1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

ذکر حبیب ۔ مفتی محمد صادق ۔ سیرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ یونی کوڈ

'حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 24, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    ذکر حبیب ۔ مفتی محمد صادق ۔ سیرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ یونی کوڈ

    (1507) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- اہلیہ محترمہ قاضی عبد الرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ’’ایک مرتبہ کسی نے تین ترکی ٹوپیاں بھیجیں ۔حضور علیہ السلام نے تینوں بچوں کو بلوا کر تینوں ٹوپیاں حضرت میاں محمود احمدصاحب ،میاں بشیر احمد صاحب ومیاں شریف احمد صاحب سلہمہم کے سروں پر رکھ دیں اور اپنے کام میں مشغول ہو گئے ۔آپؑ نے یہ بھی خیال نہ کیا کہ آیا ٹوپیاں ٹھیک ہیں یا کیسی ہیں ؟
    (1508) بسم اللہ الرحمن الرحیم :- میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ’’ ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے قبول ہونے والی دعا کے متعلق فرمایا کہ ’’ دعا کیا ہے کہ جیسے مرگی (سرہا) حالت یکاکیک وارد ہوتی ہے اسی طرح دعا کی حالت انسان پر وراد ہوتی ہے ۔‘‘
    (1509) بسم اللہ الرحمن الرحیم :- میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میں نے حضور علیہ السلام کو جمعہ کے رو زمسجد اقصیٰ میں دو رکعت ہی پڑھتے ہو ئے بار ہا دیکھا ہے ۔عام طور پر لوگ قبل از جمعہ چار رکعت پڑھتے ہیں لیکن حضور علیہ السلام کو دو رکعت ہی پڑھتے دیکھا ہے شاید وہ دو رکعت تحیۃ المسجد ہوں باقی نمازوں میں سنتیں گھر میں ہی پڑھ کر مسجد مبارک میں تشریف لاتے تھے ۔‘‘
    (1510) بسم اللہ الرحمن الرحیم :- میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ’’ایک دفعہ حضور علیہ السلام کی مجلس میں ’’ لاصلواۃ الا بحضور القلب‘‘ پر ذکر ہوا ۔فرمایا کہ ’’حضور قلب یہی ہے کہ جب اذان ہو مسجد میں چلا جاوے آگے نمازمیں توجہ قائم ہو یا نہ ہو ۔یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار کی بات ہے ۔بندہ کا کام ہے کہ وقت پر حاضر ہو جائے ۔‘‘
    (1511) بسم اللہ الرحمن الرحیم :- مراد خاتون صاحبہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم ومغفور نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’بڑے زلزلے کے بعد جب میں آگرہ سے آئی تھی تو خادمہ اصغری کی والدہ اور دوسری عورتوں نے مجھے بتایا تھا کہ حضور مسیح موعود علیہ السلام میاں محمود یعنی خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کی تعریف کرتے تھے کہ ’’ اس نے ایسے گھبراہٹ اور خطرناک موقعہ پر جوزلزلہ کے خوف سے پیدا ہو گیا تھا اس نے اپنی بیوی کو سنبھالے رکھا اور اس کا ہاتھ نہیں چھوڑا ۔ایسے نازک وقت پر عورتیں بسا اوقات اپنے بچوں کو بھی بھول جاتی ہیں ۔‘‘
    (1512) بسم اللہ الرحمن الرحیم :- اہلیہ محترمہ قاضی عبد الرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’جب قادیا ن میں پہلی مرتبہ اینٹوں کا بھٹہ جاری ہوا تھا تو حضرت اقدس ام المومنین اور دوسری بعض عورتوں کو ہمراہ سیر پر لے گئے تھے اور بھٹہ جس میں اینٹیں پک رہی تھیں دکھایا تھا حضور ؑ نے بتایا اور سمجھایا تھا کی کس طرح اس میں کہاں اینٹیں رکھی جاتی ہیں ۔ کیونکر آگ دی جاتی ہے ؟ اور کس طرح پختہ کر کے پکائی جاتی ہیں ؟ تمام باتیں بتائیں اور سمجھائی تھیں ۔‘
    (1513)بسم اللہ الرحمن الرحیم :- برکت بی بی صاحبہ اہلیہ للہ یار صاحب ٹھیکیدار نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ جب اخبار میں یہ چھپا تھا کہ حضور مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کشف میں دیکھا کہ ’’ فرشتے کالے کالے درخت لگا رہے ہیں حضورؑ نے اس سے پوچھا کہ یہ کیسے درخت لگا رہے ہیں ؟اس نے کہا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں طاعون بہت پڑے گی قادیان کو اور شہروں کی نسبت محفوظ رکھا جاوے گا۔‘‘ میرے والد صاحب نے میری والدہ صاحبہ کو کہا کہ تم قادیان چلی جاؤ میرا بھائی قادیان میں پڑھتا تھا اور رشتہ دار بھی قادیان میں تھے ہم قادیان چلے آئے ۔ جب میری اور ماں اور دوسری بہنیں بھی آنے لگیں تو میں بھی تیار ہوئی مگر میری بڑی بہن نے کہا کہ یہ کنواری لڑکی ہے یہ نہ جاوے کیونکہ ہمارے ہاں دستور تھا کہ کنواری لڑکی باہر نہیں بھیجتے تھے ۔میں بہت روئی اور ضد کی ۔آخر وہ راضی ہو گئے اور ہم سب روانہ ہو پڑے۔ میری ماں گھوڑی پر سوار تھی اور ہم پیدل تھے میرے پاؤں سوج گئے ۔ جب ہم سرکاری سکول کے پاس ریتی چھلہ پہنچے تو سانس لینے کے واسطے تھک کر بیٹھ گئے ۔حضور اس وقت سیر کو تشریف لے جارہے تھے وہاں سے گزرے جب ہم حضورؑ کے در دولت پر پہنچے تو اماں جان نے فرمایا کہ حضورؑ سیر کو تشریف لے گئے ہیں ۔مجھے حضورؑ کی زیارت کا سخت اشتیاق تھا حضور علیہ السلام تشریف لائے تو میں نے دیکھا کہ چہرہ مبارک بہت نورانی تھا ۔حضورؑ نے دریافت کیا کہ’’ تم کہاں سے آئی ہو؟‘‘ عرض کیا کہ حضور ! مکیریاں سے آئی ہیں ۔سبحان پور تیرا ضلع کانگڑہ کے وزیر الدین ہیڈ ماسٹر صاحب کی ہم بیٹیاں ہیں اور یہ ہماری والدہ صاحبہ ہیں ۔ حضور ؑ نے دریافت فرمایا کہ ’’کھانا کھا لیا ہے ؟‘‘ ہم نے کہا کہ ’’ حضورکھا لیا ہے ۔‘‘ آپؑ اندر تشریف لے گئے ۔ ہم نے ڈاکٹرنی صاحبہ سے پوچھا کہ بیعت کیسے لیتے ہیں ؟ ڈاکٹرنی صاحبہ نے کہا کہ جس طرح حضورؑ فرماتے جاویں گے تم بھی کہتی جانا کوئی محنت نہیں کرنی پڑے گی ۔ اماں جان نے حضورؑ کو کہا کہ ’’ یہ بیعت کرنے آئی ہیں ۔‘‘ حضورعلیہ السلام دالان میں کرسی پر بیٹھ گئے ۔حضورؑ نے ہم سے بیعت لینی شروع کی ۔ہم شرم کے مارے آواز نہیں نکال سکتی تھیں ۔حضورؑ نے فرمایا کہ ’’ اتنی آواز نکالو کہ میں سن سکوں۔‘‘ پھر ہم نے کچھ اونچی آواز کی۔جب ہم واپس جانے لگے تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’ تمہارے پیر سوجے ہوئے ہیں تم آج نہ جاؤ،آرام ہو تو چلی جانا ۔‘‘
    (1514) بسم اللہ الرحمن الرحیم :- برکت بی بی صاحبہ اہلیہ اللہ یار ٹھیکیدار نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ ایک دفعہ میرے والد صاحب رخصت لے کر آئے تھے تو حضورؑ نے فرمایا تھا کہ ’’ اور زلزلہ آئے۔‘‘ یعنی ایک بڑ ازلزلہ جو کہ آچکا تھا اس کے بعد اور آنے والا ہے ۔ میرے والد صاحب نے کہا کہ حضور فرماویں تو رخصت لے کر یا ملازمت چھوڑ کر چلا آؤں ۔ حضورؑ نے فرمایا کہ ’’ لگا ہوا روزگار نہیں چھوڑنا چاہئے ۔دعا کے واسطے بار بار یاد دلایا کرو آخر دسمبر تک میں ایک دفعہ حضورؑ کے در دولت پر گئی تو اماں جان نے اصغری کی اماں سے چاول پکوائے ۔چاول خراب ہوگئے ۔ حضرت اماں جان اس پر خفا ہوئیں ۔ حضور علیہ السلام آواز سن کر باہر آگئے اور فرمایا کہ ’’ اس کو کچھ نہ کہو۔‘‘ اماں جان نے فرمایا کہ ’’ اس نے چاول خراب کر دئے ہیں ۔‘‘ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’ چاول خراب ہی ہوں گے۔‘‘
    (1515) بسم اللہ الرحمن الرحیم :- میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ’’ حضور علیہ السلام کو زلزلہ ضلع کانگڑہ وغیرہ( جو1904ئ؁ میں غالباً آیا) کے متعلق جب یہ الہام ہوا کہ ’’ تھدم ھم مایعمرون۔‘‘ اس پر حضور علیہ السلام نے ایک دن فرمایا کہ ’’ دھرم سالہ ضلع کانگڑہ میں اس الہام سے معلوم ہوتا ہے کہ پھر زلزلہ آئے گا اور جو عمارت بنا رہے ہیں گرادی جائیں گی ( رب کل شئے خادمک رب فاحفظنا وانصرنا وارحمنا)
    (1516) بسم اللہ الرحمن الرحیم :- اہلیہ محترمہ قاضی عبد الرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ ہم اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب ایک ہی مکان میں رہتے تھے ۔ ورانڈہ میں ہم نے دیوار کر لی تھی۔ میرے لڑکا پید اہو ا حضور علیہ السلام نے اس کا نام ’’ عبد السلام ‘‘ رکھا تھا۔ میری نند امۃ الرحمن صاحبہ نے حضور اقدسؑ سے کہا کہ ’’ ہم اور مفتی صاحب ایک ہی مکان میں رہتے ہیں ان کے بچے کا نام بھی’’ عبد السلام ‘‘ ہے اور ہمارے کا نام بھی’’ عبد السلام ‘‘ ہے۔ حضور علیہ السلام نے ہنس کر فرمایا کہ ’’ پھر کیا ہوا وہ اپنے باپ کا بیٹا ہے یہ اپنے باپ کا ہے۔‘‘
    (1517) بسم اللہ الرحمن الرحیم :- برکت بی بی صاحبہ اہلیہ اللہ یار صاحب ٹھیکیدار نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ مجھے ماہواری تکلیف ہوا کرتی تھی۔ میں نے اس کا ذکر اپنی اماں سے نہ کیا بلکہ حضور علیہ السلام سے عرض کردیا کہ مجھ کو یہ تکلیف ہے حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ’’ ایسی باتیں اپنی والدہ سے کہو مردوں سے نہ بیان کیا کرو۔‘‘ اس پر مجھے بعد میں شرمساری ہوئی ۔‘‘
    (1518) بسم اللہ الرحمن الرحیم :- مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم ومغفور نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ ایک دفعہ حضرت ام المومنین اور سب نے مل کر آم کھائے کہ صحن میں چھلکوں اور گٹھلیوں کے دو تین ڈھیر لگ گئے جن پر بہت سی مکھیاں آگئیں ۔اس وقت میں بھی وہاں بیٹھی تھی۔ کچھ خادمات بھی موجود تھیں مگر حضرت اقدس نے خود ایک سوٹے میں فنیائل ڈال کر سب صحن میں چھلکوں کے ڈھیروں پر اپنے ہاتھ سے ڈالی۔‘‘
    (1519) بسم اللہ الرحمن الرحیم :- میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ’’ ایک دفعہ فرمایا کہ ’’ دعا نماز میں کرنی چاہئے رکوع میں سجدہ میں بعد تسبیحات منسونہ اپنی زبان میں دعا مانگے۔ بعض لوگ نماز تو جلد ی جلدی پڑھ لیتے ہیں اور بعد نماز ہاتھ اٹھا کر لمبی لمبی دعا ئیں کرتے ہیں اس کی مثال ایسی ہے کہ جب سامنے کھڑا ہو ا اس وقت مانگتا نہیں جب باہر آجائے تو پھر دروازہ جا کھڑکانے لگے۔ نمازی نماز کے وقت خد اتعالیٰ کے حضور سامنے کھڑا ہوتا ہے اور اس وقت تو جلدی جلدی نماز پڑھ لیتا ہے اور کوئی حاجت یا ضرورت خد اتعالیٰ کے حضور پیش نہیں کرتا لیکن جب نماز سے فارغ ہو کر حضوری سے باہر آجاتا ہے پھر مانگنا شروع کرے( یہ ایک قسم کی سوء اوی ہوگی) اس کے یہ معنے نہیں کہ بغیر نماز دعا جائز نہیں صرف یہ مطلب ہے کہ نماز کے وقت خاص حضوری ہوتی ہے اس وقت ایسا نہیں کرنا چاہئے بلکہ بہتر ہے کہ نماز کے اندر دعا کرے وہ قبولیت کا وقت ہوتا ہے ۔‘‘
    (1520) بسم اللہ الرحمن الرحیم :- برکت بی بی صاحبہ اہلیہ اللہ یار صاحب ٹھیکیدار نے بواسطہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ ایک دفعہ کا ذکرہے کہ ٹھیکیدار صاحب نے فالودہ کی دکان کی تھی تو بازار میں ’ہوکا‘ دیتے تھے کہ ’’ لے لو حلوا‘‘لے لوحلوہ ۔ اماں جان نے فرمایا کہ ’’ یہ کیا شور ہر وقت مچاتا رہتا ہے ۔‘‘ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’ کیا کرے۔ بچارا گدھا چلا نہیں سکتا اور کیا کرے؟‘‘
    (1521) بسم اللہ الرحمن الرحیم: - مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیاکہ ’’ میں نے حضرت اماں جان صاحبہ سے سنا کہ ایک دفعہ شام کے وقت حضرت ام المومنین صاحبہ اور مولویانی نے صلاح کی کی حسن بی بی اہلیہ ملک غلام حسین صاحب کو ڈرائیں ۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام عشاء کی نماز کے لئے مسجد میں تشریف لے گئے تو حضرت ام المومنین نے حسین بی بی سے کہا کہ ’’ پانی پلاؤ‘‘ جب وہ پانی لینے گئی تو مولویانی صاحبہ چارپائی کے نیچے چھپ گئی۔ وہ پانی لے کر آئی اور چارپائی کے پاس کھڑی ہو کر پانی دینے لگی تو مولویانی صاحبہ نے نیچے سے اس کے پاؤں کی زور سے چٹکی لی ۔اس نے دو تین چیخیں ماریں اور زمین پر گر پڑی ۔ حضور علیہ السلام مسجد سے گھبرائے ہو ئے تشریف لائے اور استفسار فرمایا تو حضر اماں جان اور سب چپ ہوگئیں ،اس پر آپؑ نے فرمایا کہ ’’ میں نے کئی بار کہاہے کہ نماز کے وقت ایسی باتیں نہ کیا کرو۔‘‘ آپؑ ہنستے بھی جاتے کیونکہ حضورؑ کو معلوم ہو گیا تھا کہ مذاق کیا گیا ہے ۔‘‘
    (1522) بسم اللہ الرحمن الرحیم: - میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ’’ اللہ دتہ وعلی محمد چھنیبے وغیرہ سکنائے سوہل تحصیل وضلع گورداسپور ابتدائے دعویٰ سیدنا حضرت مسیح موعود ؑ کے وقت اکثر معترض رہتے تھے اور ہر حرکت وسکون پر اعتراض کرتے رہتے تھے ۔ مینار( جو نزول گاہ مسیح موعودؑ ہے) پر بھی معترض تھے کہ’’ مینارکہاں ہے؟‘‘ جس پر حضرت صاحب ؑ کے حضور عرض کیا گیا کہ مولوی اللہ دتہ وغیرہ سوہلوی ( چھنیبے)میناز کے متعلق اعتراض کرتے ہیں ۔ حضور علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ’’ جس وقت مینار بنے گا اس وقت یہ چھنیبے کہاں ہوں گے ؟ ( یعنی ہلاک ہو چکے ہوں گے) چنانچہ ایسا ہی ہوا ایک طاعون سے ہلاک ہوا اور دوسرا علی محمد زندہ درگو کی حالت میں ہے کبھی کلام کرتا نہیں سنا گیا ۔‘‘
    (1523) بسم اللہ الرحمن الرحیم: - اہلیہ محترمہ قاضی عبد الرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیاکہ’’ جب حضور مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دائی فوت ہوئی تھیں تو حضورؑ نے افسوس کیا تھا اور فرمایا تھا کہ ’’ آج ہماری دائی صاحبہ فوت ہوگئی ہیں ۔‘‘
    (1524) بسم اللہ الرحمن الرحیم: - برکت بی بی صاحبہ اہلیہ اللہ یار صاحب ٹھیکیدار نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ ایک مرتبہ حضور ؑ نے فرمایا کہ ’’ اللہ یار تو معمولی آدمی ہے محمد اکبر اچھا آدمی ہے ۔ میں نے جا کر خاوند سے تکرا ر کی کہ تومعمولی شخص میرے پلے پڑ گیا ہے ۔ میرا خاوند حضور علیہ السلام کی خدمت مین بھاگا ہوا آیا اور فریاد کی کہ میری بیوی کہتی ہے کہ ’’ تو معمولی آدمی ہے۔‘‘ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’ میں نے اپنی طرف سے نہیں کہا بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کہا ہے ۔‘‘
    (1525) بسم اللہ الرحمن الرحیم: - میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ’’ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضورؑ نے ایک بزرگ کا ذکر کیا کہ وہ دعا کرتے اور جواب جناب الہیٰ سے آتا کہ تمہاری دعا مردود ہے قابل قبول نہیں ۔اتفاق سے اس کا ایک مرید ملنے کے لئے آگیا جب حسب دستور انہوںنے دعا شروع کی تو جناب الہیٰ سے وہی جواب ملا جو روز ملا کرتا تھا۔ آخر مرید نے بھی وہ جواب سن لیا تو اس نے اپنے پیر کی خدمت میں عرض کی کہ جبکہ یہی جواب آتا ہے کہ ’’ تمہاری دعا مردود ہے قابل قبول نہیں تو آپ دعا ترک کیوں نہیں کر دیتے؟‘‘ تو پیر نے جواباً فرمایا کہ تم دو تین رات میں ہی سن کر گھبرا گئے ۔میں تو قریباً30سال سے یہی جواب سن رہا ہوں کہ’’ تمہاری دعا مردود ہے قابل قبول نہیں ہے۔‘‘ وہ بے نیاز ہے جوچاہئے کرے اور میں بندہ ہوں اس کے سوا میرے لئے کوئی پناہ نہیں ہے وہ اپنی بے نیازی کی وجہ سے میری دعا کو رد کرتا جائے ۔میں اپنی بندگی اور عبودیت کو اس کے حضور پیش کر کے مانگتا جاؤں گا جب تک کہ دم میں دم ہے ۔جب اس کا استقلال اس حد تک پہنچ گیا تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ اس کو بذریعہ الہام بتایا گیا کہ تمہاری سب دعائیں مقبول ہیں ۔‘‘
    (1526) بسم اللہ الرحمن الرحیم: - اہلیہ محترمہ قاضی عبد الرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک عورت (قوم خانہ بدوش) آلے بھولے یعنی مٹی کے کھلونے بیچنے والی آئی ۔اس نے آواز سی ۔’’ لونی آلے بھولے۔‘‘ گرمی کا موسم تھا ۔حضور علیہ السلام اور اماں جان ان دنوں دن کو مکان کے نیچے کے حصہ میں رہتے تھے ۔حضور ؑ کھانا کھا کر ٹہل رہے تھے کہ اس عورت نے آواز دی ۔ ’’لونی آلے بھولے۔‘‘ ابھی میں نے جواب نہیں دیا تھا کہ وہ پھر بولی کہ ’’ میں سخت بھوکی ہوں مجھے روٹی دو۔‘‘ صفیہ کی اماں جو حضور کی خادمہ تھی اس وقت کھانا کھلایا کرتی تھی۔ انہوں نے دو روٹیاں سلطانوں کو دی کہ ان پر دال ڈال کر اس کو دے دو۔ سلطانی مغلانی بھی حضور علیہ السلام کے گھر میں آنکھوں سے معذور اور غریب ہونے کی وجہ سے رہتی تھی ۔اس نے جب دال ڈال کر اس سائلہ کو دی تو اس عورت نے جلدی سے ٹوکرا زمین پر رکھ کر روٹی ہاٹھ میں لی اور جلدی سے ہی ایک بڑا سا لقمہ توڑ کر اپنے منہ میں ڈالنے کے لئے منہ اوپر کیا اور ساتھ ہی ہاتھ بھی اونچا کیا۔مکان کی پکی عمارت اس کو نظر آئی تو لقمہ اس کے ہاتھ میں تھا اور سخت بھوکی منہ اوپر کو کئے ہوئے اس نے پوچھا کہ ’’یہ کس کا گھر ہے کہیں عسائیوں کا تو نہیں ۔‘‘ سلطانوں نے کہا کہ ’’ تو کون ہے ؟‘‘ اس نے کہا کہ ’’ میں مسلمان امت رسول دی ۔‘‘ حضورؑ ٹہلتے ہوئے یہ بات سن کر کھڑے ہوگئے فرمایا’’ اس کو کہہ دو یہی مسلمانوں کا گھر ہے۔‘ ‘ پھر تین بار فرمایا کہ ’’ اس کو کہدو یہی مسلمانوں کو گھر ہے ۔‘‘ پھر ایک روپیہ اپنی جیب سے نکال کر اس کو دیا اور اس کے اس فعل سے کہ باوجود یہ کہ سخت بھوک ہونے کے اس نے جب تک تحقیق نہیں کر لی کہ یہ خیرات مسلمانوں کی ہے اس کو نہیں کھایا ۔آپ بہت خوش ہوئے ۔‘‘
    (1527) بسم اللہ الرحمن الرحیم :- میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ’’جلسہ مہوتسو لاہور کے موقعہ پر بھی جب حضور علیہ السلام کا مضمون ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ جو حضرت مولوی عبد الکریم صاحب ؓ نے بمقام لاہور پڑھ کر سنایا تھا جس کی نسبت خد اتعالیٰ نے پہلے ہی خبر دے دی تھی کہ ’’ مضمون بالا رہا‘‘ اس وقت بھی محویت سامعین کا یہ حال تھا کہ کوئی اگر کھانستا بھی تو سامعین گوارا نہ کرتے تھے ۔مضمون کیا تھا ایک اللہ تعالیٰ کی ہستی کا چمکتا ہو انشان تھا۔ مولوی محمد حسین بٹالوی مکذب کا مضمون اس مضمون سے ایک روز پہلے ہوچکا تھا جو اس نے خود پڑھا تھا جس میں اس نے کہا تھا کہ ’’ لوگ ہم سے نشان مانگتے ہیں ہم کہاں سے نشان دکھلائیں ؟‘‘ ہم میں کوئی اب نشان دکھلانے والا نہیں ہے ۔‘‘ اس کے بعد دوسرے دن حضور علیہ السلام کا مضمون پڑھا گیا جس میں بڑے زور سے کہا گیا کہ ’’ اندھا ہے وہ جو کہتا ہے کہ کہاں سے نشان لائیں ؟ آؤ میں نشان دکھلاتا ہوں اور میں اندھوں کو آنکھیں بخشنے کے لئے آیا ہوں ( یہ فقرات بذات خود نشان تھے کیونکہ مولوی محمد حسین کا مضمون پہلے پڑھا گیا تھا اور حضور علیہ السلام کا بعد میں پڑھا گیا اور اگر حضور علیہ السلام کا مضمون پہلے پڑھا جاتا اور مولوی محمد حسین کا بعد میں پڑھا جاتا تو بے مزگی پیدا ہو جاتی لیکن قدرت کا منشا تھا کہ اسلام کی عظمت ظاہر ہو اس لئے مولوی محمد حسین نے جو کمزوری(اسلام کی طرف) اپنے مضمون میں دکھلائی تھی خدا کے مامورومرسل نے اس کو رد کر کے اسلامی شوکت کو بلند کر دیا۔‘‘ الحمد للہ علی ذالک
    (1528) بسم اللہ الرحمن الرحیم :- برکت بی بی صاحبہ اہلیہ اللہ یار صاحب ٹھیکیدار نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ ایک دفعہ ہم پر بہت قرضہ ہوگیا تھا ۔میں نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’ لکڑی کا کاروبار کرو۔‘‘ چنانچہ لکڑی کا کاروبار سے ہم کو بہت فائدہ ہوا۔‘‘
    (1529) بسم اللہ الرحمن الرحیم :- برکت بی بی صاحبہ اہلیہ اللہ یار صاحب ٹھیکیدار نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ ایک مرتبہ میں اور میری بہن مکیریاں سے آئے ۔ طاعون کے دن تھے ۔حضور علیہ السلام کے دروازہ پر پہرہ تھا حضورؑ نے فرمایا کہ ’’ تم کو کسی نہیں روکا؟‘‘ عرض کیا کہ نہیں ۔ حضورؑ ہم کو کسی نے نہیں روکا۔ حضور علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ ’’ جہاں سے تم آئی ہو وہاں تو طاعون نہیں تھا؟ہم نے کہا کہ نہیں ۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’ کوئی جگہ خالی نہیں رہے گی سب جگہ طاعون پڑ جائے گی ۔‘‘
    (1530) بسم اللہ الرحمن الرحیم :- میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ’’ ایک دفعہ ماہ رمضان کا روزہ خود چاند دیکھ کر تو نہ بعض غیر احمدیوں کی شہادت پر روزہ رکھ لیا اور اسی دن قادیان قریباً ظہر کے وقت پہنچے اور یہ ذکر کیا کہ ’’ ہم نے روزہ رکھا ہو اہے‘‘ اور حضور علیہ السلام بھی مسجد میں تشریف لے آئے ۔ اسی وقت احادیث کی کتابیں مسجد میں ہی منگوائی گئیں اور بڑی توجہ سے غور ہونا شروع ہو گیا کیونکہ قادیان میں اس روز روزہ نہیں رکھا ہو اتھا۔ اسی دوران میں ہم سے سوال ہو اکہ ’’ کیا چاند تم نے خود دیکھ کر روزہ رکھا ہے ؟‘‘ ہم نے عرض کیا کہ ’’ بعض غیر احمدیوں نے دیکھا تھا ۔ہمارے اس فقرے کے کہنے کہ’’ چاند غیر احمدیوں نے دیکھا تھا ‘‘ کتاب کو تہ کردیا اور فرمایا کہ ’’ ہم نے سمجھاتھا کہ تم نے خود چاند دیکھ کر روزہ رکھا ہے اس لئے تحقیقات شروع کی تھی اس کے بعد دیر تک ہنستے رہے۔‘‘
    (1531) بسم اللہ الرحمن الرحیم :- برکت بی بی صاحبہ اہلیہ اللہ یار صاحب ٹھیکیدار نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ ایک مرتبہ میرے والد ماسٹر ظہیر الدین صاحب بیمار ہو گئے تو میرے خاوند ان کو قادیان میں لے آئے ۔ حضور علیہ السلام ان دنوں دہلی تشریف لے گئے ہوئے تھے ۔جب میرے والد صاحب کی بیماری زیادہ بڑھ گئی تو ان کے رشتہ دار ان کو لے گئے کہتے تھے کہ کہیں اپنی لڑکی کے گھر میں ہی فوت نہ ہوجائیں وہ اسی بیماری سے فوت ہوگئے تھے ۔جب حضور علیہ السلام دہلی سے واپس آئے تو میں سلام کے واسطے گئی ۔حضورؑ میری آواز سن کر کمرے سے باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ’’ برکت! تیرے والد کے فوت ہونے کا افسو س ہے ۔‘‘ میں روپڑی ۔حضورؑ نے فرمایا کہ ’’ رو نہیں ۔ہر ایک نے فوت ہو نا ہے ۔تسلی رکھنی چاہئے۔‘‘ جب سے حضور علیہ السلام نے ایسا فرمایا تھا میرا رونا اور غم کرنا بند ہو گیا تھا۔‘‘
    (1532) بسم اللہ الرحمن الرحیم :- میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ’’جن ایام میں مقدمات شروع ہو ئے تھے اور عیسائی کلارک والا مقدمہ کا فیصلہ ہو اتھا اور پیلا طوس بہادر صاحب ڈپٹی کمشنر ڈگلس گورداسپور نے فیصلہ کرتے وقت حضور علیہ السلام کو مبارک باد کہہ کر بری کیا تھا اور یہ بھی دریافت کیا تھا کہ ’’ کیا آپؑ کلارک وغیرہ پر ازالہ حیثیت کا استغاثہ کریں گے ؟ حضورؑ نے کہا تھا کہ ’’ میں دنیاوی حکومتوں کے آگے استغاثہ کرنا نہیں چاہتا ۔میری فریاد اپنے اللہ تعالیٰ کے آگے ہے ۔‘‘ اس فقرہ کا اس پر اچھا تاثر ہو اتھا۔ احمدیوں کو ا س مقدمہ میں عزت کے ساتھ بریت کی بڑی خوشی تھی ۔مولوی محمد حسین بٹالوی نے (بطالوی) عیسائیوں کی تائید میں شہادت دی تھی۔ بریت پر اس کو بھاری ذلت پہنچ چکی تھی۔ عبد اللہ آتھم عیسائی بھی میعاد پیشگوئی میں مرعوب ہو کر بڑبڑاتا رہا تھا کہ’’ مجھ پر سانپ چھوڑے گئے ہیں اور تلواروں والے حملہ آور ہو ئے وغیرہ ۔ مولوی محمد حسین نے بھی (ہمچوعطاء اللہ بخاری) آٹھ کروڑ مسلمانان ہندوستان باوجود نمائندہ ہونے کے ایک چھری خرید لی جس کو جیب میں رکھتا تھا۔ (خوف تھا کہ احمدی مارد یں گے)
    ایک روز شیخ محمد بخش سب انسپکٹر تھانہ بٹالہ کے پاس یہ ذکر کردیا کہ ان کو چھری دکھلائی۔ سب انسپکٹر نے نقص امن کی رپورٹ کر دی اور ڈپٹی کمشنر گورداسپور نے فریقین کو طلب کر لیا۔ ادھر سب انسپکٹر نے جوش سب انسپکٹری میں کہدیا کہ ’’ آگے ہی مرزا کلارک والے مقدمہ سے بچ گیا تھا اب بچا تو جانیں گے ۔‘‘ اس طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے مسیح موعود ؑ کو بریت کی خبر دے دی کہ’’ یعض الظالم علی یدیہہ ویوثق کہ ظالم اپنے ہاتھ کا ٹے گا اور روکا جائے گا۔ غرض اس مقدمہ میں صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر دورہ پر تھے بمقام کارخانہ دھاریوال پیشی تھی اور رمضان کا مہینہ تھا۔ تاریخ سے پہلے خیال تھا کہ کارخانہ دھاریوال کے قریب کسی جگہ ڈیرہ لگایا جائے تاکہ پیشی کے وقت تکلیف نہ ہو۔(قادیان سے آٹھ میل سفر تھا) پہلے موضع لیل میں کوشش کی گئی لیکن افسوس کہ مسلمانون لیل نے انکار کردیا۔ بعدش موضع کہونڈا تجویز ہو گئی اور رانی ایسر کور صاحبہ جوموضع کہونڈا کی رئیسہ تھی اور اس نے حضرت اقدس کی تشریف آوری پر بہت خوشی کا اظہار کیا اور اپنے مصاحبوں کو حضور علیہ السلام کے استقبال کے لئے آگے بھیجا اور اپنا عالی شان مکان صاف کرا کے رہائش کے لئے دے دیا اور اپنے مصاحبوں کے ذریعہ نذرانہ پیش کیا اور کہلا بھیجا کہ ’’ مجھے حضور کی آنے کی اس قدر خوشی ہوئی ہے کہ میں سمجھتی ہوں کہ سردار جمیل سنگھ صاحب سرگباش آگئے ہیں (سردار جمیل سنگھ صاحب رانی موصوفہ کا خسر تھا) اس رات کو رانی صاحبہ موصوفہ نے حضور علیہ السلام کو مع خدام پر تکلف دعوت دی حضور علیہ السلام نے بڑی خوشی کا اظہار کیا ۔
    اس سفر میں سیٹھ عبد الرحمن صاحب مدارسی بھی ساتھ تھے حضورؑ پالکی میں تھے۔(پالکی قدیم پنجاب کی سواری تھی قریباً چار آدمی اٹھاتے تھے) اور سیٹھ صاحب یکہ پر تھے ۔ ہم سب بھائی پالکی کے ساتھ ساتھ چلتے تھے اور ہم نے روزے رکھے ہوئے تھے جب روزے کا ذکر ہوا تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’ سفر میں روزہ نہیں ہے ۔‘‘ ہم نے اس وقت افطار کر دئے ۔
    دوسرے روز بمقام کارخانہ دھاریوال میں پیش ہوئے (کہونڈا سے ایک میل کے فاصلہ پر تھا) آئندہ تاریخ گورداسپور کی ہوگئی۔ زائرین کا ہجوم اس قدر تھا کہ آخر حضور علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی گئی کہ زائرین مضطرب زیارت ہیں لیکن کثرت کی وجہ سے اطمینان سے زیارت نہیں کر سکتے ۔ حضورؑ نے درخواست کو منظور فرما کر نہر کے پل پر کھڑے ہو گئے اور لوگوں کو زیارت کا موقعہ دیا گیا۔
    نوٹ: مولوی محمد حسین اس نظارہ کودیکھتا تھا لیکن حسرت کی نگاہ سے ( افسوس) آخر مجسٹریٹ ضلع نے مولوی محمد حسین سے لکھوا لیا کہ ’’ میں آئندہ مرزا صاحب کو کا فر نہیں کہوں گا۔‘‘ اور سب انسپکٹر کے ہاتھوں پر مہری( رچندار ) کے زخم ہو گئے جس سے وہ جانبر نہ ہو سکا۔
    صدق اللہ تعالیٰ ۔ یعض الظالم علی یدیہہ ویوثق۔حضور علیہ السلام سے ہی مجسٹریٹ ضلع نے پوچھا کہ ’’ آپ اس کو کافر کہتے ہیں ۔‘‘ حضور ؑ نے جواب دیا کہ ’’ میں نے اس کو نہیں کہا بلکہ اس نے مجھ پر کفر کا فتوی لگایا اس لئے وہ خود کافر ہوا۔‘‘ اور اس پر آپ نے دستخط کر دئے ۔‘‘
    (1533) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- برکت بی بی صاحبہ اہلیہ اللہ یار صاحب ٹھیکیدار نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ میں اکثر اپنی بہن کے لڑکے کو جو چھ یا آٹھ سال کا تھا حضرت اقدس ؑ کے گھر میں لے جاتی تھی۔ ایک دن اس کو جبکہ نماز پڑھ رہی تھی کھانسی ہوئی۔ حضورؑ نے فرمایا کہ ’’ اس بچہ کو کھانسی ہے جب تک آرام نہ ہو یہاں ساتھ نہ لایا کرو۔‘‘ میں نے عرض کی کہ حضور دعا فرماویں کہ آرام ہو جائے ۔ چنانچہ بچہ کو جلد آرام ہو گیا تھا۔‘‘
    (1534) بسم اللہ الرحمن الرحیم :- میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ’’ابتدائے دعوی سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے وقت مولوی اللہ دتہ ،محمد علی وغیرہ سوہلوی کے ساتھ مقابلہ ہوتا رہتا تھا۔ ایک دفعہ موضع اٹھوال ضلع گورداسپور میں (اٹھوال میں بفضل خدا کافی جماعت قائم ہے ۔) مقابلہ ہو ا۔چونکہ اس سے پہلے کئی مقابلے ہو چکے تھے اس لئے اس روز مباہلہ پر زور دیا گیا کہ ’مباہلہ کیا جاوے‘ تافیصلہ ہو جاوے ۔ صدہا آدمی موجود تھے قریباً کئی گھنٹہ تک بالمقابل مباہلہ گفتگو ہوتی رہی ۔ احمدیت کی طرف سے خاکسار بولتا تھا اور مخالفین کی طرف سے مولوی اللہ دتہ تھا۔ وہی تمسخر واستھزاء میں وقت ضائع کر رہا تھا۔ ہر چند امن کے ساتھ تصفیہ کی طرف متوجہ کیا لیکن وہ تمسخر واستھزاء سے باز نہ آیا۔ آخر مجلس بلد تصفیہ برخواست ہو گئی ۔
    مجھے یاد ہے کہ شیخ غلام مرتضیٰ صاحب والد شیخ یوسف علی صاحب (سابق پرائیویٹ سیکرٹری حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ؓ) وہاں مع دیگران موجو دتھے۔احمدیوں کی کلام اور رویہ سے نہایت متاثر تھے۔خیر مباہلہ تو نہ ہوا لیکن خدا تعالیٰ کی مشیت نے اسی سال کے اندر ہی مولوی اللہ دتہ کو طاعون میں گرفتار کر کے ہلاک کر دیا۔ الحمد للہ علی ذالک انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘
    (1535) بسم اللہ الرحمن الرحیم: - میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ’’ ایک دفعہ میں نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں سوال کیا کہ ’ شادیوں کے موقعہ پر اکثر لوگ باجا، آتشبازی وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں اس کے متعلق شرعی فیصلہ ہے ؟ فرمایا کہ ’’ آتشبازی تو جائز نہیں ،یہ ایک نقصان ارسال فعل ہے اور باجا کا بغرض تشھیر نکاح جائز ہے ۔‘‘
    (1536) بسم اللہ الرحمن الرحیم: - میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ عید کا دن تھا اور اسی عید گاہ میں عید پڑھی گئی تھی جس کا آج کل غیر احمدی تنازعہ کرتے ہیں کہ احمدی جبراً قبضہ کر رہے ہیں ۔حضور علیہ السلام بھی عید گاہ میں پہنچ گئے تھے اور ٹہل رہے تھے کہ پہلے مجھے حکیم فضل دین صاحب مرحوم بھیروی نے کہا کہ ’’ سب مسلمان یہاں آگئے ہیں تم شہر چلے جاؤ تا مستورات کی حفاظت ہو جائے ۔‘‘ ابھی میں تامل میں تھا کہ حضور علیہ السلام ٹہلتے ہوئے اس موقعہ پر آگئے ۔یہاں حکیم صاحب سے باتیں ہورہی تھیں ۔ حکیم صاحب نے حضورؑ کے پیش کر دیا کہ میاں خیر الدین کو کہا ہے کہ شہر میں جا کر حفاظت مستورات کرے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’ کسی اور کو حفاظت کے لئے بھیج دو۔‘‘ حکیم صاحب نے میرا نام پیش کردیا ۔حضورؑ نے انکار کیا حکیم صاحب ے دوبارہ میرا نام ہی پیش کردیا تو حضور علیہ السلام کسی قدر جھڑکی کے ساتھ روک دیاتوحکیم صاحب خامو ش ہو گئے۔‘‘
    (1537) بسم اللہ الرحمن الرحیم: - میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ’’ ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے مباحثات ومناظرات کو حکماً بند کردیا ۔ انہیں ایام میں مولوی اللہ تہ ،علی محمد سوہلوی ومولوی عبد السبحان ساکن مسانیاں وغیرہ یکایک موضع ہرسیاں میں آگئے ۔ اس وقت بھائی فضل محمود صاحب (والد مولوی عبد الغفور صاحب مبلغ ومنشی نور محمد صاحب وغیرہ تھے ۔ ہر سیاں والے احمدی برادران نے مولوی فتح الدین صاحب کو دھر مکوٹ بگہ سے بلا لیا اور مکھیواں میں ہماری طرف سے بلانے کے لئے آدمی آگیا چونکہ حضور علیہ السلام کا حکم نسبت بند کرنے مباحثات ومناظرات کے ہم کو علم تھا اس لئے میں اور میرے بڑے بھائی میاں امام الدین صاحب ( والد مولوی جلال الدین صاحب شمس مبلغ) روانہ ہر سیاں ہو گئے اور ہمارے سب سے بڑے بھائی میاں جمال الدین صاحب مرحوم برائے حصول اجازت قادیان روانہ ہوگئے اور وہاں فیصلہ یہ ہو اکہ تاوقتیکہ قادیان سے اجازت نہ آوے مباحثہ نہیں ہوگا۔ ہم نے ہر سیاں جا کر یہ خبر سنا دی اور مباحثہ رو ک دیا گیا ۔ اب مخالفین کی طرف سے پیغام پر پیغام آتے ہیں کہ میدان میں نکلو اور ہم خاموش تھے لیکن زبانی طور پر ان کو جواب دیا گیا کہ ’ ہم ایک امر کے منتظر ہیں جب حکم پہنچے گا تب مناظرہ کریں گے ورنہ نہیں ۔ اس پر مخالفین نے خوشی کے ترانے گانے شروع کر دئے ۔وہاں کا نمبردار چوہدری فتح سنگھ صاحب ان کی طرف سے آیا اور مجھے الگ کر کے کہا کہ ’’اگر آپ میں طاقت مباحثہ نہیں ہے تو آپ مجھے کہدیں تو میں ان کسی وجہ سے یہاں سے روانہ کر دیتا ہوں ۔ میں نے کہا کہ ’’ ہم میں خدا تعالیٰ کے فضل سے مباحثہ کرنے کی طاقت ہے اور فریق مخالف ہماری طاقت کو جانتا ہے لیکن ہم اپنے پیشوا کے تابع ہیں ۔ قادیان ہمارے آدمی برائے حصول اجازت گیا ہو اہے اس کے آنے کے ہم منتظر ہیں اگر قادیان سے اجازت حاصل ہو گئی تو ہم مباحثہ کریں گے اور ہماری طاقت کا علم آپ کو ہو جائے گا اگر اجازت نہ ملی تو ہم مباحثہ نہیں کریں گے پھر جو دل چاہئے کر لینا ۔ تھوڑی دیر کے بعد بھائی صاحب مرحوم ہر سیاں پہنچ گئے اور کہا کہ حضور علیہ السلام نے اجازت نہیں دی جب مخالفین کو علم ہو گیا کہ مباحثہ احمدیوںکی طرف سے نہیں ہوگاتب ان میں طوفان بدتمیزی بلند ہوا اور جو کچھ ان سے ہو سکتا تھا بکواس کیا ۔تمسخر واستھزاء کی کوئی حد نہ رہی ۔ چھوٹے چھوٹے بچے بھی خوشی سے شادیانے گاتے تھے اور ہم خاموش تھے ۔فریق مخالف بظاہر فتح وکامیابی کی حالت میں اور ہم ناکامی اور شکست کی حالت میں موضع ہرسیاں سے نکلے۔ لیکن خدا تعالیٰ کی قدرت کا عجیب نظارہ دیکھا کہ جمعہ کے روز ہرسیاں مذکور تحصیل بٹالہ سے ایک جماعت قادیان پہن چگئی کہ ہم بیعت کرنے کے لئے آئے ہیں ۔ ہم حیران ہوئے اور پوچھا کہ آپ کو بظاہر ہماری شکست میں کون سی دلیل مل گئی؟ تو انہوں نے جوابا کہا کہ ’ آپ لوگوں کے چہروں سے ہمیں صداقت نظر آئی اور ان کے چہروں سے کذب اور بیہودہ پن کے نشان نظر آئے یہی بات ہم کو قادیان کھینچ لائی ۔الحمد للہ علی ذالک۔
    (1538) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ’’ جن دنوں حضور علیہ السلام نے رسالہ آریہ دھرم ( جس میں آریوں سے مسئلہ نیوگ کا ذکر ہے) لکھنے کا ارادہ فرمایا تو اس سے پہلے ایک روز فرمایا کہ ’’ آریہ ہمارے ہمسائے ہیں اگر ہم جیسا کہ دیا نند نے نیوگ کی تشریح ستیارتھ پرکاش میں لکھتی ہے نقل کردیں تو شاید آریہ کہیں کہ ہم تو مانتے ہی نہیں ،خواہ مخواہ ہماری دل آزاری کی گئی ہے ۔بہتر ہے کہ آریان قادیان سے دریافت کر لیا جائے چنانچہ منتخب آریہ ملاوا مل اور شرمپت سومراج کشن سنگہہ کیونوالہ آریہ وغیرہ کو مسجد مبارک میں بلایا گیا اور ان سے دریافت کیا گیا کہ’’ کیا جس طرح پنڈت دیا نند نے نیوگ کا مسئلہ بیان کیا ہے درست ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ’’ نیوگ کا مسئلہ ایسا ہی ہے جیسا کہ طلاق اور نکاح ثانی ،جب ان کو سمجھایا گیا کی طلاق کے بعد عورت کے ساتھ مرد کا کوئی تعلق نہیں رہتا اس لئے اس کو حق ہوتا ہے کہ نکاح ثانی کر لیوے مگر نیوگ میں تو عورت اپنے خاوند کے گھر رہتی ہوئی اس کی کہلاتی ہوئی دوسرے کے ساتھ ہم بستر ہوتی ہے اور اولاد حاصل کر کے خاوند کو دیتی ہے ۔ نیزنیوگ بحالت نہ اولاد ہونے کے ہی نہیں کیا جاتا بلکہ اولاد تو ہوتی ہے مگر لڑکیاں ہوتی ہیں لڑکا نہیں ہو تا اس لئے نیوگ کی اجازت ہے تاکہ لڑکا پیدا ہو جائے اس صورت میں طلاق اور نیوگ میں کیا نسبت ہے ؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ جب صرف لڑکیاں ہوتی ہوں جیسا کہ دیا نند نے لکھا ہے لڑکا نہ ہو نیوگ چاہئے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ہاں جو کچھ دیا نند نے لکھا ہے اس کو ہم مانتے ہیں ۔تو اس وقت میں مولوی عبد الکریم صاحبؓ کے پاس کھڑا تھا۔ مجھے مولوی صاحبؓ نے کہا کہ ’’ کہدو کہ یہ تو بڑی بے حیائی ہے ۔‘‘ چنانچہ میں نے آواز بلند کہدیا کہ ’’ یہ تو بڑی بے حیائی ہے ۔‘‘ تو حضور علیہ السلام نے سنتے ہی فرمایا کہ ’’ چپ‘‘ یعنی خاموش یہ نہیں کہنا چاہئے۔‘‘ اس کے بعد آریہ چلے گئے تو آریہ دھرم رسالہ شائع ہوا ۔اللھم صل علی محمد وآل محمدونائب محمد وبارک وسلم انک حمید مجید۔‘‘
    (1539) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ مجھے یاد ہے کہ ماہ رمضان مبارک تھا اور گرمی کا موسم تھا ۔حضر اقدس مسیح موعود علیہ السام اس سرد خانہ میں تھے جو قدیمی مکان کے شرقی دروازہ سے ڈیوڑھی کو عبور کرتے ہوئے بجانب شمال تھا۔ آپؑ صائم تھے اور میںنے روزہ نہیں رکھا تھا کیونکہ میری عمر اس سن بلوغ کو نہیں پہنچی تھی۔ اور ایک اور شخص جمال نامی جو میاں جان محمد صاحب مرحوم کا بھائی تھا وہاں تھا۔ ہم دونوں حضر ت اقدس علیہ السلام کودبا رہے تھے ۔جب سورج مغرب کی طرف مائل ہو گیا ہو ا تھا اس وقت غلہ چنے سفید رنگ کے جو سرد خانہ کے ایک کونے میں ایک گھڑے میں تھے نکلواے اور بھنوا کر حضر ت اقدسؑ نے اپنے دست مبارک سے ہم دونوں کو تقسیم کر دئے ۔
    مجھے یہ بھی یاد ہے کہ ایک نظم جو مولوی غلام رسول صاحب مرحوم قلعہ صوبا سنگھ ضلع سیالکوٹ کی بعض فقہی کتابوں مثلاً پکی روٹی وغیرہ کے آخر درج ہوتی تھی جس کے شعر کی تعداد میں12تھے وہ حضرت اقدسؑ کے فرمانے پر سنائی تھی۔ اس وقت وہ 12شعر تو مجھے یاد نہیں ۔صرف چار یاد ہیں :
    دلا غافل نہ ہو اک دم یہ دنیا چھوڑ جانا ہے
    بغیچے چھوڑ کر خالی زمین اندر سمانا ہے
    نہ بیلی ہو گا بھائی نہ بیٹا باپ اور مائی
    تو کیا پھرتا ہے سودائی عمل نے کام آنا ہے؟
    تیرا نازک بدن بھائی جو لیٹے سیج پھولوں پر
    ہووے گا اک دن مردار کیڑوں نے کھانا ہے
    غلام اک دن نہ کر غفلت حیاتی پر نہ ہو غرہ
    خدا کی یاد کر ہم دم جو آخر کام آنا ہے ۔
    (1540) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- امۃ الرحمن صاحبہ بنت قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ہم سب باغ میں گئے ۔ یہ خادمہ بھی ہر وقت ابوہریرہؓ کی طرح حضورؑ کے اردگرد پرواز کرتی رہتی تھی۔کئی عورتیں ساتھ تھیں ۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور حضرت ام المومنین صاحبہ اور حضرت مبارک احمد تینوں جارہے تھے ۔صاحبزادہ مبارک احمد نے بے قراری سے کہا ۔’’ ابا! سنگترہ لینا ۔ سنگترہ لینا۔ اور خادمہ ان کے پیچھے پیچھے تھی۔حضور علیہ السلام ایک درخت کے پاس گئے اور ہاتھ اوپر کیااور ایک سنگترہ مبارک احمد کے ہاتھ میں دے دیا۔ بیوی صاحبہ ہنستی آگے چلی گئیں ۔ میرے ساتھ ایک لڑکی جو بابا حسن محمد کی رشتہ دار تھی اور اس کا نام جیون تھا درخت پر چڑھ گئی ۔ اس نے خیال کیا کہ شاید اوپر سنگترے ہیں ۔ ہم سب نے اس کا پتا پتا دیکھا لیکن کوئی سنگترہ نہ ملا ۔وہ سنگترے کا درخت بہشتی مقبرہ کی طرف تھا۔ جب یہ عاجز باغ میں جایا کرتی تو وہ بات یاد آجاتی تھی ۔ایک دفعہ دیکھا کہ وہاں وہ درخت نہ تھا مجھ کو بڑا افسوس ہوا اور رونا بھی آیا۔ ال میں کہا ہائے! اگر میں پاس ہوتی تو جن لوگوں نے وہ درخت کاٹا ہے ہر گز کاٹنے نہ دیتی یہ نشان میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔‘‘
    (1541) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریرمجھ سے بیان کیا کہ ’’ جن دنوں لیکھرام حسب پیشگوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہلاک ہوا ۔ان دنوں میں اکثراوقات ذکر ہو تا رہتا تھا۔ (کیونکہ آریوں نے شور کیا تھا) ایک روز یہی ذکر ہو رہا تھا کہ ایک موقعہ پر حضور علیہ السلام نے ذکر فرماتے فرماتے بڑی خوشی کے لہجہ میں فرمایا کہ ’’ لیکھرام کا قاتل ہے تو کوئی بہشتی۔‘‘
    نوٹ: (رسول کریمؐ کی محبت کے جوش میں یہ فرمایا)
    (1542) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محمد اکرم الہی صاحب پٹیالہ نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ شیخ محمد حسین صاحب مراد آبادی مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دیرینہ مخلصین میں سے تھے۔ جس زمانہ میں براہین احمدیہ جلد دوئم نور احمد پریس امرتسر میں زیر طباعت تھی۔ شیخ صاحب موصوف مطبع مذکور میں کاپی نویسی کرتے تھے اور اچھے خوش قلم کاتبوں میں سے تھے ۔چنانچہ براہین احمدیہ جلد دوئم تما م وکمال ان کی کتابت کردہ ہے ۔ بعد ازاں شیخ صاحب بوجہ انحطاط قویٰ کاپی نویسی کی مشقت سے سبکدوش ہو کر یہاں پٹیالہ میں آکر اپنی خوشخطی کی وجہ سے فارن آفس ریاست پٹیالہ میں مراسلہ نگاری کی پوسٹ پر بمشاہرہ 30روپے ماہوار پر ملازم ہو گئے ۔اور دس بارہ برس ملازمت میں رہ کر جماعت احمدیہ پٹیالہ میں باقاعدہ چندہ وغیرہ دیتے رہے اور اسی جگہ ایک رات نماز پڑھ کر مسجد سے گھر کو جاتے ہوئے سانپ کاٹنے سے ان کا انتقال ہوا۔
    (1543)بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محمد کرم الہی صاحب پٹیالہ نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ یہاں کے قیام کے دنوں میں حضرت صاحب کا ذکر خیر کرتے ہوئے شیخ محمد حسین صاحب مرحوم مراد آبادی نے ایک واقعہ اپنا چشم دید بیان کیا کہ جو درج ذیل ہے ۔
    شیخ صاحب نے فرمایا کہ ’’ جن دنوں میں مطبع مذکور میں براہین احمدیہ جلد دوئم کی کتابت کرتا تھا ایک درویش نما مسن شخص جو ہندوستان کی طرف کا رہنے والا معلوم ہوتا تھا کسی کی وساطت سے مطبع کے احاطہ میں آکر بطور ایک مسافر کے مقیم ہوا۔ شیخ صاحب فرماتے تھے کہ پہلی دفعہ ا س کو دیکھنے سے مجھ کو یہ خیال ہوا کہ یہ کوئی مسجد یا یتیم خانہ وغیرہ کے نام سے چندہ کرنے والا ہو گالیکن چند روز اس کے قیام کرنے سے روزانہ اس کا یہ وطیرہ دیکھا کہ صبح کو اٹھ کر کہیں باہر چلا جاتااور شام لو آکر بلا کسی سے بات چیت کرنے کے اپنی مقررہ جگہ پر آکر پڑ جاتا۔ مجھے خیال ہو اکہ اگر یہ شخص چندہ وغیرہ کا خواہاں ہوتا تو مطبع میں بھی اس کا کچھ تذکرہ کرتا یا امداد کا خواہاں ہوتا۔ اتفاقاً اتک دن وہ صحن احاطہ میں کھڑے ہوئے مجھ کو مل گیا۔ میں نے پوچھا کہ ’’ کیا میں آپ سے دریافت کر سکتا ہوں کہ آپ یہاں کیسے آئے ہوئے ہیں ؟‘‘ اس درویش نے جواب دیا کہ ’’ میں ویسے ہی بطور سیاحت پھرتا رہتاہوں ۔پھرتا پھراتا اس طرف بھی آنکلا۔ منشی صاحب نے کہا کہ آپ کی غرض سیاحت کیا ہے ؟ اس پر اس شخص نے کہا کہ ’’ اس غرض کے معلوم کرنے سے آپ کو کچھ فائدہ نہ ہوگا بلکہ آپ مجھ کو ایک خبطی یا سودائی خیال کریں گے ۔‘‘ شیخ صاحب فرماتے تھے کہ اس کے اس جواب پر مجھ کو زیادہ خیال ہوا اور ان سے بااصرار کہا کہ ’’ اگر آپ کا حرج نہ ہو تو بیان کر دیجئے اس پر اس درویش نے اپنا قصہ یوں سنایا کہ ’’ میر ا جس خاندان سے تعلق تھا وہ ایسے لوگ تھے کہ جن کے ہاں بچپن سے ہی نماز روزہ کی تلقین اور دین سے رغبت پیدا کر دی جاتی ہے۔ مجھ کو سن شعور سے ہی خدا سے ملنے کی آروز اور اس رسم کے طور پر عبادات بجا لانے کے علاوہ اطمینان قلب حاصل ہونے کی تمنا تھی۔ میں اپنے اس شوق میں ہر عالم اور بزرگ سے جس سے ملنے کا اتفاق ہوتا ہے یالوگوں کی زبانی تعریف سن کر پتہ لگتا۔ میں اس سے ملتا اور اپنی آرزو کا اس سے اظہار کر کے سمت راہ نمائی کی خواہش کرتا اور جو درویش یا بزرگ کوئی وظیفہ یا چلہ مجھے بتاتا ۔میں اس کے موافق عمل کرتا لیکن میرا مطلب حل نہ ہوتا تو پھر تلاش میں لگ جاتا ،اس سلسلہ میں تلاش میں ایک درویش نے مجھ کو ایک مقام پر ایک خانقاہ کا پتہ بتا کر کہا کہ ’’ایسے مطالب اس بزرگ کی خانقاہ پر چلہ کرنے سے اکثر لوگوں کو حاصل ہو ئے ہیں ۔‘‘ درویش صاحب نے کہا کہ ’’ تو اپنی دھن کا پکا تھا ہی اس سے اچھی طرح پتہ ستا پختہ طور پر لے کر سامان سفر کر اور اس خانقاہ پر جا پہنچا اور حسب ہدایت اس درویش کے وہاں چلہ شروع کردیا ابھی اس چلہ کو نصف تک نہیں کیا تھا کہ ایک رات رویاء میں ایک بزرگ نظر آئے ایک صاحب اور ان کے برابر کھڑے ہوئے تھے اور وہ اول الذکر بزرگ اس وقت میرے خیال میں وہ صاحب خانقاہ بزرگ تھے جس پر میں چلہ میں مصروف تھا ۔بزرگ موصوف نے میری طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ ’’ یہاں ناحق اپنا وقت ضائع نہ کرو‘‘ اور اپنے برابر کھڑے دوسرے صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس وقت اگر تمہاری مرا دپوری ہوسکتی ہے تو ان سے فیض حاصل کرو۔‘‘ میں نے ان دوسرے صاحب کی طرف بغور دیکھا اور ہنوز یہ دریافت کرنے نہ پایا تھا کہ ’’ یہ کو ن بزرگ ہیں ؟ کیا نام ہے ؟ اور کہاں رہتے ہیں ؟ کہ کسی نے مجھ کو جگا دیا یا خود آنکھ کھل گئی۔‘‘
