1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

دلائل امکان نبوت از روئے قرآن مجید

'مسئلہ امکان نبوت' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جولائی 13, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    دلائل امکان نبوت از روئے قرآن مجید

    پہلی آیت

    (الحج :۷۶) کہ اﷲ تعالیٰ چنتا ہے اور چنے گا فرشتوں میں سے رسول اور انسانوں میں سے بھی۔

    اس آ یت میں یَصْطَفِیْ مضارع کا صیغہ ہے جو حال اور مستقبل دونوں زمانوں کے لئے آتا ہے پس یَصْطَفِیْ کے معنی ہوئے ’’چنتا ہے اور چنے گا‘‘ اس آیت میں یَصْطَفِیْ سے مراد صرف حال نہیں لیا جا سکتا کیونکہ الف۔ آیت کی ترکیب اصل میں اس طرح ہے۔

    اَللّٰہُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلاَ ئِکَۃِ رُسُلًا وَاللّٰہُ یَصْطَفِیْ مِنَ النَّاسِ رُسُلاً کہ اﷲ فرشتوں میں سے بھی رُسُل چنتا ہے اور انسانوں میں سے بھی رُسُل چنتا ہے۔ لفظ رُسُل جمع ہے اس سے مراد آنحضرتؐ (واحد) نہیں ہو سکتے۔ پس ماننا پڑے گا کہ آنحضرتؐ کے بعد رسالت کا سلسلہ جاری ہے اور یَصْطَفِی مستقبل کے لئے ہے۔

    نوٹ:۔ بعض غیر احمدی رُسُل بصیغہ جمع کا اطلاق واحد پر ثابت کرنے کے لئے (المرسلات:۱۲) والی آیت پیش کیا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہاں رُسُل کو بمعنی رسول واحد لیا ہے سو اس کے جواب میں یاد رکھنا چاہیئے کہ شہادۃ القرآن کی عبارتِ محولہ میں حضرت مسیح موعودؑ نے جمع کا ترجمہ واحد نہیں کیا، بلکہ جمع ہی رکھا ہے۔ چناچہ حضرت اقدسؑ نے تحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد۱۷ صفحہ ۲۴۴ و ۲۴۵ پر اس آیت کا الہامی ترجمہ رقم فرمایا ہے۔۔

    ’’وہ آخری زمانہ جس سے رسولوں کے عدد کی تعیین ہو جائے گی یعنی آخری خلیفہ کے ظہور سے قضاء و قدر کا اندازہ جو مرسلین کی تعداد کی نسبت مخفی تھا ظہور میں آجائے گا…… پس یہی معنے آیت کے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر فرمایا او ریہ آیت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رسولوں کی آخری میزان ظاہر کرنے والا مسیح موعود ہے‘‘

    پس یہ عبارت صاف طور پر بتا رہی ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے اس آیت میں رُسُل سے مراد’’ مرسلین‘‘ اور ’’رسولوں‘‘ بصیغہ جمع ہی لیا ہے۔ ہاں اُقِّتَتْ کے لفظ سے میزان کنندہ (میزان ظاہر کرنے والا) کا وجود نکالا ہے۔ پس مخالفین کا شہادۃ القرآن کا حوا لہ پیش کرنا سراسر دھوکہ ہے۔

    ب:۔ یَصْطَفِیْ مضارع منسوب بذاتِ خداوندی ہے اور اس آیت کی اگلی آیت ہے(الحج:۷۷) خدا تعالی جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے۔ کیا خدا تعالی اس آیت کے نزول کے وقت جانتا تھا اب وہ نہیں جانتا یَعْلَمُ بھی مضارع ہے۔

    غیر احمدی:۔اس آیت میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم خود خدا کی اس قدیم سنت سے باہر ہو کہ وہ انسانوں میں سے رسول چنتا ہے جو اس کی تبلیغ کرتے ہیں۔ اسی سنت قدیمہ کی رو سے اب بھی یہ رسول بھیجا گیا ہے، بجائے اس کے کہ ارسالِ رُسل کی سنتِ الٰہیہ سے موجودہ نبوت کا استدلال کیا جاتا آئندہ نبوت کا خواہ مخواہ ذکر چھیڑ دیا گیا بیہودہ ترجمہ ہے۔

    (محمدیہ پاکٹ بک صفحہ ۴۶۰ طبع ثانی ۱۹۸۹ء از مولوی محمدعبداﷲ معمار امرتسری)

    جواب:۔جب سنت قدیمہ یہی ہے کہ وہ ’’تبلیغ‘‘ کے لئے رسول بھیجا کرتا ہے تو پھر اب بھی نبوت جاری ہے۔کیونکہ اﷲ تعالی فرماتا ہے (الاحزاب:۶۳۔ فاطر: ۴۴) کہ اﷲ تعالی کی سنت کبھی بدلا نہیں کرتی۔ اندریں حالات تمہارا ’’ارسال رسل‘‘ کا انکار کرنا ’’بیہودہ ہے‘‘ یا ہمارا اقرار ؟

    غیر احمدی:۔تشریعی نبی بھیجنا بھی تو خدا کی سنت ہے وہ کیوں بدل گئی؟

    جواب:۔یہ کس نے کہا ہے کہ تشریعی نبی بھیجنے کی سنت بدل گئی ہے۔ تشریعی نبی بھیجنے کے لئے تو اﷲ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جب سابقہ شریعت ناقص یا نا مکمل ہو یا نا قص تو نہ ہو مگر محرف (مبدّل) ہو گئی ہو تو نئی شریعت نازل فرماتا ہے اور غیر تشریعی نبی بھیجنے کے لئے اﷲ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جس وقت ضرورتِ زمانہ کے لحاظ سے نہ سابقہ شریعت ناقص ہو اور نہ محرف ہوئی ہو بلکہ لوگوں میں بدعملی اور ضلالت و گمراہی پیدا ہو گئی ہو تو اﷲ تعالیٰ ان میں ’’تبلیغ‘‘ اور اصلاح کے لئے غیر تشریعی نبی بھیجا کرتا ہے۔

    پس چونکہ قرآن کریم مکمل شریعت ہے اور اس میں تحر یف بھی نہیں ہوئی بلکہ یہ اپنی اصلی حالت پر قائم ہے۔ اس لئے اﷲ تعالیٰ کی سنت قدیمہ کے عین مطابق یہ ضروری ہے کہ کوئی تشریعی نبی نہ آئے بلکہ غیر تشریعی نبی آئے۔ پس جب تک قرآن کریم میں تحریف ثابت نہ کرو، یا یہ ثابت نہ کرو کہ قرآن مجید (نعوذباﷲ )ناقص کتا ب ہے، اس وقت تک تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ قرآن کریم کے بعد تشریعی نبی کا نہ آنا سنت قدیمہ کے خلاف ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مکمل اور غیر محرف شریعت کی موجودگی میں نئی شریعت کا نہ بھیجنا ہی خدا کی سنت ہے جو اس وقت بھی جاری ہے لیکن کیا تم انکار کر سکتے ہو کہ اس وقت دنیا میں ضلالت و گمراہی اور بد عملی کا دور دورہ نہیں؟ اگر ہے اور ضرور ہے تو پھر تمہا ری تسلیم کردہ ’’سنت ارسال رُسُل‘‘ کے مطابق اس زمانہ میں کوئی غیر تشریعی نبی کیوں نہیں آ سکتا؟

    غیر احمدی:۔ رُسُل صیغہ جمع ہو نے کا کیا یہ مطلب ہے کہ دس دس بیس بیس اکٹھے رسول آئیں؟

    جواب:۔نہیں! بلکہ صیغۂ جمع کا مفاد صرف یہ ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد اﷲ تعالیٰ صرف ایک ہی رسول نہیں بھیجے گا بلکہ وقتاً فوقتاً نبی بھیجتا رہے گا اور وہ رسول من حیث المجموع اتنے ہوں گے کہ ان پر صیغہ جمع اطلاع پائے۔

    غیر احمدی:۔صیغہ مضارع کبھی حال کے لئے اور کبھی استقبال کے لئے ہوتا ہے۔

    (محمدیہ پاکٹ بک صفحہ ۴۶۳ طبع ثانی ۱۹۸۹ء از مولوی محمد عبداﷲ معمار امرتسری)

    جواب:۔اس آیت میں استقبال کے لئے ہی ہے۔ کیونکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم تو رسولِ واحد تھے۔ ان پر رُسُل صیغۂ جمع کا اطلاق نہیں پاسکتا۔ نیز ان کا اصطفاء تو اس آیت کے نزول سے کئی سال پہلے ہو چکا تھا۔ نزول کے وقت تو نہیں ہو رہا تھا۔ اس لئے یہاں مضارع حال کے لئے ہو ہی نہیں سکتا ۔ بلکہ بہرحال مستقبل کے لئے ہے۔

    اگر’’حالِ ماضی‘‘ کے لئے ہوتا تو اس سے پہلے یا مابعد کسی واقعۂ ماضی کا ذکر ہوتا، لیکن اس آیت سے پہلے بھی اور بعد بھی آخر سورۃ تک کسی واقعۂ ماضی کی طرف اشارہ تک نہیں بلکہ سب جگہ موجودہ مخالفین ہی سے خطاب ہے لیکن اگر واقعہ ماضی ہو تو’’اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی‘‘ فرمایا ہوتا۔جیسے (آل عمران:۳۴) وغیرہ آیات ہیں پس یہ آیت امکانِ نبوت کے لئے نص قطعی ہے جس کا تمہارے پاس کوئی جواب نہیں۔

