذالک۔ اکثر عیدین پڑھنے کا موقع حضرت اقدس کے زمانہ میں ملتا رہا۔ چنانچہ اس عید میںجس میں کہ خطبہ الہامیہ حضرت اقدس پر نازل ہوا یہ غلام حضرت کے پہلو کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم اور حضرت خلیفہ اوَل رضی اللہ عنہ لکھ رہے تھے اور ایک دو حروف حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سے دریافت کئے تھے۔ اس جمعہ میں حضرت اقدس کے پہلو میں یہ عاجز بیٹھا ہوا تھا۔ جب مسجد کے ساتھ والے برہمن نے حضرت کو اس لئے گالیاں دینی شروع کردیں کہ کچھ احمدی دوست اس کے مکان کی چھت پر نماز پڑھنے کے لئے چڑھ گئے تھے۔ حضرت اقدس نے وہ گالیاں خود سنیں۔ اور’’ قادیان کے آریہ اور ہم ‘‘والی کتاب لکھی۔ بندہ نے اس برہمن کو بھی دیکھا تھا۔ خاکش بدہن اور اس کی گالیاں بھی سنی تھیں۔ اللھم بارک علی عبدک المسیح الموعود و بارک وسلم ۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ عید کی نماز ادا کرکے فارغ ہوئے تو حضرت خلیفہ اولؓ نے بندہ سے سب لوگوں سے پہلے معانقہ اور مصافحہ فرمایا۔
    فالحمدللہ علی ذالک۔
    حضرت اقدس کی غلامی میں آکر کبھی کبھی حضور کی پنڈلیوںکو دبانے کا اتفاق ہوتا رہا تھا۔ حضور انور کی پنڈلیاں لوہے کی مانند سخت تھیں اور مجھ سے تو بالکل دبائی نہ جاتی تھیں۔ میرے ہاتھ بہت چھوٹے تھے۔ اس لئے ان میں تو وہ پنڈلیاں آتی ہی نہ تھیں۔ انجمن سیالکوٹ کا کوئی ایسا عہدہ نہیں جس پر یہ غلام نہ رہا۔ چپڑاسی کے کام سے لے کر پریذیڈنٹ تک کے فرائض انجام دیتا اور تقریباً سولہ سترہ سال تک اسسٹنٹ سیکرٹری کا کام کرتا رہا۔
    ایک دفعہ مسجد مبار ک کی اوپر والی چھت پر نماز شام سے قبل حضرت اقدس تشریف فرما تھے۔ گزشتہ بزرگوں اور اولیائوں کا ذکر ہورہا تھا۔ میر ناصر نواب صاحب مرحوم و مغفور نے کسی بزرگ کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کے پاس جس قدر روپیہ آجایا کرتا تھا۔ دوسرے دن تک سب خرچ کردیا کرتے تھے اور اپنے پاس ایک پیسہ تک نہ رکھا کرتے تھے۔ اس پرحضرت اقدس نے فرمایا کہ مومن اورخدا کے بندے تو دنیا میں اس مسافر کی طرح آتے ہیں جیساکہ ایک مسافر کسی درخت کے نیچے گرمیوںکے د ن آرام کررہا ہوتا ہے۔ اور اس درخت پر چڑیاں بیٹھی ہوئی ہوں۔ اگر وہ چڑیاں درخت پر بیٹھی رہیں تو بھی اور اگر اڑ جائیں تو بھی مسافر کو کوئی نفع نہیں اور نہ ہی کوئی نقصان ہے۔ ا سی طرح اگر اہل اللہ کے پاس دولت آجاوے تو کوئی حرج نہیں اور چلی جاوے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ ایک مرتبہ حضرت میاں بشیر احمد صاحب (جو اب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم ۔اے ہیں) جبکہ آپ بہت چھوٹے تھے۔ حضرت اقدس کے کمرہ کا دروازہ بزور ’’کھڑکا‘‘ رہے تھے۔ حضرت اقدس نے کواڑ کھولنے میں ذرا دیر لگا دی اورحضرت میاں صاحب بڑے زور زور سے کہہ رہے تھے کہ ’’بواء کھولو ‘ بواء کھولو‘‘۔ جب دیر زیادہ ہوگئی تو بڑے غصہ میں آگئے اور کہنے لگے ’’تہاڈی ...... بوائو کھولو‘‘۔ تو حضرت اقدس اندر سے ہنس پڑے اور فرمانے لگے کہ میاں ا ب گالیاں نکالنے لگ گئے ہو۔ اور جھٹ دروازہ کھول دیا۔ حضرت اقدس ا ن دنوں یہ مقولہ اکثر دہرایا کرتے تھے۔ کہ ’’گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی‘‘۔ ایک مرتبہ حضرت اقدس نے یہ ضرب المثل بھی بیان فرمائی کہ ایک بوڑھا زمیندار باڑ لگا رہا تھا۔ تو پاس سے گزرنے والے نے کہا کہ ’’بابا واڑ ڈنگی لگاوناں ایں‘‘ تو اس نے اسے جواب میں کہا ۔ ’’توں وی تے پتی دا ویا کیتا سی نہ‘‘ اس نے کہا اس کا اس کے ساتھ کیا تعلق؟ تو اس نے کہا ’’ گل نال گل ہی لگائونی ہوندی اے ہور ہوندا کی اے۔‘‘
    ایک مرتبہ حضرت اقدس نے کسی وہابی کی بیوی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک دن اس کی بیوی نے پوچھا کہ نماز میں جو نام محمد بار بار آتا ہے وہ کون شخص تھا؟ اس نے کہا کہ ہمارے پیغمبر علیہ السلام تو کہنے لگی کہ ’’آ ہائے میں اینویں پرائے آدمی دا نا م لیندی رہی۔‘‘
    والسلام
    خاکسارنظام الدین معرفت نظام اینڈ کو
    شہر سیالکوٹ
    ۳۷۔۱۲۔۳۱

    روایت
    میاں عبدالعزیز صاحب ولد غلام محمد قوم نون سکنہ حلالپور ضلع سرگودھا
    میں نے ۱۹۰۷ء میں قادیان آکر دستی بیعت کی۔ میری عمر ۶۲ سال ہے۔ میرے حالات خطرناک تھے۔ اعمال گندے تھے۔ طاعو ن کے دنوں میں مجھے خیال آیا تو میں نے اس طرف توجہ کی اور لوگوں کو کہہ دیا کہ اگر میں طاعو ن میں مرجائوں ۔ تو میرا جنازہ غیر احمدی نہ پڑھیں بلکہ ایک قریبی گائوں میں جس کا نام ........ہے۔ وہاں احمدی عام تھے وہ میرا جنازہ پڑھیں۔ ایک غیر احمدی نے مجھ سے کہا کہ یا تو اس طرف ہوجا یا ہمارے ساتھ۔ میں نے اول اسی سے خط لکھوایا۔ اس دن میں نے نماز پڑھی جس میں مجھے لطف آیا۔ خط کا جواب مجھے مل گیا کہ بیعت قبول ہے۔ مجھے بہت اخلاص ہوگیا۔ حضرت مولوی صاحب خلیفہ اوّل میرے واقف تھے۔ چھوٹی مسجد میں بیعت کی تھی۔ میرے لئے حضرت نے دعا کی۔ اس وقت سے میرا ایمان نہایت مضبوط ہے۔ اس وقت میں نے آپ کو مسیح موعود اور امام مہدی مانا تھا۔ سنتے تھے کہ حضرت عیسیٰ کی بجائے آپ تشریف لائے ہیں۔ میں نے آپ کو ایک خط لکھا ۔ جس میں لکھ دیاکہ میرا سلام مولوی نورالدین صاحب کو پہنچا دیں۔
    ۳۷۔۱۲۔۲۹



    روایات
    فضل الدین صاحب نمبردار ولد سلطان بخش صاحب نمبردار
    قوم جٹ سکنہ پیرو شاہ ضلع گورداسپور
    میری عمر تقریباً ۵۵ یا ۵۶ سال ہوگی۔ جس وقت میں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی۔ میری عمر پندرہ سولہ سال تھی۔ عید الفطر میں مَیں نے بیعت کی۔ حضرت نے باورچی کو فرمایا ’’کھانا لائو‘‘ کھانا لایا گیا۔ جو ہم نے کھایا۔ پھر بعد میں مختلف اوقات میں آتے رہے جس وقت کمشنر یہاں آیا تھا۔ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ریتی چھلہ کی طرف سیر کو گئے۔ جہاں ریتی چھلہ کی مسجد ہے وہاں حضرت نے کھڑے ہوکر فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ ’’اس طرف شہر بڑھے گا۔ ‘‘آپ کے ہاتھ میں سوٹی تھی۔ اس سے اشارہ کرکے فرمایا نسواری کوٹ پہنا ہوا تھا۔ میں جی میں حیران تھا کہ اس طرف تو جھائو بہت ہے یہاں شہر کس طرح آباد ہوگا؟ ایک دفعہ بسراواں کو حضور سیر کے لئے گئے اس وقت بھی ہم ساتھ تھے۔ جس وقت مینار کی بنیاد رکھی ہے اس وقت بھی ہم پاس تھے۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب کے مکان والی جگہ ڈھاب تھی۔ فیض اللہ چک کے ایک صاحب ‘حامدعلی صاحب ہمیں کھانا وغیرہ کھلایا کرتے تھے۔
    میرا ایک چچا مسمی علی گوہر تھا اس نے مجھ سے ایک سال قبل بیعت کی تھی۔ اسکو فوت ہوئے دس گیارہ سال ہوگئے ہیں۔ اس کی عمر قریباً ۶۰ سال تھی۔ نیز ایک مستری شہاب الدین بھی تھا۔ اس کو فوت ہوئے سولہ سترہ برس ہوگئے ہیں۔ ہم نے حضرت صاحب کو مسیح موعود و مہدی مسعود مانا تھا۔ مستری شہاب الدین کی عمر قریباً ۶۰ سال ہوگی۔ ۳۷۔۱۲۔۳۰

    روایات
    غلام رسول صاحب ۔ چانگریاں تحصیل پسرور
    ڈاکخانہ پھلورہ ضلع سیالکوٹ
    خاکسار خدا کے فضل و کرم سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابہ میں داخل ہے۔ میں نے ۱۹۰۱ء میںیا ۱۹۰۲ء میں بیعت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھ پر کی تھی۔ اس وقت حضور کی خدمت میں ایک ہفتہ رہا اور ہم آپ کو جب آپ مسجد میں نماز کے بعد عموماً مغرب کی نماز کے بعد بیٹھتے تھے ‘ دباتے تھے یعنی مٹھیاں بھرتے تھے اور آپ ہم کو منع نہیں کرتے تھے اور آپ کا چہرہ مبارک ایسا تھا کہ وہ شبہات جو مولوی ڈالتے تھے آپ کا چہرہ دیکھنے سے دور ہوجاتے تھے۔ چنانچہ میں نے سنا ہوا تھا کہ مہدی معہود کا چہرہ ستارے کی طرح چمکتا ہوگا اور میں نے ایسا ہی پایا اور میرے سارے اعتراضات آپ کا چہرہ دیکھتے ہی حل ہوگئے۔ اور جب آپ پر کرم دین نے دعویٰ کیا تھا اور مجسٹریٹ چند ولال کی عدالت میں دعویٰ تھا اور بہت شور تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ضرور جیل میں جائینگے اور حضرت مسیح موعودؑ فرماتے تھے کہ لوگ یہ افواہ اٹھا رہے ہیں۔ میں جیل میں جائونگا۔ ’’ہمارا خدا کہتا ہے تم کو ایسی فتح دونگا جیسے صحابہ کو جنگ بدر میں دی تھی‘‘ اور وہ الفاظ آپ کے اب تک کانوں میں گونجتے ہیں۔ اور ایک دفعہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صبح کو سیر کے واسطے پہاڑ کی جانب نکلے اور آپ دور نہ جاسکے کیونکہ دوستوں کا ہجوم تھا اور ریتی چھلہ و بوہڑ کے مغرب کی طرف آپ ٹھہر گئے اورآپ کے گرد دوستوں نے گروہ باندھ لیا اور مصافحہ کرنا شروع کیا اور میں نے جب مصافحہ کیا تو میں نے ایک روپیہ ایسے طور پر دیا کہ کسی کو معلوم نہ ہوا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے میری طرف ایسی شفقت بھری نظر سے دیکھا کہ جب مجھے وہ وقت اور وہ نظر آپ کی یاد پڑتی ہے تو مجھے اب بھی سرور آجاتا ہے۔ اور ایک دفعہ جبکہ ’’ نسیم دعوت‘‘ چھپ رہی تھی۔ آپ نے اس کتاب کی تعریف کی اور میری طبیعت للچائی کہ کتاب مجھ کو بھی ملے اور قیمت میرے پاس نہیں تھی۔ جب آپ جانے لگے تو میں نے حضور سے عرض کی کہ حضور مجھے بھی ایک کتاب ’’نسیم دعوت‘‘ دی جائے اور آپ نے بہت شفقت سے خلیفہ رجب الدین جو دورکے رہنے والے تھے کو فرمایاکہ اس لڑکے کو کتاب دلادیں۔ اور صبح ہوتے ہی مجھے کتاب مل گئی۔ (اور میں اچھی طرح تحریر نہیں کرسکتا۔ ٹوٹے پھوٹے الفاظ تحریر ہیں)۔
    والسلام
    غلام رسول از چانگریاں ضلع سیالکوٹ
    تحصیل پسرور ڈاک خانہ پھلورہ بقلم خود






    روایات
    شکر الٰہی صاحب احمدی کلرک ڈاک خانہ
    موضع نبی پور ضلع گورداسپور
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ ابھی بچہ تھا۔ عمر تقریباً ۱۲ یا ۱۳ سال ہوگی۔ دین سے بالکل بے بہرہ تھا۔ غالباً پرائمری کی کسی جماعت میں گورداسپور ہائی سکول میں تعلیم پایا کرتا تھا۔ اس وقت مولوی عبدالکریم مخالف پارٹی کا مقدمہ تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے اصحاب کے ساتھ ہائی سکول کے شمال کی بالکل جانب متصل تالاب تحصیل والے کے رونق افروز ہوا کرتے تھے اور خاکسار مدرسہ چھوڑ کر آپ کی رہائش کے پاس کھڑا رہتا تھا اور آپ کے چہرہ مبارک کو دیکھتا رہتا تھا۔ ایک آپ کے عاشق صادق(نام بچہ ہونے کے باعث نہ جانتا تھا بلکہ اس بات پر حیرت کرتا تھا) کہ ا نکے دائیں ہاتھ میں بڑا پنکھا پکڑا ہوا اور بہت زور سے ہلاتے رہتے تھے۔ دیر تک کھڑا رہتا۔ اور پنکھا اسی ہاتھ میں رہتا۔ حیران ہوتا کہ ہاتھ تھکتا نہیں ہے ۔ ہلاتے بھی آہستہ نہ تھے۔ بلکہ بڑے زور سے جیسے بجلی کی کرنٹ زور سے ہلاتی ہے کیونکہ موسم گرمیوں کا تھا۔ دوبارہ سہ بارہ آتا اور اسی صاحب کو دیکھتا رہتا کہ کیا جادو ہے؟ پنکھا بڑا ہے اور سارا دن ایک ہی ہاتھ سے ہلا رہے ہیں۔ مگراب معلوم ہوا ہے کہ وہ سچے عاشق تھے۔
    ۲۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ مقدمہ میں جو مولوی کرم دین کا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہر ہفتہ گورداسپور تشریف لایا کرتے اور ضلع گورداسپور کچہری میں حضرت صاحب کو اکثر عدالت میں کھڑے ہوتے دیکھتا۔
    ۳۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب مولوی کرم دین کے مقدمہ کا فیصلہ ضلع گورداسپور میں ہونا تھا۔ خاکسار وہاں تھا۔ خلقت کا ہجوم اتنا تھا کہ شمار سے باہر تھا۔ ضلع کے نزدیک ایک تالاب ہے۔ اس کے نزدیک ظہر کی نماز اداکی تھی۔ تقریباًاحمدی اصحاب پانچ صد کے قریب ہونگے۔ بہت دیر تک چار فرض ادا کئے۔ گویا کہ کوئی حرکت نہ کرتا تھا۔ خاکسار پاس کھڑا دیکھتا تھا۔ فیصلہ سنانے کے وقت جو کہ عصر کا وقت تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام درختوں کے نیچے آگے آگے آپ تھے اور پیچھے دو دو اصحاب ٹہل رہے تھے۔ پہلے آہستہ آہستہ بعدہ‘ زور سے ٹہلنا شروع کیا۔ مگر بولتا کوئی نہ تھا۔ آخر ٹہلتے ٹہلتے آپ ٹھہر گئے ۔ مولوی صاحب یعنی خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ کو کچھ فرمایا اور اسی وقت آواز پڑ گئی۔ شیڈ میں آیا تھا کہ آپ نے مولوی صاحب کو مخاطب ہوکر فرمایا کہ مولوی صاحب ! ’’کیا دیکھتا ہوں کہ میرا رومال تالاب میں گرگیا ہے۔ ٹٹولنے سے مل گیا ہے‘‘۔ فرمانے لگے کہ کچھ جرمانہ ہوگا۔ مگر معاف ہوجاویگا۔ سو ایسا ہی ہوا۔
    ۴۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ والد بزرگوار صاحب منشی نظام الدین جو کہ دارالامان میں ۲۰ کے سب پوسٹماسٹر ہوا کرتے تھے اور ڈاک خانہ مسجد اقصیٰ سے جو بازار مغرب کی طرف جاتا ہے۔ دکان معمولی ڈاک خانہ تھا۔ موضع نبی پورسے پیدل والد صاحب کے پاس دارالامان میں پہنچا۔ بغل میں ایک مرغی تھی جسے راستہ میں چلتے چلتے پیچھے سے کچھ گرنے کی آواز آئی ۔ مڑ کر دیکھا تو انڈا مرغی کا پڑا ہے۔ اٹھایا جو کہ بہت نرم تھا۔ ہاتھ میں ہوا لگنے سے سخت ہوگیا اور جیب میں ڈال لیا۔ گویا کہ مرغی جو بغل میں تھی اس نے انڈا دیا تھا۔
    ۵۔ خاکسار نے والد بزرگوار منشی نظام الدین صاحب سے سنا ۔ جس وقت کہ دارالامان کے ڈاک خانہ میں-/ ۲۰ روپے کے سب پوسٹماسٹرتھے۔ فرمانے لگے کہ میں سخت مخالف تھا۔ جو احمدی کارڈ لینے کے واسطے آتا مخالفت کرتا۔ مگر عصر کے وقت ڈاک خانہ بند کرکے مسجد اقصیٰ میں (جبکہ بالکل مسجد چھوٹی تھی) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس جاکر سوال کرتا۔ آپ فوراً جواب دیتے۔ علیٰ ہذا ڈیڑھ سال سخت مخالفت کی۔
    ۶۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ والد بزرگوار فرماتے ہیں کہ ایک دن جب کہ میں دفتر بند کررہا تھا کہ بہت بوڑھا آدمی اس قدر بوڑھا کہ نہ ٹانگے پر سوار ہوسکتا تھا اور نہ موٹر پر۔ اپنے لڑکے کے کاندھوں پر چڑھ کر بٹالہ سے پیدل دارالامان پہنچا اور سانس لینے کے لئے ڈاک خانہ کے ’’تھڑے‘‘ پر بٹھلایا۔ والد صاحب پوچھتے ہیں کہ آپ کیوں آئے ہیں؟ اس بزرگ کی عمر ۱۰۰ سال سے زائد تھی۔ بزرگ فرمانے لگے کہ میرے والد صاحب جس کی عمر مجھ سے زائد تھی۔ فرماتے تھے کہ بیٹا تم مسیح موعود ؑ کی زیارت کروگے۔ ’’وَت‘‘ اس کی نشانی ایک ہوگی یعنی اس کے ’’بندیاں‘‘ لگیںگی۔وَت وہ مسیح سچا ہوگا۔ والد صاحب کہنے لگے کہ بابا جی ! ’’ وَت بندیاں‘‘ کیا ہیں؟ بزرگ فرمانے لگے کہ بیٹا! میںنے حضرت مرزا صاحب کا دعویٰ سنا ہوا تھا۔ اور بندیوں کی انتظار میں تھا (بندیاں یعنی کفر کے فتوے) اب کفر کے فتوے لگے ہیں اور میں زیارت کے لئے اس طرح آیا ہوں۔
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ والد بزرگوار فرماتے ہیں کہ ایک دن ایک بڑا لمبا آدمی عصر کے وقت آیا۔ جس کے کپڑوں پر‘ بدن پر‘ سر پر گرد و غبار پڑی تھی۔ اور وہ ڈاک خانے کے تھڑے پر کھڑا ہوکر دریافت کرنے لگا کہ مرزا صاحب کہاں ہیں؟ والد صاحب نے فرمایا ۔ چلو میںدکھلاتا ہوں۔ وہ بزرگ کہنے لگے نہیں میں خود دیکھوں گا۔آخر وہ بزرگ آگے آگے اور والد بزرگوار پیچھے پیچھے چل پڑے۔ وہ بزرگ مسجد اقصیٰ میں پہنچ کر عصر کا وقت تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے صحابہ کے درمیان رونق افروز تھے۔ وہ شخص بے صبرے کی طرح صحابہ کے اوپر سے چلتا ہوا حضرت صاحب کے پاس پہنچ کر کہنے لگا کہ آپ نے حضرت مسیح موعودؑ کا دعویٰ کیا ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا ’’ہاں‘‘۔ وہ بزرگ زار زار رونے لگا۔ اورکہنے لگا کہ پرسوں رات میںحضوری میں تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے داہنے انگلی مبارک سے فرمایا کہ ’’ھذا مسیحؑ‘‘ ۔ اسی پہچان سے میں یہاں آیا ہوں۔ اور آپ کو پہچان لیا ہے۔ جب سے یہ نظارے والد صاحب نے دیکھے تہجد میں دعائیں شروع کیں۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیئے کہ بوقت رات عالم خواب میںایک بزرگ آتا ہے اور ایک کتاب والد صاحب بزرگوار کو دکھلاتا ہے کہ دیکھو یہ پیشگوئیاں کہ ’’مسیح ؑ‘‘ کے زمانہ میںسواریاں تیز ہونگیں۔ پہاڑ اڑائے جائینگے۔ دریا چیرے جاوینگے وغیرہ وغیرہ‘‘۔ ایک رات وہی بزرگ کتاب ۔ صفحہ و سطر دکھلا کر کہتا ہے۔ دیکھو مولوی صاحب! یہ کتاب میرے مسیح ؑ کی میز پر پڑی ہے۔ جب والد صاحب صبح حضرت صاحب کے پاس جاکر دیکھتے ہیں۔ وہی کتاب پڑی ہے۔ کتاب کھول کر دیکھی گئی۔ وہی صفحہ۔ اسی سطر پر پیشگوئیاں نظر آئیں۔ آخری رات خواب میں والد صاحب ایک دریا میں نہا رہے ہیں۔ ایک بزرگ دریاکے کنارہ سے آواز دے کر کہتا ہے کہ بابو صاحب ! کیسا نہا رہے ہو؟ بدن کو دیکھو۔ خشک ہے۔ جب بدن دیکھا گیا بالکل خشک پایا۔ وہ بزرگ کہنے لگا کہ اوپر کی طرف جائو۔ والد صاحب کہنے لگے کہ وہاں مرزا صاحب کے مکان ہیں۔ نہیں جاتا۔ جب اصرار سے کہا کہ جائو تو سہی۔ پس وہ دریا حضرت مسیح موعودؑ کے مکان کے نیچے سے جاری تھا۔ جب والد صاحب عین مکان کے نیچے تیرتے تیرتے پہنچے۔ دیکھا۔ بدن تر تھا۔ بلکہ بیدار ہوکر بھی غفلت خواب میں چھاتی سے پانی نچوڑ نچوڑکر نیچے پھینکتے تھے۔ آخر بیعت نصیب ہوئی۔ الحمد اللہ۔
    خاکسار
    شکر الٰہی احمدی کلرک ڈاکخانہ
    موضع نبی پور ضلع گورداسپور
    حال تاندلیانوالہ
    ضلع لائل پور
    ۳۷۔۱۔۱۰




    روایت
    مرزا اکبر بیگ صاحب ولد مرزا دین محمد صاحب لنگروال ضلع گورداسپور
    سن بیعت :۱۹۰۴ء
    جبکہ میں ابھی پہلی دوسری جماعت میںپڑھتا تھا۔ تب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں گیا اور شور کررہا تھا۔ تو کسی نے ناراض ہوکر کہا کہ شور مت کرو۔ تو حضور نے فرمایا کہ اس کو کچھ مت کہو یہ میری ہمشیرہ عظمت بیگم کا بیٹا ہے۔
    خاکسار
    اکبر بیگ





    روایات
    حکیم اللہ دتہ صاحب ولد نظام الدین صاحب موضع شاہ پور امر گڑھ

    سن بیعت :۱۹۰۲ء سن زیارت :۱۸۹۸ء
    ۱۸۹۸ء کے آخر میں مَیں اور میرا بھائی پیر محمد جو کہ مجھ سے چھوٹا ہے قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت کرنے کے لئے آئے تو جب ہم احمدیہ چوک میں آئے ۔ وہاں بڑ کا ایک درخت تھا۔ وہاں مرزا نظام الدین صاحب بڑ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک حجام داڑھی کو مہندی لگا رہا تھا۔ تو مرزا نظام الدین نے پوچھا کہ تم کہا ںسے آئے ہو؟ میں نے جواب دیا کہ شاہ پور امر گڑھ سے تو انہوں نے کہا کہ کیوں آئے ہو؟ میں نے عرض کی کہ مرزا صاحب کی زیارت کو آئے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہاں کیوں آئے ہو؟ جہاں تمہاری آنکھ ہے وہاں انکی آنکھ ہے جہاں تمہارا ناک ہے وہاں ان کا ناک ہے یہ تو اس نے ایک پھندا لگایا ہوا ہے۔ مگر ہم اس کی اس بات کے کہنے سے رک نہ سکے۔ مسجد مبارک میں جاکر نماز پڑھی۔ جس طرح شیعہ لوگ نماز کی نیت کرتے ہیں۔ میں نے اس طرح پر نیت کی۔ تو ہم واپس اپنے گائوں کو چلے گئے۔
    ۱۹۰۲ء میں آکر پھر ہم نے بیعت کی اکثر حق چھپ نہیں سکتا ۔ حضور نے ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے موقعہ پر فرمایا کہ ’’سب کتابوں کا مغز قرآن شریف ہے اور قرآن شریف کا مغز لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ ہے۔

    حضرت مسیح موعودؑ کا حلیہ :۔
    بال سیدھے جس طرح کنگھی کی ہوئی ہوتی ہے۔ آنکھیں موٹی تھیں۔ اس طرح معلوم ہوتی تھیںجس طرح کہ ان کو نیند آرہی ہے اور وہ سوتے نہیں یعنی آدھی کھلی اور آدھی بند معلوم ہوتی تھیں۔ جسم کے لحاظ سے بھی درمیانہ تھے۔ نہ لمبے تھے نہ ’’مدرے ‘‘ تھے۔ رنگ گندمی تھا۔ اور آپ اپنی داڑھی کو مہندی لگایا کرتے تھے۔ بازو اور ہاتھ کی انگلیاں موٹی تھیں۔ ایک خط موضع ’’رتڑ چھتڑ‘‘ سے عطا محمد نمبردار نے میرے دوست فقیر محمد موضع شاہ پور کے ہاتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا تھا۔ اس میں اس نے کئی باتیں دریافت کی تھیں میں اس وقت آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ کسی شخص نے حضرت یعقوب علیہ السلام سے پوچھا کہ اب تمہیں مصر سے پیران یوسف کی خوشبو آگئی۔ جب کہ وہ کنعان کے کنوئیں میں گرا ہوا ہے۔ تو یعقوب علیہ السلام نے جواب دیا۔
    گہے برطارم اعلیٰ نشینم
    گہے برپشت پائے خود نہ بینم
    ہمارا حال تو ایسا ہے کبھی ہم کو آسمان کی چوٹی کا حال معلوم ہوتا ہے اور کبھی ہمیں یہ پتہ نہیں ہوتا کہ ہمارے پائو ںمیں کیا ہے؟ اور مرزا یعقوب بیگ صاحب کلانوری کو فرمایا کہ ان کو جواب لکھ دو۔
    حکیم اللہ دتہ شاہ پور امر گڑھ
    تحصیل و ضلع گورداسپور



    روایات
    چوہدری عبدالحکیم صاحب ولد چوہدری شرف الدین صاحب
    گھاکڑ چیماں تحصیل وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ
    سن بیعت :۱۹۰۲ء سن زیارت :۱۹۰۲ء
    ۱۹۰۲ء گرمیوں کا موسم تھا میں ان دنوں ملتان چھائونی ریلوے اسٹیشن پر بطور سگنیلر ملازم تھا۔ میرے خیالات اہلحدیث کے تھے اور میں مولوی عبدالجبار اور عبدالغفار اہلحدیث جو دونوں بھائی تھے اور ملتان شہر کے قلعے کے پاس ان کی کتابوں کی دکان تھی۔ ان سے قرآن شریف کا ترجمہ پڑھا کرتا تھا کہ اتفاقاً میری ملاقات مولوی بدر الدین احمدی سے ہوئی جو شہر کے اندر ایک پرائمری سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ انہوں نے مجھے اخبار الحکم پڑھنے کو دیا۔ مجھے یاد ہے کہ اخبار الحکم کے پہلے صفحہ پر خداتعالیٰ کی ’’تازہ وحی‘‘ اور ’’کلمات طیبات امام الزمان‘‘ لکھے ہوئے ہوتے تھے۔ میں ان کو پڑھتا تھا اور میرے دل کو ایک ایسی کشش آور محبت ہوتی تھی کہ فوراً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت اقدس میں پہنچوں۔ اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہوا اور باوجود اہل حدیث کے مولویوںکے بہکانے اور ورغلانے کے میں نے تھوڑے ہی عرصہ میں قبول کرلیا۔ مولوی بدرالدین صاحب نے مجھے قادیان فوراً جانے کا مشورہ دیا۔ اور میرے ساتھ ایک اور اہلحدیث مولوی بھی تیار ہوگئے۔ وہ مولوی سلطان محمود صاحب اہلحدیث کے شاگرد خاص تھے۔اس وقت میری تنخواہ صرف پندرہ روپے تھی اور غربت کی حالت تھی۔ میں نے رخصت لے لی۔ چونکہ ’’ریلوے پاس‘‘ کا ابھی حق نہ تھا۔ میں نے بمع دوسرے دوست کے امرتسر کا ٹکٹ لیا۔ کیونکہ ہمارے پاس قادیان کا کرایہ پورا نہ تھا۔امرتسر پہنچ کر ہمارا ٹکٹ ختم ہوگیا۔ اور ہم نے بٹالہ والی گاڑی میں سوار ہونا تھا۔ مگر ہمار ے پاس صرف آٹھ آنے کے پیسے تھے۔ اس لئے ہم نے دو دو آنہ کا ’’ ویرکہ‘‘ کا ٹکٹ لے لیا۔ اور گاڑی میں سوار ہوگے۔ ’’ویر کہ‘‘ سٹیشن پر جب گاڑی پہنچی تو ہمارا ٹکٹ ختم ہوچکا تھا۔ مگر ہم نہ اترے اور گاڑی روانہ ہوگئی جب دوسرے سٹیشن کے درمیان گاڑی جارہی تھی کہ ریلوے کا ایک ملازم ٹکٹ پڑتال کرنے آیا اور سب مسافروں سے ٹکٹ دیکھنا شروع کیا۔ چونکہ ہمارا ٹکٹ پچھلے سٹیشن کا تھا اور ہمارے پاس رقم بھی نہ تھی۔ ہم دونوں اپنی بے عزتی ہونے کی وجہ سے بہت پریشان اور ہراساں ہوئے۔ اور سوائے اللہ تعالیٰ کا دامن پکڑنے کے اور کوئی چارہ نہ دیکھ کر ہم دونوں نے مل کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ہم تیرے سچے مسیحؑ کی خدمت میں جارہے ہیں۔ہمارے پاس کچھ نہیں ہے اپنے مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خاطر جو تیرا پیارا ہے۔ ہماری پردہ پوشی فرما اور ہم کو بے عزتی اور رسوائی سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری دعا قبول فرمائی اور جب ریلوے لازم نے ہم سے ٹکٹ طلب کئے تو ہم نے وہی ٹکٹ جو پچھلے سٹیشن کے تھے۔ اس کو دے دئیے اور مجھے خوب یاد ہے کہ اس نے وہ ٹکٹ اچھی طرح دیکھ کر ہم کو واپس دے دئیے اور ہمیں کچھ بھی نہ کہا اور دوسرے کمرہ میں چلا گیا۔ یہ ہمارے لئے ایک معجزہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے سچے اور پاک مسیحؑ کی خاطر ہماری پردہ پوشی فرمائی اور ہم کو رسوائی سے بچالیا اور یہ واقعہ ہمارے لئے تقویت ایمان کا باعث ہوا۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سچائی ہمارے لئے اظھر من الشمس ہوگئی۔ بٹالہ سے اتر کر ہم پیدل قادیان کی طرف روانہ ہوئے اور تقریباً ظہر کا وقت تھا کہ ہم دارالامان پہنچے۔ جب ہم مسجد مبارک میں داخل ہوئے ۔ اسی وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لائے۔ میرے ساتھ جو دوست تھا وہ ایک اہلحدیث عالم تھا۔ اس نے حضرت مسیح موعو د علیہ الصلوٰۃوالسلام سے ملتے ہی ایک سوال کیا۔ کہ جب قرآن اور حدیث ہماری راہنمائی کے لئے موجود ہے تو آپ کی بیعت کی کیا ضرورت ہے۔ حضور اس وقت وہیں کھڑے ہوگئے اور تقریر شروع فرمائی۔ ابھی حضور کی تقریر ختم نہ ہوئی تھی کہ میرے معترض ساتھی نے عرض کیا کہ حضور میری تسلی ہوگئی ہے اور میں بیعت کرتا ہوں۔ حضور نے فرمایا کہ ’’ابھی ٹھہرو اور پوری تسلی کرلو۔ شاید آپ کو دھوکا نہ لگ جائے۔ اور پھر نماز ظہر پڑھا کر گھر تشریف لے گئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تقریر کے خاتمہ پر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے فرمایا تھا کہ اخباروں میں سب کچھ لکھا جاچکا ہے۔ باہر سے آنیوالے لوگ حضور کی خدمت میں سوال کرکے تکلیف دیتے ہیں اور اخبارات کو نہیں پڑھتے۔ حضور نے فرمایا کہ مولوی صاحب ! تقریر تو میں کرتا ہوں اور تکلیف آپ کو ہوتی ہے۔ اس کے بعد مغرب کی نمازکے وقت مسجد مبارک کی چھت پر احباب اکٹھے ہوئے۔ میں اور میرا ساتھی بھی وہاں حاضر ہوئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لائے۔ مولوی عبدالکریم صاحب نے نماز پڑھائی اور حضور بھی ان کے ساتھ ہی تشریف فرما تھے۔ نماز کے بعد حضور شاہ نشین پر تشریف فرما ہوئے۔ اس وقت مجلس میں تھوڑے ہی دوست تھے۔ ان میں سے قابل ذکر حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ‘ میر ناصر نواب صاحب علیہ الرحمۃ۔ مولوی عبدالکریم صاحبؓ ‘ ‘حکیم فضل الدین صاحبؓ اور مولوی شیر علی صاحب اور مفتی محمد صادق صاحب تشریف فرما تھے۔ مجھے خو ب یاد ہے کہ نماز مغرب کے بعد مفتی صاحب نے ولایت کی ڈاک سنائی۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں ایک لیڈی کا خط پڑھ کر سنایا۔ حضور بہت خوش ہوئے۔ اور بھی بہت سی باتیں ہوئیں۔ لیکن افسوس ہے کہ مجھے یاد نہیں رہیں اور نہ ہی میں نے نوٹ کیں۔ قریباً پچاس منٹ کے بعد حضور نے عشاء کی اذان کا حکم دیا۔ اور نماز پڑھا کر گھر تشریف لے گئے دوسرے دن بوقت مغرب بعد نماز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مسجد مبارک کی چھت پر شاہ نشین پر تشریف فرما ہوئے تو میں نے بیعت کے لئے عرض کی ۔ فرمایا کہ آپ کم سے کم چھ مہینے یہاں رہیں۔ اگر بیوی بچے ہیں تو ان کو بھی لے آویں۔ خرچ اور مکان ہم دیںگے۔ میں نے سخت غلطی کی اور حضور کے ارشاد کی وقعت کو بوجہ اپنی کم فہمی کے نہ سمجھا۔ اور ملازمت پر واپس جانے کا عذر کیا۔ تو حضور نے میری بیعت لے لی۔ میری اور میرے ساتھی کی الگ الگ بیعت ہوئی۔ بعد بیعت حضور نے مجھ سے سوال کیا کہ جس علاقہ میں آپ ہیں کیا وہاں طاعون ہے؟ میں نے عرض کی کہ حضور ہے۔ فرمایا کہ وہ ہمارا نشان ہے۔ دوران گفتگو میں اس عاجز نے دیکھا۔ کہ حضور کی زبان مبارک میں لکنت تھی اور رانو ںپر ہاتھ مارتے تھے۔ اس کے بعد وقتاً فوقتاً دارالامان آتا رہا مگر افسوس ہے کہ بعد کے واقعات میں نے نوٹ نہ کئے جس شام کو میں نے بیعت کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تشریف لے جانے کے بعد میں حضرت خلیفہ اول ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جو مسجد مبارک کے چھت کے پاس ہی ایک کوٹھڑی میں رہتے تھے۔ انہوںنے ایک چھوٹی سی چارپائی چھت پر بچھائی ہوئی تھی۔ میں ان کی خدمت میں دیر تک بیٹھا رہا اور بہت سے مسئلے پوچھتا رہا مگر سوائے ایک بات کے اور مجھے کوئی یاد نہیں رہی اور وہ یہ ہے کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے مجھے فرمایا کہ ’’مخالف لوگ کہتے ہیں کہ نور الدین دنیا کمانے کے لئے قادیان آیا ہے۔ مگر مجھے تو وہ چارپائی ملی ہے جس پر میرا آدھا جسم نیچے ہوتا ہے۔ میں تو صرف خدا کے لئے یہاں آیا ہوں۔ اور میں نے وہ حضرت اقدس کی بیعت میں پالیا ہے‘‘۔
    والسلام
    خاکسار
    چوہدری عبدالحکیم صحابی
    ریٹائرڈ سٹیشن ماسٹر






    روایات
    محمد اکبر صاحب ولد اخوند رحیم بخش خان صاحب
    قوم پٹھان غلزئی سکنہ ڈیرہ غازی خان
    پتہ سابق ایچ۔وی۔سی۔ دفتر صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر منٹگمری
    حال رخصتی مقیم گلگت ہائوس قادیان
    سن بیعت :۱۹۰۵ئ۔ سن زیارت :۱۹۰۵ء و ۱۹۰۷ء
    خاکسارکے والد صاحب کے چچا اخوند امیر بخش خان ضلع مظفر گڑھ میں سب انسپکٹر پولیس تھے۔ خاکسار کے احمدی ہوجانے کے بعد وہ پنشن پاکر اپنے گھر ڈیرہ غازی خاں آگئے۔ ان دنوں جماعت احمدیہ ڈیرہ غازی خاں کے سرکردہ مولوی عزیز بخش صاحب بی۔اے تھے۔ جو مولوی محمد علی صاحب امیر پیغام کے بڑے بھائی ہیں۔ وہ اس وقت ڈیرہ غازی خاں میں سرکاری ملازم تھے۔ جس محلہ میں وہ رہتے تھے وہاں ایک مسجد تھی۔ جو ویران پڑی رہتی تھی۔ جماعت احمدیہ نے اسے مرمت وغیرہ کرکے آباد کیا اور اس میں نماز پڑھنی شروع کردی۔ ایک غیر احمدی مولوی فضل الحق نام نے اس محلہ میں آکر کرایہ کے مکان میں رہائش اختیار کی۔ اور محلہ کے لوگوں کو اکسایا کہ احمدیوں کو اس مسجد سے نکالنا چاہئے اور اس مسجد میں چند طلباء جمع کرکے ان کو پڑھانا شروع کردیا اور نماز کے وقت وہ اپنی جماعت علیحدہ کرانے لگا۔ اور مسجد میں وعظوں کا بھی سلسلہ شروع کردیا۔ خاکسار کے رشتہ کے چچا اخوند امیر بخش خان مذکور نے شہر ڈیرہ غازی خان کے سب انسپکٹر پولیس کو اکسایا کہ وہ رپورٹ کرے کہ اس محلہ میں احمدیوں اور غیر احمدیوں میں فساد کا اندیشہ ہے۔ فریقین کے سرکردوں سے ضمانت لی جانی چاہئے۔ خاکسار نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حضور ایک عریضہ لکھا جس میں اپنے رشتہ کے دادا صاحب مذکور کی مخالفت کا ذکر کیا اور لکھا کہ اس کو اس قدر عناد ہے کہ اگر اس کا بس چلے تو خاکسار کو قتل کردے اور جماعت کے متعلق پولیس سے جو اس نے رپورٹ کرائی تھی اس کا بھی ذکر کیا اور دعا کی درخواست کی۔ حضور نے ازراہ ذرہ نوازی کمال شفقت سے خود اپنے مبارک ہاتھ سے اس عاجز کے عریضہ کی پشت پر جواب رقم فرما کر وہ خط خاکسار کو بذریعہ ڈاک واپس بھیج دیا۔ حضورکے جواب کا مفہوم یہ تھا۔ ’’ہمیں گھبرانا نہیں چاہئے۔ حضور نے دعا فرمائی ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ اس کا جلد نیک نتیجہ ظاہر ہوگا اور جماعت کو چاہئے کہ ضمانت ہر گز نہ دیوے۔ اگر مسجد چھوڑنی پڑے تو چھوڑ دی جاوے۔ اور کسی احمدی کے مکان پر باجماعت نمازوں کا انتظام کرلیا جاوے۔ مگر جماعت کے کسی فرد کو ضمانت ہر گز نہیں دینی چاہئے۔ افسوس ! وہ خط خاکسار کے پاس محفوظ نہیں رہا۔ غالباً مولوی عزیز بخش صاحب نے خاکسار سے لے لیا تھا اور واپس نہ کیا تھا۔ حضور کے اس جواب کے آنے کے تھوڑے دنوں بعد اس عاجز کا دادا مذکور بیمار ہوگیا۔ اور چند د ن بیمار رہ کر فوت ہوگیا۔ جو رپورٹ سب انسپکٹر پولیس نے کی تھی۔ وہ سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس نے صاحب ڈپٹی کمشنربہادر کے پاس بمراد انتظام مناسب بھیج دی صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے ایک مسلمان ای۔اے۔سی کو مقرر فرمایا کہ وہ احمدیوں اور غیر احمدیوں میں مصالحت کرادے۔ چنانچہ و ہ کئی ماہ مسلسل کوشش کرتا رہا۔ کہ مصالحت ہوجائے مگر کامیابی نہ ہوئی۔ آخر دریائے سندھ کی طغیانی سے وہ حصہ شہر کا غرق ہوگیا اور مسجد گر گئی اور بعد ازاں سارا شہر دریا بُرد ہوگیا اور نیا شہر آباد کیا گیا۔ جس میں جماعت احمدیہ نے اپنی نئی مسجد تعمیر کرائی۔ اور جہاں تک خاکسار کا خیال ہے۔ نئے شہر میں سب سے پہلے جو مسجد تعمیر کی گئی وہ احمدیوں کی تھی۔
    ۲۔ چودھری نذر محمد صاحب ساکن ادرحمہ ضلع شاہ پور‘ ضلع ڈیرہ غازی خان میں ملازم تھے۔ وہ ۱۹۱۸ء میں بعارضہ انفلوئنزا فوت ہوگئے۔ وہ اپنا واقعہ سنایا کرتے تھے کہ سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہونے سے پہلے ان کی حالت اچھی نہ تھی۔ اور انہوں نے اپنی اہلیہ کو متروک کر رکھا تھا ۔ جب وہ سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوئے تو ان کو سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت کا شوق ہوا۔ چنانچہ اس شوق میں وہ قادیان روانہ ہوگئے۔ مگر قادیان جاکر معلوم ہوا کہ حضرت اقدس کسی مقدمہ کی وجہ سے گورداسپور تشریف لے گئے ہوئے ہیں۔ چنانچہ وہ گورداسپور چلے گئے اور ایسا موقع میسر آیا کہ حضرت اقدس اکیلے چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے ۔ انہوں نے حضور کومٹھیاں بھرنی شروع کردیں اور دعا کے لئے عرض کیا۔ حضور نے فرمایا ’’ہم دعا کرینگے‘‘۔ اتنے میں کوئی اور دوست حضور کی زیارت کے لئے آئے۔ انہوں نے دوران ملاقات میں بیان کیا کہ انکے سسرال نے ان کو بڑا تنگ کیا کہ اس کی بیوی کو نہ بھیجتے تھے۔ اب ا ن کی بیوی ان کے پاس آگئی ہے اور انہوں نے عہد کیا ہے کہ وہ اس کو اپنے میکے نہ بھیجیں گے۔ جب اس دوست نے یہ بات بیان کی تو حضور کا چہرہ غصہ کی وجہ سے سرخ ہوگیا اور حضور نے بڑے غصہ سے اس کو کہا کہ ’’فی الفور چلا جائے کہیں اس کی وجہ سے ہم پر بھی عذاب نہ آجاوے‘‘۔ چنانچہ وہ دوست اٹھ کر چلا گیا اور کچھ دیر بعد واپس آیا اور کہاکہ حضور ! میں نے توبہ کی ہے۔ مجھے معاف فرمایا جاوے۔ جس پرحضور نے پھر اس کو بیٹھنے کی اجازت دی۔ چوہدری صاحب مرحوم سنایا کرتے تھے کہ جب انہوں نے یہ واقعہ دیکھا تو وہ دل میں سخت نادم ہوئے اور سوچا کہ اس دوست کی بات تو معمولی تھی۔ لیکن انہوں نے ایک عرصہ سے اپنی بیوی پرظلم روا رکھا ہوا ہے اور اپنے سسرال سے بُرا سلوک کیا ہوا ہے۔ ان کا قصور اس دوست سے کئی گنا بڑھ کر ہے اور اگر انہوں نے توبہ نہ کی تو خدا جانے کتنا بڑا عذاب آویگا۔ اس لئے وہیں بیٹھے بیٹھے توبہ کی اور عہد کیاکہ اب جاکر اپنی بیوی اور سسرال کو راضی کرونگا۔ چنانچہ واپسی پر لاہور سے اپنی بیوی کے لئے کئی تحائف خریدے اور ڈیرہ غازی خان پہنچ کر اپنی بیوی کے پاس جاکر اس کو تحفے دیئے اور اس سے معافی مانگی کہ پچھلا قصور اس کا معاف کردیوے آئندہ اس سے بدسلوکی نہ ہوگی۔ بیوی حیران رہ گئی کہ اس میں اتنا عظیم الشان تغیر کس طرح ہوگیا ہے۔ انہوں نے بتلایا کہ وہ احمدی ہوگیا ہے۔ اور سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت کے موقع پر یہ واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اس لئے اس نے توبہ کی ہے۔ اس پر ان کی بیوی بہت خوش ہوگئی اور سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہزار ہزار دعائیں دینے لگی کہ انہیں کی برکت سے اس کا اجڑا گھر آباد ہوا ہے۔ ورنہ اس کی کوئی امید نہ تھی اور اسکے سسرال بھی اس پر خوش ہوگئے۔
    والسلام خاکسارمحمد اکبر عفی اللہ عنہ
    ایچ وی سی رخصتی ۔ حال مقیم گلگت ہائوس قادیان دارالامان۔
    ۱۹۳۸۔۲۔۲۳

    روایات
    چوہدری فضل داد صاحب ولد چوہدری قطب الدین صاحب
    جٹ زمیندار اونکھ ساکن سرمے دانی
    پتہ سابق سرمے دانی تحصیل شاہدرہ ضلع شیخوپورہ حال وارد چک نمبر ۱۴۶
    کھیوہ تحصیل وضلع لائلپور
    سن بیعت ۹۶۔۱۸۹۵ئ و سن زیارت ۹۶۔۱۸۹۵ء
    میں تحقیق حق کے لئے ۱۸۹۵ء یا ۱۸۹۶ء میں قادیان گیا اور وہاں مجھ پر حق کھل گیا تو میں نے حضرت خلیفۃ المسیح الاول مولانا مولوی نور الدین صاحب ؓ کی خدمت میں حاضر ہوکر ایک روپیہ نذرانہ پیش کیا۔ (کیونکہ میں نے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام خیال کیا) مولوی صاحب نے حاضرین کو فرمایا کہ مجھے اس روپیہ کی بڑی ضرورت تھی اور خدا نے اچھے موقع پر دیا ہے۔ مولوی صاحب چونکہ طبیب تھے اور انہوں نے خیال کیا کہ یہ شخص مریض ہے اور مجھ سے دریافت کیاکہ تمہیں کیا بیماری ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میںبیمار نہیںہوں۔ صرف بیعت کے لئے حاضر ہوا ہوں ۔ مولوی صاحب نے روپیہ مجھے واپس دے دیا اور فرمایا کہ بیعت لینے والا اور ہے ۔ میں نہیں ہوں۔ پھر میں نے ایک شخص کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں رہتا تھا کہا کہ میری بیعت کروا دو۔ اس شخص نے کہا کہ جس وقت حضرت صاحب سیر سے واپس تشریف لاکر مسجد مبارک کی سیڑھیوں کے راستہ گھر کو تشریف لے جاویں اس وقت بیعت کے لئے عرض کرنا۔
    چنانچہ میں ایک روز جب حضور سیر سے واپس تشریف لاکر گھر کو جانے لگے تو میں مسجد مبارک میں گھر کے اندر جانے والے دروازہ کے پاس کھڑا ہوگیا۔ جب حضور تشریف لائے۔ اس وقت مصافحہ کیا۔ ایک روپیہ نذرانہ دیا۔ اور بیعت کرنے کے لئے عرض کیا۔ حضور نے ایک شخص کو فرمایا کہ بعد نماز مغرب ان کو بیعت کروادینا۔ چنانچہ بعد نماز مغرب حضرت اقدس نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر دس شرائط بیعت دہرا کر مجھ سے بیعت لے لی۔ چنانچہ جب میں قادیان سے واپس اپنے چک نمبر ۱۴۶ میں آیا تو مجھے ایک سید مسمی دولت شاہ ساکن ستراہ ضلع سیالکوٹ نے یہ کہا کہ تم جس شخص کی بیعت کرکے آئے ہو نہ ہی وہ شفاعت کے قائل ہیں اور نہ ہی نبیوںکے معجزات کے قائل ہیں۔ چنانچہ قادیان حضور کی خدمت میں خط لکھا گیا۔ وہاں سے جو خط آیا وہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم ؓ کے ہاتھ کا حسب ذیل مضمون کالکھا ہوا پہنچا۔ ’’جو شفاعت کا قائل نہیں وہ بھی کافر‘ جو انبیاء کے معجزات کا قائل نہیں۔ وہ بھی کافر۔ حقیقی مردے زندہ نہیں ہوسکتے۔ باقی دشمنوں کی زبان کو کون روکے؟‘‘۔
    ۲۔ ایک دفعہ میں حضور کے ملنے کے لئے قادیان گیا۔ سن یاد نہیں۔ مسجد مبارک میں ان دنوں ایک لائن میں پانچ آدمی کھڑے ہوتے تھے۔ صبح کی نماز کے بعد حضور مسجد میں ٹھہر گئے (نماز صبح مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے پڑھائی تھی) فرمایا۔ اللہ رحم کرے بارشیں بہت ہوگئی ہیں۔ سردی زیادہ پڑے گی اور طاعون بھی زیادہ پھیلے گی۔ ا ن دنوں طاعون کی پیشگوئی شائع ہوکر قادیان سے باہر طاعون پھیلی ہوئی تھی۔
    ۳۔ ایک دفعہ جب مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کو ’’کار بنکل‘‘ کا پھوڑا نکلا ہوا تھا اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب علاج کررہے تھے۔ صبح کے وقت حضور نے میرے سامنے یہ فرمایا کہ رات کو خواب میں مجھے اپنے بھائی غلام قادر ملے ہیں اس سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ مولوی عبدالکریم صاحب کو صحت ہوجاوے گی۔ مگر مولوی صاحب فوت ہوگئے۔ العبد
    بقلم خود فضل داد
    بوقت ۱۰ بجے رات
    ۳۸۔۳۔۷

    روایات
    عبداللہ صاحب ولد میاں خدا بخش صاحب گِلدّن والی ضلع گورداسپور
    سن بیعت ۱۹۰۰ ء و سن زیارت ۱۹۰۰ء
    جب میں نے بیعت کی اس وقت دو آدمی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے بیٹھے تھے جن کے میں نام نہیں جانتا ۔ اس وقت حضور کی نظر نیچے کی طرف تھی۔ آپ نے ایک دفعہ ان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا۔ اور ان سے دریافت فرمایا۔ کہ آپ کا کیا سوال ہے؟ جس پر انہوں نے کہا کہ آپ کے دعویٰ کے متعلق ہے۔ حضور نے پھر ان کی طرف دیکھ کر فرمایا۔ کہ ہاں! کرئیے۔ انہوں نے دو تین سوال کئے۔ پھر حضور نے ان کی طرف دیکھ کر فرمایا۔ کہ اگر کوئی اور سوال ہے تو وہ بھی کرئیے۔ پھر انہوں نے کہا کہ ہمارا اور کوئی سوال نہیں۔ حضور نے ان کو ان کے سوالوں کے جواب دے دئیے۔ پھر پوچھا کوئی اور سوال ہے؟ تو انہوں نے کہا نہیں۔ اس پر حضور نے ان کی بیعت لے لی۔
    ۲۔ ایک دفعہ میں پھر قادیان آیا۔ میں مسجد اقصیٰ میں بیٹھا تھا۔ حضور وہاں تشریف لائے اور حضور خلیفۃ المسیح ثانی بھی ساتھ تھے۔ حضور اس وقت بیٹھ گئے۔ اور حضرت خلیفۃ المسیح ثانی حضورکے بائیں طرف بیٹھ گئے۔ اور حضور اپنا ہاتھ کبھی کبھی اپنے ران پر مارتے تھے۔


    روایات
    محمد یحیٰ خان صاحب ولد مولوی انوار حسین خانصاحب
    ساکن شاہ آباد ضلع ہردوئی

    سن بیعت :پیدائشی احمدی ۱۸۹۴ء ۔ سن زیارت: ۱۹۰۴ء
    میرے والد صاحب مرحوم حکیم مولوی انوار حسین خانصاحب سکنہ شاہ آباد ضلع ہردوئی یو پی نے ۱۸۸۹ء میں لدھیانہ آکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ السلام کی بیعت کی تھی اور اس سے کچھ عرصہ قبل سے انکی خط و کتابت تھی اور وہ بیعت کا شرف حاصل کرنا چاہتے تھے۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیعت لینے کی اجازت نہ ہونے کی وجہ سے ان کو قادیان آنے سے روکا ہوا تھا۔ جب حضور لدھیانہ اس غرض سے تشریف لے چلے تو والد صاحب کو اطلاع کردی اور والد صاحب مرحوم اس کی تعمیل میں لدھیانہ آکر فیض یاب ہوئے۔ والد صاحب دیوبند کے دستار بند مولوی تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مہمان نوازی کا یہ واقعہ اکثر سنایا کرتے تھے۔ کہ میں پہلی مرتبہ قادیان دارالامان ۱۸۹۲ء میں آیا تھا اور اس وقت مہمان گول کمرہ میں ٹھہرا کرتے تھے۔ میں بھی وہیں ٹھہرا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی ساتھ ہی کھانا تناول فرمایا کرتے تھے اور کھانا کھاتے کھاتے اٹھ کر اندر تشریف لے جاتے اور کبھی چٹنی کبھی اچار لے کر آتے کہ آپ کو مرغوب ہوگا غرض کہ آپ کھانا بہت کم کھاتے اور مہمانوں کی خاطر زیادہ کیا کرتے تھے۔ مسجد اقصیٰ میں نمازیوں کی کثرت دیکھ کر ایک مرتبہ والد صاحب مرحوم فرمانے لگے کہ پہلی مرتبہ جب میں قادیان آیا تھا تو جمعہ کے دن نماز کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد اقصیٰ تشریف لے چلے۔ راستے میں مولوی شادی کشمیری ملا۔ اس کو نماز پڑھنے کے لئے ساتھ لے لیا اور میاں جان محمد صاحب کو ساتھ لے لیا ۔ آگے چل کرکسی بچے کی میت مل گئی تو آپ نے جان محمد کو نماز جنازہ پڑھانے کے لئے فرمایا اور خود ان کے پیچھے نماز ادا فرمائی۔ جب مسجد اقصیٰ پہنچے اور نماز جمعہ پڑھی تو اس وقت کل چھ نفوس تھے اب باوجود مسجد اتنی وسیع ہوجانے کے اردگرد کی چھتیں بھری ہوتی ہیں۔ میرے لئے یہ بھی معجزہ ہے۔
    ۱۹۰۲ء میں میرے بڑے بھائی عبدالغفار خان کو تعلیم کی غرض سے دارالامان بھیجا اور اس کے بعد ۱۹۰۴ء میں جب بڑے بھائی صاحب گرمی کی رخصتیں ختم کرنے کے بعد واپس آنے لگے مجھے بھی بھیج دیا۔ اور اس کے بعد میرے منجھلے بھائی عبدالستار خان کو۔ میں جب قادیان آیا اس وقت میری عمر دس سال کی تھی اور بورڈ ران میں سب سے چھوٹا تھا۔ والد صاحب مرحوم جب کبھی قادیان آتے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اطلاع ہوتی تو حضور حافظ حامد علی صاحب مرحوم کو بھیج کر بلوا لیتے۔ میں بھی والد صاحب کے ہمراہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوتا۔ ان دنوں اکثر حضور مسجد مبارک کی بغلی کوٹھڑی جہاں ام المومنین اید ھااللہ کا راستہ ہے یا مسجد میں ملاقات فرمایا کرتے تھے اور وہاں کے علماء اور اعزا کی مخالفت کا حال دریافت فرماتے رہتے۔
    حضرت کی بچوںپر شفقت
    حضرت ام المومنین ایدھا اللہ تعالیٰ کو کسی کام کی ضرورت پیش آئی۔ تو ہم چھوٹے بچے بورڈنگ تعلیم الاسلام کے جو ان دنوں مدرسہ احمدیہ میں ہوا کرتے تھے۔ کام کرنے کی خاطر شوق سے آجاتے۔ مجھے یاد ہے کہ اکثر حضرت مسیح موعود علیہ السلا م ہم بچوں کے متعلق دریافت فرماتے۔ یہ کون ہے؟ اور وہ کون ہے؟ خاکسار کے متعلق ایک مرتبہ دریافت فرمایا تو حضرت ام المومنین ایدھا اللہ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔ انوار حسین صاحب آموں والے کے لڑکے ہیں تو فرمانے لگے کہ اس کو کہو کہ بیٹھ جائے اور کام نہ کرے۔ مجھے بٹھا دیا اور دوسرے لڑکے کام کرتے رہے۔ ایک مرتبہ سخت سردی پڑی جس سے ڈھاب کا پانی بھی جمنے لگا ۔ان ایام میں میں گرم علاقہ کا رہنے والا ہونے کی وجہ سے بہت سردی محسوس کرتا تھا اور بورڈنگ میں قریباً سب لڑکوں سے عمر میں بھی چھوٹا تھا۔ فجر کی نماز کے لئے جانے میں سردی محسوس کرتا تھا (ماسٹر عبدالرحمن صاحب بی ۔اے سابق مہر سنگھ صاحب نے حضور سے ذکر کیا ہوگا) آکر کہا کہ حضور نے فرمایا ہے کہ اس چھوٹے بچے کو سردی میں بہت تکلیف ہوتی ہے نماز فجر کے لئے مسجد نہ لے جایا کرو۔ اس دن سے مجھے فجر کی نماز تمام سردی بورڈنگ میں ادا کرنے کا حکم مل گیا اور نماز کے لئے مسجد جانا چھڑا دیا گیا۔ ایک مرتبہ حضور بہلی پر گورداسپور مقدمہ کی تاریخ پر جارہے تھے اور ہم بورڈران بھی دور تک ہمراہ پہنچانے کے لئے جارہے تھے۔ میں حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے ساتھ جو میرے ہم عمر ہیں کھیلتا جارہا تھا۔ وہ بہلی میں تشریف رکھتے تھے اور میں ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ راستہ میں جو ’’آک‘‘ پڑتے ان کے پھول توڑ کر ان کو دیتا۔ جن کو دبانے سے پٹاخے چلتے۔ پھر اور توڑ کر دیتا۔ جب ہم اور کچھ دور پہنچے تو حضور نے ایک گنے کا ٹکڑا مجھے دیا اور فرمایا لو پیاس لگ گئی ہوگی۔ میں نے چوس لیا۔ پھر کچھ فاصلے پر پہنچ کر فرمایااب بچے واپس چلے جائیں۔ تھک جاویں گے۔ ہم رخصت ہوکر واپس آگئے۔ اسی طرح ایک مرتبہ ہم حضور کے ہمراہ نہر تک گئے اور رمضان کا مہینہ تھا۔ پیاس لگی ہوئی تھی حضور کو معلوم ہوگیا کہ بعض چھوٹے بچوں کا روزہ ہے۔ تو حضور نے فرمایا ان کا روزہ تڑوا دو‘ بچوں کا روزہ نہیں ہوتا۔ اس حکم پر ہم نے نہر سے خوب پانی پی کر پیاس بجھائی اور حضور سے رخصت ہوکر قادیان واپس چلے آئے۔
    مہمانوں کے جذبات کا احساس
    باہر سے اکثر احباب تشریف لاتے تھے اور خوردہ کے خواہشمند ہوا کرتے تھے۔ چونکہ بورڈ ران میں سے میں چھوٹا تھا اور اندر جایا کرتا تھا۔ احباب کے ذکر کرنے پر خوردہ لانے کے لئے تیار ہوجایا کرتا تھا۔ کھانے کا وقت ہوا تو ام المومنین ایدھا اللہ بنصرہ تعالیٰ سے عرض کرنے پر خوردہ مل گیا۔ کھانے کا وقت نہ ہوا تو بھی حضور خوردہ کی خواہش پر ازراہ شفقت روٹی منگوا کر اس میں سے ایک لقمہ کھا کر بقیہ دے دیا کرتے تھے۔ جو میں خوشی خوشی لاکر ان دوستوں کو دے دیا کرتا تھا جنہوں نے مانگا ہوتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نمازیں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب یا حضرت خلیفۃ المسیح اولؓ کے پیچھے پڑھا کرتے تھے۔ خود نہ پڑھایا کرتے تھے۔ مستورات کی نماز جماعت خود فرمایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ صرف سفر میں نہر پر نماز پڑھانا حضور کا یاد ہے۔
    حضور کی نماز میں رقت
    حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کا جنازہ حضور نے خود پڑھایا تھا۔نماز بہت لمبی پڑھائی۔ حتیّٰ کہ میں کھڑے کھڑے تھک گیا۔ نماز سے کچھ قبل ایک ٹکڑا بادل کا آگیا اور گرد اُڑنے لگی اور نماز کے سارے وقت میں یعنی ابتدائی تکبیر سے سلام پھیرنے تک خوب موٹے موٹے بوند پڑتے رہے اور سلام پھیرنے پر بارش ختم ہوگئی۔ اور تھوڑی دیر بعد آسمان کھل گیا۔ حضور اکثر مستورات کے ساتھ سیر کو تشریف لے جاتے اور جس طرح مرد حضرت اقدس کے ساتھ سیر کو جاتے۔ اسی طرح جب حضور کے ہمراہ حضرت ام المومنین ایدھااللہ ہوتیں تو دیگر مستورات بھی پیچھے ہمراہ ہوتی تھیں۔
    حضرت کو جھگڑے فساد سے نفرت تھی
    ایک مرتبہ جب سید احمد نور صاحب کابلی کا مکان بن رہا تھا اور سکھوں نے حملہ کرکے تعمیر روکی۔ اس پر کچھ لڑائی ہوگئی۔ حضور کو اطلاع پہنچی تو حضور نے فوراً کہلا بھیجا کہ دوستوںکو کہہ دو لڑائی نہ کریں اور صبر سے کام لیں۔ ہم سب لوگ بورڈنگ و مہمانخانہ واپس آگئے۔ اور سکھ گالیاں دیتے ہوئے پیچھے پیچھے آئے۔ حتّٰی کہ ہم سب لڑکے اور دوسرے دوست بورڈنگ اور مہمان خانہ چلے گئے۔ جس کا راستہ اس وقت بورڈنگ کے صحن میں سے بھی تھا۔ایک دو مرتبہ مچھلیاں پکڑنے پر بھی جھگڑا ہوگیا۔ لیکن حضور نے اطلاع ہونے پر یہی ہدایت فرمائی کہ لڑائی نہ کریں اور واپس آجائیں۔
    حضرت کا دشمنوں سے سلوک
    سکھوں سے سید احمد نور صاحب والے مکان کے جھگڑے میں ضمانت طلب کی گئی اور تحصیلدار سختی سے پیش آیا حتّٰی کہ ان کے ہتھکڑیاں لگوا دیں۔ لیکن ان کی معافی مانگنے پر حضور نے معاف کردیا اور ان کو چھوڑ دیا۔
    حضور کو نظم سننے کا شوق
    حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کا جنازہ بطور امانت دوسرے قبرستان میں دفن کیا گیا تھا۔ جب بہشتی مقبرہ کی اراضی خریدی گئیں تو تابوت نکال کر وہاں دفن کیا گیا۔ قبر تیار ہونے میں شاید کچھ دیر تھی سب لوگ حضور کے گرد جمع تھے کہ ثاقب صاحب نے اپنی نظم کا ذکر کیا اور سنانے کی اجازت چاہی۔ حضور بیٹھ گئے اور فرمایا ’’سنائو‘‘۔ پھر وہ دیر تک اپنی نظم جو مولوی صاحب مرحوم کے متعلق لکھی تھی سناتے رہے پھر دفن کرکے سب واپس آگئے۔
    محمد یحیٰ ۳۸۔۳۔۱۷

    روایات
    میاں تصدق حسین صاحب ولد میاں غلام نبی صاحب مرحوم
    موضع ہوجن تحصیل بھلوال
    پتہ سابقہ موضع ہوجن تحصیل بھلوال ڈاکخانہ خاص حال شہر سرگودھا بلاک نمبر۹
    سن بیعت :سال یاد نہیں۔ سیالکوٹ میں حضرت میر حامد شاہ صاحب کے والد بزرگوار کی زندگی میں ان کے مکان پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف فرما تھے۔ وہاں بیعت کی۔ اس کے بعد دوسری دفعہ پھر جب مہاراجہ کی سرائے میں حضور کا لیکچر حضور مولوی عبدالکریم صاحب مرحومؓ نے پڑھا تو میں اس میں شامل تھا۔ یہ بیعت کے بعد کا واقعہ ہے۔ میری بیعت کا سال ( وہ ہے جس سال )کتاب ’’آسمانی فیصلہ‘‘ شائع ہوئی تھی۔
    سن زیارت: یہ بھی سال یاد نہیں ہے جس وقت بیعت کی تھی وہی پہلی زیارت تھی۔ اس کے بعد کئی بار زیارت ہوئی لاہور ‘ قادیان اور دو دفعہ سیالکوٹ۔
    جب میں پہلی دفعہ سیالکوٹ گیا اور حضور میر صاحب کی مسجد میں تشریف فرما تھے۔ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ نے مجھے حضور کی خدمت میں پیش کیا۔ حضرت اس وقت تقریر فرما رہے تھے جس وقت میں نے حضور سے مصافحہ کیا تو میرے پاس کچھ پھل رومال میں بندھا ہوا تھا۔ جو میں نے حضور کے آگے کھول کر رکھ دیا۔ حضور اپنی تقریر میں لگے رہے اور اس طرف خیال نہ کیا۔ میرے دل میں خیال گزرا کہ لوگ کیا کہیں گے کہ اس لڑکے کے نذرانہ کی طرف حضور نے کوئی توجہ نہیں کی ۔ یہ خیال دل میں گزر ہی رہا تھا کہ فوراً حضور نے اس رومال کو اُٹھا لیا اور کسی خادم کے سپرد کردیا۔ میں ۹ ماہ ایک دن وہاں رہا اور بیعت کی درخواست کرتا رہا۔ حضور فرماتے ’’ابھی ٹھہرو‘‘ پھر ایک دن بیعت کے واسطے بلایا گیا۔ حضور اکیلے تھے۔ میں نے بیعت کی۔ جب میں بیعت کرچکا تو میں نے عرض کی کہ حضور مجھے نیک کام دیکھ کر دل کو خوشی ہوتی ہے مگر کمزوری کی وجہ سے ہوتا نہیں۔ حضور نے فرمایا کہ یہ مومن کی نشانی ہے (یا شان ہے؟) کہ وہ نیک کام دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ فرمایا گیارہ دفعہ لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ہر نماز کے بعد پڑھ کر اپنے سینہ پر پھونکا کریں۔
    خاکسار
    تصدق حسین احمدی بقلم خود
    ۳۸۔۳۔۱۴
    کیفیت۔ میرے والد بزرگوار موصی تھے۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے اور مقبرہ بہشتی میں مدفون ہیں۔






    روایات
    فیض احمد صاحب ولد پیر غلام محمد صاحب
    پتہ سابق ۔ رنمل تحصیل پھالیہ ضلع گجرات و پتہ حال ہیڈ کلرک دفتر
    ڈسٹرکٹ انسپکٹر صاحب مدارس ضلع شاہ پور بمقام سرکوئے سرگودھا
    سن بیعت اپریل ۱۹۰۱ء و سن زیارت اپریل ۱۹۰۱ء
    سال یاد نہیں۔ مگر غالباً ۵۔۱۹۰۴ء کا ذکر ہے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر کے لئے باغ کی طرف جارہے تھے اور جہاں لنگر خانہ ہے وہاں سامنے کی طرف سے مرزا خدا بخش ساکن قادیان جو کہ مجنون تھا آیا۔ حضرت صاحب کو دیکھ کر پنجابی زبان میں گویا ہوا۔ ’’سڑ گئیاں سب پوتھیاں تے رہ گیا قرآن‘‘ یعنی تمام پوتھیاں جل گئیں اور صرف قرآن شریف ہی اب باقی رہ گیا ہے۔ یہ سن کر حضور نے فرمایا کہ یہ فقرات قدرت نے اس کی زبان سے نکلوائے ہیں۔ مرزا خدا بخش شہر کو آیا اور حضور مع خدام باغ کو تشریف لے گئے ۔
    ۲۔ ایک دفعہ ایک عیسائی جس کا نام گل محمد تھا بعد نماز شام آیا اور حضرت کے پاس شہ نشین پر جو مسجد مبارک کی چھت پر تھا بیٹھ گیا بہت سے خدام بھی تھے۔ حضور کے ساتھ مذہبی معاملات پر گفتگو کرتا رہا پھر اٹھ کر جانے لگا تو حضور نے دریافت فرمایا کہ اگر ہم نے مزید کسی بات کے لئے آپ کو لکھنا ہو تو آپ کو کس پتہ پر اور کس طرح لکھا جاوے ۔ وہ کہنے لگا کہ مجھے مولوی گل محمد کرکے مخاطب کیا جائے۔ آپ نے فرمایا کہ مولوی تو اسلام کا ایک پاک لفظ ہے۔ یہ ہم کسی غیر مسلم کے لئے نہیں لکھ سکتے ۔ ہاں آپکومسٹر گل محمد کرکے لکھ دیں گے۔
    فیض احمد ۳۸۔۳۔۱۶

    روایات
    حافظ عبدالعلی صاحب ولد حضرت مولوی نظام الدین مرحوم
    پتہ سابقہ ۔ ادرحماں۔ ڈاک خانہ بھابڑہ ۔ تحصیل بھلوال ضلع شاہ پور
    پتہ حال۔ سرگودھا بلاک نمبر ۹ ضلع شاہ پور
    سن بیعت :۱۸۹۳ء ۔سن زیارت :۱۸۹۳ء برموقع مباحثہ مابین عبداللہ آتھم و حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بمقام امرتسر۔
    ۱۔ مباحثہ مذکورہ میں عاجز بھی شامل تھا۔ حضور کو اپنے دعاوی کے اثبات میں قرآن شریف کی آیات از بر یاد تھیں۔ پوری یاد تھیں۔ عاجز اور ایک اور حافظ کا یہ کام تھا کہ حضور کو سیپارہ ‘ سورۃ اور رکوع کا پتہ عرض کردیں۔ غالباًقرآن شریف کھول کر وہ جگہ نکال کر پیش کردیتے۔ عاجز چند دن کے بعد علی گڑھ ایف اے میں داخل ہونے کے لئے چلا گیا۔
    ۲۔ ڈاکٹر مارٹن کلارک والے مقدمہ اقدام قتل میںایک دفعہ حضور کپتان ڈگلس کے سامنے بمقام بٹالہ پیش تھے۔ ظہر کی نماز کا وقت ہوگیا۔ حضور نے نماز پڑھنے کے لئے عدالت سے اجازت چاہی۔ عدالت نے اجازت دے دی۔ حضور بڑے خوش ہوئے اور فرمایا کہ عرصہ (غالباً بیس سال فرمایا) ہوا۔ مجھے ایک خواب آئی تھی کہ میں ایک بادشاہ یا حاکم کے روبرو پیش ہوں۔ نماز کا وقت آگیا ۔ میں نے اس سے نماز کی اجازت چاہی ۔ اس نے مجھے اجازت دے دی۔ آج وہ خواب میری پوری ہوئی۔ میں اس وقت موجود تھا۔
    جب آپ نے یہ ارشاد فرمایا۔
    ۳۔ اسی مقدمہ کے دوران میں آپ گورداسپورہ بمع خدام تشریف رکھتے تھے علی احمد صاحب وکیل کی کوٹھی پر۔ آپ کے اردگرد بہت خدام بیٹھتے۔ آپ خلوت کو بہت پسند فرماتے۔ چھوٹی سی کوٹھی تھی۔ آپ خلوت کے حصول کے لئے چھوٹے کمروں میں تشریف لے جاتے۔
    ۴۔ اسی مقدمہ میں ’’مارٹینو‘‘ (Martinow) مجسٹریٹ ضلع امرتسر نے آپ کے نام وارنٹ گرفتاری جاری کئے۔ اسی اثناء میں وہ مقدمہ عدالت ضلع گورداسپورہ میں قانونی بنا پر تبدیل ہوگیا۔ وارنٹ گرفتاری منسوخ ہوگئے۔ معمولی اطلاع نامہ کے ذریعہ اطلاع یابی ہوئی۔ آپ کو حالات معلوم ہوئے۔ آپ فرماتے ’’کہ راہ خدا میں ہم ہتھکڑی کو سونے کا کنگن خیال کرتے اور خوش ہوتے اور خوشی سے پھنستے‘‘۔ یہ ارشادات آپ نے نچلے گول کمرے میں فرمائے۔
    ۵۔ آپ شام کا کھانا بمع خدام چھوٹی مسجد کے چھت پر تناول فرماتے۔ میں بھی کئی دفعہ پاس بیٹھنے کا شرف حاصل کرتا آپ تھوڑا سا کھانا کھاتے۔
    ۶۔ خفتن ٭کی نماز سے پہلے اور کھانا تناول فرمانے کے بعد اور پہلے آپ چھوٹی مسجد کی چھت پر بمع خدام تشریف رکھتے۔ بہت خادم آپ کے پائوں دباتے۔ آپ نے فرمایا کہ جو لوگ میرے پائوں دباتے ہیں۔ ان کے روحانی حالات مجھے رات کو بوقت دعا معلوم ہوتے ہیں۔ میں ان کے لئے دعا کرتا ہوں۔
    ۷۔ ایک دفعہ موسم گرما میںظہر کی نماز کے وقت آپ تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے۔
    ’’برقت عیون طفلی ٭‘‘۔ اور نہایت وثوق سے فرمایا کہ بشیر (مرزا بشیر احمد صاحب) کی آنکھیں اچھی ہوجاویں گی۔ ان دنوں انکی آنکھوں سے بہت پانی آتا اور ’’گیڈ‘‘ بھی بہت آتی تھی۔ یہ عاجز بھی اس ارشاد کے وقت حاضر تھا۔
    ٭ خفتن کی نماز سے مراد نماز عشاء ہے۔
    ٭ الہام مذکور کے درست الفاظ یوں ہیں ’’برق طفلی بشیر‘‘ یعنی میرے لڑکے بشیر احمد کی آنکھیں
    اچھی ہوگئیں (نزول المسیح‘ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ نمبر ۶۰۸‘ تذکرہ صفحہ ۳۲۷ مطبوعہ ۱۹۶۹ئ)
    ۸۔ ایک دفعہ موسم گرما میں ظہر سے پہلے تخلیہ میںچھوٹی مسجد میں حضور نے مجھ سے ایک کتاب (انگریزی) سنی۔ چند دن کے لئے ایسا ہوا۔ یہ کتاب کسی یہودی نے عیسائیت کے ردّ میں لکھی تھی۔ یہ غالباً ۹۸ئ؁ ٭کی بات ہے۔
    ۹۔ آپ نہایت اعلیٰ اخلاق رکھتے تھے۔ ایک دفعہ بعد از نماز صبح سیر کے لئے باہر تشریف لائے۔ مرزا نظام الدین صاحب کے مکان کے بڑے دروازے کے سامنے ایک چبوترہ تھا۔ وہاں آپ کا ایک غریب اور عاجز سا خادم بیٹھا ہوا تھا۔ نہایت معمولی اس کی پوشاک اور حالت تھی۔ آپ نے اس سے پوچھا ۔ بخار کا کیا حال ہے؟ اس نے جواب دیا۔ حضور! بخار فلاں وقت ہوجاتا ہے۔ آپ خود اندر تشریف لے گئے۔ ایک گلاس دودھ اور ایک گولی کونین لے آئے اور اسے دونوں چیزیں استعمال کے لئے دیدیں۔
    ۱۰۔ آپ کا اسوئہ حسنہ یہ تھا۔ الحب للّٰہ و البغض للّٰہ‘‘ آپ مرزا نظام الدین وغیرہ سے اس لئے قطع تعلق رکھتے تھے۔ کہ ان کا خدا کے ساتھ تعلق نہ تھا۔
    ۱۱۔ آپ نیم خوابیدہ نگاہیں رکھتے تھے۔
    ۱۲۔ میں بوقت خطبہ الہامیہ موجود تھا۔ حضور کی آواز اس وقت بدلی ہوئی تھی ۔ضلع سیالکوٹ کا ایک سید ملہم (خادم حضور) میرے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ فرشتے بھی سننے کے لئے موجود ہیں۔
    ۱۳۔ ضلع شاہ پور سے ایک سکھ بمع اپنے لڑکے کے مٹھہ ٹوانہ موضع سے آیا۔ اس کے لڑکے کو غالباً تپ دق تھا۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب سے دوا کرانے آیا تھا۔ اس کا باپ دعا کے لئے حاضر ہوتا۔ آپ دعا فرماتے۔ آپ کو الہاماً ایک نسخہ معلوم ہوا۔ جو اس پر معرفت حضرت مولوی صاحب استعمال ہوا اور وہ لڑکا شفایاب ہوگیا۔ وہ نسخہ اب تپ دق کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔
    عاجز
    حافظ عبدالعلی
    ۳۸۔۳۔۱۶
    ٭ ۹۸ئ؁ سے مراد ۱۸۹۸ئ؁ ہے۔

    فہرست صحابہ جماعت احمدیہ شہر سیالکوٹ
    نمبرشمار نام سن بیعت کیفیت
    ۱۔ شیر خان صاحب ۱۸۹۴ء
    ۲۔ خان صاحب گلاب خان ۱۸۹۲ء
    ۳۔ منشی عبداللہ صاحب ۱۹۰۴ء
    ۴۔ مولوی الف الدین صاحب ۱۸۹۹ء
    ۵۔ شیخ عنایت اللہ صاحب ۱۸۹۹ء
    ۶۔ بابو محمد نور صاحب ۱۹۰۷ء
    ۷۔ حافظ فتح محمد صاحب ۱۹۰۷ء
    ۸۔ مستری غلام قادر صاحب ۱۹۰۲ء
    ۹۔ میاں عمر الدین صاحب ولد نور محمدصاحب ۱۹۰۴ء
    ۱۰۔ منشی احمد الدین صاحب ۱۸۹۶ء
    ۱۱۔ بابو محمد الدین صاحب پسر مذکور ۱۸۹۶ء
    ۱۲۔ میاں نبی بخش صاحب ۱۹۰۴ء
    ۱۳۔ مستری محمد قاسم صاحب ۱۹۰۵ء
    ۱۴۔ مرزا محمد بیگ صاحب ۱۸۹۶ء
    ۱۵۔ میاں عبداللہ ولد نظام الدین صاحب ۱۹۰۳ء
    ۱۶۔ بابو قاسم الدین صاحب ۱۹۰۴ء
    ۱۷۔ میاں محمد اسماعیل صاحب گوجرانوالیہ ۱۹۰۷ء
    ۱۸۔ مہر امام الدین ولد نور الدین صاحب ۱۸۹۷ء
    ۱۹۔ مہر اما م الدین ولد منصب دار صاحب ۱۹۰۰ء
    ۲۰۔ مہر غلام حسن صاحب ۱۹۰۰ء
    ۲۱۔ مہر عمر الدین صاحب ولد نتھو ۱۹۰۳ء
    ۲۲۔ عمر الدین صاحب ولد چراغ دین صاحب زرگر ۱۹۰۵ء
    ۲۳۔ میاں محمد عبداللہ و کرم دین صاحب ۱۹۰۲ء
    ۲۴۔ شیخ محمد حسین صاحب ۱۹۰۵ء
    ۲۵۔ میاں حسن محمد صاحب گوہدپور ۱۹۰۰ء
    ۲۶۔ میاں غلام حسن صاحب گوہدپور ۱۹۰۷ء
    ۲۷۔ میاں حسن الدین صاحب گوہد پور ۱۹۰۷ء
    ۲۸۔ حافظ محمد شفیع صاحب ۱۸۹۱ء
    ۲۹۔ میاں میراں بخش صاحب ٹھیکیدار ۱۹۰۳ء
    ۳۰۔ مہر امام الدین صاحب پکاگڑہ ۱۹۰۴ء
    ۳۱۔ مستری محمد الدین صاحب میانہ پورہ ۱۹۰۲ء
    ۳۲۔ مستری نظام الدین صاحب ۱۸۹۱ء
    ۳۳۔ مستری محمد الدین صاحب چراغ پورہ ۱۸۹۰ء
    ۳۴۔ حاجی عبدالعظیم صاحب ۱۹۰۴ء
    ۳۵۔ چوہدری فتح علی صاحب ۱۹۰۲ء
    ۳۶۔ میاں حیات محمد ولد محمد عظیم صاحب ۱۸۹۸ء
    خاکسار
    شیر خاں عفی عنہ
    سیکرٹری تعلیم و تربیت
    جماعت احمدیہ شہر سیالکوٹ
    ۳۸۔۵۔۲۷






    روایات
    عبدالعزیز صاحب المعروف مغل ولد میاں چراغ دین صاحب صحابیؓ مرحوم
    پتہ سابقہ ۔ لاہور لنگے منڈی متصل واٹر ورکس
    حال بیرون دہلی دروازہ متصل شاہ محمد غوث صاحب
    احاطہ میاں چراغ دین صاحب مرحوم ۔ مکان: مبارک منزل لاہور
    سن بیعت: دسمبر ۱۸۸۹ء قادیان شریف میں ہی آن کر مسجد مبارک میں بیعت کی۔ صبح کوئی ۹ دس بجے ۔ زیارت ۱۸۸۹ء میں کی۔ بچپن میںجبکہ میں سیکنڈ مڈل میں پڑھتا تھا۔ ان دنوں میرے مطالعہ میں تذکرۃ الاولیا گزری۔ جس پر مجھے اتنا فائدہ ہوا کہ میرا دل یہ چاہتا تھا کہ ان بزرگوں جیسا اگر کوئی آج بھی مل جاوے تو میں ان کی بیعت کروں۔ اور بچپن میں میری بہت زیادہ یہ خواہش ہی رہی ہے۔ کہ اگر آنجناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت خواب میں ہوجائے تو میں ان کے ہاتھ پر بیعت کرکے حضور کے صحابہ میں داخل ہوجائوں۔ ایک دن جبکہ میں ایچی سن سکول سیکنڈ مڈل میں پڑھ رہا تھا تو ہمارے ایک اردو پڑھانے کے استاد تھے جن کا نام مجھے اب یاد نہیں رہا۔ انہو ں نے ’’پیسہ اخبار‘‘ جو ان دنوں دو پیسے کو ملتی تھی منگوائی۔ اس میں انہوں نے یہ خبر ہم کو پڑھ کر سنائی کہ قادیان میں ایک شخص نے مہدی و مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور آگے کچھ بکواس تھی۔ بس یہ خبر میرے دل میں آہنی میخ کی طرح گڑ گئی اور میں نے ارادہ کرلیا کہ کوئی رخصتیں ہوں تو قادیان شریف پہنچنا چاہئے۔ چنانچہ بڑے دن کی رخصتوں پر میں نے والد بزرگوار سے امرتسر جانے کی اجازت مانگی۔ کیونکہ میرا نانا جن کا نام قائم دین تھا۔ وہ امرتسر پٹرنگی کا کام ان دنوں کرتے تھے۔امرتسر تک ریل کا کرایہ چھ آنہ ان دنوں ہوتا تھا۔ اور بٹالہ کا یا۱۱ آنے تھا یا ۱۰ آنے تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد نہیں۔ میں نے امرتسر پہنچ کر اپنے نانا جان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ میرے ساتھ وہ قادیان شریف چلے۔ آخر وہ میرے ساتھ طیار ہوگئے۔ بٹالہ آن کر انہوں نے مجھے ایک تھپڑ رسید کیا۔ جس سے مجھے بخار ہوگیا کیونکہ وہ بڑے قوی ہیکل تھے۔ انہوں نے مجھے کہا تو آپ بھی خراب ہوگا اور مجھے بھی خراب کرے گا۔ ممکن ہے کہ گائوں میں یعنی قادیان میں کوئی جگہ ٹھہرنے کی نہ ملے۔ تو ہم بہت خراب ہونگے۔ خیر! میں جوں توں اسے قادیان (لے آیا)ہم تین سواریاں یکہ پر بیٹھے۔ دو ہم تھے۔ ایک ہندو تھا۔ یکہ والے کو فی سواری پانچ پیسہ قادیان تک دیئے۔ جس وقت ہم یہاں پہنچے جہاں اب مسجد مبارک کی سیڑھیاں ہیں۔ وہاں ایک بڑا تخت پوش بچھا ہوا تھا۔ اس کے پاس ایک انگریز جو پیچھے معلوم ہوا مدراس سے آیا تھا۔ یہ بھی مجھے یاد ہے کہ اس نے اوورکوٹ سیاہ رنگ کا پہنا ہوا تھا۔ نانا صاحب چونکہ پرانے فیشن کے آدمی تھے۔ اس کو دیکھ کر بہت گھبرائے ۔ خیر ! حافظ حامد علی صاحب اس گول کمرہ کے قریب کھڑے تھے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ حضرت صاحب کہاں ہیں؟ وہ مجھ کو اور نانا صاحب کو مسجد اقصیٰ لے گئے۔ جہاں حضرت صاحب چہل قدمی فرما رہے تھے۔ ہاتھ میں چھڑی بھی تھی۔ ذرا اچھی وزن دار تھی۔ حضور نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں۔ مگر پہلے حافظ حامد علی صاحب کو فرمایا کہ ان کے کھانے کا بندوبست کرو۔ میں نے عرض کیا کہ حضور میں نے روٹی کھالی ہے۔ کیونکہ نانا صاحب امرتسر سے ہی میٹھی روٹیاں پکا لائے تھے۔ وہ ہم نے جہاں یکہ والا اتار گیا تھا اس کے آگے ایک کنواں تھا اور کماد اگا ہوا تھا وہاں بیٹھ کر کھا لی تھی اور یہ کوئی عصر کا وقت تھا۔ اس کے بعد حضور نے پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ لاہور سے۔ آپکے والد صاحب کا نام؟ میں نے کہا کہ میاں چراغ دین صاحب ۔ آپ نے فرمایا کہ میں ان کو جانتا ہوں۔ کیونکہ یہ پہلے بشیر اول کے عقیقہ کے موقع پر الٰہی بخش اکائونٹنٹ اور منشی عبدالحق صاحب کے ساتھ قادیان آئے تھے۔ تب سے حضور جانتے تھے۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ تم نے کوئی دین کی کتاب بھی دیکھی ہے۔ میں نے عرض کیا ۔ حضور ’’تذکرۃ الاولیائ‘‘ پڑھی ہے۔ اس کے بعد میاں جان محمد صاحب تھے انہوں نے عصر کی نماز کرائی۔ اور حضور نے اور ہم نے عصر کی نماز پڑھی۔ اس کے بعد حضور ہمیں گول کمرہ میںلے آئے۔ چونکہ کچھ بارش بھی تھی مگر بہت ہلکی اس لئے سردی بہت تھی۔ اس پر حضور اندر سے خود قہوہ لائے۔ اور ساتھ اس کے خطائیاں تھیں۔ یہ جو ہندکی خطائیاں ہوتی ہیں۔ وہ ہم نے کھایا پیا۔ اس کے بعد شام کے بعد حضور اندر سے ہاتھ کی پکی ہوئی روٹی اور ساتھ اس کے آلو گوشت پکا ہوا لائے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آلو ثابت ہی تھے۔ چیرے ہوئے نہیںتھے۔ اس کے بعد حضور نے حافظ صاحب کو حکم دیاکہ خاکسار کو ذرا دباوے۔ کیونکہ مجھے بخار تھا۔ رات کو سوئے ۔ صبح کی نماز سے پہلے حضور تشریف لائے اور ہاتھ میں معمولی ٹین کی لالٹین تھی اور ہم کو جگا دیا۔ صبح کی نماز کے بعد حضور اندر تشریف لے گئے۔ پھر کوئی آٹھ نو بجے کے قریب پہلے اس انگریز نے بیعت کی پھرمیں نے۔ حضور ان دنوں ایک ایک آدمی کو بیعت میں لیتے تھے۔(باقی آئندہ)






    روایات
    منشی عبداللہ صاحب احمدی صحابی محلہ اسلام آباد شہر سیالکوٹ
    بیعت ۴ نومبر ۱۹۰۲ء جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیالکوٹ تشریف لائے۔ انہوں نے بیعت ۱۳ سال کی عمر میں کی۔ اور خواب کے ذریعہ کی۔ مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی سے تعلم کیا۔
    ۱۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیالکوٹ میں اپنے دعویٰ کرنے کے بعد ۴ نومبر ۱۹۰۲ء کو واپس قادیان تشریف لے گئے تو حضور نے ان لوگوں کے نام طلب فرمائے۔ جنہوں نے سیالکوٹ کے احمدیوں کو تکالیف دی تھیں۔ جب نام تحریر کئے گئے تو اس کے چند دن بعد سیالکوٹ میں بہت غلیظ طاعون پھوٹ پڑی تو خدا تعالیٰ قادر و قہار نے چن چن کر ان لوگوں کے خاندانوں کو تباہ کردیا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔
    ۲۔ انہی ایام طاعون کے بارے میں وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مخالف تھا جب اس کو طاعون ہوئی تو اس نے حکیم حسام الدین صاحب کو بلایا۔ آپ نے آکر اس کو صرف اتنا کہا کہ ’’یہ کالا ناگ ہے۔ اسکے نزدیک مت جائو‘‘ جب وہ قریب المرگ ہوا۔ تو بیوی بوجہ محبت اس سے چمٹ گئی۔ اور درحقیقت وہ عورت موت کو مول لے رہی تھی۔ اسی طرح اس کی بچی نے کیا اور اس طرح سے اس کے خاندان کے ۱۹ افراد ہلاک ہوگئے۔
    ۳۔ ایک دفعہ مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے حضور ؑ سے دریافت کیا ’’حضور کیاکبھی آپ کو بھی ریا پیدا ہوا ہے؟‘‘ حضور نے جواب دیا ’’اگر ایک آدمی جنگل میں مویشیوںکے درمیان نماز پڑھ رہا ہو تو کیا اس کے دل میں کبھی ریا پیدا ہوسکتا ہے‘‘۔ مطلب یہ تھا یہ لوگ مثل بے سمجھ جانوروں کے ہیں۔ ان کو انسان بنانے کے لئے حضور تشریف لائے ہیں۔
    بقلم عبدالسلام احمدی پسر
    منشی عبداللہ صاحب احمدی صحابی
    محلہ اسلام آباد‘شہر سیالکوٹ
    ۳۸۔۹۔۱۰

    روایات
    بزبان مولوی الف الدین صاحب محلہ اسلام آباد شہر سیالکوٹ
    ان کی عمر چاند گرہن اور سورج گرہن کے وقت ۱۴ سال کی تھی۔ ان کو تبلیغ مولوی فیض الدین صاحب مرحوم و مغفور اور مہر غلام حسین صاحب کے ذریعے ہوئی۔ اس اثر کے بعد وہ قادیان روانہ ہوئے۔
    تین اشخاص تھے۔ ایک ان میں برہمن بھی تھا۔ برہمن کو راستے میں عیسائیوں نے روک لیا۔ پہلے تو رک گیا۔ لیکن ایک دن کے وقفہ کے بعد آخر قادیان آ ہی پہنچا۔
    ۱۔ جب حضورؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس برہمن نے نجات کا مسئلہ پوچھا۔ حضورؑ نے فرمایا کہ ’’سناتن ۳۶ کروڑ دیوتائوں اور آریہ تین خدائوں اور عیسائی بھی تین خدائوں کے قائل ہیں۔ آپ یہاں ہمارے پاس ٹھہریں اور تحقیقات کریں۔‘‘
    ۲۔ ایک دفعہ چند آدمیوں نے حضور سے دریافت کیا کہ ’’اگر بلی مرغ کا سر لیجائے اور باقی دھڑ باقی رہ جائے اور اس کو ذبح کرلیا جائے۔ کیا کھانا جائز ہے؟‘‘ حضور ؑ نے ایک سفید رومال منہ کے آگے رکھ لیا اور ہنس پڑے۔ مولوی نور الدین صاحبؓ نے فرمایا جائز نہیں۔ ہمارا ارادہ حضور کے کلمات سننا تھا۔ حضورؑ نے فرمایا کہ چار آنے کی مرغی ہے۔
    ۳۔ عبداللہ چکڑالوی کے متعلق فرمایا کہ ’’حضور اکرم صلعم کی احادیث کو تو مانتے نہیں۔ مگر اپنی حدیث بناتے ہیں۔ یعنی قرآن کی جو تفسیر خود کریں وہ ان کو مسلم ہے اور اس کے بغیر ایک قدم آگے نہیں چلتے۔‘‘
    ۴۔ مغرب کی نماز کے بعد مسجد مبارک کے تھڑے پر بیٹھ کر فرمایا کہ ’’نبوت کے متعلق ہم پر تو الزام ہے۔‘‘ انہوں نے گھر گھر میں نبوتیں ایجاد کی ہوئی ہیں۔ کوئی قطب کی طرف اور کوئی نماز کے بعد شیخ عبدالقادر جیلانی کی طرف منہ کرکے پھونکیں مارتا ہے۔

    روایات
    مہر غلام حسن صاحب ۔ اراضی یعقوب شہر سیالکوٹ
    یہ مولوی ابراہیم سیالکوٹی ۔ سید حامد شاہ صاحب‘ مولوی برہان الدین صاحب اور حکیم حسام الدین صاحب کے واقف کاروں بلکہ دوستوں میں سے تھے۔ انہوں نے خوابوں کی بنا پر بیعت کی۔
    قریباً ۱۸۹۴ء کے قریب انہوں نے بیعت کی تھی۔ لیکن قادیان ۱۹۰۰ء میں پہلی دفعہ گئے تھے۔
    ۱۔ ایک دفعہ سیر پرجاتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ سے کسی نے دریافت کیا عقیقہ کے بارے میں‘ فرمایا۔’’ قادیان میں صرف کھالیں بھیج دو‘‘۔
    ۲۔ سیر سے واپس آتے ہوئے ایک آدمی جو کہ ملا بھی تھا اور شاعر بھی۔ اس نے منظوم کلام حضورؑ کے خلاف لکھا تھا۔ معافی مانگنے کے لئے کھڑا ہوگیا۔ حضورؑ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ معاف کردیگا۔ خلوص دل سے معافی مانگو۔‘‘
    ۳۔ راوی بیان کرتا ہے کہ اس کی ایک لڑکی کی آنکھیں خراب تھیں۔ حضورؑ نے فرمایا ’’ نور دین کو کہو۔ کہ کچھ ڈال دے۔‘‘ اس کے بعد وہ لڑکی جتنے سال زندہ رہی۔ اس کی آنکھیں کبھی خراب نہ ہوئیں۔
    ۴۔ ایک دفعہ حضورؑ نے دریافت کیا ’’ کہ سیالکوٹ میں طاعون کا کیا حال ہے؟ ‘‘ میں نے عرض کیا کہ بہت زوروں پر ہے۔ اس پر حضورؑ نے فرمایا ’’ میں نے خواب میں ایک ہاتھی دیکھا جو بہت حلیم تھا۔ جو ہڈیاں چباتا تھا۔ میں نے پوچھا کون ہو؟ جواب دیا۔ طاعون کا فرشتہ۔‘‘ ٭
    ۵۔ ایک دفعہ حضرت مریم ؑ کا ذکر چل نکلا۔ ایک لفظ ’’علیسہ‘‘ آگیا۔ مولوی محمد علی صاحب سے دریافت کیا گیا۔ وہ خاموش رہے۔ حضورؑ نے فرمایا کہ اس میں مریم علیھا السلام کی جوانی کی علامتیں ہیں اور یہ عبرانی لفظ ہے۔‘‘
    ٭ یہ رئویا مفصل رنگ میں نزول المسیح روحانی خزائن جلد 18‘ صفحہ 415 پر درج ہے

    روایات
    مستری غلام قادر صاحب شہر سیالکوٹ

    تاریخ بیعت یاد نہیں۔ ۱۹۰۰ء سے پہلے کی ہے۔
    ۱۔ میرا نعام اللہ کا ایک بازو پوٹاش کی وجہ سے اڑ گیا حضورؑ نے فرمایا ۔ ’’انکو بٹالہ بھیجو۔ لیکن اپنا کوئی آدمی ساتھ ہو۔‘‘
    ۲۔ مسجد مبارک ابتدائی حالت میں تھی کہ مبارک احمد بیمار ہوئے عبدالکریم صاحب مرحوم نے فرمایا ’’حضور تو اس طرح بیماری کا علاج کرتے ہیںجس طرح کہ پرستش کرتے ہیں۔‘‘ لیکن جب مبارک احمد فوت ہوئے۔ تو حضور ؑ نے صرف (انا للہ و انا الیہ راجعون) کہا۔ ایک آدمی نے رونا شروع کیا۔ فرمایا! ’’یہ نظام الدین کا گھر نہیں کہ اس طرح سیاپا کرو‘‘۔
    ۳۔ مولوی عبدالکریمؓ کی وفات پر جبکہ بہشتی مقبرہ کا ابھی انکشاف نہ ہوا تھا حضور پر۔ تو ان کو امانت کرکے دفن کیا گیا۔ پھر بہشتی مقبرہ کا حکم ہوا۔ تو ان کو وہاں پر دفن کیا گیا۔حضورؑ تشریف لائے تو میں نے حضور ؑ کو فرط محبت سے بغل میںلے لیا۔ ایک آدمی نے دریافت کیا۔ یہ کون ہے؟ حضورؑ نے فرمایا ’’یہ سیالکوٹ کا ہے‘‘۔
    ۴۔ حضرت مبارک احمدؓ جب بیمار ہوئے تو ملائی کی برف مانگی۔ جب انہوں نے اصرار کیا۔ تو حضور نے دوسری سادی برف دے کر فرمایا۔ ’’اس کو ملائی کی برف سمجھ کر کھالو۔‘‘

    روایات
    مراد بخش صاحب راجپوت چوہان احمد نگر
    عاجز مراد بخش احمدی ولد سفری ساکن جھانسی شہر حال احمد نگر۔ عاجز نے ۱۹۰۳ء میں راولپنڈی سے خط بیعت کی اور ۱۹۰۷ء قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے دست بیعت کی۔ اور قریبا ً۲ ہفتہ خدمت شریف میں رہا۔ اس وقت کتاب حقیقۃ الوحی حضور نے بدست حضرت مولوی محمد احسن صاحب امروہوی۔ مولوی محمد حسین بٹالوی کو بھیجی تھی۔ میں نے ایک کتاب کے لئے عرض کی۔ تو فرمایا کہ ہمارے پاس جو کتابیں تھیں وہ اب ختم ہیں لیکن ایک کتاب دوازدہ نشان عطا فرمائی اور جس وقت چھوٹی مسجد نور میں بعدنماز ظہر تشریف رکھتے تھے تو عاجز اور ایک اور شخص احمدی جو برما سے آئے تھے۔ ہم دونوں رخصت کے لئے حاضر ہوئے تو اس شخص کے پاس کتاب حقیقۃ الوحی تھی۔ وہ کتاب اس شخص کے ہاتھ سے لے کر فرمایا کہ اس کتاب کو پڑھنا۔ اس سے تمہارا علم وسیع ہوگا۔ اور حضرت مولوی نور الدین خلیفۃ المسیح اول کو مخاطب کرکے فرمایا کہ دیکھو مولوی صاحب یہ شخص کتنی دور سے آئے ہیں۔ پھر فرمایا۔ دیکھو مولوی صاحب یہ شخص کتنی دور سے آئے ہیں۔ پھر ہم کو جانے کی اجازت دی۔
    والسلام
    عاجز
    مراد بخش احمدی
    راجپوت چوہان


    روایات
    نظام الدین صاحب ولد میاں اللہ دتہ صاحب
    سکنہ وچھوکی ڈاک خانہ پھلورہ تحصیل پسرور
    نومبر ۱۹۰۴ء کا واقعہ ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سیالکوٹ تشریف لائے تھے۔ بندہ بھی حضور کی زیارت کے لئے حاضر ہوا۔ غالباً نماز ظہر کے بعد مسجد حکیم حسام الدین صاحب مرحوم میں حضرت نے مندرجہ ذیل نصیحت احباب جماعت کو فرمائی۔
    ’’ لوگ تمہیں جوش دلانے کے لئے مجھے گالیاں دیتے ہیں۔ مگر تمہیں چاہئے کہ گالیاں سن کر ہر گز جوش میں نہ آئیں اور جواباً گالیاں نہ دیں کیونکہ اگر تم انہیں جواباً گالیاں دو گے تو وہ پھر مجھے گالیاں دیں گے اور یہ گالیاں ان کی طرف سے نہیں ہونگی۔ بلکہ تمہاری طرف سے ہونگی۔ بلکہ تمہیں چاہئے کہ گالیاں سن کر ان کو دعائیں دو اور ان سے محبت اور سلوک کرو تاکہ وہ تمہارے زیادہ نزدیک ہوں‘‘۔
    اس کے بعد حضور نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا ذکر فرمایا کہ جب کفار ا ن کو گالیاں نکالتے تھے اور طرح طرح کی تکالیف دیتے تھے تو وہ اس کے عوض ان سے نیکی اور ہمدردی کا سلوک کرتے تھے ایسا کرنے سے بہت سے کفار ان کے حسن سلوک کو دیکھ کر اسلام میں داخل ہوئے۔ پس تمہیں بھی ان کے نقش قدم پر چلنا چاہئے۔
    نوٹ۔ یہ الفاظ حضور کے نہیں۔ میرے ہیں۔ مگر حضور علیہ السلام کی تقریر کا مفہوم یہی قریباً قریباً تھا۔ بندہ اس وقت تک حضرت کی بیعت میں شامل نہیں ہوا تھا۔ دوسرے دن گھر آکر بذریعہ کارڈ بیعت کی۔ بیعت کرنے کے بعد مخالفین نے جو جو کیا۔ وہ میں مفصل پھر لکھوں گا۔ انشاء اللہ
    نظام الدین ولد میاں اللہ دتہ سکنہ وچھوکی
    ڈاک خانہ پھلورہ تحصیل پسرور ضلع سیالکوٹ
    بقلم خود
    ۳۸۔۹۔۱۲

    خاکسار کوائف صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پہلے ارسال کرچکا ہے ۔ تاہم دوبارہ مطلوبہ کوائف حسب ذیل ہیں۔
    ۱۔ حافظ عبدالعلی صاحب بی اے حال بلاک نمبر ۹ سرگودھا ولد میاں نظام الدین صاحب سابقہ سکونت ادر حمہ ضلع شاہ پور ۔سال پیدائش ۱۲۹۰ھ
    تاریخ بیعت حضرت مسیح موعودؑ :۱۸۹۳ئ۔ زیارت حضرت مسیح موعود: ۱۸۹۳ء
    ۲۔ چوہدری تصدق صاحب حال بلاک نمبر ۹ سرگودھا ولد منشی غلام نبی صاحب سابقہ سکونت ہجن ضلع شاہ پور ۔سال پیدائش غالباً ۱۸۷۸ء
    تاریخ بیعت دعوے کے بعد جب پہلی دفعہ حضرت مسیح موعودؑ سیالکوٹ تشریف لائے۔ تاریخ زیارت حضرت مسیح موعودؑ بیعت کے وقت۔
    ۳۔ پیر فیض احمد صاحب حال ہیڈ کلرک محکمہ تعلیم سرگودھا ولد پیر غلام محمد صاحب سابقہ سکونت رنمل تحصیل پھالیہ ضلع گجرات ۔سال پیدائش ۱۸۹۲ء
    بیعت حضرت مسیح موعودؑ :اپریل ۱۹۰۱ء ۔زیارت حضرت مسیح موعودؑ اپریل ۱۹۰۱ء سے ۱۹۰۸ء تک۔
    والسلام
    خاکسار احمد سعید امیر جماعت احمدیہ
    سرگودھا ۳۸۔۹۔۹

    روایات
    عبدالرحمن صاحب احمدی معلم
    چھائونی جالندھر صدر بازار محلہ نمبر ۲۴
    عرض یہ ہے کہ میری عمر ۷۵ برس کے قریب ہے۔ اصل وطن سکنہ روڈے ہے۔ قصور شہر سے جو گاڑی پاک پتن شریف کو جاتی ہے۔ اس کا پانچواں اسٹیشن ریلوے روڈے پیال ہے۔ ۱۸۸۰ء میں میری شادی ہوئی تھی۔ میرے والد صاحب مرحوم کا نام مولوی قمر الدین تھا۔ طالب علم صرف‘ نحو‘ حدیث شریف۔ قرآن شریف کا ترجمہ پڑھتے تھے۔ واعظ بھی مشہور تھے۔ میری شادی پر بہت مولوی صاحبان تشریف لائے۔ سب سے مشہور مولوی عبدالرحمان صاحب مرحوم ولد مولوی حافظ محمد صاحب سکنہ لکھو کے جنہوں نے تفسیر محمدی بنائی ہے۔ ایک ترجمہ فارسی اور دوسرا اردو۔ پھر پنجابی شعروں میں اسی آیت شریف کا ترجمہ کیا گیاہے۔ کتاب احوال الآخرۃ میںمہدی کے نشان گرہن سورج و چاند رمضان شریف میں بیان کیا ہے۔ باپ بیٹا بڑے فاضل اجّل تھے۔ میں بھی کچھ مدّت پڑھتا رہا وہاں۔ مولوی خطیب احمد صاحب جو نور شفاخانہ میں کام کرتے ہیں وہ بھی اس زمانہ میں میرے ساتھ لکھو کے میں پڑھتے تھے۔
    مولوی غلام رسول صاحب گجرات والے بھی وہاں ان دنوں پڑھتے تھے۔ مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم لدھیانوی حکیم محمد عمر صاحب کے والد میرے رشتہ دار اور استاد تھے۔ وہ بھی تشریف لائے۔ انہوں نے براہین احمدیہ سنائی ۔سب آدمی اور عام لوگ بہت خوش ہوئے۔ مولوی عبدالرحمان صاحب لکھوکے والے تو ایسے خوش ہوئے۔ وہیں روپے دے کر کتاب خرید لی۔ شادی ہونے کے بعد پھر مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم میرے گائوں میں آئے اور مجھے جو میںپڑھتا تھاکچھ کچھ سنا۔ کہنے لگے تم لدھیانہ میں میرے پاس آکر پڑھو وہاں طالب علم بہت پڑھتے ہیں۔ زیادہ فائدہ ہوگا۔ تھوڑی مدّت کے بعد میں ایک طالب علم کو ساتھ لے کر لدھیانہ پہنچ گیا۔ پڑھنا شروع کیا۔ قاضی خواجہ علی ٹھیکہ دار شکرموں کے تھے۔ ان کی گاڑیاں مالیر کوٹلہ اور اور جگہ جاتی تھیں۔ مسجد کے قریب ان کی دکان تھی۔ وہ مسجد نواب علی محمد خان صاحب مرحوم کی سرائے میں تھی۔ ان کی دکان پر اکثر لوگ جو حضرت اقدس صاحب مرحوم کو اچھا جانتے تھے۔ آ بیٹھتے تھے۔ اور حضرت ا قدس کی باتیں کرتے۔ میں نے اپنی شادی پر جو ’’براہین احمدیہ‘‘ سنی تھی مجھ کو حضرت صاحب کی زیارت کا شوق ہوگیا۔ میں بھی کبھی کبھی دکان پر جا بیٹھتا اور باتیں سن کر دل خوش کرتا اور دعا کرتا کہ اے میرے مولا کریم ! حضرت صاحب کی زیارت کرانے کے اسباب بنادے۔ تھوڑی مدت کے بعد مشہور ہوگیا کہ لوگ بہت قادیان شریف جائینگے۔ حضرت صاحب کے لڑکا پیدا ہوا ہے۔ بڑی صفتیں لکھی ہیں ۔ شائد وہ اشتہار سبز رنگ کا تھا۔ عقیقہ پر لوگ جائینگے۔ میرے پاس صرف ۸ آنہ کے پیسے تھے۔ میںنے رقعہ قاضی خواجہ علی ٹھیکیدار صاحب شکرمان والے کے پاس لکھا کہ میرے پاس کرایہ نہیں ہے اور میں قادیان شریف حضرت اقدس مرزا صاحب کی زیارت کے واسطے جانا چاہتا ہوں۔ خدا پاک غریق رحمت کرے اور ان کو بخشے۔ جنت میں اس کا گھر کرے۔ انہوں نے لکھا کہ رات کو ہم اس طرف جائیں گے۔ تم کو ایک طرف کا کرایہ میں دے دوں گا۔ ہمارے ساتھ چلنا۔ رات کو گاڑی میں سوار ہوگئے۔ صبح فجر کی نماز کے وقت ہم امرتسر پہنچ گئے۔ بٹالہ پہنچے۔ وہاں سے سب آدمی یکوں میں سوار ہوکر قادیان شریف کی طرف چلے دو میل چلے ہونگے بارش شروع ہوگئی۔ ساون کا مہینہ تھا۔ اسباب لوگوں کا یکوں پر۔ تمام آدمی پیدل چلتے تھے۔ قادیان تک تمام راستہ میں بارش ہوتی آئی۔ مسجد اقصیٰ میں تمام آدمی ٹھہرے۔ تین دن قادیان میں رہے۔ اکثر وقت بارش ہوتی رہی۔ کھانا سب لوگوں نے مسجد میں کھایا۔ تین دن مسجد میں ٹھہرے رہے۔ یہ یاد نہیں رہا۔ کہ جس دن ہم قادیان پہنچے وہ دن جمعہ کا تھا یا اور دن۔ جمعہ کے دن جب لوگ مسجد میں آنے شروع ہوئے جمعہ پڑھنے کے واسطے ۔ تو جو اچھی شکل کا آدمی آتا تھا۔ میں دل میں کہتا تھا کہ یہ حضرت مرزا صاحب ہوںگے جب آپ تشریف لائے تو بارش ہورہی تھی۔ پیٹی گرم کا کوٹ آپ نے پہنا ہوا تھا۔ سبز صافہ سر پر تھا۔ سب لوگ دوڑکر مصافحہ کرنے لگے۔ میں نے بھی کیا۔ جمعہ ہونے کے بعد آپ بیٹھے رہے باتیں ہوتی رہیں۔ تین دن کے بعد جب رخصت چاہی لوگوں نے تو پھر مصافحہ کیا۔ لدھیانہ پہنچ گئے۔ ۱۸۸۸ء میں لدھیانہ سے میں چھائونی جالندھر آیا۔ ایک مسجد کشمیری میں مؤذن مقرر ہوا۔ ۱۸۹۲ء میں مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم میرے پاس لدھیانہ سے چھائونی جالندھر آئے اور ذکر کیا کہ میں نے ایک کتاب میں دیکھا ہے کہ بزرگوں کی بہت صفتیں لکھی ہیں۔ پھر وہ کتاب والا لکھتا ہے کہ اگر مجھ کو وہ صفتوں والا بزرگ کا پتہ مل جاوے تو میں اس کی زیارت کے واسطے گھٹنوں کے بل رہڑ رہڑ کر جائوں۔ پیدل نہ جائوں۔ وہ تمام صفتیں مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی میں پائی جاتی ہیں۔ یہ سن کر مجھ کو بہت شوق ہوا۔ میں نے کہا مولوی صاحب مجھ کو ان کی زیارت کرائو۔ مولوی صاحب نے کہا کہ میں ابھی رمضان شریف میں ہوکر آیا ہوں۔ اب تو سال کے بعدجائوں گا۔ میں نے کہا جو ہرجانہ آپ کا ہوگا وہ بھی دونگا اور کرایہ آنے جانے کا بھی دونگا۔ مجھ کو جلد لے چلو۔ اور زیارت کرائو۔ مولوی صاحب اور میںنے گنگوہے دیکھا۔ مولوی صاحب نے مجھ کو کہا تم ان کے مرید ہوجائو ۔ میں نے کہا۔ میرا دل نہیں چاہتا۔میں اور مولوی صاحب دیوبند کا مدرسہ دیکھتے ہوئے واپس آگئے۔ پھر اس واقع کے بعد مولوی صاحب مجھ کو ملتے رہے۔ ۱۸۹۷ء میں مولوی صاحب نے قادیان شریف سے مجھ کو لکھا کہ میں نے مولوی رشید احمد صاحب کی بیعت توڑ دی ہے اور حضرت اقدس مرزا صاحب کا مرید ہوگیا ہوں۔ تمہارا دل چاہے تو جلد آئو میں جلد پہنچ گیا۔ حضرت اقدس صاحب مرحوم کے ہاتھ پر بہت لوگوں کے ہاتھ بیعت کے وقت ہوئے تھے۔ میں دعا کرتا تھا کہ میرا ہاتھ حضرت اقدس صاحب کے ہاتھ کے ساتھ مل جاوے۔ اور کا ہاتھ نہ ہو۔ فجر کی نماز کے بعد پوچھا گیا۔ کوئی بیعت کرنیوالا ہے۔ کسی نے کہا دو آدمی ہیں۔ ایک کشمیری تھا وہ اس وقت کہیں چلا گیا۔ مولوی صاحب نے مجھ کو حضرت اقدس صاحب کے پیش کیا کہ یہ مرید ہونے والا ہے۔ حضرت صاحب نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہاتھ کے ساتھ ملالیا۔ جو وہ زبان مبارک سے فرماتے گئے میں بھی کہتا گیا۔ جو شرائط بیعت کی تھیں اور دعائیں۔ اس طرح میرا ہاتھ حضرت اقدس صاحب کے ہاتھ کے ساتھ ملا۔ اور کا ہاتھ نہ تھا۔ یہ میری دعا خدا پاک نے قبول کرلی اپنے فضل و کرم سے۔
    لڑکے میرے پاس غیر احمدیوںکے پڑھتے تھے۔ گزارا اچھا ہوتا جاتا تھا۔ تنخواہ کوئی مقرر نہ تھی۔ لڑکے کچھ دے دیتے تھے۔ اب چار سال سے احراریوں کے اثر میں آکر لوگوں نے لڑکے اٹھالئے۔ اب گزارہ مشکل سے ہوتا ہے۔ کرایہ مکان کا دینا ہر ماہ ہوتا ہے۔ کئی دن فاقہ ہوتا ہے۔ پیسہ مل گیا تو کھالیا۔ نہیں تو فاقہ ہوگیا۔ توکل خدا پاک پر بیٹھا رہتا ہوں۔ وہ اپنے فضل سے جب چاہتا ہے ضروریات بھیج دیتا ہے شکر ہے خدا پاک کا ہر حال میں۔ کئی لوگ مجھ کو کہتے ہیں کہ تم قادیان چلے جائو۔ حضرت اقدس صاحب کے پاس عرض کرو خدا پاک ان کے دل میں محبت ڈال دیگا تو وہ تم کو مکان رہنے کے واسطے دلوادیں گے اور لنگر خانہ سے کھانا مقرر کرادینگے۔ تمہاری زندگی کے دن اچھے گزر جاویں گے۔ خداپاک کو منظور ہوگا تو وہ اپنے فضل و کرم سے اسباب بنادے گا۔ جو آپ کی مرضی مبارک میں آوے۔ جواب تحریر فرمادیں۔ یہاں بابو فضل الدین صاحب اوورسیئر۔ ماسٹر فقیر محمد صاحب ڈپٹی پوسٹماسٹر صاحب ڈاک خانہ کے رہتے ہیں۔ بشارت احمد صاحب اور دو تین آدمی رہتے ہیں۔ بابو دکاندار پر نفسی نفسی پڑی ہوتی ہے کوئی کسی کی خبر نہیں لیتا۔
    پہلے میں اخبار ’’الحکم ‘‘منگاتا رہا۔ پھر ’’بدر‘‘ اخبار پھر ’’فاروق‘‘ اخبار پھر ’’الفضل‘‘ اخبار۔ بابو عبدالعزیز صاحب پنشنر ہیڈ کلرک تھے چھائونی میں بابو فرزند علی صاحب کے بھائی۔ محمد یامین صاحب کتاب فروش مجھ کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ مولوی غلام نبی صاحب ایڈیٹر اخبار الفضل کے بھی میرے حالات سے اچھی طرح واقف ہیں جو کچھ آپ کی مرضی مبارک میں آوے۔ جو اب ضرور مجھ کو ملے۔ بہشتی مقبرہ میں میں نے ایک سو روپیہ دیا تھا۔ وصیت کا شائد ۱۲ یا پندرہ برس ہوگئے ہیں۔
    مرسلہ
    فقیر عبدالرحمن معلم
    چھائونی جالندھر صدربازار محلہ نمبر ۲۴


    روایات
    غلام محمد امیر جماعت ہائے احمدیہ تحصیل نارووال
    سکنہ پوہلہ مہاراں ضلع سیالکوٹ
    ۱۔ سال ۱۹۰۴ء میں خاکسار بہمراہی بھائی کریم بخش ٹھیکہ دار سکنہ محلہ دارالرحمت قادیان لاہور پہنچے۔ دہلی دروازہ کے قریب جاکر حضرت مسیح موعودؑ کی قیام گاہ کا پتہ جن سے پتہ کیا وہ نانبائی دکاندار تھا۔ اس نے سنتے ہی حضرت صاحب ممدوح اور ہم خاکساران کو بہت کوسا۔ اور ساتھ ہی کہا کہ کرم دین کے مقدمہ میں چار دن تک دیکھنا۔ مرزا صاحب جیل خانہ میں جاکر بان بانٹیں گے (وان وٹینگے) جائو شاہ محمد غوث کے پاس اترا ہوا ہے۔ پھر خاکسار ان مقام مذکور پر پہنچے۔ جاکر دیکھا کہ غالباً میاں چراغ دین و معراج دین کے مکانات پر حضور قیام فرما ہیں۔ ان مکانات کے دروازے سڑک کی جانب ہیں۔ خاکسار ان کو دیکھ کر حضرت خلیفۃ المسیح اولؓ کھڑے ہوگئے۔ خاکسار ان ناواقف تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح اولؓ نہایت مہربانی اور اخلاق سے ملے اور مصافحہ کیا۔ پانچ و سات آدمیوں کا مجمع تھا۔ سوال و جواب دیگر صاحبان میں ہوتے رہے۔ خاکساران نے کوئی بات نہ کی۔ رات وہیں گزاری۔ اگلے دن جہاں اب مسجد احمدیہ بنائی گئی ہے وہاں طبیلہ ہی تھا۔ اس طبیلہ کی چھت پر مولوی برہان الدین صاحب مرحوم جہلمی نے صبح کی نماز پڑھائی۔ نماز کے بعد اس طبیلہ کے پاس کھلی جگہ تھی۔ نو یا دس بجے دن کے قریب دو کرسیاں بچھائی گئیں۔ ایک پر حضور مسیح موعودؑ جلوہ افروز ہوئے اور دوسری پر میاں معراج دین صاحب تشریف فرما ہوئے۔ پھر باری باری لوگوں نے مصافحہ کیا۔ پھر پچھلے پہر دن کے حضرت مسیح موعودؑ نے میاں معراج دین صاحب کے چوبارہ پر جہاں حضور آرام فرما تھے۔ بیعت کنندگان کو بلایا۔ ہر دو خاکسار ان حضور میں حاضر ہوئے۔ حضور چوبارہ میں ایک سادہ چارپائی پر جس کے چھوٹے چھوٹے پائے تھے آرام فرما ہیں۔ پائوں زمین پر ہیں۔ نگاہ نیچی ہے۔ رعب تھا۔ کوئی بات نہ کرسکے۔ دست مبارک پر بیعت کی۔ پھر دعا فرمائی گئی اور ہر دو خاکسار ان نیچے اتر آئے۔ ایک آدھ دن وہیں ٹھہرے۔ ان دنوں ہی حضرت مسیح موعودؑ کا لیکچر لاہور ہوتا تھا۔ اشتہارات چسپاں کئے جاتے تھے۔ چنانچہ چوہدری اللہ دتہ مرحوم نمبردار موضع میانوالی خانا نوالی تحصیل نارووال نے لیئی (لیوی) کی دیگچی سر پر اٹھائی ہوئی تھی اور وہ شہر لاہور میں جابجا اشتہار چسپاں کررہے تھے۔ مخالفین نے زدوکوب کیا ۔ چوہدری صاحب مرحوم اشتہارچسپاں کرتے مخالفین پھاڑ دیتے اور گالیاں نکالتے۔ ان دنوں کا واقعہ ہے کہ جن مکانات میں حضورؑ قیام فرما تھے۔ اس کے پاس گول سڑک پر ٹالیاں (شیشم) تھیں۔ ایک مولوی مخالف جسے ’’مولوی ٹاہلی‘‘ کے نام سے پکارتے تھے۔ صرف پاجامہ ہی اس نے پہنا ہوا تھا۔ نہ گلے میں اور سر پر کوئی کپڑا تھا۔ بد حواس گالیاں دے رہا تھا اور ٹاہلی پر چڑھ کر ہر روز بکواس کرتا تھا۔
    گواہ شدہ و راقم العبد
    سید محمد حسین احمدی موصی قانونگوئی (چوہدری) غلام محمد امیر جماعت ہائے احمدیہ
    بدوملہی بقلم خود تحصیل نارووال ضلع سیالکوٹ
    بقلم خود سکنہ پوہلہ مہاراں
    ۲۔ ۳ یا ۴ /اکتوبر ۱۹۰۴ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام شہر سیالکوٹ تشریف لائے۔ اور مہاراجہ جموں والی سرائے میں لیکچر دیا جو چھپ چکا ہوا ہے۔ اور لیکچر سیالکوٹ کے نام سے مشہور ہے۔ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے یہ لیکچر پڑھا۔ اسی روز کا واقعہ ہے ۔ عصر کے بعد سیدحامد علی شاہ صاحب مرحوم کے مکان پر جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام قیام فرما تھے۔ شاہ صاحب مرحوم کے مکان کے چھت کا الحاق مسجد کے چھت کے ساتھ ہے۔ وہاں ایک دروازہ ہے اس دروازہ پر حضرت مسیح موعودؑ نے کھڑے ہوکر مختصر تقریر فرمائی۔ ساری تقریر تو یاد نہیں۔ اس میں ایک مثال یہ تھی کہ حضرت صاحب نے فرمایا’’ کہ سامنے دیوار پر جو دھوپ نظر آرہی ہے اس کی اور ہماری مثال ایک سی ہے۔ یعنی دھوپ سورج نہیں کہلا سکتی مگر یہ سورج سے جدا بھی نہیں ہے۔ ایسا ہی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کااور ہمارا تعلق ہے‘‘۔
    راوی العبد گواہ شد و راقم
    (چوہدری) بقلم خود غلام محمد مذکور سید محمد حسین احمدی قانونگوئی۔ بدوملہی
    ۳۔ جلسہ سالانہ ۱۹۰۴ء میں شمولیت کے لئے خاکسار بمع دیگر احمدیان چوہدری محمد سرفراز خان غیر مبائع سکنہ بدوملہی و میاں چراغ دین مرحوم ستواڑہ چوہدری حاکم سکنہ منگولہ‘ سائیں سندر سکنہ چندر کے جٹاں یہاں سے چلے۔ (گویا پوہلہ مہاراں اور دیگر ملحقہ دیہات سے) اجنالہ تک پیدل گئے۔ اجنالہ سے ٹمٹم پر سوار ہوکر امرتسر گئے۔ امرتسر سے گاڑی پر سوار ہوکر رات گیارہ ‘ بارہ بجے بٹالہ میں اترے۔ ایک سیّد غیر احمدی کی مسجد میں شب باشی کی۔ رات کو روٹی نہ ملی بھوکے رہے۔ علی الصباح بٹالہ سے پیدل قادیان دارالامان روانہ ہوئے۔ خدا کے فضل سے دارالامان پہنچے۔ تو حضرت مسیح موعودعلیہ السلام ایک دالان میں تقریر فرما رہے تھے۔ (جہاں اب مرزا بشیر احمد صاحب کا مکان رہائشی ہے۔ یہیں پہلے مہمان خانہ ہوتا تھا) تقریر سورہ بقرہ رکوعٖ نمبر 1و سورئہ دھر کی تفسیر تھی۔ نفس اماّرہ۔ نفس لواّمہ۔ نفس مطمئنہ کی تشریح تھی۔ یعنی نفس امارہ وہ ہوتا ہے جب انسان گناہ ہی کرتا ہے تو نفس اماّرہ غالب ہوتا ہے۔ نفس لواّمہ گناہ بھی کراتا ہے اور نیک کام بھی۔ اور بعض بعض دفعہ نفس اماّرہ اور نفس لواّمہ کی باہمی لڑائی رہتی ہے۔ کبھی گناہ کی حالت غالب کرلیتی ہے۔ کبھی نیکی کی۔ نیکی غالب ہوجانے پر نفس مطمئنہ حاصل ہوجاتا ہے۔ انسان گناہ نہیں کرتا۔ بلکہ نیکی سے ہی واسطہ رہتا ہے۔ نفس اماّرہ و نفس لواّمہ کی کشتی ہوتی ہے۔ کبھی وہ اوپر ہوتا ہے کبھی وہ نیچے۔ کبھی وہ اوپر ہوتا ہے۔ کبھی وہ نیچے۔ اس کے بعد آیت ’’اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ کَائْ ٍس‘ کَانَ مِزَاجُھَا کَافُوْراً O تلاوت فرمائی کہ جس طرح کافوری شربت ٹھنڈک پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح جب نفس مطمئنہ حاصل ہوجاوے۔ اطمینان ہوجاتا ہے۔ نیز آیت ’’وَیُسْقَوْنَ فِیْھَا کَائْ ساً کَانَ مِزَاجُھَا زَنْجَبِیْلاً O جس طرح زنجبیل کا شربت لذیذ ہوتا ہے ایسا ہی نفس مطمئنہ حاصل ہوجانے پرنیکی کی لذت حاصل ہوجاتی ہے۔ بدی کی طرف خیال بھی نہیں جاتا۔
    آپ کا لباس
    گلے میں پوستین۔ سرخ لوئی ‘ سر پر ٹوپی رومی پگڑی کے درمیان۔ چمڑہ کی جوتی جس کا ایک ’’اڈا‘‘ بٹھا دیا ہوا تھا (ایسا معلوم ہوتا تھا کہ تنگ جوتا کو آپ ناپسند فرماتے۔ اور ’’اڈا‘‘ بٹھا لیتے) جب تقریر سے فارغ ہوئے تو باوجود آٹھ پہر فاقہ کشی کے کوئی تکلیف نہ تھی نہ ہی بھوک تھی حضور کی تقریر نے سیر کردیا تھا اس وقت جمعہ کی اذان ہورہی تھی میں حضور کے ساتھ تھا ایک دوست آئے انہو ں نے عرض کیا کہ حضور اذان جمعہ ہورہی ہے دوستوں نے روٹی بھی کھانی ہے کیا کیا جاوے۔ تو حضور نے فرمایا کہ پہلے طعام پھر کام۔
    العبد راوی گواہ شد
    غلام محمد مذکور (چوہدری) سید محمد حسین مذکور
    ۴۔ اگلے روز احمدیہ چوک بازار میں ایک دوست نے مولانا عبدالکریم صاحب مرحوم کی وفات اور حالات پر نظم پڑھی تو حضور اوپر سے سیر کے لئے تشریف لائے مسجد مبارک کے راستے سے تو نظم پڑھنے والے کو فرمایا کہ مولوی صاحب کی عمر ۴۷ سال کی تھی اس کا ذکر بھی اس میں کیا جاوے۔
    العبد راوی گواہ شد
    بقلم غلام محمد مذکور(چوہدری) سید محمد حسین مذکور
    ۵۔ سال ۱۹۰۴ء جلسہ سالانہ کے دنوں کا واقعہ ہے کہ مولانا عبدالکریم صاحب مرحوم کی نعش جو کہ صندوق میں پرانے قبرستان میں دفن تھی لائی گئی اور مقبرہ بہشتی میں پہنچائی۔ میر حامد شاہ صاحب مرحوم سیالکوٹی اور دیگر احباب صندوق باری باری اٹھا کر لائے ۔ میں نے اور دیگر احباب نے قبر کھودی (یہ قبر پہلی تھی مقبرہ بہشتی میں اور کوئی احمدی دفن نہیں ہوا تھا) میر حامد شاہ مرحوم نے مرثیہ پڑھا۔ پڑھتے وقت وہ زار زار رو رہے تھے حضرت مسیح موعودؑ زمین پر ہی بیٹھے ہوئے تھے۔ خاکسار اور دیگر احمدی بیٹھے سن رہے تھے پھر حضرت مسیح موعودؑ نے جنازہ پڑھا۔
    العبد راوی گواہ شد
    چوہدری غلام محمد مذکور سید محمد حسین مذکور
    ۶۔ جلسہ سالانہ ۱۹۰۵ یا جلسہ سالانہ ۱۹۰۶ء کا واقعہ ہے کہ جلسہ سالانہ پر گئے۔ سیالکوٹ ضلع کی طرف سے میر حامد شاہ صاب مرحوم سیالکوٹی و چوہدری مولا بخش صاحب مرحوم سیالکوٹی نے مشورہ کیا کہ شہر سیالکوٹ اور مفصلات سیالکوٹ کا چندہ یکجا کیا جاوے اور پھر خاص طور پر پیش کیا جاوے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا تمام جماعت ضلع سیالکوٹ مسجد مبارک کی چھت پر جمع ہوئی سات سو (۷۰۰) روپیہ کے قریب چندہ جمع ہوا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تشریف آوری کے لئے عرض کی ‘کرسی بچھائی گئی حضور تشریف لائے اور کرسی پر جلوہ افروز ہوئے۔ میر حامد شاہ صاحب مرحوم نے رقم پیش کی حضور نے رقم جیب میں ڈال لی ۔ شاہ صاحب نے عرض کیا کہ چندہ شہر سیالکوٹ اور مفصلات کی طرف سے ہے کیونکہ شاہ صاحب نے چندے کی وصولی کرتے وقت ہر ایک جماعت عہدہ دار سے وعدہ کیا ہوا تھاکہ حضرت صاحب سے مصافحہ کرایا جاویگا۔ حضور فوراً ہی اندر تشریف لے گئے اور کوئی جواب نہ بخشا ۔ نگاہ نیچی رہی۔ (حضور کے جواب نہ بخشنے سے یہی نتیجہ اخذ ہوتا تھا کہ حضور ریا نہ چاہتے تھے بلکہ کام کی روح چاہتے تھے)
    العبد راوی گواہ شدہ
    غلام محمد مذکور چوہدری سید محمد حسین مذکور
    ۷۔ ۱۹۰۶ء بھادروں میں خاکسار بمع بابا حاکم دین سکنہ قلعہ صوبہ سنگھ مؤذن مرحوم۔ بھائی محمد قاسم مؤذن منگولہ مرحوم۔ چوہدری اللہ دتہ صاحب مرحوم ۔ سکنہ میانوالی خانانوالی پیدل چل کر نارووال شکار پور سیکھواں سے ہوتے ہوئے دارالامان پہنچے۔ ایک روز مسجد مبارک میںحضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے۔ خاکسار نے دو روپیہ کا نذرانہ پیش کیا تو حضورؑ نے نگاہ اٹھا کر خاکسار کی طرف دیکھا اور فرمایا آپ کا کیا نام ہے ؟ میں نے عرض کیا حضور میرا نام غلام محمد ہے (جس نظر سے حضور نے خاکسار کو دیکھاوہ بجلی کی طرح میرے جسم میں سرایت کر گئی اور اسی کی سب برکت ہے۔ اب بھی جب وہ واقعہ یاد آتا ہے تو دل میں بے حد خوشی اور سرور محسوس کرتا ہوں) اور بقول میاں بشیر احمد صاحب ایم۔ اے لخت جگر حضرت مسیح موعود ؑ موافق حال شعر ہے۔
    گناہ گاروں کو اپنی اک نظر سے پاک کر ڈالے
    خدا سے پھر ملائے جو وہ مرد باصفا تو ہے
    گویا ۷۰۰ روپیہ نذرانہ کی تو پرواہ تک نہیں۔ حقیر رقم ۲ روپیہ کی اس قدر عزت فرمائی کہ بیڑا پار کردیا۔ الحمدللہ۔
    ۸۔ اسی مجلس میں ایک دوست تشریف لائے۔ اور حضرت مسیح موعود کی خدمت میں عرض کیا کہ’’ حقہ شراب جیسا ہے؟‘‘ تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’شراب سے کم ہے‘‘۔ میں اس وقت حقہ پیتا تھا۔ چھوڑنے کا ارادہ کیا۔
    العبد راوی گواہ شد
    چوہدری غلام محمد مذکور بقلم خود سید محمد حسین مذکور
    ۹۔ اس سے اگلے روز کا واقعہ ہے کہ نماز ظہر کے لئے وضو کرکے مسجد مبارک میں ہر چہار گئے (کیونکہ مسجد مبارک چھوٹی تھی اس لئے پہلے چلے گئے) حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو سب سے مغرب کی طرف دریچہ ہے اس ’’تاکی‘‘ سے گھر سے تشریف لائے اور آتے ہی فرمایا کہ مولوی صاحب کو بلائو۔ مفتی صاحب کو بلائو۔ کوئی دوست دوڑتے ہوئے گئے۔ تھوڑا ہی عرصہ گزرا۔ کہ حضرت خلیفۃ المسیح اوّل پگڑی کو بغل میں لئے دوڑتے ہوئے ننگے سر ہی تشریف لے آئے۔ (گویا اطاعت میں ذرا سا توقف نہ کیا) پھر مفتی صاحب بھی تشریف لے آئے۔ پھر ماسٹر عبدالرحمان صاحب سابق مہر سنگھ ایک انگریزی اخبار پڑھ کر سناتے رہے۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت خلیفۃ المسیح اوّل و حضرت مفتی صاحب باہمی باتیں کرتے رہے جن کا علم نہیں۔ازاں بعد حضرت خلیفۃ المسیح اول پیش امام ہوئے ۔ نماز ظہر پڑھی گئی۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اگلی صف میں مقتدیوں میں کھڑے ہوگئے۔ جب حضورؑ بعد فراغت واپس گھر چلے تو میرے ساتھی بابا حاکم دین مرحوم نے حضرت مسیح موعودؑ سے عرض کیا کہ حضور ہندوئوں کے گھر کا کھانا جائز ہے کہ نہیں؟ حضور نے فرمایا ’’جائز ہے‘‘ ۔حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم بھی پاس تھے۔ انہوں نے جوش سے فرمایا کہ یہ لوگ مٹھائیاں‘ دودھ ان سے پیتے ہیں اب پوچھتے ہیںکہ کھانا جائز ہے کہ نہیں؟
    العبد راوی گواہ شد
    (چوہدری) غلام محمد مذکور بقلم خود سید محمد حسین مذکور
    ۱۰۔ اگلے روز کا واقعہ ہے کہ چوہدری اللہ دتہ مرحوم نمبردار میانوالی خانانوالی نے اپنی بیوی کے حج کے متعلق شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی سے ذکر کیا کہ وہ حج تو کر آئے ہوئے ہیں ان کی بیوی کے حج کرنے کے متعلق حضرت مسیح موعودعلیہ السلام سے ذکر کیا جاوے۔ عرفانی صاحب نے کہا کہ میں حضرت مسیح موعودؑ سے دریافت کرلیتا ہوں۔ اسی وقت عرفانی صاحب نے اپنی قلم سے رقعہ لکھا کہ حضورؑسے چوہدری اللہ دتہ نمبردار اپنی بیوی کے حج کے لئے کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں۔ حضورؑ کی طرف سے اسی رقعہ کی پشت پر جواب ملا کہ جبکہ ہم کو مکہ کے علماء واجب القتل سمجھتے ہیں تو پھر ہم پر حج فرض نہیں ہے۔ وہ رقعہ چوہدری اللہ دتہ صاحب مرحوم کے پاس ہی رہا تھا۔
    العبد راوی گواہ شد
    چوہدری غلام محمد مذکور بقلم خود سید محمد حسین


    روایات
    منشی سر بلند صاحب ہیڈ منشی دفتر نہر ڈویژن مظفر گڑھ
    اس عاجز نے ورنیکلر مڈل سکول ۱۹۰۱ء میںپاس کیا تھا اور اس کے بعد میں اپنے چچا صاحب مرحوم منشی گوہر علی صاحب احمدی (جونہرسدہ تحصیل کبیروالہ ضلع ملتان میں پٹواری نہرتھے) کے پاس چلا گیا۔ چچا صاحب مرحوم اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی تھے۔ اور ان کے پاس اخبار ’’الحکم‘‘ آیا کرتا تھا۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصینفات کردہ کتب بھی تھیں۔ جن کومیں مطالعہ کیا کرتا تھا۔ گو میں اصل باشندہ خاص کوٹلہ افغاناں تحصیل شکر گڑھ ضلع گورداسپور کا باشندہ تھا۔ اور صرف اتنا سنا ہوا تھا کہ امام مہدی علیہ السلام آگئے ہوئے ہیں۔ مگر یہ کوئی پتہ نہیں تھا کہ کہاں آئے ہوئے ہیں؟ اور نہ ہی کوئی مذہبی معاملات سے دلچسپی تھی۔ اخبار ’’الحکم ‘‘اور کتب کے مطالعہ سے چونکہ طبیعت میں انکساری اور خوف خدا کا مادہ تھا دل یہی چاہتا تھا کہ فوراً بیعت کرلینی چاہئے۔ دوسری طرف ملانوں کا شور و غوغا اور مخالفت بھی زوروں پر تھی اور چنداں مذہب کی واقفیت نہ تھی اور قرآن شریف سے اس سے پہلے بالکل نا آشنا تھا۔ میرے چچا صاحب مرحوم نے ایک ملاں ضعیف العمر اپنی لڑکیوں کی تعلیم کے واسطے رکھا ہوا تھا۔ جس کو اردو پڑھنا نہیں آتا تھا۔ اس کے ساتھ میں نے سمجھوتہ کرلیا کہ میں آپ کو اردو پڑھایا کرونگا۔ آپ مجھے قرآن شریف پڑھایا کریں۔ چنانچہ میں مکتب میں چلا جاتا اور چھوٹے چھوٹے بچوں سے قرآن شریف سنتا رہتا۔ اور خود بھی ملاں صاحب سے پڑھتا رہتا۔ چنانچہ میں نے قرآن شریف ختم کرلیا۔اور حضرت چچا صاحب مرحوم کے پاس تفسیر محمدی حافظ محمد لکھوکے والے کی تصنیف تھی۔ اس کو مطالعہ کرتا رہتا اور کچھ فقہ کی کتب حضرت چچا صاحب مرحوم نے لڑکیوں کو پڑھانے کے واسطے منگوائی ہوئی تھیں ان کو پڑھتا رہتا ۔ حتّٰی کہ مجھے دینی شوق دن بدن بڑھتا گیا
    اور جوں جوں سلسلہ احمدیہ سے واقفیت ہوتی گئی۔ توں توں خیالات بھی وسیع ہوتے گئے اور ملانوں کے ساتھ تبادلہ خیالات ہوتا رہا اور اگر میرے دل میں کوئی اعتراض پیدا ہوتا تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ’’اخبار الحکم‘‘ میں انہیں اعتراضات کا حل آجاتا۔ اور میرا ایمان مضبوط ہوتا گیا۔ سال ۱۹۰۲‘۱۹۰۱ء مَیں بے کار رہا اور کوئی ملازمت کا سلسلہ بھی نہ بنا اور یہی شوق مطالعہ کتب و اخبار رہا۔ گو میرا حافظہ ایسا نہیں تھا کہ ہر ایک بات کو یاد رکھتا اور باوجود اس کے کہ میرا علم کچھ بھی نہ تھا۔ مگر مخالفوں کی باتوں کا اس پر بالکل اثر نہیں ہوتا تھا۔ غالباً شروع سال ۱۹۰۳ء میں میں نے خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا تھا اور بیعت بھی کی تھی جس سے شوق زیارت بڑھتا گیا اور میرے چچا صاحب مرحوم نے کوشش کرکے محکمہ نہر میں بعہدہ پٹواری نہر سال ۱۹۰۳ء میں ملتان میں ملازم کرادیا اور میری تقرری بعہدہ پٹواری نہر شجاع آباد میں جولائی ۱۹۰۳ء کو ہوگئی۔ اتفاق سے میں ملازم ہوا ہی تھا کہ حکم آگیا کہ ان کو ٹریننگ پٹوار نہرکے لئے امرتسر بھیجا جائے اور میں سال ۱۹۰۱ء سے ۱۹۰۳ء تک گھر بھی نہیں گیا تھا اور قادیان جانے کا شوق بھی ضرور تھا۔چنانچہ احکام جاری ہوگئے اور مجھے امرتسر دوم ڈویژن میں غالباً ماہ نومبر کے اخیر میں جبکہ ماہ رمضان المبارک تھا بھیجا گیا اور دوم ڈویژن اپر باری دوآب ان دنوں گورداسپور سے لاہور تک تھا۔ میری تقرری جناب ڈپٹی کلکٹر صاحب بہادر میر عبدالوحید صاحب نے لاہور ڈویژن میں فرمائی مگر میر صاحب بہت ہی نیک طبیعت تھے اور نمازی تھے اور قادیان سے بھی ان کو انس تھا۔ میں نے عرض کی کہ حضور میری تقرری تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور میں فرماویں تاکہ میں آسانی سے گھروںمیں آجاسکوں۔ چنانچہ جناب میر صاحب نے میرے عرض کرنے پر میری تعیناتی تحصیل بٹالہ ضلعداری سیکشن کنجر متصل دھر م کوٹ بگہ فرمائی۔ اور میں نے شکریہ ادا کیا۔ سیکشن کنجر سے ضلع دار صاحب لالہ ڈوگر مل صاحب نے جو بہت نیک اور اچھے آدمی تھے۔ میری تقرری دھاریوال کے نزدیک بیری ننگل میں فرمائی۔ وہاں میرے کئی ایک ہم قوم لوگ تھے جو میرے ساتھ بہت محبت کرتے تھے اور جس پٹواری کے ساتھ مجھ کو لگایا گیا تھا وہ مسلمان امرتسر کا باشندہ تھا۔ مگر احمدیت کا سخت دشمن تھا۔ اور میرے ساتھ اس کا برتائو اچھا نہ تھا۔ ماہ دسمبر میں موقع عید پر اور جمعۃ الوداع پرمیں پہلی دفعہ قادیان گیا ۔ مگر افسوس کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان دنوں اکثر گورداسپور مقدمات کی وجہ سے رہا کرتے تھے۔ میں زیارت سے مشرف نہ ہوسکا۔ اور واپس بیری ننگل آگیا۔ چونکہ پٹواری نہر سخت مخالف تھا۔ اس واسطے میں ضلع دار صاحب لالہ ڈوگر مل صاحب کی خدمت میں قلعہ لال سنگھ پہنچا اور عرض کی کہ مجھے بجائے مسلمان پٹواری کے کسی ہندو پٹواری کے ساتھ لگایا جاوے۔ چنانچہ ضلع دار صاحب نے میری درخواست کو قبول فرمالیا۔ اور مجھے ریلوے اسٹیشن چھینہ کے پٹواری منشی نتھورام کے ساتھ لگادیا اور چھینہ سے تھوڑی دور میری چچا زاد ہمشیرہ موضع شیر پور متصل ہرسیاں رہتی تھی۔ جو قادیان سے ۴ یا ۵ میل کا فاصلہ ہے۔ یہاں سے مجھے موقع مل گیا اور میں ہر جمعہ کو قادیان چلا جاتا اور شام کو واپس آجاتا اور اردگرد کے احمدی دوست بھی واقف ہوگئے۔ خصوصاً سیکھواں والے مولوی امام الدین صاحب وغیرہ جنہوں نے مجھے ترغیب دی کہ جلدی بیعت کرلو۔ چنانچہ ایک جمعہ پر قادیان پہنچ کر مولوی امام الدین صاحب یا جمال الدین صاحب نے میرے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بعد نماز جمعہ عرض کی کہ اس لڑکے کی بیعت لی جاوے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ عصر کی نماز کے بعد۔ اور دیگر دوستوں کو کہہ دیا جاوے پھر عصر کی نماز کے بعد فرمایا کہ شام کی نماز کے بعد۔ اور پھر شام کی نماز کے بعد فرمایا کہ عشاء کی نماز کے بعد۔ چنانچہ عشاء کی نماز کے بعد مسجد مبارک میں جہاں عام طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام شہ نشین ہوا کرتے تھے۔ بیعت کنندگان کو بلایا‘ میں آگے بڑھا اور حضور کے دست مبارک پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور کئی اور دوست بھی تھے۔ جن کا نام یاد نہیں۔ اور بیعت لی۔ اور بیعت کے بعدمیرے اندر کوئی ایسی لہر دوڑ گئی جیسے بجلی اثر کرتی ہے۔ اس کے بعد میں ٹریننگ پٹوار نہر پوری کرکے امتحان امرتسر دے کر واپس ملتان چلا گیا اور میرے چچا صاحب مرحوم نے میرے نام اپنے خرچ پر رسالہ ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ جاری کرادیا جو دو سال برابر ان کے خرچ پر میرے نام آتا رہا۔ اس کے بعد میں خود اپنے خرچ پر مستقل خریدار ہوگیا اور اخبار ’’بدر‘‘ کا بھی خریدار بن گیا اور پھر عام طور پرجلسہ سالانہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں جاتا رہا اور فیض یاب ہوتا رہا۔ ایک جلسہ سالانہ غالباً ۱۹۰۶ء یا ۱۹۰۷ء کا تھا جس میں مسجد اقصیٰ میں سیڑھیوں کے پاس جنوب مشرق ‘ایک کونے پر مکان تھا جو غیر احمدیوں کا تھا جن کے مکان پر چند ایک دوستبوجہ کثرت ہجوم چڑھ گئے اور مکان والوں نے بُرا بھلا کہا۔ اس برا بھلا کہنے کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے کانوں سے سنا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سیڑھیوں کے پاس چار رکعت نماز سنت ادا کی اور ایک شخص جس کا مجھے نام یاد نہیں اس نے پکار کر کہا کہ لوگو! حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طریقہ نماز اچھی طرح دیکھ لو۔ بعد ادائے سنت نماز حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نماز باجماعت فرض ظہر و عصر ادا کرکے تقریر شروع فرمائی ۔ اس وقت وہ تقریر ایسی جلالی رنگ رکھتی تھی جس میں حضور نے قادیان کے لوگوں پر احسانات کا تذکرہ فرمایا اور ان کی مخالفت کا ذکر فرمایا جس سے معلوم ہوتا تھا کہ اسی وقت کوئی غضب الٰہی نازل ہونے والا ہے ۔بعد خاتمہ تقریر جلسہ برخاست ہوا اور میں مسجد سے نکل کر چوک بازار میں مسجد کے پاس ہی آیا تھا کہ دو سکھ سردار جو ان پڑھ معلوم ہوتے تھے مگر تقریر سن کر آئے تھے اور ذکر کررہے تھے کہ بڑی عجیب تقریر تھی۔اگر ہم کو خبر ہوتی تو ہم ہر روز سننے کے لئے آتے۔
    اسی طرح ایک دن صبح کو میں اور میرا چچا زاد بھائی (جہاں اب محلہ دارالرحمت ہے) جنگل گئے۔ اور واپسی پر ہمارا خیال تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کبھی بازار کی طرف سیر کو جاویں تو کیا خوب ہو؟ چنانچہ ہم مسجد مبارک کے نیچے والے دروازے میں جاکھڑے ہوئے۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عام طور پر صبح کو سیر کے لئے جایا کرتے تھے اور خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم وکیل بھی دروازہ پر کھڑے تھے۔ اور عام طور پر حضرت صاحب باہر کی طرف سے سیر کو جایا کرتے تھے مگر اس دن خواجہ صاحب نے فرمایا کہ حضرت ! آج بازار کے راستہ سیر کو چلیں ۔ چنانچہ حضرت صاحب نے فرمایا کہ بازار کے راستہ چلو۔ جب حضرت چوک بازار میں پہنچے اور لوگ آگے پیچھے دوڑتے ہوئے آگئے۔ایک شخص جو کسی دوسرے ملک کا باشندہ معلوم ہوتا تھا قدم بوسی کے لئے جھک گیا ۔ مگر میں پاس ہی کھڑا تھا۔ حضرت صاحب نے اس کو کاندھے سے پکڑ اوپر اٹھا لیا۔ اور فرمایا کہ ’’دیکھو مصافحہ کرنا چاہئے‘‘۔ پھر حضرت صاحب بڑے بازار سے ہوکر شمال کی طرف کو سیر کو چل دئیے۔ بازار سے نکل کر دو رویہ قطاریں بنائی گئیں کیونکہ راستہ مشکل سے ملتا تھا ریتی چھلہ میں جہاں اب مشین یعنی کارخانہ ہے۔ ایک درخت کھڑا ہے ان کے نیچے حضور آکر ٹھہر گئے اور آگے چلنے سے رک گئے اور فرمایا کہ آج میں جماعت پر خوش ہوں۔ اس کے بعدبمع خدام واپس آگئے۔
    دوسرا واقعہ یہ ہے کہ میں ایک دفعہ گرمیوں کے موسم میں چند دن کی رخصت لے کر قادیان گیا۔ تین چار سکھ دوست جو کہ سیالکوٹ کے علاقہ کے رہنے والے تھے اور یہ قادیان کے کسی قریب کے گائوں میں اپنے رشتہ داروں کے ہاں آئے ہوئے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کے واسطے تشریف لائے اور عصر کی نماز کے قریب اندر اطلاع کرائی کہ کئی آدمی حضور کو ملنے والے ہیں۔ مگر حضور نے جواب دیا کہ میری طبیعت اس وقت علیل ہے میں شام کی نماز کے وقت آئوں گا۔ چنانچہ وہ سکھ دوست شام کی نماز کے وقت بلکہ وقت نماز سے پہلے مسجد مبارک کی چھت پر تشریف لے آئے اور شام کی نماز کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام گھر سے تشریف لائے ۔ ابھی دروازہ کھول کر مسجد میں قدم رکھا ہی تھا کہ’ ’السلام علیکم‘‘ حضور نے فرمایا اور سکھ دوست سامنے کھڑے تھے۔ انہوں نے بھی ادب سے خود سلام کیا اور کہا ’واہگورو‘ واہگورو‘ اور حضرت صاحب نے فرمایا کہ کیا آپ لوگوں نے مجھ کو عصر کے وقت بلوایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جی ہاں ! پھر حضرت صاحب نے فرمایا کہ افسوس ہے کہ کہنے والے نے مجھے یہ نہیں کہا۔ کہ کوئی باہر سے آدمی تشریف لائے ہیں۔ میں نے تو یہ سمجھا تھا کہ کوئی قادیان کے آدمی ہیں۔ ورنہ میں گو میری طبیعت اس وقت علیل تھی باہر آتا۔ پھر حضور نے ان کے واسطے کھانے اور رہائش کے واسطے فرمایا۔ اس کے بعد مجھے پتہ نہیں کہ وہ رہے اور کھانا کھایا یا نہ؟ اور پھر حضور نے باجماعت نماز امام کی اقتدا میں ادا کی۔
    خاکسار
    سربلند احمدی ہیڈ منشی
    صدر نہر مظفر گڑھ ڈویژن
    ۳۸۔۱۰۔۲۶



    روایات
    حضرت میاں امیر الدین صاحب احمدی گجراتی
    ابتداء میں جبکہ میں بچہ تھا بچپن میں مجھ کو قرآن کریم کی تعلیم دی گئی جو تعلیم عموماً خلق کو دی جاتی ہے۔ عبارت ہی عبارت اور کچھ نہیں آتا ۔ میرے استاد قرآن پڑھانے والے بھی خود قرآن کریم سے بے خبر تھے اور بٹالے والے میاں صاحب کے مرید تھے۔ اور قصیدہ غوثیہ پڑھا کرتے تھے ۔ مجھ کو بھی یہی تعلیم دی گئی اور مجھے شیئاً للہ پڑھایا گیا۔ غرض میں گور پرست اور پیر پرست تھا۔ اس کے بعدجب میری عمر پندرہ سولہ سال کی ہوئی چونکہ میری طبیعت ذہین تھی ۔ اردو اور فارسی کے لئے مختلف استادوں سے سبق پڑھے۔ اس کے بعد مجھ کو دین عیسوی کے مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ میں نے تورات اور انجیل کو پڑھا اور اسلام کے رد میں جو کتابیں عیسائیوں نے مجھے دیں ان کے پڑھنے سے میں قریباً اسلام کا منکر ہوگیا۔ مگر عیسائی بھی نہ ہوا۔ مذبذب طبیعت تھی اور دل میں یہ شوق پیدا ہوا کہ میں قرآن کریم کا ترجمہ پڑھوں۔ ایک استاد سے قرآن کریم کا ترجمہ جب شروع کیا تو سورئہ فاتحہ کے ترجمہ پڑھنے سے میرے دل پر جو پیر پرستی یا گور پرستی تھی وہ اڑ گئی۔ میں موحد بن گیا۔ ایک مولوی صاحب جو بڑے فاضل تھے ا ن کے پاس میں ایک کتاب ’’تیغ و سپرعیسوی‘‘ لے کر پہنچا۔ تاکہ میں اپنے ایمان کو اسلام درست پائوں اور اس کتاب کا جواب مولوی صاحب سے پائوں مگر مولوی صاحب نے اس کتاب کا ایک ہی صفحہ دیکھ کر مجھے کتاب واپس دیدی۔ اور خاموش رہے۔ کچھ جواب نہ دیا۔ میرے دل میں اور بھی اسلام کے متعلق زیادہ بدظنی بڑھ گئی۔ میں نے قرآن کریم کا ترجمہ اسی مولوی صاحب سے پڑھنا شروع کردیا اور اس سے پڑھتا رہا اور جمعہ بھی ان کے پیچھے ہی پڑھتا تھا۔ کبھی کبھی مولوی صاحب اپنے خطبہ میں فرمایا کرتے تھے کہ میاں عیسیٰ کو جبکہ اس نے چمگادڑ بنایا تھا اس کو اس کی دبر بنانی یاد نہ رہی اور وہ منہ سے ہی کھاتا اور منہ سے ہی پاخانہ نکالتا ہے۔ یہ باتیں میں سنتا تھا اور انہی پر میرا یقین تھا اور مسیح کو میں زندہ آسمان پر مانتا تھا۔ اور اس کا دوبارہ آنا اور تلوار چلانا اور کفار کو قتل کرنا یقین کرتا تھا۔کبھی کبھی مولوی صاحب کے پاس کوئی مہمان آتا تھا۔تو میری موجودگی میں وہ یہ کہا کرتا تھا کہ ’’قادیان‘‘ ایک گائوں ہے اس میں ایک مرزا ہے جو کہتا ہے کہ مجھے الہام ہوتا ہے۔ میں اس بات کو سن کر بہت خوش ہوتا تھا اور چاہتا تھا کہ اس شخص کی زیارت کروں اور غریب تھا۔ مسکنت میرے ساتھ۔ آخر خداتعالیٰ نے وہ وقت میرے لئے مہیا کردیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سیالکوٹ میں تشریف لائے اور میں اس وقت تک طالب علم ہی تھا اور ترجمہ پڑھتا تھا تو میں یہ سن کر مع دو دوستوں کے سیالکوٹ پہنچا۔ گاڑی میں سے ہم مرزا صاحب کی زیارت کرنیوالے قریباً دس بارہ آدمی نکلے تو ہم بھی حکیم حسام الدین صاحب کے مکان پر پہنچے۔ حکیم صاحب کے گول کمرہ میںہم بیٹھ گئے۔ ہم میں جو مرزا صاحب کی زیارت کرنے کے لئے آئے تھے ایک عالم بھی تھا جو ضلع جہلم کا تھا۔ شیخ رحمت اللہ مرحوم اور مولوی عبدالکریم صاحب بھی سیالکوٹ میں حضرت صاحب کے ساتھ تھے۔تو حضرت صاحب کو اطلاع دی گئی۔ جبکہ آپ اس گول کمرہ کی طرف بالاخانہ میں تھے۔ آپ تشریف لائے اور ہم زائرین میں آکر بیٹھ گئے۔ تو اس مولوی صاحب نے جو ہم میں سے تھا۔ حضرت صاحب سے مخاطب ہوتے ہوئے یہ کہا کہ حضرت عیسیٰ زندہ ہیں یا نہیں؟ حضرت صاحب نے فرمایا وہ فوت ہوچکے ہیں ۔اس پر مولوی صاحب کی اور حضرت صاحب کی بحث شروع ہوگئی ۔ آخر تھوڑی دیر میںوہ مولوی مغلوب ہوگیا اور میں چونکہ ابھی طالب علم تھا میرے دل میں کئی باتیں مسیح کی حیات کے متعلق جو تھیں وہ مولوی صاحب کے بعد مرزا صاحب سے دریافت کیں۔ آپ نے فوراً میرے سوالات کی پوری تردید کردی۔ مجلس برخاست ہوگئی۔ ہم تین دوست جو گجرات سے آئے تھے۔ ان میں سے مجھ امیر الدین کو شیخ رحمت اللہ صاحب نے یہ کہا چونکہ شیخ رحمت اللہ میرا شہری آدمی تھا۔ اس نے کہا ۔ کیا تو مرزا صاحب سے بیعت کرنی چاہتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ ’’فرشتہ صورت انسان‘‘ ہے۔ مجھے بیعت کرنے میں کوئی عذر نہیں۔ حضرت صاحب کو اطلاع دے دی گئی۔ مجھے حضرت صاحب نے طلب کیا۔ بالا خانہ میں جہاں حضرت بیٹھے ہوئے تھے میںپہنچا۔ فقط حضرت صاحب اور میں تھا ۔ حضرت صاحب نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور مجھے فرمایا وہ بیعت کے کلمات پڑھائے اور جبکہ آپ نے مجھے یہ فرمایا ۔ پڑھو! استغفر اللّہ ربی من کل ذنب و اتوب الیہ ‘‘ میری حالت اس وقت قریباً بے ہوشی کی تھی اور رو رہا تھا اس طرح میری بیعت ختم ہوئی۔ میں واپس آگیا اور’’ ازالہ اوہام‘‘ جو چھوٹی تقطیع کا ہے۔ اس وقت میں نے تین روپیہ کو خریدا۔ وہ بھی ادھار پر۔ میں اس کتاب کو جب گجرات میں لایا تو اس کو پڑھا تو میں اسلام میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے اس کتاب میںبہت نور پایا اور مسیح کی وفات کو کامل طور پر یقین کرلیا اور مسلمان ہوگیا۔ اس کے بعد ایک وقت کچھ عرصہ کے بعد ایسا آیا کہ گجرات میں ایک شخص نے مجھ کو کہا کہ مولوی برہان الدین مرحوم کا بھتیجا یہاں عیسائی ہوا ہے۔ تم اس کو بھی تبلیغ کرو۔ میں نے اس کو تلاش کیا اور وہ مجھ کو مل گیا اور اس کو سمجھا بجھا کر قادیان بھیج دیا۔ مگر وہ یہاں بھی پہنچ کر پورا مسلمان نہ ہوا۔ بلکہ واپس جاکر امرتسر میںعیسائیوں کے پاس ٹھہر گیا۔ اس کے ذریعہ سے جو ہنری مارٹن نے طوفان برپا کیا تھا۔ اس مقدمہ میں پہلی پیشی حضرت اقدس کی بٹالہ میں تھی۔ تو مجھ کو حضرت صاحب نے بذریعہ تار گجرات سے طلب کیا اور میں بٹالہ پہنچ گیا۔ بٹالے کی جو سرائے ہے۔ اس میں حضرت صاحب تشریف لائے اور جماعت بھی تھی۔ تو اس میں ہمارا رہنا ہوا۔ کچہری کو جاتے ہوئے نو دس بجے کا وقت تھا۔ خواجہ کمال الدین اور اور لوگ بھی حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اور میں بھی ساتھ تھا۔ حضرت صاحب عدالت میں پیش ہوئے ۔ آپ کو مجسٹریٹ نے عزت کے ساتھ اپنے پاس جگہ دی اور اس کے بعد جو قصہ مولوی محمد حسین گواہ کا ہوا۔ وہ میرے سامنے سب کچھ ہوا۔ جو کچھ اس کی نسبت بیان کیا جاتا ہے ۔ وہ کرسی نہ ملنا وغیرہ۔ وہ سب میرے سامنے ہوا۔ اس کے بعد اور تاریخ ڈالی گئی۔ اور گورداسپور حضرت صاحب کو طلب کیا گیا۔ اس مقدمہ کے فیصلہ کے وقت میں حضرت صاحب کے ساتھ تھا۔ حضورکے پائوں بھی دبایا کرتاتھا اس کے بعد میں ہمیشہ آیا کرتا رہا۔ اور یہ تمام پیشگوئیاں میرے سامنے ہوئیں۔ میںاکیلا گجرات میں تھا۔ کوئی میرے ساتھ نہیں تھا ۔ جب حضور جہلم تشریف لے گئے۔ یہ جماعت بنی۔
    ایک دفعہ میں نے اپنے قرض دار ہونے کی شکایت حضرت صاحب کے پاس کی آپ نے فرمایا کہ کثرت سے درود شریف پڑھا کرو اور کثرت سے استغفار کیا کرو۔ بس یہ ہی میرا وظیفہ تھا کہ مجھ کو مولا کریم نے برکت دی اور قرض سے پاک ہوگیا اور جب میں قادیان میں آتا تھا تو چھوٹی مسجد جو اس وقت بڑی ہوچکی تھی جبکہ چھ آدمی صف میں اس میں کھڑے ہوتے تھے۔ اوقات نماز میں اس مسجد میں میں ’’باری‘‘ کے آگے بیٹھ رہتا تھا۔ اس غرض سے کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اس باری میں سے مسجد میں آتے تھے تو جب حضرت نماز کے لئے تشریف لاتے تو میں جھٹ کھڑا ہوجاتا اور نماز میں آپ کے بائیں بازو کے ساتھ کھڑا ہوتا۔ اور یہ وہ وقت تھا جبکہ ساتھ ہی کا کمرہ جو مسجد کے ساتھ ہے۔ اس میں حضرت صاحب اور چند مہمان جو اس وقت ہوا کرتے تھے جو پانچ سے زائد نہ ہوتے تھے اس کمرہ میں آپ چاول خود اپنے ہاتھ سے کھلاتے تھے۔ تمام پیشگوئیاں میرے سامنے پوری ہوئیں اور میں ان کا گواہ ہوں۔
    خطبہ الہامیہ عید کے روز آپ پر نازل ہوا تھا۔ اور میں عید سے پہلے ایک روز قادیان میں پہنچ گیا تھا جو بارہ بجنے میں کچھ منٹ باقی تھے۔ جب میں پہنچا تو میں آتے ہی حضرت خلیفہ اول ؓ کے پاس پہنچا کیونکہ ان سے میرا دوستانہ تعلق تھا۔ آپ اس وقت کھڑے ہوئے تھے۔ میں نے آکر سلام کہا۔ آپ نے سلام کے جواب کے بعد یہ فرمانا شروع کیا کہ امیر الدین ! تو بہت صاحب نصیب ہے۔ میں نے عرض کی کہ حضرت! یہ کیا بات ہے؟ آپ فرمانے لگے کہ حضرت صاحب نے حکم دیا ہوا ہے کہ جو دوست بارہ بجے تک آجاویں۔ ان کے نام لکھ کر مجھ کو دیدو تاکہ میں ان کے لئے دعا کروں۔ میں نے نام لکھ دیا دوسرے دن عید کے روز نماز عید کے واسطے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مسجد اقصیٰ میں تشریف لائے اور خطبہ شروع ہوا اور ہم لوگ جماعت کے سامعینِ خطبہ تھوڑے آدمی تھے۔ میرا قیاس ہے کہ شاید سو (۱۰۰) کے قریب آدمی ہوگا یا کم و بیش۔ اس وقت حضرت صاحب کی آواز مبارک خطبہ پڑھتے ہوئے بچوں کی سی تھی۔ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم رضی اللہ عنہ ‘ مفتی محمد صادق صاحب‘ خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ ‘ شیخ یعقوب علی صاحب تراب۔ یہ دوست اس میں موجود تھے۔ آپ ایک ایک فقرہ خطبہ الہامیہ کا پڑھتے تھے اور کئی دوست لکھنے والے لکھ رہے تھے اور حضور سے پوچھ پوچھ کر لفظ لکھتے تھے۔ اس طرح وہ خطبہ ختم ہوا۔ بعد نماز کے حضرت صاحب مسجد سے نکل کر اس طرف بازار کی طرف نکلے اور وہ دوست جو مسجد میں تھے پیچھے پیچھے ہولئے۔ آخر جوشہر کے باہر ’’بوہڑ ‘‘ہے اسکے نیچے جا کھڑے ہوئے۔ اس جگہ دوستوں نے حضرت صاحب کے گردا گرد حلقہ باندھ لیا اور مصافحہ کیا۔ ازاں بعد میں جب کبھی قادیان میں آتا تھا۔ تو حضرت صاحب کے ساتھ سیر میں بھی شامل ہوتا تھا۔ کبھی آپ اس طرف جہاں اب ہائی سکول ہے سیر کو جاتے اور کبھی مشرق کی طرف جاتے تھے۔ آپ کے آگے پیچھے‘ دائیں بائیں دوست رہتے تھے اور میں آپ کے پیچھے اس قدر قریب ہوتا تھا کہ کبھی کبھی میرا پائوں حضرت صاحب کی سوٹی پر پڑ جاتا اور سوٹی گر جاتی ۔ غرض یہ کہ آپ کے آگے پیچھے لوگ چلتے تھے۔ یہ تھا حال سیر کا اور آپ چلتے ہوئے اور آخر سیر کے اخیر پر بھی جاکر تقریر کرتے ہوئے ہی رہتے تھے۔ پھر میں یہ بھی ایک موقع عرض کئے دیتا ہوںکہ جب طاعون کے متعلق جلسہ ہوا ہے تو میں بھی اس میں شریک تھا۔ اور وہ ’’بوہڑ‘‘ جو قادیان سے مشرق کی طرف جھیل کے کنارے پر ہے۔ اس کے نیچے جاکر جلسہ ہوا تھا۔ اور آپ نے اس ’’بوہڑ‘‘ کے نیچے کھڑے ہوکر تقریر فرمائی تھی۔ میرے قیاس میں اس وقت جلسہ میں شریک ہونے والے آدمی قریباً تین چار سو تھے۔ کمی و بیشی واللہ اعلم۔ پھر اس کے بعد میں نے جماعت کو بڑھتے ہوئے دیکھا اور وہ وقت آگیا کہ جب جلسہ دسمبر کے مہینے میں قائم کیا گیا تو بہت سی خلقت آنے لگی ۔ ایک دن شام کے بعد کھانا کھلانے کے واسطے یہ تجویز تھی کہ حضرت صاحب نے حکم دیا ہوا تھا اور اس مکان پر جو کہ چھتی ہوئی گلی کے مغرب کی طرف ہے کھلایا گیا اور اس وقت ایک ایک ضلع کے آدمیوں کو بند کرکے کھانا کھلاتے تھے۔ اس وقت گوجرانوالہ کے آدمی کھا رہے تھے دروازہ بند تھا میں بھوک سے تنگ آکر اس جگہ گیا۔ مجھے داخل نہ کیا گیا۔ میں واپس آکر بھوکا سو رہا۔ رات کو حضرت صاحب کو الہام ہوا۔’’یاایھا النبی اطعم القانع و المعتر‘‘٭
    تو صبح حضرت صاحب نے دریافت فرمایا کہ کھانے کی کیا تجویز ہورہی ہے تو عرض کیا گیا کہ ایک ضلع کے آدمیوں کو بلا کر دوسرے کو بلاتے ہیں۔ میرے سامنے حضرت صاحب نے یہ فرمایاکہ ’’دروازے کھول دو۔ جو آئے اس کو کھانے دو۔‘‘نوٹ۔ خط کشیدہ الفاظ لکھاتے وقت میاں امیر الدین صاحب رو پڑے اور یہ الفاظ انہوں نے روتے ہوئے لکھائے۔
    (عبدالقادر)
    ۳۹۔۱۔۱۴
    ٭ نوٹ: اس الہام کے جو الفاظ تذکرہ میں مذکور ہیں وہ یوں ہیں ’’یا ایھا النبی اطعموا الجائع و المعتر‘‘ (تذکرہ صفحہ ۷۴۶ مطبوعہ ۱۹۶۹)

    روایات
    میاں اللہ دتہ صاحب ولد میاں خیر محمد صاحب ذات سہرانی احمدی
    سکنہ بستی رنداں تحصیل و ضلع ڈیرہ غازی خاں صوبہ پنجاب
    میں خدا کو حاضر ناظر جان کر اور اس کو گواہ رکھ کر مندرجہ ذیل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق اپنے علم و فہم و یادداشت کی بنا پر سچ سچ روایت بیان کرتا ہوں۔
    ۱۔ میں ۱۹۰۱ء ماہ مئی کو قادیان شریف پہنچا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بیمار تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے احباب یعنی حضرت مولوی نور الدین صاحب و مولوی عبدالکریم صاحب کو بلایا ‘میں بھی شامل تھا۔ حضرت اقدس نے فرمایا میں نے تم کو خدا اور رسول کے راستہ پر کردیا ہے اور یہی راستہ سیدھا ہے۔ زندگی کا کوئی اعتبار نہیں۔
    ۲۔ ایڈیٹر البدر جو حضرت مفتی محمد صادق صاحب سے پہلے تھے جو ان کا نام بھول گیا ہوں۔ ان کے مکان پر ٹھہرے ہوئے تھے کہ بعد نماز عشاء حضرت اقدس کے مکان کے اوپر ایک روشنی آسمان سے نازل ہوئی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مکان پر سیدھی اتری۔ میں نے بھی دیکھا اور میرے دو ساتھی اور تھے انہوں نے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
    ۳۔ فجر کی نماز پڑھنے کے لئے گئے تو اسی رات حضرت صاحب کو الہام ہوا کہ ’’فتح من اللہ و نصر قریب‘‘ ۔ یہ الہام چھاپ کر مسجد مبارک کی دیواروں پر لٹگایا گیا تھا۔پھر ۱۵ یوم میں اور دو ساتھی میاں اللہ بخش خان رند مرحوم ‘ و محمد عظیم خاں جو اب زندہ موجود ہیں۔ قادیان شریف ٹھہرے۔ مولوی عبدالکریم صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے حضور عرض کیا کہ یہ بیچارے ناخواندہ ہیں۔ ان کے لئے دعا فرمائی جاوے اور فرمایا لوگ ان کا مقابلہ کریں گے ۔ اللہ تعالیٰ ان کے مخالفوں کا گلا گھونٹ دے گا اور زبان بھی بند ہوجائے گی۔اور پھر جب قادیان شریف سے حضرت اقدس سے رخصت ہوکر واپس ہوئے تو ضلع مظفر گڑھ میں موضع اوترا سندیلہ رات ٹھہرے۔ تو صبح کو مولوی حافظ عبدالقیوم جو اہلحدیث تھے ہمارے ساتھ مباحثہ شروع کردیا اور دوران گفتگو میں زبان بند ہوگئی اور گلا بھی گھونٹا گیا اور پھر حافظ مذکور کو ذیلدار علاقہ نے ۔۔۔نکال دیا۔
    ۴۔ پھر ۱۹۰۳؁ء یا ۱۹۰۴؁ء کا واقعہ ہے کہ میں قادیان شریف گیا۔ موقع عید کا تھا اور لنگر خانہ میں لنگر چلا۔ تو عام و خاص کی تجویز ہونے لگی تو میری نیت میں فرق آنے لگا کہ جو مہدی موعود ہوگا وہ حاکماً وعادلاً ہوگا مگر اب اس لنگر خانہ میں ریا ہونے لگا ہے ۔ مساوات نہیں ہے ۔پھر صبح کو مسجد مبارک میں گیا تو حضرت مسیح موعود اذان سے پہلے تشریف لائے تو آتے ہی فرمایا مولوی نور الدین صاحب کہاں ہیں۔ حضرت مولوی صاحب نے عرض کی حضور میں حاضر ہوں۔ حضرت اقدس نے فرمایا رات اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی کہ تیرا لنگر خانہ ناخن کی پشت برابر بھی منظور نہیں ہوا کیونکہ لنگر خانہ میں رات کو ریا کیا گیا ہے اور اب جو لنگر خانہ میں کام کررہے ہیں ان کو علیحدہ کرکے قادیان سے چھ ماہ تک نکال دیں۔ اور ایسے شخص مقرر کئے جائیں جو نیک فطرت ہوں اور صالح ہوں اور فجر کی روٹی‘ میرے مکان کے نیچے چلایا جائے اور میں اور میاں محمود احمد اوپر سے دیکھیں گے ‘اور میں نے فجر کو اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ اور استغفار پڑھی کہ میں نے بدگمانی کی ۔ یا اللہ مجھ کو معافی دے۔ یہ کرامات حضرت اقدس کی میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔
    ۵۔ اوردوسرے روز کسی شخص نے سوال کیا کہ حضور ہم احمدی ہوچکے ہیں اور حضور نے فرمایا ہے کہ غیر احمدی پیچھے نماز نہ پڑھو مگر ہماری رشتہ داریاں ہیں۔ ہم مجبور ہیں کہ نماز پڑھیں۔حضور نے فرمایا کہ میں نے خدا سے خبر پاکر تم لوگوں کو سنا دیا ہے کہ یہ لوگ مردہ ہیں۔ زندہ مردہ کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتا۔ عرصہ چار ماہ تک میں اور اللہ بخش صاحب قادیان شریف میں ٹھہرے رہے۔
    اللہ دتہ سہرانی
    نشان انگوٹھا
    عبدالقادر
    ۳۹۔۱۔۱۹
    نوٹ۔ میاں اللہ دتہ صاحب ان پڑھ ہیں اس لئے انگوٹھا لگایا ہے

    روایات
    شیخ محمد شفیع صاحب سیٹھی احمدی
    سکنہ جہلم شہر محلہ خواجگاں متصل ڈاکخانہ شہر
    میرا لڑکپن کا زمانہ تھا۔ دریا پر نہانے جایا کرتے تھے۔ چیچک کا محکمہ شروع ہوا تھا۔ لڑکے آپس میں باتیں کرتے تھے کہ چیچک کے ٹیکے والے مہدی کو ڈھونڈتے ہیں۔ اس کے بازو سے دودھ نکلے گا اور دل سے خون نکلتا ہے۔ میں جب دریا پر نہانے جایا کرتا تو بہتے پانی پر دعا کیا کرتا کہ یا اللہ وہ مہدی اور وہ عیسیٰ جس کے آنے کی خبر ہے کہ دوبارہ آئے گا وہ دکھا دے۔ یہ آواز بہت دفعہ میری زبان سے نکلتی تھی۔ اس سے آگے اور زمانہ گزرا۔ تو ایک مولوی نے میری دکان پر ایک کتاب رکھی۔ میں نے ان کو کہا کہ دیکھ لوں۔ کہا دیکھ لو۔ جونہی کھولی تو اوپر کے صفحہ پر چھ سطور میں مہدی کا حلیہ لکھا تھا کہ قد میانہ ہوگا۔پیشانی کشادہ ہوگی۔ بال سیدھے۔ چشم نیم خواب۔ ایسے بال جیسے حمام سے آئے ہیں۔ اس کے بعد اور زمانہ گزرا۔ تو ہمارے شہر کے مولوی برہان الدین صاحب حضرت مسیح موعودؑکے پاس قادیان جایا کرتے تھے۔ مولوی صاحب سے میرا بہت تعارف تھا۔ وہ بھی پہلے اہلحدیث تھے۔ میں بھی اہل حدیث تھا۔ ۱۸۹۱ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعویٰ کیا۔ تو شہر اور آس پاس بہت شور و غل رہا۔ آخر ۱۸۹۳ء میں بات بہت مشہور ہوگئی اور آپ کا دعویٰ بہت شہرت پکڑ گیا۔ ایک دن میں اپنے محلہ کی مسجد میں نماز پڑھنے گیا تو پہلی جماعت ہوچکی تھی۔ (آگے پیچھے بھی جاتا تھا) اس روز حافظ غلام محی الدین سکنہ بھیرہ جو کہ حضرت خلیفۃ المسیح اول کے شیر بھائی تھے۔ انہوں نے جماعت کرائی تو ہم تین آدمی مقتدی تھے۔ جب انہوں نے بلند آواز سے قر اء ت شروع کی تو وہ دونوں میرے دائیں بائیں سے ہٹ گئے ۔ میں نے اختلاف نہ کیا۔اور ساتھ نماز ادا کرلی۔ حافظ صاحب موصوف بیعت کرچکے ہوئے تھے۔ جب نماز ادا کرکے میں گھر آیا تو معاً راستہ میں مجھے خیال آیا تو راستے میں ایک آدمی کو کہا کہ میرے ساتھ قادیان چلو۔ نصف کرایہ دیتا ہوں۔ یہ صاحب میرے قریبی رشتہ دار تھے۔ اس نے کہا مجھے فرصت نہیں۔ معاً خیال آیا کہ جو حضرت مسیح موعود کو مانتے ہیں وہ دلی صفائی سے مانتے ہیں جو انکار کرتے ہیں وہ بڑی بد زبانی سے ماننے والوں کو اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یاد کرتے ہیں۔ مجھے خیال آیا کہ اے دل تو بھی دیکھ کہ تو کدھر ہوتا ہے۔ ماننے والے خوب مانتے ہیں اور لوگوں کی گالیاں سہتے ہیں۔ نقصان برداشت کرتے ہیں۔ اس سے پہلے میرا حقیقی بڑا بھائی شیخ قمر الدین قادیان سے ہو آیا تھا۔ مگر بیعت سے محروم رہا۔ لیکن قادیان کی مہمان نوازی کی صفت ضرور کرتا رہا۔ میں نے ان خیالوں کے باعث دکان سے آتے ہی دکان کی چابیاں گھر والوں کو دے دیں اور کہا کہ بھائی کو دے دینا وہ دکان لگائیں۔ میرا کہہ دینا پار گیا ہے۔ میں ریل میں سوار ہوا۔ یہ سب واقعہ اسی ایک روز کا ہے۔ دوسرے روز ساڑھے بارہ بجے یا ایک بجے قادیان پہنچ گیا اور مسجد مبارک میں گیا۔ جہاں خلیفۃ المسیح اول اور مولوی عبدالکریم صاحب ‘ حکیم فضل الدین صاحب علاوہ ان کے اور بھی دو چار آدمی تھے میں نے مولانا عبدالکریم صاحب دیکھے ہوئے تھے ۔ مولوی نور الدین صاحب بھی۔ کیونکہ وہ جہلم آتے رہتے تھے۔ خلیفۃ المسیح اول نے مجھ سے سب حال دریافت کیا اور نماز ظہر کی انتظار تھی ۔ حضرت مسیح موعود ؑ تشریف لانے والے تھے اور حضور اندر سے معاً تشریف لائے اور صف کھڑی ہوگئی اور امام مولوی عبدالکریم صاحب تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میری دائیں جانب ایک مقتدی چھوڑ کر کھڑے تھے۔ بعد نماز حضور سے تعارف ہوا۔ یہ سب واقعہ ۱۸۹۳ء کا ہے۔ اس روز غالباً جمعرات تھی۔ میں نے جب ان کو دیکھا تو ان کے نورانی چہرہ کو دو منٹ تک بھی نظر بھر کر نہ دیکھ سکا۔یہ ہستی جھوٹ بولنے والی نہیں ہے۔ میرے قادیان جانے کے بعد پیچھے میرے برادر نے دوسرے چچا زاد برادر کے ساتھ پراپیگنڈہ کیا کہ جب محمد شفیع قادیان سے آئے گا تو اس سے پوچھیں گے۔ تو قادیان کا نام نہ لے گا۔ ہم اسے جھوٹا کریں گے کہ یہی تو وہاں سے سیکھ کر آیا ہے۔ جب میں دو تین روز بعد واپس جہلم آیا اور گھر پہنچا تو اس وقت میں بیعت کرچکا ہوا تھا۔ (میں نے بیعت گول کمرہ میں جمعہ سے پہلے اکیلے حضرت مسیح موعودؑ کے ہاتھ پر کی) جب دکان پر گیا تو جس بھائی کو میں ساتھ قادیان لے جانا چاہتا تھا اس نے مجھے قادیان خط لکھا تھا کہ میرے لئے وہاں دعا کرنا۔ وہ لفافہ واپس جہلم آگیا۔ اس خط کے واپس آنے کے باعث میرے بھائی نے پراپیگنڈہ کیا کہ خط واپس آگیا ہے ۔ اب محمد شفیع قادیان جانے کے متعلق انکار کرے گا۔ جب دکان پر آیا قدم رکھتے ہی میرے بھائی نے پوچھا کہ کہاں گیا تھا میں نے صاف قادیان کاکہا۔ وہ خاموش ہوگیا۔ اور پراپیگنڈہ بنا بنایا رہ گیا۔ لوگوں میں شہرت ہوگئی کہ ایک بھائی موافق ‘ ایک مخالف ہے۔ پھر میں قادیان گاہ بگاہ جاتا رہا۔
    ناواقفیت کے باعث تھوڑا ٹھہرتا رہا۔ میں نے حضرت صاحب سے اجازت طلب کی تو فرمایا اور ٹھہرو۔ ایک روز حضور سے ملاقات کے لئے گیا تو حضور تیسری منزل کی چھت پر تشریف لے گئے۔ وہاں کیا دیکھا کہ دونوں طرف کاغذ‘ قلم‘ دوات ہے۔ آتے جاتے کچھ نوٹ کرتے ہیں۔ اسی طرح قادیان آنے جانے کا سلسلہ لگا رہا۔ قصبہ کے مشرقی جانب ڈھاب تھی۔ وہاں ہم وضو کرتے تھے۔ ایک دن حضور نے سیر کو جاتے جاتے قصبہ کے مشرقی جانب ایک مسجد دکھائی فرمایا کہ یہ مسلمان نمبرداروں کی مہربانی سے دھرم سال میں بنی ہے جس میں وضو کرنے کی جگہ بنی ہے۔ نالی پختہ ہے۔ کنواں موجود ‘ غسلخانے موجود‘ وہاں دو سکھ بیٹھے تھے۔ حضور باہر جاتے تو مسجد نور کی بڑی بڑ کی جڑوں پر تشریف فرما ہوتے۔ دیگر ساتھی زمین پر بیٹھ جاتے۔ فرمایا کرتے کہ یہ جنگل منگل بن جائے ۔ یہ قصبہ بیاس دریا تک جائے گا اور بڑے بڑے پیٹ والے جوہری جو بازار کی زینت ہوتے ہیں بڑے بڑے بازاروں میں بیٹھا کرینگے۔
    جس روز صحابہ ۳۱۳ شمار میں آئے تو خاکسار وہیں تھا۔ ہمارے مولوی برہان الدین صاحب بھی وہیں تھے اور بھی بعض بعض جہلم کے لوگوں کے نام ۳۱۳ میں ہیں۔ چونکہ مولوی صاحب مجھے میاں محمد کے نام سے یاد کرتے تھے۔ یہی نام میرا مولوی صاحب نے لکھوا دیا۔ ویسے میرا پورا نام شیخ محمد شفیع سیٹھی ہے۔ جب مدرسہ احمدیہ والی جگہ میں پہلا یا دوسراجلسہ ہوا۔ تو موجودہ خلیفہ صاحب (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی) نے تقریر فرمائی۔ تو خلیفۃ المسیح اول نے فرمایاکہ جو معارف قرآن تقریر میں میاں صاحب نے فرمائے۔ مجھے بھی یاد نہیں تھے۔ یہ بچہ کچھ ہوکر رہے گا اور دنیا کو کچھ دکھائے گا۔
    جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۰۳ء میں بمقدمہ کرم دین جہلم تشریف لائے اس روز جمعہ تھا۔ ہماری جماعت نے وسیع پیمانہ پر انتظام کیا ہوا تھا۔ مکانات‘ کوٹھیاں لی ہوئی تھیں۔ روٹی کھانے والے مہمانوں کی تعداد ساڑھے چار صد تھی۔ یہ تعداد کھانا کھانے والے احمدیوں کی تھی۔ ویسے کچہریوں میں دیکھنے والے ہزاروں تھے۔ تمام راشن کا انتظام میرے سپرد تھا۔ گھوڑے گاڑیاں بہت دہلی گئی ہوئی تھیں۔ تھانیدار میاں سنگھ ڈوگرہ تھا۔ تحصیلدار بابو غلام حیدر تھا۔ ان کو ہم نے عرض کیا کہ جتنی گاڑیاں ہیں۔ ہمیں دی جائیں۔ سب کا کرایہ ہم ادا کریں گے۔’’ مریدکے‘‘ اور’’ کامونکی‘‘ کے درمیان حضور کو الہام ہوا کہ ’’ہمارے بسترے روساء اٹھائینگے‘‘۔ تو معاً جہلم گاڑی جاتے ہی ان دونوں نے بھی اٹھائے۔جس کے باعث وہ الہام پورا ہوا۔ دوسرا الہام ہوا کہ لوگ درختوں پر چڑھ کر تم کو دیکھیں گے۔ سو ویسا ہی ہوا۔ جگہ کی قلت کے باعث لوگ درختوں پر چڑھ کر حضور کو دیکھتے رہے۔ ہفتہ والے روز کچہری میں پیشی تھی۔ اگلے روز اتوار تھا۔ حاکم نے حکم دیا کہ فریقین اپنی اپنی جگہ چلے جائیں جو حکم ہوگا سنادیا جائے گا۔ حضور اتوار کے روز شہر اور بازار سے پیدل ہوتے ہوئے اسٹیشن پر تشریف لائے۔ بہت سے لوگوں نے بیعت کی۔ جو اخبار الحکم بدر میں مندرج ہیں۔ وہ اخبار میرے پاس موجود ہیں۔ جہلم بہت مخالفت رہی۔ لوگوں نے زور لگایا کہ میرے اور میرے بھائی میں نفاق پڑے۔ میں نے بھائی سے کہا کہ میرے بیٹھے حضرت صاحب کی ہجو نہ کیا کرو۔ میں ان کے متعلق تجھے کچھ نہ کہا کرونگا مگر باز نہ آیا ناچار میں اس سے الگ ہوگیا۔ اس نے مجھے بڑی مالی ضرب لگائی۔ میرے بچوں کی منگنیاں رکوا دیں مگر میں نے معاملہ خدا کے سپرد کیا۔زمانہ گزرتا گیا۔ مخالفت بڑھتی گئی۔ میرے بچوں کے رشتے چھینے گئے۔ مگر اللہ نے ہر میدان میں کامیاب ثابت رکھا۔ اور خدا نے احمد یوں کے ہاں رشتہ کی تجویزوں کو کامیاب کیا۔ مخالف پھر رشتے دیتے تھے مگر نہ لئے۔ میں ۱۹۱۷ء میں اپنی دکان جہلم سے منتقل کرکے حافظ آباد گیا۔ وہاں جماعت احمدیہ بنائی۔ حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی بھی جایا کرتے تھے۔ میں ۱۹۱۹ء تک وہاں رہا۔ ۱۹۱۸ئ؁ ‘۱۹۱۹ئ؁ میں خلافت اور کانگرس کے باعث بہت شور رہا۔ بہت گرفتاریاں ہوئیں۔ مقامی عہدیداران سرکاری بدل دیئے گئے۔ یعنی ہر دو تحصیل دار ‘ منصف صاحب‘ انسپکٹر صاحب اور تھانیدار بدل دیئے گئے۔انسپکٹر مسلمان پٹھان آیا۔ اس نے خلقت کو اکٹھا کیا۔ شام کا وقت تھا۔ میرے ساتھ ایک لڑکا تھا۔ (دکان پر) شام پڑتی تھی۔ دکان بھی سنبھالنی تھی۔ میں نے دعا کی کہ یا الٰہی پہلے مجھے پیش کرو۔ اس وقت اس کی کوٹھی کے اردگرد پانچ چھ سو آدمی تھا۔ اس نے مجھے ہی پہلے بلایا۔ اس کے قلمدان میں چار قلمیں تھیں۔ اس کے منشی نے پوچھا کہ تیرا کیا نام ہے۔ میں نے بتایا کہ شیخ محمد شفیع سیٹھی احمدی سکنہ جہلم حال وزیر آباد‘ انسپکٹر صاحب نے قلم اٹھائی۔ لکھنے لگا ۔ سیاہی نے ایک حرف کاغذ پر نہ لکھا۔ پھر دوسری اٹھائی۔ اس نے بھی کچھ نہ لکھا۔ پھر تیسری اٹھائی۔ پھر میں نے معاً کہا کہ میں احمدی جماعت سے تعلق رکھتا ہوں۔ پھر اس نے تیسری رکھی۔ چوتھی رکھی اس نے بھی کچھ نہ لکھا۔ جب چاروں قلموں نے نہ لکھا تو انسپکٹر صاحب نے مجھے کہا کہ جائو میں چلا آیا ‘ میں دس قدم پر تھا کہ وہی قلمیں لکھنے لگ پڑیں۔ جس سے میرے ایمان میںاور تقویت ہوئی۔ میرا ایک پیسہ بھر نقصان نہ ہوا۔ اس اثناء میں ایک رمضان آگیا۔ ہم نے سحری کی روٹی اوپر دکان کی چھت پر کھانی تھی۔ تین چار ہم آدمی تھے۔ تحصیلدار کا حکم تھا کہ ۱۰ بجے رات کے بعد نہ چراغ جلے۔ نہ چار آدمی اکٹھے بیٹھیں۔ ہم نے خدا کے توکل پر سحری کو چراغ جلایا اور کھانا کھلایا۔ اورتحصیلدار صاحب کا چراغ جلتا تھا۔ مگر کسی نے نہ پوچھا ۔ یہ سب برکت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تھی۔ یہ واقعہ جون ۱۹۱۹ء کا ہے۔





    روایات
    میاں علی محمد صاحب احمدی
    سکنہ ککھانوالی ضلع سیالکوٹ
    خاکسار نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق جب سنا (اس وقت میری عمر ۲۲‘۲۳ سال کی تھی) تو میں نے اسی وقت تحقیقات شروع کردی حتیّٰ کہ خداتعالیٰ خود اپنے مسیح کو ۱۹۰۴ء میں سیالکوٹ لے آیا۔ میں بھی سیالکوٹ گیا۔ مگر میں حضور کو دیکھ نہ سکا۔ مگر میرا دل حضور کی طرف کھنچ گیا تھا۔ چنانچہ اخیر ۱۹۰۴ء میں بیعت بذریعہ خط کی۔ اور دسمبر ۱۹۰۴ء میں خاکسار قادیان حاضر ہوا اور دستی بیعت حضور کے ہاتھ پر کی۔ میں نے بیعت مسجد اقصیٰ میں کی۔ مسجد اقصیٰ ان دنوں چھوٹی ہی تھی۔ جس کے اندر تین دروازے تھے۔ اور شمالی دروازہ میں حضور نے بیٹھ کر ہم سے بیعت لی تھی۔ حضور کا رخ مبارک شمالی جانب اور میرا مغربی جانب تھا۔ سب سے پہلا ہاتھ حضور کے ہاتھ پر میرا تھا اور میرے ہاتھ پر چار پانچ اور تھے۔ تخمیناً چار صد اشخاص کا مجمع تھا۔ حضور نے حسب دستور بیعت لی۔ بعد ازاں حضور نے بمع تمام جماعت کے دعا فرمائی اور مجھے یہ یاد نہیں رہا کہ ۱۹۰۵ء میں یا اس سال ۱۹۰۴ء میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی کا مزار کھدوا کر جو قادیان کے مشرقی پرانے قبرستان میں تھا‘۔ وہاں سے مولوی صاحب کی نعش مبارک جو صندوق میں امانت کے طور پر دفن کی گئی تھی نکالی۔ میں بھی وہاں قبرستان میں تھا پھر میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو قادیان کی طرف سے قبرستان کی طرف ایک آدمی کے ہمراہ آتے دیکھا۔ میں ملنے کے لئے پیشوائی کے طور پر بھاگ کر گیا۔ جب نزدیک پہنچا۔ تو حضور کا جلوہ برداشت نہ کرکے حضور کے پیچھے بائیں جانب ایک کرم ہٹ کر چلنا شروع کردیا۔ حضور نے قبرستان میں پہنچ کر فرمایا۔ ’’صندوق کو اٹھا کر باغ کی طرف لے چلو‘‘۔ حضور کبھی کبھی صندوق کو کندھا بھی دیتے جاتے تھے۔ حتیّٰ کہ بڑے باغ میں سے گزر کر باغ کے جنوب میں ایک واہن (ہل چلائی ہوئی) زمین میں صندوق رکھا گیا اور حضور نے جنازہ پڑھایا۔ حضور ایک مُنج کی چارپائی پر بیٹھ گئے۔ میں زمین پر بیٹھ کر حضور کے پائوں دبانے لگ گیا۔ مجمع قریب پانچ سو کے تھا۔ جس میں ہندو سکھ وغیرہ بھی تھے۔ حضرت سیّد حامد شاہ صاحب نے حضرت مولوی صاحب مرحوم کی شان میں نظم پڑھنی شروع کی اور رقت کی وجہ سے رو رہے تھے۔ اور روتے روتے شاہ صاحب کی ریش مبارک تر ہوگئی تھی اور مجمع بھی رو رہا تھا۔ میں نے پائوں دباتے وقت دیکھا کہ حضور کے ازاربند میں ایک بڑا گچھا چابیوں کا بندھا ہوا تھا۔ نیز حضور کے پائوں بالکل سادہ تھے۔ الٹاویں بنے ہوئے تھے۔ چونکہ دن بہت تھوڑا رہ گیا تھا۔ اس لئے حضور نے فرمایا کہ صندوق حویلی میں جو باغ کے جنوب میں ہے رکھ دو اور قبر کھودنے کا حکم فرمایا۔ اگلے روز فجر کے وقت صندوق دفن کیا گیا۔ تیسرے روز حضور نے تقریر فرمائی اور وہ تقریر رسالہ الوصیت کی تھی۔ اور یہ تقریر حضور نے حضرت میاں بشیر احمد صاحب کی بیٹھک میں فرمائی تھی۔ حضور جب سیڑھیوں سے نیچے تشریف لارہے تھے۔ حضور کی گود میں حضور کی صاحبزادی حفیظہ بیگم صاحبہ تھیں۔ صاحبزادی صاحبہ قریباً تین چار سال کی تھیں۔ جس وقت حضور تقریر فرما رہے تھے میں حضور کے دائیں جانب بیٹھا ہوا تھا۔ حضور نے فرمایا۔ ’’میری جماعت چھ ماہ کے بچہ کی طرح ہے۔ جب اس کی والدہ فوت ہوجاتی ہے تو اس کا نگہبان خدا ہوتا ہے مجھ کو بار بار خدا کی وحی آتی اور کہتی ہے کہ تیرا زمانہ اب قریب آگیا ہے۔ جب یہ واقعہ ہوگا‘‘۔ تب سب پر اداسی چھا جائیگی۔ یہ ہوگا ‘ یہ ہوگا‘ یہ ہوگا۔ اس وقت سب جماعت رو پڑی۔ نواب محمد علی خاں صاحب‘ رئیس مالیر کوٹلہ بیٹھک کے دروازہ میں جبکہ ہلکی ہلکی بارش بھی ہورہی تھی۔ جوتیوںمیں بیٹھے ہوئے تھے۔ سبحان اللہ خدا کے نبیوں کی کیا شان ہوتی ہے کہ’’ تیرے پاس لوگ دور دراز کے رستوں سے آئیں گے‘‘۔ ( جس وقت حضور ریتی چھلہ میں مجمع کے درمیان کھڑے تھے گرد بہت اڑ رہی تھی اور حضور دستار مبارک کا پلہ منہ پر پھیرتے جاتے تھے) اور حضور نے فرمایا کہ ’’میرے سامنے لالہ ملاوامل اور شرمپت آریہ کو بلائو جن کے سامنے یہ الہام چھاپ کر شائع کیا گیا تھا‘ کیا یہ پورا ہوا ہے یا نہیں‘‘۔
    ۱۹۰۶ء کے جلسہ سالانہ میں حضور نے تقریر فرمائی اور طاعون کے متعلق فرمایا کہ طاعون ابھی بہت
    پڑے گی چنانچہ واقعہ میں طاعون بڑی سخت پڑی۔
    ایک روز مقبرہ کی طرف حضور سیر کے لئے تشریف لے جارہے تھے اور میرے نسبتی بھائی نظام دین صاحب میرے ساتھ تھے۔ میں نے ان کو پکار کر کہا ( کیونکہ وہ پیشاب وغیرہ کی حاجت کے لئے الگ ہوگئے تھے) بھائی جلدی آئو۔ یہ ہیں حضرت امام مہدی علیہ السلام ۔ کسی دوست نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ نبی کے پاس نبی کی آواز سے بلند آواز نہیں کرنی چاہئے چنانچہ میں خاموش ہوگیا۔
    ۱۹۰۸ء میں آپ لاہور تشریف لے گئے۔ میں بھی حضرت سید حامد شاہ صاحب اور منشی عبداللہ صاحب اور ٹھیکیدار غلام محی الدین صاحب کے ہمراہ لاہور پہنچ گیا۔ مولوی شمس الدین صاحب چونڈہ والے بھی وہاں تھے۔ ایک روز حضور ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب کی کوٹھیوں کے درمیان گیلری میں چارپائی پر چاشت کے وقت بیٹھے ہوئے تھے میں بھی نیچے زمین پر بیٹھ گیا اور کچھ دوست کھڑے تھے اور ایک رئیس صاحب پاس کرسی پر بیٹھے ہوئے حضور سے تبادلہ خیالات کررہے تھے بعد میں معلوم ہوا کہ وہ رئیس صاحب میاں سر فضل حسین صاحب تھے ۔جب میاں سر فضل حسین صاحب بار بار حضور سے سوال کرتے تھے تو حضور بار بار جواب دیتے تھے میں نے میاں سر فضل حسین صاحب کے بار بار سوال کرنے کو گستاخی سمجھ کر‘ اور میں تھا بھی جوان عمر اور جوش طبیعت میں تھا اور زبان بھی دیہاتیوں والی سادی تھی اپنے پنجابی لہجے میں کہا۔ ’’تینوں سمجھ نہیں اوندی تے بار بار کیوں حضور نوں تنگ کرنا ایں‘‘ اس پر وہ سائل میاں صاحب خاموش ہوگئے اور خواجہ کمال الدین صاحب بڑے غیض و غضب سے میری طرف دیکھ رہے تھے خواجہ صاحب کے غصّہ سے میں کچھ گھبرا گیا مگر جب حضور کو دیکھا کہ میری طرف دیکھ کر مسکرا رہے ہیں میں دلیر ہوگیا۔ پھر مجلس برخاست ہوگئی اور حضور اندر تشریف لے گئے بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ یہ میاں سر فضل حسین صاحب ہیں ۔بعدہ‘ اتوار کے روز خواجہ کمال الدین صاحب اور ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب اور مرزا یعقوب بیگ صاحب نے صلاح کی کہ حضرت صاحب کے ساتھ دو انگریز اور ایک میم صاحبہ تبادلہ خیالات کے لئے آئے ہوئے ہیں۔ اس لئے مشرق والی کوٹھڑی خواجہ کمال الدین صاحب کی صاف کرائی جائے۔ چنانچہ سامان میز کرسیاں وغیرہ مہیّا کی گئیں۔ میں بھی ان کے ساتھ شامل ہوکر کمرہ صاف کرنے لگا۔ اور میز کے چاروں طرف کرسیاں بچھا دیں۔ جب خواجہ صاحب مع اپنے ہمراہیوں کے باہر نکلنے لگے تو مجھے بھی کہا کہ اب باہر آجائو میں پہلے ہی سے سوچ رہا تھا کہ یہ مجھے یہاں تو رہنے نہیں دیں گے اب کیا کرنا چاہئے حضور کی محبت میں سب حیلوں بہانوں کو جائز سمجھ کر فوراً کہا کہ آپ چلئے میں یہ فوٹو صاف کرکے آتا ہوں چنانچہ وہ چلے گئے اور مجھے موقع مل گیا جھٹ دروازہ بند کرکے دو کرسیوں کے نیچے بیٹھ گیا۔ ایک کرسی کے نیچے میرا دھڑ اور دوسری کرسی کے نیچے میری ٹانگیں تھیں اور گھبراہٹ کی وجہ سے پسینہ پسینہ ہورہا تھا کہ خواجہ صاحب نے جب دیکھا تو خفا ہوںگے اور جھٹ نکال دیں گے۔ پھر اچانک دروازہ کھلا حضور مع چند ہمراہیوں کے اندر داخل ہوئے اور کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ میں گھبرارہا تھا کہ کوئی باہر نہ نکال دے مگر خدا کی قدر ت حضور اس کرسی پر بیٹھے جس کے نیچے میرا سر اور دھڑ تھا۔ اور جس کرسی کے نیچے میرے پائوں تھے اس پر حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول بیٹھ گئے اور تین کرسیوں پر دونوں انگریز اور میم صاحبہ بیٹھ گئے۔ مجھے یہ تینوں انگریز صاف نظر آتے تھے اور گفتگو شروع ہوئی۔ میں نے دیکھا کہ حضور کی ایڑیاں زمین سے اوپر اٹھی ہوئی ہیں۔ میں نے اپنی پگڑی دوپٹے میں لپیٹ کر ایڑیوں کے نیچے رکھ دی۔ حضور نے جھک کر میری طرف دیکھا اور مسکرا دئے۔ اور فرمایا رہنے دو۔ اب میرا دل دلیر ہوگیا کہ اب کوئی مجھے نہ نکال سکے گا۔ انگریز انگریزی میں سوال کرتے تھے اور مولوی محمد علی صاحب ترجمہ کرتے تھے اور حضور جواب فرماتے تھے اس کا بھی ترجمہ کرکے بتادیتے تھے اور میں نے میم صاحبہ کو دیکھا کہ وہ بڑے غور سے حضور کے چہرہ مبارک پر آنکھیں گاڑ کر دیکھ رہی ہیں۔ جب حضور نے انگریز صاحب کے تیسرے سوال کا جواب دیا تو میم صاحبہ کا چہرہ چمک اٹھا اور انگریزی زبان میں انگریز سائل سے باتیں شروع کردیں۔ میں نے سمجھا کہ اب میم حضور پر خوش ہوکر گویا حضور کی طرف سے انگریز کو جواب دے رہی ہے۔ مولوی محمد علی صاحب نے حضور کو مبارک باد دی اور کہا کہ ان کی بیوی آپ کے حق میں دعا کرتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ واقعہ میںخدا کا رسول ہے۔ اور خدا کے رسول ایسے ہی ہوتے ہیں اور آئندہ اتوار کو آنے کا وعدہ کرتی ہیں۔ بعد ازاں مجلس برخاست ہوئی اور وہ انگریز صاحبان حضور سے مصافحہ کرکے چلے گئے (حضور نے میم صاحبہ سے مصافحہ نہیں کیا تھا)۔
    اس موقع پر مولوی محمد علی صاحب ‘ خواجہ کمال الدین صاحب ‘ سوداگر شیخ رحمت اللہ صاحب‘ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ اور خلیفہ رجب دین صاحب ‘خواجہ کمال الدین صاحب (موجود)تھے۔ پھر اگلے اتوار خواجہ کمال الدین صاحب نے ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب سے صلاح کی۔ آج حضرت صاحب کی تقریر بڑے بڑے رئیسوں میں ہونے والی ہے ۔ گائوں کے لوگ داخل نہ ہوں‘ کیونکہ ان کے کپڑے گندے ہوتے ہیں اور ساتھ دعوت بھی ہوتی ہے مجھ کو سن کر فکر پڑ گئی کہ آج تو مجمع میں داخل ہونا ناممکن ہے۔ سید محمد حسین صاحب کے مکان کے صحن میں اعلیٰ درجہ کی دریاں بچھائی گئیں اور میزیں کرسیاں رکھی گئیں اور رئیس آنے لگے ۔ بعد ازاں حضرت صاحب بھی اندر داخل ہوگئے اور خواجہ کمال الدین صاحب جب دروازہ بند کرنے لگے تو میں نے خواجہ صاحب سے کہا کہ مجھے اندر داخل ہونے دو میں حضرت صاحب کو پنکھا کرونگا۔خواجہ صاحب کے دل میں رحم آگیا۔ انہوں نے مجھے اندر داخل کرلیا اور میں اندر آکر حضور کے پاس پنکھا ہلانے لگا۔ حضور نے فرمایا’’ رہنے دو‘‘۔ تب میں حضور کے سامنے دری پر بیٹھ گیا اور تقریر شروع ہوگئی ۔ حضور نے دیکھا کہ جماعت کے بہت سے آدمی دیوار سے جھانک رہے ہیں۔آپ نے جب دیکھا کہ ہماری جماعت کے دوست باہر کھڑے ہیں اور اندر آنے کے مشتاق ہیں‘ آپ نے فرمایا’’ دروازے کھول دو‘‘۔ جب دروازہ کھولا گیا تو تمام لوگ اندر داخل ہوگئے۔ آپ نے قریباً اڑھائی گھنٹہ تقریر فرمائی ۔ پھرآپ نے فرمایا کہ’’ آپ لوگ امیر زادے ہو۔ کھانا کھانا ہوگا اس لئے میں لیکچر بند کردیتا ہوں‘‘۔ دو تین صاحب کھڑے ہوکر کہنے لگے حضور ہم کو کوئی بھوک نہیں۔آپ کی تقریر میں ہمارے لئے خوراک ہے۔ آپ نے پھر تقریر شروع کی۔ پھر کافی دیر کے بعد جلسہ برخاست ہونے لگا۔ حضور کے آگے کسی نے دودھ کا بڑا سا پیالہ رکھ دیا۔ آپ نے ایک دو گھونٹ لئے۔ میں حضور کے سامنے کھڑا تھا۔ حضور نے وہ پیالہ میرے ہاتھ پر رکھ دیا۔ میں نے ایک گھونٹ پیا۔ اس پر بہت سے دوستوں نے پیالہ لینے کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ پیالہ میں نے ہاتھ سے چھوڑ دیا۔ مگر ایک بک میں دودھ بھر لیا۔ پھر لوگوں نے میری انگلیاں اپنے منہ میں داخل کرلیں۔ جلسہ برخاست ہوگیا۔ حضور چلے گئے۔
    ایک روز چاشت کے وقت جبکہ حضور ابھی لاہور ہی میں تھے۔ حضور سید محمد حسین صاحب کی کوٹھی سے نیچے اترے میں پیشوائی کے طور پر آگے بڑھا۔ جب نزدیک گیا تو حضور کے پیچھے حضرت ام المومنین بھی نکلیں۔ اور ان کے پیچھے صاحبزادی مبارکہ بیگم صاحبہ تھیں اور ساتھ شاید آپا محمودہ بیگم تھیں۔ اور حضور بمعہ حضرت ام المومنین اور حضرت صاحبزادی صاحبہ اور آپا محمودہ بیگم صاحبہ کے نواب محمد علی خان صاحب کی رتھ میں بیٹھ گئے۔ اور رتھ کے آگے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سرخ گھوڑے پر سوار ہوکر رومی ٹوپی پہنے ہوئے چل پڑے۔ اور شالا مار باغ کی طرف چلے گئے ۔ جب دن سر پر آیا تو مجھے چوہدری علی بخش صاحب تلونڈی راہ والی والے کہنے لگے کہ چلو حضرت صاحب کی حفاظت کے لئے چلیں اور مولوی نورالدین صاحب سے اجازت حاصل کریں۔ جب ہم مولوی صاحب کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا تم نے مرزا صاحب کی حفاظت کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔ اور ہنس پڑے۔ اور فرمایا اچھا جائو تم کو خدا اجر دے۔ (ہم نے حضور کی حفاظت کے لئے جانے کے لئے اس لئے ارادہ کیا تھا کہ اس روز سخت آندھی چل پڑی تھی ) جب ہم تھوڑی دور گئے تو ہمیں گھوڑے کے سموں کی آواز آئی ہم ایک طرف ہوگئے تو حضرت صاحب زادہ صاحب گھوڑے پر سوار نمودار ہوئے۔ اور پیچھے رتھ تھی۔ ہم نے رتھ کو دونوں جانب سے پکڑ لیا۔ جب خواجہ کمال الدین صاحب کی کوٹھی کے نزدیک پہنچے تو آندھی بالکل ہٹ گئی۔ چونکہ لاہور میں شدید مخالفت تھی اور میں یہی سمجھا کہ شائد کسی دشمن نے حضور سے شرارت کا ارادہ کیا تھا۔ تو خدا تعالیٰ حضور کو سخت آندھی کے بیچ میں چھپا کے لے آیا تا کوئی دشمن آپ کو دیکھ کر بد ارادہ میں کامیاب نہ ہوسکے اور پھر عین کوٹھی کے نزدیک پہنچ جانے پر آندھی کا بالکل ہٹ جانا میرے اس قیاس کو قوی کرتا تھا اور حضور کوٹھی میں داخل ہوگئے۔ انہی ایام میں ایک روز حضور ظہر کی نماز کے بعد خواجہ کمال الدین صاحب کے دالان کی چھت پر بیٹھ گئے اور میں حضور کے دائیں جانب بیٹھ گیا جماعت کے کچھ دوست کھڑے اور کچھ دوست بیٹھے ہوئے تھے مولوی شمس الدین صاحب چونڈہ والے نے عرض کی’’ یا میرے پیر‘‘ حضور نے ان کی طرف دیکھا مولوی شمس الدین صاحب نے تب آنکھیں نیچی کر لیں اور کہنے لگے حضور میں ایک مسئلہ دریافت کرنا چاہتا ہوں حضور نے فرمایا ’’فرمائیے ‘‘تب مولوی صاحب کہنے لگے میں ایک شام کو نماز پڑھ کر جو نکلا تو گھر میں داخل ہوتے دیکھا کہ مرغیوں کے ڈربے میں سے ایک بلا بھاگا ہے اور ایک مرغی تڑپ کر باہر نکل آئی اس مرغی کا سر بلے نے جدا کر دیا ہوا تھا۔ میں نے گھر والوں سے کارد مانگی جب وہ کارد لائے تو میں نے سوچا کہ اب یہ ذبح کرنے کے قابل نہیں ہے اس لئے نہ تکبیر پڑھی اور نہ اس کو ذبح کیا ۔ حضور نے یہ سن کر اپنا رخ مبارک پیچھے کی جانب پھیرا(یہ یاد رہے کہ جہاں حضور بیٹھے ہوئے تھے حضور کے دائیں جانب میں تھا اور میرے پیچھے حضرت خلیفہ اوّلؓ بیٹھے ہوئے تھے ۔ جہاں سے وہ حضرت مسیح موعودؑ کو نہ دیکھ سکتے تھے۔) جونہی حضور نے اپنا رخ پیچھے کی جانب پھیرا اور پیشتر اس کے کہ حضور مولوی صاحب کو پکاریں ۔ مولوی صاحب فوراً ہوشیا رہوکر اٹھ کھڑے ہوئے۔ مولوی صاحب کو چند دوست دبا رہے تھے۔ حضور نے فرمایا مولوی صاحب مولوی شمس الدین صاحب مسئلہ دریافت کرتے ہیں مولوی صاحب نے کہا حاضر جناب اور اٹھ کر ہنستے ہنستے حضور کے نزدیک چلے آئے۔ ا ور حضور کے دائیں جانب بیٹھ گئے۔ اور میں پیچھے ہٹ گیا اور مولوی شمس الدین صاحب سے ہنس کر فرمانے لگے کہ مولوی صاحب آپ کو کاٹنے کے لیے کوئی رگ نہ ملی ۔ مولوی صاحب یہ مرغی حرام ہے۔ حضرت صاحب نے مولوی صاحب کا فتویٰ سُن کر فرمایا کہ’’ ہمارے مذہب کا دارومدار نرا عقل پر ہی نہیں بلکہ علم کے ساتھ بھی تعلق رکھتا ہے اگر کوئی حدیث یا قول تبع تابعین مل جاوے یا ایسا وقوعہ صحابہؓ کے وقت کا ہوا ہو۔ تو ہم ماننے کے لیے تیار ہیں ‘نہیں تو چار آنے کی مرغی ہے جانے دو‘‘۔
    ایک دفعہ میں نے حضور کو نماز سنت پڑھتے ہوئے دیکھا کہ حضور نے ہاتھ ناف سے اوپر باندھے ہوئے تھے۔ اور اسطرح پر کہ دائیں ہاتھ کی درمیانی انگلی بائیں کہنی تک نہیں پہنچتی تھی۔ بلکہ کچھ پیچھے ہی رہتی تھی اور سجدہ کرتے وقت دونوں ہاتھوں کے درمیان ماتھا اور ناک زمین پر رکھتے تھے اور انگلیاں سیدھی کعبہ کی سمت ہوتی تھیں۔ جب آپ سجدہ سے اٹھتے تھے تو حضور کی دستار مبارک ڈھیلی ہونے کی وجہ سے پیچھے ہٹ جاتی تھی تو سجدہ سے اٹھنے کے ساتھ ہی انگلی سے دستار مبارک کو آگے کر لیتے تھے۔ یہ سنت حضور نے مسجد اقصی میں اپنے والد ماجد کی قبر کے جنوب میں کھڑے ہوکر پڑھیں۔ اور پھر حضرت مولوی نورالدین صاحب نے نماز پڑھائی۔ اور حضور حضرت میاں بشیر احمد صاحب ‘حضرت میر محمد اسحاق صاحب اور حضرت مرزا عزیز احمد صاحب کے ساتھ گھر کی طرف آگئے اور چھوٹی مسجد کے نیچے گلی والے دروازے میں سے حضور اندر تشریف لے گئے۔ اور حضرت میاں بشیر احمد صاحب ‘ حضرت میاں عزیز احمد صاحب۔ حضر ت میر محمد اسحاق صاحب باہر کی طرف چلے گئے۔
    فقط والسلام








    روایات
    چوہدری عبدالعزیز صاحب احمدی پنشنر از نوشہرہ ککے زئیاں
    تحصیل پسرور ضلع سیالکوٹ
    غالبا ً ۱۸۷۷ یا ۱۸۷۸ ء کا واقعہ ہے کہ میں مظفر گڑھ کے شہر میں جماعت چہارم پرائمری میں پڑھتا تھا۔ میرا مکرم و محترم بھائی منشی عبدالکریم‘ قاضی غلام مرتضیٰ خان صاحب اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر محکمہ بندوبست کی پیشی میں محرر جوڈیشنل تھا۔ مولوی جلال الدین صاحب ساکن گوجرانوالہ مظفر گڑھ کے ابتدائی بندوبست کے تاریخ نویس تھے۔ شیخ کریم بخش صاحب منصرم بندوبست اور میر محفوظ حسین صاحب محافظ دفتر تھے۔ چونکہ یہ چاروں اصحاب مذہباً ایک ا ور ایک ہی عقیدہ اور مشرب کے تھے لہٰذا ہر روز شام کے بعد مولوی جلال الدین صاحب کے مکان ( ہمارا مکان جس میں مشترک تھا) میں جمع ہوجاتے اور دن بھر میں جس قدر حصّہ تاریخ اقوام ضلع مظفر گڑھ کا آپ تصنیف فرماکر لکھ لیتے وہ ان کو سنادیا کرتے۔ اسی اثنا میں ’’براہین احمدیہ‘‘ کا پہلا اشتہار اہتمام اشاعت کا اتفاقاً ان کے پاس پہنچ گیا کہ صداقت اسلام و صداقت نبوت حضرت محمد خیر الانام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈیڑھ ہزار جزو کی کتاب لکھی گئی ہے ۔ جو شخص پانچواں حصہ دلائل حقہ کو توڑ دے گا اسے دس ہزار روپیہ کی جائیداد دی جائیگی اور جو شخص اشاعت کتاب میں پیشگی معاونت کرے گا اس کو کتاب پانچ روپیہ میں ملے گی۔ ان کے ساتھ شیخ َغلام علی صاحب ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ بندوبست بھی شامل ہوگئے ۔ اور ان پانچوں اصحاب نے کتاب کی قیمت پیشگی بذریعہ بیمہ رجسٹری قادیان روانہ کردی۔
    ان دنوں منی آرڈر کا رواج نہ تھا۔ کچھ عرصہ بعد حضرت صاحب کا خط آیا کہ کتاب مذکورہ کا حجم بہت بڑھ گیا ہے۔ اگر کچھ اور امداد بطور عطیہ ترسیل کردی جائے تو ثواب میں منسوب ہوگی۔ چنانچہ فی کس دو‘ دو روپیہ اور روانہ کئے گئے۔ حضرت صاحب کے خاص اہتمام میں جو پہلا ایڈیشن براہین احمدیہ کا چھپا ہے اور اس کے ساتھ جو اعلان شائع ہوا ہے اس میں بزمرہ معاونین ان پانچوں اصحاب کے نام صفحہ کے آخر میں درج ہیں۔قاضی غلام مرتضیٰ صاحب اور مولوی جلال الدین صاحب اصحاب صُفّہ میں شامل ہیں مگر خادم کا بھائی حضرت صاحب کے اعلان بیعت سے پیشتر قصبہ موگا ضلع فیروز پور میں فوت ہوچکا تھا۔ (اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو) میری عمر اس وقت بارہ تیرہ سال کی ہوگی میں التزاماً نماز کا پابند نہ تھا مگر پڑھا ضرور کرتا تھا اور بوجہ دینی شغف ہونے کے ان چاروں اصحاب کی شام کی گفتگو کچھ نہ کچھ ضرور سنا کرتا تھا۔
    غنیمت جان مل کر بیٹھنے کو جدائی کی گھڑی سر پر کھڑی ہے
    بندوبست قریب االا ختتام ہوگیا میں اپنے وطن کو چلا آیا اور پسرور کے مڈل سکول میں جماعت پنچم پرائمری میں داخل ہوکر پڑھنے لگا۔ خادم کا بھائی منشی عبدالکریم صاحب تبدیل ہوکر ضلع ہوشیار پور کے بندوبست میں متعین ہوا۔ باقی اصحاب کا کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں تبدیل ہوکر چلے گئے۔ ۱۸۸۵؁ء میں مڈل سکول کا امتحان پاس کرکے امرتسر کے گورنمنٹ ہائی سکول میں داخل ہوگیا۔ ۱۸۸۶؁ء کے سرما کا غالباً واقعہ ہے کہ مولوی جلال الدین صاحب ممدوح جو اس وقت نابینا ہوگئے تھے۔ امرتسر تشریف لائے۔ مجھے اتفاقاً اللہ تعالیٰ نے جو خبر دی تو میں ان کے ملنے کے لئے گیا۔ علاوہ ازیں آپ کے صاحبزادہ کے ساتھ مجھے بے حد محبت تھی۔ہم مظفر گڑھ میں اکٹھے ہی رہتے تھے۔ بعد ملاقات میں نے آپ سے دریافت کیا۔ کہ آپ کیسے یہاں بحالت مجبوری تشریف لائے ہیں ‘تو فرمایا کہ میں حضرت مرزا غلام احمد صاحبؑ کے ہمراہ یہاں آیا ہوں۔ یہ دوسری آواز تھی۔ جو میرے کان میں پڑی۔
    مارچ ۱۸۸۷ء کے آخر میں امتحان میٹریکولیشن (انٹرینس) سے فارغ ہوکر فیروزپور اپنے بڑے بھائی کے پاس چلا گیا۔ جو بوجہ اختتام بندوبست ضلع ہوشیار پور سے تبدیل ہوکر آگیا تھا۔ میں دو مہینے پشتو پڑھتا رہا۔ بعد امتحان میٹریکولیشن میں یکم جولائی ۱۸۸۷ء کو رسالہ نمبر ۱۷ بنگال کیولری متعینہ چھائونی فیروزپور میں بعہدہ انگلش سکول ماسٹر ملازم ہوگیا۔ میرے اسسٹنٹ منشی خیر الدین صاحب جو ریاست مالیر کوٹلہ کے ایک معّززجاگیر دار خاندان سے تھے مقرر ہوئے آپ کو فارسی زبان کا اچھا ملکہ تھا اور آپ پہلے احمدی تھے۔ آپ کو حضرت صاحب کی کتابوںکا بڑا شوق تھا۔ چنانچہ جو بھی کتاب وہ منگواتے مجھے ضرور مطالعہ کے لئے دے دیتے۔ میں اس کو بڑے غور اور ٹھنڈے دل سے پڑھتا اور جو بات میری عقل اور فہم سے بالاتر ہوتی۔ میں اسے ہمیشہ بحوالہ خدا کرتا رہا اور کبھی دل میں نہ کسی قسم کا شک پیدا ہوا اور نہ ہی اعتراض نکتہ چینی یا عیب جوئی کا خیال آیا۔ قصہ مختصر یہ کہ ۲۶ /اکتوبر ۱۸۹۱ء کو ہمارا رسالہ چھائونی فیروزپور سے تبدیل ہوکر چھائونی لورالائی ملک بلوچستان کو چلا گیا چونکہ رسالہ سڑک سوار پیدل جارہا تھا۔ ہم لوگ ماہ دسمبر میں براستہ منٹگمری ملتان ‘ ڈیرہ غازی خاں وغیرہ میدانی اور پہاڑی علاقہ طے کرتے ہوئے لورالائی پہنچے۔ یہاں رسالہ دوسال رہا۔ یہیں مجھے صوفیا کرام کی کتابوں اور مثنوی شریف پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔ حضرت صاحب کی کتاب ’’ازالہ اوہام ‘‘بھی چھپ کر پہنچ گئی۔ ہم نے کتاب مذکور کو بغور پڑھا اور پھر ایک شخص بنام میر احمد شاہ دفعدار کردی۔ اس نے خدا جانے اسے پڑھا یا نہ پڑھا۔ مگر اس نے حضرت صاحب کے الہام انا انزلناہ قریباً من القادیان ‘‘کے متعلق سخت نکتہ چینی کی اور کچھ ناروا الفاظ بھی اپنی زبان سے کہے۔
    چھائونی لورالائی سے تبدیل ہوکر اسی طرح پیدل اسپ سوار٭ چلتے ہوئے فروری ۱۸۹۴ء کو علاقہ منٹگمری سے لگاتار بارشوں میں بھیگتے ہوئے چھائونی انبالہ پہنچے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔ چندوں میں تو میں شروع اپریل ۱۹۰۶ء میں شامل ہوگیا تھا مگر ابھی بیعت نہیں کی تھی۔ ایک دن میں قرآن شریف پڑھ رہا تھا۔ جب میں نے یہ آیت ’’کنت انت الرقیب علیھم‘‘ پڑھی تو مجھے آیتوںکے سیاق و سباق سے یقین آگیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام واقعی فوت ہوچکے ہیں اب ان کا دوبارہ آنا ناممکن الوقوع ہے۔
    غرضیکہ قرآن شریف کی رہنمائی اور احمدی احباب کے فیض صحبت سے متاثر ہوکر میں نے دستی بیعت کرنے سے پہلے بذریعہ خط ۱۹۰۶ء میں حضرت صاحب سے بمع بیوی اور تین بچوں (۲ لڑکے اور ایک

    ٭ اسپ سوار یعنی گھڑ سوار
    لڑکی) بیعت کا شرف حاصل کیا۔ پھر اخیر ماہ ستمبر ۱۹۰۷ء میں اپنے عزیز ملک جلال الدین صاحب سکنہ دھرم کوٹ بگہ کو ہمراہ لے کر قادیان شریف گئے اور نماز ظہر کے بعد مسجد مبارک میں خاص حضرت صاحب کے دست مبارک پر ہم دونوں نے بیعت کی اور اسی روز شام کو موضع بہل چک میں آکر جمعدار حسین بخش صاحب پنشنر کے ہاں مہمان ہوئے پھر علی الصبح ہی میں امرتسر چلاآیا۔
    یہاں تک تو میرے احمدی ہونے کی سرگزشت ہے اب اس سے آگے میری احمدی زندگی کے کچھ کوائف ہیں جو میںبفضلہٖ ذیل میں درج کرتا ہوں۔
    دسمبر ۱۹۰۷ء کے سالانہ جلسہ پر جو آخری جلسہ حضرت صاحب کی حیات طیبہ کا تھا میں حاضر ہوا تھا۔ ۹ بجے حضرت صاحب گھر سے ان سیڑھیوں کے ذریعہ نیچے تشریف لائے جو مسجد مبارک سے چھتی ہوئی گلی میں دفتر محاسب کے کونے کے عین مقابل اترتی ہیں۔ حضور دوسری سیڑھی پرکھڑے ہوگئے اور حضرت مولوی نور الدین صاحب کوخاص طور پر بلوا کر فرمایا۔ ’’رات جو مہمان دیر سے آئے ہیں ان کو کھانا نہیں ملا۔ اور وہ بالکل بھوکے رہے ہیں۔ ان کی فریاد عرش معلی تک پہنچی ہے۔‘‘ حضرت مولوی صاحب نے فرمایا حضور درست ہے‘ واقعی ان کو کھانا پہنچانے میں کوتاہی ہوئی ہے۔ فرمایا ’’ایک کمیٹی چار پانچ آدمیوں کی بنائی جائے جو رات بھر مہمانوں کی آمد و رفت کی نگہداشت اور انکے کھانے کا بندوبست کرے۔ تاکہ آئندہ دوستوں کو تکلیف نہ ہو‘‘ اس وقت ہم لوگ سب گلی میں حضور کے سامنے کھڑے تھے۔ بعدہ‘ حضور سیر کے لئے جس طرف نواب محمد علی خاں صاحب کی کوٹھی بھی ہے تشریف لے گئے۔ تمام احباب حضور کے دائیں بائیں قطار باندھے ہمراہ جارہے تھے ۔ جب حضور واپس لوٹے تو مسجد نور والی جگہ پر کھڑے ہوگئے ایک دوست نے اپنی چوتہی بچھا دی۔ تو حضور مع صاحبزادہ صاحب (خلیفہ ثانی) اس پر بیٹھ گئے۔ حضرت صاحبزادہ صاحب کے سرپر تُرکی ٹوپی تھی۔ مولوی محمد مبارک علی صاحب سیالکوٹی نے ایک فارسی نظم سنائی نماز ظہر کے بعد حضور نے مسجد اقصیٰ میں تقریر فرمائی۔جس کا ایک فقرہ مجھے خوب یاد ہے۔
    ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات تو ثابت ہوچکی ہے۔ اب دوسرے مسائل کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘
    ۱۹۰۸ء کے آغاز میں آریوں کا ایک جلسہ لاہور میں منعقد ہوا۔ انہوں نے حضور کو جلسہ میں شمولیت کی دعوت دی۔ حضور نے اپنا مضمون لکھ کر بھجوا دیا۔ اس میں حضور کے ارشاد کے ماتحت بہت سے احمدی احباب جلسہ میں شریک ہوئے۔ خادم بھی شامل تھا۔ ہمارا مضمون ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے پڑھا۔ آریوں نے اپنے لیکچروں میں بہت سی ناروا باتیں کہیں اور کمال بے ہودہ سرائی بھی کی۔ ہم لوگ صبر سے سنتے رہے۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب ہمارے امیر تھے۔ حضرت اقدس آریوں کا یہ سلوک سن کر بہت ہی کبیدہ خاطر ہوئے پھر حضور انور نے ان کی اس یاوہ گوئی کے جواب میں ایک کتاب لکھی جس کا نام شاید .........ہے۔ اپریل ۱۹۰۸ء کے دوسرے ہفتہ میں میرا دفتر دو ماہ کے لئے شملہ چلا گیا۔ وہاں احمدی جماعت کے ساتھ جس کا مرکز ایڈورڈ گنج میںتھا۔ خوب صحبت رہی۔ایک دفعہ مولوی عمر الدین صاحب شملوی کا میرے ایک دوست شیخ عبدالقادر صاحب نائب پروپرائیٹر آرمی پریس شملہ سے مباحثہ بھی ہوا میں ابھی شملہ میں ہی تھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے انتقال پر ملال کی تار پہنچی۔ ماہ جولائی میں مَیںنیچے انبالہ آگیا۔ یہاں محمد یوسف صاحب وجناب چوہدری رستم علی خاں صاحب کی صحبت میں حظ حیات مستعار حاصل ہوتا رہا۔ماہ دسمبر ۱۹۰۸ء کو میں تبدیل ہوکر میرٹھ چلا آیا۔ یہاں صرف تین ماہ قیام رہا۔ بعد ازاں پھر انبالہ کا تبادلہ ہوگیا۔۔۔۔۔۔
    نوٹ ۔ آگے بھی اپنے حالات چوہدری صاحب نے لکھے ہیں۔ مگر چونکہ براہ راست ان کا روایات سے کوئی تعلق نہیں اس لئے درج رجسٹر نہیں کئے گئے۔
    عبدالقادر جامع روایات صحابہ
    ۳۹۔۳۔۱۹



    روایات
    جناب مولوی برہان الدین صاحب مرحوم جہلمی
    بیان کردہ مولوی مہر الدین صاحب شاگرد مولوی صاحب موصوف
    ۱۔ میں لالہ موسیٰ سے جہلم سودا خریدنے جایا کرتا تھا۔ میں ریلوے گارڈ روم میں ملازم تھا۔ جس کی وجہ سے میں گوشت‘ سبزی‘ ڈبل روٹی وغیرہ خریدنے کیلئے روزانہ لالہ موسیٰ سے جہلم جایا کرتا تھا اور قرآن شریف کا ترجمہ اور صرف ان سے پڑھا کرتا تھا۔ ہر روز سبق لیکر واپس آتا اور گائوں میں ہی یاد کرلیا کرتا تھا۔ میں نے حضرت مسیح موعود ؑ کے متعلق آپ سے دریافت کیا کہ مجھے بھی کچھ بتلائیں۔ آپ نے فرمایا۔ میاں کسی زمیندار کو کہدیں کہ یہ روپیہ کھرا ہے تو وہ پلے باندھ لیتا ہے۔ تیرے جیسے کو دیں تو وہ پرے جاکر پتھر پر مار کر دیکھتا ہے۔ تم خود جاکر دیکھو۔ پھرمان لینا۔ پھر میں چار دن کی رخصت لیکر قادیان پہنچا۔ تو مولوی برہان الدین صاحب بھی یہاں آئے ہوئے تھے۔ تاریخ یاد نہیں۔ مگر یہ اس وقت کا ذکر ہے کہ ڈپٹی عبداللہ آتھم والی پیشگوئی کے پورا ہونے میں دو دن باقی تھے۔ مولوی حکیم فضل دین صاحب نے عرض کیا کہ حضور مہر دین کی بیعت لے لیں۔ حضرت علیہ السلام نے فرمایا ابھی نہیں۔ حکیم صاحب نے اصرار کیا کہ حضور پھر مصروف ہوجاویں گے۔ ابھی بیعت لے لیں۔ مولوی برہان الدین صاحب نے کہا کہ حضور علیہ السلام جس طرح فرماتے ہیں ایسا ہی کرنا چاہئے۔ چنانچہ اس دفعہ میں بغیر بیعت کرنے کے واپس چلا گیا اور چار پانچ ماہ کے بعد اگست ۱۸۸۵ء ٭میں دوبارہ آکر بیعت کی۔ اس کے بعد میں ہر عید قادیان میں آکر پڑھا کرتا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مرتبہ فرمایا کہ میری خواہش ہے کہ اپنے گائوں کے لوگوں کو دعوت طعام دوں اور ساتھ ہی روحانی دعوت بھی دوں اور لوگو ںکو میرے دعویٰ کے متعلق سمجھانے کیلئے حضرت مولوی نور الدین صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب امروہی کو مقرر کیا جاوے۔
    میں بھی وہاں حاضر تھا۔ میں نے عرض کی کہ حضور نے عید کے خطبہ کے لئے مولوی محمد احسن صاحب کو مقرر کیا تھا۔ تو آپ نے علمی رنگ میں خطبہ پڑھا تھا۔ جس سے عوام الناس کوئی فائدہ حاصل نہ کرسکے اس لئے اس مرتبہ آپ مولوی برہان الدین صاحب کو عام لوگوں کو سمجھانے کے لئے مقرر فرماویں۔ کیونکہ وہ پنجابی میں تقریر کرتے ہیں حضور نے فرمایا بہت اچھا ایسا ہی کیا جاوے گا۔ چنانچہ مولوی برہان الدین صاحب نے تقریر کی۔ اور بہت سے لوگوں نے بیعت کی۔
    ۲۔ ایک روز مولوی برہا ن الدین صاحب جہلم میں ایک کتب فروش کی دکان پر کھڑے تھے اور ایک غیر احمدی حافظ سے آپ نے ’’السلام علیکم ‘‘کی۔حافظ نے سلام کا جواب نہ دیا اور کہا کہ مولوی صاحب آپ مرزا صاحب کے ساتھ ہوگئے ہیں اس لئے ہم آپ کا سلام قبول نہیں کرتے۔ مولوی صاحب نے فرمایا کہ حافظ صاحب کونسی آیت کے خلاف حضرت مرزا صاحب کا عمل ہے۔ حافظ صاحب نے کہا کہ آیت ’’لاتسبو ا الذین یدعون من دون اللہ‘‘ ۔ الآیۃ کے خلاف مرزا صاحب نے اس طرح کیا ہے کہ انہوں نے لوگوں کے معبودوں کو گالیاں دے کر سچے معبود کو گالیاں نکلوائی ہیں اور آپ ان کے ساتھ ہیں اس لئے ہم سلام آپ سے نہیں کرسکتے۔ مولوی صاحب نے فرمایا کہ حافظ صاحب کوئی ایسی آیت نکالو جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہو کہ غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کو برا نہ کہو۔ حافظ صاحب لاجواب ہوگئے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے غیر معبودوں کی عبادت کرنے والوں کو کافر ‘ مشرک‘ جہنمی وغیرہ کہا ہے۔
    ۳۔ پھر ایک مرتبہ میں قادیان آیا۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مولوی برہان الدین صاحب کو کہنا کہ قادیان آجائیں ان کے آنے سے مجھے آرام ملتا ہے۔ کیونکہ وہ میرے ساتھ کام کرتے ہیں کتابوں کا پروف دیکھتے ہیں۔ اگر وہ کچھ خرچ کا عذر کریں تو کہہ دینا کہ خرچ ہم دے دیں گے میں نے مولوی صاحب سے جاکر عرض کیا تو وہ قادیان پہنچ گئے۔
    ۴۔ میںایک روز حسب معمول جہلم سبق کے لئے مولوی صاحب کے ہاں حاضر ہوا تو معلوم ہوا کہ آپ ڈپٹی راجہ جہاں داد خاں صاحب کی کوٹھی پر گئے ہوئے ہیں۔ میں اپنا سامان شیخ قمر الدین صاحب کی دکان پر رکھ کرڈپٹی صاحب کی کوٹھی پر پہنچا۔ دروازے پر ان کا نوکر کھڑا تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ اندر جو لال داڑھی والا انسان(مولوی برہان الدین صاحب) بیٹھا ہے۔ اس کو جاکر کہہ دو کہ مہر دین لالہ موسیٰ والا السلام علیکم عرض کرتا ہے۔ جواب میں آپ نے پیغام بھیجا کہ اس کو اندر آنے دو میں نے وہاں پہنچ کر اسلام علیکم کہا ۔ راجہ جہاں داد خاں نے کہا کہ یہ بھی احمدی ہے میں نے کہا ہاں۔ انشاء اللہ اپنے اعتقاد کے لحاظ سے مولوی صاحب سے آگے ہوں۔ اس نے کہا کہ بھائی محمدی کیوں نہ رہا؟ میں نے کہا اب محمدیت کا زمانہ نہیں رہا۔ اب احمدیت کا وقت ہے۔ مولوی صاحب نے فرمایا کہ کیا گاڑی میں کچھ وقت ہے۔ میں نے عرض کی پندرہ منٹ ہیں۔ راجہ صاحب نے کہا کہ آج تم نہ جائو۔ یہاں ہی رہ جائو۔ میں نے کہا وجود وقف کردیا ہوا ہے۔ اس لئے میں رہ نہیں سکتا۔ اس جگہ پر ایک سید صاحب بھی تھے جو کہ حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق مولوی صاحب سے مناظرہ کررہے تھے اور راجہ پیندے خاں صاحب دارا پوری بھی وہاں موجود تھے۔ سید صاحب نے کہا کہ مولوی صاحب آپ مرزا صاحب کے فریب میں آگئے۔ کیونکہ آپ کو مرزا صاحب نے کہا کہ مجھے آپ کے متعلق الہام ہوا ہے۔ مولوی صاحب نے کہا کہ یہ بات نہیں بلکہ جب مرزا صاحب نے براہین احمدیہ کتاب لکھی میں نے اس کتاب کو پڑھا تو میں نے خیال کیا کہ یہ شخص آئندہ کچھ ہونے والا ہے۔ اس لئے میں اس کو دیکھ آئوں۔ میں ان کو دیکھنے کے لئے قادیان پہنچا تو مجھے علم ہوا کہ آپ ہوشیار پور تشریف لے گئے ہیں۔ میں نے کہا کہ بار بار آنا مشکل ہے اس لئے ہوشیار پور جاکر دیکھ آئوں میں نے ان کا پتہ پوچھا تو کسی نے بتلایا کہ ان کی بہلی کے بیل سفید ہیں وہ واپس آرہا ہوگا۔ آپ راستہ میںاس سے پتہ پوچھ لیں۔ جب ہم دریا پر پہنچے تو ہماری نائو بہلی والے کی نائو سے کچھ فاصلے پر گزری اس لئے اس سے کچھ دریافت نہ کرسکے۔ جب میں ہوشیار پور پہنچا تو مرزا اسماعیل بیگ حضور کے ہمراہ بطور خادم تھے۔ حضور کو انگریزی میں الہام ہوا تھا جس کا ترجمہ کرانے کے لئے وہ جارہے تھے کہ مجھے ملے میں نے ان سے پوچھا کہ مرزا صاحب کہاں ہیں انہوں نے کہا کہ شہر میں تلاش کرلیں معلوم نہیں ‘حضرت صاحب نے منع کیا ہوا تھا یا کوئی اور بات تھی آخر میں پوچھ کر آپ کے مکان پر پہنچا اور دستک دی۔ خادم آیا۔ اور پوچھا کون ہے۔ میں نے کہا برہان الدین جہلم سے حضرت مرزا صاحب کو ملنے کے لئے آیا ہے۔ اس نے کہا کہ ٹھہرو میں اجازت لے لوں۔ جب وہ پوچھنے گیا تو مجھے اسی وقت فارسی میں الہام ہوا کہ جہاں تم نے پہنچنا تھا پہنچ گیا ہے اب یہاں سے نہیں ہٹنا۔ خادم کو حضرت صاحب نے فرمایا کہ ابھی مجھے فرصت نہیں۔ ان کو کہہ دیں پھر آئیں۔خادم نے جب یہ مجھے بتلایا تو میں نے کہا کہ میرے گھر دور ہیں میں یہاں ہی بیٹھتا ہوں۔ جب فرصت ملے گی تب ہی سہی۔ جب خادم یہ کہنے کے لئے حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت صاحب کو عربی میں الہام ہوا۔ کہ مہمان آوے تو مہمان نوازی کرنی چاہئے۔جس پر حضرت صاحب نے خادم کو حکم دیا کہ جائو جلدی سے دروازہ کھو ل دو۔ میں جب حاضر ہوا۔ تو حضور بہت خندہ پیشانی سے مجھے ملے اور فرمایا کہ ابھی مجھے یہ الہام ہوا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ مجھے فارسی میں یہ الہام ہوا ہے کہ اس جگہ سے جانا نہیں۔ میں چند دن حضرت کے پاس رہا اور حضرت کے حالات دیکھے کہ تین وقت تک آپ نے کھانا نہیں کھایا اور نماز کے وقت جلدی سے باہر تشریف لاتے اور فرماتے کہ تھوڑا پانی لائو میں نے وضو کرنا ہے نماز ہمارے ساتھ ادا کرکے پھر اندر تشریف لے جاتے۔ وہاں مرزا اعظم بیگ ہوشیار پوری مہتمم بندوبست تھا۔ وہ میرا واقف تھا۔ میں ان سے ملنے کے لئے گیا۔ اس نے پوچھا کہ مولوی جی آپ کیسے آئے ۔ تو میں نے کہا کہ حضرت مرزا صاحب کو دیکھنے کے لئے آیا ہوں۔ اس نے پوچھا۔ کون سے مرزا صاحب۔ میں نے کہا۔ کہ مرزا غلام احمد قادیانی ۔ اس نے کہا کہ آدمی تو بہت اچھا تھا لیکن خراب ہوگیا ہے۔ میں نے کہا کس طرح۔ اس نے کہا کہ بچپن کی حالت میں یہ لڑکوں سے کھیلا نہیں کرتا تھا۔ اس کا والد اس پر ناراض ہی رہتا تھا کہ تم باہر ہی نہیں نکلتے۔ میں نے کہا الحمد للہ۔ اس نے کہا کہ الحمد کا کون سا موقع ہے۔ میں نے کہاجس زمانہ کا میں واقف نہیں تھا اس کے متعلق تم نے شہادت دے دی کہ آپ بچپن میں ہی نیک تھے اور موجودہ حالت میں نے خود دیکھ لی ہے۔ اس نے کہا کہ موجودہ حالت آپ نے کیا دیکھی۔ میں نے کہا کہ تین تین وقت کھانا نہیں کھاتے اور نماز باقاعدہ ہمارے ساتھ پڑھتے ہیں اور باقی وقت تنہائی میں رہتے ہیں۔ عصر کے وقت کوٹھے پر اس تیزی سے ٹہلتے ہیں جیسے کوئی پچاس کوس کا سفر کرنا ہے۔ میرا قیافہ یہ بات کہتا ہے کہ یہ دور پہنچنے والا آدمی ہے۔ اس نے کہا کہ خراب اس لئے ہوگیا ہے کہ کہتا ہے کہ نجات میرے قدموں میں ہے ۔میں نے کہا کس جگہ کہا ہے۔ اس نے کہا کہ اشتہار دیا ہوا ہے۔ میں نے کہا کہ وہ اشتہار لادیں۔ دوسرے دن وہ اشتہار لے آئے ‘جس کو میں نے پڑھا۔ اشتہار وہ تھا جو براہین احمدیہ کے متعلق حضور نے دیا تھا کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ اور محمد رسول اللہ ؐ اس کے رسول ہیں۔ میں اس کی صداقت پر تین صد دلیلیںدیتا ہوں۔ جو شخص میرے دلائل کے ربع کو تو ڑ دے میں اس کو دس ہزار کی جائیداد پر قبضہ دے دونگا۔ میں نے کہا کہ آپ کو یہ دھوکا لگ گیا ہے ۔ جب وہ جائیداد پر بھی قبضہ دینے کو تیار ہے تو وہ فنافی الرسول ہوچکا۔ اور اس کے قدم اپنے نہ رہے بلکہ رسول کے قدم ہوگئے۔ اس نے کہا۔ کہ معلوم ہوتا ہے کہ تم بھی اس کی امت میں ہوگئے ہو۔ میں نے کہا۔ کہ میں تو تیار ہوں لیکن ابھی وہ بناتے ہی نہیں۔ کیونکہ بیعت ابھی شروع نہ ہوئی تھی۔
    بقلم خود مہر الدین
    نمبر ۹ چک پنیار حال وارد قادیان
    ناقل خاکسار عبدالقادر جامع روایات صحابہ
    ۳۹۔۳۔۲۰





    روایات
    ملک نیاز محمد صاحب ولد ملک برکت علی صاحب ککے زئی افغان
    اصل وطن راہوں ضلع جالندھر حال قادیان محلہ دارالفضل معرفت
    ملک برکت اللہ صاحب پسر صاحب موصوف
    ۱۔ بیان کیا کہ میں ۱۹۰۴ء کے گرمیوں کی سکول کی تعطیلات میں اپنے بڑے بھائی حکیم دین محمد صاحب اکائونٹنٹ جو کہ اس وقت ہائی سکول قادیان میں تعلیم حاصل کررہے تھے کی تحریک پر قادیان آیا ان دنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بمع متعلقین باغ میں رونق افروز تھے۔ علاوہ موجودہ مکان باغ والے کے بعض خیمے بھی لگائے ہوئے تھے۔ ایک دن باغ میں مولوی عبدالکریم صاحب وشیخ یعقوب علی صاحب اور بعض اور اصحاب بھی موجود تھے کہ حضرت مسیح اقدس علیہ السلام باہر تشریف لائے ان دنوں پیسہ اخبار کے ایڈیٹر کی لڑکی کے متعلق اخبارات میں کچھ شائع ہورہا تھا کہ اس کا خلاصہ بعض اصحاب نے حضور علیہ السلام کو سنایا۔ ایک سکھ جوکہ بڑا قد آور تھا۔ آگیا۔ اس نے درخواست کی کہ میںحضور سے علیحدہ ہوکر باتیں کرنی چاہتا ہوں چنانچہ حضور اس کے ساتھ باغ ہی میں دور چلے گئے اور اس سے باتیں کرتے رہے اور وں کا تو علم نہیں۔ لیکن کم از کم میں ڈرتا تھا کہ وہ کہیں شرارت نہ کرے۔ مگر آپ بڑی جرا ت اور دلیری سے اس کے ساتھ باتیں کرکے واپس تشریف لائے۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ اس نے اس قسم کے سوال کئے تھے۔ کہ مجھے ان آنکھوں سے خدا دکھلادو۔
    ۲۔ ان دنوں میں نے دیکھا کہ جمعہ کی نماز ہر دو مساجد میں پڑھی جاتی تھی یعنی مسجد مبارک و مسجد اقصیٰ۔ مسجدمبارک میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب امام ہوتے تھے اور مسجد اقصیٰ میں حضرت خلیفہ اول مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ ۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو میں نے مسجد مبارک میں دوران خطبہ میں بیٹھے ہوئے اس طرح دیکھا کہ ایک ٹانگ دوسری کے اوپر رکھی ہوئی تھی اور قبلہ رخ چپ چاپ پگڑی کا شملہ ہاتھ سے منہ کے آگے رکھا ہوا تھا۔
    ۳۔ میں نے دیکھا کہ حضور علیہ السلام کلاہ کی جگہ رومی ٹوپی پہنتے تھے۔
    ۴۔ ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ حضور مسجد مبارک کے مشرقی حجرہ کے اس دریچہ میں جو کہ گلی کی طرف کھلتا ہے ۔ تشریف فرما ہیں اور بعض احباب سے گفتگو فرما رہے ہیں اور پشت گلی کی طرف ہے اور سر پر سفید عمامہ جس کا لمبا شملہ لٹک رہا تھا۔
    ۵۔ اگرچہ میرے والد صاحب ملک برکت علی صاحب ۹۸۔۱۸۹۷ئ؁ سے احمدی تھے اور میں بھی ان کی اقتداء میں بچپن سے احمدی تھا۔ تاہم ۱۹۰۴ء میں جبکہ میری عمر چودہ یا پندرہ سال کے لگ بھگ تھی میں نے حضور کی خود بیعت کی۔ جب کوئی شخص بیعت کرتا تھا ۔ ہم بھی بار بار بیعت کرلیتے تھے تاکہ ہم بھی حضور کی اس دعا میں جو کہ حضور علیہ السلام بعد بیعت فرمایا کرتے تھے شامل ہوجائیں۔ بعض وقت بہت آدمی بیعت کرنے والے ہوتے تھے تو لوگ اپنی اپنی پگڑیاں اتار کر حضور کے ہاتھوں تک پہنچا دیتے تھے اور ان پگڑیوں کوسب لوگ پکڑ لیتے تھے اور اس طرح بیعت ہوجاتی تھی۔
    ۶۔ ۱۹۰۵ء میں ایک دن بوقت عصر ہم کو راہوں ضلع جالندھر‘ کارڈ ملا کہ حضور علیہ السلام دہلی تشریف لے جارہے ہیں اور صبح آٹھ یا نو بجے کی گاڑی سے پھگواڑہ سٹیشن پر سے گزریں گے۔ حاجی رحمت اللہ صاحب ‘ چوہدری فیروز خاں صاحب مرحوم نے میری ڈیوٹی لگائی کہ تم نوجوان ہو اسی وقت جائو اور جماعت کریام کو اطلاع کرو ۔ چنانچہ میں مغرب کے بعد چل کر کریام پہنچ گیا۔ جماعت کو اطلاع کی گئی کہ وہاں سے بھی کچھ دوست ساتھ ہولئے۔ ہم سب لوگ اسی طرح چل کر پھگواڑہ جو کہ راہوں سے تیس(۳۰) میل کے قریب دور ہے پہنچے اور صبح کی نماز پڑھی۔ وہاں سٹیشن پر منشی حبیب الرحمان صاحب مرحوم نے حاجی پور والوں کی طرف سے احباب جماعت کے ٹھہرنے کا انتظام کیا ہوا تھا۔ اور دن کے وقت انہی کی طرف سے کھانا آیا۔ جب گاڑی کا وقت ہوا اور گاڑی آکر گزر گئی تو معلوم ہوا کہ روانگی کی تاریخ تبدیل ہوگئی ہے۔ جس سے ہم کو بہت صدمہ ہوا۔ یا تو راتوں رات وفور محبت کی وجہ سے اتنا لمبا سفر کیا تھا یا یہ حالت ہوئی کہ ایک قدم چلنا دشوار ہوگیا ۔ پیروں میں چھالے پڑے ہوئے تھے۔ اور ملاقات نہ ہونے کا صدمہ تھا اس لئے واپسی پر یکوں پر آئے۔
    ۷۔ چند روز کے بعد پھر اطلاع ملی کہ حضور دہلی سے واپسی پر فلاں تاریخ لدھیانہ میں اتریں گے اور قیام فرمائیں گے۔ یہ رمضان ۱۹۰۵ء کا واقعہ ہے۔ پھر میں بمعیت حاجی رحمت اللہ صاحب و حاجی عبداللہ صاحب و چودھری فیروز خاں صاحب مرحوم و بابا شیر محمد صاحب یکہ بان مرحوم ایک بہلی دو بیلوں والی لے کر راہوں سے لدھیانہ کو چلے جو کہ تقریباً بیس میل کا فاصلہ ہے۔ درمیان میں دریا اور اس کے ریتلے حصے بھی آتے تھے۔ اس بہلی پر ہم چڑھتے اترتے شام کو لدھیانہ پہنچ گئے۔ حاجی رحمت اللہ صاحب کا ایک تین چار سالہ بچہ بنام غالباً فیض اللہ بھی ساتھ تھا۔ وہاں جاکر معلوم ہوا کہ حضور علیہ السلام کل جو گاڑی نو یا دس بجے آتی ہے اس پر تشریف لائیں گے۔ دوسرے روز گاڑی سے گھنٹہ یا ڈیڑھ گھنٹہ قبل ہی ہم سٹیشن پر پہنچ گئے۔ وہاں خلقت کا بڑا ہجوم تھا۔ میرے بڑے بھائی حکیم دین محمد صاحب بھی جو ان دنوں حاجی پور میں انٹرنس کی تیاری کررہے تھے وہاں سے آئے ہوئے تھے ۔جس وقت گاڑی سٹیشن پر پہنچی حضور علیہ السلام کا ڈبہ جو کہ ریزرو تھا کاٹ کر پیچھے کی طرف دھکیلا گیا۔ میں اور میرے بھائی حکیم دین محمد صاحب اس ڈبے کے ڈنڈوں کو پکڑ کر پائیدان پر چڑھ کر ڈبے کے ساتھ ہی پیچھے کی طرف چلے گئے۔ چونکہ میرے بڑے بھائی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب کے کلاس فیلو رہ چکے تھے اور ان کے خوب واقف تھے اور وہ بھی اس ڈبہ میں سوار تھے۔ اس لئے ڈبے کے ساتھ ہم کھڑے ہوکر ان سے باتیں کرتے رہے۔ پھر وہ ڈبہ پلیٹ فارم پر آیا تو حضور اور حضور کے اہل بیت پلیٹ فارم پر اُترے اور سٹیشن سے باہر تشریف لائے۔ سٹیشن سے باہر شکرم دو گھوڑے والی جو کہ بند گاڑی ہوتی ہے ۔ موجود تھی۔ اس میں حضور سوار ہوگئے۔ اور دروازہ بند کرلیا۔ اور ہم لوگ اور بہت خلقت اس کے پیچھے پیچھے دوڑے چلے آئے۔ نہال اینڈ سنز کی دکان کے پاس ایک مکان قاضی خواجہ علی صاحب مرحوم نے غالباً لے رکھا تھا جو کہ برلب سڑک تھا۔ اس میں حضور نے قیام فرمایا۔ برآمدہ میں حضور کرسی پر تشریف فرما ہوئے۔ عام لوگ آکر مصافحہ کرتے رہے۔ حاجی رحمت اللہ صاحب نے بھی اپنے اس تین چار سالہ بچے کے ہاتھ نذرانہ دے کر مصافحہ کرایا۔ حضور نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا کہ’’ اب تو لوگ ہمیں کافر کہتے ہیں یہ نسلیں یاد کریں گی‘‘۔ میرے بڑے بھائی جان محمد صاحب ریٹائرڈ سب انسپکٹر پولیس ان دنوں قلعہ پھلور میں قانون کی تعلیم کے لئے گئے ہوئے تھے۔ وہاں سے بمع ایک دوست چوہدری شہاب الدین کے آئے اور مصافحہ کیا۔ اور عرض کیا کہ حضور یہ بھائی شہاب الدین بیعت کرنی چاہتے ہیں ۔ حضور نے فرمایا کہ عصر کے بعد ۔اس پر میرے بھائی نے عرض کیا کہ حضور ہم پھلور میں تعلیم کے لئے آئے ہوئے ہیں۔ جمعرات کے روز وہاں چھٹی ہوتی ہے اور چار بجے شام سے پہلے ہمیں وہاں پہنچنا ضروری ہے۔ اگر ہم شام تک ٹھہر جائیں تو غیر حاضر ہوجائیں گے۔ حضور نے فرمایا۔ بہت اچھا۔ ابھی بیعت لے لیتے ہیں اور اسی وقت بیعت لے لی۔
    رات کے وقت مغرب اور عشاء کے درمیان ایک سٹیشن ماسٹر لدھیانہ کے پرے کی طرف سے آئے اور اندر اطلاع بھجوائی۔ حضور باہر تشریف لائے۔ انہوں نے عرض کیا کہ حضور میں فلاں سٹیشن پر سٹیشن ماسٹر ہوں۔ دس یا بارہ بجے جو گاڑی جاتی ہے اگر اس پر نہ جائوں تو غیر حاضر ہوجاتا ہوں۔ بیعت کرنی چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ بہت اچھا۔ حضور اور وہ سٹیشن ماسٹر صاحب مفتی محمد صادق صاحب اور بعض اور احباب کھڑے تھے۔ کوئی شخص چارپائی لینے چلا گیا۔ اتنے میں ایک اندھی بوڑھی جو وہاں بیٹھی تھی۔ اس کے دریافت کرنے پر کسی نے اس کو بتلایا کہ یہ حضرت صاحب کھڑے ہیں اس پر اس نے حضورکے پائوں پکڑ لئے۔ اس پر حضور فوراً پیچھے ہٹ گئے اور فرمایا کہ ’’مائی پیر پکڑنے گناہ ہیں‘‘۔ چارپائی آئی اور بچھائی گئی۔ حضور نے اس سٹیشن ماسٹر سے فرمایا کہ بیٹھ جائو۔ انہوں نے ادب کی وجہ سے عرض کیا کہ حضور تشریف رکھیں۔ اس پر حضور نے فرمایا ’’الامر فوق الادب‘‘ ۔ اس کے بعد وہ بیٹھ گئے اور حضور بھی بیٹھ گئے اور ان کی بیعت لی۔ مفتی صاحب جو اکثر انگریزی اخبارات کے خلاصے وقت ملنے پر حضور کی خدمت میں عرض کیا کرتے تھے۔ اس وقت بھی غالباً چارپائی کے آنے تک کے انتظار میں عرض کرنے لگ پڑے۔ ایک بات جو یاد ہے وہ یہ ہے کہ مفتی صاحب نے عرض کیاکہ حضور سودیشی اشیاء پر بہت زور دیا جارہا ہے۔ حضور نے فرمایا کہ بات تو اچھی ہے بشرطیکہ اس میں بغاوت کی بو نہ ہو۔
    عشاء کے بعد نواب ذوالفقار علی صاحب مرحوم مالیر کوٹلہ والے حضور سے ملنے کے لئے آئے اس مکان کے ہال کمرہ میں حضور علیہ السلام تشریف لے آئے اور ان سے خیر و عافیت دریافت کرنے کے بعد حضور نے ایک لمبی تقریر فرمائی جس میں نہ تو نواب ذوالفقار علی صاحب کا نام تھا اور نہ ان کی طرف اشارہ تھا لیکن ہم جو سننے والے تھے۔ یہ خیال کرتے تھے کہ تمام نقشہ ا ن کی روحانی حالت کا کھینچ کر ان کے سامنے رکھ دیا ہے۔
    دوسرے دن جمعہ تھا نہال اینڈ سنز کی دکان کے جانب شمال ایک بہت بڑا احاطہ تھا اس میں حضور علیہ السلام کا لیکچر ہوا۔ بہت بڑا مجمع سننے والا تھا۔ مولوی محمد احسن صاحب امروہوی بھی موجود تھے۔ جو کہ حضور علیہ السلام کے نزدیک بیٹھے تھے۔ جب دوران لیکچر میں کسی آیت کے حوالے کی ضرورت پڑتی تھی تو حضور فرماتے تھے کہ قرآن شریف میں اس طرح فرمایا گیا ہے اور مولوی صاحب سے فرماتے کہ مولوی صاحب وہ آیت کیا ہے۔ وہ جھٹ وہ آیت پڑھ دیتے اور حضور وہ حوالہ دے دیتے۔ اس احاطہ کے غربی جانب برآمدہ تھا۔ اسکے آگے حضور کی سٹیج تھی۔ جس پر حضور کھڑے ہوکر لیکچر دے رہے تھے۔ برآمدے میں سے چائے کی پیالی گرم گرم حضور کے لئے سٹیج پر بھیجی جاتی تھی۔ جب ایک گھونٹ دوران لیکچر میں حلق تر کرنے کے لئے حضور اس پیالی میں سے پی لیتے تو وہ پیالی پیچھے واپس آجاتی تھی اور ہم لوگ اس کو بطور تبرک پی لیتے تھے۔
    ایک واقعہ جو رہ گیا ہے یہ ہے کہ جب حضور گاڑی سے اتر کر مکان میں تشریف لائے تو قاضی خواجہ علی صاحب نے حضور علیہ السلام سے عرض کیا کہ حضور یہاں مولویوں نے حضور کی نسبت بہت کچھ غلط بیانیاں لوگوں میں مشہور کر رکھی ہیں چنانچہ ایک یہ کہ حضور کو نعوذ باللہ کوڑھ ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے ہر وقت ہاتھوں میں دستانے اور پائوں میں جرابیں اور چہرے پر نقاب رکھتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ سڑک پر کرسی بچھا دوں اور حضور وہاں تشریف رکھیں تاکہ لوگوں کو اصل حقیقت سے آگاہی ہوجائے۔ حضور نے فرمایا کہ ’’بہت اچھا‘‘۔ چنانچہ اس مکان کے باہر برلب سڑک کرسی بچھائی گئی اور حضور اس پر تشریف فرما ہوئے۔ لوگ آتے رہے اور مصافحہ کرتے رہے۔
    ۸۔ ۱۹۰۵ء میں مَیںبمعیت اپنے والد صاحب مرحوم و برادران حکیم غلام محمد صاحب (شاگرد حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ) و حکیم دین محمد صاحب بتقریب نکاح حکیم دین محمد صاحب قادیان گیاتھا۔ اس موقع پر بعد نکاح ایک نئے رومال میں کچھ اخروٹ وغیرہ باندھ کر مسجد مبارک کی اندر والی سیڑھیوں سے اوپر چڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مکان کے آگے مسجد مبارک کے ساتھ جو چھوٹا سا صحن ہے اس میں کھڑے ہوکر اندر کسی عورت کو بھیج کر حضور کو باہر تشریف لانے کے لئے عرض کیا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد حضور علیہ السلام دروازے پر تشریف لائے تو میرے بھائی حکیم غلام محمد صاحب نے وہ اخروٹ والا رومال حضور کے دست مبارک میں پکڑا کر عرض کیا کہ حضور کوئی اپنا پورا رومال عنایت فرماویں۔ اس پر حضور نے فرمایا۔ بہت اچھا۔ حضور اندر تشریف لے گئے ۔ تھوڑی دیر کے بعد پھر یاددہانی کے لئے کسی کو اندر بھیجا ۔ حضور نے ایک رومال بھیج دیا۔ میرے بھائی صاحب نے اپنی اہلیہ کی فوتیدگی پر وہ رومال اس کے ساتھ ہی دفن کردیا۔
    ۹۔ ۱۹۰۴ء میں جب میں قادیان گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام دوران مقدمہ کرم دین بھین والے گورداسپور تشریف لے جایا کرتے تھے چنانچہ میں بھی وہاں گیا ۔ ایک تالاب کے نزدیک مکان میں حضور فروکش تھے۔ اور احباب جماعت بھی وہاں ٹھہرتے تھے۔ لنگر خانہ بھی اس کے ایک حصہ میں جاری تھا۔ کچہری میں میں نے دیکھا کہ حضور کے لئے ایک دری بچھائی جاتی تھی۔ اور حضور اس پر بیٹھتے اور دوسرے احباب بھی اس پر بیٹھتے۔ ایک بات میں نے نوٹ کی تھی۔ جو کہ خاص طور پر مجھے یاد ہے کہ حضور جب پیشاب کرنے جاتے تو بعد ازاں وضو ضرور کرلیتے۔ جس سے مجھے یہ یقین ہوگیا کہ حضور ہر وقت باوضو رہتے ہیں۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم بہت آہستگی سے پڑھتے رہتے۔
    ۱۰۔ ۱۹۰۶ء یا ۱۹۰۷ء میں میں بمعیت چوہدری فیروز خاں صاحب مرحوم و حاجی رحمت اللہ صاحب قادیان گیا۔ واپس آنے کے وقت میاں بشیر احمد صاحب کا موجودہ مکان جو کہ اس وقت بطور مہمان خانہ استعمال ہوتا تھا میں جاکر اس کی مشرقی سیڑھیوں پر سے اطلاع حضور علیہ السلام کو کروائی گئی تو حضور ایسی حالت میں تشریف لائے کہ حضور نے قمیص پر واسکٹ پہنی ہوئی تھی کوٹ نہیں تھا۔ حاجی رحمت اللہ صاحب نے عرض کیا کہ حضور میں بزازی کی دکان کھولنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ حضور کا اس معاملہ میں کیا ارشاد ہے۔ حضور نے فرمایا کہ بہت اچھی بات ہے۔ صحابہ بھی کپڑوں کا بیوپار کیا کرتے تھے۔ پھر چوہدری فیروز خاں صاحب مرحوم نے عرض کیا کہ میں نے احمدی ہونے سے پہلے اپنی دو لڑکیوں کے رشتے غیر احمدیوں سے کئے ہوئے ہیں۔ ان کی نسبت مجھے کیا حکم ہے۔ حضور نے فرمایا کہ’’ آپ کردیں ۔ میں دعا کرونگا‘‘۔ اس پر مصافحہ کرنے کے بعد اجازت واپسی کے لئے فرمائی گئی اور ہم آگئے۔
    ۱۱۔ غالباً انہی دنوں میں مدرسہ احمدیہ کے سامنے جو دکانیں کاغانی صاحبان کی ہیں میں بیٹھا تھا کہ اچانک حضرت مسیح موعود علیہ السلام بمع حضرت ام المومنین وہاں سے باغ کو جاتے ہوئے گزرے۔ مہمان خانہ سے ہوکر باغ کی طرف تشریف لے گئے۔ ہم سب لوگ کھڑے ہوگئے لیکن بوجہ حضرت ام المومنین کے ساتھ ہونے کے مصافحہ کسی نے نہیں کیا۔
    ۱۲۔ مئی ۱۹۰۸ء میں میں نے پاکپتن سے سول سرجن صاحب منٹگمری کو اپنی ملازمت کے لئے درخواست بھیجی۔ جس نے ۱۶ /مئی کو اپنے پیش ہونے کے لئے بلایا۔ ۱۵/ مئی کو میں منٹگمری پہنچ گیا۔ ۱۶/ مئی کو میں اس کے پیش ہوا۔ اس نے منظور کرکے مجھے پاکپتن ہسپتال میں کام کرنے کی اجازت دی۔ وہیں منٹگمری میں معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لاہور تشریف لائے ہوئے ہیں۔ چونکہ ان دنوں منٹگمری سے پاکپتن تک سفر یکوں پر بوجہ کچی سڑک کے نہایت دشواری سے ہوتا تھا۔ اس لئے یہ خیال کرکے کہ دشوار سفر تو کرچکا ہوں اب صرف ریل میں بیٹھ کر ہی جانا باقی ہے۔ حضرت مسیح موعود کی زیارت بڑی آسان ہے۔ اس لئے ۱۷/۱۶ کی رات کی گاڑی پر سوار ہوکر ۱۷ /مئی صبح سویرے لاہور پہنچ گیا۔ سٹیشن سے اتر کر کیلیاں والی سڑک پر احمدیہ بلڈنگ میں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام قیام فرما تھے پہنچ گیا۔ وہاں جاکر معلوم ہوا کہ حضور کا لیکچر امرا ء کے لئے مقرر ہے اور صرف امرا ء ہی کو داخل ہونے کی اجازت ہے۔ عام لوگوں کو داخل نہیں ہونے دیتے تھے۔ اس مکان کے دروازے پر جہاں لیکچر ہورہا تھا۔ سید محمد اشرف صاحب راہوں والے کھڑے تھے۔ جو کہ لوگوں کو دیکھ دیکھ کر اندر داخل کرتے تھے۔ میں ان کی منت کرکے اندر داخل ہوگیا۔ چودھری غلام احمد صاحب ایڈووکیٹ اس وقت اسلامیہ کالج میں پڑھتے تھے۔ وہ اب تک افسوس کیا کرتے ہیںکہ اگرچہ میں اس وقت احمدی نہ تھا۔ تاہم اس لیکچر کے لئے گیا۔ مگر سید محمد اشرف صاحب نے ان کو داخل نہ ہونے دیا۔ اس طرح ۱۷/ مئی والا لیکچر میں نے سنا۔ پہلے جس وقت حضور تقریر فرمانے لگے تو حضور کی آواز نہایت باریک تھی۔ جس کی وجہ سے لوگ اپنی اپنی کرسیاں آگے کی طرف کھینچ رہے تھے تاکہ نزدیک ہوجائیں۔ لیکن بعد ازاں حضور کی آواز بہت بلند ہوگئی تھی۔ اس لیکچر کی دو باتیں خاص طور پر مجھے یاد ہیں۔
    ۱۔ حضور نے فرمایا کہ’’ اسلام کی حالت اس وقت نہایت نازک ہے۔ لیکن مسلمانوں کو کوئی احساس نہیں۔ کسی کا پالتو کتا مر جاتا ہے تو اس کو افسوس ہوتا ہے۔ کسی کی پالتو بلی مر جاتی ہے تو اس کو افسوس ہوتا ہے لیکن اس وقت اسلام مردہ ہوگیا ہے اور کسی کو کوئی فکر نہیں‘‘۔
    ۲۔ حضور نے فرمایا کہ ’’مسلمان اپنے بچوں کو اس طریق سے تعلیم دیتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم سے بالکل بے بہرہ رکھتے ہیں۔ جب ان کو کہا جاتا ہے کہ اسلام کی تعلیم دلائو۔ تو کہتے ہیں کہ پہلے انگریز ی وغیرہ پڑھ لیں۔ پھر وہ بھی دلوالیں گے۔ حضور نے فرمایا کہ ان کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کسی باعصمت اور باحیا عورت کو پہلے بازار میں بٹھلادیا جائے اور پھر اس سے یہ امید رکھی جائے کہ وہ باعصمت اور با حیا ہوجائیگی‘‘۔
    ۱۳۔ مجھے یاد ہے کہ غالباً ۱۹۰۴ء میں جب میں قادیان میں آیا تھا اور حضور بمع احباب باغ میں فروکش تھے تو رات کے وقت میرے بھائی حکیم دین محمد صاحب بمعیت دیگر طلباء مدرسہ تعلیم الاسلام اور بابا محمد حسن صاحب والد مولوی رحمت علی صاحب مبلغ سماٹرا والے رات کو کبھی دار مسیح موعود علیہ السلام کا اور کبھی باغ کے خیموں وغیرہ کے گرد پہرہ دیا کرتے تھے۔
    ۱۴۔ میرے بڑے بھائی حکیم دین محمد صاحب نے میرے لئے پشاور میں ملازمت کی تجویز کرکے غالباً ۲۲ /مئی کو وہاں بھیج دیا۔ ۲۳ /مئی کو وہاں پہنچا۔ وہاں کام نہ بنا۔ ۲۴ /مئی کو میں واپس لاہور آگیا۔ ۲۵ /کے دن رہنے کے بعد ۲۶ /کو حضور کی وفات ہوگئی۔
    میں اپنے بھائی صاحب کے پاس ہربنس سنگھ کی حویلی میں لاہور رہتا تھا۔ بازار میں میں اور بھائی صاحب کسی کام کے لئے جارہے تھے کہ غالباً چودھری عبدالحئی صاحب کاٹھ گڑھ والے نے بتلایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات ہوگئی۔ یہ خبر سنتے ہی میرا اپنا یہ حال ہوا کہ تمام بدن سن اور بے حس ہوگیا۔ کچھ منٹوں کے بعد ہوش ٹھیک ہوئی۔ اس وقت تک کہ میرے والد صاحب اور والدہ صاحبہ اور بھائی اور لڑکے اور کئی عزیز فوت ہوئے ہیں مگر ایسا صدمہ جیساکہ حضور کی وفات کو سن کر ہوا تھا کبھی نہیں ہوا۔ میرے بھائی حکیم دین محمد صاحب کے پاس میرے علاوہ میرے تایا زاد بھائی جو کہ غیر احمدی تھے۔ اپنی لڑکی کے ساتھ جو کہ بیمار تھی معالجہ کے لئے ٹھہرے ہوئے تھے۔ بھائی صاحب نے مجھے فرمایا کہ ان کی خاطر تم یہاں ٹھہرو۔ اور میں جنازہ کے ساتھ قادیان جائونگا۔ میں نے کہا یہ آپ کے مہمان ہیں۔ آپ ٹھہریں یا نہ ٹھہریں میں تو جنازہ کے ساتھ ضرور جائوں گا۔ ہمارے آپس کے اس تکرار کو دیکھ کر انہوں نے کہا کہ بھائی میں اکیلا ہی رہوں گا۔ آپ دونوں جائیں۔ چنانچہ ہم یہ فیصلہ کرکے احمدیہ بلڈنگز میں پہنچے تو باہر کی طرف مولوی محمد احسن صاحب امروہوی ڈبل روٹی کھا رہے تھے مجھے اس سے بہت کراہت ہوئی۔سڑک پر لوگوں کا بہت بڑا ہجوم اور شور شرابا تھا۔ ایک ریڑھی پرا یک شخص کا منہ کالا کرکے لٹایا ہوا تھا۔ اور غیر احمدی لوگ اس کو کھینچ کر لے جارہے تھے اور یہ بک رہا تھا ۔ ہائے ہائے مرزا مر گیا۔ ان شرارتوں کو دیکھ کر غالباً ہماری جماعت کی طرف سے پولیس کو اطلاع دی گئی تھی۔ جس پر ایک پولیس کی گارد آگئی اور اس نے لوگوں کو ڈنڈے مار مار کر بھگا دیا۔
    حضور کو غسل دے کر آپ کا جنازہ غالباً پڑھ کر ایک مکان میں رکھا گیا جس میں سب لوگ جاکر زیارت کرتے تھے۔ ہم بھی وہاں گئے اور زیارت کی۔ مکان کے باہر بابا پیغمبرا سنگھ کھڑا تھا۔ اور اس کو کوئی اندر نہ جانے دیتا تھا۔ جس پر وہ روپڑا اور کہنے لگا کہ ’’تہاڈا وکھرا پیو سی۔ میرا پیو نہ تھا۔‘‘ یعنی کیا آپ لوگوں کا علیحدہ باپ تھا۔ میرا باپ نہ تھا۔ مجھے کیوں نہیں دیکھنے دیتے۔ اس پر کسی نے اندر بھجوا دیا۔
    دوپہر کے بعد غالباً تین چار بجے کے وقت احمدیہ بلڈنگز سے جنازہ چارپائی پر اٹھایا گیا اور سٹیشن کی طرف لے کر احباب جماعت چل پڑے۔ جنازے کے پیچھے بھی پولیس تھی۔ اور آگے بھی پولیس تھی۔ درمیان میں جنازہ اٹھانے والے دوست تھے۔ سٹیشن پر جب جنازہ پہنچا تو وہاں پر ایک صندوق جس میں مشک کافور ڈال کر برف بنوا کر ڈالی ہوئی تھی۔ اس میں حضور کا جسم مبارک رکھا گیا۔ کسی نے سٹیشن ماسٹر سے جاکر شرارتاً کہاکہ نعوذ باللہ حضور ہیضہ سے فوت ہوئے ہیں اور آپ کی لاش باہر نہیں جانی چاہئے۔ اس پر ایک انگریز جو کہ غالباً سٹیشن ماسٹر یا کوئی اور تھا۔ بڑے جوش سے بھرا ہوا آیا اور کہنے لگا کہ ڈاکٹری سر ٹیفکیٹ دکھلائو۔ چنانچہ ہمارے دوستوں نے پہلے ہی ڈاکٹری سرٹیفکیٹ حاصل کیا ہوا تھا۔ اس کو فوراً دکھلا دیا۔ اور وہ خاموش ہوکر چلا گیا۔ غرض یہ کہ ایک گاڑی میں وہ صندوق رکھا گیا۔ اورچند دوست بھی اس صندوق کے پاس بیٹھ گئے۔ ایک ڈبہ اہلبیت اور حضرت خلیفہ اول وغیرہ کے لئے ریزرو کرایا گیا تھا۔ باقی احباب جماعت گاڑی کے دوسرے ڈبوں میں سوار ہوگئے۔ امرتسر کے سٹیشن پر حضرت خلیفۃ المسیح الاول مولانا نور الدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کرکے پڑھائیں۔ ۹ بجے کے قریب گاڑی بٹالہ پہنچی۔ جنازے والا ڈبہ اور ریزرو ڈبہ دونوں کاٹے گئے۔ حضرت ام المومنین اور دیگر خاندان مسیح موعود علیہ السلام کے لوگوں کو ڈبہ سے نکال کر پلیٹ فارم پر اتارا گیا۔ اور سٹیشن کے پاس ٹھہرایا گیا۔ ہم لوگوں کے پہرے مقرر کئے گئے۔ جو کہ ہم نے باری باری ادا کئے۔ پچھلی رات حضور کا جنازہ صندوق سے نکال کر ایک چارپائی پر جس کو لمبے لمبے بانس بندھے ہوئے تھے۔ اٹھایا گیا۔ اور قادیان کو لے کر روانہ ہوئے۔ صبح سویرے کا وقت ٹھنڈی ہوا اور جنازہ پر اس قدر خوشبو چھڑکی ہوئی تھی کہ سڑک میں سے جہاں سے جنازہ گزرتا تھا۔ سڑک معطر ہوجاتی تھی۔ ہم لوگ بھی جنازے کے ساتھ تھے۔ لمبے لمبے بانسوں کی وجہ سے ایک وقت میں بہت سے لوگ کندھا دے سکتے تھے۔ صبح کی نماز بعض لوگوں نے نہر پر آکر پڑھی۔ اور بعض لوگوں نے نہر پر آنے سے پہلے ہی پڑھ لی تھی۔ نہر گزرنے کے بعد ایک شخص جو کہ جٹ زمیندار تھا۔ راستہ میں ملا۔ جنازہ جب گزر چکا تو اس نے مجھ سے دریافت کیا کہ یہ کس کا جنازہ ہے۔ میں نے اسے بتلایا کہ مرزا صاحب کا جنازہ ہے۔ اس نے دوبارہ پوچھا کہ کیا مرزا صاحب قادیان والے کا۔ تو میں نے کہا ‘ہاں۔ یہ جواب سن کر اس پر کچھ ایسا صدمہ ہوا کہ وہ وہیں بیٹھ گیا۔ اور میں دور تک اس کو دیکھتا گیا۔ کہ وہ بہت دیر تک وہاں بیٹھا رہا۔
    نہر سے کچھ دور جانے پر مولوی محمد علی صاحب وغیرہ قادیان سے آکر ملے اور وہ بے صبری سے روتے رہے۔ کہ خواجہ کمال الدین صاحب نے انہیں کہا کہ آپ کیوں اتنی بے صبری دکھلاتے ہیں۔ میں نے حضرت ام المومنین کا نمونہ دیکھا ہے ۔ جن کے وہ سرتاج تھے جب حضور فوت ہوگئے تو حضرت ام المومنین نے کہا۔’’ اے خدا یہ تو ہمیں چھوڑے جاتے ہیں ۔ تو ہمارا ساتھ نہ چھوڑنا‘‘۔ پھر جنازہ لے کر سیدھے بہشتی مقبرہ کے ساتھ والے باغ میں پہنچے ۔ وہاں بہت عورتیں جمع تھیں اور بلند آواز سے رو رہی تھیں۔ اور خواجہ صاحب نے وہی مندرجہ بالا الفاظ کہہ کر چپ کرایا۔ پھر جنازہ باغ والے مکان کے اندر رکھا گیا۔ عام لوگوں کو زیارت کرانے کے لئے یہ طریق اختیار کیاگیا کہ غربی دروازے سے لوگ زیارت کرکے مشرقی دروازے سے نکل جاتے تھے۔ مرزا سلطان احمد صاحب کو جو کہ ان دنوں جالندھر میں افسر مال تھے ۔ تاریںدی گئی تھیں ان کا انتظار تھا۔ وہ بعد دوپہر آگئے ۔ ان کو بوجہ دورہ پر ہونے کے تاریں دیر سے ملی تھیں۔ اس لئے وہ دیر سے آئے۔ عام طور پر لوگو ںمیں یہ مشہور تھا کہ مرزا سلطان احمد صاحب حضور کے مخالف ہیں۔ اس لئے میرے دل میں بھی یہی خیال تھا کہ ان کے دل میں کیا صدمہ ہوگا۔ لیکن میں نے دیکھا کہ جب وہ آئے تو اس قدر روتے تھے کہ ان کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں اور ہم سے رونے میں ہر گز کم نہیں تھے۔
    برف کا وہ صندوق جس میں آپ کا جسم اطہر رکھ کر بٹالہ تک لائے تھے۔ وہ پھر قادیان باغ میں بمع برف کے پڑا تھا۔ میں نے اس خیال سے کہ حضور کا جسم اس برف سے چھو چکا ہے۔ تھوڑی سی برف اٹھا کر کھائی۔ تب مجھے معلوم ہوا کہ اس میں مشک کافور ڈال کر بنائی گئی ہے۔
    حضرت خلیفہ المسیح اول مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ نے مولوی محمد علی صاحب ‘ خواجہ کمال الدین صاحب وغیرہ کو بلا کر فرمایا۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تدفین سے پہلے ضروری ہے کہ جماعت کسی ایک ہاتھ پر جمع ہوکر ایک سلک میں منسلک ہوجائے۔ اس لئے میر ناصر نواب صاحب‘ حضرت ام المومنین ‘ مرزا محمود احمد صاحب‘ مولوی غلام حسین صاحب پشاوری وغیرہ وغیرہ اصحاب مل کر مشورہ کرکے فیصلہ کریں ۔ اور کسی ایک شخص کو منتخب کریں۔ جس کو آپ لوگ منتخب کریں گے سب سے پہلے اس کے ہاتھ پر میں بیعت کرونگا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جنازہ وہی پڑھائے گا۔ جس کو آپ منتخب کریں گے۔ اس کے بعد وہ سب چلے گئے اور کچھ دیر کے بعد آکر عرض کیا کہ ہم نے حضرت ام المومنین اور سب سے مشورہ کیا ہے۔ حضور کے سوا کوئی اس قابل نہیں جس کے ہاتھ پر ہم سب لوگ بیعت کریں۔ اس پر حضرت خلیفہ اول کھڑے ہوگئے اور ایک تقریر فرمائی۔ جس میں یہ فرمایا کہ ’’یہ بہت بڑا بوجھ ہے اور اتنا بڑا بوجھ ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جو بوجھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے میرے باپ پر پڑا ۔ اگر کسی پہاڑ پر پڑتا تو وہ چور چور ہوجاتا۔ یہ اتنا بڑا بوجھ ہے کہ میں تو اسے اٹھانے کی اپنے میں مطلق طاقت نہیں پاتا چونکہ آپ سب لوگ اس بات پر متفق ہیں۔ اس لئے میں خدا تعالیٰ کے بھروسہ پر اس بوجھ کو اٹھاتا ہوں‘‘۔ اس کے بعد وہاںایک چارپائی پڑی تھی۔ حضرت میاں محمود احمد صاحب (خلیفہ ثانی) کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اس چارپائی پر آپ جیسے کوئی گر پڑتا ہے بیٹھ گئے۔ اور میاں صاحب کو اپنے پاس ہاتھ پکڑ کر بٹھا لیا۔ یہ بات خاص طور پر میں نے نوٹ کی۔ کہ سب سے پہلے جس شخص کا ہاتھ بیعت کے لئے آپ نے پکڑا وہ خلیفہ ثانی تھے اور اس چارپائی پر بیٹھ کر بیعت لینی شروع کردی۔ اس پہلی پارٹی میں احقر نے بھی بیعت کی تھی۔
    غالباً نماز ظہر کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حضرت خلیفہ اول نے نماز جنازہ پڑھائی۔ میاں سلطان احمد صاحب بھی آچکے تھے۔ اتفاق سے مرزا سلطان احمد صاحب جنازہ میں میرے ساتھ کھڑے تھے۔ میں نے دیکھا کہ وہ بہت رو رہے تھے۔ جنازے کے بعد حضرت خلیفہ اول قبر پر تشریف لے گئے چونکہ آپ پر بعد بیعت ایک قسم کا ضعف ہوگیا تھا اس لئے قبر کے نزدیک چارپائی پر تاوقتیکہ قبر درست نہیں ہوئی۔ لیٹے رہے۔ قبر میں جو تابوت رکھا گیا تھا وہ وہ نہیں تھا جو لاہور سے برف والا تابوت لایا گیا تھا بلکہ وہ اور ایک مضبوط تابوت تھا۔ جس کے اوپر قبر میں رکھ کر جو پھٹے لگائے گئے وہ بڑے مضبوط تھے۔ غالباً ایک شہتیری کو چیر کر وہ بنائے گئے تھے۔
    میرے چھوٹے بھائی ملک عطا محمد صاحب مرحوم ہیڈ کانسٹیبل منٹگمری نے مجھ سے بیان کیا تھا کہ ایک دفعہ اس کو کسی نے رقعہ دے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دینے کے لئے اندر بھیجا تو حضور اس وقت کھچڑی کھا رہے تھے۔ مجھے فرمایا کہ تم بھی کھائو۔ چنانچہ حضور کے فرمانے پر اس نے حضور کی پس ماندہ کھچڑی کھائی تھی۔ اس وقت مرحوم کی عمر غالباً ۱۲/۱۱ سال کی تھی۔

    فقط والسلام
    احقر نیاز محمد احمدی
    ۳۸۔۱۔۹
    تحریر کردہ برکت اللہ خاں احمدی
    ابن ملک نیاز محمد صاحب ۳۸۔۴۔۱۰
    خاکسار عبدالقادر مبلغ سلسلہ عالیہ و جامع روایات صحابہ ۳۹۔۳۔۲۱
     
  3. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    روایات اصحاب احمد ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ یونی کوڈ ۔ جلد 4


    روایات
    میاں محمد فضل خان صاحب ولد میاں قائم دین صاحب
    سکنہ چنگا بنگیال تحصیل گوجر خاں راولپنڈی حال محلہ دارالفضل قادیان
    سن بیعت ۱۹۰۷ء ‘ سن زیارت ۱۹۰۷ء ‘ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آواز دی کہ مولوی صاحب ! اسپر حضرت مولوی نور الدین صاحب ؓ حاضر ہوئے۔ تو حضور نے فرمایا کہ مولوی محمد احسن صاحب ! تو مولوی محمد احسن صاحب حاضر ہوئے جس وقت آواز دی تھی۔ اس وقت اس لسوڑی کے پاس کھڑے ہوگئے تھے جو سٹور کے متصل سڑک پر تھی۔ جب مولوی صاحب آئے تو حضور چل پڑے اور فرمایا کہ قرآن پڑھنے والوں کو کیا ہوگیا۔ غور نہیں کرتے۔ پڑھتے ہیں مگر تدبر نہیں کرتے او ر اذا الشمس کورت اور اذا النجوم انکدرت و اذا الجبال سیرت و اذا العشار عطلت ۔
    یہ چار آیات دہرائیں او رانکی تشریح کرتے ہوئے چلتے رہے اور آگے چل کر یہ حدیث پڑھی۔ ان اللہ یبعث لھذہ الامتہ علی راء س کل مائتہ سنتہ من یحدولھا دینہا۔ اس کی تشریح کرتے رہے اور پھر انا لھدینا آئتین ۴ تکونا مند خلق السموات ولارض انہ پڑھی اور اس کی تشریح فرماتے ہوئے کہ چاند کی گواہی اور سورج کی گواہی ہوئی۔مگر ان مولویوں نے فائدہ نہ اٹھایا۔وغیرہ وغیرہ۔ پھر ظہر کے وقت مٹھیاں بھرنے کا موقعہ مجھے ملا اور حضور نے مجلس میں دیر تک رونق افروز رہے۔ پھر حضور نے فرمایا کہ میں تین روز عیدالاضحی کے باہر نہیں آئونگا۔ جس نے دعا کرانی ہو۔ رقعہ لکھ کر دے۔ تو میں نے بھی حضرت مولوی صاحب خلیفہ اولؓ کی معرفت رقعہ دیا۔ اور پھر نماز کیلئے کھڑے ہونے لگے۔ تو ایک مولوی صاحب نے کہا۔ کہ حضور کے ساتھ کھڑا ہونا بے ادبی ہے۔ تو حضور نے ہمیں اپنے برابر اپنی صف میں ہمیں کھڑا کیا۔ میرے اور حضور کے درمیان ایک آدمی تھا۔ والسلام

    روایات
    ڈاکٹر نعمت خاں صاحب ولد میاں امان خاں صاحب
    سکنہ ریاست تادون ضلع کانگڑہ‘ حال محلہ دارالفضل ۔ قادیان
    سن بیعت ۱۸۹۶ء تحریر ی ۔
    سنہ زیارت ۱۹۰۰ء اندازاً۔
    یہ سنت الہہ ہے کہ جب مامور کی آمد ہوتی ہے تو اہل کشف کو اس کے مامور ہونے سے پہلے اطلاع دی جاتی ہے۔ ایسے ہی حضرت مسیح موعود علیہ اصلوۃ والسلام کے آنے سے پہلے اطلاع دی گئی۔ ایسے علاقہ میں جہاں کثرت کفار کی ہے۔ مسلمان غریب آٹے میں نمک کے برابر ہی ہیں۔ ریاست تادون جس کی کہاوت عام ہے کہ جاوے گا نادان اور آوے گا کون؟ جہاں راجہ سنسار چند وائی گانگڑہ کا ہیڈ کوارٹر تھا اور بزرگوں سے سنا ہے کہ وہاں سو گھر طوائفوں کا یعنی گانے بجانے والی رنڈیوں کا تھا اور 32 درجے پہاڑ کے اس کے ماتحت تھے اور ہمیشہ چار پانچ اس کی سلامت میں رہتے تھے۔ اور بت خانے اور مندر اور سماد ہیں ان کی یادگار ابھی تک وہاں موجود ہیں۔ یہ شہر دریائے بیاس کے کنارے پر واقع ہے اور دریا سے قریباً ہزارہا فٹ اونچائی پر واقعہ ہے۔ ایک قسم کا جزیرہ نما ہے۔ دو طرف شہر کے دریائے بیاس ہے اور ایک طرف مان کہڈ ہے اور ایک جو خشکی کا ہے ۔ شہر کے باہر چھوٹی پہاڑیاں ہیں اور چھوٹے چھوٹے پہاڑی گائوں سے گھرا ہوا ہے۔ کسی گائوں میں بیس گھر ہیں۔ کسی میں تیس اور کسی میں پچاس گھر علیحدہ علیحدہ آباد ہیں اور ایک حرف شمال مغرب کو شہر آباد ہے۔ شہر سے مشرق کی جانب ایک میل کے فاصلہ پر ۔۔۔ ریاست کے محل ہیں اور آگے انکے بہت وسیع میدان ہے۔ محل اور شہر کے درمیان ایک محلہ مسلمانوں کا آباد ہے۔ جو اہل حدیث ہیں اور ایک مسجد اس محلہ میں ہے۔درمیان شہر کے ہندو آبادی ہے اور جنوب مغرب کو اختتام شہر پر مسلمانوں کا محلہ ہے اور ایک پختہ مسجد برسر چشمہ ہے۔ وہاں دو چشمے ہیں۔ ایک سے ہندو پانی بھرتے ہیں اور ایک سے مسلمان۔ آگے اس کے جو ہر ‘ دو چشموں کا پانی بھر کر جاتا ہے۔ وہاں دھوبی گھاٹ ہے اور ساتھ ہی چشموں کے راستہ کے ایک کنارے پر ایک باغیچہ آموں کا مرزا کریم بیگ جو مرزا رحیم بیگ کے والد تھے۔ ا ن کا تھا۔جو اب ڈاکٹر مطلوب خاں نے خرید لیا ہے۔ سیڑھی در سیڑھی درخت لگے ہوئے ہیں اور ان کے اوپر جاکر ایک چھوٹا سا میدان آتا ہے۔ اس میں ایک کٹیا تھی۔ جسمیں ایک فقیر رہتا تھا۔ جو اب مسمار ہوچکی ہے۔ یہ شہر آب و ہوا کے لحاظ سے بھی ضلع گانگڑہ میں نمبر اول پر ہے۔ یہاں نہ بہت سردی ہوتی ہے اور نہ بہت گرمی۔ اس کٹیا میں جس کا ذکر میں نے اوپر کیا ہے۔ ایک فقیر رہتا تھا۔ جس کو سائیں قلندر شاہ کہتے تھے۔ اس کے ساتھ میرے تایا زاد بھائی منشی شہادت خاں کی محبت تھی۔ اس زمانہ میں منشی صاحب کو بھی ورد وضائف کا شوق تھا اور وہ بہت سا حصہ رات کا لیکر مسجد جو لب چشمہ ہے اور اب ہماری جماعت کے قبضہ میں ہے چلے جایا کرتے تھے۔ یہ کوئی ۱۸۸۱ء یا ۱۸۸۲ء کا ذکر ہے کہ ایک روز سائیں قلندر شاہ ان سے کہنے لگا۔ خاں میاں مہدی پیدا ہوگیا ہے ۔ انہوں نے تعجب سے پوچھا۔ سائیں کہاں۔ کہنے لگا قادی۔ انہوں نے کبھی قادی کا نام نہ سنا تھا۔ وہ کہنے لگے سائیں کہاں ہے۔ وہ کہنے لگا کہ پنجاب میں بٹالہ سے آگے ہے۔ چنانچہ ان دنوں ہم چھوٹے چھوٹے تھے۔ اور سکول میں پڑھا کرتے تھے۔ کچھ خیال نہ کیا۔ لیکن جس وقت حضرت صاحب نے دعویٰ کیا تو اس وقت ہمارے خاندان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ۔۔۔۔ میں کوئی تکلیف حائل نہ ہوئی۔ اور میرے دونوں تایا زاد یہاں امانت خاں اور شہادت خاں حضرت صاحب کی بیعت میں داخل ہوگئے اور ۳۱۳ صحابیوں میں ان کے نام آگئے۔ چونکہ میں اس زمانہ میں ملازمت پر کوئٹہ کی طرف تھا اورمجھے گھر رہنے کا اتفاق نہ ہوا۔ ملازمت پر تھا۔ اور ان دنوں کوئٹہ میں تھا۔ وہاں ایک سردار قیصر خاں مگسی خیال کا رہنے والا میرا دوست تھا۔ جب کبھی جلسہ‘ ہارس شو پر سبی یا کوئٹہ میں ہوتا تو میرے پاس اترتا۔ جب میں نے ملازمت چھوڑی۔ تو میں اسے ملنے کے لئے اس کے گھر پر مقام خیبل گیا۔ اور کچھ ایام وہاں رہا۔ کچھ دنوں کے بعد پیران کا عرس آگیا اور یہ عرس چشتیہ خاندان کا تھا۔ اور وہ یہی چشتیہ فخریہ سلسلہ کا بہت مشہور تھا۔ وہ مجھ سے کہنے لگا کہ میں عرس پر جائونگا۔ آپ بھی میرے ساتھ چلیں۔ میں بھی تیار ہوگیا۔ اور ہم وہاں سے ملتان آئے اور ملتان سے ہم پہلے پیران کلیر پہنچ گئے اور وہ امرتسر سے سائیں مستعان شاہ پشاوری کو لیکر وہاں پہنچ گیا۔ سائیں مستعان شاہ فخریہ نیاز یہ سلسلہ چشتیہ سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ جب نماز کراتا تو پہلے مقتدیوں پر توجہ ڈالتا۔ جس سے نماز میں لذت محسوس ہوتی۔ وہاں ہم آٹھ دس دن رہے ایک روز سردار کہنے لگا کہ آپ سائیں متعان شاہ کی بیعت کرلیں۔ میں نے انہیں کہا کہ دیکھا جاویگا۔ جب ہم وہاں سے اور نہ ہوئی۔ تو سیدھے شملہ آئی۔ کچھ دن وہاں رہے۔ وہ وہاں سے بلوچستان چلے گئے۔ اور میں گھر کو آگیا۔ کیونکہ وہاں سے میرا گھر نزدیک تھا۔ میں گھر پر آگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو ایک رات سوئے ہوئے میرے دل میں اس قدر زبردست خیال پیدا ہوا ۔کہ کب صبح ہو۔ کہ میںحضرت اقدس کی خدمت میںبیعت کا خط لکھ دوں۔جب صبح ہوئی۔تو میںنے بیعت کا خط حضرت مسیح مو عود کی خدمت میںلکھ دیا۔میری والدہ صاحبہ بجائے گھرآنے کے کوئٹہ سے وہ حج بیت اللہ کو تشر یف لے گئی ہوئی تھیں۔میںنے خواب میںدیکھا کہ وہ ایک بہت وسیع ریگستان میںجارہی ہیں۔اور انہوں نے اونچی ٹوپی والا برقعہ پہنا ہواہے۔اور وہ ۹۷ئ؁ تک خانہ کعبہ میں رہیں۔اور دو حج کئے ۔اس وقت وہ پیدل مدینہ منورہ جارہی تھیں۔ایسے ہی ایک رات میں نے اپنے والد صاحب کو دیکھا۔ رسول کریمؐ کا ایک بڑا عالی شان محل ہے اور آپ اس کی عالی شان ڈیوڑھی پر بیٹھے ہوئے دربانی کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔مجھے پورے طور پر یاد نہیں کہ میں نے کس سن میں دستی بیعت کی۔ یہ یاد ہے کہ حضرت صاحب لاہور گئے ہوئے تھے اور موچی دروازہ کے باہر ایک چوبارہ میں اترے ہوئے تھے اور اس دکان کے پچھلی طرف لکڑیوں کا ایک ٹال تھا اور کھلی جگہ تھی۔ وہاں حضرت صاحب بیعت لیتے رہے اور اس قدر ہجوم تھا کہ پکڑیوں سے بیعت کی جاتی تھی۔ میری یہ خواہش ہوئی کہ بجائے پگڑی کے حضرت صاحب کے ہاتھ میں ہاتھ دیکر بیعت کروں۔ تو اچھا ہے۔ خدا تعالیٰ نے یہ میری آرزو پوری کردی اور مجھے موقعہ مل گیا اور میں نے حضرت صاحب کے ہاتھ میں ہاتھ دیکر بیعت کی۔ رائے میلا رام کے منڈوے میںحضرت صاحب کی تقریر ہوئی تھی۔ وہاں قریباً کوئی دس ہزار آدمیوں کا ہجوم تھا۔ جب حضرت صاحب تقریر کیلئے کھڑے ہوئے تو بہت ہی شور و شر تھا۔ اس واسطے آپ بیٹھ گئے اور مولوی عبدالکریم صاحب نے تلاوت قرآن کریم شروع کی تو ایسے معلوم ہوا کہ اس جگہ کوئی ہے ہی نہیں۔ یہ خاص اللہ تعالیٰ کا فضل اور قران کریم کا معجزہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں قریباً ۱۲ سال پشاور میں رہا۔ اس واسطے شروع سے میرا تعلق مولوی غلام حسن صاحب سے رہا۔ جب خلافت ثانیہ کا وقت آیا تو میں نے بیعت کا خط حضرت امیر المومنین کی خدمت میں لکھ دیا اور ان دنوں میں شاید رخصت پر ریاست تادون ضلع گانگڑہ میں اپنے گھر پر تھا۔ مجھے یاد پڑتا ہے۔ ان کا خط آیا اور بیعت مسخ کرنے کے متعلق انہوں نے لکھا۔ چونکہ میرا تعلق ان سے بہت عرصہ رہا۔اصلیت کو نہ سمجھا اور میں نے مسخ بیعت کے متعلق پیغام مسلح میں لکھ دیا اور ا ن کے ساتھ ہوگیا۔ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے۔ لیکن (کہ) خاندان نبوت کے متعلق میرے وہی خیالات رہے۔ جو پہلے تھے۔ اور کبھی مجھ سے بے ادبی کے الفاظ نہ نکلے۔ یہی حالت مدت تک رہی۔ انکے ایک دو جلسوں میں بھی شامل ہوا۔ ۱۹۳۰ئ؁ یا اس سے پہلے ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بڑی حویلی سمندر کے کنارے پر ہے۔ اور پانی کی لہریں زور شور سے اس کے ساتھ ٹکراتی ہیں اور بہت شور ہوتا ہے اس حویلی کے اندر سے مولوی محمد علی نکلے تو کیا دیکھتا ہوں کہ انکے چہرہ کا نصف حصہ سفید اور نصف سیاہ تھا۔ معن (معاً) میرے دل میں خیال ہوا کہ ان کی پہلی زندگی یعنی پہلی حالت حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ کی اچھی تھی اور اس کے بعد کی سیاہ ہوگئی۔ اس کے بعد جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو ہدایت کی طرف لاتا ہے تو اس کے اسباب بھی ایسے پیدا کردیتا ہے جو اس کی ہدایت کا موجب ہوجاتے ہیں۔ میں ۱۹۳۲ء میں اپنے گھر پر تھا ۔ میرے اہل خانہ سرگودھا میں تھے۔ تو ڈاکٹر محمد یوسف صاحب امریکہ والوں کا جو میرے رشتہ دار ہیں ۔ خط پہنچا کہ آپ بہت جلد قادیان آجاویں کیونکہ میں نے امریکہ جانا ہے اور مکان کا بنوانا آپ کے ذمہ ہے۔ میں اپریل ۳۲ء میں قادیان آگیا۔ اور مکان تیار کرلیا اور میرے اہل خانہ بھی یہاں آگئے۔ یہاں آکر دیکھا تو عجیب ہی کیفیت نظر آئی۔ نیا آسمان اور نئی دنیا نظر آنے لگی۔ نمازو ںمیں شامل ہونا ۔ حضرت صاحب کے خطبات کا سننا اور تقریروں کا سننا نے ایسا اثر ڈالا کہ جو مقالعے دیئے گئے تھے وہ آہستہ اہستہ دور ہونے لگے۔ اتفاق سے میں قادیان سے تا دون گیا تو ماسٹر محمد عمر تبلیغ کے واسطے وہاں آئے ۔ اتنا گفتگو میں مجھے کہنے لگے کہ آپ بیعت کا فارم بھر دیں۔ میں نے بیعت کا فارم بھر دیا۔ اور دل کی سب کدورتیں دور ہوگئیں۔ اور خدا وند تعالیٰ نے اپنے فضل سے سایہ میں لے لیا۔ورنہ (اور) مجھ جیسے عاصی کو دوبارہ زندگی بخشی۔ ورنہ میرے ساتھی ابھی تک نحوست کی ذلت میں پھنسے ہوئے ہیں۔ دل تو ان کا اندر سے محسوس کرتا ہے کہ ہم نے بڑی غلطی کی۔ لیکن ظاہرا عمارت ان کے حق کے قبول کرنے میں مانع ہے اور یہی ان کا جہنم ہے۔ جس میں ہو ہر وقت پڑے جلتے ہیں۔ دل تو ان کا چاہتا ہے کہ مان لیں لیکن ناک کے کٹنے کا خوف ہے۔ خداوند تعالیٰ ہدایت دے۔ میرے حال پر تو اللہ تعالیٰ نے خاص فضل کیا۔ قریباً عرصہ دو سال کا ہوا کہ ایک رات میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ آسمان سے ایک سنہری صندوق منقش ہوئے۔ بہت ہی چمکدار اور روشن اترا۔ اور معلق ہوا میں آکر ٹھہر گیا۔ اتنی میں ایک تاج منقش سنہری اترا اور وہ صندوق پر ٹھہرنا چاہتا ہی تھا کہ میں نے پرواز کرکر اس کو اپنے دونوں بازوں سے تھام لیا اس کا تھامنا تھا کہ تمام دنیا کے کناروں سے یک زبان آواز سنائی دی کہ اسلام کی فتح اور ایسا شور ہوا کہ میری آنکھ کھل گئی اور اسی وقت میرے دل میں ڈالا گیا تھا کہ تاج برطانیہ کا ہے۔
    خادم خاندان مسیح موعود
    ڈاکٹر نعمت خان محلہ دارالفضل شرقی
    قادیان ۳۸۔۳۔۶




    روایات
    مولوی عبدالعزیز صاحب ولد مولوی محمد عبداللہ صاحب مرحوم
    صحابی مسیح موعود علیہ السلام ۔ قوم راجپوت کھوکھر۔ پتہ سابق بھینی ڈاکخانہ شرق پور ۔ ضلع شیخوپورہ
    حال : مہاجر محلہ دارالرحمت۔ قادیان
    سن بیعت :۱۹۰۴ء
    سن زیارت : ۱۹۰۴ء
    قبل اس کے کہ اپنی بیعت اور چشم دید حالات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان کروں۔ ضروری سمجھتا ہوں کہ اپنے والد صاحب مرحوم جناب مولانا مولوی محمد عبداللہ صاحب مغفور صحابہ حضرت مسیح موعودؑ کے حالات بیان کروں۔ کیونکہ آپ نے بھی حضرت مسیح موعود ؑ کے دست مبارک پر بیعت کی تھی۔ اور آپ کے بہت سے چشم دید واقعات تھے۔ جو قلمبند نہیں ہوسکے اور آپ رخصت فرماگئے۔ لہذا ضروری ہوا کہ حسب مقولہ ’’الولاسر‘ لابیہ‘‘ و چیزیکہ پدر تمام نکند پرش تمام کند۔ وہ حالات بھی بیان کردوں۔
    جناب والدم بزرگوار مولوی محمد عبداللہ صاحب ساکن موضع بھینی ڈاکخانہ شرق پور ضلع شیخوپورہ اہل حدیث خیال کے تھے اور قوم کے بہت بڑے لیڈر تھے۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی نے ان کو انجمن اہلحدیث کا ڈپٹی کمشنر تجویز کیا ہوا تھا۔
    آپ کی شہرت کی وجہ سے موضع تہہ غلام نبی ضلع گورداسپور والوں نے جو اہلحدیث تھے آپ کو اپنے پاس بلایا اور انہوں نے ذکر کیا کہ ہمارے قریب ایک قصبہ قادیان ہے۔ جہاں حضرت مرزا غلام احمد صاحب رہتے ہیں اور الہام کے مدعی ہیں اور انہوں نے ایک لڑکے کے متعلق پیشگوئی کی ہوئی ہے۔ جو پوری نہیں ہوئی۔ پہلے لڑکی پیدا ہوئی اور ازاں بعد ایک لڑکا پیدا ہوا جو کچھ دنوں کے بعد فوت ہوگیا ہے۔ چلو ایسے شخص سے چل کر مناظرہ کیا جائے۔ چنانچہ آپ ان دنوں جب کہ حضرت مسیح موعودؑ کا کوئی دعویٰ نہ تھا۔ صرف الہام کا سلسلہ جاری تھا اور حضور کتاب براہین احمدیہ لکھ رہے تھے۔ قادیا ن میں تشریف لائے اور حضور سے پیشگوئی مذکورہ بالا کے متعلق گفتگو کی اور سوا ل کیا کہ اگر آپ کے الہامات صحیح ہوتے ۔ تو لڑکے والی پیشگوئی کیوں پوری نہ ہوتی؟ پہلے لڑکی پیدا ہوئی۔ پھر لڑکا پیدا ہوا اور مر گیا۔ کیا پیشگوئیاں اسی قسم کی ہوا کرتی ہیں ۔ والدم بزرگوار فرمایا کرتے تھے کہ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کیا حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے متعلق پیشگوئی فرمائی تھی۔ مولوی صاحب نے جواب دیا کہ ہاں ؟
    حضرت صاحب ۔ کیا پھر وہ اسی سال ہی پوری ہوگئی تھی اور آپ حج کرکے واپس تشریف لے آئے تھے۔
    مولوی صاحب ۔ اگر اس سال حج نہ ہوا تھا تو اس سے اگلے سال تو ہو ہی گیا تھا۔
    حضرت صاحب ۔ تو میں نے کب کہا تھاکہ اسی سال ہی لڑکا پیدا ہوجائیگا۔ یہ خدا کی پیشگوئی ہے۔ جو پوری ہوگی اور ضرور پوری ہوگی۔ خواہ کسی سال ہی پوری ہو۔
    اس پر سلسلہ کلام ختم ہوا۔ اور مولوی صاحب نے کوئی نیا سوال نہ کیا۔ مگر اس اعتراض پر مصر رہے۔
    (چنانچہ اس کے بعد حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے اشتہار ۲۲ مارچ ۱۸۸۶ء میں حند بندی بھی کردی تھی کہ وہ موعود نو برس کے عرصہ کے اندر اندر پیدا ہوجائیگا اور پھر یکے بعد دیگرے کئی ایک اشتہارات میں اس کا ذکر فرمایا۔ چنانچہ حضور علیہ السلام نے پیشگوئی پوری ہوجانے اور اس پر موعود کی پیدائش پر ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء کے اشتہار میں فرمایا کہ ’’خدائے عزوجل نے جیسا کہ اشتہار ۔۔۔۔۔ پھر اطلاع دی جائیگی۔‘‘ ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ئ۔‘‘
    پھر حضور نے بنام مولوی نور الدین صاحب (خلیفتہ المسیح اولؓ) ایک مکتوب یوں تحریر فرمایا کہ ’’چونکہ اس پسر متوفی کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ و افوض امری الی اللہ ۔و اللہ بصیر بالعباد‘‘
    پس بذریعہ الہام جو بتایا گیا تھا۔ وہ پیشگوئی آج حضرت خلیفتہ المسیح ثانی بشیر الدین محمود احمد ایداللہ بنصرالعزیز کے وجود باجود سے پوری ہورہی ہے۔ الحمداللہ علے ذالک۔
    چونکہ مولوی صاحب موصوف علوم عربی و فارسی میں یدطولیٰ رکھتے تھے۔ اور علوم صرف و نحو ۔ متعلق۔ بدیع۔ بیان وغیرہ میں لاثانی انسان تھے۔ اپنے علم کے خیال میں اس نکتہ معرفت اور جواب باجواب سے کوئی استفادہ حاصل نہ کیا۔اور یہ سچ ہے ۔ کل امر مرہون باوقار تھا۔ ہر کام کے لئے ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ اس وقت آپ انکار پر مصر رہے۔ حضور نے آپ کے علم کا موازنہ فرما کر اپنی کامل مہربانی سے آپ کو یہی فرمایا کہ مولوی صاحب میں نے ایک کتاب بنام براہین احمدیہ مخالفین کے اعتراضات کے جواب میں لکھی ہے اور اس میں دس ہزار روپیہ کا چیلنج بھی دیا ہے۔ جو آج کل طبع ہونیوالی ہے۔ اگر آپ یہاں ٹھہر جائیں اور طباعت کے لئے اس کا پروف دیکھ لیا کریں تو بہت اچھا ہو۔ اس کا حق الخدمت بھی آپ کو دیا جاویگا۔ مگر افسوس کہ آپ نے تسلیم نہ کیا اور خالی واپس چلے گئے اور اسی انکار پر قریباً پندرہ سولہ برس گزر گئے۔ مگر آپ کی فطرت میں ایک سعادت تھی کہ جب کوئی شخص حضرت اقدس کو گالی یا توہین سے یاد کرتا تو آپ اسے روکتے۔ اور فرماتے کہ خدا تعالیف نے تو کفار کے بتوں کو بھی گالی دینے سے منع کیا ہے۔ پس یہی یا بعض اور خوبیاں جو آپ کے وجود میں تھیں۔ آپ کی ہدایت کا موجب ہوئیں۔
    غرض اسی خاموشی میں میں ۱۹۰۲ء کا زمانہ آگیا۔ اس اثناء میں آپ حضرت مسیح موعودؑ کی کتاب جنگ مقدس اور آئینہ کمالات اسلام کا مطالعہ کرچکے تھے۔ جس کی وجہ سے کئی سوالات کا تو تصفیہ ہوگیا اور کئی نئے اعتراضات پیدا ہوگئے۔ چنانچہ اپنے اکیس سوالات نوٹ کرلئے اور ۱۹۰۲ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مناظرہ کیلئے قادیان کو روانہ ہوئے۔ اور براہ راست مسجد مبارک میں تشریف لائے اور کسی نماز کے وقت پہنچے (چونکہ ان دنوں مشہور تھا کہ مرزا صاحب نے چند ایجنٹ رکھے ہوئے ہیں۔ جو آنے والے مہمان سے سب کچھ پوچھ لیتے ہیں اور اندر خبر پہنچا دیتے ہیں اور مرزاصاحب جس کمرہ میں رہتے ہیں۔ اس کے کئی دروازے ہیں اور ہر ایک غرض کیلئے علیحدہ علیحدہ دروازہ تجویز کیا ہوا ہے۔ جب مہمان اندر مرزا صاحب کے پاس جاتے ہیں تو چونکہ مرزا صاحب کو پہلے ہی اطلاع پہنچی ہوئی ہوتی ہے۔ آپ بجاتے ہی پوچھتے ہیں کہ آپ کا یہ نام ہے اور آپ فلاں جگہ سے فلاں کام کیلئے آئے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ ایسی باتوں سے اس مہمان کو یقین ہوجاتا ہے کہ یہ یقینا ولی اللہ ہے۔ جو خود بخود ہی سب کچھ بیان کررہا ہے۔ غرض اس وقت یہ خیال مولوی صاح؁ کے دل میں بھی تھا اور یہ خیال تھا کہ اگر مجھ سے کوئی پوچھے گا۔ تو کسی کو کچھ نہیں بتائونگا۔ اسی واسطے آپ سیدھے مسجد میں آئے اور کسی سے کچھ نہیں پوچھا۔ (بعد میں یہ امر غلط ثابت ہوا اور مخالفین کا بہتان)
    (خاکسار جامع روایات صحابہ عبدالقادر مبلغ سلسلہ عالیہ احمدیہ سال کارکن نظامت تالیف و تصنیف عرض کرتا ہے کہ انبیاء کے متعلق بعض جھوٹی افواہیں اس قسم کی بھی پھیل جاتی ہیں جو طوالت زمانہ اور وسعت رقبہ کے لحاظ سے عدیم النظیر ہوتی ہیں۔ چنانچہ بندہ بالا اصول بھی ایسی ہی ہے ۔ سارے پنجاب میں عموماً اور گجرات ‘ گوجرانوالہ ‘ جہلم وغیرہ اضلاع میں خصوصاً اس کا چرچا ہے۔ چنانچہ خاکسار کو بھی ۱۹۲۴ء میں جب موکر محمد مراد صاحب آف پنڈی بھٹیاں ضلع گوجرانوالہ سے میل ملاپ رکھنے کے باعث احمدیت کے متعلق جستجو پیدا ہوئی تو اکثر لوگوں نے حضرت اقدسؑ اور حضڑت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر العزیز کے جھوٹا ہونے کی دلیل میں یہ بات بڑئی زور شور سے بیان کی اور کہا کہ اگر تمہیں جانے کا موقع ملا تو بچشم خود اسے دیکھ لو گے۔ حالانکہ یہ بات بالہدایت غلط ہے۔ + کراچی میں بھی میں نے اپنے عرصہ قیام میں بعض لوگوں کی زبانی بارہا یہ بات سنی ہے اور جھوٹی افواہ لوگوں کے اذہان میں ایسی رنج ہوچکی ہے کہ ہزار سمجھائو۔ ماننے میں نہیں آتے۔
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ خاکسار کا سابق نام سوداگر مل تھا۔ خاکسار کا خاندان ابتداً زمیندار تھا۔ اور دریا چناب کے کنارے موضع گوانہ پٹاناں تحصیل بھیرہ ضلع شاہ پور میں ہمارے ابائو اجداد کی سکونت تھی۔ میرے والد صاحب لالہ وزیر چند صاحب کی زندگی میں ہی زمین کا اکثر حصہ دریا برد ہوگیا اور وہ سلسلہ جاتا رہا۔پھر جلد ہی وہ فوت ہوگئے۔ اور ہم سات بھائی جو تمام ہی نابالغ تھے۔ یتیم رہ گئے۔ کافی عرصہ تک میرے بڑے بھائی لالیاںضلع جھنگ میں محنت مزدوری کرکے گزارہ کرتے رہے۔ ۱۹۲۴ء میں میں نے ورنیکلر مڈل کا امتحان لالیاں ضلع جھنگ میں پاس کیا اور چونکہ ہمارے ماموں بیرانوالہ ضلع گوجرانوالہ میں سکونت پذیر ہوگئے تھے اور اچھے متمول تھے۔ انہوں نے ہمیں بھی اپنے پاس ہی بلالیا اور ہم ان کے گائوں کے متصل ہی ایک گائوں میں رہنے لگ پڑے۔ اتفاق سے مولوی محمد مراد صاحب بھی اس گائوں میں عرصہ ایک سال سے دکان کررہے تھے۔ ان کے پاس بیٹھنے اور اخبارات وغیرہ پڑھنے سے ان سے انس پیدا ہوگیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قادیان کے دیکھنے کا بھی شوق پیدا ہوگیا۔ چنانچہ جنوری ۱۹۲۵ء میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے قادیان آنے کا موقع مل گیا۔ اور حضرت اقدس امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرالعزیز کو دیکھ کر تمام شکوک کافور ہوگئے اور بیعت کرکے یہاں ہی سکونت اختیار کرلی۔ فالحمدللہ علی ذالک۔
    چونکہ اس وقت نماز کا وقت تھا۔ یا نماز ہورہی تھی۔ آپ نے نماز باجماعت گزاری۔ بعد از نماز حضرت اقدس شاہ نشین پر رونق افروز ہوئی اور دوسرے احباب ادھر ادھر بیٹھ گئے۔
    بعد از ملاقات والسلام علیکم عرض کرنے کے مولوی صاحب نے چپکے سے حضرت صاحب کے پائوں پکڑ کر دبانے شروع کئے تو حضور نے فرمایا دیکھو ۔ ’’خدا کے نبیوں کا امتحان کرنا اچھا نہیں ہوتا۔‘‘
    یہ ایک نشان تھا۔ جو حضور کی پہلی ملاقات میں ہی آپ نے ملاحطہ فرمایا اور آپ کو ایمانی روح حاصل کرنے کیلئے ممدً ہوا۔ الحمد للہ علی ذلک ۔
    بات یہ تھی کہ جناب مولوی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں نے ایک حدیث یا روایت میں دیکھا تھا کہ حضرت امام مہدی کی صداقت کا ایک یہ نشان ہوگا کہ آپ کے پائو ںمیں پھایا گڑھا نہ ہوگا۔ بلکہ صاف (پدرا) ہوگا۔ آپ نے اسی خیال سے ہی حضور کے پائوں کو پکڑا۔ اور دو نشانوں کو ملاحظہ فرمایا۔
    ایک تحریر کہ حضور کے پائوں میں حسب ارشاد نبوی ؐفی الواقعہ لپا نہیں تھا۔ دوم۔ خود ہی حضور نے فرمادیا کہ ’’خدا کے نبیوں کا امتحان کرنا اچھا نہیں ہوتا۔‘‘ جبکہ بیسیوں آدمی حضور کے پائوں وغیرہ دبایا کرتے تھے۔ مگر یہ لفظ کبھی نہیں فرمایا تھا۔ جو اس وقت حضور نے فرمایا کہ خدا کے نبیوں کا امتحان کرنا اچھا نہیں ہوتا۔ یہ کیسے خیال پیدا ہوگیا کہ اس وقت دبانیوالا امتحاناً دبا رہا ہے اور اس وقت یقینا تھا یہی امتحانی دبانا۔ پس یہ ایک بیٰنً نشان تھا۔ جو آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اور ایمانی تازگی حاصل کی۔ الھم صلی علی محمد وال محمد۔
    اس کے بعد مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضور میرے چند سوالات ہیں ۔ اگر حکم ہو۔ عرض کروں۔ حضور نے اجازت فرمائی۔ مولوی صاحب نے پہلاسوال پیش کیا۔ جو مولوی صاحب اور حضرت اقدس کے سلسلہ سے لکھا جاتا ہے۔
    مولوی صاحب ۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حانسہ (دائی) حضرت ام ایمن تھیں۔ جن کو حضور روزانہ یا اکثر دفعہ آپ کے پاس پہنچ کر اپنی تازہ وحی سے مشرف فرمایا کرتے تھے۔ جس سے آپ مسرور رہتیں۔ حتیٰ کہ حضور علیہ الصلوۃ کا انتقال ہوگیا اور حضرت ابوبکر صدیق اور جانشین مقرر ہوئے۔ آپ بھی ایک دن والدہ صاحبہ سے ملنے کیلئے تشریف لے گئے تو والدہ صاحبہ رونے لگ گئیں۔ آپ نے فرمایا کیا آپ اس لئے روتی ہیں کہ آنحضرت ؐفوت کیو ںہوگئے ہیں۔ یہ تو سنت اللہ تھی جو پوری ہوئی۔ اماں جان نے فرمایا کہ نہیں بلکہ میں اس لئے روتی ہوں کہ انقطعت الوحی۔ آج وحی منقطع ہوگئی ہے۔ پس جب اماں جاں صاحبہ انقطاع وحی کے قائل ہیں تو آپ کیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد وحی کے قائل ہوسکتے ہیں۔
    حضرت اقدس۔کیا آپ آیت کنتم خیرامتہ کے تحت تسلیم کرتے ہیں کہ یہ امت خیر امتہ ہے؟
    مولوی صاحب ۔ ہاں !
    حضرت اقدس ۔ کیا آپ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ آیت واوحیت الی الحوارین داوخیاالی ام موسیٰ۔ انا اوحینا الی النحل کے تحت مسیح کے حواریوں او ر موسیٰ کی والدہ اور شہد کی مکھی وغیرہ کو وحی الہیٰ ہوئی اور ہوتی ہے۔
    مولوی صاحب ۔ ہاں ضڑوری ہوتی تھی اور ہے۔
    حضرت اقدس۔ تو پھر کیا یہ امت مسیح کے حواریوں اور موسیٰ کی امت کی عورتوں اور حیوانوں سے بھی گئی گذری ہوگئی کہ انہیں تو وحی ہو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو جو خیر امت ہے وحی نہ ہو۔
    مولوی صاحب ۔ ان وحیوں کا تو قرآن کریم میں ذکر آیا ہے ۔ کیا یہ بھی کہیں آتا ہے کہ اس امت محمدیہ میں بھی وحی ہوگی۔
    حضرت اقدس ۔ جبکہ آپ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ پہلی امتوں میں وحی ہوتی رہی ہے اور ادھر اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں دعا سکھلائی ہے جس کے بغیر آپ کا یقین ہے کہ نماز ہی نہیں ہوتی اور ہر رکعت میں اس کا پڑھنا فرض ہے۔فرمایا ! صراط الذین انعمت علیھم ۔ یعنی خدا یا تو ہمیں ان لوگوں کا رستہ دکھا جن پر تونے انعام کیا۔ اور وہ ایمان ہمیں بھی عطا فرما۔ پس جب ان لوگوں میں وحی کا انعام موجود ہے۔ تو دعا کے نتیجہ میں اس امت میں کیوں وحی نہ ہوگی۔
    ان الذین قالو ا ربنا اللہ ثم استقامو ا تنزل علیھم الملائکتہ ان لا تخافوا ولا تخرفو ا والبشر وا بالجنتہ التی کنتم توعدون۔ یعنی جن لوگوں نے کہہ دیا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر مستقیم ہوگئے ۔ ان پر خدا کے ملائکہ کا نزول ہوتا ہے اور وہ کہتے ہیں یہ کہ مت خوف کرو۔ اور مت غم کرو اور تمہیں اس جنت کی بشارت ہے جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے۔
    اس آیت سے نزولی وحی بوساطت ملائکہ ضروری ہے جو اس امت کے مومنین اور اہل استقامت کیلئے ضروری ہے۔
    سوم ۔ لھم البشریٰ فی الحیوۃ الدنیا و فی الآخرہ۔ مومنین خیر امت کے لئے اس حیاتی دنیا میں بھی بشارتیں ملتی ہیں اور آخرت میں بھی ملیں گی۔ پس یہ بشارتیں وحی نہیں تو اور کیا ہے۔ پس اس ضمن میں حضور نے بہت سی آیات قرآنی سے نزولی وحی کا ثبوت پیش کیا۔
    مولوی صاحب ۔ حضور یہ تو سچ ہے کہ ان آیات سے نزول وحی ثابت ہوتی ہے اور اس امت کیلئے ہے۔ جب قرآن کریم میں ثبوت وحی فی ہذہ الامتہ موجود تھا تو پھر حضرت اماں جان نے یہ کیوں فرمایا۔ انقطعت الوحی۔ آج وحی بند ہوگئی ہے۔ کیا اپ کو ان آیات کا علم نہ تھا۔
    حضرت اقدس ۔ مولوی صاحب یہ تو بتلائیے کہ اس جگہ الوحی پر الف لام کیا ہے۔ یہ الف لام اس وحی کی طرف اشارہ کررہا ہے جو آنحضرت ؐ پر نازل ہوا کرتی تھی اور حضور ہر روز اماں جان کو سنایا کرتے تھے۔ پس و ہ قرآنی اور شرعی وحی جو آنحضرت ؐ پر نازل ہوا کرتی تھی وہ یقینا بند ہوگئی تھی اور ہوچکی ہے اس سے یہ کہاں ثابت ہے کہ اس قسم کی وحی قیامت تک کیلئے بند ہے۔ جبکہ آیت قرآنیہ میں نزول وحی بالتصریح موجود ہے۔
    مولوی صاحب اس پر ساکت ہوگئے اور آگے کوئی نیا سوال نہ کیا۔
    حضرت اقدس نے ازاں بعد ۔۔ تقریر فرمائی ۔ جس سے ان جملہ اعتراضات کا خود ہی حل فرمادیا جو کہ مولوی صاحب نوٹ کر لائے تھے۔ اور لکھے ہوئے آپ کے کھیسے میں موجود تھے اور اس ملاقات سے پہلے کسی سے ذکر نہ کیا تھا۔
    مولوی صاحب اس پر متعجب ہوئے اور سوچا اگر اس شخص پر وحی کا نزول نہیں ہوتا تو آپ کو ان باتوں اور سوالات سے کس نے علم دیا۔ جو آپ کے پاس لکھے ہوئے تھے۔ تھوری دیر خاموش رہ کر عرض کی۔ حضور ہاتھ کریں۔ میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں۔ پس آپ نے اسی وقت خدا کے فضل سے بیعت کی اور اس کے بعد آپ کو کبھی بھی کوئی اعتراض حضور کی ذات پر پیدا نہیں ہوا۔ اور آپ کے ایمان اور عرفان میں دن بدن ترقی ہوتی گئی۔ ازا ںبعد حضرت خلیفہ اولؓ کی بیعت میں بلا چوں و چرا داخل ہوگئے۔ خلافت ثانیہ می ںبھی کبھی کسی قسم کا شبہ پیدا نہیں ہوا۔ الحمد اللہ علی ذالک۔
    آپ جس وقت بیعت کرکے واپس تشریف لے گئے تو دوآبہ باری اور چناب کے اکثر لوگ جو آپ کے معتقدین میں سے تھے۔ اور پہلے ان کا خیال تھا کہ اگر مولوی صاحب بیعت کرلیں تو ہم سب سلسلہ بیعت میں داخل ہوجائیں گے۔۔ وہ سب کے سب آپ کے دشمن ہوگئے اور آپ کے قتل کے منصوبے کرنے لگے۔ مگر آپ نے نہایت ثبات اور استقلال سے ا ن کا مقابلہ کیا اور تبلیغ کا سلسلہ عاشقانہ رنگ میں جاری رکھا۔ اور قریباً اٹھارہ سال تک آپ آنریری مبلغ رہے اور آپ کی معرفت خدا کے فضل سے قریباً تین صد آدمی یا اس سے زیادہ سلسلہ بیعت میں داخل ہوئے۔ الحمد اللہ علی ذالک۔
    ایک بین نشان جو اغلباً اخبار بدر الحکم میں شائع ہوچکا ہے اور ایک صاحب ایران کے رہنے والے جو خدا رسیدہ اور مہلم انسان تھے۔ ان کو خدا کی طرف سے الہام ہوا۔ مقصود تو از قادیان حاصل بیشود۔ اور کئی دفعہ ہوا ۔ غرض اسی تلاش میں وہ صاحب پشاور پہنچے۔ اور پشاور سے قادیان شریف تشریف لائے۔ جس روز وہ صاحب قادیان میں تشریف لائے تھے ۔ اسی روز مولوی صاحب بھی دارالامان میں موجود تھے۔ اور یہ نظارہ اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرمایا۔ آپ نے فرمایا کہ وہ صاحب بڑے بازار میں بزبان فارسی عوام الناس سے پوچھ رہے تھے کہ مرزا صاحب کی است ۔ مسیح موعود کی است۔ عوام آپ کی زبان کو نہ سمجھنے کی وجہ سے جواب نہیں دے سکتے تھے۔ اُدھر حضرت مسیح موعودؑ سیر کیلئے گھر سے باہر تشریف لائے اور احباب منتظرین آپ کے ساتھ چلائے۔ جب حضور چند قدم باہر کو تشریف لے گئے تو خدا کی طرف سے آپ کو الہام ہوا کہ آپ کی تلاش میں ایک شخص بازار میں پھر رہا ہے اور آپ باہر جارہے ہیں۔ حضور پیچھے کو لوٹ پڑے اور فرمایا حکم ہوا کہ بازار کو چلو۔ چنانچہ بازار کی طرف چلے۔ اور احباب بھی حضور کے ساتھ روانہ ہوئے۔ مولوی صاحب بھی ان میں شامل تھے۔ جب بڑے بازار میں چوک کے پاس پہنچے تو وہ صاحب مل گئے اور معلوم کرکے حضور کے گلے سے چمٹ گئے ۔ حضور کی آنکھوں سے بھی آنسو نکل آئے۔ اور وہ صاحب بھی رونے لگے اور جملہ احباب حاضرین کی چیخیں نکل گئیں۔
    جب آنسو تھم گئے تو اس صاحب نے اپنی آمد کا سب ماجرا بیان کیا اور یہ عظیم الشان نشان دیکھ کر سب کے کے ایمان میں رونق پیدا ہوئی۔ الھم صلی علی محمد وآل محمد۔
    ایک اور نشان ۔ حضرت مولوی صاحب بے بیان فرمایا کہ غالباً ۱۹۰۶ء کے جلسہ سالانہ پر آپ تشریف لائے ۔ آپ کے ساتھ ایک صاحب (مولوی امام الدین صاحب جو درویشانہ زندگی رکھتے تھے اور سلسلہ بیعت میں داخل تھے) بھی تھے۔ آتے ہی مولوی امام الدین صاحب کو سخت بخار ہوگیا۔ ایسا کہ آپ جلسہ سالانہ کی کوئی تقریر نہ سن سکے۔ مہمان خانہ میں آپ بے ہوش پڑے رہے۔ جب جلسہ ختم ہوگیا اور مہمان رخصت ہونے لگے تو مولوی امام الدین صاحب کی بیماری کی وجہ سے مولوی صاحب کو سخت گبھراہٹ تھی کہ اب ہم کیسے واپس جائیں گے۔ آپ اسی خیال میں ہی حیران بیٹھے تھے کہ یکایک حضرت مسیح موعودؑ مہمان خانہ میں تشریف لے آئے۔ مولوی صاحب نے مولوی امام الدین صاحب کو زور سے پکڑ کر حضرت صاحب کے سامنے جاکھڑا کیا۔ اور عرض کی۔ کہ حضور ان کو سخت بخار ہے۔ دعاگو صحت فرمائی جاوے۔ تاکہ ہم امن سے واپس جاسکیں۔ حضور نے ان کا نام پوچھا۔ اور ان کی پشت پر سر سے لیکر ہاتھ پھیرنا شروع کیا۔ حضور ہاتھ پھیرتے جاتے تھے۔ حتی کہ تین چار دفعہ ہاتھ پھیرنے سے ہی بخار اتر گیا۔ اور بیماروںکو شفا دینے کامعجزہ اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرمایا۔
    یہ صاحب ابھی تک موضع ٹھٹھہ ناظریان مشمولہ انجمن شاہ مسکین ضلع شیخوپورہ میں موجود ہیں۔ ان کی زبان سے بھی میں نے اس طرح سنا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کی دعا سے فوراً مجھے شفا مل گئی اور کئی روز سے جو کھانا نہیں کھایا تھا۔ اسی وقت مجھے اس قدر بھوک لگی کہ میں نے سیر ہوکر کھانا کھا لیا۔ اور سفر کے لئے روانہ ہوئے اور بٹالہ تک پیدل پہنچے اور کوئی تھکان معلوم نہ ہوئی۔
    ایک اور نشان جو مولوی صاحب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور مجھے فرمایا کہ چودھری احمد دین صاحب ساکن آنبہ ضلع شیخوپورہ جو آپ کی وساطت سے احمدی ہوئے تھے۔ ایک دفعہ قادیان شریف تشریف لائے۔ چودھری صاحب کے شرکاء نے آپ پر کئی مقدمات دائر کئے ہوئے تھے۔ اور آپ بڑی مشکلات میں تھے۔حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں حاضر ہوکر مولوی صاحب نے چودھری احمد دین صاحب کو پیش کیا اور دعا کی درخواست کی۔ حضور نے چوہدری صاحب کے سر پر ہاتھ پھیر کر فرمایا ۔ احمد دین خداتعالیٰ آپ پر فضل کریگا۔ دو تین دفعہ ایسا ہی فرمایا۔چنانچہ اس کے بعد چودھری صاحب کو ان جملہ مقدمات سے اللہ تعالیٰ نے رہائی بخشی۔ اور فیصلے آپ کے حق میں ہوگئے۔
    چوہدری احمد دین صاحب نے مجھے خود ہی یہ واقعہ سنایا اور آپ کے دل میں اس نشان سے ایک بڑی بشاشت ہے۔ اور ہمیشہ فرمایا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اس دعا کے نتیجہ میں مجھ پر بڑے فضل کئے۔ یہ صاحب اپنی جماعت میں امیر بھی رہ چکے ہیں۔ اب اس جماعت کے سید لال شاہ امیر ہیں۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اجود الناس تھے۔ جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اجود الناس تھے۔ آپ کے مظہر اتم ہونے کی وجہ سے حضرت مسیح موعودؑ بھی اجود الناس تھے۔ آپ اس قدر خیرات فرمایا کرتے تھے کہ آپ کی نظیر کوئی پیش نہیں کرسکتا۔ اول تو بغیر کسی کی خواہش کے ہی حضور خیرات فرماتے رہتے تھے۔ مگر کسی کی درخواست کو تو کبھی مسترد نہیں فرمایا کرتے تھے۔ حضور جب کوئی کتاب تصنیف فرماتے تو کثرت سے خیرات فرما چھوڑتے۔
    ایک دفعہ مولوی صاحب حضرت کے حضور پیش ہوئے تو حضور نے خود ہی فرمایا۔ کیا آپ نے میری کتاب چشمہ معرفت پڑھی ہے۔ مولوی صاحب نے عرض کیا۔ حضور نہیں۔ حضور نے فوراً (میر) مہدی حسین شاہ صاحب کو (جو ان دنوں حضور کی پیشی میں ہوتے تھے) فرمایاکہ ایک نسخہ مولوی صاحب کو دے دو۔ چنانچہ ایک نسخہ آپ کو عطا فرمایا گیا۔ اس پر مہدی حسن شاہ صاحب کے دستخط تھے۔
    ایسا ہی ۱۹۰۸ء میں جبکہ حضور لاہور آخری بیماری میں علاج کیلئے تشریف فرماتھے۔ ملاقات پر حقیقتہ الوحی کا ایک نسخہ عطا فرمایا اور ایک نسخہ میرے چچا عبدالمجید صاحب کو عنایت فرمایا۔ جو ان دنوں جماعت احمدیہ بھنیس کے سیکرٹری مال اور ڈاک خانہ شرق پور میں ملازم ہیں۔ ان دونوں کتابوں پر بھی مہدی حسن شاہ صاحب کے دستخط موجود ہیں۔ غرض آپ کی کریمی اور جوادی کی نظیر پیش کرنا مشکل ہے۔
    یہ ہیں وہ واقعات جو میرے والد بزرگوار حضرت مولوی محمد عبداللہ صاحب صحابی حضرت مسیح موعودؑ نے بیان فرمائے اور مجھے یاد ہیں۔ اس کے علاوہ ممکن ہے کہ آپ نے بہت سے واقعات ملاحظہ فرمائے ہوں مگر مجھے یاد نہیں۔ اس لئے انہیں پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
    جناب مولوی صاحب ستمبر ۱۹۲۰ء میں فوت ہوئے اور حضرت مسیح موعود کے عین قدموں کے سامنے مقبرہ بہشتی میں مسیح موعود سے تیسرے بلاک میں جلسہ سالانہ ۱۹۲۱ء پر آپ مدفون ہوئے۔ اور خدا تعالیٰ نے آپ کی آخری دعا کو کہ خدایا مجھے مسیح موعودؑ کے قدموں میں جگہ دینا۔ منظور فرمایا۔ آپ تپ دق اور کھانسی سے کئی ماہ بیمار رہنے کے بعد فوت ہوئے۔ ان کی آخری وصیت یہ تھی کہ پہلے کلمہ شہادت پڑھا۔ اور فرمایا کہ گول رہو۔ میرا ایمان ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم خاتم النبین رسول تھے اور حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی خدا کے مسیح اور مہدی اور خدا کے نبی تھے اور مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ آپ بھی اس ایمان پر قائم رہیں اور حضور کے خلفاء کے ہاتھ بھی ایمان رکھیں۔ یہ کہنا تھا کہ آپ پر سکوت ہمیشہ کیلئے طاری ہوگیا اور آپ فی مقعد صدق عنہ ملیک مقتدر میں جا بسے۔ الھم مغفرنہ ورحمنہ۔
    خاکسار کے چشم دید واقعات: خاکسار کو بعد از بیعت بہت ہی تھوڑا موقع شرف نیاز کا حاصل ہوا۔ اس وجہ سے زیادہ واقعات چشم دید بیان نہیں کرسکتا۔اگرچہ خاکسار ۱۹۰۲ء میں ہی جبکہ والدم بزرگوار بیعت کرچکے تھے۔ آپ کی تعلیم کے مطابق حضرت مسیح موعود کو جملہ دعاوی قبول کرچکا تھا۔ اس طریق سے میں پیدائشی احمدی بھی کہلا سکتا ہوں۔ اور اس وقت میری عمر قریباً تیرہ چودہ سال کی تھی۔ آپ کا نور بیان اس قدر واضح اور عاشقانہ ہوتا تھا کہ خواہ مخواہ سامعین پر وجد طاری ہوجاتا اور جس کے قلب میں ایک رتی بھر بھی ایمان ہوتا۔ تسلیم کئے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔ آپ کی متواتر تعلیم اور حضرت مسیح موعود کی عشق گداز باتیں سننے سے میں بیقرار ہوگیا۔ اس وقت میں اپنے والد صاحب سے تعلیم اسلامی حاصل کررہا تھا اور میرے دل میں اس قدر تموج پیدا ہوگیا کہ ۱۹۰۴ء میں روپوش ہوکر قادیان کی طرف بھاگا۔ اور وہاں پیدل منزل بمنزل پہنچ کر دستی بیعت حاصل کرلی۔
    ا ندنوں کرم دین جہلمی سے مقدمہ جاری تھا۔ چند روز ٹھہر کر واپس چلا گیا۔ اس وقت کا واقعہ مجھے اس قدر یاد ہے کہ حضور لعین اور لئیم اور اس کے معنی الفاظ نکلوا کر دیکھ رہے تھے جن کا دیکھنا اس مقدمہ کیلئے ضروری تھا۔
    پھر ۱۹۰۸ء میں خاکسار اور مولوی صاحب مرحوم چند آدمیوں کو ہمراہ لیکر موضع بھینی سے بیعت کی غرض سے لاہور پہنچے۔ وہاں دیکھا کہ کئی کئی روز سے پروانہ وار ہزاروں انسان بغرض بیعت و ملاقات ادھر ادھر پھر رہے ہیں۔ مگر حضور کی بیماری کی وجہ سے ملاقات کا شرف حاصل نہیں ہوسکتا تھا۔
    مولوی صاحب نے جاتے ہی ایک رقعہ حضرت اقدس کی خدمت میں اندر بھیجا تو حضور نے فوراً حکم بھیج دیا کہ مولوی محمد عبداللہ صاحب اپنے ساتھیوں کو ہمراہ لیکر فلاں کمرے میں پہنچ جاویں۔ جو چھوٹا سا کمرہ تھا۔ اور وہاں باری کے سامنے ایک چھوٹی سی مونجی چارپائی پڑی ہوئی تھی۔ ہم وہاں پہنچ گئے۔ اورحکم ہوا کہ یہاں بیٹھ جائو۔ حضور یہاں ہی تشریف لائیں گے اور تمام لوگ جو کئی ہزار کا مجموعہ تھا۔ اس طرف دوڑنے شروع ہوئے ۔ کچھ کمرے میں پہنچ گئے۔ اور باقی کچھ سیڑھیوں پر اور دوسرے سب باہر کھڑے تھے۔ اور ہر کوئی یہ چاہتا تھا کہ میں ہی آگے بڑھوں اور حضور کے قدموں میں پہنچوں۔ مگر ہر کوئی وہاں کیسے پہنچ سکتا تھا۔ آخر حضور اس کمرہ میں تشریف لائے اور السلام علیکم کہہ کر اس چارپائی پر رونق افروز ہوئے اور بیعت کیلئے حکم فرمایا۔ اور فرمایا کہ باہر پگڑیاں ایک دوسری کے ساتھ گانٹھ کر پھینک دو۔ چنانچہ پگڑیاں پھینکی گئیں اور بیعت شروع ہوئی۔ حضرت مسیح موعودؑ کے دس مبارک پر سب سے اول ہاتھ میرا تھا۔ پھر کچھ میرے ہاتھ پر اور کچھ پشت اور سر پر باقی ایک دوسرے کی پشتوں پر ۔ پھر پگڑیوں پر۔ بیعت کے بعد حضور نے مختصر سی نصیحت فرمائی۔ جس کے الفاظ یاد نہیں اور نہ ہی مفہوم یاد ہے۔ اس وقت حضور نے میرے والد صاحب اور میرے چچا صاحب مولوی عبدالمجید کو کتاب حقیقتہ الوحی عنایت فرمائی۔ حضور نصائح فرما رہے تھے کہ میرے چچا صاحب نے سامنے کی دیوار پر ایک نورانی چمکار دیکھی۔ جو ادھر ادھر گھوم رہی تھ۔ حیرانگی سے اسی طرف خیال منتقل ہوگیا۔ بڑے غور سے معلوم ہوا کہ وہ چمکار نہ کسی شیشہ کی ہے نہ بلور کی۔ بلکہ وہ حضرت اقدس کے چہرہ مبارک کی ہے۔ جو حضور کے چہرہ مبارک کو ادھر ادھر گھمانے کی وجہ سے ادھر ادھر گھومتی ہے۔ یقین ہوجانے پر انہوں نے اپنے بڑے بھائی مولوی محمد عبداللہ صاحب کو دکھائی۔ پھر مجھے بھی دکھائی۔ اور بے اختیار منہ سے درود شریف نکلنا شروع ہوا۔ الھم صل علی محمد و الہ محمدسید والا آدم و آلہ و بارک وسلم۔
    پہلے تو اعتقادی رنگ میں دل میںسرور رہا۔ بعد ازاں جبکہ حضرت خلیفتہ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرالعزیز نے غالباً اپنے درس القران ۱۹۲۲ئ؁/۱۹۲۸ئ؁ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نشان پربیضا کا ذکر فرمایا کہ خدا کے نبیوں کو ایک نور دیا جاتا ہے۔ بعضوں کے ہاتھوں سے وہ نور ظاہر ہوتا ہے اور بعضوں کے چہرہ سے اور بعضوں کے کسی اور عضو سے۔ اس وقت مجھے یقین ہوا کہ وہ خدا کا نور تھا۔ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چہرہ مبارک سے نمودار ہوتا تھا۔ اور یہ ایک عظیم الشان نشان تھا۔ جو آپ کو دیا گیا۔ اور ہم نے مشاہدہ کیا۔ ممکن ہے کسی اور نے بھی یہ نور دیکھا ہو۔ مگر یہ ضروری نہیں کہ ہر ایک نشان ہر وقت بھی دیکھایا جاوے۔ یا ہر نشان مطالبہ پر دکھایا جاسکے۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی جب کبھی ایسا مطالبہ کیا جاتا تو آپ باذن رب العباد یہی ارشاد فرماتے۔ قل انما العلم عنداللہ ۔ انما الایات عنداللہ۔
    غرض یہ چند آیات ہیں جو میں نے اور میرے والد صاحب مرحوم نے اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ مومن تو ہر ایک نشان کو مانتا اور بصیرت حاصل کرتا ہے۔ مگر جھوٹ باندھنے والا گنہگار جب آیات اللہ کو سنتا ہے اور اس پر ایسی باتوں کا ذکر پڑھا جاتا ہے تو تکبر سے انکار پراصرار کرتا ہے= گویا کہ اس نے سنا ہی نہیں۔ پس ان کیلئے عذب الیم کی بشارت ہے۔
    ویل لکل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھیں رجسٹرروایات نمبر ۴صفحہ ۲۴)

    خاکسار محمد عبدالعزیز انسپکٹر بیت المال
    صحابی حضرت مسیح موعود سکنہ بھینی ڈاکخانہ شرق پور
    ضلع شیخوپورہ حال مہاجر قادیان محلہ دارالرحمت
    ضلع گورداسپور ۔ مورخہ ۳۸۔۳۔۹





    روایات
    سید محمود عالم صاحب ولد سید تبارک حسین صاحب
    ساکن موضع لرسیا ڈاکخانہ جہاں آباد ہرگنہ بھلاور ضلع گیا صوبہ بہار
    حال خزانچی صدر انجمن احمدیہ قادیان
    سن بیعت : ۱۹۰۵ء
    سن زیارت: ۱۹۰۷ء
    میرے خاندان کا شجرہ نسب حضرت امام حسین ؓ تک جاتا تھا (ہے) مجھے اپنی سن پیدائش یاد نہیں۔ غالباً ۱۸۸۹ء ؁ یا ۱۸۹۰ئ؁ہے۔ میرا آبائی وطن موضع لرسا ڈاکخانہ جہاں آباد ہرگنہ بھلامہ ضلع گیا صوبہ بہار ہے۔ میری جائے پیدائش موضع برانواں ڈاکخانہ پون پون ضلع پتنہ ہے۔-------
    ۱۹۰۲ء میں جب میں پٹنہ شہر میں پڑھنے کیلئے آیا۔ وہاں ایک بزرگ تشریف لائے اور کہنے لگے کہ پنجاب میں ایک بہت بڑا عالم ہے۔ ایک عیسائی اس کی دعا کے مقابلہ میں آیا تھا۔ جو مر گیا۔اب کوئی عیسائی اس کے مقابلہ میں نہیں اتا۔ یہ س نکر مجھے حضرت مسیح موعودؑ سے بغیر نام اور کیفیت معلوم ہوئے محبت ہوگئی۔
    غالباً ۱۹۰۳ء میں میرے بڑے بھائی سید محبوب عام پٹنہ شہر میں کسی طرف جارہے تھے کہ وہ شخص یہ کہتے ہوئے گزر گئے کہ پنجاب میں کسی شخص نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ بھائی صاحب کو بچپن سے قرآن شریف سے محبت ہے۔ اس لئے یہ سن کر حیران سے رہ گئے کہ پوچھوں تو کس سے پوچھوں۔ کہنے والے تو چلے گئے۔ شاید سٹیشن ماسٹر کو معلوم ہو۔ چنانچہ ان کا خیال درست نکلا۔ نام و پتہ وغیرہ دریافت کرکے مکان پر آئے اور حضرت مسیح موعودؑ کو ایک خط لکھا کہ مجھے آپ کے حالات معلوم نہیں۔ صرف نام سنا ہے۔ اگر براہ کرم انہہی تصانیف بھیج دیا کریں تو پڑھ کر واپس کردیا کرونگا۔ چنانچہ مولوی عبدالکریم صاحب ؓ کتابیں بھجواتے رہے اور بھائی صاحب پڑھ پڑھ کر واپس کرتے رہے۔ لوگوں نے اسی وقت سے مخالفت شروع کردی۔ مگر بھائی صاحب نے استقلال سے کام لیا۔ اور کچھ عرصہ بعد بیعت کرلی۔ میں نے بھی کچھ عرصہ بعد بھائی صاحب کے ذریعہ کتابیں پڑھیں اور بیعت کرلی۔
    احمدیت سے کچھ عرصہ پہلے میں شہر سے گھر گیا اور اتفاق سے والد صاحب کے ساتھ سویا۔ خواب میں والد صاحب کو حضرت امام حسینؓ نے فرمایا کہ تیرا یہ لڑکا جو تیرے ساتھ سویا ہوا ہے بہت بڑا وکیل ہوگا۔ لیکن جب احمدی ہوگیا ۔ اس وقت والد صاحب سے کہا کہ آپ کی خواب کی تعمیر میرا احمدی ہونا ہے۔۔۔۔
    ابھی دو سال کی متواتر اور خطرناک بیماری سے پوری طرح صحت یاب بھی نہیں ہوا تھا کہ قادیان آنے کا شوق بلکہ جنون پیدا ہوا۔
    اے محبت عجب آثار نمایاں کردی زخم و مرہم برہ یار تو یکساں کردی
    بھائی صاحب نے اصرار کیا کہ قادیان میں خزانہ نہیں رکھا ہوا۔ کم از کم میٹرک پاس کرکے جانا۔ تاکہ وہاں تکلیف نہ ہو۔ والدین غیر احمدی تھے۔ الغرض کسی نے زاد راہ نہیں دیا۔ بیماری کی وجہ سے میرا جسم بہت ہی کمزور اور ضعیف ہورہا تھا۔ مجھ میں دو چار میل بھی چلنے کی طاقت نہ تھی۔ بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک میل چلنے کی بھی طاقت نہ تھی۔ مگر خداتعالیٰ نے دل میں جوش ڈال دیا۔ اور پیدل سفر کرنے کیلئے تیار ہوگیا۔ اس وقت میں پٹنہ میں تھا۔ چلتے وقت لوگوں نے مشورہ دیا کہ والدین سے مل کر جائو۔ میں نے انکار کردیا کہ ممکن ہے والدہ کی توجہ و فریاد سے میری ثبات قدمی جاتی رہے اور قادیان جانے کا ارادہ ترک کردوں۔ بہر حال چلا اور چلا۔ چلنے وقت ایک کارڈ حضرت مسیح موعودؑ کو لکھا کہ میرے لئے دعا کی جائے۔ میرے حالات سفر یہ ہیں۔ میں بہت کمزور اور نحیف ہوں اور ایک کارڈ بھائی صاحب کو لکھا کیونکہ اس وقت وہ دوسری جگہ پر تھے۔ کہ میں جارہا ہوں اگر قادیان پہنچا تو خط لکھونگا۔ اور گھر راستہ میں مر گیا تو میری نعش کا بھی کسی کو پتہ نہ لگے گا۔ میں نے سفر کیلئے احتیاطی پہلو اختیار کرلئے تھے۔ ۱۔ ریلوے لائن کا نقشہ رکھ لیا تھ۔ ۲۔ جلدی جلدی چند درسی کتب فروخت کرکے کچھ پیسے رکھ لئے تھے۔ میں کمزور بہت تھا اور مسافت دور کی تھی۔ پچاس ساٹھ میل تک ریل کا سفر کیا۔ تاکہ اگر صحت کمزوری دکھائے تو لوٹنے کی ہمت نہ ہو۔ اور بجائے واپس ہونے کے آگے آگے ہی چلتا رہوں۔ میں اس سفر میں تیس تیس میل روزانہ چلتا رہا۔ جہاں رات ہوتی ٹھہر جاتا۔ کبھی سٹیشن پر اور کبھی گمٹئیوں میں۔ پائوں کے دونوں تلوے زخمی ہوگئے تھے۔ ’’خدایا آبرو رکھیو میرے پائوں کے چھالوں کی‘‘ جب رات بسر کرنے کے لئے کسی جگہ ٹھہرتا تو شدت درد کی وجہ سے پائوں اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتا تھا۔ صبح ہوتی۔ نماز پڑھتا اور چلنے کیلئے قدم اٹھاتا تو پائوں اپنی جگہ سے ہلتے نہیں تھے۔ بہ ہزار دشواری انہیں حرکت دیتا اور ابتدا میں بہت آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اور چند منٹ بعد اپنی پوری رفتار میں آجاتا۔ پائوں جوتا پہننے کے قابل نہیں رہے تھے۔ کیونکہ چھالوں سے پر تھے۔ بلکہ چمڑا اتر کر صرف گوشت رہ گیا تھا۔ اسلئے کبھی روڑے اور کبھی ٹھیکریاں چبھ چبھ کر بدن کو لرزاں دیتیں۔ کبھی ریل کی پٹری پر چلتا اور کبھی عام شاہراہ پر اتر آتا۔بڑے بڑے ڈرائونے راستہ سے گزرنا پڑا ۔ ہزاروں کی تعداد میں بندروں اور سیاہ موننہ والے لنگوروں سے واسطہ پڑا۰ جن کا خوفناک منظر دل کو ہلا دیتا۔ علی گڑھ شہر سے گزرا۔ مگر مجھے خبر نہیں کہ کیا ہے۔ اور کالج وغیرہ کی عمارتیں کیسی ہیں۔ البتہ چلتے چلتے دائیں بازو پر کچھ فاصلہ پر سفید عمارتیں نظر آئیں اور پاس سے گزرنے والے سے یہ پوچھ کر کہ یہ عمارت کیسی ہو اور اس کے یہ کہنے پر کہ کالج کی عمارت ہے۔ آگے چل پرا۔ دہلی شہر سے گزرا اور ایک منٹ کیلئے بھی وہاں نہ ٹھہرا۔ کیونکہ میرا مقصود کچھ اور تھا۔ وہاں کے بزرگوں کی زیارت میرا مقصود نہ تھا۔ اس لئے میں ایک سیکنڈ کے لئے بھی اپنے مقصود سے باہر نہیں ہونا چاہتا تھا۔ زخمی ہیروں کے ساتھ قادیان پہنچا اور مہمان خانہ میں ٹھہرا۔ چند منٹ کے بعد حضرت حافظ حامد علی صاحب مرحوم نے دودھ کا ایک گلاس دیا۔ میری جیب میں پیسے نہیں تھے۔ اس لئے لینے سے انکار کردیا۔آخر ان کے کہنے پر کہ خرچ سے نہ ڈریں آپ کو پیسے نہیں دینے پڑیں گے۔ پی لیا۔ الحمد اللہ علی ذالک۔کہ قادیان میں سب سے پہلی غذا دودھ ملی۔ میری موجودگی میں بہت سے لوگ آئے مگر کسی کو بھی دودھ کا گلاس نہیں دیا گیا۔ اسی روز سے میں اب تک ناواقف ہوں۔ پھر حضرت مسیح موعودؑ سے ملا۔ حضور حالات دریافت کرتے رہے۔ لوگ بیعت کرنے لگے تو حضور نے خود ہی مجھے بھی بیعت کیلئے کہا۔ میں اس وقت حضور کے پائوں دبا رہا تھا۔ یہ ایک جنون تھا۔ جو کام اگیا۔ ورنہ آج صحابیوں کی فہرست میں میرا نام کس طرح آتا۔
    اے جنوں گرد تو گردم کرچہ احسان کردی۔ الھم مالک الملک تقر من تشائ۔ خلیفہ اولؓ نے زخموں کا علاج کیا اور حافظ روشن علی صاحب مرحوم کو تعلیم کیلئے مقرر کردیا۔ اور بعد میں خود تعلیم دیتے رہے۔
    مئی ۱۹۰۸ء میں جب حضرت مسیح موعودؑ لاہور تشریف لے گئے اور بعد میں حضرت خلیفہ اولؓ کو بھی بلوا بھیجا=۔ تو حضرت خلیفہ اولؓ مجھے بھی ساتھ لے گئے۔ حضرت مسیح موعودؑ کی وفات کے وقت میں آپ کے دائیں بازو میں کھڑا تھا لاہور سے جنازہ کے ساتھ قادیان آیا۔ جب حضرت خلیفہ اولؓ نے باغ میں لوگوں سے بیعت لی۔ میں اس وقت چارپائی پر آپ کے ساتھ بیٹھا تھا۔ حضرت خلیفہ اولؓ نے اس وقت جو تقریر کی اور حضرت میر ناصر تراب صاحب مرحوم نے رو رو کر جو معافی مانگی۔ وہ میرے دماغ میں اب تک گونج رہا ہے۔ بیعت کے بعد نماز جنازہ ادا کی گئی۔ پھر باغ والے مکان میں حضرت کا تابوت زیارت کیلئے رکھا گیا۔ اور چہرہ سے کپڑا اتار دیا گیا۔ لوگ مغربی دروازہ سے گزر کر زیارت کرتے ہوئے مشرقی دروازے سے نکل جاتے۔
    اب میں حضرت مسیح موعودؑ کی سیرت کے متعلق کچھ عرض کرتا ہوں۔
    ۱۔ مولوی عبدالوہاب صاحب ابن حضرت مولوی نور الدین صاحب کی پیدائش کے دن جب حضرت مسیح موعود مسجد مبارک میںتشریف لائے تو مولوی صاحب س یفرمایا کہ اس عمر میں بچہ کا پیدا ہونا خاص خداتعالیٰ کے فضل کے ماتحت ہے۔ اس لئے اس بچہ کا نام عبدالوہاب تجویز کیا ہے۔
    ۲۔ پیغام صلح کی تصنیف کے وقت اثناء گفتگو میں حضرت مسیح موعود نے حضرت مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ابتداء میں میری نیت ایک چھوٹا سا رسالہ نکالنے کی ہوتی ہے۔ لیکن مضمون کی خبر نہیں ہوتی کہ کیا لکھنا ہے۔ جب لکھنے بیٹھتا ہوں تو مضمون آنا شروع ہوجاتا ہے۔ پھر لکھتے لکھتے خیال گزرتا ہے کہ شاید لوگ نہ سمجھیں۔ اسے بڑھاتا ہوں اور پھر بڑھاتا ہوں۔ یہاں تک کہ ایک بڑی کتاب ہوجاتی ہے۔
    ۳۔ حضرت مسیح موعودؑ مسجد مبارک میں تشریف رکھتے تھے کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب نے حضرت سے فرمایا کہ قاضی ظہور الدین اکمل گولیکی کے رہنے والے ہیں۔انہوں نے ایک نظم لکھی ہے۔ جو حضور کو سنانا چاہتے ہیں۔ حضور نے اجازت دے دی۔ اور اکمل صاحب نے کھڑے کھڑے اپنی نظم سنائی۔ اور حضور چپ چاپ سنتے رہے۔
    ۴۔ ایک شخص نے پنجابی زبان میں ایک نظم سنائی۔ اس نظم میں مولویوں کی گت وغیرہ کا بھی ذکر تھا۔ حضور سنتے رہے۔ اور کسی کسی شعر پر ہنستے بھی رہے۔
    ۵۔ حضرت نواب مبارکہ بیگم کے نکاح کے وقت مسجد اقصیٰ میں حضور تشریف لے گئے۔ خطبہ نکاح حضرت مولوی نور الدین صاحب نے پڑھا۔ اور بعد از خطبہ حضرت نواب مبارکہ بیگم کی طرف سے حضور نے خود منظوری عطا کی۔
    ۶۔ ایک مرتبہ سیر کو جاتے ہوئے کسی کے پیر سے ٹکر کھا کر آپ کی سوٹی گر گئی۔ آپ بغیر نظر پھیرے سیدھے چلے گئے اور دوسرے شخص نے اسے اٹھا کر اور صاف کرکے آپ کو دی۔
    ۷۔ ۱۹۰۷ء کے جلسہ سالانہ پر مسجد اقصیٰ میں آپ کی موجودگی میں میر قاسم علی صاحب نے ایک نظم پڑھی۔
    ۸۔ ۱۹۰۷ء کے جلسہ سالانہ پر لوگوں کی بھیڑ میں آپ کا پائوں کچلا گیا۔ آپ نے کسی قسم کا اظہار ناراضگی نہیں فرمایا اور واپس آگئے۔
    ۹۔ ۱۹۰۸ء میںمکرم ذوالفقار علی خاں صاحب‘ نواب صاحب روم پور کی طرف سے ایک خط لیکر حضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضر ہوا۔مسجد مبارک میں عصر کی نماز کے بعد خاں صاحب نے باتیں شروع کیں اور اثنا گفتگو میں یہ بھی کہہ بیٹھے کہ نواب صاحب نے ایک اعتراض کیا تھا کہ مرزا صاحب نے تو نبوت کا دعویٰ کیا ہے جس پر میں نے کہا کہ نبوت کا کوئی نہیں۔ آپ تو فرماتے ہیں۔ من نیستم رسول دنیا و روہ ام کتاب ‘‘ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ یہ جواب درست نہیں۔ میں نبی اور رسول ہوں۔ اور میرا دعویٰ نبوت و رسالت کا ہے۔ ایک مصرع کے تو صرف یہ معنے نہیں کہ میں ایسا نبی و رسول نہیں جو اپنے ساتھ کتاب لاتا ہے۔ آپ کو ڈرنا نہیں چاہئے تھا۔ نبی کریمؐ کے صحابہ بڑے بڑے بادشاہوں کے دربار میں جاتے تھے اور حق کے اظہار میں ذرا نہیں جھجکتے تھے۔حضرت مسیح موعود بار بار ان فقرات کو دہراتے رہے اور آپ پر خاں صاحب کی باتوں پر اتنا اثر تھا کہ جب دوسری صبح سیر کیلئے تشریف لے گئے تو وہاں بھی اس امر پر روشنی ڈالی اور بار بار فرماتے رہے کہ میں نبی و رسول ہوں۔ مگر میں صاحب شریعت نبی نہیں ۔ اور اس وقت بھی صحابی کی نظیر پیش کی کہ وہ حق کے اظہار میں کسی سے ڈرتے نہیں تھے۔
    ایک معمر شخص نے جو باہر سے آئے تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ سے نشان کا مطالبہ کیا ۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ کیا پہلے نشان تھوڑے ہیں کہ نئے نشان دیکھنے کی خواہش ہے۔ یہ نیت اللہ کے خلاف ہے کہ فرداً فرداً ہر شخص کو نشان دکھایا جاوے۔ آپ کچھ دن قادیان میں قیام فرماویں۔ ممکن ہے کہ خداتعالیٰ کوئی نشان ظاہر کردے۔ مگر و ہ بزرگ ٹھہرے نہیں۔
    ۱۱۔ ایک شخص نے ذکر کیا کہ مرتد ڈاکٹر عبدالحکیم نے لکھا ہے کہ اس قسم کا کسوف و خسوف اب سے پہلے بھی کئی مرتبہ ہوچکا ہے۔ حضرت مسیح موعود اندر جانے کیلئے کھڑے ہوچکے تھے۔یہ سن کر ٹھہر گئے اور کھڑے کھڑے فرمایا کہ اس قسم کا کسوف و خسوس سے تو مجھے کوئی بحث نہیں۔ میری بحث تو اس کی آیت ہونے پر ہے۔ پس اسے چاہئے کہ اس قسم کے کسوف و خسوس کے وقت کوئی ایسا مدعی پیش کرے۔ جس نے اسے بطور آیت کے اپنے لئے پیش کیا ہو۔
    ۱۲۔ حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ نے حضرت مسیح موعودؑ کے آگے نابہہ کے وزیر کی طرف سے ایک خط پیش کیاکہ راجہ کی خواہش ہے کہ حضور گورمکھی زبان میں کوئی کتاب تصنیف فرماویں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے دریافت کیا کہ خط خود راجہ نے لکھا ہے۔ یا اس کے وزیر نے حضرت مولوی صاحب نے جواب دیا کہ خط وزیر کی طرف سے آیا ہے حضرت مسیح موعودؑ نے سن کر فرمایا کہ خدا کے مامورین میں کبریالی بھی ہوتی ہے۔ اسے لکھ دیں کہ اگر راجہ کو ضرورت ہے تو بذات خود خط لکھے۔ پھر ممکن ہے توجہ کی جاوے۔
    ۱۳۔ ایک امریکن سیاح قادیان میں تشریف لائے اور اپنے ساتھ لاہور سے ایک پادری کو بھی لیتے آئے۔ مسجد مبارک کے نیچے جہاں دفتر محاسب ہے۔ انہیں ملاقات کا موقع دیا گیا۔ حضرت مسیح موعودؑ تشریف لائے۔ اور حضرت مولوی نور الدین صاحب کو بھی بلوایا۔ مولوی علی صاحب بھاگلپوری ترجمان مقرر ہوئے۔ باتیں کرتے کرتے امریکن سیاح نے نشان مانگا۔ حضور نے فرمایا کہ تم خود نشان ہو۔ اور خدا تعالیٰ کا الہام ’’یاتون من حل فج عمیق‘‘ کی زندہ تصویر ۔ ورنہ اس چھوٹے سے گائوں میں آنے کی کیا ضرورت تھی۔سیاح مزکور نے کہا میں تو عقیدت مندانہ رنگ میں نہیں آیا۔ حضور نے فرمایا کہ الہام میں عقیدت مندانہ کا فقرہ موجود نہیں۔ الہام میں تو صرف یہ بیان ہوا ہے کہ لوگ دور دور سے آئیں گے۔ چنانچہ ا ن آنے والوں میں سے ایک آپ بھی ہیں۔ اور اپنی ذات میں سے اس پیشگوئی کو لفظ بلفظ پورا کررہے ہیں۔اور اس کو نشان کہتے ہیں اور دوسرا نشان یہ پیش کیا کہ مولوی عبدالحئی صاحب مرحوم ابن مولوی نور الدین صاحب کو آگے کردیا کہ یہ بچہ بھی میرا نشان ہے اور اس کی تفصیل بیان کی۔ اور غالباً جسم پر پھوڑے کے نشان بھی دکھلائے۔
    ۱۴۔ مہمان خانہ سے ایک مہمان کا کمل ایک چور (جو وہ بھی بطور مہمان کے تھا) لیکر بھاگا۔ مہمان نے اس کا تعاقب کیا اور جا پکڑا۔ اور مسجد مبارک میں جبکہ حضرت مسیح موعودؑ تشریف فرما تھے۔ اس چور کو لیکر حاضر ہوئے اور کہا کہ حضور یہ کمبل کا چور ہے اس وقت چور خوف کے مارے تھر تھر کانپ رہا تھا۔ حضرت مسیح موعودؑ نے ایک نظر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا اسے چھوڑ دیں۔ آپ کو کمبل سے کام تھا جو مل گیا۔
    ۱۵۔ آریوں کی تحریک پر حضرت مسیح موعود نے ایک مضمون لکھا۔ جو چشمہ معرفت کے آخر میں لگا ہوا ہے۔ جو لاہور میں پڑھا جانا تھا۔ آواز کی بلندی معلوم کرنے کے لئے مختلف لوگوں سے پڑھوا کر سنتے رہے۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب کو مضمون دیکر لاہور بھیجا۔ آریوں نے خلاف وعدہ اپنے مضمون میں حضرت نبی کریمؐ کے خلاف بہت کچھ لب کشائی کی۔ جب لوگ لاہور سے واپس قادیان آئے تو حضرت مسیح موعودؑ اس امر پر بہت ناراض ہوئے کہ حضرت مولوی صاحب اور آپ جماعت کے لوگ کیوں بیٹھے رہے۔ حضرت مولوی صاحب کو خصوصیت سے بار بار مخاطب کرکے فرماتے رہے کہ جب حضرت نبی کریمؐ کو گالیاں دی جارہی تھیں تو آپ کس طرح بیٹھے رہے۔
    آپ کو فوراً اس مجلس سے چلے جانا تھا۔ قرآن شریف کا یہی حکم ہے۔ حضرت مولوی صاحب چپ چاپ سر جھکائے بیٹھے رہے۔ پھر جب حضرت مسیح موعود آریوں کے اعتراضات کے جواب سے فارغ ہوئے اور ۔۔۔۔۔ تک علیہ الرحمتہ کے مسلمان ہونے کے ثبوت میں بعض نوجوانوں کی ضرورت ہوئی تو شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر نور سے یہ کام لیا۔ آپ یہ حوالے لیکر مسجد مبارک میں ہی بیٹھ کر کچھ لکھنا چاہتے تھے کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب کے کہنے پر کہ حضور اندر جاکر لکھیں۔ آپ فوراً اندر چلے گئے۔
    ۱۶۔ ایک مرتبہ حضرت مسیح موعودؑ مسجد مبارک میں تشریف لائے اور تبسم کرتے ہوئے فرمایا کہ آج کفر نامہ کا بڑا سا پیکٹ آیا ہے۔ یہ تبسم صرف چند سیکنڈکے لئے تھا۔ پھر آپ خاموش ہوگئے اور آپ کے چہرہ پر گہرے صدمہ کے آثار ظاہر ہونے لگے اور نہایت ہی حسرت بھرے لہجہ میں فرمایا کہ اگر یہ لوگ تقویٰ سے کام لیتے تو معاملہ بالکل صاف تھا۔ نہ آپ ہلاک ہوتے اور نہ دوسروں کو ہلاک کرتے۔
    ۱۷۔ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے نکاح کے بعد شیخ یعقوب علی صاحب نے اپنے خیالات کے ماتحت کئی الہام جو اس نکاح کی طرف اشارہ کرتے تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ کے پیش کئے۔ آپ سنتے رہے اور فرماتے رہے کہ نہیں یہ نہیں۔ لیکن جب نواب مبارکہ بیگم کا الہام پیش ہواتو حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ ہاں یہ اس کے متعلق ہے۔
    ۱۸۔ ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود سیر کیلئے باہر تشریف لے گئے ۔ راستہ میں ایک خط پیش کیا گیا۔ جس میں لکھا کہ میری بیوی میری ماں سے بہت تنگ آئی ہوئی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے سن کر فرمایا کہ یہ غلکط ہے۔ ماں بیٹے کو ہزار ہا تنگی اور ترشی کے ساتھ پالتی ہے۔ جوان کرتی ہے۔ خوشی خوسی شادی بیا ہ کرتی ہے۔ وہی ماں بہو کو تنگ کرنے لگی۔ نہیں یہ نہیں ہوسکتا ۔ اصل یہ ہے کہ بہو نافرمان ہے۔ ساس کی اطاعت نہیں کرنا چاہتی۔ اس لئے گھر میں فساد ڈال کر ماں بیٹے میں جدائی ڈالنا چاہتی ہے۔
    ۱۹۔ عیدکے دن حضرت مسیح موعود ؑ پرانے کپڑے پہنے ہوئے مسجد مبارک میں تشریف لائے۔ حضرت صاحب کے تشریف لانے کے بعد شیخ رحمت اللہ کا انگلش ۔۔ہائوس لاہورتشریف لائے۔ نماز اور خطبہ کے بعد حضرت صاحب محراب میں کھڑے ہوگئے اور لوگ ایک ایک کرکے حضور سے مصافحہ کرتے رہے۔ نماز حضرت مولوی نور الدین صاحب نے پڑھائی تھی اور خطبہ بھی حضرت مولوی نور الدین صاحب ؓ نے پڑھا تھا۔ اس وقت بارش ہورہی تھی۔ اس لئے حضور نے بجائے عید گاہ کے مسجد مبارک ہی میں نماز عید کی ادا کی۔ نماز سے پہلے لوگوں کی آمد کی انتظار میں کچھ دیر تک بیٹھے بھی رہے۔
    ۲۰۔ ایک مرتبہ مولوی محمد احسن صاحب امروہی نے خطبہ جمعہ پڑھایا اور اپنے خطبہ میںزیادہ تر اس امر پر زور دیتے رہے کہ نبی کریمؐ کے بعد آپ کی امت میں نبی آسکتا ہے اور نبوت کے انکار کی رو میں یہ آیت ولقد جاء کم یوسف من قبل بالبینات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بار بار پڑھتے رہے کہ یوسفؑ کے بعد بھی نبی کی آمد سے انکار کیا گیا کہ آئندہ نبی نہیں ائے گا۔ یہ خدا تعالیٰ کی سخت ناراضگی کا موجب ہے۔ اس خطبہ کو حضرت مسیح موعودؑ نے نہایت خاموشی سے سنا۔
    ۲۱۔ ۱۹۰۸ء میں جب حضرت مسیح موعود لاہور تشریف لے گئے تو ایک امریکن سیاح آپ سے ملنے آیا۔ باتوں باتوں میں اس نے یہ بھی پوچھا کہ یورپ ‘ امریکہ اور ہندوستان وغیرہ ممالک کے باشندے سب کے سب ایک ہی آدم کی اولاد ہیں۔ حضرت نے جواب میں فرمایا کہ ابن عربی ایک مرتبہ حج کیلئے تشریف لے گئے تو کشف میں دیکھا کہ ایک شخص دو آدمیوں کے درمیان سے جہاں سے کوئی انسان گزر نہیں سکتا۔ بار بار گزرتا ہوا جارہا ہے۔ ابن عربی صاحب نے بڑھ کر اس شخص کو پکڑ لیا اور پوچھا کہ آپ کون ہیں۔ شخص مذکور نے جواب دیا کہ آدم۔ پھر ابن عربی صاحب کے دریافت کرنے پر کہ کون آدم ! شخص مذکور نے جواب دیا کہ غالباً تمہاری مراد نوح کے باپ سے ہوگی۔ میں نوح کا باپ نہیں۔ بلکہ نوح کے باپ سے پہلے سوواں آدم ہوں۔ پس اس کشف کے ماتحت ممکن ہے کہ امریکہ وغیرہ کے رہنے والے کسی اور آدم کی اولاد ہوں۔
    ۲۲۔ لاہور میں ایک شخص نے حضرت مسیح موعودؑ سے سوا لکیا کہ آپ کے آنے کی ضرورت کیا ہے۔ آپ نے فرمایا لوگوں کی بے دینی۔ اس نے کہا کہ مسجدیں تو نمازیوں سے پر ہوتی ہیں۔ اپ نے فرمایا کہ پھر خدا سے پوچھو اور نماز کیلئے کھڑے ہوگئے۔
    ۲۳۔ لاہور میں چنگ لوگ آپ سے ملنے آئے اور کفر و اسلام کا سوال کردیا۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ میں نے نہ کسی کو کافر کہا ہے اور نہ کافر بنایا ہے۔ وہ خود اپنا کر و افعال سے کافر بن گئے اور مومن کو کافر کہہ کر کفر خود ان پر لوٹ پڑا۔ اور دوسرے ان کے ساتھ ہوگئے۔ آپ دوسروں سے کفر کا فتویٰ دینے والوں کے خلاف کفر کا فتویٰ شائع کروادیں۔ بشرطیکہ نفاق نہ پایا جاتا ہو۔ میں انہیں مومن مان لونگا۔
    ۲۴۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب فرمایا کرتے تھے کہ خدا کے مامورین کو خدا کے سوا کسی کی پرواہ نہیں ہوتی۔ دنیا خواہ کچھ کہے۔ چنانچہ ایک مرتبہ میرے بھتیجے سائیں عبدالرحمان کی حضرت مسیح موعودؑ کے بعد شکایت ہوئی کہ سائیں عبدالرحمان ابھی تک یہیں ہے اسے نکالا نہیں گیا۔ حضور نے مجھے کہلا بھیجا کہ اگر آپ کو اس سے زیادہ محبت ہے تو خود بھی ساتھ چلے جائیں۔
    ۲۵۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب ؓ فرمایا کرتے تھے کہ ایک مرتبہ حضرت مسیح موعودؑ نے دو شخصوں کی لڑائی پر ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ اور کہنے لگے کہ میں مسجد مبارک میں کھڑا تھا۔ اور نیچے دو شخصوں کی لڑائی ہورہی تھی۔ لڑتے لڑتے ایک نے دوسرے کو جھوٹا کہا۔ دوسرا طیش میں آگیا اور بار بار دہرانے لگا کہ میں جھوٹا ۔ میں جھوٹا۔ مجھے اس کے فقرہ سے بہت تکلیف ہوئی۔ کاش وہ شخص جھوٹ کو اپنی طرف منسوب ہوتے دیکھ کر خداتعالیٰ کی جناب میں جھکتا۔ اور توبہ و استغفار سے کام لیتا۔ اور اس طرح سے خداتعالیٰ کو راضی کرتا۔ مگر اس نے اصرار کرکے خداتعالیٰ کو ناراض کرلیا۔ اگر وہ اپنے نفس پر ہی غور کرتا تو اس کے سینکڑوں جھوٹ اس کے سامنے آجاتے۔ اور خداتعالیٰ کی سفاری پر اس کی حمد کرتا۔ اور آئندہ کیلئے گناہ کی معافی چاہتا۔
    ۲۶۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب روز ہمیں حدیث پڑھا رہے تھے۔ جب یہ حدیث آئی کہ نبی کو چالیس آدمیوں کی قوت ہوتی ہے تو فرمانے لگے کہ ایک روز میں نے حضرت ام المومنین سے دریافت کیا کہ آپ ہماری ماں ہیں یا ماں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ بات تو شرم کی ہے مگر مسئلہ کی خاطر پوچھتا ہوں کہ حدیث میں آتا ہے کہ نبی کو چالیس مردوں کی قوت ہوتی ہے۔ میں مسیح موعودؑ کی قوت کے متعلق معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ آپ نے شادی ‘ علاج (کچلا کو تی نفولاد یہہ تینوں ہمزاد) اور پھر قوت کی کیفیت بتلائی۔
    ۲۷۔ حضرت مولانا نور الدین صاحبؓ نے فرمایا کہ نواب صدیق حسن خاں صاحب اور مولوی عبدالحئی صاحب ہر دو کو خیال تھا کہ وہ اس صدی کے مدد ہونگے۔ اس ذکر میں حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ ان مولویوں کو کیا معلوم کہ مجددیت کیا ہوتی ہے۔ مجددوں کو تو چوہڑوں کی طرح ہر وقت غلاظت میں ہاتھ ڈالنا پڑتا ہے یعنی لوگو ںکی اندرونی گندگی کو چوہڑوں کی طرح صاف کرنا پڑتا ہے۔
    ۲۸۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں نے حضرت مسیح موعود سے ایک مرتبہ دریافت کیا کہ حضور لوگوں سے بہت مختصر الفاظ میں بیعت لیتے ہیں۔ مجھ سے تو بیعت کے وقت بہت کچھ اقرار لیا تھا۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ میں تو ا نکا اپنے ہاتھ پر توبہ کرنا بھی غنیمت سمجھتا ہوں۔ زیادہ اقرار کیا لوں۔
    ۲۹۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود نے لنگر خانہ میں چنے کی بہت سی پتلی دال پکانے کا حکم دیا کہ مجھے بتلایا گیا ہے کہ ایک شخص نے رات دس مرتبہ زنا کیا ہے۔ چنانچہ حضرت مولوی صاحب فرماتے تھے کہ ایک شخص نے مجھ سے اقرار کیا کہ وہ میں ہوں۔ رات مجھے دس مرتبہ اس قسم کے خیالات پیدا ہوئے۔
    ۳۰۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعودؑنے ایک مولوی کے سامنے ایک حدیث پیش کی۔ مولوی نے حوالہ طلب کیا۔ آپ نے بخاری منگوائی اور ورق پر ورق الٹنا شروع کردیا۔ اور حدیث سامنے رکھ دی۔ بعد میں جب حضور سے دریافت کیا گیا کہ حضور نے اس قدر جلد حوالہ کس طرح نکال لیا۔ حضور نے جواب میں فرمایا کہ کتاب اوراق سب کے سب مجھے سفید نظر آرہے تھے اور جب و ہ صفحہ آیا جس میں وہ حدیث تھی تو سوائے اس حدیث کے اور کچھ بھی لکھا ہوا نہیں تھا۔یعنی اس حدیث کے آگے اور پیچھے کی سطریں بھی سفید تھیں۔
    ۳۱۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب فرمایا کرتے تھے کہ جب حضرت مسیح موعودؑ نے عربی میں خطبہ عید الاضحی پڑھا (جو کتاب خطبہ الہامیہ کے ابتدا میں ۔۔۔ہو) تو بعد میں جب اس کی کیفیت پوچھی گئی تو فرمایا کہ فرشتے میرے سامنے موٹے موٹے حروف میں لکھی ہوئی تختی لاتے جاتے تھے جسے میں دیکھ دیکھ کر پڑھتا جاتا تھا۔ ایک تختی آتی۔ جب وہ سن چکتا تو دوسری تختی آتی۔ اور پہلی چلی جاتی۔ اس طرح تختیوں کا سلسلہ رہا۔ جب کوئی لکھنے والا پوچھتا۔ تو گئی ہوئی تختی بھی واپس آجاتی۔ جسے دیکھ کر میں بتادیتا۔
    ۳۲۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب ؓ نے اپنے انجمن کے تعلقات کے ذکر میں فرمایا کہ جب صدر انجمن کی بنیاد پڑی تو میں نے حضرت مسیح موعودؑ سے دریافت کیا کہ یہ بنیاد تو مسیحی طرز کی ہے۔ کہیں گمراہ نہ ہوجاوے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے جواب دیا کہ بنیاد بھی اسی طرز کی ہے اور گمراہ بھی ہوگی۔ مگر ایک جماعت قیامت تک حق پر قائم رہیگی۔ چنانچہ پیغامیوں کے لئے گمراہی کا ہی زینہ بنی۔
    ۳۳۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب ؓ فرمایا کرتے تھے کہ جب مسیح موعود نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو میں نے جب حضرت مسیح موعودؑ سے ذکر کیا کہ علما اس دعویٰ کو تسلیم نہیں کریں گے تو فرمایا کہ میں نے تو اللہ تعالیٰ کے حکم پر چلنا ہے۔ خواہ علماء مانیں یا نہ مانیں۔ ان کی مرضی۔
    ۳۴۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب ؓ فرمایا کرتے تھے کہ سید محمد علی شاہ صاحب جو قادیان کے رہنے والے تھے۔ ان کی بیوی سخت بیمار ہوگئیں۔ حضرت مسیح موعودؑ مسجد مبارک میں تشریف رکھتے تھے۔ کسی نے اس بیماری کی حضرت کو خبر دی۔ حضرت نے توجہ نہیں کی۔ کسی وجہ سے (۰۰۰۰۰) حضرت ام المومنین گھر بیٹھے بیٹھے گھبرا گئیں اور حضرت مسیح موعودؑ کو جلدی سے بلوا بھیجا۔ حضرت مسیح موعودؑ اٹھ کر فوراً چلے گئے۔ اندر جاکر حضرت ام المومنین کے کہنے پر کہ سید محمد علی شاہ صاحب کی بیوی سخت بیمار ہیں۔ آپ نے دوا بھیج دی اور وہ اچھی ہوگئیں۔
    ۳۵۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب فرمایا کرتے تھے کہ مرزا مبارک احمد صاحب مرحوم بیمار ہوئے تو حضرت مسیح موعودؑ نے ان کو علاج میں اس قدر دوادوش کی کہ ظاہری نظر سے دیکھنے والا بہت بڑا دنیا دار کا لقب دیتا۔ مگر جس وقت فوت ہوگئے تو فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے ایک امانت سپرد کی تھی۔ اس کی حفاظت میں اپنی انتہائی قوت خرچ کردی اور جو زمہ داری ہم پر عائد ہوتی تھی۔ اسے مقدار بھر نباہا اور بیٹھ کر خط لکھنا شروع کردیا کہ خدا تعالیٰ نے وفات کی خبر اس کی پیدائش سے بھی پہلے سے دی ہوئی تھی۔ جو پوری ہوئی۔ انی اسقط من اللہ و اجہیہہ۔
    ۳۶۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ایک روز بڑی رات گزرے مجھے حضرت مسیح موعودؑ نے بلوا بھیجا۔ جب میں گیا تو فرمایا کہ میں محمود کی ماں کو وفات مسیح کا مسئلہ سنا رہا تھا تو کہنے لگیں کہ سن تو چکی کہ مسیح فوت ہوگئے۔ اب بار بار کیوں سناتے ہیں۔ ان کے نزدیک مسیح کی وفا ت کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ حضرت مولوی نور الدین صاحبؑ فرماتے کہ میں نے کہا کہ حضور اس لئے تو آج تک خداتعالیٰ نے کسی عورت کو نبی نہیں بنایا۔
    ۳۷۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب ؓ فرمایا کرتے تھے کہ میں بھیرہ میں مکان بنوا رہا تھا۔ قادیان میں صرف حضور کی زیارت کیلئے آیا تھا۔ چند روز بعد حضور نے مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کے زریعہ کہلا بھیجا کہ اپنی ایک بیوی کو بلوالیں۔ میں نے بلوا لیا۔ پھر کہلا بھیجا کہ بغیر مطالعہ کے آپ سے نہیں رہا جاسکتا۔ اس لئے کتابیں منگوالیں۔ پھر دوسری بیوی کو بھی بلوانے کا ارشاد ہوا۔ پھر آخری مرتبہ (حضرت) مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کی معرفت کہلا بھیجا کہ مجھے آپ کی نسبت الہام ہوا ہے۔ ’’لا تعبون الی الوطن۔ فیھا تمان و تمتحن‘‘۔اس لئے بھیرہ جانے کے ارادہ کو ترک کردیں۔
    ۳۸۔ حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ فرمایا کرتے کہ میں جموں میں ایک اشتہار پڑھ کر دریافت کیلئے قادیان پہنچا۔ اندر اطلاع کی گئی تو خبر آئی کہ عصر کے بعد ملونگا۔ جب حضور تشریف لائے تو سیڑھی پر دیکھتے ہی دل چاہا کہ قربان ہوجائوں۔ دوسرے روز سیر کو چلے۔ تو میں نے عرض کیا کہ بعض وقت دشمنوں کے اعتراض کا جواب نہیں بن پڑتا۔ کیا الزامی جواب دیکر ٹال دیا جاوے۔حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ اس سے بڑھ کر بے ایمانی اور کیا ہوگی کہ اپ تو جواب نہیں آتا اور دوسروں کو محض الزامی جواب دیکر ٹالا جاوے۔ قادیان سے واپس جاتے وقت حضرت مسیح موعودؑ نے مجھے ایک روپیہ دیا۔
    ۳۹۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب فرمایا کرتے تھے ک ہمیں نے ایک مرتبہ حضرت مسیح موعودؑ سے قرآن شریف کی مشکل آیات کے حل کرنے کی تدبیر پوچھی۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ جو آیت مشکل نظر آئی۔ اسے ایک کاغذ پر لکھ کر دروازہ کے سامنے لٹکا دیں۔ تاکہ آتے جاتے نظر پڑے۔ چند روز کے بعد وہ مشکل آیات حل ہوجائیگی۔
    ۴۰۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب ؓ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعودؑ ‘ مولوی عبداللہ صاحب غزنوی سے ملنے جایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ان کے کسی مرید نے حضور کو جاتے وقت ایک روپیہ دیا کہ مولوی صاحب کو میری طرف سے ایک روپیہ بطور نذرانہ پیش کردینا۔ جب حضور نے وہ روپیہ ان کو دیا تو مولوی صاحب نے (یہ) کہہ کر واپس کردیا کہ کھوٹا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ کو تکلیف ہوئی۔ کہ نذرانہ میں کھرے کھوٹے کا کیا سوال اور اسی تاریخ سے وہاں جانا چھوڑ دیا۔
    ۴۱۔ حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے مجھے ایک اشتہار شائع کرنے کیلئے دیا۔ اس میں ایک فقرہ تھا کہ میں حنفی المذہب ہوں۔ میں سمجھ نہ سکا۔ اشتہار تو دیدیا۔ مگر لکھدیا۔
    سجادہ رنگیں کن گرت پیرے فغاں گوید
    کہ سالک بے خیر نہ شود زراہ و رسم منزل کا
    پھر جب ملنے آیا تو حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ حضرت ابو حنفیہ کا کیا یثرب تھا۔ میں نے کہا پہلے قرآن کریم سے استدلال کرتے تھے۔ پھر حدیث پر نظر ڈالتے تھے اور آخر میں اپنے اجتہاد سے کام لیتے تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ میرا مطب یہی تھا۔ نہ یہ کہ میں حضرت ابو حنفیہ کا متبع ہوں۔
    ۴۲۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب ؓ فرمایا کرتے تھے کہ ایک مرتبہ تنگ آکر جب میں نے ملازمت سے استعفیٰ دینا چاہا۔ تو حضرت مسیح موعودؑ نے روک دیا کہ استعفی دینا جائز نہیں ہے۔
    ۴۳۔ حافظ روشن علی صاحب مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعودؑ کی کتاب اعجاز المسیح میں یہ شعر ہے۔
    ایا ارض مدر قد مقاک مدر دارد اک ضلیل دا غراک موغر
    جب حضرت مسیح موعودؑ مسجد مبارک میں تشریف لائے تو مولوی نور الدین صاحب سے فرمایا کہ آج میرے ایک شعر میں ’’ایا‘‘ حرف ندا کی طرح استعمال ہوا ہے۔ کیا عربی زبان میں ’’ایا‘‘ ندا کیلئے استعمال ہوتا ہے۔
    ۴۴۔ حافظ روشن علی صاحب مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ مجھے لنگر خانہ سے کھانا کھانے کا حکم تھا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ حضرت مسیح موعودؑ کی طرف سے اپنا کھانا کھانے کی اجازت مل جاوے۔ مگر حضرت مسیح موعودؑ نے اجازت نہیں دی۔ میرے بھائی ڈاکٹر رحمت علی صاحب مرحوم مجھے خرچ دیتے تھے۔ اور اس کی موجودگی میں لنگرخانہ سے کھانا کھانا ایک قسم کا بوجھ سمجھتا تھا۔ لیکن جب ڈاکٹر رحمت علی صاحب فوت ہوئے ۔ اس وقت مجھے اس مصلحت کا علم ہوا۔
    ۴۵۔ جب حضرت مسیح موعود کی آخری تقریر لاہورمیں ہوئی۔ اس وقت ہوا کچھ تیز تھی۔ ہوا کی تیزی کی وجہ سے آپ کی پگڑی کا شملہ اڑ اڑ کر آگے کی طرف آجاتا اور آپ پیچھے کی طرف کردیا کرتے۔ اس روز آپ کی طبیعت ناساز تھی۔ اور وقت بہت کم تھا خیال تھا کہ آپ تشریف نہ لائیں گے۔ مگر آپ تشریف لائے اور دیر تک کھڑے کھڑے تقریر کی۔
    خاکسار
    سید محمود عالم عفی عنہ
    قادیان ضلع گورداسپور
    پنجاب۔ ۳۸۔۳۔۱۰
    ۴۶۔ حضرت مسیح موعودؑ مسجد مبارک میں تشریف رکھتے تھے کہ ابنیاء کے متعبین کا ذکر چل پڑا ۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ عام طور پر انبیاء کے ماننے والے ان سے کم عمر کے لوگ ہوتے ہیں۔ بڑے بوڑھے بہت کم مانتے ہیں۔ مگر مولوی غلام حسین خان لاہویر اور بابا ہدایت اللہ صاحب شاعر لاہوری ۔ یہ دونوں ایسے ہیں جو بڑے اور بوڑھے ہوکر ایمان لائے ہیں۔
    ۴۷۔ مولوی غلام حسین لاہوری کا جنازہ حضرت مسیح موعودؑ نے پڑھایا اور جنازہ کو کاندھا دیا۔
    ۴۸۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب ؓ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعودؑ مسجد مبارک کو کشتی نوح سے تعبیر کرتے تھے۔
    عبدالقادر








    روایات
    مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ ولد شیخ برکت علی صاحب
    سکنہ فیض اللہ چک ضلع گورداسپور حال محلہ باب الانوار قادیان
    سن بیعت: پیدائشی
    سن زیارت: ۱۹۰۳ء
    ۱۔ میں تیسری کلاس پرائمری میں آکر تعلیم السلام ہائی سکول میں داخل ہوا تھا۔ اس وقت میری عمر قریباً آٹھ نو سال کی ہوگی۔ میرے ماموں حافظ حامد علی صاحب مجھے قادیان تعلیم کیلئے لائے تھے۔ انہوں نے آکر مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیش کیا اور میرے والد صاحب کا نام لیکر کہا۔ کہ یہ ا ن کا لڑکا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے وظیفہ کی سفارش کی۔ ان دنوں حضرت نواب صاحب مہتمم مدرسہ تھے۔ چنانچہ میرا وظیفہ پانچ روپیہ مقرر ہوا۔ اور اس وقت پانچ روپیہ کسی کا بھی وظیفہ نہ تھا۔ میرا پانچ روپیہ اس لئے مقرر ہوا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے سفارش کی تھی۔ یا یہ کہ اتنی رقم کی تعبین حضرت مسیح موعودؑ نے فرمائی تھی۔
    ۲۔ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ اپنے ماموں حافظ حامد علی صاحب کی معیت میں بھی اور اکیلے بھی سیر کیلئے کئی دفعہ گیا۔ دو طرف مجھے یاد ہیں۔ ایک بسرائے کی طرف اور دوسری بٹر کی طرف۔ حضرت مسیح موعودؑ کئی دفعہ باہر نکل کر احمدیہ چوک میں بعض دوستوں کا انتظار بھی کیا کرتے تھے۔ میں نے سیر میں اکثر دیکھا کہ حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ خلیفہ اول ؓ پیچھے رہ جاتے اور حضور ان کیلئے ٹھہر جاتے۔ جب آپ مل جاتے تو پھر چل پڑتے۔
    ۳۔ ۱۹۰۵ء میں جب بڑا زلزلہ آیا تو حضرت مسیح موعودؑ باغ میں چلے گئے تھے۔ اور بورڈنگ کے جتنے طلبا تھے وہ بھی باغ میں چلے گئے تھے۔ ان دنوں میں حضرت صاحب کے خیموں کا پہرہ ہوتا تھا۔ کیونکہ میاں شادی خاں صاحب کے خیمہ سے ان کی صندوقچی وغیرہ چور ایک دفعہ لے گئے۔ چنانچہ دو چور ایک رات آئے ۔ جن میں سے ایک پکڑا گیا تھا۔ جس کو ایک مسمی عبداللہ خاں پٹھان نے پکڑا۔ جن کا دایاں ہاتھ بوجہ بندوق کی گولیوں کے لگنے کے بیکار تھا۔ اور اس نے اس چور کو آم کے درخت کے ساتھ باندھا ہوا تھا۔
    ۴۔ جن دنوں حضرت صاحب باغ میں فروکش تھے تو مولوی محمد دین صاحب (حال) ہیڈماسٹر تعلیم السلام کو طاعون ہوگئی تھی۔ چنانچہ ان کی چھولداری قادیان کے مشرق کی طرف جہاں ڈاکٹر حاجی خاںصاحب کی اب کوٹھی ہے۔ وہاں آموں کے درختوں کے پاس لگادی گئی تھی اور انہی دنوں جناب قاضی امیر حسین صاحب کا لڑکا محمد شاہ طاعون سے فوت ہوگیا۔ جماعت کے لوگوں نے اس کے جنازہ وغیرہ میں کم حصہ لیا۔ جس پر حضرت مسیح موعود ؑ احمدیوں کو سخت ناراض ہوئے تھے۔
    ۵۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اکثر نمازوں کے بعد مسجد می ںبیٹھا کرتے تھے۔ خصوصاً گرمیوں میں نماز مغرب کے بعد چھت کے اوپر آپ کا بیٹھنا بہت یاد ہے۔ اور شاہ نشین پر حضور وسط میں بیٹھ جاتے اور ارد گرد باقی دوست بیٹھ جاتے اور باتیں ہوتی رہتی تھیں۔
    ۶۔ ایک دفعہ ہم نے ایک آسمان سے گولا جیسا گرتے دیکھا۔ تو ہم سب بورڈنگ کے لڑکے ریتی چھلہ کی طرف بھاگے کیونکہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ریتی چھلہ میں گرا ہے۔ جب وہاں پہنچے تو کچھ نہ تھا۰۰۰۰۰ اور اس لئے حضور نے ایک دفعہ کوئی پیشگوئی کی۔ جو جلدی پوری ہوئی۔ اس پر ہماری شہادتیں لی گئیں۔ چنانچہ حقیقتہ الوحی میں یرا اور میرے بھائی دونوں کا نام چھپا ہوا ہے اور کسی ایک کے نام کے ساتھ جٹ کا لفظ بھی ہے۔
    ۷۔ میں حضرت مسیح موعود ؑ کے ساتھ مولوی کرم الدین کے مقدمہ کے دوران میں دو دفعہ گورداسپور گیا تھا۔ میرے ماموں صاحب ضرور جاتے تھے تو میں یہی ان کے ساتھ چلا جاتا تھا۔ ایک دفعہ مجھے یاد ہے کہ بارش ہوئی ہوئی تھی۔ حضرت مسیح موعودؑ سحری کے وقت رتھ مین سوار ہوکر چل پڑے۔ حضرت ام المومنین بھی ساتھ تھیں۔ ان دنوں بارش ہوئی ہوئی تھی۔ اور بٹالہ کی سڑک پر ڈلہ کے موڑ تک بہت پانی تھا۔ چنانچہ وہ رتھ اکثر دفعہ کیچڑ میں پھنس جاتی تھی اور وست زور سے اس کو دھکیلتے ۔ تب بیل چلتے اور جس وقت بھی کہیں زیادہ کیچڑ وغیرہ میں رتھ پھنس جاتی تو ام المومنین چیخ پڑتے تھے۔ مجھے مولوی شیر علی صاح؁ کا اس وقت کا نظارہ نہیں بھولتا کہ پاجامہ وغیرہ سب کیچڑ کی وجہ سے خراب ہوگیا ۔ لیکن کوئی پرواہ نہ تھی۔ آخر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب موڑ پر پہنچے تو رتھ کھڑی کرکے پل کے پاس صبح کی نماز پڑھی اور حضور نے صبح کی نماز پڑھائی۔ مجھے اس کے علاوہ آپ کے پیچھے اور کوئی نماز پڑھنی یاد نہیں۔ سوائے نماز جنازہ کے جو اکثر حضورؑ کے پیچھے پڑی ہو۔
    ۸۔ ایک دفعہ مولوی کرم الدین کے مقدمہ یا کسی اور مقدمہ میں حضرت مسیح موعودؑ نے راتوں رات بعض آدمی کو سیکھوال بھیجنا تھا۔ چنانچہ سیکھواں جانے والا کوئی نہ تھا۔تو جناب مفتی محمد صادق صاحب نے مجھے پیش کیا کہ یہ سیکھواں جانتا ہے تو حضور نے مجھے کوئی رات کے دس بجے بھیجا اور میرے ساتھ سید احمد نور صاحب کابلی اور میاں مدد خاں صاحب روانہ کئے۔ ایک ہریکسین ہمارے ساتھ تھی۔ چنانچہ تتلے کے راستہ میں ان کو لے گیا۔ کیونکہ وہ ہی راستہ مجھے آتا تھا۔ اس حصہ سے کہ میں اپنے گائوں فیض اللہ چک اسی راستہ آتا جاتا تھا۔ چنانچہ میاں جمال الدین صاحب و خیر الدین صاحب و امام الدین صاحب کو جاکر جگایا۔ راتوں رات جس کام کے لئے حضور نے حکم دیا تھا۔ چلے گئے۔ میں جب صبح اٹھا تو ان میں سے وہاں کوئی بھی نہ تھا۔ میں اکیلا واپس قادیان آگیا۔
    ۹۔ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کا جنازہ جہاں قاضی اکمل صاحب کا مکان بجز (جہاں جناب میر ناصر نواب صاحب کا کھیت ہوتا تھا) حضرت مسیح موعودؑ نے پڑھایا تھا۔ جس وقت جنازہ آیا تو آسمان پر کوئی بادل نہ تھا۔ دفعتہ ایک چھوٹی سی بادلی آئی۔ اور جس وقت جنازہ پڑھانا شروع کیا۔ تو بوندا باندی شروع ہوئی اور جب تک حضور جنازہ پڑھاتے رہے۔ بوندا باندی شروع رہی۔ چنانچہ جنازہ کے بعد ہم لڑکوں میں یہ بحث ہوئی کہ بعض کہتے کہ بادل نے بھی رونا شروع کردیا اور بعض ہم میں سے کہتے تھے کہ فرشتے تو آج خوش ہونگے کہ نیک روح آئی ہے۔چنانچہ مولوی عبدالکریم صاحب کو تابوت میں دوڑی والے قبرستان میں بطور امانت دفن کیا گیا اور بعد میں مقبرہ بہشتی میں وہاں سے نکال کر دفن کیا گیا۔
    ۱۰۔ ایک دفعہ برسات کا موسم تھا۔ جبکہ مولوی سید سرور شاہ صاحب سپرنٹنڈنٹ بورڈنگ ہوتے تھے۔ اس وقت کی بات کہ حضرت میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب (خلیفتہ المسیح الثانی) کی ایک کشتی ہوتی تھی۔ یہ اس کشتی پر بیٹھ کر اکثر ڈھاب میں سیر کیا کرتے تھے۔ ایک دن سیر کررہے تھے کہ رسالہ تشحیذ الاذہان کے پروف یا کوئی اور پروف پر یس میں لے آیا۔ حضرت صاحب کشتی سے اتر کر دیکھنے لگ پڑے۔ اور دوسرے لڑکے چڑھ گئے اور کشتی اچھی طرح بھر گئی۔ میاں غلام حسین صاحب پشاوری جو ان دنوں سکول میں پڑھتے تھے۔ اس وجہ سے کہ لڑکے باوجود منع کرنے کے کیوں زیادہ سوار ہوگئے ہیں۔ ان کو ڈرانے کیلئے کشتی ہلانے لگے۔ چنانچہ ان کے ہلانے سے واقعہ میں کشتی ایک طرف ڈول گئی اور اس میں پانی بھر گیا اور ڈوب گئی۔ ان لڑکوں میں اکثر تیراک نہ تھے۔ چنانچہ جب مولوی سید سرور شاہ صاحب کو پتہ لگا۔ وہ خود بھی اور باقی جتنے لڑکے تیرنا جانتے تھے۔ ڈھاب میں کود پڑے اور لڑکوں کو بمشکل نکالا۔ ڈوبنے والوں میں سے ھادی علی خان و عبدالجبار پونچھی و شیخ عبدالرحمان برادر کلاں حکیم فضل الرحمان صاحب مبلغ افریقہ وغیرہ تھے۔ چنانچہ جب اس واقعہ کی رپورٹ حضرت مسیح موعودؑ کو پہنچی تو حضرت صاحب میاں غلام حسین صاحب پشاوری پر سخت ناراض ہوئے اور شاید قادیان سے نکل جانے کا حکم دیا۔ لیکن میاں محمود احمد صاحب نے پھر مسیح موعود ؑ سے میاں غلام حسین کو معافی لے دی۔
    ۱۱۔ ۱۹۰۵ء یا ۱۹۰۶ء کی بات ہے کہ بورڈنگ و سکول کیلئے کمرے بہت کم تھے اور مرزا گل محمد کا والد مزید کمرے بنانے نہ دیتا تھا۔ حالانکہ جگہ اس کی نہ تھی۔ بلکہ حضرت صاحب کی تھی۔ چنانچہ یہ مشورہ ہوا کہ راتوں رات دیواریں بنادی جاویں۔ جس پر اینٹ ‘ گارا وغیرہ طیار کرلیا گیا۔ گرمیوں کا موسم تھا۔ دیواریں راتوں رات دو کمروں کی تیار کرلی گئیں۔ معمار نواب صاحب کے تھے اور باقی کام کرنے والے مزدور لڑکے۔ جب تیار ہوئے تو مرزا ارشد بیگ مرحوم ایا۔ اور دیکھ کر حیران ہوگیا اور جاکر مرزا گل محمد صاحب کے والد کو کہا ۔ لیکن اب قانونی طور پر کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ اس لئے جل بجھ کر رہ گئے۔
    ۱۲۔ میری مامی صاحبہ حضرت مسیح موعود ؑ کے گھر میں رہتی تھیں۔ میں بھی ان کے پاس آیا جایاکرتا تھا۔ کئی دفعہ میں ان کے ساتھ جب حضرت مسیح موعودؑ باغ کو سیر کرنے جاتے تو چلا جاتا تھا۔ میں نے دیکھا کہ حضرت صاحب جو سڑک اس وقت اس پختہ شاہ نشین کے جنوب کی طرف ہے ۔ اس پر اکثر ٹہلتے رہے تھے اور پھر کچھ وقت کیلئے اس شاہ نشین پر بیٹھ جاتے۔
    ۱۳۔ حضرت میاں شریف احمد صاحب کا نکاح اس بالا خانہ کے صحن میں ہوا تھا۔ وہاں آج کل ام طاہر رہتی ہیں۔ ان دنوں اس بالا خانہ کی چھت پر جانے کا راستہ حضرت میاں بشیر احمد صاحب کے دالان کے اندر سے ہوتا تھا۔ تو ہم طالب علم بھی اس نکاح میں شریک ہوئے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ طالب علموں کو نکاح کے بعد چلے جانے کا حکم ہوا اور راستہ میں سیڑھیوں پر ان کو چھہارے وغیرہ تقسیم کئے گئے۔ لیکن میں بوجہ اپنے ماموں حافظ حامد علی صاحب کے پاس بیٹھنے کے وہیں چھت پر حضرت صاحب کے پاس ہی رہا۔ بھائی عبدالرحیم صاحب نے بڑابڑا بُک بھر کر چہارا کا تمام دوستوں میں فی کس دیا۔ اور مجھے بھی دیا اور اس وقت کے لحاظ سے میری جھولی بھر گئی۔ پھر میں نیچے اترا تو طالب علم سمجھ کر مجھ کو دوبارہ بھی ملے۔ چنانچہ میں کئی دن تک وہ کھاتا رہا۔
    ۱۴۔ ایک دفعہ پاگل کتا قادیان میں آگیا۔ اور اس نے کئی لوگوں کو کاٹا اور ان میں سے جن کو کاٹا تھا۔ ایک میاں عبدالکریم صاحب یادگیری بھی تھا۔ چنانچہ ان سب دوستوں کو جن کو کتا نے کاٹا تھا۔ کسولی بھیج دیا گیا۔ عبدالکریم مذکور کو اس کتا کے ناخن لگے تھے۔ دانت وغیرہ نہ لگے تھے۔ جس پر بعض اشخاص کی رائے تھی کہ عبدالکریم کو کسولی بھیجنے کی ضرورت نہیں لیکن مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حکم سے اس کو بھی بھیج دیا گیا۔ چنانچہ جب علاج کے بعد سہب واپس آگئے تو عبدالکریم بھی واپس آگیا۔ ابھی چند دن گزرے تھے کہ نماز ظہر یا عصر کا وضو ہم سب طالب علم واٹر ہوس میں کررہے تھے۔ (اس وقت واٹر ہائوس بورڈنگ کے شمالی دروازہ کے ساتھ کا کمرہ ہوتا تھا) اور عبدالکریم بھی ہمارے ساتھ وضو کررہا تھا۔ تو اچانک پانی سے ڈر گیا اور وہاں سے اٹھ کر بھاگ گیا۔ ہم حیران ہوگئے کہ کیا ہوا۔ چنانچہ یہ معاملہ حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں عرض کیا گیا۔ حضور نے مولوی شیر علی صاحب کو جو اس وقت ہیڈ ماسٹر مدرسہ ہوتے تھے۔ حکم دیا کہ کسولی تار دیا جاوے اور فرمایاکہ یہ طالب علم اتنی دور سے آیا ہوا اگر خدانخواستہ ضائع ہوگیا۔ تو اس کے والدین کو بہت صدم ہہوگا۔ چنانچہ کسولی والوں نے لکھا کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ حضور کے فرمان پر اس کو سید منظور علی شاہ صاحب کے مکان کے بالا خانہ میں رکھا گیا اور اس کے پاس میرے چھوٹے ماموں برکت علی صاحب مرحوم جو ان دنوں بو رڈنگ میں بطور خادم کام کرتے تھے۔ رکھا گیا۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ عبدالکریم کو ایک سخت مسہل دیا جاوے۔ میں خدا تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں۔ چنانچہ عبدالکریم چند یوم کے بعد اچھا ہوگیا۔ اور پھر مدت تک قادیان ٹھہرا۔ اور اس کے بعد اس کے بچے بھی قادیان پڑھنے کو آئے۔

    عبدالرحمن جٹ







    روایات
    میاں اللہ دتہ صاحب ولد میاں مکھن خان صاحب
    ہامل پور ضلع ہوشیار پور۔
    حال محلہ دارالبرکات۔قادیان
    سن بیعت تحریری: ۱۹۰۰ء
    سن زیارت : ۱۹۰۵ء
    میں ہامل پور ضلع ہوشیار پور کا رہنے والا ہوں۔ جس وقت چاند اور سورج کو گرہن لگا۔ اس وقت میری عمر قریباً دس بارہ برس تھی اور اس وقت میں نے اپنے استاد کے ساتھ قرآن کریم اور نوافل بھی پڑھے تھے۔ ۱۸۹۷ء یا ۱۸۹۸ء میں ہمارے گائوں میں حضرت مسیح موعودؑ کا ذکر پہنچ گیا تھا کہ قادیان ضلع گورداسپور میں حضرت مہدی علیہ السلام آگئے ہیں۔ یہ ذکر شیخ شہاب الدین صاحب کی معرفت پہنچا تھا۔ دو تین سال باہم تبادلہ خیالات ہوتا رہا۔ ۱۹۰۰ء کے قریب اس عاجز نے حضرت مسیح موعود ؑ کو خواب میں قادیان میں دیکھا ۔ (اگرچہ میں خود قادیان نہیں آیا تھا۔)اس خواب سے میری تسلی ہوگئی اور سوچا کہ جتنی جلدی ہوسکے۔ بیعت کرلوں۔ میں ایک پیسہ کا کارڈ لیکر قاضی شاہ دین صاحب کے پاس گیا اور کہا کہ چونکہ میں نے حضرت مسیح موعود ؑ کی زیارت کرلی ہے اور اس کے متعلق تسلی ہوگئی ہے۔ اس لئے میرا بیعت کا خط لکھ دو اور انگوٹھا لگوا لو۔ انہوں نے کہا کہ ابھی ٹھہرو۔ چند دن کے بعد بیعت کنندگان کی فہرست بنا کر بھیجیں گے۔ جہاں تک بندہ کو علم ہے قریباً چالیس آدمیوں کی فہرست بنا کر بھیجی گئی تھی۔ جنہوں نے بیعت کی تھی۔ جس میں میرا بھی نام تھا۔ جب ۱۹۰۵ء میں کاگڑہ والا بڑازلزلہ آیا اور اس سال طاعون سے بھی بڑی تباہی ائی تھی۔ اس سے میرے دل کو بہت صدمہ ہوا کہ زندگی کا تو کوئی اعتبار نہیں۔ کم از کم ایک دفعہ قادیان شریف کی زیارت تو کرلوں تو اپریل ۱۹۰۵ء میں میں اپنے پھوپھی زاد بھائی علی بخش صاحب اور چچا زاد بھائی کریم بخش صاحب اور اپنے بچپن کے دوست بابو محمد نظام الدین صاحب کے ہمراہ حضرت مسیح موعودؑ کی زیارت کیلئے قادیان کی طرف چل پڑے۔ اور تیسرے دن پہنچ گئے۔ ان دنوں حضور بمعہ اہل و عیال و ہمراہیان اپنے باغ میں (جو بہشتی مقبرہ کے پاس بڑا باغ کہلاتا ہے)تشریف فرما تھے۔ دوسرے دن جمعہ تھا۔ حضور سے بیعت کی درخواست کی گئی۔تو حضور نے فرمایا کہ عصر کے وقت بیعت لیں گے۔ عصر کے وقت ہم سب دوست جمع ہوگئے۔ پہلے نماز ہوئی۔ بعد ازاں حضور نے بیعت کیلئے ارشاد فرمایا۔ میں حضور کے پاس ہی بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے حضور کا دایاں ہاتھ دونوں ہاتھوں میں لے لیا۔ باقی دوستوں نے اوپر ہاتھ رکھ دیئے۔ حضور بیعت کے الفاظ فرماتے جاتے اور ہم سب دہراتے جاتے تھے۔ جب حضور نے فرمایا کہ میں دین کو دنیاپر مقدم رکھونگا۔ تو ایک آدمی کی چیخ نکل گئی۔ ہمارے دلوں پر بھی ایک لرزہ طاری ہوا۔ حضور نے بیعت کے بعد دعا فرمائی۔ جس کے بعد اپنی قیام گاہ میں تشریف لے گئے۔ دوسرے دن حضور ظہر کی نماز کے واسطے تشریف لائے۔ تو حضور کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا۔ جو حضور نے جناب مفتی محمد صادق صاحب کو دیکر فرمایا کہ یہ اشتہار لے جائیں اور لاہور سے چھپوا لائیں۔ جناب مفتی صاحب ایک سادہ لباس میں ہی وہ کاغذ لیکر اڈا خانے کو چلے گئے۔ بیعت سے دوسرے دن کا ذکر ہے کہ (باغ میں ہی ریویو کا دفتر بھی تھا) میں باہر کھڑا کچھ نظارہ دیکھ رہا تھا۔ جب میں نے اپنے بائیں طرف دیکھا تو کچھ فاصلہ پر کچھ آدمی اکٹھے کھڑے ہیں۔ معلوم ہوا کہ حضرت اقدس باہر تشریف لائے ہیں۔ میں یہ کہہ کر بے تحاشا اس طرف دوڑ پڑا۔ اور میں ابھی چند قدم پیچھے تھا کہ حضور اس جمگھٹے سے نکل کر میری طرف دو تین قدم آگے تشریف لائے۔ میں نے حضور سے مصافحہ کیا۔ جب حضور دکان کی طرف جانے لگے تو امرتسر کے ایک ضعیف العمر آدمی نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے دوبارہ بیعت کرنی ہے۔ حضور نے اس سے وجہ دریافت کی۔ جس پر اس نے کہا کہ میں راستے میں آرہا تھا تو ایک جنازہ پڑھا جارہا تھا۔ میں نے احمدی کا جنازہ سمجھا اور شامل ہوگیا۔ بعد میں علم ہوا کہ وہ غیر احمدیوں کا تھا۔ اس لئے میری بیعت ٹوٹ گئی ہے اور دوبارہ کرنی چاہتا ہوں۔ حضور نے فرمایاکہ جب اپنے عدم علم کی وجہ سے جنازہ پڑھا ہے تو پھر آپ کی بیعت نہیں ٹوٹی۔ اس کے بعد حضور تشریف لے گئے۔
    میں جب ۱۹۰۶ء کو سالانہ جلسہ پر قادیان آیا۔ تو حضور کی دو تقریریں سنیں۔ پہلی تقریر صبح کے وقت حضورؑ کے مکان پر ہوئی جو اب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا مکان ہے او ر اس کو بیٹھک کہا کرتے تھے۔ جہاں اب باہر کی طرف سیڑھی بنی ہوئی ہے۔ وہاں کھڑکیاں بھی تھیں۔ اور ایک دروازہ تھا۔ دروازے کا نشان ابھی تک موجود ہے۔ حضور نے مہمانوں کے آگ تاپنے کیلئے ایک انگیٹھی بھجوائی۔ جس کے بعد جلدی ہی حضور بھی تقریر کے لئے اوپر سے تشریف لے آئے اور ایک کرسی پر تشریف فرما ہوئے۔حضور نے قرآن کریم کی چند آیات تلاوت فرمائیں۔ جو مجھے یاد نہیں۔ (کیونکہ میں اس وقت ان پڑھ تھا) پھر حضور نے تقریر شروع فرمادی۔ بیٹھے ہوئے لوگ بے جان اور مسحور معلوم ہوتے تھے۔ انگیٹھی اتنی تیز چل رہی تھی کہ اس سے دری بھی جل گئی۔ چونکہ میں انگیٹھی کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے اپنے پھوپھی زاد بھائی علی بخش صاحب کو اشارہ کیا کہ دری جل گئی ہے جس نے آگے کسی دوسرے شخص کو اشارہ کیا۔ آخر انگیٹھی اٹھا کر باہر لے گئے۔ ہجوم اس قدر تھا کہ انگیٹھی کا باہر لے جانا مشکل ہوگیا تھا۔
    حضور تقریر ختم کرکے اندر تشریف لے گئے (اس روز جمعہ تھا) پھر حضور کی تقریر کیلئے مسجد اقصیٰ میں انتظام کیا گیا۔ مسجدمیں دوست جمعہ سے پہلے ہی جمع ہوگئے۔ حضور تشریف لائے اور کرسی پر بیٹھ کر تقریر فرمائی۔ تقریر کا موضوع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات تھا۔ دوران تقریر میں کبھی حضور ہنس بھی پڑتے تھے۔ حضور کے ؑ تقریر فرما چکنے کے بعد حضرت مولانا نور الدین صاحبؓخطبہ جمع کیلئے اٹھے۔ اور فرمایا کہ دوستوں نے بڑی نعمتیں روحانی کھائی ہیں۔ اس لئے میں عربی خطبہ پر ہی اکتفا کرتا ہوں کہ آپ کو اجیرنا (بدہضمی) ہوجائے۔ نماز سے فارغ ہوکر حضور تشریف لے گئے۔
    حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب ؓ کی میت امانت کے طور پر ڈھاب والے قبرستان میں دفن کی ہوئی تھی۔ ان کا جنازہ عصر کے وقت بہشتی مقبرہ میں لے جانا تھا۔ اس قبرستان میں مولوی صاحب کی میت نکال کر باہر رکھی ہوئی تھی۔ حضورؐ معہ مہمانان جلسہ اس قبرستان کی طرف تشریف لے گئے اور حضور نے جنازہ اٹھانے کے لئے ہاتھ لگائے یا نہیں۔ حضور آگے چل پڑے اور دوست جنازہ کو اٹھائے پیچھے پیچھے آرہے تھے۔ ڈھاب میں سے گزرنا تھا۔ چھوٹے بچوں نے حضورؑ کے گرد ایک حلقہ بنالیا تھا۔ حضور ؑ تیز قدم چلتے تھے۔ میں خود بھی دوڑ کر چلتا تھا۔ اور پھر میں تھک کر حضور سے پیچھے رہ گیا۔ سب لوگ بھاگے جارہے تھے۔) حضرت مولانا مولوی نور الدین صاحبؓ کچھ فاصلہ پر پیچھے رہ گئے تھے۔ جب مولوی صاحب آئے تو حضور پھر چل پڑے۔ حضور مقبرہ بہشتی کی مشرقی سڑک پر اس جگہ ٹھہر گئے۔ جہاں اب پھاٹک لگا ہوا ہے۔ جنازے کیلئے صفیں بنائی گئیں اور حضور نے جنازہ پڑھایا۔ بندہ دوسری یا تیسری صف میں تھا۔ حضور نے لمبی دعا فرمائی۔ جب جنازہ سے فارغ ہوئے تو دوستوں نے عرض کی کہ حضور مولوی صاحب کی زیارت کرنی ہے۔ میں جلدی سے حضور تک پہنچ نہیں سکا۔ لوگ ایک دم جمع ہوگئے۔ لیکن حضور نے زیارت کی اجازت نہیں فرمائی کہ عام لوگوں کی زبان پر یہ جاری تھا کہ مولوی صاحب کی زیارت نہیں بلکہ ہتک ہے۔ اس کے بعد میں نے نہیں دیکھا کہ حضور جنازہ دفن کرنے تک ٹھہرے یا تشریف لے گئے۔ جہاں تک مجھے علم ہے مولوی صاحب کی قبر (بہشتی مقبرہ میں) پہلی ہے۔ واللہ علم۔
    ۱۹۰۶ء کا ذکر ہے (میرا پلٹن میں نوکری کرنے کا بہت ہی شوق تھا) کہ میں نے حضور کی خدمت میں دعا کیلئے ایک کارڈ لکھا کہ حضور میرے لئے دعا فرمادیں کہ اللہ تعالیٰ پلٹن کی نوکری کیلئے سامان مہیا فرمادے۔ حضور نے فرمایا کہ دعا کی گئی۔ چند دنوں کے بعد خواب میں دیکھا کہ حضور ایک خوبصورت کوٹھی میں تشریف فرما ہیں۔ میں کوٹھی کے صحن میں حضور کے حکم کا انتظار کررہا ہوں اور حضور جلدی سے کوٹھی سے نکل کر برآمدے میں تشریف لائے اور بلند آواز سے حضور نے فرمایا ۔ اللہ دتہ گناہ نہ کریں۔ نوکر ہوجائو گے اور حضور جلدی سے اندر تشریف لے گئے۔ یہ خواب میرے لئے ایک نشان ہے۔ کیونکہ حضرت فضل عمر ایداللہ تعالیٰ جب مسند خلافت میں متمکن ہوئے اور یورپ میں جنگ چھڑ گئی تو بندہ حضور ایدہ اللہ بنصر العزیز کے حکم سے پلٹن میں بھرتی ہوگیا۔ اورخدا کے فضل سے ایک سروس پوری کرکے قریباً سات سال ہوئے کہ قادیان شریف میں آگیا ہوں۔
    جس سال حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب حضرت خلیفہ المسیح الثانی سے قرآن کریم بطور درس پڑھتے تھے۔ اخبار بدر میں اعلان ہوا کہ جو دوست اس درس میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ ہوسکتے ہیں۔ میں بھی داخل ہوگیا۔ ان دنوں میں مسجد مبارک میں اذان دیا کرتا تھا اور اذان کے بعد حضرت خلیفہ المسیح اولؓ کی خدمت میں نماز کی اطلاع دینے جایا کرتا تھا۔ ایک دن کا ذکر ہے کہ جب میں حضور کو نماز کی اطلاع دینے کیلئے گیا تو وہاں ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب اور ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ بندہ حضورؓ کے پاس بیٹھ گیا۔ اور عرض کیا کہ اذان ہوچکی ہے ۔ حضورؓ نے فرمایا۔ بہت اچھا۔ ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب اور ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب نے دعا کیلئے عرض کیا کہ حضور ہمارے لئے دعا فرماویں۔ حضور نے بڑے جذب سے فرمایا کہ ہم اپ کیلئے دعا نہیں کریں گے۔جب تک تم ہمارا دل راضی نہیں کروگے۔ اس وقت میری جو حالت تھی۔ بیان نہیں کرسکتا۔ خلیفہ وقت کی زبان سے ایسے الفاظ کا نکلنا معمولی بات نہیں۔ یہ الفاظ میں نے بہت دیر تک پوشیدہ رکھے۔ پھر میں گھر (ماہل پور ضلع ہوشیارپور) پہنچ کر اپنے ایک عزیز دوست منشی غلام نبی صاحب سے بیان کیا۔ تو انہوں نے کہاکہ یہ لوگ میاں محمود احمد (فضل عمر اید اللہ تعالیٰ بنصرالعزیز) کی درپردہ مخالفت کرتے ہیں۔جس کی وجہ سے خلیفہ وقت کے دل کو بہت تکلیف پہنچی۔ اور حضور نے یہ الفاظ کہے۔ ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب نے بندہ سے کسی چندہ کیلئے امداد چاہی۔ تو بندہ نے دس آنے کے تکٹ لفافہ میں بند کرکے بھیج دیئے۔ اس کے بعد میں نے خواب میں دیکھا کہ ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب لوگوں سے روٹیاں لیکر کوئیں میں پھینک رہے ہیں۔ اس کے بعد میں نے ان کو کبھی چندہ نہیں دیا۔
    خاکسار طالب دعا اللہ دتہ (بقلم خود)
    عطاء الرحمن احمد عفی احمدی سپاہی
    اسسٹنٹ سپریٹنڈنٹ
    مدرسہ احمدیہ قادیان

    روایات
    میاں چراغ الدین ولد میاں صدر الدین صاحب قادیان
    سن بیعت : ۱۹۰۲ء
    سن زیارت : ۱۹۰۲ء
    مجھے بچپن سے قریباً نو سال کی عمر میں حضورؑ کی خدمت کرنے کا موقع ملا۔ میں ان کے ہاں کام کرتا رہا۔ حضور ؑ مجھے اپنے مختلف امور کیلئے ادھر ادھر کام کیلئے بھیجتے رہے۔ آپ مجھے سودا وغیرہ خریدنے کیلئے امرتسر لاہور کرایہ دیکر بھیجا کرتے تھے۔ جب میری عمر بلوغت کو پہنچی اور مجھے قوت امتیاز حاصل ہوگئی اور میں حضور ؑ کا دعویٰ نبوت سنتا رہتا تھا۔ تو میرے دل نے مجھے ہدایت دی کہ تو بھی ان کی بیعت میں داخل ہوجا۔ چنانچہ میں ۱۹۰۴ء میں بعمر ۲۰ سال حضور کے دست مبارک پر بیعت کرکے داخل احمدیت ہوا۔ آپ لکھتے وقت مجھے کبھی کبھی فرماتے کہ میرے بدن پر کھجلو۔ کبھی فرماتے پائوں کو آہستہ آہستہ ہو۔
    ۱۔ ایک دفعہ حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ سیر کو جارہے تھے تو حضرت خلیفہ المسیح ایدہ اللہ بنصرالعزیز (حضرت میاںمحمود احمد صاحب) نے مجھے فرمایا کہ کماد سے گنا توڑ کر لائو۔ چنانچہ میں جاکر لے آیا۔ حضورؑ مجھے دیکھ کر خفا ہوئے اور فرمایا کہ یہ ناجائز کام کیوںکیا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ میاں صاحب نے کہا تھا۔ حضور نے (گنا) پھنکوا دیا۔ پھر راستے میں ایک جگہ بیلنا آیا۔ تو حضور نے مجھے دو آنہ دیکر فرمایا کہ وہاں سے جاکر لے آئو۔ میں گیا۔ تو مالکوں نے بغیر پیسو ںکے بہت سے گنے دے دیئے۔ میں لایا تو حضور نے دریافت فرمایا کہ پیسے دئیے یا نہیں۔ میں عرض کیا۔ کہ وہ لیتے نہیں۔ پس یہ واقعہ حضور کے انتہائی تقویٰ پر شاہد ہے۔
    (نوٹ خاکسار عبدالقادر عرض کرتا ہے کہ میاں چراغ الدین صاحب ان پڑھ ہیں۔یہ مضمون میاں عطاء الرحمن صاحب کلرک بورڈنگ احمدیہ نے لکھا ہے۔ اس لئے پہلے بھی کئی ایسے صحابہ کی روایات لکھی گئی ہیں۔ جو خود ان پڑھ تھ یمگر انہوں نے دوسرے سے لکھوا کر بھیجی ہیں۔)
    ۲۔ ایک دفعہ حضور میاں صاحب (حضرت مرزا محمود احمد صاحب خلیفتہ المسیح الثانی بنصرالعزیز) کی انگلی پکڑ کر سیر کیلئے براورں تشریف لے گئے۔ جہاں پر آج کل چھپڑ ہے۔ وہاںپہنچ کر فرمایا کہ دیکھو میاں گاڑی کی آواز آرہی ہے۔ پھر اپ یہ کہہ کر چل پڑے۔ خدا کے فضل سے آج کل گاڑی کی آواز سنائی دیتی ہے جو حضور کی صداقت کی بین دلیل ہے۔
    ۳۔ جب میاں صاحب (حضرت خلیفتہ المسیح الثانی) امتحان انٹرینس دینے کیلئے امرتسر تشریف لے گئے۔ مجھے بھی ساتھ بھیجا گیا کہ میں ان کے کھانے کا تسلی بخش انتطام کرتا رہوں۔ بعد میں میری بیوی کو سخت بخار ہوگیا۔ جب حضور کو علم ہوا۔ تو حضور نے میاں صاحب ایدہ اللہ کو خط لکھا کہ چراغ کو جلد بھیجدیں۔ جس پر آپ اید اللہ نے مجھے واپس بھیج دیا۔ میں گھر آگیا۔ اور اس کا علاج شروع کیا۔ تو ایک رات مجھے خواب میں دکھلایا گیا کہ ’’حضور نے مجھے کستوری دی ہے کہ جاکر مریضہ کو دیدو۔ میں نے دیدی تو اسے آرام آگیا۔‘‘ بارہ بجے میں نے حضور کو خواب سنائی۔ تو حضور نے مجھے اسی وقت کستوری دی۔ جو میں نے جاکر کھلا دی۔ صبح سے پہلے ہی خدا نے اسے صحت حاصل دے دی۔ گویا یہ واقعہ آپ کے الطاف پر بین ساہد ہے اور خواب کو حضور نے کتنی جلدی پیدا کیا۔
    ۴۔ حضور نے بچوں کو شام کے بعد باہر جانے سے روکا ہوا تھا۔ ایک دفعہ تینوں بچے (میاں محمود احمد صاحب‘ بشیر احمد صاحب‘ شریف احمد صاحب) مدرسہ احمدیہ کے صحن میں کبڈی کھیلتے رہے۔ جب شام ہوگئی اور وہ گھر نہ پہنچے تو حضور نے ہیراندتا خادم کو فرمایا ک ہجاکر ان کو لائو۔ شام ہوگئی ہے۔ اس نے جاکر کہا اور وہ نہ آئے۔ پھر مجھے بھیجا۔ میں بھی آکر ساتھ ہی کھیلنے لگ پڑا۔ پھر آپ بہت ہی رنجیدہ ہوئے کہ چراغ بھی لیکر نہیں آیا۔ چنانچہ حضور نے امام بی بی خادمہ کو بھیجا کہ جاکر ان سب کو لائو۔ ہم (ائے) تو اپ نے میاں صاحب (حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ) کو خفیف تھپڑ لگائی۔ وہ چار پائی پر جالیٹے۔ اسی طرح میاں بشیر احمد صاحب و میاں شریف احمد صاحب اور مجھے بھی آہستہ سے مارا۔
    ۵۔ حضورؑ سرسوں کے ساگ کو بہت پسند فرمایا کرتے تھے اور ہمیشہ گھی والا کھانا کھایا کرتے تھے۔ کبھی تیل سے بنی ہوئی چیز حضور نے کھاتے۔ آپ پہلے ہی اپنے بچوں کے لئے کھانے وغیرہ کیلئے انتظام فرمایا کرتے تھے۔ تینوں بچوں کے لئے ان کی خواہش کے مطابق مٹھائی وغیرہ مہیا کراتے تھے۔ میاں بشیر احمد صاحب کے لئے شکر کا مٹکا ہوا اور میاں محمود احمد صاحب و میاں شریف احمد صاحب کے لئے بوندی کا لڈو تیار کراتے۔ جب باہر سے آتے ت وکہتے کہ ابا جی ہمیں چیز دو۔ تو حضورؑ لڈوئوں کا صندوق کھلا رہنے دیتے اور آکر جتنے چاہتے کھا لیتے۔ اس طرح پر حضور کا وقت ضائع نہ ہوتا اور حضور اپنے کام میں مصروف رہتے۔
    ۶۔ ایک دفعہ حضرت صاحب مسجد مبارک میں تھے۔اپنے ساتھیوں کے خواجہ کمال الدین صاحب‘ مرزا ایوب بیگ صاحب‘ داکٹر محمد حسین شاہ صاحب‘ ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب‘ شیخ رحمت اللہ صاحب وغیرہ تشریف فرما تھے۔ اور ایک فقیر میلا کچیلا لباس پہنے ہوئے وہاں آگیا ۔ اس نے حضور کے قریب ہونا چاہا مگر مرزا ایوب بیگ صاحب نے اسے پکڑ کر ایک طرف کردیا۔ یہ بات حضورؑ کو معلوم ہوگئی تو حضورؑ نے اسے اپنے پاس بٹھالیا اور پوچھا کیا بات ہے۔ اس نے عرض کیا کہ سردی کا موسم نزدیک ہے۔ گرم کپڑے چاہئیں۔ تو حضور نے اپنے کمال رحم سے اسے اپنا لحاف بخش دیا۔ پس یہ واقعہ آپ کے کمال رحم اور ایثار پر دلالت کرتاہے۔ الھم صل علیہ وسلم تسلیما۔
    ۷۔ ایک دفعہ حضور سیر کیلئے تشریف لے جارہے تھے کہ راستے میں ایک بچہ گر پڑا اور رو رہا تھا۔ حضور کے رحم نے جوش مارا۔ تو اسے اٹھا کر اس کے کپڑوں سے منہ اور ناک صاف کیا اور اس کے گھر پہنچا دیا۔ پس یہ آپ کا کمال رحم تھا کہ آپ شفقت علی خلق اللہ بہت کثرت سے فرمایا کرتے تھے۔
    ۸۔ شیخ مظفر الدین صاحب آف پشاور کے والد صاحب نے لاہور میں حضرت مسیح موعودؑ کی دعوت کی۔ کمرہ چھوٹا تھا۔ اور لوگ زیادہ آگئے تھے۔ میں حضورؑ کے پاس کھڑا تھا۔ بیٹھنے کے لئے جگہ نہ تھی۔ حضور نے مجھے دیکھ کر اور اپنا زانو اٹھا کر اور مجھے اپنے دست مبارک سے پکڑ کر اپنے پاس بٹھالیا۔ اور فرمایا کہ میرے ساتھ کھائو۔ اس پر میں نے حضورؑ کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔
    ۹۔ ایک دفعہ گھر میں حضرت مسیح موعودؑ نے یہ تجویز فرمایا۔ کہ گھر کے سب بچے عربی زبان میں گفتگو کرنا سیکھیں ۔میں بھی شامل تھا۔ حضورؑ نے دوسرے بچوں کے ساتھ مجھے بھی عربی کے الفاظ سکھائے مثلاً ھذالی ۔ ھذالک۔ یہ الفاظ مجھے اس وقت سے یاد ہیں۔
    ۱۰۔ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ میرا گلا ایسا بند ہوا کہ آواز نکلنی بند ہوگئی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولوی نور الدین صاحب (خلیفہ اولؓ) کو فرمایا کہ چراغ کے گلے کا علاج کریں۔ کیا سبب ہے کہ اس کی آواز نہیں نکلتی۔ حضرت مولوی صاحب علاج فرماتے رہے۔ لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا۔ پھر ایک موقع پر ڈاکٹر محمد حسین صاحب ‘ ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب‘ ڈاکٹر بوڑے خان صاحب لاہور اکٹھے ہوئے تو اس کے سامنے بھی حضور نے اس بات کا ذکر فرمایا کہ کیا وجہ ہے کہ ۔۔۔۔ کی آواز بند ہے۔ اس پر ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب نے میرا گلا دیکھ کر کہا کہ حضور ؑحکم دیں تو اس کے گلے اندر سے کاٹ دے جاویں۔ اور اس طرح کرنے سے آواز کھل جاوے گی۔ حضورؑ نے اس پر کچھ نہ فرمایا۔
    پھر چند دنوں کے بعد حضور ؑ نے فرمایا کہ ’’چراغ۔ اب ہم تیرا علاج کریں گے اور اسی وقت دیکھ کر فرمایا کہ ہم تیرے لئے نسخہ تیار کریں گے۔ خدا کی حکمت اسی دن امرتسر کا ایک عطار آک کے پتوں کا اچار والا مرتبان لایا۔ حضور نے کھول کر دیکھا اور فرمایا کہ یہ تیرا علاج ہے۔ کھانے کے وقت ۔۔۔۔ پر دو تین پتے رکھ کر مجھے دے دیتے تھے۔ وہ بہت مزے دار تھا۔ حضورؑ نے بھی تناول فرمایا۔ مجھے اس سے آرام آگیا۔ اس پر حضور نے وہ سارا مرتبان مجھے دے دیا۔ کہ تم کھالو۔ چنانچہ میں نے وہ کھایا اور مجھے بالکل صحت ہوگئی۔
    ’’چراغ‘‘
    نوٹ: میاں چراغ صاحب چونکہ ناخواندہ ہیں۔ یہ حالات ان سے میاں عطاء الرحمان صاحب کلرک بوردنگ احمدیہ نے نقل کئے ہیں۔ خاکسار عبدالقادر حال ۔۔۔۔ نظارت تالیف ۳۸۔۱۲۔۱۹

    روایات
    حکیم اللہ بخش صاحب ولد شاہ دین صاحب
    وایان ڈیوڑھی ام المومنین ۔ سکنہ ببے حالی متصل گورداسپور۔
    حال قادیان
    نوٹ۔ حکیم صاحب نے مجھ سے بیان فرمایا کہ ایک شخص خواجہ عبداللہ ساکن سوہل ضلع گورداسپور نے مجھے کہا کہ آپ کو مولویوں سے ملنے کا بہت شوق ہے۔ مگر اس وقت مولوی صاحبان کا حال ۔ چال اور ہی ہے۔ ان لوگو ںکو درحقیقت دین کا کچھ شوق نہیں۔ اپنے تنیاوی معاملات کے متعلق خود غرضی اور پیسے حاصل کرنے کا شوق ہے۔ اس لئے اگر آپ حق پرست م ولوی کو دیکھنا چاہتے ہیں تو قادیان میں مرزا غلام مرتضیٰ صاحب کا نوجوان لڑکا ہے۔ اس کو دیکھ کر کبھی نماز میں گداز اور تین کے ہر ایک کام میں مستعد اور تمام مذاہب کی کتابیں آپ کے پاس موجود۔ کبھی تورات و انجیل۔ کبھی کسی اور ہی غیر مذہب کی کتابیں دیکھتے رہتے ہیں۔ اور قرآن شریف سے زیادہ محظوظ ہوتے ہیں۔ چنانچہ میں قادیان میں حاضر ہوگیا اور حضرت صاحب کو مسجد اقصیٰ میں ملا۔ میں نے حضرت صاحب سے باتیں کیں اور براہین احمدیہ کی چوتھی جلد ساتھ لے گیا۔ پھر کبھی کبھی آتا رہا۔ جب ہمارے ملک میں دوسری دفعہ طاعون پڑا تو اس وقت میںنے بیعت کی۔ مجھے یاد آیا کہ جب میں نے پہلی دفعہ ملاقات کی تو میرے ہاتھ میں ایک کتاب تھی۔ جس کا نام نظام السلام تھا۔ اس کے حاشیہ پر تو خیر الحق منع تھی۔ اس کتاب میں تین سو ساٹھ علماء حنفی کی مہریں لگی ہوئی تھیں۔ حضرت اقدس علیہ السلام وہ کتاب لیکر پڑھتے رہے۔ حتی کہ عشاء بعد ختم کی۔ میں تو سو گیا۔ وہ پتہ نہیں کس وقت سوئے۔ صبح نماز کے لئے مجھے جگایا۔ نماز پڑھ کر میں چلا گیا۔
    ۱۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ فرمایا کہ اللہ بخش تو دیکھتا ہے کہ اس وقت قادیان بالکل گمنامی کے ایک گوشہ میںہے۔ غیر ممالک کے لوگ اس کے نام سے بالکل بے خبر ہیں اور یہ بھی کوئی نہیں جانتا کہ غلام احمد بھی کسی شخص کا نام ہے۔ مگر تو اپنی زندگی میں دیکھے گا کہ قادیان میں کہاں کہاں سے لوگ آتے ہیں اور قادیان کی شہرت کیسے چار دانگ عالم میں پھیلتی ہے۔ اس وقت میری عمر اسی سال اور میں خداتعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ تمام واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہوں۔ کوئی ملک نہیں جہاں حضرت اقدسؑ کی تبلیغ نہیں پہنچی اور کئی دور دراز کے ممالک سے لوگ برکت حاصل کرنے کے لئے یہاں آتے ہیں۔
    ۲۔ یہ بات میں نے کئی آدمیوں سے بارہانس ہے کہ حضرت صاحب نے فرمایا کہ قادیان دریائے بیاس تک پھیلے گا۔ میں تو اپنے ذوق کے مطابق اس کے اب تک یہاں سے سمجھتا ہوں کہ قادیان بے آس تک پہنچے گی۔ یعنی وہاں تک پہنچے گی۔ جہاں تک پہنچنے کی کسی کو آس و امید ہی نہیں ہویگ۔
    ۳۔ ایک دفعہ میں نے سولہ سوال لکھ کر حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کئے حضور ؑ نے تمام کے مکمل جواب دیئے۔ مگر مجھے یاد نہیں۔
    ۴۔ حضرت صاحب کے والد صاحب ایک ماہر طبیب تھے۔ ایک دفعہ بیاس کے ہار سے ایک نوجاون قادر بخش ان کا نام سن کر قادیان آیا۔ مگر اسے معلوم ہوا کہ وہ تو فوت ہوگئے ہیں۔ اس پر وہ حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت صاحب نے اپنے کو مکان دیا اور غذا سب اپنے پاس سے مہیا فرماتے رہے۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ جلد شفا یاب ہوگیا۔ اور بعد میں کئی دن یہاں رہا۔ ایک روز اس نے بانگ کہی۔ چونکہ اس کی آواز بہت اعلیٰ تھی۔ اس لئے حضرت صاحب نے حکم دیا کہ میاں قادر بخش پانچ وقت تم ہی بانگ کیا کرو۔ چونکہ اس کی آواز بہت بلند تھی۔مسلمان تو بڑے خوش ہوتے تھے۔ مگر ہندوئوں کو تکلیف ہوتی تھی۔ وہ دل میںبہت برا مناتے تھے۔ ایک دفعہ حضرت صاحب کے پاس ائے اور کہنے لگے۔ مرزا جی ! اس قادر بخش کی بانگ بہت دور جاتی ہے ۔ فرمایا۔ اپ کو اس سے کوئی تکلیف تو نہیں پہنچتی۔ کہنے لگے۔ واہگرو ‘ واہگرو۔ گئو دی سوہ تکلیف نہیں۔ اسیں سگوں راجی ہنے آں۔ پر ایس نوں اسیں کہو۔ ایدی اچی نہ آکھے۔ ذرا نیویں آکھ لیا کرے۔ حضور نے فرمایا جب آپ کو تکلیف نہیں دیتی تو اس سے بھی اونچی کہا کریگا۔ نیویں کی کیا ضرورت ہے۔
    ۵۔ ایک روز میاں قادر بخش کو فرمایا کہ اب تو توُ خوب تندرست ہے۔ عرض کی۔ حضور دیکھنے میں ایسا نظر آتا ہوں۔ میرے بیچ میں کچھ نہیں۔ حضور نے ہنس کر فرمایا (مجھے مخاطب کرکے) دکھو اللہ بخش ‘ قادر بخش سچ کہتا ہے۔ واقعی لہو اور چربی کے سوا اس کے بیچ میں کچھ نہیں۔
    ۶۔ میں نے ایک روز عرض کیا کہ حضور آپ مثیل مسیح ہیں۔ وہ تو گھاٹ پر جاکر دھوبیوں کو کہتے تھے ۔ کپڑے کیا دھوتے ہو۔ آئو میں تم کو دل دھونے سکھاتا ہوں۔ میں بہت دفعہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔ مجھے تو آپ نے دل دھونے نہیں سکھائے۔ فرمایا۔ مسیح نے جن کو دل دھونے سکھائے تھے۔ ایک نے ان سے ہی تیس روپے لے کر پکڑا دیا۔ دوسرے نے منہ پر تھوکا۔ تیسرے نے *** بھیجی۔ پس ایسی باتوں سے بچتے رہنے چاہئے۔ اللہ چاہیگا۔ تو خود بخود ل دھونے سکھادیگا۔
    ۷۔ مسجد اقصیٰ کا پہلا نام مسجد مغلیہ تھا۔ مسجد مبارک ان دنوں نہیں بنی تھی۔ حضور ؑ شام کے وقت اپنا کھانا مسجد اقصیٰ میں لے جاتے تھے۔ اور جو تین چار نمازی ہوتے ان میں تقسیم کردیتے۔ وہ نمازی بڑے خوش خوش گھروں کو واپس جاتے۔ اور اوروں کو بھی سناتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعض اوقات تیس چالیس نمازی تک جمع ہونے لگے۔ جب حضرت صاحب نیاز (کھانا) ملتوی کردیتے۔ تو پھر نمازیوں کی تعداد کم ہوجاتی۔حضرت بڑی دعا فرمایا کرتے تھے کہ اللہ ایسے لوگوں کو حقیقی نمازی بنادے۔
    ۸۔ مسجد مبارک جب پہلے پہل بنی تو اپنے سکونتی محل پر بجانب جنوب بنائی تھی۔ جس میں آٹھ کے قریب صفیں ہوتی اور ہر صف میں چھ آدمی کھڑے ہوتے۔ میں نے عشاء کے وقت قطب ستارہ دیکھ کر عرض کیا کہ حضور مسجد کا رخ عین سیدھا نہیں معلوم ہوتا۔ فرمایا۔ ہمارا اسلام کھلا ہے۔ تنگ نہیں۔ اس لئے چھوٹی چھوتی نکتہ چینی منع ہے۔
    ۹۔ ایک دفعہ فرمایا کہ دین عموماً غریبوں کا حصہ ہے۔ امیر عموماً اس سے بے نصیب رہ جاتے ہیں۔ چنانچہ پہلے نبیوں کو بھی غریبوں نے ہی ابتداء میں مانا تھا۔ اب دیکھ لو۔ غریب آدمی سفر میں ہو تو ہر جگہ نماز پڑھ سکتا ہے۔ مگر امیر ایسا نہیں کرسکتا۔ اگر رستے میں کوئی جوہڑ آجائے تو وہاں وضو نہیں کرے گا ۔ اور اگر پانی صاف مل بھی جائے تو کپڑوں کے خراب ہونے کے ڈر سے زمین پر نماز نہیں پڑے گا۔
    ۱۰۔ ایک دفعہ آپ کے والد صاحب آپ کو گورداسپور لے گئے اور فرمایا کہ جاکر ڈپٹی ہدایت علی صاحب سے فلاں کتاب لے آئو۔ چنانچہ آپ تشریف لے گئے۔ السلام علیکم کہہ کر کتاب کا نام پشتے پر لکھا ہوا دیکھ کر اسے اٹھا لیا۔ باوجود اس بات کے کہ ڈپٹی صاحب حضور کے والد صاحب کے بڑے دوست تھے۔ اور بہت دیندار مشہور تھے ۔ مگر سخت لہجے میں کہنے لگے کہ تو بڑا عیار لڑکا ہے۔ حضرت صاحب اس واقعہ کو بیان فرما کر فرمایا کرتے تھے کہ امیروں میں دین کم ہوتا ہے اور بعض امیر تو دنیاوی عزت کے حصول کی خاطر ہی دینداری کا جیسہ پہنتے ہیں۔
    ۱۱۔ ایک دفعہ حضور نے فرمایا کہ آئو اللہ بخش ہم آپ کو الف لیلہ کی ایک حکایت سناتے ہیں۔ چنانچہ حضور نے فرمایا کہ ایک مرد صالح جو بڑا متقی اور پرہیز گار تھا۔ دینی اور دینوی علوم کا بھی ماہر تھا۔ دولت مند بھی بڑا تھا۔ اس کے ہمسایہ میں دو میاں بیوی رہتے تھے۔ جو بڑے حاسد تھے۔ وہ ان کی حسد کی آگ کو بجھانے کی بہت کوشش کرتا۔ کبھی انہیں کچھ دیتا کبھی کچھ۔ مگر وہ آگ بجھنے میں نہ آتی تھی۔ آخر تنگ آکر اس نے اپنا شہر چھوڑ دیا۔ اور ایک دوسرے شہر جاکر آباد ہوگیا۔ وہاں کے لوگ یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اللہ ان میں ایک نیک بزرگ اور دینی اور دنیوی علوم کے ماہر انسان کو بھیج دے۔ تو انہیں دین بھی سکھائے اور بیماروں کا علاج بھی کرے۔ انہوں نے اس کی بڑی آئو بھگت کی۔ اس پر خدا کا فضل آگے سے بھی بڑھ کر ہونے لگا۔ اور وہ اور زیادہ مالدار ہوگیا۔ حاسدوں کو بھی پتہ لگ گیا۔ وہ اور زیادہ جل گئے۔ حاسد کی بیوی نے اسے کہا کہ میاں جائو۔ اگر موقع ملے تو اسے مار کر واپس آئو ۔ حاسد اس صالح مرد کے پاس گیا۔ صالح بہت خوش ہوا۔ بڑے تپاک سے ملا۔ خیر خیریت پوچھی اور دریافت کیا کہ کیسے تشریف آوری ہوئی۔ حاسد نے کہا۔ حضور کا پتہ لگا۔ زیارت کو بہت دل چاہتا تھا۔ ملنے کیلئے آیا ہوں۔ اب زیارت ہوگئی اجازت چاہتا ہوں۔ صالح نے فرمایا کہ سنت نبویؐ کے مطابق تین دن کے بعد اجازت ہوگی۔ تین روز کے بعد چند صدریال دے کر رخصت کیا۔ حاسد جب مال لے کر گھر پہنچا تو بیوی بڑی خوش ہوئی۔ مگر صالح کا زیادہ مالدار ہونے کا حال سن کر بہت ہی شکستہ حال ہوئی اور کہنے لگی کہ ہم تو سمجھتے تھے وہ مرکھپ گیا ہوگا۔ مگر اسے تو کوئی زوال بھی نہیں پہنچا۔ جائو میاں جس طرح بھی مرے مار کرآئو۔ حاسد پھر گیا۔ صالح نے آنے کا مقصد پوچھا۔ کہنے لگا۔ حضور کی محبت پھر کھینچ کر لائی ہے۔ پہلے حضور کے مکان اور باغات کا اچھی طرح سیر نہ کیا تھا۔ اب سیر کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ صالح نے تین طرفیں باغ کی دکھائی اور چوتھی کی طرف جانے سے منع کیا اور کہا کہ جس صاحب نے مجھے یہ مکان دیا ہے اس نے اس طرف جانے سے منع کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے گوشے میں ایک کنواں ہے۔ جسے اندھا کنواں کہتے ہیں۔ اس میں جن رہتے ہیں۔ خوف ہے کہ جان سے مار دیں گے۔ حاسد نے یہ سُن کر زیادہ اصرار کیا۔چنانچہ دونوں کنویں کے پاس گئے۔ حاسد کنویں کی دیوار پر جا بیٹھا اور نیچی نظر کرکے کہا۔ اس میں کوئی جن نہیں۔ آئیے آپ بھی دیکھیں۔ صالح بھی کنارے پر جاکر دیکھنا شروع کیا۔ نظر بچا کر حاسد نیچے اترا اور اس کو دھکا دیکر کنویں میں گرا دیا اور خوشی خوشی گھر آیا۔ عورت کو حال سنایا۔ وہ بڑی خوش ہوئی۔ اب صالح کا حال سنو۔ جس کنوئیں میں وہ گرا تھا۔ واقعی اس میں جن تھے۔ نیچے جانا نہ پایا تھا کہ ایک جن نے پکڑ کر محفوظ جگہ میں رکھ دیا۔ باقی جن مخالف ہوگئے اور کہنے لگے کہ اس کو ضرور مار دینا چایہئے۔ مگر اس نے کہا کہ یہ ایک جید عالم اور اعلیٰ درجہ کا طبیب بھی ہے۔ اسے مارنے سے امرا و غربا سب کا نقصان ہوگا۔ چنانچہ فلاں ملک کا بادشاہ اپنی لڑکی کو علاج کے لئے اس کے پاس لاتا رہا۔ اگر اسے یہاں مار ڈالا جائے تو خدا کا عرش کانپ اٹھے گا۔ دوسرے جنوں نے سوال کیا کہ اس کو کیا بیماری ہے۔ وہ جن بولا۔ اسے فلاں بیماری ہے۔ علاج پوچھا۔ تو کہا کہ اس کے گھر میں سفید بلی رہتی ہے۔ یہ اس کی پیٹھ سے چند بال اکھاڑ کر آگ پر رکھ کر اس لڑکی کے قریب کرے۔ وہ جن چیختا ہوا بھاگ جائے گا اور پھر کبھی پاس نہ آئے گا۔ چنانچہ انہوں نے اس بزرگ کو چھوڑ دیا۔ اور صحیح و سلامت اوپر پہنچا دیا۔ گھر میں پہنچا ہی تھا کہ بادشاہ بھی اپنی بیمار لڑکی کو لے کر آن پہنچا۔ اس نے علاج کیا۔ لڑکی تندرست ہوگئی اور خوب توانا ہوگئی۔ بادشاہ نے نکاح کی فکر کی۔ بہت سوچا۔ مگر اس صالح مرد سے بڑھ کر نکاح کے قابل اور کسی کو نہ پایا ۔ چنانچہ اس کے ساتھ نکاح کردیا۔ چند دن کے بعد خود مرگیا اور تاج و تخت اس بزرگ کو سونپ گیا۔
    حضرت صاحب نے یہ حکایت سنا کر فرمایا میاں اللہ بخش یہ حکایت بالکل مجھ پر چسپاں ہوتی ہے۔خدا مجھے مالا مال اور صاحب اقبال کرے گا اور حاسدوں کا قدم دن بدن زوال کی طرف پڑتا جائے گا۔ میں خدا کا چراغ ہوں۔ دشمن موہنوں کی پھونکوں سے مجھے اسے بجھانا چاہے گا۔ مگر میرا خدا مجھے اور زیادہ ترقی دے گا۔
    ۱۲۔ ایک روز فرمایا کہ بعض بد خصلت انسان اگر کسی کا نقصان کرنا چاہتے ہیں تو اگر نہ کرسکیں تو اپنا احسان جتاتے ہیں۔ ایک فیض رساں انسان کا ذکر ہے کہ اس نے ایک نادان امیر کی ضیافت کی۔ یہ معلوم کرکے کہ یہ امیر بڑا عیب جو اور نکتہ چین ہے ۔ اگر اس کی طرف کھانا کھلانیوالوں میں سے کسی کی پیٹھ ہوگئی تو ناراض ہوجائے گا۔ اس لئے تما م ضروری سامان پہلے ہی قرینے سے سجا دیا اور عرض کی کہ حضور کھانا تیار ہے۔ تشریف لائیے اور تناول فرمائیے۔ خیر کھانا کھا کر جب باہر آئی اور میزبان نے دروازہ میں کھڑے ہوکر ان کا شکریہ ادا کیا۔ تو بجائے اس کے کہ ان کو عزت اور تکریم سے پیش آتا۔ کہنے لگا۔ کہ میرا تم پر بڑا احسان ہے۔ کیونکہ جس دکان میں کھانا ہم نے کھایا ہے۔ اس میں ہزاروں روپے کا سامان پڑا تھا۔ دل چاہتا تھا کہ آگ لگا دیں۔ مگر رحم کردیا ہے۔ حضرت صاحب نے فرمایا ! اللہ بخش دیکھو۔ میں لوگو ںکی خاطر و مدارات کرتا ہوں۔ کھانا کھلاتا ہوں۔ ایمان سیکھاتا ہوں۔ اور لوگ الٹا مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ پہنچاسکنے کی صورت میں احسان جتلاتے ہیں۔
    نوٹ: یہ روایات بابا حکیم اللہ بخش صاحب نے ۳۸۔۱۲۔۲۰ کو مجھ سے زبانی بیان کیں۔ اور میں رجسٹر پر ہی نوٹ کرلیں۔ الگ فارم پر نہیں لکھیں۔
    خاکسار عبدالقادر
    ۳۸۔۱۲۔۲۰


    روایات
    حافظ محمد امین صاحب ولد میاں علم الدین صاحب سکنہ نکوور ڈاکخانہ فتح جنگ۔ تحصیل و تھانہ فتح جنگ۔ ضلع کیمل پور۔ حال محلہ ناصر آباد
    سن بیعت : مارچ ۱۸۹۷ء
    سن زیارت : ۱۸۹۰ء
    ۱۸۹۰ء کے ابتداء میں قادیان آیا۔ تو ندی خانہ کے پاس آنے پر مفتی فضل الرحمان صاحب ملے۔ ان سے میں نے دریافت کیا کہ جناب مولوی نور الدین صاحبؓ سے ملنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے فرمایاکہ مسجد میں نماز پڑھنے گئے ہیں۔ میں بھی مسجد مبارک گیا۔ وہاں جماعت ہوچکی تھی۔ میں نے عصر کی نماز الگ پڑھی۔ نماز پڑھنے کے بعد حضور مسجد مبارک میں تھوری دیر باتیں کرتے رہے۔ میں بھی حضور کی خدمت میں بیٹھا رہا۔ اس کے بعد حضور گھر کی طرف تشریف لے جانے لگے تو میں نے حضور کا دست مبارک پکڑ کر مصافحہ کیا۔ حضور کی میں نے اس وقت پہلی دفعہ زیارت اور ملاقات کی۔ اس کے بعد میں نے حضرت مولوی نور الدین صاحب کو آتے دیکھا اور ان سے میں نے مصافحہ کیا۔ انہوں نے مجھے فرمایا کہ حضرت مرزا صاحب کو ملنا چاہئے۔ مفتی فضل الرحمان صاحب نے جو میرے ساتھ تھے ۔ فرمایا کہ یہ مل چکے ہیں۔ اور میں نے خود بھی عرض کی کہ میں حضور سے مل چکا ہوں۔ بعد ازاں میں حضورؑ کے حالات سے آہستہ آہستہ *** ہوتا گیا۔
    میں نے مارچ ۱۸۹۷ء میں حضور کی بیعت کرنے کے لئے حضرت مولوی نور الدین صاحب سے عرض کی کہ آپ حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں سفارش فرمادیں کہ حضور میری بیعت لے لیں۔تو حضرت مولوی صاحبؓ نے نماز ظہر کے بعد حضرت صاحب سے عرض کیا اور بتایا کہ یہ قرآن مجید کے حافظ ہیں۔ اور یہ مرض طحال میں مبتلا تھے۔ میں نے دو سال تک ان کا علاج کیا ہے اور اس وقت تندرست ہیں اور بیعت کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر حضور نے مجھے فرمایا کہ کچھ قرآن مجید سنائو۔ تو میں نے سورۃ یوسف کا ڈیڑھ رکوع سنایا۔ پھر حضرت صاحب نے فرمایا کہ آج شام کو بیعت کرنا۔ تو میں نے اس دن شام کے وقت حضور کے دست مبارک پربیعت کی۔ میں نے مولوی غلام محمد صاحب کشمیری مرحوم کے ساتھ بیعت کی۔ جو امرتسر کے رہنے والے تھے اور بعد ازاں حضورکے کمپونڈر بھی رہے۔ بعد ازاں میں واپس اپنے وطن گیا اور تبلیغ کرتا رہا کہ مہدی اور عیسیٰ جو آنے والے تھے۔ آگئے ہیں۔ مگر لوگ بوجہ جاہلیت کے مذاق کرتے تھے اور میری باتوں کی پرواہ نہ کرتے تھے۔ پھر میں دوبارہ حضور کی خدمت میں آگیا۔
    حضرت اقدسؑ ایک دن صبح حضرت مولوی شیر علی صاحب کے ساتھ باہر سیر کو گئے کہ تھوڑی دیر میں کوئی عیسائی حضور سے ملنے ایا۔ اسے بتایا گیا کہ حضور سیر کے لئے بسراواں تشریف لے گئے ہیں۔ وہ حضور کی تلاش میں نکلا۔ حضور راستے میں واپس آتے ہوئے مل گئے۔ اس نے حضور سے مصافحہ کیا اور پوچھا کہ کیا آپ پر وحی ہوئی ہے۔ حضور نے اثبات میں جواب دیا۔ اس پر اس نے کہا کہ وہ فرشتہ کس طرح بولتا ہے۔ حضور نے جواب میں فرمایا جیسے آپ بول رہے ہیں۔ اس پر بے اختیار اس کے منہ سے نکلا۔ سبحان اللہ۔
    بڑے زلزلہ کے موقعہ پر حضور نے تمام لوگوں کو ارشاد فرمایا کہ وہ مکانات چھوڑ کر باہر نکل آئیں اور حضور خود بھی اہل بیت کے ساتھ اپنے باغ میں فروکش ہوئے۔ او ران دنوں متواتر زلزلے آتے رہے اورطاعون بھی شروع ہوگیا تھا۔ ان دنوں عاجز بھی درد گردہ میں مبتلا ہوگیا۔ صبح سات بجے بیمار ہوا اور شام کے تین بجے یہ درد ایسی سخت ہوگئی کہ اسکی تکلیف سے کسی پہلو چین نہ تھا۔ میں اس وقت مہر الدین صاحب ارائیں کے مکان میں رہتا تھا۔ مولوی عبیداللہ صاحب میرے پاس آئے۔ اس وقت میری حالت بہت خراب تھی۔ مولوی صاحب میری تکلیف برداشت نہ کرسکے۔ انہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کے حضور میری صحت کے لئے دعا کی درخواست کی۔ اور لکھا کہ یہ غریب آدمی ضلع راولپنڈی کا رہنے والا اور اس وقت درد گردہ سے سخت تنگ ہے۔ اس کے ساتھ جو اس کا چھوٹا بھائی گوہر الدین (ڈاکٹر گوہر الدین صاحب سب اسسٹنٹ سرجن برما جن کی عمر اس وقت بارہ تیرہ برس تھی) وہ بھی اس کی تکلیف برداشت نہیں کرسکتا۔ حضور اس کی شفا یانی کیلئے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمادیں۔ مولوی صاحب نے یہ خط میرے بھائی گوہر الدین صاحب (جو بعد میں ڈاکٹر بنے) کو دے کر حضورؑ کی خدمت اقدس میں بھیجا۔ وہ حضور کے دربار میں خط کسی کو دیکر واپس چلے آئے۔ حضور خط پڑھ کر اور اپنا کام اس وقت کو چھوڑ کر باہر دروازہ پر تشریف لائے۔ اور پوچھا کہ یہ خط کو ندے گیا ہے۔ یہاں شادی خاں صاحب مرحوم نے عرض کیا کہ ایک چھوٹا لڑکا دے گیا ہے۔ حضور نے خط دوبارہ پڑھا تو حضور کو علم ہوا کہ حضرت مولانا نور الدین صاحب روز علاج کرتے ہیں۔ خط پڑھ کر حضور نے جواب دیا کہ میں دعا کرونگا۔ اور ان کا دوائی اور دودھ وغیرہ کا خرچ میرے حساب میں شمار کریں۔ اور مولوی صاحب ان کو علاج کی طرف پوری توجہ فرماویں۔ آخر حضور کی دعائوں اور حضرت مولوی صاحب کے علاج سے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس بیماری سے نجات بخشی بڑے زلزلہ کے موقعہ پر حضور اپنے باغ کے اس مکان میں تشریف فرما ہوئے۔ جس میں آج کل دارالشیوخ ہے۔ جو اس وقت غالباً سب کچا تھا۔ میاں شادی خاں صاحب مرحوم کو اس وقت حضور کی ڈیوڑھی کے دربان ہونے کا فخر حاصل تھا۔
    مسجد اقصیٰ حضور کے زمانہ میںبہت چھوٹی تھی۔ جو حضور کے والد ماجد نے بنوائی تھی۔ اس میںحضور کے زمانہ میں صحن کے ساتھ مشرق کی طرف اضافہ ہوا۔ اور مینارہ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔
    اضافہ کرتے وقت جب مزدور کام کرنے لگے تو اس بلڈنگ (جس میں اب صدر انجمن کا دفاتر ہیں) کے مالک ہندو ریٹائرڈ ڈپٹی کمشنر نے روکنا چاہا ۔ تو مسلمانوں نے (جن میں چوہدری عبدالرحمان صاحب سربراہ نمبردار کے والد بھی شامل تھے اور پیش پیش تھے اور اس وقت سخت مخالف تھے) کہا کہ ہم ضرور مسجد بڑھائیں گے۔ خواہ ہم اور ہماری عورتیں شہید ہوجائیں۔ اس پر اس ہندو نے کہا کہ تم اور مرزا صاحب اس کو بڑھانا چاہتے ہو۔ میں تو اس کو مسمار کرنا چاہتا ہوں۔ کسی صحابی نے یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تک پہنچا دی۔ تو حضور نے فرمایا کہ وہ مسجد گرانا چاہتا ہے میں تو اس کی ماڑی کے پاس مینار بنائوں گا۔ حضور کی زندگی میں مسجد ااقصیٰ تین دفعہ بڑھائی گئی۔
    ان دنوں حضرت مولانا مولوی نور الدین صاحبؓ (خلیفہ المسیح اولؓ) یا حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب جمعہ کی نماز پڑھایا کرتے تھے اور مسجد اقصیٰ میں دوسرتے اوقات میں نمازوں کی امامت اکثر میں کرایا کرتا تھا۔ اور رمضان المبارک کے ایام میں بعد نماز عشاء مسجد اقصیٰ میں نماز تراویح بھی اکثر میں پڑھایا کرتا تھا۔ جب حافظ روشن علی صاحب مرحوم تشریف لائے تو وہ مسجد اقصیٰ کی مرمت کرانے لگے اور میں مسجد فضل میں امامت کرانے لگا۔
    مسجد اقصیٰ کے بڑھائے جانے سے پہلے ایک دفعہ ایک غیر احمدی متمول شخص اپنے کسی کام کے لئے قادیان آیا۔ جمعہ کا دن تھا۔ حضور مسجد اقصیٰ میں تشریف رکھتے تھے۔ اس نے ایک آدمی کو خطبہ سننے کی اجازت لینے کے لئے حضور کے پاس بھیجا۔ حضور نے جواب میں فرمایا کہ ہم کو نہیں روکتے بلکہ خطبہ پڑھتے ہی اس لئے ہیں کہ لوگ سنیں اور فائدہ اٹھائیں۔ اس پر و ہ غیر احمدی اپنے پیامبر کے ساتھ مسجد میں آیا۔ اور خطبہ سن کر بہت خوش ہوا۔ اور اس طرح حضور کی زیارت بھی کرلی۔
    جس بلڈنگ میں اب صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر ہیں۔ اس کے برابر مغرب کی طرف مسجد اقصیٰ کے متصل ہندوئوں کی زمین تھی۔ ایک ہندو نے اپنی زمین کا شمالی نصف حصہ جو غربی گلی کی طرف مسجد سے ملحق تھا۔ ضرورتاً بیچ دیا اور جب اس پر بھرتی ڈال کر مسجد بڑھائی جانے لگی تو ڈپتی مذکور کو غصہ لگا اور فروخت کرنے والے ہندو سے بھی خفا ہوا اور اتفاقاً اس کو کسی ضروری کام سے باہر جانا پڑا۔ جاتے ہوئے کہہ گیا کہ میں آکر مرزا صاحب پر بھاری مقدمہ کرونگا۔ خدا کی قدرت کہ رستہ میں اس کا یکہ بگڑ گیا اور یکایک الٹ پڑا۔ جس سے ڈپٹی مذکور کو سخت چوٹیں آئیں اور وہ رسی درد سے وہیں مر گیا۔ اس کی موت کے بعد بغیر روک ٹوک کے مسجد بڑھا دی گئی۔ بیچنے والے ہندو کا مکان فروخت شدہ زمین کے متصل جنوب کی طرف غربی گلی پر واقع تھا۔ جہاں پر اب مسجد اقصیٰ کے کمرہ کا جنوب مغربی حصہ ہے۔
    اس کے مکان کی چھت مسجد کے ساتھ لگتی تھی اور لوگوں کو مسجد بڑھ جانے کے باوجود جگہ نہ ملتی تھی۔ اس لئے لوگ مجبوراً اس مکان کی چھت پر چڑھ جاتے تھے۔ آخر تنگ آکر اس نے مکان بھی فروخت کردیا۔جو حضور کی حیات اقدس میں ہی خرید لیا گیا۔ لیکن حضور کے وصال کے بعد مسجدمیں شامل کیا گیا۔
    جن دنوں طاعون کا زور تھا۔ ان دنوں حضور ایک دن دوستوں کے ہمراہ سیر کو تشریف لے گئے۔ تو لوگوں کو نصیحتیں فرماتے رہے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ہر وقت ڈرتے رہنا چاہئے۔ کیونکہ وہ فرماتا ہے ۔ ولا تخشوھم و اخشونی ۔ کہ میرے سوائے اور کسی سے مت ڈرو۔ اور فرمایا کہ تمہاری توجہ طاعون کے ساتھ نہ چلی جائے بلکہ امن کے دنوں میں بھی تمہارے دلوں پر جاری رہے۔
    جن دنوں حضور طاعون کے ایام میں مکان کے باغ میں تشریف فرما تھے۔ ان ایام میں قاضی سید امیر حسین صاحب کا لڑکا محمد شاہ بعمر ۱۲ برس طاعو ن سے فوت ہوگیا۔ کسی شخص نے افواہ اڑادی کہ حضور نے فرمایا ہے کہ چونکہ وہ طاعون سے فوت ہوا ہے۔ اس لئے اس کے جنازہ اور دفن کرنے میں کوئی شریک نہ ہو۔ اس پر سب لوگ ہٹ گئے اور قاضی صاحب بیچارے اکیلے رہ گئے ۔ ادھر سے میاں نجم الدین صاحب جو حضور کے لنگر خانہ میں ملازم تھے۔ آگئے۔ قاضی صاحب نے ان کی اور دو اور آدمیوں کی مدد سے بچہ کو دفن کیا۔ بعد ازاں دوسرے دن جمعہ کے روز صبح قاضی صاحب نے اس بات کی تصدیق کے لئے حضور کو عریضہ لکھا کہ آیا حضور نے لوگوں کو جنازہ میںشامل ہونے سے منع فرمایا تھا۔ حضور نے پڑھ کر جواباً فرمایا کہ اس کا جواب جمعہ کے بعد دوں گا۔ چنانچہ جمعہ کے وقت نماز ہونے کے بعد معاً حضور نے سب لوگوںکو مخاطب فرماتے ہوئے فرمایا کہ قاضی صاحب نے اس مضمون کی چٹھی لکھی ہے۔ جو پڑھ کر مجھے بہت تکلیف ہوئی کہ قاضی صاحب کو کس قدر تکلیف اٹھانی پری۔ اور یہ حال پڑھ کر میرا بدن کانپ اٹھا۔میرا مذہب یہ نہیں کہ کس کے دکھ درد میں شریک نہ ہوا جائے۔ یہ افواہ کسی منافق شخص نے ارائی ہے۔ افسوس ہے کہ مجھے اطلاع دی جاتی ۔ جنازے میں شریک ہوتا۔ اور حضور نے کچھ دیر تک جماعت کو نصائح فرمائیں۔
    جب مولوی محمد حسین بٹالوی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر چھری کا مقدمہ کیا اور اس کی پیشی گورداسپور میں تھی۔ اور جمعہ کا دن آگیا۔ تو مولوی محمد حسین گلیوں کوچوں میں لوگوں کو جمعہ کے لئے اکٹھا ہونے کو پکارتا پھرتا تھا۔ اور تمام لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ جمعہ پڑھنے کے لئے اکٹھے ہوئے۔ تو حضور لوگوں کے ساتھ شہر سے باہر تشریف لے گئے۔ اور حضرت مولوی نور الدین صاحب نے خطبہ پڑھا اور فرماتے تھے کہ میں نے اس قدر مجمع میں کبھی خطبہ نہیں پڑھا اور مولوی محمد حسین کے ساتھ بہت کم آدمی تھے۔
    اسی دن بہت بڑی تعداد میں ہندو لوگ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کسی صحابی سے کہا کہ ہم مرزا صاحب کی زیارت کرنا چاہتے ہیں۔ مرزا صاحب کسی اونچی جگہ پر تشریف رکھیں۔ تو ہم سب دیکھ لیں۔ چنانچہ حضورؑ ایک اونچی جگہ پر کھڑے ہوگئے اور سب لوگوں نے حضور کی زیارت فرمائی۔ ان میں دو انگریز عورتیں بھی تھیں۔ جن کو حضور کی زیارت نصیب نہیں ہوئی۔ زیارت کرکے لوگ بہت خوش ہوئے اور آپس میں کہتے تھے کہ جتنا سچا ہم مرزا صاحب کو سنتے تھے۔ اس سے بڑھ کر دیکھ لیا اور بہت تعریف کرتے تھے۔
    حضور کی ایک پیشگوئی مولوی محمد حسین متعلق تھی جو اس دن اس صورت میں پوری ہوگئی تھی۔
    لیکھرام کے قتل کی پیشگوئی پورا ہونے پر ہندوئوں اور آریوں نے بہت شور مچایا اور پولیس کو ساتھ لے کر قادیان آئے۔ اس وقت میں مسجد مبارک کے نیچے کی گلی میں سے ہوکر حضور مولانا مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول ؓ کے شفاخانہ کی طرف جارہا تھا۔ جب دروازے پر گلی میں پہنچا تو مہمان خانہ کی طرف دیکھا تو پانچ چھ یکے مہمان خانہ سے اس جگہ تک جہاں حکیم نظام جان کی دکان ہے۔ اور ان میں پولیس کے آدمی تھے۔ اور ایک ان کا انگریز افسر بھی ٹوپ پہنے ہوئے تھا۔ لیکن یہ دیکھ کر جلدی سے شفاخانہ میں گیا اور حضرت مولوی صاحبؓ کو عرض کیا کہ پولیس والے آئے ہوئے ہیں۔ آپ نے لوگوں کو فرمایا کہ اٹھو دیکھو باہر کون آئے ہوئے ہیں۔ اتنا ابھی حضورؓ نے فرمایا ہی تھا کہ سپاہی شفاخانہ کے دروازہ پر آگیا اور کہا کہ ہم تلاشی لینا چاہتے ہیں اس پر س بلوگ باہر نکل آئے اور دروازے کو (جس کے اندر آج کل جناب مفتی فضل الرحمن صاحب گھوڑا باندھا کرتے ہیں) اندر سے تالا لگادیا گیا اور کوٹھریوں کو بھی۔ پھر ایک واقف پولیس مین اس افسر کو حضرت مسیح موعودؑ کے مکان کی طرف لے گیا اور آواز دی تو نوکر خادمہ باہر ائی۔ اس کو افسر نے کہا کہ اندر کہہ دو کہ پولیس والے تلاشی لینے آئے ہیں۔ خادمہ نے اطلاع دی وہ افسر حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوا اور ٹوپ اتار کر سلام کیا اور کہنے لگا کہ آپ کی پیشگوئی پوری ہوگئی ہے۔ آپ کو مبارک ہو۔ اور کچھ معمولی باتیں کیں اور بعد میں بتایا کہ ہمیں آپ کی تلاشی لئے جانے کا حکم ہوا ہے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ بڑی خوشی سے تسلی کرلیں۔ چنانچہ اس نے تلاشی لی پھر اس کے بعد حضرت مولوی صاحبؓ کے شفاخانہ کی تلاشی لی۔ بعد ازاں حضرت مولوی صاحبؓ کے کتب خانہ کا تالا کھول کر تلاشی شروع کی۔ کتب خانہ دیکھ کر افسر نے حیران ہوکر کہا کہ۔ ہیں یہ کیا ہے؟ ایک آدمی نے کہا کہ یہ مولوی نور الدین صاحبؓ کا کتب خانہ ہے۔ پوچھنے لگا۔ وہ کون ہیں تو اس نے حضرت مولوی صاحبؓ کی طرف اشارہ کرکے (جو اس وقت اس افسر کے ساتھ کھڑے تھے) بتایا کہ یہ ہیں ۔ اس نے دیکھ کر حضرت مولوی صاحب کو سلام کیا۔ ماہ مارچ کی گرمیوں کے دن تھے۔ تلاشی صبح کے دس بجے شروع ہوکر شام کو چھ بجے ختم ہوئی اور سب پولیس مین اور افسر اپنے مطلب میں جس کے لئے وہ آئے تھے۔ ناکام واپس چلے گئے۔
    قادیان کے ایک ارائیں بھائی مسمی حامد صاحب تھے۔ جو حضرت مسیح موعودؑ کے مخلص اور شیدائی اور حضور کے محبت رکھنے والے تھے چونکہ ان دنوں مہمان خانہ چھوٹا تھا اس لئے بعض دفعہ مہمان ان کے مکان میں بھی سو جایا کرتے تھے۔ ایک روز وہ بیمار ہوگئے۔ حضرت خلیفہ المسیح اولؓ ان کا علاج کرتے تھے۔ انہوں نے اپنا ایک آدمی حضرت مسیح موعودؑ کے حضور بھیجا کہ حضور اپنے باغ میں سیر کرنے کے لئے ادھر سے تشریف لے جائیں تاکہ میں حضورؑ کی زیارت کرلوں۔ وہ آدمی جب حضور کے پاس پہنچا۔ حضور سیر کے لئے تشریف لے چلے تھے۔ پیغام سن کر حضور اسی طرف چلے او ران کو شرف مصافحہ بخشا اور دریافت فرمایا کہ کیا تکلیف ہے۔ تو انہوں نے گلے کو ہاتھ لگا کر کہا کہ یہاں تکلیف ہے اور میں بول نہیں سکتا۔ اس پر حضورؑ نے فرمایا کہ میں دعا کروں گا۔ آپ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرین اور پھر دوبارہ شرف مصافحہ بخش کر تشریف لے گئے۔ اسی دن دوپہر کو دو بجے کے بعد فوت ہوگئے۔حضور کو اطلاع دی گئی۔ حضورؑ نے فرمایا کہ ان کا جنازہ مدرسہ احمدیہ میں لایا جائے ۔ حضور نے ان کا جنازہ پڑھانے کے بعد فرمایا کہ یہ ہمارے پرانے اور بڑے مخلص اور جماعت کی مدد کرنے والے شخص تھے۔ ان کو عید گاہ والے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)۔
    بھیرہ کے ایک شخص غلام رسول صاحب ریلوے سٹیشن پر بابو تھے۔ ان کو حضرت مسیح موعودؑ کی طرف توجہ تھی۔ چنانچہ ان کو یہ الہام ہوا ۔ انا انزلناہ کہ اس کو ہم نے اتارا۔ انہوں نیحکیم مولوی فضل دین صاحب کو سنایا تو حکیم صاحب نے ان کو جواب دیا کہ تم کو اللہ تعالیٰ نے سمجھا دیا ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی بیعت کرلو چنانچہ وہ قادیان چلے آئے اور بیعت کرلی اور حضرت مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ خلیفہ اولؓ سے ترجمہ قرآن کریم پڑھنا شروع کردیا اور ایک دن بعد نماز مغرب میںہم سب بیٹھے ہوئے تھے اور حضور جماعت کو وعظ فرما رہے تھے کہ غلام رسول صاحب نے دیکھا کہ حضورؑ کے سر مبارک سے اوپر کو ایک روشن شعاع اٹھ رہی ہے اور انہوں نے مجھے اشارہ کرکے کہا کہ دیکھو حضرت صاحب کا چہرہ کس قدر نورانی ہے۔ جب میں نے بھی چہرہ مبارک دیکھا تو مجھے بھی حضور کا چہرہ مبارک بہت ہی نورانی اور روشن نظر آیا۔
    ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مستورات کے ہمراہ اپنے باغ میں سیر کے لئے تشریف لے گئے اور ان کو باغ میں چھوڑ کر ننگل والے دروازہ کی طرف سے شہر کو ائے۔ میں مہر الدین صاحب ارائیں کے مکان کے دروازہ پر کھڑا ہوا تھا کہ حضور کو ڈھاب میں سے آتا دیکھا۔ میں نے حضورؑ کو سلام کیا اور عرض کیا کہ کیا حضورؑ اکیلے آرہے ہیں۔ تو فرمایا کہ کچھ بہت ضروری کام تھا۔اس لئے جلد چلا ایا ہوں۔ میں حضورؑ کے ساتھ ہولیا۔ میں راستے میں مویشیوں کو ہٹاتا رہا اور حضورؑ کے ساتھ گول کمرے تک آیا جہاں سے حضورؑ اپنے گھر تشریف لے گئے۔ میں وہاںسے شیخ غلام احمد صاحب نو مسلم واعظ مرحوم کی دکان پر آکر ٹھہرا اور انہیں کہا کہ حضور باغ کی طرف سے اکیلے آرہے تھے۔ شیخ صاحب نے فرمایا کہ خدا کے بندے اکیلے نہیںہوتے۔ بلکہ ایک بڑا پاک گروہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔
    سیدنا حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ میں مولوی ثناء الدین امرتسری قادیان میں پولیس کے ساتھ آیا اور ہندوئوں کے اس مکان میں اترا جس میںلیکھرام اترا تھا۔ پولیس کو اس لئے ساتھ لایا کہ احمدی لوگ مجھے نہ ماریں۔ اس کا مقصد حضرت اقدسؑ کی پیشگوئیوں کے متعلق دریافت کرنا تھا۔ ظہر کی نماز کے بعد کسی صحابی نے مولوی ثناء اللہ کے متعلق ذکر چھیڑا کہ وہ حضور کی کوئی پیشگوئی دریافت کرنے کے لئے آیا (ہے) اور اس مکان میں ٹھہرا ہے جس میں لیکھرام اترا تھا ۔ حضور نے فرمایا اگر وہ ہمارے پاس آتا تو ہم اس کو مکان دیتے اور مہمان نوازی کرتے اور سب پیشگوئیاں سمجھا دیتے۔ مگر وہ لیکھرام والے مکان میں اترا ہے اور اس کا نمونہ دکھا رہا ہے اور فرمایا کہ جو بات میرے منہ سے نکلتی ہے وہ خدا کے منہ سے نکلتی ہے۔ مولوی ثناء اللہ کو احمدیوں سے کیا ڈر تھا۔ جو پولیس لیکر آیا۔ حضور نے اور بہت عمدہ باتیں بیان فرمائی تھیں مگر افسوس ہے کہ مجھے یاد نہیں رہیں۔
    خاکسار محمد امین
    بقلم خاکسار طالب دعا
    عطاء الرحمان احمد
    اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ
    بورڈنگ مدرسہ احمدیہ قادیان
    ۳۸۔۲۔۵
    قیام قادیان کے لئے ’’ سبب الاسباب نے ایک سبب بنایا کہ قادیا ن کے آریوں کو خبر ہوئی کہ فلاں شخص مرزا صاحب کے بلانے پر آیا ہے تو انہوں نے لا یحب بل لبعض ھاویہ مسجد میں آکر اپنے مکان چلنے کی دعوت دی۔ میں نے مع اپنے ہمراہیوں کے غور کیاتو کوئی شرعی نقصان اس میں نہ پایا......... ہم آریوں کے مکان میں شب باشی کے لئے چلے گئے۔ تین پولیس کے سپاہی بھی ساتھ تھے۔
    اہلحدیث امرتسر ۲۲ مارچ ۱۹۰۷ء ص ۲



    روایات
    چوہدری عبدالحکیم صاحب ولد چوہدری اشرف الدین صاحب
    سکنہ موضع عادل گڑھ تحصیل وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ
    حال قادیان محلہ دارالبرکات
    سن بیعت : ۱۹۰۲ء
    سن زیارت: ۱۹۰۲ء
    اور اس کے بعد بہت دفعہ یہ خاکسار ملتان شہر کے چھائونی والے ریلوے اسٹیسن پر بطور تار بابو بھی سگنلیر ملازم تھا۔ اور میرے خیالات اہل حدیث مولوی کے تھے۔ اور دو ۔۔۔ صاحبان جن کا نام عبدالجباراور عبدالغفار تھا۔ ان سے قرآن مجید کا ترجمہ پڑھا کرتا تھا۔ جس محلہ میں یہ خاکسار رہتا تھا۔ وہاں ایک احمدی مولوی بدرالدین صاحب مدرس رہتے تھے۔ میں ان کے ہاں اخبار الحکم پڑھا کرتا تھا جس کے پہلے صفحے پر ان دنوں خداتعالیٰ کی تازہ وحی اور کلمات طیبات امام الزمان کے مضامین لکھے ہوئے ہوتے تھے۔ کچھ عرصہ اخبار الحکم پڑھتے اور مولوی بدرالدین صاحب کی صحبت سے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت سمجھ میں آگئی۔ اور میں نے قادیان آنے کا ارادہ کرلیا۔میری تنخواہ قلیل تھی۔ اور غربت کی حالت تھی۔ اس لئے التوا ہوتا رہا۔ آخر ایک اور دوست جو وہ بھی اہل حدیث تھے۔ اور مولوی سلطان محمود صاحب اہلحدیث کے شاگرد خاص تھے۔ ان کا نام اس وقت مجھے یاد نہیں رہا۔ وہ بھی میرے ساتھ قادیان روانہ ہونے کے لئے تیار ہوئے۔ گرمی کاموسم تھا۔ جب ہم دونوں ملتان چھائونی سے امرتسر کا ٹکٹ لیکر عازم قادیان ہوئے۔ امرتسر پہنچ کر ہم اتر پڑے۔ ایک تو وہاں گاڑی بدلنی تھی اور دوسرے ہمارے ٹکٹ بھی ختم ہوچکے تھے۔ بٹالہ کا کرایہ معلوم کرنے سے ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارے پاس کرایہ پورا نہیں ہے۔ اس لئے ہم نے ویر اسٹیشن کے ٹکٹ لے لئے۔ جب ویر پہنچے تو ہم دونوں نے یہ صلاح کی کہ اس ٹکٹ پر ہی سفر کرو۔ چونکہ ہمارے پلے بھی کچھ نہیں ہے۔ اور ہم نے جانا ضرور ی ہے۔ اللہ تعالیٰ ضرور ہماری پردہ پوشی کریگا۔ اسی ایمان اور ارادہ کو دل میں لئے ہوئے ہم دونوں گاڑی پر ہی سوار رہے۔ جب گاڑی درمیان دو سٹیشنوں کے جارہی تھی اور ہمارے اس وہی ختم شدہ ٹکٹ تھے ۔ ریلوے کا ٹکٹ کلکٹر ہمارے کمرہ میں آیا ۔ ہم دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ اگر تیرا مامور حضرت مسیح موعودؑ وہی مہدی ہے جس کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے تو ہمارا پردہ فرما۔ اور اس پر دیس میں رسوائی اور ذلت سے محفوظ رکھ۔ خدا کی شان جب ٹکٹ کلکٹر نے ہم سے ٹکٹ ملاحظہ کیلئے لئے تو ہم دونوں خوف سے تاپ رہے تھے۔ مگر حیرانی کی کوئی حد نہ رہی۔ جب اس نے تکٹ ہمیں واپس دے دیئے اور بغیر کسی قسم کا اعتراض کرنے کے چلا گیا۔ اس واقعہ نے ہمارے ایمانوں کو اور مضبوط کیا اور جب ہم بٹالہ اترے۔ تو وہی ٹکٹ دروازے میں دیکر گذر گئے۔ وہاں بھی اللہ تعالیٰ نے ہماری پردہ پوشی کی۔ ہم دونوں بٹالہ سے قادیان کا رستہ پوچھتے ہوئے پیدل روانہ ہوئے۔ظہر کا وقت تھا۔ جب ہم مسجد مبارک میں پہنچے۔ اس کے تھوڑی دیر بعد حضرت مسیح موعود علیہالسلام نماز ظہر کے لئے تشریف لائے۔ میرے ساتھ جو دوست تھا۔ اس نے حضور سے آتے ہی یہ سوال کیا کہ جب قرآن و حدیث موجود ہے تو آپ کی بیعت کی کیا ضرورت ہے۔ حضور وہیں کھڑے ہوگئے اور تقریر شروع کردی۔ تقریر کے دوران میں مولوی عبدالکریم صاحبؓ ناراض ہوتے رہے کہ اخباروں میں اسی سوال کا جواب کئی دفعہ دیا جاچکا ہے ۔ حضورؑ کو خواہ مخواہ تکلیف دیتے ہیں۔ جب حضور کی تقریر ختم ہوچکی تو اس میرے ساتھی نے عرض کیا کہ میری بیعت لی جائے۔ حضور نے فرمایا ابھی ٹھہرو۔ دو دن ٹھہرو اور سوچ لو۔ اور مولوی عبدالکریم سے فرمایا کہ جواب تو میں دے رہا ہوں اور تکلیف آپ کو ہورہی ہے۔
    مغرب کے وقت نماز کے بعد حضور شاہ نشین پر تشریف فرما ہوئے۔ تو ہم نے بیعت کے لئے عرض کی۔ مجھے فرمایا کہ آپ کم سے کم چھ ماہ ہمارے پاس رہیں۔ اگر آپ کے بیوی بچے ہیں تو ہم ان کے لئے مکان اور خرچ کا انتظام کردیں گے۔ خاکسار نے ملازمت کی معذوری ظاہر کی اور حضور نے فرمایا کہ کل بیعت لیں گے۔ اس کے بعد مفتی محمد صادق صاحب نے ولایت کی ڈاک سنائی۔ قریباً پچاس منٹ گزرنے کے بعد حضور نے عشا کی اذان کا حکم دیا اور نماز پڑھ کر اندر تشریف لے گئے۔ دوسرے دن مغرب کے وقت پھر میں اور میرا ساتھی بیعت کے لئے حاضر ہوئے۔ حضور نے پہلے میری بیعت لی اور فرمایا کہ جہاں آپ رہتے ہیں وہاں طاعون ہے۔ میں نے عرض کی کہ حضور اس طرف طاعون ہے۔ فرمانے لگے کہ وہ ہمارا نشان ہے اور دوران گفتگو میں حضور اپنے رانوںپر ہاتھ مارتے تھے۔ میرے بعد دوسرے دوست نے بیعت کی۔ اور ہم دوسرے دن اجازت لے کر اپنے گھر واپس چلے گئے۔ اس کے بعد میں وقتاً فوقتاً قادیان آتا ر ہا۔ اور حضور کے دیدار سے مشرف ہوتا رہا۔ مگر افسوس کہ وہ حالات اس وقت یاد نہیں۔

    چوہدری عبدالحکیم
    ولد چوہدری اشرف الدین
    عادل گڑھ تحصیل وزیر آباد
    ضلع گوجرانوالہ





    روایات
    مدد خاں انسپکٹر بیت المال قادیان ولد راجہ فتح محمد خاں صاحب
    سکنہ یاڑی پورہ ریاست کشمیر حال انسپکٹر بیت المال قادیان
    سن بیعت : ۱۸۹۶ء
    سن زیارت: ۱۹۰۴ء
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    اے میرے پیارے خدا کہ میں تیرے پاک نبیؑ کے حالات لکھنے لگا ہوں۔
    تو اس میں برکت ڈال اس میں کوئی بنائونی بات نہ لکھی جائے۔
    ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ۱۹۰۴ء میں جبکہ کرم دین کے ساتھ مقدمہ تھا۔گورداسپور میں چند و لعل کی عدالت میں اپنی طرف سے وکیل خواجہ کمال الدین صاحب تھے اور کرم دین کی طرف سے مول راج و نبی بخش وکیل تھے۔ قادیان سے خاکسار سید احمد نور صاحب اور حافظ حامد علی صاحب گڈے پر کتابیں لے کر گورداسپور پہنچے۔ تو دیکھاکہ ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب کڑیانی والے بہت ہی بگڑے ہوئے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب آپ کو اتنی گھبراہٹ کیوں ہے؟ فرمایا بھائی صاحب مجھ کو اس واسطے گھبراہٹ ہے کہ میں نے سنا ہے کہ یہاں پر یہ مشورہ کیا گیا ہے کہ حضور کو ضرور ہی حوالات میں دیا جائے۔ چاہے پانچ منٹ کے واسطے ہی کیوں نہ ہو۔ مگر خود ہی آپ کو حوالات میں دیا جائے۔ چند و لعل نے یہ پختہ ارادہ کرلیا ہوا ہے۔ مجھ کو یہ خبر ایک بڑے افسر نے دی ہے۔ میں نے داکٹر صاحب کو کہا کہ اب اپ کیا چاہتے ہیں۔ کیا کرنا چاہئے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ کئوی ثواب کا کام کرے۔ حضور کو یہ پیغام پہنچا دے کہ آپ گورداسپور نہ آئیں۔ بیماری کا سر ٹیفکیٹ لے لیں۔ اگر سو روپیہ بھی خرچنا پڑے تو خرچ دیں۔ میں خود ادا کردونگا۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کو کہا کہ کیا حضور جھوٹا سرٹیفکیٹ لیں؟ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ بھائی صاحب! اگر کسی نے ثواب لینا ہے تو لے۔ میں نے کہا۔ کہ کیا اسی وقت کوئی جائے؟ کہا۔ ہاں! اس کے بعد میں نے کہا۔ آپ مجھ لو لال ٹین لے دیں۔ میں ابھی رات رات ہی چلاجائونگا۔ ڈاکٹر صاحب نے اسی واقت لال ٹین دی۔ میں اسی وقت گورداسپور سے قادیان کو راونہ ہوا۔ جب میں شہر کے باہر سڑک پر پہنچا تو دو آدمی میری امداد کے واسطے آئے۔ ایک تو شیخ حامد علی صاحب تھے۔ دوسرے منشی عبدالغنی صاحب سیکرٹری روجلہ کا بھائی غالباً ان کا نام عبدالمجید تھا۔ جو فوت شدہ ہیں۔ غرض یہ کہ ہم تینوں قادیان پہنچ گئے۔ قریباً دو بجے مسجد مبارک میں جو کھڑکی اندر کی طرف ہے جس میں سے حضور نمازکے واسطے آیا کرتے تھے۔ دادی دادی کرکے میں آواز دینے لگا۔ اتنے میں حضور خود ہی تشریف لے آئے۔ ہم نے السلام علیکم عرض کیا۔ بعد السلام کے آپ نے فرمایا (میری ہی طرف مخاطب ہوکر) کہ آپ تو کتابوں کے ساتھ گورداسپور گئے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ حضور درست ہے گیا تو کتابوں کے ساتھ۔ مگر جب ہم گورداسپور پہنچے تو شام کا وقت ہوگیا تھا۔ دیکھا تو ڈاکٹر محمد اسمٰعیل صاحب کی بہت ہی بُری حالت اور گھبراہٹ تھی۔ اس لئے (اسی لئے) حضور میں واپس آگیا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب یہ سن کر میرا دل بہت گھبرایا اور رنج (رنجیرہ) ہوا ۔ صرف حضور کو یہ خبر دینے کے واسطے ہم تینوں آئے ہیں۔ حضور نے یہ ماجرا جب میری زبانی سنا تو فرمایا کہ چکروں کی بیماری تو مجھے پہلے ہی ہے اور سرٹیفکیٹ لینے کا ارادہ تو میرا پہلے ہی تھا۔ مگر اب تو میں گورداسپور جاکر سرٹیفکیٹ حاصل کرونگا۔ آپ نے اندر سے میرے واسطے رضائی منگوائی۔ جب رضائی آئی تو فرمایا کہ تم تو سو جائو۔ تم کو بہت ہی تھکان ہوگئی ہے۔میری طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ دیکھو میاں مددخاں قلم اس بانیٹے کے ہاتھ میں نہیںہے ۔قلم تو میرے خدا کے ہاتھ میں ہے ۔ آپ کوئی بھی غم دل میں نہ رکھیں وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا آپ بے فکر ہو کر سو جاو انشاء اللہ کل گورداسپورضرور ہی جائونگا۔ اور وہاں جاکر ہی سرٹیفکیٹ حاصل کرونگا۔ آپ بے فکر ہوکر سو جائیں۔ مجھے سلا کر آپ اندر تشریف لے گئے۔ میرے دل میں بہت ہی خوشی ہوئی۔ آپ کے الفاظ نے مجھے بالکل بے فکر کردیا۔ کہ اس بانئیے کے ہاتھ میں قلم نہیں ہے۔ قلم تو میرے خدا کے ہاتھ میں ہے۔ وہ کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ آپ بے فکر ہوکر سو جائیں۔ میں ایسا مست ہوکر سویاکہ دن کے بارہ بجے کے قریب میری آنکھ کھلی۔ وہ بھی میاں نجم الدین کی آواز دینے پرکہ کوئی روٹی کھانے والا ہو۔ تو آکر روتی کھالے۔ نجم الدین صاحب مرحوم آوازیں دیتے تھے۔ یہ آواز میرے کان میں بھی پڑ گئی۔ میں فوراً اٹھا اور پوچھا کہ حضرت صاحب کہاں ہیں۔ میاں نجم الدین صاحب کہنے لگے کہ بندے خدا۔ تو کہاں تھا؟ کہا۔ کہ میں تو اسی مسجد میں ہی سوایا ہوا تھا۔ مجھ کو تو نماز کی بھی خبر نہیں ہے کہ کب پڑھی۔ جاگ ہی نہیں آئی۔ آپ کی آواز پر مجھ کو جاگ آئی ہے۔ مجھ کو چلتا پھرتا کوئی نظر نہیں آتا۔ اب میں حیران ہوں کہ میں کب سویا تھا آیا نماز بھی پڑھی ہے یا نہیں۔ مجھے تو کوئی بھی خبر نہیں۔ آیا حضور چلے گئے ہیں یا نہیں؟ نجم الدین صاحب نے فرمایا۔ حضور نے گورداسپور پہنچ کر کھانا بھی کھالیا ہوگا۔ میرے خیال میں تو حضور دس بجے ہی گورداسپور پہنچ گئے ہونگے۔ اب تو اذاں کا وقت قریب ہے۔ اب تک تو سوتا ہی رہا۔ اتنے میں کسی دوست نے کہا کہ حضور نے تمہار ے واسطے یہ تاکید کی تھی کہ اس کو یکہ پر بٹھا کر لے آنا۔ یہ پیدل نہ آئے۔اس کو تکلیف ہوگی۔ اس وقت چوہدری اللہ داد صاحب اور شاید شیخ یعقوب علی صاحب نے یہ ذمہ لیا تھا کہ ہم ضرور اسے یکہ پر بٹھا کر لے ائیں گے۔ مجھے یہ خبر نہیں کہ یہ کس نے کہا تھا کہ حضور نے ایسا فرمایا کہ اسے یکے پر بٹھا کر لے آنا۔ مجھ کو میاں نجم الدین صاحب کہنے لگے کہ خیر کوئی بات نہیں ہے۔ آئو پہلے روٹی تو کھالو۔پھر گورداسپور چلے جانا۔ اتنے میں مولوی عبدالکریم صاحب بھی آگئے۔ فرمانے لگے کہ کیا بات ہے۔ میاں نجم الدین صاحب نے سب ماجرا سنایا۔ مولوی صاحب میری طرف مخاطب ہوکر کہنے لگے کہ دیکھو میاں مدد خاں میں خوب جانتا ہوں تمہاری حالت کو کہ تم کشمیر کے رہنے والے ہو۔ تم (محنت) کے آدمی نہیں ہو۔ تمہارے گائوں یاڑی پورہ میں تم لوگ زیادہ تر چاول ہی کھاتے رہتے ہو۔ تم نازک آدمی ہو۔ تم بیمار ہوجائو گے۔ یہ کشمیر نہیں ہے۔ یہ تو پنجاب ہے۔ اکثر یہاں پر بخار ہوجاتا ہے۔ تھکان کی وجہ سے کہیں بخار ہی نہ چھیڑ بیٹھنا گورداسپور جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ تونے تو ثواب ہی لینا ہے۔ آپ یہاں ہی حضور کے گھروں کی نگرانی کریں۔ پہرے دیں۔ کل پرسوں تک حضور بھی آجائیں گے۔ جائو روٹی کھائو۔ میں آپ کو ہمدردی کے ساتھ کہتا ہوں۔ آپ یاد رکھیں۔ اگر آپ چلے گئے تو تھکان سے ضرور بیمار ہوجائو گے۔ پھر تکلیف ہوگی۔ ایک آدمی کو مقرر کردیا تاکہ میں گورداسپور نہ جاسکوں۔ میں نجم الدین صاحب نے کہا کہ اب تو چلو روٹی کھائو۔ میں لنگرخانہ میں جاکر روٹی کھانے لگا۔ وہی آدمی جو میرے پر مقرر کیا گیا تھا ۔ اسے میں نے کہا اذان ہوگئی ہے۔ آپ جائیں وضو کرنے مسجد میں جائیں۔ وہ بھی خاکسار کی طرح کوئی پردیسی مسافر ہی تھا۔ وہ چلا گیا اور میں نے گورداسپور کا راستہ لیا۔ مگر تھکان کی وجہ سے مجھے چلا نہ جائے۔ بدن پتھر کی طرح ہوگیا تھا۔ بہت سخت تھکان تھی۔ نیند بھی بہت غالب ہوئی۔ بہر حال جبکہ میں تبڑ (ت ب ڑ) پہنچا تو سخت افسوس ہوا کہ سخت غلطی ہوئی کہ مولوی صاحب کا کہنا نہیں مانا۔ انہوں نے تو مجھے جانے سے بند کیا تھا۔ اب وہاں سے واپس ہونا بھی ٹھیک نہ سمجھا۔ مگر بدن تھکان کی وجہ سے بخار سا محسوس کررہا تھا۔ دل سے دعا نکلتی جائے کہ یا اللہ کسی نہ کسی طرح میں وہاں ڈیرے تک پہنچ جائوں۔ اور کسی جگہ لیٹ جائوں۔ نہ کسی کے ساتھ بولوں۔ نہ ہی میرے ساتھ کوئی بولے۔ اگر کوئی میرے ساتھ مل جائے تو کیا ہی اچھی بات ہو۔ اگر ہوسکے تو ایک پیالی چائے کی مل جائے تو شائد میرے بدن میں کوئی تھکان نہ رہے۔ نیند کا سخت غلبہ تھا غرض یہ کہ شام کی نماز پڑھ چکے تھے کہ میں مکان تک پہنچا۔ یہاں پر حضور ٹھہرے ہوئے تھے۔ دروازہ کے اندر ابھی داخل ہی ہوا تھا کہ میرے کان میں یہ آواز آئی کہ کیا مدد خاں کو بھی یکہ پر بٹھا کر لے آیا تھا یا نہیں۔ یہ آواز میرے کان میں بھی آگئی۔ جیسا کہ کوئی سویا ہوا جاگ اٹھتا ہے۔ اسی طرح میں بھی یہ آواز سن کر جاگ سا اٹھا۔ جب میں صحن میں پہنچا تو کسی دوست نے آواز دی کہ حضور مدد خاں آگیا ہے۔ میں بھی جاکر حضور کو سلام علیکم عرض کیا۔ حضور نے جھٹ اپنا دست مبارک آگ یکیا میرے ہاتھ کو پکڑ کر فرمانے لگے جزک اللہ ! یہ بہت ہی بہادر بڑے ہیں۔ یہ ا نکا تیسرا چکر ہے۔ حضور نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ مبارک میں یہاں تک پکڑا تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ گویا کہ میں گورداسپور سے کبھی قادیان گیا ہی نہیں یا تو میری حالت نیند و تھکان سے سخت مضطرب ہورہی تھی کہ کسی نے ساتھ بولنے کو بھی دل نہیں کرتا تھا۔ اور بدن میں بخار سا ہورہا تھا مگر خدائی شان خدا کے مرسل نے اس خاکسار کا ہاتھ نہ چھوڑا ۔ جب تک کہ میں نے محسوس کیا کہ میری تھکان بالکل اتر گئی ہے۔ چند منٹ پہلے ہی مردہ تھا ۔حضور کا دست مبارک میرے ہاتھ کو لگتے ہی میری کوفت اتر گئی۔ تھکان دور ہوگئی۔ بدن ہلکا پھلکا ہوگیا اور کوئی بھی تکلیف باقی نہ رہی۔ یہ کیا بات ہے یہ تو حضور ہی کی کوئی کرامت ہے۔ مجھ کو اس وقت یہ خیال ہوا کہ مان لیا بھوک اور پیاس کسی خوشی سے دور ہوسکتی ہے۔ مگر یہ کوفت ‘ تھکان ‘ نیند کا غلبہ حضور کے دست مبارک کے چھونے سے دور ہوگئے۔ یہ حضور کی ہی کرامت نہیں تو اور کیا ہے۔ مجھ مردہ میں گویا روح آگئی۔ حضور نے میرا ہاتھ نہیں چھوڑا۔ جب تک کہ ہر قسم کی تکلیف خاکسار کی روانہ ہوگئی۔ اس سے پیشتر میرا جسم پتھر تھا۔ ہلنا دشوار تھا۔ میرے خیال میں مردہ کو زندہ کرنا اسی کو کہتے ہیں۔ میں نے محسوس کیا کہ گویا میں گورداسپور سے قادیان گیا ہی نہیں۔ حضور نے حکم دیا کہ کھانا لائو۔ خاکسار کو بھی حضور نے ساتھ ہی بٹھا لیا۔ میں نے حضور کے ساتھ کھانا کھایا۔ یہ حضور کی مہربانی اور خاص شفقت تھی۔ اس سے پہلے جب میں آیا ہی تھا میرا دل یہ چاہتا تھا کہ حضور کے ساتھ واقفیت کسی طرح پیدا ہونی ضروری ہے (پیدا ہونی چاہئے) یعنی میرا نام حضور کی زبان مبارک پر چھڑ جائے (چڑھ جائے رواں ہوجائے) تو بہت ہی بڑی خوش قسمتی ہو اس کے واسطے کیا ذریعہ ہونا چاہئے چونکہ میرے میں کوئی ایسی خوبی نہ تھی جس کے سبب میں حضور سے واقفیت پیدا کرسکتا صرف غرض یہ تھی کہ اگر حضور میرا نام لیں گے تو خاکسار کی دین و دنیا کی کامیابی کے واسطے کبھی دعا فرمادیں گے اور خدا راضی ہوجائے گا۔ آخر کار دل نے یہ ذریعہ سوچا کہ جو چوپڑا خاکروب حضور کا پاخانہ صاف کرتا رہتا ہے اسکے ساتھ سمجھوتہ کرونگا کہ پاخانہ کا برتن میںخود پاخانہ سے نکال کر چوہڑے کو دیدیا کرونگا؟ میں خود ہی برتن صاف کرکے پاخانہ میں رکھ دیا کرونگا۔ اس ارادہ کے ساتھ دل پختہ ہوگیا کہ یہی کام ٹھیک ہے۔
    جب میں نے معلوم کیا کہ پاخانہ کہاں ہے تو معلوم ہوا کہ اندر کی طرف ہی ہے۔ چنانچہ میری بنی بنائی یہ عمارت بھی نہ رہی۔ اس وقت میں نے اپنے آپ کو خود ہی مخاطب کرکے کہا کہ تو تو پاخانہ کے لائق بھی نہ تھا۔ بہت ہی نادم ہوا۔ اپنے آپ کو بہت ہی ملامت کی۔ مگر میرے خدا نے میرے واسطے سامان واقفیت کا پیدا کردیا۔ کہ وہ میرے خیال وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ حضور جب گورداسپور پیشی پر جایا کرتے تھے تو آپ کی غیر حاضری میں پہرہ لگ جاتا۔ بہت سے دوست خود ہی پیرہ دینے کے واسطے آیا کرتے۔ مثلاً چوہدری فتح محمد صاحب منشے برکت علی صاحب اور بھی اسی طرح پندرہ ‘ بیس آدمی پہرہ دیا کرتے اور یہ پہرہ حضور کی واپسی تک ہوتا۔ حضور گرداسپور سے رات کو واپس آجاتے۔ چونکہ سب میں سے ایک میں ہی پردیسی تھا۔ یہ سب اکٹھے ہی ادھر ادھر چکر لگاتے تھے۔ اور مجھ کو یہ جو چھتی ہوئی گلی ہے جس کے اوپر مسجد مبارک ہے۔ اسی گلی میں مجھ کو کھڑا کرجاتے تھے۔ یہ سب ہی چکر لگانے کے واسطے چلے گئے صرف میں ہی اس گلی میں کھڑا تھا۔ حضور تشریف لے آئے اور بھی خدام حضور کے ساتھ تھے۔ حضور کو جھٹ السلام علیکم عرض کیا۔ حضور نے تو پہلے ہی السلام علیکم کہہ دیا تھا۔ جب میں نے سلام کیا تو حضور نے دریافت کیا کہ یہ کون صاحب ہیں۔ اکیلے ہی پہرہ دے رہے ہیں۔ اتنا مجھ کو یاد ہے۔ حضرت مفتی صاحب ۔ مفتی محمد صادق صاحب نے کہا کہ حضور اس کا نام مدد خاں ہے۔ تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے کہ کشمیر سے ائے ہیں ۔ راجہ عطا محمد خاں صاحب کے رشتہ داروں میں سے ہیں۔ حضور نے فرمایا۔ اچھا اچھا۔ جزاک اللہ جزاک اللہ۔ حضور اوپر تشریف لے گئے اور میں بھی اپنی جگہ پر آکر سوگیا۔ اسی طرح تین بار حضور سے موقعہ ملا ہے۔ خدا کے فضل و کرم سے حضور کی زبان مبارک پر میرا نام خوب اچھی طرح چڑھ گیا اور مجھ کو کئی بار نام لے کر بلایا۔ خدا نے میری آرزو کو اس طرح پورا کیا۔ الحمد اللہ رب العلمین
    خاکسار مدد خاں
    ولد راجہ فتح محمد خاں
    انسپکٹر بیت المال
    بیان نمبر ۵۔
    میں جو کچھ بھی ذیل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق لکھونگا وہ اپنی دیدہ اور مشاہدہ حالات کو زیر قلم کئے ہوئے ہوگا۔ اے خدا میرے بیانات میں اگر کسی قسم کی غلطی رہ جائے تو اس کی پردہ پوشی کیجئیو اور میری ناقص تحریر میں برکت ڈالئیو۔ آمین۔
    ۱۔ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کا وقت قریب تھا تو اس وقت خاکسار حضور کو دبا رہا تھا۔ میں حضور چار پائی پر داہنی طرف بیٹھا ہوا تھا۔ جس وقت حضور کی نزع کا وقت قریب آیا اور حضور کی پاک روح اپنے مالک حقیقی کی طرف پرواز کررہی تھی تو اس وقت حضرت ام المومنین تشریف لائے۔ اور میرے پاس ہی چارپائی پر حضور کے سرمبارک کی طرف بیٹھ کر خداتعالیٰ سے حضور کی صحت کیلئے دعا مانگنی شروع کی۔خاکسار اس وقت حضور کی ٹانگیں اور پائوں دبا رہا تھا۔ مجھ کو خوب اور اچھی طرح یاد ہے کہ حضرت ام المومنین نے حضور کی نزع کے وقت حضور کو چینی کی پیالی میں قہوہ یا شہد ڈال کر (میرا غالب خیال ہے کہ قہوہ ہی تھا) جو کہ اس وقت حضور کے دہن مبارک میں دو بار ٹپکایا۔ جب پہلی دفعہ ٹپکایا تو حضور کے حلق سے نیچے اتر گیا۔ لیکن جب دوسری دفعہ ٹپکایا گیا تو میں نے دیکھا کہ حضور کو حلق سے نیچے کرتے وقت تکلیف ہوتی تھی۔ جس پر میں نے حضرت ام المومنین کی خدمت میں عرض کی کہ اماں جی حضور کو پیتے وقت تکلیف ہوتی ہے۔ حضور کو نہ پلاویں۔ حضور تو اب جارہے ہیں۔ آپ نے میری طرف م نہ پھیر کر دیکھا اور حضور کو پلانا چھوڑ دیا۔ اسی اثناء میں حضور دو تین منٹ کے اندر اندر ہی اپنے حقیقی مالک کو جاملے۔ مجھ کو وہ وقت بھی یاد ہے کہ جب حضور نے اپنی وفات سے پیشتر ہی فرمایا تھا کہ ’’میری وفات اب قریب ہے وہ وقت جو ہوگا اک قیامت کا نمونہ ہوگا۔‘‘
    آپ کا فرمانا بجا تھا۔ وہ وقت ہمارے لئے بعینہ ایک قیامت کا نمونہ تھا۔ ہمارے حوش و ہواس (ہوش و حواس) اختیار میں نہ تھا۔ زمین و آسمان چکر کھاتے نظر آرہے تھے اور تمام دوست جو اس وقت موجود تھے۔ زار و قطار رو رہے تھے۔ میری حالت ایسی تھی جیسے کوئی سودائی ہوتا ہے اور دیوانہ وار روئے چلا جارہا تھا۔ دل میں سخت پریشانی اور اضطراب تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب حضور کی حالت بدل رہی تھی تو ہمارے موجودہ امام حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرالعزیز یہ دعائیں مانگ رہے تھے کہ اے خدا ہماری عمریں آپ کو دیدے۔ بار بار یہی الفاظ آپ اپنی زبان سے نکال رہے تھے اور چارپائی کے گرد گھوم رہے تھے۔ یا تو آپ بار بار مذکورہ الفاظ آپ حضور کے لئے بطور دعا استعمال میں لارہے تھے یا ایک دم ہی پہلے الفاظ بدل کر یہ الفاظ کہنے شروع کئے کہ میں دشمن کے ساتھ مقابلہ کرونگا اور ضرور ہی کرونگا۔ مجھ کو ان سے آگے اور الفاظ یاد نہیں رہے۔ جو آپ نے اس وقت کہے۔ آپ کے یہ الفاظ کہنے پر مجھے یہ خیال گزرا کہ آپ نے یہ الفاظ کیوں کہنے شروع کردئے۔ لیکن یہ خدا ہی بہتر جانتا تھا کہ ان الفاظ میں کیا راز مضمر تھا۔ اس کے بعد تمام لوگ باہر برآمدہ میں آ بیٹھے۔ چونکہ اندر کثرت سے مستورات آگئی تھیں۔اس وقت جب کہ تمام لوگ آپ کی وفات پر رو رہے تھے۔ ان میں مولوی محمد حسین صاحب امروہی (مولوی محمد احسن صاحب امروہی) بھی شامل تھے۔ جو کہ نہایت اضطراب اور بے قراری سے رو رہے تھے۔ اتنے میں حضرت خلیفہ اولؓ تشریف لے آئے۔ آپ نے تمام احباب کو روتے دیکھ کر مولوی محمد حسین امروہی (مولوی محمد احسن صاحب امروہی) کو مخاطب کرکے فرمایا کہ مولوی صاحب اگر ہم تو اس طرح روتے رہے تو یاد رکھیں ۔یہ سب کے سب لوگ ابھی ہلاک ہوجائیں گے۔ ان میں سے ایک بھی زندہ نہ رہے گا۔ آپ اچھا نہیں کررہے۔ کیا نورالدین کو آپ ؑ سے پیار یا محبت نہیں تھی۔ مولوی صاحب نے کہا اس وقت جناب اپ صدیق بھی تو تھے۔ کہاں آپ اورکہاں ہم۔ اس کے بعد اس خیال پر کہ ہم اسی رات قادیان چلے جائیں گے اپنی اہلیہ کو اپنی کوٹھی سے لینے چلے گیا۔ میرے واپس آنے تک حضور کا جنازہ پڑھا جاچکا تھا۔ جب میں واپس آیا تو اس وقت بھی پچاس ساٹھ کے قریب اشخاص تھے۔ جنہوں نے ابھی جنازہ نہیں پڑھی تھی (پڑھا تھا) لہذا ہم نے پھر اکٹھے ہوکر نماز جنازہ ادا کی۔ ان دنوں میں چونکہ نواب محمد علی ؓ صاحب کے ہاں ملازم تھا۔ اس لئے بعض حالات کے ماتحت ہم جنازہ کے ساتھ اسی وقت قادیان نہ آسکے۔ صرف سٹیشن تک ہی جنازہ کے ساتھ آئے اور پھر واپس چلے گئے۔ لیکن کچھ دنوں بعد ہم بھی قادیان آگئے۔ حضور کی وفات ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب کے مکان کے اوپر کے کمرے میں ہوئی تھی۔ جب میں اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر واپس آیا تو حضور کی نعش مبارک کو اوپر سے اتار کر نیچے صحن میں چارپائی پر رکھا ہوا تھا۔ اور دروازہ پر پولیس کا پہرہ تھا۔ میں جب اندر جانے لگا تو پہرہ داروں نے مجھے اندر جانے سے روکا۔ اتنے میں خواجہ کمال الدین صاحب آئے انہوں نے جب دیکھا کہ پولیس والے مجھے اندر جانے سے روک رہے ہیں تو آپ نے پولیس والوں کو کہا کہ انہیں مت روکو۔ یہ خاص اپنے آدمی ہیں ان کو جانے دو۔ جب میں اندر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضور ؑکی نعش مبارک صحن میں چارپائی پر رکھی ہوئی (ہے)۔ میں دیکھتے ہی پھر رونے لگ پڑا۔ یہ میرے اپنے اختیار کی بات نہ تھی۔ بلکہ ہر ایک کو آپ کو دیکھتے ہی خودبخود رونا آتا تھا کیونکہ ہر ایک کو آپ کی جدائی کا ازحد صدمہ تھا۔ اس وقت چاروں طرف سے رونے چیخوں کی پکار سنائی دیتی تھی۔ غرض یہ کہ اس قدر شور تھا کہ ہمارے رونے کی آواز دیواروں اور پتھروں سے ٹکرا کر ایک اور آواز پیدا کررہی تھی۔ ایسا معلوم ہورہا تھا کہ دیواریں اور پتھر بھی آپ کی جدائی پر ہمارے رونے میں شامل ہیں۔ وہ سماں ایک حشر کا نظارہ دکھا رہا تھا۔ ایسا معلوم ہورہا تھا کہ آپ کی جدائی کے صدمہ میں کئی جانیں ہلاک ہوجائیں گی۔ میں نے اپنی اہلیہ کو تو اندر بھجوا دیا۔ جہاں کہ مستورات کا بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا اور میں خود حضورؑ کی چارپائی کے ساتھ اپنا سر لگا کر رونے لگ پڑا۔اتنے میں ڈاکٹر سید حسین شاہ صاحب بمعہ ایک ہندو بابو صاحب کے آئے ۔ جب وہ چارپائی کے قریب آئے تو ڈاکٹر صاحب نے مجھے کہا کہ میاں مدد خاں یہ بابو صاحب حضور کو دیکھنے کے لئے آئے ہیں۔آپ حضور کے چہرہ مبارک سے ذرا کپڑا اٹھادیں۔ تا بابو صاحب حضور کا چہرہ مبارک دیکھ لیں۔ میں نے حضور کے چہرہ سے جب کپڑا اٹھایا تو اس ہندو بابو کو حضور کا نورانی چہرہ دیکھتے ہی رونا آگیا اور پھر سجدہ میں گر پڑا اور روتے روتے کہنے لگا کہ یہ تو پرماتما ہے یہ منش (انسان)نہیں ہے۔ہائے افسوس! میری بدقسمتی نے مجھے اس درجہ تک پہنچا دیا کہ میں بدقسمت آپ کی زندگی میں آپ کا درشن (دیدار) نہ کرسکا۔ یہ میری بدقسمتی تھی کہ میں ہمیشہ تیاریاں ہی کرتا رہا کہ جاکر آپ کا درشن کروں مگر میری بدقسمتی نے مجھ کو راستہ نہ دیا۔ اور آپ کی خدمت میں نہ ہی آنے دیا۔ افسوس درشن تو ہوا مگر آپ کی زندگی میں نہ ہوا۔ آپ نے اپنا چہرہ مبارک تو دکھایا مگر مر کر ہی دکھایا۔ ہائے افسوس میں کیسا ہی بدبخت انسان ہوں۔جب تک وہ سجدہ میں گرا رہا۔ وہ اپنے اپ کو بہت ہی کوستا اور ملامت کرتا رہا اور ساتھ ہی کثرت سے آہ و زاری کرتا رہا۔ اس کی آہ و زاری نے حاضرین کو پھر دوبارہ رولادیا اور ایسا رولایا کہ کوئی فرد اس وقت ایسا نظر نہیں آتا تھا۔ جو رو نہ رہا ہو۔ وہ وقت بھی واقعی ایک قیامت کا نمونہ تھا۔ مجھ کو اس وقت یاد آگیا جن دنوں پہلے پہلک وصیت کرنے کا حکم ہوا تھا۔ ان ہی دنوں حضور نے اپنے گھر میں جہاں اب حضرت صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب رہائش رکھتے ہیں۔ اس کے ایک کمرہ میں جہاں کہ کاٹھ کا زینہ لگا ہوا تھا۔ حضور (نے) اس کے ذریعے اوپر سے نیچے تشریف لاکر تقریر فرمائی۔جس میں آپ نے فرمایا کہ مجھ کو خداتعالیٰ کی طرف سے بار بار پیغام آرہا ہے کہ اب میری وفات کا وقت بہت قریب آرہا ہے۔ لیکن ادھر میں دیکھتا ہوں کہ میری جماعت اب بالکل شیر خوار بچے کی مانند ہے۔ جیسے کسی شیر خوار بچے کی ماں مرجاتی ہے اور وہ شیرخوار بچہ اپنی ماں کو نہ پاکر بلبلاتا اور روتا ہے۔ ویسی حالت اس وقت میری جماعت کی ہے۔ جس کا یہ غم بھی میرے دل میں ہی ہے۔
    ۲۔ حضور نہایت ہی شفیق اور مہربان تھے۔ آپ کی شفقت کے متعلق مجھے یاد ہے کہ جن دنوں میں نواب محمد علیؓ خانصاحب رئیس مالیر کوٹلہ کے ہاں ملازم تھا۔ ایک دفعہ مجھے اپنی اہلیہ سمیت نواب صاحب کے ہمراہ لاہور جانے کا اتفاق ہوا۔ ان دنوں نواب صاحب کی کوٹھی لاہور کے جیل خانہ کے قریب ہی تھا۔ (تھی)۔ ہم بھی نواب صاحب کے ہاں اس کوٹھی میں ٹھہرے۔ ہمارے لاہور میں آنے کے کچھ دن بعد حضوربھی بمعہ حضرت ام المومنین لاہور تشریف لائے اور اپنی رہائش ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان پر فرمائی۔چنانچہ یہی وہ موقعہ تھا جس میں کہ حضور کا وصال ہوجاتا ہے۔ ’’حضورؑ کے لاہور تشریف لانے پر۔ میری بیوی ہضور کے ہاں ملنے چلی گئی۔ اس کے جانے کے تین چار دن بعد میں کچھ بیمار ہوگیا۔ میری بیماری کی خبر کسی نے ام المومنین کی خدمت میں بھی پہنچا دی۔ جس کی اطلاع پاتے ہی حضرت ام المومنین میری بیوی کو میری بیماری کی خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ تو جلدی چلی جا۔ اتنے میں حضور بھی باہر کے اندر تشریف لے آئے۔ اور فرمانے لگے کہ اب تو عصر کا وقت ہوگیا ہے۔ کل ہم جب سیر کے لئے رتھ میں جائیں گے تو اس کو (میری بیوی) بھی اپنے ساتھ رتھ میں بٹھا کر لے جائیں گے اور وہاں اتار دیںگے۔ جس پر حضرت ام المومنین نے حضور کو فرمایا کہ حضور کلثوم (میری بیوی کا نام) کو ابھی رخصت کردینا ضروری ہے۔ کیونکہ میں نے سنا ہے کہ مدد خاں بیمار ہے۔ اس لئے اس کا ابھی چلے جانا ضروری ہے۔ تب حضور نے اس وقت میری بیوی کو جانے کی اجازت دے دی اور رتھ کے ساتھ غوث بی بی زوجہ نور محمدصاحب مرحوم خادم کو اس کے ہمراہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جاکر کلثوم کو پہنچا آ۔ اور ساتھ ہی فرمایا کہ کلثوم! فکر نہ کریں۔ انشاء اللہ سب خیر ہوگی۔ میں بھی دعا کرونگا۔ انشاء اللہ خداتعالیٰ رحم کرے گا۔ یہ لے خربوزہ ۔ جاکر مدد خاں کو دے دینا۔ خدا شفا دے گا۔ خربوزہ میری بیوی نے مجھے آکر دے دیا۔ اور کہا کہ حضور نے یہ خربوزہ آپ کے لئے بھیجا ہے۔ میں نے کہا کہ کیا حضور نے میرا نام لے کر یہ خربوزہ تم کو دیا تھا۔ جس پر میری بیوی نے کہا کہ ہاں یہ خربوزہ حضور نے آپ کا ہی نام لے کر آپ کے لئے بھیجا ہے اور ساتھ ہی فرمایا تھا کہ یہ خربوزہ وہ کھالیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں شفا دیگا۔میں نے وہ خربوزہ اپنی بیوی سے لے کر کھالیا وہ خربوزہ وزن میں کوئی تین پائو کے قریب ہوگا۔ خربوزہ کھاتے ہوئے میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ حضور کا یہ تبرک میں اکیلا ہی تمام کا تمام کھائونگا۔ اور کسی کو بھی نہ دونگا۔ اس پر میری بیوی نے کہا کہ حضور نے بھی یہی فرمایا تھا کہ یہ میرا تبرک اپنے میاں کو دینا اور ان کو کہنا کہ تبرک کھالیں۔خدا شفا دے گا۔ پھر کہنے لگی کہ ہم نے تو بہت خربوزے کھائے ہیں۔ یہ حضور نے صرف آپ ہی کے لئے دیا ہے۔ میں نے وہ خربوزہ سب کا سب کھالیا۔ جس کے کھانے پرمیری شدید درد جاتی رہی او رمیری بیماری دور ہوگئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خداتعالیٰ کے پاک بندے اپنے مبارک ہاتھوں میں شفاء کا اثر اور دعائوں میں شرف قبولیت رکھتے ہیں۔ گویا خداتعالیٰ اپنے پاک بندوں سے اتنا راضی ہوجاتا ہے کہ اس کا اپنا آپ ان کے لئے ہوجاتا ہے۔ جو اس کا پیارا بندہ کہتا ہے وہ ہوکر ہی رہتا ہے۔ حضور کی مجھے اس شفقت اور محبت سے پتہ ملتا ہے کہ حضور اس قسم کے شفیق تھے کہ ہر ایک سے اپنے بچوں کی طرح شفقت اور حسن سلوک سے پیش آتے کہ آپ کی نظیر اس زمانہ میںکہیں نہیں ملتی۔
    ۳۔ ایک دفعہ مجھے اپنے وطن میں رمضان المبارک کے مہینے میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اس دفعہ قادیان میں جاکر روزے رکھوں اور عید وہیں پڑھ کر پھر اپنی ملازمت پر جائوں۔ ان دنوں میں ابھی نیا نیا ہی فوج میں جمعدار بھرتی ہوا تھا۔ میری اس وقت ہر چند یہی خواہش تھی کہ اپنی ملازمت پر جانے سے پہلے میں قادیان جائوں۔ تا حضور کے چہرہ مبارک کا دیدار حاصل کرسکوں۔ اور دوبارہ آپ کے دست مبارک پر بیعت کا شرف حاصل کروں۔ کیونکہ میری بیعت ۱۹۹۵ء یا ۱۹۹۶ء (خانصاحب کو غلطی لگی ۱۸۹۵ء یا ۱۸۹۶ئ) میں ڈاک کے ذریعہ ہوئی تھی نیز جمیرا ان دنوں قادیان میں آنے کا پہلا ہی موقعہ تھا نیز اس لئے بھی میرے دل میں غالب خواہش پیدا ہوئی کہ ہونہو ضرور اس موقعہ پر حضور کا دیدار کیا جاوے۔ شاید اگر ملازمت پر چلا گیا تو پھر خدا جانے حضور کو دیکھنے کا موقعہ ملے یا نہ ملے۔ لہذا یہی ارادہ کیا کہ پہلے قادیان ہی چلا جائوں اور حضور کو دیکھ آئوں اور بعدہ وہاں سے واپس آکر اپنی ملازمت پر چلا جائوں۔میں قادیان کو جان کر یہاں آیا لیکن جونہی یہاں آکر میں نے حضور کے چہرہ مبارک کا دیدار کیا تو میرے دل میں یک لخت یہ خیال پیدا ہوا کہ اگر مجھ کو ساری ریاست کسمیر بھی مل جائے تو بھی آپ کو چھوڑ کر قادیان سے باہر ہرگز نہ جائوں یہ محض آپ کی کشش تھی جو مجھے واپس نہ جانے پر مجبور کررہی تھی۔ میرے لئے آپ کا چہرہ مبارک دیکھ کر قادیان سے باہر جانا بہت دشوار ہوگیا۔ یہاں تک کہ مجھے آپ کو دیکھتے ہی سب کچھ بھول گیا۔ میرے دل میں بس یہی ایک خیال پیدا ہوگیا کہ اگر باہر کہیں تیری تنخواہ ہزار روپیہ بھی ہوگی تو کیا ہوگا۔ لیکن تیرے باہر چلے جانے پر پھر تجھ کو یہ نورانی اور مبارک چہرہ ہر گز نظر نہ آئے گا۔ میں نے اس خیال پر کہ اپنے وطن کو جانا ترک کردیا۔ اور یہی خیال کیا کہ اگر آج بالکل تیری موت آجائے تو حضور ضرور ہی تیرا جنازہ پڑھائیں گے۔ جس سے تیرا بیڑا پار ہوجائے گا اور اللہ بھی راضی ہوجائے گا اور قادیان میں ہی رہنے کا ارادہ کرلیا۔ میرا یہاں پر ہر روز کا یہی معمول ہوگیا کہ ہر روز ایک لفافہ دعا کے لئے حضور کی خدمت میں آپ کے در پر جاکر کسی کے ہاتھ بھجوادیا کرتا مگر دل میں یہی خطرہ رہتا کہ کہیں حضور میرے اس عمل سے ناراض نہ ہوجائیں اور اپنے دل میں یہ محسوس نہ کریں کہ یہ ہر وقت ہی تنگ کرتا رہتا ہے۔ لیکن میرا یہ خیال غلط نکلا۔ وہ اس لئے کہ ایک روز حضور نے مجھے تحریراً جواب میں فرمایا کہ آپ نے یہ بہت ہی اچھا رویہ اختیار کرلیا ہے۔ کہ تم مجھے یاد کرتے رہتے ہو جس پر میں بھی آپ کے لئے خداتعالیٰ سے دعا کرتا رہتا ہوں اور انشاء اللہ پھر بھی کرتا رہوں گا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ضرور ہی دین و دنیا میں کامیاب کرے گا اور خدا آپ پر راضی ہوجائے گا اور آپ کی شادی بھی خدا ضرور ہی کرادے گا۔ آپ مجھ کو یاد دہانی کراتے رہا کرو۔ میں آپ پر بہت خوش ہوا۔ خاکسار نے حضور کی اس تحریر کو شیخ غلام احمد صاحب نو مسلم کو دکھایا اور کہا کہ حضور نے آج خاکسار کو یہ تحریر فرمایا ہے اور پھر کہا کہ یہ کیا بات ہے کہ میں نے تو کبھی بھی کسی موقعہ پر حضور کو اپنی شادی کرنے یا کرانے کا بارہ میں اشارہ تک نہیں کیا۔اس پر شیخ (صاحب) ہنس کر کہنے لگے کہ اب تو تمہاری شادی بہت ہی جلد ہونے والی ہے کیونکہ حضور کا فرمانا خالی نہیں جایا کرتا۔ آپ تیار ہی رہیں۔ خدا شاھد ہے کہ حضور کے اس فرمانے کے بعد قریباً دو ماہ کے اندر اندر ہی میری شادی ہوگئی۔ اس سے پہلے میری کوئی بھی کسی جگہ شادی نہیں ہوئی تھی۔ میری دو شادیاں حضور ہی نے کرائی تھیں۔ ورنہ مجھ جیسے پردیسی کو کون پوچھتا تھا۔ یہ محض حضور ہی کی خاص مہربانی اور نظرکرم تھی کہ آپ کے طفیل میری شادیاں ہوئیں۔ کہاں میں اور کہاں یہ عمل۔
    ۴۔ حضور حددرجہ کے رحیم اور کریم تھے۔ کئی بار دیکھا گیا کہ جب کبھی بھی میرے پر کسی قسم کی رنجیدگی پیدا ہوئی یا تفکرات نے غلبہ کیا تو حضور کے پاس چلے جانے اور حضور کا نورانی چہرہ دیکھکر میرے تمام رنج و غم اور تفکرات دور ہوجاتے اور ان کی بجائے دل و دماغ میں بشاشت پیدا ہوجاتی۔ اس لئے یہ بات مشہور ہے کہ سنگے پارس (سنگ پارس) کے ساتھ جو چیز لگائی جائے وہ سونا ہوجاتی ہے۔ سنگ پارس کا یوں تواپنا کوئی وجود نہیں ہے بلکہ عقلاً معلوم ہوتا ہے کہ لفظ ’’پارس‘‘ پارے کا مخفف کردہ ہی پارسا اصل میں خدا ہی کے نبی اور پیارے بندے ہوتے ہیں۔ جو بھی ان کے ساتھ لگا یعنی ان کے پاس بیٹھا وہ بھی خدا کانیک اور پارسا بندہ ہوگیا۔ اسی مفہوم کو ادا کرتے ہوئے کسی نے خوب کہا ہے کہ ’’جو بُروں کے پاس بیٹھے گا بُرا ہوجائے گا۔ نیک ہونے کے لئے نیکوں کی صحبت چاہئے۔
    ذیل کا شعر بھی اس لئے کسی نیاپنے پیرومرشد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن سے کہ مذکورہ مطلب ادا ہوتا ہے۔
    آناں کہ خاک رابہ نظر کیمیا کنند آیا بود کہ گوشئہ چشمے عیاںکنند
    ۵۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کرم الدین والے مقدمہ میں حضور کو بھی پیشی پر جانا پڑا۔ ہضور کے ساتھ میں بھی وہاں گیا۔ جب عدالت میں حضور پیش ہوئے تو چند ولعل نامی مجسٹریٹ نے حضور سے سوال کیا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ کو میرے بارہ میں کوئی الہام ہوا ہے۔ آپ بتائیں کہ وہ کیا ہوا ہے۔ حضور نے جواباً فرمایا کہ ابھی تک مجھ کو خداتعالیٰ کی طرف سے آپ کے بارہ میں کوئی الہام نہیں ہوا۔ مجھ کو تو جب بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی کے بارہ میں یا کسی قسم کاالہام ہوتا ہے تو میں اس کو اخبار میں شائع کرادیا کرتا ہوں۔ اس لئے کیونکہ میرا خدا کہتا ہے کہ اس کو شائع کردے۔جس پر میں اسے شائع کردیا کرتا ہوں)۔ اس میں میرا کسی قسم کا دخل نہیں ہوتا اور نہ ہی میرا واسطہ اور منصوبہ ہوتا ہے مجھ کوتو میرا خدا الہام میں کہہ دیتا ہے کہ یہ الہام سب کو سنادے اور شائع کردے جس پر میں اپنے خدا کے حکم کی تعمیل کردیتا ہوں۔)
    الہام کو پورا کرنا اس کا اپنا کام ہے۔ چندولال مجسٹریٹ نے دوباہر کہا کہ میں نے سنا تھا کہ آپ کو میرے بارہ میں الہام ہوا ہے۔ حضور نے فرمایا کہ چونکہ آپ کے پاس ہمارا مقدمہ چل رہا ہے۔ اس لئے مخالف فریق نے آپ کو کہہ دیا ہوگا کہ مجھے آپ کے متعلق الہام ہوا ہے لیکن مجھے آپ پر کوئی کسی قسم کا گلہ نہیں ہے۔ آپ عدالت کی کرسی پر بیٹھے ہیں۔ آپ جو چاہے (چاہیں) فیصلہ کریں ۔ یہ لازمی امر ہے کہ مقدمہ میں اگر فیصلہ کسی کے موافق ہوتا ہے تو دوسرے کے مخالف ہوگا تب مجسٹریٹ صاحب نے پھر کہا کہ میں نے سنا تھا کہ آپ کو میرے بارہ میں کوئی الہام ہوا ہے۔ حضور نے پھر جواب میں فرمایا کہ ابھی تک آپ کے بارہ میں مجھ کو خدا کی طرف سے کوئی اطلاع نہیں ہوئی۔
    خاکسار
    مددخاں انسپکٹر بیت المال
    قادیان ۳۸۔۳۔۱۲