    (1544) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محمد اکرم الہی صاحب پٹیالہ نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ شیخ محمد حسین صاحب مرحوم مراد آبادی نے بیان کیا کہ درویش مذکور نے مجھ سے بیان کیا کہ اس کے بعد میں ایام چلہ پورا کرنے تک وہاں ٹھہرا اور چلہ پورا ہو نے پر بھی جب کوئی انکشاف مزید نہ ہوا تو واپس ہو کر اس روز سے اپنا یہ وطیرہ اختیار کر لیا ہے کہ گھر بار سے قطع تعلق کر کے ہر قصبہ وشہر ودیار میں پڑ اپھرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔اور جس جگہ کسی بزرگ کا پتہ لگتا ہے اس جو جا کر دیکھ لیتا ہوں اور جب وہ میرے مطلوبہ حلیہ سے مطابقت نہیں رکھتا تو واپس ہو کر کسی اور طرف کو چلا جاتا ہوں ۔ دس بارہ برس سے نہ مجھ کو گھر والوں کی خبر ہے نہ ان کو میری۔ سارا ہندوستان چھان کر اب پنجاب میں آیا ہوں ۔یہاں امرتسر میں پانچ سات اشخاص کا لوگوں نے مجھ کو پتہ دیا لیکن اس حلیہ سے جس کا نقشہ فوٹو کی طرح میرے دل پر ہے کسی کو مطابق نہیں پایا ۔ اب مین ایک آدھ روز میں یہاں سے کسی اور طرف کو چلا جاؤں گا۔ یہی میری سیاحی کا مدعا اور غرض ہے ۔ ‘‘ شیخ صاحب فرماتے تھے کہ اس کی سر گذشت سن کر مجھ کو حیرت بھی ہوئی اور اس کے حال پر رحم بھی آیا ۔ حریت تو اس لئے کہ کس عزم واستقلال کا یہ شخص ہے کہ ایک امید موہوم کے پیچھے اور محض ایک خواب کی بات پر اپنا گھر بار اور سب کچھ حتی کہ اپنی زندگی بھی اسی بازی پر لگائے پھر رہا ہے اور رحم اس لئے کہ اگر ایسا شخص اس کو نہ ملا تو بیچارہ کی ساری زندگی کس مصیبت میں گزر ے گی؟اور اس نے ایسی منزل اختیار کی ہے جس کاانجام لاپتہ ہے۔ ‘‘ اگر وہ شخص آپ کو نہ ملا تو پھر آپ کیا کریں گے ۔‘‘ اس کے جواب میں اس نے کہا کہ ’’ میں نے عزم کر لیا ہے کہ اپنے اخیر دم تک اسطرح مصروف رہوں گا اور جہاں موت آجاوے مر رہوں گا۔ تامجھے بارگاہ ایزدی میں یہ کہنے کا حق ہو کہ میری طاقت اور بساط میں جو تھا اس میں میں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔اب اگر میری قسمت میں نہ تھا تو میرے اختیار کی بات نہ تھی۔ شیخ صاحب نے اس پر کہا کہ ’’ ایک بزرگ کا پتہ میں بھی آپ کو بتا دوں؟‘‘ اس نے کہا کہ ’’ مجھے اور کیا چاہئے ؟‘‘ شیخ صاحب نے حضرت صاحب کا پتہ ان کو بتایا کہ ’’ یہاں سے چار پانچ اسٹیشن ایک مقام بٹالہ شہر ہے۔اس سے دس گیار ہ میل کا فاصلہ پر ایک چھوٹا قصبہ قادیان نامی ہے وہاں ایک بزرگ مرزا غلام احمد نام ہیں ۔ صاحب الہام ہونے کا ان کا دعویٰ ہے اسلام اور قرآن مجید کی حمایت میں انہوں نے ایک کتاب بھی لکھی ہے جو اسی مطبع میں چھپ رہی ہے اگر آپ چاہئیں تو اس کی کاپیاں میں آپ کو دیکھا سکتا ہوں ۔اس میں انہوں نے اپنے الہام اور پیشگوئیاں بھی درج کی ہیں اور عیسائیوں ،آریوں اور برہموسماجیوں کے اعتراضات کے جو انہوںنے اسلام اور قرآن مجید کے متعلق کئے بڑے پر زور جواب دئے ہیں اور لوگوں کو مقابلہ کے لئے بلایا ہے اور ان کی مسلمہ کتاب پر ایسے اعتراضات کئے ہیں کہ تمام ملک میں اس کا چرچا ہے اور ہندوستان وپنجاب کے بڑے بڑے علماء اور اخبارات نے اس کی بڑی تعریف کی ہے کہ ’’ ایسی کتاب آج تک اسلام کی تائید میں نہیں لکھی گئی۔ آپ نے جہاں اور بزرگوں کو دیکھا ہے یہاں سے کچھ دور نہیں ہے ان کو بھی دیکھ لو اس پر وہ درویش صاحب بولے کہ ’’ نہیں منشی صاحب ایسے اصحاب جو بحث ومباحثہ اور جھگڑے کرنے والے ہوں۔ میری گو کے نہیں ہیں میرا کام تو اگر خدا کو منظور ہے تو کسی تاریک الدنیا بزرگ سے بنے تو بنے۔ نہیں تو جو خد اکی مرضی۔‘‘ شیخ صاحب یہ سن کر خاموش ہو کر اپنے کام میںمصروف ہو گئے ۔شیخ صاحب فرماتے تھے کہ ’’ان ایام میں میرا معمول تھا کہ ہفتہ بھر جس قدر براہین احمدیہ کی کاپی کرتا ہفتہ کے روز خود قادیان لے جا کر اس کے پروف حضرت صاحب کے پیش کرتا بعد ملاحظہ اتوار کو پروف لے کر بغرض طباعت امرتسر واپس آجاتا۔
    (1545) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محمد اکرم الہی صاحب پٹیالہ نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ شیخ محمد حسین صاحب مرحوم مراد آباد فرماتے ہیں کہ درویش سے اس گفتگو کے بعد چونکہ ان کی بات کا میرے دل پر ایک اثر تھا جس ہفتہ کے دن میں نے قادیان کو پروف لے کر جانا تھا میں درویش مذکور کوپھر ملا اور اس سے کہا کہ میں بھی پروف لے کر جانے والا ہو ں اگر آپ چلے چلیں تو کیا حرج ہے ؟ سیر ہی ہو جائے گی ۔میرے ساتھ ہونے کے سب آپ کو کوئی تکلیف نہ ہوگی ۔میرے ساتھ واپس آکر پھر جدھر آپ کا جی چاہئے روانہ ہو جانا۔ اگر آپ کو کرایہ کا خیال ہے تو امرتسر سے واپسی تک کا کرایہ میں دینے کا بخوشی آمادہ ہوں ۔اس پر اس درویشن نے کہا کہ نہیں کرایہ وغیرہ کا کچھ خیال نہیں۔ میں پہلے بھی پھرتا ہی رہتا ہوں آپ کہتے ہیں تو میں چلا جاؤں گا۔ شیخ صاحب فرماتے تھے کہ کچھ بادل ناخوانستہ سا میرے کہنے پر وہ چلنے کو تیار ہو گیا اور دونوں امرستر سے بسواری ریل روانہ ہوئے اور بارہ بجے دن کے گاڑ اسٹیشن بٹالہ پر پہنچی وہاں سے بسواری یکہ قادیان کو چل پڑے ۔جب نہر کا پل عبور کر کے اس مقام پر پہنچے جہاں سے قادیان کی عمارات نظر آنے لگتی ہیں ۔تو شیخ صاحب نے ان عمارات کی طرف اشارہ کر کے درویش صاحب سے کہا کہ ’’ یہ عمارات اسی قصبہ کی ہیں جہاں ہم نے جانا ہے ۔‘‘ اس پر اس درویش نے ایک آہ سی کھینچ کر لیا کہ ’’ منشی صاحب ! خد اکی رحمت سے کیا بعید ہے کہ وہ بزرگ یہی ہوں جن کے پاس آپ مجھے لے جارہے ہیں جن کا حلیہ میرے دل کی لوح پر نقش ہے ۔‘‘ اس پر شیخ صاحب نے فرمایا کہ ’’ اس روز تو آپ نے فرمایا تھا کہ ایسے لوگوں سے میری مراد پوری ہونے کی امید نہیں پڑتی۔ پھر کس بات نے آپ کی رائے میں تبدیلی پید اکر دی ؟‘‘ اس کے جواب میں درویش مذکور نے کہا کہ ’’ اس کی کوئی مدلل وجہ تو میں نہیں بتا سکتا مگر ایک کیفیت ہے جس کی مثال ایسی ہے کہ جنگل میں کوئی پیاسا پانی کی تلاش میں سرگردان ہو اس کو پانی تو ابھی نہ ملے لیکن دریا پر سے گزر کر آنے والی ٹھنڈی ہو اکت جھونکے پانی کے قریب ہونے کا یقین دلا کر اس کے قلب کی تسکین کا موجب اور پانی تک پہنچنے کی امید دلائیں۔ ایسا ہی جوں جوں یہ مقام نزدیک آرہاہے میری روح پر ایک پرسرور کیفیت طاری معلوم ہو تی ہے جواس سے قبل کسی اور جگہ نہیں دیکھی گئی۔‘‘ شیخ صاحب نے اس کے جواب میں کہا کہ ’’ جو کچھ بھی خدا کو منظور ہے ہوگا اب تو صرف آدھ گھنٹہ کاو قفہ ہے آپ چل کر دیکھ لیں گے ۔‘‘ شیخ صاحب نے فرمایا کہ ’’دو بجے کے بعد ہم دونوں قادیان پہنچ گئے ۔مہمانخانہ میں سامان سفر رکھ کر وضو کیا جب باہر نکلے تو مسجد مبارک کی جانب سے آنے والے ایک شخص کی زبانی دریافت پر معلوم ہو اکہ نماز ظہر ہوچکی ہے مگر حضرت صاحب ابھی مسجد میں تشریف فرما ہیں۔ ہم دونوں ذرا قدم اٹھا کر اوپر گئے ۔ حضرت صاحب دروازہ کی طرف رخ کئے ہوئے سامنے تشریف فرما تھے چند خدام کا حلقہ تھا۔دروازہ مسجد میں جاکر جب ہم دونوں کھڑے ہو ئے تو اس درویش نے شیخ صاحب کا ہاتھ پکڑ کر دعائیں دیتے ہوئے کہا ۔ ’’خداآپ کا بھلا کرے آپ نے تو میری کٹھن منزل کا خاتمہ کردیا ۔میں نے انہی صاحب کو جو سامنے تشریف فرما ہیں۔ رویاء میں دیکھا تھا اور میں ہر گز اس شناخت میں غلطی نہیں کرتا۔‘‘ شیخ صاحب نے اس کو مبارکباد کہا اور مسجد میں داخل ہو کر۔۔۔ ۔۔۔۔حضرت صاحب سے مصافحہ کیا ۔تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب ہر رستہ دریچہ اندرون تشریف لے گئے ۔اور ہم نے نماز ظہر ادا کی ۔
    (1546) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محمد اکرم الہی صاحب پٹیالی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ شیخ محمد حسین صاحب مرحوم مراد آبادی نے مجھ سے بیان کیا کہ ’’نماز ظہر کے بعد میں نے پروف پیش کرنے کی اطلاع کرائی ۔ حضرت نے متصلہ کمرہ میں تشریف فرما ہو کر مجھے اندر بلالیا میں نے اول پروف پیش کئے اور پروف کے متعلق ضروری بات چیت کے بعد اس درویش کا قصہ مفصل عرض کیا اور کہا کہ ’ میں امرتسر سے اس کو آج اپنے ہمراہ لایا ہوں اور کہ اس نے حضورؑ کو دروازہ سے دیکھتے ہی شناخت کر کے بتایا ہے کہ میں نے آپ کو ہی رویاء میں دیکھا تھا۔ پھر حضرت صاحب سے اجازت لے کر اس کو اندربلا لیا ۔ اس کے بیٹھتے ہی پہلا سوال اس سے حضرت صاحب نے یہ فرمایا کہ ’’ آپ اپنی شناخت میں تو شک وشبہ نہیں ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا ’’حضور! ہر گز نہیں میں اسی شکل وشباہت اور ٹھیک اسی لباس میں جوا س وقت حضور نے پہنا ہوا ہے حضور کو دیکھا ہء ۔یہی سنگی اس بندش کے ساتھ زیب سر تھی۔‘‘ اس کے بعد حضرت صاحب نے شیخ صاحب کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ اگر خدا سے ملنے کی کسی دل میں طلب صادق ہو تو کچھ مدت بطور ابتلا اور آزمائش اس کو تعویق میں رکھ کر اس کے عزم اور استقلال کی منازل سے گذار کر آخر اس کی ہدایت کا سامان مہیا کر دیتا ہے اس کے بعد ہم باہر آگئے ۔‘‘
    (1547) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محمد اکرم الہی صاحب پٹیالہ نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ شیخ محمد حسین صاحب مرحوم مراد آبادی بیا ن کیا کہ’’ اگلے روز جب میں چلنے لگا تو درویش صاحب سے ان کا ارادہ پوچھا ۔اس نے کہا کہ ’’ بس میں اب کہا ں جاؤں گا ؟ آپ جائیں ۔میں توحضرت صاحب جو حکم دیں گے اس کے موافق کار بند رہوں گا۔ شیخ صاحب اس کو وہیں مہمانخانہ میں چھوڑ کر تنہا امرتسر واپس آگئے ۔اگلے ہفتہ پھر گئے ۔ درویش صاحب سے دریافت پر اس نے یہ کہا کہ ’’ نماز یں مسجد میں جا کر پڑھ لیتا ہوں اور جس وقت تک حضرت صاحب تشریف رکھتے ہیں حاضر رہتا ہوں اس کے بعد مہمانخانہ آکر پڑھتا ہوں اور اللہ اللہ کئے جاتا ہوں ۔حضرت صاحب نے کچھ خاص طور پر فرمایا نہیں اور مجھ کو کچھ کہنے کی یادریافت کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ شیخ صاحب نے فرمایا کہ اسی طرح جب حسن معمول تین چار دفعہ ہر ہفتہ پروف لے کر قادیان جاتا اور آتا رہا۔ اس شخص نے ہر دفعہ وہی جواب دیا جو اول دفعہ دیا تھا۔ آخر ایک دفعہ جو میں گیا تو اس نے حضرت صاحب کے بارہ میں تو وہی کیفیت ظاہر کی لیکن مجھ سے خواہش کی کہ چونکہ اب مجھے اپنی تلاش میں تو خد اتعالیٰ نے کامیابی عطا فرما دی ہے دو تین دن سے مجھے خیال آرہاہے کہ اگر حضرت صاحب اجازت فرماویں تو میں اپنے متعلقین کی وطن جا کر خبر لے آؤں ۔ کیونکہ مجھے ان کے مرنے جینے کا اور ان کو میرا اس لمبے عرصۃ تک کچھ پتہ نہیں ملا اور چونکہ میں خود حضرت صاحب سے دریافت کرنے کی جرأت نہیں رکھتا آپ اگر حضرت صاحب سے اس بارہ میں تذکرہ فرمادیں تو جیسا پھر حضرت صاحب کی طرف سے اشارہ ہوگا۔ میں اسی کے موافق عمل کروں گا ۔ منشی صاحب نے فرمایا کہ جب میں حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے درویش صاحب کی اس خواہش کا ذکر کیا تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ’’ ہاں! وہ بڑی خوشی سے جا سکتے ہیں کوئی پابندی نہیں ہے بلکہ ضرور جا کر اپنے بال بچہ کی خبر گیری کرنی چاہئے ۔جب اس کا جی چاپئے وہ پھر آسکتا ہے ۔ میں نے حضرت صاحب سے اجازت لے کر اس کو اندر بلا لیا تاکہ وہ حضرت صاحب کا ارشاد خود حجور کی زبان سے سن لے ۔اس کی حاضری پر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’ آپ جاسکتے ہیں اور پھرجب چاہئے آسکتے ہیں ۔‘‘ اسپر اس نے بطور درود وظائف کچھ پڑھنے کے لئے دریافت کیا۔ حضورؑ نے فرمایا کہ ’’ ابتاع سنت اور نمازیں سنوار کر پڑھنا سب سے اعلیٰ وظیفہ ہے اس کے علاوہ چلتے پھرتے درود شریف استغفار اور جس قدر وقت فراغت میسر ہو قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھنا کافی ہے ۔ہمارے ہاں الٹے لٹک کر یا سردی میں پانی میں کھڑے ہو کر چلہ کرنے کا خلاف سنت کوئی طریق نہیں ہے۔‘‘ اس پر اس درویش نے بااصرار کہا کہ ’’ میں چونکہ سن شعور سے ہی مجاہدات کا عادی ہوں اس لئے بطریق مجاہدہ اگر کچھ فرما دیا جاوے تو میں اب اس کے موافق کا ر بند رہوں گا۔‘‘ اس کی یہ بات سن کر حضرت صاحب اٹھے اور اندر جا کر ایک پولندہ براہین احمدیہ کے اس حصہ کا جو اس وقت تک شائع ہو ا تھا اٹھا لائے اور اس کو دے کر فرمایا کہ ’’ لو جہاں جاؤ اس کو خود بھی پڑھو اور دوسرے لوگوں کو بھی سناؤ۔خدا نے اس وقت کا یہی مجاہدہ قرار دیا ہے۔‘‘ منشی صاحب نے فرمایا کہ اس کے بعد ہم باہر آگئے۔ اگلے روز وہ شخص میری معیت میں امرتسر آگیا ۔ وہاں سے اپنے وطن کی طرف روانہ ہو گیا پھر اس کے متعلق کوئی اطلاع نہیں ملی۔‘‘
    (1548) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’ کتب فقہ پر بھی نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے ۔‘‘
    (1549) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- میاں خیر الدین صاح سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ’’ ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی مہربانی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تو بخشنے کے لئے بہانے لبھدا ہے (یعنی تلاش کرتا ہے )
    نوٹ : سچ ہے حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے رجوع کیا تو فوراً معاف کردیا وغیرہ۔ اور عبد اللہ آتھم عیسائی اور مرزا سلطان محمد پٹہ والا کے نظارہ کو تو ہم نے خود دیکھا ہے ( اے اللہ تیری شان کے شایاعفوو ترحم ہی زیبا ہے۔)
    (کیا اچھا کہاہے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے مناجات پیش خدا میں)
    کیا بتاؤں کس قدر کمزوریوں میں ہوں پھنسا سب جہاں بیزار ہوئے
    (1550)بسم اللہ الرحمن الرحیم:- میاں خیر الدین صاح سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ’’ جن دنوں شیخ صاحب بھائی عبد الرحیم صاحب (سابق نام جگت سنگھ) نے اسلام قبول کیا ۔ چند روز بعد موضع سرسنگھ جہبال سے جو شیخ صاحب موصوف کا اصلی گاؤں ضلع امرتسر یا ضلع لاہور میں ہے ان کے رشتہ دار جوخوب قدآور اور جوان تھے پانچ چھ کس قادیان میں شیخ صاحب کو واپس لے جانے کی نیت سے آئے ۔میں اس وقت حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ کے مطب میں بیٹھا ہو ا تھا اور شیخ عبد الرحیم صاحب بھی وہاں ہی بیٹھے ہو ئے تھے ۔حضرت مولوی صاحب نے مجھے فرمایا کہ ’’ اس کو اپنے گاؤں سیکھواں میں ہمراہ خود لے جاؤ۔‘‘ چنانچہ میں نے فوراً تعمیل کی اور ہم دونوں سیکھواں پہنچ گئے چونکہ سیکھواں میں کثرت سکھ قوم کی تھی انہوںنے سکھ برادری سے میل جو ل کیا بعدمیں ہمارے مکان پر پہنچ گئے اور شیخ صاحب سے بخوشی مل ملا کر آخر مطالبہ کیا کہ ’’ ہم گاؤں سے باہر لے جا کر کچھ باتیں کرنا چاہتے ہیں ۔‘‘ اگر چہ شیخ صاحب اور ہم ان کے اس مطالبہ کو پسند نہ کرتے تھے ۔ لیکن ان کے جذبہ مطالبہ کو بوجہ رشتہ داری نظر انداز کرنا مناسب نہ خیال کر کے رضا مندی دے دی گئیجب گھر سے باہر نکلے تو تھوڑے فاصلہ پر جا کر ایک میدان ہے جب وہاں پہنچے تو وہاں اور سکھ وغیرہ جمع تھے یہی گفتگو چھڑ گئے ۔شیخ صاحب نے رشتہ داران خود کو کہا کہ’’ اگر تم زبردستی مجھ کو ساتھ لے جاؤ گے تو میں پھر آجاؤں گا اور مسلمان ہوجاؤں گا۔‘‘ اس پر ایک سکھ جو سیکھوان کا باشندہ اور روڑ سنگھ نام تھا بڑے جو ش سے بولا کہ ’’ خواہ مخواہ نرم نرم باتیں کرتے ہو ڈانگ پکڑ کر آگے لگاؤ۔‘‘ہم بھی وہاں کھڑے تھے۔ اس سکھ کے جواب میں ہماری طرف سے ہماری بڑے بھائی میاں جمال الدین صاحب مرحوم نے کہا کہ ’’ دیکھو! اگر شیخ صاحب عبد الرحیم جو ہمارا بھائی ہے اپنی خوشی سے تمہارے ساتھ چلا جاوے تو ہم روک نہیں سکتے اور اگر زبردستی لے جانا چاہو تو پہلے ہم کو مار لو گے تو اس کو لے جاؤ گے ورنہ ہر گز نہیں لے جاسکتے ۔‘‘ بس اس پر سلسلہ گفتگو ختم ہوا۔ آخر انہوں نے التجا کی کہ ہم اس کو الگ لے جا کر ایک بات کرنا چاہتے ہیں ۔چنانچہ گاؤں سے کچھ فاصلہ پر چھپڑ(جوہر) تھا وہاں چلے گئے اور ہم بھی اپنے پہرے کھڑے رہے کہ آخر شیخ صاحب نے ان کی کوئی نہ مانی ۔ وہ وہاں سے ہی واپس چلے گئے اور شیخ صاحب ہماری طرف آگئے۔‘‘اس وقت ہم معہ شیخ صاحب قادیان پہنچ گئے ۔شام کی نماز کے بعد حضرت اقدس کے حضور تمام حالات بیان کئے گئے ۔حضور علیہ السلام نے اس پر ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ ’’ مولوی صاحب نے بہت غلطی کی کہ قادیان سے باہر ان کو بھیج دیا۔قادیان سے زیادہ امن کی جگہ کون سی ہے؟‘‘
    (1551) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ عائشہ صاحبہ بنت احمد جان صاحب خیاط پشاوری وزوجہ چوہدری حاکم علی صاحب نے بواسطہ مکرمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین بذریعہ تحریر بیان کیا کہ 1904ء میں جب بڑا زلزلہ آیا تو ہم سب حضور علیہ السلا م کے ساتھ باغ میں چلے گئے تھے۔ میں قریباً8سال کی تھی۔ حضرت اماں جان نے باغ میں جھولا ڈالا ہو اتھا۔ میں حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ،صالحہ بیگم صاحبہ اہلیہ میر محمد اسحق صاحب بنت پیر منظور محمد صاحب میری بہن فاطمہ بیگم وفہمیدہ وسعیدہ بنت پیر افتخار احمد صاحب ہم سب جھولا جھول رہی تھیں ۔جب میری باری آئی تو حضورؑ وہاں سے گزرے ۔حضور علیہ السلام ہمیں دیکھ کر ہنسے اور مجھ کو جھلایا بھی تھا۔‘‘
    (1552) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ رسول بی بی صاحبہ اہلیہ حافظ حامد علی صاحب ؓ وخوشدامن مولوی عبد الرحمن صاحب (جٹ) فاضل نے بواسطہ محترمہ مکرمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ میںاور رسول بی بی صاحبہ اہلیہ خورد بابو شاہ دینظ ہم دونوں رات کو حضور علیہ السلام کے پیر دبایا کرتے تھے ۔ایک دن حضورؑ نے فرمایا کہ ’’ جب مجھے الہام ہونے تو مجھے جگا دیا کرو۔‘‘ حضورؑ کوالہام ہو نا شروع ہوا تو وہ کہتی تھی کہ ’’ تو جگا اور میں کہتی تھی تم جگاؤ‘‘ آخر میں نے کہا کہ ’’ حضور ؑکا حکم ہے اگر نہ جگایاتو گناہ ہوگا۔‘‘ ہم نے جگا دیا ۔حضورؑ نے دریافت کیا کہ ’’ تم نے کچھ سنا ہے یا تم کو کچھ معلوم ہوا ہے؟ میں نے کہا ’’ نہیں ‘‘ قلم دوات حضورؑ کے سرہانے تھی حضورؑ نے لکھ لیا۔ فرمایا کہ ’’ اب میں پہلے وقت تم کو ہی پہرہ پر رکھا کروں گا۔ بارہ ایک بجے الہام ہونے شروع ہو جاتے ہیں ۔‘‘ ہمیں معلوم تھا کہ جب حضور ؑ کو الہام ہونے لگتا تھا تو حضورؑ کو عموماً سردی محسوس ہوتی تھی جس سے کچھ کپکپی ہو جاتی تھی اور حضورؑ کچھ گنگنایا بھی کرتے تھے ۔‘‘
    (1553) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- حسو صاحبہ اہلیہ فجا معمار خادم قدیمی نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ جب ہم حضورؑ کے ہمراہ سیر کو جاتے تھے تو نئے پنڈ یعنی قادر آباد کے آگے ایک بڑ اپتھر گڑا ہوا ہے وہاں پہنچ کر حضورؑ اپنی چھڑی گاڑدیتے اور فرماتے ۔’’ یہ ہماری حد ہے اس کے آگے نہیں جانا۔‘‘ حد پر پہنچ کر یونہی کھڑے ہو کر پھر واپس آجاتے۔ میں بی بی امۃ الحفیظ بیگم صاحبہ کو کھلایا کرتی تھی۔ جب ہم بوہڑ کے نیچے پہنچتے تو اس کے نیچے حضور ؑ کچھ ٹھہرتے ۔ ایک شاخ بہت نیچی اور ٹیڑھی سی تھی۔ ہم پندرہ بیس عورتیں اور لڑکیاں ہوتیں ۔ امتہ الحفیظ بیگم تو ٹہنی پکڑ کر اوپر ہو جاتی ۔ میں نے حضور ؑ سے کہا کہ ’’ مجھ سے ٹہنی نہیں پکڑی جاتی ۔حضورؑ مجھے اٹھا کر اونچا کرتے تو میں ٹہنی پکڑ لیتی اور چھو لیتی۔‘‘