    نوٹ:۔بعض دفعہ مخالفین کہا کرتے ہیں کہ آیت ہذا میں ایک عام قاعدہ بیان کیا گیا ہے کہ خدا ہمیشہ اپنے رسول بھیجا کرتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ لفظ مضارع سے عام قاعدہ صرف ایک ہی صورت میں مراد لیا جا سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ مضارع استمرارِ تجدّدی کے طور پر استعمال کیا جائے لیکن استمرارِ تجدّدی کے لئے ضروری ہے کہ اس میں زمانہ مستقبل بھی ضرور پایا جائے ہم مخالفین کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ کوئی ایسا استمرار تجدّدی دکھائیں جس میں زمانہ مستقبل شامل نہ ہو صرف ماضی اور حال مراد ہو۔ استمرارِ تجدّدی کے لئے مندرجہ ذیل حوالجات ملاحظہ ہوں۔

    ۱۔وَقَدْ تُفِیْدُالْاِسْتَمْرَارَ التَّجَدَّدِیَ بِالْقَرَائِنِ اِذَا کَانَ الْفِعْلُ مُضَارِعًا کَقَوْلِ طَرِیْفٍ ؂

    اَوَکُلَّمَا وَرَدَتْ عُکَاظَ قَبِیْلَۃٌ بَعَثُوْا اِلَیَّ عَرِیْفَھُمْ یَتَوَسَّمُ

    (کتاب قواعد اللغۃ العربیہ صفحہ ۱۰۸ علم المعانی مطبوعہ قاہرہ)

    اور کبھی جب فعل مضارع ہو۔ بعض قرائن سے استمرار تجددی کا بھی فائدہ دیتا ہے جیسا کہ طریف شاعر کا یہ شعر ہے ؂

    جب کبھی عکاظ کے میدان میں کوئی قبیلہ آکر اترتا ہے تو وہ اپنے بڑے آدمی کو میری طرف بھیجتے ہیں جو گھاس کی تلاش کرتا رہتا ہے یا جو میری طرف دیکھتا رہتا ہے یہاں یَتَوَسَّمُ مضارع ہے جس نے استمرار تجددی کا کام دیا (یہی مضمون بتغیر الفاظ تلخیص المفتاح صفحہ ۲۰ سطر ۳ پر ہے)

    ۲۔ تفسیر بیضاوی تفسیر سورۃ آل عمران رکوع ۴ زیر آیت (آل عمران:۳۷) لکھا ہے ’’اُعِیْذُھَا فِیْ کُلِّ زَمَانٍ مُسْتَقْبِلٍ۔‘‘ یعنی اُعِیْذُھَا میں استمراری تجددی ہے اور آیت کے معنے یہ ہیں کہ میں اس کے لئے پنا ہ مانگتی ہوں۔ ہر آنے والے زمانہ کیلئے۔ گویا استمراری تجد دی میں زمانہ مستقبل بالخصو ص پایا جاتا ہے۔

    اسی طرح آیت (الحج:۷۶)میں استمراری تجددی ہو سکتا ہے اوراس کے لئے قرینہ ’’الرسل‘‘ بصیغہ جمع اور فعل مضارع کا خدا کی طرف منسوب ہونا ہے (استمرار میں تینوں زمانے شامل ہوتے ہیں۔ کوئی زمانہ مستثنیٰ نہیں ہو سکتا۔ خصو صاً زمانہ مستقبل جس کا ہونا اس میں لازمی ہے )

    نوٹ۔ اگر کوئی کہے کہ اگر استمرار تجددی تسلیم کر لیا جائے تو لازم آئے گا کہ ہر ایک سیکنڈ میں نبی اور رسول آتے رہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ استمرار کے لئے وقت اور ضرورت کی قید ہوتی ہے جیسا کہ قرآن کریم میں ہے۔ (المائدۃ:۷۶)کہ حضرت عیسیٰ ؑ اور ان کی والدہ کھانا کھایا کرتے تھے۔ ’’کَانَا یَاکُلَانِ‘‘ ماضی استمراری ہے (کیونکہ یاکلان مضارع پر ’’کانا‘‘ داخل ہوا) تو کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ تمام دن رات کھا نا ہی کھاتے رہتے تھے۔ یہاں استمرار کا مطلب یہ ہے کہ عند الضرورت کھانا کھاتے تھے۔ اسی طرح اَللّٰہُ یَصطَفِیْ کا مطلب ہے کہ عندالضرورت خداتعالیٰ رسول بھیجتا رہے گا۔

    پس خدا تعالیٰ نے اس آیت میں بتایا ہے کہ میں انسانوں کو بھی نبوت کے لئے چنتا رہوں گا اور فرشتوں کو بھی مختلف ڈیوٹیوں کے لئے بھیجتا رہوں گا۔ گویا سلسلہ نبوت جاری رہے گا۔ یا د رہے کہ ملائکہ صرف وحی لانے ہی کے لئے نہیں آتے بلکہ اﷲ تعالیٰ کے جس قدر احکام ہیں ان کے نفاذ کے لئے لاتعداد ملائکہ ہیں جن کو اﷲ تعالیٰ چن کر ہمیشہ بھیجتا رہتا ہے۔ پس منکرین نبوت کایہ کہنا کہ انبیاء کی طرف ایک ہی فرشتہ وحی لایا کرتا ہے بے اثر ہے۔ یہاں صرف وحی لانے کا ذکر نہیں بلکہ عام طور پر احکام الٰہی کے نفاذ کے لئے فرشتوں کے چننے کا ذکر ہے۔

    دوسری آیت:۔

    (آل عمران :۱۸۰) خدا تعالیٰ مومنوں کو اس حالت پر نہیں چھوڑے گا جس پر اے مومنو! تم اس وقت ہو۔ یہاں تک کہ پاک اور ناپاک میں تمیز کر دے گا۔ خدا تعالیٰ ہر ایک مومن کو غیب پر اطلاع نہیں دے گا ( فلاں پاک ہے اور فلاں ناپاک) بلکہ اپنے رسولوں میں جس کو چاہے گا بھیجے گا ( اور ان کے ذریعے سے پاک اور ناپاک میں تمیز ہو گی ) پس اے مسلمانو! اﷲ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانا۔ اور اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کروتو تم کو بہت بڑا اجر ملے گا۔

    سورۃ آل عمران مدنی سورۃ ہے اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی نبوت کے کم از کم تیرہ سال بعد نازل ہوئی جبکہ پاک اور ناپاک میں ابوبکرؓ و ابو جہل میں۔عمرؓ اور ابو لہب میں۔عثمانؓ اور عتبہ و شیبہ وغیرہ میں کافی تمیز ہو چکی تھی مگر خدا تعالیٰ اس کے بعد فرماتا ہے کہ خداتعالیٰ مومنوں میں پھر ایک دفعہ تمیز کرے گا۔ مگر اس طور سے نہیں کہ ہر مومن کو الہاماً بتا دے کہ فلا ں مومن اوفلاں منافق ہے بلکہ فرمایا کہ رسول بھیج کر ہم پھر ایک دفعہ یہ تمیز کر دیں گے۔

    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی آمدسے ایک دفعہ یہ تمیز ہو گئی۔ اس آیت میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد ایک اور تمیز کرے گا پس اس سے سلسلۂ نبوت ثابت ہے۔
     
  2. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    تیسری آیت:۔

    (النساء:۷۰)

    جو اطاعت کریں گے اﷲ کی اور اس کے رسول (محمدصلی اﷲ علیہ وسلم)کی پس وہ ان میں شامل ہو جائیں گے جن پر اﷲ نے انعام کیا۔یعنی نبی، صدیق، شہید اور صالح اور یہ ان کے اچھے ساتھی ہوں گے۔

    اس آیت میں خدا تعالیٰ نے امتِ محمدیہ میں طریقِ حصول نعمت اور تحصیلِ نعمت کو بیان کیا ہے۔ آیت میں بتایا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیروی سے ایک انسان صالحیت کے مقام سے ترقی کر کے نبوت کے مقام تک پہنچتا ہے۔

    دوسری جگہ جہاں انبیاء سابق کی اتباع کا ذکر کیا گیا ہے وہاں اس کے نتیجہ میں انعام نبوت نہیں دیا گیا۔جیسا کہ فرمایا:۔ (الحدید:۲۰) یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اﷲ تعالیٰ اور باقی تمام انبیاء پر وہ صدیق اور شہید ہوئے۔

    یاد رہے کہ یہاں اٰمَنُوْا صیغہ ماضی اور رُسُلِہٖ صیغہ جمع ہے۔ بخلاف مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ والی آیت کے کہ اس میں یُطْعِ مضارع ہے اور الرسول خاص آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے ہے۔

    گویا پہلے انبیاء کی اطاعت زیادہ سے زیادہ کسی انسان کوصدیقیت کے مقام تک پہنچا سکتی تھی۔مگر ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی اطاعت ایک انسان کو مقام نبوت پر بھی فائز کر سکتی ہے۔ اگر کہا جائے کہ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ والی آیت میں لفظ مع ہے۔مِنْ نہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی اطاعت کریں گے وہ نبیوں کے ساتھ ہوں گے۔خود نبی نہ ہوں گے تو اس کا جواب یہ ہے کہ:۔

    ۱۔ اگر تمہارے معنے تسلیم کرلئے جائیں تو ساری آیت کا ترجمہ یہ بنے گا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والے نبیوں کے ساتھ ہوں گے مگر خود نبی نہ ہوں گے۔وہ صدیقوں کے ساتھ ہوں گے مگر خود صدیق نہ ہوں گے وہ شہیدوں کے ساتھ ہوں گے مگر خودشہید نہ ہوں گے وہ صالحین کے ساتھ ہوں گے مگر خود صالح نہ ہوں گے۔ تو گویا نہ حضرت ابو بکرؓ صدیق ہوئے،نہ عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ و حضرت حسینؓ شہید ہوئے اور نہ امت محمدیہ میں کوئی نیک آدمی ہوا۔ تو پھر یہ امت خیر امت نہیں بلکہ شر امت ہوئی۔ لہٰذا اس آیت میں مع بمعنی ساتھ نہیں ہو سکتا بلکہ مع بمعنی من ہے۔

