1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

روایات اصحاب احمد ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ یونی کوڈ۔ جلد 1

'حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 23, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    روایات اصحاب احمد ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ یونی کوڈ۔ جلد 1

    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم

    روایات
    جناب برکت علی صاحب مرزا ۔پنجاب سپورٹ اینی آبادپارک لکھنؤ
    بندہ ۴ اپریل ۱۹۰۵ء کے زلزلہ عظیم میں بھاگسو ضلع کانگڑہ بمقام ایردھرم سالہ ایک مکان کے نیچے دب گیا تھا اور بصد مشکل باہر نکالا گیا تھا۔ اس موقعہ کے چشم دید گواہ بابو گلاب دین صاحب اوور سیئر پنشنر جو ان ایام میں وہاں پر بطور سب ڈویژنل آفیسر تعینات تھے۔ آج سیالکوٹ میں زندہ موجود ہیں۔ اس واقعہ کے ایک دو ماہ قبل جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس زلزلہ عظیم کی پیشگوئی شائع فرمائی تھی۔ بندہ خود بھی قادیان دارالامان موجود تھا اور حضور کے شائع فرمودہ اشتہارات ہمراہ لے کر دھرم سالہ چھائونی پہنچا اور وہ اشتہارات متعدد اشخاص کو تقسیم بھی کئے تھے چونکہ بندہ وہاں بطور کلرک کام کرتا تھا اور عارضی ملازمت میں مجھے فرصت حاصل تھی۔ اس لئے بندہ وہا ںوقتاً فوقتاً مرزا رحیم بیگ صاحب احمدی صحابی کو بھی ملنے جایا کرتا تھا۔ مرزا صاحب موصوف مغلیہ برادری کے ایک بڑے خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے دوسرے بھائی احمدی نہ تھے صرف ان کی اپنی بیوی بچے ان کے ساتھ احمدی ہوئے اور باقی تمام لوگ ان کی سخت مخالفت کرتے تھے۔ اس زلزلہ میں وہ سب خزانہ محفوظ رہا اور بعض اور احمدی بھی جو مختلف اطراف سے وہاں پہنچے ہوئے تھے سب کے سب اس زلزلہ کی تباہی میں بچ گئے حالانکہ وہاں کا اندازہ میرے خیال میں نوے فیصدی جانوں کا نقصان تھا۔ اور ایسے شدید زلزلہ میں ہم سب احمدیوں کا بچ جانا ایک عظیم الشان نشان تھا۔ اس کی تفصیل اگر پوری تشریح سے لکھوں تو یقینا ہر طالب حق خداتعالیٰ کی نصرت کو احمدیوںکے ساتھ دیکھ سکے گا۔ کیونکہ میرے اہل و عیال بلکہ خانصاحب گلاب خاںصاحب کے اہل و عیال اور مستری اللہ بخش صاحب سیالکوٹی اور انکے ہمراہ غلام محمد مستر ی اور دوسرے احمدی احباب کے اس زلزلہ کی لپیٹ سے محفوظ رہنے کے متعلق جو قدرتی اسباب ظہور میں آئے ان میں ایک ایک فرد کے متعلق جدا جدا نشان نظر آتا ہے خصوصاً مستری الٰہی بخش صاحب کی وہاں سے ایک دن قبل اتفاقی روانگی اور ہمارے اہل و عیال کی کچھ عرصہ قبل وہاں سے وطن کی طرف مراجعت کرنا اور زلزلہ سے پیشتر بعض احباب کا دکان سے باہر نکل جانا اور زلزلہ میں دب کر عجیب و غریب اسباب سے باہر نکلنا سب باتیں بطور نشان تھیں اور میرا ارادہ ہے کہ اس پر تفصیل سے ایک مضمون لکھ کر ارسال خدمت کروں۔ لیکن فی الحال مختصراً ا ن مقامات کا تذکرہ کیا گیا ہے جن کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ملاقات کے سلسلہ میںپیش آئے ہیں۔ اس زلزلہ کے کچھ دن بعد جب خاکسار قادیان میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضور ان ایام میں آم کے درختوں کے سایہ میں مقبرہ بہشتی کے ملحقہ باغ میں خیمہ زن تھے۔ جب بندہ نے حضور سے ملاقات کی تو حضور نے میرے متعلق کئی سوال کئے کہ آپ مکان کے نیچے دب کر کس طرح زندہ نکل آئے تو بندہ نے حضور کی خدمت میں عرض کی کہ مجھے مستری اللہ بخش صاحب احمدی کی چارپائی نے بچایا جو ایک بڑی دیوار کو اپنے اوپر اٹھائے رکھا اور مجھے زیادہ بوجھ میں نہ دبنا پڑا۔ ایسے ہی حضور نے اور احمدیوں کے متعلق سوالات کئے اور بندہ نے سب دوستوں کے محفوظ رہنے کے متعلق شہادت دی۔ حالانکہ حضور اس سے قبل اشتہار میں شائع فرما چکے تھے کہ زلزلہ میں ہماری جماعت کا ایک آدمی بھی ضائع نہیں ہوا اور مجھے یقین ہے کہ حضور کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کا علم ہوچکا تھا ورنہ مجھ سے قبل دھرم سالہ سے کوئی احمدی حضور کی خدمت میںحاضر نہیں ہوا پس حضور سے بندہ کی ملاقات جو زلزلہ کانگڑہ کے بعد ہوئی اس میں احمدیوں کے بچ جانے کوحضور نے ایک نشان قرار دیا ہے۔ اور خصوصاً میرا اپنا زلزلہ میں دب کر بچ جانا نشان ہے جس کا بذریعہ تحریر اعلان کردیا گیا ہے۔ مبارک وہ جو اس چشم دید نشان سے عبرت پکڑیں اور خدا کے فرستادہ پر ایمان لائیں۔ فقط
    خاکسار برکت علی مرزا
    پنجاب سپورٹ اینی آباد پارک لکھنؤ


    روایات
    میاں غلام رسول صاحب ولد میاں چراغ دین صاحب
    سن بیعت ۱۸۹۸ء معرفت بابو عبدالکریم صاحب پوسٹل کلرک
    گوجرانوالہ ہیڈ آفس
    ۱۔ میں اور بھائی میراں بخش صاحب احمدی درزی جب پہلی دفعہ قادیان گئے تاکہ خدا کے پیارے مسیح کی زیارت کریں تو معلوم ہوا کہ حضور مسجد مبارک میں تشریف فرما ہیں۔ ہم دونوں وہاں چلے گئے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت حاصل کی۔ مصافحہ کرنے کے بعد حضور نے ہم سے دریافت کیا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو۔ تو ہم نے جواب دیا کہ حضور ہم گوجرانوالہ کے رہنے والے ہیں اس کے بعد ہم نے حضور کو بیعت لینے کے لئے کہا تو حضور نے ہم دونو ںکی اور ایک اور کی بیعت لی ۔ ہماری بیعت ختم ہونے کے بعد ایک لدھیانہ کے آدمی نے عرض کی کہ حضور میری بیعت بھی لیں تو حضور نے فرمایا کہ تمہاری بیعت کل لی جائیگی اس کے بعد ہم واپس چلے آئے۔ دوسری صبح جب حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کو ملنے کے لئے گئے تھے حضور ہم دونوں کو ساتھ لے کر سیر کو چل پڑے ۔ تھوڑی دور جاکر حضور نے ہمیں حکم دیا کہ ہم حضرت مولوی نور الدین صاحب کو بلا لائیںتوبھائی میرا ںبخش صاحب حضرت مولوی صاحب کو بلا لائے۔ حضرت مولوی صاحب کے آنے پر حضور ہم سب کو لے کر سیر کے لئے چل پڑے۔ رستے میں حضور حضرت مولوی صاحب کے ساتھ باتیں کرتے جاتے تھے جو کہ مجھے یاد نہیں۔ کبھی کبھی حضرت مولوی صاحب چلتے چلتے پیچھے ر ہ جاتے تھے اور حضور کھڑے ہوکر انہیں ساتھ ملا لیتے تھے اور پھر چل پڑتے تھے۔
    ۲۔ ایک دفعہ گرمی کے دنوں میں حضرت اقدس مسیح موعود مہدی مسعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مسجد مبارک کی چھت پر بعد نماز مغر ب تشریف فرما تھے اور حضور کے پاس حضرت مولوی نور الدین صاحب اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب بھی تشریف رکھتے تھے اتنے میں غالباً مولوی محمد علی صاحب امیر غیر مبائعین آئے اور حضور سے عرض کیا ۔ کہ ’’حضور میرے کام کرنے کا کچھ فائدہ نہیں کیونکہ مولوی صاحب (حضرت مولوی عبدالکریم صاحب ) ہم پر بدظنی کرتے ہیں۔‘‘ یہ سن کر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے جواب دیا کہ ’’جو شخص حضور کو مسیح موعود سمجھتا ہے ہمیں اس پر کوئی بدظنی نہیں۔ حضرت مولوی صاحب کا یہ جواب سن کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مسکرا کر فرمایا کہ ’’اب تو معاملہ ہی صاف ہوگیا ہے۔‘‘
    ۳۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مقدمہ جہلم پر تشریف لے گئے تھے تو میں حضور کی زیارت حاصل کرنے کے لئے گوجرانوالہ اسٹیشن پر گیا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام گاڑی میں کھڑکی کے ساتھ ٹیک لگائے پلیٹ فارم کی مخالف طرف تشریف رکھے ہوئے تھے اور کوئی کتاب پڑھ رہے تھے ہم نے حضور کے ساتھ مصافحہ کیا اور باہر نکل آئے اس دن مستری عبدالقادر غیر احمدی ہمیں ملا اور ہمیں کتاب منن الرحمان دکھائی اور کہا کہ ’’مرزا صاحب یہ کتاب گاڑی میں بیٹھے ہوئے پڑھ رہے تھے اور میں نے گاڑی کی دوسری طرف سے ہوکر یہ کتاب حضور کی پشت کی طرف سے ہاتھ بڑھا کر پکڑ لی اور مرزا صاحب نے کتاب کو چھوڑ دیا ۔ اور میں گھر لے کر آگیا‘‘ نہ ہی حضور نے ان کی طرف دیکھااور نہ ہی کوئی سوال کیا کہ کیوں کتاب کو پکڑا ہے۔
    ۴۔ جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سیالکوٹ میں لیکچر دے کر واپس قادیان تشریف لے جارہے تھے تو میں اور میرا بھائی غلام قادر (غیر مبائع) مالٹے لے کر حضور کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے (گوجرانوالہ اسٹیشن پر لے گئے) جب ہم حضور کی خدمت میں مالٹے پیش کرنے لگے تو چند مالٹے ریل کی پٹری پر گر پڑے۔ یہ دیکھ کر حضور نے فرمایا کہ ’’غریبوں کے مالٹے بھی گر گئے‘‘ اور پھر مالٹے حضور نے لے لئے اور ہم واپس چلے آئے۔
    ۵۔ ایک دفعہ بھائی میراں بخش صاحب ‘فضل کریم صاحب‘ اسماعیل صاحب ‘فضل دین صاحب سب درزی بھائی مل کر قادیان گئے۔ جب ہماری روحانی والدہ کو معلوم ہوا کہ گوجرانوالہ کے درزی آئے ہوئے ہیں۔ اس لئے انہوں نے ہم سے دریافت کیا کہ کیا ’’وہ ہمار ے بچوں کے کپڑے سی سکتے ہیں‘‘ تو ہم نے جواب دیا کہ ہاں ہم سی سکتے ہیں۔ اس پر انہوں نے مسجد مبارک میں مشین ‘ کپڑا اور بچوں کو جن کے کپڑے سینے تھے بھیج دیا۔ ہم کپڑ ے بھی سیتے رہے اور ساتھ ساتھ حضور کا پس خوردہ بھی کھاتے رہے ۔ جب ہم کپڑے سی چکے تو حضور نے ہم سے مزدوری دریافت کی۔ تو ہم نے مزدوری لینے سے انکار کردیا۔ اور کہا کہ ہمیں حضور کچھ انعام دے دیں تو بہتر ہوگا۔ اس پر حضور نے ہم سے دریافت کیا کہ ہم کیا انعام چاہتے ہیں تو ہم نے جواب دیا کہ حضور اپنے تن کا کوئی کپڑا عنایت فرمادیں۔ اس پر حضور نے پانچ کرتے ململ کے ہمیں دیئے۔ جو کہ ہم نے آپس میں بانٹ لئے جو کرتہ میرے حصہ میں آیا وہ میرے پاس اب تک موجود ہے۔
    (نوٹ) چونکہ میں ان پڑھ ہوں۔ اس لئے میں یہ تمام روایات اپنے پوتے عبدالرشید احمدی سے لکھوا کر ارسال کررہا ہوں ۔ یہ تمام روایات بالکل سچ لکھی گئی ہیں اور شک و شبہ کی کوئی بات ہی نہیں ہے میرا انگوٹھا بھی فارم پرلگا ہوا ہے۔
    نشان انگوٹھا
    میاں غلام رسول احمدی





    روایات
    قاضی عبدالقادر صاحب ولد قاضی نور علی صاحب
    پتہ سابق قاضی عبدالقادر صاحب کلرک دفتر اکائونٹنٹ جنرل پنجاب لاہور پتہ حال قاضی عبدالقادر صاحب پنشنر ریٹائرڈ ہیڈ کلرک خزانہ گوجرانوالہ
    سن بیعت یاد نہیں۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جہلم بمقدمہ کرم دین وغیرہ تشریف لے گئے تھے واپسی پر میں نے لاہور (میں) شرف بیعت حاصل کیا اس وقت حضور کے ہمراہ صاحبزادہ حضرت عبداللطیف صاحب کابلی شہید تھے۔
    بیعت کے بعد جتنی دفعہ حضور لاہور تشریف فرما ہوئے۔ میں زیارت کے لئے حاضر خدمت ہوا اور قادیان دارالامان میں کئی دفعہ جاکر زیارت حاصل کی۔ لاہور حضور عموماً میاں معراج الدین صاحب عمر کے مکانات پر فروکش ہوتے۔ حضور لاہور جب میاں معراج الدین صاحب کی بلڈنگز میں تقریر فرما رہے تھے تو ملا جعفر زٹلی نے آکر واویلا کیا۔ سردی کاموسم تھا ۔ حضور بمعیت حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید فارسی میں تقریر فرما رہے تھے۔ اس وقت حضور کے مخاطب ایوب خا ںپٹھان تھے جو وہاں تقریر سننے کے لئے حاضر تھے۔ ایوب خان کا قاضی‘ اور بڑے بڑے امیر حاضر تھے۔ لاہور کے ا سٹیشن پر حضور تشریف فرما تھے۔ اور ساتھ حضرت مفتی محمد صادق صاحب تھے۔ جب چند انگریز حضور کی زیارت کو آئے۔ قادیان میں ’’خدا کی مہر اور خدا کی فیلنگ نے کتنا بڑا کام کیا‘‘ ٭کا الہام میرے روبرو ہوا۔


    روایات
    خوا جہ محمد شریف صاحب ابن شیخ صاحب الدین صاحب
    پتہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی میں اندرون
    بھاٹی (دروازہ لاہور )پتہ حال ڈھینگڑہ ہائوس گوجرانوالہ
    سن بیعت : پیدائشی احمدی سن پیدائش : ۱۸۹۶ء
    سن زیارت۔ غالباً ۱۹۰۴ء میں جب حضور نے لاہور بھاٹی دروازہ کے باہر منڈوہ میں لیکچر دیا تھا۔ میں اس لیکچر میں شامل ہوا تھا۔
    خاص حالات ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب لاہور تشریف لاتے اور حضرت ام المومنین صا حبہ ساتھ ہوتیں تو ہماری دادی اماں ہمیں ہر روز حضور کے پاس لے جاتی تھیں۔ ہم صبح دس بجے کے قریب جاتے تھے اور شام کو پانچ چھ بجے اجازت لے کر واپس آتے تھے۔
    ایک دفعہ حسب معمول میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے قریباً شام کے وقت اجازت لینے کے لئے حاضر ہوا تو اس وقت حضور ایک چار پائی پر تشریف فرماتھے اور شام کا کھانا کھارہے تھے اور حضور کا ایک صاحبزادہ صاحب جو کہ اب مجھے یاد نہیں کہ کون تھے ساتھ کھانا کھا رہے تھے۔ حضور نے ازراہِ تلطف دستر خوان پر سے دو روٹی اٹھا کر اپنے دست ِمبارک سے مجھے دے دیں جو میں لے کر اپنی دادی اما ںکے پاس آگیا۔ وہ روٹیاں ہم لے کر گھر آگئے اور گھر میں سب نے تبرک کے طور پر کھائیں۔ جب حضرت مسیح موعودؑ کا وصال ہوا اس وقت میں لاہور میں ہی تھا اور سنٹرل ماڈل سکول لاہور کی پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ فقط۔
    خاکسار
    خواجہ محمد شریف بقلم خود
    اپنا فوٹو بھی ارسال خدمت ہے۔

    روایات
    میاں اللہ بخش صاحب ابن میاں غلام رسول صاحب کلرک ڈاکخانہ
    راولپنڈی ڈویژن حال رخصتی معرفت بابو عبدالکریم صاحب کلرک ڈاک خانہ گوجرانوالہ
    سن بیعت :پیدائشی احمدی سن پیدائش :غالباً ۱۸۹۳ء
    سن زیارت :۱۹۰۸ء سے پہلے کئی بار زیارت نصیب ہوئی۔ مگر آخری زیارت ۱۹۰۸ء میں بمقام لاہور اچھی طرح یاد ہے۔
    خاص حالات ۱۹۰۸ء میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام لاہور میں تشریف لائے تھے اور رئوسائے شہر لاہور کو دعوت دی تھی اور حضور نے احمدیہ بلڈنگز میں تمام معززین کے سامنے ایک تقریر کی تھی اس وقت میں بھی اور میرے والد صاحب بھی اس تقریر میں شامل ہوئے تھے۔ اور خوا جہ صاحب مرحوم نے ہمیں اندر آنے کی اجازت دی تھی۔ کیونکہ عام اجازت نہیں تھی۔ جس وقت تقریر کے لئے حضورتشریف لائے تھے تو گلی میں کمرہ کے دروازہ کے قریب بہت لوگ جمع تھے۔ جنہوں نے حضور سے مصافحہ کیا اور حضور کا پاک چہرہ دیکھا۔ حضور کے ساتھ ہم بھی اندر کمرے میں گئے۔ تقریر کے شروع میں حضور کی آواز بہت دھیمی تھی۔ مگر بعد میں اونچی ہوگئی۔ غالباً اس روز پچھلے وقت بعد نماز ظہر یا عصر حضور خوا جہ صاحب کی بیٹھک میں تشریف لائے۔ یہ بیٹھک برلب سڑک ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح اول بیٹھک میں مریضوں کو دیکھ رہے تھے اور فرش پر بیٹھے تھے پاس ہی ایک کرسی رکھی تھی حضور وہاں آکر تشریف فرما ہوئے اور خاموشی سے بیٹھ گئے۔ احباب کثرت سے بیٹھے تھے اور باقی آخری حصہ میں کھڑے تھے۔ کسی شخص نے عرض کیا کہ حضور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے متعلق کچھ بیان فرمادیں۔ اس پر حضور نے حیرانگی سے فرمایا کہ ہماری ساری عمر حضرت عیسٰی علیہ السلام کی وفات ثابت کرتے کرتے گزر گئی۔ کیا اب بھی ضرورت ہے کہ اس کے متعلق کچھ کہا جاوے اور پھر حضور نے تقریر شروع کردی۔
    خاکسار
    اللہ بخش









    روایات
    میاں میراں بخش صاحب ولد میاں شرف الدین صاحب درزی
    خاص شہر گوجرانوالہ آبادی چاہ روڈا محلہ احمدپورہ
    سن بیعت : ۱۸۹۷ء یا ۱۸۹۸ئ سن زیارت : ۱۹۰۱ء
    قدمیانہ جگوں سوہنا وچ دلاں دے وسے
    عاشق جاناں گھول گھماون جان وچ ہوٹھاں ہسے
    موٹی نظر والے نوں ماجبھوں جامے نظر نہ آوے
    دوئی دور لے جاوے اوہنوں ویکھدیاں بھل جاوے
    جنہاں نوں رب دیدے دتے اصل حقیقت پائی
    باجھوں یار قدیمی اوہناں چیز نہ ڈٹھی کائی
    خاص حالات :خاکسار نے حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ السلام کی بیعت قریباً ۱۸۹۷ء یا ۱۸۹۸ء میں کی۔ مگر اپنے والد صاحب سے کچھ عرصہ تک اس امر کا اظہار نہ کیا۔ آخر کب تک پوشیدہ رہ سکتا تھا۔ بھید کھل گیا۔ تو والد صاحب نے خاکسار کو صاف جواب دے کر گھر سے نکال دیا تو خاکسار نے خدا رازق پر توکل کرکے ایک الگ دکان کرایہ پر لے لی۔ تنگ دستی تو تھی ہی مگر دل میں شوق تھا کہ جس طرح بھی ہوسکے بموجب حیثیت حضرت اقدس علیہ السلام کے لئے ایک پوشاک بنا کر اور اپنے ہاتھ سے سی کر حضور کی خدمت میں پیش کی جائے۔ (گر قبول افتد زر ہے عزو شرف) اس خیال سے میں نے ایک کرتہ ململ کا اور ایک شلوار لٹھہ کی اور ایک کوٹ صرف سیاہ رنگ کا اور ایک دستار ململ کی خرید کر اور اپنے ہاتھ سے سی کر پوشاک تیار کرلی اور قادیان شریف کا کرایہ ادھر ادھر سے پکڑ پکڑا کر قادیان شریف پہنچ گیا۔ دوسرے روز جمعہ کا دن تھا۔ اس لئے خیال تھا کہ اگر ہوسکے تو یہ ناچیز اور غریبانہ تحفہ آج ہی حضور کی خدمت بابرکت میں پہنچ جائے تو شاید حضور جمعہ کی نماز سے پہلے ہی پہن کر اس غریب کے دل کوخوش کردیں۔ غرض اس سوچ بچار میں قاضی ضیاء الدین صاحب (خدا ان پر بڑی بڑی رحمتیں نازل فرماوے) کی دکان پر پہنچ گیا اور ان کے آگے اپنی دلی خواہش کا اظہار کردیا۔ و ہ سنتے ہی کہنے لگے کہ چل میاں میں تم کو حضور کی خدمت میں پہنچا دیتا ہوں چنانچہ وہ اسی وقت اٹھ کر مجھے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں لے گئے اس وقت حضور علیہ السلام ایک تخت پوش پر بیٹھے ہوئے کچھ لکھ رہے تھے اور خو ا جہ صاحب کمال الدین تخت پوش کے سامنے ایک چٹائی پر بیٹھے ہوئے تھے ہم دونوں بھی وہاں خو ا جہ صاحب کے پاس بیٹھ گئے۔ خو ا جہ صاحب نے دریافت کیا کہ اس وقت آپ کیسے آئے تو قاضی صاحب نے میری خواہش کا اظہار کردیا۔ خواجہ صاحب تھوڑی دیر خاموش رہ کر میری طرف مخاطب ہوئے اور کہا کیوں میاں میں ہی تمہاری وکالت کردوں۔ میں نے کہا یہ تو آپ کی نہایت ہی مہربانی ہوگی اس پر خواجہ صاحب نے مجھ سے وہ کپڑے لے کر حضور علیہ السلام کے پیش کردئیے اور ساتھ ہی یہ عرض بھی کردی کہ حضور اس لڑکے کی خواہش ہے کہ حضور ان کپڑوںکو پہن کر جمعہ کی نماز پڑھیں۔ خواجہ صاحب کی یہ بات سن کر حضور فیض گنجور نے کپڑے اٹھا کر پہننے شروع کردیئے۔ مگر جب کوٹ پہنا تو وہ بہت تنگ تھا میں نے عرض کی کہ حضور کوٹ بہت تنگ ہے اگر اس کو اتار دیں تو میں اس کو کچھ کھول دوں۔ حضور نے کوٹ اتار کر مجھے دے دیا میں جلدی سے اٹھ کر بازار میں آیا اور ایک درزی کی دکان پر بیٹھ کر کوٹ کی پیٹھ کا سارا دبائو کھول دیا اور پھر حضور کی خدمت میں حاضر ہوگیا ۔ حضور نے کوٹ پہن لیا۔ مگر اب بھی کوٹ کے بٹن بخوبی حضور کی خواہش کے مطابق نہیں مل سکتے تھے۔ مگر حضور نے کھینچ تان کر بٹن لگا ہی لئے اور کچھ بھی خیال نہ کیا کہ یہ کپڑے حضور کے پہننے کے لائق بھی ہیں یا نہیں۔
    میرے مولا تو اپنے ایسے رحیم و کریم بندہ پر ہزار در ہزار رحمتیں اور برکتیں نازل فرما۔ آمین۔ آمین۔آمین
    ایک دفعہ مسجد مبارک کی چھت پر بوقت نماز حضرت اقدس علیہ السلام مسجد کی شاہ نشیں پر رونق افروز تھے اورحضور کی دا ہنی طرف حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ اور بائیں طرف حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ بیٹھے ہوئے تھے۔ اور فاتحہ خلف امام کا تذکرہ شروع تھا۔ اس وقت حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک شخص ایک پیر کے پاس گیا اور اپنی کسی حاجت روائی کے لئے عرض کیا تو پیر صاحب نے فرمایا کہ اس سیفی کا ذکر کیا کرو۔ تمہاری مشکل حل ہوجائیگی۔ بشرطیکہ سیفی کے ورد کی طرف تمہارا خیال بندر کی طرف نہ جائے پھر کیا تھا جب وہ سیفی کا ورد شروع کرے فوراً بندر کی شکل سامنے آجائے چونکہ سورۃ فاتحہ میں ہماری بابت زبردست پیشگوئی ہے اس لئے جب کوئی شخص سمجھ کر سورۃ فاتحہ کی تلاوت کرے گا فوراً اس کا خیال اس پیشگوئی کی طرف منتقل ہوجائے گا۔
    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ خاکسار اور فضل کریم اور فضل دین اور غلام رسول اور اسماعیل ہم سب درزی بھائی مل کر قادیان شریف گئے۔ تو جاتی دفعہ حکیم صاحب مولوی محمد دین خدا ان پر اپنے فضل کی بارشیں نازل فرمائے انہوں نے کچھ کپڑامجھے دیا اور کہا کہ یہ کپڑا میری بیوی کو پہنچا دینا۔ جب ہم قادیان شریف میں پہنچے تو میں وہ کپڑا لے کر حضرت اقدس علیہ السلام کے دروازہ پر گیا۔ اور آواز دی تو اندر سے وہ ملازمہ جو دادی صا حبہ کے نام سے مشہور تھیں باہر آئیں تو میں نے ان کو وہ کپڑا دے کر کہا کہ یہ حکیم محمد دین صاحب کی بیوی کا ہے ان کو دے دیں۔ جب دادی صا حبہ نے وہ کپڑا جاکر دیا۔ تو حکیم صاحب کی بیوی نے کہا کہ دریافت کرو کہ یہ کپڑا لانے والا کون شخص ہے۔ تو دادی صاحبہ نے پھر باہر آکر مجھ سے دریافت کیا کہ آپ کا کیا نام ہے تو میں نے کہا کہ میرا نام میراں بخش درزی ہے۔ دادی صاحبہ نے جب جاکر میرا نام بتلایا تو اس وقت ہماری روحانی والدہ صاحبہ بھی پاس تھیں انہوں نے درزی کا نام سن کر دادی صاحبہ سے کہا کہ اگر وہ درزی کا کام جانتے ہیں تو ہمارے بچوں کے کچھ کپڑے سینے والے ہیں ان سے دریافت کرو کہ کیا وہ کپڑ ے سی سکتے ہیں ۔اس پر داد ی صاحبہ نے آکر خاکسار سے دریافت کیا کہ مائی صاحبہ کہتے ہیں کہ میرے بچوں کے کچھ کپڑے سینے والے ہیں کیا آپ سی سکتے ہیں ۔میں نے عرض کیا ہاں بخوشی سی سکتے ہیں۔ اس پر دادی صاحبہ نے کہا کہ آپ مسجد میں جاکر ٹھہریں میں وہاں کپڑے بھی اور مشین بھی پہنچا دیتی ہوں۔ تب میں نے اپنے سب بھائیوں کو خبرکر دی اور سب کے سب مسجد مبارک میں جاکر بیٹھ گئے۔ اتنے میں دادی صا حبہ کپڑے اور مشین لے کر مسجدمیں آگئیں۔ ہم نے دادی صا حبہ سے کہاکہ جن بچوں کے کپڑے سینے ہیں ان کو بھی یہاں لے آئو تاہم ان کا ماپ لے لیں تو دادی صاحبہ سب بچوں کو ساتھ لے کر مسجد میں آگئیں۔ جس میں حضرت مبارک احمد علیہ الرحمۃ اور حضرت میاں صاحب خلیفۃ المسیح الثانی علیہ السلام بھی تھے۔ ہم نے سب کا ماپ لے لیا۔ اور کپڑے سینے شروع کردیئے۔ دادی صاحبہ وقتاً فوقتاً ہمارے پاس آتی جاتی تھیں تو ہم نے دادی صاحبہ سے عرض کیا کہ آپ کچھ ہمارا کام بھی کریںگی تو انہوں نے کہا کہ بتلائو آپ کیا چاہتے ہیں تو ہم نے کہا کہ جب تک ہم یہاں کام کرتے ہیںآپ ہمارے لئے حضرت اقدس علیہ السلام کا پس خوردہ لے آیا کریں۔ دادی صاحبہ نے کہا بہت اچھا میں لے آیا کرونگی۔ پس جب تک ہم کپڑے سیتے رہے۔ دادی صاحبہ ہمیںحضرت اقدس کا پس خوردہ لاکر دیتی رہیں۔ جب کپڑے تیار ہوگئے۔ تو ہم نے دادی صاحبہ سے کہا کہ یہ کپڑے حضرت اقدس علیہ السلام کے پاس لے جانا اور کہناکہ یہ بچوں کے کپڑے ہیں جو گوجرانوالہ سے درزی آئے ہوئے ہیں انہوں نے سیئے ہیں۔ تو جب حضور علیہ السلام کے پاس کپڑے لے کر گئی تو حضور نے فرمایا کہ جائو ان سے دریافت کرو کہ ان کپڑو ںکی مزدوری ان کو کیا چاہئے۔ تو دادی صاحبہ نے آکر ہمیں کہا کہ حضرت صاحب مزدوری دریافت کرتے ہیں۔ تو ہم نے کہا کہ ہم نے مزدوری لینے کے لئے یہ کپڑے نہیں سیئے۔ ہاں اگر حضور مہربانی فرمائیں تو کچھ انعام دے دیں۔ دادی صاحبہ نے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں جاکر عرض کی تو حضور نے فرمایا کہ دریافت کرو ۔ کیا انعام چاہتے ہو ۔ہم نے کہا کہ حضور اپنے تن کا کوئی کپڑا عنایت فرمادیں۔ جب دادی صاحبہ نے جاکر کہا کہ درزی حضور کے تن کا کپڑا مانگتے ہیں تو حضور نے فرمایا کہ کتنے آدمی ہیں دادی صاحبہ نے کہا کہ پانچ آدمی ہیں۔ تو حضرت اقدس علیہ السلام نے پانچ کرتے ململ کے دادی صاحبہ کے ہاتھ بھیج دئیے۔ پس ہم نے ایک ایک کرتہ بانٹ لیا اور خداوند کریم کا بہت شکر بجا لائے کہ اس دفعہ قادیان شریف آنا ہمارے لئے کیسا مبارک ہوگیا۔ الحمدللہ۔

    روایات
    سردار کرمداد خاں صاحب دوالمیال
    ۱۹۰۷ء میں جب احمدیوں کے محلہ میں ایک دو آدمی طاعو ن سے فوت ہوگئے تو سید لعل شاہ امام مسجد شرقی دو المیال نے مولوی احمد دین کو جو اس وقت زندہ تھے چکوال میں خط لکھا کہ دو المیال میں طاعون شروع ہوگئی ہے اور لطف یہ ہے کہ مرزائی ہی اس کا شکار ہورہے ہیں جب ہم کو اس بات کا علم ہوا کہ شاہ صاحب بڑی خوشیاں منا رہے ہیں تو ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ السلام کی خدمت میں خط لکھا کہ حضور دعا فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ جماعت کو اس عذاب سے بچائے اور ہمارے مخالفین کو ہم پر ہنسنے کا موقع نہ دے۔ اس خط کا جواب حضرت اقدس نے اپنے قلم سے تحریر فرمایا کہ جگہ کو بدل دو ‘صدقہ خیرات سے کام لے کر کثرت کے ساتھ دعائیں کرو اور جو لوگ ہنستے ہیں ان کو ہنسنے دو ان کی نوبت بھی آرہی ہے۔ چنانچہ چند یوم کے بعد طاعون نے شاہ صاحب کے محلہ میں قیامت برپا کردی اور اس قدر موتیں ہوئیں کہ مردوں کو اٹھانے کے لئے بجائے چار آدمیوں کے دو آدمیوں کا ملنا بھی مشکل ہوگیا وہی لوگ جو پہلے ہم پر ہنستے تھے اپنی تباہی کو دیکھ کر کہنے لگے کہ طاعون نے مرزائیوں کی گردن پر ہاتھ رکھا مگر وہ چھڑا گئے اور ہم کو اس نے کمرسے پکڑ کر زمین پر گرا دیا۔ (یہ الفاظ انہوں نے اس کھیل کو مدِنظر رکھ کر کہے جس کو اس علاقہ میں کوڈی کہتے ہیں) ایک پنشنر صوبیدار فتح دین نام جو شاہ صاحب کا معتقد اور تیز مزاج تھا۔ جب اس کا لڑکا طاعو ن سے مر گیا تو وہ او لعل شاہ پکار کر گالیاں دیتا کہ تونے مکانو ںکو نہ چھوڑ نے کا فتویٰ دے کر ہم کو تباہ کردیا۔ غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ السلام کے فرمودہ کے مطابق تھوڑے دنوں کے بعد ہم پر ہنسنے والوں کے گھروں سے رونے اور چیخنے کی آواز آنے لگی اور جس طرح حضور نے فرمایا کہ ان کی باری بھی آرہی ہے ہم نے وہ نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔قادیان کے خط کے مقابلہ میں چکوال کے خط کا جو حشر ہوا وہ باشندگان دوالمیال سے مخفی نہیں۔


    بقیہ روایات
    حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی تحریرکردہ
    برکات احمد صاحب ابن مولانا غلام رسول صاحب راجیکی
    ۱۔ ایک دفعہ صبح ۹ بجے کے قریب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھ پر انگلیوں کے درمیان کثرت سے چھوٹی چھوٹی پھنسیاں نکلی ہوئی تھیں اور خارش سے حضور کو سخت تکلیف تھی اسی دن عصر کے وقت جب حضور کی خدمت میں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضور چشم پر آب ہیں۔ میں نے عرض کی کہ حضور آپ خلاف معمول چشم پُر آب کیوں ہیں۔ حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ سخت تکلیف کی وجہ سے میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ خدا تعالیٰ نے میرے سپرد کام تو اس قدر بڑا کیا ہے اور میری صحت کا یہ حال ہے۔ اس خیال کا میرے دل میں آنا ہی تھا کہ مجھے سخت ہیبت ناک الہام ہوا کہ ’’تیری صحت کا ہم نے ٹھیکہ لیا ہوا ہے‘‘۔ فرمایا کہ اس سے میرے بدن کا لرزہ لرزہ (نقل بمطابق اصل) کانپ اٹھا اور میں نے سجدہ میں گر گر کر بہت ہی دعا کی۔ اور بہت زاری کی جس کا یہ اب تک اثر ہے جب سر اٹھا کر دیکھا تو پھنسیاں اور خارش وغیرہ کا نام تک نہیں۔ اس کے بعد حضور علیہ السلام نے مجھے اپنے ہاتھ دکھائے تو ان پر پھنسی وغیرہ کا کوئی نشا ن تک نہ تھا۔
    ۲۔ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام ہمیشہ پتلا شوربہ پسند فرمایا کرتے تھے ایک دفعہ فرمایا کہ سنت یہ ہے کہ تھوڑا سا گوشت ہو۔ اور اس میں ایک لوٹا پانی کا ڈال دیا جائے تاکہ گھر کے سب لوگ استعمال میں لائیں۔
    ۳۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی بنائی ہوئی نظم کو خود کبھی نہیں سنایا کرتے تھے۔
    ۴۔ حضرت اقدس بالعموم جمعہ کے دن مہند ی لگایا کرتے تھے۔
    ۵۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو جب دورہ پڑتا تھا تو حضور کا جسم بالکل سرد پڑ جاتا تھا۔ خاص طور پر پائوں بالکل برف کی مانند سرد ہوجاتے تھے ۔ ایک دفعہ لدھیانہ میں حضور علیہ السلام کو دورہ پڑا اور آپ کا جسم بالکل سرد ہوگیا۔ حضرت اقدس نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ کسی آریہ یا عیسائی کا کوئی اعتراض پوچھو تاکہ میرے جسم میں گرمی پیدا ہوجائے ۔میں نے عرض کی کہ حضور اعتراض تو کوئی یاد نہیں۔ فرمایا اچھا ہماری کوئی نعت ہی پڑھو۔ میںنے ایک نعت خوش الحانی سے پڑھ کر سنائی۔ اس کے بعد مجھے حضرت آدم کے متعلق ایک اعتراض بھی یاد آگیا۔ میں نے وہ اعتراض حضور علیہ السلام کے سامنے کیا۔ حضور علیہ السلام نے بڑے جوش کے ساتھ تفصیل سے اس کا جواب دیا۔ اور حضور علیہ السلام کو پسینہ آگیا اور جسم گرم ہوگیا اور تکلیف جاتی رہی۔ اس طرح کئی دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ جب حضور علیہ السلام کو دورہ پڑتا تو حضور علیہ السلام کوئی اعتراض کرنے یا نعت پڑھنے کا ارشاد فرماتے۔
    ۶۔ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعویٰ سے پیشتر ہی میں سرسید کی تفسیر کے دیکھنے سے وفات مسیح کا قائل تھا۔ الخ
    (نوٹ۔ یہ روایات اس سے قبل رجسٹر پر نقل کی جاچکی ہیں۔خاکسار عبدالقادر مرتب)
    ۷۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیشہ گرم کپڑے زیب تن فرمایا کرتے تھے۔





    روایات
    نواب خاں صاحب ولد شیخ احمد خان ساکن ہرانا تحصیل پنڈی گھیپ
    خاکسار مسمی نواب خاں ولد شیخ احمد خان ساکن ہرانا تحصیل پنڈی گھیپ ضلع کیمل پور کا رہنے والا ہے اور میری قوم جودھڑا راجپوت ہے۔ اس شہر کو جس شخص مسمی پیرا خاں نے آباد کیا تھا۔ اس کی اولاد میں سے ہم ہیں اور میں نے حضور کے ابتدائی دعویٰ کے ایام میں بیعت کی ہے۔ اور اب میں ان تمام واقعات کو بیان کرتا ہو ںجو کہ اس ضمن میں پیش ہیں۔ میری عمر گیارہ سال کی تھی جبکہ میرے والد صاحب فوت ہوگئے ایک دن مسجد میں بغرض تعلیم گیا تو ایک مولوی صاحب میاں یحیٰی میکی ڈوک والے مسجد میں وعظ کررہے تھے لوگو ںنے کہا کہ زمانہ بہت خراب ہوگیا ہے اور کوئی شخص ایک دوسرے کا لحاظ نہیں کرتے اورہمدردی بالکل اٹھ گئی ہے ۔ ماں بیٹی ا ور باپ بیٹے میں اختلاف نظر آتا ہے بیویاں اپنے خاوندوں کی عزت نہیں کرتیں گویا کہ عورتوں کا راج ہے ۔اس پر مولوی صاحب نے کہا کہ یہ زمانہ ضلالت کا زمانہ ہے‘ پھر لوگوں نے سوال کیا کہ یہ زمانہ بدلے گا بھی کہ نہ ؟ انہوں نے کہا کہ امام مہدی کا زمانہ اب بالکل قریب آگیا ہے جس کے طفیل پھر دنیا میں ہدایت قائم کی جائے گی مگر ابھی اس کے دعویٰ میں کافی عرصہ رہتا ہے۔ لوگوںنے پوچھا کہ وہ دعویٰ کب کرے گا اور و ہ وقت چودھویں صدی کا ہوگا ابھی چودھویں صدی کے آنے میں پچیس سال رہتے ہیں اور چودھویں صدی کا کچھ زمانہ گزرنے کے بعد وہ دعویٰ کریگا۔ لوگوں نے کہا کہ اس کے نشانات کیا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت وہ دعویٰ کریگا تو لوگ (جس طرح پہلے رسولوں کے ساتھ بغاوت کرتے رہے ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کو تیرہ آدمیوں نے تسلیم کیا تھا) اس کے مخالف ہوجائیںگے اور طرح طرح کے جھوٹے الزام اس پر لگائیں گے۔ مگر جو لوگ اس کو مان لیں گے خدا تعالیٰ ان کے سب گناہ معاف کردے گا گویا وہ معصوم بچوںکی طرح ہونگے۔ لوگوں نے کہا ۔مکہ میں پیدا ہوگا اور سیدوں کے گھر میں ہوگا۔ آپؐ کے خاندان سے ہوگا۔ مولوی صاحب نے کہا جہاں اللہ کی مرضی ہوگا۔ اللہ کی چیز ہے جس جگہ چاہے پیدا ہو گا۔ لوگوں نے پھر کہا کہ ہمیں پورے پورے حالات بتائیں تاکہ جس وقت وہ دعویٰ کرے تو کوئی دوسرا آدمی ہم کو دھوکہ نہ دے سکے تو اس پر انہوں نے کہا کہ اس وقت تک ہم تم مرچکے ہونگے اور ہمارے بیٹے بھی مر چکے ہونگے اور میرے پوتے بھی اس برکت سے محروم رہ جائیں گے اور اس کو قبول نہ کریں گے اس زمانہ میں ایک کالا سا گدھا ہوگا جو سینکڑوں میلوں کا رستہ بڑی جلدی طے کیا کریگا۔ اور ہزاروں من بوجھ اٹھایا کریگا۔ چنانچہ یہ جو ہمارا گائوں ہے اگر اس کے تمام آدمی اور مکان مال مویشی یعنی سب چیزیں اٹھالے تو بھی بڑا تیز چلے گا۔ اور لاہور کا سبزی فروش صبح اٹھ کر شام کو پشاور سے سبزی بیچ کر واپس گھر آجایا کریگا۔ اس زمانہ میں نہروں سے دریا سوکھ جائیں گے اور زمین بڑی زرخیز ہوگی۔ یہ سن کر جو جوان جوان لڑکے وہاں موجود تھے۔ وہ یہ کہہ کر مخول کرنے لگے۔ کہ دیکھو مو لوی صاحب کیسی گپیں ہانکتے ہیں وہ بھی کوئی گدھا ہوگا جو اتنا بوجھ اٹھا سکے گا۔
    اس کے بعد زمانہ گزرتا گیا اور ہم بال بچے والے ہوگئے اور اسی اثناء میں ریل وغیرہ بھی ایجاد ہوگئی۔ انہی ایام میں مجھ پر ایک مقدمہ ہوا۔ جس کے لئے مجھے راولپنڈی آنا پڑا۔ واپسی پر راستہ میں مَیں ایک مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے گیا۔ تو وہاں چند آدمی یہ باتیں کررہے تھے کہ پنجاب میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے ہم نے نماز پڑھی اور اپنے گائوں چلے گئے۔ پھر ہمیں مقدمہ میں آنے کے لئے بار بار موقع ملا۔ مگر ہم اس مسجد میں کبھی نہ آئے۔ چھ مہینہ کے بعد میں اور میرا بھائی پھر تاریخ پر آئے تو اس مسجد میں بھی آگئے اور عصر کی نماز پڑھنے لگے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں چند آدمی باتیں کررہے ہیں اور ایک آدمی باہر سے آیا تو اندر کے آدمیوں نے کہا کہ کوئی تازہ خبر سنائو۔ اس پر اس نے کہا کہ اس پنجاب والے آدمی نے اب مہدی ہونے کا دعویٰ بھی کردیا ہے وہ تو ایک جادوگر ہے۔جو بھی کوئی بڑا مولوی اس کے پاس جاتا ہے۔ اس پر اپنا اثر ڈال کر اسے اپنے ساتھ ملا لیتا ہے۔ چنانچہ جہلم کا بڑا مولوی اس کے پاس گیا تو اس کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا۔ میں نے جب یہ سنا تو میرے دل میں خیال آیا کہ اسے ضرور دیکھنا چاہئے اگر تو مجھے وہ سچا نظر آیا تو اس سے مقدمہ کے بارے میں دعا کرائونگا۔ سو جس وقت مجھ کو میرے بھائیوں نے گائوں جانے کے لئے کہا میں نے انکار کردیا۔ اور وہیں رہا۔ صبح جس وقت اٹھا نماز ادا کی اور رتے گائوں چلا گیا۔ وہاں ایک مولوی صاحب پرانے واقف تھے۔ اس سے پنجاب کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا کہ کس لئے جارہے ہو۔ میں نے کہا کہ سیر کو جارہا ہوں۔ اس پر اس نے بتایا کہ یہاں سے جہلم کا ٹکٹ لے لو۔ میں نے جہلم کا ٹکٹ خرید لیا اور جہلم پہنچ گیا۔ وہاں میں غفور خاں سیشن جج کے پاس ٹھہرا۔ اور صبح اٹھ کر وزیر آباد کا ٹکٹ لے لیا۔ اور وہاں ایک مسجد میں امام کے پاس رہا۔ صبح اٹھ کر شہر میں سیر کے لئے گیا تو وہاں میں نے دیکھا کہ لوگ حضرت امام مہدی کو بہت گندی گالیاں نکال رہے ہیں۔ ڈر کی وجہ سے میں نے کسی سے اپنے مقصد کا ذکر نہیں کیا۔ مگر خدا نے مجھ کو خود ہی راستہ بتایا۔ وہ اس طرح کہ ایک آدمی مجھے ملا اور اس نے مجھے کہاکہ یہاں کیا کررہے ہو۔ اگر سیرکی غرض ہے تو وہاں سیر کا لطف آئیگا۔ اس پر میں نے ٹکٹ خریدا۔ امرتسر پہنچ گیا۔ وہاں ڈپٹی قمرالدین گجراتی کے پاس ٹھہرا تو اس نے مجھ سے آنے کا سبب پوچھا میں نے کہا کہ نوکری کے لئے آیا ہوں وہ مجھے اس وقت ساتھ لے کر ایک خوا جہ کی دکان پر لے گیا اور کہا کہ یہ ہمارا اپنا آدمی ہے اور اچھا شریف آدمی ہے مگر مقدموں نے اسے خراب کردیا ہے۔ اب یہ نوکری کی تلاش میںہے اس لئے اب تم اس کو اپنے پاس نوکر رکھ لو۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس کو چار دن کے بعد پندرہ روپیہ پر نوکر رکھ لیں گے۔ اور صبح دس بجے حاضر ہوکر شام چار بجے چھٹی ہوا کرے گی۔ اس کے بعد ہم وہاں سے واپس آگئے۔ اور چوتھے د ن کی انتظار کرنے لگے۔ ان چار دنوں میں میں نے ایک دن جبکہ میں سیر کررہا تھا تو کیا دیکھا کہ ایک جگہ ایک طرف سے آدمی اندر جاتے ہیں اور دوسری طرف سے نکلتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ اندر ایک حکیم بیٹھا ہوا ہے ۔ ایک مریض آیا اور اس نے کہا کہ مجھے اس دوائی سے کوئی فائدہ نہیںہوا۔ اس پر اس نے کہا کہ میں نے تو تم کو قادیان کے مغلوں والی دوائی دی ہے۔ جس وقت وہ مریض باہر نکلا تو میں نے کہا کہ قادیان کے مغل کون ہیں تو اس نے کہا کہ تمہیں ابھی تک پتہ نہیں۔ اس ایسے تیسے نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور نیا مذہب نکالا ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ وہ گائوں کدھر کو ہے۔ اس نے کہا کہ یہاں سے بٹالہ کے ساڑھے چار آنے لگتے ہیں۔ اور اس سے آگے پیدل ہی قادیان چلے جاتے ہیں۔ اس پر میں اس سے جدا ہوگیا اور قمر دین کے مکان کی طرف دعائیں کرتا ہوا چلا آیا کہ یا خدا تو ہی اب مجھے قادیان پہنچا دے۔ مکان پر پہنچا تو ڈپٹی صاحب نے نوکر کو کہا کہ اس کو کھانا کھلا دو اور دوسرے آدمی کو کہا کہ تم جاکر ڈاک لے آئو۔ میں کھانا کھا ہی چکا تھا کہ ڈاک آگئی اور ڈپٹی صاحب نے مجھے بلا کر کہا کہ میری تو تبدیلی لدھیانہ ہوگئی ہے اب تم کیا کروگے میں نے دل میں کہا کہ شکر ہے کہ اب میرا چھٹکارا ہوگیا۔ میں نے ڈپٹی صاحب کو کہا کہ اگر آپ کی تبدیلی ہوئی ہے تو میں اب گھر جاتا ہوں اس پر میں سٹیشن کی طرف دوڑا۔ مگر مجھے بٹالہ نام بھول گیا تھا۔ اب میں حیران تھا کہ کروں کیا۔ مجھے صرف اتنا یاد تھا کہ جہاں میں نے جانا ہے وہاں کے ساڑھے چار آنے لگتے ہیں۔ سو میں نے پیسے نکالے اور کھڑکی پر چلا گیا اور کہا کہ ٹکٹ دے دو۔ اس نے کہا۔ کہاں کا۔ میں نے کہا کہ ساڑھے چار آنہ کا جہاں کا بھی ٹکٹ آتا ہے دے دو۔وہ حیران ہوگیا۔ پھر کچھ سوچ کر کہا کہ بٹالہ کا ٹکٹ لینا ہے۔ تو مجھے بھی یاد آگیا۔ میں نے کہا ہاں اس پر اس نے مجھے ٹکٹ دے دیا۔ اور میں بٹالہ سٹیشن پر پہنچ گیا۔ میں نے جونہی شہر میں قدم رکھا۔ مجھے دو آدمی ملے۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا۔ کہاں سے آئے ہو اور کدھر جانا ہے۔ میں نے کہا کہ میں راولپنڈی سے برائے سیر پھر رہا ہوں۔ اس پر وہ مجھے ایک مسجد میں لے گئے۔ اور بڑے اچھے کھانے میرے سامنے رکھ دیئے۔ مگر مجھے شک پڑا کہ کوئی ٹھگ ہیں۔ جو کہ مجھے لوٹنا چاہتے ہیں۔ اس لئے میں نے کھانا وغیرہ کوئی نہ کھایا۔ مگر صرف اتنا پوچھا کہ شہر کا کوئی بڑا آدمی بتائو۔ اس پر انہوں نے یہ نام لئے۔ ڈپٹی غلام فرید اور ایک تحصیل دار صاحب اور میر احمد شاہ وکیل۔ میں نے کہا کہ مجھے میر احمد شاہ وکیل کے گھر کارستہ بتادو۔ وہ میرے ایک مقدمہ میں وکیل رہ چکے تھے۔ ان دو آدمیوں نے ایک ٹانگہ والے کو بلا کر کہا کہ اس کو وکیل صاحب کے مکان پر پہنچا دو۔ میں ٹانگہ پر سوار ہوگیا۔ تو انہوں نے کہا کہ دوران سیر میں ایک بات کا خیال رکھنا۔ میں نے کہا کہ وہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تحصیل میں ایک آدمی نے نبوت اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور وہ بڑا ٹھگ ہے۔ اس کے جال میں نہ پھنسنا۔میں نے ان کو کہا کہ اچھا ۔ٹانگہ چل پڑا اور وکیل صاحب کا مکان آگیا ۔ میں ٹانگہ سے اترا تو ٹانگہ والے کو پیسے دینے لگا مگر اس نے انکار کردیا اور کہا کہ میرا ان کے ساتھ ٹھیکہ ہے۔ میں ان سے خود ہی پیسہ لے لونگا۔ میں نے کہا اچھا جائو۔ وہ چلا گیا اور میں وکیل صاحب کے مکان پر گیا۔ تو نوکر نے مجھے اندر نہ جانے دیا۔ اس لئے میں قریب کی ایک مسجد میں وقت گزارنے کے لئے جا بیٹھا۔ جس وقت وکیل صاحب آنیوالے تھے ۔ میں آگیا۔ اور ان کو راستہ سے ہی ملا۔ وہ مجھے بڑی اچھی طرح اندر لے گئے اور چارپائی وغیرہ دے دی۔ دوسرے دن ایک نوکر کو ساتھ دیا کہ اس کو شہر کی سیر کرائو اور خود کچہری میں چلے گئے۔ شہر میں سیر کے دوران میں مجھے حضور کو گالیاں دیتے ہوئے کافی لوگ دکھائی دیئے۔ اور میرے دل کو سخت صدمہ پہنچا۔ اسی طرح دوسرے دن بھی ہوا۔ شام کو جب گھر واپس آئے تو قادیان کا ایک سید ڈیرہ پر موجود پایا۔ جو کہ وکیل صاحب کے پاس آیا تھا میں اور وہ رات کو اکٹھے رہے ۔ اور قادیان کے متعلق خوب باتیں ہوتی رہیں۔ اور میں نے اس سے راستہ وغیرہ بھی اچھی طرح پوچھ لیا۔ اس نے مجھے راستہ کی تمام نشانیاں بتادیں۔ وہ صبح ہونے سے پہلے ہی قادیان روانہ ہوگیا اور میں صبح ہوکر روٹی وغیرہ کھا کر وکیل صاحب سے گھر جانے کے لئے رخصت لے کر قادیان کی طرف روانہ ہوگیا۔ جس وقت قادیان پہنچا تو یہاں پر کیا دیکھتا ہوں کہ بالکل معمولی سا گائوں ہے۔ مکان کہیں کہیں ہیں۔ نہ کوئی روٹی کھانیکی دکان ہے اور نہ اور کچھ۔ میں نے اسی سید کی تلاش کی اور اس کے پاس رات ٹھہرا۔ اور صبح حضورکی ملاقات کے لئے گیا۔ مسجد میں پوچھا کہ حضور کب تشریف لائیں گے تو معلوم ہوا کہ دو بجے آئیںگے۔ میں وضو وغیرہ کرکے مسجد میں بیٹھ گیا۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ حضور تشریف لے آئے اور میں رخ انور دیکھتے ہی سمجھ گیا کہ حضور خدا کی طرف سے ہیں۔ میں نے مصافحہ وغیرہ کیا۔ مجھ سے پوچھا کہ کہاں سے آئے ہو۔ میںنے سب کچھ بتادیا۔ حضور نے فرمایا کہ کیوں آئے ہو۔ میں نے کہا کہ حضور کی زیارت کے لئے آیا ہوں۔ اس کے بعد حضور نماز پڑھانے لگے۔ اس وقت ہم صرف تین آدمی مقتدی تھے۔ جن کو حضورنماز پڑھا رہے تھے۔ نماز پڑھانے کے بعد حضور اندر تشریف لے گئے ۔ اس کے بعد عصر کا وقت آگیا۔ میرے دل میںحضور کو دیکھنے کا پھر بہت شوق ہوا۔ مگر معلوم ہوا کہ حضور اب تشریف نہیں لائیں گے۔ اس لئے میں مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے کے لئے چلا گیا۔ اس کے بعد مؤذن نے مجھے وہاں سے نکال دیا۔ (مؤذن نے جھگڑا کیا۔ تو ایک ہندو نے کہا کہ کیا بات ہے؟ میں نے کہا یہ مؤذن مسجد میں رہنے نہیں دیتا۔ اس نے کہا۔ آئو میںجگہ دیتا ہوں) میں مسجد سے نیچے اتر گیا۔ تو مجھے ایک ہندو ملا۔ اور اس نے مجھ سے کہا۔ کہ کیا بات ہے۔ میں نے کہا۔ کہ میں مسافر آدمی ہوں۔ اس نے کہا کہ چلو دھرم سالہ میں رہو۔ تمہارا خاطر خواہ انتظام کیا جائیگا۔ میں اس کے ساتھ چلا گیا اور رات دھرم سالہ میں کاٹی اور صبح کی نماز مسجد اقصیٰ میں اداکی اور نو بجے کے قریب اپنے گائوں کی طرف روانہ ہوا۔ جس وقت میں امرتسر پہنچا اور سٹیشن پر گاڑی کا انتظار کررہا تھا تو میرے پاس ہی دو تین آدمی بیٹھے یہ کہہ رہے تھے کہ دریا تو نہروں سے نکالے جانے سے بالکل خشک ہوا ہے۔ اب اس میں آدمی پیدل پانی میں سے چل کرپار ہوسکتا ہے۔ یہ سن کر مجھے اس گائوں والے مولوی کی بات یاد آگئی۔ اتنے میں میں نے گاڑی کو دور سے آتے ہوئے دیکھا اور میں نے دل میں سوچا کہ کالے گدھے سے یہی مطلب ہے۔ کیونکہ گاڑی میں سے بے شمار مال اتارا گیا۔ اور لوگوںکے اترنے سے سٹیشن بھرپور ہوگیا۔ پس یہ دو باتیں تو میرے دل پر نقش ہوگئیں۔ آگے دیکھئے؟ جس وقت میں گاڑی پر سوار ہوگیا تو جو راستہ یعنی راولپنڈی تک کا جو کئی دنوں میں طے ہوتا تھا۔ اب کی دفعہ صرف ایک دن میں طے ہوگیا۔پس یہ بھی ایک بات پوری ہوگئی۔ کہ لاہور کا سبزی فروش پشاور جاکر ایک ہی دن میں سبزی بیچ کر واپس آجایا کرے گا۔ چونکہ مجھ پر مقدمہ تھا۔ اس لئے خداتعالیٰ نے مجھے اسی دن راولپنڈی پہنچا دیا۔ کہ جس دن ہماری تاریخ تھی۔ حضور کی زیارت کا ہونا تھا کہ مجھ پر ہر طرف سے کامیابی ہی کامیابی دکھائی دینے لگی۔ جس وقت میں منصفی میں پہنچا تو جس کھتری نے مجھ پر مقدمہ کیا تھا وہ ایک جگہ بیٹھا تھا مجھ کو دیکھ کر اٹھا اور جس کپڑے پر خود بیٹھا تھا مجھ کو بیٹھنے کے لئے کہا۔ میں حیرا ن کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ یہی وہ کھتری ہے جو کل ہی میرے خون کا پیاسا تھا۔ مگر آج یہ حالت ہے ۔ اس نے کہا۔ کہ میں نے آج تک ہزاروں مقدمہ لوگوں پر کئے۔ مگر ایسی تکلیف کسی میں نہیں اٹھائی۔ اس لئے اب صلح کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ مجھے اپنے کرایہ پر شہرمیںلے گیا۔ اور وہاں پر بڑا عالیشان کھانا کھلایا۔ اور پھر اپنے خرچ پر مجھے اپنے گائوں پہنچا دیا۔
    تین سال کے بعد میں پھر قادیان آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اب بفضل خدا کافی احمدی ہوگئے ہیں اور اب پہلے سے زیادہ انتظام ہے۔ پہلی دفعہ تو سونے کے لئے کہیں جگہ نہیں تھیں مگر اب کی دفعہ کھانے پینے اٹھنے بیٹھنے کا اچھا خاصا انتظام ہوگیا تھا۔ کھانا پکانے کے لئے ایک باورچی تھا جو کہ سب کچھ خود ہی کرتا تھا۔ اس دفعہ مجھ کو رستہ میں وہ وہ لوگ کثیر تعداد میں دکھائی دیئے جو کہ حضور کے متعلق بد زبانی سے کام لیتے تھے۔ اور دل ہلا دینے والی گالیاں اور بکواس کرتے تھے۔ قادیان میںکچھ دیر رہنے کے بعد میں پھر اپنے وطن چلا گیا۔ ان دنوں میں بالکل ہی اس بات سے ناواقف تھا۔ کہ بیعت بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ میں سمجھتا تھا کہ بس دیدار کرنے سے ہی آدمی احمدی ہوجاتا ہے۔ اس لئے میں نے کوئی بیعت وغیرہ نہ کی اور دو دفعہ صرف زیارت کرکے ہی واپس جاتا رہا۔ مگر چونکہ حضور کی محبت دل میں بیٹھ چکی تھی ۔ اس لئے بار بار قادیان آنے کو جی چاہتا تھا۔ مگر حالات چونکہ اجازت نہ دیتے تھے۔ اس لئے میں قادیان نہ آسکتا تھا۔ پھر بھی میں نے کوشش کی اور پھر تین سال کے بعد تیسری دفعہ قادیان آیا۔ جب یہاں پہنچا تو مجھے حضرت خلیفۃ المسیح اوّلؓ سے ملنے کا شرف حاصل ہوا۔ حضور نے مجھ سے سب کچھ پوچھا کہ آئے کہاں سے ہو اور کس لئے آئے ہو۔ تو میںنے سب کچھ الف سے ی تک بتادیا۔ حضور نے حیران ہوکر پوچھا کہ تین دفعہ قادیان آچکے مگر بیعت نہ کی۔ میں بھی حیران ہی ہوگیا کہ بیعت کیا ہوتی ہے جو لوگ حضور کے پاس بیٹھے تھے۔ انہوں نے بھی کہا کہ یہ آدمی دو تین دفعہ قادیان آچکا ہے ۔ مگر بیعت نہیں کی۔ یہ سن کر حضور مجھے اپنے ساتھ بحضور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام لے گئے اور بیعت کرائی اور میرا نام رجسٹر پر لکھ دیا اور انگوٹھابھی اس پر چسپاں کردیا۔ ایک بات جو میں بھول گیا تھا۔ وہ یہ ہے کہ وہ جو اس گائوں والے مولوی صاحب نے کہا تھا کہ میرے پوتے بدنصیب رہ جائینگے اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نہیں مانیں گے۔وہ آج کل میں اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہوں کہ وہ کس طرح جماعت احمدیہ کے خلاف بدزبانی سے کام لے رہے ہیں۔





    روایات
    میاں فضل کریم صاحب درزی احمدی
    اندرون دروازہ ٹھاکر سنگھ گوجرانوالہ
    ۱۔ اس عاجز نے بیعت تو بذریعہ خط ۱۹۰۵ء سے پہلے ہی کی تھی۔ مگر پھر جب میں ۱۹۰۵ء میں قادیان گیا اور جاکر دستی بیعت کی۔ اور حضور سے واپس آنے کی اجازت مانگی تو حضور نے فرمایا کہ ابھی چند روز اور ٹھہرو۔ اس کے بعد پھر میرے اجازت طلب کرنے پر حضور نے اجازت دیدی اور اسکے بعد میں نے حضور سے کوئی وظیفہ پڑھنے کا طلب کیا تو حضور نے فرمایا کہ درود شریف جو نماز میں پڑھا جاتا ہے وہی پڑھا کرو۔
    ۲۔ پھر دوسری دفعہ ۱۹۰۶ء میں پانچ چھ آدمی مل کر گئے تو اس وقت ہم کچھ حنا اور چند ایک روغنی ہانڈیاں بطور تحفہ لے گئے تھے۔ جب حضور کو معلوم ہواکہ ہم درزی ہیں تو حضور نے ہم کو کچھ کپڑے سینے کو دیئے اور باورچی کو کہا کہ ان کو کچھ اچھا کھانا دو لیکن ہم نے عرض کیا کہ حضور ہم کو کچھ پس خوردہ مرحمت فرماویں۔ چنانچہ وہ بھی اندر سے آتا رہا اور جب کام ختم ہوگیا تو ہم واپس آنے لگے تو ہم نے دعا کے لئے درخواست کی ۔ چنانچہ حضور نے ہم سب کو اندر بلا کر کھڑے ہوکر دعا کی۔ اور وہ دعا ابھی تک ہم کو آتی ہے۔ اس کے بعد ہم سے کپڑوں کی مزدوری دریافت کی۔ہم لینا تو نہیں چاہتے تھے لیکن حضور کے اصرار سے ہم نے حضور کے کرتے مانگے تو ہم کو اندر سے ایک ایک کرتہ مل گیا جو ابھی تک ہمارے پاس محفوظ ہیں۔
    ۳۔ پھر ۱۹۰۸ء میں جب حضور لاہور تشریف لائے ۔ میں ایک مکان بنوا رہا تھا۔ میں اپنی بیوی کو لے کر جو کہ حجیروں سے بیمار تھی۔ حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور دعا کے لئے درخواست کی۔ حضور نے فرمایا کہ بچے کا دودھ چھڑا دو اور ہم دعا کریں گے اور وہاں پھر خواجہ کمال الدین صاحب نے ایک خاص لیکچر کا انتظام کروایا ہوا تھا جس پر منشی احمد دین نے ایک رقعہ کے ذریعے اندر جانے کی اجازت طلب کی اور لیکچر سنا۔ اور ساڑھے ۱۲ بجے خواجہ صاحب نے عرض کی کہ اب لیکچر بند کردیں۔ لوگ کھانا کھانا چاہتے ہیں۔ لیکن حضور نے جواب دیا کہ ہم نے بھی صرف دوا ہی پی ہے اس پر ایک سامعین نے فوراً کہا کہ وہ کھانا تو ہم ہر روز کھاتے ہی رہتے ہیں‘ یہ روحانی غذا کبھی کبھی ملتی ہے اس لئے جاری رکھا جائے۔اس پر حضور نے ایک گھنٹہ مزید تقریر فرمائی اور ہم واپس گوجرانوالہ آگئے۔
    فضل کریم درزی احمدی
    گوجرانوالہ اندرون دروازہ ٹھاکر سنگھ








    روایات
    منشی احمد دین صاحب سیالکوٹی ولد میاں عیدا صاحب
    محلہ کشمیری ۔ شہر سیالکوٹ
    اس عاجز نے ۱۸۹۶ء میںحضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کی ہوئی ہے۔ یہ عاجز کبھی کبھی جلسہ سالانہ پر جایا کرتا تھا۔ ۱۸۹۸ء کو بھی یہ عاجز جلسہ سالانہ پر گیا ہوا تھا۔ حضرت صاحب سیر کو گئے تو بندہ بھی ساتھ تھا۔ مجھے خوب یاد ہے کہ جہاں اب بورڈنگ بنا ہوا ہے وہاں ایک جنگلی بوٹی قدآدم سے کچھ چھوٹی بہت ہوتی تھی۔ آپ ایک جگہ کھڑے ہوگئے تو کسی دوست نے اپنی چادر وہاں بچھا دی اور حضور چادر پر بیٹھ گئے او رمولوی مبارک علی صاحب مرحوم جو چھائونی سیالکوٹ کے باشندے تھے ایک قصیدہ فارسی زبان میں اپنی دوری اور معافی کا پڑھنا شروع کیا۔ حضرت بہت دیر تک سنتے رہے اور فرمایا اچھا ۔تو وہاں سے اٹھ کر چل دیئے۔ مفتی محمد صادق صاحب آپ کے گرد حلقہ باندھے چلا کرتے۔ چونکہ مفتی صاحب ان دنوں جوان تھے پھر بھی حضرت صاحب کی رفتار کی برابری مشکل ہی کرتے تھے۔ وہاں سے مسجد مبارک میں آگئے۔
    ایک مرتبہ یہ عاجز بڑی عید پر ماسٹر عبدالعزیز صاحب مرحوم کے ساتھ گیا۔ ان دنوں موسم گرما تھا اور نماز عید ریتی چھلا میں جو بڑ کا درخت ہے اسکے نیچے نماز عیدپڑھی گئی تھی۔ خطبہ حضرت خلیفۃ المسیح اول ؓ نے پڑھا تھا۔ اور شام کو مسجد مبارک کی چھت پر آپ بیٹھتے تھے اور کھانا بھی وہیں کھایا جاتا تھا۔ مسجد کی چھت پر پانچ آدمی صف میںکھڑے ہوتے اور مولوی صاحب مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نماز پڑھایا کرتے تھے نماز کے بعد کھانا کھلایا جاتا۔ اس وقت ٹین کی پیالیاں ہوا کرتی تھیں۔ ان میں سالن ہوتا۔ روٹی جس وقت رکھی جاتی۔ تو آپ روٹی کو توڑ توڑ کر چھوٹے چھوٹے نوالے کھاتے۔ کچھ ٹکڑے نیچے رہ جاتے مگر سالن ویسا ہی پڑا رہتا کسی دوست کو سالن کی ضرورت ہوتی فوراً آپ دے دیتے۔
    ایک مرتبہ یہ عاجز جلسے کے دنوں گیا۔ تو ان دنوں مسجد اقصیٰ میں ہی جلسہ ہوا کرتا تھا۔ آپ کرسی پر کھڑے ہوکر لیکچر دے رہے تھے۔ اس وقت دو اڑھائی سو کے قریب آدمی ہونگے مگر آپ بڑے جوش سے تقریر کررہے تھے۔ چہرہ مبارک نہایت سرخ اور جوش سے بھرا ہوا تھا۔ قریباً چار پانچ گھنٹے آپ نے تقریر کی۔ اسی طرح دوسرے د ن بھی۔ ا ن دنوں چونکہ اس عاجز کی مالی حالت اچھی نہ تھی۔ اور ہر جلسہ پر پہنچنے کی طاقت نہ تھی۔ یہ چند باتیں جو یاد ہیں عرض کردی ہیں۔
    خاکسار
    منشی احمد دین احمدی
    ولد میاں عیدا
    از شہر سیالکوٹ محلہ کشمیری بقلم خود
    اپریل ۱۹۳۸ء




    روایات
    سید سیف اللہ شاہ صاحب ولد سید اسد اللہ شاہ صاحب
    ساکن بیج بیاڑہ تحصیل و ضلع اسلام آباد کشمیر
    عمر بحساب قمر تقریباً۵۸ سال
    ۱۔ میری پیدائش ۱۲۹۹ھ کے شروع میں ہوئی ہے۔ چونکہ یہاں پیری مریدی کا رواج زوروں پر تھا۔ اس لئے بچپن سے ہی میری یہ آرزو تھی کہ مجھے کوئی ایسا کامل پیر ملے جو سب سے اعلیٰ پایہ کا ہو جس کے ذریعہ میں ہدایت پائوں بلکہ اس آرزو کے پورا ہونے کے لئے میں بکثرت دعائیں بھی کیاکرتا تھا۔
    ۲۔ غالباً ۱۲۔۱۳ سال کی عمر تھی کہ خواب میں اپنے آپ کو موضع یاڑی پورہ میں پایا۔ (اس وقت تک میں یاڑی پورہ سے ناآشنا تھا) دیکھا کہ ہزاروں لوگ جمع ہوگئے ہیں اور اس جگہ احمدیوں کی مسجد ہے۔ اس جگہ ایک ٹیلا جو قریباً چھ سات گز اونچا تھا نظر آیا اور اس پر ایک صاحب بیٹھے ہیں اور لوگ اس ٹیلے کے نیچے سے انکی زیارت اور آداب کرکے گزرتے ہیں۔ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں تو مجھے کہا گیاکہ یہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں تو میں نے کمال مسرت سے بے تحاشا ٹیلے پر چڑھ کر اور ان کے سامنے کھڑا ہوکر السلام علیکم عرض کیا اور حضور نے وعلیکم السلام فرمایا۔ اور پھر میں نزدیک ہوکر ان کے سامنے بیٹھ گیا تو یک لخت میرے دل میں وہی ہمیشہ کی آرزو یاد آگئی تو میں نے دل میں کہا کہ اب ان سے بڑھ کر مجھے اور کس پیر یا رہبر کی ضرورت ہے۔ میں انہی سے بیعت کرونگا۔ تو میں نے عرض کی کہ یا حضرت میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ تو حضو رنے فرمایا۔ اچھا ہاتھ نکالو۔ تو میں نے ہاتھ نکالا تو حضور نے میرے داہنے ہاتھ کو اپنے داہنے دست مبارک میںپکڑا۔ اور فرمایا۔ کہ کہو الَلّٰہُ رَبِّیْ تو میں نے الَلّٰہُ رَبِّیْکہا۔ اتنے میں مَیںبیدار ہوگیا۔ بیدار ہوکر جلدی بیدار ہونے پر مجھے نہایت افسوس آیا کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کررہا تھا مگر افسوس کہ جلدی بیدار ہوگیا۔ اس کے بعد وہ مقدس صورت ہمیشہ میرے سامنے آجاتی تھی۔ اور رخ منور کا عکس میری لوح دل سے کبھی محو نہ ہوتاتھا۔ گویا میرے دل پر وہ نقشہ جم گیا تھا۔ اس رویاکی تعبیر آگے کھل جائے گی۔
    ۳۔ میرے والد صاحب سید اسد اللہ شاہ صاحب ہر سال پنجاب میں مریدوں کے دورے کے لئے جایا کرتے تھے واپسی پر پنجاب کے حالات بتاتے تھے۔ کبھی کبھی یہ بھی بیان کرتے تھے کہ پنجاب کے ایک قادیان نام گائوں میںایک شخص مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور اسلام کی بہت تائید کرتے ہیں اور آریوں اور عیسائیوں کو مناظروں میں لاجواب کرتے ہیں۔ کوئی شخص ان کے ساتھ مناظرہ کرنے کی تاب نہیں لاتا ہے اور مستجاب الدعوات بھی ہیں اور پیشگوئیا ںبھی بہت کرتے ہیں۔ جو پوری بھی ہوتی ہیں۔ پھر کہتے تھے کہ اگر ہم ان کو مسیح موعود نہ بھی مانیں یا کہیں۔ لیکن مجدد ّ تو ضرور ہیں۔ لوگوں نے کئی بار ان سے پوچھا کہ اگر آپ کی رائے میں وہ مجددّ ہیں تو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیوں کرتے ہیں۔ مسیح تو آسمان سے نازل ہونگے۔ تو کہتے تھے کہ شاید اس میں کوئی مصلحت ہوگی کیونکہ وہ تو ہر طرح سے اسلام کی تائید کرتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ ۔ان باتوں کا میرے دل پر کچھ اثر تھا۔
    ۴۔ سولہ سالگی میں میری والدہ صاحبہ وفات پاگئیں۔ اور مجھے والد صاحب اپنے ساتھ پنجاب لے گئے۔ وہاں مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متفرق ٹریکٹ ملے۔ اورمیں نے بغور ان کا مطالعہ کیا ان کے مطالعہ سے مسیح موعود اور مہدی موعود ہونے کا مجھے پورا پورا یقین ہوگیا اور والد صاحب بھی مجھے کبھی کبھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتابیں دیاکرتے تھے۔
    ۵۔ پھر کچھ سال مَیں یوں ہی احمدی رہا۔ باوجود یکہ ہر سال میں والد صاحب کے ساتھ پنجاب جایا کرتا تھا۔ لیکن بیعت کرنی میسر نہ ہوتی تھی۔ ہاں خط و کتابت کا سلسلہ باقاعدہ جاری تھا۔ کئی بار اپنے والد صاحب کو کہتا تھا کہ مجھے قادیان لے چلو کہ میں بیعت کرونگا۔ لیکن وہ مجھے یہ کہہ کر ٹال دیا کرتے تھے کہ ہمارا پیشہ پیری مریدی کا ہے۔ ہمار ے لئے بڑی مصیبت ہوگی ۔ آگے کبھی لے چلوں گا۔
    ۶۔ میری والدہ صاحبہ کی وفات کے بعد میرے والد صاحب نے دوسری شادی کرلی تھی۔ اس لئے گھر میں ناچاقی ہوگئی تو میں سسرال کے ہاں جارہا۔ اب مجھے والد صاحب کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہ رہی۔ تو میں نے بیعت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی خدمت میں خط روانہ کیا۔ جس کے جواب کا نقل یہ ہے غالباً یہ۱۳۲۳ھ تھا۔
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ‘و نصلی
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
    آپ کا خط آیا۔
    حضرت اقدس نے آپ کی درخواست بیعت قبول کی اور آپ کے حق میں دعا فرمائی۔
    والسلام
    ا / مارچ ۶ء
    افتخار احمد از قادیان
    ۷۔ پھر والد صاحب کی وفات کے بعد ماہ مئی ۱۹۰۸ء میں یہ خاکسار لاہور پہنچا وہاں معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام خواجہ کمال الدین صاحب کے مکا ن پر تشریف فرما ہیں۔ تو میں وہاں گیا۔ وقت شاید دس بجے دن کا تھا۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اندر تشریف فرما تھے۔ اس وقت ایک امریکن انگریز مع میم صاحبہ اور ایک چھوٹے لڑکے کے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ملاقات کو آیا اور کہا کہ میں مرزا صاحب سے ملنا چاہتا ہوں۔ حاضرین نے پوچھا کہ کیا کام ہے۔کہا کہ مجھے وجود باری تعالیٰ کے متعلق کچھ سوالات ہیں۔ میں نے اب تک ہندوستان کے مشہور ہندو ‘مسلم ‘عیسائی علماء سے ان سوالات کے متعلق پوچھا مگر اب تک مجھے کسی جگہ تسلی نہ ہوئی اور اب یہاں آیا ہوں تو اس کو کہا گیا کہ حضرت صاحب دو بجے باہر تشریف لائیں گے تو وہ چلے گئے اور میں بھی اپنے ڈیرہ پر واپس گیا۔ پھر میں دو بجے کو جو آیا تو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بیٹھک کے مشرقی کمرے میں تشریف فرما ہیں اور کسی امریکن انگریزکے ساتھ گفتگو فرما رہے ہیں۔ اس کمرے کی کھڑکی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بالمقابل تھی۔ اور اس کھڑکی کا ایک شیشہ ٹوٹ کر گر گیا تھاتو میں اسی میں سے اندر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف دیکھنے لگا۔ جب میری نظر چہرہ مبارک پر پڑی تو مجھے وہی خواب والا نقشہ سامنے آیا۔ یعنی ہو بہو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وہی صورت دیکھی جو میں نے خواب مذکور میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھی تھی۔ ایک سرمو کی تفاوت نہ تھی۔
    ۸۔ القصہ امریکن انگریز وجود باری تعالیٰ کے متعلق سوالات کرتا تھا اور خواجہ صاحب ان سوالات کا ترجمہ اردو میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو سناتے تھے۔ اورحضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جواب دیتے تھے اور خواجہ صاحب ان جوابات کا ترجمہ انگریزی ‘ امریکن انگریز کو سناتے تھے ۔ بعض دفعہ امریکن انگریز سوال کرتا تھا اور خواجہ صاحب ترجمہ کرنے لگتے تھے۔ مگر حضرت صاحب فرماتے تھے کہ میں نے کہا ۔ تقریباً ایک گھنٹہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس کمرے میں ٹھہر کر باہر بیٹھک میں تشریف لائے اور بیٹھ گئے اور امریکن انگریز کے بقیہ سوالات کل پیش کرنے کا ارشاد ہوا۔
    ۹۔ میں نے السلام علیکم عرض کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام نے وعلیکم السلام فرمایا۔ تو میں نے بغیر کسی کلام کے پہلی بار ہی عرض کیاکہ حضرت میں بیعت کرنی چاہتا ہوں تو حضور نے مجھے ہاتھ اور زبان مبارک سے ذرا ٹھہرنے کا ارشاد فرمایا یعنی ذرا ٹھہرو (آہستہ) تو میں بیٹھ گیا۔ اس وقت اس مجلس میں بہت صاحب تھے۔ چونکہ میںنووارد تھا۔ اس لئے سب کا نام بتا نہیں سکتا۔ لیکن جو یاد ہیں وہ یہ ہیں۔
    حضرت خلیفۃ المسیح اول ؓ ۔ مفتی محمد صادق صاحب (ایڈیٹر بدر) قاضی اکمل صاحب (مینجر بدر) مفتی فضل الرحمان صاحب ‘ پیر محمد منظور صاحب‘ مولوی غلام رسول صاحب راجیکی‘ عبدالحی صاحب‘ نانا جان صاحب ‘ ایک امرتسر کا حجام‘ مولوی محمد اسحاق صاحب‘ مولوی محمد سعید صاحب وغیرہ وغیرہ۔ پھر مختلف باتوں پر بات چیت رہی۔ ان دنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کتاب ’’پیغام صلح‘‘ تصنیف فرما رہے تھے۔ اصحاب نے عرض کیا کہ اس کتاب کاکیا نام رکھا جائے تو فرمایا کہ میں نے تو نام رکھا ہوا ہے۔ عرض کیا کہ کیا نام ۔فرمایا: ’’پیغام صلح‘‘۔ یہ نام سن کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی معجز بیانی پر اہل مجلس نے رقص کیا۔ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلا م نے فرمایا کہ بیعت کرنیوالے آگے آجائیں تومیں اور دو اور آدمی بیعت کے لئے حاضر ہوئے تو ہم تینوں کے ہاتھ اکٹھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے دست مبارک میں لے کر بیعت فرمائی اور دعا فرمائی۔ پھر عصر کی نماز ہوئی۔ مولوی صاحب (حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ) نے امامت کی اور حضرت صاحب اندر تشریف لے گئے۔
    ۱۰۔ دوسرے د ن پھر امریکن انگریز آیا اور بقیہ سوالات اسی کمرے میں کئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تمام سوالات کا جواب فرمایا اور اس کو اچھی طرح وجود باری کے متعلق اطمینان ہوا۔ ہم نے بھی اس امریکن سے پوچھا تو اس نے کہا بس آج مجھے اطمینان ہوا۔ آج تک کسی جگہ میں نے تسلی نہ پائی تھی۔ چونکہ ان دنوں بدر کا عملہ وہیں تھا۔ اس لئے وہ مضمون بدر میں چھپ گیا۔ اور اخبار کے سرورق پر انگریزی حروف میں بدر لاہور لکھا گیا۔ پھر جب جمعہ کا دن آیا تو نماز جمعہ بھی میں نے وہیں پڑھی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ نے خطبہ پڑھا اور نماز پڑھائی۔ ان دنوں میں مَیں نے کئی بار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے مصافحہ بھی کیا اور ہاتھ بھی چوما اورکچھ نذرانہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے دست مبارک میں رکھا۔ اور اس نذرانہ میں دونیاں چونیاں بھی تھیں۔ اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس نذرانہ کو اپنی مٹھی میں دبا کر پاکٹ میں ڈال دیا۔ دوسرے دن میں وہاں سے رخصت ہوکر دو تین دن کے بعد ایک گائوں موضع پنڈی تتار متصل اسٹیشن کٹھالہ ضلع گجرات پنجاب میں پہنچا لیکن کسی مجبوری کی وجہ سے لاہور واپس نہ جاسکا ۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔
    چونکہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیادہ صحبت میسر نہ ہوئی۔ اس لئے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مزید چشم دید حالات کی واقفیت نہیں ہے۔ مگر خط و کتابت تحریری بیعت سے قبل اور بعد رہی۔ جن میں سے اکثر خطوط ایک احمدی بھائی خواجہ غلام احمد جو پانپوری کے مکان سے گم ہوگئے اور تین موجود ہیں۔ ایک کی نقل اوپر دی گئی۔ دو کی نقل مطابق اصل دوسرے صفحہ پر درج کرونگا۔ البتہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی بہت صحبت اٹھائی ہے اور اس وقت ا ن کے کئی خطوط اور ایک رومال موجود ہے۔
    ۱۱۔ قبل از تحریری بیعت میں نے الٰہی بخش‘ رحیم بخش تاجران کتب شہر گجرات پنجاب سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے موئے مبارک ( سر مبارک کے بال) حاصل کئے ہیںاور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (کے)غالباً ایک امرتسری حجام سے لئے تھے ۔ جو اس وقت میرے پاس موجود ہیں۔
    ۱۲۔ میری تحریری بیعت سے پہلے قصبہ ہذا میں ایک اور احمدی خواجہ غلام احمد پانپوری تھا۔ اس کے لڑکے کو روتے وقت کھانسی سے سانس باہر کھینچا جاتا تھا اور کئی منٹ تک واپس نہ آتا تھا۔ اوربے ہوش ہوجاتا تھا تو میں نے اس کے کہنے پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دعا کے لئے لکھا ۔ ابھی اس خط کا جواب نہ آیا تھا کہ وہ لڑکا اس عارضہ سے نجات پاگیا۔ جب خط کا جواب آیا۔ تو اس میںلکھا تھا کہ حضرت اقدس نے دعا فرمائی تو معلوم ہوا کہ جس روز حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دعا فرمائی تھی۔ اسی روز لڑکا بھی صحت یاب ہوگیا تھا۔
    ۱۳۔ میں چونکہ یہاں ایک ہی احمدی پڑھا لکھا تھا۔ دوسرا غلام احمد پانپوری تھا۔ مگر وہ اَن پڑھ تھا۔ اس لئے میرے ساتھ ہی زیادہ مخالفت رہی۔ یہاں کے واعظوں ‘ مولویوں نے میرے ساتھ بائیکاٹ کردیا۔ مجھے قتل کی دھمکیاں بھی دی گئیں تو میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں لکھتا تھا تو ان کی دعا کی برکت سے مجھے مخالفوں سے کوئی ضرر نہ پہنچا۔
    دوسرے کارڈ کی نقل
    بسم اللہ الرحمان الرحیم نحمدہ و نصلی
    مکرمی اخویم سلمہ اللہ تعالیٰ
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔
    خط آیا۔حضرت صاحب نے پڑھا۔ دعا کی ہے اللہ تعالیٰ فضل فرما وے۔
    والسلام
    از قادیان
    افتخار احمد
    کارڈ کا پتہ ۔ بخدمت شریف سیف اللہ شاہ صاحب دیوبیج بہاڑہ کشمیر ۱۷ ستمبر ۱۹۰۶ء
    تیسرے کارڈ کی نقل
    بسم اللہ الرحمان الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    برادرم غلام احمد صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بہ نسبت جنازہ مخالفین حضرت اقدس بارہا فیصلہ دادہ اند ۔او اینست کہ چونکہ نماز جنازہ دعا است۔ لہذا جائز است ۔ البتہ ایں گفتہ اند۔ کہ پس مخالف نہ باشد۔البتہ اگر آں مخالف دیں چنیں بود کہ در جنازہ او شریک شدن موجب بے غیرتی باشد تابایں وجہ درست نہ باشد۔
    فقط ۲۵ /مارچ ۶ء
    محمد سرور احمدی بحکم حضرت مسیح موعود علیہ السلام
    کارڈ کا پتہ ۔ برادرم خواجہ غلام احمد احمدی پانپوری بیج بہاڑہ کشمیر
    ۱۴۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو شاید دہلی میں کسی مولوی نے پوچھا کہ اگر حضرت عیسیٰ فوت ہوئے تو ان کی قبر کہاں ہے۔ حضرت صاحب نے فرمایا تھا کہ جن نبیوں کی قبریں نامعلوم ہیں ۔ کیا وہ سب زندے ہیں۔ یہ واقعہ یہاں کے احمدیوں نے بھی سنا۔ تو یاڑی پورہ کے ایک احمدی زبردست خاں نے کہا۔ اگر وہ مولوی مجھ سے پوچھتا تو میں اس کو یہ جواب دیتا کہ کیا حضرت مسیح موعود نبیوں کے چروا ہے تھے کہ ان کی لاشیں یا نمونے موجود رکھتے۔ تا لوگوں کو دکھلاتے۔ یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس کسی کشمیری احمدی نے بیان کی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تبسم فرمایا۔
    ۱۵۔ میں بیعت سے پہلے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نبی مانتا رہا اور بعد بھی۔ اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کو خلیفہ برحق سمجھتا رہا۔ اور اب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز کو خلیفہ برحق سمجھتا ہوں۔ اورمجھے اس اعتقاد میں ذرہ بھر شک نہیںہے اور اللہ تعالیٰ نے خود مجھے احمدیت کی طرف رہنمائی کی ہے۔ کسی کی تبلیغ سے میں احمدی نہیں ہوا۔
    خاکسار
    سید سیف اللہ شاہ احمدی
    ۱۱ /مارچ ۱۹۳۸ء

    روایات
    ملک عمر خطاب صاحب سکنہ خوشاب
    پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ شاہ پور صدر
    خاکسار جب سن بلوغت کو پہنچا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دعویٰ مامور من اللہ سننے میں آیا۔ شوق پیدا ہوا کہ جس قدر جلدی ہوسکے خدمت میں پہنچ کر بیعت کا شرف حاصل کرے۔ بفضل ایزدی سال ۱۹۰۵ء میں اپنے دلی ارادہ کے ماتحت قادیان پہنچا۔ ایک چھوٹی سی بستی اور کچی دیواروں کا مہمان خانہ اور چند طالب علموں کا درس جس کی تدریس مولانا حضرت حکیم نور الدین اعظم رضی اللہ عنہ کررہے تھے نظر سے گزرے۔ اس قدر دعویٰ اور موجودہ بستی پر حیرانگی کا ہونا ممکنات سے تھا۔ مگر باوجود اس کے قلب صداقت پر شاہد تھا۔ لبیک کہتا ہوا بغیر ملنے مولوی صاحب موصوف کے جو ہموطن تھے ایک عریضہ حضور کی خدمت میں اندر بھیجا۔ اس میں عرض ہوا کہ حضور باہر تشریف لائیں بیعت کرنی ہے اور آج ہی واپس جانا ہے۔ حضور نے تحریری جواب بھیجا کہ وسمہ لگایا ہوا ہے ابھی ایک بجے اذان ہوگی مسجد مبارک میں آجائوںگا۔ اسی اثناء میں دو شخص قوم سکھ مہمانخانہ میں دوڑتے ہوئے آگئے۔ وہاں سوائے خاکسار کے اور کوئی نہ تھا۔ کہنے لگے۔ حجام کو جلدی بلوا دیں کیس کٹوانے ہیں اور بیعت کرنی ہے۔ خاکسار نے ناواقفی کا اظہار کیا حجام کا ملنا بہت مشکل تھا۔ اس آمد کی اطلاع بھی حضور کو خاکسار نے بذریعہ عریضہ بھیجی۔ حضورنے اس پر بھی مندرجہ بالا جواب دیا۔ خاکسار نے ان کی گھبراہٹ کی نسبت دریافت کیا تو بتلایا کہ ہم دونوں بھائی قادیان کے نزدیک رہنے والے ہیں اور چھائونی میاں میر فوج میں ملازم ہیں۔ باپ کے بیمار ہونے پر گھر آئے ان کو سخت تکلیف ہورہی تھی۔ سکھ قوم کے ایک بزرگ نے ہمارے باپ کو کہا کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہپڑھو تاکہ تمہاری جان بحق ہو۔ ہمارے باپ نے ایسا ہی کیا اور جان بحق ہوگئے۔ ہم پر اس کا یہ اثر ہوا کہ بجائے اخیر وقت کے پہلے اس کلمہ کو پڑھ لینا چاہئے۔ مرزا صاحب نے دعویٰ کیا ہوا تھا۔ دوسرے دن مستورات کو اپنے ارادہ کے ساتھ ملانے کے لئے کہا۔ مگرانہوں نے شور مچا دیا۔ قوم سکھ جمع ہوگئی۔ ہم نے ان سے قادیان کی طرف فرار اختیار کیا۔ وہ ڈانگ سوٹا لئے تعاقب کو آرہے ہیں۔ جلدی کی ضرورت ہے۔ اسی اثناء میں اذان ہوگئی۔ خاکسار مع ان کے مسجد مبارک پہنچا۔ چھوٹی سی مسجد اس قدر بھری ہوئی تھی کہ تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ جو تیوں میں حیران کھڑا ہوگیا۔واقفیت بھی کسی سے نہ تھی معاً حضرت صاحب نے محراب والا دروازہ کھولا۔ اور لوگ کھڑے ہوگئے۔ خاکسار لوگوں کی ٹانگوںسے گزرتا ہوا حضورکے آگے جا کھڑا ہوگیا۔ حضور بیٹھ گئے ۔خاکسار حضور کے آگے بیٹھ گیا۔ حضور نے پوچھا تم کون ہو۔ عرض کیا بیعت کے لئے آیا ہوں عریضہ خاکسار نے بھیجا تھا۔ مولوی صاحب نے دیگر لوگوں کے لئے جو خاکسار سے پہلے بیعت کے لئے بیٹھے تھے ۔ بیعت کرنے کو عرض کی۔ حضور نے خاکسار کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہاتھ پر رکھ لیا۔ اور فرمایا کہ اس بچہ پر ہاتھ رکھو۔ چنانچہ حضور کے حکم کے مطابق سب نے خاکسار کی پشت پر ہاتھ رکھا۔ بیعت ہوئی۔ حضور نے دعا فرمائی۔ پھر نماز ہوئی۔ الحمد للہ رب العالمین۔
    ملک عمر خطاب سکنہ خوشاب احمدی
    بقلم خود


    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    روایات
    خانصاحب سید ضیاء الحق ضلع کٹک
    چونکہ اس خاکسار کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے لہذا عرض ہے کہ حسب ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز خاکسار یہ چند سطور اپنی نسبت عرض کرتا ہے گزشتہ واقعات جہاں تک میرے ذہن میں یاد تھے خاکسار نے اس کو لکھ دیا ہے۔ ورنہ اس کی بابت میرے پاس کوئی تحریری نوٹ نہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔
    (۱) نام: خانصاحب سید ضیاء الحق ۔(۲) ولدیت :سید ظہور الحق صاحب مرحوم ۔(۳) سکونت: محلہ چرام پور عرف گوہالی پور پرگنہ سونگڑہ ضلع کٹک صوبہ اڑیسہ۔ (۴)عمر : تا روز تحریر (یعنی ۱۰/ مارچ ۱۹۳۸ئ) ۶۱ برس چھ مہینہ تئیس دن ۔ (۵)تاریخ بیعت :جہاں تک یاد ہے ۱۹۰۰ء میں خاکسار حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت میں داخل ہوا۔
    (۶)حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ملاقات کی تاریخ بمعہ حالات قیام وغیرہ۔ ہم تین احمدی اشخاص یعنی یہ خاکسار اور اس کے خالہ زاد بھائی سید اکرام الدین صاحب مرحوم اور انکے بہنوئی سید نیاز حسین صاحب مرحوم سونگڑہ سے روانہ ہوکر کلکتہ ہوتے ہوئے قادیان پہنچے۔ جہاں تک یاد ہے ۱۹۰۰ء کے اکتوبر میں تعطیل دسہرہ کے دوران میں یہ سفر واقعہ ہوا۔ مگر تاریخ یاد نہیں۔ ہم تینوں قریباً دس گیارہ بجے دن کو قادیان پہنچے اور اسی دن بوقت نماز ظہر بوساطت مولوی محمد احسن صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے مسجد مبارک میں ملاقات ہوئی۔ اور اسی دن بعد نماز مغرب مسجد مبارک میں ہم تینوں نے معہ دیگر نووارد حاضرین بیعت کی۔ ملاقات کے وقت حضور نے جب میرا نام دریافت فرمایا تو میں نے اپنا نام ضیاء الحق کہا۔ اور حضور نے دہرا کر فرمایا ضیاء الحق۔ (حضور نے حرف ق کوک کی طرح تلفظ فرمایا) یہ میرے لئے سننے کا پہلا موقع تھا کہ پنجاب میں عام بول چال میںحرف ق کو حرف ک کی طرح لوگ بول دیا کرتے ہیں۔ حضور نے مولوی محمد احسن صاحب کو فرمایا کہ ان تینوں کو سلسلہ کی کچھ کتابیں پڑھنے کودی جاویں۔ خاکسار نے عرض کیا کہ فتح اسلام ‘ توضیح مرام و ازالہ اوہام و اعلام الناس وشمس بازغہ مصنفہ مولوی محمد احسن صاحب وغیرہ پڑھی ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خوشی کا اظہار فرمایا۔ حضور نے تاکید کردی تھی کہ لنگر خانہ میں ہم تینوں اڑیسہ کے مہمانوں کے لئے چاول کا بندوبست کردیا جاوے۔ ہم قریب سات دن تک قادیان میں ٹھہرے ۔ ہم تینوں ہر روز بعد نماز مغرب حضور کے پیر دبانے والوں میں شریک ہوتے تھے۔ مگر خداموں کی کثرت کی وجہ سے پیر کا کوئی حصہ ملنا دشوار ہوجاتا تھا۔ حضور کا پیر خوب مضبوط معلوم ہوتا تھا۔ نیز ہر روز صبح بعد ناشتہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ سیر میں ہم شریک ہوتے تھے۔حضور خوب تیز چلتے تھے۔ حتیٰ کہ بعض ہمراہیوں کو دوڑنا پڑتا تھا۔ حضور کے چھتری برداری کا فخر ایک عرب غالباً مولوی ابو سعید صاحب کو ملتا تھا۔ ایک روز کا ذکر ہے کہ میں نے حضور سے دریافت کیا کہ ہمارے محلہ کی مسجد میں ہم کس طرح نماز ادا کریں۔ حضور نے دریافت فرمایا کہ کیا غیر احمدی نماز ادا کرنے کی اجازت دیں گے۔ تو میں نے عرض کیا کہ ہمارے محلہ کی مسجد میں نماز ادا کرنے سے ہم کو کون روک سکتا ہے؟ حضور نے فرمایاکہ اگر کوئی روک نہیں تو علیحدہ نماز ادا کرلی جاوے ورنہ نہیں۔ شروع میں ہم کو خبر نہ تھی کہ مخالفت اس قدر ہوگی کہ محلہ کی مسجد میں نماز ادا کرنا تو درکنار اس کے اندر جانے کی بھی اجازت نہ ہوگی اور برادری سے قطع تعلق ہوگا اور ہم کو کافرضال و مضل کا خطاب دیا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔
    دوسرے ایک دن کا ذکر ہے کہ جب حضور سیر سے واپس آکر مکان کے اندر جارہے تھے تو کسی نے ذکر کردیا کہ فلاں شخص فلاں اعتراض کرتا ہے مجھ کو یاد نہیںکہ وہ اعتراض کیا تھا۔ حضور اندر مکان کو تشریف لیتے لیتے ٹھہر گئے اور آپ کی گفتگو سے معلوم ہوتا تھا کہ آپ بہت جوش کے ساتھ اس اعتراض کی تردید کرتے تھے اور آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا تھا ۔ ہر روز بعد نماز مغرب حضور مع خدام و نووارد مہمان مسجد مبارک میں نماز عشاء تک ٹھہرتے تھے اور مختلف خبر و اخبار سنتے رہتے تھے۔ ہم تینوں نہایت آرام و اطمینان کیساتھ قریب سات دن تک قادیان درالامان میں قیام کرکے واپس آگئے۔ فقط
    خاکسار
    سید ضیاء الحق عفی عنہ
    پریذیڈنٹ انجمن احمدیہ سونگڑہ
    ضلع کٹک ‘ صوبہ اڑیسہ
    مکرر عرض ہے کہ اس عریضہ کے ہمراہ خاکسار کا ایک فوٹو بھی ارسال کیا گیا ہے۔ فقط
    خاکسار ضیاء الحق عفی عنہ








    روایات
    رحمت اللہ صاحب احمدی پنشنر سیکرٹری تبلیغ سنگرور‘ ریاست جیند
    ’’میرا نام رحمت اللہ خلف مولوی محمد امیر شاہ صاحب قوم قریشی سکنہ موضع بیرمی ضلع لدھیانہ ہے۔ خدا نے اپنے فضل و رحم سے مجھے چن لیا اور غلامی ء حضور سے سرفراز فرمایا ورنہ من آنم کہ من دانم۔ تفصیل اس کی یہ ہے ۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے چند ماہ لدھیانہ میں قیام فرمایا میری عمر اس وقت قریباً ۱۷ ۔ ۱۸ برس کی ہوگی اور طالب علمی کا زمانہ تھا۔ میں حضور کی خدمت اقدس میں گاہ بگاہ حاضر ہوتا۔ مجھے وہ نور جو حضور کے چہرہ مبارک پر ٹپک رہا تھا نظر آیا جس کے سبب سے میرا قلب مجھے مجبور کرتا کہ یہ جھوٹوںکا منہ نہیں ہے مگر گرد و نواح کے مولوی لوگ مجھے شک میں ڈالتے۔ اسی اثناء میں حضورکا مباحثہ مولوی محمد حسین بٹالوی سے لدھیانہ میں ہوا۔ جس میں میں شامل تھا۔ اس کے بعد خدا نے میری ہدایت کے لئے ازالہ اوہام کے ہر دو حصّے بھیجے۔ وہ سراسر نوُر و ہدایت سے لبریز تھا۔ خدا جانتا ہے کہ میں اکثر اوقات تمام رات نہیں سویا۔ اگر کتاب پر سر رکھ کر غنودگی ہوگئی تو ہوگئی۔ ورنہ کتاب پڑھتا رہا۔ اور روتا رہاکہ خدا یہ کیا معاملہ ہے کہ مولوی لوگ کیوں قرآن شریف کو چھوڑتے ہیں؟ خدا جانتا ہے کہ میرے دل میں شعلہ عشق بڑھتا گیا۔ میں نے مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کو لکھا کہ حضرت مرزا صاحب عیسیٰ علیہ السلام کی وفات تیس آیات سے ثابت کرتے ہیں۔ آپ براہ مہربانی حیات کے متعلق جو آیات و احادیث ہیں تحریر فرمادیں اور ساتھ جو تیس آیات قرآنی جو حضرت مرزا صاحب لکھتے ہیں تردید فرما کر میرے پاس بھجوادیں۔ میں شائع کرادونگا۔ جواب آیا کہ آپ عیسیٰ کی حیات و ممات کے متعلق حضرت مرزا صاحب یا اس کے مریدوں سے بحث مت کرو۔ کیونکہ اکثر آیات وفات ملتی ہیں۔ یہ مسئلہ اختلافی ہے اس امر پر بحث کرو کہ مرزا صاحب کس طرح مسیح موعودؑ ہیں؟ جواب میں عرض ہوا کہ اگر حضرت عیسیٰ ؑفوت ہوگئے ہیں تو حضرت مرزا صاحب صادق ہیں۔ جوا ب ملا کہ آپ پر مرزا صاحب کا اثرہوگیا ہے۔ میں دعا کروں گا۔ جواب میں عرض کیا گیا۔ کہ آپ اپنے لئے دعا کرو۔ آخر میں آستانہ الوہیت پر گرا اور میرا قلب پانی ہوکر بہہ نکلا۔ گویا میں نے عرش کے پائے کو ہلادیا۔عرض کی ۔ خدایا ! مجھے تیری خوشنودی درکار ہے۔ میں تیرے لئے ہر ایک عزت کو نثار کرنے کو تیارہوں۔ اور ہر ایک ذلت کو قبول کروں گا۔ تو مجھ پر رحم فرما۔ تھوڑے ہی عرصہ میں میں اس ذات کی قسم کھاتا ہوں۔ جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ بوقت صبح قریباً چار بجے ۲۵ دسمبر ۱۸۹۳ء بروز سوموار جناب سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ تفصیل اس خواب کی یہ ہے کہ خاکسار موضع بیرمی میں نماز عصر کا وضو کررہا تھا۔ کسی نے مجھے آکر کہا کہ رسول عربی آئے ہوئے ہیں اور اسی ملک میں رہیں گے۔ میں نے کہا۔ کہاں ؟ اس نے کہا یہ خیمہ جات حضور کے ہیں۔ میں جلد نماز ادا کرکے گیا۔ حضور چند اصحاب میں تشریف فرما تھے۔ بعد سلام علیکم مجھے مصافحہ کا شرف بخشا گیا۔ میں با ادب بیٹھ گیا۔حضور عربی میں تقریر فرما رہے تھے۔ خاکسار اپنی طاقت کے موافق سمجھتا تھا اور پھر اردو بولتے تھے۔ فرمایا۔ میں صادق ہوں۔ میری تکذیب نہ کرو۔ وغیرہ وغیرہ۔ میں نے کہا آمنا و صدقنا یا رسول اللہ۔تمام گائوں مسلمانوں کا تھا مگر کوئی نزدیک نہیں آتا تھا۔ میں حیرا ن تھا کہ خدایا ! یہ کیا ماجرا ہے؟ آج مسلمانوں کے قربان ہونے کا دن تھا گویا حضور کا ابتدائی زمانہ تھا۔ گو مجھے اطلاع دی گئی تھی کہ حضور اسی ملک میں تشریف رکھیں گے ۔ مگر حضور نے کوچ کا حکم دیا۔ میں نے رو کر عرض کی۔ حضور جاتے ہیں۔ میں کس طرح مل سکتا ہوں۔ میرے شانہ پر حضور نے اپنا دست مبارک رکھ کر فرمایا۔ گھبرائو نہیں۔ ہم خود تم کو ملیں گے۔ تفہیم ہوئی کہ حضرت مرزا صاحب رسول عربی ہیں۔ مجھے فعلی رنگ سمجھایا گیا۔ الحمد للہ ثم الحمدللہ۔
    میں نے بیعت کا خط لکھ دیا۔ مگر بتاریخ ۲۷ دسمبر ۱۸۹۸ء بروز منگل قادیان حاضر ہوکر بعد نماز مغرب بیعت کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ خدا کے فضل نے مجھے وہ استقامت عنایت فرمائی کہ کوئی مصائب مجھے تنزل میں نہیں ڈال سکا۔ مگر یہ سب حضور کی صحبت کا طفیل تھا جو بار بار حاصل ہوئی اور ان ہاتھوں کو حضور کی مٹھیاں بھرنے کا فخر ہے۔ گو مجھے اعلان ہونے پر رنگا رنگ کے مصائب پہنچے مگر خدا نے مجھے محفوظ ہی نہیں رکھا بلکہ اس نقصان سے بڑھ کر انعام عنایت کیا۔ اور میرے والد اور بھائی اور قریبی رشتہ دار احمدی ہوگئے۔ الحمد للہ۔ اگر طوالت کا خوف نہ ہوتا تو میں چند واقعہ اور تحریر کرتا۔ اور یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ درود تاج احمدی ہونے کے بعد بھی پڑھا کرتا تھا۔ میرے استاد مولوی عبدالقادر صاحب لدھیانوی جو میرے بعد احمدی ہوگئے تھے۔ مجھے منع فرماتے تھے کہ شرک ہے مت پڑھا کرو۔ میں نے کہا کہ مسیح موعودؑ سے کہلا دو۔ پھر چھوڑ دوں گا۔ اتفاقاً کسی جلسہ سالانہ پر خاکسار اور مولوی صاحب بھی موجود تھے۔ حضور ہوا خوری کے لئے نکلے۔ مولوی صاحب نے اس موقع پر عرض کیا کہ حضور منشی رحمت اللہ صاحب درود تاج پڑھتے ہیں۔ میں نے منع کیا کہ یہ شرک ہے۔ حضور نے میری طرف مخاطب ہوکر فرمایا۔ کیا ہے ۔ درود تاج پڑھو۔ میں نے پڑھ کر سنایا ۔ فرمایا۔ اس میں تو شرک نہیں۔ مولوی صاحب نے عرض کیا کہ اس میں یہ الفاظ ہیں۔ دافع البلاء و الوباء و القحط و المرض و الالم ۔ تو حضور نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ کو لوگوں نے سمجھا نہیں۔ اس میں کیا شک ہے۔ کہ حضور کا نام دافع البلاء اور وبا ہے بہت لمبی تقریر فرمائی۔ مولوی صاحب خوش ہوگئے۔ اور فائدہ عام کے لئے تحریر کیا گیا۔
    فقط والسلام ۲۰ /فروری ۱۹۳۸ء
    خاکسار
    رحمت اللہ احمدی پنشنر
    سیکرٹری تبلیغ سنگرور ریاست جیند
    نوٹ: تصویر روانہ کی جاتی ہے۔ مگر اچھی طرح سے نہیں آئی۔ اگر حکم ہوگا تو اور اچھی طرح کراکر بھیجی جاوے گی۔



    روایات
    میاں اللہ دتہ صاحب صحابی جماعت احمدیہ ترگڑی
    جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بمع شہزادہ عبداللطیف صاحب شہید مقدمہ کرم الدین کے لئے جہلم تشریف لے جارہے تھے اس موقع پر ریلوے (سٹیشن)گوجرانوالہ گاڑی کے کمرہ میں شرف زیارت حاصل کیا اور بعد ازاں خط کے ذریعہ اسی سال میں نے بیعت کرلی۔ جب لاہور میں پیغام صلح کا مضمون حضرت اقدس کسی مکان میں لکھ رہے تھے۔ تو میاں غلام حیدر موچی چھوٹے قد کاآدمی تھا۔ میں نے کھڑے ہوکر غلام حیدر کو اٹھا کر اوپر کو کسی ذریعہ اندر داخل کردیا کسی اور آدمی نے اندر جانے سے روکا۔ اس وقت حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے اندر داخل ہوتے وقت دیکھ لیا اور روکنے والے کو کہا کہ یہ شخص بڑی محنت کرکے اندر داخل ہوا ہے اس کو اندر آنے دو۔ چنانچہ وہ اندر چلا گیا اور ملاقات کی۔
    بعد ازا ںحضرت صاحب نے بیعت لینے کا اعلان کیا کہ جس جس نے بیعت کرنی ہے وہ ایک دوسرے کی پیٹھ پر ہاتھ رکھتے جاویں۔ ایک آدمی نے ہاتھ رکھا۔ دوسرے اس کی پیٹھ پر ہاتھ رکھتے گئے۔ ایک آدمی نے آگے بڑھ کر ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔ تو حضرت صاحب نے فرمایا کہ جب مامور من اللہ کے آئو تو گستاخی نہیں کرنی چاہئے اور ایک دوسرے کی پیٹھ یا ہاتھ پر جتنی دور چلا جاوے۔ وہ مامور من اللہ کا ہاتھ ہوگا۔ جب نماز مغر ب کا وقت تھا حضرت صاحب سیر سے واپس آرہے تھے اور لوگ نماز کی طیاری میں مصروف تھے۔ تو میں نے حضرت اقدس کو سیڑھی پر مصافحہ کرکے دعا کی درخواست اور اپنے والد میاں جمال الدین صاحب کے لئے دعا کی درخواست کی۔ کہ میرا والد سلسلہ کا سخت مخالف ہے۔ حضرت اقدس نے دریافت کیا کہ اس کا کیا نام ہے؟ میں نے اس کا نام جمال الدین بتایا۔ پھر میرا نام دریافت کیا تو اللہ دتہ بتایا۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ تم دعائوں میںلگے رہو اور ہم بھی دعا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ دعائوں کو ضائع نہیں کرے گا۔ پھر رخصت ہوتے وقت بھی حضرت اقدس نے یہی کلمات فرمائے اور اندر چلے گئے اور والد صاحب نے بعد ازاں سخت مخالفت کی۔ سولہ سال برابر مخالفت پر اڑا رہا۔ مگر دعا برابر کرتا رہا۔
    ایک دفعہ جلسہ پر جانے کے لئے میں نے ان کو تحریک کی۔ کہ آپ کم از کم قادیان جلسہ دیکھو۔ کیونکہ زندگی کا کوئی اعتبار نہیں۔ چنانچہ جلسہ پر آنے سے پہلے والد صاحب نے کہا کہ مجھ سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جب تک حق اور جھوٹ نہ دیکھوں۔ مجھے موت نہیں آئے گی۔ تمہارے کہنے پر نہیں جائوں گا۔ چنانچہ والد صاحب اپنی مرضی سے جلسہ پر آگئے اور جلسہ کے دوران میں بیعت کرلی۔ اور بعد ازاں ایک سال تک زندہ رہے اور ۲۴ء ؁٭بروز جمعہ مارچ شروع میں فوت ہوگئے۔ انا اللہ و انا الیہ راجعون۔
    میاں اللہ دتہ احمدی موصی نمبر ۳۱۹۰
    جماعت ترگڑی گوجرانوالہ
    ٭ ۲۴ئ؁ سے مراد ۱۹۲۴ئ؁ ہے۔






    روایات
    حامد حسین خان صاحب خلف محمد حسین خانصاحب
    متوطن مراد آباد
    ’’میں ۱۹۰۲ء میں علی گڑھ کالج سے آکر میرٹھ میں ملازم ہوا تھا۔ میری ملازمت کے کچھ عرصہ بعد مکرمی خانصاحب ذوالفقار علی خانصاحب بہ سبیل تبادلہ بعہدہ انسپکٹر آبکاری میرٹھ میں تشریف لے آئے۔ آپ چونکہ احمدی تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرچکے تھے۔ لہذا آپ کے گھر پر دینی ذکر و اذکار ہونے لگا اور شیخ عبدالرشید صاحب زمیندار ساکن محلہ رنگساز صدر بازار میرٹھ کیمپ اور مولوی عبدالرحیم صاحب وغیرہ خانصاحب موصوف کے گھر پر آنے جانے لگے۔ خانصاحب موصوف سے چونکہ مجھ سے بوجہ علی گڑھ کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے محبت تھی اس لئے میری نشست و برخاست بھی خانصاحب کے گھر پر ہونے لگی۔ چنانچہ میں نے کتابیں دیکھنے کا شوق ظاہر کیا۔ تو حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی چھوٹی چھوٹی تصانیف خانصاحب نے مجھ کو دیں۔ جو میں نے (غالباً میں نے برکات الدعا اول پڑھی تھی) پڑھیں۔ اس کے بعد عسل مصفٰی مجھ کو دی گئی۔ وہ میں نے دیکھنا شروع کی ہی تھی کہ مولوی محمد احسن صاحب امروہوی خانصاحب کے یہاں تشریف لائے اور میرٹھ میں مناظرہ کے طرح پر گئے۔ اس وقت صرف ایک ہی مسئلہ زیر بحث تھا اور وہ وفات مسیح کا مسئلہ تھا۔ مناظرہ وغیرہ تو میرٹھ کے شریر اور فسادی لوگوں کے باعث نہ ہوا۔ لیکن مولوی محمد احسن صاحب مرحوم کی تقریر ضرور میں نے وفات مسیح کے متعلق سنی۔ میرٹھ کی پبلک سے جو جھگڑا مناظرہ کے متعلق ہوا۔ اس کے حالات ایک رسالہ کی صورت میں شائع کئے گئے۔اس میںمیرا نام بھی ہے۔ (غالباً وہ دارالامان کی لائبریری میں ہوگا۔ اگر دارالامان کی لائبریری میں نہ ہو تو شیخ عبدالرشید صاحب زمیندار ساکن محلہ رنگساز صدر بازار کیمپ میرٹھ کے پاس ہوگا) اس کے بعد ہم کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے ملنے کا اشتیاق ہوگیا اور میں نے خانصاحب موصوف سے عرض کیا کہ اگر حضرت اقدس میرٹھ کے قرب و جوار میں تشریف لاویں تو آپ مجھ کو ضرور اطلاع دیں۔ ایسے عظیم الشان شخص کو نہ دیکھنا بڑی بدنصیبی ہے۔ اس وقت بیعت کرنے کا مجھ کو خیال بھی نہ تھا۔ اس کے بعد ۱۹۰۴ء میں زلزلہ عظیمہ آیا جس کے متعلق یہ کہا گیا کہ یہ حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئی کے مطابق آیا ہے۔ اس کے بعد ایک دن خانصاحب موصوف نے مجھ سے فرمایا کہ حضرت مسیح موعودؑ دہلی تشریف لارہے ہیں۔ کیا آپ زیارت کے لئے چلیں گے۔ میں نے آمادگی ظاہر کردی۔ حضرت اقدس جب دہلی تشریف لائے تو خانصاحب موصوف نے مجھ سے چلنے کے لئے ارشاد فرمایا۔ چنانچہ میں ان کے ہمراہ دہلی روانہ ہوگیا۔ دہلی میں حضرت اقدسؑ کا قیام الف خان والی حویلی میں جو محلہ چتلی قبر میں واقع ہے تھا۔ میں اور خانصاحب موصوف بذریعہ ریل دہلی پہنچے۔ اس وقت غالباً ۱۲ یا ایک بجے کا وقت تھا۔ حضرت اقدس مسیح موعودؑ مکا ن کے اوپر کے حصہ میں تشریف رکھتے تھے۔ اور نیچے اور دوست ٹھہرے ہوئے تھے۔ مکان میں داخل ہوتے ہوئے میری نظر مولوی محمد احسن صاحب پر پڑی۔ چونکہ ان سے تعارف میرٹھ کے قیام کے وقت سے ہوچکا تھا۔ میں ان کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگا۔ تھوڑی دیر میں غالباً خانصاحب نے جو اس برآمدہ میں بیٹھے تھے جس کے اوپر کے حصہ میںحضرت اقدسؑ کا قیام تھا۔ مجھ کو اپنے پاس بلالیا۔ میں ایک چارپائی پر پائینتی کی طرف بیٹھ گیا اور باتیں کرنے لگا۔ جہاں میں بیٹھا تھا ۔اس کے قریب ہی زینہ تھا جس کے ذریعہ حضرت اقدسؑ اوپر تشریف لے جاتے تھے۔ اس طرف میری پشت تھی تھوڑی دیر بعد حضرت اقدسؑ کوٹھی پر سے نیچے تشریف لائے۔ میری چونکہ سیڑھیوں کی طرف پشت تھی۔ میں نے حضرت اقدسؑ کو اوپر سے نیچے تشریف لاتے ہوئے نہیں دیکھا۔ حضور آہستگی سے اتر آئے اور میرے برابر پلنگ کی پائینتی پر بیٹھ گئے۔
    (نوٹ۔ یہ واقعہ حضورکی سادگی اور بے تکلفی پر دلالت کرتا ہے) جب حضور بیٹھ گئے تو کسی نے مجھ کو بتلایاکہ حضرت صاحب تشریف لے آئے ۔ اس وقت میں گھبرا کر وہاں سے اٹھنا چاہتا تھا کہ حضرت صاحب نے ارشاد فرمایا کہ یہاں ہی بیٹھے رہیں۔ یہ یاد نہیں کہ حضور نے مجھ کو بازو سے پکڑ کر بٹھا دیا یا صرف زبان سے ارشاد فرمایا۔ حضرت صاحب کے تشریف لانے کے بعد تمام دوستوں کو جو مکان کے مختلف حصوں میں قیام پذیر تھے۔ اطلاع ہوگئی۔ اور مکان میں ایک ہل چل مچ گئی۔ اس قدر یاد ہے کہ غالباً خانصاحب نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ میرٹھ سے آئے ہیں۔ اتنے میںخواجہ صاحب آئے۔ ان کے ہمراہ اور کوئی صاحب بھی تھے۔ میں نہ خواجہ صاحب سے واقف تھا نہ کسی اور دوست سے واقف تھا۔ حضرت اقدسؑ نے خواجہ صاحب سے مولوی نذیر احمد صاحب کے متعلق کچھ سوال کیا جو مجھ کو یاد نہیں۔ نہ یہ یاد ہے کہ خواجہ صاحب نے کیا جواب دیا؟ بہر حال خواجہ صاحب دن بھر کے حالات سناتے رہے۔ تھوڑی دیر کے بعد کسی نے اذان وہیں دے دی۔ چبوترہ پر فرش بچھادیا گیا اور نماز ظہر و عصر پڑھی گئی۔ میںنے بھی نماز جماعت سے پڑھی۔ صحیح یاد نہیں کس نے نماز پڑھائی۔ نماز سے فارغ ہوکر حضور نے بیعت کے متعلق ارشاد فرمایا۔اس پر کسی نے زور سے کہا کہ جو دوست بیعت کرنا چاہتے ہوں وہ آگے آجائیں۔ چنانچہ بہت سے دوست آگے ہوئے اور میں سب سے پیچھے رہ گیا۔ حضور نے بیعت شروع کرنے سے قبل ارشاد فرمایا کہ جو دوست مجھ تک نہیں پہنچ سکتے۔ وہ بیعت کرنے والوں کی کمر پر ہاتھ رکھ کر جو میں کہوں وہ الفاظ دہراتے جائیں۔ میں اس وقت بھی خاموش الگ سب سے پیچھے بیٹھا رہا۔ اور ہاتھ بیعت کرنیوالوں کی کمر پر نہیں رکھا۔ جب حضرت صاحب نے بیعت شروع کی تو میرا ہاتھ بغیر میرے ارادے کے آگے بڑھا اور جو صاحب میرے آگے بیٹھے ہوئے بیعت کے الفاظ دہرا رہے تھے ان کی کمر پرپہنچ گیا۔ مجھ کو خوب یاد ہے کہ میرا ہاتھ میرے ارادے سے آگے نہیں بڑھا بلکہ خود بخود آگے بڑھ گیا اور پھر میں نے بھی الفاظ بیعت دہرانے شروع کردئیے۔ جب حضرت اقدسؑ نے رب انی ظلمت نفسی کی دعا کا ارشاد فرمایا سب نے اس کو دہرایا۔ میں نے بھی دہرایا۔ لیکن جب حضرت صاحب نے اس کے معنے اردو میں فرمانے شروع کئے اور بیعت کنندوںکو دہرانے کا ارشاد فرمایا۔ میں نے جس وقت وہ الفاظ دہرائے تو اپنے گناہوں کو یاد کرکے سخت رقت طاری ہوگئی۔ یہاں تک کہ اس قدر زور سے میں چیخ کر رونے لگا کہ سب لوگ حیران ہوگئے اور میں روتے روتے بے ہوش ہوگیا۔ مجھ کو خبر ہی نہیں رہی کہ کیا ہورہا ہے؟ جب دیر ہوگئی تو حضرت اقدسؑ نے ارشاد فرمایا کہ پانی لائو۔ وہ لایا گیا۔ اور حضور نے اس پر کچھ پڑھ کر میرے اوپر چھڑکا یہ مجھ کو خانصاحب سے معلوم ہوا۔ ورنہ مجھ کو کچھ خبر ہی نہ رہی تھی۔ ہاں! اس قدر یاد ہے کہ حالت بے ہوشی میں میں نے دیکھا کہ مختلف رنگوں کے نور کے ستون آسمان سے زمین تک ہیں۔ اس کے بعد مجھ کو کسی دوست نے زمین سے اٹھایا۔ میں بیٹھ گیا۔ مگر میرے آنسو نہ تھمتے تھے۔ اس قدر حالت متغیر ہوگئی تھی کہ میرٹھ میں آکر بھی بار بار روتا تھا۔ پھر خانصاحب موصوف نے میرے نام بدر و ریویو جاری کرادیا۔ بدر میں حضرت اقدسؑ کی وحی مقدس شائع ہوتی تھی۔ اس سے بہت محبت ہوگئی اور ہر وقت یہ جی چاہتا تھا کہ تازہ وحی سب سے پہلے مجھ کو معلوم ہوجائے۔ پھر جلسہ پر دارالامان جانے لگا۔ اور برابر جاتا رہا۔
    حضرت اقدس علیہ السلام کو دعائوں کیلئے خط لکھتا رہتا۔ ایک خط کا جواب حضرت اقدسؑ نے اپنے دست مبارک سے دیا تھا وہ میرے پاس اب تک موجود تھا۔ لیکن جب میرٹھ سے پنشن کے بعد ہجرت دارالامان کو کی۔ تو کہیں کاغذات میں مخلوط ہوگیا یا ضائع ہوگیا اگر مل گیا تو پیش کردوں گا۔
    ۱۹۰۷ء میں جلسہ کے موقع پر میں قادیان حاضر ہوا۔ غالباً صبح کی نماز کے لئے یا نماز کے بعد مسجد مبارک میں اوپر زینہ پر چڑھ رہا تھا۔ حکیم عبدالصمد صاحب ساکن انچولی ضلع میرٹھ میرے ہمراہ تھے۔ ناگاہ حضرت اقدسؑ نے اس دروازہ میں سے (جو مسجد مبارک میں ہے۔ جس میں سے حضرت امیر المومنین اب مسجد مبارک میں تشریف لاتے ہیں اور اسی میں سے تشریف لے جاتے ہیں) آواز دی کہ مفتی صاحب کو بلائو۔ اس وقت اور بہت سے دوست زینہ پر موجود تھے۔ کسی نے عرض کیا کہ حضور مفتی صاحب آتے ہیں۔ تھوڑی دیر کے بعد مفتی صاحب مکر م تشریف لے آئے۔ چونکہ زینہ میں بہت سے دوست جمع ہوگئے تھے۔ اس خیال سے کہ حضور کا ارشاد سنیں کہ مفتی صاحب کو کیا حکم ہوتا ہے؟ بڑی تنگی تھی بڑی مشکل سے مفتی صاحب کے لئے جگہ کی گئی اور مفتی صاحب دروازہ کے قریب پہنچ گئے۔ اس وقت حضور نے ارشاد فرمایا کہ ہم کو آج شب کو یہ الہام ہوا ہے۔ ’’یا نبی اطعم الجائع و المعتر٭‘‘ اور یہ فرمایا کہ ’’آج
    ٭تذکرہ میں اس الہام کے الفاظ یوں ہیں ’’یا ایھا النبی اطعموا الجائع و المعتر‘‘
    (بدر جلد۷ نمبر ۱ مورخہ ۹ جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۱ ۔ تذکرہ صفحہ۷۴۶ مطبوعہ ۱۹۶۹ئ)
    پہلی مرتبہ ہم کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح مخاطب فرمایا ہے۔ آپ جاکر دیکھیں کہ کچھ مہمان بھوکے تو نہیں رہے۔‘‘ مفتی صاحب پنسل کاغذ ہمراہ لے گئے تھے۔ فوراً مفتی صاحب نے اول وحی الٰہی کو نوٹ کیا اسکے بعد مہمانخانہ میں پہنچے۔ (اس وقت مہمان خانہ وہا ںنہ تھا جہاں اب ہے) دریافت کرنے سے معلوم ہوا کہ رات بعض دوست جو دیر سے باہر سے آئے تھے بھوکے رہ گئے اور کھانا نہ مل سکا۔ مفتی صاحب نے واپس آکر حضرت اقدسؑ کو رپورٹ عرض کی۔ پھر ہم چلے آئے۔
    ایک مرتبہ میں جلسہ پر آیا ہوا تھا اور حضور سیر کو تشریف لے جانے لگے تو مجھ کو کسی دوست نے بتلایا کہ حضور سیر کو تشریف لے جارہے ہیں۔ میں بھی ہمراہ ہوگیا۔ سب دوست ہمراہ تھے۔ حضور کے گرد حلقہ باندھے ہوئے جارہے تھے۔ مجھ کو مرزا یعقوب بیگ صاحب مرحوم نے اس حلقہ کے اندر لے لیا اور میں حضور کے کلمات مبارک سنتا ہوا سیر میں ہمراہ رہا۔ جہاں تک مجھ کو یاد ہے۔ حضور اس دن ریتی چھلہ کی طرف سیر کو تشریف لے گئے تھے۔ وہاں جاکر کسی دوست نے کچھ اشعار بھی سنائے۔ مسجد اقصیٰ میں بھی میں نے حضرت اقدس کی تقریر سنی تھی اور کچھ کلمات مبارک کہیں نوٹ کئے تھے۔ لیکن وہ نوٹ بک اب مجھے ملی ہے افسوس ہے۔ یہ واقعات جو میں نے تحریر کئے ہیں۔ ترتیب وار نہیں کیونکہ تاریخیں یاد نہیں ہیں۔
    نوٹ ۔ یہ سب واقعات حافظہ سے لکھے ہیں۔ لیکن میرے پاس نوٹ بک میں تحریر نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ جہاں تک حافظہ نے مدد دی ہے۔ صحیح صحیح لکھے ہیں۔ اگر کہیں حافظہ نے غلطی کی ہو تو اللہ تبارک و تعالیٰ مجھ کو معاف فرماوے۔
    والسلام
    حامد حسین خان
    خلف محمد حسین خان متوطن مراد آباد
    محلہ مغلپورہ ۔ ثم میرٹھی ۔ ثم قادیانی


    روایات
    محمد عبداللہ صاحب ولد محمد رمضان صاحب ہیڈ ماسٹر مڈل سکول
    چک رامداس تحصیل بھلوال
    خاکسار نے بوساطت مولوی اللہ دتہ صاحب ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر سکنہ قلعہ دیدار سنگھ ضلع گوجرانوالہ حال مہاجر قادیان دارالامان مارچ ۱۹۰۸ء میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام لاہور تشریف فرما تھے مولوی صاحب کے ساتھ لاہو رجاکر حضرت صاحب کے دست مبارک پر بیعت کی۔ ہم صرف ایک ہی رات وہاں رہے۔ اس تھوڑے سے عرصہ میں فرمایا ہوا مندرجہ ذیل کلام حضور کا یاد رہا ہے۔
    ۱۔ خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان واقع برلب سڑک کیلیانوالی میں بیٹھے ہوئے تھے۔ کافی مجمع تھا حضور بیٹھے بیٹھے کلام فرما رہے تھے کہ ایک بوڑھے دوست نے غالباً ان کی نظر بھی کمزور تھی۔ عرض کی۔ حضور میرے لئے دعا فرماویں۔حضور نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا ! بابا! آپ کا کیا نام ہے؟ اس نے عرض کی حضور میرا نام مستقیم ہے۔ پھر حضور نے فرمایا۔ اچھا بابا! خدا آپ کو مستقیم کرے۔
    ۲۔ صبح کا وقت تھا۔ تھوڑا سا دن چڑھا ہوا تھا۔ حضور باہر سے غالباً بند گاڑی پر تشریف لائے اور اتر کر ڈاکٹر سید محمد حسین شاہد صاحب کے مکان کے اندر تشریف لے گئے۔ خدّام باہر زیارت کے لئے منتظر تھے۔ حضور جب اندر سے اسی مکا ن کے برآمدہ میں تشریف لائے جو برلب سڑک تھا۔ تو دوستوںکو مصافحہ کا موقع ملا۔ حضور کھڑے کھڑے مصافحہ فرما رہے تھے کہ ایک افغان دوست جو سرحدی علاقہ کا تھا۔ (پشاور کی طرف کا) فوراً پائوں پر گر پڑا۔ اور سجدہ کی صورت بن گئی۔ حضرت صاحب نے فوراً جھک کر اس کو اٹھایا اور فرمایا کہ یہ شریعت میں منع ہے۔ سجدہ صرف خدا کے لئے ہے۔ پھر حضور بیٹھ گئے۔ اثنائے گفتگو میں ایک دوست نے جو شیعہ سے احمدی ہوا ہوا تھا۔ایک طویل گفتگو شروع کردی۔ حضور تو خاموش رہے دوسرے دوستوں نے تنگ آکر اس دوست سے عرض کی کہ اس سلسلہ کو ختم کریں۔ حضرت صاحب کا کلام ہمیں سننے دیں۔ جس کے لئے ہم آئے ہوئے ہیں۔ آخر وہ دوست خاموش ہوگئے اور حضرت صاحب اپنے پاک کلام سے مستفید فرماتے رہے۔
    نوٹ۔ خاکسار نے جب بیعت کی۔ اس وقت مڈل سکول قلعہ دیدار سنگھ ضلع گوجرانوالہ میں تھرڈ ماسٹر تھا۔ اور مولوی صاحب اسی سکول میں سیکنڈ ماسٹر تھے۔ ہم دونوں کشمیری الاصل ہیں۔ اس وقت میری سکونت احمد نگر ضلع گوجرانوالہ میں تھی۔ مگر اب مستقل سکونت وزیر آباد گلی آبکاری کہنہ ضلع گوجرانوالہ میں ہے۔
    خاکسار
    محمد عبداللہ احمدی ہیڈ ماسٹر مڈل سکول چک رامداس
    تحصیل بھلوال ضلع شاہ پور
    متوطن وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ
    ۳۸۔۳۔۱





    روایات
    مولوی فتح علی صاحب احمدی منشی فاضل دوالمیال ضلع جہلم
    میں نے ۴ ء ؁٭میں بمع بال بچہ آکر حضور مسیح موعود علیہ السلا م کے ہاتھ پر بیعت کی اور حضور کی حیات مقدس میں ہر سال بمع بال بچہ ہی حضور کی خدمت اقدس میںپہنچتا رہا اور جب کبھی حضور باہر نماز کے لئے تشریف لاتے اور مسجدمیں بیٹھتے تو ہم دو المیال کی جماعت جو پانچ سات کس تھے پاس بیٹھتے اور حضور کی زبان مقدس کے الفاظ سے فیض اٹھاتے تھے اور چند دفعہ دعا کے لئے بھی عرض کی گئی تھی۔ اس وقت وہ چھوٹی سی مسجد جس میں پانچ چھ آدمی بصد مشکل کھڑے ہوسکتے تھے۔ پھر مسجد مبارک وسیع کی گئی۔ ایک دفعہ ہماری جماعت کے امام مسجد مولوی کرمداد صاحب نے عرض کی کہ حضور ہماری مسجد میں قدیم سے ایک امام سید جعفر شاہ صاحب ہیں۔ وہ حضور کے معتقد ہیں وہ آپ کو مانتے ہیں۔ لیکن غیرو ںکی بھی گاہ بگاہ جنازوں میں یا نمازوں میں اقتداء کرتے ہیں۔ میں نے عرض کی کہ وہ شخص یہاں تک معتقد ہے کہ ایک دفعہ مجھ سے اس نے خط لکھوایا اور یہ لفظ لکھوائے کہ میںحضور کے کتوں کا بھی غلا م ہوں۔ اگر کسی وقت جہالت یا نادانی سے کمی بیشی ہوگئی تو حضور فی سبیل اللہ معاف فرماویں۔ تو حضور نے فرمایا کہ جب وہ اب تک دنیا کی لالچ یا خوف سے غیروں کے پیچھے نماز یاجنازہ پڑھتا ہے تو کب اس نے ہم کو مانا۔ آپ اس کے پیچھے نمازیں مت پڑھو۔ میں اس وقت حضرت ام المومنین کے حکم سے اندر سے مشین سلائی منگا کر حضرت صاحبزادہ شریف احمد جو اس وقت آٹھ دس سال کے ہونگے کا کوٹ گرم طیار کررہا تھا۔ کیونکہ ہماری مستورات جو تقریباً پانچ سات ہمیشہ ہمارے ساتھ آتی تھیں وہ حضور کے اندر ہی رہتی تھیں۔ اس نے بتلایا کہ عبدالعزیز کا اَبّا درزی کا
    ٭ ۴ئ؁ سے مراد ۱۹۰۴ئ؁ ہے۔
    کام جانتا ہے۔اور ہم تین چار دفعہ جلسہ سے بعد مارچ اپریل میں قادیان آتے تھے اور اندر ہماری مستورات بغیر بستر کے آتی تھیں اور حضور سے عرض کرتی تھی کہ حضور ہم نمک کھیوڑہ کے اسٹیشن پر دس گیارہ میل پہاڑ کا سفر جو اترائی چڑھائی ہے آتے ہیں۔ اس واسطے ہمارے مرد اور ہم عورتیں بستر اٹھا کر نہیں لاسکتیں۔ تو حضور ہمیشہ ہمارے لئے حامد علی کو فرماتے تھے کہ حامد علی دو المیال والوں کو رضائیاں دینا وہ بستر نہیں لاسکتے۔
    ایک دفعہ میری اہلیہ کو درد دانت شروع ہوا۔حضور کی ذات میں اس قدر ہمدردی اور شفقت علی خلق اللہ کوٹ کوٹ کر بھری تھی کہ تین چار د ن میں میرے پاس پوچھنے کے لئے آئے اور مولوی صاحب کو رقعہ لکھا کر کوئی دوائی درد کی بھیج دیویں۔ سبحان اللہ۔ اللھم صل علی محمد و علی آل محمد و علی عبدہ المسیح الموعودؑ۔
    میرا لڑکا عبدالعزیز مرحوم بھی جو سات آٹھ سال کا تھا جو میرے ساتھ آتا رہا اور حضور کی درثمین کے اشعار نہایت خوش آوازی سے پڑھتا تھا ۔ جلسوں میں بھی اور حضور کے اندر بھی آکر سناتا تھا۔ حضور اس سے بہت پیار کرتے تھے۔ دو المیال والوں کی درخواستیں یہی اندر میںحضور کو پہنچا تا تھا۔ ایک دفعہ محمد علی ولد نعمت نے ایک عرضی کسی خاص دعا کے لئے لکھا کر عبدالعزیز کو دی کہ حضور کو دے آوے اور گھر جانے کی اجازت لے آوے۔ چونکہ ابھی سویرا ہی تھا اور حضور نماز فجر کے بعد رضائی اوڑھ کر بمع بچوں کے لیٹے ہوئے تھے۔ یہ بھی بچہ تھا اس قدر ادب و احترام کو نہیں سمجھتا تھا کہ حضور آرام کررہے ہیں۔ فوراً حضور کے چہرہ مبارک سے رضائی اٹھالی۔ اور وہ رقعہ دیا اور ساتھ اجازت جانیکی بھی مانگی۔ قربان ہوں میرے ماں باپ کہ ذرا بھی حضور کے چہرہ مبارک پر ملال نہ آیا کہ ارے بیوقوف ! ہم کو بے آرام کردیا بلکہ پیارسے کہا کہ’’ اچھا اجازت ہے‘‘۔ یہ تھے حضور کے اخلاق فاضلہ جن نے تمام مخلوقات کو اپنا گرویدہ بنالیا۔
    خاکسار مولوی فتح علی احمدی
    منشی فاضل دوالمیال ضلع جہلم

    روایات
    میاں فضل الدین صاحب
    تیجہ کلاں معرفت نور احمد صاحب قریشی
    میں اپنے ایک دوست محمد اسد اللہ ولد میاں عبدالعزیز صاحب احمدی اور ایک غیر احمدی دوست جو کہ سید قوم سے تھے بروز بدھ وار ۱۹۰۷ء شام کو قادیان پہنچے۔ اور صبح کو اگلے دن بروز جمعرات یہ انتظار تھی کہ آج حضرت مسیح موعودؑ باہر تشریف لاوینگے اور بہت لوگ یہ انتظاری کئے بازار میں بیٹھے تھے اور اس بات کے منتظر تھے کہ حضور براستہ بازار باہرکو تشریف لاوینگے۔تو اسی اثناء میں کسی دوست نے بآواز بلند کہا کہ حضرت صاحب توباری کے راستہ باہر نکل گئے۔ جس وقت یہ آواز کانوں میں پڑی تو سب دوست بڑی تیزی سے باہر کی طرف بھاگے جن میں خواجہ کمال الدین لاہوری اور شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کو میں اچھی طرح جانتا ہوں اور نواب صاحب مالیر کوٹلہ بھی اس اجتماع میں تھے ۔ اس وقت جبکہ دوست بھاگے ۔ صبح دس بجے کا وقت تھا۔ لوگوںکے بھاگنے کی وجہ سے اس قدر گرد و غبار ہوا کہ سورج کی روشنی مدھم پڑ گئی۔ دوسری جگہ دور دھوپ معلوم ہوتی تھی مگر اس جگہ پر تمام چھائوں ہوگئی سورج نظر نہ آتا تھا۔ اور اس وقت عام دوستوں کو یہ بات کرتے سنا کہ یہ ایک پیشگوئی تھی جو چوبیس سال کے بعد آج پوری ہوئی ہے۔ اسی دوران میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ کو دوستوں نے گھیر لیا۔ یہاں تک کہ چلنا دشوار ہوگیا اور ریتی چھلہ میں جو اب بڑ کا درخت موجود ہے اسکے دوسری طرف یعنی مغرب کی جانب ایک لسوڑی کا درخت تھا۔ اب وہ غالباً کاٹا گیا ہے۔ اس لسوڑی کی جڑ پر حضور نے بایاں قدم مبارک رکھا اور کھڑے ہوگئے ۔ بعد اس کے سڑک کے دونوں طرف لوگ کھڑے ہوگئے اور شہر کی جانب سے ایک ایک دوست یکے بعد دیگرے مصافحہ کرکے آگے چلتے جاتے۔ علاوہ اس کے اور کوئی بات کرنے کی اجازت نہ تھی۔ اس کے بعد دوسرا دن چڑھا۔ وہ دن جمعہ کا تھا اور صبح ہی یہ اعلان ہوگیا کہ روٹی کھانے کے بعدتمام دوست جلدی مسجد اقصیٰ میں پہنچ جاویں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور کارروائی جلسہ شروع ہوئی۔ حضرت حافظ روشن علی صاحب مرحوم رضی اللہ عنہ اور حضرت حافظ مولوی غلام رسول صاحب راجیکی نے تقریر فرمائی۔ حتّٰی کہ جمعہ کی نماز کا وقت ہوگیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی تشریف لے آئے۔اس وقت مسجد کا تمام صحن وغیرہ آدمیوں سے بھر چکا تھا اور مینار کے پاس آپ کے گھر کی جانب جہاں لوگوں نے جوتیاں اتاری ہوئی تھیں۔ آپ وہیں کھڑے ہوگئے۔ لوگوں نے ارادہ کیا کہ حضور آگے تشریف لے جائیں۔ مگر حضور نے وہیں کھڑا رہنا پسند فرمایا۔ تو لوگوں نے جوتیاں وغیرہ ہٹا کر وہیں مصلّٰی بچھا دیا اور حضور نے وہیں نماز جمعہ باجماعت ادا کی۔ بعدہ ‘حضور کی تقریر کا وقت آیا تو حضور نے نہایت اعلیٰ تقریر فرمائی اور تقریرکا موضوع یہ تھا کہ جو بھی بندہ خدا کا اللہ کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ان کے ساتھ مولوی لوگ یونہی کرتے چلے آئے ہیں۔ چنانچہ اس وقت حضور نے حضرت شمس اور حضرت منصور اور امام ربانی مجدّد الف ثانی اور پیران پیر سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کا ذکر خاص طور پر کیا کہ علماء وقت نے ان کے ساتھ بھی کمی نہیں کی اور فرمایا کہ اب بھی ایک مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسر میں ہے اور بڑا لاٹ مولوی ہے۔ اس نے میرا نام (نعوذ باللّہ من ذلک) دجال و کافر رکھا ہوا ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ خدااسے ہدایت دے۔ میرے خیال میں یہ حضور کے آخری تقریری فقرے تھے۔ اور جلسہ برخاست ہوا۔
    اب ایک اور صداقت کی نشانی میرے والد صاحب کی زبانی ۔ یعنی میری پیدائش کی کہانی کہ میرے والد صاحب کے ہاں اولاد نرینہ نہ بچتی تھی۔ قبل اس کے میرے تین بھائی فوت ہوچکے تھے اور ایک بھائی جو مجھ سے دس سال عمر میں بڑے اور زندہ ہیں۔ خدا تعالیٰ انہیں زندہ سلامت رکھے۔ آمین۔ وہی آپ کے اکلوتے بیٹے تھے بعد دس سال گزر گئے۔ تو اس دوران میں آپ کے یہاں کوئی اولاد نہ ہوئی۔ والد صاحب فرماتے کہ جب میں نہرکے پل جو چیمہ کا پل ہے۔ ذرا آگے کی جانب ہوا۔ تومیرے دل میں یہ خیال قدرتاً پیدا ہوا کہ اب اگر خدا تعالیٰ اپنی بارگاہ سے فرزند عطا کرے تو کیا ہی بہتر ہو۔ کیونکہ وہ پیدائشی احمدی ہوگا۔ تو اس کا نام کیا رکھنا چاہئے تو دل سے آواز آئی کہ اس کا نام نور احمد رکھوں گا۔ سو خدا تعالیٰ نے اسی سال یعنی ۱۹۰۸ء میں میری پیدائش کی۔ تو میرے والد صاحب نے میرا نام نور احمد رکھا۔
    خاکسار
    الراقم قریشی نور احمد
    ولد میاں فضل دین تیجہ کلاں
    میرے والد صاحب کا پتہ و نام
    میاں فضل الدین صاحب احمدی قریشی
    ولد میاں مہتاب الدین صاحب قریشی
    ساکن تیجہ کلاں ڈاک خانہ خاص ضلع گورداسپور ۳۸۔۱۔۱۸







    روایات
    مستری علی احمد صاحب نائی والا ضلع سیالکوٹ
    میرے والد صاحب نے ۱۸۹۸ء میں بیعت کی تھی۔ میں پیدائشی احمدی ہوں۔ میرے والد صاحب بہشتی مقبرہ میں دفن ہیں۔ ۱۹۰۴ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیالکوٹ میں تشریف لائے تھے میں اس وقت بچہ تھا میری عمر اس وقت قریباً ۱۲ یا تیرہ سال کی ہوگی۔ جب حضور سیالکوٹ میں تشریف لائے۔ اس وقت شام ۶ بجے کے قریب گاڑی اسٹیشن پر پہنچ گئی۔ جمعرات کا دن تھا۔ لوگو ںکا اتنا ہجوم تھا کہ خدا کی پناہ! بصد مشکل حضور اپنے قیام گاہ میں تشریف لائے۔ جناب سیّد حامد شاہ صاحب کے والد سیّد حسام الدین کے مکان پر آپ کا قیام گاہ کیا گیا۔ مخالفت کا یہ حال تھا کہ علمائوں نے فتویٰ جاری کردیا کہ جو شخص مرزا قادیانی کو دیکھے گا اس کا نکاح قائم نہیں رہے گا۔ باوجود ایسی مخالفت کے لوگوں کا یہ حال تھا کہ علمائوں کو اپنے فتوے بھول گئے۔ حضور کی آمد پر جمعہ حضور نے خود پڑھایا تھا۔ سینکڑوں آدمی بیعت میں شامل ہوئے۔ حضور ایک مکان جو دو منزل کا تھا وہاں تشریف فرما تھے۔ وہاں جناب نے ایک کتاب طیار کی۔ جس کا نام لیکچر سیالکوٹ رکھا گیا۔ مگر جب حضور مکان پر کتاب تحریر کررہے تھے۔ مخالف لوگ شور کررہے تھے کہ مرزا صاحب باہر نکل کر وعظ نہیں کرسکتے۔ جب حضور تک یہ خبر پہنچائی گئی تو حضور نے فرمایا کوئی جگہ مقرر ہو۔ مگر حضور نے ایک دن اس مکان کی کھڑکی کھول دی۔ خلقت اتنی جمع ہوگئی کہ بازار وں میں تمام راستے بند ہوگئے۔ لوگوں کو اتنا دیکھنے کا شوق تھا کہ باوجود پولیس کا کافی انتظام تھا پھر بھی خلقت کا یہ حال تھا کہ خون ہوجانے کا خطرہ تھا۔ مگر جو وعظ کرنے کے لئے جگہ مقرر کی گئی۔ وہ ’’ مہاراجے جموں کی سراں‘‘ تھی۔ حضور نے وہاں جاکر لیکچر دیا۔ حضور نے فرمایا کہ میں کرشن سے بڑھ کر ہوں۔ اگر اہل ہنود جنت میں جانا چاہتے ہوں تو مجھ کو کرشن اوتار مان کر میری بیعت کرلیں۔ مگر مخالفت کا یہ حال تھا کہ تمام علماء و مولوی و گدی نشین سیّد لوگو ںکو منع کررہے تھے کہ کوئی لیکچر گاہ میں نہ جائے۔ بلکہ ایک سیّد پنجاب میں بڑا مشہور و معروف جس کا نام جماعت علی موضع علی پور ضلع سیالکوٹ سے آیا ہوا تھا۔ اس نے یہ اعلان کردیا کہ ایک برتن میں تیل گرم کیا جائے۔ اس کے گرم ہونے پر میں اور مرزا قادیانی اس میں داخل کئے جاویں۔ جو زندہ بچ جاوے وہ سچا ہوگا۔ آخر جب حضور نے سنا تو یہ لوگ قرآن مجید سے ان واقف ہیں۔ آخر حضور صبح کی گاڑی سے قادیان تشریف لائے۔ مگر مخالف لوگوں کا یہ حال تھا کہ چلتی گاڑی پر پتھر پھینکے اور برہنہ ہوکر گاڑی کی طرف کھڑے ہوگئے۔ عرب کے لوگوں کا یہ حال نہ تھا۔ مگر سیالکوٹی بدمعاشوں نے ایسا کیا۔ مگر جب حضور قادیان تشریف لائے۔ سیالکوٹ کا یہ حال ہوا کہ ایک مولوی صاحب جن کا نام فیض الدین تھا ان کے احمدی ہونے پر لوگوں نے شور کردیا۔ ایک مسجد کا وہ امام تھا۔ مگر مسجد پر غیر احمدی اپنا قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ آخری احمدی وغیر احمدی وہاں نماز ادا کرتے رہے۔ آخر مقدمہ چلا تو مسجد خدا نے احمدیوں کو دے دی جو اب تک احمدی اس پر قابض ہیں۔ وہ مسجد جس کا نام’’ کبوتراں والی‘‘ تھا وہ اب ’’جامع مسجد احمدیہ ‘‘کے نام پر مشہور ہے۔
    والسلام
    مستری علی احمد از نائی والا ضلع سیالکوٹ
    ڈاک خانہ پیرو چک بتاریخ ۱۲ فروری ۳۸ئ؁*
    * ۳۸ئ؁ سے مراد ۱۹۳۸ئ؁ ہے۔



    روایات
    شیخ قدرت اللہ صاحب ولد شیخ کریم بخش صاحب
    سیکرٹری انجمن احمدیہ نابہہ
    بزمانہ گرہن چاند و سورج کا ‘ رمضان میں بعدالت مجسٹریٹ ضلع ایلوہ ریاست نابہہ سرشتہ دار تھا۔ اس وقت زبانی میا ںکریم بخش صاحب نمبردار موضع ارے پور ‘بعثت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حال معلوم ہوا۔ مگر بوجہ عدیم الفرستی و عدم توجہگی احکام مذہبی سرسری خیال کرتا رہا۔ مگر یہ خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ کبھی بھی مخالفت کا حرف زبان پر نہیں آیا۔ کچھ عرصہ کے بعد جب میں نابہہ صدر مقام میں تبدیل ہوکر پہنچا۔ مولوی عظیم اللہ صاحب اہل حدیث جو حدیث کے عالم تھے۔ بمع انکے چند رفقاء کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں داخل ہوچکے تھے جناب مولوی صاحب موصوف کی تلقین فرمانے پر اس عاجز کو بھی شرف بیعت حاصل ہوا۔ محلہ کی مسجد میں جب نماز باجماعت ادا کرنے میں دقت واقع ہونے لگی تب ہمارے مکان کے صحن میں چھپر ڈال کر عارضی انتظام کرلیا گیا۔ کچھ دنوں کے بعد خدا تعالیٰ نے مختصر جیسی جگہ قیمت پر دلادی پھر وہاں پر ایک مختصر جیسا کوٹھہ بشکل مسجد تعمیر کرلیا گیا۔ مہاراجہ نیرا سنگھ صاحب بہادر والئی نابہہ کی خدمت میں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر ہوا تو مہاراجہ صاحب موصوف نے ہمارے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کا شوق ظاہر فرما کر حضرت صاحب کو نابہہ لانے کے واسطے کہا۔ حضور کی خدمت میں جب گزارش کیا گیا تو حضور نے فرمایا کہ ’’پیاسا خود چشمہ کے پاس آیا کرتا ہے چشمہ چل کر نہیں جاتا‘‘ یہی جواب مہاراجہ صاحب سے عرض کیا گیا اور ایک فوٹو حضور کا پورے قد کا مہاراجہ صاحب کے ملاحظہ کیواسطہ پیش کیا گیا۔ مہاراجہ صاحب نے نہایت مودبانہ طور پر کھڑے ہوکر فوٹو لیا اور غور سے دیکھنے کے بعد فرمایا کہ شکل و صورت سے یہ سچے معلوم ہوتے ہیں اور مبلغ گیارہ روپیہ نذرانہ پیش کیا جو قادیان حضرت اقدس کی خدمت مبارک میں بھیج دیا گیا۔ مہاراجہ صاحب حسن ظنی کے طور سے بمقابلہ فتاوٰی علمایان غیر احمدی ۔ احمدی جماعت کا فتویٰ صحیح تصور فرمایا کرتے ہیں۔ مہاراجہ صاحب کے انتقال کے بعد غیر احمدیوں نے ہماری مسجد کے متعلق ریاست میں خلاف ورزی کی شکایت کی ۔ ریاست کا حکم ہے کہ جو لوگ مندر شوالہ یا مسجد وغیرہ معبد تعمیر کریں۔ چونکہ ان کے بعد ان معبدوں کی خبر گیری نہیں ہوتی۔ خراب خستہ حالت میں چراغ بتی بھی نہیں ہوتی۔ تعمیر کرنے والوں سے دو ہزار روپیہ امانت رکھایا جایا کرے تاکہ اس روپیہ سے ریاست اس کی حفاظت کا انتظام کیا کرے۔ ہم نے کوئی روپیہ امانت میں نہیں رکھا تھا نہ اس قدر گنجائش تھی۔ چونکہ مشیت ایزدی سے ہماری مسجد بوجہ تنگی بے رخ تھی۔ ریاست نے وہ شکایت خارج کردی کہ اس کی گنبد وغیرہ بمثل مسجد نہیں۔ نماز پڑھنے کے لئے محض جگہ ہے۔ شکایت کنندگان بھی چند دنوں میں ہی بیماریوں کی شدت سے فوت ہوگئے۔ دس بارہ سال ہوئے۔ شہر میں نالیاں اور سڑکیں جب نکالی گئیں۔یہ ہماری مختصر جیسی مسجد بھی سڑک کی سطح سے نیچے ہوگئی۔ قابل استعمال نہ رہی۔ آخر اس کو شہید کرنا پڑا اور تعداد افراد جماعت کے لحاظ سے بھی اس میں گنجائش ادائیگی نماز نہ رہی تھی۔ ریاست میں مالی تنگی کا اظہار کرکے جو امداد کی میں نے درخواست دی۔ تو ریاست سے ۶۰۰ روپیہ امداد اً دیا گیا اور جو ہمارے ملنے والے غیر احمدی ملازم و غیر ملازم تھے ان سے پانچ سو روپیہ چندہ ہوگیا۔ کچھ جماعت نے چندہ کیا۔ خدا کے فضل سے نہایت شاندار مسجد بلاگت پندرہ سو روپیہ تیار ہوئی۔ اور فرش دری مسجد کے واسطے بھی جناب ہوم ممبر صاحب سردار بہادر ہرگوردیال سنگھ صاحب نے بلاگت ۷۰ روپیہ اپنے گرہ سے تیار کردیا۔ اور عید گاہ پہلے ہی ہمارے پاس نہیں تھی ایک سردار کے باغ میں پڑھا کرتے ہیں اس نے آج کل کے ہوا مخالف سے متاثر ہوکر ہم کو روک دیا۔ اس کے متعلق ریاست میں کوشش کی گئی۔ تو کونسل ریاست نے براہ مہربانی پانچ بیگھہ اراضی نہری سرکاری باغ میںسے کا ٹ کر عید گاہ کے واسطے بطور معافی دے دی۔ اراضی کاشت پر دے دی گئی ہے۔ اس کی آمد سے مصارف مسجد چل جاتا ہے اور ۱۵۰ روپیہ صرف کرکے خدا کے فضل سے مسجد عید گاہ ہم نے علیحدہ تیار کرلی ہے۔ انجمن احمدیہ رجسٹرڈ ہوچکی ہے۔ بمقابلہ دوسری انجمن ہا مذاہب بوجہ امن پسند ہونے جماعت احمدیہ کی فیس رجسٹری بھی ریاست نے معاف کردی ہے۔ مختلف صیغہ جات میں کام کرنے کے بعد مہاراجہ صاحب نے مجھے منصف ضلع ایلوہ میں مقرر کیا اور وہاں سے ترقی دے کر ہائیکورٹ ریاست میں رجسٹرار مقرر فرمایا۔ تنخواہ کے علاوہ مبلغ ۳۰ روپیہ ماہوار بصلہ دیانتداری و نیک چلنی ریاست نے تاحیات عطا کیا۔ ۱۹۲۶ء میںمَیں نے ۱۰/۱ حصہ کی وصیت کی اور کل جائیداد کا ۱۰/۱ حصہ اس وقت نقد داخل کردیا گیا اور روز وصیت سے آمد ہر قسم کا ۱۰/۱ حصہ ہی وصیت کیا ہوا ہے۔ اور اب خدا کے فضل سے ۱۹۳۷ء میں حسب الارشاد حضرت خلیفۃ المسیح ثانی وصیت میں اضافہ کرکے ۹/۱ حصہ کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ماہ بماہ چندہ بھیج دیا جاتا ہے۔ رجسٹراری ہائیکورٹ سے ۱۹۲۹ء میں اجازت حج بیت اللہ شریف حاصل کی۔ بعد ادائیگی فریضہ حج بیت اللہ ریاست نے ۴۸ سالہ سروس کے بعد مجھ کو نصف تنخواہ پر پنشن عطا کردی۔ اور پنشن کے علاوہ الائونس دیانتداری و نیک چلنی جو مہاراجہ صاحب نے عطا کیا تھا وہ علیحدہ ملتا ہے۔ پنشن حاصل کرنے سے پہلے انجمن کا کام مالی وغیرہ میں نے سپرد کیا ہوا تھا۔ جب سے پنشن ہوئی ہے اس وقت سے انجمن کے تمام کاروبار سیکرٹری و امارت وغیرہ کا وصولی چندہ و حساب کتاب کا میں نے بوجہ فراغت کاروبار اپنے ذمہ لے لیا ہے اور مسجد میں امامت کا کام بھی سرانجام دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے اور سلسلہ کی خدمت کی توفیق ملتی رہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت مبارک میں چند بار حاضری کا موقع میسر آتا رہا۔ ۱۹۰۸ء میں جبکہ حضور علیہ السلام لاہور تشریف رکھتے تھے۔ میں ریاست کی طرف سے سرمدی وکیل ضلع فیروزپور میں نامور تھا۔ وہاں سے جماعت فیروز پور شہر کی طرف ایک مقدمہ ناطہ رشتہ ایک صاحب احمدی تحصیل ایرہ ضلع فیروزپور کو پیش کرنے کے واسطے حضور علیہ السلام کی خدمت میںحاضر ہوا تھا۔ جو جو ارشاد اس مقدمہ میں حضرت اقدس نے فرمایا تھا وہ قبل ازیں بذیل روایات علیحدہ روانہ ہوچکا ہے۔ اور جو عطیہ مواقعات ریاست پر سرکار سے جملہ مذاہب کے معبدو ںکو سالانہ ملتا ہے اسی قدر ہماری مسجد کو ملتا ہے اور اب سرکاری عدالت میں یہ مسجد احمدیہ باضابطہ درج ہوگئی ہے۔ دو ہزار کے داخلائے امانت کا ریاست نے ہمارے سے مطالبہ چھوڑ دیا ہے۔

    مورخہ ۲ ۱فروری ۱۹۳۸ء
    بندہ شیخ قدرت اللہ عفی عنہ
    سیکرٹری انجمن احمدیہ نابہہ

    روایت
    دولت خانصاحب بیری ڈاک خانہ اونکھ ضلع گورداسپور
    نام دولت خان راجپوت ولدیت غلام جیلانی خان عمر ۵۵ سال اصل وطن بیری ڈاک خانہ اونکھ ضلع گورداسپور۔ دستی بیعت کی ۱۹۰۷ء اندازاً ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا ۱۹۰۷ء ۔حضور نے مجھ سے پوچھا کہ کیا حال ہے۔ اس کے بعد کھانے کے متعلق دریافت فرمایا۔ حضور نے دریافت فرمایا تھا کہاں سے آئے ہو؟ جس کا جوا ب میں نے دیا کہ حضور موضع بیری سے۔ اسکے بعد حضور نے نماز پڑھائی اور ہم نے حضور کی اقتداء میںنماز ظہر پڑھی۔






    روایات
    ولیداد خان صاحب ولد مل خان قوم راجپوت ساکن مراڑہ تحصیل نارووال
    میں نے دسمبر ۱۹۰۷ء میں جلسہ سالانہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ مبارک پر بیعت کی تھی۔ تاریخ جلسہ سے ایک دن پہلے رات کو قادیان پہنچا۔ صبح جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے گھر سے باہر تشریف لانا تھا تو میں نے دیکھا کہ مسجد مبارک کے پاس بہت بڑا ہجوم ہے۔ آدمی ایک دوسرے پر گر رہے تھے۔ میں چونکہ نووارد تھا۔ میں دوسری گلی پر کھڑا ہوکر دعا مانگ رہا تھا۔ کہ اے مولا کریم اگر حضور اسی گلی سے تشریف لے آویں تو سب سے پہلے میںمصافحہ کرلوں۔ اسی وقت کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مع خلیفۃ المسیح ثانی اسی رستہ تشریف لے آئے۔یک لخت مجھے ایسا معلوم ہوا جس طرح سورج بادل سے نکلتا ہے اور روشنی ہوجاتی ہے۔ میں نے دوڑ کر سب سے پہلے مصافحہ کیا۔ حضور آریہ بازار کے راستہ باہر تشریف لے گئے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ نواب محمد علی خانصاحب کے باغ کا جو شمالی کنارہ ہے۔ وہاں سے حضور واپس ’’پرتے‘‘۔ غالباً مسجد نور یا مدرسہ احمدیہ کا مغربی حد ہے۔ وہاں حضور بیٹھ گئے۔ صحابہ کرام گرد جمع تھے۔ اور میر حامدشاہ صاحب مرحوم سیالکوٹی نے کچھ نظمیں اپنی بنائی ہوئی سنائیں۔ اس وقت اس طرف آبادی کا نام و نشان نہ تھا۔ پھر حضور مسجد اقصیٰ میں تشریف لے آئے اور لیکچر دیا۔ اس وقت مسجد میں داخل ہونے کے لئے ایک ہی دروازہ تھا اور مسجدکے صحن کے برابر ایک ہندو کے مکان کی چھت تھی۔ بہت سے آدمی جلدی جلدی اسکے مکان کی چھت پر سے گزر کر مسجد کے صحن میں داخل ہوئے۔تو اس ہندو نے بہت سی گالیاں نکالیں اور کسی احمدی نے اسکی گالیوں کا جواب نہ دیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے لیکچر میں خوشنودی کا اظہار فرمایا کہ ’’میں جماعت میں یہی روح دیکھنی چاہتا ہوں۔‘‘ یہ مکان اب مسجد اقصیٰ کے صحن میں شامل ہوگیا ہے۔
    مئی ۱۹۰۸ء میںایک اہلحدیث نمبردار نے مجھے کہا کہ اگر مرزا صاحب سچے ہیں تو مجھے طاعو ن کا پھوڑا نکلے۔ میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں خط لکھا کہ ایک نمبردار مجھے اس طرح کہتا ہے۔ ان دنوں حضرت صاحب لاہور تھے۔ حضور نے لکھا کہ اس کو کہہ دو کہ وہ توبہ کرلے۔ وہ لائل پور کے ضلع میں اپنے مربع میں رہتا تھا۔ میں نے سنا کہ معاملہ سرکاری وصول کرکے داخل کرنے کے لئے گیا۔ جب معاملہ داخل کرکے گھر واپس آنے کو تھا۔ گاڑی میں نہیں بیٹھا تو طاعون کا پھوڑا نکلا اور مر گیا۔ یہ عبرتناک انجام اس نمبردار کا ہوا۔ ۳۷۔۱۲۔۸
    رقیمہ نیاز ولیداد خان ولد مل خاں قوم راجپوت
    ساکن موضع مراڑہ تحصیل نارووال
    ضلع سیالکوٹ بقلم خود
    کمترین کی عمر ۶۵ سال ہوگی۔






    روایات
    عبداللہ صاحب چپڑاسی نظامت بھوانی گڑھ ریاست پٹیالہ
    بہت دیر ہوئی کہ بندے نے پہلے بذریعہ خط کے آپ کی (یعنی حضرت مسیح موعودؑ کی) بیعت کی پھرمیں کچھ دیر بعد مقام قادیان شریف پہنچا۔ وہاں پہنچ کر ہم نے پرانے مہمان خانہ میں رونق بخشی۔ جب نماز عصر کے بعد فراغت ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ جس صاحب نے بیعت کرنی ہے تو کرلو۔ اس وقت پھر ہم نے آپ کے ہاتھ بیعت کی ۔ اسی وقت تمام لوگ مجھے محبت سے پیش آئے۔اور ہم نے وہ حالت بھی دیکھی تھی کہ جب چھوٹے چھوٹے برتنوں میں یعنی کنڈ میں آٹا گوندھا جاتا تھا اور وہیں مہمانوں کو کھلایا جاتا تھا۔ اور مسجد اقصیٰ میں آپ درخت چھوٹے سے ملکر کھڑے ہوجاتے تھے اور صفیں چاروں طرف بچھ جایا کرتی تھیں۔ آپ وعظ فرمایا کرتے تھے یا مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اولؓ وعظ فرماتے تھے اور ا نکی آنکھیں ٹوپی دار ہوتی تھیں۔ اور آپ ؑکی داڑھی کو مہندی لگی ہوتی تھی۔ آپ وعظ سے فارغ ہوکر گھر تشریف لے جاتے اورمغرب کے وقت تشریف لاکر باجماعت نماز ادا کرتے۔ اگلے روز صبح کے وقت لوگ مسجد میں جمع ہوئے۔ میں بھی شامل تھا۔ مولوی نور الدین صاحب نماز پڑھاتے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو مسجد اقصیٰ سے ایک مولوی ڈبہ سا تشریف لائے ۔انہوں نے آکر شور مچایا کہ وہاںبازار میں اور مسجد کے اردگرد بہت غلاظت موجود ہے۔ لہذا اس کو اٹھوایا جائے۔ مولوی صاحب نے فرمایا کہ کسی کو ۲ آنے کی مزدوری دے کر غلاظت کو اٹھوا دو۔ میرے سے رہا نہ گیا میں نے کہا کہ ہاں بھائی ! دو چار آنے دے کر اٹھوا دے۔ آپ نے فرمایا کہ جو چار آنے کہتا ہے وہ خود اپنے پاس سے چار آنے دیدے۔ لہذا میں نے اپنی گرہ سے چار آنہ دیدئیے۔ آپ نے فرمایا کہ آئندہ کے لئے صرف دوآنہ ہی ملا کرینگے اور مینارہ مسجد صرف قد آدم جتنا تھا زیادہ نہ تھا۔ جہاں مدرسہ ہے اور مسجد نور ہے اور بورڈنگ ہے وہاں پر میدان تھا۔ اب آپ رونق دیکھتے ہیں اور میں نے اپنے ہاتھ سے بہت سی چارپائی بھی بنی تھیں۔ وہ مجھے کہنے لگے کہ کچھ محنتا نہ لے لو۔ مگر میں نے کہا کہ محنتانہ لینا کچھ اچھا نہیں۔
    زیادہ آداب والسلام
    مورخہ ۳ ماگھ ۱۹۹۵ء بکرم
    از طرف عبداللہ چپراسی نظامت بھوانی گڑھ عرف ڈھونڈاں
    حال مقیم تلونڈی ملک ڈاک خانہ خاص تحصیل بھوانی گڑھ ریاست پٹیالہ








    روایات
    میاں نور الدین صاحب احمدی کھاریاں ڈاک خانہ کھاریاں
    کمترین کی پچاس سال کی تصدیق مسجد چینیاں والی لاہور میں ایک منٹ بلکہ ایک سیکنڈ دیکھنے کے بعد انکار نہیں کیا۔بیعت بعد میں کی۔ مسجد میں جس وقت آپ تشریف لائے۔ میں چار رکعت سنت پڑھ کر بیٹھا ہوا تھا۔ آپ نے میرے نزدیک آکر نماز شروع کردی اور آپ کی دستار مبارک سیاہ رنگ اور کوٹ الپا٭کے کا اور کالا رومال ‘میں نماز پڑھتے دیکھ کر تصدیق کرلی بعد نماز جمعہ آپ چل پڑے اور میں بھی ساتھ چل پڑا۔ اور چالیس آدمی آپ کے ساتھ چل پڑے۔ کشمیری بازار میں پیچھے تاڑی بجی۔ امیر الدین کوٹھی دار کی بیٹھک میں آپ پہنچے کہ میں بھی پاس تھا۔ آپ نے حکیم صاحب کو کہا۔ حکیم صاحب جی! جناب میں اسی واسطے ایسی مسجدوں سے منع کرتا ہوں۔ جب تقریر شروع ہوئی تو پہلے میرا ایمان تھا۔ حکیم صاحب کی برکت ہے۔ جب آپ کی تقریر سنی تو حکیم صاحب بلکہ صد حکیم صاحب مقابلہ نہیں کرسکتے۔۔۔۔۔۔
    میرا بال بچہ بہت ہے اور میںایمان سے سچ سچ کہتا ہوں۔ عمر ۷۵ سال اورایک پائوں سے لنگڑا ہوں اور موصی ہوں بیوی ایک موصی ہے اور لڑکی بھی موصی ہے۔ اس لڑکی کا نام جنت بی بی ہے۔ اس کو آپ کی دعائوں سے لڑکا ملا۔ وہ بھی فوت ہوگیا۔ پھر وہ حیران سخت ہے۔ آپ دعا کریں کہ اس کو نعم البدل ملے اورمیرے حق میںدعا کریں۔ میاں نور دین احمدی از کھاریاں
    ڈاک خانہ کھاریاں
    میں بہت مسکین ہوں۔ کام کاج نہیں کرسکتا میرے حق میں دعا کریں
    ٭(الپا کا یعنی سیاہ یا دوسرے رنگوں کے ایک کپڑے کو کہا جاتا ہے جس سے کوٹ بنائے جاتے اور گرمیوں میں پہنے جاتے ہیں۔ (فیروز اللغات)

    روایات
    ماسٹر محمد پریل صاحب ساکن کمال ڈیرو سندھ
    ’’اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ و اشھد ان محمداً عبدہ ورسولہ۔‘‘ اما بعد ۔اس عاجز نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ماہ جولائی ۱۹۰۵ء میں حضرت جری اللہ فی حلل الانبیاء کے ہاتھ پر دست بیعت ہوا تھا۔ اس زمانہ میں مسجد مبارک بہت چھوٹی تھی۔ چار پانچ آدمی صف میں بیٹھتے تو جگہ بھر جاتی۔ اس ماہ میں بہت گرمی تھی۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جب مسجد میں تشریف آور ہوتے تو میں پنکھا چلاتا تھا۔ مولوی محمد علی لاہوری پارٹی والے کا دفتر مسجد مبارک کے اوپر تھا۔ ایک دن مولوی محمد علی صاحب کو کچھ حضور کے آگے گزارش کرنی تھی اس کا خیال تھا کہ بیٹھ کر گزارش کروں۔ مگر بیٹھنے کی جگہ نہ تھی۔ یہ عاجز حضرت اقدس کے زانو مبارک سے اپنے زانوں ملا کر پنکھا چلاتا تھا۔ مولوی محمد علی نے ایک آدمی کو اشارہ کیا کہ اس کو پیچھے ہٹنے کے لئے اشارہ کرو۔ میں اشارہ پر پیچھے ہٹنے لگا۔ تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے میرے زانو پر ہاتھ مار کر فرمایا۔ مت ہٹو۔ تو یہ عاجز پھر پنکھا چلانے لگا۔ اور مولوی محمد علی صاحب نے کھڑے ہوکر گزارش کی۔ حضرت اقدس نے اس کو مناسب جواب دیا۔ مولوی صاحب تحریر کرکے چلے گئے۔ اس زمانہ میں تو اس بات کا خیال نہیں رہا۔ لیکن اب اس بات سے بہت سرور اور لذت آتی ہے کیونکہ میں ایک ادنیٰ آدمی اور بے سمجھ اردو بھی پوری نہیں آتی تھی۔ اور مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے اور عالم تھامگر نبی اللہ کی نظر میں ادنیٰ اور اعلیٰ ایک ہی ہوتا ہے۔ یہ عاجز ۱۵ دن صحبت میں رہا۔ ہر ایک دن میں حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نورانی چہرہ روشن دیکھنے میں آتاتھا۔ اس عاجز کو یہی معلوم ہوتا کہ اب حمام خانہ سے غسل کرکے آگئے ہیں۔ اور سر مبارک کے بالوں (جو کندھے برابر تھے) سے گویا موتیوں کے قطرے گر رہے ہیں۔ اس عاجز نے پانزدہ روز میں حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے چہرہ مبارک میں غم نہیں دیکھا۔ جب بھی مجلس میں آتے۔ خوش خندہ پیشانی ہوتے۔ دیگر یہ بات دیکھنے میں آئی کہ مولوی محمد احسن صاحب امروہوی اور دیگر علماء بڑے بڑے‘ حدیثوںکی کتابیں لے آتے۔ اور عرض کرتے۔ کہ حضور اس کتاب میں یہ حدیث ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ تو حضور علیہ السلام نے کبھی بھی نہیں کہا کہ اچھا کتاب دیکھوں تو جواب دیتا ہوں۔ مگر فوراً فرماتے کہ یہ مطلب ہے۔ بس! مولوی وہ بات نوٹ کر کے چلے جاتے۔ اس سے عاجز پر یہ اثر ہوا کہ آیا نبیوںکی یہ ہی شان ہے۔ الحمد للہ علی فضلہ و احسانہ۔ زیادہ خیریت والسلام مع الاکرام۔

    عاجز محمد پریل ولد قائم الدین سندھی
    احمدی از کمال ڈیرو ضلع نواب شاہ سندھ
    ۳۷۔۱۲۔۶






    روایت
    غلام محمد صاحب ساکن تلونڈی جھنگلاں ضلع گورداسپورہ
    خاکسار کو اچھی طرح یاد ہے کہ حضور نے فرمایا تھا کہ امام مہدی کا زمانہ جو ہوگا اس میں ایک آگ کا شعلہ نمودار ہوگا اور اس کا پتہ نہیں لگے گا۔ حضور کے کہنے کے دو تین ماہ بعد ہی وہ آگ نمودار ہوئی اور اس کا پتہ نہ لگا اور جو جو باتیں حضور نے اپنے منہ سے کہی تھیں ۔ میں نے اپنے آنکھوں سے دیکھ لی ہیں کہ وہ حرف بحرف پوری ہوتی رہی ہیں اور کوئی بھی انکی ایسی بات نہیں جو سچی نہ ہوئی ہو۔ میں اپنے ایمان کی گواہی سے کہتا ہوں کہ حضور کی ہر بات سچی نکلی ہے۔
    والسلام
    عرضے
    خاکسار غلام محمد احمدی
    ساکن موضع تلونڈی جھنگلاں
    ضلع گورداسپور
    ۳۸۔۱۔۱۳



    روایات
    احمد دین صاحب ولد حافظ پیر بخش صاحب
    ساکن ڈنگہ ضلع گجرات
    عاجز جو ن ۱۸۹۷ء بتقریب جلسہ جوبلی ملکہ معظمہ بہ ہمراہی سید خصلت علی شاہ صاحب مرحوم سب انسپکٹر پولیس تھانہ ڈنگہ ضلع گجرات و حافظ احمد دین صاحب مرحوم درزی استاذی ام و میاں کرم دین صاحب مرحوم مدرس و حافظ کرم دین صاحب مرحو م احمدی ایک رئویا کی بناء پر آیا وہ رئویا جنوری ۱۸۹۵ء بمقام پنیالہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان دیکھا تھا۔ اور یکم جو ن۱۸۹۷ء جبکہ عاجز رخصت پر گھر ڈنگہ آیا تو وہ رئویا مولوی کرم الدین صاحب احمدی مرحوم کے آگے بیا ن کی۔ انہوں نے جناب سید صاحب مرحوم کے آگے بیان کی۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ رئویا دارالامان کا نقشہ ہے اور وہ بزرگ سرخ ریش مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں۔ وہاں چلو تصدیق کرلو۔ حافظ احمد دین صاحب مرحوم استاذی ام کے آگے بیان کیا کہ سید صاحب مرحوم رئویا کے متعلق فرماتے ہیںکہ یہ رئویا مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق ہے چونکہ وہ احمدیت کے مخالف تھے۔ سیخ پا ہوگے۔ آخر بڑی منت و سماجت سے ان کو اس بات پر راضی کیا کہ ایک دفعہ وہاں جاکر حالت دیکھنی چاہیئے۔ انہوں نے فرمایا کہ تم بچے ہو وہاں بڑا جادو کا کام ہے۔ جو شخص قادیان کا کھانا کھالے اور مرزا صاحب کے پاس جاوے جادو سے مطیع کرلیتے ہیں۔ میں خود تمہارے ساتھ چلتا ہوں لیکن اس شرط پر کہ نہ قادیان سے کوئی کھائیںگے نہ وہاں ٹھہریں گے۔ آخر جلسہ جشن جوبلی جس کی تاریخ مجھے یاد نہیں جون ۱۸۹۷ء تھا ۔ دارالامان آئے۔ بہشتی مقبرہ سے پرلی طرف ننگل کے کنویں پر جس پر پختہ خانقاہ بنی ہوئی ہے ٹھہرے ۔ رات وہیں رہے۔ ننگل سے روٹی لائے۔ ۳ بجے دوپہر کے بعد یہاں آئے تھے۔ قادیان سے باہر کی طرف سے بڑے باغ سے ہوکر اس کنویں پر چلے گئے۔ شاہ صاحب موصوف سید ھے قادیان آئے۔ ان کا ایک نوکر ہم کو کنوئیں پر چھوڑ کر وہ بھی شاہ صاحب کے پاس چلا گیا۔ شام کے بعد شاہ صاحب کا نوکر آیا کہ تھوڑی دیر کے لئے قادیان آئو۔ استاذی ام نے فرمایا کہ اس شرط پر چلتے ہیں کہ کھانے کے لئے مجبور نہ کیا جائے۔ اس نے کہا۔ اچھا آئو۔ اس کے ساتھ آئے۔ جب ہم آئے۔حضرت اقدس مسجد مبارک کے چھت پر جنوبی شہ نشین پر رونق فرما تھا۔ ہم نے ’’سلام علیکم‘‘ نہ کیا۔ میں نے حضرت اقدس کو دیکھتے ہی استاذی ام کو کہا کہ یہ وہی بزرگ ہیں جن کو میں نے خواب میں دیکھا تھا۔ انہو ںنے فرمایا خاموش رہو۔ میرے کچھ اعتراض ہیں وہ دل میں ہیں۔ اگر یہ سچے ہیں تو میرے اعتراضوں کا خود بخود جواب دیں گے۔ ورنہ صبح واپس چلے جائینگے۔ حضرت اقدس نے تقریر شروع کردی۔ اس وقت حضور انور نے جمع نماز۔ قادیان کے لنگر کے نہ کھانے کے متعلق بڑی زور سے تقریر کی اور کفار مکہ کے یہی اعتراض دہرائے پھر نماز کا وقت ہوگیا۔ ہم باہر کنوئیں پر چلے گئے۔ رات کے وقت شیخ علی محمد صاحب مرحوم ڈنگوی بھی آگیا۔ رات کنوئیں پر سوئے۔ ۴ بجے صبح کو میں نے دیکھاکہ حافظ صاحب لالٹین جلا کر کچھ لکھ رہے ہیں۔ میںنے کہاکہ کیا لکھ رہے ہیں۔ وہ رونے لگ پڑے۔ فرمایا خواب لکھ رہا ہوں۔ بتلاتا نہیں۔ پھر بڑے زور سے رونے لگے۔ جس پر باقی ساتھی بھی اٹھ بیٹھے۔ آخر فرمانے لگے کہ چلو قادیان چلیں۔ ہم نے کہا نماز پڑھ کر چلیں گے۔ فرمانے لگے۔ جب تک خواب کا فیصلہ نہ ہوجائے۔ ہماری نماز نماز نہیںہے۔ پھر کپڑو ںکے پاس مجھے بٹھا کر ہر سہ ہمراہی قادیان چلے آئے۔ میں وہاں بیٹھا تھا۔ آٹھ بجے دن کے سب واپس آئے۔ میں نے کہا کہ اتنی دیر کیوںکی؟ استاد صاحب فرمانے لگے کہ میں نے بیعت کرلی ہے بستر اٹھائو۔ قادیان چلیں۔ بستریں اٹھا کر حضرت خلیفۃ المسیح اول کے درسگاہ میں آگئے۔ اس دن وہ جلسہ جشن جوبلی تھا۔ پھر میں نے بھی دوسرے دن بیعت کرلی ۔ اس کے بعد اکتوبر ۱۸۹۸ء میں آیا۔ فضل حق پادری کا سارامباحثہ میں نے خود سنا اور اس کا اسلام لانا میں نے دیکھا۔ ۱۱ /نومبر ۱۸۹۹ء کو جلسہ الوداع کے موقع پر بھی آیا۔ سردار فضل حق ساکن بگہ نے مسجد اقصیٰ میں میری موجودگی میں اپنا رسالہ فضل حق سنا کر اعلان اسلام کیا۔
    خاکسار احمد دین ولد حافظ پیر بخش احمدی
    ساکن ڈنگہ ضلع گجرات بقلم خود


    روایات
    عظیم صاحب احمدی سہرانی موضع حاجی کماند
    تحصیل و ضلع ڈیرہ غازی خاں
    میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دست بستہ عرض کی کہ حضور مجھے دعا فرماویں کہ وہاں بڑے بڑے عالم ہیں مقابلہ کریں گے انہی ایام میں وفات مسیح کا ذکر شب و روز رہتا تھا۔ حضور نے فرمایا۔ ’’کوئی مولوی آپ کا مقابلہ نہیں کرے گا ‘‘سو آج تک کوئی مولوی مقابلہ نہیں کرسکا۔ (یہ معجزہ ہی خیال کرتا ہوں) ۔
    ۲۔ میں نے پھر عرض کی کہ نیا رشتہ کر کے آیا ہوں حضور نرینہ اولاد کے لئے دعا فرماویں۔ حضور نے فرمایا ’’آپ کو اللہ تعالیٰ نرینہ اولاد عطا فرمائے گا۔‘‘ سو اب دو بیٹے مخلص احمدی موجود ہیں۔
    ۳۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ حضور مسجدکے قریب کے مکان میں یا حی یا قیوم فرمایا کرتے تھے اور ہماری نیند اکھڑ جاتی تھی اور ہم تہجد پڑھتے ۔
    ۴۔ پھر میں نے تعویذوں کے لئے عرض کیا کہ میں بڑے تعویذ دیا کرتا ہوں۔ یہ ہی کہہ رہا تھا کہ حضور نے فرمایا یہ کام آئندہ نہ کرنا۔ گناہ ہے۔
    دستخط کمترین عظیم احمدی سہرانی
    بیعت سن ۱۹۰۱ئ؁انیس سو ایک میں کی گئی۔ اس وقت میری عمر چالیس سال کے قریب تھی۔ اب ۷۷ برس کے قریب ہوگئے ہیں۔ تحصیل و ضلع ڈیرہ اسماعیل خان موضع حاجی کماند سکنہ بستی سہرانی۔

    روایات
    نظام الدین صاحب معرفت نظام اینڈ کوشہر سیالکوٹ
    خاکسار شہر سیالکوٹ کا رہنے والا ذات ریکھی قوم موجودہ‘ لوہا رو ترکھان جو کہلاتی ہے۔ کا ایک فرد ہے۔ کام سپورٹس کا کرتا ہوں۔ ۱۸۹۵ء میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم و مغفور کا درس قرآن شریف سنا کرتا تھا۔ ان کی صحبت سے متاثر ہوکر ۱۸۹۶ء کے ماہِ دسمبر میں جلسہ دھرم مہوتسو میںبہمراہی مولوی صاحب مرحوم لاہور گیا اور و ہ جلسہ تمام کا تمام بغور سنتا رہا۔ دن کو جلسہ ہوتا تھا تو رات کو شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم کی کوٹھی پر قیام رہتا تھا۔ وہا ںپر شیخ صاحب کی پرہیز گاری اور دین داری یعنی نماز کی پابندی اور تہجد گذاری بھی دیکھنے میں آتی تھی۔ جلسہ مہوتسو میں میرے پاس بیٹھنے والوں میں سے ایک جج صاحب تھے۔ ان کا رنگ سانولہ سا تھا۔ اور ان کو غالباً ملک خدا بخش یا ملک اللہ بخش کہتے تھے۔ وہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تقریر کے پڑھے جانے کے دوران میں زار زار روتے تھے۔ وہیں سٹیج پر مفتی محمد صادق صاحب بھی تھے۔ انہوں نے غالباً سبز چوغہ پہنا ہوا تھا اور فل بوٹ پائوں میں رکھتے تھے۔ ان کی شکل وہاں پہلے دیکھنے میں آئی تھی۔ جلسہ کا اثر سب پر تھا اور سب پر ایک سناٹا چھایا ہوتا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کی قدرت و جبروت کا ایک نظارہ تھا۔ جلسہ کے اختتام کے بعد مولوی صاحب کے ہمراہ قادیان پہنچ گئے۔ وہاں حضرت اقدس کی زیارت کی۔ جو نہایت پر نورشکل تھی۔ دیکھنے والے پر بغیر اثر کئے نہ رہتی تھی۔ ان دنوں مسجد مبارک کے مشرق جو چھوٹی کوٹھڑی ہے۔ وہاںپانی کے گھڑے اور وضو کا سامان ہوتا تھا۔ ظہر کی نماز سے پہلے حضرت اقدس تشریف لے آئے۔ اور کسی نے کہہ دیا کہ دو آدمی بیعت کریں گے۔ چنانچہ بندہ اس وقت اسی وضو خانہ میں وضو کررہا تھا۔ تو حضور نے آواز دی۔ کہ آئو میاں نظام الدین ! بیعت کرلو۔ بندہ آگے بڑھا اور حضور کے دست مبارک پر ہاتھ رکھ کر بیعت کی۔ دوسرے ہاتھ والے آدمی سیّد محمد علی شاہ صاحب تھے۔ جو پنشنر تھے جو بعد میں خوابیں سنایا کرتے تھے۔ اس کے بعد بندہ گھر واپس آگیا اور پھر مولوی صاحب مرحوم کا درس سنتا رہا۔ مستری حسن دین صاحب سیالکوٹی میرے دوست تھے۔ وہ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مکان بنانے کے لئے قادیان روانہ ہوئے۔ تومجھے بھی شوق تھا۔ اس شوق کی وجہ سے انہوں نے مجھے بھی ساتھ لے لیا۔ اور کہا کہ اگر کچھ وہاں کام بھی مل گیا تو کرلینا۔ چنانچہ ہم جب دونوں قادیان آگئے۔ تو حضرت اقدس کا رہنے والا دالان بننا شروع ہوگیا۔ وہ معماری کے کام میں لگ گئے اور بندہ ترکھانوںکے کام میں لگ گیا۔ اس دوران میں حضرت اقدس کے ساتھ کھانا کھانے اور نمازیں ادا کرنے کا موقع ملتا رہا۔ فا لحمد للہ علیٰ ذالک۔
    ایک دن حضرت صاحب کے سامنے یہ عاجز کھانا کھا رہا تھا تو حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام روٹیاں پکڑ پکڑ کر میری طرف کرتے گئے اور فرمانے لگے ۔’’ تو تم کھانا بہت کھائو۔ کیونکہ تمہارا کام سخت ہے یا اسی قسم کے الفاظ تھے۔‘‘ جن کا یہ مفہوم تھا۔ ایک مرتبہ نماز ظہر پڑھ کر اندر گئے تو غالباً عصر کے وقت حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی آمین لکھ کر لے آئے اور حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ مرحوم سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ یہ میں محمود کی آمین ان کی والدہ کی طرف سے لکھ لایا ہوں۔ آپ دیکھ لیں۔ چنانچہ حضرت خلیفہ اول ؓ نے وہ آمین دستی لکھی ہوئی وہیں پڑھی۔ ایک مرتبہ اوپر کی چھت پر نماز مغرب سے پہلے حضور تشریف لائے۔ تو حضرت خلیفہ اول صاحبؓ مرحوم سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ مجھے آج الہام ہوا تھا ’’ بَرَائً * ‘‘تو اس پر مولوی صاحب کچھ دھیمی آواز سے فرماتے رہے۔ جو غالباً اس معنوں کے مختلف پہلوئوں کے متعلق تھا۔ایک معنٰی مجھے ہی یاد ہے کہ بے قصور ٹھہرایا جانا تھا۔ چنانچہ ان دنوں میں عبدالحمید جو حضرت مولوی برہان الدین صاحب کے کنبہ کے آدمیوں میں سے تھا آگیا اور کچھ دن نمازیں پڑھتا رہا اور مزدوری بھی کرتا رہا اور پھر چلا گیا۔ اسی عبدالحمید نے مارٹن کلارک والا مقدمہ بنایا۔ جس کی تفصیل حضرت اقدس نے کتاب البریہ میں
    * الہام کی مکمل عبارت ہے ۔ ’’فبراہ اللہ مما قالوا ۔‘‘
    (تذکرہ صفحہ ۶۲ مطبوعہ ۱۹۶۹ئ)
    دی ہوئی ہے۔ غرض مجھے اتنا یاد ہے کہ حضرت اقدس ؑاس الہام کے بیان کرتے وقت کچھ مغموم سے تھے۔ مگر دیر تک باتیں ہوتی رہیں جو بندہ اپنی کم بضاعتی کے باعث سب محفوظ نہ رکھ سکا۔ اس وقت حضور کے پاس سوائے بندہ کے اور کوئی خادم موجود نہ تھا۔ اسی مقدمہ کے دوران میں بندہ بھی کچھ دن گورداسپور میں رہا۔ اور چوہدری رستم علی خان صاحب مرحوم کے ڈیرے پر رہتا تھا۔ انہوں نے ازراہ شفقت حضرت اقدسؑ کی فارسی نظم جو ازالہ اوہام میں الہامی نظم ہے۔ سبقاً سبقاً پڑھا دی۔ اسی دوران میں عبدالحمید نے معافی مانگ کر جب اصل راز بتایا تو چوہدری رستم علی خان صاحب نے مجھے فوراً دوڑایا کہ حضرت اقدس کی خدمت میںیہ پیغام پہنچا دو کہ عبدالحمید نے سچ سچ اور اصلی بیان دے دیا ہے۔ جس سے مقدمہ الٹ گیا ہے۔ یہ پیغام لے کر یہ عاجز حضر ت اقدس کی خدمت میںپہنچا۔ اس وقت حضور کے پاس سوائے بندہ کے اور کوئی خادم موجود نہ تھا اور جو حالات انہوں نے بتائے تھے اپنی ناقص عقل کے مطابق حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں عرض کردیئے۔ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے رنگ میں تبدیلی آگئی اور چہرہ حضور کا مانند سورج کے چمک رہا تھا اور کچھ فرماتے رہے ۔ جن کو میرا دماغ محفوظ نہیں رکھ سکا۔ اتنا یاد ہے کہ حضور نے فرمایا کہ ہم نے ڈیڑھ سو( ۱۵۰) بڑے بڑے آدمیوں کے نام گواہ صفائی میں لکھوائے ہیں۔ اس لئے انہوں نے از سر نو تحقیقات کی وغیرہ وغیرہ۔ یہ مفہوم ہی تھا۔ اصل الفاظ کو کیچ کرنے کی اہلیت نہ تھی۔ اسی مقدمہ کے دوران میں ایک دفعہ گورداسپور سے بٹالہ پہنچے تو آگے جانے کا وقت نہ رہا اور بٹالہ میں ٹھہرنا پڑا۔ حضرت کے ہمراہ سب غلام رات سرائے میں ننگی زمین پر سو گئے اور وہاں کثرت سے گدھوں کی لید پڑئی ہوئی تھی۔ زمین بہت گرم تھی اور سرائے بہت گندی تھی۔ مگر حضرت اقدس نے فرمایا۔ سب سو جائو۔ تو ہم سب لوگ رات وہیں پڑے رہے۔ میرا مطلب اس بات کے ذکر کردینے کا یہ ہے کہ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نازک مزاج نہ تھے۔ بلکہ بڑے جفاکش اور بہادر تھے۔ ایسی چھوٹی چھوٹی باتو ںکی طرف دھیان نہ دیتے تھے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جماعت سیالکوٹ نے جلسہ پرآنا تھا۔ سید میر حامد شاہ صاحب مرحوم اس وقت کے جنرل سیکرٹری تھے بلکہ سب کچھ وہی تھے۔ چندہ اکٹھا ہوا تو اس کی تعداد چودہ سو روپیہ تک پہنچ گئی۔ شاہ صاحب مرحوم نے ان روپوں کی اشرفیاں یعنی پونڈ بدلوائے۔ جب قادیان پہنچے تو ایک بڑی سینی میںوہ پونڈ مزین کرکے ایک طرف مصری کا بڑا ٹکڑا رکھ کر اور سج سجا کر حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے پہنچے۔ اس وقت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب والا مکان بطور مہمانخانہ استعمال ہوتا تھا۔ عصر کے بعد حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لائے تو میر صاحب نے وہ سینی پیش کردی۔ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا بلکہ جہاںتک میرا خیال ہے اور مجھے یاد ہے حضرت نے بائیں ہاتھ سے جلدی جلدی وہ پونڈ جیب میں ڈال لئے۔ اور جلد تشریف لے گئے اور غالباً سوائے السلام علیکم کے اور کچھ بات نہ کی۔ یہ حضور کی غناء ذاتی تھی۔ ا ن پونڈوں کے ڈھیر کو نگاہ پھیر کر بھی نہ دیکھا تھا اور نہ ہی لانے والوں کو اس کی وجہ سے خاص عزت یا اکرام بخشا تھا۔ بلکہ ایک معمولی بات کی طرح بھی توجہ نہ دی تھی۔
    ایک مرتبہ جلسہ سالانہ سے رخصت ہو کر گھر واپس جانے کے لئے حضرت اقدس کے حضور اجازت لینے کے لئے حاضر ہوئے۔ تو حضور رخصت دے کر اندرون کی کھڑکی سے اندر جانے لگے۔ تو میرے ہمراہ ایک صاحب ملتان کے رہنے والے بھی تھے۔ انہوں نے اجازت حاصل کرلینے کے بعد اپنی ملتانی زبان میں کہا کہ حضرت ’’میں کو کوئی وظیفہ ڈسونا !‘‘ تو حضور مسکرا پڑے اور فرمانے لگے کہ درود شریف کثرت سے پڑھا کرو۔ یہی وظیفہ ہے۔ ایک دفعہ باغ میں بہار کے موسم میں دوستوں کو ساتھ لے کر گئے۔ تو خادموں سے کہا ’’توت کی کھاریاں بھر لائو‘‘ ۔ چنانچہ دو کھاریاں توت اور شہتوت دوستوں کے سامنے رکھ دیں اور خود بھی حضور کچھ کھانے لگے۔ اس پارٹی میں کوئی بہت صحابی نہ تھے۔ غالباً پندرہ بیس آدمی ہونگے۔ خاکسار بھی اس پارٹی میں شامل تھا۔
    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ڈھاب کا کنارہ بھرکر اس جگہ ایک پلیٹ فار م سا بنایا گیا تھا اور مٹی ڈلوائی گئی تھی۔ اور یہ وہ جگہ ہے جہاں آج کل مرزا مہتاب بیگ صاحب درزی خانہ والے کی دکان ہے اور کچھ بک ڈپو اور گلی والی زمین میں شامل ہوگی۔ یہاں جلسہ سالانہ ہوا تو مولوی برہان الدین صاحب مرحوم ومغفور دوستو ںکو اپنے لوہے کے لوٹے سے جو ان دنوں اپنے کندھے پر اٹھایا کرتے تھے پانی پلاتے رہے تھے۔ مولوی صاحب مرحوم پانی پلاتے پلاتے ناچنے لگ گئے اور دوستوں سے کہا کہ پوچھوں میں کون ہوں اور کیوں ناچ رہا ہوں؟ دوستوں میں سے کسی نے کہا کہ حضرت خود ہی فرمائیے۔ تو فرمانے لگے۔ کہ میں ’’مسیح دا چپڑاسی‘‘ ہوں۔ میں اس خوشی میں آکر ناچ رہا ہوں کہ میں مسیح کا چپڑاسی ہوں۔ ایک مرتبہ حسین کامی جب رخصت ہونے لگا تو حضرت اقدس اس کو الوداع کہنے کے لئے باہر تشریف لائے اور احمدیہ چوک میں کھڑے تھے اس کا یکہ تیار تھا۔ اس نے فارسی میں غالباً یہ دریافت کیا کہ آپ کے ہاں کی کونسی چیز اچھی ہوتی ہے؟ تو حضور واپس آن کر گڑ کی ایک ڈھیلی ساتھ لے گئے یا کسی خادم سے منگوائی۔ صحیح یاد نہیں اور حسین کامی کو کہا کہ ’’چیزے بخورید‘‘ مگر اس نے گڑ نہ کھایا۔ کچھ کچھ بارش شروع تھی۔ حضرت اقدس اس کو الوداع کہہ کر واپس تشریف لے آئے۔ بندہ اس واقعہ کے وقت حضرت کے پاس کھڑا تھا۔ حضور کے پرانے گھر میں نیچے آنے کے لئے ایک ’’باری‘‘ ہوا کرتی تھی۔ بندہ ان دنوں اس باری کے سامنے کام نجاری کا کیا کرتا تھا۔ حضور ایک دن جلدی جلدی نیچے اترے مگر بہت جلد واپس تشریف لے گئے۔ تو چڑھتے وقت حضور کو ’’باری‘‘ بڑے زور سے سر میں لگی۔ بندہ اس وقت دیکھ رہا تھا۔ حضرت اقدس بغیر کسی درد محسوس کئے اور سر کو بغیر ملنے کے اندر تشریف لے گئے اور کوئی تکلیف محسوس نہ کی۔
    ان دنوں حضرت ام المومنین کبھی کبھی دن ڈھلے قرآن شریف پڑھا کرتے تھے۔ ایک دن حسب معمول آپ قرآن شریف پڑھ رہی تھیں تو حضرت اقدس آپ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے دلائل دے رہے تھے۔ اس دن حضرت ام المومنین وہی جگہ تلاوت فرما رہی تھیں۔ جہاں ’’یا عیسٰی انی متوفیک‘‘ آتا ہے۔ یہ خادم جب حضرت اقدس سے رخصت ہوا۔ تو حضور نے دو تین کتابیں مرحمت فرمائیں۔ ایک ازالہ اوہام دوسری دافع الوساوس اور تیسری سرمہ چشم آریہ۔ اور ساتھ اپنی دستار مبارک بھی عطا فرمائی۔ مگر وہ دستار اس نالائق نے اپنے سر پر باندھ کر حسب معمول ضائع کردی۔ یہ میری بے عقلی اور کم فہمی تھی۔ حضرت اقدس نے حقیقتہ الوحی میں نشان نمبر ۱۳۹ جدید ایڈیشن ص ۳۲۳ (روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۳۶)میں خاکسار کا ذکر کیا ہوا ہے۔ وہ نظام الدین یہی عاجز ہے۔ دعا فرماویں اللہ تعالیٰ پردہ پوشی فرماوے اور خاتمہ بالخیر کرے۔ آمین۔
    والسلام
    خاکسار نظام الدین معرفت نظام اینڈ کو شہر سیالکوٹ
    ۱۹۳۷/۱۲/۱۴
    اوربھی بعد میں کچھ واقعات یاد ہیں۔ میں آگے عرض خدمت کردوں گا۔ و باللہ التوفیق۔ دعا کے لئے درخواست ہے۔ خدارا دعا فرماویں۔ تکلیف میں ہوں۔ تحدیث بالنعمۃکے طور پر عرض کردینا ضروری سمجھتا ہوا ذیل کا واقعہ لکھ دیتا ہوں۔ ورنہ ’’ایاز قدر خویش بشناس‘‘ کو ہمیشہ مدنظر رکھتا ہوں۔ مستری محمد قاسم صاحب نے سنایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل خاص سے خلافت ثانیہ کو شناخت کرنے کو بذریعہ خواب توفیق عطا فرمائی۔ ورنہ میرا بھی حشر اچھا نہ ہوتا۔ وہ سناتے ہیںکہ مجھے خواب آئی کہ کچھ لوگ کشتی میں سوار ہیں جو احمدی ہیں اور ان میں سے چند ایک کو پہچان سکا۔ان میں سے جو کشتی چلانے والا ملاح تھا وہ یہ عاجز تھا۔ جیسا کہ وہ بیان کرتے ہیں۔ چنانچہ واقعہ بھی یوں ہوا کہ حضور کا وہ اشتہار ’’ کون ہے جو خدا کے کام کو روکے؟ ‘‘بندہ ہی قادیان سے لایا تھا اور جماعت کے سامنے پیش کردیا تھا۔ مگر میر حامد شاہ صاحب مرحوم مغفور نے ہاتھ میں لے کر پھینک دیا تھا۔ اور کہا تھا۔ ’’لے جائو تم ‘ایسے اشتہار نہیں سنتے اور نہ سناتے ہیں‘‘ واللہ اعلم انجام بخیر کس کا ہو؟ اور کس کا نہ ہو۔ ڈرنے کا مقام ہے۔ مگر یہ درست ہے کہ سیالکوٹ کی تمام جماعت قریباً پہلے پہل ’’لاہوری‘‘ ہوگئی تھی۔ سوائے دو ایک کے اور سب لوگ شدید مخالف ہوگئے تھے۔ مگر آہستہ آہستہ پھر واپس آگئے۔ فا لحمدللہ۔
    تتمہ۔ ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ اس زمانہ میں دستور تھا کہ پہلے سب مہمان گول کمرہ میں جمع ہوجایا کرتے تھے تو حضرت اقدس فداہ ابی وامی کو اطلاع پہنچائی جاتی کہ حضور تمام خادم حاضر ہیں۔ ایک دن حضرت اقدس پہلے ہی تشریف فرما ہوگئے تو حضرت خلیفہ اول حضرت مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ بھی تشریف نہ لائے تھے تو اس غلام کو حضور نے فرمایا کہ ’’جائو مولوی صاحب کو بلا لائو‘‘ بندہ دوڑتا ہوا مطب میں گیا اور حضرت اقدس کا ارشاد عرض کیا۔ حضرت خلیفہ اول رضی عنہ فرمانے لگے کہ حضرت تشریف لے آئے ہیں؟ بندہ نے ’’ہاں‘‘ میں جواب دیا اور کہا کہ جناب کو یاد فرمایا ہے۔ اس پر حضرت خلیفہ اول مطب سے دوڑ پڑے اور گول کمرہ تک دوڑتے ہوئے حاضر ہوئے۔ مجلس میںحضرت خلیفہ اول عموماً سرنگوں رہتے تھے۔ سوائے اس صورت کے کہ حضرت اقدس خود مخاطب فرماویں۔ ورنہ دیر تک سر نگوں رہتے تھے۔
    میرے لئے بڑے شکر کا مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے 41 سال تک مقدس زمین میں پھرنے کی توفیق بلا کسی وقفہ کے عطا فرمائی۔ ہر سال دو تین مرتبہ سے زیادہ دارالامان جانے کا اتفاق ہوتا۔ ہر جلسہ اور مجلس شوریٰ میں حاضر رہا۔ فالحمدللہ علی ذالک۔ اکثر عیدین پڑھنے کا موقع حضرت اقدس کے زمانہ میں ملتا رہا۔ چنانچہ اس عید میںجس میں کہ خطبہ الہامیہ حضرت اقدس پر نازل ہوا یہ غلام حضرت کے پہلو کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم اور حضرت خلیفہ اوَل رضی اللہ عنہ لکھ رہے تھے اور ایک دو حروف حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سے دریافت کئے تھے۔ اس جمعہ میں حضرت اقدس کے پہلو میں یہ عاجز بیٹھا ہوا تھا۔ جب مسجد کے ساتھ والے برہمن نے حضرت کو اس لئے گالیاں دینی شروع کردیں کہ کچھ احمدی دوست اس کے مکان کی چھت پر نماز پڑھنے کے لئے چڑھ گئے تھے۔ حضرت اقدس نے وہ گالیاں خود سنیں۔ اور’’ قادیان کے آریہ اور ہم ‘‘والی کتاب لکھی۔ بندہ نے اس برہمن کو بھی دیکھا تھا۔ خاکش بدہن اور اس کی گالیاں بھی سنی تھیں۔ اللھم بارک علی عبدک المسیح الموعود و بارک وسلم ۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ عید کی نماز ادا کرکے فارغ ہوئے تو حضرت خلیفہ اولؓ نے بندہ سے سب لوگوں سے پہلے معانقہ اور مصافحہ فرمایا۔
    فالحمدللہ علی ذالک۔
    حضرت اقدس کی غلامی میں آکر کبھی کبھی حضور کی پنڈلیوںکو دبانے کا اتفاق ہوتا رہا تھا۔ حضور انور کی پنڈلیاں لوہے کی مانند سخت تھیں اور مجھ سے تو بالکل دبائی نہ جاتی تھیں۔ میرے ہاتھ بہت چھوٹے تھے۔ اس لئے ان میں تو وہ پنڈلیاں آتی ہی نہ تھیں۔ انجمن سیالکوٹ کا کوئی ایسا عہدہ نہیں جس پر یہ غلام نہ رہا۔ چپڑاسی کے کام سے لے کر پریذیڈنٹ تک کے فرائض انجام دیتا اور تقریباً سولہ سترہ سال تک اسسٹنٹ سیکرٹری کا کام کرتا رہا۔
    ایک دفعہ مسجد مبار ک کی اوپر والی چھت پر نماز شام سے قبل حضرت اقدس تشریف فرما تھے۔ گزشتہ بزرگوں اور اولیائوں کا ذکر ہورہا تھا۔ میر ناصر نواب صاحب مرحوم و مغفور نے کسی بزرگ کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کے پاس جس قدر روپیہ آجایا کرتا تھا۔ دوسرے دن تک سب خرچ کردیا کرتے تھے اور اپنے پاس ایک پیسہ تک نہ رکھا کرتے تھے۔ اس پرحضرت اقدس نے فرمایا کہ مومن اورخدا کے بندے تو دنیا میں اس مسافر کی طرح آتے ہیں جیساکہ ایک مسافر کسی درخت کے نیچے گرمیوںکے د ن آرام کررہا ہوتا ہے۔ اور اس درخت پر چڑیاں بیٹھی ہوئی ہوں۔ اگر وہ چڑیاں درخت پر بیٹھی رہیں تو بھی اور اگر اڑ جائیں تو بھی مسافر کو کوئی نفع نہیں اور نہ ہی کوئی نقصان ہے۔ ا سی طرح اگر اہل اللہ کے پاس دولت آجاوے تو کوئی حرج نہیں اور چلی جاوے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ ایک مرتبہ حضرت میاں بشیر احمد صاحب (جو اب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم ۔اے ہیں) جبکہ آپ بہت چھوٹے تھے۔ حضرت اقدس کے کمرہ کا دروازہ بزور ’’کھڑکا‘‘ رہے تھے۔ حضرت اقدس نے کواڑ کھولنے میں ذرا دیر لگا دی اورحضرت میاں صاحب بڑے زور زور سے کہہ رہے تھے کہ ’’بواء کھولو ‘ بواء کھولو‘‘۔ جب دیر زیادہ ہوگئی تو بڑے غصہ میں آگئے اور کہنے لگے ’’تہاڈی ...... بوائو کھولو‘‘۔ تو حضرت اقدس اندر سے ہنس پڑے اور فرمانے لگے کہ میاں ا ب گالیاں نکالنے لگ گئے ہو۔ اور جھٹ دروازہ کھول دیا۔ حضرت اقدس ا ن دنوں یہ مقولہ اکثر دہرایا کرتے تھے۔ کہ ’’گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی‘‘۔ ایک مرتبہ حضرت اقدس نے یہ ضرب المثل بھی بیان فرمائی کہ ایک بوڑھا زمیندار باڑ لگا رہا تھا۔ تو پاس سے گزرنے والے نے کہا کہ ’’بابا واڑ ڈنگی لگاوناں ایں‘‘ تو اس نے اسے جواب میں کہا ۔ ’’توں وی تے پتی دا ویا کیتا سی نہ‘‘ اس نے کہا اس کا اس کے ساتھ کیا تعلق؟ تو اس نے کہا ’’ گل نال گل ہی لگائونی ہوندی اے ہور ہوندا کی اے۔‘‘
    ایک مرتبہ حضرت اقدس نے کسی وہابی کی بیوی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک دن اس کی بیوی نے پوچھا کہ نماز میں جو نام محمد بار بار آتا ہے وہ کون شخص تھا؟ اس نے کہا کہ ہمارے پیغمبر علیہ السلام تو کہنے لگی کہ ’’آ ہائے میں اینویں پرائے آدمی دا نا م لیندی رہی۔‘‘
    والسلام
    خاکسارنظام الدین معرفت نظام اینڈ کو
    شہر سیالکوٹ
    ۳۷۔۱۲۔۳۱

    روایت
    میاں عبدالعزیز صاحب ولد غلام محمد قوم نون سکنہ حلالپور ضلع سرگودھا
    میں نے ۱۹۰۷ء میں قادیان آکر دستی بیعت کی۔ میری عمر ۶۲ سال ہے۔ میرے حالات خطرناک تھے۔ اعمال گندے تھے۔ طاعو ن کے دنوں میں مجھے خیال آیا تو میں نے اس طرف توجہ کی اور لوگوں کو کہہ دیا کہ اگر میں طاعو ن میں مرجائوں ۔ تو میرا جنازہ غیر احمدی نہ پڑھیں بلکہ ایک قریبی گائوں میں جس کا نام ........ہے۔ وہاں احمدی عام تھے وہ میرا جنازہ پڑھیں۔ ایک غیر احمدی نے مجھ سے کہا کہ یا تو اس طرف ہوجا یا ہمارے ساتھ۔ میں نے اول اسی سے خط لکھوایا۔ اس دن میں نے نماز پڑھی جس میں مجھے لطف آیا۔ خط کا جواب مجھے مل گیا کہ بیعت قبول ہے۔ مجھے بہت اخلاص ہوگیا۔ حضرت مولوی صاحب خلیفہ اوّل میرے واقف تھے۔ چھوٹی مسجد میں بیعت کی تھی۔ میرے لئے حضرت نے دعا کی۔ اس وقت سے میرا ایمان نہایت مضبوط ہے۔ اس وقت میں نے آپ کو مسیح موعود اور امام مہدی مانا تھا۔ سنتے تھے کہ حضرت عیسیٰ کی بجائے آپ تشریف لائے ہیں۔ میں نے آپ کو ایک خط لکھا ۔ جس میں لکھ دیاکہ میرا سلام مولوی نورالدین صاحب کو پہنچا دیں۔
    ۳۷۔۱۲۔۲۹



    روایات
    فضل الدین صاحب نمبردار ولد سلطان بخش صاحب نمبردار
    قوم جٹ سکنہ پیرو شاہ ضلع گورداسپور
    میری عمر تقریباً ۵۵ یا ۵۶ سال ہوگی۔ جس وقت میں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی۔ میری عمر پندرہ سولہ سال تھی۔ عید الفطر میں مَیں نے بیعت کی۔ حضرت نے باورچی کو فرمایا ’’کھانا لائو‘‘ کھانا لایا گیا۔ جو ہم نے کھایا۔ پھر بعد میں مختلف اوقات میں آتے رہے جس وقت کمشنر یہاں آیا تھا۔ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ریتی چھلہ کی طرف سیر کو گئے۔ جہاں ریتی چھلہ کی مسجد ہے وہاں حضرت نے کھڑے ہوکر فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ ’’اس طرف شہر بڑھے گا۔ ‘‘آپ کے ہاتھ میں سوٹی تھی۔ اس سے اشارہ کرکے فرمایا نسواری کوٹ پہنا ہوا تھا۔ میں جی میں حیران تھا کہ اس طرف تو جھائو بہت ہے یہاں شہر کس طرح آباد ہوگا؟ ایک دفعہ بسراواں کو حضور سیر کے لئے گئے اس وقت بھی ہم ساتھ تھے۔ جس وقت مینار کی بنیاد رکھی ہے اس وقت بھی ہم پاس تھے۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب کے مکان والی جگہ ڈھاب تھی۔ فیض اللہ چک کے ایک صاحب ‘حامدعلی صاحب ہمیں کھانا وغیرہ کھلایا کرتے تھے۔
    میرا ایک چچا مسمی علی گوہر تھا اس نے مجھ سے ایک سال قبل بیعت کی تھی۔ اسکو فوت ہوئے دس گیارہ سال ہوگئے ہیں۔ اس کی عمر قریباً ۶۰ سال تھی۔ نیز ایک مستری شہاب الدین بھی تھا۔ اس کو فوت ہوئے سولہ سترہ برس ہوگئے ہیں۔ ہم نے حضرت صاحب کو مسیح موعود و مہدی مسعود مانا تھا۔ مستری شہاب الدین کی عمر قریباً ۶۰ سال ہوگی۔ ۳۷۔۱۲۔۳۰

    روایات
    غلام رسول صاحب ۔ چانگریاں تحصیل پسرور
    ڈاکخانہ پھلورہ ضلع سیالکوٹ
    خاکسار خدا کے فضل و کرم سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابہ میں داخل ہے۔ میں نے ۱۹۰۱ء میںیا ۱۹۰۲ء میں بیعت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھ پر کی تھی۔ اس وقت حضور کی خدمت میں ایک ہفتہ رہا اور ہم آپ کو جب آپ مسجد میں نماز کے بعد عموماً مغرب کی نماز کے بعد بیٹھتے تھے ‘ دباتے تھے یعنی مٹھیاں بھرتے تھے اور آپ ہم کو منع نہیں کرتے تھے اور آپ کا چہرہ مبارک ایسا تھا کہ وہ شبہات جو مولوی ڈالتے تھے آپ کا چہرہ دیکھنے سے دور ہوجاتے تھے۔ چنانچہ میں نے سنا ہوا تھا کہ مہدی معہود کا چہرہ ستارے کی طرح چمکتا ہوگا اور میں نے ایسا ہی پایا اور میرے سارے اعتراضات آپ کا چہرہ دیکھتے ہی حل ہوگئے۔ اور جب آپ پر کرم دین نے دعویٰ کیا تھا اور مجسٹریٹ چند ولال کی عدالت میں دعویٰ تھا اور بہت شور تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ضرور جیل میں جائینگے اور حضرت مسیح موعودؑ فرماتے تھے کہ لوگ یہ افواہ اٹھا رہے ہیں۔ میں جیل میں جائونگا۔ ’’ہمارا خدا کہتا ہے تم کو ایسی فتح دونگا جیسے صحابہ کو جنگ بدر میں دی تھی‘‘ اور وہ الفاظ آپ کے اب تک کانوں میں گونجتے ہیں۔ اور ایک دفعہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صبح کو سیر کے واسطے پہاڑ کی جانب نکلے اور آپ دور نہ جاسکے کیونکہ دوستوں کا ہجوم تھا اور ریتی چھلہ و بوہڑ کے مغرب کی طرف آپ ٹھہر گئے اورآپ کے گرد دوستوں نے گروہ باندھ لیا اور مصافحہ کرنا شروع کیا اور میں نے جب مصافحہ کیا تو میں نے ایک روپیہ ایسے طور پر دیا کہ کسی کو معلوم نہ ہوا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے میری طرف ایسی شفقت بھری نظر سے دیکھا کہ جب مجھے وہ وقت اور وہ نظر آپ کی یاد پڑتی ہے تو مجھے اب بھی سرور آجاتا ہے۔ اور ایک دفعہ جبکہ ’’ نسیم دعوت‘‘ چھپ رہی تھی۔ آپ نے اس کتاب کی تعریف کی اور میری طبیعت للچائی کہ کتاب مجھ کو بھی ملے اور قیمت میرے پاس نہیں تھی۔ جب آپ جانے لگے تو میں نے حضور سے عرض کی کہ حضور مجھے بھی ایک کتاب ’’نسیم دعوت‘‘ دی جائے اور آپ نے بہت شفقت سے خلیفہ رجب الدین جو دورکے رہنے والے تھے کو فرمایاکہ اس لڑکے کو کتاب دلادیں۔ اور صبح ہوتے ہی مجھے کتاب مل گئی۔ (اور میں اچھی طرح تحریر نہیں کرسکتا۔ ٹوٹے پھوٹے الفاظ تحریر ہیں)۔
    والسلام
    غلام رسول از چانگریاں ضلع سیالکوٹ
    تحصیل پسرور ڈاک خانہ پھلورہ بقلم خود






    روایات
    شکر الٰہی صاحب احمدی کلرک ڈاک خانہ
    موضع نبی پور ضلع گورداسپور
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ ابھی بچہ تھا۔ عمر تقریباً ۱۲ یا ۱۳ سال ہوگی۔ دین سے بالکل بے بہرہ تھا۔ غالباً پرائمری کی کسی جماعت میں گورداسپور ہائی سکول میں تعلیم پایا کرتا تھا۔ اس وقت مولوی عبدالکریم مخالف پارٹی کا مقدمہ تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے اصحاب کے ساتھ ہائی سکول کے شمال کی بالکل جانب متصل تالاب تحصیل والے کے رونق افروز ہوا کرتے تھے اور خاکسار مدرسہ چھوڑ کر آپ کی رہائش کے پاس کھڑا رہتا تھا اور آپ کے چہرہ مبارک کو دیکھتا رہتا تھا۔ ایک آپ کے عاشق صادق(نام بچہ ہونے کے باعث نہ جانتا تھا بلکہ اس بات پر حیرت کرتا تھا) کہ ا نکے دائیں ہاتھ میں بڑا پنکھا پکڑا ہوا اور بہت زور سے ہلاتے رہتے تھے۔ دیر تک کھڑا رہتا۔ اور پنکھا اسی ہاتھ میں رہتا۔ حیران ہوتا کہ ہاتھ تھکتا نہیں ہے ۔ ہلاتے بھی آہستہ نہ تھے۔ بلکہ بڑے زور سے جیسے بجلی کی کرنٹ زور سے ہلاتی ہے کیونکہ موسم گرمیوں کا تھا۔ دوبارہ سہ بارہ آتا اور اسی صاحب کو دیکھتا رہتا کہ کیا جادو ہے؟ پنکھا بڑا ہے اور سارا دن ایک ہی ہاتھ سے ہلا رہے ہیں۔ مگراب معلوم ہوا ہے کہ وہ سچے عاشق تھے۔
    ۲۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ مقدمہ میں جو مولوی کرم دین کا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہر ہفتہ گورداسپور تشریف لایا کرتے اور ضلع گورداسپور کچہری میں حضرت صاحب کو اکثر عدالت میں کھڑے ہوتے دیکھتا۔
    ۳۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب مولوی کرم دین کے مقدمہ کا فیصلہ ضلع گورداسپور میں ہونا تھا۔ خاکسار وہاں تھا۔ خلقت کا ہجوم اتنا تھا کہ شمار سے باہر تھا۔ ضلع کے نزدیک ایک تالاب ہے۔ اس کے نزدیک ظہر کی نماز اداکی تھی۔ تقریباًاحمدی اصحاب پانچ صد کے قریب ہونگے۔ بہت دیر تک چار فرض ادا کئے۔ گویا کہ کوئی حرکت نہ کرتا تھا۔ خاکسار پاس کھڑا دیکھتا تھا۔ فیصلہ سنانے کے وقت جو کہ عصر کا وقت تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام درختوں کے نیچے آگے آگے آپ تھے اور پیچھے دو دو اصحاب ٹہل رہے تھے۔ پہلے آہستہ آہستہ بعدہ‘ زور سے ٹہلنا شروع کیا۔ مگر بولتا کوئی نہ تھا۔ آخر ٹہلتے ٹہلتے آپ ٹھہر گئے ۔ مولوی صاحب یعنی خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ کو کچھ فرمایا اور اسی وقت آواز پڑ گئی۔ شیڈ میں آیا تھا کہ آپ نے مولوی صاحب کو مخاطب ہوکر فرمایا کہ مولوی صاحب ! ’’کیا دیکھتا ہوں کہ میرا رومال تالاب میں گرگیا ہے۔ ٹٹولنے سے مل گیا ہے‘‘۔ فرمانے لگے کہ کچھ جرمانہ ہوگا۔ مگر معاف ہوجاویگا۔ سو ایسا ہی ہوا۔
    ۴۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ والد بزرگوار صاحب منشی نظام الدین جو کہ دارالامان میں ۲۰ کے سب پوسٹماسٹر ہوا کرتے تھے اور ڈاک خانہ مسجد اقصیٰ سے جو بازار مغرب کی طرف جاتا ہے۔ دکان معمولی ڈاک خانہ تھا۔ موضع نبی پورسے پیدل والد صاحب کے پاس دارالامان میں پہنچا۔ بغل میں ایک مرغی تھی جسے راستہ میں چلتے چلتے پیچھے سے کچھ گرنے کی آواز آئی ۔ مڑ کر دیکھا تو انڈا مرغی کا پڑا ہے۔ اٹھایا جو کہ بہت نرم تھا۔ ہاتھ میں ہوا لگنے سے سخت ہوگیا اور جیب میں ڈال لیا۔ گویا کہ مرغی جو بغل میں تھی اس نے انڈا دیا تھا۔
    ۵۔ خاکسار نے والد بزرگوار منشی نظام الدین صاحب سے سنا ۔ جس وقت کہ دارالامان کے ڈاک خانہ میں-/ ۲۰ روپے کے سب پوسٹماسٹرتھے۔ فرمانے لگے کہ میں سخت مخالف تھا۔ جو احمدی کارڈ لینے کے واسطے آتا مخالفت کرتا۔ مگر عصر کے وقت ڈاک خانہ بند کرکے مسجد اقصیٰ میں (جبکہ بالکل مسجد چھوٹی تھی) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس جاکر سوال کرتا۔ آپ فوراً جواب دیتے۔ علیٰ ہذا ڈیڑھ سال سخت مخالفت کی۔
    ۶۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ والد بزرگوار فرماتے ہیں کہ ایک دن جب کہ میں دفتر بند کررہا تھا کہ بہت بوڑھا آدمی اس قدر بوڑھا کہ نہ ٹانگے پر سوار ہوسکتا تھا اور نہ موٹر پر۔ اپنے لڑکے کے کاندھوں پر چڑھ کر بٹالہ سے پیدل دارالامان پہنچا اور سانس لینے کے لئے ڈاک خانہ کے ’’تھڑے‘‘ پر بٹھلایا۔ والد صاحب پوچھتے ہیں کہ آپ کیوں آئے ہیں؟ اس بزرگ کی عمر ۱۰۰ سال سے زائد تھی۔ بزرگ فرمانے لگے کہ میرے والد صاحب جس کی عمر مجھ سے زائد تھی۔ فرماتے تھے کہ بیٹا تم مسیح موعود ؑ کی زیارت کروگے۔ ’’وَت‘‘ اس کی نشانی ایک ہوگی یعنی اس کے ’’بندیاں‘‘ لگیںگی۔وَت وہ مسیح سچا ہوگا۔ والد صاحب کہنے لگے کہ بابا جی ! ’’ وَت بندیاں‘‘ کیا ہیں؟ بزرگ فرمانے لگے کہ بیٹا! میںنے حضرت مرزا صاحب کا دعویٰ سنا ہوا تھا۔ اور بندیوں کی انتظار میں تھا (بندیاں یعنی کفر کے فتوے) اب کفر کے فتوے لگے ہیں اور میں زیارت کے لئے اس طرح آیا ہوں۔
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ والد بزرگوار فرماتے ہیں کہ ایک دن ایک بڑا لمبا آدمی عصر کے وقت آیا۔ جس کے کپڑوں پر‘ بدن پر‘ سر پر گرد و غبار پڑی تھی۔ اور وہ ڈاک خانے کے تھڑے پر کھڑا ہوکر دریافت کرنے لگا کہ مرزا صاحب کہاں ہیں؟ والد صاحب نے فرمایا ۔ چلو میںدکھلاتا ہوں۔ وہ بزرگ کہنے لگے نہیں میں خود دیکھوں گا۔آخر وہ بزرگ آگے آگے اور والد بزرگوار پیچھے پیچھے چل پڑے۔ وہ بزرگ مسجد اقصیٰ میں پہنچ کر عصر کا وقت تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے صحابہ کے درمیان رونق افروز تھے۔ وہ شخص بے صبرے کی طرح صحابہ کے اوپر سے چلتا ہوا حضرت صاحب کے پاس پہنچ کر کہنے لگا کہ آپ نے حضرت مسیح موعودؑ کا دعویٰ کیا ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا ’’ہاں‘‘۔ وہ بزرگ زار زار رونے لگا۔ اورکہنے لگا کہ پرسوں رات میںحضوری میں تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے داہنے انگلی مبارک سے فرمایا کہ ’’ھذا مسیحؑ‘‘ ۔ اسی پہچان سے میں یہاں آیا ہوں۔ اور آپ کو پہچان لیا ہے۔ جب سے یہ نظارے والد صاحب نے دیکھے تہجد میں دعائیں شروع کیں۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیئے کہ بوقت رات عالم خواب میںایک بزرگ آتا ہے اور ایک کتاب والد صاحب بزرگوار کو دکھلاتا ہے کہ دیکھو یہ پیشگوئیاں کہ ’’مسیح ؑ‘‘ کے زمانہ میںسواریاں تیز ہونگیں۔ پہاڑ اڑائے جائینگے۔ دریا چیرے جاوینگے وغیرہ وغیرہ‘‘۔ ایک رات وہی بزرگ کتاب ۔ صفحہ و سطر دکھلا کر کہتا ہے۔ دیکھو مولوی صاحب! یہ کتاب میرے مسیح ؑ کی میز پر پڑی ہے۔ جب والد صاحب صبح حضرت صاحب کے پاس جاکر دیکھتے ہیں۔ وہی کتاب پڑی ہے۔ کتاب کھول کر دیکھی گئی۔ وہی صفحہ۔ اسی سطر پر پیشگوئیاں نظر آئیں۔ آخری رات خواب میں والد صاحب ایک دریا میں نہا رہے ہیں۔ ایک بزرگ دریاکے کنارہ سے آواز دے کر کہتا ہے کہ بابو صاحب ! کیسا نہا رہے ہو؟ بدن کو دیکھو۔ خشک ہے۔ جب بدن دیکھا گیا بالکل خشک پایا۔ وہ بزرگ کہنے لگا کہ اوپر کی طرف جائو۔ والد صاحب کہنے لگے کہ وہاں مرزا صاحب کے مکان ہیں۔ نہیں جاتا۔ جب اصرار سے کہا کہ جائو تو سہی۔ پس وہ دریا حضرت مسیح موعودؑ کے مکان کے نیچے سے جاری تھا۔ جب والد صاحب عین مکان کے نیچے تیرتے تیرتے پہنچے۔ دیکھا۔ بدن تر تھا۔ بلکہ بیدار ہوکر بھی غفلت خواب میں چھاتی سے پانی نچوڑ نچوڑکر نیچے پھینکتے تھے۔ آخر بیعت نصیب ہوئی۔ الحمد اللہ۔
    خاکسار
    شکر الٰہی احمدی کلرک ڈاکخانہ
    موضع نبی پور ضلع گورداسپور
    حال تاندلیانوالہ
    ضلع لائل پور
    ۳۷۔۱۔۱۰




    روایت
    مرزا اکبر بیگ صاحب ولد مرزا دین محمد صاحب لنگروال ضلع گورداسپور
    سن بیعت :۱۹۰۴ء
    جبکہ میں ابھی پہلی دوسری جماعت میںپڑھتا تھا۔ تب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں گیا اور شور کررہا تھا۔ تو کسی نے ناراض ہوکر کہا کہ شور مت کرو۔ تو حضور نے فرمایا کہ اس کو کچھ مت کہو یہ میری ہمشیرہ عظمت بیگم کا بیٹا ہے۔
    خاکسار
    اکبر بیگ





    روایات
    حکیم اللہ دتہ صاحب ولد نظام الدین صاحب موضع شاہ پور امر گڑھ

    سن بیعت :۱۹۰۲ء سن زیارت :۱۸۹۸ء
    ۱۸۹۸ء کے آخر میں مَیں اور میرا بھائی پیر محمد جو کہ مجھ سے چھوٹا ہے قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت کرنے کے لئے آئے تو جب ہم احمدیہ چوک میں آئے ۔ وہاں بڑ کا ایک درخت تھا۔ وہاں مرزا نظام الدین صاحب بڑ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک حجام داڑھی کو مہندی لگا رہا تھا۔ تو مرزا نظام الدین نے پوچھا کہ تم کہا ںسے آئے ہو؟ میں نے جواب دیا کہ شاہ پور امر گڑھ سے تو انہوں نے کہا کہ کیوں آئے ہو؟ میں نے عرض کی کہ مرزا صاحب کی زیارت کو آئے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہاں کیوں آئے ہو؟ جہاں تمہاری آنکھ ہے وہاں انکی آنکھ ہے جہاں تمہارا ناک ہے وہاں ان کا ناک ہے یہ تو اس نے ایک پھندا لگایا ہوا ہے۔ مگر ہم اس کی اس بات کے کہنے سے رک نہ سکے۔ مسجد مبارک میں جاکر نماز پڑھی۔ جس طرح شیعہ لوگ نماز کی نیت کرتے ہیں۔ میں نے اس طرح پر نیت کی۔ تو ہم واپس اپنے گائوں کو چلے گئے۔
    ۱۹۰۲ء میں آکر پھر ہم نے بیعت کی اکثر حق چھپ نہیں سکتا ۔ حضور نے ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے موقعہ پر فرمایا کہ ’’سب کتابوں کا مغز قرآن شریف ہے اور قرآن شریف کا مغز لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ ہے۔

    حضرت مسیح موعودؑ کا حلیہ :۔
    بال سیدھے جس طرح کنگھی کی ہوئی ہوتی ہے۔ آنکھیں موٹی تھیں۔ اس طرح معلوم ہوتی تھیںجس طرح کہ ان کو نیند آرہی ہے اور وہ سوتے نہیں یعنی آدھی کھلی اور آدھی بند معلوم ہوتی تھیں۔ جسم کے لحاظ سے بھی درمیانہ تھے۔ نہ لمبے تھے نہ ’’مدرے ‘‘ تھے۔ رنگ گندمی تھا۔ اور آپ اپنی داڑھی کو مہندی لگایا کرتے تھے۔ بازو اور ہاتھ کی انگلیاں موٹی تھیں۔ ایک خط موضع ’’رتڑ چھتڑ‘‘ سے عطا محمد نمبردار نے میرے دوست فقیر محمد موضع شاہ پور کے ہاتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا تھا۔ اس میں اس نے کئی باتیں دریافت کی تھیں میں اس وقت آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ کسی شخص نے حضرت یعقوب علیہ السلام سے پوچھا کہ اب تمہیں مصر سے پیران یوسف کی خوشبو آگئی۔ جب کہ وہ کنعان کے کنوئیں میں گرا ہوا ہے۔ تو یعقوب علیہ السلام نے جواب دیا۔
    گہے برطارم اعلیٰ نشینم
    گہے برپشت پائے خود نہ بینم
    ہمارا حال تو ایسا ہے کبھی ہم کو آسمان کی چوٹی کا حال معلوم ہوتا ہے اور کبھی ہمیں یہ پتہ نہیں ہوتا کہ ہمارے پائو ںمیں کیا ہے؟ اور مرزا یعقوب بیگ صاحب کلانوری کو فرمایا کہ ان کو جواب لکھ دو۔
    حکیم اللہ دتہ شاہ پور امر گڑھ
    تحصیل و ضلع گورداسپور



    روایات
    چوہدری عبدالحکیم صاحب ولد چوہدری شرف الدین صاحب
    گھاکڑ چیماں تحصیل وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ
    سن بیعت :۱۹۰۲ء سن زیارت :۱۹۰۲ء
    ۱۹۰۲ء گرمیوں کا موسم تھا میں ان دنوں ملتان چھائونی ریلوے اسٹیشن پر بطور سگنیلر ملازم تھا۔ میرے خیالات اہلحدیث کے تھے اور میں مولوی عبدالجبار اور عبدالغفار اہلحدیث جو دونوں بھائی تھے اور ملتان شہر کے قلعے کے پاس ان کی کتابوں کی دکان تھی۔ ان سے قرآن شریف کا ترجمہ پڑھا کرتا تھا کہ اتفاقاً میری ملاقات مولوی بدر الدین احمدی سے ہوئی جو شہر کے اندر ایک پرائمری سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ انہوں نے مجھے اخبار الحکم پڑھنے کو دیا۔ مجھے یاد ہے کہ اخبار الحکم کے پہلے صفحہ پر خداتعالیٰ کی ’’تازہ وحی‘‘ اور ’’کلمات طیبات امام الزمان‘‘ لکھے ہوئے ہوتے تھے۔ میں ان کو پڑھتا تھا اور میرے دل کو ایک ایسی کشش آور محبت ہوتی تھی کہ فوراً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت اقدس میں پہنچوں۔ اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہوا اور باوجود اہل حدیث کے مولویوںکے بہکانے اور ورغلانے کے میں نے تھوڑے ہی عرصہ میں قبول کرلیا۔ مولوی بدرالدین صاحب نے مجھے قادیان فوراً جانے کا مشورہ دیا۔ اور میرے ساتھ ایک اور اہلحدیث مولوی بھی تیار ہوگئے۔ وہ مولوی سلطان محمود صاحب اہلحدیث کے شاگرد خاص تھے۔اس وقت میری تنخواہ صرف پندرہ روپے تھی اور غربت کی حالت تھی۔ میں نے رخصت لے لی۔ چونکہ ’’ریلوے پاس‘‘ کا ابھی حق نہ تھا۔ میں نے بمع دوسرے دوست کے امرتسر کا ٹکٹ لیا۔ کیونکہ ہمارے پاس قادیان کا کرایہ پورا نہ تھا۔امرتسر پہنچ کر ہمارا ٹکٹ ختم ہوگیا۔ اور ہم نے بٹالہ والی گاڑی میں سوار ہونا تھا۔ مگر ہمار ے پاس صرف آٹھ آنے کے پیسے تھے۔ اس لئے ہم نے دو دو آنہ کا ’’ ویرکہ‘‘ کا ٹکٹ لے لیا۔ اور گاڑی میں سوار ہوگے۔ ’’ویر کہ‘‘ سٹیشن پر جب گاڑی پہنچی تو ہمارا ٹکٹ ختم ہوچکا تھا۔ مگر ہم نہ اترے اور گاڑی روانہ ہوگئی جب دوسرے سٹیشن کے درمیان گاڑی جارہی تھی کہ ریلوے کا ایک ملازم ٹکٹ پڑتال کرنے آیا اور سب مسافروں سے ٹکٹ دیکھنا شروع کیا۔ چونکہ ہمارا ٹکٹ پچھلے سٹیشن کا تھا اور ہمارے پاس رقم بھی نہ تھی۔ ہم دونوں اپنی بے عزتی ہونے کی وجہ سے بہت پریشان اور ہراساں ہوئے۔ اور سوائے اللہ تعالیٰ کا دامن پکڑنے کے اور کوئی چارہ نہ دیکھ کر ہم دونوں نے مل کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ہم تیرے سچے مسیحؑ کی خدمت میں جارہے ہیں۔ہمارے پاس کچھ نہیں ہے اپنے مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خاطر جو تیرا پیارا ہے۔ ہماری پردہ پوشی فرما اور ہم کو بے عزتی اور رسوائی سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری دعا قبول فرمائی اور جب ریلوے لازم نے ہم سے ٹکٹ طلب کئے تو ہم نے وہی ٹکٹ جو پچھلے سٹیشن کے تھے۔ اس کو دے دئیے اور مجھے خوب یاد ہے کہ اس نے وہ ٹکٹ اچھی طرح دیکھ کر ہم کو واپس دے دئیے اور ہمیں کچھ بھی نہ کہا اور دوسرے کمرہ میں چلا گیا۔ یہ ہمارے لئے ایک معجزہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے سچے اور پاک مسیحؑ کی خاطر ہماری پردہ پوشی فرمائی اور ہم کو رسوائی سے بچالیا اور یہ واقعہ ہمارے لئے تقویت ایمان کا باعث ہوا۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سچائی ہمارے لئے اظھر من الشمس ہوگئی۔ بٹالہ سے اتر کر ہم پیدل قادیان کی طرف روانہ ہوئے اور تقریباً ظہر کا وقت تھا کہ ہم دارالامان پہنچے۔ جب ہم مسجد مبارک میں داخل ہوئے ۔ اسی وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لائے۔ میرے ساتھ جو دوست تھا وہ ایک اہلحدیث عالم تھا۔ اس نے حضرت مسیح موعو د علیہ الصلوٰۃوالسلام سے ملتے ہی ایک سوال کیا۔ کہ جب قرآن اور حدیث ہماری راہنمائی کے لئے موجود ہے تو آپ کی بیعت کی کیا ضرورت ہے۔ حضور اس وقت وہیں کھڑے ہوگئے اور تقریر شروع فرمائی۔ ابھی حضور کی تقریر ختم نہ ہوئی تھی کہ میرے معترض ساتھی نے عرض کیا کہ حضور میری تسلی ہوگئی ہے اور میں بیعت کرتا ہوں۔ حضور نے فرمایا کہ ’’ابھی ٹھہرو اور پوری تسلی کرلو۔ شاید آپ کو دھوکا نہ لگ جائے۔ اور پھر نماز ظہر پڑھا کر گھر تشریف لے گئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تقریر کے خاتمہ پر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے فرمایا تھا کہ اخباروں میں سب کچھ لکھا جاچکا ہے۔ باہر سے آنیوالے لوگ حضور کی خدمت میں سوال کرکے تکلیف دیتے ہیں اور اخبارات کو نہیں پڑھتے۔ حضور نے فرمایا کہ مولوی صاحب ! تقریر تو میں کرتا ہوں اور تکلیف آپ کو ہوتی ہے۔ اس کے بعد مغرب کی نمازکے وقت مسجد مبارک کی چھت پر احباب اکٹھے ہوئے۔ میں اور میرا ساتھی بھی وہاں حاضر ہوئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لائے۔ مولوی عبدالکریم صاحب نے نماز پڑھائی اور حضور بھی ان کے ساتھ ہی تشریف فرما تھے۔ نماز کے بعد حضور شاہ نشین پر تشریف فرما ہوئے۔ اس وقت مجلس میں تھوڑے ہی دوست تھے۔ ان میں سے قابل ذکر حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ‘ میر ناصر نواب صاحب علیہ الرحمۃ۔ مولوی عبدالکریم صاحبؓ ‘ ‘حکیم فضل الدین صاحبؓ اور مولوی شیر علی صاحب اور مفتی محمد صادق صاحب تشریف فرما تھے۔ مجھے خو ب یاد ہے کہ نماز مغرب کے بعد مفتی صاحب نے ولایت کی ڈاک سنائی۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں ایک لیڈی کا خط پڑھ کر سنایا۔ حضور بہت خوش ہوئے۔ اور بھی بہت سی باتیں ہوئیں۔ لیکن افسوس ہے کہ مجھے یاد نہیں رہیں اور نہ ہی میں نے نوٹ کیں۔ قریباً پچاس منٹ کے بعد حضور نے عشاء کی اذان کا حکم دیا۔ اور نماز پڑھا کر گھر تشریف لے گئے دوسرے دن بوقت مغرب بعد نماز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مسجد مبارک کی چھت پر شاہ نشین پر تشریف فرما ہوئے تو میں نے بیعت کے لئے عرض کی ۔ فرمایا کہ آپ کم سے کم چھ مہینے یہاں رہیں۔ اگر بیوی بچے ہیں تو ان کو بھی لے آویں۔ خرچ اور مکان ہم دیںگے۔ میں نے سخت غلطی کی اور حضور کے ارشاد کی وقعت کو بوجہ اپنی کم فہمی کے نہ سمجھا۔ اور ملازمت پر واپس جانے کا عذر کیا۔ تو حضور نے میری بیعت لے لی۔ میری اور میرے ساتھی کی الگ الگ بیعت ہوئی۔ بعد بیعت حضور نے مجھ سے سوال کیا کہ جس علاقہ میں آپ ہیں کیا وہاں طاعون ہے؟ میں نے عرض کی کہ حضور ہے۔ فرمایا کہ وہ ہمارا نشان ہے۔ دوران گفتگو میں اس عاجز نے دیکھا۔ کہ حضور کی زبان مبارک میں لکنت تھی اور رانو ںپر ہاتھ مارتے تھے۔ اس کے بعد وقتاً فوقتاً دارالامان آتا رہا مگر افسوس ہے کہ بعد کے واقعات میں نے نوٹ نہ کئے جس شام کو میں نے بیعت کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تشریف لے جانے کے بعد میں حضرت خلیفہ اول ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جو مسجد مبارک کے چھت کے پاس ہی ایک کوٹھڑی میں رہتے تھے۔ انہوںنے ایک چھوٹی سی چارپائی چھت پر بچھائی ہوئی تھی۔ میں ان کی خدمت میں دیر تک بیٹھا رہا اور بہت سے مسئلے پوچھتا رہا مگر سوائے ایک بات کے اور مجھے کوئی یاد نہیں رہی اور وہ یہ ہے کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے مجھے فرمایا کہ ’’مخالف لوگ کہتے ہیں کہ نور الدین دنیا کمانے کے لئے قادیان آیا ہے۔ مگر مجھے تو وہ چارپائی ملی ہے جس پر میرا آدھا جسم نیچے ہوتا ہے۔ میں تو صرف خدا کے لئے یہاں آیا ہوں۔ اور میں نے وہ حضرت اقدس کی بیعت میں پالیا ہے‘‘۔
    والسلام
    خاکسار
    چوہدری عبدالحکیم صحابی
    ریٹائرڈ سٹیشن ماسٹر






    روایات
    محمد اکبر صاحب ولد اخوند رحیم بخش خان صاحب
    قوم پٹھان غلزئی سکنہ ڈیرہ غازی خان
    پتہ سابق ایچ۔وی۔سی۔ دفتر صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر منٹگمری
    حال رخصتی مقیم گلگت ہائوس قادیان
    سن بیعت :۱۹۰۵ئ۔ سن زیارت :۱۹۰۵ء و ۱۹۰۷ء
    خاکسارکے والد صاحب کے چچا اخوند امیر بخش خان ضلع مظفر گڑھ میں سب انسپکٹر پولیس تھے۔ خاکسار کے احمدی ہوجانے کے بعد وہ پنشن پاکر اپنے گھر ڈیرہ غازی خاں آگئے۔ ان دنوں جماعت احمدیہ ڈیرہ غازی خاں کے سرکردہ مولوی عزیز بخش صاحب بی۔اے تھے۔ جو مولوی محمد علی صاحب امیر پیغام کے بڑے بھائی ہیں۔ وہ اس وقت ڈیرہ غازی خاں میں سرکاری ملازم تھے۔ جس محلہ میں وہ رہتے تھے وہاں ایک مسجد تھی۔ جو ویران پڑی رہتی تھی۔ جماعت احمدیہ نے اسے مرمت وغیرہ کرکے آباد کیا اور اس میں نماز پڑھنی شروع کردی۔ ایک غیر احمدی مولوی فضل الحق نام نے اس محلہ میں آکر کرایہ کے مکان میں رہائش اختیار کی۔ اور محلہ کے لوگوں کو اکسایا کہ احمدیوں کو اس مسجد سے نکالنا چاہئے اور اس مسجد میں چند طلباء جمع کرکے ان کو پڑھانا شروع کردیا اور نماز کے وقت وہ اپنی جماعت علیحدہ کرانے لگا۔ اور مسجد میں وعظوں کا بھی سلسلہ شروع کردیا۔ خاکسار کے رشتہ کے چچا اخوند امیر بخش خان مذکور نے شہر ڈیرہ غازی خان کے سب انسپکٹر پولیس کو اکسایا کہ وہ رپورٹ کرے کہ اس محلہ میں احمدیوں اور غیر احمدیوں میں فساد کا اندیشہ ہے۔ فریقین کے سرکردوں سے ضمانت لی جانی چاہئے۔ خاکسار نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حضور ایک عریضہ لکھا جس میں اپنے رشتہ کے دادا صاحب مذکور کی مخالفت کا ذکر کیا اور لکھا کہ اس کو اس قدر عناد ہے کہ اگر اس کا بس چلے تو خاکسار کو قتل کردے اور جماعت کے متعلق پولیس سے جو اس نے رپورٹ کرائی تھی اس کا بھی ذکر کیا اور دعا کی درخواست کی۔ حضور نے ازراہ ذرہ نوازی کمال شفقت سے خود اپنے مبارک ہاتھ سے اس عاجز کے عریضہ کی پشت پر جواب رقم فرما کر وہ خط خاکسار کو بذریعہ ڈاک واپس بھیج دیا۔ حضورکے جواب کا مفہوم یہ تھا۔ ’’ہمیں گھبرانا نہیں چاہئے۔ حضور نے دعا فرمائی ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ اس کا جلد نیک نتیجہ ظاہر ہوگا اور جماعت کو چاہئے کہ ضمانت ہر گز نہ دیوے۔ اگر مسجد چھوڑنی پڑے تو چھوڑ دی جاوے۔ اور کسی احمدی کے مکان پر باجماعت نمازوں کا انتظام کرلیا جاوے۔ مگر جماعت کے کسی فرد کو ضمانت ہر گز نہیں دینی چاہئے۔ افسوس ! وہ خط خاکسار کے پاس محفوظ نہیں رہا۔ غالباً مولوی عزیز بخش صاحب نے خاکسار سے لے لیا تھا اور واپس نہ کیا تھا۔ حضور کے اس جواب کے آنے کے تھوڑے دنوں بعد اس عاجز کا دادا مذکور بیمار ہوگیا۔ اور چند د ن بیمار رہ کر فوت ہوگیا۔ جو رپورٹ سب انسپکٹر پولیس نے کی تھی۔ وہ سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس نے صاحب ڈپٹی کمشنربہادر کے پاس بمراد انتظام مناسب بھیج دی صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے ایک مسلمان ای۔اے۔سی کو مقرر فرمایا کہ وہ احمدیوں اور غیر احمدیوں میں مصالحت کرادے۔ چنانچہ و ہ کئی ماہ مسلسل کوشش کرتا رہا۔ کہ مصالحت ہوجائے مگر کامیابی نہ ہوئی۔ آخر دریائے سندھ کی طغیانی سے وہ حصہ شہر کا غرق ہوگیا اور مسجد گر گئی اور بعد ازاں سارا شہر دریا بُرد ہوگیا اور نیا شہر آباد کیا گیا۔ جس میں جماعت احمدیہ نے اپنی نئی مسجد تعمیر کرائی۔ اور جہاں تک خاکسار کا خیال ہے۔ نئے شہر میں سب سے پہلے جو مسجد تعمیر کی گئی وہ احمدیوں کی تھی۔
    ۲۔ چودھری نذر محمد صاحب ساکن ادرحمہ ضلع شاہ پور‘ ضلع ڈیرہ غازی خان میں ملازم تھے۔ وہ ۱۹۱۸ء میں بعارضہ انفلوئنزا فوت ہوگئے۔ وہ اپنا واقعہ سنایا کرتے تھے کہ سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہونے سے پہلے ان کی حالت اچھی نہ تھی۔ اور انہوں نے اپنی اہلیہ کو متروک کر رکھا تھا ۔ جب وہ سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوئے تو ان کو سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت کا شوق ہوا۔ چنانچہ اس شوق میں وہ قادیان روانہ ہوگئے۔ مگر قادیان جاکر معلوم ہوا کہ حضرت اقدس کسی مقدمہ کی وجہ سے گورداسپور تشریف لے گئے ہوئے ہیں۔ چنانچہ وہ گورداسپور چلے گئے اور ایسا موقع میسر آیا کہ حضرت اقدس اکیلے چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے ۔ انہوں نے حضور کومٹھیاں بھرنی شروع کردیں اور دعا کے لئے عرض کیا۔ حضور نے فرمایا ’’ہم دعا کرینگے‘‘۔ اتنے میں کوئی اور دوست حضور کی زیارت کے لئے آئے۔ انہوں نے دوران ملاقات میں بیان کیا کہ انکے سسرال نے ان کو بڑا تنگ کیا کہ اس کی بیوی کو نہ بھیجتے تھے۔ اب ا ن کی بیوی ان کے پاس آگئی ہے اور انہوں نے عہد کیا ہے کہ وہ اس کو اپنے میکے نہ بھیجیں گے۔ جب اس دوست نے یہ بات بیان کی تو حضور کا چہرہ غصہ کی وجہ سے سرخ ہوگیا اور حضور نے بڑے غصہ سے اس کو کہا کہ ’’فی الفور چلا جائے کہیں اس کی وجہ سے ہم پر بھی عذاب نہ آجاوے‘‘۔ چنانچہ وہ دوست اٹھ کر چلا گیا اور کچھ دیر بعد واپس آیا اور کہاکہ حضور ! میں نے توبہ کی ہے۔ مجھے معاف فرمایا جاوے۔ جس پرحضور نے پھر اس کو بیٹھنے کی اجازت دی۔ چوہدری صاحب مرحوم سنایا کرتے تھے کہ جب انہوں نے یہ واقعہ دیکھا تو وہ دل میں سخت نادم ہوئے اور سوچا کہ اس دوست کی بات تو معمولی تھی۔ لیکن انہوں نے ایک عرصہ سے اپنی بیوی پرظلم روا رکھا ہوا ہے اور اپنے سسرال سے بُرا سلوک کیا ہوا ہے۔ ان کا قصور اس دوست سے کئی گنا بڑھ کر ہے اور اگر انہوں نے توبہ نہ کی تو خدا جانے کتنا بڑا عذاب آویگا۔ اس لئے وہیں بیٹھے بیٹھے توبہ کی اور عہد کیاکہ اب جاکر اپنی بیوی اور سسرال کو راضی کرونگا۔ چنانچہ واپسی پر لاہور سے اپنی بیوی کے لئے کئی تحائف خریدے اور ڈیرہ غازی خان پہنچ کر اپنی بیوی کے پاس جاکر اس کو تحفے دیئے اور اس سے معافی مانگی کہ پچھلا قصور اس کا معاف کردیوے آئندہ اس سے بدسلوکی نہ ہوگی۔ بیوی حیران رہ گئی کہ اس میں اتنا عظیم الشان تغیر کس طرح ہوگیا ہے۔ انہوں نے بتلایا کہ وہ احمدی ہوگیا ہے۔ اور سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت کے موقع پر یہ واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اس لئے اس نے توبہ کی ہے۔ اس پر ان کی بیوی بہت خوش ہوگئی اور سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہزار ہزار دعائیں دینے لگی کہ انہیں کی برکت سے اس کا اجڑا گھر آباد ہوا ہے۔ ورنہ اس کی کوئی امید نہ تھی اور اسکے سسرال بھی اس پر خوش ہوگئے۔
    والسلام خاکسارمحمد اکبر عفی اللہ عنہ
    ایچ وی سی رخصتی ۔ حال مقیم گلگت ہائوس قادیان دارالامان۔
    ۱۹۳۸۔۲۔۲۳

    روایات
    چوہدری فضل داد صاحب ولد چوہدری قطب الدین صاحب
    جٹ زمیندار اونکھ ساکن سرمے دانی
    پتہ سابق سرمے دانی تحصیل شاہدرہ ضلع شیخوپورہ حال وارد چک نمبر ۱۴۶
    کھیوہ تحصیل وضلع لائلپور
    سن بیعت ۹۶۔۱۸۹۵ئ و سن زیارت ۹۶۔۱۸۹۵ء
    میں تحقیق حق کے لئے ۱۸۹۵ء یا ۱۸۹۶ء میں قادیان گیا اور وہاں مجھ پر حق کھل گیا تو میں نے حضرت خلیفۃ المسیح الاول مولانا مولوی نور الدین صاحب ؓ کی خدمت میں حاضر ہوکر ایک روپیہ نذرانہ پیش کیا۔ (کیونکہ میں نے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام خیال کیا) مولوی صاحب نے حاضرین کو فرمایا کہ مجھے اس روپیہ کی بڑی ضرورت تھی اور خدا نے اچھے موقع پر دیا ہے۔ مولوی صاحب چونکہ طبیب تھے اور انہوں نے خیال کیا کہ یہ شخص مریض ہے اور مجھ سے دریافت کیاکہ تمہیں کیا بیماری ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میںبیمار نہیںہوں۔ صرف بیعت کے لئے حاضر ہوا ہوں ۔ مولوی صاحب نے روپیہ مجھے واپس دے دیا اور فرمایا کہ بیعت لینے والا اور ہے ۔ میں نہیں ہوں۔ پھر میں نے ایک شخص کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں رہتا تھا کہا کہ میری بیعت کروا دو۔ اس شخص نے کہا کہ جس وقت حضرت صاحب سیر سے واپس تشریف لاکر مسجد مبارک کی سیڑھیوں کے راستہ گھر کو تشریف لے جاویں اس وقت بیعت کے لئے عرض کرنا۔
    چنانچہ میں ایک روز جب حضور سیر سے واپس تشریف لاکر گھر کو جانے لگے تو میں مسجد مبارک میں گھر کے اندر جانے والے دروازہ کے پاس کھڑا ہوگیا۔ جب حضور تشریف لائے۔ اس وقت مصافحہ کیا۔ ایک روپیہ نذرانہ دیا۔ اور بیعت کرنے کے لئے عرض کیا۔ حضور نے ایک شخص کو فرمایا کہ بعد نماز مغرب ان کو بیعت کروادینا۔ چنانچہ بعد نماز مغرب حضرت اقدس نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر دس شرائط بیعت دہرا کر مجھ سے بیعت لے لی۔ چنانچہ جب میں قادیان سے واپس اپنے چک نمبر ۱۴۶ میں آیا تو مجھے ایک سید مسمی دولت شاہ ساکن ستراہ ضلع سیالکوٹ نے یہ کہا کہ تم جس شخص کی بیعت کرکے آئے ہو نہ ہی وہ شفاعت کے قائل ہیں اور نہ ہی نبیوںکے معجزات کے قائل ہیں۔ چنانچہ قادیان حضور کی خدمت میں خط لکھا گیا۔ وہاں سے جو خط آیا وہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم ؓ کے ہاتھ کا حسب ذیل مضمون کالکھا ہوا پہنچا۔ ’’جو شفاعت کا قائل نہیں وہ بھی کافر‘ جو انبیاء کے معجزات کا قائل نہیں۔ وہ بھی کافر۔ حقیقی مردے زندہ نہیں ہوسکتے۔ باقی دشمنوں کی زبان کو کون روکے؟‘‘۔
    ۲۔ ایک دفعہ میں حضور کے ملنے کے لئے قادیان گیا۔ سن یاد نہیں۔ مسجد مبارک میں ان دنوں ایک لائن میں پانچ آدمی کھڑے ہوتے تھے۔ صبح کی نماز کے بعد حضور مسجد میں ٹھہر گئے (نماز صبح مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے پڑھائی تھی) فرمایا۔ اللہ رحم کرے بارشیں بہت ہوگئی ہیں۔ سردی زیادہ پڑے گی اور طاعون بھی زیادہ پھیلے گی۔ ا ن دنوں طاعون کی پیشگوئی شائع ہوکر قادیان سے باہر طاعون پھیلی ہوئی تھی۔
    ۳۔ ایک دفعہ جب مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کو ’’کار بنکل‘‘ کا پھوڑا نکلا ہوا تھا اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب علاج کررہے تھے۔ صبح کے وقت حضور نے میرے سامنے یہ فرمایا کہ رات کو خواب میں مجھے اپنے بھائی غلام قادر ملے ہیں اس سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ مولوی عبدالکریم صاحب کو صحت ہوجاوے گی۔ مگر مولوی صاحب فوت ہوگئے۔ العبد
    بقلم خود فضل داد
    بوقت ۱۰ بجے رات
    ۳۸۔۳۔۷

    روایات
    عبداللہ صاحب ولد میاں خدا بخش صاحب گِلدّن والی ضلع گورداسپور
    سن بیعت ۱۹۰۰ ء و سن زیارت ۱۹۰۰ء
    جب میں نے بیعت کی اس وقت دو آدمی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے بیٹھے تھے جن کے میں نام نہیں جانتا ۔ اس وقت حضور کی نظر نیچے کی طرف تھی۔ آپ نے ایک دفعہ ان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا۔ اور ان سے دریافت فرمایا۔ کہ آپ کا کیا سوال ہے؟ جس پر انہوں نے کہا کہ آپ کے دعویٰ کے متعلق ہے۔ حضور نے پھر ان کی طرف دیکھ کر فرمایا۔ کہ ہاں! کرئیے۔ انہوں نے دو تین سوال کئے۔ پھر حضور نے ان کی طرف دیکھ کر فرمایا۔ کہ اگر کوئی اور سوال ہے تو وہ بھی کرئیے۔ پھر انہوں نے کہا کہ ہمارا اور کوئی سوال نہیں۔ حضور نے ان کو ان کے سوالوں کے جواب دے دئیے۔ پھر پوچھا کوئی اور سوال ہے؟ تو انہوں نے کہا نہیں۔ اس پر حضور نے ان کی بیعت لے لی۔
    ۲۔ ایک دفعہ میں پھر قادیان آیا۔ میں مسجد اقصیٰ میں بیٹھا تھا۔ حضور وہاں تشریف لائے اور حضور خلیفۃ المسیح ثانی بھی ساتھ تھے۔ حضور اس وقت بیٹھ گئے۔ اور حضرت خلیفۃ المسیح ثانی حضورکے بائیں طرف بیٹھ گئے۔ اور حضور اپنا ہاتھ کبھی کبھی اپنے ران پر مارتے تھے۔


    روایات
    محمد یحیٰ خان صاحب ولد مولوی انوار حسین خانصاحب
    ساکن شاہ آباد ضلع ہردوئی

    سن بیعت :پیدائشی احمدی ۱۸۹۴ء ۔ سن زیارت: ۱۹۰۴ء
    میرے والد صاحب مرحوم حکیم مولوی انوار حسین خانصاحب سکنہ شاہ آباد ضلع ہردوئی یو پی نے ۱۸۸۹ء میں لدھیانہ آکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ السلام کی بیعت کی تھی اور اس سے کچھ عرصہ قبل سے انکی خط و کتابت تھی اور وہ بیعت کا شرف حاصل کرنا چاہتے تھے۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیعت لینے کی اجازت نہ ہونے کی وجہ سے ان کو قادیان آنے سے روکا ہوا تھا۔ جب حضور لدھیانہ اس غرض سے تشریف لے چلے تو والد صاحب کو اطلاع کردی اور والد صاحب مرحوم اس کی تعمیل میں لدھیانہ آکر فیض یاب ہوئے۔ والد صاحب دیوبند کے دستار بند مولوی تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مہمان نوازی کا یہ واقعہ اکثر سنایا کرتے تھے۔ کہ میں پہلی مرتبہ قادیان دارالامان ۱۸۹۲ء میں آیا تھا اور اس وقت مہمان گول کمرہ میں ٹھہرا کرتے تھے۔ میں بھی وہیں ٹھہرا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی ساتھ ہی کھانا تناول فرمایا کرتے تھے اور کھانا کھاتے کھاتے اٹھ کر اندر تشریف لے جاتے اور کبھی چٹنی کبھی اچار لے کر آتے کہ آپ کو مرغوب ہوگا غرض کہ آپ کھانا بہت کم کھاتے اور مہمانوں کی خاطر زیادہ کیا کرتے تھے۔ مسجد اقصیٰ میں نمازیوں کی کثرت دیکھ کر ایک مرتبہ والد صاحب مرحوم فرمانے لگے کہ پہلی مرتبہ جب میں قادیان آیا تھا تو جمعہ کے دن نماز کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد اقصیٰ تشریف لے چلے۔ راستے میں مولوی شادی کشمیری ملا۔ اس کو نماز پڑھنے کے لئے ساتھ لے لیا اور میاں جان محمد صاحب کو ساتھ لے لیا ۔ آگے چل کرکسی بچے کی میت مل گئی تو آپ نے جان محمد کو نماز جنازہ پڑھانے کے لئے فرمایا اور خود ان کے پیچھے نماز ادا فرمائی۔ جب مسجد اقصیٰ پہنچے اور نماز جمعہ پڑھی تو اس وقت کل چھ نفوس تھے اب باوجود مسجد اتنی وسیع ہوجانے کے اردگرد کی چھتیں بھری ہوتی ہیں۔ میرے لئے یہ بھی معجزہ ہے۔
    ۱۹۰۲ء میں میرے بڑے بھائی عبدالغفار خان کو تعلیم کی غرض سے دارالامان بھیجا اور اس کے بعد ۱۹۰۴ء میں جب بڑے بھائی صاحب گرمی کی رخصتیں ختم کرنے کے بعد واپس آنے لگے مجھے بھی بھیج دیا۔ اور اس کے بعد میرے منجھلے بھائی عبدالستار خان کو۔ میں جب قادیان آیا اس وقت میری عمر دس سال کی تھی اور بورڈ ران میں سب سے چھوٹا تھا۔ والد صاحب مرحوم جب کبھی قادیان آتے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اطلاع ہوتی تو حضور حافظ حامد علی صاحب مرحوم کو بھیج کر بلوا لیتے۔ میں بھی والد صاحب کے ہمراہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوتا۔ ان دنوں اکثر حضور مسجد مبارک کی بغلی کوٹھڑی جہاں ام المومنین اید ھااللہ کا راستہ ہے یا مسجد میں ملاقات فرمایا کرتے تھے اور وہاں کے علماء اور اعزا کی مخالفت کا حال دریافت فرماتے رہتے۔
    حضرت کی بچوںپر شفقت
    حضرت ام المومنین ایدھا اللہ تعالیٰ کو کسی کام کی ضرورت پیش آئی۔ تو ہم چھوٹے بچے بورڈنگ تعلیم الاسلام کے جو ان دنوں مدرسہ احمدیہ میں ہوا کرتے تھے۔ کام کرنے کی خاطر شوق سے آجاتے۔ مجھے یاد ہے کہ اکثر حضرت مسیح موعود علیہ السلا م ہم بچوں کے متعلق دریافت فرماتے۔ یہ کون ہے؟ اور وہ کون ہے؟ خاکسار کے متعلق ایک مرتبہ دریافت فرمایا تو حضرت ام المومنین ایدھا اللہ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔ انوار حسین صاحب آموں والے کے لڑکے ہیں تو فرمانے لگے کہ اس کو کہو کہ بیٹھ جائے اور کام نہ کرے۔ مجھے بٹھا دیا اور دوسرے لڑکے کام کرتے رہے۔ ایک مرتبہ سخت سردی پڑی جس سے ڈھاب کا پانی بھی جمنے لگا ۔ان ایام میں میں گرم علاقہ کا رہنے والا ہونے کی وجہ سے بہت سردی محسوس کرتا تھا اور بورڈنگ میں قریباً سب لڑکوں سے عمر میں بھی چھوٹا تھا۔ فجر کی نماز کے لئے جانے میں سردی محسوس کرتا تھا (ماسٹر عبدالرحمن صاحب بی ۔اے سابق مہر سنگھ صاحب نے حضور سے ذکر کیا ہوگا) آکر کہا کہ حضور نے فرمایا ہے کہ اس چھوٹے بچے کو سردی میں بہت تکلیف ہوتی ہے نماز فجر کے لئے مسجد نہ لے جایا کرو۔ اس دن سے مجھے فجر کی نماز تمام سردی بورڈنگ میں ادا کرنے کا حکم مل گیا اور نماز کے لئے مسجد جانا چھڑا دیا گیا۔ ایک مرتبہ حضور بہلی پر گورداسپور مقدمہ کی تاریخ پر جارہے تھے اور ہم بورڈران بھی دور تک ہمراہ پہنچانے کے لئے جارہے تھے۔ میں حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے ساتھ جو میرے ہم عمر ہیں کھیلتا جارہا تھا۔ وہ بہلی میں تشریف رکھتے تھے اور میں ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ راستہ میں جو ’’آک‘‘ پڑتے ان کے پھول توڑ کر ان کو دیتا۔ جن کو دبانے سے پٹاخے چلتے۔ پھر اور توڑ کر دیتا۔ جب ہم اور کچھ دور پہنچے تو حضور نے ایک گنے کا ٹکڑا مجھے دیا اور فرمایا لو پیاس لگ گئی ہوگی۔ میں نے چوس لیا۔ پھر کچھ فاصلے پر پہنچ کر فرمایااب بچے واپس چلے جائیں۔ تھک جاویں گے۔ ہم رخصت ہوکر واپس آگئے۔ اسی طرح ایک مرتبہ ہم حضور کے ہمراہ نہر تک گئے اور رمضان کا مہینہ تھا۔ پیاس لگی ہوئی تھی حضور کو معلوم ہوگیا کہ بعض چھوٹے بچوں کا روزہ ہے۔ تو حضور نے فرمایا ان کا روزہ تڑوا دو‘ بچوں کا روزہ نہیں ہوتا۔ اس حکم پر ہم نے نہر سے خوب پانی پی کر پیاس بجھائی اور حضور سے رخصت ہوکر قادیان واپس چلے آئے۔
    مہمانوں کے جذبات کا احساس
    باہر سے اکثر احباب تشریف لاتے تھے اور خوردہ کے خواہشمند ہوا کرتے تھے۔ چونکہ بورڈ ران میں سے میں چھوٹا تھا اور اندر جایا کرتا تھا۔ احباب کے ذکر کرنے پر خوردہ لانے کے لئے تیار ہوجایا کرتا تھا۔ کھانے کا وقت ہوا تو ام المومنین ایدھا اللہ بنصرہ تعالیٰ سے عرض کرنے پر خوردہ مل گیا۔ کھانے کا وقت نہ ہوا تو بھی حضور خوردہ کی خواہش پر ازراہ شفقت روٹی منگوا کر اس میں سے ایک لقمہ کھا کر بقیہ دے دیا کرتے تھے۔ جو میں خوشی خوشی لاکر ان دوستوں کو دے دیا کرتا تھا جنہوں نے مانگا ہوتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نمازیں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب یا حضرت خلیفۃ المسیح اولؓ کے پیچھے پڑھا کرتے تھے۔ خود نہ پڑھایا کرتے تھے۔ مستورات کی نماز جماعت خود فرمایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ صرف سفر میں نہر پر نماز پڑھانا حضور کا یاد ہے۔
    حضور کی نماز میں رقت
    حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کا جنازہ حضور نے خود پڑھایا تھا۔نماز بہت لمبی پڑھائی۔ حتیّٰ کہ میں کھڑے کھڑے تھک گیا۔ نماز سے کچھ قبل ایک ٹکڑا بادل کا آگیا اور گرد اُڑنے لگی اور نماز کے سارے وقت میں یعنی ابتدائی تکبیر سے سلام پھیرنے تک خوب موٹے موٹے بوند پڑتے رہے اور سلام پھیرنے پر بارش ختم ہوگئی۔ اور تھوڑی دیر بعد آسمان کھل گیا۔ حضور اکثر مستورات کے ساتھ سیر کو تشریف لے جاتے اور جس طرح مرد حضرت اقدس کے ساتھ سیر کو جاتے۔ اسی طرح جب حضور کے ہمراہ حضرت ام المومنین ایدھااللہ ہوتیں تو دیگر مستورات بھی پیچھے ہمراہ ہوتی تھیں۔
    حضرت کو جھگڑے فساد سے نفرت تھی
    ایک مرتبہ جب سید احمد نور صاحب کابلی کا مکان بن رہا تھا اور سکھوں نے حملہ کرکے تعمیر روکی۔ اس پر کچھ لڑائی ہوگئی۔ حضور کو اطلاع پہنچی تو حضور نے فوراً کہلا بھیجا کہ دوستوںکو کہہ دو لڑائی نہ کریں اور صبر سے کام لیں۔ ہم سب لوگ بورڈنگ و مہمانخانہ واپس آگئے۔ اور سکھ گالیاں دیتے ہوئے پیچھے پیچھے آئے۔ حتّٰی کہ ہم سب لڑکے اور دوسرے دوست بورڈنگ اور مہمان خانہ چلے گئے۔ جس کا راستہ اس وقت بورڈنگ کے صحن میں سے بھی تھا۔ایک دو مرتبہ مچھلیاں پکڑنے پر بھی جھگڑا ہوگیا۔ لیکن حضور نے اطلاع ہونے پر یہی ہدایت فرمائی کہ لڑائی نہ کریں اور واپس آجائیں۔
    حضرت کا دشمنوں سے سلوک
    سکھوں سے سید احمد نور صاحب والے مکان کے جھگڑے میں ضمانت طلب کی گئی اور تحصیلدار سختی سے پیش آیا حتّٰی کہ ان کے ہتھکڑیاں لگوا دیں۔ لیکن ان کی معافی مانگنے پر حضور نے معاف کردیا اور ان کو چھوڑ دیا۔
    حضور کو نظم سننے کا شوق
    حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کا جنازہ بطور امانت دوسرے قبرستان میں دفن کیا گیا تھا۔ جب بہشتی مقبرہ کی اراضی خریدی گئیں تو تابوت نکال کر وہاں دفن کیا گیا۔ قبر تیار ہونے میں شاید کچھ دیر تھی سب لوگ حضور کے گرد جمع تھے کہ ثاقب صاحب نے اپنی نظم کا ذکر کیا اور سنانے کی اجازت چاہی۔ حضور بیٹھ گئے اور فرمایا ’’سنائو‘‘۔ پھر وہ دیر تک اپنی نظم جو مولوی صاحب مرحوم کے متعلق لکھی تھی سناتے رہے پھر دفن کرکے سب واپس آگئے۔
    محمد یحیٰ ۳۸۔۳۔۱۷

    روایات
    میاں تصدق حسین صاحب ولد میاں غلام نبی صاحب مرحوم
    موضع ہوجن تحصیل بھلوال
    پتہ سابقہ موضع ہوجن تحصیل بھلوال ڈاکخانہ خاص حال شہر سرگودھا بلاک نمبر۹
    سن بیعت :سال یاد نہیں۔ سیالکوٹ میں حضرت میر حامد شاہ صاحب کے والد بزرگوار کی زندگی میں ان کے مکان پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف فرما تھے۔ وہاں بیعت کی۔ اس کے بعد دوسری دفعہ پھر جب مہاراجہ کی سرائے میں حضور کا لیکچر حضور مولوی عبدالکریم صاحب مرحومؓ نے پڑھا تو میں اس میں شامل تھا۔ یہ بیعت کے بعد کا واقعہ ہے۔ میری بیعت کا سال ( وہ ہے جس سال )کتاب ’’آسمانی فیصلہ‘‘ شائع ہوئی تھی۔
    سن زیارت: یہ بھی سال یاد نہیں ہے جس وقت بیعت کی تھی وہی پہلی زیارت تھی۔ اس کے بعد کئی بار زیارت ہوئی لاہور ‘ قادیان اور دو دفعہ سیالکوٹ۔
    جب میں پہلی دفعہ سیالکوٹ گیا اور حضور میر صاحب کی مسجد میں تشریف فرما تھے۔ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ نے مجھے حضور کی خدمت میں پیش کیا۔ حضرت اس وقت تقریر فرما رہے تھے جس وقت میں نے حضور سے مصافحہ کیا تو میرے پاس کچھ پھل رومال میں بندھا ہوا تھا۔ جو میں نے حضور کے آگے کھول کر رکھ دیا۔ حضور اپنی تقریر میں لگے رہے اور اس طرف خیال نہ کیا۔ میرے دل میں خیال گزرا کہ لوگ کیا کہیں گے کہ اس لڑکے کے نذرانہ کی طرف حضور نے کوئی توجہ نہیں کی ۔ یہ خیال دل میں گزر ہی رہا تھا کہ فوراً حضور نے اس رومال کو اُٹھا لیا اور کسی خادم کے سپرد کردیا۔ میں ۹ ماہ ایک دن وہاں رہا اور بیعت کی درخواست کرتا رہا۔ حضور فرماتے ’’ابھی ٹھہرو‘‘ پھر ایک دن بیعت کے واسطے بلایا گیا۔ حضور اکیلے تھے۔ میں نے بیعت کی۔ جب میں بیعت کرچکا تو میں نے عرض کی کہ حضور مجھے نیک کام دیکھ کر دل کو خوشی ہوتی ہے مگر کمزوری کی وجہ سے ہوتا نہیں۔ حضور نے فرمایا کہ یہ مومن کی نشانی ہے (یا شان ہے؟) کہ وہ نیک کام دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ فرمایا گیارہ دفعہ لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ہر نماز کے بعد پڑھ کر اپنے سینہ پر پھونکا کریں۔
    خاکسار
    تصدق حسین احمدی بقلم خود
    ۳۸۔۳۔۱۴
    کیفیت۔ میرے والد بزرگوار موصی تھے۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے اور مقبرہ بہشتی میں مدفون ہیں۔






    روایات
    فیض احمد صاحب ولد پیر غلام محمد صاحب
    پتہ سابق ۔ رنمل تحصیل پھالیہ ضلع گجرات و پتہ حال ہیڈ کلرک دفتر
    ڈسٹرکٹ انسپکٹر صاحب مدارس ضلع شاہ پور بمقام سرکوئے سرگودھا
    سن بیعت اپریل ۱۹۰۱ء و سن زیارت اپریل ۱۹۰۱ء
    سال یاد نہیں۔ مگر غالباً ۵۔۱۹۰۴ء کا ذکر ہے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر کے لئے باغ کی طرف جارہے تھے اور جہاں لنگر خانہ ہے وہاں سامنے کی طرف سے مرزا خدا بخش ساکن قادیان جو کہ مجنون تھا آیا۔ حضرت صاحب کو دیکھ کر پنجابی زبان میں گویا ہوا۔ ’’سڑ گئیاں سب پوتھیاں تے رہ گیا قرآن‘‘ یعنی تمام پوتھیاں جل گئیں اور صرف قرآن شریف ہی اب باقی رہ گیا ہے۔ یہ سن کر حضور نے فرمایا کہ یہ فقرات قدرت نے اس کی زبان سے نکلوائے ہیں۔ مرزا خدا بخش شہر کو آیا اور حضور مع خدام باغ کو تشریف لے گئے ۔
    ۲۔ ایک دفعہ ایک عیسائی جس کا نام گل محمد تھا بعد نماز شام آیا اور حضرت کے پاس شہ نشین پر جو مسجد مبارک کی چھت پر تھا بیٹھ گیا بہت سے خدام بھی تھے۔ حضور کے ساتھ مذہبی معاملات پر گفتگو کرتا رہا پھر اٹھ کر جانے لگا تو حضور نے دریافت فرمایا کہ اگر ہم نے مزید کسی بات کے لئے آپ کو لکھنا ہو تو آپ کو کس پتہ پر اور کس طرح لکھا جاوے ۔ وہ کہنے لگا کہ مجھے مولوی گل محمد کرکے مخاطب کیا جائے۔ آپ نے فرمایا کہ مولوی تو اسلام کا ایک پاک لفظ ہے۔ یہ ہم کسی غیر مسلم کے لئے نہیں لکھ سکتے ۔ ہاں آپکومسٹر گل محمد کرکے لکھ دیں گے۔
    فیض احمد ۳۸۔۳۔۱۶

    روایات
    حافظ عبدالعلی صاحب ولد حضرت مولوی نظام الدین مرحوم
    پتہ سابقہ ۔ ادرحماں۔ ڈاک خانہ بھابڑہ ۔ تحصیل بھلوال ضلع شاہ پور
    پتہ حال۔ سرگودھا بلاک نمبر ۹ ضلع شاہ پور
    سن بیعت :۱۸۹۳ء ۔سن زیارت :۱۸۹۳ء برموقع مباحثہ مابین عبداللہ آتھم و حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بمقام امرتسر۔
    ۱۔ مباحثہ مذکورہ میں عاجز بھی شامل تھا۔ حضور کو اپنے دعاوی کے اثبات میں قرآن شریف کی آیات از بر یاد تھیں۔ پوری یاد تھیں۔ عاجز اور ایک اور حافظ کا یہ کام تھا کہ حضور کو سیپارہ ‘ سورۃ اور رکوع کا پتہ عرض کردیں۔ غالباًقرآن شریف کھول کر وہ جگہ نکال کر پیش کردیتے۔ عاجز چند دن کے بعد علی گڑھ ایف اے میں داخل ہونے کے لئے چلا گیا۔
    ۲۔ ڈاکٹر مارٹن کلارک والے مقدمہ اقدام قتل میںایک دفعہ حضور کپتان ڈگلس کے سامنے بمقام بٹالہ پیش تھے۔ ظہر کی نماز کا وقت ہوگیا۔ حضور نے نماز پڑھنے کے لئے عدالت سے اجازت چاہی۔ عدالت نے اجازت دے دی۔ حضور بڑے خوش ہوئے اور فرمایا کہ عرصہ (غالباً بیس سال فرمایا) ہوا۔ مجھے ایک خواب آئی تھی کہ میں ایک بادشاہ یا حاکم کے روبرو پیش ہوں۔ نماز کا وقت آگیا ۔ میں نے اس سے نماز کی اجازت چاہی ۔ اس نے مجھے اجازت دے دی۔ آج وہ خواب میری پوری ہوئی۔ میں اس وقت موجود تھا۔
    جب آپ نے یہ ارشاد فرمایا۔
    ۳۔ اسی مقدمہ کے دوران میں آپ گورداسپورہ بمع خدام تشریف رکھتے تھے علی احمد صاحب وکیل کی کوٹھی پر۔ آپ کے اردگرد بہت خدام بیٹھتے۔ آپ خلوت کو بہت پسند فرماتے۔ چھوٹی سی کوٹھی تھی۔ آپ خلوت کے حصول کے لئے چھوٹے کمروں میں تشریف لے جاتے۔
    ۴۔ اسی مقدمہ میں ’’مارٹینو‘‘ (Martinow) مجسٹریٹ ضلع امرتسر نے آپ کے نام وارنٹ گرفتاری جاری کئے۔ اسی اثناء میں وہ مقدمہ عدالت ضلع گورداسپورہ میں قانونی بنا پر تبدیل ہوگیا۔ وارنٹ گرفتاری منسوخ ہوگئے۔ معمولی اطلاع نامہ کے ذریعہ اطلاع یابی ہوئی۔ آپ کو حالات معلوم ہوئے۔ آپ فرماتے ’’کہ راہ خدا میں ہم ہتھکڑی کو سونے کا کنگن خیال کرتے اور خوش ہوتے اور خوشی سے پھنستے‘‘۔ یہ ارشادات آپ نے نچلے گول کمرے میں فرمائے۔
    ۵۔ آپ شام کا کھانا بمع خدام چھوٹی مسجد کے چھت پر تناول فرماتے۔ میں بھی کئی دفعہ پاس بیٹھنے کا شرف حاصل کرتا آپ تھوڑا سا کھانا کھاتے۔
    ۶۔ خفتن ٭کی نماز سے پہلے اور کھانا تناول فرمانے کے بعد اور پہلے آپ چھوٹی مسجد کی چھت پر بمع خدام تشریف رکھتے۔ بہت خادم آپ کے پائوں دباتے۔ آپ نے فرمایا کہ جو لوگ میرے پائوں دباتے ہیں۔ ان کے روحانی حالات مجھے رات کو بوقت دعا معلوم ہوتے ہیں۔ میں ان کے لئے دعا کرتا ہوں۔
    ۷۔ ایک دفعہ موسم گرما میںظہر کی نماز کے وقت آپ تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے۔
    ’’برقت عیون طفلی ٭‘‘۔ اور نہایت وثوق سے فرمایا کہ بشیر (مرزا بشیر احمد صاحب) کی آنکھیں اچھی ہوجاویں گی۔ ان دنوں انکی آنکھوں سے بہت پانی آتا اور ’’گیڈ‘‘ بھی بہت آتی تھی۔ یہ عاجز بھی اس ارشاد کے وقت حاضر تھا۔
    ٭ خفتن کی نماز سے مراد نماز عشاء ہے۔
    ٭ الہام مذکور کے درست الفاظ یوں ہیں ’’برق طفلی بشیر‘‘ یعنی میرے لڑکے بشیر احمد کی آنکھیں
    اچھی ہوگئیں (نزول المسیح‘ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ نمبر ۶۰۸‘ تذکرہ صفحہ ۳۲۷ مطبوعہ ۱۹۶۹ئ)
    ۸۔ ایک دفعہ موسم گرما میں ظہر سے پہلے تخلیہ میںچھوٹی مسجد میں حضور نے مجھ سے ایک کتاب (انگریزی) سنی۔ چند دن کے لئے ایسا ہوا۔ یہ کتاب کسی یہودی نے عیسائیت کے ردّ میں لکھی تھی۔ یہ غالباً ۹۸ئ؁ ٭کی بات ہے۔
    ۹۔ آپ نہایت اعلیٰ اخلاق رکھتے تھے۔ ایک دفعہ بعد از نماز صبح سیر کے لئے باہر تشریف لائے۔ مرزا نظام الدین صاحب کے مکان کے بڑے دروازے کے سامنے ایک چبوترہ تھا۔ وہاں آپ کا ایک غریب اور عاجز سا خادم بیٹھا ہوا تھا۔ نہایت معمولی اس کی پوشاک اور حالت تھی۔ آپ نے اس سے پوچھا ۔ بخار کا کیا حال ہے؟ اس نے جواب دیا۔ حضور! بخار فلاں وقت ہوجاتا ہے۔ آپ خود اندر تشریف لے گئے۔ ایک گلاس دودھ اور ایک گولی کونین لے آئے اور اسے دونوں چیزیں استعمال کے لئے دیدیں۔
    ۱۰۔ آپ کا اسوئہ حسنہ یہ تھا۔ الحب للّٰہ و البغض للّٰہ‘‘ آپ مرزا نظام الدین وغیرہ سے اس لئے قطع تعلق رکھتے تھے۔ کہ ان کا خدا کے ساتھ تعلق نہ تھا۔
    ۱۱۔ آپ نیم خوابیدہ نگاہیں رکھتے تھے۔
    ۱۲۔ میں بوقت خطبہ الہامیہ موجود تھا۔ حضور کی آواز اس وقت بدلی ہوئی تھی ۔ضلع سیالکوٹ کا ایک سید ملہم (خادم حضور) میرے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ فرشتے بھی سننے کے لئے موجود ہیں۔
    ۱۳۔ ضلع شاہ پور سے ایک سکھ بمع اپنے لڑکے کے مٹھہ ٹوانہ موضع سے آیا۔ اس کے لڑکے کو غالباً تپ دق تھا۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب سے دوا کرانے آیا تھا۔ اس کا باپ دعا کے لئے حاضر ہوتا۔ آپ دعا فرماتے۔ آپ کو الہاماً ایک نسخہ معلوم ہوا۔ جو اس پر معرفت حضرت مولوی صاحب استعمال ہوا اور وہ لڑکا شفایاب ہوگیا۔ وہ نسخہ اب تپ دق کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔
    عاجز
    حافظ عبدالعلی
    ۳۸۔۳۔۱۶
    ٭ ۹۸ئ؁ سے مراد ۱۸۹۸ئ؁ ہے۔

    فہرست صحابہ جماعت احمدیہ شہر سیالکوٹ
    نمبرشمار نام سن بیعت کیفیت
    ۱۔ شیر خان صاحب ۱۸۹۴ء
    ۲۔ خان صاحب گلاب خان ۱۸۹۲ء
    ۳۔ منشی عبداللہ صاحب ۱۹۰۴ء
    ۴۔ مولوی الف الدین صاحب ۱۸۹۹ء
    ۵۔ شیخ عنایت اللہ صاحب ۱۸۹۹ء
    ۶۔ بابو محمد نور صاحب ۱۹۰۷ء
    ۷۔ حافظ فتح محمد صاحب ۱۹۰۷ء
    ۸۔ مستری غلام قادر صاحب ۱۹۰۲ء
    ۹۔ میاں عمر الدین صاحب ولد نور محمدصاحب ۱۹۰۴ء
    ۱۰۔ منشی احمد الدین صاحب ۱۸۹۶ء
    ۱۱۔ بابو محمد الدین صاحب پسر مذکور ۱۸۹۶ء
    ۱۲۔ میاں نبی بخش صاحب ۱۹۰۴ء
    ۱۳۔ مستری محمد قاسم صاحب ۱۹۰۵ء
    ۱۴۔ مرزا محمد بیگ صاحب ۱۸۹۶ء
    ۱۵۔ میاں عبداللہ ولد نظام الدین صاحب ۱۹۰۳ء
    ۱۶۔ بابو قاسم الدین صاحب ۱۹۰۴ء
    ۱۷۔ میاں محمد اسماعیل صاحب گوجرانوالیہ ۱۹۰۷ء
    ۱۸۔ مہر امام الدین ولد نور الدین صاحب ۱۸۹۷ء
    ۱۹۔ مہر اما م الدین ولد منصب دار صاحب ۱۹۰۰ء
    ۲۰۔ مہر غلام حسن صاحب ۱۹۰۰ء
    ۲۱۔ مہر عمر الدین صاحب ولد نتھو ۱۹۰۳ء
    ۲۲۔ عمر الدین صاحب ولد چراغ دین صاحب زرگر ۱۹۰۵ء
    ۲۳۔ میاں محمد عبداللہ و کرم دین صاحب ۱۹۰۲ء
    ۲۴۔ شیخ محمد حسین صاحب ۱۹۰۵ء
    ۲۵۔ میاں حسن محمد صاحب گوہدپور ۱۹۰۰ء
    ۲۶۔ میاں غلام حسن صاحب گوہدپور ۱۹۰۷ء
    ۲۷۔ میاں حسن الدین صاحب گوہد پور ۱۹۰۷ء
    ۲۸۔ حافظ محمد شفیع صاحب ۱۸۹۱ء
    ۲۹۔ میاں میراں بخش صاحب ٹھیکیدار ۱۹۰۳ء
    ۳۰۔ مہر امام الدین صاحب پکاگڑہ ۱۹۰۴ء
    ۳۱۔ مستری محمد الدین صاحب میانہ پورہ ۱۹۰۲ء
    ۳۲۔ مستری نظام الدین صاحب ۱۸۹۱ء
    ۳۳۔ مستری محمد الدین صاحب چراغ پورہ ۱۸۹۰ء
    ۳۴۔ حاجی عبدالعظیم صاحب ۱۹۰۴ء
    ۳۵۔ چوہدری فتح علی صاحب ۱۹۰۲ء
    ۳۶۔ میاں حیات محمد ولد محمد عظیم صاحب ۱۸۹۸ء
    خاکسار
    شیر خاں عفی عنہ
    سیکرٹری تعلیم و تربیت
    جماعت احمدیہ شہر سیالکوٹ
    ۳۸۔۵۔۲۷






    روایات
    عبدالعزیز صاحب المعروف مغل ولد میاں چراغ دین صاحب صحابیؓ مرحوم
    پتہ سابقہ ۔ لاہور لنگے منڈی متصل واٹر ورکس
    حال بیرون دہلی دروازہ متصل شاہ محمد غوث صاحب
    احاطہ میاں چراغ دین صاحب مرحوم ۔ مکان: مبارک منزل لاہور
    سن بیعت: دسمبر ۱۸۸۹ء قادیان شریف میں ہی آن کر مسجد مبارک میں بیعت کی۔ صبح کوئی ۹ دس بجے ۔ زیارت ۱۸۸۹ء میں کی۔ بچپن میںجبکہ میں سیکنڈ مڈل میں پڑھتا تھا۔ ان دنوں میرے مطالعہ میں تذکرۃ الاولیا گزری۔ جس پر مجھے اتنا فائدہ ہوا کہ میرا دل یہ چاہتا تھا کہ ان بزرگوں جیسا اگر کوئی آج بھی مل جاوے تو میں ان کی بیعت کروں۔ اور بچپن میں میری بہت زیادہ یہ خواہش ہی رہی ہے۔ کہ اگر آنجناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت خواب میں ہوجائے تو میں ان کے ہاتھ پر بیعت کرکے حضور کے صحابہ میں داخل ہوجائوں۔ ایک دن جبکہ میں ایچی سن سکول سیکنڈ مڈل میں پڑھ رہا تھا تو ہمارے ایک اردو پڑھانے کے استاد تھے جن کا نام مجھے اب یاد نہیں رہا۔ انہو ں نے ’’پیسہ اخبار‘‘ جو ان دنوں دو پیسے کو ملتی تھی منگوائی۔ اس میں انہوں نے یہ خبر ہم کو پڑھ کر سنائی کہ قادیان میں ایک شخص نے مہدی و مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور آگے کچھ بکواس تھی۔ بس یہ خبر میرے دل میں آہنی میخ کی طرح گڑ گئی اور میں نے ارادہ کرلیا کہ کوئی رخصتیں ہوں تو قادیان شریف پہنچنا چاہئے۔ چنانچہ بڑے دن کی رخصتوں پر میں نے والد بزرگوار سے امرتسر جانے کی اجازت مانگی۔ کیونکہ میرا نانا جن کا نام قائم دین تھا۔ وہ امرتسر پٹرنگی کا کام ان دنوں کرتے تھے۔امرتسر تک ریل کا کرایہ چھ آنہ ان دنوں ہوتا تھا۔ اور بٹالہ کا یا۱۱ آنے تھا یا ۱۰ آنے تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد نہیں۔ میں نے امرتسر پہنچ کر اپنے نانا جان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ میرے ساتھ وہ قادیان شریف چلے۔ آخر وہ میرے ساتھ طیار ہوگئے۔ بٹالہ آن کر انہوں نے مجھے ایک تھپڑ رسید کیا۔ جس سے مجھے بخار ہوگیا کیونکہ وہ بڑے قوی ہیکل تھے۔ انہوں نے مجھے کہا تو آپ بھی خراب ہوگا اور مجھے بھی خراب کرے گا۔ ممکن ہے کہ گائوں میں یعنی قادیان میں کوئی جگہ ٹھہرنے کی نہ ملے۔ تو ہم بہت خراب ہونگے۔ خیر! میں جوں توں اسے قادیان (لے آیا)ہم تین سواریاں یکہ پر بیٹھے۔ دو ہم تھے۔ ایک ہندو تھا۔ یکہ والے کو فی سواری پانچ پیسہ قادیان تک دیئے۔ جس وقت ہم یہاں پہنچے جہاں اب مسجد مبارک کی سیڑھیاں ہیں۔ وہاں ایک بڑا تخت پوش بچھا ہوا تھا۔ اس کے پاس ایک انگریز جو پیچھے معلوم ہوا مدراس سے آیا تھا۔ یہ بھی مجھے یاد ہے کہ اس نے اوورکوٹ سیاہ رنگ کا پہنا ہوا تھا۔ نانا صاحب چونکہ پرانے فیشن کے آدمی تھے۔ اس کو دیکھ کر بہت گھبرائے ۔ خیر ! حافظ حامد علی صاحب اس گول کمرہ کے قریب کھڑے تھے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ حضرت صاحب کہاں ہیں؟ وہ مجھ کو اور نانا صاحب کو مسجد اقصیٰ لے گئے۔ جہاں حضرت صاحب چہل قدمی فرما رہے تھے۔ ہاتھ میں چھڑی بھی تھی۔ ذرا اچھی وزن دار تھی۔ حضور نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں۔ مگر پہلے حافظ حامد علی صاحب کو فرمایا کہ ان کے کھانے کا بندوبست کرو۔ میں نے عرض کیا کہ حضور میں نے روٹی کھالی ہے۔ کیونکہ نانا صاحب امرتسر سے ہی میٹھی روٹیاں پکا لائے تھے۔ وہ ہم نے جہاں یکہ والا اتار گیا تھا اس کے آگے ایک کنواں تھا اور کماد اگا ہوا تھا وہاں بیٹھ کر کھا لی تھی اور یہ کوئی عصر کا وقت تھا۔ اس کے بعد حضور نے پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ لاہور سے۔ آپکے والد صاحب کا نام؟ میں نے کہا کہ میاں چراغ دین صاحب ۔ آپ نے فرمایا کہ میں ان کو جانتا ہوں۔ کیونکہ یہ پہلے بشیر اول کے عقیقہ کے موقع پر الٰہی بخش اکائونٹنٹ اور منشی عبدالحق صاحب کے ساتھ قادیان آئے تھے۔ تب سے حضور جانتے تھے۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ تم نے کوئی دین کی کتاب بھی دیکھی ہے۔ میں نے عرض کیا ۔ حضور ’’تذکرۃ الاولیائ‘‘ پڑھی ہے۔ اس کے بعد میاں جان محمد صاحب تھے انہوں نے عصر کی نماز کرائی۔ اور حضور نے اور ہم نے عصر کی نماز پڑھی۔ اس کے بعد حضور ہمیں گول کمرہ میںلے آئے۔ چونکہ کچھ بارش بھی تھی مگر بہت ہلکی اس لئے سردی بہت تھی۔ اس پر حضور اندر سے خود قہوہ لائے۔ اور ساتھ اس کے خطائیاں تھیں۔ یہ جو ہندکی خطائیاں ہوتی ہیں۔ وہ ہم نے کھایا پیا۔ اس کے بعد شام کے بعد حضور اندر سے ہاتھ کی پکی ہوئی روٹی اور ساتھ اس کے آلو گوشت پکا ہوا لائے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آلو ثابت ہی تھے۔ چیرے ہوئے نہیںتھے۔ اس کے بعد حضور نے حافظ صاحب کو حکم دیاکہ خاکسار کو ذرا دباوے۔ کیونکہ مجھے بخار تھا۔ رات کو سوئے ۔ صبح کی نماز سے پہلے حضور تشریف لائے اور ہاتھ میں معمولی ٹین کی لالٹین تھی اور ہم کو جگا دیا۔ صبح کی نماز کے بعد حضور اندر تشریف لے گئے۔ پھر کوئی آٹھ نو بجے کے قریب پہلے اس انگریز نے بیعت کی پھرمیں نے۔ حضور ان دنوں ایک ایک آدمی کو بیعت میں لیتے تھے۔(باقی آئندہ)






    روایات
    منشی عبداللہ صاحب احمدی صحابی محلہ اسلام آباد شہر سیالکوٹ
    بیعت ۴ نومبر ۱۹۰۲ء جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیالکوٹ تشریف لائے۔ انہوں نے بیعت ۱۳ سال کی عمر میں کی۔ اور خواب کے ذریعہ کی۔ مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی سے تعلم کیا۔
    ۱۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیالکوٹ میں اپنے دعویٰ کرنے کے بعد ۴ نومبر ۱۹۰۲ء کو واپس قادیان تشریف لے گئے تو حضور نے ان لوگوں کے نام طلب فرمائے۔ جنہوں نے سیالکوٹ کے احمدیوں کو تکالیف دی تھیں۔ جب نام تحریر کئے گئے تو اس کے چند دن بعد سیالکوٹ میں بہت غلیظ طاعون پھوٹ پڑی تو خدا تعالیٰ قادر و قہار نے چن چن کر ان لوگوں کے خاندانوں کو تباہ کردیا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔
    ۲۔ انہی ایام طاعون کے بارے میں وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مخالف تھا جب اس کو طاعون ہوئی تو اس نے حکیم حسام الدین صاحب کو بلایا۔ آپ نے آکر اس کو صرف اتنا کہا کہ ’’یہ کالا ناگ ہے۔ اسکے نزدیک مت جائو‘‘ جب وہ قریب المرگ ہوا۔ تو بیوی بوجہ محبت اس سے چمٹ گئی۔ اور درحقیقت وہ عورت موت کو مول لے رہی تھی۔ اسی طرح اس کی بچی نے کیا اور اس طرح سے اس کے خاندان کے ۱۹ افراد ہلاک ہوگئے۔
    ۳۔ ایک دفعہ مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے حضور ؑ سے دریافت کیا ’’حضور کیاکبھی آپ کو بھی ریا پیدا ہوا ہے؟‘‘ حضور نے جواب دیا ’’اگر ایک آدمی جنگل میں مویشیوںکے درمیان نماز پڑھ رہا ہو تو کیا اس کے دل میں کبھی ریا پیدا ہوسکتا ہے‘‘۔ مطلب یہ تھا یہ لوگ مثل بے سمجھ جانوروں کے ہیں۔ ان کو انسان بنانے کے لئے حضور تشریف لائے ہیں۔
    بقلم عبدالسلام احمدی پسر
    منشی عبداللہ صاحب احمدی صحابی
    محلہ اسلام آباد‘شہر سیالکوٹ
    ۳۸۔۹۔۱۰

    روایات
    بزبان مولوی الف الدین صاحب محلہ اسلام آباد شہر سیالکوٹ
    ان کی عمر چاند گرہن اور سورج گرہن کے وقت ۱۴ سال کی تھی۔ ان کو تبلیغ مولوی فیض الدین صاحب مرحوم و مغفور اور مہر غلام حسین صاحب کے ذریعے ہوئی۔ اس اثر کے بعد وہ قادیان روانہ ہوئے۔
    تین اشخاص تھے۔ ایک ان میں برہمن بھی تھا۔ برہمن کو راستے میں عیسائیوں نے روک لیا۔ پہلے تو رک گیا۔ لیکن ایک دن کے وقفہ کے بعد آخر قادیان آ ہی پہنچا۔
    ۱۔ جب حضورؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس برہمن نے نجات کا مسئلہ پوچھا۔ حضورؑ نے فرمایا کہ ’’سناتن ۳۶ کروڑ دیوتائوں اور آریہ تین خدائوں اور عیسائی بھی تین خدائوں کے قائل ہیں۔ آپ یہاں ہمارے پاس ٹھہریں اور تحقیقات کریں۔‘‘
    ۲۔ ایک دفعہ چند آدمیوں نے حضور سے دریافت کیا کہ ’’اگر بلی مرغ کا سر لیجائے اور باقی دھڑ باقی رہ جائے اور اس کو ذبح کرلیا جائے۔ کیا کھانا جائز ہے؟‘‘ حضور ؑ نے ایک سفید رومال منہ کے آگے رکھ لیا اور ہنس پڑے۔ مولوی نور الدین صاحبؓ نے فرمایا جائز نہیں۔ ہمارا ارادہ حضور کے کلمات سننا تھا۔ حضورؑ نے فرمایا کہ چار آنے کی مرغی ہے۔
    ۳۔ عبداللہ چکڑالوی کے متعلق فرمایا کہ ’’حضور اکرم صلعم کی احادیث کو تو مانتے نہیں۔ مگر اپنی حدیث بناتے ہیں۔ یعنی قرآن کی جو تفسیر خود کریں وہ ان کو مسلم ہے اور اس کے بغیر ایک قدم آگے نہیں چلتے۔‘‘
    ۴۔ مغرب کی نماز کے بعد مسجد مبارک کے تھڑے پر بیٹھ کر فرمایا کہ ’’نبوت کے متعلق ہم پر تو الزام ہے۔‘‘ انہوں نے گھر گھر میں نبوتیں ایجاد کی ہوئی ہیں۔ کوئی قطب کی طرف اور کوئی نماز کے بعد شیخ عبدالقادر جیلانی کی طرف منہ کرکے پھونکیں مارتا ہے۔

    روایات
    مہر غلام حسن صاحب ۔ اراضی یعقوب شہر سیالکوٹ
    یہ مولوی ابراہیم سیالکوٹی ۔ سید حامد شاہ صاحب‘ مولوی برہان الدین صاحب اور حکیم حسام الدین صاحب کے واقف کاروں بلکہ دوستوں میں سے تھے۔ انہوں نے خوابوں کی بنا پر بیعت کی۔
    قریباً ۱۸۹۴ء کے قریب انہوں نے بیعت کی تھی۔ لیکن قادیان ۱۹۰۰ء میں پہلی دفعہ گئے تھے۔
    ۱۔ ایک دفعہ سیر پرجاتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ سے کسی نے دریافت کیا عقیقہ کے بارے میں‘ فرمایا۔’’ قادیان میں صرف کھالیں بھیج دو‘‘۔
    ۲۔ سیر سے واپس آتے ہوئے ایک آدمی جو کہ ملا بھی تھا اور شاعر بھی۔ اس نے منظوم کلام حضورؑ کے خلاف لکھا تھا۔ معافی مانگنے کے لئے کھڑا ہوگیا۔ حضورؑ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ معاف کردیگا۔ خلوص دل سے معافی مانگو۔‘‘
    ۳۔ راوی بیان کرتا ہے کہ اس کی ایک لڑکی کی آنکھیں خراب تھیں۔ حضورؑ نے فرمایا ’’ نور دین کو کہو۔ کہ کچھ ڈال دے۔‘‘ اس کے بعد وہ لڑکی جتنے سال زندہ رہی۔ اس کی آنکھیں کبھی خراب نہ ہوئیں۔
    ۴۔ ایک دفعہ حضورؑ نے دریافت کیا ’’ کہ سیالکوٹ میں طاعون کا کیا حال ہے؟ ‘‘ میں نے عرض کیا کہ بہت زوروں پر ہے۔ اس پر حضورؑ نے فرمایا ’’ میں نے خواب میں ایک ہاتھی دیکھا جو بہت حلیم تھا۔ جو ہڈیاں چباتا تھا۔ میں نے پوچھا کون ہو؟ جواب دیا۔ طاعون کا فرشتہ۔‘‘ ٭
    ۵۔ ایک دفعہ حضرت مریم ؑ کا ذکر چل نکلا۔ ایک لفظ ’’علیسہ‘‘ آگیا۔ مولوی محمد علی صاحب سے دریافت کیا گیا۔ وہ خاموش رہے۔ حضورؑ نے فرمایا کہ اس میں مریم علیھا السلام کی جوانی کی علامتیں ہیں اور یہ عبرانی لفظ ہے۔‘‘
    ٭ یہ رئویا مفصل رنگ میں نزول المسیح روحانی خزائن جلد 18‘ صفحہ 415 پر درج ہے

    روایات
    مستری غلام قادر صاحب شہر سیالکوٹ

    تاریخ بیعت یاد نہیں۔ ۱۹۰۰ء سے پہلے کی ہے۔
    ۱۔ میرا نعام اللہ کا ایک بازو پوٹاش کی وجہ سے اڑ گیا حضورؑ نے فرمایا ۔ ’’انکو بٹالہ بھیجو۔ لیکن اپنا کوئی آدمی ساتھ ہو۔‘‘
    ۲۔ مسجد مبارک ابتدائی حالت میں تھی کہ مبارک احمد بیمار ہوئے عبدالکریم صاحب مرحوم نے فرمایا ’’حضور تو اس طرح بیماری کا علاج کرتے ہیںجس طرح کہ پرستش کرتے ہیں۔‘‘ لیکن جب مبارک احمد فوت ہوئے۔ تو حضور ؑ نے صرف (انا للہ و انا الیہ راجعون) کہا۔ ایک آدمی نے رونا شروع کیا۔ فرمایا! ’’یہ نظام الدین کا گھر نہیں کہ اس طرح سیاپا کرو‘‘۔
    ۳۔ مولوی عبدالکریمؓ کی وفات پر جبکہ بہشتی مقبرہ کا ابھی انکشاف نہ ہوا تھا حضور پر۔ تو ان کو امانت کرکے دفن کیا گیا۔ پھر بہشتی مقبرہ کا حکم ہوا۔ تو ان کو وہاں پر دفن کیا گیا۔حضورؑ تشریف لائے تو میں نے حضور ؑ کو فرط محبت سے بغل میںلے لیا۔ ایک آدمی نے دریافت کیا۔ یہ کون ہے؟ حضورؑ نے فرمایا ’’یہ سیالکوٹ کا ہے‘‘۔
    ۴۔ حضرت مبارک احمدؓ جب بیمار ہوئے تو ملائی کی برف مانگی۔ جب انہوں نے اصرار کیا۔ تو حضور نے دوسری سادی برف دے کر فرمایا۔ ’’اس کو ملائی کی برف سمجھ کر کھالو۔‘‘

    روایات
    مراد بخش صاحب راجپوت چوہان احمد نگر
    عاجز مراد بخش احمدی ولد سفری ساکن جھانسی شہر حال احمد نگر۔ عاجز نے ۱۹۰۳ء میں راولپنڈی سے خط بیعت کی اور ۱۹۰۷ء قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے دست بیعت کی۔ اور قریبا ً۲ ہفتہ خدمت شریف میں رہا۔ اس وقت کتاب حقیقۃ الوحی حضور نے بدست حضرت مولوی محمد احسن صاحب امروہوی۔ مولوی محمد حسین بٹالوی کو بھیجی تھی۔ میں نے ایک کتاب کے لئے عرض کی۔ تو فرمایا کہ ہمارے پاس جو کتابیں تھیں وہ اب ختم ہیں لیکن ایک کتاب دوازدہ نشان عطا فرمائی اور جس وقت چھوٹی مسجد نور میں بعدنماز ظہر تشریف رکھتے تھے تو عاجز اور ایک اور شخص احمدی جو برما سے آئے تھے۔ ہم دونوں رخصت کے لئے حاضر ہوئے تو اس شخص کے پاس کتاب حقیقۃ الوحی تھی۔ وہ کتاب اس شخص کے ہاتھ سے لے کر فرمایا کہ اس کتاب کو پڑھنا۔ اس سے تمہارا علم وسیع ہوگا۔ اور حضرت مولوی نور الدین خلیفۃ المسیح اول کو مخاطب کرکے فرمایا کہ دیکھو مولوی صاحب یہ شخص کتنی دور سے آئے ہیں۔ پھر فرمایا۔ دیکھو مولوی صاحب یہ شخص کتنی دور سے آئے ہیں۔ پھر ہم کو جانے کی اجازت دی۔
    والسلام
    عاجز
    مراد بخش احمدی
    راجپوت چوہان


    روایات
    نظام الدین صاحب ولد میاں اللہ دتہ صاحب
    سکنہ وچھوکی ڈاک خانہ پھلورہ تحصیل پسرور
    نومبر ۱۹۰۴ء کا واقعہ ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سیالکوٹ تشریف لائے تھے۔ بندہ بھی حضور کی زیارت کے لئے حاضر ہوا۔ غالباً نماز ظہر کے بعد مسجد حکیم حسام الدین صاحب مرحوم میں حضرت نے مندرجہ ذیل نصیحت احباب جماعت کو فرمائی۔
    ’’ لوگ تمہیں جوش دلانے کے لئے مجھے گالیاں دیتے ہیں۔ مگر تمہیں چاہئے کہ گالیاں سن کر ہر گز جوش میں نہ آئیں اور جواباً گالیاں نہ دیں کیونکہ اگر تم انہیں جواباً گالیاں دو گے تو وہ پھر مجھے گالیاں دیں گے اور یہ گالیاں ان کی طرف سے نہیں ہونگی۔ بلکہ تمہاری طرف سے ہونگی۔ بلکہ تمہیں چاہئے کہ گالیاں سن کر ان کو دعائیں دو اور ان سے محبت اور سلوک کرو تاکہ وہ تمہارے زیادہ نزدیک ہوں‘‘۔
    اس کے بعد حضور نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا ذکر فرمایا کہ جب کفار ا ن کو گالیاں نکالتے تھے اور طرح طرح کی تکالیف دیتے تھے تو وہ اس کے عوض ان سے نیکی اور ہمدردی کا سلوک کرتے تھے ایسا کرنے سے بہت سے کفار ان کے حسن سلوک کو دیکھ کر اسلام میں داخل ہوئے۔ پس تمہیں بھی ان کے نقش قدم پر چلنا چاہئے۔
    نوٹ۔ یہ الفاظ حضور کے نہیں۔ میرے ہیں۔ مگر حضور علیہ السلام کی تقریر کا مفہوم یہی قریباً قریباً تھا۔ بندہ اس وقت تک حضرت کی بیعت میں شامل نہیں ہوا تھا۔ دوسرے دن گھر آکر بذریعہ کارڈ بیعت کی۔ بیعت کرنے کے بعد مخالفین نے جو جو کیا۔ وہ میں مفصل پھر لکھوں گا۔ انشاء اللہ
    نظام الدین ولد میاں اللہ دتہ سکنہ وچھوکی
    ڈاک خانہ پھلورہ تحصیل پسرور ضلع سیالکوٹ
    بقلم خود
    ۳۸۔۹۔۱۲

    خاکسار کوائف صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پہلے ارسال کرچکا ہے ۔ تاہم دوبارہ مطلوبہ کوائف حسب ذیل ہیں۔
    ۱۔ حافظ عبدالعلی صاحب بی اے حال بلاک نمبر ۹ سرگودھا ولد میاں نظام الدین صاحب سابقہ سکونت ادر حمہ ضلع شاہ پور ۔سال پیدائش ۱۲۹۰ھ
    تاریخ بیعت حضرت مسیح موعودؑ :۱۸۹۳ئ۔ زیارت حضرت مسیح موعود: ۱۸۹۳ء
    ۲۔ چوہدری تصدق صاحب حال بلاک نمبر ۹ سرگودھا ولد منشی غلام نبی صاحب سابقہ سکونت ہجن ضلع شاہ پور ۔سال پیدائش غالباً ۱۸۷۸ء
    تاریخ بیعت دعوے کے بعد جب پہلی دفعہ حضرت مسیح موعودؑ سیالکوٹ تشریف لائے۔ تاریخ زیارت حضرت مسیح موعودؑ بیعت کے وقت۔
    ۳۔ پیر فیض احمد صاحب حال ہیڈ کلرک محکمہ تعلیم سرگودھا ولد پیر غلام محمد صاحب سابقہ سکونت رنمل تحصیل پھالیہ ضلع گجرات ۔سال پیدائش ۱۸۹۲ء
    بیعت حضرت مسیح موعودؑ :اپریل ۱۹۰۱ء ۔زیارت حضرت مسیح موعودؑ اپریل ۱۹۰۱ء سے ۱۹۰۸ء تک۔
    والسلام
    خاکسار احمد سعید امیر جماعت احمدیہ
    سرگودھا ۳۸۔۹۔۹

    روایات
    عبدالرحمن صاحب احمدی معلم
    چھائونی جالندھر صدر بازار محلہ نمبر ۲۴
    عرض یہ ہے کہ میری عمر ۷۵ برس کے قریب ہے۔ اصل وطن سکنہ روڈے ہے۔ قصور شہر سے جو گاڑی پاک پتن شریف کو جاتی ہے۔ اس کا پانچواں اسٹیشن ریلوے روڈے پیال ہے۔ ۱۸۸۰ء میں میری شادی ہوئی تھی۔ میرے والد صاحب مرحوم کا نام مولوی قمر الدین تھا۔ طالب علم صرف‘ نحو‘ حدیث شریف۔ قرآن شریف کا ترجمہ پڑھتے تھے۔ واعظ بھی مشہور تھے۔ میری شادی پر بہت مولوی صاحبان تشریف لائے۔ سب سے مشہور مولوی عبدالرحمان صاحب مرحوم ولد مولوی حافظ محمد صاحب سکنہ لکھو کے جنہوں نے تفسیر محمدی بنائی ہے۔ ایک ترجمہ فارسی اور دوسرا اردو۔ پھر پنجابی شعروں میں اسی آیت شریف کا ترجمہ کیا گیاہے۔ کتاب احوال الآخرۃ میںمہدی کے نشان گرہن سورج و چاند رمضان شریف میں بیان کیا ہے۔ باپ بیٹا بڑے فاضل اجّل تھے۔ میں بھی کچھ مدّت پڑھتا رہا وہاں۔ مولوی خطیب احمد صاحب جو نور شفاخانہ میں کام کرتے ہیں وہ بھی اس زمانہ میں میرے ساتھ لکھو کے میں پڑھتے تھے۔
    مولوی غلام رسول صاحب گجرات والے بھی وہاں ان دنوں پڑھتے تھے۔ مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم لدھیانوی حکیم محمد عمر صاحب کے والد میرے رشتہ دار اور استاد تھے۔ وہ بھی تشریف لائے۔ انہوں نے براہین احمدیہ سنائی ۔سب آدمی اور عام لوگ بہت خوش ہوئے۔ مولوی عبدالرحمان صاحب لکھوکے والے تو ایسے خوش ہوئے۔ وہیں روپے دے کر کتاب خرید لی۔ شادی ہونے کے بعد پھر مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم میرے گائوں میں آئے اور مجھے جو میںپڑھتا تھاکچھ کچھ سنا۔ کہنے لگے تم لدھیانہ میں میرے پاس آکر پڑھو وہاں طالب علم بہت پڑھتے ہیں۔ زیادہ فائدہ ہوگا۔ تھوڑی مدّت کے بعد میں ایک طالب علم کو ساتھ لے کر لدھیانہ پہنچ گیا۔ پڑھنا شروع کیا۔ قاضی خواجہ علی ٹھیکہ دار شکرموں کے تھے۔ ان کی گاڑیاں مالیر کوٹلہ اور اور جگہ جاتی تھیں۔ مسجد کے قریب ان کی دکان تھی۔ وہ مسجد نواب علی محمد خان صاحب مرحوم کی سرائے میں تھی۔ ان کی دکان پر اکثر لوگ جو حضرت اقدس صاحب مرحوم کو اچھا جانتے تھے۔ آ بیٹھتے تھے۔ اور حضرت ا قدس کی باتیں کرتے۔ میں نے اپنی شادی پر جو ’’براہین احمدیہ‘‘ سنی تھی مجھ کو حضرت صاحب کی زیارت کا شوق ہوگیا۔ میں بھی کبھی کبھی دکان پر جا بیٹھتا اور باتیں سن کر دل خوش کرتا اور دعا کرتا کہ اے میرے مولا کریم ! حضرت صاحب کی زیارت کرانے کے اسباب بنادے۔ تھوڑی مدت کے بعد مشہور ہوگیا کہ لوگ بہت قادیان شریف جائینگے۔ حضرت صاحب کے لڑکا پیدا ہوا ہے۔ بڑی صفتیں لکھی ہیں ۔ شائد وہ اشتہار سبز رنگ کا تھا۔ عقیقہ پر لوگ جائینگے۔ میرے پاس صرف ۸ آنہ کے پیسے تھے۔ میںنے رقعہ قاضی خواجہ علی ٹھیکیدار صاحب شکرمان والے کے پاس لکھا کہ میرے پاس کرایہ نہیں ہے اور میں قادیان شریف حضرت اقدس مرزا صاحب کی زیارت کے واسطے جانا چاہتا ہوں۔ خدا پاک غریق رحمت کرے اور ان کو بخشے۔ جنت میں اس کا گھر کرے۔ انہوں نے لکھا کہ رات کو ہم اس طرف جائیں گے۔ تم کو ایک طرف کا کرایہ میں دے دوں گا۔ ہمارے ساتھ چلنا۔ رات کو گاڑی میں سوار ہوگئے۔ صبح فجر کی نماز کے وقت ہم امرتسر پہنچ گئے۔ بٹالہ پہنچے۔ وہاں سے سب آدمی یکوں میں سوار ہوکر قادیان شریف کی طرف چلے دو میل چلے ہونگے بارش شروع ہوگئی۔ ساون کا مہینہ تھا۔ اسباب لوگوں کا یکوں پر۔ تمام آدمی پیدل چلتے تھے۔ قادیان تک تمام راستہ میں بارش ہوتی آئی۔ مسجد اقصیٰ میں تمام آدمی ٹھہرے۔ تین دن قادیان میں رہے۔ اکثر وقت بارش ہوتی رہی۔ کھانا سب لوگوں نے مسجد میں کھایا۔ تین دن مسجد میں ٹھہرے رہے۔ یہ یاد نہیں رہا۔ کہ جس دن ہم قادیان پہنچے وہ دن جمعہ کا تھا یا اور دن۔ جمعہ کے دن جب لوگ مسجد میں آنے شروع ہوئے جمعہ پڑھنے کے واسطے ۔ تو جو اچھی شکل کا آدمی آتا تھا۔ میں دل میں کہتا تھا کہ یہ حضرت مرزا صاحب ہوںگے جب آپ تشریف لائے تو بارش ہورہی تھی۔ پیٹی گرم کا کوٹ آپ نے پہنا ہوا تھا۔ سبز صافہ سر پر تھا۔ سب لوگ دوڑکر مصافحہ کرنے لگے۔ میں نے بھی کیا۔ جمعہ ہونے کے بعد آپ بیٹھے رہے باتیں ہوتی رہیں۔ تین دن کے بعد جب رخصت چاہی لوگوں نے تو پھر مصافحہ کیا۔ لدھیانہ پہنچ گئے۔ ۱۸۸۸ء میں لدھیانہ سے میں چھائونی جالندھر آیا۔ ایک مسجد کشمیری میں مؤذن مقرر ہوا۔ ۱۸۹۲ء میں مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم میرے پاس لدھیانہ سے چھائونی جالندھر آئے اور ذکر کیا کہ میں نے ایک کتاب میں دیکھا ہے کہ بزرگوں کی بہت صفتیں لکھی ہیں۔ پھر وہ کتاب والا لکھتا ہے کہ اگر مجھ کو وہ صفتوں والا بزرگ کا پتہ مل جاوے تو میں اس کی زیارت کے واسطے گھٹنوں کے بل رہڑ رہڑ کر جائوں۔ پیدل نہ جائوں۔ وہ تمام صفتیں مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی میں پائی جاتی ہیں۔ یہ سن کر مجھ کو بہت شوق ہوا۔ میں نے کہا مولوی صاحب مجھ کو ان کی زیارت کرائو۔ مولوی صاحب نے کہا کہ میں ابھی رمضان شریف میں ہوکر آیا ہوں۔ اب تو سال کے بعدجائوں گا۔ میں نے کہا جو ہرجانہ آپ کا ہوگا وہ بھی دونگا اور کرایہ آنے جانے کا بھی دونگا۔ مجھ کو جلد لے چلو۔ اور زیارت کرائو۔ مولوی صاحب اور میںنے گنگوہے دیکھا۔ مولوی صاحب نے مجھ کو کہا تم ان کے مرید ہوجائو ۔ میں نے کہا۔ میرا دل نہیں چاہتا۔میں اور مولوی صاحب دیوبند کا مدرسہ دیکھتے ہوئے واپس آگئے۔ پھر اس واقع کے بعد مولوی صاحب مجھ کو ملتے رہے۔ ۱۸۹۷ء میں مولوی صاحب نے قادیان شریف سے مجھ کو لکھا کہ میں نے مولوی رشید احمد صاحب کی بیعت توڑ دی ہے اور حضرت اقدس مرزا صاحب کا مرید ہوگیا ہوں۔ تمہارا دل چاہے تو جلد آئو میں جلد پہنچ گیا۔ حضرت اقدس صاحب مرحوم کے ہاتھ پر بہت لوگوں کے ہاتھ بیعت کے وقت ہوئے تھے۔ میں دعا کرتا تھا کہ میرا ہاتھ حضرت اقدس صاحب کے ہاتھ کے ساتھ مل جاوے۔ اور کا ہاتھ نہ ہو۔ فجر کی نماز کے بعد پوچھا گیا۔ کوئی بیعت کرنیوالا ہے۔ کسی نے کہا دو آدمی ہیں۔ ایک کشمیری تھا وہ اس وقت کہیں چلا گیا۔ مولوی صاحب نے مجھ کو حضرت اقدس صاحب کے پیش کیا کہ یہ مرید ہونے والا ہے۔ حضرت صاحب نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہاتھ کے ساتھ ملالیا۔ جو وہ زبان مبارک سے فرماتے گئے میں بھی کہتا گیا۔ جو شرائط بیعت کی تھیں اور دعائیں۔ اس طرح میرا ہاتھ حضرت اقدس صاحب کے ہاتھ کے ساتھ ملا۔ اور کا ہاتھ نہ تھا۔ یہ میری دعا خدا پاک نے قبول کرلی اپنے فضل و کرم سے۔
    لڑکے میرے پاس غیر احمدیوںکے پڑھتے تھے۔ گزارا اچھا ہوتا جاتا تھا۔ تنخواہ کوئی مقرر نہ تھی۔ لڑکے کچھ دے دیتے تھے۔ اب چار سال سے احراریوں کے اثر میں آکر لوگوں نے لڑکے اٹھالئے۔ اب گزارہ مشکل سے ہوتا ہے۔ کرایہ مکان کا دینا ہر ماہ ہوتا ہے۔ کئی دن فاقہ ہوتا ہے۔ پیسہ مل گیا تو کھالیا۔ نہیں تو فاقہ ہوگیا۔ توکل خدا پاک پر بیٹھا رہتا ہوں۔ وہ اپنے فضل سے جب چاہتا ہے ضروریات بھیج دیتا ہے شکر ہے خدا پاک کا ہر حال میں۔ کئی لوگ مجھ کو کہتے ہیں کہ تم قادیان چلے جائو۔ حضرت اقدس صاحب کے پاس عرض کرو خدا پاک ان کے دل میں محبت ڈال دیگا تو وہ تم کو مکان رہنے کے واسطے دلوادیں گے اور لنگر خانہ سے کھانا مقرر کرادینگے۔ تمہاری زندگی کے دن اچھے گزر جاویں گے۔ خداپاک کو منظور ہوگا تو وہ اپنے فضل و کرم سے اسباب بنادے گا۔ جو آپ کی مرضی مبارک میں آوے۔ جواب تحریر فرمادیں۔ یہاں بابو فضل الدین صاحب اوورسیئر۔ ماسٹر فقیر محمد صاحب ڈپٹی پوسٹماسٹر صاحب ڈاک خانہ کے رہتے ہیں۔ بشارت احمد صاحب اور دو تین آدمی رہتے ہیں۔ بابو دکاندار پر نفسی نفسی پڑی ہوتی ہے کوئی کسی کی خبر نہیں لیتا۔
    پہلے میں اخبار ’’الحکم ‘‘منگاتا رہا۔ پھر ’’بدر‘‘ اخبار پھر ’’فاروق‘‘ اخبار پھر ’’الفضل‘‘ اخبار۔ بابو عبدالعزیز صاحب پنشنر ہیڈ کلرک تھے چھائونی میں بابو فرزند علی صاحب کے بھائی۔ محمد یامین صاحب کتاب فروش مجھ کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ مولوی غلام نبی صاحب ایڈیٹر اخبار الفضل کے بھی میرے حالات سے اچھی طرح واقف ہیں جو کچھ آپ کی مرضی مبارک میں آوے۔ جو اب ضرور مجھ کو ملے۔ بہشتی مقبرہ میں میں نے ایک سو روپیہ دیا تھا۔ وصیت کا شائد ۱۲ یا پندرہ برس ہوگئے ہیں۔
    مرسلہ
    فقیر عبدالرحمن معلم
    چھائونی جالندھر صدربازار محلہ نمبر ۲۴


    روایات
    غلام محمد امیر جماعت ہائے احمدیہ تحصیل نارووال
    سکنہ پوہلہ مہاراں ضلع سیالکوٹ
    ۱۔ سال ۱۹۰۴ء میں خاکسار بہمراہی بھائی کریم بخش ٹھیکہ دار سکنہ محلہ دارالرحمت قادیان لاہور پہنچے۔ دہلی دروازہ کے قریب جاکر حضرت مسیح موعودؑ کی قیام گاہ کا پتہ جن سے پتہ کیا وہ نانبائی دکاندار تھا۔ اس نے سنتے ہی حضرت صاحب ممدوح اور ہم خاکساران کو بہت کوسا۔ اور ساتھ ہی کہا کہ کرم دین کے مقدمہ میں چار دن تک دیکھنا۔ مرزا صاحب جیل خانہ میں جاکر بان بانٹیں گے (وان وٹینگے) جائو شاہ محمد غوث کے پاس اترا ہوا ہے۔ پھر خاکسار ان مقام مذکور پر پہنچے۔ جاکر دیکھا کہ غالباً میاں چراغ دین و معراج دین کے مکانات پر حضور قیام فرما ہیں۔ ان مکانات کے دروازے سڑک کی جانب ہیں۔ خاکسار ان کو دیکھ کر حضرت خلیفۃ المسیح اولؓ کھڑے ہوگئے۔ خاکسار ان ناواقف تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح اولؓ نہایت مہربانی اور اخلاق سے ملے اور مصافحہ کیا۔ پانچ و سات آدمیوں کا مجمع تھا۔ سوال و جواب دیگر صاحبان میں ہوتے رہے۔ خاکساران نے کوئی بات نہ کی۔ رات وہیں گزاری۔ اگلے دن جہاں اب مسجد احمدیہ بنائی گئی ہے وہاں طبیلہ ہی تھا۔ اس طبیلہ کی چھت پر مولوی برہان الدین صاحب مرحوم جہلمی نے صبح کی نماز پڑھائی۔ نماز کے بعد اس طبیلہ کے پاس کھلی جگہ تھی۔ نو یا دس بجے دن کے قریب دو کرسیاں بچھائی گئیں۔ ایک پر حضور مسیح موعودؑ جلوہ افروز ہوئے اور دوسری پر میاں معراج دین صاحب تشریف فرما ہوئے۔ پھر باری باری لوگوں نے مصافحہ کیا۔ پھر پچھلے پہر دن کے حضرت مسیح موعودؑ نے میاں معراج دین صاحب کے چوبارہ پر جہاں حضور آرام فرما تھے۔ بیعت کنندگان کو بلایا۔ ہر دو خاکسار ان حضور میں حاضر ہوئے۔ حضور چوبارہ میں ایک سادہ چارپائی پر جس کے چھوٹے چھوٹے پائے تھے آرام فرما ہیں۔ پائوں زمین پر ہیں۔ نگاہ نیچی ہے۔ رعب تھا۔ کوئی بات نہ کرسکے۔ دست مبارک پر بیعت کی۔ پھر دعا فرمائی گئی اور ہر دو خاکسار ان نیچے اتر آئے۔ ایک آدھ دن وہیں ٹھہرے۔ ان دنوں ہی حضرت مسیح موعودؑ کا لیکچر لاہور ہوتا تھا۔ اشتہارات چسپاں کئے جاتے تھے۔ چنانچہ چوہدری اللہ دتہ مرحوم نمبردار موضع میانوالی خانا نوالی تحصیل نارووال نے لیئی (لیوی) کی دیگچی سر پر اٹھائی ہوئی تھی اور وہ شہر لاہور میں جابجا اشتہار چسپاں کررہے تھے۔ مخالفین نے زدوکوب کیا ۔ چوہدری صاحب مرحوم اشتہارچسپاں کرتے مخالفین پھاڑ دیتے اور گالیاں نکالتے۔ ان دنوں کا واقعہ ہے کہ جن مکانات میں حضورؑ قیام فرما تھے۔ اس کے پاس گول سڑک پر ٹالیاں (شیشم) تھیں۔ ایک مولوی مخالف جسے ’’مولوی ٹاہلی‘‘ کے نام سے پکارتے تھے۔ صرف پاجامہ ہی اس نے پہنا ہوا تھا۔ نہ گلے میں اور سر پر کوئی کپڑا تھا۔ بد حواس گالیاں دے رہا تھا اور ٹاہلی پر چڑھ کر ہر روز بکواس کرتا تھا۔
    گواہ شدہ و راقم العبد
    سید محمد حسین احمدی موصی قانونگوئی (چوہدری) غلام محمد امیر جماعت ہائے احمدیہ
    بدوملہی بقلم خود تحصیل نارووال ضلع سیالکوٹ
    بقلم خود سکنہ پوہلہ مہاراں
    ۲۔ ۳ یا ۴ /اکتوبر ۱۹۰۴ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام شہر سیالکوٹ تشریف لائے۔ اور مہاراجہ جموں والی سرائے میں لیکچر دیا جو چھپ چکا ہوا ہے۔ اور لیکچر سیالکوٹ کے نام سے مشہور ہے۔ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے یہ لیکچر پڑھا۔ اسی روز کا واقعہ ہے ۔ عصر کے بعد سیدحامد علی شاہ صاحب مرحوم کے مکان پر جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام قیام فرما تھے۔ شاہ صاحب مرحوم کے مکان کے چھت کا الحاق مسجد کے چھت کے ساتھ ہے۔ وہاں ایک دروازہ ہے اس دروازہ پر حضرت مسیح موعودؑ نے کھڑے ہوکر مختصر تقریر فرمائی۔ ساری تقریر تو یاد نہیں۔ اس میں ایک مثال یہ تھی کہ حضرت صاحب نے فرمایا’’ کہ سامنے دیوار پر جو دھوپ نظر آرہی ہے اس کی اور ہماری مثال ایک سی ہے۔ یعنی دھوپ سورج نہیں کہلا سکتی مگر یہ سورج سے جدا بھی نہیں ہے۔ ایسا ہی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کااور ہمارا تعلق ہے‘‘۔
    راوی العبد گواہ شد و راقم
    (چوہدری) بقلم خود غلام محمد مذکور سید محمد حسین احمدی قانونگوئی۔ بدوملہی
    ۳۔ جلسہ سالانہ ۱۹۰۴ء میں شمولیت کے لئے خاکسار بمع دیگر احمدیان چوہدری محمد سرفراز خان غیر مبائع سکنہ بدوملہی و میاں چراغ دین مرحوم ستواڑہ چوہدری حاکم سکنہ منگولہ‘ سائیں سندر سکنہ چندر کے جٹاں یہاں سے چلے۔ (گویا پوہلہ مہاراں اور دیگر ملحقہ دیہات سے) اجنالہ تک پیدل گئے۔ اجنالہ سے ٹمٹم پر سوار ہوکر امرتسر گئے۔ امرتسر سے گاڑی پر سوار ہوکر رات گیارہ ‘ بارہ بجے بٹالہ میں اترے۔ ایک سیّد غیر احمدی کی مسجد میں شب باشی کی۔ رات کو روٹی نہ ملی بھوکے رہے۔ علی الصباح بٹالہ سے پیدل قادیان دارالامان روانہ ہوئے۔ خدا کے فضل سے دارالامان پہنچے۔ تو حضرت مسیح موعودعلیہ السلام ایک دالان میں تقریر فرما رہے تھے۔ (جہاں اب مرزا بشیر احمد صاحب کا مکان رہائشی ہے۔ یہیں پہلے مہمان خانہ ہوتا تھا) تقریر سورہ بقرہ رکوعٖ نمبر 1و سورئہ دھر کی تفسیر تھی۔ نفس اماّرہ۔ نفس لواّمہ۔ نفس مطمئنہ کی تشریح تھی۔ یعنی نفس امارہ وہ ہوتا ہے جب انسان گناہ ہی کرتا ہے تو نفس اماّرہ غالب ہوتا ہے۔ نفس لواّمہ گناہ بھی کراتا ہے اور نیک کام بھی۔ اور بعض بعض دفعہ نفس اماّرہ اور نفس لواّمہ کی باہمی لڑائی رہتی ہے۔ کبھی گناہ کی حالت غالب کرلیتی ہے۔ کبھی نیکی کی۔ نیکی غالب ہوجانے پر نفس مطمئنہ حاصل ہوجاتا ہے۔ انسان گناہ نہیں کرتا۔ بلکہ نیکی سے ہی واسطہ رہتا ہے۔ نفس اماّرہ و نفس لواّمہ کی کشتی ہوتی ہے۔ کبھی وہ اوپر ہوتا ہے کبھی وہ نیچے۔ کبھی وہ اوپر ہوتا ہے۔ کبھی وہ نیچے۔ اس کے بعد آیت ’’اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ کَائْ ٍس‘ کَانَ مِزَاجُھَا کَافُوْراً O تلاوت فرمائی کہ جس طرح کافوری شربت ٹھنڈک پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح جب نفس مطمئنہ حاصل ہوجاوے۔ اطمینان ہوجاتا ہے۔ نیز آیت ’’وَیُسْقَوْنَ فِیْھَا کَائْ ساً کَانَ مِزَاجُھَا زَنْجَبِیْلاً O جس طرح زنجبیل کا شربت لذیذ ہوتا ہے ایسا ہی نفس مطمئنہ حاصل ہوجانے پرنیکی کی لذت حاصل ہوجاتی ہے۔ بدی کی طرف خیال بھی نہیں جاتا۔
    آپ کا لباس
    گلے میں پوستین۔ سرخ لوئی ‘ سر پر ٹوپی رومی پگڑی کے درمیان۔ چمڑہ کی جوتی جس کا ایک ’’اڈا‘‘ بٹھا دیا ہوا تھا (ایسا معلوم ہوتا تھا کہ تنگ جوتا کو آپ ناپسند فرماتے۔ اور ’’اڈا‘‘ بٹھا لیتے) جب تقریر سے فارغ ہوئے تو باوجود آٹھ پہر فاقہ کشی کے کوئی تکلیف نہ تھی نہ ہی بھوک تھی حضور کی تقریر نے سیر کردیا تھا اس وقت جمعہ کی اذان ہورہی تھی میں حضور کے ساتھ تھا ایک دوست آئے انہو ں نے عرض کیا کہ حضور اذان جمعہ ہورہی ہے دوستوں نے روٹی بھی کھانی ہے کیا کیا جاوے۔ تو حضور نے فرمایا کہ پہلے طعام پھر کام۔
    العبد راوی گواہ شد
    غلام محمد مذکور (چوہدری) سید محمد حسین مذکور
    ۴۔ اگلے روز احمدیہ چوک بازار میں ایک دوست نے مولانا عبدالکریم صاحب مرحوم کی وفات اور حالات پر نظم پڑھی تو حضور اوپر سے سیر کے لئے تشریف لائے مسجد مبارک کے راستے سے تو نظم پڑھنے والے کو فرمایا کہ مولوی صاحب کی عمر ۴۷ سال کی تھی اس کا ذکر بھی اس میں کیا جاوے۔
    العبد راوی گواہ شد
    بقلم غلام محمد مذکور(چوہدری) سید محمد حسین مذکور
    ۵۔ سال ۱۹۰۴ء جلسہ سالانہ کے دنوں کا واقعہ ہے کہ مولانا عبدالکریم صاحب مرحوم کی نعش جو کہ صندوق میں پرانے قبرستان میں دفن تھی لائی گئی اور مقبرہ بہشتی میں پہنچائی۔ میر حامد شاہ صاحب مرحوم سیالکوٹی اور دیگر احباب صندوق باری باری اٹھا کر لائے ۔ میں نے اور دیگر احباب نے قبر کھودی (یہ قبر پہلی تھی مقبرہ بہشتی میں اور کوئی احمدی دفن نہیں ہوا تھا) میر حامد شاہ مرحوم نے مرثیہ پڑھا۔ پڑھتے وقت وہ زار زار رو رہے تھے حضرت مسیح موعودؑ زمین پر ہی بیٹھے ہوئے تھے۔ خاکسار اور دیگر احمدی بیٹھے سن رہے تھے پھر حضرت مسیح موعودؑ نے جنازہ پڑھا۔
    العبد راوی گواہ شد
    چوہدری غلام محمد مذکور سید محمد حسین مذکور
    ۶۔ جلسہ سالانہ ۱۹۰۵ یا جلسہ سالانہ ۱۹۰۶ء کا واقعہ ہے کہ جلسہ سالانہ پر گئے۔ سیالکوٹ ضلع کی طرف سے میر حامد شاہ صاب مرحوم سیالکوٹی و چوہدری مولا بخش صاحب مرحوم سیالکوٹی نے مشورہ کیا کہ شہر سیالکوٹ اور مفصلات سیالکوٹ کا چندہ یکجا کیا جاوے اور پھر خاص طور پر پیش کیا جاوے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا تمام جماعت ضلع سیالکوٹ مسجد مبارک کی چھت پر جمع ہوئی سات سو (۷۰۰) روپیہ کے قریب چندہ جمع ہوا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تشریف آوری کے لئے عرض کی ‘کرسی بچھائی گئی حضور تشریف لائے اور کرسی پر جلوہ افروز ہوئے۔ میر حامد شاہ صاحب مرحوم نے رقم پیش کی حضور نے رقم جیب میں ڈال لی ۔ شاہ صاحب نے عرض کیا کہ چندہ شہر سیالکوٹ اور مفصلات کی طرف سے ہے کیونکہ شاہ صاحب نے چندے کی وصولی کرتے وقت ہر ایک جماعت عہدہ دار سے وعدہ کیا ہوا تھاکہ حضرت صاحب سے مصافحہ کرایا جاویگا۔ حضور فوراً ہی اندر تشریف لے گئے اور کوئی جواب نہ بخشا ۔ نگاہ نیچی رہی۔ (حضور کے جواب نہ بخشنے سے یہی نتیجہ اخذ ہوتا تھا کہ حضور ریا نہ چاہتے تھے بلکہ کام کی روح چاہتے تھے)
    العبد راوی گواہ شدہ
    غلام محمد مذکور چوہدری سید محمد حسین مذکور
    ۷۔ ۱۹۰۶ء بھادروں میں خاکسار بمع بابا حاکم دین سکنہ قلعہ صوبہ سنگھ مؤذن مرحوم۔ بھائی محمد قاسم مؤذن منگولہ مرحوم۔ چوہدری اللہ دتہ صاحب مرحوم ۔ سکنہ میانوالی خانانوالی پیدل چل کر نارووال شکار پور سیکھواں سے ہوتے ہوئے دارالامان پہنچے۔ ایک روز مسجد مبارک میںحضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے۔ خاکسار نے دو روپیہ کا نذرانہ پیش کیا تو حضورؑ نے نگاہ اٹھا کر خاکسار کی طرف دیکھا اور فرمایا آپ کا کیا نام ہے ؟ میں نے عرض کیا حضور میرا نام غلام محمد ہے (جس نظر سے حضور نے خاکسار کو دیکھاوہ بجلی کی طرح میرے جسم میں سرایت کر گئی اور اسی کی سب برکت ہے۔ اب بھی جب وہ واقعہ یاد آتا ہے تو دل میں بے حد خوشی اور سرور محسوس کرتا ہوں) اور بقول میاں بشیر احمد صاحب ایم۔ اے لخت جگر حضرت مسیح موعود ؑ موافق حال شعر ہے۔
    گناہ گاروں کو اپنی اک نظر سے پاک کر ڈالے
    خدا سے پھر ملائے جو وہ مرد باصفا تو ہے
    گویا ۷۰۰ روپیہ نذرانہ کی تو پرواہ تک نہیں۔ حقیر رقم ۲ روپیہ کی اس قدر عزت فرمائی کہ بیڑا پار کردیا۔ الحمدللہ۔
    ۸۔ اسی مجلس میں ایک دوست تشریف لائے۔ اور حضرت مسیح موعود کی خدمت میں عرض کیا کہ’’ حقہ شراب جیسا ہے؟‘‘ تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’شراب سے کم ہے‘‘۔ میں اس وقت حقہ پیتا تھا۔ چھوڑنے کا ارادہ کیا۔
    العبد راوی گواہ شد
    چوہدری غلام محمد مذکور بقلم خود سید محمد حسین مذکور
    ۹۔ اس سے اگلے روز کا واقعہ ہے کہ نماز ظہر کے لئے وضو کرکے مسجد مبارک میں ہر چہار گئے (کیونکہ مسجد مبارک چھوٹی تھی اس لئے پہلے چلے گئے) حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو سب سے مغرب کی طرف دریچہ ہے اس ’’تاکی‘‘ سے گھر سے تشریف لائے اور آتے ہی فرمایا کہ مولوی صاحب کو بلائو۔ مفتی صاحب کو بلائو۔ کوئی دوست دوڑتے ہوئے گئے۔ تھوڑا ہی عرصہ گزرا۔ کہ حضرت خلیفۃ المسیح اوّل پگڑی کو بغل میں لئے دوڑتے ہوئے ننگے سر ہی تشریف لے آئے۔ (گویا اطاعت میں ذرا سا توقف نہ کیا) پھر مفتی صاحب بھی تشریف لے آئے۔ پھر ماسٹر عبدالرحمان صاحب سابق مہر سنگھ ایک انگریزی اخبار پڑھ کر سناتے رہے۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت خلیفۃ المسیح اوّل و حضرت مفتی صاحب باہمی باتیں کرتے رہے جن کا علم نہیں۔ازاں بعد حضرت خلیفۃ المسیح اول پیش امام ہوئے ۔ نماز ظہر پڑھی گئی۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اگلی صف میں مقتدیوں میں کھڑے ہوگئے۔ جب حضورؑ بعد فراغت واپس گھر چلے تو میرے ساتھی بابا حاکم دین مرحوم نے حضرت مسیح موعودؑ سے عرض کیا کہ حضور ہندوئوں کے گھر کا کھانا جائز ہے کہ نہیں؟ حضور نے فرمایا ’’جائز ہے‘‘ ۔حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم بھی پاس تھے۔ انہوں نے جوش سے فرمایا کہ یہ لوگ مٹھائیاں‘ دودھ ان سے پیتے ہیں اب پوچھتے ہیںکہ کھانا جائز ہے کہ نہیں؟
    العبد راوی گواہ شد
    (چوہدری) غلام محمد مذکور بقلم خود سید محمد حسین مذکور
    ۱۰۔ اگلے روز کا واقعہ ہے کہ چوہدری اللہ دتہ مرحوم نمبردار میانوالی خانانوالی نے اپنی بیوی کے حج کے متعلق شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی سے ذکر کیا کہ وہ حج تو کر آئے ہوئے ہیں ان کی بیوی کے حج کرنے کے متعلق حضرت مسیح موعودعلیہ السلام سے ذکر کیا جاوے۔ عرفانی صاحب نے کہا کہ میں حضرت مسیح موعودؑ سے دریافت کرلیتا ہوں۔ اسی وقت عرفانی صاحب نے اپنی قلم سے رقعہ لکھا کہ حضورؑسے چوہدری اللہ دتہ نمبردار اپنی بیوی کے حج کے لئے کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں۔ حضورؑ کی طرف سے اسی رقعہ کی پشت پر جواب ملا کہ جبکہ ہم کو مکہ کے علماء واجب القتل سمجھتے ہیں تو پھر ہم پر حج فرض نہیں ہے۔ وہ رقعہ چوہدری اللہ دتہ صاحب مرحوم کے پاس ہی رہا تھا۔
    العبد راوی گواہ شد
    چوہدری غلام محمد مذکور بقلم خود سید محمد حسین


    روایات
    منشی سر بلند صاحب ہیڈ منشی دفتر نہر ڈویژن مظفر گڑھ
    اس عاجز نے ورنیکلر مڈل سکول ۱۹۰۱ء میںپاس کیا تھا اور اس کے بعد میں اپنے چچا صاحب مرحوم منشی گوہر علی صاحب احمدی (جونہرسدہ تحصیل کبیروالہ ضلع ملتان میں پٹواری نہرتھے) کے پاس چلا گیا۔ چچا صاحب مرحوم اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی تھے۔ اور ان کے پاس اخبار ’’الحکم‘‘ آیا کرتا تھا۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصینفات کردہ کتب بھی تھیں۔ جن کومیں مطالعہ کیا کرتا تھا۔ گو میں اصل باشندہ خاص کوٹلہ افغاناں تحصیل شکر گڑھ ضلع گورداسپور کا باشندہ تھا۔ اور صرف اتنا سنا ہوا تھا کہ امام مہدی علیہ السلام آگئے ہوئے ہیں۔ مگر یہ کوئی پتہ نہیں تھا کہ کہاں آئے ہوئے ہیں؟ اور نہ ہی کوئی مذہبی معاملات سے دلچسپی تھی۔ اخبار ’’الحکم ‘‘اور کتب کے مطالعہ سے چونکہ طبیعت میں انکساری اور خوف خدا کا مادہ تھا دل یہی چاہتا تھا کہ فوراً بیعت کرلینی چاہئے۔ دوسری طرف ملانوں کا شور و غوغا اور مخالفت بھی زوروں پر تھی اور چنداں مذہب کی واقفیت نہ تھی اور قرآن شریف سے اس سے پہلے بالکل نا آشنا تھا۔ میرے چچا صاحب مرحوم نے ایک ملاں ضعیف العمر اپنی لڑکیوں کی تعلیم کے واسطے رکھا ہوا تھا۔ جس کو اردو پڑھنا نہیں آتا تھا۔ اس کے ساتھ میں نے سمجھوتہ کرلیا کہ میں آپ کو اردو پڑھایا کرونگا۔ آپ مجھے قرآن شریف پڑھایا کریں۔ چنانچہ میں مکتب میں چلا جاتا اور چھوٹے چھوٹے بچوں سے قرآن شریف سنتا رہتا۔ اور خود بھی ملاں صاحب سے پڑھتا رہتا۔ چنانچہ میں نے قرآن شریف ختم کرلیا۔اور حضرت چچا صاحب مرحوم کے پاس تفسیر محمدی حافظ محمد لکھوکے والے کی تصنیف تھی۔ اس کو مطالعہ کرتا رہتا اور کچھ فقہ کی کتب حضرت چچا صاحب مرحوم نے لڑکیوں کو پڑھانے کے واسطے منگوائی ہوئی تھیں ان کو پڑھتا رہتا ۔ حتّٰی کہ مجھے دینی شوق دن بدن بڑھتا گیا
    اور جوں جوں سلسلہ احمدیہ سے واقفیت ہوتی گئی۔ توں توں خیالات بھی وسیع ہوتے گئے اور ملانوں کے ساتھ تبادلہ خیالات ہوتا رہا اور اگر میرے دل میں کوئی اعتراض پیدا ہوتا تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ’’اخبار الحکم‘‘ میں انہیں اعتراضات کا حل آجاتا۔ اور میرا ایمان مضبوط ہوتا گیا۔ سال ۱۹۰۲‘۱۹۰۱ء مَیں بے کار رہا اور کوئی ملازمت کا سلسلہ بھی نہ بنا اور یہی شوق مطالعہ کتب و اخبار رہا۔ گو میرا حافظہ ایسا نہیں تھا کہ ہر ایک بات کو یاد رکھتا اور باوجود اس کے کہ میرا علم کچھ بھی نہ تھا۔ مگر مخالفوں کی باتوں کا اس پر بالکل اثر نہیں ہوتا تھا۔ غالباً شروع سال ۱۹۰۳ء میں میں نے خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا تھا اور بیعت بھی کی تھی جس سے شوق زیارت بڑھتا گیا اور میرے چچا صاحب مرحوم نے کوشش کرکے محکمہ نہر میں بعہدہ پٹواری نہر سال ۱۹۰۳ء میں ملتان میں ملازم کرادیا اور میری تقرری بعہدہ پٹواری نہر شجاع آباد میں جولائی ۱۹۰۳ء کو ہوگئی۔ اتفاق سے میں ملازم ہوا ہی تھا کہ حکم آگیا کہ ان کو ٹریننگ پٹوار نہرکے لئے امرتسر بھیجا جائے اور میں سال ۱۹۰۱ء سے ۱۹۰۳ء تک گھر بھی نہیں گیا تھا اور قادیان جانے کا شوق بھی ضرور تھا۔چنانچہ احکام جاری ہوگئے اور مجھے امرتسر دوم ڈویژن میں غالباً ماہ نومبر کے اخیر میں جبکہ ماہ رمضان المبارک تھا بھیجا گیا اور دوم ڈویژن اپر باری دوآب ان دنوں گورداسپور سے لاہور تک تھا۔ میری تقرری جناب ڈپٹی کلکٹر صاحب بہادر میر عبدالوحید صاحب نے لاہور ڈویژن میں فرمائی مگر میر صاحب بہت ہی نیک طبیعت تھے اور نمازی تھے اور قادیان سے بھی ان کو انس تھا۔ میں نے عرض کی کہ حضور میری تقرری تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور میں فرماویں تاکہ میں آسانی سے گھروںمیں آجاسکوں۔ چنانچہ جناب میر صاحب نے میرے عرض کرنے پر میری تعیناتی تحصیل بٹالہ ضلعداری سیکشن کنجر متصل دھر م کوٹ بگہ فرمائی۔ اور میں نے شکریہ ادا کیا۔ سیکشن کنجر سے ضلع دار صاحب لالہ ڈوگر مل صاحب نے جو بہت نیک اور اچھے آدمی تھے۔ میری تقرری دھاریوال کے نزدیک بیری ننگل میں فرمائی۔ وہاں میرے کئی ایک ہم قوم لوگ تھے جو میرے ساتھ بہت محبت کرتے تھے اور جس پٹواری کے ساتھ مجھ کو لگایا گیا تھا وہ مسلمان امرتسر کا باشندہ تھا۔ مگر احمدیت کا سخت دشمن تھا۔ اور میرے ساتھ اس کا برتائو اچھا نہ تھا۔ ماہ دسمبر میں موقع عید پر اور جمعۃ الوداع پرمیں پہلی دفعہ قادیان گیا ۔ مگر افسوس کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان دنوں اکثر گورداسپور مقدمات کی وجہ سے رہا کرتے تھے۔ میں زیارت سے مشرف نہ ہوسکا۔ اور واپس بیری ننگل آگیا۔ چونکہ پٹواری نہر سخت مخالف تھا۔ اس واسطے میں ضلع دار صاحب لالہ ڈوگر مل صاحب کی خدمت میں قلعہ لال سنگھ پہنچا اور عرض کی کہ مجھے بجائے مسلمان پٹواری کے کسی ہندو پٹواری کے ساتھ لگایا جاوے۔ چنانچہ ضلع دار صاحب نے میری درخواست کو قبول فرمالیا۔ اور مجھے ریلوے اسٹیشن چھینہ کے پٹواری منشی نتھورام کے ساتھ لگادیا اور چھینہ سے تھوڑی دور میری چچا زاد ہمشیرہ موضع شیر پور متصل ہرسیاں رہتی تھی۔ جو قادیان سے ۴ یا ۵ میل کا فاصلہ ہے۔ یہاں سے مجھے موقع مل گیا اور میں ہر جمعہ کو قادیان چلا جاتا اور شام کو واپس آجاتا اور اردگرد کے احمدی دوست بھی واقف ہوگئے۔ خصوصاً سیکھواں والے مولوی امام الدین صاحب وغیرہ جنہوں نے مجھے ترغیب دی کہ جلدی بیعت کرلو۔ چنانچہ ایک جمعہ پر قادیان پہنچ کر مولوی امام الدین صاحب یا جمال الدین صاحب نے میرے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بعد نماز جمعہ عرض کی کہ اس لڑکے کی بیعت لی جاوے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ عصر کی نماز کے بعد۔ اور دیگر دوستوں کو کہہ دیا جاوے پھر عصر کی نماز کے بعد فرمایا کہ شام کی نماز کے بعد۔ اور پھر شام کی نماز کے بعد فرمایا کہ عشاء کی نماز کے بعد۔ چنانچہ عشاء کی نماز کے بعد مسجد مبارک میں جہاں عام طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام شہ نشین ہوا کرتے تھے۔ بیعت کنندگان کو بلایا‘ میں آگے بڑھا اور حضور کے دست مبارک پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور کئی اور دوست بھی تھے۔ جن کا نام یاد نہیں۔ اور بیعت لی۔ اور بیعت کے بعدمیرے اندر کوئی ایسی لہر دوڑ گئی جیسے بجلی اثر کرتی ہے۔ اس کے بعد میں ٹریننگ پٹوار نہر پوری کرکے امتحان امرتسر دے کر واپس ملتان چلا گیا اور میرے چچا صاحب مرحوم نے میرے نام اپنے خرچ پر رسالہ ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ جاری کرادیا جو دو سال برابر ان کے خرچ پر میرے نام آتا رہا۔ اس کے بعد میں خود اپنے خرچ پر مستقل خریدار ہوگیا اور اخبار ’’بدر‘‘ کا بھی خریدار بن گیا اور پھر عام طور پرجلسہ سالانہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں جاتا رہا اور فیض یاب ہوتا رہا۔ ایک جلسہ سالانہ غالباً ۱۹۰۶ء یا ۱۹۰۷ء کا تھا جس میں مسجد اقصیٰ میں سیڑھیوں کے پاس جنوب مشرق ‘ایک کونے پر مکان تھا جو غیر احمدیوں کا تھا جن کے مکان پر چند ایک دوستبوجہ کثرت ہجوم چڑھ گئے اور مکان والوں نے بُرا بھلا کہا۔ اس برا بھلا کہنے کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے کانوں سے سنا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سیڑھیوں کے پاس چار رکعت نماز سنت ادا کی اور ایک شخص جس کا مجھے نام یاد نہیں اس نے پکار کر کہا کہ لوگو! حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طریقہ نماز اچھی طرح دیکھ لو۔ بعد ادائے سنت نماز حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نماز باجماعت فرض ظہر و عصر ادا کرکے تقریر شروع فرمائی ۔ اس وقت وہ تقریر ایسی جلالی رنگ رکھتی تھی جس میں حضور نے قادیان کے لوگوں پر احسانات کا تذکرہ فرمایا اور ان کی مخالفت کا ذکر فرمایا جس سے معلوم ہوتا تھا کہ اسی وقت کوئی غضب الٰہی نازل ہونے والا ہے ۔بعد خاتمہ تقریر جلسہ برخاست ہوا اور میں مسجد سے نکل کر چوک بازار میں مسجد کے پاس ہی آیا تھا کہ دو سکھ سردار جو ان پڑھ معلوم ہوتے تھے مگر تقریر سن کر آئے تھے اور ذکر کررہے تھے کہ بڑی عجیب تقریر تھی۔اگر ہم کو خبر ہوتی تو ہم ہر روز سننے کے لئے آتے۔
    اسی طرح ایک دن صبح کو میں اور میرا چچا زاد بھائی (جہاں اب محلہ دارالرحمت ہے) جنگل گئے۔ اور واپسی پر ہمارا خیال تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کبھی بازار کی طرف سیر کو جاویں تو کیا خوب ہو؟ چنانچہ ہم مسجد مبارک کے نیچے والے دروازے میں جاکھڑے ہوئے۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عام طور پر صبح کو سیر کے لئے جایا کرتے تھے اور خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم وکیل بھی دروازہ پر کھڑے تھے۔ اور عام طور پر حضرت صاحب باہر کی طرف سے سیر کو جایا کرتے تھے مگر اس دن خواجہ صاحب نے فرمایا کہ حضرت ! آج بازار کے راستہ سیر کو چلیں ۔ چنانچہ حضرت صاحب نے فرمایا کہ بازار کے راستہ چلو۔ جب حضرت چوک بازار میں پہنچے اور لوگ آگے پیچھے دوڑتے ہوئے آگئے۔ایک شخص جو کسی دوسرے ملک کا باشندہ معلوم ہوتا تھا قدم بوسی کے لئے جھک گیا ۔ مگر میں پاس ہی کھڑا تھا۔ حضرت صاحب نے اس کو کاندھے سے پکڑ اوپر اٹھا لیا۔ اور فرمایا کہ ’’دیکھو مصافحہ کرنا چاہئے‘‘۔ پھر حضرت صاحب بڑے بازار سے ہوکر شمال کی طرف کو سیر کو چل دئیے۔ بازار سے نکل کر دو رویہ قطاریں بنائی گئیں کیونکہ راستہ مشکل سے ملتا تھا ریتی چھلہ میں جہاں اب مشین یعنی کارخانہ ہے۔ ایک درخت کھڑا ہے ان کے نیچے حضور آکر ٹھہر گئے اور آگے چلنے سے رک گئے اور فرمایا کہ آج میں جماعت پر خوش ہوں۔ اس کے بعدبمع خدام واپس آگئے۔
    دوسرا واقعہ یہ ہے کہ میں ایک دفعہ گرمیوں کے موسم میں چند دن کی رخصت لے کر قادیان گیا۔ تین چار سکھ دوست جو کہ سیالکوٹ کے علاقہ کے رہنے والے تھے اور یہ قادیان کے کسی قریب کے گائوں میں اپنے رشتہ داروں کے ہاں آئے ہوئے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کے واسطے تشریف لائے اور عصر کی نماز کے قریب اندر اطلاع کرائی کہ کئی آدمی حضور کو ملنے والے ہیں۔ مگر حضور نے جواب دیا کہ میری طبیعت اس وقت علیل ہے میں شام کی نماز کے وقت آئوں گا۔ چنانچہ وہ سکھ دوست شام کی نماز کے وقت بلکہ وقت نماز سے پہلے مسجد مبارک کی چھت پر تشریف لے آئے اور شام کی نماز کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام گھر سے تشریف لائے ۔ ابھی دروازہ کھول کر مسجد میں قدم رکھا ہی تھا کہ’ ’السلام علیکم‘‘ حضور نے فرمایا اور سکھ دوست سامنے کھڑے تھے۔ انہوں نے بھی ادب سے خود سلام کیا اور کہا ’واہگورو‘ واہگورو‘ اور حضرت صاحب نے فرمایا کہ کیا آپ لوگوں نے مجھ کو عصر کے وقت بلوایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جی ہاں ! پھر حضرت صاحب نے فرمایا کہ افسوس ہے کہ کہنے والے نے مجھے یہ نہیں کہا۔ کہ کوئی باہر سے آدمی تشریف لائے ہیں۔ میں نے تو یہ سمجھا تھا کہ کوئی قادیان کے آدمی ہیں۔ ورنہ میں گو میری طبیعت اس وقت علیل تھی باہر آتا۔ پھر حضور نے ان کے واسطے کھانے اور رہائش کے واسطے فرمایا۔ اس کے بعد مجھے پتہ نہیں کہ وہ رہے اور کھانا کھایا یا نہ؟ اور پھر حضور نے باجماعت نماز امام کی اقتدا میں ادا کی۔
    خاکسار
    سربلند احمدی ہیڈ منشی
    صدر نہر مظفر گڑھ ڈویژن
    ۳۸۔۱۰۔۲۶



    روایات
    حضرت میاں امیر الدین صاحب احمدی گجراتی
    ابتداء میں جبکہ میں بچہ تھا بچپن میں مجھ کو قرآن کریم کی تعلیم دی گئی جو تعلیم عموماً خلق کو دی جاتی ہے۔ عبارت ہی عبارت اور کچھ نہیں آتا ۔ میرے استاد قرآن پڑھانے والے بھی خود قرآن کریم سے بے خبر تھے اور بٹالے والے میاں صاحب کے مرید تھے۔ اور قصیدہ غوثیہ پڑھا کرتے تھے ۔ مجھ کو بھی یہی تعلیم دی گئی اور مجھے شیئاً للہ پڑھایا گیا۔ غرض میں گور پرست اور پیر پرست تھا۔ اس کے بعدجب میری عمر پندرہ سولہ سال کی ہوئی چونکہ میری طبیعت ذہین تھی ۔ اردو اور فارسی کے لئے مختلف استادوں سے سبق پڑھے۔ اس کے بعد مجھ کو دین عیسوی کے مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ میں نے تورات اور انجیل کو پڑھا اور اسلام کے رد میں جو کتابیں عیسائیوں نے مجھے دیں ان کے پڑھنے سے میں قریباً اسلام کا منکر ہوگیا۔ مگر عیسائی بھی نہ ہوا۔ مذبذب طبیعت تھی اور دل میں یہ شوق پیدا ہوا کہ میں قرآن کریم کا ترجمہ پڑھوں۔ ایک استاد سے قرآن کریم کا ترجمہ جب شروع کیا تو سورئہ فاتحہ کے ترجمہ پڑھنے سے میرے دل پر جو پیر پرستی یا گور پرستی تھی وہ اڑ گئی۔ میں موحد بن گیا۔ ایک مولوی صاحب جو بڑے فاضل تھے ا ن کے پاس میں ایک کتاب ’’تیغ و سپرعیسوی‘‘ لے کر پہنچا۔ تاکہ میں اپنے ایمان کو اسلام درست پائوں اور اس کتاب کا جواب مولوی صاحب سے پائوں مگر مولوی صاحب نے اس کتاب کا ایک ہی صفحہ دیکھ کر مجھے کتاب واپس دیدی۔ اور خاموش رہے۔ کچھ جواب نہ دیا۔ میرے دل میں اور بھی اسلام کے متعلق زیادہ بدظنی بڑھ گئی۔ میں نے قرآن کریم کا ترجمہ اسی مولوی صاحب سے پڑھنا شروع کردیا اور اس سے پڑھتا رہا اور جمعہ بھی ان کے پیچھے ہی پڑھتا تھا۔ کبھی کبھی مولوی صاحب اپنے خطبہ میں فرمایا کرتے تھے کہ میاں عیسیٰ کو جبکہ اس نے چمگادڑ بنایا تھا اس کو اس کی دبر بنانی یاد نہ رہی اور وہ منہ سے ہی کھاتا اور منہ سے ہی پاخانہ نکالتا ہے۔ یہ باتیں میں سنتا تھا اور انہی پر میرا یقین تھا اور مسیح کو میں زندہ آسمان پر مانتا تھا۔ اور اس کا دوبارہ آنا اور تلوار چلانا اور کفار کو قتل کرنا یقین کرتا تھا۔کبھی کبھی مولوی صاحب کے پاس کوئی مہمان آتا تھا۔تو میری موجودگی میں وہ یہ کہا کرتا تھا کہ ’’قادیان‘‘ ایک گائوں ہے اس میں ایک مرزا ہے جو کہتا ہے کہ مجھے الہام ہوتا ہے۔ میں اس بات کو سن کر بہت خوش ہوتا تھا اور چاہتا تھا کہ اس شخص کی زیارت کروں اور غریب تھا۔ مسکنت میرے ساتھ۔ آخر خداتعالیٰ نے وہ وقت میرے لئے مہیا کردیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سیالکوٹ میں تشریف لائے اور میں اس وقت تک طالب علم ہی تھا اور ترجمہ پڑھتا تھا تو میں یہ سن کر مع دو دوستوں کے سیالکوٹ پہنچا۔ گاڑی میں سے ہم مرزا صاحب کی زیارت کرنیوالے قریباً دس بارہ آدمی نکلے تو ہم بھی حکیم حسام الدین صاحب کے مکان پر پہنچے۔ حکیم صاحب کے گول کمرہ میںہم بیٹھ گئے۔ ہم میں جو مرزا صاحب کی زیارت کرنے کے لئے آئے تھے ایک عالم بھی تھا جو ضلع جہلم کا تھا۔ شیخ رحمت اللہ مرحوم اور مولوی عبدالکریم صاحب بھی سیالکوٹ میں حضرت صاحب کے ساتھ تھے۔تو حضرت صاحب کو اطلاع دی گئی۔ جبکہ آپ اس گول کمرہ کی طرف بالاخانہ میں تھے۔ آپ تشریف لائے اور ہم زائرین میں آکر بیٹھ گئے۔ تو اس مولوی صاحب نے جو ہم میں سے تھا۔ حضرت صاحب سے مخاطب ہوتے ہوئے یہ کہا کہ حضرت عیسیٰ زندہ ہیں یا نہیں؟ حضرت صاحب نے فرمایا وہ فوت ہوچکے ہیں ۔اس پر مولوی صاحب کی اور حضرت صاحب کی بحث شروع ہوگئی ۔ آخر تھوڑی دیر میںوہ مولوی مغلوب ہوگیا اور میں چونکہ ابھی طالب علم تھا میرے دل میں کئی باتیں مسیح کی حیات کے متعلق جو تھیں وہ مولوی صاحب کے بعد مرزا صاحب سے دریافت کیں۔ آپ نے فوراً میرے سوالات کی پوری تردید کردی۔ مجلس برخاست ہوگئی۔ ہم تین دوست جو گجرات سے آئے تھے۔ ان میں سے مجھ امیر الدین کو شیخ رحمت اللہ صاحب نے یہ کہا چونکہ شیخ رحمت اللہ میرا شہری آدمی تھا۔ اس نے کہا ۔ کیا تو مرزا صاحب سے بیعت کرنی چاہتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ ’’فرشتہ صورت انسان‘‘ ہے۔ مجھے بیعت کرنے میں کوئی عذر نہیں۔ حضرت صاحب کو اطلاع دے دی گئی۔ مجھے حضرت صاحب نے طلب کیا۔ بالا خانہ میں جہاں حضرت بیٹھے ہوئے تھے میںپہنچا۔ فقط حضرت صاحب اور میں تھا ۔ حضرت صاحب نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور مجھے فرمایا وہ بیعت کے کلمات پڑھائے اور جبکہ آپ نے مجھے یہ فرمایا ۔ پڑھو! استغفر اللّہ ربی من کل ذنب و اتوب الیہ ‘‘ میری حالت اس وقت قریباً بے ہوشی کی تھی اور رو رہا تھا اس طرح میری بیعت ختم ہوئی۔ میں واپس آگیا اور’’ ازالہ اوہام‘‘ جو چھوٹی تقطیع کا ہے۔ اس وقت میں نے تین روپیہ کو خریدا۔ وہ بھی ادھار پر۔ میں اس کتاب کو جب گجرات میں لایا تو اس کو پڑھا تو میں اسلام میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے اس کتاب میںبہت نور پایا اور مسیح کی وفات کو کامل طور پر یقین کرلیا اور مسلمان ہوگیا۔ اس کے بعد ایک وقت کچھ عرصہ کے بعد ایسا آیا کہ گجرات میں ایک شخص نے مجھ کو کہا کہ مولوی برہان الدین مرحوم کا بھتیجا یہاں عیسائی ہوا ہے۔ تم اس کو بھی تبلیغ کرو۔ میں نے اس کو تلاش کیا اور وہ مجھ کو مل گیا اور اس کو سمجھا بجھا کر قادیان بھیج دیا۔ مگر وہ یہاں بھی پہنچ کر پورا مسلمان نہ ہوا۔ بلکہ واپس جاکر امرتسر میںعیسائیوں کے پاس ٹھہر گیا۔ اس کے ذریعہ سے جو ہنری مارٹن نے طوفان برپا کیا تھا۔ اس مقدمہ میں پہلی پیشی حضرت اقدس کی بٹالہ میں تھی۔ تو مجھ کو حضرت صاحب نے بذریعہ تار گجرات سے طلب کیا اور میں بٹالہ پہنچ گیا۔ بٹالے کی جو سرائے ہے۔ اس میں حضرت صاحب تشریف لائے اور جماعت بھی تھی۔ تو اس میں ہمارا رہنا ہوا۔ کچہری کو جاتے ہوئے نو دس بجے کا وقت تھا۔ خواجہ کمال الدین اور اور لوگ بھی حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اور میں بھی ساتھ تھا۔ حضرت صاحب عدالت میں پیش ہوئے ۔ آپ کو مجسٹریٹ نے عزت کے ساتھ اپنے پاس جگہ دی اور اس کے بعد جو قصہ مولوی محمد حسین گواہ کا ہوا۔ وہ میرے سامنے سب کچھ ہوا۔ جو کچھ اس کی نسبت بیان کیا جاتا ہے ۔ وہ کرسی نہ ملنا وغیرہ۔ وہ سب میرے سامنے ہوا۔ اس کے بعد اور تاریخ ڈالی گئی۔ اور گورداسپور حضرت صاحب کو طلب کیا گیا۔ اس مقدمہ کے فیصلہ کے وقت میں حضرت صاحب کے ساتھ تھا۔ حضورکے پائوں بھی دبایا کرتاتھا اس کے بعد میں ہمیشہ آیا کرتا رہا۔ اور یہ تمام پیشگوئیاں میرے سامنے ہوئیں۔ میںاکیلا گجرات میں تھا۔ کوئی میرے ساتھ نہیں تھا ۔ جب حضور جہلم تشریف لے گئے۔ یہ جماعت بنی۔
    ایک دفعہ میں نے اپنے قرض دار ہونے کی شکایت حضرت صاحب کے پاس کی آپ نے فرمایا کہ کثرت سے درود شریف پڑھا کرو اور کثرت سے استغفار کیا کرو۔ بس یہ ہی میرا وظیفہ تھا کہ مجھ کو مولا کریم نے برکت دی اور قرض سے پاک ہوگیا اور جب میں قادیان میں آتا تھا تو چھوٹی مسجد جو اس وقت بڑی ہوچکی تھی جبکہ چھ آدمی صف میں اس میں کھڑے ہوتے تھے۔ اوقات نماز میں اس مسجد میں میں ’’باری‘‘ کے آگے بیٹھ رہتا تھا۔ اس غرض سے کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اس باری میں سے مسجد میں آتے تھے تو جب حضرت نماز کے لئے تشریف لاتے تو میں جھٹ کھڑا ہوجاتا اور نماز میں آپ کے بائیں بازو کے ساتھ کھڑا ہوتا۔ اور یہ وہ وقت تھا جبکہ ساتھ ہی کا کمرہ جو مسجد کے ساتھ ہے۔ اس میں حضرت صاحب اور چند مہمان جو اس وقت ہوا کرتے تھے جو پانچ سے زائد نہ ہوتے تھے اس کمرہ میں آپ چاول خود اپنے ہاتھ سے کھلاتے تھے۔ تمام پیشگوئیاں میرے سامنے پوری ہوئیں اور میں ان کا گواہ ہوں۔
    خطبہ الہامیہ عید کے روز آپ پر نازل ہوا تھا۔ اور میں عید سے پہلے ایک روز قادیان میں پہنچ گیا تھا جو بارہ بجنے میں کچھ منٹ باقی تھے۔ جب میں پہنچا تو میں آتے ہی حضرت خلیفہ اول ؓ کے پاس پہنچا کیونکہ ان سے میرا دوستانہ تعلق تھا۔ آپ اس وقت کھڑے ہوئے تھے۔ میں نے آکر سلام کہا۔ آپ نے سلام کے جواب کے بعد یہ فرمانا شروع کیا کہ امیر الدین ! تو بہت صاحب نصیب ہے۔ میں نے عرض کی کہ حضرت! یہ کیا بات ہے؟ آپ فرمانے لگے کہ حضرت صاحب نے حکم دیا ہوا ہے کہ جو دوست بارہ بجے تک آجاویں۔ ان کے نام لکھ کر مجھ کو دیدو تاکہ میں ان کے لئے دعا کروں۔ میں نے نام لکھ دیا دوسرے دن عید کے روز نماز عید کے واسطے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مسجد اقصیٰ میں تشریف لائے اور خطبہ شروع ہوا اور ہم لوگ جماعت کے سامعینِ خطبہ تھوڑے آدمی تھے۔ میرا قیاس ہے کہ شاید سو (۱۰۰) کے قریب آدمی ہوگا یا کم و بیش۔ اس وقت حضرت صاحب کی آواز مبارک خطبہ پڑھتے ہوئے بچوں کی سی تھی۔ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم رضی اللہ عنہ ‘ مفتی محمد صادق صاحب‘ خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ ‘ شیخ یعقوب علی صاحب تراب۔ یہ دوست اس میں موجود تھے۔ آپ ایک ایک فقرہ خطبہ الہامیہ کا پڑھتے تھے اور کئی دوست لکھنے والے لکھ رہے تھے اور حضور سے پوچھ پوچھ کر لفظ لکھتے تھے۔ اس طرح وہ خطبہ ختم ہوا۔ بعد نماز کے حضرت صاحب مسجد سے نکل کر اس طرف بازار کی طرف نکلے اور وہ دوست جو مسجد میں تھے پیچھے پیچھے ہولئے۔ آخر جوشہر کے باہر ’’بوہڑ ‘‘ہے اسکے نیچے جا کھڑے ہوئے۔ اس جگہ دوستوں نے حضرت صاحب کے گردا گرد حلقہ باندھ لیا اور مصافحہ کیا۔ ازاں بعد میں جب کبھی قادیان میں آتا تھا۔ تو حضرت صاحب کے ساتھ سیر میں بھی شامل ہوتا تھا۔ کبھی آپ اس طرف جہاں اب ہائی سکول ہے سیر کو جاتے اور کبھی مشرق کی طرف جاتے تھے۔ آپ کے آگے پیچھے‘ دائیں بائیں دوست رہتے تھے اور میں آپ کے پیچھے اس قدر قریب ہوتا تھا کہ کبھی کبھی میرا پائوں حضرت صاحب کی سوٹی پر پڑ جاتا اور سوٹی گر جاتی ۔ غرض یہ کہ آپ کے آگے پیچھے لوگ چلتے تھے۔ یہ تھا حال سیر کا اور آپ چلتے ہوئے اور آخر سیر کے اخیر پر بھی جاکر تقریر کرتے ہوئے ہی رہتے تھے۔ پھر میں یہ بھی ایک موقع عرض کئے دیتا ہوںکہ جب طاعون کے متعلق جلسہ ہوا ہے تو میں بھی اس میں شریک تھا۔ اور وہ ’’بوہڑ‘‘ جو قادیان سے مشرق کی طرف جھیل کے کنارے پر ہے۔ اس کے نیچے جاکر جلسہ ہوا تھا۔ اور آپ نے اس ’’بوہڑ‘‘ کے نیچے کھڑے ہوکر تقریر فرمائی تھی۔ میرے قیاس میں اس وقت جلسہ میں شریک ہونے والے آدمی قریباً تین چار سو تھے۔ کمی و بیشی واللہ اعلم۔ پھر اس کے بعد میں نے جماعت کو بڑھتے ہوئے دیکھا اور وہ وقت آگیا کہ جب جلسہ دسمبر کے مہینے میں قائم کیا گیا تو بہت سی خلقت آنے لگی ۔ ایک دن شام کے بعد کھانا کھلانے کے واسطے یہ تجویز تھی کہ حضرت صاحب نے حکم دیا ہوا تھا اور اس مکان پر جو کہ چھتی ہوئی گلی کے مغرب کی طرف ہے کھلایا گیا اور اس وقت ایک ایک ضلع کے آدمیوں کو بند کرکے کھانا کھلاتے تھے۔ اس وقت گوجرانوالہ کے آدمی کھا رہے تھے دروازہ بند تھا میں بھوک سے تنگ آکر اس جگہ گیا۔ مجھے داخل نہ کیا گیا۔ میں واپس آکر بھوکا سو رہا۔ رات کو حضرت صاحب کو الہام ہوا۔’’یاایھا النبی اطعم القانع و المعتر‘‘٭
    تو صبح حضرت صاحب نے دریافت فرمایا کہ کھانے کی کیا تجویز ہورہی ہے تو عرض کیا گیا کہ ایک ضلع کے آدمیوں کو بلا کر دوسرے کو بلاتے ہیں۔ میرے سامنے حضرت صاحب نے یہ فرمایاکہ ’’دروازے کھول دو۔ جو آئے اس کو کھانے دو۔‘‘نوٹ۔ خط کشیدہ الفاظ لکھاتے وقت میاں امیر الدین صاحب رو پڑے اور یہ الفاظ انہوں نے روتے ہوئے لکھائے۔
    (عبدالقادر)
    ۳۹۔۱۔۱۴
    ٭ نوٹ: اس الہام کے جو الفاظ تذکرہ میں مذکور ہیں وہ یوں ہیں ’’یا ایھا النبی اطعموا الجائع و المعتر‘‘ (تذکرہ صفحہ ۷۴۶ مطبوعہ ۱۹۶۹)

    روایات
    میاں اللہ دتہ صاحب ولد میاں خیر محمد صاحب ذات سہرانی احمدی
    سکنہ بستی رنداں تحصیل و ضلع ڈیرہ غازی خاں صوبہ پنجاب
    میں خدا کو حاضر ناظر جان کر اور اس کو گواہ رکھ کر مندرجہ ذیل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق اپنے علم و فہم و یادداشت کی بنا پر سچ سچ روایت بیان کرتا ہوں۔
    ۱۔ میں ۱۹۰۱ء ماہ مئی کو قادیان شریف پہنچا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بیمار تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے احباب یعنی حضرت مولوی نور الدین صاحب و مولوی عبدالکریم صاحب کو بلایا ‘میں بھی شامل تھا۔ حضرت اقدس نے فرمایا میں نے تم کو خدا اور رسول کے راستہ پر کردیا ہے اور یہی راستہ سیدھا ہے۔ زندگی کا کوئی اعتبار نہیں۔
    ۲۔ ایڈیٹر البدر جو حضرت مفتی محمد صادق صاحب سے پہلے تھے جو ان کا نام بھول گیا ہوں۔ ان کے مکان پر ٹھہرے ہوئے تھے کہ بعد نماز عشاء حضرت اقدس کے مکان کے اوپر ایک روشنی آسمان سے نازل ہوئی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مکان پر سیدھی اتری۔ میں نے بھی دیکھا اور میرے دو ساتھی اور تھے انہوں نے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
    ۳۔ فجر کی نماز پڑھنے کے لئے گئے تو اسی رات حضرت صاحب کو الہام ہوا کہ ’’فتح من اللہ و نصر قریب‘‘ ۔ یہ الہام چھاپ کر مسجد مبارک کی دیواروں پر لٹگایا گیا تھا۔پھر ۱۵ یوم میں اور دو ساتھی میاں اللہ بخش خان رند مرحوم ‘ و محمد عظیم خاں جو اب زندہ موجود ہیں۔ قادیان شریف ٹھہرے۔ مولوی عبدالکریم صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے حضور عرض کیا کہ یہ بیچارے ناخواندہ ہیں۔ ان کے لئے دعا فرمائی جاوے اور فرمایا لوگ ان کا مقابلہ کریں گے ۔ اللہ تعالیٰ ان کے مخالفوں کا گلا گھونٹ دے گا اور زبان بھی بند ہوجائے گی۔اور پھر جب قادیان شریف سے حضرت اقدس سے رخصت ہوکر واپس ہوئے تو ضلع مظفر گڑھ میں موضع اوترا سندیلہ رات ٹھہرے۔ تو صبح کو مولوی حافظ عبدالقیوم جو اہلحدیث تھے ہمارے ساتھ مباحثہ شروع کردیا اور دوران گفتگو میں زبان بند ہوگئی اور گلا بھی گھونٹا گیا اور پھر حافظ مذکور کو ذیلدار علاقہ نے ۔۔۔نکال دیا۔
    ۴۔ پھر ۱۹۰۳؁ء یا ۱۹۰۴؁ء کا واقعہ ہے کہ میں قادیان شریف گیا۔ موقع عید کا تھا اور لنگر خانہ میں لنگر چلا۔ تو عام و خاص کی تجویز ہونے لگی تو میری نیت میں فرق آنے لگا کہ جو مہدی موعود ہوگا وہ حاکماً وعادلاً ہوگا مگر اب اس لنگر خانہ میں ریا ہونے لگا ہے ۔ مساوات نہیں ہے ۔پھر صبح کو مسجد مبارک میں گیا تو حضرت مسیح موعود اذان سے پہلے تشریف لائے تو آتے ہی فرمایا مولوی نور الدین صاحب کہاں ہیں۔ حضرت مولوی صاحب نے عرض کی حضور میں حاضر ہوں۔ حضرت اقدس نے فرمایا رات اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی کہ تیرا لنگر خانہ ناخن کی پشت برابر بھی منظور نہیں ہوا کیونکہ لنگر خانہ میں رات کو ریا کیا گیا ہے اور اب جو لنگر خانہ میں کام کررہے ہیں ان کو علیحدہ کرکے قادیان سے چھ ماہ تک نکال دیں۔ اور ایسے شخص مقرر کئے جائیں جو نیک فطرت ہوں اور صالح ہوں اور فجر کی روٹی‘ میرے مکان کے نیچے چلایا جائے اور میں اور میاں محمود احمد اوپر سے دیکھیں گے ‘اور میں نے فجر کو اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ اور استغفار پڑھی کہ میں نے بدگمانی کی ۔ یا اللہ مجھ کو معافی دے۔ یہ کرامات حضرت اقدس کی میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔
    ۵۔ اوردوسرے روز کسی شخص نے سوال کیا کہ حضور ہم احمدی ہوچکے ہیں اور حضور نے فرمایا ہے کہ غیر احمدی پیچھے نماز نہ پڑھو مگر ہماری رشتہ داریاں ہیں۔ ہم مجبور ہیں کہ نماز پڑھیں۔حضور نے فرمایا کہ میں نے خدا سے خبر پاکر تم لوگوں کو سنا دیا ہے کہ یہ لوگ مردہ ہیں۔ زندہ مردہ کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتا۔ عرصہ چار ماہ تک میں اور اللہ بخش صاحب قادیان شریف میں ٹھہرے رہے۔
    اللہ دتہ سہرانی
    نشان انگوٹھا
    عبدالقادر
    ۳۹۔۱۔۱۹
    نوٹ۔ میاں اللہ دتہ صاحب ان پڑھ ہیں اس لئے انگوٹھا لگایا ہے

    روایات
    شیخ محمد شفیع صاحب سیٹھی احمدی
    سکنہ جہلم شہر محلہ خواجگاں متصل ڈاکخانہ شہر
    میرا لڑکپن کا زمانہ تھا۔ دریا پر نہانے جایا کرتے تھے۔ چیچک کا محکمہ شروع ہوا تھا۔ لڑکے آپس میں باتیں کرتے تھے کہ چیچک کے ٹیکے والے مہدی کو ڈھونڈتے ہیں۔ اس کے بازو سے دودھ نکلے گا اور دل سے خون نکلتا ہے۔ میں جب دریا پر نہانے جایا کرتا تو بہتے پانی پر دعا کیا کرتا کہ یا اللہ وہ مہدی اور وہ عیسیٰ جس کے آنے کی خبر ہے کہ دوبارہ آئے گا وہ دکھا دے۔ یہ آواز بہت دفعہ میری زبان سے نکلتی تھی۔ اس سے آگے اور زمانہ گزرا۔ تو ایک مولوی نے میری دکان پر ایک کتاب رکھی۔ میں نے ان کو کہا کہ دیکھ لوں۔ کہا دیکھ لو۔ جونہی کھولی تو اوپر کے صفحہ پر چھ سطور میں مہدی کا حلیہ لکھا تھا کہ قد میانہ ہوگا۔پیشانی کشادہ ہوگی۔ بال سیدھے۔ چشم نیم خواب۔ ایسے بال جیسے حمام سے آئے ہیں۔ اس کے بعد اور زمانہ گزرا۔ تو ہمارے شہر کے مولوی برہان الدین صاحب حضرت مسیح موعودؑکے پاس قادیان جایا کرتے تھے۔ مولوی صاحب سے میرا بہت تعارف تھا۔ وہ بھی پہلے اہلحدیث تھے۔ میں بھی اہل حدیث تھا۔ ۱۸۹۱ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعویٰ کیا۔ تو شہر اور آس پاس بہت شور و غل رہا۔ آخر ۱۸۹۳ء میں بات بہت مشہور ہوگئی اور آپ کا دعویٰ بہت شہرت پکڑ گیا۔ ایک دن میں اپنے محلہ کی مسجد میں نماز پڑھنے گیا تو پہلی جماعت ہوچکی تھی۔ (آگے پیچھے بھی جاتا تھا) اس روز حافظ غلام محی الدین سکنہ بھیرہ جو کہ حضرت خلیفۃ المسیح اول کے شیر بھائی تھے۔ انہوں نے جماعت کرائی تو ہم تین آدمی مقتدی تھے۔ جب انہوں نے بلند آواز سے قر اء ت شروع کی تو وہ دونوں میرے دائیں بائیں سے ہٹ گئے ۔ میں نے اختلاف نہ کیا۔اور ساتھ نماز ادا کرلی۔ حافظ صاحب موصوف بیعت کرچکے ہوئے تھے۔ جب نماز ادا کرکے میں گھر آیا تو معاً راستہ میں مجھے خیال آیا تو راستے میں ایک آدمی کو کہا کہ میرے ساتھ قادیان چلو۔ نصف کرایہ دیتا ہوں۔ یہ صاحب میرے قریبی رشتہ دار تھے۔ اس نے کہا مجھے فرصت نہیں۔ معاً خیال آیا کہ جو حضرت مسیح موعود کو مانتے ہیں وہ دلی صفائی سے مانتے ہیں جو انکار کرتے ہیں وہ بڑی بد زبانی سے ماننے والوں کو اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یاد کرتے ہیں۔ مجھے خیال آیا کہ اے دل تو بھی دیکھ کہ تو کدھر ہوتا ہے۔ ماننے والے خوب مانتے ہیں اور لوگوں کی گالیاں سہتے ہیں۔ نقصان برداشت کرتے ہیں۔ اس سے پہلے میرا حقیقی بڑا بھائی شیخ قمر الدین قادیان سے ہو آیا تھا۔ مگر بیعت سے محروم رہا۔ لیکن قادیان کی مہمان نوازی کی صفت ضرور کرتا رہا۔ میں نے ان خیالوں کے باعث دکان سے آتے ہی دکان کی چابیاں گھر والوں کو دے دیں اور کہا کہ بھائی کو دے دینا وہ دکان لگائیں۔ میرا کہہ دینا پار گیا ہے۔ میں ریل میں سوار ہوا۔ یہ سب واقعہ اسی ایک روز کا ہے۔ دوسرے روز ساڑھے بارہ بجے یا ایک بجے قادیان پہنچ گیا اور مسجد مبارک میں گیا۔ جہاں خلیفۃ المسیح اول اور مولوی عبدالکریم صاحب ‘ حکیم فضل الدین صاحب علاوہ ان کے اور بھی دو چار آدمی تھے میں نے مولانا عبدالکریم صاحب دیکھے ہوئے تھے ۔ مولوی نور الدین صاحب بھی۔ کیونکہ وہ جہلم آتے رہتے تھے۔ خلیفۃ المسیح اول نے مجھ سے سب حال دریافت کیا اور نماز ظہر کی انتظار تھی ۔ حضرت مسیح موعود ؑ تشریف لانے والے تھے اور حضور اندر سے معاً تشریف لائے اور صف کھڑی ہوگئی اور امام مولوی عبدالکریم صاحب تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میری دائیں جانب ایک مقتدی چھوڑ کر کھڑے تھے۔ بعد نماز حضور سے تعارف ہوا۔ یہ سب واقعہ ۱۸۹۳ء کا ہے۔ اس روز غالباً جمعرات تھی۔ میں نے جب ان کو دیکھا تو ان کے نورانی چہرہ کو دو منٹ تک بھی نظر بھر کر نہ دیکھ سکا۔یہ ہستی جھوٹ بولنے والی نہیں ہے۔ میرے قادیان جانے کے بعد پیچھے میرے برادر نے دوسرے چچا زاد برادر کے ساتھ پراپیگنڈہ کیا کہ جب محمد شفیع قادیان سے آئے گا تو اس سے پوچھیں گے۔ تو قادیان کا نام نہ لے گا۔ ہم اسے جھوٹا کریں گے کہ یہی تو وہاں سے سیکھ کر آیا ہے۔ جب میں دو تین روز بعد واپس جہلم آیا اور گھر پہنچا تو اس وقت میں بیعت کرچکا ہوا تھا۔ (میں نے بیعت گول کمرہ میں جمعہ سے پہلے اکیلے حضرت مسیح موعودؑ کے ہاتھ پر کی) جب دکان پر گیا تو جس بھائی کو میں ساتھ قادیان لے جانا چاہتا تھا اس نے مجھے قادیان خط لکھا تھا کہ میرے لئے وہاں دعا کرنا۔ وہ لفافہ واپس جہلم آگیا۔ اس خط کے واپس آنے کے باعث میرے بھائی نے پراپیگنڈہ کیا کہ خط واپس آگیا ہے ۔ اب محمد شفیع قادیان جانے کے متعلق انکار کرے گا۔ جب دکان پر آیا قدم رکھتے ہی میرے بھائی نے پوچھا کہ کہاں گیا تھا میں نے صاف قادیان کاکہا۔ وہ خاموش ہوگیا۔ اور پراپیگنڈہ بنا بنایا رہ گیا۔ لوگوں میں شہرت ہوگئی کہ ایک بھائی موافق ‘ ایک مخالف ہے۔ پھر میں قادیان گاہ بگاہ جاتا رہا۔
    ناواقفیت کے باعث تھوڑا ٹھہرتا رہا۔ میں نے حضرت صاحب سے اجازت طلب کی تو فرمایا اور ٹھہرو۔ ایک روز حضور سے ملاقات کے لئے گیا تو حضور تیسری منزل کی چھت پر تشریف لے گئے۔ وہاں کیا دیکھا کہ دونوں طرف کاغذ‘ قلم‘ دوات ہے۔ آتے جاتے کچھ نوٹ کرتے ہیں۔ اسی طرح قادیان آنے جانے کا سلسلہ لگا رہا۔ قصبہ کے مشرقی جانب ڈھاب تھی۔ وہاں ہم وضو کرتے تھے۔ ایک دن حضور نے سیر کو جاتے جاتے قصبہ کے مشرقی جانب ایک مسجد دکھائی فرمایا کہ یہ مسلمان نمبرداروں کی مہربانی سے دھرم سال میں بنی ہے جس میں وضو کرنے کی جگہ بنی ہے۔ نالی پختہ ہے۔ کنواں موجود ‘ غسلخانے موجود‘ وہاں دو سکھ بیٹھے تھے۔ حضور باہر جاتے تو مسجد نور کی بڑی بڑ کی جڑوں پر تشریف فرما ہوتے۔ دیگر ساتھی زمین پر بیٹھ جاتے۔ فرمایا کرتے کہ یہ جنگل منگل بن جائے ۔ یہ قصبہ بیاس دریا تک جائے گا اور بڑے بڑے پیٹ والے جوہری جو بازار کی زینت ہوتے ہیں بڑے بڑے بازاروں میں بیٹھا کرینگے۔
    جس روز صحابہ ۳۱۳ شمار میں آئے تو خاکسار وہیں تھا۔ ہمارے مولوی برہان الدین صاحب بھی وہیں تھے اور بھی بعض بعض جہلم کے لوگوں کے نام ۳۱۳ میں ہیں۔ چونکہ مولوی صاحب مجھے میاں محمد کے نام سے یاد کرتے تھے۔ یہی نام میرا مولوی صاحب نے لکھوا دیا۔ ویسے میرا پورا نام شیخ محمد شفیع سیٹھی ہے۔ جب مدرسہ احمدیہ والی جگہ میں پہلا یا دوسراجلسہ ہوا۔ تو موجودہ خلیفہ صاحب (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی) نے تقریر فرمائی۔ تو خلیفۃ المسیح اول نے فرمایاکہ جو معارف قرآن تقریر میں میاں صاحب نے فرمائے۔ مجھے بھی یاد نہیں تھے۔ یہ بچہ کچھ ہوکر رہے گا اور دنیا کو کچھ دکھائے گا۔
    جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۰۳ء میں بمقدمہ کرم دین جہلم تشریف لائے اس روز جمعہ تھا۔ ہماری جماعت نے وسیع پیمانہ پر انتظام کیا ہوا تھا۔ مکانات‘ کوٹھیاں لی ہوئی تھیں۔ روٹی کھانے والے مہمانوں کی تعداد ساڑھے چار صد تھی۔ یہ تعداد کھانا کھانے والے احمدیوں کی تھی۔ ویسے کچہریوں میں دیکھنے والے ہزاروں تھے۔ تمام راشن کا انتظام میرے سپرد تھا۔ گھوڑے گاڑیاں بہت دہلی گئی ہوئی تھیں۔ تھانیدار میاں سنگھ ڈوگرہ تھا۔ تحصیلدار بابو غلام حیدر تھا۔ ان کو ہم نے عرض کیا کہ جتنی گاڑیاں ہیں۔ ہمیں دی جائیں۔ سب کا کرایہ ہم ادا کریں گے۔’’ مریدکے‘‘ اور’’ کامونکی‘‘ کے درمیان حضور کو الہام ہوا کہ ’’ہمارے بسترے روساء اٹھائینگے‘‘۔ تو معاً جہلم گاڑی جاتے ہی ان دونوں نے بھی اٹھائے۔جس کے باعث وہ الہام پورا ہوا۔ دوسرا الہام ہوا کہ لوگ درختوں پر چڑھ کر تم کو دیکھیں گے۔ سو ویسا ہی ہوا۔ جگہ کی قلت کے باعث لوگ درختوں پر چڑھ کر حضور کو دیکھتے رہے۔ ہفتہ والے روز کچہری میں پیشی تھی۔ اگلے روز اتوار تھا۔ حاکم نے حکم دیا کہ فریقین اپنی اپنی جگہ چلے جائیں جو حکم ہوگا سنادیا جائے گا۔ حضور اتوار کے روز شہر اور بازار سے پیدل ہوتے ہوئے اسٹیشن پر تشریف لائے۔ بہت سے لوگوں نے بیعت کی۔ جو اخبار الحکم بدر میں مندرج ہیں۔ وہ اخبار میرے پاس موجود ہیں۔ جہلم بہت مخالفت رہی۔ لوگوں نے زور لگایا کہ میرے اور میرے بھائی میں نفاق پڑے۔ میں نے بھائی سے کہا کہ میرے بیٹھے حضرت صاحب کی ہجو نہ کیا کرو۔ میں ان کے متعلق تجھے کچھ نہ کہا کرونگا مگر باز نہ آیا ناچار میں اس سے الگ ہوگیا۔ اس نے مجھے بڑی مالی ضرب لگائی۔ میرے بچوں کی منگنیاں رکوا دیں مگر میں نے معاملہ خدا کے سپرد کیا۔زمانہ گزرتا گیا۔ مخالفت بڑھتی گئی۔ میرے بچوں کے رشتے چھینے گئے۔ مگر اللہ نے ہر میدان میں کامیاب ثابت رکھا۔ اور خدا نے احمد یوں کے ہاں رشتہ کی تجویزوں کو کامیاب کیا۔ مخالف پھر رشتے دیتے تھے مگر نہ لئے۔ میں ۱۹۱۷ء میں اپنی دکان جہلم سے منتقل کرکے حافظ آباد گیا۔ وہاں جماعت احمدیہ بنائی۔ حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی بھی جایا کرتے تھے۔ میں ۱۹۱۹ء تک وہاں رہا۔ ۱۹۱۸ئ؁ ‘۱۹۱۹ئ؁ میں خلافت اور کانگرس کے باعث بہت شور رہا۔ بہت گرفتاریاں ہوئیں۔ مقامی عہدیداران سرکاری بدل دیئے گئے۔ یعنی ہر دو تحصیل دار ‘ منصف صاحب‘ انسپکٹر صاحب اور تھانیدار بدل دیئے گئے۔انسپکٹر مسلمان پٹھان آیا۔ اس نے خلقت کو اکٹھا کیا۔ شام کا وقت تھا۔ میرے ساتھ ایک لڑکا تھا۔ (دکان پر) شام پڑتی تھی۔ دکان بھی سنبھالنی تھی۔ میں نے دعا کی کہ یا الٰہی پہلے مجھے پیش کرو۔ اس وقت اس کی کوٹھی کے اردگرد پانچ چھ سو آدمی تھا۔ اس نے مجھے ہی پہلے بلایا۔ اس کے قلمدان میں چار قلمیں تھیں۔ اس کے منشی نے پوچھا کہ تیرا کیا نام ہے۔ میں نے بتایا کہ شیخ محمد شفیع سیٹھی احمدی سکنہ جہلم حال وزیر آباد‘ انسپکٹر صاحب نے قلم اٹھائی۔ لکھنے لگا ۔ سیاہی نے ایک حرف کاغذ پر نہ لکھا۔ پھر دوسری اٹھائی۔ اس نے بھی کچھ نہ لکھا۔ پھر تیسری اٹھائی۔ پھر میں نے معاً کہا کہ میں احمدی جماعت سے تعلق رکھتا ہوں۔ پھر اس نے تیسری رکھی۔ چوتھی رکھی اس نے بھی کچھ نہ لکھا۔ جب چاروں قلموں نے نہ لکھا تو انسپکٹر صاحب نے مجھے کہا کہ جائو میں چلا آیا ‘ میں دس قدم پر تھا کہ وہی قلمیں لکھنے لگ پڑیں۔ جس سے میرے ایمان میںاور تقویت ہوئی۔ میرا ایک پیسہ بھر نقصان نہ ہوا۔ اس اثناء میں ایک رمضان آگیا۔ ہم نے سحری کی روٹی اوپر دکان کی چھت پر کھانی تھی۔ تین چار ہم آدمی تھے۔ تحصیلدار کا حکم تھا کہ ۱۰ بجے رات کے بعد نہ چراغ جلے۔ نہ چار آدمی اکٹھے بیٹھیں۔ ہم نے خدا کے توکل پر سحری کو چراغ جلایا اور کھانا کھلایا۔ اورتحصیلدار صاحب کا چراغ جلتا تھا۔ مگر کسی نے نہ پوچھا ۔ یہ سب برکت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تھی۔ یہ واقعہ جون ۱۹۱۹ء کا ہے۔





    روایات
    میاں علی محمد صاحب احمدی
    سکنہ ککھانوالی ضلع سیالکوٹ
    خاکسار نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق جب سنا (اس وقت میری عمر ۲۲‘۲۳ سال کی تھی) تو میں نے اسی وقت تحقیقات شروع کردی حتیّٰ کہ خداتعالیٰ خود اپنے مسیح کو ۱۹۰۴ء میں سیالکوٹ لے آیا۔ میں بھی سیالکوٹ گیا۔ مگر میں حضور کو دیکھ نہ سکا۔ مگر میرا دل حضور کی طرف کھنچ گیا تھا۔ چنانچہ اخیر ۱۹۰۴ء میں بیعت بذریعہ خط کی۔ اور دسمبر ۱۹۰۴ء میں خاکسار قادیان حاضر ہوا اور دستی بیعت حضور کے ہاتھ پر کی۔ میں نے بیعت مسجد اقصیٰ میں کی۔ مسجد اقصیٰ ان دنوں چھوٹی ہی تھی۔ جس کے اندر تین دروازے تھے۔ اور شمالی دروازہ میں حضور نے بیٹھ کر ہم سے بیعت لی تھی۔ حضور کا رخ مبارک شمالی جانب اور میرا مغربی جانب تھا۔ سب سے پہلا ہاتھ حضور کے ہاتھ پر میرا تھا اور میرے ہاتھ پر چار پانچ اور تھے۔ تخمیناً چار صد اشخاص کا مجمع تھا۔ حضور نے حسب دستور بیعت لی۔ بعد ازاں حضور نے بمع تمام جماعت کے دعا فرمائی اور مجھے یہ یاد نہیں رہا کہ ۱۹۰۵ء میں یا اس سال ۱۹۰۴ء میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی کا مزار کھدوا کر جو قادیان کے مشرقی پرانے قبرستان میں تھا‘۔ وہاں سے مولوی صاحب کی نعش مبارک جو صندوق میں امانت کے طور پر دفن کی گئی تھی نکالی۔ میں بھی وہاں قبرستان میں تھا پھر میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو قادیان کی طرف سے قبرستان کی طرف ایک آدمی کے ہمراہ آتے دیکھا۔ میں ملنے کے لئے پیشوائی کے طور پر بھاگ کر گیا۔ جب نزدیک پہنچا۔ تو حضور کا جلوہ برداشت نہ کرکے حضور کے پیچھے بائیں جانب ایک کرم ہٹ کر چلنا شروع کردیا۔ حضور نے قبرستان میں پہنچ کر فرمایا۔ ’’صندوق کو اٹھا کر باغ کی طرف لے چلو‘‘۔ حضور کبھی کبھی صندوق کو کندھا بھی دیتے جاتے تھے۔ حتیّٰ کہ بڑے باغ میں سے گزر کر باغ کے جنوب میں ایک واہن (ہل چلائی ہوئی) زمین میں صندوق رکھا گیا اور حضور نے جنازہ پڑھایا۔ حضور ایک مُنج کی چارپائی پر بیٹھ گئے۔ میں زمین پر بیٹھ کر حضور کے پائوں دبانے لگ گیا۔ مجمع قریب پانچ سو کے تھا۔ جس میں ہندو سکھ وغیرہ بھی تھے۔ حضرت سیّد حامد شاہ صاحب نے حضرت مولوی صاحب مرحوم کی شان میں نظم پڑھنی شروع کی اور رقت کی وجہ سے رو رہے تھے۔ اور روتے روتے شاہ صاحب کی ریش مبارک تر ہوگئی تھی اور مجمع بھی رو رہا تھا۔ میں نے پائوں دباتے وقت دیکھا کہ حضور کے ازاربند میں ایک بڑا گچھا چابیوں کا بندھا ہوا تھا۔ نیز حضور کے پائوں بالکل سادہ تھے۔ الٹاویں بنے ہوئے تھے۔ چونکہ دن بہت تھوڑا رہ گیا تھا۔ اس لئے حضور نے فرمایا کہ صندوق حویلی میں جو باغ کے جنوب میں ہے رکھ دو اور قبر کھودنے کا حکم فرمایا۔ اگلے روز فجر کے وقت صندوق دفن کیا گیا۔ تیسرے روز حضور نے تقریر فرمائی اور وہ تقریر رسالہ الوصیت کی تھی۔ اور یہ تقریر حضور نے حضرت میاں بشیر احمد صاحب کی بیٹھک میں فرمائی تھی۔ حضور جب سیڑھیوں سے نیچے تشریف لارہے تھے۔ حضور کی گود میں حضور کی صاحبزادی حفیظہ بیگم صاحبہ تھیں۔ صاحبزادی صاحبہ قریباً تین چار سال کی تھیں۔ جس وقت حضور تقریر فرما رہے تھے میں حضور کے دائیں جانب بیٹھا ہوا تھا۔ حضور نے فرمایا۔ ’’میری جماعت چھ ماہ کے بچہ کی طرح ہے۔ جب اس کی والدہ فوت ہوجاتی ہے تو اس کا نگہبان خدا ہوتا ہے مجھ کو بار بار خدا کی وحی آتی اور کہتی ہے کہ تیرا زمانہ اب قریب آگیا ہے۔ جب یہ واقعہ ہوگا‘‘۔ تب سب پر اداسی چھا جائیگی۔ یہ ہوگا ‘ یہ ہوگا‘ یہ ہوگا۔ اس وقت سب جماعت رو پڑی۔ نواب محمد علی خاں صاحب‘ رئیس مالیر کوٹلہ بیٹھک کے دروازہ میں جبکہ ہلکی ہلکی بارش بھی ہورہی تھی۔ جوتیوںمیں بیٹھے ہوئے تھے۔ سبحان اللہ خدا کے نبیوں کی کیا شان ہوتی ہے کہ’’ تیرے پاس لوگ دور دراز کے رستوں سے آئیں گے‘‘۔ ( جس وقت حضور ریتی چھلہ میں مجمع کے درمیان کھڑے تھے گرد بہت اڑ رہی تھی اور حضور دستار مبارک کا پلہ منہ پر پھیرتے جاتے تھے) اور حضور نے فرمایا کہ ’’میرے سامنے لالہ ملاوامل اور شرمپت آریہ کو بلائو جن کے سامنے یہ الہام چھاپ کر شائع کیا گیا تھا‘ کیا یہ پورا ہوا ہے یا نہیں‘‘۔
    ۱۹۰۶ء کے جلسہ سالانہ میں حضور نے تقریر فرمائی اور طاعون کے متعلق فرمایا کہ طاعون ابھی بہت
    پڑے گی چنانچہ واقعہ میں طاعون بڑی سخت پڑی۔
    ایک روز مقبرہ کی طرف حضور سیر کے لئے تشریف لے جارہے تھے اور میرے نسبتی بھائی نظام دین صاحب میرے ساتھ تھے۔ میں نے ان کو پکار کر کہا ( کیونکہ وہ پیشاب وغیرہ کی حاجت کے لئے الگ ہوگئے تھے) بھائی جلدی آئو۔ یہ ہیں حضرت امام مہدی علیہ السلام ۔ کسی دوست نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ نبی کے پاس نبی کی آواز سے بلند آواز نہیں کرنی چاہئے چنانچہ میں خاموش ہوگیا۔
    ۱۹۰۸ء میں آپ لاہور تشریف لے گئے۔ میں بھی حضرت سید حامد شاہ صاحب اور منشی عبداللہ صاحب اور ٹھیکیدار غلام محی الدین صاحب کے ہمراہ لاہور پہنچ گیا۔ مولوی شمس الدین صاحب چونڈہ والے بھی وہاں تھے۔ ایک روز حضور ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب کی کوٹھیوں کے درمیان گیلری میں چارپائی پر چاشت کے وقت بیٹھے ہوئے تھے میں بھی نیچے زمین پر بیٹھ گیا اور کچھ دوست کھڑے تھے اور ایک رئیس صاحب پاس کرسی پر بیٹھے ہوئے حضور سے تبادلہ خیالات کررہے تھے بعد میں معلوم ہوا کہ وہ رئیس صاحب میاں سر فضل حسین صاحب تھے ۔جب میاں سر فضل حسین صاحب بار بار حضور سے سوال کرتے تھے تو حضور بار بار جواب دیتے تھے میں نے میاں سر فضل حسین صاحب کے بار بار سوال کرنے کو گستاخی سمجھ کر‘ اور میں تھا بھی جوان عمر اور جوش طبیعت میں تھا اور زبان بھی دیہاتیوں والی سادی تھی اپنے پنجابی لہجے میں کہا۔ ’’تینوں سمجھ نہیں اوندی تے بار بار کیوں حضور نوں تنگ کرنا ایں‘‘ اس پر وہ سائل میاں صاحب خاموش ہوگئے اور خواجہ کمال الدین صاحب بڑے غیض و غضب سے میری طرف دیکھ رہے تھے خواجہ صاحب کے غصّہ سے میں کچھ گھبرا گیا مگر جب حضور کو دیکھا کہ میری طرف دیکھ کر مسکرا رہے ہیں میں دلیر ہوگیا۔ پھر مجلس برخاست ہوگئی اور حضور اندر تشریف لے گئے بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ یہ میاں سر فضل حسین صاحب ہیں ۔بعدہ‘ اتوار کے روز خواجہ کمال الدین صاحب اور ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب اور مرزا یعقوب بیگ صاحب نے صلاح کی کہ حضرت صاحب کے ساتھ دو انگریز اور ایک میم صاحبہ تبادلہ خیالات کے لئے آئے ہوئے ہیں۔ اس لئے مشرق والی کوٹھڑی خواجہ کمال الدین صاحب کی صاف کرائی جائے۔ چنانچہ سامان میز کرسیاں وغیرہ مہیّا کی گئیں۔ میں بھی ان کے ساتھ شامل ہوکر کمرہ صاف کرنے لگا۔ اور میز کے چاروں طرف کرسیاں بچھا دیں۔ جب خواجہ صاحب مع اپنے ہمراہیوں کے باہر نکلنے لگے تو مجھے بھی کہا کہ اب باہر آجائو میں پہلے ہی سے سوچ رہا تھا کہ یہ مجھے یہاں تو رہنے نہیں دیں گے اب کیا کرنا چاہئے حضور کی محبت میں سب حیلوں بہانوں کو جائز سمجھ کر فوراً کہا کہ آپ چلئے میں یہ فوٹو صاف کرکے آتا ہوں چنانچہ وہ چلے گئے اور مجھے موقع مل گیا جھٹ دروازہ بند کرکے دو کرسیوں کے نیچے بیٹھ گیا۔ ایک کرسی کے نیچے میرا دھڑ اور دوسری کرسی کے نیچے میری ٹانگیں تھیں اور گھبراہٹ کی وجہ سے پسینہ پسینہ ہورہا تھا کہ خواجہ صاحب نے جب دیکھا تو خفا ہوںگے اور جھٹ نکال دیں گے۔ پھر اچانک دروازہ کھلا حضور مع چند ہمراہیوں کے اندر داخل ہوئے اور کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ میں گھبرارہا تھا کہ کوئی باہر نہ نکال دے مگر خدا کی قدر ت حضور اس کرسی پر بیٹھے جس کے نیچے میرا سر اور دھڑ تھا۔ اور جس کرسی کے نیچے میرے پائوں تھے اس پر حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول بیٹھ گئے اور تین کرسیوں پر دونوں انگریز اور میم صاحبہ بیٹھ گئے۔ مجھے یہ تینوں انگریز صاف نظر آتے تھے اور گفتگو شروع ہوئی۔ میں نے دیکھا کہ حضور کی ایڑیاں زمین سے اوپر اٹھی ہوئی ہیں۔ میں نے اپنی پگڑی دوپٹے میں لپیٹ کر ایڑیوں کے نیچے رکھ دی۔ حضور نے جھک کر میری طرف دیکھا اور مسکرا دئے۔ اور فرمایا رہنے دو۔ اب میرا دل دلیر ہوگیا کہ اب کوئی مجھے نہ نکال سکے گا۔ انگریز انگریزی میں سوال کرتے تھے اور مولوی محمد علی صاحب ترجمہ کرتے تھے اور حضور جواب فرماتے تھے اس کا بھی ترجمہ کرکے بتادیتے تھے اور میں نے میم صاحبہ کو دیکھا کہ وہ بڑے غور سے حضور کے چہرہ مبارک پر آنکھیں گاڑ کر دیکھ رہی ہیں۔ جب حضور نے انگریز صاحب کے تیسرے سوال کا جواب دیا تو میم صاحبہ کا چہرہ چمک اٹھا اور انگریزی زبان میں انگریز سائل سے باتیں شروع کردیں۔ میں نے سمجھا کہ اب میم حضور پر خوش ہوکر گویا حضور کی طرف سے انگریز کو جواب دے رہی ہے۔ مولوی محمد علی صاحب نے حضور کو مبارک باد دی اور کہا کہ ان کی بیوی آپ کے حق میں دعا کرتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ واقعہ میںخدا کا رسول ہے۔ اور خدا کے رسول ایسے ہی ہوتے ہیں اور آئندہ اتوار کو آنے کا وعدہ کرتی ہیں۔ بعد ازاں مجلس برخاست ہوئی اور وہ انگریز صاحبان حضور سے مصافحہ کرکے چلے گئے (حضور نے میم صاحبہ سے مصافحہ نہیں کیا تھا)۔
    اس موقع پر مولوی محمد علی صاحب ‘ خواجہ کمال الدین صاحب ‘ سوداگر شیخ رحمت اللہ صاحب‘ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ اور خلیفہ رجب دین صاحب ‘خواجہ کمال الدین صاحب (موجود)تھے۔ پھر اگلے اتوار خواجہ کمال الدین صاحب نے ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب سے صلاح کی۔ آج حضرت صاحب کی تقریر بڑے بڑے رئیسوں میں ہونے والی ہے ۔ گائوں کے لوگ داخل نہ ہوں‘ کیونکہ ان کے کپڑے گندے ہوتے ہیں اور ساتھ دعوت بھی ہوتی ہے مجھ کو سن کر فکر پڑ گئی کہ آج تو مجمع میں داخل ہونا ناممکن ہے۔ سید محمد حسین صاحب کے مکان کے صحن میں اعلیٰ درجہ کی دریاں بچھائی گئیں اور میزیں کرسیاں رکھی گئیں اور رئیس آنے لگے ۔ بعد ازاں حضرت صاحب بھی اندر داخل ہوگئے اور خواجہ کمال الدین صاحب جب دروازہ بند کرنے لگے تو میں نے خواجہ صاحب سے کہا کہ مجھے اندر داخل ہونے دو میں حضرت صاحب کو پنکھا کرونگا۔خواجہ صاحب کے دل میں رحم آگیا۔ انہوں نے مجھے اندر داخل کرلیا اور میں اندر آکر حضور کے پاس پنکھا ہلانے لگا۔ حضور نے فرمایا’’ رہنے دو‘‘۔ تب میں حضور کے سامنے دری پر بیٹھ گیا اور تقریر شروع ہوگئی ۔ حضور نے دیکھا کہ جماعت کے بہت سے آدمی دیوار سے جھانک رہے ہیں۔آپ نے جب دیکھا کہ ہماری جماعت کے دوست باہر کھڑے ہیں اور اندر آنے کے مشتاق ہیں‘ آپ نے فرمایا’’ دروازے کھول دو‘‘۔ جب دروازہ کھولا گیا تو تمام لوگ اندر داخل ہوگئے۔ آپ نے قریباً اڑھائی گھنٹہ تقریر فرمائی ۔ پھرآپ نے فرمایا کہ’’ آپ لوگ امیر زادے ہو۔ کھانا کھانا ہوگا اس لئے میں لیکچر بند کردیتا ہوں‘‘۔ دو تین صاحب کھڑے ہوکر کہنے لگے حضور ہم کو کوئی بھوک نہیں۔آپ کی تقریر میں ہمارے لئے خوراک ہے۔ آپ نے پھر تقریر شروع کی۔ پھر کافی دیر کے بعد جلسہ برخاست ہونے لگا۔ حضور کے آگے کسی نے دودھ کا بڑا سا پیالہ رکھ دیا۔ آپ نے ایک دو گھونٹ لئے۔ میں حضور کے سامنے کھڑا تھا۔ حضور نے وہ پیالہ میرے ہاتھ پر رکھ دیا۔ میں نے ایک گھونٹ پیا۔ اس پر بہت سے دوستوں نے پیالہ لینے کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ پیالہ میں نے ہاتھ سے چھوڑ دیا۔ مگر ایک بک میں دودھ بھر لیا۔ پھر لوگوں نے میری انگلیاں اپنے منہ میں داخل کرلیں۔ جلسہ برخاست ہوگیا۔ حضور چلے گئے۔
    ایک روز چاشت کے وقت جبکہ حضور ابھی لاہور ہی میں تھے۔ حضور سید محمد حسین صاحب کی کوٹھی سے نیچے اترے میں پیشوائی کے طور پر آگے بڑھا۔ جب نزدیک گیا تو حضور کے پیچھے حضرت ام المومنین بھی نکلیں۔ اور ان کے پیچھے صاحبزادی مبارکہ بیگم صاحبہ تھیں اور ساتھ شاید آپا محمودہ بیگم تھیں۔ اور حضور بمعہ حضرت ام المومنین اور حضرت صاحبزادی صاحبہ اور آپا محمودہ بیگم صاحبہ کے نواب محمد علی خان صاحب کی رتھ میں بیٹھ گئے۔ اور رتھ کے آگے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سرخ گھوڑے پر سوار ہوکر رومی ٹوپی پہنے ہوئے چل پڑے۔ اور شالا مار باغ کی طرف چلے گئے ۔ جب دن سر پر آیا تو مجھے چوہدری علی بخش صاحب تلونڈی راہ والی والے کہنے لگے کہ چلو حضرت صاحب کی حفاظت کے لئے چلیں اور مولوی نورالدین صاحب سے اجازت حاصل کریں۔ جب ہم مولوی صاحب کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا تم نے مرزا صاحب کی حفاظت کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔ اور ہنس پڑے۔ اور فرمایا اچھا جائو تم کو خدا اجر دے۔ (ہم نے حضور کی حفاظت کے لئے جانے کے لئے اس لئے ارادہ کیا تھا کہ اس روز سخت آندھی چل پڑی تھی ) جب ہم تھوڑی دور گئے تو ہمیں گھوڑے کے سموں کی آواز آئی ہم ایک طرف ہوگئے تو حضرت صاحب زادہ صاحب گھوڑے پر سوار نمودار ہوئے۔ اور پیچھے رتھ تھی۔ ہم نے رتھ کو دونوں جانب سے پکڑ لیا۔ جب خواجہ کمال الدین صاحب کی کوٹھی کے نزدیک پہنچے تو آندھی بالکل ہٹ گئی۔ چونکہ لاہور میں شدید مخالفت تھی اور میں یہی سمجھا کہ شائد کسی دشمن نے حضور سے شرارت کا ارادہ کیا تھا۔ تو خدا تعالیٰ حضور کو سخت آندھی کے بیچ میں چھپا کے لے آیا تا کوئی دشمن آپ کو دیکھ کر بد ارادہ میں کامیاب نہ ہوسکے اور پھر عین کوٹھی کے نزدیک پہنچ جانے پر آندھی کا بالکل ہٹ جانا میرے اس قیاس کو قوی کرتا تھا اور حضور کوٹھی میں داخل ہوگئے۔ انہی ایام میں ایک روز حضور ظہر کی نماز کے بعد خواجہ کمال الدین صاحب کے دالان کی چھت پر بیٹھ گئے اور میں حضور کے دائیں جانب بیٹھ گیا جماعت کے کچھ دوست کھڑے اور کچھ دوست بیٹھے ہوئے تھے مولوی شمس الدین صاحب چونڈہ والے نے عرض کی’’ یا میرے پیر‘‘ حضور نے ان کی طرف دیکھا مولوی شمس الدین صاحب نے تب آنکھیں نیچی کر لیں اور کہنے لگے حضور میں ایک مسئلہ دریافت کرنا چاہتا ہوں حضور نے فرمایا ’’فرمائیے ‘‘تب مولوی صاحب کہنے لگے میں ایک شام کو نماز پڑھ کر جو نکلا تو گھر میں داخل ہوتے دیکھا کہ مرغیوں کے ڈربے میں سے ایک بلا بھاگا ہے اور ایک مرغی تڑپ کر باہر نکل آئی اس مرغی کا سر بلے نے جدا کر دیا ہوا تھا۔ میں نے گھر والوں سے کارد مانگی جب وہ کارد لائے تو میں نے سوچا کہ اب یہ ذبح کرنے کے قابل نہیں ہے اس لئے نہ تکبیر پڑھی اور نہ اس کو ذبح کیا ۔ حضور نے یہ سن کر اپنا رخ مبارک پیچھے کی جانب پھیرا(یہ یاد رہے کہ جہاں حضور بیٹھے ہوئے تھے حضور کے دائیں جانب میں تھا اور میرے پیچھے حضرت خلیفہ اوّلؓ بیٹھے ہوئے تھے ۔ جہاں سے وہ حضرت مسیح موعودؑ کو نہ دیکھ سکتے تھے۔) جونہی حضور نے اپنا رخ پیچھے کی جانب پھیرا اور پیشتر اس کے کہ حضور مولوی صاحب کو پکاریں ۔ مولوی صاحب فوراً ہوشیا رہوکر اٹھ کھڑے ہوئے۔ مولوی صاحب کو چند دوست دبا رہے تھے۔ حضور نے فرمایا مولوی صاحب مولوی شمس الدین صاحب مسئلہ دریافت کرتے ہیں مولوی صاحب نے کہا حاضر جناب اور اٹھ کر ہنستے ہنستے حضور کے نزدیک چلے آئے۔ ا ور حضور کے دائیں جانب بیٹھ گئے۔ اور میں پیچھے ہٹ گیا اور مولوی شمس الدین صاحب سے ہنس کر فرمانے لگے کہ مولوی صاحب آپ کو کاٹنے کے لیے کوئی رگ نہ ملی ۔ مولوی صاحب یہ مرغی حرام ہے۔ حضرت صاحب نے مولوی صاحب کا فتویٰ سُن کر فرمایا کہ’’ ہمارے مذہب کا دارومدار نرا عقل پر ہی نہیں بلکہ علم کے ساتھ بھی تعلق رکھتا ہے اگر کوئی حدیث یا قول تبع تابعین مل جاوے یا ایسا وقوعہ صحابہؓ کے وقت کا ہوا ہو۔ تو ہم ماننے کے لیے تیار ہیں ‘نہیں تو چار آنے کی مرغی ہے جانے دو‘‘۔
    ایک دفعہ میں نے حضور کو نماز سنت پڑھتے ہوئے دیکھا کہ حضور نے ہاتھ ناف سے اوپر باندھے ہوئے تھے۔ اور اسطرح پر کہ دائیں ہاتھ کی درمیانی انگلی بائیں کہنی تک نہیں پہنچتی تھی۔ بلکہ کچھ پیچھے ہی رہتی تھی اور سجدہ کرتے وقت دونوں ہاتھوں کے درمیان ماتھا اور ناک زمین پر رکھتے تھے اور انگلیاں سیدھی کعبہ کی سمت ہوتی تھیں۔ جب آپ سجدہ سے اٹھتے تھے تو حضور کی دستار مبارک ڈھیلی ہونے کی وجہ سے پیچھے ہٹ جاتی تھی تو سجدہ سے اٹھنے کے ساتھ ہی انگلی سے دستار مبارک کو آگے کر لیتے تھے۔ یہ سنت حضور نے مسجد اقصی میں اپنے والد ماجد کی قبر کے جنوب میں کھڑے ہوکر پڑھیں۔ اور پھر حضرت مولوی نورالدین صاحب نے نماز پڑھائی۔ اور حضور حضرت میاں بشیر احمد صاحب ‘حضرت میر محمد اسحاق صاحب اور حضرت مرزا عزیز احمد صاحب کے ساتھ گھر کی طرف آگئے اور چھوٹی مسجد کے نیچے گلی والے دروازے میں سے حضور اندر تشریف لے گئے۔ اور حضرت میاں بشیر احمد صاحب ‘ حضرت میاں عزیز احمد صاحب۔ حضر ت میر محمد اسحاق صاحب باہر کی طرف چلے گئے۔
    فقط والسلام








    روایات
    چوہدری عبدالعزیز صاحب احمدی پنشنر از نوشہرہ ککے زئیاں
    تحصیل پسرور ضلع سیالکوٹ
    غالبا ً ۱۸۷۷ یا ۱۸۷۸ ء کا واقعہ ہے کہ میں مظفر گڑھ کے شہر میں جماعت چہارم پرائمری میں پڑھتا تھا۔ میرا مکرم و محترم بھائی منشی عبدالکریم‘ قاضی غلام مرتضیٰ خان صاحب اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر محکمہ بندوبست کی پیشی میں محرر جوڈیشنل تھا۔ مولوی جلال الدین صاحب ساکن گوجرانوالہ مظفر گڑھ کے ابتدائی بندوبست کے تاریخ نویس تھے۔ شیخ کریم بخش صاحب منصرم بندوبست اور میر محفوظ حسین صاحب محافظ دفتر تھے۔ چونکہ یہ چاروں اصحاب مذہباً ایک ا ور ایک ہی عقیدہ اور مشرب کے تھے لہٰذا ہر روز شام کے بعد مولوی جلال الدین صاحب کے مکان ( ہمارا مکان جس میں مشترک تھا) میں جمع ہوجاتے اور دن بھر میں جس قدر حصّہ تاریخ اقوام ضلع مظفر گڑھ کا آپ تصنیف فرماکر لکھ لیتے وہ ان کو سنادیا کرتے۔ اسی اثنا میں ’’براہین احمدیہ‘‘ کا پہلا اشتہار اہتمام اشاعت کا اتفاقاً ان کے پاس پہنچ گیا کہ صداقت اسلام و صداقت نبوت حضرت محمد خیر الانام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈیڑھ ہزار جزو کی کتاب لکھی گئی ہے ۔ جو شخص پانچواں حصہ دلائل حقہ کو توڑ دے گا اسے دس ہزار روپیہ کی جائیداد دی جائیگی اور جو شخص اشاعت کتاب میں پیشگی معاونت کرے گا اس کو کتاب پانچ روپیہ میں ملے گی۔ ان کے ساتھ شیخ َغلام علی صاحب ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ بندوبست بھی شامل ہوگئے ۔ اور ان پانچوں اصحاب نے کتاب کی قیمت پیشگی بذریعہ بیمہ رجسٹری قادیان روانہ کردی۔
    ان دنوں منی آرڈر کا رواج نہ تھا۔ کچھ عرصہ بعد حضرت صاحب کا خط آیا کہ کتاب مذکورہ کا حجم بہت بڑھ گیا ہے۔ اگر کچھ اور امداد بطور عطیہ ترسیل کردی جائے تو ثواب میں منسوب ہوگی۔ چنانچہ فی کس دو‘ دو روپیہ اور روانہ کئے گئے۔ حضرت صاحب کے خاص اہتمام میں جو پہلا ایڈیشن براہین احمدیہ کا چھپا ہے اور اس کے ساتھ جو اعلان شائع ہوا ہے اس میں بزمرہ معاونین ان پانچوں اصحاب کے نام صفحہ کے آخر میں درج ہیں۔قاضی غلام مرتضیٰ صاحب اور مولوی جلال الدین صاحب اصحاب صُفّہ میں شامل ہیں مگر خادم کا بھائی حضرت صاحب کے اعلان بیعت سے پیشتر قصبہ موگا ضلع فیروز پور میں فوت ہوچکا تھا۔ (اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو) میری عمر اس وقت بارہ تیرہ سال کی ہوگی میں التزاماً نماز کا پابند نہ تھا مگر پڑھا ضرور کرتا تھا اور بوجہ دینی شغف ہونے کے ان چاروں اصحاب کی شام کی گفتگو کچھ نہ کچھ ضرور سنا کرتا تھا۔
    غنیمت جان مل کر بیٹھنے کو جدائی کی گھڑی سر پر کھڑی ہے
    بندوبست قریب االا ختتام ہوگیا میں اپنے وطن کو چلا آیا اور پسرور کے مڈل سکول میں جماعت پنچم پرائمری میں داخل ہوکر پڑھنے لگا۔ خادم کا بھائی منشی عبدالکریم صاحب تبدیل ہوکر ضلع ہوشیار پور کے بندوبست میں متعین ہوا۔ باقی اصحاب کا کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں تبدیل ہوکر چلے گئے۔ ۱۸۸۵؁ء میں مڈل سکول کا امتحان پاس کرکے امرتسر کے گورنمنٹ ہائی سکول میں داخل ہوگیا۔ ۱۸۸۶؁ء کے سرما کا غالباً واقعہ ہے کہ مولوی جلال الدین صاحب ممدوح جو اس وقت نابینا ہوگئے تھے۔ امرتسر تشریف لائے۔ مجھے اتفاقاً اللہ تعالیٰ نے جو خبر دی تو میں ان کے ملنے کے لئے گیا۔ علاوہ ازیں آپ کے صاحبزادہ کے ساتھ مجھے بے حد محبت تھی۔ہم مظفر گڑھ میں اکٹھے ہی رہتے تھے۔ بعد ملاقات میں نے آپ سے دریافت کیا۔ کہ آپ کیسے یہاں بحالت مجبوری تشریف لائے ہیں ‘تو فرمایا کہ میں حضرت مرزا غلام احمد صاحبؑ کے ہمراہ یہاں آیا ہوں۔ یہ دوسری آواز تھی۔ جو میرے کان میں پڑی۔
    مارچ ۱۸۸۷ء کے آخر میں امتحان میٹریکولیشن (انٹرینس) سے فارغ ہوکر فیروزپور اپنے بڑے بھائی کے پاس چلا گیا۔ جو بوجہ اختتام بندوبست ضلع ہوشیار پور سے تبدیل ہوکر آگیا تھا۔ میں دو مہینے پشتو پڑھتا رہا۔ بعد امتحان میٹریکولیشن میں یکم جولائی ۱۸۸۷ء کو رسالہ نمبر ۱۷ بنگال کیولری متعینہ چھائونی فیروزپور میں بعہدہ انگلش سکول ماسٹر ملازم ہوگیا۔ میرے اسسٹنٹ منشی خیر الدین صاحب جو ریاست مالیر کوٹلہ کے ایک معّززجاگیر دار خاندان سے تھے مقرر ہوئے آپ کو فارسی زبان کا اچھا ملکہ تھا اور آپ پہلے احمدی تھے۔ آپ کو حضرت صاحب کی کتابوںکا بڑا شوق تھا۔ چنانچہ جو بھی کتاب وہ منگواتے مجھے ضرور مطالعہ کے لئے دے دیتے۔ میں اس کو بڑے غور اور ٹھنڈے دل سے پڑھتا اور جو بات میری عقل اور فہم سے بالاتر ہوتی۔ میں اسے ہمیشہ بحوالہ خدا کرتا رہا اور کبھی دل میں نہ کسی قسم کا شک پیدا ہوا اور نہ ہی اعتراض نکتہ چینی یا عیب جوئی کا خیال آیا۔ قصہ مختصر یہ کہ ۲۶ /اکتوبر ۱۸۹۱ء کو ہمارا رسالہ چھائونی فیروزپور سے تبدیل ہوکر چھائونی لورالائی ملک بلوچستان کو چلا گیا چونکہ رسالہ سڑک سوار پیدل جارہا تھا۔ ہم لوگ ماہ دسمبر میں براستہ منٹگمری ملتان ‘ ڈیرہ غازی خاں وغیرہ میدانی اور پہاڑی علاقہ طے کرتے ہوئے لورالائی پہنچے۔ یہاں رسالہ دوسال رہا۔ یہیں مجھے صوفیا کرام کی کتابوں اور مثنوی شریف پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔ حضرت صاحب کی کتاب ’’ازالہ اوہام ‘‘بھی چھپ کر پہنچ گئی۔ ہم نے کتاب مذکور کو بغور پڑھا اور پھر ایک شخص بنام میر احمد شاہ دفعدار کردی۔ اس نے خدا جانے اسے پڑھا یا نہ پڑھا۔ مگر اس نے حضرت صاحب کے الہام انا انزلناہ قریباً من القادیان ‘‘کے متعلق سخت نکتہ چینی کی اور کچھ ناروا الفاظ بھی اپنی زبان سے کہے۔
    چھائونی لورالائی سے تبدیل ہوکر اسی طرح پیدل اسپ سوار٭ چلتے ہوئے فروری ۱۸۹۴ء کو علاقہ منٹگمری سے لگاتار بارشوں میں بھیگتے ہوئے چھائونی انبالہ پہنچے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔ چندوں میں تو میں شروع اپریل ۱۹۰۶ء میں شامل ہوگیا تھا مگر ابھی بیعت نہیں کی تھی۔ ایک دن میں قرآن شریف پڑھ رہا تھا۔ جب میں نے یہ آیت ’’کنت انت الرقیب علیھم‘‘ پڑھی تو مجھے آیتوںکے سیاق و سباق سے یقین آگیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام واقعی فوت ہوچکے ہیں اب ان کا دوبارہ آنا ناممکن الوقوع ہے۔
    غرضیکہ قرآن شریف کی رہنمائی اور احمدی احباب کے فیض صحبت سے متاثر ہوکر میں نے دستی بیعت کرنے سے پہلے بذریعہ خط ۱۹۰۶ء میں حضرت صاحب سے بمع بیوی اور تین بچوں (۲ لڑکے اور ایک

    ٭ اسپ سوار یعنی گھڑ سوار
    لڑکی) بیعت کا شرف حاصل کیا۔ پھر اخیر ماہ ستمبر ۱۹۰۷ء میں اپنے عزیز ملک جلال الدین صاحب سکنہ دھرم کوٹ بگہ کو ہمراہ لے کر قادیان شریف گئے اور نماز ظہر کے بعد مسجد مبارک میں خاص حضرت صاحب کے دست مبارک پر ہم دونوں نے بیعت کی اور اسی روز شام کو موضع بہل چک میں آکر جمعدار حسین بخش صاحب پنشنر کے ہاں مہمان ہوئے پھر علی الصبح ہی میں امرتسر چلاآیا۔
    یہاں تک تو میرے احمدی ہونے کی سرگزشت ہے اب اس سے آگے میری احمدی زندگی کے کچھ کوائف ہیں جو میںبفضلہٖ ذیل میں درج کرتا ہوں۔
    دسمبر ۱۹۰۷ء کے سالانہ جلسہ پر جو آخری جلسہ حضرت صاحب کی حیات طیبہ کا تھا میں حاضر ہوا تھا۔ ۹ بجے حضرت صاحب گھر سے ان سیڑھیوں کے ذریعہ نیچے تشریف لائے جو مسجد مبارک سے چھتی ہوئی گلی میں دفتر محاسب کے کونے کے عین مقابل اترتی ہیں۔ حضور دوسری سیڑھی پرکھڑے ہوگئے اور حضرت مولوی نور الدین صاحب کوخاص طور پر بلوا کر فرمایا۔ ’’رات جو مہمان دیر سے آئے ہیں ان کو کھانا نہیں ملا۔ اور وہ بالکل بھوکے رہے ہیں۔ ان کی فریاد عرش معلی تک پہنچی ہے۔‘‘ حضرت مولوی صاحب نے فرمایا حضور درست ہے‘ واقعی ان کو کھانا پہنچانے میں کوتاہی ہوئی ہے۔ فرمایا ’’ایک کمیٹی چار پانچ آدمیوں کی بنائی جائے جو رات بھر مہمانوں کی آمد و رفت کی نگہداشت اور انکے کھانے کا بندوبست کرے۔ تاکہ آئندہ دوستوں کو تکلیف نہ ہو‘‘ اس وقت ہم لوگ سب گلی میں حضور کے سامنے کھڑے تھے۔ بعدہ‘ حضور سیر کے لئے جس طرف نواب محمد علی خاں صاحب کی کوٹھی بھی ہے تشریف لے گئے۔ تمام احباب حضور کے دائیں بائیں قطار باندھے ہمراہ جارہے تھے ۔ جب حضور واپس لوٹے تو مسجد نور والی جگہ پر کھڑے ہوگئے ایک دوست نے اپنی چوتہی بچھا دی۔ تو حضور مع صاحبزادہ صاحب (خلیفہ ثانی) اس پر بیٹھ گئے۔ حضرت صاحبزادہ صاحب کے سرپر تُرکی ٹوپی تھی۔ مولوی محمد مبارک علی صاحب سیالکوٹی نے ایک فارسی نظم سنائی نماز ظہر کے بعد حضور نے مسجد اقصیٰ میں تقریر فرمائی۔جس کا ایک فقرہ مجھے خوب یاد ہے۔
    ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات تو ثابت ہوچکی ہے۔ اب دوسرے مسائل کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘
    ۱۹۰۸ء کے آغاز میں آریوں کا ایک جلسہ لاہور میں منعقد ہوا۔ انہوں نے حضور کو جلسہ میں شمولیت کی دعوت دی۔ حضور نے اپنا مضمون لکھ کر بھجوا دیا۔ اس میں حضور کے ارشاد کے ماتحت بہت سے احمدی احباب جلسہ میں شریک ہوئے۔ خادم بھی شامل تھا۔ ہمارا مضمون ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے پڑھا۔ آریوں نے اپنے لیکچروں میں بہت سی ناروا باتیں کہیں اور کمال بے ہودہ سرائی بھی کی۔ ہم لوگ صبر سے سنتے رہے۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب ہمارے امیر تھے۔ حضرت اقدس آریوں کا یہ سلوک سن کر بہت ہی کبیدہ خاطر ہوئے پھر حضور انور نے ان کی اس یاوہ گوئی کے جواب میں ایک کتاب لکھی جس کا نام شاید .........ہے۔ اپریل ۱۹۰۸ء کے دوسرے ہفتہ میں میرا دفتر دو ماہ کے لئے شملہ چلا گیا۔ وہاں احمدی جماعت کے ساتھ جس کا مرکز ایڈورڈ گنج میںتھا۔ خوب صحبت رہی۔ایک دفعہ مولوی عمر الدین صاحب شملوی کا میرے ایک دوست شیخ عبدالقادر صاحب نائب پروپرائیٹر آرمی پریس شملہ سے مباحثہ بھی ہوا میں ابھی شملہ میں ہی تھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے انتقال پر ملال کی تار پہنچی۔ ماہ جولائی میں مَیںنیچے انبالہ آگیا۔ یہاں محمد یوسف صاحب وجناب چوہدری رستم علی خاں صاحب کی صحبت میں حظ حیات مستعار حاصل ہوتا رہا۔ماہ دسمبر ۱۹۰۸ء کو میں تبدیل ہوکر میرٹھ چلا آیا۔ یہاں صرف تین ماہ قیام رہا۔ بعد ازاں پھر انبالہ کا تبادلہ ہوگیا۔۔۔۔۔۔
    نوٹ ۔ آگے بھی اپنے حالات چوہدری صاحب نے لکھے ہیں۔ مگر چونکہ براہ راست ان کا روایات سے کوئی تعلق نہیں اس لئے درج رجسٹر نہیں کئے گئے۔
    عبدالقادر جامع روایات صحابہ
    ۳۹۔۳۔۱۹



    روایات
    جناب مولوی برہان الدین صاحب مرحوم جہلمی
    بیان کردہ مولوی مہر الدین صاحب شاگرد مولوی صاحب موصوف
    ۱۔ میں لالہ موسیٰ سے جہلم سودا خریدنے جایا کرتا تھا۔ میں ریلوے گارڈ روم میں ملازم تھا۔ جس کی وجہ سے میں گوشت‘ سبزی‘ ڈبل روٹی وغیرہ خریدنے کیلئے روزانہ لالہ موسیٰ سے جہلم جایا کرتا تھا اور قرآن شریف کا ترجمہ اور صرف ان سے پڑھا کرتا تھا۔ ہر روز سبق لیکر واپس آتا اور گائوں میں ہی یاد کرلیا کرتا تھا۔ میں نے حضرت مسیح موعود ؑ کے متعلق آپ سے دریافت کیا کہ مجھے بھی کچھ بتلائیں۔ آپ نے فرمایا۔ میاں کسی زمیندار کو کہدیں کہ یہ روپیہ کھرا ہے تو وہ پلے باندھ لیتا ہے۔ تیرے جیسے کو دیں تو وہ پرے جاکر پتھر پر مار کر دیکھتا ہے۔ تم خود جاکر دیکھو۔ پھرمان لینا۔ پھر میں چار دن کی رخصت لیکر قادیان پہنچا۔ تو مولوی برہان الدین صاحب بھی یہاں آئے ہوئے تھے۔ تاریخ یاد نہیں۔ مگر یہ اس وقت کا ذکر ہے کہ ڈپٹی عبداللہ آتھم والی پیشگوئی کے پورا ہونے میں دو دن باقی تھے۔ مولوی حکیم فضل دین صاحب نے عرض کیا کہ حضور مہر دین کی بیعت لے لیں۔ حضرت علیہ السلام نے فرمایا ابھی نہیں۔ حکیم صاحب نے اصرار کیا کہ حضور پھر مصروف ہوجاویں گے۔ ابھی بیعت لے لیں۔ مولوی برہان الدین صاحب نے کہا کہ حضور علیہ السلام جس طرح فرماتے ہیں ایسا ہی کرنا چاہئے۔ چنانچہ اس دفعہ میں بغیر بیعت کرنے کے واپس چلا گیا اور چار پانچ ماہ کے بعد اگست ۱۸۸۵ء ٭میں دوبارہ آکر بیعت کی۔ اس کے بعد میں ہر عید قادیان میں آکر پڑھا کرتا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مرتبہ فرمایا کہ میری خواہش ہے کہ اپنے گائوں کے لوگوں کو دعوت طعام دوں اور ساتھ ہی روحانی دعوت بھی دوں اور لوگو ںکو میرے دعویٰ کے متعلق سمجھانے کیلئے حضرت مولوی نور الدین صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب امروہی کو مقرر کیا جاوے۔
    میں بھی وہاں حاضر تھا۔ میں نے عرض کی کہ حضور نے عید کے خطبہ کے لئے مولوی محمد احسن صاحب کو مقرر کیا تھا۔ تو آپ نے علمی رنگ میں خطبہ پڑھا تھا۔ جس سے عوام الناس کوئی فائدہ حاصل نہ کرسکے اس لئے اس مرتبہ آپ مولوی برہان الدین صاحب کو عام لوگوں کو سمجھانے کے لئے مقرر فرماویں۔ کیونکہ وہ پنجابی میں تقریر کرتے ہیں حضور نے فرمایا بہت اچھا ایسا ہی کیا جاوے گا۔ چنانچہ مولوی برہان الدین صاحب نے تقریر کی۔ اور بہت سے لوگوں نے بیعت کی۔
    ۲۔ ایک روز مولوی برہا ن الدین صاحب جہلم میں ایک کتب فروش کی دکان پر کھڑے تھے اور ایک غیر احمدی حافظ سے آپ نے ’’السلام علیکم ‘‘کی۔حافظ نے سلام کا جواب نہ دیا اور کہا کہ مولوی صاحب آپ مرزا صاحب کے ساتھ ہوگئے ہیں اس لئے ہم آپ کا سلام قبول نہیں کرتے۔ مولوی صاحب نے فرمایا کہ حافظ صاحب کونسی آیت کے خلاف حضرت مرزا صاحب کا عمل ہے۔ حافظ صاحب نے کہا کہ آیت ’’لاتسبو ا الذین یدعون من دون اللہ‘‘ ۔ الآیۃ کے خلاف مرزا صاحب نے اس طرح کیا ہے کہ انہوں نے لوگوں کے معبودوں کو گالیاں دے کر سچے معبود کو گالیاں نکلوائی ہیں اور آپ ان کے ساتھ ہیں اس لئے ہم سلام آپ سے نہیں کرسکتے۔ مولوی صاحب نے فرمایا کہ حافظ صاحب کوئی ایسی آیت نکالو جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہو کہ غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کو برا نہ کہو۔ حافظ صاحب لاجواب ہوگئے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے غیر معبودوں کی عبادت کرنے والوں کو کافر ‘ مشرک‘ جہنمی وغیرہ کہا ہے۔
    ۳۔ پھر ایک مرتبہ میں قادیان آیا۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مولوی برہان الدین صاحب کو کہنا کہ قادیان آجائیں ان کے آنے سے مجھے آرام ملتا ہے۔ کیونکہ وہ میرے ساتھ کام کرتے ہیں کتابوں کا پروف دیکھتے ہیں۔ اگر وہ کچھ خرچ کا عذر کریں تو کہہ دینا کہ خرچ ہم دے دیں گے میں نے مولوی صاحب سے جاکر عرض کیا تو وہ قادیان پہنچ گئے۔
    ۴۔ میںایک روز حسب معمول جہلم سبق کے لئے مولوی صاحب کے ہاں حاضر ہوا تو معلوم ہوا کہ آپ ڈپٹی راجہ جہاں داد خاں صاحب کی کوٹھی پر گئے ہوئے ہیں۔ میں اپنا سامان شیخ قمر الدین صاحب کی دکان پر رکھ کرڈپٹی صاحب کی کوٹھی پر پہنچا۔ دروازے پر ان کا نوکر کھڑا تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ اندر جو لال داڑھی والا انسان(مولوی برہان الدین صاحب) بیٹھا ہے۔ اس کو جاکر کہہ دو کہ مہر دین لالہ موسیٰ والا السلام علیکم عرض کرتا ہے۔ جواب میں آپ نے پیغام بھیجا کہ اس کو اندر آنے دو میں نے وہاں پہنچ کر اسلام علیکم کہا ۔ راجہ جہاں داد خاں نے کہا کہ یہ بھی احمدی ہے میں نے کہا ہاں۔ انشاء اللہ اپنے اعتقاد کے لحاظ سے مولوی صاحب سے آگے ہوں۔ اس نے کہا کہ بھائی محمدی کیوں نہ رہا؟ میں نے کہا اب محمدیت کا زمانہ نہیں رہا۔ اب احمدیت کا وقت ہے۔ مولوی صاحب نے فرمایا کہ کیا گاڑی میں کچھ وقت ہے۔ میں نے عرض کی پندرہ منٹ ہیں۔ راجہ صاحب نے کہا کہ آج تم نہ جائو۔ یہاں ہی رہ جائو۔ میں نے کہا وجود وقف کردیا ہوا ہے۔ اس لئے میں رہ نہیں سکتا۔ اس جگہ پر ایک سید صاحب بھی تھے جو کہ حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق مولوی صاحب سے مناظرہ کررہے تھے اور راجہ پیندے خاں صاحب دارا پوری بھی وہاں موجود تھے۔ سید صاحب نے کہا کہ مولوی صاحب آپ مرزا صاحب کے فریب میں آگئے۔ کیونکہ آپ کو مرزا صاحب نے کہا کہ مجھے آپ کے متعلق الہام ہوا ہے۔ مولوی صاحب نے کہا کہ یہ بات نہیں بلکہ جب مرزا صاحب نے براہین احمدیہ کتاب لکھی میں نے اس کتاب کو پڑھا تو میں نے خیال کیا کہ یہ شخص آئندہ کچھ ہونے والا ہے۔ اس لئے میں اس کو دیکھ آئوں۔ میں ان کو دیکھنے کے لئے قادیان پہنچا تو مجھے علم ہوا کہ آپ ہوشیار پور تشریف لے گئے ہیں۔ میں نے کہا کہ بار بار آنا مشکل ہے اس لئے ہوشیار پور جاکر دیکھ آئوں میں نے ان کا پتہ پوچھا تو کسی نے بتلایا کہ ان کی بہلی کے بیل سفید ہیں وہ واپس آرہا ہوگا۔ آپ راستہ میںاس سے پتہ پوچھ لیں۔ جب ہم دریا پر پہنچے تو ہماری نائو بہلی والے کی نائو سے کچھ فاصلے پر گزری اس لئے اس سے کچھ دریافت نہ کرسکے۔ جب میں ہوشیار پور پہنچا تو مرزا اسماعیل بیگ حضور کے ہمراہ بطور خادم تھے۔ حضور کو انگریزی میں الہام ہوا تھا جس کا ترجمہ کرانے کے لئے وہ جارہے تھے کہ مجھے ملے میں نے ان سے پوچھا کہ مرزا صاحب کہاں ہیں انہوں نے کہا کہ شہر میں تلاش کرلیں معلوم نہیں ‘حضرت صاحب نے منع کیا ہوا تھا یا کوئی اور بات تھی آخر میں پوچھ کر آپ کے مکان پر پہنچا اور دستک دی۔ خادم آیا۔ اور پوچھا کون ہے۔ میں نے کہا برہان الدین جہلم سے حضرت مرزا صاحب کو ملنے کے لئے آیا ہے۔ اس نے کہا کہ ٹھہرو میں اجازت لے لوں۔ جب وہ پوچھنے گیا تو مجھے اسی وقت فارسی میں الہام ہوا کہ جہاں تم نے پہنچنا تھا پہنچ گیا ہے اب یہاں سے نہیں ہٹنا۔ خادم کو حضرت صاحب نے فرمایا کہ ابھی مجھے فرصت نہیں۔ ان کو کہہ دیں پھر آئیں۔خادم نے جب یہ مجھے بتلایا تو میں نے کہا کہ میرے گھر دور ہیں میں یہاں ہی بیٹھتا ہوں۔ جب فرصت ملے گی تب ہی سہی۔ جب خادم یہ کہنے کے لئے حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت صاحب کو عربی میں الہام ہوا۔ کہ مہمان آوے تو مہمان نوازی کرنی چاہئے۔جس پر حضرت صاحب نے خادم کو حکم دیا کہ جائو جلدی سے دروازہ کھو ل دو۔ میں جب حاضر ہوا۔ تو حضور بہت خندہ پیشانی سے مجھے ملے اور فرمایا کہ ابھی مجھے یہ الہام ہوا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ مجھے فارسی میں یہ الہام ہوا ہے کہ اس جگہ سے جانا نہیں۔ میں چند دن حضرت کے پاس رہا اور حضرت کے حالات دیکھے کہ تین وقت تک آپ نے کھانا نہیں کھایا اور نماز کے وقت جلدی سے باہر تشریف لاتے اور فرماتے کہ تھوڑا پانی لائو میں نے وضو کرنا ہے نماز ہمارے ساتھ ادا کرکے پھر اندر تشریف لے جاتے۔ وہاں مرزا اعظم بیگ ہوشیار پوری مہتمم بندوبست تھا۔ وہ میرا واقف تھا۔ میں ان سے ملنے کے لئے گیا۔ اس نے پوچھا کہ مولوی جی آپ کیسے آئے ۔ تو میں نے کہا کہ حضرت مرزا صاحب کو دیکھنے کے لئے آیا ہوں۔ اس نے پوچھا۔ کون سے مرزا صاحب۔ میں نے کہا۔ کہ مرزا غلام احمد قادیانی ۔ اس نے کہا کہ آدمی تو بہت اچھا تھا لیکن خراب ہوگیا ہے۔ میں نے کہا کس طرح۔ اس نے کہا کہ بچپن کی حالت میں یہ لڑکوں سے کھیلا نہیں کرتا تھا۔ اس کا والد اس پر ناراض ہی رہتا تھا کہ تم باہر ہی نہیں نکلتے۔ میں نے کہا الحمد للہ۔ اس نے کہا کہ الحمد کا کون سا موقع ہے۔ میں نے کہاجس زمانہ کا میں واقف نہیں تھا اس کے متعلق تم نے شہادت دے دی کہ آپ بچپن میں ہی نیک تھے اور موجودہ حالت میں نے خود دیکھ لی ہے۔ اس نے کہا کہ موجودہ حالت آپ نے کیا دیکھی۔ میں نے کہا کہ تین تین وقت کھانا نہیں کھاتے اور نماز باقاعدہ ہمارے ساتھ پڑھتے ہیں اور باقی وقت تنہائی میں رہتے ہیں۔ عصر کے وقت کوٹھے پر اس تیزی سے ٹہلتے ہیں جیسے کوئی پچاس کوس کا سفر کرنا ہے۔ میرا قیافہ یہ بات کہتا ہے کہ یہ دور پہنچنے والا آدمی ہے۔ اس نے کہا کہ خراب اس لئے ہوگیا ہے کہ کہتا ہے کہ نجات میرے قدموں میں ہے ۔میں نے کہا کس جگہ کہا ہے۔ اس نے کہا کہ اشتہار دیا ہوا ہے۔ میں نے کہا کہ وہ اشتہار لادیں۔ دوسرے دن وہ اشتہار لے آئے ‘جس کو میں نے پڑھا۔ اشتہار وہ تھا جو براہین احمدیہ کے متعلق حضور نے دیا تھا کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ اور محمد رسول اللہ ؐ اس کے رسول ہیں۔ میں اس کی صداقت پر تین صد دلیلیںدیتا ہوں۔ جو شخص میرے دلائل کے ربع کو تو ڑ دے میں اس کو دس ہزار کی جائیداد پر قبضہ دے دونگا۔ میں نے کہا کہ آپ کو یہ دھوکا لگ گیا ہے ۔ جب وہ جائیداد پر بھی قبضہ دینے کو تیار ہے تو وہ فنافی الرسول ہوچکا۔ اور اس کے قدم اپنے نہ رہے بلکہ رسول کے قدم ہوگئے۔ اس نے کہا۔ کہ معلوم ہوتا ہے کہ تم بھی اس کی امت میں ہوگئے ہو۔ میں نے کہا۔ کہ میں تو تیار ہوں لیکن ابھی وہ بناتے ہی نہیں۔ کیونکہ بیعت ابھی شروع نہ ہوئی تھی۔
    بقلم خود مہر الدین
    نمبر ۹ چک پنیار حال وارد قادیان
    ناقل خاکسار عبدالقادر جامع روایات صحابہ
    ۳۹۔۳۔۲۰





    روایات
    ملک نیاز محمد صاحب ولد ملک برکت علی صاحب ککے زئی افغان
    اصل وطن راہوں ضلع جالندھر حال قادیان محلہ دارالفضل معرفت
    ملک برکت اللہ صاحب پسر صاحب موصوف
    ۱۔ بیان کیا کہ میں ۱۹۰۴ء کے گرمیوں کی سکول کی تعطیلات میں اپنے بڑے بھائی حکیم دین محمد صاحب اکائونٹنٹ جو کہ اس وقت ہائی سکول قادیان میں تعلیم حاصل کررہے تھے کی تحریک پر قادیان آیا ان دنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بمع متعلقین باغ میں رونق افروز تھے۔ علاوہ موجودہ مکان باغ والے کے بعض خیمے بھی لگائے ہوئے تھے۔ ایک دن باغ میں مولوی عبدالکریم صاحب وشیخ یعقوب علی صاحب اور بعض اور اصحاب بھی موجود تھے کہ حضرت مسیح اقدس علیہ السلام باہر تشریف لائے ان دنوں پیسہ اخبار کے ایڈیٹر کی لڑکی کے متعلق اخبارات میں کچھ شائع ہورہا تھا کہ اس کا خلاصہ بعض اصحاب نے حضور علیہ السلام کو سنایا۔ ایک سکھ جوکہ بڑا قد آور تھا۔ آگیا۔ اس نے درخواست کی کہ میںحضور سے علیحدہ ہوکر باتیں کرنی چاہتا ہوں چنانچہ حضور اس کے ساتھ باغ ہی میں دور چلے گئے اور اس سے باتیں کرتے رہے اور وں کا تو علم نہیں۔ لیکن کم از کم میں ڈرتا تھا کہ وہ کہیں شرارت نہ کرے۔ مگر آپ بڑی جرا ت اور دلیری سے اس کے ساتھ باتیں کرکے واپس تشریف لائے۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ اس نے اس قسم کے سوال کئے تھے۔ کہ مجھے ان آنکھوں سے خدا دکھلادو۔
    ۲۔ ان دنوں میں نے دیکھا کہ جمعہ کی نماز ہر دو مساجد میں پڑھی جاتی تھی یعنی مسجد مبارک و مسجد اقصیٰ۔ مسجدمبارک میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب امام ہوتے تھے اور مسجد اقصیٰ میں حضرت خلیفہ اول مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ ۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو میں نے مسجد مبارک میں دوران خطبہ میں بیٹھے ہوئے اس طرح دیکھا کہ ایک ٹانگ دوسری کے اوپر رکھی ہوئی تھی اور قبلہ رخ چپ چاپ پگڑی کا شملہ ہاتھ سے منہ کے آگے رکھا ہوا تھا۔
    ۳۔ میں نے دیکھا کہ حضور علیہ السلام کلاہ کی جگہ رومی ٹوپی پہنتے تھے۔
    ۴۔ ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ حضور مسجد مبارک کے مشرقی حجرہ کے اس دریچہ میں جو کہ گلی کی طرف کھلتا ہے ۔ تشریف فرما ہیں اور بعض احباب سے گفتگو فرما رہے ہیں اور پشت گلی کی طرف ہے اور سر پر سفید عمامہ جس کا لمبا شملہ لٹک رہا تھا۔
    ۵۔ اگرچہ میرے والد صاحب ملک برکت علی صاحب ۹۸۔۱۸۹۷ئ؁ سے احمدی تھے اور میں بھی ان کی اقتداء میں بچپن سے احمدی تھا۔ تاہم ۱۹۰۴ء میں جبکہ میری عمر چودہ یا پندرہ سال کے لگ بھگ تھی میں نے حضور کی خود بیعت کی۔ جب کوئی شخص بیعت کرتا تھا ۔ ہم بھی بار بار بیعت کرلیتے تھے تاکہ ہم بھی حضور کی اس دعا میں جو کہ حضور علیہ السلام بعد بیعت فرمایا کرتے تھے شامل ہوجائیں۔ بعض وقت بہت آدمی بیعت کرنے والے ہوتے تھے تو لوگ اپنی اپنی پگڑیاں اتار کر حضور کے ہاتھوں تک پہنچا دیتے تھے اور ان پگڑیوں کوسب لوگ پکڑ لیتے تھے اور اس طرح بیعت ہوجاتی تھی۔
    ۶۔ ۱۹۰۵ء میں ایک دن بوقت عصر ہم کو راہوں ضلع جالندھر‘ کارڈ ملا کہ حضور علیہ السلام دہلی تشریف لے جارہے ہیں اور صبح آٹھ یا نو بجے کی گاڑی سے پھگواڑہ سٹیشن پر سے گزریں گے۔ حاجی رحمت اللہ صاحب ‘ چوہدری فیروز خاں صاحب مرحوم نے میری ڈیوٹی لگائی کہ تم نوجوان ہو اسی وقت جائو اور جماعت کریام کو اطلاع کرو ۔ چنانچہ میں مغرب کے بعد چل کر کریام پہنچ گیا۔ جماعت کو اطلاع کی گئی کہ وہاں سے بھی کچھ دوست ساتھ ہولئے۔ ہم سب لوگ اسی طرح چل کر پھگواڑہ جو کہ راہوں سے تیس(۳۰) میل کے قریب دور ہے پہنچے اور صبح کی نماز پڑھی۔ وہاں سٹیشن پر منشی حبیب الرحمان صاحب مرحوم نے حاجی پور والوں کی طرف سے احباب جماعت کے ٹھہرنے کا انتظام کیا ہوا تھا۔ اور دن کے وقت انہی کی طرف سے کھانا آیا۔ جب گاڑی کا وقت ہوا اور گاڑی آکر گزر گئی تو معلوم ہوا کہ روانگی کی تاریخ تبدیل ہوگئی ہے۔ جس سے ہم کو بہت صدمہ ہوا۔ یا تو راتوں رات وفور محبت کی وجہ سے اتنا لمبا سفر کیا تھا یا یہ حالت ہوئی کہ ایک قدم چلنا دشوار ہوگیا ۔ پیروں میں چھالے پڑے ہوئے تھے۔ اور ملاقات نہ ہونے کا صدمہ تھا اس لئے واپسی پر یکوں پر آئے۔
    ۷۔ چند روز کے بعد پھر اطلاع ملی کہ حضور دہلی سے واپسی پر فلاں تاریخ لدھیانہ میں اتریں گے اور قیام فرمائیں گے۔ یہ رمضان ۱۹۰۵ء کا واقعہ ہے۔ پھر میں بمعیت حاجی رحمت اللہ صاحب و حاجی عبداللہ صاحب و چودھری فیروز خاں صاحب مرحوم و بابا شیر محمد صاحب یکہ بان مرحوم ایک بہلی دو بیلوں والی لے کر راہوں سے لدھیانہ کو چلے جو کہ تقریباً بیس میل کا فاصلہ ہے۔ درمیان میں دریا اور اس کے ریتلے حصے بھی آتے تھے۔ اس بہلی پر ہم چڑھتے اترتے شام کو لدھیانہ پہنچ گئے۔ حاجی رحمت اللہ صاحب کا ایک تین چار سالہ بچہ بنام غالباً فیض اللہ بھی ساتھ تھا۔ وہاں جاکر معلوم ہوا کہ حضور علیہ السلام کل جو گاڑی نو یا دس بجے آتی ہے اس پر تشریف لائیں گے۔ دوسرے روز گاڑی سے گھنٹہ یا ڈیڑھ گھنٹہ قبل ہی ہم سٹیشن پر پہنچ گئے۔ وہاں خلقت کا بڑا ہجوم تھا۔ میرے بڑے بھائی حکیم دین محمد صاحب بھی جو ان دنوں حاجی پور میں انٹرنس کی تیاری کررہے تھے وہاں سے آئے ہوئے تھے ۔جس وقت گاڑی سٹیشن پر پہنچی حضور علیہ السلام کا ڈبہ جو کہ ریزرو تھا کاٹ کر پیچھے کی طرف دھکیلا گیا۔ میں اور میرے بھائی حکیم دین محمد صاحب اس ڈبے کے ڈنڈوں کو پکڑ کر پائیدان پر چڑھ کر ڈبے کے ساتھ ہی پیچھے کی طرف چلے گئے۔ چونکہ میرے بڑے بھائی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب کے کلاس فیلو رہ چکے تھے اور ان کے خوب واقف تھے اور وہ بھی اس ڈبہ میں سوار تھے۔ اس لئے ڈبے کے ساتھ ہم کھڑے ہوکر ان سے باتیں کرتے رہے۔ پھر وہ ڈبہ پلیٹ فارم پر آیا تو حضور اور حضور کے اہل بیت پلیٹ فارم پر اُترے اور سٹیشن سے باہر تشریف لائے۔ سٹیشن سے باہر شکرم دو گھوڑے والی جو کہ بند گاڑی ہوتی ہے ۔ موجود تھی۔ اس میں حضور سوار ہوگئے۔ اور دروازہ بند کرلیا۔ اور ہم لوگ اور بہت خلقت اس کے پیچھے پیچھے دوڑے چلے آئے۔ نہال اینڈ سنز کی دکان کے پاس ایک مکان قاضی خواجہ علی صاحب مرحوم نے غالباً لے رکھا تھا جو کہ برلب سڑک تھا۔ اس میں حضور نے قیام فرمایا۔ برآمدہ میں حضور کرسی پر تشریف فرما ہوئے۔ عام لوگ آکر مصافحہ کرتے رہے۔ حاجی رحمت اللہ صاحب نے بھی اپنے اس تین چار سالہ بچے کے ہاتھ نذرانہ دے کر مصافحہ کرایا۔ حضور نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا کہ’’ اب تو لوگ ہمیں کافر کہتے ہیں یہ نسلیں یاد کریں گی‘‘۔ میرے بڑے بھائی جان محمد صاحب ریٹائرڈ سب انسپکٹر پولیس ان دنوں قلعہ پھلور میں قانون کی تعلیم کے لئے گئے ہوئے تھے۔ وہاں سے بمع ایک دوست چوہدری شہاب الدین کے آئے اور مصافحہ کیا۔ اور عرض کیا کہ حضور یہ بھائی شہاب الدین بیعت کرنی چاہتے ہیں ۔ حضور نے فرمایا کہ عصر کے بعد ۔اس پر میرے بھائی نے عرض کیا کہ حضور ہم پھلور میں تعلیم کے لئے آئے ہوئے ہیں۔ جمعرات کے روز وہاں چھٹی ہوتی ہے اور چار بجے شام سے پہلے ہمیں وہاں پہنچنا ضروری ہے۔ اگر ہم شام تک ٹھہر جائیں تو غیر حاضر ہوجائیں گے۔ حضور نے فرمایا۔ بہت اچھا۔ ابھی بیعت لے لیتے ہیں اور اسی وقت بیعت لے لی۔
    رات کے وقت مغرب اور عشاء کے درمیان ایک سٹیشن ماسٹر لدھیانہ کے پرے کی طرف سے آئے اور اندر اطلاع بھجوائی۔ حضور باہر تشریف لائے۔ انہوں نے عرض کیا کہ حضور میں فلاں سٹیشن پر سٹیشن ماسٹر ہوں۔ دس یا بارہ بجے جو گاڑی جاتی ہے اگر اس پر نہ جائوں تو غیر حاضر ہوجاتا ہوں۔ بیعت کرنی چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ بہت اچھا۔ حضور اور وہ سٹیشن ماسٹر صاحب مفتی محمد صادق صاحب اور بعض اور احباب کھڑے تھے۔ کوئی شخص چارپائی لینے چلا گیا۔ اتنے میں ایک اندھی بوڑھی جو وہاں بیٹھی تھی۔ اس کے دریافت کرنے پر کسی نے اس کو بتلایا کہ یہ حضرت صاحب کھڑے ہیں اس پر اس نے حضورکے پائوں پکڑ لئے۔ اس پر حضور فوراً پیچھے ہٹ گئے اور فرمایا کہ ’’مائی پیر پکڑنے گناہ ہیں‘‘۔ چارپائی آئی اور بچھائی گئی۔ حضور نے اس سٹیشن ماسٹر سے فرمایا کہ بیٹھ جائو۔ انہوں نے ادب کی وجہ سے عرض کیا کہ حضور تشریف رکھیں۔ اس پر حضور نے فرمایا ’’الامر فوق الادب‘‘ ۔ اس کے بعد وہ بیٹھ گئے اور حضور بھی بیٹھ گئے اور ان کی بیعت لی۔ مفتی صاحب جو اکثر انگریزی اخبارات کے خلاصے وقت ملنے پر حضور کی خدمت میں عرض کیا کرتے تھے۔ اس وقت بھی غالباً چارپائی کے آنے تک کے انتظار میں عرض کرنے لگ پڑے۔ ایک بات جو یاد ہے وہ یہ ہے کہ مفتی صاحب نے عرض کیاکہ حضور سودیشی اشیاء پر بہت زور دیا جارہا ہے۔ حضور نے فرمایا کہ بات تو اچھی ہے بشرطیکہ اس میں بغاوت کی بو نہ ہو۔
    عشاء کے بعد نواب ذوالفقار علی صاحب مرحوم مالیر کوٹلہ والے حضور سے ملنے کے لئے آئے اس مکان کے ہال کمرہ میں حضور علیہ السلام تشریف لے آئے اور ان سے خیر و عافیت دریافت کرنے کے بعد حضور نے ایک لمبی تقریر فرمائی جس میں نہ تو نواب ذوالفقار علی صاحب کا نام تھا اور نہ ان کی طرف اشارہ تھا لیکن ہم جو سننے والے تھے۔ یہ خیال کرتے تھے کہ تمام نقشہ ا ن کی روحانی حالت کا کھینچ کر ان کے سامنے رکھ دیا ہے۔
    دوسرے دن جمعہ تھا نہال اینڈ سنز کی دکان کے جانب شمال ایک بہت بڑا احاطہ تھا اس میں حضور علیہ السلام کا لیکچر ہوا۔ بہت بڑا مجمع سننے والا تھا۔ مولوی محمد احسن صاحب امروہوی بھی موجود تھے۔ جو کہ حضور علیہ السلام کے نزدیک بیٹھے تھے۔ جب دوران لیکچر میں کسی آیت کے حوالے کی ضرورت پڑتی تھی تو حضور فرماتے تھے کہ قرآن شریف میں اس طرح فرمایا گیا ہے اور مولوی صاحب سے فرماتے کہ مولوی صاحب وہ آیت کیا ہے۔ وہ جھٹ وہ آیت پڑھ دیتے اور حضور وہ حوالہ دے دیتے۔ اس احاطہ کے غربی جانب برآمدہ تھا۔ اسکے آگے حضور کی سٹیج تھی۔ جس پر حضور کھڑے ہوکر لیکچر دے رہے تھے۔ برآمدے میں سے چائے کی پیالی گرم گرم حضور کے لئے سٹیج پر بھیجی جاتی تھی۔ جب ایک گھونٹ دوران لیکچر میں حلق تر کرنے کے لئے حضور اس پیالی میں سے پی لیتے تو وہ پیالی پیچھے واپس آجاتی تھی اور ہم لوگ اس کو بطور تبرک پی لیتے تھے۔
    ایک واقعہ جو رہ گیا ہے یہ ہے کہ جب حضور گاڑی سے اتر کر مکان میں تشریف لائے تو قاضی خواجہ علی صاحب نے حضور علیہ السلام سے عرض کیا کہ حضور یہاں مولویوں نے حضور کی نسبت بہت کچھ غلط بیانیاں لوگوں میں مشہور کر رکھی ہیں چنانچہ ایک یہ کہ حضور کو نعوذ باللہ کوڑھ ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے ہر وقت ہاتھوں میں دستانے اور پائوں میں جرابیں اور چہرے پر نقاب رکھتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ سڑک پر کرسی بچھا دوں اور حضور وہاں تشریف رکھیں تاکہ لوگوں کو اصل حقیقت سے آگاہی ہوجائے۔ حضور نے فرمایا کہ ’’بہت اچھا‘‘۔ چنانچہ اس مکان کے باہر برلب سڑک کرسی بچھائی گئی اور حضور اس پر تشریف فرما ہوئے۔ لوگ آتے رہے اور مصافحہ کرتے رہے۔
    ۸۔ ۱۹۰۵ء میں مَیںبمعیت اپنے والد صاحب مرحوم و برادران حکیم غلام محمد صاحب (شاگرد حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ) و حکیم دین محمد صاحب بتقریب نکاح حکیم دین محمد صاحب قادیان گیاتھا۔ اس موقع پر بعد نکاح ایک نئے رومال میں کچھ اخروٹ وغیرہ باندھ کر مسجد مبارک کی اندر والی سیڑھیوں سے اوپر چڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مکان کے آگے مسجد مبارک کے ساتھ جو چھوٹا سا صحن ہے اس میں کھڑے ہوکر اندر کسی عورت کو بھیج کر حضور کو باہر تشریف لانے کے لئے عرض کیا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد حضور علیہ السلام دروازے پر تشریف لائے تو میرے بھائی حکیم غلام محمد صاحب نے وہ اخروٹ والا رومال حضور کے دست مبارک میں پکڑا کر عرض کیا کہ حضور کوئی اپنا پورا رومال عنایت فرماویں۔ اس پر حضور نے فرمایا۔ بہت اچھا۔ حضور اندر تشریف لے گئے ۔ تھوڑی دیر کے بعد پھر یاددہانی کے لئے کسی کو اندر بھیجا ۔ حضور نے ایک رومال بھیج دیا۔ میرے بھائی صاحب نے اپنی اہلیہ کی فوتیدگی پر وہ رومال اس کے ساتھ ہی دفن کردیا۔
    ۹۔ ۱۹۰۴ء میں جب میں قادیان گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام دوران مقدمہ کرم دین بھین والے گورداسپور تشریف لے جایا کرتے تھے چنانچہ میں بھی وہاں گیا ۔ ایک تالاب کے نزدیک مکان میں حضور فروکش تھے۔ اور احباب جماعت بھی وہاں ٹھہرتے تھے۔ لنگر خانہ بھی اس کے ایک حصہ میں جاری تھا۔ کچہری میں میں نے دیکھا کہ حضور کے لئے ایک دری بچھائی جاتی تھی۔ اور حضور اس پر بیٹھتے اور دوسرے احباب بھی اس پر بیٹھتے۔ ایک بات میں نے نوٹ کی تھی۔ جو کہ خاص طور پر مجھے یاد ہے کہ حضور جب پیشاب کرنے جاتے تو بعد ازاں وضو ضرور کرلیتے۔ جس سے مجھے یہ یقین ہوگیا کہ حضور ہر وقت باوضو رہتے ہیں۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم بہت آہستگی سے پڑھتے رہتے۔
    ۱۰۔ ۱۹۰۶ء یا ۱۹۰۷ء میں میں بمعیت چوہدری فیروز خاں صاحب مرحوم و حاجی رحمت اللہ صاحب قادیان گیا۔ واپس آنے کے وقت میاں بشیر احمد صاحب کا موجودہ مکان جو کہ اس وقت بطور مہمان خانہ استعمال ہوتا تھا میں جاکر اس کی مشرقی سیڑھیوں پر سے اطلاع حضور علیہ السلام کو کروائی گئی تو حضور ایسی حالت میں تشریف لائے کہ حضور نے قمیص پر واسکٹ پہنی ہوئی تھی کوٹ نہیں تھا۔ حاجی رحمت اللہ صاحب نے عرض کیا کہ حضور میں بزازی کی دکان کھولنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ حضور کا اس معاملہ میں کیا ارشاد ہے۔ حضور نے فرمایا کہ بہت اچھی بات ہے۔ صحابہ بھی کپڑوں کا بیوپار کیا کرتے تھے۔ پھر چوہدری فیروز خاں صاحب مرحوم نے عرض کیا کہ میں نے احمدی ہونے سے پہلے اپنی دو لڑکیوں کے رشتے غیر احمدیوں سے کئے ہوئے ہیں۔ ان کی نسبت مجھے کیا حکم ہے۔ حضور نے فرمایا کہ’’ آپ کردیں ۔ میں دعا کرونگا‘‘۔ اس پر مصافحہ کرنے کے بعد اجازت واپسی کے لئے فرمائی گئی اور ہم آگئے۔
    ۱۱۔ غالباً انہی دنوں میں مدرسہ احمدیہ کے سامنے جو دکانیں کاغانی صاحبان کی ہیں میں بیٹھا تھا کہ اچانک حضرت مسیح موعود علیہ السلام بمع حضرت ام المومنین وہاں سے باغ کو جاتے ہوئے گزرے۔ مہمان خانہ سے ہوکر باغ کی طرف تشریف لے گئے۔ ہم سب لوگ کھڑے ہوگئے لیکن بوجہ حضرت ام المومنین کے ساتھ ہونے کے مصافحہ کسی نے نہیں کیا۔
    ۱۲۔ مئی ۱۹۰۸ء میں میں نے پاکپتن سے سول سرجن صاحب منٹگمری کو اپنی ملازمت کے لئے درخواست بھیجی۔ جس نے ۱۶ /مئی کو اپنے پیش ہونے کے لئے بلایا۔ ۱۵/ مئی کو میں منٹگمری پہنچ گیا۔ ۱۶/ مئی کو میں اس کے پیش ہوا۔ اس نے منظور کرکے مجھے پاکپتن ہسپتال میں کام کرنے کی اجازت دی۔ وہیں منٹگمری میں معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لاہور تشریف لائے ہوئے ہیں۔ چونکہ ان دنوں منٹگمری سے پاکپتن تک سفر یکوں پر بوجہ کچی سڑک کے نہایت دشواری سے ہوتا تھا۔ اس لئے یہ خیال کرکے کہ دشوار سفر تو کرچکا ہوں اب صرف ریل میں بیٹھ کر ہی جانا باقی ہے۔ حضرت مسیح موعود کی زیارت بڑی آسان ہے۔ اس لئے ۱۷/۱۶ کی رات کی گاڑی پر سوار ہوکر ۱۷ /مئی صبح سویرے لاہور پہنچ گیا۔ سٹیشن سے اتر کر کیلیاں والی سڑک پر احمدیہ بلڈنگ میں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام قیام فرما تھے پہنچ گیا۔ وہاں جاکر معلوم ہوا کہ حضور کا لیکچر امرا ء کے لئے مقرر ہے اور صرف امرا ء ہی کو داخل ہونے کی اجازت ہے۔ عام لوگوں کو داخل نہیں ہونے دیتے تھے۔ اس مکان کے دروازے پر جہاں لیکچر ہورہا تھا۔ سید محمد اشرف صاحب راہوں والے کھڑے تھے۔ جو کہ لوگوں کو دیکھ دیکھ کر اندر داخل کرتے تھے۔ میں ان کی منت کرکے اندر داخل ہوگیا۔ چودھری غلام احمد صاحب ایڈووکیٹ اس وقت اسلامیہ کالج میں پڑھتے تھے۔ وہ اب تک افسوس کیا کرتے ہیںکہ اگرچہ میں اس وقت احمدی نہ تھا۔ تاہم اس لیکچر کے لئے گیا۔ مگر سید محمد اشرف صاحب نے ان کو داخل نہ ہونے دیا۔ اس طرح ۱۷/ مئی والا لیکچر میں نے سنا۔ پہلے جس وقت حضور تقریر فرمانے لگے تو حضور کی آواز نہایت باریک تھی۔ جس کی وجہ سے لوگ اپنی اپنی کرسیاں آگے کی طرف کھینچ رہے تھے تاکہ نزدیک ہوجائیں۔ لیکن بعد ازاں حضور کی آواز بہت بلند ہوگئی تھی۔ اس لیکچر کی دو باتیں خاص طور پر مجھے یاد ہیں۔
    ۱۔ حضور نے فرمایا کہ’’ اسلام کی حالت اس وقت نہایت نازک ہے۔ لیکن مسلمانوں کو کوئی احساس نہیں۔ کسی کا پالتو کتا مر جاتا ہے تو اس کو افسوس ہوتا ہے۔ کسی کی پالتو بلی مر جاتی ہے تو اس کو افسوس ہوتا ہے لیکن اس وقت اسلام مردہ ہوگیا ہے اور کسی کو کوئی فکر نہیں‘‘۔
    ۲۔ حضور نے فرمایا کہ ’’مسلمان اپنے بچوں کو اس طریق سے تعلیم دیتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم سے بالکل بے بہرہ رکھتے ہیں۔ جب ان کو کہا جاتا ہے کہ اسلام کی تعلیم دلائو۔ تو کہتے ہیں کہ پہلے انگریز ی وغیرہ پڑھ لیں۔ پھر وہ بھی دلوالیں گے۔ حضور نے فرمایا کہ ان کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کسی باعصمت اور باحیا عورت کو پہلے بازار میں بٹھلادیا جائے اور پھر اس سے یہ امید رکھی جائے کہ وہ باعصمت اور با حیا ہوجائیگی‘‘۔
    ۱۳۔ مجھے یاد ہے کہ غالباً ۱۹۰۴ء میں جب میں قادیان میں آیا تھا اور حضور بمع احباب باغ میں فروکش تھے تو رات کے وقت میرے بھائی حکیم دین محمد صاحب بمعیت دیگر طلباء مدرسہ تعلیم الاسلام اور بابا محمد حسن صاحب والد مولوی رحمت علی صاحب مبلغ سماٹرا والے رات کو کبھی دار مسیح موعود علیہ السلام کا اور کبھی باغ کے خیموں وغیرہ کے گرد پہرہ دیا کرتے تھے۔
    ۱۴۔ میرے بڑے بھائی حکیم دین محمد صاحب نے میرے لئے پشاور میں ملازمت کی تجویز کرکے غالباً ۲۲ /مئی کو وہاں بھیج دیا۔ ۲۳ /مئی کو وہاں پہنچا۔ وہاں کام نہ بنا۔ ۲۴ /مئی کو میں واپس لاہور آگیا۔ ۲۵ /کے دن رہنے کے بعد ۲۶ /کو حضور کی وفات ہوگئی۔
    میں اپنے بھائی صاحب کے پاس ہربنس سنگھ کی حویلی میں لاہور رہتا تھا۔ بازار میں میں اور بھائی صاحب کسی کام کے لئے جارہے تھے کہ غالباً چودھری عبدالحئی صاحب کاٹھ گڑھ والے نے بتلایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات ہوگئی۔ یہ خبر سنتے ہی میرا اپنا یہ حال ہوا کہ تمام بدن سن اور بے حس ہوگیا۔ کچھ منٹوں کے بعد ہوش ٹھیک ہوئی۔ اس وقت تک کہ میرے والد صاحب اور والدہ صاحبہ اور بھائی اور لڑکے اور کئی عزیز فوت ہوئے ہیں مگر ایسا صدمہ جیساکہ حضور کی وفات کو سن کر ہوا تھا کبھی نہیں ہوا۔ میرے بھائی حکیم دین محمد صاحب کے پاس میرے علاوہ میرے تایا زاد بھائی جو کہ غیر احمدی تھے۔ اپنی لڑکی کے ساتھ جو کہ بیمار تھی معالجہ کے لئے ٹھہرے ہوئے تھے۔ بھائی صاحب نے مجھے فرمایا کہ ان کی خاطر تم یہاں ٹھہرو۔ اور میں جنازہ کے ساتھ قادیان جائونگا۔ میں نے کہا یہ آپ کے مہمان ہیں۔ آپ ٹھہریں یا نہ ٹھہریں میں تو جنازہ کے ساتھ ضرور جائوں گا۔ ہمارے آپس کے اس تکرار کو دیکھ کر انہوں نے کہا کہ بھائی میں اکیلا ہی رہوں گا۔ آپ دونوں جائیں۔ چنانچہ ہم یہ فیصلہ کرکے احمدیہ بلڈنگز میں پہنچے تو باہر کی طرف مولوی محمد احسن صاحب امروہوی ڈبل روٹی کھا رہے تھے مجھے اس سے بہت کراہت ہوئی۔سڑک پر لوگوں کا بہت بڑا ہجوم اور شور شرابا تھا۔ ایک ریڑھی پرا یک شخص کا منہ کالا کرکے لٹایا ہوا تھا۔ اور غیر احمدی لوگ اس کو کھینچ کر لے جارہے تھے اور یہ بک رہا تھا ۔ ہائے ہائے مرزا مر گیا۔ ان شرارتوں کو دیکھ کر غالباً ہماری جماعت کی طرف سے پولیس کو اطلاع دی گئی تھی۔ جس پر ایک پولیس کی گارد آگئی اور اس نے لوگوں کو ڈنڈے مار مار کر بھگا دیا۔
    حضور کو غسل دے کر آپ کا جنازہ غالباً پڑھ کر ایک مکان میں رکھا گیا جس میں سب لوگ جاکر زیارت کرتے تھے۔ ہم بھی وہاں گئے اور زیارت کی۔ مکان کے باہر بابا پیغمبرا سنگھ کھڑا تھا۔ اور اس کو کوئی اندر نہ جانے دیتا تھا۔ جس پر وہ روپڑا اور کہنے لگا کہ ’’تہاڈا وکھرا پیو سی۔ میرا پیو نہ تھا۔‘‘ یعنی کیا آپ لوگوں کا علیحدہ باپ تھا۔ میرا باپ نہ تھا۔ مجھے کیوں نہیں دیکھنے دیتے۔ اس پر کسی نے اندر بھجوا دیا۔
    دوپہر کے بعد غالباً تین چار بجے کے وقت احمدیہ بلڈنگز سے جنازہ چارپائی پر اٹھایا گیا اور سٹیشن کی طرف لے کر احباب جماعت چل پڑے۔ جنازے کے پیچھے بھی پولیس تھی۔ اور آگے بھی پولیس تھی۔ درمیان میں جنازہ اٹھانے والے دوست تھے۔ سٹیشن پر جب جنازہ پہنچا تو وہاں پر ایک صندوق جس میں مشک کافور ڈال کر برف بنوا کر ڈالی ہوئی تھی۔ اس میں حضور کا جسم مبارک رکھا گیا۔ کسی نے سٹیشن ماسٹر سے جاکر شرارتاً کہاکہ نعوذ باللہ حضور ہیضہ سے فوت ہوئے ہیں اور آپ کی لاش باہر نہیں جانی چاہئے۔ اس پر ایک انگریز جو کہ غالباً سٹیشن ماسٹر یا کوئی اور تھا۔ بڑے جوش سے بھرا ہوا آیا اور کہنے لگا کہ ڈاکٹری سر ٹیفکیٹ دکھلائو۔ چنانچہ ہمارے دوستوں نے پہلے ہی ڈاکٹری سرٹیفکیٹ حاصل کیا ہوا تھا۔ اس کو فوراً دکھلا دیا۔ اور وہ خاموش ہوکر چلا گیا۔ غرض یہ کہ ایک گاڑی میں وہ صندوق رکھا گیا۔ اورچند دوست بھی اس صندوق کے پاس بیٹھ گئے۔ ایک ڈبہ اہلبیت اور حضرت خلیفہ اول وغیرہ کے لئے ریزرو کرایا گیا تھا۔ باقی احباب جماعت گاڑی کے دوسرے ڈبوں میں سوار ہوگئے۔ امرتسر کے سٹیشن پر حضرت خلیفۃ المسیح الاول مولانا نور الدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کرکے پڑھائیں۔ ۹ بجے کے قریب گاڑی بٹالہ پہنچی۔ جنازے والا ڈبہ اور ریزرو ڈبہ دونوں کاٹے گئے۔ حضرت ام المومنین اور دیگر خاندان مسیح موعود علیہ السلام کے لوگوں کو ڈبہ سے نکال کر پلیٹ فارم پر اتارا گیا۔ اور سٹیشن کے پاس ٹھہرایا گیا۔ ہم لوگوں کے پہرے مقرر کئے گئے۔ جو کہ ہم نے باری باری ادا کئے۔ پچھلی رات حضور کا جنازہ صندوق سے نکال کر ایک چارپائی پر جس کو لمبے لمبے بانس بندھے ہوئے تھے۔ اٹھایا گیا۔ اور قادیان کو لے کر روانہ ہوئے۔ صبح سویرے کا وقت ٹھنڈی ہوا اور جنازہ پر اس قدر خوشبو چھڑکی ہوئی تھی کہ سڑک میں سے جہاں سے جنازہ گزرتا تھا۔ سڑک معطر ہوجاتی تھی۔ ہم لوگ بھی جنازے کے ساتھ تھے۔ لمبے لمبے بانسوں کی وجہ سے ایک وقت میں بہت سے لوگ کندھا دے سکتے تھے۔ صبح کی نماز بعض لوگوں نے نہر پر آکر پڑھی۔ اور بعض لوگوں نے نہر پر آنے سے پہلے ہی پڑھ لی تھی۔ نہر گزرنے کے بعد ایک شخص جو کہ جٹ زمیندار تھا۔ راستہ میں ملا۔ جنازہ جب گزر چکا تو اس نے مجھ سے دریافت کیا کہ یہ کس کا جنازہ ہے۔ میں نے اسے بتلایا کہ مرزا صاحب کا جنازہ ہے۔ اس نے دوبارہ پوچھا کہ کیا مرزا صاحب قادیان والے کا۔ تو میں نے کہا ‘ہاں۔ یہ جواب سن کر اس پر کچھ ایسا صدمہ ہوا کہ وہ وہیں بیٹھ گیا۔ اور میں دور تک اس کو دیکھتا گیا۔ کہ وہ بہت دیر تک وہاں بیٹھا رہا۔
    نہر سے کچھ دور جانے پر مولوی محمد علی صاحب وغیرہ قادیان سے آکر ملے اور وہ بے صبری سے روتے رہے۔ کہ خواجہ کمال الدین صاحب نے انہیں کہا کہ آپ کیوں اتنی بے صبری دکھلاتے ہیں۔ میں نے حضرت ام المومنین کا نمونہ دیکھا ہے ۔ جن کے وہ سرتاج تھے جب حضور فوت ہوگئے تو حضرت ام المومنین نے کہا۔’’ اے خدا یہ تو ہمیں چھوڑے جاتے ہیں ۔ تو ہمارا ساتھ نہ چھوڑنا‘‘۔ پھر جنازہ لے کر سیدھے بہشتی مقبرہ کے ساتھ والے باغ میں پہنچے ۔ وہاں بہت عورتیں جمع تھیں اور بلند آواز سے رو رہی تھیں۔ اور خواجہ صاحب نے وہی مندرجہ بالا الفاظ کہہ کر چپ کرایا۔ پھر جنازہ باغ والے مکان کے اندر رکھا گیا۔ عام لوگوں کو زیارت کرانے کے لئے یہ طریق اختیار کیاگیا کہ غربی دروازے سے لوگ زیارت کرکے مشرقی دروازے سے نکل جاتے تھے۔ مرزا سلطان احمد صاحب کو جو کہ ان دنوں جالندھر میں افسر مال تھے ۔ تاریںدی گئی تھیں ان کا انتظار تھا۔ وہ بعد دوپہر آگئے ۔ ان کو بوجہ دورہ پر ہونے کے تاریں دیر سے ملی تھیں۔ اس لئے وہ دیر سے آئے۔ عام طور پر لوگو ںمیں یہ مشہور تھا کہ مرزا سلطان احمد صاحب حضور کے مخالف ہیں۔ اس لئے میرے دل میں بھی یہی خیال تھا کہ ان کے دل میں کیا صدمہ ہوگا۔ لیکن میں نے دیکھا کہ جب وہ آئے تو اس قدر روتے تھے کہ ان کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں اور ہم سے رونے میں ہر گز کم نہیں تھے۔
    برف کا وہ صندوق جس میں آپ کا جسم اطہر رکھ کر بٹالہ تک لائے تھے۔ وہ پھر قادیان باغ میں بمع برف کے پڑا تھا۔ میں نے اس خیال سے کہ حضور کا جسم اس برف سے چھو چکا ہے۔ تھوڑی سی برف اٹھا کر کھائی۔ تب مجھے معلوم ہوا کہ اس میں مشک کافور ڈال کر بنائی گئی ہے۔
    حضرت خلیفہ المسیح اول مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ نے مولوی محمد علی صاحب ‘ خواجہ کمال الدین صاحب وغیرہ کو بلا کر فرمایا۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تدفین سے پہلے ضروری ہے کہ جماعت کسی ایک ہاتھ پر جمع ہوکر ایک سلک میں منسلک ہوجائے۔ اس لئے میر ناصر نواب صاحب‘ حضرت ام المومنین ‘ مرزا محمود احمد صاحب‘ مولوی غلام حسین صاحب پشاوری وغیرہ وغیرہ اصحاب مل کر مشورہ کرکے فیصلہ کریں ۔ اور کسی ایک شخص کو منتخب کریں۔ جس کو آپ لوگ منتخب کریں گے سب سے پہلے اس کے ہاتھ پر میں بیعت کرونگا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جنازہ وہی پڑھائے گا۔ جس کو آپ منتخب کریں گے۔ اس کے بعد وہ سب چلے گئے اور کچھ دیر کے بعد آکر عرض کیا کہ ہم نے حضرت ام المومنین اور سب سے مشورہ کیا ہے۔ حضور کے سوا کوئی اس قابل نہیں جس کے ہاتھ پر ہم سب لوگ بیعت کریں۔ اس پر حضرت خلیفہ اول کھڑے ہوگئے اور ایک تقریر فرمائی۔ جس میں یہ فرمایا کہ ’’یہ بہت بڑا بوجھ ہے اور اتنا بڑا بوجھ ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جو بوجھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے میرے باپ پر پڑا ۔ اگر کسی پہاڑ پر پڑتا تو وہ چور چور ہوجاتا۔ یہ اتنا بڑا بوجھ ہے کہ میں تو اسے اٹھانے کی اپنے میں مطلق طاقت نہیں پاتا چونکہ آپ سب لوگ اس بات پر متفق ہیں۔ اس لئے میں خدا تعالیٰ کے بھروسہ پر اس بوجھ کو اٹھاتا ہوں‘‘۔ اس کے بعد وہاںایک چارپائی پڑی تھی۔ حضرت میاں محمود احمد صاحب (خلیفہ ثانی) کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اس چارپائی پر آپ جیسے کوئی گر پڑتا ہے بیٹھ گئے۔ اور میاں صاحب کو اپنے پاس ہاتھ پکڑ کر بٹھا لیا۔ یہ بات خاص طور پر میں نے نوٹ کی۔ کہ سب سے پہلے جس شخص کا ہاتھ بیعت کے لئے آپ نے پکڑا وہ خلیفہ ثانی تھے اور اس چارپائی پر بیٹھ کر بیعت لینی شروع کردی۔ اس پہلی پارٹی میں احقر نے بھی بیعت کی تھی۔
    غالباً نماز ظہر کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حضرت خلیفہ اول نے نماز جنازہ پڑھائی۔ میاں سلطان احمد صاحب بھی آچکے تھے۔ اتفاق سے مرزا سلطان احمد صاحب جنازہ میں میرے ساتھ کھڑے تھے۔ میں نے دیکھا کہ وہ بہت رو رہے تھے۔ جنازے کے بعد حضرت خلیفہ اول قبر پر تشریف لے گئے چونکہ آپ پر بعد بیعت ایک قسم کا ضعف ہوگیا تھا اس لئے قبر کے نزدیک چارپائی پر تاوقتیکہ قبر درست نہیں ہوئی۔ لیٹے رہے۔ قبر میں جو تابوت رکھا گیا تھا وہ وہ نہیں تھا جو لاہور سے برف والا تابوت لایا گیا تھا بلکہ وہ اور ایک مضبوط تابوت تھا۔ جس کے اوپر قبر میں رکھ کر جو پھٹے لگائے گئے وہ بڑے مضبوط تھے۔ غالباً ایک شہتیری کو چیر کر وہ بنائے گئے تھے۔
    میرے چھوٹے بھائی ملک عطا محمد صاحب مرحوم ہیڈ کانسٹیبل منٹگمری نے مجھ سے بیان کیا تھا کہ ایک دفعہ اس کو کسی نے رقعہ دے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دینے کے لئے اندر بھیجا تو حضور اس وقت کھچڑی کھا رہے تھے۔ مجھے فرمایا کہ تم بھی کھائو۔ چنانچہ حضور کے فرمانے پر اس نے حضور کی پس ماندہ کھچڑی کھائی تھی۔ اس وقت مرحوم کی عمر غالباً ۱۲/۱۱ سال کی تھی۔

    فقط والسلام
    احقر نیاز محمد احمدی
    ۳۸۔۱۔۹
    تحریر کردہ برکت اللہ خاں احمدی
    ابن ملک نیاز محمد صاحب ۳۸۔۴۔۱۰
    خاکسار عبدالقادر مبلغ سلسلہ عالیہ و جامع روایات صحابہ ۳۹۔۳۔۲۱
     
  2. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    روایات
    میاں محمد فضل خان صاحب ولد میاں قائم دین صاحب
    سکنہ چنگا بنگیال تحصیل گوجر خاں راولپنڈی حال محلہ دارالفضل قادیان
    سن بیعت ۱۹۰۷ء ‘ سن زیارت ۱۹۰۷ء ‘ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آواز دی کہ مولوی صاحب ! اسپر حضرت مولوی نور الدین صاحب ؓ حاضر ہوئے۔ تو حضور نے فرمایا کہ مولوی محمد احسن صاحب ! تو مولوی محمد احسن صاحب حاضر ہوئے جس وقت آواز دی تھی۔ اس وقت اس لسوڑی کے پاس کھڑے ہوگئے تھے جو سٹور کے متصل سڑک پر تھی۔ جب مولوی صاحب آئے تو حضور چل پڑے اور فرمایا کہ قرآن پڑھنے والوں کو کیا ہوگیا۔ غور نہیں کرتے۔ پڑھتے ہیں مگر تدبر نہیں کرتے او ر اذا الشمس کورت اور اذا النجوم انکدرت و اذا الجبال سیرت و اذا العشار عطلت ۔
    یہ چار آیات دہرائیں او رانکی تشریح کرتے ہوئے چلتے رہے اور آگے چل کر یہ حدیث پڑھی۔ ان اللہ یبعث لھذہ الامتہ علی راء س کل مائتہ سنتہ من یحدولھا دینہا۔ اس کی تشریح کرتے رہے اور پھر انا لھدینا آئتین ۴ تکونا مند خلق السموات ولارض انہ پڑھی اور اس کی تشریح فرماتے ہوئے کہ چاند کی گواہی اور سورج کی گواہی ہوئی۔مگر ان مولویوں نے فائدہ نہ اٹھایا۔وغیرہ وغیرہ۔ پھر ظہر کے وقت مٹھیاں بھرنے کا موقعہ مجھے ملا اور حضور نے مجلس میں دیر تک رونق افروز رہے۔ پھر حضور نے فرمایا کہ میں تین روز عیدالاضحی کے باہر نہیں آئونگا۔ جس نے دعا کرانی ہو۔ رقعہ لکھ کر دے۔ تو میں نے بھی حضرت مولوی صاحب خلیفہ اولؓ کی معرفت رقعہ دیا۔ اور پھر نماز کیلئے کھڑے ہونے لگے۔ تو ایک مولوی صاحب نے کہا۔ کہ حضور کے ساتھ کھڑا ہونا بے ادبی ہے۔ تو حضور نے ہمیں اپنے برابر اپنی صف میں ہمیں کھڑا کیا۔ میرے اور حضور کے درمیان ایک آدمی تھا۔ والسلام

    روایات
    ڈاکٹر نعمت خاں صاحب ولد میاں امان خاں صاحب
    سکنہ ریاست تادون ضلع کانگڑہ‘ حال محلہ دارالفضل ۔ قادیان
    سن بیعت ۱۸۹۶ء تحریر ی ۔
    سنہ زیارت ۱۹۰۰ء اندازاً۔
    یہ سنت الہہ ہے کہ جب مامور کی آمد ہوتی ہے تو اہل کشف کو اس کے مامور ہونے سے پہلے اطلاع دی جاتی ہے۔ ایسے ہی حضرت مسیح موعود علیہ اصلوۃ والسلام کے آنے سے پہلے اطلاع دی گئی۔ ایسے علاقہ میں جہاں کثرت کفار کی ہے۔ مسلمان غریب آٹے میں نمک کے برابر ہی ہیں۔ ریاست تادون جس کی کہاوت عام ہے کہ جاوے گا نادان اور آوے گا کون؟ جہاں راجہ سنسار چند وائی گانگڑہ کا ہیڈ کوارٹر تھا اور بزرگوں سے سنا ہے کہ وہاں سو گھر طوائفوں کا یعنی گانے بجانے والی رنڈیوں کا تھا اور 32 درجے پہاڑ کے اس کے ماتحت تھے اور ہمیشہ چار پانچ اس کی سلامت میں رہتے تھے۔ اور بت خانے اور مندر اور سماد ہیں ان کی یادگار ابھی تک وہاں موجود ہیں۔ یہ شہر دریائے بیاس کے کنارے پر واقع ہے اور دریا سے قریباً ہزارہا فٹ اونچائی پر واقعہ ہے۔ ایک قسم کا جزیرہ نما ہے۔ دو طرف شہر کے دریائے بیاس ہے اور ایک طرف مان کہڈ ہے اور ایک جو خشکی کا ہے ۔ شہر کے باہر چھوٹی پہاڑیاں ہیں اور چھوٹے چھوٹے پہاڑی گائوں سے گھرا ہوا ہے۔ کسی گائوں میں بیس گھر ہیں۔ کسی میں تیس اور کسی میں پچاس گھر علیحدہ علیحدہ آباد ہیں اور ایک حرف شمال مغرب کو شہر آباد ہے۔ شہر سے مشرق کی جانب ایک میل کے فاصلہ پر ۔۔۔ ریاست کے محل ہیں اور آگے انکے بہت وسیع میدان ہے۔ محل اور شہر کے درمیان ایک محلہ مسلمانوں کا آباد ہے۔ جو اہل حدیث ہیں اور ایک مسجد اس محلہ میں ہے۔درمیان شہر کے ہندو آبادی ہے اور جنوب مغرب کو اختتام شہر پر مسلمانوں کا محلہ ہے اور ایک پختہ مسجد برسر چشمہ ہے۔ وہاں دو چشمے ہیں۔ ایک سے ہندو پانی بھرتے ہیں اور ایک سے مسلمان۔ آگے اس کے جو ہر ‘ دو چشموں کا پانی بھر کر جاتا ہے۔ وہاں دھوبی گھاٹ ہے اور ساتھ ہی چشموں کے راستہ کے ایک کنارے پر ایک باغیچہ آموں کا مرزا کریم بیگ جو مرزا رحیم بیگ کے والد تھے۔ ا ن کا تھا۔جو اب ڈاکٹر مطلوب خاں نے خرید لیا ہے۔ سیڑھی در سیڑھی درخت لگے ہوئے ہیں اور ان کے اوپر جاکر ایک چھوٹا سا میدان آتا ہے۔ اس میں ایک کٹیا تھی۔ جسمیں ایک فقیر رہتا تھا۔ جو اب مسمار ہوچکی ہے۔ یہ شہر آب و ہوا کے لحاظ سے بھی ضلع گانگڑہ میں نمبر اول پر ہے۔ یہاں نہ بہت سردی ہوتی ہے اور نہ بہت گرمی۔ اس کٹیا میں جس کا ذکر میں نے اوپر کیا ہے۔ ایک فقیر رہتا تھا۔ جس کو سائیں قلندر شاہ کہتے تھے۔ اس کے ساتھ میرے تایا زاد بھائی منشی شہادت خاں کی محبت تھی۔ اس زمانہ میں منشی صاحب کو بھی ورد وضائف کا شوق تھا اور وہ بہت سا حصہ رات کا لیکر مسجد جو لب چشمہ ہے اور اب ہماری جماعت کے قبضہ میں ہے چلے جایا کرتے تھے۔ یہ کوئی ۱۸۸۱ء یا ۱۸۸۲ء کا ذکر ہے کہ ایک روز سائیں قلندر شاہ ان سے کہنے لگا۔ خاں میاں مہدی پیدا ہوگیا ہے ۔ انہوں نے تعجب سے پوچھا۔ سائیں کہاں۔ کہنے لگا قادی۔ انہوں نے کبھی قادی کا نام نہ سنا تھا۔ وہ کہنے لگے سائیں کہاں ہے۔ وہ کہنے لگا کہ پنجاب میں بٹالہ سے آگے ہے۔ چنانچہ ان دنوں ہم چھوٹے چھوٹے تھے۔ اور سکول میں پڑھا کرتے تھے۔ کچھ خیال نہ کیا۔ لیکن جس وقت حضرت صاحب نے دعویٰ کیا تو اس وقت ہمارے خاندان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ۔۔۔۔ میں کوئی تکلیف حائل نہ ہوئی۔ اور میرے دونوں تایا زاد یہاں امانت خاں اور شہادت خاں حضرت صاحب کی بیعت میں داخل ہوگئے اور ۳۱۳ صحابیوں میں ان کے نام آگئے۔ چونکہ میں اس زمانہ میں ملازمت پر کوئٹہ کی طرف تھا اورمجھے گھر رہنے کا اتفاق نہ ہوا۔ ملازمت پر تھا۔ اور ان دنوں کوئٹہ میں تھا۔ وہاں ایک سردار قیصر خاں مگسی خیال کا رہنے والا میرا دوست تھا۔ جب کبھی جلسہ‘ ہارس شو پر سبی یا کوئٹہ میں ہوتا تو میرے پاس اترتا۔ جب میں نے ملازمت چھوڑی۔ تو میں اسے ملنے کے لئے اس کے گھر پر مقام خیبل گیا۔ اور کچھ ایام وہاں رہا۔ کچھ دنوں کے بعد پیران کا عرس آگیا اور یہ عرس چشتیہ خاندان کا تھا۔ اور وہ یہی چشتیہ فخریہ سلسلہ کا بہت مشہور تھا۔ وہ مجھ سے کہنے لگا کہ میں عرس پر جائونگا۔ آپ بھی میرے ساتھ چلیں۔ میں بھی تیار ہوگیا۔ اور ہم وہاں سے ملتان آئے اور ملتان سے ہم پہلے پیران کلیر پہنچ گئے اور وہ امرتسر سے سائیں مستعان شاہ پشاوری کو لیکر وہاں پہنچ گیا۔ سائیں مستعان شاہ فخریہ نیاز یہ سلسلہ چشتیہ سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ جب نماز کراتا تو پہلے مقتدیوں پر توجہ ڈالتا۔ جس سے نماز میں لذت محسوس ہوتی۔ وہاں ہم آٹھ دس دن رہے ایک روز سردار کہنے لگا کہ آپ سائیں متعان شاہ کی بیعت کرلیں۔ میں نے انہیں کہا کہ دیکھا جاویگا۔ جب ہم وہاں سے اور نہ ہوئی۔ تو سیدھے شملہ آئی۔ کچھ دن وہاں رہے۔ وہ وہاں سے بلوچستان چلے گئے۔ اور میں گھر کو آگیا۔ کیونکہ وہاں سے میرا گھر نزدیک تھا۔ میں گھر پر آگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو ایک رات سوئے ہوئے میرے دل میں اس قدر زبردست خیال پیدا ہوا ۔کہ کب صبح ہو۔ کہ میںحضرت اقدس کی خدمت میںبیعت کا خط لکھ دوں۔جب صبح ہوئی۔تو میںنے بیعت کا خط حضرت مسیح مو عود کی خدمت میںلکھ دیا۔میری والدہ صاحبہ بجائے گھرآنے کے کوئٹہ سے وہ حج بیت اللہ کو تشر یف لے گئی ہوئی تھیں۔میںنے خواب میںدیکھا کہ وہ ایک بہت وسیع ریگستان میںجارہی ہیں۔اور انہوں نے اونچی ٹوپی والا برقعہ پہنا ہواہے۔اور وہ ۹۷ئ؁ تک خانہ کعبہ میں رہیں۔اور دو حج کئے ۔اس وقت وہ پیدل مدینہ منورہ جارہی تھیں۔ایسے ہی ایک رات میں نے اپنے والد صاحب کو دیکھا۔ رسول کریمؐ کا ایک بڑا عالی شان محل ہے اور آپ اس کی عالی شان ڈیوڑھی پر بیٹھے ہوئے دربانی کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔مجھے پورے طور پر یاد نہیں کہ میں نے کس سن میں دستی بیعت کی۔ یہ یاد ہے کہ حضرت صاحب لاہور گئے ہوئے تھے اور موچی دروازہ کے باہر ایک چوبارہ میں اترے ہوئے تھے اور اس دکان کے پچھلی طرف لکڑیوں کا ایک ٹال تھا اور کھلی جگہ تھی۔ وہاں حضرت صاحب بیعت لیتے رہے اور اس قدر ہجوم تھا کہ پکڑیوں سے بیعت کی جاتی تھی۔ میری یہ خواہش ہوئی کہ بجائے پگڑی کے حضرت صاحب کے ہاتھ میں ہاتھ دیکر بیعت کروں۔ تو اچھا ہے۔ خدا تعالیٰ نے یہ میری آرزو پوری کردی اور مجھے موقعہ مل گیا اور میں نے حضرت صاحب کے ہاتھ میں ہاتھ دیکر بیعت کی۔ رائے میلا رام کے منڈوے میںحضرت صاحب کی تقریر ہوئی تھی۔ وہاں قریباً کوئی دس ہزار آدمیوں کا ہجوم تھا۔ جب حضرت صاحب تقریر کیلئے کھڑے ہوئے تو بہت ہی شور و شر تھا۔ اس واسطے آپ بیٹھ گئے اور مولوی عبدالکریم صاحب نے تلاوت قرآن کریم شروع کی تو ایسے معلوم ہوا کہ اس جگہ کوئی ہے ہی نہیں۔ یہ خاص اللہ تعالیٰ کا فضل اور قران کریم کا معجزہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں قریباً ۱۲ سال پشاور میں رہا۔ اس واسطے شروع سے میرا تعلق مولوی غلام حسن صاحب سے رہا۔ جب خلافت ثانیہ کا وقت آیا تو میں نے بیعت کا خط حضرت امیر المومنین کی خدمت میں لکھ دیا اور ان دنوں میں شاید رخصت پر ریاست تادون ضلع گانگڑہ میں اپنے گھر پر تھا۔ مجھے یاد پڑتا ہے۔ ان کا خط آیا اور بیعت مسخ کرنے کے متعلق انہوں نے لکھا۔ چونکہ میرا تعلق ان سے بہت عرصہ رہا۔اصلیت کو نہ سمجھا اور میں نے مسخ بیعت کے متعلق پیغام مسلح میں لکھ دیا اور ا ن کے ساتھ ہوگیا۔ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے۔ لیکن (کہ) خاندان نبوت کے متعلق میرے وہی خیالات رہے۔ جو پہلے تھے۔ اور کبھی مجھ سے بے ادبی کے الفاظ نہ نکلے۔ یہی حالت مدت تک رہی۔ انکے ایک دو جلسوں میں بھی شامل ہوا۔ ۱۹۳۰ئ؁ یا اس سے پہلے ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بڑی حویلی سمندر کے کنارے پر ہے۔ اور پانی کی لہریں زور شور سے اس کے ساتھ ٹکراتی ہیں اور بہت شور ہوتا ہے اس حویلی کے اندر سے مولوی محمد علی نکلے تو کیا دیکھتا ہوں کہ انکے چہرہ کا نصف حصہ سفید اور نصف سیاہ تھا۔ معن (معاً) میرے دل میں خیال ہوا کہ ان کی پہلی زندگی یعنی پہلی حالت حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ کی اچھی تھی اور اس کے بعد کی سیاہ ہوگئی۔ اس کے بعد جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو ہدایت کی طرف لاتا ہے تو اس کے اسباب بھی ایسے پیدا کردیتا ہے جو اس کی ہدایت کا موجب ہوجاتے ہیں۔ میں ۱۹۳۲ء میں اپنے گھر پر تھا ۔ میرے اہل خانہ سرگودھا میں تھے۔ تو ڈاکٹر محمد یوسف صاحب امریکہ والوں کا جو میرے رشتہ دار ہیں ۔ خط پہنچا کہ آپ بہت جلد قادیان آجاویں کیونکہ میں نے امریکہ جانا ہے اور مکان کا بنوانا آپ کے ذمہ ہے۔ میں اپریل ۳۲ء میں قادیان آگیا۔ اور مکان تیار کرلیا اور میرے اہل خانہ بھی یہاں آگئے۔ یہاں آکر دیکھا تو عجیب ہی کیفیت نظر آئی۔ نیا آسمان اور نئی دنیا نظر آنے لگی۔ نمازو ںمیں شامل ہونا ۔ حضرت صاحب کے خطبات کا سننا اور تقریروں کا سننا نے ایسا اثر ڈالا کہ جو مقالعے دیئے گئے تھے وہ آہستہ اہستہ دور ہونے لگے۔ اتفاق سے میں قادیان سے تا دون گیا تو ماسٹر محمد عمر تبلیغ کے واسطے وہاں آئے ۔ اتنا گفتگو میں مجھے کہنے لگے کہ آپ بیعت کا فارم بھر دیں۔ میں نے بیعت کا فارم بھر دیا۔ اور دل کی سب کدورتیں دور ہوگئیں۔ اور خدا وند تعالیٰ نے اپنے فضل سے سایہ میں لے لیا۔ورنہ (اور) مجھ جیسے عاصی کو دوبارہ زندگی بخشی۔ ورنہ میرے ساتھی ابھی تک نحوست کی ذلت میں پھنسے ہوئے ہیں۔ دل تو ان کا اندر سے محسوس کرتا ہے کہ ہم نے بڑی غلطی کی۔ لیکن ظاہرا عمارت ان کے حق کے قبول کرنے میں مانع ہے اور یہی ان کا جہنم ہے۔ جس میں ہو ہر وقت پڑے جلتے ہیں۔ دل تو ان کا چاہتا ہے کہ مان لیں لیکن ناک کے کٹنے کا خوف ہے۔ خداوند تعالیٰ ہدایت دے۔ میرے حال پر تو اللہ تعالیٰ نے خاص فضل کیا۔ قریباً عرصہ دو سال کا ہوا کہ ایک رات میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ آسمان سے ایک سنہری صندوق منقش ہوئے۔ بہت ہی چمکدار اور روشن اترا۔ اور معلق ہوا میں آکر ٹھہر گیا۔ اتنی میں ایک تاج منقش سنہری اترا اور وہ صندوق پر ٹھہرنا چاہتا ہی تھا کہ میں نے پرواز کرکر اس کو اپنے دونوں بازوں سے تھام لیا اس کا تھامنا تھا کہ تمام دنیا کے کناروں سے یک زبان آواز سنائی دی کہ اسلام کی فتح اور ایسا شور ہوا کہ میری آنکھ کھل گئی اور اسی وقت میرے دل میں ڈالا گیا تھا کہ تاج برطانیہ کا ہے۔
    خادم خاندان مسیح موعود
    ڈاکٹر نعمت خان محلہ دارالفضل شرقی
    قادیان ۳۸۔۳۔۶




    روایات
    مولوی عبدالعزیز صاحب ولد مولوی محمد عبداللہ صاحب مرحوم
    صحابی مسیح موعود علیہ السلام ۔ قوم راجپوت کھوکھر۔ پتہ سابق بھینی ڈاکخانہ شرق پور ۔ ضلع شیخوپورہ
    حال : مہاجر محلہ دارالرحمت۔ قادیان
    سن بیعت :۱۹۰۴ء
    سن زیارت : ۱۹۰۴ء
    قبل اس کے کہ اپنی بیعت اور چشم دید حالات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان کروں۔ ضروری سمجھتا ہوں کہ اپنے والد صاحب مرحوم جناب مولانا مولوی محمد عبداللہ صاحب مغفور صحابہ حضرت مسیح موعودؑ کے حالات بیان کروں۔ کیونکہ آپ نے بھی حضرت مسیح موعود ؑ کے دست مبارک پر بیعت کی تھی۔ اور آپ کے بہت سے چشم دید واقعات تھے۔ جو قلمبند نہیں ہوسکے اور آپ رخصت فرماگئے۔ لہذا ضروری ہوا کہ حسب مقولہ ’’الولاسر‘ لابیہ‘‘ و چیزیکہ پدر تمام نکند پرش تمام کند۔ وہ حالات بھی بیان کردوں۔
    جناب والدم بزرگوار مولوی محمد عبداللہ صاحب ساکن موضع بھینی ڈاکخانہ شرق پور ضلع شیخوپورہ اہل حدیث خیال کے تھے اور قوم کے بہت بڑے لیڈر تھے۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی نے ان کو انجمن اہلحدیث کا ڈپٹی کمشنر تجویز کیا ہوا تھا۔
    آپ کی شہرت کی وجہ سے موضع تہہ غلام نبی ضلع گورداسپور والوں نے جو اہلحدیث تھے آپ کو اپنے پاس بلایا اور انہوں نے ذکر کیا کہ ہمارے قریب ایک قصبہ قادیان ہے۔ جہاں حضرت مرزا غلام احمد صاحب رہتے ہیں اور الہام کے مدعی ہیں اور انہوں نے ایک لڑکے کے متعلق پیشگوئی کی ہوئی ہے۔ جو پوری نہیں ہوئی۔ پہلے لڑکی پیدا ہوئی اور ازاں بعد ایک لڑکا پیدا ہوا جو کچھ دنوں کے بعد فوت ہوگیا ہے۔ چلو ایسے شخص سے چل کر مناظرہ کیا جائے۔ چنانچہ آپ ان دنوں جب کہ حضرت مسیح موعودؑ کا کوئی دعویٰ نہ تھا۔ صرف الہام کا سلسلہ جاری تھا اور حضور کتاب براہین احمدیہ لکھ رہے تھے۔ قادیا ن میں تشریف لائے اور حضور سے پیشگوئی مذکورہ بالا کے متعلق گفتگو کی اور سوا ل کیا کہ اگر آپ کے الہامات صحیح ہوتے ۔ تو لڑکے والی پیشگوئی کیوں پوری نہ ہوتی؟ پہلے لڑکی پیدا ہوئی۔ پھر لڑکا پیدا ہوا اور مر گیا۔ کیا پیشگوئیاں اسی قسم کی ہوا کرتی ہیں ۔ والدم بزرگوار فرمایا کرتے تھے کہ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کیا حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے متعلق پیشگوئی فرمائی تھی۔ مولوی صاحب نے جواب دیا کہ ہاں ؟
    حضرت صاحب ۔ کیا پھر وہ اسی سال ہی پوری ہوگئی تھی اور آپ حج کرکے واپس تشریف لے آئے تھے۔
    مولوی صاحب ۔ اگر اس سال حج نہ ہوا تھا تو اس سے اگلے سال تو ہو ہی گیا تھا۔
    حضرت صاحب ۔ تو میں نے کب کہا تھاکہ اسی سال ہی لڑکا پیدا ہوجائیگا۔ یہ خدا کی پیشگوئی ہے۔ جو پوری ہوگی اور ضرور پوری ہوگی۔ خواہ کسی سال ہی پوری ہو۔
    اس پر سلسلہ کلام ختم ہوا۔ اور مولوی صاحب نے کوئی نیا سوال نہ کیا۔ مگر اس اعتراض پر مصر رہے۔
    (چنانچہ اس کے بعد حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے اشتہار ۲۲ مارچ ۱۸۸۶ء میں حند بندی بھی کردی تھی کہ وہ موعود نو برس کے عرصہ کے اندر اندر پیدا ہوجائیگا اور پھر یکے بعد دیگرے کئی ایک اشتہارات میں اس کا ذکر فرمایا۔ چنانچہ حضور علیہ السلام نے پیشگوئی پوری ہوجانے اور اس پر موعود کی پیدائش پر ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء کے اشتہار میں فرمایا کہ ’’خدائے عزوجل نے جیسا کہ اشتہار ۔۔۔۔۔ پھر اطلاع دی جائیگی۔‘‘ ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ئ۔‘‘
    پھر حضور نے بنام مولوی نور الدین صاحب (خلیفتہ المسیح اولؓ) ایک مکتوب یوں تحریر فرمایا کہ ’’چونکہ اس پسر متوفی کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ و افوض امری الی اللہ ۔و اللہ بصیر بالعباد‘‘
    پس بذریعہ الہام جو بتایا گیا تھا۔ وہ پیشگوئی آج حضرت خلیفتہ المسیح ثانی بشیر الدین محمود احمد ایداللہ بنصرالعزیز کے وجود باجود سے پوری ہورہی ہے۔ الحمداللہ علے ذالک۔
    چونکہ مولوی صاحب موصوف علوم عربی و فارسی میں یدطولیٰ رکھتے تھے۔ اور علوم صرف و نحو ۔ متعلق۔ بدیع۔ بیان وغیرہ میں لاثانی انسان تھے۔ اپنے علم کے خیال میں اس نکتہ معرفت اور جواب باجواب سے کوئی استفادہ حاصل نہ کیا۔اور یہ سچ ہے ۔ کل امر مرہون باوقار تھا۔ ہر کام کے لئے ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ اس وقت آپ انکار پر مصر رہے۔ حضور نے آپ کے علم کا موازنہ فرما کر اپنی کامل مہربانی سے آپ کو یہی فرمایا کہ مولوی صاحب میں نے ایک کتاب بنام براہین احمدیہ مخالفین کے اعتراضات کے جواب میں لکھی ہے اور اس میں دس ہزار روپیہ کا چیلنج بھی دیا ہے۔ جو آج کل طبع ہونیوالی ہے۔ اگر آپ یہاں ٹھہر جائیں اور طباعت کے لئے اس کا پروف دیکھ لیا کریں تو بہت اچھا ہو۔ اس کا حق الخدمت بھی آپ کو دیا جاویگا۔ مگر افسوس کہ آپ نے تسلیم نہ کیا اور خالی واپس چلے گئے اور اسی انکار پر قریباً پندرہ سولہ برس گزر گئے۔ مگر آپ کی فطرت میں ایک سعادت تھی کہ جب کوئی شخص حضرت اقدس کو گالی یا توہین سے یاد کرتا تو آپ اسے روکتے۔ اور فرماتے کہ خدا تعالیف نے تو کفار کے بتوں کو بھی گالی دینے سے منع کیا ہے۔ پس یہی یا بعض اور خوبیاں جو آپ کے وجود میں تھیں۔ آپ کی ہدایت کا موجب ہوئیں۔
    غرض اسی خاموشی میں میں ۱۹۰۲ء کا زمانہ آگیا۔ اس اثناء میں آپ حضرت مسیح موعودؑ کی کتاب جنگ مقدس اور آئینہ کمالات اسلام کا مطالعہ کرچکے تھے۔ جس کی وجہ سے کئی سوالات کا تو تصفیہ ہوگیا اور کئی نئے اعتراضات پیدا ہوگئے۔ چنانچہ اپنے اکیس سوالات نوٹ کرلئے اور ۱۹۰۲ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مناظرہ کیلئے قادیان کو روانہ ہوئے۔ اور براہ راست مسجد مبارک میں تشریف لائے اور کسی نماز کے وقت پہنچے (چونکہ ان دنوں مشہور تھا کہ مرزا صاحب نے چند ایجنٹ رکھے ہوئے ہیں۔ جو آنے والے مہمان سے سب کچھ پوچھ لیتے ہیں اور اندر خبر پہنچا دیتے ہیں اور مرزاصاحب جس کمرہ میں رہتے ہیں۔ اس کے کئی دروازے ہیں اور ہر ایک غرض کیلئے علیحدہ علیحدہ دروازہ تجویز کیا ہوا ہے۔ جب مہمان اندر مرزا صاحب کے پاس جاتے ہیں تو چونکہ مرزا صاحب کو پہلے ہی اطلاع پہنچی ہوئی ہوتی ہے۔ آپ بجاتے ہی پوچھتے ہیں کہ آپ کا یہ نام ہے اور آپ فلاں جگہ سے فلاں کام کیلئے آئے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ ایسی باتوں سے اس مہمان کو یقین ہوجاتا ہے کہ یہ یقینا ولی اللہ ہے۔ جو خود بخود ہی سب کچھ بیان کررہا ہے۔ غرض اس وقت یہ خیال مولوی صاح؁ کے دل میں بھی تھا اور یہ خیال تھا کہ اگر مجھ سے کوئی پوچھے گا۔ تو کسی کو کچھ نہیں بتائونگا۔ اسی واسطے آپ سیدھے مسجد میں آئے اور کسی سے کچھ نہیں پوچھا۔ (بعد میں یہ امر غلط ثابت ہوا اور مخالفین کا بہتان)
    (خاکسار جامع روایات صحابہ عبدالقادر مبلغ سلسلہ عالیہ احمدیہ سال کارکن نظامت تالیف و تصنیف عرض کرتا ہے کہ انبیاء کے متعلق بعض جھوٹی افواہیں اس قسم کی بھی پھیل جاتی ہیں جو طوالت زمانہ اور وسعت رقبہ کے لحاظ سے عدیم النظیر ہوتی ہیں۔ چنانچہ بندہ بالا اصول بھی ایسی ہی ہے ۔ سارے پنجاب میں عموماً اور گجرات ‘ گوجرانوالہ ‘ جہلم وغیرہ اضلاع میں خصوصاً اس کا چرچا ہے۔ چنانچہ خاکسار کو بھی ۱۹۲۴ء میں جب موکر محمد مراد صاحب آف پنڈی بھٹیاں ضلع گوجرانوالہ سے میل ملاپ رکھنے کے باعث احمدیت کے متعلق جستجو پیدا ہوئی تو اکثر لوگوں نے حضرت اقدسؑ اور حضڑت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر العزیز کے جھوٹا ہونے کی دلیل میں یہ بات بڑئی زور شور سے بیان کی اور کہا کہ اگر تمہیں جانے کا موقع ملا تو بچشم خود اسے دیکھ لو گے۔ حالانکہ یہ بات بالہدایت غلط ہے۔ + کراچی میں بھی میں نے اپنے عرصہ قیام میں بعض لوگوں کی زبانی بارہا یہ بات سنی ہے اور جھوٹی افواہ لوگوں کے اذہان میں ایسی رنج ہوچکی ہے کہ ہزار سمجھائو۔ ماننے میں نہیں آتے۔
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ خاکسار کا سابق نام سوداگر مل تھا۔ خاکسار کا خاندان ابتداً زمیندار تھا۔ اور دریا چناب کے کنارے موضع گوانہ پٹاناں تحصیل بھیرہ ضلع شاہ پور میں ہمارے ابائو اجداد کی سکونت تھی۔ میرے والد صاحب لالہ وزیر چند صاحب کی زندگی میں ہی زمین کا اکثر حصہ دریا برد ہوگیا اور وہ سلسلہ جاتا رہا۔پھر جلد ہی وہ فوت ہوگئے۔ اور ہم سات بھائی جو تمام ہی نابالغ تھے۔ یتیم رہ گئے۔ کافی عرصہ تک میرے بڑے بھائی لالیاںضلع جھنگ میں محنت مزدوری کرکے گزارہ کرتے رہے۔ ۱۹۲۴ء میں میں نے ورنیکلر مڈل کا امتحان لالیاں ضلع جھنگ میں پاس کیا اور چونکہ ہمارے ماموں بیرانوالہ ضلع گوجرانوالہ میں سکونت پذیر ہوگئے تھے اور اچھے متمول تھے۔ انہوں نے ہمیں بھی اپنے پاس ہی بلالیا اور ہم ان کے گائوں کے متصل ہی ایک گائوں میں رہنے لگ پڑے۔ اتفاق سے مولوی محمد مراد صاحب بھی اس گائوں میں عرصہ ایک سال سے دکان کررہے تھے۔ ان کے پاس بیٹھنے اور اخبارات وغیرہ پڑھنے سے ان سے انس پیدا ہوگیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قادیان کے دیکھنے کا بھی شوق پیدا ہوگیا۔ چنانچہ جنوری ۱۹۲۵ء میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے قادیان آنے کا موقع مل گیا۔ اور حضرت اقدس امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرالعزیز کو دیکھ کر تمام شکوک کافور ہوگئے اور بیعت کرکے یہاں ہی سکونت اختیار کرلی۔ فالحمدللہ علی ذالک۔
    چونکہ اس وقت نماز کا وقت تھا۔ یا نماز ہورہی تھی۔ آپ نے نماز باجماعت گزاری۔ بعد از نماز حضرت اقدس شاہ نشین پر رونق افروز ہوئی اور دوسرے احباب ادھر ادھر بیٹھ گئے۔
    بعد از ملاقات والسلام علیکم عرض کرنے کے مولوی صاحب نے چپکے سے حضرت صاحب کے پائوں پکڑ کر دبانے شروع کئے تو حضور نے فرمایا دیکھو ۔ ’’خدا کے نبیوں کا امتحان کرنا اچھا نہیں ہوتا۔‘‘
    یہ ایک نشان تھا۔ جو حضور کی پہلی ملاقات میں ہی آپ نے ملاحطہ فرمایا اور آپ کو ایمانی روح حاصل کرنے کیلئے ممدً ہوا۔ الحمد للہ علی ذلک ۔
    بات یہ تھی کہ جناب مولوی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں نے ایک حدیث یا روایت میں دیکھا تھا کہ حضرت امام مہدی کی صداقت کا ایک یہ نشان ہوگا کہ آپ کے پائو ںمیں پھایا گڑھا نہ ہوگا۔ بلکہ صاف (پدرا) ہوگا۔ آپ نے اسی خیال سے ہی حضور کے پائوں کو پکڑا۔ اور دو نشانوں کو ملاحظہ فرمایا۔
    ایک تحریر کہ حضور کے پائوں میں حسب ارشاد نبوی ؐفی الواقعہ لپا نہیں تھا۔ دوم۔ خود ہی حضور نے فرمادیا کہ ’’خدا کے نبیوں کا امتحان کرنا اچھا نہیں ہوتا۔‘‘ جبکہ بیسیوں آدمی حضور کے پائوں وغیرہ دبایا کرتے تھے۔ مگر یہ لفظ کبھی نہیں فرمایا تھا۔ جو اس وقت حضور نے فرمایا کہ خدا کے نبیوں کا امتحان کرنا اچھا نہیں ہوتا۔ یہ کیسے خیال پیدا ہوگیا کہ اس وقت دبانیوالا امتحاناً دبا رہا ہے اور اس وقت یقینا تھا یہی امتحانی دبانا۔ پس یہ ایک بیٰنً نشان تھا۔ جو آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اور ایمانی تازگی حاصل کی۔ الھم صلی علی محمد وال محمد۔
    اس کے بعد مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضور میرے چند سوالات ہیں ۔ اگر حکم ہو۔ عرض کروں۔ حضور نے اجازت فرمائی۔ مولوی صاحب نے پہلاسوال پیش کیا۔ جو مولوی صاحب اور حضرت اقدس کے سلسلہ سے لکھا جاتا ہے۔
    مولوی صاحب ۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حانسہ (دائی) حضرت ام ایمن تھیں۔ جن کو حضور روزانہ یا اکثر دفعہ آپ کے پاس پہنچ کر اپنی تازہ وحی سے مشرف فرمایا کرتے تھے۔ جس سے آپ مسرور رہتیں۔ حتیٰ کہ حضور علیہ الصلوۃ کا انتقال ہوگیا اور حضرت ابوبکر صدیق اور جانشین مقرر ہوئے۔ آپ بھی ایک دن والدہ صاحبہ سے ملنے کیلئے تشریف لے گئے تو والدہ صاحبہ رونے لگ گئیں۔ آپ نے فرمایا کیا آپ اس لئے روتی ہیں کہ آنحضرت ؐفوت کیو ںہوگئے ہیں۔ یہ تو سنت اللہ تھی جو پوری ہوئی۔ اماں جان نے فرمایا کہ نہیں بلکہ میں اس لئے روتی ہوں کہ انقطعت الوحی۔ آج وحی منقطع ہوگئی ہے۔ پس جب اماں جاں صاحبہ انقطاع وحی کے قائل ہیں تو آپ کیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد وحی کے قائل ہوسکتے ہیں۔
    حضرت اقدس۔کیا آپ آیت کنتم خیرامتہ کے تحت تسلیم کرتے ہیں کہ یہ امت خیر امتہ ہے؟
    مولوی صاحب ۔ ہاں !
    حضرت اقدس ۔ کیا آپ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ آیت واوحیت الی الحوارین داوخیاالی ام موسیٰ۔ انا اوحینا الی النحل کے تحت مسیح کے حواریوں او ر موسیٰ کی والدہ اور شہد کی مکھی وغیرہ کو وحی الہیٰ ہوئی اور ہوتی ہے۔
    مولوی صاحب ۔ ہاں ضڑوری ہوتی تھی اور ہے۔
    حضرت اقدس۔ تو پھر کیا یہ امت مسیح کے حواریوں اور موسیٰ کی امت کی عورتوں اور حیوانوں سے بھی گئی گذری ہوگئی کہ انہیں تو وحی ہو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو جو خیر امت ہے وحی نہ ہو۔
    مولوی صاحب ۔ ان وحیوں کا تو قرآن کریم میں ذکر آیا ہے ۔ کیا یہ بھی کہیں آتا ہے کہ اس امت محمدیہ میں بھی وحی ہوگی۔
    حضرت اقدس ۔ جبکہ آپ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ پہلی امتوں میں وحی ہوتی رہی ہے اور ادھر اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں دعا سکھلائی ہے جس کے بغیر آپ کا یقین ہے کہ نماز ہی نہیں ہوتی اور ہر رکعت میں اس کا پڑھنا فرض ہے۔فرمایا ! صراط الذین انعمت علیھم ۔ یعنی خدا یا تو ہمیں ان لوگوں کا رستہ دکھا جن پر تونے انعام کیا۔ اور وہ ایمان ہمیں بھی عطا فرما۔ پس جب ان لوگوں میں وحی کا انعام موجود ہے۔ تو دعا کے نتیجہ میں اس امت میں کیوں وحی نہ ہوگی۔
    ان الذین قالو ا ربنا اللہ ثم استقامو ا تنزل علیھم الملائکتہ ان لا تخافوا ولا تخرفو ا والبشر وا بالجنتہ التی کنتم توعدون۔ یعنی جن لوگوں نے کہہ دیا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر مستقیم ہوگئے ۔ ان پر خدا کے ملائکہ کا نزول ہوتا ہے اور وہ کہتے ہیں یہ کہ مت خوف کرو۔ اور مت غم کرو اور تمہیں اس جنت کی بشارت ہے جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے۔
    اس آیت سے نزولی وحی بوساطت ملائکہ ضروری ہے جو اس امت کے مومنین اور اہل استقامت کیلئے ضروری ہے۔
    سوم ۔ لھم البشریٰ فی الحیوۃ الدنیا و فی الآخرہ۔ مومنین خیر امت کے لئے اس حیاتی دنیا میں بھی بشارتیں ملتی ہیں اور آخرت میں بھی ملیں گی۔ پس یہ بشارتیں وحی نہیں تو اور کیا ہے۔ پس اس ضمن میں حضور نے بہت سی آیات قرآنی سے نزولی وحی کا ثبوت پیش کیا۔
    مولوی صاحب ۔ حضور یہ تو سچ ہے کہ ان آیات سے نزول وحی ثابت ہوتی ہے اور اس امت کیلئے ہے۔ جب قرآن کریم میں ثبوت وحی فی ہذہ الامتہ موجود تھا تو پھر حضرت اماں جان نے یہ کیوں فرمایا۔ انقطعت الوحی۔ آج وحی بند ہوگئی ہے۔ کیا اپ کو ان آیات کا علم نہ تھا۔
    حضرت اقدس ۔ مولوی صاحب یہ تو بتلائیے کہ اس جگہ الوحی پر الف لام کیا ہے۔ یہ الف لام اس وحی کی طرف اشارہ کررہا ہے جو آنحضرت ؐ پر نازل ہوا کرتی تھی اور حضور ہر روز اماں جان کو سنایا کرتے تھے۔ پس و ہ قرآنی اور شرعی وحی جو آنحضرت ؐ پر نازل ہوا کرتی تھی وہ یقینا بند ہوگئی تھی اور ہوچکی ہے اس سے یہ کہاں ثابت ہے کہ اس قسم کی وحی قیامت تک کیلئے بند ہے۔ جبکہ آیت قرآنیہ میں نزول وحی بالتصریح موجود ہے۔
    مولوی صاحب اس پر ساکت ہوگئے اور آگے کوئی نیا سوال نہ کیا۔
    حضرت اقدس نے ازاں بعد ۔۔ تقریر فرمائی ۔ جس سے ان جملہ اعتراضات کا خود ہی حل فرمادیا جو کہ مولوی صاحب نوٹ کر لائے تھے۔ اور لکھے ہوئے آپ کے کھیسے میں موجود تھے اور اس ملاقات سے پہلے کسی سے ذکر نہ کیا تھا۔
    مولوی صاحب اس پر متعجب ہوئے اور سوچا اگر اس شخص پر وحی کا نزول نہیں ہوتا تو آپ کو ان باتوں اور سوالات سے کس نے علم دیا۔ جو آپ کے پاس لکھے ہوئے تھے۔ تھوری دیر خاموش رہ کر عرض کی۔ حضور ہاتھ کریں۔ میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں۔ پس آپ نے اسی وقت خدا کے فضل سے بیعت کی اور اس کے بعد آپ کو کبھی بھی کوئی اعتراض حضور کی ذات پر پیدا نہیں ہوا۔ اور آپ کے ایمان اور عرفان میں دن بدن ترقی ہوتی گئی۔ ازا ںبعد حضرت خلیفہ اولؓ کی بیعت میں بلا چوں و چرا داخل ہوگئے۔ خلافت ثانیہ می ںبھی کبھی کسی قسم کا شبہ پیدا نہیں ہوا۔ الحمد اللہ علی ذالک۔
    آپ جس وقت بیعت کرکے واپس تشریف لے گئے تو دوآبہ باری اور چناب کے اکثر لوگ جو آپ کے معتقدین میں سے تھے۔ اور پہلے ان کا خیال تھا کہ اگر مولوی صاحب بیعت کرلیں تو ہم سب سلسلہ بیعت میں داخل ہوجائیں گے۔۔ وہ سب کے سب آپ کے دشمن ہوگئے اور آپ کے قتل کے منصوبے کرنے لگے۔ مگر آپ نے نہایت ثبات اور استقلال سے ا ن کا مقابلہ کیا اور تبلیغ کا سلسلہ عاشقانہ رنگ میں جاری رکھا۔ اور قریباً اٹھارہ سال تک آپ آنریری مبلغ رہے اور آپ کی معرفت خدا کے فضل سے قریباً تین صد آدمی یا اس سے زیادہ سلسلہ بیعت میں داخل ہوئے۔ الحمد اللہ علی ذالک۔
    ایک بین نشان جو اغلباً اخبار بدر الحکم میں شائع ہوچکا ہے اور ایک صاحب ایران کے رہنے والے جو خدا رسیدہ اور مہلم انسان تھے۔ ان کو خدا کی طرف سے الہام ہوا۔ مقصود تو از قادیان حاصل بیشود۔ اور کئی دفعہ ہوا ۔ غرض اسی تلاش میں وہ صاحب پشاور پہنچے۔ اور پشاور سے قادیان شریف تشریف لائے۔ جس روز وہ صاحب قادیان میں تشریف لائے تھے ۔ اسی روز مولوی صاحب بھی دارالامان میں موجود تھے۔ اور یہ نظارہ اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرمایا۔ آپ نے فرمایا کہ وہ صاحب بڑے بازار میں بزبان فارسی عوام الناس سے پوچھ رہے تھے کہ مرزا صاحب کی است ۔ مسیح موعود کی است۔ عوام آپ کی زبان کو نہ سمجھنے کی وجہ سے جواب نہیں دے سکتے تھے۔ اُدھر حضرت مسیح موعودؑ سیر کیلئے گھر سے باہر تشریف لائے اور احباب منتظرین آپ کے ساتھ چلائے۔ جب حضور چند قدم باہر کو تشریف لے گئے تو خدا کی طرف سے آپ کو الہام ہوا کہ آپ کی تلاش میں ایک شخص بازار میں پھر رہا ہے اور آپ باہر جارہے ہیں۔ حضور پیچھے کو لوٹ پڑے اور فرمایا حکم ہوا کہ بازار کو چلو۔ چنانچہ بازار کی طرف چلے۔ اور احباب بھی حضور کے ساتھ روانہ ہوئے۔ مولوی صاحب بھی ان میں شامل تھے۔ جب بڑے بازار میں چوک کے پاس پہنچے تو وہ صاحب مل گئے اور معلوم کرکے حضور کے گلے سے چمٹ گئے ۔ حضور کی آنکھوں سے بھی آنسو نکل آئے۔ اور وہ صاحب بھی رونے لگے اور جملہ احباب حاضرین کی چیخیں نکل گئیں۔
    جب آنسو تھم گئے تو اس صاحب نے اپنی آمد کا سب ماجرا بیان کیا اور یہ عظیم الشان نشان دیکھ کر سب کے کے ایمان میں رونق پیدا ہوئی۔ الھم صلی علی محمد وآل محمد۔
    ایک اور نشان ۔ حضرت مولوی صاحب بے بیان فرمایا کہ غالباً ۱۹۰۶ء کے جلسہ سالانہ پر آپ تشریف لائے ۔ آپ کے ساتھ ایک صاحب (مولوی امام الدین صاحب جو درویشانہ زندگی رکھتے تھے اور سلسلہ بیعت میں داخل تھے) بھی تھے۔ آتے ہی مولوی امام الدین صاحب کو سخت بخار ہوگیا۔ ایسا کہ آپ جلسہ سالانہ کی کوئی تقریر نہ سن سکے۔ مہمان خانہ میں آپ بے ہوش پڑے رہے۔ جب جلسہ ختم ہوگیا اور مہمان رخصت ہونے لگے تو مولوی امام الدین صاحب کی بیماری کی وجہ سے مولوی صاحب کو سخت گبھراہٹ تھی کہ اب ہم کیسے واپس جائیں گے۔ آپ اسی خیال میں ہی حیران بیٹھے تھے کہ یکایک حضرت مسیح موعودؑ مہمان خانہ میں تشریف لے آئے۔ مولوی صاحب نے مولوی امام الدین صاحب کو زور سے پکڑ کر حضرت صاحب کے سامنے جاکھڑا کیا۔ اور عرض کی۔ کہ حضور ان کو سخت بخار ہے۔ دعاگو صحت فرمائی جاوے۔ تاکہ ہم امن سے واپس جاسکیں۔ حضور نے ان کا نام پوچھا۔ اور ان کی پشت پر سر سے لیکر ہاتھ پھیرنا شروع کیا۔ حضور ہاتھ پھیرتے جاتے تھے۔ حتی کہ تین چار دفعہ ہاتھ پھیرنے سے ہی بخار اتر گیا۔ اور بیماروںکو شفا دینے کامعجزہ اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرمایا۔
    یہ صاحب ابھی تک موضع ٹھٹھہ ناظریان مشمولہ انجمن شاہ مسکین ضلع شیخوپورہ میں موجود ہیں۔ ان کی زبان سے بھی میں نے اس طرح سنا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کی دعا سے فوراً مجھے شفا مل گئی اور کئی روز سے جو کھانا نہیں کھایا تھا۔ اسی وقت مجھے اس قدر بھوک لگی کہ میں نے سیر ہوکر کھانا کھا لیا۔ اور سفر کے لئے روانہ ہوئے اور بٹالہ تک پیدل پہنچے اور کوئی تھکان معلوم نہ ہوئی۔
    ایک اور نشان جو مولوی صاحب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور مجھے فرمایا کہ چودھری احمد دین صاحب ساکن آنبہ ضلع شیخوپورہ جو آپ کی وساطت سے احمدی ہوئے تھے۔ ایک دفعہ قادیان شریف تشریف لائے۔ چودھری صاحب کے شرکاء نے آپ پر کئی مقدمات دائر کئے ہوئے تھے۔ اور آپ بڑی مشکلات میں تھے۔حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں حاضر ہوکر مولوی صاحب نے چودھری احمد دین صاحب کو پیش کیا اور دعا کی درخواست کی۔ حضور نے چوہدری صاحب کے سر پر ہاتھ پھیر کر فرمایا ۔ احمد دین خداتعالیٰ آپ پر فضل کریگا۔ دو تین دفعہ ایسا ہی فرمایا۔چنانچہ اس کے بعد چودھری صاحب کو ان جملہ مقدمات سے اللہ تعالیٰ نے رہائی بخشی۔ اور فیصلے آپ کے حق میں ہوگئے۔
    چوہدری احمد دین صاحب نے مجھے خود ہی یہ واقعہ سنایا اور آپ کے دل میں اس نشان سے ایک بڑی بشاشت ہے۔ اور ہمیشہ فرمایا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اس دعا کے نتیجہ میں مجھ پر بڑے فضل کئے۔ یہ صاحب اپنی جماعت میں امیر بھی رہ چکے ہیں۔ اب اس جماعت کے سید لال شاہ امیر ہیں۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اجود الناس تھے۔ جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اجود الناس تھے۔ آپ کے مظہر اتم ہونے کی وجہ سے حضرت مسیح موعودؑ بھی اجود الناس تھے۔ آپ اس قدر خیرات فرمایا کرتے تھے کہ آپ کی نظیر کوئی پیش نہیں کرسکتا۔ اول تو بغیر کسی کی خواہش کے ہی حضور خیرات فرماتے رہتے تھے۔ مگر کسی کی درخواست کو تو کبھی مسترد نہیں فرمایا کرتے تھے۔ حضور جب کوئی کتاب تصنیف فرماتے تو کثرت سے خیرات فرما چھوڑتے۔
    ایک دفعہ مولوی صاحب حضرت کے حضور پیش ہوئے تو حضور نے خود ہی فرمایا۔ کیا آپ نے میری کتاب چشمہ معرفت پڑھی ہے۔ مولوی صاحب نے عرض کیا۔ حضور نہیں۔ حضور نے فوراً (میر) مہدی حسین شاہ صاحب کو (جو ان دنوں حضور کی پیشی میں ہوتے تھے) فرمایاکہ ایک نسخہ مولوی صاحب کو دے دو۔ چنانچہ ایک نسخہ آپ کو عطا فرمایا گیا۔ اس پر مہدی حسن شاہ صاحب کے دستخط تھے۔
    ایسا ہی ۱۹۰۸ء میں جبکہ حضور لاہور آخری بیماری میں علاج کیلئے تشریف فرماتھے۔ ملاقات پر حقیقتہ الوحی کا ایک نسخہ عطا فرمایا اور ایک نسخہ میرے چچا عبدالمجید صاحب کو عنایت فرمایا۔ جو ان دنوں جماعت احمدیہ بھنیس کے سیکرٹری مال اور ڈاک خانہ شرق پور میں ملازم ہیں۔ ان دونوں کتابوں پر بھی مہدی حسن شاہ صاحب کے دستخط موجود ہیں۔ غرض آپ کی کریمی اور جوادی کی نظیر پیش کرنا مشکل ہے۔
    یہ ہیں وہ واقعات جو میرے والد بزرگوار حضرت مولوی محمد عبداللہ صاحب صحابی حضرت مسیح موعودؑ نے بیان فرمائے اور مجھے یاد ہیں۔ اس کے علاوہ ممکن ہے کہ آپ نے بہت سے واقعات ملاحظہ فرمائے ہوں مگر مجھے یاد نہیں۔ اس لئے انہیں پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
    جناب مولوی صاحب ستمبر ۱۹۲۰ء میں فوت ہوئے اور حضرت مسیح موعود کے عین قدموں کے سامنے مقبرہ بہشتی میں مسیح موعود سے تیسرے بلاک میں جلسہ سالانہ ۱۹۲۱ء پر آپ مدفون ہوئے۔ اور خدا تعالیٰ نے آپ کی آخری دعا کو کہ خدایا مجھے مسیح موعودؑ کے قدموں میں جگہ دینا۔ منظور فرمایا۔ آپ تپ دق اور کھانسی سے کئی ماہ بیمار رہنے کے بعد فوت ہوئے۔ ان کی آخری وصیت یہ تھی کہ پہلے کلمہ شہادت پڑھا۔ اور فرمایا کہ گول رہو۔ میرا ایمان ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم خاتم النبین رسول تھے اور حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی خدا کے مسیح اور مہدی اور خدا کے نبی تھے اور مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ آپ بھی اس ایمان پر قائم رہیں اور حضور کے خلفاء کے ہاتھ بھی ایمان رکھیں۔ یہ کہنا تھا کہ آپ پر سکوت ہمیشہ کیلئے طاری ہوگیا اور آپ فی مقعد صدق عنہ ملیک مقتدر میں جا بسے۔ الھم مغفرنہ ورحمنہ۔
    خاکسار کے چشم دید واقعات: خاکسار کو بعد از بیعت بہت ہی تھوڑا موقع شرف نیاز کا حاصل ہوا۔ اس وجہ سے زیادہ واقعات چشم دید بیان نہیں کرسکتا۔اگرچہ خاکسار ۱۹۰۲ء میں ہی جبکہ والدم بزرگوار بیعت کرچکے تھے۔ آپ کی تعلیم کے مطابق حضرت مسیح موعود کو جملہ دعاوی قبول کرچکا تھا۔ اس طریق سے میں پیدائشی احمدی بھی کہلا سکتا ہوں۔ اور اس وقت میری عمر قریباً تیرہ چودہ سال کی تھی۔ آپ کا نور بیان اس قدر واضح اور عاشقانہ ہوتا تھا کہ خواہ مخواہ سامعین پر وجد طاری ہوجاتا اور جس کے قلب میں ایک رتی بھر بھی ایمان ہوتا۔ تسلیم کئے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔ آپ کی متواتر تعلیم اور حضرت مسیح موعود کی عشق گداز باتیں سننے سے میں بیقرار ہوگیا۔ اس وقت میں اپنے والد صاحب سے تعلیم اسلامی حاصل کررہا تھا اور میرے دل میں اس قدر تموج پیدا ہوگیا کہ ۱۹۰۴ء میں روپوش ہوکر قادیان کی طرف بھاگا۔ اور وہاں پیدل منزل بمنزل پہنچ کر دستی بیعت حاصل کرلی۔
    ا ندنوں کرم دین جہلمی سے مقدمہ جاری تھا۔ چند روز ٹھہر کر واپس چلا گیا۔ اس وقت کا واقعہ مجھے اس قدر یاد ہے کہ حضور لعین اور لئیم اور اس کے معنی الفاظ نکلوا کر دیکھ رہے تھے جن کا دیکھنا اس مقدمہ کیلئے ضروری تھا۔
    پھر ۱۹۰۸ء میں خاکسار اور مولوی صاحب مرحوم چند آدمیوں کو ہمراہ لیکر موضع بھینی سے بیعت کی غرض سے لاہور پہنچے۔ وہاں دیکھا کہ کئی کئی روز سے پروانہ وار ہزاروں انسان بغرض بیعت و ملاقات ادھر ادھر پھر رہے ہیں۔ مگر حضور کی بیماری کی وجہ سے ملاقات کا شرف حاصل نہیں ہوسکتا تھا۔
    مولوی صاحب نے جاتے ہی ایک رقعہ حضرت اقدس کی خدمت میں اندر بھیجا تو حضور نے فوراً حکم بھیج دیا کہ مولوی محمد عبداللہ صاحب اپنے ساتھیوں کو ہمراہ لیکر فلاں کمرے میں پہنچ جاویں۔ جو چھوٹا سا کمرہ تھا۔ اور وہاں باری کے سامنے ایک چھوٹی سی مونجی چارپائی پڑی ہوئی تھی۔ ہم وہاں پہنچ گئے۔ اورحکم ہوا کہ یہاں بیٹھ جائو۔ حضور یہاں ہی تشریف لائیں گے اور تمام لوگ جو کئی ہزار کا مجموعہ تھا۔ اس طرف دوڑنے شروع ہوئے ۔ کچھ کمرے میں پہنچ گئے۔ اور باقی کچھ سیڑھیوں پر اور دوسرے سب باہر کھڑے تھے۔ اور ہر کوئی یہ چاہتا تھا کہ میں ہی آگے بڑھوں اور حضور کے قدموں میں پہنچوں۔ مگر ہر کوئی وہاں کیسے پہنچ سکتا تھا۔ آخر حضور اس کمرہ میں تشریف لائے اور السلام علیکم کہہ کر اس چارپائی پر رونق افروز ہوئے اور بیعت کیلئے حکم فرمایا۔ اور فرمایا کہ باہر پگڑیاں ایک دوسری کے ساتھ گانٹھ کر پھینک دو۔ چنانچہ پگڑیاں پھینکی گئیں اور بیعت شروع ہوئی۔ حضرت مسیح موعودؑ کے دس مبارک پر سب سے اول ہاتھ میرا تھا۔ پھر کچھ میرے ہاتھ پر اور کچھ پشت اور سر پر باقی ایک دوسرے کی پشتوں پر ۔ پھر پگڑیوں پر۔ بیعت کے بعد حضور نے مختصر سی نصیحت فرمائی۔ جس کے الفاظ یاد نہیں اور نہ ہی مفہوم یاد ہے۔ اس وقت حضور نے میرے والد صاحب اور میرے چچا صاحب مولوی عبدالمجید کو کتاب حقیقتہ الوحی عنایت فرمائی۔ حضور نصائح فرما رہے تھے کہ میرے چچا صاحب نے سامنے کی دیوار پر ایک نورانی چمکار دیکھی۔ جو ادھر ادھر گھوم رہی تھ۔ حیرانگی سے اسی طرف خیال منتقل ہوگیا۔ بڑے غور سے معلوم ہوا کہ وہ چمکار نہ کسی شیشہ کی ہے نہ بلور کی۔ بلکہ وہ حضرت اقدس کے چہرہ مبارک کی ہے۔ جو حضور کے چہرہ مبارک کو ادھر ادھر گھمانے کی وجہ سے ادھر ادھر گھومتی ہے۔ یقین ہوجانے پر انہوں نے اپنے بڑے بھائی مولوی محمد عبداللہ صاحب کو دکھائی۔ پھر مجھے بھی دکھائی۔ اور بے اختیار منہ سے درود شریف نکلنا شروع ہوا۔ الھم صل علی محمد و الہ محمدسید والا آدم و آلہ و بارک وسلم۔
    پہلے تو اعتقادی رنگ میں دل میںسرور رہا۔ بعد ازاں جبکہ حضرت خلیفتہ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرالعزیز نے غالباً اپنے درس القران ۱۹۲۲ئ؁/۱۹۲۸ئ؁ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نشان پربیضا کا ذکر فرمایا کہ خدا کے نبیوں کو ایک نور دیا جاتا ہے۔ بعضوں کے ہاتھوں سے وہ نور ظاہر ہوتا ہے اور بعضوں کے چہرہ سے اور بعضوں کے کسی اور عضو سے۔ اس وقت مجھے یقین ہوا کہ وہ خدا کا نور تھا۔ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چہرہ مبارک سے نمودار ہوتا تھا۔ اور یہ ایک عظیم الشان نشان تھا۔ جو آپ کو دیا گیا۔ اور ہم نے مشاہدہ کیا۔ ممکن ہے کسی اور نے بھی یہ نور دیکھا ہو۔ مگر یہ ضروری نہیں کہ ہر ایک نشان ہر وقت بھی دیکھایا جاوے۔ یا ہر نشان مطالبہ پر دکھایا جاسکے۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی جب کبھی ایسا مطالبہ کیا جاتا تو آپ باذن رب العباد یہی ارشاد فرماتے۔ قل انما العلم عنداللہ ۔ انما الایات عنداللہ۔
    غرض یہ چند آیات ہیں جو میں نے اور میرے والد صاحب مرحوم نے اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ مومن تو ہر ایک نشان کو مانتا اور بصیرت حاصل کرتا ہے۔ مگر جھوٹ باندھنے والا گنہگار جب آیات اللہ کو سنتا ہے اور اس پر ایسی باتوں کا ذکر پڑھا جاتا ہے تو تکبر سے انکار پراصرار کرتا ہے= گویا کہ اس نے سنا ہی نہیں۔ پس ان کیلئے عذب الیم کی بشارت ہے۔
    ویل لکل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھیں رجسٹرروایات نمبر ۴صفحہ ۲۴)
    خاکسار محمد عبدالعزیز انسپکٹر بیت المال
    صحابی حضرت مسیح موعود سکنہ بھینی ڈاکخانہ شرق پور
    ضلع شیخوپورہ حال مہاجر قادیان محلہ دارالرحمت
    ضلع گورداسپور ۔ مورخہ ۳۸۔۳۔۹





    روایات
    سید محمود عالم صاحب ولد سید تبارک حسین صاحب
    ساکن موضع لرسیا ڈاکخانہ جہاں آباد ہرگنہ بھلاور ضلع گیا صوبہ بہار
    حال خزانچی صدر انجمن احمدیہ قادیان
    سن بیعت : ۱۹۰۵ء
    سن زیارت: ۱۹۰۷ء
    میرے خاندان کا شجرہ نسب حضرت امام حسین ؓ تک جاتا تھا (ہے) مجھے اپنی سن پیدائش یاد نہیں۔ غالباً ۱۸۸۹ء ؁ یا ۱۸۹۰ئ؁ہے۔ میرا آبائی وطن موضع لرسا ڈاکخانہ جہاں آباد ہرگنہ بھلامہ ضلع گیا صوبہ بہار ہے۔ میری جائے پیدائش موضع برانواں ڈاکخانہ پون پون ضلع پتنہ ہے۔-------
    ۱۹۰۲ء میں جب میں پٹنہ شہر میں پڑھنے کیلئے آیا۔ وہاں ایک بزرگ تشریف لائے اور کہنے لگے کہ پنجاب میں ایک بہت بڑا عالم ہے۔ ایک عیسائی اس کی دعا کے مقابلہ میں آیا تھا۔ جو مر گیا۔اب کوئی عیسائی اس کے مقابلہ میں نہیں اتا۔ یہ س نکر مجھے حضرت مسیح موعودؑ سے بغیر نام اور کیفیت معلوم ہوئے محبت ہوگئی۔
    غالباً ۱۹۰۳ء میں میرے بڑے بھائی سید محبوب عام پٹنہ شہر میں کسی طرف جارہے تھے کہ وہ شخص یہ کہتے ہوئے گزر گئے کہ پنجاب میں کسی شخص نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ بھائی صاحب کو بچپن سے قرآن شریف سے محبت ہے۔ اس لئے یہ سن کر حیران سے رہ گئے کہ پوچھوں تو کس سے پوچھوں۔ کہنے والے تو چلے گئے۔ شاید سٹیشن ماسٹر کو معلوم ہو۔ چنانچہ ان کا خیال درست نکلا۔ نام و پتہ وغیرہ دریافت کرکے مکان پر آئے اور حضرت مسیح موعودؑ کو ایک خط لکھا کہ مجھے آپ کے حالات معلوم نہیں۔ صرف نام سنا ہے۔ اگر براہ کرم انہہی تصانیف بھیج دیا کریں تو پڑھ کر واپس کردیا کرونگا۔ چنانچہ مولوی عبدالکریم صاحب ؓ کتابیں بھجواتے رہے اور بھائی صاحب پڑھ پڑھ کر واپس کرتے رہے۔ لوگوں نے اسی وقت سے مخالفت شروع کردی۔ مگر بھائی صاحب نے استقلال سے کام لیا۔ اور کچھ عرصہ بعد بیعت کرلی۔ میں نے بھی کچھ عرصہ بعد بھائی صاحب کے ذریعہ کتابیں پڑھیں اور بیعت کرلی۔
    احمدیت سے کچھ عرصہ پہلے میں شہر سے گھر گیا اور اتفاق سے والد صاحب کے ساتھ سویا۔ خواب میں والد صاحب کو حضرت امام حسینؓ نے فرمایا کہ تیرا یہ لڑکا جو تیرے ساتھ سویا ہوا ہے بہت بڑا وکیل ہوگا۔ لیکن جب احمدی ہوگیا ۔ اس وقت والد صاحب سے کہا کہ آپ کی خواب کی تعمیر میرا احمدی ہونا ہے۔۔۔۔
    ابھی دو سال کی متواتر اور خطرناک بیماری سے پوری طرح صحت یاب بھی نہیں ہوا تھا کہ قادیان آنے کا شوق بلکہ جنون پیدا ہوا۔
    اے محبت عجب آثار نمایاں کردی زخم و مرہم برہ یار تو یکساں کردی
    بھائی صاحب نے اصرار کیا کہ قادیان میں خزانہ نہیں رکھا ہوا۔ کم از کم میٹرک پاس کرکے جانا۔ تاکہ وہاں تکلیف نہ ہو۔ والدین غیر احمدی تھے۔ الغرض کسی نے زاد راہ نہیں دیا۔ بیماری کی وجہ سے میرا جسم بہت ہی کمزور اور ضعیف ہورہا تھا۔ مجھ میں دو چار میل بھی چلنے کی طاقت نہ تھی۔ بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک میل چلنے کی بھی طاقت نہ تھی۔ مگر خداتعالیٰ نے دل میں جوش ڈال دیا۔ اور پیدل سفر کرنے کیلئے تیار ہوگیا۔ اس وقت میں پٹنہ میں تھا۔ چلتے وقت لوگوں نے مشورہ دیا کہ والدین سے مل کر جائو۔ میں نے انکار کردیا کہ ممکن ہے والدہ کی توجہ و فریاد سے میری ثبات قدمی جاتی رہے اور قادیان جانے کا ارادہ ترک کردوں۔ بہر حال چلا اور چلا۔ چلنے وقت ایک کارڈ حضرت مسیح موعودؑ کو لکھا کہ میرے لئے دعا کی جائے۔ میرے حالات سفر یہ ہیں۔ میں بہت کمزور اور نحیف ہوں اور ایک کارڈ بھائی صاحب کو لکھا کیونکہ اس وقت وہ دوسری جگہ پر تھے۔ کہ میں جارہا ہوں اگر قادیان پہنچا تو خط لکھونگا۔ اور گھر راستہ میں مر گیا تو میری نعش کا بھی کسی کو پتہ نہ لگے گا۔ میں نے سفر کیلئے احتیاطی پہلو اختیار کرلئے تھے۔ ۱۔ ریلوے لائن کا نقشہ رکھ لیا تھ۔ ۲۔ جلدی جلدی چند درسی کتب فروخت کرکے کچھ پیسے رکھ لئے تھے۔ میں کمزور بہت تھا اور مسافت دور کی تھی۔ پچاس ساٹھ میل تک ریل کا سفر کیا۔ تاکہ اگر صحت کمزوری دکھائے تو لوٹنے کی ہمت نہ ہو۔ اور بجائے واپس ہونے کے آگے آگے ہی چلتا رہوں۔ میں اس سفر میں تیس تیس میل روزانہ چلتا رہا۔ جہاں رات ہوتی ٹھہر جاتا۔ کبھی سٹیشن پر اور کبھی گمٹئیوں میں۔ پائوں کے دونوں تلوے زخمی ہوگئے تھے۔ ’’خدایا آبرو رکھیو میرے پائوں کے چھالوں کی‘‘ جب رات بسر کرنے کے لئے کسی جگہ ٹھہرتا تو شدت درد کی وجہ سے پائوں اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتا تھا۔ صبح ہوتی۔ نماز پڑھتا اور چلنے کیلئے قدم اٹھاتا تو پائوں اپنی جگہ سے ہلتے نہیں تھے۔ بہ ہزار دشواری انہیں حرکت دیتا اور ابتدا میں بہت آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اور چند منٹ بعد اپنی پوری رفتار میں آجاتا۔ پائوں جوتا پہننے کے قابل نہیں رہے تھے۔ کیونکہ چھالوں سے پر تھے۔ بلکہ چمڑا اتر کر صرف گوشت رہ گیا تھا۔ اسلئے کبھی روڑے اور کبھی ٹھیکریاں چبھ چبھ کر بدن کو لرزاں دیتیں۔ کبھی ریل کی پٹری پر چلتا اور کبھی عام شاہراہ پر اتر آتا۔بڑے بڑے ڈرائونے راستہ سے گزرنا پڑا ۔ ہزاروں کی تعداد میں بندروں اور سیاہ موننہ والے لنگوروں سے واسطہ پڑا۰ جن کا خوفناک منظر دل کو ہلا دیتا۔ علی گڑھ شہر سے گزرا۔ مگر مجھے خبر نہیں کہ کیا ہے۔ اور کالج وغیرہ کی عمارتیں کیسی ہیں۔ البتہ چلتے چلتے دائیں بازو پر کچھ فاصلہ پر سفید عمارتیں نظر آئیں اور پاس سے گزرنے والے سے یہ پوچھ کر کہ یہ عمارت کیسی ہو اور اس کے یہ کہنے پر کہ کالج کی عمارت ہے۔ آگے چل پرا۔ دہلی شہر سے گزرا اور ایک منٹ کیلئے بھی وہاں نہ ٹھہرا۔ کیونکہ میرا مقصود کچھ اور تھا۔ وہاں کے بزرگوں کی زیارت میرا مقصود نہ تھا۔ اس لئے میں ایک سیکنڈ کے لئے بھی اپنے مقصود سے باہر نہیں ہونا چاہتا تھا۔ زخمی ہیروں کے ساتھ قادیان پہنچا اور مہمان خانہ میں ٹھہرا۔ چند منٹ کے بعد حضرت حافظ حامد علی صاحب مرحوم نے دودھ کا ایک گلاس دیا۔ میری جیب میں پیسے نہیں تھے۔ اس لئے لینے سے انکار کردیا۔آخر ان کے کہنے پر کہ خرچ سے نہ ڈریں آپ کو پیسے نہیں دینے پڑیں گے۔ پی لیا۔ الحمد اللہ علی ذالک۔کہ قادیان میں سب سے پہلی غذا دودھ ملی۔ میری موجودگی میں بہت سے لوگ آئے مگر کسی کو بھی دودھ کا گلاس نہیں دیا گیا۔ اسی روز سے میں اب تک ناواقف ہوں۔ پھر حضرت مسیح موعودؑ سے ملا۔ حضور حالات دریافت کرتے رہے۔ لوگ بیعت کرنے لگے تو حضور نے خود ہی مجھے بھی بیعت کیلئے کہا۔ میں اس وقت حضور کے پائوں دبا رہا تھا۔ یہ ایک جنون تھا۔ جو کام اگیا۔ ورنہ آج صحابیوں کی فہرست میں میرا نام کس طرح آتا۔
    اے جنوں گرد تو گردم کرچہ احسان کردی۔ الھم مالک الملک تقر من تشائ۔ خلیفہ اولؓ نے زخموں کا علاج کیا اور حافظ روشن علی صاحب مرحوم کو تعلیم کیلئے مقرر کردیا۔ اور بعد میں خود تعلیم دیتے رہے۔
    مئی ۱۹۰۸ء میں جب حضرت مسیح موعودؑ لاہور تشریف لے گئے اور بعد میں حضرت خلیفہ اولؓ کو بھی بلوا بھیجا=۔ تو حضرت خلیفہ اولؓ مجھے بھی ساتھ لے گئے۔ حضرت مسیح موعودؑ کی وفات کے وقت میں آپ کے دائیں بازو میں کھڑا تھا لاہور سے جنازہ کے ساتھ قادیان آیا۔ جب حضرت خلیفہ اولؓ نے باغ میں لوگوں سے بیعت لی۔ میں اس وقت چارپائی پر آپ کے ساتھ بیٹھا تھا۔ حضرت خلیفہ اولؓ نے اس وقت جو تقریر کی اور حضرت میر ناصر تراب صاحب مرحوم نے رو رو کر جو معافی مانگی۔ وہ میرے دماغ میں اب تک گونج رہا ہے۔ بیعت کے بعد نماز جنازہ ادا کی گئی۔ پھر باغ والے مکان میں حضرت کا تابوت زیارت کیلئے رکھا گیا۔ اور چہرہ سے کپڑا اتار دیا گیا۔ لوگ مغربی دروازہ سے گزر کر زیارت کرتے ہوئے مشرقی دروازے سے نکل جاتے۔
    اب میں حضرت مسیح موعودؑ کی سیرت کے متعلق کچھ عرض کرتا ہوں۔
    ۱۔ مولوی عبدالوہاب صاحب ابن حضرت مولوی نور الدین صاحب کی پیدائش کے دن جب حضرت مسیح موعود مسجد مبارک میںتشریف لائے تو مولوی صاحب س یفرمایا کہ اس عمر میں بچہ کا پیدا ہونا خاص خداتعالیٰ کے فضل کے ماتحت ہے۔ اس لئے اس بچہ کا نام عبدالوہاب تجویز کیا ہے۔
    ۲۔ پیغام صلح کی تصنیف کے وقت اثناء گفتگو میں حضرت مسیح موعود نے حضرت مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ابتداء میں میری نیت ایک چھوٹا سا رسالہ نکالنے کی ہوتی ہے۔ لیکن مضمون کی خبر نہیں ہوتی کہ کیا لکھنا ہے۔ جب لکھنے بیٹھتا ہوں تو مضمون آنا شروع ہوجاتا ہے۔ پھر لکھتے لکھتے خیال گزرتا ہے کہ شاید لوگ نہ سمجھیں۔ اسے بڑھاتا ہوں اور پھر بڑھاتا ہوں۔ یہاں تک کہ ایک بڑی کتاب ہوجاتی ہے۔
    ۳۔ حضرت مسیح موعودؑ مسجد مبارک میں تشریف رکھتے تھے کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب نے حضرت سے فرمایا کہ قاضی ظہور الدین اکمل گولیکی کے رہنے والے ہیں۔انہوں نے ایک نظم لکھی ہے۔ جو حضور کو سنانا چاہتے ہیں۔ حضور نے اجازت دے دی۔ اور اکمل صاحب نے کھڑے کھڑے اپنی نظم سنائی۔ اور حضور چپ چاپ سنتے رہے۔
    ۴۔ ایک شخص نے پنجابی زبان میں ایک نظم سنائی۔ اس نظم میں مولویوں کی گت وغیرہ کا بھی ذکر تھا۔ حضور سنتے رہے۔ اور کسی کسی شعر پر ہنستے بھی رہے۔
    ۵۔ حضرت نواب مبارکہ بیگم کے نکاح کے وقت مسجد اقصیٰ میں حضور تشریف لے گئے۔ خطبہ نکاح حضرت مولوی نور الدین صاحب نے پڑھا۔ اور بعد از خطبہ حضرت نواب مبارکہ بیگم کی طرف سے حضور نے خود منظوری عطا کی۔
    ۶۔ ایک مرتبہ سیر کو جاتے ہوئے کسی کے پیر سے ٹکر کھا کر آپ کی سوٹی گر گئی۔ آپ بغیر نظر پھیرے سیدھے چلے گئے اور دوسرے شخص نے اسے اٹھا کر اور صاف کرکے آپ کو دی۔
    ۷۔ ۱۹۰۷ء کے جلسہ سالانہ پر مسجد اقصیٰ میں آپ کی موجودگی میں میر قاسم علی صاحب نے ایک نظم پڑھی۔
    ۸۔ ۱۹۰۷ء کے جلسہ سالانہ پر لوگوں کی بھیڑ میں آپ کا پائوں کچلا گیا۔ آپ نے کسی قسم کا اظہار ناراضگی نہیں فرمایا اور واپس آگئے۔
    ۹۔ ۱۹۰۸ء میںمکرم ذوالفقار علی خاں صاحب‘ نواب صاحب روم پور کی طرف سے ایک خط لیکر حضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضر ہوا۔مسجد مبارک میں عصر کی نماز کے بعد خاں صاحب نے باتیں شروع کیں اور اثنا گفتگو میں یہ بھی کہہ بیٹھے کہ نواب صاحب نے ایک اعتراض کیا تھا کہ مرزا صاحب نے تو نبوت کا دعویٰ کیا ہے جس پر میں نے کہا کہ نبوت کا کوئی نہیں۔ آپ تو فرماتے ہیں۔ من نیستم رسول دنیا و روہ ام کتاب ‘‘ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ یہ جواب درست نہیں۔ میں نبی اور رسول ہوں۔ اور میرا دعویٰ نبوت و رسالت کا ہے۔ ایک مصرع کے تو صرف یہ معنے نہیں کہ میں ایسا نبی و رسول نہیں جو اپنے ساتھ کتاب لاتا ہے۔ آپ کو ڈرنا نہیں چاہئے تھا۔ نبی کریمؐ کے صحابہ بڑے بڑے بادشاہوں کے دربار میں جاتے تھے اور حق کے اظہار میں ذرا نہیں جھجکتے تھے۔حضرت مسیح موعود بار بار ان فقرات کو دہراتے رہے اور آپ پر خاں صاحب کی باتوں پر اتنا اثر تھا کہ جب دوسری صبح سیر کیلئے تشریف لے گئے تو وہاں بھی اس امر پر روشنی ڈالی اور بار بار فرماتے رہے کہ میں نبی و رسول ہوں۔ مگر میں صاحب شریعت نبی نہیں ۔ اور اس وقت بھی صحابی کی نظیر پیش کی کہ وہ حق کے اظہار میں کسی سے ڈرتے نہیں تھے۔
    ایک معمر شخص نے جو باہر سے آئے تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ سے نشان کا مطالبہ کیا ۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ کیا پہلے نشان تھوڑے ہیں کہ نئے نشان دیکھنے کی خواہش ہے۔ یہ نیت اللہ کے خلاف ہے کہ فرداً فرداً ہر شخص کو نشان دکھایا جاوے۔ آپ کچھ دن قادیان میں قیام فرماویں۔ ممکن ہے کہ خداتعالیٰ کوئی نشان ظاہر کردے۔ مگر و ہ بزرگ ٹھہرے نہیں۔
    ۱۱۔ ایک شخص نے ذکر کیا کہ مرتد ڈاکٹر عبدالحکیم نے لکھا ہے کہ اس قسم کا کسوف و خسوف اب سے پہلے بھی کئی مرتبہ ہوچکا ہے۔ حضرت مسیح موعود اندر جانے کیلئے کھڑے ہوچکے تھے۔یہ سن کر ٹھہر گئے اور کھڑے کھڑے فرمایا کہ اس قسم کا کسوف و خسوس سے تو مجھے کوئی بحث نہیں۔ میری بحث تو اس کی آیت ہونے پر ہے۔ پس اسے چاہئے کہ اس قسم کے کسوف و خسوس کے وقت کوئی ایسا مدعی پیش کرے۔ جس نے اسے بطور آیت کے اپنے لئے پیش کیا ہو۔
    ۱۲۔ حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ نے حضرت مسیح موعودؑ کے آگے نابہہ کے وزیر کی طرف سے ایک خط پیش کیاکہ راجہ کی خواہش ہے کہ حضور گورمکھی زبان میں کوئی کتاب تصنیف فرماویں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے دریافت کیا کہ خط خود راجہ نے لکھا ہے۔ یا اس کے وزیر نے حضرت مولوی صاحب نے جواب دیا کہ خط وزیر کی طرف سے آیا ہے حضرت مسیح موعودؑ نے سن کر فرمایا کہ خدا کے مامورین میں کبریالی بھی ہوتی ہے۔ اسے لکھ دیں کہ اگر راجہ کو ضرورت ہے تو بذات خود خط لکھے۔ پھر ممکن ہے توجہ کی جاوے۔
    ۱۳۔ ایک امریکن سیاح قادیان میں تشریف لائے اور اپنے ساتھ لاہور سے ایک پادری کو بھی لیتے آئے۔ مسجد مبارک کے نیچے جہاں دفتر محاسب ہے۔ انہیں ملاقات کا موقع دیا گیا۔ حضرت مسیح موعودؑ تشریف لائے۔ اور حضرت مولوی نور الدین صاحب کو بھی بلوایا۔ مولوی علی صاحب بھاگلپوری ترجمان مقرر ہوئے۔ باتیں کرتے کرتے امریکن سیاح نے نشان مانگا۔ حضور نے فرمایا کہ تم خود نشان ہو۔ اور خدا تعالیٰ کا الہام ’’یاتون من حل فج عمیق‘‘ کی زندہ تصویر ۔ ورنہ اس چھوٹے سے گائوں میں آنے کی کیا ضرورت تھی۔سیاح مزکور نے کہا میں تو عقیدت مندانہ رنگ میں نہیں آیا۔ حضور نے فرمایا کہ الہام میں عقیدت مندانہ کا فقرہ موجود نہیں۔ الہام میں تو صرف یہ بیان ہوا ہے کہ لوگ دور دور سے آئیں گے۔ چنانچہ ا ن آنے والوں میں سے ایک آپ بھی ہیں۔ اور اپنی ذات میں سے اس پیشگوئی کو لفظ بلفظ پورا کررہے ہیں۔اور اس کو نشان کہتے ہیں اور دوسرا نشان یہ پیش کیا کہ مولوی عبدالحئی صاحب مرحوم ابن مولوی نور الدین صاحب کو آگے کردیا کہ یہ بچہ بھی میرا نشان ہے اور اس کی تفصیل بیان کی۔ اور غالباً جسم پر پھوڑے کے نشان بھی دکھلائے۔
    ۱۴۔ مہمان خانہ سے ایک مہمان کا کمل ایک چور (جو وہ بھی بطور مہمان کے تھا) لیکر بھاگا۔ مہمان نے اس کا تعاقب کیا اور جا پکڑا۔ اور مسجد مبارک میں جبکہ حضرت مسیح موعودؑ تشریف فرما تھے۔ اس چور کو لیکر حاضر ہوئے اور کہا کہ حضور یہ کمبل کا چور ہے اس وقت چور خوف کے مارے تھر تھر کانپ رہا تھا۔ حضرت مسیح موعودؑ نے ایک نظر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا اسے چھوڑ دیں۔ آپ کو کمبل سے کام تھا جو مل گیا۔
    ۱۵۔ آریوں کی تحریک پر حضرت مسیح موعود نے ایک مضمون لکھا۔ جو چشمہ معرفت کے آخر میں لگا ہوا ہے۔ جو لاہور میں پڑھا جانا تھا۔ آواز کی بلندی معلوم کرنے کے لئے مختلف لوگوں سے پڑھوا کر سنتے رہے۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب کو مضمون دیکر لاہور بھیجا۔ آریوں نے خلاف وعدہ اپنے مضمون میں حضرت نبی کریمؐ کے خلاف بہت کچھ لب کشائی کی۔ جب لوگ لاہور سے واپس قادیان آئے تو حضرت مسیح موعودؑ اس امر پر بہت ناراض ہوئے کہ حضرت مولوی صاحب اور آپ جماعت کے لوگ کیوں بیٹھے رہے۔ حضرت مولوی صاحب کو خصوصیت سے بار بار مخاطب کرکے فرماتے رہے کہ جب حضرت نبی کریمؐ کو گالیاں دی جارہی تھیں تو آپ کس طرح بیٹھے رہے۔
    آپ کو فوراً اس مجلس سے چلے جانا تھا۔ قرآن شریف کا یہی حکم ہے۔ حضرت مولوی صاحب چپ چاپ سر جھکائے بیٹھے رہے۔ پھر جب حضرت مسیح موعود آریوں کے اعتراضات کے جواب سے فارغ ہوئے اور ۔۔۔۔۔ تک علیہ الرحمتہ کے مسلمان ہونے کے ثبوت میں بعض نوجوانوں کی ضرورت ہوئی تو شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر نور سے یہ کام لیا۔ آپ یہ حوالے لیکر مسجد مبارک میں ہی بیٹھ کر کچھ لکھنا چاہتے تھے کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب کے کہنے پر کہ حضور اندر جاکر لکھیں۔ آپ فوراً اندر چلے گئے۔
    ۱۶۔ ایک مرتبہ حضرت مسیح موعودؑ مسجد مبارک میں تشریف لائے اور تبسم کرتے ہوئے فرمایا کہ آج کفر نامہ کا بڑا سا پیکٹ آیا ہے۔ یہ تبسم صرف چند سیکنڈکے لئے تھا۔ پھر آپ خاموش ہوگئے اور آپ کے چہرہ پر گہرے صدمہ کے آثار ظاہر ہونے لگے اور نہایت ہی حسرت بھرے لہجہ میں فرمایا کہ اگر یہ لوگ تقویٰ سے کام لیتے تو معاملہ بالکل صاف تھا۔ نہ آپ ہلاک ہوتے اور نہ دوسروں کو ہلاک کرتے۔
    ۱۷۔ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے نکاح کے بعد شیخ یعقوب علی صاحب نے اپنے خیالات کے ماتحت کئی الہام جو اس نکاح کی طرف اشارہ کرتے تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ کے پیش کئے۔ آپ سنتے رہے اور فرماتے رہے کہ نہیں یہ نہیں۔ لیکن جب نواب مبارکہ بیگم کا الہام پیش ہواتو حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ ہاں یہ اس کے متعلق ہے۔
    ۱۸۔ ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود سیر کیلئے باہر تشریف لے گئے ۔ راستہ میں ایک خط پیش کیا گیا۔ جس میں لکھا کہ میری بیوی میری ماں سے بہت تنگ آئی ہوئی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے سن کر فرمایا کہ یہ غلکط ہے۔ ماں بیٹے کو ہزار ہا تنگی اور ترشی کے ساتھ پالتی ہے۔ جوان کرتی ہے۔ خوشی خوسی شادی بیا ہ کرتی ہے۔ وہی ماں بہو کو تنگ کرنے لگی۔ نہیں یہ نہیں ہوسکتا ۔ اصل یہ ہے کہ بہو نافرمان ہے۔ ساس کی اطاعت نہیں کرنا چاہتی۔ اس لئے گھر میں فساد ڈال کر ماں بیٹے میں جدائی ڈالنا چاہتی ہے۔
    ۱۹۔ عیدکے دن حضرت مسیح موعود ؑ پرانے کپڑے پہنے ہوئے مسجد مبارک میں تشریف لائے۔ حضرت صاحب کے تشریف لانے کے بعد شیخ رحمت اللہ کا انگلش ۔۔ہائوس لاہورتشریف لائے۔ نماز اور خطبہ کے بعد حضرت صاحب محراب میں کھڑے ہوگئے اور لوگ ایک ایک کرکے حضور سے مصافحہ کرتے رہے۔ نماز حضرت مولوی نور الدین صاحب نے پڑھائی تھی اور خطبہ بھی حضرت مولوی نور الدین صاحب ؓ نے پڑھا تھا۔ اس وقت بارش ہورہی تھی۔ اس لئے حضور نے بجائے عید گاہ کے مسجد مبارک ہی میں نماز عید کی ادا کی۔ نماز سے پہلے لوگوں کی آمد کی انتظار میں کچھ دیر تک بیٹھے بھی رہے۔
    ۲۰۔ ایک مرتبہ مولوی محمد احسن صاحب امروہی نے خطبہ جمعہ پڑھایا اور اپنے خطبہ میںزیادہ تر اس امر پر زور دیتے رہے کہ نبی کریمؐ کے بعد آپ کی امت میں نبی آسکتا ہے اور نبوت کے انکار کی رو میں یہ آیت ولقد جاء کم یوسف من قبل بالبینات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بار بار پڑھتے رہے کہ یوسفؑ کے بعد بھی نبی کی آمد سے انکار کیا گیا کہ آئندہ نبی نہیں ائے گا۔ یہ خدا تعالیٰ کی سخت ناراضگی کا موجب ہے۔ اس خطبہ کو حضرت مسیح موعودؑ نے نہایت خاموشی سے سنا۔
    ۲۱۔ ۱۹۰۸ء میں جب حضرت مسیح موعود لاہور تشریف لے گئے تو ایک امریکن سیاح آپ سے ملنے آیا۔ باتوں باتوں میں اس نے یہ بھی پوچھا کہ یورپ ‘ امریکہ اور ہندوستان وغیرہ ممالک کے باشندے سب کے سب ایک ہی آدم کی اولاد ہیں۔ حضرت نے جواب میں فرمایا کہ ابن عربی ایک مرتبہ حج کیلئے تشریف لے گئے تو کشف میں دیکھا کہ ایک شخص دو آدمیوں کے درمیان سے جہاں سے کوئی انسان گزر نہیں سکتا۔ بار بار گزرتا ہوا جارہا ہے۔ ابن عربی صاحب نے بڑھ کر اس شخص کو پکڑ لیا اور پوچھا کہ آپ کون ہیں۔ شخص مذکور نے جواب دیا کہ آدم۔ پھر ابن عربی صاحب کے دریافت کرنے پر کہ کون آدم ! شخص مذکور نے جواب دیا کہ غالباً تمہاری مراد نوح کے باپ سے ہوگی۔ میں نوح کا باپ نہیں۔ بلکہ نوح کے باپ سے پہلے سوواں آدم ہوں۔ پس اس کشف کے ماتحت ممکن ہے کہ امریکہ وغیرہ کے رہنے والے کسی اور آدم کی اولاد ہوں۔
    ۲۲۔ لاہور میں ایک شخص نے حضرت مسیح موعودؑ سے سوا لکیا کہ آپ کے آنے کی ضرورت کیا ہے۔ آپ نے فرمایا لوگوں کی بے دینی۔ اس نے کہا کہ مسجدیں تو نمازیوں سے پر ہوتی ہیں۔ اپ نے فرمایا کہ پھر خدا سے پوچھو اور نماز کیلئے کھڑے ہوگئے۔
    ۲۳۔ لاہور میں چنگ لوگ آپ سے ملنے آئے اور کفر و اسلام کا سوال کردیا۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ میں نے نہ کسی کو کافر کہا ہے اور نہ کافر بنایا ہے۔ وہ خود اپنا کر و افعال سے کافر بن گئے اور مومن کو کافر کہہ کر کفر خود ان پر لوٹ پڑا۔ اور دوسرے ان کے ساتھ ہوگئے۔ آپ دوسروں سے کفر کا فتویٰ دینے والوں کے خلاف کفر کا فتویٰ شائع کروادیں۔ بشرطیکہ نفاق نہ پایا جاتا ہو۔ میں انہیں مومن مان لونگا۔
    ۲۴۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب فرمایا کرتے تھے کہ خدا کے مامورین کو خدا کے سوا کسی کی پرواہ نہیں ہوتی۔ دنیا خواہ کچھ کہے۔ چنانچہ ایک مرتبہ میرے بھتیجے سائیں عبدالرحمان کی حضرت مسیح موعودؑ کے بعد شکایت ہوئی کہ سائیں عبدالرحمان ابھی تک یہیں ہے اسے نکالا نہیں گیا۔ حضور نے مجھے کہلا بھیجا کہ اگر آپ کو اس سے زیادہ محبت ہے تو خود بھی ساتھ چلے جائیں۔
    ۲۵۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب ؓ فرمایا کرتے تھے کہ ایک مرتبہ حضرت مسیح موعودؑ نے دو شخصوں کی لڑائی پر ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ اور کہنے لگے کہ میں مسجد مبارک میں کھڑا تھا۔ اور نیچے دو شخصوں کی لڑائی ہورہی تھی۔ لڑتے لڑتے ایک نے دوسرے کو جھوٹا کہا۔ دوسرا طیش میں آگیا اور بار بار دہرانے لگا کہ میں جھوٹا ۔ میں جھوٹا۔ مجھے اس کے فقرہ سے بہت تکلیف ہوئی۔ کاش وہ شخص جھوٹ کو اپنی طرف منسوب ہوتے دیکھ کر خداتعالیٰ کی جناب میں جھکتا۔ اور توبہ و استغفار سے کام لیتا۔ اور اس طرح سے خداتعالیٰ کو راضی کرتا۔ مگر اس نے اصرار کرکے خداتعالیٰ کو ناراض کرلیا۔ اگر وہ اپنے نفس پر ہی غور کرتا تو اس کے سینکڑوں جھوٹ اس کے سامنے آجاتے۔ اور خداتعالیٰ کی سفاری پر اس کی حمد کرتا۔ اور آئندہ کیلئے گناہ کی معافی چاہتا۔
    ۲۶۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب روز ہمیں حدیث پڑھا رہے تھے۔ جب یہ حدیث آئی کہ نبی کو چالیس آدمیوں کی قوت ہوتی ہے تو فرمانے لگے کہ ایک روز میں نے حضرت ام المومنین سے دریافت کیا کہ آپ ہماری ماں ہیں یا ماں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ بات تو شرم کی ہے مگر مسئلہ کی خاطر پوچھتا ہوں کہ حدیث میں آتا ہے کہ نبی کو چالیس مردوں کی قوت ہوتی ہے۔ میں مسیح موعودؑ کی قوت کے متعلق معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ آپ نے شادی ‘ علاج (کچلا کو تی نفولاد یہہ تینوں ہمزاد) اور پھر قوت کی کیفیت بتلائی۔
    ۲۷۔ حضرت مولانا نور الدین صاحبؓ نے فرمایا کہ نواب صدیق حسن خاں صاحب اور مولوی عبدالحئی صاحب ہر دو کو خیال تھا کہ وہ اس صدی کے مدد ہونگے۔ اس ذکر میں حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ ان مولویوں کو کیا معلوم کہ مجددیت کیا ہوتی ہے۔ مجددوں کو تو چوہڑوں کی طرح ہر وقت غلاظت میں ہاتھ ڈالنا پڑتا ہے یعنی لوگو ںکی اندرونی گندگی کو چوہڑوں کی طرح صاف کرنا پڑتا ہے۔
    ۲۸۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں نے حضرت مسیح موعود سے ایک مرتبہ دریافت کیا کہ حضور لوگوں سے بہت مختصر الفاظ میں بیعت لیتے ہیں۔ مجھ سے تو بیعت کے وقت بہت کچھ اقرار لیا تھا۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ میں تو ا نکا اپنے ہاتھ پر توبہ کرنا بھی غنیمت سمجھتا ہوں۔ زیادہ اقرار کیا لوں۔
    ۲۹۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود نے لنگر خانہ میں چنے کی بہت سی پتلی دال پکانے کا حکم دیا کہ مجھے بتلایا گیا ہے کہ ایک شخص نے رات دس مرتبہ زنا کیا ہے۔ چنانچہ حضرت مولوی صاحب فرماتے تھے کہ ایک شخص نے مجھ سے اقرار کیا کہ وہ میں ہوں۔ رات مجھے دس مرتبہ اس قسم کے خیالات پیدا ہوئے۔
    ۳۰۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعودؑنے ایک مولوی کے سامنے ایک حدیث پیش کی۔ مولوی نے حوالہ طلب کیا۔ آپ نے بخاری منگوائی اور ورق پر ورق الٹنا شروع کردیا۔ اور حدیث سامنے رکھ دی۔ بعد میں جب حضور سے دریافت کیا گیا کہ حضور نے اس قدر جلد حوالہ کس طرح نکال لیا۔ حضور نے جواب میں فرمایا کہ کتاب اوراق سب کے سب مجھے سفید نظر آرہے تھے اور جب و ہ صفحہ آیا جس میں وہ حدیث تھی تو سوائے اس حدیث کے اور کچھ بھی لکھا ہوا نہیں تھا۔یعنی اس حدیث کے آگے اور پیچھے کی سطریں بھی سفید تھیں۔
    ۳۱۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب فرمایا کرتے تھے کہ جب حضرت مسیح موعودؑ نے عربی میں خطبہ عید الاضحی پڑھا (جو کتاب خطبہ الہامیہ کے ابتدا میں ۔۔۔ہو) تو بعد میں جب اس کی کیفیت پوچھی گئی تو فرمایا کہ فرشتے میرے سامنے موٹے موٹے حروف میں لکھی ہوئی تختی لاتے جاتے تھے جسے میں دیکھ دیکھ کر پڑھتا جاتا تھا۔ ایک تختی آتی۔ جب وہ سن چکتا تو دوسری تختی آتی۔ اور پہلی چلی جاتی۔ اس طرح تختیوں کا سلسلہ رہا۔ جب کوئی لکھنے والا پوچھتا۔ تو گئی ہوئی تختی بھی واپس آجاتی۔ جسے دیکھ کر میں بتادیتا۔
    ۳۲۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب ؓ نے اپنے انجمن کے تعلقات کے ذکر میں فرمایا کہ جب صدر انجمن کی بنیاد پڑی تو میں نے حضرت مسیح موعودؑ سے دریافت کیا کہ یہ بنیاد تو مسیحی طرز کی ہے۔ کہیں گمراہ نہ ہوجاوے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے جواب دیا کہ بنیاد بھی اسی طرز کی ہے اور گمراہ بھی ہوگی۔ مگر ایک جماعت قیامت تک حق پر قائم رہیگی۔ چنانچہ پیغامیوں کے لئے گمراہی کا ہی زینہ بنی۔
    ۳۳۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب ؓ فرمایا کرتے تھے کہ جب مسیح موعود نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو میں نے جب حضرت مسیح موعودؑ سے ذکر کیا کہ علما اس دعویٰ کو تسلیم نہیں کریں گے تو فرمایا کہ میں نے تو اللہ تعالیٰ کے حکم پر چلنا ہے۔ خواہ علماء مانیں یا نہ مانیں۔ ان کی مرضی۔
    ۳۴۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب ؓ فرمایا کرتے تھے کہ سید محمد علی شاہ صاحب جو قادیان کے رہنے والے تھے۔ ان کی بیوی سخت بیمار ہوگئیں۔ حضرت مسیح موعودؑ مسجد مبارک میں تشریف رکھتے تھے۔ کسی نے اس بیماری کی حضرت کو خبر دی۔ حضرت نے توجہ نہیں کی۔ کسی وجہ سے (۰۰۰۰۰) حضرت ام المومنین گھر بیٹھے بیٹھے گھبرا گئیں اور حضرت مسیح موعودؑ کو جلدی سے بلوا بھیجا۔ حضرت مسیح موعودؑ اٹھ کر فوراً چلے گئے۔ اندر جاکر حضرت ام المومنین کے کہنے پر کہ سید محمد علی شاہ صاحب کی بیوی سخت بیمار ہیں۔ آپ نے دوا بھیج دی اور وہ اچھی ہوگئیں۔
    ۳۵۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب فرمایا کرتے تھے کہ مرزا مبارک احمد صاحب مرحوم بیمار ہوئے تو حضرت مسیح موعودؑ نے ان کو علاج میں اس قدر دوادوش کی کہ ظاہری نظر سے دیکھنے والا بہت بڑا دنیا دار کا لقب دیتا۔ مگر جس وقت فوت ہوگئے تو فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے ایک امانت سپرد کی تھی۔ اس کی حفاظت میں اپنی انتہائی قوت خرچ کردی اور جو زمہ داری ہم پر عائد ہوتی تھی۔ اسے مقدار بھر نباہا اور بیٹھ کر خط لکھنا شروع کردیا کہ خدا تعالیٰ نے وفات کی خبر اس کی پیدائش سے بھی پہلے سے دی ہوئی تھی۔ جو پوری ہوئی۔ انی اسقط من اللہ و اجہیہہ۔
    ۳۶۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ایک روز بڑی رات گزرے مجھے حضرت مسیح موعودؑ نے بلوا بھیجا۔ جب میں گیا تو فرمایا کہ میں محمود کی ماں کو وفات مسیح کا مسئلہ سنا رہا تھا تو کہنے لگیں کہ سن تو چکی کہ مسیح فوت ہوگئے۔ اب بار بار کیوں سناتے ہیں۔ ان کے نزدیک مسیح کی وفا ت کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ حضرت مولوی نور الدین صاحبؑ فرماتے کہ میں نے کہا کہ حضور اس لئے تو آج تک خداتعالیٰ نے کسی عورت کو نبی نہیں بنایا۔
    ۳۷۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب ؓ فرمایا کرتے تھے کہ میں بھیرہ میں مکان بنوا رہا تھا۔ قادیان میں صرف حضور کی زیارت کیلئے آیا تھا۔ چند روز بعد حضور نے مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کے زریعہ کہلا بھیجا کہ اپنی ایک بیوی کو بلوالیں۔ میں نے بلوا لیا۔ پھر کہلا بھیجا کہ بغیر مطالعہ کے آپ سے نہیں رہا جاسکتا۔ اس لئے کتابیں منگوالیں۔ پھر دوسری بیوی کو بھی بلوانے کا ارشاد ہوا۔ پھر آخری مرتبہ (حضرت) مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کی معرفت کہلا بھیجا کہ مجھے آپ کی نسبت الہام ہوا ہے۔ ’’لا تعبون الی الوطن۔ فیھا تمان و تمتحن‘‘۔اس لئے بھیرہ جانے کے ارادہ کو ترک کردیں۔
    ۳۸۔ حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ فرمایا کرتے کہ میں جموں میں ایک اشتہار پڑھ کر دریافت کیلئے قادیان پہنچا۔ اندر اطلاع کی گئی تو خبر آئی کہ عصر کے بعد ملونگا۔ جب حضور تشریف لائے تو سیڑھی پر دیکھتے ہی دل چاہا کہ قربان ہوجائوں۔ دوسرے روز سیر کو چلے۔ تو میں نے عرض کیا کہ بعض وقت دشمنوں کے اعتراض کا جواب نہیں بن پڑتا۔ کیا الزامی جواب دیکر ٹال دیا جاوے۔حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ اس سے بڑھ کر بے ایمانی اور کیا ہوگی کہ اپ تو جواب نہیں آتا اور دوسروں کو محض الزامی جواب دیکر ٹالا جاوے۔ قادیان سے واپس جاتے وقت حضرت مسیح موعودؑ نے مجھے ایک روپیہ دیا۔
    ۳۹۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب فرمایا کرتے تھے ک ہمیں نے ایک مرتبہ حضرت مسیح موعودؑ سے قرآن شریف کی مشکل آیات کے حل کرنے کی تدبیر پوچھی۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ جو آیت مشکل نظر آئی۔ اسے ایک کاغذ پر لکھ کر دروازہ کے سامنے لٹکا دیں۔ تاکہ آتے جاتے نظر پڑے۔ چند روز کے بعد وہ مشکل آیات حل ہوجائیگی۔
    ۴۰۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب ؓ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعودؑ ‘ مولوی عبداللہ صاحب غزنوی سے ملنے جایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ان کے کسی مرید نے حضور کو جاتے وقت ایک روپیہ دیا کہ مولوی صاحب کو میری طرف سے ایک روپیہ بطور نذرانہ پیش کردینا۔ جب حضور نے وہ روپیہ ان کو دیا تو مولوی صاحب نے (یہ) کہہ کر واپس کردیا کہ کھوٹا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ کو تکلیف ہوئی۔ کہ نذرانہ میں کھرے کھوٹے کا کیا سوال اور اسی تاریخ سے وہاں جانا چھوڑ دیا۔
    ۴۱۔ حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے مجھے ایک اشتہار شائع کرنے کیلئے دیا۔ اس میں ایک فقرہ تھا کہ میں حنفی المذہب ہوں۔ میں سمجھ نہ سکا۔ اشتہار تو دیدیا۔ مگر لکھدیا۔
    سجادہ رنگیں کن گرت پیرے فغاں گوید
    کہ سالک بے خیر نہ شود زراہ و رسم منزل کا
    پھر جب ملنے آیا تو حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ حضرت ابو حنفیہ کا کیا یثرب تھا۔ میں نے کہا پہلے قرآن کریم سے استدلال کرتے تھے۔ پھر حدیث پر نظر ڈالتے تھے اور آخر میں اپنے اجتہاد سے کام لیتے تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ میرا مطب یہی تھا۔ نہ یہ کہ میں حضرت ابو حنفیہ کا متبع ہوں۔
    ۴۲۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب ؓ فرمایا کرتے تھے کہ ایک مرتبہ تنگ آکر جب میں نے ملازمت سے استعفیٰ دینا چاہا۔ تو حضرت مسیح موعودؑ نے روک دیا کہ استعفی دینا جائز نہیں ہے۔
    ۴۳۔ حافظ روشن علی صاحب مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعودؑ کی کتاب اعجاز المسیح میں یہ شعر ہے۔
    ایا ارض مدر قد مقاک مدر دارد اک ضلیل دا غراک موغر
    جب حضرت مسیح موعودؑ مسجد مبارک میں تشریف لائے تو مولوی نور الدین صاحب سے فرمایا کہ آج میرے ایک شعر میں ’’ایا‘‘ حرف ندا کی طرح استعمال ہوا ہے۔ کیا عربی زبان میں ’’ایا‘‘ ندا کیلئے استعمال ہوتا ہے۔
    ۴۴۔ حافظ روشن علی صاحب مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ مجھے لنگر خانہ سے کھانا کھانے کا حکم تھا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ حضرت مسیح موعودؑ کی طرف سے اپنا کھانا کھانے کی اجازت مل جاوے۔ مگر حضرت مسیح موعودؑ نے اجازت نہیں دی۔ میرے بھائی ڈاکٹر رحمت علی صاحب مرحوم مجھے خرچ دیتے تھے۔ اور اس کی موجودگی میں لنگرخانہ سے کھانا کھانا ایک قسم کا بوجھ سمجھتا تھا۔ لیکن جب ڈاکٹر رحمت علی صاحب فوت ہوئے ۔ اس وقت مجھے اس مصلحت کا علم ہوا۔
    ۴۵۔ جب حضرت مسیح موعود کی آخری تقریر لاہورمیں ہوئی۔ اس وقت ہوا کچھ تیز تھی۔ ہوا کی تیزی کی وجہ سے آپ کی پگڑی کا شملہ اڑ اڑ کر آگے کی طرف آجاتا اور آپ پیچھے کی طرف کردیا کرتے۔ اس روز آپ کی طبیعت ناساز تھی۔ اور وقت بہت کم تھا خیال تھا کہ آپ تشریف نہ لائیں گے۔ مگر آپ تشریف لائے اور دیر تک کھڑے کھڑے تقریر کی۔
    خاکسار
    سید محمود عالم عفی عنہ
    قادیان ضلع گورداسپور
    پنجاب۔ ۳۸۔۳۔۱۰
    ۴۶۔ حضرت مسیح موعودؑ مسجد مبارک میں تشریف رکھتے تھے کہ ابنیاء کے متعبین کا ذکر چل پڑا ۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ عام طور پر انبیاء کے ماننے والے ان سے کم عمر کے لوگ ہوتے ہیں۔ بڑے بوڑھے بہت کم مانتے ہیں۔ مگر مولوی غلام حسین خان لاہویر اور بابا ہدایت اللہ صاحب شاعر لاہوری ۔ یہ دونوں ایسے ہیں جو بڑے اور بوڑھے ہوکر ایمان لائے ہیں۔
    ۴۷۔ مولوی غلام حسین لاہوری کا جنازہ حضرت مسیح موعودؑ نے پڑھایا اور جنازہ کو کاندھا دیا۔
    ۴۸۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب ؓ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعودؑ مسجد مبارک کو کشتی نوح سے تعبیر کرتے تھے۔
    عبدالقادر








    روایات
    مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ ولد شیخ برکت علی صاحب
    سکنہ فیض اللہ چک ضلع گورداسپور حال محلہ باب الانوار قادیان
    سن بیعت: پیدائشی
    سن زیارت: ۱۹۰۳ء
    ۱۔ میں تیسری کلاس پرائمری میں آکر تعلیم السلام ہائی سکول میں داخل ہوا تھا۔ اس وقت میری عمر قریباً آٹھ نو سال کی ہوگی۔ میرے ماموں حافظ حامد علی صاحب مجھے قادیان تعلیم کیلئے لائے تھے۔ انہوں نے آکر مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیش کیا اور میرے والد صاحب کا نام لیکر کہا۔ کہ یہ ا ن کا لڑکا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے وظیفہ کی سفارش کی۔ ان دنوں حضرت نواب صاحب مہتمم مدرسہ تھے۔ چنانچہ میرا وظیفہ پانچ روپیہ مقرر ہوا۔ اور اس وقت پانچ روپیہ کسی کا بھی وظیفہ نہ تھا۔ میرا پانچ روپیہ اس لئے مقرر ہوا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے سفارش کی تھی۔ یا یہ کہ اتنی رقم کی تعبین حضرت مسیح موعودؑ نے فرمائی تھی۔
    ۲۔ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ اپنے ماموں حافظ حامد علی صاحب کی معیت میں بھی اور اکیلے بھی سیر کیلئے کئی دفعہ گیا۔ دو طرف مجھے یاد ہیں۔ ایک بسرائے کی طرف اور دوسری بٹر کی طرف۔ حضرت مسیح موعودؑ کئی دفعہ باہر نکل کر احمدیہ چوک میں بعض دوستوں کا انتظار بھی کیا کرتے تھے۔ میں نے سیر میں اکثر دیکھا کہ حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ خلیفہ اول ؓ پیچھے رہ جاتے اور حضور ان کیلئے ٹھہر جاتے۔ جب آپ مل جاتے تو پھر چل پڑتے۔
    ۳۔ ۱۹۰۵ء میں جب بڑا زلزلہ آیا تو حضرت مسیح موعودؑ باغ میں چلے گئے تھے۔ اور بورڈنگ کے جتنے طلبا تھے وہ بھی باغ میں چلے گئے تھے۔ ان دنوں میں حضرت صاحب کے خیموں کا پہرہ ہوتا تھا۔ کیونکہ میاں شادی خاں صاحب کے خیمہ سے ان کی صندوقچی وغیرہ چور ایک دفعہ لے گئے۔ چنانچہ دو چور ایک رات آئے ۔ جن میں سے ایک پکڑا گیا تھا۔ جس کو ایک مسمی عبداللہ خاں پٹھان نے پکڑا۔ جن کا دایاں ہاتھ بوجہ بندوق کی گولیوں کے لگنے کے بیکار تھا۔ اور اس نے اس چور کو آم کے درخت کے ساتھ باندھا ہوا تھا۔
    ۴۔ جن دنوں حضرت صاحب باغ میں فروکش تھے تو مولوی محمد دین صاحب (حال) ہیڈماسٹر تعلیم السلام کو طاعون ہوگئی تھی۔ چنانچہ ان کی چھولداری قادیان کے مشرق کی طرف جہاں ڈاکٹر حاجی خاںصاحب کی اب کوٹھی ہے۔ وہاں آموں کے درختوں کے پاس لگادی گئی تھی اور انہی دنوں جناب قاضی امیر حسین صاحب کا لڑکا محمد شاہ طاعون سے فوت ہوگیا۔ جماعت کے لوگوں نے اس کے جنازہ وغیرہ میں کم حصہ لیا۔ جس پر حضرت مسیح موعود ؑ احمدیوں کو سخت ناراض ہوئے تھے۔
    ۵۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اکثر نمازوں کے بعد مسجد می ںبیٹھا کرتے تھے۔ خصوصاً گرمیوں میں نماز مغرب کے بعد چھت کے اوپر آپ کا بیٹھنا بہت یاد ہے۔ اور شاہ نشین پر حضور وسط میں بیٹھ جاتے اور ارد گرد باقی دوست بیٹھ جاتے اور باتیں ہوتی رہتی تھیں۔
    ۶۔ ایک دفعہ ہم نے ایک آسمان سے گولا جیسا گرتے دیکھا۔ تو ہم سب بورڈنگ کے لڑکے ریتی چھلہ کی طرف بھاگے کیونکہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ریتی چھلہ میں گرا ہے۔ جب وہاں پہنچے تو کچھ نہ تھا۰۰۰۰۰ اور اس لئے حضور نے ایک دفعہ کوئی پیشگوئی کی۔ جو جلدی پوری ہوئی۔ اس پر ہماری شہادتیں لی گئیں۔ چنانچہ حقیقتہ الوحی میں یرا اور میرے بھائی دونوں کا نام چھپا ہوا ہے اور کسی ایک کے نام کے ساتھ جٹ کا لفظ بھی ہے۔
    ۷۔ میں حضرت مسیح موعود ؑ کے ساتھ مولوی کرم الدین کے مقدمہ کے دوران میں دو دفعہ گورداسپور گیا تھا۔ میرے ماموں صاحب ضرور جاتے تھے تو میں یہی ان کے ساتھ چلا جاتا تھا۔ ایک دفعہ مجھے یاد ہے کہ بارش ہوئی ہوئی تھی۔ حضرت مسیح موعودؑ سحری کے وقت رتھ مین سوار ہوکر چل پڑے۔ حضرت ام المومنین بھی ساتھ تھیں۔ ان دنوں بارش ہوئی ہوئی تھی۔ اور بٹالہ کی سڑک پر ڈلہ کے موڑ تک بہت پانی تھا۔ چنانچہ وہ رتھ اکثر دفعہ کیچڑ میں پھنس جاتی تھی اور وست زور سے اس کو دھکیلتے ۔ تب بیل چلتے اور جس وقت بھی کہیں زیادہ کیچڑ وغیرہ میں رتھ پھنس جاتی تو ام المومنین چیخ پڑتے تھے۔ مجھے مولوی شیر علی صاح؁ کا اس وقت کا نظارہ نہیں بھولتا کہ پاجامہ وغیرہ سب کیچڑ کی وجہ سے خراب ہوگیا ۔ لیکن کوئی پرواہ نہ تھی۔ آخر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب موڑ پر پہنچے تو رتھ کھڑی کرکے پل کے پاس صبح کی نماز پڑھی اور حضور نے صبح کی نماز پڑھائی۔ مجھے اس کے علاوہ آپ کے پیچھے اور کوئی نماز پڑھنی یاد نہیں۔ سوائے نماز جنازہ کے جو اکثر حضورؑ کے پیچھے پڑی ہو۔
    ۸۔ ایک دفعہ مولوی کرم الدین کے مقدمہ یا کسی اور مقدمہ میں حضرت مسیح موعودؑ نے راتوں رات بعض آدمی کو سیکھوال بھیجنا تھا۔ چنانچہ سیکھواں جانے والا کوئی نہ تھا۔تو جناب مفتی محمد صادق صاحب نے مجھے پیش کیا کہ یہ سیکھواں جانتا ہے تو حضور نے مجھے کوئی رات کے دس بجے بھیجا اور میرے ساتھ سید احمد نور صاحب کابلی اور میاں مدد خاں صاحب روانہ کئے۔ ایک ہریکسین ہمارے ساتھ تھی۔ چنانچہ تتلے کے راستہ میں ان کو لے گیا۔ کیونکہ وہ ہی راستہ مجھے آتا تھا۔ اس حصہ سے کہ میں اپنے گائوں فیض اللہ چک اسی راستہ آتا جاتا تھا۔ چنانچہ میاں جمال الدین صاحب و خیر الدین صاحب و امام الدین صاحب کو جاکر جگایا۔ راتوں رات جس کام کے لئے حضور نے حکم دیا تھا۔ چلے گئے۔ میں جب صبح اٹھا تو ان میں سے وہاں کوئی بھی نہ تھا۔ میں اکیلا واپس قادیان آگیا۔
    ۹۔ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کا جنازہ جہاں قاضی اکمل صاحب کا مکان بجز (جہاں جناب میر ناصر نواب صاحب کا کھیت ہوتا تھا) حضرت مسیح موعودؑ نے پڑھایا تھا۔ جس وقت جنازہ آیا تو آسمان پر کوئی بادل نہ تھا۔ دفعتہ ایک چھوٹی سی بادلی آئی۔ اور جس وقت جنازہ پڑھانا شروع کیا۔ تو بوندا باندی شروع ہوئی اور جب تک حضور جنازہ پڑھاتے رہے۔ بوندا باندی شروع رہی۔ چنانچہ جنازہ کے بعد ہم لڑکوں میں یہ بحث ہوئی کہ بعض کہتے کہ بادل نے بھی رونا شروع کردیا اور بعض ہم میں سے کہتے تھے کہ فرشتے تو آج خوش ہونگے کہ نیک روح آئی ہے۔چنانچہ مولوی عبدالکریم صاحب کو تابوت میں دوڑی والے قبرستان میں بطور امانت دفن کیا گیا اور بعد میں مقبرہ بہشتی میں وہاں سے نکال کر دفن کیا گیا۔
    ۱۰۔ ایک دفعہ برسات کا موسم تھا۔ جبکہ مولوی سید سرور شاہ صاحب سپرنٹنڈنٹ بورڈنگ ہوتے تھے۔ اس وقت کی بات کہ حضرت میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب (خلیفتہ المسیح الثانی) کی ایک کشتی ہوتی تھی۔ یہ اس کشتی پر بیٹھ کر اکثر ڈھاب میں سیر کیا کرتے تھے۔ ایک دن سیر کررہے تھے کہ رسالہ تشحیذ الاذہان کے پروف یا کوئی اور پروف پر یس میں لے آیا۔ حضرت صاحب کشتی سے اتر کر دیکھنے لگ پڑے۔ اور دوسرے لڑکے چڑھ گئے اور کشتی اچھی طرح بھر گئی۔ میاں غلام حسین صاحب پشاوری جو ان دنوں سکول میں پڑھتے تھے۔ اس وجہ سے کہ لڑکے باوجود منع کرنے کے کیوں زیادہ سوار ہوگئے ہیں۔ ان کو ڈرانے کیلئے کشتی ہلانے لگے۔ چنانچہ ان کے ہلانے سے واقعہ میں کشتی ایک طرف ڈول گئی اور اس میں پانی بھر گیا اور ڈوب گئی۔ ان لڑکوں میں اکثر تیراک نہ تھے۔ چنانچہ جب مولوی سید سرور شاہ صاحب کو پتہ لگا۔ وہ خود بھی اور باقی جتنے لڑکے تیرنا جانتے تھے۔ ڈھاب میں کود پڑے اور لڑکوں کو بمشکل نکالا۔ ڈوبنے والوں میں سے ھادی علی خان و عبدالجبار پونچھی و شیخ عبدالرحمان برادر کلاں حکیم فضل الرحمان صاحب مبلغ افریقہ وغیرہ تھے۔ چنانچہ جب اس واقعہ کی رپورٹ حضرت مسیح موعودؑ کو پہنچی تو حضرت صاحب میاں غلام حسین صاحب پشاوری پر سخت ناراض ہوئے اور شاید قادیان سے نکل جانے کا حکم دیا۔ لیکن میاں محمود احمد صاحب نے پھر مسیح موعود ؑ سے میاں غلام حسین کو معافی لے دی۔
    ۱۱۔ ۱۹۰۵ء یا ۱۹۰۶ء کی بات ہے کہ بورڈنگ و سکول کیلئے کمرے بہت کم تھے اور مرزا گل محمد کا والد مزید کمرے بنانے نہ دیتا تھا۔ حالانکہ جگہ اس کی نہ تھی۔ بلکہ حضرت صاحب کی تھی۔ چنانچہ یہ مشورہ ہوا کہ راتوں رات دیواریں بنادی جاویں۔ جس پر اینٹ ‘ گارا وغیرہ طیار کرلیا گیا۔ گرمیوں کا موسم تھا۔ دیواریں راتوں رات دو کمروں کی تیار کرلی گئیں۔ معمار نواب صاحب کے تھے اور باقی کام کرنے والے مزدور لڑکے۔ جب تیار ہوئے تو مرزا ارشد بیگ مرحوم ایا۔ اور دیکھ کر حیران ہوگیا اور جاکر مرزا گل محمد صاحب کے والد کو کہا ۔ لیکن اب قانونی طور پر کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ اس لئے جل بجھ کر رہ گئے۔
    ۱۲۔ میری مامی صاحبہ حضرت مسیح موعود ؑ کے گھر میں رہتی تھیں۔ میں بھی ان کے پاس آیا جایاکرتا تھا۔ کئی دفعہ میں ان کے ساتھ جب حضرت مسیح موعودؑ باغ کو سیر کرنے جاتے تو چلا جاتا تھا۔ میں نے دیکھا کہ حضرت صاحب جو سڑک اس وقت اس پختہ شاہ نشین کے جنوب کی طرف ہے ۔ اس پر اکثر ٹہلتے رہے تھے اور پھر کچھ وقت کیلئے اس شاہ نشین پر بیٹھ جاتے۔
    ۱۳۔ حضرت میاں شریف احمد صاحب کا نکاح اس بالا خانہ کے صحن میں ہوا تھا۔ وہاں آج کل ام طاہر رہتی ہیں۔ ان دنوں اس بالا خانہ کی چھت پر جانے کا راستہ حضرت میاں بشیر احمد صاحب کے دالان کے اندر سے ہوتا تھا۔ تو ہم طالب علم بھی اس نکاح میں شریک ہوئے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ طالب علموں کو نکاح کے بعد چلے جانے کا حکم ہوا اور راستہ میں سیڑھیوں پر ان کو چھہارے وغیرہ تقسیم کئے گئے۔ لیکن میں بوجہ اپنے ماموں حافظ حامد علی صاحب کے پاس بیٹھنے کے وہیں چھت پر حضرت صاحب کے پاس ہی رہا۔ بھائی عبدالرحیم صاحب نے بڑابڑا بُک بھر کر چہارا کا تمام دوستوں میں فی کس دیا۔ اور مجھے بھی دیا اور اس وقت کے لحاظ سے میری جھولی بھر گئی۔ پھر میں نیچے اترا تو طالب علم سمجھ کر مجھ کو دوبارہ بھی ملے۔ چنانچہ میں کئی دن تک وہ کھاتا رہا۔
    ۱۴۔ ایک دفعہ پاگل کتا قادیان میں آگیا۔ اور اس نے کئی لوگوں کو کاٹا اور ان میں سے جن کو کاٹا تھا۔ ایک میاں عبدالکریم صاحب یادگیری بھی تھا۔ چنانچہ ان سب دوستوں کو جن کو کتا نے کاٹا تھا۔ کسولی بھیج دیا گیا۔ عبدالکریم مذکور کو اس کتا کے ناخن لگے تھے۔ دانت وغیرہ نہ لگے تھے۔ جس پر بعض اشخاص کی رائے تھی کہ عبدالکریم کو کسولی بھیجنے کی ضرورت نہیں لیکن مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حکم سے اس کو بھی بھیج دیا گیا۔ چنانچہ جب علاج کے بعد سہب واپس آگئے تو عبدالکریم بھی واپس آگیا۔ ابھی چند دن گزرے تھے کہ نماز ظہر یا عصر کا وضو ہم سب طالب علم واٹر ہوس میں کررہے تھے۔ (اس وقت واٹر ہائوس بورڈنگ کے شمالی دروازہ کے ساتھ کا کمرہ ہوتا تھا) اور عبدالکریم بھی ہمارے ساتھ وضو کررہا تھا۔ تو اچانک پانی سے ڈر گیا اور وہاں سے اٹھ کر بھاگ گیا۔ ہم حیران ہوگئے کہ کیا ہوا۔ چنانچہ یہ معاملہ حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں عرض کیا گیا۔ حضور نے مولوی شیر علی صاحب کو جو اس وقت ہیڈ ماسٹر مدرسہ ہوتے تھے۔ حکم دیا کہ کسولی تار دیا جاوے اور فرمایاکہ یہ طالب علم اتنی دور سے آیا ہوا اگر خدانخواستہ ضائع ہوگیا۔ تو اس کے والدین کو بہت صدم ہہوگا۔ چنانچہ کسولی والوں نے لکھا کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ حضور کے فرمان پر اس کو سید منظور علی شاہ صاحب کے مکان کے بالا خانہ میں رکھا گیا اور اس کے پاس میرے چھوٹے ماموں برکت علی صاحب مرحوم جو ان دنوں بو رڈنگ میں بطور خادم کام کرتے تھے۔ رکھا گیا۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ عبدالکریم کو ایک سخت مسہل دیا جاوے۔ میں خدا تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں۔ چنانچہ عبدالکریم چند یوم کے بعد اچھا ہوگیا۔ اور پھر مدت تک قادیان ٹھہرا۔ اور اس کے بعد اس کے بچے بھی قادیان پڑھنے کو آئے۔
    عبدالرحمن جٹ







    روایات
    میاں اللہ دتہ صاحب ولد میاں مکھن خان صاحب
    ہامل پور ضلع ہوشیار پور۔
    حال محلہ دارالبرکات۔قادیان
    سن بیعت تحریری: ۱۹۰۰ء
    سن زیارت : ۱۹۰۵ء
    میں ہامل پور ضلع ہوشیار پور کا رہنے والا ہوں۔ جس وقت چاند اور سورج کو گرہن لگا۔ اس وقت میری عمر قریباً دس بارہ برس تھی اور اس وقت میں نے اپنے استاد کے ساتھ قرآن کریم اور نوافل بھی پڑھے تھے۔ ۱۸۹۷ء یا ۱۸۹۸ء میں ہمارے گائوں میں حضرت مسیح موعودؑ کا ذکر پہنچ گیا تھا کہ قادیان ضلع گورداسپور میں حضرت مہدی علیہ السلام آگئے ہیں۔ یہ ذکر شیخ شہاب الدین صاحب کی معرفت پہنچا تھا۔ دو تین سال باہم تبادلہ خیالات ہوتا رہا۔ ۱۹۰۰ء کے قریب اس عاجز نے حضرت مسیح موعود ؑ کو خواب میں قادیان میں دیکھا ۔ (اگرچہ میں خود قادیان نہیں آیا تھا۔)اس خواب سے میری تسلی ہوگئی اور سوچا کہ جتنی جلدی ہوسکے۔ بیعت کرلوں۔ میں ایک پیسہ کا کارڈ لیکر قاضی شاہ دین صاحب کے پاس گیا اور کہا کہ چونکہ میں نے حضرت مسیح موعود ؑ کی زیارت کرلی ہے اور اس کے متعلق تسلی ہوگئی ہے۔ اس لئے میرا بیعت کا خط لکھ دو اور انگوٹھا لگوا لو۔ انہوں نے کہا کہ ابھی ٹھہرو۔ چند دن کے بعد بیعت کنندگان کی فہرست بنا کر بھیجیں گے۔ جہاں تک بندہ کو علم ہے قریباً چالیس آدمیوں کی فہرست بنا کر بھیجی گئی تھی۔ جنہوں نے بیعت کی تھی۔ جس میں میرا بھی نام تھا۔ جب ۱۹۰۵ء میں کاگڑہ والا بڑازلزلہ آیا اور اس سال طاعون سے بھی بڑی تباہی ائی تھی۔ اس سے میرے دل کو بہت صدمہ ہوا کہ زندگی کا تو کوئی اعتبار نہیں۔ کم از کم ایک دفعہ قادیان شریف کی زیارت تو کرلوں تو اپریل ۱۹۰۵ء میں میں اپنے پھوپھی زاد بھائی علی بخش صاحب اور چچا زاد بھائی کریم بخش صاحب اور اپنے بچپن کے دوست بابو محمد نظام الدین صاحب کے ہمراہ حضرت مسیح موعودؑ کی زیارت کیلئے قادیان کی طرف چل پڑے۔ اور تیسرے دن پہنچ گئے۔ ان دنوں حضور بمعہ اہل و عیال و ہمراہیان اپنے باغ میں (جو بہشتی مقبرہ کے پاس بڑا باغ کہلاتا ہے)تشریف فرما تھے۔ دوسرے دن جمعہ تھا۔ حضور سے بیعت کی درخواست کی گئی۔تو حضور نے فرمایا کہ عصر کے وقت بیعت لیں گے۔ عصر کے وقت ہم سب دوست جمع ہوگئے۔ پہلے نماز ہوئی۔ بعد ازاں حضور نے بیعت کیلئے ارشاد فرمایا۔ میں حضور کے پاس ہی بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے حضور کا دایاں ہاتھ دونوں ہاتھوں میں لے لیا۔ باقی دوستوں نے اوپر ہاتھ رکھ دیئے۔ حضور بیعت کے الفاظ فرماتے جاتے اور ہم سب دہراتے جاتے تھے۔ جب حضور نے فرمایا کہ میں دین کو دنیاپر مقدم رکھونگا۔ تو ایک آدمی کی چیخ نکل گئی۔ ہمارے دلوں پر بھی ایک لرزہ طاری ہوا۔ حضور نے بیعت کے بعد دعا فرمائی۔ جس کے بعد اپنی قیام گاہ میں تشریف لے گئے۔ دوسرے دن حضور ظہر کی نماز کے واسطے تشریف لائے۔ تو حضور کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا۔ جو حضور نے جناب مفتی محمد صادق صاحب کو دیکر فرمایا کہ یہ اشتہار لے جائیں اور لاہور سے چھپوا لائیں۔ جناب مفتی صاحب ایک سادہ لباس میں ہی وہ کاغذ لیکر اڈا خانے کو چلے گئے۔ بیعت سے دوسرے دن کا ذکر ہے کہ (باغ میں ہی ریویو کا دفتر بھی تھا) میں باہر کھڑا کچھ نظارہ دیکھ رہا تھا۔ جب میں نے اپنے بائیں طرف دیکھا تو کچھ فاصلہ پر کچھ آدمی اکٹھے کھڑے ہیں۔ معلوم ہوا کہ حضرت اقدس باہر تشریف لائے ہیں۔ میں یہ کہہ کر بے تحاشا اس طرف دوڑ پڑا۔ اور میں ابھی چند قدم پیچھے تھا کہ حضور اس جمگھٹے سے نکل کر میری طرف دو تین قدم آگے تشریف لائے۔ میں نے حضور سے مصافحہ کیا۔ جب حضور دکان کی طرف جانے لگے تو امرتسر کے ایک ضعیف العمر آدمی نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے دوبارہ بیعت کرنی ہے۔ حضور نے اس سے وجہ دریافت کی۔ جس پر اس نے کہا کہ میں راستے میں آرہا تھا تو ایک جنازہ پڑھا جارہا تھا۔ میں نے احمدی کا جنازہ سمجھا اور شامل ہوگیا۔ بعد میں علم ہوا کہ وہ غیر احمدیوں کا تھا۔ اس لئے میری بیعت ٹوٹ گئی ہے اور دوبارہ کرنی چاہتا ہوں۔ حضور نے فرمایاکہ جب اپنے عدم علم کی وجہ سے جنازہ پڑھا ہے تو پھر آپ کی بیعت نہیں ٹوٹی۔ اس کے بعد حضور تشریف لے گئے۔
    میں جب ۱۹۰۶ء کو سالانہ جلسہ پر قادیان آیا۔ تو حضور کی دو تقریریں سنیں۔ پہلی تقریر صبح کے وقت حضورؑ کے مکان پر ہوئی جو اب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا مکان ہے او ر اس کو بیٹھک کہا کرتے تھے۔ جہاں اب باہر کی طرف سیڑھی بنی ہوئی ہے۔ وہاں کھڑکیاں بھی تھیں۔ اور ایک دروازہ تھا۔ دروازے کا نشان ابھی تک موجود ہے۔ حضور نے مہمانوں کے آگ تاپنے کیلئے ایک انگیٹھی بھجوائی۔ جس کے بعد جلدی ہی حضور بھی تقریر کے لئے اوپر سے تشریف لے آئے اور ایک کرسی پر تشریف فرما ہوئے۔حضور نے قرآن کریم کی چند آیات تلاوت فرمائیں۔ جو مجھے یاد نہیں۔ (کیونکہ میں اس وقت ان پڑھ تھا) پھر حضور نے تقریر شروع فرمادی۔ بیٹھے ہوئے لوگ بے جان اور مسحور معلوم ہوتے تھے۔ انگیٹھی اتنی تیز چل رہی تھی کہ اس سے دری بھی جل گئی۔ چونکہ میں انگیٹھی کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے اپنے پھوپھی زاد بھائی علی بخش صاحب کو اشارہ کیا کہ دری جل گئی ہے جس نے آگے کسی دوسرے شخص کو اشارہ کیا۔ آخر انگیٹھی اٹھا کر باہر لے گئے۔ ہجوم اس قدر تھا کہ انگیٹھی کا باہر لے جانا مشکل ہوگیا تھا۔
    حضور تقریر ختم کرکے اندر تشریف لے گئے (اس روز جمعہ تھا) پھر حضور کی تقریر کیلئے مسجد اقصیٰ میں انتظام کیا گیا۔ مسجدمیں دوست جمعہ سے پہلے ہی جمع ہوگئے۔ حضور تشریف لائے اور کرسی پر بیٹھ کر تقریر فرمائی۔ تقریر کا موضوع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات تھا۔ دوران تقریر میں کبھی حضور ہنس بھی پڑتے تھے۔ حضور کے ؑ تقریر فرما چکنے کے بعد حضرت مولانا نور الدین صاحبؓخطبہ جمع کیلئے اٹھے۔ اور فرمایا کہ دوستوں نے بڑی نعمتیں روحانی کھائی ہیں۔ اس لئے میں عربی خطبہ پر ہی اکتفا کرتا ہوں کہ آپ کو اجیرنا (بدہضمی) ہوجائے۔ نماز سے فارغ ہوکر حضور تشریف لے گئے۔
    حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب ؓ کی میت امانت کے طور پر ڈھاب والے قبرستان میں دفن کی ہوئی تھی۔ ان کا جنازہ عصر کے وقت بہشتی مقبرہ میں لے جانا تھا۔ اس قبرستان میں مولوی صاحب کی میت نکال کر باہر رکھی ہوئی تھی۔ حضورؐ معہ مہمانان جلسہ اس قبرستان کی طرف تشریف لے گئے اور حضور نے جنازہ اٹھانے کے لئے ہاتھ لگائے یا نہیں۔ حضور آگے چل پڑے اور دوست جنازہ کو اٹھائے پیچھے پیچھے آرہے تھے۔ ڈھاب میں سے گزرنا تھا۔ چھوٹے بچوں نے حضورؑ کے گرد ایک حلقہ بنالیا تھا۔ حضور ؑ تیز قدم چلتے تھے۔ میں خود بھی دوڑ کر چلتا تھا۔ اور پھر میں تھک کر حضور سے پیچھے رہ گیا۔ سب لوگ بھاگے جارہے تھے۔) حضرت مولانا مولوی نور الدین صاحبؓ کچھ فاصلہ پر پیچھے رہ گئے تھے۔ جب مولوی صاحب آئے تو حضور پھر چل پڑے۔ حضور مقبرہ بہشتی کی مشرقی سڑک پر اس جگہ ٹھہر گئے۔ جہاں اب پھاٹک لگا ہوا ہے۔ جنازے کیلئے صفیں بنائی گئیں اور حضور نے جنازہ پڑھایا۔ بندہ دوسری یا تیسری صف میں تھا۔ حضور نے لمبی دعا فرمائی۔ جب جنازہ سے فارغ ہوئے تو دوستوں نے عرض کی کہ حضور مولوی صاحب کی زیارت کرنی ہے۔ میں جلدی سے حضور تک پہنچ نہیں سکا۔ لوگ ایک دم جمع ہوگئے۔ لیکن حضور نے زیارت کی اجازت نہیں فرمائی کہ عام لوگوں کی زبان پر یہ جاری تھا کہ مولوی صاحب کی زیارت نہیں بلکہ ہتک ہے۔ اس کے بعد میں نے نہیں دیکھا کہ حضور جنازہ دفن کرنے تک ٹھہرے یا تشریف لے گئے۔ جہاں تک مجھے علم ہے مولوی صاحب کی قبر (بہشتی مقبرہ میں) پہلی ہے۔ واللہ علم۔
    ۱۹۰۶ء کا ذکر ہے (میرا پلٹن میں نوکری کرنے کا بہت ہی شوق تھا) کہ میں نے حضور کی خدمت میں دعا کیلئے ایک کارڈ لکھا کہ حضور میرے لئے دعا فرمادیں کہ اللہ تعالیٰ پلٹن کی نوکری کیلئے سامان مہیا فرمادے۔ حضور نے فرمایا کہ دعا کی گئی۔ چند دنوں کے بعد خواب میں دیکھا کہ حضور ایک خوبصورت کوٹھی میں تشریف فرما ہیں۔ میں کوٹھی کے صحن میں حضور کے حکم کا انتظار کررہا ہوں اور حضور جلدی سے کوٹھی سے نکل کر برآمدے میں تشریف لائے اور بلند آواز سے حضور نے فرمایا ۔ اللہ دتہ گناہ نہ کریں۔ نوکر ہوجائو گے اور حضور جلدی سے اندر تشریف لے گئے۔ یہ خواب میرے لئے ایک نشان ہے۔ کیونکہ حضرت فضل عمر ایداللہ تعالیٰ جب مسند خلافت میں متمکن ہوئے اور یورپ میں جنگ چھڑ گئی تو بندہ حضور ایدہ اللہ بنصر العزیز کے حکم سے پلٹن میں بھرتی ہوگیا۔ اورخدا کے فضل سے ایک سروس پوری کرکے قریباً سات سال ہوئے کہ قادیان شریف میں آگیا ہوں۔
    جس سال حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب حضرت خلیفہ المسیح الثانی سے قرآن کریم بطور درس پڑھتے تھے۔ اخبار بدر میں اعلان ہوا کہ جو دوست اس درس میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ ہوسکتے ہیں۔ میں بھی داخل ہوگیا۔ ان دنوں میں مسجد مبارک میں اذان دیا کرتا تھا اور اذان کے بعد حضرت خلیفہ المسیح اولؓ کی خدمت میں نماز کی اطلاع دینے جایا کرتا تھا۔ ایک دن کا ذکر ہے کہ جب میں حضور کو نماز کی اطلاع دینے کیلئے گیا تو وہاں ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب اور ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ بندہ حضورؓ کے پاس بیٹھ گیا۔ اور عرض کیا کہ اذان ہوچکی ہے ۔ حضورؓ نے فرمایا۔ بہت اچھا۔ ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب اور ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب نے دعا کیلئے عرض کیا کہ حضور ہمارے لئے دعا فرماویں۔ حضور نے بڑے جذب سے فرمایا کہ ہم اپ کیلئے دعا نہیں کریں گے۔جب تک تم ہمارا دل راضی نہیں کروگے۔ اس وقت میری جو حالت تھی۔ بیان نہیں کرسکتا۔ خلیفہ وقت کی زبان سے ایسے الفاظ کا نکلنا معمولی بات نہیں۔ یہ الفاظ میں نے بہت دیر تک پوشیدہ رکھے۔ پھر میں گھر (ماہل پور ضلع ہوشیارپور) پہنچ کر اپنے ایک عزیز دوست منشی غلام نبی صاحب سے بیان کیا۔ تو انہوں نے کہاکہ یہ لوگ میاں محمود احمد (فضل عمر اید اللہ تعالیٰ بنصرالعزیز) کی درپردہ مخالفت کرتے ہیں۔جس کی وجہ سے خلیفہ وقت کے دل کو بہت تکلیف پہنچی۔ اور حضور نے یہ الفاظ کہے۔ ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب نے بندہ سے کسی چندہ کیلئے امداد چاہی۔ تو بندہ نے دس آنے کے تکٹ لفافہ میں بند کرکے بھیج دیئے۔ اس کے بعد میں نے خواب میں دیکھا کہ ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب لوگوں سے روٹیاں لیکر کوئیں میں پھینک رہے ہیں۔ اس کے بعد میں نے ان کو کبھی چندہ نہیں دیا۔
    خاکسار طالب دعا اللہ دتہ (بقلم خود)
    عطاء الرحمن احمد عفی احمدی سپاہی
    اسسٹنٹ سپریٹنڈنٹ
    مدرسہ احمدیہ قادیان

    روایات
    میاں چراغ الدین ولد میاں صدر الدین صاحب قادیان
    سن بیعت : ۱۹۰۲ء
    سن زیارت : ۱۹۰۲ء
    مجھے بچپن سے قریباً نو سال کی عمر میں حضورؑ کی خدمت کرنے کا موقع ملا۔ میں ان کے ہاں کام کرتا رہا۔ حضور ؑ مجھے اپنے مختلف امور کیلئے ادھر ادھر کام کیلئے بھیجتے رہے۔ آپ مجھے سودا وغیرہ خریدنے کیلئے امرتسر لاہور کرایہ دیکر بھیجا کرتے تھے۔ جب میری عمر بلوغت کو پہنچی اور مجھے قوت امتیاز حاصل ہوگئی اور میں حضور ؑ کا دعویٰ نبوت سنتا رہتا تھا۔ تو میرے دل نے مجھے ہدایت دی کہ تو بھی ان کی بیعت میں داخل ہوجا۔ چنانچہ میں ۱۹۰۴ء میں بعمر ۲۰ سال حضور کے دست مبارک پر بیعت کرکے داخل احمدیت ہوا۔ آپ لکھتے وقت مجھے کبھی کبھی فرماتے کہ میرے بدن پر کھجلو۔ کبھی فرماتے پائوں کو آہستہ آہستہ ہو۔
    ۱۔ ایک دفعہ حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ سیر کو جارہے تھے تو حضرت خلیفہ المسیح ایدہ اللہ بنصرالعزیز (حضرت میاںمحمود احمد صاحب) نے مجھے فرمایا کہ کماد سے گنا توڑ کر لائو۔ چنانچہ میں جاکر لے آیا۔ حضورؑ مجھے دیکھ کر خفا ہوئے اور فرمایا کہ یہ ناجائز کام کیوںکیا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ میاں صاحب نے کہا تھا۔ حضور نے (گنا) پھنکوا دیا۔ پھر راستے میں ایک جگہ بیلنا آیا۔ تو حضور نے مجھے دو آنہ دیکر فرمایا کہ وہاں سے جاکر لے آئو۔ میں گیا۔ تو مالکوں نے بغیر پیسو ںکے بہت سے گنے دے دیئے۔ میں لایا تو حضور نے دریافت فرمایا کہ پیسے دئیے یا نہیں۔ میں عرض کیا۔ کہ وہ لیتے نہیں۔ پس یہ واقعہ حضور کے انتہائی تقویٰ پر شاہد ہے۔
    (نوٹ خاکسار عبدالقادر عرض کرتا ہے کہ میاں چراغ الدین صاحب ان پڑھ ہیں۔یہ مضمون میاں عطاء الرحمن صاحب کلرک بورڈنگ احمدیہ نے لکھا ہے۔ اس لئے پہلے بھی کئی ایسے صحابہ کی روایات لکھی گئی ہیں۔ جو خود ان پڑھ تھ یمگر انہوں نے دوسرے سے لکھوا کر بھیجی ہیں۔)
    ۲۔ ایک دفعہ حضور میاں صاحب (حضرت مرزا محمود احمد صاحب خلیفتہ المسیح الثانی بنصرالعزیز) کی انگلی پکڑ کر سیر کیلئے براورں تشریف لے گئے۔ جہاں پر آج کل چھپڑ ہے۔ وہاںپہنچ کر فرمایا کہ دیکھو میاں گاڑی کی آواز آرہی ہے۔ پھر اپ یہ کہہ کر چل پڑے۔ خدا کے فضل سے آج کل گاڑی کی آواز سنائی دیتی ہے جو حضور کی صداقت کی بین دلیل ہے۔
    ۳۔ جب میاں صاحب (حضرت خلیفتہ المسیح الثانی) امتحان انٹرینس دینے کیلئے امرتسر تشریف لے گئے۔ مجھے بھی ساتھ بھیجا گیا کہ میں ان کے کھانے کا تسلی بخش انتطام کرتا رہوں۔ بعد میں میری بیوی کو سخت بخار ہوگیا۔ جب حضور کو علم ہوا۔ تو حضور نے میاں صاحب ایدہ اللہ کو خط لکھا کہ چراغ کو جلد بھیجدیں۔ جس پر آپ اید اللہ نے مجھے واپس بھیج دیا۔ میں گھر آگیا۔ اور اس کا علاج شروع کیا۔ تو ایک رات مجھے خواب میں دکھلایا گیا کہ ’’حضور نے مجھے کستوری دی ہے کہ جاکر مریضہ کو دیدو۔ میں نے دیدی تو اسے آرام آگیا۔‘‘ بارہ بجے میں نے حضور کو خواب سنائی۔ تو حضور نے مجھے اسی وقت کستوری دی۔ جو میں نے جاکر کھلا دی۔ صبح سے پہلے ہی خدا نے اسے صحت حاصل دے دی۔ گویا یہ واقعہ آپ کے الطاف پر بین ساہد ہے اور خواب کو حضور نے کتنی جلدی پیدا کیا۔
    ۴۔ حضور نے بچوں کو شام کے بعد باہر جانے سے روکا ہوا تھا۔ ایک دفعہ تینوں بچے (میاں محمود احمد صاحب‘ بشیر احمد صاحب‘ شریف احمد صاحب) مدرسہ احمدیہ کے صحن میں کبڈی کھیلتے رہے۔ جب شام ہوگئی اور وہ گھر نہ پہنچے تو حضور نے ہیراندتا خادم کو فرمایا ک ہجاکر ان کو لائو۔ شام ہوگئی ہے۔ اس نے جاکر کہا اور وہ نہ آئے۔ پھر مجھے بھیجا۔ میں بھی آکر ساتھ ہی کھیلنے لگ پڑا۔ پھر آپ بہت ہی رنجیدہ ہوئے کہ چراغ بھی لیکر نہیں آیا۔ چنانچہ حضور نے امام بی بی خادمہ کو بھیجا کہ جاکر ان سب کو لائو۔ ہم (ائے) تو اپ نے میاں صاحب (حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ) کو خفیف تھپڑ لگائی۔ وہ چار پائی پر جالیٹے۔ اسی طرح میاں بشیر احمد صاحب و میاں شریف احمد صاحب اور مجھے بھی آہستہ سے مارا۔
    ۵۔ حضورؑ سرسوں کے ساگ کو بہت پسند فرمایا کرتے تھے اور ہمیشہ گھی والا کھانا کھایا کرتے تھے۔ کبھی تیل سے بنی ہوئی چیز حضور نے کھاتے۔ آپ پہلے ہی اپنے بچوں کے لئے کھانے وغیرہ کیلئے انتظام فرمایا کرتے تھے۔ تینوں بچوں کے لئے ان کی خواہش کے مطابق مٹھائی وغیرہ مہیا کراتے تھے۔ میاں بشیر احمد صاحب کے لئے شکر کا مٹکا ہوا اور میاں محمود احمد صاحب و میاں شریف احمد صاحب کے لئے بوندی کا لڈو تیار کراتے۔ جب باہر سے آتے ت وکہتے کہ ابا جی ہمیں چیز دو۔ تو حضورؑ لڈوئوں کا صندوق کھلا رہنے دیتے اور آکر جتنے چاہتے کھا لیتے۔ اس طرح پر حضور کا وقت ضائع نہ ہوتا اور حضور اپنے کام میں مصروف رہتے۔
    ۶۔ ایک دفعہ حضرت صاحب مسجد مبارک میں تھے۔اپنے ساتھیوں کے خواجہ کمال الدین صاحب‘ مرزا ایوب بیگ صاحب‘ داکٹر محمد حسین شاہ صاحب‘ ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب‘ شیخ رحمت اللہ صاحب وغیرہ تشریف فرما تھے۔ اور ایک فقیر میلا کچیلا لباس پہنے ہوئے وہاں آگیا ۔ اس نے حضور کے قریب ہونا چاہا مگر مرزا ایوب بیگ صاحب نے اسے پکڑ کر ایک طرف کردیا۔ یہ بات حضورؑ کو معلوم ہوگئی تو حضورؑ نے اسے اپنے پاس بٹھالیا اور پوچھا کیا بات ہے۔ اس نے عرض کیا کہ سردی کا موسم نزدیک ہے۔ گرم کپڑے چاہئیں۔ تو حضور نے اپنے کمال رحم سے اسے اپنا لحاف بخش دیا۔ پس یہ واقعہ آپ کے کمال رحم اور ایثار پر دلالت کرتاہے۔ الھم صل علیہ وسلم تسلیما۔
    ۷۔ ایک دفعہ حضور سیر کیلئے تشریف لے جارہے تھے کہ راستے میں ایک بچہ گر پڑا اور رو رہا تھا۔ حضور کے رحم نے جوش مارا۔ تو اسے اٹھا کر اس کے کپڑوں سے منہ اور ناک صاف کیا اور اس کے گھر پہنچا دیا۔ پس یہ آپ کا کمال رحم تھا کہ آپ شفقت علی خلق اللہ بہت کثرت سے فرمایا کرتے تھے۔
    ۸۔ شیخ مظفر الدین صاحب آف پشاور کے والد صاحب نے لاہور میں حضرت مسیح موعودؑ کی دعوت کی۔ کمرہ چھوٹا تھا۔ اور لوگ زیادہ آگئے تھے۔ میں حضورؑ کے پاس کھڑا تھا۔ بیٹھنے کے لئے جگہ نہ تھی۔ حضور نے مجھے دیکھ کر اور اپنا زانو اٹھا کر اور مجھے اپنے دست مبارک سے پکڑ کر اپنے پاس بٹھالیا۔ اور فرمایا کہ میرے ساتھ کھائو۔ اس پر میں نے حضورؑ کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔
    ۹۔ ایک دفعہ گھر میں حضرت مسیح موعودؑ نے یہ تجویز فرمایا۔ کہ گھر کے سب بچے عربی زبان میں گفتگو کرنا سیکھیں ۔میں بھی شامل تھا۔ حضورؑ نے دوسرے بچوں کے ساتھ مجھے بھی عربی کے الفاظ سکھائے مثلاً ھذالی ۔ ھذالک۔ یہ الفاظ مجھے اس وقت سے یاد ہیں۔
    ۱۰۔ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ میرا گلا ایسا بند ہوا کہ آواز نکلنی بند ہوگئی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولوی نور الدین صاحب (خلیفہ اولؓ) کو فرمایا کہ چراغ کے گلے کا علاج کریں۔ کیا سبب ہے کہ اس کی آواز نہیں نکلتی۔ حضرت مولوی صاحب علاج فرماتے رہے۔ لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا۔ پھر ایک موقع پر ڈاکٹر محمد حسین صاحب ‘ ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب‘ ڈاکٹر بوڑے خان صاحب لاہور اکٹھے ہوئے تو اس کے سامنے بھی حضور نے اس بات کا ذکر فرمایا کہ کیا وجہ ہے کہ ۔۔۔۔ کی آواز بند ہے۔ اس پر ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب نے میرا گلا دیکھ کر کہا کہ حضور ؑحکم دیں تو اس کے گلے اندر سے کاٹ دے جاویں۔ اور اس طرح کرنے سے آواز کھل جاوے گی۔ حضورؑ نے اس پر کچھ نہ فرمایا۔
    پھر چند دنوں کے بعد حضور ؑ نے فرمایا کہ ’’چراغ۔ اب ہم تیرا علاج کریں گے اور اسی وقت دیکھ کر فرمایا کہ ہم تیرے لئے نسخہ تیار کریں گے۔ خدا کی حکمت اسی دن امرتسر کا ایک عطار آک کے پتوں کا اچار والا مرتبان لایا۔ حضور نے کھول کر دیکھا اور فرمایا کہ یہ تیرا علاج ہے۔ کھانے کے وقت ۔۔۔۔ پر دو تین پتے رکھ کر مجھے دے دیتے تھے۔ وہ بہت مزے دار تھا۔ حضورؑ نے بھی تناول فرمایا۔ مجھے اس سے آرام آگیا۔ اس پر حضور نے وہ سارا مرتبان مجھے دے دیا۔ کہ تم کھالو۔ چنانچہ میں نے وہ کھایا اور مجھے بالکل صحت ہوگئی۔
    ’’چراغ‘‘
    نوٹ: میاں چراغ صاحب چونکہ ناخواندہ ہیں۔ یہ حالات ان سے میاں عطاء الرحمان صاحب کلرک بوردنگ احمدیہ نے نقل کئے ہیں۔ خاکسار عبدالقادر حال ۔۔۔۔ نظارت تالیف ۳۸۔۱۲۔۱۹

    روایات
    حکیم اللہ بخش صاحب ولد شاہ دین صاحب
    وایان ڈیوڑھی ام المومنین ۔ سکنہ ببے حالی متصل گورداسپور۔
    حال قادیان
    نوٹ۔ حکیم صاحب نے مجھ سے بیان فرمایا کہ ایک شخص خواجہ عبداللہ ساکن سوہل ضلع گورداسپور نے مجھے کہا کہ آپ کو مولویوں سے ملنے کا بہت شوق ہے۔ مگر اس وقت مولوی صاحبان کا حال ۔ چال اور ہی ہے۔ ان لوگو ںکو درحقیقت دین کا کچھ شوق نہیں۔ اپنے تنیاوی معاملات کے متعلق خود غرضی اور پیسے حاصل کرنے کا شوق ہے۔ اس لئے اگر آپ حق پرست م ولوی کو دیکھنا چاہتے ہیں تو قادیان میں مرزا غلام مرتضیٰ صاحب کا نوجوان لڑکا ہے۔ اس کو دیکھ کر کبھی نماز میں گداز اور تین کے ہر ایک کام میں مستعد اور تمام مذاہب کی کتابیں آپ کے پاس موجود۔ کبھی تورات و انجیل۔ کبھی کسی اور ہی غیر مذہب کی کتابیں دیکھتے رہتے ہیں۔ اور قرآن شریف سے زیادہ محظوظ ہوتے ہیں۔ چنانچہ میں قادیان میں حاضر ہوگیا اور حضرت صاحب کو مسجد اقصیٰ میں ملا۔ میں نے حضرت صاحب سے باتیں کیں اور براہین احمدیہ کی چوتھی جلد ساتھ لے گیا۔ پھر کبھی کبھی آتا رہا۔ جب ہمارے ملک میں دوسری دفعہ طاعون پڑا تو اس وقت میںنے بیعت کی۔ مجھے یاد آیا کہ جب میں نے پہلی دفعہ ملاقات کی تو میرے ہاتھ میں ایک کتاب تھی۔ جس کا نام نظام السلام تھا۔ اس کے حاشیہ پر تو خیر الحق منع تھی۔ اس کتاب میں تین سو ساٹھ علماء حنفی کی مہریں لگی ہوئی تھیں۔ حضرت اقدس علیہ السلام وہ کتاب لیکر پڑھتے رہے۔ حتی کہ عشاء بعد ختم کی۔ میں تو سو گیا۔ وہ پتہ نہیں کس وقت سوئے۔ صبح نماز کے لئے مجھے جگایا۔ نماز پڑھ کر میں چلا گیا۔
    ۱۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ فرمایا کہ اللہ بخش تو دیکھتا ہے کہ اس وقت قادیان بالکل گمنامی کے ایک گوشہ میںہے۔ غیر ممالک کے لوگ اس کے نام سے بالکل بے خبر ہیں اور یہ بھی کوئی نہیں جانتا کہ غلام احمد بھی کسی شخص کا نام ہے۔ مگر تو اپنی زندگی میں دیکھے گا کہ قادیان میں کہاں کہاں سے لوگ آتے ہیں اور قادیان کی شہرت کیسے چار دانگ عالم میں پھیلتی ہے۔ اس وقت میری عمر اسی سال اور میں خداتعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ تمام واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہوں۔ کوئی ملک نہیں جہاں حضرت اقدسؑ کی تبلیغ نہیں پہنچی اور کئی دور دراز کے ممالک سے لوگ برکت حاصل کرنے کے لئے یہاں آتے ہیں۔
    ۲۔ یہ بات میں نے کئی آدمیوں سے بارہانس ہے کہ حضرت صاحب نے فرمایا کہ قادیان دریائے بیاس تک پھیلے گا۔ میں تو اپنے ذوق کے مطابق اس کے اب تک یہاں سے سمجھتا ہوں کہ قادیان بے آس تک پہنچے گی۔ یعنی وہاں تک پہنچے گی۔ جہاں تک پہنچنے کی کسی کو آس و امید ہی نہیں ہویگ۔
    ۳۔ ایک دفعہ میں نے سولہ سوال لکھ کر حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کئے حضور ؑ نے تمام کے مکمل جواب دیئے۔ مگر مجھے یاد نہیں۔
    ۴۔ حضرت صاحب کے والد صاحب ایک ماہر طبیب تھے۔ ایک دفعہ بیاس کے ہار سے ایک نوجاون قادر بخش ان کا نام سن کر قادیان آیا۔ مگر اسے معلوم ہوا کہ وہ تو فوت ہوگئے ہیں۔ اس پر وہ حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت صاحب نے اپنے کو مکان دیا اور غذا سب اپنے پاس سے مہیا فرماتے رہے۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ جلد شفا یاب ہوگیا۔ اور بعد میں کئی دن یہاں رہا۔ ایک روز اس نے بانگ کہی۔ چونکہ اس کی آواز بہت اعلیٰ تھی۔ اس لئے حضرت صاحب نے حکم دیا کہ میاں قادر بخش پانچ وقت تم ہی بانگ کیا کرو۔ چونکہ اس کی آواز بہت بلند تھی۔مسلمان تو بڑے خوش ہوتے تھے۔ مگر ہندوئوں کو تکلیف ہوتی تھی۔ وہ دل میںبہت برا مناتے تھے۔ ایک دفعہ حضرت صاحب کے پاس ائے اور کہنے لگے۔ مرزا جی ! اس قادر بخش کی بانگ بہت دور جاتی ہے ۔ فرمایا۔ اپ کو اس سے کوئی تکلیف تو نہیں پہنچتی۔ کہنے لگے۔ واہگرو ‘ واہگرو۔ گئو دی سوہ تکلیف نہیں۔ اسیں سگوں راجی ہنے آں۔ پر ایس نوں اسیں کہو۔ ایدی اچی نہ آکھے۔ ذرا نیویں آکھ لیا کرے۔ حضور نے فرمایا جب آپ کو تکلیف نہیں دیتی تو اس سے بھی اونچی کہا کریگا۔ نیویں کی کیا ضرورت ہے۔
    ۵۔ ایک روز میاں قادر بخش کو فرمایا کہ اب تو توُ خوب تندرست ہے۔ عرض کی۔ حضور دیکھنے میں ایسا نظر آتا ہوں۔ میرے بیچ میں کچھ نہیں۔ حضور نے ہنس کر فرمایا (مجھے مخاطب کرکے) دکھو اللہ بخش ‘ قادر بخش سچ کہتا ہے۔ واقعی لہو اور چربی کے سوا اس کے بیچ میں کچھ نہیں۔
    ۶۔ میں نے ایک روز عرض کیا کہ حضور آپ مثیل مسیح ہیں۔ وہ تو گھاٹ پر جاکر دھوبیوں کو کہتے تھے ۔ کپڑے کیا دھوتے ہو۔ آئو میں تم کو دل دھونے سکھاتا ہوں۔ میں بہت دفعہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔ مجھے تو آپ نے دل دھونے نہیں سکھائے۔ فرمایا۔ مسیح نے جن کو دل دھونے سکھائے تھے۔ ایک نے ان سے ہی تیس روپے لے کر پکڑا دیا۔ دوسرے نے منہ پر تھوکا۔ تیسرے نے *** بھیجی۔ پس ایسی باتوں سے بچتے رہنے چاہئے۔ اللہ چاہیگا۔ تو خود بخود ل دھونے سکھادیگا۔
    ۷۔ مسجد اقصیٰ کا پہلا نام مسجد مغلیہ تھا۔ مسجد مبارک ان دنوں نہیں بنی تھی۔ حضور ؑ شام کے وقت اپنا کھانا مسجد اقصیٰ میں لے جاتے تھے۔ اور جو تین چار نمازی ہوتے ان میں تقسیم کردیتے۔ وہ نمازی بڑے خوش خوش گھروں کو واپس جاتے۔ اور اوروں کو بھی سناتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعض اوقات تیس چالیس نمازی تک جمع ہونے لگے۔ جب حضرت صاحب نیاز (کھانا) ملتوی کردیتے۔ تو پھر نمازیوں کی تعداد کم ہوجاتی۔حضرت بڑی دعا فرمایا کرتے تھے کہ اللہ ایسے لوگوں کو حقیقی نمازی بنادے۔
    ۸۔ مسجد مبارک جب پہلے پہل بنی تو اپنے سکونتی محل پر بجانب جنوب بنائی تھی۔ جس میں آٹھ کے قریب صفیں ہوتی اور ہر صف میں چھ آدمی کھڑے ہوتے۔ میں نے عشاء کے وقت قطب ستارہ دیکھ کر عرض کیا کہ حضور مسجد کا رخ عین سیدھا نہیں معلوم ہوتا۔ فرمایا۔ ہمارا اسلام کھلا ہے۔ تنگ نہیں۔ اس لئے چھوٹی چھوتی نکتہ چینی منع ہے۔
    ۹۔ ایک دفعہ فرمایا کہ دین عموماً غریبوں کا حصہ ہے۔ امیر عموماً اس سے بے نصیب رہ جاتے ہیں۔ چنانچہ پہلے نبیوں کو بھی غریبوں نے ہی ابتداء میں مانا تھا۔ اب دیکھ لو۔ غریب آدمی سفر میں ہو تو ہر جگہ نماز پڑھ سکتا ہے۔ مگر امیر ایسا نہیں کرسکتا۔ اگر رستے میں کوئی جوہڑ آجائے تو وہاں وضو نہیں کرے گا ۔ اور اگر پانی صاف مل بھی جائے تو کپڑوں کے خراب ہونے کے ڈر سے زمین پر نماز نہیں پڑے گا۔
    ۱۰۔ ایک دفعہ آپ کے والد صاحب آپ کو گورداسپور لے گئے اور فرمایا کہ جاکر ڈپٹی ہدایت علی صاحب سے فلاں کتاب لے آئو۔ چنانچہ آپ تشریف لے گئے۔ السلام علیکم کہہ کر کتاب کا نام پشتے پر لکھا ہوا دیکھ کر اسے اٹھا لیا۔ باوجود اس بات کے کہ ڈپٹی صاحب حضور کے والد صاحب کے بڑے دوست تھے۔ اور بہت دیندار مشہور تھے ۔ مگر سخت لہجے میں کہنے لگے کہ تو بڑا عیار لڑکا ہے۔ حضرت صاحب اس واقعہ کو بیان فرما کر فرمایا کرتے تھے کہ امیروں میں دین کم ہوتا ہے اور بعض امیر تو دنیاوی عزت کے حصول کی خاطر ہی دینداری کا جیسہ پہنتے ہیں۔
    ۱۱۔ ایک دفعہ حضور نے فرمایا کہ آئو اللہ بخش ہم آپ کو الف لیلہ کی ایک حکایت سناتے ہیں۔ چنانچہ حضور نے فرمایا کہ ایک مرد صالح جو بڑا متقی اور پرہیز گار تھا۔ دینی اور دینوی علوم کا بھی ماہر تھا۔ دولت مند بھی بڑا تھا۔ اس کے ہمسایہ میں دو میاں بیوی رہتے تھے۔ جو بڑے حاسد تھے۔ وہ ان کی حسد کی آگ کو بجھانے کی بہت کوشش کرتا۔ کبھی انہیں کچھ دیتا کبھی کچھ۔ مگر وہ آگ بجھنے میں نہ آتی تھی۔ آخر تنگ آکر اس نے اپنا شہر چھوڑ دیا۔ اور ایک دوسرے شہر جاکر آباد ہوگیا۔ وہاں کے لوگ یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اللہ ان میں ایک نیک بزرگ اور دینی اور دنیوی علوم کے ماہر انسان کو بھیج دے۔ تو انہیں دین بھی سکھائے اور بیماروں کا علاج بھی کرے۔ انہوں نے اس کی بڑی آئو بھگت کی۔ اس پر خدا کا فضل آگے سے بھی بڑھ کر ہونے لگا۔ اور وہ اور زیادہ مالدار ہوگیا۔ حاسدوں کو بھی پتہ لگ گیا۔ وہ اور زیادہ جل گئے۔ حاسد کی بیوی نے اسے کہا کہ میاں جائو۔ اگر موقع ملے تو اسے مار کر واپس آئو ۔ حاسد اس صالح مرد کے پاس گیا۔ صالح بہت خوش ہوا۔ بڑے تپاک سے ملا۔ خیر خیریت پوچھی اور دریافت کیا کہ کیسے تشریف آوری ہوئی۔ حاسد نے کہا۔ حضور کا پتہ لگا۔ زیارت کو بہت دل چاہتا تھا۔ ملنے کیلئے آیا ہوں۔ اب زیارت ہوگئی اجازت چاہتا ہوں۔ صالح نے فرمایا کہ سنت نبویؐ کے مطابق تین دن کے بعد اجازت ہوگی۔ تین روز کے بعد چند صدریال دے کر رخصت کیا۔ حاسد جب مال لے کر گھر پہنچا تو بیوی بڑی خوش ہوئی۔ مگر صالح کا زیادہ مالدار ہونے کا حال سن کر بہت ہی شکستہ حال ہوئی اور کہنے لگی کہ ہم تو سمجھتے تھے وہ مرکھپ گیا ہوگا۔ مگر اسے تو کوئی زوال بھی نہیں پہنچا۔ جائو میاں جس طرح بھی مرے مار کرآئو۔ حاسد پھر گیا۔ صالح نے آنے کا مقصد پوچھا۔ کہنے لگا۔ حضور کی محبت پھر کھینچ کر لائی ہے۔ پہلے حضور کے مکان اور باغات کا اچھی طرح سیر نہ کیا تھا۔ اب سیر کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ صالح نے تین طرفیں باغ کی دکھائی اور چوتھی کی طرف جانے سے منع کیا اور کہا کہ جس صاحب نے مجھے یہ مکان دیا ہے اس نے اس طرف جانے سے منع کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے گوشے میں ایک کنواں ہے۔ جسے اندھا کنواں کہتے ہیں۔ اس میں جن رہتے ہیں۔ خوف ہے کہ جان سے مار دیں گے۔ حاسد نے یہ سُن کر زیادہ اصرار کیا۔چنانچہ دونوں کنویں کے پاس گئے۔ حاسد کنویں کی دیوار پر جا بیٹھا اور نیچی نظر کرکے کہا۔ اس میں کوئی جن نہیں۔ آئیے آپ بھی دیکھیں۔ صالح بھی کنارے پر جاکر دیکھنا شروع کیا۔ نظر بچا کر حاسد نیچے اترا اور اس کو دھکا دیکر کنویں میں گرا دیا اور خوشی خوشی گھر آیا۔ عورت کو حال سنایا۔ وہ بڑی خوش ہوئی۔ اب صالح کا حال سنو۔ جس کنوئیں میں وہ گرا تھا۔ واقعی اس میں جن تھے۔ نیچے جانا نہ پایا تھا کہ ایک جن نے پکڑ کر محفوظ جگہ میں رکھ دیا۔ باقی جن مخالف ہوگئے اور کہنے لگے کہ اس کو ضرور مار دینا چایہئے۔ مگر اس نے کہا کہ یہ ایک جید عالم اور اعلیٰ درجہ کا طبیب بھی ہے۔ اسے مارنے سے امرا و غربا سب کا نقصان ہوگا۔ چنانچہ فلاں ملک کا بادشاہ اپنی لڑکی کو علاج کے لئے اس کے پاس لاتا رہا۔ اگر اسے یہاں مار ڈالا جائے تو خدا کا عرش کانپ اٹھے گا۔ دوسرے جنوں نے سوال کیا کہ اس کو کیا بیماری ہے۔ وہ جن بولا۔ اسے فلاں بیماری ہے۔ علاج پوچھا۔ تو کہا کہ اس کے گھر میں سفید بلی رہتی ہے۔ یہ اس کی پیٹھ سے چند بال اکھاڑ کر آگ پر رکھ کر اس لڑکی کے قریب کرے۔ وہ جن چیختا ہوا بھاگ جائے گا اور پھر کبھی پاس نہ آئے گا۔ چنانچہ انہوں نے اس بزرگ کو چھوڑ دیا۔ اور صحیح و سلامت اوپر پہنچا دیا۔ گھر میں پہنچا ہی تھا کہ بادشاہ بھی اپنی بیمار لڑکی کو لے کر آن پہنچا۔ اس نے علاج کیا۔ لڑکی تندرست ہوگئی اور خوب توانا ہوگئی۔ بادشاہ نے نکاح کی فکر کی۔ بہت سوچا۔ مگر اس صالح مرد سے بڑھ کر نکاح کے قابل اور کسی کو نہ پایا ۔ چنانچہ اس کے ساتھ نکاح کردیا۔ چند دن کے بعد خود مرگیا اور تاج و تخت اس بزرگ کو سونپ گیا۔
    حضرت صاحب نے یہ حکایت سنا کر فرمایا میاں اللہ بخش یہ حکایت بالکل مجھ پر چسپاں ہوتی ہے۔خدا مجھے مالا مال اور صاحب اقبال کرے گا اور حاسدوں کا قدم دن بدن زوال کی طرف پڑتا جائے گا۔ میں خدا کا چراغ ہوں۔ دشمن موہنوں کی پھونکوں سے مجھے اسے بجھانا چاہے گا۔ مگر میرا خدا مجھے اور زیادہ ترقی دے گا۔
    ۱۲۔ ایک روز فرمایا کہ بعض بد خصلت انسان اگر کسی کا نقصان کرنا چاہتے ہیں تو اگر نہ کرسکیں تو اپنا احسان جتاتے ہیں۔ ایک فیض رساں انسان کا ذکر ہے کہ اس نے ایک نادان امیر کی ضیافت کی۔ یہ معلوم کرکے کہ یہ امیر بڑا عیب جو اور نکتہ چین ہے ۔ اگر اس کی طرف کھانا کھلانیوالوں میں سے کسی کی پیٹھ ہوگئی تو ناراض ہوجائے گا۔ اس لئے تما م ضروری سامان پہلے ہی قرینے سے سجا دیا اور عرض کی کہ حضور کھانا تیار ہے۔ تشریف لائیے اور تناول فرمائیے۔ خیر کھانا کھا کر جب باہر آئی اور میزبان نے دروازہ میں کھڑے ہوکر ان کا شکریہ ادا کیا۔ تو بجائے اس کے کہ ان کو عزت اور تکریم سے پیش آتا۔ کہنے لگا۔ کہ میرا تم پر بڑا احسان ہے۔ کیونکہ جس دکان میں کھانا ہم نے کھایا ہے۔ اس میں ہزاروں روپے کا سامان پڑا تھا۔ دل چاہتا تھا کہ آگ لگا دیں۔ مگر رحم کردیا ہے۔ حضرت صاحب نے فرمایا ! اللہ بخش دیکھو۔ میں لوگو ںکی خاطر و مدارات کرتا ہوں۔ کھانا کھلاتا ہوں۔ ایمان سیکھاتا ہوں۔ اور لوگ الٹا مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ پہنچاسکنے کی صورت میں احسان جتلاتے ہیں۔
    نوٹ: یہ روایات بابا حکیم اللہ بخش صاحب نے ۳۸۔۱۲۔۲۰ کو مجھ سے زبانی بیان کیں۔ اور میں رجسٹر پر ہی نوٹ کرلیں۔ الگ فارم پر نہیں لکھیں۔
    خاکسار عبدالقادر
    ۳۸۔۱۲۔۲۰


    روایات
    حافظ محمد امین صاحب ولد میاں علم الدین صاحب سکنہ نکوور ڈاکخانہ فتح جنگ۔ تحصیل و تھانہ فتح جنگ۔ ضلع کیمل پور۔ حال محلہ ناصر آباد
    سن بیعت : مارچ ۱۸۹۷ء
    سن زیارت : ۱۸۹۰ء
    ۱۸۹۰ء کے ابتداء میں قادیان آیا۔ تو ندی خانہ کے پاس آنے پر مفتی فضل الرحمان صاحب ملے۔ ان سے میں نے دریافت کیا کہ جناب مولوی نور الدین صاحبؓ سے ملنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے فرمایاکہ مسجد میں نماز پڑھنے گئے ہیں۔ میں بھی مسجد مبارک گیا۔ وہاں جماعت ہوچکی تھی۔ میں نے عصر کی نماز الگ پڑھی۔ نماز پڑھنے کے بعد حضور مسجد مبارک میں تھوری دیر باتیں کرتے رہے۔ میں بھی حضور کی خدمت میں بیٹھا رہا۔ اس کے بعد حضور گھر کی طرف تشریف لے جانے لگے تو میں نے حضور کا دست مبارک پکڑ کر مصافحہ کیا۔ حضور کی میں نے اس وقت پہلی دفعہ زیارت اور ملاقات کی۔ اس کے بعد میں نے حضرت مولوی نور الدین صاحب کو آتے دیکھا اور ان سے میں نے مصافحہ کیا۔ انہوں نے مجھے فرمایا کہ حضرت مرزا صاحب کو ملنا چاہئے۔ مفتی فضل الرحمان صاحب نے جو میرے ساتھ تھے ۔ فرمایا کہ یہ مل چکے ہیں۔ اور میں نے خود بھی عرض کی کہ میں حضور سے مل چکا ہوں۔ بعد ازاں میں حضورؑ کے حالات سے آہستہ آہستہ *** ہوتا گیا۔
    میں نے مارچ ۱۸۹۷ء میں حضور کی بیعت کرنے کے لئے حضرت مولوی نور الدین صاحب سے عرض کی کہ آپ حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں سفارش فرمادیں کہ حضور میری بیعت لے لیں۔تو حضرت مولوی صاحبؓ نے نماز ظہر کے بعد حضرت صاحب سے عرض کیا اور بتایا کہ یہ قرآن مجید کے حافظ ہیں۔ اور یہ مرض طحال میں مبتلا تھے۔ میں نے دو سال تک ان کا علاج کیا ہے اور اس وقت تندرست ہیں اور بیعت کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر حضور نے مجھے فرمایا کہ کچھ قرآن مجید سنائو۔ تو میں نے سورۃ یوسف کا ڈیڑھ رکوع سنایا۔ پھر حضرت صاحب نے فرمایا کہ آج شام کو بیعت کرنا۔ تو میں نے اس دن شام کے وقت حضور کے دست مبارک پربیعت کی۔ میں نے مولوی غلام محمد صاحب کشمیری مرحوم کے ساتھ بیعت کی۔ جو امرتسر کے رہنے والے تھے اور بعد ازاں حضورکے کمپونڈر بھی رہے۔ بعد ازاں میں واپس اپنے وطن گیا اور تبلیغ کرتا رہا کہ مہدی اور عیسیٰ جو آنے والے تھے۔ آگئے ہیں۔ مگر لوگ بوجہ جاہلیت کے مذاق کرتے تھے اور میری باتوں کی پرواہ نہ کرتے تھے۔ پھر میں دوبارہ حضور کی خدمت میں آگیا۔
    حضرت اقدسؑ ایک دن صبح حضرت مولوی شیر علی صاحب کے ساتھ باہر سیر کو گئے کہ تھوڑی دیر میں کوئی عیسائی حضور سے ملنے ایا۔ اسے بتایا گیا کہ حضور سیر کے لئے بسراواں تشریف لے گئے ہیں۔ وہ حضور کی تلاش میں نکلا۔ حضور راستے میں واپس آتے ہوئے مل گئے۔ اس نے حضور سے مصافحہ کیا اور پوچھا کہ کیا آپ پر وحی ہوئی ہے۔ حضور نے اثبات میں جواب دیا۔ اس پر اس نے کہا کہ وہ فرشتہ کس طرح بولتا ہے۔ حضور نے جواب میں فرمایا جیسے آپ بول رہے ہیں۔ اس پر بے اختیار اس کے منہ سے نکلا۔ سبحان اللہ۔
    بڑے زلزلہ کے موقعہ پر حضور نے تمام لوگوں کو ارشاد فرمایا کہ وہ مکانات چھوڑ کر باہر نکل آئیں اور حضور خود بھی اہل بیت کے ساتھ اپنے باغ میں فروکش ہوئے۔ او ران دنوں متواتر زلزلے آتے رہے اورطاعون بھی شروع ہوگیا تھا۔ ان دنوں عاجز بھی درد گردہ میں مبتلا ہوگیا۔ صبح سات بجے بیمار ہوا اور شام کے تین بجے یہ درد ایسی سخت ہوگئی کہ اسکی تکلیف سے کسی پہلو چین نہ تھا۔ میں اس وقت مہر الدین صاحب ارائیں کے مکان میں رہتا تھا۔ مولوی عبیداللہ صاحب میرے پاس آئے۔ اس وقت میری حالت بہت خراب تھی۔ مولوی صاحب میری تکلیف برداشت نہ کرسکے۔ انہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کے حضور میری صحت کے لئے دعا کی درخواست کی۔ اور لکھا کہ یہ غریب آدمی ضلع راولپنڈی کا رہنے والا اور اس وقت درد گردہ سے سخت تنگ ہے۔ اس کے ساتھ جو اس کا چھوٹا بھائی گوہر الدین (ڈاکٹر گوہر الدین صاحب سب اسسٹنٹ سرجن برما جن کی عمر اس وقت بارہ تیرہ برس تھی) وہ بھی اس کی تکلیف برداشت نہیں کرسکتا۔ حضور اس کی شفا یانی کیلئے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمادیں۔ مولوی صاحب نے یہ خط میرے بھائی گوہر الدین صاحب (جو بعد میں ڈاکٹر بنے) کو دے کر حضورؑ کی خدمت اقدس میں بھیجا۔ وہ حضور کے دربار میں خط کسی کو دیکر واپس چلے آئے۔ حضور خط پڑھ کر اور اپنا کام اس وقت کو چھوڑ کر باہر دروازہ پر تشریف لائے۔ اور پوچھا کہ یہ خط کو ندے گیا ہے۔ یہاں شادی خاں صاحب مرحوم نے عرض کیا کہ ایک چھوٹا لڑکا دے گیا ہے۔ حضور نے خط دوبارہ پڑھا تو حضور کو علم ہوا کہ حضرت مولانا نور الدین صاحب روز علاج کرتے ہیں۔ خط پڑھ کر حضور نے جواب دیا کہ میں دعا کرونگا۔ اور ان کا دوائی اور دودھ وغیرہ کا خرچ میرے حساب میں شمار کریں۔ اور مولوی صاحب ان کو علاج کی طرف پوری توجہ فرماویں۔ آخر حضور کی دعائوں اور حضرت مولوی صاحب کے علاج سے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس بیماری سے نجات بخشی بڑے زلزلہ کے موقعہ پر حضور اپنے باغ کے اس مکان میں تشریف فرما ہوئے۔ جس میں آج کل دارالشیوخ ہے۔ جو اس وقت غالباً سب کچا تھا۔ میاں شادی خاں صاحب مرحوم کو اس وقت حضور کی ڈیوڑھی کے دربان ہونے کا فخر حاصل تھا۔
    مسجد اقصیٰ حضور کے زمانہ میںبہت چھوٹی تھی۔ جو حضور کے والد ماجد نے بنوائی تھی۔ اس میںحضور کے زمانہ میں صحن کے ساتھ مشرق کی طرف اضافہ ہوا۔ اور مینارہ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔
    اضافہ کرتے وقت جب مزدور کام کرنے لگے تو اس بلڈنگ (جس میں اب صدر انجمن کا دفاتر ہیں) کے مالک ہندو ریٹائرڈ ڈپٹی کمشنر نے روکنا چاہا ۔ تو مسلمانوں نے (جن میں چوہدری عبدالرحمان صاحب سربراہ نمبردار کے والد بھی شامل تھے اور پیش پیش تھے اور اس وقت سخت مخالف تھے) کہا کہ ہم ضرور مسجد بڑھائیں گے۔ خواہ ہم اور ہماری عورتیں شہید ہوجائیں۔ اس پر اس ہندو نے کہا کہ تم اور مرزا صاحب اس کو بڑھانا چاہتے ہو۔ میں تو اس کو مسمار کرنا چاہتا ہوں۔ کسی صحابی نے یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تک پہنچا دی۔ تو حضور نے فرمایا کہ وہ مسجد گرانا چاہتا ہے میں تو اس کی ماڑی کے پاس مینار بنائوں گا۔ حضور کی زندگی میں مسجد ااقصیٰ تین دفعہ بڑھائی گئی۔
    ان دنوں حضرت مولانا مولوی نور الدین صاحبؓ (خلیفہ المسیح اولؓ) یا حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب جمعہ کی نماز پڑھایا کرتے تھے اور مسجد اقصیٰ میں دوسرتے اوقات میں نمازوں کی امامت اکثر میں کرایا کرتا تھا۔ اور رمضان المبارک کے ایام میں بعد نماز عشاء مسجد اقصیٰ میں نماز تراویح بھی اکثر میں پڑھایا کرتا تھا۔ جب حافظ روشن علی صاحب مرحوم تشریف لائے تو وہ مسجد اقصیٰ کی مرمت کرانے لگے اور میں مسجد فضل میں امامت کرانے لگا۔
    مسجد اقصیٰ کے بڑھائے جانے سے پہلے ایک دفعہ ایک غیر احمدی متمول شخص اپنے کسی کام کے لئے قادیان آیا۔ جمعہ کا دن تھا۔ حضور مسجد اقصیٰ میں تشریف رکھتے تھے۔ اس نے ایک آدمی کو خطبہ سننے کی اجازت لینے کے لئے حضور کے پاس بھیجا۔ حضور نے جواب میں فرمایا کہ ہم کو نہیں روکتے بلکہ خطبہ پڑھتے ہی اس لئے ہیں کہ لوگ سنیں اور فائدہ اٹھائیں۔ اس پر و ہ غیر احمدی اپنے پیامبر کے ساتھ مسجد میں آیا۔ اور خطبہ سن کر بہت خوش ہوا۔ اور اس طرح حضور کی زیارت بھی کرلی۔
    جس بلڈنگ میں اب صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر ہیں۔ اس کے برابر مغرب کی طرف مسجد اقصیٰ کے متصل ہندوئوں کی زمین تھی۔ ایک ہندو نے اپنی زمین کا شمالی نصف حصہ جو غربی گلی کی طرف مسجد سے ملحق تھا۔ ضرورتاً بیچ دیا اور جب اس پر بھرتی ڈال کر مسجد بڑھائی جانے لگی تو ڈپتی مذکور کو غصہ لگا اور فروخت کرنے والے ہندو سے بھی خفا ہوا اور اتفاقاً اس کو کسی ضروری کام سے باہر جانا پڑا۔ جاتے ہوئے کہہ گیا کہ میں آکر مرزا صاحب پر بھاری مقدمہ کرونگا۔ خدا کی قدرت کہ رستہ میں اس کا یکہ بگڑ گیا اور یکایک الٹ پڑا۔ جس سے ڈپٹی مذکور کو سخت چوٹیں آئیں اور وہ رسی درد سے وہیں مر گیا۔ اس کی موت کے بعد بغیر روک ٹوک کے مسجد بڑھا دی گئی۔ بیچنے والے ہندو کا مکان فروخت شدہ زمین کے متصل جنوب کی طرف غربی گلی پر واقع تھا۔ جہاں پر اب مسجد اقصیٰ کے کمرہ کا جنوب مغربی حصہ ہے۔
    اس کے مکان کی چھت مسجد کے ساتھ لگتی تھی اور لوگوں کو مسجد بڑھ جانے کے باوجود جگہ نہ ملتی تھی۔ اس لئے لوگ مجبوراً اس مکان کی چھت پر چڑھ جاتے تھے۔ آخر تنگ آکر اس نے مکان بھی فروخت کردیا۔جو حضور کی حیات اقدس میں ہی خرید لیا گیا۔ لیکن حضور کے وصال کے بعد مسجدمیں شامل کیا گیا۔
    جن دنوں طاعون کا زور تھا۔ ان دنوں حضور ایک دن دوستوں کے ہمراہ سیر کو تشریف لے گئے۔ تو لوگوں کو نصیحتیں فرماتے رہے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ہر وقت ڈرتے رہنا چاہئے۔ کیونکہ وہ فرماتا ہے ۔ ولا تخشوھم و اخشونی ۔ کہ میرے سوائے اور کسی سے مت ڈرو۔ اور فرمایا کہ تمہاری توجہ طاعون کے ساتھ نہ چلی جائے بلکہ امن کے دنوں میں بھی تمہارے دلوں پر جاری رہے۔
    جن دنوں حضور طاعون کے ایام میں مکان کے باغ میں تشریف فرما تھے۔ ان ایام میں قاضی سید امیر حسین صاحب کا لڑکا محمد شاہ بعمر ۱۲ برس طاعو ن سے فوت ہوگیا۔ کسی شخص نے افواہ اڑادی کہ حضور نے فرمایا ہے کہ چونکہ وہ طاعون سے فوت ہوا ہے۔ اس لئے اس کے جنازہ اور دفن کرنے میں کوئی شریک نہ ہو۔ اس پر سب لوگ ہٹ گئے اور قاضی صاحب بیچارے اکیلے رہ گئے ۔ ادھر سے میاں نجم الدین صاحب جو حضور کے لنگر خانہ میں ملازم تھے۔ آگئے۔ قاضی صاحب نے ان کی اور دو اور آدمیوں کی مدد سے بچہ کو دفن کیا۔ بعد ازاں دوسرے دن جمعہ کے روز صبح قاضی صاحب نے اس بات کی تصدیق کے لئے حضور کو عریضہ لکھا کہ آیا حضور نے لوگوں کو جنازہ میںشامل ہونے سے منع فرمایا تھا۔ حضور نے پڑھ کر جواباً فرمایا کہ اس کا جواب جمعہ کے بعد دوں گا۔ چنانچہ جمعہ کے وقت نماز ہونے کے بعد معاً حضور نے سب لوگوںکو مخاطب فرماتے ہوئے فرمایا کہ قاضی صاحب نے اس مضمون کی چٹھی لکھی ہے۔ جو پڑھ کر مجھے بہت تکلیف ہوئی کہ قاضی صاحب کو کس قدر تکلیف اٹھانی پری۔ اور یہ حال پڑھ کر میرا بدن کانپ اٹھا۔میرا مذہب یہ نہیں کہ کس کے دکھ درد میں شریک نہ ہوا جائے۔ یہ افواہ کسی منافق شخص نے ارائی ہے۔ افسوس ہے کہ مجھے اطلاع دی جاتی ۔ جنازے میں شریک ہوتا۔ اور حضور نے کچھ دیر تک جماعت کو نصائح فرمائیں۔
    جب مولوی محمد حسین بٹالوی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر چھری کا مقدمہ کیا اور اس کی پیشی گورداسپور میں تھی۔ اور جمعہ کا دن آگیا۔ تو مولوی محمد حسین گلیوں کوچوں میں لوگوں کو جمعہ کے لئے اکٹھا ہونے کو پکارتا پھرتا تھا۔ اور تمام لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ جمعہ پڑھنے کے لئے اکٹھے ہوئے۔ تو حضور لوگوں کے ساتھ شہر سے باہر تشریف لے گئے۔ اور حضرت مولوی نور الدین صاحب نے خطبہ پڑھا اور فرماتے تھے کہ میں نے اس قدر مجمع میں کبھی خطبہ نہیں پڑھا اور مولوی محمد حسین کے ساتھ بہت کم آدمی تھے۔
    اسی دن بہت بڑی تعداد میں ہندو لوگ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کسی صحابی سے کہا کہ ہم مرزا صاحب کی زیارت کرنا چاہتے ہیں۔ مرزا صاحب کسی اونچی جگہ پر تشریف رکھیں۔ تو ہم سب دیکھ لیں۔ چنانچہ حضورؑ ایک اونچی جگہ پر کھڑے ہوگئے اور سب لوگوں نے حضور کی زیارت فرمائی۔ ان میں دو انگریز عورتیں بھی تھیں۔ جن کو حضور کی زیارت نصیب نہیں ہوئی۔ زیارت کرکے لوگ بہت خوش ہوئے اور آپس میں کہتے تھے کہ جتنا سچا ہم مرزا صاحب کو سنتے تھے۔ اس سے بڑھ کر دیکھ لیا اور بہت تعریف کرتے تھے۔
    حضور کی ایک پیشگوئی مولوی محمد حسین متعلق تھی جو اس دن اس صورت میں پوری ہوگئی تھی۔
    لیکھرام کے قتل کی پیشگوئی پورا ہونے پر ہندوئوں اور آریوں نے بہت شور مچایا اور پولیس کو ساتھ لے کر قادیان آئے۔ اس وقت میں مسجد مبارک کے نیچے کی گلی میں سے ہوکر حضور مولانا مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول ؓ کے شفاخانہ کی طرف جارہا تھا۔ جب دروازے پر گلی میں پہنچا تو مہمان خانہ کی طرف دیکھا تو پانچ چھ یکے مہمان خانہ سے اس جگہ تک جہاں حکیم نظام جان کی دکان ہے۔ اور ان میں پولیس کے آدمی تھے۔ اور ایک ان کا انگریز افسر بھی ٹوپ پہنے ہوئے تھا۔ لیکن یہ دیکھ کر جلدی سے شفاخانہ میں گیا اور حضرت مولوی صاحبؓ کو عرض کیا کہ پولیس والے آئے ہوئے ہیں۔ آپ نے لوگوں کو فرمایا کہ اٹھو دیکھو باہر کون آئے ہوئے ہیں۔ اتنا ابھی حضورؓ نے فرمایا ہی تھا کہ سپاہی شفاخانہ کے دروازہ پر آگیا اور کہا کہ ہم تلاشی لینا چاہتے ہیں اس پر س بلوگ باہر نکل آئے اور دروازے کو (جس کے اندر آج کل جناب مفتی فضل الرحمن صاحب گھوڑا باندھا کرتے ہیں) اندر سے تالا لگادیا گیا اور کوٹھریوں کو بھی۔ پھر ایک واقف پولیس مین اس افسر کو حضرت مسیح موعودؑ کے مکان کی طرف لے گیا اور آواز دی تو نوکر خادمہ باہر ائی۔ اس کو افسر نے کہا کہ اندر کہہ دو کہ پولیس والے تلاشی لینے آئے ہیں۔ خادمہ نے اطلاع دی وہ افسر حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوا اور ٹوپ اتار کر سلام کیا اور کہنے لگا کہ آپ کی پیشگوئی پوری ہوگئی ہے۔ آپ کو مبارک ہو۔ اور کچھ معمولی باتیں کیں اور بعد میں بتایا کہ ہمیں آپ کی تلاشی لئے جانے کا حکم ہوا ہے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ بڑی خوشی سے تسلی کرلیں۔ چنانچہ اس نے تلاشی لی پھر اس کے بعد حضرت مولوی صاحبؓ کے شفاخانہ کی تلاشی لی۔ بعد ازاں حضرت مولوی صاحبؓ کے کتب خانہ کا تالا کھول کر تلاشی شروع کی۔ کتب خانہ دیکھ کر افسر نے حیران ہوکر کہا کہ۔ ہیں یہ کیا ہے؟ ایک آدمی نے کہا کہ یہ مولوی نور الدین صاحبؓ کا کتب خانہ ہے۔ پوچھنے لگا۔ وہ کون ہیں تو اس نے حضرت مولوی صاحبؓ کی طرف اشارہ کرکے (جو اس وقت اس افسر کے ساتھ کھڑے تھے) بتایا کہ یہ ہیں ۔ اس نے دیکھ کر حضرت مولوی صاحب کو سلام کیا۔ ماہ مارچ کی گرمیوں کے دن تھے۔ تلاشی صبح کے دس بجے شروع ہوکر شام کو چھ بجے ختم ہوئی اور سب پولیس مین اور افسر اپنے مطلب میں جس کے لئے وہ آئے تھے۔ ناکام واپس چلے گئے۔
    قادیان کے ایک ارائیں بھائی مسمی حامد صاحب تھے۔ جو حضرت مسیح موعودؑ کے مخلص اور شیدائی اور حضور کے محبت رکھنے والے تھے چونکہ ان دنوں مہمان خانہ چھوٹا تھا اس لئے بعض دفعہ مہمان ان کے مکان میں بھی سو جایا کرتے تھے۔ ایک روز وہ بیمار ہوگئے۔ حضرت خلیفہ المسیح اولؓ ان کا علاج کرتے تھے۔ انہوں نے اپنا ایک آدمی حضرت مسیح موعودؑ کے حضور بھیجا کہ حضور اپنے باغ میں سیر کرنے کے لئے ادھر سے تشریف لے جائیں تاکہ میں حضورؑ کی زیارت کرلوں۔ وہ آدمی جب حضور کے پاس پہنچا۔ حضور سیر کے لئے تشریف لے چلے تھے۔ پیغام سن کر حضور اسی طرف چلے او ران کو شرف مصافحہ بخشا اور دریافت فرمایا کہ کیا تکلیف ہے۔ تو انہوں نے گلے کو ہاتھ لگا کر کہا کہ یہاں تکلیف ہے اور میں بول نہیں سکتا۔ اس پر حضورؑ نے فرمایا کہ میں دعا کروں گا۔ آپ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرین اور پھر دوبارہ شرف مصافحہ بخش کر تشریف لے گئے۔ اسی دن دوپہر کو دو بجے کے بعد فوت ہوگئے۔حضور کو اطلاع دی گئی۔ حضورؑ نے فرمایا کہ ان کا جنازہ مدرسہ احمدیہ میں لایا جائے ۔ حضور نے ان کا جنازہ پڑھانے کے بعد فرمایا کہ یہ ہمارے پرانے اور بڑے مخلص اور جماعت کی مدد کرنے والے شخص تھے۔ ان کو عید گاہ والے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)۔
    بھیرہ کے ایک شخص غلام رسول صاحب ریلوے سٹیشن پر بابو تھے۔ ان کو حضرت مسیح موعودؑ کی طرف توجہ تھی۔ چنانچہ ان کو یہ الہام ہوا ۔ انا انزلناہ کہ اس کو ہم نے اتارا۔ انہوں نیحکیم مولوی فضل دین صاحب کو سنایا تو حکیم صاحب نے ان کو جواب دیا کہ تم کو اللہ تعالیٰ نے سمجھا دیا ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی بیعت کرلو چنانچہ وہ قادیان چلے آئے اور بیعت کرلی اور حضرت مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ خلیفہ اولؓ سے ترجمہ قرآن کریم پڑھنا شروع کردیا اور ایک دن بعد نماز مغرب میںہم سب بیٹھے ہوئے تھے اور حضور جماعت کو وعظ فرما رہے تھے کہ غلام رسول صاحب نے دیکھا کہ حضورؑ کے سر مبارک سے اوپر کو ایک روشن شعاع اٹھ رہی ہے اور انہوں نے مجھے اشارہ کرکے کہا کہ دیکھو حضرت صاحب کا چہرہ کس قدر نورانی ہے۔ جب میں نے بھی چہرہ مبارک دیکھا تو مجھے بھی حضور کا چہرہ مبارک بہت ہی نورانی اور روشن نظر آیا۔
    ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مستورات کے ہمراہ اپنے باغ میں سیر کے لئے تشریف لے گئے اور ان کو باغ میں چھوڑ کر ننگل والے دروازہ کی طرف سے شہر کو ائے۔ میں مہر الدین صاحب ارائیں کے مکان کے دروازہ پر کھڑا ہوا تھا کہ حضور کو ڈھاب میں سے آتا دیکھا۔ میں نے حضورؑ کو سلام کیا اور عرض کیا کہ کیا حضورؑ اکیلے آرہے ہیں۔ تو فرمایا کہ کچھ بہت ضروری کام تھا۔اس لئے جلد چلا ایا ہوں۔ میں حضورؑ کے ساتھ ہولیا۔ میں راستے میں مویشیوں کو ہٹاتا رہا اور حضورؑ کے ساتھ گول کمرے تک آیا جہاں سے حضورؑ اپنے گھر تشریف لے گئے۔ میں وہاںسے شیخ غلام احمد صاحب نو مسلم واعظ مرحوم کی دکان پر آکر ٹھہرا اور انہیں کہا کہ حضور باغ کی طرف سے اکیلے آرہے تھے۔ شیخ صاحب نے فرمایا کہ خدا کے بندے اکیلے نہیںہوتے۔ بلکہ ایک بڑا پاک گروہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔
    سیدنا حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ میں مولوی ثناء الدین امرتسری قادیان میں پولیس کے ساتھ آیا اور ہندوئوں کے اس مکان میں اترا جس میںلیکھرام اترا تھا۔ پولیس کو اس لئے ساتھ لایا کہ احمدی لوگ مجھے نہ ماریں۔ اس کا مقصد حضرت اقدسؑ کی پیشگوئیوں کے متعلق دریافت کرنا تھا۔ ظہر کی نماز کے بعد کسی صحابی نے مولوی ثناء اللہ کے متعلق ذکر چھیڑا کہ وہ حضور کی کوئی پیشگوئی دریافت کرنے کے لئے آیا (ہے) اور اس مکان میں ٹھہرا ہے جس میں لیکھرام اترا تھا ۔ حضور نے فرمایا اگر وہ ہمارے پاس آتا تو ہم اس کو مکان دیتے اور مہمان نوازی کرتے اور سب پیشگوئیاں سمجھا دیتے۔ مگر وہ لیکھرام والے مکان میں اترا ہے اور اس کا نمونہ دکھا رہا ہے اور فرمایا کہ جو بات میرے منہ سے نکلتی ہے وہ خدا کے منہ سے نکلتی ہے۔ مولوی ثناء اللہ کو احمدیوں سے کیا ڈر تھا۔ جو پولیس لیکر آیا۔ حضور نے اور بہت عمدہ باتیں بیان فرمائی تھیں مگر افسوس ہے کہ مجھے یاد نہیں رہیں۔
    خاکسار محمد امین
    بقلم خاکسار طالب دعا
    عطاء الرحمان احمد
    اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ
    بورڈنگ مدرسہ احمدیہ قادیان
    ۳۸۔۲۔۵
    قیام قادیان کے لئے ’’ سبب الاسباب نے ایک سبب بنایا کہ قادیا ن کے آریوں کو خبر ہوئی کہ فلاں شخص مرزا صاحب کے بلانے پر آیا ہے تو انہوں نے لا یحب بل لبعض ھاویہ مسجد میں آکر اپنے مکان چلنے کی دعوت دی۔ میں نے مع اپنے ہمراہیوں کے غور کیاتو کوئی شرعی نقصان اس میں نہ پایا......... ہم آریوں کے مکان میں شب باشی کے لئے چلے گئے۔ تین پولیس کے سپاہی بھی ساتھ تھے۔
    اہلحدیث امرتسر ۲۲ مارچ ۱۹۰۷ء ص ۲



    روایات
    چوہدری عبدالحکیم صاحب ولد چوہدری اشرف الدین صاحب
    سکنہ موضع عادل گڑھ تحصیل وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ
    حال قادیان محلہ دارالبرکات
    سن بیعت : ۱۹۰۲ء
    سن زیارت: ۱۹۰۲ء
    اور اس کے بعد بہت دفعہ یہ خاکسار ملتان شہر کے چھائونی والے ریلوے اسٹیسن پر بطور تار بابو بھی سگنلیر ملازم تھا۔ اور میرے خیالات اہل حدیث مولوی کے تھے۔ اور دو ۔۔۔ صاحبان جن کا نام عبدالجباراور عبدالغفار تھا۔ ان سے قرآن مجید کا ترجمہ پڑھا کرتا تھا۔ جس محلہ میں یہ خاکسار رہتا تھا۔ وہاں ایک احمدی مولوی بدرالدین صاحب مدرس رہتے تھے۔ میں ان کے ہاں اخبار الحکم پڑھا کرتا تھا جس کے پہلے صفحے پر ان دنوں خداتعالیٰ کی تازہ وحی اور کلمات طیبات امام الزمان کے مضامین لکھے ہوئے ہوتے تھے۔ کچھ عرصہ اخبار الحکم پڑھتے اور مولوی بدرالدین صاحب کی صحبت سے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت سمجھ میں آگئی۔ اور میں نے قادیان آنے کا ارادہ کرلیا۔میری تنخواہ قلیل تھی۔ اور غربت کی حالت تھی۔ اس لئے التوا ہوتا رہا۔ آخر ایک اور دوست جو وہ بھی اہل حدیث تھے۔ اور مولوی سلطان محمود صاحب اہلحدیث کے شاگرد خاص تھے۔ ان کا نام اس وقت مجھے یاد نہیں رہا۔ وہ بھی میرے ساتھ قادیان روانہ ہونے کے لئے تیار ہوئے۔ گرمی کاموسم تھا۔ جب ہم دونوں ملتان چھائونی سے امرتسر کا ٹکٹ لیکر عازم قادیان ہوئے۔ امرتسر پہنچ کر ہم اتر پڑے۔ ایک تو وہاں گاڑی بدلنی تھی اور دوسرے ہمارے ٹکٹ بھی ختم ہوچکے تھے۔ بٹالہ کا کرایہ معلوم کرنے سے ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارے پاس کرایہ پورا نہیں ہے۔ اس لئے ہم نے ویر اسٹیشن کے ٹکٹ لے لئے۔ جب ویر پہنچے تو ہم دونوں نے یہ صلاح کی کہ اس ٹکٹ پر ہی سفر کرو۔ چونکہ ہمارے پلے بھی کچھ نہیں ہے۔ اور ہم نے جانا ضرور ی ہے۔ اللہ تعالیٰ ضرور ہماری پردہ پوشی کریگا۔ اسی ایمان اور ارادہ کو دل میں لئے ہوئے ہم دونوں گاڑی پر ہی سوار رہے۔ جب گاڑی درمیان دو سٹیشنوں کے جارہی تھی اور ہمارے اس وہی ختم شدہ ٹکٹ تھے ۔ ریلوے کا ٹکٹ کلکٹر ہمارے کمرہ میں آیا ۔ ہم دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ اگر تیرا مامور حضرت مسیح موعودؑ وہی مہدی ہے جس کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے تو ہمارا پردہ فرما۔ اور اس پر دیس میں رسوائی اور ذلت سے محفوظ رکھ۔ خدا کی شان جب ٹکٹ کلکٹر نے ہم سے ٹکٹ ملاحظہ کیلئے لئے تو ہم دونوں خوف سے تاپ رہے تھے۔ مگر حیرانی کی کوئی حد نہ رہی۔ جب اس نے تکٹ ہمیں واپس دے دیئے اور بغیر کسی قسم کا اعتراض کرنے کے چلا گیا۔ اس واقعہ نے ہمارے ایمانوں کو اور مضبوط کیا اور جب ہم بٹالہ اترے۔ تو وہی ٹکٹ دروازے میں دیکر گذر گئے۔ وہاں بھی اللہ تعالیٰ نے ہماری پردہ پوشی کی۔ ہم دونوں بٹالہ سے قادیان کا رستہ پوچھتے ہوئے پیدل روانہ ہوئے۔ظہر کا وقت تھا۔ جب ہم مسجد مبارک میں پہنچے۔ اس کے تھوڑی دیر بعد حضرت مسیح موعود علیہالسلام نماز ظہر کے لئے تشریف لائے۔ میرے ساتھ جو دوست تھا۔ اس نے حضور سے آتے ہی یہ سوال کیا کہ جب قرآن و حدیث موجود ہے تو آپ کی بیعت کی کیا ضرورت ہے۔ حضور وہیں کھڑے ہوگئے اور تقریر شروع کردی۔ تقریر کے دوران میں مولوی عبدالکریم صاحبؓ ناراض ہوتے رہے کہ اخباروں میں اسی سوال کا جواب کئی دفعہ دیا جاچکا ہے ۔ حضورؑ کو خواہ مخواہ تکلیف دیتے ہیں۔ جب حضور کی تقریر ختم ہوچکی تو اس میرے ساتھی نے عرض کیا کہ میری بیعت لی جائے۔ حضور نے فرمایا ابھی ٹھہرو۔ دو دن ٹھہرو اور سوچ لو۔ اور مولوی عبدالکریم سے فرمایا کہ جواب تو میں دے رہا ہوں اور تکلیف آپ کو ہورہی ہے۔
    مغرب کے وقت نماز کے بعد حضور شاہ نشین پر تشریف فرما ہوئے۔ تو ہم نے بیعت کے لئے عرض کی۔ مجھے فرمایا کہ آپ کم سے کم چھ ماہ ہمارے پاس رہیں۔ اگر آپ کے بیوی بچے ہیں تو ہم ان کے لئے مکان اور خرچ کا انتظام کردیں گے۔ خاکسار نے ملازمت کی معذوری ظاہر کی اور حضور نے فرمایا کہ کل بیعت لیں گے۔ اس کے بعد مفتی محمد صادق صاحب نے ولایت کی ڈاک سنائی۔ قریباً پچاس منٹ گزرنے کے بعد حضور نے عشا کی اذان کا حکم دیا اور نماز پڑھ کر اندر تشریف لے گئے۔ دوسرے دن مغرب کے وقت پھر میں اور میرا ساتھی بیعت کے لئے حاضر ہوئے۔ حضور نے پہلے میری بیعت لی اور فرمایا کہ جہاں آپ رہتے ہیں وہاں طاعون ہے۔ میں نے عرض کی کہ حضور اس طرف طاعون ہے۔ فرمانے لگے کہ وہ ہمارا نشان ہے اور دوران گفتگو میں حضور اپنے رانوںپر ہاتھ مارتے تھے۔ میرے بعد دوسرے دوست نے بیعت کی۔ اور ہم دوسرے دن اجازت لے کر اپنے گھر واپس چلے گئے۔ اس کے بعد میں وقتاً فوقتاً قادیان آتا ر ہا۔ اور حضور کے دیدار سے مشرف ہوتا رہا۔ مگر افسوس کہ وہ حالات اس وقت یاد نہیں۔
    چوہدری عبدالحکیم
    ولد چوہدری اشرف الدین
    عادل گڑھ تحصیل وزیر آباد
    ضلع گوجرانوالہ





    روایات
    مدد خاں انسپکٹر بیت المال قادیان ولد راجہ فتح محمد خاں صاحب
    سکنہ یاڑی پورہ ریاست کشمیر حال انسپکٹر بیت المال قادیان
    سن بیعت : ۱۸۹۶ء
    سن زیارت: ۱۹۰۴ء
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    اے میرے پیارے خدا کہ میں تیرے پاک نبیؑ کے حالات لکھنے لگا ہوں۔
    تو اس میں برکت ڈال اس میں کوئی بنائونی بات نہ لکھی جائے۔
    ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ۱۹۰۴ء میں جبکہ کرم دین کے ساتھ مقدمہ تھا۔گورداسپور میں چند و لعل کی عدالت میں اپنی طرف سے وکیل خواجہ کمال الدین صاحب تھے اور کرم دین کی طرف سے مول راج و نبی بخش وکیل تھے۔ قادیان سے خاکسار سید احمد نور صاحب اور حافظ حامد علی صاحب گڈے پر کتابیں لے کر گورداسپور پہنچے۔ تو دیکھاکہ ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب کڑیانی والے بہت ہی بگڑے ہوئے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب آپ کو اتنی گھبراہٹ کیوں ہے؟ فرمایا بھائی صاحب مجھ کو اس واسطے گھبراہٹ ہے کہ میں نے سنا ہے کہ یہاں پر یہ مشورہ کیا گیا ہے کہ حضور کو ضرور ہی حوالات میں دیا جائے۔ چاہے پانچ منٹ کے واسطے ہی کیوں نہ ہو۔ مگر خود ہی آپ کو حوالات میں دیا جائے۔ چند و لعل نے یہ پختہ ارادہ کرلیا ہوا ہے۔ مجھ کو یہ خبر ایک بڑے افسر نے دی ہے۔ میں نے داکٹر صاحب کو کہا کہ اب اپ کیا چاہتے ہیں۔ کیا کرنا چاہئے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ کئوی ثواب کا کام کرے۔ حضور کو یہ پیغام پہنچا دے کہ آپ گورداسپور نہ آئیں۔ بیماری کا سر ٹیفکیٹ لے لیں۔ اگر سو روپیہ بھی خرچنا پڑے تو خرچ دیں۔ میں خود ادا کردونگا۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کو کہا کہ کیا حضور جھوٹا سرٹیفکیٹ لیں؟ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ بھائی صاحب! اگر کسی نے ثواب لینا ہے تو لے۔ میں نے کہا۔ کہ کیا اسی وقت کوئی جائے؟ کہا۔ ہاں! اس کے بعد میں نے کہا۔ آپ مجھ لو لال ٹین لے دیں۔ میں ابھی رات رات ہی چلاجائونگا۔ ڈاکٹر صاحب نے اسی واقت لال ٹین دی۔ میں اسی وقت گورداسپور سے قادیان کو راونہ ہوا۔ جب میں شہر کے باہر سڑک پر پہنچا تو دو آدمی میری امداد کے واسطے آئے۔ ایک تو شیخ حامد علی صاحب تھے۔ دوسرے منشی عبدالغنی صاحب سیکرٹری روجلہ کا بھائی غالباً ان کا نام عبدالمجید تھا۔ جو فوت شدہ ہیں۔ غرض یہ کہ ہم تینوں قادیان پہنچ گئے۔ قریباً دو بجے مسجد مبارک میں جو کھڑکی اندر کی طرف ہے جس میں سے حضور نمازکے واسطے آیا کرتے تھے۔ دادی دادی کرکے میں آواز دینے لگا۔ اتنے میں حضور خود ہی تشریف لے آئے۔ ہم نے السلام علیکم عرض کیا۔ بعد السلام کے آپ نے فرمایا (میری ہی طرف مخاطب ہوکر) کہ آپ تو کتابوں کے ساتھ گورداسپور گئے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ حضور درست ہے گیا تو کتابوں کے ساتھ۔ مگر جب ہم گورداسپور پہنچے تو شام کا وقت ہوگیا تھا۔ دیکھا تو ڈاکٹر محمد اسمٰعیل صاحب کی بہت ہی بُری حالت اور گھبراہٹ تھی۔ اس لئے (اسی لئے) حضور میں واپس آگیا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب یہ سن کر میرا دل بہت گھبرایا اور رنج (رنجیرہ) ہوا ۔ صرف حضور کو یہ خبر دینے کے واسطے ہم تینوں آئے ہیں۔ حضور نے یہ ماجرا جب میری زبانی سنا تو فرمایا کہ چکروں کی بیماری تو مجھے پہلے ہی ہے اور سرٹیفکیٹ لینے کا ارادہ تو میرا پہلے ہی تھا۔ مگر اب تو میں گورداسپور جاکر سرٹیفکیٹ حاصل کرونگا۔ آپ نے اندر سے میرے واسطے رضائی منگوائی۔ جب رضائی آئی تو فرمایا کہ تم تو سو جائو۔ تم کو بہت ہی تھکان ہوگئی ہے۔میری طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ دیکھو میاں مددخاں قلم اس بانیٹے کے ہاتھ میں نہیںہے ۔قلم تو میرے خدا کے ہاتھ میں ہے ۔ آپ کوئی بھی غم دل میں نہ رکھیں وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا آپ بے فکر ہو کر سو جاو انشاء اللہ کل گورداسپورضرور ہی جائونگا۔ اور وہاں جاکر ہی سرٹیفکیٹ حاصل کرونگا۔ آپ بے فکر ہوکر سو جائیں۔ مجھے سلا کر آپ اندر تشریف لے گئے۔ میرے دل میں بہت ہی خوشی ہوئی۔ آپ کے الفاظ نے مجھے بالکل بے فکر کردیا۔ کہ اس بانئیے کے ہاتھ میں قلم نہیں ہے۔ قلم تو میرے خدا کے ہاتھ میں ہے۔ وہ کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ آپ بے فکر ہوکر سو جائیں۔ میں ایسا مست ہوکر سویاکہ دن کے بارہ بجے کے قریب میری آنکھ کھلی۔ وہ بھی میاں نجم الدین کی آواز دینے پرکہ کوئی روٹی کھانے والا ہو۔ تو آکر روتی کھالے۔ نجم الدین صاحب مرحوم آوازیں دیتے تھے۔ یہ آواز میرے کان میں بھی پڑ گئی۔ میں فوراً اٹھا اور پوچھا کہ حضرت صاحب کہاں ہیں۔ میاں نجم الدین صاحب کہنے لگے کہ بندے خدا۔ تو کہاں تھا؟ کہا۔ کہ میں تو اسی مسجد میں ہی سوایا ہوا تھا۔ مجھ کو تو نماز کی بھی خبر نہیں ہے کہ کب پڑھی۔ جاگ ہی نہیں آئی۔ آپ کی آواز پر مجھ کو جاگ آئی ہے۔ مجھ کو چلتا پھرتا کوئی نظر نہیں آتا۔ اب میں حیران ہوں کہ میں کب سویا تھا آیا نماز بھی پڑھی ہے یا نہیں۔ مجھے تو کوئی بھی خبر نہیں۔ آیا حضور چلے گئے ہیں یا نہیں؟ نجم الدین صاحب نے فرمایا۔ حضور نے گورداسپور پہنچ کر کھانا بھی کھالیا ہوگا۔ میرے خیال میں تو حضور دس بجے ہی گورداسپور پہنچ گئے ہونگے۔ اب تو اذاں کا وقت قریب ہے۔ اب تک تو سوتا ہی رہا۔ اتنے میں کسی دوست نے کہا کہ حضور نے تمہار ے واسطے یہ تاکید کی تھی کہ اس کو یکہ پر بٹھا کر لے آنا۔ یہ پیدل نہ آئے۔اس کو تکلیف ہوگی۔ اس وقت چوہدری اللہ داد صاحب اور شاید شیخ یعقوب علی صاحب نے یہ ذمہ لیا تھا کہ ہم ضرور اسے یکہ پر بٹھا کر لے ائیں گے۔ مجھے یہ خبر نہیں کہ یہ کس نے کہا تھا کہ حضور نے ایسا فرمایا کہ اسے یکے پر بٹھا کر لے آنا۔ مجھ کو میاں نجم الدین صاحب کہنے لگے کہ خیر کوئی بات نہیں ہے۔ آئو پہلے روٹی تو کھالو۔پھر گورداسپور چلے جانا۔ اتنے میں مولوی عبدالکریم صاحب بھی آگئے۔ فرمانے لگے کہ کیا بات ہے۔ میاں نجم الدین صاحب نے سب ماجرا سنایا۔ مولوی صاحب میری طرف مخاطب ہوکر کہنے لگے کہ دیکھو میاں مدد خاں میں خوب جانتا ہوں تمہاری حالت کو کہ تم کشمیر کے رہنے والے ہو۔ تم (محنت) کے آدمی نہیں ہو۔ تمہارے گائوں یاڑی پورہ میں تم لوگ زیادہ تر چاول ہی کھاتے رہتے ہو۔ تم نازک آدمی ہو۔ تم بیمار ہوجائو گے۔ یہ کشمیر نہیں ہے۔ یہ تو پنجاب ہے۔ اکثر یہاں پر بخار ہوجاتا ہے۔ تھکان کی وجہ سے کہیں بخار ہی نہ چھیڑ بیٹھنا گورداسپور جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ تونے تو ثواب ہی لینا ہے۔ آپ یہاں ہی حضور کے گھروں کی نگرانی کریں۔ پہرے دیں۔ کل پرسوں تک حضور بھی آجائیں گے۔ جائو روٹی کھائو۔ میں آپ کو ہمدردی کے ساتھ کہتا ہوں۔ آپ یاد رکھیں۔ اگر آپ چلے گئے تو تھکان سے ضرور بیمار ہوجائو گے۔ پھر تکلیف ہوگی۔ ایک آدمی کو مقرر کردیا تاکہ میں گورداسپور نہ جاسکوں۔ میں نجم الدین صاحب نے کہا کہ اب تو چلو روٹی کھائو۔ میں لنگرخانہ میں جاکر روٹی کھانے لگا۔ وہی آدمی جو میرے پر مقرر کیا گیا تھا ۔ اسے میں نے کہا اذان ہوگئی ہے۔ آپ جائیں وضو کرنے مسجد میں جائیں۔ وہ بھی خاکسار کی طرح کوئی پردیسی مسافر ہی تھا۔ وہ چلا گیا اور میں نے گورداسپور کا راستہ لیا۔ مگر تھکان کی وجہ سے مجھے چلا نہ جائے۔ بدن پتھر کی طرح ہوگیا تھا۔ بہت سخت تھکان تھی۔ نیند بھی بہت غالب ہوئی۔ بہر حال جبکہ میں تبڑ (ت ب ڑ) پہنچا تو سخت افسوس ہوا کہ سخت غلطی ہوئی کہ مولوی صاحب کا کہنا نہیں مانا۔ انہوں نے تو مجھے جانے سے بند کیا تھا۔ اب وہاں سے واپس ہونا بھی ٹھیک نہ سمجھا۔ مگر بدن تھکان کی وجہ سے بخار سا محسوس کررہا تھا۔ دل سے دعا نکلتی جائے کہ یا اللہ کسی نہ کسی طرح میں وہاں ڈیرے تک پہنچ جائوں۔ اور کسی جگہ لیٹ جائوں۔ نہ کسی کے ساتھ بولوں۔ نہ ہی میرے ساتھ کوئی بولے۔ اگر کوئی میرے ساتھ مل جائے تو کیا ہی اچھی بات ہو۔ اگر ہوسکے تو ایک پیالی چائے کی مل جائے تو شائد میرے بدن میں کوئی تھکان نہ رہے۔ نیند کا سخت غلبہ تھا غرض یہ کہ شام کی نماز پڑھ چکے تھے کہ میں مکان تک پہنچا۔ یہاں پر حضور ٹھہرے ہوئے تھے۔ دروازہ کے اندر ابھی داخل ہی ہوا تھا کہ میرے کان میں یہ آواز آئی کہ کیا مدد خاں کو بھی یکہ پر بٹھا کر لے آیا تھا یا نہیں۔ یہ آواز میرے کان میں بھی آگئی۔ جیسا کہ کوئی سویا ہوا جاگ اٹھتا ہے۔ اسی طرح میں بھی یہ آواز سن کر جاگ سا اٹھا۔ جب میں صحن میں پہنچا تو کسی دوست نے آواز دی کہ حضور مدد خاں آگیا ہے۔ میں بھی جاکر حضور کو سلام علیکم عرض کیا۔ حضور نے جھٹ اپنا دست مبارک آگ یکیا میرے ہاتھ کو پکڑ کر فرمانے لگے جزک اللہ ! یہ بہت ہی بہادر بڑے ہیں۔ یہ ا نکا تیسرا چکر ہے۔ حضور نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ مبارک میں یہاں تک پکڑا تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ گویا کہ میں گورداسپور سے کبھی قادیان گیا ہی نہیں یا تو میری حالت نیند و تھکان سے سخت مضطرب ہورہی تھی کہ کسی نے ساتھ بولنے کو بھی دل نہیں کرتا تھا۔ اور بدن میں بخار سا ہورہا تھا مگر خدائی شان خدا کے مرسل نے اس خاکسار کا ہاتھ نہ چھوڑا ۔ جب تک کہ میں نے محسوس کیا کہ میری تھکان بالکل اتر گئی ہے۔ چند منٹ پہلے ہی مردہ تھا ۔حضور کا دست مبارک میرے ہاتھ کو لگتے ہی میری کوفت اتر گئی۔ تھکان دور ہوگئی۔ بدن ہلکا پھلکا ہوگیا اور کوئی بھی تکلیف باقی نہ رہی۔ یہ کیا بات ہے یہ تو حضور ہی کی کوئی کرامت ہے۔ مجھ کو اس وقت یہ خیال ہوا کہ مان لیا بھوک اور پیاس کسی خوشی سے دور ہوسکتی ہے۔ مگر یہ کوفت ‘ تھکان ‘ نیند کا غلبہ حضور کے دست مبارک کے چھونے سے دور ہوگئے۔ یہ حضور کی ہی کرامت نہیں تو اور کیا ہے۔ مجھ مردہ میں گویا روح آگئی۔ حضور نے میرا ہاتھ نہیں چھوڑا۔ جب تک کہ ہر قسم کی تکلیف خاکسار کی روانہ ہوگئی۔ اس سے پیشتر میرا جسم پتھر تھا۔ ہلنا دشوار تھا۔ میرے خیال میں مردہ کو زندہ کرنا اسی کو کہتے ہیں۔ میں نے محسوس کیا کہ گویا میں گورداسپور سے قادیان گیا ہی نہیں۔ حضور نے حکم دیا کہ کھانا لائو۔ خاکسار کو بھی حضور نے ساتھ ہی بٹھا لیا۔ میں نے حضور کے ساتھ کھانا کھایا۔ یہ حضور کی مہربانی اور خاص شفقت تھی۔ اس سے پہلے جب میں آیا ہی تھا میرا دل یہ چاہتا تھا کہ حضور کے ساتھ واقفیت کسی طرح پیدا ہونی ضروری ہے (پیدا ہونی چاہئے) یعنی میرا نام حضور کی زبان مبارک پر چھڑ جائے (چڑھ جائے رواں ہوجائے) تو بہت ہی بڑی خوش قسمتی ہو اس کے واسطے کیا ذریعہ ہونا چاہئے چونکہ میرے میں کوئی ایسی خوبی نہ تھی جس کے سبب میں حضور سے واقفیت پیدا کرسکتا صرف غرض یہ تھی کہ اگر حضور میرا نام لیں گے تو خاکسار کی دین و دنیا کی کامیابی کے واسطے کبھی دعا فرمادیں گے اور خدا راضی ہوجائے گا۔ آخر کار دل نے یہ ذریعہ سوچا کہ جو چوپڑا خاکروب حضور کا پاخانہ صاف کرتا رہتا ہے اسکے ساتھ سمجھوتہ کرونگا کہ پاخانہ کا برتن میںخود پاخانہ سے نکال کر چوہڑے کو دیدیا کرونگا؟ میں خود ہی برتن صاف کرکے پاخانہ میں رکھ دیا کرونگا۔ اس ارادہ کے ساتھ دل پختہ ہوگیا کہ یہی کام ٹھیک ہے۔
    جب میں نے معلوم کیا کہ پاخانہ کہاں ہے تو معلوم ہوا کہ اندر کی طرف ہی ہے۔ چنانچہ میری بنی بنائی یہ عمارت بھی نہ رہی۔ اس وقت میں نے اپنے آپ کو خود ہی مخاطب کرکے کہا کہ تو تو پاخانہ کے لائق بھی نہ تھا۔ بہت ہی نادم ہوا۔ اپنے آپ کو بہت ہی ملامت کی۔ مگر میرے خدا نے میرے واسطے سامان واقفیت کا پیدا کردیا۔ کہ وہ میرے خیال وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ حضور جب گورداسپور پیشی پر جایا کرتے تھے تو آپ کی غیر حاضری میں پہرہ لگ جاتا۔ بہت سے دوست خود ہی پیرہ دینے کے واسطے آیا کرتے۔ مثلاً چوہدری فتح محمد صاحب منشے برکت علی صاحب اور بھی اسی طرح پندرہ ‘ بیس آدمی پہرہ دیا کرتے اور یہ پہرہ حضور کی واپسی تک ہوتا۔ حضور گرداسپور سے رات کو واپس آجاتے۔ چونکہ سب میں سے ایک میں ہی پردیسی تھا۔ یہ سب اکٹھے ہی ادھر ادھر چکر لگاتے تھے۔ اور مجھ کو یہ جو چھتی ہوئی گلی ہے جس کے اوپر مسجد مبارک ہے۔ اسی گلی میں مجھ کو کھڑا کرجاتے تھے۔ یہ سب ہی چکر لگانے کے واسطے چلے گئے صرف میں ہی اس گلی میں کھڑا تھا۔ حضور تشریف لے آئے اور بھی خدام حضور کے ساتھ تھے۔ حضور کو جھٹ السلام علیکم عرض کیا۔ حضور نے تو پہلے ہی السلام علیکم کہہ دیا تھا۔ جب میں نے سلام کیا تو حضور نے دریافت کیا کہ یہ کون صاحب ہیں۔ اکیلے ہی پہرہ دے رہے ہیں۔ اتنا مجھ کو یاد ہے۔ حضرت مفتی صاحب ۔ مفتی محمد صادق صاحب نے کہا کہ حضور اس کا نام مدد خاں ہے۔ تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے کہ کشمیر سے ائے ہیں ۔ راجہ عطا محمد خاں صاحب کے رشتہ داروں میں سے ہیں۔ حضور نے فرمایا۔ اچھا اچھا۔ جزاک اللہ جزاک اللہ۔ حضور اوپر تشریف لے گئے اور میں بھی اپنی جگہ پر آکر سوگیا۔ اسی طرح تین بار حضور سے موقعہ ملا ہے۔ خدا کے فضل و کرم سے حضور کی زبان مبارک پر میرا نام خوب اچھی طرح چڑھ گیا اور مجھ کو کئی بار نام لے کر بلایا۔ خدا نے میری آرزو کو اس طرح پورا کیا۔ الحمد اللہ رب العلمین
    خاکسار مدد خاں
    ولد راجہ فتح محمد خاں
    انسپکٹر بیت المال
    بیان نمبر ۵۔
    میں جو کچھ بھی ذیل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق لکھونگا وہ اپنی دیدہ اور مشاہدہ حالات کو زیر قلم کئے ہوئے ہوگا۔ اے خدا میرے بیانات میں اگر کسی قسم کی غلطی رہ جائے تو اس کی پردہ پوشی کیجئیو اور میری ناقص تحریر میں برکت ڈالئیو۔ آمین۔
    ۱۔ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کا وقت قریب تھا تو اس وقت خاکسار حضور کو دبا رہا تھا۔ میں حضور چار پائی پر داہنی طرف بیٹھا ہوا تھا۔ جس وقت حضور کی نزع کا وقت قریب آیا اور حضور کی پاک روح اپنے مالک حقیقی کی طرف پرواز کررہی تھی تو اس وقت حضرت ام المومنین تشریف لائے۔ اور میرے پاس ہی چارپائی پر حضور کے سرمبارک کی طرف بیٹھ کر خداتعالیٰ سے حضور کی صحت کیلئے دعا مانگنی شروع کی۔خاکسار اس وقت حضور کی ٹانگیں اور پائوں دبا رہا تھا۔ مجھ کو خوب اور اچھی طرح یاد ہے کہ حضرت ام المومنین نے حضور کی نزع کے وقت حضور کو چینی کی پیالی میں قہوہ یا شہد ڈال کر (میرا غالب خیال ہے کہ قہوہ ہی تھا) جو کہ اس وقت حضور کے دہن مبارک میں دو بار ٹپکایا۔ جب پہلی دفعہ ٹپکایا تو حضور کے حلق سے نیچے اتر گیا۔ لیکن جب دوسری دفعہ ٹپکایا گیا تو میں نے دیکھا کہ حضور کو حلق سے نیچے کرتے وقت تکلیف ہوتی تھی۔ جس پر میں نے حضرت ام المومنین کی خدمت میں عرض کی کہ اماں جی حضور کو پیتے وقت تکلیف ہوتی ہے۔ حضور کو نہ پلاویں۔ حضور تو اب جارہے ہیں۔ آپ نے میری طرف م نہ پھیر کر دیکھا اور حضور کو پلانا چھوڑ دیا۔ اسی اثناء میں حضور دو تین منٹ کے اندر اندر ہی اپنے حقیقی مالک کو جاملے۔ مجھ کو وہ وقت بھی یاد ہے کہ جب حضور نے اپنی وفات سے پیشتر ہی فرمایا تھا کہ ’’میری وفات اب قریب ہے وہ وقت جو ہوگا اک قیامت کا نمونہ ہوگا۔‘‘
    آپ کا فرمانا بجا تھا۔ وہ وقت ہمارے لئے بعینہ ایک قیامت کا نمونہ تھا۔ ہمارے حوش و ہواس (ہوش و حواس) اختیار میں نہ تھا۔ زمین و آسمان چکر کھاتے نظر آرہے تھے اور تمام دوست جو اس وقت موجود تھے۔ زار و قطار رو رہے تھے۔ میری حالت ایسی تھی جیسے کوئی سودائی ہوتا ہے اور دیوانہ وار روئے چلا جارہا تھا۔ دل میں سخت پریشانی اور اضطراب تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب حضور کی حالت بدل رہی تھی تو ہمارے موجودہ امام حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرالعزیز یہ دعائیں مانگ رہے تھے کہ اے خدا ہماری عمریں آپ کو دیدے۔ بار بار یہی الفاظ آپ اپنی زبان سے نکال رہے تھے اور چارپائی کے گرد گھوم رہے تھے۔ یا تو آپ بار بار مذکورہ الفاظ آپ حضور کے لئے بطور دعا استعمال میں لارہے تھے یا ایک دم ہی پہلے الفاظ بدل کر یہ الفاظ کہنے شروع کئے کہ میں دشمن کے ساتھ مقابلہ کرونگا اور ضرور ہی کرونگا۔ مجھ کو ان سے آگے اور الفاظ یاد نہیں رہے۔ جو آپ نے اس وقت کہے۔ آپ کے یہ الفاظ کہنے پر مجھے یہ خیال گزرا کہ آپ نے یہ الفاظ کیوں کہنے شروع کردئے۔ لیکن یہ خدا ہی بہتر جانتا تھا کہ ان الفاظ میں کیا راز مضمر تھا۔ اس کے بعد تمام لوگ باہر برآمدہ میں آ بیٹھے۔ چونکہ اندر کثرت سے مستورات آگئی تھیں۔اس وقت جب کہ تمام لوگ آپ کی وفات پر رو رہے تھے۔ ان میں مولوی محمد حسین صاحب امروہی (مولوی محمد احسن صاحب امروہی) بھی شامل تھے۔ جو کہ نہایت اضطراب اور بے قراری سے رو رہے تھے۔ اتنے میں حضرت خلیفہ اولؓ تشریف لے آئے۔ آپ نے تمام احباب کو روتے دیکھ کر مولوی محمد حسین امروہی (مولوی محمد احسن صاحب امروہی) کو مخاطب کرکے فرمایا کہ مولوی صاحب اگر ہم تو اس طرح روتے رہے تو یاد رکھیں ۔یہ سب کے سب لوگ ابھی ہلاک ہوجائیں گے۔ ان میں سے ایک بھی زندہ نہ رہے گا۔ آپ اچھا نہیں کررہے۔ کیا نورالدین کو آپ ؑ سے پیار یا محبت نہیں تھی۔ مولوی صاحب نے کہا اس وقت جناب اپ صدیق بھی تو تھے۔ کہاں آپ اورکہاں ہم۔ اس کے بعد اس خیال پر کہ ہم اسی رات قادیان چلے جائیں گے اپنی اہلیہ کو اپنی کوٹھی سے لینے چلے گیا۔ میرے واپس آنے تک حضور کا جنازہ پڑھا جاچکا تھا۔ جب میں واپس آیا تو اس وقت بھی پچاس ساٹھ کے قریب اشخاص تھے۔ جنہوں نے ابھی جنازہ نہیں پڑھی تھی (پڑھا تھا) لہذا ہم نے پھر اکٹھے ہوکر نماز جنازہ ادا کی۔ ان دنوں میں چونکہ نواب محمد علی ؓ صاحب کے ہاں ملازم تھا۔ اس لئے بعض حالات کے ماتحت ہم جنازہ کے ساتھ اسی وقت قادیان نہ آسکے۔ صرف سٹیشن تک ہی جنازہ کے ساتھ آئے اور پھر واپس چلے گئے۔ لیکن کچھ دنوں بعد ہم بھی قادیان آگئے۔ حضور کی وفات ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب کے مکان کے اوپر کے کمرے میں ہوئی تھی۔ جب میں اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر واپس آیا تو حضور کی نعش مبارک کو اوپر سے اتار کر نیچے صحن میں چارپائی پر رکھا ہوا تھا۔ اور دروازہ پر پولیس کا پہرہ تھا۔ میں جب اندر جانے لگا تو پہرہ داروں نے مجھے اندر جانے سے روکا۔ اتنے میں خواجہ کمال الدین صاحب آئے انہوں نے جب دیکھا کہ پولیس والے مجھے اندر جانے سے روک رہے ہیں تو آپ نے پولیس والوں کو کہا کہ انہیں مت روکو۔ یہ خاص اپنے آدمی ہیں ان کو جانے دو۔ جب میں اندر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضور ؑکی نعش مبارک صحن میں چارپائی پر رکھی ہوئی (ہے)۔ میں دیکھتے ہی پھر رونے لگ پڑا۔ یہ میرے اپنے اختیار کی بات نہ تھی۔ بلکہ ہر ایک کو آپ کو دیکھتے ہی خودبخود رونا آتا تھا کیونکہ ہر ایک کو آپ کی جدائی کا ازحد صدمہ تھا۔ اس وقت چاروں طرف سے رونے چیخوں کی پکار سنائی دیتی تھی۔ غرض یہ کہ اس قدر شور تھا کہ ہمارے رونے کی آواز دیواروں اور پتھروں سے ٹکرا کر ایک اور آواز پیدا کررہی تھی۔ ایسا معلوم ہورہا تھا کہ دیواریں اور پتھر بھی آپ کی جدائی پر ہمارے رونے میں شامل ہیں۔ وہ سماں ایک حشر کا نظارہ دکھا رہا تھا۔ ایسا معلوم ہورہا تھا کہ آپ کی جدائی کے صدمہ میں کئی جانیں ہلاک ہوجائیں گی۔ میں نے اپنی اہلیہ کو تو اندر بھجوا دیا۔ جہاں کہ مستورات کا بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا اور میں خود حضورؑ کی چارپائی کے ساتھ اپنا سر لگا کر رونے لگ پڑا۔اتنے میں ڈاکٹر سید حسین شاہ صاحب بمعہ ایک ہندو بابو صاحب کے آئے ۔ جب وہ چارپائی کے قریب آئے تو ڈاکٹر صاحب نے مجھے کہا کہ میاں مدد خاں یہ بابو صاحب حضور کو دیکھنے کے لئے آئے ہیں۔آپ حضور کے چہرہ مبارک سے ذرا کپڑا اٹھادیں۔ تا بابو صاحب حضور کا چہرہ مبارک دیکھ لیں۔ میں نے حضور کے چہرہ سے جب کپڑا اٹھایا تو اس ہندو بابو کو حضور کا نورانی چہرہ دیکھتے ہی رونا آگیا اور پھر سجدہ میں گر پڑا اور روتے روتے کہنے لگا کہ یہ تو پرماتما ہے یہ منش (انسان)نہیں ہے۔ہائے افسوس! میری بدقسمتی نے مجھے اس درجہ تک پہنچا دیا کہ میں بدقسمت آپ کی زندگی میں آپ کا درشن (دیدار) نہ کرسکا۔ یہ میری بدقسمتی تھی کہ میں ہمیشہ تیاریاں ہی کرتا رہا کہ جاکر آپ کا درشن کروں مگر میری بدقسمتی نے مجھ کو راستہ نہ دیا۔ اور آپ کی خدمت میں نہ ہی آنے دیا۔ افسوس درشن تو ہوا مگر آپ کی زندگی میں نہ ہوا۔ آپ نے اپنا چہرہ مبارک تو دکھایا مگر مر کر ہی دکھایا۔ ہائے افسوس میں کیسا ہی بدبخت انسان ہوں۔جب تک وہ سجدہ میں گرا رہا۔ وہ اپنے اپ کو بہت ہی کوستا اور ملامت کرتا رہا اور ساتھ ہی کثرت سے آہ و زاری کرتا رہا۔ اس کی آہ و زاری نے حاضرین کو پھر دوبارہ رولادیا اور ایسا رولایا کہ کوئی فرد اس وقت ایسا نظر نہیں آتا تھا۔ جو رو نہ رہا ہو۔ وہ وقت بھی واقعی ایک قیامت کا نمونہ تھا۔ مجھ کو اس وقت یاد آگیا جن دنوں پہلے پہلک وصیت کرنے کا حکم ہوا تھا۔ ان ہی دنوں حضور نے اپنے گھر میں جہاں اب حضرت صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب رہائش رکھتے ہیں۔ اس کے ایک کمرہ میں جہاں کہ کاٹھ کا زینہ لگا ہوا تھا۔ حضور (نے) اس کے ذریعے اوپر سے نیچے تشریف لاکر تقریر فرمائی۔جس میں آپ نے فرمایا کہ مجھ کو خداتعالیٰ کی طرف سے بار بار پیغام آرہا ہے کہ اب میری وفات کا وقت بہت قریب آرہا ہے۔ لیکن ادھر میں دیکھتا ہوں کہ میری جماعت اب بالکل شیر خوار بچے کی مانند ہے۔ جیسے کسی شیر خوار بچے کی ماں مرجاتی ہے اور وہ شیرخوار بچہ اپنی ماں کو نہ پاکر بلبلاتا اور روتا ہے۔ ویسی حالت اس وقت میری جماعت کی ہے۔ جس کا یہ غم بھی میرے دل میں ہی ہے۔
    ۲۔ حضور نہایت ہی شفیق اور مہربان تھے۔ آپ کی شفقت کے متعلق مجھے یاد ہے کہ جن دنوں میں نواب محمد علیؓ خانصاحب رئیس مالیر کوٹلہ کے ہاں ملازم تھا۔ ایک دفعہ مجھے اپنی اہلیہ سمیت نواب صاحب کے ہمراہ لاہور جانے کا اتفاق ہوا۔ ان دنوں نواب صاحب کی کوٹھی لاہور کے جیل خانہ کے قریب ہی تھا۔ (تھی)۔ ہم بھی نواب صاحب کے ہاں اس کوٹھی میں ٹھہرے۔ ہمارے لاہور میں آنے کے کچھ دن بعد حضوربھی بمعہ حضرت ام المومنین لاہور تشریف لائے اور اپنی رہائش ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان پر فرمائی۔چنانچہ یہی وہ موقعہ تھا جس میں کہ حضور کا وصال ہوجاتا ہے۔ ’’حضورؑ کے لاہور تشریف لانے پر۔ میری بیوی ہضور کے ہاں ملنے چلی گئی۔ اس کے جانے کے تین چار دن بعد میں کچھ بیمار ہوگیا۔ میری بیماری کی خبر کسی نے ام المومنین کی خدمت میں بھی پہنچا دی۔ جس کی اطلاع پاتے ہی حضرت ام المومنین میری بیوی کو میری بیماری کی خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ تو جلدی چلی جا۔ اتنے میں حضور بھی باہر کے اندر تشریف لے آئے۔ اور فرمانے لگے کہ اب تو عصر کا وقت ہوگیا ہے۔ کل ہم جب سیر کے لئے رتھ میں جائیں گے تو اس کو (میری بیوی) بھی اپنے ساتھ رتھ میں بٹھا کر لے جائیں گے اور وہاں اتار دیںگے۔ جس پر حضرت ام المومنین نے حضور کو فرمایا کہ حضور کلثوم (میری بیوی کا نام) کو ابھی رخصت کردینا ضروری ہے۔ کیونکہ میں نے سنا ہے کہ مدد خاں بیمار ہے۔ اس لئے اس کا ابھی چلے جانا ضروری ہے۔ تب حضور نے اس وقت میری بیوی کو جانے کی اجازت دے دی اور رتھ کے ساتھ غوث بی بی زوجہ نور محمدصاحب مرحوم خادم کو اس کے ہمراہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جاکر کلثوم کو پہنچا آ۔ اور ساتھ ہی فرمایا کہ کلثوم! فکر نہ کریں۔ انشاء اللہ سب خیر ہوگی۔ میں بھی دعا کرونگا۔ انشاء اللہ خداتعالیٰ رحم کرے گا۔ یہ لے خربوزہ ۔ جاکر مدد خاں کو دے دینا۔ خدا شفا دے گا۔ خربوزہ میری بیوی نے مجھے آکر دے دیا۔ اور کہا کہ حضور نے یہ خربوزہ آپ کے لئے بھیجا ہے۔ میں نے کہا کہ کیا حضور نے میرا نام لے کر یہ خربوزہ تم کو دیا تھا۔ جس پر میری بیوی نے کہا کہ ہاں یہ خربوزہ حضور نے آپ کا ہی نام لے کر آپ کے لئے بھیجا ہے اور ساتھ ہی فرمایا تھا کہ یہ خربوزہ وہ کھالیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں شفا دیگا۔میں نے وہ خربوزہ اپنی بیوی سے لے کر کھالیا وہ خربوزہ وزن میں کوئی تین پائو کے قریب ہوگا۔ خربوزہ کھاتے ہوئے میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ حضور کا یہ تبرک میں اکیلا ہی تمام کا تمام کھائونگا۔ اور کسی کو بھی نہ دونگا۔ اس پر میری بیوی نے کہا کہ حضور نے بھی یہی فرمایا تھا کہ یہ میرا تبرک اپنے میاں کو دینا اور ان کو کہنا کہ تبرک کھالیں۔خدا شفا دے گا۔ پھر کہنے لگی کہ ہم نے تو بہت خربوزے کھائے ہیں۔ یہ حضور نے صرف آپ ہی کے لئے دیا ہے۔ میں نے وہ خربوزہ سب کا سب کھالیا۔ جس کے کھانے پرمیری شدید درد جاتی رہی او رمیری بیماری دور ہوگئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خداتعالیٰ کے پاک بندے اپنے مبارک ہاتھوں میں شفاء کا اثر اور دعائوں میں شرف قبولیت رکھتے ہیں۔ گویا خداتعالیٰ اپنے پاک بندوں سے اتنا راضی ہوجاتا ہے کہ اس کا اپنا آپ ان کے لئے ہوجاتا ہے۔ جو اس کا پیارا بندہ کہتا ہے وہ ہوکر ہی رہتا ہے۔ حضور کی مجھے اس شفقت اور محبت سے پتہ ملتا ہے کہ حضور اس قسم کے شفیق تھے کہ ہر ایک سے اپنے بچوں کی طرح شفقت اور حسن سلوک سے پیش آتے کہ آپ کی نظیر اس زمانہ میںکہیں نہیں ملتی۔
    ۳۔ ایک دفعہ مجھے اپنے وطن میں رمضان المبارک کے مہینے میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اس دفعہ قادیان میں جاکر روزے رکھوں اور عید وہیں پڑھ کر پھر اپنی ملازمت پر جائوں۔ ان دنوں میں ابھی نیا نیا ہی فوج میں جمعدار بھرتی ہوا تھا۔ میری اس وقت ہر چند یہی خواہش تھی کہ اپنی ملازمت پر جانے سے پہلے میں قادیان جائوں۔ تا حضور کے چہرہ مبارک کا دیدار حاصل کرسکوں۔ اور دوبارہ آپ کے دست مبارک پر بیعت کا شرف حاصل کروں۔ کیونکہ میری بیعت ۱۹۹۵ء یا ۱۹۹۶ء (خانصاحب کو غلطی لگی ۱۸۹۵ء یا ۱۸۹۶ئ) میں ڈاک کے ذریعہ ہوئی تھی نیز جمیرا ان دنوں قادیان میں آنے کا پہلا ہی موقعہ تھا نیز اس لئے بھی میرے دل میں غالب خواہش پیدا ہوئی کہ ہونہو ضرور اس موقعہ پر حضور کا دیدار کیا جاوے۔ شاید اگر ملازمت پر چلا گیا تو پھر خدا جانے حضور کو دیکھنے کا موقعہ ملے یا نہ ملے۔ لہذا یہی ارادہ کیا کہ پہلے قادیان ہی چلا جائوں اور حضور کو دیکھ آئوں اور بعدہ وہاں سے واپس آکر اپنی ملازمت پر چلا جائوں۔میں قادیان کو جان کر یہاں آیا لیکن جونہی یہاں آکر میں نے حضور کے چہرہ مبارک کا دیدار کیا تو میرے دل میں یک لخت یہ خیال پیدا ہوا کہ اگر مجھ کو ساری ریاست کسمیر بھی مل جائے تو بھی آپ کو چھوڑ کر قادیان سے باہر ہرگز نہ جائوں یہ محض آپ کی کشش تھی جو مجھے واپس نہ جانے پر مجبور کررہی تھی۔ میرے لئے آپ کا چہرہ مبارک دیکھ کر قادیان سے باہر جانا بہت دشوار ہوگیا۔ یہاں تک کہ مجھے آپ کو دیکھتے ہی سب کچھ بھول گیا۔ میرے دل میں بس یہی ایک خیال پیدا ہوگیا کہ اگر باہر کہیں تیری تنخواہ ہزار روپیہ بھی ہوگی تو کیا ہوگا۔ لیکن تیرے باہر چلے جانے پر پھر تجھ کو یہ نورانی اور مبارک چہرہ ہر گز نظر نہ آئے گا۔ میں نے اس خیال پر کہ اپنے وطن کو جانا ترک کردیا۔ اور یہی خیال کیا کہ اگر آج بالکل تیری موت آجائے تو حضور ضرور ہی تیرا جنازہ پڑھائیں گے۔ جس سے تیرا بیڑا پار ہوجائے گا اور اللہ بھی راضی ہوجائے گا اور قادیان میں ہی رہنے کا ارادہ کرلیا۔ میرا یہاں پر ہر روز کا یہی معمول ہوگیا کہ ہر روز ایک لفافہ دعا کے لئے حضور کی خدمت میں آپ کے در پر جاکر کسی کے ہاتھ بھجوادیا کرتا مگر دل میں یہی خطرہ رہتا کہ کہیں حضور میرے اس عمل سے ناراض نہ ہوجائیں اور اپنے دل میں یہ محسوس نہ کریں کہ یہ ہر وقت ہی تنگ کرتا رہتا ہے۔ لیکن میرا یہ خیال غلط نکلا۔ وہ اس لئے کہ ایک روز حضور نے مجھے تحریراً جواب میں فرمایا کہ آپ نے یہ بہت ہی اچھا رویہ اختیار کرلیا ہے۔ کہ تم مجھے یاد کرتے رہتے ہو جس پر میں بھی آپ کے لئے خداتعالیٰ سے دعا کرتا رہتا ہوں اور انشاء اللہ پھر بھی کرتا رہوں گا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ضرور ہی دین و دنیا میں کامیاب کرے گا اور خدا آپ پر راضی ہوجائے گا اور آپ کی شادی بھی خدا ضرور ہی کرادے گا۔ آپ مجھ کو یاد دہانی کراتے رہا کرو۔ میں آپ پر بہت خوش ہوا۔ خاکسار نے حضور کی اس تحریر کو شیخ غلام احمد صاحب نو مسلم کو دکھایا اور کہا کہ حضور نے آج خاکسار کو یہ تحریر فرمایا ہے اور پھر کہا کہ یہ کیا بات ہے کہ میں نے تو کبھی بھی کسی موقعہ پر حضور کو اپنی شادی کرنے یا کرانے کا بارہ میں اشارہ تک نہیں کیا۔اس پر شیخ (صاحب) ہنس کر کہنے لگے کہ اب تو تمہاری شادی بہت ہی جلد ہونے والی ہے کیونکہ حضور کا فرمانا خالی نہیں جایا کرتا۔ آپ تیار ہی رہیں۔ خدا شاھد ہے کہ حضور کے اس فرمانے کے بعد قریباً دو ماہ کے اندر اندر ہی میری شادی ہوگئی۔ اس سے پہلے میری کوئی بھی کسی جگہ شادی نہیں ہوئی تھی۔ میری دو شادیاں حضور ہی نے کرائی تھیں۔ ورنہ مجھ جیسے پردیسی کو کون پوچھتا تھا۔ یہ محض حضور ہی کی خاص مہربانی اور نظرکرم تھی کہ آپ کے طفیل میری شادیاں ہوئیں۔ کہاں میں اور کہاں یہ عمل۔
    ۴۔ حضور حددرجہ کے رحیم اور کریم تھے۔ کئی بار دیکھا گیا کہ جب کبھی بھی میرے پر کسی قسم کی رنجیدگی پیدا ہوئی یا تفکرات نے غلبہ کیا تو حضور کے پاس چلے جانے اور حضور کا نورانی چہرہ دیکھکر میرے تمام رنج و غم اور تفکرات دور ہوجاتے اور ان کی بجائے دل و دماغ میں بشاشت پیدا ہوجاتی۔ اس لئے یہ بات مشہور ہے کہ سنگے پارس (سنگ پارس) کے ساتھ جو چیز لگائی جائے وہ سونا ہوجاتی ہے۔ سنگ پارس کا یوں تواپنا کوئی وجود نہیں ہے بلکہ عقلاً معلوم ہوتا ہے کہ لفظ ’’پارس‘‘ پارے کا مخفف کردہ ہی پارسا اصل میں خدا ہی کے نبی اور پیارے بندے ہوتے ہیں۔ جو بھی ان کے ساتھ لگا یعنی ان کے پاس بیٹھا وہ بھی خدا کانیک اور پارسا بندہ ہوگیا۔ اسی مفہوم کو ادا کرتے ہوئے کسی نے خوب کہا ہے کہ ’’جو بُروں کے پاس بیٹھے گا بُرا ہوجائے گا۔ نیک ہونے کے لئے نیکوں کی صحبت چاہئے۔
    ذیل کا شعر بھی اس لئے کسی نیاپنے پیرومرشد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن سے کہ مذکورہ مطلب ادا ہوتا ہے۔
    آناں کہ خاک رابہ نظر کیمیا کنند آیا بود کہ گوشئہ چشمے عیاںکنند
    ۵۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کرم الدین والے مقدمہ میں حضور کو بھی پیشی پر جانا پڑا۔ ہضور کے ساتھ میں بھی وہاں گیا۔ جب عدالت میں حضور پیش ہوئے تو چند ولعل نامی مجسٹریٹ نے حضور سے سوال کیا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ کو میرے بارہ میں کوئی الہام ہوا ہے۔ آپ بتائیں کہ وہ کیا ہوا ہے۔ حضور نے جواباً فرمایا کہ ابھی تک مجھ کو خداتعالیٰ کی طرف سے آپ کے بارہ میں کوئی الہام نہیں ہوا۔ مجھ کو تو جب بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی کے بارہ میں یا کسی قسم کاالہام ہوتا ہے تو میں اس کو اخبار میں شائع کرادیا کرتا ہوں۔ اس لئے کیونکہ میرا خدا کہتا ہے کہ اس کو شائع کردے۔جس پر میں اسے شائع کردیا کرتا ہوں)۔ اس میں میرا کسی قسم کا دخل نہیں ہوتا اور نہ ہی میرا واسطہ اور منصوبہ ہوتا ہے مجھ کوتو میرا خدا الہام میں کہہ دیتا ہے کہ یہ الہام سب کو سنادے اور شائع کردے جس پر میں اپنے خدا کے حکم کی تعمیل کردیتا ہوں۔)
    الہام کو پورا کرنا اس کا اپنا کام ہے۔ چندولال مجسٹریٹ نے دوباہر کہا کہ میں نے سنا تھا کہ آپ کو میرے بارہ میں الہام ہوا ہے۔ حضور نے فرمایا کہ چونکہ آپ کے پاس ہمارا مقدمہ چل رہا ہے۔ اس لئے مخالف فریق نے آپ کو کہہ دیا ہوگا کہ مجھے آپ کے متعلق الہام ہوا ہے لیکن مجھے آپ پر کوئی کسی قسم کا گلہ نہیں ہے۔ آپ عدالت کی کرسی پر بیٹھے ہیں۔ آپ جو چاہے (چاہیں) فیصلہ کریں ۔ یہ لازمی امر ہے کہ مقدمہ میں اگر فیصلہ کسی کے موافق ہوتا ہے تو دوسرے کے مخالف ہوگا تب مجسٹریٹ صاحب نے پھر کہا کہ میں نے سنا تھا کہ آپ کو میرے بارہ میں کوئی الہام ہوا ہے۔ حضور نے پھر جواب میں فرمایا کہ ابھی تک آپ کے بارہ میں مجھ کو خدا کی طرف سے کوئی اطلاع نہیں ہوئی۔
    خاکسار
    مددخاں انسپکٹر بیت المال
    قادیان ۳۸۔۳۔۱۲







    روایات
    علائوالدین جیولر (علاء الدین صاحب زرگر ولد میاں معراج الدین عمر سکنہ لاہور ۔ حال دارالرحمت قادیان
    سن بیعت : پیدائشی احمدی ۱۸۹۸؁ء
    سن زیارت: ۱۹۰۴؁ء
    میں خدا کے فضل و کرم سے ازلی احمدی وصحابی و صحابی زادہ ہوں اور میرا نام بھی حضور نے ہی رکھا ہوا ہے اور یہ خدا تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ حضور کی زیارت کا شرف ۱۹۰۴ء میں مجھے ہوا اور اسی سن میں حضورلاہور گئے اور ہمارے مکان میں رونق افروز ہوئے اور وہاں کے تین واقعہ مجھے اچھی طرح یادہیں۔
    ۱۔ اس وقت لاہور میں بہت مخالفت تھی۔ اور بدمعاش لوگ حضور کوگالیاں دیتے تھے اورروزانہ ہمارے مکان کے سامنے اکٹھے ہوا کرتے تھے ۔ ایک دن انھوںنے مشورہ کرکے جس وقت کہ نماز حضور کرارہے تھے اور میں مکان کے باغیچہ میں کھڑا ہوکر انکاتماشہ دیکھ رہا تھا ۔ کہ وہ ہمارے مکان کی سیڑھیوں کی طرف آرہے ہیں ۔میں بھاگ کر جلدی سے دروازہ پرپہنچ گیا ۔میںنے اندر سے دروازہ کو دونوںہاتھوں سے دبا رکھا اور زنجیرنہ لگا سکا کیوں (کہ) وہ بھی اس وقت پہنچ گئے تھے میرے پیچھے دیوارتھی اس لئے انکا زور کا رگر نہ ہوا آخر کار میں تھک کر گھبرا گیا ۔ اسی وقت اللہ تعالے نے عقل دی اور فورن (فوراً) چستی سے میںبیٹھ گیا ۔ دیوار کو کمر لگا کر پائوں اور ہاتھوں سے دروازہ کو دھکیل رکھا۔ کچھ عرصہ کے بعد پائوں کو ذرا نرم کیا تو معلوم ہوا کہ باہر سے زور نہیں لگا فورن (فوراً) زنجیر لگا کر اوپر آکر باری میں شور کرناشروع کیا کہ لوگ دروازہ توڑ رہے ہیں۔ نماز مکان کے سامنے کوٹھریوں کی لائین تھی جو دور تک لمبی چلی جاتی تھی وہاں ہورہی تھی۔ میرے شور کرنے سے لوگوں نے نماز سے سلام پھیر کر کوئی سیڑھیوں سے اور بعضوں نے اوپر سے ہی چھلانگیں مار بازار میں آگئے لیکن لوگ بھاگ گئے۔ کچھ دو چار کو مار پیٹ ہوئی لیکن معمولی ان کا مشورہ تھا کہ احمدی تو نکماز پڑھ رہے ہیں۔ ہم چپکے سے اوپر جاکر ان کی عورتوں کو ذلیل کریں۔
    ۲۔ یہ واقعہ بھی مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ حضور کو ہمارے ہی مکان پر ایک دفعہ الہام ہوا تو ہم ڈر کر باہر بھاگ گئے۔ لیکن بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ یہ الہام ہے۔ اب ہمیں بہی الہام دیکھنے کا اشتیاق ہوا کہ الہام کس طرح ہوتا ہے۔ ایک دن ہم اس کمرہ میں کھیل رہے تھے جس کمرہ میںحضور تھے۔ حضور گائو تکیہ پر کمرکے بل نیم لیٹے ہوئے تھے۔ ہم کھیلتے ہوئے حضور کی طرف جو دیکھتے ہیں کہ حضور کی آنکھیں نیم بند ہیں اور بوجھل معلوم ہوتی تھیں اور چہرہ مبارک قدرے زردی مائل تھا اور ہونٹ بالکل خفیف حرکت کررہے تھے۔ اس کے بعد حضور ایک طرف کو گڈنیے قدرے سر کی طرف کرکے تکیہ پر لیٹ گئے۔ پہلے تو ہم پہلے کی طرح باہر جانے لگے۔ پھر خیال آیاکہ شاید حضور کو تھکاوٹ ہے۔ اس لئے حضور کو دبانا چاہئے۔ کیونکہ حضور کو عمومن (عموماً) ہم دبایا کرتے اور حضور ہمیں بہت پیار کرتے تھے۔ ان کے اس پیار کی وجہ سے حضور کو ہمیں دبانے کا بہت شوق تھا۔ باوجوکہ (باوجودیکہ) حضور ہمارا دبانہ پسند نہ فرماتے تھے۔ کیونکہ ہم بچہ تھے۔ لیکن ہماری دل شکنی کا یہی خیال تھا اور ہمیں شوق تھا۔ اس لئے ہم حضور کو دبایہ (دبایا) کرتے اور ہمیں عجب قسم (کا) لطف حاصل ہوتا تھا۔ جس کو ہم نہ تو اس وقت بھی بیان کرسکتے تھے نہ ہی اب کرسکتے ہیں۔ خیر ہم نے حضور کو دبانا شروع کردیا۔ یہ یاد نہیں رہا کہ حضور کا بدن اس وقت گرم تھا یا سرد۔ اغلب سرد معلوم ہوتا ہے۔ دباتے دباتے خیال آیا کہ یہ تو حضور کو الہام ہورہا ہے۔ پھر تو ہماری خوشی کی کوئی انتہا ہی نہ رہی۔ اور ہم نے حضور کو اچھی طرح دبایا۔ تھوڑے عرصہ کے بعد حضور کی پہلے کی طرح حالت ہوگئی اور ہم دباتے رہے۔ لیکن حضور نے کچھ کلام نہیں کیا۔ کچھ عرصہ کے بعد حضور نے پیار سے ۔ہمیں یاد نہیں کیا چیز مانگی۔ پانی یاد پڑھتا ہے۔ اس کے بعد حضور کو ملنے والے آگئے اور ہم کھیکنے (کھیلنے) میں مشغول ہوگئے۔
    ۳۔ یہ بھی مجھے خوب یاد ہے کہ حضرت میاں مبارک احمد صاحب مرحوم اور ہم اکٹھے کھیلا کرتے تھے کہ ایک دفعہ بازار میں کاغذ کی پگڑیاں بنارسی طرز کی بندھی ہوئی بکنے ائیں۔ تو ہم سب نے اور میاں مبارک صاحب مرحوم نے بھی لیکر اپنے سروں پر رکھ کر کھیلتے رہے۔ کھیلتے کھیلتے جس وقت ہم اوپر آئے تو حضور کے کمرہ میں گئے۔ تو حضور دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ کیونکہ سب بچوں نے پہنی ہوئی تھیں۔ حضور ہنسے۔ گویا ایک لطیفہ تھا۔ آخر کار حضور نے ہماری دل شکنی کو مدنظر رکھ کر بڑے پیار اور محبت اور اچھی طرح شفقت کے لہجہ میں قدرے چھوٹی سی تقریر کے رنگ میں سمجھایا کہ ہندوانہ طرز ہے یہ نہ پہننی چاہئے ہم نے اسی وقت خوشی خوشی اتار کر پھاڑ دی۔
    ۴۔ سن تو مجھے یاد نہیں۔ لیکن یہ باتیں مجھے خوب یاد ہیں کہ جب ہم قادیان میں پہلی دفعہ آکر رہے تھے۔ اس وقت والدہ صاحبہ عمومن (عموماً) حضور کے ہاں جایا کرتی تھیں اور میں بھی کبھی کبھی ساتھ چلا جایا کرتا تھا۔ ایک دفعہ والدہ حضور کے ہاں گئیں۔ تو میرا چھوٹا بھائی نورالدین بھی ساتھ ہی تھا۔ نورالدین صحن میں کھیل رہا تھا۔ کہ حضور وعضو (وضو) کے لئے تشریف لائے۔ حضور وعضو (وضو) کرنے لگے تو نورالدین حضور کے کندھوں پر چڑھ گیا۔ والد (والدہ) نے جب دیکھا تو گھبرا کر دوڑی ہوئی ائیں کہ اس کو اتاروں (اتاردیں) لیکن حضور نے منع فرمایا کہ مت اتارو۔ کھیلنے دو۔ والدہ خاموش ہوگئی۔ حضور جس وقت وعضو (وضو) کرچکے تو اس کو اتار گود میں لیکر پیار کرکے فرمانے لگے کہ چلو بیٹا نماز پڑیں (پڑھیں) وہ اتر کر کھیلنے لگ گیا اور حضور نماز کو تشریف لے گئے۔
    ۵۔ یہ بھی یاد ہے کہ حضور کا ایک کمرہ اوپر کی منزل میں تھا۔ اور صحن سے قدرے نیچے تھا۔ شاید ایک یا دو سیڑھیاں تھیں۔ دروازہ کے ساتھ شاید بڑا آلہ (طاق) تھا ایک دوات اس آلہ میں ہوتی تھی اور دوسری شاید انگیٹھی تھی۔ یا کوئی باری۔ وہاں ہوتی تھی۔ حضور ٹہل کر ہی زیادہ تر لکھا پڑاھ کرتے (تھے) کیونکہ زیادہ مجھے دیکھنے کا اتفاق اس طرح ہوا ہے اور حضور کے پاس رقعہ میں زیادہ لے جایا کرتا تھا۔ تو حضور اسی طرح ٹیل کر پڑھا کرتے تھے۔ جو اب اسی طرح دیا کرتے اور جس طرف دوات میں سیاہی ختم ہوتی اسی طرف کی دوات میں سے سیاہی لگالیتے۔ حضور شرعی پاجامہ اور دیسی کرتہ کھلی آستین والہ (والا) میں دیکھا کرتا تھا۔ بعض اوقات حضور مجھے دیکھ کر دروازہ میں ہی تشریف لے ائے۔ تو میں رقعہ دے کر دروازہ کے باہر کھڑا رہتا تھا۔ تو حضور نے بڑی محبت سے مجھے فرمایا کہ دھوپ میں نہ ٹھہرو۔ اندر آجائو۔
    ایک دفعہ میرے تایا میاں سراج دین صاحب ‘ میاں محمد شریف ای۔اے۔سی کے والد قادیان تشریف لائے۔ اور مجھے حضور نے ملاقات کرنے کے لئے رقعہ دیا تو میں حضور کے پاس رقعہ لے کر گیا۔ حضور نے ملاقات کے لئے بلایا تو ساتھ میں بھی گیا۔ تایا صاحب نے خومانیاں (خوبانیاں) حضور کے واسطے لائے تھے۔ ملاقات کے بعد تایا صاحب نے خومانیاں پیش کی تو حضور مجھے فرمانے لگے۔ اس میں سے جتنی تمہارا دل چاہے لے لو۔ لیکن بڑی محبت کے لہجہ میں شرم سے خاموش رہا دوبارہ پھر فرمایا پھر میں نے کوئی دوچار لے لیں۔ پھر فرمانے لگے نہیں اور لو۔ اسکے بعد حضور نے اپنے دست مبارک سے خومانیاں سے میری جھولی بھردی۔ بلکہ کچھ گر بھی گئیں !
    ۷۔ (۶) (دراصل نمبر۷ہے) مجھے یہ بھی یاد ہیکہ جس وقت حضور کی وفات ہوگئی ہے ۔ میں پہلے سمجھا کہ یہ بک بک کرتا رہتا ہے۔ لیکن باوجود اسی خیال کے کہ وہ بکواس کرتا ہے۔ لیکن دل بے چین ہوگیا۔ میںوہاں سے جلدی چلنا شروع کیا۔ کچھ آگے آیا تو اور لوگ بھی یہ باتیں کررہے تھے۔ اس پر مجھے یقین ہوگیا پھر تو میں وہاں سے روتا ہوا دیوانوں کی طرح بھاگا ۔ دور سے ہی میں نے اپنے مکان کے نیچے ٹانگے کھڑے ہوئے دیکھے۔ اس پر اور گھبرا گیا۔اور تیز دوڑ کر مکان پر پہنچا۔ تو والد اور تمام گھر والے سوار ہورہے تھے۔ میں بھی ساتھ سوار ہوکر احمدیہ بلدنگ کی طرف چلے۔ جس وقت ہم چوک میں پہنچے تو بدمعاش لوگوں نے راستے بند کئے ہوئے۔ بڑا آدمی ہمارے ساتھ کوئی نہ تھا۔ والد پہلے ہی وہاں تھے۔ بھائی بھی وہاں ہی تھے۔ قریباً ہمیں ایک گھنٹہ وہاں ٹھہرنا پڑا۔ بدمعاش عجب طرح کی نقلیں اتار رہے تھے۔ خیر کوئی گھنٹہ کے بعد پولیس آگئی۔ تو پولیس نے انتظام کیا۔ تو ہم وہاں پہنچے اور حضور کا چہرہ مبارک دیکھا مجھے یہ بھی یاد ہے کہ جنازے کے ساتھ میں بھی قادیان جانے کے لئے تیار ہوا تھا۔ لیکن والد صاحب نے مجھے روک دیا۔ تو میں بہت رویا تھا۔ کہ میں ساتھ قادیان جائونگا۔ لیکن میری کسی نے نہ سنی۔ والدہ بھی ناراض ہوتی تھیں لیکن میں روتا ہی رہا۔ یہ مختصر لکھا ہے۔ دوسرے کم تعلیم (ہوں)۔ کیونکہ ایک تو جگہ لکھنے ک ینہیں ہے۔ فقط ۔
    خاکسار
    علائوالدین جیولر
    از حد مشکلات میں ہوں۔ دعا کا محتاج ہوں۔ عاجز

    روایات
    محمد یعقوب ولد محمد اکبر سکنہ بٹالہ ضلع گورداسپور
    حال دارالرحمت قادیان
    سن بیعت : پیدائشی احمدی ۱۸۹۸ء پیدائش۔
    سنہ زیارت:
    حضور بٹالہ کچہری میں کسی کام کے لئے گئے ہوئے تھے۔ بہت سارے احمدی اردگرد بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم چند بچے پاس ہی کھیل رہے تھے۔ میرا بڑا بھائی مولوی محمد حسین صاحب جو آج کل بسلسلہ تبلیغ پونچھ میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اشارہ کرکے بتایا کہ حضرت صاحب وہ ہیں۔ آپ مجمع کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ کی سفید پگڑی تھی۔ سیاہ یا مونگی رنگ کا کوٹ تھا۔ معلوم نہیں وہ کونسا سن تھا۔
    محمد یعقوب
    بقلم خود



    روایات
    مستری اللہ دتہ ولد محمد دین سکنہ بھانبڑی
    ضلع گورداسپور حال دارالفضل قادیان
    سن بیعت : ۱۸۹۴ء
    سن زیارت : ۱۸۹۴ء
    میرے استاد کا نام مہر اللہ تھا۔ میں نے ان سے قرآن شریف سادہ پڑھا تھا۔ وہ کہا کرتا تھا کہ امام مہدی طاہر ہونے والا ہے۔اس کی بیعت کرلینا۔ جب خبر سنائی دی کہ قادیان میں حضرت امام مھدی ظاہر ہوگئے۔ تو میں نے اپنے استاد مہر اللہ صاحب کے کہنے پر بیعت کرلی۔ میں نے اور میرے بھائی رحمت اللہ نے قادیان میں آن کر بیعت دستی کرلی تھی۔ اور بھانبڑی سے ہمیشہ جمعہ قادیان میں آن کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ہم پڑھا کرتے تھے۔ حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہمارا دوست اگر تمہارے پاس آیا کرے۔ تو اس کی خاطر تواضع کیا کرو۔ ماسٹر عبدالرحمن صاحب بھی کبھی کبھی جایا کرتے تھے۔ اس وقت مفتی صاحب کی پہلی بیوی زندہ تھی۔ میرے استاد مہر اللہ صاحب مجھے اکثر ایک شعر سنایا کرتے تھے۔
    قادیاں وارل نال دیوچہ نور چلائے بیڑے ایس نور دیوچہ قصور نہیں منظور نہیں کردے بھیڑے
    میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبانی اکثر دفعہ سنا ہے حضور فرمایا کرتے تھے ہمارا سلسلہ سچا ہے۔ اس کو انشاء اللہ زوال نہ ہوگا۔جھوٹ تھوڑے دن رہتا ہے اور سچ سدا رہتا ہے۔ کچھ زمیندارمہمان قادیان میں آگئے تھے۔گرمیوں کے دن تھے۔ اس وقت صبح ۸ بجے کا وقت ہوگا۔ حضرت صاحب نے بے باورچی سے پوچھا کچھ کھانا ان کو کھلایا جائے۔ باورچی نے کہا کہ حضور رات کی بچی ہوئی باسی روٹیاں ہیں۔ حضور نے فرمایا کچھ ہرج نہیںہی لے آئو۔ چنانچہ باسی روٹیاں لائی گئیں۔ حضور نے بھی کھائی اور ہم سب مہمانان نے بھی کھالیں۔ غالباً وہ مہمان قادیان سے واپس اپنے گائوں اٹھوال کو جانے والے تھی۔ حضور نے فرمایاکہ باسی کھالینا سنت ہے۔
    خاکسار
    مستری اللہ دتہ
    ۳۸۔۲۔۲۵








    روایات
    بہاول شاہ ولد سید شیر محمد صاحب
    سکنہ کلووال تحصیل روپڑ ضلع انبالہ سابق سکنہ شاہپور
    تحصیل نواں ضلع جالندھر حال دارالفضل قادیان
    سن بیعت : ۱۸۹۸ء
    سن زیارت: ۱۸۹۸ء
    اس عاجز کو اللہ تعالیٰ نے اپنا مسیح و مہدی کیونکر ملایا اور مل کرانے کیا فیض حاصل ہوا۔ اس کے متعلق خاص حالات (ہیں) میں اپنے وحدہ لاشریک Oخدا کو حاضر ناظر جان کر جس کے آگے جھوٹ بولنا کفر و ضلالت اورجہنم حاصل کرنا ہے بیان کرتا ہوں۔
    مجھے خداکے فضل سے دین کے ساتھ بچپن سے ہی محبت تھی۔ تقریباً تیس سال کی عمر میں ایک سنت نبویؐ پر عمل کرنے اور اس میں کچھ کجروی پیدا ہونے کے باعث ایک فوجداری مقدمہ تین سال تک رہا۔ جس میں تنگی و تکلیف کی کوئی حد نہ تھی۔ میرے سے زیادہ گائوں والوں کو تکلیف تھی کیونکہ اس کجروی کا وہی باعث تھے۔ بچپن ہی سے مجھے کسی سچے رہبر و راہنما کی دل میں خواہش تھی۔ کئی بزرگوں کی طرف نظر تھی۔ لیکن دل کو اطمینان نہ تھا آخر میاں جی امام الدین صاحب چک لوہٹوی کی معرفت جو میر ے استاد اور مولوی عبدالحق صاحب کہ جو اس وقت زندہ لیکن مسیح موعود سے منحرف ہیں والد تھے۔ (یعنی عبدالحق کے والد) جو میرے احمدی ہونے کے بعد احمدی ہوکر فوت ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ان کو غریق رحمت کرے۔ مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی کی نسبت باتیں سننے میں آیتیں‘ اور فرمایا کرتے کہ زمانہ امام کو چاہتا ہے اور واقعی مرزا صاحب سچے امام ہیں۔ لوگ ان کو برا کہتے ہیں۔ میری طرف اور مولوی عبدالحق صاحب کی طرف مخاطب ہوکر فرماتے کہ دیکھنا تم نے ا نکو کبھی برا نہ کہنا۔جب مولوی محمد حسین دہلی میں مولوی نظیر حسین صاحب کے پاس حضرت مسیح موعودؑ پر کفر کا فتویٰ لگوانے کے لئے گئے تھے۔ اس وقت میں اور مولوی عبدالحق مولوی نظیر حسین کے پاس تعلیم حاصل کرنے کے لئے دہلی ہی میں تھے۔ میں تو چھ سات لیکن مولوی عبدالحق صاحب دہلی میں پڑھتے رہے۔ مولوی محمد حسین نے دہلی سے واپس آکر ہمارے اردگرد کے گائوں میں حضرت صاحب کو لوگوں سے کافر کہلوانے کی خاطر دورہ شروع کیا۔ میاں جی امام الدین صاحب کے پاس بھی پہنچے لیکن انہوں نے ہر گز برا نہ کہا۔ اور یہ جواب دیا کہ آپ نے جو کفرکا محل تیار کیا ہے۔ اس میں میرے لئے اینٹ لگا نے کو کونسی جگہ خالی ہے۔ آپ عالم ہیں۔ آپ ہی کو مبارک ہو۔ آخر محمد حسین نامید (ناامید) ہوکر چلا گیا۔ مجھے منشے عبداللہ صاحب سنوری جو حضور مسیح موعود علیہ السلام کے سچے خادم تھے۔ اور ان کا ذکرخیر اکثر مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتابوں میں نہایت خوبی سے کیا ہے۔ محبت تھی۔ جب مقدمہ نے زیادہ طول پکڑا تو مولوی عبداللہ صاحب سنوری اور مولوی عبدالحق صاحب نے حضور مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں دعا کروانے کے لئے بھیجا ۔ جب میں بٹالہ سے چلا اور لوگوں سے مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت حالات دریافت کرنے شروع کئے تو جو بھی ملتا وہ یہی کہتا کہ وہاں مت جائو وہ ایسے ہیں ویسے ہیں۔ مولو یبرا کہتے ہیں تم بھی برے یعنی کافر ہوجائو گے۔ مگر میں ان کو کہتا کہ اب تو میں آگیا ہوں جو بھی خدا کرے۔ اگر سچ ہوا پھر تو میں خدا کے فضل سے مولویوں سے ہر گز نہیں ڈرتا۔ آخر میں ۱۱ ستمبر ۱۸۹۸ء کو درالامان پہنچا۔ تھوڑا سا دن باقی تھا۔ حضور مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک کے اوپر تشریف فرما تھے۔ حضرت خلیفہ اولؓ مولوی عبدالکریم صاحب‘ مفتی محمد صادق صاحب اور بھی چند اصحاب حاضر خدمت تھے۔ ایک مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم لدھیانوی سیڑھیوں کے قریب مسجد مبارک کے اوپر کھڑے تھے۔ یہ مولوی عبدالحق صاحب کے حرف و نحو کے استاد تھے اور مجھ سے بھی واقف تھے۔ وہ بڑی خوشی اور تپاک سے مجھ سے ملے اور مجھے انہیں دیکھ کر بڑی خوشی حاصل ہوئی ۔ انہوں نے فرمایا کہ تم بیعت کرنے کے لئے آئے ہو۔ میں نے کہا۔ دعا کروانے کے لئے آیا ہوں۔ پھر فرمایا کہ تم مولویوں سے ڈرتے ہو۔ میں نے کہا نہیں مولویوں کے تو نہیں ڈرتا۔
    حضور کی سچائی تو مجھے حضور کے چہرہ مبارک کو دیکھنے سے ہی ظاہر ہوگئی کہ یہ منہ جھوٹ بولنے والا نہیں ہے۔ اتنے میں سورج غروب ہونے کے قریب چلا گیا۔ ایک اور شخص کئی روز سے حضور کی خدمت میں بیعت کے لئے آیا ہوا تھا۔ اس نے عرض کیا کہ حضور میری بیعت لے لیں۔ میں نے گھرکو واپس جانا ہے۔ حضور نے جواب فرمایاکہ اور ٹھہرو۔ خوب تسلی کرنی چاہئے۔ پھر اور باتوں میں مشغول ہوگئے ۔ مولوی عبدالقادر صاحب نے میری نسبت حضور کی خدمت میں خود ہی عرض کیا کہ یہ شخص بیعت کرنا چاہتا ہے۔حضور اسی وقت جو کسی قدر اونچے بیٹھے تھے۔ نیچے ہوکر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ آئو جس نے بیعت کرنی ہے۔ وہ شخص تو پہلے ہی پاس بیٹھا تھا۔ میں سیڑھیوں پر سے کھڑا حضور کی طرف چلا۔ دو تین ہاتھ کے فاصلہ پر رہا تو میرے دل پر ایسی کشش ہوئی جیسے کوئی رسا پاکر اپنی طرف کھینچتا ہے۔ میری چیخیں نکل گئیں اور بے اختیار ہوکر حضور کے پاس بیٹھا اور خوشی سے حضور کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے اور ہم دونوں شخصوں نے بیعت کی اور بعد میں حضور سے مقدمہ کے بارے میں دعا کے لئے عرض کیا۔ حضور نے دعا فرمائی۔ اس کے بعد میں دس روز تک حضور علیہ السلام کی خدمت اقدس میں ٹھہرا اور اس وقت ہم لوگ حضور علیہ السلام کے ایک ہی دستر خوان پر کھانا کھایا کرتے تھے۔ حضور علیہ السلام کا چہرہ مبارک ایسا روشن تھا کہ سب خلق سے نیارا (الگ علیحدہ ۔ ممتاز) اور روشنی کی جوت کو مات (مانند) کرتا تھا۔ حضور سے اور قادیان سے ایسی محبت ہوگئی کہ واپس گھر جانے کو جی نہ چاہتا تھا۔ قادیان بالکل بہشت کا نمونہ دکھائی دیتا تھا۔ یہاں ہر وقت سوائے خدا کے ذکر کے دنیا کے ذکر و فکر کی آواز تک سنائی نہ دیتی تھی۔ ہر طرف سے سلاماً سلاماً کی آواز آتی تھی۔ میرے سارے غم و اندوہ دور ہوگئے۔ اس وقت حضور علیہ السلام پر قتل کا جھوٹا مقدمہ جو پادریوں کی سازش سے ایک لڑکے کے ذریعہ تھا چل رہا تھا یا چل چکا تھا۔ میں بھی اس وقت لڑکا تھا۔ حضرت میر نواب ناصر صاحب اور ایک اور صاحب نے ازروئے مصلحت مجھے فرمایا کہ آپ نے حضرت صاحب کی بیعت اور زیارت کرلی ہے۔ اب آپ گھر کو جائیں پھر کسی وقت آکر زیارت کرلینا۔ اس حکم پر میں دوسرے روز گھر کو واپس ہوگیا۔ بیعت کرنے پر میری حالت بالکل تبدیل ہوگئی۔ خدا کے ساتھ ایسی محبت اور عشق پیدا ہوگیا کہ رات دن سوائے اس کے ذکر کے سونے کو بھی دل نہ چاہتا تھا اگر سوتا تھا تو دھڑ دھڑا کر (گھبرا کر) اٹھتا تھا جیس یکوئی اپنے پیارے سے علیحدہ ہوگیا ہوتا ہے۔ میرے دل کی عجیب حالت تھی۔ گاہ گاہ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی کو پکڑ کر دھوتا ہے۔ خشوع خضوع ہر روز بڑھتا جاتا تھا۔ یہ حضور کی توجہ کا اثر تھا ۔ ایک دن خشوع کی حالت میں ایسا معلوم ہوا کہ میرا دل چیرا گیا۔ اور اس کو اٹھا کرکے دھو دیا اور ایک نئی روح اس میں داخل ہوگئی ہے۔ جسے روح القدس کہتے ہیں۔ میری حالت حاملہ عورت کی طرح ہوگئی۔ مجھے اپنے پیٹ میں بچہ سا معلوم ہوتا تھا۔ میرا وجود ایک لذت سے بھر گیا اور نورانی ہوگیا اور نور سینے میں دوڑتا معلوم ہوتا تھا ذکر کے وقت زبان میں ایسی لذت پیدا ہوتی تھی۔ جو کسی چیز میں وہ لذت نہیں۔ میرے پیچھے نماز پڑھنے والوں کو بھی نمازوں میں بہت لذت آتی تھی اور خوش ہوکر کہتے تھے کہ کیسی اچھی نماز پڑھائی ہے۔ یہ حالت اصل میں میری حالت نہ تھی بلکہ مسیح موعود کی حالت کا نقشہ تھا۔ مقدمہ تو خدا کے فضل اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعائوںسے میرے دارالامان ہوتے ہی جاتا رہا۔ گویا اللہ تعالیٰ نے حضور مسیح موعود علیہ السلام تک پہچانے کے لئے ایک سبب بنایا تھا جس کے ذریعہ اپنے ناچیز بندے کو آسمانوں کی سیر کرائی اور اپنے دیدار سے مشرف فرمایا۔ میں مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں اور مخالفوں کی کتابوں کو لیکر اکیلا مسجھ میں بیٹھتا اور خوب غور سے سب کا مطالعہ کرتا۔ حضور مسیح موعود علیہ السلام کے دلائل کو قرآن شریف کی آیتوں کے مطابق پاتا۔ ایک دن میں ایک مخالف کی کتاب دیکھ رہا تھا اور دل میں حیران ہورہا تھا کہ یہ کیسے عالم ہیں۔ جو ایسی کتابیں لکھ رہے ہیں۔ یہ خیال آتے ہی نیند آگئی اور سو گیا اور الہام ہوا۔ بل عجبوا انجاء ھم قوم ’’منذر‘‘ یہ الہام میرے دل پر اس طرح داخل ہوا جیسے کوئی چیز نالی کے راستے داخل ہوتی ہے۔ دل پر آتے ہی زبان پر جاری ہوگیا اور اس الہام کے یہ معنے سمجھائے گئے کہ یہ عالم ایک ایسی قوم ہیں جب ان کے پاس ڈرانے والی قوم آئی یعنی نبی تو یہ تعجب ہی کرتے رہے ہیں۔ میں اپنے الہاموں اور خوابوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں لکھتا رہتا تھا۔ اب بسبب دیر ہونے کے وہ سب یاد نہیں رہے۔ ایک الہام یہ بھی ہے۔ دیکھ مرزا مزار میرا ‘ مل کھلا دربار تیرا۔ اس وقت میں سارے قران شریف پر حاوی تھا۔ جب کوئی کسی قسم کا اعتراض مسیح موعود علیہ السلام پر کرتا اس کے جواب کے لئے جھٹ قرآن شریف کی آیت میرے سامنے آجاتی اور میں قرآن شریف سے اس کا جواب دیتا۔ ایک دفعہ ایک مولوی میرے پاس آیا اور کہنے لگا عیسیٰ علیہ السلام کی موت قرآن شریف سے دکھائو۔ جہاں موت کا لفظ آیا ہو میں نے کہا۔ دیکھو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے و ان من اھل اللکتاب الالیو منن بہ قبل موتہ۔ یعنی اب کوئی بھی اہل کتاب قرآن شریف کے اس فیصلہ کو پڑھ کر عیسی علیہ السلام سولی اور قتل کی موت سے نہیں مرے ۔ بلکہ اپنی طبعی موت سے مرے ہیں۔ طبعی موت پر ایمان لانے سے پہلے اس بات پر ایمان لائیں گے کہ سولی اور قتل کی موت سے نہیں مرے۔ بہ کی ضمیر وما قتلوہ وما صلبوہ کی طرف ہے موتہ سے عیسیٰ علیہ السلام کی طبعی موت مراد ہے۔ جس کی عیسیٰ علیہ السلام قیامت کوگواہی دیں گے کہ میں سولی اور قتل کی موت سے نہیں مرا۔ بلکہ قرآن شریف کے فیصلہ کے مطابق طبعی موت سے مرا ہوں۔ وہ مولوی اس بات کو سن کر جھٹ بھاگ گیا۔ مکووال کا کُل گائوں احمدی ہوچکا تھا۔ وہ مولوی کئی روز کے بعد اور مولویوں کو ساتھ لیکر مکووال آیا ۔ میرے ساتھ تو ان مولویوں نے بحث مباحثہ نہیں کیا مگر بہت لوگوں کو بہکا کر گمراہ کردیا اور بہت لوگ اپنے ایمان پر قائم رہے اور اپنے ایمان کے ساتھ فوت ہوئے۔ اب بھی خدا کے فضل سے مکووال میں کئی گھر احمدیوں کے ہیں۔ بعض دوستوں کے نام جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لاکر فوت ہوئے یا زندہ ہیں۔ حضور سے زیادہ محبت رکھتے۔ بڑے نیک اور پارسا تھے اور ہیں۔ اس لئے اس جگہ یاد کرتا ہو کہ اللہ تعالیٰ ان کو اور مجھ کو بھی اپنے خاطر فضل و رحمت میں داخل کرے اور ان کے نام پڑھنے والے دوست ان سب کے لئے دعا ئے خیر اور دعائے مغفرت کریں۔ اول حافظ محمد ابراہیم صاحب (امام الصلوۃ مسجد دارالفضل قادیان) و دین محمد صاحب جو اس وقت دارالامان میں زندہ موجود ہیں اور ہم سب پر سبقت رکھتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی ہیں۔ احمد۔ و نور بخش عمر و عظیم بخش ابراہیم و ابراہیم ولد کریم بخش و اللہ بخش سکنہ مکووال رحیم بخش سکنہ شیخوپورہ و سلیمان سکنہ موہن مزرعہ یہ سب مرحوم پکے احمدی اور بڑے نیک تھے اور بھی بہت سے مرد و زن زندہ اور فوت شدہ ہیں۔خدا سب کی مغفرت کرے اور خاتمہ بالخیر ہو۔ آمین۔ ان میں سے سلیمان مرحوم سکنہ موہن مزرعہ کا احمدی ہونا بھی حضور مسیح موعود علیہ السلام کا ایک معجزہ ہے۔ ایک شخص بنان نامی موضع راجیوال ضلع لدھیانہ کا رہنے والا موضع موہن مزرعہ ضلع انبالہ میں رہا کرتا تھا اس کا یعنی بنا کا مقدمہ دیوانی سلیمان کے ساتھ ہوگیا۔ اور میرے مقدمہ کی طرح تین چار سال تک رہا۔ بنا جانتا تھا کہ میرا (میرے) مقدمہ کا خاتمہ حضور مسیح موعود علیہ السلام کی دعا سے ہوا تھا۔ مقدمہ سے تنگ آکر مجھے کہنے لگا کہ میرے لئے بھی حضور مسیح موعود علیہ السلام سے دعا کروائو۔ میں بہت تنگ آگیا ہوں) میں نے اس کی طرف حضور علیہ السلام کی خدمت میں دعا کے لئے خط لکھ دیا۔حضور علیہ السلام نے دعا فرمائی اور واپس لکھ دیا کہ دعا کی گئی۔ یہ خط بجائے بنا کے سلیمان کو مل گیا۔ وہ ہم سے بہت ناراض ہوا اس کے دوسرے تیسرے روز پیشی تھی۔ مقدمہ بنا کے حق میں فیصل ہوگیا۔ سلیمان اس واقعہ کو دیکھ کر حضور مسیح موعود پر ایمان لے آیا اور حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوکر بیعت کی اور احمدی ہوکر فوت ہوا مگر بنا ویسے ہی فوت ہوا۔ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت سے معجزے و کرامات الہامات و پیشگوئیاں اپنی آنکھوں سے پورے ہوتے دیکھے۔ جیسے طاعون اور زلزلوں کا دنیا میں آنا۔ قادیان میں بہت سے لوگوں کے آنے کے باعث راستوں میں گڑھوں کا پڑنا اور ان کی تصدیق کے لئے جو آسمانی نشان مقرر تھے وہ بھی دیکھے ہیں۔ جیسے تمام رات ستاروں کا آسمان پر ٹوٹنا۔ رمضان کے مہینے میںمقررہ تاریخوں پر سورج اور چاند کو گھن ہونا (گرہن ہونا) اور آسمانوں پر بغیر بادل کے دن کے وقت آواز و گرج کا ہونا۔ جسے جبرائیلی آوازہ کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ ان آوازوں کو سن کر لوگوں کے دلوں میں مہدی علیہ السلام کے آنے کا خیال پیدا ہوا۔ یہی ہذا خلیفہ المہدی کے معنی ہیں۔ غرض سب نشانوں اور معجزوںکا یہاں ذکر کانا موجب طول ہے۔ حضور کا ایک یہ بھی معجزہ تھا کہ آپ کی عمر اسی سال کے قریب تھی۔ (ہوگی) اور اپنی نیچی نگاہوں سے نرم چال چلا کرتے تھے۔ مگر بڑے بڑے جوان بہادر دوڑ دوڑ کر ساتھ ملتے اور ماندے ہوتے ۔ سیر کو چلتے وقت ایک تقریر ایسی پرمعارف شروع کرتے جو گھر آنے پر ختم ہوتی اور سب معترطین کے جواب اس تقریر میں ہوتے جو حضور کے ساتھ اپنے دلوںمیں لئے سیر میں شامل ہوا کرتے تھے۔کسی کو پوچھنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ اس تقریر میں سب کی تسلی ہوجاتی۔ایک دفعہ میں دارالامان قادیان میں حضورمسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا۔ حضور علیہ السلام مسجد مبارک سے اٹھ کر گھر کو تشریف لے گئے۔ پیچھے دو آدمی اٹھے۔ تیسرا میں بھی ان کے ساتھ ہولیا۔ حضور نے گھر کی طرف کی کھڑکی کھولی۔ تو انہوں نے آواز دی کہ حضور کچھ مسائل دریافت کرنے ہیں۔ حضور وہیں ۔۔۔ٹھہر گئے۔ کھڑکی کھلی تھی اندر مکان کے قریب ایک پتلا سا لمبا درخت کھڑا تھا اب تو خدا جانے اگر وہ درخت کھڑا ہوگا تو بڑے قد کا درخت ہوگیا ہوگا۔ ایک بھینس اور ایک گھوڑی بھی پاس چارہ کھا رہے تھے۔ ا ن دو شخصوں نے پوچھا کہ حضور قرآن شریف میں یہ جو ذکر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ زمین و آسمان بنا رہا تھا۔ اس کا عرش پانی پر تھا۔ زمین و آسمان تو تھے نہیں۔ پانی کس چیز پر تھا۔ جس پر عرش تھا۔ حضور نے فرمایا۔ ماہ کے معنے پانی کے کیوں کرتے ہو۔ ما کے معنے مادہ کے ہیں یعنی وہ چیز جس سے زمین و آسمان بنائے گئے۔ عرش کے معنے حکومت کے ہیں‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی حکومت اس وقت مادہ کے تیار کرنے میں لگی ہوئی تھی۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ منافقین کے حق میں جو آیاہے کہ سب کے نیچے دوزخ میں ہو نگے اس کا مطلب ہے حضور نے فرمایااس کے معنی ہلکے عذاب کے ہیں۔اکثر کچھ تو انھوںنے کیا ہے پھر پوچھا ۔وقودھاالناس والحجارہ کے کیا معنی ہیں۔آدمی اورپتھر ایندھن کھبی کسی طرح ہوئے ۔ حضور نے جواب میں فرمایا ۔پتھروں سے وہ پتھر مراد ہیں جن پتھروں کے لوگوں نے ؐؐبُت بنائے۔اور ان کی پوجا کی۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کو زیادہ بھڑکانے والے وہ بت اور انکے پوجنے والے لوگ ہیں۔ اس پر وہ آدمی آمنا و صدقنا کہہ کر خاموش ہوگئے۔ حضور دریچہ بند کرکے اندر تشریف لے گئے ۔ ہم واپس مسجد مبارک میں چلے آئے۔ میںاپنے مولیٰ کریم کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ جس نے مجھ جیسے گنہگار خطاکار کور اپنا مسیح و مہدی ملایا۔ وہ مہدی جسکی خبر اکثر نبیوں نے اپنے اپنے زمانہ میں دی جس کو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سلام بھیجا۔ بڑے بڑی اولیاء کرام اس نعمت بے بدل کی تمنا و انتظار میں گزرے۔ اس کی خاکپا مجھ کو بنایا۔ میں نے مہدی علیہ السلام کو دیکھ کر خدا کو دیکھا مگر نیا دیکھا زمین و آسمان کو نیا دیکھا او ربڑے بڑے عجائبات ان میںدیکھے۔ میں نے بڑے بڑے کان دور کی آواز سننے والے دیکھے جیسے تار برقی اور ٹیلی فون لوڈس سپیکر (لائوڈ سپیکر) اور بڑی بڑی آنکھیں دیکھیں۔ جیسے بڑی بڑی دو بینیں۔ جن سے کئی کئی میلوں کی چیزیں گھر بیٹھے دیکھتے (ہیں) اور ان کانوں سے ہزاروں کوس کی آوازیں سنتے میں نے قادیان کے جلسہ گاہ میں ایک ہی جگہ بیٹھے ایک ہی وقت میں دہلی کی باتیں سنیں ۔ پھر لندن کی۔ اور پھر افریقہ کی اپنے کانوں سے سنیں۔یہ نئی نئی سواریاں ریلیں موٹر کاریں سیکل (سائیکل) ہوائی جہاز فونوں گراف (فونو گراف) وغیرہ اور کلیں جتنی نئی ایجادیں ہیں۔ یہ سب مسیح موعود علیہ السلام کے وجود کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ اور انہیں کی آمد کی برکت کا نتیجہ ہیں۔ زمانہ بدل گیا۔ گرمی سردی برسات موسمیں بدل گئیں جن کی آنکھیں ہو (ہوں) دیکھیں۔ جن کے کان ہوں سنیں۔ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو فرشتوں کی شکل میں اڑتے اور اپنے میں سماتے محو ہوتے دیکھا۔ اس وقت کی لذت اور سرور کو میں بیان نہیں کرسکتا۔ میں نے خلیفہ اول اور خلیفہ ثانی کو دیکھا جو اس وقت پیارے آقا و پیشوا ہیں۔ جو اس کا منکر خدا و رسول کا دشمن یہ وہی نور ہے جس کی خوش خبری خدا نے اپنے مہدی کو دی۔ جس وقت میں پہلے پہل قادیان میں آیا ۔ اس سے تقریباً ڈیڑھ یا کسی قدر زیادہ دو سو گھر ہوگا۔ جہاں اب آبادی ہے۔ یہ سب جنگل پڑا تھا۔ قادیان کے بڑھنے کی پیشگوئی پوری ہوتی دیکھی اور آئندہ نسلیں دیکھیں گی۔ اگر مسیح موعود علیہ السلام کے سارے حالات لکھیں جاویں۔ جو میں نے اپنی آنکھ سے دیکھے۔ تو ایک کتاب تیار ہوجائے۔ میں خدا کو حاضر ناظر جان کر گواہی دیتا ہوں کہ مرزا غلام احمد صاحب (علیہ الصلوۃ والسلام) خدا کے فرستادہ سچے نبی ہیں۔ اس نبی کے تعلق و واسطے سے کل نبیوں اور کل آسمانی کتابوں سے واقف ہوں۔کہ جیسا خدا نے مجھ سے کلام کیا ایسا ہی اس نبی اورکل نبیوں سے کلام کیا ۔یہ جو قرآن شریف میں واردہے کہ اے میرے خدا حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کو جس غرض کے لئے دنیا میں بھیجاہے ۔اس کو جلد پورا فرما اسلام کو جو احمدیت ہے اپنے وعدہ کے۔۔۔بادشاہوںتک پیو نچا اپنے خلیفہ محمود(حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز)کو مقام محمودبنا اور اس مقام پر عسی ان یبعثک ربک مقاما محموداً کا وعدہ پورا کرکے دکھلا اور سب مو منین کو اس راستہ پر چلا ۔مجھ کو میری آل واولاد اور کل مومنین کی آل واولاد کو ذریت در ذریت کی قیامت تک خادم بنا اور ابد ی و دائمی فضل و کرم کا وارث ٹھہرا۔ اور اپنے قرب و جوار میں جگہ مرحمت فرما۔ آمین ثم آمین۔
    الھم صل علے محمد و علے آل محمد و علے عبدک المسیح الموعود۔ ۳۸۔۲۔۱۸
    احقر سید بہاول شاہ حال مہاجر قادیان محلہ دارالفضل در مکان چوہدری بدر الدین صاحب سابق سکنہ شاہپور تحصیل نوان شہر ضلع جالندھر۔ یو مجمعتہ المبارک ۱۷ ذی الحجہ ۱۳۵۶ھ

    روایات
    دین محمد ولد میراں بخش صاحب سکنہ مکووال تحصیل روپڑ ضلع انبالہ حال دارالبرکات قادیان
    سن بیعت :۱۹۰۲ء
    سن زیارت : ۱۹۰۴ء
    میں کس طرح احمدی ہوا
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ‘
    گزارش ہے کہ میں۱۹۰۲ء میں پیچش اور بخار سے سخت بیمار ہوگیا۔ ان دنوں میں میرے والد صاحب کلکتہ میں محنت مزدوری کے لئے گئے ہوئے تھے۔ میں خواب میں قادیان آگیا۔ پہلے میں نے قادیان کا کبھی خیال بھی نہیں کیا تھا۔ کیا دیکھتا ہوں ایک چھوٹا سا کمرہ ہے۔ اس میں نیچے ٹاٹ بچھا ہوا ہے۔ آگے چاروں طرف چار طاقیاں ہیں۔ ہر طاقی میں ایک دوات ہے۔ حضور حضرت مسیح موعود علیہ السلام وہاں ٹہل رہے ہیں اور کوئی مضمون لکھ رہے ہیں جس طاقی کی طرف جاتے ہیں وہاں س یہی قلم بھر لیتے ہیں۔ میں دروازہ پر جاکر کہتا ہوں۔ السلام علیکم ۔ حضور نے فرمایا و علیکم السلام ! آئو بیٹا! تم آئے۔ میں نے کہا حضور یوں ہی آیا ہوں۔ فرمایا! تم پرسوں کو راضی ہوجائو گے۔ تمہارا والد بہت لوگوں کے بس میں ہے وہ تم کو روپے بھیجے گا۔ صبح اٹھتے ہی یہ خواب میں اپنے محترم و مکرم و محسن استاد حضرت سید بہاول شاہ صاحب کو سنایا۔ انہوں نے میرے کہنے سے دوسرے دن بیعت کا خط لکھ دیا۔ جواب موجود و محفوظ ہے۔ دوسرے دن پھر خواب میں قادیان ہضور کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔ پہلی ہی طرح حضور نے فرمایا آئو تم آئے۔ میں نے عرض کیا۔ حضور یوں ہی آیا ہوں۔ حضور نے فرمایا کہ آپ کے ایک لڑکا ہوگا۔ وہ ایسا لڑکا ہوگا جو آپ کے کنبے میں کبھی نہیںہوا۔ اس کی ایک ران پر سیاہ داغ ہوگا۔ پھر میں نے یہ خواب بھی حضرت شاہ صاحب کو سنایا۔ غرض پہلے خواب کو جب تین دن ہوئے تو میں اب تندرست ہوگیا ۔ گویا کبھی بیمار ہی نہیں تھا۔ تھوڑے دن کے بعد والد صاحب نے مبلغ تیس روپے ارسال فرمائے۔ پھر تو مجھے ایسا عشق ہوا کہ کون وقت ہو۔ حضرت صاحب کی زیارت کروں۔ والدین خفیہ مخالفت کرتے رہے۔ ۱۹۰۴ء میںلاہور جاکر حضور کے دست مبارک پر بیعت کی۔ حضور کی خدمت میں قریباً پانچ دن رہا۔ حضور کا مقام غالباً مرہم عیسیٰ کے مکان پر تھا۔ ایک مولوی لنگور کی طرح ٹالیوں (شیشم کے درخت) پر چڑھ کر بہت بکواس کرتا تھا۔ ٹالی مولوی کے نام سے مشہور تھا۔
    والسلام
    خاکسار۔ دین محمد احمدی
    دھوبی مہاجر قادیان متصل اسٹیشن






    روایات
    حافظ محمد ابراہیم ولد میاں نادر علی صاحب
    سکنہ مکووال ضلع انبالہ ۔ حال محلہ دارالفضل قادیان
    سن بیعت : ۱۹۰۰؁ء
    سن زیارت: ۱۹۰۰؁ء
    میں نے ۱۹۹۹ئ؁ (۱۸۹۹ئ) میں بذریعہ خط کے بیعت کی اور اس سے پہلے بھی تین چار سال میرے والد صاحب نے بیعت کے لئے بھیجا تھا۔ مگر میں پسبب بعض وجوہ کے واپس گھر چلا گیا۔ اس کے بعد سید بہاول شاہ صاحب جو ہمارے دلی دوست اور استاد بھی ہیں۔ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی اور انہوں نے مجھے حضور کی کتابیں سنانی شروع کیں۔ جتنی اس وقت تک حضور کی کتب تصنیف ہوچکی تھیں۔ قریباً قریباً ساری مجھ کو سنائیں۔ انہیں دنوں میں نے رویا دیکھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں۔ میں حضورؐ سے دریافت کرتا ہوں کہ حضور مرزا صاحب نے جو اس وقت دعویٰ مسیح اور مہدی ہونے کا کیا ہے کیا وہ اپنے دعویٰ میں سچے ہیں۔ حضورؐ نے فرمایا ہاں سچے ہیں۔ میں نے کہا حضور قسم کھا کر بتائو آپ نے فرمایا۔ مجھے قسم کھانے کی حاجت نہیں۔ میں امین ہوں۔ زمینوں آسمانوں میں۔ اس کے بعد اسی رات کی صبح کو میں نے مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت اقدس میں بیعت کا خط اور اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا السلام بھی لکھ دیا۔ پھر اس کے بعد ۱۹۰۰ء میں قادیان شریف آکرحضور کے ہاتھ پر بیعت کی۔ باقی حالات مفصل الحکم ۱۹۳۵ء میں ذکر حبیب کے دوران میں میں نے تقریر یں کی ہیں۔ درج ہوچکی ہیں۔
    والسلام از طرف خاکسار حافظ محمد ابراہیم
    محلہ دارالفضل قادیان

    روایات
    ماسٹر خلیل الرحمن چھبر پنشنر مہاجر موصی ۷۹۱ء محلہ دارالرحمت قادیان
    ولد مولوی نیک عالم صاحب احمدی ساکن پنجیڑی تحصیل بھمبر ضلع میرپورریاست جموں سکنہ سابق موضع پنجیڑی (براستہ جہلم) ریاست جموں حال مہاجر پنشنر محلہ دارالرحمت ۔ قادیان موصی نمبر ۷۹۱
    سن بیعت تحریری بیعت : ۱۸۹۶ئ؁
    میں بعمر قریباً چودہ سال کی تھی مع تحریری بیعت اپنے والد صاحب مرحوم مولوی نیک عالم صاحب ؓ و معہ تحریری بیعت برادرم مولوی غریب اللہ صاحبؓ سکنہ موضع کلری کے۔
    ارشاد عالی منظوری بیعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام بذریعہ ڈاک شرف صدور لایا تھا۔ الحمد اللہ ثم الحمد اللہ ثم الحمد للہ۔ مئتہ الف الف مرہ فی مئہ الف الف مرہ۔
    ۱۔سن زیارت ۱۸۹۸ء شروع دسمبر سالانہ جلسہ ۱۸۹۸ء تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔
    ۲۔ حضرت مسیح موعود کی تشریف آوری جہلم بقدمہ کرم دین بھینس پر حضور جری اللہ کی خدمت میں حاضر رہا۔
    ۳۔ ۱۹۰۷ء کے جلسہ سالانہ میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی آخری زیارت قریباً ڈیڑھ ہفتہ تک کی۔ الحمد اللہ الحمدللہ۔ ثم الحمد اللہ معہ الف الف مرۃ فی معہ الف الف مرۃ۔
    حضرت جری اللہ ؑ کی پہلی زیارت میں پنجگانہ نمازوں میں راقم حضورؑ کے ایک نمبر بائیں یا دو نمبر بائیں صف اول میں رہتا تھا۔ ان دنوں حضور انور پانچوں نمازوں کے بعد اپنے عاشقین خدام میں آڈھ گھنٹہ یا کچھ اس کے کم و بیش عرصہ تشریف فرما ہوا کرتے تھے اور اپنی قیمتی نصائح سے اپنے خدام کو مستفیض فرمایا کرتے تھے اور اکثر طور پر مغرب کا کھانا مسجد میں ہی تناول فرمایا کرتے تھے۔ خصوصاً نماز صبح اور مغرب کے بعد عشاء تک اپنے عاشقوں اور فدائیوں کو روزانہ وعظ و تعلیم سے استفادہ فرمایا کرتے تھے۔ ان ایام میں خاکسار کو روزانہ حضور علیہ السلام کے پائوں اور ہاتھ اور دیگر اعضاء کے دبانے کا اکثر موقعہ ملا کرتا تھا۔ لیکن چونکہ میری عمر اس وقت چھوٹی تھی اس لئے حضور علیہ السلام کے ادب و شرم اور نبیانہ عرب کی وجہ سے خاکسار نے نہ تو کوئی بات حضور کی خدمت میں عرض کی اور نہ کبھی راقم کو کوئی بات کرنے کی جرائت ہوئی۔ حضورؑ کے تمام گفتگو نہایت ہمدردانہ اور نہایت مشفقانہ اور مربیانہ تھی۔ لیکن خداداد نبیانہ رعب کی وجہ سے اس ناچیز کو کبھی کچھ عرض کرنے کی جرائت ہوئی۔ یہ میرا اپنا ہی قصور تھا کہ میں نے کبھی کوئی التماس نہ کی اور ساری فرحت اور خوشی حضور کے کلمات طیبات کے باادب اور ہمہ تن گوش بن کر سننے میں ہی محسوس ہوا کرتی تھی۔ ایک دن حضور علیہ الصلوۃ نے سردار فضل حق صاحب مرحوم احمدیؓ (سابق سندر سنگھ دفعدار رسالہ نمبر۱۲) کی نسبت فرمایا تھا کہ اگر کسی شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کی زیارت کرنی ہو تو وہ سردار صاحب کو دیکھ لے۔ انہوں نے دنیا کی دولت کو لات مار کر اسلام کی روکھی روٹیاں قبول کی ہیں۔ میرمنشے مرزا جلال الدین صاحب احمدی مرحومؓ پنشنر رسالہ نمبر ۱۲ بنگال راقم کے حقیقی پھوپھے تھے اور حضورؑ نے کتاب انجام آتھم میں مندرجہ فہرست صحابہ نمبر ۳۱۳ صاحب موصوفؓ کا نام سب اول رکھا ہے ان ہی کے فیض صحبت سے اور سید غلام شاہ صاحب مرحوم احمدیؓ سکنہ نورنگ تحصیل کھاریاں اور مولوی برہان الدین صاحبؓ مرحوم احمدیؓ جہلم کے فیض صحبت سے احمدیت کی نعمت راقم اور اس کے والد کو ملی ہے۔ سید صاحب موصوفؓ اور مولوی صاحبؓ موصوف میرے والد ماجدؓ مرحوم کے استاد بھی تھے۔ مرزا محمد اشرف صاحب پنشنر مہاجر سابق محاسب صدر انجمن احمدیہ قادیان میرے حقیقی پھوپھی زاد بھائی ہیں۔ ان ہی ایام میں حضرت جری اللہ فی حلل الانبیاء ؑ کی خدمت میں کسی صاحب نے عرض کی کہ حضور انورؑ مطبع خانہ میں کبھی کبھی تشریف لایا کریں۔ جس کے جواب میں حضورؑ نے فرمایا کہ آپ مجھے معاف رکھیں میں وہاں نہیں آسکتا ہوں) کیونکہ وہاں حقہ رکھا ہوا ہوتا ہے اور میں حقہ کو دیکھ کر سر سے پائوں تک شرم میں پنہاں ہوجاتا ہوں) لیکن میں حقہ پینے والوں کو دل سے بُرا نہیں جانتا ہوں) بعض لوگ بیعت کے واسطے میرے پاس آتے ہیں۔ ان کی داڑھی استرے سے منڈی ہوئی ہوتی ہے اور ان کے منہ سے مجھے شراب کی بوُ آتی ہے۔ ان کو بھی میں دل سے بُرا نہیں جانتا۔ کیونکہ میرا ایمان ہے اگر وہ میرے پاس رہیں گے یا کثرت سے میرے پاس آئیں تو خداوند کریم ان کو ضرور متقی اور پاک و صاف کردیں گے۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام قریباً ہر روز صبح کے قریب آٹھ بجے کے سیر کے واسطے معہ خدام تشریف لے جایا کرتے تھے اور حضورؑ اقدس اس قدر تیز چلتے تھے کہ جوان اور بچے بھی حضور کی رفتار میں مقابلہ نہیں کرسکتے تھے اور ہر ایک شخص قریباً دوڑتا ہوا نظر آتا تھا۔ میر منشے مرزا جلال الدین صاحب مرحوم پنشنرؓ مندرجہ فہرست انجام آتھم ۳۱۳ صحابہ میں سے درجہ اول تھے اور ان کی مساعی جمیلہ سے اور ان کے عشق قرآن کو دیکھ کر سردار فضل حق صاحبؓ (سابق سندر سنگھ دفعدار) و سردار شیخ عبدالرحیم صاحبؓ مہاجر دارالرحمت قادیان و پنشنر صدر انجمن احمدیہ قادیان (سابق جگت سنگھ صاحب لیس دفعدار) مشرف بہ اسلام ہوکر احمدی ہوئے۔ اور قادیان میں تشریف لائے اور جہلم میں بمقدمہ کرم دین بھیں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی الہام پاک وحی (اذا جاء نصر اللہ و الفتح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الی آخرہ) تلاوت فرما کر بوقت چار بجے صبح فرمایا کہ اس کلام پاک الہام خداوندی سے آج ظاہر ہورہا ہے کیونکہ اس دن جہلم میں گروہ در گروہ (یعنی فی گروہ ہزار ہزار) یا اس سے بھی زیادہ لوگوں نے متعدد دفعہ بیعت کی تھی اور جہلم کے قیام کے عرصہ میں کئی ہزار انسانوں نے شرف قبول احمدیت حاصل کیا تھا۔ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحبؓ شہید امام المتیین و امام الشہداء سلسلہ احمدیہ حضورؓ کے ساتھ جہلم میں تھے اور غالباً جہلم سے ہی رخصت ہوکر کابل میں پہنچ کر آپ کی شہادت واقعہ ہوئی تھی۔ انا اللہ و انا الیہ راجعون۔
    سیر صبح میں حضور علیہ السلام گاہ گاہ کسی درخت کے نیچے تشریف فرما ہوکر خدام عاشقین کے غزلیں اور اشعار وغیرہ بھی سنا کرتے تھے اور نہایت محبت اور پیارسے ہر ایک عاشق کی تیار کردہ نظم تمام کی تمام سنا کرتے تھے اور خواہ کیسی ہی شکستہ ہو یا ناپسند یدہ الفاظ میں ہو۔ حضور انورؑ نہایت ہی انشراح صدر کے اور پیار سے سنا کرتے تھے۔ (فدا ربی و امی)ؓ یا مسیح الخلق ؑ ۔ ما اعظم شانک یا نبی اللہ ؑ۔ راقم نے اپنی بیعت کے بعد معرفت میر منشی مرزا جلال الدی صاحب مرحومؓ پھوپھا حقیقی خود ایک عریضہ حضور کی خدمت میں بغرض حصول تعلیم دینی و حصول اخراجات تعلیمی روانہ کیا۔ جس کے جواب میں حضرت جری اللہ فی حلل الانبیاء علیہ السلام (فداک ربی و امی)ؑ مئتہ الف الف مرۃ نے فرمایا کہ ’’خلیل الرحمن کا بار اٹھانے میں ہمیں کوئی بار نہیں اگر وہ اپنی حاجت میں کامیاب ہوسکے۔‘‘
    اس کے بعد ۱۹۰۱ء میں حضرت پھوپھا صاحب مرحوم کی معرفت حضرت مسیح موعودؑ کی شفاعت نامہ خاص بنام خواجہ جمال الدین ‘ انسپکٹر عفی عنہ مدارس جموں برادر خواجہ کمال الدین صاحب عفی عنہ لاہور حاصل کیا تھا۔ اور اس کے ماتحت راقم سررشتہ تعلیم جموں میں ملازم ہوا اور اثنائے ملازمت میں ذیل کی ابتلاء آت (ابتلائیں= عزیر) اہل دہ کے مشورہ سے اٹھائیں جن کی مختصراً تفصیل ذیل میں درج ہے۔
    ۱۔ راقم کی ایک زمین موروثی ۵۷’ ۱۱ مرلہ ستاون کنال ۱۱ مرلہ ‘ دوسری ۲۰ بیس کنال ۔ اہل دہ نے میرا موروث چھین لیا۔ اس مقدمہ میں قریباً آٹھ صد روپے میں نے خرچ کئے اور آخری عدالت میں کامیابی ہوئی۔ لیکن بعد میں پھر مخالفین سلسلہ نے میرا دخل عدالت توڑ کر قبضہ بالجبر کیا۔ چنانچہ اراضی مذکورہ و رقم == مقدمہ چھوڑ دیئے گئے۔
    ۲۔ میری مدرسی کے زمانہ میں میرے پاس ڈاکخانہ بھی رہا ہے۔ اس لئے اس دوران میں مخالفین سلسلہ نے میرے ڈاکخانہ میں 600 روپے کے بیمہ کی چوری کی۔ وہ رقم بھی راقم کو اپنی گرہ سے ادا کرنی پڑی اس طرح محض احمدیت کی مخالفت میں میرے لئے ابتلاء پیدا کئے گئے لیکن الحمد اللہ‘ الحمد اللہ ثم الحمد اللہ کہ خیر گذری۔
    ۳۔ ۱۹۲۹ء میں راقم نے پنشن حاصل کرکے قادیان میں ہجرت کی اور محلہ دارالرحمت میں اپنا رہائشی غریب خانہ تیار کیا۔ اور اب قادیان میں معہ بال بچہ سکونت پذیر ہے۔ ۱۹۰۷ء کے جلسہ سالانہ میں حضرت مسیح موعودؑجب مسجد اقصیٰ میں تشریف لائے تو تمام مسجد پُر ہوگئی ہوئی تھی اور کوئی جگہ باقی نہ تھی ۔ حضور کے ساتھ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ (صاحب) تھے ۔ اُن کی بغل میں جائے نماز یعنی مسلا تھا (مصلی تھا)۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے حکم دیا کہ جوتیاں لوگو ںکی ہٹا کر جائے نماز بچھائی جاوے۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب مذکور نے جائے نماز بچھائی۔ جس پر شمال کی طرف ڈاکٹر صاحب مذکور اور ان کے بائیں طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضور کے بائیں طرف عاجز راقم نے نماز پڑھی۔ الحمد اللہ ‘الحمد اللہ ‘الحمد اللہ۔ اسی دن حضرت صاحب جری اللہ (مسیح موعود علیہ السلام) کی تقریر سب تقریروں کے بعد تھی۔ یعنی کم از کم پانچ گھنٹے کے بعد حضور کی تقریر ہوئی تھی۔ پس پہلے (مقرر صاحبان) کی تقریروں میں سے راقم نے کچھ نہیں سنا۔ اور حضرت جری اللہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پاک صورت و مبارک چہرہ پر میری نظر تھی اور میں زار زار رو رہا تھا ۔ غالباً اس کی وجہ اب مجھے یہ معلوم ہوتی ہے کہ میں نے زندگی میں اس کے بعد حضور انورؑ کو نہیں دیکھنا تھا۔ اس لئے اس روز راقم نے پانچ گھنٹہ حضور کے روئے مبارک کو ٹکٹکی باندھے دیکھا اور ب خدا مجھے کسی کی تقریر کا کوئی حصہ یاد نہیں ہے۔ اور اس عرصہ میں زار و قطار رویا اور پرجوش محبت سے گریہ و بکا کیا۔ الحمد اللہ پھر اپنے وقت پر حضرت اقدسؑ سٹیج پر تشریف لے گئے اور سورے الحمد شریف کی نہایت ہی لطیف اور لذیذ و پرتاثیر تفسیر بیان فرمائی۔ (فداک ابی و امی و روحی یا نبی اللہ مسیح موعود) جہلم میں بمقدمہ کرم دین جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام سٹیشن سے کوٹھی ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر جہلم بہ رہنمائی پولیس و منشے غلام حیدر خان صاحب تحصیلدار جہلم یادش بخیر تشریف لائے تو ایک شخص نے عرض کیا کہ لاکھوں انسانوں کا جم غفیر (کوئی محبت سے) اور کوئی دشمنی سے حضورؑ کو دیکھنا چاہتا ہے۔ اس لئے اگر حضورؑ کی ایسی جگہ پر تشریف رکھیں جہاں سے سب لوگ آپ کو دیکھ لیں اس کے جواب میں حضورؑ نے فرمایاکہ بہت اچھا چنانچہ ایک کرسی ڈپٹی کمشنر صاحب کی کوٹھی پر بچھائی گئی اور حضورؑ اس کرسی پر قریباً دو ڈیڑھ گھنٹے تشریف فرما رہے اور اس جم غفیر میں (ایک بوڑھا سکھ) جس پر خدا کی رحمتیں ہوں زور سے منادی کررہا تھا کہ نبیوں کا روتار اور تمام اوتاروں کا لاڑا آج جہلم میں موجود ہے۔ لوگو! اس کی زیارت کرلو۔ یہ مبارک وقت خدا نے تم کو دیا ہے۔ خدا کے پیارے اوتار کو دیکھو۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فرزندان رشید یعنی حضرت خلیفتہ المسیح ثانی ایدہ اللہ بنصر العزیز فضل عمر بشیر الدین محمود احمد امیر المومنین کی عمر میرے خیال میں زیادہ سے زیادہ دس برس تھی اور حضرت قمر الانبیاء مرزا بشیر احمد صاحب زیادہ پانچ سال کی تھی اور حضرت آیتہ اللہ مرزا شریف احمد صاحب کی زیادہ سے زیادہ چار سال ہوگی۔ خاندان نبوت مسیح موعود کے درخشاں گہر یعنی یہ صاحبزدگان عالی آیت اللہ مسجد مبارک میں تشریف فرما ہوتے تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ کے اندر کے کمروں میں اس عاجز کو کھانا کھانے کا اتفاق ہوا ہے۔ بہ ۔۔۔۔۔سید امیر علی شاہ صاحب احمدی ملہم و مدرس سیالکوٹ جو کہ راقم کے استاد بھی ہیں۔ کھانا کھانے کے بعد حضور نے ازراہ شفقت و محبت تمام حاضرین سے اندر کے کمرہ میں مصافحہ فرمایا ۔ فا الحمد اللہ۔ میرا چٹھا مُک مُٹھا میں نہ ڈٹھا رج کے۔ آوے جانی قادیانیؑ کرا ساڈیاں کاریاں۔ یا مسیح الخلق ساڈیاں دور کر بیماریاں۔ سارے روگن دور کر مفقو و بدیاں ساریاں۔ پھر لکھتے ہیں۔
    ۱۔ حضرت جری اللہ فی حلل الانبیاء کو بوجہ آنحضور علیہ السلام کے ادب کے اور اپنے ناچیز ہونے کے راقم یہ نہیں عرض کرسکا کہ میں کون ہوں۔
    ۲۔ حضرت خلیفتہ المسیح اولؓ نے میرے ایک تحریری رقعہ پر مجھے فرمایا تھا کہ اگر ایک آدمی بھی آپ کی معفرت داخل سلسلہ ہوگیا تو آپ کی سڑک صاف ہوجائیگی۔
    ۳۔ ۱۹۲۹ء سے راقم مہاجر ہے۔ لیکن بوجہ ادب و شرم و احترام خاندان نبوت کے حضرت خلیفتہ المسیح ثانی ایدہ اللہ بنصر العزیز سے تعارف نہیں کرسکا اور بوجہ اپنے ناچیز ہونے کے کبھی صاحب موصوفؑ کو ۱۹۲۹ئ؁ سے آج تک نہیں جتلا سکا کہ میںکون ہوں۔ گویا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصر العزیز (خدا ربی و امی) اس ناچیز و گنہہ گار کو نہیں پہنچانتے ہیں۔
    عاجز
    خلیل الرحمن
    مہاجر پنشنر موصی نمبر ۷۹۱دارالرحمت قادیان

    روایات
    حافظ غلام رسول صاحب وزیر ابادی ولد حافظ محمد حسین صاحب
    سکنہ وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ حال قادیان دارالعلوم
    سن بیعت : ۱۸۹۷؁ء
    سن زیارت: ۱۸۸۶؁ء
    بخدمت شریف جناب ناظر صاحب تالیف و تصنیف قادیان ۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ۔
    میں نے اخبا رالفضل مورخہ چھ اگست ۱۹۳۷ء صفحہ آٹھ پر بحالت بیماری ایک مضمون مفصل مسیح موعود علیہ السلام کی شناخت اور بیعت اور خلیفتہ المسیح کی بیعت کا درج کروایا ہے۔ باقی کچھ حالات اس وقت جو میری یادداشت میں ہیں۔ مشت نمونہ خروارے عرض کئے دیتا ہوں) جو کہ مندرجہ بالا مضمون کے علاوہ ہیں۔
    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جس مکان میں میاں بشیر احمد صاحب رہتے ہیں۔ جس کا دروازہ مسقف گلی کے نیچے ہے۔ اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چند دوستوں کو جمع فرما کر ایک تقریر فرمائی کہ میں نے ہائی سکول اس لئے قائم کیا تھا کہ لوگ وہاں سے علم حاصل کرکے مخلوق خدا کو تبلیغ حق کریں۔ مگر افسوس کہ لوگ انگریزی پڑھ کر اپنے کاروبار میں لگ جاتے ہیں اور میرا مقصود حاصل نہیں ہوتا۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ خالص دینی مدرسہ قائم کیا جائے ۔ کوئی ہے جو خدا کے لئے اپنے بچہ کو اس سکول میں دینی علم حاصل کرنے کے لئے داخل کرے۔ اس وقت میرا بیٹا عبیداللہ مرحوم سات آٹھ سال کا تھا۔ ان دنوں مفتی محمد صادق صاحب مدرسہ احمدیہ کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ اتفاق سے وہ لڑکا اس وقت میرے پاس کھڑا تھا۔ میں نے اس کو حضرت صاحب کے سپرد کردیا اور اس وقت مدرسہ احمدیہ میں ایک فضل دین نامی درمیانہ قد ضلع سیالکوٹ کا چپڑاسی تھا۔ حضرت صاحب بے عبید اللہ کو اپنے دست مبارک سے پکڑ کر فضل دین کی سپرد کردیا کہ اس کو احمدیہ سکول میں لے جاکر داخل کرو۔ الغرض وہی عبید اللہ اس مدرسہ احمدیہ میںمولوی فاضل ہوکر خلیفہ ثانی کے عہد میں مارشیش میں بھیجا گیا جو سات سال تبلیغ کرکے واصل باللہ ہوگیا اور خلیفہ ثانی کے زبان مبارک سے ہندوستان کا پہلا شہید خطاب پاگیا۔ الھم اغفرہ و رحمہ۔
    پھر ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سنا گیا کہ آج گورداسپور میں کرم دیں بھیں والے کے مقدمہ کی تاریخ ہے۔ وہاں حضرت صاحب تشریف لے گئے ہیں اور یہ بھی سنا گیا کہ جو سرمایہ ہمارے گھر تھا وہ سب خرچ ہوگیا ہے۔ میں یہ سن کر گورداسپور پہنچا ۔ حضور صبح کی نماز کے بعد لیٹے ہوئے تھے اور ایک آدمی دبا رہا تھا۔ میںبھی جاتا ہی حضور کو دبانے لگ گیا۔ چونکہ ان دنوں طاقتور تھا اور ہمیشہ سے اپنے سابق استادوں کی خدمت کا شرف حاصل تھا۔ گویا مجھے مٹھی چاپی کرنے کی عادت تھی۔ میں نے اسی طرح دبانا شروع کیا۔ حضرت صاحب کو بھی میرا دبانا محسوس ہوا۔ فوراً منہ سے چادر اٹھا کر میری طرف دیکھ کر بدیں الفاظ ارشاد فرمایا۔ حافظ صاحب آپ راضی ہیں۔ خوش ہیں۔ کب آئے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ حضور ابھی آیا ہوں) مگر جو بات ذکر کے لائق ہے اور جس کی خوشی میرے دل میں آج تک موجزن ہے وہ یہ ہے ۔ میں نے عرض کیا کہ کیا حضور مجھے پہنچانتے ہیں۔ فرمایا کیا حافظ (جی) میں آپ کو بھی نہیں پہنچانتا؟ یہ لفظ سنتے ہی میں خوشی سے چشم پر آب ہوگیا۔ چونکہ حضور نے فرمایا ہوا تھا کہ جو مجھے پہچانتا ہے اور جس کو میں پہچانتا ہوں) وہ طاعون سے محفوظ رہے گا اور حال پرسی کی باتیں ہوتی رہیں۔ تھوڑی دیر کے بعد کچھ اور آدمی بھی جمع ہوگئے۔ سلسلہ گفتگو میں اتفاقاً یہ ذکر آگیا کہ چوہدری حاکم علی صاحب پنساری نے ذکر کردیا کہ حضور آج جمعہ ہے اور مولوی عبدالکریم صاحب نہیں آئے۔ تو جمعہ کون پڑھائے گا۔ تو حضور نے بلا تامل فرمادیاکہ یہ ہمارے حافظ صاحب جو ہیں۔ وزیر آبادی یہ پڑھائیں گے۔ میں یہ سُن کر کچھ بول نہ سکا۔ ایسا مرعوب ہوگیا ۔ اس خیال سے کہ میں اس مامور خدا کے سامنے گناہ گار آدمی ہوں) کیا کروں گا۔ اور کس طر ح کھڑا ہونگا۔ پھر دل میں یہ خیال آیا کہ خیر ابھی جمعہ کا وقت دور ہے۔ شاید اور کوئی شخص تجویز ہوجائے۔ آخر جمعہ کا وقت آگیا۔ اور صفیں باندھ کر نمازی بیٹھ گئے۔ میں ایک صف کے ڈرتا ہوا شمال کی طرف بیٹھ گیا۔ آخر اذان ہوگئی۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ حافظ صاحب کہاں ہیں۔ آخر کسی شخص نے مجھے حاضر حضور کردیا۔ میں نے حضور کے کان مبارک کے قریب ہوکر آہستہ بات سے عرض کیا کہ حضور میں گناہ گار ہوں۔ مجھے جرائت نہیں کہ میں حضور کے آگے کھڑا ہوکر کچھ بیان کرسکوں۔ مگر حضور نے فرمایا نہیں۔ آپ آگے ہوجائیں۔ میں آپ کے لئے دعا کرونگا۔ گویا مجھے مصلے پر کھڑا کردیا۔ آخر میں نے متوکلاً علی اللہ خطبہ شروع کردیا اور سورہ فرقان (تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعالمین نذیرا) کی چند آیتیں پڑھیں اور جو کچھ خدا تعالیٰ نے توفیق دی سنایا۔ میں اس وقت دیکھ رہا تھا کہ حضور میرے لئے دعا فرما رہے ہیں اور میرا سینہ کھلتا گیا۔ اس دن سے آج تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے کبھی کسی بحث میں یا تقریر میں کبھی نہیں جھجکا۔
    الحمد اللہ علی ذالک۔ میں اسی کا نتیجہ سمجھتا ہوں کہ جب میں نومبر ۳۳ئ؁ میں ہجرت کرکے آیا ہوں۔ تو مجھے مسجد اقصیٰ کی امامت کی خدمت سپرد ہوئی۔مگر کسی حکمت الٰہی کے ماتحت ۹ جنوری ۳۷ئ؁ کو بعارضہ فالج بیمار ہوگیا اور مارچ ۳۸ئ؁ کا چودھواں مہینہ گزر رہا ہے۔ دوست دعا کریں۔
    الھم اشفنی بشفائک و دا ونی بدو ائک و عافنی بفضلک۔ آمین۔
    پھر ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں قادیان پہنچ کر اپنے مقدمات کا ذکر کیا کہ مخالفین نے جھوٹے مقدمات کرکے اور جھوٹیاں قسمیں کھا کھا کر میرا مکان چھین لیا ہے۔ حضور نے فرمایا کہ حافظ صاحب لوگ‘ لڑکوں کی شادی اور ختنہ پر مکان برباد کردیتے ہیں ۔ آپ کا مکان اگر خدا کے لئے گیا ہے تو جانے دیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اور اس سے بہتر دے گا۔ اللہ تعالیٰ کی قسم یہ پاک الفاظ سنتے ہی میرے دل میں سے وہ خیال ہی جاتا رہا۔ بلکہ میرے دل میں وہ زلیخا کا شعر یاد آیا ۔
    جمادے چند دادم جاں خریدم بحمداللہ عجب ارزاں خردم۔
    یہ مشہور ہے کہ زلیخا نے مصر کے خزانے دیکر یوسف علیہ السلام کو خریدا تھا۔ اس وقت کہا تھا کہ چند پتھر دیئے ہیں اور جان خرید لی ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ بہت ہی سستا سودا خریدا ۔ میں بھی اللہ کا شکر کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اس مقدس بستی قادیان میں جگہ دی۔ اور مکان اس سے کئی درجہ بہتر دیا۔ بیوی بھی دی اور اولاد بھی دی۔ آپ سب لوگ میری شفا کے لئے دعا کریں۔ اسی ضمن میںایک اور بات بھی یاد آئی ہے لکھ دیتا ہوں کہ شاید کوئی سعید الفطرت فائدہ اٹھائے وہ یہ ہے کہ (حضرت) مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد ایک دن مسجد مبارک میں خواجہ کمال الدین صاحب نے کہا کہ مدرسہ احمدیہ میں جو لوگ پڑھتے ہیں وہ ملاں بنیں گے۔ وہ کیا کرسکتے ہیں ۔ تبلیغ کرنا ہمارا کام ہے ۔ مدرسہ احمدیہ اٹھا دینا چاہئیں۔ اس وقت حضرت محمود اولوالعزم (حضرت مرزا محمود احمد خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصر العزیز) بھی بیٹھے تھے‘ کھڑے ہوگئے اور اپنی اس اولوالعزمی کا اظہار فرمایا۔ اس سکول کو یعنی مدرسہ احمدیہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قائم فرمایا ہے یہ جاری رہے گا۔ اور انشاء اللہ اس میں علماء پیدا ہوں گے اور تبلیغ حق کریں گے۔ یہ سنتے ہی خواجہ صاحب تو مبہوت ہوگئے اور میں اس وقت یہ خیال کرتا تھا کہ خواجہ صاحب کو یقین ہوگیا ہے کہ ہم اپنے مطلب میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے اور دیکھنے والے اب جانتے ہیں کہ اسی سکول کا تعلیم یافتہ فضلاء دنیا میں تبلیغ احمدیت کررہے ہیں۔
    جو کہتے تھے کہ مسیح موعودؑ کا ذکر کرنا سم قاتل ہے۔ انہی کے حق میں سم قاتل ثابت ہوا۔ اتنا عرض کردیتا ہوں کہ جو میں نے اس فارم کے ابتداء میں چھ اگست ۱۹۳۷ئ؁ صفحہ آٹھ پر مضمون دکھایا ہے اس کو وہاں سے ضرور نقل کریں۔ کیونکہ وہ سب کچھ الہامات الٰہی کے ماتحت لکھا گیا ہے۔ والسلام
    ابو عبید اللہ حافظ غلام رسول وزیر آبادی بیمار
    (حال دارالعلوم قادیان دارالامان)
    ایک اور بات یاد آگئی ۔ ایک دن کا ذکر ہے کہ حضرت صاحب سیر کو نکلے تو خاکسار اور چند آدمی بھی ساتھ تھے۔ ان میں سے ایک شخص مستری نظام الدین صاحب سابق سیکرٹری جماعت احمدیہ سیالکوٹ کے تھے جو اب تک بفضل خدا زندہ ہیں۔ انہوں نے مجھے کہا چونکہ حضرت صاحب آپ کے ساتھ بڑی شفقت سے پیش آتے ہیں۔ اس لئے یہ عرض کریں کہ پہلی تفسیریں کو کچھ ساقط الاعتبار ہوگئی ہیں۔ اب مکمل تفسیر قرآن کریم کی حضور لکھ دیں۔ چنانچہ میں نے حضور کی خدمت میں عرض کیا تو حضور نے فرمایا کہ حافظ صاحب جو میرے رستے میں آیات قابل بیان اور قابل تفسیر آئی ہیں۔ موجودہ زمانہ کے لئے وہ میں نے لکھ دی ہیں۔ اگر میں یا ہم مکمل تفسیر لکھیں تو ممکن ہے کہ آئندہ زمانہ اور بہت معترض پیدا ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ ان معترضین کے جواب کے لئے کوئی اور بندہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے پیدا رکدے۔ میں یہ جواب سن کر خاموش ہوگیا۔ اور مستری نطام الدین بھی سن رہے تھے۔وہ بھی خاموش ہوگئے۔
    العبد
    حافظ غلام رسول وزیر آبادی
    بقلم پیر عبدالعلی زمیندار
    حال قادیان ۴۲۔۵۔۱۷





    روایات
    مرزا محمد شفیع صاحب ولد حمید مرزا صاحب مرحوم
    سکنہ دہلی حال محاسب صدر انجمن احمدیہ۔ قادیان
    سن بیعت : ۱۹۰۱ء
    سن زیارت: ۱۹۰۳ء
    اپریل ۱۹۰۲ء میں خاکسار شملہ تبدیل ہوا تھا۔ وہاںمجھ کو تکلیف تھی۔ اس لئے میں نے کچھ عرصہ بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں بذریعہ تحریر عرض کی کہ حضور خاکسار کی تبدیلی کے لئے دعا فرماویں۔ جس کی بظاہر اس قدر جلد امید نہیں تھی۔ جولائی ۱۹۰۵ء میں جب دوبارہ عرض کی گئی تو حضور نے میرے خط پر اپنے دست مبارک سے تحریر فرمایا۔ ’’ جو اب لک دیں کہ میں نے دعا کی ہے۔‘‘ خدا تعالیٰ مجیب الدعوات بھی ہے اور حکیم بھی۔ اگر اس کی مصلحت تقاضا کریگی تو وہ تبدیلی پر قادر ہے‘‘ یہ حضور کی تحریر جب حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے مجھ کو بھیجی تو جس ڈاک سے یہ خط پہنچا ۔ اسی کے ساتھ میری تبدیلی اور ترقی کا حکم بھی محکمہ سے پہنچا۔ میں چونکہ ۱۹۰۵ئ؁ سے ۱۹۰۸ئ؁ تک ڈیرہ اسماعیل خاں میں ملازم تھا۔ جو جگہ دور ہے۔ اس لئے سوائے جلسہ سالانہ کے باقی ایام میں صرف تین چار مرتبہ قادیان آنا ہوا تھا۔ ۱۹۰۸ئ؁ میں تین ماہ کی رخصت پر قادیان حاضر رہا۔ اس عرصہ میں فنانشل کمشنر صاحب پنجاب قادیان دورہ پر تشریف لائے اور حضور نے ان کی دعوت فرمائی تھی۔ اور خود بھی باہر خیمہ میں ملاقات کے لئے تشریف لے گئے تھے۔
    اس وقت مسجد میں یہ فرمایا تھا کہ ہم تو صرف سلسلہ کی خاطر یہ دعوت وغیرہ کرتے ہیں۔ اخیر اپریل میں جب حضور لاہور تشریف لے جانے لگے تو عام اعلان ہوا تھا کہ دوست لاہور ہمراہ نہ جائیں۔ یہ اس وجہ سے کہ حضور نے پیغام بلڈنگ میں قیام فرمانا تھا۔ اور دوستوں کے وہاں جانے سے خواجہ کمال الدین صاحب وغیرہ کو تکلیف ہوگی۔ چونکہ خاکسار نے بوجہ ختم ہونے رخصت چند روز میں واپس جانا تھا۔ اس لئے میں نے حضور سے عرض کی کہ حضور اجازت فرمادیں کہ یہاں سے واپسی پر خاکسار لاہور ٹھہرے تو حضور کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا۔ حضور نے تحریر فرمایا۔ ’’آپ بے شک جتنے دن لاہور میں رہیں مل جایاکریں۔ لاہور روانگی کے وقت ایک مرتبہ جب تیاری ہوگئی تو حضور کو الہام ہوا تھا۔ ’’مباش ایمن از بازی روزگار‘‘ اس پر حضور نے روانگی ملتوی فرمادی تھی۔ پھر اس کے ایک دو روز بعد لاہور تشریف لے گئے تھے۔ ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے موقعہ پر میںحضور کی خدمت میں مسجد مبارک کے متصل ڈیوڑھی میں حاضر تھا وہاں حضور کسی ملازم کو ہدایت فرما رہے تھے۔ دریافت پر معلوم ہوا کہ رات کو الہام ہوا تھا۔ ’’یا ایھا النبی اطعموا الجائع و المعتر‘‘ اور اس کے متعلق حضورتحقیقات فرما رہے تھے۔ اور کوئی مہمان بھوکے رہے تھے۔ باقی امور کی یادداشت ایسی تسلی بخش نہیں۔کہ تحریر کی ذمہ داری لے سکوں۔
    مرزا محمد شفیع دہلوی
    محاسب صدر انجمن احمدیہ
    ۱۹ فروری ۱۹۳۸ء



    روایات
    منشے برکت علی صاحب ولد محمد فاضل صاحب سکنہ پتہ سابق ملازم دفتر ڈائریکٹر جنرل انڈین میڈیکل سروس شملہ حال محلہ دارالرحمت قادیان دارالامان( ۔۔۔) ناظر بیت المال سلسلہ عالیہ احمدیہ قادیان
    سن بیعت : ۱۹۰۱ئ؁
    سن زیارت: ۱۹۰۱ئ؁
    مختصر کوائف بیعت:
    اس وقت یعنی ستمبر ۴۰ء میں میری عمر قریباً ۶۸ سال کی ہے۔ میں دسمبر ۱۸۹۲ء میں شملہ میں گورنمنٹ آف انڈیا کے دفتر میں ملازم ہوا اور ۱۹۳۲ء کے شروع میں پنشن پاکر نومبر ۱۹۳۲ء میں قادیان دارالامان میں سکونت پذیر ہوگیا۔ حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر العزیز نے مجھے اسی وقت نائب ناظر مقرر کردیا۔ مگر آج کل میں حضور کے حکم کے بطور جوائنٹ ناظر بیت المال کام کررہا ہوں۔
    احمدیت کا ذکر کب سنا
    جہاں تک مجھے یاد ہے سب سے پہلے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر ۱۹۰۰ء کے شروع میں سننے کا اتفاق ہوا۔ جبکہ اتفاقاً مجھے شملہ مین چند احمدی احباب کے پڑوس میں رہنے کا موقع ملا۔ ان دوستوں سے قدرتی طور پر حضور کے دعویٰ مسیحیت اور وفات مسیح ناصریؑ کے متعلق سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوگیا میں اگرچہ بڑی سختی سے ان کی مخالفت کیا کرتا تھا ۔ مگر بے ہودہ کوئی اور طعن و طنز سے ہمیشہ احتراز کرتا تھا۔ آہستہ آہستہ مجھے خوش اعتقادی پیدا ہوتی گئی۔ حضور کا د نہی دنوں میں پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کے ساتھ بھی بحث مباحثہ جاری تھا۔ حضور نے اس بات پر زور دیا کہ مقابلہ میں قرآن شریف کی عربی تفسیر لکھی جاوے اور وہ اس طرح کہ بذریعہ قرعہ اندازی کوئی سورۃ لے لی جاوے اور فریقین ایک دوسرے کے بالمقابل بیٹھ کر عربی میں تفسیر لکھیں کیونکہ قرآن کریم کا دعویٰ ہے کہ لا یمسہ الالمطھرون۔ اور ایک کاذب اور مفتری پر اس کے حقائق اور معارف نہیں کھل سکتے۔اس لئے اس طرح فریقن کا صدق و کذب ظاہر ہوسکتا ہے۔ ان ہی ایام میں پیر صاحب کی طرف سے ایک اشتہار شائع ہوا جس میں حضرت مسیح موعود کی طرف چوبیس۲۴ باتیں منسوب کرکے یہ استدلال کیا گیا تھا کہ حضرت مسیح موعود (نعوذ باللہ) ملحد اور اسلام کے خارج ہیں۔ اس اشتہار میں اکثر جگہ حضور کی تصانیف سے اقتباسات نقل کئے گئے تھے۔ میں عموماً ہر فریقین کے اشتہارات دیکھتا رہتا تھا۔ مذکورہ بالا اشتہار کے ملنے پر ۔ جو غیر احمدیوں نے مجھے دیا تھا۔ میں نے احمدی احباب سے استدعا کی کہ وہ مجھے اصل کتاب لاکر دیں۔ تاکہ مین خود مقابلہ کرسکوں۔ مقابلہ کرنے پر مجھے معلوم ہوا کہ بعض حوالے گو صحیح تھے مگر اکثر میں انہیں توڑ مروڑ کر اپنا مدعا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ پیر مہر علی شاہ صاحب کے مقابلہ میں تفسیر نویسی کے منظور نہ کرنے پر حضور نے اعجاز المسیح رقم فرمائی اور اس میں چیلنج دیا کہ پیر صاحب اتنے عرصہ کے اندر اندر اس کتاب کا جواب تحریر کریں۔ پیر صاحب نے عربی میں تو کچھ نہ لکھا گو مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ انہوں نے اردو میںایک کتاب لکھی تھی جو بعد میں سرقہ ثابت ہوئی۔
    بہر حال اسی کشمکش میں میری طبیعت سلسلہ عالیہ احمدیہ کی جانب زیادہ مائل ہوتی گئی۔ پھر بھی میں نے خیال کیا کہ احادیث کا تو ایک بڑا ذخیرہ ہے۔ جس پر عبور کرنا مشکل ہے۔ مگر احمدی احباب اکثر قرآن کریم کے حوالہ جات دیتے رہتے ہیں۔ اس لئے بہتر ہوگا کہ قرآن کریم کا شروع سے آخیر تک بہ نظر غائر مطالعہ کیا جاوے۔ چنانچہ گو میں عربی نہ جانتا تھا مگر میں نے ایک اور دوست کے ساتھ مل کر قرآن کریم کا اردو ترجمہ پڑھا اور اس کے مطالعہ سے مجھے معلوم ہوا کہ قرآن کریم میں ایک رو نہیں۔ بیس تیس نہیں بلکہ متعدد آیات ایسی ہیں جن سے وفات مسیح کا استدلال کیا جاسکتا ہے۔
    ۱۹۰۱ء ؁ کے شروع میں جبکہ مردم شماری ہونے والی تھی۔ حضور نے ایک اشتہار شائع فرمایا جس میں درج تھا کہ جو لوگ مجھ پردل میںایمان رکھتے ہیں۔ گو ظاہراً بیعت نہ کی ہو۔ وہ اپنے آپ کو احمدی لکھوا سکتے ہیں۔ اس وقت مجھے اس قدر حسن ظن ہوگیا تھا کہ میں تھوڑا بہت چندہ بھی دینے لگ گیا تھا اور گو میں نے بیعت نہ کی تھی لیکن مکردم شماری میں اپنے اپ کو احمدی لکھوا دیا۔ مجھے خواب میں ایک روز حضور کی زیارت ہوئی۔ صبح قریباً ۴ بجے میں کا وقت تھا۔ مجھے معلوم ہوا کہ حضورؑ برابر والے احمدیوں کے کمرے میں آئے ہوئے ہیں۔ چنانچہ میں بھی حضور سے شرف ملاقات حاصل کرنے کے لئے اس کمرے میں گیا اور جاکر السلام علیکم عرض کی۔ ہضور نے جواب دیا و علیکم السلام اور فرمایا ’’برکت علی تم ہماری طرف کب آئو گے‘‘ میں نے عرض کی ’’حضرتؑ اب آ ہی جائونگا‘‘ حضور اس وقت چارپائی پر تشریف فرما تھے۔ جسم ننگا تھا۔ سر کے بال لمبے اور پیٹ کی توند ذرا نکلی ہوئی تھی۔ اس واقعہ کے چند روز بعد میں نے تحریری بیعت کرلی۔ یہ نظارہ مجھے اب تک ایسا ہی یاد ہے جیسا کہ بیداری میں ہوا ہو۔ اس کے بعد جلسہ سالانہ کے موقعہ پر میں نے دارالامان میں حاضر ہوکر دستی بیعت بھی کرلی ۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ حضور کی شبیہ مبارک ویسی ہی تھی جیسی کہ میں نے خواب میں دیکھی تھی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد اتفاقاً میں اس مہمانخانہ میں اترا ہوا تھا۔ جس میں اب حضرت صاحبزادہ بشیر احمد صاحب ایم اے ابن حضرت مسیح موعودؑ سکونت پذیر ہیں۔ میں ایک چارپائی پر بیٹھا تھا۔ کہ سامنے چھت پر غالباً کسی ذرا اونچی جگہ پر حضور آکر تشریف فرما ہوئے۔ نہا کر آئے تھے بال کھلے ہوئے تھے۔ جسم ننگا تھا۔ یہ شکل خصوصیت سے مجھے ویسی ہی معلوم ہوئی جو میں خواب میں دیکھ چکا تھا۔ اور مجھے مزید یقین ہوگیا کہ یہ خواب اللہ تعالیٰ نے میری ہدایت کیلئے مجھے دکھلایا تھا۔
    دیگر کوائف :
    زاں بعد مجھے وقتاً فوقتاً جلسہ سالانہ اور دیگر موقعوں پر حاضر ہوکر قدم بوسی کا موقعہ ملتا رہا مگر افسوس ہے کہ ان مبارک مجلسو ں کے کوائف قلمبند کرنے کا کبھی خیال نہ آیا۔ اور نہ ہی یہ خیال آیا کہ بعد کی ضروریات مجبور کردیں گی کہ حضور کے اقوال فراہم کئے جاویں۔ اس لئے زیادہ یاد رکھنے کی کوشش نہ کی گئی۔ تاہم جو کچھ بھی یاد ہے لکھ دیا ہے۔
    ۱۔ ان دنوں طاعون شروع ہوچکی تھی۔ (طاعون کا پھوٹنا)۔ حضورؑ کی طرف سے ایک الہام شائع ہوا۔ یا مسیح الخلق عدوانا۔ چنانچہ اس کے بعد خصوصاً پنجاب میں بڑے زور سے پلیگ پڑی اور بہت لوگوں نے حضور کی بیعت بھی کی۔
    ۲۔ ان ہی دنوں میری نظر سے گذرا کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی یاکسی اور صاحب نے قادیان کو ’’ق ‘‘سے لکھنے کی بجائے ’’ک‘‘ سے لکھا اور اپنے ثبوت میں ڈاکخانہ کی گائیڈ کا حوالہ دیا۔ کیونکہ اس میں بھی Q کی بجائے K استعمال کیا ہوا تھا۔ میں نے ذمہ دار افسرا ن کو توجہ دلائی۔ چنانچہ دوسرے ایڈیشن میں اس کی تصحیح کی گئی۔ اور K کی بجائے قادیان Q سے تحریر کیا گیا۔ اسی سال جبکہ میں دارلامان سے واپس ٹانگہ میں جارہا تھا۔ ساتھ والے ٹانگے میں دو چار دوست گفتگو کررہے تھے۔ ان میں سے ایک نے کہاکہ شملہ سے بابو برکت علی صاحب نے بہت اچھا کیا کہ قادیان کے انگریزی ہجے درست کرادیئے۔ وہ ڈاکخانہ کے ملازم معلوم ہوتے تھے۔ ا نکی گفتگو سن کر مجھے خوشی ہوئی۔ اور میں نے خداتعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ مجھ سے ہیچمد ان سے بھی اس نے تھوڑی سی دینی خدمت لے لی۔
    ۳۔ ایک دفعہ مسجد مبارک سے حضور غالباً نماز ظہر سے فارغ ہوکر کھڑکی کے راستے اندر تشریف لے جارہے تھے تو حسب دستور احباب نے آپ کو گھیر لیا۔ کوئی ہاتھ چومتا تھا۔ کوئی جسم اطہر کو ہاتھ لگا کر اسے منہ اور سینہ پر ملتا تھا۔ میں بھی ان میں شامل تھا۔ اتنے میں حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ خلیفتہ المسیح اول قریب سے گزرے اور فرمانے لگے ’’اخلاص چاہئیں۔ اخلاص‘‘ میرے دل نے گواہی دی کہ بے شک ظاہر داری کوئی چیز نہیں۔ جب تک اس کے ساتھ اخلاص نہ ہو۔ چنانچہ اس وقت میں ہمیشہ اس کوشش میں رہا ہوں کہ خدا کے فضل سے اخلاص کے ساتھ تعلق قائم رہے۔
    ۴۔ ایک دفعہ مسجد مبارک میں نماز ظہر کے بعد جبکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام مسجد میں تشریف فرما تھے۔ کسی نے عرض کی کہ دو تین آریہ صاحبان ملاقات کی خواہش رکھتے ہیں۔حضورؑ نے انہیں اندر بلالیا اور گفتگو شروع ہوگئی۔نجات کے متعلق ذکر انے پر میں نے دیکھا کہ حضور کا رعب اسقدر غالب تھا کہ آریہ دوست کھل کر بات بھی نہیں کرسکتے تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے بیان کیا کہ نجات کے لئے ویدوں کا ماننا ضروری نہیں۔ بلکہ جو اچھے کام کریگا۔ نجات پا جائے گا۔
    ۵۔ حضور کی جب طبیعت درست ہوتی تھی۔ تو نما ز ظہر اور مغرب کے بعد مسجد مبارک میں یا چھت پر دوستوں میں بیٹھ جاتے تھے۔ جتنی دیر حضورؑ تشریف رکھتے۔ مذہبی امور کے متعلق ذکر و اذکار جاری رہتا۔ کوئی نظم سناتا۔ کوئی پنجابی بیتیں۔ ایک روز جبکہ گرمیوں کا موسم تھا۔ حضورؑ چھت پر شاہ نشیں پر رونق افروز تھے۔ اور اس بات پر گفتگو شروع ہوگئی کہ امام کے پیچھے الحمد (شریف) پڑھنی جائز ہے یا نہیں۔ حضرت خلیفہ اول ؓ مولوی نور الدین صاحبؓ ‘ ہضور مولوی عبدالکریم صاحبؓ ‘ و مولوی محمد احسن صاحب مرحوم بھی مجلس میں موجود تھے۔ مخالف و موافق آراء کا اظہار کیا جارہا تھا۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ ہر حالت میں الحمد کا پڑھنا ضروری ہے اور اگر امام اونچی آواز سے پڑھ رہا ہو تو بھی مقتدری ساتھ ساتھ آہستہ پڑھتا رہے یا وقفہ میں پڑھ لے اور کوئی کہہ رہا تھا کہ جب امام اونچی پڑھ رہا ہو تو خاموش رہنا چاہئے۔ ہر فریق اپنے دلائل کو قرآن و حدیث سے ثابت کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ جہاں تک مجھے یاد ہے۔ حضورؑ نے فرمایاکہ اگر اس طرح کرلیا جاوے کہ جب امام بلند آواز سے الحمد پڑھے تو مقتدی خاموشی سے سنتا رہے اور جب ظہر اور عصر کی نمازں میں آہستہ آہستہ پڑھے تو مقتدی بھی آہستہ پڑھ لے۔ اس طرح دونوں باتوں پر عمل ہوجائیگا۔ واللہ اعلم ابلصواب ۔
    ۶۔ ایک دفعہ مسجد اقصیٰ میں مجھے نماز پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ نماز حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ نے پڑھائی۔ حضرت مسیح موعودؑ تشریف لاکر قبر کے نزدیک بیٹھ گئے۔ میں بھی موقعہ پاکر پاس ہی بیٹھ گیاا ور نماز میں حضورؑ کی حرکات کو دیکھتا رہا کہ حضور کس طرح نماز ادا فرماتے ہیں۔ حضور نے قیام میں اپنے ہاتھ سینے کے اوپر باندھے مگر انگلیاں کہنی تک نہیں پہنچتی تھیں۔ آپ کی گردن ذرا دائیں طرف جھکی رہتی تھی۔ نماز کے بعد یہ مسئلہ پیش ہوگیا کہ کیا نماز جمعہ کے ساتھ عصر بھی شامل ہوسکتی ہے یا نہیں چنانچہ حضور کے ارشاد کے مطابق اس دن نماز عصر جمعہ کے ساتھ جمع کرکے ادا کی گئی۔
    ۷۔ حضور ؑ کے آخری ایام میں جماعت بفضلہ تعالیٰ ترقی کر گئی تھی اور چھ سات سو احباب جلسہ سالانہ پر تشریف لاتے تھے۔ ایک بار ہمیں بتلایا گیا کہ حضور کا منشاء ہے کہ سب دوست بازار میں سے گزریں تاکہ غیر احمدی اور ہندو وغیرہ خدا کی وحی کو پوراہوتے ہوئے مشاہدہ کرلیں ک ہکس طرح دور دور سے لوگ ہماری طرف کھچے چلے آرہے ہیں۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔
    ۸۔ اس وقت یہ عام دستور تھا کہ مہمان روانگی سے قبل حضور سے رخصت حاصل کرکے واپس جاتے تھے۔ چنانچہ ایک بار میں نے بھی شام کے وقت رقعہ بھجوا کر اجازت چاہی۔ حضور نے جواباً ارشاد فرمایا کہ اجازت ہے مگر صبح جاتے ہوئے مجھے اطلاع دیں۔ حب الحکم۔
    اگلی صبح روانہ ہونے سے قبل اطلاع کی گئی تو حضور بہ نفس نفیس رخصت کرنے کو تشریف لائے اور بھی کئی دوست ہمراہ تھے۔ حضورؑ کچی سڑک کے موڑ تک ہمارے ساتھ تشریف لے گئے۔ راستہ میں مختلف باتیں ہوتی رہیں۔
    ۹۔ حضور اکثر صبح کے وقت سیر کو تشریف لے جایا کرتے تھے۔ ایک بار مجھے پتہ چلا کہ حضور روان ہہوگئے ہیں۔ میں بھی پیچھے بھاگا۔ مگر حضور سے اس وقت مل سکا کہ جب حضورؑ سیر سے واپس آرہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ حضور نہایت اطمینان سے چل رہے تھے اور بظاہر نہایت معمولی چال سے۔ مگر وہ دراصل کافی تیز۔ اکثر خدام کوسش کرکے ساتھ دے رہے تھے۔ بچے تو بھاگ کر شامل ہوتے تھے۔ کوئی حضور کے عصاء سے چمٹا ہوا تھا۔ کوئی حضور کا دامن تھامے ہوئے تھے۔ گرد و غبار اُڑ رہی تھی۔ مگر حضور کو ان باتو ںکی مطلقاً خبر نہ تھی اور نہ کوئی شکایت نہ شکوہ۔
    ۱۰۔ غالباً ۱۹۰۶ء میں میں بمعہ بیوی و والدہ صاحبہ مرحوم دارالامان آیا اور قریباً دو ہفتہ رہا۔ میری ایک لڑکی بھی ہمراہ تھی۔ جو اس وقت قریباً ۶ سال کی تھی۔ میری بیوی و والدہ صاحبہ ہر دونے اس وقت حضور کے دستِ مبارک پر بیعت کی۔ وہ مجھے آن کر اندر گھر کی باتیں سنایا کرتی تھیں کہ کئی دفعہ حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) میری لڑکی کو گود میں بٹھا لیتے اور پیار کرتے۔ یہ لڑکی تقریباً ساڑھے سات سال کی عمر میں فوت ہوگئی۔ اس کا مجھے بہت قلق ہوا کیونکہ اس سے قبل بھی کوئی اولاد نہ تھی اور نہ بعدمیں ہوئی۔
    ۱۱۔ حضورؑ کو اکثر دوران سر اور ذیابیطس کی بیماریوں کا دورہ ہوتا تھا۔ بیماری کی حالت میں حضور گھر پر نماز پڑھاتے اور مستورات مقتدی ہوتی تھیں۔
    ۱۲۔ غالباً ۱۹۰۷ء میں جبکہ تقسیم بنگال کا بڑا چرچا تھا۔ میں نے اس کو مدنظر رکھ کر ایک مضمون ’’حقوق انسانی‘‘ پر لکھا۔ حضورؑ بغاوت کو بالکل پسند نہ فرماتے تھے۔ اور اپنی جماعت کو بھی وفادار رہنے کی ہدایت فرماتے رہتے تھے۔ ان احکامات کی روشنی میں میں نے مضمون لکھ کر حضورؑ کی خدمت میں بھیج کہ اگر حضورؑ پسند فرماویں تو اس مضمون کو اخبار میں اشاعت کے لئے بھجوا دیں۔ چنانچہ اُسے حضورؑ نے البدر میں شائع کروادیا۔
    ۱۳۔ ایک دفعہ بعد نماز مغرب حضورؑ شاہ نشیں پر بیٹھے تھے۔ کسی دوست نے عرض کی کہ تحصیلادر صاحب علاقہ کل صبح میناہر کی تعمیر کے سلسلہ میں موقع دیکھنے کے لئے آرہے ہیں۔ حضورؑ مینارۃ المسیح بنوانا چاہتے تھے۔ مگر قادیان کے ہندو وغیرہ اس کی مخالفت کررہے تھے اور انہہوں نے سرکار میں درخواست دی ہوئی تھی کہ مینارہ بنانے کی اجازت نہ دی جاوے۔ حضور نے تحصیلدار کی آمد کے متعلق سن کر فرمایا۔ کہ بہت اچھا۔ ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ ان کا مناسب استقبال کریں اور انہیں موقع دکھادیں۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہے کہ مینارہ ضرور تعمیر ہوگا۔ اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔
    ۱۴۔ میں نے حضورؑ کی محفل میں دیکھا ہے کہ حضور ؑ کی آنکھیں نیچے جھکی ہوئی ہوتی تھیں اور قریباً بند معلوم ہوتی تھیں۔ مگر جب کبھی حضور میری جانب نظر اٹھا کر دیکھتے تھے تو میں برداشت نہیں کرسکتا تھا۔ اور اپنی نظر نیچے کرلیتا تھا۔
    ۱۵۔ ایک دفعہ میں والدہ صاحبہ مرحومہ کو ہمراہ لیکر دارالامان پہنچا۔ وہ بیعت کرچکی تھیں۔ یہاں آکر پتہ لگا کہ حضور کسی مقدمہ کے سلسلہ میں گورداسپور تشریف لے گئے ہوئے ہیں۔ ان دنوں طاعون کا زور تھا۔کسی نے بتایا کہ بیرونی مستورات کو حضور ؑ کے گھر میں اندر جانے کی اجازت نہیں۔ چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح اولؓ نے اپنے مکان میں ایک کمرہ ہمارے لئے مرحمت فرمایا اور جب سنا کہ میری والدہ صاحبہ ضعیف العمر اور حقہ پینے کی عادی ہیں تو حقہ مہیا کردیا اور حکم دیا کہ ا نکے پاس ہر وقت آگ اور تمباکو وغیرہ تیار رہے اور کھانا بھی دونوں وقت آپ گھر سے پکوا کر بھیجتے رہے۔ دارالامان پہنچنے پر میں نے حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ سے ذکر کیا کہ ہم لوگ ملاقات کے لئے حاضر ہوئے تھے مگر حضور گورداسپور تشریف لے گئے ہوئے ہیں۔ اس لئے افسوس ہے کہ بغیر شرف ملاقات ہی واپس جانا پڑے گا۔ انہوں نے فرمایاکہ مجبوری ہے کیا کیا جاوے۔
    اسی ذکر پرحضرت مولوی نور الدین صابؓ نے جواب دیا میاں آپ کی والدہ ضعیف ہیں تو کیا حرج ہے آخر یہاں تک پہنچے ہی ہو۔ گورداسپور بھی ہو آئو۔ مگر والدہ صاحبہ کی ضعیفی کے مدنظر مجھے حوصلہ نہ پڑا۔علاوہ ازیں موسم بھی خراب تھا۔
    ۱۶۔ ۱۹۰۷ئ؁ میں میری لڑکی بیمار ہوگئی۔ دعا کے لئے لکھنے کا موقع نہ ملا۔ مگر دل میں تڑپ تھی کہ اسے حضور کے صدقے سے ہی آرام ہوجاوے مگر بقضاء الٰہی جانبر نہ ہوسکی۔ دوسرے تیسرے دن میں نے اخبار میں حضورؑ کا الہام پڑھا۔ ’’میں ان کے رونے کی آواز سن رہا ہوں۔‘‘ مجھے اس وقت کچھ ایسا یقین ہوا کہ یہ میرے ہی متعلق ہے۔ میں لڑکی کی نعش کو بہشتی مقبرہ میں لانا چاہتا تھا مگر حضور نے کہا کہ کچھ ضرورت نہیں۔ بچے جہاں بھی دفن ہوں۔ وہیں بہشتی ہوتے ہیں۔
    ۱۷۔ حضرت اقدسؑ کبھی پانی پینے کے لئے منگاتے۔ تو جو بچ رہتا اس میں سے تھوڑا تھوڑا حاضرین بطور تبرک پی لیتے۔ چنانچہ ایک دفعہ مجھے بھی اس نعمت میں سے حصہ ملا ہے۔
    ۱۸۔ حضورؑ کے خدام کے دلوں میں جو محبت تھی اس کو وہی جان سکتے ہیں۔ جنہوں نے ان مجلسوں کا لطف اٹھایا ہو۔ پروانہ وار نثار ہوتے تھے۔ کوئی ہاتھ چومتا۔ کوئی جسم مطہر کو ہاتھ لگا کر اپنے سینہ اور آنکھوں پر ملتا۔ کوئی ہاتھ پائوں وغیرہ دباتا۔ غرض ہر ایک اپنی اپنی محبت کے اظہار کے لئے علیحدہ علیحدہ راہیں تجویز کرتا۔ چنانچہ مجھے بھی یہ فخر حاصل ہے کہ میں نے بھی حضورؑ کے پائوں دبائے ہوئے ہیں۔
    ۱۹۔ غالباً آخری دنوں کا واقعہ ہے کہ میں نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر العزیز کی معرفت عریضہ ارسال کیا اور ملاقات کی خوہش کی۔ حضرت صاحبزادہ صاحب موصوف اس وقت ۱۷۔۱۸ سال کی عمر کے تھے۔ حضور نے اجازت مرحمت فرمائی اور اوپر کمرے میں بلوالیا۔
    میں نے حضور سے عرض کیا کہ میں غیر احمدی ہونے کی حالت میں دفتر میں ایک فنڈ میں شامل تھا۔ جس کا نام Fortume Fund تھا ۔ پندرہ سولہ آدمی تھے۔ آٹھ آنہ ماہوار چندہ لیا جاتا تھا۔ فراہم شدہ رقم سے لاٹری ڈالی جاتی تھی اور منافع تقسیم کرلیا جاتا تھا۔ یہ کام احمدی ہونے کے بعد تک جاری رہا۔ چنانچہ ایک دفعہ ہمارے نام تقریباً ۰۰۰’۱۵’۱ روپیہ کی لاٹری نکلی اور ۷۵۰۰ روپیہ میرے حصہ میں آیا۔ مجھے خیالہوا کہ کیا یہ امر جائز بھی ہے۔ حضور ؑ سے دریافت کرنے پر جواب ملا کہ یہ جائز نہیں۔ اس رقم کو اشاعت اسلام وغیرہ پر خرچ کردینا چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی چیز حرام نہیں۔ چنانچہ اس کے بعد میں نے تھوڑا بہت کرکے سب ادھر ادھر غربا وغیرہ میں خرچ کر ڈالا یا اشاعت اسلام میں دیدیا ۔ دو رقوم مجھے اب تک یاد ہیں۔ قریباً چار سو روپیہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ کو ارسال کیا۔ جو انہوں نے سلسلہ میں خرچ کردیا اور ۔/۳۰۰ روپیہ حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ کو بھیجا۔
    ۲۰۔ جلسہ سالانہ کے موقع پر ہم اس مہمان خانہ میں جہاں اب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم۔اے سکونت رکھتے ہیں۔ اترے تھے۔ تھوڑے سے مہمان تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ کی تشریف آوری کا انتظار تھا۔ حضورؑ کی تشریف آوری پر خدام نے درخواست کی کہ حضور تقریر فرما کر مستفید فرماویں۔ چنانچہ آپ نے تقریر فرمائی۔ شروع میں ذرا لکنت معلوم ہوتی تھی مگر بعد میں آواز بلند اور صاف ہوتی گئی حتیٰ کہ بڑی دیر تک حضور بلا تکلف تقریر فرماتے رہے۔
    حضورؑ کی نبوت کے متعلق پہلے بعض لوگوں کا خیال تھا کہ آپ کی نبوت پہلے انبیاء جیسی حقیقی نبوت نہیں۔ مگر ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ کے شائع ہونے پر جماعت کا رجحان اسی طرف ہوگیا تھا کہ حضورؑ بھی ویسے ہی نبی ہیں۔ جیسے کہ پہلے تھے ۔ گو ذریعہ حصول نبوت میں فرق ہے۔ یعنی اگر پہلے براہ رست نبوت تفویض ہوتی تھی تو اب حضرت رسول کریم صلعم کے طفیل اور آپ کی اقتداء سے ۔
    ۲۲۔ اس وقت بعض احباب اپنے ایسے غیر احمدی دوستوں یا رشتہ داروں کی نماز جنازہ جو سلسلہ کی مخالفت نہیں کرتے تھے اور نہ کسی اور صورت میں بُرا کہتے تھے۔ احمدی امام کے پیچھے (نماز جنازہ) پڑھ لیا کرتے تھے۔ مگر جہاں تک مجھے یاد ہے۔ ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ کی اشاعت کے بعد میں نے نہ کبھی سنا۔ نہ حضور کی کسی تحریر میں پڑھا کہ حضور نے کبھی کسی کو کسی غیر احمدی کے جنازہ پڑھنے کی یا کسی غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنے کی حالت میں بھی اجازت دی ہو۔
    والسلام
    منشے برکت علی ولد محمد فاضل
    جوائنٹ ناظر بیت المال
    محلہ دارالرحمت قادیان دارالامان








    روایات
    محمد اسماعیل ولد مولوی جمال الدین سکنہ سیکھوان ضلع گورداسپور
    حال قادیان۔ محلہ دارالرحمت
    سن بیعت : پیدائشی احمدی
    سن زیارت: ۱۹۰۴ء
    ۱۔ میں قریباً بیس (۲۰) سال کا تھا کہ گورداسپور میں کرم الدین بھیس جہلمی (دراصل بھیس ضلع جہلم کا تھا) کے مقدہ کا حکم سنایا جانا تھا۔ میں ایک دن پہلے اپنے گائوں سے وہاںپہنچ گیا تھا۔ وہاںپر ایک کوٹھی میں حضور علیہ السلام بھی اترے ہوئے تھے۔ گرمی کا موسم تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ادھر کے ایک کمرے میںبیٹھے تھے۔ وہاں پر میرے والد صاحب میاں جمال الدین صاحب‘ میاں امام الدین صاحب سیکھوانی اور ھجوڑی (یعنی چوہدری) عبدالعزیز صاحب بھی موجود تھے۔ میں نے جاکر حضور کو پنکھا جھلنا شروع کردیا۔ حضورؑ نے میری طرف دیکھا اور میرے والد میاں جمال الدین صاحب ک یطرف اشارہ کرکے مسکرا کر فرمایا کہ میاں اسماعیل نے بھی آکر ثواب میں سے حصہ لے لیا ہے۔ حضورؑ کا معمولیث اور ادنیٰ خدمت سے خوش ہوجانا اب بھی مجھے یاد آتا ہے تو طبیعت میں سرور پیدا ہوتا ہے۔
    ۲۔ قادیان میں میری شادی میرے ماموں کے ہاں ہوئی تھی۔ یہ شادی مجھے پسند نہ تھی اور میرے والدین کی خواہش اسی میں تھی۔ اور مجھے نفرت رہتی تھی۔ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں خط لکھا کہ حضور میں آپ سے ایک علیہدہ بات کرنا چاہتا ہوں۔ حضور نے اسی وقت اندر بلالیا۔ حضور اس وقت بیٹھے ہوئے تھے۔تو آپ نے فرمایا کہ بتلائو کیا بات ہے۔ میں نے کہہ دیا کہ حضور ؑ شادی میرے خلاف منشاء ہے اور مجھے اس سے نفرت ہے۔ جس کی وجہ سے مجھے تکلیف ہے۔ مگر میرے والدین اسے پسند کرتے ہیں۔ اصل بات میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ حضورؑ میرے والد صاحب کو کہہ کر قطع تعلقی کا فیصلہ کرادیں۔ مگر حضور کے رعب کی وجہ سے میں نہ کہہ سکا۔ حضور نے فرمایا مہر کیا ہے۔ میں نے عرض کی ۔ حضورؑ مجھے علم نہیں۔ آپ نے فرمایا۔ مہر تو کچھ ہوگا۔ میںخاموش ہوگیا۔ پھر آپ نے فرمایا ۔ مہر اس کا ادا کردو۔ اور طلاق دے دو۔ اس کے بعد حالات ہی ایسے ہوگئے کہ والد صاحب نے بھی اس قطع تعلقی کا ہی فیصلہ کردیا۔
    ۳۔ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ نصیبین بھیجنے کا قصد کیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حالات دریافت کرنے کے متعلق۔ اس میں مرزا خدا بخش صاحب اور مولوی قطب الدین صاحب قرعہ اندازی سے مقرر ہوئے۔ حضور علیہ السلام نے کپڑوں وغیرہ کی تیاری کے لئے تینوں صاحبوں کو پچاس پچاس روپے دیئے۔ بعد ازاں حضور نے ایک جلسہ الوداع کیا۔ اور اس میں بعض وجوہات کی وجہ سے یہ وفد روک دیا گیا۔ جب وفد کا جانا رک گیا تو میرے والد صاحب نے پچاس 50روپے حضور کی خدمت میں واپس پیش کئے۔ حضور نے فرمایا جو ہم کسی کو دیدیا کرتے ہیں۔ واپس نہیں لیتے۔ جب والد صاحب واپس گھر آئے۔ تو انہوں نے یہ واقعہ مجھے سنایا۔
    ۴۔ ایک دفعہ میں اور میرے چچا میاں امام دین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ملاقات کے لئے آئے۔ حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) نے اندر بلالیا۔ میرے چچا میاں امام الدین صاحب کا ایک لڑکا بشیر احمد مرحوم بیمار تھا اور حضور کو دکھانا تھا۔ حضور نے اس کی دوا تجویز کردی۔ حضور اس وقت صحن میں بیٹھے تھے۔ اردگرد کتابیں رکھی تھیں۔ سر مبارک سے عمامہ ایک طرف نیچے رکھا ہوا تھا۔ حضور کے سرمبارک پر پٹے تھے۔ بال سیدھے تھے ۔ اس وقت قریباً نصف گھنٹہ تک حضور کے پاس بیٹھ کر ہم واپس آگئے۔
    ۵۔ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دو مرتبہ دبایا ہے اور اس وقت بھی میرے دل میں یہ خیال تھا کہ کسی وقت یہ فخر سے ذکر کیا کریں گے کہ اس مبارک اور مقدس وجود کو دبایا ہے۔ میں جب پڑھا کرتا تھا تو کچھ دن میں روٹی حضور علیہ السلام کے گھر سے کھایا کرتا تھا۔ چولھے پر پکی ہوئی روٹی ملتی تھی۔ تنور وغیرہ کا اس وقت کوئی انتظام نہ تھا۔
    محمد اسماعیل ولد مولوی جمال الدین صاحب
    سیکھواں ۔ حال قادیان دارلامان
    مکرمی جناب ناظر صاحب۔ تالیف و تصنیف قادیان
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ گذارش ہے کہ منسلکہ چار عدد ورق رقمزدہ میرے والد مرحوم مولوی جمال الدین صاحب سیکھوانی کے ارسال خدمت کرتا ہوں۔ میں والد صاحب کے خط کو پہچانتا ہوں۔ یہ ان کے ہاتھ کے لکھے ہوئے ہیں۔ بعض پرانے واقعات کا ان میں ذکر ہے۔ ممکن ہے کسی موقعہ پر مفید ثابت ہو۔ والسلام
    محمد اسماعیل ولد مولوی جمال الدین صاحب مرحوم
    ساکن سیکھواں ضلع گورداسپور مورخہ ۲۶ فروری ۱۹۳۸ء
    بسم اللہ الرحمان الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم وعلی عبدہ المسیح الموعود
    مذکور تا الصدر تحریر ہے و ھو ہذا:۔
    ’’آن کس کہ خدا را شناخت جانراچہ کند فرزند و عیال دو جہاں راچہ کند‘‘
    یعنی جس شخص نے خدا کی پہچان کا رتبہ پایا۔ وہ مال اور اسباب اور جان بلکہ دونوں جہاں سے ہاتھ اٹھا کر اسی کا ہو رہتا ہے۔ ظاہری ماب اور اسباب ہر کچھ بھی نگاہ نہیں کرتا۔ اب لال بیگ صاحب کے دس اصول کا بیان وہ یہ ہیں۔ اول خدا کی برابر کسی کو نہ جاننا۔ دوئم ۔ زنا مت کر ۔سوئم۔ جوٹھ (جھوٹ) مت بول۔ چہارم۔ چوری مت کر۔ پنجم۔ کسی کے مال و اسباب کی لالچ مت کر۔ ششم ۔جوٹھی گواہی مدت دے۔ ہفتم ۔ کسی کی غیبت مت کر ۔ہشتم۔ کسی کے ساتھ دغا فریب مت کر۔ نہم۔خون مت کر۔ دہم۔ اپنے ماں باپ کی عزت کر۔ اسی طرح اور کئی باتیں بتلائیں ہیں۔ میں کہتا ہوں۔ واہ صاحب کیا اصول ہیں۔ یہ ایک موٹی موٹی ہر ایک احمق بھی سمجھتا ہے کہ خون کرنے سے پھانسی ملتی ہے۔ اور چوری کرنے سے قید ہوتی ہے۔ اور زنا کرنے سے بدنامی ہوتی ہے۔ اور غیبت اور جھوٹ کہنے سے بے وقار ہوتا ہے۔ ایسا ہی اور باتوں کے خلاف کرنے سے تابکار ٹھہرتا ہے۔ یہ جو لال بیگ صاحب نے اپنے مذہب کے اصول ٹھہرائے ہیں۔ میںقسمیہ کہتا ہوںکہ ان سب کا خلاف اس میں خود موجود ہیں۔ انشاء اللہ العزیز بعد شائع ہونے رسالہ ہذا کے اگر کسی قسم کی سازش کی تو پورا پورا خلاف ان سب اصولوں کا لکھ کر ناظرین کے آگے تحفہ رکھا جاوے گا۔ اب اس بات کا بیان کرتا ہوں۔ جو میں نے پہلے ہی اس رسالہ میں وعدہ کیا تھا کہ مرزا امام الدین و نیزشاگرد ان اس کے نے جو متفق ہوکر رسالہ ہدایت نامہ لال بیگ تالیف کیا ہے۔ ان کے بتانے کا منشا ظاہر کرونگا۔ اب ان ہر ایک کا حال اور منشا مختصر طور پر ظاہر کرتا ہوں۔ پہلے مرزا امام الدین کا حال و ستائش سن لیجئے۔ ان کے باپ کا نام مبارک جناب مرزا غلام محی الدین تھا۔ وہ ایک بڑے لائق معاملات دنیاوی میں تھے۔ جو بیان کرنے سے قاصر ہے ۔ اور صدہا روپیہ کما کر جمع کیا اور عمدہ عمدہ مکانات اور باغات بنوائے۔ جو اب تک موجود ہیں۔ ان کے خانہ میں یہ پیدا ہوئے۔ خوب ناز سے پرورش پائی اور آپ اس جہاں سے کوچ کر گئے اور بعد ان کے جناب مرزا غلام مرتضیٰ صاحب جو والد جناب مرزا غلام احمد صاحب مولفہ براہین احمدیہ کے تھے۔ ان کے ماتحت چند روزہ رہے۔ جب عمر پچیس یا چھبیس برس کی ہوئی تو متلاشی نوکری کے ہوئے ۔ جناب مرزا غلام مرتضیٰ صاحب کی سفارش سے قریب وقت فساد برپا ہونے دہلی کے بعہدہ رسائی اریمں (ان میں) نوکر کرایا گیا اور اپنی فطرتی عادت اور نفسانی خواہشوں میں چنانچہ شراب خوری و زناہ کاری میں گرفتار ہوا۔ یہاں تک جس انگریزکے ماتحت نوکر تھا اس کے گھر میں نقب زنی کرکے پنجہ مارا۔ وہ انگریز اس کے بد کردار سے مطلع ہوکر اس کے قتل یا قید کے انتظام میں ہوا۔ یہ خبر جناب مرزا صاحب مرحوم (غلام مرتضیٰ صاحب مرحوم) کے کان میں پری اور اپنے خون کا جوش ہوا۔ اور سفارش کرکے رہا کیا اور ملازمت سے موقوف ہوا۔ لیکن بعد ازاں تھوڑے ہی عرصہ کے ’’مرزا مرحوم کی فہمائش سے علاقہ بہاولپور محکمہ پولیس میں عمدہ عہدہ پر نوکر کرایا گیا۔ یہ صاحب اپنی جبلی حالت کو کب چھوڑ سکتے تھے۔ وہاںایک عورت فاحشہ کے عشق میں گرفتار ہوا اور اس کے پاس اور کئی آدمی بھی آیا کرتے تھے اور شراب میں مست رہا کرتے تھے۔ اسی اثناء میں اس جگہ ایک خون ہوگیا اور لال بیگ صاحب.......‘‘ (آگے مضمون کا پتہ نہیں کہ کیا لکھا تھا۔ کیونکہ ورق نہیں)
    میاں جمال الدین صاحب مرحوم آگے چل کر لکھتے ہیں۔
    ’’احمدیہ نے جو میری روبرو بتلائے اور وہ پھر میری آنکھوں کے سامنے پوری بھی ہوگئیں۔ میں اس کو اس جگہ مناسب سمجھ کر لکھتا ہوں۔ ذرا انصاف کی نظر سے غور فرماویں۔ وہ یہ کہ جب درماہ اکتوبر ۱۸۸۵ء میں سہرہ عام ہوا تھا کہ جناب مہاراجہ دلیپ سنگھ صاحب کو جناب مکہ معظمہ دام اقبالہا کی طرف سے اجازت ہوگئی ہے وہ آج کل پنجاب میں آنے والے ہیں۔ اور ان کی آمدن کی مشہوری ہر ایک اعلیٰ ادنیٰ کی زبان سے ہورہی تھی اور اسی اثناء میں یہ خاکسار در ماہ نومبر ۱۸۸۵ء کو واسطے ملاقات جناب مرزا صاحب موصوف (حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) کے گیا اور اسی روز منجانب اللہ بابت مہاراجہ دلیپ سنگھ کے منکشف ہوا تھا۔ وہ میرے پاس اور نیز کئی آدمی جو اس وقت موجود تھے۔ ظاہر کیاکہ یہ لوگ آمدن دلیپ سنگھ صاحب کے سرور و خوشی کررہے ہیں۔ یہ ا نکو سرور حاصل ہوگا۔ مجھ کو آج خدا کی طرف سے ظاہر ہوا ہے کہ جب وہ آئے گا بہت شدائد و مصائب اٹھائے گا۔ بلکہ یہاں تک اس وقت مرزا صاحب نے فرمایاکہ اس کے لاش ایک صندوق میں مجھ کو دکھلائی گئی ہے۔ فقط ۔
    پھر انہوں نے ایک اشتہار بابت ( ) اپنی لڑکی سعادت مند کا ۲۰ فروری ۱۸۸۹ء کو دیا تھا اور اس میں یہ بھی ایماء کردیا کہ ایک دیسی امیر نوارد پنجابی الاضل کی نسبت بعض متواحش خبر نے جو منجانب اللہ منکشف ہوئی ہیں۔ وہ رسالہ سراج منیر میں عمدہ طور پر واضح کرکے لکھے جائینگے۔ اس عبارت مجمل کا حال مختلف آدمیوں پر ۔۔۔۔۔ کو مختلف شہروں میں مفصل بتلایا گیا تھا کہ یہ دلیپ سنگھ سے مراد ہے۔ پھر دیکھو کیسے مواقعہ پر پوری بھی ہوگئی۔ اور ہر ایک چھوٹی بڑی (چھوٹے بڑے) پر ظاہر ہوگیا ہے کہ وہ اپنے مکان بودو باش سے رخصت ہوکر آئے اور بوقت رخصت اپنا متام اسباب صد ہا روپیوں کا ہرج اٹھا کر نیلام کیا۔ اور پھر راستہ میں روکے گئے اور کئی قسم کے شدائد و مصائب برپا ہوئے۔ پھر اسی روز سے مفقود ہیں۔کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ کہاں ہیں۔ شاید وہ جو مرزا صاحب نے بتلایا تھا کہ مجھ کو اس کی لاش ایک صندوق میں دکھلائی ۔ اس کے بارہ میں کچھ نہیں کہہ نہیں سکتا۔ مگر بعض وقت عقل گواہی دیتی ہے کہ شاید خدا کے علم مین ایسا ہوگیا ہو۔ ابھی تک بندوں پرظاہر نہیں ہوا اس کا راستہ میں روکا جانا زبان سے ہی نہیں بلکہ اخباروں میں چھپ کر شائع ہوا تھا۔ جیسے کہ دہلی کے مطبوعہ میں صحیفہ قدسی سے چھپ کر شائع ہوتا ہے۔ وہ جولائی ۱۸۸۶ء کو چھپا تھا۔ اس میں لکھا تھا کہ مہاراجہ دلیپ سنگھ صاحب عدن میں روکے گئے ہیں۔ اس پر عموماً اخبارات پنجاب گورنمنٹ پر اعتراض کرتے ہیں۔ لیکن وہ نہیں سمجھتے کہ صاحب موصوف کا ہندوستان کے کسی کونے کھڈ میں بحالت معزولی دالے رکھنا اصول معکداری کے بالکل خلاف ہے۔ دیکھئے صاحب طالبان صادق کے لئے کیا عمدہ ثبوت اور مخالفینکے لئے کیا سیف مضبوط ہے۔ قبل از وقوع خاص خاص آدمیوںکو چار ماہ کہ در ماہ نومبر ۱۸۸۵ئ؁ اور عوام کو دو ماہ ۲۰ فروری ۱۸۸۶ئ؁ کو یہ پیشگوئی بتلائی گئی پھر بیچ ماہ مئی ۱۸۸۴ئ؁ کو ظہور میں بھی آگئی۔ دیکھو تمام ہندوستان اور پنجاب میں یہ ہورہا تھا کہ مہاراجہ دلیپ سنگھ اب آئے اب آئے۔ اور طرف ثانی ایک بندہ اپنی گورنمنٹ آسمانی کے کہنے سے کہتا تھا کہ وہ اس جگہ نہیں آئے گا۔ بلکہ راستہ میں کئی قسم کے مصائب اٹھائے گا۔ اس گورنمنٹ حقیقی نے اپنے ایک بندہ خاص کو سچا کیا اور تمام جھوٹے ہوئے اور دیکھئے اور غور فرمائیں کہ ہندوستان اور پنجاب میں سینکڑوں فال ہیں اور رومال اور نجومی و جوتشی وغیرہ آباد ہیں۔ کسی نے ذرہ بھر بھی دم نہ مارا کہ یوں نہیں یوں ہوگا۔ اے ۔آر۔یو۔اے دہریواے لال بیگیوں آئو کچھ شرم اور حیا کا دامن پکڑو۔ اور ایسے ایسے نشانات دیکھ کر پھر بھی اشتہارات شائع کرتے ہو۔ اور دیدہ دانستہ اندھے نہ ہوجائو۔ تم تو روز روشن کو دیکھ کر رات قرار دیتے ہو۔ مگر آفتاب جہاں تاب کو کہاں چھپائو گے۔ یاد رکھو جیسے یہ پیشگوئی اپنے موقعہ پر ظہور میں آگئی ہے۔ ویسے ہی سب پیشگوئیں جیسی لڑکی سعادت مند نیک کردار ‘ اور مرزا لال بیگ کے دربارہ نہ باز آنے کے اپنے اپنے موقعہ پر سب بہ فضل خدا پوری ہوجائیگی۔ تو پھر تمہارا کیاحال ہوگا۔ تم کو پھر اس سرزمین پر ایک ساعت بھی کھڑے ہونا محال ہوگا۔ اے الٰہی جو لوگ ازروئے تعصب و بخل و عضاء گمراہ ہوگئے ہیں ان کے تعصب کو دور کرکے ہدایت کر جو قیامت کے دن نعمتوں سے محروم نہ رہیں۔ آمین ثم ۔ امین۔ بہت ۔ ہمارا کام تھا سمجھانا یارو ۔ اب آگے چاہو تم مانو نہ مانو
    چند کبت بزبان پنجابی در اوصاف جناب مرزا غلام احمد صاحب دام فیاضہ
    لکھ شکر الٰہی جسد امانت نہ بھائی جس نے خلق و سائی بے حساب نی شمار ہے
    اس بھیجیا قرآن وچہ عرب زباں ہادی سب دا او جاں ‘ جس کیتا انکار اوہ کفار ہے
    اس خالق غلام ‘ کہتا حکم خاص و عام منو دین اسلام ‘ جو آوی تو ہائونی کار ہے
    کہندا عاجز جمال‘ سن کے حکم کمال کئیاں ہو یا ایہ محال جیسے یہودنی نصار ہے
    ہور آریہ سماج ‘ نالے برہمنو دا کام ہوئے سب ایہ خراب کئے لال بیگے دہریہ
    ہوئے منکر قرآن‘ کہندی بد ایہ زبان لیا حصہ نہ ایمان‘ اب انہاں بد ما ریہ
    نکتہ چینی اسلام کردی ہیں صبح و شام لاون زور ایہ تمام ہی عیسائی ہندو آریہ
    کہندا عاجز جمال ‘ پڑے ایتاں مندی چال بلکہ سخن بحال ‘ کردے ہیں
    بہت زور یہ ‘ پایا انہانے انہیر بکدے پھر دے چو فیر ہوکے
    بڑی ایہہ دلیر کردے خوف نہ رحماندا اب پیدا کیتا جان
    اک لعل انسان ‘ وچ قادیان دے جان چغتائی خداندا
    ہیں احمد غلام‘ مبارک اونہا نام ہوئے مجدد اسلام ‘ ہو یا فضل سبحان دا
    دتا عقل شعور ‘ اس خالق غفور ‘ نال امر مامور اس دعوت ایمان دا
    کہتی انہا نے پکار ‘ آئو یہود تے نصار دیکھو آریو بہار‘ ایہہ قرآن کیسی چیز ہے
    برکت ایس میں دکھلاواں‘ اسدا فیض میں چکہاواں‘ شیرنی اس دی ایس وے کھلاواں
    کیا سوہنا ایہہ لذیذ ہے‘ دتا انہاں اشتہار نہ دیکھا‘ دولت جی اثار
    نقد دس ہزار تو ہاتھوں دولت جو عزیز ہے‘ کہندا عاجز جمال
    رب فضل کمال‘ پیا دشمناں زوال ‘ رہی اونہا نہ تمیز ہے
    کہتا سب نوں اظہار‘ اندر شہرقی دیار ‘ آئو یہود تے نصار
    ۰۰۰۰ لیو ثبوت اسلام توھانو (تھانو) سچ دا کام تھا نوکر ان میںایہہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
    ہو یا سنہ پھر ہوا نال باطن ضرور دتا حسن غفور نال فضل دے
    تارہا سو دنایوی مراد دتی نیک اولاد ‘ ا بہوئے دلوں شاد
    نال شرف پیار ‘ دو بیٹے نے تحقیق ‘ اک خفیہ پولیس وچہ
    جموندی ہے ٹھیک فضل احمد پیار یا ‘ دوجا وچہ ملتان سلطان احمد
    تو جان‘ ہے محصل ‘ نال کرم سواریا
    جمال قربان سنے مال تے ہور کاہنو کردے ہو فتور
    وچہ جنگاں مشہور‘ ہوکے سب ہو بے شعور ‘ بھائی لال بیگ دہریو
    کہندا عاجز جمال رہی کسی نہ مجال ان کرسی جو مقابل چلے سب ہو فراریو
    اب کہتا انہوں شیر پیا گجدا چوفیر کوئی آدمی ہے نہ نیئر بھلا
    گیدڑاں کی کام ہے‘ آوے شیراندی اوہ نیرکری ساہمنے
    او جھیڑی اک ہتہ بھی نہ بھیڑی دیکھ زور اسدا نام ہے
    پچہوں کرن چترائی جدوں شیراں نیند آئی بھونکن دیکے دہائی
    ایہہ تا بھی کلاں خام ہے کہنداں عاجاز جمال اگے بھائیاں بیگ لال
    حق باطل کرو فعال تو ہانو (تھانو) طلب جی ردام ہے۔
    نہیں تے ہوئوگے انجور وچہ قیامت ضرور کرو عقل تے شعور
    پیا لوہا نوں میں سمجھا وندا اک بندہ ربدا بلاوے تو ہانوں بدیاں
    ہتو ہٹاوی سدھاراہ بتلاوے توہانیوں اجرت نہ چارہ وندا بلکہ
    جسدی صدق دلیل اوہنوں دیوے خرچ سبیل ہووے ہرج در کفیل لائق
    جنت اس بنائوندا جی اجی بھی نہ تے آئو طوق *** دا پائو‘ وچہ قیامت
    بھائو تو ہانو جمال پیا بتلائوندا عرصہ ہوتا سال سات کردے ایہو
    حکمات ہر قسم دا اثبات اوہ ناں دین کو بتایا۰۰۰۰۰۰۰
    ۰۰۰۰۰۰ سخن بی شعور۰۰۰۰۰ سب مثل دود جیونی گردتی غبار ہے۰۰۰۰۰۰
    ہووے دن تے رات جیونی واہی اسبات ہو خارق عادت دہ
    ہوی آزما۔ جس پہلی اعتبار ہے۔ ایڈا فضل رحمان کہ کچھ
    کراں میں بیاں ہووے۔
    نوٹ: ان اشعار سے پتہ لگتا ہے کہ کچھ اور بھی اشعار تھے۔ جو دسبتردار زمانہ سے محفوظ نہیں رہے۔؟؟؟؟؟









    روایات
    ابوبکر یوسف ولد محمد جمال یوسف سکنہ پٹن ریاست
    بڑ ورہ حال قادیان دارلامان
    سن بیعت : ۱۹۰۷ء
    سن زیارت : ۱۹۰۷ء
    اتوار کے روز تاریخ ۶ شغبان ۱۳۲۵ھ کو ظہر کے وقت قادیان پہنچا۔ ایک یکے پر سے اترا تو میرا اسباب مہمان خانہ میں لے گئے اور مجھ کو کہا وضو کرلو۔ نماز کھڑی ہے۔ میں وضو کرکے مسجد مبارک میں پہنچا۔ وضو کرکے تو امام اصلوۃ حضرت مولانا نور الدین صاحب تھے۔نماز ہوگئی۔ تو کسی نے کہا۔ حضرت صاحب آگئے ہیں۔ حضرت صاحب کا انتظار بھی نہیں کرتے۔ اس وقت حضرت صاحب تیسری صف میں گھر کی کھڑکی کو چھوڑ کر تین آدمی چھوڑ کر نماز میں شامل ہوئے تھے۔ شاید ایک رکعت بعد شامل ہوئے تھے۔ مجھے حضرت صاحب کے پاس لے گئے۔ حضڑت صاحب قاعدہ (قعدہ) میں بیٹھتے ہیں۔ ایسے بیٹھتے تھے جب میں پاس جاکر بیٹھا تو حضرت صاحب نے پرانٹھا کرلیا۔ یعنی ایک پیر دوسرے پیر پر چڑھا کر بیٹھ گئے۔ اور لوگوں نے کہا بیعت لو۔ بیعت لو۔ تو شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ایک تھم (ستون) کے پاس کھڑے تھے۔ انہوں نے کہا ان کی بیعت تو ہوچکی ہے۔ (یعنی میں بیعت بذریعہ خط کرچکا تھا) حضرت صاحب نے مجھے کہا ۔ آپ نے کیسے مجھے پہچانا۔ میں عرض کرنے لگا لیکن بعض حاضرین نے باتیں حضرت صاحب سے شروع کردیں اور میں چپ ہورہا۔ اتنے میں اندر سے دستک دے کر کہا۔ میاں مبارک زیادہ بیمار ہیں۔بلاتے ہیں۔ حضرت صاحب اٹھ کر اندر چلے گئے۔ جب اٹھے تو ایک صاحب نے مصافحہ کیا اور ایک دوسرے نے ہاتھ مبارک چوما۔ اس وقت میں نے سمجھا کہ ہاتھ چومنا بھی درست ہے۔ دوسرے روز یوم الاثنین کی صبح کو میاں مبارک احمد کی وفات ہوگئی اور جنازہ مقبرہ بہشتی میں لے جایا گیا۔ اس وقت قبر پوری نہیں کھودی گئی تھی۔ تو حضرت صاحب کچھ قبر سے ہٹ کر بیٹھ گئے اور تمام حاضرین حلقہ باندھ کر بیٹھ گئے اورحضرت صاحب باتیں کرنے لگے۔ جب قبر تیار ہوگئی تو حضرت صاحب اٹھ کر قبر کے پاس گئے ۔ جب دفن کردیئے گئے۔ اور مٹی سب ڈال دی گئی تو فوراًحضرت صاحب واپس ہوگئے (یعنی مٹی ڈالنے کے بعد دعا کے واسطے کھڑے نہ رہے اور نہ ہاتھ اٹھا کر دعا کی) پھر گلی کوچہ میں یہ آواز آنے لگی کہ اسقط من اللہ و اصیبہ یعنی اس الہام کے مطابق وفات ہوگئی۔ دوسرے یا تیسرے روز حضرت صاحب سیر کو تشریف لے گئے تو میں بھی ساتھ ہولیا۔ راستے میں حضرت صاحب نے یوم تاتی السماء بدخان مبین کی آیت پڑھ کر کچھ بیان کیا۔ میں دور چلتا تھا۔ مجھے سنائی نہیں دیا گیا ۔ کیا بیان کیا۔ اور راستے میں حضرت صاحب نے پگھری (پگڑی) کو ایک حات (ہاتھ) سے سر مبارک سے اٹھا کر دوسرے ھات (ہاتھ) سے بال مبارک کو کچھ درست کیا۔ یا اسے ہی ھات (ہاتھ) پھیر کر عمامہ مبارک سر پر رکھ دیا۔ میں نے دیکھا کہ بال مبارک میھندی (مہندی) کے سرخ رنگ جیسے ہیں۔ پھر جمعہ کے روز یعنی ۱۱ شعبان ۱۳۲۵ھ کو خطبہ جمعہ مسجد مبارک میں سید محمد امروہی صاحب (سید محمد احسن صاحب امروہی) بپڑھا۔حضرت صاحب پاس ہی بیٹھے تھے اور تمام مصلی صفیں باندھ کر بیٹھے تھے۔ خطبہ میں مولانا سیدمحمد امروہی (سید محمد احسن صاحب) نے آیت بارکنا علیہ و علی اسحاق پڑھ کر خطبہ پڑھا تھا۔ اس میں خلاصتاً (خلاصتہً) یہ بیان تھا کہ حضرت اسماعیلؑ کی برکت تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود سے جار ی ہے اور حضرت اسحاقؑ پر کی برکت مسیح موعودؑ کے ذریعہ جو حضرت اسحاق کی نسل سے ہیں۔جاری ہوئی اور یہی نبوت کی دلیل ہے۔پھر میں بسبب جلد جدہ جانے کے واسطے جمعہ کی شام کو حضرت صاحب علیہ الصلوۃ والسلام سے اجازت لیکر سینچر کی صبح کو قادیان سے روانہ ہوگیا اس وقت حضرت صاحب نے بذریعہ مفتی محمد صادق صاحب ۱۰ نسخے الاستفتاء اور ۱۰ نسخے عربی تفسیر سورۃ الفاتحہ کی دیں۔ کہ مکہ جدہ میں علماء کو تقسیم کردینا۔ پس اتنا پانچ روزہ صحبت میں رہنے کو ملا۔
    والسلام
    حرریخطہ ابوبکر ابن محمد جمال یوسف
    ۷ فروری ۱۹۳۸ء
    ۶ ذی الحجہ ۱۳۵۶ھ
    یوم الاثنین

    روایات
    خدا بخش ولد چوہدری پیر بخش
    سکنہ سیالکوٹ صدر بازار حال قادیان
    مہاجر ۔ محلہ ریتی چھلہ
    سن بیعت : ۱۸۹۸ء خط کے ذریعہ
    سن زیارت ۱۹۰۳ء (بمقام گورداسپور)
    میرے والد صاحب نے بھی بیعت کی ہوئی تھی اور و ہبیمار دسمبر ۱۹۰۰ء میں ہوئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں خط لکھا کہ حضور بیمار کی صحت کے واسطے دعا فرماویں۔ خط قریب ایک ہفتہ ہوا تھا لکھے ہوئے۔ جس وقت والد صاحب فوت ہوئے۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دستی لکھا ہوا خط ملا کہ ہم ان کی مغفرت کے لئے دعا کرتے ہیں۔ اس وقت بھی ہمارا ایمان تھا کہ یہ خط اللہ تعالیٰ سے خبر پاکر حضور نے لکھا تھا۔ ایک مسجد صدر بازار میں تھی۔ جس کے امام مولوی صاحب مبارک علی تھے۔ غیر احمدیوں نے دعوہ (دعویٰ)کیا کہ مولوی صاحب احمدی ہوگئے ہیں۔ اس واسطے ان کو نکال دیا جاوے۔ ڈپٹی صاحب بھی آریہ تھے۔ لیکن جب خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت لکھتے (خدمت میں لکھا) تو حضور کا جواب ملا کہ یہ مسجد احمدیوں کی ہے۔ انشاء اللہ احمدیوںکو ملے گی۔ اس مسجد کے مقدمہ میں چوہدری نصراللہ خاں احمدی ہوئے۔ مسجد کا فیصلہ چیف کورٹ تک احمدیوں کے حق میں ہوتا رہا۔ اس میں ۳۲ مخالف موٹے تھے۔ جو کہ سخت کلامی میں ہد سے (حد سے) بڑھے ہوئے تھے۔ ان سے ایک بھی زندہ نہ رہا اور بہت بُری طرح سے فوت ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام گورداسپور مقدمہ (میں) تھے۔ مولوی صاحب عبدالکریم حضور کے ہمراہ تھے۔ صبح کی نماز مولوی صاحب نے پڑھائی تھی۔ ہم لوگ تالاب پر وضو کررہے تھے۔ دوستوں نے تالاب پر ہی سف (صف) باندھ لی۔ اور مولوی صاحب چوبارہ پر تھے۔ مولوی صاحب کی آواز حرف بحرف سنائی دیتی تھی ۔حضور جس وقت عدالت کے سامنے ایک دری بچھا کر اس پر ٹہل رہے تھے تو بہت سے سکھ گڈے روئی کے لیکر گذر رہے تھے۔ سب کے سب اتر کر کہنے لگے۔ یہ روتا ر ہیں اور سلام کرکے چلے گئے۔ تو حضور نے فرمایا ۔ روتار بھی نبی ہوتا ہے۔ حضور جس وقت لاہور جلسہ پر گئے۔ مولوی صاحب عبدالکریم صاحب نے مذمون (مضمون) پڑھا۔ مولوی صاحب کے بعد حضور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی تقریر کی تھی۔ حضور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیالکوٹ گئے اور سرائیں (سرائے) راجہ جموں و کشمیر کے اندر جلسہ ہوا۔ حضور نے تقریر فرمائی۔ واپس آنے پر لوگوں نے بہت شور کیا۔ مولوی صاحب برہان الدین چہلم والا ہمراہ تھے۔ لوگوں سے کہنے لگے۔ لوگو! پرانی رسم چھوڑ دو۔ جب کبھی دولہہ (دلہا) گائوں میں یا نکہ (یا کہ) شہر میں شادی کے واسطے آتا ہے تو لوگ پتھر ہی مارتے ہیں۔ یہ دولہہ (دلھا) بھی سیالکوٹ میں آیا تھا۔
    خدا بخش
    قادیان دارالامان




    روایات
    قریشی ولی محمد باقر خانی والے ولد قریشی شاہ محمد
    قادیان حال حلقہ مسجد فضل قادیان
    سن بیعت : ۱۹۰۶ئ؁
    سن زیارت : ۱۹۰۶ئ؁
    ۱۹۰۶ء میں جب کہ قادیان میں بڑی بیماری وارد ہوئی تھی۔ اس وقت بندہ کی عمر قریباً دس سال کی تھی۔ بیماری کے دوران میں آپ بڑے باغ میں جاکر کمپوں (خیموں) میں مقیم ہوئے تھے۔ اور میں اس وقت کنوآئیں (کنویں) پر رہا کرتا تھا۔ اور ساتھ ہی میرے گھر والے تھے۔
    قریشی ولی محمد
    باقر خانی والا
    قادیان



    روایات
    شیخ اصغر علی ولد شیخ بدرالدین صاحب
    سکنہ ایمن آباد ضلع گوجرانوالہ حال مہاجر پنشنر ہیڈ کلرک
    محکمہ انہار پنجاب‘ دارالفضل قادیان دارالامان
    سن بیعت : ۱۸۹۶ئ؁
    سن زیارت : ۱۸۹۶ئ؁
    ۱۔ میرے چچا شیخ امیر الدین صاحب مرحوم پنڈ دادنخان میں اور سیر تھے اور حضرت حکیم الامت خلیفتہ المسیح اول رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جوانی کے دوست تھے۔ میں ۱۸۹۶ئ؁ میں پورانی (پُرانی) پیچش کی مرض میں مبتلا تھا اور بمقام خانکی ہیڈ نہر چناب ورکشاپ مین سب ڈویژنل کلرک تھا۔ میرے چچا صاحب نے حضرت حکیم الامتؓ کو میری بیماری کے متعلق قادیان لکھا۔ تو حضور نے جواباً ان کو لکھا کہ عزیز ایک دفعہ ہم کو ملے پھر ہم اس کو دیکھ کر بعد تشخیص علاج کریں گے۔چنانچہ میں دارالامان آیا۔ عیدالضحیٰ قریب تھی۔ اور مہمان آرہے تھے۔ جو حضرت اقدس مسیح الموعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ گول کمرے میں کھانا کھاتے تھے۔ حضرت حکیم الامتؓ نے میری پرہیزی کھانے کا اپنے گھر میں انتظام فرمایا اور مفتی فضل الرحمن صاحب کو دونوں وقت باقاعدگی کے ساتھ مجھ کو کھانا کھلانے پر مقرر کیا۔ پانچ روز کے بعد حضور نے میری مرض کی تشخیص کا فیصلہ فرما کر مجھ کو کمال محبت کے ساتھ کہا کہ اب تم خوشی کے ساتھ مہمانوں میں مل کر حضرت اقدس کے ساتھ پلائو گوشت وغیرہ سب کچھ کھا سکتے ہو۔ کسی پرہیز کی ضرور ت نہیں۔ یہاں سے جاتے ہی نسخہ لے جانا اور اپنے گھر جاکر دوائی بنالینا اور استعمال کرنا۔ انشاء اللہ تم تندرست ہوجائو گے۔ میری عمر کا ستائیسواں سال تھا اور خدا کے فضل سے میں نماز کا ایسا پابند تھا کہ تہجد گزار بھی تھا۔ میرے والد بزرگوار نقش بندی خاندان کے باخدا مرد تھے اور بفضلہ تعالیٰ صاحب کشف تھا۔ میں جو حضرت مسیح الموعود علیہ الصلوۃ السلام کے ساتھ مسجد مبارک میں جماعت سے مل کر ۰۰۰۰۰۰۰ تو وہ روحانی کیفیت دیکھتا کہ جو کہ تحریر و بیان سے باہر ہے۔ چنانچہ مجھ کو بیعت کرنے کے واسطے غیبی تحریک ہوئی اور بغیر اس بات کے کہ کسی دوست نے مجھ کو بیعت کے واسطے توجہ دلائی ہو میںخود ہی بیعت کے واسطے حضرت اقدس کے پیش ہوا اور حضور نے میری بیعت لی۔ بیعت کرنے کے بعد میں نے حضرت حکیم الامتؓ سے بیعت کرلینے کا ذکر کیا تو حضور نے مجھ کو پیار کیا اور بہت ہی خوشی کا اظہار فرمایا۔ حضرت اقدس کی معیت میں جماعت کے ساتھ نمازیں پڑھتے ہوئے ہر ایک مقتدی پر خشوع اور خضوع کی وہ کیفیت طاری ہوا کرتی تھی کہ جس کو حقیقی حضوری قلب کہا جاتا ہے۔
    ۲۔ میرے والد بزرگوار ۷۰ سال سے اوپر کی عمر میں تھے۔ جو میں نے ان سے حضرت مسیح الموعود علیہ اصلوۃ والسلام کے متعلق ذکر کیا۔ وہ نماز تہجد کے بعد معمول کے طور پر صبح کی نماز کی اذان کے وقت تک مراقبہ میں رہا کرتے تھے۔ انہوں نے جو حضرت مسیح الموعود مہدی المہود کے متعلق توجہ کی تو کشفی حالت میں ان کو حضرت مسیح الموعود علیہ الصلوۃ والسلام دکھائے گئے۔ نماز فجرکے بعد انہوں نے بڑی خوسی کے ساتھ مجھے ذکر کیا اور کہا کہ واقعی مرزا صاحب کا دعویٰ سچا ہے اور وہی مسیح الموعود اور مہدی معہود ہیں۔ اس دن کے بعد پھر بھی دو تین دفعہ میرے والد بزرگوار کو کشفی حالت میں حضرت اقدس کی زیارت ہوئی۔ اور انہوں نے حضور کی تصدیق کی۔ میں نے ان سے قادیان دارلامان چلنے اور بیعت کرنے کے واسطے توجہ دلائی تو انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے اصول شریعت کے خلاف ہے کہ ایک پیر کی بیعت ہوتے ہوئے دوسرے پیر کی بیعت کی جاوے۔ میں نے اصرار کیا اور اس کے بعد جب میں قادیان دارلامان آیا تو میں نے حضرت اقدسؑ کی خدمت میں یہ حال بیان کیا۔ تو حضورؑ نے فرمایا کہ وہ بلحاظ عمر کے اپنے عقیدہ کو نہ چھوڑنے میں معزور ہیں۔ ان کو مجبور نہ کرنا۔ وہ ہمارے مصدقوں میں ہی شامل ہیں۔ مجھ کو اطمینان ہوگیا۔
    ۳۔ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ سلسلہ میں لوگوں کو اس طرف توجہ دلانا بہت مفید ہوتا ہے کہ نماز عشاء کے بعد سونے سے پہلے تازہ وضو کرکے دو نفل پڑھے جاوین اور ان میں دعا کی جاوے کہ اے ہمارے مولیٰ اگر یہ سلسلہ سچا ہے تو ہم پر حقیقت ظاہر کر۔ میں مشرقی افریقہ ۱۹۰۰ء میں ملازمت پر جاتے ہوئے اپنے ایک پرانے دوست مسمی نیک محمد صاحب کی سرائے عالمگیر ضلع گجرات کو اپنے ملازم کی حیثیت سے ساتھ لے گیا تھا۔ ان کو تبلیغ کرتے ہوئے میں نے یہ نسخہ بتایا۔ انہوں نے یہ عمل کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو خواب میں حسب ذیل نظارہ دکھایا۔
    ’’وہ اپنے مکان واقعہ سرائے عالمگیر میں ہیں اور ان کا والد مرحوم بھی ہے اور جس کوٹھری میں وہ ہیں وہ حد درجہ روشن ہوگئی ہے اور یہ نظر آرہا ہے کہ آسماں سے نور کی ایک لہر چل رہی ہے۔ جس نے کوٹھری میں نور ہی نور کردیا ہے۔ اور معاً ایک بزرگ نہایت خوبصورت پاکیزہ شکل ظاہر ہوتے ہیں۔ اور بھائی نیک محمد صاحب کے والد بزرگوار اپنے بیٹے کی طرف مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ یہ امام مہدی ہیں اور دونو ںباپ بیٹا حضور انور سے ملے ہیں۔‘‘ ایسے خوش کن نطارہ کے بعد ان کی نیند کھل گئی۔اور دن چڑھے انہوں نے مجھے یہ حال بتایا اور ان کی بیعت کے واسطے خط لکھنے کے واسطے کہا۔ چنانچہ میں نے ان کی بیعت کا خط لکھ دیا۔ خدا کے فضل سے ا نکا سارا خاندان احمدی ہے۔وہ فوت ہوچکے ہوئے ہیں۔
    ۴۔ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام مہمانوں کی خاطرتواح کا خود بہت خیال فرمایا کرتے۔ بھائی حافظ حامد علی صاحب مرحوم کو اس طرف توجہ دلانے کے علاوہ خود بھی خاص واقفیت اس پہلو میں رکھا کرتے۔ اور مہمانوں کی حیثیت کے مطابق کھانا بہم پہنچانے کا اہتمام ہوا کرتا تھا۔ غالباً ۱۹۰۲ء میں جب میں ایمن آباد سے قادیان دارالامان آرہا تھا تو مرحوم مغفور سید ناصر شاہ صاحب لاہور اسٹیشن پر جس کمرہ انٹر کلاس میں قادیان آنے کے واسطے بیٹھے ہوئے تھے اس میں اتفاق سے میں بھی آ بیٹھا اور ہم دونوں اکٹھے آئے۔ لاہور سے بارش ہونی شروع ہوئی اور جب گاڑی بٹالہ پہنچی تو زور کی بارش تھی۔ اترتے ہی ہم نے مسافر خانہ میں ہی یکہ کرایہ پرکیا اور روانہ ہوئے۔ بارش شاید قادیان کے موڑ رپ پہنچنے کے بعد بند ہوئی تھی ۔ دارالامان پہنچنے پر ہم دونوں کو حضرت اقدس کے حکم سے اس کمرہ میں جگہ دی گئی۔ جس میں بک ڈپو ہے۔ اور وہ شاید حامد علی شاہ صاحب مرحوم و مغفور کے خرچ سے تازہ بنوایا گیا تھا۔ حضور انور کے حکم سے (مجھ کو جہاں تک یاد ہے) صبح ناشتہ میں عمدہ حلوہ بھی ہوتا تھا اور مکلف کھانا گھر سے آتا تھا۔ مجھ کو خیال ہے کہ حضور انور شاہ صاحب مرحوم سے دریافت بھی فرماتے تھے کہ آپ لوگوں کو کوئی تکلیف تو نہیں ہے۔ مہمان کا احترام حد درجہ حضور انور کے زیر نظر رہتا تھا۔
    ۵۔ مجھ کو سن تو یاد نہیں رہا کہ کونسا تھا۔ جلسہ کے ایام میں مسجد اقصیٰ میں عصر کی نماز کے وقت کچھ دوست مسجدکے جنوب مشرقی طرف کے کوٹھے پر چڑھ گئے اور نماز میں شامل ہوئے۔ مالک مکان نے گالی دینی شروع کردی۔ اور جتنا عرصہ نماز ہوتی رہی وہ بکواس ہی کرتا رہا۔ نماز کے خاتمہ پر حضرت اقدسؑ کے واسطے لکڑی کا محراب (منبر) دھوپ میں اس طرف کی دیوار کے استھ رکھا گیا۔ ادھر گالی کھانے والے احباب کو اس پنڈت پر غصہ تھا۔ وہ اور مسجد کے اندر والے احباب کو بھی طیش آیا ہوا تھا۔ وہ پنڈت کی طرف مخاطب ہوکر جب کچھ بولنے لگے تو حضور انورؑ نے سب کو منع فرمایا اور کہا کہ عنقریب یہ سب مکان ہمارے قبضہ میں آرہے ہیں۔ یہ قادر مطلے خدا کا فیصلہ ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے جلد ہی ہم کو وہ وقت دکھادیا کہ وہ سب مکان ہمارے قبضہ میںآگئے۔ حضور انورؑ کی اس روز تقریر ’’قادیان کے آریہ اور ہم‘‘ تھی۔
    ۶۔ مغرب کی نماز کے بعد عام طور پر حضرت اقدسؑ مسجد مبارک کی شہ نشیں پر بیٹھ کر رونق افروز رہتے۔ احباب حضور انورؑ کے پائوں وغیرہ دباتے رہتے اور حضور انور کی پاک صحبت کا فیض عشاء کی نماز تک میسر ہوتا۔ حضور انورؑ عشاء کی نماز کے بعد اندرون خانہ تشریف لے جاتے۔ عام طور پر مکرم محترم ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحب سے انگریزی اخبار وغیرہ سنا کرتے۔ اور بڑے بڑے مسائل بھی زیر بحث آتے رہتے۔ ایک موقعہ پر مجھ کو یاد ہے کہ ہمارے ایک عرب بھائی جو شیعہ مذہب کے بڑے عالم تھے۔ قادیان میں تشریف رکھتے تھے۔ اور شیعہ مذہب پر شاید وہ ایک کتاب لکھ رہے تھے۔ اورعجیب عجیب نکات وہ اس محفل میں سنایا کرتے تھے۔ ایک دن انہوں نے یہ سنایا کہ دراصل شیعوں کے اپنے اصول کے مطابق تمام کی تمام ذریت ہی سادات کی ناجائز اولاد ٹھہرتی ہے۔ اس طرح کہ حضرت عمر فاروقؓ کو وہ غاصب کہتے ہیں اور غاصب کی تمام کمائی حرام ہے اور انہیں کے زمانہ میں بی شہر بانو مال غنیمت میں آئی تھی۔ جو حضرت امام حسین کے نکاح میں لائی گئی تھیں۔ تو ان کے ایمان کے مطابق جب غاصب کی تمام کمائی حرام ہوئی ہے تو وہ مال غنیمت بھی حرام تھا۔ تو گویا بی شہر بانو کا بھی نکاح بھی ناجائز تھا۔اور پھر جو اولاد ان سے ہوئی وہ بھی ناجائز ٹھہری۔ اس نکتہ سے حضرت اقدسؑ بہت محظوظ ہوئے اور تمام محفل میں عجیب خوشی کا سماں رو پذیر ہوا کہ شیعوں کے خلاف یہ کیسا عمدہ نکتہ نکالا گیا ہے۔
    ۷۔ ایک دفعہ صبح کے وقت سیرکے لئے بمعہ بہت سے اصحاب کے حضور انورؑ شمال کی طرف جارہے تھے اور میر قاسم علی صاحب دہلی سے آئے ہوئے بھی اصحاب میں شامل تھے تو حضور انورؑ کی خدمت میں واللہ اعلم کس صاحب نے (مجھ کو یاد نہیں رہا) عرض کیا کہ میر قاسم علی صاحب کچھ نظم بنا لائے ہیں اور سنانا چاہتے ہیں ۔ اس وقت ریتی چھلہ میں جو بڑا درخت بڑھ کا ہے اس کے قریب حضور انورؑ پہنچے تھے۔ جو حضور عالیؑ وہاں ہی شاید بڑھ کی جڑ پر بیٹھ گئے اور میر صاحب کو حکم ہوا کہ نظم سناویں۔ چنانچہ میر صاحب نے خوب بلند آواز سے اپنی نظم سنائی۔ جس سے تمام اصحاب بہت محظوظ ہوئے۔ ازاں بعد شاید پھر آگے بھی سیر کو گئے تھے۔ حضرت اقدسؑ اپنے سلسلہ کے شاعروں کو بھی دلجوئی فرمایا کرتے تھے۔ سیر کے وقت باہر سے آنے والے اصحاب کو ملنے کا اور باتیں کرنے کا موقعہ خوب مل جایا کرتا تھا۔ ایک دفعہ ایک عیسائی صاحب (شاید عیسائی عبدالحق نام تھا) کو کئی دن تک سیر کے موقعہ پر ہر روز اپنے سوالات پیش کرنیکا موقعہ دیا جاتا رہا اور حضورانورؑ سیر ہی میں مفصل جواب دیتے رہتے۔
    ۸۔ ایک جلسہ کے موقعہ پر ہماری لائل پور کی جماعت مدرسہ احمدیہ کے ایک کمرے میں فروکش تھی۔ اس جلسہ میںبوجہ امید سے زیادہ احباب کے آجانے پر ایک رات بہت سے مہمان بھوکے رہے۔ کیونکہ کھانے نے کفایت نہ کی۔ ہمارے لائل پوری دوستوں سے شاید دو تین نے کھانا نہیں کھایا تھا۔ حضرت اقدسؑ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سب حال بتایا گیا۔اور حضور انورؑ نے رات کے پچھلے حصہ میں ہی تاکیدی حکم صادر فرمایا کہ جلدی سے جلدی کھانا پکا کر جو دوست بھوکے رہے ہیں ان سب کو فوراً کھلایا جاوے۔ حضور انورؑ کو اس واقعہ سے بہت رنج ہوا۔ تمام مہمانوں میں یہ بات پھیل گئی کہ یہ واقعہ ہوا ہے اور سب کے ازدیاد ایمان کا موجب ہوا۔
    ۹۔ عام طور پر حضرت اقدسؑ جب باہر سے آئے ہوئے دوست واپسی کی اجازت طلب کرتے۔ تو بار بار اور جلدی جلدی آتے رہنے کی تاکید فرماتے۔ اور بعض وقت فرمایا کرتے ابھی اور ٹھہرو (ایسے اصحاب کو جن کے متعلق حضور انورؑ کو خیال ہوتا کہ وہ ابھی اور ٹھہرنے کی گنجائش رکھتے ہیں) گو یا دوستوں کو حضور انورؑ سے جدا ہونا بہت شاق گذرتا تھا۔ ہر ایک دوست کو رخصت ہونے سے پہلے مصافحہ کرنے کی تاکید ہوتی تھی۔ اور سب دوست مصافحہ کرکے اور اجازت حاصل کرکے واپس ہوا کرتے تھے۔ خواہ کتنی بھی دیر ہوجاوے۔ مصافحہ کرکے اجازت حاصل کئے بغیر جانا جہاں تک مجھ کو علم ہے کبھی کسی کا نہیں ہوتا تھا۔ بعض دوستوں کے ساتھ ایسا واقعہ بھی ہوا کہ مصافحہ کی باری بہت دیر سے آئی اور جب وہ روانہ ہوئے تو انہیں امید نہ تھی کہ وہ گاڑی کے وقت پہنچیں گے۔ لیکن الٰہی تصرف سے حضور انورؑ کی دعائوں کی برکت سے یہ واقعہ ہوا کہ گاڑی دیر سے بٹالہ پہنچی اور وہ گاڑی پر چڑھ گئے۔ ایک دفعہ خود میرے ساتھ یہ واقعہ ہوا کہ ہم دیر سے چلے اور اس روز یکہ بھی نہ ملا۔ اور ہم چند بھائی تھے۔ سب پیدل روانہ ہوئے۔ اور شاید ان دنوں چھ بجے شام کے قریب گاڑی بٹالہ آیا کرتی تھی۔ اس پر سوار ہونے کاخیال تھا۔ مگر وقت بہتکم معلوم ہوتا تھا۔ ہم دعائیں بھی کرتے اور خوب تیز رفتار چلتے۔ حتیٰ کہ کچھ راستہ دوڑتے بھی کاٹا۔ اللہ تعالیٰ نے خوب ہمت دی اور جب ہم تحصیل کے قریب والے حصہ بازار میں پہنچے تو دودھ والی دکان والے سے دریافت کیا تو اس نے کہا کہ ابھی گائوں نہیں آئی۔ دودھ پینے کا ابھی کافی وقت ہے۔ چنانچہ ہم نے (مجھ کویاد ہے) جلدی سے دودھ پیا اور اسٹیشن پر پہنچے ہی تھے جو گاڑی آگئی اور ہم آرام سے سوار ہوگئے یہ محض حضرت اقدسؑ کی توجہ کی برکت تھی۔ باتیں تو بہتیری ذہن میں آتی ہیں۔ مگر یادداشت کام نہیں دیتی۔ لہذا اسی قدر پر اکتفا کرتا ہوں۔
    خاکسار۔ شیخ اصغر علی
    بقلم خود
    ۳۸۔۲۔۴

    روایات
    مہر دین ولد رحیم بخش سکنہ قادیان حلقہ مسجد (۰۰۰) قادیان
    سن بیعت : ۱۹۰۲ء
    سن زیارت: ۱۹۰۲ء
    ہم حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں مدرسہ احمدیہ کے لئے چھپڑ سے مٹی لایا کرتے تھے اور چونکہ اس زمانہ میں مرزا نظام الدین حضرت کا سخت مخالف تھا۔ اس لئے وہ مجھے اور میرے بھائی کو مارا کرتا تھا۔ اور مٹی کھودنے سے منع کیا کرتا تھا۔ چنانچہ اس پر جب ہم حضور سے عرض کرتے کہ کوئی دوسری جگہ لے دیں تو حضور ایسا ہی کرتے۔ اس زمانہ میں مٹی کے مختار حضرت نانا جان (یعنی میر ناصر نواب صاحب) میر محمد اسماعیل ‘ میرمحمد اسحاق کے والد بزرگوارؓ) ہوا کرتے تھے اور مرزا نظام الدین ہم سے بسا اوقات ٹوکریاں چھین لیتا تھا۔ اس پر حضور اور نئی ٹوکریاں خرید دیتے تھے۔
    ۲۔ مینارۃ المسیح کی بنیاد رکھنے سے قبل ہم بھی بنیاد کیلئے گڑھا کھودتے تھے۔ چنانچہ جب ہم اس کے اندر ہوتے تو حضور ہمیں بسا اوقات کوئی پھل وغیرہ لاکر پھینکتے جیسے لکاٹھ (لوکاٹ) بیر‘ گنڈیریاں۔
    ۳۔ حضور بٹراں (موضع بٹرھ) کی جانب سیر کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ اور حضور کے ساتھ اکثر شیخ یعقوب علی صاحب (عرفان ) ہوتے تھے اور حضور کی تیز رفتاری کے باعث ہم بھی کبھی دوڑ بھاگ کر ساتھ ہولیتے۔محض خدا کے فضل سے حضور کے مزار مبارک کے بنانے کا موقعہ بھی ملا ہے۔
    خاکسار
    مہر دین ولد رحیم بخش قادیان

    روایات
    مرزا قدرت اللہ ولد مولوی ہدایت اللہ صاحب
    مصنفہ سہ چرخیاں‘ پنجابی ۔ کوچہ چابک سواراں لاہور
    سکنہ محلہ چابک سواراں لاہور
    حال محلہ دارالفضل قادیان
    سن بیعت : ۱۹۰۲ء
    سن زیارت : ۱۹۰۲ء
    بندہ نے مسجد اقصیٰ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پربیعت کی تھی اور چند آدمی اور بھی میرے ساتھ تھے۔ جنہوں نے حضور کی بیعت کی تھی۔ غالباً عصر کا وقت تھا۔
    ۱۔ پہلا واقعہ۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے غالباً ۱۹۰۲ئ؁ یا ۱۹۰۳ئ؁ کا واقعہ ہے کہ جلسہ سالانہ پر جو حضرت میاں بشیر احمد صاحب کے مکان کے نیچے ہورہا تھا اور جس میں تقریباً ستر ۷۰ یا اس کے قریب قریب نفوس جمع تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جماعت کو کچھ نصائح فرما رہے تھے کہ ایک گودڑی پوش فقیر مجلس میں سے اٹھا اور قسم کھا کر کہاکہ میں نے ان کانوں سے فرشتوں کی آواز سنی ہے اور انہوں نے کہاکہ یہ محض (اشارہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف کرکے) خداتعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اور یہ خلیفتہ المہدی ہے۔ اور مجھے دوسرے موقعہ پر جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا کہ یہ میرا خلیفہ ہے۔ اسکی آواز میں بڑا جوش او رجذبہ تاھ۔ اور تمام مجلس خاموشی سے سن رہی تھی۔ اس کے بعد وہ شخص بیٹھ گیا۔ میری طبیعت پر اس کا بہت اثر ہوا کہ ایسے ایسے نیک بندے خدا کے موجود ہیں۔ جن پر اللہ تعالیٰ اپنے پیارے کی سچائی ظاہر کررہا ہے۔
    ۲۔ ایک دفعہ انہیں دنوں کا واقعہ ہے جبکہ میں اور سید دلاور شاہ صاحب لاہور سے بطور مہمان مہمانخانہ میں اترے ہوئے تھے کہ اچانک شیخ حامد علی صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ملازم تھے۔ آئے۔ اور کہا کہ حضڑت صاحب نے فرمایا ہے کہ جتنے آدمی مہمانخانہ میں ہیں۔ سب کو اپنے ساتھ بلا لائو۔ اس وقت ہم ہی صرف دو مہمان تھے اور دونوں اس کے ساتھ ہوئے اور دل میں نہایت خوشی محسوس کی کہ حضرت صاحب نے بلایا ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ یہ لوہے کا صندوق ہے۔ اسکو اٹھا کر دوسرے کمرہ میں لے چلو۔ ہم چار آدمی اس صندوق کو دھکیلنے والے تھے۔ ہم دونوں اور حامد علی شاہ صاحب اور ایک اور شخص ۔ چنانچہ صندوق دوسرے مقام پر ہم نے رکھ دیا اور حضور سے مصافحہ کرکے خوشی خوشی مہمانخانہ کو واپس آگئے۔ یہ غالباً ۱۹۰۳ء ؁یا ۱۹۰۴ئ؁ کا واقعہ ہے۔
    ۳۔ ایک دفعہ جب کہ میں مہمان خانہ میں ٹھہرا ہوا تھا اور غالباً کسی تہوار کی چھٹی ہونے کی وجہ سے دفتر میں رخصت تھی۔ اور میں قادیان آیا تاکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کروں۔ (مجھے حضور کا چہرہ نہایت ہی پیارا معلوم ہوا کرتا تھا) چنانچہ یہ بھی مجھے یاد ہے کہ خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم کے خسر جناب خلیفہ رجب دین صاحب بھی آئے ہوئے تھے اور موجودہ پرانے مہمان خانہ کے سامنے میاں محمد یامین کی دکان سے لیکر مہمان خانہ کے سامنے تک صرف سفید زمین یعنی ایک اونچا تھڑا تھا۔ کوئی دکان اس وقت نہ تھی۔ اس تھڑے پر دیگ میں پلائو پک رہا تھا۔ میں مہمان خانہ سے باہر نکلا اور جناب خلیفہ رجب دین صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے حضور مسیح موعود علیہ السلام سے جانے کی اجازت لے دیں۔ چونکہ میرے والد صاحب کے دوست ہونے کے سبب میرے بھی بہت واقف تھے انہوں نے کہاکہ کھانا تیار ہورہا ہے۔ یہ کھا کر جائیں۔ میں نے کہا کہ گاڑی کا وقت تنگ ہورہا ہے۔ اس لئے میں نہیں ٹھہر سکتا۔ اب حضرت صاحب سے مجھے جانے کی اجازت لے دیں۔ چنانچہ وہ گئے اور حضرت صاحب کی طرف سے پیغام لائے۔ کہ انہوں نے فرمایا ہے کہ آپ کھانا کھا کر جاسکتے ہیں۔ میں نے پھر حضور کی خدمت میں گھر میں کہلا بھیجا۔ کہ چونکہ گاڑی کا وقت تنگ ہے۔ اس لئے بمشکل گاڑی پر پہنچ سکتا۔ اس لئے مجھے اجازت دی جائے۔ حضور نے کہلا بھیجا کہ خواہ کچھ ہی ہو کھانا کھا کر جانا ہوگا۔ چنانچہ میں نے حضور کے ارشاد کی تعمیل کی۔ میرے علاوہ ایک دو مہمان اور بھی تھے۔ چنانچہ کھانا کھانے کے بعد ہم یکہ پر سوار ہوئے۔ جب ہم قادیان اور بٹالہ کے درمیان پہنچے تو زبردست بارش اور آندھی آئی۔ بارش اس قدر زور کی تھی کہ الامان۔ اندھیری کی تندی نے یکہ کی اوپر کی چھتری کو کہیں دور پھینک دیا۔ اور ہم سب سر سے پائوں تک پانی میں شرابور تھے۔ یکہ والے نے کہاکہ ایسے طوفان میں یکہ کا گاڑی تک بروقت پہنچنا ناممکن ہے۔ ہم نے کہا اچاھ جو ہو سو ہو۔ چنانچہ راستہ میں ہی گاڑی کی روانگی کا وقت ہوگیا۔ ہم سٹیشن پر گاڑی کی روانگی کے وقت کے ایک گھنٹہ بعد پہنچے۔ جاکر معلوم ہوا کہ گاڑی لیٹ ہے اور مقام سرنہ پر لائن سے اتر گئی ہے۔ ہم نے خداتعالیٰ کا سکریہ ادا کیا اور گاڑی کے آنے پر بخریت لاہورپہنچ گئے۔ یہ محض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکت اور دعا کی وجہ سے ہوا۔
    یہ مختصر واقعہ پہلے بھی الفضل میں شائع ہوچکا ہے۔
    ۴۔ غالباً ۱۹۰۲ء کا واقعہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صبح سیر کے لئے تشریف لے گئے۔ ان دنوں میں جہاں بورڈنگ اور سکول کی عمارتیں ہیں۔ صرف لمبا لمبا گھاس اگا ہوا تھا ۔جب ہم اس گائوں کے بیچ میں پہنچے۔ جو نواں پنڈ کے نام سے مشہور ہے۔
    ہمارے ساتھ خلیفہ رجب دین صاحب‘ حافظ حامد علی صاحب اور میرے والد صاحب‘ مولوی ہدایت اللہ صاحب مرحوم اور چند بزرگ ساتھ تھے۔ چنانچہ خلیفہ رجب دین صاحب نے چونکہ میں ذرا پیچھے تھا۔ مخاطب کرکے کہاکہ آپ نے کچھ دیکھا ہے ۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ فرمانے لگے کہ حضرت صاحب نے اس مقام پر جہاں سے کہ ریلوے لائن گزرے گی۔ اپنے سوٹا سے نشان کردیا ہے۔ چنانچہ کئی سالوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے مسیح موعود علیہ السلام کی زبان مبارک سے نکلی ہوئی باتوں کو پورا کیا اور ہم نے خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کا مشاہدہ کیا۔ جو ہمارے لئے ازدیاد ایمان و عرفان کا موجب ہے۔
    مرزا قدرت اللہ
    ولد مولوی ہدایت اللہ مرحوم

    روایات
    عبداللہ خاں ولد عبدالغفار خاں سکنہ سید گاہ ۔خوست
    حال قادیان دارلامان
    سن بیعت : ۱۹۰۲ء تحریری
    سن زیارت : ۱۹۰۵ء
    میں اپنے والد کے ساتھ ۱۹۰۵ء کے قریب قادیان آیا تھا۔ میں پنجابی اور اردو نہیںجانتا تھا۔ کبھی کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب سیر کو جاتے تو میں بھی ساتھ جاتا۔حضور اقدس ہمیشہ بشاش اور خندہ پیشانی کے ساتھ رہتے تھے۔ ایک دفعہ حضرت اقدس بٹالہ تشریف لے گئے اور آپ پینس یا پالکی پر سوار تھے۔ میں ساتھ ساتھ پنکھا کرتا رہا۔ آپ قرآن کریم ایسی خوش الحافی سے تلاوت فرماتے تھے کہ آپ کی آواز غیبی آواز معلوم ہوتی تھی۔ مسجد مبارک میںایک چھوٹا کمرہ تھا جس میں چوکھاٹ بھی تھی۔ آپ نماز کے بعد جب تشریف رکھتے تھے تو میں دباتا تھا۔ آپ کے پاس جو بھی چھوٹا یا بڑا آدمی زیارت کیلئے آتا تھا ۔ آپ اس سے خندہ پیشانی اور نہایت عزت کے ساتھ پیش آتے۔ دباتے وقت میں نے آپ کے موسم گرما میں بھی پاجامہ اور کرتہ گرم دیکھا اور پنڈلیوں پر اگر ہاتھ مس کرتے تو وہ برف کی طرح ٹھنڈی معلوم ہوتیں۔ یہ مئی جون کا مہینہ تھا۔ کیونکہ میں زبان نہیں سمجھتا تھا۔ اس لئے زبانی سنی ہوئی بات یاد نہیں۔دیکھی ہوئی یاد ہے۔ والسلام
    خاکسار عبداللہ افغان مورخہ ۹ فروری ۱۹۳۸ء

    روایات
    ڈاکٹر مرزا محمود بیگ ولد مرزا محمد بیگ صاحب مرحوم
    سکنہ قادیان ضلع گورداسپور
    سن بیعت : ۱۹۰۵ء
    سن زیارت : ۱۹۰۵ء
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں میرا بچپن کا زمانہ تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مسجد مبارک ابھی تیار نہیں ہوئی تھی۔ دفترمحاسب والی جگہ ابھی مسجد میں شامل ہوئی تھی۔ بلکہ اس جگہ پرایک ٹوٹا ہوا سا مکان تھا۔ جس میں خراس چکی کے نشان موجود تھے۔ مسجد مبارک صرف کوچہ بندی کے اوپر ایک بڑے سے کمرے کی صورت میں تھی اور مسجد مبارک کے سامنے والی دکانوںکی جگہ پر ایک چبوترا تھا۔ اور اس پر ایک بڑ کا درخت تھا۔ میں اور میرے ہمجولی اکثر اس جگہ پر کھیلا کرتے تھے۔ مگر وہ بھی بابا جی مرحوم مرزا نظام الدین صاحب کی غیر حاضری میں۔ کیونکہ ان سے ہم بہت ڈرا کرتے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکثر اوقات مسجد مبارک کی چھت پر چہل قدمی فرمایا کرتے تھے۔ وہ ہمارے سامنے تشریف لاتے تو ہم ان کوسلام کرتے اور آپ مسکراتے اور ہم کو کبھی پیسہ کبھی دو پیسہ دیا کرتے۔ ہم ان کو سلام اس غرض سے کرتے تھے اور آپ ہمارے اس غرض کو سمجھ جاتے اور مسکراتے۔ اس کے علاوہ یہاں پر ایک کسمیری بوڑھی عورت اُپلے بنایاکرتی تھی۔ جسے ہم ’’دادی‘‘ اماں کے نام سے پکارا کرتے تھے۔ اس سے بھی عموماً ہم پیسہ لینے کی غرض سے پوچھا کرتے کہ بابا جی (حضرت مسیح موعود علیہ السلام) اس وقت کہاںپر ہیں۔ تمام معلومات حاصل کرکے ہم اس انتظار میں رہتے کہ کب حضور ٹہلنے کے لئے تشریف لاویں گے۔ خصوصاً کسی میلہ کے موقعہ پر ہم کو اور دو چار چار آنہ مل جاتے۔ اس لئے ہم کو میلہ مرزا کمال الدین صاحب مرحوم کو میلہ قدماں کا بہت انتظار رہا کرتا تھا۔
    ان دنوں نواب محمد علی خاں صاحب اپنے مکان واقع اندرون شہر میں رہا کرتے تھے۔ غالباً وہ قادیان میں تازہ تازہ تشریف لائے ہوئے تھے۔ نواب صاحب کے پاس ایک پہاڑی بکرا رکھا ہوا تھا۔ جو اکثر نوارد لوگوں یا چھوٹے چھوٹے بچوں کو مارنے دوڑا کرتا تھا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ اس نے ہم پر حملہ کردیا۔ ہم ڈر کر دوڑے اور چبوترے سے بڑ پر چڑھ گئے اور وہ دیر تک نیچے کھڑا رہا۔ اتفاق سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس واقعہ کو دیکھ رہے تھے۔ حضور نے اسی روز نواب صاحب کے ملازمین کو کہلا بھیجا کہ یا تو بکرے کو باندھ کر رکھوادیں یا کسی کو دیدو۔ غرض یہ کہ حضورکی مہربانی سے ہمیں اس دن سے اس بلا سے نجات ہوگئی۔ اور ہم لوگ روزانہ کھیلنے لگے۔
    ڈاکٹر مرزا محمود بیگ






    روایات
    محمد علی ولد نظام الدین سکنہ ننگال خورد متصل قادیان
    حال ننگال خورد قادیان۔ دفتری۔ دفتر بیت المال قادیان
    سن بیعت : ۱۹۰۶ئ؁
    سن زیارت : ۱۹۰۶ئ؁
    درحقیقت میں پیدائشی احمدی ہوں۔ میرے والد صاحب مرحوم حضرت صاحب سے بہت عقیدت رکھتے تھے۔ میں ۷۔۸ سال کا تھا۔ جب حضرت مسیح موعود ؑ علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ اور حضور ممدوح جب سیر کو ہمارے گائوں کی طرف تشریف لے جایا کرتے تو میں بھی ہمراہ ہوجایا کرتا تھا۔ حضور علیہ السلام اس قدر تیز رو تھے کہ ہم دوڑ دوڑ کر حضور سے ملتے تھے۔ حضور کی گفتگو تو مجھ کو یاد نہیں۔ مگر حضور کے الہامات و اشتہارات کی تقسیم کو میں عموماً دیکھا کرتا تھا۔
    محمد علی
    بقلم خود
    ۱۹۳۸۔۲۔۸


    روایات
    عبدالرحمن طبیب ولد عبداللہ فضل دین
    سکنہ قادیان دارلامان
    سن بیعت : ۱۹۰۲ئ؁
    سن زیارت : ۱۹۰۸ئ؁
    میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بچشم خود دیکھا ہے۔
    حکیم عبدالرحمن
    ولد عبداللہ فضل دین
    قادیان دارالامان



    روایات
    مرزا احمد بیگ ولد مرزا بڈھا بیگ
    سکنہ قادیان۔ حال قادیان دارالامان
    سن بیعت : ۱۸۸۹ئ؁
    سن زیارت : ۱۸۸۰ئ؁ تخمیناً
    شروع میں تو حضرت اقدس اندر ہی تشریف رکھتے تھے۔ پھر ان کا بڑا بھائی غلام قادر جو اس وقت حیات تھا۔ اندر سے چار روٹیاں صرف اور کچھ سالن کھانے کے لئے بھیجا کرتا تھا۔ تو اس وقت حضرت اقدس کے پاس چار ہی سائل آجاتے تو حضور چاروں کو ہی ایک ایک روٹی دے دیتے اور خود صرف چاء کی پیالی پی کر گذارہ کرلیتے۔ اور کوئی روٹی نہ کھاتے۔ پھر میرے بھائی مرزا محمد اسماعیل صاحب کو فرمایا کہ ایک کتا ب چھپوانی ہے۔ اور میرے پاس پیسہ نہیں۔ اس لئے تم اور میاں جان محمد دنیا نگر جاکر چندہ لائو۔ ان دونوں نے جاکر چندہ لایا اور پھر کتا ب براہین احمدیہ امرتسر میں چھپوائی۔ چھاپے خانہ کا مالک پادری رجب علی تھا۔ جس کے پاس سے چھپوائی۔ پھر اس کتاب کی قیمت غرباً سے صرف ۵ روپیہ لی اور بڑوں سے زیادہ۔ یہ کتاب میں نے اور میرے بھائی مرزا محمد اسماعیل صاحب نے چھپوائی ۔ قادیان پریس نہیں۔
    پھر پنڈت لیکھرام کی پیشگوئی کا الہام مجھ کو حضرت اقدس نے بتایا۔ اس وقت ہم دونوں بھائی موجود تھے۔ اور یہ پیشگوئی اس طرح پوری ہوئی۔ اور پورا ہونے کے بعد قادیان میں انگریز افسرآئے ۔ تفتیش کے لئے۔ اور پولیس کے آدمی بھی ہمراہ تھے۔ انہوں نے حضرت اقدس کے مکان کی تلاشی لی۔ مگر کوئی چیز قال اعتراض نہ ملی۔ اور وہ واپس سلام کرنے کے بعد چلے گئے۔ مرزا امام دین و نظام دین دونوں نے بڑی مسجد کے راستہ میں دیوار بنا کر نماز جانے کا راستہ بند کردیا۔ پھر دیوار کا مقدمہ شروع ہوا تو فیصلہ سے اس دیوار کو گرادیا گیا۔ محمد بخش سب انسپکٹر پولیس نے کہا کہ مرزا صاحب کو آمدن زیادہ انکم ٹیکس لگنا چاہئے۔ پھر اس ٹیکس کا مقدمہ پٹھان کوٹ ہوا۔ تو اس میں فیصلہ ہوا کہ کوئی ٹیکس نہیں لگنا چاہئے۔
    حضرت اقدس کو الہام ہوا کہ محمد بخش کو ایک ایسا پھوڑا ہوگا کہ وہ اسی پھوڑے سے مر جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ پھوڑۃ پھوڑا اس کے بازو پر نکلے گا۔ جس بازو سے اس نے ہمارے خلاف ٹیکس کے لئے درخواست دی تھی۔
    قادیان کے آریہ حضرت صاحب کے بہت مخالف تھے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اور دیگر انبیاء کو بھی گالیاں دیتے تھے۔ حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ ہم ان کی گالیوں کا جواب نہیں دے سکتے۔ اور خدا ان سے ان کی بکواس کا ضرور بدلہ لے گا۔ چنانچہ بدگو طاعون سے ہلاک ہوگئے۔
    ملاوامل کو اسکے باپ نے گھر سے نکال دیا۔ ملاوامل کو تپ دق ہوگئی تھی۔ حضرت اقدس نے ملاوامل کو اپنے پاس رکھ لیا۔ اور ایک نوکر بھی اس کی خدمت وغیرہ کے لئے دیدیا۔ ملا وامل جب اچھا ہوگیا تو پھر اس کا باپ اسے لے گیا۔ حضرت اقدس کے حکم سے مطب خلیفہ اولؓ کی جگہ پر بھرتی ڈالی جاتی۔ مگر جب کام شروع مٹی کا ہوتا تو ہندو اور سکھ ٹوکریاں اور کہیاں زبردستی چھین کر لے جاتے۔ اور جب اس زبردستی کی شکایت حضور کے پاس جاتی تو حضور فرماتے جانے دو۔ اور لے آئو۔ اور کام شروع کرو۔ اسی طرح ہندو سکھوں نے کئی دفعہ چیزیں چھین لیں۔ مگر حضور نے ہر بار صبر کرنے اور خاموش رہنے کی ہدایت فرمائی۔
    نشان انگوٹھا
    مرزا احمد بیگ قادیان


    روایات
    عبدالقادر مہتہ ابن قادیانی ولد بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی
    سکنہ قادیان دارالامان
    سن بیعت : ۱۹۰۴ء پیدائشی احمدی
    سن زیارت : ۱۹۰۸ء
    مجھے خوب یاد ہے کہ میں نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بارہا زیارت کی ہوئی ہے۔ نہ صرف زیارت بلکہ مجھے حضور علیہ السلام کی معیت کا بھی شرف حاصل ہے۔ جس کی تفصیل عرض خدمت ہے۔
    ایک زمانہ میں (یہ زمانہ ۱۹۰۸ء کا ابتدائی زمانہ یعنی فروری۔ مارچ۔ اپریل کا ہے جیسا کہ میرے والدین نے مجھے بتلایا ہے) حضور علیہ السلام صبح کی سیر کے لئے سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا کو لیکر قادیان کی جانب مشرق کی طرف لے جایا کرتے تھے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر حضور علیہ السلام کی خادمات بھی ساتھ ہولیا کرتی تھیں۔میرے والدین اس زمانہ میں سیدنا حضرت نور الدین اعظم رضی اللہ عنہ کے مکان کے ایک حصہ میں بود و باش رکھتے تھے۔ جو (موری دروازہ) شارع دارالانور پر (حویلی حجاماں کے متصل سڑک س یکسی قدر ہٹ کر واقع تھا) میری والد مکرمہ مجھے دروازہ کے باہر بٹھا کر کہدیا کرتی تھیں کہ جب حضرت صاحب تشریف لاویں تو مجھے بتادینا۔
    چنانچہ میں دروازہ کے سامنے حضور علیہ السلام کے انتظار میں بیٹھا رہتا اور جب حضور تشریف لاتے میں جھٹ شر مچاتا کہ بعض اوقات حضور علیہالسلام و سیدۃ النساء حضرت ام المومنینؓ میری اس حرکت کو دیکھ کر مسکرایا کرتے۔ میری والدہ مکرمہ میری آواز پر فوراً باہر آجایا کرتیں اور حضور کے ساتھ سیر کو خود بھی جاتیں۔ اور میں بھی ساتھ ہولیتا۔ دوران سیر میں حضور کے آگے کبھی پیچھے دائیں کبھی بائیں چلتا تھا۔ کبھی کبھی حضورؑ میرے سر پر ہاتھ رکھ کر پیچھے آگے آگے چلاتے جایا کرتے اور کبھی ایک طرف بھی کردیا کرتے۔ حضور اکثر حضرت ام المومنینؓ سے باتیں کرتے جایا کرتے تھے اور دوسری عورتیں حضور کے پیچھے پیچھے چلا کرتی تھیں۔
    حضور قادر آباد (نواں پنڈ) متصل قادیان کی طرف تشریف لے جایا کرتے تھے۔ گائوں کے جنوب مشرق کی طرف ایک چھوٹی سی کچی مسجد کے پاس جاکر کچھ عورتیں ٹھہر جاتیں۔ اور کچھ تھوڑی دور تک اور ساتھ ساتھ چلتیں۔ آگے چل کر بند میدان ریتلی ا ور اونچی زمین میں جاکر جہاںایک لڑھی کا برج سا بنا ہوا کرتا تھا اور ایک بڑا پتھر رستہ کے کنارہ پر (جو کہ گائوں کی حد بندی کیلئے لگا ہوتا ہے) جو کہ اب بھی غالباً موجود ہے۔ اس کے آس پاس ٹھہر جایا کرتے۔ کبھی بیٹھ جایا کرتے اور کبھی حضرت ام المومنین کے ساتھ علیحدہ ٹہلا کرتے۔
    قادر آباد (نواں پنڈ) سے نکل کر راستہ میں ریت شروع ہوجاتی تھی۔ میں اس ریت میں کھیلتا کھیلتا آگے آگے ہوتا۔ حتیٰ کہ مڑھی کے برج کے پاس جاکر اس کی بناوٹ سے ڈر کر انتظار میںٹھہر جاتا کہ حضور ساتھ مل جاتے۔ کہ پھر چند قدم ساتھ ساتھ چلتا کہ وہ پتھر (جو کہ گائوں کی حد بندی کے لئے لگا ہوتا ہے) آجاتا۔ اور حضور فرماتے۔ بچے اذانیں دو۔ میں آگے آگے دوڑتا ہوا اس پتھر پر چڑھ کرخوب زور سے اللہ اکبر ‘ اللہ اکبر کہتا۔
    کچھ دیر بعد حضور واپس آجایا کرتے۔ میں والدہ سمیت حضور کو گھر کی سیڑھیوں تک پہنچا کر واپس آجایا کرتا۔
    خادم
    عبدالقادر محصتہ ابن قادیان ۳۸۔۲۔۱۹

    نوٹ : اس رجسٹر کی ایک دفعہ نظر ثانی کی جاچکی ہے۔ حتی الامکان نقل مطابق اصل ہے۔
    فقط
    خاکسار عبدالقادر جامع روایات
    ۳۹۔۱۲۔۱۶
     
  3. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    روایات
    چوہدری باغ محمد صاحب سکنہ شاہ پور ضلع گورداسپور
    ۱۔ ایک دفعہ جلسہ سالانہ پر مورخہ ۲۷ دسمبر ۰۰ ۱۹؁ء کو ایک دوست عطامحمدنمبردار موضع رتڑچھتڑ نے رمزدار خط تحریر کر دیا اور لفافہ میں بند کر دیا۔ اس روز بادل تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیت الدعا میں خلوت میں چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے اور خوا جہ کمال الدین صاحب دروازے پر کھڑے تھے۔ ہم چار پانچ کس تھے۔ خاکسار باغ محمد و فقیرمحمد صاحب و چوہدری پیراں دتا صاحب و غلام نبی صاحب و حکیم اللہ دتا صاحب۔ ہم نے خوا جہ صاحب سے کہا کہ ایک شخص نے ہم میں سے بیعت کرنی ہے اور یہی کام ہے۔ خوا جہ صاحب نے فرمایا کہ بیعت نہیں ہو گی کیونکہ حضرت صاحب کی طبیعت علیل ہے۔ ہم نے بآواز بلند عرض کیا کہ ہم دور سے آئے ہیں اور پھر واپس ہونے لگے۔ پھر خوا جہ صاحب نے دوبارہ کہا کہ آ جائو شاید حضرت صاحب نے ہماری آواز سن لی ہو۔ ان کے کہنے پر معلوم ہوتا ہے دوبارہ بلایا گیا۔
    ہم خاکساران السلام علیکم کہہ کر بیٹھ گئے اور خاکسار نے عطامحمد صاحب نمبردار موصوف کا خط پیش کر دیا۔ تو خط پکڑ کر بیٹھ گئے اور تکیہ کے ساتھ ڈھاسنا لگا کر پڑھا۔ پڑھ کر فرمانے لگے۔ لوگ مجھ سے کیا پوچھتے ہیں۔ ہمارا حال تو ایسا ہے۔
    یکے پرسید ازاں گم کردہ فرزند
    کہ اے روشن گہر پیرے خردمند
    زمصرش بوئے پیراہن شمیدی
    چرا درچاہ کنعانش نہ دیدی
    بگفت احوال ما برق جہانست
    دم پیدا و دیگر دم نہاں است
    گہے بر طارم اعلیٰ نشینم
    گہے برپشت پائے خود نہ بینم
    فرمایا کبھی ہم آسمان کی چوٹی پر بیٹھتے ہیں اور کبھی ہم کو پائوں کے نیچے کچھ نظر نہیں آتا۔ لوگ مجھ سے کیا پوچھتے ہیں:۔
    ۲۔ ۲۷ تاریخ جلسہ سالانہ پر بہت دوست گئے تھے۔ آپ نے مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھائی اور پھر گھر کی طرف مسجد مبارک میں تشریف لائے۔ تیسری پوڑھی پر اس وقت چڑھتے تھے تو فرمایا اس بیچارے کی آہ آسمان پر گئی جس کے بارے میں مجھے الہام ہوا۔ ’’اے نبی بھوکوں کو طعام دو‘‘۔ تین دفعہ کے قریب آپ نے فرمایا۔
    ۳۔ خاکسار نے حضرت صاحب کو کہا مجھے کوئی اسم پڑھنے کیلئے فرمایا جاوے تو حضرت صاحب نے فرمایا تم لاحول پڑھا کرو۔
    ۴۔ ایک دفعہ حضرت صاحب کی خدمت میں جا کر میں نے عرض کی کہ برادری ہم کو بہت تکلیف دے رہی ہے۔ مسجد میں نمازیں پڑھنے نہیں دیتی۔ آپ نے فرمایا کہ گھر میں پڑھ لیا کریں۔ یاد رکھو جس نے سچے دل سے بیعت کر لی ہے وہ اکیلا نہیں رہے گا۔ جلسہ ۱۹۰۷ء پر وعظ کرتے ہوئے فرمایا وہ جو قرآن شریف میں ذوالقرنین کا بیان ہے وہ مجھ سے مراد ہے۔
    روایات
    گلاب خاں صاحب پنشنر شہرسیالکوٹ
    چندایک باتیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت کی جو اب تک میرے یاد ہیں محفوظ رہ گئیں میں عرض کرتا ہوں اور باقی بہت سی اب بعد ۴۵-۴۶ سال گذر جانے کے میرے دل سے محو ہو چکی ہیں ان کو بحوالہ خدا کرتا ہوں۔
    میں نے ۱۸۹۲ء میں بذریعہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم بیعت کی تھی۔ جس کو اب ۴۵،۴۶ سال کا عرصہ ہونے کو ہے اور نیز میرا نام منارۃ المسیح پر بھی کندہ ہے۔ بہرحال جو مجھے اب تک یاد ہے بیان کرتا ہوں۔
    اول قریباً۱۸۹۳ ؁ء کا واقعہ ہو گا۔ سال اچھی طرح یاد نہیں رہا ۔ تاہم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام دسمبر کے جلسہ موقع پر مغرب کی نماز پڑھا کر اس مکان میں بیٹھے ہوئے تھے جس کی دیوار مرزا نظام الدین وغیرہ کے مکان سے ملتی تھی۔ اور لوگ بھی وہاں موجود تھے۔ اسی دن مرزا نظام الدین وغیرہ کے ہاں لڑکا تولد ہوا تھا اور ڈھولک بڑے زور شور سے بج رہی تھی۔ کان بیٹھے جاتے تھے۔ کسی نے احباب میں سے عرض کیا کہ حضور ڈھولکی اس زور سے بج رہی ہے کہ کچھ سنائی نہیں دیتا۔ حضرت اقدس فرمانے لگے کہ مجھے تو اس ڈھولکی سے رونے کی آواز آ رہی ہے۔ چنانچہ قدرت نے ایسا سامان بنا دیا کہ صبح ہوتے ہی وہ لڑکا فوت ہو گیا ۔ اور پھر جس جوش خوشی میں وہ ڈھولک بجا رہے تھے اس سے کہیں زیادہ رونے اور آہ و زاری کرنے لگے۔ خدا نے ایک معجزہ حضرت اقدس کے ہاتھ سے اسی وقت ظاہر فرمایا۔
    دوسرا واقع میرا اپنا ہے۔ ۹۵-۱۸۹۴ء ہو گا یا کم وبیش۔ مہینہ اپریل کا تھا اور جمعہ کا دن تھا۔ لوگ جمعہ پڑھنے کے لئے مسجد اقصیٰ میں جمع تھے۔ حضرت اقدس اور حکیم مولوی نورالدین صاحب بھی وہاں موجود تھے۔ لوگ قریباً دو سو تھے۔ مجھے نماز ہی میں سخت بخار ہو گیا جس سے مجھے بہت تکلیف محسوس ہوئی تھی۔ مولوی عبدالکریم صاحب کو چونکہ مجھ سے بہت محبت تھی ان سے رہا نہ گیا۔ حضرت اقدس کے قریب آ کر عرض کی گلاب خاں (یعنی اس احقر) کو بخار ہو گیا ہے۔ جس سے بہت تکلیف ہے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا تھوڑاٹھہرو۔ تھوڑی دیر گزرنے کے بعد پھر عرض کی۔ پھر حضور نے فرمایا جلسہ برخاست ہونے دو۔ تھوڑی دیر میں جلسہ برخاست ہو گیا۔ اور حضرت اقدس اٹھ کر تشریف لے گئے اور میں وہاں ہی مسجد میں رہا۔ جلدی سے مجھے حضور نے دوائی لا کر دی یا بھیج دی یہ مجھے یاد نہیں۔ دوائی کے استعمال کے تھوڑی دیر بعد میرا بخار بالکل اتر گیا کہ گویا مجھے بخار ہوا ہی نہیں تھا۔ یہ صریح میں نے اور دیگر لوگوں نے اسی وقت آن کی آن میں دیکھا۔
    تیسری بات جو اب میں لکھنے لگا ہوں اس وقت یا اس سال کی ہے جس سال آپ کی کتاب ’’آئینہ کمالاتِ اسلام‘‘ چھپ رہی تھی۔ اصل بات یہ ہے ۔ سب احباب جو اس جلسہ پر آئے ہوئے تھے اس کچے مہمانخانہ میں جو برلب ڈیک بنا ہوا تھا کھانا کھانے کی خاطر جمع ہوئے۔ دوپہر کا کھانا تھا۔ مہمان کوئی دو اڑھائی سو ہوں گے۔ چنانچہ کھانا دسترخوان پر سب کے آگے رکھا تھا۔ اتفاق سے میں بالکل حضرت اقدس کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ابھی کھانا احباب نے شروع نہیں کیا تھا کہ اتنے میں مولوی عبدالکریم صاحب نے حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کی کہ حضور اگر اس وقت محمود کی آمین بھی تیار ہو جائے تو کیا ہی اچھا ہو۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ کوئی کھانا نہ کھائے میں ابھی محمود کی آمین بنا کر لاتا ہوں۔ چنانچہ حضرت اقدس اندر تشریف لے گئے اور نہایت ہی قلیل عرصہ میں محمود کی آمین بنا کر لے آئے ۔ ابھی کھانا بھی ٹھنڈا نہ ہوا تھا۔ کھانا کھانے سے پیشتر مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے وہ کلام لوگوں کو سنا دیا۔ آپ خیال فرما سکتے ہیں کہ اتنے قلیل عرصے میں ایسا فصیح و بلیغ کلام سوائے اللہ تعالیٰ کی تائید کے کونسا انسان تیار کر سکتا ہے۔ اس کے بعد لوگوں نے کھانا کھایا۔
    ایک اور بات جو میں نے اپنے ایک دوست سے سنی جس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حضرت اقدس کس قدر رحیم و کریم تھے اور اپنے معمولی مرید کی کس قدر عزت افزائی فرماتے تھے۔ واقع یوں ہے کہ مسمی مستری حسن دین صاحب مرحوم ساکن میانہ پورہ سیالکوٹ جو بہت ہی نیک آدمی تھے اور جھوٹ بالکل نہیں بولا کرتے تھے مجھے کہنے لگے کہ میں ابھی قادیان سے آیا ہوں۔ وہاں کنواں مکان کے اندر بنانا تھا۔ گرمی کا موسم تھا۔ بسبب موسم گرم ہونے کے اور منڈیر کے ذرا نیچے ہونے کے مجھے بہت پسینہ آ گیا۔ اتنے میں حضرت اقدس تشریف لائے۔ فرمانے لگے حسن دین تم کام کرو میں تم کو پنکھا کرتا ہوں کیونکہ تم کو بہت گرمی لگ رہی ہے۔ کوئی شخص ایسا بھی دنیا میں ہے جو بادشاہ بھی ہو اور ایک معمولی آدمی کو کہے کہ میں تمہیں پنکھا کرتا ہوں کیونکہ تمہیں گرمی لگ رہی ہے۔ اللہ اللہ کیسا ہی رحیم وکریم انسان تھا۔ اللہ تعالیٰ اس تعلیم پر چلنے کی ہم سب کو توفیق دے۔ آمین۔
    روایات
    شیرخاں صاحب سیالکوٹ شہر
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس سال پہلا لیکچر سیالکوٹ مسجد میرحسام الدین صاحب میں دیا تھا معلوم نہیں ۱۸۹۱؁ء تھا یا ۱۸۹۲؁ء ۔ اس وقت میری عمر قریباً ۱۲ سال کی تھی۔ سکول سے واپسی پر معلوم مسجد میں جو میرے راستے سے کافی دور تھی کون لے گیا۔ اس عمر میں میں لیکچر نہیں سمجھتا تھا صرف ایک لفظ جو حضور نے کئی بار لیکچر میں بیان فرمایا وہ ربوبیت کا لفظ تھا۔ اس سال سے بندہ اپنے آپ کو احمدی خیال کرتا ہے۔ بندہ کا کوئی رشتہ دار یا خاندان سے تاحال احمدی نہیں ہے۔ ۱۸۹۵ء میں بذریعہ خط بیعت کی۔ ۱۸۹۶ء میں قادیان جا کر دستی بیعت کی۔ معلوم نہیں ۱۸۹۶ء ۱۸۹۷ء کے جلسہ سالانہ کے موقعہ پر حضرت میاں بشیراحمدصاحب کے مکان جس کی سیڑھیاں ہیں میں حضور نے لیکچر دیا۔ وہ لیکچر تو بندہ کو یاد نہیں کیا فرمایا صرف ایک بات یاد ہے کہ آپ نے فرمایا وکلاء کی آمدنی ناجائز ہوتی ہے۔ مفہوم یادہے الفاظ یاد نہیں رہے۔ ممکن ہے یہ الفاظ بھی یاد نہ رہتے اس کی خاص و جہ یہ ہوئی تھی جب لیکچر سن کر باہر گلی میں آئے تو سیدحامدشاہ صاحب مرحوم نے چوہدری نصراللہ خاںصاحب مرحوم کو یاد کرایا کہ چوہدری صاحب کیا آپ نے سنا ہے حضرت صاحب نے کیا فرمایا۔ حضرت صاحب نے فرمایا جس کا مطلب یہ تھا اورآپ بھی وکیل ہیں۔
    سال ۱۸۹۶؁ء جب کبھی بندہ قادیان جاتا تھا۔ چونکہ احمدی بہت کم تھے حضور مہمانوں کے ساتھ ایک دسترخون پر کھانا تناول فرمایا کرتے تھے۔ بہت دفعہ پہلو بہ پہلو بیٹھ کر کھانا کھایا۔ اور پھل بھی کھایا۔ بہت تھوڑا کھانا کھایا کرتے تھے۔ ایک روٹی کے کئی ٹکڑے کیا کرتے تھے۔ تبرکاً دوست اٹھا لیا کرتے تھے۔ مسجد مبارک میں کھانا تناول فرمایا کرتے تھے۔ بعض اوقات گول کمرہ میں بھی احباب کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ والسلام
    روایات
    عنایت اللہ صاحب شہرسیالکوٹ
    بندہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک پرانے صحابی ہونے کے سبب اس زمانہ کے مندرجہ ذیل واقعات بیان کرتا ہے۔
    میں نے ۱۹۰۱؁ء میں بیعت کی تھی۔ اس وقت بندہ کی عمر قریباً پندرہ سال کی تھی۔ جب میں پہلی دفعہ قادیان آیا تو ایک عطر کی شیشی ہمراہ لایا۔ پیدل سفر کیا۔ رات بٹالہ رہا۔ جب شیشی دیکھی تو سوائے ایک قطرہ کے باقی ضائع ہو گیا۔ مجھے سخت افسوس ہوا۔ شام کی نماز کے وقت جب حضور مسجد مبارک کی چھت پر تشریف لائے مصافحہ کیا ور حضور کو بندہ نے دبانا شروع کیا۔ عرض کی کہ میں ایک شیشی عطر لایا تھا وہ راستہ میں ضائع ہو گیا۔ شیشی حضور کی خدمت میں پیش کر دی۔ فرمایا تم کو پوری شیشی کا ثو اب مل گیا ہے بعد نماز بیعت کی اور دس یوم تک رہا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ قادیان سے واپسی پر بٹالہ پہنچا۔ ایک زمیندار ہمراہ تھا۔ رات بٹالہ رہے۔ زمیندار نے پوچھا کیا آپ نے حضرت سے اجازت لے لی تھی۔ میں نے کہا نہیں۔ مجھے افسوس ہوا۔ رات کو خواب میں دیکھا کہ حضور چارپائی پر بیٹھے روٹی کھا رہے ہیں۔ مجھے بھی کھانے کا حکم دیا۔ نصف حضور نے کھائی باقی بندہ نے۔ اور حضور نے فرمایا جائو آپ کو جانے کی اجازت ہے۔ بالکل ناخواندہ آدمی تھا۔ زبان میں بھی لکنت تھی ۔ اب بالکل ٹھیک ہوں۔ فقط۔والسلام

    روایات
    مولوی محمدعبداللہ صاحب موضع کوٹ ملک رحمت خاں ضلع شیخوپورہ ڈاکخانہ مومن
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے کلمات طیبات
    (۱) ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ حضرت اقدس کا ایک کمرہ کے بنانے کا ارادہ تھا۔ آپ نے
    ام المومنین صاحبہ سے اپنی تجویز کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ کمرہ اس طرف بنانا چاہئے۔ تو اس پر حضرت ام المومنین نے فرمایا کہ ادھر نہیں اس طرف بنانا چاہئے۔ اس اثنا میں مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی مرحوم آ گئے۔ تو حضور نے مولوی صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ مولوی صاحب میرا ارادہ ہے کہ کمرہ مذکور اس طرف بنایا جائے اور و الدہ محمود کا ارادہ اس طرف بنانے کا ہے۔ آپ بتائیں آپ کی کیا رائے ہے۔ اس پر مولوی صاحب بولے جو حضور کی تجویز ہے وہی درست ہے۔ حضرت کچھ دیر خاموش رہ کر فرمانے لگے کہ مولوی صاحب آپ کی بات تو صحیح ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے جو مجھے اس سے اولادعطا فرمائی ہے وہ مبشر ہے۔ اس لئے میں اب اس کی بات کو مقدم رکھتا ہیں۔ خاکسار اس وقت کھڑکی کے پاس کھڑا یہ باتیں سن رہا تھا۔
    (۲) ایک دفعہ حضور اقدس بعد نماز عصر سیر کے لئے باغ کو معہ چند صحابیوں کے تشریف لے گئے اور باغ میں شعائر اللہ میں جا بیٹھے۔ تو مولوی محمدعبداللہ صاحب مرحوم شرقپور بھینی والوں نے حضرت سے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ حضور معترض کہتے ہیں کہ کسوف خسوف والی حدیث ضعیف ہے۔ اس پر حضور نے فرمایا کہ ایک نابالغ لڑکا ہمیں آ کر کہے کہ وہاں ایک شیر ہے تو ہمارا یہ حق نہیں کہ ہم یہیں بیٹھے اس کی بات کو رد کر دیں بلکہ ہمارا فرض تو یہ ہے کہ ہم وہاں جا کر دیکھیں کہ وہاں واقعی شیر ہے یا نہیں جب ہم وہاں پہنچتے ہیں تو شیر موجود ہے تو پھر اس صورت میں ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ یہ لڑکا نابالغ ہے اور اس کی بات قابل قبول نہیں۔ اس لئے جب یہ حدیث زمانے پر وارد ہو گئی یعنی پوری ہو گئی تو پھر کس طرح اس کا راوی ضعیف ہو سکتا ہے۔ معزز صحابی بیٹھے تھے نیز خاکسار اور دیگر احباب کھڑے تھے۔
    (۳) مندرجہ بالا جگہ میں ہی یعنی باغ میں شعائر اللہ میں بیٹھے ہوئے حضور نے حاضرین سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ کسی نے قادیان کے متعلق کوئی حدیث پڑھی ہے تو مولوی محمد عبداللہ صاحب شرقپور بھینی والے نے اٹھ کر عرض کی کہ حضور میں نے پڑھی ہے۔ حضور اقدس نے فرمایا کہ بتائو کہاں ہے۔ مولوی صاحب نے عرص کی کہ حضور جواہر الاسرار صفحہ ۵۰ (انہوں نے جلد بھی بتائی تھی مگر یاد نہیں) ’’یخرج المہدی قریۃ یقال لھا کدعہ۔‘‘ اس پر حضور خوش ہوئے۔
    (۴) ایک دفعہ طاعون کے دنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ حضور مولوی محمد علی صاحب وصیت کر رہے ہیں۔اس وقت حضور کے ہاتھ میں ایک رومی ٹوپی بغیر پھندنے کے تھی۔ حضور نے وہی رکھ لی اور جلدی جلدی چل پڑے اور چلتے چلتے فرماتے جاتے تھے کہ سب دعا کیلئے آ جائو۔ لوگ گئے۔ حضور مولوی محمد علی صاحب کے پاس کمرہ کرسی پر تشریف فرما ہوئے تو مولوی صاحب حضرت مسیح موعود کو دیکھ کر اٹھ بیٹھے ۔ پہلے وہ لیٹے ہوئے تھے۔ حضور اقدس نے کرسی پر بیٹھتے ہی فرمایا ۔ مولوی صاحب آپ کیا وصیت کر رہے تھے۔ مولوی محمدعلی صاحب نے عرض کیا کہ حضور مجھے شبہ ہے کہ مجھے طاعون ہو گئی ہے۔ اس پر حضور نے جلال میں آ کر فرمایا کہ مولوی صاحب۔ اگر آپ جیسے میرے مریدوں کو طاعون ہو جاوے تو میرا دعویٰ جھوٹا ہے اور حضور نے بمعہ جماعت حاضرین ہاتھ اٹھا کر دعا کی ۔ جب حضور نے دعا ختم کی تو مولوی صاحب نے کہا کہ حضور اب مجھے کوئی تکلیف نہیں اور صحت ہو گئی ہے۔
    (۵) ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مرزانظام دین حضرت مسیح موعود کے چچا زادبھائی حضرت مسیح موعود کے ساتھ بہت مخالفت رکھتے تھے۔ انہوں نے حضرت مسیح موعود کے بعض راستے جو گھر کو آنے والے یا گھر سے مسجد کو جانے والے تھے بند کر دیئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کافی فاصلہ طے کر کے گھروں کے اوپر سے ہو کر مسجد آیا کرتے تھے اور اس مخالفت کے دوارن میں ہی مرزا نظام الدین صاحب کے گھر میں کوئی شادی کا موقعہ آیا تو مرزا نظام دین اور اس کے بھائی حضرت مسیح موعود کے پاس آئے اور حضورسے عرض کیا کہ آپ ہمارے گھر چلیں اور گڑ تقسیم کریں۔ اس پر حضرت مسیح موعود نے کوئی اصرار نہ کیا اور ان کے گھر تشریف لے گئے۔
    نوٹ: یہ بات میں نے حکیم محمد دین گوجرانوالہ سے سنی تھی۔ حکیم محمددین مرحوم
    (۶) حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کلمات طیبات:۔
    ایک دفعہ موسم گرما میں حضرت خلیفۃ المسیح اول نے عہد خلافت میں خطبہ جمعہ پڑھتے ہوئے فرمایا کہ جماعت نے میری بہت تابعداری کی ہے لیکن جتنی تابعداری میری میاں صاحب نے کی ہے اتنی کسی نے نہیں کی۔ (میاں صاحب سے مراد خلیفہ ثانی تھے) اور بعد ازیں ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضور خطبہ جمعہ پڑھ رہے تھے تو فرمایا خوا جہ سلمان جو کہ بائیس سال کے خلیفہ ہوئے اور اٹھتر برس تک خلافت کی۔ یہ بات میں کسی خاص مقصد کے لئے کہتا ہوں ۔ یہ نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔
    (۷) ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شہرسیالکوٹ کی جماعت نے ایک آدمی کے ہاتھ ایک خط خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ کی خدمت میں بھیجا۔ حضور اس خط کو پڑھتے جاتے اور کبھی کبھی اس آدمی کی طرف دیکھتے تو فرماتے میں اس درخواست کو منظور نہیں کروں گا۔ میاں اپنے زمانہ میں خواہ سنگ مرمر کابنائے۔
    اب خاکسار اس خط کے مضمون سے مطلع کرتا ہے کہ خط میں لکھا تھا کہ حضور حضرت مسیح موعود کا مقبرہ اتنا اونچا بنایا جاوے کہ جوبٹالہ سے نظر آوے۔ یہ تھی درخواست سیالکوٹ کی جماعت کی جس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ میں یہ درخواست منظور نہیں کرتا میاں یعنی خلیفہ ثانی اپنے عہد میں جو چاہے بنائے خواہ سنگ مرمر کا بناوے۔
    (۸) جس دن خلیفۃ المسیح اول نے وفات پائی تھی وہ جمعہ کا دن تھا اور جمعہ کے وقت ہی حضور نے وفات پائی اور اس دن جمعہ خلیفۃ المسیح الثانی پڑھا رہے تھے اور خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نواب صاحب کی کوٹھی میں بیمار تھے۔ حضرت خلیفہ ثانی نے خطبہ میں فرمایا کہ یہ مکان (یعنی دفاتر کے مکان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) جس دن بنایا گیا اس پر اتنا روپیہ خرچ آیا اور اتنے معماروں کی ضرورت پڑی اور اتنے مسالے کی ۔ اب اس مکان کو کوئی گرانا چاہے تو ایک بے وقوف بھی گرا سکتا ہے۔ اور پھر اسی خطبہ میں حضور نے فرمایا کہ ایک دفعہ مجھے درد شروع ہوگئی۔ میں نے خیال کیا کہ مجھے طاعو ن ہو گئی۔ پھر میرے دل میں خیال آیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ہے ’’انی احافظ کل من فی الدار ‘‘کہ تیری چاردیورای کے اندر طاعون نہیں آئے گی۔ تو میں نے سمجھا کہ شاید یہ الہام حضور کی زندگی تک محدود تھا۔ اس کے بعد میں نے کمرہ کے دروازے بند کر دیئے اور دعا شرو ع کر دی تو مجھے غنودگی ہو گئی اور کمرہ کی چھت سے ایک بڑا سوراخ ہو کر اندر نور آنے لگا اور نور سے تمام کمرہ بھر گیا اور اس نور میں سے ایک ہاتھ نکلا ۔ اس ہاتھ میں ایک چینی کا پیالہ دودھ سے بھرا ہوا تھا اور مجھے آواز آئی کہ پی لو۔ میں نے پی لیا تو پھر آواز آئی کہ تیری بہت بڑی قوم ہو گی۔ میں نے دل میں سمجھا کہ میں کیا چیز اور میری قوم کیا تو غنودگی جاتی رہی تو میری درد جاتی رہی اور کلی صحت ہو گئی۔
    (۹) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلمات طیبات:۔
    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام طاعون کے دنوں میں باغ میں تنبو لگا کر وہاں ہی رہتے تھے۔ اور طاعون زوروں پر تھی۔ زلزلہ کانگڑ ہ بھی اسی سال آیا تھا۔ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم سیالکوٹی نے صبح کچھ لوگوں میں یہ بات کہی کہ میں جب آج رات کو نوافل پڑھنے کے واسطے اٹھا تو میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تنبو کے برآمدہ میں چلا گیا اور وہاں نوافل پڑھنے میں مشغول ہوااور میرے نوافل پڑھنے کا حضرت مسیح موعود کو کچھ علم نہ تھا۔ میں نوافل پڑھتا تھا کہ تنبو میں حضور کی چیخ نکلی اور حضور بے قراری سے یہ دعا کرتے تھے۔ اے الٰہی یہ طاعون یا تباہی بے شک میری صداقت کا نشان ہے مگر جب یہ تیری مخلوق اس تباہی سے تباہ ہو جاوے گی تو پھر کون تجھے مانے گا۔ اے الٰہی اپنی مخلوق پر رحم کر اور ان کو ہدایت دے۔
    ـ۱۰) حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کلمات طیبات:۔
    مولوی عبدالحکیم صاحب نصیرآبادی غیراحمدی نے حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ سے مناظرہ کی خواہش کی۔ تو حضور نے فرمایا کہ قاضی میرحسین صاحب مناظرہ کر لیں مگر اس پر مولوی عبدالحکیم کی تسلی نہ ہوئی اور اس نے دوبارہ ایک اور رقعہ خلیفۃ المسیح اول کو بھیجا کہ میں قاضی صاحب کے ساتھ مناظرہ نہیں کرتا۔ اس کی خواہش تھی کہ میں خلیفہ اول سے کروں یا میاں صاحب سے۔ اس پر جماعت کے معززین نے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ حضور میاں صاحب کو مناظرہ کے لئے پیش کر دیں۔ اس بات پر خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ جلال میں آ گئے اور جلال میں ہی فرمایا کہ جو کچھ میں سمجھتا ہوں تم نہیں سمجھتے۔ کیا میں میاں صاحب کو ایک ملاں کے مقابلہ کے لئے بھیج دوں۔ یہ کہہ کر حضور نے مولوی سرور شاہ صاحب اور قاضی میرحسین صاحب اور مولوی حافظ غلام رسول صاحب وزیرآبادی کو مناظرہ کے لئے بھیجا اور یہ مناظرہ موضع پھیروچیچی میں ہوا تھا۔ خاکسار اس وقت اس مجلس میں موجود تھا اور حضرت خلیفہ اول کے پاس تھا۔
    (نوٹ) خاکسار خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ کے زمانہ میں قادیان ہی رہا ہے اور میری پیدائش گورداسپور کی ہے۔ موضع گھوڑے والا اور کوٹ رحمت خان میں ۲۳ سال سے مقیم ہوں۔
    مورخہ ۳۸؍۲؍۵
    روایات
    نورمحمدصاحب ولد صالح محمد صاحب کھوکھر ۔ امیرپور ضلع ملتان تحصیل کبیروالا
    کمترین نے بیعت سال ۱۹۰۵ء میں کی جبکہ میری عمر تیس سال کی تھی۔ میرا ایک چھوٹا بھائی مسمی میاں نوراحمد جو مجھ سے چھوٹا تھا وہ ایک پرائیویٹ سکول واقع موضع بستی وریام کملانہ تحصیل شورکوٹ ضلع جھنگ میں مدرس تھا۔ اس نے ۱۹۰۰ء میں بوساطت مولوی محمدعلی صاحب ساکن موضع مذکور بیعت کی تھی جو کہ بہت نیک اور مخلص اور بطور پروانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سچا عاشق تھا جس کے بارے میں ایک پیشگوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب’’ حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۲۴ نشان ۱۴۱‘‘ میں درج ہے۔ وہ بھائی مرحوم مجھے تبلیغ کرتا رہا مگر میں نہ مانتا۔ آخر اس نے مجھے ایک حمائل شریف مترجم ترجمہ شاہ رفیع الدین صاحب دی کہ اس کی تلاوت روز بلاناغہ کرتے رہو اور خدا سے دعا بہت مانگتے رہنا۔ اور ایک طریق استخارہ بتایا کہ چالیس روز استخارہ کرو۔ اس کے کہنے پر میں تلاوت قرآن کریم دعا و استخارہ میں لگ گیا۔ خدا کے فضل و کرم سے قرآن شریف سے بھی مجھے امداد ملتی گئی اور استخارے کے چالیس دن بھی قریب آنے شروع ہو گئے ۔ مجھے تو پروانہ وار بیعت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کا ازحد شوق ہو گیا۔ میرابھائی مرحوم گو مجھ سے ۲۵ میل کے فاصلہ پر تھا۔ میں بو جہ دوری اپنے بھائی میاں نوراحمد صاحب مرحوم سے تو نہ مل سکا مگر بو جہ عشق مولوی محمدفاضل صاحب احمدی جو کہ پہلے سے بیعت کر چکے تھے اور جو کہ تین میل کے فاصلہ پر تھے کو کہا کہ میری بیعت جلد کرائو۔ وہ مجھے لے کر قادیان دارالامان آئے مگر حوصلہ دلاتے دلاتے چار پانچ دن ٹھہرا کے رکھا۔ مگر بے تابی عشق کی و جہ سے خود بیعت کی کوشش کی۔ چار پانچ روز مسجد مبارک میں حضرت اقدس کے ساتھ نماز باجماعت ادا کرتا رہا۔ اور ایک موقع تاڑ لیا۔ حضرت صاحب ہمیشہ پانچ وقت ایک ہی جگہ امام کے دائیں جانب نماز ادا کرتے تھے۔ حضور کی ایک ہی جگہ مقررتھی۔ چوتھے روز اپنے ساتھی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ظہر کی نماز کی اذان سے پہلے حضرت صاحب کی جائے نماز کے ساتھ جگہ بنا کر بیٹھ گیا۔ بعدہٗ اذان ہوئی ۔ نمازی آنے شروع ہو گئے حتی کہ مسجد پر ہو گئی۔ حضور کی تشریف آوری پر نماز کھڑی ہو گئی۔ میں نے حضور کے دوش بدوش ہو کر نماز ادا کی۔ بعد فراغت نماز سب سے پہلے مصافحہ کیا اور بیعت کی درخواست کی۔ اسی اثنا میں میرے ساتھ حضرت اقدس کا سلسلہ کلام شروع ہو گیا۔ اس وقت اخبار البدر، الحکم جاری تھیں۔ بدرکا نامہ نگار سلسلہ کلام تحریر کرتا گیا اور یہ مکالمہ اخبار بدر میں تین صفحات میں درج ہے۔تاریخ اشاعت یاد نہیں تاہم ۱۹۰۵ء تھا۔ تلاش کی گئی مگر مل نہ سکنے کی و جہ سے مختصر جو مجھے یاد سپرد قلم ہے۔
    حضور نے فرمایا کیا نام ہے جس کے جواب میں عرض کیا میرا نام نور محمد ہے۔ ذات کے بارے میں عرض کی کہ کھوکھر قوم سے ہوں۔ پھر آپ نے سوال کیا کہ کون سے ضلع سے جس پر گزارش کی کہ حضور ضلع ملتان کا رہنے والا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ کیا کام کرتے ہیں۔ تو عرض کی کہ حضور ایک سید ملتان کی طرف ہے ایک موضع میں جائیداد پر منشی و مختار ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ سید صاحب کیا مذہب رکھتے ہیں میں نے عرض کی کہ وہ شیعہ مذہب سے متعلق ہیں۔ آپ فرمانے لگے آپ کے ساتھ مخالفت تو نہیں کریں گے۔ میں نے جواب دیا کہ حضور مخالفت میں تو ملازمت لے لیں گے میرے رازق تو نہیں ہیں۔ میرا رازق خدا ہے۔ حضور نے فرمایا کہ آپ کا علاقہ نہری ہے یا چاہی یا بارانی۔ میں نے عرض کی کہ چاہی اور نہری۔ آپ نے دریافت فرمایا آپ کے علاقہ میں کونسی جنس کی پیدائش ہوتی ہے نہر کون سے دریا سے نکلتی ہے اور کیا نام ہے۔ جواباً عرض کی کہ حضور ہر جنس کی پیداوار کی جاتی ہے نہر کا نام سدھنائی ہے جو دریائے راوی سے نکلتی ہے۔ اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ زمین بڑی لائق ہے۔ میں نے حضور کی تصدیق کی۔ اور اس کے بعد حضور نے میرا ہاتھ اپنے دست مبارک میں لیا اور باقی بیعت کنندگان کو فرمایا کہ پگڑیاں دراز کر لیں۔ جو احباب میرے قریب تھے ان میں سے کسی نے میری پشت پر ہاتھ رکھا کسی نے سر پر اور کسی نے بازوئوں پر۔ جو دور تھے انہوں نے پگڑیاں دراز کر لیں۔ حضرت اقدس آواز سے الفاظ بیعت پڑھتے گئے اور ہم دوہراتے گئے۔ اس کے بعد میں نے کچھ عرصہ بعد دوبارہ قادیان میں حاضر ہو کر حضور کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔ اس موقع پر میرحاجی محمد کملانہ احمدی اپنے بھائی میراحمد کی بیماری کی خاطر برائے علاج حضرت مولوی نورالدین صاحب ؓ خلیفۃ المسیح اولؓ کے مکان پر رہائش پذیر تھے۔ ان کے ساتھ میاں شیرمحمداحمدی قوم لہرا معہ اپنی اہلیہ صاحبہ بھی رہتے تھے۔ جس وقت میں ان کے پاس گیا تو بذریعہ سابقہ تعلق دوستانہ ہمراہ حاجی محمد صاحب میں بھی ان کے پاس ٹھہر گیا۔ میاں شیرمحمد صاحب کی عورت فہمیدہ اور سریع اللسان تھی۔ وہ عورت روز حضرت اقدس کے گھر حضرت ام المومنین کی خدمت میں رہا کرتی تھی اور حضور کے گھر کے کام بھی کرتی تھی۔ جب وہ ہمارے پاس آتی تو کہتی آج میں نے حضرت اقدس کے ساتھ یہ بات کی۔ وہ بات کی۔ ہم کہتے تو جھوٹ بولتی ہے۔ حضرت صاحب کے ساتھ کس طرح بات چیت کر سکتی ہے۔ ایک (دن) اس نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور جب میں اپنے ہمراہیوںکو کہتی ہوں کہ میں نے حضور کے ساتھ آج یہ بات کی تو وہ سچ نہیں مانتے اسلئے آپ کوئی نشانی عطا فرمادیں تا وہ یقین کریں۔ حضور کے پاس کچھ پھولوں کے ہار پڑے تھے۔ آپ نے ایک یا دو ہار اس عورت کو دے دیئے اور فرمایا کہ یہ کہنا کہ یہ حضور نے بطور نشانی کے دیئے ہیں۔ وہ ہمارے پاس ہار لے کر آئی اور حال سنایا ۔ ہم نے ہار تو لے لئے اور کہا کہ یہ ہار تم نے بازار سے خرید لئے ہوں گے ۔ اس نے پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ حضور وہ کہتے ہیں ہار بازار سے مل سکتے ہیں تم نے بازار سے لے لئے ہوں گے۔ اس لئے کوئی اور نشانی عطاء فرماویں۔ حضور اس وقت کوئی تحریر کا کام کر رہے تھے۔ آپ نے اپنی قلم دوات مبارک دے کر فرمایا کہ یہ لے جائو اور دکھا کر جلد واپس لائو کیونکہ میں کام کر رہا ہوں۔ میرے کام میں حرج نہ ہو ۔ وہ عورت قلم دوات لائی اور ہم کو دکھائی۔ ہم سب نے قلم دوات اور پھولوں کو بھوسہ دیا اور اپنی آنکھوں پر رکھا اور قلم دوات جلد واپس کر دی۔
    ایک دن اس عورت نے کہا کہ ام المومنین صاحبہ اور حضرت اقدس گھر میں تشریف رکھتے تھے اور صاحبزادی مبارکہ بیگم صاحبہ اس وقت صغیرسن تھیں۔ وہ بھی موجود تھیں تو میں نے حضور سے عرض کی حضور آپ تو ہمیں نصیحت فرمایا کرتے ہیں کہ جوان لڑکی کا بٹھانا اچھا نہیں۔ مگر آپ کی صاحبزادی جوان ہے آپ اس کی شادی کیوں نہیں کرتے۔ حضور اس بات پر خوش ہوئے اور ہنس پڑے اور حضرت ام المومنین کو فرمانے لگے کہ اس عورت نے ہمیں کیسی عمدہ بات کہی ہے۔ بعدہ حضور میری (یعنی عورت کی طرف) طرف مخاطب ہوئے کہ مائی آپ نے تو ہمیں بہت عمدہ بات کہی ہے مگر ہماری لڑکی کی عمر اس وقت نو سال کی ہے۔ جوان بالغ نہیں جس وقت بالغ ہوئی ہم اسی وقت شادی کر دیں گے۔
    میرا بھائی نوراحمد مرحوم جس کا ذکر پہلے کر چکا ہوں وہ بہت جلد جلد حضور کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور کئی کئی روز بلکہ مہینہ مہینہ رہتے تھے۔ وہ ہمیں سنایا کرتے تھے کہ جس وقت حضور سیر کو جاتے تو میں ہمیشہ حضور کے ساتھ ہوتا تھا۔ کئی بڑے بڑے قد کے آدمی بھی ساتھ ہوتے تھے۔ نیز آدمیوں کا ہجوم آپ کے ساتھ ہوتا تھا مگر میں نے کئی دفعہ تجربہ کیا کہ چلتے وقت حضرت اقدس کا قد سب سے اونچا ہوتا تھا۔
    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حاجی محمدکملانہ پر قتل کا مقدمہ بن گیا۔ حاجی محمدصاحب نے میرے بھائی کو حضور کی خدمت میں دعا کے لئے روانہ کیا۔ اور یہ بھی کہا جب تک حضور آپ کو رخصت نہ کریں اس وقت تک وہیں رہیں اور ہر روز دعا کی درخواست کرتے رہیں۔ میرا بھائی ایک ماہ سے زائد دن قادیان رہا اور روزانہ دعا کی درخواست کرتا رہا۔ جس دن حاجی محمدکملانا سکنہ بستی وریام ضلع جھنگ مقدمہ سے بری ہوا اس روز حضور نے میرے بھائی کو اجازت فرمائی۔ اور وہ حاجی محمد صاحب کے بری ہونے کے دن قادیان سے رخصت ہو کر روانہ ہوئے۔ یہ ہے حضور کی دعائوں کا نتیجہ اور حضور کی باطن صفائی کہ ایک ماہ سے زائد میرا بھائی قادیان (رہا) مگر حضور نے حاجی محمدصاحب کے بری ہونے کے روز تک رخصت نہ فرمایا۔
    یہ ہیں مختصر حالات جو میرے حافظہ میں تھے نیز سپردقلم ہیں۔ والسلام
    روایات
    سلطان علی صاحب سیکرٹری جماعت احمدیہ پھیروچیچی ضلع گورداسپور
    میں نے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام باغ میں تشریف رکھتے تھے جن دنوں میں بڑا زلزلہ آیا تھا بیعت کی تھی۔ شاید ۱۹۰۵ ء کا واقعہ تھا۔ کم و بیش میری عمر اس وقت بیس سال کی ہو گی۔ ان دنوں میں حضور علیہ السلام باغ میں نمازیں ادا کیا کرتے تھے۔ میں نے باغ میں ایک بزرگ سے کہا کہ میں نے اکیلے ہی بیعت کرنی ہے۔ ظہر کے وقت حضرت اقدس باہر نماز کے لئے تشریف لائے تو اس بزرگ نے عرض کی کہ حضور یہ لڑکا بیعت کرنی چاہتا ہے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا آ کر بیعت کر لو۔ بیعت کرلینے کے بعد حضو ر نے پیسہ اخبار کے متعلق چند باتیں کیں ۔ اس وقت جناب مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ نماز پڑھایا کرتے تھے اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ اس جگہ باغ میں تشریف فرما تھے۔ وہ باتیں مجھے یاد نہیں رہیں۔ پھر اس کے بعد میں ایک سال تک بلاناغہ نماز جمعہ قادیان شریف میں ہی ادا کرتا رہا او رمسجد مبارک میں جس کھڑکی سے حضور علیہ السلام مسجد میں تشریف لاتے تھے اس کے آگے جگہ تلاش کرتا تھا۔ ایک جمعہ کے روز خطبہ سے پہلے حضور مسجد میں تشریف فرما ہوئے تھے اور مسجد لوگوں سے پرتھی ۔ ایک بوڑھا سا زمیندار شخص جھک کر حضور کی خدمت میں حاضرہوا اور عرض کی کہ حضور میری عورت بہت سخت ہے یعنی نافرمان ہے۔ حضور نے فرمایا کہ دعا کرو۔ وہ شخص مڑ کر چند قدم جا کر پھر واپس آیا اور عرض کی کہ حضور وہ بہت ہی سخت نافرمان ہے۔ حضور نے پھر فرمایا دعا ہی کرتے رہو۔ اس نے کہا حضور آپ بھی دعا فرماویں۔ فرمایا اچھا ہم بھی دعا کریں گے۔
    اس کے بعد ہمارے گائوں پھیروچیچی میں احمدیہ جماعت میں اس بات پر اختلاف پیدا ہو گیا کہ زمیندار گائوں کی عورتیں کیا باہر اپنے کھیت میں اپنے خاوندوں کے ساتھ زمیندارہ کرا سکتی ہیں یا نہیں۔ اس کے تعلق میں میں نے لکھ کر اپنے ہاتھ سے یہ کاغذ مسجد مبارک میں حضور علیہ السلام کے ہاتھ مبارک میں دیا۔ حضور اس وقت گھر کے اندر تشریف لے جا رہے تھے۔ دو چار روز کے بعد حضرت علیہ السلام نے لکھ کر بھیجا کہ زمیندار عورتیں اپنے خاوندوں کے ساتھ باہر کھیت میں کام کرا سکتی ہیں۔ اس کے بعد ایک روز ظہر کی نماز میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیچھے پڑھی۔ نماز پڑھا کر حضور چند گھنٹے مسجد میں ہی بیٹھے رہے۔ ان دنوں میں میاں مبارک احمد صاحب مرحوم کی وفات ہوئی تھی اور حضور علیہ السلام نے اپنی کمر پر ایک سرخ پٹکا باندھا ہوا تھا اور اس وقت دیر تک باتیں کرتے رہے۔ وہ باتیں اب خاکسار کو یاد نہیں رہیں۔ اس کے بعد ایک دفعہ مجھے پورا علم نہیں کہ کیا سن تھا حضور علیہ السلام نے جلسہ سالانہ پر اس مکان میں جہاں اب صاحبزادہ مرزا بشیراحمد صاحب تشریف رکھتے ہیں تقریر فرمائی جس میں سے صرف دو باتیں مجھے یاد رہیں۔ ایک یہ کہ حضور نے فرمایا انسان کو اپنا لباس ضرور صاف رکھنا چاہئے۔ ایک آنہ کے صابن سے کپڑے صاف ہو جاتے ہیں۔ اور ایک واقعہ بیان فرمایا کہ بعض لوگ جو واعظ ہوتے ہیں ان کو کوئی للہ مال دے تو اپنی وعظ میں دینے والے کی تعریف کرنے لگ جاتے ہیں۔ اس پر آپ نے ایک مثال دی کہ ایک واعظ تقریر کر رہا تھا ۔ ایک شخص نے کچھ روپے اس کو دیئے۔ وہ واعظ اس کی تعریف میں متو جہ ہو گیا۔ جس شخص نے روپے دیئے تھے وہ چند منٹ کے بعد اپنے گھر سے ہو کر آیا۔ اس نے واعظ سے کہا کہ میری والدہ مجھ سے ناراض ہو گئی ہے۔ اس لئے وہ روپے جو میں نے آپ کو دیئے تھے واپس دے دیں۔ یعنی اس شخص نے اپنی تعریف کرانی پسند نہ کی تھی۔ حضور کا مقصد اس بیان سے یہ تھا کہ جو لوگ مال دے کر اپنے مال کے ذریعہ سے اپنی تعریف کرواتے ہیں یہ جائز نہیں۔ اس وقت قریباً دو تین صد آدمی موجود تھے۔
    ایک دفعہ جمعہ کا روز تھا۔ مسجد اقصیٰ میں حضور تشریف لے گئے اور خاکسار بھی زیارت کے لئے ساتھ ساتھ جا رہا تھا۔ جب مسجد میں حضور علیہ السلام تشریف لے گئے تو مسجدلوگوں سے پر تھی۔ حضور علیہ السلام نے تمام لوگوں کے پیچھے ہی نماز سنتیں ادا کرنی شروع کر دیں۔ ساتھ ہی
    خوا جہ کمال الدین صاحب بھی تھے۔ دو رکعت حضور نے پڑھ کر سلام پھیر دیا۔ لوگ کثرت سے آ رہے تھے۔ یہاں تک کہ مسجد کے قریب جو سکھوں کے مکان تھے اس پر بھی لوگوں نے نماز پڑھنی شروع کر دی۔ سکھ نے نیچے سے بولنا شروع کر دیا۔ حضور نے فرمایا کہ اس مکان پر کوئی نہ کھڑا ہو اور اس مکان کے بنیرے کے کنارے کنارے تار لگوائی جائے اور آپ خطبہ جمعہ ہونے تک وہیں بیٹھے رہے۔ خطبہ حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ نے پڑھایا تھا۔
    ابتدائی زمانہ احمدیت میں ہمارے گائوں میں چونکہ ایک ہی مسجد تھی اور ہم بھی احمدی تھوڑے ہی تھے غیراحمدی ہمیں بہت تنگ کیا کرتے تھے حتی کہ ایک روز مخالفت کی و جہ سے ہمیں مسجد سے نکال دیا گیا۔ ہم نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی ۔ حضور نے فرمایا کہ اپنا ایک چبوترہ بنا لو اور صبر کرو۔ اللہ تعالیٰ کسی روز تک وہی مسجد تمہیں دلا دے گا۔ چنانچہ حضور کا فرمانا اللہ تعالیٰ نے پورا کر دیا۔ ہم نے حضور کے فرمانے سے ایک چھوٹی سی الگ مسجد بنالی۔ چند سال وہاں نمازیں ادا کرتے رہے پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی کثرت ہو گئی اور وہی پہلی مسجد جس سے احمدیوں کو نکالا گیا تھا اللہ تعالیٰ نے واپس ہمیں دے دی۔
    ہماری جماعت احمدیہ پھیروچیچی کی ترقی کا باعث حضور اقدس حضرت امیرالمومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ کی اس جگہ تشریف آوری تھی ۔ حضرت امیرالمومنین ۱۹۱۳؁ء سے لیکر ۱۹۳۶؁ء تک اس جگہ تشریف لاتے رہے ہیں۔
    اس جگہ اور بھی اکثر ایسے احمدی ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا ہے اور نمازیں بھی حضور کے پیچھے ادا کرتے رہے ہیں لیکن ان پر یہ زمانہ بچپن کا تھا۔
    ۱۔ میاں محمد عبداللہ صاحب ۲۔میاں رحیم بخش صاحب
    ۳۔ مہر اللہ بخش صاحب ۴۔ مہر رحمت اللہ صاحب
    ۵۔ مہر رحمت علی صاحب ۶۔ فضل احمد صاحب نمبردار
    ۷۔ جان محمد صاحب ۸۔میاں حشمت علی صاحب

    روایات
    میاں نظام الدین صاحب نظام اینڈ کو شہرسیالکوٹ
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام جب جہلم تشریف لے گئے تھے تو بندہ بھی حضور کی غلامی میں تھا۔ حضرت اقدس کوٹھی کے ایک کمرہ میں فارسی میں تقریر فرما رہے تھے۔ بندہ اس وقت حضرت مرحوم شہید اکبر حضرت سیدعبداللطیف صاحب کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ بندہ تو اتنی فارسی اس وقت جانتا ہی نہ تھا کہ حضرت اقدس کے کلمات طیبات کو سمجھ سکے مگر شہید اکبر زار زار رو رہے تھے اور فرماتے تھے کہ ’’من بنزدیک تو زاہ بے مقدارم۔‘‘ تھوڑی دیر کے بعدحضور علیہ السلام کو کوئی حاجت پیدا ہوئی تو حضور اندر تشریف لے گئے تو مرحوم سیدصاحب بھی اٹھنے لگے ۔ جونہی کہ آپ اٹھنے کو تھے تو
    مفتی محمدصادق صاحب نے فارسی میں کہا۔ صاحبزادہ صاحب آپ تشریف رکھیں حضرت اقدس ابھی پھر واپس آنے والے ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا ہزار سال کی عبادت سے یہاں بیٹھنے کو بہتر جانتا ہوں۔ یہ ان کی فارسی گفتگو کا مفہوم تھا جو اپنے کانوں سے سنا تھا۔ والسلام

    روایات
    محمدعلی صاحب ولد حسین بخش صاحب لاہور شاہ عالمی دروازہ
    میری بیعت ۱۹۰۱؁ء کی ہے۔ حضور کے چند ایک واقعات جو مجھے یاد ہیں عرض ہیں۔
    ۱۔ اکثر حضور کی عادت تھی کہ کیسی بھی غیرمتعلق بات ہو اس میںبھی وفات مسیح کا ذکر کر دیتے تھے۔ میں اپنی کوتاہ نظری کی و جہ سے ہر دفعہ وفات مسیح کو سن کر تھک بھی جایا کرتا تھا کہ ایک دفعہ جو مان لیا کہ مر گیا چلو فیصلہ ہوا مگر بعد میں سمجھ آگئی کہ آپ کا اصل کام ہی کسر صلیب تھا۔ کیونکہ جس مذہب کا خدا مر جائے پھر وہ مذہب کہاں زندہ رہا۔
    ۲۔ جن دنوں میں حضور کے دست مبارک پر میں نے بیعت کی ان دنوں میں میں تھیئٹریکل کمپنی میں ملازم تھا۔ بیعت کے چند روز بعد میں نے حضور سے عرض کی کہ حضور مجھے اس ملازت سے کراہت سی پیدا ہو گئی ہے۔ اس لئے میرا ارادہ ملازت چھوڑنے کا ہے۔ فرمایا ہرگز نہ چھوڑنا۔ روزگار منجانب اللہ ہوتا ہے۔ آپ کے لئے دعا کی جائے گی۔ حضور کی اس استجابت دعا کا یہ حال تھا کہ تھوڑے عرصے کے بعد مجھے تھیٹرسے پرنٹنگ پریس میں بدل دیا گیا کیونکہ خاکسار کمپوزیئر کے کام سے واقف تھا اور تھیٹر بھی سرکاری تھا اور پریس بھی سرکاری۔ یہ واقعہ ریاست جموں کا ہے۔
    ۳۔ پھر ایک دفعہ میں نے عرض کی کہ حضور سود کھانا تو ناجائز ہے مگر کیا رشوت دینا بھی ناجائز ہے؟ کیونکہ ہمارے افسر رشوت لینے کے عادی ہیں۔ فرمایا کہ اپنے روزگار کی خاطر کتے کے منہ میں ہڈی دے کر جان بچا لینے میں کوئی عیب نہیں۔
    ایک بات حضرت خلیفۃ المسیح اول کے وقت کی بھی عرض کئے دیتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ خوا جہ جمال الدین صاحب و ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب وغیرہ نے خاکسار کو ولایت بھیجنے کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح اول کے پیش کیا اور کہا کہ حضور ان کو خوا جہ صاحب کے پاس بھیجنے کے لئے تجویز کیا ہے۔ حضور ان کے لئے دعا فرماویں۔ حضور نے دعا کی اور دعا کے بعد فرمایا کہ مولوی محمد علی صاحب کو بلائو۔ جب مولوی محمدعلی صاحب آئے تو فرمایا دیکھو دنیا میں ایک بہت برا یعنی بد شخص گزرا ہے تم جانتے ہو وہ کون ہے۔ مولوی صاحب مذکور نے کہا حضور ہی فرماویں۔ فرمایا وہ یزید پلید ہے۔ تم میرے بعد یزید نہ بننا ۔ اس وقت دس یا بارہ شخص اور بھی تھے جن کے سامنے حضورنے فرمایا۔ یہ حضرت خلیفۃ المسیح اول کی پیشگوئی ہے اس لئے اس کا تذکرہ بھی ضروری تھا۔ فقط۔والسلام
    روایات
    میاں محمدیوسف صاحب ولد میاں ہدایت اللہ صاحب سپرنٹنڈنٹ پنجاب سول سیکریٹریٹ ۔ مزنگ لاہور
    میری بیعت ۱۹۰۱؁ء کی ہے۔ حضور کے زمانہ کے وہ حالات جو کہ مجھے یاد ہیں سپرد قلم ہیں۔
    ۱۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب جہلم تشریف فرما ہوئے میں ان دنوں میں طالب علم تھا۔ مجھے یاد ہے کہ حضور نے ایک گاڑی ریزرو کرائی ہوئی تھی اور وہ گاڑی جہلم پہنچ کر ٹرین سے کاٹ دی گئی۔ بے شمار لوگ جہلم ریلوے پلیٹ فارم پر جمع تھے اور یہ نظارہ میری آنکھوں کے سامنے کا ہے۔حضور ریلوے سٹیشن سے ایک دو گھوڑے والی بند گاڑی میں جو کہ ان دنوں جہلم میں زیادہ استعمال ہوتی تھی، تشریف لے گئے۔ آپ دریا کے کنارے ایک کوٹھی میں فروکش ہوئے۔ بہت لوگوں نے وہاں بیعت کی۔ قبلہ والدصاحب ان دنوں میں جماعت احمدیہ کے وہاں کے سیکرٹری تھے۔ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی مولوی محمدعلی صاحب اور بہت سے بزرگ حضور کے ہمراہ تھے۔ اگر میں غلطی نہیں کرتا تو مجھے یہ بھی یاد پڑتا ہے کہ حضرت شہزادہ عبداللطیف صاحب شہید بھی حضور کے ہمراہ کوٹھی میں فروکش تھے۔ لمبا چوغہ پہنا ہوا تھا۔ (آپ اب بھی وضوء فرماتے ہوئے میری آنکھوں کے سامنے ہیں۔) جب حضور نے مستورات کی بیعت لی تو خاکسار بھی وہاں موجود تھا۔ حضور ایک اونچی جگہ پر فروکش تھے اور مستورات کو کپڑا پکڑایا ہوا تھا جس کے ساتھ انہوں نے بیعت کی۔ دوسری عورتوں نے ان عورتوں کے ساتھ ہاتھ لگائے ہوئے تھے۔ اس طرح پر بیعت لی گئی تھی۔
    ۲۔ میں ایک مقدمہ کی پیشی کے دوران میں حضور کے ساتھ گوداسپور بھی گیا تھا۔ مقدمہ کے دن کچہری کے احاطہ میں دوست ٹھہرے ہوئے تھے۔ وہیں نمازیں ادا کی جاتی تھیں۔
    ۳۔ قادیان کی مسجد مبارک میں جبکہ وہ بالکل چھوٹی تھی نمازیں پڑھتا رہا ہوں۔ میں اندر سے سیڑھیوں پر سے اوپر آتا جاتا تھا۔ اب وہ نظاہ مجھے قادیان میں نظر نہیں آتا کیونکہ اب اندر سے اوپر جانے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا۔ والسلام
    روایات
    شیخ محمد حسین صاحب ولد غلام رسول صاحب
    پنشنر سب جج اسلامیہ پارک لاہور
    میری بیعت 1901 ء یا 1902 ء کی ہے میں نے حضور کو بیعت سے پہلے بھی دیکھا اور بیعت کے بعد بھی آپ کی زیارت کرتا رہا ۔ آپ کے جنازہ پر بھی موجود تھا۔ حالات درج ذیل ہیں۔
    1 ۔ ایک دفعہ حضور اقدس غالباً جنوری کا مہینہ تھا سن یاد نہیں ۔ میاں چراغ الدین صاحب والد میاں محمد حسین صاحب مرہم عیسیٰ کے مکان پر رات کے وقت ٹھہرے ہوئے تھے۔ رات دس بجے کے قریب کا وقت تھا۔ اس سال بارش نہیں ہوئی تھی۔ حاضرین میں سے کسی نے کہا کہ حضور دعا کریں کہ بارش ہو۔ کیونکہ بارش کے نہ ہونے کی و جہ سے قحط کے آثار نظر آرہے ہیں۔ حضور نے نہ دعا کی نہ کوئی جواب دیا اور باتیں ہوتی رہیں۔ پھر اسی نے یا کسی اور نے بارش کے لئے دعا کو کہا مگر پھر بھی حضور نے کوئی تو جہ نہ کی۔ کچھ دیر کے بعد پھر تیسری دفعہ پھر کسی نے دعا کے لئے کہا تو حضور نے (ہاتھ) اٹھائے۔ اس وقت چاند کی روشنی ہو رہی تھی اور آسمان بالکل صاف تھا۔ بادل کا نام نشان نہ تھا۔ جونہی کہ حضور نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے ایک چھوٹی سی بدلی نمودار ہوئی اور بارش کی بوندیں پڑنی شروع ہو گئیں۔ ادھر حضور نے دعا ختم کی بارش بند ہو گئی۔ بارش صرف چند منٹ ہی ہوئی اور آسمان صاف ہو گیا۔ یہ واقعے میری موجودگی میں ہوئے۔
    2 ۔ ایک دفعہ بٹالہ کی سرائے میں ہم لوگ اور حضرت صاحب علیہ السلام رات کو سوئے ہوئے تھے۔ میں نے حضرت صاحب کو کسی سے باتیں کرتے معلوم کیا۔ تو میں نے اسی وقت خیال کیا کہ حضور اللہ تعالیٰ سے باتیں کر رہے ہیں۔ چونکہ میں نے چھوٹی عمر میں شادی کی تھی اس لئے خاص باتیں مجھے یاد نہیں ہیں۔ نیز میرا نام حقیقۃ الوحی تتمہ کے صفحہ 96 نمبر51 پر درج ہے۔ والسلام۔
    روایات
    شیخ عطا ء اللہ صاحب ولد لالہ گنپت رائے صاحب
    اسلامیہ پارک مزنگ لاہور
    خاکسار نے 1894 ء میں حضور انور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کی اور اسی اثناء دو تین ماہ بعد جب کہ عبد اللہ آتھم کی پیشگوئی وقوع میں آئی تھی بیعت بھی نصیب ہوئی۔ لہٰذا حضور کے وقت چند حالات جو میرے ذہن نشین ہیں افادئہ عام کے لئے تحریر کرتا ہوں حضرت اقدس شام سے لیکر عشاء کی نماز تک مسجد مبارک میں تشریف رکھتے تھے اور جماعت کے ہمراہ کھانا بھی تناول فرمایا کرتے تھے۔ پیشترازاں حضور انور گھر میں ہی کھانا کھاتے تھے مگر ڈاکٹر عبدالحکیم نے اعتراض کیا تھا کہ اس قدر روپیہ کو کس جگہ خرچ کیا جاتا ہے۔ ہم لوگ باہر عربی‘ آلو اور دال وغیرہ کھاتے ہیں اور آپ اندر گھر میں خدا جانے کیا کیا چیزیں کھاتے ہیں۔ اس پر حضور اقدس اور حضرت مولوی نورالدین صاحب وغیرہ سب مل کر جماعت کے رنگ میں کھانا کھایا کرتے تھے۔ حضور اقدس بڑی مشکل سے ایک نان کا چوتھائی حصہ تناول فرما یا کرتے تھے۔ روٹی توڑ کر ایک چھوٹا سا ٹکڑا اپنے دست مبارک میں پکڑ لیتے اور آہستہ آہستہ کھاتے رہتے ہر جمعہ کو پلائو بھی دیا جاتا تھا۔ حضور بھی تھوڑا سا تناول فرماتے تھے۔ حضرت اقدس جو بات کرتے ہنس کر کرتے ۔ ہر وقت آپ کا چہرہ مبارک خوش و بشاش نظر آتا تھا۔ میں جب حضور کے پائوں یا پیشانی زور سے دباتا تو حضور نے کبھی بھی اوپر چشم مبارک اٹھا کر نہ دیکھا تھا کہ یہ شخص کون ہے۔مگر نام خوب جانتے تھے۔ میں نے کبھی آپ کو مغموم نہ پایا تھا۔ ایک دن میں گول کمرہ کے قریب جہاں بابو فخر الدین ملتانی کی دکان تھی کھڑا تھا تو حضرت اقدس علیہ السلام خود بنفس نفیس مسجد مبارک کے دروازے پر آئے اور مجھے آواز دی کہ میاں عطاء اللہ یہ چٹھی لیٹر بکس میں ڈال دیں۔ جس پر میں بڑا خوش ہوا کہ حضور کو میرا نام خوب یاد ہے۔ مغرب کے وقت حضور انور ایک معمولی گلاس بکری کے کچے دودھ کا روز مرہ نوش فرماتے تھے۔ ایک شخص نے عرض کیا کہ حضور کچا دودھ نہ پیا کریں تو آپ نے فرمایا کہ اکثر انبیاء علیہم السلام کچا دودھ ہی پیا کرتے تھے۔ کچھ عرصہ کے بعد جب میں محکمہ ٹیلیگراف میں نوکر تھا۔ تپ دق سے سخت بیمار ہو گیا۔ رخصت لے کر قادیان چلا گیا۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفۃ المسیح اول کے دولت خانہ میں قیام پذیر تھا کیونکہ انہیں کے ذریعہ سے میں جموں میں مشرف باسلام ہوا تھا۔اس روحانی اور گہرے تعلق کی و جہ سے خلیفۃالمسیح اول نے میرا علاج شروع کیا ۔ مجھے صبح سویر کھچڑی چاول اور بعد ایک ابلا ہوا انڈا کھلا کر دوائی دیتے تھے۔ زبان کا ذائقہ بگڑ گیا۔ ایک روز میں نے شام کو محترم اماں جان والدہ عبد السلام صاحب کو التجا کی کہ میری زبان کا ذائقہ خراب رہتا ہے۔ اگر کچھ شوربا یا اور کوئی نمکین چیز ہو تو ذائقہ درست ہو جاوے گا۔ انہوں نے فرمایا مولوی صاحب ناراض ہوں گے مگر انہوں نے ایک کپڑے سے مرچوں کو چھان اور صاف کر کے مجھے پلا دیا۔ علی الصبح جب حضرت مولوی صاحب خلیفہ اولؓ نے میری نبض دیکھی تو فرمایا رات کو کیا کھایا تھا نبض بہت تیز چل رہی ہے۔ میں نے کہا کچھ نہیں آپ درس کو چھوڑ کر جلدی سے گھر گئے اور دریافت فرمایا کہ رات عطا ء اللہ نے کیا کھایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کھانا کھانے کے بعد اس نے ضد کر کے تھوڑا سا شوربا پی لیا تھا۔ تو ان پر ناراض ہوئے اور میرے پر بھی کہ اس قدر دروغ گوئی۔
    حضرت مولوی صاحب نے میرے جھوٹ اور بدپرہیزی کا قصہ حضرت اقدس علیہ السلام سے عرض کیا کہ اس کو اپنی صحت کا کچھ خیال نہیں مرض تپ دق میں مبتلا ہے۔ میں بباعث بیماری کے بہت کمزور ہو گیا تھا ۔ میں حضرت مولوی صاحب خلیفہ المسیح اول کے بتلانے پرکہ حضور اقدس کے پاس ایک جوارش ہے اگر تمہیں کچھ دستیاب ہو جائے تو تمہاری یہ کمزوری دور ہو سکتی ہے۔ حضور کے پاس جرأت کر کے گیا اور حضور سے عرض کی کہ حصور مجھے کمزوری بہت ہے تھوڑی سی جوارش عطاء فرما دیں۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ آپ بہت بدپرہیز ہیں اس لئے یہ دوائی آپ کو نہیں ملے گی۔ میں بہت شرمندہ ہو کر واپس چلا آیا۔ آخر میری رخصت دو ماہ ختم ہو گئی۔ حضرت مولوی صاحب کو میری صحت کا بہت فکر تھا۔ ادویہ وغیرہ بنا کر ہمراہ دے دیں تا میں استعمال کروں۔ اور فرمایا میں دعا بھی کروں گا۔ حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ حضورآج میں راولپنڈی واپس جاتا ہوں۔ کیونکہ رخصت ختم ہو گئی ہے۔ دعا فرماویں صحت خراب ہے۔ حضور نے دعا فرمائی اور فرمایا کہ آپ نمازوں میں نہایت عاجزی انکساری اور دل سوزی سے دعائیں کیا کریں اور خط وغیرہ قادیان تحریر کرتے رہا کریں اور جلدی جلدی آیا کریں۔ بدپرہیزی کو چھوڑ دیں۔ اللہ تعالیٰ کے حضور پختہ وعدہ کریں خدا تعالیٰ غفور الرحیم ہے انشاء اللہ ضرور صحت بخشے گا۔ جب راولپنڈی واپس گیا تو رات ڈیڑھ بجے کے قریب ایک رئویا غیر زبان میں اس عاجز کو ہوئی جس کو میں نہ سمجھ سکا۔ حیران ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور گر گیا۔ اور التجا کی کہ اے خدا تیری ذات ہر زبان پر قدرت رکھتی ہے مجھے اس رئویا کا مفہوم سمجھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمت نازل فرماتے ہوئے رات کے اڑھائی بجے کے قریب میری زبان پر جاری کر دیا کہ Healthy- Healthy- Healthy اس کئی بار کی آواز نے مجھے بیدار کر دیا۔ کہ صحت ہو گئی ہے۔ پس میں قریباً بیس برس تک کبھی سردرد سے بھی بیمار نہ ہوا تھا۔ اور دیگر اللہ تعالیٰ کی نصرت سے ہر امر میں کچھ ایسے سامان مہیا کئے گئے کہ اولاد پیدا ہونی شروع ہو گئی۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے تین لڑکے اور چار لڑکیاں عطا کی گئیں ۔ (ہذا من فضل ربی)
    حضرت اقدس کی دعائوں اور قوت قدسی سے اس قدر فیضان الٰہی اور روحانی زندگی حاصل ہوئی کہ تقویٰ و طہارت اور نور ایمان میں ترقی اور نور یقین میں اضافہ ہو گیا۔ راولپنڈی سے میری تبدیلی ہو گئی۔ خرگئی میں جو غیرسرحد پہاڑی علاقہ کے متصل ریلوے سٹیشن ہے۔ ریلوے نے میری تنخواہ دوگنی کر دی۔ وہاں اس وقت گورنمنٹ سے لڑائی ہو رہی تھی او رروز مرہ سینکڑوں آدمی قتل کئے جاتے اور شب خون کرتے اور اٹھا کر لے جاتے تھے۔ جب گھر میں ذکر کیا سب نے جانے سے انکار کر دیا۔ دو روز کی رخصت لے کر قادیان حضور کے پاس پہنچا گو حضور بیمار تھے اور کسی کو ملنے کی اجازت نہ تھی مگر جب میں نے رقعہ لکھا تو حضرت اقدس نے ایک خادمہ کے ذریعہ مجھے بلایا اور ملاقات کا شرف بخشا۔ حضور نے اس وقت اپنی دستار مبارک اپنے شکم کے اردگرد لپیٹی ہوئی تھی اور ایک طرف اس میں دوات رکھی ہوئی تھی اور قلم سے کچھ تحریر کرتے چلے جا رہے تھے اور اندر بڑے کمرے میں گشت لگا رہے تھے۔ اشارہ فرمایاکہ پلنگ پر بیٹھ جائیں۔ بندہ بیٹھ گیا۔ حضور نے فرمایا کب آئے تھے اور کیا حال ہے۔ حال سنایا اور دعا کے لئے درخواست کی۔ فرمایا جس جگہ گورنمنٹ بھیجا کرے چلاجایا کریں۔انکار کرنا خداتعالیٰ کا انکار ہے۔ آپ چلے جائیں انشاء اللہ دعا کی جاوے گی۔ جب میں راولپنڈی آیا تو میری تبدیلی Cancal ہو چکی تھی۔ ریلوے چپڑاسی دوڑتا ہوا آیا اور کہا کہ آپ سرائے کالا ریلوے سٹیشن کے پاس ہیں۔ اس لئے چلے جائیں گویا کہ دعا کا فوری اثر تیر بہدف ہوا۔ فقط
    والسلام
    روایات
    محب الرحمن صاحب ولد میاں حبیب الرحمن صاحب
    دہلی دروازہ لاہور
    میری بیعت 1898 ء یا 1899 ء کی ہے نیز حضور کے زمانہ کو پانے کا شرف حاصل ہونے کی و جہ سے چند ایک واقعات جو مجھے یاد ہیں افادئہ عام کے لئے سپرد قلم کرتا ہوں۔
    خاکسار حضرت والد صاحب کے ہمراہ 1898 ء یا 1899 ء دارالامان حاضر ہوا ۔ شام کے وقت مسجد مبارک کی چھت پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ کھانے میں شریک ہوا چونکہ ان دنوں خاکسار پرہیزی کا کھانا کھاتا تھا اس لئے حضرت اقدس علیہ السلام نے خاص طور پر خاکسار کے متعلق دریافت فرمایا کہ محب الرحمن کے واسطے کھانا آیا ہے۔ خاکسار نے دیکھا کہ حضور کے سامنے سے لوگ پس خوردہ اٹھا لیتے ہیں جس میں میرے والد صاحب بھی شامل تھے تو خاکسار کو یہ بات بہت ناگوار گزری اور خلاف تہذیب معلوم ہوئی۔ کیونکہ حضور نے ابھی کھانا ختم نہ فرمایا تھا۔
    حضرت والد صاحب کا معمول تھا کہ ہر روز صبح کے وقت حضور کی خدمت میں زنان خانہ میں حاضر ہوتے کیونکہ دروازہ پر دستک دینے پر حضور ؑ اپنے اس کمرہ میں جو مسجد مبارک کے ساتھ والی کوٹھری کے پہلو میں بڑا دالان ہے۔ جس میں حضور علیہ السلام بیٹھ کر تصنیف کا کام فرمایا کرتے تھے پردہ کراکر والد صاحب کو بلا لیا کرتے تھے خاکسار بھی ہمراہ ہوتا میں نے دیکھا کہ حضرت والدصاحب حضرت اقدس ؑ کا بے حد ادب فرماتے تھے ایک دن حضرت والد صاحب نے دوران گفتگو میں دریافت فرمایا کہ آیا زیور پر بھی زکوٰۃ ہوتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ زکوٰۃ تو نہیں ہے مگر اچھا ہے کہ کسی غریب کو کسی ضرورت کے موقعہ پر عاریۃً دے دیا جائے اسی طرح حضرت والد صاحب کے تصویر کے متعلق دریافت فرمانے پر تعجب سے فرمایا کہ اچھا ہمارے دوستوں نے بھی تصویریں خریدی ہیں۔ ہماری غرض یہ تو نہ تھی کہ دوست اپنے پاس رکھیں اگر آپ نے خریدلی ہے تو کہیں ڈال چھوڑیں۔ بٹالہ سے حضرت والد صاحب ایک یکہ میں آئے تھے ایک ساتھ والے یکہ میں شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم سوداگر لاہور بھی تھے ۔ ہمار ا یکہ جب مہمانخانہ کے دروازہ پر پہنچا تو والد صاحب نے حافظ حامد علی صاحب کو آواز دے کر اور یکہ میں سے (خلاف معمول) کود کر حضرت مسیح موعود کے دوست کی طرف بھاگتے ہوئے چلے گئے۔ خاکسار کو کوچوان نے اتار دیا اور اسباب یکہ سے نکال دیا ۔ میں اس بات کو دیکھ کر حیران کھڑا تھا کہ حافظ حامد علی صاحب مہمانخانہ سے باہر آئے اور پوچھا کہ یہ اسباب میاں حبیب الرحمان صاحب کا ہے اور اٹھا کر اندر لے گئے اور خاکسار کوبھی ساتھ لے گئے کچھ عرصہ کے بعد والد صاحب حضرت مسیح موعود سے ملاقات کر کے واپس تشریف لے آئے ۔ ہمارے لئے قیام کی جگہ حضرت مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مطب کے اوپر والے کمرہ میں مقرر ہوئی اور اس جگہ چند یوم قیام کر کے واپس چلے گئے۔ حضرت مسیح موعود کی خدمت میں جب خاکسار کو والد صاحب نے پیش کیا تو عرض کیا کہ میں اس کو بیعت کے واسطے لایا ہوں۔ حضرت نے فرمایا کہ اس کی تو بیعت ہی ہے یا یہ کہ یہ تو بیعت میں ہی ہے بیعت کرانے کی کیا ضرورت ہے لیکن والد صاحب نے عرض کیا کہ حضور بیعت میں داخل ہو کر دعائوں میں شامل ہو جائے گا۔ اس پر حضور نے فرمایا کہ آج شام کو بیعت لے لیں گے۔ چنانچہ شام کو بعد نماز مغرب خاکسار نے بیعت کی اور اس وقت اور بھی لوگوں نے بیعت کی۔ مسجد مبارک میں خاکسار نمازوں میں شامل ہوتا تھا اس وقت خراس موجود تھا لیکن اوپر چھت نہ تھی اور خراس کی عمارت اور گول کمرہ کے پردہ کی دیوار کے درمیان کچی دیوار بنی ہوئی تھی۔ جس کی و جہ سے ہمیں چکر کاٹ کر مسجد میں جانا پڑتا تھا میں نے والد صاحب سے دریافت بھی کیا تھا کہ یہ دیوار کیوں بنی ہوئی ہے اگر یہ دیوار نہ ہو تو راستہ سیدھا ہے۔ ایک دن حضور سیر کے لئے جب تشریف لائے تو خاکسار بھی والد صاحب کے ہمراہ چوک میں حضور کا انتظار کر رہا تھا حضور جب تشریف لائے تو والد صاحب سے دریافت کیا کہ چائے پی لی ہے لیکن والد صاحب نے عرض کیا کہ حضور میں عادی نہیں ہوں لیکن حضور واپس مکان میں تشریف لے گئے اور تھوڑی دیر کے بعد ملازم کے ہاتھ ایک خوان لے کر واپس تشریف لے آئے اور والد صاحب کو فرمایا کہ چائے پی لیں والد صاحب نے معذرت بھی کی لیکن حضور نے اصرار فرمایا۔ اس پر میں اور والد صاحب اوپر چلے گئے حضرت والد صاحب مرحوم جلدی جلدی چند گھونٹ چائے کے پی کر واپس چلے گئے کیونکہ حضرت نیچے انتظار فرما رہے تھے اور حضور نے سیر کو جانا تھا خاکسار آہستہ آہستہ چائے پیتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد والد صاحب مرحوم بھاگتے ہوئے آئے اور مجھے جلدی کرنے کو کہا کہ حضرت نیچے تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ اس پر میں نے ختم کر دیا اور نیچے چلا گیا ۔ خاکسار کے جانے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر کے لئے روانہ ہوئے تھوڑی دور جا کر خاکسار کو واپسی کا حکم دیا کہ تم تھک جائو گے اس پر خاکسار اگرچہ واپس آنا چاہتا نہ تھا لیکن واپس آ گیا چند دن وہاں ٹھہر کر خاکسار بہمراہی حضرت والد صاحب مرحوم واپس حاجی پور چلا گیا۔ خاکسار 1901 ء سے1903ء تک مدرسہ تعلیم الاسلام ہائی سکول میں چھٹی ساتویں اور آٹھویں جماعت میں تعلیم پاتا رہا ہے۔ 1905ء و 1906 ء میں بھی خاکسار کو دارالامان رہنے کا اتفاق ہو ا ہے ۔ حضور کے ساتھ پہلو بہ پہلو بہت دفعہ نماز یں ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ حضور کی تقاریر سننے اور ایک بار حضور کے خاص طور پر یاد فرمانے پر حاضری کا شرف بھی حاصل ہوا۔ اور بہت سی باتیں خود سنی ہوئی اور والد صاحب کی سنی ہوئی معلوم ہیں حضور کا ایک دستی مکتوب بھی جو خاکسار کے نام ہے خاکسار کے پاس محفوظ ہے دیگر حالات پھر کسی وقت عرض کروں گا۔
    والسلام
    روایات
    سید ولایت شاہ صاحب ۔ سب اسسٹنٹ سرجن قادیان۔
    حال ملازم افریقہ
    یہ حالات سید محمود اللہ شاہ صاحب نے نیروبی افریقہ سے ارسال فرمائے ہیں
    میں 1897 ء میں شہر سیالکوٹ کے امریکن مشن ہائی سکول کی پانچویں جماعت میں تعلیم حاصل کرتا تھا۔ پہلے بورڈنگ ہائو س میں رہتا تھا۔ پھر اپنے انگریزی کے استاد کی سفارش پر آغا محمدباقر خان صاحب قزلباش رئیس کے ہاں ان کے دو برادران خورد کا ٹیوٹر مقرر ہوا اور ایک الگ چوبارہ رہائش کے واسطے دیا گیا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعاوی کی نسبت سنا ہوا تھا لیکن چونکہ یہ اپنے پرانے رسمی عقائد کے مطابق نہ تھے ۔ اس لئے تحقیق کی طرف بھی تو جہ نہ دی۔ علاوہ ازیں عوام کچھ ایسے غلط پیرائے میں حضرت اقدس کی تعلیم پیش کرتے تھے کہ دل میں نفرت پیدا ہو گئی تھی۔ کچھ دنوں کے بعد شہر میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی اور کثرت سے لوگ مرنے لگے ایک دن نیچے بازار میں دیکھا تو کئی جنازے اور ارتھیاں گزر رہی تھیں اور ان کے لواحقین ماتم کرتے جا رہے تھے اس عبرت ناک نظارے سے مجھے خیال آیا کہ یہ ایک متعدی بیماری ہے ممکن ہے کہ مجھ پر بھی حملہ کر دے اور اگر خدانخواستہ موت آ جائے تو مجھ جیسا نالائق انسان خداوند تعالیٰ کی بارگاہ میں کونسے نیک اعمال پیش کرے گا ۔ پھر اعمال حسنہ تو ایک طرف رہے چھوٹی سی عمر میں اپنے گائوں کی مسجد میں پڑھا ہو ا قرآن کریم بسبب تلاوت نہ جاری رکھنے کے بھول چکا ہے ۔ یہ درست ہے کہ میں اپنی کلاس میں اول ہوں لیکن عقبیٰ میں یہ تو نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے انگریزی و حساب وغیرہ میں کتنے نمبرحاصل کئے ۔ اس خیال سے اتنی ندامت محسوس ہوئی کہ دل میں مصمم ارادہ کر لیا کہ قرآن شریف کو ازسر نو کسی نہ کسی سے ضرور صحیح طور پر پڑھوں گا ۔ پہلے خود قرآن کریم کو کھول کر پڑھا لیکن یقین نہ آیا کہ آیا میں بالکل صحیح پڑھ رہا ہوں اس کے بعد سوچا کہ کسی مسجد کے ملاں سے پڑھوں لیکن ساتھ ہی یہ اندیشہ پید اہوا کہ وہ کہے گا کہ تم اتنے بڑے ہو گئے ہو قرآن شریف بھی پڑھنا نہیں جانتے۔ آخر کار یہ ترکیب سوجھی کہ اگر کہیں کلام اللہ کا درس دیا جاتا ہے تو وہاں جا کر میں بھی بیٹھ کر قرأت سنتا رہوں اور صحیح قرأت کے علاوہ ترجمہ بھی سیکھ جائوں۔ ادھر ادھر سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ سوائے احمدیہ مسجد کے اور کہیں درس نہیں ہوتا۔ میں نے دل میں کہا کہ خیر قرآن کریم سن لیا کروں گا ان کے عقائد اور تعلیم کے بارہ میں بالکل تو جہ نہیں دوں گا۔ جب میں جانے لگا تو آغا صاحب نے روکا اور کہنے لگے کہ اگر تم وہاں گئے تو ضرور مرزائی ہو جائو گے ۔ میں نے ان کو یقین دلایا کہ میں مرزائی بننے نہیں جا رہا۔ صرف قرآن شریف سننے جا رہا ہوں وہ نہ مانے لیکن اگلے دن موقعہ پا کر میں مسجد احمدیہ میں پہنچ گیا۔ حضرت میر حامد شاہ صاحب مرحوم ان دنوں درس دیا کرتے تھے۔ میں بلاناغہ ہرروز درس میں حاضر ہو جاتا تھا اور حقائق و معارف سنتا رہتا تھا۔ جب کبھی حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم قادیان سے آ کر درس دیتے تھے تو ان کے رعب کی و جہ سے ہمارے غیر احمدی استاد بھی درس میں حاضر ہو جاتے تھے گو مجھے خاص طور پر بھی تبلیغ نہیں کی گئی لیکن قرآن کریم کے درس کے دوران میں ہی میرے سب شکوک رفع ہو گئے اور معلوم ہو گیا کہ سلسلہ احمدیہ پر سب الزامات بے بنیاد ہیں۔ان میں ذرا بھی صداقت نہیں۔ آخر میں نے حضرت اقدس کی خدمت میں بیعت کا خط لکھ دیا چند دنوں کے (بعد) منظوری کا جواب آ گیا اور میں خوش قسمتی سے احمدیت کی آغوش میں آ گیا۔ میں تحدیث نعمت کے طور پر عرض کر دینا چاہتا ہوں کہ خداوندتعالیٰ نے مجھے شریف خاندان میں پیدا کیا ڈاکٹری ایسا شریف پیشہ سیکھنے کی توفیق دی میری اکثر دعائیں قبول فرمائیں، سب مرادیں پوری کیں رزق دیا، اولاد دی اور سب سے بڑھ کر جو نعمت عطا فرمائی وہ نبی آخر الزمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی شناخت تھی۔ جس سے احمدی بننے کا فخر حاصل ہوا۔ آغاصاحب کی بات سچی نکلی لیکن اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ میں سیدھے رستے پڑ گیا۔
    2 ۔ اب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے کلمات طیبات جو حضرت کی زبان مبارک سے سنے کی نسبت کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ 1906 ء میں جب میں بلوچستان سے سکول ماسٹری چھوڑ کر لاہور میڈیکل سکول میں داخل ہونے کے لئے آیا تو داخلہ ہو چکا تھا لیکن ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کی سفارش سے ڈاکٹر پیری نے ملٹری کلاس میں داخل کرنا منظور کر لیا پڑھائی شروع ہوئے ابھی تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ سیکنڈ، تھرڈ اور فورتھ ایئر والوں نے بعض شکایات کی و جہ سے ہڑتال کر دی اور سکول جانا چھوڑ دیا جب میں نے کہا کہ ہم فرسٹ ایئروالوں کو کوئی شکایت نہیں تو ہم کس طرح ہڑتال میں شامل ہوں تو وہ قہر کی نظروں سے دیکھنے او ر دھمکانے لگے۔ اس پر ہمیں بھی شمولیت کے لئے مجبور ہونا پڑا کیونکہ نہ شامل ہونے والوں کے ساتھ بہت ہی برا سلوک کیا جاتا تھا۔ پرنسپل صاحب نے جب بورڈنگ ہائوس سے نکال دیا تو رائے میلارام صاحب نے ہم کو اپنی ایک کوٹھی رہنے کے واسطے دیدی۔ جب ہڑتال طول پکڑ گئی تو میں نے اور شیخ عبد الحکیم صاحب بسمل نے جو میرے ہم جماعت تھے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ اور ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب سے پوچھا کہ داخل ہو جائیں یا نہ۔ وہ کہنے لگے کہ ہم کچھ نہیں کہتے بڑے گھر جائو اور پوچھ آئو۔ ہم رات کے دو بجے چوری چوری کوٹھی سے بھاگے اور اگلی صبح قادیان روانہ ہو گئے مسجدمبارک میں پہنچے تو اپنا ماجرا بیان کیا حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کی گئی تو حضور تشریف لائے اور ہمیں مخاطب کر کے فرمایا کہ میں ہڑتال کو بغاوت خیال کرتا ہوں اگر تم لوگوں کو کچھ شکایات ہیں تو لکھ کر باادب پیش کرو اگر تم میرے مرید ہو تو واپس جائو اور سکول میں داخل ہو جائو۔ ہم دونوں واپس آ گئے اور اگلے دن کالج کے احاطہ کی پچھلی دیوار پر چڑھ کر اندر داخل ہوئے اور اپنے نام پھر درج رجسٹر کرائے۔ سامنے پھاٹک سے اندر جانا ناممکن تھا اگر کوئی بندگاڑی میں بھی بیٹھ کر جاتا تھا تو پکٹنگ والے ڈنڈوں سے گھوڑے، کو چوان اور سواریوں کا منہ توڑ دیتے تھے۔ چند دنوں کے بعد سارے طلباء داخل ہو گئے سرغنے اور مانیٹر سکول سے نکال دیئے گئے اور پڑھائی پھر شروع ہو گئی۔ یہ ہڑتا ل کامیاب ہوئی سب شکایات رفع کر دی گئیں۔

    روایات
    ڈاکٹر عمر الدین صاحب ولد محمد بخش صاحب گجرات حال ملازم افریقہ
    معرفت ڈاکٹر سید محمود اللہ شاہ صاحب نیروبی
    میں 28 جولائی 1879 ء میں پیدا ہوا اور بیعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام 30 جون 1905 ء کو کی اور وصیت 23-7-28 کو کی جس کا نمبر2898 ہے۔ جماعت احمدیہ نیروبی کا پریذیڈنٹ اکتوبر 1924 ء سے دو سال تک رہا۔ پھر انتظامیہ کمیٹی کا ممبر رہا۔ جماعت احمدیہ نیروبی کا 15 سال سے محاسب ہوں اور تین سال سے سیکرٹری وصایا وضیافت ہوں ۔ میں اس ملک میں 1900 ء فروری میں ڈاکٹر رحمت علی صاحب رضی اللہ عنہ صوفی نبی بخش صاحب اکوٹنٹ اور ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کے زمانہ وغیرہ میں آیا۔ ڈاکٹر رحمت علی صاحب رضی اللہ عنہ کے اخلاق فاضلہ، شفقت اور ہمدردی کو دیکھ کر کثرت سے لوگ سلسلہ حقہ احمدیہ میں شامل ہوتے دیکھے ۔ یہی پہلا موقعہ تھا جب اس ہادیٔ زمانہ کے پیغام کی آواز میرے کانوں نے سنی۔
    میں نے اپنی قسمت کے مقدمہ کو بارگاہِ ایزدی میں پیش کر دیا اور نہایت تضرع، ہمت اور استقلال سے ہر روز تہجد میں دعا مانگنی شروع کر دی کہ اے میرے پیارے رب اور غیب کے جاننے والے خدا میری فریاد سن اور میری راہبری کر اور مجھے اس راستہ پر چلا جو تیرے علم میں صحیح ہو تاکہ میں کہیں راہِ ہدایت سے دور نہ پھینکا جائوں کیونکہ میں خود تو عاجز کمزور گنہگار اور کم علم ہوں وغیرہ وغیرہ۔ پس میرے مولا نے میری فریاد سن لی اور سچی خوابوں کا سلسلہ شروع ہو گیا پھر مجھے نہایت صفائی سے دو خوابیں دکھلائی گئیں جن کی بناء پر میں نے کریگوسٹیشن سے جو کسمو ضلع میں واقع ہے اور جرمن ایسٹ افریقہ کی سرحد پر ہے اور جہاں کے ہسپتال کا میں انچارج تھا مورخہ 30 جون 1905 ء بذریعہ خط خدا کے پیارے محبوب کی (خدا کی ہزاروں ہزار رحمتیں ان پر) بیعت کی۔ پھر کیا تھا عبادت میں وہ لطف آنا شروع ہوا جو میرے وہم و گمان میں نہ تھا کیونکہ فرشتوں کے نزول پاک کا زمانہ تھا اور ہر ڈاک میں پیارے مسیح موعود علیہ السلام پر تازہ وحی ہوتی اور پوری ہوتی سنی جاتی تھی۔ اور دل ہر وقت حضرت اقدس کی ملاقات کے لئے تڑپتارہتا تھا اور حد سے بڑھ کر بے قراری بڑھنی شروع ہو گئی۔ خداخدا کر کے میری رخصت کا وقت قریب پہنچا۔ خدا نے میرے پیارے مسیح کے نذرانہ کی تحریک میرے دل میں ڈالی۔ میں نے چار شتر مرغ کے انڈے لے جانے کے لئے دل میں فیصلہ کیا مجھے ان کے حاصل کرنے اور پرمٹ لینے کے لئے جرمن پورٹ سے کوشش کرنی پڑی کیونکہ ایسٹ افریقہ سے اجازت نہ دی جاتی تھی۔
    اکتوبر 1907 ء کو میں اپنے وطن کو روانہ ہوا گجرات پہنچنے پر میں نے اپنے والد صاحب (مرحوم) و بھائی صاحب (مرحوم) کو سلسلہ احمدیہ کا مخالف پایا جن کے لئے ہر نماز میں رورو کر دعائیں مانگتا رہا خدا نے میری مدد کی اور میرے والد صاحب بمعہ چند اور دوستوں کے جلسہ سالانہ پر جانے کے لئے راضی ہو گئے۔
    1907 ء کے جلسہ سالانہ پر اپنی گجرات کی جماعت کے ساتھ ہم قادیان شریف کی پیاری بستی میں جا پہنچے۔ میں نے قادیان پہنچتے ہی عجیب نظارہ دیکھا کہ سب جماعتیں اور بڑی بڑی بزرگ ہستی کے احباب حضرت اقدس کی ملاقات کے لئے سخت بیقرار اور ترس رہے ہیں اور ملاقاتوں کے لئے سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں میری حیرت اور فکر کی انتہا نہ رہی کیونکہ میں ایک مسافر کی حیثیت میں ایک دور دراز ملک سے تھوڑے عرصہ کے لئے گیا تھا او ر ملاقات کے لئے دو سال سے تڑپ رہا تھا اور یہ میری دلی آرزو تھی کہ حصرت اقدس کی ملاقات کا موقعہ تنہائی میں میسر آئے جو بات بنتی نظر نہ آتی تھی۔
    ہماری جماعت احمدیہ گجرات لنگرخانہ میں کھانا کھانے میں مصروف تھی اور میں ملاقات کی فکر میں اِدھر اُدھر ہاتھ پائوں مارتے ہوئے مسجد مبارک کے نیچے کی گلی سے گزر رہا تھا کہ ایک بھائی کو اس رستہ سے گزرتے ہوئے دیکھ کر میں نے پوچھا کہ میں دور دراز ملک سے آیا ہوں اور چاہتا ہوں کہ حضرت اقدس سے تنہائی میں ملاقات ہو جاوے آپ مجھے کوئی طریقہ بتاویں۔ انہوں نے فرمایا اس دروازہ میں ایک مائی بوڑھی حضرت اقدس کی خادمہ اکثر آتی جاتی ہے اس سے کہیں ابھی یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ وہ خادمہ نظر آ گئی میں نے بھاگ کر کہا کہ مائی جی میں بہت دور دراز ملک سے آیا ہوں اور حضرت اقدس کی تنہائی میں ملاقات کا اشتیاق ہے مہربانی ہوگی اگر حضور کی خدمت میں مجھ مسافر کا پیغام پہنچا دیویں۔ مائی صاحبہ نے نہایت شفقت اور خوشی سے کہا کہ ذرا ٹھہرو میں آتی ہوں وہ جاتے ہی واپس آ گئی اور خوشخبری سنائی کہ میری مراد پوری ہو گئی۔ حضرت اقدس نے فرمایا اوپر آ جائیں۔ میں جھٹ بھاگ کر اپنے والد صاحب (مرحوم) کو بھی دوسرے چند غیر احمدی دوستوں کے جو