    (1554) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- لال پری صاحبہ پٹھانی دختر احمد نور صاحب کابلی نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ جب ہم اپنے وطن سے آئے تھے تو میری آنکھیں بہت درد کرتی تھیں اور ہر موسم میں آجاتی تھیں وطن میں بھی علاج کیا ۔قادیان میں بھی بہت علاج کیا۔ کوئی آرام نہیں ہوتا تھا۔ ایک دن میں نے اپنی والدہ مرحومہ سے کہا ’’ میرا دل چاہتا ہے کہ میں حضرت اقدس کی خدمت میں جاؤں اور آنکھوں کو دم کراؤں شاید میں اچھی ہوجاؤں؟‘‘ والدہ صاحبہ مرحومہ نے کہا کہ ’’ ہاں فوراً جاؤ۔‘‘ کوئی پیالی بھی دی تھی کہ اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا تھوک بھی لے آنا۔ میں جب گئی تو حضرتؑ چارپائی پر بیٹھے تھے رخ مغرب کی طرف تھا۔حضور علیہ السلام نے فرمایا ۔’’ کیوں لال پری ! کس طرح آئی ہے ۔‘‘ میں نے ہاتھ آنکھوں پر رکھا ہوا تھا میں نے کہا کہ ’’ حضورآنکھیں دکھتی ہیں بہت علاج کیا اچھی نہیں ہوتیں ۔‘‘ آپ نے اپنی انگلی پر تھوک لگا کر میری آنکھوںکے ارد گرد لگا دی ۔ فرمایا ’’ بس! پھر کبھی ایسی درد نہ کریں گی اور ہنس کر کیا ۔’’اچھی ہو گئی؟‘‘ گھر آئی! میںنے آنکھیں لیں ۔ پھر مجھے وہ تکلیف کبھی نہیں ہوئی۔‘‘
    (1555) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- مائی امیری نائین والدہ عبدالرحیم صاحب نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضورؑ بہت نیک تھے اور بہت عبادت گذار تھے ادھر ادھر گلیوں میں کبھی نہیں پھرتے تھے عموماً گھر پر ہی رہتے تھے یا مسجد میں جاتے تھے۔ جانو کشمیری عموماً خدمت میں ہوتا تھا۔ حافظ ماہنابسا اوقات رات دیر تک پیر دبایا کرتا تھا۔ حضور علیہ السلام کا لباس سادہ ہوتا تھا۔ جب دہلی اپنے نکاح کے لئے گئے تھے۔ یونہی سادگی سے چلے گئے تھے ۔
    جب آخری سفر پر لاہور گئے ہیں تو روانگی کے وقت فرمایا کہ ہم بٹالہ سے واپس آجاویں گے ۔جب لاہور میں کتاب لکھی تھی تو فرمایا تھا کہ’’ ہماری آخری کتاب ہے اب جو کچھ ہم نے کرنا تھا کر چکے‘‘۔۔۔۔حضور علیہ السلام کو دست آئے تھے ،جب فوت ہوئے ہیں وہ زمانہ اور تھا اب بڑا فرق ہو گیا ہے ۔‘‘
    (1556)بسم اللہ الرحمن الرحیم:- سعیدہ بیگم صاحبہ بنت مولوی محمد علی صاحب مرحوم بدوملہوی مہاجر واہلیہ وزیر محمد صاحب مرحوم پنشنر مہاجر نے بواسطہ مکرم محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ ایک روز میری والدہ مرحومہ نے جب حضور علیہ السلام صحن ہی میں پلنگ پر تشریف فرما تھے آپ کی خدمت میں کہا کہ ’’ میری یہ لڑکی درثمین میں یہ شعر پڑھا کرتی ہے اس پر سراج منیر حضرت اقدس نے خاکسارہ کو فرمایا کہ ’’ پڑھو اور سناؤ‘‘ خاکسارہ نے فداہ نفسی وہ تمام شعر سناوے جن کا پہلا شعر یہ ہے ۔
    زندگی بخش جام احمد ؐ ہے کیا ہی پیارا یہ نام احمدؐ ہے ۔
    حضورؑ نے سر پر پیار کیا اور دونوں دست مبارک سے باداموں کی مٹھی بھر کر خاکسارہ کی جھولی میں ڈال دی۔‘‘
    (1557) بسم اللہ الرحمن الرحیم: - محترمہ خیر النساء صاحبہ والدہ بشیر شاہ صاحب وبنت ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ ایک دفعہ بارش سخت ہورہی تھی اور کھانا لنگر میں میاں نجم الدین صاحب پکایا کرتے تھے۔ انہوںنے کھانا حضورؑ اور بچوں کے واسطے بھجوایا کہ بچے سو نہ جائیں باقی کھانا بعد میں بھجوا دیں گے ۔ حضور علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ ’’ شاہ جی کے بچوں کو کھانا بھجوا دیا ہے یا نہیں ؟‘‘ جواب ملا کہ نہیں ۔ ان دنوں دادی مرحومہ ؓ وہاں رہا کرتی تھیں حضورؑ نے کھاان اٹھوا کر ان کے ہاتھ بھجوایا اور فرمایا کہ ’’ پہلے شاہ جی کے بچوں کو دو بعد میں ہمارے بچے کھائیں گے ۔‘‘
    (1558) بسم اللہ الرحمن الرحیم: - استانی رحمت النساء بیگم صاحہ نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’میرے والد مولوی محمد یوسف صاحب سعدی نے لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کی ۔آپ313میں سے تھے اور سنور کے رہنے والے تھے۔ میں1904ء میں حضور ؑ کے قدموں میں آئی۔ میں اور میرا خاوند ہم دونوںموسمی تعطیلات میں قادیان آئے اور میں حضورؑ کے گھر کے نچلے حصہ میں ٹھہری ۔سخت گرمی تھی اور میرے دو چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے جو نیچے کھیلتے رہتے تھے آپ کی دو نوکرانیاں تھیں جو بچوں سے اکتا کر ان کو روز مجھ کو برا بھلا کہتی تھیں ۔ ایک عرصہ تک میں ان کی باتوں کو سنتی رہی آخر ایک میرا خاوند آیا تو میں نے اس سے شکایت کی ۔میرے خاوند نے ایک رقعہ لکھ کر مجھ کو دیا کہ حضرت مسیح موعودؑ کو دے دینا جب میں وہ رقعہ لے کر اوپر گئی تو آپ اور اماں جان چوبارہ پر ٹہل رہے تھے ۔ جب میں نے سلام کہا تو آپ ٹھہر گئے اور رقعہ لے لیا۔ میں نیچے اتر آئی۔ ابھی نیچے ہی اتری تھی کہ آپ نے ایک عورت جس کا نام فجو تھا مجھے بلانے کے واسطے بھیجا جب میں حضور میں پہہنچی تو آپ نے محبت آمیز لہجہ میںجو بات کو بیٹے سے ہوتی ہے بلکہ اس سے زیادہ محبت کے ساتھ فرمایا ’’ تم ان کی باتوں سے غم نہ کرو۔ انہوںنے جو تم کو برا بھلا کہا ہے وہ تم کو نہیں مجھ کو کہا ہے ۔‘‘ پھر آپ نے ان عورتوں کو خوب ڈانٹا اور ان میں سے ایک کو تو فوراً نکل جانے کا حکم دیا اور دوسری کو خوب ڈانٹا اور فرمایا ’’ کیا میرے مہمان جو اتنی گرمی میں اپنے گھروں کو چھوڑ کر اپنے آراموں کو چھوڑ کر یہاں آئے ہیں تم ان کو برا بھلا کہتے ہو۔ کیا وہ صرف لنگر کی روٹیاں کھانے آتے ہیں ؟ اور میرے متعلق کہا کہ اس لڑکی کو آئندہ کچھ تکلیف نہ ہو۔‘‘
    تھوڑے عرصہ بعد میاں مبارک احمد بیمار ہو گئے تو ہم اکثر اوپر رہتی تھیں ہم نے دیکھا کہ آپ کے چہرہ پر کسی قسم کے غم کے آثار نہیں تھے ۔ جب میاں مبارک احمد نے وفات پائی تو آپ دیکھ کر اور انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ کر چوبارہ پر تشریف لے گئے اور اس وقت تک نہ اترے جب تک جنازہ تیار نہ ہوا۔آپ کو فطرتی غم تھا اور ایک طرف خوشی بھی تھی۔ کہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی پوری ہوئی ۔آپ فرماتے تھے کہ ’’ اللہ کی امانت تھی جو کہ خدا کے پاس چلی گئی۔‘‘ لیکن جب میں آپ کو دیکھتی آپ کو خوش ہی دیکھتی۔
    آپ اپنے مہمانوں کا زیادہ خیال رکھتے تھے اور انہیں کسی قسم کی تکلیف نہ ہونے دیتے تھے اور ان کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتے تھے۔ جب ہماری چھٹیاں ختم ہونے کو آئیں تو میں حضور علیہ السلام سے گھر جانے کی اجازت مانگی جو کہ حضور علیہ السلام نے بخوشی منظور کر لی۔‘‘
    (1559) بسم اللہ الرحمن الرحیم: - محترمہ اہلیہ حضرت مولوی شیر علی صاحب نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صبح کے وقت آفتاب نکلنے کے بعد بسراواں کی طرف سیر کرنے کے واسطے تشریف لے گئے۔ آپ کے ہمراہ حضرت ام المومنین کے علاوہ چند اور عورتیں بھی تھیں ۔ جن میں سے میرے علاوہ مرزا خدا بخش صاحب جھنگ والے کی بیوی ام حبیبہ ،محمد افضل صاحب کی بیوی سردار ، حافظ احمد اللہ صاحب کی بیوی اور اہلیہ حضرت خلیفۃ المسیح اول ؓ وغیرہ بھی تھیں۔ ان دنوں حضورؑ کے ہمراہ صبح کو پانچ چھ عورتیں اور حضرت ام المومنین سیر کو جاتا کرتی تھیں اور عصر کے بعد مرد جایا کرتے تھے ۔بعض اوقات صبح کی بجائے عورتوں کے مرد ہی صبح کو جایا کرتے تھے۔ حضور علیہ السلام اکثر محلہ دارالانوار کی طرف والے رستہ پر سیر کے لئے جایا کرتے تھے۔ بعض دفعہ حضورؑ جب سیر کے واسطے نکلتے تو سکھ لوگ بے ادبی کے کلمات زبان سے نکالتے جو حضورؑ اور حضور کے ہمراہ عورتوں کو سنائی دیتے تھے مثلاً’’ مرزا بھیڑ بکریاں لے کر باہر نکلتا ہے ۔‘‘ جب سکھ لوگ اس طرح کے فقرے لگاتے تو بعض اوقات مرزا خدا بخش اور محمد افضل صاحب کی بیوی حضورؑ کو توجہ دلاتیں تو حضورؑ فرماتے ۔’’ ان کو بولنے دو تم خاموش رہو اور ادھر توجہ ہی نہ کرو۔‘‘
    (1560) بسم اللہ الرحمن الرحیم :- محترمہ عصمت بیگم صاحبہ عرف زمانی اہلیہ حکیم محمد زمان صاحب نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک روز حضور علیہ السلام سوئے ہوئے تھے اور میں پیر کی طرف فرش پر بیٹھ کر آہستہ آہستہ پیر دبا رہی تھی حضورؑ کے پیر مبارک کا انگوٹھا ہل رہا تھا۔ اتنے میں اماں جان آئیں اور حضور کو آواز دی کہ ’’ سنتے ہو ،سنتے ہو۔‘‘ حضورؑ کی آنکھ کھل گئی۔حضورؑ نے فرمایا کہ ’’ تم نے مجھ کو جگا دیا الہام ہو رہا تھا۔ کیا پتہ کہ زمانی کے لئے ہورہا تھا اس کا بھلا ہو جاتا۔‘‘
    میں روز حضورؑ کے پاس دعا کے لئے جاتی۔ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعا سے اب میری چار لڑکیاں اور ایک لڑکا سلامت ہیں ۔‘‘
    (1561)بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ عائشہ صاحبہ بنت احمد جان صاحب خیاط پشاوری زوجہ چوپدری حاکم علی صاحب نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ 1906ء میں جب میری والدہ مرحومہ فوت ہوگئی تھیں تو مجھے اماں جی اہلیہ خلیفہ اولؓ اپنے گھر لے گئیں ۔ناشہ وغیرہ کرایا۔ پھر چار پانچ یوم کے بعد حضرت ام المومنین مجھے اپنے گھر لے آئیں ۔ جہاں اب اماں جان کا باورچی خانہ ہے میرا سر دھلو ا رہی تھیں ۔ ایک عورت میرے سر میں پانی ڈالتی جاتی تھی۔ حضرت ام المومنین میرے سر کو صابن ملتے اور دھوتے تھے وہ عورت پانی زیادہ ڈال دیتی تھی۔ حضور علیہ السلام وہاں ٹہل رہے تھے حضور علیہ السلام نے لوٹا اس کے ہاتھ سے لے کر میرے سر پر پانی ڈالا پھر حضور علیہ السلام آہستہ آہستہ پانی ڈالتے جاتے تھے اور ام المومنین کنگھی کرتی جاتی تھیں ۔حضورؑ فرماتے کہ’’ اس طرح جوئیں نکل جائیں گی ۔‘‘
    (1562) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ رسول بی بی صاحبہ اہلیہ حافظ حامد علی صاحب مرحومؓ وخوشدامن مولوی عبد الرحمن صاحب(جٹ) فاضل نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب ؓذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ حضورؑ کو گڑ کے میٹھے چاول بہت پسند تھے ۔حضورؑ مسجد میں کھانا کھا رہے تھے کہ میں نے میٹھے چاول بھیج دئے ۔حضورؑ نے حضرت مولوی نور الدین صاحب ؓ کو پوچھا کہ ’’ یہ چاول کس نے پکائے ہیں ؟‘‘ انہوںنے عرض کی کہ حضورؑ! مجھے معلوم نہیں ۔ حضورؑ نے فرمایا کہ ’’ حافظ حامد علی صاحب کی بیوی نے پکا کر بھیجے ہیں بہت اچھے پکائے ہیں ان کے واسطے دعا کرو۔‘‘
    (1563) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ لال پری صاحبہ پٹھانی دختر احمد نور صاحب کابلی نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ ایک دن میری والدہ مرحومہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دبا رہی تھیں ۔آپ کے پا س کوئی جامن لایا۔ آپ نے جامن کھا کر گٹھلی پھینک دی میں نے والدہ سے کہا کہ ’’ اس کو میں اپنے ڈال لوں اس پر تھوک لگا ہے۔‘‘ جب میں نے منہ میں ڈالی تو آپؑ نے میری طرف نظر کر کے جامن دئے ۔میری والدہ نے عرض کیا نہ نہیں حضورؑ! وہ تبرک چاہتی تھی۔ حضور ؑ نے فرمایا کہ ’’آپ کی بات سمجھ گیا ہوں یہ بھی تبرک ہے۔‘‘ حالانکہ میں پشتو زبان بولی تھی۔‘‘
    (1564) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ خیر انساء صاحبہ والدہ سید بشیر شاہ صاحب بنت ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحبؓ نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ایک دن فجر کے وقت حضورؑ شہ نشین پر ٹہل رہے تھے ۔میں اور ہمشیرہ زنیب اور والدہ صاحبہ نما زپڑھنے کے لئے گئیں تو آپ نے فرمایا ۔’’آؤ تمہیں ایک چیز دکھائیں ۔یہ دیکھو یہ دمدار تارا ہماری صداقت کا نشان ہے ۔ اس کے بعد بہت سی بیماریاں آئیں گی ۔‘‘ چنانچہ طاعون اس قدر پھیلاکی کوئی حد نہیں رہی ۔‘‘
    (1565)بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ اہلیہ حضرت مولوی شیر علی صاحب نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ ایک دفعہ صبح کے وقت حضورؑ بسراواں کی طرف سیر کے لئے تشریف لے گئے ۔جس وقت چھوٹی بھینی جو بڑی بھینی کے مشرق کی طرف ہے کے پاس سے گزر کر ذرا آگے بڑھے تو ام حبیبہ زوجہ مرزا خد ابخش صاحب نے کہا کہ ’’ حضور! اب آگے نہ بڑھیں میں تھک گئی ہوں اب واپس چلیں ۔‘‘ تو حضور علیہ السلام نے ہنس کر فرمایا کہ ’’ تم ابھی تھک گئی ہو یہ بھینی تو قادیان کے اندر آجائے گی۔اس وقت تم کو یہاں کسی کے گھر آنا پڑا تو اس وقت کیا کروگی؟‘‘
    (1566) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ مائی جانو صاحبہ زوجہ صوبا ارائیں ننگل نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ مکرمہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ حضور ؑ ایک دفعہ ننگل کی طرف سیر کو تشریف لائے ۔ میں نے جو آتے دیکھا تو ایک کٹورے میں گرم دودھ اور ایک گڑ کی روٹی لے کر آئی۔ حضور ؑنے فرمایا کہ ’’ اس لڑ کی نے بڑہ مشقت کی ہے کہ ایک ہاتھ میں گرم دودھ اور دوسرے میں گڑ لائی ہے ۔‘‘ حضورؑ میرے گھر کے دروازے پر جو اب سڑک ہے کھڑے ہو گئے اور جو اصحاب ساتھ تھے وہ بھی ٹھہر گئے ۔حضورؑ نے گرم دودھ پر خود بھی پھونکیں ماریں اور اصحاب سے بھی کہا کہ ’’ پھونکیں مار کر اس کو ٹھنڈا کرو۔‘‘ پھر اس دودھ میں سے خود بھی ایک دو گھونٹ نوش فرمائے اور باقی تمام ہمراہیوں نے تھوڑا تھوڑا پیا۔ حکیم مولوی غلام محمد صاحب بھی تھے اسے کہا ’’گڑ کی ڈھیلی توڑوتو وہ توڑ نہ سکے ۔ تو حضورؑ نے خود ہتھلیوں سے دبا کر توڑی اور ا ن کو کہا ’’ سب کو تھوڑا تھوڑا گڑ بانٹ دو ۔‘‘ خود بھی چکھا تھا۔‘‘
    (1567) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- مراد بی بی صاحبہ بنت حاجی عبد اللہ صاحب ارائیں ننگل نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’میں 13یا14سال کی تھی جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاں آیا کرتی تھی۔ ایک بار میں اور میرا باپ گنے کا رس لے کر آئے تھے۔ میرا باپ ڈیوڑھی میں اس کا گھڑا لے کر کھڑا رہا اور میں اپنا رس کا برتن لے کر اندر گئی۔ اماں جان بیٹھے تھے اور حضرت مسیح موعود ؑ ٹہل رہے تھے ۔حضرت اماں جان نے حضورؑ سے دریافت کیا کہ ’’ آپ رس پئیں گے ؟ دودھ ملا کردیں ؟ حضورؑ نے فرمایا کہ ہاں ۔حضرت اماں جان نے رس چھان کر اس میں دودھ ملایا ۔پھر حضرت مسیح موعودؑ نے گلاس لے کر پیا۔ میں کھڑی رہی کہ میں آپ کو دیکھوں ۔ حضورؑ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ’’ آج صبح سے رس پینے کو دل چاہتا تھا۔‘‘ دوسرا برتن رس کا بھی میں اپنے باپ سے لے آئی۔
    پھر حضرت مسیح موعود ؑ مسجد مبارک میں تشریف لائے تو میرا باپ پیچھے مڑنے لگا تو گر گیا اور چوٹ آئی ۔ حضرتؑ نے دیکھا اور فرمایا کہ ’’ بچ گیا ۔‘‘ میرے باپ نے بتایاکہ جیسے ہی حضرت نے فرمایا کہ ’’ بچ گیا؟‘‘ تو مجھے ایسا معلوم ہو اکہ چوٹ ہی نہیں لگی۔‘‘
    (1568) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ سیدہ زنیب بیگم صاحبہ بنت ڈاکٹر عبد الستار شاہ صاحبؓ نے بواسطہ مکرمہ محترمہ والدہ صاحبہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ ایک دن حضور علیہ السلام نے وضو کرنے کے بعد مجھے فرمایا کہ ’’ جاؤ اندر سے میری ٹوپی لے آؤ۔‘‘ جب میں گئی تو دیکھتی کیا ہوں کہ ایک معمولی سی ٹوپی پڑی ہوئی ہے جس دیکھ کر میں واپس آگئی اور عرض کی کہ’’حضور! وہاں نہیں ہے ۔‘‘ اس طرح تین مرتبہ اندر جا کر آتی رہی مگر مجھے گمان نہ ہوا کہ یہ پرانی ٹوپی حضورؑ کی ہوگی۔ صاحبزادہ مبارک احمد ؐ جو وہاں تھے انہوںنے فرمایا کہ ’’میں لاتا ہوں ۔‘‘ جب وہ وہی ٹوپی اٹھا کر لائے جو میںنے دیکھتی تھی تو میں حیران رہ گئی کہ اللہ اللہ کیسی سادگی ہے؟‘‘
    (1569) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ رسول بی بی صاحبہ اہلیہ حافظ حامد علی صاحب مرحومؓ وخوشدامن مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل(جٹ) نے بواسطہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ہمارا تمام خرچ روٹی کپڑے کا حضورؑ ہی دیا کرتے تھے۔ایک مرتبہ حضورؑ نے ایک کپڑے کی واسکٹ اپنے اور حافظ حامدعلی صاحب ؓ کے واسطے بنوائی تھی۔ سرد ی کاموسم تھا ۔میں نے حافظ صاحب کو کہا کہ میں صبح جب نماز تہجد کے لئے اٹھتی ہوں اور سحری پکاتی ہوں تو مجھے سردی لگتی ہے ۔ حافظ صاحب نے گرم صدری جو حضورؑ نے ان کو بنا دی تھی مجھے دے دی۔ جب میں اس کو پہن کر گئی اور انگیٹھی میں آگ جلا رہی تھی تو حضورؑ نے پوچھا کہ ’’رسول بی بی ! کیا یہ میری واسکٹ چرا لی ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا کہ ’’ حضور سب کچھ آپ کا ہی ہے۔آپ کا ہی کھاتے ہیں آپ کا ہی پہنتے ہیں ۔‘‘ حضورؑ اس پر خوب ہنسے اور فرمایا کہ ’’ خوب کھاؤپیو۔‘‘
    (1570) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ حسو صاحبہ اہلیہ فجا معمار خادم قدیمی نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ جب بڑا زلزلہ آتا تو حضورؑ اپنے سر پر ہاتھ رکھ کر دروازہ میں کھڑے تھے ۔ اوپر سے ایک اینٹ گری۔ میں حضورؑ سے کہا کہ ’’ حضور! باہر آجائیں ۔آپ نے فرمایا کہ ’’ سب لڑکیاں کھڑی ہیں کسی کو یہ خیال نہیں آیا یہ بہت ہشیار ہے ۔‘‘ اماں جان نے زنیب سے جو اب مصری کی بیوی ہے کہا کہ ’’ مبارکہ بیگم اندر سوئی ہوئی ہیں ان کو اٹھا لاؤ۔‘‘ زنیب نے کہا کہ ’’ کہیں میرے اوپر چھت نہ گر جائے ۔‘‘ لیکن میں جلدی سے اندر گئی اور بی بی کو اٹھا لائی۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’ یہ لڑکی بڑی ہشیار ہے ۔یہ جو بھاری کام کیا کرے گی اس میں برکت ہوگی اور اس کو تھکن نہیں ہوگی۔‘‘ حضور علیہ السلام کی برکت سے میں بھاری بھاری کام کرتی ہوں مگر تھکتی نہیں ۔‘‘
    (1571)بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ لال پری صاحبہ پٹھانی بنت احمد نورصاحب کابلی نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ ایک دن سیر کو گئے جو تیوں پر بہت گردا گرا۔ میری والدہ مرحومہ اپنے دوپٹہ سے پوچھنے لگی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ ’’نعمت! چھوڑد وکیا کرنا ہے ؟ آخرت کا گردا اس سے زیادہ ہے۔‘‘
    (1572) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ خیر النساء صاحبہ والدہ سید بشیر شاہ صاحبہ بنت ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحبؓ نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ ایک دن میری والدہ صاحبہ نماز فجر باجماعت پڑھنے کے لئے گئیں تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’ آج رات کو کوئی خاص چیز دیکھی ہے؟‘‘ والدہ صاحبہ نے کہا کہ ’’ آدھی رات کا وقت ہوگا کہ مجھے یوں معلوم ہوا جیسے دن چڑھ رہاہے روشنی تیز ہورہی ہے تو میں جلدی سے اٹھی اور نفل پڑھنے شروع کر دئے معلوم تو ہوتا تھا کہ صبح ہو گئی ہے لیکن میں کافی دیر تک نفل پڑھتی رہی اور اس کے بڑی دیر صبح ہوئی۔ ‘‘ آپ نے فرمایا کہ ’’ میں یہی پوچھنا تھا۔‘‘
    (1573)بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ اہلیہ صاحبہ حضرت مولوی شیر علی صاحب نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا ہے کہ ’’ جب میں شروع شروع قادیان میں آئی تو میں نے دیکھا کہ جس جگہ اب نواب صاحب کا شہر والا مکان ہے وہاں لنگر ہوا کرتا تھا اور روٹی یہاں تیار ہوتی تھی مگر سالن اندر عورتیں پکایا کرتی تھیں جب کھانا تیار ہوجاتا تو مسجد مبارک کے قدیم حصہ کی بالائی چھت پر لے جایا جاتا اور حضور علیہ السلام مہمانوں کے ساتھ اکثر وہیں کھاناکھاتے تھے۔ یہ مغرب کے بعد ہوتا تھا۔ دوپہر کے کھانے کے متعلق مجھے یاد نہیں کہ کس طرح اور کہاں کھایا جاتا تھا۔‘‘
    (1574) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ مائی جانو صاحبہ زوجہ صوبا ارائیں ننگل نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ جب میں نے بیعت کی تھی اس وقت بٹالہ والے منشی عبد العزیز صاحب قادیان آئے ہوئے تھے۔ ہم چار پانچ عورتیں میری ساس راجن اور وہی میری نندتھیں جب ہم حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو حضورؑ نے دریافت کیا کہ ’’ تم کیوں آئی ہو؟‘‘ میری ساس راجن نے کہا کہ’’ ہم منشی صاحب کو میرا بھتیجا ہے ملنے آئی ہیں ۔‘‘ حضورؑ نے فرمایا کہ ’’ نہیں جس بات کے واسطے تم آئی ہوہ کیوں نہیں بتاتیں ؟‘‘ گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو علم ہوگیا تھا کہ ہم بیعت کرنے آئی ہیں ۔پس ہم سب نے بیعت کرلی۔ بیعت لینے سے پہلے فرمایا تھاکہ’’مائی راجن! یہ کام بہت مشکل ہے تم سوچ لو ۔ کہیں گھبرا نہ جاؤ۔‘‘ چونکہ ابھی ہمارے مردوں نے بیعت نہیں کی تھی ا سلئے حضورؑ نے فرمایاتھا کہ ’’ ایسا نہ کہ تم مستقل مزاج نہ رہ سکواور بیعت سے پھر جاؤ۔‘‘ ہم نے کہا کہ ’’ حضور! خواہ کچھ ہو ہم نہیں گھبرائیں گی اور بیعت پر قائم رہیں گی۔‘‘ تو حضورعلیہ السلام نے دعا فرمائی۔‘‘