    ۲۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:۔ (النساء:۱۴۷) مگر وہ لوگ جنہوں نے توبہ کی اور اصلاح کی اور خدا کی رسی کو مضبوط پکڑا اور اﷲ کے لئے اپنے دین کو خالص کیا۔پس وہ لوگ مومنوں کے ساتھ ہیں۔اور خدا تعالیٰ مومنوں کو عنقریب بڑا اجر دے گا۔

    کیا یہ صفات رکھنے والے لوگ مومن نہیں صرف مومنوں کے ساتھ ہی ہیں اور کیا ان کو ’’اجر عظیم‘‘ عطا نہیں ہو گا؟ چنانچہ تفسیر بیضاوی میں آیت بالا کے الفاظ کا ترجمہ یہ کیا ہے ’’فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَمِنْ عِدَادِھِمْ فِی الدَّارَیْنِ‘‘۔ (بیضاوی زیر آیت ۔النساء:۷۰) یعنی وہ لوگ دونوں جہانوں میں مومنوں کی گنتی میں شامل ہیں پس کا ترجمہ بھی یہ ہو گا کہ ’’وہ دونوں جہانوں میں منعم علیہم یعنی انبیاء کی گنتی میں شامل ہوں گے۔‘‘

    ۳۔ (آل عمران:۱۹۴)(کہ مومن یہ دعا کرتے ہیں) کہ اﷲ! ہم کو نیک لوگوں کے ساتھ وفات دے۔اس آیت کا کیا یہ مطلب ہے۔اے اﷲ ! جب نیک لوگوں کی جان نکلے ہماری جان بھی ساتھ ہی نکال لے؟نہیں بلکہ یہ ہے کہ اے اﷲ! ہم کو بھی نیک بنا کر مار۔

    ۴۔ایک جگہ شیطان کے متعلق آتا ہے۔(الحجر:۳۶) کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا اور دوسری جگہ (الاعراف:۱۲)آتا ہے۔

    نوٹ:۔ مَعَ کے معنی معیت(ساتھ )کے بھی ہوتے ہیں۔جیسا کہ آیت (البقرۃ:۱۹۵، التوبۃ:۱۲۳)(کہ خدا نیک لوگوں کے ساتھ ہے)میں۔ اور مع کے معنی من بھی ہوتے ہیں جیسا کہ اوپر مثالیں دی گئی ہیں۔ اور مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ والی آیت میں تو اس کے معنی سوائے من کے اور کوئی ہو ہی نہیں سکتے۔کیونکہ اگر یہ معنے نہ کئے جائیں تو امت محمدیہ نعوذباﷲ شرّ امت قرار پاتی ہے جو بالبداہت باطل ہے۔ لہٰذا ہمارے جواب میں (التوبۃ:۴۰)اور (البقرۃ:۱۹۵) پیش کرنا غیر احمدیوں کے لئے مفید نہیں۔

    نبوت موہبت ہے

    بعض غیر احمدی کہا کرتے ہیں کہ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیروی میں نبوت ملے گی۔ تو اس سے یہ ماننا لازم آئے گا کہ نبوت ایک کسبی چیز ہے۔ حالانکہ نبوت موہبت الٰہی ہے نہ کہ کسبی۔ اور نبی تو ماں کے پیٹ سے ہی نبی پیدا ہوتا ہے۔

    جواب: ۔اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک نبوت وہبی ہے لیکن قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی موہبت نازل نہیں ہوتی جب تک کہ انسان کی طرف سے بعض اعمال ایسے سرزد نہ ہوئے ہوں جو اس موہبت کے لئے جاذب بن جائیں۔ چنانچہ قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (الشوریٰ:۵۰) کہ اﷲ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اس کو لڑکیاں موہبت کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہیلڑکے موہبت کرتا ہے۔ دوسری جگہ فرمایا (مریم:۵۰)کہ ہم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق اور یعقوبؑ موہبت کئے۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اولاد موہبت ہے لیکن کیا اولاد کے حصول کے لئے کسی انسانی عمل کی ضرورت نہیں؟

    بیشک نبوت کے لئے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی اتباع اور پیروی اور اطاعت اور اعمال صالحہ شرط ہیں، لیکن اعمال صالحہ بھی تو خدا تعالیٰ کی طرف سے توفیق کے بغیر بجا لائے نہیں جا سکتے چنانچہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:۔

    ’’وہ نعمت بخشی ہے کہ جو میری کوشش سے نہیں بلکہ شِکم مادر میں ہی مجھے عطا کی گئی ہے۔ ‘‘ (حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ۷۰) ’’اعمالِ صالحہ کا صادر ہونا خدا تعالیٰ کی توفیق پر موقوف ہے۔‘‘(حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ۶۷حاشیہ)

    عورتیں کیوں نبی نہیں بنتیں؟

    بعض غیر احمدی (النساء:۷۰) والی آیت و نیز (الفاتحہ:۷) والی آیت پر(جب یہ امکانِ نبوت کی تائید میں پیش کی جائے) یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اگر نبوت کا ملنا ’’اطاعت نبویؐ‘‘ پر موقوف ہے تو پھر کیا و جہ ہے کہ عورتوں میں سے کسی کو نبوت نہیں ملتی۔ حالانکہ اطاعت نبویؐ تو عورتیں بھی کرتی ہیں۔ اسی طرح کی دعا اگر حصول نبوت کو مستلزم ہے تو یہ دعا تو عورتیں بھی کرتی ہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ عورتیں نبی نہیں بنتیں؟ تو اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض محض آیاتِ مذکورہ بالا پر غور نہ کرنے کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے حالانکہ اس کا جواب بھی ان آیات میں موجود ہے اور وہ یہ کہ والی آیت میں یوں نہیں فرمایا کہ جو لوگ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی اطاعت کریں گے ہم ان کو نبی بنائیں گے بلکہ فرمایا جو لوگ اطاعت کریں گے ہم ان کو ان لوگوں میں شامل کر دیں گے جن پر ہم نے انعام کیا (النساء:۷۰) (بصیغہ ماضی) یعنی نبی، صدیق اور صالح۔ جس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ زمانۂ ماضی میں جس جس طرح ہم نے مندرجہ بالا انعامات تقسیم کئے تھے۔اب ہم اطاعتِ نبویؐ کے نتیجہ میں وہی انعام اسی طریق پر امتِ محمدیہ کے افراد میں تقسیم کریں گے۔

    اب سوال یہ ہے کہ کہ کیا(النساء:۷۰) میں جو لوگ شامل ہیں ان میں سے کوئی عورت بھی کبھی ’’نبی‘‘ ہوئی؟ تو اس کا جواب خدا تعالیٰ خود دیتا ہے کہ (الانبیاء:۸) یعنی اے نبیؐ! ہم نے آج تک کسی عورت کو نبی نہیں بنایا۔پس جب کبھی کوئی عورت نبوت کا انعام پانے والی کبھی ہوئی ہی نہیں۔ تو پھر امت محمدیہؐ میں کس طرح ہو سکتی ہے؟کیونکہ اس امت کو تو وعدہ ہی یہ دیا گیا ہے کہ (النساء:۷۰) کہ تم کو بھی وہی انعامات ملیں گے جو پہلی امتوں کو ملے۔مردوں کو نبوت ملی۔عورتیں زیادہ سے زیادہ صدیقیت کے مقام تک پہنچیں۔چنانچہ اس امت میں بھی انتہائی مقام مردوں کے لئے نبوت اور عورتوں کے لئے صدیقیت مقرر ہوا۔

    اسی طرح کی دعا میں بھی اَنْعَمْتَ صیغہ ماضی ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ اے خدا! جو جو انعامات تو پہلی امتوں کے افراد پر نازل کرتا رہا ہے وہ ہم پر بھی نازل کر۔ پس چونکہ پہلی امتوں میں کبھی کوئی عورت نبی نہیں ہوئی اس لئے اب بھی کوئی عورت نبی نہیں ہو گی۔ جب امت محمدیہ کا کوئی مردکی دعا کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اے خدا! مجھ پر بھی وہ انعام نازل فرما جو تو نے پہلی امتوں کے مردوں پر کئے۔ اور جب کوئی امت محمدیہ کی عورت یہ دعا کرتی ہے تو اس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ اے خدا! تو نے جو انعام پہلی امتوں کی عورتوں پر نازل کئے وہ مجھ پر بھی نازل فرما۔پس اﷲ تعا لیٰ نے اپنے پرحکمت کلام میں ماضی کا صیغہ رکھ کر اس اعتراض کو بیخ و بُن سے اکھاڑ دیا۔ فا لحمدﷲ علیٰ ذٰلک۔
     
  3. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    ہر اطاعت کرنے والا نبی کیوں نہیں بنتا

    بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہوالی دعا تو امت محمدیہ کے افراد کرتے رہتے ہیں۔اسی طرح آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی اطاعت تو صحابہ رضوان اﷲ اجمعین نے بھی کی۔پھر والی آیت کے ما تحت ان سب کو نبوت ملنی چاہیئے تھی؟

    الجواب نمبر۱:۔ اس کا جواب یہ کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: ۔(الانعام:۱۶۵) کہ یہ اﷲ تعا لیٰ ہی سب سے بہتر جانتا ہے کہ کس کو نبی بنائے۔کب نبی بنائے اور کہاں نبی بنائے؟

    الجواب نمبر۲:۔اﷲ تعا لیٰ سورۃ نور میں فرماتا ہے (النور:۵۶)کہ اﷲ تعالیٰ ایمان لانے اور اعمال صالحہ بجا لانے والے مسلمانوں کے ساتھ وعدہ کرتا ہے کہ ان سب کو زمین میں خلیفہ بنائے گا۔

    اب ظاہر ہے کہ آیتِ استخلاف مندرجہ بالا کی رو سے خلیفہ صرف حضرت ابوبکر۔عمر۔عثمان و علی رضی اﷲ عنہم ہی ہوئے۔ کیا تمام صحابہؓ میں صرف یہ چار مومن باعمل تھے؟ کیا حضرت عائشہؓ، حضرت فاطمہؓ، حضرت بلالؓ،حضرت عبد اﷲ بن عمرؓ، طلحہؓ،زبیر ؓ رضوان اﷲ علیہم وغیرہ صحابہ ؓ نعوذ باﷲ مومن نہ تھے؟ اس کا جواب یہی ہے کہ بیشک یہ سب مومن تھے لیکن خلافت اﷲ کی دین ہے جس کو چاہے دے۔لیکن وعدہ عام ہے جس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اب نبوت و خلافت صرف انہی لوگوں کو مل سکتی ہے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے فرمانبردار ہوں۔ اس کے بغیر نہیں مل سکتی۔علاوہ ازیں جب کسی قوم سے ایک شخص نبی ہو جائے تو وہ انعام نبوت سب قوم پر ہی سمجھا جاتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قول قرآنِ مجید میں ہے:۔

    (المائدۃ:۲۱)کہ اے قوم اس نعمت کو یاد کرو جو خدا نے تم پر نازل کی جب کہ اس نے تم میں سے نبی بنائے۔

    گویا کسی قوم میں سے کسی شخص کا نبی ہونا اس تمام قوم پر خداتعالیٰ کی نعمت سمجھا جاتا ہے۔ پس اور والی آیات میں جس نعمت نبوت کا وعدہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد دیا گیا ہے اس کا تقاضا یہ نہیں کہ ہر کوئی نبی بنے بلکہ صرف اس قدر ضروری ہے کہ اس امت میں سے بھی ضرور نبوت کی نعمت کسی فرد پر نازل کی جائے۔

    ہمارے ترجمہ کی تائید

    حضرت امام راغب رحمۃ اﷲ علیہ نے اس آیت کے وہی معنے بیان کئے ہیں جو اوپر بیان ہوئے چنانچہ تفسیر بحر المحیط (مؤلفہ محمد بن یوسف) اندلسی میں لکھا ہے:۔وَ قَوْلُہٗ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ تَفْسِیْرٌ لِقَوْلِہٖ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ……وَالظَّاھِرُ اَنَّ قَوْلَہٗ مِنَ النَّبِیِّیْنَ تَفْسِیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ فَکَاَنَّہٗ قِیْلَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ مِنْکُمْ اَلْحَقَہُ اللّٰہُ بِالَّذِیْنَ تَقَدَّمَھُمْ مِمَّنْ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ۔ قَالَ الرَّاغِبُ مِمَّنْ اَنْعَمَ عَلَیْھِمْ مِنَ الْفِرَقِ الْاَرْبَعِ فِی الْمَنْزِلَۃِ وَالثَّوَابِ النَّبِیُّ بِالنَّبِیِّ وَالصِّدِّیْقُ بِالصِّدِّیْقِ وَالشَّھِیْدُ بِالشَّھِیْدِ وَالصَّالِحُ بِالصَّالِحِ وَ اَجَازَ الرَّاغِبُ اَنْ یَّتَعَلَّقَ مِنَ النَّبِیِّیْنَ بِقَوْلِہٖ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ اَیْ مِنَ النَّبِیِّیْنَ وَ مِنْ بَعْدِھِمْ (تفسیر بحرالمحیط زیر آیت مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ النساء:۶۹جلد۳ صفحہ۲۸۷ مطبوعہ مصر)یعنی خدا کا فرماناکہ ’’مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ‘‘ یہ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ کی تفسیر ہے۔اور یہ ظاہر ہے کہ خدا کا قول مِنَ النَّبِیِّیْنَ تفسیر ہے۔ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ کی۔ گویا یہ بیان کیا گیاہے کہ تم میں سے جو شخص اﷲ اور اس رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی اطاعت کرے گا۔اﷲ تعا لیٰ اس کو ان لوگوں میں شامل کر دے گا جن پر قبل ازیں انعامات ہوئے اور امام راغبؒ نے کہا ہے کہ ان چار گروہوں میں شامل کرے گا مقام اور نیکی کے لحاظ سے۔نبی کو نبی کے ساتھ اور صدیق کو صدیق کے ساتھ اور شہید کو شہید کے ساتھ اور صالح کو صالح کے ساتھ۔اور راغبؒ نے جائز قرار دیا ہے کہ اس امت کے نبی بھی نبیوں میں شامل ہوں۔جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ یعنی مِنَ النَّبِیِّیْنَ(نبیوں میں سے)۔

    اس حوالہ سے صاف طور پر حضرت امام راغبؒ کا مذہب ثابت ہوتا ہے کہ وہ اس امت میں بھی انبیا ء کی آمد کے قائل تھے۔چنانچہ اس عبارت کے آگے مؤلف بحر المحیط(محمد بن یوسف بن علی بن حیان الاندلسی جو۷۵۴ھ میں فوت ہوئے)نے امام راغبؒ کے مندرجہ بالا قول کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ راغبؒ کے اس قول سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ گویا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد بھی آپ کی امت میں سے بعض غیر تشریعی نبی پیدا ہوں گے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی اطاعت کریں گے۔اس پر مصنف اپنا مذہب لکھتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ درست نہیں کیونکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعدنبوت کا دروازہ بند ہے۔

    لیکن ہمیں مؤلف بحر المحیط یعنی محمد بن یوسف الاندلسی کے اپنے عقیدہ سے سروکار نہیں ہمیں تو یہ دکھانا مقصود ہے کہ آیت الخکا جو مفہوم آج جماعت احمدیہ بیان کرتی ہے وہ نیا نہیں۔ بلکہ آج سے سینکڑوں سال قبل امام راغب رحمۃ اﷲ علیہ بھی اس کا وہی ترجمہ کرتے ہیں جو آج جماعت احمدیہ کی طرف سے کیا جاتا ہے۔

    غیر احمدی:۔ ترمذی میں حدیث ہے کہ’’ اَلتَّا جِرُالصَّدُوْقُ الْاَمِیْنُ مَعَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّھَدَآءِ‘‘ آج تک کتنے لوگ تجارت کی و جہ سے نبوت حاصل کر چکے ہیں؟

    (محمدیہ پاکٹ بک صفحہ ۴۷۱ طبع ثانی ۱۹۸۹ء مطبع طفیل آرٹ پرنٹر لاہور از مولوی عبداﷲ معمار امرتسری)

    جواب:۔ یہ روایت ضعیف ہے۔کیونکہ اسے قبیصہ ابن عقبۃالکوفی نے سفیان ثوری سے اور سفیان ثوری نے ابو حمزہ عبد اﷲ بن جابر سے۔اس نے حسن سے اور اس نے ابو سعید سے روایت کیا ہے۔

    قبیصہ کے متعلق لکھا ہے:۔قَالَ ابْنُ مَعِیْنٍ ھُوَ ثِقَۃٌ اِلَّا فِیْ حَدِیْثِ الثَّوْرِیْ وَ قَالَ اَحْمَدُ کَثِیْرُ الْغَلْطِ……قَالَ ابْنُ مَعِیْنٍ لَیْسَ بِذَاکَ الْقَوِیِّ(میزان الاعتدال جلد ۲ صفحہ ۳۱۰ذکر قبیصہ بن عقبہ) کہ ابن معین فرماتے ہیں کہ قبیصہؔ کی وہ روایت جو وہ سفیان ثوری سے روایت کرے کبھی قبول نہ کرنا احمدؔ کے نزدیک یہ راوی کثرت سے غلط روایت کرتا تھا اور ابن معین کے خیال میں یہ قوی راوی نہ تھا۔ یہ روایت بھی اس راوی کی سفیان ثوری ہی سے ہے۔لہٰذا جھوٹی ہے۔

    ۲۔ اگر درست بھی ہوتی تو بھی حرج نہ تھا کیونکہ اَلتَّا جِرُالصَّدُوْقُ الْاَمِیْنُ تو خود ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے اسمائے مبارکہ ہیں۔ لہٰذا آپ ہی وہ خاص تاجر اور وہ سچ بولنے والے امین نبی تھے جن کی تعریف اس قول میں کی گئی ہے اور ظاہر ہے کہ حضور نبی تھے۔

    چوتھی آیت:۔

    (الاعراف:۳۶) اے بنی آدم(انسانو!) البتہ ضرور آئیں گے تمہارے پاس رسول تم میں سے جو بیان کریں گے تمہارے سامنے میری آیتیں۔پس جو لوگ پرہیزگاری اختیار کریں گے اور اپنی اصلاح کریں گے ان کو کوئی غم اور ڈر نہ ہو گا۔

    ’’اِمَّا یَاْتِیَنَّ‘‘کا ترجمہ یہ ہے ’’البتہ ضرور آئیں گے‘‘ کیونکہ یَاْتِیَنَّ مضارع مؤکد بہ نون ثقیلہ ہے جو مضارع میں تاکید مع خصوصیت زمانہ مستقبل کرتا ہے جیسا کہ کتاب الصرف مؤلفہ حافظ عبد الرحمن امرتسری میں لکھا ہے:۔

    ’’نون تا کید۔ یہ حرف آخر مضارع میں آتا ہے اور اس کے آنے سے مضارع کے پہلے لام مفتوح کا آنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ نون مضارع کے آخر حرف پر فتحہ اور معنے تاکید مع خصوصیت زمانہ مستقبل کے دیتا ہے، جیسے لَیَفْعَلَنَّ(وہ البتہ ضرور کرے گا) اس کو مضارع مؤکد بلامِ تاکیدو نون تاکید کہتے ہیں۔‘‘ اور اس پر حاشیہ میں لکھا ہے:۔

    ’’اکثر تو لام مفتوح آتا ہے۔ مگر کبھی اِمَّا بھی آ جاتا ہے۔ جیسیاِمَّا یَبْلُغَنَّ‘‘

    (دیکھو کتاب الصرف سبق نمبر۱۳ نونِ تاکید صفحہ۱۵ ایڈیشن نمبر۹ صفحہ ۲۳)

    نیز ملاحظہ ہو بیضاوی جلد۲ صفحہ ۲۸۲ مطبع احمدی زیر آیت (الزخرف:۴۲) لکھا ہے۔

    ’’وَمَا مَزِیْدَۃُ مُؤَکِّدَۃٌ بِمَنْزِلَۃِ لَامِ الْقَسَمِ فِی اسْتِجْلَابِ النُّوْنِ الْمُؤَکِّدَۃِ۔‘‘

    پس ’’یَأْتِیْ‘‘(آئے گا) مضارع کے آخر میں ’’نون تاکید‘‘ آیا۔ اور اس کے شروع میں اِمَّا آیا۔پس اس کے معنے ہوئے ’’البتہ ضرور آئیں گے رسل‘‘(ایک سے زیادہ رسول)۔

    نوٹ:۔ یہ آیت آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور اس میں تمام انسانوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔ یہاں یہ نہیں لکھا ہوا کہ ہم نے گزشتہ زمانہ میں یہ کہا تھا۔ نیز اس آیت سے پہلے کئی مرتبہ’’ےَا بِنِیْ اٰدَمَ‘‘ آیا ہے اور اس میں سب جگہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور آپ کے بعد کے زمانہ کے لوگ مخاطب ہیں جیسا کہ (الاعراف:۳۲) اے انسانو! ہر مسجد (یا نماز) میں اپنی زینت قائم رکھو۔

    چنانچہ امام جلا ل الدین سیوطیؒ لکھتے ہیں:۔ فَاِ نَّہٗ خِطَابٌ لِاَھْلِ ذٰلِکَ الزَّمَانِ وَ لِکُلِّ مَنْ بَعْدَھُمْ(تفسیر اتقان جلد۲ صفحہ ۳۶ مصری) کہ یہ خطاب اس زمانہ اور اگلے زمانہ کے تمام لوگوں کوہے۔

    (ب)تفسیر حسینی موسومہ بہ تفسیر قادری میں ہے:۔ ’’یہ خطاب عرب کے مشرکو ں کی طرف ہے۔اور صحیح بات یہ ہے کہ خطاب عام ہے۔(تفسیر حسینی جلد۱ صفحہ ۳۰۵ آخری سطر مطبوعہ نولکشورزیر آیت )

    (ج)امام فخر الدینؒ رازی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:۔وَ اِنَّمَا قَالَ رُسُلٌ وَ اِنْ کَانَ خِطَابًا لِلرَّسُوْلِ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَم ُو َھُوَ خَاتَمُ الْاَنْبِیَآءِ عَلَیْہِ وَ عَلَیْھِمُ السَّلَامُ……وَ اَمَّا قَوْلُہٗ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیَاتِیْ فَقِیْلَ تِلْکَ الْاٰیَاتُ ھِیَ الْقُرْآنُ……ثُمَّ قَسَمَ اللّٰہُ تَعَالٰی حاَلَ الْاُمَّۃِ فَقَالَ (فَمَنِ اتَّقٰی وَاَصْلَحَ)(تفسیر کبیرجلد۴صفحہ ۲۹۹ مصرزیر آیت البقرۃ:۱۱۳)۔
     
  4. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    غیر احمدی:۔ (الاعراف:۳۲)میں ’’مسجد‘‘ کا لفظ غیر مذاہب کے معبدوں کے لیے استعمال ہوا ہے نہ کہ مسلمانوں کی مسجدوں کے لئے۔

    جواب:۔آیت زیر بحث کے سیاق و سباق میں سوائے مسلمانوں کے کسی اور قوم کا ذکر ہی نہیں اور یہ تمام نصائح مسلمانوں کو کی گئی ہیں۔ چنانچہ (الاعراف:۳۶) سے پہلی دو آیات یہ ہیں:۔ ۔ (الاعراف:۳۴ تا ۳۶)

    ان آیات کا ترجمہ تفسیر حسینی سے نقل کیا جاتا ہے:۔

    ’’کہہ اے محمدصلی اﷲ علیہ وسلم! سوائے اس کے نہیں کہ حرام کئے ربّ تیرے نے گناہ کبیرہ کہ بڑے عذاب کے سبب ہیں جو ظاہر ہے ان میں سے جیسے کفر اور جو پوشیدہ ہے جیسے نفاق اور حرام کیا وہ گناہ جس پر حد مقرر نہیں ہے۔ جیسے گناہِ صغیرہ۔ اور حرام کیا ظلم یا تکبر ساتھ حق کے…… اور حرام کیا یہ کہ شرک لاؤ تم ساتھ اﷲ کے۔اور شرک پکڑو اس کی عبادت میں اس چیز کو کہ خدا نے نہیں بھیجی……کوئی دلیل۔ اور یہ بھی حرام کیا ہے کہ کہو تم جھوٹ اور افتراء کرو خدا پر جو کچھ تم نہیں جانتے ہو۔ کھیتوں اور چارپایوں کی تحریم اور بیت الحرام کے طواف میں برہنہ ہونا اور واسطے ہر گروہ کے ایک مدت ہے جو خدا نے مقرر کر دی ہے۔ان کی زندگی کے واسطے۔‘‘ (تفسیر حسینی جلد۱صفحہ ۳۰۵ اردو مترجم مکتبہ سعید ناظم آباد کراچی زیر آیت الاعراف: ۳۳ تا ۳۵)

    صاف ظاہر ہے کہ’’قُلْ‘‘ کہہ کر خطاب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے ہے اور پھر حضورؐ کے ذریعہ سے یہ پیغام تمام بنی نوع انسان کو پہنچایا گیا ہے کہ (الاعراف:۳۶)

    باقی رہا تمہارا کہنا کہ ’’مسجد‘‘ سے مراد اصحاب کہف (عیسائیوں) کی مسجد ہے تو یہ محض مغالطہ آفرینی ہے کیونکہ یہ آیت عیسائیوں کے گرجوں کے اندر اچھے اچھے کپڑے پہن کر جانے کی ہدایت نہیں دیتی بلکہ کعبہ شریف خصوصاًاور دوسری اسلامی مساجد میں عموماً نماز پڑھنے کے لیے جانے والوں کو مخاطب کرتی ہے۔ چنانچہ تفسیر حسینی میں (الاعراف:۳۲)کی مندرجہ ذیل تشریح کی گئی ہے۔

    بعض مفسر اس بات پر ہیں کہ یہ خطاب عام ہے اور اکثر مفسر کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ خاص ہے۔اس واسطے بنو ثقیف اور دوسری ایک جماعت عرب مشرکوں کی تھی کہ ان کے مرد اور عورتیں برہنہ طواف کرتی تھیں۔اور کپڑے اتار ڈالنے سے یہ فال لیتے تھے کہ گناہوں سے ہم بری ہو گئے اور بنو عامر احرام کے دنوں میں حیوان کھانے سے پرہیز کرتے تھے اور تھوڑے سے کھانے پر قناعت کر کے اس فعل کو اطاعت جانتے تھے اور کعبہ کی تعظیم کا خیال باندھتے تھے۔مسلمانوں نے کہا کہ یہ تعظیم وتکریم کرنا ہم کو تو بہت سزا وار اور لائق ہے۔ حق تعالیٰ نے انہیں منع فرمایا اور ارشاد کیا کہاپنے کپڑے کہ ان کے سبب سے تمہاری زینت ہے نزدیک ہر مسجد کے جس کا تم طواف کرتے ہو یا جس میں تم نماز پڑھتے ہو۔‘‘(تفسیرحسینی جلد۱صفحہ۳۰۴زیرآیت الاعراف:۳۲)

    (ب) حضرت امام رازیؒ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:۔

    قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍؓ اِنَّ اَھْلَ الْجَاھِلِیَّۃِ مِنْ قَبَائِلِ الْعَرَبِ کَانُوْا یَطُوْفُوْنَ بِالْبَیْتِ عُرَاۃً۔ اَلرِّجَالُ بِالنَّھَارِ وَالنِّسَآءُ بِاللَّیْلِ وَکَانُوْا اِذَا وَصَلُوا اِلٰی مَسْجِدِ مِنٰی طَرَھُوْا ثِیَابَھُمْ وَ اَتُوُا الْمَسْجِدَ عُرَاۃً وَ قَالُوْا لَا نَطُوْفُ فِیْ ثِیَابٍ اَصَبْنَا فِیْھَا الذُّنُوْبَ…… فَقَالَ الْمُسْلِمُوْنَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہَ فَنَحْنُ اَحَقُّ اَنْ نَّفْعَلَ ذٰلِکَ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی ھٰذِہِ الْاٰیَۃَ اَیْ اَلْبِسُوْا ثِیَابَکُمْ وَ کُلُوا اللَّحْمَ۔ (تفسیر کبیر جلد ۴صفحہ ۲۹۳ مصری الاعراف:۳۲)

    یعنی ابن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ عرب قبائل بباعث جاہلیت کے خانہ کعبہ کا طواف ننگے بدن کرتے تھے۔ دن کو مرد اور رات کو عورتیں طواف کرتی تھیں۔اور جب وہ مسجد منیٰ کے قریب پہنچتے تھے تو اپنے کپڑے اتار کر مسجد میں ننگے بدن آتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ ہم ان کپڑوں کے ساتھ کبھی طواف نہیں کریں گے جن میں ہم گناہ کرتے ہیں۔پھر جب اس بارے میں مسلمانوں نے رسول خدا صلی اﷲ علیہ وسلم سے استفسار کیا تو اﷲ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی یہ حکم دیا کہ اپنے کپڑے پہنو اور گوشت کھاؤ۔

    (ج)تفسیر بیضاوی میں ہے:۔

    خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ۔ ثِیَابَکُمْ لِمَوَارَاۃِ عَوْرَتِکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ لِطَوَافٍ اَوْ صَلٰوۃٍ۔ وَ مِنَ السُّنَّۃِ اَنْ یَاْخُذَ الرَّجُلُ اَحْسَنَ ھَیْئَتِہٖ لِلصَّلٰوۃِ وَ فِیْہِ دَلِیْلٌ عَلٰی وَجُوْبِ سَتْرِ الْعَوْرَۃِ فِی الصَّلٰوۃِ۔

    وَ کُلُوْا وَاشْرَبُوْا:۔ مَا طَابَ لَکُمْ رُوِیَ اَنَّ بَنِیْ عَامِرٍ فِیْ اَیَّامِ حَجِّھِمْ کَانُوْا لَا یَاْکُلُوْن َالطَّعَامَ اِلَّا قُوْتًا……فَھَمَّ الْمُسْلِمُوْنَ بِہٖ فَنَزَلَتْ(بیضاوی مجتبائی جلد ۲ صفحہ۱۵۳زیر آیت الاعراف:۳۲)

    پس ثابت ہوا کہ یہاں مسجد سے مراد عیسائیوں کے گرجے نہیں بلکہ کعبۃ اﷲ اور مسلمانوں کی دوسری مسجدیں مراد ہیں۔نیز یہ کہ حضرت آدمؑ کے زمانہ کا واقعہ بیان نہیں کیا جا رہا بلکہ مسلمانوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔

    غیر احمدی:۔ لفظ’’رسول‘‘ نبی اور رسول اور محدث تینوں معنوں پر مشتمل ہے جیسا کہ مرزا صاحب نے فرمایا ہے۔

    جواب:۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اصطلاح تو خاص تھی جس کے رو سے لفظ محدث بالواسطہ غیر تشریعی نبی کا ہم معنی اور قائمقام ہے۔اس لحاظ سے اگر لفظ ’’رسول‘‘ میں غیر تشریعی نبوت کا حامل شامل ہو تو پھر بھی امکان نبوت ثابت ہے۔

    غیر احمدی:۔ لفظ رسول تو تشریعی و غیر تشریعی دونوں قسم کی نبوت پر مشتمل ہے پھر اس آیت سے تشریعی نبوت کا امکان بھی ثابت ہوا۔

    جواب:۔جی نہیں! بلکہ اس آیت میں تو اس کے با لکل بر عکس یہ بتایا گیا ہے کہ اب جن رسولوں کی آمد کا وعدہ دیا جا رہا ہے وہ سب غیر تشریعی نبی ہوں گے اور صرف (الاعراف:۳۶) وہ سابقہ نازل شدہ آیاتِ قرآنی ہی کو پڑھ پڑھ کر سنایا کریں گے۔ملاحظہ ہو حضرت امام رازی رحمۃ اﷲ علیہ کا ارشاد۔ فرماتے ہیں:۔

    وَاَمَّا قَوْلُہٗ(تَعَالٰی یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیَاتِیْ) فَقِیْلَ تِلْکَ الْاٰیَاتُ ھِیَ الْقُرْاٰنُ۔(تفسیر کبیر جلد ۴صفحہ ۲۹۹ مصری زیرآیت الاعراف:۳۶)

    نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان موعودہ رسولوں کی بعثت کی غرض تو تقویٰ پیدا کرنا اوراصلاح کرنا ہو گی جیسا کہ فرمایا ہے۔ (الاعراف:۳۶) یعنی جو تقویٰ اختیار کرے گا اور اپنی اصلاح کرے گا وہی امن میں ہو گا۔ دوسرا نہیں۔یہی وجہ ہے کہ تفسیر بیضاوی میں لکھا ہے کہ اس آیت سے ’’اِتْیَانُ الرُّسُلِ اَمْرٌ جَائِزٌ غَیْرُ وَاجِبٍ‘‘ (بیضاوی مجتبائی جلد ۲ صفحہ ۱۵۴ زیر آیت الاعراف:۳۵ و مطبع احمدی جلد۱ صفحہ ۲۸۲ نیز تفسیر ابی السعود بر حاشیہ تفسیر کبیر زیرآیت جلد۴ صفحہ ۲۹۹ مصری) یعنی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد رسولوں کا آنا جائز ہے۔اگرچہ ضروری نہیں کہ رسول ضرور ہی آئیں۔

    بہر حال امکان نبوت کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔

    پانچویں آیت:۔

    (الفاتحۃ:۶،۷)کہ اے اﷲ! ہم کو سیدھا راستہ دکھا۔ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے اپنی نعمت نازل کی، گویا ہم کو بھی وہ نعمتیں عطا فرما جو پہلے لوگوں کو تو نے عطا فرمائیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ نعمتیں کیا تھیں؟ قرآن مجید میں ہے:۔

    (المائدۃ:۲۱)

    موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا۔اے قوم! تم خدا کی اس نعمت کو یاد کرو۔ جب اس نے تم میں سے نبی بنائے اور تم کو بادشاہ بنایا، ثابت ہوا کہ نبوت اور بادشاہت دو نعمتیں ہیں جو خدا تعالیٰ کسی قوم کو دیا کرتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں کی دعا سکھائی ہے اور خود ہی نبوت کو نعمت قرار دیا ہے اور دعا کا سکھانا بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کی قبو لیت کا فیصلہ فرما چکا ہے۔لہٰذا اس سے امتِ محمدیہ میں نبوت ثابت ہوئی۔

    چھٹی آیت:۔

    (المؤمنون:۵۲)اے رسولو! پاک کھانے کھاؤ اور نیک کام کرو۔ یہ جملہ ندائیہ ہے جو حال اور مستقبل پر دلالت کرتا ہے اور لفظ رُسُلْ بصیغہ جمع کم ازکم ایک سے زیادہ رسولوں کو چاہتا ہے۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلمتو اکیلے رسول تھے۔ آپ کے زمانہ میں کوئی بھی اور رسول نہ تھا۔ لہٰذا ماننا پڑے گا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد رسول آئیں گے۔ ورنہ کیا خدا تعالیٰ وفات یافتہ رسولوں کو یہ حکم دے رہا ہے کہ اٹھو! اور پاک کھانے کھاؤ اور نیک کام کرو۔

    اس امرکا ثبوت کے یہ خطاب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے پہلے رسولوں کو نہیں ہے:۔

    عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ اللّٰہَ طَیِّبٌ لَا یَقْبَلُ اِلَّا طَیِّبًا وَ اِنَّ اللّٰہَ اَمَرَالْمُؤْمِنِیْنَ بِمَا اَمَرَ بِہٖ الْمُرْسَلِیْنَ فَقَالَ (المؤمنون:۵۲ )وَ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی(البقرۃ:۱۷۳)

    (مسلم کتاب الزکوٰۃ باب قبول الصدقۃ عن الکسب الطیب بحوالہ محمدیہ پاکٹ بک صفحہ ۴۸۶ایڈیشن۱۹۸۹ء)

    یعنی ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کہ اﷲ پاک ہے اور سوائے پاکیزگی کے کچھ قبول نہیں کرتا اور اﷲ تعالیٰ نے مومنوں کو بھی حکم دیا ہے جو اس نے نبیوں کو دیا ہے۔ کہ اے رسولو ! پاک چیزیں کھاؤ اور مناسب حال اعمال بجا لاؤ۔ ایسا ہی اﷲ تعالیٰ نے (مسلمانوں کو) فرمایا کہ اے ایمان والو اس پاک رزق سے کھاؤ جو ہم نے تم کو دیا ہے۔

    یہ حدیث صاف بتا رہی ہے کہ جس طرح (البقرۃ:۱۷۳ ) والا حکم آنحضرت رصلی اﷲ علیہ وسلم سے پہلے فوت ہو چکنے والے مومنوں کو نہیں بلکہ موجودہ یا بعد میں ہونے والے مومنوں کو دیا گیا ہے۔ اسی طرح کا خطاب بھی گزشتہ انبیاء کو نہیں بلکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ یا آپ کے بعد آنے والے رسولوں سے ہے۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں تو کوئی اور رسول تھا نہیں۔ لہٰذا ثابت ہوا کے بعد پیدا ہونے والے ایسے رسولوں سے خطاب ہے جو قرآن کی شریعت کے تابع ہوں گے۔
     
  5. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    غیر احمدی:۔ آیت میں ذکر پہلی امتوں کا ہے جنہوں نے دین کو ٹکڑے ٹکڑ ے کر دیا تھا۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے یہ خطاب نہیں ہے۔ بلکہ پہلے انبیاء سے ہے۔

    جواب:۔ جی نہیں! یہ خطاب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے پہلے انبیاء کو ہرگز نہیں ہے۔ جیسا کہ اوپر درج شدہ حدیث سے ثابت کیا گیا ہے۔ اب تفسیر بھی دیکھ لو۔ لکھا ہے:۔

    ۱۔ اما م ثعلبی رحمۃ اﷲ علیہ کہتے ہیں:۔ کہ رُسُلُ اللّٰہ سے حضرت رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم مرا دہیں جیسے کہ میں لفظ جمع کے ساتھ انہی کی طرف خطاب ہے۔ اور یہ تعظیم کی راہ سے ہے۔ شرح معار ف میں لکھا ہے کہ جب تک حق تعالیٰ نے سب انبیاء علیہم السلام کے خصائل اور شمائل حضرت سیدالانبیائمیں جمع نہیں کئے۔حضرت کو آیت سے خطاب نہیں فرما یا۔

    (تفسیر حسینی قادری جلد ۱ صفحہ ۲۸۵ زیر آیت مِثْلَ مَا اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰہِ انعام ع ۱۵ نیز دیکھو جلد ۲ صفحہ ۵۷و صفحہ ۹۹ )

    ۲۔ تفسیر اتقان مصنفہ امام سیوطی رحمۃ اﷲ علیہ میں ہے:۔

    ’’خِطَابُ الْوَاحِدِ بِلَفْظِ الْجَمْعِ نَحْوَ یَااَیُّھَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبَاتِ……فَھُوَ خِطَابٌ لَہٗ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَحْدَہٗ اِذْ لَا نَبِیَّ مَعَہٗ وَلاَ بَعْدَہٗ۔‘‘(تفسیر اتقان جلد ۶ صفحہ ۳۴ مصری زیرآیت المومنون:۵۲)

    یعنی اس آیت میں کا خطاب صرف آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ہی کو ہے۔ کیونکہ بخیال مصنف آنحضرتؐ کے زمانہ یا ما بعد کوئی نبی نہیں۔

    ۳۔ امام راغب رحمۃ اﷲ علیہ لکھتے ہیں:۔

    ’’وَ قَوْلُہٗ یَا اَیُّھَا الرَّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا قِیْلَ عُنِیَ بِہِ الرَّسُوْلُ وَ صَفْوَۃُ اَصْحَابِہٖ فَسَمَّاھُمْ رُسُلًا لِضَمِّھِمْ اِلَیْہِ۔‘‘ (مفرداتِ راغب صفحہ ۱۹۴ حرف الراء مع السین زیر الفظ رُسُل )یعنی اس آیت میں خطاب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور آپ کے چیدہ اصحاب سے کیا گیا ہے اور ان کوبھی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ وابستگی کے باعث ’’رسول‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔

    پس یہ ثابت ہے کہ یہ خطاب انبیاء سابقہ کو نہیں۔ باقی رہا یہ کہنا کہ لفظ رُسُل جو جمع کا صیغہ ہے وہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم واحد کے لئے آیا ہے تو یہ محض خوش فہمی اور ایک کو سوا لاکھ کے کہنے کے مترادف ہے۔ اور یہ ایساہی ہے جیسے شیعہ لو گ کہتے ہیں کہ قرآ ن مجید میں وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سے مراد حضرت علی ؓ ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ چونکہ قرآن مجید قیامت تک کے لئے شریعت ہے اس لئے اس میں تمام ایسے احکام بیان فرمادیئے گئے جن پر قیامت تک عمل کیا جانا ضروری تھا۔ چنانچہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد جو انبیاء آنے والے تھے ان کے لئے بھی مکمل ہدایات قرآن مجید میں نازل فرما دی گئیں۔ ان ہدایات میں سے ایک ہدایت پر مشتمل یہ آیت بھی ہے۔

    ساتویں آیت:۔

    (الاحزاب:۵۴) تمہارے لئے یہ مناسب نہیں کہ تم اﷲ کے رسول کو ایذاء دو۔ اورنہ یہ مناسب ہے کہ تم رسول کی وفات کے بعد اس کی بیویوں سے شادی کرو۔

    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم بھی اﷲ کے رسول تھے۔ حضور صلعم جب فوت ہوئے آپ کی بیویوں کے ساتھ کسی نے شادی نہ کی۔ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضورؐ کی ازواج مطہرات بھی فوت ہو گئیں۔ اب اگر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد سلسلۂ نبوت بند ہو گیا ہے۔ تو نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ اس کی وفات کے بعد اس کی بیویاں زندہ رہیں گی اور نہ ان کے نکاح کا سوال ہی زیر بحث آئے گا۔

    تو اب اگر اس آیت کو قرآن مجید سے نکال دیا جائے تو کون سا نقص لازم آتا ہے ؟ اور اس آیت کی موجودگی میں ہمیں کیا فائدہ پہنچتاہے ؟ لیکن چونکہ قرآن مجید قیامت کے لئے شریعت ہے اور اس کا ایک ایک لفظ قیا مت تک واجب العمل اور ضرور ی ہے اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلہ جاری ہے اورقیا مت تک کے انبیاء کے ازواج مطہرا ت ان کی وفات کے بعد بیوگی کی حالت میں ہی رہیں گی۔

    نوٹ:۔ یہ آیت آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے خاص نہیں بلکہ عام ہے۔ کیونکہ اس میں ’’اَلرَّسُوْلُ یَا اَلنَّبِیُّ‘‘ کالفظ نہیں کہ خاص آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مراد ہوں۔ بلکہ یہاں ’’رَسُوْلَ اللّٰہِ‘‘ کا لفظ ہے جو عام ہے یعنی اس میں ہر رسول داخل ہے۔ لہٰذا دھوکہ سے بچنا چاہیئے۔ لفظ رَسُوْلَ اللّٰہِ قرآ ن مجید میں دوسر ے انبیاء کے لئے بھی استعمال ہوا ہے۔(دیکھو الصف:۲)

    آٹھویں آیت:۔

    الخ (المؤمن: ۳۵،۳۶)

    کہ اس سے قبل تمہارے پاس حضرت یوسف علیہ السلام کھلے کھلے نشان لے کر آئے۔ مگر تم ان کی تعلیم میں شک کرتے رہے۔ یہاں تک کہ جب وہ فوت ہوگئے تم کہنے لگ گئے کہ اب خداتعالیٰ ان کے بعد کوئی نبی نہیں بھیجے گا۔ اسی طرح سے خداتعالیٰ گمراہ قرار دیتا ہے ان لوگوں کو جو حد سے بڑھ جاتے ہیں اور (خدا کی آیات میں) شک کرتے ہیں۔وہ لوگ آیاتِ الٰہی میں جھگڑا کرتے ہیں بغیر اس کیکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کو کوئی دلیل عطا ہوئی ہو۔

    قرآن مجید میں پہلے انبیاء علیہم السلام اور ان کی جماعتوں کے واقعات محض قصے کہانی کے طور پر بیان نہیں ہوتے بلکہ عبرت کے لئے آتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کی امت کا جو یہ عقیدہ بیان کیا ہے تو اس سے ہمیں کیا فائدہ ہے ؟ نیز یُضِلُّ اور یُجَادِلُوْنَ مضارع کے صیغے ہیں جو مستقبل پر حاوی ہیں۔

    خداتعالیٰ فرماتا ہے (حم السجدۃ:۴۴)

    یعنی اے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم !آپ کے متعلق بھی وہی کچھ کہا جائے گا جو آپ سے پہلے رسولوں کے متعلق کہا گیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے متعلق جیسا کہ بتایا جاچکا ہے(المؤمن:۳۵)کہا گیا۔ مولوی عبدالستار اپنی مشہور پنجابی منظوم کتا ب’’ قصص المحسنین‘‘ (قصہ یوسف زلیخا) لکھتے ہیں ؂

    جعفر صادق کرے روایت اس وچہ شک نہ کوئی

    اس ویلے وچہ حق یوسف دے ختم نبوت ہوئی

    (قصص المحسنین صفحہ۲۷۹ مطبوعہ مطبع کریمی لاہور ۵ جنوری ۱۹۳۰؁ء جے۔ ایس سنت سنگھ تاجران کتب لاہور )

    یعنی حضرت امام جعفر صادق روایت فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اس وقت حضرت یوسف علیہ السلام پر نبوت ختم ہو گئی۔

    پس ضرور تھا کہآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے متعلق بھی یہی کہا جاتا کہ آپؐ کے بعد خداتعالیٰ کوئی نبی نہیں بھیجے گا۔

    نویں آیت:۔

    (الجن:۸)

    بعض جِنّ جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا وعظ سن کر اپنی قوم کے پاس گئے تو جا کر کہنے لگے۔ اے جنو! تمہاری طرح انسانوں کا بھی یہی خیال تھا کہ اب خدا تعالیٰ کسی نبی کو نہیں بھیجے گا مگر (ایک اور نبی آگیا۔)

    گویا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو آپ سے قبل پہلے نبیوں کی امتیں یہی عقیدہ رکھتی تھیں کہ نبوت کا دروازہ ہمارے نبی پر بند ہو چکا ہے۔ (حم السجدۃ:۴۴)کے مطابق ضرور تھا کہآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی نسبت بھی یہی کہا جاتا۔ چنانچہ لکھا ہے:۔

    ا۔اِجْمَاعَ الْیَہُوْدِ عَلٰی اَنْ لَّا نَبِیَّ بَعْدِ مُوْسٰی۔(مسلم الثبوت از مولوی محمد فیض الحسن خوالمنن صفحہ ۱۷۰ العظار علی شرح المحلّٰی علی جمع الجوامع جلد نمبر۲ صفحہ ۲۳۲ الکتاب الثالث فی الاجتماع من الادلۃ الشرعیۃ مسئلہ الصحیح امکان الاجماع)کہ یہود کا اجماع ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

    ب۔ حضرت امام رازی رحمۃ اﷲ علیہ لکھتے ہیں کہ:۔

    اَنَّ الْیَھُوْدَ وَالنَّصَارٰی کَانُوْا یَقُوْلُوْنَ حُصِّلَ فِی التَّوْرَاۃِ وَالْاِنْجِیْلِ اَنَّ ھَاتَیْنِ الشَّرِیْعَتَیْنِ لَا یَتَطَرَّقُ اِلَیْھِمَا النَّسْخُ وَالتَّغْیِیْرُ وَاَنَّھُمَا لَا یَجِیْءُ بَعْدَھُمَا نَبِیٌّ۔ (تفسیر کبیر جلد ۴ صفحہ ۳۲ مصری زیر آیت الانعام:۲۲)کہ یہو داور نصاریٰ یہ کہا کرتے تھے کہ تورات اور انجیل سے ظاہر ہرتا ہے کہ یہ دونوں شیریعتیں کبھی منسوخ نہیں ہوں گی۔ اور ان کے بعد کبھی نبی نہیں آئے گا۔
     
  6. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    دسویں دلیل:۔

    (الصّٰفّٰت: ۷۲،۷۳)

    کہ پہلی امتوں کی جب اکثریت گمراہ ہو گئی تو ہم نے ان کی طرف نبی بھیجے۔ گویا جب کسی امت کا اکثر حصہ ہدایت کو چھوڑ دے تو خداتعالیٰ کے انبیاء ان کی طرف مبعوث ہوتے ہیں۔ تاکہ ان کو پھر صراط مستقیم پر چلائیں۔

    ۲۔ (البقرۃ:۲۱۴)

    ہم نے انبیاء رسل اور کتابیں بھیجیں تاکہ وہ (نبی) ان اختلافات کا فیصلہ کریں جو ان لوگوں میں پیدا ہوگئے تھے۔

    ثابت ہواکہ اختلاف اور تفرقہ کا وجود ضرورتِ نبی کو ثابت کرتا ہے۔

    ۳۔ (الجمعۃ:۳)کہ ہم نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو مبعوث کیا …… اور آپ کی آمد سے قبل یہ لوگ صریحاً گمراہی میں تھے۔

    گویا جب گمراہی پھیل جائے تو خدا تعالیٰ نبی بھیجتا ہے۔

    ۴۔ (الروم:۴۲)کہ خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا۔ یعنی عوام اور علماء یا غیر اہل کتاب کی حالت خراب ہو گئی تو نبی بھیجا گیا۔

    ان چار آیات سے ثابت ہے کہ جب دنیا میں گمراہی پھیل جاتی ہے۔ تفرقے پڑ جاتے ہیں۔ پہلے نبی کی امت کا اکثر حصہ اس کی تعلیم کو چھوڑ دیتا ہے تو اس وقت اﷲ تعالیٰ نبی اور رسول کو مبعوث فرماتاہے۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد ضلالت و گمراہی،امت محمدیہ کے اکثر حصہ کا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی تعلیم کو چھوڑ دینا۔ علماء اور عوام کا بگڑنا واقع ہوا یا نہیں ؟

    خود آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیَأْتِیَنَّ عَلٰی اُمَّتِیْ مَا اَتٰی عَلٰی بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ (وَ فِیْ رَوَایَۃِ شِبْرًا بِشِبْرٍ )حَتّٰی اِنْ کَانَ مِنْھُمْ مَنْ اَتٰی اُمَّہٗ عَلَانِیَّۃً لَکَانَ فِیْ اُمَّتِیْ مَنْ یَّصْنَعُ ذٰلِکَ وَاِنَّ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ تَفَرَّقَتْ عَلَی اثْنَتَیْنِ وَ سَبْعِیْنَ مِلَّۃً وَ تَفْتَرِقُ اُمَّتِیْ عَلٰی ثَلَاثٍ وَّ سَبْعِیْنَ کُلُّھُمْ فِی النَّارِ اِلَّا مِلَّۃٌ وَاحِدَۃٌ۔

    (ترمذی کتاب الایمان باب ما جاء فی افتراق ھٰذہ الامۃ)

    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ البتہ ضرور آئے گا میری امت پر وہ زمانہ جیسا کہ بنی اسرائیل پر آیا تھا۔ یہ ان کے قدم بقدم چلیں گے۔ یہاں تک کہ اگر کسی یہودی نے علانیہ اپنی ماں کے ساتھ بد کاری کی ہوگی تو میری امت میں سے بھی ضرور کوئی ایسا ہوگا جو یہ کرے گا۔ اور بنی اسرائیل کے بہتر(۷۲) فرقے ہو گئے تھے اور میری امت کے تہتر(۷۳) فرقے ہو جائیں گے۔ سوائے ایک کے باقی سب کے سب جہنمی ہوں گے۔

    ۲۔ عَنْ عَلِیٍّ قِالِ قِالِ رِسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُوْشِکُ اَنْ یَّأْتِیَ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یَبْقٰی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلَّا اِسْمُہٗ وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْقُرْاٰنِ اِلَّا رَسْمُہٗ مَسَاجِدُھُمْ عَامِرَۃٌ وَھِیَ خَرَابٌ مِنَ الْھُدٰی عُلَمَآءُ ھُمْ شَرُّ مِنْ تَحْتَ اَدِیْمِ السَّمَآءِ مِنْ عِنْدِھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَۃُ وَ فِیْھِمْ تَعُوْدُ رَوَاہُ الْبَیْھَقِیْ فِیْ شُعْبِ الْاِیْمَانِ۔

    (مشکوٰۃ کتاب العلم باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ)

    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قریب ہے کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا۔ جب اسلام میں کچھ باقی نہ رہے گا مگر نام۔ اور قرآن کا کچھ باقی نہ رہے گا مگر الفاظ۔ مسجدیں آباد نظر آئیں گی مگر ہدایت سے کوری۔ ان لوگوں کے مولوی آسمان کے نیچے بد ترین مخلوق ہوں گے انہی سے فتنہ اٹھیں گے۔ اور ان ہی میں واپس لوٹیں گے۔

    ان ہر دوحدیثوں سے ثابت ہو گیا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد ضلالِ مبین پھیلے گی۔ امت محمدیہ میں تفرقے پڑیں گے۔ اسلام کا صرف نام رہ جائے گا۔ اور قرآن کے فقط الفاظ۔ اور پھر علماء اور عوام کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہو جائے گی۔ گویا کہ (الروم:۴۲)کا پورا نقشہ کھنچ جائے گا۔

    پس قرآن کی بتائی ہوئی مندجہ بالا سب ضروریا ت اور احادیث کی بتائی ہوئی سب جملہ علامات موجود ہیں جو بعثتِ رسول کو مستلزم ہیں۔

    پس آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعدنبوت کا امکان ثابت ہے۔

    گیارہویں دلیل:۔

    (بنی اسرائیل:۵۹)

    کہ قیامت سے پہلے پہلے ہم ہر ایک بستی کو عذابِ شدیدمیں مبتلا کریں گے اور یہ بات کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔

    ب۔دوسری جگہ فرمایا:۔

    (بنی اسرائیل:۱۶)کہ جب تک ہم نبی نہ بھیج لیں اس وقت تک عذاب نازل نہیں کیا کرتے (یعنی نبی بھیج کر اتمام حجت کر کے پھر سزا دیتے ہیں )

    ج۔پھرفرمایا:۔(القصص:۶۰)

    کہ خداتعالیٰ بستیوں کو ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ ان میں کسی رسول کو مبعوث نہ فرمائے۔ تاکہ (عذاب سے قبل) وہ ان کو خدا تعالیٰ کی آیات پڑھ کر سنائے (اور ان پر اتمام حجت ہو جائے۔)

    د۔ ایک اور مقام پر فرماتاہے۔(طٰہٰ:۱۳۵)

    کہ اگر ہم نبی کے ذریعہ نشان کھانے سے قبل ہی ان پر عذاب نازل کر کے ان کو ہلاک کر دیتے تو وہ ضرور یہ کہہ سکتے تھے کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا تاکہ ہم اس رسول کی یوں ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے ہی پیروی کر لیتے (اس آیت کا مضمون سورۃ القصص:۴۸ میں بھی بیان کیا گیا ہے )

    ان سب آیات کو ملانے سے یہ نتیجہ نکال کہ خداتعالیٰ انبیاء بھیجتا رہے گا۔ چونکہ عذاب سے قبل نبی آتا ہے اور عذاب آئے گا تو نبی بھی آئے گا۔

    بارہویں آیت:۔

    (المائدۃ:۴)کہ آج کے دن ہم نے تمہارا دین کامل کر دیا ہے۔ گویا قرآن شریف کو مکمل شریعت قرار دیا ہے۔

    شریعت کا کام دنیا میں انسان کا خدا کے ساتھ تعلق قائم کرانا ہوتا ہے جس قدر شریعت نا قص ہو گی اسی قدر وہ خدا کے ساتھ انسان کا ناقص تعلق قائم کرائے گی۔ اور جتنی وہ کامل ہوگی اتنا ہی وہ تعلق بھی جو انسان کا خدا سے قائم کرائے گی کامل ہوگا۔ اب قرآن مجید مکمل شریعت ہے اس لئے ثابت ہوا کہ یہ خداکے ساتھ ہمارا تعلق بھی کامل پیدا کرتی ہے اور سب سے کامل تعلق جو ایک انسان کا خدا کے ساتھ ہو سکتا ہے وہ نبوت ہے۔ اگر کہو کہ قرآن مجید کسی انسان کو نبوت کے مقام پر نہیں پہنچا سکتا تو دوسرے لفظوں میں یہ ماننا پڑے گا کہ قرآن مجید کامل نہیں بلکہ ناقص شریعت ہے اور یہ باطل ہے اور جو مستلز م باطل ہو وہ بھی باطل ہے۔ لہٰذا تمہارا خیال باطل ہے کہ قرآن نبوت کے مقام تک نہیں پہنچا سکتا۔

    تیرھویں آیت:۔

    (اٰل عمران:۸۲)جب اﷲ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جب تم کو کتاب اور حکمت دے کر بھیجا جائے اور پھر تمہارے پاس ہمارا رسول آئے تو تم اس پر ایمان لانا اور اس کی امداد کرنا۔

    حضرت امام رازی رحمۃ اﷲ علیہ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔

    ’’فَحَاصِلُ الْکَلَامِ اَنَّہٗ تَعَالٰی اَوْجَبَ عَلٰی جَمِیْعِ الْاَنْبِیَاءِ الْاِیْمَانَ بِکُلِّ رَسُوْلٍ جَآءَ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَھُمْ‘‘ (تفسیر کبیر جلد ۲ صفحہ ۷۲۶ نچلی طرف سے آٹھویں سطر مطبوعہ مصر زیر آیت اٰل عمران:۸۱)

    یعنی خلاصہ کلا م یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے تمام انبیاء پر یہ بات واجب کر دی کہ وہ ہر اس رسول پر ایمان لائیں جو ان کی اپنی نبوت کا مصدق ہو۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے بھی عہد لیا گیا یا نہیں۔قرآن مجید میں ہے۔

    (الاحزاب:۸) کہ ہم نے جب نبیوں سے عہد لیا تو آپؐ سے بھی لیا اور حضر ت نوح اور حضرت ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم علیہم السلام سے بھی یہی عہد لیا۔

    اگرآپؐ کے بعد نبوت بند تھی تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے یہ عہد نہیں لینا چاہئے تھا۔ مگر آپ سے بھی اس عہد کا لینا امکان نبوت کی دلیل ہے۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں