1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

درٹمین ۔ خدا تعالیٰ کا شکر اور دعا بزبان ۔ حضرت اماں جان ۔ سیدہ نصرت جہاں بیگم

'درثمین ۔ منظوم کلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جون 27, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    خدا تعالیٰ کا شکر اور دعا بزبان
    حضرت اماں جان
    (سیدہ نصرت جہاں بیگم)

    ہے عجب میرے خدا میرے پہ احساں تیرا
    کس طرح شکر کروں اے مرے سلطاں تیرا

    ایک ذرہ بھی نہیں تو نے کیا مجھ سے فرق
    میرے اس جسم کا ہر ذرہ ہو قرباں تیرا

    سر سے پا تک ہیں الٰہی تیرے احساں مجھ پر
    مجھ پہ برسا ہے سدا فضل کا باراں تیرا

    تو نے اس عاجزہ کو چار دیے ہیں لڑکے
    تیری بخشش ہے یہ اور فضل نمایاں تیرا

    پہلا فرزند ہے محمود ، مبارک چوتھا
    دونوں کے بیچ بشیر اور شریفاں تیرا

    تو نے ان چاروں کی پہلے سے بشارت دی تھی
    تو وہ حاکم ہے کہ ٹلتا نہیں فرماں تیرا

    تیرے احسانوں کا کیوں کر ہو بیاں اے پیارے
    مجھ پہ بے حد ہے کرم اے مرے جاناں تیرا

    تخت پر شاہی کے ہے مجھ کو بٹھایا تو نے
    دین و دنیا میں ہوا مجھ پہ ہے احساں تیرا

    کس زباں سے میں کروں شکر کہاں وہ ہے زباں
    کہ میں ناچیز ہوں اور رحم فراواں تیرا

    مجھ پہ وہ لطف کئے تو نے جو برترزِ خیال
    ذات برتر ہے تری پاک ہے ایواں تیرا

    چن لیا تو نے مجھے اپنے مسیحا کے لئے
    سب سے پہلے یہ کر م ہے مرے جاناں تیرا

    کس کے دل میں یہ ارادے تھے یہ تھی کس کو خبر
    کون کہتا تھا کہ یہ بخت ہے رخشاں تیرا

    پر مرے پیارے ! یہی کام ترے ہوتے ہیں
    ہے یہی فضل تری شان کے شایاں تیرا

    فضل سے اپنے بچا مجھ کو ہر اک آفت سے
    صدق سے ہم نے لیا ہاتھ میں داماں تیرا

    کوئی ضائع نہیں ہوتا جو ترا طالب ہے
    کوئی رسوا نہیں ہوتا جو ہے جویاں تیرا

    آسماں پر سے فرشتے بھی مدد کرتے ہیں
    کوئی ہوجائے اگر بندۂ فرماں تیرا

    جس نے دل تجھ کو دیا ، ہو گیا سب کچھ اس کا
    سب ثنا کرتےہیں جب ہووے ثنا خواں تیرا

    اس جہاں میں ہے وہ جنت میں ہی بے ریب و گماں
    وہ جو اک پختہ توکل سے ہے مہماں تیرا

    میری اولاد کو تو ایسی ہی کردے پیارے
    دیکھ لیں آنکھ سے وہ چہرۂ تاباں تیرا

    عمر دے ، رزق دے اور عافیت و صحت بھی
    سب سے بڑھ کر یہ کہ پاجائیں وہ عرفاں تیرا

    اب مجھے زندگی میں ان کی مصیبت نہ دکھا
    بخش دے میرے گناہ اور جو عصیاں تیرا

    اس جہاں کے نہ بنیں کیڑے یہ کر فضل ان پر
    ہر کوئی ان میں سے کہلائے مسلماں تیرا

    غیر ممکن ہے کہ تدبیر سے پاؤں یہ مراد
    بات جب بنتی ہے جب سارا ہو ساماں تیرا

    بادشاہی ہے تری ارض و سما دونوں میں
    حکم چلتا ہے ہر اک ذرہ پہ ہر آں تیرا

    میرے پیارے مجھے ہر درد و مصیبت سے بچا
    تو ہے غفار۔ یہی کہتا ہے قرآں تیرا

    صبر جو پہلے تھا اب مجھے میں نہیں ہے پیارے
    دکھ سے اب مجھ کو بچا ۔ نام ہے رحماں تیرا

    ہر مصیبت سے بچا اے میرے آقا ہر دم
    حکم تیرا ہے زمیں تیری ہے دوراں تیرا

    اخبار الحکم 17 نومبر 1900ء

    [​IMG]
     

اس صفحے کو مشتہر کریں