1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

دلائل امکان نبوت از اقوال بزرگان

'مسئلہ امکان نبوت' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جولائی 13, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    دلائل امکان نبوت از اقوال بزرگان

    حضرت محی الدین ابن عربیؒ فرماتے ہیں:۔

    (ا) اِنَّ النَّبُوَّۃَ الَّتِیْ اِنْقَطَعَتْ بِوُجُوْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلْعَمْ اِنَّمَا ھِیَ النُّبُوَّۃُ التَّشْرِیْحُ لَا مَقَامُھَا فَلَا شَرْعَ یَکُوْنُ نَاسِخًا لِشَرْعِہٖ صَلْعَمْ وَ لَا یَزِیْدُ فِیْ شَرْعِہٖ حُکْمًا اٰخَرَ وَ ھٰذَا مَعٰی قَوْلِہٖ صَلْعَمْ اِنَّ الرَّسَالَۃَ وَالنَّبُوَّۃَ قَدْ اِنْقَطَعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِیْ وَلَا نَبِیَّ اَیْ لَا نَبِیَّ یَکُوْنُ عَلٰی شَرْعٍ یُخَالِفُ شَرْعِیْ بَلْ اِذَا کَانَ یَکُوْنُ تَحْتَ حُکْمِ شَرِیْعَتِیْ وَلَا رَسُوْلَ اَیْ لَا رَسُوْلَ بَعْدِیْ اِلٰٰٰٰٰٰی اَحَدٍ مِنْ خَلْقِ اللّٰہِ بِشَرْعٍ یَدْعُوْھُمْ اِلَیْہِ فَھٰذَا ھُوَ الَّذِیْ اِنْقَطَعَ وَسُدَّ بَابُہٗ لَا مَقَامُ النَّبُوَّۃِ۔

    (فتوحات مکیہ از ابن عربی جلد ۲ صفحہ ۳ مطبوعہ دار صادر بیروت)

    کہ وہ نبوت جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے وجود پر ختم ہوئی۔ وہ صرف تشریعی نبوت ہے نہ کہ مقامِ نبوت۔ پس آنحضرت صلعم کی شریعت کو منسوخ کرنے والی کوئی شریعت نہیں آ سکتی اور نہ اس میں کوئی حکم بڑھا سکتی ہے اور یہی معنی ہیں کہ آنحضرت صلعم کے اس قول کے کہ رسالت اور نبوت منقطع ہو گئی اور ’’لَا رَسُوْلَ بَعْدِیْ وَلَا نَبِیَّ‘‘ یعنی میرے بعد کوئی ایسا نبی نہیں جو میرے شریعت کے خلاف کسی اور شریعت پر ہو ہاں اس صورت میں نبی آ سکتا ہے کہ وہ میری شریعت کے حکم کے ماتحت آئے اور میرے بعد کوئی رسول نہیں یعنی میرے بعد دنیا کے کسی انسان کی طرف کوئی ایسا رسول نہیں آ سکتا جو شریعت لے کر آوے اور لوگوں کو اپنی شریعت کی طرف بلانے والا ہو۔ پس یہ وہ قسم نبوت ہے جو بند ہوئی اور اس کا دروازہ بند کر دیا گیا۔ ورنہ مقامِ نبوت بند نہیں۔

    (ب) فَمَا ارْتَفَعَتِ النُّبُوَّۃُ بِالْکُلِّیَّۃِ لِھٰذَا قُلْنَا اِنَّمَا ارْتَفَعَتْ نُبُوَّۃُ التَّشْرِیْحِ فَھٰذَا مَعْنٰی لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ فَعَلِمْنَا اَنَّ قَوْلَہٗ لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ اَیْ لَا مُشَرِّعَ خَاصَّۃً لِاَنَّہٗ لَا یَکُوْنُ بَعْدَہٗ نَبِیٌّ ھٰذَا مِثْلُ قَوْلِہٖ اِذَا ھَلَکَ کِسْریٰ فَلَا کِسْریٰ بَعْدَہٗ وَاِذَا ھَلَکَ قَیْصَرُ فَلَا قَیْصَرَ بَعْدَہٗ۔ (فتوحات مکیہ از محی الدین ابن عربی جلد ۲ صفحہ ۵۸ باب ۷۳ سوال ۱۵ مطبوعہ دار صادر بیروت)

    کہ نبوت کلی طور پر اٹھ نہیں گئی۔ اسی وجہ سے ہم نے کہا تھا کہ صرف تشریعی نبوت بند ہوئی ہے یہی معنی ہے لَا نَبِیَّ بَعْدِی کے۔پس ہم نے جان لیا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا لَا نَبِیَّ بَعْدِی فرمایا انہی معنوں سے ہے کہ خاص طور پر میرے بعد کوئی شریعت لانے والا نہ ہو گا۔ کیونکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد اور کوئی نبی نہیں یہ بعینہٖ اسی طرح ہے جس طرح آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب یہ قیصر ہلاک ہو گا تو اس کے بعد قیصر نہ ہو گا اور جب یہ کسریٰ ہلاک ہو گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ ہو گا۔

    (ج) فَاِنَّ الرَّسَالَۃَ وَالنُّبُوَّۃَ بِالتَّشْرِیْعِ قَدْ اِنْقَطَعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدَہٗ صَلْعَمْ وَلَا نَبِیَّ اَیْ لَا مُشْرِعَ وَلَا شَرِیْعَۃَ وَ قَدْ عَلِمْنَا اِنَّ عِیْسٰی یَنْزِلُ وَلَا بُدَّ مَعَ کَوْنِہٖ رَسُوْلًا وَلٰکِنْ لَا یَقُوْلُ بِشَرْعٍ بَلْ یَحْکُمُ فِیْنَا بِشَرْعِنَا فَعَلِمْنَا اَنَّہٗ اَرَادَ اِنْقَطَاعَ الرِّسَالَۃِ وَالنُّبُوَّۃِ بِقَوْلِہٖ لَا رَسُوْلَ بَعْدِیْ وَلَا نَبِیَّ اَیْ لَا مُشَرِّعَ وَلَا شَرِیْعَۃَ۔‘‘

    (فتوحات مکیہ از محی الدین ابن عربی جلد ۲ صفحہ ۹۰ سوال نمبر ۸۸ مطبوعہ دار صادر بیروت)

    ۲۔ حضرت امام شعرانی فرماتے ہیں:۔

    (ا) ’’وَقَوْلُہٗ صَلَعَمُ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وَلَا رَسُوْلَ الْمُرَادُ بِہٖ لَا مُشَرِّعَ بَعْدِیْ۔‘‘ (الیواقیت والجواہر جز اوّل صفحہ ۳۷۴ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت لبنان) کہ آنحضرت صلعم کا یہ قول کہ میرے بعد نبی نہیں اور نہ رسول اس سے مراد یہ ہے کہ میرے بعد کوئی شریعت لانے والا نبی نہیں۔

    (ب) فَاِنَّ النَّبُوَّۃَ سَارِیَۃٌ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ فِی الْخَلْقِ وَاِنْ کَانَ التَّشْرِیْعُ قَدْ اِنْقَطَعَ فَا التَّشْرِیْعُ جُزْءٌ مِنْ اَجْزَاءِ النُّبُوَّۃِ۔ (فتوحات مکیہ جلد ۲ باب ۷۳ سوال نمبر ۸۲ صفحہ ۱۵۵ مصر)

    کہ نبوت قیامت کے دن تک مخلوقات میں جاری ہے لیکن جو تشریعی نبوت ہے وہ بند ہو گئی ہے۔ تشریعی نبوت، نبوت کا ایک جزو ہے۔

    (ج) وَاَمَّا النُّبُوَّۃُ التَّشْرِیْعُ وَالرِّسَالَۃُ فَمُنْقَطِعَۃٌ فِیْ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فَلَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ مُشَرِّعًا …… اِلَّا اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی لَطَفَ بِعِبَادِہٖ وَاَبْقٰی لَھُمُ النَّبُوَّۃَ الْعَامَۃَ الَّتِیْ لَا تَشْرِیْعَ فِیْھَا (فَصُوْصُ الْحِکْمِ فَصُّ حِکْمَۃٍ قَدْرِیَّۃٍ فِیْ کَلِمَۃٍ عَزِیْرِیَّۃٍ) کہ جو نبوت اور رسالت شریعت والی ہوتی ہے۔ پس وہ تو آنحضرت صلعم پر ختم ہو گئی ہے پس آپؐ کے بعد شریعت والا نبی کوئی نہیں آ سکتا …… ہاں اﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر مہربانی کر کے ان میں عام نبوت جس میں شریعت نہ ہو باقی رہنے دی۔

    ۳۔عارف ربانی سید عبد الکریم جیلانی ابن ابراہیم جیلانی فرماتے ہیں:۔

    فَانْقَطَعَ حُکْمُ النُّبُوَّۃِ التَّشْرِیْعِ بَعْدَہٗ وَکَانَ مُحَمَّدٌ صَلّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ (الانسان الکامل از سید عبد الکریم بن ابراہیم جیلانی ؒ باب ۳۶ ترجمہ اردو خزینہ التصوف صفحہ ۶۶) کہ تشریعی نبوت کا حکم آنحضرت صلعم کے بعد ختم ہو گیا۔ پس اس وجہ سے آنحضرت صلعم خاتم النبیین ہوئے۔

    ۴۔ حضرت ملا علی قاری فرماتے ہیں:۔

    قُلْتُ وَ مَعَ ھٰذَا لَوْ عَاشَ اِبْرَاہِیْمَ وَ صَارَ نَبِیًّا وَکَذَا لَوْ صَارَ عُمَرؓ نَبِیًّا لَکَانَا مِنْ اَتْبَاعِہٖ عَلَیْہِ السَّلَامُ …… فَلَا یُنَاقِضُ قَوْلَہٗ تَعَالٰی خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ اِذَا الْمَعْنٰی اَنَّہٗ لَا یَاْتِیْ نَبِیٌّ بَعْدَہٗ یَنْسَخُ مِلَّتَہٗ وَلَمْ یَکُنْ مِنْ اُمَّتِہٖ۔

    (موضاعات کبیر از ملا علی قاریؒ صفحہ ۱۰۰ الناشر نور محمد، اصح المطابع و کارخانہ تجارت کتب آرام باغ کراچی مطبوعہ ایجوکیشنل پریس کراچی)

    میں کہتا ہوں کہ اس کے ساتھ آنحضرت صلعم کا فرمانا کہ اگر میرا بیٹا ابراہیم زندہ رہتا تو نبی ہو جاتا اور اسی طرح اگر عمرؓ نبی ہو جاتا تو آنحضرت کے متبعین میں سے ہوتے۔ پس یہ قول خاتم النبیین کے مخالف نہیں ہے۔ کیونکہ خاتم النبیین کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلعم کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آ سکتا۔ جو آنحضرت صلعم کی شریعت کو منسوخ کرے اور آپؐ کی امت سے نہ ہو۔

    ۵۔ حضرت سید ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی فرماتے ہیں:۔

    خُتِمَ بِہِ النَّبِیُّوْنَ اَیْ لَا یُوْجَدُ مَنْ یَّاْمُرُہٗ اللّٰہُ سُبْحَانَہٗ بِالتَّشْرِیْعِ عَلَی النَّاسِ۔

    (تفہیمات الہٰیہ از حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلویؒ تفہیم نمبر ۵۳)

    کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر نبی ختم ہو گئے۔ یعنی آپؐ کے بعد کوئی ایسا شخص نہیں ہو سکتا جس کو خدا تعالیٰ شریعت دے کر لوگوں کی طرف مامور کرے۔

    ۶۔ مولوی عبد الحی صاحب لکھنوی فرماتے ہیں:۔

    ’’علمائے اہلسنت بھی اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ آنحضرت صلعم کے عصر میں کوئی نبی صاحب شرع جدیدہ نہیں ہو سکتا اور نبوت آپ کی تمام مکلفین کو شامل ہے اور جو نبی آپ کے ہمعصر ہو گا۔ پس بہر تقدیر بعثتِ محمدیہؐ عام ہے۔‘‘

    (دافع الوسواس فی اثر ابن عباس صفحہ ۳از محمد عبد الحی لکھنوی در مطبع یوسفی واقع فرنگی محل لکھنؤ )

    ۷۔ جنات مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی دیوبند ’’تحذیر الناس‘‘ میں فرماتے ہیں:۔

    (ا) ’’سو عوام کے خیال میں تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپؐ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد اور آپؐ سب میں آخری نبی ہیں مگر اہلِ فہم پر روشن ہو گا کہ تقدم و تاخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں۔ پھر مقام مدح میں فرمانا اس صورت میں کیوں کر صحیح ہو سکتا ہے۔‘‘

    (تحذیر الناس صفحہ ۳ ناشر مولوی محمد اسحٰق مالک کتب خانہ رحیمیہ دیوبند سہارپنور)

    (ب) اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلی اﷲ علیہ وسلم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدیؐ میں کچھ فرق نہ آئے گا۔‘‘ (صفحہ ۲۵)
     
  2. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    ۸۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں۔ ’’قُوْلُوْا اِنَّہٗ خَاتَمُ الْاَنْبِیَآءِ وَلَا تَقُوْلُوْا لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ۔‘‘

    (در منثور از علامہ جلال الدین سیوطیؒ جلد ۵ صفحہ ۳۸۶ الناشر دار المعرفۃ بیروت لبنان و تکملہ مجمع البحار جلد ۴ صفحہ ۸۵)

    ’’کہ یہ تو کہہ کہ آنحضرت صلعم خاتم النبیین ہیں مگر یہ کبھی نہ کہنا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔‘‘

    حضرت امام ابن حجر الہثیمی حدیث ’’لو عاش ابراہیم لکان صدیقا نبیا‘‘ کی مفصل بحث میں اس حدیث کو صحیح ثابت کر کے لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے صاحبزادہ حضرت ابراہیم نبی تھے۔ چنانچہ وہ حضرت علیؓ کی روایت بدیں الفاظ نقل کرتے ہیں:۔

    ’’ وَاَدْخَلَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدَہٗ فِیْ قَبْرِہٖ فَقَالَ اَمَا وَاللّٰہِ اِنَّہٗ لَنَبِیٌّ اِبْنُ نَبِیٍّ وَ بَکٰی وَ بَکٰی الْمُسْلِمُوْنَ حَوْلَہٗ۔‘‘ (الفتاویٰ الحدیثیۃ صفحہ ۱۷۶ ۔ الناشر میر محمد کتب خانہ آرام باغ کراچی)

    ’’کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت ابراہیمؑ کی تدفین کے وقت ان کی قبر میں ہاتھ ڈالا اور فرمایا خدا کی قسم! وہ نبی ہے اور نبی کا بیٹا بھی ہے پس آپ بھی چشم پُر آب ہو گئے اور دوسرے مسلمان بھی حضور کے ارد گرد رو پڑے۔‘‘

    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیمؑ کا جنازہ پڑھائے بغیر اس کو دفن فرمایا تھا۔

    حضرت شیخ الاسلام علامہ ابن حجر العسقلانی رحمۃ اﷲ علیہ کا مندرجۂ ذیل قول حضرت امام ابن حجر ہیثمی نقل کرتے ہیں:۔

    ’’اِنَّہٗ لَا یُصَلِّی نَبِیُّ عَلٰی نَبِیٍّ وَ قَدْ جَاءَ لَوْ عَاشَ لَکَانَ صِدِّیْقًا نَبِیًّا۔‘‘

    (الفتاویٰ الحدیثیہ صفحہ ۱۷۶-۱۷۵۔ الناشر میر محمد کتب خانہ آرام باغ کراچی)

    یعنی علامہ زرکشی فرماتے ہیں کہ ’’نبی، نبی کا جنازہ نہیں پڑھایا کرتے اور حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ اگر وہ زندہ رہتا تو ضرور نبی ہوتا۔‘‘ اس کے بعد امام ابن حجر الہیثمی لکھتے ہیں:۔

    ’’وَلَا بُعْدَ فِیْ اِثْبَاتِ النُّبُوَّۃِ لَہٗ مَعَ صِغَرِہٖ لِاَنَّہٗ کَعِیْسَی الْقَائِلُ یَوْمَ وُلِدَ () وَکَیَحْیَ الَّذِیْ قَالَ تَعَالٰی فِیْہِ ۔‘‘ (الفتاویٰ الحدیثیۃ صفحہ ۱۷۶۔ الناشر میر محمد کتب خانہ آرام باغ کراچی) کہ صاحبزادہ حضرت ابراہیمؑ کا بچپن کی عمر ہی میں نبی ہونا بعید از قیاس نہیں۔ کیونکہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح تھے۔ جنہوں نے اپنی پیدائش ہی کے دن کہا تھا کہ میں نبی ہوں اور نیز آپ حضرت یحیٰؑ کی طرح ہیں جن کی نسبت اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اس کو بچپن ہی کی عمر میں حکمت عطا فرمائی۔‘‘ پھر فرماتے ہیں:۔

    ’’وَبِہٖ یُعْلَمُ تَحْقِیْقُ نُبُوَّۃِ سَیِّدِنَا اِبْرَاہِیْمَ فِیْ حَالِ صِغَرِہٖ۔‘‘

    (الفتاویٰ الحدیثیہ صفحہ ۱۷۶۔ الناشر میر محمد کتب خانہ آرام باغ کراچی)

    کہ ان دلائل سے یہ بات پایۂ تحقیق کو پہنچ گئی کہ حضرت صاحبزادہ ابراہیم بچپن کی عمر میں ہی نبی تھے۔

    گویا حضرت امام ابن حجر الہیثی امام شیخ بدر الدین الزرکشی اور حضرت شیخ الاسلام حافظ ابن حجر العسقلانی کے مندرجہ بالا اقوال و تحریرات سے ثابت ہوا کہ حضرت ابراہیمؑ ابن آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بارے میں کم از کم حضرت امام ابن حجر الہیثمی کا عقیدہ یہ تھا کہ وہ آیت خاتم النبیین کے نزول کے بعد پیدا ہونے کے باوجود نبی تھے۔

    مسیح موعود بعد نزول نبی اﷲ ہو گا

    ۹۔ مَنْ قَالَ بِسَلْبِ نُبُوَّتِہٖ کَفَرَ حَقًّا (حج الکرامہ از نواب صدیق حسن خان صفحہ ۴۳۱ مطبع شاہجہانی واقع بلدہ بھوپالی) کہ امام جلال الدین صاحب سیوطیؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ کہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بعد نزول نبی نہ ہوں گے وہ پکا کافر ہے۔

    پھر لکھا ہے ’’فَھُوَ عَلَیْہِ السَّلَامُ وَاِنْ کَانَ خَلِیْفَۃً فِی الْاُمَّۃِ الْمُحَمَّدِیَّۃِ فَھُوَ رَسُوْلٌ وَ نَبِیٌّ کَرِیْمٌ عَلٰی حَالِہٖ۔‘‘ (حجج الکرامہ از نواب صدیق حسن خان صفحہ ۴۲۶ مطبع شاہجہانی واقع بلدہ بھوپالی) کہ وہ باوجود اس بات کے کہ وہ امتِ محمدیہ کے ایک خلیفہ ہوں گے پھر بھی بدستور رسول اور نبی رہیں گے۔

    پس یہ کہنا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعد از نزول نبی نہ ہوں گے باطل ہے۔

    ۱۰۔ نواب نور الحسن خان ابن نواب صدیق حسن خاں صاحب لکھتے ہیں۔

    ’’حدیث لَا وَحْیَ بَعْدَ مَوْتِیْ بے اصل ہے لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ آیا ہے اس کے معنی نزدیک اہلِ علم کے یہ ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی شرعِ ناسخ نہ لاوے گا۔‘‘

    (اقتراب الساعۃ صفحہ ۱۶۲ طبع فی مطبعۃ مفید عام الکائنہ فی الرواۃ مطبوعہ ۰۱ ۱۳ھ )

    مولانا روم اور ختم نبوت

    مثنوی مولانا روم کے متعلق مولانا جامی کہتے ہیں کہ ؂

    مثنویٔ مولوی معنوی ہست قرآن در زبان پہلوی

    (۱۔ ’’نفحات الانس‘‘ از عبد الرحمن بن احمد الجامی در ذکر الشیخ مولانا جلال الدین رومی۔ ۲۔ ’’الہام منظوم‘‘ دفتر اول ترجمہ مثنوی مولانا روم از شیخ عاشق حسین سیماب صدیقی الوارثی اکبر آبادی شائع کردہ فیروز دین مقدمہ صفحہ ۸)

    ۱۔ مثنویٔ مولانا روم کے مندرجہ ذیل اشعار مسئلہ ختم نبوت کی حقیقت واضح کرتے ہیں:۔

    (ا) مَعْنِیْ ۔ این شناس این است را ہر در امہم کہ ’’‘‘ کے معنی سمجھنے کی کوشش کرو کیونکہ یہ رسالت کے راستہ میں ایک مشکل ہے۔

    (ب) تازِ راہ خاتم پیغمبراں بو کہ بر خیز و زِلب ختم گراں

    یعنی تا کہ ممکن ہے کہ لب ہلانے سے خاتم النبیین کے راستے سے ایک بھاری ختم اٹھ جائے۔

    (ج) ختمہائے کابنیاء بگذاشتند آں بدینِ احمدی برداشتند

    وہ بہت سے ختم جو پہلے نبی چھوڑ گئے تھے وہ سب دین احمدی میں اٹھا دیئے گئے۔

    (د) قفلہائے ناکشودہ ماندہ بود از کفِ برکشود

    یعنی بہت سے تالے بند پڑے ہوئے تھے مگر آنحضرت صلعم نے کے ہاتھ سے سب کھول دیئے۔

    (ھ) او شفیع است ایں جہان و آں جہاں این جہاں در دین و آنجا در جناں

    یعنی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم دونوں جہانوں میں شفیع ہیں اس جہان میں دین کے اور اگلے جہان میں جنت کے۔

    (و) پیشہ اش اندر ظہور و در مکون اِھْدِ قَوْمِیْ اِنَّھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ

    ظاہر و باطن میں آنحضرت صلعم کا وظیفہ یہی تھا کہ اے خدا میری قوم کو ہدایت دے کہ انہیں علم نہیں ہے۔

    (ز) باز گشتہ از دم او ہر دو باب در دو عالم دعوتِ او مستجاب

    آپؐ کے دم سے دونوں دروازے کھل گئے اور دونوں جہاں میں آپؐ کی دعا مستجاب ہوئی۔

    (ح) بہر این خاتم شد است او کہ بجود مثل او نے بود نے خواہند بود

    آپؐ ان معنوں میں ’’خاتم‘‘ ہیں کہ بخشش میں نہ آپؐ کے برابر کوئی ہوا اور نہ ہو گا۔

    (ط) چونکہ در صنعت برد استاد دست نے تو گوئی ختم صنعت بر تو ہست

    جس طرح جب کوئی استاد صنعت میں سبقت لے جاتا ہے تو کیا تم یہ نہیں کہتے کہ اے استاد! تجھ پر کاریگری ختم ہے؟

    (ی) در کشادِ ختمہا، تو خاتمی در جہان روح بخشاں حاتمی

    اے نبی صلعم! تو ہر قسم کے ’’ختموں‘‘ کو کھولنے کی وجہ سے ’’خاتم‘‘ (یعنی افضل) ہے اور روح پھونکنے والوں میں تو حاتم کی طرح ہے۔

    (ک) ہست اشارات محمدؐ، المراد کل کشاد، اندر کشاد، اندر کشاد

    الغرض محمدؐ رسول اﷲ صلعم کی تعلیم یہ ہے کہ سب رستے کھلے ہی کھلے ہیں کوئی بھی بند نہیں ہے۔

    (ل) صد ہزاراں آفریں بر جانِ او ہر قدوم و دورِ فرزندانِ او

    آنحضرت صلعم اور آپؐ کے فرزندوں کی تشریف آوری اور ان کے دور پر لاکھوں آفریں۔

    (م) آں خلیفہ زاد گانِ مقبلش زادہ انداز عنصر جان و دلش

    وہ اس کے اقبال مند جانشین اس کے عنصر جان و دل سے پیدا ہوئے ہیں۔

    (ن) گرز بغداد و ہرے و از رے اند بیمزاجِ آب و گل نسل وے اند

    وہ خواہ بغداد یا ہرے یا رے کے رہنے والے ہوں۔ مٹی اور پانی کے اثر سے بے نیاز ہو کر وہ حضورؐ ہی کی نسل سے ہیں۔

    (س) شاخِ گل ہر جا کہ روئید ہم گل است خمِ مل ہر جا کہ جو شد ہم مُل است

    گلاب کی شاخ جہاں بھی اُگے وہ گلاب ہی ہے اور شراب کا مٹکا جہاں بھی جوش مارے وہ مٹکا ہی ہے۔

    (ع) گرز مغرب برزند خورشید سر عین خورشید است نے چیزے دگر

    اگر آفتاب مغرب سے نکلے تو بھی وہ آفتاب ہی ہے۔

    (مثنوی مولانا روم دفتر ششم صفحہ ۲۹، ۳۰ الفیصل ناشران و تاجران کتب اردو بازار لاہور)

    ایک عذر اور اس کا جواب

    بعض غیر احمدی مولوی نزول عیسیٰ ؑ والے اعتراض کے جواب میں یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ’’خاتم النبیین‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی نبی ’’پیدا‘‘ نہیں ہو گا۔

    جواب:۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ عذر تمہارے دماغ کی لا یعنی اختراع ہے ’’خاتم النبیین‘‘ کا اگر وہی ترجمہ تسلیم کر لیا جائے جو تم کیا کرتے ہو۔ یعنی ختم کرنے والا۔ تو پھر بھی اس میں اس میں وہ کون سا لفظ ہے۔ جس کا ترجمہ تم ’’پیدا نہ ہو گا‘‘ کرتے ہو؟ اگر تمہارے لئے ناجائز طور پر تاویلیں کرنے کی گنجائش ہے تو ہمارے لئے قرآن و حدیث و اقوال آئمہ کی روشنی میں صحیح معنی کرنے کی کیوں گنجائش نہیں؟

    (نیز موضوعات کبیر ملا علی قاریؒ صفحہ ۵۹ و تحدیر الناس صفحہ ۲۸ کے حوالے دیکھو بر صفحہ ۲۷۵)

    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے کیا ختم کیا؟

    پھر سوال یہ ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ختم کیا کیا؟ آپ سے پہلے آدمؑ، نوحؑ، ابراہیمؑ، لوطؑ، اسمعیلؑ، اسحٰقؑ، یعقوبؑ، موسیٰؑ وغیرہم انبیاء علیہم السلام تو سب کے سب پہلے ہی فوت ہو چکے تھے۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کا کیا ختم کیا۔ البتہ ایک نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسے تھے جو بقولِ شما ابھی ختم نہ ہوئے تھے۔ سو وہ اب بھی ختم نہیں ہوئے بلکہ تمہارے خیال میں ابھی انہوں نے قیامت سے قبل آتا ہے۔ تو پھر تم ہی بتاؤ کہ تمہارے عقیدہ ختم نبوت کی حقیقت کیا رہ گئی؟
     

اس صفحے کو مشتہر کریں