    (1575)بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ مائی جانو صاحبہ زوجہ صوبا ارائیں ننگل نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ منشی عبد العزیز صاحب بٹالہ والے جن کی بیوی کا نام ’’ برکت ‘‘ ہے جو اب شاید پھر گئے ہیں ۔اس زمانہ میں قادیان گول کمرہ میں ہوتے تھے وہ میری ساس راجن کے بھتیجے تھے۔ منشی صاحب کی پھوپھی جس کا نام’’نانکی ‘‘ تھا وہ ہمارے ننگل میں رہتی تھی جو کہ احمدیت کی سخت مخالف تھی۔ کہتی تھی کہ ’’ مرز اصاحب کی بیعت کرنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔‘‘ اور مردوں میں بھی مخالفت عام تھی اس لئے ہم نے بیعت تو کر لی تھی مگر ہم کسی سے اس کا ذکر ڈر کی وجہ سے نہیں کر سکتے تھے۔ ہم نے کوشش کی کہ ’’نانکی‘‘ اگر بیعت کر لے تواچھا ہو گا ہم نے اس سمجھانا شروع کیا کہ ’’ تو پہلے کہا کرتی تھی کہ جب مہدی آوے گا تو میں اس کو مان لوں گی مگر تم نہیں مانوگی اب یہ جو مہدی آگیا ہے تو اس کو کیوں نہیں مانتی؟‘‘ مگر وہ مخالفت کرتی رہتی اور کہتی تھی کہ ’’یہ مہدی نہیں ہے ۔‘‘ ایک دن وہ قادیان میں منشی صاحب کے پاس آئی تو اس کو سمجھایا کہ ’’ اس طرح نکاح نہیں توٹتے تو آہستہ آہستہ اس کو سمجھ آگئی اور اس نے بیعت کر لی ۔ ہمارے گھر میں خدا کے فضل سے مخالفت کا جوش کم ہوگیا اور ان کو معلوم ہو گیا کہ ہم نے عرصہ کی بیعت کی ہوئی ہے ۔ جب مخالفت کا جوش کچھ کم ہوا تھا تو میرے خسر مسمی’’گوڈا‘‘ نے کہا تھا کہ ’’ نکاح تو نہیں ٹوٹتے مگر مجھے تو یہ فکر ہے کہ ہم میں سے جو بیعت کرے گا وہ اس طرح الگ ہو جائے گا کہ برادری میں اپنی لڑکیاں نہیں دے گا۔‘‘
    جب ہمارے مرد بھی چند ایک احمدی ہو گئے تھے تو ہم نے حضورؑ کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ ’’ حضورؑہم گھبرائے تو نہیں تھے مگر یہ قصور ہم سے ضرور ہوا ہے کہ ہم نے ایک عرصہ تک یہ ظاہر نہیں کیا تھا کہ ہم نے حضور کی بیعت کر لی ہے۔‘‘ حضورؑ نے ہمیں تسلی دی اور فرمایا کہ ’’ یہ قصور نہیں ہے یہ مصلحتاً ایسا کیا گیا ہے جس کا نتیجہ بہت اچھا ہوا ہے ۔‘‘
    (1576) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ رسول بی بی صاحبہ اہلیہ حافظ حامد علی صاحب ؓ وخوشدامن مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل (جٹ) نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک عورت سونے کا زیور پہن کر آئی تو جس پلنگ پر حضرت ام المومنین اور حضورؑ بیٹھے تھے آکر بیٹھ گئی۔ ہم لڑکیاں دیکھ کر ہنسنے لگیں ۔ہم نے کہا کہ اگر ہمیں بھی سونے کی بالیاں اور کڑے وغیرہ جڑتے تو ہم بھی حضورؑ کے پلنگ پر بیٹھتیں ۔حضرت ام المومنین نے حضور کو بتا دیا کہ یہ لڑکیاں ایسا کہہ رہی ہیں حضورؑ ہنس پڑے اور فرمایا کہ ’’ آجاؤ لڑکیوں تم بھی میرے پاس بیٹھ جاؤ‘‘
    (1577)بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ حسو صاحبہ اہلیہ فجا معمار خادم قدیم نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ مجھے نیند بہت آیا کرتی تھی۔ حضور علیہ السلام نے صفیہ بنت قدرت اللہ خان صاحب ؓ سے فرمایا تھا کہ حسو کو صبح جگا دیا کرو۔ایک دن زنیب مجھے جگا رہی تھی اور حضورؑ دیکھتے تھے۔اس نے پہلے میرا لحاف اتارا پھر میرے منہ پر تھپڑ مارا ۔حضور ؑ نے فرمایا کہ ’’ ایسے نہیں جگاتے بچے کو تکلیف ہوتی ہے تم اسے نہ جگایا کرو میں خود جگادیا کروں گا۔‘‘ اس دن سے جب حضور ؑ صبح اٹھ کر حاجت رفع کو جاتے تو پانی کا ذرا سیا چھینٹا میرے منہ پر مار دیتے میں فوراً اٹھ کھڑی ہوتی۔ حضور علیہ السلام مجھے نماز کے واسطے اٹھایا کرتے تھے۔‘‘
    (1578)بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ خیر النساء صاحبہ والدہ سید بشیر شاہ صاحب بنت ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ ایک دفعہ حضور علیہ السلام نماز پڑھانے کے واسطے تشریف لے جارہے تھے تو خاکسارہ سے فرمایا کہ میری ٹوپی اندر سے لے آؤ۔ میں دو دفعہ گئی لیکن پھر واپس آگئی۔ تیسری دفعہ گئی تو میاں شریف احمد صاحب نے کہا کہ ’’ تمہیں ٹوپی نہیں ملتی آؤ۔ میں تمہیں بتا دوں۔‘‘ یہ کہہ کر میاں صاحب نے ’’ تاکی‘‘ میں سے ٹوپی اٹھا لی۔ میں نے کہا ’’ یہ تو میں نے دیکھ کر رکھ چھوڑی تھی۔‘‘ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’ آپ سمجھتی ہوں گے کہ کوئی بڑی اعلیٰ ٹوپی ہوگی ۔ہم ایسی ہی ٹوپیاں پہنا کرتے ہیں ۔‘‘
    (1579) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ حسن بی بی صاحبہ اہلیہ ملک غلام حسین صاحب رہتا سی نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ میرا چوتھا لڑکا کوئی چار پانچ سال کا تھا کہ اس کو سانپ نے کاٹ لیا تھا۔ اس نے سانپ کو دیکھا نہ تھا اور یہ سمجھا تھا کہ اس کو کانٹا لگا ہے۔ میں نے بھی سوئی سے جگہ پھول کر دیکھی کچھ معلوم نہ ہوا۔ لیکن جب بچہ کو چھالا ہو گیا ور سوج پڑ گئی تو معلوم ہو اکہ وہ کانٹا نہیں تھا بلکہ سانپ نے کاٹا تھا جس کا زہر چڑھ گیا ہے ۔بچہ چھٹے دن فوت ہوگیا تھا ۔جب حضور علیہ السلام کو علم تو حضور نے افسوس کیا اور فرمایا کہ ’’ مجھے کیوں پہلے نہیں بتایا ؟ میرے پاس تو سانپ کے کاٹے کا علاج تھا۔‘‘ مجھے بچے کے فوت ہونے کا بہت غم ہو اتھا اور میں نے رو رو کر اور پیٹ پیٹ کر اپنا برا حال کر لیا تھا۔ جب حضورؑ کو حضرت ام المومنین نے یہ بات بتائی تو حضورؑ نے مجھے طلب فرماکر نصیحت کی اور بڑی شفقت سے فرمایا کہ’’ دیکھو حسن بی بی! یہ تو خد اکی امانت تھی اللہ تعالیٰ نے لے لی ۔ تم کیوں پریشان ہوتی ہو؟ اور فرمایا کہ ’’ ایک بڑی نیک عورت تھی اس کا خاوند باہر گیا ہو اتھا جس دن ان نے واپس آنا تھا۔اتفاقاً اس دن اس کا جوان بچہ جو ایک ہی تھا فوت ہوگیا تھا اس عورت نے اپنے لڑکے کو غسل اور کفن دے کر ایک کمرے میں رکھ دیا اور خود خاوند کے آنے کی تیاری کی۔کھانے پکائے، کپڑے بدلے، زیور پہنا اور جب خاوند آیا تو اس کی خاطر داری میں مشغول ہو گئی۔ جب وہ کھانا کھا چکا تو اس نے کہا کہ ’’میں آپ سے ایک بات دریافت کرتی ہوں اور وہ یہ ہے کہ اگر کسی کی امانت کسی کے پاس ہو اور وہ اس کو واپس مانگے تو کیا کرنا چاہئے ؟ اس نے کہا کہ فوراً امانت کو شکریہ کے ساتھ واپس کر دینا چاہئے ۔‘‘ توا س نیک بی بی نے کہا کہ اس امانت میں آپ کا بھی حصہ ہے پس وہ اپنے خاوند کو اس کمرے میں لے گئی جہاں بچہ کی نعش پڑی تھی اور کہا کہ ’’ اب اس کو آپ بھی خد اکے سپرد کر دیں یہ اس کی امانت تھی جو اس کو دے دی گئی ہے؟‘‘ یہ سن کر میرا دل ٹھنڈا ہو گیا اور میں نے اس وقت خبرع فزع چھوڑ دی اور مجھے اطمینان کل حاصل ہو گیا ۔ اسکے بعد میں نے اپنے خاوند سے کہا کہ ’’ مجھے اپنے وطن جہم لے چلو۔‘‘ اس نے حضورؑ سے اجازت طلب کی حضورؑ نے فرمایا کہ ’’ تمہاری بیوی کو نیا نیا صدمہ پہنچا ہے کہ وہاں جا کر پھر غم کرے گی اس لئے میں ابھی اجازت نہیں دیتا۔ پھر عرصہ تین سال کے بعد جب اجازت ملی تو میں اپنے وطن گئی۔‘‘
    (1580) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ عائشہ بیگم صاحبہ اہلیہ بابو محمد ایوب صاحب بدو ملہی نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ 1908ء میں جبکہ حضورؑلاہور اپنے وصال کے دنوں میں تشریف فرما تھے۔ عاجزہ نے حضورؑ کے دست مبارک پر بیعت کی ۔غالباً12یا13مئی 1908ء کو بیعت کی ۔خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان میں میرے خاوند بابو محمد ایوب صاحب نے پہنچایا اور تھوڑا سا پھل عاجزہ کو ایک رومال میں ساتھ دیا۔خواجہ صاحب موصوف کی اہلیہ کو عاجزہ نے کہا کہ ’’ میں نے حضرت صاحب کی بیعت کرنی ہے۔‘‘ اس نے جواب دیا کہ ’’ ابھی عورتیں بیعت کر کے اتری ہیں اگر آپ ذرا پہلے آجا تیں تو ساتھ ہی چلی جاتیں ۔اب دریافت کر لیتی ہوں بیٹھ جائیں ۔‘‘ تھوڑی دیر بعد مجھے ایک لڑکی لے گئی۔ آپ اوپر بالا خانہ میں تشریف فرما تھے۔ایک طرف حضرت ام المومنین ایک پلنگ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں ’’السلام علیکم ‘‘ عرض کر کے حضرت اماں جان کے پلنگ کے پاس بیٹھ گئی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ’’ یہ کون لڑکی ہے؟ ‘‘ اماں جان نے جواباً فرمایا کہ ’’ پچھلے سال حسن بی بی بدوملہی بہو بیاہ کر لائی تھی یہ وہی لڑکی ہے ۔وہ پھل والا رومال میں نے حضرت اماں جان کے پلنگ پر رکھ دیا تھا پھر میں نے عرض کی کہ ’’ میں نے بیعت کرنی ہے ۔‘‘ اماں جان نے حضرت صاحب سے فرمایا کہ ’’ یہ بیعت کرنا چاہتی ہے ۔‘‘ تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’ آ میرے پاس آبیٹھے یا فرمایا یہاں آجائے۔‘‘ وہ رومال جو میں نے حضرت اماں جان کے پاس رکھا تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قریب جاتے ہوئے اپنی کم عمری کی وجہ سے ساتھ ہی لے گئی اور حضورؑ کے پاس رکھ دیا۔ بیعت کے بعد حضورؑ نے اپنی جیب سے چاقو نکالا اور ایک سیب کاٹا اور ایک قاش مجھے عطا فرمائی اور ایک حضورعلیہ السلام نے خود رکھ لی اور باقی رومال حضورؑ نے اٹھایا اور فرمایا کہ ’’ بیوی جی کے پاس لے جاؤ‘‘ اگر چہ آج بھی اس بات کو یاد کر کے اپنی حرھت پر نسی آتی ہے کہ پہلے پھل حضرت اماں جان کے پاس رکھا اور پھر اٹھا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس لے گئی۔ مگر اس بات کو یاد کر کے شکریہ دل سے بھر جاتا ہے کہ حضور علیہ السلام کے دست مبارک سے ایک قاش لینی نصیب ہوئی ۔الحمد للہ علی ذلک
    (1581) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ رسول بی بی صاحبہ اہلیہ حافظ حامد علی صاحب ؓ وخوشدامن مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل (جٹ)نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ’’ مرزا ارشد بیگ کی والدہ الفت بیگم کے متعلق الہام ہوا کہ ’’ وہ فوت ہو جائے گی۔‘‘ جو وقت فوت ہونے کا بتایا تھا اس دن کا کچھ حصہ ابھی باقی تھا کہ لوگوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ ’’ پیشگوئی جھوٹی نکلی ہے۔‘‘ اور ڈھول بجا کر بھی شور مچایا مگر جب اذان شروع ہوئی تو ساتھ ہی گھر میں سے چیخوں کی آواز آنے لگ گئی ۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ الف بیگم ہی فوت ہوئی ہیں اس پر مخالفین بہت نادم ہوئے ۔‘‘
    (1582)بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ سلطان بی بی صاحبہ اہلیہ مستری خیر دین صاحب قادر آباد(پورہ) نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ایک دن حضور سیر کو تشریف لے جارہے تھے ۔میری ساس ساتھ چلی گئی پھر واپس گھر تک چھوڑنے گئی وہ ہمیشہ ان کے ساتھ جایا کرتی تھی۔
    ایک دن ہم بیعت کرنے کے لئے گئے۔ ہم تین عورتیں تھیں ۔ہماری ساد ہم کو ساتھ لے کر گئی۔ میری ساس کچھ بتاشے لے کر گئیتھی۔ حضورؑ پوچھنے لگے کہ ’’ تمہاری بہو کون سی ہے ؟ اور کس کی بیٹی ہے ؟ میری ساس نے بتایا کہ ’’ میری بہو یہ ہے اور یہ میری بہن کی بیٹی ہے ۔‘‘اس کے بعد بیعت ہوئی اور دعا کی گئی۔ وہ بتاشے جو ہم لے گئے تھے ۔کچھ رکھ لئے اور کچھ مجھے دئے۔‘‘
    (1583) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ اہلیہ صاحبہ حضرت مولوی شیر علی صاحب نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ حضور علیہ السلام جب کام کرتے تھک جاتے تو اٹھ کر ٹہل ٹہل کر کام کیا کرتے تھے اور جب ٹہلتے ہوئے بھی تھک جاتے تو پھر لیٹ جاتے تھے اور حافظ حامد علی صاحب کو بلا کر اپنے جسم مبارک کودبواتے تھے اور بعض دفعہ حافظ معین الدین صاحب کو بلواتے تھے اور حافظ معین الدین صاحب نے نظمیں خود بنائی ہوئی تھیں حضورؑ ان کو فرماتیکہ’’ اپنی نظمیں سناؤ‘‘ حافظ صاحب دباتے ہوئے نظمیں بھی سنایا کرتے تھے۔جب حافظ صاحب اس خیال سے کہ حضورؑ سوگئے ہوں گے خاموش ہو جاتے تو حضورؑ فرماتے کہ ’’ حافظ صاحب آپ خاموش کیوں ہو گئے ؟آپ شعر سناویں ۔‘‘ تو حافظ صاحب پھر سنانے لگ جاتے تھے۔‘‘
    (1584) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ عائشہ صاحبہ بنت مستری قطب الدین صاحب بھیروی زوجہ خان صاحب ڈاکٹر محمد عبد اللہ صاحب پنشنر نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ میرے والد اکثر نئی لکڑی( عصا) بنا کر حضرت اقدسؑ کی خدمت میں پیش کیا کرتے تھے اور حضورؑ کی مستعملہ لکڑی اس (لکڑی) سے تبرکاً بدلوا لیا کرتے تھے۔ ایک دن ایک نئی لکڑی دے کر مجھے بدلوانے کے واسطے بھیجا۔ حضورؑ اس وقت ام ناصرہ کے آنگن میں ٹہل رہے تھے حضورؑ نے فرمایا کہ ’’اندر سے میراسوٹا اٹھالاؤ۔‘‘ میں اندر گئی اور ایک سوٹا اٹھا لائی ۔حضورؑ نے فرمایا کہ ’’ یہ تو حافظ مہانا کا ہے ۔‘‘ تب میں پھر جا کر دورسرا اٹھا لائی تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’ یہ ہمارا ہے اسے لے جاؤ اور اپنے ابا سے کہدینا کہ جس گھر میں یہ ہو گا اس گھر میں سانپ کبھی نہیں آویگا۔ چنانچہ وہ سوٹا اب تک موجود ہے اور سانپ گھر میں کبھی نہیں دیکھا گیا ۔‘‘
    (1585)بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ مہتاب بی بی صاحبہ از لنگر وال نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ’’ ایک بار میں نے حضرت اقدسؑ کی خدمت میں عرض کیا کہ لوگ تسبیح پر وظیفہ پڑھتے ہیں ۔مجھے بھی کوئی وظیفہ بتائیں تاکہ میں بھی تسبیح پر پڑھا کروں ۔ آپؑ کچھ دیر خاموش رہے پھر فرمایا کہ ’’ آپ کو اگر تسبیح کا شوق ہے تو یہ وظیفہ پڑھا کرو۔‘‘
    یا حفیظ یا عزیز یا رفیق یا ولی اشفنیo
    (1586) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ اہلیہ صاحبہ حاجی محمد اسماعیل صاحب قادیان نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’جب ہم یعنی میری والدہ اور والد قادیان میں حضرت اقدسؑ کی بیعت کرنے آئے تھے تو ہوتی مردان سے آئے تھے۔ حضور علیہ السلام نے ہمیں اپنے مکان کے نیچے والے دالان میں جگہ دی۔ میری والدہ کی گو دمیں دوماہ کا لڑکا تھا۔ میری والدہ حضرت اماں جان کے پاس گئیں اور کہا کہ ’’ بچے کے پوتڑے دھونے کے لئے ہمیں کسی برتن کی ضرورت ہے۔‘‘ حضرت ام المومنین نے فرمایا کہ ’’ اوپر کی منزل میں جا کر مولوی محمد علی صاحب کی بیوی سے کپڑے دھونے والی کڑاہی لے لو۔‘‘ میں اوپر جا کر لے آئی۔جب میں پوتڑے دھو کر کڑاہی صاف کر کے واپس دینے گئی تو مولوی محمد علی صاحب کی بیوی نے پوچھا کہ ’’ تم نے کیا دھویا ہے؟‘‘ میری والدہ نے کہا کہ ’’ بچے کے پوتڑے دھوئے تھے۔‘‘ وہ بہت خفا ہو ئیں اور کہا کہ ’’پوتڑے دھونے سے میرا برتن خراب ہوگیا ہے۔‘‘ جب یہ بات حضورؑ کو معلوم تو حضورؑ نے اس پر اظہار ناراضگی فرمایا اور کہا کہ ’’ میرے مہمانوں کو ایسی ایسی باتیں کہی جاتی ہیں ۔یہاں وہ دال روٹی کھانے نہیں آتے۔ دال روٹی کو ان کو گھر پر بھی مل جاتی ہے ۔وہ صرف میرے لئے آتے ہیں ۔
    (1587) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ رسول بی بی صاحبہ اہلیہ حافظ حامد علی صاحبؓ وخوشدامن مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل (جٹ) نے بواسطہ مکرمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ ایک دفعہ میرے خاوند کے چچا کا نکاح ہونے والا تھا حضور نے بھی برات کے ساتھ جانا تھا۔ میرے خاوند حافظ حامد علی صاحبؓ کو حضور ؑ نے پہلے بھیج دیا تھا کہ وہ حضورؑ کا کھانا تیار کر کے لائیں ۔ میری ساس سے40،50پراٹھے و دس باری سادہ روٹیاں ۔آم کا اچار اور بارہ سیر شکر لے کر حافظ صاحب کتھو ننگل پہنچ گئے وہاں حضورؑ نے کھانا کھایا۔ پھر حضور ؑ نے حافظ صاحب کو گھر بھیجا کہ ’’ جا کر صلح کراؤ ہم آکر نکاح کردیں گے۔‘‘ شام کو حضورؑ پہنچ گئے اور نکاح کرادیا۔ دولہا کو کہا کہ’’ اپنے گھر جاؤ‘‘ اور حافظ صاحب کو کہا ’’ اپنے گھر جاؤ‘‘ آپ حضور علیہ السلام وہیں دالان میںسو گئے ۔۔۔۔۔
    صبح اٹھ کر حضورؑ پیشاب کرنے گئے تو مٹی کا ڈھیلا (وٹوانی کے لئے)مانگا۔ ایک شخص نے جس کا نام مہر دین تھا ایک دیوارسے مٹی اکھیڑ کر دے دی۔ حضور علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ’’ مٹی کہاں سے لائے ہو؟‘‘ اس نے کہا کہ ’’ ارائیں کی دیوار سے لایاہوں ۔‘‘ حضورؑ نے فرمایا کہ ’’ کیا اس کو پوچھ لیا تھا؟‘‘ اس نے کہا کہ ’’ وہ تو ہمارا موروث ہے۔‘‘ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’ وہیں رکھ دو ۔میں نہیں لیتا۔‘‘
    (1588) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ فہمیدہ بیگم صاحبہ بنت پیر افتخار احمد صاحب زوجہ میر احمد صاحب قریشی نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ حضور ؑ قضائے حاجت کو جاتے تو میں عموماً لوٹے میں گرم پانی وضو کے واسطے باہر رکھ آتی۔ ایک دن غلطی سے زیادہ گرم پانی رکھا گیا تو حضورؑ وہ لوٹا اٹھا لائے اور میرا ہاتھ پکڑ کراس پر گرم پانی ڈال دیا۔ میں ایسی شرمندہ ہو ئی کہ کئی دن حضورؑ کے سامنے نہ ہو سکی ۔
    حضور ان دنوں نما زمغرب وعشاء جمع کرایا کرتے تھے ۔ایک دن میں نے کہا کہ حضورؑ ساریاں کے واسطے (یعنی سب کے لئے) دعا کریں ۔‘‘ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’ کیا کہا؟ صالحہ کے واسطے( جو حضرت میر محمد اسحق صاحب کی بیوی ہیں )دعا کروں ؟‘‘ میں نے کہا کہ ’’ حضورؑ! ساریاں کر واسطے۔‘‘
    (1589) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ زنیب صاحبہ اہلیہ مستری چراغ دین صاحب قادرہ آباد نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ ایک دن میں اپنی سوتیلی والدہ کے ساتھ درس سننے گئی۔ میں اپنے چھوٹے بھائی کو جہاں جو تیاں تھیں کھلانے لگیں جب حضور درس ختم کر اٹھے تو مجھے فرمانے لگے کہ’’ بچہ کو اٹھا لو ۔بچے کا جوتیوں سے کھیلنا اچھا نہیں ہوتا۔‘‘
    (1590) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ خیر النساء صاحبہ بنت ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب مرحوم نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ ایک دفعہ دو عورتیں حضور ؑکو دبا رہی تھیں ،خاکسارہ دبانے کے لئے گئی تو وہ کہنے لگیں کہ ’’ اب حضورؑ کی طبیعت خراب ہے بس دو ہی آدمی دبائیں گے زیادہ نہیں دبا سکتے ۔‘‘ میں واپس چلی گئی ۔آپ آنکھیں بند کر کے لیٹے ہوئے تھے یوں معلوم ہوتے تھے جیسے سوئے ہوئے ہیں خاکسارہ چلی گئی تو آپؑ نے دریافت فرمایا کہ ’’ کہ کون آیا تھا؟‘‘ ایک عورت نے کہا کہ خیر النساء آئی تھی چلی گئی(میں اس وقت ان عورتوں کا نام نہیں لینا چاہتی) آپ نے فرمایا کہ ’’ جاؤ ان کو بلا کر لاؤ۔‘‘ وہی عورت جس نے مجھے کہا تھا مجھے بلانے کے لئے گئی جب میں حاضر ہوئی تو فرمایا ’’آپ چلی کیوں گئی تھیں ؟‘‘ میں نے عرض کیا کہ ’’ انہوں نے دبانے نہیں دیا تھا اس لئے چلی گئی تھی ۔تو فرمایا کہ ’’ آپ کو ثواب ہو گیا ہے آپ بیٹھ جائیں ‘‘ اور مجھے اپنے پاس بٹھا لیا اور فرمایا کہ ’’ ان کے لئے چائے لاؤ‘‘ غرض کی حضور علیہ السلام اس قدر شفقت اور محبت سے پیش آیا کرتے تھے کہ میری ناچیز زبان بیان کرنے سے قاصر ہے ۔
    آپ ہمیشہ مہمانوں کے لئے بادام روغن نکلو ا کر رکھا کرتے تھے ۔ میری آپا زنیب زیادہ آپ کی خدمت مبارک میں رہا کرتی تھی۔‘‘
    (1591) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ عائشہ بی بی صاحبہ والدہ عبد الحق صاحب واہلیہ شیخ عطا محمدصاحب پٹواری حال وارد قادیان نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ اب میری عمر70سال کی ہوگی۔ میری شادی 15،16کی عمر میں ہوئی تھی۔ 15سال تک میرے گھر کوئی بچہ پیدا نہ ہوا۔جس پر میرے خاوند صاحب نے دواور بیویاں اولاد نرینہ کی غرض سے کیں مگر اولاد ان کے ہاں بھی کوئی نہ ہوئی۔ اس اثناء میں حضرت مرزا جی نے دعویٰ مہدویت کا کیا جس کا شور ملک میں پیدا ہو گیا ۔اس زمانہ میں میرے خاوند نے حضرت مرزا صاحب سے عرض کی کہ ’’ ولی کی دعا ہمیشہ خدا کی جناب میں منظور ہو تی ہے اگر آپ مہدی اور ولی ہو تو خدا کی بارگاہ میں دعا مانگو کہ میری ہر سہ بیویوں سے جس سے میں چاہوں اس کے گھر فرزند ارجمند نیک بخت مومن صاحب اقبال پید اہو۔ چنانچہ میرے خاوند کو حضور علیہ السلام نے جو اب دیا اور کارڈ تحریر کیا کہ ’’ مولیٰ کے حضور دعا کی گئی ۔ تمہارے گھر میں فرزند ارجمند مومن صاحب اقبال اس بیوی کو ہو گا جس کو تم چاہتے ہوبشرطیکہ تم زکریا علیہ السلام کی طرح توبہ کرو۔ چنانچہ میرے خاوند نے پوری پوری توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے فرزند ارجمند 1900ء میں عطا فرمایا ۔ اس وقت میرا خاوند موضع ونجواں تحصیل بٹالہ کا پٹواری مال تھا چنانچہ اس وقت لخت جگر عہدہ اوورسیر پر ملازم ہے تب سے ہمارا سب خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر پکا ایمان رکھتے ہیں ۔اس کے بعد میرے خاوند شیخ عطا محمد صاحب کو خواب آیا کہ ’’ میں ایک میٹھا خربوزہ کھا رہاہوں۔ جب میں نے اس کی ایک قاش اپنے لڑکے عبد الحق کو دی تو خشک ہوگئی ہے۔‘‘ تعبیر خواب پر حضرت مرزا صاحب نے فرمایا کہ ’’ تمہارے گھر میں اسی بیوی کو ایک اور لڑکا ہو گا مگر وہ زندہ نہیں رہے گا۔‘‘ چنانچہ حسب فرمودہ حضرت صاحب لڑکا پیدا ہوا اور گیارہ ماہ کا ہو کر فوت ہو گیا اس کے بعد میرے ہاں کوئی لڑکا یا لڑکی پیدا نہیں ہوئی۔‘‘
    (1592) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ حسن بی بی صاحبہ اہلیہ ملک غلام حسین صاحب رہتاسی نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک مرتبہ حضورؑ کچھ لکھ رہے تھے میں کھانا لے کر گئی اور حضور ؑ کے پاس رکھ کرلوٹ آئی۔کافی دیر کے بعد جب حضور کی نظر کہیں برتنوں پر پڑہ اور ان کو خالی پایا تو مجھے آواز دی کہ ’’ آکر برتن لے جاؤ‘‘ اور پوچھا کہ ’’ کیا میں نے کھانا کھا لیا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا کہ حضور میں تو کھانا چھوڑگئی تھی مجھے معلوم نہیں کہ حضور نے کھایا ہے یا نہیں ؟‘‘ حضورؑ نے فرمایا کہ ’’ شاید کھا لیا ہوگا؟‘‘ لیکن معلوم یہ ہوتا تھا کہ حضور علیہ السلام لکھنے میں ایسی محویت کے عالم میں رہے کہ حضورؑ کو یہ بھی معلوم نہ ہو ا کہ میں کھانا رکھ گئی ہوں اور نہ ہی بھوک محسوس ہوئی کہ اگر نہ کھایا ہوتا تو فرماتے کہ ’’ نہیں کھایا ۔‘‘ کھانا وہاں پڑا رہا اور کوئی جانور کتا بلی اسے کھا گیا۔چنانچہ اس طرح گاہے بگاہے ہو جایا کرتا تھا۔‘‘
    (1593) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ سیدہ زنیب بیگم صاحبہ بنت ڈاکٹر سید عبد لستار شاہ صاحب مرحومؓ نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ میری موجودگی میں ایک دن کا ذکر ہے کہ باہر گاؤں کی عورتیں جمعہ پڑھنے آئی تھیں تو کسی عورت نے کہدیا کہ ’’ان میں سے پسینہ کی بو آتی ہے ۔چونکہ گرمی کا موسم تھا جب حضور علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ تواس عورت پر ناراض ہوئے کہ ’’ تم نے ان کی دل شکنی کیوں کی ؟‘‘ ان کو شربت وغیرہ پلایا اور ان کی بڑی دل جوئی کی۔حضورؑ مہمان نوازی کی بہت تاکید فرمایا کرتے تھے۔‘‘
    (1594) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ خیر النساء صاحبہ والدہ سید بشیر شاہ صاحب بنت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب مرحومؓ نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ پہلی دفعہ جب ہم قادیان آئے ہیں تو عزیز م ولی اللہ شاہ صاحب کی ٹانگ میں گھوڑے پر سے گر جانے کی وجہ سے سخت تکلیف تھی اور ٹانگ سیدھی نہیں ہوتی تھی۔ سول سرجن نے کہدیا تھا کہ ٹانگ ٹھیک نہیں ہوسکتی۔ والدہ صاحبہ قادیان آنے لگیں تو انہوں نے دعا کے لئے رقعہ لکھ دیا ۔آپؑ نے دریافت فرمایا کہ ’’ولہ اللہ شاہ کون ہے؟‘‘ والدہ صاحبہ نے بتایا کہ ’’میا لڑکا ہے۔‘] آپ نے فرمایا ۔’’عا کریں گے انشاء اللہ صحت ہوجائے گی۔‘‘ چنانچہ آپ نے دعا فرمائی اور اسی سول سرجن نے جس نے کہا تھا کہ’’ اب آرام نہیں آسکتا۔‘‘ علاج کیا ۔خد اتعالیٰ کے فضل سے ٹانگ بالکل ٹھیک ہوگئی۔ یہ بھی آپ ؑ کا معجزہ ہے۔‘‘
    (1595) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ عائشہ صاحبہ بنت مستری قطب الدین صاحب بھیروی زوجہ خان صاحب ڈاکٹر محمد عبد اللہ صاحب پنشنر نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ’’ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جس مکان میں اب ام طاہر صاحبہ رہتی ہیں یہ مکان بن رہا تھا میرے ابا برآمدہ کو روغن کر رہے تھے جب شام کو گھر گئے تو چونکہ وہ اپنا قرآن مجید بھول گئے تھے مجھے کہا کہ ’’ جا کر میرا قرآ ن مجید لے آ۔‘‘ جب میں گئی تو اس وقت بڑی سخت آندھی آگئی۔ اس آندھی میں ایک لفافہ اڑ کر آیا اور جہاں حضور علیہ السلام بیٹھے تھے وہاںآکر گرا۔ جب آندھی ذرا تھمی تو حضورؑ نے لالٹین منگوائی اور وہ لفافہ کھول کر پڑھا اس میں جو لکھا تھا حضور علیہ السلام نے سنایا کہ ’’ چند مہمان آرہے ہیں ان کے واسطے علیحدہ مکان رکھا جاوے اور ان کے کھانے کا انتظام بھی الگ ہی کیا جاوے ۔چنانچہ جب وہ مہمان آئے تو ان کو اس گھر میں جہاں اب میاں بشیر احمدؐ صاحب رہتے ہیں ٹھہرایا گیا تھا وہ مہمان پٹھانوں کی طرح کے معلوم ہوتے تھے ۔ چند دن رہے اور بیعت کر کے چلے گئے ۔بعض کہتے تھے کہ ’’ یہ جن ہیں ۔‘‘
    (1596) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ مراد خاتون صاحبہ بنت حاجی عبد اللہ صاحب ارائیں ننگل نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ جب میں جوان ہوئی تو ہمارے گاؤں میں کھجلی کی بیماری پھیل گئی تو مجھے بھی کھجلی پرگئی۔ میں9مہینے بیمار رہے میرے والد صاحب نے کہا کہ ’’ حضر ت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس علاج کے واسطے لے جاؤ۔‘‘ میری والدہ مجھے لے کر آئی اس وقت نیچے کے دالان میں حضورؑ ٹہل رہے تھے ہم کھرلی کے پاس بیٹھ گئے ۔ میری ماں نے عرض کی کہ ’’ میری لڑکی کو علاج کے واسطے لائی ہوں ۔حضور دیکھ لیں ۔‘‘ حضورؑ نے فرمایا کہ ’’ا س وقت فرصت نہیں ہے ۔‘‘ میں ا س کھرلی میں لیٹ گئی اور میں نے کہا کہ ’’میر اعلاج کریں نہیں تو میں یہیں مر جاؤں گی (حضرت ام المومنین اب تک میرا کھولی میں لیٹنا یا دکرتی ہیں ) تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’اچھا لڑکی کو لے آؤ۔‘‘ آپ نے میری حالت دیکھ کر دوا لکھی۔
    آنوے ،بہٹیرے ،مہندی اور بیم یہ دوا لکھی ۔میری ماںنے کہا کہ ’’ یہ لڑکی بڑی لاڈلی ہے اس نے کڑوی دوا نہیں پینی۔‘‘ حضور علیہ السلام نے دروازہ میں کھڑے ہو کر میرے ساتھ پر ہاتھ رکھا اور فرمایا کہ ’’ بی بی تو دوا پی لے گی تو اچھی ہوجاوے گی۔‘‘ آپ نے تین مرتبہ فرمایا تھا اور فرمایا کہ علی نائی کی دوکان سے یہ دوائیں لا کر مجھے دکھاؤ۔‘‘ میری ماں دوا لائی تو حضور نے دیکھی اور فرمایا کہ’’ اس کا عرق نکال کے اسے پلاؤ۔‘‘ میری والدہ نے تین بوتلیں عرق کی بنائیں ۔میں پیتی رہی اور بالکل اچھی ہو گئی۔‘‘
    (1597) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ عائشہ بیگم صاحبہ اہلیہ مولوی ارجمند صاحب بنت حکیم محمد زمان صاحب مرحوم نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ میں نے حضرت ام المومنین صاحبہ سے سنا ہے کہ جبکہ ابھی حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ چھوٹے بچے تھے تو باہر سے کسی سے یہ گالی سن آئے تھے کہ ’’ سور کا بچہ کو کھانا ۔‘] جب آپ نے گھر میں اس کو ایک دو مرتبہ بولا تو حضور مسیح موعود علیہ السلام نے سن کر فرمایا کہ ’’محمود ! محمود ادھر آؤ۔میں تمہیں بتاؤں ۔ اس طرح کہا کرو کہ ’’ باپ کا بچہ گڑ کھانا۔‘‘ پھر میاں صاحب اسی طرح کہتے تھے ۔‘‘
    (1598) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ اہلیہ صاحبہ حضرت مولوی شیر علی صاحب نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ ایک دفعہ جب میرا بڑا لڑکا عبد الرحمن دو ماہ کا تھا ۔میں اس کو اٹھا کر حضور ؑ کے پاس لے گئی۔ آپ اس وقت اس صحن میں جو اب ام طاہر صاحبہ کا ہے ٹہل رہے تھے۔ میں نے سلام کیا اور لڑکے کے واسطے دعا کے لئے عرض کیا اور بتایا کہ’’ یہ جو دودھ پیتا ہے اس کو پھر کر منہ سے باہر نکال دیتا ہے۔‘‘ حضورؑ نے بچہ کے منہ پر اور جسم پر اپنا ہاتھ مبارک پھیرااور فرمایا کہ ’’ اس کو ریوند خطائی، بڑی ہرڑ اور سہاگہ تینوں کو لے لو ۔سہاگہ کو پھل کرواور جن وقت بچہ کو دودھ پلاؤ تو پھل کیا ہوا سہاگہ تھوڑا سا منہ میں ڈال دیا کرو اور ریوند خطائی وہرڑ کو خالص شہد میں ملا کر کھلایا کرو۔‘‘
    (1599) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ حسو صاحبہ اہلیہ فجا صاحب معمار خادم قدیمی نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ جب گورداسپور میں کرم دین مقدمہ تھا تو حضور علیہ السلام کو وہاں تقریباً سات ماہ رہنا پڑ اتھا بہت سے لوگ جماعت کے ساتھ ہوتے تھے ۔ وہاں گائے کا گوشت دیگوں میں پکا کرتا تھا میں یہ گوشت نہیں کھایا کرتی بلکہ روکھی روٹی کھا لیتی تھی حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’یہ روکھی روٹی کھانے سے کہیں بیمار نہ ہوجائے ۔ صفیہ کی اماں سے کہدوکہ ایک چھوٹی پتیلی میں چند بوٹیاں اچھی طرح سے پکا کر اس کو کھلایا کر و تاکہ اس کو گائے کا گوشت کھانے کی عادت ہو جائے ۔‘‘ چنانچہ ایک دن حضرت ام المومنین صاحبہ بڑا عمدہ بھنا ہو اگوشت اور دو روٹیاں لے کر آئے اور ایک روٹی اور کچھ سالن اس میں سے آپ کھایا اور دوسری روٹی اور چند بوٹیاں مجھے دے کے کہا کہ ’’ کھاؤ‘‘ میں نے کھانا شروع کیا تو کھاتی گئی مزیدار تھا ۔اس دن سے مجھے گائے کے گوشت سے جو نفرت تھی وہ جاتی رہی۔ اب کھاتی رہتی ہوں ۔‘‘
    (1600) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محترمہ رسول بی بی صاحبہ اہلیہ خافظ حامد علی صاحبؓ وخوشدامن مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل (جٹ) نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’میرا خاوند میرے ساتھ سختی سے پیش آتا اور خرچ دینے میں تنگی کرتا۔ ا س پر میں نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں ان کی شکایت کی تو حضور ؑ نے فرمایا کہ ’’ جو عورت اپنی زبان اور شرم گاہ کی حفاظت کرتی ہے وہ سیدھی جنت میں جائے گی اور جو خاوند کی سختیوں کی صبر سے برداشت کرتی ہے وہ ایک ہزار سال پہلے جنت میں جائے گی۔‘‘
    (1601) خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے ضلع سیالکوٹ کے بعض سرکاری کاغذات ملے ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت مسیح موعود1863ء میں سیالکوٹ میں ملازم تھے اور اس وقت آپ کا عہدہ نائب شیرف کا تھا ،ان کاغذوں میں جن کی تاریخ اگسات اور ستمبر1863ء کی ہے یہ ذکر ہے کہ چونکہ مرزا غلام احمد نائب شیرف رخصت پر گئے ہیں اس کی ان کی جگہ فلاں شخص کو قائم مقام مقرر کیا جاتا ہے۔
    (1602) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- میاں فضل محمد صاحب دوکاندار محلہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور عاپنی عادت کے مطابق گھر سے سیر کے واسطے باہر تشریف لائے اور اس روز باغ کی طرف تشریف لے گئے جب باغ میں پہنچے تو وہاں توت کے درختوں کے پاس جا کر کھڑے ہوگئے ۔تب اس وقت مالی باغبان نے ایک بہت بڑا کپڑا زمین پر بچھا دیااور حضور بھی بمعہ خدام سب اس کپڑے پر بیٹھ گئے ۔تھوڑی دیر کے بعد مالی تین چار ٹوکریوں میں شہتوت بیدانہ ڈال کر لایا۔ ان میں سے ایک حضور کے آگے رکھ دی اور دوسرے دوستوں کے آگے تین ٹوکریاں رکھ دیں ۔ چنانچہ وہ شہتوت بیدانہ سب دوست کھانے لگ گئے جو ٹوکری حضور کے آگے رکھی تھی اس پر میں اور ایک دو دوست اور بھی تھے میں بالکل حضور کے قریب دائیں جانب بیٹھا تھا ۔ اور کچھ حجاب باعث خاموش بیٹھا رہا اور اس میں سے نہ کھاتا تھا۔ حضور علیہ السلام نے مجھے دیکھا کہ کھاتا نہیں تو حضور مجھے مخاطب ہو کر فرمانے لگے کہ میاں فضل محمد تم کھاتے کیوں نہیں ۔تو اس وقت مجھے اور کوئی بات نہ سوجھی جلدی سے منہ سے نکل گیا کہ حضور یہ گرم ہیں ۔ میرے موافق نہیں ۔حضور علیہ السلام نے فرمایا نہیں میاں یہ گرم نہیں ہیں ۔یہ تو قبض کشا ہیں جب میں نے دیکھا کہ حضور میرے ساتھ بات چیت کرنے میں مشغول ہیں تو میں نے موقعہ دیکھ کر عرض کیا کہ حضور میرے کھلے پٹ پر یعنی ران پر بہت مدت سے ایک گلٹی ہے ۔مجھے ڈر ہے کہ یہ کسی وقت کچھ تکلیف نہ دے اس وقت حضور کی زبان مبارک سے نکلا کہ تکلیف نہیں دیتی آرام ہو جاوے گا۔ اور وقت ایک دوائی کانام بھی لیا جو مجھے بھول گئی ہے۔ فرمایا لگا لویں آرام ہوجاوے گا اس کے بعد کچھ دنوں کے بعد اس گلٹی پر درد شروع ہو گئی مجھے خیال آیا کہ حضور علیہ السلام نے دوائی فرمائی تھی وہ تو مجھے بھول گئی اور میں حیران تھا کہ اب کیا کروں اتنے میں دو تین روز کے بعد وہ گلٹی پھٹ گئی اور وہ اندر سے باہر جا پڑی اور دو تین روز تک وہ زخم بالکل صاف ہوگیا۔
    ( 1603) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- میاں فضل محمد صاحب دوکاندار محلہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نے دیکھا ہے کہ کچھ لوگ سیاہ سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں تو میں ان سے پوچھا یہ کیسے پودے ہیں تو انہوںنے جواب دیا کہ طاعون کے پودے ہیں تو پھر میں نے پوچھا کہ کب تو انہوںنے فرمایا کہ جاڑے کے موسم میں تب حضور نے تمام جماعت کو بلا کر ایک بڑھ کے نیچے جس جگہ قادیان کی مشرق کی جانب اب نئی آبادی ہوئی ہے جو بڑھ اب تک کھڑا ہے جمع کیا اور فرمایا کہ میں نے یہ دیکھا ہے۔ اب دنیا میں طاعون کا عذاب آنے والا ہے بہت بہت تو بہ کرو ،صدقہ کرو اور اپنی اصلاح کرو ہر طرح نصیحت فرمائی اور بہت ڈرایا اوربہت دیر تک نصیحت فرماتے رہے ۔
    چنانچہ اس کے کچھ عرصہ کے بعد طاعون شروع ہوئی۔
    (1604) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- میاں فضل محمد صاحب دوکاندار محلہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ساتھ مقدمہ تھا اور اس کی ایک پیشی کے لئے موضع دھار یوال میں جانا پڑا۔ گرمی کا موسم تھا اور رمضان کا مہینہ تھا بہت دوست ارد گرد سے موضع دھاریوال میں گئے اور بہتوں نے روزے رکھے ہوئے تھے وہاں ایک مشہور سردارنی نے جو موضع کھنڈ سے میں مشہورسرداروں میں سے ہے حضور کی خدمت اقدس میں دعوت کا پیغام بھیجا۔ حضور نے دعوت منظور فرمائی ۔ سردارنی نے میٹھے چاول وغیرہ کی دعوت دی بعض دوستوں نے حضور سے روزہ کے متعلق عرض کی ۔فرمایا سفر میں روزہ رکھنا جائز نہیں چنانچہ اس وقت سب دوستوں نے روزے چھوڑ دئے اور جب حضور دھاریوال کے پل پر تشریف لے گئے تو بہت لوگوں نے جو حضور کی زیارت کے لئے اردگرد سے آئے ہوئے تھے زیارت کی درخواست کی اس قت حضور ایک پیلی پر کھڑے ہوگئے اور سب لوگوں نے حضور کی زیارت کی۔
    (1605) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- میاں فضل محمد صاحب دوکاندار محلہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہایک دفعہ بھائی خیر الدین موضع سیکھواں نے اور میں نے مل کر ارادہ کیا کہ قادیان شریف میں دوکان کھولیں۔ چنانچہ اس کے متعلق یہ صلاح ہوئی کہ پہلے حضور سے صلاح لے لی جاوے چنانچہ جب حضور علیہ السلام نماز سے فارغ ہو کر گھر تشریف لے چلے تو ہم نے عرض کی کہ حضور ہم نے ایک عرض کرنی ہے ۔اور وہ عرض یہ ہے کہ ہم دونوں نے ارادہ کیا ہے کہ قادیان دونوں مل کر دوکان کھولیں حضور علیہ السلام وہاں بیٹھ گئے اور فرمایا کہ پہلے استخارہ کرو۔ تو میں نے عرض کی کہ حضور استخارہ تو ایک ہفتہ تک کرنا پڑے گا۔
    تب حضور نے فرمایا کہ استخارہ دعا ہی ہوتی ہے ۔ہر نماز میں دعا کرو ایک دن میں بھی استخارہ ہوسکتا ہے اس وقت حضرت مولوی نور الدین صاحب بھی گھر تشریف لے جارہے تھے حضور نے مولوی نور الدین صاحب کو بھی بلا لیا ۔اور فرمایا کہ مولوی صاحب یہ دونوں مل کر قادیان میں دوکان کرنا چاہتے ہیں ۔بھائی خیر الدین صاحب فرماتے ہیں کہ حضور نے اس وقت یہ بھی فرمایا تھا کہ ا گردوکان میں گھاٹاپڑا تو چھوڑ دے ۔ اس کے بعد ہمارا خیال دوکان کرنے کا بالکل نہ رہا۔ اور اپنے اپنے گاؤں کو چلے گئے ۔
    (1606) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- میاں فضل محمد صاحب دوکاندار محلہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دن کا ذکر ہے حضور اپنی عادت کے طور پر سیر کے لئے گھر سے باہر تشریف لائے۔
    بہت دوست باہر دروازہ پر حضور کا انتظار کر رہے تھے اس روز حضور موضع بھینی کی طرف تشریف لے چلے جب ایک چھپڑ پر جو قصبہ قادیان کے متصل برلب راہ موضع بھینی کی جانب ہے اس کے کنارے پر ایک بڑا بڑھ کا درخت تھاحضور اس کے نیچے کھڑے ہو گئے اور فرمایا کہ اس چھپڑ کا پانی اچھا نہیں ہے اس سے وضو کر کے نماز نہیں پڑھنی چاہئے ۔ چنانچہ میں نے کئی دفعہ دوستوں کو وہاں سے وضو کرنے سے روکا تھا۔اور وہ دوست مجھے مخول کرتے تھے۔ اس روز وہ دوست بھی وہاں ہی تھے انہوں نے اپنے کانوں سے سنا کہ حضور نے اس چھپڑ کے پانی سے وضو کرنا اور اس کو استعمال کرنا منع فرمایا ۔
    (1607) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- میاں فضل محمد صاحب دوکاندار محلہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت اقدس نے ایک رجسٹر بنایا ور اپنی جماعت کو حکم دیا کہ اپنی اولاد یعنی بچو ں بچیوں کے نام مجھے لکھا دو تاکہ ہم اپنے طور پر جہاں چاہیں گے رشتہ کریں گے چنانچہ میں نے اپنے تین بچوں کے نام حضور اقدس کی خدمت میں لکھ کر پیش کئے چنانچہ کچھ عرصہ کے بعد ڈاکٹر اسماعیل صاحب کی اہلیہ صاحبہ فوت ہوگئیں حضور نے ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب کے والد سے کہا کہ تم اپنی لڑکی کا رشتہ ڈاکٹر اسماعیل صاحب کو دے دو اس نے صاف انکار کردیا کہ حضور یہ بڑی عمر کے ہیں اور صاحب اولاد ہیں اس وسطے میں یہ رشتہ کرنا منظور نہیں کرتا۔
    چنانچہ اس کے بعد میں نے سنا کہ حضور نے اس رجسٹر کو پھاڑ دیا اور اس خیال کو چھوڑدیا میں نے سنا کہ اس لڑکی کارشتہ کسی اور جگہ اس کے والد نے کردیا اور اس لڑکی زندگی بڑی دکھی ہوئی اور دکھ میں مبتلا رہی۔
    (1608) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- میاں فضل محمد صاحب دوکاندار محلہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب کہ پہلی ہی دفعہ ہمارے گاؤں میں طاعون پڑی تو ہمارے گاؤں میں سے بھی چوہے مرنے شروع ہو گئے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر جمعہ کو قادیان میں ہی جمعہ پڑھا کرتا تھا اور اکثر حضور سے مل کر واپس گھر کو جاتا تھا۔ اس روز میں نے حضور سے ملنے کے وقت عرض کی حضور ہمارے گاؤں میں چوہے مرنے شروع ہو گئے ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ جھٹ باہر کھلی ہوا میں چلے جاؤ ایسے خطرہ کے وقت جگہ کو چھوڑ دینا ہی سنت ہے ۔ضرور پھر گھر چھوڑ ہر باہر چلے جاؤ چنانچہ میں حضور کے حکم کے ماتحت گھر چھوڑ کر باہر چلا گیا ۔ اور بہت لوگ گاؤں کے گھر چھوڑ کر میرے ساتھ باہر چلے گئے چنانچہ میرا ایک چچا زاد بھائی نہ گیا ۔چند دن کے بعد طاعون میں مبتلا ہو کر اس دنیا سے کوچ کر گیا۔‘‘
    (1609) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- میاں فضل محمد صاحب دوکاندار محلہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہایک دفعہ شیخ حامد علی صاحب جو ابتداء ہی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلا م کی خدمت اقدس میں رہے تھے میری ان سے بڑی محبت تھی بعض بعض وقت وہ میرے پاس حضور کی ابتدائی باتوں کا ذکر کیا کرتے تھے ایک دفعہ شیخ صاحب فرمانے لگے کہ ایک دفعہ حضور نے ایک ضروری کام کے لئے مجھے افریقہ یا امریکہ ان دونوں میں سے شیخ صاحب نے کسی کانام لیا جو مجھے اس وقت یا دنہیں ہے بھیجا جب میں جہاز میں سوا ر ہوا تو وہ جہاز ۔۔۔ چل کرخطرہ میں ہوگیا۔ یہاں تک کے لوگ چیخ وپار کرنے لگ گئے حتی کہ میرا دل بھی فکر مند ہوگیا۔ تب فوراً میرے دل میں یہ خیال پیدا ہو گیا کہ میں اللہ تعالیٰ کے فرستادہ کا بھیجا ہوں اور اس کے کام کے واسطے جارہاہوں پس یہ جہاز کس طرح ڈوب سکتا ہے ۔چنانچہ میں نے بلند آواز سے پکارا۔ کہ اے لوگو گھبراؤ مت یہ جہاز ہر گز نہیں دوبت گا کیونکہ میں ایک نبی کا فرستادہ ہوں اور میں اس جہاز میں سوار ہوں اس واسطے یہ جہاز ہر گزر نہیں ڈوبے گا چنانچہ نیں اس کو بہت تسلی دی اور یہ ۔۔۔۔چلے گئے چنانچہ جہاز اس جگہ پہنچ گیا ۔جس جگہ میںنے اترنا تھا۔ میں اس جگہ سے اتر گیا دور جس طرف جانا تھا چلا گیا اور وہ جہاز اس جگہ سے آگے نکل گیا اور آگے جا کر غرق ہوگیا جب اس جہاز کے ڈوبنے کی خبر اٹھی۔ تو میرے گھر والوں نے یہ بھی سنا کہ فلاں جہاز فلاں تاریخ کو غرق ہوگیا تو میرے گھر کے لوگ روتے پیٹتے حضرت صاحب کی خدمت میں پہنچے اور رو رو کر کہنے لگے کہ فلاں جہاز جس پر حافظ حامد علی صاحب سوار تھے ڈوب گیا ہے۔ حضرت صاحب نے اس کے حال پکار کو سن کر فرمایا ہاں میں نے بھی سنا ہے کہ فلاں جہاز فلاں تاریخ کو ڈوب گیا ہے اور اس میں حافظ صاحب بھی تھے۔ اور پھر خاموش ہوگئے اور کچھ جواب نہ دیا چند منٹ کے بعد بلند آواز سے فرمایا صبر کرو حافظ حامد علی صاحب اللہ تعالیٰ کے فضل سے زندہ ہیں جس کام کے واسطے بھیجے گئے تھے کر رہے ہیں۔ اور سب کو تسلی دی اور گھر کو روانہ کر دئے ۔
    (1610) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- میاں فضل محمد صاحب دوکاندار محلہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہایک دفعہ میں عید کی نماز پڑھنے کے لئے قادیان شریف آیا۔ جب نماز ادا کر چکے تو مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے اللہ تعالیٰ کی ان پر رحمت ہو حضو ر کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ حضور احباب نے فرمایا تھا کہ عید کے دن اللہ تعالیٰ کوئی اپنا نشان دکھاوے گا ۔ اور آج عید کادن ہے ۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ ۔ اور قلم دوات وکاغذ اپنے پاس لے لو یہ حکم سن کر سب دوست بیٹھ گئے اور حضور نے کرسی پر تشریف رکھ کر عربی زبان میں خطبہ شروع کردیا جس کا نام خطبہ الہامیہ رکھا گیا۔ سب دوستوں نے وہ خطبہ لکھنا شروع کردیا ۔اور جو کچھ حضور فرماتے لکھنے والے لکھتے جاتے۔جب کوئی لفظ کسی کی سمجھ میں نہ آتا تو حضور پوچھنے والوں کو بمعہ جوڑ وغیرہ بتلا دیتے۔اس وقت حضور ک ے مبارک منہ سے اس طرح الفاظ جاری تھے ۔ کہ گویا کتاب آگے رکھی ہوئی ہے ۔ جس پر سے دیکھ کر پڑھ رہے ہیں کتاب پر سے پڑھنے والے بھی کبھی رک ہی جاتے ہیں مگر حضور بالکل نہیں رکتے تھے۔ حضور کے پاس میں بیٹھا ہوا تھا اور حضور کی طرف میری آنکھیں لگی ہوئی تھیں حضور کا رنگ اس وقت سرسوں کے پھول کی مانند تھا۔ آنکھیں بند رکھتے تھے اور کبھی کبھی کھول کر دیکھ لیا کرتے تھے۔
    (1611)بسم اللہ الرحمن الرحیم:- منشی محمد اسماعیل صاحب سیالکوٹی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ رشوت کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ رشوت یہ ہے کہ انسان کسی دوسرے کا حق غصب کرنے کے لئے کسی کوکچھ دے۔ لیکن اگر کسی بدنیت افسر کو اپنے حقوق محفوظ کرانے کے لئے کچھ دے دے تو یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ کسی کتے کو جو کاٹتا ہو۔کوئی روٹی کا ٹکڑا ڈال دیا جائے۔
    (1612) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- محمد احمد صاحب نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب سے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ کرم دین سکنہ بھینی والے کے مقدمہ کی پیروی کے لئے حضرت صاحب گورداسپور یکوں میں تشریف لے جایا کرتے تھے اور میں حضور کے ساتھ ہوتا تھا۔ ایک دفعہ جب ہم گورداسپور سے روانہ ہونے لگے تو قریباً گیارہ بجے دن کے تھے ۔ اور سخت گرمیوں کا مہینہ تھا۔ میں حضور کے ساتھ یکے کے اندر بیٹھا میں پہلے اس بات کا خیال کر لیا کرتا تھا کہ جس وقت ہم روانہ ہوں گے دھوپ کا رخ کسی طرف ہوگا اور یہ میں سایہ کس طرف پھر سائے میں حضور کو بٹھاتا ۔میں ثواب کی خاطر ایسا کرتا تھا اور سمجھتا تھا کہ حضور کو اس بات کا علم نہیں کہ میں عمداً ایسا کرتا ہوں ۔ جب ہم روانہ ہوئے تو سخت گرمی اور دھوپ تھی اور یکہ سیدھا گورداسپور سے قادیان آتا تھا۔ بٹالہ کے راستہ سے نہیں آتا تھا۔ جونہی ہم روانہ ہوئے تو بادل کا ایک ٹکڑا سورج کے سامنے آگیا اور قادیان تک ہم پر سایہ کیا اور ٹھنڈ بھی ہوگئی ہم یکے پر سے قادیان مڑ کر اترے تو حضور نے فرمایا مفتی صاحب اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا فضل کیا جو بادل کا سایہ ہم پر کردیا۔ اور بدلی ساتھ ساتھ قادیان تک ہی گئی پھر حضور نے فرمایا کی مفتی صاحب اسی قسم کاایک واقعہ پہلے بھی ہمارے ساتھ پیش آچکا ہے جب میں والد صاحب کے ساتھ زمین کے بارہ میں مقدمہ کی پیروی کے لئے امرتسر جایا کرتا تھا جب ہم( بٹالہ یا امرتسر خاکسار کوبھول گیا ہے ،محمد احمد) سے روانہ ہوئے تو ہمارے ساتھ ایک ہندو بھی یکہ پر سوار ہونے والا تھا۔ تو جس طرح مفتی صاحب آپ تاڑ کر مجھے سایہ کی طرف بٹھا تے ہیں وہ بھی اسی طرح تاڑ کر جلدی سے اچھل کر خود سایے کی طرف بیٹھ گیا ہم دھوپ میں ہی بیٹھ گئے اور اسے اس کا ساتھ سمجھ کر کچھ نہ کہا۔
    پھر جونہی ہم روانہ ہوئے تو اسی طرح بدلی کا ٹکڑا سورج کے سامنے آگیا اور سارے راستے میں ہم پر سایہ کیا پھر جب اترنے لگے تو ہندو نے اپنے فعل پر شرمندہ ہو کر کہا آپ دھوپ میں بیٹھے تھے ۔اللہ تعالیٰ نے آپ پر سایہ کردیا آپ کے طفیل ہم بھی آرام سے پہنچ گئے ۔خاکسار محمد احمد عرض کرتا ہے کہ جب پہلے مفتی صاحب سے یہ روایت سنی تھی اس وقت مفتی صاحب نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اس ہندو کے منہ سے بے اختیار رام رام کے الفاظ نکل پڑے تھے۔
    (1613) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- صفیہ بیگم بنت مولوی عبد القادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کہ غالباً جناب والد صاحب مرحوم 1898ء میں یہاں قادیان شریف بالکل ہی آگئے تھے ۔ ان کی موجودگی میں ہی جناب میاں مبارک احمد صاحب مرحوم تولد ہوئے تھے ان کی پیدائش کا سن ہی ہماری بیعت کا سن تھا۔ والد صاحب کی بیعت تو بہت پہلے ہوگی ہمیں پتہ نہیں ۔ ہم سب حضرت اقدس کے اسی مکان میں اترے کچھ عرصہ یہاں ٹھہرے جناب حضرت مسیح موعود نہایت سادہ پوشاک رکھتے تھے ۔ بعض دفعہ تو ازار بند کے ساتھ چابیوں کا گچھا بھی لٹکتا ہوتا تھا ۔ہمیشہ نیم بند آنکھیں رکھتے تھے ۔ کبھی سر مبارک پررومی ٹوپی ہوتی تھی اور بعض دفعہ لکھنے میں بہت مصروفیت ہوتی تھی ۔ننگے سر بھی ہوتے تھے ۔ہرو قت اوپر جہاں آج کل حضرت ام المومنین تشریف رکھتی ہیں رہتے تھے ۔ اور اکثر وقت لکھتے ہی رہتے تھے بہت دفعہ دیکھا ہے کہ کمرے کے اندر ٹہلتے ٹہلتے بھی لکھتے پھرتے تھے۔ تحت پر لکھے ہو ئے اور سفید کاغذ رکھے ہوئے ہوتے تھے۔ ایک دفعہ میں حیرانی سے بڑی دیر کھڑی ریکھتی رہی بوجہ مصروفیت آپ کو کچھ خبر نہ تھی چونکہ میں اپنے والد صاحب مرحوم کا کچھ پیغام لے کر آئی تھی اس لئے میں نے حضرت جی کہکر آواز دی ۔جو عرض کرنا تھا کیا پھر نہایت نرمی سے حضور اقدس نے فرمایا کہ حرج ہوتا ہے اس لئے میں جلدی چلی گئی اور اکثر شام کو حضرت صاحب صحن میں بالا خانے پر چارپائی پر بیٹھے ہوتے تھے۔ مولوی محمد احسن صاحب مرحوم ان کے پاؤں دبایا کرتے تھے۔
    (1614) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- صفیہ بیگم بنت مولوی عبد القادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میرے والدصاحب نے مجھے بھیجا کہ جا کر حضرت صاحب سے عرض کرو کہ اب میں کیا کروں۔ میں گئی حضور اقدس صحن میں کھٹولی پر پاؤں لٹکائے بیٹھے تھے مولوی محمد احسن صاحب مرحوم پاؤں دبا رہے تھے ۔میں نے جا کر والد صاحب کی طرف سے کہا آپ نے فرمایا حضرت مولوی صاحب سے کہو کہ باہر جاویں تبلیغ کے لئے میں نے آکر والد صاحب کو کہہ دیا والد صاحب ہسنتے اور بہت خوش ہوتے فرماتے تھے۔ اللہ اللہ حضرت صاحب کو تبلیغ سب کاموں سے پیاری ہے اور میرے دل میں بھی تبلیغ کا بہت شوق ہے یہ اس لئے کہا کہ والدہ صاحبہ چاہتی تھیں کہ احمدیہ سکول میں منطق عربی پڑھانے پر ملازم ہوجاویں شاید سکول میں عرضی بھی دی ہوئی تھی۔
    (1615) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- صفیہ بیگم بنت مولوی عبد القادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت اماں جان صاحبہ بھی اوپر بالا خانہ میں بیٹھی تھیں میں بھی گئی بیٹھ گئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ حضرت مولوی صاحب پٹیالے سے رسد کے کتنے روپے لائے ہیں ۔ میںنے کہا کہ میری بہن کی شادی پر والدہ صاحبہ نے قرض لے کر خرچ کیا تھا۔ کچھ تو وہ ادا کردیا باقی ہمارے سب کے کپڑے بنا دئے فرمانے لگے کیا خرچ کیا تھا۔ میں نے کہا کہ کپڑے زیور برتن وغیرہ جو کچھ کیا تھا بتادیا فرمانے لگے کہ قرض لے کر خرچ کرنا گناہ ہے اماں جان نے فرمایا کہ حضرت رسول کریمﷺ نے کیوں بیوی فاطمہ ؓ کو چکی دی تھی حضور مسیح موعود علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایاوہ قرض لے کر نہیں دی بلکہ گھر میں موجود تھی۔
    (1616) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- صفیہ بیگم بنت مولوی عبد القادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ پہلے ہم پیر سراج الحق( لمبے پیر) کے ساتھ چوبارے میں رہتے تھے ۔ اور ہمارے ساتھ محمد اسماعیل یا کچھ اور نام تھا ان کی بیوی رہتی تھی ایک دوماہ کے بعد پھر حضرت صاحب کے قریب ایک کچا مکان خالی تھا وہ آپ نے ہمیں کرائے پر لے دیا۔ وہاں مغلانیاں آپ کی غیر احمدی رشتہ دار آتیں ہمیں خفا ہوتیں سخت سست کہتیں ایک دن میں نے حضرت صاحب سے کہا کہ ہمیں گالیاں دی جاتی ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ اس مکان کا ہم نے مقدمہ کیا ہو اہے ۔ دعا کرو کہ ہمیں مل جاوے کیونکہ یہ ہمارا ہی حق ہے پھر تمہیں بھی اس میں سے مکان بنادیں گے میں بہت دن کرتی رہی کپور تھلہ میں جناب والد صاحب مرحوم محمد خاں صاحب افسر بگھی خانہ کو پڑھانے کے لئے گئے ہوئے تھے معہ ہم سب وہاں جا کر معلوم ہو اکہ حضرت صاحب کو وہ مکان مل گیا تھا۔
    (1617) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- صفیہ بیگم بنت مولوی عبد القادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جناب والد صاحب کہیں باہر دورہ تبلیغ کے لئے گئے ہو ئے تھے ۔ پیچھے سے مصلحت کی وجہ سے منتظموں نے لنگر خانہ کا یہ انتظام کیا کہ جو مہمان آویں صرف ان کو تین دن تک کا کھانا ملا کرے باقی گھروں کا بند کردیا۔ ہمیں بھی لنگر خانہ سے دونوں وقت روٹی آتی تھی جب بند ہو گئی تو نہ آئی۔ ہم سب بہن بھائی ایک دن رات بھوکے رہے کسی کو نہ بتایا ۔ دوسرے دن سب کو بہت بھوک لگی ہوئی تھی کہ مائی تابی ایک مجمع اٹھائے ہوئے آئی۔ والدہ صاحبہ نے کہا کہاں سے لائی ہے۔ کس نے بھیجا ہے حضرت جی نے دورکابیاں کھیر کی اور دو پیالے گوشت عمدہ پکا ہوا بھجوایا۔والدہ صاحبہ کہتی ہیں مرغ کا گوشت تھا۔ اور روٹیاں توے کی پکی ہوئیں ہم سب حیران ہوئے کہ حضرت صاحب کو کس نے بتایا پھر میں شام کو برتن لے کر گئی برتن نیچے رکھ کر اوپر گئی تو حضرت صاحب نے فرمایا کہ صفیہ کل کیوں نہیں آئی ۔میں نے کہا کل ہم کو لنگر سے کھانا نہیں آیا تھا۔ اس لئے ہم سب گھر ہی رہے ۔آپ نے افسوس والی صورت سے فرمایا کہ کل تم سب بھوکے رہے کیا تمہیں لنگرخانہ سے روٹی آتی تھی؟ بہت افسوس فرمایا اوت کہا کہ آج جو مجھے کھانا آیا تھا میں نے تمہارے گھر بھیج دیا مجھے یہ علم نہ تھا کہ تم کو کل سے کھانا نہیں ملا پھر مجھے دس روپے دئے اور فرمایا کہ نیچے کوٹھی میں جتنے دانے گندم کے ہیں گھر لے جاؤ۔ اور خرچ کرو جب تک حضرت مولوی صاحب نہیں آتے مجھے خرچ کے لئے بتایا کرو پھر ایک ماہ میں کئی بار مجھے دریافت فرمایا کہ تمہارا خرچ ختم ہوگیا میں کہدیتی نہیں اسی ماہ کے اخیر میں ہی جناب والدصاحب مرحوم گھر آگئے ۔
    (1618) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- صفیہ بیگم بنت مولوی عبد القادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب جناب والد صاحب باہر جاتے تو حضرت صاحب بہت خیال رکھتے تھے ایک دفعہ والد صاحب باہر گئے ہوئے تھے وہ مکان مرزا امام الدین کے پاس پہلے تھااس میں ہم رہتے ہیں ۔ بہت ردی حالت اس کی تھی ایک چھتڑا بالکل گرنے والا تھا اس میں ہم دو بہنیں اور ایک بھائی بیٹھے تھے تھوڑی تھوڑی بارش ہورہی تھی حضور نے طاقی کھڑکائی اور اماں جان صاحبہ نے ناشپاتیاں دریچہ سے ہمارے صحن میں پھینکی شروع کیں ہم بھاگ کر باہر آگئے ناشپاتیاں چگنے لگ گئے اور پیچھے وہ چھتڑا دھڑام سے گر گیاو الدہ صاحبہ دریچہ کے قریب اونچی اونچی شکریہ ادا کر رہی تھیں ۔کہ آپ نے میرے بچوں کی جان بچائی رونی نیچے دب کر مر جاتے حضرت مجھے اب اسی طرح مسکراتے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔
    (1619) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- صفیہ بیگم بنت مولوی عبد القادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک سوالی دریچے کے نیچے کھڑ امانگتا تھا۔ حضرت صاحب نے اپنا کرتا اتار کر دریچہ سے فقیر کو دے دیا والد مرحوم نے فرمایا کہ اللہ اللہ کیسی فیاضی فرما رہے ہیں۔
    (1620) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- صفیہ بیگم بنت مولوی عبد القادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ننگل حضرت مسیح موعود علیہ السلام اورحضرت اماں جان صاحبہ معہ سب چوں کے اور عاجزہ بھی ساتھ ہی مرزا مبارک احمد صاحب مرحوم کو اٹھائے اور بھی کئی عورتیں ہمراہ تھیں گئے ۔ایک دفعہ زمینداروں کے گھر گئے ۔ انہوںنے چار پائی بچھا دی اس پر حضرت صاحب بیٹھ گئے ۔اور دوسری چار پائی پر حضرت ام المومنین صاحبہ اور ہم سب ادھر ادھر، گھر والی ایک چنگیر میں تازہ گڑ لائی۔ وہ اماں جان صاحبہ کے پاس رکھ دیا اور چھنے میں اس یا روہ ہم سب کو دیا آپ نے دیا اور گڑ بھی بانٹ دیا۔ یاد نہیں کہ آپ نے کھایا نہ چند منٹ کے بعد واپس آئے ۔حضور عصا لے کرآگے آگے اور ہم سب پیچھے آپ بہت آگے رہتے تھے گھر والی اور گاؤں کی عورتیں بھی آگی تھیں معلوم نہیںیا د نہیں انہوںنے کیا باتیں کی تھیں مگر بڑے اخلاص سے باتیں کرتی تھیں ۔
    (1621) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- صفیہ بیگم بنت مولوی عبد القادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میری بڑی بہن حلیمہ بی بی اپنے سسرال سے بیمار آئی۔ میں نے حضرت صاحب سے عرض کیا کہ میری بہن کو تپ دق ہوگئی ہے ۔آپ نے فرمایا کل صبح تا رورہ لے آنا میں نے کہا وہ کیا ہوتا ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ چھینے میں پیشاب ڈال کر ضرور لانا۔ علاج کریں گے گھر جا کر میں نے والدہ صاحبہ سے بتایا انہوںنے مجھے تا رورہ دے کر بھیجا جب میں نے چھنا لا کر برانڈے میں رکھا آپ نے فرمایا ڈھکنا اتار ،ڈھکنا اتارا تو حضرت صاحب پچھلے پاؤں جلد ی پیچھے ہٹ گئے ۔ اور فرمایادھیلے کا شاترا لے کر مٹی کے برتن میں رات کو بھگو دو،صبح ۔۔۔ کر مصری ڈال کر پلا دو پھر والدہ پلاتی رہیں ۔ اسی سے اللہ پاک نے آرام دے دیا ایک ہفتہ میں بالکل اچھی ہوگئی۔
    (1622) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- صفیہ بیگم بنت مولوی عبد القادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور اقدس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نیے چے برانڈے کے اندرجہاں ایک کمرے میں آج کل باورچی کھانا پکاتا ہے پلنگ پر لیٹے ہو ئے تھے۔ مجھے فرمایا سر دبا، دبواتے نہیں تھے بلکہ ایک طرف انگوٹھے دوسری طرف انگلیوں سے ستواتے تھے۔ میں بہت دیر تک اسی طرح سردباتی رہی مجھے سردباتی کوفرمانے لگے کسی دن تن کو بہت فخر ہوگا کہ میں نے مسیح موعود کا سر دبایا تھا یہ کلمے حضرت علیہ السلام کے مجھے ایسے یاد ہیں جیسے اب فرماتے ہیں ۔افسوس اس وقت کچھ قدر نہ کی اب پچھتاتے سے کیا ہوسکتا ہے۔
    (1623) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- صفیہ بیگم بنت مولوی عبد القادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب کے ساتھ حضرت اماں جان صاحبہ بھی علی الصبح سیر کو جایا کرتے تھے ۔ ایک دوعورتیں لڑکیاں بھی اماں جان کے ہمراہ ہوتی تھیں ۔ میں اماں جان صاحبہ سے کہتی کہ مجھے بھی بلا لینا ۔ جب میں آتی تو وہ واپس آتے ہوتے مجھے دیکھ کر اماں جان فرماتی اچھا کل بلاؤنگی پھر بھول جاتیں ۔ مجھے دیکھ کہتیں ہائے مجھے یاد نہیں رہا میں نے کہاآپ روز بھول جاتی ہیں حضرت صاحب نے فرمایا کہ کل میں بلاؤں گا دوسرے دن جانے سے پہلے ہی آپ نے دریچہ کھول کر مجھے آواز دی جب میں سامنے آئی تو فرمایا آؤ بیوی صاحبہ کو سیر کو جارہی ہیں ۔
    (1624) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- صفیہ بیگم بنت مولوی عبد القادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ1900ء ماہ اکتوبر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام لدھیانہ مع حضرت اماں جان صاحبہ اور سب بچوں کے تشریف لے گئے چھاؤنی میں فرید کے مکان میں اترے۔ والد صاحب لدھیانہ کے ارد گرد کے گاؤں سے لوگوں کو عورتوں کو پہلے ہی خبر کر آئے تھے کہ فلاں دن امام مہدی تشریف لائیں گے ۔ لدھیانہ آکر زیارت کرنا۔ رمضان شریف کامینہ تھا۔والدہ صاحبہ اور میں بھی حضور کی زیارت کو پہنچیں گاؤں کی عورتیں کھدر کے گھگرے اور سب کپڑے کھدر کے پہنے ہوئے ۔روزے سے آآکر مجھے کہتیں بی بی امام مہدی کی زیارت کرا میں اندر لے لے جاتی تھی وہ سب جا کر ایک ایک روپیہ دیتیں اور بڑے اخلاص سے دیکھتیں حضور نے اماں جان صاحبہ کی طرف رخ کر کے اسی طرف حضرت میاں ناصر احمد صاحب اور میں بیٹھی تھی۔ فرمایا کہ ایسی عورتیں ہی بہشت میں جاویں گی اور ان کو عورتوں کو بھی کچھ نصیحت کیں کہ جو مجھے بالکل یاد نہیں۔
    (1625) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- صفیہ بیگم بنت مولوی عبد القادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ آخر99ء یا100ء ہوگا میرے والد صاحب کے چچا زاد بھائی بابومحمد اسماعیل ہیڈ کلرک دفررولی برادرس امرتسر سے آئے اور کہنے لگے کہ میرے ۔۔۔۔صاحب نے مقدمہ کیا ہو اہے ۔ جس کی وجہ سے میں سخت حیران ہوں اس جینے سے موت بہتر سمجھتا ہوں قریباً دو سال کے مقدمے ہو چلے ہیں اب کوئی صورت رہائی کی نظر نہیں آتی وکیلوں نے کہہ دیا ہے کہ قید اور جرمانہ ضرور ہوگا رات میرے دل میں خیال آیا کہ بھائی صاحب سے جا کر کہوں یعنی والد صاحب سے کہ آپ حضرت مرزا صاحب سے میرے مقدمے کے لئے دعا کرائیں شاید اللہ تعالیٰ ان کی دعا کی برکت سے مجھے رہائی بخشے اور روتے تھے والد صاحب نے فرمایا ۔بیلیا اگر ہمارے حضرت صاحب نے تیرے لئے ہاتھ اٹھا دئیے تو واقعی تو ہر طرح کی سزا سے بچ جائے گا۔ اس پر وہ کہنے لگے کہ دعا کراؤ والد صاحب نے کہا کہ کھانا کھا لو۔ ظہر کی نماز کے وقت مسجد چلیں گے ۔ انہوںنے کہا کہ میں روٹی نہیں کھاتا مجھے روٹی اچھی نہیں لگتی پہلے دعا کراؤ۔ اور جب سے مقدمہ ہوا ہے میں کبھی بھی خوشی سے روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی یہ وقت متفکر جان سے بیزار روتا رہتا ہوں بہت گھبراتے تھے آخر والد صاحب مجھے ہمراہ لے کر حضرت صاحب کے مکان پر آئے مسجد مبارک کی سیڑھیوں کے رستے میں اوپر حضور والا کے پاس پہنچی میرے والد صاحب مسجد میں ٹھہرے اور بابو صاحب سیڑھیوں میں بیٹھ گئے میں نے جا کر کہا کہ میرے والد صاحب اور امرتسر سے ان کے چچا زاد بھائی بابو محمد اسماعیل آئے ہوئے ہیں ۔ ان پر کوئی بڑاسخت مقدمہ ہے آپ کو دعا کے کئے عرض کرتے ہیں ۔ آپ اس وقت چھوٹے تخت پوش پر بیٹھے لکھ رہے تھے پاس لکھے ہوئے کاغذ پڑے تھے فرمایا کہ ان سے پوچھ آکہ کچھ تمہاراجرم بھی ہے ۔ میں نے اسی طرح جا کر کہا انہوںنے کہا کہ ہاں میں بڑا مجرم ہوں میں نے خیانت کی پرائیویٹ دوکان سرکاری ملازم ہو کر کھولی وغیرہ وغیرہ خود زبانی عرض کروں گا۔ حضور اقدس نے فرمایا کہ دعا کریں گے میںنے جا کر کہہ دیا کہ وعدہ کیا ہے دعا فرویں گے۔لیکن ان کو تسلی ہی نہ ہووے بہتیر اوالد صاحب نے سمجھایا ۔تسلی دی وہ بار بار یہی کہیں کہ تم حضرت صاحب کے دعا کے لئے ہاتھ اٹھوا آؤ۔ ۔۔۔۔۔ میں پھر حضرت صاحب کے پاس گئی اور کہا کہ حضرت جی وہ سیڑھیوں میں بیٹھے ہیں جاتے نہیں مجھے کہتے ہیں کہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھوا کرآ حضور اقدس نے سنتے ہی دعا کے لئے دست مبارک اٹھائے اور میں بھاگی سیڑھیوں کی طرف گئی۔ کہ حضرت صاحب نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھا لئے ہیں دعا ہورہی ہے پھر والد صاحب نے مجھے کہا کہ اب تم گھر کو جاؤ میں گھر چلی گئی بعد میں پتہ نہیں نماز کے وقت حضرت سے ملے یا نہ ملے۔ پھر تھوڑے ہء عرصہ کے بعد زشاید ماہ ڈیڑھ ماہ کے بعد ہی وہ اپنی خوشی تحفے تحائف لے کر آئے اور میرے لئے بھی کپڑے ،چانینی ،جوتی ،پھل وغیرہ لائے اور پھر حضرت ام المومنین کے لئے بھی چوڑیاں خوبصورت کنگھیاں بہت سے فروٹ میرے ہاتھ بھیجے اور حضور اقدس کو ملے بہت شکریہ کرتے تھے ۔ نقدی بھی دی ۔پتہ نہیں ا ن مقدمے میں وہ اور بھی گرفتار تھے۔ ایک کا نام بابو عبد العزیز اور دوسرے کانام بابو علی بخش تھا ان کا خفیف سا جرم تھا ۔ تاہم ان دونوں کو سزا قید ہوئی۔ جس وقت ان دونوں کے ہتھکڑیاں پڑیں پیچھے ان کے بیوی بچے روتے جاتے تھے بہت رحم آتا تھا بابو محمد اسماعیل صاحب کہتے تھے کہ اصل مجرم میں تھا۔ حضرت صاحب کی دعا سے خدا نے مجھے بچایا۔ ورنہ میری رہائی کی کوئی صورت نہ تھی۔ اب کی چھٹیوں پر مجھے چچامحمد اسماعیل صاحب سے زیور ملے تھے میں نے وہ مقدمہ والا حال یاددلایا اور کہا کہ آپ نے وہ زمانہ دیکھاتھا۔ جب یکے پر قادیان دعا کے لئے گئے تھے۔ اب یہ کر ترقی کا زمانہ دیکھو اور آپ کوو الد صاحب نے نعمت اللہ ولی کے شعر سنائے تھے۔ آپ نے لکھے لئے تھے۔ اب ذرا پسزش یادگار کی زیارت خود کیجئے ۔ کہنے لگے جلسے پر ضرور جاؤں گا۔ حضرت مزرا حمد کی زیارت کروں گا۔ انہوںنے دو ۔۔۔۔بہت بوڑھے ہو گئے تھے اس ماہ اکتوبر میں فوت ہوگئے ان کے بیٹے مقدمے وغیرہ کے گواہ ہیں اور میری والدہ صاحبہ بھی گواہ ہیں ۔ بلکہ ان کا اور میرا مضمون واحد ہے ۔
    (1626) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- صفیہ بیگم بنت مولوی عبد القادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میاں مبارک احمد صاحب مرحوم کے چوٹ لگی جس سے خون نکلتا تھا۔ اور حضرت فرما رہے تھے کہ خدا کی بات کبھی نہیں ٹلتی اور خوشی کا اظہار فرما رہے تھے ۔ گھر گئی تو والد صاحب نے بتایا کہ آپ کو الہام ہوا تھا کہ میاں مبارک احمد صاحب کو چوٹ لگے گی۔
    (1627) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- سکینہ بیگم صاحبہ اہلیہ ماسٹر محمد حسین صاحب مرحوم فرید آبادی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جس وقت میںنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تو میری عمر13برس کی تھی۔ جب میری شادی احمد حسین مرحوم سے ہوئی تو میری عمر گیارہ یا باری برس کی تھی۔ نادانی کی عمر تھی۔ ماسٹر صاحب نے مجھے بہت سمجھایا کرتے تھے مگرمیری سمجھ میں کچھ نہ آتا جب وہ مجھے بیعت کو کہتے تو میں انکار کر دیتی ۔ کہ میں کیوں غیر مردوں کی بیعت کروں ۔ ماسٹر بہت سمجھاتے مگر کچھ سمجھ میں ہی نہ آتی کیونکہ ہندوستان سے گئی تھی جہاں پر جہالت ہی جہالت تھی ۔ اور ان دنوں ماسٹر صاحب اخبار کے ایڈیٹر تھے حضرت مسیح موعود نے دہلی سے بلوایا تھا۔ وہاں ہر وہ حسن نظامی کے پاس ملازم تھے وہاں پرسے وہ اخبار کی ایڈیٹری پر ملازم ہوئے تھے۔ وہ بہت پرانے احمدی تھے وہ دو دفعہ مجھے قادیان لائے بیعت کے لئے مگر میں نے نہیں کی ۔ آہستہ آہستہ مجھے جب سمجھ آگئی تو پھر ماسٹر صاحب مجھے بیعت کے لئے لائے اور میں نے بیعت کی ہمراہ میرے شیخ یعقوب علی صاحب کی اہلیہ تھیں ۔ انہوںنے میری بیعت کروائی تھی۔ ان دنوں حضرت صاحب میاں بشیر احمد صاحب مبارکہ بیگم صاحبہ یہ سب چھوٹے بچے تھے ۔اور یہ کھیلتے کھیلتے کمرے میں داخل ہو گئے ۔ اور دروازہ بند کر لیا۔ دروازہ ایسا بند ہوا کہ کھلے نہ اور بچے اندر روئیں ۔ ان کے رونے سے حضرت اماں جان بے ہوش ہو گئیں ہم سب نے ہر چند دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر نہ کھلے پھر کسی نوکر نے جا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اطلاع دی تو حضرت علیہ السلام نے بڑھی کو بلا کر دروزہ کھلوایا تو پھر بچے اندر سے نکلے اس دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تقریر کی تھی۔ یہ امرتسر کا ذکر ہے کہ جب شام ہوئی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلامکی تقریر شروع ہوئی ۔ تو دشمنوں نے پتھر برسانے شروع کر دئے شیشے دروازے کے توڑ دئے ۔ اور اماں جان دوبارہ بے ہوش ہو گئیں ہم سب عورتیں چھپ گئیں ۔ کوئی پاخانے میں کوئی چار پائی کے نیچے کوئی کہیں کوئی کہیں پھر خدا جانے کس طرح پتھر برسنے بند ہو گئے حضرت علیہ السلام سے بیعت کرنے والے آپ کے چاروں طرف بیٹھ جاتے اور حضرت ان سے بیعت لیتے۔ یہ حضرت صاحب کے اوصاف حمیدہ میں سے ہے کہ آپ عورتوں کو کبھی بھی کھلی لمبی آنکھوں سے نہ دیکھتے تھے ۔جب کمرے سے باہر نکلتے تو کوٹ ،واسکٹ سافہ ہمیشہ پہن کر نکلتے میں نے کئی بار آپ کو صحن میں ٹہلتے ٹہلتے لکھتے دیکھا۔ دو دواتیں ہوتی تھیں ادھر گئے تو ادھر سے دوات سے قلم بھر لیتے تھے اور لکھتے ادھر گئے تو ادھر سے قلم بھر لیتے اور لکھتے اور اگر کسی نے مسجد سے آواز دینی تو آپ تشریف لے جاتے ۔ اور لوگوں نے دوڑ کر آگے پہنچے ہونا۔ گرد سخت اڑتی تھی۔ اور حضرت صاحب سافہ کا پلہ منہ اور ناک کے آگے لے لیتے اور یہ ایک کے ساتھ محبت اور خلوص کے ساتھ پیش آتے۔ ان دنوں راستے بہت خراب تھے جنگل ہی جنگل تھا گنتی کے آٹھ دس مکان تھے جب ہم نے امرتسر سے قادیان ٹانگا پرآنا تو کتنی کتنی اونچی جگہ ٹانگے نے چڑھ جانا اور پھر نیچے اترنا۔ ہچکولے بہت لگتے تھے مگر ہمارے دلوں میں تڑپ تھی۔ اس لئے ہمیں پرواہ نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ خوشی محسوس ہوتی تھی۔
    (1628) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- سکینہ بیگم اہلیہ ماسٹر احمد حسین صاحب فرید آبادی مرحوم نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ نے عورتوں میںچندے کی تحریک کی ،سب عورتیں چندہ دینے لگ گئیں جن کے پاس پیسے نہ تھے وہ زیور دیتی تھیں ۔تو مجھے اس بات کاعلم نہ تھا کہ یا تو زیور عورتیں دیتی ہیں یا پیسے ، پہلے میں سوچتی اس لئے کہ سارا زیور دے دو پھر سوچا کہ اپنے لیکے جاؤں گی تو سب پہنیںگے تو میرے پاس نہیں ہوگا یہ سوچ کراٹھی اور ناک سے نتھ اتاری اور میرے ساتھ روپے تین پیسے تھے وہ بھ رکھ لئے۔ اور جا کر حضرت صاحب کے ہاتھ میں دے دئے تو حضور نے میری طرف دیکھااور پھر مولوی محمددین کو کچھلکھا۔ جو مجھے یاد نہیں اس نے روپے بھی لئے اور نتھ بھی اور ماسٹر صاحب کے پاس لے گئے ماسٹر صاحب نے نتھ تو لے لی اور روپے دے دئے مگر مجھے اس بات کا غصہ نہیں تھا۔ جس سمجھ دور ہوئی تو پھر ماسٹر صاحب نے بتایا تھا۔ جس وقت حضرت مولوی صاحب واپس آگئے ماسٹر صاحب کے پاس سے تو پھر مجھے بلایا ۔ماسٹر صاحب نے اور پوچھا کہ تم نے چندہ دیا تو میںنے کہا کہ ہاں ۔ پوچھا کیا میں نے کہا جو جیب میں روپے تھے۔ اور ناک کی نتھ پہلے میں سارا زیور دینے لگی تھی۔ پھر میں نے سوچا کہ اپنے میکے جاؤں گی توسب پہنیں گے تو میرے پاس نہیں ہوں گے ۔ ماسٹر صاحب نے مجھے شاباش دی اور کہا کہ دیکھو کہ تم نے چندے میں نتھ دی تھی۔ اور ہم تمہیں دیتے ہیں میں بہت خوش ہوئی اور کہا کہ اب کے میں ساراہی دے دوں گی۔ مجھے اللہ میاں اور دے دے گا یہ کہہ کر اور بھاگی ہوئی اندر گئی اور پھر نتھ پہن لی تو میری ناک میں نتھ دیکھ کر مولوی محمد دین کی بیوی نے اور حضرت صاحب کی بڑی بیوی یعنی ام ناصر احمد صاحب کہنے لگیں ابھی تو تم نے چندے میں دی تھی۔ اور اب تمہاری ناک میں ہے۔ تو میں نے خوش ہو کر کہا کہ اللہ میاں نے اور دے دی ہے۔اور جب بھی ہم قادیان آتے تو حضرت صاحب کے گھر میں اترتے اور حضور بڑی محبت سے پیش آتے۔ اگر کھانے کے وقت نظر پڑی جاتی تو پھر پوچھتے نتھ والی کھانا کھا لیا۔تو میں کہتی جی۔
    (1629) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- سکینہ بیگم اہلیہ ماسٹر احمد حسین صاحب رحوم فرید آبادی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ اماں جان کو ساتھ لے کر حضور سیر کو جاتے تو ہم عورتیں بھی ساتھ ہولیتیں ،تو حضور راستے میں اماں جان سے باتیں کرتے ۔مگر اتنی عقل نہیں تھی کہ سنتی حضرت صاحب کیا باتیں کرتے ہیں ۔ سارے راستے میں میں شرارتیں کرتی چلتی مگر حضور نے کبھی منع نہ کرنا کئی بار ساتھ سیر کو میں گئی۔ اور جب حضور اپنے سسرال میں جاتے یعنی دہلی تو میں وہاں بھی کئی بار میں نے ان کو دیکھا کیونکہ وہاں پر میرے میکے تھے۔ اور مرزا محمد شفیع کے گھر بہت آناجانا تھا۔تو حضور بھی وہاں تشریف فرما ہوتے۔ غرض میں جہاں بھی حضور کو دیکھتی وہیں کھڑی ہو جاتی اور بڑے غور سے آپ کو دیکھتی اور اپنے دل میں خوش ہوتی۔ اور اگر باہر سے آتے ہوئے دیکھنا آپ کو تو ،ادھر انہوںنے اندر قدم رکھا اور سب کوسلام کرنا جس کاانہوںنے جواب دنیا پھر میں نے جلدی سے سلام کرنا جس کا انہوں نے جواب دینا۔
    (1630) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- سکینہ بیگم اہلیہ ماسٹر احمد حسین صاحب فرید آبادی مرحوم نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ماسٹر صاحب بھی مجھے کبھی کبھی حضور کی باتیں سناتے ایک واقعہ سنایا کہ چھٹی رساں آیا اور خط لایا۔ تو حضور کے پاس چائے رکھی تھی اور کسی آدمی نے مانگی حضور نے اس کو آنجلا بھر کے دی تو ڈاکیے نے کہا کہ حضور چائے کی تو مجھے بھی عادت ہے۔ حضور نے اس کو بھی دی پھر لے کر کہنے لگا۔ حضور دودھ اور میٹھا کہاں سے لوں گا تو آپ نے اس کو ایک روپیہ بھی دیا۔
    (1631)بسم اللہ الرحمن الرحیم:- سکینہ بیگم اہلیہ ماسٹر احمد حسین صاحب فرید آبادی مرحوم نے بذریعہ تحریر ماسٹر صاحب سے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب مردوں کو نصیحت فرمایا کرتے تھے۔ کہ مرد اپنی بیویوں کا گھر کے کام میں ہاٹھ بٹایا کرین ثواب کا کام ہے۔ رسول کریم ﷺ بھی گھر کے کام میں اپنی بیویوں کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ اور ساتھ ہی لفظ کہتے ہمیں تو لکھنے سے فرصت ہی نہیں ہوتی۔
    (1632)بسم اللہ الرحمن الرحیم:- سکینہ بیگم اہلیہ ماسٹر احمد حسین صاحب فریدآبادی نے ماسٹر صاحب سے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ مجھے ماسٹر صاحب نے سنایا کہ سردی کا موسم تھا ڈاکیہ خط لایا اور کہنے لگا حضور مجھے سردی لگتی ہے آپ مجھے اپنا کوٹ دیں تو حضور اسی وقت اندر گئے اور دو گرم کوٹ لے آئے اور کہنے لگے جو پسند ہو لے لو اس نے کہا مجھے دونوں پسند ہیں تو حضور نے دونوں دے دئے۔
    (1633) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- سکینہ بیگم اہلیہ ماسٹر احمد حسین فرید آبادی نے ماسٹر صاحب سے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضور اپنی مجلس میں یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ مردوں کو چاہئے کہ عورتوں کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آیا کریں ۔ اور عورتوں کو فرمایا کرتے کہ عورتوں کو اپنے گھر کو جنت بنا کر رکھنا چاہئے ۔ اور مردوں کے ساتھ کبھی اونچی آواز سے پیش نہیں آنا چاہئے اور میںجب کبھی حضرت صاحب کے گھر آتی تو میں دیکھا کرتی کہ حضور ہمیشہ ام المومنین سے بڑی نرمی کے ساتھ آواز دیتے محمود کی والدہ یا کبھی محمود کی اماں یہ بات اس طرح سے ہے اور اپنے نوکروں کے ساتھ بھی نہایت نرمی سے پیش آتے مجھے یاد نہیں آتا کہ حضور کبھی کسی کے ساتھ سختی سے گفتگو کرتے ہمیشہ خندہ پیشانی کے ساتھ بولنا۔
    (1634) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- سکینہ بیگم اہلیہ ماسٹر محمد حسین صاحب فرید آبادی نے ماسٹر صاحب سے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضور فرمایا کرتے تھے ۔کہ عورتوں میں یہ بری عادت ہے کہ ذرہ سی بات میں گالیاں اور کوسنوں پر اتر آتی ہیں بجائے اس کے اگر وہ اپنے بچوں کو نرمی سے پیش آئیں اور بجائے گالی کے نیک ہو کہہ دیا کریں تو کیا حر ج ہے عورتیں ہی اپنے بچوں کو گالیاں سکھاتی ہیں اور برے اخلاق پیدا کرتی ہیں ۔اگر یہ چھٹے تو بچوں کی بہت اچھی تربیت ہو سکتی ہے ۔اگر میاں بیوی میں ناراضگی ہو جاوے تو چاہئے کہ دونوں میں سے ایک خاموش ہو جائے تو لڑائی نہ بڑھے۔ اور نہ بچے ماں باپ کو تو تو میں میں کرتے سنیں بچہ تو وہی کا م کرے گا تو اس کے ماں باپ کرتے ہیں ۔ اور پھر یہ عادت اس کی چھوٹے گی نہیں بڑا ہوگا ماں باپ کے آگے جواب دے گا پھر رفتہ رفتہ باہر بھی اسی طرح کرے گا اس لئے عورتو ں کو اپنی زبان قابو میں رکھنی چاہئے آپ بیعت کرنے والوں کو ضرور کچھ روز ٹھہراتے تھے۔
    (1635) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- سکینہ بیگم اہلیہ ماسٹر احمد حسین صاحب فرید آباد ی مرحوم نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت صاحب باہر سے کھیلتے کھیلتے آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جیب میں دو یا ایک چھوٹے چھوٹے پتھر ڈال دئے پھر حضور جب اندر تشریف لائے تو اماں جان سے کہا کہ میرے کوٹ سے قلم نکال لاؤ یا کسی کا خط منگایا یاد نہیں تو اماں جان نے جیب میں کنکر دیکھ کر پوچھا تو آپ نے کہا کہ ان کو جیب میں ہی رہنے دو یہ میاں محمود کی امانت ہے اور اماں جان نے جیب میں ہی دہنے دئے۔
    (1636) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- ماسٹر مولا بخش صاحب ریٹائرڈ مدرسہ احمدیہ قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفہ موسمی تعطیلات میں میں یہاں آیا ہو اتھا۔ ماہ ستمبر کا مہینہ تھا سن اور تاریخ یاد نہیں ۔مسجد مبارک کی توسیع ہوچکی تھی میں صبح آٹھ بجے مسجد مبارک میں اکیلا ہی ٹہل رہا تھا ۔ کہ اچانک حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کھڑکی سے جو مسجد مبارک میں کھلتی ہے تشریف لائے ذرا سی دیر بعد حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول ؓ اور ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب مرحوم یا خواجہ کمال دین صاحب مرحوم اندرونی سیڑھیوں کی راہ سے مسجد میں آگئے حضرت اقدس مسجد کے پرانے حصہ میں کھڑی کی سے مشرقی جانب فرش پر تشریف فرما ہوئے۔ اور ان سے باتیں کرنے لگ گئے اور خاکسار آہستہ آہستہ حضرت اقدس کے دست مبارک دبانے لگا۔باتیں کرتے کرتے آپ کے جسم مبارک میں جھٹکا سا لگا اور سار بدن کانپ گیا اور میرے ہاتھوں سے آپ کی کلائی چھوٹ گئی آپ فوراً اندر تشریف لے گئے حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ یہ نزول وحی کا وقت ہے۔
    (1637) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- منشی محمد اسماعیل احب سیالکوٹی نے مجھ سے بیان کیا کہ میاں مبارک احمد صاحب کی وفات پر جب جنازہ لے کر قبر پر گئے تو قبر تیار نہ تھی۔ اس وسطے وہیں ٹھہرانا پڑا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلا م مقبرے کے شمال کی طرف درختوں کی قطار کے نیچے بیٹھ گئے باقی احباب آپ کے سامنے بیٹھ گئے اس وقت آپ نے جو تقریر کی وہ تو مجھے یاد نہیں مگر اس کا اثر یہ تھا ۔ کہ اس وقت ایسا معلوم ہو تا تھا۔ جیسے ان لوگوں کا کوئی عزیز فوت ہو گیا ہے ۔ اور حضور ماتم پرسی کے لئے آئے ہیں اور ان کو تسلی دے رہے ہیں ۔
    منشی محمد اسماعیل صاحب نے بیان فرمایا کہ بالکل یہی الفاظ میں نے سید حامد صاحب کو لکھے۔
    (1638)بسم اللہ الرحمن الرحیم:- منشی محمد اسماعیل صاحب سیالکوٹی نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے محمد بخش نام کاذکر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اگر محمد بخش سے یہ مراد لی جائے کہ محمد کے طفیل بخشا گیا تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔
    (1639) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- منشی محمد اسماعیل صاحب سیالکوٹی نے مجھ سے بیان کیا کہ مرزا حاکم بیگ کی شادی پر اس کے سسرال نے آتش بازی ،تماشے اور باجے کا تقاضا کیا۔ انہوںنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں لکھا کہ میرے سسرال والے یہ چاہتے ہیں ۔حضور کا کیا ارشاد ہے آپ نے فرمایا کہ یہ سب ناجائز ہیں مگر مومن بعض وقت ناجائز سے بھی فائدہ اٹھا لیتا ہے مثلاً شہر میں وبائی مرض پھیلی ہوئی ہے ۔ایک شخص اس خیال سے آتش بازی چھوڑتا ہے کہ اس سے ہوا صاف ہو جائے گی اور لوگوں کو فائدہ پہنچے گا تووہ اس سے بھی گویا ثواب حاصل کرتا ہے ۔ اور اسی طرح باجے کے متعلق اگر اس شخص کی یہ نیت ہو کہ چونکہ ہم نے دور تک جانا ہے اور باجے کے ذریعے سے لوگوں کو علم ہو جائے گا۔ کہ فلاں شخص کی لڑکی کا نکاح فلاں شخص سے ہوا ہے اگر اس نے اس نیت سے باجا بجوایا تو یہ ایک اعلان کی صورت ہو جائے گی ۔ اس میں بھی ناجائز کا سوال اٹھ گیا۔
    (1640) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- پیر افتخار احمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب میرے والد منشی احمد جان صاحب مرحوم حج کوجانے لگتے تو حضرت صاحب نے ایک خط ان کو لکھ کر دیا کہ یہ خط وہاں جا کر پڑھنا۔ چنانچہ میرے والد صاحب نے عرفات کے میدان میں وہ خط پڑھا۔ اور ہم وہ خط سنا ۔ اس کے الفاظ خاکسارکویاد نہیں ۔ ہم بیس آدمی اس خط کو سن کر آمین کہنے والے تھے۔
    (1641) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- پیر افتخار احمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ بشیر اول کے عقیقہ کے وقت مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا والد رحیم بخش قادیان میں تھا۔ اس نے بچے کو بال مونڈنے کے وقت گودی میں لیا ہوا تھا۔ اور بیت الفکر میں ہم پندرہ کے قریب آدمی حضور کے ساتھ تھے۔ اور اتنے ہی آدمی بمشکل اس کمرہ میں آسکتے تھے۔ حضرت میر محمد اسحق صاحب کے والد جو اس تقریب میں تشریف لا رہے تھے بوجہ بارش بٹالہ میں ہی رکے رہے۔ گویا اس دن بارش خوب ہورہی تھی۔
    (1642) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- امتہ الرحمان بنت قاضی ضیاء الدین صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک شخص فجا تھا۔ اس کی بیوی ابھی آتھ دس سال کی بچی تھی اور وہ کالی سی تھی۔ اور حضرت صاحبزادہ مبارک احمد کے ساتھ ساتھ رہتی ۔گویا یہ نوکرانی تھی۔ حضور اس کو فرماتے کہ ادھر آؤ اور مبارک احمد کو اچھی طرح سے رکھا کرو۔ ہم اس وقت تین لڑکیاں تھیں ،صفیہ ،صغریٰ ،امتہ الرحمان تو ہم نے حیران ہوجانا کہ ہم اس کو ذلیل سمجھتی ہیں اور حضرت صاحب اس کو بھی ادب سے بلاتے ہیں ۔
    (1643) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- امتہ الرحمان بنت قاضی ضیاء الدین صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضور ایک دالان میں رہتے اور عورتیں بھی ساتھ رہتیں اور ہر وقت اپنے کام میں تحریر لگے رہتے ان کو کوئی خبر نہ ہوتی تھی کہ کون آیا اور کون گیا۔ ایک لڑکی ہم تینوں میں سے بغیر اجازت کوئی چیز کھالیتی۔ ایک دن وہ صحن میں بیٹھے آم کھا رہے تھے ہم دو لڑکیاں اوپر سے گئیں اور آم لے لئے۔ ایک عورت آگئی اور کہنے لگی تم نے آم کہاں سے لے۔ ہم نے کہا حضرت صاحب نے دئے ہیں اس نے کہا نہیں تم نے خود ہی لئے ہیں ۔ حضور نے تجھ کو نہیں دئے ان کوکہاں نظر آتا ہے۔ان کو تو کوئی خبر نہی نہیں ہوتی کوئی آئے کوئی جائے حضور بیٹھے تھے میں آئی اورحضور کو خبر تک نہیں۔
    (1644) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- امتہ الرحمان بنت قاضی ضیاء الدین صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان فرمایا کہ حضور ہمیشہ وضو سے رہتے تھے۔ اور غسل بھی روز فرماتے ۔ حضور نہایت رحیم کریم تھے اگر حضور کوئی خاص دوائی یا غذا بنواتے تو کسی خاص اعتبار والے سے بنواتے ۔یہ خادمہ جب تک نوکر رہی چیزیں حضور کی بنایا کتی۔
    (1645) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- امتہ الرحمان بنت قاضی ضیاء الدین صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضور سناتن دھرم کی کتاب تصنیف فرما رہے تھے۔ تو ان دنوں میں مجھ کو بلانے آئے تو حضور کی زبان مبارک سے امتہ الرحمان کی جگہ سناتن دھرم کے لفظ نکل گئے تو ایک دن میں نے حضور سے عرض کی حضور مجھ کو فکر ہوگیا۔ حضور کی زبان مبارک سے میری بابت یہ کیوں ہندو لفظ آجاتا ہے تو حضور نے فرمایا امتہ الرحمان یہ کوئی برا لفظ نہیںہے ۔اس کے معنے ہیں پرانا ایمان ۔ جب یہ لفظ نکل جائیں تو حضور ہنس پڑیں اور چہرہ چمک جائے۔
    (1646) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- امتہ الرحمان بنت قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام حضرت ام المومنین علیہ السلام کو فرمارہے تھے کہ جو کام خدا تعالیٰ خود بخود کرے اس کا ذمے وار بھی خدا تعالیٰ خود بخود ہوجاتا ہے ۔ انسان کی خواہش اس کے مطابق چاہئے ۔ اور دعائیں بھی کرے۔ جب انسان کی کوششیں اور خواہش کے مطابق وہ ہو بھی جائے توا سکی ذمہ داری وہ انسان پر ڈال دیتا ہے اس واسطے سب کام خدا کے اس کے ذمے ڈال دینے چاہئیں ۔
    (1647) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- امتہ الرحمان بنت قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضور علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ انسان کو چاہئے کہ کسی کی نسبت کینہ اپنے دل میں نہ رکھے اور مواد نہ جمائے رکھے کیونکہ اس کی وجہ سے بڑے بڑے نقصان اور مصیبتوں کا سامنا ہوتا ہے جب ایک دوسرے کی بابت کوئی دل میں رنج ہوتوفوراً مل کر دلوںکو صاف کر لینا چاہئے اور مثال فرمائی جب انسان کوزخم ہو اس مین مواد پیپ بھر ا پڑا ہو۔اور نکالانہ جائے تو وہ گندہ مواد انسان کے بہت سے حصہ بدن کو خراب کر دیتا ہے ۔ اسی طرح دلکے مواد کی بات ہے ۔ اگر ایک دوسرے کے رنج کو دل میں دکھا جائے تو زخم کے موا دکی طرح حالت پیدا ہوتی ہے جس کی تلافی مشکل ہوتی ہے۔
    (1648) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- امتہ الرحمان بنت قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ جو سچے دل سے اخلاص رکھتا ہوتا تھا اور حضور کو معصوم جانتا ہوتا تھا حضور بھی اس کی خطاؤں پر چشم پوشی سے کام لیا کرتے تھے۔ اگرچہ وہ کوئی ناپسندیدہ کام کرتا لیکن حضور اس کے اخلاص کی وجہ سے باز پرس نہیں کیا کرتے تھے۔
    (1649) بسم اللہ الرحمن الرحیم:- امتہ الرحمان بنت قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حضرت مرزا فضل احمد صاحب مرحوم کی وفات کی خبر آئی تو مغرب کا وقت تھا اور حضرت اقدس علیہ السلام اس وقت سے لے کر قریباً عشاء کی نماز تک ٹہلتے رہے ۔ حضور علیہ السلام جب ٹہلتے تو چہرہ مبارک حضور کا اس طرح ہوتا کہ گویا بشرہ مبارک سے چمک ظاہر ہوتی ہے۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں