1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

درس القرآن ۔ خلیفۃ المسیح الرابع مرزا طاہر احمد رح ۔ 1996ء

'یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 25, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    درس القرآن ۔ خلیفۃ المسیح الرابع مرزا طاہر احمد رح ۔ 1996ء

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    درس القرآن ماہ رمضان
    مورخہ یکم رمضان بمطابق22؍جنوری 1996ء
    آج رمضان کا پہلاروزہ ہے انگلستان میں بھی اور پاکستان میں بھی۔ (آج ہی ہورہا ہے) اور درس کا پہلا دن ہے۔ پچھلے سال سورہ آل عمران کی آخری دو آیات درس سے رہ گئی تھیں۔ آج انہی سے شروع کردیں گے انشاء اللہ۔ ایک تو تاخیر کے متعلق میں گزارش کردوں ساڑھے گیارہ بجے ہم نے linkupکرنا ہوتا ہے ،سیٹلائٹ کے ساتھ انتظام میں چند منٹ لگ جاتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے مجھے کہا تھا کہ پانچ منٹ تک ہم اطلاع دیں گے، پھر اطلاع آئی ہے تو میں آیا ہوں ۔ کل سے بھی اسی طرح ہوگا؟ چند منٹ روزانہ دیر سے ہوا کرے گا۔
    اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم۔
    بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
    و ان من اھل الکتب لمن یومن باللّہ وما انزل الیکم وما انزل الیھم خشعین للّٰہ لا یشترون بایت اللّہ ثمنا قلیلًا اولئک لھم اجرھم عند ربھم ان اللہ سریع الحساب۔ یاایھاالذین امنوا اصبرو ا و صابرو ا و رابطو واتقوا اللہ لعلکم تفلحون۔
    (آل عمران:۲۰۰۔۲۰۱)
    وان من اھل الکتب یقینا اہل کتاب میں سے ایسے ہیں لمن یؤمن با للہ جو اللہ پر ایمان لائیں گے ۔ لیکن لفظاً یہ ہے لمن یؤمنجو اللہ پر ایمان لائے گا۔ یہ زبان کے محاورے کا فرق ہے۔ اردو میں ہم یہ کہتے ہیں جو اللہ پر ایمان لائیں گے۔ تو عربی میں طریق ہے۔وان من اھل الکتب یقینا اہل کتاب میں سے کئی ایک ایسے ہیں جن میں سے ہر ایک اللہ پر ایمان لائے گا۔ یہ طرز بیان ہے تو ترجمے میں اگرچہ واحد کا ترجمہ جمع کاہورہا ہے مگر بعینہٖ یہی عربی میں مراد ہے۔ و ان من اھل الکتب یقینا اہل کتاب میں سے ایسے بھی ہیں کہ جو اللہ پر ایمان لائیں گے یا لفظی ترجمہ ہے جو اللہ پر ایمان لائے گا۔ وما انزل الیکماورجو تم پر اتار اگیا۔ وما انزل الیھم اور جو ان کی طرف اتار ا گیا۔ خشعین للہ اللہ کے حضور عاجزی اختیار کرتے ہوئے۔ لا یشترون بایت اللہ ثمنًا قلیلًا وہ اللہ کی آیات کے بدلے حقیر مال قبول نہیں کرتے ، حقیر قیمت قبول نہیں کرتے۔ اولئک لھم اجرھم عند ربھم یہی وہ لوگ ہیں جن کا اجر ان کے ربّ کے پاس ہے۔ ان اللّٰہ سریع الحسابیقینا اللہ تعالیٰ حساب میں بہت تیز ہے۔ یہاں جو خاص قابل ذکر امور ہیں میں ان کا بعد میں ذکر کروں یا پہلے؟ جو پرانی تفاسیر ہیں اور جو لفظوں کی عربی کی جو بحث ہے اس کو اٹھائوں؟ کیوں جی کیا طریق رہا ہے؟ (’’حضور حل لغات وغیرہ‘‘(بتایا گیا) حل لغات وغیرہ ٹھیک ہے۔
    خشعین: خشعین کی حل لغات یہ ہے کہ الخشوع۔ الضراعۃ۔ یعنی خشوع انکساری کو کہتے ہیں۔ پس سوال یہ ہے کہ خشوع اورالضراع میں فرق کیا ہے۔حضرت امام راغب کے نزدیک ’’اکثر ما یستعمل الخشوع فیما یوجد علی الجوارح‘‘ خشوع کا اکثراستعمال جوارح کیلئے ہوتا ہے ۔ یعنی اعضاء کیلئے بدن کا جھکنا ،رکوع میں چلے جانا، سجدے میں گرجانا۔ یہ بدنی حرکات جو خداتعالیٰ کے حضور عاجزی کا اظہار کرتی ہیں۔ ان کو بالعموم عربی میں خشوع سے بیان کیا جاتا ہے۔’’الضراعۃ اکثر ما تستعمل فیما یوجد فی القلب‘‘ اور حضرت امام راغب کے نزدیک ضراعۃ کا لفظ زیادہ تر دل کی کیفیات پر استعمال ہوتا ہے اور روح کا سجدہ طبیعت میں مزاج میں انکساری اور عاجزی۔ اذا ضرع القلب خشعت الجوارح یعنی دوسرے لفظوں میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب دل میں تضرع پیدا ہو تو اعضا ء پر خشوع طاری ہوجاتا ہے یعنی دل کا تضرع اعضاء کے خشوع میں بدل جاتا ہے۔ بعض نے اس کے برعکس بھی معنی لیا ہے۔ مثلاً النہایۃ الابن الاثیر میں برعکس بات لکھی ہوئی ہے، اقرب المواردسے یہ ہم نے لیا ہے۔ الخشوع فی الصوت و البصر کا لخضوع فی البدنجو آواز کا خشوع ہے اور نظر کا خشوع یہ ایسا ہی ہے جیسے بدن کا خضوع۔ یعنی بدن میں خضوع اور نظر وغیرہ کیلئے خشوع کا لفظ استعمال کیا ہے۔ توبعینہٖ برعکس تو نہیں مگر کچھ الٹ مضمون ہے اس میں، مگر حضرت امام راغب بہر حال قرآن فہمی کے لحاظ سے اور عربی الفاظ کے فہم کے اعتبار سے سب پر بالا ہیں(ماشاء اللہ) اور میں امام رازی والا ہی ترجمہ قبول کرتا ہوںاور حضرت مصلح موعود وغیرہ سب نے اسی ترجمہ کو ترجیح دی ہے کہ خشوع کا تعلق زیادہ تر بدن کے ساتھ اور خضوع کا تعلق زیادہ تر دل کی حالت سے ہے۔ دوسری بحثیں جو اس میں قابل ذکر ہیں وہ یہ ہیں کہ یہ کون لوگ ہیں جن کا ذکر ہورہا ہے۔ اس سلسلے میں بہت سے مفسرین نے بعض معین نام بھی بیان کیے ہیں۔ بعض نے تعداد بھی لکھی ہے کہ وہ کون لوگ تھے۔ لیکن بیچ میں ایک ایسا مسئلہ ہے جو سمجھائے بغیر آپ کو بات سمجھ نہیں آئے گی کہ یہ لوگ کیوں اس قسم کے اختلاف کررہے یہں۔ معین کرنے میں کیا دقت پیش آرہی ہے۔ وہ یہ کہتے ہیں (یعنی سوچنے والے)کہ اہل کتاب تو وہ ہیں جو پہلے کتاب پر ایمان لاتے ہیں پھر وہ قرآن کریم فرمارہا ہے کہ تم پر بھی ایمان لائیں گے یعنی وہ جو اتار اگیا تم لوگوں کی طرف۔ یعنی اللہ کے رسول کی معرفت جو آیات تمہاری خاطر نازل کی گئیں ہیں ان پر بھی وہ ایمان لائیں گے۔
    وما انزل الیکم پھر بعد میں یہ جو فرمایادیا کہ وما انزل الیھم اور جو ان پر اتارا گیا تو یہ کیا قصہ ہے تین امکانات پیدا ہوتے ہیں۔اول یہ کہ ایسے اہل کتاب مراد ہیںجو ایمان نہیں لائے، ان معنوں میں کہ شامل ہوکرباقاعدہ مسلمانوںکی جماعت میں داخل نہیں ہوئے، لیکن ان کی قلبی کیفیت ایسی ہے کہ وہ فی الحقیقت ایمان لاتے ہیں۔ او رجو کچھ بھی ان پر اتار اگیا اس پر توایمان لاتے ہی ہیں لیکن انزل الیکم پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ وما انزل الیھم دوبارہ ان کا ذکر وما انزل الیھم کرکے گویا ان کی مستقل وابستگی تو اہل کتاب سے کردی گئی مگر یہ بھی بیان کردیا گیا کہ اہل کتاب سے وابستہ رہتے ہوئے بھی وہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان میں کامل ہیں۔ خشعین للہ وہ خدا کے حضور جھکتے ہیں۔ یہ ہے ایک پہلو جو قابل توجہ ہے۔ دوسرا وہ کہتے ہیں بعض کہ درحقیقت اس میں وہ لوگ مرا دہیں جو پہلے کتاب پر ایمان لائے تھے ، پھر آنحضرتﷺ پر ایمان لائے، پھر قرآن کی ہدایت کے تابع اس تعلیم پر بھی ایمان لائے جس پر پہلے ایمان رکھتے تھے۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جو اہل کتاب میں سے مختلف وقتوں میں مسلمان ہوئے۔ ان کی تفصیل بیان کرتے ہوئے مفسرین نے جو لکھا ہے وہ میں آپ کے سامنے پڑھ کر سنادیتا ہوں۔ تفسیر کبیر جلد ۹ صفحہ ۱۵۴ میں یہ درج ہے۔ روح المعانی اور تفسیر بحر المحیط میں بھی کہ یہ آیت دراصل نجاشی کے متعلق نازل ہوئی تھی کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ نجاشی ان لوگوں میں سے تھا (جو میں نے ابھی بات بیان کی ہے) کہ جو ایمان تو لایا(اہل کتاب میں سے تھا) آنحضرتﷺ پر نازل ہونے والی وحی جب اس کے سامنے تلاوت کی گئی تو اس نے کہاکہ اس میں اور میرے ایمان میں ایک ذرّہ بھی فرق نہیں ہے۔ اور اس کے باوجود وہ جہاں تک رسمی تعلق ہے ، عیسائی ہی رہا۔ عیسائی کہلاتا رہا مگر اس کے ایمان کا یہ حال تھا کہ بیان کیا جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اس کے وصال کی اطلاع وحی کے ذریعہ دی گئی اور آپﷺ نے اسکا جنازہ پڑھا۔ اب یہ مؤقف اختیار کرنے والے مفسرین کہتے ہیں کہ اصل اس کی شان نزول یہ ہے کہ جب آنحضورﷺ نے جنازہ پڑھا تو مشرکین نے اعتراض کیا اوردوسروں نے بھی کہ یہ کیسا رسول ہے کہ نہ اس کا منہ دیکھا نجاشی کا اور نہ گویا فی الحقیقت وہ ایمان لایا تھا ، وہ تو عیسائی ہی رہا تھا اس کے باوجود اس کا جنازہ پڑھ لیا ہے۔ تو مفسرین کہتے ہیں کہ اس کے جواب میں یہ بتانے کیلئے کہ نجاشی کا جنازہ کیوں پڑھا گیا یہ آیت نازل ہوئی ، یہ وہی جو شان نزول کا شوق رکھنے والے۔ بعض آیات کو محدود کرکے ایک ہی جگہ باندھ رکھتے ہیں، یہ ان کا مؤقف ہے۔ مگر یہ واقعہ اپنی جگہ اپنی ایک شان رکھتا ہے۔ اور اس آیت کے مفہوم میں وہ بھی داخل ہوسکتا ہے۔ مگر یہ کہنا کہ محض نجاشی کی خاطر یہ آیت نازل ہوئی یہ درست نہیں۔ چنانچہ بہت سے دوسرے مفسرین اس مؤقف کو قبول نہیں کرتے اور وہ بعض اور لوگوں کی نشاندہی کرتے ہیں ۔ ایک کی بجائے کچھ زیادہ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ابن جریح اورا بن زید کے نزدیک یہ آیت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھیوں کے بارہ میں نازل ہوئی اور یہ بھی کہا گیا کہ اس آیت کے مصداق نجران کے چالیس افراد، حبشہ کے اڑتیس اور روم کے آٹھ افراد ہیں جو پہلے عیسائی تھے اور پھر اسلام لائے۔ یہ دوسرے طبقے کے لوگوں نے ایک شخص سے اس آیت کے مضمون کو باندھنے کی بجائے ان افراد پر عام کیا مگر ابھی بھی مخصوص لوگ ہیں۔ اس بحث سے ہمیں یہ تو اندازہ ہوگیا کہ اس وقت تک اہل کتاب میں سے کتنے ایمان لائے تھے کیونکہ ان مفسرین نے بہت جستجو کرکے روایتیں اکٹھی کرکے گنتی کی ہے۔ تو معلوم ہوتا ہے اس وقت تک نجاشی کے علاوہ (۴۰ اور بھی اہل حبشہ، نجران کا جو وفد آیا تھا، یاد ہے آپ کو جس میں آنحضرتﷺ سے مناظرہ ہوا اور پھر بعد میںمباہلہ کا چیلنج دیا گیا) نجران کے عیسائیوں میں سے اس وقت تک ۴۰ عیسائی مسلمان ہوچکے تھے۔ اور حبشہ کے ۳۸ افراد(اور روم کے یا جس کو ہم)رومن ایمپائر کا وہ حصہ (ہے) جو مسلمانوں کے اس علاقے کے ساتھ ملتا تھا اس کے آٹھ افراد عیسائیت سے اسلام قبول کرچکے تھے۔ مگر ’’مجاہد‘‘ کے نزدیک یہ آیات نہ پہلے کیلئے خاص ہیں نہ ان سب کیلئے خاص ہیں۔ یہ عمومی آیات ہیں جن کا ہر ایسے اہل کتاب سے تعلق ہے جو دل سے ایمان لے آیا ہو اور ظاہراً بھی اس نے قبول کرلیا ہو یہ آیت ان تمام ایمان لانے والوں کے متعلق اتری ہے جو اسلام سے قبل اہل کتاب میں سے تھے لیکن اسلام قبول کرلیا۔ امام رازی نے مجاہد کے قول کو اولیٰ قرار دیا ہے۔ باقی سب مفسروں کی تفسیرسے مجاہد کی تفسیر کو بہترجانا ہے۔ لیکن اس میں یہ مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا کہ اگر یہ عمومی آیت ہے اور سب اہل کتاب پر اطلاق پاتی ہے جو مسلمان ہوئے تو مسلمان ہونے کے بعد پھر ان کے اس کلام پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے جہاں سے ان کے سفر کا آغاز ہوا تھا۔ وہ تو پہلے ہی ایمان لارہے تھے(کتاب پر) ، تو یہ کہنے کے بعد کہ وہ تمہارے اوپر نازل ہونے والی وحی پر بھی ایمان لائے۔ پھر یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی؟حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی یہ توجیہہ پیش فرمائی ہے کہ دراصل ان کا بائبل پر ایمان ایک سرسری اور روایتی ایمان جو حقیقت میں آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کے بعد پختہ ہوا اور اس قوی ایمان کے ساتھ ان کے پہلے ایمان کو بھی تقویت ملی اور اس کا حقیقی مفہوم ان کو اس وقت سمجھ آیا جب آنحضرتﷺ پر ایمان لائے۔ تو اس پہلو سے یہ معنی جتنے بھی دوسرے تفسیری معنی ہیں ان میں سب سے بلند شان کا ہے۔ دوسرے اس میںایک پیشگوئی کا رنگ بھی ہے۔ یعنی اس وقت تک جو لوگ ایمان لاچکے تھے ان کی بحث نہیں ہے۔ بلکہ مختلف بعد میں آنے والے گروہ جو ہمیشہ اسلام میں داخل ہوتے رہے گے ان کاذکر بھی ہے۔ اور وہ کون لوگ ہوں گے؟ اس کی چابی دراصل لفظ خشعین میں رکھی گئی ہے۔ اس تعلق میں اب ہم اس آیت کی طرف لوٹتے ہیں۔ وان من اہل الکتب لمن یؤمن باللہ اہل کتاب میں سے یقینا ایسے ہیں لمن یؤمن باللہ یہاں ترجمہ مستقبل میں بھی کیا جاسکتا ہے۔ ایک تو ہے جو ایمان لاتے ہیں اور ایک ہے جو اللہ پر ایمان لائیں گے۔ وما انزل الیکم اور جو تم پر اتار ا گیا۔وما انزل الیھم اور جو ان پر اتار جاچکا تھا یا جاچکا ہے۔ گویا کہ وہ اپنے ایمان میں محمد رسول اللہ ﷺ کے ایمان کے راستے سے داخل ہوں گے۔ بات تو وہی جو حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حال کے رنگ میں اختیار فرمائی ہے ۔ مگر میں جو اشارہ کررہا ہوں وہ ایک یہ کہ محض اس زمانے پر اطلاق پانے والی آیت نہیں کہ اس سے پہلے یہ لوگ یا اتنے لوگ اس طرح ایمان لائے تھے۔ بلکہ ایک مستقل جاری رہنے والی پیشگوئی ہے کہ اہل کتاب میں سے وہی حقیقت میں اپنی کتاب پر ایمان لائے گا جو پہلے حضرت اقدس محمد رسول اللہﷺ اور آپ پر نازل ہونے والی وحی پر ایمان لے آئے گا۔
    خشعین للہ ایسے لوگ کون ہوں گے؟ وہ جن کے دل اللہ کے حضور جھکے رہتے ہیں اور لفظ خشعین کے متعلق اگرچہ ابھی آپ نے مفردات کا حوالہ سنا ہے کہ جوارح سے تعلق رکھتا ہے ۔ مگر ہر جگہ جہاں جوارح سے تعلق کا ذکر ہے وہاں اکثر کا لفظ آتا ہے۔ ہرگز کسی اہل زبان نے یہ نہیں کہا کہ خشعین محض جوارح یعنی اعضاء سے تعلق رکھتا ہے، دل سے تعلق نہیں رکھتا۔ یہ بعض اوقات دل سے بھی اور جوارح سے بھی اس وقت تعلق رکھتا ہے جب اس کا دل سے آغاز ہو او ر جوارح پر اس کا اثر پھیل جائے۔ تو اس کو اس وسعت کے ساتھ بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ وہ خشعین جن کے دلوں میں عاجزی پیدا ہوتی ہے اور اس عاجزی کے نتیجے میں ان کے بدن اس عاجزی کے تابع خدا کو سجدے کرتے ہیں یعنی ظاہراً قبول بھی کرلیتے ہیں۔ پس خشعین کا لفظ یہاں پر ایک پردہ اٹھا رہا ہے کہ محض دل کے ایمان والوں کا ذکر نہیں ہورہا۔ کیونکہ لفظ خشوع کا تعلق دل سے بھی ہوسکتاہے اوربدن سے زیادہ تر ہے۔ اس لیے یہ ترجمہ کرنا زیادہ درست ہے کہ وہ لوگ جن کے دلوں میں عجز پیدا ہوا ، جو ان کے بدنوں میں ظاہر ہوگیا۔ اور بدنوں میں جب اظہار ہوتا ہے تو پھر ایمان انسان کھلم کھلا لے آتا ہے اور ان کی ایک اور صفت بیان فرمائی۔ لا یشترون بایت اللہ ثمنًا قلیلًا ۔ وہ لوگ حقیقت میںجرأت کے ساتھ ایک مسلک کو چھوڑ کر دوسرے کو قبول کرنے کے اہل ہوتے ہیں جو خداتعالیٰ کے نشانات کو ادنیٰ فائدوں پر قربان نہیں کیا کرتے اور ایمان لانے کی قیمت دینی پڑتی ہے۔ یہاں ثمنًا قلیلاً سے مراد یہ نہیں ہے تھوڑے پیسے یا تھوڑی قیمت کے بدلے وہ ایمان نہیںبیچتے کیونکہ ایمان کے بدلے توہر قیمت تھوڑی ہے اور یہی معنی ہے کہ ثمناً قلیلاً ایمان کے بدلے وہ کوئی قیمت بھی قبول نہیں کرتے کیونکہ ایمان کے بدلے تو ہر قیمت بے حقیقت ہے اور بے معنی ہے۔ پس ایسے وہ لوگ ہیں جو یہ جرأت رکھتے ہیں کیونکہ ان کو قربانیاں دینی پڑیں گی۔ یہ نہیں کہ وہ صرف آیات کاسودا نہیں کرتے مراد یہ ہے کہ جو ان کا ہے جب یہ خطرہ پیدا ہو کہ ان کا نہیں رہے گا جو ایسے ماحول میں رہتے ہیں جہاں عین ممکن ہے کہ ان سے سب کچھ چھین لیا جائے، وہ محفوظ رکھنا بھی تو ایک قیمت ہے۔ اور یہ واقعات آئے دن ہمیں احمدیت کی اس نئی تاریخ میں (جو پرانی تاریخ کا اعادہ ہے) ملتے ہیں۔بکثرت احمدیو ں پر یہ دبائو ڈالا جاتا ہے کہ ہم تم سے یہ مال و دولت چھین لیں گے، جائیدادوں سے عاق کردیں گے اور کئی ایک ہیں جو ڈر کر خاموش ہوجاتے ہیں ۔ توانہوں نے قیمت قبول کی ہے۔ بظاہر باہر سے پیسے نہیں لیے مگر ان کو ایک قیمت ملی ہے اپنا ایمان بیچنے کے نتیجے میں کہ اپنی جائیدادوں سے محروم نہیں کیے گئے۔ تو یہ ابتلاء ہے جس کی طرف اشار ہ ہے کہ ایسے لوگ جن کا دل خدا کے حضور جھک چکا ہو، جن کے اعضاء اور جوارح خدا کے حضورجھک چکے ہوں ان کے نزدیک پھر کوئی بھی قیمت کافی قیمت نہیں رہتی ایمان کے سودے کیلئے۔
    اولئک لھم اجرھم عند ربھم۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کا اجر ا ُن کے ربّ کے پاس ہے۔ یعنی یقینی طور پر محفوظ ہے۔ ان اللہ سریع الحساب۔ یقینا اللہ تعالیٰ حساب میںبہت جلدی کرنے والا ہے۔ اب یہ سریع الحساب کا لفظ پہلے بھی ہماری عام ترجمۃ القرآن کلاس میں آیا تھا، تو وہاں میں نے اس کی وضاحت کی تھی کہ بعض دفعہ موقعہ ہی ایسا لگتا ہے کہ جیسے بہت دیر کی بات ہوگی۔ اور اللہ تعالیٰ لفظ سریع الحساب استعمال فرماتا ہے (اپنے لیے)۔ تو بظاہر مضمون میں تضاد دکھائی دیتا ہے۔ اگر یہ معنی لیے جائیں کہ ان کا اجر ان کے ربّ کے پاس محفوظ ہے، مرنے کے بعد قیامت کے بعد جب وہ جی اُٹھیں گے دوبارہ یا اٹھائے جائیں گے تو ان کو ان کا اجر ملے گا۔ تو سریع الحساب سے اس کا کیا تعلق ہوگا۔ سریع الحساب تو ہے آناً فاناً حساب کرنیوالا ، فوری طور پر وہ فیصلہ کرلیتا ہے حساب کی روسے۔ اس کے دو معنی نکل سکتے ہیںاوّل تو سب سے پہلے جو دائمی چیز ہے وہ یہ ہے کہ سریع الحساب کا لفظ جزا دینے میں فوری نہیں ہے، حساب کرنے میں فوری ہے اور جب حساب ہوجائے تو پھر جزا محفوظ ہوجاتی ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں ہمار احساب کردو ، پیسے خواہ بعد میںہی دینے ہوں، یہ تو تسلی ہوگئی کہ ہمار احساب ہوگیا کہ ہاںہم بخشے گئے ہیں ہمیں کوئی فکر نہیں ہے اور ایسے موقعوں پر سریع الحساب کا لفظ آتا ہے جہاں کچھ اندرونی Complicationsہیں جس کو سمجھنا ہر کس و ناکس کا کام نہیں ہے۔ وہ لوگ جن کا تعلق دل کی تبدیلیوں کے ساتھ ہو او ربعض ان میں سے ایسے بھی ہوں جن کے متعلق کہا نہیں جاسکتا کہ درحقیقت یہ کیا کررہے ہیں، کتنی قربانی دی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ثمناً قلیلاً قبول نہیں کرتے۔ ہر انسان جو مومن ہوتا ہے وہ کچھ نہ کچھ قربانی دیتا ہے ، ہر ایک کی قربانی کا راز ہر انسان کو معلوم نہیں ہوتا۔ کئیوں کو واقعۃً پیسے دیئے جاتے ہیںجو ردّ کردیتے ہیں۔ پس یہ جو باریک قربانیوں کی راہیں ہیں ان کا حساب خداکے سوا جو عالم الغیب ہے کوئی کر ہی نہیں سکتا۔ اور وہ تو ساتھ ساتھ ہورہا ہے۔ اس کیلئے کسی انتظار کی ضرورت نہیںہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ وہ لوگ جو ان حالات سے گزرے ہیں اور سب قربانی کی راہوں سے گزر کر اسلام میں داخل ہوئے ہیں ، ان کی کوئی باریک سے باریک قربانی ایسی نہیں جو اللہ کی نظر سے رہ گئی ہو اور اللہ کے حساب سے رہ گئی ہو۔ حساب جاری ہے ساتھ ساتھ اور ہورہا ہے جس کا قطعی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اجرھم عند ربھم ان کا اجر لازماً اللہ کے پاس ہے۔ کیونکہ جب حساب ہوگیا تو ا س کو تبدیل نہیں کیاجاسکتا، یقینی بات ہے۔دوسرا سریع الحساب کا مطلب اگر دنیا پر اس کا اطلاق کرنا ہو تو یہ بنے گا کہ ان کو دنیا میں بھی اجر ملے گا اور اللہ تعالیٰ حساب میں بہت لمبی تاخیر نہیں کرے گا اور ایسے لوگ جو خدا کی خاطر قربانیاں دیا کرتے ہیں ان کو ضرور دنیا میںبھی جزاء مل جاتی ہے۔ اور یہ ایک ایسا مضمون ہے جس کو ہم نے قطعیت کے ساتھ ہمیشہ پورا ہوتے دیکھا ہے۔ اگر کہیں استثناء ملے ہیں اور شاذ کے طور پر ملتے ہیں تو بعید نہیں کہ ان لوگوں کے دل کی کیفیت میں کچھ کمزوری آچکی ہو اور ان کی قربانی میںطوعی قربانی کا حصہ نہ رہا ہو اور اگر حقیقت میں اختیار ہوتا تو شاید وہ پیچھے ہٹ جاتے ، ایک یہ احتمال موجود ہے۔ مگر اس احتمال کو بھی ہم قطعیت سے کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ جو سریع الحساب ہے اس نے پتا نہیں کیا کیا چیزیں ا ن کے اندر دیکھی ہیں۔ کوئی حکمتیں ہیں اس کے پیش نظر اس لیے یہ کہہ کر ایسے لوگوں کے ایمان کو ردّ کرنا ہمارا حق نہیں ہے، ناجائز ہے۔ میں نے احتمال بتادیا ہے کہ یہ بھی ہوسکتاہے۔ انسانی آنکھ سے دیکھ کر ہم فتویٰ نہیں دے سکتے ۔ پس اکثر صورتوں میں اور بھاری اکثریت میں ہم نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ جنہوں نے مالی قربانیاں دیں ان کو خداتعالیٰ نے اتنا دیا کہ جو کھویا تھا اس کے مقابل پر بیشمار زیادہ دیا۔ اور ہجرت کے بعد جو تمام دنیا میں جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے انعامات سے نواز ہے اور ان خاندانوں کو انعامات سے نوازا ہے جو جب چلے تھے تو حقیقت میںکچھ بھی نہیں تھا جو کھویا ہے اس کی کوئی حیثیت ہی نہیں اس کے مقابل پر جو پایا ہے۔ تو سریع الحساب کا ایک یہ بھی معنی بن سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ حساب میں بھی اور اس کی جزا ء دینے میں بھی جلدی کرتا ہے اور تمہیں مرنے کے بعد کا انتظار نہیں کرنا ہوگا وہ تو ہوگاہی۔ اوّل اور اصل جزاء تو وہی ہے لیکن دنیامیںبھی تم ان نیکیوں کا بدلہ پائو گے۔ اس سلسلے میں جو مستشرقین کے حوالے ہیں ان میں سے میں ایک دو پڑھتا ہوں۔ مشکل یہ ہے کہ منہ کا مزا تبدیل کرنے کیلئے اچھی چیز بعد میں لائی جاتی ہے اور یہ مستشرقین کے حوالے انہوں نے آخر پر کیوںرکھے ہوئے ہیں ۔ ان سب نے غالباً ان روایات کو قبول کیا ہے جو اس آیات کریمہ کے متعلق بیان کرتیں ہیں کہ یہ نجاشی کے جنازے سے تعلق رکھتی ہیں۔(چنانچہ اس کا نام ۔ نہیں لکھا ہوا کہ یہ کون ہے لکھنے والا ۔ سیل ہی ہے غالباً)۔
    The persons here meant, some will have to be Abdullah Ebn Salam and his companions; others suppose they were forty Arabs of Najran, or thirty two Ethiopians, or els eighty Greeks, who were converted from Christianity to Mohammadism; and others say this passage was revealed in the 9th year of the Hejra when Mohammad, on Gabriel's bringing him the news of the death of Ashama.
    اصمعہ عین کے سا تھ ہے۔ میں یہ کہہ رہا ہوں ، اس نے اسماء لکھا ہوا ہے لیکن جو تلفظ مجھے یاد ہے اصماع ہے یا عین کے بعد ھ نہیں آتی چھوٹی سی؟ اس لیے پھر اس کو اصمعہ پڑھاجائے گا۔ بہرحال جو بھی مراد ہے نجاشی کا نام تھا۔ نجاشی جو حبشہ کا بادشاہ تھا جس کا ذکر ملتا ہے اس کا نام اصمعہ تھا لیکن بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ نجاشی اس کا ذاتی نام تھا۔ اورمسلمانوں نے پھر اس کو ٹائٹل بنالیا کیونکہ ایک عظیم واقعہ ہوا تھا اس کی ذات سے۔ اس لیے اس کے بعد ہمیشہ حبشہ کے بادشاہ کو نجاشی کہا گیا ۔جو بھی ہوایک فریق بہرحال نجاشی کو لقب ٹائٹل کہتا ہے اور اصمعہ کو ذاتی نام۔ یہ تسلیم کرتا ہے۔
    who had embraced the Mohammadan religion some years before prayed for the soul of the departed; at which some of his hypocritical followers were displeased, and wondered that he should pray for a Christian proselyte whom he had never seen.
    (The Koran by Li Sale vol:I, Page 86)
    اب یہ عجیب سی بے معنی بات ہے منافقوں کو اس سے تکلیف کیاپہنچی ہے۔اور گویا کہ منافق زیادہ پکے مومن ہیں۔ کہتے ہیں ان کو اس لیے تکلیف پہنچی کہ عیسایوں میں سے مسلمان ہونے والے کا جنازہ پڑھ لیا جس کا منہ نہیں دیکھا تھا۔اب منہ نہ دیکھنا اور جنازہ پڑھنا اس کا کیا تعلق ہوا ۔ کیا صرف اسی کا جنازہ پڑھا جاسکتا ہے جس کا منہ دیکھا جائے ۔ تو کیا کسی عورت کا جو پردہ دار ہو جنازہ نہیں پڑھا جائے گا۔ یہ نہایت ایک لغو بات اٹھائی ہے اس نے صرف منافقوں کی طرف منسوب کرنے کیلئے او رمنافقوں کو بہتر شکل میں بیان کیا گیا ہے جو زیادہ پکے اور فنڈا مینٹلسٹس (Fundamentalists)تھے۔ جنہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا یہاں منافقوں کی بحث نہیں صرف منافق، تو بعض غیروںکے متعلق منافقانہ روییّ کے لحاظ سے ان کو کہا جاسکتا ہے۔ یہاں محمد رسول اللہ کے صرف ماننے و الے ہرگز مراد نہیں ہیں۔ مراد وہ لوگ ہیں جن کو یہ تکلیف ہوئی ہے اسلام کی شان و شوکت دیکھ کر، کہ ایک عظیم بادشاہ جو اکثریت عیسائی ملک کا بادشاہ تھا وہ مسلمان ہوتا ہے اورآنحضرت ﷺ وحی الٰہی سے اطلاع پاکر اس کا جنازہ پڑھتے ہیں اور بعد کے واقعات بتاتے ہیں کہ واقعۃً اس وقت وہ فوت ہوچکا تھا۔ یہ اعجاز ہے جس کو چھپانے کیلئے یہ مستشرقین ادھر اُدھر کی ٹامک ٹوئیاں مارتے ہیں، باتیں کرکے اسے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ گویا معمولی سی ایک بات ہے اور اچانک مسلمان سوسائٹی پھٹ گئی اور اس واقعہ کے نتیجہ میں اختلاف پیدا ہوگئے۔ یاد رکھنے کی بات یہی ہے کہ یہ ایک بہت عظیم الشان ایک نشان ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اللہ نے وحی کے ذریعہ بتایا کہ فوت ہوگیا ہے اور اس کا جناز پڑھا۔ جہاں تک منہ نہ دیکھنے والی بات ہے یہ بحث اٹھائی گئی ہے فقہاء کی طرف سے کہ غائبانہ جنازہ ہوسکتا ہے کہ نہیں، وہ اس سے پہلے فوت وہاں ہوچکا تھا جو بعد میں جنازہ پڑھا گیا۔ چنانچہ ملک سیف الرحمن صاحب نے جو مجھے ایک مشورہ دیا تھا کہ جنازہ غائب کا رواج کم کریں۔ اُس میں یہ حوالہ بھی دیا تھا کہ نجاشی کا جنازہ تو پڑھا گیا اور ایک اور جنازے کا ذکر کیا کہ وہ بھی پڑھا گیا۔ مگر یہ عمومی رواج نہیں تھا اس لیے اگر آپ نے شروع کردیے تو پھر ساری دنیا کی جماعت آپ کے پیچھے پڑ جائے گی اور ہر مرنے والے کے متعلق تقاضے شروع ہوجائیں گے۔ تو منہ نہ دیکھنا مراد نہیں ہے۔ غائبانہ کی بحث ممکن ہے کسی نے اٹھائی ہو کہ جنازہ تو اس کا پڑھا جاتا ہے جو سامنے ہو غائب فوت ہونے والے کا جنازہ نہیں پڑھا جاتا ۔ اس ضمن میں مَیں آپ کو یہ بھی بتادوں کہ ملک صاحب کی پیشگوئی سچی نکلی اور اب ہر فوت ہونے والے کے متعلق تقاضے آتے ہیں اور یہ اگرشروع کردیا جائے تو یہ ایسی نئی بدعت بن جائے گی جو سنت حسنہ نہیں رہے گی بلکہ بدعت میں تبدیل ہوجائے گی۔ اس لیے میں ابھی متنبہ کررہا ہوں سب جماعت کو کہ صرف اطلاع دینا فرض ہے۔ اگر میں نے سمجھا از خود کہ فلاں شخص کا جنازہ غائب ہوجانا چاہیے تو میں خود پڑھادوں گا۔ ورنہ اس فتنے کی روک تھام کیلئے جس کے متعلق ملک سیف الرحمن صاحب مرحوم رحمہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی مجھے اپنی فراست سے متنبہ کردیا تھا اور میں ان کی بات تسلیم کرچکا تھا اور انجمن کے سپرد یہ کیا تھاکہ وہ جس کی سفارش کیا کریں معین طور پر، وہ ان کو حق ہے کہ مجھے بھیج دیں سفارش باقی میں خود فیصلے کروں گا۔ لیکن اب یہ ایسا رواج عام ہوچکا ہے بلکہ ایسی شرطوں کیا تو عام ہوگیا ہے کہ مجھے یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ جب ٹیلی ویژن آن ہو تو اس وقت جنازہ پڑھیں۔ جب جمعہ پڑھ چکیں تو اس کے ساتھ ملاکر جنازہ پڑھیں اورگویا جنازہ ایک خود نمائی یا اپنے عزیزوں کی نمائش کا ذریعہ بن گیا نہ کہ حصول مغفرت کا ذریعہ۔ پس آج کے بعد دوبارہ پھر کم سے کم اتنی دیر کیلئے کہ ہمیں یقین ہوجائے کہ یہ رسم مٹ گئی ہے، ہمیں اسی پہلی حالت پر واپس آنا پڑے گا۔ جو پہلے خلفاء کی سنت رہی ہے۔ روز مرہ جنازہ غائب نہیں پڑھے جاتے تھے شاذ کے طور پر پڑھے جاتے تھے(سمجھ گئے ہیں)۔ بعض دفعہ میں اس وجہ سے از خود استثناء کرلیتا ہوں کہ ایک شخص ہجر ت کے حالت میں ہے واپس نہیں جاسکتا ، اس کی والدہ ، اس کے باپ یا بہت ہی عزیز لوگ یا وفات پاجاتے ہیں ایسے دردناک حالات میں کہ بچے کو ان کا غائبانہ نماز جنازہ پڑھنا ہے اور غیر معمولی دکھ ہے۔ اور یا حادثات میں شہید ہوجاتے ہیں یا ویسے شہید ہوجائیں۔ تو یہ ایسی چیزیں ہیں جن کو میں خود استثناء کے طور پر دیکھ سکتا ہوں۔ مجھے صرف دعائے مغفرت کیلئے لکھ دیا کریں اور وہ ضروری ہے اس میں مَیں بھی شامل ہوں گا۔ لیکن جنازے کے متعلق فیصلہ صرف مجھ پرچھوڑ دیں بس۔ اور دعا ئے مغفرت ہوجائے یہی بڑی چیز ہے، اصل میں ان کا مقصود ہے۔ تو اس حوالے سے جو اس میں ذکر ہے نا ’’منہ نہیں دیکھا‘‘ اس سے مجھے خیال آیا کہ ہوسکتا وہ لوگ یہ باتیں کرتے ہوں کہ جنازہ غائب درست نہیں ہے۔
    یہ کہتا ہے اس لحاظ سے سیل ۔ اس کی ایک اور جو شان نزول ہے وہ یوں بیان کرتا ہے۔
    And accordingly, in fifth year of the prophet's mission, sixteen of them, four of whom were women, fled into Ethiopionad among them Othman Ebn Affan and his wife Rakiah, Mohammad's daughter. This was the first flight, but oterward several others followed them, retining one after another, to the number of eighty-three men and eighteen wome, besides children. These refuges were kindly received by the Najashi.
    دی نجاشی سے یہ اس کو ٹائٹل قبول کررہا ہے لیکن ساتھ میں لکھتا ہے جب دی نجاشی کہے گا تو مراد ہے کہ جانتا ہے کہ یہ اس کا ٹائٹل نام نہیں تھا۔ مگر بریکٹ میں لکھتاہے Dr. Prideavx seems to take this worst for a proper name, but only the title, the Arabs gives to every King of this countryایسے لائف آف محمد کے حوالے سے لکھ رہا ہے۔
    "who refused to deliver them up to those whom the Koreish sent to demand them, and, as the Arab writers unanimously attest, even professed the Mohammadan religion".
    (1. The Koran commonly called The Alcoran of Mohamaed, Translated from the orginal Arabic Explanatory Notes, taken from the most approved commentators to which is prefixed, A. Preleiminary Discovrse, by George Sale, Ge, in two volumes Vol:1 A New Addition, Preliminary Discourse Section II, Page 58,59)
    یہ واقعہ کی تفصیل اس نے لکھی ہے اور کوئی خاص بات نہیں ہے اس میں جو قابل بحث ہو اس کے بعد کی اور سورہ آل عمران کی آخری آیت۔ یاایھاالذین امنوا اصبروا و صابروا ورابطوا واتقوا اللہ لعلکم تفلحون۔ اے ایماندارو! صبر سے کام لو (میں تفسیر صغیر سے ترجمہ پڑھ رہا ہوں) اور دشمن سے بڑھ کر صبر دکھائو اور سرحدوں کی نگرانی رکھو اور اللہ کا تقوی اختیار کرو تا کہ تم کامیاب ہوجائو(آل عمران : ۲۰۱)۔ یہ بسم اللہ کو شامل کرکے ۲۰۱ بنتی ہے کیونکہ ہم بسم اللہ کو پہلی آیت سمجھتے ہیں۔ ورنہ اکثر دوسرے اس کا نمبر ۲۰۰ بتائیں گے۔ کیونکہ وہ بسم اللہ کو شمار نہیں کرتے۔ الصبرصبر کیا چیز ہے۔ اس کی لغوی بحث یہ ہے الصبر الامساک فی ضیقٍتنگی کی حالت میں رک جانا صبر کہلاتا ہے۔ اور صبرت الدابۃ حبستھا بلا الفٍکسی جانور کو چارہ ڈالے بغیر بند کردینا ۔ یہ صبرکے لفظ سے بیان کیا جاتا ہے کہ میں نے اپنے جانور کو صبر کروادیا۔ مطلب یہ ہے کہ میں نے اس کو بند رکھا اور چارہ نہیں ڈالا۔یہ وہ عات ہے جو بعض دفعہ عربو ں میں پائی جاتی تھی۔ مگر آنحضرتﷺ نے اس کو بڑی سختی سے منع فرمایا اور عذاب کی جزاء بتائی ، اگر کوئی ایسا کرے گا صرف مویشیوں کے تعلق میںنہیں یہاں تو یہ حرکت کرنا بہت ہی بڑا جرم بن جاتا ہے ۔ مویشی آپ کو پالتے ہیں اور آپ کو اتنی بھی حیا نہیں کہ ان کو چارہ ہی ڈال دیں۔ جبکہ ۔۔۔آپ کو دودھ دیتے ہیں، اپنا گوشت دیتے ہیں ، اپنی کھال دیتے ہیں ۔ تو بہت بڑی بے حیائی ہے بڑا جرم بن جاتاہے۔ آنحضرت ﷺ نے تو ایک بلی کے متعلق فرمایا کہ اس کی مالکہ کو میں نے دیکھا جہنم میں اس کو عذاب دیا جار ہا ہے وجہ یہ تھی کہ وہ اس کو باندھ کر یا گھر میں بند کرکے چلی گئی اور اس کی خوراک کا کوئی خیال نہیں کیا۔ تو ہر وہ جانور جو حبس میں ہو حبس کرنے والے کا فرض ہے کہ اس کی خوراک پانی وغیرہ کا ، اس کی سہولت کا مناسب انتظام کرے تو صبر کا لفظ ان معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ کہ جانور بیچارہ جو بے زبان ہے کچھ کہہ نہیں سکتا اس کو بند کردیا جائے تو کہیں گے صبرت الدابۃ میں نے دابہ کو صبر میں مبتلاء کردیا۔ ان معنوں میں صبر کا لفظ لازم بھی ہوگا اور متعدی بھی۔ اصبروا وصابروا صبرو کرو اور صابرو ا اور ایک دوسرے کے مقابلہ پر صبر کرو۔ یہ جو الفاظ ہیں اس کے متعلق آتا ہے احبسوا انفسکم علی العبادۃ و جاھدوا اھوائکم۔ مفردات امام راغب میں ہے کہ اس کا اعلیٰ معنی اور اصل معنی یہی ہے کہ تم اپنے نفوس کو عبادت پر روکے رکھو یعنی عبادت سے وہ بدک کر دوسرے طرف جانے کی کوشش کریں گے ، تم عبادات پر انہیں باندھے رکھو اور قائم رکھو۔ یہ صبر کا اوّلین معنی ہے۔ وجاھدوا اھوائکم اور یہاں جو صابروا ہے کہ صبر سکھائو بھی اور دوسروں کو صبر کی تعلیم بھی دو یا دوسروں سے صبر کے مقابلے کرو۔ وہ کہتے ہیں اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ اپنی خواہشات کو صبر سکھائو ، ان کو اپنے حدود کے اندر قائم رہنے کی تلقین کرو اور ان کے اوپر یہ کاٹھی ڈالو، یہ صابروا کا مطلب بنتا ہے۔ اقرب الموارد میں لکھا ہے صبر رجلٌ علی الامر نقیض جز و شجع و تجلداس نے جرأت دکھائی۔ شجعاً اس نے بہادر دکھائی وتجلدا اور وہ بھی وہی معنی ہیں کہ میدان کارزار میں جو بہادری کے کارنامے کرے اس کو کہیں گے تجلدااس نے جرأت اوربہادری دکھائی صبر عن الشیء امسک صبر کا معنی ہے اصل میں رک جانا ، کسی چیز سے رک جانا یا کسی چیز پر رکے رہنا۔ صبر فلانٌ عن الامر حسبہ اس نے اسے کسی کام سے روکا تو صبر وہی متعدی معنوں میں استعمال ہوگا یہاں۔ کسی اور کو روکنا بھی لفظ صَبَرَ سے ظاہر کیاجاتا ہے۔صابرہ غالبہ فی الصّبر اس نے صبر میں اس سے بڑھنے کی کوشش کی۔ صابر کا ایک یہ مطلب بھی ہے ۔ صابروا ایک دوسرے سے صبر کے مقابلے کرو ، ایک یہ ہے کہ صبر سکھائو ، ایک یہ معنی ہے کہ صبر کا مقابلہ کرو۔ تاج العروس میں لکھا ہے یہ اقرب الموارد میں تھا۔ تاج العروس میں ہے الصبر نقیض الجزع ۔ صبر جزع کی ضد ہے۔ قال الجوہری الصبر حبس النفس عندا لجزع ۔ جوہری کہتے ہیں کہ صبر تو دراصل نفس کو اس وقت روک رکھنے کا نام ہے جب کہ جزع کی حالت ہو۔ یعنی سخت بیقراری اور تکلیف میں مبتلاء ہو انسان۔ اس وقت اگر اپنے نفس کو انسان روک لے تو اس کو صبر کہتے ہیں ۔ ذوالنون کہتے ہیں کہ الصبر والتباب عن المخالفاۃٖ وہ کہتے ہیں کہ تباب دوری اختیار کرنے کو یعنی مخالفات سے مراد ان کی اللہ اور رسول کے احکامات کے برعکس راہ اختیار کرنا ہے ۔ اللہ اور رسول کی مخالفت کرنا اس سے دور رہنا اس کو الصبر کہتے ہیں۔ الصبر الوقوف مع البلاء بحسن الادب ۔ تاج العروس میں ہے کہ الصبر الوقوف صبر وقوف یعنی ٹھہرے رہنے کو کہتے ہیں مع البلاء مصیبت کے ساتھ یعنی مصیبت بھی موجود ہے اوربھاگتے نہیں۔ مصیبت کی حالت میں قرار پکڑ جاتے ہیں وہیں۔ بحسن الادب حسن ادب کے ساتھ۔ اگر انسان ابتلاء کو قبول کرلے تو یہ صبر ہے۔ آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر ایک بڑھیا کو جو اپنے بیٹے کی موت پر جزع فزع کررہی تھی۔ اس کو صبر کی تعلیم دی اور اس نے آگے سے ایک بدتمیزی کا فقرہ کہا جب اس کو پتا چلا کہ رسول اللہ ﷺ تھے۔ تودوڑی گئی اور معافی مانگی کہ میں اب صبر کرتی ہوں۔ اس وقت آپ نے فرمایا کہ صبر اس وقت ہوتا ہے جب فزع کا وقت ہو ۔ یعنی لفظ یہ نہیںتھے مگر مرادیہی تھی ۔ پس یہ جو ترجمہ کیا گیا ہے بالکل درست ہے جس مفسر نے بھی کیا ہے کہ صبر غم کے غلبہ کی حالت میں ہوتا ہے۔ تکلیف کے غلبہ کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس وقت اگر انسان ابتلاء میں سے بچ کر گزر جائے تو اس کو صابر کہیں گے بعد میں تو صبر آہی جاتا ہے۔ کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس کو خدا صبر نہ سکھادے یا اس سے پہلے وہ مر جائے تو اس کو ویسے ہی صبر آجائے گا۔ مگر وہ صبر جو جزاء کے لائق ہے جس کا قرآن کریم نے غیر معمولی طور پر اللہ کی رضامندی کے قبول کے ذریعہ کے طور پر بیان فرمایا ہے وہ یہی صبر ہے جو غم کے غلبہ کی حالت میں انسان کرتا ہے۔
    آگے لفظ ہے رابطوا : ربط الفرساس میں بھی باندھنے کا مضمون ہے۔ صبر میں بھی باندھے کا مضمون ہے مگر اپنی ذات کو روکے رکھنا اور کسی حالت کے ساتھ اپنے آپ کو اس وقت باندھ لینا جبکہ وہ حالت دھکے دے رہی ہو اور آپ اس سے چمٹے رہیں یہ دشمنوں کی ایذاء رسانی پر جب وہ ایمان کے سودے کرنا چاہتے ہوں، مضبوطی سے قائم رہنا صبر کہلائے گااس معنی میں ۔ تم نے اپنا دامن نہیں چھوڑایاوہ توڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن تم اس حالت پر قائم رہے اور ربط ہے وہ بھی باہم ملنے کے معنوں میں ایک دوسرے سے باندھنے کے معنوں میں بھی ہے اور دوسروں کو باندھنے کے معنوں میں بھی ہے۔ اسی لحاظ سے رابطوا کا یہ مطلب کیا جاتا ہے کہ سرحدوں پر گھوڑے باندھو اگرچہ رابطوا کا مطلب ہے باندھو۔ مگر سرحد پر باندھنا یہ موقع محل کے لحاظ سے معنی لیے گئے ہیں، یا عربوں کا کوئی رواج ہے جس کی طرف حوالہ دیا گیا ہے ۔ لیکن بعض مفسرین روایت بیان کرتے ہیں بعض صحابہ کی کہ رابطوا کو لفظاً لینا درست نہیں ہے۔ کہتے ہیں کہ ہم کئی غزوات میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ شریک ہوئے ، ہم نے تو کسی غزوے میں بھی یا کسی موقع پر بھی غزوہ کے علاوہ جو حالتیں ہیں ان میں بھی مسلمان گھوڑوں کو سرحدوں پر بندھا ہوا نہیں دیکھا۔ اس لیے یہ ظاہری ترجمہ کرنا جو تاریخ کے خلاف ہے ، جو آنحضرت ﷺ کی سنت اور آپ کے صحابہ کی سنت کے خلاف ہے، وہ کہتے ہیں درست نہیںہے۔ کیونکہ یہ جو روایت ہے صحابی کی واقعۃً کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ ﷺتومدینے میں ہوں اور گھوڑے ایران کی سرحدکے ساتھ باندھے گئے ہوں۔ تو یہ محاورہ ہے، سرحد پر گھوڑے باندھنا ۔ واقعۃً گھوڑوں کو سرحدوں پر نہیں باندھا جاتا نگرانی کی جاتی ہے سرحدوں کی۔ سرحدوں پر ایسا انتظام کیا جاتا ہے کہ اگر دشمن حملہ کرے تو سرحدوں پر گھوڑوں کو دیکھے یعنی اتنی مہلت نہ تم دشمن کو دو کہ وہ اچانک حملہ کر بیٹھے اور سرحدوں کو ننگا پائے۔ تو یہ کام مستعد نگرانی کے ذریعہ ہوتا ہے۔ ورنہ آجکل کی دنیا میں بھی کہیں آپ کو جنگی کارروائیاں ایسی نہیں ملیں گی کہ واقعۃً سب کی سرحدوں پر فوجیں بیٹھی ہوں۔ فوجوں کو سرحد تک پہنچنے کیلئے بڑا وقت درکار ہوتا ہے کئی مہینے پہلے سے وہ تیاریاں کرتے ہیں، تب جاکے پہنچتی ہیں۔ لیکن دشمن کا بھی یہی حال ہے وہ بھی فوراً نہیں پہنچ سکتا۔ نگران بیٹھے رہتے ہیں، جہاں وہ ایسی حرکات دیکھیں کہ جس سے پتا چلے کہ دشمن کے ارادے بد ہیں پھر اس طرف کی فوجیںبھی آہستہ آہستہ وہاںسرحدوں پرپہنچنی شروع ہوجاتی ہیں۔ تویہ فطرت کے خلاف ہے کہ سرحد پرہر وقت گھوڑے بندھے رہیں اور گھوڑوں کی آجکل کے زمانے میںآلات جنگ کی حفاظت کے مقصد کے بھی خلاف ہے کہ ہروقت وہاں بیٹھے رہیں۔پس رابطوا کا مطلب ایسی نگرانی رکھنا ہے جس کے نتیجہ میں دشمن تمہیں کبھی بھی سرپرائزنہ دے سکے۔ جس سرحد سے وہ حملہ کرے وہاںتمہیں مدافعت کیلئے تیار دیکھے۔ جس طرح آجکل کے زمانے میںبیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے نا پروفلیکٹک (Prophylactic)دے دے کے یا وہ ویکسی نیٹ (Vaccinate)کرتے ہیں۔ تو وہی گھوڑے باندھے والا مضمون جو ہے وہ یہ ہے۔ جب پتا لگے کہ دشمن آنے والا ہے تب ویکسی نیٹ کرتے ہیں۔ یہاں وبائیں پھیل جائیں فوراً سب کو کہتے ہیں کہ لگائو اب ٹیکے اس کو،تاکہ جب جراثیم آئیں تو اچھی طرح ان کی خاطر مدارات ہوان کو داخل ہوتے ہی پتا چلے کہ جس علاقے پر حملہ کررہے ہیں وہ لوگ مستعد ہیں۔یہ نظام جو ہے انسانی بدن کا یہ ہر وقت تیار بیٹھا ہے۔ تو یہ رابطوا کا مفہوم ہے۔
    رابطوا کاروحانی معنی لیتے ہوئے تاج العروس میں لکھا ہے کہ ارتباط الخیل المحافظۃ علی مواقیت الصلوۃ کہ نماز کے اوقات کی حفاظت کرنا یعنی بروقت ان کو ادا کرنا یہ ہے رباط الخیل کیونکہ یہاںظاہری سرحدیںتومراد ہیں نہیں ہر قسم کی سرحدیں جہاں سے کوئی شخص حملہ کرسکتا ہے۔ ان معنوں میں شیطان کا حملہ سب سے زیادہ اہم ہے۔ کیونکہ وہ سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نماز کے اوقات کے کناروں پر حفاظت رکھو یہ نہ ہو کہ کنارہ آجائے اور تمہاری نماز ہی قضاء ہوجائے۔ اس لیے انہوں نے یہ معنی بھی لیا ہے۔ اورچونکہ نماز کے اوقات، وقت میں سرحدیں بناتے ہیں اس پہلو سے یہ ایک لطیف معنی ہے۔ اور دل سے بھی اس مضمون کا تعلق ہے ربط کا۔ چنانچہ ربط اللہ علی قلبہٖ کا مطلب ہے کہ اللہ نے اس کے دل کو مضبوط کیا ’’المنجد‘‘ میں یہ لکھا ہے۔ امام راغب نے بھی یہ معنی قبول کیے ہیں۔ کہتے ہیں ربطٌ علی القلبکہ کسی کے دل کو مضبوط کرنا اور اسے استقلال بخشنا یہ ربط کامعنی ہے۔ وربطنا علی قلوبھم ۔ قرآن کریم کی آیت کا حوالہ دیتے ہیں کہ ہم نے ان کے دلوں کو باندھ دیا مضبوطی سے۔ تو ربطنا کا مطلب ہے ان کو اکٹھا سمیٹ دیا کہ ان میں انتشار نہ پید اہو اب اس لحاظ سے ۔ اب ہم واپس لوٹتے ہیں اس آیت کی طرف جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ آل عمران کی آخری آیت ہے۔یاایھا الذین امنوا اصبروا و صابروا ورابطوا ۔ اس کا جو ظاہری معنی ہے جو ابھی بیان ہوا ہے کہ ایسی تکلیفیں جو دشمن کی طرف سے ہوں۔ایسے خطرات جو واقعتہً سرحدوں سے وابستہ ہوں یعنی دشمن کے حملوں سے تعلق رکھتے ہوں۔ اس پہلو سے جب ہم اس کا ترجمہ کریں گے تو اس سورت کے آخر پر رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ اس سے پہلے تین بڑے غزوات کاذکرگزرچکا ہے۔ جنگ بدر کا ، جنگ اُحد کا اور ’’حمراء الاسد‘‘ کا۔ اور بعض اشارے ایسے وضاحت کے ساتھ ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ آئندہ بھی دشمن کی طرف سے خطرات درپیش ہوں گے۔ تو ان تمام مواقع پر جب دشمن سے مسلمان برسر پیکار ہوئے اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی ان کی حفاظت فرمائی۔ مگر اس میں یہ مضمون بھی داخل تھا کہ آنحضرت ﷺ ہمیشہ نگرانی فرماتے تھے اور ٹوہ لیا کرتے تھے کہ دشمن کے کیا ارادے ہیں اور یہ رباط کانظام آنحضرت ﷺ پہلے سے جاری فرماچکے تھے۔ یعنی عملاً گھوڑے اس طرح تو نہیں باندھے گئے مگر ہر وقت کی خبر رکھتے تھے۔ چنانچہ اس سورۃ میںمسلمانوں کو یہ بھی متنبہ کیاگیا کہ سرحدوں پر اس طرح نہ کھڑے ہو کہ دشمن تمہیں دیکھ لے اور وہ بھی متنبہ رہے۔ چنانچہ منع فرمایا کہ ایسے لوگوں کو دوست نہ بنائو جو تمہارے راز لینا چاہتے ہیں اور تمہارے راز لے کر تمہارے خلاف استعمال کریں گے کیونکہ وہ تمہارے بہی خواہ نہیں ہیں۔ وہ تمہارا براچاہتے ہیں، تمہیں تکلیف پہنچے تو انہیں خوشی ہوتی ہے۔
    پس سرحدپر گھوڑے باندھنے کا یہ دوسرا معنی بھی بیان ہوگیا۔ اسی سورۃ میں کہ تم لوگ دشمن کی حرکتوں پر نگاہ رکھو ، باریک نظر رکھو اور لا تجسسوا کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ دشمن کی نگرانی نہ کرو لا تجسسوا کا تمہاری اپنی سوسائٹی سے تعلق ہے جہاں حسن ظن ہے جو تمہاری سوسائٹی کو تقویت دے گا اور رباط پید اکرے گا وہاں اگر تم نے تجسس کیا تو رباط سے تویہ مضمون ٹکراجائے گا۔ اس لیے تم اپنی سوسائٹی میں حسن ظن سے کام لو اور جہاں تک غیروں کا تعلق ہے ان پر نظر رکھو باریکی سے۔ کیونکہ وہ دشمن ہیں ، وہ ہر وقت تمہاری برائی کی باتیں سوچ رہے ہیں۔ اس پہلو سے ہماری جماعت کو زیادہ ہوشیار رہنا چاہیے۔ یہ درست ہے کہ اللہ تعالیٰ بسا اوقات د شمن ہی کی بعض غلطیوں سے ہمیں متنبہ فرمادیتا ہے کہ یہ کیا سوچ رہے ہیں اور کیا سکیمیں بنارہے ہیں ۔ لیکن جہاں تک جماعت احمدیہ کی Consciousکانشنس کوشش یعنی بالارادہ کوشش کے ذریعہ دشمن کے حالات پر نظر رکھناہے ، میرے نزدیک ابھی تک اس میں بہت کوتاہی ہے۔ ایک ایسا نظام ہے جس کے ذریعہ ہمیں خود بخود اللہ کی طرف سے خبریں مل جاتیں ہیں۔ وہ یہ ہے کہ ہر احمدی جو کچھ ہورہا ہے اس کے متعلق لکھتا رہتا ہے اور ان خطوط میں ایک عام پڑھنے والے کیلئے تو کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوگی، مگر جب ہر جگہ سے مختلف خط آتے ہیں اور ایک ہی قسم کی بعض حرکتیں بیان کرتے ہیں تو ان کے اجتماعی تاثر سے ہم فائدہ اٹھالیتے ہیں۔ یہ اطلاع ملتی ہے کہ دشمن ایک ایسی سازش کررہا ہے جس کا رخ اس طرف ہے۔مثلاً جنگ میں مودودیؔ اجتماع جوہوا تھا اس موقع پر یہ دہرائی گئی بات جس کا جھوٹ ہونا قطعی جھوٹ ہونا ثابت ہوچکا ہے کہ ربوہ ریلوے اسٹیشن پر احمدی نوجوانوں نے منصوبہ بندی کرکے جو طلباء وہاں سے گزر رہے تھے ان کو ذلیل کرنے کی کوشش کی ، ان کو مارا کوٹا اور اس کے ردّ عمل میں پھرگویا ان کے جنگ کے بیان کے مطابق امت مسلمہ نے یہ ردّ عمل دکھایا کہ ہر جگہ احمدیوں کی قتل و غارت کا اذن عام ہوگیا اور بہت بڑے بڑے مظالم کیے گئے حالانکہ ان کی خود کورٹ۔۔۔ انکوائری قطعی طور پر ثابت کرچکی ہے۔ پہلے اگر یہ الزام تھا لاعلمی کا اب یہ بالارادہ جھوٹ اور بہتان ہے اور شرات کی نیت رکھتا ہے۔ ایک ایسی بات چھیڑی گئی ہے جس کیلئے قوم کو دوبارہ تیار کیا جار ہا ہے کہ دیکھو پہلی دفعہ جب انہوں نے کہا تھا تو یہ ہوا تھا اب ہم تمہیں متنبہ کرتے ہیں کہ آئندہ بھی جب یہ جماعت احمدیہ شرارت کرے گی تو اسی طرح ردّعمل دکھانا اور ثابت شدہ حقیقت کیا ہے؟ثابت شدہ حقیقت یہ ہے کہ جماعت احمدیہ نے نہیں بلکہ ان مودودی جماعت اسلامی کے طلباء نے اور کچھ ان کے ساتھ دوسرے طلباء نے جو اس وقت کی حکومت کے زیر اثر تھے ، مل کر سازش کی تھی اور اس سازش کے ثبوت قطعی طور پر میں پہلے اپنے بعض خطبات میں بیان بھی کرچکا ہوں، ان کو دہراتا نہیں۔ مگر میں یہ بتارہا ہوں کہ کس طرح ہمیں مختلف جگہوں سے آنے والی اطلاعیں ایک ساز ش پر مطلع کردیتی ہیں مگر بالارادہ کوشش سے کوئی نظام جاری نہیں ہے۔ پھر وہاں صوبہ سرحد میں ہزارے میں جہاں ہمیشہ ہی مظالم میں پیش قدمی کی گئی ہے اور باقی لوگوں کو پیچھے چھوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے وہاں ایک احمدی نوجوان لڑکوں پر حملہ کروایا گیا پوری واضح سکیم بنا کر ، شرارت کے ساتھ پولیس موجود تھی، پولیس کی موجودگی میں ان کو ماراکوٹا گیا اور جب انہوں نے جوابی کارروائی کی اپنے آپ کو بچانے کیلئے تو پھر بندوقیں آئیں اور ان پر فائرنگ ہوئی اور ساتھ ہی فوراً سارے ضلع میں اور صوبہ سرحد کے اخباروں میں یہ خبریں لگ گئیں کہ احمدیوں نے نہایت بھیانک منصوبہ بنا کر مظلوم نہتے غیر احمدی طلباء پر حملہ کیا اور ان کو زد و کوب کیا اور ساتھ ہی ان میں سے کئیوں کو جان کے لالے پڑ گئے۔ بڑے خطرناک واقعات پیدا ہوئے۔ اصل بات کے بالکل برعکس بعینہٖ وہی بات جو ریلوے اسٹیشن ربوہ کے اس تعلق میں ہوئی تھی۔ وہ یہاںرونما ہوگئی۔تو جس آدمی نے مجھے جنگ کی Cuttingبھیجی اورنشان لگایا کہ یہ عجیب بات ہے وہاں ۔ جس نے یہ واقعات لکھے یہ نظام جماعت کی معین کوشش کے نتیجہ میں ایسا نہیں ہوا بلکہ سرسری طور پر یہاں سے وہاں سے کراچی میں کسی اور جگہ سے ہونے والے واقعات کی خبریںملتی رہتی ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دشمن کیا منصوبے بنار ہا ہے۔مگر یہ آیت کریمہ ہمیں بتارہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں باقاعدہ دشمن پر نظر رکھنے کا نظام تھا اور ناممکن تھا کہ دشمن مسلمانوں کو سرپرائز دے سکے اور دوسری طرف یہ بھی نظام تھا کہ اپنی جو باتیں ہیں ان پر صبر کرو۔ ان کومضبوطی سے پکڑے رکھو اور چھپائے رکھو۔ یہ معنی بھی ہیں۔ غیروں تک نہ اس کو پہنچنے دو اور سرحدوں کی حفاظت کرو ۔ ایک تو یہ معنی ہے جو اس آیت سے نکلتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی سنت کے پیش نظر دوسرے اب دیکھیں۔
    یاایھاالذین امنوا صبروا و صابرو ۔ صبر کی تعلیم یہاں دینا جس کے پس منظر میں تین بڑی لڑائیاں گزر چکی ہیں ، یہ ممکن ہی نہیں تھا اگر وہ جارحانہ جنگیں ہوتیں۔ جارحیت کرنے والے کو کون صبر کی تعلیم دیا کرتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے شدید اشتعال انگیزی کی جاتی تھی اوردشمن مسلسل شرارت کرتا تھا۔ اورمسلمانوں کے صبر کے باوجود پھر بھی ایسے واقعات ہوجاتے تھے جس کے نتیجہ میں جنگ کی آگ بھڑک اٹھتی تھی۔ تو یہ تین بڑے جنگ کے واقعات اور بعض دوسروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کریم آخر پر یہ نتیجہ نکالتا ہے سورۃ کے یاایھا الذین امنو اصبروا ۔ اے لوگوجو ایمان لائے ہو صبر اختیار کرو ، تمہاری اسی میں بہتری ہے۔ دشمن کی اذیت کے مقابل پرصبر اور اپنی نیکیوں پر صبردونوںباتیںاکٹھی اس میں داخل ہیں اذیت کے مقابل پر ایسی حرکت نہ کرنا جس سے اس کو موقعہ مل جائے کہ وہ اپنی شرارت کیلئے اس کو بہانہ بنائے اور نیکیوں کو تبدیل نہ ہونے دینا ، دشمن کی اذیت کے نتیجہ میں نہ مرتد ہونا نہ اپنی وفا میں ڈگمگانہ بلکہ کامل وفا اور استقامت کے ساتھ سچائی کے ساتھ وابستہ رہنا۔ وصابروااور دوسروں کو بھی اسی کی تلقین کرو اور ایک دوسرے سے صبر کے مقابلے کرو یعنی ایک ایسی عظیم الشان چیز ہے کہ جہاں دوسرے کو صبر کرتا ہوا دیکھو تو اس کے نتیجہ میں اپنے نفس پر رحم نہ کھانے لگ جانا۔ بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے ایک شخص کو صبر کرتا ہو ادیکھ کر انسان اندرسے کمزور پڑ جاتا ہے ۔ محمد رسول اللہ ﷺ کے غلاموں سے توقع یہ رکھی جارہی ہے کہ مظلوموں کو جب صبر پر دیکھو تو یہ فیصلے کرو کہ وقت آئے گا تو ان سے بڑھ کر ہم صبر دکھائیں گے۔یا جن چیزوں کی خاطر انہوں نے قربانیاں دیں ہیں ہم اپنے صبر کے ذریعہ ان کی حفاظت کریں گے ، ان قدروں کی حفاظت کریں گے او رکسی قیمت پر بھی ا س راہ سے نہیں ٹلیں گے جس راہ پر یہ ہمارے بھائی صبر کرتے ہوئے قربانیاں پیش کرچکے ہیں۔ یہ صابروا دوسرے جو کمزور ہیں تم میں سے وہ ڈگمگابھی جاتے ہیں ایسی حالت میں جہاں صبر کا مضمون چل رہا ہو ، تکلیفیں ہورہی ہیں۔اور کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں فیصلے کرکے کہ ہم ہر حالت میں یہیں رہیں گے ان کو سمجھایا کرو جو کمزور ہیں ان میں سے ان کو کہو کہ دیکھو صبر میں ہی بہتری ہے ۔اور رابطوا کا ایک مضمون یہ بھی ہے کہ اگر تم اس طرح صبر کرو گے تو آئندہ خطرات سے پیش بندی کرنے والے ہو گے جب صبر کی تعلیم دو گے تو تم لوگ تیار رہو گے کہ آئندہ جب بھی اسے ابتلاء دوبارہ آئیں گے تودشمن ہمیشہ تمہیں مستعد وفادار اور مستحکم پائے گا۔ اور تمہارے قدم اکھیڑنے میں کامیاب نہیں ہوسکے گا۔ پس یہ مضمون بڑی لطافت کے ساتھ از خود رابطوا کے مضمون میں داخل ہوجاتا ہے۔ تم رابطوا ، ربط سے کام لو اور رابطوا کے یہاں دونوں معنی آتے ہیں ۔ صبر اور صبر کی تعلیم کے ذریعہ تم ایک دوسرے کے دلوں کو باندھ لو اور صبر کے ذریعہ ایک جمعیت میں تبدیل ہوجائو۔ کیونکہ صبر کرنے والے لوگ ہمیشہ اکٹھے ہوتے ہیں جو غم اور تکلیف کے وقت ایک حالت پر لوگ ملتے ہیں ان کے ساتھ طبعی تعلق پیدا ہوجا یا کرتا ہے۔ایسے ہی لوگوں کو جو تکلیف سے گزرے ہوں۔ جیسے کہتا ہے ایک شاعر کہ ؎
    آعندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں
    تو ہائے گل پکار میں چلائوں ہائے دل
    کہ دونوں ہی زخم خوردہ ہیں دونوں ہی مصیبت زدہ ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ دکھ کیا ہوتا ۔ ہم اکٹھے ہوتے ہیںاور فیضؔ بھی کہتا ہے رقیب سے خطا ب کرتا ہے۔
    آکہ وابستہ ہیں اُس حسن کی یادیں تجھ سے
    جس کی الفت میں بھلا رکھی تھی دنیا ہم نے
    یہ ساری نظم یہی مضمون ہے صابر و والا جس کے نتیجہ میں رابطوا کا مضمون از خود پیدا ہوجاتا ہے۔ کہ ایک جیسے حالات سے گزرے ہو تو تم نے اکٹھے ہونا ہے۔ اور ایک دوسرے کے غم بانٹنے کی کوشش کرو گے صبر کی تعلیم دے کر اور قرآن کریم نے جو آخری زمانے کا حل بیان فرمایا ہے آخری زمانے کے مسائل کا وہ بھی یہی ہے۔وتواصوا بالحق وتواصوا بالصبر۔ اور خوبصورتی یہ ہے کہ بالصبر ایک دفعہ استعمال کیا ہے۔ مگر دونوں معنی اکٹھے داخل کردیے۔وتواصوا بالصبر ۔ نصیحت کرو گے تو صبر سے کرنا کیونکہ نصیحت کرنے والے کو صبر کرنا ہی پڑتا ہے اگر وہ صبر نہیں دکھائے گا تو نصیحت بیکا ر جائے گی۔ اس لیے اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری نصیحت اعلیٰ نتائج پیدا کرے تو چمٹے رہنا چھوڑنا نہیں اس کو۔ وہی مضمون ہے یہاں فذکر ان نفعت الذکر ی نصیحت کرنی ہے تو اس طرح کرو کہ ضرور پھر وہ فائدہ پہنچائے ۔ اور وتواصوا بالصبر اور وہ صبر کی نصیحت بھی کرتے ہیں ۔ صبر کے ساتھ نصیحت کرتے وقت نصیحت کے مضمون سے چمٹے رہتے ہیں اور صبر کی نصیحت کرتے چلے جاتے ہیں۔ وتواصوا بالصبر اور خود صبر کا نمونہ دکھاتے ہیں دونوں معنی بنے۔ پہلا معنی تو یہ ہوگا کہ وہ دوسروں کو صبر کی نصیحت کرتے ہیں تو نصیحت کرنے پر صبر اختیار کرتے ہیں اور وتواصوا بالصبر کا دوسرا معنی یہ ہوگا کہ وہ نصیحت نہیں کرتے مگر ایسی حالت میں کہ خود وہ بہترین صبر کے نمونے دکھا رہے ہوتے ہیں ۔ صبر ان کی نصیحت کو طاقت دیتا ہے ان کی سچائی کو ظاہر کرتا ہے۔ پس یہ وہی مضمون ہے واصبروا و صابروا و رابطوا اور اس کے نتیجے میں پھر دو باتیں ہیں اول یہ کہ تمہارے آپس کے دلوں کے رابطے بڑھیں گے تم اکٹھے ہوجائو گے ۔اور دوسرا یہ کہ دشمن کی سرحد پر ہمیشہ نگران رہو گے کیونکہ رابطوا کا ایک معنی سرحدوں پر گھوڑے باندھنا بھی ہے اور جب مفادات اکٹھے ہوگئے ہیں۔ خطرات ایک ہوگئے ہیں توپھر لازم ہے کہ آئندہ یہ مصیبتیں نہ پڑیں ۔ اس کی کوشش تم نے ضرور کرنی ہے۔ گویا صبر کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مصیبت کو قبول کرکے اس کے سامنے سر تسلیم خم کردے۔ اس آیت سے صبر کا یہ مضمون نکلتا ہے کہ مصیبت کو ان معنوں میں قبول کرے کہ رضاء باری تعالیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کردے اور اعلیٰ صفات جو اسے نصیب ہوئی ہیں جن سے اسے متزلزل کرنے اور ہٹا دینے کیلئے کوشش کی جارہی ہے اور تکلیف دی جارہی ہے وہ ان کو کسی قیمت پر نہ چھوڑے۔ یہ صبر کا مضمون بنے گا۔ اور یہ جو کیفیت ہے اکٹھے رہنا اور دکھ کو دیکھنا اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس حالت کو اس طرح قبول کرلو کہ اس کو دور کرنے کی پرواہ ہی نہ رہے۔ یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ اس حالت کو اس طرح قبول کر لو کہ آئندہ بیشک ہوتا رہے ہم تو صبر کریں گے ، یہ ازالہ کرنے کی کوشش کرنا صبر کے منافی نہیں ہے۔ پہلے سے بڑھ کرمستعد ہوجانا کیونکہ غموں کی حالت میں سے گزر کر پتا چلتا ہے کہ غم کیا ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کے ازالے پر مستعد ہونا نہ کہ ان پر بیٹھ رہنے کا یہ مطلب ہے کہ کہہ دو کہ بس جی اب جو ہوگیا وہ ہوگیا اب ہمیں پرواہ نہیں کوئی ، جو کوئی مرضی ہم سے کرے۔ ہرگز یہ معنی نہیں ہیں ۔ رابطوا کا لفظ اس معنی کو جھٹلارہا ہے ۔ واتقوااللہ لعلکم تفلحون ۔ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم کامیاب ہوجائو ۔ یہ ہے جنگی نقطہ نگاہ سے اس آیت کوآخر پرکھنا ۔ پہلے ابتلائوں کا ذکر گزرچکا ہے اور بالآخر یاد کرایا جارہا ہے کہ آئندہ بھی آئیں گے اور آئندہ جو ابتلاء آئیں گے سابقہ جو تھے ان سے سبق لینا او رمستعد رہنا اور آپس میں اکٹھے رہنا ، اسی میں تمہاری نجات ہے۔ دوسرا یہ کہ جن نیکیوں پر تم صبر کیے ہوئے ہو ان کے پھر بھی امتحان آنے والے ہیں کئی ابتلاء ایسے آئیں گے بعد میںجہاں تمہیں نیکیوں سے ہٹانے کی کوشش کی جائے گی۔ پس نیکیوں کے مضمون پر بھی پوری وفا کے ساتھ قائم رہنا اور یہ نہ سمجھنا کہ وہ ابتلاء کا زمانہ گزر کر پیچھے رہ گیا ہے۔
    اب امام راغب صبر کے متعلق فرماتے ہیں کہ صبر کے معنی عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضہ کے مطابق اپنے آپ کوروک رکھنا ہے۔ صبر ایک عام لفظ ہے جو مختلف مواقعوں کے لحاظ سے مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ چنانچہ کسی مصیبت کے وقت نفس کو روک رکھنے کو بھی صبر کہتے ہیں۔ چنانچہ کسی بھی مصیبت کے و قت یعنی صرف دینی مراد نہیں ہے کسی بھی مصیبت کے وقت نفس کو روک رکھنے کو بھی صبر کہتے ہیں۔ اور ر وزہ کو بھی صبر کہتے ہیں۔ یعنی روزے کا ایک نام صبر بھی ہے۔روزے کے دوران انسان اپنے آپ کو بہت سی ایسی چیزوں سے روکتا ہے جو عام حالات میں کرتا ہے اور وہ گناہ نہیں ہوتیں ، حلال جائز چیزیں ہیں ان سے بھی روکتا ہے ۔ تو خاص موقع پر خاص اعلیٰ مقصد کیلئے اپنے آپ کو کسی چیز سے روک لینا یہ بھی صبر ہے۔ آیت کریمہ فما اصبرھم علی النارکی تفسیر میں ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ لغت میں صبر کے معنی جرأت کے بھی ہیں۔امام راغب کے نزدیک اصبرو صابروا کے معنی ہیںعبادات الٰہیہ یعنی اوّل معنی مصیبت کے معنی تو یں ہی لیکن اعلیٰ معنی ان کے نزدیک یہی ہیں کہ عبادات الٰہی پر اپنے آپ کو روک رکھو اور خواہشات نفسانی کے خلاف جہاد کرو اور یہاں سرحدوں پر گھوڑے باندھنے کا مفہوم پھریہ بنے گا کہ جو حدیں ہیں خداتعالیٰ کی قائم کردہ ان سے دور رہو ان کے قریب رہو کامعنی نہیں بنے گا، بالکل الٹ بن جائے گا کیونکہ یہاں سرحدوں پر گھوڑے باندھنے کا مطلب ہے ان کے قریب نہ پھٹکو۔ ورنہ خطرہ ہے کہ تم دوسری طرف جاپڑو گے۔ خواہشات نفسانی کے خلاف جہاد کرو اور آیت کریمہ واصطبر لعبادتہٖ میں اصطبر کے معنی مشقت اور محنت کے ساتھ عبادت پر ثابت قدم رہنے کے ہیں۔ ربط کے متعلق امام راغب لکھتے ہیں ربط الفرس شدہ باالمکان للحفظ گھوڑے کا کسی جگہ حفاظت کی خاطر باندھنا اس کو ربط کہتے ہیں۔ رباط الجیش سمی للمکان الذی یخص باقامہ حفظۃ فیہ رباط وہ مقام جہاں سرحدی حفاظت کیلئے فوج رہتی ہے رباط الجیش یعنی چھائونی کہلاتا ہے۔ الرباط مصدر ربطت و رابطت رابطۃٌ کالمحافظۃ الرباط ربطت اور رابطت کا مصدر ہے اور مرابطۃٌ کا اصل معنی محافظ ہے حفاظت کرنا یعنی اس تعلق میں اس کا لفظی معنی توباندھنا ہی ہے مگر مراد اس سے حفاظت ہوتی ہے۔ رابطوا ربط الشیء ربطًا او فقہ و شدّہٗ یہ باتیںسب گزر چکی ہیں اس کی اب ضرورت نہیں۔ امام راغب نے جو بیان کردیا ہے یہی کافی ہے کسی اور لغت کے حوالے تو سب اکٹھے ہیں مگر کوئی ایسی چیز مجھے نظر نہیں آرہی جس میں کوئی نئی بات بیان کی ہوئی ہو سوائے اس کے کہ میں نے دل کے رباط کا پہلے بھی ذکر کیا تھا ۔ کرچکا ہوں نا؟ حوالہ دے چکا ہوں؟ آیت کا حوالہ بھی ہے ٹھیک ہے۔ ارتباط الخیل تاج العروس میں نمازوں کی ادائیگی اور ان کے اہتمام کا ذکر کیا ہے۔
    حضرت امام رازی فرماتے ہیں کہ اس سورہ میں خداتعالیٰ نے اصول و فروع میںسے کثیر علوم بیان فرمائے ہیں مثلاً اصول میں سے توحید، نبوت ، عدل اور معاداور فروع میں سے فرائض اور احکام یعنی حج، جہاد وغیرہ اور اب آخرپر یہ آیت رکھی جو ان سب قسم کے آداب پر حاوی ہے۔ فرماتے ہیں اس سورہ میں خداتعالیٰ نے جو مختلف بنیادی اور اصولی تعلیمات دی ہیں اور بعض تفصیلی تعلیمات دیں ہیں اس آیت کا آخر پر رکھنا یا د دہانی کروارہا ہے کہ تم ان تعلیمات کی حفاظت کرنا اور ان پر صبر سے قائم رہنا۔ اور کسی وقت بھی شیطان تم پر حملہ نہ کرسکے۔ پس یہ لفظ شیطان تو انہوں نے بیان نہیں کیا مگر مراد یہی ہے، ظاہر بات ہے۔ ان معنوںمیں اگر شیطان کو دشمن سمجھا جائے تو پھر رباط الخیل کا سرحدوںپر گھوڑے باندھنے کا مطلب یہ ہوگا کہ کناروں کی بھی حفاظت کرنا یعنی بدیاں جب داخل ہوتی ہیں تو ہلکے ہلکے وساوس کے ذریعہ داخل ہوتی ہیں۔ سمجھتے ہو تم کہ کنارے کی چیز تھوڑی سے گھر کر کم ہوئی ہے مگرجب ہم نے شیطان کو ایک دفعہ داخل ہونے دیا تو خواہ و ہ کنارے پر ہی داخل ہوگا وہ اندر تک پھر سرایت کرتا چلا جائے گا اور یہ مضمون وہ ہے جس کو ہم طب میں ہر روز اسی طر ح برسر عمل دیکھتے ہیں ۔ یہی کارروائی کرتے ہیں جراثیم۔ وہ لوگ جوسمجھتے ہیں کہ کیا فرق پڑتا ہے کہ چند جراثیم چلے گئے ان کو یہ نہیں پتا کہ اندر داخل ہوجائیں اگر ان کو برج ہیڈ مل جائے کسی ایک جگہ اڈہ بنانے کا موقع مل جائے پھر وہ مارامار۔ ارد گرد کاسارا علاقہ فتح کرتے کرتے آخر پھیپھڑوں ، دل ، جگر پر قبضہ کرلیتے ہیں اور دماغ کو مائوف کردیتے ہیں ۔ تو رباط الخیل بنیادی بیماری کے لحاظ سے حفظ ماتقدم کا مضمون پیش کرتاہے روحانی بیماریوں کے لحاظ سے یہ باریک نظر رکھنا کہ شیطان ہلکی ہلکی چھوٹی چھوٹی غلطیاں کرواکر تمہیں بڑی غلطیوں کی طرف مائل کرے گا اگر تم متنبہ نہیں رہو گے ، تو تمہاری سرحد محفوظ نہیں رہے گی۔ تفسیر کبیر میں آگے پھر ٹیکنیکل تفاصیل بیان ہوئی ہیں ان دو باتوں کی ، باقی فتح البیان میں بھی یہی کچھ ہے۔ ابتلائوں پر صبر، فرائض کی ادائیگی پر نواہی سے رکنے پر وغیرہ وغیرہ۔ کوئی نیا مضمون نہیں یہ سب چیزیں پہلے بیان ہوچکی ہیں۔ اس کے بعد وہ حدیثیں شرو ع ہوجاتی ہیں جو مختلف تفاسیر کی کتب میں ملتی ہیں مگر ان کی کوئی سند قابل اعتبار ، معتبر احادیث میں نہیں ہے اور ان کا انداز بتارہا ہے کہ یہاں بعد کے زمانے والوں نے اپنے دماغ سے نقشے کھینچ کر کچھ حدیثیں وضع کرلی ہیں یا کچھ حدیثوں کا مضمون نہ سمجھ کر انہوںنے ایسی باتیں بنالی ہیں۔ مثلاً اگر کسی نے ایک رات گھوڑے باندھے تو ا س کا ایک ماہ مسلسل روزے رکھنے اور عبادت کرنے کے برابر ثواب ہوگا۔ اب اس قسم کی گنتیاں یہ بعد کے زمانے کا شوق ہیں۔ صاف پتا چلتا ہے کہ اوّلین کے زمانے کے بعد جو بیچ کا دورآیا ہے تاریک دور اس زمانے میں بہت سی حدیثیں جووضع ہوئی ہیں۔ ان میں یہ گنتیاں یہ حساب اس قسم کے آپ کو بہت ملیں گی اور واقعہ یہ ہے کہ سرحد پر گھوڑا باندھنے کے متعلق یہ قطعی حدیث موجود ہے کہ آنحضرت ﷺ نے کبھی بھی سرحدوں پر گھوڑے نہیں بندھوائے۔ گھوڑے تو ان کے گھروں میں ہوا کرتے تھے۔ لیکن سرحدوں کی خاطر ہوتے تھے تو یہ کہنا کہ کسی نے ایک رات کیلئے گھوڑا باندھا سرحد پر جاکے تو ایک مہینے کے مسلسل روزوں اور عبادت کا ثواب مل جائے، یہ عجیب و غریب بات ہے۔
    ابوسلمہ عبد ا لرحمن کی روایت تفسیر کبیر رازی میں لکھی ہے کہ ابو سلمہ عبدالرحمن کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺکے زمانہ میں کوئی ایسا غزوہ پیش نہیں آیا جس کے دوران گھوڑے باندھے گئے ہوں اورغزوے کی یہاں بحث تھی نہیں۔یہاں تو عام حالت ہے ہمیشہ باندھے رکھو تو زیادہ سے زیادہ قرین قیاس یہ ہوسکتا تھا کہ جب غزوہ ہو رہا ہو تو اس وقت باندھے جائیں اس وقت تو گھوڑوں کو سرحد پر بندھوانے کا مطلب ہے ان کو ہلاک کر وا دواس لئے یہ ہر گز لفظی معنی نہیںہیں۔ہاں ’’پر باندھنے‘‘ سے مراد یہ مفہوم ہو سکتا ہے کہ قریب چھائونیاں بنائو اور یہ وہ طریق ہے جو ساری دنیا نے قبول کیا ہے اور بڑا مؤثر طریق ہے عین سرحد کے اوپر گھوڑے باندھے نہیں جاتے، گھوڑ سواروں کی چھائونیاں اس سے مناسب فاصلے پر رکھی جاتی ہیںتاکہ وہ نظر میں رہیں اور ان کو خطرہ نہ ہو اور جو بن گئی ہیںحدیثیں وہ میں نے بتایا نا کہ کوئی جا کے گھوڑا باندھ آئے تو ملے نہ ملے دوسرے دن یہ الگ بحث ہے،مہینے کے روزوں کا ثواب اس کو ضرور ہو جائے گا۔بعض لوگ جو رمضان سے گھبراتے ہیں وہ تو گھوڑے ہی باندھ کر آئیں گے اب چونکہ نماز کی سرحد شروع ہو گئی ہے اور اس پر گھوڑے باندھنے کا خاص حکم ہے اس لئے۔
    إإإ

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    درس القرآن ماہ رمضان
    مورخہ10؍رمضان بمطابق 31؍جنوری 1996ء
    یہاں ایک فنی خرابی کی وجہ سے وہ لنک اپ میں تاخیر ہوگئی ہے۔ اس کا سیٹلائٹ والوں کا قصور نہیں اس میں بلکہ انہی کی خرابی تھی وہ ٹھیک ہوگئی ہے۔
    اَعُوذُ بِاللّٰہ من الشیطٰن الرّجیم ۔ بِسْم اللّٰہ الرّحمٰن الرّحیم
    وَ اِنْ خِفْتُمْ أَن لَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِنَ النِّسَآئِ مَثْنٰی وَ ثُلاثَٰ وَ رُبٰعَ فاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَامَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ۔ ذٰلِکَ أَدْنیٰ أَلَّا تَعُوْلُواO(سورۃ النساء آیت ۴)
    اس کے درس کے تعلق میں ہم آخری حصے پہ پہنچے ہیں جہاں ایڈز کا ذکر چلا تھا۔ HIVوائرس کی بات ہوئی تھی۔ یہ اس لئے بیان کیا جارہا ہے کہ یہ وہ بیماری ہے جو خداتعالیٰ کی طرف سے ایک سزا کے طور پر نازل ہوئی ہے اور اس کے متعلق مَیںپہلے حوالے پڑھ چکا ہوںکہ قطعیت کے ساتھ یہ بات ثابت ہے۔ اب تو عیسائی محققین بھی یہی بات کہنے لگے ہیں اور امریکہ سے ایک مشہور جو ٹیلیویژن پر آنے والی شخصیت ہے اُس نے بھی ایک موقع پر یہی بیان دیا کہ میرے نزدیک اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ جو بیماری ہے یہ ہم پر خداتعالیٰ کی طرف سے ایک عذاب کے طور پر نازل ہوئی ہے ، یہ بتانے کیلئے کہ جب تم میرے قوانین کوتوڑو گے تو پھر میں سزا دینے کی طاقت رکھتا ہوں۔ پس یہ وہ مضمون ہے جس کی وجہ سے اس بیماری کا ذکر چھیڑنے کی یہاںضرورت پیش آئی ہے۔ دوسرے مَیںبتارہا تھا کہ چونکہ اسلام پر نہایت گندے ، بیہودہ الزام لگائے گئے محض تعصب کی بنا پر اس لئے یہ وہ بیماری ہے جو قطعیت کے ساتھ اُنہیںالزامات کو الزام لگانے والوں کے سر پر دے مارتی ہے۔ اُن کے منہ پر پھینکتی ہے، کیونکہ یہ ایک ایسا قطعی تقابلی جائزے کا طریق ہے کہ جس میں کوئی اندازے کی بات نہیں ہے۔ بالکل یقینی اعداد و شمار کی رُو سے آپ کہہ سکتے ہیں کہ بعض قسم کی بے حیائیاںکن ممالک میںزیادہ پائی جاتی ہیں اور چونکہ ویری Wherryصاحب نے یہ سب باتیں بڑے زور کے ساتھ اور انتہائی تعصب کے رنگ میں کہی تھیں اس لئے اُنہیں کا ملک ہے جو سب سے بالا رہا ہے اس معاملے میںیعنی عیسائی ممالک میں عام ہے لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا اب تو غیر عیسائی ممالک میں بھی عام ہوگئی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جیسا امریکہ اس معاملے میں آگے بڑھ گیا ہے اس کی کوئی مثال کسی اور ملک میں نہیںملتی۔ اب میںآپ کے سامنے وہ اعداد و شمار رکھتا ہوں جو Data of statistics Euro moniter 1995 سے لئے گئے ہیں اور یہ لکھتے ہیں:-
    ‏ By 1991 the country with the highest number of reported AIDS cases was (آگے ایک نہیں بلکہ لسٹ ہے یعنی ہر wasسے مراد ہے یہ بھی تھا۔ یہ بھی تھا، یہ بھی تھا۔ سب سے اوپر چوٹی پہ U.S.Aہے (جس کو ) اس میں Deathsکی بات ہورہی ہے یا، reported AIDS cases یونائٹیڈ سٹیٹس میں 35ہزار 6سو 96 رپورٹڈ کیسز ہیں ایڈز کے 1991ء میں۔ اور 1986ء تا 1991ء کل تعداد جو امریکہ سے رپورٹ ہوئی تھی وہ دولاکھ سات ہزار نو ہے۔ دوسرے نمبرپر یوگینڈ ا ہے۔ یوگینڈا میں 1991ء میں آٹھ ہزار چار سو اکہتر اور 1986ء سے 1991ء تک تیس ہزار ایک سو نوے۔ یوگینڈا کے تعلق میں یہ بات میں پہلے بھی کئی دفعہ ذکرکرچکا ہوں۔ یوگینڈا کا وہ حصہ ایڈز سے خصوصیت سے متاثر ہے جو عیسائی حصہ ہے جس کے متعلق تمام دنیا جانتی ہے کہ وہ خصوصیت سے عیسائیت کا گڑھ ہے وہاں ہی ان کے بشپس(Biships) ہیں بڑے بڑے اور تقریباً سارا کا سارا علاقہ ہی عیسائی ہے اور اس علاقے کا نام slimرکھا گیا ہے اسی لئے۔ اور وہاں ہے سب سے زیادہ۔ اتنی زیادہ ہے کہ اب ہمارے ڈاکٹرز کی اطلاع کے مطابق یہ خطرہ ہے کہ وہ ساری پاپولیشن ہی نہ ختم ہوجائے اُس علاقے کی۔ اس لئے اسے نمبر 2پر تو رکھا جارہا ہے ، مگر بعید نہیں کہ تناسب کے لحاظ سے یہ امریکہ سے بھی اوپر ہو۔ یعنی ویری کو ظالم دکھانے کے شوق میں اعداد و شمار سے کھیلنا جائز نہیں۔ دو باتیںہیں جو پیش نظر رکھنی چاہئیں ایک یہ کہ امریکہ کی آبادی بہت زیادہ ہے یوگینڈا کے مقابل پر ۔ 20کروڑ سے اوپر ہے غالباً 24کروڑ ہوگئی ہوگی اب تو یا زائد۔ نہیںعلم؟ بہرحال 24کے لگ بھگ ہوگی جہاں تک میرااندازہ ہے اس کے مقابل پر یوگینڈا کی آبادی بہت تھوڑی ہے نسبتاً، اس لئے دو لاکھ کے مقابل پر تیس ہزار بھی بہت بڑی تعداد ہے ۔ دوسری بات یہ قابل ذکر ہے کہ امریکہ میں اعداد و شمار کو اکٹھا کرنے کا نظام بہت زیادہ مضبوط اور بہت آگے بڑھا ہوا ہے۔ او رجہاں بھی کسی ایڈز کے کیس کی اطلاع ملے فوراً اسے اعداد و شمار میں منضبط کرلیا جاتا ہے ۔ لیکن یوگینڈا کی یہ حالت نہیں ۔ وہ علاقہ جہاں کثرت کے ساتھ لوگ بیمار بھی ہورہے ہیں اورمر بھی رہے ہیں وہاں کی تعداد اکٹھی کرنے کا کوئی نظام نہیں ہے۔(کیوں جی ڈاکٹر صاحب آپ تو نہیں رہے وہاں اُس علاقے میں۔ آپ تنزانیہ میں رہے ہیں۔ ٹھیک ہے)۔ بہر حال میں تو گیا ہوا ہوںوہاں۔ وہاں مجلس بھی ہم نے بلائی تھی۔ ہمارے Hospitalمیں بھی ایسے مریض کثرت سے آتے تھے۔ وہاں احتیاط کے طور پر اُن کوسمجھایا گیا کہ چھوت چھات نہیںکرنی، مگر ہر احتیاط دوسری کرنی ہے، تو وہ علاقہ جو ہے اس میں چہرے دکھائی دے رہے ہیں کہ وہ موت کے قریب پہنچے ہوئے ہیں اور بکثرت وہاںموتا موتی لگی ہوئی ہے۔ اگرچہ کوئی نظام ایسا نہیں ہے جو ان کو باقاعدہ ریکارڈ کرسکے۔ دوسرا حصہ ہے یوگینڈا کا جو مسلمان علاقہ ہے اکثریت کا وہاں نمایاں فرق ہے یعنی اتنا نمایاں فرق ہے کہ اعداد وشمار کا کوئی موازنہ نہیں ہے۔ بہت زیادہ عیسائی حصے میں ہے۔ نسبتاً بہت کم مسلمان حصے میں ہے، لیکن اب بیان کیا جاتا ہے کہ چونکہ بے حیائی عام دنیامیں پھیل رہی ہے، اس لئے اُن حصوں میں بھی اب ایڈز کے مریض اور ایڈز کی وجہ سے اموات کے واقعات کثرت سے سامنے آنے لگے ہیں۔ برازیل نمبر3پہ ہے۔ تنزانیہ نمبر4پہ ہے اور زمبابوے نمبر5پہ۔
    In general the countries with the lowest number of AIDS cases between 86 and 91 was the Middle East.
    جہاں حملہ کیا تھا۔ اب یہ موازنہ دیکھیںکتنا بڑا فرق ہے۔ وہاںآج دنیا میںسب سے کم ایڈز ہے اور یمن میںایک بھی کیس ایسا نہیں ہے اوریونائٹیڈ عرب ریپبلک میں 1991ء میں تو ایک بھی نہیں تھا، مگر اب آٹھ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بے حیائی کی وبا وہاں بھی داخل ہورہی ہے۔کویت میں 1991ء میں تین کیسز رپورٹ ہوئے تھے اور 86ء میں پانچ، لیکن کویت اور بعض امیر ممالک کا جہاں تک تعلق ہے جو تیل کی دولت سے امیر ہوئے ہیں ان کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ ان کے اعداد و شمار بہت حد تک غلط خبر بھی دے سکتے ہیں۔ غلط خبر ان معنوں میں کہ یہاں کے جو امراء ہیں یہ توفیق رکھتے ہیں کہ جب بھی کوئی ایسی بیماری ہو جس کے ننگے ہونے پر یہ پکڑے جاسکتے ہوں، تو امریکہ چلے جائیں یا کسی اور ملک میں جاکر وہاں ہسپتالوں میں مرجائیں اور کسی کو پتا بھی نہ لگے اور جہاں تک مقامی حالات کا تعلق ہے وہاں کے اعداد و شمار میں ان کا نام نہ آئے، لیکن اس کے باوجود فرق اتنا نمایاں ہے کہ یہ یقینی طور پر ان ممالک کی صفائی ہے اور پاکبازی ہے۔ اب اگلے جو ممالک میںبیان کررہا ہوںان میں سیریا بھی ہے۔ سیریا کے متعلق یہ کہنا کہ وہاں سارے اتنے امیر ہیں کہ کہ وہ فوراً ملک سے باہر بھاگ سکتے ہوں یہ درست نہیں ہے اور پابندیاں بھی بہت ہیں وہاں سیریا میں یعنی شام میںنہ 91ء میں کوئی کیس ایڈز کا علم میں آیا نہ 86ء سے 91ء تک ایک کیس بھی علم میں آیا اور یہ بھی واضح طور پر مسلمان ملک ہے۔ عیسائی بھی ہیں ،مگر نسبتاً بہت کم۔ بحرین میں بھی ایسا کوئی مریض جو حقائق اکٹھے کرنے والی کونسلز ہیں ان کے علم میں نہیں آیا۔World Health Orgnizationنے جو اس بارہ میں بیان جاری کیا ہے وہ بھی توجہ کے لائق ہے وہ کہتے ہیں 15؍دسمبر 1995ء تک ایڈز کے 193ممالک میں 1291810کیسز رپورٹ کئے گئے۔ مَیں آپ کو 91ء کی خبریںبتارہا تھا۔ اب یہ آخری ہے1995تک کی خبریں۔ اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ کس تیزی کے ساتھ یہ مرض پھیل رہا ہے اور قابو سے نکل رہا ہے ۔ 15؍دسمبر 95ء تک 193ممالک میںیہ بیماری پھیل چکی تھی اور 1291810کیسز رپورٹ کیے گئے۔ جنوری 95ء کے مقابلے میں یعنی ایک سال کے اندر ہی جنوری سے لے کر دسمبر تک 26فیصد اضافہ ہوا ہے ،جو بہت ہی خطرناک ہے۔ کیونکہ 26فیصد اضافہ بتارہا ہے کہ ایسے مریض جو ایڈز سے بیمار ہیں ان کے جنسی تعلقات کثرت سے صحتمندوں کے ساتھ چل رہے ہیں اور اس کے نتیجہ میںبیماری کو کنٹرول کرنے کی کوئی معقول امید نہیںلگائی جاسکتی، کیونکہ جہاں یہ حالت ہو بد اخلاقی کی وہاں جتنے بھی مریض زائد ہوں وہ مزید اور ایڈز کے پیغمبر بن جاتے ہیں اور ایڈز اُٹھا کر دوسروں تک پہنچاتے ہیں اور اس بیماری کا اثر ظاہر ہونے سے پہلے ہی یہ Carriersبیمار ی کو پھیلاتے رہتے ہیں۔
    اس بیماری کے متعلق جو تحقیق ہے اب تک کی مسلّمہ وہ یہ ہے کہ بعض دفعہ HIVمریض جو ہے وہ آٹھ سال تک ایڈز کی علامتیں ظاہر نہیں کرتا اور عین ممکن ہے کہ آٹھویں سال وہ علامتیں پھوٹ پڑیں تو اگر 1998ئ، 1999ء یا 2000ء میں اس بیماری نے وبا بننا ہو، تو اس سے آٹھ سال پہلے یعنی 92ء سے اس کا سلسلہ چل پڑا ہوگا اور بہت سے مریض جو واقعتا Potentiallyیعنی استعدادی اعتبار سے مریض ہیں، مگر ان کے مرض کی علامتیںظاہر نہیںہوئیں وہ اپنی بیماریاں آگے پھیلارہے ہیں۔ اور ایک دھماکے کے طور پر اس صدی کے آخر پر یہ مرض دنیا میں تباہی مچاسکتی ہے۔ یہ وارننگ اس لئے ضروری ہے کہ جماعت احمدیہ کا اس کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے زمانے میں جب طاعون ایک سزا کے طور پر اُتری ہے دنیا نے جب خصوصاً پنجاب نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کا انکار کیا، تو پنجاب کو خصوصیت کے ساتھ طاعون نے نشانہ بنایا اور طاعون کے پھیلنے کا زمانہ 1898ء سے لے کر 1906ء تک چلتا ہے جس کا مطلب ہے صدی ختم ہونیوالی تھی جب اس بیماری نے زور ڈالا ہے اور حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے وصال سے دو سال پہلے تک یہ سزا دے کر رخصت ہورہی تھی۔جب یہ رخصت ہورہی تھی 1907ء میںیا تقریباً ختم ہوچکی تھی، 1907ء میں اگلی طاعون کی پیشگوئی ہوگئی اور اُس طاعون کو ایک قسم کا طاعون فرمایا گیا۔ الہام میں ایک قسم کا طاعون لکھا ہوا ہے اور یہ وہی ہے۔ سو سال کے متعلق مَیں پہلے بھی بارہا بیا ن کرچکا ہوں ۔ یہ میرا ایک اندازہ ہے اور یہ اندازہ تاریخی حقائق پر مبنی ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانے میں بھی طاعون بطور سزا کے نازل ہوتی رہی اور پہلی دفعہ جب ہوئی اس کے بعد تقریباً ایک سو سال کے بعد پھر ہوئی ہے، تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام جس طاعون کی پیشگوئی فرمارہے ہیں اگر مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیثیت سے آپ کی مماثلت کو اس حد تک سمجھا جائے کہ بعینہٖ اُسی طرح تائید میں ظاہر ہونے والے نشانات بھی اُسی وقفے سے ظاہر ہوں ۔ اگر یہ اندازہ لگانا یا مسیحیت کی مشابہت کو اس حد تک لے جانا جائز ہے ، تو پھر ہرگز یہ بعید از قیاس بات نہیں کہ تقریباً سو سال کے بعد وہ دوسری بیماری آئے گی جسے ایک قسم کا طاعون کہا جاتا ہے۔ اب ایک قسم کے طاعون کا لفظ کا محاورہ تو کسی کو اُس وقت سمجھ نہیں آرہی تھی۔ کتنے سال پہلے میں نے مضمون آپ کے ابا جان کے کہنے پر لکھا تھا فرقان میں ۷۲،۷۳ یا ۷۶میں تھا۔ کب وفات ہوئی آپ کے ابا جان کی۔ ہیں؟ تو اس سے پہلے کی بات ہے بہر حال۔ غالباً ۷۶ء کی بات ہے یا اس کے لگ بھگ۔ حضرت مولوی ابوء العطاء صاحب مرحوم و مغفور نے مجھے کہا کہ حوادث زمانہ کے متعلق بہت سے ابہام پائے جاتے ہیں، بہت سے سوالات آتے رہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جن نشانات کو اپنی تائید میں پیش فرمایا ہے اُن میں سے بہت سے ایسے ہیں جو حوادثِ زمانہ کہلاتے ہیں، تو کوئی شخص بھی کہہ دے اُٹھ کے کہ یہ حوادثِ زمانہ میری تائید میںہیں تو اس کا کیا جواب ہے اور حوادثِ زمانہ کو الٰہی نشان کہا کیسے جاسکتا ہے جبکہ یہ روز مرہ دنیا میں ہونے والے واقعات ہیں۔ یہ مضمون میرے سپرد فرمایا حضرت مولوی ابو ء العطا صاحب نے کہ اس کا جواب آپ نے لکھنا ہے۔ چنانچہ دو تین قسطوں میں مَیں نے یہ مضمون لکھا۔ اُسی تعلق میں پہلی دفعہ یہ طاعون والی بات میرے سامنے آئی اور ’’ایک قسم کا‘‘ لفظ خاص طور پر میں نے نوٹ کیا اسی تعلق میں کہ حوادثِ زمانہ میں سے بیماریاں بھی تو ہیں۔ کیوںبیماری کو ایک نشان کے طور پر ماناجائے۔ کیا اس کی پہلے کوئی نظیر ملتی ہے۔ جب یہ جستجو کی تو حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانہ کی تاریخی تحقیق کی اور اُس وقت مجھے یہ بڑی خوشی والا تعجب ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی مماثلت کو مسیحِ اوّل سے کس حد تک تفصیل سے قائم فرمایا ہوا ہے۔ پہلی جو طاعون ہوئی ہے ، وبا پھوٹی ہے وہ ان علاقوں میں زیادہ پھوٹی ہے جہاں یہود تھے۔ جہاں انکار تھا اور جب رومن ایمپائر مظالم میں شامل ہوگئی اور کثرت سے رومن ایمپائر میں بھی عیسائیت کے خلاف نہایت بھیانک مظالم اختیار کیے گئے ۔ ان کے خلاف مظالم استعمال کیے گئے اُس وقت رومن ایمپائر میں بڑی خوفناک طاعون پھوٹی ہے اور پہلی طاعون اور دوسری طاعون کے درمیان جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے تقریباً ایک سو سال کا فاصلہ ہے۔ اس بات کو نوٹ کرنے کے بعد جو مَیں نے مضمون اُس زمانے میں لکھا اُس میںیہ اندازہ لگایا کہ میرے خیال میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیشگوئی قریباً ایک سو سال کے بعد پوری شان سے پوری ہوگی(اور یہ بتادے گا)۔ اس کا پورا ہونا بتادے گا کہ یہ محض حوادثِ زمانہ نہیں، کیونکہ وہ حوادث جن کی پیشگوئی پہلے سے کی جائے اور عین معین وقتوں میں، معین حال میںوہ ظاہر ہوں وہ اتفاقی حادثات قرار نہیں دیے جاسکتے، اللہ تعالیٰ نے سزا دینے کیلئے کوئی نئے قانون تو ایجاد نہیںکرنے اُس کے قوانین قدرت جو اُس نے بنائے ہیں وہ ہر چیز پر حاوی ہیں اور کافی ہیں۔ اس لئے جب بھی خد اسزا دے گا ان قوانین ہی کو استعمال فرمائے گا۔ اس لئے نئے قانون کی ایجاد کا تو کوئی موقع ہی نہیںہے۔ حوادثِ زمانہ بھی تو اُسی کے غلام ہیں۔ جب وہ چاہے گا ان کو خاص رُخ پر استعمال فرمائے گا اور وہ اس رنگ کا استعمال ہوگا کہ سچے اور جھوٹے میںتمیز کرنے والا ہوگا، فرق دکھانیوالا ہوگا۔ یہ اگر ہو ، تو پھر کوئی عقلی اعتراض اس پر نہیں وارد ہوتا اگر یہ نہ ہو تو ہر آدمی کہہ دے اُٹھ کر کہ یہ حوادثِ زمانہ میری وجہ سے آئے ہیں اس کی کوئی دلیل نہیںہے۔ پہلے بتانا ضروری ہے۔ پھر بعض حوادث کا تفریق کرنا ضروری ہے۔ بعضوںکو بعض بیماریاںخاص طور پر نشانہ بنائیں اوربعض دوسروں کو جوساتھ ہی بس رہے ہیں چھوڑتی چلی جائیں۔ اس کو تو حوادثِ زمانہ نہیں کہا جاتا۔ یعنی محض حوادثِ زمانہ نہیںکہا جاسکتا۔
    پس طاعون اس لئے نشان بنی اگرچہ حوادثِ زمانہ ہی میں سے ایک حادثہ ہے کہ یہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام ماننے والوں سے بہت رعایتی سلوک کرتی تھی اتنا نمایاں کہ اُس زمانے میںچیلنج کے طور پر حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام پیش فرمارہے ہیں۔ کوئی مولوی اُٹھ کر نہیںکہہ سکا کہ غلط ہے۔ فلاں جگہ احمدی زیادہ مرے ہیںاور غیر احمدی کم مرے ہیں۔ اتنا نمایاں امتیاز تھا کہ عقل دنگ رہ جاتی تھی اور سب سے بڑا ثبوت اس کی تائید میں کہ یہ واقعہ اسی طرح ہوا یہ ہے کہ احمدیت کی نشو ونما کا دور جو سب سے زیادہ نمایاں ہے جہاں غیر معمولی طور پر احمدیت کی ترویج ہوئی ہے وہ طاعون کا زمانہ ہے۔ اب طاعون کے زمانے میں اگر یہ مرض فرق نہ دکھاتا یا دکھاتی اورایک جیسا ہی سلوک کرتی تو ناممکن تھا کہ لوگ اندھا دھند احمدی ہونا شروع ہوجاتے۔ اگر اس کے برعکس صورت دکھائی دیتی کہ احمدی زیادہ مرتے ہیں اور پکڑے جاتے ہیں، کیونکہ نعوذ باللہ من ذلک ایک جھوٹے کی بات مان چکے ہیں اوردوسرے نسبتاً کم پکڑ میںآتے ہیں تو پھر تو احمدیت کا صفایا ہوجانا چاہیے تھا، لیکن عجیب بات ہے کہ اتنی بیعتیں کبھی اتنی اس تیز رفتاری کے ساتھ کبھی بیعتیں نہیں ہوئیں جس رفتار سے طاعون کے زمانے میںہوئیں ہیں اور یہ مددگار بنا ہے۔ گائوںکے گائوں، علاقوں کے علاقے آج تک احمدی ایسے ہیں جہاں جب بھی پوچھیں کہ بتائو کب احمدیت آئی تھی تو یا کوئی الٰہی نشان بتاتے ہیں کہ فلاں بزرگ نے یہ دُعا کی یہ واقعہ ہوا، یہ نشان دیکھایا بہت سے بھاری تعداد میں ایسے ہیںجن کو طاعون نے احمدی بنایا ہے۔ تو ایڈز کی بیماری بھی جو ایک قسم کا طاعون ہے اس کے متعلق میرا یہ اندازہ کہ تقریباً سو سال کے بعد جوش دکھائے گی یہ اس علم سے بہت پہلے کا ہے کہ دنیا میں ایک قسم کی طاعون ظاہر ہونے والی ہے۔ اُس وقت تمام دنیا کے ڈاکٹر گواہ ہیں کہ ایڈز کا تصور بھی ابھی پیدا نہیں ہوا تھا۔ یہ بعد کی بات ہے اور اُس وقت اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھ سے یہ بات لکھوادی اور جب مَیں انگلستان آیا ہوں تو پہلی دفعہ مَیں نے اس بیماری کا نام سنا۔ ایک اور بلائے ناگہانی نازل ہوگئی ہے دنیا پر اور اس کو یہ کہتے ہیں۔ اتفاق ایسا تھا کہ ٹیلی ویژن کا جو پروگرام میں نے دیکھا اُس میںپہلی دفعہ ہی یہ کہا جارہا تھا کہ It's a type of pestilence پیسٹیلینس مجھے لفظ یاد ہے جو طاعون ہی کا ایک دوسرا نام ہے۔ ایک قسم کا یہ طاعون ہے۔ پھر بعد میں (پلیگ) Plagueکا لفظ عام استعمال ہونے لگا۔ تو یہ وہ بیماری ہے جس کے کوائف میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ یہ بڑھ رہی ہے ، پھیل رہی ہے، اندر اندر ایک بم شیل کی صورت اختیار کررہی ہے اور یہ پھٹے گا ضرور او رکب پھٹے گا غالباً(اب میں پھر بتارہا ہوں)اس صدی کے آخر تک اور جب یہ پھٹے گا تو پہلے سے بڑھ کر ،چونکہ زیادہ وسیع علاقے میں پھیلا ہوگا۔ احمدیت کی تائید میں ایک نشان بن جائیگا اور انشاء اللہ اس کی وجہ سے کثرت سے لوگ احمدی ہوں گے، لیکن فرض ہے جماعت پر کہ پہلے اس کو عام کرے ،اس بات کو پھیلائے ، دنیا کو متنبہ کرے کیونکہ خطرناک امراض سے اور وبائوں سے متنبہ کرنا ویسے ہی ہر مذہبی آدمی کا بنیادی، اخلاقی، انتظامی فرض ہے۔ اس کو بہر حال ادا کرنا چاہیے قطع نظر اس کے کہ اس کے نتیجے میں کوئی اس مذہب کو کوئی قبول کرتا ہے یا نہیں۔ یہ بنیادی فرض ہے ہر انسان کا ورنہ وہ مذہب ہی نہیں ہے اس لئے یہ تنبیہ کہ یہ سزا ہے بچو بچو۔ اس کا جو علم ہے وہ احمدیوںکو اُٹھانا چاہیے اور گردو پیش کو بتانا چاہیے کہ کیا ہوگا۔ لوگ برا منائیںگے بعض ناپسندیدگی سے آپ سے تعلق توڑ لیں گے کہ یہ تم نے کیا بات شروع کی ہوئی ہے۔ لیکن ایک دفعہ بات سنیںگے کان میںبیٹھ جائے گی۔ کان میں داخل ہوگی دل میں بیٹھ جائے گی۔ پھر تو جب وقت آئے گا ہوسکتا ہے خدا اُن کے دل پھیر دے ۔ یہ وجہ ہے کہ درس کے اندر اس کو اتنی اہمیت دی جارہی ہے، کیونکہ ہے ہی بہت اہم بات، اسے اہمیت دینی چاہیے۔ اہمیت سے اس کو سننا اور ذہن نشین کرنا چاہیے اور اس سے استفادہ کرنا چاہیے۔
    15؍دسمبر1995ء تک 193ممالک میں پھیل چکی تھی یہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔12لاکھ کیسز ہوچکے تھے۔ جنوری سے دسمبر تک 26فیصد اضافہ ۔ 94ء کے اختتام تک 13سے 15ملین لوگ HIVکا شکار تھے۔ یہ HIVاور AIDSان میں کیا فرق ہے؟ HIVکی تعداد دیکھیں زیادہ بتائی گئی ہے۔ 12,91,000کے مقابل پر 13سے 15ملین لوگ HIVکا شکار ہوچکے تھے۔ HIVکہتے ہیں Human Immunodeficiency Virus۔ Immunodeficiencyسے مراد یہ ہے کہ انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے جو طبعی نظامِ دفاع قائم فرما رکھا ہے وہ اگر ناقص رہ جائے حرکت میںنہ آئے ، اس میں یہ طاقت نہ رہے کہ وہ روزمرہ کی دفاعی ضرورتوں کو سرانجام دے سکے تو اس کو Immunodeficiencyکہتے ہیں اور جب یہ ایک وائرس کے نتیجہ میںہو تو اس کو Human Immunodeficiency Virus کہتے ہیں۔اور یہ وائرس موجود ہو جسم میں خواہ اس کے نتیجے میں بیماری کی شکل اختیار کرکے علامتیں ظاہر نہ کی ہوں تو ایسے مریض کو HIV+(positive)کہا جاتاہے۔ جب اس کا ٹیسٹ لیتے ہیں HIV+ (positive)پتا چلتا ہے کہ اس جسم میںوہ جراثیم کہیں موجود ہیں، بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ اپنا کام کررہے ہیں یا نیم خفتہ ہیں ، مگر ایسا مریض کسی وقت بھی ایڈز کا مریض بن کر اُبھر سکتا ہے۔ اس کی تعداد 15ملین(ڈیڑھ کروڑ) ہوچکی ہے 1994ء کے اختتام تک اور جس رفتار سے ایڈز بڑھی ہے یعنی 26%عین ممکن ہے کہ اس سے بہت زیادہ تیز رفتاری سے HIV+(positive)بڑھے ہوں، کیونکہ یہ ایک دوسرے کو بیماری منتقل کرسکتے ہیں اور کرتے ہیں۔ تبھی یہ اس تیزی کے ساتھ بڑھ رہے ہیں۔ یہ ہے مستقبل کیلئے بارودی نظام جو بچھایا جارہا ہے۔ ساری دنیا میں یہ دھماکے جو ہونے والے ہیں ان کیلئے تیاری کی جارہی ہے۔ 1995ء میں اندازہ ہے ان کا یہ کہ یہ تعداد بڑھ کر 16.9ملین تک پہنچ گئی ہے alreadyاس وقت تک ان کا یہ اندازہ ہے او رجو بھی انہوں نے اندازے کے ذریعے بنائے ہیںعملاً تو اندازے اُن انسانی اربوںکی پیروی نہیں کیا کرتے جو لگائے جاتے ہیں۔ ایک دم بعض دفعہ بہت تیزی سے چیز بڑھ جاتی ہے، مگر بہر حال اس کے حساب سے ایک کروڑ انہتر لاکھ آدمی دنیا کے کتنے ممالک میں؟193۔ ہاں 193ممالک میں اتنے لوگ ایڈز کے کیریئر ہوچکے ہیں اِس جراثیم کے۔ان جراثیم کو اپنے جسم میں لئے ہوئے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ متاثر اس رپورٹ کے مطابق امریکہ ہے جہاں 5لاکھ ایک ہزار تین سو دس امریکن اس بیماری کا شکار ہوچکے ہیں۔ یورپ میں سے U.K.میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد گیارہ ہزار چار سو چورانوے ہے۔ جبکہ سپین ، اٹلی، فرانس میں یہ تعداد جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ہر ایک میں تیس تیس ہزا ر کے لگ بھگ ہے یعنی ان سے کم ہے۔ جنوب مشرقی ایشیاء میںتھائی لینڈ میں جہاں زیادہ زورہے عیسائیت کا ہے وہاں یہ تعداد بائیس ہزار ایک سو پینتیس (22,135)بیان کی جاتی ہے، مگر تھائی لینڈبھی اُن ممالک میں سے ہے جہاں رسل و رسائل کے ذرائع بھی بہت محدود ہیں اور اعداد و شمار اکٹھا کرنے کے امکانات بھی بہت کم ہیں۔ اس لئے یہ 22ہزار بھی بہت زیادہ ہونے کے باوجود عملاً بہت تھوڑی ہوگی یعنی تعداد عملاً اس سے زیادہ ہوگی میری مراد ہے۔ آسٹریلیا میں پانچ ہزار آٹھ سو تراسی (5,883)تعداد رپورٹ کی گئی ہے۔ آسٹریلیا کے متعلق مجھے یہ خطرہ ہے کہ یہاں یہ بہت زیادہ تیزی سے پھیلے گی کیونکہ وہاں اب بے حیائی امریکن سٹائل پر شروع ہوچکی ہے اور آسٹریلیا کو شوق ہے جیسے کوئی احساس کمتری کا شکار ہو ، تو نقالی کرتا ہے۔ آسٹریلیا میں امریکنوں کی نقالی بہت آگئی ہے۔ ہر چیز میںامریکن سٹائل اور اسی قسم کی بے حیائی کی فلمیںوغیرہ وہی انداز اختیار کرچکے ہیں، تو ذرا دیر میں پہنچی ہے بیماری اس لئے تھوڑی تعداد ہے ورنہ خطرہ ہے کہ یہ وہاں بھی بہت تیزی سے پھیل جائے گی۔ اب تک مرنے والوں کی تعداد میںامریکہ میں اس رپورٹ کے مطابق دو لاکھ اکیانوے ہزار آٹھ سو تیرہ (2,91,813)افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جو بہت بڑی تعداد ہے۔ ایک ہی ملک میں ایڈز سے مرنے والے اگردو لاکھ اکیانوے ہزار ہیں تو اندازہ کریں کہ یہ وائرس اندر اندر کتنا پھیل چکا ہوگا اور اگر کوئی مناسب ہوا، کوئی سازگار موسم اس کو میسّر آیا، جس طرح بعض جراثیم سازگار موسموں کا انتظار کرتے ہیں اس طرح یہ وبا ضرور پھوٹے گی او رسب سے بڑی ہلاکت کا واحد ذریعہ بن سکتی ہے۔ یہ تعداد CDC یعنی سنٹرل ڈزیز کنٹرول آفس کی ایک رپورٹ سے لی گئی ہے۔ اس لئے اس کے متعلق کوئی شک نہیں یہ یونائٹیڈ سٹیٹس ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز کا ایک ادارہ ہے ۔ پبلک ہیلتھ ڈیزاسٹر کے طور پر اب اس کے اوپر کتابیں بھی لکھی جارہی ہیں اور ایک کتاب جو بڑی محنت سے تیار کی گئی ہے وہ ہین کاک اینڈ انور کریم، Carimہے۔
    تو انور ہے یا یہ Egyptionکوئی ان کا ساتھی ہوگا یا کوئی اور۔ مسلمان ہے یا ٹرکش بھی ہوسکتا ہے۔ وہاں بھی اس قسم کے تلفظ ہوتے ہیں Enver(اَینو ِر) اور اگر یہ ٹرکش ہے تو پھر چیریم شاید پڑھا جاتا ہو۔ ’’C‘‘ کو اکثر وہ ’’چ‘‘ پڑھتے ہیں۔ آپ کے کہاں ہیں بھائی ٹرکش۔ اچھا اچھا۔
    According to the World Health Organization AIDS is the worst public health disaster ever, beyond anything in our comprehension.
    یہ اُس حدیث کی تائید کرنے والا بیان ہے جس میں فرمایا گیا تھا کہ ایسی خطرناک سزا پھر خدا دیتا ہے ایسے بے حیا لوگوں کو کہ(اس کا) جو طاعون آئے گی اس کی مثال کبھی انسانی تاریخ میں دکھائی نہیںدی گئی ہوگی۔ کہیں بھی ویسی بیماری اس سے پہلے کسی کے علم میںنہیںآئی ہوگی اور یہ وہی بات اس کتاب میں درج کی گئی ہے کہAccording to World Health Organization یونائٹیڈ نیشنز کے ادارہ WHO World Health Organization نے یہ بیان دیا ہے کہ:-
    the worst public health disaster ever beyond anything in our comprehension.
    ‏ In 1986 Number of AIDS victims. اب ہم اس سال پہ آجاتے ہیں ۔ یہ کہتے ہیں اب تک جو ان کے علم میں آیا ہے۔
    There are over 1.5 million people in the United States. Three hundred thousand in the West Germany- One hundred thousand in Britian and perhaps as many as ten millions in Africa.
    کس چیز کے؟ ابھی تو ہم نے جو اعداد و شمار پڑھے تھے۔ اس کے لحاظ سے توفرق نظر آرہا ہے یہ۔ 1.5 million in the United States aloneمیںنے کتنے پڑھے تھے۔ چند لاکھ۔ ایڈز کے۔ ہاں یہ ہے 2لاکھ 7ہزار۔ یہ ہیں 1986ء سے 1991ء تک کے یہ یورو مونیٹررپورٹ(Euro Moniter Reprot)سے لئے گئے تھے فیکٹس(Facts)۔یہ کہتے ہیں 91ء تک تھی یہ صورت۔ 86ء سے 91ء تک۔ اب یہ کتاب جو ہے یہ تازہ اعداد و شمار 1996ء کے شروع تک کے دے رہی ہے۔ کہتی ہے :-
    There are over 1.5 million people in the United States.
    ایڈز کے مریض HIVکے نہیں AIDSکے 15لاکھ ہوچکے ہیںیونائٹیڈ سٹیٹس میں اور تین لاکھ ویسٹ جرمنی میں ہیں صرف اور ایک لاکھ انگلستان میںاور تقریباً ایک کروڑ افریقہ میں ہیں۔ افریقہ میں صرف عیسائیت ذمہ دار نہیں ہے۔ جہاں سے ایڈز پھوٹی ہے وہ وہ علاقہ بیان کیا جاتا ہے جو یوگینڈا میں عیسائی اکثریت کا علاقہ ہے۔ اس لئے یہ بعض لوگ مجھے کہتے تھے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے تو یورپ کا لکھا ہے، وہ تو یورپ نہیں ہے۔ یہ کہتے ہیں افریقہ سے آئی ہے۔ جب مَیں یوگینڈا گیا تو خصوصیت سے جب تحقیق کی کہ یہ کیا وجہ ہے یوگینڈا کو کیوں ایڈز پھیلانے میں اوّلیت دی جارہی ہے تو پتا چلا کہ وہی عیسائی علاقہ ہے جہاں بیان کیا جاتا ہے کہ سب سے پہلے ایڈز پھوٹی تھی وہاں ۔ تو تعلق تو پھر بھی وہی قائم رہا بعینہٖ۔ مگر یہ کہنا کہ صرف عیسائیت ذمہ دار ہے ، عیسائی علاقے یہ درست نہیں کیونکہ وہاں مشرکانہ پرانے رواج ایسے چل رہے ہیں افریقہ میں جہاں جنسی تعلقات کا بغیر کسی مذہبی سرمنی کے ، بغیر باقاعدہ نکاح کرانے کے جنسی تعلقات کا قائم کرنا اس طرح جرم نہیںسمجھاجاتا جس طرح دوسرے ملکوںمیںسمجھا جاتا ہے اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بعض قبائل میںیہ سمجھا جاتا ہے کہ اگر عام لوگوں کے سامنے ایک تعلق قائم کرو اپنے گھر کسی کو ڈال لو تو یہ ایک شادی کا طریقہ ہے۔ چنانچہ بہت سے لوگ ہیںجو اسے شادی سمجھتے ہیں اور احمدی ہونے کے بعد بسا اوقات آتے ہیں کہ ہماری تو تیس سال سے شادی ہوئی ہوئی ہے ، ہمارا نکاح پڑھادو۔ تو کہتے ہیں کیوں؟ تمہاری شادی ہوگئی تو نکاح کیوں پڑھادیں ۔ کہ شادی تو ہمارے اپنے طریقے پر ہوئی ہوئی ہے مگر اسلامی طریقے پہ نہیںہوئی، تو چونکہ ان تعلقات کو وہ بغیر کسی رسمی اعلان کے جائز سمجھتے ہیں ۔ اس سے پھر آگے بے حیائی عام پھیل گئی ہے۔ جب یہ جائز ایک دفعہ ہوگیاکہ یہ شادی ہی ہے تو پھر ہر کس و ناکس کو اختیار ہے کہ وہ تعلق قائم کرے اور وہ کہیں گے کہ کیا بات ہے۔ کوئی پوچھے کیا بات ہے تو کہیں گے یہ تو ازدواجی تعلقات ہیں۔ اس وجہ سے پرانے افریقی رسم و رواج کی وجہ سے کئی مسلمان علاقوں میں بھی یہ بیماری راہ پاگئی ہے اور کافی بڑا خطرہ بن رہی ہے ۔ Senegal(سینیگال) میںبھی پھیل رہی ہے۔اور بڑی وجہ یہی افریقی پرانی رسومات ہیں اس لئے احمدیوں کو خصوصیت سے افریقہ میںیہ آواز اٹھانی چاہیے اس کے خلاف۔ اور جیسا کہ میں نے بعض دفعہ ہومیو پیتھک علاج کا بھی ذکر کیا ہے وہ بھی استعمال کرنا چاہیے، شفا دینے کیلئے۔ مگر جب یہ تقدیر ظاہر ہوجائے پھروہ علاج کام نہیں کیا کرتے کسی چیز کے خلاف۔ کوئی دنیا کی طاقت اس کو روک نہیں سکتی۔ طاعون کی پیشگوئی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمائی، اپنی تائید میں فرمائی، خدا کے ایک نشان کے طور پر فرمائی اور ساتھ ہی اشتہار دے دیا کہ بچنا ہے تو یہ یہ دوائیاں بھی استعمال کرو۔ اب یہ بتاتی ہے ایک نبی کے دل کی صداقت ، کیسا سچا ہے، کیسی سچی انسانی ہمدردی ہے۔ ایک طرف نشان ہے اُس کی صداقت کا، دوسری طرف اسے کم کرنے کیلئے جو انسانی تدبیر ہے ہمدردی میں وہ اختیار کررہا ہے۔
    پس یہی روح جماعت احمدیہ کو بھی اختیار کرنی لازم ہے۔ ہر کوشش کریںکہ نہ پھیلے، لیکن پھیلے گی تو احمدیت کی تائید میں نشان کے طور پر پھیلے گی۔ یہاں نشان کی مخالفت مراد نہیں ہے۔ یہاں انسانی شرافت، انسانی قدروں کی حفاظت ہے جو مذہب کا اوّلین حصہ ہے۔ اس پہلو سے کوشش کریںکہ بیماری ہو تو کالعدم ہوجائے۔اس کو مٹانے کی کوشش بھی کریں اور جہاں یہ ممکن نہیں ہے وہاں نصیحت کے ذریعہ لوگوں کو اس سے دور رکھنے کی کوشش کریں۔ ایک اور اقتباس اس کتاب کا بتاتا ہوں۔
    In September 1985 Dr. Hassettime Chief of the laboratory of Bio- Medical Pharmacology at Howard Medical School declared that no less then 10 millioin people were then affected in Africa's AIDS belt.
    کہتے ہیںافریقہ میں یہ 1985ء کی بات ہے جب وہاں ایک کروڑ کی بات ہورہی تھی۔ اب معاملہ بہت اوپر جاچکا ہے۔ بعض افریقن مفکرین نے یہاں تک اب سوال اُٹھادیا ہے۔ اب میں نے خودبعض کتابوں میںپڑھا ہے بلکہ امریکہ کے جو سیاہ فام ہیں انہوں نے جو کتابیںلکھی ہیں ان میں بھی اس بات کا ذکر کیا ہے کہ ہمارے نزدیک یہ ایک سازش ہے افریقہ کے خلاف۔ یعنی وہ ایڈز کے افریقہ میں پھیلنے کو اپنی کمزوری تسلیم کرنے کی بجائے وہ کہتے ہیں یہ باقاعدہ سازش ہے مغربی دنیا کی اور بعض ایسی کتابیںلکھی گئی ہیں جن میں انہوں نے بہت گہری جستجو کے بعد یہ حوالے دیئے ہیں ۔ فلاں سال میں یہ ٹیکے افریقہ پہنچائے گئے اور تقریباً حکومت کی سطح پر کثرت سے عام کیے گئے کہ یہ فلاں بیماری سے بچنے کیلئے مثلاً کوئی بھی وبائی مرض ہو اس کے ٹیکے ہیں۔ اور وہ لکھنے والے لکھتے ہیں کہ دراصل اس میں ایڈز کے جراثیم عمداً داخل کیے گئے تھے وہ سارے کے سارے ٹیکے جہاں جہاں جس جس جگہ پھیلے ہیں وہاں ایڈز پھوٹی ہے تو یہ توقصے کہانیاںبھی ہوسکتے ہیں۔ میںتو اس کو تسلیم نہیںکرتا، مگر اس کثرت سے پھیل رہی ہے کہ یہاں تک بھی سوچیں چلی گئیں ہیں اور بعض لوگوں کا خیال ہے لکھنے والوں کا ، جنہوں نے یہ الزام نہیں بھی لگایا وہ کہتے ہیں آنکھیں بند کرکے مغرب یا ترقی یافتہ قومیں ہماری اس حالت کو enjoyکررہی ہیں اور اندر اندر لطف لے رہی ہیں کہ ان کو مٹ جانے دو صفحۂ ہستی سے سا را افریقہ خالی ہوجائے، پھر ہم جاکر اس کو آباد کریں گے۔ تو یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ افریقہ خالی ہوجائے مگر سارا افریقہ نہیں جومسلمان حصہ ہے وہ تو اللہ کے فضل کے ساتھ اکثر وبیشتر بچا ہوا ہے کب تک بچتا ہے اللہ بہتر جانتا ہے۔ تویہاں تک بات پہنچ گئی ہے جو بیلٹ کے بیان کی جاتی ہے وہ یہ ہے:-
    The Congo, Zair, Rwanda, Burundi, Uganda, Kenya, Tanzania, Zambia and Angola. But the cases of AIDS have also been reported in the central African Republic Senegal and Nigeria as well. Dr. Gerry Forwell president of the moral majority whose sunday morning services are televised and watched by millions of Americans said in July 1983, that AIDS was God's punishment for breakig His Laws and ........ of Nature.
    اس کا ذکر میںپہلے بھی کرچکا ہوں۔
    AIDS is changing not only sexual behaviours, but many other aspects of human relationshiop.
    یہ تفصیل اس کی ضرورت کوئی نہیں پڑھنے کی-- یہ لفظ جو خَاسیُٔٗ ہے اس کا کیا ہے لغوی ترجمہ صحیح۔ کُونُوْ اقِرَدَۃً خَاسِئِیْنَ۔ ہیں؟ نہیںذلیل جو ہے لفظ خَسَأَ کو دیکھیں کیونکہ اس کا ایڈز سے بھی کوئی تعلق مل رہا ہے مجھے ۔ اس آیت کا کُونُوْ اقِرَدَۃً خَاسِئِیْن۔ کہ اگر تم نے حیوانوں والی سیرتیں اختیار کرنی ہیں اگر لذت یابی کے شوق میں تم نے بہیمانہ طرزیں اختیا ر کرلینی ہیں اور اعلیٰ روحانی قدروں سے تم بے بہرہ ہو چکے ہو تو پھر یہ جواب ہے۔ تمہاری سزا یہ ہے ۔ کُونُوْ اقِرَدَۃً خَاسِئِیْن۔تم خَاسِئِیْنَ ہوجائوقِرَدَۃً ایسے بندروں کی طرح ہوجائو جو انسانی سطح سے نچلے حصے کی ، جانوروں کی جو سب سے اوپر کی سطح ہے۔ اگرچہ بیچ میں ایک لنک غائب بتایاجاتا ہے۔ مگر بالعموم یہ کہا جاتا ہے کہ بندر سے آدمی پیدا ہوا اگرچہ ہم بعینہٖ اس طرح تو اس کو نہیں مانتے مگر یہ تو ضروری ہے کہ ارتقاء کو مانا جائے۔ ایک قانون قدرت ہے اور قرآن کریم نے بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے انسان سے پہلے جو بھی لنک تھا وہ تو ایک ہومو اریکٹس Homo Arectisکہا جاتا ہے وہ غائب ہوچکا ہے۔ ایسا جانور جو سیدھا چلتا تھا مگر ابھی انسان کہلانے کا مستحق نہیں تھا اور اس سے پہلے کوئی جانور ہے جو بندر اور اس کے درمیان واقع ہوا تھا۔ یہ نہیں ملتے، لیکن جو ملتا ہے آخری وہ بندر ہے۔ پس اگر انسان کو یہ کہا جائے کہ واپس لوٹ جائو تو وہ بندر ہی بنے گا۔ درمیان کی جو غائب لنک ہے وہ تو نہیں بن سکتا، تو یہ عجیب بات ہے کہ ایڈز کی بیماری تحقیق کے مطابق بندروں سے آئی ہے اور بعض بندروں کو یہ کچھ نہیں کہتی، مگر انسان میںمنتقل ہوکر یا بندروں کی بعض دوسری قسموں میں منتقل ہوکر یہ بہت بڑی تباہی بن جاتی ہے۔ اس خیال سے میں نے اس کے اوپر نوٹ لکھا ہوا تھا کُونُوْ ا قِرَدَۃً خَاسِئِیْن۔کہ ہوسکتا ہے اس آیت کا ایک اورمظہر اِس زمانے میں اس طرح پورا ہوا کہ انسان کو ذلیل بندروں یعنی ہر بندر نہیں بلکہ ہر وہ بندر جو ایک ذلیل بندر ہے جس کو اِس بیماری نے پکڑا ہوا ہے ویسے ہوجائو تم بھی۔
    A Virus very similar to the one which causes AIDS was endemic amongst African green monkeys.
    ایک ایسا ہی وائرس جو بہت ہی ایڈز کے وائرس کے مشابہ ہے اپنی اندرونی بناوٹ وغیرہ کے لحاظ سے انہوں نے مائیکروسکوپ سے دیکھ کر اس کی ظاہری شکل بھی پیش نظر رکھی ہے، اس کی حرکات و سکنات بھی۔ کہتے ہیںایڈز سے بہت مشابہ ہے۔
    It's found among African green mokeys. Curiously the infection seem's to have few ill effects in the green monkeys.
    یہ عجیب بات کہ جس کو خداتعالیٰ نے بنایا ہے پرورش کیلئے زمین بنایا ہے( اس کو )breeding ground میرا مطلب ہے، اس کو کچھ نہیں کہتی۔ اگر یہ بیماری green monkeyکو ہی کھاجاتی تو آگے پھیلانے کا موجب نہیں بن سکتا تھا۔ اس لئے وہ اس کا پالنے والا، پرورش کرنے والا ، آغاز کرنے والا، لیکن خود اس کے بد اثر سے بچا ہوا ہے۔
    Although in a different monkey species......... it has been found to cause an immundoeficiency ............... resembling AIDS.
    اگرچہ بعض دوسری قسموں میںجب یہ منتقل ہوئی ہے تو اس کو میکاک ایک بندر ہے اس میں اُسی طرح کی علامتیں اس نے ظاہر کیں جیسا کہ انسانوںمیںایڈز کی علامتیں ظاہر ہوتی ہیں۔
    (ڈاکٹر رابرٹ گیلو ۔دی یو ایس ایڈز سپیشلسٹ)
    Dr. Robert Gellows, the U.S AIDS specialist believes that the customs amongst some African of eating uncooked green monkey brains, regarded a delicacy in Zair, could well have had a role to paly.
    کہتے ہیں کہ یہ جوایک زائیر کے علاقے میں خصوصیت سے بندروں کا دماغ۔(اُن کا)۔ کیاکہتے ہیں اس کو Brainبندر کے Brainکو دماغ ہی کہتے ہیں ناں؟ ہیں؟ یا اور لفظ استعمال ہوتا ہے zair کیلئے۔ کھانے کیلئے بھی دماغ ہی ہوتا ہے۔ ہیں؟ ٹھیک ہے؟ یہ جو پکتے تھے وہاں۔ دماغ تو نہیں کہا کرتے تھے اس کو۔ مغز ۔ یہ مغز لفظ ہے جب کھانے کیلئے استعمال ہوتا ہے تو اس کو دماغ نہیں کہتے، مغز کہتے ہیں۔ تو بندروں کے مغز کچے کھاجانا بعض قبائل میں ایک بہت ہی اعلیٰ قسم کی Treatسمجھی جاتی ہے یعنی کھانوں میں ایک نہایت چوٹی کا کھانا، جس کے مزے کا مقابلہ بہت کم دوسرے کھانے کرتے ہیں، تو یہ اُن کا بندر کومار کے تازہ تازہ دماغ کچا کھاجانا۔ یہ زائیر کے علاقے میں بہت فیشن ایبل ہے اور کہتے ہیں کہ یہ بعید نہیں کہ اس ذریعہ سے دماغ سے منتقل ہوئی ہو انسان کے اندر، لیکن یہ جو مغز کھانے کاجو طریقہ ہے اس کا جنسی بے راہ روی سے بھی ایک تعلق ہے اور اس میں صرف افریقن کو الگ دکھانا جائز نہیں ہے۔ خاص طور پر یہ جو مشرق بعید کے علاقے ہیں، ان میںہانگ کانگ ۔اور اس کے علاوہ اور کون سی جگہیں ہیں جہاں یہ بیماری ملتی ہے۔ کیا؟ فلپیئنز، تھائی لینڈ وغیرہ میں بھی ہے یہ رواج جو میںکہنے لگا ہوں۔ہیں؟آپ کو پتا لگ گیا ہوگا میں کیا کہنے لگا ہوں۔ ہاں ٹھیک ہے۔ یہاں ٹورسٹ (tourist) جن بہت اعلیٰ درجے کے ہوٹلوں میں ٹھہرتے ہیں وہاں سب سے مہنگا کھانا جو ان کی عیاشی کیلئے پیش کیا جاتا ہے، جس کو یہ athodisiacسمجھتے ہیں، یعنی جنسی انگیخت کا ایک بہترین ذریعہ اور اس کی طاقت لینے کیلئے وہ یہ ہے کہ ایک بندر کو Strait-Jacketکرکے ایک وہیل چیئر پر ریسٹورانٹ میںلوگوں کے سامنے لایا جاتا ہے جس طرح وہ رواج ہے ناں کہ زیادہ مہنگا ریسٹورنٹ وہ ہے جو آپ کے سامنے پکتا ہوا کھانا دکھائیں اور وہیں چیزیں ڈالیں، گھی ڈالیں وہاں، سر سرسر کی آوازیں بھی اُٹھیں، خوشبوئیں اُٹھیں اور وہیں پھر گھول مول کے آپ کو کھلادیں۔ یہ بہت مہنگے،اعلیٰ درجے کے ریسٹورنٹ کی ادائیںہیں۔ تو وہاں یہ ادا یہ ہے ان کی بندروں والی کہ بندر بیچارے کو جکڑ کے، باندھ کے زنجیروں سے لایا جاتا ہے اور ایک نہایت تیز استرا ساتھ آتا ہے۔ ایک استرا بردار آتا ہے ، وہ آپ کی آنکھوں کے سامنے یوںتیزی سے اُس کے اردگرد ایک کٹائو دے کے اُوپر کی کھوپڑی اُٹھا دیتا ہے اور بندر بیٹھا آنکھیں جھپک رہا ہوتا ہے بیچارہ اور کچھ نہیں کرسکتا۔ آوازبھی نہیںنکال سکتا کوئی اور پھر وہ پیش کیا جاتا ہے۔ توبراہِ راست چمچوں سے اُس ڈش میںجوکھوپڑی کا نچلا نصف ہے ا س سے وہ لوگ کھاتے ہیں اور بہت مزے اُڑاتے ہیں۔ کہتے ہیں واہ واہ۔ تو بیچارے زائیر کو کیوں بدنام کرتے ہو۔ زیادہ تر امریکن عیاش ہیں جن کے متعلق یہ باتیں بیان کی جاتی ہیں۔ یعنی قطعی طور پر بیان کی جاتی ہیں نہیں۔ مجھے ایک احمدی دوست نے، جس نے خود یہ نظارہ دیکھا ہوا تھا، اُس نے مجھ سے بیان کیا۔ امام صاحب نے بھی سنا ہوگا ضرور۔ ہیں؟کہاں سے؟ اچھا۔ ہمارے امام صاحب عطاء المجیب راشد صاحب جب جاپان ہوا کرتے تھے تو کہتے ہیں کہ ہانگ کانگ سے آنے والے وہاں بھی بتایا کرتے تھے کہ وہاں یہ ایک عام رواج ہے۔ وہ بھی بندر کا دماغ کھاتے رہے ہیں، تو کیا پتا کہاں سے یہ بیماری پھوٹی ہے۔ کس نے دماغ کھایا اور جس کا دماغ مائوف ہی ہوگا اُس نے ہی دماغ کھایا ہوگا ورنہ تو کوئی سمجھ نہیں آتی کہ کیا کیا حرکتیں ہیں اور یہاں براہِ راست جنسی بے راہروی سے چونکہ تعلق ہے اس لئے میں نے بیان کیا ہے، یعنی حد ہوگئی ہے حیوانیت کی یا جہالت کی اور ایک طرف یہ نعرے کہ انسانی قدروں کی حفاظت، جانوروں کو بچائو، اُن کی تنظیمیں ۔ دوسری طرف یہ اس طرح زندہ جانور کو اس طرح کھوپڑیاںکاٹ کاٹ کر اس زندہ کا دماغ چمچا چمچا کھایا جارہا ہے، عجیب ہی حالت ہے۔ اس لئے سزا جو ہے وہ واجب ہے، عین برمحل ہے۔
    آخری حوالہ یہ ہے:-
    Much of human kind has now left it's historic home in the west top of Africa. In our migration we have seprated ourselves not only from our ancestors parasites that remain ......... the most part bound irrevocably to the tropics but also from our primate cousins. We have been seprated from these parasites for tens of thousands of years, are no longer resistant to the ravages of the disease they may cause. Dr. J. Levy of the University of California Fransisco Medical Centre makes the similar point. The AIDS virus probably, originally occured in Africa was present in Africa and assisted in balanced pathogenicity in that area.
    یہ فضول سی بات ہے۔ بات یہ ہے یہ صرف یہ کہہ رہا ہے کہ ہم پیداافریقہ ہی میںسے ہوئے تھے۔ افریقہ ہی سے آئے تھے۔ زندگی کا آغاز افریقہ میں ہمیں ملا۔ اب اگلی بات جو کہہ نہیں رہا وہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ افریقہ میں ہی مریں گے یہ لوگ۔ یعنی اُسی بیماری سے مریں گے ، جس کا آغاز افریقہ سے ہورہا ہے۔ تو اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ سے بہتراس مضمون کو ختم کرنے کیلئے اور کوئی طریق نہیں ہے۔ ہر چیز نے اللہ ہی کی طرف لوٹ کے جانا ہے۔ پیشتر اس کے کہ موت ان کو دھکیل کے خدا کی طرف لے جائے از خود ہوشمندی کے ساتھ واپس لوٹ آئیں تو اسی میںبھلائی ہے۔
    ‏ Enver Careem is a Turkish name۔ لیکن چیریم نہیںہے ناں؟ ہیں؟ پھر دوبارہ پوچھنا پڑے گا۔ ہر دفعہ-- کریم-- مجھے نظر تو آگیا تھا ٹرکش سٹائل ہے اس کا ، لیکن چریم سی(C) کو ’’چ‘‘ پڑھتے ہیں یا ’’کے‘‘ پڑھتے ہیں۔ سن رہے ہوں گے۔ ایک حوالہ پیچھے رہ گیا ہے۔ غانا۔ افریقہ کے اندر جو کچھ ہورہا ہے اس میں بھیwith in Africaجو قطعیت کے ساتھ کوائف ہمارے سامنے آئے ہیں چَھپے ہوئے کہ مسلمانوںمیںنسبتاً کم اور غیر مسلموں میں بہت زیادہ۔ یہ غانا کی رپورٹ میں سے میں آپ کے سامنے کچھ رکھتا ہوں۔
    In Ghana it is factual that AIDS is spreading faster in Christian dominated populations. From the figures (giving out / given out ہوگا) given out by the National AIDS Control Programme at the end of 1994 the northen region which at least Muslims make about 70% of the communities, the prevalance of AIDS is lowest in the whole country.
    کہتے ہیں کہ جو اعداد و شمار غانا کی حکومت کی نمائندہ ایجنسیوں نے باقاعدہ جو اس بات کا اختیار رکھتی ہیں ، اعدادو شمار کو اکٹھا کرنے کا انہوں نے جو شائع کئے ہیں، اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ وہ شمالی علاقہ، جہاں مسلمانوں کی تعداد 70فیصد سے زائد ہے وہاں ایڈز کی بیماری کم سے کم ہے سارے ملک میں۔ اُس سے کم ریشو(ratio) ملک میں اور کہیں دکھائی نہیں دیتی اور عیسائی ممالک میں، عیسائی علاقوں میں ایڈز سب سے زیادہ ہے، اس لئے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا وہ الہام ’’یورپ اور عیسائی ممالک میں‘‘ بڑی صفائی سے پورا ہورہا ہے۔ بہت بڑا نشان ہے۔ ایڈز بعد میں جو مرضی کرے لیکن ابھی بھی جو واقعات رونما ہوچکے ہیں یہ قطعیت سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے گواہ ہیں۔ یہ جو وارننگ مَیںدے رہا تھا یہ بھی ذکر ہے۔
    However of late in some muslim communities, such as those around Wha AIDS is spreading very fast.
    وہاں اب یہ حالت بدل رہی ہے۔ Whaوہ علاقہ ہے جہاں اکثریت مسلمانوں کی ہے، لیکن عیسائی اور پیگن(Pagon) قبائل بھی ہیں۔ وہاں معلوم ہوتا ہے intermixingکی وجہ سے بڑی تیزی کے ساتھ یہ ایڈز کی بیماری وہاں پھیلنے لگی ہے۔
    It's worth to note that in those non-Ahmadi communitites where by the grace of Allah. We are making large converts the prevalance of AIDS and other sexualy transmitted - diseases is4 very low.
    یہ پَرَیْوِلَینس (Prevalance)ہے کہ پَرِیْوَیْلَنْس(Prevalance)ہے تلفظ اس کا ۔ کیوں جی؟ ماہرین تلفظ بتائیں ۔ ورنہ وہاں جاکے اپنی کتاب ہی دیکھنی پڑے گی ۔ پَرَیْوِلَینٹ (Prevalent)تو کہتے ہیںناں یا پَرِیْوِلَینٹ (prevalent)ہے۔ میں تو پَرِیْوِلَینٹ(Prevalent)ہی کہتا ہوں۔ وہی وہی۔ میں بھی اسی لئے پَرَیْوِلَینٹ (prevalent)ہی کہہ رہا ہوں، لیکن کوئی پتا نہیں انگریزی جو تلفظ ہے وہ بڑے بڑے کرشمے دکھاتا رہتا ہے۔ اچھا Prevalent among۔ یہ کیا لکھا تھا اس نے ابھی بتاتا ہوں میں۔
    It is worth while to note that in those non-Ahmadi Communities where by the grace of Allah, we are making large converts the prevalance of AIDS and other sexualy transmitted disease is very low.
    تو یہ بھی اُن کی سعادت پر دالّ ہے۔ وہ علاقے جہاں یہ بیماری کم سے کم ہے ظاہر بات ہے وہ زیادہ شریف النفس لوگ ہیں وہاں زیادہ احمدیت قبول ہورہی ہے بہ نسبت اُن علاقوں کے جہاں ایڈز کی بیماری عام ہے۔
    Eastern and Ashanti regions have the highest rate of the incidence of the disease followed by western region. These are mostly Christan area. In the southern sector of the coountry.
    اس کا ترجمہ یہ ہے کہ Easternاور Ashanti regionمیں،جہاں ایڈز سب سے زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے یا جس کے واقعات زیادہ کثرت سے ملتے ہیں وہ عیسائیوں کی ڈومینیشن یعنی عیسائیوں کے غلبہ کا علاقہ ہے۔ جنوبی حصے میں.
    the centre region which has the highest muslim population particularly Ahmadies as the least prevalent of AIDS.
    فقرہ کچھ اُلجھا ہوا ہے ، مگر ہے
    ‏ As should be considerd is knownیہ ہونا چاہئے تھا as the least prevalance of AIDS.یہ فقرہ کچھ missingہے۔ دیکھتا ہوں۔ دوبارہ پڑھتا ہوں ۔ شاید میں پہلے کسی خاص لفظ کو نظر انداز کرچکا ہوں۔
    In the southern sector of the country the central region which has the highest muslim population, particularly Ahmadies as the least prevalance of AIDS.
    یہ فقرہ، لفظ کوئی چھوٹا ہوا ہے……
    بہر حال مراد یہ ہے ۔ اس علاقے میں جہاں احمدیت کثرت سے پائی جاتی ہے وہاں ایڈز سارے ملک میں کم سے کم ہے۔
    The National average of AIDS prevalance is estimated around 4.5 percent.
    یہ بہت زیادہ ہے غانا کیلئے، جہاں جورواجی عادات کی وجہ سے میں نے بیان کیا تھا ناں خطرہ ہے مسلمانوں میں بھی، دوسرے افریقنوں میں بھی یہ بات پھیل جائے۔ تو کافی خطرناک حالات ہیں۔
    The nothern region is lowest with about 1.5 percent. Some areas of Ashanti and Eastern region are as high as 14.7 percent.
    یعنی ان عیسائی علاقوں میں 14فیصد تک ایڈز کی بیماری کے آثار ملے ہیں۔
    On the African same the tourist countries like Senegal, Iverycost the Gambia, Kenya, Tanzania, Zimbabwe, Zaire, Uganda, etc. have AIDS prevalance between 8 and 25 percent, as oft-quoted figure in publication.
    کہتا ہے وہ علاقہ جو ٹورسٹ کی آماجگاہ ہے اور جس کو ایڈز بیلٹ کہتے ہیں ۔ یہ ہمارے غانا کے محققین نے یہ کہا ہے کہ یہ خاص طور پر ٹورسٹس کی وجہ سے پھیلی ہے بیماری۔ مقامی افریقن اس کے اتنے ذمہ دار نہیں جتنے باہر سے آنے والے، جو عیاشی کی خاطر ان افریقی ممالک میں پھرتے ہیں۔ انہی کی لائی ہوئی بیماری ہے اور وہی پھیلاتے جاتے ہیں اس کو۔
    HIV prevalance among pregnant women in selected capital cities in East and central African Countries are officially given as follows.
    جو حاملہ عورتیں ہیں جن کے اندر یہ ایڈز کا وائرس پایا گیا ہے اُس کی جو نسبتیں ہیں وہ مَیں آپ کے سامنے رکھتا ہوںجو انہوں نے مجھے بھجوائی ہیں اس سے آپ کو اندازہ ہوجائیگا کہ جہاں تک مذہب کا تعلق ہے۔ کہاں زیادہ بیماری ہے، کہاں کم بیماری ہے۔
    کنِگالی میں 32فیصد عورتوں میں یہ بیماری پائی گئی ہے بہت ہی زیادہ خوفناک فگّر figureہے۔ 32فیصد حاملہ عورتیں اس بیماری کی کیریئر بنی ہوئی ہیں اور یہ وہ علاقہ ہے کنگالی کاجہاں کم سے کم مسلمان پاپولیشن ہے۔ کم سے کم مسلمان پاپولیشن، زیادہ سے زیادہ ایڈز۔ اب ساری فگرز پڑھنے کی بجائے آخری پہ آتا ہوں۔ سب جگہ یہی چیز ہے اصل میں۔ سب سے زیادہ پاپولیشن داراسلام میں ہے جس کو یہ ’’داراسلام‘‘ پڑھتے ہیں اصل میں تو ’’دارالسّلام‘‘ ہے۔ تنزایہ کا دارالخلافہ۔ اس میں 12فیصد ہے۔ وہاں بھی بہت زیادہ ہے، مگر یہ وہ علاقہ ہے جہاں ان سب جن کے بھی اعداد وشمار دیے گئے ہیں۔ 8-7-6-5-4-3-2-1۔ ان میں سب سے زیادہ مسلم پاپولیشن کی نسبت داراسلام میں ہے اور ایڈز کی occurrenceسب سے کم ہے۔جہاں سب سے کم مسلمان پاپولیشن ہے وہاں ایڈز کی occurrenceسب سے زیادہ، تو وہ وہیریWhery کی جو خرافات تھیں اُن کو بالکل واقعات نے، اعداد و شمار نے اُلٹا کے رکھ دیا ہے۔ کہتے ہیں۔ یہ فگرز figuresجو دی گئی ہیں۔
    These are cities of the countries with the highest AIDS cases in the world. The data are taken from the publication, AIDS in Kenya.
    ‏ ’AIDS in Kenya‘ عنوان ہے کتاب کا، لیکن اس میں اِرد گرد کے ممالک اور ایڈز بیلٹ کا ذکر بھی آگیا ہے۔ یہ کتاب شائع کی ہے’Kenyan National AIDS Control‘ نے اور پرنٹ کی ہے Denin office suppliers ENT۔ اب جی ایڈز کو دفنائیں اور اس کو دفنانے کیلئے پوری کوشش کریں۔ اب ہم واپس۔ اچھا اب ایک اور مسئلہ بھی ضمناً حل ہوگیا۔ ترکی زبان میںجو ’’C‘‘ جہاں ’’چ‘‘ کی آواز دیتی ہے وہاں اس کیلئے ایک چھوٹا سا شوشہ ’’د‘‘ کی طرح کا نیچے ڈالا ہوتا ہے انہوں نے یوں کرکے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہاں اس کو’’ چ‘‘ پڑھو اور جہاں یہ نہ ہو جیسا کہ Enverکیا نام تھا اس کا۔ ہیں؟ Carima۔ ہاں وہاں ’’C‘‘ کے نیچے ’’چ‘‘ کا نشان نہیں ہے۔ ہاں نہیں ہے۔ بس پھر اس کو کریم ہی پڑھنا ہے اور K is equal to k ۔ یہ تو ہوگئی K is equal to Kجو کہنا چاہتے ہیں معلوم کرنے کیلئے۔ ایک تانتا لگا دیں آدمیوں کا۔ جو بات پوچھ رہیں بتاتے ہی نہیں ہیں۔ یہ جواب چاہیے تھا کہ ’’C‘‘ اگر اس طرح لکھا جائے تو ’’چ‘‘ پڑھی جائے گی اس طرح لکھا جائے تو Kپڑھی جائے گی اس کی جگہ kکا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اب، مگر آپ بھی رشتہ دار ہیں۔ آپ زیادہ جانتے ہوںگے۔ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ ٹھیک ہے۔اب اگلی آیت شروع کرتے ہیں ورنہ یہاں سے نکلنا مشکل ہوگا۔اِن خفتم والی آیت۔ آیت 4ہے بسم اللہ سمیت۔ اب ہم آیت 5پر پہنچ رہے ہیں سورۃ النساء کی۔
    اَعُوذُ بِاللّٰہ من الشیطٰن الرّجیم ۔ بِسْم اللّٰہ الرّحمٰن الرّحیم
    وَاٰتُو النِّسَآئَ صَدُقٰتِھِنَّ نِحْلَۃً۔ فَإنْ طِبْنَ لَکُمْ عَنْ شَیْئٍ مِنْہُ نَفْسًا فَکُلُوْہُ ھَنِٓیْئًا مَّرِٓیْـًٔا۔(سورۃ النساء :۵ )
    اٰتُو النِّسَآئَ صَدُقٰتِھِنعورتوں کو ان کے مہر نِحْلَۃًدیا کرو۔نِحْلَۃًمیں دو معنے بیک وقت پائے جاتے ہیں۔ ایک ہیں خوشی کے ساتھ اور ایک ہے فرض کے طور پر ، تو یہ عجیب قرآن کریم نے لفظ چنا ہے اس مضمون کے بیان کیلئے۔ جس میں دونوں بیک وقت معنے کہ بظاہر ایک دوسرے کے متضاد لیکن یہاں اکٹھے ثابت آتے ہیں۔ ایک فریضہ پورا اس طرح بھی کیا جاسکتا ہے کہ انسان دے کسی کے سر پر مارے کہ لوپکڑو دفعہ ہویہاں سے اور اور ایک یہ بھی کہ خوشی اور عزت کے ساتھ اور جس طرح فرمایا ہے کہ اگر تم نے ان کو چھوڑنا ہے تو احسان کے ساتھ چھوڑو، تو اس لفظ نِحْلَۃًنے ان دونوں باتوں کو اکٹھا کردیا ہے اور فرمایا کہ صدُقات جمع ہے صَدُقَۃ کی یا اور بہت سے الفاظ ایسے ہیںجو حق مہر کیلئے استعمال ہوتے ہیں اور تلفظ مختلف ہیں لیکن ان کی جمع یہی آئے گی۔ منجدنے جو صَدُقٰتِھِنمیں واحدالفاظ جن کی جمع یہ بیان کی ہے وہ یہ ہیں۔ الصَّدْقَۃُ- الصُّدْقَۃُ- والصَّدُقَۃُ والصُّدُوْقَۃُ- والصَّدَاقُ والصِّدَاقُ- اَصْدِقَۃ و الصّدُوْق۔ان سب لفظوں کی جمع منجد میںاَصْدِقَۃ اور صدُوْق بتائی ہے حالانکہ قرآن کریم نے لفظ صَدُقٰتِھِناستعمال کیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ صَدُقات کے موقعہ پر بہت سے مستشرقین شبہوں میں مبتلاء ہوجاتے ہیں کہ کیا مطلب ہے اس کا۔ کیا مضمون ہے۔ حق مہر کاکیسے استعمال ہوا، لیکن لین(Lane)جو ایک مغربی محقق ہے جس نے ایک بہت ہی اعلیٰ عربی کی ڈکشنری لکھی ہے۔ اُس نے اِس کی تحقیق زیادہ بہتر کی ہے اور وہ یہ لکھتا ہے کہ صَدُقَہ۔ یہ حجاز کی dialectہے اور اس کی قرأت صدِقۃ تمیم کی ڈائلیکٹ ہے اور صَدُقَۃ کی جمع صَدُقَات آتی ہے۔ اس لئے منجد نے اگرچہ نہیں لکھی، مگر لِین نے لکھی ہے اور وہ کہتا ہے کہ یہ دراصل اہل حجاز کی ڈائلیکٹ میں مہر کیلئے جو مختلف الفاظ استعمال ہوتے ہیں وہ وہاں صدُقہ ہی کہتے تھے یا کہتے ہیں اور اس کی جمع صَدُقات ہی آتی ہے، اس لئے بالکل قطعی بات ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہاں صدقہ سے مراد مہر ہیں اور تمام مسلمان مفسرین بھی اور ترجمہ کرنے والوں نے بھی بلا تردّد ، بلا شبہ اس کا ترجمہ مہر ہی کیا ہے، مگر جو مستشرقین جو جگہ جگہ اسلام کے خلاف کوئی بہانہ ڈھونڈنا چاہتے ہیں وہ یہاں بھی اَڑ کر بیٹھ گئے ہیں یہ پتا نہیں کیسے استعمال ہوگیا۔ صَدُقۃ کا تو مطلب مہر نہیں ہوتا۔ ایک نے بہت فراخ دلی کی ہے کہ بس اس جگہ ہی ہے صرف مہر ورنہ مہر نہیں۔ یہ غلط کہہ رہے ہیں۔ تمام عرب ڈکشنریاں گوا ہ ہیں اور خاص طور پر لین کی گواہی کے بعد تو کسی شک کی گنجائش نہیں رہتی، کیونکہ وہ غیر مسلم ہے، محقّق ہے۔ انہیں کابھائی بند ہے یعنی اہل مغرب میں سے ہے اور بڑی وضاحت کے ساتھ تفصیل سے وہ اس مضمون کی تحقیق کا حق ادا کرتا ہے۔
    فَإنْ طِبْنَ لَکُمْ عَنْ شَیْئٍ مِنْہُ۔پس اگر وہ دلی خوشی کے ساتھ۔ طِبْنَ کہتے ہیں ۔ طَابَ لَکُمْ مِنَ النِّسَآئِ۔ جیسا کہ بیان پڑھا تھا پہلے ۔ جو کسی کو خوش آئے، جو راس آجائے بات۔ اپنی ایسی دلی خوشی کے ساتھ جس پہ کوئی جبر کا سایہ تک نہ ہو۔ ایسی حالت میں اگر عورتیں اس میںسے کچھ چھوڑدیں۔ شَیْئٍ مِنْہُ نَفْسًا از خودفَکُلُوْہُ ھَنِٓیْئًا مَّرِٓیْـًٔا۔ تو اسے خوب رچتا پچتا کھائو۔ یعنی کوئی تردّد کی ضرورت نہیںہے کھائو پیو مزے اڑائو اس کے۔ تمہیں کوئی اس پہ کسی قسم کا تردّد نہیںہونا چاہئے۔ جو اہل لغت اور مفسرین کے حوالوں سے پہلے میں عمومی طور پر آپ کویہ بتادیتاہوں کہ یہ مضمون کیوں بیان ہونا ضروری تھا ۔
    اوّل تو اس لئے کہ جو لوگ صدقات یعنی خوشی کے ساتھ اپنی بیویوں کو صدقہ-- صدقہ نہیں بلکہ حق مہر دیتے ہیں۔ ان کا ایک طبعی ردّعمل عورتوں میںیہ پایا جاتا ہے کہ ان کو اس حق مہر میں حقیقتاً کوئی دلچسپی نہیں رہتی۔ جو خاوند ایسی محبت کرنے والا ہو۔ اس قدر شوق کے ساتھ اور پیار کے ساتھ عورت کے حقوق ادا کرتاہے۔ یہ امرواقعہ یہ ہے کہ عورتیں بہت فراخ دلی کا اظہار کرتی ہیں اور بسا اوقات کہتی ہیں کوئی ضرورت نہیں ہے ایک ہی چیز ہیں ہم میں کون سا فرق ہے ۔ تم بیشک اسے خود استعمال کرو۔ ایک یہ پہلو ہے جو یہاں بیان کرنا ضروری ہے، کیونکہ پہلے انصاف کا ذکر گزرا ہے۔ عورت کے حقوق انصاف کے ساتھ ادا کرو۔ انصاف کے بعد قرآن کریم احسان کا مضمون بیان کرتا ہے اور یہاں انصاف اور احسان کو ایسا سمویا گیا ہے کہ قرآن کی فصاحت و بلاغت کی شان پہلے سے بھی دوبالا ہوکر سامنے آتی ہے لفظ وہ استعمال کیے، نحلۃ جس میں فرض بھی شامل اور احسان بھی شامل اور فرض کی بنیاد ہی پر احسان قائم ہوا کرتا ہے۔ تو فرمایا ہم جو تم سے توقع رکھتے ہیں کہ تم عدل کا سلوک کرو تو عدل نہیں عدل سے بھی بڑھ کر سلوک کرو۔اور وہ یہ ہے کہ جو فریضہ تم پرعائد کیا گیا ہے اس کو احسان کے رنگ میں ادا کرو۔ اس خوشی کے ساتھ ، اس خوش خلقی کے ساتھ کہ اس کا عورت کے اوپر نیک اثر پڑے۔ اگر یہ کروگے تو تم جان لو گے کہ ھَلْ جَزَائُ الِاحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانکہ احسان کی جزاء احسان کے سوا کوئی نہیںہوا کرتی۔ تمہارے اپنے گھر کا ماحول اچھا ہوگا۔ تم خود اس احسان کابدلہ اپنی بیویوں سے پائو گے۔ معاً بعد فرماتا ہے۔ فَإنْ طِبْنَ لَکُمْ عَنْ شَیْئٍ مِنْہُ نَفْسًا فَکُلُوْہُ ھَنِٓیْئًا مَّرِٓیْـًٔا۔۔ پس اگروہ تمہارے احسان کے نتیجے میں ----- یہ باتیں اس طرح کھول کر تو بیان نہیں کی گئیں، لیکن طبعی نتیجے کے طور پر از خود اِس سے اُچھل رہی ہیں یہ باتیں۔ پس وہ اس کے مقابل پر تم سے کیا سلوک کریں گی۔اگر وہ اپنے شوق سے، محبت کے ساتھ، دلی رضامندی سے ، بغیر جبر کے خود کچھ چھوڑ دیں تو اسے کھائو پیو ، پھر تردّد نہ کرنا۔
    دوسرا پہلو اس طرزِ بیان میں یہ ہے کہ مسلمانوں میں ہدیہ دینے کے بعد اسے واپس لینے کے خلاف آنحضرت ﷺ کی یہ ہدایت ایسی طور پر اثر انداز ہوچکی تھی کہ جو تحفہ دے کے واپس لیتا ہے گویا اُس نے قے چاٹ لی۔ اس کے خلاف طبیعتوں میں بے حد کراہت پائی جاتی تھی اور یہ جو مضمون ہے ہم نے حق دیا احسان کے طریق پر دیا بلکہ جتنا دینا تھا اس سے بھی گویازیادہ بڑھ کر دیا اور عورتیں کہتی ہیں لے لو بیشک۔ اس کے خلاف طبیعتوں میں ایک طبعی تردّد پایا جاتا تھا۔ اس لئے مسلمان سوسائٹی کو جو عورت کے حق میںظلم کرنے والااور یتیموں کے مال کھینچنے والا۔ اس کے طور پر جو لوگ پیش کرتے ہیں کہ عورتوں کی قیمت کوئی نہیں تھی۔ اُسے بیچو، جو مرضی کرو، بالکل اس کے برعکس مضمون ہے۔ پہلے فرمایا عدل کرو اور ان کے اموال کی حفاظت کرو۔ پھر فرمایا تم سے ہمیں توقع اس سے بڑھ کر ہے اور تم ہو ہی ایسے کہ تم جو کچھ بھی ان کو دو گے اگر تم محمد رسول اللہ ﷺکے سچے غلام ہو، تو فریضہ بھی ادا کروگے تو احسان کے رنگ میں ادا کرو گے اور اگر وہ جواباً احسان کا سلوک کریں، تو ہم جانتے ہیں کہ (تمہاری طبیعتیں بہت وسیع حوصلہ ہیں) تم بہت وسیع دل کے لوگ ہو۔ اعلیٰ اخلاق پر فائز ہوچکے ہو ، تم اسے لینا پسند نہیں کرو گے۔ ایسی سوسائٹی جو اُس غربت کے مقام پر ہو جس وقت آنحضرت ﷺ کی سوسائٹی تھی، جس وقت یہ آیتیں نازل ہورہی تھیںاُس سے اتنا بڑا وسیع القلبی کا مظاہرہ کوئی معمولی بات نہیں ہے اور ایسے اعلیٰ اخلاق پر قائم تھے کہ بس ہم نے دے دیا اب ہم نہیں لیں گے۔ چنانچہ جو شانِ نزول بیان کی جاتی ہے اگرچہ ایک آدھ واقعہ سے ان باتوں کو باندھا جاتا ہے، مگر یہ عموماً مسلمانوں کے دل کی حالت تھی جس کا اظہار ہوا ہے۔ تو یہ دوسری وجہ ہے جو اس آیت کو یہاں یوں پیش کیا گیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم ان کے اندر سرایت کرچکی تھی۔ وہ دی ہوئی چیز کو واپس نہیں لے سکتے تھے۔ تیسری بات اس میں جو خاص طور پر قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ ھَنِٓیْئًا مَّرِٓیْـًٔا۔یہ جو لوگ کہتے ہیں کہ 32روپے حق مہر یا 4درھم یا 40درھم۔ اُن کی عقلیں کہاں جاتی ہیں جب وہ اس آیت کو پڑھتے ہیں۔ وہ مہر جو تم دو اس میں سے کچھ سارا نہیں ۔ کچھ وہ واپس کردیں ۔ عیش کرو پھر تم۔ خوب کھائو پیو۔ 32میں سے 4روپے دے دے واپس کوئی۔تو ھَنِٓیْئًا مَّرِٓیْـًٔا۔ کہاںسے ہوجائے گا۔ ادنیٰ بھی عقل نہیں کرتے کہ اس سے صاف ثابت ہے کہ حق مہر ایک اتنی بڑی رقم ہے جس میں سے کچھ اگر عورتیں چھوڑیں تو وہ بھی اتنی بڑی چیز ہے کہ تمہیں ایک دولت ہاتھ آجاتی ہے۔ باقی باتیں انشاء اللہ کل ۔ اب وقت ختم ہوگیا ہے۔
    إإإ

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    درس القرآن ماہ رمضان
    مورخہ11؍رمضان بمطابق یکم فروری 1996ء
    اعوذ باللّٰہ من الشیطٰن الرجیم ۔ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
    وَاٰتُو النِّسَآئَ صَدُقٰتِھِنَّ نِحْلَۃً۔ فَإنْ طِبْنَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(سورۃ النساء :۵ )
    اس کے متعلق عمومی طور پرتو اس آیت کے مضمون پر میں گفتگو کرچکا ہوں پہلے۔ اب میں جو لغت کے اور تفاسیرکے حوالے میرے سامنے ہیں، ان کے حوالے سے بات کو آگے بڑھاتا ہوں۔ اکثر تفاسیر میں زیادہ تر مختلف الفاظ کی بحث ہے جن میں نِحْلَۃً، طِبْنَ، ھَنِٓیْئًا، مَرِٓیْـًٔا۔ یہ چار لفظ ہیں جن پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ نحلہ کا جو میں نے ترجمہ آپ کے سامنے رکھا تھا، سب لغت کی کتابیں اور تفاسیر، اس پر تقریباً متفق ہیں کہ نحلہ کا معنی خوشی سے دینا بھی ہے اور فریضہ کے بھی ہیں ۔ اس لئے اُن سب لغت کے حوالوں کو دہرانے کی یہاں ضرورت نہیں۔ النحلۃ، العطائ، الفرض عطاء اور فرض دونوں معنی نحلہ میں پائے جاتے ہیں ۔ النحل شہد کی مکھی کو بھی کہتے ہیں (یعنی وہ تو کہتے ہی ہیں) ’’بھی‘‘ غلط لفظ بولا گیا ہے۔ النحل شہد کی مکھی کو کہتے ہیں جس میں یہی ن ح ل یہ تین بنیادی حروف اس میں مشترک ہیں ، باقی سب وہی ہیں جو پہلے باتیں ہوچکی ہیں۔ لسان العرب نے بھی یہی مضمون بیان کیا ہے۔ لسان العرب نے وہی دونوںباتیں لکھی ہیں۔
    مَہر کو نحلہ کے طور پر دینا اُن کے نزدیک ایسی بات ہے جیسے کہا جائے کہ ایسی چیز دی جائے جس کے بدلے کسی چیز کی خواہش نہ ہو۔ یہ مختصر سا ایک نیا معنی اس میں داخل کیا گیا ہے۔ یعنی نحلہ فریضہ بھی ہے اور ایسی طوعی عطاء کو کہتے ہیںجو تحفے کا رنگ رکھتی ہو نہ کہ اس کے بدلے کچھ، کسی چیز کی خواہش ہو۔ باقی سب لغت کی کتابیں اور تفاسیر اسی بحث میں الجھی ہوئی ہیں۔ اور ماحصل وہی ہے ’دو لفظوں میں‘ کہ نحلہ عطا کو بھی کہتے ہیں اور فریضہ کو بھی۔ وہ مال جو بطور فرض دیا جائے اور وہ مال جو محض تحفۃً پیش کیا جائے۔
    اب ھَنِٓیْئًا، مَرِٓیْـًٔاپر گفتگو ہوئی ہے بہت، اور یہ وہ عام معانی ہیں جو اردو میں رائج ہیں رچتا پچتا۔ شوق سے خوشگوار طریق پر ایسا کھانا جو تمہیں مفید ہو، جس کا نگلنا آسان ہو۔ جو تمہارے جسم کیلئے بھی فائدہ مند ہو، روح کیلئے بھی بشاشت پیدا کرے۔ خلاصہ یہی ہے ساری بحث کا۔ تمام اہل لغت نے مختلف پہلوئوں سے ھَنِٓیْئًااورمَرِٓیْـًٔا کی الگ الگ بحث بھی اٹھائی ہے اکٹھی بھی۔ مثلاً مفردات امام راغب میں لکھا ہے ’’ہر وہ چیز جس کے حاصل کرنے میں کوئی مشقت نہ ہو اور جس کے نتیجہ میں کوئی برائی نہ ہو۔ یہ لفظ دراصل خوراک کیلئے بولاجاتا ہے۔ ھَنِٓیْیُٗ خوشگوارکھانے کوکہتے ہیں جو بغیر تکلیف کے کھایا بھی جائے یعنی کھانے میں کوئی دقت نہ ہو اور نگلنے میںکوئی مشکل پیش نہ آئے۔ اور اس کے علاوہ لذیذ بھی ہو‘‘۔ اور لکھتے ہیں کہ ھَنِٓیْئًا، مَرِٓیْـًٔا کے کلمات کھانے اور پینے والوں کیلئے بطور دعا بھی استعمال ہوتے ہیں۔ کہ تم کھانا کھائو جو تمہیں رچے پچے اور اس کا کوئی نقصان تمہیں نہ پہنچے۔ھَنَیَٔ کا مطلب ہے اچھا کھانا تیار کیا۔ھَنَیَٔ الطعامُ الرجلَ کا مطلب ہے کہ کھانا اسے راس آیا اور اچھا لگا۔ ھَنَئَہٗ کا مطلب ہے اسے کھلایا۔ھَنیٔ الطعام کھانا بگڑ گیا ہو تو اسے ٹھیک کیا جائے۔اس کوکہیں گے ٹھیک کرنے کوھَنیٔ الطعام کہیں گے۔اس نے کھانے کو ٹھیک ٹھاک کیا۔
    مَرَئَکی بحث میں زیادہ تر گلے سے اترنے کے مضمون کو پیش کیا گیا ہے۔ کھانا اچھا پکا ہو اور گلے سے آسانی سے اتر جائے بغیر کسی دقت کے۔ تو مَرَئَکا معنی ہے ساغ من غیر غصص کہ کھانا اچھا لگا اور گلے میں پھنسا نہیں۔ اس کی شان نزول بھی ایک بیان کی گئی ہے۔ تفسیر صافی میں لکھا ہے فکلوا ھَنِٓیْئًا مَّرِٓیْـًٔا سائغًا من غیر غصّ وربما یغرق بینھما۔ بتخصیص ھنییٔ بما یلذہ الانسان والمریٔ بما یحمدعاقبتہ۔ اس کا ترجمہ یہ ہوگا کہ سائغًا وہ کھانا ہے جو گلے میں نہ پھنسے۔ دونوں لفظوں میں یوں فرق کیا جاتا ہے کہ ھنیٔ وہ چیز ہے جس سے انسان لذت پاتا ہے اور مریٔ وہ چیز ہے جو انجام کار اچھی ہو۔ روایت میں آتا ہے کہ لوگ اس بات کو گناہ سمجھتے تھے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو جو کچھ دے چکا ہے وہ اس سے واپس لے۔ یہ وہی بات ہے جو کل میں بیان کرچکا ہوں کہ تردّد تھا ایک دفعہ تحفہ دے دیا جائے ،جب تحفہ کہا جائے تو پھر وہ واپس لینابہت برا سمجھا جاتا تھا اسلام میں۔
    اب ایک اور بحث یہ اٹھی ہے کہ مخاطب کون ہے؟ قتادہ اور زجاج اور نخفی کے نزدیک خطاب خاوندوں سے ہے۔ جیسا کہ اس سے پہلے بھی خاوندوں ہی سے خطاب ہے اوردوسرے کہتے ہیں کہ عورتوں کے ولیوں سے خطاب ہے۔ ولی جو بھی ہیں کیونکہ عرب زمانہ جاہلیت میں عورتوں کو مہر نہیں دیا کرتے تھے۔ اگر کسی کے ہاںبیٹی پیدا ہوتی تو اسے مبارکباد دیتے ہوئے طعن کرتے تھے۔ یہ فضول بحث ہے۔ظاہر ہے مخاطب سوسائٹی بھی ہے اور خاوند بھی ہیں۔ حزرمی سے مروی ہے کہ عام رواج تھا کہ ایک شخص کسی کو اپنی بہن دے دیتا اور خود اس کی بہن سے شادی کرلیتا۔ یہ لوگ مہر کا بڑا حصہ انہیںنہ دیتے تھے۔ یہ بات ہمارے ملک میںآج تک رائج ہے۔ ہندوستان میں بھی ہے پاکستان میں بھی۔ اور اس کو وٹّے سٹّے کی شادی کہتے ہیں۔ اور اُس سے بہت بڑے نقصانات پہنچتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے سختی سے منع فرمایاہے اور یہ مہر کو بچانے کی خاطر ایک ترکیب بھی تھی۔ کہتے تھے دونوں فریق ایک دوسرے کو کچھ نہ دیں اور ایک نے اپنے گھر کی بیٹی دوسرے کو دے دی، دوسرے کے گھر کی بیٹی لے لی۔ اور یہ جو روح ہے کہ مہر اُن کا حق ہے جن کی شادی ہورہی ہے، یہ اس کی روح کے بالکل منافی بات ہے۔ مہر خاندانوں کا حق نہیں ہے یا ولی کا حق نہیں ہے، مہر اس عورت کا حق ہے۔ اسی لئے فرمایا جو وہ خوشی سے واپس کرے اس کو بیشک استعمال کرو مگر کسی اور کا حق نہیں ہے کہ اس کی طرف سے کسی کو واپس کردے۔ سوائے ایسی صورت کے بعض دفعہ ولی کو اپنے زیر کفالت یا اپنی بچیوں وغیرہ کی طرف سے ایک اَن کہی اجازت ہوتی ہے۔ اُن کا رویہ آپس میں ایسا محبت کا ہوتا ہے اور اعتماد کا کہ بسا اوقات بچیاں کہتی ہیں جو ولی ہمارا چاہے وہی فیصلہ ہمیںمنظور ہے۔ ایسی صورت میں ولی کو بھی اجازت ہوتی ہے مگر بنیادی حق ولی کا نہیں ہے، بنیادی حق عورت کا ہے اورولی کا اُس حد تک ہے جس حد تک عورت اُس حق کو ولی کی طرف منتقل کرے۔
    اب فقہی بحثیں جو اٹھائی گئی ہیں اُن میں ایک یہ ہے کہ کیا عورت مہر وصول کرنے سے پہلے اس پر تصرف کرسکتی ہے؟ یہ بہت کسی کی باریک نظر گئی ہے اس بات پر مثلاً ممکن ہے ایک عورت نے مہر کو یقینی آمد سمجھتے ہوئے کوئی قرض اٹھالیا ہو کسی سے اور ذہن میںیہ ہو کہ میں مہر سے واپس کردوں گی۔ یہ بحث فقہاء نے اٹھائی ہے کہ کیا اسلام اس کی اجازت دیتا ہے؟ بعض فقہاء کہتے ہیں کہ وہ اُسے وصول کرنے سے قبل بھی مصرف میںلاسکتی ہے۔ تاہم بعض نے کہا ہے کہ وصول کرنے کے بغیر مصرف میں نہیںلاسکتی۔ جیسے ہاتھوںہاتھ تجارت۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر عورت مہر کا مطالبہ دلی خوشی سے ترک کردے تو خاوند سے اس کی ادائیگی ساقط ہوجائے گی۔ یہ جو بحث ہے اس کے متعلق (کہ ساقط ہوجائے گی) یہ محل نظر ہے۔ اور مختلف مسلمان فقہاء نے اس کو تسلیم نہیں کیا۔ کیونکہ عورت جو خوشی سے ادا کردے وہ آپ کو کہہ دے۔ اس کی خوشی کا تعین کیسے ہوگا۔ کس طرح پتا چلے گا کہ اُس نے کسی خاوند کے دبائو کے نتیجہ میں ایسا کیا ہے یا یہ دیکھ کر کہ خاوند نے دینا تو ہے ہی نہیں۔ کیا جھگڑا روز مرہ کا شروع کریں۔ چلو معاف ہی کردیتے ہیں۔ اس لئے قاضی کا فیصلہ ہوگا۔ اورآخر وقت تک عورت مختار ہے اس بات پر کہ اگر وہ پہلے کہہ بھی چکی ہو تو پھر وہ واپس دوبارہ کہہ دے کہ نہیں مجھے دو۔ اس کی ایک مثال قاضی شُریح کی عدالت میںہونے والے ایک مقدمے کی صورت میں دی گئی ہے۔
    امام شعبی کہتے ہیں ایک عورت اپنے مرد کے ساتھ قاضی شُریح کے سامنے پیش ہوئی۔ اور اپنے تحفے کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ یہاں تحفہ سے مراد یہ ہے کہ وہ جو حق مہر تھا جو اس نے کہہ دیا تھا کوئی بات نہیں، بیشک تم رکھو۔ قاضی شریح نے مرد سے عطیہ واپس کردینے کو کہا۔مرد کو کہا واپس کردواس کو۔ مرد نے جواب دیا کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا فان طبن لکم عن شیٔ کہ اگر یہ دلی خوشی کے ساتھ کچھ اُس میںسے جومہر کا فریضہ ہے تمہیں واپس کردیں تو تم استعمال کرو اس کو۔ قاضی نے کہا اگر اس نے دلی خوشی سے دیا ہوتا تو واپسی کا مطالبہ نہ کرتی۔ واپسی کا مطالبہ کرنا ثابت کرتا ہے کہ دلی خوشی نہیں تھی۔
    حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے قاضیوں کو لکھوا بھیجا تھا کہ بعض دفعہ عورتیں دلی خوشی سے اور بعض دفعہ کسی خوف کی وجہ سے تحفہ وغیرہ دیتی ہیں۔ پس اگر کوئی عورت اسے لوٹانا چاہے تو اسے اس کا حق ہے۔ ان معنوں میں کہ اگر وہ لوٹانے کا کہتی ہے تو یہ بھی تو احتمال اٹھ کھڑا ہوگا کہ اس نے دلی خوشی سے نہ دیا ہو۔ اس لئے قاضی کا کام ہے یہ فیصلہ کرے ، اسے سرسری طور پر ردّ نہیں کرسکتا کہ چونکہ عورت نے کہہ دیا تھا کہ لے لو اس لئے وہ بات پختہ ہوگئی ، ثابت ہوگیا کہ دلی خوشی سے ایسا کیا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے ایک دفعہ ایک احمدی مخلص بزرگ صحابی پیش ہوئے اور انہوں نے کہا کہ میری بیوی نے مجھے حق مہر معاف فرماد یا ہے اور بڑی خوشی کا اظہار کیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا کہ آپ نے اُس کو دے دیا تھا اور پھر واپس اس نے واپس کیا ہے؟ توا نہوں نے کہا نہیں نہیں یہ نہیں بلکہ یونہی باتیں ہورہی تھیں تو انہوں نے کہا کہ میری طرف سے معاف ہے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ درست طریق نہیں ہے۔ تم اس کوحق مہر دوپھر وہ واپس کردے تو ٹھیک ہے۔ چنانچہ وہ خوشی خوشی دوڑے گئے ، کہیں سے قرض اٹھایا جاکے بیوی کو دیا کہ یہ لو تمہارا حق مہر۔ واپس کرو۔ کہا کیسا واپس، بھاگو یہاں سے۔ بیچارے سر پھینکے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی خدمت میں حاضر ہوئے ، میں کیا کروں؟ تو دلی خوشی کے مواقع سب بتادیتے ہیں کہ دلی خوشی کاموقع ہے یا ایک مایوسی کے عالم میں نہ آنے والی رقم کے متعلق کہہ دیا کہ چلو معاف۔ تو قرآن کریم نے کیسی باریکی سے عورتوں کے حقوق کا خیال رکھا ہے۔ امام جلال الدین سیوطیؒ۔ وہی یہ پرانی باتیں دہرائی جارہی ہیں۔ کوئی نئی بات نہیں۔
    اب مہر کتنا ہونا چاہئے؟ یہ بحث بھی بہت فقہاء نے اٹھائی ہے۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے مہر کی تعیین اور اُس زمانہ میں جو رواج تھا اس کے متعلق فرمایا ہے ’’ ہمارے ملک میں یہ خرابی ہے کہ نیت اور ہوتی ہے اور محض نمود کیلئے لاکھ لاکھ روپے کا مہر ہوتا ہے۔ صرف ڈراوے کیلئے لکھا جایا کرتا ہے کہ مرد قابو میں رہے اور اُس سے پھر دوسرے نتائج خراب نکل سکتے ہیں۔ نہ عورت والوں کی نیت لینے کی ہوتی ہے اور نہ خاوند کی دینے کی۔ میرا مذہب یہ ہے کہ جب ایسی صورت میں تنازعہ آپڑے تو جب تک اس کی نیت ثابت نہ ہو کہ ہاں رضا و رغبت سے وہ اسی قدر مہر پر آمادہ تھا جس قدر کہ مقرر شدہ ہے تب تک مقرر شدہ نہ دلایا جائے۔اور اس کی حیثیت اور رواج وغیرہ کو مدنظر رکھ کر پھر فیصلہ کیا جائے۔ کیونکہ بدنیتی کی اتباع نہ شریعت کرتی ہے اور نہ قانون۔‘‘
    یہ بہت اہم فیصلہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ برضا و رغبت مرد نے دیا تھا یا نہیں۔ یہ ایک بالکل نیانکتہ ہے جو اٹھایا گیا ہے اور اس آیت کی ایک بہت ہی لطیف تفسیر ہے جس پر پہلے کبھی کسی کی نظر نہیں پڑی۔ نحلۃً میں مرد جو دینے والا ہے اُس کی طرف بھی ضمیر جاتی ہے کہ اس نے اپنی دلی خوشی سے دیا تھا۔ یعنی مہر کا تقرر کسی رواج وغیرہ سے یا دکھاوے سے متاثر ہوکر نہیں بلکہ اپنی قلبی پوری رضامندی سے اُسنے ایک چیز مقرر کی تھی۔ یہ ہے اہم نکتہ جس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اٹھا یا کہ وہ رواجی یا دکھاوے کے مہر جو بعض قوموں میں رائج ہوجاتے ہیں اس لیے کہ کوئی طلاق نہ دے سکے۔ اس لئے کہ اُس پرایک دبائو رہے بیوی کے خاندان کا۔ تو جہاں بیوی کے حقوق کی حفاظت فرمائی گئی ہے کہ اُس کی دلی رضامندی شامل ہو، اُسی طرح خاوند کے حقوق کی بھی حفاظت فرمائی گئی ہے کہ اس کی دلی رضامندی شامل ہو۔ چنانچہ ایسے حق مہر فرضی بہت سے ملتے ہیں جن میں کئی کئی لاکھ لکھوادیا جاتا ہے اور عملاً وہ دینے کی نیت نہیں ہوتی۔ بعض دفعہ ایسے فرضی حد سے بڑھے ہوئے مہر جب نکاح کے دوران میرے سامنے آتے ہیں تو ایسا بھی ہوا ہے کہ میں نے ان کو کہا ہے، نہیں اس کو تھوڑا کرو، مناسب نہیں ہے۔ تمہاری حیثیت اتنی نہیں ہے، اِس کے مطابق کرو تاکہ حقیقی مہر بن جائے۔ حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ اس ضمن میں لکھتے ہیں:
    ’’ میں نے مہر کی تعیین چھ ماہ سے ایک سال تک کی آمد کی کی ہے۔ (آگے ختم۔ الگ آئے گی شاید۔۔۔ کہاں یہ؟ ہاں ٹھیک ہے۔ آگے پیچھے ہوگئے ہیںصفحے۔ یہ دفعہ نمبر 13نیچے چلی جانی چاہئے تھی)فرماتے ہیں مجھ سے کوئی مہر کے متعلق مشورہ کرے تو میں یہ مشورہ دیا کرتا ہوں کہ اپنی چھ ماہ کی آمد سے ایک سال تک کی آمد بطور مہر مقرر کرو اور یہ مشورہ اس امر پر مبنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے الوصیت کے قوانین میں دسویں حصہ کی شرط رکھوائی ہے۔ گویا اُسے بڑی قربانی قرار دیا ہے۔ اس بناء پر میرا خیال ہے کہ اپنی آمدنی کا دسواں حصہ باقی اخراجات کو پورے کرتے ہوئے مخصوص کردینا معمولی قربانی نہیں بلکہ ایسی بڑی قربانی ہے کہ جس کے بدلے میں ایسے شخص کو جنت کا وعدہ دیا گیا ہے۔ اس حساب سے ایک سال کی آمد جوگویا متواتر دس سال کی آمد کا دسواں حصہ ہوتا ہے، بیوی کے مہر میں مقرر کردینا مہر کی اغراض کو پورا کرنے کیلئے بہت کافی ہے‘‘۔
    مراد یہ ہے کہ اگر خاوند ایک سال کی آمد دیتا ہے تو گویا وہ دس سال کی آمد کا دسواں حصہ دیتا ہے۔ اور ایک عورت اکیلی کیلئے اُس خاوند کی کل آمد کا، دس سال کی آمد کا دسواں حصہ ایک لمبے عرصہ تک اس کی کفیل ہوسکتی ہے۔ تو مہر کا جو مقصد ہے وہ اِس سے پورا ہوجائے گا۔ پس جماعت احمدیہ کا مسلک یہ ہے۔ آگے فرماتے ہیں ’’ مہر نہ اتنا کم ہو کہ وہ عورت کے وقار کے منافی محسوس ہو اور شریعت کے ایک اہم حکم سے مذاق بن جائے اور نہ اتنا زیادہ کہ اُس کی ادائیگی تکلیف مالا یطاق ہو جائے۔اس اصول کی بناء پر خاوند کی جوبھی مالی حیثیت ہو اس کے مطابق چھ ماہ سے بارہ ماہ تک کی آمدنی کے برابر حق مہر کو معقول اور مناسب خیال کیا گیا ہیـ‘‘۔
    یہاں یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ’’ معقول اور مناسب خیال کیا گیا ہے‘‘ یہ ایک توجیہ ہے اور ایک مشورہ ہے۔ہر گز یہ مراد نہیں کہ ہر احمدی کے لئے فرض ہے کہ وہ چھ ماہ کی آمد کم از کم ضرور دے اور سال کی آمد سے زیادہ نہ دے۔مختلف لوگوں کے مختلف حالات ہیں اور آمدنی بھی مختلف ہوتی ہیں۔ ایک آدمی جو لکھ پتی ہے یا کروڑ پتی ہے اس کے متعلق یہ کہنا کہ وہ چھ ماہ کی آمد ضرور دے یا ایک سال کی آمد ضرور دے یہ اس کیلئے تکلیف مالا یطاق اور بے محل بات بن جائے گی۔ کیونکہ شادی کے حقوق کے لحاظ سے عورت کو امیر خاوند کی ساری جائیداد کا یا آمد کا ، ایک سال کی آمد کا پورے کا پورا حصہ دار سمجھنا یہ مہر کے مقاصد میں مجھے نظر نہیں آتا۔ مہر کے مقاصد میںجو بات واضح ہے جس کی بناء پرحضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ فتویٰ دیا ہے یا مشورہ دیا ہے وہ یہ ہے کہ عورت عزت کے ساتھ اپنا آزاد گزارہ کرسکے۔ اور خاوند کے چھوڑنے پر اس طرح بے سہارا نہ رہ جائے۔ مثلاً اگر اُس کے ماں باپ نہیں ہیں یا ماں باپ کے حالات نہیں ہیں کہ وہ اس کو سنبھال سکیں۔ ایسی صورت میںیقین ہو اُس کو کہ میرے پاس اپنی کچھ جائیداد ہے، میں شریفانہ گزارہ اس پرکرسکتی ہوں۔ جہاںتک بچوںکا تعلق ہے یہ یاد رکھنا چاہئے کہ بچوں کی ذمہ واری پھر بھی خاوندہی پر رہے گی۔ جو بڑے ہوں گے وہ تو از خود مرضی سے جہاں چاہیںرہیں اور وہ خود کفیل بھی ہیں اپنی ذات میں۔ لیکن ضروری نہیں کہ سب خودکفیل ہوں۔ اُن کے اخراجات کی ذمہ داری عورت پر نہیں ہے اور عورت اگر بچے اپنے پاس رکھتی بھی ہے اور قضاء حکم دیتی ہے کہ چھوٹی عمر کے بچے ہیں یا عورت کے پاس رہنے چاہئیں تو اسلام ان کی روزمرہ کی زندگی کے اخراجات کی ذمہ داری مرد پر ڈالتا ہے۔ اس لئے دسواں حصہ جو ہے یہ جو استنباط ہے کہ دس سال کیلئے کافی ۔ یہ واقعۃً صحیح اور درست منطق ہے۔اکیلی عورت کو پورے ایک سال کی آمد مل جائے تو وہ ایسا ہی ہے جیسے دس سال کا سارے خاندان کا خرچ ہو۔ کیونکہ اس نے اکیلا اپنی ذات کو سنبھالنا ہے اس سے دوسری ذمہ داریاںاُس پر عائد نہیںہوتیں۔ لیکن بہرحال یہ ایک مشورہ ہے اور اس حد تک قاضی کو فیصلہ کرنا چاہئے کہ یہ جو قاضی تو کرے گا ہی نہیں۔ حق مہر معین کرتے وقت یہ فیصلہ پیش نظر رہنا چاہئے کہ اس حق مہر سے یہ مقصد پیش نظر رہنا چاہیے کہ اس حق مہر سے ایک عورت کی باعزت گزارے کی صورت پیدا ہوتی ہے کہ نہیں۔اور خاوند کی توفیق کے مطابق جو بننے والا ہے وہ حق مہر مناسب ہے کہ نہیں ۔ ان دونوں باتوں کے امتزاج سے جو فیصلہ ہو وہ ضروری نہیں کہ چھ مہینے یا سال کی پابندی کرے۔ ایک امیرآدمی کی طرف سے مقرر کردہ مہر اور بن جائے گا ، ایک غریب آدمی کی طرف سے مقرر کردہ مہر اور بن جائے گا۔ کسی کا کم سے کم چھ مہینے اورسال کی حدود او ر زیادہ سے زیادہ چھ اور سال کے حدود کے اندر فکس ہو سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں دوسرے حالات ہیں جو فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ اس لئے یہ مشورہ ہے اور اسے سختی سے شریعت کے قانون کے طور پر وارد کرنا، عائد کرنالازم نہیں ہے مگر حکمت شریعت کو پیش نظر رکھنا اور اس کی حفاظت کرنا یہ ہر مسلمان پر فرض ہے۔ ہر خاوند یا بننے والا خاوند اپنی توفیق کے مطابق اپنی بیوی کا اُتنا مہر باندھے جتنا اُس کے، فرض کریں طلاق ہوجائے تو طلاق کی صورت میں اس کے باقاعدہ، باعزت، سفید پوش گزارے کیلئے کافی ہو۔ رچرڈبیل اپنی کمنٹری میں صَدَقات کے لفظ پر تعجب کا اظہار کرتا ہے، کہتا ہے:-
    ‏ Sadaqat only here is usually taken as aqualent to Mahr, bride price.
    اب لفظbride priceبھی بڑا بیہودہ سا لفظ ہے ’’بیوی کی قیمت‘‘ حالانکہ جو نحلہ کی پہلے بحث گزر چکی ہے اُس میں یہ معنی بھی پیش نظر رکھنا چاہیے جیسا کہ اہل لغت نے اٹھایا ہے کہ مہر اس تحفہ کو کہیں گے ، صدقہ جو’’ نحلہ‘‘ دیا جائے۔ نحلۃً دینے کا مطلب ہے بغیر کسی بدلے کی امید۔ خالصۃً تحفہ کے طور پر ۔ تو اگر یہ تحفہ ہے تو priceنہیں ہوسکتی۔ اس لئے bride priceاس کو نہیں کہا جاسکتا۔ فریضہ کا معنی خدا کی طرف سے عائد ہونے والا فریضہ ہے اور نحلہ کا تحفہ کا معنی اس روح پر اطلاق پاتا ہے جس سے خاوند اپنی بیوی کو کچھ دیتا ہے تو گویا خدا نے فرض کردیا ہے خاوند پر کہ دلی خوشی کے ساتھ، بغیر کسی بدلے ، پر نظر رکھے ہوئے اپنے طور پر اس عورت کو دے دو۔ یہی وجہ ہے کہ اگر یہ بدلہ ہو تو ساری زندگی کے ساتھ کا اور ساری زندگی کے ازدواجی تعلقات کا بدلہ سمجھا جانا چاہیے۔ مگر امر واقعہ یہ ہے کہ ایک دن بھی شادی ہوجائے اور میاں بیوی کے تعلقات قائم ہوجائیں تو پورا حق مہر دینا پڑتا ہے۔ تو بدلہ کیسے ہو جائے گا۔ کیا ایک رات کا بدلہ ہے یا ایک ہزار راتوں کا بدلہ ہے۔ وہ ایک کیسے ہوگئے؟ پس بدلے کا مفہوم اس کے ساتھ لگتا ہی نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک عورت نے اپنے آپ کو ایک مرد کو پیش کردیا اپنی رضامندی کے ساتھ، اپنے ولی کی رضامندی کے ساتھ تو جواباً تم بھی ایک تحفہ پیش کرو۔ اور وہ تحفہ جو ہے وہ بسا اوقات اگر رخصتانہ نہ بھی ہواہو تو آدھا دینا پڑتا ہے۔ تو بیک وقت تحفہ بھی ہے اور فریضہ بھی۔ تحفہ خاوند کی روح کے تعلق سے اس کے جذبات کے تعلق سے اور بیوی کے احترام کے تعلق سے فریضہ خداتعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ ایک فرض کے طور پر۔ تو یہاں دونوں معنے بیک وقت اطلاق پاسکتے ہیں۔
    اب یہاں ان کو خوامخواہ ہی اس مضمون کو جو عام ہوچکا ہے Orphensسے صرف باندھی چلے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں:-
    "The meaning will than he that the orphens are not to be defraded of the dawry, which would be ordinary aranged for at the marriage".
    بَیل نے ایک اور حرکت بھی کی ہے اپنی پرانی عادت کے مطابق کہ ترتیب بدلی ہے آیات کی ۔ کہتا ہے نہیں یہاں ٹھیک نہیں، یہاں زیادہ مناسب رہے گی۔ اور منٹگمری واٹ صاحب کہتے ہیں :-
    ‎ الصّدقات not the usual Mahr the presize meaning here is thus uncertain, perhaps morning gift.
    یعنی وہ رواج جو یہاں انگریزوں میں 1400سال یا 1300سال یا اس سے بھی کچھ پہلے قائم ہوا یہ اسلام کے ایک حکم کے ترجمہ کے طور پر اس رواج کا اطلاق وہاں کرنا چاہتے ہیں۔ morning giftاس تحفہ کوکہتے ہیں جو خاوند اپنی بیوی کو دوسری صبح کو اظہارِ محبت اور اظہار تعلق کے طور پر دیتا ہے۔ تو یہ مہر والی ساری آیت پڑ ھ کے منٹگمری صاحب واٹ نے یہ مطلب سمجھا ہے کہ مراد یہ ہے کہ دوسری صبح شادی کے بعد اس کو کوئی تحفہ پیش کردو جیسے سکاٹ لینڈ میںکیا جاتا ہے۔ اس بحث میںکہ کتنا ہونا چاہیے اس میں بھی مختلف آراء قائم کی گئی ہیں۔ مستشرقین نے بھی یہ بحث اٹھائی ہے۔ کتنا ہونا چاہیے؟ لیکن یہاں اس وقت میرے پاس حوالہ نہیںہے۔ مستشرقین نے بھی فقہاء کو نقل کیا ہے دراصل اپنی کوئی رائے پیش نہیں کی۔ اور وہ جو آراء ہیں وہ میں آپ کے سامنے اب رکھوں گاکہ ان کے نزدیک مہر کتنا ہونا چاہیے۔ ایک اور عجیب بات ہے جو محض آپ کے تفنّن طبع کے طور پر بھی اور اس غرض سے بھی کہ ہماری جو کلاسیکل فقہ کی کتابیں ہیں اُن میں بعض کیسی کیسی لغو باتیں داخل ہوگئی ہیں۔ آپ کے علم میںلانے کیلئے ایک میں حوالہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ واقعہ یہ ہے کہ فقہ میںپرانے زمانہ میں فقہاء نے حد سے تجاوز کرتے ہوئے ہر ایسے احتمال کو بھی پیش نظر رکھ لیا جو عملی زندگی میںناممکن ہے۔ یا کم سے کم معلوم حالات میں انسانی زندگی کے اُس کا وقوع پذیر ہونا معقول دکھائی نہیں دیتا۔ مگر چونکہ انہوں نے بطورفقیہ کے یہ کوشش کی کہ ہر کونے کھدرے پر روشنی پڑ جائے ، کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیںاس فقیہ سے یہ جواب نہیںملا۔ اس لئے انہوں نے ہر اس قسم کی بات داخل کردی جو بعد کے زمانہ کے انسانوں کیلئے اور خاص طور پر غیر مسلم سکالرز کیلئے اسلام کیلئے ایک جگ ہنسائی کاموجب بنی اور وہ حیرت سے دیکھتے ہیں کہ کیسا مذہب ہے؟ کیسے کیسے فتوے دے رہا ہے۔ حالانکہ یہ فتوے ان علماء کے دماغوں کی پیداوار ہیں۔ قرآن کریم نے اشارۃً بھی اُن کا ذکر نہیں فرمایانہ ہی حدیث میں ان کا ذکر ملتا ہے۔ اب میرے پیش نظر اردو ترجمہ محکمۂ اوقاف لاہور 1967۔یہ اردو ترجمہ ہے ’’کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ‘‘ جو مشہور کتاب الفقہ ہے جس میں چار بڑے بڑے مسلمان فقہ کے مسالک پیش کیے گئے ہیں۔ مالکی، شافعی، حنفی اور حنبلی یہ چار بڑے مذاہب ہیں۔ ان کے ایک اکٹھی ایک کتاب میں، ان کے سب کے مؤقف پیش کیے گئے ہیں۔ اور محکمہ اوقاف نے اس کا ترجمہ کیا ہے۔ اب مہر کی بحث دیکھیں کیاکہتی ہے ’’ وہ مال جو عقد نکاح کے بعد (عقد نکاح اردو میں تو عَقْد کا تلفظ ہے۔ عربی میں عُقْدَۃ النکاح چونکہ آتا ہے اس لیے ’’پیش‘‘ سے نکاح کے تعلق میں ’’پیش‘‘ بھی زبان پہ آجاتی ہے۔ ورنہ اصل تلفظ عَقْد ہے یعنی نکاح کا نام عَقْد ہے اور عُقْدَۃ النکاح کا مطلب ہے نکاح کی گرہ باندھنا) اس کے بعد عورت سے متمع ہونے کے عوض (اب یہ لفظ دیکھیںذرا) وہ مال جو عقد نکاح کے بعد عورت سے متمتع ہونے کے عوض یا غیر عورت سے بیوی کے شبہ میںمیاں بیوی والی حرکت کرلینے کے عوض۔ یہ سوچنے کی بات ہے کہاںکہاں ان کے دماغ گئے ہیں اور محکمہ اوقاف کو خیال نہیںآتا کہ اس زمانہ میں باتیںلکھ رہے ہیں۔تو پڑھنے والا کیا سوچے گا۔ کوئی سوچ سکتا ہے کہ کوئی شخص بیوی کے شبہ میں کسی غیر عورت سے تعلق قائم کرلے اور وہ عورت بھی خاوند کے شبہ میںاُس سے وہ تعلق باندھ رہی ہو اور اگر آج یہ فقہ کا فیصلہ درست ہے ۔ اگر آج ایسا جوڑا پکڑا جائے تو اس کے متعلق کوئی حد قائم نہیںکی جاسکتی۔ فقہ کا یہ حوالہ دیں گے۔ خاوند کہے گا میں نے بیوی کے شبہ میں کیا تھا بیوی کہے گی میں نے خاوند کے شبہ میں کیا تھا۔
    پس ایک ہی رائے حق مہر دے دو۔ چونکہ حق مہر مقرر نہیں تھا وہ حق مہر مثل ہوگا۔ حق مہر مثل کیا کیا ہوسکتا ہے وہ آگے جاکے آئے گا۔تو یہ صرف آپ کو بتا رہا ہوں کہ پرانی فقہوںمیں بعض علماء نے اپنی طرف سے ایسی ایسی باتیں داخل کردیںجو ہرگز قرآن کے پیش نظر نہیںتھیں۔ حدیث میں اُن کا دور کا بھی تصور نہیں تھا مگر یہ بس ذہنی چالاکیاں تھیں اور بدقسمتی سے آج تک ان کتب کو حرفِ آخر سمجھا جارہا ہے اور اسلامی مدرسوں اور کالجوں میں وہی کتب بطور تدریس کے داخل ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جواُن میں آگیا وہی شریعت ہے اور اُس کے ہر پہلو پر عمل کرنا گویا قرآن اور سنت کے اتباع کے مطابق ہے۔
    اب یہ دیکھیںدماغ کہاں کہاں سے کہاں پہنچا ہے ما شاء اللہ۔ ’’شافعیہ نے مہر میں اُس کی ماں کو بھی داخل کیا ہے جو اس شخص کا حق ہوتا ہے جو اپنی بیوی کے تعلقات سے محروم ہوگیا ہو۔‘‘ یعنی مہر عورت کی طرف سے مرد کو بھی ملے گا۔ وہ کس طرح؟ ’’ مثلاً ایک شخص نے ننھی بچی سے عقد کرلیا اور اُس شخص کی ماں نے اُس بچی کو بھی دودھ پلادیا تو اب وہ بچی اُس پرحرام ہوجائے گی اور وہ مہر مثل کی حقدار(اچھا آگے سنیں) مہر مثل کی حقدار ہوجائے گی‘‘۔ کیسا پیچ دار عقدہ ہے جو انہوں نے حل فرمایا ۔ ایک شخص نے ایک معصوم دودھ پیتی بچی سے نکاح کرلیا اور ابھی کوئی مہر مقرر نہیں ہوا۔ بعد میںپتہ چلتا ہے کہ وہ بچی اس کی دودھ کی بہن بھی ہے کیونکہ اس کی ماں نے اس کو پلایا ہے۔ اس نے اس کو پلایا جو بھی شکل ہے دودھ کی ماں بن گئی۔اب دودھ بہن سے نکاح ہو نہیں سکتا، وہ حرام ہوگئی۔ اب وہ کیا کرے۔ کہتا ہے وہ مہر مثل کی حقدار ہوگئی اب وہ۔ کیونکہ اُس کا تو قصور کوئی نہیں اور خاوند کو بھی اس مہر کا آدھا ملے ۔ وہ مہر بانٹا جائے گا۔ دے گا کون؟ یہ نہیں پتا چلتا۔(کتاب الفقہ اردو ترجمہ محکمہ اوقاف لاہور)
    یہ لکھتے ہیں ایک الفقہ الاسلامی والادلّۃ تالیف الدکتور واھیہ الزھیلی ہوگا (ذہیلی یا ذہبلی لکھاہوا ہے شاید) ۔ بہر حال جو بھی نام ہے یہ دمشق کی چھپی ہوئی کتاب ہے اور دمشق ہی کے ایک عالم کی تحریر ہے۔ وہ لکھتے ہیں : ’’ مالکیہ کے نزدیک کم سے کم مقدار مہر ۴/۱ دینار یا خالص چاندی کے تین سکے ہیں‘‘۔ دینار اُس زمانہ میں کیا قیمت رکھتا تھا اس کا کچھ اندازہ اس سے ہوجاتا ہے کہ خالص چاندی کے تین سکے۔ لیکن سکے کتنے بڑے تھے اس کا کچھ پتا نہیں چلتا۔ اس لیے وہی روز اوّل والی بات ہی ہے۔ کچھ سمجھ نہیں آتی کیا کہنا چاہتے ہیں۔ اگر موجودہ وقت میں دینار کو لیا جائے تو دینار دوممالک میں رائج ہے غالباً جو شمالی افریقہ میں ہیں،سوڈان میں اور تیونس میں بھی۔ مگر ان کی ویلیو الگ الگ نہیں ہے؟ ہاں کیا ہے آپ نے نکالی ہے نا میں نے کہا تھا۔ دکھائیں۔ سوڈان میں 1.28دینار ایک پائونڈ کے برابر ہے اور تیونس میں 1.46تقریباً ڈیڑھ دینارایک پائونڈ کے برابر ہے۔ تو اگر ایک دینار کا ۴/۱ حصہ مہر رکھا جاسکتا ہے تو 30pیہ اس کا مورننگ گفٹ بنے گا بقول ان کے۔ لیکن 30p جو Morning Giftہے ہوسکتا ہے وہ سارا نہ چھوڑے۔ ہوسکتا ہے 5pچھوڑدے اس میں سے۔ تو پھر ھَنِٓیْئًا، مَرِٓیْـًٔا کا معنی ہوگا کہ 5p سے عیش کرو۔کیا آئے گا 5p میں آجکل یہاں ہیں؟ بیچارا جیب میں بچاتا پھرے گااس 5p کو ۔ مقدار مہر ایک تو یہ ہوگئی۔ دوسری ہے شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک۔ کم سے کم حق مہر کوئی مقررنہیں۔ ہر وہ چیز جو قابل فروخت ہو یا اُس کی قیمت مقرر ہوتو وہ مہر ہوسکتی ہے۔ دراصل ان فقہاء کے جنہوں نے کہا ہے کم سے کم کوئی مہر مقدار مقرر نہیں ان کی نظر غالباً حضرت اقدس محمد رسول اللہﷺ کے نکاحوں پر ہے۔ جس میںکوئی معین ایسا مہر مقرر نہیںہوتا تھا جو اُن کیلئے ایک ضامن بنے، ان کی حفاظت کرے۔ بعض فقہاء نے اس کو سمجھا اِس کے مفہوم کو۔ اور انہوں نے کہا کہ آنحضرتﷺ کی ذات کیلئے آپﷺ کے مرتبے کے پیش نظر کوئی مہر مقرر کرنا ضروری ہی نہیںتھا۔ اُس کی وجہ یہ ہے کہ آپﷺ اس طرح ضامن تھے ان کے اور آپﷺ کے بعد خداتعالیٰ نے اُن کیلئے ایسی ضمانتیں مہیا فرمادیں تھیں کہ اُن کو کبھی بھی بے یارومددگار چھوڑا نہیںجاسکتا تھا۔ اس لیے حق مہر کا آنحضور ﷺ کے معاملے میں کوئی اطلاق نہیں پاتا۔ گویا وہ ایک قسم کامہر مثل ہوگیا۔ اور اس کا ثبوت کہ یہ بات درست ہے وہ یہ ہے کہ جب خداتعالیٰ نے آنحضرتﷺ کو اختیار دیا کہ بیویوں کو بیشک چھوڑ دو تو اس اختیار کے ساتھ آپ نے جو شرطیں باندھیں کہ میںتمہیں خوب مال و دولت دے کر خودکفیل بنا کر اچھے حال میں چھوڑوں گا ، تو اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ فقہاء بالکل درست کہتے ہیں کہ آنحضور ﷺ کے تعلق میں کسی حق مہر کے معین کرنے کی کوئی ضرورت نہیںتھی۔ اس لئے اُس سے استنباط کرنا ایک بے تعلق استنباط ہے۔ رسول اللہ ﷺنے کچھ تھوڑا دیا یا زیادہ دیا یہ قطعاً وہ مہر نہیں ہے جو قرآن کریم میںمذکور ہے وہ مہر آنحضرتﷺ کی ذات اور آپﷺ کی صفات سے تعلق میں مضمر مہر ہے۔ ظاہر نہیں کیا گیا مگر یہ ناممکن ہے کہ آنحضور ﷺ کسی منکوحہ بیوی کو بے یارو مددگار اس طرح چھوڑ دیں کہ وہ گویا پائی پائی کی محتاج رہ جائے۔ یہ مراد ہے اور یہی معقول صورت مجھے دکھائی دیتی ہے۔ باقی فقہاء کی بحثیں ، بیچارے مجبور تھے۔ انہوں نے اس خیال سے کہ نعوذ باللہ اگر ہم نے فتویٰ دے دیا کہ کم سے کم مہر اتنا ہونا چاہیے تو پھر رسول اللہ ﷺ کے نکاح پر نہ وہ فتویٰ چلا جائے۔ حالانکہ یہ بالکل ویسی ہی بات ہے جیسے کسی طالبعلم نے فقہ کی کلاس میں یہ پڑھا کہ اگر کوئی بچہ کسی کے سر پر چڑھ جائے نماز میں تو اس کی نماز ٹوٹ جائے گی۔ تو ایک طالبعلم نے بیچارے نے اٹھ کے سوال کیا تو پھر حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ ﷺ کی نمازکی حالت میں اوپر چڑھ جایا کرتے تھے تو کیا رسو ل اللہ ﷺ کی نماز ٹوٹ گئی؟ اب یہ جہالت والی باتیں ہیں۔ باتوں کو خوامخواہ بے وجہ طوالت دے کر آگے تک پہنچانا ۔ رسول اللہ ﷺ کی نماز سے یہ قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ آپﷺ کی نماز میں انہماک خداتعالیٰ کی ذات میں ایسا تھا کہ یہ چیزیں اس میںمخل نہیںہوتی تھیں اور فتویٰ دینے والے جب فتویٰ دیتے ہیں وہ بھی ٹھیک دیتے ہیں ۔ اُن کی مراد یہ ہے کہ عام آدمی کے سر پر بچے چڑھ کے کھیل رہے ہوں تو اسے خد اکی کیا ہوش رہے گی وہ بچوں کی فکر میں مبتلا ہوجائے گا۔ اس لیے وہ فتویٰ بھی اپنی جگہ درست ہے۔ موقع اورمحل کو دیکھا جائے تو پھر فتوئوں کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔
    مہر کی مختلف قسمیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک ہے مہر مسمّٰی۔ وہ مہر جو بوقتِ نکاح یا بعد نکاح باہم رضامندی سے مقرر کیا جائے اور اعلانیہ نکاح میں اس کا ذکر کیا جائے۔ ہمارے ہاں اب یہی رائج ہے اورکوئی نکاح نہیں پڑھا جاتا جب تک مسمّٰی مہر نہ ہو۔ معین پتا نہ لگے اور گواہ نہ بن جائیں سب۔ کیونکہ بعد میں جب جھگڑے ہوتے ہیں تو پھرکئی قسم کی مشکلات پیش آتی ہیں۔ یہی بہتر اور مناسب طریق ہے آج کل کے زمانہ میں کہ مہر مسمّٰی کیا جائے۔مالکیہ کے نزدیک وہ مہر جو خاوند بیوی کو شادی سے پہلے یا شادی کے وقت پیش کرے اُس کا نام مہر مسمّٰی ہے۔ مہر مثل وہ مہر ہے جو اگر کسی عورت کو بوقت نکاح مقرر نہ ہوا ہو تو حاکم عورت اور مرد کے حالات دیکھ کر مہر مقرر کرے۔ پس مہر پہلے مقرر ہونا بھی ضروری نہیں ہے بعض فقہاء کے نزدیک ۔اور اگر ایساہوگیا ہوتو پھر اُس کا علاج یہ ہے کہ قاضی فیصلہ کرے کہ دونوں کے حالات میں کونسا مناسب مہر ہونا چاہیے تھا۔ اور اِس کی تفصیل میں وہ یہاں تک لکھتے ہیں۔
    حنفیہ کے نزدیک اُس عورت کے مال، حسن و جمال، عمر ، عقل اور دین کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔ اب یہ ساری جانچ پڑتال عدالت میں ہو تو اس بیچاری لڑکی کا کیابنے گا؟ اس لئے یہ محض جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے فقہاء نے اس خیال سے کہ کوئی پہلو باقی نہ رہ جائے۔ اُن کی سوچ کہاں کہاں پہنچی ہے امکانات کی دنیا میں۔ یہ بھی اُسی کی ایک مثال ہے۔
    حنابلہ کے نزدیک مہر کی تعیین کیلئے عورت کے تمام قریبی رشتہ داروں کے مہر کو مدنظر رکھا جائے۔ ایک اور جھگڑا ، کہتے ہیںمرد کے نہیں عورت کے قریبی رشتہ داروں کے مہرکو پیش نظر رکھو۔ سب کو۔ کوئی عورت لکھ پتی کو بیاہی گئی ہے ، کوئی کسی غریب copperکو، کلرک کو بیاہی گئی ہے، کسی کے خاوند کی تجارت تباہ ہوچکی ہے۔ یعنی ایک ایسے شخص جس کی تجارت تباہ ہوگئی اور رشتہ پہلے سے طے تھا پھر بھی ہوجاتا ہے اس سے۔ مہر ہر ایک کے الگ الگ ہوگئے ہیں ۔ تو حنابلہ نے تو بڑی مصیبت میں ڈال دیا ہے دنیاکو۔ کہتے ہیں بیوی کے تمام رشتہ دار جو قریبی ہیں اُن کے مہر نکالو، ان کی اوسط نکالو ، ان کے حالات کا جائزہ لو۔ پھر مہر مثل ہوگا۔ اس سے تو مہر مسمّٰی ہی اچھا ہے بابا۔ جو ہمارے ہاں رائج ہے۔جھگڑا ہی ختم ہو، اعلان ہوگیا، چھٹی ہوئی۔
    مالکیہ اورشافعیہ کے نزدیک صرف عورت کی بجائے عورت اور مرد دونوں کے حالات شامل ہونے چاہئیں۔ یعنی بیوی کے رشتہ داروں میںکتنے کتنے مہر ہوئے تھے ، خاوند کے رشتہ داروں میں کتنے کتنے مہر ہوئے تھے۔ اِن سب کا جائزہ لینے کے بعد پھر فیصلہ ہوگا۔ سیدھی سادھی بات ہے اُن کے حالات کیوں نہیں دیکھ لیتے دونوںکے۔ اُس کو چھوڑ کر کہاں کہاںبیچارے پھرتے ہیں اور مثل کے لفظ نے دراصل ا ن کو دھوکے میں ڈالا ہے۔ کہتے ہیں ’’مثل ‘‘ جو لفظ ہے یہ توایک کھلا لفظ ہے اور مثل بنانے کی خاطر ضروری ہے کہ گردو پیش کی مثل کو بھی پیش نظر رکھا جائے۔ پھر ایک مہر معجّل کہلاتا ہے۔ اور ایک مہر مؤجّل کہلاتا ہے اور ہمارے نکاح فارموں پر بھی مہرمعجل اور مہر مؤجل کا ذکر ملتا ہے۔ کیوں جی۔ پہلے تو ہوا کرتا تھا۔ ابھی بھی ہے نا۔ یہ ہے کیا چیز؟ دستخط کرنے سے پہلے سمجھ لیں اچھی طرح۔ ڈاکٹر صاحب بڑا ہنسے ہیں،آپ کیلئے تو لیٹ ہوچکا ہے، آپ پر اطلاق نہیں پائے گا فکر نہ کریں۔ یہ نوجوان جو ہمارے ٹیلی ویژن کی تصویریں کھینچ رہے ہیں نامثلاً جس طرح نومی اور ان کا کیا نام ہے؟ ہیں؟(خالد ہاں) خالد آپ غور سے سن لیں۔معجل کیا ہوتا ہے اور مؤجل کیا ہوتا ہے؟
    وہ مہر جو بوقت نکاح فوری طور پر ادا کردیا جائے یا عند الطلب ہمیشہ تیار رہے۔ جس وقت مطالبہ ہو اسی وقت پیش کردیا جائے اس کو کہتے ہیں معجل۔اور وہ مہر جو طلاق یا زوجین میں سے کسی کی وفات پر قابل ادا ہو وہ مؤجل ہے۔ یہ اجل، مدّت کو کہتے ہیں ، اجل سے نکلا ہے اور وہ عجلت جلدی کو کہتے ہیں۔پہلاجو ہے لفظ وہ معجل ہے ع کے ساتھ اور یہ لکھوالینا چاہیے۔ معجل یا مؤجل کیونکہ ہمارے یہاں کی جو نسل ہے یہ تو معجل کو بھی مؤجل ہی پڑھتے ہیں اور مؤجل کو بھی معجل ہی پڑھتے ہیں۔ تو یہ نہ ہو وہ کہے میں نے مؤجل کہا تھا وہ کہے میں نے معجل سمجھا تھا۔ اس لئے یہ باتیں تحریر میںآجائیں تو بہتر ہوتا ہے۔اب یہ جو بعدمیں وفات کے بعد عائد ہونے والا قصہ ہے۔ کہتے ہیں اگر کوئی مرد کہے کہ میں مرجائوں تو جو کچھ میرا ہے وہ تمہارا ہوجائے گا۔ عورت کہے اگر میں مرجائوں تو جو کچھ میرا ہے وہ تمہارا ہوجائے گا۔ تو یہ بھی گویاایک قسم کا مہر مؤجل ہوجائے گا یعنی تاریخ میں بعد میں آنے والا واقعہ۔
    ہمارے ہاں جو فقہ لکھی گئی ہے اس پربھی میں نے ہدایت کی تھی کہ اس پرنظر ثانی ہونی چاہیے، ہورہی ہے غالباً۔ کمیٹی بیٹھی ہے۔ کچھ الفاظ بھی کچھ زیادہ ہی احتیاط سے استعمال کیے ہیں۔ مثلاً دفعہ نمبر9مہر: ’’ مہر اس مالی منفعت کا نام ہے جو نکاح کے نتیجہ میں خاوند کی طرف سے بیوی کو واجب الادا ہیــ۔ مالی منفعت کیسے واجب الادا ہے؟ عجیب بات ہے۔یہ تو اردو ہی نہیں ٹھیک۔ اس مال کا نام ہے جو نکاح کے نتیجہ میں خاوند کی طرف سے بیوی کو واجب الادا ہے ایک سادہ سی بات ہے۔ لیکن وہ عالمانہ چکر میں پڑ کے یہ سوچ کر کہ اس کی روح منفعت ہے ۔یعنی عورت سے فائدہ اٹھانا چونکہ روح ہے اس لیے اس کو بھی ساتھ داخل کردیا جائے۔ مہر اس مالی منفعت کانام ہے جو نکاح کے نتیجہ میں خاوند کی طرف سے بیوی کو واجب الادا ہے۔ منفعت تو واجب الادا ہے ہی نہیں۔ منفعت تو اس نے کی تھی ۔ پس اگر داخل ہی کرنا تھاتو سلیقے سے داخل کرتے۔ آگے تفصیلات ہیں، قرآن کریم کے حوالے ہیں، احادیث کے حوالے ہیں۔
    مہر مسمّٰی جو فریقین کی رضامندی سے بوقت نکاح طے پا جائے۔ اور اعلان نکاح میں اس کا ذکر آجائے جیسا کہ آج کل جماعت احمدیہ میں یہی رائج ہے اور ہم تو نکاح پڑھانے سے پہلے یہ شرط کرتے ہیں کہ واضح کرو نکاح کا معاملہ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آگے ورنہ جھگڑے بڑے چل پڑتے ہیں۔ دوسرے جتنے مہر ہیں نا غیر مشروط، غیر معین، اُن سے بعد میں پیچیدگیاںپیدا ہوتی ہیں۔ مہر معجل کی وہی تعریف کی ہے احمدیہ فقہ میں بھی، جو میں بیان کرچکاہوں۔ اور یہ بھی کہ یا فوراً یا ہر وقت حاضر باش ۔ اُدھر مطالبہ ہواُدھر پیش کردیا۔ اس کو مہر معجل کہتے ہیں۔ یہ عجیب و غریب سی باتیں ہیں یہ تو ناممکن ہے۔ جو مہر دینا ہے یا تو فوراً دے دیا جائے یا اُس کو معجل کہنا ہی درست نہیں ہے۔ اُس کی وجہ یہ ہے کہ خاوند کے حالات بدل سکتے ہیں اور اگرفوری مطالبہ نہ ہو اہو مثلاً ایک لاکھ کا مہر اُس وقت جب کہ شادی ہوئی ہے وہ مناسب اور جائز تھا اور بعد میںاس خاوند کا دیوالیہ پٹ گیا ہے۔ اس عرصہ تک عورت خاموش رہی ہے۔ پھر وہ مطالبہ کرتی ہے کہ اب فوراً دے دو تو اس نے وہ ایک لاکھ روپیہ بچا کے کسی تجوری میں تو نہیں رکھا ہوا۔ اس لیے یہ ساری باتیں وہمی یا فرضی باتیں ہیں۔ حقیقت کے ساتھ فیصلے ہونے چاہئیں۔ معجل وہی مہر ہے جو اد اکردیا جائے اوربات ختم ہو۔ اور جو نہیں ادا ہوا وہ غیر معین اور مؤجل ہے نہ کہ معجل اور دفعہ لگائی ہے اس پر۔ مہر معجل کی صورت میں بیوی جب چاہے مہر کا مطالبہ کرسکتی ہے۔ ہر مہر کا مطالبہ کرسکتی ہے یہ کہاں سے آگیا۔ فلاں مہر کا کرسکتی ہے فلاں کا نہیں۔بیوی کا حق ہے، قرآن کریم فریضہ قرار دے رہا ہے ۔ جب چاہے بیوی مطالبہ کرسکتی ہے۔ خوامخواہ کے جھگڑے۔ فقہی چونکہ عبارتیں پڑھ پڑھ کے یہ فقہ بنائی گئی ہے ا س لیے اُس کی گہرائی میں اُترے نہیںہیں ۔ حالانکہ بہت سی الجھنیں فقہاء کی باریک سوچوں کے نتیجہ میں پید ا ہوگئی ہیں۔
    باقی یہاں بھی بہت باریکیاں ڈالی گئی ہیں۔ اگر نکاح کے وقت مہر مقرر نہ ہو اہو اور قبل از رخصتانہ طلاق ہوجائے یا خاوند فوت ہوجائے توپھر مہر مثل کا نصف یا پورا مہر مثل اد اکرنا واجب نہیں۔ حسب استطاعت مناسب تحائف دے کر عورت کو رخصت کیا جاسکتا ہے۔ جو رخصت کہاںکریں گے اس بیچاری کو جو رخصت ہوئی ہی نہیں، رخصتانہ سے قبل طلاق ہوگئی ہے۔ تو کہتے ہیں ۔ ہماری فقہ میںیہ باتیں ہیں۔ سوچ لیں ذرا! اس لئے ہنسی والی بات چاہے دوسرے کی فقہ میں ہو یا اپنی میں ۔ انسان بیچارہ مجبور ہے اس کو ہنسی تو آنی ہے۔ اب یہ دیکھ لیں بحث یہ ہے کہ رخصتانہ سے قبل خاوند فوت ہوجاتا ہے تو رخصتانہ سے قبل فوت ہوا ہے تو کہتے ہیں اس کو تحفے دے کر رخصت کردو۔ اس کو کہاںرخصت کردو؟ اگلے جہان بھیج دو بیچاری کو۔ اپنے ماں باپ کے گھر بیٹھی ہوئی ہے وہیںرہنے دو بیچاری کو، رخصت کیا کرنا ہے اس کو۔
    ’’ھدایۃ کا حوالہ دے کر یہ لکھتے ہیں ۔ دفعہ نمبر12: معاہد ہ نکاح میںمہر کی عدم تعیین کی صورت میں بوقت تنازعہ قاضی جو مہر فریقین کی حیثیت کے مطابق متعین کرے وہ مہرمثل ہے‘‘۔
    کہتے ہیں صاحبِ ہدایۃ اس کی تفصیل میںلکھتے ہیں :’’ مہر مثل کی تعیین کیلئے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ حسن وجمال، سیرت و کردار، علم و عمل کے لحا ظ سے اس عورت کی جو رشتہ دار عورتیں ہیںاُس کی ہم پایہ ہیں۔ اُن کا مہر کتنا مقرر ہوا تھا‘‘۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔ اس فقہ کو تو فیکس بھیجیں کہ خدا کیلئے نظر ثانی جلدی کریں۔ میرے تو پسینے چھوٹ گئے اس سے۔ اس عورت کا حسن و جمال اب کون دیکھے گا۔ اُس کے علم کا فیصلہ ، اس کی عقل کافیصلہ۔ یہ ساری چیزیں دیکھ کر پھر اس کے بعد مثل پتہ ہے کیا بنے گی؟ ویسی ہی اس سے ملتی جلتی عورت اس کے خاندان میں اگر بیاہی گئی تھی تو اس کا مہر کتنا تھا؟ وہ پتہ کر لو مسئلہ حل ہوگیا۔ چلوجی چھٹی۔ عجیب و غریب باتیں ہیں ۔ ان کو خدا کیلئے عقل کے مطابق درست کریں۔ کیونکہ یہ تو خوامخواہ جگ ہنسائی والی بات ہے۔
    اچھا جی مہر پر کافی نہیںہوگئی بات۔یہ جو حق مہر ہے یہ پرانا رواج ہے۔ پیدائش میںبھی اس کا ذکر ہے۔ Jenesisمیں Judges میں بھی اس کا ذکر ہے اور عہد نامہ قدیم میں کثرت سے حوالے ملتے ہیں انہیں پڑھ کر پورا تفصیل سے اب یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ مگر غالباً یہ کوئی مبحث ہی نہیںہے۔ سب اہل کتاب مانتے ہیں کہ مہرکا ایک طریق بائبل کی طرف سے رائج شدہ تھا جو فریضہ کے طور پر جاری تھا اوراسلام کو بھی چونکہ اسی خدا نے تعلیم دی ہے جس نے موسیٰ علیہ السلام کو دی تھی ۔ اس لیے یہ ایک بنیادی انسانی حق کے طور پر سمجھا گیا ہے کہ ہر شادی پر عورت کا حق ہے کہ اسے کچھ ایسے تحائف پیش کیے جائیں جو اس صورت میں کہ اسے چھوڑا جائے اُس کے کام آسکیں اور صرف یہ نہیں بلکہ اپنی زندگی میں اُس وقت بھی جبکہ خاوندزندہ ہے طلاق نہیں ہوئی اُس وقت کی ضرورتیں بھی پوری کرنی ہوتی ہیں۔ اب عورت بعض دفعہ اپنی ضروریات کیلئے بات بات میں خاوند کے سامنے ہاتھ پھیلاتی ہے یہ مناسب نہیں۔ اگر شروع میں اُس کا حق مہر ادا کردیا جائے جو اتناکافی ہو گا کہ اس کی بعد کی ضرورتوں کو بڑے لمبے عرصہ تک پورا کرسکے۔ وہ اس کو اپنی مرضی سے کہیں لگاسکتی ہے۔ تجارت کرسکتی ہے خاوند کی معرفت یا اس کے علاوہ اور رو ز مرہ کے اپنے تحفے دینے ہیں، آزادی سے پیش کرسکتی ہے۔ بعض بچے باپ سے زیادہ مائوں سے مانگتے ہیں ان کے پاس کچھ ہوگا تو دیں گی بیچاریاں۔ اس لئے جو رواج ہے کہ جلد دیا جائے یعنی رواج نہیں ہے جو اس کو قائم کرنا چاہے، موت کا انتظار یا طلاق کا انتظار نہ کیا جائے بلکہ احمدیوں میں یہ بات رائج کرنی چاہیے کہ جلد از جلد جس حد تک ممکن ہے وہ مہر دے دیا جائے۔
    ………………………………………………………………
    اس کو قائم کرنا چاہیے موت کا انتظار یا طلاق کا انتظار نہ کیا جائے۔ بلکہ احمدیوں میں یہ بات رائج کرنی چاہیے کہ جلد از جلد جس حد تک ممکن ہے وہ مہر دے دیا جائے ۔ لیکن ایک بات جو مناسب نہیں ہے وہ یہ ہے کہ بعض ولی مہر وصول کرکے پھر شادی کرتے ہیں اوردراصل وہ جہیز تیار کرنے کیلئے مہر کا عذر رکھتے ہیں او رکہتے ہیں کہ اگر شادی کروانی ہے تو حق مہر پہلے ادا کرو۔ ہم اس سے جہیز بنائیں گے اور تمہیں بھیجیں گے ۔ تو پھر جہیز دینے کی ضرورت ہی کوئی نہیں۔ سیدھی سادھی رخصتی کریں۔ عورت بیچاری اپنی مرضی سے بعد میں چاہے تو اس کا کچھ خریدے، چاہے تو نہ خریدے۔ گھر بنانا ، بسانا خاوند کا فرض ہے۔ اس لیے یہ رواج بھی نہایت نامناسب اور ناجائز ہے جماعت میں اس کا قلع قمع کرنا چاہیے۔ اگلی آیت ہے اب! یہ ہوچکا ہے ناں حوالہ؟
    اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    ولا تؤتو السفھاء اموالکم التی جعل اللہ لکم قیمًا وّارزقُوھم فیھا واکسوھم و قولوا لھم قولاً معروفًا (النسائ: ۶)
    میں ضمناً بتادوں پہلے بھی بتاچکا ہوں کئی دفعہ، قرآن کریم کی تلاوت سے پہلے اَعُوْذُ بِاللّٰہ پڑھنا فرض ہے۔ بِسْمِ اللّٰہ بالعموم اس وقت پڑھی جاتی ہے جب سورت کے آغاز سے تلاوت ہو۔ کیونکہ اس کی پہلی آیت بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِہے۔ اس لیے بسا اوقات لوگ اور حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی یہی طریق تھا۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِاس صورت میں نہیں پڑھتے تھے جب کسی سورۃ کے بیچ سے کوئی آیت پڑھی جائے۔ اَعُوْذُ بِاللّٰہ پڑھی اور بِسْمِ اللّٰہ ! میں جو پڑھتا ہوں ، اس لیے کہ میں اسے ناجائز نہیں سمجھتا اور میرے نزدیک تبرک کیلئے ایک اچھی چیز ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ ہر کام سے پہلے بسم اللّٰہپڑھو۔ تو وہ اور معنوں میں ہے یعنی ضروری نہیںکہ ہرسورہ سے پہلے پڑھو، وہ تو ا س کا حصہ ہے پڑھنی ہی ہے۔ لیکن ہر کام سے پہلے اگر بسم اللہ پڑھ لی جائے تو یہ کوئی ناجائز تصرف نہیں ہے۔ اس لیے میں تبرکاً بیچ میں جب بسم اللہ پڑھتا ہوں توہر گزیہ مراد نہیں کہ یہ بسم اللہ سورہ کے آغاز کی طرف اشارہ کررہی ہے بلکہ ہر بات سے پہلے بسم اللہ عادتاً پڑھ لی جائے تومیرے نزدیک کوئی مضائقہ نہیں۔ بہر حال یہاں اعوذ باللہ کے بعد اگر صرف یہ آیت پڑھتا ولا تؤتوالسفھاتو جائز تھا بلکہ اکثر علماء مسلمان مختلف فرقوں کے یہی طریق اختیار کرتے ہیں کہ بیچ میںسے اگر آیت پڑھیں تو بسم اللہ نہیں پڑھتے۔ ولا تؤتوالسفھاء اموالکم التی جعل اللہ لکم قیمًا۔ اور ناسمجھوں کو اپنے مال جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے سہارا بنایا ہے نہ دو۔ اور ان میں سے انہیں کھلائو اور انہیں پہنائو اور انہیں مناسب اور اچھی باتیں کہو ۔ یہ چھٹی آیت ہے۔ اس آیت کریمہ کے بعد جو میں نے ابھی آپ کے سامنے رکھی تھی جہاں مہر کا ذکر ہے۔ اب اس آیت سے جو مختلف مفاہیم سمجھے گئے ہیں۔ بعض ایسے تمسخر والے ہیں کہ ان کو قرآن کریم کی طرف یا رسول اللہﷺ کی طرف منسوب کرنا گستاخی ہے۔ مگر فقہاء نے بحثیں اُٹھائی ہوئیں ہیں اور بڑا دھوکا اس بات میں کھایا ہے کہ سفہاء سے مراد عورتیں ہیں۔کیونکہ نکاح کے اموال ان کو دینے کی بات ہورہی ہے اس لیے وہ کہتے ہیں کہ ان عورتوں کو نہ دو جو بے وقوف ہوں۔ یہ مطلب بھی نکالتے ہیں اور عمومی معنے بھی لے لیتے ہیں۔ لیکن بعض ایسے فقہاء ہیں یامفسرین جنہوں نے سفہاء کامطلب عورتیں ہی کیا ہے۔ حالانکہ بالکل ناجائز بات ہے۔ اس کااس مضمون سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے۔ وہاں تو حق فرمادیا ہے اس کا ۔اور حق کی تعیین فرمادی اور لازم کردیا کہ تم نے اس کو دینا ہے تمہارا مال نہیںہے اس کا ہے وہ اپنی خوشی سے دیں نہ دیں۔یہ اتنی تفصیل سے بحث اُٹھ گئی ہو ، اس کے بعد ان عورتوں کوبیوقوف کہہ کے دوسرے ہاتھ سے وہ ساری رقم واپس لے لی جائے۔ یہ توقرآن کی شان کے بالکل منافی اور اگر خدا کا کلام ہو تو ایسے خدا سے ایمان اُٹھ جاتا ہے کہ کیسی متضاد باتیں کررہا ہے۔ یہاں ہرگز یہ مراد نہیں ہے اور یہاں اموالکم کی ضمیر صاف بتارہی ہے کہ اور مضمون ہے۔ وہاں عورتوں کامال ہے جو تم نے ان کو دینا ہے۔ تم اُن سے وعدہ کرچکے ہو، اُن کا حق بن گیا ہے۔ یہاں سوسائٹی مخاطب ہے اور یتیموں کا مال جس کا پہلے بھی ذکر گذر چکا ہے وہ دوبارہ زیر بحث آچکا ہے اب! اور یہ فرمایا جارہا ہے کہ اگرچہ ملکیت کے لحاظ سے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ایک ہے ذاتی، انفرادی ملکیت، ایک ہے قومی ملکیت ۔ان معنوں میںکہ جو کچھ بھی اقتصادی نظام جاری ہے وہ قوم کے مجموعی فائدے کی غرض سے ہوتا ہے اور قوم کو تصرف کا حق ہوتا ہے ۔ ایک حد تک اور یہی قانون ہے جس کے پیش نظر پھر ٹیکس لگتے ہیں جس کے پیش نظر مختلف اقتصادی نظام دنیا میں کام کررہے ہیں۔ تو ایک پہلو سے ذاتی ملکیت ہے ایک پہلو سے قومی ملکیت ہے تو فرمایاہے کہ جب ہم تمہیں کہتے ہیں کہ یتامی کو ان کے اموال دو ، ان کے حقوق دو ، ان کو تم نہ کھائو یا عورتوں کو بھی ان کے حقوق دو، ایک عمومی ، جس کا حق بنتا ہے ذاتی، اس کو دو۔اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ اگر کوئی ایسا شخص جو حقدار ہو مگر ذہنی لحاظ سے استعداد نہ رکھتا ہو کہ اپنے مال پر ، اپنے حق میں جائز تصرف کرسکے تو ایسے شخص کو مال دینا اس کے مفاد کے بھی خلاف ہے اور قومی مفاد کے بھی خلاف ہے۔ ایسی صورت میں اقتصادیات تباہ ہوسکتیں ہیں۔ اگر چھوٹے چھوٹے بچوں کے سپرد مثلاً یتامی ہیں ایک موقع پر تو کثرت سے یتامی آسکتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کے سپرد اُن کے مال دے دیئے جائیں اور اِدھر سے کوئی آئے دھوکا دے کر کہ کوئی مال لے کر چلا جائے ، کوئی اُدھر سے آئے دھوکا دے کر کچھ لے کر چلا جائے تو نظام اقتصادیات میں افراتفری پڑ سکتی ہے۔ پاگلوں کے سپرد کردیا اور اُن سے لے لیا اس سے بددیانتی بھی پھیلے گی اور قومی اموال کی حفاظت نہیں ہوسکتی ایسی صورت میں ۔یہ مضمون ہے۔ ولا تؤتواالسفھا اموالکم۔ اگر تمہارا مال ہے تو بیوقوفوں کو دینا کیوں ہے، یہ بہت ہی لطیف طرز کلام ہے۔ سفھآء کو جب دو گے تو ان کا ہی مال دو گے یہ مراد ہے۔ مگر اس نظر سے کہ تم اس کے امین بنائے گئے ہو۔ تمہارا بھی تصرف میں کچھ حق ہے۔ اور ذمہ داری ہے جو تم نے ادا کرنی ہے تو وہ گویا کہ قرآن کریم غالباً ایک ہی کتاب ہے ، مذہبی کتابوں میں جس نے "Court of Ward"کا نظام پیش کیا ہے۔ ہوسکتا ہے بعض دوسرے مذاہب میں بھی ہو، میرے علم میں نہیں۔ مگر "Court of Ward"کا تصور یہ آیت پیش کررہی ہے کہ ایسے لوگ جو اپنے مال پر تصرف کے اہل نہیں۔ ایسے بچے جو ابھی چھوٹے ہیں اپنے حقوق کا تحفظ خود نہیںکرسکتے۔ قوم کا فرض ہے اور وہ اس میںجوابدہ ہوگی کہ وہ اس وقت تک وہ مال ان کے سپرد نہ کرے جو قوم کے پاس امانت اور ان کا حق ہیں۔ اموالکم کا یہ معنی بنے گا۔ قوم کے اموال یعنی (تم پر) تمہارے پاس ایک امانت ہیں ایک قسم کی ! اور ہیں ان کے! چنانچہ فرمایا ولا تؤتوا السفھاء اموالکم التی جعل اللہ لکم قیامًا ، حالانکہ ان اموال کو تو جن لوگوں کے وہ مال ہیں ان کیلئے بودوباش کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔ یا ان کی بقاء کا، ان کی ضرورتیں پوری کرنے کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔ یہاں فرمایا ہے قیامًا ، تمہارے لیے قیام بنایا گیا ہے۔ یعنی سوسائٹی اگر مالی تصرفات کے معاملے میں اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرے گی تو سوسائٹی کو نقصان پہنچے گا اور ان کی اقتصادیات تباہ ہوں گی۔ وارزقوا ھم فیھا واکسوھم و قولوا لھم قولاً معروفًا۔ ان اموال سے ان کو پہنائو ،ان کو کھلاؤ،ان کھلاؤ،ان کو پہناؤ، اور ان سے نرم گفتگو کرو، پیا راور محبت سے انہیں سمجھائو کہ تمہاری چیز تمہیں ابھی ہم خرچ کررہے ہیں لیکن تمہارے تصرف میں اس وقت نہیں دے سکتے۔ اس کے معاً بعد جو آیت آتی ہے وہ ہے وابتلوا الیتمی حتی اذا بلغوا النکاح ۔ یتامی کے امتحان لیتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں۔ فان اٰنستم منھم رشدًا فادفعوا الیھم اموالھم۔ اب اس آیت نے اموالکمکے اوپر سے پردہ اُٹھادیا کہ یہ اموالکم ان معنوں میں نہیں ہیں کہ تم ان کے اُن اموال کے مالک ہو وہ ہیں انہیں کے جو یتیم اس سے پہلے کہ وہ بلوغت کی عمر کو پہنچیں اس بات کی استعداد نہیں رکھتے کہ وہ ان کے اوپر تصرف کرسکیں ۔ تو جب یہ آیت آئے گی تو اس وقت مزید بات ہوگی۔ ایک اور معنی جو اس آیت سے نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ یتامی جن کے پاس اموال نہ بھی ہوں ، جو غریب بھی ہوں، تم بحیثیت قوم ان کے کفیل ہو۔ تم پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ان کی دیکھ بھال کرو۔ چنانچہ یہ فرمایا ہے۔ولا تؤتوا السفھاء اموالکم التی جعل اللہ لکم قیٰمًا ۔ ایسے لوگ جو کم عمر کی وجہ سے بیوقوف ہوں یا کسی اور وجہ سے ، ایسے بیوقوف ہوں کہ ان بیچاروں کے پاس کچھ بھی نہ رہا ہو۔ بعض دفعہ غربت سفاہت کی وجہ سے بھی ہوتی ہے۔ ’’الول جلول‘‘ لوگ بیچارے۔ ایسے کئی ہم نے سوسائٹی میں دیکھے ہیں۔ ان کو کچھ کمانے کی توفیق ہی نہیں ہوتی۔ تو فرمایا ان کوا موال دے کر ، پیسے دے کر ان کو نقصان نہ پہنچائو اور سوسائٹی کیلئے نقصان کا موجب نہ بنو۔ ان کی دیکھ بھال کرو، ان کو پہنائو، ان کو کھلائو ۔اور یہ اس وسیع معنے میں اگرچہ پہلے فقہاء نے ترجمہ نہیں کیا مگر یتامی کی عمومی کفالت جماعت مسلمین پر ہے۔اور اس میں ایک ذرّہ بھی شک نہیں کہ وہ ذمہ دار ہیں، خصوصیت سے یتامی کی کفالت کے۔چنانچہ آنحضرتﷺ نے انہی الفاظ کفالت کے ساتھ یتامی کی ذمہ داری قوم پر ڈالی ہے۔ پس کفالت کا مضمون اگر لیا جائے تو پھر وہ دوسرے جھگڑے خود بخود اُٹھ جاتے ہیں اور ہم نے دیکھا ہے کہ بعض سفہاء جو مجبور ہیں، جن کے پاس کچھ بھی نہیں ، جب ان کو پیسے دیئے جائیں تو اکثر وہ غلط مصرف کرتے ہیں اور بعض تو ناجائز اخراجات کرتے ہیں اس سے اور پھر بھوکے کے بھوکے پہنچ جاتے ہیں۔تو کہاں تک تم ان کے پیسے دیتے چلے جائو گے اور ان کے مزاج بگاڑتے چلے جائو گے۔ جو فریضہ ہے سوسائٹی پر وہ تو ہے کہ پہنائو شریفانہ طریق پر اور کھلائوشریفانہ طریق پر ۔ اوسطاً جو بات مناسب ہے اور نرمی کی بات کیا کرو۔ نرمی کی بات کرنا اس موقع پر ان معنوں میں عین محل کے مطابق ہے۔ واماالسائل فلا تنھر۔ جو مانگنے والے لوگ ہیں ان کو ڈانٹا نہ کرو، پس مراد یہ ہے۔ ایسے بیوقوف باربارتم سے مانگیں گے بھی، آئیں گے، کہیں گے جی ہماری ضرورتیں پوری کرو، ہمیں پیسے دو، ہم نے کچھ کرنا ہے۔ تو ایسے موقعوں پر ان سے خفگی کا معاملہ نہ کرو، پیار سے سمجھایا کرو۔ ذمے دار تم صرف اسی حد تک ہو کہ ان کے رہنے سہنے، کھانے پینے کی ذمہ داریاں تم ادا کرو اور خدا کے نزدیک بریٔ الذمّہ ہوجائو گے۔ پس یہ دوسرا معنی بیک وقت ایک بطن کے طور پر اس آیت کے ساتھ چلتاہے۔ اب پہلے معنے کی طرف لوٹتے ہوئے پھر اگلی آیت اس مضمون کو اُٹھالے گی۔ مگر اس سے پہلے مَیں فقہاء اور علماء کی بحثیں کچھ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔
    سفہاء کیا ہیں؟ سَفِہَ یَسْفَہُ، سَفَھًا وَ سَفَاھَۃً وَ سَفَاھًا کا مطلب ہے حَفَّ وَ طَاشَ و جَھِلَ یعنی ہلکا ہوا، بیوقوفی دکھائی، جہالت کا کام کیا، یا اپنے اپنے نفس کو یا اپنی رائے کو غلط راہ پر ڈال دیا۔ کسی چیز کے بارہ میں دوسرے کو دھوکا دیا۔ یعنی سفہ فلان کا مطلب ہے اس کو بیوقوف بنایا، اس کو دھوکا دیا۔ السافہ ، الاحمقُ۔ السفیہ: من یبذر مالہ فیھا فیما لاینبغی۔ یعنی وہ شخص جو اپنے مال کو ناجائز جگہوں پر خرچ کرلے۔ جیسا کہ میں نے مثال دی تھی۔ بعض ایسے سفیہ ہیں جو مانگتے ہیں، لوگ رحم کے طور پر دے دیتے ہیں، وہیں جاکے وہ کسی غلط کام پر خرچ کردیتے ہیں۔ بہت سے یہاںمانگنے والے ہیں جو نشے کی خاطر مانگتے ہیں۔ مجھ سے ایک دفعہ کسی نے بیان کیا کہ ایک ہیٹ لے کر ایک غریب سا آدمی بیٹھا ہوا تھا اور اس نے رحم کیا شاید بھوکا ہے۔ اس نے اس کو دس شلنگ (Shilling)دیے اور سامنے پب(Pub)تھی دوڑا وہ لے کر ، تو وہ سارے شراب پر خرچ کردیے۔ کہتے ہیں میں نے کہا میں نے تو کسی اور مصرف کیلئے دیا تھا ، یہ ناجائز کام پر خرچ کرگیا ہے تو سَفَہَ کا مطلب ہی یہ ہے کہ ناجائز خر چ کرنا۔ تو ان معنوں میں یہ مضمون بالکل ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے ۔ اور بھی بہت سے لغوی معنے ہیں۔ قیامًا سے مراد ہے سیدھا کھڑ اہوگیا، کہیں گیقَامَ سیدھا کھڑ اہوگیا۔ اِعْتَزَلَ: کامل عمل یعنی اس کا کام ٹھیک ٹھاک ہوگیا۔قام الحق کسی نے حق کو ظاہر کیا۔ قام علی الامر: دام او ثبت کسی کام پر یہ ثابت رہا، قائم رہا۔ قاومہ فی حاجۃٍ۔ قام معہ فیھاکسی ضرورت کے وقت اس کے ساتھ کھڑا رہا، یعنی اس کا ساتھ دیا۔ یہ سارے معنے قَامَ کے اندر پائے جاتے ہیں۔ القوام: العدلانصاف سے کام لینا۔اُکْسُوھُم کے ترجموں میں یہ بیان کیا ہے، اصل تو لباس سے ہے۔ کسوۃ اور زمین جب سرسبز و شاداب ہوجائے تو اس کیلئے بھی یہ لفظ استعمال ہوجاتا ہے۔ اکتست الارض بالنبات یعنی کوئی زمین نباتات اوڑھے بیٹھی ہے، سبزے کا اوڑھنا اُس نے لیا ہے۔ یہ اردو میں بھی، ہر زبان میں غالباً محاورہ ہے۔ یہاں اس کا اس سے تعلق نہیں ہے ۔ اس آیت میں الثوب: یستترُبہٖ و یتحلی لباس کو کہتے ہیں جو ڈھانپتا ہے اور خوبصورتی کا بھی موجب ہے۔ پس ان معنوں کا صرف یہاں تک اطلاق ہوگا ۔اس آیت میں میں کہ ان کوپھٹے پرانے کپڑے نہ پہنائو۔ جب زمین سر سبزو شاداب ہوتی ہے تو ا س کیلئے لفظ کساء استعمال ہوتا ہے۔ تو ایسا پہنائو جو اچھے بھی لگیں۔ بیہودہ ، پرانے پھٹے کپڑے دے کر یہ نہ سمجھو کہ تمہارا فریضہ ادا ہوگیا ہے اور تفسیر فتح البیان جزو ثانی میں لکھا ہے کہ یہ آیت کا گویا کہ شان نزول ہے۔ بس اتنی سی ہے کہ حضرمی سے مروی ہے کہ ایک شخص دردمند ہوا، اس نے اپنا مال اپنی بیوی کو دیا، اس نے ناحق خرچ کردیا، تب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔اب جہاں شان نزول کی تلاش کرتے ہیں وہاں اتنے وسیع معانی کی آیت کو کس حد تک محدود کردیتے ہیں۔ اور جہاں تک سفہاء کا مضمون ہے اس کے متعلق تو ایسا سفیہانہ رویہ اختیار کیا گیاہے کہ ظلم ہے، قرآن کریم سے سخت ناانصافی ، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سخت ناانصافی ، اس آیت کے پیش نظر بعض مفسرین نے۔ اور اب میں تفسیر روح المعانی جزو چار صفحہ۲۰۲ سے یہ عبارت پڑھ کے آپ کے سامنے رکھتا ہوں ، وہاں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سُفھاء سے مراد عورتیں ہیں ۔اور سفیھۃقرآن کریم کے نزدیک عورت بیوقوف ہے۔ اگر اس مسلک کومانا جائے (نعوذ باللہ من ذالک) تو پھر حق مہر ادا کرنا، حقوق دینا، خوشی سے رخصت کرنا اور جتنا باندھا ہو اہے اس سے بھی زیادہ دینا ، یہ سار امضمون کالعدم ہوگیا۔ کیونکہ بیوقوف کو نہیں دینا۔ صرف اس کو کپڑے پہنائو اور اس کو روٹی کھلائو اور بعض ظالم اپنی بیویوں سے یہی سلوک کرتے ہیں، ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں دیتے، خود سودا لے کر آتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کو عورتوں والے کپڑے بھی خود خرید کے دیتے ہیں ۔ کہتے ہیں ہم تمہاری ضرورت پوری کررہے ہیں ۔ تو وہ عورتیں سفہاء نہیں ہیں وہ مرد سفہاء ہیں کیونکہ عورت کو عزت کے ساتھ رکھنا، اس کی ضروریات کیلئے اس کو اجازت دینا اور جہاں تک تحقیق آپ کرکے دیکھ لیں انہوں نے حق مہر بھی ان کو نہیںدیا ہوگا۔ حق مہر بھی دے دیتے تو شاید اس بیچاری کا اپنا الگ گذارہ چل جاتا۔ تویہ جو لفظ ہے سفہاء یہ ان عورتوں پر ہرگز اطلاق نہیںپاتا جن پر ، یعنی سب عورتوں پر جن پر بعض لوگوں نے اطلاق کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان مردوں پر ضرور اطلاق پاتا ہے جو اس کے یہ معنے کرکے قرآن کریم کو ایک تمسخر کا نشانہ بناتے ہیں۔ سب سے پہلے اَلسُّفَھَآء کا لفظ سورۂ بقرہ کے شروع میں ہی موجود ہے۔ صاف پتا چلتا ہے ، اس مضمون کو پڑ ھ لیں کہ سفہاء کون لوگ ہیں؟ وہ جو دین کے معاملے میں بیوقوفوں والے مسلک اختیار کرتے ہیں اور منافقت کا رنگ اختیار کرتے ہیں، مسلمانوں کو بیوقوف سمجھتے ہیں۔ الا انھم ھم السفھاء ولکن لا یعلمون۔ اللہ فرماتا ہے یہ خود بیوقوف لوگ ہیں۔ یہ بیوقوف کاجوعام مفہوم ہے انہی معنوں میں یہاں استعمال ہوا ہے اور سفیہۃکے طور پر ہرگز نہیں ہوا۔ یہ آیت عمومی ہے۔ ولا تؤتوا السفھاء اموالکم التی جعل اللہ لکم قیامًا بالکل او روسیع مضمون ہے، جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔
    ایک قومی اقتصادیات کا بہت ہی عظیم الشان وسیع الاثر مضمون ہے جس کو محدود بھی کیا گیا اور ناجائز حملہ کیا گیا عورتوں پر اورعورتوں پر اس حملے میں جو سب سے بڑا ظلم ہے ، حدیثیں ایجاد کرلی گئی ہیں۔ ایسی حدیثیں ایجاد ہوئی ہیں جو اپنی ذات میں گواہ ہیں کہ جھوٹی ہیں، ناممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایسی باتیںفرمائی ہوں۔ پھر بھی ہماری تفسیروں کی کتابوں میں راہ پاگئی ہیں۔ تو چونکہ بعض لوگ صرف رسمی طور پر دیکھتے ہیں یہ روایت فلاں تفسیر میں ہے، فلاں راوی نے بیان کی ، فلاں صحابی تک پہنچی ، درست ہوگئی۔ بالکل غلط بات ہے۔ شانِ محمد مصطفیﷺ کے خلاف کوئی حدیث قبول نہیں کی جائے گی، ناممکن ہے! کیونکہ محمد مصطفیﷺ کی شخصیت ہر شک سے پاک ہے اور لاریب فیہ میں جیسے قرآن کریم ہر شک سے پاک ہے ، اس طرح قرآن کریم کے خلاف بھی، قرآنی مزاج کے خلاف بھی کوئی بات قبول نہیں کی جائے گی۔ کیونکہ محمد رسول اللہ ﷺ قرآن کا ایک زندہ مسلک تھے۔ قرآن گویا آپﷺ کی ذات میں ڈھل گیا تھا۔ اس لیے آپﷺ کی ذات بھی رَیب سے پاک ہے۔ ہر بات جو رَیب والی ہے اوررسول اللہﷺ کی طرف منسوب کی جاتی ہے لازماً جھوٹ ہے۔ اب میں حدیث آپ کے سامنے پڑھ کر سناتا ہوں۔ ایک کہانی بنائی ہے کسی بعد کے آدمی نے اوربعض لوگوں کے دماغ میں یہ اس قسم کا فتور ہوا کرتاتھا کہ کہانیاں بنا بنا کر رسول اللہﷺ کی طرف جڑ دیتے تھے اور جو بہت بڑا گناہ ہے۔ آنحضورﷺ نے فرمایا ہے کہ جو میری طرف بات منسوب کرتا ہے جو میں نے نہیں کہی وہ جہنم میں اپنی جگہ بناتا ہے۔ مگر مفسرین نے صرف یہ دیکھا ہے کہ سند کے لحاظ سے جڑتی ہے کہ نہیں اور درایت پر بہت کم غور کیا ہے۔ اب یہ اس کی مثال ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے (یعنی یہ وہ روایت ہے جو میں بیان کررہا ہوں، فرضی روایت) کہ ایک سیاہ رنگ کی باتونی عورت رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ان کا نام بھی نہیں لکھا تاکہ پکڑا نہ جائے کہ کون تھا وہ عورتیں جو معروف تھیں ان کے متعلق تو صاف پتا چل جائے گا کہ انہوں نے یہ بات نہیں کہی ہوگی، اب جو نقشہ ہے وہ بھی بڑا بھیانک! گویا کوئی ڈائن اتری ہے کہیں سے۔ ایک سیاہ رنگ کی باتونی عورت رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی کہنے لگی، میرے ماں باپ آپﷺ پر فدا۔ یعنی اخلاص کا یہ عالم تھا آپ کبھی تو ہمارے بارے میں کوئی اچھی بات کرلیا کریں۔ یعنی جب بھی بولتے ہیں عورتوں کے خلاف بولتے ہیں۔ یعنی کوئی مسلمان صحابیہ یہ کہہ سکتی ہے رسول اللہﷺ کو یہ بات جس کا ذرّہ ذرّہ رسول اللہﷺ کے احسانات تلے دبا ہوا ہو۔ جنہوں نے ان کو نئی زندگی بخشی ہو۔ نئے حقوق عطا کیے ہوں یہ فقرہ پڑھتے ہی اس حدیث کو ردّی کی ٹوکری میں پھینک دینا چاہیے تھا۔ حدیث ہے ہی نہیں یہ! اب یہ بات اس کی بدتمیزی اور گستاخی کا عالم دیکھیں ۔ ایک طرف ماں باپ قربان دوسری طرف کہتی ہے کبھی تو ہمارے بارہ میں کوئی اچھی بات کرلیا کریں۔ مجھے یہی پتا چلا ہے کہیں سے اطلاع ملی ہے اس کو کہ آپ ہمارے بارہ میں ہمیشہ منفی بات کرتے ہیں۔ یہ قابل قبول حدیث ہے؟ یہ جو حوالہ ہے تفسیر روح المعانی میں داخل ہوئی ہوئی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا:- میں نے آپ عورتوں کے بارے میں کون سی بات کی ہے۔ یہ طرزِ بیان دیکھیں نا! مجھے بتائیں تو سہی کہ میں نے کون سے بات کی ہے آپ کے متعلق۔ کہنے لگی آپ نے ہمیں سفہاء قرار دیا ہے، حضورﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں تمہارا یہی نام رکھا ہوا ہے۔ یہ استنباط کرنے کی خاطر، اپنے اس مسلک کو جو نہایت جاہلانہ اور قرآنی مضمون کے سراسر منافی ہے اس کو ثابت کرنے کیلئے یہ حدیث گھڑ لی ہے اپنی طرف سے۔ اور اس کے بعد بات ختم ہوگئی، فیصلہ ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرآن کریم میں اللہ نے تم لوگوں کا نام سفہاء رکھ دیاہے، میں کیا کروں؟ مجبور ہوں میں۔ کہا اچھا پھر تو یہ خداتعالیٰ کی ذمہ داری ہوگئی اور کہنے لگی آپ نے ہمیں ناواقف بھی تو قرار دیا ہے یا ناقصہ اور ناقص لوگ ہیں ہم۔ اس کا جواب سنیں۔ فرمایا نقص کیلئے یہی کافی ہے۔ ایک حصہ اس کا کچھ معقول دکھائی دیتا ہے آگے جاکر پھر فرضی کہانی ساری شروع ہوجاتی ہے۔ جس کا مطلب ہے پہلا حصہ بھی بنایا گیا ہے فرضی، یونہی۔ نقص کیلئے یہی کافی ہے کہ ہر ماہ تم پانچ دن کیلئے نمازیں چھوڑ دیتی ہو، پانچ دن سے مراد ہے حیض جتنی دیر بھی رہے کیا کسی عورت کیلئے یہ کافی نہیں۔ لیکن ساتھ آگے تشریح فرمائی ۔ کہتے ہیں یہ تو نقص والی بات ہے۔ لیکن اگلی باتیں جو ہیں وہ تم کیوں بھول جاتی ہو۔ کیا کسی عورت کیلئے یہ کافی نہیں کہ جب وہ حاملہ ہوجائے تو اسے خدا کی راہ میں جہاد کرنے والے کا اجر ملے گا۔ ہر عورت جو حمل اُٹھاتی ہے وہ خدا کی راہ میں جہاد کرنے والا اجر پاتی ہے۔ اگلا حصہ یہ ہے ، جب وہ بچہ جنتی ہے تو خدا کی راہ میں شہید ہونے والے، خون میں لتھڑے ہوئے وہ زخمی کا ثواب ملتا ہے اس کو۔جو بسمل خدا کی راہ میں زخمی ہوتا ہے ہر بچہ جننے پر وہ اتنی شہادت کا مقام پاجاتی ہے۔ جب بچے کو دودھ پلاتی ہے پھر کیا ہوتا ہے؟ اس کا ہر گھونٹ بنو اسماعیل کی ایک گردن آزاد کرنے کے برابر ہے۔ بنو اسماعیل وہ بھی آگئے۔ اب سوچیں کہ کیا رسول اللہﷺ کا کلام ہوسکتا ہے۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔یہ ہے ہمارے علماء کا مبلغ علم! یہ جو علماء عجیب و غریب فتوے دینے والے آج دنیا میں پیدا ہوگئے ہیں۔ یہی کتابیں پڑھتے ہیں اصل میں، یہ پڑھتے ہیں، اپنی عقل سے عاری ہیں۔اندھوں کی طرح دوسروں کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر چل پڑتے ہیں اور نہیں جانتے کہ گڑھوں میں پھینکا جارہا ہے ہم کو، اور اپنے ساتھ دوسری قوم کو بھی ، ساری قوم کو گڑھے میں ڈال دیتے ہیںپھر۔ اب یہ رسول اللہ ﷺ کا قول سن کر ، کوئی مان سکتا ہے آدمی۔ ہر گھونٹ جو پلاتی ہے وہ اتنے غلام آزاد ہورہے ہیں اور وہ بھی بنو اسماعیل ۔ یعنی عام بیرونی غلام کی تو کوئی قیمت نہیں ہے۔ حضرت اسماعیل کی اولاد کا جو غلام ہے اس کو آزاد کرنا تو بہت بڑا مرتبہ ہے۔’’ جب وہ بچہ کیلئے رات بھر بیدار رہتی ہے تو اس کی ہر شب بیداری بنو اسماعیل کی اولاد میں سے ایک گردن آزاد کرانے کے برابر ہے‘‘۔ اب آپس میں ذرا موازنہ کرکے دیکھ لیں۔ بچے کو دودھ پلانا، جو اگر نہ پلائو تو مصیبت میں مبتلاء ہوجائے۔ وہ چھاتیاں تو بھر جائیں تو پھوڑے بن جاتے ہیں اگر وہاں بچے دودھ نہ پئیں تو۔ بچہ احسان کررہا ہوتا ہے عملاً ایک لحاظ سے ۔ تو کہتے ہیں اس کا تو ہر گھونٹ اور ایک بچے کیلئے ساری رات جاگنا یہ بھی بنو اسماعیل کا ایک غلام آزاد کرانے کے برابر ہوگیا۔ ہاں یہ شرط ہے کہ یہ اجر ایسی صابر اور خوف خدا رکھنے والی مومنات کیلئے ہے جو اپنے خاوندوں کی نافرمانی نہیں کرتیں۔ اس طرح انہوں نے عورتوں کو باندھا ہے زنجیروں میں۔ رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرکے اپنی زنجیریں ان کوپہنادی ہیں۔
    سفہاء ہیں کون؟ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت اسی تفسیر روح المعانی میں ، یہی ہے ناروح المعانی جس کا حوالہ پیش کیا تھا۔ہاں یہی! اس میں یہ روایت بھی ہے اس کے برعکس! عورتیں اوربچے۔ وہ کہتے ہیں بچے بھی سب شامل ہیں۔ عورتیں صرف بیوقوف نہیں بچے بھی سب بیوقوف۔ امام رازی اس کو اس شرط کے ساتھ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ بھی شامل ہوسکتے ہیں مگر ہر وہ شخص جو احمق ہو، جو تصرفات پر اختیار نہ رکھتا ہو، اپنے فائدے نقصان کی تمیز نہ رکھتا ہو۔ ہر وہ شخص سفیہ کہلائے گا اور یہ اس آیت میں وہ سب شامل ہیں۔اب ایک روایت میں لکھا ہے کہ یقینا عورتیں سفہاء میں داخل ہیں۔ یہ بھی روایت تفسیر ابن کثیر نے ابو عمامہ سے بیان کی ہے کہ عورتیں لازماًسفہاء ہیں کیونکہ پہلے عورتوں کا ذکر تھا اس لیے اب سفہاء سے صرف عورتیں مراد ہیں۔ ابو موسیٰ بیان کرتے ہیں کہ تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کی دعا اللہ قبول نہیں کرتا۔ ایسا آدمی جس کی بیوی بدخلق ہو اور وہ اسے طلاق نہیں دیتا، اب رمضان کا دعائیںقبول کرنے کا مہینہ ہے ۔ اب دیکھ لیں، اپنے اپنے گھروں کا جائزہ لے لیں۔ ہر ایسا شخص جس کی بیوی بدخلق ہو اور وہ اسے طلاق نہیں دیتا کہتے ہیں خدا اس کی دعا کبھی قبول نہیں کرے گا۔ جتنے مرضی رمضان گزر جائیں، وہ آدمی جس نے اپنامال سفیہ کو دے دیا، اور سفیہ سے مرادکیا ہے؟ عورت! اسی حدیث کا حصہ ہے جس میں بتایا گیا ہے۔ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے صاف فرمادیا کہ ہر عورت بیوقوف ہے۔ یہ خدا نے فرمادیا ہے رسول اللہﷺ نے نہیں۔ اور جو شخص بیوقوف کو مال دے دے گا اس کی دعا کبھی قبول نہیںہوگی اور وہ شخص جو کسی سے قرض تو لیتا ہے لیکن قرض دیتے وقت گواہ مقرر نہیں کرتا اس کی دعا بھی کبھی قبول نہیں ہوگی۔ اب ایسے تو میرا خیال ہے اکثر آپ میں سے بیٹھے ہوں گے جنہوں نے قرض واپس کیا ہوگا اور گواہ نہیں بنایا ہوگا ان کی تو نہیں ہوگی دعا۔ لیکن جو قرض دیا ہی نہیں جنہوں نے وہ شاید مقبول ہوجائے کیونکہ ان کے خلاف کوئی ذکر نہیں یہاں ملتا۔ حضرت محی الدین ابن عربی جیسا کہ صوفیانہ مزاج تھا وہ یہاں مال سے مراد بعض دوسری قرآنی آیت کے پیش نظر معرفت کے حقائق لیتے ہیں یہ مراد ہے۔ لیکن یہ صوفیانہ معنے ہیں جو اوپر کی فضا میں اُڑنے والے ہیں۔ روز مرہ کے لین دین کے معاملات میں یہ مراد نہیں ہیں۔باقی تو سب وہی ۔ سفیہ کے لفظ کا غلط استعمال اور جو خدا نے حق دیا دوسرے ہاتھ سے اسے گویا واپس لے لیا سفیہ کہہ کے! عجیب و غریب تفسیریں کی ہوئی ہیں سمجھ ہی کچھ نہیں آتی۔ دماغ بھِنّا جاتا ہے آدمی کا پڑھ پڑھ کے۔ تفسیر کافی میں لکھا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے۔ ایک تو یہ کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو انہوں نے بڑا نشانہ بنایا ہے۔ جہاں تفسیری معاملہ ہو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حوالہ دے دیا، بات ختم ہوگئی اور جہاں عام حدیثیں بیان کرنی ہوں وہاں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام کافی ہے اور اکثر انہی دو کے درمیان بات مکمل رہتی ہے۔ اس کے دائرے کے اندر ہی رہتی ہے۔ سب سے اہم حصہ ضروری یہ ہے کہ قرآن اور محمد رسول اللہﷺ کی سنت کی کسوٹی پر اگر کوئی حدیث پوری اُترتی ہے تو روایت ہو یا نہ ہو اُسے ضرور قبول کرو، کیونکہ اس کا جھوٹا ہونے کا بہر حال کوئی امکان نہیں ہے اور اگر اس کے منافی ہے تو ہزار روایتیں کہہ رہی ہوں اس کو قبول نہ کرو اور یہاں بالرائے مراد نہیں ہے۔ واضح، قطعی، قرآنی مسلک جو واضح ہیں اور کھلے ہیں اور بینات میں داخل ہیں۔ رسول اللہﷺ کی سنت جو بینات میں داخل ہے وہ مراد ہے میری! اب یہ جو روایتیں، نام سن کر لوگ مرعوب ہوکر عجیب و غریب قسم کے مسلک اختیا ر کرلیتے ہیں اس کی ایک مثال دیکھیں۔ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو مال تمہیں بخشا ہے اور جس مال میں تصرف کا تمہیں اختیار دیا ہے اور اسے تمہارے گزر اوقات کا ذریعہ بنایا ہے، اسے دوسروں کو دینے کا قصد نہ کرو ۔ اس طرح کہ اگر تم اسے اپنی بیوی اور بیٹی کو دے دو اور پھر ان سے واپسی کی امید لگائے بیٹھے رہو ، تو یہ نہیں ہوسکتا پھر! دے دو گے تو پھر گئی۔ گویا کہ اپنی بیوی کو بھی کچھ نہیں دینا، اپنی بیٹی کو بھی کچھ نہیں دینا۔ یہ کہاں سے حدیث آگئی ہے؟ رسول اللہ ﷺ تو عورتوں سے، بچوں سے حسن سلوک پر اتنا زور دیتے تھے کہ بسااوقات ایسی روایتیں بھی ملتی ہیں کہ کسی شخص نے اپنا سب مال پیش کردیا، آپﷺ نے قبول نہیںکیا۔ آپﷺ نے فرمایا بیوی بچوں کیلئے کیا چھوڑ کے آئے ہو؟ تو رسول اللہ ﷺ تو اہل و عیال کا خیال رکھنے کی سب سے اعلیٰ مثال تھی۔ فرماتے ہیں کہ خیرکم خیرکم لاھلہ۔ تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل سے اچھا ہو۔ وانا خیرکم لاھلہ میںہر اس شخص سے زیادہ اپنے اہل کا خیال رکھتا ہوں جن پر لفظ خیر کا اطلاق پاتا ہے۔ باقی انشاء اللہ کل!
    ایک حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا اقتباس ہے۔ میں اسے باقی کل پھر پیش کروں گا۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    إإإ

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    درس القرآن ماہ رمضان
    مورخہ13؍رمضان بمطابق 3؍ فروری 1996ء
    اعوذ باللّٰہ من الشیطٰن الرجیم ۔ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
    ولا تُؤتوا السُفھاء اموالکم الّتی جعل اللّٰہ لکم قیامًا وارزقو ھم فیھا واکسُوھم و قولوا لھم قولاً معروفاً (سورۃ النساء :۶ )
    اس پرپرسوں کچھ تھوڑی سی بات تو ہوچکی ہے ناں! یہاںلفظ سفیہکی بحث ہے اب، کہ سفیہ کس کو کہتے ہیں۔ سفیہ کا ایک لفظ جو ہے یہ بہت عام معنوں میںاستعمال ہوتا ہے، مختلف موقعوںپر اس کے مختلف معانی ہیں۔ قرآن کر یم کی ایک مثال میں نے پہلے بیان کی تھی۔ ایسا شخص جس کو خود اپنے مفاد کا کوئی علم نہ ہو۔ اُس موقع پر قرآن کریم نے لفظ ’’السفہائ‘‘ کا استعمال کیا ہے۔ اپنے آپ کوہوشیار بھی سمجھتا ہو اور اپنی طرف سے چالاکیاں بھی کرتا ہو، مگر بالآخر اس کا ہر فیصلہ اس کے اوپر اُلٹ پڑے۔ اس کے مفاد کے خلاف جائے ، خداتعالیٰ کے نزدیک یہ شخص سفیہ ہے۔اور اہل لغت نے جو بحثیں اٹھائی ہیں‘ ان میں کچھ تو عموماً بیوقوف‘ موٹے دماغ والا آدمی اور روزمرہ کی سمجھ سے عاری‘ یہ سب باتیں اس میں‘ لغت میں سفیہ کے لفظ کے نیچے ملتی ہیں۔مگر ایک ایسی تعریف ہے جس کا مال سے خصوصیت سے تعلق ہے۔ اور وہ ہے ’’جو اپنے مال کے تصرف میں‘ اپنے حق میںصحیح فیصلہ نہ کرسکے اور مال کے تصرف کے لحاظ سے عاری ہو‘‘۔
    حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو خاص طور پر اس ترجمے کو اس موقع پر بہت پسند فرمایا ہے۔ اور دلیل یہ دی ہے کہ یہی ترجمہ کیوںہوناچاہیے؟ دلیل یہ دی ہے کہ ایسے بھی لوگ نظر آتے ہیں جو بظاہر بیوقوف ہیں اور ہر دوسری بات میںبیوقوف ہیں مگر مال میں ایسے چالاک کہ ان کی مثال نظر نہیں آتی‘ تو دوسری بیوقوفی کے بہانے ان کو اموال کے حق سے کیسے محروم کرسکتے ہو؟ اور کچھ ایسے ہیںجو بہت ہوشیار‘ ذہین‘ لیکن مالی معاملات میں کمزور۔ اور عورتوں میں اس قسم کی جو ہے ناں سفاہت یعنی ان محدود معنوں میں ‘ یہ زیادہ ملتی ہے۔ تبھی مالی امور میں گواہی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہاں ایک مرد کی بجائے دو عورتیں یعنی یہ نسبت اس لئے قائم فرمائی جارہی ہے تاکہ اگر کوئی ایک بھول جائے‘ اُسے مالی بات کی سمجھ نہ ہو تو دوسری یاد کرادے۔ تو یہاں سفاہت سے مراد عام بیوقوفی نہیں ہے‘ ایسی عورتیں بھی جو ہر دوسرے معاملے میںبڑی روشن دماغ ہوتی ہیں‘ اپنی جائیدادیں سنبھالنے میں‘ اپنے اموال سنبھالنے میں دقت محسوس کرتی ہیں۔ ان کا مزاج اس طرف نہیںآتا۔ اس کے برعکس ایسی عورتیںبھی ہیںجو مردوں سے بھی زیادہ مالی امور میںسلیقہ رکھتی ہیں‘ ہوشیار ہیں۔ اور بڑی بڑی تجارتیں چلاتی ہیں اور یہ جو عورتیں ہیں یہ ضروری نہیں کہ بحیثیت عورت کے یہ ملکہ رکھتی ہوں‘ نہ مالی امور میں بہتر سلیقہ مردوں کا حصہ ہے نہ عورتوں کا۔ یہ ملکوں اور قوموں کے رواج پر منحصر بات ہے ۔ چنانچہ برما میںاکثر تجارتیں عورتیںکرتی ہیں۔ اور بہت ہی ہوشیار ہیںتجارتوں میں ۔اللہ کے فضل کے ساتھ جن کی میرے ساتھ خط و کتابت ہے‘ احمدی خواتین‘ وہ اپنے مردوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ تجارت میں ہوشیار اور مالی امور میں انہوں نے بہت ہی گہرا ملکہ حاصل کرلیا ہے۔اسی طرح افریقہ کی عورتیں مالی امور میں بڑی سمجھدار ہوتی ہیں۔
    پس اس پہلو سے بھی سفہاء کا ترجمہ ’’عورت‘‘ کرنا سراسرناجائز ہے۔ سفہاء ایک ایسی صفت ہے جس کا ایک خاص زیر بحث معاملے سے تعلق ہے‘ وہ ہے اموال۔اور اس سے زیادہ وسیع معنے کرنے کا کسی کو کوئی حق نہیں۔مال کے معاملے میںخواہ مرد بے سلیقہ ہو‘ اور بیوقوف ہو یا عورت ہو‘ دونوں کے ساتھ برابر سلوک ہونا چاہیے۔اور خطاب اس میں سفہاء کہا گیا ہے جس میں اوّل طور پر مرد مخاطب ہیں‘ سفیہ مرد کو کہتے ہیں سفہائاس کی جمع ہے۔ پس عورتوں کو مخاطب نہ کرنا اس غرض سے ہے کہ مردوںکے خطاب میںعورتیںشامل ہوجایا کرتی ہیں۔ عورتوں کے خطاب میںمرد شامل نہیںہوتے۔ اس لئے قرآن کریم نے اس طرزِ خطابت کو بھی وسیع رکھا ہے اور کھلا رکھا ہے۔ تو یہ باقی ساری باتیں یونہی بعض لوگوں کے بہانے ہیں‘ عورتوں بیچاریوںکو ان کے حقوق سے محروم کرنے کیلئے کئی قسم کی ایجادیں مردوں نے کررکھیں ہیں‘ یہ بھی انہی میںسے ایک ہے۔ مگر قرآن کریم میںسفہاء کا لفظ جس طرح استعمال ہوا ہے‘ جائز اجازت اس کی نہیںدیتا۔ اور یہ معاملہ صرف بیویوں کے تعلق میں ہے ہی نہیں‘ نہ یتیم عورتوں کے متعلق ہے۔ جب کہ بعض مستشرقین نے بھی اسے بے وجہ یتیم عورتوں تک محدود کردیا ہے۔عربی اور قرآن کے استعمال سے قطعی طورپریہ وسیع معاملہ ہے۔ہرمالی معاملے میں مرد ہو یا عورت یتیم ہو یا غیر یتیم ہو‘ اس کے اموال اُس حدتک قوم کی ذمہ داری ہیں‘ جس حد تک قوم امین ہے تمام اپنی قومی دولت پر ۔ اس پہلو سے اموالکم فرمایا گیا ہے۔ جہاں قوم کسی مال پر امین نہیں ہے‘ وہاں ہر جگہ دخل اندازی کا قوم کو حق نہیں ہے۔ اور یہ دو جو چیزیں ہیں‘ فقہاء نے الگ الگ اٹھائی ہیں۔ یہ سوال بھی اٹھادیا کہ اگر کسی ایسے شخص کو جو ذہنی طور پر مالی امور میں ہوشیار نہ ہو یا تجربہ نہ رکھتا ہو‘ اس کو اس کی جائیداد سے محروم کیا جاسکتا ہے‘ اس کے تصرف سے۔ تو پھر اگر بعد میںکوئی شخص اس قسم کی حرکتیں کرے تو کیا اسے بھی محروم کیا جاسکتا ہے۔ یعنی ہر شخص کے حق میںدخل اندازی ہوسکتی ہے۔ کسی کو دے کر پھر اس سے واپس لیا جاسکتا ہے۔ یہ جو بحث ہے یہ اسی آیت کے حوالے سے فقہاء نے اٹھائی اور بعض نے یہ فتویٰ دیا کہ دے دو مال‘ یہ سمجھ کر کہ وہ معقول ہے‘ لیکن نظر رکھنا ہر وقت‘ جہاں بیوقوفی ہوئی وہاں اُس سے مال واپس لے لیا۔ اگر قرآن کریم کا یہ منشاء ہوتایا ہو تو دنیا میں تجارتیں چل ہی نہ سکیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کئی اچھے تاجر بھی کبھی غلط سودے کرکے کھودیتے ہیں‘ سب کچھ یا ایک حصہ ضائع کر بیٹھتے ہیں۔ جبکہ بعض جائیدادیں ہیں جو ابھی قائم ہیں۔
    پس کیا ایسی صورت میں ان قائم جائیدادوں پر قبضہ کرلے گی حکومت۔ یہ جو دخل اندازیاں ہیں بہت زیادہ آگے بڑھانے سے سارا نظام تباہ ہوسکتا ہے۔ اس لیے کسی آیت کے منطوق کو ‘اس کے محل کوسمجھنا ضروری ہے۔ یہاں بنیادی طور پر بحث جوہے وہ اس پس منظر میں ہے کہ بہت سے یتامیٰ ہیں‘ بہت سے بچے ہیں‘ بہت سے بڑے بھی ہیں۔ جن کو ان کے والدین کی شہادت وغیرہ سے اچانک جائیداد وں کے استعمال کی ضرورت پیش آگئی اور اس کے نتیجے میں کئی ایسے ہیں جن کوچونکہ تجربہ نہیں ہے یا عقلی طور پر مالی امور کا سلیقہ نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے وہ قومی جائیداد کو ضائع کریں۔ اور قومی جائیداد کو ضائع کرنے میںصرف یہ مراد نہیں ہے کہ ان کا مال جاتا رہے۔ قوم کے اموال بھی اس طرح گھٹتے ہیں اور غلط رحجانات تجارتوں میں پیدا ہوجاتے ہیں۔ ایک یہی بے احتیاطی ان معاملات میں‘ بددیانتی کو بھی جنم دیتی ہے۔ پس جہاں دیکھا کہ کوئی سادہ سا آدمی ہے اس تک پہنچ کر کسی طرف سے‘ خاموشی سے اس سے سودے کرلیے جائیں ‘اُس سے ایسی باتیں طے کرلی جائیں‘ جو عملاً اس کے مال پر تصرف کا مرتبہ رکھتی ہوں اور پتہ اس وقت لگے جب معاملہ طے ہوچکا ہے‘ ختم ہوچکا ہے۔ اس طرح اور اس کے علاوہ بھی بہت سے بددیانتی کے موقعے کھلیں گے۔ اور خطرہ ہے کہ ساری اقتصادیات کا مزاج بگڑ جائے گا۔ اور قرآن کریم نے بھی اور احادیث میں آنحضرتﷺ نے بھی مالی معاملات میںاس احتیاط پر بہت زور دیا ہے کہ اس سے بد دیانتی پیدا نہ ہو۔ تو ایسے حالات میں ایسا احتمال اٹھتا ہے اور واقعۃً یہ ہوجاتا ہے۔ میرے علم میں ذاتی طورپر ایسی مثالیں ہیں جن میںکسی نے اپنی جائیداد چھوڑی اوربڑی محنت سے کمائی اور بڑی محنت سے اپنی اولاد کے حقوق کا خیال رکھا۔ اولاد بالغ ہے اور اپنااپنا حصہ لے لیتی ہے تصرف میں کچھ ہیںجو بڑھادیتے ہیں‘ کچھ ہیں جو سب کچھ ضائع کربیٹھتے ہیں۔ کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ اگر خاندان بحیثیت مجموعی اس بات پر زور دیتا کہ قرآن کریم کے حکم کے مطابق بالغ توہو‘ ورثے کے اہل تو ہو مگر یہ مطلب میرا ہرگز نہیں ہے کہ تم اموال کو اپنی بیوقوفیوں سے ضائع کرو جو دراصل قومی ملکیت ان معنوںمیں ہیں‘ کما یاتو باپ نے تھا اور ورثہ جب انسان پاتا ہے تو خدا کی طرف سے دوبارہ ملکیت اس کی طرف منتقل ہوتی ہے۔ براہِ راست انسان مالک نہیں بناکرتا۔تو اس پہلو سے ورثہ حاصل کرنے کی شرط کو پورا کرو۔ اگر تم میں صلاحیت نہیں ہے تو ہم انتظام کریں گے۔ اور تمہاری ضرورتیں پوری کریں گے۔ اس تعلق میںایک اور بحث بھی اٹھتی ہے کہ کھانا کھلانا وارزقوھم فیھا واکسوھم سے کیا مراد ہے؟ ایک تو عام مراد تھی جس کے متعلق میںپرسوں بات کرچکا ہوں۔ایک یہ ہے اس کو کھانا کھلانا‘ پہنانا‘ اوڑھانا ‘ کیا مطلب یہ ہے کہ ہر ایسی صورت میں اس کو کپڑے خرید کے دو‘ سودا لاکے دو‘ اس کو معین روٹی دو اور کہو کہ یہ تمہارا انتظام ہے۔ لنگر سے روٹی منگوادو اُسے پیسے دے دو۔ کیایہ مراد ہے؟ ہر گز یہ مراد نہیں ہے۔ کیونکہ یہ مراد اس مبحث کے مقصد کے خلاف ہے جو اٹھایا گیا ہے۔ مبحث صرف یہ ہے کہ ایسا شخص اپنی جائیداد کے انصرام‘ اس کے انتظام کی اہلیت رکھتا ہے کہ نہیں۔ دو الگ الگ چیزیں ہیں جس کا فرق سامنے رکھنا ہوگا۔ ایک ہے مالی امور کی ایسی نگرانی جیسے ایک تاجر کو کرنی پڑتی ہے یا زراعتی امور کی ایسی نگرانی جیسے ایک زمیندار کو کرنی پڑتی ہے۔ اس میں کافی انتظامی ڈھانچہ بھی ہے۔ بروقت کاشت کرنا‘ مختلف موسموں کے تقاضے پورے کرنا‘ مختلف بیماریوں کے خلاف مستعد رہنا وغیرہ وغیرہ۔بیحد تقاضے ہیں جو زمیندارے کے ساتھ بھی خاموشی کے ساتھ چلتے ہیں۔
    اب ایک شخص جس کو اس کا تجربہ نہیںہوگا‘ اس کو وقتی طور پر اس کا انتظام دینے سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کو ہم پہلے کچھ تھوڑا تھوڑا اس بات کیلئے تیار کرلیں‘ یہ ایک الگ مضمون ہے۔ ایسا شخص روز مرہ جو خرچ کرتا ہے وہ ٹھیک کرتا ہے بسا اوقات۔ اور ضروری نہیں کہ اسراف کرے۔ ایسا شخص بسا اوقات اپنے رہن سہن گھر بار کو آرام سے چلا سکتا ہے۔ تو ایک علاقے کی‘ ایک جگہ کی کمزوری کو دوسری جگہ پر کیوں اطلاق کیا جائے اور اس کی زندگی کو کیوں مصیبت بنایا جائے اور قرآن کریم کا یہ منطوق تو نہیں ہے۔ قرآن کریم تو حقیقی مسائل کو اٹھاتا ہے‘ حقیقی مسائل کے حقیقی حل تجویز کرتا ہے اور کوئی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ ایک مسئلے کے حل کو اس طرح بگاڑا جائے کہ ایک اور جگہ مسئلہ پیدا ہوجائے۔ پس مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنی جائیداد کے تصرف کی اہلیت نہیں رکھتے۔ اور ان کو نقصان کا خطرہ ہے۔ ان کے مفاد میں بات ہورہی ہے‘ قوم کے مفاد کا تو ضمناً ذکر آیا ہے۔ اصل میںان کا مفاد ہے اور اس کی حفاظت کا ایک طریق بتایا ہے۔ ان کے مفاد کے نام پر ان کو نقصان پہنچا دو اور ان کو عمر بھر کیلئے قیدی بنالو اپنا۔ یہ کیسے قرآن کریم کا مطلب نکال سکتے ہو۔ پس قرآن کا جو مفاد ہے‘ جو منشاء ہے اس کو سامنے واضح طور پر رکھے بغیر قرآن کریم کا کوئی مفہوم اختیار کرنا اور لوگوں میں اس کی تلقین کرنا درست نہیں ہے۔ پس یہ ایک معین موقع ہے جو بڑا واضح ہے۔ سفہاء کا ذکر اموال کے تعلق میں واضح ہے۔ جیسا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مؤقف لیا۔ جیسا کہ اہل لغت بھی بیان کرتے ہیں کہ یہاں محدود معنی ہوگا سفاہت کا جو مالی امور اور مالی لین دین میں اس بات کے اہل نہیں ہیں۔یہی محدود معنٰی بعض دفعہ خرچ کے تعلق میں بھی ہو جاتا ہے۔ اور جہاں یہ دو باتیں اکٹھی ہوجائیں پھر وہ ایسے مسائل بڑے گھمبیر ہوجاتے ہیں‘ ان کا حل کرنا بڑا مشکل ہوجاتاہے۔
    بعض ایسے ہیںجو انتظام تو نہیں کرسکتے مگر روز مرہ کا اپنی دیکھ بھال کرنا اور عام دنیا کے معقول طریق پر خرچ کرنا‘ ہاتھ کھلاکرنا‘ ہاتھ روکنا یہ سب صلاحیتیں رکھتے ہیں۔ اور بعض ایسے ہیں جو نہ انتظام کا سلیقہ رکھتے ہیں نہ روز مرہ کے خرچ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اور ان کا معاملہ کوئی لکا چھپا معاملہ نہیںہوا کرتا۔ جائیداد کے تصرف سے پہلے بھی قرضے اٹھانے والے لوگ ہیں یہ۔ باپ کی‘ ماں کی یا کسی اور جس کا وارث وہ بنے ہیں یہ ‘ اس کا وارث بننے سے پہلے ہی یہ حال ہوتا ہے کہ آئے دِن کبھی اُس سے قرضہ کھایا کبھی اُس سے قرض پکڑا اور ماںباپ کو بسا اوقات ان کے قرضے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ بعض دفعہ اگر وہ نہ دیں تو پھر ان کو مصیبت پڑتی ہے۔ ایسے لوگ سوسائٹی کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہیں جن پر سفاہت دونوں پہلوؤں سے صادق آجائے۔ جب یہ جائیداد کے وارث بنتے ہیں تو آناً فاناً ان کی جائیداد غائب ہوجاتی ہے اور اس موقعے پر ناجائز فائدہ اٹھانے والے ان سے بہت ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کچھ ان کی شہزادگی کی تعریفیں کرتے ہیں کہ واہ! واہ! بھئی یہ ہے شاہی خرچ ماشاء اللہ۔ یہ ہیں شہزادگان ان کو پتہ ہے کہ کس طرح زندگی میں رہنا ہے۔ مہمان آئے ہیںتو سب کچھ ان پہ لٹادیا۔ کئی قسم کے کھانے کھلائے‘ ہوٹلوں میں پھرایا‘ ان کی کاروں کے بل ادا کئے۔ بڑی واہ‘ واہ ہوئی۔ لیکن وہ تجارت کے پیسے سے نہیں کمارہے ہوتے‘ وہ جائیدادیں بیچ بیچ کے کھارہے ہوتے ہیں۔ یہ وہ سفیہ ہیں جن کا اوّل طور پرقرآن کریم میں ذکر ہے کہ اگر ایسے لوگ ہوںجو نہ جائیداد سنبھال سکتے ہوں نہ انہیں خرچ کا سلیقہ ہو‘ دکھائی دے رہے ہیں تمہیں۔ تم اگر خاموش بیٹھے رہو گے تو قوم کی جائیدادیں ضائع ہوںگی۔ اس لئے دخل دو اور کورٹ آف وارڈ جو میں نے لفظ استعمال کئے تھے وہی یہاں برمحل صادق آتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر کورٹ آف وارڈ مقرر ہونی چاہیے اور بلکہ ان کے اخراجات پر بھی نظرہونی چاہیے۔ ان کے متعلق ؟ سوسائٹی کو متنبہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ ایسے لوگوں پر کورٹ آف وارڈ اس وجہ سے ہے ‘ اگر تم نے ان کو قرضے دیئے تو ہم ذمہ دار نہیںہوں گے۔ایک دفعہ انگلستان میں ایک جلسے سے پہلے میں نے یہ اعلان کیاتھا وہ کورٹ آف وارڈ کی شکل تو نہیںتھی مگر اس سے ملتی جلتی ضرورتوںکے پیش نظریہ اعلان کرنا پڑا کہ بہت سے آنے والے ایسے ہیں جن کے جانے کے بعد یہ شکایتیں ملتی ہیں کہ آپ میںسے جو لوکل ہیں ان میں سے کئیوں سے قرض لے گئے کہ ہم جاکے واپس کردیںگے اور آپ نے اپنی طرف سے مہمان نوازی کے تقاضے پوری کرتے ہوئے اور یہ شاید اپنی واہ واہ کیلئے بھی ایسا کردیا ہو‘ اگر کمزوری دکھاگئے ہیںیا سچی ہمدردی میں یہ کام کیا ہو۔ مگر یہ بھی ایک سفاہت ہے۔ اس سفاہت سے بھی بچنا ضروری ہے کہ کسی سفیہ کے مددگار بن جائیں۔ او رپھر اپنامال بھی ضائع کر بیٹھیں۔تو میں نے یہ وارننگ دی تھی کہ اگر کوئی آتا ہے اور آپ سے قرض مانگتا ہے ‘ آپ کا فرض ہے کہ یا تو جماعت سے پہلے مشورہ کریں اور معلوم کریں کہ پیچھے ان کے کیا حالات تھے۔ ان کی کیا روایات ہیں اور پھر دیں۔ تو پھر اپنی ذمہ داری پر دیں۔ ایسی صورت میں اگر جماعت نے غلط انفارمیشن پہنچائی تو پھر جماعت سے بھی پوچھا جائے گا کہ کیوں ایسا کیا؟لیکن بالعموم ایسا نہیںہوا کرتا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ‘ نیک نیتی سے‘ صحیح حالات سے ہی پوچھنے والوں کو آگاہ کیا جاتا ہے۔ اگر آپ نے اپنی ذمہ داری سے اس خیال سے کہ ذاتی تعلقات ہیں ہم نہیں پسند کرتے کہ تحقیق کریں‘ ان کو کچھ رقم دی تو پھر میرے پاس شکایت نہ کریںاب۔ میں نے آپ کو متنبہ کردیا ہے۔ آپ ذمہ دار ہیں اس شرط پر دیں کہ کھا گیا تو کھاگیا مگر جماعت کونہ پھر پکڑیں۔ مجھے چٹھیاں لکھ کے میری طبیعت مکدر نہ کریں کہ فلاں آیا اور لے کے بھاگ گیا‘ فلاں آیا اور لے کے بھاگ گیا‘ فلاں دور سے یا نزدیک سے آپ کا رشتہ دار بھی بنتا ہے۔فلاں ایسے خاندان سے ہے ہم تو سمجھتے تھے کہ بہت اعلیٰ خاندان کا ہوگا یہ کر بیٹھا ہے۔ یہ ساری باتیںاس آیت کے منطوق کے خلاف ہیں۔ یہاں سب خاندان پیش نظر ہیں اچھے ہوں ‘ برے ہوں‘ کمزور ہوں‘ امیر ہوں یا غریب ہوں۔سب برابر اس آیت میں مخاطب ہیں اور مراد یہ ہے کہ دو باتوں میںمومن کیلئے احتیاط ضروری ہے۔
    اپنے مال کے تصرف میں جہاں تک ممکن ہے ایسا تصرف ہو کہ مال بڑھے کم نہ ہو اور انسان اصل زر کونہ ختم کرے۔ پس سفاہت کا پہلا امتحان یوںہوتا ہے کہ ایک شخص جو اپنے کھانے پینے میں اصل زر پر ہاتھ ڈال رہاہے وہ سفیہ ہے۔ میرے نزدیک اس سے زیادہ واضح‘ قطعی اور کوئی تعریف ممکن نہیں ہے۔ ہر وہ شخص جو وارث ہوتے ہی جائیدادیں بیچنے لگ جاتا ہے‘ جو تجارتیں بیچنے لگ جاتا ہے‘ جس کا خرچ فوراً اس کی آمد سے بڑھ جاتا ہے وہ سفیہ ہے۔ اور اگر خرچ نہ بھی بڑھے تب بھی پارشل(partial)سفیہ ہے وہ۔ اگر وہ انتظام سے توعاری ہے لیکن اخراجات مناسب ہیں‘ ایسی صورت میںاس حصہ میں دخل دینے کا قوم کو کوئی حق نہیں۔ کہ اس کا روٹی کپڑا لگوادو اور کہو کہ بس۔ ایسی صورت میں اس کی جائیداد کے انتظام سنبھالنا‘ اسکی مدد کرنا قومی فرض ہے۔ لیکن محض کپڑا اور سبزی اور گوشت خرید کردینا یہ قومی فریضہ نہیںہے۔ یہ اس کے حق اور اس کی عزت کے بھی خلاف ہے۔ پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ و قولوا لھم قولاً معروفاً ایسے موقع پر بسا اوقات دل آزاری کی باتیں بھی کردی جاتی ہیں اور یہ طعنے جو ہیں یہ ان بیچاروں کی زندگیاں اجیرن کردیتے ہیں کہ تم تو بس کھانے پینے کیلئے آئے ہو‘ تم نے تو سب کچھ اُجاڑ دیا‘ تمہارے ماں باپ نے کس محنت سے کمایا‘ اپنا حال دیکھو۔ یہ طعنے کبھی بھی فائدہ نہیںدیتے۔کیونکہ آج تک میں نے کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیںدیکھا جو ان طعنوں کے نتیجے میں سنبھل گیا ہو۔اس کے دل میں انتقامی جذبہ تو پیدا ہوتا ہے‘ اور زیادہ متنفر ہوتا ہے اور اپنے احسان کرنے والوں کا دوست بننے کی بجائے اُن کے خلاف انتقامی جذبے پالتا ہے۔ اور کہتا یہ دیکھو رشتے دار بنے بیٹھے ہیں۔ یہ میرے بڑے بنے بیٹھے ہیں‘ یہ تو ہر وقت طعنہ زنی کرتے ہیں اور ان کا کیاکام ہے میرے معاملے میں دخل دینے کا۔ یہ نتیجہ نکلتا ہے۔ اس کا اگلا نقصان یہ ہے کہ ان کی اولادیں تباہ ہوجاتی ہیں۔ اکثر میں نے یہ دیکھا ہے۔ یہ جو آیت ہے اس کا مضمون بہت گہرا اور وسیع ہے۔ ایسے خاندانوں میںجہاں ماں باپ سے سوسائٹی طعن آمیزی کاسلوک کرے وہ اپنے بچوں کو سوسائٹی کے خلاف کرتے رہتے ہیں ۔بچپن سے ان کے کان بھرتے رہتے ہیں اور جب وہ بڑے ہوتے ہیں تو وہ بھی بیچارے کسی کام کے نہیں رہتے ۔ احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یا اپنے ماںباپ کی وجہ سے سوسائٹی کے خلاف ایک انتقامی غصّہ لے کر اسے پالتے ہوئے بڑے ہوتے ہیں۔
    پس ان سب پہلوئوں سے احتراز لازم ہے اور یہ جو آخری حصہ ہے یہ بڑا ضروری ہے بیان کرنا۔ و قولوا لھم قولاً معروفاً دیکھو بیوقوفی ہے تبھی تو تمہیں حق دیا ہے کہ ان کے مال سنبھالنے میں ان کی مد د کرو۔ مگر یہ حق نہیںدیا کہ طعن آمیزی کرو‘ یہ حق نہیں دیا کہ ان کے دل دُکھائو‘ان کے ساتھ جب بات کرو تو معروف بات کرو‘ مناسب بات کرو اور معروف بات میںیہ بھی ہے کہ ان کی تربیت کرو ‘ ان کو تلقین کرو۔ صحیح باتیں کیسے کرنی چاہئیں؟ روز مرہ کے معاملات میں معروف طریق کیا ہے۔ اس کی بھی ان کو نصیحت کروا ور اس معاملے میں ان کی تربیت کی کوشش کرو۔ یہ ہے عمومی اس آیت کا مبحث اور جو میں سمجھا ہوں۔ وہ میں نے آپ کے سامنے کھول کر بیان کردیا ہے۔ باقی معجم الوسیط وغیرہ جتنی بھی لغت کی کتابیں ہیں یا تفاسیر ہیں انہوں نے جو معنے بیان کیے ہیں سفاہت کے وہ وہی ہیں جو میں آپ کے سامنے رکھ چکا ہوں ۔ بعض کہتے ہیں : غلط راہ پر ڈالا سَفَہَ و سَفِہَ اوربعض کہتے ہیں اس کا یہ بھی ترجمہ ہے کہ ہلاک کردیا۔ پس مال کے تعلق میں غلط رستے پر چلنے والے یا اپنے اموال کو ‘ جائیدادوں کو ہلاک کردینے والے‘ یعنی کچھ بھی ان کا باقی نہ رہے۔ یہ سارے وہ سفہاء ہیں۔ پھر دھوکہ دینا بھی سفاہت میں داخل ہے۔ السافِہ ایک احمق کو کہتے ہیں۔ السفیہُ من یبزرمالَہَ فی مالاینبغی یعنی وہ شخص جو اپنے مال کو ناجائز جگہوں پر خرچ کرے۔ پس یہ دو الگ الگ تفریقیں ضروری تھیں جو میںنے آپ کے سامنے رکھ دی ہیں۔مال کا تصرف ایک پہلو ہے اس کا اور روز مرہ کے خرچ چلانا دوسرا پہلو ہے۔ اور ضروری نہیںکہ دونوں اکٹھے ہوں۔ بعض جگہ ایک پہلو چسپاں ہوتا ہے بعض جگہ دوسرا اور بعض جگہ دونوں جب چسپاںہوتے ہیں تو پھر بہت ہی خطرناک صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ قیاماً کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ قیام کے متعلق شاید پہلے بھی میں آپ کو بتاچکا ہوں‘ کسی چیز کیلئے کوئی سیدھا کھڑا ہوجائے۔ اس کے حق میں‘ اس کے دفاع کیلئے کھڑ اہوجائے‘ ثابت قدمی دکھائے۔ اصل میں تو اپنی ذات میں ثابت قدمی کیلئے تو استقامت کا لفظ آیا ہے ۔ لیکن دوسروں کیلئے اور اپنی ذات میں عموماً سیدھی روش اختیار کرنے والے کو‘ مضبوط روش اختیار کرنے والے کو قائماً کہیں گے۔ وہ قائم ہے اور دوسروں کے حق میں بھی جو مضبوط رویہ اختیار کرتا ہے اوردرست رویہ اختیار کرتا ہے۔ یہ دونوں شرطیں ہیں۔ اس کیلئے لفظ قام کا استعمال ہوسکتا ہے اور قوام کا ایک بنیادی مطلب عدل ہے۔ پس درست صحیح رویہ عدل سے پیدا ہوتا ہے۔ پس قائم وہ ہے جو عدل کرسکتا ہے تو تمہیں قیام بنایا ہے۔ مراد یہ ہے کہ تم نے عدل سے کام لینا ہے۔ اس لئے تمہارے سپرد مال ہورہے ہیں۔ کسی ایسے شخص کے سپرد یا کسی ایسی کمیٹی کے سپرد اموال نہیں کیے جاسکتے۔ جو عدل سے عاری ہو۔ کیونکہ وہ قیام بننے کی صلاحیت کھودیتے ہیں۔
    پس جہاں بھی ایسے کورٹ آف وارڈ مقرر ہوں ‘ خاندانی ہوںیا بیرونی ہوں‘ دونوں صورتوں میںعدل کی شرط کو ملحوظ رکھنالازم ہے۔ أکسُوْاھُمْکا جو میں نے پہلے بھی ترجمہ کردیا تھا وہاںصرف کپڑے پہنانا مراد نہیں ہے۔اصل ألکِسْوَۃُ کہتے ہیںاچھے لباس کو‘ خوبصورت چیز کو۔جو تن کو ڈھانپے اور اچھی طرح ڈھانپے اور اس سے رونق پیدا ہو۔ زمین بھی جب سرسبزی اگاتی ہے اور بہا رکامنظر پیش کرتی ہے اس کیلئے کساۃ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ باقی باتیں میں بیان کرچکاہوں پہلے ہی۔ تفسیر ابنِ کثیر نے مثلاً لکھا ہے‘ ابو عمامہ سے کچھ روایت ہے اور ابو موسیٰ بھی بیان کرتے ہیں کہ ایسا آدمی جس کی بیوی بدخلق ہو‘ اُسے طلاق نہیں دیتا‘ جس نے اپنامال بیوقوف کو دے دیا اور وہ جو قرض دیتے وقت گواہ مقر رنہیں کرتا‘ ان کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ یعنی میںیہ نہیںکہہ رہا کہ قبول نہیںہوتیں میرا مطلب ہے کہ بعض مفسرین جہاں تک بھی گئے ہیں۔ مخاطب کون ہیں؟ یہ پہلے بھی بیان کرچکا ہوں ۔ بعض لوگوں کے نزدیک جیسے امام رازی کے نزدیک اولیاء مخاطب ہیں۔ ہر گھر کا اپنا ایک ولی بھی ہوتا ہے اور ایک اولیاء سارا خاندان‘ ایک ولایت کا حق رکھتا ہے۔ بعض دفعہ قوم ولایت کا حق رکھتی ہے۔ تو حضرت اما م رازی نے اسے عموماً اس سے اولیاء سمجھے ہیں جو اس آیت میں مخاطب ہیں۔ تفسیر قاسمی نے بھی یہی بات لکھی ہے۔
    حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ ارشاد‘جو باتیں میں نے آپ کے سامنے رکھی ہیں ‘ اس میں خداتعالیٰ کا احسان ہے کہ بالکل یہی امور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس اقتباس میںمیرے سامنے ہیں۔ جہاں ایک جگہ اجتماعی صورت میں اس آیت کے تعلق میں اس ساری باتوںکو گھیر لیا گیا ہے اور جو تفسیر ہے اس سے زیادہ روشن تفسیر ممکن نہیں۔ یعنی اگر کوئی ایسا تم میں مالدار ہو جو صحیح العقل نہ ہو مثلاً یتیم یا نابالغ ہو اور اندیشہ ہو کہ وہ اپنی حماقت سے اپنے مال کو ضائع کردے گا تو تم بطور کورٹ آف وارڈ ز کے‘(یہی لفظ استعمال فرمایا ہے) وہ تمام مال‘ اس کے متکفل کے طور پر اپنے قبضہ میں لے لو۔ اور وہ تمام مال جس پر سلسلہ تجارت اورمعیشت کا چلتا ہے‘ ان بیوقوفوں کے حوالے مت کرو۔اور اس مال میں سے بقدر ضرورت ان کے کھانے پینے اور پہننے کیلئے دے دیا کرو۔ اب یہ بھی دیکھ لیں وہی بات ہے یہ نہیں فرمایا کہ کھلائو پلائو ‘ خرید کے کپڑے۔ فرمایا ہے بقدر ضرورت ان کے کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے کیلئے د ے دیا کرو۔ اور ان کواچھی باتیں‘ قول معروف کی کہتے رہو یعنی ایسی باتیں جن سے ان کی عقل اور تمیز بڑھے اور ایک طور سے ان کے مناسب حال ان کی تربیت ہوجائے۔ اور جاہل اور ناتجربہ کار نہ رہیں۔ اگر وہ تاجر کے بیٹے ہیں تو تاجر کے بیٹے ہونے کی حیثیت سے تجارت کے طریقے انہیں سکھلائو۔ اور اگر کوئی پیشہ وہ رکھتے ہوں تو اس پیشے کے مناسب حال ان کو پختہ کردو۔ غرض ساتھ ساتھ ان کو تعلیم دیتے جائو۔ اور اپنی تعلیم کا وقتاً فوقتاً امتحان بھی کرتے جائو۔ جب ایک انسان سکول میں بچے کو ڈالتا ہے تو سال بہ سال بھی امتحان ہوتے ہیں۔ ماہ کے امتحان بھی ہوتے ہیں‘ تعلیم کے ساتھ‘ تربیت کے ساتھ امتحان کا توایک چولی دامن کا ساتھ ہے۔
    تو فرماتے ہیں:- ساتھ ساتھ امتحان بھی لیتے جائو کہ کس حد تک انہوں نے تربیت حاصل کرلی ہے کہ جو کچھ تم نے سکھلایا انہوں نے سمجھا بھی ہے یا نہیں۔ پھر جب نکاح کے لائق ہوجائیں‘ یعنی عمرقریبا ً۱۸ برس تک پہنچ جائے اور تم دیکھو کہ ان میں اپنے مال کے انتظام کی عقل پیدا ہوگئی ہے تو ان کا مال ان کے حوالے کرو۔ یہ جونکتہ ہے اہم یہ پہلے میرے بیان سے نہیں بیان ہوا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام یہ نہیں فرمارہے کہ جب وہ بلوغت کی عمر کو پہنچ جائیں اس وقت امتحان لو اور اس وقت فیصلہ کرو کہ مال تمہیں نہیں دینا۔ یہ بہت ہی اہم نکتہ ہے۔ بچپن ہی سے تمہارے پاس جو تمہارے سپرد ہیں‘ تمہارے سپرد جولوگ ہیں‘ مختلف عمروں کے جب تک وہ بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچتے تمہاری ذمہ داری ہے کہ قول معروف کے تابع ان کی تربیت ساتھ ساتھ کرو اور اس دوران ان کی تربیت بھی کرو اور امتحان بھی لیتے رہو۔ یہاں تک کہ جب بلوغت کو پہنچیں تو تم پوری طر ح ان کی مدد کرکے ان کو اس کام کیلئے تیار کرچکے ہو کہ بے دھڑک ان کے مال ان کے سپرد کردو۔ تو جب تک یہ کیفیت نہیں ہوتی وہ تمہارے مال ہیں ان معنوںمیں کہ تم ان مالوں کے امین ہو اور نگران ہو۔ جب وہ اس حالت کو پہنچ جاتے ہیں کہ مالی تصرفات کے اہل بن جاتے ہیں‘ جس میںتم نے ان کی مدد بھی کی ہے‘ ایسی صورت میں ان کے مال ان کے حوالے کردو اور فضول خرچی کے طور پر ان کا مال خرچ نہ کرو اور نہ اس خوف سے جلدی کرکے کہ اگر یہ بڑے ہوجائیں گے تو اپنامال لے لیں گے‘ ان کے مال کا نقصان کرو۔ جو شخص دولتمند ہو اس کو نہیں چاہیے کہ اس کے مال میں سے کچھ حق خدمت لیوے۔ لیکن ایک محتاج بطور معروف لے سکتا ہے۔ عرب میںمالی محافظوں کیلئے یہ طریق معروف تھا کہ اگریتیموں کے کارپرداز ان کے مال میں سے لینا چاہتے تو حتی الوسع یہ قاعدہ جاری رکھتے کہ جوکچھ یتیم کے مال کو تجارت سے فائدہ ہوتا‘ اس میں سے آپ بھی لیتے رأ س المال کو تباہ نہ کرتے۔ تو یہ اسی عادت کی طرف اشارہ ہے کہ تم بھی ایسا کرو اور پھر فرمایا کہ جب تم یتیموں کو مال واپس کرنے لگو تو گواہوں کے روبرو ان کو ان کا مال دے دو۔ تم بھی بری الذمہ اور وہ بھی اس وقت سے آگے خود ذمہ دار ہیں۔ اب اس آیت میں جعل اللّٰہ لکم قیاما وارزقو ھم فیھا واکسوھم و قولوا لھم قولا معروفا۔ یہ جتنی باتیں بیان فرمائی گئی ہیں اور سفیہ کی تعریف بھی وہی اختیار فرمائی جو مال کے معاملے میں نااہلیت کی تعریف ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس اقتباس میں اس آیت کے تمام پہلو خداتعالیٰ کے فضل کے ساتھ یکجائی صورت میں اکٹھے ہمارے سامنے کھل گئے ہیں۔ اس میں اب ویری صاحب دیکھیں کیا نکالتے ہیں۔ کچھ نکالتے بھی ہیں کہ نہیں۔ ویری صاحب تو یہ لکھتے ہیں کہ یہاں کہ Those are weak understandingیہ تو ٹھیک ہے السفہاء لیکن کس معاملے میں یہ تفصیل نہیں بیان کرتے ترجمہ یہ کیا ہے۔
    That is to say idiots or persons are weak intellects whose property is to be admnistered so as to provide for thier necesseties.
    یہ بات تو ٹھیک ہے۔ اس میں اعتراض کی تو ا س کیلئے گنجائش ہی کوئی نہیں تھی۔ ان کی پراپرٹی تم ایڈمنسٹر کرو‘ ان کی ضروریات کی خاطر۔
    Their treatment must be kindly
    یہ بھی کہہ رہا ہے کہ مانتا ہے کہ یہاں مراد ہے ہمدردی کے ساتھ‘ احسان کے ساتھ ان سے سلوک کرو ۔ لیکن آگے نتیجہ یہ نکالتا ہے۔
    Here is the muslim lunatic asylum.
    یہ ساری تعریف Lunatic asylum لُوناٹیک اسائلم کی ہے۔ پس جس قوم کو لوناٹیک اسائلم اتنا معقول ہو‘ اس سے محروم رہنا تو تمہاری بڑی بدبختی ہے۔ کیونکہ لوناٹیک اسائلم میں عدل بھی آگیا‘ انصاف بھی‘ رحم بھی‘ بہترین نگرانی بھی‘ تمام ضرورتیں پورا کرنا بھی۔ یہ اس نے تو اپنی طرف سے ایک بیہودہ لفظ بول کر اپنے دل کا بغض نکالا ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اگر یہ لوناٹیک اسائلم ہے تو اس لونا ٹیک اسائلم میں ساری قوم کو داخل ہونا چاہیے‘ساری قوم کو اس لونا ٹیک اسائلم کا جزو بن جانا چاہیے‘ اس کے بغیر امن نہیں ہے۔کیونکہ تعریف ساری وہ درست کررہا ہے اور نام لونا ٹیک اسائلم دے کے تو اپنا بغض نکال رہا ہے خوامخواہ۔ اگر یہ نہ ہو ‘ اگر اسلامک لوناٹیک اسائلم کو آپ نہ قبول کریں تو وہ حال ہو جائے گا جو اس وقت امریکہ میں ہے۔ امریکہ میںاب بہت اہم کتابیں لکھی جارہی ہیں اس بات پر مثلاً mine controlاور اس قسم کی اور کتابیں ہیں جو بتارہی ہیں کہ امریکہ اس کنارے تک پہنچ چکا ہے کہ گویا سارا مریکہ ہی لونا ٹیک اسائلم ہوجائے گا۔ کہتے ہیں وہاں drugsنے وہ آفت ڈھائی ہے کہ اس کے نتیجے میں بہت سے لوگ پاگل ہوکر اس لائق ہی نہیںرہتے کہ وہ آزاد زندگی بسر کرسکیں یا اپنے اموال پر تصر ف کرسکیں۔ یہ چونکہ مثال بعینہٖ صادق آرہی ہے اس لئے میں آپ کو بتارہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے دیکھیں طریقے‘چھوڑتا نہیں کوئی بات‘ جب تک اس کا جواب‘ ان کو پوری طرح عملی دنیا میں دکھا نہ دے۔ یہ نتیجہ نکلتا ہے ایسی بیہودہ باتوں کا۔ امریکہ کے اس نظام کے متعلق اس نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ‘ ایک مصنف نے اور بھی کتابیں ہیں اس مضمون پر۔ میں ایک مصنف کے حوالے بتا رہا ہوں۔ وہ کہتا ہے: یہ چل رہا ہے قصہ کہ ایک ڈرگ مافیا بن چکا ہے۔ مختلف فارماسیوٹیکل انڈسٹریز ڈرگ بناتی ہیں اور دردوں کو دبانے اور احساسات کو مردہ کرنے میں‘ وہ اپنی طرف سے قوم پر احسان کررہی ہیں‘ نئی سے نئی چیزیں ایجاد کرتی ہیں‘ زبردستی نیند لے آئیں‘ زبردستی تسکین بخشی۔ لیکن at what cost?کس قیمت پر؟ اس قیمت پر کہ دماغی صلاحتیں دن بدن مائوف ہوتی چلی جاتی ہیں اور ایسا انسان ان ڈرگز کا جو دوا کے نام پر اس کوملتی ہیں ‘ ایسا قیدی بن جاتا ہے جیسے دوسری ڈرگز ہیں۔ ان کا قیدی ہو‘ عملاً کوئی فرق نہیں رہتا۔ صرف یہ کہ یہی جائز ہے وہ ناجائز ہے۔ اور رفتہ رفتہ جب ان کی پریشانیاں اور بڑھتی ہیں اس لئے کہ یہ ڈرگ جو ہے کچھ عرصے کے بعد اپنا اثر دکھانا چھوڑ دیتی ہے۔ عادت ہوجاتی ہے‘ عادت ہوتی ہے تو پھر بڑھانی پڑتی ہے۔ پھر عادت ہوتی ہے، پھر بڑھانی پڑتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ تمام وہ ڈرگز ہیں جو دماغی صلاحیتوں کو لازماً مائوف کردیتی ہیں اور پھر جیتے جی ان کی جائیدادیں ان سے لے لی جاتی ہیں اور اس چیز نے ایک اوربہت بڑا خوفناک‘ مجرمانہ نظام امریکہ میں جاری کردیا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ ایسے لوگ اپنے بعض عزیزوں کو جو مالدار ہوں ڈرگ کا عادی بنانے کی سازش کرتے ہیں اور ان کی خدمت کر کرکے ڈاکٹروں کو کہتے ہیں ان کو ڈرگز دو۔ اور جب وہ قابو آجاتے ہیں تو پھر کورٹس بٹھائی جاتی ہے ا ن کے اوپر کہتے ہیں کہ ہاں اب یہ اس قابل نہیں رہاکہ اپنی جائیداد کو سنبھال سکے اور کورٹ آف وارڈ مقرر کرنے میںاکثر وہی عزیز ہیں جو سازش میں شریک ہوتے ہیں اور یہاں تک حال پہنچ گیا ہے کہ تمام لیوناٹیک ہائوسز جو پاگل خانے ہیںlunatic assylums وہ بھی بھر گئے ہیں۔ علاوہ ازیں لیوناٹیک ہائوسز بھی سب بھر گئے ہیں اور بوڑھوں کے گھر جوہیں وہ بھی سارے بھر چکے ہیں۔ اور اب داخل ہونے کی گنجائش نظر نہیںآرہی ہے۔ اور اس کے بعد اس نے بہت سے عدالتی مقدموں کے حوالے دیئے ہیں۔ ایک بھی فرضی بات نہیںکرتا‘ بڑی گہری تحقیق کی ہے۔ کہتا ہے یہ کیس ہے یہ فلاں سن میں ہوا‘ یہ فلاںسن میںہوا ، یہ فلاںسن میں ہوااور اس طرح ایک آدمی بیچارے کو پاگل بنا کر ‘ سازش کے نتیجے میں‘ پھر اس کی جائیداد سے اس کو محروم کیا‘ اس کی زندگی لٹکی ہوئی ہے۔ مالدار ہے مگر وہ سارے اس کے بچے کھچے ‘ دوسرے لوگ کھارہے ہیں۔ اور خود وہ ایسے پاگل خانوں میں زندگی بسر کررہا ہے،اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ تو لیو ناٹک اسائلم جو اس نے کہا اسلام کا اس کانام جو مرضی رکھ دے مگر یہی ہے جو امن کی جگہ ہے۔جہاں انسان کو سکون مل سکتا ہے۔ امن کی آماجگاہ ہے۔ قوم کے اموال کی بھی حفاظت ہوتی ہے۔ افراد کے اموال کی اور ان کے حقوق کی حفاظت ہوتی ہے۔ تو سب دنیا کو اس لیوناٹک اسائلم کا ماڈل اختیار کرنا چاہیے۔
    منٹگمری واٹ صاحب کیاکہتے ہیں؟ وہ صرف girl orphansمراد لیتے ہیں۔ اور ان کو زبان کا خاص محاورہ ہے‘ منٹگمری واٹ صاحب کو ۔ ایسی بات کرجاتے ہیں کہ چٹکی بھری جاتی ہے اور کوئی الزام بھی نہیں آسکتاکہ چٹکی بھر گیا ہے۔ یہ اس کی مثال سنئے۔ بظاہر بڑی معصوم سی بات ہے لیکن جو حساس‘ جو واقف کار لوگ ہیں ان کو پتہ ہے کہ کیا بات کرگیا ہے۔ that is test wealthy orphans. اب Test wealthy orphansکا تو یہاں ذکر ہی کوئی نہیںہے۔لا تؤتو السفھاء اموالکم التی۔۔۔۔ (ہوسکتا ہے یہ جگہ غلط ہو میرے ذہن میں یہ شک پڑرہا ہے۔ کہ اگلی آیت میں جو وَابْتَلُوْا لْیَتَامٰی ہے اس پر یہ اس کی بحث ہو)۔ اور نمبرنگ کی غلطی ہو۔ ہم نے جو یہ نمبر لگایا ہے بسم اللہ سمیت لگایا ہے اس لئے اُس نے اگر 6نمبرلگایا ہے تو بسم اللہ کو چھوڑ کر اگلی آیت پہ لگایاہوگا۔ اس لیے یہ جو تبصرہ ہے یہ جائز نہیں۔ سمجھ گئے ہیں ناں۔اگلی بات بہرحال اب میں چھیڑ بیٹھا ہوں تو پوری بتادیتا ہوں ‘ جو اُس نے ہوشیاری کی ہے وہ یہ ہے ۔ یہ تو ٹھیک ہے ٹرانسلیشن درست ہے Test wealthy orphans ...................۔ مگر اس سے اگلی آیت یہ ہے کہ وابتلوا لیتامٰی کہتا ہے This is girl orphans.یہ جھوٹ ہے یہ تو درست ہے کہ یتیموں پر نظر رکھو اور ان کا امتحان لیتے رہو۔ مگر girl orphansترجمہ کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہے۔یتامٰی کا لفظ عام ہے اور اس کے بعد جو اگلی بات ہے وہ بڑی معنی خیز اور خوفناک ہے۔
    That is girl orphans both and as regards to acting responsibily and in respect of physical maturity
    اب گرلز آرفن(girl orphans)کی بلوغت کا امتحان کیسے لیتے رہو گے تم ‘ یہ سوال اٹھتا ہے ۔جو سوسائٹی گندی ہو‘ جس کو اسلام کے اعلیٰ اخلاق کا پتا ہی نہ ہو وہ جب یہ ترجمہ پڑھے گی تو پتہ نہیں کیا کیا سوچے گی؟ اسلام کیا کہتا ہے۔ کس طرح ان کی بلوغت کے ٹیسٹ لیا کرو؟ پھر نہ تو وہاںڈاکٹری نظام تھانہ لیڈی ڈاکٹرز ہوا کرتی تھیں۔ تو ایک بے وجہ‘ خوامخواہ ایک آیت کا پہلے غلط ترجمہ کیا‘ پھر کنفیوژن پیدا کیا پھر جو ایسے لوگ ہیں ‘ جن کے ذہن گندے ہیں ان کو کسی اور طرف منتقل کرنے کیلئے ایک بہانہ دے دیا اور یہ ہو نہیں سکتا تھا اگر پہلا ترجمہ غلط نہ کیا جاتا۔ اس لئے میںکہہ رہا ہوں کہ یہ کوئی زبردستی‘ اس کی طرف میںکوئی انگیخت منسوب نہیں کررہا۔اگر وہ girl orphansترجمہ نہ کرتا تو physical maturityکا ٹیسٹ عمومی رہتا اس میںکوئی خاص گندہ خیال پیدا ہوہی نہیں سکتا تھا۔ girl orphansترجمہ کرنے کے بعد وہ اگلا فقرہ جو ہے و ہ ایک چٹکی بھرنے والی بات ہے۔اب اگلی آیت ہے :-
    اعوذ باللّٰہ من الشیطٰن الرجیم ۔ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
    وأ بتلوا الیتامی حتی إذا بلغوا النکاح فإن اٰنستم منھم رُشداً فادفعوا الیھم اموالھم ولا تأ کلوھا إسرافاً و بدارًا أن یکبروا۔ ومن کان غنیاً فلیستعفف و من کانا فقیرًا فلیأکل بالمعروف فإذادفعتم الیھم اموالھم فأشھدوا علیھم وکفٰی باللّٰہ حسیباً۔ (سورۃ النساء : ۷)
    اور یتیموں کو آزماتے رہو۔ إذا بلغوا النکاح جب وہ پختگی کی عمر کو جس میں ان کا نکاح ہوسکتا ہے‘ پہنچ جائیں ۔فإن اٰنستم منھم رُشداً پس جب تک انہیں عقل اور سمجھ کے آثار دیکھو‘ فادفعوا الیھم اموالھم تو ان کے اموال ان کو واپس کردو۔
    پہلی آیت میں تھاولا تُؤتوا السُفھاء اموالکم الّتی جعل اللّٰہ لکم قیامًا‘ اس کو چونکہ بہت ہی وسیع معنے دیئے گئے ہیں اس مضمون کو ‘ اس لئے یہاں سفہاء کا ذکر عموماً ہے اور یتامیٰ سے اس کو باندھا نہیںگیا۔ ہرگز یتامٰی سے نہیں باندھا گیا۔ عام سوسائٹی کا ایک مضمون ہے اور اس کا بیان ہے کہ قوم ذمہ دار ہے ۔ بہت سے مالی تصرفات میں نظر رکھے ۔ اور جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا تھا کہ اس میں یہ معنٰی بھی چونکہ ہے کہ قوم کے اموال میں قوم کے غرباء بھی حقدار ہیں اس لئے وہ غرباء بیچارے جو سفیہ ہونے کی وجہ سے نہ کچھ کماسکتے ہیں نہ کچھ کما سکے ہیں ۔ ان کی نگرانی‘ ذمہ داری بھی تم پر فرض ہے۔ اوران کو اپنے قومی اموال میں سے کچھ دو تاکہ وہ ان کے رہن سہن کا گزارہ شریفانہ طور پر ہوسکے۔ یہ وجہ ہے جو عمومی طور پر اس آیت کا طرز بیان ہے۔ اس میںیتیم سے یا کسی خاص صورتحال سے معین طور پر اس کو نہیں باندھا گیا۔ اب واپس آتا ہے قرآن کریم اس معین بحث پر جو اس آیت سے پہلے زیر نظر تھی۔ یعنی یتامٰی پیدا ہورہے ہیں۔ اگرچہ یہ بھی اُس پر ایک حد تک اطلاق پاتی ہے یہ آیت۔ مگر اب معین طور پر یتامیٰ کی بحث کو اٹھایا جارہا ہے۔ وأ بتلوا الیتامی حتی إذا بلغوا النکاح اس سے ایک بات تو کھل کر سامنے آگئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جو فرماتے ہیںکہ بلوغت کے بعد کے امتحان کا دور نہیں ہے بلوغت سے پہلے ان کو سمجھائو ‘ ان کی تربیت کرو‘ یہاں تک کہ بلوغت تک پہنچنے تک‘ تم ہر وہ کوشش کرچکے ہو جس کے نتیجے میں وہ مال کے تصرف کی صلاحیت اختیار کرسکیں۔ایسی صورت میں بے تکلف ان کے اموال ان کے سپرد کردو۔ ولا تأ کلوھا إسرافاً و بدارًا أن یکبروااور انستم رشدًاکا مطلب یہ ہے کہ آثار دیکھو‘ عقل اور فہم کے، ہرگز کسی ٹیسٹ میں نہیں ڈالنا۔ کہ اکانومک ٹیسٹ ہورہا ہے اس کو پاس کریں گے تو پیسے دیں گے ورنہ نہیں دیں گے۔ روزمرہ میں ایک بچہ اپنی رشد کے ساتھ تو صاف پہچانا جاتا ہے۔ اس کا روز مرہ کا اٹھنابیٹھنا ‘اپنے گھر میں استعمال‘ جو اس کے پیسے دیتے ہیں وہ اس کو کس سلیقے سے استعمال کرتا ہے‘ یہ ساری چیزیں کھلی کھلی باتیں ہیں‘ اس کیلئے کسی گہری چھان بین کی ضرورت نہیں۔ جہاںتک technical امور کا تعلق ہے ‘ خواہ وہ فن سے تعلق رکھتے ہوں‘ خواہ وہ تجارت سے ہوں‘ اس کا ذکر پہلے گزر گیا کہ ان کو بلوغت سے پہلے ہی واقف بھی کرائو اورپھر ٹیسٹ بھی کرتے رہو۔ لیکن جہاںتک رشد کا تعلق ہے وہ آخری عقل ہے جو فیصلہ کرتی ہے کہ کیا مجھے کرنا چاہیے‘ کیا نہیں جو کھرے اور کھوٹے میں تمیز کرتی ہے‘ وہ رشد ہے۔ جب یہ دیکھو کہ ان میںکھرے کھوٹے کی تمیز موجود ہے۔ پھر زیادہ تفصیل میںجانے کی ضرورت نہیں ۔ پھر ان کے اموال ان کے سپرد کردو۔ ولا تأ کلوھا إسرافاً و بدارًا أن یکبروااور ان لوگوں کا بیچاروں کا مال‘ بلوغت سے پہلے پہلے تیزی کے ساتھ نہ کھاجائواس ڈر کے مارے کہ کہیں یہ بڑے نہ ہوجائیں اور جب وہ بڑے ہوجائیں تو صرف حساب ہی دیا جائے ان کو۔ کہ یہ آپ کا حساب ہے بس! السلام علیکم ۔ یہ جو لفظ بدارًا ہے ‘ اس کا ایک بہت اچھا نقشہ ایک عرب شعر میںہے کہ
    إذا أرنب صَنَحَتْ بالفضائِ وَ بَادَرَہَ وَلَجَأتِ انحضاء
    کہ ایسا عقاب ‘ اس سے پہلے شعر میںعقاب کا ذکر ہے۔
    کما سوزنیق علی مربع خفیف الفواد دقیق النظر
    ایک باز بیٹھا ہو ایک پہاڑی کی چوٹی پر اور میدان میں جہاںجھاڑیاں بھی ہیں بیچ میں ایک کھلا سامیدان نکلا ہوا ہے‘ جیسے اکثر جنگلوںمیں اچانک بیچ میںکھلی سی جگہ آجاتی ہے۔ تو کہتا ہے اچانک کیا دیکھتا ہے‘ جیسا کہ وہ باز إذا أرنب صَنَحَتْ بالفضائِ اچانک اس کھلی جگہ میںایک خرگوش نمودار ہوتا ہے۔صنح معنی ہویدہ ہوتا ہے‘ نمودار ہوتا ہے۔ بادرہ ولجات الفضاء اس تیزی سے جھپٹتا ہے کہ جھاڑیوں میں پہنچنے سے پہلے پہلے وہ اس کو پکڑ لیتا ہے۔ یہ بادر کا لفظ ہے جو استعمال کیا ہے قرآن کریم نے۔ کہ تمہیں یہ نہ افراتفری لگ جائے کہ وہ بلوغت کی جھاڑی تک پہنچ کے تمہاری پہنچ سے باہر نہ ہوجائیں اور تم کھاپی کے جلدی جلدی مال کو ختم کرو۔اس غرض سے تمہارے سپرد مال نہیں کیا جارہا۔ بلکہ ایک اور غرض ہے ان کی حفاظت اور ان پر احسان کرنا مراد ہے ومن کَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ۔ جو تم میں سے غنی ہے اس کیلئے پوری طرح سے احتراز لازم ہے۔ فَلْیَسْتَعْفِفْ نصیحت تو ہے مگر اس میں امر کا پہلو غالب ہے۔ اس کو خداتعالیٰ یہی فرماتا ہے یہی اس کیلئے اذن ہے۔ فَلْیَسْتَعْفِفْکہ وہ پوری طرح اجتناب کرے‘ یتیم کے مال کو ہاتھ نہ لگائے۔ لیکن ومن کان فقیرًا فلیأکل بالمعروف جو فقیر ہو‘ جس کے ہاتھ پلّے کچھ نہ ہو‘ اس کو اتنی اجازت ہے کہ معروف کے مطابق اُسے کھائے۔ اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ‘وہ جو میں نے اقتباس پڑھ کے سنایا تھا‘ اس میں اس آیت کے ساتھ اس آیت کے مضمون کو بھی پیش نظر رکھا ہے۔
    سفہائکی بھی تعریف فرمائی ہے اور اس آیت کے مضمون کو بھی معروف کے یہ معنے فرمائے کہ جو عرب میں رائج ہیں۔ معروف کا ایک معنی ہے کہ ہر وہ چیز جو عرف عام میں اچھی دکھائی دے۔ اورمعروف سے ایک مراد اچھے رواجات بھی ہیں۔آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ بالمعروف سے مراد یہ ہے کہ جس طرح عربوں میں یہ رواج ہے کہ یتیموں کے مال کے اصل زر کو ہاتھ نہیں لگاتے۔ بلکہ جو بھی نگران مقرر ہیں ان کا فرض ہے کہ اصل زر کو ہاتھ لگائے بغیر ‘ اس کو بڑھانے کی کوشش کریں اور اُس مال میں سے خرچ کریں جو آمد ہے‘ اصل زر کو نہیں ہاتھ لگانا۔تو آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں بالمعروف سے یہ مرادہے۔ اس رواج کو جو اچھا رواج ہے اسلام میں بھی جاری رکھو۔ اور جب اصل زر محفوظ رہے گا اور تجارت کے ذریعے انہوں نے بھی پلنا ہے اور تمہارا بھی فائدہ ہونا ہے تو پھر ایسا مال زیادہ محفوظ ہے اور دونوں کے مفاد میں ہے۔ فإذادفعتم الیھم اموالھم اصل مقصدوہ فائدہ اٹھانا نہیں ہے‘ انتظار ہے کہ کسی طرح ان کا مال ان کے سپرد کیا جائے۔ پس وہی مال جسے اموالکم کہا گیا تھا اب ان کو دینے کے تعلق میں ان کا مال قرار دیا جارہا ہے۔ فإذادفعتم الیھم اموالھم ۔ مطلب یہ ہے‘ اس میں ایک بہت ہی لطیف بات یہ اٹھائی جارہی ہے‘ دونوں محاوروں کے فرق میں‘ کہ جب تم مال پر نگران ہو تو ایسی نگرانی کرو گویا وہ تمہارا مال ہیں۔ جیسے اپنا مال تم ناجائز خرچ نہیں کرسکتے۔ اپنا مال احتیاط کے بغیر ‘ تم تجارتوں میں نہیں دے دیا کرتے‘ قرضوں میںنہیں اُڑادیا کرتے‘ اپنا مال سمجھ کے یہ کام کرنا ہے تم نے۔ جہاں تم نے غیر مال کا تصور باندھااور تصرف کیا خدا کے نزدیک تم راہ حق سے ہٹ چکے ہوگے۔ پس جہاں تحفظ ہے وہاں تمہارا مال ہے‘ جہاں واپسی ہے وہاں ان کامال ہے۔ ایک ذرّہ بھی اپنے پاس نہیںرکھنا سب کا سب اُن کا انہیں پوری طرح لوٹادینا ہے۔ یہ ہے محاورے کے فرق میں سے ایک نہایت خوبصورت مضمون جو اس آیت میں شامل ہے اور اس سے اُبھرتا ہے وَ دَفَعْتُمْ اِلَیْھِمْ اَمْوَالَھُمْ اور چونکہ ان کا مال تھا حقیقت میں اور تم نے دیا ہے تو پھر گواہ رکھنے ضروری ہیں۔ یہ مراد نہیں ہے کہ تم سب کچھ کرسکتے ہو‘ اب اپنامال سمجھ کر حفاظت کی‘ دیتے وقت ان کا مال بن گیا۔ تو گواہ کا موقع کیوں ہے؟ اس لیے کہ گواہ پھر یہ بھی دیکھیں گے کہ واقعتاً سب چیز گئی بھی ہے کہ نہیں۔ اور گواہ ایک قسم کے نگران ہوں گے تو گواہی کے لائق ہوں گے۔ وہ تب تک گواہی نہیں دیں گے جب تک یہ نہ دیکھ لیں کہ فلاں چیز بھی آگئی ہے کہ نہیں ‘ فلاں کا حساب آگیا ہے کہ نہیں اور یہ درست ہے یا نہیں‘ تب وہ گواہی دیں گے کہ ہاں ا س حق کو جن کا حق تھا اس کی طرف منتقل کردیا گیا ہے۔
    وکفٰی باللّٰہ حسیباًاور یہ وہ مضمون ہے کہ جس کو خوب کھول دیا گیا کہ گواہ جو ہیں انہوں نے بھی توحساب کرنا ہے مگروکفٰی باللّٰہ حسیباً۔اللہ سے بہتر حساب دان کوئی نہیں۔ حساب کے طور پر ‘حساب لینے کے لحاظ سے‘ اللہ ہی کافی ہے۔ تو مراد یہ ہے کہ ان گواہوں کو بھی اگر تم نے دھوکہ دیا تو خدا کی پکڑ سے بچ نہیںسکو گے ۔ اصل حساب دان اللہ ہے وہ تم پر نظر رکھے گا کہ تم نے پائی پائی ان کو ‘ ان کا حق واپس کیا ہے یا نہیں۔ یہاں جو لغوی بحثیں اٹھائی گئی ہیں ان میں ایک لفظ نکاح ہے۔ نکح المرأۃ نکاحًا: تزوّجہا یہ تو عرف عام معنٰی اس سے شادی کی۔ نکاح کا جو لفظ ہے یہ ہمارے ہاں ایک ہی طرح سے معروف ہوچکا ہے یعنی شرعاً کسی کا عُقد باندھنے کیلئے یا عَقدِ نکاح ‘ کسی کا عَقد باندھنے کیلئے ایک امام کھڑا ہو اور وہ اعلان کردے‘ اس کو نکاح سمجھا جاتا ہے۔ اصل بیاہ رخصتی کے وقت شروع ہوتا ہے اور اگر رخصتی نہ ہو تو یہ نکاح کالعدم ہوجائے تو کئی ذمہ داریوں سے بچابھی لیتا ہے۔ عربوں میں نَکَحَ سے مراد تزوّج ہے اصل میں‘ اعلان نکاح نہیں۔ بلکہ کسی کو بطور بیوی کے اپنے گھر لے آنا یا دونوں کا اکٹھا رہنا۔ نَکَحَ کا ایک اور ترجمہ ہے اُس نے عورت سے خلوت کی۔ اور یہاں شادی ضروری نہیں ہے۔ بلکہ عورت سے خلوت کرنا عرب محاورے میں نَکَحَکے تابع ہے اور اس پہلو سے جو اس کا مرکزی معنی ہے اس کی طرف دراصل اشارہ ہوتا ہے۔ نَکَحَ کا مرکزی معنٰی جو ہے وہ اختلاط ہے۔ ایسا اختلاط کہ ایک چیز دوسرے میں اس طرح گھل مل جائے کہ پھر ایک وجود بن جائیں اور ان کے اندر پھر تفریق مشکل ہوجائے۔ یہ ہے نکاح کا مرکزی معنٰی جب کہ عرب کہتے ہیں نَکَحَ المطرُالارضَکہ بارش زمین کی مٹی میں مل جل گئی۔ بارش کا پانی ،الگ پانی جو ہے وہ الگ بات ہے۔
    یہاںجو نکح کا معنی ہے یہ بارش کا پانی ایک جگہ اکٹھا ہونا مراد نہیں ہے ۔بارش سے جب مٹی بھیگ جاتی ہے تو پھرنکح کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ کہ پانی مٹی میںجذب ہوگیا اور پانی اورمٹی ایک جان ہوگئے۔ پس نکاح جو ہے وہ دو وجودوں کے یکجان ہونے کی غرض سے ہے۔ ایک ہوجائو‘ کوئی تفریق نہ رہے اور یہی یکجان ہونا ہی ہے جس کے نتیجے میں نشوونما ہوتی ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو نشوو نما نہیں ہوسکتی۔ پانی زیادہ ہو کہیں اکٹھا‘ وہاں بھی زمین اس لائق نہیں رہتی کہ وہاں کچھ اُگائے۔ جہاںخشک رہ جائے وہاں بھی نہیں رہتی۔ جہاں جس کو ہم پنجابی میں وتّرکہتے ہیں کہ وتّر آگیا ۔ وتّر کا مضمون ہے نکح، کہ بارش ہوئی اورمٹی کے ساتھ ‘ زمین کے ساتھ پانی مل جل گیا۔ اور جب اُن میں یگانگت پیدا ہوجائے پھر نشوو نما ہوئی ہے ۔ خوشیاں بھی اسی سے پھوٹتی ہیں‘ سکون بھی اُسی سے پیدا ہوتا ہے۔ سچی ‘ صحیح اولاد بھی اسی کے نتیجہ میں ملتی ہے۔ رُشدًا کا جو ترجمہ ہے میںعموماً تو کرچکا ہوں‘ لغوی لحاظ سے اس کا معنی ہے اھتدیٰ یعنی وہ شخص ہدایت پاگیا۔ أرشدہٗاس کو ہدایت دی‘ رشّد القاضی الصبییّ: قضیٰ یرشدہ قاضی نے فیصلہ دیا کہ فلا ںبچہ رشدکی عمرکو پہنچ گیا ہے۔ الرشدُ: صالحاً فی دینہٖ۔ مصلحاً لمالہ رشد کا ایک ترجمہ ہے دین کے لحاظ سے اچھا ہو اور مال کی اصلاح کے لحاظ سے صلاحیت رکھتاہو۔ فقہ کی اصطلاح میں رشدکے معنی ہیںبچہ ایسی عمر کو پہنچ جائے جب اس کو مکلف قرارد یا جائے۔ یعنی وہ اپنے معاملات کا ذمہ دار ہو۔ بھلے کا بھی‘ برے کا بھی۔ اگر برا کرے گا تو سزا پائے گا اور عمر اس کی سزا کے درمیان حائل نہیںہوسکے گی۔ قانون عمر کو دیکھتے ہوئے کوئی نرمی نہیںکرے گا۔ جب اس عمر کو پہنچے تو کہتے ہیں کہ یہ رشد کو پہنچ گیا ۔ اس ضمن میں ہمارے ہاں جو لفظ رائج ہے مرشد۔ یہ دراصل عربی لفظ مرشِدہے۔ اورجو عربی دان اہل لغات ہیں اُردو کے وہ مرشِد ہی تلفظ دیتے ہیں مگر جامع اللغات بڑی وضاحت کے ساتھ ا س پر روشنی ڈالتی ہے کہ دراصل اصل لفظ مرشِدتو ہے لیکن اُردو میںاپنے پِیر کیلئے جس کے پیچھے چلتے ہیں۔ مرشَد کا لفظ راہ پاگیا ہے اور یہی صحیح تلفظ ہے۔ پس مرشِد اپنی اوّلیت کند کے لحاظ سے جہاں سے نکلا ہے‘ عربی زبان میںمرشِد اور اُردو میں مرشَد۔ پیرومُرشَد کہتے ہیں‘ پیرو مرشِد نہیںکہتے۔ اسی طرح پنجابی میں جو میاں محمد کے گیت ہیں یا اور دوسرے صوفیاء شعراء کے وہ سب جگہ مرشَد کہتے ہیں۔ کوئی اگر مرشَد کہے تو عربی دانوں کو کچھ حوصلہ دکھانا چاہیے۔ ہر بات میں عربی علم کی وجہ سے تنقید کرکے‘ ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پہ اعتراض کرنا‘ اس کو‘ ایسے آدمی کو Padanticکہتے ہیں۔ Padanticہوتا ہے جو اپنی گرائمری رگڑتا رہے ہر وقت۔ انسان کو روزمرہ کی آزادی ہی نہ دے۔ حالانکہ تلفظات جو ہیں‘ ایک جاری سلسلہ ہے۔ بہتے ہوئے دریا کی طرح جس ماحول سے گزرتا ہے وہاں کی مٹی اٹھاتا ہے۔ وہاں کا مزاج پکڑتا ہے۔ کوئی زبان بھی ایسی نہیں ہے جس میں کوئی تلفظ مستقل راہ پاجائے۔ سوائے بنیادی تلفظات کے۔ بعض ایسے ہیں جو جم چکے ہیں ان میں پھر کبھی کوئی تبدیلی نہیںہوتی۔ وہ لازمی جزو ہیں اس دریا کا۔ کچھ ایسے ہیں جو بدلتے رہتے ہیں اور اکثرنسبتاً کم استعمال والے یا علمی مواقع پر استعمال ہونے والے لفظ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ یہ ضمناً میں نے آپ کو کہا ہے کہ مرشد کے حوالے سے تھوڑ سا رُشد بھی بتانا ہے ناں۔ رُشد کا ہر چیز سے تعلق ہے۔ روزمرہ کی باتوں میں صرف دین کے معاملات میںنہیں۔ عقل فہم کا استعمال رُشد کہلاتا ہے۔ رَشَدُٗ ۔رشادُٗ۔ رشدا۔ ٹھیک راستہ پر چلنا۔ رَشَدٌ ہے رَشْدٌ نہیں اس کا مطلب ہے چلنا۔ رَشَدٌ ۔رشادٌ۔ رشدا۔پس اصل بات وہی ہے جو عرف عام میںایک شخص معقول ہے اور روز مرہ میںٹھیک ٹھاک ہے۔ اس کے اوپر بیوقوفی کے الزام لگا لگا کے‘ اس کے مال پہ تصرف کرنا یا اس کو اپنے حق سے محروم کرنا ہرگز جائز نہیں۔ اسراف کیاچیز ہے۔ سَرِ ف الطعام کا معنٰی ہے اعتقل حتی کأنَّ السرفۃ اصابتہٗ۔کہتے ہیں سرفت السرفۃُ، الشجرۃ۔ سرفۃریشم کے کیڑے کو کہتے ہیں اصل میں۔ ریشم کا کیڑاجس طرح وہ شیشم کے درخت کے پتے کھاجاتا ہے اور کچھ بھی اس کا باقی نہیں چھوڑتا۔ وہ ہے سَرِف۔ تو اسراف اس لفظ سے نکلا ہے یعنی مال کو اس طرح خرچ کرنا‘ خواہ و ہ تجارتی ہو یا غیر تجارتی کہ اس کا کچھ بھی باقی نہ رہنے دیا جائے۔ پورا کھایا یا پیا جائے۔ اسی لئے کہتے ہیں طعام سرف ہوگیا ہے۔ سَرِف الطعامُ۔مطلب ہے گویا اُسے ریشم کے کیڑے چاٹ گئے ہیں۔ اس طرح کھانا کھایا جائے ۔ کچھ خالی نہ رہے اور کچھ نہ رہے اور برتن خالی رہ جائیں۔ اس کیلئے لفظ سرف استعمال ہوتاہے اور غفلت برتنے کیلئے بھی سرف کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اسرف فی کذا اَی اَخطأ۔اس نے کسی بارے میںتوجہ سے کام نہیں لیا اور اس کے نتیجے میںخطا ہوجائے‘ ٹھوکر کھاگیا۔ یہ بھی لفظ اَسْرَفَکے تابع آتا ہے۔ جہالت کیلئے بھی سرف کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ پس جہالت‘ غفلت‘ خطا اور تیزی سے کسی چیز کو چاٹ کھانا۔ یہ سارے معنے لفظ اسراف میںملتے ہیں اور عمومی طور پر اہل لغت کہتے ہیں اب اس کا معنیٰ یہ لیا جاتا ہے ‘ حد سے تجاوز کرگیا۔ یہ عام معنٰی ہے۔ بدارًاکی بات میںکرچکا ہوں اور آزمائش کرنے کاجہاںتک تعلق ہے وابتلوا لیتامٰی۔ اس میںکہتے ہیں اختلاف ہے فقہاء میں۔ تفسیر فتح القدیر کہتی ہے کہ ایک والی اپنے یتیم کے اخلاق پر بھی نظر رکھے‘جب اس کی شرافت اور حسن تصرف سے آگاہ ہو جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچے اور رُشد کے آثار اس میں نمایاں ہوں۔ اس کا مال واپس کردیں۔ اب یتیم کے اخلاق پر نظر رکھنا۔ اس تعلق میں بہت ہی خطرناک بات ہے۔ ایک یتیم بیچارہ تو اکثر ایسے نفسیاتی دبائو کی وجہ سے جو بعض دفعہ دوسرے بچے ماں کے جو زندہ موجود ہے کے ساتھ رہ رہے ہوں۔بعض دفعہ ماںکے رشہ داروں کا ماحول جو دوسری ماں ہے۔ وہ غالب ہے اور وہاں بھی یتیم اپنے آپ کو بے سہارا محسوس کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوجایا کرتے ہیں اور اس لیے یتیم کے معاملے میں آنحضرت ﷺ نے بہت احتیاط سے کام لینے کی ہدایت فرمائی ہے۔ بعض دفعہ بد اخلاقی کا شکار بھی اس وجہ سے ہوجاتے ہیں ۔ ایک پہلے ان بیچاروں کو ‘ نقصان پہنچائو کہ ان کی عزت نفس کا خیال نہیں کیا‘ ان کے اخلاق کوخراب ہونے دیا او ربعد میں یہ عذر لے کربیٹھ جائو کہ اخلاق اچھے نہیں تھے اس لئے ہم ان کامال نہیں دیں گے۔ہر گز جائز نہیں ہے نہ یہ اس کا معنی ہے۔ رُشد جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہاں عام معانی ہیں‘ عام عقل فہم ہے۔ مالی امور میں ثابت نہ ہو کہ وہ ضائع کرنے کا رحجان رکھتا ہے۔تو پھر آپ کو کوئی حق نہیں کہ اس کا مال اس کے سپرد نہ کریں۔پھر بلوغت کی بحث اٹھائی گئی ہے۔ بلوغت کیا چیز ہے؟ ہاں جہاں تک اس بات کا تعلق ہے بلوغ کا مفسرین بعض کہتے ہیں کہ بلوغ سے مراد تو بلوغت ہی ہے مگر رشد کی شرط جو ہے وہ اتنی واضح اور حاوی ہے کہ اگر کوئی یتیم‘ سعید بن جبیر لکھتے ہیں اور شعبی نے بھی یہی لکھا ہے کہ کوئی یتیم بوڑھا ہوجائے لیکن اس میں سمجھ بوجھ نہ ہو تو خواہ وہ سو برس کا ہوجائے اس یتیم کے سپرد مال نہیںکرنا۔
    عجیب عجیب باتیں ہیں ۔ یہاںیتیم کی بحث ہی نہیں ہے ۔کوئی بھی سوسائٹی میں ایسا آدمی بیچارہ جو اُول جلُول ہو اس کے اوپر یہی فتویٰ آئے گا۔ لیکن یتیم کے رستے سے داخل ہوکر سو سال تک اس کو پہنچانا جب کہ تم سارے لوگ یتیم بن چکے ہو‘ تمہاری اولادیں یتیم بن چکی ہوں یہ کیسی عجیب بات ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے‘ بلوغ کو پہنچ جائے اگر تم دیکھو کہ انہیں رشد و سعادت ہے تو ان کامال ان کے سپرد کردو۔ حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ تفصیل سے بحث اٹھائی ہے کہ بلوغ کیا چیز ہے؟ آپ فرماتے ہیںکہ مستشرقین کئی دفعہ اسلام پہ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ بلوغ تو کہہ دیا لیکن تعریف کوئی نہیں کی بلوغ کیا چیز ہے؟ حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جہاں تک بلوغ کا تعلق ہے‘ پختہ عمر ہونا یعنی اس تعلق میں ‘ نکاح کے تعلق میں۔ مختلف ملکوں میں مختلف عمروں کے ساتھ متعلق ہے۔ اس لیے یہ مستشرقین کا اعتراض جاہلانہ ہے جو یہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم جو عالمگیر کتاب ہونے کی دعویدار کتاب ہے،وہ ایک ایسی تعریف کردے جو کسی ایک ملک سے وابستہ ہو دوسرے ملک پر اطلاق نہ پائے۔ فرمایا بعض ملکوں میں 10سال کی عمر میں بھی بچیاں نکاح کے قابل ہوجاتی ہیں۔ چنانچہ وہ حاملہ بھی بن جاتی ہیں۔ شرط یہ ہے کہ خداتعالیٰ نے جو جسمانی نظام کسی چیز کو عطا کیا ہے وہ اپنی پختگی کو پہنچ جائے اور وہ کسی ایک گھڑی کے تابع نہیںچلتا۔ اس کے بہت سے محرکات ہیں ‘ بہت سے اسباب ہیں۔ بعض جگہ climateیعنی موسم اثر انداز ہوتے ہیں بعض جگہ اندرونی طور پر بعض پیدائشی بیماریاں اثر انداز ہوتی ہیں۔ چنانچہ بعض بچیاںچھوٹی سی عمر میںبلوغت کے آثار دکھادیتی ہیں‘ حیض جاری ہوجاتے ہیں‘ ان کی اورعلامتیں ظاہر ہونے لگ جاتی ہیں۔ ڈاکٹر پھر ان کو دوائیں دے دے کر روکتے ہیں کہ عام عمر کو پہنچیں تو پھر یہ جوان ہو ۔ تو بلوغت تو بہت سے محرکات ‘ بہت سے موجبات‘ بہت سے ،ماحولی اثرات سے تعلق رکھنے والی مضمون ہے۔ اس لیے قرآن کریم نے لفظ بلوغت فرمایا نہ کہ کوئی عمر مقرر کی۔ اور عمریں تو بدلتی بھی رہتی ہیں۔ یہاں انگلستان ہی میں آج کل لفظ بلوغت کے تابع جو ترجمے ہورہے ہیں کہ کے وہ کبھی کچھ کبھی کچھ اور مثلاً بعض جرائم ہیں ان کے متعلق کہاجاتا ہے کہ اس سے کم عمر میں اگر کوئی بات کرے گا تو یہ جرم ہے۔ تو جو جرائم کے مداح یا اس کے دفاع کرنے والے لوگ ہیں ایسے بھی لوگ ہیں۔ وہ اب یہ تحریکیں چلارہے ہیں کہ عمر کی حد کم کردو۔ یعنی بلوغت کوئی خدائی نظام کے تابع بات نہیں بلکہ انسان کی اپنی مرضی کے اوپر ہے۔ جہاں چاہو بالغ قرار دے دو‘جہاں چاہو نابالغ قرار دے دو۔ اب یہ عجیب بات ہے مگر ہے بہت خطرناک بات کہ یہاں سوسائٹی میں دن بدن اور امریکہ میں اور کینیڈا میں تو بہت زیادہ اس سے بھی‘ ہم جنس پرستوں کی حمایت ہورہی ہے۔ اور ان کی تائید میں قانونی طور پر بھی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور سائنسی لحاظ سے بھی ان کی تائید میں یہ کہہ کرکہ یہ تو جینز کے قصورہیں ان کا بیچاروںکا کیا قصور ہے‘ ان کی حمایت میں آوا ز اٹھائی جارہی ہے۔ یہاں تک کہ بعض صورتوں میں فوجی قوانین بدلنے پر مجبور کیا جارہا ہے اور امریکہ کی فوج میں مثلاً یہ چونکہ بیماری بہت بڑھ گئی ‘ ایک بڑی تعداد ایسی ہوگئی جو ہوموسیکسؤل (Homo Sex)تھی کہلاتی ہے جو‘ اور اس کے خطرات بہت سے ہیں‘ اس کے نتیجے میں قوم کی وفاداری بھی متاثر ہوسکتی ہے اور بہت سے ایسے جو جاسوسی کے بڑے بڑے دنیا میںکیسز ہیں جو معروف ہیں۔ ان میں اس کمزوری سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ رشین جاسوسی کا نظام KGBجب پوری قوت‘اور ایک بہت بