1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

دعوت الامیر ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ۔ مرزا بشیر الدین محمود احمد رض

'حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ۔ یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 22, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    دعوت الامیر ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ۔ مرزا بشیر الدین محمود احمد رض

    اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم
    ~بسم۲~
    نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھوالناصر
    از طرف عبداللہ الضعیف میرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ المسیح و امام جماعت احمدیہ
    بطرف اعلیٰ حضرت امیر امان اللہ خان بہادر بادشاہ افغانستان و ممالک محروسہ
    السلام علیکم ورحمہ اللہ و برکاتہ
    جناب من! یہ چند اوراق جو جناب کی خدمت میں جناب کے علو مرتبت کے خیال سے فائدہ عام کی نیت سے طبع کرا کر ارسال ہیں- میں امید رکھتا ہوں کہ جناب باوجود کم فرصتی کے ان کے مطالعہ کی تکلیف گوارا کریں گے اور مجھے ممنون احسان بنائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے حضور سرخروئی حاصل فرمائیں گے-
    اس مکتوب کے لکھنے کی دو غرضیں ہیں )۱( ایک یہ کہ آپ تک میں اس آواز کو پہنچا دوں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا کو مرکز محمدیت پر جمع کرنے کے لیے بلند ہوئی ہے اور )۲( یہ کہ جناب کہ زیر سایہ جماعت احمدیہ کے کچھ افراد رہتے ہیں ان کے عقائد اور حالات سے جناب کو آگاہ کروں تاکہ ان کے متعلق کوئی امر جناب کی خدمت میں پیش ہو تو جناب اپنے ذاتی علم سے اس میں فیصلہ کرنے کے قابل ہوں
    جناب من! بیشتر اس کہ میں کوئی اور بات کہوں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کسی نئے مذہب کی پابند نہیں ہے بلکہ اسلام اس کا مذہب ہے اور اس سے ایک قدم ادھر ادھر ہونا موجب شقادت خیال کرتی ہے- اس کا نیا نام نئے مذہب پر دلالت نہیں کرتا ہے بلکہ اس کی صرف یہ غرض ہے کہ یہ جماعت ان دوسرے لوگوں سے جو اسی کی طرح اسلام کی طرف اپنے آپکو منسوب کرتے ہیں` ممتاز حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش ہو سکے- اسلام ایک پیارا نام ہے جو خود خدا تعالیٰ امت محمدیہ کو بخشا ہے اور اس نام کو ایسی عظمت دی ہے کہ متعلق وہ پہلے انبیاء کے ذریعے پیشگوئیاں کرتاچلا آیا ہے چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
    یعنی اس نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے` پہلی کتابوں میں بھی اور اس کتاب میں بھی- چنانچہ جب ہم پہلی کتب کو دیکھتے ہیں تو یسعیاہ میں یہ پیشگوئی اب تک درج پاتے ہیں کہ تو ایک نئے نام سے کہلائے گا جسے خداوند کا منہ خود رکھ دے گا - )یسعاہ باب ۶۲ آیت۲`(
    پس اس نام سے زیادہ مقدس نام اور کونسا ہو سکتا ہے جسے خود خدا نے اپنے بندوں کے لئے چنا اور جسے اس قدر بزرگی دی کہ پہلے نبیوں کی زبان سے اس کے لئے پیشگوئیاں کرائیں اور کون ہے جو اس مقدس نام کو چھوڑنا پسند کر سکتا ہے؟ ہم اس نام کو اپنی جان سے زیادہ عزیز سمجھتے ہیں اور اس مذہب کو اپنی حقیقی حیات کا موجب - مگر چونکہ اس زمانے میں مختلف لوگوں نے اپنے اپنے خیال کی طرف رجوع کر کے اپنے مختلف نام رکھ لئے ہیں` اس لئے ضروری تھا کہ ان سے اپنے آپ کو ممتاز کرنے کے لئے کوئی نام اختیار کیا جاتا - اور بہترین نام اس زمانے کی حالت کو مد نظر رکتے ہوئے احمدی ہی تھا` کیونکہ یہ زمانہ رسول کریم ﷺ~ کے لائے ہوئے پیغام کی اشاعت کا زمانہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی حمد کی اشاعت کا زمانہ ہے - پس آپ کی صفت احمدیت کے ظہور کے وقت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس نام سے بہتر کوئی امتیازی نام اس وقت نہیں ہو سکتا تھا -
    غرض ہم سچے دل سے مسلمان ہیں اور ہر ایسی بات کو جس کا ماننا ایک سچی مسلمان کے لیے ضروری ہے مانتے ہیں اور ہر وہ بات جس کا رد کرنا ایک سچے مسلمان کے لئے ضروری ہے اسے رد کرتے ہیں اور وہ شخص جو باوجود تمام صداقتوں کی تصدیق کرنے اور اللہ تعالیٰ کے تمام احکام کو ماننے کے ہم پر کفر کا الزام لگاتا ہے اور کسی نئے مذہب کے ماننے والا قرار دیتا ہے وہ ہم پر ظلم کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہے - انسان اپنے منہ کی بات پر پکڑا جاتا ہے نہ کہ اپنے دل کے خیال پر - کون کہہ سکتا ہے کہ کسی کے دل میں کیا ہے؟ جو شخص کسی دوسرے پر الزام لگاتا ہے کہ جو کچھ یہ منہ سے کہتا ہے وہ اس کے دل میں نہیں ہے` وہ خدائی کا دعوی کرتا ہے کیونکہ دلوں کا جاننے والا صرف اللہ اس کے سوا کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کسی کے دل میں کیا ہے- رسول کریم ﷺ~ سے زیادہ عارف کون ہوگا - آپ اپنی نصبت فرماتے ہیں -
    یعنی تم میں سے بعض لوگ میرے پاس جھگڑا لاتے ہیں اور میں بھی آدمی ہوں - ممکن ہے کہ کوئی آدمی تم میں سے دوسرے کے نصبت عمدہ طور پر جھگڑا کرنے والا ہو` پس اگر میں تم میں سے کسی کو اس کے بھائی کا حق دلا دوں تو میں اسے ایک آگ کا ٹکڑا کاٹ کر دیتا ہوں اسے چاہیے کہ اسے نہ لے -
    اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ اسامہ بن زید ؓ کو رسول کریم ~صل۲~ نے ایک فوج کا افسر بنا کر بھیجا - ایک شخص کفار میں سے ان کو ملا جس پر انہوں نے حملہ کیا` جب وہ اس کو قتل کرنے لگے تو اس نے کلمہ شہادت پڑھ دیا - مگر باوجود اس کے انہوں نے اسے قتل کر دیا - جب رسول کریم ~صل۲~ کو یہ خبر پہنچی تو آپ ﷺ~ نے ان سے دریافت کیا کہ انہوں نے کیوں ایسا کیا ہے اس پر اسامہ ؓ نے کہا یا رسول اللہ وہ ڈر سے اسلام ظاہر کرتا تھا آپ ﷺ~ نے فرمایا تونے اس کا دل پھاڑ کر کیوں نہ دیکھا - یعنی تجھے کیا معلوم تھا کہ کہ اس نے اظہار اسلام ڈر سے کیا تھا یا سچے دل سے کیونکہ دل کا حال انسان سے پوشیدہ ہوتا ہے -
    غرض فتوی منھ کی بات پر لگایا جاتا ہے نہ کہ دل کے خیالات پر - کیونکہ دل کے خیالات سے صرف اللہ تعالیٰ آگاہ ہوتا ہے اور جو بندہ کسی کے دل کے خیالات پر فتوی لگاتا ہے وہ جھوٹا ہے - اور اللہ تعالیٰ کے حضور قابل مواخذہ ہے -
    پس ہم لوگ یعنی جماعت احمدیہ کے افراد جبکہ اپنے آپکو مسلمان کہتے ہیں تو کسی کا یہ حق نہیں کہ وہ یہ فتوی ہم پر لگائے کہ ان کا اسلام صرف دکھاوے کا ہے ورنہ یہ دل سے اسلام کے منکر ہیں یا رسول کریم ~صل۲~ نہیں مانتے اور کوئی نیا کلمہ پڑھتے ہیں یا نیا قبلہ انہوں نے بنا رکھا ہے - اگر ہماری نسبت اس قسم کی باتیں کہنی جائز ہیں تو ہم پر اس قسم کے الزامات لگانے والوں کی نسبت ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ ظاہر میں اسلام کا دعوی کرتے ہیں اور اپنے گھروں میں جاکر یہ لوگ حضرت رسول کریم ~صل۲~ کو اور اسلام کو نعوذ باللہ گالیاں دیتے ہیں ` مگر ہم لوگ کسی مخالفت کی وجہ سے حق کو نہیں چھوڑ سکتے - ہم کسی پر فتوی اس بناء پر نہیں لگاتے کہ یہ ظاہر کچھ اور کرتا ہے اور اس کے دل میں کچھ اور ہے - بلکہ ہم شریعت کے حکم کے ماتحت اسی بات پر بحث کرتے ہیں جسے انسان آپ ظاہر کرتا ہے -
    اس کے بعد میں جناب آپ کے سامنے اپنی جماعت کے عقائد پیش کرتا ہوں ` تاکہ جناب غور فرما سکیں کہ ان عقائد میں کونسی بات خلاف اسلام ہے -
    ۱ - ہم لوگ یقین رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ مو جود ہے اور اس کی ہستی پر ایمان لانا سب سے بڑی صداقت کا اقرار کرنا ہے نہ کہ وہم و گمان کی اتباع -۲ - ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے` اس کا کوئی شریک نہیں نہ زمین میں نہ آسمان میں` اس کے سوا باقی سب کچھ مخلوق ہے - اور ہر آن اس کی امداد اور سہارے کی محتاج ہے نہ اس کا کوئی بیٹا ہے نہ بیٹی نہ باپ نہ ماں نہ بیوی نہ بھائی وہ اپنی توحید اور تفرید میں اکیلا ہے -۳ - ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک اور تمام عیوب سے منزہ ہے اور تمام خوبیوں کی جامع ہے - کوئی عیب نہیں جو اس میں پایا جاتا ہو اور کوئی خوبی نہیں جو اس میں نہ پائی جاتی ہو - اس کی قدرت لا انتہا ہے اس کا علم غیر محدود` اس نے ہر ایک شے کا احاطہ کیا ہے اور کوئی چیز نہیں جو اس کا احاطہ کر سکے وہ اول ہے وہ آخر ہے وہ ظاہر ہے وہ باطن ہے وہ خالق جمیع کائنات کا اور مالک ہے کل مخلوقات کا - اس کا تصرف نہ پہلے کبھی باطل ہوا نہ اب باطل ہے نہ آئندہ باطل ہو گا وہ زندہ ہے اس پر کبھی موت نہیں` وہ قائم ہے اس پر کبھی زوال نہیں` اس کے تمام کام ارادے سے ہوتے ہیں نہ کہ اضطراری طور پر - اب بھی وہ اسی طرح دنیا پر حکومت کر رہا ہے جس طرح کہ وہ پہلے کرتا تھا` اس کی صفات کسی وقت بھی معطل نہیں ہوتیں - وہ ہر وقت اپنی قدرت نمائی کر رہا ہے -۴ - ہم یقین رکتھے ہیں ملائکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوک ہیں اور کے مصداق ہیں` اس کی حکمت کاملہ نے انہیں مختلف قسم کے کاموں کے لیے پیدا کیا ہے وہ واقع میں موجود ہیں` ان کا ذکر استعارۃ نہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے اسی طرح محتاج ہیں جس طرح کہ انسان یا دیگر مخلوقات اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے اظہار کے لیے ان کا محتاج نہیں وہ اگر چاہتا تو بغیر ان کو پیدا کرہنے کے اپنی مرضی ظاہر کرتا` مگر اس کی حکمت کاملہ نے اس مخلوق کو پیدا کرناچاہا اور وہ پیدا ہو گئی` جس طرح سورج کی روشنی کے ذریعہ سے انسانی آنکھوں کو منور کرنے اور روٹی سے اس کا پیٹ بھرنے سے اللہ تعالیٰ سورج اور روٹی کا محتاج نہیں ہو جاتا اسی طرح ملائکہ کے ذریعہ سے اپنے بعض ارادوں کے اظہار سے وہ ملائکہ کا محتاچ نہیں ہو جاتا - ۵ - ہم یقین رکھتے ہیں کہ خدا اپنے بندوں سے کلام کرتا ہے اور اپنی مرضی ان پر ظاہر کرتا ہے یہ کلام خاص الفاظ میں نازل ہوتا ہے اور اس کے نزول میں بندے کا کوئی دخل نہیں ہوتا نہ اس کا مطلب بندے کا سوچا ہوا ہوتا ہے نہ اس کے الفاظ بندے کے تجویز کئے ہوتے ہیں` معنی بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں اور الفاظ بھی اسی کی طرف سے - وہی کلام انسان کی حقیقی غذا ہے اور اسی سے انسان زندہ رہتا ہے اور اسی کی ذریعہ سے اسے اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا ہوتا ہے - وہ کلام اپنی قوت اور شوکت میں بے مثل ہوتا ہے اور اس کی مثال کوئی بندہ نہیں لا سکتا وہ علوم کے بے شمار خزانے اپنے ساتھ لاتا ہے اور ایک کان کی طرح ہوتا ہے جسے جس قدر کھودو اسی قدر اس میں سے قیمتی جواہرات نکلتے چلے آتے ہیں بلکہ کانوں سے بھی بڑھ کر - کیونکہ ان کے خزینے ختم ہو جا تے ہیں مگر اس کلام کے معارف ختم نہیں ہوتے - یہ کلام ایک سمندر کی طرح ہوتا ہے جس کی سطح پر عنبر تیرتا پھرتا ہے اور جس کی تہ پر موتی بچھے ہوئے ہوتے ہیں - جو اس کے ظاہر پر نظر کرتا ہے اس کی خوشبو کی مہک سے اپنے دماغ کو معطر پاتا ہے اور جو اس کے اندر غوطہ لگاتا ہے دولت علم و عرفان سے مالا مال ہو جاتا ہے -
    یہ کلام کئی قسم کا ہوتا ہے کبھی احکام و شرائع پر مشتمل ہوتا ہے کبھی مواعظ و نصائح پر` کبھی اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اپنی خوشنودی کا اظہار کرتا ہے - اور کبھی اپنی ناپسندیدگی کا علم دیتا ہے - اور کبھی پیار اور محبت کی باتوں سے اس کے دل کو خوش کرتا ہے کبھی زجر و توبیخ سے اسے اس کے فرض کی طرف متوجہ کرتا ہے کبھی اخلاق فاضلہ کے باریک راز کھولتا ہے - کبھی مخفی بدیوں کا علم دیتا ہے - غرض ہم ایمان رکھتے ہیں کہ خدا اپنے بندوں سے کلام کرتا ہے اور وہ کلام مختلف حالات اور مختلف انسانوں کے مطابق مختلف مدارج کا ہوتا ہے اور مختلف صورتوں میں نازل ہوتا ہے اور تمام کلاموں سے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کئے ہیں قرآن کریم اعلیٰ و افضل اور اکمل ہے اور اس میں جو شریعت نازل ہوئی ہے اور جو ہدایت دی گئی ہے وہ ہمیشہ کے لیے ہے` کوئی آیندہ کلام اسے منسوخ نہیں کرے گا-
    ۶ - اسی طرح ہم یقین رکھتے ہیں کہ جب کبھی بھی دنیا تاریکی سے بھر گئی ہے اور اور لوگ فسق و فجور میں مبتلا ہو گئے ہیں اور بلا آسمانی مدد کے شیطان کے پنجے سے رہائی پانا ان کے لیے مشکل ہو گیا ہے اللہ تعالیٰ اپنی شفقت کاملہ اور رحم بے اندازہ کے سبب اپنے نیک اور پاک اور مخلص بندوں میں سے بعض کو منتخب کر کے دنیا کی راہنمائی کے لیے بھیجتا ہے - جیسا کہ وہ فرماتا ہے یعنی کوئی قوم نہیں ہے جس میں ہماری طرف سے نبی نہ آچکا ہو اور یہ بندے اپنے پاکیزہ عمل اور بے عیب رویہ سے لوگوں کے لیے خضر راہ بنتے ہیں اور ان کے ذریعے سے وہ اپنی مرضی سے دنیا کو آگاہ کرتا رہتا ہے جن لوگوں نے ان سے منہ موڑا وہ ہلاکت کو سونپے گئے اور جنہوں نے ان سے پیار کیا وہ خدا کے پیارے ہو گئے اور برکتوں کے دروازے ان کے لیے کھولے گئے اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ان پر نازل ہوئیں اور اپنے سے بعد آنے والوں کے لیے وہ سردار مقرر کئے گئے اور دونوں جہانوں کی بہتری ان کے لیے مقدر کی گئی -
    اور ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ خدا کے فرستادے جو دنیا کو دنیا کو ظلمت کی بدی سے نکال کر نیکی کی روشنی کی طرف لاتے رہے ہیں` مختلف مدارج اور مختلف مقامات پر فائز تھے اور ان سب کے سردار حضرت محمد مصطفٰے ~صل۲~ تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے سید ولد آدم قرار دیا کافہ للناس مبعوث فرمایا اور جن پر اس نے تمام علوم کاملہ ظاہر کئے اور جن کی اس نے اس رعب و شوکت سے مدد کی کہ بڑے بڑے جابر بادشاہ ان کے نام سنکر تھرا اٹھتے تھے اور جن کے لیے اس نے تمام زمین کو مسجد بنا دیا` حتیٰ کہ چپہ چپہ زمین پر ان کی امت نے خدائے واحدہ لا شریک کے لیے سجدہ کیا اور زمین عدل و انصاف سے بھر گئی بعد اس کے وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی تھی - اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ اگر پہلے انبیاء بھی اس نبی کامل کے وقت میں ہوتے تو انہیں اس کی وساطت کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا جیسا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے - واذ اخذ اللہ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب و حکمت ثم جائکم رسول مصدق لما معکم لتومنن بہ ولتنصرنہ ) آل عمران ع۹( اور جیسا کہ پیغمبر ~صل۲~ نے فرمایا ہے کہ لو کان موسی و عیسی حیین لما وسعھما الا اتباعی - اگر موسی اور عیسی زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری اطاعت کے سوا کوئی چارہ نہ تھا -
    ۷ - ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعائیں سنتا ہے اور ان کی مشکلات کو ٹالتا ہے وہ ایک زندہ خدا ہے جس کی زندگی کو انسان ہر زمانے میں اور ہر وقت محسوس کرتا ہے - اس کی مثال اس سیڑھی کی نہیں جسے کنواں بنانے والا بناتا ہے اور جب وہ کنواں مکمل ہو جاتا ہے تو سیڑھی کو توڑ ڈالتا ہے کہ وہ اب کسی مصرف کی نہیں رہی اور کام میں حارج ہوگی' بلکہ اس کی مثال اس نور کی ہے جس کے بغیر سب کچھ اندھیرا ہے اور اس روح کی ہے جس کے بغیر ہر طرف موت ہی موت ہے اس کے وجود کو بندوں سے جدا کر دو تو وہ ایک جسم بے جان رہ جاتے ہیں یہ نہیں ہے کہ اس نے کبھی دنیا کو پیدا کیا اور اب خاموش ہو کر بیٹھ گیا بلکہ وہ ہر وقت اپنے بندوں سے تعلق رکھتا ہے اور ان کے عجز و انکسار پر توجہ کرتا ہے اور اگر وہ اسے بھول جائیں تو وہ خود اپنا وجود انہیں یاد دلاتا ہے اور اپنے خاص پیغام رسانوں کے ذریعے ان کو بتاتا ہے کہ انی قریب اجیب دعوہ الداع اذا دعان فلیستجیبوالی ولیومنوا بی لعلھم یرشدون )سورہ البقرہ ۳۲ ع( میں قریب ہوں ہر ایک پکارنے والے کی آواز کو جب وہ مجھے پکارتا ہے سنتا ہوں - پس چاہیے کہ وہ میری باتوں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ ہدایت پائیں -
    ۸ - ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی خاص الخاص تقدیر کو دنیا میں جاری کرتا رہتا ہے - صرف یہی قانون قدرت اس کی طرف سے جاری نہیں جو طبعی قانون کہلاتا ہے` بلکہ اس کے علاوہ اس کی ایک خاص تقدیر بھی جاری ہے جس کے ذریعے وہ اپنے قوت اور شوکت کا اظہار کرتا ہے اور اپنی قدرت کا پتہ دیتا ہے یہ وی قدرت ہے جس کا بعض نادان اپنی کم علمی کی وجہ سے انکار کر دیتے ہیں اور سوائے طبعی قانون کے اور کسی قانون کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے اور اسے قانون قدرت کہتے ہیں` حالانکہ وہ طبعی قانون قانون تو کہلا سکتا ہے مگر قانون قدرت نہیں کہلا سکتا` اس کے سوا اس کے اور بھی قانون ہیں جن کے ذریعے سے وہ اپنے پیاروں کی مدد کرتا ہے اور ان کے دشمنوں کو تباہ کرتا ہے بھلا اگر ایسے کوئی قانون موجود نہ ہوتے تو یہ کس طرح ممکن تھا کہ ضعیف اور کمزور موسیٰ فرعون جیسے جابر بادشاہ پر غالب آجاتا - یہ اپنے ضعف کے باوجود عروج پاجاتا اور وہ اپنی طاقت کے باوجود برباد ہو جاتا` پھر اگر جوئی اور قانون نہیں تو کس طرح ہو سکتا تھا کہ سارا عرب مل کر محمد رسول اللہ ~صل۲~ کی تباہی کے درپے ہوتا مگر اللہ تعالیٰ آپکو ہر میدان میں غالب کرتا اور ہی حملہ دشمن سے محفوظ رکھتا اور آخر دس ہزار قدوسیوں سمیت اس سرزمین پر آپ ~صل۲~ چڑھ آتے جس میں سے صرف ایک جانثار کی معیت میں آپکو نکلنا پڑا تھا - کیا قانون طبعی ایسے واقعات پیش کر سکتا ہے ہر گز نہیں - وہ تو ہمیں یہی بتاتا ہے کہ ہر ادنیٰ طاقت اعلیٰ طاقت کے مقابل پر تور دی جاتی ہے اور ہر کمزور طاقتور کے ہاتھوں ہلاک ہوتاہے -
    ۹ - ہم اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ مرنے کے بعد انسان پھر اٹھایا جائیگا اور اس کے اعمال کا اس سے حساب لیا جائیگا - جو اچھے اعمال کرنے والا ہوگا اس سے نیک سلوک کیا جائے گا اور جو اللہ تعالیٰ کے احکام کو توڑنے والا ہوگا اے سخت سزا دی جائیگی اور کوئی تدبیر نہیں جو انسان کو اس بعثت بچا سکے` خواہ اس کے جسم کو ہوا کے پرندے یا جنگل کے درندے کھا جائیں - خواہ زمین کے کیڑے اس کے ذرے ذرے کو جد کر دیں اور پھر ان کو دوسری شکلوں میں تبدیل کر دیں اور خواہ اس کی ہڈیاں تک جلا دی جائیں`
    وہ پھر بھی اٹھایا جائیگا اور اپنے پیدا کرنی والے کے سامنے حساب دیگا - کیونکہ اس کی قدرت کاملہ اس امر کی محتاج نہیں کہ اس کا پہلا جسم ہی موجود ہو تب ہی وہ اس کو پیدا کر سکتا ہے بلکہ اصل بات یہ ہی کہ وہ اس کے باریک سے باریک ذرہ یا لطیف حصہ روح سے بھی پھر اس کو پیدا کر سکتا ہے اور ہی گا بھی اسی طرح - جسم خاک ہو جاتے ہیں مگر ان کے باریک ذرات فنا نہیں ہوتے نہ وہ روح جو جسم انسانی میں ہوتی ہے خدا کے اذن کے بغیر فنا ہو سکتی ہے - ۱۰ - ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے منکر اور اس کے دین کے مخالف اگر وہ ان کو اپنی رحمت کاملہ سے بخش نہ دے` ایک ایسے مقام پر رکھے جائیں گے جسے جہنم کہتے ہیں اور جس میں اگ اور شدید سردی کا عذاب ہوگا جس کی غرض محض تکلیف دینا نہ ہو گی بلکہ ان میں ان لوگوں کی آئندہ اصلاح مدنظر ہو گی` اس جگہ سوائے رونے پیٹنے اور دانت پیسنے کے ان کے لیے کچھ نہ ہو گا حتیٰ کہ وہ دن آجائے جب اللہ تعالیٰ کا رحم جو ہر چیز پر غالب ہے ان کو ڈھانپ لے اور یاتی علے جھنم زمان لیس فیھا احد و نسیم الصباتحرک ابوابھا کا وعدہ پورا ہو جائے تفسیر معالم التنزیل زیر آیت فاماالذین شقوا )سورہ ھود ع۹(
    ۱۱ - اور ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں پر ایمان لانے والے ہیں اور اس کے احکام پر جان و دل سے ایمان لاتے ہیں اور انکسار اور عاجزی کی راہوں پر چلتے ہیں اور بڑے ہو کر چھوٹے بنتے ہیں - اور امیر ہوکر غریبوں جیسی زندگی بسر کرتے ہیں اللہ کی مخلوک کی خدمت گزاری کرتے ہیں اور اپنے آرام پر لوگوں کی راحت کو مقدم رکھتے ہیں اور ظلم اور تعدی اور خیانت سے پرہیز کرتے ہیں اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہوتے ہیں اور اخلاق رزیلہ سے مجتنب رہتے ہیں وہ لوگ ایک ایسے مقام پر رکھے جائیں گے جسے جنت کہتے ہیں آڑ جس میں راحت اور چین کے سوا دکھ اور تکلیف کا نام و نشان تک نہ ہوگا - خدا تعالیٰ کی رضا انسان کو حاصل ہوگی اور اس کا دیدار اسے نصیب ہوگا اور وہ اس کے فضل کی چادر میں لپیٹا جا کر اس کا ایسا قرب حاصل کرے گا کہ گویا اس کا آئنہ ہو جائیگا اور صفات الٰہیہ اس میں کامل طور پر جلوہ گر ہو نگی - اور اس کی ساری ادنیٰ خواہشات مٹ جائیں گی اور اس کی مرضی خدا کی مرضی ہو جائے گی اور وہ ابدی زندگی پاکر خدا کا مظہر ہو جائے گا -
    یہ ہمارے عقیدے ہیں اوران کے سوا ہم نہیں جانتے کہ اسلام میں داخل کرنے والے عقائد کیا ہیں - تمام آئمہ اسلام انہیں باتوں کو عقائد اسلام قرار دیتے چلے آئے ہیں اور ہم ان سے اس امر میں بکلی متفق ہیں- ہمارا دوسرے لوگوں سے اختلاف
    شاید جناب عالی حیران ہوں کہ جب سب عقائد اسلام کو ہم مانتے ہیں تو پھر ہم میں اور دوسرے لوگوں میں کیا اختلاف ہے اور بعض علماء کو ہمارے خلاف اس قدر جوش اور تعصب کیوں ہے اور کیوں وہ ہم پر کفر کا فتوی لگاتے؟ سو اے امیر والا شان! اللہ تعالیٰ آپ کو شرور دنیا سے محفوظ رکھے اور اپنے فضل کے دروازے آپ کے لیے کھول دے! اب میں وہ اعتراض بیان کرتا ہوں جو ہم پر کئے جاتے ہیں اور جن کے سبب ہمیں اسلام سے خارج بیان کیا جاتا ہے-
    ۱ - ہمارے مخالفوں کا سب سے پہلا اعتراض تو ہم پر یہ ہے کہ ہم حضرت مسیح ناصری ؑ کو وفات یافتہ مانتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اس طرح ہم حضرت مسیح کی ہتک کرتے ہیں اور قرآن کریم کو جھٹلاتے ہیں اور رسول کریم ~صل۲~ کے فیصلے کو رد کرتے ہیں` لیکن گو یہ بات تو بالکل حق ہے کہ ہم حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کو وفات یافتہ تسلیم کرتے ہیں` لیکن یہ درست نہیں کہ ہم اس طرح مسیح ؑ کی ہتک کرتے ہیں اور قرآن مجید کو جھٹلاتے ہیں اور رسول کریم ~صل۲~ کے فیصلے کو رد کرتے ہیں کیونکہ ہم جس قدر غور کرتے ہیں ہمیں یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ الزامات ہم پر مسیح ؑ کے وفات یافتہ ماننے سے عاید نہیں ہوتے بلکہ اس کے خلاف اگر ہم ان کو زندہ مانیں تب یہ الزامات ہم پر لگ سکتے ہیں-
    ہم لوگ مسلمان ہیں اور بحثیت مسلمان ہونے کے ہمارا خیال سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے رسول ~صل۲~ کی عزت کی طرف جاتا ہے اور گو ہم سب رسولوں کو مانتے ہیں` لیکن ہماری محبت اور غیرت بالطبع اس نبی کی لیے زیادہ جوش میں آتی ہے جس نے ہمارے بوجھوں کو ہلکا کرنے کے لیے اپنے سر پر بوجھ اٹھایا اور ہمیں مرتا ہوا دیکھ کر اس نے اس قدر غم کیا کہ گویا خود اپنے اوپر موت وارد کرلی اور ہمیں سکھ پہنچانے کے لیے ہر قسم کے سکھوں کو ترک کیا اور ہمیں اوپر اٹھانے کے لیے خود نیچے کو جھکا- اس کے دن ہماری بہتری کی فکر میں صرف ہوئے اور اس کی راتیں ہمارے لیے جاگتے کٹیں- حتیٰ کہ کھڑے کھڑے اس کے پاوں سوج جاتے اور خود بے گناہ ہوتے ہوئے ہمارے گناہوں کو دور کرنے کے لیے اور ہمیں عزاب سے بچانے کے لیے اس نے اس قدر گرنہ و زاری کی کہ اس کی سجدہ گاہ تر ہوگئی اور اس کی رقت ہمارے لیے اس قدر بڑھ گئی کہ اس کے سینے کی آواز ابلتی ہوئی دیگ سے بھی بڑھ گئی-
    اس نے خدا تعالیٰ کے رحم کو ہمارے لیے کھینچا اور اس کی رضاء کو ہمارے لیے جزب کیا اور اس کے فضل کی چادر ہم کو اڑھائی اور اس کی رحمت کا لبادہ ہمارے کندھوں پر ڈال دیا اور اس کے وصال کی راہیں ہمارے لیے تلاش کیں اور اس سے اتحاد کا طریق
    ہمارے لیے دریافت کیا اور ہمارے لیے وہ سہولتیں بہم پہنچائیں کہ اس سے پہلے کسی نبی نے اپنی امت کی لیے بہم نہ پہنچائی تھیں-
    ہمیں کفر کے خطاب نہایت بھلے معلوم ہوتے ہیں بہ نسبت اس کے ہم اپنے پیدا کرنے والے اور اپنے پالنے والے اور اپنے زندگی بخشنے والے اور اپنی حفاظت کرنے والے اور رزق دینے والے اور اپنے علم بخشنے والے اور اپنے ہدایت دطا کرنے والے خدا کے برابر مسیح ناصری کو درجہ دیں اور یہ خیال کریں کہ جس طرح وہ آسمانوں پر بلا کھانے اور پینے کے زندہ ہے` مسیح ناصری بھی بلا حوائج انسانی کو پورا کرنے کے آسمان پر بیٹھا ہے- ہم مسیح علیہ السلام کی عزت کرتے ہیں مگر صرف اس لیے کہ وہ ہمارے خدا کا نبی ہے` ہم اس سے محبت کرتے ہیں مگر صرف اس لیے کہ خدا سے اسے محبت تھی اور خدا کو اس سے محبت تھی- اس سے ہمارا سب تعلق طفیلی ہے- پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ اس کی خاطر ہم اپنے خدا کی ہتک کریں اور اس کے احسانوں کو فراموش کر دیں اور مسیحی پادریوں کو جو اسلام اور قرآن کے دشمن ہیں مدد دیں اوف ان کو یہ کہنے کا موقع دیں کہ دیکھو وہ جو زندہ آسمان پر بیٹھا ہے کیا وہ خدا نہیں- اگر وہ انسان ہوتا تو کیوں باقی انسانوں کی طرح مر نہ جاتا` ہم اپنے منہ سے کسطرح خدا کی توحید پر حملہ کریں اور اپنے ہاتھ سے کیونکر اس کے دین پر تبر رکھدیں` اس زمانے کے مولوی اور عالم جو چاہیں ہمیں کہیں اور جس طرح ہم سے سلوک کریں اور کروائیں- خواہ ہمیں پھانسی دیں` خواہ سنگسار کریں ہم سے تو مسیح کی خاطر خدا نہیں چھوڑا جاسکتا اور ہم اس گھڑی سے موت کو ہزار درجہ بہتر سمجھتے ہیں جب ہماری زبانیں یہ کفرکا کلمہ کہیں کہ ہمارے خدا کے ساتھ وہ بھی زندہ بیٹھا ہے جسے مسیحی خدا کا بیٹا کہہ کر خدائے قیوم کی ہتک کرتے ہیں اگر ہمیں علم نہ ہوتا تو بیشک ہم ایسی بات کہہ سکتے تھے` مگر جب خدا کے فرستادہ نے ہماری آنکھیں کھول دیں اور اس کی توحید اور اس کے جلال اور اس کی شوکت اور اس کی عظمت اور اس کی قدرت کے مقام کو ہمارے لیے ظاہر کر دیا تو اب خواہ کچھ بھی ہو ہم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی بندہ کو اختیار نہیں کر سکتے اور اگر ہم ایسا کریں تو ہم جانتے کہ ہمارا ٹھکانا کہاں ہوگا کیونکہ سب عزتیں اور سب مدارج اسی کی طرف سے ہیں` ہمیں جب صاف نظر آتا ہے کہ مسیح کی زندگی میں ہمارے رب کی ہتک ہے تو ہم اس عقیدہ کو کیونکر صحیح سمجھ تسلیم کر لیں اور گو ہماری سمجھ سے یہ بات باہر ہے کہ کیوں مسیح کی وفات ماننے سے اس کی ہتک ہو جاتی ہے جب اس سے بڑے درجہ کے نبی فوت ہوگئے اور ان کی ہتک نہ ہوئی تو مسیح علیہ السلام کے فوت ہو جانے سے ان کی ہتک کس طرح ہو جائیگی` لیکن ہم کہتے ہیں کہ اگر کسی وقت ہمیں اس بات سے چارہ نہ ہو کہ یا خدا تعالیٰ کی ہتک کریں یا مسیح علیہ السلام کی تو ہم بخوشی اس عقیدے کو تسلیم کرلیں گے جس سے مسیح علیہ السلام کی ہتک ہوتی ہو مگر اس کوہر گز تسلیم نہیں کریں گے جس میں خدا تعالیٰ کی ہتک ہوتی ہو اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام بھی جو اللہ تعالیٰ کے عشاق میں سے تھے کبھی گوارا نہ کریں گے کہ ان کی عزت تو قائم کی جائے اور اللہ تعالیٰ کی توحید کو صدمہ پہنچایا جائے` لن یستنکف المسیح ان یکون عبداللہ ولاالملعکہ المقربون- )سورہ النساء ع۲۴(
    ہم خدا کے کلام کو کہاں لے جائیں اور جس منہ سے وکنت علیھم شھیداما دمت فیھم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم وانت علیٰ کل شی ء شھید )مائدہ ع۱۶( کی آیت پڑہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے خود حضرت مسیح ناصری کی زبانی بیان فرمایا ہے کہ مسیحی لوگ مسیح علیہ السلام کی وفات کے بعد بگڑے ہیں- ان کی حیات میں وہ اپنے سچے دین پر ہی قائم رہے ہیں` اسی منہ سے یہ کہیں کہ حضرت مسیح ؑ زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں` ہم خدا تعالیٰ کے کلام یٰعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی ومطھرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الیٰ یوم القیامہ )سورہ ال عمران ع۶( کو کس طرح نظر انداز کر دیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا رفع ان کی وفاات کے بعد ہوا` بیشک وہ جو خدا سے زیادہ فصیح زبان جاننے کے دعویدار ہیں کہہ دیں کہ اس نے متوفیک کو جو حضرت مسیح ؑ کی وفات کی خبر دیتا ہے پہلے بیان کر دیا ہے اصل میں رافعک پہلے چاہیے تھا` مگر ہم تو اللہ تعالیٰ کے کلام کو تمام کلاموں سے افصح جانتے ہیں اور ہر غلطی سے مبرا سمجھتے ہیں` ہم مخلوک ہو کر اپنے خالق کی غلطیاں کیونکر نکالیں اور جاہل ہوکر علیم کو سبق کیونکر دیں` ہم سے کہا جاتا ہے کہ تم یہ کہو کہ خدا کے کلام میں غلطی ہو گئی مگر یہ نہ کہو کہ خود ہم سے خدا کا کلام سمجھنے میں غلطی ہو گئی` مگر ہم اس نصیحت کو کس طرح تسلیم کر لیں کہ اس میں ہمیں صریح ہلاکت نظر آتی ہے- آنکھیں ہوتے ہوئے ہم گڑھے میں ہم کس طرح گر جائیں اور ہاتھ ہوتے ہوئے زہر کے پیالے کو منہ سے کیوں نہ ہٹائیں-
    ‏Dawat1
    ‏6] 577 8 50 100 [gptbox دعوۃ الامیر|
    دعوت الامیر
    ~بسم۲~
    نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
    ‏]81 [pخدا کے فضل اور رحم کے ساتھ
    ھوالناصر
    از طرف عبداللہ الضعیف میرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ~ن۲~ المسیح وامام جماعت احمدیہ
    بطرف اعلیٰ حضرت امیر امان اللہ خان بہادر بادشاہ افغانستان و ممالک محروسہ
    السلام علیکم ورحمہ اللہ و برکاتہ
    جناب من!
    یہ چند اوراق جو جناب کی خدمت میں جناب کے علو مرتبت کے خیال سے فائدہ عام کی نیت سے طبع کرا کر ارسال ہیں- میں امید رکھتا ہوں کہ جناب باوجود کم فرصتی کے ان کے مطالعہ کی تکلیف گوارا کریں گے اور مجھے ممنون احسان بنائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے حضور سرخروئی حاصل فرمائیں گے-
    اس مکتوب کے لکھنے کی دو غرضیں ہیں- )۱( ایک یہ کہ آپ تک میں اس آواز کو پہنچا دوں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا کو مرکز محمدیت پر جمع کرنے کے لیے بلند ہوئی ہے اور )۲( یہ کہ جناب کہ زیر سایہ جماعت احمدیہ کے کچھ افراد رہتے ہیں ان کے عقائد اور حالات سے جناب کو آگاہ کروں تاکہ ان کے متعلق کوئی امر جناب کی خدمت میں پیش ہو تو جناب اپنے ذاتی علم سے اس میں فیصلہ کرنے کے قابل ہوں
    جناب من!
    پیشتر اس کہ میں کوئی اور بات کہوں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کسی نئے مذہب کی پابند نہیں ہے بلکہ اسلام اس کا مذہب ہے اور اس سے ایک قدم ادھر ادھر ہونا موجب شقادت خیال کرتی ہے- اس کا نیا نام نئے مذہب پر دلالت نہیں کرتا ہے بلکہ اس کی صرف یہ غرض ہے کہ یہ جماعت ان دوسرے لوگوں سے جو اسی کی طرح اسلام کی طرف اپنے آپکو منسوب کرتے ہیں` ممتاز حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش ہو سکے- اسلام ایک پیارا نام ہے جو خود خدا تعالیٰ امت محمدیہ کو بخشا ہے اور اس نام کو ایسی عظمت دی ہے کہ متعلق وہ پہلے انبیاء کے ذریعے پیشگوئیاں کرتاچلا آیا ہے چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
    یعنی اس نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے` پہلی کتابوں میں بھی اور اس کتاب میں بھی- چنانچہ جب ہم پہلی کتب کو دیکھتے ہیں تو یسعیاہ میں یہ پیشگوئی اب تک درج پاتے ہیں کہ
    `تو ایک نئے نام سے کہلائے گا جسے خداوند کا منہ خود رکھ دے گا - )یسعیاہ باب ۶۲(
    ‏ 15] [pپس اس نام سے زیادہ مقدس نام اور کونسا ہو سکتا ہے جسے خود خدا نے اپنے بندوں کے لئے چنا اور جسے اس قدر بزرگی دی کہ پہلے نبیوں کی زبان سے اس کے لئے پیشگوئیاں کرائیں اور کون ہے جو اس مقدس نام کو چھوڑنا پسند کر سکتا ہے؟ ہم اس نام کو اپنی جان سے زیادہ عزیز سمجھتے ہیں اور اس مذہب کو اپنی حقیقی حیات کا موجب - مگر چونکہ اس زمانے میں مختلف لوگوں نے اپنے اپنے خیال کی طرف رجوع کر کے اپنے مختلف نام رکھ لئے ہیں` اس لئے ضروری تھا کہ ان سے اپنے آپ کو ممتاز کرنے کے لئے کوئی نام اختیار کیا جاتا - اور بہترین نام اس زمانے کی حالت کو مد نظر رکتے ہوئے احمدی ہی تھا` کیونکہ یہ زمانہ رسول کریمﷺ~ کے لائے ہوئے پیغام کی اشاعت کا زمانہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی حمد کی اشاعت کا زمانہ ہے - پس آپ کی صفت احمدیت کے ظہور کے وقت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس نام سے بہتر کوئی امتیازی نام اس وقت نہیں ہو سکتا تھا -
    غرض ہم سچے دل سے مسلمان ہیں اور ہر ایسی بات کو جس کا ماننا ایک سچی مسلمان کے لیے ضروری ہے مانتے ہیں اور ہر وہ بات جس کا رد کرنا ایک سچے مسلمان کے لئے ضروری ہے اسے رد کرتے ہیں اور وہ شخص جو باوجود تمام صداقتوں کی تصدیق کرنے اور اللہ تعالیٰ کے تمام احکام کو ماننے کے ہم پر کفر کا الزام لگاتا ہے اور کسی نئے مذہب کے ماننے والا قرار دیتا ہے وہ ہم پر ظلم کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہے - انسان اپنے منہ کی بات پر پکڑا جاتا ہے نہ کہ اپنے دل کے خیال پر - کون کہہ سکتا ہے کہ کسی کے دل میں کیا ہے؟ جو شخص کسی دوسرے پر الزام لگاتا ہے کہ جو کچھ یہ منہ سے کہتا ہے وہ اس کے دل میں نہیں ہے` وہ خدائی کا دعوی کرتا ہے کیونکہ دلوں کا جاننے والا صرف اللہ اس کے سوا کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کسی کے دل میں کیا ہے- رسول کریمﷺ~ سے زیادہ عارف کون ہوگا - آپ اپنی نسبت فرماتے ہیں -
    یعنی تم میں سے بعض لوگ میرے پاس جھگڑا لاتے ہیں اور میں بھی آدمی ہوں - ممکن ہے کہ کوئی آدمی تم میں سے دوسرے کے نصبت عمدہ طور پر جھگڑا کرنے والا ہو` پس اگر میں تم میں سے کسی کو اس کے بھائی کا حق دلا دوں تو میں اسے ایک آگ کا ٹکڑا کاٹ کر دیتا ہوں اسے چاہیے کہ اسے نہ لے -
    اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ اسامہ بن زیدؓ کو رسول کریم~صل۲~ نے ایک فوج کا افسر بنا کر بھیجا - ایک شخص کفار میں سے ان کو ملا جس پر انہوں نے حملہ کیا` جب وہ اس کو قتل کرنے لگے تو اس نے کلمہ شہادت پڑھ دیا - مگر باوجود اس کے انہوں نے اسے قتل کر دیا - جب رسول کریم~صل۲~ کو یہ خبر پہنچی تو آپﷺ~ نے ان سے دریافت کیا کہ انہوں نے کیوں ایسا کیا ہے اس پر اسامہؓ نے کہا یا رسول اللہ وہ ڈر سے اسلام ظاہر کرتا تھا آپﷺ~ نے فرمایا
    تونے اس کا دل پھاڑ کر کیوں نہ دیکھا - یعنی تجھے کیا معلوم تھا کہ کہ اس نے اظہار اسلام ڈر سے کیا تھا یا سچے دل سے کیونکہ دل کا حال انسان سے پوشیدہ ہوتا ہے -
    غرض فتوی منھ کی بات پر لگایا جاتا ہے نہ کہ دل کے خیالات پر- کیونکہ دل کے خیالات سے صرف اللہ تعالیٰ آگاہ ہوتا ہے اور جو بندہ کسی کے دل کے خیالات پر فتوی لگاتا ہے وہ جھوٹا ہے - اور اللہ تعالیٰ کے حضور قابل مواخذہ ہے -
    پس ہم لوگ یعنی جماعت احمدیہ کے افراد جبکہ اپنے آپکو مسلمان کہتے ہیں تو کسی کا یہ حق نہیں کہ وہ یہ فتوی ہم پر لگائے کہ ان کا اسلام صرف دکھاوے کا ہے ورنہ یہ دل سے اسلام کے منکر ہیں یا رسول کریم ~صل۲~ نہیں مانتے اور کوئی نیا کلمہ پڑھتے ہیں یا نیا قبلہ انہوں نے بنا رکھا ہے - اگر ہماری نسبت اس قسم کی باتیں کہنی جائز ہیں تو ہم پر اس قسم کے الزامات لگانے والوں کی نسبت ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ ظاہر میں اسلام کا دعوی کرتے ہیں اور اپنے کھروں میں جاکر یہ لوگ حضرت رسول کریم ~صل۲~ کو اور اسلام کو نعوذ باللہ گالیاں دیتے ہیں ` مگر ہم لوگ کسی مخالفت کی وجہ سے حق کو نہیں چھوڑ سکتے - ہم کسی پر فتوی اس بناء پر نہیں لگاتے کہ یہ ظاہر کچھ اور کرتا ہے اور اس کے دل میں کچھ اور ہے - بلکہ ہم شریعت کے حکم کے ماتحت اسی بات پر بحث کرتے ہیں جسے انسان آپ ظاہر کرتا ہے -
    اس کے بعد میں جناب آپ کے سامنے اپنی جماعت کے عقائد پیش کرتا ہوں ` تاکہ جناب غور فرما سکیں کہ ان عقائد میں کونسی بات خلاف اسلام ہے -
    ۱ - ہم لوگ یقین رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ مو جود ہے اور اس کی ہستی پر ایمان لانا سب سے بڑی صداقت کا اقرار کرنا ہے نہ کہ وہم و گمان کی اتباع -
    ۲ - ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے` اس کا کوئی شریک نہیں نہ زمین میں نہ آسمان میں` اس کے سوا باقی سب کچھ مخلوق ہے - اور ہر آن اس کی امداد اور سہارے کی محتاج ہے نہ اس کا کوئی بیٹا ہے نہ بیٹی نہ باپ نہ ماں نہ بیوی نہ بھائی وہ اپنی توحید اور تفرید میں اکیلا ہے -
    ۳ - ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک اور تمام عیوب سے منزہ ہے اور تمام خوبیوں کی جامع ہے - کوئی عیب نہیں جو اس میں پایا جاتا ہو اور کوئی خوبی نہیں جو اس میں نہ پائی جاتی ہو - اس کی قدرت لا انتہا ہے اس کا علم غیر محدود` اس نے ہر ایک شے کا احاطہ کیا ہے اور کوئی چیز نہیں جو اس کا احاطہ کر سکے وہ اول ہے وہ آخر ہے وہ ظاہر ہے وہ باطن ہے وہ خالق جمیع کائنات کا اور مالک ہے کل مخلوقات کا - اس کا تصرف نہ پہلے کبھی باطل ہوا نہ اب باطل ہے نہ آئندہ باطل ہو گا وہ زندہ ہے اس پر کبھی موت نہیں` وہ قائم ہے اس پر کبھی زوال نہیں` اس کے تمام کام ارادے سے ہوتے ہیں نہ کہ اضطراری طور پر - اب بھی وہ اسی طرح دنیا پر حکومت کر رہا ہے جس طرح کہ وہ پہلے کرتا تھا` اس کی صفات کسی وقت بھی معطل نہیں ہوتیں - وہ ہر وقت اپنی قدرت نمائی کر رہا ہے -
    ۴ - ہم یقین رکتھے ہیں ملائکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور کے مصداق ہیں` اس کی حکمت کاملہ نے انہیں مختلف قسم کے کاموں کے لیے پیدا کیا ہے وہ واقع میں موجود ہیں` ان کا ذکر استعارۃ نہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے اسی طرح محتاج ہیں جس طرح کہ انسان یا دیگر مخلوقات اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے اظہار کے لیے ان کا محتاج نہیں وہ اگر چاہتا تو بغیر ان کو پیدا کرہنے کے اپنی مرضی ظاہر کرتا` مگر اس کی حکمت کاملہ نے اس مخلوق کو پیدا کرناچاہا اور وہ پیدا ہو گئی` جس طرح سورج کی روشنی کے ذریعہ سے انسانی آنکھوں کو منور کرنے اور روٹی سے اس کا پیٹ بھرنے سے اللہ تعالیٰ سورج اور روٹی کا محتاج نہیں ہو جاتا اسی طرح ملائکہ کے ذریعہ سے اپنے بعض ارادوں کے اظہار سے وہ ملائکہ کا محتاچ نہیں ہو جاتا -
    ۵ - ہم یقین رکھتے ہیں کہ خدا اپنے بندوں سے کلام کرتا ہے اور اپنی مرضی ان پر ظاہر کرتا ہے یہ کلام خاص الفاظ میں نازل ہوتا ہے اور اس کے نزول میں بندے کا کوئی دخل نہیں ہوتا نہ اس کا مطلب بندے کا سوچا ہوا ہوتا ہے نہ اس کے الفاظ بندے کے تجویز کئے ہوتے ہیں` معنی بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں اور الفاظ بھی اسی کی طرف سے - وہی کلام انسان کی حقیقی غذا ہے اور اسی سے انسان زندہ رہتا ہے اور اسی کی ذریعہ سے اسے اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا ہوتا ہے - وہ کلام اپنی قوت اور شوکت میں بے مثل ہوتا ہے اور اس کی مثال کوئی بندہ نہیں لا سکتا وہ علوم کے بے شمار خزانے اپنے ساتھ لاتا ہے اور ایک کان کی طرح ہوتا ہے جسے جس قدر کھودو اسی قدر اس میں سے قیمتی جواہرات نکلتے چلے آتے ہیں بلکہ کانوں سے بھی بڑھ کر - کیونکہ ان کے خزینے ختم ہو جا تے ہیں مگر اس کلام کے معارف ختم نہیں ہوتے - یہ کلام ایک سمندر کی طرح ہوتا ہے جس کی سطح پر عنبر تیرتا پھرتا ہے اور جس کی تہ پر موتی بچھے ہوئے ہوتے ہیں - جو اس کے ظاہر پر نظر کرتا ہے اس کی خوشبو کی مہک سے اپنے دماغ کو معطر پاتا ہے اور
    جو اس کے اندر غوطہ لگاتا ہے دولت علم و عرفان سے مالا مال ہو جاتا ہے -
    یہ کلام کئی قسم کا ہوتا ہے کبھی احکام و شرائع پر مشتمل ہوتا ہے کبھی مواعظ و نصائح پر` کبھی اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اپنی خوشنودی کا اظہار کرتا ہے - اور کبھی اپنی ناپسندیدگی کا علم دیتا ہے - اور کبھی پیار اور محبت کی باتوں سے اس کے دل کو خوش کرتا ہے کبھی زجر و توبیخ سے اسے اس کے فرض کی طرف متوجہ کرتا ہے کبھی اخلاق فاضلہ کے باریک راز کھولتا ہے - کبھی مخفی بدیوں کا علم دیتا ہے - غرض ہم ایمان رکھتے ہیں کہ خدا اپنے بندوں سے کلام کرتا ہے اور وہ کلام مختلف حالات اور مختلف انسانوں کے مطابق مختلف مدارج کا ہوتا ہے اور مختلف صورتوں میں نازل ہوتا ہے اور تمام کلاموں سے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کئے ہیں قرآن کریم اعلیٰ و افضل اور اکمل ہے اور اس میں جو شریعت نازل ہوئی ہے اور جو ہدایت دی گئی ہے وہ ہمیشہ کے لیے ہے` کوئی آیندہ کلام اسے منسوخ نہیں کرے گا-
    ۶ - اسی طرح ہم یقین رکھتے ہیں کہ جب کبھی بھی دنیا تاریکی سے بھر گئی ہے اور اور لوگ فسق و فجور میں مبتلا ہو گئے ہیں اور بلا آسمانی مدد کے شیطان کے پنجے سے رہائی پانا ان کے لیے مشکل ہو گیا ہے اللہ تعالیٰ اپنی شفقت کاملہ اور رحم بے اندازہ کے سبب اپنے نیک اور پاک اور مخلص بندوں میں سے بعض کو منتخب کر کے دنیا کی راہنمائی کے لیے بھیجتا ہے - جیسا کہ وہ فرماتا ہے
    یعنی کوئی قوم نہیں ہے جس میں ہماری طرف سے نبی نہ آچکا ہو اور یہ بندے اپنے پاکیزہ عمل اور بے عیب رویہ سے لوگوں کے لیے خضر راہ بنتے ہیں اور ان کے ذریعے سے وہ اپنی مرضی سے دنیا کو آگاہ کرتا رہتا ہے جن لوگوں نے ان سے منہ موڑا وہ ہلاکت کو سونپے گئے اور جنہوں نے ان سے پیار کیا وہ خدا کے پیارے ہو گئے اور پرکتوں کے دروازے ان کے لیے کھولے گئے اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ان پر نازل ہوئیں اور اپنے سے بعد آنے والوں کے لیے وہ سردار مقرر کئے گئے اور دونوں جہانوں کی بہتری ان کے لیے مقدر کی گئی -
    اور ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ خدا کے فرستادے جو دنیا کو دنیا کو ظلمت کی بدی سے نکال کر نیکی کی روشنی کی طرف لاتے رہے ہیں` مختلف مدارج اور مختلف مقامات پر فائز تھے اور ان سب کے سردار حضرت محمد مصطفٰے ~صل۲~ تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے سید ولد آدم قرار دیا مبعوث فرمایا اور جن پر اس نے تمام علوم کاملہ ظاہر کئے اور جن کی اس نے اس رعب و شوکت سے مدد کی کہ بڑے بڑے جابر بادشاہ ان کے نام سنکر تھرا اٹھتے تھے اور جن کے لیے اس نے تمام زمین کو مسجد بنا دیا` حتیٰ کہ چپہ چپہ زمین پر ان کی امت نے خدائے واحدہ لا شریک کے لیے سجدہ کیا اور زمین عدل و انصاف سے بھر گئی بعد اس کے وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی تھی - اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ اگر پہلے انبیاء بھی اس نبی کامل کے وقت میں ہوتے تو انہیں اس کی وساطت کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا جیسا الل¶ہ تعالیٰ فرماتا ہے -
    اور جیسا کہ پیغمبر~صل۲~ نے فرمایا ہے کہ
    اگر موسی اور عیسی زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری اطاعت کے سوا کوئی چارہ نہ تھا -
    ۷ - ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعائیں سنتا ہے اور ان کی مشکلات کو ٹالتا ہے وہ ایک زندہ خدا ہے جس کی زندگی کو انسان ہر زمانے میں اور ہر وقت محسوس کرتا ہے - اس کی مثال اس سیڑھی کی نہیں جسے کنواں بنانے والا بناتا ہے اور جب وہ کنواں مکمل ہو جاتا ہے تو سیڑھی کو توڑ ڈالتا ہے کہ وہ اب کسی مصرف کی نہیں رہی اور کام میں حارج ہوگی' بلکہ اس کی مثال اس نور کی ہے جس کے بغیر سب کچھ اندھیرا ہے اور اس روح کی ہے جس کے بغیر ہر طرف موت ہی موت ہے اس کے وجود کو بندوں سے جدا کر دو تو وہ ایک جسم بے جان رہ جاتے ہیں یہ نہیں ہے کہ اس نے کبھی دنیا کو پیدا کیا اور اب خاموش ہو کر بیٹھ گیا بلکہ وہ ہر وقت اپنے بندوں سے تعلق رکھتا ہے اور ان کے عجز و انکسار پر توجہ کرتا ہے اور اگر وہ اسے بھول جائیں تو وہ خود اپنا وجود انہیں یاد دلاتا ہے اور اپنے خاص پیغام رسانوں کے ذریعے ان کو بتاتا ہے کہ
    میں قریب ہوں ہر ایک پکارنے والے کی آواز کو جب وہ مجھے پکارتا ہے سنتا ہوں - پس چاہیے کہ وہ میری باتوں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ ہدایت پائیں -
    ۸ - ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی خاص الخاص تقدیر کو دنیا میں جاری کرتا رہتا ہے - صرف یہی قانون قدرت اس کی طرف سے جاری نہیں جو طبعی قانون کہلاتا ہے` بلکہ اس کے علاوہ اس کی ایک خاص تقدیر بھی جاری ہے جس کے ذریعے وہ اپنے قوت اور شوکت کا اظہار کرتا ہے اور اپنی قدرت کا پتہ دیتا ہے یہ وی قدرت ہے جس کا بعض نادان اپنی کم علمی کی وجہ سے انکار کر دیتے ہیں اور سوائے طبعی قانون کے اور کسی قانون کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے اور اسے قانون قدرت کہتے ہیں` حالانکہ وہ طبعی قانون قانون تو کہلا سکتا ہے مگر قانون قدرت نہیں کہلا سکتا` اس کے سوا اس کے اور بھی قانون ہیں جن کے ذریعے سے وہ اپنے پیاروں کی مدد کرتا ہے اور ان کے دشمنوں کو تباہ کرتا ہے بھلا اگر ایسے کوئی قانون موجود نہ ہوتے تو یہ کس طرح ممکن تھا کہ ضعیف اور کمزور موسیٰ فرعون جیسے جابر بادشاہ پر غالب آجاتا - یہ اپنے ضعف کے باوجود عروج پاجاتا اور وہ اپنی طاقت کے باوجود برباد ہو جاتا` پھر اگر جوئی اور قانون نہیں تو کس طرح ہو سکتا تھا کہ سارا عرب مل کر محمد رسول اللہ ~صل۲~ کی تباہی کے درپے ہوتا مگر اللہ تعالیٰ آپکو ہر میدان میں غالب کرتا اور ہی حملہ دشمن سے محفوظ رکھتا اور آخر دس ہزار قدوسیوں سمیت اس سرزمین پر آپ ~صل۲~ چڑھ آتے جس میں سے صرف ایک جانثار کی معیت میں آپکو نکلنا پڑا تھا - کیا قانون طبعی ایسے واقعات پیش کر سکتا ہے ہر گز نہیں - وہ تو ہمیں یہی بتاتا ہے کہ ہر ادنیٰ طاقت اعلیٰ طاقت کے مقابل پر تور دی جاتی ہے اور ہر کمزور طاقتور کے ہاتھوں ہلاک ہوتاہے -
    ۹ - ہم اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ مرنے کے بعد انسان پھر اٹھایا جائیگا اور اس کے اعمال کا اس سے حساب لیا جائیگا - جو اچھے اعمال کرنے والا ہوگا اس سے نیک سلوک کیا جائے گا اور جو اللہ تعالیٰ کے احکام کو توڑنے والا ہوگا اے سخت سزا دی جائیگی اور کوئی تدبیر نہیں جو انسان کو اس بعثت بچا سکے` خواہ اس کے جسم کو ہوا کے پرندے یا جنگل کے درندے کھا جائیں - خواہ زمین کے کیڑے اس کے ذرے ذرے کو جد کر دیں اور پھر ان کو دوسری شکلوں میں تبدیل کر دیں اور خواہ اس کی ہڈیاں تک جلا دی جائیں` وہ پھر بھی اٹھایا جائیگا اور اپنے پیدا کرنی والے کے سامنے حساب دیگا - کیونکہ اس کی قدرت کاملہ اس امر کی محتاج نہیں کہ اس کا پہلا جسم ہی موجود ہو تب ہی وہ اس کو پیدا کر سکتا ہے بلکہ اصل بات یہ ہی کہ وہ اس کے باریک سے باریک ذرہ یا لطیف حصہ روح سے بھی پھر اس کو پیدا کر سکتا ہے اور ہی گا بھی اسی طرح - جسم خاک ہو جاتے ہیں مگر ان کے باریک ذرات فنا نہیں ہوتے نہ وہ روح جو جسم انسانی میں ہوتی ہے خدا کے اذن کے بغیر فنا ہو سکتی ہے -
    ۱۰ - ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے منکر اور اس کے دین کے مخالف اگر وہ ان کو اپنی رحمت کاملہ سے بخش نہ دے` ایک ایسے مقام پر رکھے جائیں گے جسے جہنم کہتے ہیں اور جس میں اگ اور شدید سردی کا عذاب ہوگا جس کی غرض محض تکلیف دینا نہ ہو گی بلکہ ان میں ان لوگوں کی آئندہ اصلاح مدنظر ہو گی` اس جگہ سوائے رونے پیٹنے اور دانت پیسنے کے ان کے لیے کچھ نہ ہو گا حتیٰ کہ وہ دن آجائے جب اللہ تعالیٰ کا رحم جو ہر چیز پر غالب ہے ان کو ڈھانپ لے اور
    کا وعدہ پورا ہو جائے تفسیر معالم التنزیل زیر آیت
    ۱۱ - اور ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں پر ایمان لانے والے ہیں اور اس کے احکام پر جان و دل سے ایمان لاتے ہیں اور انکسار اور عاجزی کی راہوں پر چلتے ہیں اور بڑے ہو کر چھوٹے بنتے ہیں - اور امیر ہوکر غریبوں جیسی زندگی بسر کرتے ہیں اللہ کی مخلوک کی خدمت گزاری کرتے ہیں اور اپنے آرام پر لوگوں کی راحت کو مقدم رکھتے ہیں اور ظلم اور تعدی اور خیانت سے پرہیز کرتے ہیں اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہوتے ہیں اور اخلاق رزیلہ سے مجتنب رہتے ہیں وہ لوگ ایک ایسے مقام پر رکھے جائیں گے جسے جنت کہتے ہیں آڑ جس میں راحت اور چین کے سوا دکھ اور تکلیف کا نام و نشان تک نہ ہوگا - خدا تعالیٰ کی رضا انسان کو حاصل ہوگی اور اس کا دیدار اسے نصیب ہوگا اور وہ اس کے فضل کی چادر میں لپیٹا جا کر اس کا ایسا قرب حاصل کرے گا کہ گویا اس کا آئنہ ہو جائیگا اور صفات الٰہیہ اس میں کامل طور پر جلوہ گر ہو نگی - اور اس کی ساری ادنیٰ خواہشات مٹ جائیں گی اور اس کی مرضی خدا کی مرضی ہو جائے گی اور وہ ابدی زندگی پاکر خدا کا مظہر ہو جائے گا -
    یہ ہمارے عقیدے ہیں اوران کے سوا ہم نہیں جانتے کہ اسلام میں داخل کرنے والے عقائد کیا ہیں - تمام آئمہ اسلام انہیں باتوں کو عقائد اسلام قرار دیتے چلے آئے ہیں اور ہم ان سے اس امر میں بکلی متفق ہیں-
    ہمارا دوسرے لوگوں سے اختلاف
    شاید جناب عالی حیران ہوں کہ جب سب عقائد اسلام کو ہم مانتے ہیں تو پھر ہم میں اور دوسرے لوگوں میں کیا اختلاف ہے اور بعض علماء کو ہمارے خلاف اس قدر جوش اور تعصب کیوں ہے اور کیوں وہ ہم پر کفر کا فتوی لگاتے؟ سو اے امیر والا شان! اللہ تعالیٰ آپ کو ضرور دنیا سے محفوظ رکھے اور اپنے فضل کے دروازے آپ کے لیے کھول دے! اب میں وہ اعتراض بیان کرتا ہوں جو ہم پر کئے جاتے ہیں اور جن کے سبب ہمیں اسلام سے خارج بیان کیا جاتا ہے-
    ۱ - ہمارے مخالفوں کا سب سے پہلا اعتراض تو ہم پر یہ ہے کہ ہم حضرت مسیح ناصری ؑ کو وفات یافتہ مانتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اس طرح ہم حضرت مسیح کی ہتک کرتے ہیں اور قرآن کریم کو جھٹلاتے ہیں اور رسول کریم ~صل۲~ کے فیصلے کو رد کرتے ہیں` لیکن گو یہ بات تو بالکل حق ہے کہ ہم حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کو وفات یافتہ تسلیم کرتے ہیں` لیکن یہ درست نہیں کہ ہم اس طرح مسیحؑ کی ہتک کرتے ہیں اور قرآن مجید کو جھٹلاتے ہیں اور رسول کریم~صل۲~ کے فیصلے کو رد کرتے ہیں کیونکہ ہم جس قدر غور کرتے ہیں ہمیں یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ الزامات ہم پر مسیحؑ کے وفات یافتہ ماننے سے عاید نہیں ہوتے بلکہ اس کے خلاف اگر ہم ان کو زندہ مانیں تب یہ الزامات ہم پر لگ سکتے ہیں-
    ہم لوگ مسلمان ہیں اور بحثیت مسلمان ہونے کے ہمارا خیال سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے رسول~صل۲~ کی عزت کی طرف جاتا ہے اور گو ہم سب رسولوں کو مانتے ہیں` لیکن ہماری محبت اور غیرت بالطبع اس نبی کی لیے زیادہ جوش میں آتی ہے جس نے ہمارے بوجھوں کو ہلکا کرنے کے لیے اپنے سر پر بوجھ اٹھایا اور ہمیں مرتا ہوا دیکھ کر اس نے اس قدر غم کیا کہ گویا خود اپنے اوپر موت وارد کرلی اور ہمیں سکھ پہنچانے کے لیے ہر قسم کے سکھوں کو ترک کیا اور ہمیں اوپر اٹھانے کے لیے خود نیچے کو جھکا- اس کے دن ہماری بہتری کی فکر میں صرف ہوئے اور اس کی راتیں ہمارے لیے جاگتے کٹیں- حتیٰ کہ کھڑے کھڑے اس کے پاوں سوج جاتے اور خود بے گناہ ہوتے ہوئے ہمارے گناہوں کو دور کرنے کے لیے اور ہمیں عزاب سے بچانے کے لیے اس نے اس قدر گرنہ و زاری کی کہ اس کی سجدہ گاہ تر ہوگئی اور اس کی رقت ہمارے لیے اس قدر بڑھ گئی کہ اس کے سینے کی آواز ابلتی ہوئی دیگ سے بھی بڑھ گئی-
    اس نے خدا تعالیٰ کے رحم کو ہمارے لیے کھینچا اور اس کی رضاء کو ہمارے لیے جزب کیا اور اس کے فضل کی چادر ہم کو اڑھائی اور اس کی رحمت کا لبادہ ہمارے کندھوں پر ڈال دیا اور اس کے وصال کی راہیں ہمارے لیے تلاش کیں اور اس سے اتحاد کا طریق ہمارے لیے دریافت کیا اور ہمارے لیے وہ سہولتیں بہم پہنچائیں کہ اس سے پہلے کسی نبی نے اپنی امت کی لیے بہم نہ پہنچائی تھیں-
    ہمیں کفر کے خطاب نہایت بھلے معلوم ہوتے ہیں بہ نسبت اس کے ہم اپنے پیدا کرنے والے اور اپنے پالنے والے اور اپنے زندگی بخشنے والے اور اپنی حفاظت کرنے والے اور رزق دینے والے اور اپنے علم بخشنے والے اور اپنے ہدایت دطا کرنے والے خدا کے برابر مسیح ناصری کو درجہ دیں اور یہ خیال کریں کہ جس طرح وہ آسمانوں پر بلا کھانے اور پینے کے زندہ ہے` مسیح ناصری بھی بلا حوائج انسانی کو پورا کرنے کے آسمان پر بیٹھا ہے- ہم مسیح علیہ السلام کی عزت کرتے ہیں مگر صرف اس لیے کہ وہ ہمارے خدا کا نبی ہے` ہم اس سے محبت کرتے ہیں مگر صرف اس لیے کہ خدا سے اسے محبت تھی اور خدا کو اس سے محبت تھی- اس سے ہمارا سب تعلق طفیلی ہے- پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ اس کی خاطر ہم اپنے خدا کی ہتک کریں اور اس کے احسانوں کو فراموش کر دیں اور مسیحی پادریوں کو جو اسلام اور قرآن کے دشمن ہیں مدد دیں اوف ان کو یہ کہنے کا موقع دیں کہ دیکھو وہ جو زندہ آسمان پر بیٹھا ہے کیا وہ خدا نہیں- اگر وہ انسان ہوتا تو کیوں باقی انسانوں کی طرح مر نہ جاتا` ہم اپنے منہ سے کسطرح خدا کی توحید پر حملہ کریں اور اپنے ہاتھ سے کیونکر اس کے دین پر تبر رکھدیں` اس زمانے کے مولوی اور عالم جو چاہیں ہمیں کہیں اور جس طرح ہم سے سلوک کریں اور کروائیں- خواہ ہمیں پھانسی دیں` خواہ سنگسار کریں ہم سے تو مسیح کی خاطر خدا نہیں چھوڑا جاسکتا اور ہم اس گھڑی سے موت کو ہزار درجہ بہتر سمجھتے ہیں جب ہماری زبانیں یہ کفرکا کلمہ کہیں کہ ہمارے خدا کے ساتھ وہ بھی زندہ بیٹھا ہے جسے مسیحی خدا کا بیٹا کہہ کر خدائے قیوم کی ہتک کرتے ہیں اگر ہمیں علم نہ ہوتا تو بیشک ہم ایسی بات کہہ سکتے تھے` مگر جب خدا کے فرستادہ نے ہماری آنکھیں کھول دیں اور اس کی توحید اور اس کے جلال اور اس کی شوکت اور اس کی عظمت اور اس کی قدرت کے مقام کو ہمارے لیے ظاہر کر دیا تو اب خواہ کچھ بھی ہو ہم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی بندہ کو اختیار نہیں کر سکتے اور اگر ہم ایسا کریں تو ہم جانتے کہ ہمارا ٹھکانا کہاں ہوگا کیونکہ سب عزتیں اور سب مدارج اسی کی طرف سے ہیں` ہمیں جب صاف نظر آتا ہے کہ مسیح کی زندگی میں ہمارے رب کی ہتک ہے تو ہم اس عقیدہ کو کیونکر صحیح سمجھ تسلیم کر لیں اور گو ہماری سمجھ سے یہ بات باہر ہے کہ کیوں مسیح کی وفات ماننے سے اس کی ہتک ہو جاتی ہے جب اس سے بڑے درجہ کے نبی فوت ہوگئے اور ان کی ہتک نہ ہوئی تو مسیح علیہ السلام کے فوت ہو جانے سے ان کی ہتک کس طرح ہو جائیگی` لیکن ہم کہتے ہیں کہ اگر کسی وقت ہمیں اس بات سے چارہ نہ ہو کہ یا خدا تعالیٰ کی ہتک کریں یا مسیح علیہ السلام کی تو ہم بخوشی اس عقیدے کو تسلیم کرلیں گے جس سے مسیح علیہ السلام کی ہتک ہوتی ہو مگر اس کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے جس میں خدا تعالیٰ کی ہتک ہوتی ہو اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام بھی جو اللہ تعالیٰ کے عشاق میں سے تھے کبھی گوارا نہ کریں گے کہ ان کی عزت تو قائم کی جائے اور اللہ تعالیٰ کی توحید کو صدمہ پہنچایا جائے`
    ہم خدا کے کلام کو کہاں لے جائیں اور جس منہ سے
    کی آیت پڑہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے خود حضرت مسیح ناصری کی زبانی بیان فرمایا ہے کہ مسیحی لوگ مسیح علیہ السلام کی وفات کے بعد بگڑے ہیں- ان کی حیات میں وہ اپنے سچے دین پر ہی قائم رہے ہیں` اسی منہ سے یہ کہیں کہ حضرت مسیحؑ زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں` ہم خدا تعالیٰ کے کلام
    کو کس طرح نظر انداز کر دیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا رفع ان کی وفاات کے بعد ہوا` بیشک وہ جو خدا سے زیادہ فصیح زبان جاننے کے دعویدار ہیں کہہ دیں کہ اس نے کو جو حضرت مسیحؑ کی وفات کی خبر دیتا ہے پہلے بیان کر دیا ہے اصل میں پہلے چاہیے تھا` مگر ہم تو اللہ تعالیٰ کے کلام کو تمام کلاموں سے افصح جانتے ہیں اور ہر غلطی سے مبرا سمجھتے ہیں` ہم مخلوق ہو کر اپنے خالق کی غلطیاں کیونکر نکالیں اور جاہل ہوکر علیم کو سبق کیونکر دیں` ہم سے کہا جاتا ہے کہ تم یہ کہو کہ خدا کے کلام میں غلطی ہو گئی مگر یہ نہ کہو کہ خود ہم سے خدا کا کلام سمجھنے میں غلطی ہو گئی` مگر ہم اس نصیحت کو کس طرح تسلیم کر لیں کہ اس میں ہمیں صریح ہلاکت نظر آتی ہے- آنکھیں ہوتے ہوئے ہم گڑھے میں ہم کس طرح گر جائیں اور ہاتھ ہوتے ہوئے زہر کے پیالے کو منہ سے کیوں نہ ہٹائیں-
    خدا تعالیٰ کے بعد ہمیں خاتم الانبیاء محمد مصطفے~صل۲~ سے محبت ہے اور کیا بلحاظ اس کے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو سب نبیوں سے بڑا درجہ ہے اور کیا بلحاظ اس کے کہ ہمیں جو کچھ ملا ہے آپ ﷺ~ ہی سے ملا ہے اور جو کچھ آپﷺ~ نے ہمارے لیے کیا ہے اس کا عشر عشیر بھی اور کسی انسان نے خواہ نبی ہو یا غیر نبی ' ہمارے لیے نہیں کیا - ہم آپﷺ~ سے زیادہ کسی کو اور انسان کو عزت نہیں دے سکتے- ہمارے لیے یہ بات سمجھنا بلکل ناممکن ہے کہ حضرت مسیح ناصریؑ کو زندہ آسمان پر چڑھا دیں اور محمد رسول اللہ~صل۲~ کو زیر زمیان مدفون سمجھیں اور پھر ساتھ یہ بھی یقین رکھیں کہ آپ مسیحؑ سے افضل ہیں' کس طرح ممکن ہے وہ جسے اللہ تعالیٰ نے ذرا سا خطرہ دیکھ کر آسمان پر اٹھا لیا' ادنیٰ درجہ کا ہو اور وہ جس کا دور دور تک دشمنوں نے تعاقب کیا مگر خدا تعالیٰ نے اسے ستاروں تک بھی نہ اٹھایا' اعلیٰ ہو- اگر فی الواقع مسیح علیہ السلام آسمان پر ہیں اور ہمارے سردار اور آقا زمیں میں مدفون ہیں تو ہمارے لیے اس سے بڑھ کر کوئی موت نہیں اور ہم مسیحیوں کو منھ بھی نہیں دکھا سکتے' مگر نہیں یہ بات نہیں' خدا تعالیٰ اپنے پاک رسولﷺ~ سے یہ سلوک نہیں کرسکتا- وہ احکم الحاکمین ہے- یہ کیونکر ممکن تھا کہ آنحضرت~صل۲~ کو سید ولد آدم بھی بناتا اور پھر 2] fts[مسیح علیہ السلام سے زیادہ محبت کرتا اور ان کی تکالیف کا زیادہ خیال رکھتا- جب اس نے محمد رسول اللہ~صل۲~ کی عزت کے قیام کے لیے ایک دنیا کو زیر زبر کر دیا اور جس نے آپﷺ~ کی ذرا سی بھی ہتک کرنی چاہی اسے ذلیل کردیا تو کیا یہ ہو سکتا تھا کہ کہ خود اپنے ہاتھ سے وہ آپﷺ~ کی شان کو گراتا اور دشمن کو اعتراض کا موقع دیتا- میں تو جب یہ خیال بھی کرتا ہوں کہ محمد رسول اللہ~صل۲~ تو زیر زمین مدفون ہیں اور حضرت مسیح ناصریؑ آسمان پر زندہ بیٹھے ہیں تو میرے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور میری جان گھٹنے لگتی ہے اور اسی وقت میرا دل پکار اٹھتا ہے کہ خدا تعالیٰ ایسا نہیں کر سکتا- وہ محمد رسول اللہ ~صل۲~ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والا تھا وہ اس امر کو ہر گز پسند نہیں کر سکتا تھا کہ آپ ﷺ~ تو فوت ہو کر زمین کے نیچے مدفون ہوں اور حضرت مسیح علیہ السلام زندہ رہ کر آسمان پر جا بیٹھیں- اگر کوئی شخص زندہ رہنے اور آسمان جا بیٹھنے کا مستحق تھا تو وہ ہمارے نبی کریم~صل۲~ تھے اگر وہ فوت ہو گئے ہیں تو کل نبی فوت ہو چکے ہیں- ہم محمد رسول اللہ~صل۲~ کی اعلیٰ شان اور آپ کے ارفع درجہ کو دیکھتے اور مقام کو پہچانتے ہوئے کس طرح تسلیم کر لیں کہ جب ہجرت کے دن جبل ثور کی بلند چٹانوں پر حضرت ابو بکرؓ کے کندھوں پر پاوں رکھ کر آپﷺ~ کو چڑھتا پڑا تو خداتعالیٰ نے کوئی فرشتہ آپ کے لیے نہ اتارا` لیکن جب حضرت مسیح علیہ السلام کو یہودی پکڑنے آئے تو اس نے فوراً آپ کو آسمان پر اٹھا لیا اور چوتھے آسمان پر آپ کو جگہ دی` اسی طرح ہم کیونکر مان لیں کہ جب غزوہ احد میں آنحضرت~صل۲~ کو دشمنوں نے صرف چند احباب میں گھرا پایا تو اس وقت تو اللہ تعالیٰ نے یہ نہ کیا کہ آپﷺ~ کو کچھ دیر کے لیے آسمان پر اٹھا لیتا اور کسی دشمن کی شکل آپﷺ~ کی سی بدل کر اس کی دانت تڑوا دیتا` بلکہ اس نے اجازت دی کہ دشمن آپﷺ~ پر حملہ آور ہو` آپﷺ~ زمین پر بے ہوش ہوکر جا پڑیں اور دشمن نے خوشی کے نعرے لگائے کہ ہم نے محمد رسول اللہ~صل۲~ کو قتل کر دیا ہے` لیکن حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق اسے یہ بات پسند نہ آئی کہ ان کو کوئی تکلیف ہو اور جونہی کہ یہود نے آپ پر حملہ کرنیکا ارادہ کیا اس نے آپ کو آسمان کی طرف اٹھا لیا اور آپ کی جگہ آپ کے کسی دشمن کو آپ کی شکل میں بدل کر صلیب پر لٹکوادیا-
    ہم حیران ہیں کہ لوگوں کو کیا ہو گیا کہ ایک طرف تو آنحضرت~صل۲~ سے محبت کا دعوی کرتے ہیں اور دوسری طرف آپﷺ~ کی عزت پر حملہ کرتے ہیں اور اسی پر بس نہیں کرتے بلکہ جو لوگ آپﷺ~ کی محبت سے مجبور ہو کر آپﷺ~ کی پر کسی کو فضیلت دینے سے انکار کر دیتے ہیں` ان کو دکھ دیتے ہیں ان کے اس فعل کو کفر قرار دیتے ہیں` کیا کفر محمد رسول اللہ~صل۲~ کی عزت کے قائم کرنے کا نام ہے- کیا بے دینی آپ کے حقیقی درجے کا اقرار کا نام ہے` کیا ارتداد آپﷺ~ سے محبت کو کہتے ہیں؟ اگر کفر ہے اگر یہی کفر ہے اگر یہی بی دینی ہے` اگر یہ ارتداد ہے تو خدا کی قسم ہم اس کفر کو لوگوں کے ایمان سے اور اس بے دینی کو لوگوں کی دینداری سی اور اس ارتداد کو لوگوں کے ثبات سے ہزار درجہ زیادہ بہتر سمجھتے ہیں اور اپنے آقا اور سردار حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ الصلوۃوالسلام کے ساتھ ہمنوا ہو کر بلا خوف ملامت اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ~}~
    بعد از خدا بعشق محمدﷺ~ مخمرم گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم
    سب کو آخر ایک دن مرنا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور میں پیش ہونا ہے اور اسی کے ساتھ معاملہ پڑنا ہے پھر ہم لوگوں سے کیوں ڈریں؟ لوگ ہمارا کیا بگاڑ سکتے ہیں` ہم اللہ تعالیٰ سے ہی ڈرتے ہیں اور اسی سے محبت کرتے ہیں اور اس کے بعد سب سے زیادہ محبت اور ادب ہمارے دل میں آنحضرت ~صل۲~ کا ہے- اگر دنیا کی ساری عزتیں اور دنیا سارے تعلقات اور دنتا کے تمام آرام آپﷺ~ کی لیے ہمیں چھوڑنے پڑیں تو یہ ہمارے لیے آسان ہے` مگر آپﷺ~ کی ذات کی ہتک ہم برداشت نہیں کر سکتے` ہم دوسرے نبیوں کی ہتک نہیں کرتے مگر آنحضرت ﷺ~ کی قوت قدسیہ اور آپﷺ~ کے علم اور آپﷺ~ کے عرفان اور آپﷺ~ کے تعلق باللہ کو دیکھتے ہوئے ہم یہ کبھی بھی نہیں مان سکتے کہ آپﷺ~ کی نسبت کسی اور نبی سے اللہ تعالیٰ کو زیادہ پیار تھا اور اگر ہم ایسا کریں تو ہم سے زیادہ قابل سزا اور کوئی نہیں ہوگا` ہم آنکھیں رکھتے ہوئے اس بات کو کس طرح باور کرلیں کہ عرب کے لوگ جب محمد رسول اللہ~صل۲~ سے کہیں کہ
    یعنی ہم تجھے نہیں مانیں گے جب تک کہ تو آسمان پر نہ چڑھ جائے اور ہم تیرے آسمان پر چڑھنے کا یقین نہیں کریں گے جب تک تو کوئی کتاب بھی آسمان پر سے نہ لائے` جسے ہم پڑھیں` تو اللہ تعالیٰ آپ سے فرمائے کہ
    ان سے کہہ دے کہ میرا رب ہر کمزوری سے پاک ہے میں تو صرف ایک بشر اور رسول ہوں` لیکن حضرت مسیحؑ کو وہ آسمان پر اٹھا کر لے جائے` جب محمد رسول اللہ~صل۲~ کا سوال آئے تو انسانیت کو آسمان پر چڑھنے کے مخالف بتایا جائے` لیکن جب مسیح ؑ کا سوال آئے تو بلا ضرورت ان کو آسمان پر لے جایا جائے- کیا اس سے یہ نتیجہ نہ نکلے گا کہ مسیح علیہ السلام آدمی نہ تھے بلکہ خدا تھے- نعوذباللہ من ذالکیا پھر یہ نتیجہ نکلے گا کہ آپ رسول کریم ~صل۲~ سے افضل تھے مگر جب کہ یہ پات اظہر من الشمس ہے کہ آنحضرت ~صل۲~ سب رسولوں اور نبیوں سے افضل ہیں تو پھر لس طرح عقل باور کر سکتی ہے کہ آپ تو آسمان پر نہ جائیں بلکہ اسی زمین پر فوت ہوں اور زمین کے نیچے دفن ہوں` لیکن مسیح علیہ السلام آسمان پر چلے جائیں اور ہزاروں سال تک زندہ رہیں-
    پھر یہ سوال صرف غیرت کا ہی نہیں بلکہ رسول کریم ~صل۲~ کی صداقت کا بھی سوال ہے آپ ﷺ~ فرماتے ہیں کہ
    اگر موسیٰؑ و عیسیٰؑ زندہ ہوتے تو میری اطاعت کے سوا ان کو کوئی چارہ نہ تھا` اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو پھر آپ کا یہ قول نعوذباللہ باطل ہو جاتا ہے کیونکہ آپﷺ~ " لوکان " کہہ کر اور موسیٰ کے ساتھ عیسیٰ کو ملا کر دونو نبیوں کی وفات کی خبر دیتے ہیں- پس نبی کریم ~صل۲~ کی شہادت کے بعد لس طرح کوئی شخص آپﷺ~ کی امت میں سے کہلا کر یہ یقین رکھ لکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اگر وہ زندہ ہیں تو آنحضرت~صل۲~ کی صداقت اور آپﷺ~ کے علم پر حرف آتا ہے- کیونکہ آپ~صل۳~ تو ان کو وفات یافتہ قرار دیتے ہیں-
    رسول کریم ~صل۲~ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپﷺ~ نے حضرت فاطمہؓ سے اس مرض میں جس میں آپﷺ~ فوت ہوئے` فرمایا کہ
    یعنی جبرائیل ہر سال ایک دفعہ مجھے قرآن سناتے تھے مگر اس دفعہ دو دفعہ سنایا ہے اور مجھے انہوں نے خبر دی ہے کہ کوئی نبی نہیں گزرا کہ جس کی عمر پہلے نبی سے آدھی نہ ہو اور یہ بھی انہوں نے مجھے خبر دی ہے - کے عیسیٰ بن مریم ایک سو بیس سال تک کی عمر تک زندہ رہے تھے- پس میں سمجھتا ہوں کہ میری عمر ساٹھ سال کے قریب ہوگی- اس روایت کا مضمون الہامی ہے کیونکہ اس میں رسولہ کریم~صل۲~ اپنی طرف سے کوئی بات نہیں بیان فرماتے- بلکہ جبرائیل علیہ السلام کی بتائی ہوئی بات بتاتے ہیں جو یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر ایک سو بیس سال کی تھی- پس لوگوں کا یہ خیال کہ آپ بتیس ۳۲ تیتیس ۳۳ سال کی عمر میں آسمان پر اٹھائے گئے تھے غلط ہوا` کیونکہ اگر حضرت مسیح ؑ اس عمر میں آسمان پر اٹھائے گئے تھے تو آپ کی عمر بجائے ایک سو بیس سال کے رسول کریمﷺ~ کے زمانے تک چھ سو سال بنتی ہے اور اس صورت میں چاہیے تھا کہ رسول کریم~صل۲~ کم از کم تین سو سال تک عمر پاتے` مگر آنحضرت~صل۲~ کا تریسٹھ سال کی عمر میں فوت ہو جانا اور الہاما" آپﷺ~ کو یہ بتایا جانا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک سو بیس سال کی عمر میں فوت ہو گئے ثابت کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی اور آسمان پر آپکا بیٹھا ہونا رسول کریم~صل۲~ کی تعلیم کے سراسر خلاف ہے اور آپﷺ~ کے الہامات اسے رد کرتے ہیں اور جب امر واقع یہ ہے تو ہم لوگ کسی کے کہنے سے کس طرح حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات کے قائل ہو سکتے ہیں اور آنحضرت~صل۲~ کو چھوڑ سکتے ہیں- کہا جاتا ہے کہ یہ مسئلہ ۱۳۰۰ تیرہ سو سال کے عرصہ میں صرف انہیں پر کھلا ہے اور پہلے بزرگ اس سے واقف و آگاہ نہ تھے مگر افسوس کہ معترض اپنی نظر کو صرف ایک خاص خیال کے لوگوں تک محدود کر کے اس کا نام اجماع رکھ لیتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ اسلام کے اول علماء خود صحابہؓ ہیں اور بعد ان کے علماء کا سلسلہ نہایت وسیع ہوتا ہوا سب دنیا میں پھیل گیا ہے- صحابہؓ کو جب ہم دیکھتے ہیں تو وہ سب نہ یک زبان ہمارے خیال سے متفق ہیں اور یہ ہو بھی کب سکتا تھا کہ وہ عشاق رسول~صل۲~ آپ کی شان کے مزیل عقیدہ کو ایک دم کے لیے بھی تسلیم کرتے وہ اس بارہ میں ہم سے متفق ہی نہیں ہیں بلکہ رسول کریم~صل۲~ کی وفات کے بعد سب سے پہلا اجماع ہی انہوں نے اس مسئلہ پر کیاہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں چنانچہ کتب احادیث اور تواریخ میں یہ روایت درج ہے کہ رسول کریم ~صل۲~ کی وفات کا صحابہ پر اس قدر اثر ہوا کہ وہ کھبرا گئے اور بعض سے تو بولا بھی نہ جاتا تھا اور بعض سے چلا بھی نہ جاتا تھا اور بعض اپنے حواس اور اپنی عقل کو قابو میں نہ رکھ سکے اور بعض پر تو اس صدمہ کا ایسا اثر ہوا کہ وہ چند دن میں گھل گھل کر فوت ہو گئے` حضرت عمرؓ پر اس صدمہ کا اس قدر اثر ہوا کہ آپؓ نے حضورﷺ~ کی وفات کی خبر کو باور ہی نہ کیا اور تلوار لے کر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ اگر کوئی شخص یہ کہے گا کہ رسول کریم~صل۲~ فوت ہو چکے ہیں تو میں اسے قتل کر دوں گا- آپﷺ~ تو حضرت موسیٰ کی طرح بلائے گئے ہیں` جس طرح وہ چالیس دن کے اندر واپس آگئے تھے اسی طرح آپﷺ~ کچھ عرصہ کے بعد واپس تشریف لائیں گے اور جو لوگ آپﷺ~ الزام لگانے والے ہیں اور منافق ہیں ان کو قتل کریں گے اور صلیب دیں گے اور اس قدر جوش سے آپؓ اس دعوے پر مصر تھے کہ صحابہؓ میں سے کسی کو طاقت نہ ہوئی کہ آپؓ بات کو رد کرتا اوت آپؓ کے اس جوش کو دیکھ کر بعض لوگوں کو تو یقین ہو گیا کہ یہی بات درست ہے` آنحضرت~صل۲~ فوت نہیں ہوئے ان کے چہروں پر خوشی کے آثار ظاہر ہونے لگے اور یا تو سر ڈالے بیٹھے تھے یا خوشی سے انہوں نے سر اٹھا لیے- اس حالت کو دیکھ کر بعض دور اندیش صحابہؓ نے ایک صحابی کو دوڑایا کہ وہ حضرت ابوبکرؓ کو جو اس وجہ سے کہ دومیان میں آنحضرت~صل۲~ کی طبعیت کچھ اچھی ہو گئی تھی آپﷺ~ کی اجازت سے مدینہ کے پاس ہی ایک گاوں کی طرف گئے ہوئے تھے- جلد لے آئیں وہ چلے ہی تھے کہ حضرت ابوبکرؓ ان کو مل گئے` ان کو ہی ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور جوش سے گریہ کو ضبط نہ کر سکے- حضرت ابوبکرؓ سمجھ گئے کہ معاملہ کیا ہے اور ان صحابی سے پوچھا کہ کیا رسول کریم ~صل۲~ فوت ہو گئے ہیں` انہوہ نے کہا حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ جو شخص کہے گا کہ رسول کریم ~صل۲~ فوت ہو گئے ہیں میں اس کی گردن تلوار سے اڑا دوں گا` اس پر آپؓ آنحضرت~صل۲~ کے کھر تشریف ل گئے` آپﷺ~ کے جسم مبارک پر جو چادر پڑی تھی اسے ہٹاکر دیکھا اور معلوم کیا کہ آپﷺ~ فی الواقع فوت ہو چکے ہیں` اپنے محبوبﷺ~ کی جدائی کے صدمے سی ان کے آنسو جاری ہو گئے اور نیچے جھک کر آپﷺ~ کی پیشانی پر بوسہ دیا اور کہا کہ بخدا اللہ تعالیٰ تجھ پر دو ۲ موتیں جمع نہیں کرے گا- تیری موت سے دنیا کو وہ نقصان پہنچا ہے جو کسی نبی کی موت سے نہیں پہنچا تھا` تیری ذات صفت سے جانا ہے اور تیری شان وہ ہے کہ کوئی ماتم تیری جدائی کے صدمے کو کم نہیں کر سکتا` اگر تیری موت کو روکنا ہماری طاقت میں ہوتا تو ہم سب اپنی جانیں دے کر تیری موت کو روک دیتے-
    یہ کہ کر کپڑا پھر آپﷺ~ کے اوپر ڈال دیا اور اس جگہ کی طرف لے آئے جہاں حضرت عمرؓ صحابہؓ کا حلقہ بنائے بیٹھے تھے اور ان سے کہہ رہے تھے کہ آنحضرت~صل۲~ فوت نہیں ہوئے بلکہ زندہ ہیں وہاں آکر آپؓ نے حضرت عمرؓ سے کہا آپ ذرا چپ ہو جائیں مگر انہوں نے آپکی بات نہ مانی اور اپنی بات کرتے رہے- اس پر حضرت ابوبکرؓ نے ایک طرف ہو کر لوگوں سے کہنا شروع کیا رسول کریم ~صل۲~ در حقیقت فوت ہو چکے ہیں` صحابہ کرامؓحضرت عمرؓ کو چھوڑ کر آپ کے گرد جمع ہو گئے اور پھر بالآخر حضرت عمرؓکو بھی آپؓکی بات سننی پڑی` آپؓ نے فرمایا:
    یعنی محمد~صل۲~ بھی ایک رسول ہیں- آپ سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں` پھر اگر آپﷺ~ فوت ہو جائیں یا قتل ہو جائیں تو کیا تم لوگ اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاوگے- تحقیق تو بھی فوت ہو جائے گا اور یہ لوگ بھی فوت ہو جائیں گے- اے لوگو! جو کوئی محمد ~صل۲~ کی پرستش کرتا تھا وہ سن لے کہ محمد~صل۲~ فوت ہو گئے اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا اسے یاد رہے کہ اللہ زندہ ہے اور وہ فوت نہیں ہوتا-
    جب آپؓ نے مذکورہ بالا دونوں آیات پڑہیں اور لوگوں کو بتایا کہ رسول اللہ ~صل۲~ فوت ہو چکے ہیں تو صحابہؓ پر حقیقت آشکار ہوئی اور وہ بے اختیار رونے لگے اور حضرت عمرؓ خود بیان فرماتے ہیں کہ جب آیات قرآنیہ سے حضرت ابوبکر~رض۴~ نے آپﷺ~ کی ثابت کی تو مجھے یہ معلوم ہوا کہ گویا یہ دونون آیتیں آج ہی نازل ہوئی ہیں اور میرے گھٹنوں میں میرے سر کو اٹھانے کی طاقت نہ رہی- میرے قدم لڑکھڑا گئے اور میں بے اختیار شدت صدمہ سے زمین پر گر پڑا-
    ‏Dawat2
    ‏6] 577 8 50 100 [gptboxاس روایت سے تین امور ثابت ہوتے ہیں- اول یہ کہ رسول کریم ~صل۲~ کی وفات پر سب سے پہلے صحابہؓ کا اجماع اسی امر پر ہوا تھا کہ آپﷺ~ سے پہلے سب انبیاء فوت ہو چکے ہیں` کیونکہ اگر صحابہؓ میں سے کسی کو بھی شک ہوتا کہ بعض نبی فوت نہیں ہوئے تو کیا ان میں سے بعض اسی وقت کھڑے نہ ہو جاتے کہ آپ آیات سے جو استدلال کر رہے ہیں یہ درست نہیں` کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو چھ سو سال سے آسمان پر زندہ بیٹھے ہیں- پس یہ غلط ہے کہ آنحضرت~صل۲~ سے پہلے سب نبی فوت ہو چکے ہیں اور جب کہ ان میں سے بعض زندہ ہیں تو کیا وجا ہے کہ آنحضرت~صل۲~ زندہ نہ رہ سکیں-
    دوم یہ کہ تمام انبیائے سابقین کی وفات پر ان کا یقین کسی ذاتی خیال کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس امر کو وہ قرآن کریم کی آیات سے مستنبط سمجھتے تھے` کیونکہ اگر یہ بات نہ ہوتی تو کوئی صحابی تو اٹھ کر کہتا کہ گو یہ صحیح ہے کہ تمام انبیاء فوت ہو چکے ہیں مگر اس آیت سے جو آپ نے پڑھی ہے یہ استدلال نہیں ہوتا کہ آپﷺ~ سے پہلے تمام فوت ہو چکے ہیں- پس صدیق اکبرؓ کا آیت سے جمیع انبیائے سابقین کی وفات کا ثبوت نکالنا اور کل صحابہؓ کا نہ صرف اس پر خاموش رہنا بلکہ اس استدلال سے لذت اٹھانا اور گلیوں اور بازاروں میں اس کو پڑھتے پھرنا اس امر کا ثبوت ہے کہ وہ سب اس استدلال سے متفق تھے-
    تیسرا امر اس روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خواہ کسی اور نبی کی وفات کا ان کو یقین تھا یا نہیں مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا انہیں یقینا کوئی علم نہ تھا` کیونکہ جیسا کہ تمام صحیح احادیث اور معتبر روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ سخت جوش کی حالت میں تھے اور باقی صحابہؓ سے کہہ رہے تھے کہ جو کہے گا کہ رسول کریم ~صل۲~ فوت ہو گئے ہیں میں اس کا سر اڑا دوں گا اس وقت اپنے خیال کے ثبوت میں حضرت موسیٰ ؑ کے چالیس دن پہاڑ پر چلے جانے کا واقعہ تو وہ پیش کرتے تھے مگر حضرت عیسیٰؑ کے آسمان پر ولے جانے کا واقعہ انہوں نے ایک دفعہ بھی پیش نہ کیا- اگر صحابہ ؓ کا عقیدہ یہ ہوتا کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ جا بیٹھے ہیں تو کیا حضرت عمر ؓ یا ان کے ہم خیال صحابی ؓ اس واقعہ کو اپنے خیال کی تائید میں پیش نہ کرتے؟ ان کا حضرت موسی ؑ کے واعقعہ سے استدلال نہ کرنا بتاتا ہے کہ ان کے ذہن میں حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق کوئی ایسا واقعہ تھا ہی نہیں حضرات صحابہ ؓ کے اجماع کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کے متعلق اہل بیت نبوی ~صل۱~ کا بھی اتفاق ہے- چنانچہ طبقات ابن سعد کی جلد ثالث میں حضرت علی کرم اللہ وجہ کی وفات کے حالات میں حضرت امام حسن ؓ سے روایت کی گئی ہے کہ آپ ~صل۱~ فرمایا ایھا الناس قد قبض اللیلہ رجل لم یسبقہ الاولون ولا یدرکہ الاخرون قد کان رسول اللہ یبعث المبعث فیکتنفہ جبرائیل من یمینہ و میکائیل من شمالہ فلا ینشئی حتی یفتح اللہ لہ وما ترک الا سبع مائہ درھم اراد ان یشتری بھا خادما ولقد قبض فی اللیلہ التی عرج فیھا بروح عیسی بن مریم لیلہ سبع و عشرین من رمضان- یعنی اے لوگو! آج وہ شخص فوت ہوا ہے کہ اس کی بعض باتوں کو نہ پہلے پہنچے ہیں اور نہ بعد کو آنے والے پہنچیں گے- رسول ~صل۲~ اسے جنگ کے لیے بھیجتے تھے تو جبرائیل اس کے داہنے طرف ہو جاتے تھے اور میکائیل بائیں کرف پس وہ بلا فتح حاصل کئے فاپس نہیں ہوتا تھا اور اس نے ضرور سات سو )۷۰۰( درہم اپنا ترکہ چھوڑا ہے جس سے اس کا ارادہ یہ تھا کہ ایک غلام خریدے اور وہ اس رات کو فوت ہوا ہے جس رات کو عیسی بن مریم کی روح آسمان کی طرف اٹھائی گئی تھی یعنی رمضان ستائیسویں تاریخ کو-
    اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے نزدیک بھی حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے تھے کیونکہ اگر ان کا خیال نہ ہوتا تو امام حسن ؓ یہ کیوں فرماتے کہ جس رات حضرت عیسی ؑ کی روح آسمان کو اٹھائی گئی تھی` اسی رات کو حضرت علی رصی اللہ عنہ کی وفات ہوئی ہے-
    صحابہ کرام اور اہل بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ بعد کے بزرگ بھی ضرور وفات مسیح ؑ کے ہی قائل ہوں گے کیونکہ وہ لوگ قرآن مجید اور کلام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اقوال صحابہ اور آرائے اہلبیت کے شیدا تھے` اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اقوال خاص طور پر محفوظ نہیں رکھے گئے` لیکن جو کچھ بھی پتہ چلتا ہے وہ اسی امر کی تصدیق کرتا ہے کہ ان کا مذہب بھی یہی تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام ہو گئے ہیں` چنانچہ مجمع البحار میں ہے کہ قال ما لک مات یعنی امام مالک رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں-
    غرض قرآن کریم اور احادیث کے علاوہ اجماع صحابہ ؓ اور آرائے اہلیت اور اقوال آئمہ سے بھی ہمارے ہی خیال کی تصدیق ہوتی ہے- یعنی یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے` پس ہم پر یہ الزام لگانا کہ ہم حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کا عقیدہ رکھ کر حضرت مسیح علیہ السلام کی ہتک کرتے ہیں اور قرآن کریم اور احادیث آنحضرت ~صل۲~ کا انکار کرتے ہیں درست نہیں- اور اس کے رسول کی عزت کو ثابت کرتے ہیں- اور خود حضرت مسیح علیہ السلام کی خدمت کرتے ہیں کیونکہ وہ بھی کبھی پسند نہیں گے کہ ان کو ایک ایسے مقام پر جگہ دی جائے کہ جس سے توحید باری تعالی کو صدمہ پہنچتا ہو اور سرک کو مدد ملتی ہو اور سرور انبیاء ~صل۲~ کی ہتک ہوتی ہو-
    اب اے بادشاہ! آپ خود ہی غور کرکے دیکھ لیں کہ کیا ہمارے مخالف اس اعتراض میں حق پر ہیں یا ہم؟ کیا ان کا حق ہے کہ ہم سے ناراض ہوں یا ہمارا حق ہے کہ ان سے ماراض ہوں کیونکہ انہوں نے ہمارے خدا کا شریک مقرر کیا اور ہمارے رسول کی ہتک کی اور اپنے بن کر دشمنوں کی طرح حملہ آور ہوئے-
    دوسرا اعتراض ہم پر یہ کیا جاتا ہے کہ ہم لوگ دوسرے مسلمانوں کے عقیدے کے خلاف اسی امت میں سے ایک شخص کو مسیح موعود مانتے ہیں حالانکہ یہ امر احادیث نبوی کے خلاف ہے کیونکہ ان سے معلوم ہوتا ہے کا حضرت مسیح آسمان سے نازل ہوں گے-
    یہ بالکل درست ہے کہ ہم لوگ بانئی سلسلہ احمدیہ مرزا غلام احمد صاحب ساکن قادیان ضلع گورداسپور صوبہ پنجاب ملک ہندوستان کو مسیح موعود اور مہدی مسعوع سمجھتے ہیں` مگر جبکہ قرآن کریم اور احادیث اور عقل سلیم سے یہ امر ثابت ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں تو پھر ہم نہیں سمجھتے کہ ہمارا یہ عقیدہ قرآن کریم اور احادیث بھی اس پر شاہد ہیں اور جبکہ احادیث نبویہ سے ایک موعود کی جسے ابن مریم کہا گیا ہے آمد کی خبر معلوم ہوتی ہے یو صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنے فالا موعود اسی امت کا ایک فرد ہوگا نہ کہ مسیح ناصری علیہ السلام جو فوت ہو چکے ہیں-
    کہا جاتا ہے کہ اگر قرآن کریم اور احادیث سے حضرت مسیح ؑ کی وفات بھی ثابت ہوتی ہو تب بھی احادیث میں چونکہ مسیح ابن مریم کے آنے کی خبردی گئی ہے انیں کی امد پر یقین رکھنا چاہیے کیونکہ کیا اللہ تعالی قادر نہیں کہ ان کو پھر زندہ کرکے دنیا کی اصلاح کے لیے بھیج دے اور ہم پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ ہم گویا اللہ تعالی کی قدرت کے منکر ہیں` مگر بات یہ نہیں بلکہ اس کے مالکل بر خلاف ہے- ہم خداتعای کی قدرت کے انکار کی وجہ سے نیہیں بلکہ اس کی قدرت پر ایمان رکھنے کی وجہ سے اس امر کے قائل ہیں کہ حضرت مسیح ناصری ؑ کو خدا تعالی زندہ کرکے نہیں بھیجے گا بلکہ اسی امت کے ایک فرد کو اس نے مسیح موعود بناکر بھیج دیا ہے- ہم نہیں سمجھ سکتے اور نہ ہم امید کرتے ہیں کہ کوئی شخص بھی جو پورے طور پر اس امر پر غور کرے گا` تسلیم کرے گا کہ مسیح کا دوبارہ زندہ کرکے بھیجنا اللہ تعالی کے قادر ہونے کی علامت ہے- ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ جو دولتمند ہوتا ہے وہ مستعمل جامہ کو الٹوا کر نہیں سلوایا کرتا بلکہ اسے اتار کر ضرورت پر اور نیا کپڑا الواتا ہے- غریب اور نادار لوگ ایک ہی چیز کو کئی شکلوں میں بدل کر پہنتے ہیں اور اپنی چیزوں کو سنبھال کر رکھتے ہیں- کب اللہ تعالی کا ہاتھ ایسا تنگ ہوا تھا کہ جب اس کے بندوں کو ہدایت اور وہنمائی کی حاجت ہوئی تو اسے کسی وفات یافتہ نبی کو زندہ کرکے بھیجنا پڑا` وہ ہمیشہ بندوں کی ہدایت کے لیے انہیں کے زمانے کے لوگوں میں سے کسی کو منتخب کرکے انکی اصلاح کے لیے بھیبتا رہا ہے- حضرت آدم ؑ کے زمانے سے آنحضرت ~صل۲~ کے زمانے تک ایک دفعہ بھی اس نے ایسا نہیں کیا کہ کسی پچھلے نبی کو زندہ کر کے دنیا کی ہدایت کے لیے بھیجا ہو` اس امر پر تب وہ مجبور ہو جب کسی زمانے کے لوگوں کے دلوں کی صفائی اس کی قدرت سے ماہر ہو جائے اور اس کی حکومت انسانوں پر سے اٹھ جائے` لیکن چونکہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا اس لیے یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ وہ ایک وفات یافتہ نبی کو جنت سے نکال کر دنیا کی اصلاح کے لیے بھیج دے- وہ قادرمطلق ہے- جب اس نے مسیح ؑ کے بعد محمد رسول اللہ ~صل۲~ جیسا انسان پیدا کر دیا تو اس کی طاقت سے یہ بعید نہیں کہ ایک اور شخص مسیح ؑ جیسا بلکہ ان سے افضل پیدا کر دے-
    غرض مسیح ناصری نبی کے دوبارہ دنیا میں آنے کا انکار ہم اس وجہ سے نہیں کرتے کہ ہم اللہ تعالی کوقادر نہیں سمجھتے بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ ہم اللہ تعالی کو قادر سمجھتے ہیں کہ وہ جب چاہے اپنے بندوں میں سے کیی کو ہدایت کے منصب پر کھڑا کر دے اور اس کے ذریعے سے گم گشتگان راہ کو اپنی طرف بلائے اور جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ایسا نہیں کر سکتا بلکہ ضرورت کے موقع پر کسی پچھلے نبی کو لائے گا غلطی پر ہیں- وما قد روا اللہ حق قدرہ- الانعام : 92 ع-11
    علاوہ اس امر کے کہ مسیح ماصری کے دوبارہ واپس آنے میں اللہ تعالی کی قدرت پر حرف آتا ہے آنحضرت ~صل۲~ کی قوت قدسہ پر بھی حرف آتا ہے کیونکہ اگر حضرت مسیح ؑ کو ہی دوبارہ دنیا میں واپس آنا ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ پہلی تمام امتیں جب بگڑتی تھیں تو ان کی اصلاح کے لیے اللہ تعالی انھیں میں سے ایک شخص کو کھڑا کر دیتا تھا` مگر ہمارے آنحضرت ~صل۲~ کی امت میں جب فساد پڑیگا تو اس کی اصلاح کے لیے اللہ تعالی پہلے انبیاء میں سے ایک نبی کو واپس لائے گا خود آپ~صل۲~ کی امت میں سے کوئی فرد اس کی اصلاح کی طاقت نہیں رکھے گا- اگر ہم یہ بات تسلیم کر لیں تو ہم یقیننا مسیحیوں اور یہودیوں سے رسول کریم ~صل۲~کی دشمنی میں کم نہ ہوں گے` کیونکہ وہ بھی رسول کریم ~صل۲~ کی قوت قدسیہ پر معترض ہیں اور اس عقیدے کے ساتھ ہم بھی آپ کی قوت قدسیہ پر معترض ہو جاتے ہیں- جب چراغ جل رہا ہو تو اس سے اور چراغ یقیننا روشن ہو سکتے ہیں` وہ بجھا ہوا چراغ ہوتا ہے جس سے دوسرا چراغ روشن نہیں ہو سکتا- پس اگر رسول کریم~صل۲~ کی امت پر کوئی زمانہ ایسا بھی آنا ہے کہ اس کی حالت ایسی بگڑ جائے گی کہ اس میں سے کوئی شخص اس کی اصلاح کے لئے کھڑا نہیں ہو سکے گا تو ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑیگا کہ اس وقت رسول کریم~صل۲~ کا فیضان بھی نعوذ باللہ من ذالک ختم ہو جائے گا` کون مسلمان اس بات کو نہیں جانتا کہ جب تک اللہ تعالیٰکو حضرت موسیٰ کا سلسلہ چلانا منظور تھا اس وقت تک آپ ہی کے اتباع میں سے ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے جو آپ کی امت کی اصلاح کرتے رہے` لیکن جب اسے یہ منظور ہوا کہ آپ کے سلسلے کو ختم کر دے تو اس نے آپ کی میں سے نبوت کا سلسلہ بند کر کے بنواسمٰعیل میں سے نبی بھیج دیا- پس اگر رسول کریم~صل۲~ کے بعد کوئی نبی موسوی سلسلے سے آئیگا تو اس کے یہی معنے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نعوذ باللہ من ذالک رسول کریمﷺ~ کی قوت قد سیہ اس وقت کمزور ہو جائے گی اور آپ کی فیضان کسی امتی کو بھی اس امر کے لیے تیار نہ کر سکے گا کہ وہ آپ سے نور پا کر آپ کی امت کی اصلاح کرے اور اسے راہ راست پر لاوے-
    افسوس ہے کہ لوگ اپنے لیے تو ضرورت سے زیادہ غیرت دکھاتے ہیں اور کسی قسم کا عیب اپنی نسبت منسوب ہونا پسند نہیں کرتے` لیکن خدا کے رسول کی طرف ہر ایک عیب دلیری سے منسوب کرتے ہیں اس محبت کو ہم کیا کریں جو منھ تک رہتی ہے مگر دل میں اس کا کوئی اثر نہیں اور اس ولولے کو کیا کریں جو اپنے ساتھ کوئی ثبوت نہیں رکھتا- اگر فی الواقع لوگ رسول کریم~صل۲~ سے محبت رکھتے تو ایک منٹ کے لئے بھی پسند نہ کرتے کہ ایک اسرئیلی نبی آکر آپ کو امت کی اصلاح کریگا` کیا کوئی غریت مند اپنے گھر میں سامان ہوتے ہوئے دوسرے سے مانگنے جاتا ہے- یا طاقت ہوتے ہوئے دوسرے کو مدد کے لیے بلاتا ہے- وہی مولوی جو کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ من ذالک رسول کریمﷺ~ کی امت کے لیے اور اس کو مصائب سے بچانے کے لیے مسیح ناصری علیہ السلام آئیں گے` اپنی ذاتوں کے لیے اس قدر غیرت دکھاتے ہیں کہ اگر بحث میں ہار بھی رہے ہوں تو اپنی ہار کا اقرار نہیں کرتے اور کسی دوسرے کو اپنی مدد کے لیے بلانا پسند نہیں کرتے اور اگر کوئی خود بخود ان کی مدد لے لیے تیار ہو جائے تو اس کا احسان ماننے کے بجائے اس پر ناراض ہوتے ہیں کہ کیا ہم جاہل ہیں کہ تو ہمارے منھ میں لقمہ دیتا ہے لیکن رسول کریم ~صل۲~کی نسبت کسی بے پروائی سے بیان کرتے ہیں کہ آپ کی مدد کے لیے ایک دوسرے سلسلے سے نبی بلوایا جائیگا اور خود آپ کی قوت قدسیہ کچھ نہ کر سکے گی- آہ! کیا دل مر گیے ہیں یا عقلوں پر پتھر پڑ گیے ہیں کیا سب سب کی سب غیرت اپنے ہی لیے صرف ہو جاتی ہے اور خدا اور اس کے رسول کے لیے غیر کا کوئی حصہ باقی نہیں رہتا کای سب غصہ اپنے دشمنوں پر ہی صرف ہو جاتا ہے اور خدا اور اس کے رسول پر حملہ کرنیوالوں کے لیے کچھ نہیں بچتا-
    ہم سے کہا جاتا ہے کہ کیوں تم ایک اسرائیلی نبی کی آمد کے منکر ہو` مگر ہم اپنے دلوں کو کہاں لے کر جائیں اور اپنی محبت کے نقش کس طرح مٹائیں ہمیں تو محمد رسول اللہ کی عزت سے بڑھ کر کسی اور کی عزت پیاری نہیں ہم تو ایک منٹ کے لیے بھی یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ محمد رسول اللہ~صل۲~کسی اور کے ممنون احسان ہوں ہمارا دل تو ایک مٹ لے لیے بھی اس خیال کو برداشت نہیں کر سکتا کہ قیامت کے دن جب تمام مخلوق از ابتداء تا انتہا جمع ہوگی اور علی رئوس الاشہدا ہر ایک کے کام بیان کئے جائیں گے اس وقت محمد رسول اللہ~صل۲~ کی گردن مسیح اسرائیلی کے احسان سے جھکی جارہی ہو گی اور تمام مخلوق کے سامنے بلند آواز سے فرشتے پاکر کر کہیں گے کہ جب محمد رسول اللہ~صل۲~ کی قوت قدسیہ جاتی رہی تو اس وقت مسیح اسرائیلی نے ان پطر احسان کر کے جنت میں سے نکلنا اپنے لیے پسند کیا اور دنیا میں جا کر ان کی امت کی اصلاح کی اور اسے تباہی سے بچایا ہم تو اس امر کو بہت پسند کرتے ہیں کہ ہماری زبانیں کٹ جائیں بہ نسبت اس کے کہ ایسی ہتک آمیز بات رسول کریم ~صل۲~ کی طرف منسوب کریں اور ہمارے ہاتھ شل ہو جائیں جبایے اس کے کہ ایسے کلمات آپ کے حق میں تحریر کریں محمد رسول اللہ~صل۲~ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں آپ کی قوت قدسیہ کبھی باطل نہیں ہو سکتی- آپ خاتم النبین ہیں آپ کا فیضان کبھی رک نہیں سکتا آپ کا سر کسی کے احسان کے آگے جھک نہیں سکتا بلکہ آپ کا احسان سب نبیوں پر ہے کوئی نبی جس نے "آپ کو منوایا ہو اور آپ کی صداقت آپ کے منکروں سے منوئر ہو لیکن کیا لاکھوں کروڑوں انسان نہیں جن سے محمد رسول اللہ~صل۲~ نے باقی انبیاء کی نبوت منوائی ہے ہندوستان میں آٹھ کروڑ مسلمان بیان کئے جاتے ہیں ان میں سے بہت ہی تھوڑے ہیں جو بیرونی ممالک کے رہنے والے ہیں باقی سب ہندوستان کے باشندے ہیں جو کسی نبی کا نام تک نہ جانتے تھے مگر محمد رسول اللہ ~صل۲~ پر ایمان لا کر ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام پر ایمان لے آئے ہیں اگر اسلام ان کے گھروں میں داخل نہ ہوا ہوتا تو آج وہ ان نبیوں کو گالیاں دے رہے ہوتے اور ان کو جھوٹے آدمیوں میں سے سمجھ رہے ہوتے جس طرح کہ ان کے باقی بھائی بندوں کا آج تک خیال ہے- اسی طرح افغانستان کے لوگ اور چین کے لوگ اور ایران کے لوگ کب حضرت موسیٰ کو مانتے تھے` ان سے ان انبیاء کی صداقت کا اقرار آنحضرت ~صل۲~ نے ہی کرایا ہے- پس آپ کا سب گذشتہ نبیوں پر احسان ہے کہ ان کی صداقت لوگوں پر مخفی تھی- آپﷺ~ نے اس کو ظاہر فرمایا` مگر آپﷺ~ پر کسی کا احسان نہیں- آپﷺ~ پر اللہ تعالیٰ وہ دن کبھی نہیں لائے گا جب آپﷺ~ کا فیضان بند ہو جائے اور کوئی دوسرا نبی آکر آپﷺ~ کی اصلاح کرے` بلکہ جب کبھی آپﷺ~ کی امت کی اصلاح کی ضرورت پیش آئے گی- اللہ تعالیٰ آپ کی شاگردوں میں سے اور آپﷺ~ ہی کے امتیوں میں سے ایسے لوگ جنہوں نے سب کچھ آپﷺ~ ہی سے لیا ہوگا اور آپﷺ~ ہی کے امتیوں میں سے ایسے لوگ جنہوں نے سب کچھ آپﷺ~ ہی سے لیا ہوگا اور آپﷺ~ ہی سے سیکھا ہو گا مقرر فرمائے گا تا وہ بگڑے ہوئوں کی اصلاح کریں اور گم شدوں کو واپس لائیں اور ان لوگوں کا کام آپﷺ~ ہی کا کام ہوگا` کیونکہ شاگرد اپنے استاد سے علیحدہ نہیں ہوسکتا اور امتی اپنے نبی سے جدا نہیں قرار دیا جا سکتا` ان کی گردنیں آپﷺ~ کے احسان کے آگے جھکی ہوئی ہوں گی اور ان کے دل آپﷺ~ کی محبت کی شراب سے لبریز ہوں گے اور ان کے سر آپﷺ~ کے غشق کے نشے سے سرشار ہوں گے-
    غرض کسی نبی کے دوبارہ آنے میں آنحضرت ~صل۲~ کی ہتک ہے اور اس سے آپﷺ~ کا وہ درجہ باطل ہو جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپﷺ~ کو دیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے- ان اللہ لایغیر ما یقوم حتی یغیروا ما بانفسھم)سورۃ رعد ع۲(اللہ تعالیٰ کسی کو کوئی نعمت دیکر چھین نہیں لای کرتا جب تک کہ خود ان کے اندر کوئی خرابی نہ پیدا ہو جائے- اب اس عقیدے کو مان کر یا تو نعوذباللہ یہ ماننا پڑتا ہے کہ رسول کریم ~صل۲~ میں کوئی تبدیلی ہو گئی ہے یا پھر یہ ماننا پڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ین اپنا وعدہ توڑ دیا اور باقی لوگوں سے تو وہ یہ سلوک کرتا یہ کہ ان کو نعمت دے کر واپس نہیں لیتا مگر محمد~صل۲~ سے اس ین اس کے خلاف سلوک کای ہے اور یہ دونوں باتیں کفر ہیں کیونکہ ایک میں خدا تعالیٰ کا انکار ہے اور دوسری میں اس کے رسولﷺ~ کا- پس ان وجود سے ہم اس قسم کے عقائد سے بیزار ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ مسیح علیہ السلام جن کی آمد کا وعدہ دیا گای ہے اسی امت میں سے آنے والے ہیں اور یہ خدا تعالیٰ کا اختیار ہے کہ جسے چاہے کسی مقام پر ممتاز کر دے-
    احادیثنبی کریم ~صل۲~ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ آنے والا مسیح اسی امت میں سے ہوگا` آنحضرت ~صل۲~ فرماتے ہیں لا المھدی الاعیسی سوائے عیسیٰ کے اور کوئی مہدی نہیں- دوسری طرف فرماتے ہیں کفی انتم اذ انزل فیکمابن مریم وا امامکم منکم )بخاری کتاب الانبیاء باب نزول عیسیٰ ابن مریم( تمہارا کای حال ہوگا جب تم میں ابن مریم نازل ہو گا اور تمہار امام تمہیں میں سے ہوگا- اندونوں ارشادات نبویﷺ~ کو ملا کر دیکھیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں ان کے سوا کوئی اور مہدی نہیں اور وہ اس امت کے امام ہوں گے مگر اسی امت میں سے ہوں گے کہیں باہر سے نہ آئیں گے- پس یہ خیال کہ مسیح علیہ السلام کوئی علیحدہ وجود ہوں گے اور مہدی علیحدہ وجود` باطل خیال ہے اور لاالمھدی الاعیسی کے خلاف ہے- مومن کا یہ کام ہے کہ وہ اپنے آقا کے اقوال پر غور کرے اور جو تضاد اسے بظاہر نظر آئے اسے اپنے تدبر سے دور کرے- اگر رسول کریم ~صل۲~ نے ایک دفعہ یہ فرمایا ہے کہ پہلے مہدی ظاہر ہوں گے پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے جو مہدی کی اتباع میں نماز ادا کریں گے- اور دوسری دفعہ یہ فرمایا ہے کہ مسیح علیہ السلام ہی مہدی ہیں` تو کای ہمارا یہ کام ہے کہ آپ کے قول کو رد کریں یا یہ کام ہے کہ دونوں پر غور کریں- اگر دونوں اقوال میں سے کوئی اتحاد کی صورت ہو تو اس کو اختیار کرلیں اور اگر کوئی ادنیٰ تدبر بھی کرے گا تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ ان دونوں اقوال میںاتحاد کی صورت یہی ہے کہ لا المھدی الاعیسی دوسری حدیث کی تشریح ہییعنی پہلے رسول کریم~صل۲~ نے جو مسیح علیہ السلام کے نزول کی خبر ایسے الفاظ میں دی تھی جس سے یہ شبہ پڑتا تھا کہ دو علیحدہ علیحدہ وجود ہیں اس کولا المھدی الاعیسی والی حدیث سے کھول دیا اور بتا دیا کہ وہ کلام استعارتاً تھا` اس سے صرف یہ مراد تھی کہ امت محمدیہ کا ایک فرد پہلے دنیا کی اصلاح کعل یے مامور کای جائے گا` لیکن کسی رسول کا مقام اسے نہیں دیا جائے گا` لیکن بعد میں عیسیٰ ابن مریم کے نزول کی پیشگوئی بھی اسی کے حق میں پوری کی جائے گی اور وہ عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کرے گا` اس طرح گویا اس کے دو مختلف عہدوں کے اظہار کا وقت بیان کیا گیا ہے- یعنی پہلے عام دعویٰ اصلاح ہو گا اور پھر دعویٰ مسیحیت ہو گا اور پیشگوئیوں میں اس قسم کا کلام عام ہوتا ہے بلکہ اگر اس قسم کے استعارے پیشگوئیوں سے علیحدہ کر دئیے جائیں تو ان کا سمجھنا ہی بالکل نا ممکن ہو جائے-
    اگر یہ معنی ان احادیث کے نہ کتے جائیں تو دو باتوں میں سے ایک ضرور ماننی پڑے گیاور وہ دونوں ہی خطرناک ہیں- یا تو یہ ماننا پڑے گا کہ لا المھدی الا عیسی والی حدیث باطل ہے اور یا یہ ماننا پڑے گا کہ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ مہدی کا کوئی الگ وجود نہیں بلکہ مسیح اور مہدی کے درجات کا مقابلہ کیا گیا ہے اوربتایا گی اہ یکہ اصل مہدی تو مسیح ہی ہوں گے- دوسرا مہدی تو ان کے مقابلہ میں کچھ بھینہیں- بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ اپین علم میں دوسروں سے اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ اسکے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں- جس طرح کہہ دیتے ہیں کہ لا عا لم الا فلاناور اس سے یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اس کے سوا کوئی عالم ہی نہیں` بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ اپنے علم میں دوسروں سے اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ اس کے مقابلہ میں ان کا علم حقیر ہو جاتا ہے اور یہ دونوں معنی خطرناک نتائج پیدا کرنے والیے ہیں کیونکہ ایک حدیث کو بلا وجہ باطل کر دینا بھی خطرناک ہے اور خصوصاً ایسی حدیث کو جا اپنے ساتھ شواہد بھی رکھتی ہے اور یہ کہان کہ مہدی مسیح کے مقابلہ میں کچھ بھی حقیقت نہ رکھیں گے ان احادیث کے مضامین کے خصاف ہے جن می انہیں امام قرار دی اگیا ہے اور مسیح کو ان کا مقتدی- غرض سوائے ان معنوں کے کہ امت محمدیہ می ایک ایسے وجود کی /بر دی گئیی ہے جو پہلے مصلح ہونے کا دعویٰ کریگا اور بعد کو مسیح موعود ہونے کا ` ان احادیث کے اور کوئی معنی نہیں بن سکتے-
    اصل بات یہ ہے کہ لوگوں نے سارا دھوکا اس امر سے کھایا ہے کہ حدیث میں نزول کالفظ ہے اور اس لفظ سے سمجھ لیا گیا ہے کہ مسیح اول ہی دوبارہ دیا می نازل ہوں گیحالانکہ نزول کے وہ معنی نہیں ہیں جو لوگ سمجھتے ہیں` بلکہ جب ایک ایسی چیز کی پیدائشکا ذکر کرتے ہیں جو مفید ہو یا پھر ایک ایسے تغیر ا ذکر کرتے ہیں جو بابرکت ہو یا جلالالٰہی کا ظاہر کرنے والا ہو تو اسے عربی زبان میں نزول کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں چنانچہاللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے- ثم النزل اللہ سکینتہ علی رسولہ)توبہ ع ۴(اور پھر فرماتا ہیثم انزل علینکم من بعدالغم امنہ نعا سا )ال عمران ع ۱۶( اور فرماتا ہیو انزللکم من الانعام ثمنیہ ازواج)زمر ع ۱( اور فرماتا ہیوانزلنا علیکم لبا سا یواری سو اتکم وریشا ولباس التقوی ذلک خیر ذلک من ایات اللہ لعلھم ید کرون اعراف ع ۳(اور فرماتا ہے وانزلنا علیکم المن والسلوی )بقرہ ع ۶(اور فرماتا ہے وانزلنا الحد ید فیہباس شدید ومنا فع للناس ولیعلم اللہ من ینصرہ ورسلہ بالغیب ان اللہ قدی عزیز )حدید ع ۳( اور فرماتا ہے ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ لبغواجیالارض ولکن ینزل بقدر ما یشاء انہ بعبدہ خبیر بصیر )شوریٰ ع ۳(
    اب یہ بات پوشیدہ نہیں کہ سکینت دل میں پیدا کی جاتی ہے- نیند دماغ کے فعل کا نام ہے اور چار پائے اور لباس اور کھیتیاں اور بٹیر اور لوہا اور دنیا کی باقی سب چیزیں ایسء ہی ہیں جو اسی زمین پر پیدا ہوتی ہیں- آسمان سے اترتی ہوئی نہ کسی نے دیکھی ہیں اور نہ ان کا آسمان سے اترنا قرآن و حدیث سے ثابت ہے بلکہ اللہ تعالی صاف طور پر قرآن کریم میں فرماتا ہے- وجعل فیھا رواسی من فوقھا و بارک فیھا و قدر فیھا اقواتھا فی اربعہ ایام سواء لسائلین )سورہ حم سجدہ ع۲( یعنی ہم نے زمین میں اس کی سطح پر پہاڑ پیدا کئے اور زمین میں بہت سے سامان پیدا کئے اور ہر قسم کی غذا میں بھی اس میں پیدا کیں- یہ سب کام زمین کا پیدا ہونا پھر اس میں ہر قسم کے سامانوں اور جانوروں کا پیدا ہونا چار زمانوں میں اختتام کو پہنچا اور یہ بات ہر قسم کے سائلوں کے لئے برابر ہے یعنی یہ مضمون گو بڑے بڑے مسائل طبعیہ اور وقائق علمیہ پر مشتمل ہے جو کچھ تو اس زمانے میں ظاہر ہو چکے ہیں اور کچھ آئندہ زمانوں میں ظاہر ہوں کے اور نئے نئے سوال اس کے متعلق پیدا ہوں گے- مگر ہم نے اس کو ایسے الفاظ میں ادا کر دیا ہے کہ ہر طبقہ کے لوگ اور ہر زمانے کے آدمی اپنے اپنے علم اور اپنے اپنے زمانے کی علمی ترقی کے مطابق اس میں سے صحیح جواب پالیں گے جو ان کے لیے موجب تشفی ہوگا-
    ‏Dawat18
    بعض نے بلکہ اس وقت کے کل مسلمانوں نے کلام الٰہی کے متعلق ایک اور ظلم کیا ہے کہ کہہ دیا ہے کہ پہلے اللہ کا کلام دنیا پر نازل ہوتا تھا لیکن اب نہیں ہوتا- گویا اب اللہ تعالیٰ کی ایک صفت معطل ہو گئی ہے وہ دیکھتا ہے سنتا ہے لیکن بولتا نہیں- نعوذ باللہ من ذالک-
    غرض ہر شخص سے جس قدر ہو سکا اس نے کلام پاک کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کی خوبصورتی کو لوگوں کی نظروں سے چھپانا چاہا ہے اور ان سب کوششوں کا نام خدمت قرآن رکھا ہے حالانکہ ان کوششوں کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ دنیا قرآن کریم سے متنفر ہو گئی ہے اور اس کا اثر دلوں سے اٹھ گیا ہے-
    حضرت اقدس علیہ السلام نے اے بادشاہ! ان تمام عیوب کو آکر دور کیا اور دلائل سے ثابت کیا ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا آخری ہدایت نامہ ہے وہ نسخ سے محفوظ ہے اس کے اندر جو کچھ موجود ہے مسلمانوں کے لیے قابل عمل ہے اور اس کا کوئی حصہ نہیں جو دوسرے حصے کے مخالف ہو اور قابل نسخ سمجھا جائے جو اس میں اختلاف دیکھتا ہے وہ خود جاہل اور اپنی کم علمی کا قرآن کریم کی طرف منسوب کرتا ہے اس کے اندر کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اس کا ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف اسی طرح ہے جس طرح کہ رسول کریم ~صل۲~ پر نازل ہوا تھا اور صرف یہی نہیں بلکہ اس کے اندر کوئی تبدیلی کی ہی نہیں کی جا سکتی- نہ اس کے بعض مضامین کو بدل کر اور نہ اس کے اندر کوئی نئی عبادت بڑھا کر اور نہ اس کا کوئی حصہ کم کر کے اللہ تعالیٰ خود اس کا محافظ ہے اور اس نے اس کی چحفاظت کے ایسے سامان کر دئیے ہیں- کچھ روحانی اور کچھ جسمانی کہ انسانی وسعت برد اس پر اثر کر ہی نہیں سکتی- پس اس میں کوئی نسخ ماننا بھی غلط ہے اور اس میں کوئی تغیر تسلیم کرنا بھی خواہ وہ کیسا ہی ادنیٰ ہے اتہام ہے وہ محفوظ ہے اور محفوظ رہے گا
    یہ کہنا کہ اس کا کوئی حصہ دنیا سے اٹھایا گیا ہے اللہ تعالیٰ پر الزام لگانا ہے اور اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ کامل کتاب جو اس نے دنیا کی ہدایت کے لئے بھیجی تھی وہ ایک دن بھی اس کام کو نہ کر سکے جس کے لیے بے اختیار ہو گئی' لیکن اگر ایسا ہوتا تو یہ بھی ضروری تھا کہ کوئی نبی اور کوئی نئی شریعت دنیا کی ہدایت کے لیے بھیجی جاتی تا دنیا بلا شریعت کے نہ رہ جاتی-
    اسی طرح آپ نے ثابت کیا کہ قرآن کریم بلکہ ہر ایک اللہ کا کلام شیطانی تصرف سے پاک ہے یہ ہرگز ممکن نہیں کہ شیطان اللہ تعالیٰ کے کلام میں کچھ دخل دے سکے خواہ نبی کی زبان پر تصرف کر کے خبواہ نبی کی آواز بنا کر اپنی زبان کے ذریعہ سے اور آپ نے اپنے تجربے سے بتایا کہ جب مجھ پر جو ایک غلام ہوں نازل ہونیوالا کلام ہر ایک شک وشبہ سے پاک ہے تو کس طرح ممکن ہے کہ رسول کریم ~صل۲~ پر جو میرے آقا ہیں نازل ہونے والا کلام اور وہ بھی قرآن کریم جو ہمیشہ کے لیے ہدایت بننے والا تھا شیطانی اثر کو قبول کر لے خواہ ایک آن کے لیے ہی سہی-
    آپ نے مسلمانوں کو بتایا کہ قرآن کریم یقنی کلام ہے اس کی حفاظت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے اور اس وعدہ کا ایفاء اس رنگ میں اس نے کیا ہے کہ دشمن بھی اس کی حفاظت کے قائل ہیں پس اس کے مقابلے میں حدیث کو رکھنا اس کی گستاخی کرنا اور اس کو جان بوجھ کر رد کرنا ہے- جو حدیث قرآن کریم کے مخالف پڑتی ہے- وہ ہرگز حدیث نبوی نہیں ہو سکتی کیونکہ اللہ کا رسول اللہ کے کلام کے مخالف نہیں کہہ سکتا اور احادیث کی تدوین ایسی محفوظ نہیں ہے جیسا کہ قرآن کریم محفوظ ہے- پس قرآن کریم کو زبردستی حدیث کے ماتحت نہیں کرنا چاہئیے بلکہ حدیث کو قرآن کریم کے ماتحت کرنا چاہئیے اور اگر دونوں مطابق نہ ہو سکیں تو حدیث کو جو ممکن ہے کہ کسی انسان کی دانستہ یا نادانستہ دست برد سے خراب ہو چکی ہو چھوڑ دینا چاہئیے-
    اور آپ نے ان لوگوں کے جواب میں جو یہ کہتے ہیں کہ پورا دین تو ہمیں حدیث سے معلوم ہوا ہے بتایا کہ حدیث اور قرآن کے علاوہ ایک تیسری چیز سنت ہے یعنی وہ کام جو رسول کریم ~صل۲~ نے کر کے دکھائے اور جو بلا واسطہ صحابہ نے آپ کو کرتے ہوئے دیکھ کر آپ سے سیکھے اور ان کے مطابق عمل کیا کسی زبانی حدیث کی ان کے لئے ہمیں ضرورت نہیں ہزاروں لاکھوں مسلمانوں نے ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کو وہ کام کرتے ہوئے دیکھا اور ان سے اگلوں نے سیکھا- یہ سنت کبھی قرآن کریم کے مخالف نہیں ہوتی' ہاں حدیث جو زبانی روایت ہے وہ کبھی قرآن کے مخالف ہو تو وہ قابل رد ہے اور جب اس کے مطابق ہو قابل قبول کیونکہ تاریخی شہادت ہے اور تاریخی شہادت کو بلاوجہ رد نہیں کیا جا سکتا ہے ورنہ بہت سی صداقتیں دنیا سے مفقود ہو جائیں-
    آپ نے اس خیال کی لغویت کو بھی ظاہر کیا کہ قرآن کریم رسول کریم ~صل۲~ کے الفاظ ہیں اور بتایا کہ قرآن کریم کا لفظ لفظ اللہ کا کلام رسول کریم ~صل۲~ تو صرف وحی چاہتا ہے اور اللہ کے ہونٹ اور زبان نہیں کیونکہ یہ قیاس مع الفاروق ہے اللہ تعالیٰ تو لیس کمثلہ شی ہے اس پر انسانی طاقتوں کا اندازہ کر کے فیصلہ نہیں دیا جا سکتا اگر کلام بغیر ہونٹ کے نہیں ہو سکتا تو اسی طرح کوئی چیز بغیر ہاتھوں کے نہیں بنائی جا سکتی- بلکہ مادی ہاتھوں کے نہیں بنائی جا سکتی تو کیا اللہ خالق بھی نہیں ہے پس جس طرح اللہ تعالیٰ بلا مادی ہاتھوں کے اس تمام کائنات کو پیدا کر سکتا ہے اسی طرح بغیر مادی ہونٹ اور زبان ہونے کے وہ اپنی مرضی کو اپنے بندے پر الفاظ میں ظاہر کر سکتا ہے اور آپ نے اپنے تجربے کو پیش کیا اور بتایا کہ یہ وہم صرف اس کوچے سے ناواقفی کی وجہ سے ہے ورنہ اللہ تعالیٰ خود مجھ سے الفاظ میں کلام کرتا ہے پس جب کہ وہ مجھ سے الفاظ میں کلام کرتا ہے تو رسول کریم ~صل۲~ سے جو سب بنی آدم کے سردار اور اللہ کے سب سے زیادہ مقرب تھے کیا وہ الفاظ میں کلام نہ کرتا ہو گا اس سے زیادہ جاہل اور کون ہو گا جو جاہل ہو کر اس بحث میں دخل دے جو اس کے علم سے بالا ہو اور نادان ہو کر اللہ کے رازوں کو اپنی عقل سے دریافت کرنے کی کوشش کرے-
    آپ نے اس خیال کو بھی رد کیا کہ اللہ کے کلام کا ترجمہ نہیں ہو سکتا اور بتایا کہ جب تک لوگوں کو قرآن کریم کا مفہوم نہ پہنچایا جائے وہ اس کی خوبیوں سے کس طرح واقف ہونگے؟ بیشک خالی ترجمہ کی اشاعت ایک جرم ہے کیونکہ اس سے لوگوں کو متن سے بعد ہوتا جائے گا اور ممکن ہے کہ ترجمہ در ترجمہ سے وہ ایک وقت اصل درحقیقت کو چھوڑ دیں' لیکن ان لوگوں کے لیے جو عربی زبان کو اس قدر رواج دیا جائے کہ لوگ قرآن کریم کو اس کی اصل زبان میں پڑھ کر وہ برکات حاصل کر سکیں جو کہ ترجمہ سے حاصل نہیں ہو سکتیں اور کم سے کم ہر شخص کو اس قدر حصہ قرآن کریم کا ضرور سکھا دیا جائے جو نماز میں اس کو پڑھنا پڑتا ہے-
    آپ نے اس خیال کو بھی کہ قرآن کریم ایک مجمل کتاب ہے اس میں اشارۃ بعض باتیں بیان کی گئی ہیں نہایت واضح دلائل سے رد کر کے بتایا کہ قرآن کریم جیسی جامع ومانع کتاب تو دنیا بھر میں نہیں مل سکتی یہ تم لوگوں کا اپنا قصور تھا کہ اس پر غور کرنا تم نے چھوڑ دیا اور اس طہارت کو حاصل نہ کیا جس کے بغیر اس کے مطالب کا القاء انسان کے قلب پر نہیں ہوتا کیونکہ لایمسہ الا المطھرون )واقعہ ع۳(80: کا ارشاد ہے- پس اپنی کوتاہ فہمی کو قرآن کریم کی طرف منسوب نہ کرو اور پھر آپ نے تمام مسائل دینیہ کو قرآن کریم سے ہی استنباط کر کے پیش کیا اور دشمنان اسلام کے ہر اعتراض کو قرآن کریم سے ہی رد کر کے دکھا دیا اور ثابت کر دیا کہ علوم روحانیہ اور دینیہ اور اخلاقیہ کے متعلق قرآن کریم سے زیادہ واضح اور مفصل کتاب اور کوئی نہیں' اس کے الفاظ مختصر ہیں' لیکن مطالب ایک بحر ذخار کی طرح ہیں کہ ایک ایک جملہ بیسیوں بلکہ سینکڑوں مطالب رکھتا ہے اور اس کے مضامین ہر زمانے کے سوالات اور شوک کو حل کرتے ہیں اور ہر زمانے کی ضرورت کوث وہ وپرا کرتا ہے-
    آپ نے اس خیال کو بھی رد کیا کہ قرآن کریم تقدیم وتاخیر سے بھرا پڑا ہے اور بتایا کہ قرآن کریم کے الفاظ اپنی اپنی جگہ پر ایسے واقع ہیں کہ ان کو ہرگز ان کی وجگہ سے ہلایا نہیں جا سکتا- لوگ اپنی نادانی سے اس میں تقدیم وتاخیر سمجھ لیتے ہیں ورنہ اس میں جو کچھ جس جگہ رکھا گیا ہے وہی وہاں درست بیٹھتا ہے اور اسی جگہ پر اس کے رکھنے سے وہ خوبی پیدا ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ پیدا کرنا چاہتا ہے اور آپ نے قرآن کریم کے مختلف مقامات کی تشریح کر کے اس مضمون کی صحت کو ثابت کیا اور ان لوگوں کے وسوسہ کو رد کیا جو اپنی کم علمی کی وجہ سے تقدیم وتاخیر کے چکر میں پڑے ہوئے تھے-
    آپ نے اس بات پر بھی جرح کی کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں اسرائیلی قصوں کو بھر دیا گیا ہے اور بتایا کہ محض بعض واقعات میں مشابہت کا پیدا ہو جانا یہ ثابت نہیں کرتا کہ درحقیقت یہ دونوں باتیں ایک ہیں قرآن کریم اگر بعض واقعات کو مختلف الفاظ میں بیان کرتا ہے تو اس کے یہی معنے ہیں کہ وہ ان واقعات کو اس صورت میں قبول نہیں کرتا جس صورت میں افسانہ گو ان کو بیان کرتے ہیں اور یہ بھی بتایا کہ درحقیقت قرآن کریم افسانے کی کتاب ہے ہی نہیں وہ جو واقعات پچھلے بھی بیان کرتا ہے وہ آگے کی پیشگوئیاں ہوتی ہیں اور ان کے بیان کرنے سے غرض ہوتی ہے کہ اسی طرح کا آئندہ رسول کریم ~صل۲~ یا آپ کی امت کے بعض افراد سے ہونیوالا ہے پس اس کی تفسیر میں یہودیوں کے قصوں اور انسانوں کو بیان کرنا اس کے مطلب کو گم کر دینا ہے- قرآن کریم پہلی کتاب پر بطوع شاہد کے آیا ہے نہ کہ پہلی کتاب اس پر بطور شاہد کے ہیں کہ اس کے بتائے ہوئے مضمون کے خلاف ہم ان کتب سے شہادت طلب کریں' ہمیں چاہئیے کہ خود قرآن کریم سے اس کی تفسیر کریں اور اس کے مطلب کو باہر سے تلاش کرنے کی بجائے اس کے اندر ڈھونڈیں-
    آپ نے یہ بھی ثابت کیا کہ قرآن کریم ایک مرتب اور باربط کتاب ہے اس کے مضامین یونہی بکھرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ شروع بسم اللہ سے لے کر والناس تک اس کی آیات اور اس کی سورتوں میں ایک ترتیب ہے جو ایسی اعلیٰ اور طبعی ہے کہ جس شخص کو اس پر اطلاع دی جاتی ہے وہ اس کے اثر سے وجد میں آجاتا ہے اور اس کے مقابلے میں کسی انسانی کتاب کی ترتیب میں لطف حاصل نہیں کر سکتا- جن لوگوں نے قرآن کریم کے مضامین کو بے ترتیب قرار دیا ہے یا مختلف واقعات ومضامین کا مجموعہ سمجھا ہے انہوں نے درحقیقت اس بے نظیر کتاب کے معارف سے کوئی حصہ نہیں پایا- اور اپنی جہالت پر نازاں ہو گئے اور اپنی کم علمی پر توکل کر بیٹھے ہیں ان کا خیال بالکل غلط ابر باطل ہے اور آپ نے قرآن کے مضامین کی ترتیب کو مثالوں سے ثابت کیا اور دنیا کو حیرت میں دال دیا-
    آپ نے اس خیال کو بھی اپنے تجربے اور مشاہدے اور دلائل سے رد کیا کہ اب اللہ تعالیٰ کلام نہیں کرتا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی صفت معطل نہیں جب کہ وہ پہلے کی طرح اب بھی دیکھتا اور سنتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ وہ اب بولنے سے رک گیا ہے- شریعت اور چیز ہے اور خالی وحی اور چیز ہے وحی تو اس کی رضا کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے اس کے بند ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی راہیں بند ہو گئیں اللہ کا کلام کبھی منقطع نہیں ہو سکتا- جب تک انسان دنیا میں موجود ہے اور جب تک انسانوں میں سے بعض اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے سچے دل سے کوشاں ہیں اور اسلام کی تعلیم پر عامل ہیں اس وقت تک کلام الٰہی نازل ہوتا رہے گا-
    غرض کتب سماویہ اور کلام الٰہی کے متعلق جس قدر غلط فہمیاں لوگوں میں پھیلی ہوئی تھیں اور جن کی وجہ سے یہ رکن ایمان بالکل منہدم ہو چکا تھا ان کو آپ نے دور کیا اور پھر اس رکن کو اصل بنیادوں پر قائم کیا اور اللہ کے کلام کی اصل عظمت اور حقیقت کو ثابت کر کے طبائع کو اس سبب سے ڈال رکھے تھے اور غیر اقوام بھی قرآن کریم کے نور کو دیکھ کر حیران رہ گئیں بلکہ لوگ اس کے نور کی چمک سے اپنی آنکھیں نہیں کھول سکتے ہیں-
    چوتھا رکن اسلام کا انبیاء پر ایمان لانا ہے اس رکن پر بھی حقیقت سے دور اور روحانیت سے عاری مسلمانوں نے عجیب عجیب رنگ آمیزیاں کر دی تھیں اور اس کی شکل کو نہ صرف بدل دیا تھا بلکہ اس کی شکل ایسی بدنما کر کے دکھائی تھی کہ اپنوں کے دل نبیوں کی محبت سے خالی ہو گئے تھے اور دوسروں کے دل ان سے نفرت کرنے لگے تھے اور سچ یہ ہے کہ جس قدر گالیاں اس وقت رسول کریم ~صل۲~ کو دی جا رہی ہیں ان کے ذہ وار یہ مسلمان کہلانیوالے لوگ ہیں نہ کوئی اور مسیحی اور دوسرے مخالفین اسلام اس قدر اپنی طرف سے جھوٹ بنا بنا کر آنحضرت ~صل۲~ پر اعتراض نہیں کرتے جس قدر کہ ان روایات کی بنا پر اعتراض کرتے ہیں جو خود مسلمانوں سے مروی ہیں اور جن کو مسلمانوں نے تسلیم کر لیا ہے اور جن کو بطور لطائف کے وہ اپنی مجالس میں بیان کرتے ہیں اور اپنے منبروں پر جن کا ذکر کرتے ہیں آہ! ایک باغیرت مسلمان کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ ایک مسلمان ہی کی تیار کردہ تلوار سے سرور انبیاء محمد مصطفیٰ کے تقویٰ کی چادر کو ایک دشمن اسلام خاک برسرش اپنے زعم باطل میں چاک کر رہا ہے- درحقیقت تو وہ خود اس منافق کے نفاق کو کھول رہا ہوتا ہے مگر ظاہرا یہی سمجھا جاتا ہے کہ وہ رسول کریم ~صل۲~ کے اخلاق کے عیوب کو ظاہر کر رہا ہے-
    نبی دنیا میں اس لیے آتے ہیں کہ نیکی اور تقویٰ کو قائم کریں اور ہدایت کو جاری کریں مگر مسلمانوں نے فیج اعوج کے زمانے میں نبیوں کی طرف وہ عیب منسوب کر دئیے ہیں جن کو سنکر اور پڑھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے آدم علیہ السلام سے لے کر رسول کریم ~صل۲~ تک ہر ایک نبی کے انہوں نے گناہ گنوائے ہیں آدم کو گنہگار ثابت کیا ہے کہ انہوں نے باوجود منع کئے جانے کے اپنے بیٹے کے لیے دعا کی- حضرت ابراہیم کو گنہگار ثابت کیا ہے کہ انہوں نے گویا اپنے باپ کو بستر مرگ پر دھوکا دیا تھا اور اپنے بڑ بھائی کی جگہ بھیس بدل کر اپنے باپ سے دعا حاصل کر لی تھی- یوسف علیہ السلام کو گنہگار ثابت کیا ہے کہ انہوں نے عزیز کی بیوی کے ساتھ زنا کرنے کا ارادہ کر لیا تھا اور بالکل اس کام کے لیے تیار ہو گئے تھے حتی کہ باوجود کئی رنگ میں سمجھانے کے نہیں سمجھتے تھے آخر یعقوب کی شکل سامنے آگئی تو شرم سے اس کام سے باز رہے اسی طرح کہا جاتا ہے کہ بچپن میں انہوں نے چوری کی تھی اور ایک دفعہ انہوں نے اپنے بھائی کو اپنے پاس رکھنے کے لیے فریب بھی کیا تھا-
    حضرت موسیٰ علیہ السلام پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو بلا وجہ قتل کیا اور ایک کبیرہ گاہ کے مرتکب ہوئے اور پھر فریب سے لوگوں کے مال لیکر بھاگ گئے دائود پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے ایک شخص کی منکوحہ چھیننے کے لیے اس کو ناواجب طور پر قتل کروا دیا اور سا کی بیوی سے نکاح کر لیا اور آخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو سرزنش ہوئی سلیمان پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ وہ ایک مشرکہ پر عاشق ہو گئے اور شیطان نے ان پر تصرف کر لیا ان ککی جگہ وہ خود حکومت کرنے لگا اور یہ کہ مال کی محبت ان کے دل پر غالب آگئی اور وہ عبادت الٰہی سے محروم رہ گئے- گھوڑوں کا معائنہ کرتے ہوئے نماز پڑھنا ہی بھول گئے اور سورج ڈوب گیا- رسول کریم ~صل۲~ کے احسانات کے نیچے ان لوگوں نے سب سے زیادہ حملے کئے ہیں اور آ کی زندگی کا کوئی پہلو نہیں چھوڑا جس پر اعتراض نہ کیا ہو- بعضوں نے کہدیا کہ آپ حضرت علی کو اپنا جانشین بنانا چاہتے تھے مگر لوگوں کے ڈر سے کچھ نہ کر سکے بعض نے کہا کہ آپ نعوذ باللہ من ذالک اپنی پھوپھی زاد بہن کو دیکھ کر اس پر عاشق ہو گئے اور آخر اللہ تعالیٰ نے زید سے طلاق دلوا کر ان کو آ کے نکاح میں دیا بعض نے کہا کہ آ اپنی بیوی کی ایک لونڈی سے چھپ چھپ کر صحبت کیا کرتے تھے- ایک دن بیوی نے دیکھ لیا تو آپ بہت نادم ہوئے اور اس بیوی سے اقرار کیا کہ پھر آپ ایسا نہیں ککریں گے اور اس سے عہد لیا کہ وہ اور کسی کو نہ بتائے بعض کہتے ہیں کہ آ کے دل میں کبھی یہ خواہش ہوا کرتی تھی کہ تعلیم اسلام میں نرمی ہو جائے اور ایسی تعلیم نازل ہو جسے مشرکین عرب بھی تسلیم کر لیں ان کے احساسات اور جذبات کا بھی لحاظ رکھا جائے-
    یہ وہ خیالات ہیں جو اس وقت کے مسلمانوں میں انبیاء کی نسبت رائج ہیں اور بعض تو اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ ان کے ذاتی چال چلن سے گزر کر انہوں نے ان کے دینی چال چلن پر بھی حملہ کر دیا ہے اور کہتے ہیں کہ انبیاء درحقیقت محبان وطن تھے جنہوں نے یہ دیکھ کر کہ لوگ بلا اس عقیدے کو تسلیم کرنے کے کہ کوئی جزا سزا کا دن ہے اور جنت اور دوزخ حق ہیں تمدنی حدود کے اندر نہیں رہ سکتے تھے نیک نیتی کے ساتھ مناسب وقت احکام لوگوں کو دئیے الہام کا دعویٰ درست نہ تھا مگر بوجہ نیت نیک ہونے کے اور اعلیٰ درجہ کی اخلاقی تعلیم پیش کرنے کے وہ قابل عزت ہیں اور باوجود اس قسم کے عقیدوں کے وہ مسلمان کہلاتے ہیں-
    حضرت اقدس مرزا غلام احمد علیہ الصلوہ والسلام نے جہاں اور عقائد کا رد کیا اور ان میں صحیح راستہ ہمیں بتایا وہاں ان خیالات کے متعلق بھی صحیح اسلامی تعلیم سے مسلمانوں اور دیگر لوگوں کو آگاہ کیا- آپ نے بتایا کہ انبیاء دنیا میں نیکی قائم کرنے کے لیے آتے ہیں اور اس لیے لوگوں کے لیے نمونہ ہوتے ہیں اگر وہ نمونہ ہوں تو پھر ان کی بعثت کی کی اضرورت ہے کیوں آسمان سے صرف کتاب یہی نازل نہ کی جائے- نبیوں کی بعثت کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول کو لوگ عمل میں آیا ہوا دیکھ لیں اور ان کی عملی تصویر سے لفظی حقیقت کو معلوم کریں اور ان کے نمونے سے جرات حاصل کر کے نیکی کی راہ میں ترقی کریں- اور ان کی قوت قدسیہ سے طاقت حاصل کر کے اپنی کمزوریوں پر غالب آویں-
    آپ نے دنیا کو تعلیم دی کہ لوگ انبیاء کی نسبت جن غلطیوں میں پڑے ہوئے ہیں اس کا سبب ان کی نافہمی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور بلا تحقیق اپنی بات کو پھیلانا شروع کر دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کے تمام نبی معصوم عن الخطاء ہوتے ہیں- وہ سچائی کا زندہ نمونہ اور وفا کی جیتی جاگتی تصویر ہوتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر ہوتے ہیں اور صفائی اور خوبصورتی سے اللہ تعالیٰ کی سبوحیت اور قدوسیت اور اس ککے بے عیب ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں درحقیقت وہ ایک آئینہ ہوتے ہیں جس میں بدکار بعض دفعہ اپنی شکل دیکھ کر اپنی بدصورتی اور دزشت روئی کو ان کی طرف منسوب کر دیتا ہے نہ آدم شریعت کا توڑنے والا تھا نہ نوح گنہگار تھا نہ ابراہیم نے کبھی جھوٹ بولا- نہ یعقوب نے دھوکا دیا' نہ یوسف نے بدی کا ارادہ کیا یا چوری کی یا فریب کیا نہ موسیٰ نے ناحق کوئی خون کیا نہ دائود نے کسی کی بیوی ناحق چھینی نہ سلیمان نے ککسی مشرکہ کی محبت میں اپنے فرائض کو بھلایا' یا گھوڑوں کی محبت میں نماز سے غفلت کی نہ رسول کریم ~صل۲~ نے کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ کیا آپ کی ذات تمام عیوب سے پاک تھی اور تمام گناہوں سے محفوظ ومصون- جو آپ کی عیب شماری کرتا ہے وہ خود اپنے گند کو ظاہر کرتا ہے یہ سب افسانے جو آپ کی نسبت مشہور ہیں بعض منافقوں کی روایات ہیں جو تاریخی طور پر ثابت نہیں ہو سکتے آپ کی باقی زندگی ان روایات کے بالکل برخلاف ہے اور جس قدر اس قسم کی باتیں آپ کی نسبت یا دوسرے انبیاء کی نسبت مشہور ہیں وہ یا تو منافقوں کے جھوٹے اتہامات کے بقیہ یادگاریں ہیں' یا کلام الٰہی کے غلط اور خلاف مراد معنی کرنے سے پیدا ہوئی ہیں-
    آپ نے نہایت وضاحت سے قرآن کریم سے بدلائل قاطعہ ثابت کر دیا کہ درحقیقت اس قسم کے خیالات اسلام کی تعلیم کے خلاف ہیں اور اصل بات تو یہ ہے کہ یہ خیالات مسلمانوں میں مسیحیوں سے آئے تھے کیونکہ مسیحیوں نے حضرت مسیح کی خدائی ثابت کرنے کے لئے یہ رویہ اختیار کر رکھا تھا کہ وہ سب نبیوں کی عیب شماری کرتے تھے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ چونکہ گناہوں سے پاک صرف حضرت مسیح ہیں اس لیے ضرور وہ انسانیت سے بالا طاقتیں رکھتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں بھی سب نبیوںکے عیب تو گنائے جاتے ہیں اور رسول کریم ~صل۲~ تک اتہامات لگائے جاتے ہیں مگر حضرت مسیح کو بالکل بے گناہ قرار دیا جاتا اورر آپ ہی کو نہیں بلکہ آپ کی والدہ کو بھی بالکل پاک قرار دیا جاتا ہے کیا یہ اس امر کا کافی ثبوت نہیں کہ یہ جھوٹے افسانے اور قابل نفرت قصے مسلمانوں میں مسیحیوں سے ہی آئے ہیں جن کے بد اثر کو یا تو بوجہ ایک جگہ رہنے کے مسلمانوں نے قبول کر لیا' یا بعض شریر الطبع لوگوں نے بظاہر اسلام قبول کر کے اس قسم کے مخریات اور باطل باتیں مسلمانوں میں پھیلانی شروع کر دیں جنہیں ابتداء تو ہمارے مورخخوں اور محدثوں نے اپنی مشہور دیانتداری سے کام لے کر صحیح روایات کے ساتھ جمع کر دیا تھا تاکہ مخالف اور موافق سب روایات لوگوں تک پہنچ جائیں مگر بعد کو آنے والے ناخلف لوگوں نے جو نور نبوت سے خالی ہو چکے تھے ان شیطانی وداوس کو تو قبول کر لیا جو قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف تھے اور ان صحیح روایتوں کو نظر انداز کر دیا جو انبیاء کی عصمت اور ان کی پاکیزگی پر دلالت کرتی تھیں اور ان وساوس کے لیے بمنزل تیز تلوار کے تھیں جس کی ضرب کو وہ قطعاً برداشت نہیں کر سکتے تھے-
    مگر الحمد للہ کہ حضرت اقدس نے اس گندگی کو ظاہر کر دیا اور انبیاء کے صحیح مرتبہ کو پھر قائم کر دیا اور ان کی عزتوں کی حفاظت کی' خصوصاً رسول کریم ~صل۲~ کی شان اور آپ کی پاکیزگی کو تو نہ صرف الفاظ میں بیان ککیا بلکہ ایسے زبردست دلائل سسے ثابت کیا کہ دشمن کا منہ بھی بند ہو گیا بقول حضرت اقدس ؑ
    پانچواں رکن ایمان کا بعث بعد الموت اور جنت ودوزخ پر ایمان لانا ہے اس رکن کے انہدام کے لیے بھی اس زمانے کے مسلمانوں نے پورا زور لگایا تھا دل تو یقیناً بعث بعدالموت کے منکر ہو چکے تھے- کیونکہ اگر یہ نہ ہوتا تو اسلام کی تعلیم کو اس طرح پس پشت کیوں ڈال دیا جاتا؟ ظاہری طور پر بھی لوگوں میں اس کے متعلق عجیب عجیب خیالات پھیل رہے تھے' جنت کا جو نقشہ مسلمانوں کے ذہنوں میں سمایا گیا تھا وہ بتا رہا تھا کہ جنت کا اصل مفہوم لوگوں کے ذہنوں سے نکل چکا ہے جنت اب کیا چیز رہ گئی تھی ایک عیش وعشرت کا مقام گویا اس دنیا میں انسان کی پیدائش صرف اس غرض کے لیے تھی کہ وہ ایک ایسی جگہ پر جا بسے جہاں ہر طرح کے کھانے پینے کی اشیاء ہوں اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ انسان کی پیدائش کی اصل غرض یہ ہے کہ لیعبدون )ذاریات ع۳( اس لیے کہ وہ میری عبادت کرے یعنی ایسی صورت اختیار کرے کہ میری صفات کو اپنے اندر نقش کر لے کیونکہ عبودیت کے معنے تزلل اور دوسری شے کے نقش کو قبول کر لینے کے ہوتے ہیں- پس یہ خیال کرنا کہ انسان پچاس ساٹھ سال تک تو اس کام کو کرے گا- جس کے لیے پیدا کیا گیا تھا اور بعد میں ایک نہ ختم ہونے والے وقت کو کھانے پینے اور عیش وعشرت میں بسر کرے گا جو حد درجہ کی نادانی تھی اسی طرح دوزخ کے متعلق خیال کیا جاتا تھا کہ اس میں اللہ تعالیٰ کفار کو ایک نہ ختم ہونے والے عذاب کے لیے ڈال دے گا اور ایک سخت حاکم کی طرح پھر کبھی ان پر رحم نہ کرے گا-
    حضرت اقدس نے ان خیالات کو بھی رد کیا اور دلائل اور معجزات سے بعثت بعدالموت پر ایمان کو لوگوں کے دلوں میں قائم کیا اور دنیا کی بے ثباتی اور آخروی زندگی کی خوبی اور برتری کو روز روشن کی طرح ظاہر کر کے لوگوں کے دلوں میں اس کے مطابق عمل کرنے کی خواہش کو پیدا کیا اسی طرح جنت کے متعلق جو لغو خیالات لوگوں کے تھے ان کو بھی دور کیا' یہ وہم بھی دور کیا کہ جنت صرف ایک استعارہ ہے اور ثابت کیا کہ جنت کا وجود ایک حقیقت ہے اور اس خیال کی غلطی بھی ثابت کی کہ گویا وہ اس دنیا کی طرح ہے لیکن اس سے زیادہ وسیع پیمانے کی آرام وآسائش والی جگہ ہے اور بتایا کہ درحقیقت اس جگہ کی نعمتیں اس دنیا سے بالکل مختلف ہیں اور درحقیقت اس جگہ کی مادی نعمتیں اس دنیا کی عبادات کے متمثلات ہیں- گویا یہاں کی روح وہاں کا جسم ہے اور وہاں کی روح ایک اور ترقی یافتہ چیز ہے جس کی طاقتیں اس روح سے بہت بالا ہوں گی جس طرح نطفہ کی روحانی طاقتوں سے اس سے پیدا ہونے والے انسان کی روحانی طاقتیں اعلیٰ ہوتی ہیں-
    اسی طرح آپ نے یہ ثابت کیا کہ دوزخ کا عذاب جسے لوگ نہ ختم ہونے والا کہتے ہیں درحقیقت ایک وقت پر جا کر ختم ہو جائے گا ابدی ہے یعنی ایک نہایت لمبے عرصہ تک جانیوالا ہے مگر وہ غیر محدود نہیں ہے آخر کاٹا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ جو اپنی ذات کی نسبت فرماتا ہے رحمتی وسعت کل شی اس کی شان سے بعید ہے کہ عاجز بندے کو نہ ختم ہونے والا عذاب دے اور جب کہ قرآن کریم جنت کے انعامات کو )یہود(109: غیر مجذوز )ہودع( اور )حم سجدہ(9: )انشقاق(26: )النبی(7: غیر ممنون )فصلت وانشقاق وتین( قرار دیتا ہے اور دوزخ کے عذاب کی نسبت یہ الفاظ نہیں استعمال فرماتا تو ضرور ہے کہ دونوں میں کچھ فرق ہو پھر بندہ کیوں خدا کی لگائی ہوئی شرائط کو چھوڑ دے؟ خصوصاً جب کہ خود رسول کریم ~صل۲~ قرآن کریم کے مطالب کی تفسیر ان الفاظ میں فرما دیں کہ یاتی علی جھنم یوم فیھا من بنی ادم احد تخفق ابوابھا )کنزرالعمالص ۲۴۰( یعنی ایک وقت جہنم پر ایسا آئے گا کہ اس کے اندر ایکک آدمی بھی نہ رہے گا اور اس کے دروازے کھٹکھٹائے جائیں گے کسی کا کیا حق ہے کہ خدا کی رحمت اور اس کی بخشش کی حد بندی کرے؟
    ان ارکان ایمان کے علاوہ عملی حصے میں بھی بہت بڑی بڑی تبدیلیاں پیدا ہو گئی تھیں بعض لوگوں نے اباحت پر زور دے رکھا تھا ان کا یہ عقیدہ ہو رہا تھاکہ لا الہ اللہ محمد رسول اللہ text] ga[t آدمی کہہ دے اور پھر جو چاہے کرے ان لوگوں کا یہ یقین تھا کہ اگر ہم لوگ گناہ نہ کریں گے تو رسول کریم ~صل۲~ شفاعت کس کی طریں گے-
    بعض لوگوں کا یہ خیال ہو رہا تھا کہ شریعت اصل مقصود نہیں وہ تو خدا تک پہنچانے کے لئے بمنزلہ کشتی کے ہے پس جب انسان خدا کو پالے تو پھر اسے کسی کشتی میں بیٹھا رہنے کی کیا ضرورت ہے-
    بعض لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ احکام شریعت درحقیقت باطنی امور کے لیے ظاہری نشانات ہیں جس وقت رسول کریم ~صل۲~ مبعوث ہوئے زور دیا جاتا تھا- اب علمی زمانہ ہے اب لوگ خوب سمجھدار ہو گئے ہیں اب ان ظاہری رسول کی پابندی چنداں ضروری نہیں اگر کوئی شخص صفائی رکھتا ہے پینے میں احتیاط کرتا ہے قومی کاموں میں شریک ہوتا ہے تو یہی اس کی نماز اور یہی اس کا روزہ اور یہی اس کی زکوہ اور یہی اس کا حج ہے-
    بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ اگر رسول کریم سے ایک خاص قسم کا پا جامہ پہننا ثابت ہے تو اسی قسم کا پا جامہ پہننا چاہئیے اور اگر آپ نے بال لمبے رکھے ہوئے تھے تو ہمیں بھی بال لمبے رککھنے چاہئیں- علی ہذاالقیاس-
    بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ رسول کریم ~صل۲~ کا کوئی حق نہ تھا کہ لوگوں کو کچھ حکم دیتے وہ ہماری طرح کے انسان ہیں جو کچھ قرآن کریم میں آگیا وہ حجت ہے باقی سب باطل ہے-
    بعض لوگ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں بزرگوں نے جو کچھ کہ دیا کہہ دیا ان کے خیال کے خلاف اور کوئی بات قابل تسلیم نہیں ہمارا فرض ہے کہ اندھا دھند ان کی تقلید کریں-
    یہ تو اصولی باتیں ہیں- اب رہیں جزئیات ان میں اور بھی اندھیر ہے بعض لوگ غیر زبانوں کا پڑھنا بھی کفر قرار دیتے ہیں- بعض لوگ علوم جدیدہ کا سیکھنا ایمان کے منافی خیال کرتے ہیں ان کے مقابلے میں ایک حصہ مسلمانوں ککا سود جس کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فاذنوا بحرب من اللہ )سورہ البقرہ ع۳(280: اسے جائز قرار دیتا ہے-
    نماز' روزہ' زکوہ' ورثہ ہر ایک امر کے متعلق اس قدر اختلاف ہے کہ حقیقت بالکل پوشیدہ ہو گئی ہے اور چھوٹی سے چھوٹی بات کو اصل اسلام قرار دیا جاتا ہے اور اس کے خلاف کرنیوالے کے ساتھ جھگڑا کیا جاتا ہے مسلمان کہلانے والوں نے اپنے بھائیوں کی انگلیاں اس لیے تور دی ہیں کہ وہ تشہد کی انگلی کیوں کھڑی کرتے ہیں اور قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے مونہوں میں نجاستیں ڈالی ہیں کہ اس منہ سے آمین باصجہر ککیوں نککلی تھی' غرض عملی حصہ بھی اسی تغیر وتبدل اور اسی فساد کا شکار ہو رہا ہے جس کا کہ اعتقادی حصہ تھا-
    حضرت اقدس نے اس حصہ کی بھی اصلاح کی اور ایک طرف تو اباحت کے طریق کو باطل ثابت کیا اور بتایا کہ شفاعت ان لوگوں کے لیے ہے جو گناہ سے بچنے کی پوری کوشش کرتے ہیں مگر پھر بعض وجوہ سے ان میں گر جاتے ہیں اور بعض کوتاہیاں ان کی باقی رہ جاتی ہیں ان کے لیے جو شفاعت کی خاطر گناہ کرتے ہیں- شفاعت گناہ کے مٹانے کے لیے تھی نہ کہ گناہ کی اشاعت کے لیے-
    اسی طرح یہ بتایا کہ گو شریعت اصل مقصود نہیں مگر عبودیت اصل مقصود ہے پس جس کام کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور جس وقت تک دیا ہے اسے بجا لانا چاہئے- اللہ تعالیٰ کا قرب کوئی محدود شے نہیں کہ کہا جائے کہ اب قرب حاصل ہو گیا ہے- اب عبادت کی ضرورت نہیں- رسول کریم ~صل۲~ جیسا انسان جب وفا تک ایاک نعبد اور اھدنا الصراط المسقتیم کہتا رہا اور آپ کو رب زدنی علما )طہ ع۴( فاتحہ)(5:فاتحہ)(7:طہ(115: کہنے کا حکم ملا تو اور کون شخص ہے جو کہے کہ میں منزل مقصود تک پہنچ گیا ہوں- اب مجھے عبادت کی ضرورت نہیں- درحقیقت اس قسم کے خیال کے لوگ اللہ تعالیٰ کو ایک دریا کے کنارے کی طرح محدود شے قرار دیتے اور اپنی بے دینی کو دین کے پدہ کے نیچے چھپاتے ہیں-
    اس طرح آپ نے بتایا کہ احکام اسلام انسان کی تکمیل کا بہترین ذریعہ ہیں اور ہر زمانے اور ہر علمی حیثیت کے لوگوں کے لیے یکساں مفید ہیں اور ان کے بغیر کوئی روحانی ترقی نہیں ہو سکتی پس یہ غلط ہے کہ اب ان احکام پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں رہی- یا یہ کہ ان کا قائمقام اور کاموں کو قرار دیا جا سکتا ہے-
    اسی طرح آپ نے بتایا کہ ایک عبادت اور سنتیں ہیں اور ایک رواج ملکی اور دستور قومی عبادت اور سنت کے علاوہ ایسی باتوں میں جن کو رسول کریم ~صل۲~ اپنے ملکی رواج اور قومی دستور کے مطابق کرتے تھے لوگوں کو مجبور کرنا کہ وہ بھی آپ ہی کی طرز کو اختیار کریں ظلم ہے خود صحابہ ان امور میں مختلف طریقوں کو اختیار کرتے تھے اور کوئی ایک دوسرے کو برا نہ کہتا تھا-
    آپ نے ان لوگوں کے خیالات کو بھی رد کیا جو یہ خیال کرتے ہیں کہ رسول کریم ~صل۲~ ہمارے جیسے انسان ہیں اور آپ کا کوئی حق نہیں کہ ہم آپ کی اطاعت کریں-
    آپ نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء اللہ تعالیٰ کے کلام کا ایک خاص فہم پاتے ہیں جو دوسروں کو حاصل نہیں ہوتا اس لیے ان کی تشریح کا قبول کرنا مومن کا فرض ہوتا ہے ورنہ ایمان سلب ہو جاتا ہے-
    آپ نے اس خیال کی بھی غلطی ظاہر کی کہ جو کچھ کسی بزرگ نے کہدیا اس کا تسلیم کرنا ہمارے لیے ضروری ہے ایسے لوگوں کے لیے جو اجتہاد کا مادہ نہیں رکھتے سہولت عمل کے لیے بیشک ضروری ہے کہ وہ کسی نہ کسی بزرگ کو جس کی صداقت اور تقویٰ اور علمیت ان پر ظاہر ہو گئی ہے اپنا رہبر بنا لیں وہ دوسرے کی اندھا دھند تقلید نہیں کرتا تو گنہگار ہے بلکہ رلم رکھنے والے شخص کو چاہئیے کہ جس بات کو وہ قرآن وحدیث کی نصوص سے معلوم کرے اس میں اپنے علم کے مطابق عمل کرے-
    آپ نے اس خیال کی لغویت کو بھی ظاہر کیا کہ محض دنیاوی باتوں کو دینی بنا لیا جائے آپ نے جسمانی' اخلاقی' علمی' تمدنی' سیاسی' روحانی حالت کے لیے مفید ہیں ان کو پڑھنا نہ صرف یہ کہ گناہ نہیں ہے بلکہ ضروری ہے اور بعض حالتوں میں جب کہ ان کو خدمت دین کے لیے سیکھا جائے موجب ثواب ہے-
    آپ نے سود کی علنت سے بچنے یک بھی مسلمانوں کو ہدایت کی اور بتایا کہ یہ حکم عظیم الشان حکمتوں پر مبنی ہے اس کو معمولی دنیاوی فوائد کی خاطر بدلنا نہیں چاہئیے-
    اسی طرح آپ نے بتایا کہ دین کے مسائل دو طرح کے ہوتے ہیں ایک اصول اور ایک فروع اصول قرآن کریم سے ثابت ہیں اور ان میں کوئی اختلاف واقع نہیں ہو سکتا اگر کوئی شخص سمجھنا چاہے تو ان کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے اور جو فروعی مسائل ہیں ان کی دو حالتیں ہیں ایک یہ کہ رسول کریم ~صل۲~ نے ایک خاص طریق پر ایک کام کرنے کا حکم دے دیا ہے اور اس کے سوا اور کسی طریق پر اس کے کرنے سے روک دیا ہے- اس صورت میں تو اسی طریق کو اختیار کرنا چاہئیے جس کے اختیار کرنے کا رسول کریم ~صل۲~ نے حکم دیا ہے- دوسری صورت یہ ہے کہ رسول کریم ~صل۲~ سے دو یا دو سے زیادہ باتیں مردی ہیں اور مسلمانوں کے بعض حصے بعض روایتوں پر ہمیشہ عمل کرتے چلے آئے ہیں- ان کے بارہ میں یہ یقین رکھنا چاہئیے کہ وہ سب طریق درست اور مطابق سنت ہیں کیونکہ اگر ایسا نہ وہتا تو کس طرح ممکن تھا کہ آپ کے صحابہ میں سے ایک حصہ ایک طریق کو اختیار کر لیتا اور دوسرا حصہ دوسرے طریق کو- اصل بات یہ ہے کہ بعض امور میں اختلاف طبائع کو مد نظر رکھ کر رسول کریم ~صل۲~ نے کئی طرح ان کے کرنے کی اجازت دے دی ہے یا خود کئی طریق پر بعض کاموں کو کر کے دکھا دیا ہے تاکہ لوگوں کے دلوں میں شک نہ رہے جیسے رفع یدین ہے کہ کبھی آپ نے رفع یدین کیا' کبھی نہیں کیا' یا آمین بالجہر ہے کہ کسی نے آپ کے پیچھے آمین بالجہر کہا کسی نے نہ کہا اور آپ نے دونوں طریق کو سند کیا اسی طرح ہاتھوں کا باندھنا ہے کبھی کسی طرح باندھنا کبھی کسی طرح باندھنا- اب جس شخص کی طبیعت کو جس طریق سے مناسب ہو اس پر کار بند ہو اور دوسرے لوگ جو دوسری روایت پر عمل کرتے ہیں ان پر حرف گیری نہ کرے- کیونکہ وہ دوسری سنت یار رخصت پر عمل کر رہے ہیں غرض ان اصول کو مقرر کر کے آپ نے تمام وہ اختلافات اور فتنے دور کر دئیے جو مسائل فقیہ کے متعلق مسلمانوں میں پیدا ہو رہے تھے اور پھر صحابہ کرام کے زمانے کی یاد کو تازہ کر دیا-
    یہ ایک مختصر نقشہ ہے اس اندرونی اصلاح کا جو آپ نے کی اگر اس کی تفصیل کی جائے تو مستقل کتاب اسی مضمون پر لکھنے کی ضرورت پیش آئے اس لیے میں اسی پر کفایت کرتا ہوں- اب جناب اس سے معلوم کر سکتے ہیں کہ حضرت اقدس نے اسلام کے اندر جس قدر نقائص پیدا کر دئیے گئے تھے خواہ عقائد میں خواہ اعمال میں- سب کو دور کر دیا ہے اور اسلام کو پھر اس کی اصل شکل میں دنیا کے سامنے پیش کیا ہے جس سے اب وہ سو دوست ودشمن کے دلوں کو لبھانے لگ گیا ہے اور اس کی قوت قدسیہ پھر اپنا اثر دکھانے لگ گئی ہے-
    اے بادشاہ! جس قدر نقائص اوپر بغور مثال بیان ہوئے ہیں جو ان بہت سے نقائص میںسے چند ہیں جو اس وقت مسلمانوں میں پیدا ہو چکے ہیں آپ ان کو دیکھ کر ہی معلوم کر سکتے ہیں کہ ایک محفوظ کتاب کی موجودگی میں جیسا کہ قرآن کریم ہے اس سے زیادہ مفاسد اسلام میں نہیں پیدا ہو سکتے- اگر اس سے زیادہ مفاسد پیدا ہونگے تو اسی صورت میں کہ قرآن کریم ہی نعوذ باللہ من ذلک بدل جائے'مگر یہ ناممکن ہے پس اور مفاسد بھی پیدا ہونے ناممکن ہیں-
    اب غور کرنا چاہئیے کہ جب اسلام کے اندر مفاسد اپنی انتہاء کو پہنچ گئے ہیں تو اور کونسا وقت ہے جب کہ مسیح موعود آئں گے اور جب کہ ان تمام مفاسد کی اصلاح حضرت اقدس مرزا غلام احمد علیہ الصلوہ والسلام نے کر دی ہے اور اسلام کو ہر ایک شر سے محفوظ کر دیا ہے تو پھر کسی کے آنے کی کای ضرورت ہے جب کہ وہ کام مسیح موعود کے لیے اور صرف حضرت مسیح موعود کے لیے مقدر تھا آپ نے باحسن وجوہ پورا کر دیا ہے تو آپ کے مسیح موعود ہونے میں کیا شک ہے- جب سورج نصف النہار پر آجائے تو پھر اس کا انکار نہیں ہو سکتا اسی طرح ایسے واضح دلائل کی موجودگی میں حضرت مرزا صاحب کے مسیح موعود ہونے کا انکار نہیں کیا جا سکتا-
    چھتی دلیل
    نصرت الٰہی
    چھٹی دلیل آپ کی صداقت کی کہ یہ دلیل بھی درحقیقت بہت سے دلائل پر مشتمل ہے نصرت الٰہی مامورومرسل درحقیقت اللہ تعالیٰ کے پیاروں میں سے ایک پیارا ہوتا ہے اور اس کی صداقت ثابت نہیں ہو سکتی جب تک کہ خدا تعالیٰ کا اس کے ساتھ وہ سلوک نہ ہو جو پیاروں اور محبوبوں سے ہوا کرتا ہے- اگر کوئی شخص دعوائے ماموریت کرتا ہے اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ سلوک محبوبوں اور پیاروں والا سلوک نہیں تو وہ جھوٹا ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ ایک شخص کو اللہ تعالیٰ اپنا نائب بنا کر بھیجے اور پھر اس کے ساتھ اپنی محبت کا کوئی نمونہ نہ دکھائے اور اس کی مدد کرے- دنیا کے بادشاہ بھی جب کسی کو اپنا نائب بنا کر بھیجتے ہیں تو اس کی مدد کرتے ہیں اور اس کی طرف خیال رکھتے ہیں اور جب بھی اس کو ضرورت ہو اس کی نصرت کے لیے سامان بہم پہنچاتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ جس کے خزانے وسیع ہیں اور جو عالم الغیب ہے کیوں اپنے ماموروں کی مدد نہ کرے گا اور اگر کوئی شخص دعوٰے ماموریت کرے اور اس کی خدا تعالیٰ کی طرف سے تائید ہو اور مدد ہو اور خاص نصرت اللہ تعالیٰ کی اس کو پہنچے تو وہ شخص سچا اور راستباز ہے کیونکہ جس طرح یہ ممکن نہیں کہ ایک راستباز کو اللہ چھوڑ دے اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ ایک جھوٹے اور شریر سے اللہ تعالیٰ مواخذہ نہ کرے اور وہ اس کے بندوں کو گمراہ کرتا پھرے اور یہ بات تو اور بھی خلاف عقل ہے کہ ایسے جھوٹے کی اللہ تعالیٰ مدد کرے اور اس کے لیے اپنی نصرت کے دروازے کھول دے-
    اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کتب اللہ لا غلبن اناورسلی ان اللہ قری عزیز )مجادلہ ع۳ (22: اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پر فرض کر دیا ہے کہ وہ اور اس کے رسول ہمیشہ غالب رہیں گے وہ قوت والا اور غالب ہے پس اس نے اپنی قوت اور غلبہ کے اظہار کے لیے یہ قانون بنا دیا کہ جب اس کا کلام لے کر اس کے رسول مبعوث ہوں تو وہ ان کو غلبہ دے کیونکہ اگر وہ ان کو غالب نہ کرے تو اس کی قوت اور عزت میں لوگوں کو شبہ پیدا ہو جائے گا-
    اسی طرح فرماتا ہے انا صننصر رسلنا والذین امنوا فی الحوہ الدنیا ویوم یقوم الا ستھاد )مومن ع۶(52: ہم ضرور اپنے رسولوں کی جو ہمار رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں مدد کیا کرتے ہیں اور فرماتا ہے ولکن اللہ یسلط رسلہ علی من یشاء واللہ علی کل شی قدیر )حشر ع۱(7: یعنی اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو جن لوگوں پر چاہتا ہے تسلط عطا کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز پر قادر ہے-
    یہ تو اس مضمون کی آیات ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو غلبہ عطا فرماتا ہے اور ان کو دوسرے لوگوں پر تسلط عطا فرماتا ہے خخواہ جسمانی اور روحانی طور پر خواہ صرف روحانی طور پر ان کے سوا قرآن ککریم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی جھوٹا دعویٰ ماموریت اور رسالت کا کرے تو اس کو سزا بھی ملتی ہے اور وہ کسی صورت میں ہلاکت سے بچ نہیں سکتا- چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ولو تقول علینا بعض الاقاویل الاخذنا منہ بالیمین ثم لقطعنا منہ الوتین )سورہ حاقہ ع۲(45'46'47: یعنی اگر یہ رسول جان بوجھ کر ہم پر جھوٹ باندھ رہا ہوتا تو ہم اس کا دایاں بازو پکڑ لیتے اور اس کی رگ جان کاٹ ڈالتے- یعنی اس کی نصرت اور تائید کا دروازہ بند کر دیتے اور اسے ہلاکت کا منہ دکھاتے- اسی طرح ایک اور جگہ فرماتا ہے ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا او کذب بایتہ انہ لا یفلح الظلمون )سورہ انعام ع۳(22: اور اس سے زیادہ ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھتا ہے یا اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلاتا ہے بات یہ ہے کہ ظالم کامیاب نہیں ہوتے یعنی جب کہ ظالم کامیاب نہیں ہوتا تو یہ اللہ تعالیٰ کا گنہگار جو سب قسم کے روحانی ظالموں سے زیادہ ظالم ہے کب کامیاب ہو سکتا ہے-
    مزکورہ بالا آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قانون جاری ہیں ایک یہ کہ وہ اپنے رسولوں کی نصرت کرتا ہے اور ان کی مدد کرتا اور ان کو غلبہ دیتا ہے اور دوسرا یہ کہ جو لوگ یہ جانتے ہوئے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر افتراء کر رہے ہیں ایک بات جھوٹ بنا کر پیش کر دیں تو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد نہیں ملتی بلکہ وہ ہلاک کئے جاتے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ جو بات پہلے میں نے عقلاً ثابت کی تھی قرآن کریم بھی اس کی تائید کرتا ہے بلکہ اسے سنت اللہ قرار دیتا ہے-
    اس سنت الہیہ اور ازلی قانون کے مطابق ہم حضرت اقدس علیہ الصلوہ والسلام کے دعوے پر غور کرتے ہیں تو آپ کی صداقت ہمیں روز روشن کی طرح ثابت نظر آتی ہے اور آپ کی کامیابی کو دیکھ کر اس امر میں کسی قسم کا شک وشبہ ہی نہیں رہتا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے فرستادہ اور مرسل ہیں-
    پیشتر اس کے کہ یہ دیکھا جائے کہ آ کو اللہ کی طرف سے کیا کیا نصرتیں اور تائیدیں حاصل ہوئیں- یہ دیکھنا ضروری ہو گا کہ آپ نے کن حالات کے ماتحت دعویٰ کیا تھا- یعنی وہ کون سے سامان تھے جو آ کی کامیابی میں ممد ہو سکتے تھے )۲( آپ کے راستے میں کیا کیا روکیں تھیں )۳( آپ کا دعویٰ کس قسم کا تھا یعنی کیا دعویٰ بطور خود ایسی کشش رکھتا تھا جس کی وجہ سے آپ کو ظاہری سامانوں پر نظر ککرتے ہوئے کامیابی کی امید ہو سکے-
    سوال اول کا جوب یہ ہے کہ گو آپ ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے- اور ایسا ہونا ضروری تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے مامور ہمیشہ اعلیٰ خاندانوں میں سے ہوتے ہیں تاکہ لوگوں پر ان کا ماننا دو بھر نہ ہو- مگر آپ کا خاندان دنیاوی وجاہت کے لحاظ سے اپنی پہلی شوکت کو بہت حد تک کھو چکا تھا وہ اپنے علاقہ کے خاندانوں میں سے غریب خاندان تو نہیں کہلا سکتا مگر اس کی پہلی شان وشوکت اور حکومت کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ ایک غریب خاندان تھا کیونکہ اس کی ریاست اور جاگیر کا اکثر حصہ ضائع ہو چکا تھا اول الذکر )یعنی ریاست( سکھوں کے عہد میں ضبط ہو گئی تھی اور ثانی الزکر )یعنی جاگیر( انگریزی حکومت کے آنے پر ملحق کر لی گئی تھی- پس دنیاوی وجاہت اور مال کے لحاظ سے آپ کو کوئی ایسی فوقیت حاصل نہ تھی جس کی وجہ سے یہ کہا جائے کہ لوگوں نے اپنے اغراض اور اپنے مقاصد کے پورا کرنے کے لیے آپ کو مان لیا-
    گو آپ ککے والد صاحب نے استاد رکھ ککر آپ کو تعلیم دلوائی تھی لیککن ¶وہ تعلیم اس تعلیم کے مقابلے میں کچھ بھی نہ تھی جو مدراس میں دی جاتی ہے اس لیے آپ اپنے علاقہ میں یا اپنے علاقہ سے باہر مولویوں اور عالموں میں سے نہیں سمجھے جاتے تھے- پس یہ نہیں کہا جا سکتا کہ بوجہ بڑے عالم ہونے کے آپ کو لوگوں نے مان لیا-
    آپ پیروں یا صوفیوں کے کسی خاندان سے تعلق نہیں رکھتے تھے نہ آپ نے کسی پیر یا صوفی کی بیعت کر کے اس سے خرقہ خلافت حاصل کیا تھا کہ یہ سمجھا جائے کہ خاندانی مریدوں یا اپنے پیر بھائیوں کی مدد سے آپ کو یہ کامیابی حاصل ہو گئی-
    آپ کسی عہدہ حکومت پر ممتاز نہ تھے کککہ یہ سمجھا جائے کہ آپ کے اختیارات سے فائدہ اٹھانے ککے لیے لوگ آپ کے ساتھ مل گئے-
    آپ ایک تارک الدنیا- لوگوں سے علیحدہ رہنے والے آدمی تھے- جن کو خلوت نشینی کے باعث قرب وجوار کے باشندے بھی نہیں جانتے تھے چند لوگوں سے آپ کے تعلقات تھے جن میں سے زیادہ تر یتیم اور مسکین لوگ تھے جن کو آپ اپنے کھانے میں سے کھانا دے دیا کرتے تھے یا خود فاقہ سے رہ کر اپنی روٹی ان کو کھلا دیتے تھے یا پھر چند وہ لوگ تھے جو مذہبی تحقیق سے دلچسپی رکھتے تھے- باقی کسی شخص سے آپ کا تعلق نہ ہوتا- نہ آپ لوگوں سے ملتے تھے نہ لوگوں کو ضرورت ہوتی تھی کہ آپ سے ملیں-
    دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ ممکن سے ممکن جو روکیں ہو سکتی ہیں وہ آپ کے راستے میں تھی- آپ کا دعویٰ ماموریت کا تھا اور آپ کے دعوے کو سچا مان کر علماء کی حکومت جو انہیں سینکڑوں سال سے لوگوں پر حاصل تھی جاتی رہتی تھی- اس لیے علماء کو طبعاً آپ سے مخالفت تھی- وہ آپ کی ترقی میں اپنا تنزل اور آپ کے بڑھنے میں اپنا زوال دیکھتے تھے- وہ جانتے تھے کہ اگر ایک شخص خدا سے خبر پاکر دنیا کی اصلاح کے لیے کھڑا ہو گیا تو پھر ہمارے قیاسات کو کون پوچھتا ہے-
    گدی نشین آپ کے دشمن تھے کیونکہ آپ کی صداقت کے پھیلنے سے ان کے مرید ان کے ہاتھوں سے جاتے تھے اور بجائے شیخ اور رہبر کہلانے کے ایک دوسرے شخص کا مریدین کر ان کو رہنا پڑتا تھا اور پھر مریدوں کے جانے کے ساتھ ان آمدنیوں میں بھی فرق آتا تھا جن پر ان کا گزارہ تھا اور ان آزادیوں میں بھی فرق تھا جنہیں وہ اپنا حق سمجھتے تھے-
    امراء کو بھی آپ سے مخالفت تھی کیونکہ آپ احکام اسلام کی پابندی کرواتے تھے اور ان کو اس قسم کی پابندی کی عادت نہ تھی اور اسے وہ وبال جان سمجھتے تھے اور پھر یہ بھی تھا کہ آپ بنی نوع انسان ککے ساتھ نیک سلوک اور ہمدردی کا حکم دیتے تھے جس کی وجہ سے امراء کو خیال تھا ککہ آپ کی تعلیم کے پھیلنے سے وہ غلامی کی حالت جو لوگوں میں پیدا ہے دور ہو جائے گی اور ان کی نظر وسیع ہو کر ہماری حکومت جاتی رہے گی-
    غیر مذاہب کے لوگ بھی آپ کے دشمن تھے کیونکہ ان کو آپ میں وہ شخص نظر آرہا تھا جس سے ان کے مذاہب کی ہلاکت مقدر تھی جس طرح ایکک بکری ایک شیر سے طبعی منافرت رکھتی ہے اسی طرح غیر مذاہب کے لوگ آپ سے کھچاوٹ محسوس کرتے اور کوشش کرتے تھے کہ جس قدر جلد ہو سکے آپ کو مٹا دیں-
    حکام وقت بھی آپ ککے مخالف تھے کیونکہ وہ بھی مسیح ومہدی ککے ناموں سے خوفزدہ تھے اور پرانی روایات کے اثر سے متاثر ہو کر ان ناموں والے شخص کی موجودگی اور فساد کے پھیلنے کو لازم وملزوم سمجھتے تھے- آپ کا اظہار وفاداری ان کے لیے تسلی کا موجب نہ تھا ککیونکہ وہ اسے موقعہ شناسی پر محمول کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ جب ان کو طاقت حاصل ہو جائے گی اس وقت یہ ان خیالات امن کو شاید چھوڑ دیں-
    عوام الناس کو بھی آپ سے مخالفت تھی کیونکہ اول تو وہ عملاء یا پیروں یا امیروں یا پنڈتوں یا پادریوں کے ماتحت ہوتے ہیں دوم وہ بوجہ رسوم وعادات کے ہر نئی بات کے سخت مخالف ہوتے ہیں- ان کے نزدیکک آپ کا دعویٰ ایک نیا دعویٰ اور اسلام میں رخنہ اندازی کا موجب تھا- اس لیے وہ کچھ تو اپنے سرداروں کے اشاروں پر اور کچھ اپنی جہالت کی وجہ سے آپ کے مخالف تھے-
    ان تمام گروہوں نے اپنی اپنی جگہ پر آپ کے تباہ کرنے کے لیے پورا پورا زور لگایا علماء نے کفر کے فتوے تیار کئے اور مکہ اور مدینہ تک اپنے کفر ناموں پر دستخط کرانے کے لیے گئے- اپنی عادت مستمرہ کے ماتحت کفر کے عجیب وغریب موجبات انہوں نے تلاش کئے اور لوگوں کو آپ کے خلاف بھڑکایا اور اکسایا-
    صوفیاء نے آپ کے طریق کو پچھلے طریقوں کے مخالف بتا بتا کر اور اپنے قرب الی اللہ اور معرفت کی لافوں سے ڈرا ڈرا کر عوام الناس کو روکا اور جھوٹے افسانوں کے پھیلانے اور فریب کی کرامتیں دکھانے تک سے بھی گریز نہ کیا اور بعض نے تو اپنے مریدوں سے یہاں تک کہدیا کہ اگر یہ سچے ہوئے تو ان کے نہ ماننے کا گناہ ہم اٹھا لینگے تم لوگ کچھ فکر نہ کرو اور اس طرح جہان کو گمراہ کیا-
    امراء نے اپنی دولت اپنی وجاہت سے آپ کے خخلاف کوشش شروع کی- غیر مذاہب والوں نے اپنی جگہ مسلمانوں کا ہاتھ بٹایا حکومتوں نے اپنے اقتدار سے کام لے کر لوگوں کو آپ سے ڈرانا شروع کیا اور جو لوگ آپ کوک ماننا چاہتے ان کو اپنی ناراضگی کا خوف دلا کر باز رکھنا چاہا- عوام الناس بائیکاٹ اور ایزا رسانی سے کام لے کر اپنے سرداروں کا ہاتھ بٹاتے رہے-
    غرض آپ کی مخالفت کے لیے تمام لوگ کیا مسلمان کہلانے والے اور کیا غیر مسلمان سب جمع ہو گئے اور سب نے ایک دوسرے کی مدد کی-
    تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ آپ کی تعلیم بھی ایسی نہ تھی جو زمانے کے حالات کے مطابق ہو اور اس کی رو میں بہنے اولی ہو اگر وہ خیالات زمانہ کے مطابق ہوتی تو بھی کہا جا سکتا تھا کہ آپ کی ترقی آسمانی مدد سے نہیں بلکہ اس سبب سے ہے کہ جن خیالات کو آپ نے دنیا کے سامنے پیش کیا تھا- وہ اس زمانے کے خیالات کے مطابق تھے- پس لوگوں نے ان کو اپنے اندرونی احساسات کے مطابق پاکر قبول کر لیا- زمانے کے مطابق خخیالات دو قسم کے ہوتے ہیں یا تو وہ کثیر آبادی کے خیالات کے مطابق ہوں یا وہ کثیر آبادی کے خیالات کے تو مخالف ہوں مگر ان خیالات کی تائید میں ہوں جو اس وقت کے دنیاوی علوم کا نتیجہ ہوں- اول الزکر قسم کے خیالات کا پھیلانا تو بہت آسان ہوتا ہے لیکن ثانی الزکر قسم کے خیالات بھی گو ابتداء مخالفت کا منہ دیکھتے ہیں مگر چونکہ علوم جدیدہ کا لازمی نتیجہ ہوتے ہیں کچھ عرصہ کے بعد علوم جدیدہ کے فروغ کے ساتھ ساتھ پھیلتے جاتے ہیں-
    حضرت اقدس کے خیالات ان دونوں قسم کے خیالات کے مخالف تھے- آپ ان تعلیموں کی طرف لوگوں کو بلا رہے تھے جو نہ رائج الوقت خیالات کے مطابق تھیں اور نہ علوم جدیدہ کی تعلیم کے ذریعے جو خیالات پھیل رہے تھے ان کے مطابق تھیں اس لیے آپ کو دونوں فریق سے مقابلہ درپیش تھا پرانے خیالات کے لوگوں سے بھی اور جدید خیالات کے لوگوں سے بھی- قدامت پسند آپ کو ملحد قرار دیتے تھے اور علوم جدیدہ سے تعلق رکھنے والے لوگ آپ کو تنگ خیال اور رجعت قہقری کا ممد قرار دیتے تھے کیونکہ آپ اگر ایک طرف حیات مسیح تﷺ وروایات باطلہ ملائکہ کے متعلق عوام الناس کے خیالات- نسخ قرآن دوزخ وجنت کے متعلق عوام الناس کے خیالات اور شریعت میں تنگی کے خلاف نہایت شدت سے وعظ کرتے تھے تو دوسری طرف احکام شریعت کی لفظاً پابندی سود کی حرمت ملائکہ کے وجود دعا کے فوائد جنت ودوزخخ کے حق ہونے الہام کے لفظ مقررہ میں نازل ہونے اور معجزات کے حق ہونے کی تائید میں زور دیتے تھے- نتیجہ یہ تھا کہ نئے اور پرانے خیالات کے گروہوں میں کسی طبقہ سے بھی آپ کے خیالات نہیں ملتے تھے- پس یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ چونکہ آپ کے خیالات رائج الوقت یا آئندہ رواج پانے والے خیالات کی ترجمانی کرتے تھے اس وجہ سے مقبول ہوئے-
    خالاصہ کلام یہ کہ نہ تو آپ کی ذاتی حالت ایسی تھی کہ آپ کا دعویٰ قبول کیا جاتا نہ آپ کا رستہ پھولوں کی سیج پر سے تھا کہ آپ کو اپنے مطلب میں کامیابی کحاصل ہوتی اور نہ وہ خیالات جو آپ لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے ایسے تھے کہ ان سے لوگوں کے خیالات کی ترجمانی ہوتی ہو کہ لوگ آپ کو مان لیں- پس باوجود ان تمام مخالف حالات کے اگر آپ نے کامیابی حاصل کی تو یہ ایک خدائی فعل تھا نہ کہ دنیاوی اور طبعی سامانوں کا نتیجہ-
    ان حالات کے بیان کرنے کے بعد میں آپ کی کامیابیوں کاذکر کرتا ہوں' میں بتا چکا ہوں کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت بیان فرمائی ہے کہ وہ جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ پر افتراء کرنیوالے کو لمبی مہلت نہیں دیا کرتا مگر آپ کے متعلق ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ان الہامات کے شائع کرنے کے بعد جن میں آپ نے مصلح ہونے کا اعلان کیا تھا قریباً چالیس سال زندہ رہے اور ہر طرح اللہ تعالیٰ سے مدد ونصرت پاتے رہے- اگر مفتری علی اللہ بھی اس قدر مہلت پا سکتا ہے اور ہلاکت سے بچایا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے نصرت پاتا ہے تو پھر نعوذ باللہ من ذالک یہ ماننا پڑے گا کہ ولو تقول والی آیت میں جو معیار بتایا گیا ہے وہ غلط ہے اور یہ کہ رسول کریم ~صل۲~ کا دعویٰ بے ثبوت رہا ہے- اگر یہ بات نہیں اور ہرگز نہیں تو پھر اسی دلیل کے ماتحت حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنے الہامات شائع کرنے کے اس قدر عرصہ بعد تک ہلاکت سے بچایا جانا اس امر کا ثبوت ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھے-
    جس وقت آپ نے اپنے الہامات شائع کئے تھے اس وقت آپ کا نام دنیا میں کوئی شخص بھی نہیں جانتا تھا مگر اس کے بعد باوجود لوگوں کی مخالفت کے آپ کو وہ عزت اور رتبہ حاصل ہوا کہ دشمن بھی اب آپ کی عزت کرتے ہیں اور آپ ایک مسلم لیڈر تسلیم کئے جاتے ہیں گورنمنٹ برطانیہ جو ابتدا آپ کی مخالف تھی اور آپ سے بدظن تھی آپ کو عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے- دنیا کے دور کناروں تک آپ کا نام پھیلا ہے اور اس قسم کا عشق رکھنے والے اور محبت رکھنے والے لوگ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائے ہیں کہ وہ اپنی جان تک آپ پر قربان کرنے کے لیے تیار ہیں اور یوروپین جو اسلام کے دشمن تھے انہوں نے آپ کے ذریعے سے اسلام کو قبول کیا ہے اور آپ کی محبت میں اس قدر سر شار ہیں کہ ان میں سے ایک شخص نے مجھے لکھا ہے کہ مجھ پر مرزا صاحب نے احسان کیا ہے کہ ان کے ذریعے سے مجھے اسلام جیسی نعمت عطا ہوئی ہے اس کا اثر مجھ پر اس قدر ہے کہ میں سوتا نہیں جب تک آنحضرت کے ساتھ آپ پر بھی درود نہیں بھیج لیتا- یہ عزت اور یہ احترام اور یہ محبت باوجود لوگوں کی اس قدر مخالفت کے کبھی حاصل نہیں ہو سکتی اگر آپ مفتری علی اللہ تھے-
    آپ نے جب دعویٰ کیا تو آپ اکیلے تھے لیکن باوجود اس کے کہ مولویوں پیروں گدی نشینوں پنڈتوں پادریوں امیروں عام لوگوں اور شروع شروع میں حکام نے بھی اپنا زور لگایا کہ لوگ آپ کی بات کو نہ مانیں اور آپ کے سلسلے میں داخل نہ ہوں- ایک ایک کر کے لوگ آپ کے سلسلہ میں داخل ہونے شروع ہوئے- غرباء میں سے بھی اور امراء میں سے بھی علماء میں سے بھی صوفیاء میں سے بھی اور دوسرے ممالک کے لوگوں میں سے بھی اور ہندوئوں اور عیسائیوں میں سے بھی' ہندوستانیوں میں سے بھی اور دوسرے ممالک کے لوگوں میں سے بھی یہاں تک کہ آپ کی وفات کے وقت آپ کی جماعت ہزاروں سے نکل کر لاکھوں تک ترقی کر چکی تھی اور اب تک برابر ترقی کرتی چلی جا رہی ہے حتیٰ کہ خود آپ کی مملکت میں بھی بوجود اس کے کہ اس سلسلے کے دو مخلص آدمی صرف مذہبی اختلاف کی بنا پر ملانوں کی دھوکا دہی کی وجہ سے قتل کئے گئے تھے یہ جماعت ترقی کر رہی ہے اور قریباً ہر صوبہ میں اس جماعت کے کچھ نہ کچھ آدمی پائے جاتے ہیں اور علاوہ ازیں اس جماعت کے لوگ عرب میں بھی ہیں ایران میں بھی ہیں روس میں بھی ہیں امریکہ میں بھی ہیں مغربی' شمالی اور جنوبی علاقہ جات میں بھی ہیں' آسٹریلیا میں بھی ہیں اور یورپ میں بھی ہیں ایک محکوم قوم کے ایک فرد کی اطاعت میں حاکم قوم کے افراد کا آجانا اور پھر اس دین کو مان کر جس کے خلاف نسلاً ان کے دلوں میں تعصب بٹھایا گیا تھا بلا نصرت الٰہی کے نہیں ہو سکتا-
    آپ لوگوں نے قتل بھی کرنا چاہا- زہر سے بھی مارنا چاہا- عدالتوں میں بھی آپ کو گھسیٹا اور جھوٹے مقدمات بھی آپ پر قائم کئے اور عیسائی اور ہندو اور مسلمان سب آپس میں مل گئے تا پہلے مسیح کی طرح دوسرے مسیح کو بھی صلیب پر لٹکا دیں' لیکن ہر دفعہ آپ کامیاب ہوئے اور ہر حملہ سے آپ محفوظ رہے روز بروز خدا تعالیٰ کی تائید ونصرت بڑھتی گئی-
    آپ اشاعت اسلام اور تجدید اسلام کے لیے مبعوث ہوئے تھے- ان دونوں کاموں کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مخلصوں کی ایک جماعت دی' مال بھی دیا- حتیٰ کہ اس وقت چار پانچ لاکھ روپیہ سلسلہ کی طرف سے سالانہ دینی کاموں پر صرف ہوتا ہے کئی اخبارات اشاعت اسلام کے لیے پنجاب بنگال سیلون ماریشس اور امریکہ سے جا رہی ہیں اور سینکڑوں کتابیں آپ کی تائید میں لکھی گئی ہیں- لوگوں کے دلوں کو اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کے لیے کھولتا ہے اور ہزاروں ہیں جن کو رویا کے ذریعہ سے یا الہام کے ذریعے سے یا کشف کے ذریعے سے آپ کی سچائی بتائی گئی ہے اور باوجود مخالف ہونے کے ان کے دلوں میں آپ کی محبت ڈالی گئی ہے-
    غرض باوجود ہر طرح کے مخالف سامان ہونے کے اور ہر طرح کی مخخالفت کے اور ہر طرح کی کمزوری کے اور غیر معمولی کام کے آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے اور ایک ایسی جماعت جو ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اور اپنے سینوں میں اسلام کی اشاعت کی آگ رکھتی ہے آپ نے تیار کر دی اور کیا بلحاظ عزت کے اور کیا بلحاظ مال کے اور کیا بلحاظ اقتدار کے اور کیا بلحاظ رعب کے آپ کی اللہ تعالیٰ مدد کرتا رہا ہے-
    پس اگر اللہ تعالیٰ کا بتایا ہوا یہ قانون سچا ہے اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ اور کون سچا ہو سکتا ہے؟ کہ سچا مامور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد پاتا ہے اور مفتری علی اللہ رسوا کیا جاتا ہے اور ہلاک کیا جاتا ہے تو پھر حضرت اقدس کی صداقت میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا اور اگر باوجود اس دلیل کے آپ کی صداقت میں شبہ کیا جائے تو پھر سوال کیا جاسکتا ہے کہ دوسرے انبیاء کی صداقت کا کیا ثبوت ہے؟
    میں اپنے مطلب کی وضاحت کے لیے پھر یہ کہدینا ضروری سمجھتا ہوں کہ میرا یہ مطلب نہیں کہ حضرت اقدس اس لیے سچے تھے کہ آپ پہلے کمزور تھے کہ آپ کو عزت اور رتبہ حاصل ہو گیا ایسی عزتیں تو بہت سے لوگوں کو ملی ہیں- نادر خان ایک کمزور آدمی تھا- پھر عزت پاگیا- نپولین ایک معمولی آدمی سے دنیا کا فاتح بن گیا' مگر باوجود اس کے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ لوگ اللہ کے پیارے اور بزرک تھے میں یہ کہتا ہوں کہ-:
    ۱- حضرت اقدس نے دعویٰ کیا تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اگر وہ اس دعوے میں مفتری تھے اور جان بوجھ کر لوگوں کو دھوکہ دے رہے تھے تو ¶آپ کو ہلاک ہو جانا چاہئیے تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ ایسے مفتری کو وہ ہلاک کرتا ہے-
    ۲- آپ کی ترقی کے لیے کوئی دنیاوی سامان موجود نہ تھے-
    ۳- آپ کی مخالفت پر ہر ایک جماعت کھڑی ہو گئی تھی اور کوئی جماعت بھی دعوے کے وقت آپ کی اپنی نہ کہلاتی تھی جس کی مدد سے آپ کو ترقی حاصل ہوئی ہو-
    ۴- آپ نے دنیا سے وہ باتیں منوائیں جن کے خلاف قدیم اور جدید خخیالات کے لوگ تھے-
    ۵- باوجود اس کے آپ کامیاب ہوئے اور آپ نے ایک جماعت قائم کر دی اور اپنے خیالات کو لوگوں سے منوالیا- اور دشمن کے حملوں سے بچ گئے اور اللہ تعالیٰ کی تائیدات آپ کے لیے نازل ہوئیں-
    یہ پانچ باتیں جھوٹے میں کبھی جمع نہیں ہو سکتیں- یہ باتیں جب بھی کسی میں جمع ہونگی وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگا اور راستباز ہو گا ورنہ راستبازوں کی راستبازی کا کوئی ثبوت باقی نہیں رہے گا-
    ہاں اگر کوئی شخص مدعی ماموریت نہ ہو- یعنی خواہ بالکل مدعی ہو ہی نہیں جیسے نادر خاں نپولین یا مدعی ماموریت نہ ہو بلکہ کسی اور بات کا مدعی ہو مثلاً جیسے خدائی کا مدعی ہو' یا یہ کہ وہ دیوانہ ہو- وہ اس معیار کے ماتحت نہیں آتا- اسی طرح ایسا عقیدہ رکھنے والا بھی کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہہ رہا ہے اس معیار پر پرکھا نہیں جا سکتا' شیخیہ فرقہ اسی قسم کا عقیدہ رکھتا تھا- اس کا خیال تھا کہ دنیا میں ہر وقت ایسے لوگ موجود رہتے ہیں جو مہدی کی رضاء کی ترجمانی کرتے ہیں اور مہدی کی مرضی خدا کی مرضی ہے- پس ان کی زبان پر جو کچھ جاری ہو یا جو کچھ ان کے دل میں آئے وہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے- علی محمد باب اور بہاء اللہ بانی فرقہ بہائیہ اسی فرقہ میں سے تھے- ایسے لوگ چونکہ عقیدتاً اس بات کو مانتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں الل¶ہ تعالیٰ ہی کی طرف سے کہہ رہے ہیں اس لیے وہ بھی متقول نہیں کہلا سکتے اور اس سزا کے مستحق نہیں جس سزا کے جان بوجھ کر جھوٹ باندھنے والے لوگ مستحق ہیں-
    اسی طرح اس شخص کی عارضی ترقی بھی اس کی صداقت کی دلیل نہیں جس کی ذاتی وجاہت لوگوں کو اس کے ماننے پر مجبور کر دے یا کوئی جماعت جس کی پشت پر ہو' یا جو عوام الناس کے خیالات کی ترجمانی کر رہا ہو- یا علوم جدیدہ کے میلان کی طرف لوگوں کو لا رہا ہو' ایک یا دوسری وجہ سے لوگ اس کی مخالفت سے باز رہیں-
    ‏Dawat19
    ساتویں دلیل
    دشمنوں کی ہلاکت
    ساتویں دلیل آپ کے دعوے کی صداقت کی کہ وہ بھی بے شمار دلائل کا مجموعہ ہے یہ ہے کہ آپ کے دشمنوں کو اللہ تعالیٰ نے بلا استثناء اور بلا انسانی ہاتھ کی مدد کے ہلاک کیا ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے پیاروں کو جو تکلیف دے ہم اس کا مقابلہ کرتے ہیں اور اس کو سزا دیتے ہیں اور جو ہمارے کاموں میں روک بنے اس کو اپنے راستے سے ہٹا دیتے ہیں پس اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور آتے ہیں تو عقل چاہتی ہے کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ اپنی غیرت بھی دکھائے اور جو ان کو ذلیل کر دے اور جو ان کی ناکامی کی کوشش کریں ان کو ناکامی کا بھی منہ دکھائے- اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کا تعلق اور اس کی محبت بے ثبوت رہے اور ماموروں کے دعوے مشتبہ ہو جائیں- کیونکہ دنیا کے بادشاہ اور حاکم جن کی طاقتیں محدود ہوتی ہیں وہ بھی اپنے دوستوں اور اپنے کارکنوں کے راستے میں روک بننے والوں کو سزا دیتے ہیں اور ان سے عداوت رکھنے والوں سے مواخذہ کرتے ہیں-
    قرآن کریم سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ ہماری عقل کا مطالبہ بالکل درست ہے اور اللہ تعالیٰ تصدیق فرماتا ہے کہ اس طرف سے آنیوالوں کے دشمنوں اور معاندوں کی ضرور گرفت ہونی چاہئیے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا اوکذب بایتہ انہ لا یفلح الظلمون )انعام ع۳(22: یعنی اس سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے- یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنیوالے کی باتوں کو جھٹلا دے- بات یہ ہے کہ ظالم کبھی کامیاب نہیں ہوتے- اس آیت میں بتایا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ پر افتراء کرنیوالا کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیوالے کی باتوں کو جھٹلانے والا بھی کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا-
    اسی طرح فرماتا ہے ولقد استھزی برسل من قبلک فحاق بالذین سخروا امنھم ما کانوا بہ یستھزء ون قل سیرو فی الارض تم انظروا کیف کان عقبہ االمکذبین )انعام ع۲(11,12: اور تجھ سے پہلے جو رسول گزرے ہیں ان کے ساتھ بھی ہنسی اور ٹھٹھا کیا گیا مگر آخر یہ ہوا کہ وہ لوگ جو ان میں خاص طور پر ٹھٹھا کرنے والے تھے ان کو ان چیزوں نے گھیر لیا جن سے وہ ہنسی کرتے تھے تو کہدے کہ جائو زمین میں خوب پھرو اور دیکھو کہ خدا کے نبیوں کو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا ہے اس مضمون کی آیات اس کثرت سے قرآن کریم میں پائی جاتی ہیں کہ زیادہ زور اس پر دینے کی ضرورت نہیں- خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ اس کے ماموروں اور مرسلوں کا مقابلہ کرنیوالے ہلاک کئے جاتے ہیں اور دوسروں کے لیے موجب عبرت ہوتے ہیں-
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اسی مضمون کا الہام ہوا تھا کہ انی مھین من ارادا اھانتک میں اس کو ذلیل کروں گا جو تیری اہانت کا ارادہ بھی کرے گا اور اس سنت مستمرہ اور اس وعدہ خکاص کے مطابق حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے دشمنوں کے ساتھ وہ سلوک ہوا ہے کہ دیکھنے والے دنگ اور سننے والے حیران ہیں-
    میں ایک بڑے مولوی صاحب کا ذکر کر چکا ہوں جو فرقہ اہل حدیث کے لیڈر تھے اور جو حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے بچپن کے واقف تھے اور جنہوں نے آپ کی تصنیف براہین احمدیہ کی اشاعت پر ایک زبردست ریویو لکھا تھا اور اس میں آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو یہ مولوی صاحب بگڑ گئے اور سخت ناراض ہوئے اور انہوں نے یہ خیال کیا کہ شاید کتاب براہین احمدیہ پر جو میں نے ریویو لکھا تھا اس پر ان کے دل میں عجب پیدا ہو گیا ہے اور یہ بھی اپنے آپ کو کچھ سمجھنے لگ گئے ہیں اور اس خیال سے انہوں نے یہاں تک لکھدیا کہ یہ میرے دیویو پر نازاں ہے میں نے ہی اس کو بڑھایا ہے اور میں ہی اس کو اب گرا دوں گا-
    یہ عزم کر کے یہ مولوی صاحب اپنے گھر سے نگلے اور ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کا دورہ کیا اور بیسیوں علماء سے کفر کا فتتویٰ لیا اور یہاں تک ان فتوئوں میں لکھوایا کہ یہ شخص ہی کافر نہیں بلکہ اس کے مرید بھی کافر ہیں بلکہ جو شخص ان سے کلام کرے وہ بھی کافر ہے اور جو شخص ان کو کافر نہ سمجھے وہ بھی کافر ہے اس فتوے کے تمام ہندوستان میں چھپوا کر شائع کیا اور خیال کر لیا کہ اس زبردست حملے سے میں نے ان کو ذلیل کر دیا مگر اس بیچارے کو کیا معلوم تھا کہ آسمان پر اللہ تعالیٰ کے فرشتے پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ ولقد استھزی برسل من قبلک فحاق بالذین سخرو امنھم ما کانوا بہ یستھزء ون )انعام ع۲(11: سورہ انبیاء ع۳: (42 اور اسی طرح اس کے قدوسی پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ انی مھین من ارادا اھانتک میں اس کی ہتک کرونگا جو تیری ہتک کا ارادہ کرے گا-
    اے بادشاہ! ابھی بہت عرصہ اس فتوے کو شائع ہوئے نہیں گزرا تھا کہ ان مولوی صاحب کی عزت لوگوں کے دلوں سے اللہ تعالیٰ نے مٹانی شروع کی- اس فتوے کی اشاعت سے پہلے ان کو یہ عزت حاصل تھی کہ لاہور دارلخلافہ پنجاب جیسے شہر میں جو آزاد طبع لوگوں کا شہر ہے بازاروں میں سے جب وہ گزرتے تھے تو جہاں تک نظر جاتی تھی لوگ ان کے ادب واحترام کی وجہ سے کھڑے ہو جاتے اور ہندو وغیرہ غیر مذاہب کے لوگ بھی مسلمانوں کا ادب دیکھ کر ان کا ادب کرتے تھے اور جس جگہ جاتے لوگ ان کو آنکھوں پر اٹھاتے اور حکام اعلیٰ جیسے گورنر وگونر جنرل ان سے عزت سے ملتے تھے مگر اس فتوے کے شائع کرنے ک بعد بغیر کسی ظاہری سامان کے پیدا ہونے کے ان کی عزت کم ہونی شروع ہوئی اور آخر یہاں تک نوبت پہنچی کہ خود اس فرقے کے لوگوں نے بھی ان کو چھور دیا جس کے لیڈر کہلاتے تھے اور میں نے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ اسٹیشن پر اکیلے اپنا اسباب جو وہ بھی تھوڑا نہ تھا اپنی بغل اور پیٹھ پر اٹھائے ہوئے اور اپنے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے چلے جا رہے ہیں اور چاروں طرف سے دھکے مل رہے ہیں- کوئی پوچھتا نہیں لوگوں میں بے اعتباری اس قدر بڑھ گئی کہ بازار والوں نے سودا تک دینا بند کر دیا- دوسرے لوگوں کی معرفت سودا منگواتے اور گھر والوں نے قطع تعلق کر لیا بعض لڑکوں نے بیویوں نے ملنا جلنا چھوڑ دیا ایک لڑکا اسلام سے مرتد ہو گیا غرض تمام قسم کی عزتوں سے ہاتھ دھورک اور عبرت کا نمونہ دکھا کر اس دنیا سے رخصت ہوئے اور اپنی زندگی کے آخری آیام کی ایک ایک کھڑی سے اس آیت کی صداقت کا ثبوت دیتے چلے گئے کہ قل سیروانی الارض ثم انظروا کیف کان عاقبہ المکذبین )انعام ع۲(12:
    آپ کے دشمنوں کی ہلاکت کی دوسری مثال کے طور پر میں چراغ دین ساکن جموں کو پیش کرتا ہوں یہ شخص پہلے حضرت اقدس کے ماننے والوں میں سے تھا مگر بعد کو اس نے دعویٰ کیا کہ وہ خود دنیا کی اصلاح کے لیے مبعث ہوا ہے اور آپ کے خلاف اس نے کئی رسائل اور مضامین شائع کئے اور آکر جب اس سے بھی تسلی نہ ہوئی تو آپ کے خلاف دعا کی اور اس دعا کو لکھ کر شائع کرنے کا ارادہ کیا اس دعا کا یہ مضمون تھا کہ-:
    >اے خدا! تیرا دین اس شخص )یعنی حضرت اقدس( کی وجہ سے فتنے میں ہے اور یہ شخص لوگوں کو ڈراتا ہے کہ طاعون میرے ہی سبب سے نازل ہوئی ہے اور زلزلے بھی میری ہی تکذیب کا نتیجہ ہیں تو اس شخص کو جھوٹا کر اور طاعون کو اب اٹھالے تاکہ اس کا جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے اور حق اور باطل میں تمیز کر دے<-
    یہ دعا لکھ کر اس نے چھپنے کو دی لیکن خدا تعالیٰ کی گرفت کو دیکھئیے کہ مضمون دعا کی کاپیاں لکھی جا چکی تھیں مگر ابھی پتھر پر نہیں جمائی گئی تھیں کہ وہی طاعون جس کے اٹھائے جانے کی دعا اس نے اس لیے کی تھی تا حضرت اقدس کا یہ دعویٰ باطل ہو جائے کہ طاعون جس کے اٹھائے میری صداقت کے ثبوت کے لیے پھیلائی گئی ہے اس نے اس کے گھر پر آکر حملہ کیا اور پہلے تو اس کے دو بیٹے کہ وہی اس کی اولاد تھے طاعون میں گرفتار ہو کر مر گئے اور اس کی بیوی اس کو چھوڑ کر کسی اور شخص کے ساتھ بھاگ گئی اور لڑکوں کی موت کے بعد وہ خود بھی طاعون ہی کی مرض میں مبتلا ہو کر مر گیا اور مرتے وقت یہ کہتا تھا کہ اب تو خدا نے مجھے چھوڑ دیا- اس شخص کی موت نے بھی پر شوکت الفاظ میں اس امر پر گواہی دی کہ ماموروں کی مخالفت معمولی چیز نہیں- جو جلد یا بدیر عذاب الٰہی میں مبتلا کرتی ہے-
    چراغ دین جمونی کے سوا اور بیسیوں شخص ایسے ہیں جنہوں نے آپ کے خلاف دعا ہائے مباہلہ کیں اور بہت جلد اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آگئے- جیسے کہ مولوی غلام دستگیر قصوری- یہ شخص حنضیوں میں سے ایک بہت بڑا عالم اور صاحب رسوخ آدمی تھا- اس نے بھی آپ کے خخلاف دعا کی تھی اور اللہ تعالیٰ سے جھوٹے اور سچے کے درمیان فیصلہ چاہا- یہ شخص بھی بہت جلد یعنی چند ماہ کے اندر اندر طاعون کی مرض میں گرفتار ہو کر ہلاک ہو گیا اور لوگوں کے لیے عبرت ک موجب بنا-
    ایک شخص فقیر مرزا نامی ساکن دولمیال ضلع جہلم کا تھا- اس نے لوگوں میں یہ کہنا شروع کیا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہوالصلوہ والسلام کی نسبت مجھے بتایا گیا ہے کہ اس رمضان کی ستائیس تاریخ تک وہ ہلاک ہو جائیں گے اور جماعت احمدیہ کے مقامی ممبروں کو ایک تحریر لکھ کر دے دی جس میں اس کشف کا ذکر کیا اور لکھا کہ اگر ۲۷ رمضان المبارک ۱۳۲۱ء ھ تک مرزا صاحب ہلاک نہ ہوئے یا ان کا سلسلہ تباہ نہ ہوا تو میں ہر قسم کی سزا برداشت کرنے کے لیے تیار ہوں اور اس کاغذ پر بہت سے لوگوں کے دستخط کروا کر جماعت احمدیہ کے ممبروں کو دیدیا- یہ کاغذ جیسا کہ اس پر لکھا ہوا ہے سات رمضان المبارک ۱۳۲۱ئھ کو لکھا گیا- اس کے بعد ۲۷ رمضان تو گزر ہی گئی اور ایسا ہی ہونا چاہئیے تھا- صادقوں پر جھوٹوں کی باتوں کا کیا اثر ہو سکتا تھا مگر اگلا رمضان آیا تو اس گائوں میں طاعون نمودار ہوئی اور پہلے اس شخص کی بیوی مری- پھر یہ خود بیمار ہوا اور پورے ایک سال کے بعد اسی تاریخ جس تاریخ کو اس نے وہ تحریر لکھ کر دی تھی یعنی سات رمضان المبارک کو یہ شخص سخت تکلیف اور دکھ اٹھا کر مر گیا اور چند دن بعد اس کی لڑکی بھی گزر گئی-
    یہ مثالیں اگر جمع کی جائیں تو سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد تک پہنچ جائیں کیونکہ سینکڑوں ہزاروں آدمیوں نے دلائل سے تنگ آکر اور ضد میں گرفتار ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام کے خلاف دعائیں کیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آگئے` لیکن سب سے عجیب بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس ہلاکت اور ذلت کے نشان کو کئی رنگ میں دکھایا ہے جن لوگوں نے یہ کہا اللہ تعالیٰ جھوٹے کو سچے کی زندگی میں ہلاک کرے ان کو آپ کی زندگی میں ہلاک کر دیا اور جن لوگوں نے کہا کہ جھوٹے کو سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جانا کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ جھوٹے کو لمبی مہلت دی جاتی ہے جیسا کہ مسلیمہ کذاب رسول کریم ~صل۲~ کے بعد ہلاک ہوا ان کو اللہ تعالیٰ نے مہلت دی اور مسیلمہ کذاب کا مثیل وابت کر دیا-
    اس قسم کے نشانوں میں سے ایک مثالی مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری جو اخبار ا>اہلحدیث< کے ایڈیٹر ہیں اور فرقہ اہلحدیث کے لیڈر کہلاتے ہیں یہ صاحب اپنی مخالفت میں حد سے بڑ گئے تو حضرت اقدس نے بموجب حکم قرآنی فمن حاجک فیہ من بعد ماجاء ک من العلم فقل تعالوا ندا ابناء نا وابناء کم ونساء نا ونساء کم وانسا وانفسکم ثم نبتھل فجعل *** اللہ علی الکاذبین )ال عمران ع۶( ان کو مباہلے کی دعوت دی مگر ان صاحب نے مباہلے میں اپنی خیریت نہ دیکھی اور باوجود بار بار اور مختلف رنگ میں غیرت دلائے جانے کے انہوں نے گریز کیا اور حضرت اقدس نے ایک دعا لکھی اور ان سے چاہا کہ اپنے اخبار میں اس کو شائع کر دیں اور اس میں اس معیار کے ذریعے فیصلے کی خواہش ظاہر کی کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جائے- اس دعا پر بھی مولوی صاحب نے گریز کی راہ اختیار کی اور متواتر اور بڑے زور سے اپنے اخبار میں لکھنا شروع کیا کہ یہ ہرگز کوئی معیار نہیں اور مین اس طریق فیصلہ کو بالکل منظور نہیں کرتا کیونکہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹے کو لمبی مہلت دی جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کا فعل بھی اسی کی شہادت دیتا ہے- چنانچہ رسول کریم ~صل۲~ کے بعد مسیلمہ کذاب زندہ رہا-
    ان کے اس اعلان کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدا تعالیٰ نے ان کو ان کے بتائے ہوئے معیار کے مطابق پکڑا اور ان کو لمبی مہلت دیدی- حضرت اقدس کی وفات کے بعد ان کو زندہ رکھا اور وہ اپنی تحریر کے مطابق مسیلمہ کذاب کے مثیل ثابت ہوئے اور ان کی زندگی کا ہر دن اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک ثبوت اور ان کے مسیلمہ ہونے کی ایک زبردست دلیل ہوتا ہے-
    غرض اللہ تعالیٰ نے آپ کے دشمنوں کو ہر رنگ میں ہلاک اور ذلیل کیا جنہوں نے اس معیار کو تسلیم کیا ک جھوٹا سچے کی زندگی میں ہلاک ہوتا ہے ان کو آپ کی زندگی میں ہلاک کیا اور جنہوں نے اس پر زور دیا کہ جھوٹے کا یہ نشان ہوتا ہے کہ ہ لمبی مہلت پاتا ہے اور سچے کے بعد زندہ رکھا جاتا ہے ان کو لمبی مہلت دی اور حضرت اقدس کے دشمنوں میں ابوجہل اور مسیلمہ دونوں قسم کے لوگوں کے نمونے دکھا کر حضرت اقدس علیہ السلام کے فنائی الرسول ہونے کا ثبوت دیا اور یہ بھی ثابت کیا کہ یہ سب سامان اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا محض اتفاق نہ تھا` کیونکہ اگر اتفاق ہوتا تو ہر فرق سے اس کے اپنے مسلمہ معیار کے مطابق کیوں سلوک ہوتا-
    علاوہ اس قسم کی ہلاکتوں کے جو دعا ہائے مباہلہ یا بددعائوں کے نتیجہ میں آپ کے دشمنوں کو پہنچیں اور کئی طریق پر بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کے دشمنوں کو ہلاک کیا` یعنی آپ کے زمانے میں قسم قسم کے عذاب نازل کئے اور اس قدر مصائب میں لوگوں کو مبتلا کیا کہ ہر ایک دل کہہ رہا ہے کہ اس قدر تباہی اس سے پہلے دنیا میں کبھی نہین آئی تھی اس کی تفصیل کی اس جگہ ضرورت نہیں کیونکہ یہ ایسی بات ہے کہ ہر ملک اور ہر قوم اس پر شاہد ہے کونسا ملک ہے جہاں طاعون یا زلزلہ یا انفلوئنزا یا قحط یا جنگ نے بربادی نہیں کی اور شہروں اور علاقوں کو ویران نہیں کیا-
    افراد پر جو عذاب نازل ہوئے ہیں ان میں سے بعض اس قسم کے بھی ہوتے تھے کہ جو لوگ آپ پر کوئی اتہام لگاتے تھے اسی بلا میں خود مبتلا ہو جاتے تھے مثلاً بعض لوگ کہہ دیتے تھے کہ آپ کو نعوذ باللہ برص ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو برص بیماری میں مبتلا کر دیتا اور بعض لوگ آپ کی نسبت یہ مشہور کر دیتے کہ آپ طاعون سے فوت ہو گئے ہیں یا ہوں گے تو وہ خود طاعون سے فوت ہو جاتے- ڈاکٹر عبدلاحکیم پٹیالے کے ایک میڈیکل افسر نے آپ کی نسبت پیشگوئی کی کہ >پھیپھڑوں کی مرض سے< فوت ہونگے وہ سل سے مرا- اس قسم کی سینکڑوں مثالیں ملتی ہیں- کہ جس شخص نے جو جھوٹ آپ پر باندا وہی اس پر الٹ پڑا اور ایسے قہری نشان اللہ تعالیٰ نے آپ کی تائید میں دکھائے کہ ہر شخص جو تعصب سے خالی ہو کر ان کو دیکھتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے شدید العقاب ہونے پر کامل ایمان حاصل ہوتا ہے اور وہ اس امر کے ماننے پر مجبور ہوتا ہے کہ حضرت اقدس اللہ تعالیٰ کے راستباز بندے تھے ورنہ کیا سبب ہے کہ آپ کے لئے وہ اس قدر غیرت دکھاتا تھا اور اب بھی دکھاتا ہے-
    آٹھویں دلیل
    سجدہ ملائکہ
    ‏]txet [tag قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمؑ کو پیدا کر کے اللہ تعالیٰ نے ملایکہ کو حکم دیا کہ اسے سجدہ کریں- سجدہ ایک عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور چیز کے آگے چیز کے آگے سجدہ کرنا خواہ وہ کس قدر ہی عظمت اور شوکت رکھتی ہو جائز نہیں- حتیٰ کہ انبیاء اور انبیاء میں سے ان کے سردار محمد مصطفیٰ ~صل۲~ کے آگے بھی جائز نہیں اور یہی نہیں کہ سجدہ کرنا غیر اللہ کو جائز نہیں بلکہ سخت گناہ ہے اور اس فعل کا مرتکب اللہ تعالیٰ کے قرب اور اس کے فضل سے محروم رہ جاتا ہے- پس سجدہ سے مراد وہ سجدہ تو نہیں ہو سکتا جو بطور عبادت کیا جاتا ہے-
    یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ پہلے زمانے میں سجدہ کرنا جائز ہو گا بعد میں منع ہو گیا کیونکہ شرک ان گناہوں میں سے نہیں جو کبھی جائز ہوں اور کبھی منع ہو جائیں توحید باری اصل الاصول ہے اور اس میں کسی وقت بھی تغیر نہیں ہو سکتا اور اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ پہلے غیر اللہ کو سجدہ جائز تھا لیکن بعد میں اسے شرک قرار دے کر حرام کر دیا گیا` تو پھر شیطان کا حق ہے کہ دعویٰ کرے کہ جو بات میں پہلے کہتا تھا آخر نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کو بھی کرنی پڑی- میرا بھی تو یہی عزر تھا کہ غیر اللہ کے سامنے سجدہ نہیں کر سکتا- اللہ کے آگے سجدہ کرنے سے تو میں نے کبھی انکار نہیں کیا-
    غرض کسی صورت میں غیر اللہ کے آگے سجدہ جائز نہیں ہو سکتا` نہ اب جائز ہے اور نہ پہلے کبھی جائز تھا- پس ملائکہ کو سجدے کا حکم دینے سے مراد عبادت کرنے والا سجدہ تو نہیں ہو سکتا اس سے ضرور کچھ اور مراد ہے اور وہ مراد مطابق لغت عربی کامل فرمانبرداری ہے جس طرح سجدہ کے معنے سجدہ عبادت کے ہیں- سجدہ کے معنے اطاعت کے بھی ہیں- لسان العرب کی جلد ۴ میں لفظ سجدہ کے نیچے لکھا ہے وکل من ذل وخضع لما امربہ فقد سجد یعنی جس نے کسی کا حکم پوری طرح مانا اس کی نسبت کہتے ہیں کہ اس نے سجدہ کیا- پس آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دینے کے یہ معنے ہیں کہ ملائکہ اس کی فرمانبرداری کریں اور ملائکہ کی فرمانبرداری بندوں کے لئے یہ ہے کہ ان کے کام میں مدد دیں اور یہ حکم آدم سے خاص نہیں` بلکہ ہر نبی جو دنیا میں آتا ہے اس کے لیے یہی حکم دیا جاتا ہے بلکہ اگر کسی شخص کے لئے ملائکہ کو اس قسم کا حکم نہ دیا جائے تو وہ مامور کہلا ہی نہیں سکتا-
    ہمارے آنحضرت ~صل۲~ کی زندگی میں اس قسم کے بہت سے واقعات ملتے ہیں کہ ملائکہ نے آپ کے کام میں آپ کی مدد کی- جیسے بدر کے موقع پر کہ ملائکہ نے کفار کے دلوں میں رعب ڈالا- یا آپ کے کنکر پھینکنے پر آندھی زور سے چلی- یا احزاب کے موقع پر آندھی نے ایک سردار کی آگ بھجا دی جس سے لشکر کفار پر اگندہ ہو گیا- یا مثلاً ایک یہودیہ کے زہر دینے [ر اس کی شرارت آپ پر ظاہر ہو گئی ملائکہ کی فرمانبرداری کا اظہار زیادہ تر قوانین طبیعہ کے ذریعے سے ہوتا ہے وہ چونکہ قوانین طبیعہ کا سبب اول ہیں وہ ایسے مواقع پر جبکہ نبی اور اس کے دشمنوں کا مقابلہ ہوتا ہے قوانین طبیعہ کو اس کی تائید میں لگا دیتے ہیں اور یہی سبب ہوتا ہے کہ جب کہ ظاہری اسباب نبیوں کے مخالف ہوتے ہیں نتیجہ ان کے حق میں نکل آتا ہے اور یہ بات ان کے صادق ہونے کی دلیل ہوتی ہے-
    یہ ملائکہ کی مدد حضرت مسیح موعود کو بھی حاصل تھی- آپ کی تائید میں بھی ملائکہ لگے رہتے تھے اور عجیب عجیب رنگ میں آپ کو مشکلات سے بجاتے تھے اور قوانین طبیعہ کو آپ کی نصرت مین لگا دیتے تھے ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ آپ اور چند اور لوگ جن میں ہندو` مسلمان مختلف مذاہب کے لوگ شامل تھے ایک مکان میں سو رہے تھے- آپ کی اچانک آنکھ کھل گئی اور آپ نے اپنے دل میں یہ شور محسوس کیا کہ مکان گرنے لگا ہے- مکان کے گرنے کی بظاہر کوئی علامت نہ تھی- صرف چھت میں سے اس قسم کی آواز آرہی تھی جیسے کہ لکڑی کو کیڑے کے کاٹنے سے آتی ہے- آپ نے اپنے ساتھیوں کا جگایا اور کہا کہ وہ مکان کو خالی کر دیں مگر انہوں نے کچھ پروا نہ کی اور یہ کہ کر کہ صرف آپ کا وہم ہے ورنہ کوئی خطرہ نہیں- پھر سو گئے کچھ دیر کے بعد آپ نے پھر وہی شور محسوس کیا اور پھر ان کو جگایا اور بہت زور دیا۱ اس پر ان لوگوں نے آپ کا لحاظ کیا اور اٹھ کھڑے ہوئے مگر شکایت کی کہ آپ نے اپنے وہم کی پیروی میں لوگوں کو خواہ مخواہ دکھ دیا- آپ نے اپنے دل میں محسوس کیا کہ یہ مکان صرف میرا انتظار کر رہا ہے میں اگر نکلا تو فورا مکان گر جائے گا اس پر آپ نے پہلے ان لوگوں کو نکالا اور سب کے آخر میں خود نکلے- ابھی آپ نے ایک پیر سیڑھی پر رکھا تھا اور دوسرا اٹھایا تھا کہ مکان کی چھت زور سے گری اوت لوگ بہت حیران ہوئے اور آپ کے ممنون ہوئے اور سمجھ لیا کہ صرف آپ کی وجہ سے ان کی جانیں بچائی گئی ہیں-
    اسی طرح کبھی ایسا ہوتا تھا کہ بعض بیماریوں کے موقعہ پرادویہ متثمل ہو کر اپنی حقیقت کو ظاہر کر دیتی تھیں اور یہ ظاہر ہے کہ ادویہ تو بے جان ہیں- درحقیقت یہ ملائکہ کی مدد تھی جو تاثیر ادویہ کے ظہور کے لیے مقرر ہیں اور ہر چیز اک سبب اول ہیں- چنانچہ ایک دفعہ آپ کو کسی بیماری سے سخت تکلیف تھی- مختلف ادویہ کے استعمال سے کچھ فائدہ نہ ہوا- اتنے میں ایک شکل متمثل ہوئی اور کہا کہ >خاکسار پیپرمنٹ< جب اس دوائی کا استعمال کیا گیا تو فورا آرام ہو گیا-
    بعض دفعہ آپ کے دشمن آپ کے قتل کرنے کا ارادہ کرتے تھے مگر وہ لوگ جو آپ کے قتل کے لیے بھیجے جاتے تھے یا تو ان کے آنے کی اطلاع آپ کو پہلے ہی ہو جاتی تھی یا ان کے دل میں ملائکہ اہل بدر کی طرح کچھ اس قسم کا رعب ڈال دیتے تھے کہ وہ خود ہی قتل ہو جاتے تھے یعنی توبہ کر کے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لیتے اور حضرت عمرؓ کی طرح دشمنی چھوڑ کر اطاعت اختیار کر لیتے-
    مگر ان سب واقعات سے برھ کر وہ عظیم الشان نشان ہے جو طاعون کے متعلق ظاہر ہوا میں آگے چل کر بیان کرئونگا کہ طاعون کس طرح آپ کی پیشگوئیوں کے ماتحت دنیا میں ظاہر ہوئی- سر دست اس قدر کہہ دینا کافی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو طاعون ہاتھی کی صورت میں دکھائی جو تمام دنیا میں تباہی ڈال رہی ہے مگر سب طرف خونریزی کر کے آپ کے آےآکر مودب بیٹھ جاتی ہے- اس خواب کے معنے یہ تھے کہ طاعون کے ملائکہ کو آپ کی تائید کا حکم دیا گیا ہے- اس نظارہ کی تائید میں اور بھی بہت سے الہام ہوئے مثلاً یہ کہ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے اور آپ نے اعلان کر دیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ میعی جاعت کے لوگ طاعون سے نسبتاً محفوظ رہیں گے- گو بعض حادثات بھی ہو جائیں گے مگر وہ اسی طرح ہونگے جیسے رسول کریم ~صل۲~ کے واقت میں کفار کے مقابلے میں بعض مسلمان بھی شہید ہو جاتے تھے مگر مقابلتاً کفار بہت زیادہ مرتے تھے اور صحابہ بہت کم-
    اسی طرح یہ بھی اعلان کیا کہ بستیوں میں سے قادیان نسبتاً محفوظ رہے گا اور یہاں اس قسم کی سخت طاعون نہیں پڑے گی جیسے کہ دوسری جگہوں پر پڑے گی اور گھروں میں سے آپ کا گھر کلی طور پر محفوظ رہے گا` اس میں طاعون کا کوئی حادثہ نہیں ہوگا- ان اعلانوں کے بعد طاعون ہندوستان میں اس شدت کے ساتھ پھیلی کہ الامان! ہر سال کئی کئی لاکھ آدمی طاعون سے مر جاتا تھا مگر باوجود اس کے کہ آ نے اپنی جماعت کو طاعون کا ٹیکہ کرانے سے منع کر دیا تھا جو طاعون کا ایک ہی علاج سمجھا جاتا تھا- دوسرے لوگ طاعون سے مرتے تھے مگر آپ کی جماعت کے لوگ نسبتاً طاعون سے محفوظ رہتے تھے اور متواتر اور کئی سال تک اسی طرح ہوتا ہوا دیکھ کر لوگوں نے سوچا کہ آخر کوئی بات ہے کہ اس طاعون کے کیڑے احمدیوں کو چھوڑ کر دوسرے لوگوں کو پکڑتے ہیں اور ہزار ہا لوگ اس کو دیکھ کر ایمان لائے- بلکہ مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام کے زمانے کے اکثر احمدی وہی ہیں جو اس نشان کو دیکھ کر ایمان لائے تھے- یہ بات ان کے لیے حیرت انگیز تھی کہ طاعون کے کڑوں کو کون بتاتا ہے کہ فلاں شخص مرزا صاحب کا ماننے والا ہے اور فلاں منکر-
    بڑے بڑے دشمن جیسا کہ پہلی بیان کردہ بعض مثالوں سے ظاہر ہے طاعون سے ہی ہلاک ہوئے لیکن آپ کی جماعت بہت حد تک محفوظ رہی- صرف کبھی کبھی اور کسی جگہ کوئی واقعہ ایسا ہو جاتا تھا کہ ان میں سے بھی کوئی اس مرض میں مبتلا ہو جائے- متواتر کئی سال تک سارے ملک میں طاعون کی وباء کا پھوٹنا اور ماننے والوں کا نسبتاً محفوظ رہنا صاف ظاہر کرتا ہے کہ آپ کی مزکورہ بالا رویا اور آپ کے الہام آگ ہماری غلام بلکہ غلامون کی بھی غلام ہے کے ماتحت ملائکہ اس مرض کے جرمز کو آپ کی تائید لیکن آپ کے دشمنوں کی ہلاکت میں لگا رہے تھے اور اس طرح فرمانبرداری کا وہ حق پورا کر رہے تھے وہ ہر مرسل کے متعلق ان کے ذمہ لگایا گیا ہے-
    قادیان میں بھی ایسا ہی ہوا کہ دوسرے شہروں کی نسبت یہاں بہت ہی کم طاعون ہوئی اور تین سال تک ہو کر ہٹ گئی- حالانکہ دوسرے شہروں میں دس دس سال بلکہ بعض جگہ اس سے بھی زیادہ رہی-
    آپ کے گھر کے متعلق تو ملائکہ کی فرمانبرداری کا عجیب نمونہ نظر آیا- یعنی باوجود اس کے کہ تین سال تک متواتر آپ کے گھر کے بائیں طرف بھی اور دائیں طرف بھی طاعون پھوٹی آپ کے گھر کی دائیں طرف والے ملحق گھر میں بھی موتیں ہوئیں اور بائیں طرف کے گھر میں بھی موتیں ہوئیں- لیکن آپ کا گھر جس میں سو )۱۰۰( سے زیادہ آدمی رہتے تھے اور نشیب کے حصہ میں واقع ہونے کے سبب سے صحت افزا جگہ پر بھی نہیں کہلا سکتا- نہ صرف یہ کہ اس میں کوئی موت نہیں ہوئی بلکہ کوئی چوہا بھی اس میں مبتلا نہیں ہوا- حالانکہ طاعون جب کسی گائوں میں پڑے تو چوہے فورا مرنے شروع ہو جاتے ہیں یہ ایک عجیب نشان ہے اور صاحب دانش کے لیے موجب تسلی- اگر ملائکہ آپ کی تائید نہیں کر رہے تھے تو پھر کیا چیز تھی جو امور طبیعہ کو جو حاکموں اور بادشاہوں کے قبضہ میں بھی نہیں ہوتے- آپ کی تائید اور غلامی میں لگائے ہوئے تھی- بڑے بڑے ڈاکٹر جو رات دن طبی احتیاطوں سے کام لے رہے تھے طاعون کا شکار ہوتے تھے- شہروں سے باہر صاف محلات میں رہنے والے اس کی گرفت سے بچ نہیں سکتے تھے- ٹیکا کرانے والے بھی محفوظ نہ تھے مگر آپ کے گھر کے لوگ بلا کسی ظاہری سبب کے بلا علاج کے- بلا حفضان صحت کے سامانوں کی موجودگی کے- بلا آبادی سے باہر جانے کے- اس وباء کے حملے سے محفوظ رہتے` بلکہ جانور تک اس کے اثر کو قبول نہ کرتے` حالانکہ گھر کے ساکنین بہت بڑی تعداد میں تھے- بلکہ طاعون کے دنوں میں اور بہت سے لوگ بھی درخواست کر کے گھر کے اندر آجاتے تھے-
    اگر قادیان میں طاعون نہ آتا` یا اگر قادیان میں طاعون آتا مگر آپ کے گھر کے اردگرد نہ آتا تو کہا جا سکتا تھا کہ اتفاق تھا مگر قبل از وقت یہ بات شائع کر دینے کے بعد کہ ملائکتہ اللہ آپ کی تائید میں ہیں اور طاعون کو اپنی غلامی کا طوق پہنائے ہوئے ہیں- طاعون کا قادیان میں آنا- پھر آپ کے گھر کے اردگرد آنا` مگر آپ کے گھر میں کسی آدمی یا جانور کا بھی اس سے متاثر نہ ہونا ایک زبردست ثبوت ہے اس بات کا کہ ملائکہ کو آپ کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا تھا اور وہ آپ کی حفاظت پر مامور تھے- اس وجہ سے وہ اسباب طبعیہ بھی جو ان کے زیر انتظام تھے آپ کی نصرت میں لگے ہوئے تھے-
    امور طبعیہ کا اس طرح آپ کی تائید کرنا بہت سے واقعات سے ثابت ہوتا ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس کی مزکورہ بالا چند مثالیں کافی ہونگی اور ان سے اس قسم کے معجزات کی حقیقت آپ پر روشن ہو جائے گی اور آپ معلوم کر سکیں گے کہ اس قسم کی تائید جن کو حاصل ہو وہ مفتری اور کاذب ہرگز نہیں ہو سکتے-
    ‏Dawat20
    نویں دلیل
    علوم آسمانی کا انکشاف
    نویں)۹( دلیل آپ کی صداقت کی کہ درحقیقت وہ بھی بہت سے دلائل پر مشتمل ہے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر قادرانہ طور پر ایسے علوم کا انکشاف کیا جن کا حصول انسانی طاقت سے بالا ہے نبیوں کی بعثت کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو اس چشمہ تک پہنچائیں جس سے سیراب ہوئے بغیر روحانی زندگی قائم ہی نہیں رہ سکتی` یعنی تمام زندگیوں کے منبع حضرت احدیت سے ان کو وابستہ اور متعلق کر دیں اور یہ بات بلا علوم روحانیہ کے حصول کے نہیں ہو سکتی- وہی شخص اللہ کا قرب حاصل کر سکتا ہے جسے اس کی معرفت حاصل ہو اور اس کے قرب کے ذرائع معلوم ہوں اور اس کی صفات کا باریک در باریک علم رکھتا ہو اور دوسروں کو وہی شخص روحانی امور میں ہدایت کر سکتا ہے جو ان باتوں سے حصہ وافر رکھتا ہو-
    پس کسی ماموریت کے مدعی کا دعویٰ قابل تسلیم نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ خدا تعالیٰ کے غیر محدود علم سے حصہ نہ پائے اور اللہ تعالیٰ اس کی علمی غور وپرداخت نہ کرے- پس حضرت اقدس کے دعوے کی سچائی کے معلوم کرنے کے کے لئے ہم اس قانون کے ذریعے سے بھی آپ کے دعوے پر غور کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر کیا کیا علوم کھولے ہیں-
    اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے- وعلم ادم الاسماء کلھا )سورہ بقرہ ع۴: ۳۲( اور اس نے حضرت آدمؑ کو سب صفات الٰہیہ کا علم دیا اور صفات الٰہیہ کے علم کے ماتحت سب قسم کا علم آجاتا ہے کیونکہ معرفت الٰہیہ کے معنے صفات الٰہیہ کا ایسا علم ہی ہے جو مشاہدہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے- یہ علم ہر مامور کو دیا جاتا ہے- چنانچہ اللہ تعالیٰ حضرت لوط کی نسبت فرماتا ہے ولوطا اتینہ حکما وعلما text] ga[t )انبیاء ع۵ : ۷۵( اور حضرت دائود وسلیمان کی نسبت فرماتا ہے- ولقد اتینا دائود وسلیمان علما )نمل ع۲ :۱۶( اور حضرت یوسفؑ کی نسبت فرماتا ہے ولما بلغ اشدہ اتیناہ حکماو علما )یوسف ع۳ :۲۳( اور حضرت موسیٰؑ کی نسبت فرماتا ہے ولما بلغ اشدہ واستوی اتینہ حکماو علما وکذلک نجزی المحسنین )قﷺ ع۲ : ۱۵( اور آنحضرت ~صل۲~ کی نسبت فرماتا ہے وعلمک مالم تکن وکان فضل اللہ علیک عظیما )نساء ع۱۷ :۱۱۴( کہ آپ کو وہ علم سکھایا ہے جو پہلے آپ کو معلوم نہ تھا اور پھر اور علوم کے اظہار کا وعدہ کرتا ہے اور یہ دعا سکھاتا ہے - قل رب زدنی علما )طہ :۱۱۵( پس ان آیات سے معلوم ہوا کہ ہر مامور کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص علم دیا جاتا ہے- چنانچہ اسی قسم کا علم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی دیا گیا صرف فرق یہ ہے کہ پہلے ماموروں کو تو صرف باطنی علم دیا جاتا تھا مگر آپ کو اپنے مطاع اور آقا آنحضرت ~صل۲~ کی اتباع میں ظاہری اور باطنی دونوں قسم کا علم دیا گیا- یعنی علم روحانی بھی دیا گیا- اور اس کے بیان کرنے کا اعلیٰ طریق بھی بخشا گیا اور اللہ تعالیٰ نے دونوں باتوں میں آپ کو بے نظیر بنایا` نہ تو علوم باطنیہ کے جاننے میں کوئی شخص آپ کا مقابلہ کر سکتا ہے اور نہ ان کے بیان کرنے میں کوئی شخص آپ کا مقابلہ کر سکتا ہے-
    ان دونوں قسم کے علموں میں سے پہلے میں ظاہری قسم کا علم لیتا ہوں- یہ معجزہ آپ سے پہلے صرف نبی کریم ~صل۲~ کے ذریعے ظاہر کیا گیا ہے- پہلے انبیاء میں اس کی نظیر نہیں ملتی آنحضرت ~صل۲~ پر جو وحی نازل ہوئی اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے- ون کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا بسورہ من مثلہ ص وارعوا شھداء کم من دون اللہ ان کنتم صادقین )بقرہ ع۳ : ۲۴( کہہ دے اگر تم کو اس کتاب کے سبب جو تم نے اپنے اس بندے پر نازل کی ہے شکوک وشبہات پیدا ہو گئے تو پھر اس کی ایک سورۃ جیسی ہی کوئی عبادت لے آئو- اور اس کی تیاری کے لیے اللہ تعالیٰ کے سوا جس قدر تمہارے بزرگ ہیں سب کو اپنی مدد کے لیے جمع کر لو` مگر اید رکھو کہ پھر بھی تم اس کی مثال لانے پر قادر نہیں ہو سکو گے اس آیت میں ہر قسم کی خوبیوں میں قرآن کریم کو بے مثل قرار دیا گیا ہے جن میں سے ایک خوبی ظاہری خوبی بھی ہے قرآن کریم کی فصاحت کی طرف اور جگہوں پر بھی اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے چنانچہ فرماتا ہے کتاب احکمت ایتہ ثم فصلت من لدن حکیم خبیر )ھود ع۱ :۲( یہ کتاب ایسیہے کہ اس کے احکام نہایت مضبوط چٹان پر قائم کئے گئے ہیں اور پھر ان کو بے نظیر طور کھول کر بیان کیا گیا ہے اس خدا کی طرف سے جو بڑی حکمتوں کا مالک ہے اور واقعات سے باخبر ہے یعنی حکیم کی طرف سے پر حکمت کلام ہی آنا چاہئیے اور خبیر جانتا ہے کہ اب علمی زمانہ شروع ہونے والا ہے اس لیے علمی معجزات کی ضرورت ہے- پس اس نے قرآن کریم کی زبان کو مفصل بنایا ہے- یعنی وہ اپنی وضاحت آپ کرتا ہے اور اپنی خوبی کا خود شاہد ہے-
    چونکہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام آنحضرت ~صل۲~ کے شاگرد اور آپ کی ظل تھے اور آپ ہی کے نور سے حصہ لینے والے تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی اس خوبی سے حصہ دیا اور آپ کو بھی کلام کی فصاحت عطا فرمائی میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ حضرت اقدسؑ کسی مشہور مدرسے کے پڑھے ہوئے نہ تھے` معمولی لیاقت کے استاد آپ کی تعلیم کے لیے رکھے گئے تھے جنہوں نے عام درسی کتب کا ایک حصہ آپ کو پڑھا دیا تھا- آپ کبھی عرب وغیرہ ممالک کی طرف بھی نہیں گئے تھے اور نہ آپ ایسے شہروں میں رہے تھے جہاں عربی کا چرچا ہو دیہاتی زندگی اور معمولی کتب پڑھنے سے جس قدر علم انسان کو حاصل ہو سکتا ہے اسی قدر آپ کو حاصل تھا-
    جب آپ نے دعویٰ کیا اور دنیا کی اصلاح کی طرف توجہ کی تو آپ کے دشمنوں کی نظر سب سے پہلے ان حالات پر پڑی اور انہوں نے سوچا کہ یہ سب سے بڑا حملہ ہے جو ہم آپ کی ذات پر کر سکتے ہیں اور یہ مشہور کرنا شروع کیا کہ آپ ایک منشی آدمی ہیں اردو نوشت وخواند میں چونکہ مہارت ہو گئی اور لوگوں میں بعض مضامین اچھی نظر سے دیکھے گئے تو خیال کر لیا کہ اب میں بھی کچھ بن گیا اور دعویٰ کر دیا- آپ عربی سے ناواقف ہیں اس لیے علوم دینیہ میں رائے دینے کے اہل نہیں اس اعتراض کو ہر مجلس اور تحریر میں پیش کیا جاتا اور لوگوں کو بدظن کیا جاتا تھا- ان لوگوں کا یہ اعتراض تو کہ آپ عربی زبان سے ناواقف تھے بالکل جھوٹا تھا کیونکہ آپ نے عام درسی کتب پڑھی تھیں مگر یہ سچ تھا کہ آپ کسی بڑے عالم سے نہیں پڑھے تھے اور نہ باقاعدہ کسی پرانے مدرسہ کے سند یافتہ تھے اس لیے ملک کے بڑے عالموں میں شمار نہ ہوتے تھے اور نہ مولوی کی حیثیت آپ کو حاصل تھی-
    جب اس اعتراض کا بہت چرچا ہوا اور مخالف مولویوں نے وقت اور بے وقت اس کو پیش کرنا شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے ایک رات میں چالیس ہزار مادہ عربی زبان کا سکھا دیا اور یہ معجزہ عطا فرمایا کہ آپ عربی زبان میں کتب لکھیں اور وعدہ کیا کہ ایک ایسی فصاحت اپ کو عطا کی جاوے گی کہ لوگ مقابلہ نہ کر سکیں گے- چنانچہ آپ نے عربی زبان میں ایک مضمون لکھ کر اپنی کتاب آئینہ کمالات اسلام کے ساتھ شائع کیا اور مخالفوں کو اس کے مقابلے میں رسالہ لکھنے کے لیے بلایا` مگر کوئی شخص مقابلہ پر نہ آسکا- اس کے بعد متواتر آپ نے عربی کتب لکھیں جو بیس )۲۰( سے بھی زیادہ ہیں اور بعض کتب کے ساتھ دس دس ہزار روپے کا انعام ان لوگوں کے لیے مقرر کیا جو مقابلہ میں دیسی ہی فصیح کتب لکھیں مگر ان تحریرات کا جواب کوئی مخالف نہ لکھ سکا` بلکہ بعض کتب عربوں کے مقابلہ میں لکھی گئیں اور وہ بھی جواب نہ دے سکے- اور پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے` چنانچہ سید رشید رضا صاحب مدیر المنار کو مخاطب کر کے بھی ایک کتاب لکھی گئی اور اس کو مقابلہ کے لیے بلایا گیا` مگر وہ مقابلہ پر نہ آیا اسی طرح بعض اور عربوں کو مقابلہ کے لیے دعوت دی گئی` مگر وہ جرات نہ کر سکے-
    ہندوستان کے مولویوں نے اپنی شکست کا ان لفظوں مین اقرار کیا کہ یہ کتابیں مرزا صاحب خود نہیں لکھتے بلکہ انہوں نے عرب چھپا کر رکھے ہوئے ہیں وہ ان کتب کو لکھ کر دیتے ہیں- اس اعتراض سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کی کتب کی عربی زبان کے وہ بھی قائل تھے مگر ان کو یہ شک تھا کہ آپ خود یہ کتب نہیں لکھ سکتے اور لوگ آپ کو کتابیں لکھ کر دے دیتے ہیں اس پر آپ نے یہ اعلان کیا کہ آپ لوگ بھی عربوں اور شامیوں کی مدد سے میرے مقابلہ پر کتابیں لکھ دیں- مگر باوجود بار بار غیرت دلانے کے کوئی سامنے نہ آیا اور وہ کتب اب تک بے جواب پڑی ہیں-
    ان کتب کے علاوہ ایک دفعہ آپ کو الہام ہوا کہ آپ فی البدیہہ ایک خطبہ عربی زبان میں دیں حالانکہ آپ نے عربی زبان میں کبھی تقریر نہ کی تھی- دوسرے دن عید الاضحیٰ تھی- اس الہام کے ماتحت آپ نے عید کے بعد عربی زبان میں ایک لمبی تقریر کی جو خطبہ الہامیہ کے نام سے شائع ہو چکی ہے- اس تقریر کی عبادت بھی ایسی اعلیٰ درجہ کی تھی کہ عرب اوع عجم پڑھ کر حیران ہوتے ہیں اور ایسے غوامض ورموز اس میں بیان کے کہ ان کی وجہ سے اس خطبہ کی عظمت اور بھی بڑھ جاتی ہے-
    یہ علمی معجزہ آپ کا نہایت زبردست معجزات میں سے ہے کیونکہ ایک تو ان معجزات پر اسے فوقیت حاصل ہے جو زیادہ اثر صرف اس وقت کے لوگوں پر کرتے ہیں جو دیکھنے والے ہوں- دوم اس معجزہ کا اقرار دشمنوں کی زبانوں سے بھی کرا دیا گیا ہے اب جب تک دنیا قایم ہے یہ معجزہ آپ کا بھی قائم رہے گا اور قرآن کریم کی طرح آپ کے دشمنوں کے خلاف حجت رہے گا اور روشن نشان کی طرح چمکتا رہے گا-
    بعض لوگ جب اس معجزہ کو دیکھ کر آپ کی صداقت کا انکار کرنے کی کوئی صورت نہیں دیکھتے تو اس پر ایک اعتراض کیا کرتے ہیں اور وہ یہ کہ اس قسم کے معجزہ کا دعویٰ کرنا قرآن کریم کی ہتک ہے- کیونکہ قرآن کریم کا دعوی ہے کہ اس کی زبان بے مثل ہے- اگر مرزا صاحب کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایسی زبان میں کتب لکھنے کی توفیق دے دی جو اپنی خوبیوں میں بے مثل ہے تو اس میں قرآن کریم کی ہتک ہو گئی اور اس کا دعویٰ باطل ہوگیا ان لوگوں کا یہ اعتراض محض تعصب کا نتیجہ ہے ورنہ اگر یہ سوچتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ باوجود حضرت اقدسؑ کی عربی کتب کے بے مثل ہونے کے قرآن کریم کا دعوفی حق اور راست ہے اور اس کا معجزانہ رنگ موجود ہے بلکہ آگے سے بڑھ گیا ہے-
    دنیا ہر ایک فضیلت دو قسم کی ہوتی ہے کامل فضیلت اور وہ فضیلت جو اضافی ہوتی ہے یعنی ایک فضیلت تو وہ جو بلا دوسری چیزوں کو مدنظر رکھنے کے ہوتی ہے اور ایک فضیلت وہ جو بعض اور چیزوں کو مدنظر رکھکر ہوتی ہے اس کی مثال قرآن کریم سے ہی میں یہ پیش کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کی نسبت قرآن کریم میں فرماتا ہے وانی فضلتکم علی العلمین )بقرہ ع۶ :۴۸( میں نے تم کو تمام جہان کے لوگوں پر فضیلت دی اور پھر مسلمانوں کی نسبت فرماتا ہے کنتم خیرامہ اخرجت للناس )آل عمران ع۱۲ :۱۱۱( تم سب سے بہتر امت ہو جو سب لوگوں کے لیے نکالی گئی ہو تو ایک طرف بنی اسرائیل کو سب جہانوں پر فضیلت دیتا ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کو سب جہانوں پر فضیلت دیتا ہے- بظاہر اس بات میں اختلاف نظر آتا ہے لیکن اصل میں کوئی اختلاف نہیں بلکہ ایک جگہ پر تو اپنے زمانے کے لوگوں پر فضیلت مراد ہے اور دوسری جگہ اولین وآخرین پر- اسی طرح حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام کی کتب کو جو بے مثلیت حاصل ہے وہ انسانوں کے کلاموں کو مدنظر رکھ کر ہے اور قرآن کریم کو جو بے مثلیت رطا ہوئی ہے وہ تمام انسانی کلاموں پر بھی ہے اور خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے دوسرے کلاموں پر بھی اور ان میں حضرت اقدسؑ کے الہامی خطبات اور آپؑ کی کتب بھی شامل ہیں- پس قرآن کریم کا بے مثل ہونا حقیقی ہے اور حضرت اقدسؑ کی کتب کی زبان کا بے مثل ہونا اضافی- پس آپ کا یہ معجزہ گو لوگوں کے لیے حجت ہے مگر قرآن کریم کی شان کا گھٹانے والا نہیں-
    میں نے اوپر بیان کیا تھا کہ آپ کے معجزہ سے قرآن کریم کے معجزہ کی شان دوبار ہو گئی ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ بے مثلیت بھی کئی قسم کی ہوتی ہے- ایک بے مثلیت ایسی ہوتی ہے کہ بے مثل کلام کو دوسرے کلاموں پر فضیلت تو ہوتی ہے مگر بہت زیادہ فضیلت نہیں ہوتی- پس گو اس کو افضل کہیں گے مگر دوسرے کلام بھی اس کے قریب قریب پہنچے ہوئے ہوتے ہیں جیسے کہ مثلا گھوڑ دوڑ میں جب گھوڑے دوڑتے ہیں تو ایک گھوڑا جو اول نکلے دوسرے گھوڑے سے ایک بالشت بھی آگے ہو سکتا ہے ایک گز بھی ہو سکتا ہے اور ایک گھوڑے کے کھڑے ہونے کی جگہ کی م¶دار بھی آگے ہو سکتا ہے یا اس سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے یہی حال بے مثل کلام کا ہے کہ وہ ان سے دوسرے کلاموں کی نسبت جن کے مقابلہ میں اسے بے مثل ہونے کا دعویٰ ہے معمولی فضیلت بھی رکھ سکتا ہے اور بہت زیادہ فضیلت بھی رکھ سکتا ہے اب یہ امر کہ اس کا دوسرے کاموں کا فرق تھوڑا ہے یا بہت اسی طرح معلوم ہو سکتا ہے کہ اس کے درمیان ان کلاموں کے درمیان جن سے وہ افضل ہونے کا مدعی ہے اور کلام آکر کھڑے ہو سکیں کہ وہ بھی بے مثل ہوں لیکن اس کے مقابلہ میں وہ بھی ادنیٰ ہوں- پس حضرت اقدس کی کتب نے دوسرے انسانوں کے کلاموں کے مقابلے میں اپنی مثلیت ثابت کر کے بتا دیا ہے کہ قرآن کریم اپنی بے مثلیت میں دوسرے کلاموں سے بہت ہی بڑھا ہوا ہے کیونکہ وہ کلام جن کو قرآن کریم کے مقابلے پر کھڑا کیا جاتا تھا- آپ کے کلام نے ان کو پیچھے ڈال دیا` مگر پھر بھی آپ کا کلام قرآن کریم کے ماتحت ہی رہا اور اس کا خادم ہی ثابت ہوا جس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم دوسرے کلاموں سے اس قدر آگے نکلا ہوا ہے کہ اس کے اور دوسرے کلاموں کے درمیان ایک وسیع فاصلہ ہے-
    اس فصاحت کے علاوہ جو آپ کو عطا ہوئی- ایک علم طاہری آپ کو یہ عطا ہوا کہ آپ کو الہاماً عربی زبان کے ام الالسنہ ہونے کا علم دیا گیا- یہ ایک عظیم الشان اور عجیب علم تھا کیونکہ یوپ کے لوگ ام الالسنہ کے متعلق لمبی کوششوں کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے تھے کہ سنسکرت یا پہلوی زبان ام الالسنہ ہے اور بعض لوگ ان دونوں زبانوں کو بھی اس زبان کی جو سب سے پہلی زبان تھی شاخ قرار دیتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ ابتدائی زبان دنیا سے مٹ گئی ہے- یہ تو یورپ کے لوگوں کا حال تھا عرب جن کی زبان عربی ہے وہ بھی اس فضیلت کے قائل نہتھے بلکہ یورپ کی تعلیم کے اثر سے ام الالسنہ کی دوسرے ممالک کی زبانوں میں تلاش کر رہے تھے ان حالات میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ علم دیا جانا کہ اصل میں عربی زبان میں ام الالسنہ ہے ایک قابل حیرت انکشاف تھا مگر قرآن کریم پر تدبر کرنے سے معلوم ہوا کہ یہ انکشاف قرآن کریم کی تعلیم کے بالکل مطابق تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وہ کلام جو ساری دنیا کی طرف نازل ہونا تھا اسی زبان میں نازل ہونا چاہئیے تھا جو سب سے ابتدائی زبان ہونے کے لحاظ سے ساری دنیا کی زبان ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ )ابراہیم ع۱ :۵( ہم کوئی رسول نہیں بھیجتے مگر اسی زبان میں اس پر کتاب نازل کرتے ہیں جو ان لوگوں کی زبان ہوتی ہے جن کی طرف وہ مبعوث ہوا ہو- پس رسول کریم ~صل۲~ جو ساری دنیا کی طرف مبعوث ہوئے تو آپ کی طرف اسی زبان میں کلام نازل ہونا چاہئیے تھا جو بوجہ ام الالسنہ ہونے کے ساری دنیا کی زبان کہلا سکے اور چونکہ آپ پر عربی زبان میں کلام نازل ہوا ہے اس لیے عربی زبان ہی ام الالسنہ ہے-
    آپ نے اس انکشاف کے ثبوت میں اللہ تعالیٰ سے علم پاکر ایسے اصول مدون کئے جن سے روز روشن کی طرح ثابت کر دیا کہ فی الواقع عربی زبان ام الالسنہ اور الہامی زبان ہے اور باقی کوئی زبان ام الالسنہ کہلانے کی مستحق نہیں- آپ نے اس تحقیق کے متعلق ایک کتاب بھی لکھنی چاہی جو افسوس کہ نامکمل رہ گئی مگر اصل الاصول آپ نے اس میں بیان کر دئیے جن کو پھیلا کر اس امر کو دنیا کے ذہن نشین کیا جا سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے چاہا تو میرا منشاء ہے کہ ان اصول کے ماتحت جو آپ نے تجویز کئے ہیں اور اس علم کے مطابق جو آپ نے اس کتاب میں مخفی رکھا ہے ایک کتاب تصنیف کروں جس میں بوضاحت آپ کے بیان کردہ دعوے کو ثابت کروں اور اہل یورپ کے تیار کردہ علم اللسان سے جو اس دعوے کی تائید ہوتی ہے وہ بھی بیان کروں اور جہاں اہل یورپ نے ٹھوکر کھائی ہے اس کو بھی کھول دوں- ]nsk [tag وما التوفیق الا من اللہ یہ تحقیق عربی زبان کے مطابق ایک ایسی بے نظیر تحقیق ہے کہ دنیا کے نقطہ نظر کو اسلام کے مطابق بالکل بدل دے گی اور اسلام کو بہت بڑی شوکت اس سے حاصل ہو گی-
    ان ظاہری علوم کے علاوہ جو آپ کو دئیے گئے باطنی علوم جو انبیاء کا ورثہ ہیں- وہ بھی آپ کو عطا ہوئے اور ان علوم کے مقابلے سے سب دشمن عاجز رہے اور کوئی شخص آپ کا مقابلہ نہ رہ سکا جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں آپ کوئی جدید شریعت لیکر نہ آئے تھے بلکہ پیشگوئیوں کے ماتحت آنحضرت ~صل۲~ کے دین کی خدمت اور اشاعت کے لیے مبعوث ہوئے تھے اور علوم قرآنیہ کا پھیلانا اور سکھانا آپ کا کام تھا قرآن کریم کے بعد اب کوئی نیا علم آسمان سے نازل نہیں ہو سکتا- سب علوم اس کے اندر ہیں اور رسول کریم ~صل۲~ کے بعد کوئی نیا معلم نہیں آسکتا جو شخص آئے گا آپ کے سکھائے ہوئے علوم کی تجدید کرنیوالا ہی ہو گا اور انہیں کو دوبارہ تازہ کرے گا جیسا کہ حضرت مسیح موعودؑ کا ایک الہام ہے کل برکتہ من محمد صلی اللہ علیہ وسلمم فتبارک من علم وتعلم ہر ایک برکت محمد ~صل۲~ سے آتی ہے- پس مبارک ہے وہ جس نے سکھایا یعنی آنحضرت ~صل۲-~ اور مبارک ہے وہ جس نے سیکھا یعنی مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام -
    غرض علوم چونکہ قرآن کریم پر ختم ہو گئے اور جو مامور آئیں گے ان کو قرآن کریم کے خاص علوم ہی سکھائے جائیں گے نہ کوئی جدید علوم اور ان کی سچائی کی یہی علامت ہو گی کہ ان کو اللہ تعالیٰ قرآن کریم کا وسیع علم عطا فرماوے جو استدلالیوں والا نہ ہو` بلکہ صفات الہیہ کا علم ہو اور روحانی منازل کا علم ہو اور اے بادشاہ! ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت اقدس مسیح موعودؑ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے علوم سے ایسا وافر حصہ دیا ہے کہ اگر یوں کہیں کہ آپ کے وقت میں قرآن کریم دوبارہ نازل ہوا ہے تو یہ کوئی مبالغہ نہ ہو گا بلکہ بالکل سچ ہو گا اور رسول کریم ~صل۲~ کے قول کے مطابق ہو گا کیونکہ آپ سے بھی ایک روایت ہے کہ لو کان القران معلقا بالثریا لنا لہ وجا من فارس کہ اگر قرآن ثریا پر اڑ کر چلا جائے تو ایک شخص فارسی الاصل اس کو واپس لے آوے گا-
    سب سے پہلے تو میں علم قرآن کے اس حصہ کو بیان کرتا ہوں جس نے اصولی رنگ میں اسلام کو ایسی مدد دی اور مختلف ادیان کے مقابلہ میں اسلام کے مقام کو اس طرح بدل دیا کہ فاتح مفتوح ہو گیا اور غالب مغلوب- یعنی قرآن کریم جو اس سے پہلے ایک مردہ کتاب سمجھی جاتی تھی ایک زندہ کتاب بن گئی اور اس کی خوبیوں کو دیکھ کر اس کے مخالف گھبرا کر بھاگ گئے-
    حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے نزول سے پہلے عام طور پر مسلمانوں کا یہ خیال تھا کہ معارف قرآنیہ جو بزرگوں نے بیان کئے ہیں وہ اپنی حد کو پہنچ گئے ہیں اور اب ان سے زیادہ کچھ بیان نہیں ہو سکتا بلکہ اور جستجو کرنی فضول اور دین کے لیے مضر ہے- اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدسؑ کو یہ علم دیا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی مادی پیدائش اپنے اندر بے انتہاء اسرار رکھتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کا کلام بھی اپنے اندر بے انتہاء معانی اور معارف رکھتا ہے اگر ایک مکھی جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے نہایت ادنیٰ درجہ رکھتی ہے ہر زمانے میں اپنی پوشیدہ طاقتوں کو ظاہر کرتی ہے اور اس کی بناوٹ کے رازوں اور اس کے خواص کی وسعت اور اس کی عادات کی تفاصیل کا علم زیادہ سے زیادہ حاصل ہوتا جاتا ہے چھوٹے چھوٹے گھانس اور پودوں کے نئے سے نئے خواص اور تاثیریں معلوم ہوتی جاتی ہیں تو کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام محدود ہو- کہ کچھ مدت تک تو لوگ اس میں سے معانی اور معارف اخز کریں اور اس کے بعد وہ اس کان کی طرح ہو جائے جس کا خزانہ ختم ہو جاتا ہے- اللہ کا کلام تو مادی اشیاء کی نسبت زیادہ کثیر المعانی اور وسیع المطالب ہونا چاہئیے` اگر نئے سے نئے علوم دنیا میں نکل رہے ہیں` اگر فلسفہ اور سائنس تیزی کے ساتھ ترقی کرتے چلے جاتے ہیں اگر طبقات الارض اور علم آثار قدیمہ اور علم افعال الاعضاء اور علم نباتات اور علم حیوانات اور علم ہیئت اور علم سیاسیات اور علم اقتصاد اور علم معاملات اور علم النفس اور علم روحانیات اور علم اخلاق اور اسی قسم کے نئے علوم یا تو نئے دریافت ہو رہے ہیں یا انہوں نے پچھلے زمانے کے علوم کے مقابلہ میں حیرت انگیز ترقی حاصل کر لی ہے تو کیا اللہ تعالیٰ کا کلام ہی ایسا راکد ہونا چاہئیے کہ وہ اپنے پر غور کرنیوالوں کو تازہ علوم اور نئے مطالب نہ دے سکے اور سینکروں سال تک وہیں کا وہیں کھڑا رہے-
    اس وقت جس قدر بے دینی اور اللہ تعالیٰ سے دوری اور شریعت سے بعد نظر آتا ہے وہ ان علوم کے بالواسطہ یا بلاواسطہ اثر ہی کا نتیجہ ہے- پس اگر قرآن کریم اللہ کا کلام ہے تو چاہئیے تھا کہ ان علوم جدیدہ کی ایجاد یا وسعت کے ساتھ اس میں سے بھی ایسے معارف ظاہر ہوں جو یا تو ان علوم کی غلطی کو ظاہر کریں اور بدلائل انسان کو تسلی دیں یا یہ بتائیں کہ جو شبہ پیدا کیا جاتا ہے وہ درحقیقت پیدا ہی نہیں ہوتا اور صرف قدرت تدبر کا نتیجہ ہے-
    اس اصل کو قائم کر کے آپ نے بدلائل ثابت کیا کہ قرآن کریم میں اس زمانے کی ترقیات اور تمام حالات کا ذکر موجود ہے بلکہ اس زمانہ کی بعض جزائیات تک کا ذکر` ہے لیکن پہلے مسلمان چونکہ اس زمانہ میں نہیں پیدا ہوئے تھے وہ ان اشارات کو نہیں سمجھ سکے اور ان واقعات کو قیامت پر محمول کرتے رہے-
    مثلاً سورہ التکویر میں اس زمانے کی بہت ہی علامات مزکور ہیں جیسے )۱( اذا الشمس کورت )۲( واذا النجوم انکدرت )۳( واذا الجبال سیرت )۴( واذا العشار عطلت )۵( واذا الوحوش حشرت )۶( واذا الجبار سجرت )۷( واذا النفوس زوجت )۸( واذا الموء دہ سلت )۹( بای ذنب قتلت )۱۰( واذا الصحف نشرت )۱۱( واذا السماء کشطت )۱۲( واذا الجحیم سعرت )۱۳( واذا الجنہ ازلف )۱( جب سورج لپیٹا جائے گا )۳( واذا الجبال سیرت اور جب پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹائے جائیں گے- یعنی ایسے سامان نکل آئیں گے کہ ان کے ذریعے سے پہاڑوں کو کاٹا جائے گا اور ان کے اندر سوراخ کر دئیے جائیں گے- )۴( واذا العشار عطلت اور جب دس )۱۰( مہینے کی گابھن اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی یعنی ایسا زمانہ آجائے گا کہ نئی سواریوں کی وجہ سے اونٹوں کی وہ قدر نہ رہے گی جو اب ہے )۵( واذا الوحوش حشرت اور جب دینی علوم سے لوگوں کو ناواقفیت ہو گی اور وہ مثل وحشیوں کے ہو جائیں گے اور اسی طرح وہ اقوام جو پہلے وحشی سمجھی جاتی تھیں جیسے یورپ کے باشندے کہ آج سے چھ سات سو سال قبل جس وقت الیشیائی لوگ نہایت مہذب اور ترقی یافتہ تھے یہ لوگ ننگے پھرتے تھے- دنیا میں پھیلا دئے جائیں گے اور دنیا کی حکومتوں پر قابض ہو جائیں گے اور یہ بھی کہ اس زمانے میں کچھ وحشی اقوام ہلاک کر دی جائیں گی کہ ان کا نام ہی باقی نہ رہ جائے گا اور یہ عربی زبان کا محاورہ ہے کہ کہتے ہیں حشر الوحوش ای اھلکت ایسا ہی اس زمانے میں ہوا ہے کہ آسٹریلیا اور امریکہ کے اصلی باشندے کہ ان کو کہتے بھی وحشی ہی ہیں-
    آہستہ آہستہ اس طرح ہلاک کر دئیے گئے ہیں کہ اب ان اقوام کا ان میں نشان تک نہیں ملتا-
    پھر فرمایا کہ )۶( واذا الجحار سجرت جب دریائوں کو پھاڑا جائے گا یعنی ان میں سے نہریں نکالی جائیں گی اور )۷( واذا النفوس زوجت اور جب لوگ آپس میں جمع کر دئے جائیں گے یعنی آپس کے تعلقات کے ایسے سامان نکل آئیں گے کہ دور دور کے لوگ آپس میں ملا دئیے جائیں گے جیسے آلات ٹیلیفون ہیں کہ ہزاروں میل کے لوگوں کو آپس میں ملا کر باتیں کروا دیتے ہیں یاریل اور تار اور ڈاک کے انتظام ہیں کہ ساری دنیا کو انہوں نے ایک شہر بنا دیا ہے )۸( واذا الموء دہ سئلت بای ذنب قتلت اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکیاں یا عورتیں پوچھی جائیں گی- یعنی مذہبی طور پر انسان کا ذندہ گاڑ دینا خواہ جائز ہو مگر قوانین حکومت اس کی اجازت نہ دیں گے اور صرف مذہبی جواز کا فتوی پیش کر دینا قبول نہ کیا جائے گا- جیسے کہ اس زمانہ سے پہلے زمانوں میں ہوتا چلا آیا ہے واذا الصحف نشرت اور جب کہ کتب اور اخبارات اور رسالہ جات پھیلائے جائیں گے جیسا کہ آجکل ہے کہ اخبارات اور کتب کی کثرت کو دیکھ کر انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے )۱۱( واذا السماء کشطت اور جب آسمان کا چھلکا اتارا جائے گا- یعنی آسمانی علوم کا ظہور ہو گا علم ہئیت کی ترقی کے ذریعے سے بھی اور علوم قرآنیہ کے اظہار اور اشاعت کے ذریعے سے بھی )۱۲( واذا الجحیم سعرت اور دوزخ بھڑکا دی جائے گی یعنی نئے نئے علوم ایجاد ہونگی جن کی وجہ سے لوگوں کو دیں سے نفرت ہو جائے گی اور دلوں سے ایمان نکل جائے گا اور عیش وعشرت کے سامانوں کی کثرت سے بھی لوگوں میں فساد پیدا ہو جائے گا )۱۳( واذا الجنہ ازلفت اور جب جنت قریب کر دی جائے گی یعنی اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کا فضل بھی جوش میں آئے گا اور جنت بھی قریب کر دی جائے گی` یعنی جب فساد اور شرارت بڑھ جائے گی اور بے دینی ترقی کر جائے گی اس وقت اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے ایسا سامان کر دیگا کہ لوگوں کے ایمان تازہ ہوں اور دین کی خوبی ظاہر ہو جائے اور ان کاموں کا کرنا لوگوں کے لئے آسان ہو جائے جن کے کرنے پر جنت ملتی ہے-
    اب آپ غور کر کے دیکھ لیں کہ کیا یہ سب نشانیاں اس زمانے کی نہیں ہیں اور کیا یہ ممکن ہے کہ ان علامات کو قیامت یا کسی اور زمانے پر لگایا ¶جائے- صرف واذا الشمس کورت اور اذا النجوم انکدرت کے الفاظ سے دھوکا کھا کر یہ خیال کر لینا کہ یہ باتیں قیامت کو ہونگی کب جائز ہو سکتا ہے جب کہ اس کی باقی آیات کا قیامت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں معلوم ہوتا` قیامت کو دس مہینے کی گابھن اونٹنیاں بھلا کیوں چھوڑ دی جائیں گی؟ دریائوں میں سے اس دن نہریں کیوں نکالی جائیں گی؟ یا یہ کہ دریا آپس میں کیوں ملائے جائیں گے اور موودہ کے متعلق اس وقت کیوں سوال ہوگا؟ اعمال کے متعلق پرسش تو فنا کے بعد حشر اجساد کے دن ہو گی` نہ کہ جس وقت کارخانہ عالم درہم برہم ہو رہا ہوگا- اسی طرح ان آیات کے مابعد بھی ایسی باتوں کا ذکر ہے جو اثبت کر رہی ہیں کہ اس دنیا میں یہ سب کچھ ہونے والا ہے جیسے والیل اذا عسعس والصبح اذا تنفس اور رات کی قسم جب وہ جاتی رہے گی اور صبح کی قسم جب وہ سانس لے گی یعنی طلوع ہونے لگے گی اور جب کہ شروع میں اذا الشمس کورت آچکا ہے اگر اس سورہ میں قیامت کا ہی ذکر ہو تو سورج کے لپیٹے جانے کے بعد رات کس طرح چلی جائے گی اور صبح کس طرح نمودار ہونے لگے گی` غرض ان باتوں کا جو اس سورہ میں بیان ہوئی ہیں قیامت کے ساتھ کچھ بھی تعلق نہیں` ہاں اس زمانے کے حالات کے یہ بالکل مطابق ہیں اور گویا اس وقت کا پورا نقشہ ان میں کھینچ دیا گیا ہے پس درحقیقت اس زمانے کی خرابیوں اور مادی ترقیوں اور گناہوں کی کثرت اور پھر اللہ تعالیٰ کے فضل کی اس سورہ میں خبر دی گئی تھی جس کو پڑھ کر مومن کا ایمان تازہ ہوتا ہے اور سب شکوک وشبہات ہوا ہو جاتے ہیں-
    یہ ایک مثال میں نے ان اخبار کی دی ہے جو اس زمانے کے متعلق قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں اور جن کو حضرت اقدس نے خود بیان فرمایا ہے یا جن کو آپ کے بتائے ہوئے اصول کے ماتحت آپ کے خدام نے قرآن کریم سے اخز کیا ہے ورنہ اس زمانے کے مفاسد اور حالات کی خبریں اور ان کے علاج قرآن کریم میں اس کثرت سے بیان ہوئے ہیں کہ ان کو دیکھ کر سخت سے سخت دشمن بھی یہ اقرار کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے جس سے ماضی حال اور مستقبل کسی زمانے کے بھی حالات کو پوشیدہ نہیں مگر ان کے بیان کرنے سے اصل مضمون رہ جائے گا اور یہ مکتوب بہت زیادہ لمبا ہو جائے گا-
    دوسرا اصولی علم جو قرآن کریم کے متعلق آپ کو دیا گیا یہ ہے کہ قرآن کریم میں کوئی دعویٰ بلا دلیل بیان نہیں کیا جاتا اس اصل کے قائم کرنے سے اس کے علوم کے انکشاف کے لئے ایک نیا دروازہ کھل گیا اور جب اس کو مدنظر رکھتے ہوئے قرآن کریم پر غور کیا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ ہزاروں باتیں جو اس سے پہلے بطور دعوے کے سمجھی جاتی تھی اور ان کی دلیل یہ سمجھ لی گئی تھی کہ خدا نے کہا ہے اس لیے مان لو` وہ سب اپنے دلائل اپنے ساتھ رکھتی تھیں- اس دریافت کا یہ نتیجہ ہوا کہ فطرت انسانی نے جو علوم کی ترقی کی وجہ سے اس زبردستی کی حکومت کا جوا اتار پھینکنے کے لئے تیار ہو رہی تھی عقلی طور پر تسلی پاکر نہایت جوش اور خروش سے قرآن کریم کے بتائے ہوئے اصول سے لپٹ گئی اور قرآن کریم کی باتوں کے ماننے میں بجائے ایک بوجھ محسوس ہونے کے فرحت حاصل ہونے لگی اور محسوس ہونے لگا کہ قرآن کریم ایک طوق کے طور پر ہماری گردنوں میں نہیں ڈالا گیا بلکہ ایک واقف کار رہنما کی مانند ہمارے ہمراہ کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کی ذات کے وہ زبردست ثبوت آپ نے قرآن کریم سے پیش کئے جن کو موجودہ سائنس رد نہیں کر سکتی اور جن کے اثر سے تعلیم یافتہ دہریوں کی ایک جماعت واپس خدا پرستی کی طرف آرہی ہے-
    اسی طرح آپ نے ملائکہ پر جو اعتراض ہوتے تھے ان کے جواب قرآن کریم سے دئیے نبوت کی ضرورت اور نبیوں کی صداقت کے دلائل قرآن کریم سے بیان کئے- قیامت کا ثبوت قرآن کریم سے پیش کیا اعمال صالحہ کی ضرورت اور ان کے فوائد اور نواہی کے خطرناک نتائج اور ان سے بچنے کی ضرورت یہ سب مسائل اور ان کے سوا باقی اور بہت سے مسائل کے متعلق آپ نے قرآن کریم ہی کے ذکر کردہ عقلی اور نقلی دلائل بیان کر کے ثابت کر دیا کہ قرآن کریم پر علوم جدیدہ کی دریافت کا کوئی اثر نہیں پڑ سکتا` کیونکہ آپ نے بتایا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فعل اور اس کا قول مخالف ہوں` جو کلام اس کے مخالف ہے وہ اس کا کلام ہی نہیں اور جو اس کا کلام ہے وہ اس کے فعل کے مخالف نہیں ہو سکتا-
    ان علوم کے بیان کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس وقت صرف آپ ہی کی جماعت ہے جو ایک طرف تو علوم جدیدہ کی تحصیل میں پوری لگی ہوئی ہے اور دوسری طرف سیاسی ضرورت یا نسلی تعصب کی وجہ سے نہیں بلکہ سچے طور پر تقلیدی طور پر نہیں بلکہ علی وجہ البصیرت اسلام کے بیان کردہ تمام عقائد پر یقین رکھتی ہے اور ان کی صداقت کو ثابت کر سکتی ہے- باقی جس قدر جماعتیں ہیں وہ ان علوم سے بے بہرہ ہونے کی وجہ سے تو علوم جدیدہ کی تکذیب کر کے اور ان کے حصول کو کفر قرار دیکر اپنے خیالی ایمان کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں یا پھر ان کے اثر سے متاثر ہو کر دیں کو عملاً چھوڑ بیٹھی ہیں یا ظاہر میں لوگوں کے خوف سے اظہار اسلام کرتی ہیں مگر دل میں سو قسم کے شکوک اور شبہات اسلامی تعلیم کے متعلق رکھتی ہیں-
    تیسرا اصولی علم قرآن کریم کے متعلق آپ کو یہ دیا گیا ہے کہ انسانی عقل کوئی شبہ یا دسوسہ قرآن کریم کی تعلیم کے متعلق پیدا کر لے` اس کا جواب قرآن کریم کے اندر موجود ہے اور آپ نے اس مضمون کو اس وسعت سے بیان کیا ہے کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے- ہر قسم کے وساوس اور شکوک کا جواب آپ نے قرآن کریم سے دیا ہے اور اس طرح نہیں کہ کہہ دیا ہو کہ قرآن کریم اس خیال کو رد کرتا ہے اس لئے یہ خیال مردود ہے بلکہ ایسے دلائل کے ذریعہ سے جو گو بیان تو قرآن کریم نے کئے ہیں مگر ہیں عقلی اور علمی جن کو ماننے پر ہر مذہب وملت کے لوگ مجبور ہیں-
    چوتھا اصولی علم قرآن کریم کے متعلق آپ کو یہ دیا گیا ہے کہ اس سے پہلے لوگ عام طور پر یہ تو بیان کرتے تھے کہ قرآن کریم سب کتب سے افضل ہے مگر یہ کسی نے ثابت نہ کیا تھا کہ کتب مقدسہ یا دوسری تصانیف پر اسے کیا فضیلت حاصل ہے جس کی وجہ سے وہ بے نظیر ہے اور بے مثل ہے اس مضمون کو آپ نے قرآن کریم ہی کے بیان کردہ دلائل سے اس وسعت سے ثابت کیا ہے کہ بے اختیار انسان کا دل قرآن کریم پر قربان ہونے کو چاہتا ہے اور محمد رسول اللہ ~صل۲~ پر فدا ہونے کو چاہتا ہے جن کے ذریعے سے یہ تعلیم ہمیں ملی-
    پانچواں اصولی علم جو آپ کو دیا گیا ہے یہ ہے کہ قرآن ذولمعانی ہے اس کے کئی بطون ہیں اس کو جس عقل اور جس فہم کے آدمی پڑھیں اس میں ان کی سمجھ اور ان کی استعداد کے مطابق سچی تعلیم موجود ہے گویا الفاظ ایک ہیں لیکن مطالب متعدد ہین اگر معمولی عقل کا آدمی پڑھے تو وہ اس میں ایسی موٹی موٹی تعلیم دیکھے گا جس کا ماننا اور سمجھنا اس کے لیے کچھ بھی مشکل نہ ہوگا اور اگر متوسط درجہ کے علم کا آدمی اس کو پڑھے گا تو وہ اپنے علم کے مطابق اس میں مضمون پائے گا اور اگر اعلیٰ درجہ کے علم کا آدمی اس کو پڑھے گا تو وہ اپنے علم کے مطابق اس میں علم پائے گا- غرض یہ نہ ہو گا کہ کم علم لوگ اس کتاب کا سمجھنا اپنی عقل سے بالا پائیں` یا اعلیٰ درجہ کے علم کے لوگ اس کو ایک سادہ کتاب پائیں اور اس میں اپنی دلچسپی اور علمی ترقی کا سامان نہ دیکھیں-
    چھٹا اصولی علم آپ کو قرآن کریم کے متعلق یہ دیا گیا کہ قرآن کریم علاوہ روحانی علوم کے ان ضروری علوم مادیہ کا بھی بیان کرتا ہے جن کا معلوم ہونا انسان کے لیے ضروری- اور ان علوم کا انکشاف زمانے کی ترقی کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے تاکہ ہر زمانے کے لوگوں کا ایمان تازہ ہو-
    ساتواں اصولی علم آپ کو یہ دیا گیا کہ تفسیر قرآن کریم کے متعلق آپ کو وہ اصول سمجھائے گئے کہ جن کو مدنظر رکھ کر انسان تفسیر قرآن کریم میں غلطی کھانے سے محفوظ ہو جاتا ہے اور جن کی مدد سے انسان پر نئے سے نئے علوم کا انکشاف ہوتا ہے اور ہر دفعہ قرآن کریم کا مطالعہ اس کے لئے مزید لزت اور سرور کا موجب ہوتا ہے-
    آٹھواں اصولی علم آپ کو قرآن کریم کے متعلق یہ دیا گیا کہ قرآن کریم سے تمام روحانی ترقیات کے مدارج آپ کو سکھائے گئے اور جو علم اس سے پہلے لوگ اپنی عقل سے دریافت کر رہے تھے اور بعض دفعہ غلطی کھا جاتے تھے ان کے متعلق آپ کو قران کریم سے علم دیا گیا اور سمجھایا گیا کہ تمام روحانی حالتیں ادنیٰ سے لیکر اعلیٰ تک قرآن کریم نے ترتیب وار بیان کی ہیں جن پر چل کر انسان اللہ تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے اور اس کے ثمرات ایمان بھی کھاتا جاتا ہے- یہ بات پہلے لوگوں کو میسر نہ تھی کیونکہ وہ قرآن کریم کی مختلف یات سے تو استدلال کرتے تھے مگر سب مدارج روحانیہ یکجائی طور پر ان کو قرآن کریم سے معلوم نہ تھے-
    نواں اصولی آپ کو یہ دیا گیا کہ قرآن کریم تمام کا تمام کیا سورتیں اور کیا آیتیں سب کا سب ایک خاص ترتیب کے ساتھ اترا ہوا ہے` اس کا ایک ایک فقرہ اور ایک ایک جملہ اپنی صحیہ جگہ پر رکھا ہوا ہے اور ایسی اعلیٰ درجہ کی ترتیب اس میں پائی جاتی ہے کہ دوسری کتب کی ترتیب اس کے مقابلے میں بالکل ہیچ ہے` کیونکہ دیگر کتب کی ترتیب مین صرف ایک ہی بات مدنظر رکھی جاتی ہے کہ مناسب مضامین یکے بعد دیگرے آجائیں` لیکن قرآن کریم کی ترتیب میں یہ خصوصیت ہے کہ اس میں مضامین کی ترتیب نہ صرف مضامین کے لحاظ سے ہے بلکہ ایسی طرز سے ہے کہ مختلف جہات سے اس کی ترتیب قرار دی جا سکتی ہے - یعنی اگر مختلف مطالب کو مدنظر رکھا جائے تو ہر مطلب کے لحاظ سے اس کے اندر ترتیب پائی جاتی ہے یہ نہیں کہ اس کی ایک تفسیر کریں تو ترتیب قائم رہے اور دوسری تفسیر کریں تو ترتیب میں خلل آجائے بلکہ جس قدر معنے اس کے صحیح اور مطابق اصول تفسیر کے ہیں ان سب کی رعایت کو مدنظر رکھا گیا ہے اور کوئی سے معنے لے کر اس کی تفسیر شروع کر دو اس کی ترتیب میں فرق نہیں آئے گا اور یہ ایسی صفت ہے کہ کسی انسانی کلام میں نہیں پائی جاتی اور نہ پائی جا سکتی ہے-
    دسواں اصولی علم آپ کو یہ دیا گیا ہے کہ قرآن کریم میں نیکیوں اور بدیوں کے مدارج بیان کئے گئے ہیں- یعنی یہ بتایا گیا ہے کہ کون کون سی نیکی کی تحریک ہوتی ہے اور کون کون سی بدی سے کون کون سی بدی پیدا ہوتی ہے- اس علم کے ذریعے سے انسان اخلاق کی اصلاح میں عظیم الشان فائدہ حاصل کر سکتا ہے کیونکہ اس تدریجی علم کے ذریعے سے وہ بہت سی نیکیوں کو حاصل کر سکتا ہے جن کو وہ پہلے باوجود کوشش کے حاصل نہیں کر سکتا تھا اور بہت سی بدیوں کو چھوڑ سکتا ہے جن کو وہ باوجود بہت سی کوشش کے نہیں چھوڑ سکتا تھا` گویا قرآن کریم کا یہ عظیم الشان معجزہ آپ نے بتا دیا ہے کہ اس نے انسان کو نیکیوں اور بدیوں کے چشمے بتا دئیے ہیں جہاں پہنچکر وہ اپنی پیاس کو بجھا سکتا ہے` یا تباہ کرنے والے طوفان کو روک سکتا ہے-
    گیارھواں اصولی علم آپ کو یہ بتایا گیا کہ سورہ فاتحہ قرآن کریم کے سب مضامین کا خلاصہ ہے اور باقی قرآن کے لیے بمنزلہ تن ہے اور کل اصولی مسائل اس کے اندر بیان کئے گئے ہیں اور نہایت مفصل اور ضخیم تفاسیر آپ نے اس سورہ کی شائع کیں اور نہایت پر لطف ایمان کو تازہ کرنے والے مضامین اس سے اخذ کر کے تقسیم کئے` اس علم کے ذریعے سے آپ نے حفاظت اسلام کے کام کو آسان کر دیا` کیونکہ ہر ایک بات جو مفصل میں سے انسان کی سمجھ نہ آئے وہ اس مجمل پر نگاہ کر کے اس کو سمجھ سکتا ہے اور صرف اسی سورہ کو لے کر تمام دنیا کے ادیان کا مقابلہ کر سکتا ہے اور کل مدارج روحانی کو معلوم کر سکتا ہے-
    یہ تو بعض امثلہ اصولی علوم کی میں نے بیان کی ہیں ان کے علاوہ بارھواں علم قرآن کریم کے متعلق آپ کو تفصیلی دیا گیا ہے جس کے مطابق مختلف آیات کے تراجم اور ان کے معارف جو آپ نے بیان کئے ہیں اور ضروریات زمانہ کے متعلق جو ہدایات آپ نے قرآن کریم سے اخذ کی ہیں ان کو اگر بیان کیا جائے تو اس کے لیے کئی مجلد کتابیں چاحئیں` ان کے چشموں نے ثابت کر دیا ہے کہ آپ کا اس مبداء فیض سے خاص تعلق ہے جو علم ہے اور جس کی نسبت آتا ہے- ولا یحیطون بشی من علمہ الا بماشاء )بقرہ ع ۳۴ (256: کیونکہ انسان کی طاقت سے بالکل باہر ہے کہ وہ ایسے علوم کو اپنی عقل سے دریافت کر سکے- آپ کے بتائے ہوئے علوم اور اصول کے مطابق جب ہم قرآن کریم پڑھتے ہیں تو اس کے اندر علوم کے سمندر موجیں مارتے ہوئے نظر آتے ہیں جن کا کنارہ نظر نہیں آتا-
    آپ نے آیت لایمسہ الا المطھرون )الواقعہ(80: کے مضمون کی طرف توجہ دلا کر بار بار اپنے مخالفوں کو توجہ دلائی کہ اگر آپ لوگوں کے خیالات کے مطابق میں جھوٹا ہوں تو پھر وجہ کیا ہے کہ ایسے باریک در باریک علم مجھے عطا کئے جاتے ہیں اور اپنے مخالفوں کو بار بار دعت مقابلہ دی کہ اگر تم میں سے کوئی عالم یا شیخ اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہے تو میرے مقابلے پر علوم قرآن کو ظاہر کرے اور ایسا کیا جائے کہ ایک جگہ ایک ثالث شخص بطور قرعہ اندازی قرآن کریم کا کوئی حصہ نکال کر دونوں کو دے اور اس کی تفسیر معارف جدیدہ پر مشتمل دونوں لکھیں پھر دیکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ کس فریق کی مدد کرتا ہے مگر باوجود بار بار پکارنے کے کوئی مقابلے پر نہ آیا اور آتا بھی کیونکر؟ کیونکہ آپ کا مقابلہ تو الگ رہا علوم قرآن میں آپ کے خدام کا بھی کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا اور قرآن کریم گویا اس وقت صرف ہمارا ہی ہے-
    اس مضمون کے ختم کرنے سے پہلے میں آپ کی ایک فارسی نظم قرآن کریم کے متعلق درج کرتا ہوں جس میں آپ نے علوم قرآنیہ کے متعلق لوگوں کو توجہ دلائی ہے-
    ‏Dawat21
    دسویں دلیل
    دسویں دلیل آپ کی صداقت کی کہ وہ بھی درحقیقت سینکڑوں بلکہ ہزاروں دلائل پر مشتمل ہے یہ ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے نہایت کثرت سے اپنے غیب پر مطلع کیا تھا` پس معلوم ہوا کہ آپ خدا کے فرستادہ تھے- اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے فلا یظھر علی غیبہ احدا الا من ارتضی من رسول )سورہ جن ع۲ (27,28: یعنی وہ غیب پر کثرت سے اطلاع نہیں دیتا مگر اپنے رسولوں کو )اظھر علیہ کے معنے ہیں اس کو اس پر غلبہ دیا( پس جس شخص کو کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع ملے اور اس پر وحی مصفا پانی کی طرح ہو جو ہر قسم کی کدورت سے پاک ہو اور روشن نشان کو دئیے جاویں اور عظیم الشان امور سے قبل از وقت اسے آگاہ کیا جائے وہ اللہ تعالیٰ کا مامور ہے اور اس کا انکار کرنا گویا قرآن کریم کا انکار کرنا ہے جس نے یہ قاعدہ بیان فرمایا ہے اور سب نبیوں کا انکار کرنا ہے جنہوں نے اپنی صداقت کے ثبوت میں ہمیشہ اس امر کو پیش کیا ہے چنانچہ بائیبل میں بھی آتا ہے کہ جھوٹے نبی کی علامت ہے کہ جو بات وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہے وہ پوری نہ ہو-
    اس معیار کے ماتحت جب ہم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام کے دعوے کو دیکھتے ہیں تو آپ کی سچائی ایسے دن کی طرح نظر آتی ہے جس کا سورج نصف النہار پر ہو آپ پر اللہ تعالیٰ نے اس کثرت اور اس تواتر کے ساتھ غیب کی خبریں ظاہر کیں کہ رسول کریم ~صل۲~ کے سوا اور کسی نبی کی پیشگوئیوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی بلکہ سچ یہ ہے کہ ان کی تعداد اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ اگر ان کو تقسیم کیا جائے تو کئی نبیوں کی نبوت ان سے ثابت ہو جائے میں ان اخبار غیبیہ میں سے بارہ بطور مثال کے پیش کرتا ہوں-
    یہ پیشگوئیاں جو آپ نے کیں بیسیوں اقسام کی تھیں` بعض سیاسی امور کے متعلق تھیں- بعض اجتماعی امور کے متعلق تھیں بعض تغیرات جو کے متعلق تھیں` بعض مذہبی امور کے متعلق تھیں` بعض دماغی قابلیتوں کے متعلق تھیں بعض نسلی ترقی یا قطع نسل کے متعلق تھیں- بعض تغیرات زمینی کے متعلق تھیں بعض تعلقات دول کے متعلق تھیں بعض تعلقات رعایا وحکام کے متعلق تھیں بعض اپنی ترقیات کے متعلق تھیں بعض دشمنوں کی ہلاکت کے متعلق تھیں- بعض آئندہ حالات دنیا کے متعلق تھیں- غرض مختلف انواع واقسام کے امور کے متعلق تھیں کہ ان کی اقسام ہی ایک لمبی فہرست میں بیان کی جا سکتی ہیں-
    اب میں ذیل میں بارہ پیشگوئیاں آپ کی جو پوری ہو چکی ہیں بیان کرتا ہوں اور سب سے پہلے اس پیشگوئی کا ذکر کرتا ہوں جو افغانستان ہی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے-
    پہلی پیشگوئی
    صاحبزادہ عبداللطیف شہیدومولی عبدالرحمن صاحب شہید کی شہادت اور واقعات مابعد کے متعلق
    اے بادشاہ! اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی حفظ وامان میں رکھے اور ان غلطیوں کے بدنتائج سے محفوظ رکھے جن کے ارتکاب میں آپ کا کوئی دخل نہ تھا` آج سے چالیس سال پہلے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام میں بتایا گیا تھا کہ شاتان تذبحان وکل من علیھا فان دو بکرے ذبح کئے جاویں گے اور ہر ایک جو اس زمین پر بستا ہے فنا ہو جائے گا علم التعبیر کے مطابق شاۃ کی دو تعبیریں ہو سکتی ہیں` ایک تو عورتوں اور دوسرے نہایت مطیع اور فرمانبردار رعایا` چونکہ عورتوں کے معنوں کے ساتھ اگلے فقرے کا کوئی تعلق نہیں عملوم ہوتا کیونکہ عورتوں کو ذبح ہونے سے کم ہی تعلق ہوتا ہے- زیادہ تر جان دینے والے مرد ہوتے ہیں- اس لیے زیادہ تر قرین قیاس کے یہی معنے ہو سکتے ہیں کہ دو آدمی جو اپنے بادشاہ کے نہایت فرمانبردار اور مطیع ہوں گے باوجود اس کے کہ انہوں نے کوئی جرم اپنے بادشاہ کا نہ کیا ہو گا اور اس کا کوئی قانون نہ توڑا ہو گا اور سزائے قتل کے مستحق نہ ہوں گے قتل کئے جاویں گے اور اس کے بعد ملج پر ایک عام تباہی آوے گی اور ہلاکت اس میں ڈیرے ڈال لے گی-
    اس پیشگوئی میں گو ملک وغیرہ کا کچھ نشان نہیں دیا گیا تھا مگر اس کی عبارت سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے تھا کہ اول تو یہ واقعہ انگریزی علاقہ میں نہیں ہو گا` بلکہ کسی ایسے ملک میں ہو گا جہاں عام ملکی قانون کی اطاعت کرتے ہوئے بھی لوگوں کے غصے اور ناراضگی کے نتیجے میں انسان قتل کئے جا سکتے ہیں- دوم یہ کہ یہ مقبول ملہم کے پیروئوں میں سے ہوں گے` کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو پھر اس کو صرف دو مقتولوں کے متعلق خبر دینے کی کوئی وجہ نہ تھی- تیسری یہ بات معلوم ہوئی کہ وہ قتل ناواجب ہوگا- کسی سیاسی جرم کے متعلق نہ ہوگا` چوتھے یہ کہ اس ناواجب فعل کے بدلے میں اس ملک پر ایک عام تباہی آوے گی-
    یہ چاروں باتیں مل کر اے بادشاہ! اس پیشگوئی کو معمولی پیشگوئیوں سے بہت بالا کر دیتی ہیں اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ چونکہ اس میں ملک کی تعیین نہیں اس لیے یہ پیشگوئی مبہم ہے ان چاروں باتوں کا ایک جا طور پر پورا ہونا پیشگوئی کی عظمت کو ثابت کر دیتا ہے کیونکہ یہ چاروں باتیں اتفاقی طور پر جمع نہیں ہو سکتیں-
    اس پیشگوئی کے بعد قریباً بیس سال تک کوئی ایسے آثار نظر نہ آئے جن سے کہ یہ پیشگوئی پوری ہوتی معلوم ہو- مگر جب کہ قریباً بیس سال اس الہام پر گزر گئے تو ایسے سامان پیدا ہونے لگے جنہوں نے اس پیشگوئی کو حیرت انگیز طور پر پورا کر دیا` اتفاق ایسا ہوا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام کی بعض کتب کوئی شخص افغانستان میں لے گیا اور وہاں خوست کے ایک عالم سید عبداللطیف صاحب کو جو حکومت افغانسان میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اور بڑے بڑے حکام ان کا تقوی اور دیانت دیکھ کر ان سے خلوص رکھتے تھے وہ کتب دیں- آپ نے ان کتابون کو پڑھ کر یہ فیصلہ کر لیا کہ حضرت اقدس راستباز اور صادق ہیں اور اپنے ایک شاگرد کو مزید تحقیقات کے لیے بھیجا اور ساتھ ہی اجازت دی کہ وہ ان کی طرف سے بیعت بھی کر آئے- اس شاگرد کا نام مولوی عبدالرحمن تھا- انہوں نے قادیان آکر خود بھی بیعت کی اور مولوی عبداللطیف صاحب کی طرف سے بھی بیعت کی- اور پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام کی کتب لے کر واپ افغانسان کو چلے گئے- اور ارادہ کیا کہ پہلے کابل جائیں تاکہ وہاں اپنے بادشاہ تک بھی اس دعوت کو پہنچا دیں-
    ان کے کابل پہنچنے پر بعض کو تاہ اندیش بدخواہان حکومت نے امیر عبدالرحمن صاحب کو ان کے خلاف اکسایا اور کہا کہ یہ شخص مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج اور واجب القتل ہے اور ان کو دھوکا دیکر ان کے قتل کا فتویٰ حاصل کیا اور نہایت ظالمانہ طور پر ان کو قتل کر دیا اور وہ جو اپنے بادشاہ سے اس قدر پیار کرتا تھا کہ پیشتر اس کے کہ اپنے وطن کو جاتا پہلے اپنے بادشاہ کے پاس یہ خوشخبری لے کر پہنچا کہ خدا کا مسیح اور مہدی آگیا ہے- اس کی محبت اور اس کے پیار کا اس کو یہ بدلہ دیا گیا کہ اسے گردن میں کپڑا ڈال کر اور دم بند کر کے شہید کر دیا گیا` مگر اس واقعہ میں اللہ تعالیٰ کا ہاتھ تھا` اس نے قریب میں بیس سال پہلے دو وفادار افراد رعایا کی بلاکسی قانون شکنی کے قتل کئے جانے کی خبر دیدی تھی اور اس خبر کو پورا ہو کر رہنا تھا- سو اس قتل کے ذریعے سے ان دو شخصوں میں سے جن کے قتل کی خبر دی گئی تھی ایک قتل ہو گیا-
    اس واقعہ کے ایک دو سال کے بعد صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید حج بیت اللہ کا ارادے سے اپنے وطن سے روانہ ہوئے- چونکہ حضرت اقدس کی بیعت تو کر ہی چکے تھے- ارادہ کیا کہ جاتے وقت آپ سے بھی ملتے جائیں` چنانچہ اس ارادے سے قادیان تشریف لائے مگر یہاں آکر اس سے پہلے جو کتابوں کے ذریعے سے سمجھا تھا بہت کچھ زیادہ دیکھا اور صفائی قلب کی وجہ سے نور الٰہی کی طرف ایسے جذب کئے گئے کہ حج کے ارادے کو ملتوی کر دیا او قادیان ہی رہ گئے` چند ماہ کے بعد واپس وطن کو گئے اور فیصلہ کر لیا کہ اپنے بادشاہ کو بھی اس نعمت میں شریک کروں جو مجھے ملی ہے اور خوست پہنچتے ہی چار خط کابل کے چار درباریوں کے نام لکھے ان خطوط کے کابل پہنچنے پر جناب کے والد امیر حبیب اللہ خان صاحب والی ریاست کابل کہ لوگوں نے بھڑکایا اور قسم قسم کے جھوٹے اتہام لگا کر ان کو اس بات پر آمادہ کر دیا کہ وہ ان کو پکڑوا کر کابل بلوا لیں- خوست کے گورنر کے نام حکم کیا اور صاحبزادہ عبداللطیف کابل حاضر کئے گئے- امیر صاحب نے آپ کو ملانوں کے سپرد کیا` جنہوں نے کوئی قصور آپ کا پورا کرنا زیادہ مدنظر ہوتا ہے- امیر حبیب اللہ خان صاحب کو بھڑکایا کہ اگر یہ شخص چھوڑ دیا گیا اور لوگوں نے اس کا اثر قبول کر لیا تو لوگوں کے دلوں میں جہاد کا جوش سرد پڑ جائے گا اور حکومت کو نقصان پہنچے گا` آخر ان کے سنگسار کئے جانے کا فتویٰ دیدیا گیا امیر حبیب اللہ خان صاحب نے اپنے نزدیک ان کی خیر خواہی سمجھ کر ان کو کئی دفعہ توبہ کرنے کے لئے کہا` مگر انہوں نے یہی جواب دیا کہ میں تو اسلام پر ہوں توبہ کر کے کیا کافر ہو جائوں میں کسی صورت میں بھی اس حق کو نہیں چھوڑ سکتا جسے میں نے سوچ سمجھکر قبول کیا ہے- جب ان کے رجوع سے بالکل مایوسی ہو گئی تو ایک بڑی جماعت کے سامنے ان کو شہر سے باہر لے جاکر سنگسار کر دیا-
    یہ وفادار اپنے بادشاہ کا جان نثار چند خود غرض اور مطلب پرست سازشیوں کی سازش کا شکار ہوا اور انہوں نے امیر صاحب کو دھوکا دیا کہ اس کا زندہ رہنا ملک کے لیے مضر ہو گا حالانکہ یہ لوگ ملک کے لیے ایک پناہ ہوتے ہیں اور خدا ان کے ذریعے سے ملک کی بلائیں ٹال دیتا ہے انہوں نے بادشاہ کے سامنے یہ امر پیش کیا کہ اگر یہ شخص زندہ رہا تو لوگ جہاد کے خیال میں سست ہو جائیں گے مگر یہ نہ پیش کیا کہ یہ شخص جس سلسلے میں ہے اس کی یہ بھی تعلیم ہے کہ جس حکومت کے ماتحت رہو اس کی کامل فرمانبرداری کرو- پس اس کی باتوں کی اشاعت سے افغانستان کی خانہ جنگیاں اور آپس کے اختلاف دور ہو کر سارے کا سارا ملک اپنے بادشاہ کا سچا جان نثار ہو جائے گا اور جہاں اس کا پسینہ بہیگا وہاں اپنا خون بہانے کے لیے تیار ہوگا اور یہ نہ بتایا کہ جس سلسلے سے یہ تعلق رکھتا ہے اس کی تعلیم یہ ہے کہ خفیہ سازشیں نہ کرو- رشوتیں نہ لو- جھوٹ نہ بولو اور منافقت نہ کرو اور نہ صرف تعلیم دی جاتی ہے بلکہ اس کی پابندی بھی کروائی جاتی ہے پس اگر اس کے خیالات کی اشاعت ہوئی تو ایک دم ملک کی حالت سدھر کر ہر طرح کی ترقیات شروع ہو جائیں گی- اسی طرح انہوں نے یہ نہ بتایا کہ یہ اس جہاد کا منکر ہے کہ غیر اقوام پر بلا ان کی طرف سے مذہبی دست اندازی کے حملہ کیا جائے اور اسلام کو بدنام کیا جائے- نہ کہ اس حقیقی دفاعی جہاد کا جو خود رسول کریم ~صل۲~ نے کیا اور نہ ان سیاسی جنگوں کا جو ایک قوم اپنی ہستی کے قیام کے لیے دوسری اقوام سے کرتی ہے- اس کا تو صرف یہ عقیدہ ہے کہ بغیر اس کے کہ غیر اقوام کی طرف سے مذہبی دست اندازی ہو ان کے ساتھ جہاد کے نام پر جنگ نہیں کرنی چاہئیے تا اسلام پر حرف نہ آئے- سیاسی فوائد کی حفاظت کے لیے اگر جنگ کی ضرورت پیش آئے تو بے شک جنگ کریں مگر اس کا نام جہاد نہ رکھیں کیونکہ وہ فتح جس کے لیے اسلام کی نیک نامی کو قربان کیا جائے اس شکست سے بدتر ہے جس میں اسلام کی عزت کی حفاظت کر لی گئی ہو-
    غرض بلاوجہ اور امیر حبیب اللہ خان صاحب کو غلط واقعات با کر سید عبداللطیف صاحب کو کرا دیا گیا اور اس طرح الہام کا پہلا حصہ مکمل طور پر پورا ہو گیا کہ شاتان تذبحان- اس جماعت کے دو نہایت وفادار اور اطاعت گزار آدمی باوجود ہر طرح بادشاہ وقت کے فرمانبردار ہونے کے ذبح کر دئیے جائیں گے اور وہ حصہ پورا ہونا باقی رہ گیا کہ اس واقعہ کے بعد اس سر زمین پر عام تباہی آئے گی اور اس کے پورا ہونے میں بھی دیر نہیں لگی- ابھی صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کی شہادت پر ایک ماہ بھی نہ گزرا تھا کہ کابل میں سخت ہیضہ پھوٹا اور اس کثرت سے لوگ ہلاک ہوئے کہ بڑے اور چھوٹے اس مصیبت ناگہانی سے گھبرا گئے اور لوگوں کے دل خوف زدہ ہو گئے اور عام طور پر لوگوں نے محسوس کر لیا کہ یہ بلا اس سید مظلوم کی وجہ سے ہم پر پڑی ہے جیسا کہ ایک بے تعلق شخص مسٹر اے فرنک مارٹن کی جو کئی سال تک افغانستان کی حکومت میں انجئر انچیف کے عہدے پر ممتاز رہ چکے ہیں- اس شہادت سے ثابت ہوتا ہے جو انہوں نے اپنی کتاب مسمی بہ >انڈردی ابسولیٹ امر< میں بیان کی ہے- یہ ہیضہ بالکل غیر مترقبہ تھا- کیونکہ افغانستان میں ہیضے کے پچھلے دوروں پر نظر کرتے ہوئے ابھی اور چار تک اس قسم کی وباء پھوٹ سکتی تھی- پس یہ ہیضہ اللہ تعالیٰ کا ایک خاص نشان تھا- جس کی خبر وہ اپنے مامور کو قریباً اٹھائیس سال پہلے دے چکا تھا اور عجیب بات یہ ہے کہ اس پیشگوئی کی مزید تقویت کے لیے اس نے صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کو بھی اس امر کی اطلاع دے دی تھی` چنانچہ انہوں نے لوگوں سے کہدیا تھا کہ میں اپنی شہادت کے بعد ایک قیامت کو آتے ہوے دیکھتا ہوں اس ہیضے کا اثر کابل کے ہر گھرانے پر پڑا- جس طرح عوام الناس اس حملے سے محفوظ نہ رہے- امراء بھی محفوظ نہ رہے اور ان گھرانوں میں بھی اس نے ہلاکت کا دروازہ کھول دیا جو ہر طرح کے حفظان صحت کے سامان مہیا رکھتے تھے اور وہ لوگ جنہوں نے شہید سید کے سنگسار کرنے میں خاص حصہ لیا تھا` خاص طور پر پکڑے گئے اور بعض خود مبتلا ہوئے اور بعض کے نہایت قریبی رشتہ دار ہلاک ہوئے-
    غرض ایک لمبے عرصے کے بعد اللہ تعالیٰ کا کلام لفظاً لفظاً پورا ہوا اور اس نے اپنے قہری نشانوں سے اپنے مامور کی شان کو ظاہر کیا اور صاحببصیرت کے لیے ایمان لانے کا راستہ کھول دیا کون کہہ سکتا ہے کہ اس قسم کی پیشگوئی کرنا کسی انسان کا کام ہے- کونسا انسان اس حالت میں جب کہ اس پر ایک شخص بھی ایمان نہیں لایا یہ خبر شائع کر سکتا تھا کہ اس پر کسی زمانے میں کثرت سے لوگ ایمان لے آئیں گے حتیٰ کہ اس کا سلسلہ اس ملک سے نکل کر باہر کے ممالک میں پھیل جائے گا اور پھر وہاں اس کے دو مرید صرف اس پر ایمان لانے کی وجہ سے نہ کہ کسی اور جرم کے سبب سے شہید کئے جاوینگے اور جب ان دونوں کی شہادت ہو چکے گی تو اللہ تعالیٰ اس علاقے پر ایک ہلاکت نازل کرے گا جو ان کے لئے قیامت کا نمونہ ہو گی اور بہت سے لوگ اس سے ہلاک ہونگے- اگر بندہ بھی اس قسم کی خبریں دے سکتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کے کلام اور بندوں کے کلام میں فرق کیا رہا؟
    میں اس جگہ اس شبہ کا ازالہ کر دینا پسند کرتا ہوں کہ الہام میں لفظ کل من علیھا فان ہے یعنی اس سر زمین کے سب لوگ ہلاک ہو جائیں گے` لیکن سب لوگ ہلاک نہ ہوئے کچھ لوگ ہلاک ہوئے اور بہت سے بچ گئے` اصل بات یہ ہے کہ عربی زبان کے محاورے میں کل کا لفظ کبھی عمومیت کے لیے اور کبھی بعض کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے- ضروری نہیں کہ اس لفظ کے معنی جمع کے ہی ہوں` چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ مکھی کو اللہ تعالیٰ نے وحی کی کہ من کل الثمرات حالانکہ ہر مکھی سارے پھلوں کو نہیں کھاتی- پس اس کے معنے یہی ہیں کہ پھلوں میں سے بعض کو کھا` اسی طرح ملکہ سبا کے متعلق فرماتا ہے واویت من کل شی ء )النمل(24: اس کو ہر ایک چیز دی گئی تھی` حالانکہ وہ دنیا کے ایک نہایت مختصر علاقہ کی بادشاہ تھی- پس اس آیت کے یہی معنے ہیں کہ دنیا کی نعمتوں میں سے کچھ اس کو دی تھیں- ہاں یہ ضروری ہوتا ہے کہ جب کل کا لفظ بولا جائے تو وہ اپنے اندر ایک عمومیت رکھتا ہو اور کل افراد میں سے ایک نمایاں حصہ اس میں آجائے اور یہ دونوں باتیں دبائے ہیضہ میں جو شہید مرحوم کی شہادت کے بعد کابل میں پڑی جاتی تھیں` ہر ایک جان اس کے خوف سے لرزاں تھی اور ایک بڑی تعداد آدمیوں کی اس کے ذریعے ہلاک ہوئی حتیٰ کہ ایک انگریز مصنف جو اس الہام کی حقیقت سے بالکل ناواقف تھا اسے بھی اپنی کتاب میں اس ہیضے کا خاص طور پر نمایاں کر کے ذکر کرنا پڑا-
    دوسرا اعتراض یہ کیا جا سکتا ہے کہ الہام میں لفظ تذبحان کا ہے مگر ان دونوں مقتولوں میں ایک تو گلا گھونٹ کر مارا گیا اور دوسرے صاحب سنگسار کئے گئے- پس یہ بات درست نہ نکلی کہ دو آدمی ذبح کئے گئے یہ اعتراض بھی قلت تدبر اور قلت معرفت کا ہی نتیجہ ہو سکتا ہے- کیونکہ ذبح کے معنے عربی زبان میں ہلاک کرنے کے بھی ہوتے ہیں- خواہ کسی طرح ہلاک کیا جائے اور قرآن کریم میں متعدد جگہ پر یہ محاورہ استعمال ہوا ہے- جیسا کہ حضرت موسیٰ کے واقعہ میں آتا ہے کہ یذبحون ابناء کم ویستحیون نساء کم تمہارے لڑکوں کو ذبح کرتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ رکھتے تھے- حالانکہ تاریخ سے ثابت ہے کہ فرعونی لوگ لڑکوں کو ذبح نہیں کرتے تھے بلکہ تو دائیوں کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ بچوں کو مار دیں مگر جب انہوں نے رحمدلی سے کام لیا تو دریا میں پھینکنے کا حکم فرعون نے دیا- )خروج باب۱ آیت ۲۲ اور اعمال باب۷ آیت ۱۹- وطالمود( تاج المعروس میں ہے الذبح الھلاک ذبح کے معنے ہلاک کر دینے کے بھی ہوتے ہیں )جلس۲ صفحہ ۱۴۱( پس یہ اعتراض کرنا درست نہ ہو گا کہ سید عبداللطیف صاحب سنگسار کے لئے کئے گئے تھے ذبح نہیں کئے گئے- کیونکہ ذبح کا لفظ ہلاک کر دینے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے- خواہ کسی طریق پر ہلاک کیا جائے-
    دوسری پیشگوئی
    سلطنت ایران کا انقلاب
    دوسری پیشگوئی جو میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام کی کثیر التعداد پیشگوئیوں میں سے بیان کرنی چاہتا ہوں وہ آپ کی ہمسایہ سلطنت یعنی ایران کے بادشاہ کے متعلق ہے- پندرہ جنوری ۱۹۰۶ء کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام کو الہام ہوا کہ >تزلزل در ایوان کسری فتاد< یہ الہام حسب معمول سلسلے کے اردو اور انگریزی اخبارات اور رسائل میں شائر کر دیا گیا- جس وقت یہ الہام شائع ہوا ہے بادشاہ ایران ۱~}~ کی حالت بالکل محفوظ تھی کیونکہ ۱۹۰۵ء میں باشندگان ملک کے مطالبات کو قبول کر کے شاہ ایران نے پارلیمنٹ کے قیام کا اعلان کر دیا تھا اور تمام ایران میں اس امر پر خوشیاں منائی جا رہی تھیں اور بادشاہ مظفر الدین شاہ مقبولیت عامہ حاصل کر رہے تھے ہر شخص اس امر پر خوش تھا کہ انہوں نے بلا کسی قسم کی خونریزی کے ملک کو حقوق نیابت عطا کر دئیے ہیں` باقی دنیا میں بھی اس نئے تجربہ پر جو جاپان کو چھوڑ کر باقی ایشیائی ممالک کے لیے بالکل جدید تھا شوق وامید کی نطریں لگائے بیتھی تھی اور ان خطرناک نتائج سے ناواقف تھی جو نیم تعلیم یافتہ اور ناتجربہ کار لوگوں میں اس قسم کی دو عملی حکومت رائج کرنے سے پیدا ہو سکتے ہین ایسے وقت میں حضرت اقدس علیہ السلام کا یہ الہام شائع کرنا کہ >تزلزل درایوان کسی فتاد< پ ۶۱ دنیا کی نظروں میں عجیب تھا مگر خدا تعالیٰ کے لیے وہ کام معمولی ہوتے ہیں جو لوگوں کو عجیب نظر آتے ہیں ایران اپنی تازہ آزادی پر اور شاہ مظفر الدین اپنی مقبولیت پر خوش ہو رہے تھے کہ ۱۹۰۷ء میں کل پچپن )۵۵( سال کی عمر میں شاہ اس دنیا سے رحلت کر گئے اور ان کا بیٹا مرزا محمد علی تخت نشین ہوا گو محمد علی مرزا نے تخت پر بیٹھتے ہی مجلس کے استحکام اور نیابتی حکومت کے دوام کا اعلان کیا` لیکن چند ہی دن کے بعد دنیا کو وہ آثار نظر آنے لگے جن کی خبر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام مین دی گئی تھی اور حضرت اقدس علیہ السلام کے الہام کے ایک ہی سال بعد ایران میں فتنہ وفساد کے
    ۱~}~ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا-
    آثار نظر آنے لگے` بادشاہ اور مجلس کی مخالفت شروع ہو گئی اور مجلس کے مطالبات پر بادشاہ نے لیت ولعل کرنا شروع کر دیا- آخر مجلس کے زور دینے پر ان افراد کو دربار سے علیحدہ کرنے کا وعدہ کیا جن کو مجلس فتنے کا بانی سمجھتی تھی مگر ساتھ ہی طہران سے جانے کا بھی ارادہ کر لیا- اس تغیر مکانی کے وقت کا سکوں کی فوج جو بادشاہ کی باڈی گارڈ تھی اور قوم پرستوں کے حمائتیوں کے درمیان اختلاف ہو گیا اور الہام ایک رنگ میں اس طرح پورا ہوا کہ ایران کا دارالمبعوتین توپ خانوں سے اڑا دیا گیا اور بادشاہ نے پارلیمنٹ کو موقوف کر دیا` بادشاہ کے اس فعل سے ملک میں بغاوت کی عام رو پھیل گئی اور لاستان لابد جان` اکبر آباد` بوشہر اور شیراز اور تمام جنوبی ایران میں علی الاعلان حکام سلطنت کو برطرف کر کے ان کی جگہ جمہوریت کے دلدادوں نے حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی` خانہ جنگی شروع ہو گئی اور بادشاہ نے دیکھ لیا کہ حالت نازک ہے خزانہ اور اسباب روس کے ملک بھیجنا شروع کر دیا اور پورا زور لگایا کہ بغاوت فرد ہو` مگر پھوٹ پڑی اور بختیاری سردار بھی قوم پرستوں کے ساتھ مل گئے اور شاہی فوج کو سخت شکست دی` بادشاہ نے ڈکر کر حکومت نیابتی کی حفاظت کا عہد کیا اور بار بار اعلان کئے کہ وہ استبدادی حکومت کو ہرگز قائم نہیں کرے گا مگر خدا کے وعدے کب ٹل سکتے تھے- ایوان کسریٰ میں گھبراہٹ بڑھتی گئی اور آخر وہ دن آگیا کہ کاسک فوج بھی جس پر بادشاہ کو ناز تھا بادشاہ کو چھوڑ کر باغیوں سے مل گئی اور بادشاہ اپنے حرم سمیت اپنے ایوان کو چھوڑ کر ۱۵ جولائی ۱۹۰۹ء کو روسی سفارت گاہ میں پناہ گزیں ہو گیا اور پورے اڑھائی سال کے بعد حضرت اقدس مسیح موعود کا الہام >تزلزل درایوان کسریٰ فتاد< نہایت عبرت انگیز طور پر پورا ہوا` جون اور جولائی کے مہینوں میں گھبراہٹ خوف اور یاس کے بادل جو ایوان کسریٰ پر چھا رہے تھے ان کا اندازہ وہی لوگ کر سکتے ہیں جو اس قسم کے حالات کا مشاہدہ کر چکے ہوں` ہوں` یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو غیر معمولی قوت متخیلہ ملی ہو` مگر بہر حال صاحب بصیرت کے لیے یہ نشان حضرت اقدس علیہ السلام کی سچائی کا بہت بڑا ثبوت ہے مگر کم ہیں جو فائدہ اٹھاتے ہیں-
    تیسری پیشگوئی
    آتھم کے متعلق پیشگوئی جس سے دنیا کے مسیحیوں پر عموماً اور ہندوستان کے مسیحیوں پر خصوصاً حجت پوری ہوئی
    تیسری مثال پیشگوئیوں کی میں ان امور غیبیہ میں سے بیان کرتا ہوں جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے مسیحی معاندین اسلام کے خلاف شائع کیں تاکہ مسیحی دنیا پر حجت قائم ہو- اے بادشاہ! میں نہیں جانتا کہ آپ کو ان حالات سے واقفیت ہے یا نہیں کہ مسیحی مناد اور مبلغ مسلمانوں کے غلط عقائد اور ان کے بیان کردہ غلط روایات سے فائدہ اٹھا کر رسول کریم ~صل۲~ پر سخت سے سخت حملے کرنے کے عادی ہیں مگر ان کے حملوں کی سختی آج سے تیس )۳۰( چالیس )۴۰( سال پہلے جس حد کو پہنچی ہوئی تھی اس کی مثال آجکل نہیں مل سکتی- ان لوگوں کی حد سے بڑھی ہوئی زبان درازی کو دیکھ کر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے نہایت زور سے ان کا مقابلہ کرنا شروع کیا اور آخر آپ کے حملوں کی تاب نہ لاکر مسیحی حملہ آور اپنے مقام کو چھوڑ گئے اور اب اس طرز تحریر کا نام نہیں لیتے جو اس وقت انہوں نے اختیار کر چھوڑی تھی ان لوگوں میں سے جو سخت گندہ دہانی سے کام لیتے تھے ایک صاحب ڈپٹی عبداللہ آتھم بھی تھے- ایک دفعہ ایسا ہوا کہ مسلمانوں اور مسیحیوں نے حضرت اقدس علیہ السلام اور ان کے درمیان امرت سر میں مباحثہ کروا دیا` مباحثہ میں عبداللہ آتھم صاحب بہت کچھ ہاتھ پیر مارتے رہے مگر ان سے کچھ نہ بنا اور اپنوں پرایوں میں ان کو بہت ذلت نصیب ہوئی` چونکہ دوران مباحثہ میں معجزات کا بھی ذکر آیا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے نہ چاہا کہ یہ مباحثہ بغیر کسی اعجاز کے خالی چلا جائے اور آپ کو الہاماً بتایا گیا کہ >اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار رک رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہیں دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاوے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے<- جب آخری پرچہ آپ کی طرف سے لکھا گیا تو اس میں آپ نے یہ پیشگوئی بھی شامل کر دی اور لکھا کہ اگر یہ پیشگوئی پوری ہو گئی تو اس سے ثابت ہو گا کہ رسول کریم ~صل۲~ جن کو تم نے اپنی کتاب >اندرونہ بائیبل< میں نعوذ باللہ من ذالک دجال لکھا ہے خدا کے فرستادہ اور رسول تھے-
    اس پیشگوئی میں یہ دو باتیں بتائی گئی تھیں` اول یہ کہ مسیح علیہ السلام کو خدا بنانے والا فریق ڈپٹی آتھم پندرہ ماہ کے اندر اپنی ضد اور تعصب کی وجہ سے اور بدگوئی کے سبب سے ہاویہ میں گرایا جاوے گا- دوم یہ کہ اگر یہ فریق حق کی طرف رجوع کرے اور اپنی بات پر پشیمان ہو اور اپنی غلطی کو سمجھ جائے تو اس صورت میں وہ اس عذاب سے بچایا جائے گا اگر دوسرا فریق حق کی طرف رجوع نہ کرتا اور اپنی ضد پر قائم رہتا اور ہلاک نہ ہو جاتا تو پیشگوئی غلط ہو جاتی اور اگر وہ رجوع کرتا اور پندرہ ماہ کے عرصہ میں مر جاتا تو بھی پیشگوئی جھوٹی ہو جاتی کیونکہ یہ پیشگوئی بتا رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک آتھم کی عمر پندرہ ماہ سے زائد ہے اسی صورت میں وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں مرے گا جب کہ وہ ضد پر قائم رہے` ایک ادنیٰ غور سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اس پیشگوئی کی دونوں صورتوں میں سے دوسری صورت کے دونوں پہلو پہلی صورت کے دونوں پہلوئوں سے زیادہ شاندار ہیں` کیونکہ پہلی صورت کی دو پہلو یہ تھے کہ اگر آتھم ضد پر قائم رہا تو پندرہ ماہ میں مر جائے گا اور آتھم کا ضد پر قائم رہنا ایک طبعی امر تھا کیونکہ مسیحیوں کا ایک بڑا عالم تھا` متعدد کتب مسیحیت کی تائید میں اور اسلام کے خلاف لکھ چکا تھا` دنیاوی حیثیت سے بھی نہایت معزز تھا اور انگریزوں کے ساتھ اس کے بہت سے تعلقات تھے- اس عظیم الشان مباحثہ میں تمام پادریوں کو چھوڑ کر اسے مقابلہ کے لیے منتخب کیا گیا تھا اور بڑے بڑے پادری اس کے مددگار اور نائب بنے تھے- پس ایسے شخص کی نسبت یہی خیال ہو سکتا ہے کہ اس کو مسیحیت پر کامل یقین تھا اور یہ کہ وہ مسیحیت کی اس قدر اتئید کرنے اور اس کا سب سے بڑا مناظر قرار پانے کے بعد مسیح کی خدائی کا ایک منٹ کے لیے بھی منکر نہ ہوگا اور کبھی اسلام کی معجزانہ طاقت کا خیال اپنے دل میں نہیں آنے دے گا اور یہ بات کہ اس صورت میں دو پندرہ ماہ میں مر جاوے گا گو اپنی ذات میں شاندار ہے مگر پھر بھی ایک پینسٹھ سال کی ¶عمر کے آدمی کی نسبت شبہ کیا جا سکتا تھا کہ شاید اس کی عمر ہی پوری ہو چکی ہو مگر ان کے مقابلے میں دوسری صورت کے دونوں پہلو زیادہ شاندار ہیں یعنی یہ کہ اگر وہ رجوع کر لے گا تو پندرہ ماہ کے اندر ہاویہ موت میں نہیں گرایا جاوے گا- اس صورت کا پہلا پہلو بھی کہ آتھم رجوع کر لے اس بات سے کہ وہ اپنی ضد پر قائم رہے زیادہ شاندار ہے کیونکہ کسی انسان کی موت تو انسان کی موت موت تو انسانوں کے ہاتھں سے بھی آسکتی ہے مگر کسی کو پندرہ ماہ تک زندہ رکھنا کسی کے اختیار میں نہیں ہے پس اگر دوسری صورت پیشگوئی کی وپری ہوتی تو وہ پہلی صورت کے پورے ہونے کی نسبت بہت شاندار ہوتی اور اللہ تعالی نے جس کے آگے کوئی بات ناممکن نہیں اس دوسرے پہلو کو ہی جو زیادہ مشکل تھا اختیار کیا` یعنی اس نے اپنا رعب اس کے دل پر ڈال دیا اور پہلا اثر اس پیشگوئی کا یہ ظاہر ہوا کہ آتھم نے عین مجلس مباحثہ میں اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ وہ رسول کریم ~صل۲~ کو دجال نہیں کہتا ہے اس پیشگوئی کے شائع ہنے کے بعد تمام ہندوستان کی نظریں اس طرف لگ گئیں کہ دیکھئیے اس کا کیا نتجہ نکلتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے پندرہ ماہ کا انتظار نہیں کروایا اس پیشگوئی کے شائع کرنے کے وقت سے ہی آتھم کی حالت بدلنی شروع ہو گئی اور اس نے مسیحیت کی تائید میں کتب ورسالہ جات لکھنے کا کام بالکل بند کر دیا` ایک مشہور مبغ اور مصنف کا اپنے کام کو بالکل چھوڑ دینا اور خاموش ہو کر بیٹھ جانا معمولی بات نہ تھی بلکہ بین دلیل تھی اس امر کی کہ اس کا دل محسوس کرنے لگ گیا ہے کہ اسلام سچا ہے اور اس کا مقابلہ کرنے میں اس نے غلطی کی ہے مگر خاموشی پر ہی اس نے بس نہ کی بلکہ ایک روہانی ہاویہ میں گرایا گیا` یعنی اس خیال کا اور کہ اس نے اس مقابلے میں غلطی کی ہے اس قدر گہرا ہوتا چلا گیا کہ اسے عجیب عجیب قسم کے نظارے نظر آنے لگے جیسا کہ اس نے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے بیان کیا کبھی تو اسے سانپ نظر آتے جو اسے کاٹنے کو دوڑتے کبھی کتے اسے کاٹنے کو دوڑتے اور کبھی نیزہ بردار لوف اس کے کیال میں اس پر حملہ آور ہوتے` حالانکہ نہ تو سانپ اور کتے اس طرح سدھائے جا سکتے ہیں کہ وہ خاص طور پر عبداللہ آتھم کو جا کر کاٹیں اور نہ ہندوستان میں اسلحہ کی عام آزادی ہے کہ لوگ نیزے لے کر شہروں کی سڑکوں پر کھڑے رہیں تاکہ عبداللہ آتھم کو مار دیں- درحقیقت یہ ایک ہادیہ تھی جو اس پشیمانی کی وجہ سے جو اس کے دل میں مسیحیت کی حمایت اور اسلام کے خلاف کھڑے ہنے کے متعلق پیدا ہو چکی تھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بڑے ہادیہ کے بدلے میں پیدا کی گئی تھی جس مین بصورت ضد پر قائم رہنے کے وہ ڈالا جاتا اگر فی الواقع اس کا ایمان مسیحیت پر قائم رہتا اور اسلام کو وہ اسی طرح جھوٹا سمجھتا جس طرح کہ پہلے جھوٹا سمجھتا تھا تو کس طرح ممکن تھا کہ وساوس اور خطرات کی اس جہنم میں پڑ جاتا اور جانوروں اور کیڑوں تک کو اپنا دشمن سمجھ لیتا اور خیالی سانپ اور کتے اسے کاٹنے کو دوڑتے- اگر وہ اللہ تعالیٰ کو اپنے خلاف نہیں سمجھنے لگ گیا تھا تو کیوں اسے خدا کی تمام مخلوق اپنے خلاف کھڑی نظر آتی تھی اور وہ مسیحیت کی قلمی اور زبانی ہر قسم کی مدد کا کام یک لخت ترک کر کے شہروں میں بھاگتا پھرا-
    غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے الہام میں جو دوسری شق رجوع الی الحق کی بتائی تھی اور جو کہ پہلی شق سے زیادہ مشکل تھی وہ عجیب طور پر پوری ہوئی اور آتھم کا دل مسیح کی خدائی میں شک لانے لگ گیا اور اسلام کی سچائی کا نقش اس کے دل پر جم گیا` تب اللہ تعالیٰ کی خبر کا دوسرا حصہ بھی پورا ہوا` یعنی باوجود اس کے کہ اسے اندرونی خوف نے موت کے بالکل قریب کر دیا تھا` پندرہ ماہ تک زندہ رکھا گیا تاکہ اللہ تعالیٰ کی بات پوری ہو کہ اگر اس نے رجوع کیا تو وہ بچایا جائے گا-
    یہ ایک زبردست پیشگوئی تھی جو لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی تھی` لیکن اگر یہ خاموشی سے گزر جاتی تو شاید کچھ مدت کے بعد لوگ کہہ دیتے کہ آتھم نے کوئی رجوع نہ کیا تھا یہ آپ لوگوں کی بناوٹ ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس پیشگوئی کی مزید وضاحت کے لیے مسیحیوں اور مسلمانوں میں سے ایک گروہ کو کھڑا کر دیا جو ایک مسیحی کی حمایت میں شور کرنے لگے کہ پیشگوئی جھوٹی نکلی اور آتھم نہیں مرا- اس پر ان کو بتایا گیا کہ پیشگوئی کی دو صورتیں تھیں` ان میں سے دوسری صورت وضاحت سے پوری ہو گئی ہے` مگر انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ آتھم نے ہرگز رجوع نہیں کیا اس پر آتھم کو حضرت اقدسؑ نے دعوت دی کہ اس کے مسیحی اور مسلمان وکیل جو کچھ کہہ رہے ہیں- اگر سچ ہے تو اسے چاہئے کہ قسم کھا کر اعلان کرے کہ اس کے دل میں اس عرصے میں اسلام کی صداقت اور مسیحی عقائد کے باطل ہونے کے خیالات نہیں آئے` مگر اس نے قسم کھانے سے انکار کر دیا` ہاں بلا قسم کے ایک اعلان کر دیا کہ میں اب بھی مسیحی مذہب کو سچا سمجھتا ہوں مگر اللہ تعالیٰ نے جس کا دلوں اور دماغوں پر تصرف ہے اس کے انہیں اعلانات میں اس کے قلم سے یہ نکلوا دیا کہ میں مسیح کو دوسرے دوسرے مسیحیوں کی طرح خدا نہیں سمجھتا اور جیسا کہ الہام کے الفاظ اوپر نقل کئے گئے ہیں- پیشگوئی یہ تھی کہ جو ایک بندے کو خدا بنا رہا ہے وہ ہاویہ میں گرایا جاوے گا اور آتھم نے اقرار کر لیا کہ وہ مسیح کو خدا نہیں سمجھتا` مگر پھر بھی اس پر زور دیا گیا کہ اگر وہ فی الحقیقت ان ایام میں اپنے مذہب کی سچائی کے متعلق متردد نہیں ہوا اور اسلام کی صداقت کا احساس اس کے دل میں نہیں پیدا ہو گیا تھا تو وہ قسم کھا کر اعلان کر دے کہ میں ان ایام میں برابر انہیں خیالات پر قائم رہا ہوں جو اس سے پہلے میرے تھے- اگر وہ قسم کھا جائے اور ایک سال تک اس پر عذاب الٰہی نہ آئے تو پھر ہم جھوٹے ہوں گے اور یہ بھی لکھا کہ اگر آتھم قسم کھا جائے تو اسے ہم ایک ہزار روپیہ انعام دینگے- اس کا جواب آتھم نے یہ دیا کہ اس کے مذہب میں قسم کھانی جائز نہیں` حالانکہ انجیل میں حواریوں کی بہت سی قسمیں درج ہیں اور ۱~}~ مسیحی حکومتوں میں کوئی بڑا عہدہ دار نہیں جسے بغیر قسم کھانے کے عہدہ دیا جائے` یہاں تک کہ بادشاہ کو بھی قسم دی جاتی ہے- ججوں کو بھی قسم دی جاتی ہے ممبران پارلیمنٹ کو بھی قسم دی جاتی ہے عہدیداران سول فوج کو بھی قسم دی جاتی ہے بلکہ مسیحی عدالتوں کا تو یہ قانون ہے کہ انہوں نے قسم کو صرف مسیحیوں کے لیے مخصوص کر دیا- سوائے مسیحیوں کے دوسروں سے وہ قسم نہیں لیتیں- بلکہ گواہی کے وقت یہ کہلواتی ہیں کہ میں جو کچھ کہوں گا خدا کو حاضر ناظر جان کر کہوں گا- پس جب کہ مسیحیوں کے نزدیک قسم صرف مسیحیوں کا حق ہے تو اس کا یہ عزر بالکل نامعقول تھا اور صرف قسم سے بچنے کے لیے تھا کہ اگر اس نے قسم کھائی تو وہ ہلاک ہو جائے گا اس شخص کے قسم کھانے سے انکار کرنے کی حقیقت اور بھی واضح ہو جاتی ہے جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسیحیوں میں کوئی بڑا مذہبی ۲~}~ عہدہ نہیں دیا جاتا جب تک کہ امید وار قسم نہیں کھا لیتا اور پراٹسٹنٹ فرقہ کے پادریوں کو تو جس سے آتھم تعلق رکھتا تھا دو قسمیں کھانی پڑتی ہیں ایک گرجا سے وفاداری کی اور ایک حکومت سے وفاداری کی- جب اس کے سامنے یہ باتیں رکھی گئیں تو پھر وہ بالکل ہی خاموش ہو گیا` ادھر سے انعام کی رقم ایک ہزار سے بڑھا کر آہستہ آہستہ چار ہزار تک کر دی گئی اور یہ بھی کہا گیا کہ سال بھر کا انتظار کئے بغیر ہی یہ رقم لے لو اور قسم کھا جائو مگر جب کہ اس کا دل جانتا تھا کہ وہ اپنی قوم سے ڈر کر اپنی اس حالت کو چھپا رہا ہے جو پندرہ ماہ تک اس پر طاری رہی ہے تو وہ قسم کیونکر کھا سکتا تھا- اس نے قسم نہ کھائی پر نہ کھائی اور خاموشی سے دن گزار دئیے اور اسلام کے خلاف کتابیں لکھنا یا زبانی مسیحیت کی تبلیغ کرنا بالکل چھوڑ دیا اور اسی طرح اس پیشگوئی کی صداقت اور بھی واضح ہو گئی اور گویا اس ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے دشمن سے مسیح کی خدائی کے عقیدے سے رجوع کا تحرا اقرار کرا لیا اور اسلام کی صداقت کے متعلق اس کے دل میں جو خیالات )حالانکہ اسی مباحثے میں جس کے بعد پیشگوئی کی گئی تھی اس نے ایک پرچے میں مسیح کی خدائی اور تمام صفات الٰہیہ کو اس کی ذات میں ثابت کرنے کی کوشش کی تھی( پیدا ہوئے تھے- ان کا اقرار اس کے اس رویہ کے ذریعے کروا دیا` جو قسم کے مطالبے پر اس نے اختیار کیا-
    یہ پیشگوئی اپنی عظمت اور شوکت میں ایسی ہے کہ ہر ایک سعید الفطرت انسان اس کے ذریعے سے ایمان میں ترقی کر سکتا ہے اور خدا کے جلوے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے` کیونکہ ایک اشد ترین مکالف اسلام اور بڑی قوم کے سرکردہ ممبر کا جو دوسرے مذاہب کے خلاف بطور مناظر کے پیش کیا گیا ہو اور جس کی عمر اپنے مذہب کی تائید اور دوسرے مذاہب کی مخالفت میں گزر گئی ہو اس کے دل میں اپنے مذہب کی نسبت شکوک اور دوسرے مذاہب کی صداقت کے خیالات پیدا کر دینا اور فوق العادت نظارے اس کو دکھانا اور تبدیلی خیالات کے بدلے میں مطابق پیشگوئی اس کو پندرہ ماہ تک زندہ رکھنا انسانی طاقت سے بالکل باہر ہے-
    ‏Dawat22
    چوتھی پیشگوئی
    ڈوئی امریکہ کے جھوٹے مدعی کی نسبت پیشگوئی جو مسیحیوں کے لیے عموماً اور امریکہ کے باشندوں کے لیے خصوصاً حجت ہوئی
    اب میں ایک اور پیشگوئی جو مسیحیوں پر حجت قائم کرنے کے لیے کی گئی تھی مگر اس میں زیادہ تر مغربی ممالک کے لوگوں پر حجت تمام کرنا مدنظر تھا بیان کرتا ہوں الیگزنڈر ڈوئی امریکہ کا ایک مشہور آدمی تھا- یہ شخص اصل میں آسٹریلیا کا رہنے والا تھا وہاں سے امریکہ چلا گیا- ۱۸۹۲ء میں اس نے مذہبی وعظ کہنے شروع کئے اور جلد ہی اس دعوے کی وجہ سے کہ اسے بلا علاج کے شفا بخشنے کی طاقت ہے اس نے مقبولیت عامہ حاصل کرنی شروع کر دی` ۱۹۰۱ء میں اس نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ مسیح کی آمد ثانی کے لیے بطور ایلیاہ کے ہے اور اس کا راستہ صاف کرنے آیا ہے چونکہ علامات ظہور مسیح کے پورا ہونے کی وجہ سے مذہب سے تعلق رکھنے والے مسیح کی آمد کا انتظار لگ رہا تھا اس دعوے سے اس کو بہت ترقی ہوئی- اس نے ایک زمین خرید کر اس پر صحیون نامی ایک شہر بسایا اور اعلان کیا کہ مسیح اسی شہر میں اتریں گے- بڑے بڑے مالدار لوگوں نے سب سے پہلے مسیح کو دیکھنے کی غرض سے لاکھوں روپے کے خرچ سے زمین خرید کر وہاں مکان بنوائے اور یہ اس شہر میں ایک بادشاہ کی طرح رہنے لگا` اس کے مرید تھوڑے ہی عرصے میں ایک لاکھ سے زیادہ بڑھ گئے اور تمام بلاد مسیحیہ میں اس کے مناد تبلیغ کے لیے مقرر کئے گئے- اس شخص کو اسلام سے سخت عداوت تھی اور ہمیشہ اسلام کے خلاف سخت کلامی کرتا رہتا تھا- ۱۹۰۲ء میں اس نے شائع کیا کہ اگر مسلمان مسیحیت کو قبول نہ کریں گے تو وہ سب کے لیے ہلاک کر دئیے جائیں گے اس پیشگوئی کی خبر حضرت اقدس مسیح موعود کو ملی تو آپ نے فوا اس کے خلاف ایک اشتہار شائع کیا جس میں اسلام کی فضیلت بیان کرتے ہوئے لکھا کہ مسیحیت کی صداقت ظاہر کرنے کے لیے کروڑوں آدمیوں کو ہلاک کرنے کی کیا ضرورت ہے میں خدا کی طرف سے مسیح کر کے بھیجا گیا ہوں مجھ سے مباہلہ کر کے دیکھ لو` اس سے سچے اور جھوٹے مذہب کا فیصلہ ہو جائے گا اورلوگوں کو فیصلہ کرنے میں مدد ملے گی- یہ اشتہار آپ کا ستمبر ۱۹۰۲ء میں شائع کیا گیا اور اس کثرت سے یورپ اور امریکہ میں شائع کیا گیا کہ دسمبر ۱۹۰۲ء سے لے کر ۱۹۰۳ کے اختتام تک اس اشتہار پر مختلف اخبارات امریکہ ویورپ میں ریویو چھپتے رہے- جن میں سے قریباً چالیس اخبارات نے تو اپنے پرچے یہاں بھی بھیجے- اس قدر اخبارات میں اس اشتہار کی اشاعت سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کم سے کم بیس پچیس لاکھ آدمیوں کو اس دعوت مباہلہ کا علم ہو گیا ہو گا-
    اس اشتہار کا ڈوئی نے جواب تو کوئی نہ دیا` اسلام کے خلاف بد دعائیں کرنا شروع کر دیں اور اس پر سخت حملے شروع کر دئیے- ۱۴ فروری ۱~}~ کو اس نے شائع کیا کہ >میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ دن جلدی آئے جب اسلام دنیا سے نابود ہو جائے` اے خدا تو میری اس دعا کو قبول کر اے خدا! تو اسلام کو ہلاک کر< پھر ۵ اگست ۱۹۰۳ء میں شائع کیا کہ >انسانیت پر اس سخت بدنما دھبے)اسلام( کو صحیون ہلاک کر کے چھوڑے گا< جب حضرت اقدس نے دیکھا کہ یہ شخص اپنی مخالفت سے باز نہیں آتا تو آپ نے لکھا کہ مجھ کو اللہ تعالیٰ نے اس وقت اس لیے بھیجا ہے تاکہ اس کی توحید کو قائم کروں اور شرک کو مٹا دوں اور پھر لکھا کہ امریکہ کے لیے خدا نے مجھے یہ نشان دیا ہے کہ اگر ڈوئی میرے ساتھ مباہلہ کرے اور میرے مقابلہ پر خواہ صراحتاً یا اشارتاً آجائے تو وہ >میرے دیکھتے دیکھتے بڑی حسرت اور دکھ کے ساتھ اس دنیائے فانی کو چھوڑ دیگا< اس کے بعد لکھا کہ ڈوئی کو میں نے پہلے بھی دعوت مباہلہ دی تھی مگر س نے اب تک اس کا کوئی جواب نہیں دیا` اس لیے آج سے اس کو سات ماہ کی جواب یک لیے مہلت دی جاتی ہے پھر لکھا کہ< >پس یقین رکھو کہ اس کے صحیون پر جلد ایک آفت آنیوالی ہے< آخر میں بلا اس کے جواب کا انتظار کئے دعا کی کہ اے خدا >یہ فیصلہ جلد تر کر کہ پگٹ او ڈوئی کا جھوٹ لوگوں پر ظاہر کر دے< یہ اشتہار بھی کثرت سے بلاد مغربیہ میں تقسم کیا گیا اور یورپ اور امریکہ کے متعدد اخبارات مثلاً گلاسکو` ہیرلڈ انگلستان` نیویارک کمرشل ایڈورٹائزر امریکہ وغیرہا نے اس کے خلاصے اپنے اخبارات میں شائع کئے اور لاکھوں آدمی اس کے مضمون پر مطلع ہو گئے-
    جس وقت یہ اشتہار شائع ہوا ہے اس وقت ڈوئی کا ستارہ بڑے عروج پر تھا اس کے
    ۱~}~ ڈوئی کے اخبار میں جو صحیون سے شائع ہوتا تھا-
    مریدوں کی تعداد بہت بڑھ رہی تھی اور وہ لوگ اس قدر مالدار تھے کہ ہر سال کے شروع میں تیس لاکھ روپیہ کے تحائف اس کو پیش کرتے تھے اور کئی کارخانے اس کے جاری تھے چھ کروڑ کے قریب اس کے پاس روپیہ تھا اور بڑے بڑے نوابوں سے زیادہ اس کا عملہ تھا اس کی صحت ایسی اچھی تھی کہ وہ اس کو اپنا معجزہ قرار دیتا تھا اور کہتا تھا کہ میں دوسروں کو بھی اپنے حکم سے اچھا کر سکتا ہوں` غرض مال صحبت جماعت` اقتدار ان چاروں باتوں سے اس کو حصہ وافر ملا تھا-
    اس اشتہار کے شائع ہونے پر لوگوں نے اس سے سوال کیا کہ وہ کیوں آپ کے اشتہارات کا جواب نہیں دیتا تو اس نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ >تم فلاں فلاں بات کا جواب کیوں نہیں دیتے- جواب! کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں ان کیڑوں مکوڑوں کا جواب دوں گا` اگر میں اپنا پائوں ان پر رکھوں تو ایک دم میں ان کو کچل سکتا ہوں مگر میں ان کو موقعہ دیتا ہوں کہ میرے سامنے سے دور چلے جائیں اور کچھ دن اور زندہ رہ لیں< انسان بعض دفعہ کیسی نادانی کر لیتا ہے- ڈوئی نے قابلے سے انکار کرتے ہوئے مقابلہ کر لیا` اس نے غور کیا کہ حضرت اقدس نے صاف لکھ دیا تھا کہ اگر یہ اشارتاً بھی میرے مقابلہ پر آئے گا تو دکھ کے ساتھ میری زندگی میں ہلاک ہو گا اس نے آپ کو کیڑا قرار دے کر اور یہ کہہ کر کہ اگر میں اس پر اپنا پائوں رکھ دوں تو کچل دوں اپنے آپ کو آپ کے مقابلے پر کھڑا کر دیا اور خدا کے عذاب کو اپنے اوپر نازل کرا لیا-
    مگر اس کی سرکشی اور تکبر یہیں پر ختم نہ ہوا اس نے کچھ دن بعد آپ کا ذکر کرتے ہوئے آپ کی نسبت یہ الفاظ استعمال کئے- >بیوقوف محمدی مسیح< اور یہ بھی لکھا کہ >اگر میں خدا کی زمین پر خدا کا پیغمبر نہیں تو پھر کوئی بھی نہیں< اور دسمبر ۱۹۰۳ء کو تو کھلا کھلا مقابلے پر آکھڑا ہوا اور اعلان کیا کہ ایک فرشتے ۱~}~ نے مجھ سے کہا ہے کہ تو اپنے دشمنوں پر غالب آئے گا` گویا حضرت اقدس کی پیشگوئی کے مقابلے میں آپ کی ہلاکت کی پیشگوئی شائع کر دی- یہ اس کا مقابلہ جو پہلے اشارتاً شروع ہوا اور آہستہ آہستہ صراحت کی طرف آتا گیا` جلد پھل لے آیا اور اس آخری حملے کے بعد چونکہ وہ مقابل پر آگیا تھا` حضرت اقدس مسیح موعود نے اس کے خلاف لکھنا چھوڑ دیا اور وانتظر انھم منتظرون )السجدہ(31: کے حکم کے مطابق خدائی فیصلے کا انتظار کرنا شروع کر دیا آخر اللہ تعالیٰ نے جو پکڑنے میں دھیما ہے مگر جب پکڑتا ہے تو سخت پکڑتا ہے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا اور وہ پائوں جن کو وہ اس کے مسیح پر رکھ کر کچلنا چاہتا تھا اس نے معطل کر دئیے اس کے مسیح پر پائوں رکھنے کی طاقت تو اسے کہاں مل سکتی تھی وہ ان پائوں کو زمین پر رکھنے کے قابل بھی نہ رہا` یعنی خدا کا غضب فالج کی شکل میں اس پر نازل ہوا` کچھ دن کے بعد افاقہ ہو گیا` مگر دو ماہ بعد ۱۹ دسمبر کو دوسرا حملہ ہوا اور اس نے رہی سہی طاقتیں بھی توڑ دیں- جب وہ بالکل ناچار ہو گیا تو اس نے اپنا کام اپنے نائبوں کے سپرد کیا اور خود ایک جزیرہ میں جس کی آب وہوا فالج کے لیے اچھی تھی بودوباش اختیار کر لی مگر اللہ تعالیٰ کے غضب نے اس کو اب بھی نہ چھوڑا اور چاہا کہ جس طرح اس نے اس کے مسیح کو کیڑا کہا تھا اس کو کیڑے کی طرح ثابت کر کے دکھائے اور وہ چیز جن پر گھمنڈ کر کے اس نے یہ جرات کی تھی انہیں کے ذریعے اسے ذلیل کرے چنانچہ ایسا ہوا کہ اس کے بیمار ہو کر چلے جانے پر اس کے مریدوں کے دل میں شک پیدا ہوا کہ یہ تو اوروں کی دعا سے نہیں بلکہ اپنے حکم سے اچھا کرتا تھا` یہ خود ایسا کیوں بیمار ہوا اور انہوں نے اس کے بعد اس کے کمروں کی جن میں وہ اس کی بیوی اور لڑکے نے گواہی دی کہ وہ چھپ کر خوب شراب پیا کرتا تھا` حالانکہ وہ اپنے مریدوں کو سختی سے شراب پینے سے روکتا تھا` اور کسی نشہ کی چیز کی اجازت نہیں دیتا تھا حتی کہ تمباکو نوشی سے بھی منع کرتا تھا اور اس کی بیوی نے کہا کہ میں اس کی سخت غربت کے ایام میں بھی وفادار رہی ہوں مگر اب مجھے یہ معلوم کر کے سخت افسوس ہوا ہے کہ اس نے ایک مالدار بڑھیا سے شادی کرنے کی خاطر یہ نیا سلسلہ بیان کرنا شروع کیا ہے کہ ایک سے زیادہ شادیاں جائز ہیں درحقیقت اس مسئلہ کی تہہ میں اس کا اپنا ارادہ شادی کا ہے چنانچہ اس نے اس بڑھیا کے خطوط جو ڈوئی کے خطوں کے جواب میں آئے تھے لوگوں کو دکھائے اس پر لوگوں کا غصہ اور بھی بھڑکا اور جماعت کے اس روپیہ کا حساب دیکھا گیا جو اس کے پاس رہتا تھا اور منعلوم ہوا کہ اس نے اس میں سے پچاس لاکھ روپیہ غبن کر لی اہے اور یہ بھی ظاہر ہوا کہ شہر کی کئی نوجوان لڑکیوں کو اس نے خفیہ طور پر ایک لاکھ سے زائد روپیہ کے تحائف دئیے ہیں اس پر اس جماعت کی طرف سے اسے ایک تار دیا گیا جس کے الفاظ یہ ہیں تمام جماعت بالاتفاق تمہاری فضول خرچی` ریاکاری غلط بیانی` مبالغہ آمیز کلام لوگوں کے مال کے ناجائز استعمال- ظلم اور غضب پر سخت اعتراض کرتی ہے اس واسطے تمہیں تمہارے عہدے سے معطل کیا جاتا ہے-
    ڈوئی ان الزامات کی تردید نہ کر سکا اور آخر سب مرید اس کے مخالف ہو گئے اس نے چاہا کہ خود اپنے مریدوں کے سامنے آکر ان کو اپنی طرف مائل کرے مگر سٹیشن پر سوائے چند لوگوں کے کوئی اس کے استقبال کو نہ آیا اور کسی نے اس کی بات کی طرف توجہ نہ کی آخر وہ عدالتوں کی طرف متوجہ ہوا مگر وہاں سے بھی اس کو قومی فنڈ پر قبضہ نہ ملا اور صرف ایک قلیل گزارہ دیا گیا اور اس کی حال ناچاری کی یہاں تک پہنچ گئی کہ اس کی حبشی نوکر اس کو اٹھا اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پر رکھتے تھے اور سخت تکلیف اور دکھ کی زندگی وہ بسر کرتا تھا اس کی تکلیف اور دکھ کو دیکھ کر اس کے دوچار ملنے والوں نے جو ابھی تک اس سے ملتے تھے اسے مشورہ دیا کہ وہ اپنا علاج کروائے` مگر وہ علاج کرانے سے اس بناء پر انکار کرتا رہا کہ لوگ کہیں گے کہ یہ لوگوں کو تو علاج سے منع کرتا تھا اور خود کراتا ہے- آخر جب کہ اس کے ایک لاکھ سے زیادہ مریدوں میں سے صرف دو سو کے قریب باقی رہ گئے اور عدالتوں میں بھی ناکامی ہوئی اور بیماری کی بھی تکلیف بڑھ گئی تو ان تکالیف کو برداشت نہ کر سکا اور پاگل ہو گیا اور ایک دن اس کے چند مرید جب اس کا وعظ سننے کے لئے گئے تو انہوں نے دیکھا کہ اس کے تمام جسم پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں- اس نے ان سے کہا کہ اس کا نام جیری ہے اور وہ ساری رات شیطان سے لڑتا رہا ہے اور اس جنگ میں اس کا جرنیل مارا گیا ہے اور وہ خود بھی زخمی ہو گیا ہے اس پر ان لوگوں کو یقین ہو گیا کہ یہ شخص بالکل پاگل ہو گیا ہے اور وہ بھی اس کو چھوڑ گئے اور حضرت اقدس کے یہ الفاظ کو وہ >میرے دیکھتے دیکھتے بڑی حسرت اور دکھ کے ساتھ اس دنیائے فانی کو چھوڑ دے گا< آٹھ مارچ ۱۹۰۷ء کو پورے ہو گئے یعنی ڈوئی حسرت اور دکھ کے ساتھ اس دنیا سے کوچ کر گیا اس کی موت کے وقت اس کے پاس صرف چار آدمی تھے اور اس کی پونجی کل تیس روپے کے قریب تھی-
    اے بادشاہ! اس سے بڑھ کر حسرت اور اس سے بڑھ کر دکھ کی کیا کوئی اور موت ہو سکتی ہے؟ یقیناً یہ ایک عبرت انگیز واقعہ ہے اور اہل مغرب کے لیے کھلا کھلا نشان- چنانچہ بہت سے اخبارات نے اس امر کو تسلیم کیا کہ حضرت اقدس کی پیشگوئی پوری ہو گئی ہے اور وہ ایسا کرنے پر مجبور تھے- مثال کے طور پر میں چند اخبارات کے نام لکھ دیتا ہوں- ڈونول گزٹ امریکن اخبار اس واقعہ کا ذکر کر کے لکھتا ہے- اگر احمد اور ان کے پیرو اس پیشگوئی کے جو چند ماہ ہوئے پوری ہو گئی ہے نہایت صحت کے ساتھ پورا ہونے پر فخر کریں تو ان پر کوئی الزام نہیں- ۷ جون ۱۹۰۷ء
    امریکہ کا اخبار ٹرتھ سیکر لکھتا ہے-: >ظاہری واقعات چیلنج کرنے والے کے زیادہ دیر تک زندہ رہنے کے خلاف تھے مگر وہ جیت گیا<- یعنی حضرت اقدسؑ کی عمر ڈوئی سے زیادہ تھی اور وہ آ کے مقابلہ میں جوان تھا-
    بوسٹن امریکہ کا اخبار ہیرلڈ لکھتا ہے-: ڈوئی کی موت کے بعد ہندوستانی نبی کی شہرت بہت بلند ہو گئی ہے- کیونکہ کیا یہ سچ نہیں کہ انہوں نے ڈوئی کی موت کی پیشگوئی کی تھی کہ یہ ان کی یعنی مسیح کی زندگی میں واقع ہو گی اور بڑی حسرت اور دکھ کے ساتھ اس کی موت ہو گی` ڈوئی کی عمر پینسٹھ سال کی تھی اور پیشگوئی کرنیوالے کی پچھتر سال کی<-
    ان چند اقتباسات سے نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ اس پیشگوئی کا اثر مسیحی بلکہ دہریہ اخبارات کے ایڈیٹروں کے دل پر بھی نہایت گہرا پڑا تھا اور اس کے حیرت انگیز نتائج سے ایسے متاثر ہو گئے تھے کہ اس اثر کو اخباروں میں ظاہر کرنے سے بھی نہ جھجکے- پس یہ بات بالکل یعقینی ہے کہ جب مغربی ممالک کے باشندوں کے سامنے یہ نشان پورے زور سے پیش کیا گیا تو اپنے بیسیوں ہم مذہب اخبار نویسوں کی گواہی کی موجودگی میں وہ اس کی صداقت کا انکار نہیں کر سکیں گے اور اس امر کے تسلیم کرنے پر مجبور ہوں گے کہ اسلام ہی سچا مذہب ہے- اس میں داخل ہوئے بغیر انسان نجات نہیں پا سکتا اور اپنے پرانے خیالات اور عقائد ترک کر کے وہ لوگ اسلام کے قبول کرنے اور آنحضرت ~صل۲~ اور مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لانے میں دریغ نہیں کریں گے بلکہ اس کے آثار ابھی سے شروع ہو گئے ہیں اور امریکہ میں اس وقت دو سو سے زیادہ لوگ احمدی ہو چکے ہیں-
    پانچویں پیشگوئی
    لیکھرام کے متعلق آپ کی پیشگوئی جو اہل ہند کے لیے حج بنی
    اب میں آپ کی ان پیشگوئیوں میں سے ایک پیشگوئی بیان کرتا ہوں جو اہل سمندر پر صداقت اسلام کے ظاہر کرنے کے لئے کی گئی تھیں اور جنہوں نے اپنے وقت پر پوری ہو کر لاکھوں آدمیوں کے دل ہلا دئیے اور اسلام کی صداقت کا ان کو دل ہی دل میں قائل کر دیا اور بیسیوں آدمی ظاہر میں اسلام اور برابر اسلام لا رہے ہیں-
    اس پیشگوئی کی تفصیل یہ ہے کہ چالیس پچاس سال سے ہندوئوں کا ایک فرقہ نکالا ہے- جسے آریہ سماج کہتے ہیں س فرقے نے موجودہ زمانے میں اسلام کی حالت خراب دیکھ کر یہ ارادہ کیا ہے کہ مسلمانوں کو ہندو بنایا جائے اور اس غرض کے لئے ہمیشہ اس کے مذہبی لیڈر اسلام کے خلاف سخت گندہ اور فحش لٹریچر شائع کرتے رہے ہیں- ان لیڈروں میں سے سب سے زیادہ گندہ دہن اور اعتراض کرنیوالا ایک شخص لیکھرام نامی تھا- حضرت اقدس علیہ السلام نے اس کے ساتھ بہت دفعہ گفتگو کی اور اسے اسلام کی صداقت کا قائل کیا مگر وہ اپنی صد میں بڑھتا گیا اور ایسے ایسے گندے ترجمے قرآن کریم کی آیات کے شائع کرتا رہا کہ ان کو پڑھنا بھی ایک شرریف آدمی کے لیے مشکل ہے- اس شخص کے نزدیک گویا سب سے برا شخص دنیا میں وہ تھا جو تمام انسانی کمالات کا جامع تھا اور سب سے لغو کتاب وہ تھی جو سب علوم کی فزن ہے مگر سورج کی روشنی ایک بیمار آنکھ کی بینائی کو صدمہ ہی پہنچاتی ہے یہی حال اس کا تھا جب بحث مباحثے نے طول پکڑا یہ شخص رسول کریم ~صل۲~ کی نسبت بد گوئی میں بڑھتا ہی چلا گیا اور حضرت اقدس علیہ الصلوہ والسلام نے اس کے متعلق اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور آپ کو بتایا گیا کہ اس کے لیے یہ نشان ہے کہ یہ جلد ہلاک کیا جائے گا- اس پیشگوئی کے شائع کرنے سے پہلے آپ نے لیکھرام سے دریافت کیا کہ اگر اس پیشگوئی کے شائع کرنے سے اس کو رنج پہنچے تو اس کو ظاہر نہ کیا جائے مگر اس نے اس کے جواب میں لکھا کہ مجھے آپ کی پیشگوئیوں سے کچھ خوف نہیں ہے آپ بیشک پیشگوئی شائع کریں` مگر چونکہ پیشگوئی میں وقت کی تعیین نہ تھی اور لیکھرام وقت کی تعیین کا مطالبہ کرتا تھا- آپ نے اس پیشگوئی کے شائع کرنے میں اس وقت تک توقف کیا جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے وقت معلوم ہو جائے آخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر پاکر کہ ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء سے لیکر چھ برس کے اندر لیکھرام پر ایک درد ناک عذاب آئے گا جس کا نتیجہ موت ہو گا- یہ پیشگوئی شائع کر دی- ساتھ ہی عربی زبان میں یہ الہام بھی شائع کیا جو لیکھرام کی نسبت تھا یعنی عجل جسدلہ خوار- لہ نصب وعذاب یعنی یہ شخص گو سالہ سامری کی طرح ایک بچھڑا ہے جو یونہی شور مچاتا ہے ورنہ اس میں روحانی زندگی کا کچھ حصہ نہیں- اس پر ایک بلا نازل ہو گی اور عذاب آئے گا- اس کے بعد آپ نے لکھا کہ اب میں تمام فرقہ ہائے مذاہب پر ظاہر کرتا ہوں کہ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصے میں آج کی تاریخ سے یعنی ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر الٰہی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خدا کی طرف سے نہیں-
    اس پیشگوئی کے کچھ عرصے کے بعد آپ نے دوسری پیشگوئی جس میں اس شخص کی ہلاکت کے متعلق مزید وضاحت تھی- شائع کی- اس کے الفاظ یہ تھے-
    وبشرنی ربی وقال مبشرا ستعرف یوم العید والعید قرب ومنھا ما وعد نی ربی انہ من الھالکین- انہ کان یسب نبی اللہ وبتکلم فی شانہ بکلمت خبیثہ فد عوت علیہ وبشرنی ربی بموتہ فی ست سنہ ان فی ذلک لایت للطالبین ۱~}~ یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے بشارت دی ہے کہ تو ایک یوم عید دیکھے گا اور وہ دن عید کے دن سے بالکل ملا ہوا ہو گا اور پھر لکھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ مجھ پر فضل ہوئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایک شخص لیکھرام کے متعلق اس نے میری دعا قبول کر لی ہے اور مجھے خبر دی ہے کہ وہ ہلاک ہو جائے گا یہ شخص رسول کریم ~صل۲~ کو گالیاں دیا کرتا تھا پس میں نے اس کے خلاف دعا کی اور میرے ب نے مجھے بتایا کہ یہ چھ سال کے عرصے میں مر جائے گا- اس میں طلب گاروں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں-
    اس کے بعد اور مزید تشریح معلوم ہوئی اور وہ آپ کی نسبت ایک اور خبر اور اس میں یہ لکھا گیا کہ آن جو ۲ اپریل ۱۸۹۳ء مطابق ۱۴ ماہ رمضان ۱۳۱۰ھ )روز یکشنبہ موتف( ہے صبح کے وقت تھوڑی سی
    کرامات الصادقین
    غنودگی کی حالت میں میں نے دیکھا کہ میں ایک وسیع مکان میں بیٹھا ہوا ہوں اور چند دوست بھی میرے پاس موجود ہیں- اتنے میں ایک شخص قوی ہیکل مہیب شکل گویا اس کے چہرے سے خون ٹپکتا ہے میرے سامنے آکر کھڑا ہو گیا میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک نئی خلقت اور شمائل کا شخص ہے گویا وہ انسان نہیں ملائک شداد وغلاظ میں سے ہے اور اس کی ہیت دلوں پر طاری تھی اور میں اس کو دیکھتا ہی تھا کہ اس نے مجھ سے پوچھا کہ ¶لیکھرام کہاں ہے؟ اور ایک اور شخص کا نام لیا کہ وہ کہاں ہے تب میں نے اس وقت سمجھا کہ یہ شخص لیکھرام کہاں ہے؟ اور ایک اور شخص کا نام لیا کہ وہ کہاں ہے تب میں نے اس وقت سمجھا کہ یہ شخص لیکھرام اور اس دوسرے شخص کی سزا دہی کے لئے مامور کیا گیا ہے-
    اور کتاب مستطاب آئینہ کمالات اسلام میں آپ نے لیکھرام کے متعلق اپنی ایک نظم میں یہ اشعار شائع کئے
    الا اے دشمن نادان وبے راہ
    تبرس از تیغ بران محمد
    الا اے منکر از شان محمد
    ہم از نور نمایاں محمد
    کرامت گرچہ بے نام ونشان است ][بیا بنگر زغلمان محمد
    ان تمام پیشگوئیوں سے واضح ہوتا ہے کہ آپ کو مختلف اوقات میں خبر دی گئی تھی کہ )۱( لیکھرام پر کوئی عذاب نازل کیا جائے گا جس کا نتیجہ موت ہو گا)۲( یہ عذاب چھ سال کے عرصے میں آئے گا )۳( یہ عذاب جس عید کے ساتھ کے دن آئے گا وہ دن عید کے دن سے بالکل ملا ہوا دن ہو گا` یعنی عید کے پہلے یا پچھلے دن سے )۴( لیکھرام سے وہی سلوک کیا جائے گا جو گو سالہ سامری سے کیا گیا تھا او وہ سلوک یہ تھا کہ گو سالہ کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے جلایا اور دریا میں ڈال دیا گیا تھا )۵( اس کی ہلاکت کے لیے ایک شخص جس کی نظروں سے خون ٹپکتا تھا مقرر کیا گیا ہے )۶( وہ رسول کریم ~صل۲~ کی تلوار کا کشتہ ہو گا- یہ نشانات اور علامتیں اتنی واضح ہیں کہ ان کی منطوق اور مفہوم کی نسبت کچھ بھی شبہ نہیں رہ جاتا` ان پیشگوئیوں کے پورے پانچ سال کے بعد جب کہ دشمن ہنس رہے تھے کہ پانچ سال گزر گئے اور کچھ بھی نہیں ہوا` مرزا صاحب جھوٹے نکلے` عید الفطر کے جو جمعہ کو ہوئی تھی دوسرے دن ہفتے کو عصر کے وقت لیکھرام کسی نامعلوم شخص کے تیر خنجر سے زخمی کیا گیا اور اتوار کے دن مر گیا اور اللہ تعالیٰ کا کلام اپنی تمام ¶تفاصیل کے ساتھ پورا ہوا` الہام میں تھا کہ وہ چھ سال کے اندر مرے گا وہ چھ سال کے اندر ہی مر گیا` بتا گیا تھا کہ اس کا واقعہ عید کے دن سے ملے ہوئے دن کو ہوگا اور وہ مومنوں کے لیے عید کا دن ہو گا چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ وہ عید کے دوسرے ہی دن زخمی ہوا کہا گیا تھا کہ اس کو کوئی شخص جس کے چہرے سے خون ٹپکا ہوا معلوم ہوتا تھا ہلاک کرے گا سو ایسا ہی ہوا بتایا گیا تھا کہ اس کو تیغ محمد قتل کرے گی` سو وہ قتل کیا گیا- خبر دی گئی تھی کہ اس کا حال گو سالہ سامری کی طرح ہو گا سو جس طرح گو سالہ ہفتے کے دن ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تھا وہ بھی ہفتے ہی کے دن ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا اور جس طرح گوسالئہ سامری پہلے جلایا گیا اور پھر اس کی راک دریا میں ڈالی گئی تھی- اسی طرح لیکھرام بھی بسبب ہندو ہونے کے پہلے جلایا گیا اور پھر اس کی راکھ دریا میں ڈالی گئی-
    اس کے قتل کے واقعات کی تفصیل یہ بتائی جاتی ہے کہ ایک شخص اس کے پاس آیا جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ اس کی آنکھوں سے خون ٹپکتا تھا اور اس نے لیکھرام سے کہا کہ وہ مسلمان سے ہندو ہونا چاہتا ہے- لیکھرام نے باوجود لوگوں کے سمجھانے کے کہ اس کو اپنے پاس رکھنا ٹھیک نہیں اس کو اپنے پاس رکھا` لیکھرام کو اس پر بہت اعتبار ہو گیا تھا` آخر اس نے وہی دن اس کو آریہ بنانے کے لیے مقرر کیا جس دن وہ زخمی کیا گیا وہ ہفتے کا دن تھا اور لیکھرام کچھ لکھ رہا تھا اس نے نامعلوم شخص سے کوئی کتاب اٹھا دینے کے لیے کہا- اس پر اس شخص نے انداز سے تو یہ ظاہر کیا کہ گویا وہ کتاب اٹھا کر لا رہا ہے یلکن پاس پہنچتے ہی اس نے لیکھرام کے پیٹ میں خنجر پیوست کر دیا اور پھر اس کو کئی مرتبہ گھما کر ہلایا تاکہ انتڑیاں کٹ جائیں اور پھر وہ شخص جیسا کہ لیکھرام کے رشتہ داروں کا بیان ہے غائب ہو گیا` لیکھرام مکان کی دوسری منزل پر تھا اور اس کے مکان کے نیچے دروازے کے پاس اس وقت بہت سے لوگ جمع تھے` لیکن کوئی شخص گواہی نہیں دیتا کہ وہ شخص نیچے اترا ہے لیکھرام کی بیوی اور اس کی ماں کو یہی یقین تھا کہ وہ گھر میں ہی ہے لیکن اسی وقت لوگوں کے آکر تلاش کرنے پر وہ مکان میں نہیں ملا اور اللہ تعالیٰ جانے کہاں غائب ہو گیا تو لیکھرام سخت دکھ کے عذاب میں مبتلا ہو کر اتوار کو جو عین وہی دن تھا کہ آپ کو کشف دکھایا گیا تھا کہ یک ہیبت ناک شخص جس کے چہرے سے خون ٹپکتا ہے لیکھرام کا پتہ پوچھتا ہے مر گیا اور اللہہ تعالیٰ کے فرستادے کی صداقت کے لیے ایک نشان ٹھہرا اور ان لوگوں کے لیے جو محمد رسول اللہ ~صل۲~ کی ذات بابرکات کے خلاف گندہ دہانی کرتے ہیں موجب عبرت بنا-
    چھٹی پیشگوئی
    شہزادہ دلیپ سنگھ کے متعلق پیشگوئی جو سکھوں کے لئے حجت ہوئی
    اب میں ان پیشگوئیوں میں سے ایک پیشگوئی بیان کرتا ہوں جو اپنے وقت رپ پوری ہو کر سکوں کے لیے صداقت اسلام اور صداقت مسیح موعود علیہ السلام کے لیے دلیل ہوئی- جب پنجاب کو انگریزوں نے فتح کیا تو مصالح ملکی کے ماتحت راجہ دلیپ سنگھ صاحب کو جو وارث تخت پنجاب تھے مگر ابھی چھوٹی عمر کے تھے انگریز ولایت لے گئے وہ وہیں رہے اور ان کو واپس آنے کی اجازت نہیں دی گئی یہاں تک کہ پنجاب پر انگریزی قبضہ پوری طرح ہو گیا- غرر کے بعد دہلی کی حکومت بھی مٹ گئی اور کسی قسم کا خطرہ نہ رہا- اس وقت راجہ دلیپ سنگھ بہادر نے پنجاب آنے کا ارادہ کیا اور عام طور پر مشہور ہو گیا کہ وہ آنے والے ہیں- حضرت اقدس کو الہاماً بتایا گیا کہ وہ اس ارادے میں کامیاب نہیں ہونگے- چنانچہ آپ آنے والے ہیں- حضرت اقدس کو الہاماً بتایا گیا کہ وہ اس ارادے میں کامیاب نہیں ہو نگے- چنانچہ آپ نے بہت سے لوگوں کو خصوصاً ہندوئوں کو اس کے متعلق اطلاع دیدی اور ایک اشتہار میں اشارتاً لکھ دیا کہ ایک نودار درئیس پنجاب کو ابتلاء پیش آئے گا جس وقت یہ الہام شائع کیا گیا- کسی کو خیال بھی نہ تھا کہ وہ ہندوستان آنے سے روک دئیے جائیں گے بلکہ یہ خبر خوب گرم تھی کہ عنقریب وہ ہندوستان پہنچنے والے ہیں` مگر اسی عرصے میں گورنمنٹ کو معلوم ہوا کہ راجہ دلیپ سنگھ صاحب کا ہندوستان میں آنا مفاد حکومت کے خلاف ہو گا- کیونکہ جوں جوں ان کے آنے کی خبر پھیلتی جاتی تھی سکھوں میں پرانی روایات تازہ ہو کر جوش پیدا ہوتا جاتا تھا اور ڈر تھا کہ ان کے آنے پر کوئی فساد ہو جائے آخر عدن تک پہنچنے کے بعد وہ روک دئیے گئے اور یہ روک دئے جانے کی خبر اس وقت معلوم ہوئی جب کہ لوگ یہ سمجھ چکے تھے کہ اب وہ چند ہی روز میں داخل ہندوستان ہوا چاہتے ہیں` سکھوں کی امیدوں کو اس سے سخت صدمہ پہنچا` لیکن اللہ عالم الغیب وذوالجلال کا جلال ظاہر ہوا کہ وہ لوگوں کے دلوں کو اس وقت پڑھ لیتا ہے جب وہ خود اپنے خیالات سے واقف نہیں ہوتے-
    ‏Dawat23
    ‏Dawat24
    دسویں پیشگوئی
    قادیان کی ترقی کا نشان
    اس وقت تک تو میں نے وہ نشان بیان کئے ہیں جو یا تو صرف انزار کا پہلو رکھتے تھے- یا دونوں پہلوئوں پر مشتمل تھے اب میں تین ایسے نشان بیان کرتا ہوں جو خالص تبشیر کا پہلو اپنے اندر رکھتے ہیں یہ تین مثالیں جو میں بیان کرونگا یہ بھی ایسی ہی ہیں کہ بوجہ اپنی عمومیت کے دوست اور دشمن میں شائع ہیں اور ہر مذہب وملت کے لوگوں میں سے اس کے گواہ مل سکتے ہیں اور اس وقت سے کہ ان کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا` حضرت اقدس علیہ السلام کی کتب اور ڈائریوں میں شائع ہوتی چلی آئی ہیں-
    سب سے پہلے میں اس پیشگوئی کا ذکر کرتا ہوں جو قادیان کی ترقی کے متعلق ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت اقدس کو بتایا گیا کہ قادیان کا گائوں ترقی کرتے کرتے ایک بہت بڑا شہر ہو جائے گا جیسے کہ بمبئی اور کلکتہ کے شہر ہیں- گویا نو دس لاکھ آبادی تک پہنچ جائے گا اور اس کی آبادی سمالاً اور شرقاً پھیلتے پھیلتے ہوئے بیاس تک پہنچ جائے گی جو قادیان سے نو میل کے فاصلے پر بہنے والے ایک دریا کا نام ہے- یہ پیشگوئی جب شائع ہوئی ہے- اس وقت قادیان کی حالت یہ تھی کہ اس کی آبادی دو ہزار کے قریب تھی` سوائے چند ایک [ختہ مکانات کے باقی سب مکانات کچے تھے` مکانوں کا کرایہ اتنا گرا ہوا تھا کہ چار پانچ آنے ماہوار پر مکان کرایہ پر مل جاتا تھا` مکانوں کی زمین اس قدر ارزاں تھی کہ دس بارہ روپے کو قابل سکونت مکان بنانے کے لئے زمین مل جاتی تھی` بازار کا یہ حال تھا کہ دو تین روپے کا آٹا ایک وقت میں نہیں مل سکتا تھا` کیونکہ لوگ زمیندار طبقہ کے تھے اور خود دانے پیس کر روٹی پکاتے تھے تعلیم کے لیے ایک مدرسہ سرکاری تھا جو پرائمری تک تھا اور اسی کا مدرس کچھ الاونس لیکر ڈاکخانے کا کام بھی کر دیا کرتا تھا` ڈاک ہفتے میں دو دفعہ آتی تھی` تمام عمارتیں فیصل قصبہ کے اندر تھیں اور اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے ظاہری کوئی سامان نہ تھے کیونکہ قادیان ریل سے گیارہ میل کے فاصلے پر واقع ہے اور اس کی سڑک بالکل کچی ہے اور جن ملکوں میں ریل ہو` ان میں اس کے کناروں پر جو شہر واقع ہوں انہیں کی آبادی بڑھتی ہے` کوئی کارخانہ قادیان میں نہ تھا کہ اس کی وجہ سے مزدوروں کی آبادی کے ساتھ شہر کی ترقی ہو جائے` کوئی سرکاری محمکہ قادیان میں نہ تھا کہ اس کی وجہ سے قادیان کی ترقی ہو` نہ ضلع کا مقام تھا نہ تحصیل کا- حتی کہ پولیس چوکی بھی نہ تھی` قادیان میں کوئی منڈی بھی نہ تھی- جس کی وجہ سے یہاں کی آبادی ترقی کرتی- جس وقت یہ پیشگوئی کی گئی ہے اس وقت حضرت اقدس علیہ السلام کے مرید بھی چند سو سے زیادہ نہ تھے کہ ان کو حکماً لاکر یہاں بسا دیا جاتا تو شہر بڑھ جاتا-
    بے شک کہا جا سکتا ہے کہ چونکہ آپ نے دعویٰ کیا تھا اس لیے امید تھی کہ آپ کے مرید یہاں آکر بس جائیں گے` لیکن اول تو کون کہہ سکتا تھا کہ اس قدر مرید ہو جائیں گے جو قادیان کی آبادی کو آکر بڑھا دیں گے` دوم اس کی مثال کہاں ملتی ہے کہ مرید اپنے کام کاج چھوڑ کر پیر ہی کے پاس آبیٹھیں اور وہیں اپنا گھر بنا لیں- حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کا مولد ناصرہ اب تک ایک گائوں ہے حضرت شیخ شہاب الدین شہروردی` حضرت شیخ احم دسرہندی مجدد الف ثانی` حضرت بہائو الدین صاحب نقشبند رحمتہ اللہ علیہم جو معمولی قصبات میں پیدا ہوئے یا وہاں جا کر بسے ان کے مولد یا مسکین ویسے کے ویسے ہی رہے` ان میں کوئی ترقی نہ ہوئی یا اگر ہوئی تو معمولی` جو ہمیشہ ترقی کے زمانے میں ہو جاتی ہے` شہروں کا بڑھنا تو ایسا مشکل ہوتا ہے کہ بعض دفعہ بادشاہ بھی اگر اقتصادی پہلو کو نظر انداز کرتے ہوئے شہر بساتے ہیں تو ان کے بسائے ہوئے شہر ترقی نہیں کرتے اور کچھ دنوں بعد اجڑ جاتے ہیں اور قادیان موجودہ اقتصادی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے نہایت خراب جگہ واقعہ ہے نہ تو ریل کے کنارے پر ہے کہ لوگ تجارت کی خاطر آکر بس جائیں اور نہ ریل سے اس قدر دور ہے کہ لوگ بوجہ ریل سے دور ہونے کے اسی کو اپنا تمدنی مرکز قرار دے لیں- پس اس کی آبادی کا ترقی پانا بظاہر حالات بالکل ناممکن تھا عجیب بات یہ ہے کہ قادیان کسی دریا ای نہر کے کنارے پر بھی واقع نہیں کہ یہ دونوں چیزیں بھی بعض دفعہ تجارت کے بڑھانے اور تجارت کو ترقی دے کر قصبے کی آبادی کے بڑھانے میں ممد ہوتی ہیں-
    غرض بالکل مخالف حالات میں اور بلا کسی ظاہری سامان کی موجودگی کے حضرت اقدس مسیح موعود نے پیشگوئی کی کہ قادیان بہت ترقی کر جائے گا اس پیشگوئی کے شائع ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کی جماعت کو بھی ترقی دینی شروع کر دی اور ساتھ ہی ان کے دلوں میں یہ خواہش بھی پیدا کرنی شروع کر دی کہ وہ قادیان آکر بسیں اور لوگوں نے بلا کسی تحریک کے شہروں اور قصبوں کو چھوڑ کر قادیان آکر بسنا شروع کر دیا اور ان کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں نے بھی یہاں آکر بسنا شروع کر دیا- ابھی اس پیشگوئی کے پوری طرح پورے ہونے میں تو وقت ہے مگر جس حد تک یہ پیشگوئی پوری ہو چکی ہے وہ بھی حیرت انگیز ہے- اس وقت قادیان کی آبادی ساڑھے چار ہزار یعنی دوسگنی سے بھی زیادہ ہے فصیل کی جگہ مکانات بن کر قصبے نے باہر کی طرف پھیلنا شروع کر دیا ہے اور اس قوت قصبے کی پرانی آبادی سے قریباً ایک میل تک نئی عمارات بن چکی ہیں اور بڑی بڑی پختہ عمارات اور کھلی سڑکوں نے ایک چھوٹے سے قصبے کو ایک شہر کی حیثیت دیدی ہے بازار نہایت وسیع ہو گئے ہیں اور ہزاروں کا سودا انسان جس وقت چاہے خرید سکتا ہے- ایک پرائمری سکول ک بجائے دو ہائی سکول بن گئے ہیں جن میں ایک ہندوئوں کا سکول ہے- ایک گرل سکول ہے اور ایک علوم دینیہ کا کالج- ڈاک خانہ جس میں ایک ہفتے میں دو دفعہ ڈاک آتی تھی اور سکول کا مدرس الائونس لے کر اس کا کام کر دیا کرتا تھا- اب اس میں سات آٹھ آدمی سارا دن کام کرتے ہیں- تب جاکر کام ختم ہوتا ہے اور تار کا انتظام ہو رہا ہے ایک ہفتے میں دو بار نکلنے والا اخبار شائع ہوتا ہے- دو ہفتے وار اردو اور ایک ہفتے وار انگریزی اخبار شائع ہوتے ہیں ایک پندرہ روزہ اخبار شائع ہوتا ہے اور دو ماہوار رسالے شائع ہوتے ہیں` پانچ پریس جاری ہیں- جن میں سے مشین پریس ہے بہت سی کتب ہر سال شائع ہوتی ہیں- بڑے بڑے شہروں کی ڈاک ادھر ادھر ہو جائے تو ہو جائے مگر قادیان کا نام لکھ کر خط ڈالیں تو سیدھا یہی پہنچتا ہے غرض نہایت مخالف حالات میں قادیان نے وہ ترقی کی ہے جس کی مثال دنیا کے پردے پر کسی جگہ بھی نہیں مل سکتی` اقتصادی طور پر شہروں کی ترقیات کے لیے جو اصول مقرر ہیں ان سب کے علی الرغم اس نے ترقی حاصل کر کے اللہ تعالیٰ کے کلام کی صداقت ظاہر کی ہے جس سے وہ لوگ جو قادیان کی پہلی حالت اور اس کے مقام کو جانتے ہیں` خواہ وہ غیر مذاہب کے ہی کیوں نہ ہوں اس بات کا اقرار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ بشک >یہ غیر معمولی اتفاق ہے<- مگر افسوس لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ کیا سب غیر معمولی اتفاق مرزا صاحب ہی کے ہاتھ پر جمع ہو جاتے تھے-
    گیارھویں پیشگوئی
    نصرت مالی کے متعلق
    تبشیری پیشگوئیوں میں سے دوسری مثال کے طور پر میں اس پیشگوئی کو پیش کرتا ہوں جو آپ کی مالی امداد کے متعلق کی گئی تھی- یہ پیشگوئی عجیب حالات اور عجیب رنگ میں کی گئی تھی اور درحقیقت آپ کی عظیم الشان پیشین گوئیوں میں سے یہ سب سے پہلی پیشگوئی تھی- اس کی تفصیل یوں ہے کہ ایک دفعہ آپ کے والد صاحب بیمار ہوئے- اس وقت تک آپ کو الہام ہونے شروع نہ ہوئے تھے` ایک دن جب کہ آپ کے والد صاحب کی بیماری بظاہر معلوم ہوتا تھا کہ جاتی رہی ہے صرف کسی قدر زحیر کی شکایت باقی تھی آپ کو سب سے پہلا الہام والسماء والطارق ہوا` چونکہ طارق رات کے آںے والے کو کہتے ہیں` اس لئے آپ نے سمجھ لیا کہ )اس میں موت کے آںے کی خبر ہے( اور آج رات ہونے پر والد صاحب فوت ہو جائیں گے اور یہ الہام بطریق ماتم پرسی ہے جو اللہ تعالیٰ نے بکمال شفقت آپ سے کی ہے اور آنے والی تکلیف میں آپ کو تسلی دی ہے چونکہ بہت سی آمدنیاں آپ کے خاندان کی آپ کے والد صاحب کی زندگی تک ہی تھیں کیونکہ ان کو پنشن اور انعام ملا کرتا تھا اسی طرح بہت سی جائداد بھی ان کی زندگی تک ہی ان کے پاس تھی` اس لیے اس الہام پر بوجہ بشریت آپ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ جب والد صاحب فوت ہو جائیں گے تو ہماری آمدن کے کئی راستے بند ہ وجائیں گے سرکاری پنشن اور انعام بھی بند ہو جائے گا اور جائیداد کا بھی اکثر حصہ شرکاء کے ہاتھوں میں چلا جائے گا س خیال کا آنا تھا کہ فورا دوسرا الہام ہوا جو ایک بڑی پیشگوئی پر مشتمل تھا اس کے الفاظ یہ تھے کہ الیس اللہ بکاف عبدہ کیا خدا تعالیٰ اپنے بندے کے لیے کافی نہ ہوگا- اس الہام میں چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آ کے تکفل اور آپ کی ضروریات کے پورا کرنے کا وعدہ تھا- آ نے کئی ہندوئوں اور مسلمانوں کو اس کی اطلاع دے دی تا وہ اس کے گواہ رہیں اور ایک ہندو صاحب کو جو اب تک زندہ ہیں امرت سر بھیج کر اس الہام کی حقیقت کو اور زیادہ واضح کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ سامان کیا کہ آ پ کے خاندان ہی میں سے بہت سے دعوے دار کھڑے ہو گئے آپ کے بڑے بھائی جائیداد کے منتظم تھے- ان کا رشتہ داروں سے کچھ اختلاف ہو گیا- آپ نے ان کو مشورہ دیا کہ ان سے حسن سلوک کرنا چاہئے` مگر انہوں آپ کے مشورہ کو قبول نہ کیا- آخر عدالت تک نوبت پہنچی اور انہوں نے آپ سے دعا کے لئے کہ آ نے دعا کی تومعلوم ہوا کہ شرکاء جیتیں گے اور آپ کے بھائی صاحب ہاریں گے- آخر اسی طرح ہوا` جائیداد کا دو تہائی سے زائد حصہ شرکاء کو دیا گیا اور آپ کے بھائی صاحب اور آپ کے حصے میں نہایت قلیل حصہ آیا- گو یہ جائیداد جو آپ کے حصہ میں آی آپ کی ضروریات کے لیے تو کافی تھی` مگر جو کام آپ کرنے والے تھے اس کے لیے یہ آمدن کافی نہ تھی` اس وقت اسلام کی اشاعت کے لیے اس عظیم الشان کتاب کی تیاری میں مشغول تھے- جس کا نام براہین احمدیہ ہے اور جس کے لیے مقدر تھا کہ مذہبی دنیا میں ہل چل مچادے اور اس کتاب کی اشاعت کے لیے ایک رقم کثیر کی ضرورت تھی- اس نا امیدی کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے امید کے دروازے کھول دئیے اور ایسے لوگوں کے دلوں میں تحریک پیدا کر دی جو دین سے چنداں تعلق نہیں رکھتے اور اس کتاب کی اشاعت کے لیے سامان بہم پہنچا دیا` مگر اس کتاب کے چار حصے ہی ابھی شائع ہوئے تھے کہ اخراجات اور بھی بڑھ گئے- کیونکہ جس طرف سے آپ حملے کا رخ پھیرنا چاہتے تھے ادھر سے رخ پھر گیا` مگر خود آپ کے خلاف لوگوں میں جوش پیدا ہو گیا اور کیا ہندو اور کیا مسیح اور کیا سکھ صاحبان سب مل کر آپ پر حملہ آور ہوئے اور آپ کے الہامات پر تمسخر شروع کر دیا` ان کی غرض تو یہ تھی کہ ان الہامات کی عظمت کو صدمہ پہنچے تو وہ اثر جو آپ کی کتابوں سے لوگوں کے دلوں پر پڑا ہے زائل ہو جائے اور اسلام کے مقابلے پر ان کو شکست نصیب ہو` مگر مسلمانوں میں سے بھی بعض حاسد آپ کی مخالفت پر کھڑے ہو گئے اور گویا ایک ہی وقت میں چاروں طرف سے حملہ شروع ہو گیا اور اس بات کا آسانی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جس شخص پر اپنے اور بیگانے حملہ آور ہو جائیں اس کے لئے کیسی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے- پس لوگوں کے اعتراضات کا جواب دینے اور اسلام کی شان کو قائم رکھنے کے لیے کثیر مال کی ضرورت پیش آئی اور اللہ تعالیٰ نے اس کا بھی سامان پیدا کر دیا- اس کے بعد تیسرا تغیر شروع ہوا- یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا کہ آپ ہی مسیح موعود ہیں اور پہلے مسیح فوت ہو چکے ہیں اس ¶دعوے پر وہ لوگ بھی جو اس وقت تک آپ کے ساتھ تھے جدا ہو گئے اور کل چالیس آدمیوں نے آپ کی بیعت کی` اس وقت گویا عملاً ساری دنیا سے جنگ شروع ہو گئی اور جو لوگ پہلے مددگار تھے انہوں نے بھی مخالفت میں اپنا زور خرچ کرنا شرعو کر دیا- اب تو اخراجات اندازے سے زیادہ بڑھنے شروع ہو گئے ایک تو مخالفوں کے اعتراضات کے جواب شائع کرنا- دوسرے اپنے دعویٰ کو لوگوں کے سامنے پیش کرنا اور اس کے دلائل دینا تیسرے چھوٹے چھوٹے اشتہارات تقسیم رنا تاکہ تمام ملک کو آ کے دعوے پر اطلاع ہو جائے یہی اخراجات بہت تھے مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے اظہار کے لیے اور اخراجات کے دروازے بھی کھول دئیے یعنی آپ کو حکم دیا گیا کہ آ قادیان میں مہمان خانہ تعمیر کریں اور لوگوں میں اعلان کریں کہ وہ قادیان آکر آپ کے مہمان ہوا کریں اور دینی معلومات کو زیادہ کیا کریں یا اگر کوئی شکوک ہون تو ان کو رفع کیا کریں` سب مددگاروں کا جدا ہو جانا اور اشاعت کے کام کا وسیع ہو جانا اور پھر اس پر مزید بوجھ مہمان خانے کی تعمیر اور مہمان داری کے اخراجات کا ایسی مشکلات کے پیدا کرنے کا موجب ہو سکتا تھا کہ سارا کام درہم برہم ہو جاتا` مگر اللہ تعالیٰ نے ان چند درجن آدمیوں کے دل میں جو آپ کے ساتھ تھے اور جن میں سے کوئی شخص بھی مالدار نہیں کہلا سکتا تھا اور اکثر مسکین آدمی تھے ایسا اخلاق پیدا کر دیا کہ انہوں نے ہر قسم کی تکلیف برداشت کی` لیکن دین کے کام میں ضعف نہ پیدا ہونے دیا اور درحقیقت یہ ان کی ہمت کام نہیں کر رہی تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ الیس اللہ بکاف عبدہ کام کر رہا تھا-
    یہ وہ زمانہ تھا جب کہ احمدی جماعت پر چاروں طرف سے سختی کی جاتی تھی- مولویوں نے فتوی دے دیا کہ احمدیوں کو قتل کر دینا- ان کے گھروں کو لوٹ لینا` ان کی جائدادوں کا چھین لینا- ان کی عورتوں کا بلا طلاق دوسری جگہ پر نکاح کر دینا جائز ہی نہیں موجب ثواب ہے اور شریر او بدمعاش لوگوں نے جو اپنی طمع اور حرص کے اظہار کے لیے بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں` اس فتوے پر عمل کرنا شروع کر دیا` احمدی گھروں سے نکالے اور ملازمتوں سے برطرف کئے جا رہے تھے ان کی جائیدادوں پر جبرا قبضہ کیا جا رہا تھا اور کئی لوگ ان مخمصوں سے خلاصی کی کوئی صورت نہ پاکر ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے تھے اور چونکہ ہجرت کی جگہ ان کے لیے قادیان ہی تھی` ان کے قادیان آنے پر مہمان داری کے اخراجات اور بھی ترقی کر گئے تھے- اس وقت جماعت ایک دو ہزار آدمیوں تک ترقی کر چکی تھی` مگر ان میں سے ہر ایک دشمنوں کے حملوں کا شکار ہو رہا تھا` ایک دو ہزار آدمی جو ہر وقت اپنی جان اور اپنی عزت اور اپنی جائیداد اور اپنے مال کی حفاظت کی فکر میں لگے ہوئے ہوں اور رات دن لوگوں کے ساتھ مباحثوں اور جھگڑوں میں مشغول ہوں ان کا تمام دنیا میں اشاعت اسلام کے لیے روپیہ بہم پہنچانا اور دین سیکھنے کی غرض سے قادیان آنے والوں کی مہمان داری کا بوجھ اٹھانا اور پھر اپنے مظلوم مہاجر بھائیوں کے اخراجات برداشت کرنا ایک حیرت انگیز بات ہے- سینکڑوں آدمی دونوں وت جماعت کے دسترخوان پر کھانا کھاتے تھے اور بعض غرباء کی دوسری ضروریات کا بھی انتظام کرنا پڑتا تھا- ہجرت کر کے آنے والوں کی کثرت اور مہمانوں کی زیادتی سے مہمان خانے کے علاوہ ہر ایک گھر مہمان خانہ بنا ہوا تھا` حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر کی ہر ایک کوٹھڑی ایک مستقل مکان تھا جس میں کوئی نہ کوئی مہمان یا مہاجر خاندان رہتا تھا` غرض بوجھ انسانی طاقت برداشت سے بہت بڑھا ہوا تھا ہر صبح جو چڑھتی اپنے ساتھ تازہ ابتلاء اور تازہ ذمہ داریاں لاتی اور ہر شام جو پڑتی اپنے ساتھ تازہ ابتلا اور تازہ ذمہ داریاں لاتی مگر الیس اللہ بکاف عبدہ کی نسیم سب فکروں کو خس وخاشاک کی طرح اڑا کر پھینک دیتی اور وہ بادل جو ابتداء سلسلہ کی عمارت کی بنیادوں کو اکھاڑ کر پھینک دینے کی دھمکی دیتے تھے تھوڑی ہی دیر میں رحمت اور فضل کے بادل ہو جاتے اور ان کی ایک ایک بوند کے گرتے وقت الیس اللہ بکاف عبدہ کی ہمت افزا آواز پیدا ہوتی- اس صعوبت کے زمانے کا نقشہ میرے نزدیک افغانستان کے لوگ اچھی طرح اپنے ذہنوں میں پیدا کر سکتے ہیں` کیونکہ پچھلے دنوں میں وہاں بھی مہاجرین کا ایک گروہ گیا تھا افغانستان ایک باقاعدہ حکومت تھی جو ان کے انتظام میں مشغول تھی` پھر ان میں سے بہت لوگ اپنے اخراجات خود بھی برداشت کرتے تھے مہمانوں کی نسبت میزبانوں کی تعداد بہت زیادہ تھی` افغانستان کے ایک کروڑ کے قریب باشندے صرف ایک دو لاکھ آدمیوں کے مہان دار بنے تھے` مگر باوجود اس کے مہان داری میں کس قدر دقتیں پیش آئیں` اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دو ہزار غریب آدمیون کی جماعت پر جب ایک ہی وقت میں سینکڑوں مہمانون اور غریب مہاجرین کا بوجھ پڑا ہو گا اور ساتھ ہی اشاعت اسلام کے کام کے لیے بھی ان کو روپیہ خرچ کرنا پڑتا ہو گا اور وہ بھی ایسے وقت میں جب کہ ان کے اپنے گھروں میں بھی لڑائی جاری تھی تو ان لوگوں کی گردنیں کس قدر بار کے نیچے دب گئی ہوں گی-
    یہ ضروریات سلسلہ ایک دو روز کے لیے نہ تھیں اور نہ ایک دو ماہ کے لیے نہ ایک دو سال کے لیے` بلکہ ہر سال کام ترقی کرتا جاتا تھا اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کام کے لئے آپ ہی بندوبست کر دیتا تھا` ۱۸۹۸ء میں حضرت اقدس نے جماعت کے بچوں کی دینی تعلیم کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ہائی سکول کھول دیا اس سے اخراجات میں اور ترقی ہوئی` پھر ایک رسالہ انگریزی اور ایک اردو ماہواری اشاعت اسلام کے لیے جاری کیا اس سے اور بھی ترقی ہوئی` مگر اللہ تعالیٰ سب اخراجات مہیا کرتا چلا گیا` حتی کہ اس وقت ایک انگریزی ہائی سکول کے علاوہ ایک دینیات کا کالج` ایک زنانہ مدرسہ` کئی پرائمری اور مڈل سکول` ہندوستانی مبتغین کی ایک جماعت ماریشس مشن` سیلون مشن` انگلستان مشن` امریکہ مشن اور بہت سے صیغہ جات` تالیف` اشاعت` تعلیم` تربیت` انتظام عام اور تضا اور افتاء وغیرہ کے ہیں اور تین چار لاکھ کے قریب سالانہ خرچ ہے اور یہ سب اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اپنے وعدہ الیس اللہ بکاف عبدہ کے ماتحت بہم پہنچا رہا ہے-
    ہماری جماعت غرباء کی جماعت ہے- کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ ابتداء غریب لوگ ہی اس کے سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں جن کو دیکھ کر لوگ کہہ دیا کرتے ہیں مانرک اتبعک الا الذین ھم اراد لنا بدی الرای اور اس میں اس کی حکمت یہ ہوتی ہے تا کوئی شخص یہ نہ کہے کہ یہ سلسلہ میری مدد سے پھیلا اور تا نادان مخالف بھی اس قسم کا اعتراض نہ کر سکیں پس ایسی جماعت سے اس قدر بوجھ اٹھوانا بلا نصرت الٰہی نہیں ہو سکت` یہ غریب جماعت اسی طرح سرکاری ٹیکس ادا کرتی ہے جس طرح اور لوگ ادا کرتے ہیں` زمینوں کے لگان دیتی ہے- سڑکوں` شفاخانوں وغیرہ کے اخراجات میں حصہ لیتی ہے- غرض سب خرچ جو دوسرے لوگوں پر ہیں وہ بھی ادا کرتی ہے اور پھر دین کی اشاعت اور اس کے قیام کے لیے بھی روپیہ دیتی ہے اور برابر پینتیس )۳۵( سال سے اس بوجھ کو برداشت کرتی چلی آرہی ہے اس زمانے میں بے شک نسبتاً زیادہ آسودہ حال اور معزز لوگ اس جماعت میں شامل ہو گئے ہیں مگر اسی قدر اخراجات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے- پس کیا یہ بات حیرت انگیز نہیں کہ جب کہ باقی دنیا باوجود ان سے زیادہ مالدار ہونے کے اپنے ذاتی اخراجات کی تنگی پر ہی شکوہ کرتی رہتی ہے- اس جماعت کے لوگ لاکھوں روپیہ سالانہ بلا ایک سال کا وقفہ ڈالنے کے اللہ کی راہ میں خرچ کر رہے ہیں اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس امر کے لیے بھی تیار ہیں کہ اگر ان سے کہا جائے کہ اپنے سب مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے دو تو وہ اسی وقت دے دیں- یہ بات کہاں سے پیدا ہو گئی؟ یقیناً الیس اللہ بکاف عبدہ کا الہام نازل کرنے والے نے لوگوں کے دلوں میں تغیر پیدا کیا ہے ورنہ کونسی طاقت تھی جو اس وقت جب کہ حضرت مسیح موعود کو معمولی اخراجات کی فکر تھی` اس قدر بڑھ جانے والے اخراجات کے پورا کرنے کا وعدہ کرتی اور اس وعدہ کو پورا کر کے دکھا دیتی- آخر مسلمان کہلانے والے کروڑوں آدمی دنیا میں موجود ہیں وہ کس قدر روپیہ اسلام کی اشاعت کے لیے مہیا کر لیتے ہیں` ہماری جماعت کی تعداد کا اگر زیادہ اندازہ لگایا جائے تو جس قدر روپیہ وہ اشاعت اسلام پر خرچ کرتی ہے اگر اسی حساب سے ہندوستان کے دوسرے مسلمان بھی خرچ کریں تو آٹھ دس کروڑ روپیہ سالانہ ان کو اس صورت میں خرچ کرنا چاہئیے جبکہ ان کی مالی حالت ہماری جماعت کی طرح ہو` لیکن ان میں بڑے بڑے والیان ریاست اور کروڑ پتی تاجر بھی ہیں` اگر ان کا بھی خیال رکھ لیا جائے تو سالانہ پندرہ سولہ کروڑ روپیہ اشاعت اسلام پر صرف ہندوستان کے مسلمانوں کو خرچ کرنا چاہئے- مگر وہ تو ہماری جماعت کے چار پانچ لاکھ کے مقابلہ میں ایک دو لاکھ روپیہ بھی خرچ نہیں کرتے- یہ فرق اس لیے ہے کہ ہمارے اندر الیس اللہ بکاف عبدہ کا وعدہ اپنا کام کر رہا ہے-
    بارھویں پیشگوئی
    ترقی جماعت کے متعلق آپ کی پیشگوئی جو پوری ہو کر فوست ودشمن پر حجت ہو رہی ہے
    اب میں ان تبشری پیشگوئیوں میں سے ایک پیشگوئی کو بطور مثال پیش کرتا ہوں جو اس تعلیم کی اشاعت کے متعلق کی گئی تھیں- جس کے ساتھ آپ مبعوث کئے گئے تھے یعنی وہ علوم اور معارف جو قرآن کریم میں بیان کئے گئے ہیں مگر لوگ ان سے ناواقفیت کی وجہ سے غافل ہو چکے تھے- یہ پیشگوئی بھی ایسی ہے کہ لاکھوں آدمی اس کے شاہد ہیں اور اس وقت کی گئی تھی کہ جب اس کے پورا ہونے کے سامان موجود نہ تھے اس پیشگوئی کے الفاظ یہ تھے- >میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچائوں گا<- میں تیرے خالص اور دلی محبوں کا گروہ بھی بڑھائوں گا اور ان کے نقوس اور اموال میں برکت دونگا اور ان میں کثرت بخشوں گا- > )اللہ تعالیٰ( اس )گروہ احمدیان( کو نشونما دے گا یہاں تک کہ ان کی کثرت اور برکت نظروں میں عجیب ہو جائے گی<- یاتون من کل فج عمیق یعنی دنیا کے ہر ملک سے لوگ تیری جماعت بھی شامل ہے- انگریزی میں بھی آ کو اس کے متعلق الہام ہوا- >کوئی ول گو یو اے لارج پارٹی آف اسلام< میں تم کو مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت دونگا- ثلہ من الاولین وثلہ من الاخرین- پہلوں میں سے بھی ایک بڑی جماعت تم کو دی جائے گی اور پچھلوں میں سے بھی- جس کے معنی یہ بھی ہیں کہ پہلے انبیاء کی امتوں میں سے بھی ایک گروہ کثیر تم پر ایمان لائے گا اورمسلمانوں میں سے بھی ایک بڑی جماعت تم پر ایمان لائے گی- یا نبی اللہ کنت لا اعرفک زمین کہے گی )یعنی اہل زمین( کہ اے اللہ کے نبی! میں تجھے نہیں پہچانتی تھی- >انا نرث الارض نا کلھا من اطرانھا<- ہم زمین کے وارث ہوں گے اسے اس کے کناروں کی طرف سے کھاتے آویں گے-
    ان الہامات میں سے بہت سے تو ایسے وقت میں ہوئے اور اسی وقت شائع بھی کر دئے گئے جب کہ آپ پر ایک شخص بھی ایمان نہیں لایا تھا اور بعض بعد کو ہوئے جب سلسلہ قائم ہو چکا تھا مگر وہ بھی ایسے وقت میں ہوئے جب کہ سلسلہ اپنی ابتدائی حالت میں تھا اس وقت آپ کا یہ الہام شائع کر دینا کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ آپ کے ساتھ ایک بڑی جماعت ہو جائے گی اور صرف ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ تمام ممالک میں آپ کے مرید پھیل جائیں گے اور ہر مذہب کے لوگوں میں سے نکل کر لوگ آپ کے مذہب میں داخل ہوں گے اور ان کو اللہ تعالیٰ بہت بڑھائے گا اور کسی ملک کے لوگ بھی آپ کی تبلیغ سے باہر نہیں رہیں گے- کیا یہ ایک معمولی بات ہے؟ کیا انسانی دماغ قیاسات کی بناء پر ایسی بات کہہ سکتا ہے؟
    یہ زمانہ علمی زمانہ ہے اور لوگ اپنے پہلے مذہب کو جس کی صداقت یوم ولادت سے ان کے ذہن نشین کی جاتی رہی تھی چھوڑ رہے ہیں- آجکل مسیحی مسیحی نہیں رہے` ہندو ہندو نہیں رہے- یہودی یہودی نہیں رہے اور پارسی پارسی نہیں رہے` بلکہ ایک عقلی مذہب ان مذاہب کی رسول کی جادر میں لپٹا ہوا سب جگہ پھیل رہا ہے نام مختلف ہیں مگر خیالات سب دنیا کے ایک ہو رہے ہیں- اس حال میں آپ کا یہ دعویٰ کرنا کہ جو لوگ اپنے پہلے نبیوں سے بیزار ہو کر نیچر کی اتباع میں مشغول ہیں آپ کو مان لیں گے بظاہر ناممکن الوقوع دعویٰ تھا` پھر آپ اردو اور عربی اور فارسی کے سوا اور کوئی زبان نہیں جانتے اور آپ ہندوستان کے باشندے تھے جس ملک کے باشندے آج سے تیس )۳۰( سال پہلے عرب اور ایران میں نہایت حقیر سمجھے جاتے تھے- کب امید کی جا سکتی تھی کہ عرب` ایران` افغانستان` شام اور مصر کے باشندے ایک ہندوستانی پر ایمان لے آئیں گے کون کہہ سکتا تھا کہ ہندوستان کے انگریزی پڑھے ہوئے لوگ جو قرآن کریم کو محمد رسول اللہ ~صل۲~ کا کلام قرار دینے لگ گئے تھے اس بات کو مان لیں گے کہ اس زمانے میں بھی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کلام کرتا ہے اور پھر ایسے آدمی جو انگریزی کا ایک لفظ نہیں جانتا جو ان کے نزدیک سب سے بڑا گناہ تھا` پھر کونسی عقل تھی جو یہ تجویز کر سکتی تھی کہ السنئہ مغربیہ سے ناواقف- علوم مغربیہ سے ناواقف` رسول وعادات مغربیہ سے ناواقف انسان جو اپنے صوبہ سے بھی باہر کبھی نہیں گیا )حضرت اقدس علیہ السلام پنجاب سے باہر صرف علی گڑھ تک تشریف لے گئے ہیں( وہ ان ممالک کے لوگوں تک اپنے خیالات کو پہنچا دے گا اور پھر وہ علوم وفنون جدیدہ کے ماہر اور ایشائیوں کو کیڑوں مکوڑوں سے بدتر سمجھنے والے لوگ اس کی باتوں کو سن بھی لیں گے اور مان بھی لیں گے اور پھر کس شخص کے ذہن میں آسکتا تھا کہ افریقہ کے باشندے جو ایشا سے بالکل منقطع ہیں اس کی باتوں پر کان دھریں گے اور اس پر ایمان لائیں گے` حالانکہ ان کی زبان جاننے والا ہندوستان بھر میں کوئی نہیں مل سکتا- یہ سب روکیں ایک طرف تھیں اور اللہ تعالیٰ کا کلام ایک طرف تھا` آخر وہی ہوا جو اللہ تعالیٰ نے کہا تھا وہ شخص جو تن تنہا ایک تنگ صحن میں ٹہل ٹہل کر اپنے الہامات لکھ رہا تھا اور تمام دنیا میں اپنی قبولیت کی خبریں دے رہا تھا` حالانکہ اس وقت اسے اس کے علاقے کے لوگ بھی نہیں جانتے تھے باوجود سب روکوں کے اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید سے اٹھا اور ایک بادل کی طرح گرجا اور لوگوں کے دیکھتے دیکھتے حاسدوں اور دشمنوں کے کلیجوں کو چھلنی کرتا ہوا تمام آسمان پر چھا گیا ہندوستان میں وہ برسا` افغانستان میں وہ برسا` مصر میں وہ برسا` سیلون میں وہ برسا` نجارا میں وہ برسا` مشرقی افریقہ میں وہ برسا` جزیرہ ماریشس میں وہ برسا` جنوبی افریقہ میں وہ برسا` مغربی افریقہ کے ممالک نائجیریا` گولڈ کوسٹ` سیرالیون میں وہ برسا` آسڑیلیا میں وہ برسا` انگلستان اور جرمن اور روس کے علاقہ کو اس نے سیراب کیا اور امریکہ میں جاکر اس نے آپ باشی کی-
    آج دنیا کا کوئی براعظم نہیں جس میں مسیح موعود کی جماعت نہیں اور کوی مذہب نہیں جس میں سے اس نے اپنا حصہ وصول نہیں کیا` مسیحی` ہندو` بدھ` پارسی` سکھ` یہودی سب قوموں میں سے اس کے ماننے والے موجود ہیں اور یورپین` امریکن` افریقن` اور ایشایا کے باشندے اس پر ایمان لائے ہیں اگر جو کچھ اس نے قبل از وقت بتا دیا تھا اللہ تعالیٰ کا کلام نہ تھا تو وہ کس طرح پورا ہو گیا؟ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ وہ یورپ اور امریکہ جو اس سے پہلے اسلام کو کھا رہے تھے مسیح موعود کے ذریعے سے اب اسلام ان کو کھا رہا ہے کئی سو آدمی اس وقت تک انگلستان میں اور اسی طرح امریکہ میں اسلام لا چکا ہے اور روس اور جرمن اور اٹلی کے بعض افراد نے بھی اس سلسلے کو قبول کیا ہے- وہی اسلام جو دوسرے فرقوں کے ہاتھ سے شکست پر شکست کھا رہا تھا اب مسیح موعود کی دعائوں سے دشمن کو ہر میدان میں نیچا دکھا رہا ہے اور اسلام کی جماعت کو بڑا رہا ہے- فالحمد للہ رب العلمین
    گیارھویں دلیل
    آپ کا عشق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام کی چند پیشگوئیوں کے بیان کرنے کے بعد اب میں آپ کے دعوے کی صداقت کی گیارھویں دلیل بیان کرتا ہوں اور وہ دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا )عنکبوت ع۷(70: یعنی جو لوگ ہمارے راستے میں سچی کوشش کرتے ہیں ہم ان کو اپنے راستے دکھا دیتے ہیں اور ان پر ان کو چلاتے ہیں اور اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ )آل عمران ع۴(32: کہدے کہ اگر تم کو اللہ سے محبت سے تو میری اتباع کرو- اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگے گا- ان دونوں آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا سچا عشق اور اس کی سچی محبت اور اس کے رسول کے عشق اور اس کی محبت کا ہمیشہ یہ نتیجہ ہوا کرتا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ سے جا ملتا ہے اور اس کا محبوب ہو جاتا ہے پس اس امت کے افراد کی صداقت کا یہ بھی ایک معیار ہے کہ ان کے دل عشق الٰہی سے پر ہوں اور اتباع رسول ان کا شیوہ ہو اور اس معیار کے مطابق بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام کی صداقت روز روشن کی طرح ثابت ہے-
    محبت کا مضمون ایک ایسا مضمون ہے کہ مجھے اس پر کچھ لکھنے کی چنداں ضرورت نہیں ہر ملک کے شاعت اس کی کیفیات کو غیر معلوم زمانے سے بیان کرتے چلے آئے اور تمام مذاہب اس ر ایمان اور وصول الی اللہ کی بنیاد رکھتے چلے آئے ہیں` مگر سب شاعروں کے بیان سے بڑھ کر کامل محبت کی مکمل تشریح وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمائی ہے یعنی قل ان کان اباء کم ابناء کم واخوانکم وازواجکم وعشیر تکم واموال اقتر فتموھا وتجارہ تخشون کساد ھاو مسکن ترضونھا احب الیکم من اللہ ورسولہ وجھاد فی سبیلہ فتربصوا حتی یاتی اللہ بامرہ واللہ لایھدی القوم الفسقین )توبہ ع۳(24: کہدے کہ اگر تمہارے باپ دادے اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں یا تمہارے خاوند اور تمہارے رشتہ دار اور تمہارے اموال جو تم نے کمائے ہیں اور تجارت جس کے بگڑ جانے سے تم ڈرتے ہو اور مکانات جنہیں زیادہ پیارے ہیں تو تم کو اللہ تعالیٰ سے کوئی محبت نہیں تب تم اللہ تعالیٰ کے عذاب کا انتظار کرو اور اللہ تعالیٰ ایسے نافرمانوں کو کبھی اپنا رستہ نہیں دکھاتا` یعنی کامل محبت کی علامت یہ ہے کہ انسان اس کی خاطر ہر ایک چیز کو قربان کر دے- اگر اس بات کے لیے وہ تیار نہیں تو منہ کی باتیں اس کے لیے کچھ بھی مفید نہیں` یوں تو ہر شخص کہدیتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ سے محبت ہے اور اس کے رسول سے محبت ہے بلکہ مسلمان کہلانے والا کوئی شخص بھی نہ ہوگا جو یہ کہتا ہو کہ مجھے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت نہیں ہے` مگر دیکھنا یہ ہے کہ اس اقرار کا اثر اس کے اعمال پر- اس کے جوارح پر اور کے اقوال پر کیا پڑتا ہے وہی لوگ جو رسول اللہ ~صل۲~ کی محبت میں اپنے آ کو سرشار بتاتے ہیں اور آ کے احکام کی فرماں برداری کی طرف ان کو کچھ بھی کوشش نہیں کرتے- ہم دیکھتے ہیں کہ اگر کسی کا عزیز آجائے تو وہ سو کام چھوڑ کر اس سے ملتا ہے- اپنے دوستوں اور پیاروں کی ملاقات کا موقع ملے تو شاداں وفرحاں ہو جاتا ہے` حکام کے حضور شرف بار یابی حاصل ہو تو خوشی سے جامے میں پھولا نہیں سماتا` لیکن لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعوے کرتے ہیں مگر نماز کے نزدیک نہیں جاتے یا نماز پڑھتے ہیں تو اس طرح کہ کبھی پڑھی کبھی نہ پڑھی یا اگر باقاعدہ بھی پڑھی تو ایسی جلدی جلدی پڑھتے ہیں کہ معلوم نہیں ہوتا کہ سجدہ سے انہوں نے سرکب اٹھایا اور پھر کب واپس رکھدیا- جس طرح مرغ چونچیں مار کر دانہ اٹھاتا ہے یہ سجدہ کر لیتے ہیں` نہ خشوع ہوتا ہے نہ خضوع` اسی طرح اللہ تعالیٰ روزے کا بدلہ اپنے آ کو قرار دیتا ہے` مگر لوگ اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ کرتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑنے کے لئے نہیں جاتے اور اس کا قرب حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے- اللہ تعالیٰ کی محبت ظاہر کرتے ہیں لیکن لوگوں کے حقوق دباتے ہیں` جھوٹ بولتے ہیں` بہتان باندھتے ہیں- غیبتیں کرتے ہیں` اللہ تعالیٰ سے عشق بیان کرتے ہیں` لیکن قرآن کریم کا مطالعہ اور اس پر غور کرنے کی توفیق ان کو نہیں ملتی` کیا جس طرح آجکل لوگ قرآن کریم سے سلوک کرتے ہیں اسی طرح اپنے پیاروں کے خطوط سے بھی کیا کرتے ہیں؟ کیا ان خطوں کو لپیٹ کر رکھ چھوڑتے ہیں اور ان کو پڑثکر ان کا مطلب سمجھنے کی کوششیں نہیں کرتے` غرض محبت کا دعویٰ اور شے ہے اور حقیقی محبت اور شے محبت کبھی عمل اور قربانی سے جدا نہیں ہوتی اور اس قسم کی محبت اور اس قسم کا پیار ہمیں اس زمانے میں سوائے حضرت اقدس علیہ السلام اور آپ کے متعبین کے اور کسی شخص میں نظر نہیں آتا-
    آپ کی زندگی کے حالات بتاتے ہیں کہ جب سے آپ نے ہوش سنبھالا` اسی وقت سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت میں سرشار تھے اور ان کی محبت آپ کے رگ وریشہ میں سمائی ہوئی تھی- بچپن ہی سے آپ احکام شرعیہ کے پابند تھے اور گوشہ نشینی کو پسند کرتے تھے- جب آپ تعلیم سے فارغ ہوئے تو آپ کے والد صاحب نے بہت چاہا کہ آپ کو کسی جگہ ملازک کرا دیں` لیکن آپ نے اس امر کو پسند نہ کیا اور بار بار کے اصرار پر بھی انکار کرتے رہے اور خدا کی یاد کو دنیا کے کاموں پر مقدم کر لیا- آپ ایک نہایت معزز خاندان کے فرد تھے- اگر آپ چاہتے تو آپ کو معزز عہدہ مل سکتا تھا- جیسا کہ آپ کے بڑے بھائی کو ایک معزز عہدہ حاصل تھا` لیکن آپ نے اس سے پہلو ہی بچایا- یہ نہیں تھا کہ آپ سست تھے اور سستی کی وجہ سے آپ نے ایسا کیا` کیونکہ آپ کی بعد کی زندگی نے ثابت کر دیا کہ آپ جیسا محنتی شخص دنیا کے پردے پر ملنا مشکل ہے- ایک قادیان کے پاس رہنے والا سکھ جس کے باپ دادوں کے تعلقات آپ کے والد صاحب کے ساتھ تھے سنایا کرتا ہے اور باوجود مذہبی اختلاف ہونے کے اب تک اس واقعہ کو سناتے وقت اس کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں کہ ایک دفعہ ہمیں آ کے والد صاحب نے آپ کے پاس بھیجا اور کہا کہ جائو ان سے کہو کہ وہ میرے ساتھ حکام کے پاس چلیں` میں ان کو تحصیلداری کا عہدہ دلانے کی کوشش کروں گا وہ کہتا ہے کہ جب ہم آ کے پاس گئے تو آپ ایک کوٹھڑی میں علیحدہ بیٹھے ہوئے کوئی کتاب پڑھ رہے تھے جب ہم نے آپ سے کہا کہ آ کے والد صاحب آپ کو معزز عہدہ دلانے کے لیے کہتے ہیں- آپ کیوں ان کے ساتھ نہیں جاتے تو آ نے کہا کہ میری طرف سے ان کی خدمت میں بادب غرض کر دو کہ میں نے جس کی نوکری کرنی تھی کر لی` اب وہ مجھے معاف ہی کر دیں تو اچھا ہے-
    ان دنوں آپ کا شغل یہ ہوتا تھا کہ قرآن کریم کا مطالعہ کرتے رہتے یا احادیث کی کتب دیکھتے یا مثنوی رومی کا مطالعہ کرتے اور یتیموں اوثر مسکینوں کا ایک گروہ کسی کسی وقت آپ کے پاس آجاتا تھا جن میں آپ اپنی روٹی تقسیم کر دیتے اور بسا اوقات بالکل ہی فاقہ کرتے اور بعض اوقات صرف چنے بھنوا کر چبا لیتے اور آ کی خلوت نشینی اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ کئی دفعہ ایسا ہوتا کہ گھر کے لوگ آپ کو کھانا بھیجنا تک بھول جاتے-
    ایک دفعہ آپ اس خیال سے کہ والد صاحب کی نظروں سے علیحدہ ہو جائوں` تو شاید وہ مجھے دنیا کے کاموں میں پھنسانے کا خیال جانے دیں- قادیان سے سیالکوٹ چلے گئے اور وہاں عارضی طور پر گزارے کے لئے آپ کو ملازمت بھی کرنی پڑی` مگر یہ ملازمت آپ کی عبادت گزاری میں روک نہ تھی- کیونکہ صرف سوال سے بچنے کے لئے آپ نے یہ ملازمت کی تھی` کوئی دنیاوی ترقی اس سے مقصود نہ تھی` اس جگہ آپ کو پہلی دفعہ اس بات کا علم ہوا کہ اسلام نہایت نازک حالت میں ہے او دوسرے مذاہب کے لوگ اسے کھانے کے درپے ہیں اور اس کا ذریعہ یہ ہوا کہ سیالکوٹ میں پادریوں کا بڑا مرکز تھا- وہ بازاروں اور کوچھوں میں روزانہ اپنے مذہب کی اشاعت کرتے اور اسلام کے خلاف لوگوں کے دلوں میں شکوک ڈالتے تھے اور آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے تھے کہ کوئی شخص ان کا مقابلہ نہیں کرتا اور یہ وہ زمانہ تھا کہ لوگ سمجھتے تھے کہ مسیحیت گورنمنٹ کا مذہب ہے اور ڈرتے تھے کہ اس کا مقابلہ کریں گے تو نقصان پہنچے گا اور سوائے شاذو نادر کے اکثر علماء پادریوں کا رد کرنے سے خوف کھاتے تھے اور جو مقابلہ بھی کرتے- وہ ان کے حملوں کے آگے مغلوب ہو جاتے` کیونکہ قرآن کریم کا علم ہی ان کو حاصل نہ تھا` اس حالت کو دیکھ کر آپ نے پادریوں کا مقابلہ کرنے پر کمر ہمت باندھ لی اور خوب زور سے ان سے بحث ومباحثہ شروع کیا اور پھر اس مقابلے کے دروازے کو آریوں اور دیگر اقوام کے واسطے بھی وسیع کر دیا` کچھ عرصے کے بعد آپ کو آپ کے والد صاحب نے واپس بلا لیا اور پھر یہ خیال کر کے کہ اب تو آپ ملازمت کر چکے ہیں- شاید اب ملازمت پر راضی ہو جائیں` پھر آپ کے ملازم کرانے کی کوشش کی مگر آپ ان سے معافی ہی چاہتے رہے` ہاں یہ دیکھ کر کہ آپ کے الد صاحب مصائب دنیوی میں بہت گھرے ہوئے ہیں ان کے کہنے پر یہ کام اپنے ذمے لے لیا کہ ان کی طرف سے ان کے مقدمات کی پیروی کر دیا کریں` ان مقدمات کے دوران میں آپ کی انابت الی اللہ اور بھی ظاہر ہوئی` ایک دفعہ ایسا ہوا کہ آپ مقدمے کی پیروی کے لئے گئے` مقدمے کے پیش ہونے میں دیر ہو گئی` نماز کا وقت آگیا` آپ باوجود لوگوں کے منع کرنے کے نماز کے لئے چلے گئے اور جانے کے بعد ہی مقدمہ کی پیروی کے لیے بلائے گئے مگر آپ عبادت میں مشغول رہے اس سے فارغ ہوئے تو عدالت میں آئے- حسب قاعدہ سرکاری چاہئے تو یہ تھا کہ مجسٹریٹ یکطرفہ ڈگری دے کہ آپ کے خلاف فیصلہ سنا دیتا مگر اللہ تعالیٰ کو آ کی یہ بات ایسی پسند آی کہ اس نے مجسٹریٹ کی توجہ کو اس طرف پھیر دیا اور س نے آپ کی غیر حاضری کو نظر انداز کر کے فیصلہ آپ کے والد صاحب کے حق میں کر دیا` ایک صاحب نے آپ کے بچپن کے دوست تھے سناتے تھے کہ وہ لاہور میں ملازم تھے آپ بھی کسی اہم مقدمے کی پیروی کے لئے جس کی اپیل سب سے اعلیٰ عدالت میں دائر تھی وہاں گئے اور وہ مقدمہ ایسا تھا کہ اس میں ہارنے سے آپ کے والد صاحب کے حقوق اور بالاخر آپ کے حقوق کو سخت صدمہ پہنچتا ھا وہ بیان کرتے ہیں کہ جب آپ مقدمے سے واپس آئے تو بہت خوش تھے میں سمجھا کہ آ مقدمہ جیت گئے ہیں جبھی تو اس قدر خوش ہیں` میں نے بھی خوشی سے مقدمے میں کامیابی کی مبارک باد دی` تو آپ نے فرمایا کہ مقدمے تو ہم ہار گئے ہیں- خوش اس لئے ہیں کہ اب کچھ دن علیحدہ بیٹھ کر ذکر الٰہی کا موقع ملے گا-
    جب آپ اس قسم کے معاملات سے تنگ آگئے تو آپ نے ایک خط اپنے والد صاحب کو لکھا جس میں اس قسم کے کاموں سے فارغ کر دئیے جانے کی درخواست کی تھی` اس خط کو میں یہاں نقل کر دیتا ہوں` تاکہ معلوم ہو کہ آپ ابتدائی عمر سے کس قدر دنیا سے متنفر تھے اور یاد الٰہی میں مشغول رہنے کو پسند کرتے تھے یہ خط آپ نے اس وقت کے دستور کے مطابق فارسی زبان میں لکھا تھا اور ذیل میں درج ہے-
    >حضرت والد مخدوم من سلامت! مراسم غلامانہ وقواعد فردیانہ بجا آور دہ` معرض حضرت والا میکند` چونکہ دریں ایام برای العین مے بینم وبچشم سرمشاہدہ میکنم کہ درہمہ ممالک وبلاد ہر سال چناں وبائے مے افتد کہ دوستاں راز دوستاں وخوشیاں را از خویشاں جدا مکیند- وہیچ سالے نمے بینم کہ ایں نائرہ عظیم وچنیں حادثہ الیم درآں سال شور قیامت نیفگند- نظر برآں دل از دنیا سرد شدہ است ورو از خوف جاں زردو اکثر ایں دو مصرعہ شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی بیادمے آیند واشک حسرت ریختہ میشود~}~<
    مکن تکیہ بر عمر نا پائیدار
    مباش ایمن از بازی روزگار
    ونیز ایں دو مصرعہ ثانی از دیوان فرسخ )حضرت اقدس کا ابتدائی ایام کا تخلص ہے( نمک پاش جراحت دل میشود~}~
    بدنیائے دوں دل مبندا اے جواں
    کہ وقت اجل مے رسد ناگہاں
    لہذا میخوا ہم کہ بقیہ عمر در گوشہ تنہائی نشینم ودامن از صحبت مردم بچینم وبیاد اوسبحانہ` مشغول شوم` مگر گذشتہ را عزرے وما فات راتد کے شود ~}~
    عمر بگذشت نماز است جزاز گامے چند
    بہ کہ دریاد کسے صبح کنم شامے چند
    کہ دنیارا اساسے محکم نیست وزندگی را اعتبارے نے والیس من خاف علی نفسہ من انہ غیرہ- والسلام-
    جب آپ کے والد صاحب فوت ہو گئے تو آپ نے تمام کاموں سے قطع تعلق کر لیا اور مطالعہ دین اور روزہ داری اور شب بیداری میں اوقات بسر کرنے لگے اور اخبارات اور رسائل کے ذریعے دشمنان اسلام کے حملوں کا جواب دیتے رہے- اس زمانے میں لوگ ایک ایک پیسے کے لئے لڑتے ہیں` مگر آپ نے اپنی کل جائداد اپنے بڑے بھائی صاحب کے سپرد کر دی- آپ کے لیے کھانا ان کے گھر سے آجاتا اور جب وہ ضرورت سمجھتے کپڑے بنوا دیتے اور آپ نہ جائیداد کی آمدن کا حصہ لیتے اور نہ اس کا کوئی کام کرتے- لوگوں کو نماز روزے کی تلقین کرتے- تبلیغ اسلام کرتے` غریبوں مسکینوں کی بھی خبر رکھتے اور تو آپ کے پاس اس وقت کچھ تھا نہیں بھائی کے یہاں سے جو کھانا آتا اسی کو غرباء میں بانٹ دیتے اور بعض دفعہ دو تین تولہ غذا پر گزارہ کرتے اور بعض دفعہ یہ بھی باقی نہ رہتی اور فاقہ سے ہی رہ جاتے- یہ نہیں تھا کہ آپ کی جائداد معمولی تھی اور آپ سمجھتے تھے کہ گزارہ ہو رہا ہے اس وقت ایک سالم گائوں آپ اور آپ کے بھائی کا مشترکہ تھا اور علاوہ ازیں جاگیر وغیرہ کی بھی آمدن تھی-
    اسی عرصہ میں آپ نے اسلام کی نازل حالت دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور میں دعا وابتہال وعاجزی شروع کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشارہ پاکر براہین احمدیہ نامی کتاب لکھی جس کے متعلق اعلان کیا کہ اس میں تین سو دلائل صداقت اسلام کے دئیے جائیں گے یہ کتاب ہستی باری تعالی اور رسول کریم ~صل۲~ اور اسلام پر سے اعتراضات کے دفعیہ میں ایک کاری حربہ ثابت ہوئی اور گونا مکمل رہی مگر اس شکل میں بھی دوست ودشمن سے خراج تحسین وصول کئے بغیر نہ رہی اور بڑے بڑے علماء نے اس کتاب کے متعلق رائے ظاہر کی کہ یہ کتاب تیرہ سو سال کے عرصے میں اپنی نظیر آپ ہی ہے` اسلام کے بہترین ایام کے اکابر مصنفین کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ تعریف اپنے مطلب کی آ ہی تشریح کرتی ہے اس کے علاوہ جو بھی رسالہ یا اخبا نکلتا` آپ اس میں اسلام کی عظمت اور اس کی حقیقت کو ظاہر کرتے اور دشمنان اسلام کے حملوں کا جواب دیتے- حتی کہ سب اقوام آپ کی دشمن ہو گئیں` مگر آ نے ذرہ بھر بھی پرواہ نہ کی-
    یہ وہ زمانہ تھا کہ ایک طرف تو مسیحی رسول کریم ~صل۲~ کو گالیاں دے رہے تھے اور دوسری طرف آریہ گندہ دہنی سے کام لے رہے تھے` لیکن ہندوستان کے علماء ایک دوسرے کے خلاف تکفیر کے فتوے شائع کر رہے تھے اسلام پامال ہو رہا تھا مگر علماء کو رفع یدین اور ہاتھ سینے پر باندھیں یا ناف پر- آمین بالجہر کہیں یا آہستہ` یا اسی قسم کے اور مسائل سے فرصت نہ تھی- اس وقت آ ہی ایک شخص تھے جو اسلام کے دشمنوں کے مقابلہ میں سینہ سپر تھے اور مسلمانوں میں اعمال صالح کے رواج دینے کی طرف متوجہ تھے آپ اس بحث میں نہ پڑتے کہ حنضیوں کا استدلال درست ہے` اہل حدیثکا بلکہ اس امر پر زور دیتے کہ جس امر کو بھی سچا سمجھو اس پر عمل کر کے دکھائو اور بے دینی اور اباحت کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل شروع کردو- پنڈت دیا نند بانی آریہ سماج سے آ نے مقابلہ کیا` لیکھرام` جیون داس` مرلی دھر` اندر من غرض جس قدر آریہ مذہب کے لیڈر تھے ان میں سے ایک ایک سے آپ بحث کی طرح ڈالتے اور اس وقت تک اس کا پیچھا نہ چھوڑتے` جب تک وہ اسلام پر حملہ کرنے سے باز نہ آجات` یا ہلاک نہ ہو جاتا` اسی طرح مسیحیوں کے فحش گو منادوں کا آپ مقابلہ کرتے` کبھی فتح مسیح سے کبھی اتھم سے کبھی مارٹن سے کبھی ہاول سے کبھی رائٹ سے کبھی طالب مسیح سے اور اس پر بھی آپ کو تسلی نہ ہوتی` انگریزی میں ترجمہ کروا کر ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں اشتہارات یورپ اور امریکہ کو بھجواتے اور جس شخص کی نسبت سنتے کہ اسے اسلام سے دلچسپی ہے فورا اس سے خط وکتابت کرتے اور اسلام کی دعوت دیتے- چنانچہ مسٹر دب امریکہ کا پرانا مسلمان آپ کی اسی قوت کی کوششوں کا نتیجہ ہے- یہ شخص نہایت معزز ہے اور کسی وقت ریاستہائے متحدہ امریکہ کی طرف سے سفارت کے عہدہ پر ممتاز تھا- آپ نے اس کی اسلام سے دلچسپی کا حال سن کر اس سے خط وکتابت کی اور آخر اس سلیم الطبع آدمی نے اسلام قبول کر لیا اور اپنے عہدے سے دست بردار ہو گیا- غرض اللہ تعالیٰ کی توحید کی اشاعت اور رسول کریم کی صداقت کے اثبات کی آپ کو دھن لگی ہوئی تھی اور آپ ایک منٹ کے لیے بھی اس سے غافل نہ رہتے تھے اس کے بعد آپ نے دعویٰ کیا تو اس وقت سے آپ کا کام اور بھی وسیع ہو گیا` کوئی دشمن اسلام نہیں نکلا- جس کے مقابلے پر آپ کھڑے نہ ہوئے ہوں` جہاں کسی کی نسبت سنا کہ وہ اسلام پر حملہ کرتا ہے فورا اس کا مقابلہ شروع کر دیا- ڈوئی جو امریکہ کا جھوٹا نبی تھا جس کا ذکر پہلے آچکا ہے جب اس کی اسلام دشمنی کا حال آپ نے سنا تو سمندر پار سے اس کا مقابلہ شروع کر دیا- پگٹ نے ولایت میں خدائی کا دعویٰ کیا تو فورا اس کو للکارا- غرض دنیا کے پردے پر جہاں کہیں بھی کوئی دشمن اسلام پیدا ہوا` وہیں اسے جاکر پکڑا اور انہیں چھوڑا جب تک کہ وہ اپنی شرارت سے باز نہ آگیا` یا مر نہیں گیا- آپ نے چوہتر سال عمر پائی اور تمام عمر رات اور دن خدمت اسلام میں مشغول رہے بعض دفعہ مہینوں تصنیف میں اس طرح مشغول رہتے کہ کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ آ کب سوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور رسول کریم ~صل۲~ سے آپ کو اس قدر محبت تھی کہ اسلام کے کام کو اپنا کام سمجھتے تھے اگر کوئی دوسرا شخص اسلام کی خدمت کرتا تو اس کے نہایت ہی ممنون ہوتے` بعض اوقات اکثر حصہ رات کا متواتر جاگتے اور کام میں مشغول رہتے اگر کوئی دوسرا شخص ایک دو دن پروف ریڈری یا کاپیاں دینے کے کام میں آپ کی مدد کرتا تو اسے اتفاقاً کسی دن رات کو بھی کام کرنا پڑتا تو یہ نہ سمجھتے تھے کہ اس نے اسلام کا کام کیا اور اپنے فرض کو انجام دیا ہے بلکہ اس قدر شکرو امتنان کا اظہار کرتے کہ گویا اس نے آپ کی ذاتی خدمت کی ہے اور آپ کو اپنا ممنون احسان بنا لیا ہے- باوجود ضعف اور بیماری کے اسی )۸۰( سے زیادہ کتب آپ نے تصنیف کیں اور سینکڑوں اشتہار اسلام کی اشاعت کے لیے لکھے اور سینکڑوں تقریریں کیں اور روزانہ لوگون کو اسلام کی خوبیوں کے متعلق تعلیم دیتے رہے اور آپ کو اس میں اس قدر انہماک تھا کہ بعض دفعہ اطباء آپ کو آرام کے لیے کہتے تو آپ ان کو جواب دیتے کہ میرا آرام تو یہی ہے کہ دین اسلام کی اشاعت اور مخالفین اسلام کی سرکوبی کرتا رہون حتی کہ آپ اپنی وفات کے دن تک خدمت اسلام میں لگے رہے اور جس صبح آپ فوت ہوئے ہیں اس کی پہلی شام تک ایک کتاب کی تصنیف میں جو ہندوئوں کو دعوت اسلام دینے کی غرض سے تھی مشغول تھے- اس سے اس سوزوگداز اور اس اخلاص وجوش کا پتہ لف سکتا ہے جو آ کو اللہ تعالیٰ کے جلال کے اظہار اور نبی کریم ~صل۲~ کی صداقت کے اثبات کے لیے تھا-
    میں لکھ چکا ہوں کہ صرف محبت کا دعویٰ محبت کا پتہ لگانے کے لیے حقیقی معیار نہیں ہے مگر وہ شخص جس نے اپنے ہر ایک عمل اور ہر ایک حرکت سے اپنے عشق ومحبت کو ثابت کر دیا ہو اس کا دعویٰ اس کے دلی جذبات کے اظہار کا نہایت اعلیٰ ذریعہ ہے- کیونکہ سچے عاشق کے دلی جذبات اس کی غیر معمولی خدمات سے بھی بڑھ کر ہوتے ہیں اور بوجہ اس کے راستباز ہونے کے دوسرے کے دل کو بھی متاثر کرتے رہتے ہیں- پس میں آپ کی دو فارسی نظمیں کہ ان میں سے ایک اللہ تعالیٰ کے عشق میں ہے اور ایک رسول کریم ~صل۲~ کے عشق میں اس جگہ نقل کرتا ہوں-:
    قربان تست جان من اے یار محنم
    بامن کدام فرق تو کردی کہ من کنم
    ہر مطلب ومراد کہ می خواستم زغیب
    ہر آرزو کہ بود بخاطر معینم
    از جود دادہ ہمہ آں مدعائے من
    وازلطف کردہ گزر خود بمسکنم
    ہیچ آگہی نہ بود زعشق ووفامرا
    خود ریختی متاع محبت بدامنم
    ایں خاک تیرہ راتو خود اکسیر کردہ
    بود آں جمال تو کہ نمود است احسنم
    ایں صیقل ولم نہ بزہد وتعبداست
    خود کردہ بلطف عمیم تو ہم تنم
    سہل است ترک ہر دو جہاں گر رضائے تو
    آید بدست اے پنہ وکہف ومامنم
    فصل بہار وموسم گل نایدم بکار
    کاندر خیال روئے تو ہر دم بہ گلشنم
    چوں حاجتے بود بادیب وگر مرا
    من تربیت پزیر زرب مہیمنم
    زاں ساں عنایت ازلی شد قریب من
    کامد ندائے یار زہر کوے برزنم
    یارب مرا بہر قد مم استوار دار
    واں روز خود مبادکہ عہد تو بشکنم
    در کوئے تو اگر سر عشاق راز نند
    اول کسے کہ لاف تعشق زند منم
    ‏ 0] [rtf
    عجیب نوریست در جان محمد
    عجب لعلیست درکان محمد
    زظلمتہا ولے آنگہ شود صاف
    کہ گرد از محبان محمد
    عجب دارم دل آں ناکسار را
    کہ رو تانبد از خوان محمد
    ندانم ہیچ نفسے در دو عالم
    کہ دارد شوکت وشان محمد
    خدا زاں سینہ بزاراست صدبار
    کہ ہست از کینہ داران محمد
    خدا خود سوزد آں کرم دنی را
    کہ باشد از عددان محمد
    اگر خواہی نجات از مستی نفس
    بیا در ذیل مستان محمد
    اگر خواہی کہ ہق گوید ثنایت
    بشو از دل ثنا خوان محمد
    اگر خواہی دلیلے عاشقش باش
    محمد ہست برہان محمد
    سرے دارم خدائے خاک احمد
    دلم ہر وقت قربان محمد
    بگیسوئے رسول اللہ کہ ہستم
    نثار روئے تابان محمد
    دریں رہ گر کشندم دربسوزند
    نتابم رنگ ایمان محمد
    بکار دیں نتر سم از جہانے
    کہ دارم رنگ ایمان محمد
    بسے سہل است از دنیا بریدن
    بیاد حسن واحسان محمد
    فدا شدور رہش ہر ذرہ من
    کہ دیدم حسن پنہان محمد
    دگر استاد رانامے ندانم
    کہ خواندم درد بستان محمد
    بدیگر دلبرے کارے ندارم
    کہ ہستم کشتہ آن محمد
    مرا آں گوشہ چشمے بباید
    نخواہم جز گلستان محمد
    دل زارم بہ پہلو یم مجوئید
    کہ بستیمش بدا مان محمد
    من آں خوش مرغ از مرغان قدسم
    کہ دار دجابہ بستان محمد
    تو جان مامنور کر دی از عشق
    فدایت جانم اے جان محمد
    دریغا گرد ہم صدجاں دریں راہ
    نباشد نیز شایان محمد
    چہ ہیبت ہابدا دندایں جواں را
    کہ ناید کس بمیدان محمد
    الا اے دشمن نادان دبے راہ
    تبرس از تیغ بران محمد
    رہ مولٰے کہ گم کر دند مردم
    بجو در آ واعوان محمد
    الا اے منکر از شان محمد
    ہم از نور نمایان محمد
    کرامت گرچہ بے نام ونشان است
    بیا بنگر زغلمان محمد
    اب آپ غور کریں کہ جس شخص نے بچپن سے لے کر وفات تک اپنی عمر کی ہر ساعت اور ہر لمحہ کو اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کے جلال کے اظہار اور اس کے کلام کی اشاعت اور رسول کریم ~صل۲~ کی محبت اور آپ کے دین کی اطاعت اور آپ کی دلائی ہوئی شریعت کے استحکام مین خرچ کر دیا ہو اور اپنوں اور بیگانوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی عزت کی حفاظت کے لیے اپنا دشمن بنا لیا ہو اور اپنا ہر ذرہ اسلام کی خدمت میں لگا دیا ہو` کیا ایسا شخص گمراہ اور ضال اور مفسد اور دجال ہو سکتا ہے- اگر یہ اعمال مفسدانہ ہیں اگر اس قسم کا عشق کفر کی علامت ہے اگر ایسی محبت رسول گمراہی کا نشان ہے تو نجدا
    یہ گمراہی خدا مجھے ساری کرے نصیب
    یہ کفر مجھ کو بخش دے سارے جہان کا
    اللہ تعالیٰ گواہ ہے اور اس کا کلام گواہ ہے اور اس کا رسول گواہ ہے اور عقل سلیم گواہ ہے کہ ایسا شخص ہرگز ہرگز گمراہ اور جھوٹا نہیں ہو سکتا` اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا اس قدر عشق اور اس کی اس قدر اطاعت اور فرمانبرداری اور ان کے احکام کی اشاعت کے لیے اس قدر کوشش کر کے اور ان کے لیے پہلوں اور پچھلوں سے زیادہ غیرت دکھا کر بھی کوئی شخص کذاب و دجال ہی بنتا ہے تو دنیا کے پردے پر کبھی کوئی شخص ہدایت کا مستحق نہیں ہوا اور نہ آئندہ ہو گا-
    ‏Dawat25
    بارھویں دلیل
    آپ کی قوت احیاء
    بارھویں دلیل کے طور پر میں حضرت اقدس کی قوت احیاء کو پیش کرتا ہوں اور یہ دلیل بھی ماسبق دلائل کی طرح ہزاروں دلائل کا مجمورہ ہے اس وقت مسلمانوں کا مسیحیوں کی طرح یہ خیال ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام جسمانی مردوں کو زندگ کیا کرتے تھے مگر جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں یہ خیال قرآن کریم کی تعلیم کی رو سے شرک ہے اور ایمان کو ضائع کرنیوالا ہے مگر اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ حضرت مسیح باقی انبیاء کی طرح ضرور مردے زندہ کیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ کا کلام اس پر گواہ ہے اور اس کا منکر الل عتالیٰ کے کلام کا منکر ہے یہ مردے روحانی مردے ہوتے تھے اور درحقیقت انہیں مردوں کے احیاء کے لیے انبیاء آیا کرتے ہیں اور کوئی نبی نہیں گزرا جس نے اس قسم کے مردے زندہ نہ کئے ہوں- آدم سے لے کر آنحضرت ~صل۲~ تک کل انبیاء اسی غرض کے لیے معبوث کئے گئے تھے کہ مردوں کو زندہ کریں اور اولوالعزم انبیاء کی صداقت پرکھنے کا ایک معیار یہ بھی ہے کہ ان کے ہاتھوں سے مردے زندہ ہوں اور اگر یہ معجزہ نہ دکھا سکے تو اس کا دعویٰ نبوت ضرور مشکوک ہو جاتا ہے اور جو شخص اس قسم کے مردے زندہ کر کے دکھادے وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کا فرستادہ ہے کیونکہ یہ احیاء بغیر اذن اللہ کے نہیں ہو سکتا اور جسے اذن اللہ حاصل ہو گیا اس کے سچے ہونے میں کیا شک رہا-
    اے بادشاہ! یہ نشان حضرت اقدس کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ نے اس کثرت سے ظاہر کیا ہے کہ نبی کریم ~صل۲~ کے بعد اور کسی نبی کی تاریخ اور اس کے حالات سے اس وضاحت کے ساتھ اس نشان کے ظہور کا پتہ نہیں چلتا` واللہ اعلم بالصواب- حضرت اقدس اس وقت دنیا میں تشریف لائے تھے جس وقت نہ صرف روحانی موت ہی دنیا پر طاری تھی بلکہ مرے ہوئے لوگوں کو اس قدر عرصہ ہو گیا تھا کہ جسم گل سڑ گئے تھے اور افتاق شروع ہو گیا تھا` یہ ایسی سخت موت تھی کہ اس موت کی حسرتناک حالت سے تمام انبیاء علیہم السلام لوگوں کو ڈراتے آئے ہیں چنانچہ رسول کریم ~صل۲~ فرماتے ہیں- انہ لہ نبی بعد نوح الا قد انذ رالدجال قومہ وانی انذر رکموہ )ترمذی ابواب الفتن( یعنی حضرت نوح کے بعد کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے دجال کے فتنہ سے اپنی قوم کو نہ ڈرایا ہو اور میں بھی تم کو اس سے ڈراتا ہوں- پس دجالی فتنے سے مارے ہوئے لوگوں سے زیادہ زندگی سے دور دوسرے مردے نہیں ہو سکتے اور ایسے امیدوں کی حد سے گزرے ہوئے مردوں کا زندہ کرنا درحقیقت ایک بہت بڑا مشکل کام تھا مگر آپ نے یہ کام کیا اور ہزاروں لاکھوں مردے زندہ کر کے دکھا دئیے اور ایک ایسی جماعت پیدا کر دی جس کی نظیر رسول کریم ~صل۲~ کی جماعت کو مستثنی کر کے دوسری جماعتوں میں نہیں ملتی- حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تعلقات اپنی قوم کے ساتھ سیاسی بھی تھے اس لئے ان کی ساری قوم ان پر ایمان لا کر ہی ان کے ساتھ نہ تھی` بلکہ بہت سے لوگ سیاسی حالات کو مدنظر رکھ کر ان کے ساتھ چلنے پر مجبور تھے جو لوگ ان پر ایمان لاکر ان کے ساتھ ہوئے ان کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے- فما امن لموسی الا ذریہ من قومہ )یونس ع۹(84: یعنی موسی کی اطاعت نہیں کی مگر ان کی قوم کے کچھ نوجوانوں نے یہ تو قیام مصر کا حال تھا` مصر سے نکل کر بھی اکثر حصہ آپ کی قوم کا آپ کی صداقت کا دل سے قائل نہ تھا ہاں سیاستاً آپ کے ساتھ تھا` چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ موسیٰ کی قوم کے ایک حصہ نے خروج مصر کے بعد ان سے کہا یموسی لن نومن لک حتی نری اللہ جھرہ فاخذتکم الصعقہ وانتم تنظرون )بقرہ ع۶(56: اے موسیٰ! ہم تیری بات ہرگز نہ مانیں گے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں- پس تم کو عذاب الٰہی نے پکڑ لیا- در آنحالیکہ تم دیکھ رہے تھے اسی طرح قرآن کریم سے بھی معلوم ہوتا ہے اور انجیلوں اور تاریخوں سے بھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ر بھی بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے اور ان میں سے جو مخلص تھے اور جنہوں نے حقیقی زندگی پائی تھی وہ تو بہت ہی کم تھے` لیکم حضرت اقدس علیہ السلام چونکہ رسول کریم ~صل۲~ کے فیوض روحانیہ کے جاری کرنے اور آپ کی برکات کو دنیا میں پھیلانے کے لیے آئے تھے اور مسیح محمدی کا مقام بلند رکھتے تھے آپ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے بہت سے مردے زندہ کئے اور ایسے مردے زندہ کئے کہ اگر ان پر چشمہ محمدیہ کا پانی نہ چھڑکا جاتا تو ان کے جینے کی کوئی امید ہی نہیں ہو سکتی تھی-
    کیا یہ عجیب بات نہیں کہ اس زمانے میں جبکہ چاروں طرف بدعات اور رسوم اور دنیا طلبی اور فسق اور دین سے نفرت اور کلام الٰہی سے بے پروائی اور شرائع کی ہتک اور اعمال صالحہ سے غنا اور دعا سے بے توجہی اور غیرت دینی کی کمی نظر آرہی ہے حضرت اقدس نے ایک ایسی جماعت پیدا کر دی ہے جو باوجود تعلیم یافتہ ہونے کے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اس کے ملائکہ اور دعا اور معجزات اور کلام الٰہی اور حشر اور نشر اور جنت اور دوزخ پر پورا یقین رکھتی ہے اور شریعت اسلام کی حت الوسع پابند ہے اور اس جماعت میں تلاش سے ہی کوئی آدمی ایسا ملے گا جو نمازوں کی ادائیگی میں تفافل کرتا ہو اور یہ جو کچھ کمی ہے یہ بھی ابتدائی حالت کا نتیجہ ہے اور آہستہ آہستہ دور ہو رہی ہے کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جبکہ کالجوں کے طالب علم اور تعلیم جدید کے دلدادہ دین سے بکلی متنفر ہیں اور دین کو صرف سیاسی اجتماع کا ذریعہ خیال کرتے ہیں- حضرت اقدس کے ذریعے سے ایک ایسی جماعت نو تعلیم یافتہ لوگوں کی تیار ہوئی ہے اور ہو رہی ہے جس کی سجدہ گاہیں آنسوئوں سے تر ہو جاتی ہیں اور جس کے سینے گریہ وبکا کے جوش سے ہانڈی کی طرح ابلتے ہیں اور جو اشاعت اسلام اور اعلائے کلمہ اسلام کو تمام سیاسی ترقیات اور حصول جاہ پر مقدم کر کے ماسوی کو اس پر قربان کر رہی ہے اس میں بہت سے دنیا کما سکتے ہیں` مگر خدا کے دین کو کمزور دیکھ کر اور علمی جہاد کی ضرورت محسوس کر کے تمام امنگوں پر لات مار کر دین کی خدمت میں لگ گئے ہیں اور قلیل کوکثیر پر ترجیح دے رہے ہیں اور فاقہ کشی کو سیر شکمی سے زیادہ پسند کرتے ہیں ان کی زبانوں پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا نام ہے ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت ہے اور ان کے اعمال اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی عظمت کو ظاہر کر رہے ہیں اور ان کے چہروں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا عشق ٹپک رہا ہے وہ اسی دنیا میں بستے ہیں اور ان کے کان آزادی کی آوازوں سے ناآشنا نہیں` ان کے دماغ آزادی کے خیالات سے ناواقف نہیں` ان کی انکھیں آزادی کے جدوجہد کے دیکھنے سے قاصر نہیں انہوں نے یہ دیکھا کہ اسلام اس وقت اس قدر ازادی کا محتاج نہیں جس قدر کہ غلامی کا- دجالی فتنے نے جو نقصان اسلام کو پہنچایا ہے- وہ اس وسیع انتظام کے ذریعہ پہنجایا ہے جو اس نے اسلام کی بیخ کنی کے لئے اختیار کیا تھا اور یہ کہ اسلام کی ترقی اس وقت صرف ایک بات چاہتی ہے کہ سب لوگ اللہ تعالیٰ کے ہو کر ایک جھنڈے کے نیچے آجائیں- بڑے اور چھوٹے امیر اور غریب عالم اور جاہل اپنی اپنی تمام طاقتوں کو ایک جگہ لا کر رکھ دیں اور ایک ہاتھ پر جمع ہو جائیں تا مشترکہ طور پر کفر وفساد کا مقابلہ کیا جائے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم اور اسلام کے مفاد کو اپنے خیالات پر ترجیح دی اور زمانے کے اثرات سے متاثر ہونے سے انکار کر دیا اور اپنے ہاتھ سے اپنے گلوں میں اطاعت کی رسی ڈال لی اور خوشی سے اس امر کے لئے تیار ہو گئے- کہ اسلام کی بہتری کو مدنظر رکھ کر جس طرف اور جدھر بھی وہ ہاتھ اشارہ کرے` جس پر وہ جمع ہو گئے ہیں` وہ بلاغزر اور بلا حیلہ ادھر کو چل دیں گے اور کسی قربانی سے دریغ نہ کریں گے اور کسی تکلیف کو خیال میں نہ لائیں گے اور یہی نہیں کہ انہوں نے منہ سے یہ اقرار کیا بلکہ عملاً اسی طرح کر کے بھی دکھایا اور اس وقت ان میں سے کئے اپنے وطنوں سے دور` اپنے بیوی بچوں سے دور` روپیہ کے لئے نہیں بلکہ سخت مالی اور جانی تکلیف اٹھا کر خلیفہ وقت کی اطاعت میں اشاعت اسلام کر رہے ہیں اور بہت ہیں جو اس انتظار میں ہیں کہ کب ان کو حکم ملتا ہے کہ وہ بھی سب دنیاوی علاقوں کو توڑ کر اللہ تعالیٰ کے جلال کے اظہار کے لئے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوں- منھم من تضی نحبہ ومنھم من ینتظر فجزا ھم اللہ عنا احسن الجزائ-
    وہ اللہ تعالیٰ کے لیے مارے پیٹے جاتے ہیں اور گھروں سے نکالے جاتے ہیں اور ان کو گالیاں دی جاتی ہیں اور حقیر سمجھا جاتا ہے مگر وہ سب کچھ برداشت کرتے ہیں` کیونکہ ان کے دل منور ہو گئے اور ان کی باطنی آنکھیں کھل گئی ہیں اور انہوں نے وہ کچھ دیکھ لیا جو دوسروں نے نہیں دیکھا وہ ماریں کھاتے ہیں مگر دوسروں کی خیر خواہی کرتے ہیں- ذلیل کئے جاتے ہیں لیکن دوسروں کے لیے عزت چاہتے ہیں-
    وہ کون ہے جو اس وقت اسلام کی حفاظت اور اس کی اشاعت کے لیے امریکہ میں تنہا لڑ رہا ہے اور گو ایک وسیع سمندر میں ایک بلبلے کی طرح پڑا ہوا ہے مگر اس کا دل نہیں گھبراتا وہ ایک مردہ تھا جسے مسیح محمدی نے اپنے ہاتھ سے زندہ کیا ہے اور وہ اس لیے تن تنہا امریکہ کو اسلام کے خلقہ غلامی میں لانے کے لئے کوشاں ہے کہ وہ جانتا ہے کہ ایک زندہ کروڑوں مردوں پر بھاری ہے-
    وہ کون ہیں جو انگلستان میں اشاعت اسلام کر رہے ہیں- وہ یہی مسیح محمدی کے زندہ کئے ہوئے لوگ ہیں اور گو جسمانی طور پر انگلستان نے ہندوستان کو فتح کر لیا ہے مگر وہ یہ جانتے ہیں کہ انگلستان کی روح مر چکی ہے وہ خدا سے دور جا پڑا ہے وہ اس زندگی کے پانی کی بوتلیں لے کر جس سے مسیح نے ان کو زندہ کیا ہے دوسروں کے زندہ کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے ہیں` انگلستان کا اقبال` اس کی دولت` اس کی حکومت ان کو ڈراتی نہیں کیونکہ ان کو یقین ہے کہ وہ زندہ ہیں اور انگلستان مردہ- پھر زندہ مردے سے کیا ڈرے اور اس سے کیوں گھبرائے-
    مغربی افریقہ کا ساحل جہاں مسیحیت نے اپنے پائوں پھیلانے شروع کئے تھے اور لاکھوں آدمیوں کو مسیح بنا لیا تھا اور ایک آدمی کی پرستش کے لئے لوگ جمع کئے جا رہے تھے وہان کون واحد خدا کے نام کو بلند کرنے کے لیے گیا اور شرک کی توپ کے آگے سینہ سپر ہوا- وہی مسیح موعود کے نفع سے زندہ ہونے والے لوگ جو اس وقت اسلام کی حفاظت کے لیے کھڑے ہوئے جب لوگ اسلام کی موت کا یقین کر بیٹھے تھے اور اس کے اثر کو مٹتا ہوا دیکھنے لگے تھے-
    کس نے ماریشس کی طرف توجہ کی اور اس ایک طرف پڑے ہوئے جزیرے کے باشندوں کو زندگی بخشنے کا کام اپنے ذمہ لیا` کس نے لنکا کو جو نہایت قدیم تاریخی روایات کا مقام ہے جا کر اپنی آواز سے چونکائا` کون روس اور افغانستان کے لوگوں کو زندگی کی نعمت بخشنے کے لئے گیا یہی مسیح موعود کے زندہ کئے ہوئے لوگ-
    کیا یہ زندگی کی علامت نہیں کہ چالیس کروڑ مسلمانوں میں سے کوئی نظر نہیں آتا جو تبلیع اسلام اور اشاعت دین کے لئے اپنے گھر سے نکلا ہو` لیکن ایک مٹھی بھر احمدیوں میں سے سینکڑوں اس کام پر لگے ہوئے ہیں اور ان ممالک میں تبلیغ کر رہے ہین اور ان لوگوں کو مسلمان بنا رہے ہیں جن کی نسبت خیال بھی نہیں کیا جاتا تھا کہ وہ کبھی اسلام کا نام بھی سنیں گے-
    اگر اس جماعت کے افراد میں نئی زندگی نہیں پیدا ہوئی تو انہوں نے دنیا کا نقشہ کس طرح بدل دیا اور ان میں تن تنہا ملکوں کا مقابلہ کرنے کی جرات کیونکر پیدا ہوئی اور کس امر نے ان کو مجبور کیا کہ وہ وطن چھوڑ کر بے وطنی میں دھکے کھاتے پھریں` کیا ان کے ماں باپ نہیں` ان کی بیویاں بچے نہیں` ان کے بہن بھائی نہیں` ان کے دوست آشنا نہیں` ان کو اور کوئی کام نہیں؟ پھر کس چیز نے ان کو دنیا سے ہٹا کر دین کی طرف لگا دیا` اسی بات نے کہ انہوں نے زندگی کی روح پائی اور مردہ چیزوں کو اس زندہ خدا کے لیے جو سب زندگیوں کا سرچشمہ ہے چھوڑ دیا وہ ان میں سما گیا اور وہ اس میں سما گئے- فتبارک اللہ احسن الخالقین- )المومنون (15:
    میں نے مسیح موعود کی جو زندگی بخش طاقت لکھی ہے یہ مشتبہ رہے گی اگر میں اس زندگی کے اثر کو بیان نہ کروں جو حقیقی معیار حیات ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت اقدس نے اپنی قوت احیاء میں ایسی زندگی لوگوں کے دلوں میں پیدا کی کہ بہت سے ان مین سے نہ صرف زندہ ہی ہوئے بلکہ ان کو بھی احیاء موتی کی طاقت دی گئی` اگر یہ طاقت آپ کے ذریعے اوروں کو نہ ملتی تو یہ شبہ رہتا کہ شاید آپ کے دماغ کی بناوٹ ہی ایسی ہے کہ آپ پر وہ علوم کھولے جاتے ہیں جو آپ بیان کرتے ہیں اور آپ وہ نظارے دیکھ لیتے ہیں جو اپنے وقت پر پورے ہو جاتے ہیں اور آپ کی توجہ میں وہ تاثیر پیدا ہو گئی ہے جس سے آپ کی خواہشات برنگ دعا پوری ہو جاتی ہیں مگر نہیں آپ اس خزانے کو اپنے ساتھ ہی نہیں لے گئے بلکہ جو لوگ سچے طور پر آپ کے ساتھ تعلق کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اپنے علوم کی بارش دلوں پر نازل کرتا ہے اور اس وقت آپ کی جماعت میں سے بہت سے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مطالب قرآن کریم کے بیان کرنے میں ایک تیز رو گھوڑے سے زیادہ تیز ہیں اور جن کے بیان میں وہ تاثیر ہے کہ شکوک وشبہات کی رسیاں ان کی ایک ہی ضرب سے کٹ جاتی ہیں وہ قرآن جو لوگوں کے لیے ایک سر بمہر لفافہ تھا ہمارے لئے کھلی کتاب ہے- اس کی مشکلات ہمارے لئے آسان کی جاتی ہیں اور اس کی باریکیاں ہمارے لئے ظاہر کر دی جاتی ہیں` کوئی دنیا کا مذہب یا خیال نہیں جو اسلام کے خلاف ہو اور جسے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم صرف قرآن کریم کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہ کر دیں اور کوئی آیت ایسی نہیں جس پر کسی علم کے ذریعے سے کوء اعتراض وارد ہوتا ہو اور اللہ تعالیٰ کی مخفی وحی ہمیں اس کے جواب سے آگاہ نہ کر دے-
    اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام یا کشوف کا ہونا بھی آپ تک محدود نہیں رہا بلکہ آپ کے ذریعے زندہ ہونے والکوں میں سے بہت ہیں جن کو اللہ تعالیٰ الہام کرتا ہے اور رویا دکھاتا ہے جو اپنے وقت پر پوری ہو کر ان کے اور ان کے دوستوں کے ایمان کو تازہ کرنیوالی ہوتی ہین وہ ان سے کلام کرتا ہے اور ان پر اپنی مرضی کی راہیں کھولتا ہے جس سے ان کو تقویٰ کے راستوں پر چلنے میں مدد ملتی ہے اور ان کا دل قوی ہوتا ہے اور حوصلہ بڑھتا ہے-
    دعائوں کی قبولیت اور نصرت الٰہیہ کے نزول کے معاملہ میں بھی حضرت اقد کا فیض جاری ہے اور آپ کے ذریعے سے زندہ ہونے والے لوگ اس زندگی بخش طاقت کو اپنے اندر محسوس کرتے ہیں- اللہ تعالیٰ اس جماعت کے اکثر افراد کی دعائین دوسرے لوگوں سے زیادہ سنتا ہے اور اپنی نصرت ان کے لیے نازل کرتا ہے اور ان کے دشمنوں کو ہلاک کرتا ہے اور ان کی محنتوں کے اعلیٰ ثمرات پیدا کرتا ہے اور ان کو اکیلا نہیں چھوڑتا اور ان کے لیے غیرت دکھاتا ہے-
    غرض حضرت اقدس نے نہ صرف مردے ہی زندہ کئے بلکہ ایسے لوگ پیدا کر دئیے جو خود بھی مردے زندہ کرنے والے ہیں اور یہ کام سوائے ان بزرگ انبیاء علیہم السلام کے جو اللہ تعالیٰ کے خاص پیارے ہوتے ہیں اور کوئی نہیں کر سکتا اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ یہ سب فیض آپ کو رسول کریم ~صل۲~ سے ملا اور آپ کا کام درحقیقت رسول کریم ~صل۲~ کا ہی کام تھا- کل برکہ من محمد صلی اللہ علیہ وسلم فتبارک من علم وتعلم ]ttex [tag )الہام حضرت مسیح موعود(
    تتملہ
    میں سمجھتا ہوح کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام کی صداقت کے ثابت کرنے کے لئے یہ بارہ دلائل جو میں نے بیان کئے ہیں کافی ہیں اور جو کوئی شخص بھی ان پر حق کو پالینے کی نیت سے غور کرے گا وہ حق الیقین تک پہنچ جائے گا کہ حضرت اقدس اللہ تعالیٰ کے مسیح اور اس کے مامور اور مرسل ہیں اور یہ کہ اب کسی اور مسیح کا انتظار فضول ہے اور پیاسوں کی طرح آپ پر ایمان لانے کے لئے دوڑے گا- اس سلک میں پروئے جانے کو اپنے لئے موجب فلاح سمجھے گا جسے مسیح موعود علیہ السلام نے تیار کیا ہے-
    ایک مسلمان کہلانے والے شخص کے لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی شہادت سے زیادہ کس چیز کی قیمت ہو سکتی ہے اور جیسا کہ میں بیان کر آیا ہوں حضرت اقدس علیہ السلام کے دعوے کے متعلق اللہ تعالیٰ کی شہادتیں بھی موجود ہیں اور اس کے رسول کی شہادتیں بھی موجود ہیں بلکہ ہر ایک نبی کی جس کا کلام محفوظ ہے آپ کے صدق دعوی پر شہادت موجود ہے عقل کہتی ہے کہ اس زمانے میں ایک مصلح آنا چاہئیے- رسول کریم ~صل۲~ نے جو علامات مسیح موعود اور مہدی معہود کی بیان فرمائی تھیں وہ پوری ہو چکی ہیں آپ کی پاک زندگی آپ کے دعوے پر شاہد ہے جن دشمنان اسلام کا مقابلہ کرنے کے لیے مسیح موعود کو آنا تھا اور جس رنگ میں ان کو شکست دینی تھی وہ دشمن اس وقت موجود ہیں اور مسیح موعود نے ان کو شکست دے دی ہے مسلمانوں کے اندرونی فسادات اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ ان سے بڑھ کر قرآن کریم کی موجودگی میں فساد کا پیدا ہونا ناممکن ہے اور ان کی اصلاح بھی اعلیٰ سے اعلیٰ طریق پر حضرت اقدس نے کر دی ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ عمر بھر ایسا معاملہ کیا جو وہ اپنے رسولوں اور پیاروں سے کرتا ہے ہر میدان میں آپ کو فتح دی اور ہر شر سے آپ کو بچایا- آپ کے دشمنوں کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوا جو ماموروں اور مرسلوں کے دشمنوں کے ساتھ ہوا کرتا ہے قانون قدرت تک کو اس نے آپ کی خدمت میں اور زمین وآسمان کو آپ کی تائید میں لگا دیا- علوم قرآنیہ کے دروازے آپ پر کھول دئیے اور علوم قرآنیہ کی اشاعت کے ذرائع آپ کے لئے مہیا کر دئیے حتی کہ آپ نے ان لوگوں کو جو علم وفضل کی کان سمجھے جاتے تھے اپنے مقابلہ کے لئے بلایا مگر کوئی آپ کے مقابلہ پر نہ آسکا اور معجزانہ طور پر آپ کا کلام غالب رہا اور لا یمسمہ الا لمطھرون )سورہ واقعہ ع۳( کے وعدہ الٰہی نے آپ کی صداقت پر گواہی دی- پھر آپ پر غیب کا دروازہ کھولا گیا اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہزاروں امور غیبیہ پر اطلاع دی جو اپنے وقت پر پورے ہو کر جلال الٰہیہ کو ظاہر کرنے کا موجب ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ اموغیبیہ پر کثرت سے سوائے اپنے رسولوں کے کسی کو مطلع نہیں فرماتا` آپ نے اپنی تمام عمر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت میں صرف کر دی اور ایسے شخص اللہ تعالیٰ کی درگاہ سے دھتکارے نہیں جاتے- آپ نے ایک پاک اور کارکن جماعت پیدا کر دی ہے جس میں سے ایک گروہ ایسا ہے جس کا اللہ تعالیٰ سے کاص تعلق ہے اور جو دوسرے لوگوں کو زندہ کرنے اور روہانی امور کے کھولنے کی قابلیت رکھتا ہے- دین پر فدا ہے اور دنیاوی علائق سے جدا- اسلام کا غمخوار ہے اور ماسوار سے بیزار- پس باوجود ان سب شواہد کے آپ کے دعوی کو قبول نہ کرنا اور آپ پر ایمان نہ لانا کسی طرح درست اور اللہ تعالیٰ کی نظروں میں پسندیدہ نہیں ہو سکتا اور درحقیقت وہ شخص جو اسلام سے محبت رکھتا ہو اور رسول کریم ~صل۲~ کا عاشق ہو اور اپنے ذاتی مفاد پر اسلام کے فوائد کو مقدم رکھتا ہو اس سے یہ امید ہی نہیں کی جا سکتی کہ اس وضاحت کے بعد خاموش رہے اور حق کے قبول کرنے میں دیر لگائے اگر یہ دلائل جو اوپر بیان ہوئے آپ کی صداقت کو ثابت نہیں کرتے تو پھر اور کون سے دلائل ہیں جن کے ذریعے سے پہلے انبیاء کی صداقت ثابت ہوئی اور جن کی وجہ سے نبیوں پر ایمان لایا جاتا ہے اگر ان سے بڑھ کر بلکہ سوائے رسول کریم ~صل۲~ کے باقی سب نبیوں کے متعلق اس قدر بھی دلائل نہیں ملتے جتنے اوپر بیان ہوئے تو پھر کیا وجہ ہے کہ ان پر ایمان لایا جاتا ہے اگر ایمان صرف ماں باپ سے سنی سنائی باتوں کو دہرا دینے کا نام نہیں بلکہ تحقیق وتدقیق کر کے کسی بات کو ماننے کا نام ہے تو پھر دو باتوں میں سے ایک ضرور اختیار کرنی پڑے گی` یا تو سب نبیوں کا انکار کرنا ہو گا یا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے کو تسلیم کرنا پڑے گا اور میں اے بادشاہ! آپ جیسے فہیم اور ذکی فرمانروا سے یہی امید کرتا ہوں کہ آپ موخر الازکر طریق کو اختیار کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے فرستادہ کو جو نبی کریم ~صل۲~ کی صداقت کے اظہار اور اسلام کو غالب کرنے اور مسلمان کہلانے والوں کو پھر مسلمان بنانے کے لئے آیا ہے قبول کرنے میں دیر نہیں کریں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کو قبول کرنا اس کے ارادے کے مطابق بہت سی برکات کا موجب ہوتا ہے اور اس کے منشاء کے خلاف کھڑا ہو جانا کبھی بھی بابرکت نہیں ہوتا-
    اسلام کی حالت اس وقت قابل رحم ہے اور ممکن نہیں کہ جو شخص اس دین سے سچی محبت رکھتا ہو اس کا دل اس کی ہالت کو دیکھ کر اس وقت تک خوش ہو سکے جب تک وہ اس کی کامیابی کے لیے سامان بہم نہ پہنچائے اور اسے ہر قسم کے خطرات سے محفوظ نہ دیکھ لے- دشمن تو اس کی عداوت میں اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ ان کو اس میں کوئی خوبی ہی نظر نہیں آتی` سر سے پا تک عیب ہی عیب نکالتے ہیں` جو دوست کہلاتے ہیں وہ بھی یا تو دل سے اس سے متنفر ہیں یا اس کی طرف ان کو کوئی توجہ نہیں- اسلام ان کی زبانوں پر ہے مگر حلق سے نیچے نہیں اترتا` ان کی تمام تر توجہ سیاسیات کی طرف ہے اگر کوئی ملک ہاتھ سے نکل جائے تو وہ زمین وآسمان کو سر پر اٹھا لیتے ہیں` لیکن اگر ہزاروں لاکھوں آدمی اسلام کو چھوڑ کر مسیح یا ہندو ہو جائیں تو ان کو کچھ پروا نہیں- دنیاوی مفاد حاصل کرنے کے لیے تو ان میں والنٹیروں کی کوئی کمی نہیں` لیکن اشاعت دین کے لیے ان میں سے ایک بھی باہر نہیں نکلتا- ¶سلطان ٹرکی کی خلافت کا اگر کوئی منکر ہو تو ان کی تن بدن میں اگ لگ جاتی ہے لیکن رسول کریم کی رسالت کو رد کر دے تو ان کی غیر جوش میں نہیں آتی اور یہ ہالت ان کی دن بدن بڑھتی جاتی ہے- ہندوستان کی تو اب یہ حالت ہے کہ غیر مذاہب کے لوگوں میں تبلیغ کرنا تو دور کی بات ہے ان کی طرف سے اسلام پر جو حملے ہوتے ہیں اگر ان کا بھی جواب دیا جائے تو خود مسلمان کہلانے والے لوگ گلوگیر ہو جاتے ہیں اور اسے مصلحت وقت کے خلاف بتاتے ہیں` غرض اسلام ایک ردی شے کی طرح گھروں سے نکال کر پھینک دیا گیا ہے اور صرف اس کا نام سیاسی فوادء کے حصول کے لیے رکھ لیا گیا ہے اس حالت کو دور کرنے اور اسلام کو مصیبت سے بجانے کے لیے صرف ایک ہی ذریعہ ہے کہ مسیح موعود کو قبول کیا جائے اور اس کے دامن سے اپنے آپ کو وابستہ کیا جائے بغیر اس کے سایہ میں آنے کے ترقی کا کوئی راستہ کھلا نہیں- اب تلوار کا جہاد اسلام کے لئے مفید نہیں ہو سکتا` جب تک ایمان درست نہ ہونگے اور اسکام کا صحیح مفہوم لوگ نہ سمجھیں گے اور پھر اللہ تعالیٰ کی رسی کو سب کے سب مضبوط نہ پکڑ لیں گے اسلام کی ترقی کے سامان پیدا نہیں ہو سکتے- دنیا نے رسول کریم ~صل۲~ پر اعتراض کیا تھا کہ آپ نے نعوذ باللہ تلوار کے ساتھ اسلام کی اشاعت کی تھی ورنہ دل پر اثر کرنے والے دلائل آپ کے پاس موجود نہ تھے اور خود مسلمان اس اعتراض کی تائید کرتے تھے اب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس اعتراض کو اپنے رسول سے دور کرے اور اس نے اس غرض سے رسول کریم کی امت میں سے یک شخص کو مسیح کر کے بھیجا ہے تا اس کے ذریعے براہین اور دلائل کی تلوار سے دشمن کو مغلوب کرے اور اسلام کو غالب` تا دنیا کو معلوم ہو کہ جو کام ایک خادم کر سکتا ہے آقا اس کو بدرجہ اولی کر سکتا تھا اب اس ذریعہ کے سوا اسلام کی مدد کا اور کوئی طریق نہیں- اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ رسول کریم ~صل۲~ کے دشمنوں کو آپ کی غلامی میں داخل کرے اور اس کا ایک ہی طریق ہے کہ اس سچے اسلام کو جو مسیح موعود لایا ہے اس صحیح طریق سے جو مسیح موعود نے بتایا ہے اس خالص ایمان کے ساتھ جو مسیح موعود نے دلوں میں پیدا کیا ہے دنیا کے سامنے پیش کیا جائے اور بھولے بھٹکوں کو راہ راست پر لایا جائے اگر اللہ تعالیٰ کا منشاء ہوتا کہ کسی اور ذریعے سے اسلام کو ترقی دے تو وہ پہلے سب راستوں کو بند کیوں کرتا؟ پس مسیح موعود سے دور رہنا گویا اسلام کی ترقی میں روک پیدا کرنا ہے اور دشمنوں کو موقعہ دینا ہے کہ وہ رسول پاک پر حملے کریں اور آپ کی عزت پر تیر اندازی کریں جسے کوئی باغیرت مسلمان گوارا نہیں کر سکتا-
    رسول کریم ~صل۲~ فرماتے ہیں کہ وہ امت کس طرح ہلاک ہو سکتی ہے جس کے ایک طرف میں ہوں اور دوسری طرف مسیح موعود- جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی شخص کا ایمان محفوظ رہ سکتا ہے جو ان دونوں دیواروں کے اندر آجائے پس مسیح موعود کے نازل ہو جانے کے بعد جو اس پر ایمان نہیں لاتا وہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت سے باہر ہے اور جو مسیح موعود کے راستے میں روک بنتا ہے وہ درحقیقت اسلام کا دشمن ہے اور اسلام کی ترقی اس کو نہیں بھاتی- ورنہ وہ اس دیوار کے قائم ہونے میں کیوں روک ڈالتا` جس کے ذریعے سے اسلام محفوظ ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے قہر کی تلوار کے نیچے ہے بہتر ہوتا کہ اس کی ماں اس کو نہ جنتی اور وہ مٹی رہتا- اس نحس دن کو نہ دیکھتا-
    اے بادشا! مسیح موعود کی آمد کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے بڑے بڑے وعدے وابستہ ہیں اس کے ذریعے سے اسلام کو ایک نئی زندگی دی جائے گی- جس طرح ایک خشک درخت زور کی بارش سے جو وقت پر پڑتی ہے ہرا ہو جاتا ہے اسی طرح مسیح موعود کی آمد سے اسلام سرسبز وشاداب ہو گا اور ایک نئی طاقت اور نئی روح ان لوگوں کو دی جائے گی جو مسیح موعود پر ایمان لائیں گے` اللہ تعالیٰ نے دیر تک صبر کیا اور خاموش رہا- مگر اب وہ خاموش نہیں رہے گا وہ کبھی اس امر کی اجازت نہیں دے گا کہ اس کے بندے کو اس کا شریک بنایا جائے` اس کا بیٹا قرار دیکر یا آسمان پر زندہ مان کر یا مردے زندہ کرنیوالا اور نئی مخلوق پیدا کرنیوالا قرار دیکر- وہ رحم کرنیوالا ہے مگر غیرت مند بھی ہے- اس نے دیر تک انتظار کیا کہ اس کی پاک کتاب کی طرف لوگ کب توجہ کرتے ہیں مگر مسلمانوں نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا` وہ اور لغویات کی طرف متوجہ ہو گئے مگر اللہ تعالیٰ کے کلام کی انہوں نے کجھ قدر نہ کی اور یہ آیت ان کو بھول گئی کہ یا رب ان قومی اتخذو اھذا القران مھجورا )فرقان ع۳(31: پس اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا اور اب وہ اس وقت تک ان کی طرف منہ نہیں کرے گا جب تک وہ اس کے مسیح موعود کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیکر اس بات کا اقرار نہیں کرتے کہ وہ آئندہ اس سے بے توجہی نہیں کریں گے اور اپنی پچھلی غلطیوں کا تدارک کریں گے- لوگوں نے دنیا سے محبت کی مگر اللہ تعالیٰ سے محبت نہ کی- تو اللہ تعالیٰ نے دنیا بھی ان سے لے لی اور ذلت کی ماران پر ماری` انہوں نے مسلمان کہلا کر اللہ تعالیٰ کے محبوب کو تو زمین میں دفن کیا مگر حضرت مسیح کو زندہ آسمان پر جا بٹھایا تو اس نے بھی ان کو زمین پر مسل دیا اور مسیحیوں کو ان کے سر پر لاکر سوار کیا- یہ حالت ان کی نہیں بدل سکتی جب تک کہ وہ اپنی اندرونی اصلاح نہ کریں- طاہری تدابیر آج کجھ کام نہیں دے سکتیں` کیونکہ یہ سب تباہی اللہ تعالیٰ کے غضب کے نتیجے میں ہے جب تک مسلمان اللہ تعالیٰ سے صلح نہیں کریں گے اس وقت تک یہ روز بروز ذلیل ہی ہوتے چلے جائیں گے پس مبارک وہ جو اللہ تعالیٰ سے صلح کرنے کو دوڑتا ہے- یقیناً وہ ذلت سے بجایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کی نصرت اس کے ساتھ ہو گی اور اس کا ہاتھ اس کے آگے اگے ہوگا-
    اے بادشاہ! مسیح موعود کی آمد کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ بہت برا واقع ہے مسیح موعود ہے جسے رسول کریم نے سلام بھیجا ہے اوف فرمایا ہے کہ خواہ سکت سے سخت صعوبتیں اٹھا کر بھی اس کے پاس جانا پڑے تب بھی مسلمانوں کو اس کے پاس جانا چاہئیے اس کی نسبت دنیا کے تمام مذاہب میں پیشگوئیاں پائی جاتی ہیں اور کوئی نبی نہیں جس نے اس کی آمد کی خبر نہ دی ہو- پس جس انسان کی اس قدر نبیوں نے خبر دی ہے اور اپنی امتوں کو اس کی آمد کا منتظر کیا ہے وہ کتنا بڑا انسان ہو گا اور کیسا مبارک ہو گا وہ شخص جس کو اس کا زمانہ مل جائے اور وہ اس کی برکتوں سے حصہ پالے-
    اے بادشاہ! اللہ تعالیٰ کے مامور اور مرسل روز روز نہیں آیا کرتے اور خصوصاً اس قسم کے عالیشان مرسل کہ جس قسم کا مسیح موعود ہے رسول کریم ~صل۲~ سے اور کسی شخص کی نسبت اس قدر بشارت مروی نہیں جس قدر کہ اس کی نسبت- پس اس سے بڑے آدمی کی آمد کی ہمیں امید نہیں ہو سکتی- وہ نبی کریم کی امت کے لیے خاتم الخلفاء ہے اور اس کے بعد قیامت کے زمانے ہی کا انتظار کیا جا سکتا ہے پس اس کے زمانے کا ایک ایک دن قیمتی ہے وہ انسان جو اس کی قدر کو سمجھتا ہے اور اس پر ایمان لا کر اللہ تعالیٰ کی خوشنبودی حاصل کرنا جاہتا ہے کیونکہ وہ اپنی پیدائش کے مقصد کو پا گیا اور عبودیت کا راز اس پر کھل گیا-
    اے بادشاہ! جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مامور آتا ہے تو اس کی جماعت ہمیشہ یکساں حالت میں نہیں رہتی- وہ غریبوں سے شروع ہوتی ہے اور باشاہوں پر جا کر ختم ہوتی ہے اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ جماعت اس علاقے پر قابض ہو جاتی ہے جس کی طرف وہ مامور جس نے اس جماعت کو قائم کیا تھا بھیصجا گیا تھا- پس ہمیشہ یہی حال نہیں رہے گا کہ ہماری جماعت غرباع کی جماعت رہے` بلکہ یہ دن دونی اور رات چوہنی ترقی کرے گی- دنیا کی حکومتیں مل کر بھی اس کی رفتار ترقی کو روک نہیں سکتیں- ایک دن ایسا آئے گا کہ یہ تمام جماعتوں اور فرقوں کو کھا جائے گی جیسا کہ حضرت اقدس کا الہام ہے کہ تیرے ماننے والے قیامت تک تیرے منکروں پر غالب رہیں گے اور جیسا کہ آپ کا الہام کہ وہ لوگوں کو جو آپ کی بیعت میں داخل نہ ہوں گے کم کرتا چلا جائے گا اور ایسا ہو گا کہ دنیا کہ باشاہ آئندہ اسی جماعت میں سے ہوں گے- یہ مغلوب نہیں رہے گی بلکہ غالب آ جائے گی اور مفتوح نہیں رہے گی بلکہ فاتح ہو جائے گی جیسا کہ حصرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ہے کہ >بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے< مگر ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے- ایک ہی کام ایک وقت میں انسان کو بڑی عزت کا وارث بنا دیتا ہے اور دوسرے وقت میں اس کام کو کوئی پوچھتا بھی نہیں- رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ابتداء ایمان لانے والے آج تک دنیا کے سردار بنے ہوئے ہیں لیکن جو اس وقت ایمان لائے جب اسلام کو غلبہ حاصل ہو چکا تھا ان میں سے بہتوں کے نام بھی لوگ نہیں جانتے- پس جو شخص اس وقت کہ یہ جماعت کمزور سمجھی جاتی ہے ایمان لاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سابقون میں لکھا جائے گا اور خاص انعامات کا وارث ہو گا اور عظیم الشان برکات کو دیکھے گا` اگرچہ بہت سا وقت گذر چکا ہے مگر پھر بھی عزت کے دروازق ابھی کھلے ہیں اور اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے ابھی آسان ہے- پس میں آپ کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اس وقت کی قدر کریں اور ربنا اننا سمعنا منادیا ینادی للایمان ان آمنوا بربکم فاما کہتے ہوئے اس آواز پر لبیک کہیں جسے خود اللہ تعالی نے بلند کیا ہے تاکہ آپ اس کے مقبول اور پیارے ہو جائیں-
    میں آپ سے سج سچ کہتا ہوں کہ احمدیت کے باہر اللہ تعالی نہیں مل سکتا` ہر ایک شخص جو اپنے دل کو ٹٹولے گا اسے معلوم ہو جائے گا کہ اس کے دل میں اللہ تعالی اور اس کی باتوں پر وہ یقین اور وثوق نہیں جو قطعی اور یقینی باتوں پر ہونا چاہئے اور نہ وہ اپنے دل میں وہ نور پائے گا جس کے بغیر اللہ تعالی کا چہرہ نظر نہیں آ سکتا- یہ یقین اور وثوق اور یہ نور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام کی جماعت کے باہر کہیں نہیں مل کتا کیونکہ اللہ تعالی چاہتا ہے کہ سب کو ایک نقطے پر جمع کرے مگر کای کوئی شخص جو موت پر نظر رکھتا اس زندگی پر خوش ہو سکتا ہے جو اللہ تعالی سے دوری میں کٹے اور جس میں اللہ تعالی کے نور سے حصہ نہ ملے- پس اس نور کو حاصل کیجئے اور اس یقین کی طرف دوڑیے جو احمدیت ہی میں حاصل ہو سکتا ہے اور جس کے بغیر زندگی بالکل بے مزہ اور بے لطف ہے اوار دوسروں پر سبقت لے جائیے تاکہ آئندہ نسلوں میں بھی آپ کا نام ادب اور احترام کے ساتھ لیا جائے اور زمانے کے آخر تک آپ کے نام پر رحمتیں بھیجنے والے موجود رہیں-
    بیشک اللہ تعالی کے سلسلوں میں داخل ہونے والے انسان بڑے بوجھ کے نیچے دب جاتے ہیں مگر ہر ایک بوجھ تکلیف نہیں دیتا- کیا وہ کسان جو اپنی سال بھی کی کمائی سر پر رکھ کر اپنے گھر لاتا ہے بوجھ محسوس کرتے ہے یا وہ ماں جو اپنا بچہ گود میں اٹھائے پھرتی ہے بوجھ محسوس کرتی ہے؟ اسی طرح اللہ تعالی کی دین کی خدمت میں حصہ لینا اور اس کے لئے کوشش کرنا مومن کے لئے بوجھ نہیں ہوتا` دوسرے اسے پوجھ سمجھتے ہیں مگر وہ اسے عین راحت خیال کرتا ہے- پس ان ذمہ داریوں سں نہ گھبرائیں جو حق کو قبول کرنے سے انسان پر عائد ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد کرتے ہوئے اور محمد رسول اللہ ~صل۲~ کی عنایتوں کو سوچتے ہوئے اس بوجھ کے نیچے اپنا کندھا دے دیجئے` جس کا اٹھانا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے- آپ بادشاہ ہیں` لیکن اللہ تعالیٰ کے حضور آپ اور دوسرے انسان برابر ہیں` جس طرح ان پر خدمت اسلام کا فرض ہے آپ پر بھی فرض ہے اور جس طرح ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے ماموروں کا ماننا ضروری ہے آپ کے لیے بھی ضروری ہے پس اللہ تعالیٰ کے حکموں اور اس کی تقسیموں کو قبول کیجئے- اور اس کے قائم کردہ سلسلے میں داخل ہو کر اللہ تعالیٰ کے انعامات سے حصہ لیجئے کہ ان میں سب سے چھوٹا آپ کی ساری مملکت سے بڑا اور زیادہ قیمتی ہے-
    رسول کریم ~صل۲~ فرماتے ہیں من فارق الجماہ شیرا فلیس منا- پس اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت سے جدا رہنا نہایت خوف کا مقام ہے اور خصوصاً بادشاہوں کے لیے کہ ان پر دوہری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ایک ان کی اپنی اور ایک ان کی رعایا کی` بہت سے نادان دین کے معاملے میں بھی اپنے بادشاہ کی طرف دیکھتے ہیں- پس اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کی غلطیوں کے ذمہ دار ان کے بادشاہ سمجھے جاتے ہیں- جب رسول کریم ~صل۲~ نے قیصر کو خط لکھا تھا تو آپ نے اس کو اسی امر کی طرف توجہ دلا کر حق کو جلد قبول کرنے کی ترغیب دی تھی اور تحریر فرمایا تھا کہ فان تولیت فعلیک اثم الارلیسیین کہ اگر تو نے انکار کر دیا تو تجھ پر زمینداروں کا گناہ بھی ہوگا- پس آپ حق کو قبول کر کے اپنی رعایا کے راستے سے وہ روک ہٹا دیں جو اب آپ کے راستے میں حائل ہے تاکہ اس کے گناہ آپ کو نہ دئیے جائیں بلکہ ان کی نیکیاں آپ کو ملیں کیونکہ جس طرح وہ بادشاہ جو حق کا انکار کر کے دوسروں کے لیے روک بنتا ہے ان کے گناہوں میں شریک قرار دیا جاتا ہے- اسی طرح وہ بادشاہ جو حق کو قبول کر کے دوسروں کے لیے حق کے قبول کرنے کا راستہ کھولتا ہے ان کے ثواب میں شریک کیا جاتا ہے-
    یہ دنیا چند روزہ ہے اور نہ معلوم کہ کون کب تک زندہ رہے گا آخر ہر ایک کو مرنا اور اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے- اس وقت سوائے صہیح عقائد اور صالح اعمال کے اور کچھ کام نہیں آئے گا- غریب بھی اس دنیا سے خالی ہاتھ جاتا ہے اور امیر بھی` نہ بادشاہ اب تک اس دنیا سے کجھ لے گئے نہ غریب- ساتھ جانے والا صرف ایمان ہے یا اعمال صالحہ- پس اللہ تعالیٰ کے مامور پر ایمان لائیے تا اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو امن دیا جائے اور اسلام کی آواز کو قبول کیجئے تا سلامتی سے آپ کو حصہ ملے- میں آج اس فرض کو ادا کر چکا جو مجھ پر تھا- اللہ تعالیٰ کا پیغام میں نے آپ کو پہنچا دیا ہے- اب ماننا نہ ماننا آپ کا کام ہے- ہان مجھے اپ سے امید ضرور ہے کہ آپ میرے خط پر پوری طرح غور کریں گے اور جب اس کو بالکل راست اور درست پائیں گے تو وقت کے مامور پر ایمان لانے مین دریغ نہیں کریں- اللہ تعالیٰ کرے ایسا ہی ہو-
    واخر دعولنا ان الحمد للہ رب العلمین
    ‏Dawat98
    غرض آپ نے ثابت کیا کہ زندہ مذہب میں یہ علامت پائی جانی چاہئیے کہ اس پر عمل کرنے والا خدا تعالیٰ کو پاسکے اور اس کا مقرب ہو سکے اور خدا تعالیٰ کے مقربوں میں اس کا قرب پالینے کے کچھ آثار ہونے چاہئیں- پس چاہئیے کہ ہر مذہب کے لوگ بجائے آپس میں ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے اپنی روحانی زندگی کا ثبوت دیں اور اپنے مقرب خدا ہونے کو واقعات سے ثابت کریں اور ایسے لوگوں کو پیش کریں جنہوں نے ان دینوں پر چل کر خدا سے تعلق پیدا کیا ہو اور اس کے وصال کے پیالے کو پیا ہو، پھر جو مذہب اس معیار کے مطابق سچا ہو اس کو مان لیا جائے ورنہ ایک جسم بے جان سمجھ کر اس کو اپنے سے دور پھینکا جائے کہ وہ دوسرے کو نہیں اٹھا سکتا بلکہ اس کو اٹھانا پڑتا ہے ایسا مذہب بجائے نفع پہنچانے کے نقصان پہنچائے گا اور اس دنیا میں رسوا کرے گا اور اگلے جہان میں عذاب میں مبتلا-
    یہ دعوی آپ کا ایسا تھا کہ کوئی سمجھدار اس کو رد نہیں کر سکتا تھا اس دعوے کے ساتھ ہی غیر مذاہب کے پیروئوں پر بجلی گری اور وہ اپنی عزت کے بچانے کی فکر میں لگ گئے آپ نے بڑے زور سے اعلان کیا کہ اس قسم کی زندگی کے آثار صرف اسلام میں پائے جاتے ہیں دوسرے مذاہب ہرگز اس معیار پر پورے نہیں اتر سکتے- اگر کسی کو اس کے خلاف دعوی ہے تو میرے مقابلے میں آکر دیکھ لے مگر باوجود غیرت دلانے کے کوئی مقابلے پر نہ آیا اور آتا بھی کس طرح؟ کچھ اندر ہوتا تو آتا- گلا پھاڑنے اور چلا چلا کر یہ شور برپا کرنے کے لیے تو ہزاروں لوگ تیار ہو جائیں گے کہ ہمارا مذہب سچا ہے مگر خدا کی محبت اور اس کے تعلق کا ثبوت دینا تو کسی کے اختیار میں نہیں خدا کی محبت تو کیا خدا سے ایک عارضی تعلق بھی جن لوگوں کو نہ ہو وہ خدا کے تعلق کا کیا ثبوت دیں-
    آپ نے ہندوئوں کو بھی ایسی دعوت دی اور مسیحیوں کو بھی اور یہود کو بھی اور دیگر تمام ادیان کو بھی مگر کوئی اس حربے کے برداشت کرنے کے لیے تیار نہ ہوا- مختلف پیرایوں اور مختلف مواقع پر آپ نے لوگوں کو اکسایا مگر صدائے برنخاست- ایک دفعہ پنجاب کے لارڈ بشپ کو آپ نے چیلنج دیا کہ میرے مقابل پر آکر دعا کی قبولت کا نشان دیکھو، تمہاری کتب میں بھی لکھا ہے کہ اگر ایک رائی کے دانے کے برابر تم میں ایمان ہو تو تم پہاڑوں سے کہو کہ چلو تو وہ چلنے لگیں گے اور ہمارے کتب بھی مومنوں کی نصرت اور تائید اور ان کی دعائوں کو قبولیت کا وعدہ دیتی ہیں- پس چاہئیے کہ تم میرے مقابل پر آکر کسی امر کے متعلق دعا کر کے دیکھو تامعلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے والوں کی دعائیں مقابلے کے وقت سنتا ہے یا ان کی دعائیں سنتا ہے جو مسیحی تعلیم پر عمل کرنے والے ہوں مگر باوجود بار بار چیلنج دینے کے لارڈ بشپ صاحب خاموش رہے اور ان کی خاموشی ایسی عجیب معلوم ہوتی تھی کہ بعض انگریزی اخبارات نے بھی ان پر چوٹ کی کہ اس قدر بڑی بڑی تنخواہیں لینے والے پادری جب کوئی مقابلے کا وقت آتا ہے تو سامنے ہو کر مقابلہ کیوں نہیں کرتے مگر نہ غیروں کے چیلنج نے پادری صاحب کو مقابلے پر آمادہ کیا اور نہ اپنوں کے ئعنوں نے- وہ آنوں بہانوں سے اس پیالے کو ٹالتے ہی رہے-
    اس قسم کے چیلنج آپ نے متواتر دشمنان اسلام و دیئے مگر کوئی شخص مقابلے پر نہ آیا- آپ کا یہ حربہ ایسا ہے کہ ہر ذی عقل اور صاحب شعور آدمی پر اس کا اثر ہو گا اور جوں جوں لوگ اپنے مذاہب کے بے اثر ہونے اور اسلام کے زندہ اور موثر ہونے کو دیکھیں گے اسلام کی صداقت ان پر کھلتی جائے گی- کیونکہ مباحثاتت میں انسان باتیں بنا ر حق کو چھپا سکتا ہے مگر مشاہدے اور تاثیر کے مقابلے میں اس سے کوئی عزر نہیں بن سکتا اور آخر دل سچائی کا شکار ہو ہی جاتا ہے یہ حربہ بھی انشاء اللہ اظہار دین کے لیے نہایت زبردست اور سب سے زبردست حربہ ثابر ہوگا، بلکہ ہر عقلمند انسان کے نزدیک اس حربے کے ذریعے سے عقلاً اسلام غالب ہو چکا ہے گو مادی نتیجہ کچھ دن بعد پیدا ہو-
    یہ پانچ حربے جو حضرت اقدس نے دشمنان اسلام پر چلائے ہیں میں نے بطور مثال پیش کئے ہیں جن سے معلوم ہو سکتا ہے کہ جو کام مسیح موعود کے لیے تھا وہ آپ کر چکے ہیں اور اگر آپ مسیح موعود نہیں ہیں تو پھر سوال ہوتا ہے کہ اب کونسا کام رہتا ہے جو مسیح موعود آکر کریگا؟ کیا یہ تلوار سے لوگوں کو دین میں داخل کریگا؟ تلوار سے داخل کئے ہوئے لوگ اسلام کو کیا فائدہ دینگے؟ اور خود ان کو اس جبری ایمان سے کیا فائدہ ہو گا؟ اگر آج مسیحی اپنی طاقت کے نشہ میں مسلمانوں کو جبرا مسیحی بنانے لگیں- تو ان کی نسبت ہر شریف آدمی اپنے دل میں کیا کہے گا؟ اگر ان کے اس فعل کو ہم گندے سے گندہ فعل خیال کریں گے تو کیوں اسی سم کا فعل اگر مسیح موعود کریں گے تو وہ بھی قابل اعتراض نہ ہوں گے؟ یقیناً تلوار سے اسلام میں لوگوں کو داخل کرنا اسلام کے لیے مضر ثابت ہو گا نہ کہ مفید- وہ ہر شریف الطبع اور آزادی پسند آدمی کو اسلام میں متنفر کردے گا-
    ‏Dawat99
    تیسری دلیلنفس ناطقہ آفتاب آمد دلیل آفتاباس بات کے ثابت کرنے کے بعد کہ زمانہ پکار پکارکراس وقت ایک مصلح کوطلب کر رہاہے اوریہ کہ رسول کریم ~صل۲~ کی شہادت سے ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت کامصلح مسیح موعود اور مہدی مسعود کے سوا اور یہ کہ چونکہ مسیح موعود ہونیکے مدعی صرف بانی سلسلہ احمدیہ ہیں اس لیے ان کے دعوی کو رد کرناگویا خدا تعالی کی سنت کا ابطال اور رسول کریم ~صل۲~ کے اقوال کی ہتک ہے اب میں جناب کے سامنے ان دلائل کو پیش کرتاہوں جن سے یہ ثابتہوتا ہے کہ مرزا غلام احمد علیہ الصلوہ والسلام اپنے دعوے میں راستباز تھے اور خداتعالی کی طرف سے مامور اور مرسل تہے اور ان دلائل میںسے سب سے پہلے میں نفس ناطقہ کی دلیل بیان کرتا ہوں
    میری مراد اس جگہ نفس ناطقہ سے وہ نہیں جو پہلی کتب میں لی جاتی ہے بلکہ نفس ناطق سے مراد وہ نفس ہے جسے قران کریم نے اپنی صداقت کی آپ دلیل قرار دیا ہے
    سورہ یونس میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے
    اور جب پڑہے جاتے ہیں ان کے سامنے ہمارے کھلے کھلے احکام تو وہ لوگ جو قیامت کے منکر ہیں کہتے ہیں کہ یا تو اس کے سوا کوئی اور قرآن لے آ یا اس میں سے قابل اعتراض حصہ بدل دے تو کہدے کہ میرا کیا حق ہے کہ میںاپنی طرف سے اس کلام کو بدل دوں میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتاہوں جو مجھ پر نازل ہوتی ہے میں ڈرتا ہوں کہ اگر میںنافرمانی کروں تو اس بڑے دن کے ہیبت ناک عذاب میں مبتلا ہو جاوں گا تو کہدے کہ اگراللہ تعالیٰ چاہتا تو میں یہ کلام تمہارے سامنے پیش نہ کرتا ` بلکہ اس کے متعلق تمہارے آگے اشارہ بھی نہ کرتا ` چنانچہ اس سے پہلے می نے تمہارے اندر ایک عمر گزاری ہے کیا تم اس پر نظر کرتے ہوئے اس بات کو نہیں سمجھ سکتے کہ میرے جیسا انسان جھوٹ نہیں بول سکتا` بلکہ جو کچھ کہہ رہا ہاے سچ کہہ رہا ہے-
    یہ ایک دلیل ہے جو قرآن کریم نے رسول کریم ~صل۲~ کی سچائی کی دی ہے اور یہ دلیل ہر راستباز کے دعوی کی سچائی پرکھنے کے لے ایک زبردست معیار ہے - سورج کی دلیل اس سے زبردست اور کچھ نہیں کہ خود سورج موجود ہے - اسی طرح صادق اور راستباز کی صداقت کے دلائل میں سے ایک زبردست دلیل اس کا اپنا نفس ہے جو پکار پکار کر کہتا ہے مخالفوں اور موافقوں کو مخاطب کر کے کہتا ہے `ناواقفوںاور واقفوں سے کہتا ہے `اجنبیوں اور رازداروں سے کہتا ہے کہ مجھے دیکھو اور مجھے جھوٹا کہنے سے پہلے سوچ لو کہ کیا تم مجھے جھوٹا کہہ سکتے ہو ؟ کیا مجھے جھوٹا کہکر تمہارے ہاتھ سے وہ تمام ذرائع نہیںنکل جائیں گے جن کے ساتھ تم کسی چیزکی حقیقت معلوم کیا کرتے ہو ؟اور کیا مفتری قرار دیکر تم پر وہ سب دروازے بند نہیں ہوجائینگے جن میں سے گزرکر تم شاہد مقصود کو پایا کرتے ہو`دنیا کی ہر چیزتسلسل چاہتی ہے اور ہر شے مدارج رکھتی ہے نہ نیکی درمیانی مدارج کو ترک کر کے اپنے کمال تک پہنچ سکتی ہے اور نہ بدی درمیانی منازل کو چھوڑ کر اپنی انتہاء ککو پا سکتی ہے پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ مغرب کی طرف دوڑنے والا اچانک اپنے آپ کو مشرق کے دور کنارے پر دیکھے ؟ اور جنوب کی طرف جانے والا افق شمال میں اپنے آاپ کو کھڑا پائے ؟ میں نے اپنی سب ندگی تم مئں گزاری ہے میں چھوٹاتھا اور تمہارے ہاتھوں میں بڑا ہوا ` میں جوان تھا اور تمہارے ہاتھوں ادھیڑ ہوا ` میری خلوت و جلوت کے واقف بھی تم میں موجود ہیں ` میرا کوئی کام تم سے پوشیدہ نہیںاور کوئی قول تم سے مخفی نہیں پھر کوئی تم میں سے ہے جو یہ کہہ سکے کہ میں نے کبھی جھوٹ بولا ہو یا ظلم کیا ہو یا فریب کیا ہو یا دھوکا دیا ہو `یا کسی کا حق مارا ہو ` یا اپنی بڑائی چاہی ہو `یا حکومت حاصل کرنے کی کوشش کی ہو ` ہر میدان میں تم نے مجھے آزمایا اور ہر حالت میں تم نے مجھے پرکھا` مگر ہمیشہ میرے پدم کو جادہ اعتدال پر دیکھا اور ہر کھوٹسے مجھے پاک پایا ` حتی کہ دوست اور دشمن سے میں نے امین وصادق کا خطاب پایا` پھر یہ کیا بات ہے کہ کل شام تک تو میں امین تھا ` صادق تھا`راستبازتھا`جھوٹسے کوسوں دور تھا`راستی پر فدا تھا بلکہ راستی مجھ پر فخر کرتی تھی` ہر بات اور ہر معاملہ میں تم مجھ پر اعتبار کرتے تھے اور میرے ہر قول کو تم قبول کرتے تھے مگر آج ایک دن میں ایسا تغیر ہو گیا کہ میں بدتر سے بدتر اور گندے سے گندا ہو گیا`یا تو کبھی آدمیوں پر جھوٹ نہ باندھا تھا یا اب اللہ پر جھوٹ باندھنے گیا` یاتو کبھی آدمیوں پرجھوٹ نہ باندھا تھا یا اب اللہ پر جھوٹ باندھنے لگا` اس قدر تغیر اور اس قدر تبدیلی کی کیا قانون قدرت میں کہیں بھی مثال ملتی ہے؟ایک دو دن کی بات ہوتی تو تم کہدیتے کہ تکلف سے ایسا بن گیا- سال دو سال کا معاملہ ہوتا تو تم کہتے ہمیں دہوکا دینے کو اس نے یہ طریق اختیار کر رکھا تھا مگر ساری کی ساری عمر تم میں گزار چکا ہوں` بچپن کو تم نے دیکھ لیا`جوانی کو تم نے مشاہدہ کیا`کہولت کا زمانہ تمہاری نظروں کے سامنے گزرا`اس قدر تکلف اور اس قدر بناوٹ کس طرح ممکن تھی بچپن کے زمانے میں جب اپنے بھلے برے کی بھی خبر نہیں ہوتی- میں نے بناوٹ کس طرح کی جوانی جو دیوانی کہلاتی ہے اس میں میں نے فریب سے اپنی حالت کو کس طرح چھپایا`آخر کچھ تو سوچو کہ یہ فریب کب ہوا اور کس نے کیا اور اگر غوروفکر کر کے میری زندگی کو بے عیب ہی نہ پاو بلکہ تم اسے نیکی کا مجسمہ اور لداقت کی تمثال دیکھو تو پھر سورج کو دیکھتے ہوے رات کا اعلان نہ کرواور نور کی موجودگی میں ظلمت کے شاکی نہ بنو`تم کو میرے نفس کے سوا اور کس دلیل کی ضرورت ہے؟ اور میرے پچھلے چال چلن کو چھوڑکر اور کس حجت کی حاجت ہے؟ میرا نفس خود مجھ پر گواہ ہے اور میری زندگی مجھ پر شاہد ہے اگر تم میں سے ہر شخص اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھے تو اس کا دل اور اس کا دماغبھی اس امر کی شہادت دیگا کہ صداقت اس میں قائم ہے اور یہ صداقت سے قائم ہے راستی کو اس پر فخر ہے اور اس کو راستی پر فخر ہے- یہ اپنی سچائی ثابت کرنے کے لیے دوسری چیزوں کا محتاج نہیں اس کی مثال آفتاب آمد دلیل آفتاب کی سی ہے
    یہی وہ زبردست دلیل ہے جس نے ابوبکر کے دل میں گھر کر لیا اور یہی وہ طاقتور دلیل ہے جو ہمیشہ صداقت پسند لوگوں کے دلوں می گھر کرتی چلی جاے گی` جب آنحضرت ﷺ~ نے دعوی کیا تھا- اس وقت حضرت ابوبکر اپنے ایک دوست کے گھر پر تشریف رکھتے تھے- وہیں آپ کی ایک آزاد لونڈی نے اطلاع دی کہ آپ کے دوست کی بیوی کہتی ہے کہ اس کا خاوند اس قسم کا نبی ہو گیا ہے جس قسم کا نب موسی کو بیان کرتے ہیں- آپ اسی وقت اٹھ کر رسول کریم ~صل۲~ کے گھر پر تشریف لے گے اور آپ سے دریافت کیا`آپنے فرمایا` میں خدا کا رسول ہوں` حضرت ابوبکر نے اس بات کو سنتے ہی آپ کے دعوی کو تسلیم کر لیا رسول کریم ~صل۲~ بھی آپ کیی ایمان کے متعلق فرماتے ہیں یعنی میں نے کسی کو اسلام کی طرف نہیں بلایا مگر اس کی طرف سے کچھ روک اور فکر اورتردد ظاہر ہوا`لیکن ابوبکر کے سامنے جب اسلام پیش کیا تو وہ بالکل متردد نہیں ہوا بلکہ اس نے خود اسلام کو قبول کر لیا-یہ کیا چیز تھی جس نے حضرت ابوبکر کو بغیر کسی نشان دیکھے رسول کریم ~صل۲~ پر ایمان لانے کے لیے مجبور کر دیا- یہ رسول کریم ~صل۲~ کا نفس ناطقہ تھا جو اپنی سچائی کا آپ شاہد ہے- حضرت خدیجہ حضرت علی اور 'حضزید بن حارث بھی اسی دلیل کو دیکھ کر ایمان لائے بلکہ حضرت خدیجہ نے تو نہایت وضاحت سے اس دلیل کو اپنے ایمان کی وجہ کے طور پر بیان بھی کیا ہے`جب رسول کریم ~صل۲~ کو غار حرا فرشتہ نظر آیا اور آپ نے آ کر حضرت خدیجہ سے کل واقعہ بیان کر کے فرمایا کہ ہرگزنہیں`ہر گز نہیں- خدا کی قسم اللہ تجھ کو کبھی رسوا نہیں کریگا تو تو رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتا ہے اور بیکس کا بوجھ اٹھاتا ہے اور وہ اخلاق فاضلہ جو اس زمانے میں بالکل مفقود تھے تجھ میں پائے جاتے ہیں اور تو مہمان کی مہمان داری کرتا ہے اور لوگوں کی جائز مصائب میں ان کی مدد کرتا ہے-
    غرض نبی کی صداقت کی پہلی اندرونی دلیل اس کا نفس ہوتا ہے جو بزبان حال اسکی سچائی پر گواہ ہوتا ہے اور اس کی گواہی ایسی زوردست ہوتی ہے کہ اس کی موجودگی میں کسی اور معجزہ یا آیت کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی اور یہ دلیل حضرت مرزاغلام احمد صاحب کی سچائی ثابت کرنے کے لیے بھی اللہ تعالی نے اتاری ہے- آپ قادیان کے رہنے والے تھے جس میں ہندوستان کے تینوں مزاہب کے پیرو یعنی ہندو` سکھ اور مسلمان بستے ہیں` گویا آپ کی زندگی کے نگران تین قوموں کے آدمی تھے آپ کے خاندانی تعلقات ان لوگوں سے ایسے نہ تھے کہ انکو آپ سے کچھ ہمدردی ہو کیونکہ آپ کی اوتدائی عمر کے ایام میں انگریزوں نے اس ملک پر قبضہ کر لیا تھا اور ان کی آمد کے ساتھ ہی قادیان کے باشندوں نے جو آپ کے آباء واجداد کی رعایا میں سے تھے اس انقلاب حکومت سے فائدہ اٹھا کر اطبے آزادی کے لیے جدوجہد شروع کردی اور آپ کے والد کے ساتھ تمام قصبے کے باشندوں کے تنازعات اور مقدمات شروع ہو گئے تھے یہ بھی نہیں کہ آپ ان مقدمات سے علیحدہ تھے باوجود آپ کی خلوت پسندی کے آپ کے والد صاحب نے حکما کچھ عرصہ تک کے لیے آپ کو ان مقدمات کی پیروی کے لیے مقرر کردیا تھا- جس لی وجہ سے بظاہر آپ ہی لوگوں کے مد مقابل بنتے تھے-
    سکھوں کو خاص طور پر آپ کے خاندان کے عداوت تھی کیونکہ کچھ عرصہ کے لیے آپ کے خاندان کو اس علاقے سے نکال کر وہی یہاں حاکم بن گئے تھے- پس اس خاندان کی ترقی ان پر شاق گزرتی تھی اور ایک قسم کی رقابت اان کے دلوں میں تھی-
    آپ کو ابتدائی عمر سے اسلام کی خدمت کا شوق تھا اور آپ مسیحی`ہندو اور سکھ مذاہب کے خلاف تقریرا ور تحریرا مبحثات جاری رکھتے تھے جس کی وجہ سے ان مزاہب کے پیرووں کو طبعا آپ سے پرخاش تھی-
    مگر باوجود اس کیی کہ سب اہل مذاہب سے آپ کے تعلقات تھے اور سب سے مذہبی دلچسپی کی وجہ سے مخالفت تھی ہر شخص خواہ ہندو ہو خواہ سکھ خواہ مسحیی خواہ مسلمان`اس بات کا مقر ہے کہ آپ کی زندگی دعوے سے پہلے نہایت بے عیب اور پاک تھی اور اعلی درجہ کے اخلاق فاضلہ آپ کو حاصل تھے سچائی کو آپ کبھی نہ چھوڑتے تھے اور لوگوں کا اعتبار اور یقین آپ پر اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ آپ کے خاندان کے دشمن بعض دفعہ ان حقوق کے تصفئیے کے لیے جن کے متعلق انکو آپ کے خاندان سے اختلاف ہوتا اس امر پر زور دیتے تھے کہ آپ کو منصف مقرر کر دیا جائے جو فیصلہ آپ دیں وہ ان کو منظور ہو گا` غرضآپ کے حالات سے واقف لوگ ہر امر میں آپ پر اعتبار کرتے تھے اور آپ کو راستی اور صداقت کا ایک مجسمہ یقین کرتے تھے- مسیحی`ہندو` سکھ گو مذہبی اختلاف آپ سے رکھتے تھے مگر اس امر کا اقرار کرتے تھے کہ آپ کی زندگی مقدس زندگی ہے- لوگوں کی رائے آپ کی نسبت تھی اس کا ایک نمونہ میں ایک شخص کے قلم سے نکلا ہوا پیشکرتا ہوں جو بعد کو آپ کا سخت مخالف ہو گیااور آپ کے دعوے پر اس نے سب سے پہلے آپ کی تکفیر کا فتوی دیا- یہ صاحب کوئی معمولی شخص نہیں بلکہ اہل حدیث کے لیڈر اور سردار مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ہیں- جنہوں نے آپ کی ایک کتاب براہین احمدیہ پر ریویو کرتے ہوئے اپنے رسالہ اشاعت السنہ میں آپکی نسبت یوں گواہی دی ہے: مئولف براہین احمدیہ کے حالات وخیالات سے جس قدر ہم واقف ہیں ہمارے معاصرین سے ایسے واقف کم نکلیں گے"- مئولف صاحب ہمارے ہم وطن ہیں بلکہ اوائل عمر کے )جب ہم قطبی وشرح ملا پڑھتے تھے ( ہمارے ہم مکتب' اس زمانے سے آجتک ہم میں ان میں خط وکتابت وملاقات ومراسلت برابر جاری ہے اس لیے ہمارا یہ کہنا کہ ہم ان کے حالات سے بہت واقف ہیں`مبالغہ قرار نہ دیئے جانے کے لائق ہے )"اشاعہ السنہ جلد ۶نمبر۷(
    یہ بیان تو ان کا اس امر کے متعلق ہے کہ ان کی شہادت یونہی نہیں بلکہ لمبے تجربہ اور صحبت کا نتیجہ ہے اور ان کی شہادت یہ ہے-:
    >ہماری رائے میں یہ کتاب )حضرت صاحب کی کتاب( >براہین احمدیہ< مولف( اس زمانے میں اور موجودہ حالات کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی اور آئندہ کی خبر نہیں لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا )الطلاق:۲( اور اس کا مولف بھی اسلام کی مالی وجانی وقلمی ولسانی وحالی وقالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت کم دیکھی جاتی ہے ہمارے ان الفاظ کو کوئی ایشیائی مبالغہ سمجھے تو ہم کو کم سے کم ایک ایسی کتاب بتا دے جس میں جملہ فرقہ ہائے مخالفین اسلام خصوصاً فرقہ آریہ وبرہم سماج سے اس زور شور سے مقابلہ کیا گیا ہو اور دو چار ایسے اشخاص انصار اسلام کی نشانن دہی کرے جنہوں نے اسلام کی نصرت مالی وجانی وقلمی ولسانی کے علاوہ حالی نصرت کا بھی بیڑہ اٹھا لیا ہو اور مخالفین اسلام اور منکرین الہام کے مقابلہ میں مردانہ تحدی کیساتھ ییہ دعویٰ کیا ہو کہ جس کو وجود الہام کا شک ہو وہ ہمارے پاس آکر اس کا تجربہ ومشاہدہ کرے اور اس تجربہ اور مشاہدہ کا غیر اقوام کو مزہ بھی چکھا دیا ہو<-
    )اشاعتہ السنہ جلد ۶ نمبر۷(
    یہ رائے آپ کے چال چلن اور خدمت اسلام کی نسبت اس شخص کی ہے جس نے آپ کے دعوٰئے مسیحیت پر ان اہل مکہ کی طرح جن کی زبانیں رسول کریم ~صل۲~ کو امین وصادق کہتے ہوئے خشک ہوتی تھیں نہ صرف آپ کے دعوٰے کا انکار کیا بلکہ اپنی باقی عمر آپ کی تکفیر اور تکذیب اور مخالفت میں بسر کر دی- مگر دعوے کے بعد کی مخالفت کوئی حقیقت نہیں رکھتی- قرآن کریم بتاتا ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ ایک شخص باوجود بتیس دانتوں میں آئی ہوئی زبان کی طرح مخالفوں اور دشمنوں کے نرغہ میں رہنے کے ہر دوست ودشمن سے اپنی صداقت کا اقرار کروالے اور پھر وہ ایک ہی دن میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے لگے- اللہ تعالیٰ ظالم نہیں کہ ایسے شخص کو جو اپنی بے عیب زندگی کا دشمن سے بھی اقرار کروا لیتا ہے یہ بدلہ دیکر ایک ہی دن میں اشرالناس بنا دے اور یا تو بڑے سے بڑا لالچ اور مہیب سے مہیب خطرہ اسے صداقت سے پھیر نہیں سکتا تھا اور یا پھر اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ایسا مسخ کر دے کہ وہ اچانک اس پر جھوٹ باندھنا شروع کر دے-
    جس طرح رسول کریم ~صل۲~ نے اپنے مخالفوں کو چیلنج پر چیلنج دیا کہ وہ آپ کی پہلی زندگی پر حرف گیری کریں یا بتائیں کہ وہ آپ کو اعلیٰ درجہ کے آخلاق کا حامل نہیں سمجھتے تھے مگر کوئی شخص آپ کے مقابلے پر نہ آیا، اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوی کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھے بتاتا ہے کہ کبھی کوئی مخالف تیری سوانح پر کوئی داغ نہیں لگا سکے گا )نزول المسیح ص ۲۱۲( اور پھر اس دعوے کے مطابق متواتر مخالفوں کو چیلنج دیا کہ وہ آپ کے مقدس چال چلن کے خلاف کوئی بات پیش کریں یا ثابت کریں کہ وہ آپ کے چال چلن کو بچن سے بڑھاپے تک ایک اعلیٰ اور قابل تقلید نمونہ اور بے عیب نہیں سمجھتے تھے مگر باوجود بار بار مخالفوں کے اکسانے کے کوئی شخص آپ کے خلاف نہیں بول سکا اور اب تک بھی وہ لوگ زندہ ہیں جو آپ کی جوانی کے حالات کے شاہد ہیں مگر باوجود سخت مخالفت کے وہ اس امر کی گواہی کو نہ چھپا سکتے تھے اور نہ چھپا سکتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا چال چلن حیرت انگیز طور پر اعلیٰ تھا اور بقولبہت سے ہندوئوں اور سکھوں اور مسلمانوں کے آپ کی بچپن اور جوانی کی زندگی >اللہ والوں کی زندگی< تھی-
    پس جس طرح رسول کریم ~صل۲~ کا نفس ناطقہ آپ کی صداقت کا ایک زبردست ثبوت تھا جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں مخالفوں کے سامنے بطور حجت کے پیش کیا ہے اسی طرح مسیح موعود علیہ السلام کی پہلی زندگی آپ کی صداقت کا ثبوت ہے جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا- آپ کا اپنا نفس ہی آپ کی سچائی کا شاہد ہے
    ‏]c42dhea [tagچوتھی دلیل
    غلبہ اسلام برادیان باطلہ
    چوتھی دلیل یایوں کہنا چاہئیے کہ چوتھی قسم کے دلائل آپ کی صداقت کے ثبوت میں یہ ہیں کہ آپ کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے اس عظیم الشان پیشگوئی کو پورا کیا ہے جسے قرآن کریم میں مسیح موعود کا خاص کام قرار دیا گیا ہے یعنی آپ کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے اسلام کو دیگر ادیان پر غالب کر کے دکھایا، قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ھوالذین ارسل رسولہ بالدھی ودین الحق لیظھرہ علی الذین کلہ )توبہ:۳۳ فتح:۲۹( text] ga[t خدا ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دیکر بھیجا ہے تا اللہ تعالیٰ اس دین کو باقی تمام ادیان پر عالب کر کے دکھاوے اور رسول کریم ~صل۲~ کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات زمانہ مسیح موعود میں ہوگی کیونکہ فتنہ وجال کے توڑنے اور یا جوج ماجوج کی ہلاکت اور مسیحیت کے مٹانے کا کام آپ نے مسیح کے ہی سپرد بیان فرمایا ہے اور یہ فتنے تمام فتنوں سے بڑے بتائے گئے ہیں اور یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ وجال یعنی مسیحیت کے حامی اس وقت سب ادیان پر غالب آجائیں گے، پس ان پر غالب ہونے سے صاف ظاہر ہے کہ دیگر ادیان پر بھی اسلام کو غلبہ حاصل ہو جائے گا-
    پس معلوم ہوا کہ لیظھرہ علی الدین کلہ سے مراد مسیح موعود کا ہی زمانہ ہے اور یہ استنباط ایسا ہے کہ قرینیا تمام مسلمانوں کو اس سے اتفاق ہے- چنانچہ تفسیر جامع البیان کی جلد ۲۹ میں اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ وذلک عند نزل عیسی ابن مریم یہ غلبہ دین عیسی بن مریم کے زمانے میں ہو گا اور قرائن عقلیہ بھی اسی کی تائید کرتے ہیں کیونکہ تمام ادیان کا ظہور جیسا کہ اس زمانے میں ہوا ہے اس سے پہلے نہیں ملتا- آپس میں میل جول کے زیادہ ہو جانے کی وجہ سے اور پریس کی ایجاد کے سبب سے کتب کی اشاعت میں سہولت پیدا ہو جانے کے سبب تمام ادیان کے پیروئوں میں ایک جوش پیدا ہو گیا ہے اور اس قدر مذاہب کی کثرت نظر آتی ہے کہ اس سے پہلے اس قدر کثرت نظر نہیں آتی- رسول کریم ~صل۲~ کے زمانے میں تو صرف چار دین ہی اسلام کے مقابلے میں آئے تھے- یعنی مشرکین مکہ کا دین اور نصاری کا دین اور یہود اور مجوس کا دین- پس اس زمانے میں اس پیشگوئی کے ظہور کا ابھی وقت نہیں آیا تھا، اس کا وقت اب آیا ہے کیونکہ اس وقت تمام ادیان ظاہر ہو گئے ہیں اور نو ایجاد سواریوں اور تار اور پریس وغیرہ کی ایجاد سے مذاہب کا مقابلہ بہت شدت سے شروع ہ وگیا ہے
    غرض قرآن کریم اور احادیث اور عقل صحیح سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا غلبہ ادیان باطلہ پر ظاہری طور پر مسیح موعود کے زمانہ میں ہی مقدر ہے اور مسیح موعود کا اصل کام یہی ہے اس کام کو اس کے سوا کوئی اور نہیں کر سکتااور جو شخص اس کام کو بجا لائے اس کے مسیح موعود ہونے میں کچھ شک نہیں اور واقعات سے ثابت ہے کہ یہ کام اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے ہاتھوں سے پورا کر دیا ہے پس آپ ہی مسیح موعود ہیں-
    حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے دعویٰ سے پہلے اسلام کی حالت ایسی نازل ہو چکی تھی کہ خود مسلمانوں میں سے سمجھدار اور زمانے سے آگاہ لوگ یہ پیشگوئیاں کرنے لگے تھے کہ چند دنوں میں اسلام بالکل مٹ جائے گا اور حالات اس امر کی طرف اشارہ بھی کر رہے تھے، کیونکہ مسیحیت اس سرعت کیساتھ اسلام کو کھاتی چلی جا رہی تھی کہ ایک صدی تک اسلام کے بالکل مٹ جانے کا خطرہ تھا مسلمان مسیحیوں کے مقابلے میں اسقدر زک پر زک اٹھا رہے تھے کہ نو مسلم اقوام تو الگ رہیں، رسول کریم ~صل۲~ کی اولاد یعنی سادات میں سے ہزاروں اسلام کو چھور کر عیسائی ہو گئے تھے اور منبروں پر چڑھ کر آنحضرت ~صل۲~ کی ذات مقدس پر ایسے دلازار اتہام لگائے جاتے تھے کہ ایک مسلمان کا کلیجہ ان کو سن کر چھلنی ہو جاتا تھا، مسلمانوں کی کمزوری اس قدر بڑھ گئی تھی کہ وہ مردہ قوم ہنود کی جس کو تبلیغ کے کام میں کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور جو ہمیشہ اپنے گھر کی حفاظت ہی کی کوشش اور وہ بھی ناکام کوشش کرتی رہی ہے اسے بھی جرات پیدا ہو گئی اور اس میں سے بھی ایک فرقہ آریوں کا کھڑا ہو گیا جس نے اپنا مقصد مسلمانوں کو ہندو بنانا قرار دیا اور اس کے لئے عملی طور پر جدوجہد بھی شروع کر دی- یہ نظارہ بالکل ایسا ہی تھا، جیسے ایک بے خطا نشانچی کی نعش پر گدھ جمع ہو جاتے ہیں، یا تو وہ اس کے زور بازو سے ڈرکر اس کے قریب بھی نہ پھٹکا کرتے تھے، یا اس کی بوٹیاں نوچ نوچ کر کھانے لگتے ہیں اور اسی کی ہڈیوں پر بیٹھ کر اس کا گوشت کھاتے ہیں، بعض مسلمان مصنف تک جو اسلام کی تائید کے لئے کھٹے وہتے تھے، بجائے اس کی تعلیم کی خوبی ثابت کرنے کے اس امر کا اقرار کرنے لگ گئے تھے کہ اسلام کے احکام زمانہ جاہلیت کے مناسن حال تھے اس لئے موجودہ زمانے کی روشنی کے مطابق ان پر اعتراض نہیں کرنا چاہئیے-
    اس اندرونی مایوسی اور بیرونی حملے کے وقت حضرت اقدس مرزا غلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام نے اسلام کی حفاظت کا کام شروع کیا اور سب سے پہلے حملہ ہی ایسا زبردست کیا کہ دشمنوں کے ہوش وحواس گم ہو گئے، آ نے ایک کتاب >براہین احمدیہ< لکھی جس میں اسلام کی صداقت کے دلائل کو بوضاحت تو آپ ان کو دس ہزار روپیہ دیں گے- باوجود ناخنوں تک زور لگانے کے کوئی دشمن اس کتاب کا جواب نہ دے سکا اور ہندوستان کے ایک گوشے سے دوسرے گوشے تک شور پڑ گیا کہ یہ کتاب اپنی آپ ہی نظیر ہے دشمن حیران رہ گئے کہ یا تو اسلام دفاع کی بھی طاقت نہ رکھتا تھا یا اس مرد میدان کے بیچ میں آکودنے کے سبب سے اس کی تلوار ادیان باطلہ کے سر پر اس زور سے پڑنے لگی ہے کہ ان کو اپنی جانوں کے لالے پڑ گئے ہیں-
    اس وقت تک آپ نے مسیحیت کا دعویٰ نہیں کیا تھا اور نہ لوگوں میں آپ کی مخالفت کا جوش پیدا ہوا تھا اور وہ تعصب سے خالی تھے- نتیجہ یہ ہوا کہ ہزاروں مسلمانوں نے علی الاعلان کہنا شروع کر دیا کہ یہی شخص اس زمانے کا مجدد ہے بلکہ لدھیانہ کے ایک بزرگ نے جو اپنے زمانے کے اولیاء میں سے شمار ہوتے تھے یہاں تک لکھدیا کہ ~}~
    ہم مریضوں کی ہے تمہیں پہ نظر
    تم مسیحا بنو خدا کے لئے!
    اس کتاب کے بعد آپ نے اسلام کی حفاظت اور اس کی تائید میں اس قدر کوشش کی کہ آخر دشمنان اسلام کو تسلیم کرنا پڑا کہ اسلام مردہ نہیں بلکہ زندہ مذہب ہے اور ان کو فکر پڑ گئی کہ ہمارے مذہب اسلام کے مقابل میں کیونکر ٹھہریں گے- اور اس وقت اس مذہب کی جو سب سے زیادہ اپنی کامیابی پر اتر رہا تھا اور اسلام کو اپنا شکار سمجھ رہا تھا یہ حالت ہے کہ اس کے مبلغ حضرت اقدس کے خدام سے اس طرح بھاگتے ہیں جس طرح گدھے شیروں سے بھاگتے ہیں او رکسی میں یہ طاقت نہیں کہ وہ احمدی کے مقابلے پر کھڑا ہو جائے- آج آپ کے ذریعے سے اسلام سب مذاہب پر غالب ہو چکا ہے کیونکہ دلائل کی تلوار ایسی کاری تلوار ہے کہ گو اس کی ضرب دیر بعد اپنا اثر دکھاتی ہے مگر اس کا اثر نہ مٹنے والا ہوتا ہے-
    اس میں کوئی شک نہیں کہ مسیحیت گو ابھی اسی طرح دنیا کو گھیرے ہوئے ہے جس طرح پہلے تھی اور دیگر ادیان بھی اسی طرح قائم ہیں جس طرح پہلے تھے مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی موت کی گھنٹی بج چکی ہے اور ان کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے- رسوم ورواج کے اثر کے سبب سے ابھی لوگ اسلام میں اس کثرت سے داخل نہیں ہوتے جس کثرت سے داخل ہونے پر ان کی موت ظاہر بینوں کو نظر آسکتی ہے، مگر اثار ظاہر ہو چکے ہیں-
    عقلمند آدمی بیج سے اندازہ لگاتا ہے- حضرت اقدس نے ان پر ایسا وار کیا کہ اس کی زد سے وہ جانبر نہیں ہو سکتے اور جلد یا بدیر ایک مردہ ڈھیر کی طرح اسلام کے قدموں پر گرینگے وہ وار جو آپ نے غیر مذاہب پر کئے اور جن کا نتیجہ ان کی یقینی موت ہے یہ ہیں-
    مسیحی مذاہب پر وار مسیحی مذہب پر تو آپ کا یہ وار ہے کہ اس کی تمام کامیابی اس یقین پر تھی کہ حضرت مسیح صلیب پر مرکر لوگوں کے لئے کفارہ ہو گئے اور پھر زندہ ہو کر آسمان پر خدا کے دہنے ہاتھ پر جا بیٹھے ایک طرف ان کی موت جسے لوگوں کے لئے ظاہر کیا جاتا تھا لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت کی لہر چلا دیتی تھی اور دوسری طرف ان کی زندگی اور آسمان پر خدا تعالیٰ کے داہنے ہاتھ پر جا بیٹھنا- ان کی عظمت اور خدائی کا اقرار کروا لیتا تھا- آپ نے ان دونوں باتوں کو انجیل ہی سے غلط ثابت کر کے دکھایا اور تاریخ سے ثابت کر دیا کہ مسیح کا صلیب پر مرنا ناممکن تھا کیونکہ صلیب پر لوگ تین تین دن تک زندہ رہتے تھے اور مسیح کو صرف بقول اناجیل تین چار گھنٹے صلیب پر رکھا گیا، بلکہ انجیل میں ہے کہ جب ان کو صلیب سے اتارا گیا تو ان کے جسم میں نیزہ چبھونے سے جسم سے زندہ خون نکلا )یوحنا۱۹:۳۱ تا ۳۴( اور مردے کے جسم سے زندہ خون نہیں نکلا کرتا، بلکہ اس سے بھی بڑھکر یہ ثابت کیا کہ حضرت مسیح نے پیشگوئی کی تھی جو اب تک اناجیل میں موجود ہے کہ آپ زندہ صلیب سے اتر آئیں گے- آپ نے فرمایا تھا، اس زمانے کے لوگوں کو یونس نبی کا سا معجزہ دکھایا جائیگا- جس طرح وہ تین دن رات مچھلی کے پیٹ میں رہا اسی طرح ابن آدم تین دن رات قبر میں رہے گا- )متی ۱۲:۳۹ و ۴۰( اور یہ بات متفقہ طور پر تسلیم کی جاتی ہے کہ یونس نبی زندہ ہی مچھلی کے پیٹ میں داخل ہوا اور زندہ ہی اس سے باہر آیا- پس اسی طرح مسیح علیہ السلام بھی زندہ ہی قبر میں اتارے گئے اور زندہ ہی اس میں سے نکالے گئے- چونکہ تمام دلائل کی بنیاد اناجیل پر ہی تھی اس حربہ کا جواب مسیحی کچھ نہ دے سکتے تھے اور نہ اب دے سکتے ہیں- پس کفارہ اور مسیح کے دوسروں کی خاطر صلیب پر مارے جانے کا عقیدہ جو مسیحیت کی طرف لوگوں کو کھینچ کر لا رہے تھے بالکل باطل ہو گئے اور اس کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی-
    دوسری ٹانگ مسیحیت کے بت کی حضرت مسیح کے زندہ آسمان پر جانے اور خدا داہنے ہاتھ بیٹھ جانے کی تھی- یہ ٹانگ بھی آپ نے انجیلی دلائل سے ہی توڑ دی- کیونکہ آپ نے انجیل سے ہی ثابت کر دکھایا کہ مسیح علیہ السلام صلیب کے واقعہ کے بعد آسمان پر نہیں گئے بلکہ ایران، افغانستان اور ہندوستان کی طرف چلے گئے- جیسا کہ لکھا ہے کہ مسیح علیہ السلام نے کہا کہ میں بنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کو اکٹھا کرنے آیا ہوں )میری اور بھی بھیڑیں ہیں ہیں جب اس بھیڑ خانے کی نہیں مجھے انکا بھی لانا ضروری ہے( )یوحنا ۱۰ : ۱۶( اور تواریخ سے ثابت ہے کہ بابل کے بادشاہ بخت النصر نے بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں میں سے دس کو قید کر کے افغانستان کی طرف جلا وطن کر دیا تھا- پس حضرت مسیح کے اس قول کے مطابق ان کا افغانستان اور کشمیر کی طرف آنا ضروری تھا، تاکہ وہ ان گمشدہ بھیڑوں کو خدا کا کلام پہنچا دیں- اگر وہ ادھر نہ آتے تو اپنے اقرار کے مطابق ان کی بعثت لغو اور عبث ہو جاتی-
    آپ نے انجیلی شہادت کے علاوہ تاریخی اور جغرافیائی شہادت سے بھی اس دعویٰ کو پایہ ثبوت تک پہنچا دیا- چنانچہ پرانی مسیحی تاریخوں سے ثابت کر دیا کہ حضرت مسیح کے حواری ہندوستان کی طرف آیا کرتے تھے اور یہ کہ تبت میں ایک کتاب بالکل انجیل کی تعلیم کے مشابہ موجود ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس میں عیسیٰ کی زندگی کے حالات ہیں- جس سے معلوم ہوا کہ مسیح علیہ السلام ان علاقوں کی طرف ضرور آئے تھے- اسی طرح آپ نے ثابت کیا کہ تاریخ سے یہ بات ثابت ہے اور افغانستان اور کشمیر کے آثار اور شہروں کے نام اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ ان ممالک میں یہودی لاکر بسائے گئے تھے، چنانچہ کشمیر کے معنی جو کہ اصل میں کشیر ہے )جیسا کہ اصل باشندوں کی زبان سے معلوم ہوتا ہے( >شام کے ملک کی مانند< کے ہیں- ک کے معنی مثل کے ہیں اور شیر شام کا نام ہے- اسی طرح کابل اور بہت سے دوسرے افغانی شہروں کے نام شام کے شہروں کے ناموں سے ملتے ہیں اور افغانستان اور کشمیر کے باشندوں کے چہروں کی ہڈیوں کی بناوٹ بھی بنی اسرائیل کے چہروں کی بناوٹ سے ملتی ہے مگر سب سے بڑھکر یہ کہ آپ نے تاریخ سے مسیح کی قبر کا بھی پتہ نکال لیا جو کہ کشمیر کے شہر سرینگر کے محلہ خانیار میں واقع ہے کشمیر کی پرانی تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک نبی کی قبر ہے جسے شہزادہ نبی کہتے تھے اور جو مغرب کی طرف سے انیس سو سال ہوئے آیا تھا اور کشمیر کے پرانے لوگ اسے عیسیٰ صاحب کی قبر کہتے ہیں-
    غرض متفرق واسطوں سے پہنچنے والی روایات کے ذریعے سے آپ نے وابت کر دیا کہ حضرت مسیح فوت ہو کر کشمیر میں دفن ہیں اور اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ان کے حق میں پورا ہو چکا ہے کہ وادینا ھما الی ربوہ ذات قرار ومعین )مومنون:۵۱( اور ہم نے مسیح اور اس کی ماں کو ایک ایسے مقام پر جگہ دی جو اونچی جگہ ہے اور پھر ہے بھی میدان میں اور اس میں چشمے بھی بہت سے پھوٹتے ہیں اور یہ تعریف کشمیر پر بالکل صادق آتی ہے-
    غرض مسیح کی زندگی کے حالات ان کی موت تک ثابت کر کے اور ان کی قبر تک کا نشان نکال کر حضرت مسیح موعود نے مسیح کی خدائی پر ایسا زبردست حملہ کیا ہے کہ مسیح کی خدائی کا عقیدہ ہمیشہ کے لئے ایک مردہ عقیدہ بن گیا ہے اور اب کبھی بھی مسیحیت دوبارہ سر نہیں اٹھا سکتی-
    سب مذاہب کے لئے ایک ہی ہتھیار چونکہ مسیح مذہب کیا بلحاظ سیاسی فوقیت اور کیا بلحاظ وسعت اور کیا بلحاظ اپنی تبلیغی کوششوں کے اور کیا بلحاظ علمی ترقی کے اس زمانے میں دوسرے تمام ادیان پر ایک فوقیت رکھتا تھا اس وجہ سے اس کے لئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاص ہتھیار عطا فرمائے، مگر باقی تمام مذاہب کے لئے ایک ہی ایسا ہتھیار دیا جس کی زد سے کوئی مذہب بچ نہیں سکتا اور ہر مذہب کے پیرو اسلام کا شکار ہو گئے ہیں وہ ہتھیار یہ ہے کہہ ہر مذہب کے پہلے بزرگوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اخری ایام دنیا میں ایک مصلح کی خبر دے رکھی تھی اور اس خبر کی وجہ سے سب مذاہب ایک نبی یا اوتار یا جو نام بھی اس کا انہوں نے رکھا تھا اس کے منتظر تھے اور اپنی تمام ترقیات کو اس سے وابستہ سمجھتے تھے، ہندوئوں میں بھی ایسی پیشگوئیاں تھیں اور زرتشیوں میں بھی تھیں اور دیگر چھوٹے بڑے ادیان کے پیروئوں میں بھی تھیں اور ان سب پیشگوئیوں میں آنے والے موعود کا زمانہ بھی بتایا گیا تھا، یعنی چند علامات اس کے زمانے کی بطور شناخت بتا دی گئی تھیں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود پر یہ کھول دیا کہ یہ جس قدر پیشگوئیاں ہیں اور ان میں جو علامات بتائی گئی ہیں سب ملتی جلتی ہیں اور اگر بعض پیشگوئیوں میں بعض دوسریوں سے زائد علامات بھی بتائی گئی ہیں تو وہ بھی اسی زمانے کی طرف اشارہ کر رہی ہیں جس طرف کہ باقی علامات پس یہ تمام نبی یا اوتار ایک ہی زمانے میں آنیوالے ہیں-
    اب ادھر تو ان پیشگوئیوں کا ہزاروں سالوں کے بعد اس زمانے میں آکر پورا ہو جانا بتاتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھیں، انسان یا شیطان کی طرف سے نہ تھیں کیونکہ آیت فلایظھر علی غیبہ احد الا من ارتضی من رسول )جن رکوع :۲۸،۲۷( اس کا فیصلہ کر رہی ہے اور دوسری طرف یہ بالکل خلاق عقل ہے کہ ایک ہی زمانے میں ہر قوم اور ملت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول یا نبی یا اوتار کھڑے کئے جاویں جن کا یہ کام ہو کہ وہ اس قوم کو دوسری اقوام پر غالب کریں گویا خدا کے نبی ایک دوسرے کے مقابلہ کریں اور پھر یہ بھی ناممکن ہے کہ ایک ہی وقت میں ہر قوم دوسری اقوام پر غالب آجائے- پس ایک طرف ان پیشگوئیوں کا سچا ہو کر ثابت ہونا کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور دوسری طرف ان کا مختلف وجودوں پر پورا ہو کر باعث فساد بلکہ خلاف عقل ہونا اس بات پر شاہد ہے کہ درحقیقت ان تمام پیشگوئیوں میں ایک ہی وجود کی خبر دی گئی تھی اور اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ تھا کہ پہلے اقوام عالم میں ایک وجود کا انتظار کرائے اور جب وہ آجائے تو اس کے منہ سے اسلام کی صداقت کی شہادت دلا کر ان ادیان کے پیروئوں کو اسلام میں داخل کرے اور اسلام کو ان ادیان پر غالب کرے- پس مہدی کوئی نہ تھا مگر مسیح اور کرشن کوئی نہ تھا مگر مسیح، زردشتیوں کا میسودر ہمی کوئی نہ تھا اور غرض مختلف ناموں کے ذریعے سے پیشگوئی کرنے کی یہ تھی کہ اپنے نبیوں سے اس کی خبر سن کر اور اپنی زبان میں اس کا نام دیکھ کر وہ اسے اپنا سمجھیں غیر خیال نہ کریں حتیٰ کہ وہ زمانہ آجائے کہ جب وہ موعود ظاہر ہوا ہو اور اس کے وقت میں سب پیشگوئیوں کو پورا ہوتے دیکھ کر ان کی داقت کا اقرار کرنا پڑے اور اس کی شہادت پر وہ اسلام کو قبول کریں-
    اس پر حکمت عملی کی مثال بالکل یہ ہے کہ کوئی شخص بہت سی اقوام کو لڑتا دیکھ کر ان سے خواہش کرے کہ وہ ثالثوں کے ذرریعے سے فیصلہ کر لیں اور جب وہ اپنے اپنے ثالث مقرر کر چکیں تو معلوم ہو کہ وہ ایک ہی شخص کے مختلف نام ہیں اور اس کے فیصلے پر سب کی صلح ہو جائے-
    غرض یہ ثابت کر کے کہ مختلف مذاہب میں جو آخری زمانے کے موعود کے متعلق پیشگوئیاں ہیں وہ اس زمانے میں پوری ہو چکی ہیں اور پھر یہ ثابت کر کے کہ ایک ہی وقت میں کئی موعود جن کی غرض یہ ہو کہ سب دنیا میں صداقت کو پھیلائیں اور اپنی قوم کو غالب کریں ناممکن ہے آپ نے ثابت کر دیا کہ درحقیقت سب مذاہب مختلف ناموں کے ساتھ ایک ہی موعود کو یاد کر رہے تھے اور وہ موعود آپ ہیں اور چونکہ نبی کسی قوم کا نہیں ہوتا جو خدا کے لئے اس کے ساتھ ہو وہ اس کا ہوتا ہے اس لیے وہ گویا ہر مذہب کے پیروئوں کے اپنے ہی آدمی ہیں اور آپ کے ماننے سے ان کی تمام ترقیات وابستہ ہیں اور آپ کو ماننے کے یہ معنے ہیں کہ اسلام میں داخل ہوں یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ پیشگوئی پوری ہو جائے کہ مسیح موعود اس لیے نازل ہو گا تالیظھرہ علی الدین کلہ اس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ دین اسلام کو سب دینوں پر غالب کرے-
    یہ حربہ ایسا کاری ہے کہ کوئی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا، ہر مذہب میں آخری مصلح کی پیشگوئی موجود ہے اور جو علامات بتائی گئی ہیں وہ اس زمانے میں پوری ہو چکی ہیں لیکن مدعی سوا آپ کے کوئی کھڑا نہیں ہوا- پس یا تو اپنے مذاہب کو لوگ جھوٹا سمجھیں یا مجبور ہو کر تسلیم کریں کہ یہ اسلام کا موعود ہی ان کتابوں کا موعود تھا اور اس پر ایمان لائیں- ان دو صورتوں کے سوا اور کوئی تیسری صورت مذاہب عالم کے پیروئوں کے لئے کھلی نہیں اور ان دونوں صورتوں میں اسلام کو غلبہ حاصل ہو جاتا ہے کیونکہ اگر دیگر ادیان کے پیرو اپنے مذاہب کو جھوٹا سمجھ کر چھوڑ بیٹھیں تب بھی اسلام غالب رہا اور اگر وہ ان مذاہب کو سچا کرنے کے کے لیے ان کی پیشگوئی کے مطابق اس زمانے کے مصلح کو قبول کر لیں تب بھی اسلام غالب رہا-
    یہ وہ حملہ ہے کہ جوں جوں مذاہب غیر کے پیروئوں پر اس حملے کا اثر ہو گا وہ اسلام کے قبول کرنے پر مجبور ہونگے اور آخر اسلام ہی اسلام دنیا میں نظر آنے لگے گا- مسیح موعود نے سنت انبیاء کے ماتحت بیج بو دیا ہے- درخت اپنے وقت پر نکل کر پھل دے گا اور دنیا اس کے پھلوں کی شیرینی کی گرویدہ اور اس کے سائے کی ٹھنڈک کی قائل ہو کر مجبور ہو گی کہ اسی کے نیچے آکر بیٹھے-
    ایک دن اس حملے کی زد سے کسی قدر بچ رہتا تھا، یعنی سکھوں کا دین کیونکہ باوانانک صاحب رسول کریم ~صل۲~ کے بعد ہوئے ہیں گو ان کے یہاں بھی ایک آخری مصلح کی پیشگوئی موجود ہے بلکہ صاف لکھا ہے کہ وہ بٹالہ کے علاقے میں ہو گا )بٹالہ وہ تحصیل ہے جس میں قادیان کا قصبہ واقع ہے گویا یہ پیشگوئی لفظاً لفظاً پوری ہو چکی( لیکن ان کی طرف سے یہ اعتراض ہو سکتا تھا کہ رسول کریم ~صل۲~ خاتم النبیین تھے تو آپ کے بعد اس مذہب کی بنیاد کیونکر پڑی- سو اس مذہب کی اصلاح اور اس کو اسلام میں لانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حربہ دیا کہ آپ کو رویا میں بتایا گیا کہ باوانانک رحمہ اللہ علیہ نے کوئی نیا دین نہیں نکالا بلکہ وہ پکے مسلمان تھے-
    اے بادشاہ! آپ یہ سن کر تعجب کریں گے کہ یہ بظاہر عجیب نظر آنیوالی بات ایسے زبردست دلائل کے پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ ہزاروں سکھوں کے دلوں نے اس امر کی صداقت کو قبول کر لیا اور وہ سکھ جو اس سے پہلے اپنے آپ کو ہندوئوں کا جزو قرار دیا کرتے تھے بڑے زور سے جدوجہد کرنے لگے کہ وہ ہندوئوں سے علیحدہ ہو جائیں- حضرت مسیح موعود کے اس دعوے سے پہلے سکث گوردواروں میں ہندوئوں کے بت رکھے ہوئے تھے اس دعوے کے بعد گوسگھ قوم نے بحیثیت قوم تو ابھی اسلام کو قبول نہیں کیا مگر ایسا تغیر عظیم اس میں واقع ہوا کہ اس نے گوردواروں میں سے بت چن چن کر باہر پھینکنے شروع کر دئیے اور ہندو ہونے سے صاف انکار کر دیا-
    حضرت اقدس نے اس رویا کے بعد جب تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ گرنتھ صاحب میں جو باواصاحب علیہ الرحمہ کے مواعظ کی کتاب ہے نماز پنجگانہ اور روزہ اور زکوہ اور حج کی سخت تاکید ہے اور کے بجانہ لانے پر سخت تہدید کی گئی ہے، بلکہ سکھوں کی کتب سے یہ بھی معلوم ہوا کہ باوا صاحب علیہ الرحمہ مسلمان اولیاء کے ساتھ جاکر رہا کرتے تھے ان کے مقابر پر اعتکاف کرتے تھے ان کے ساتھ نماز پڑھتے تھے- آپ حج کو تشریف لے گئے تھے اور بغداد وغیر ہا اسلامی آثار کی بھی آپ نے ذیارت کی تھی اور سب سے بڑھ کر یہ بات معلوم ہوئی کہ باوا صاحب کا ایک کوٹ ہے جو سکھ صاحبان میں بطور تبرک رکھا ہوا ہوا ہے اور انہیں کے قبضہ میں ہے اس میں سور وآیات قرآنیہ جیسے سورہ اخلاق وآیت الکرسی وآیت ان الذین عنداللہ الاسلام )آل عمران :۲۰( لکھی ہوئی ہیں اور کلمہ شہادت بھی جلی قلم سے لکھا ہوا ہے سکھ صاحبان بوجہ عربی سے ناواقفیت کے اس کلام کو آسمانی زموز سمجھتے رہے اور یہ نہ معلوم کر سکے کہ یہ باوا صاحب علیہ الرحمہ کا اعلان اسلام ہے- آپ نے ان زبردست دلائل کو جو خود سکث صاحبان کی کتب سے مستنبط ہیں یا ان کے پاس جو تبرکات محفوظ ہیں ان پر ان کی بنیاد ہے بڑے زور وشور سے سکھوں میں پھیلانا شروع کیا اور ان کو توجہ دلائی کہ باوا صاحب علیہ الرحمہ مسلمان تھے- یہ حربہ سکھوں کے اندر تغیر پیدا کرنے میں بڑی حد تک کامیاب ہو چکا ہے اور امید ہے کہ جوں جوں سکھ صاحبان اصل حقیقت سے واقف ہونگے ان پر ثابت ہوتا جائے گا کہ وہ ہمارے بچھڑے ہوئے بھائی ہیں- اسلام ہی ان کا مذہب ہے اور وہ کئی سو سال پہلے کے سیاسی جھگڑوں کو جن کا اصل باعث جیسا کہ تاریخوں سے ثابت ہوتا ہے مسلمان نہ تھے بلکہ ہندوصاحبان تھے- دین حق کی قبولیت کے راستے میں روک نہ بننے دینگے بلکہ اپنی مشہور بہادری سے کام لے کر تمام عوائق کو دور کر کے ست سری اکال کے نعرے لگاتے ہوئے اسلام کی صفت میں اکھڑے ہونگے اور بٹالے کے پرگنہ میں ظاہر ہونیوالے مصلح پر ایمان لاکر اور مومنوں کی جماعت میں شامل ہو کر کفروبدعت کے مقابلہ میں ہمہ تن مشغول ہو جائینگے-
    تیسرا حربہ جس سے آپ نے اسلام کو دیگر ادیان پر غالب کر دیا اور جس کی موجودگی میں کوئی مذہب اسلام کے سامنے سر نہیں اٹھا سکتا یہ ہے کہ آپ نے دنیا کا نقطہ نظر بالکل بدل دیا ہے آپ قرار دیتا تھا الا ماشاء اللہ یہودی حضرت مسیح کو- مسیحی رسول کریم ~صل۲~ کو- زرتشتی ان تینوں مذاہب کے انبیاء کو اور ان تینوں مذاہب کے پیروزر تشتیوں کے انبیاء کو پھر یہ چاروں دوسری دنیا کے سب بزرگوں کو اور ان کی اقوا کے لوگ ان چاروں مذاہب کے بزرگوں کو جھوٹا قرار دیتے تھے- یہ عجیب قسم کی جنگ تھی جس میں ہر قوم دوسری قوم سے لڑ رہی تھی مگر عقلمند آدمی کو سب مذاہب میں ایسے ثبوت ملتے تھے جن سے ان کا سچا ہونا ثابت ہوتا تھا- پس وہ حیران تھا کہ سب مذاہب کے اندر سچائیاں پائی جاتی ہیں اور سب مذاہب ایک دوسرے کے بزرگوں کو جھوٹا بھی کہہ رہے ہیں- یہ بات کیا ہے؟
    اس جنگ کا نتیجہ یہ تھا کہ تعصب بڑھ رہا تھا اور اختلاف ترقی کر رہا تھا، ایک طرف ہندو اپنے بزرگوں کے حالات کو پڑھتے تھے اور ان کی زندگیوں میں اعلیٰ درجے کے اخلاقی کمال دیکھتے تھے- دوسری طرف دوسرے مذاہب کے پیروئوں سے سنتے تھے کہ وہ جھوٹے اور فریبی تھے تو ان کو ان کی عقل پر حیرت ہوئی تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ ان لوگوں کو تعصب نے اندھا کر دیا ہے دوسری طرف دوسرے مذاہب کے لوگ اپنے بزرگوں کی نسبت خلاف باتیں سن کر غم وغصہ سے بھر جاتے تھے، غرض ایک ایسا لاینحل عقیدہ پیدا ہو گیا تھا جو کسی کے سلجھانے سے نہ سلجھتا تھا جو لوگ تعصب سے خالی ہو کر سوچتے تھے کہ رب العلمین خدا نے کس طرح اپنے بندوں میں سے ایک قوم کو چن لیا اور باقیوں کو چھوڑ دیا مگر اس سوال کو پیش کرنے کی کوئی جرات نہیں کر سکتا کیونکہ یہ سوال اس کے مذہب کو بینح وبن سے اکھاڑ کر پھینک دیتا تھا-
    ہنود نے اس عقیدے کو بزعم خود اس طرح حل کر لیا تھا کہ سب مذاہب خدا کی طرف سے ہیں اور بمنزلہ ان مختلف راستوں کے ہیں جو ایک محل کی طرف جاتے ہیں اور ہندو مذہب سب سے افضل ہے مگر یہ عقیدہ کشائی بھی دنیا کے کام کی نہ تھی کیونکہ اس پر دو بڑے زبردست اعتراض ہوتے تھے جن کا کوئی جواب نہ تھا- ایک تو یہ کہ اگر سب مذاہب اپنی موجودہ حالت میں خدا کی طرف سے ہیں اور خدا تک پہنچانے کا ذریعہ ہیں تو پھر ان میں اصولی اختلاف کیوں ہے بیشک تفاصیل میں اختلاف ہو سکتا ہے مگر اصول میں نہیں ہو سکتا- ایک شہر کو کئی راستے جا سکتے ہیں مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ مشرق کی طرف ہونیوالے راستوں میں سے بعض مغرب کی طرف سے جائیں اور بعض شمال کی طرف سے اور بعض جنوب کی طرف سے وہ تھوڑا تھوڑا چکر تو کھا سکتے ہیں مگر جائیں گے سب ایک ہی جہت کو دائمی صداقتوں میں کبھی اختلاف نہیں وہ سکتا یہ مانا کہ خدا نے ایک جماعت کو ایک قسم کی عبادت کا حکم دیا اور دوسری کو دوسری قسم کی عبادت کا لیکن عقل سلیم اس امر کو تسلیم نہیں کر سکتی کہ اس نے ایک جماعت ۱~}~ سے تو یہ کہا کہ میں ایک خدا ہوں اور ۲~}~ دوسری سے کہا کہ میں دو ہوں اور ۳~}~ تیسری کو باپ، بیٹا، روح القدس کی تعلیم دی اور ۴~}~ چوتھی کو لاکھوں بتوں میں خدائی طاقتوں کا عقیدہ سکھایا اور ۵~}~ پانچویں کو ہر جیز کا الگ دیوتا بتایا یا یہ کہ ۶~}~ ایک سے کہا کہ اس کی ذات بالکل منزہ ہے- ممکن نہیں کہ وہ تجسم اختیار کرے- ۷~}~ دوسری کو بتایا کہ انسانی جسم میں وہ حلول کر سکتا ہے اور ۸~}~ کو یہ بتایا کہ وہ ادنیٰ جانوروں حتیٰ کہ سور تک کی شکل اختیار کر لیتا ہے یا مثلاً ۹~}~ کو تو اس نے بتایا کہ بعثت بعدالموت حق ہے- ۱۰~}~ دوسری کو بتایا کہ بعثت بعدالموت نہیں ہے- ۱۱~}~ ایک سے کہا کہ مردے زندہ ہو کر دنیا میں نہیں آتے- ۱۲~}~ دوسری سے کہا کہ انسان مرنے کے بعد نئی نئی
    ۱~}~ اہل اسلام ویہود ۲~}~ پارسی ۳~}~ مسیحی ۴~}~ ہنود ۵~}~ چینی ۶~}~ مسلمانوں کو ۷~}~ مسیحیوں ۸~}~ ہنود ۹~}~ اہل اسلام ۱۰~}~ یہود کے بعد قبائل ¶۱۱~}~ اہل اسلام ۱۲~}~ ہنود
    جونوں میں واپس آتا ہے- غرض یہ تو ممکن ہے کہ احکام اللہ تعالیٰ مختلف اقوام کے حالات دیکھ کر بیان فرما دے، مگر یہ ممکن نہیں کہ واقعات اور دائمی صداقتیں بھی مختلف اقوام کو مختلف طور پر بتائے، لیکن چونکہ موجودہ مذاہب کے صرف احکام میں احکام میں اختلاف نہیں بلکہ دائمی صداقتوں میں بھی اختلاف ہے اس لیے ان سب کو خدا تعالیٰ کی طرف جانے والے مختلف راستے نہیں کہہ سکتے-
    دوسرا اعتراض اس عقیدہ پر یہ پڑتا تھا کہ ہندو لوگ ایک طرف تو اپنے مذہب کو سب مذاہب سے افضل قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف اسے سب سے پرانا مذہب قرار دیتے ہیں، عقل سلیم اسے تسلیم نہیں کر سکتی کہ اللہ تعالیٰ نے افضل مذہب اتار کر پھر ادنیٰ مذاہب اتارے جبکہ انسان اپنی ابتدائی حالت میں کامل مذہب قبول کرنے کی طاقت رکھتا تھا تو پھر بعد کو علوم وفنون میں ترقی حاصل کرنے پر اس کی طرف ادنیٰ دین اتارنے کی کیا وجہ تھی؟ بعد کو تو وہی دین آسکتا ہے جو پہلے سے زیادہ مکمل ہو یا کم سے کم ویسا ہی دین ہو-
    یہ دونوں اعتراض ایسے تھے جن کا جواب اس عقیدے کے پیش کرنیوالوں سے کچھ نہ بنتا تھا اور یہ اعتراض قائم رہتا تھا کہ خدا تعالیٰ دنیا کی ہدایت کے لئے ابتدائے عالم سے کیا سامان کرتا چلا آیا ہے-
    مسیحیوں نے اس عقیدے کا یہ حل بتایا کہ خدا نے مسیح کے ذریعے سب دنیا کو ہدایت کی طرف بلایا ہے اس لیے اس پر کسی قوم کی طرفداری کا اعتراض نہیں ہو سکتا مگر یہ حل بھی صحیح نہ تھا کیونکہ اس سے بھی یہ سوال حل نہ ہوتا تھا کہ مسیح کی آمد سے پہلے خدا نے دنیا کی ہدایت کے لیے کیا سامان کیا تھا بوائیبل سے تو ہمیں اسی قدر معلوم ہوتا ہے کہ دوسری اقوام کے لیے اس کی تعلیم نہ تھی لیکن مسیح کے بعد لوگوں کے لیے اگر دروازہ کھولا بھی گیا تو اس سے پہلے جو کروڑوں لوگ دیگر اقوام کے گزر گئے ان کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے کیا سامان کیا-
    غرض یہ سوال بلاشانی جواب کے پڑا تھا اور لوگوں کے دلوں کو اندر ہی اندر رکھا رہا تھا کہ حضرت مرزا صاحب نے قرآن کریم سے استدلال کر کے اس نقطہ نگاہ کو ہی بدل دیا جو اس وقت تک دنیا میں قائم تھا اور بتایا کہ قرآن کریم کی یہ تعلیم ہے کہ وان من امہ الا خلافیھا نذیر )سورہ فاطرع:۲۵( کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس میں ہم نے رسول نہیں بھیجا پس ہر ملک اور ہر قوم میں اللہ تعالیٰ کے رسول گزر چکے ہیں ہم یہ نہیں کہتے کہ ہندوستان بلا نبیوں کے تھا، یا چین بلانبیوں کے تھا یا روس بلانبیوں کے تھا، یا افغانستان بلانبیوں کے تھا، یا افریقہ بلانبیوں کے تھا یا یورپ بلانبیوں کے تھا، یا امریکہ بلانبیوں کے تھا، نہ ہم دوسری اقوام کے بزرگوں کا حال سن کر ان کا انکار کرتے ہیں اور ان کو چجھوٹا قرار دیتے ہیں کیونکہ ہمیں تو یہ بتایا گیا ہے کہ ہر قوم میں نبی گزر چکے ہیں- دوسری اقوام میں نبیوں اور شریعتوں اور کتابوں کا پایا جانا ہمارے مذہب کے خلاف اور اس کے راستے میں روک نہیں ہے بلکہ اس میں اس کی تصدیق ہے- ہاں ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ زمانے کے حالات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے پہلے مختلف اقوام کی طرف نبی بھیجے اور بعد میں جب انسان اس کامل شریعت کو قبول کرنے کے قابل ہو گیا جو محمد رسول اللہ ~صل۲~ کی معرفت آئی تو اس نے آپ کو سب دنیا کی طرف مبعوث کر کے بھیج دیا- پس کوئی قوم بھی ہدایت سے محروم نہیں رہی اور باوجود اس کے اسلام ہی اس وقت ہدایت کا راستہ ہے کیونکہ یہ آخری دین اور مکمل دین ہے- جب مکمل دین آگیا تو پہلے دین منسوخ کئے گئے اور ان دینوں کے منسوخ کئے جانے کی یہ بھی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اب ان کی حفاظت چھوڑ دی ان میں انسانی دست برد ہوتی رہتی ہے اور وہ صداقت سے کوسوں دور جا پڑے ہیں اور ان کی شکلیں مسخ ہو چکی ہیں وہ سچے ہیں بلحاظ اپنی ابتداء کے اور جھوٹے ہیں بلحاظ اپنی موجودہ شکل کے یہ نقطہ نظر جو آپ نے قائم کیا ایسا ہے کہ اس سے کوئی شخص پیچھے ہٹ نہیں سکتا کیونکہ اگر اس اصل کو تسلیم نہ کیا جائے تو ماننا پڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض بندوں کی ہدایت کرتا ہے اور بعض انسانوں کو بلا ہدایت کے سامان پیدا کرنے کے یونہی چھوڑ دیتا ہے اور اسے عقل سلیم تسلیم نہیں کرتی اور اگر وہ اس اصل کو تسلیم کر لیں تو ان کو اسلام کی صداقت کا قائل ہونا پڑتا ہے- کیونکہ اسلام سب سے آخری دین ہے- اور اس لیے بھی کہ اسلام ہی نے اس صحیح اور درست اصل کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے-
    یہ حربہ ایسا زبردست ہے کہ تعلیم یافتہ طبقہ اور وسیع الخیال جماعت جو خواہ کسی مذہب سے تعلق رکھتی ہو- اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی کیونکہ اگر اس اصل کو جو حضرت اقدس نے پیش کیا ہے چھوڑ دیں تو خدا تعالیٰ کو بھی ساتھ ہی چھوڑنا پڑتا ہے اور یہ وہ کر نہیں سکتے اور اگر وہ اس اصل کو قبول کر لیں تو پھر اسلام کو بھی قبول کرنا پڑتا ہے اور اس کے سوا ان کے لیے اور کوئی چارہ نہیں پس دنیا کے نقطہ نگاہ کو جو پہلے نہایت تنگ تھا بدل دینے سے حضرت مسیح موعودؑ نے اسلام کے غلبہ کا ایک یقینی سامان پیدا کر دیا ہے-
    چوتھا حربہ جو آپ نے اسلام کو غالب کرنے کے لیے استعمال کیا اور جس نے اسلام کے خلاف تمام مباحثات کے سلسلے کو بدل دیا ہے اور غیر مذاہب کے پیروئوں کے ہوش اڑا دئیے ہیں یہ ہے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے ائج الوقت علم کلام کو بالکل بدل دیا اور اس کے ایسے اصول مقرر فرمائے کہ نہ تو دشمن انکار کر سکتا ہے اور نہ ان کے مطابق وہ اسلام کے مقابلے میں ٹھہر سکتا ہے اگر وہ ان اصولوں کو رد کرتا ہے تب بھی مرتا ہے اور اگر قبول کرتا ہے تب بھی مرتا ہے- نہ فرار میں اسے نجات نظر آتی ہے نہ مقابلے میں حفاظت-
    آپ سے پہلے تنقید اور مباحثے کا یہ طریق تھا کہ ایک فریق دوسرے فریق پر جو چاہتا اعتراض کرتا چلا جاتا ہے اور اپنی نسبت جو کچھ چاہتا تھا کہتا چلا جاتا تھا اور یہ بات ظاہر ہے کہ جب مناظرے کا میدان غیر محدود ہو جائے تو مناظرے کا نتیجہ کچھ نہیں نکل سکتا- جب چند سوار دوڑنے لگتے ہیں تو بعض قواعد کے مطابق دوڑتے ہیں- تب جا کر جیتنے والے کا پتہ لگتا ہے اگر کوئی کسی طرف کو اور کوئی کسی طرف کو دوڑ جائے تو کیا معلوم ہو سکتا ہے کہ کون جیتا- اس طرح دوڑنے والوں کے متعلق ہم کبھی بھی صحیح رائے قائم نہیں کر سکتے، اسی طرح مذہبی تحقیق کے معاملے میں جب تک حد بندی نہ ہو رائے قائم نہیں کی جا سکتی پہلے یہ طریق تھا کہ ہر شخص کو جو بات اچھی معلوم ہوئی خواہ کسی کتاب میں پڑھی ہو اپنے مذہب کی طرف منسوب کر دی اور کہہ دیا کہ دیکھو ہمارے مذہب کی تعلیم کیسی اچھی ہے گویا اصل مذہب کے متعلق کوئی گفتگو ہی نہ ہوتی تھی، بلکہ علماء اور مباحثین کے ذاتی خیالات پر گفتگو ہوتی رہتی تھی، نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ متلاشیان حق کو فیصلہ کرنے کا موقعہ نہ ملتا تھا آپ نے آکر اس طریق مباحثہ کو خوب وضاحت سے غلط ثابت کیا اور بتایا کہ اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والی کتاب ہماری ہدایت کے لیے آئی ہے تو چاہئیے کہ جو کچھ وہ ہمیں منوانا چاہتی ہے وہ بھی اس میں موجود ہو- اور جن دلائل کی وجہ سے منوانا چاہتی ہے وہ بھی اس میں موجود ہوں، کیونکہ اگر خدا کا کلام دعوے اور دلائل دونوں سے خالی ہے تو پھر اس کا ہمیں کیا فائدہ ہے؟ اور اگر دعوی بھی ہم پیش کرتے ہیں اور دلائل بھی ہم ہی دیتے ہیں تو پھر اللہ کے کلام کا کیا فائدہ؟ اور ہمارا مذہب اللہ کا دین کہلانے کا کب مستحق ہے وہ تو ہمارا دین ہوا اور اللہ کا ہم پر کوئی احسان نہ ہوا کہ ہم نے ہی اس کے دین کے لئیے دعوے تجویز کئے اور ہم نے ہی ان دعووں کے دلائل مہیا کئے- پس ضروری ہے کہ مذہبی تحقیق کے وقت ی امر مدنظر رکھا جائے کہ آسمانی مذاہب کے مدعی جو دعوی اپنے مذاہب کی طرف سے پیش کریں وہ بھی ان کی آسمانی کتب سے ہو اور جو دلائل دیں وہ بھی انہی کی کتب سے ہوں-
    یہ اصل ایسا زبردست تھا کہ دوسرے ادیان اس کا ہرگز انکار نہیں کر سکتے تھے کیونکہ اگر وہ کہتے کہ نہیں ہم ایسا نہیں کر سکتے تو اس کے یہ معنے ہوتے کہ جو مذہب وہ بیان کرتے ہیں وہ مذہب وہ نہیں ہے جو ان کی آسمانی کتب میں بیان ہوا ہے کیونکہ اگر وہی مذہب ہے تو پھر کیوں وہ اپنی آسمانی کتاب سے اس کا دعوی بیان نہیں کر سکتے یا اگر دعوی بیان کر سکتے ہیں تو کیوں ان کی آسمانی کتاب دلیل سے خالی ہے- جب خدا تعالیٰ نے انسان کے دماغ کو ایسا پیدا کیا ہے کہ وہ بلا دلیل کے کسی بات کو نہیں مان سکتا تو کیوں وہ اسے ایمان کی باتیں بتاتے وقت ایسے دلائل نہیں دیتا جن کی مدد سے وہ ان باتوں کو قبول کر سکے، غرض غیر مذاہب کے لوگ اس اصل کو نہ رد کر سکتے تھے، کونکہ ان کے رد کرنے کے یہ معنی تھے کہ ان کے مذہب بالکل ناقص اور ردی ہیں اور نہ قبول کر سکتے تھے کیونکہ اے بادشاہ! آپ کو یہ معلوم کر کے حیرت ہو گی کہ جب اس اصل کے ماتحت دوسرے مذاہب کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ قریباً نوے فیصدی ان کے دعوے ایسے تھے جو ان کی الہامی کتب میں نہیں پائے جاتے تھے اور جس قدر دعوے مذہبی کتب سے نکلتے تھے ان میں قریباً سو فیصدی ہی دلائل کے بغیر بیان کئے گئے تھے گویا خدا نے ایک بات بتاکر انسان پر چھوڑ دیا تھا کہ وہ اپنی وکالت سے اس کی بات کو ثابت کرے-
    حضرت اقدس نے ثابت کر دیا کہ مختلف مذاہب کے پیرو اپنے دل سے باتیں بنا بنا کر یا ادھر ادھر سے خیالات چرا کر اپنے مذہب کی طرف منسوب کر دیتے ہیں اور ان مذاہب کی فوقیت پر بحثیں کر کے لوگوں کا وقت ضائع کرتے ہیں کیونکہ اگر وہ اپنی بات کو ثابت بھی کر دیں تو اس سے یہ نتیجہ تو نکل آئے گا کہ ان کے خیالات ان مسائل کے متعلق درست ہیں مگر یہ نتیجہ نہ نکلے گا کہ ان کا مذہب بھی سچا ہے کیونکہ وہ بات ان کی مذہبی کتاب میں پائی ہی نہیں جاتی پھر آپ نے یہ ثابت کیا کہ قرآن کریم تمام اصول اسلام کو خود پیش کرتا ہے اور ان کی سچائی کے دلائل بھی دیتا ہے اور اس کے ثبوت میں آپ نے سینکڑوں مسائل کے متعلق قرآن کریم کا دعوی اور اس کے دلائل پیش کر کے اپنی بات کو روز روشن کی طرح ثابت کر دیا اور دشمنان اسلام آپ کے مقابلے سے بالکل عاجز آگئے اور وہ اس حربے سے اس قدر گھبرا گئے ہیں کہ آج تک ان کو کوئی حیلہ نہیں مل سکا جس سے اس کی زد سے بچ سکیں اور نہ آئندہ مل سکتا ہے یہ علم کلام ایسا مکمل اور اعلیٰ ہے کہ نہ قاس کا انکار کیا جا سکتا ہے اور نہ اس کی موجودگی میں جھوٹ کی تائید کی جا سکتی ہے- پس جوں جوں اس حربے کو استعمال کیا جائے گا ادیان باطلہ کے نمائندے مذہبی مباحثات سے ہی چرائیں گے اور ان کے پیروئوں پر اپنے مذہب کی کمزوی کھلتی جائے گی لیظھرہ علی الدین کلہ کا نظارہ دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھے گی-
    پانچواں حربہ جو حصرت اقدس مرزا غلام احمد علیہ اصلوۃ والسلام نے چلایا اور جس سے دیگر مذاہب کے جھنڈوں کو کلی طور پر سرنگوں کر دیا اور اسلام کو ایسا غلبہ عطا کیا جس غلبے کا کوئی شخص انکار ہی نہیں کر سکتا یہ ہے کہ آپ نے بڑے زور سے دشمنان اسلام کے سامنے یہ بات پیش کی کہ مذہب کی اصل غرض اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا ہے- پس وہی مذہب سچا ہو سکتا ہے اور موجودہ زمانے میں خدا تعالیٰ کا پسندیدہ دین کہلا سکتا ہے جو بندے کا اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرا سکے اور اس تعلق کے آثار دکھا سکے، ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں چھوٹی سے چھوٹی چیز کا بھی کوئی نہ کوئی اثر ہوتا ہے- آگ اگر جسم کو لگتی ہے یا اس کے پاس ہی ہم بیٹھتے ہیں تو جسم یا جل جاتا ہے یا گرمی محسوس کرتا ہے پاتی ہم پیتے ہیں تو فورا ہماری اندرونی تپش کے زائل ہو جانے کے علاوہ ہمارے چہرہ سے بشاشت اور طراوت کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں عمدہ غذا کھائیں تو جسم فربہ ہونے لگ جاتا ہے ورزش کرنے لگیں تو جسم میں مضبوطی پیدا ہو جاتی ہے اور تاب وتوانائی حاصل ہوتی ہے اسی طرح دوائوں کا اثر ہوتا ہے کہ بعض دفعہ مضر اور بعض دفعہ مفید پڑتا ہے مگر یہ عجیب بات ہو گی اگر اللہ تعالیٰ کا تعلق بالکل بے اثر ثابت و! عبادات کرتے کرتے ہماری ناکیں گھس جائیں اور روزے رکھتے رکھتے پیٹ پیٹھ سے لگ جائیں زکوۃ وصدقات دیتے دیتے ہمارے اموال فنا ہو جائیں لیکن کوئی تغیر ہمارے اندر پیدا نہ ہو اور ان کاموں کا کوئی نتیجہ نہ نکلے- اگر یہ بات ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کے تعلق کا فائدہ کیا اور اس کی ہمیں حاجت کیا؟ ایک ادنیٰ حاکم سے ہمارے تعلق کی علامت تو ظاہر ہو جاتی ہے کہ اس کے دربار میں ہمیں عزت ملتی ہے- اس کے ماتحت ہمارا لحاظ کرنے لگتے ہیں وہ ہماری التجائوں کو سنتا ہے اور ہماری تکلیفوں کو دور کرتا ہے اثر ہر ایک شخص اس بات کو محسوس کرتا لیتا ہے کہ ہم اس کے مقبول اور پیارے ہیں، لیکن اگر کچھ پتا نہیں لگ سکتا تو اللہ تعالیٰ کے تعلق کا کہ نہ اس کا اثر ہمارے نفس پر کچھ پڑتا ہے اور ہمارے تعلقات پر ہم ویسے کے ویسے ہی رہتے ہیں جیسے کہ پہلے تھے-
    ٭٭٭
    ‏6] 775 8 50 100 [gptbox دعوہ الامیر
    ~بسم۲~
    یہ کتاب حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے امیر امان اللہ خاں کے لیے اس زمانے میں بطور اتمام حجت بصورت مکتوب تحریر فرمائی تھی جبکہ وہ فرمانروائے افغانستان تھے- تا وہ بھی اس فائدے میں شریک ہو جائیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و رحم سے اس زمانے میں آسمان سے نازل فرمایا ہے- یہ کتاب لا جواب اب سے پہلے سات بار شائع ہو چکی اب یہ آٹھویں بار شائع کی جا رہی ہے-
    اس کتاب میں حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے عقائد جماعت احمدیہ بیان فرماتے ہوئے معاندین سلسلہ عالیہ احمدیہ کے تمام چیدہ و مایہ ناز اعتراضات کے ایسے مسکت اور تسلی بخش جوابات تحریر فرمائے ہیں جو حق پسند طالبان تحقیق کو مطمئن و مسرور اور معاندین کو مبہوت و مفرور بنادینے والے ہیں اور اس میں بانی جماعت احمدیہ کی صداقت پر بکثرت دلائل ساطعہ و براہین قاطعہ کے ساتھ ایسے دلکش و دلنشین پیرائے میں بالتفصیل بحث فرمائی گئی ہے جو آپ ہی اپنی نظیر ہے اس لحاظ سے یہ کتاب احمدیہ لٹریچر میں ایک خاص اہمیت رکھتی ہے-
    اس کتاب مسطباب میں >شہادت سرور انبیائ< کے زیر عنوان مسیح موعود و مہدی مسعود کے زمانے کی ان علامات کا ذکر بڑی تفصیل سے فرمایا گیا ہے جو آج سے چودہ سو سال پہلے حضرت نبی کریم علیہ التحیہ والسلام نے اللہ تعالیٰ عالم الغیب والشہادۃ سے علم پاکر بیان فرمائی تھیں جن میں مسلمانوں کی موجودہ دینی`اخلاقی اور سیاسی تنزل و و کمزوری اور مخالفین اسلام کی مادی قوت و طاقت اور ظاہری عظمت و برتری کی تصویر کھچی ہوئی ہے اس حصہ کو پڑھ کر ایک طرف تو آنحضرت ~صل۱~ کا من جانب اللہ ہونا آفتاب عالم تاب کے مانند روشن و درخشاں نظر آتا ہی اور دوسری طرف دل اس یقین سے معمور ہو جاتا ہے کہ حضرت سرور عالم~صل۲~ نے جو یہ خوشخبری دی ہے کہ اسلام کا دوبارہ احیاء و عروج اور اس کی بے نظیر ترقیات مسیح موعود و مہدی مسعودؑ کے ذریعے ہونگی حضور انورﷺ~ کی یہ پیشگوئی بھی ضرور بالضرور پوری ہوگی-
    یہ وہی کتاب دافع حجاب ہے جو بہت سے لوگوں کی ہدایت کا مو جب ہونے کے علاوہ خان فقیر محمدﷺ~ خان مرحوم سپرنٹنڈنٹ انجنیئر صوبہ صرحد کے بھی سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہونے کا جبکہ آپ لنڈن میں تھے باعث بنی- آپ ۱۹۱۰ء میں لنڈن گئے تھے` وہاں انگریزوں کے ظاہری کرو فر اور مادی قوت و طاقت کے مشاہدے آپ کو ایسا مرعوب کر دیا کہ آپ اسلام کے آیندہ عروج سے بلکل مایوس ہوگئے آپ کو نہایت تیرہ و تار نظر آنے لگا` اسی دوران میں آپ نے یہی کتاب >دعوۃ الامیر< نکالی جو آپ کے برادر معظم محمد اکرم خان صاحب احمدی نے سفر لنڈن کے وقت چند کتابوں کے ساتھ آپ کے بیگ میں رکھدی تھی آپ نے اس کتاب کا مطالعہ شروع کردیا اور جب >شہادۃ سرور انبیائ< کے زیر عنوان موجودہ زمانے کے متعلق حضرت نبی کریم~صل۲~ کی وہ پیشگوئیاں پڑھیں جن میں طاغوتی طاقتوں کے عروج اور مسلمانوں کے زوال کے بعد پھر مسلمانوں کے عروج اور غلبے کے بشارتیں تھیں تو آپ کا دل اس یقین سے بھر گیا کہ اسلام کا مستقبل تیرہ و تار نہیں بلکہ نہائت روشن اور شاندار ہے اور یہ اطمینان ہو جانے پر کہ اسلام کا یہ عروج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃوالسلام کے خدام ہی کے ذریعے ہوگا آپ شرف بیعت حاصل کرکے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہو گئے اور روز بیعت سے لیکر یوم وفات تک اس کی ہر ندا پر جوش دل اور بشاشت روح سے لبیک کہتے رہے- فجزاہ اللہ تعالیٰ احسن الجزائ۔
    غرض یہ کتاب دلائل صداقت مسیح موعودؑاور رد اوہام معاندین میں نہایت جامع اور مئوثر کتاب ہے- ذی مقدرت احباب کا فرض ہے کہ وہ بکثرت اس کے اشاعت فرمائیں اور اپنے ان عزیزوں اور دوستوں کو جو بوجہ ناواقفیت ابھی تک سلسلہ عالیہ احمدیہ سے علیحدہ ہیں بطور تحفہ یا برائے چندے بغرض مطالعہ دیں- تا وہ بھی ان انعامات الہیہ کے مستحق بنیں جو سلسلہ میں داخل ہونے والوں کے ساتھ خاص ہی-
    خاکسار
    جلال الدین شمس انچارج تالیف و تصنیف ربوہ
    ‏ 23 Dawat
    ساتویں پیشگوئی
    طاعون کی پیشگوئی جس سے ثابت کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ تمام باریک در باریک اسباب کا مالک ہے
    افغانستان اور اس کے ہمسایہ ملک کے متعلق حضرت اقدسؑ کی پیشگوئی بیان کرنے کے بعد میں نے چار پیشگوئیاں ایسی بیان کی ہیں جن سے تین قوموں پر حجت تمام کی گئی ہے اب میں ایک ایسی پیشگوئی بیان کرتا ہوں جس سے تمام اقوام ہند اور ان کے ذریعے سے تمام دنیا پر حجت قائم کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ ثابت فرمایا ہے کہ وہ باریک اسباب پر قادر ہے اور ان کو اپنے مامور کی تائید میں لگاتا ہے- اس قسم کی پیشگوئیاں بھی حضرت اقدس نے بہت سی کی ہیں جو اپنے اپنے وقت پر پوری ہو چکی ہیں اور بعض آئندہ پوری ہوں گی` مگر ان میں سے مثال کے طور پر طاعون کی پیشگوئی کو لیتا ہوں جس میں یہ خصوصیت ہے کہ اس کی خبر رسول کریم ~صل۲~ نے بھی دی تھی اور فرمایا تھا کہ یہ بیماری مسیح موعود کے وقت میں پھوٹے گی-
    جب رسول کریم ~صل۲~ کی پیشگوئی کے مطابق رمضان کی تیرہ تاریخ کو چاند گرہن اور اٹھائیس تاریخ کو سورج گرہن ہوا تو اس وقت حضرت اقدس علیہ السلام کو بتایا گیا کہ اگر لوگوں نے اس نشان سے فائدہ نہ اٹھایا اور تجھے قبول نہ کیا تو ان پر ایک عام عذاب نازل ہوگا چنانچہ آ کے اپنے الفاظ یہ ہیں-: وحاصل الکلام ان الکسوف والخسوف ایتان مخوفتان واذا اجتمعا فھو تھدید شدید من الرحمن واشارہ الی ان العذاب قد تقرر واکد من اللہ لاھل العدون )نور الحق حصہ دوم(
    یعنی کسوف وخسوف اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو ڈرانے والے نشان ہیں اور جب اس طرح جمع ہو جائیں جس طرح اب جمع ہوئے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور تنبیہہ اور اس بات کی طرف اشارہ ہوتے ہیں کہ عذاب مقرر ہو چکا ¶ہے ان لوگوں کے لیے جو سرکشی سے باز نہ آویں اس یک بعد اللہ تعالیٰ نے اس پیشگوئی کے پورا کرنے کے لیے آپ کے دل میں تحریک کی کہ آپ ایک وباء کے لیے دعا کریں چنانچہ آپ اپنے ایک عربی قصیدے میں جو ۱۸۹۴ء میں چھپا ہے فرماتے ہیں
    فلما طغی الفسق المبید بسیلہ
    تمنیت لو کان الوباء المتبر
    فان ھلاک الناس عند اولی النھی
    احب واولی من ضلال یخسر
    یعنی جب ہلاک کر دینے والا فسق ایک طوفان کی طرح بڑھ گیا تو میں نے اللہ تعالیٰ سے چاہا کہ کاش ایک وباء پڑے جو لوگوں کو ہلاک کر دے- کیونکہ عقلمندوں کے نزدیک لوگوں کا مر جانا اس سے زیادہ پسندیدہ اور عمدہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ تباہ کر دینے والی گمراہی میں مبتلا ہو جائیں-
    اس کے بعد ۱۸۹۷ء میں آپ نے اپنی کتاب سراج المنیر میں لکھا کہ اس عاجز کو الہام ہوا ہے یامسیح الخلق عدوانا یعنی اے خلقت کے لیے مسیح ہماری متعدد بیماریوں کے لیے توجہ کر پھر فرماتے ہیں دیکو یہ کس زمانے کی خبریں ہیں اور نہ معلوم کس وقت پوری ہوں گی` ایک وہ وقت ہے جو دعا سے مرتے ہیں اور دوسرا وہ وقت آتا ہے کہ دعا سے زندہ ہونگے- جس وقت یہ آخری پیشگوئی شائع ہوئی ہے اس وقت طاعون صرف بمبئی میں پڑی تھی اور ایک سال رہ کر رک گئی تھی اور لوگ خوش تھے کہ ڈاکٹروں نے اس کے پھیلنے کو روک دیا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی طرف اطلاعیں اس کے برخلاف کہہ رہی تھیں جب کہ لوگ اس مرض کے حملے کو ایک عارضی جملہ خیال کر رہے تھے اور پنجاب میں صرف ایک دو گائوں میں یہ مرض نہایت قلیل طور پر پایا جاتا تھا- باقی کل علاقہ محفوظ تھا اور بمبئی کی طاعون بھی بظاہر دبی ہوئی معلوم ہوتی تھی اس وقت آپ نے ایک اور اعلان کیا اور اس میں بتایا کہ ایک ضروری امر ہے جس کے لکھنے پر میرے جوش ہمدردی نے مجھے آمادہ کیا ہے اور میں خوب جانتا ہوں کہ جو لوگ روحانیت سے بے بہرہ ہیں اس کو ہنسی اور ٹھٹھے سے دیکھیں گے میرا فرض ہے کہ میں اس کو نوع انسان کی ہمدردی کے لیے ظاہر کروں اور وہ یہ ہے کہ آج جو ۶ فروری ۱۸۹۸ء روز یک شنبہ ہے میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کے ملائک پنجاب کے مختلف مقامات میں سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں اور وہ درخت نہایت بدشکل اور سیاہ رنگ اور خوفناک اور چھوٹے قد کے ہیں- میں نے بعض لگانے والوں سے پوچھا کہ یہ کیسے درخت ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب ملک میں پھیلنے بالی ہے- میرے پر یہ امر مشتبہ رہا کہ اس نے یہ کہا کہ آئندہ جاڑے میں یہ مرض پھیلے گا یا یہ کہ اس کے بعد کے جاڑے میں پھیلے گا` لیکن نہایت خوفناک نمونہ تھا جو میں نے دیکھا اور مجھے اس سے پہلے طاعون کے بارہ میں الہام بھی ہوا اور وہ یہ ہے- ان اللہ لایغیر مابقوم حتی یغیروا مابا نفسھم انہ اوی القریہ یعنی جب تک دلوں کے وبائے معصیت دور نہ ہو گی ت ظاہری وباء بھی دور نہیں ہو گی اس اشتہار کے آخر میں چند فارسی اشعار بھی لکھے ہیں جو یہ ہیں
    ‏]tnec [tagگر آں چیزے کہ می بینم عزیزاں نیز دیرندے
    زدنیا توبہ کر دندے بچشم زار وخو بنارے
    خور تاباں سیہ گشت است از بدکاری مردم
    زمیں طاعوں ہمی آردپے تخویف وانزارے
    بہ تشویش قیامت ماندایں تشویوش گر بینی
    علاجے نیست بہردفع آں جز حسن کر دارے
    من از ہمدردی ات گفتم تو خرو ہم فکر کن بارے
    خرواز بہرایں روز است اے دانائو ہشیارے
    ان پیشگوئیوں سے ظاہر ہے کہ آپ نے ۱۸۹۴ء سے پہلے ایک خطرناک عذاب اور پھر کھلے لفظوں میں وباء کی پیشگوئی کی اور پھر جب کہ ہندوستان میں طاعون نمودار ہی ہوئی تھی کہ آپ نے خصوصیت کے ساتھ پنجاب کی تباہی کی خبر دی اور آنے والی طاعون کو قیامت کا نمونہ قرار دیا اور فرمایا کہ یہ طاعون اس وقت تک نہیں جائے گی جب تک کہ لوگ دلوں کی اصلاح نہ کریں گے-
    اس کے بعد جو کچھ ہوا الفاظ اسے ادا نہیں کر سکتے` طاعون کی ابتداء گو بمبئی سے ہوئی تھی اور قیاس چاہتا تھا کہ وہیں اس کا دورہ سخت ہونا چاہئے مگر وہ تو پیچھے رہ گیا اور پنجاب میں طاعون نے اپنا ڈیرہ لگا لیا اور اس سختی سے حملہ کیا کہ بعض دفعہ ایک ایک ہفتے میں تیس تیس ہزار آدمیوں کی موت ہوئی اور ایک ایک سال میں کئی کئی لاکھ آدمی مر گئے` سینکڑوں ڈاکٹر مقرر کئے گئے اور بیسیوں قسم کے علاج نکالے گئے مگر کچھ فائدہ نہ ہوا ہر سال طاعون مزید شدت اور سختی کے ساتھ حملہ آور ہوئی اور گورنمنٹ منہ دیکھتی رہ گئی اور بہت سے لوگوں کے دلوں نے محسوس کیا کہ یہ عذاب مسیح موعود کے انکار کی وجہ سے ہے اور ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں آدمیوں نے اس قہری نشان کو دیکھ کت صداقت کو قبول کیا اور اللہ تعالیٰ کے مامور پر ایمان لائے اور اس وقت تک طاعون کے زور میں کمی نہ ہوئی جب تک اللہ تعالیٰ نے اپنے مامور کو نہ بتایا کہ طاعون چلی گئی- بخار رہ گیا- اس کے بعد طاعون کا زور ٹوٹنا شروع ہو گیا اور برابر کم ہوتی چلی گئی مگر بعض الہامات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس مرض کے ابھی کچھ اور دورے ہونگے اس ملک میں بھی اور دوسرے ممالک میں بھی- اللہ تعالیٰ اپنے عاجز بندوں کو اپنی پناہ میں رکھے-
    میرے نزدیک یہ پیشگوئی ایسی واضح اور مومن وکافر سے اپنی صداقت کا اقرار کرانے والی ہے کہ اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص ضد کرتا ہے تو اس کی حالت نہایت قابل رحم ہے جس کی آنکھیں ہوں وہ دیکھ سکتا ہے کہ )۱( طاعون کی خبر ایک لمبا عرصہ پہلے دی گئی تھی اور کوئی طبی طریق ایسا نہیں ایجاد ہوا جس سے اتنا لمبا عرصہ پہلے دبائوں کا پتہ دیا جا سکے )۲( طاعون کے نمودار ہونے پر یہ بتایا گیا تھا کہ یہ عارضی دورہ نہیں ہے بلکہ سال بسال یہ بیماری حملہ کرتی چلی جائے گی )۳( یہ بھی قبل از وقت بتایا گیا تھا کہ یہ بیماری پنجاب میں نہایت سخت ہو گی` چنانچہ بعد کے واقعات نے بتا دیا کہ پنجاب میں ہی یہ بیماری سب سے زیادہ پھیلی اور یہیں سب سے زیادہ موتیں ہوئیں )۴( ڈاکٹروں نے متواتر پیشگوئیاں کیں کہ اب یہ بیماری قابو میں آگئی ہے مگر آپ نے بتایا کہ اس وقت تک اس کا زور ختم نہ ہو گا جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا علاج نہ ہو گا اور ایسا ہی ہوا کہ اس کا دورہ برابر نو سال تک سختی سے ہوتا رہا- )۵( آخر میں اللہ تعالیٰ نے خود رحم کر کے اس کے زور کو توڑ دینے کا وعدہ کیا اور آپ کو بتایا گیا کہ طاعون چلی گئی بخار رہ گیا چنانچہ اس الہام کے بعد طاعون کا زور ٹوٹ گیا اور بخار کا شدید حملہ پنجاب میں ہوا جس سے قریباً کوئی گھر خالی نہیں رہا اور سرکاری رپورٹوں میں تسلیم کیا گیا کہ بخار کا یہ حملہ غیر معمولی تھا-
    آٹھویں پیشگوئی
    زلزلہ عظیمہ کی پیشگوئی جو سب اہل مذاہب پر حجت ہوئی اور جس سے ثابت کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ زمین کی گہرائیوں پر بھی ویسی ہی حکومت رکھتا ہے جیسی کہ اس کی سطح کے اوپر رہنے والی چیزوں پر
    اب میں ایک پیشگوئی ان پیشگوئیوں میں سے پیش کرتا ہوں جو اس امر کو ظاہر کرنیوالی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا تصرف زمین کے اندر بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ زمین کے اوپر- یہ پیشگوئی اس زلزلہ عظیمہ کے متعلق ہے جو پنجاب میں ۴ اپریل ۱۹۰۵ء کو آیا اور اس کے ذریعے سے بھی کل ادیان کے پیرووں پر صداقت اسلام اور صداقت مسیح موعود کے متعلق حجت قائم ہوئی اس زلزلے کے متعلق حضرت اقدس مسیح موعود نے یہ الہام شائع کئے تھے- زلزلہ کا دھکا- عفت الدیار محلھا ومقامھا یعنی ایک خطرناک زلزلہ آئے گا جس سے لوگوں کی مستقل سکونت کے مکانات بھی تباہ ہو جائیں گے اور عارضی سکونت کے کیمپ بھی تباہ ہو جائیں گے- یہ الہامات سلسلہ احمدیہ کے متعدد اخبارات میں اسی وقت شائع کر دئیے گئے اور ان الہامات کا اپنے ظاہر لفظوں میں پورا ہونا ایسا بعید از قیاس تھا کہ سمجھا گیا شائد اس سے طاعون کی سختی مراد ہو` مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک کچھ اور مقدر تھا` کانگڑے کی آتش فشاں پہاڑی جو مدتوں سے بالکل بے ضرر چلی آتی تھی اور جس کی آتش فشانی تو ہم پرست ہندوئوں سے ایک دیوی کا ہدیہ لینے کے سوا اور کسی لائق نہیں سمجھی جاتی تھی اور جس کے متعلق علم طبقات الارض کے ماہروں کا خیال تھا کہ اپنی قوت افضجار کو ضائع کر چکی ہے اور اس سے کسی تباہی کا خطرہ نہیں رہا ہے اور جس کے اردگرد سینکڑوں سال پہلے کے بنے ہوئے بڑے برے قیمتی مندر موجود تھے اور ہزاروں آدمی جن کی زیارت کے لیے جاتے رہتے تھے- اس قابل اندیشہ پہاڑی کو صاحب قدرت وجبروت ہستی کی طرف سے حکم پہنچا کہ وہ اپنے اندر ایک نیا جوش پیدا کرے اور اس کے مامور کی صداقت پر گواہی دے-
    الہام زلزلہ میں جیسا کہ اس کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے ایسی جگہ زلزلے کے سب سے زیادہ تباہ کن ہونے کی خبر دی گئی ہے جہاں ایسے مکانات کثرت سے ہون جو عارضی سکونت کے لیے ہوتے ہیں اور ایسے مکانات یا تو سرائیں اور ہوٹل ہوتے ہیں یا کیمپ کی فوجی بارکیں جن میں فوجیں اتی جاتی رہتی ہیں اور جو مستقل سکونت کے لیے نہیں ہوتیں- یہ نہیں کہا جا سکتا کہ الہام عفت الدیار محلھا ومفا مھامیں محلھاکا لفظمقامھا کے لفظ سے پہلے رکھنا امر مذکورہ بالا پر زور دینے کے لیے نہیں ہے بلکہ اس لیے ہے کہ اس مصرع میں شاعر )حضرت لبید بن ربیعہ عامری( نے قافیہ کی پابندی کی وجہ سے لفظ محل کو لفظ مقام سے پہلے رکھا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو حضرت لبید کا یہ مصرع الہام کے لیے انتخاب فرمانے میں کوئی مجبوری نہیں تھی- وہ اس کی جگہ کوئی اور عبارت نازل فرما سکتا تھا` یا چونکہ یہ مصرع اکیلاہی الہام کیا تھا یہ کسی دوسرے الہامی مصرع کے ساتھ چسپاں نہیں تھا کہ اس کے قافیے کی رعایت مدنظر ہوتی وہ اسی کے الفاظ کو آے پیچھے کر سکتا تھا- پس یہ الفاظ درحقیقت اسی بات کے ظاہر کرنے کے لیے برقرار رکھے گئے کہ زلزلہ ایک ایسے مقام پر آئے گا جہاں کثرت سے عارضی سکون کی عمارتیں بنی ہوئی ہیں اور جیسا کہ ظاہر ہے- ایسی عمارتیں چھاونیوں سیر گاہوں اور زیارت گاہوں میں ہی زیادہ ہوتی ہیں پس ایسے ہی مقامات میں سے کسی ایک میں زلزلے کے آںے کی خبر دی گئی تھی-
    ان الہامات کے شائع کرنے کے ایک عرصہ بعد جبکہ کسی کو وہم وگمان بھی نہ تھا کانگڑے کی خاموش آتش فشاں پہاڑی جنبش میں آئی اور ۴ اپریل ۱۹۰۸ء کی صبح کے وقت جبکہ لوگ نمازوں سے فارغ ہوئے ہی تھے اس نے سینکڑوں میل تک زمین کو ہلا دیا` کانگڑہ اور اس کے مندر اور اس کی سرائیں برباد ہو گئیں آٹھ میل پر دھر سالہ کی چھاونی تھی اس کی بیرکیں زمین کے ساتھ مل گئیں اور ان کوٹھیوں کی جو موسم گرما میں انگریزوں کی سکونت کے لیے تھیں اینٹ سے اینٹ بج گئی ڈلہوزی اور یکلوہ کی چھاونیوں کی عمارتیں بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو گئیں- دیگر شہروں اور دیہات کو بھی سخت صدمہ پہنچا اور بیس ہزار آدمی اس زلزلے سے موت کا شکار ہوئے- طبقات الارض کے ماہر حیران رہ گئے کہ اس زلزلے کا کیا باعث تھا مگر وہ کیا جانتے تھے کہ اس زلزلے کا باعث حضرت مسیح موعودؑ کی تکذیب تھی اور اس کی غرض لوگوں کو اس کے دعوے کی طرف توجہ دلائی تھی- وہ اس کا باعث زمین کے نیچے تلاش کر رہے تھے مگر درحقیقت اس کا باعث زمین کے اوپر تھا اور کانگڑے کی خاموش شدہ آتش فشاں پہاڑی اپنے رب کا حکم پورا کر رہی تھی اس زلزلے کے علاوہ آپ نے اور بہت سے زلزلوں کی خبر دی جو اپنے وقت پر آئے اور بعض ابھی آئیں گے-
    نویں پیشگوئی
    جنگ عظیم کی پیشگوئی جو سب دنیا کے لیے حجت ہوئی اور جس سے ثابت کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ جس طرح جمادات ونباتات پر حکومت رکھتا ہے اس طرح ان لوگوں کے دلوں پر بھی جو حکومت کے نشہ میں چور ہو کر اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی خدائی سے باہر سمجھتے ہیں
    نویں مثال میں ان پیشگوئیوں میں سے منتخب کرتا ہوں جو ساری دنیا کے لیے حجت ہوئیں اور جن سے یہ ثابت کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں اسی طرح ارباب حکومت کے دل بھی ہیں جس طرح کہ عوام کے اور اسی طرح انسان کی فرمانبرداری کرتا ہے جس طرح اور مخلوق یہ پیشگوئی ۱۹۰۵ء میں شائع کی گئی تھی اور اس مین اس جنگ عظیم کی خبر دی گئی تھی جس نے پچھلے چند سال دنیا کے ہر گوشہ کو حیران وپریشان کر رکھا تھا اور لوگوں کے حواس پر اگندہ کر دئیے تھے اور اب بھی اس کا اثر پوری طرح زائل نہیں ہوا بلکہ کہیں نہ کہیں سے اس کی آگ کا شعلہ سر نکال ہی لیتا ہے-
    اصل الفاظ جن میں اس جنگ کی خبر دی گئی تھی- ایک زلزلہ عظیمہ کی خبر دیتے تھے` لیکن جو علامات اس کی بتائی گئی تھیں وہ ظاہر کرتی تھیں کہ زلزلے کے سوا یہ کوئی اور مصیبت ہے اور دوسرے الہامات بھی اسی خیال کی تائید کرتے تھے چنانچہ وہ الہامات جن میں اس جنگ کی خبر دی گئی تھی یہ ¶ہیں -:
    تازہ نشان` تازہ نشان کا دھکہ- زلزلہ الساعہ قواانفسکم- نزلت لج لج نری ایات ونھدم مایعمرون- قل عندی شھادہ من اللہ فھل انتم مومنون کففت عن بنی اسراء یل- ان فرعون وھا مان وجنودھما کانوا خاطئین- فتح نمایاں ہماری فتح مع الافواج اتیک بغتہ- یہ الہام بار بار ہوا- پہاڑ گرا اور زلزلہ آیا- آتش فشاں- مصالح العرب- مسیرالعرب عفت الدیار کذکری- اریک زلزلہ الساعہ- یریکم اللہ زلزہ الساعہ لمن الملک الیوم للہ الواحد القھار-
    ‏cent] gat[ترجمہ- قیامت کا نمونہ زلزلہ- اپنی جانوں کو بچائو` میں تیری خاطر نازل ہوا- ہم تیری خاطر بہت سے نشان دکھائیں گے اور جو کچھ دنیا بنا رہی ہے- اس ک منہدم کر دیں گے تو کہدے میرے پاس ایک گواہی اللہ کی طرف سے ہے کیا تم ایمان لائو گے- میں نے بنی اسرائیل کی مصیبت دور کر دی` فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر غلطی پر ہیں- فتح نمایاں- ہماری فتح میں فوجوں کے ساتھ تیرے پاس آونگا اور اچانک آئوں- پہاڑ گرا اور زلزلہ آیا- آتش فشاں پہاڑ- اہل عرب کے لیے ایسے راستے نکلیں گے کہ ان پر چلنا ان کے لیے مفید ہو گا اور اہل عرب اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوں گے- گھروں کو اس طرح اڑا دیا جائے جس طرح میرا ذکر وہاں سے مٹ گیا ہے-
    اسی زلزلہ کی مزید تشریح آپ نے اپنی ایک نظم میں فرمائی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے- زلزلہ ایسا سخت ہو گا کہ اس سے انسانوں اور دیہات اور کھیتوں پر تباہی آجائے گی` ایک شخص بحالت برہنگی اس زلزلے کی زد میں آجائے تو اس سے یہ نہ ہو سکے گا کہ کپڑے پہن سکے- مسافروں کو اس سے سخت تکلیف ہو گی اور بعض لوگ اس کے اثر سے دور دور تک بھٹکتے نکل جائیں گے- زمین میں گڑ سے پڑ جائیں گے اور خون کی نالیاں چلیں گی- پہاڑوں کی ندیاں خون سے سرخ ہو جائیں گے- تمام دنیا پر یہ آفت آوے گی اور کل انسان بڑے ہوں خواہ چھوٹے اور کل حکومتیں اس صدمہ سے کمزور ہو جائیں گی اور خصوصاً زار کی حال بہت زار ہو جائے گی- جانوروں تک پر اس کا اثر پڑے گا اور ان کے حواس جاتے رہیں گے اور وہ اپنی بولیاں بھول جائیں گے-
    اس کے علاوہ آپ کو الہام ہوا- >کشتیاں چلتی ہیں تاہوں کشتیاں¶` لنگر اٹھا دو-< اور یہ بھی آپ نے لکھا کہ یہ سب کچھ سولہ سال کے عرصہ میں ہوگا پہلے آپ کو ایک الہام ہوا تھا جس سے معلوم ہوتا تھا کہ زلزلہ آپ کی زندگی میں آئے گا` مگر پھر الہاماً یہ دعا سکھائی گئی کہ اے خدا مجھے یہ زلزلہ دکھلا چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ یہ جنگ سولہ سال کے عرصہ کے اندر تو ہوئی` لیکن آپ کی زندگی میں نہ ہوئی-
    جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں اس پیشگوئی میں زلزلے کا لفظ ہے لیکن اس سے مراد جنگ غلیم تھی اب میں وہ دلائل بیان کرتا ہوں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس پیشگوئی میں جنگ عظیم کی ہی خبر دی گئی تھی )۱( زلزلے کا لفظ جنگ کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے بلکہ ہر آفت شدید کے لئے قرآن کریم میں بھی یہ لفظ جنگ عظیم کے معنوں میں استعمال ہوا ہے سورہ احزاب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اذجاء وکم من فوقکم ومن اسفل منکم واذزاغت الابصار وبلغت القلوب الجناجرو تظنون باللہ الظنونا ابتلی المومنون وزلزلوا زلزالا شدیدا )سورہ احزاب رکوع ۱۷/۲( یعنی یاد کرو اس وقت کو جب دشمن تمہارے اوپر کی طرف سے بھی اور نیچے کی طرف سے بھی حملہ آور ہوا تھا` آنکھیں پھر گئی تھیں اور دل حلق میں آگئے تھے اور تم اللہ عتالیٰ کے متعلق قسم قسم کے گمان کرنے لگ گئے تھے` اس موقعہ پر مومنوں کی آزمائش کی گئی تھی اور وہ ایک سخت آفت میں مبتلا کر دئیے گئے تھے پس جب کہ زلزلے کا لفظ ہر آفت پر بولا جا سکتا ہے ار قرآن کریم میں جنگ کے لیے استعمال ہوا ہے تو پیشگوئی کے الفاظ متحمل ہیں` اگر اس پیشگوئی کے معنی زلزلے کی بجائے کچھ اور کئے جاویں-
    )۲( جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام نے اس پیشگوئی کو شاعء کیا تو اس وقت یہ نوٹ بھی لکھ دیا کہ گو ظاہر الفاظ زلزلے ہی کی طرف اشارہ کرتے ہیں مگر ممکن ہے کہ یہ معمولی زلزلہ نہ ہو بلکہ کوئی اور شدید آفت ہو جو قیامت کا نظارہ دکھاوے جس کی نظیر کبھی اس زمانے نے نہ دیکھی ہو اور جانوں اور عمارتوں پر سخت تباہی آوے<- )براہین احمدیہ حصہ پنجم صفہ ۱۲۰( پس قبل از وقت ملہم کا ذہن بھی اس طرف گیا تھا کہ عجب نہیں کہ زلزلے سے مراد کوئی اور مصیبت ہو اور گو مخالفین نے اس امر پر خاص زور دیا کہ آ زلزلے کے لفظ کے کچھ اور معنے نہ قرار دیں` مگر آپ نے متواتر ان کے اعتراضات کے جواب میں یہی لکھا کہ جب کہ الٰہی محاورات میں اختلاف معانی پایا جاتا ہے تو میں اس لفظ کو ایک معنے میں حصر نہیں کر سکتا` پیشگوئی کی عظمت یہ ہے کہ وہ بہت سی ایسی نشانیاں بتاتی ہے جن کا قبل از وقت تانا انسان کا کام نہیں- پھر وہ وقت بھی بتاتی ہے جس کے اندر وہ واقعہ ہو گا اور یہ بھی بتاتی ہے کہ اس واقعہ کی نظیر پہلے زمانے میں نہیں ملے گی-
    )۳( خود پیشگوئی کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ اس سے مراد زلزلہ نہیں ہو سکتا` بلکہ کوئی مصیبت مراد ہے کیونکہ )۱( پیشگوئی میں بتایا گیا ہے کہ وہ زلزلہ ساری دنیا پر آئے گا اور زلازل زمینی سب دنیا پر ایک وقت میں نہیں آتے` بلکہ ٹکڑوں ٹکڑوں پر آتے ہیں )۲( پیشگوئی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ زلزلے کی گھڑی مسافروں پر سخت ہو گی اور وہ راستہ بھول جائیں گے اور زلزلے کا اثر مسافروں پر کچھ بھی نہیں ہوتا- زلزلہ ان لوگوں کے لیے خطرناک ہوتا ہے جو گھروں اور شہروں میں رہنے والے ہوں- وہ مصیبت جس سے مسافر کو راستہ بھول جائے اور وہ کہیں کا کہیں مارا مارا پھرے- جنگ ہی ہوتی ہے کیونکہ جنگی لائنوں کو چیر کر وہ باہر جا نہیں سکتا اور ادھر ادھر بھاگا بھاگا پھرتا ہے )۳( پیشگوئی سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زلزلے کا اثر کھیتوں اور باغوں پر بھی ہوگا اور زلازل ارضی کا اثر کھیتوں اور باغوں پر نہیں ہوتا ہے- کھیتوں اور باغوں پر جنگ کا اور ہوتا ہے کیونکہ دونوں طرف کی توپوں سے وہ بالکل برباد ہو جاتے ہیں اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جنگی فوائد کو مدنظر رکھ کر کھیت اور باغات کاٹ دئیے جاتے ہیں )۴( پیشگوئی سے معلوم ہوتا ہے کہ پرندوں پر بھی اس زلزلے کا اثر شدیدی طور پر ہوگا اور وہ اپنی بولیاں بھول جائیں گے اور ان کے حواس اڑ جائیں گے- یہ اثر بھی ظاہر زلزلے کا نہیں ہوتا- کیونکہ تھوڑی دیر اس کی حرکت رہتی ہے اور اگر پرندے ہوا میں اڑ جائیں تو ان کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا` مگر جنگ میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ بوجہ رات اور دن کی گولہ باری اور درختوں کے کٹ جانے کے جانور ایسے علاقوں میں سے قریباً مفقود ہو جاتے ہیں اور ان کے ¶حواس اڑ جاتے ہیں )۵( زلزلہ کے الہامات میں ایک فقرہ کففت عن بنی اسراء یل ہے- جس کے یہ معنے ہیں کہ میں نے بنی نوع اسرائیل کو شر سے بچا لیا` ظاہری زلزلے سے اس امر کا کوئی تعلق نہیں- اس لیے ان الہامات سے کوئی ایسا ہی واقعہ مراد تھا جس سے بنی اسرائیل کو فائدہ پہنچے گا اور یہ میں آگے بیان کروں گا کہ یہ بھی جنگ عظیم کی علامت تھی جو پوری ہوئی` میں یہ بھی بتائوں گا کہ اس پیشگوئی کا ذکر قرآن کریم میں بھی ہے )۶( الفاظ الہام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جنگ ہے- کیونکہ زلزلے کے الہامات میں بتایا گیا ہے کہ فرعون وہامان اور ان کے لشکر غلطی پر تھے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ جرمن قیصر کی طرف اشارہ ہے جو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا قائمقام بتاتا ہے جو اپنی ہستی کوئی نہیں رکھتا تھا بلکہ جرمن وار لارڈ کے حکم اور اشارے پر چلتا تھا` اگر زلزلے سے ظاہری زلزلہ مراد لیں تو ان فرعون وھامان وجنودھما کانوا خاطئین کے معنے کرنے مشکل ہو جاتے ہیں- )۷( زلزلے کے ان الہاموں کے ساتھ انی مع الافواج اتیک بغتہ کا الہام بھی بار بار ہوا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی جنگ ہی کی طرف اشارہ ہے- )۸( الہامات سے معلوم ہوتا ہے کہ آتش فشاں پہاڑ پھوٹے گا` او اس کے ساتھ عرب کی مصلحتیں وابستہ ہوں گی اور وہ گھروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور یہ مضمون ظاہری زلزلے پر ہرگز چسپاں نہیں ہو سکتا اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آتش فشاں سے مراد وہ طبائع کا مخفی جوش ہے جو کسی واقعہ کی وجہ سے ابل پڑے گا اور اس وقت عرب بھی دیکھیں گے کہ خاموش رہنا ان کے مصالح کے خلاف ہے اور وہ بھی اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور اس موقعہ سے فائدہ اٹھائں گے )۹( الہامات میں بتایا گیا ہے کہ اس دن بادشاہت اللہ ¶عتالیٰ کے قبضے میں ہو گی` اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حکومتیں کمزور ہو جائیں گی اور اللہ تعالیٰ اپنی حکومت زور دار نشانوں سے قائم کرے گا )۱۰( ایک الہام یہ ہے کہ پہاڑ گرا اور زلزلہ آیا اور یہ بات بچے تک جانتے ہیں کہ طبعی زلالزل پہاڑ گرنے کے نتیجے میں نہیں پیدا ہوتے بلکہ زلزلوں کے سبب سے پہاڑ گرتے ہیں- پس معلوم ہوا کہ پہاڑ گرنے اور زلزلہ آنے سے طبعی زلزلہ مراد نہیں بلکہ استعارہ کچھ اور مراد ہے اور وہ یہی کہ کوئی بڑی مصیبت آئے گی جس کے نتیجے میں دنیا میں زلزلہ آئے گا اور لوگ ایک دوسرے سے جنگ کرنے لگیں گے-
    )۴( چوتھا ثبوت اس اس بات کا کہ زلزلے سے مراد کوئی اور آفت تھی یہ ہے کہ انہیں دنوں کے دوسرے الہامات بھی ایک جنگ عظیم کی طرف اشارہ کرتے تھے جیسے یہ الہام کہ >لنگر اٹھا دو< یعنی ہر قوم اپنے بیڑوں کو حکم دے گی کہ وہ ہر وقت سمندر میں جانے کے لیے تیار ہیں اور اسی طرح یہ الہام کہ >کشتیاں چلتی ہیں تا ہوں کشتیاں< یعنی کثرت سے جہاز ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر پھریں گے اور بحری جنگ کا موقعہ تلاش کرینگے-
    یہ بات ثابت کر دینے کے بعد کہ اس پیشگوئی میں زلزلے سے مراد جنگ عظیم ہے جو پچھلے دنوں ہوئی ہے اب میں اس پیشگوئی کے مختلف اجزاء کے متعلق بیان کرنا چاہتا ہوں کہ وہ کس طرح پورے ہوئی ہے سب سے پہلے تو یہ دیکھنا چاہئے کہ اس پیشگوء میں یہ بتایا گیا کہ اس کی ابتداء اس طرح ہو گی کہ کوئی مصیبت نازل ہو گی اور اس کے نتیجے میں تمام دنیا پر زلزلہ آئے گا چنانچہ اسی طرح اس جنگ کی ابتداء ہوئی- آسٹریا` ہنگری کے شہزادے اور بیگم کے قتل کی مصیبت اس جنگ کے چھڑنے کا باعث ہوئی نہ کہ دول کے سیاسی اختلافات` دوسری بات اس پیشگوئی میں یہ بتائی گئی تھی کہ اس آفت عظیمہ کا اثر ساری دنیا پر ہوگا` چنانچہ یہ بات نہایت روز روشن کی طرح پوری ہوئی اس سے پہلے ایک بھی مصیبت ایسی نہیں آئی جس کا اثر اس وسعت کے ساتھ ساری دنیا پر پڑا ہو` یورپ تو خود اس جنگ کا مرکز ہی تھا` ایشیا بھی اس میں ملوث ہوا چین میں جنگ ہوئی` جاپان جنگ میں شریک ہوا` ہندوستان اس جنگ میں شامل ہوا اور جرمن قنصل کے ساتھ ایرانیوں کا فساد ہوا` عراق` شام` فلسطین` سائبیریا میں جنگ ہوئی` افریقہ میں بھی چاروں کونوں پر جنگ ہوئی` جنوبی علاقے میں سائوتھ افریقہ کی حکومت نے جرمن ویسٹ افریقہ پر حملہ کیا اور خود جنوبی افریقہ میں بغاوت ہوئی` مشرقی افریقہ میں جرمن نو آبادی میں جنگ ہوئی` مغربی ساحل پر کیمران میں جنگ ہوئی` مغربی ساحل پر نہر سویز اور مصر کی سرحد ملحقہ طرابلس پر جنگ ہوئی` آسٹرملیشیا کے علاقے میں جرمن جہاز نے حملہ کیا اور آخر پکڑا گیا اور نیوگائنا میں جنگ ہوئی` امریکہ کے ساحل پر انگریزی اور جرمن بیڑوں میں جنگ ہوئی اور کینیڈا اور ریاستہائے متحدہ جنگ میں شامل ہوئیں اور جنوبی امریکہ کی مختلف ریاستون نے بھی جرمن کے خلاف اعلان جنگ کیا` غرض دنیا کا کوئی علاقہ نہیں جو اس جنگ کے اثر سے محفوظ رہا ہو-
    ایک علامت یہ بتائی گئی تھی کہ پہاڑ اور شہر اڑائے جائیں گے اور کھیت برباد ہونگے سو ایسا ہی ہوا` بیسیوں پہاڑیاں کثرت گولہ باری اور سرنگوں کے لگانے سے بالکل مٹ گئیں اور بہت سے شہر برباد ہو گئے حتی کہ اربوں روپیہ جرمن کو ان کی دوبارہ آبادی کے لیے دینا پڑا ہے اور اب تک اس غرض کے لیے وہ تاوان ادا کر رہا ہے اور کھیتوں اور باغوں کا جو نقصان ہوا ہے ان کی تو کچھ حد ہی نہیں رہی- جس ملک کی فوج آگے بڑھی اس نے دوسرے ملک کے کھیت اور شہر اجاڑ دئیے اور سبزے کا نام ونشان باقی نہ چھورا اور چونکہ ہزاروں میل پر توپ خانے کا پھیلائو تھا- اس سے بھی اس قدر نقصان ہوا جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا-
    ایک علامت یہ بتائی گئی تھی کہ جانوروں کے ہوش وحواس اڑ جائیں گے سو ایسا ہی ہوا جن علاقوں میں جنگ ہو رہی تھی وہاں کے جانور حواس باختہ ہو کر نیست ونابود ہو گئے-
    ایک علامت یہ بتائی گئی تھی کہ زمین الٹ پلٹ ہو جائے گی` چنانچہ فرانس سرویا اور روس کے علاقوں میں گولہ باری کی کثرت سے بعض جگہ اس قدر بڑے بڑے گڑھے پڑ گئے کہ نیچے سے پانی نکل آیا- اور اسی طرح خندقوں کی جنگ کے طریق پر زور دینے کی وجہ سے ملک کا ہر حصہ کھد گیا اور ایسا ہوا کہ ان علاقوں کو دیکھ کر یہ نہیں معلوم ہوتا تھا کہ یہ علاقہ کبھی آباد تھا بلکہ ایسا معلوم ہوتا تھ اکہ بھٹوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے یا پہاڑ کی غاریں ہیں-
    ایک یہ علامت بتائی گئی تھی کہ ندیوں کے پانی خون سے سرخ ہو جائیں گے اور خون کی ندیاں چلیں گی` سو بلامبالغہ اسی طرح ہوا` بعض دفعہ اس قدر خونریزی ہوتی تھی کہ ندیوں کا پانی فی الواقعہ میلوں تک سرخ ہو جاتا تھا اور ہر سرحد پر اس قدر جنگ ہوئی کہ کہہ سکتے ہیں کہ خون کی نالیاں بہہ پڑیں-
    ایک یہ علامت بتائی گئی تھی یہ مسافروں پر وہ ساعت سخت ہو گی اور بعض ان میں سے راستہ بھولے پھریں گے` چناںجہ ایسا ہی ہوا` خشکی پر فوجوں کے پھیل جانے سے اور سمندر میں آبروز جہانوں کے حملوں سے مسافروں کو جو تکلیف ہوئی اس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا اور جس وقت جنگ شروع ہوئی ہے اس وقت ہزاروں لاکھوں آدمی دشمنوں کے ممالک میں گھر گئے اور بعض ہزاروں میل کا چکر لگا کر گھروں کو پہنچے اور جنگ کے درمیان بھی بہت دفعہ سپاہیوں کو بعض ناکوں کے دشمن کے قبضے میں چلے جانے کی وجہ سے سینکڑوں میل ا سفر کر کے جانا پڑتا تھا اور انگریز سپاہی بوجہ فرانس میں مسافر ہونے کے راستہ بھول جاتے تھے` چنانچہ اس قسم کے حوادث کی کثرت کی وجہ سے آخر فرانسیسی زبان میں ان کی رجمنٹوں وغیرہ کے نام تختیوں پر لکھ کر ان کے گلوں میں لٹکائے گئے` تاکہ جہاں جائیں وہ تختیاں دکھا کر منزل مقصود پر پہنچ سکیں-
    ایک علامت یہ بتائی گئی تھی کہ یورپ جو کچھ عمارات تیار کر رہا ہے- وہ مٹا دی جائینگی چنانجہ ایسا ہی ہوا` اس جنگ نے علاوہ ظاہری عمارتوں کے گرانے کے یوردپین تمدن کی بنیادوں کو بھ ہلا دیا ہے اوراب وہ اس جال میں سے نکلنے کے لئے سخت ہاتھ پائون مار رہا ہے جو خود اس کے ہاتھوں نے تیار کیا تھا مگر کامیاب نہیں ہوتا اور یقیناً دنیا دیکھ لے گی کہ جنگ سے پہلے کا یوروپین تمدن اب کامیاب نہیں رہے گا` بلکہ اس کی جگہ ایسے طریق اور ایسی رسومات لے لیں گی کہ خر اسے اسلام کی طرف توجہ کرنی پڑے گی اور یہ خدا کی طرف سے مقدر ہو چکا ہے کوئی اس امر کو ربک نہیں سکتا-
    ایک علامت یہ بتائی گئی کہ بنی اسرائیل کو جو تکلیف پہنچ رہی تھی اس سے وہ بچا لیے جائیں گے- چنانچہ یہ بات بھی نہایت وضاحت کے ساتھ پوری ہوئی` اسی جنگ کے دوران میں اور اسی جنگ کے باعث سے مسٹر بلفور نے جواب لارڈ بلفور ہیں اس بات کا اعلان کیا کہ یہودی جو بے وطن پھر رہے ہیں` ان کا قومی گھر یعنی فلسطین ان کو دے دیا جائے گا اور اتحادی حکومتیں اس امر کو بھی اپنا نصب العین بنائیں گی کہ اس جنگ کے بعد وہ بے انصافی جو ان سے ہوتی چلی آئی ہے دور کر دی جائے` چنانچہ اس وعدے کے مطابق جنگ کے بعد فلسطین ترکی حکومت سے علیحدہ کر لیا گیا اور یہود کا قومی گھر قرار دے دیا گیا اب وہاں حکومت اس طرز پر چلائی جا رہی ہے کہ کسی دن وہاں یہود کا قومی گھر بن سکے` چاروں طرف سے وہاں یہود جمع کئے جا رہے ہیں اور ان کا وہ پرانا مطالبہ پورا کر دیا گیا ہے جو وہ اپنے قومی اجتماع کے متعلق پیش کرتے چلے آرہے تھے-
    اس علامت کے متعلق ایک عجیب بات یہ ہے کہ اس کی طرف قرآن کریم نے بھی اشارہ کیا ہے- سورہ بنی اسرائیل میں آتا ہے وقلنا من بعدہ لبنی اسراء یل اسکنوا الارض فاذا جاء وعد الاخرہ جئنا بکم لفیقا )آخری رکوع( یعنی فرعون کے ہلاک کرنے کے بعد ہم نے بنی اسراء یل سے کہا کہ اس زمین میں رہو- پھر جب کو آنے والی بات کے وعدے کا وقت آئے گا تو اس وقت ہم تم سب کو اکٹھا کر کے لے آئیں گے-
    بعض مفسرین نے اس الارض )زمین( سے مراد مصر لیا ہے اور بعد کو آنے والی بات کے وعدے سے مراد قیامت لی ہے` مگر یہ دونوں باتیں درست نہیں کیونکہ بنی اسرائیل کو مصر میں رہنے کا حکم نہیں` بلکہ ارض مقدسہ میں رہنے کا حکم ملا تھا اور وہیں وہ رہے` اسی طرح وعد الاخرہ سے بھی قیامت مراد نہیں کیونکہ قیامت کا تعلق ارض مقدسہ میں رہنے کے ساتھ کچھ بھی نہیں` صحیح معنے یہ ہیں کہ ارض مقدسہ میں رہنے کا ان کو حکم دیا گیا ہے اور پھر یہ کہہ کر جب وعد الاخرہ آئے گا` تو ہم پھر تم کو اکٹھا کر کے لے آیں گے اس بات کا اشارہ کیا کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ تم کو یہ جگہ چھوڑنی پڑے گی` لیکن وعدہ الاخرہ کے وقت یعنی مسیح موعود کی بعثت ثانیہ کے وقت ہم تم کو پھر اکٹھا کر کے لے آئیں گے` چنانچہ تفسیر فتح البیان میں لکھا ہے- وعدالاخرہ نزول عیسی من السماء اسی سورہ کے پہلے رکوع میں اللہ تعاکیٰ نے یہودیون کے متعلق دو زمانوں کا ذکر کیا ہے` جن میں سے دوسرے زمانے کے متعلق فرماتا ہے- فاذا جاء وعد الاخرہ لیسوء ا وجوھکم ولید خلواالمسجد کما دخلوہ اول مرہ ولیتبروا ما علوا تتبیرا پس جد وعدہ الاخرہ آگیا تاکہ تمہاری شکلوں کو بگاڑ دیں اور جس طرح پہلی دفعہ مسجد میں داخل ہوئے تھے اس دفعہ بھی مسجد میں داخل ہوں اور جس چیز پر قبضہ پائیں اسے ہلاک کر دیں- اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وعد الاخرہ سے مراد وہ زمانہ ہے جو مسیح کے بعد یہود پر آئے گا- کیونکہ اس وعد الاخرہ کے بعد بجائے جمع کئے جانے کے یہود پر اگندہ کر دئیے گئے تھے اس لیے ماننا پڑتا ہے کہ دوسری جگہ وعد الاخرہ سے مسیح کے نزول ثانی کے بعد کا زمانہ مراد ہے اور جئنا بکم لفیقا سے مراد یہود کا وہ اجتماع ہے جو اس وقت فلسطین میں کیا جا رہا ہے کہ وہ ساری دنیا سے اکٹھا کر کے وہاں لاکر بسائے جا رہے ہیں اور حضرت اقدس علیہ السلام کے الہام کففت عن بنی اسراء یل سے مراد اس مخالفت کا دور ہونا ہے جو اقوام عام بنی اسرائیل )یہود( سے رکھتی تھیں اور ان کو کوئی قوم گھر بنانے کی اجازت نہیں دیتی تھی-
    ایک علامت اس جنگ کے لیے یہ مقرر کی گئی تھی کہ یہ جنگ بہر حال سوالہ سال کے اندر ہو گی` چنانچہ ایسا ہی ہوا- ۱۹۰۵ء میں اس کے متعلق الہام ہوئے اور ۱۹۱۴ء میں یعنی نو سال کے بعد یہ جنگ شروع ہو گئی-
    ایک علامت اس جنگ کی یہ بتائی گئی تھی کہ تمام بیڑے اس وقت تیار رکھے جائیں گے اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس جنگ کے دوران میں برسر پیکار قوموں کے علاوہ دوسری حکومتوں کو بھی اپنے بیڑے ہر وقت تیار رکھنے پڑتے تھے تاکہ ایسا نہ ہو کہ کسی قوم کا بیڑہ ان کے سمندر میں کوئی نامناسب بات کر بیٹھے اور ان کو جنگ میں خواہ مخواہ مبتلا ہونا پڑے اور اس غرض سے بھی تا اپنے حقوق کی حفاظت کریں-
    ایک علامت اس جنگ کی یہ بتائی گئی تھی کہ جہاز پانی میں ادھر سے ادھر چکر لگائیں گے تا ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کریں- یعنی بحری تیاریاں بھی بڑے زور سے ہوں گی اور تمام سمندروں میں کشتیاں چکر لگاتی پھریں گی- چنانچہ جس قدر جہازات اس جنگ میں استعمال ہوئے اور جس قدر سمندروں کا پہرا اس جنگ میں دیا گیا ہے اس سے پہلے کبھی اس کی مثال نہیں ملتی- خصوصاً چھوٹے جہازھات یعنی ڈسٹیرائروں اور آبروز کشتیوں نے اس جنگ میں اتنا حصہ لیا ہے جتنا پہلے کبھی نہیں لیا تھا اور الہام میں کشتیوں کے لفظ سے اسی طرف اشارہ کیا گیا تھا کہ اس جنگ میں بڑے جہازوں کی نسبت چھوٹے جہازات سے زیادہ کام لیا جائے گا-
    ایک نشانی اس آفت کی یہ بتائی گئی تھی کہ وہ اچانک آئے گی- چنانچہ یہ جنگ بھی ایسی اچانک ہوئی کہ لوگ حیران ہو گئے اور بڑے بڑے مدبروں نے اقرار کیا کہ گو وہ ایک جنگ کے منتظر تھے مگر اس قدر جلد اس کے پھوٹ پڑنے کی ان کو امید نہ تھی` آسٹریا کے شہزادے اور اس کی بیوی کا قتل ہونا تھا کہ سب دنیا آگ میں کود پڑی-
    اس علامت اس جنگ کی یہ بتائی گئی تھی کہ اس کے دوران میں ایسے مواقع نکلیں گے کہ عربوں کے لیے مفید ہوں گے اور عرب ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں گے اور سب کے لیے نکل کھڑے ہوں گے` چنانچہ ایسا ہی ہوا- ترکوں کے جنگ میں شامل ہونے پر عربوں نے دیکھا کہ وہ قومی آزادی کی خواہش جو صدیوں سے ان کے دلوں میں پیدا ہو کر مر جاتی تھی اس کے پورا کرنے کا موقع آگیا ہے اور وہ سب یکدم ترکوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور فوج در فوج ترکوں کے مقابلے کے لیے نکل پڑے اور آخر آزادی حاصل کر لی-
    ایک علامت یہ تھی کہ جس طرح میرا ذکر مٹ گیا ہے- اسی طرح گھر برباد کر دئیے جائیں گے` چنانچہ ایسا ہی ہوا- سب سے زیادہ عیاشی میں مبتلا علاقہ فرانس کا مشرقی علاقہ تھا تمام یورپ کو شراب وہیں سے بہم پہنچائی جاتی تھی اور عیش وعشرت کو پسند کرنے والے کل مغربی ممالک سے وہاں جمع ہوتے تھے- سو اس علاقے کو سب سے زیادہ نقصان اٹھا پڑا جس طرح خدا کا ذکر وہاں سے مٹ گیا تھا وہاں کے درو دیوار اسی طرح مٹا دئیے گئے-
    ایک علامت یہ بتائی گئی تھی کہ ہماری فتہ ہو گی- یعنی جس حکومت کے ساتھ مسیح موعود کی جماعت ہو گی- اس کی فتح حاصل ہو گی` چنانچہ ایسا ہی ہوا` اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کی دعائوں کے طفیل برطانیہ کو اس خطرناک مصیبت سے نجات دی` گو اس کے مدبر تو یہ خیال کرتے ہونگے کہ ان کی تدبیروں سے یہ فتح ہوئی ہے` لیکن اگر واقعات پر ایک تفصیلی نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حیرت انگیز اتفاقات انگریزوں کی فتح کا موجب ہوئے ہیں` جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فتح آسمانی دخل اندازی سے ہوئی ہے نہ کہ صرف انسانی تدابیر سے-
    ایک علامت جو اپنے اندر کئی نشانات رکھتی ہے یہ بتائی گئی تھی کہ اس جنگ میں زار کا حال بہت خراب ہو گا- جس وقت یہ پیشگوئی کی گئی اس وقت کے حالات اس کے الفاظ کے پورا ہونے کے بالکل مخالف تھے` مگر پیشگوئی پوری ہوئی اور ہر ایک کے لئے حیرت کا موجب بنی-
    اس پیشگوئی میں درحقیقت کئی پیشگوئیاں ہیں- اس میں بتایا گیا ہے کہ اس آفت عظمیٰ تک زار کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا` جب یہ جنگ ہو گی` اس وقت اس کو صدمہ پہنچے گا` لیکن صدمہ اس قسم کا نہیں ہو گا کہ وہ مارا جائے- کیونکہ جو شخص مارا جائے اس کی نسبت یہ نہیں کہا جاتا کہ اس کا حال زار ہے- پس الفاظ بتاتے ہیں کہ اس وقت اس کو موت نہیں آئے گی بلکہ وہ نہایت تکلیف دہ عذابوں میں مبتلا ہوگا اور پھر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس آفت کے ساتھ ہی زاروں کا خاتمہ ہو جائے گا- کیونکہ اس وقت کا مورد کسی خاص شخص کو نہیں بلکہ زار کو بحیثیت عہدہ بتایا گیا ہے- اب دیکھئے یہ علامت کس شان کے ساتھ پوری ہوئی- اس جنگ سے پہلے زار کے خلاف بہت سی منصوبہ بازیاں ہوئیں مگر وہ بالکل محفوظ رہا- اس کے بعد یہ جنگ ہوئی اور اللہ تعالیٰ کا بتایا ہوا وقت آگیا تو اس طرح اچانک وہ پکڑا گیا کہ سب لوگ حیران ہیں- جیسا کہ حالت سے معلوم ہوتا ہے جس وقت روس میں فساد پھوٹا ہے اس وقت زار روس سرحد پر فوجوں کے معائنے کے لیے گیا ہوا تھا اور جب وہ دارلخلافہ سے چلا ہے اس وقت کوئی ایسا فساد نہ تھا- اس کے گورنر کی بعضح غلطیوں سے جوش پیدا ہوا` لیکن حکومتوں میں اس قسم کے جوش تو پیدا ہو ہی جاتے ہیں اور س قدر مضبوطی سے قائم حکومتیں ایسے جوشوں سے یکدم نہیں مٹ جاتیں` مگر اللہ تعالیٰ اس موقعہ پر کام کر رہا تھا` زار روس نے لوگوں میں جوش کی حالت معلوم کر کے گونر کو سختی کرنے کا حکم دے دیا گورنر کو بدل کر ایک اور گورنر مقرر کر دیا اور خود دارالخلافہ کی طرف چلا` تاکہ اس کے جانے سے لوگوں کا جوش ٹھنڈا پڑ جائے` مگر راستے میں اسے اطلاع ملی کہ لوگوں کا جوش تیزی پر ہے اور یہ کہ اس کو اس وقت دارالخلافہ کی طرف نہیں آنا چاہئیے مگر بادشاہ نے اس نصیحت کی پروانہ کی اور خیال کیا کہ اس کی موجودگی میں کوئی شور نہیں ہو سکتا اور آگے بڑھتا گیا` کچھ ہی دور آگے ٹرین گئی تھی کہ معلوم ہوا بغاوت ہو گئی ہے اور باغیوں نے دفاتر وزارت پر قبضہ کر لیا ہے اور ملکی حکومت قائم ہو گئی ہے یہ سب کچھ ایک ہی دن میں ہو گیا` یعنی ۱۲ مارچ ۱۹۱۷ء کی صبح سے شام تک دنیا کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ اختیار رکھنے والا بادشاہ جو اپنے آپ کو زار کہتا تھا یعنی کسی کی حکومت نہ ماننے والا اور سب پر حکومت کرنے والا- وہ حکومت سے بے دخل ہو کر اپنی رعایا کے ماتحت ہو گیا اور ۱۵ مارچ کو مجبورا اسے اپنے ہاتھ سے یہ اعلان لکھنا پڑا کہ وہ اور اس کی اولاد تخت روس سے دست بردار ہوتے ہیں اور حضرت اقدس کی پیشگوئی کے مطابق زاروں کے خاندان کی حکومت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا` مگر ابھی اللہ کے کلام کے بعض حصوں کا پورا ہونا باقی تھا- نکولس ثانی )زار روس( یہ سمجھا تھا کہ وہ حکومت سے بے دخل ہو کر اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی جان بچالے گا اور خاموشی سے اپنی ذاتی جائدادوں کی آمدن پر گزارہ کرلے گا مگر اس کا یہ ارادہ پورا نہ ہو سکا ۱۵ مارچ کو وہ حکومت سے دست بردار ہوا اور ۲۱ مارچ کو قید کر کے سکوسیلر بھیج دیا گیا` اور بائیس )۲۲( کو امریکہ نے اور چوبیس )۲۴( کو انگلستان` فرانس اور اٹلی نے باغیوں کی حکومت تسلیم کر لی اور زار کی سب امیدوں پر پانی پھر گیا` اس نے دیکھ لیا کہ اس کی دوست حکومتوں نے جن کی مدد پر اسے بھروسہ تھا اور جن کے لیے جرمن سے جنگ کر رہا تھا ایک ہفتہ کے اندر اندر اس کی باغی رعایا کی حکومت تسلیم کر لی ہے اور اس کی تائید میں کمزور سی آواز بھی نہیں اٹھائی` مگر اس تکلیف سے زیادہ تکلیفیں اس کے لیے مقدر تھیں تاکہ وہ اپنی زار حالت سے اللہ تعالیٰ کے کلام کو پورا کرے گو وہ قید ہو چکا تھا مگر روس کی حکومت کی باگ شاہی خاندان کے ایک فرد شہزادہ ولوائو کے ہاتھ میں تھی جس کی وجہ سے قید میں اس کے ساتھ احترام کا سلوک ہو رہا تھا اور وہ اپنے بچوں سمیت باغبانی اور اسی قسم کے دوسرے شغلوں میں وقت گزارتا تھا مگر جولائی میں اس شہزادہ کو بھی علیحدہ ہونا پڑا اور حکومت کی باگ کرنسکی کے ہاتھ میں دی گئی- جس سے قید کی سختیاں بڑھ گئیں` تاہم انسانیت کی حدود سے آگے نہیں نکلی تھیں` لیکن سات نومبر کو بولشویک بغاوت نے کرنسکی کی حکومت کا بھی خاتمہ کر فیا- اب زار کی وہ خطرناک حالت سروع ہوئی جسے سن کر سنگ دل سے سنگ دل انسان بھی کانپ جاتا ہے- زار کو سکوسیلو کے شاہی محل سے نکال کر مختلف جگہوں میں رکھا گیا اور آخر ان مظالم کی یاد دلانے کے لیے جو وہ سائبیریا کی قید کے ذریعے اپنی بیکس رعایا پر کیا کرتا تھا` اکیٹیرن برگ بھیج دیا گیا- یہ ایک چھوٹا سا شہر ہے جو جیل یورال کی مشرق کی طرف واقع ہے اور ماسکو سے )۱۴۴۰( چودہ سو چالیس میل کے فاصلے پر ہے اور اس جگہ پر وہ سب مشینیں تیار ہوتی ہیں جو سائبیریا کی کانوں میں جہاں روسی پولیٹیکل قیدی کام کیا کرتے تھے استعمال کی جاتی ہیں گویا ہر وقت اس کے سامنے اس اعمال کا نقشہ رکھا رہتا تھا-
    صرف ذہنی عذابوں پر ہی اکتفا نہیں کی گئی` بلکہ سویٹ نے اس کے کھانے پینے میں بھی تنگی کرنی شروع کی اور اس کے بیمار بچہ کو وحشی سپاہی اس کے اور اس کی بیوی کے سامنے نہایت بے دردی سے مارتے اور اس کی بیٹیوں کو نہایت ظالمانہ طور سے دق کرتے` لیکن ان مظالم سے ان کا دل ٹھنڈا نہ ہوتا تھا اور نئی نء ایجادیں کرتے رہتے تھے` آخر ایک دن زارینہ اپنا منہ روتے ہوئے دوسری طرف کر لیتی تو ظالم سپاہی سنگینیں مار کر اس کو مجبور کرتے کہ وہ ادھر منہ کر کے دیکھے جدھر ظالم وحشیوں کا گروہ انسانیت سے گری ہوئی کاروائیوں میں مشغول تھا` زار اسی قسم کے مظالم کو دیکھتا اور ان سے زیادہ سختیاں برداشت کرتا ہوا جتنی کہ شاید کبھی کسی شخص پر بھی نازل نہ ہوئی ہوں گی ۱۶ جولائی ۱۹۱۸ء کو معہ کل افراد خاندان کے نہایت سخت عذاب کے ساتھ قتل کر دیا گیا اور اللہ تعالیٰ کے نبی کی بات پوری ہوئی کہ
    >زار بھی وہ گا تو ہو گا اس گھڑے با حال زار<
    زار دکھوں اور تکلیفوں کو برداشت کرتا ہوا مر گیا- جنگ ختم ہو گئی` قیصر اور آسٹیا کے بادشاہ اپنی حکومتوں سے بے دخل ہو گئے- شہر ویران ہو گئے` پہاڑ اڑ گئے- لاکھوں آدمی مارے گئے- خون کی ندیاں بہ گئیں` دنیا تہ وبالا ہو گئی مگر افسوس کہ دنیا ابھی اللہ تعالیٰ کے فرستادہ کی صداقت کی دلیل طلب کر رہی ہے اللہ تعالیٰ کے خزانے عذاب سے بھی خالی نہیں- جس طرح کہ رحمت سے خالی نہیں` مگر مبارک ہیں جو وقت پر سمجھ جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے لڑنے کی بجائے اس سے صلح کرنے کے لیے دوڑتے ہیں اور اس کے نشانوں سے اندھوں کی طرح نہیں گزر جاتے- اللہ تعالیٰ کی ان پر رحمتیں ہوتی ہیں اور اس کی برکتوں سے وہ حصہ پاتے ہیں اور دنیا کے لیے مبارک ہو جاتے ہیں
     

اس صفحے کو مشتہر کریں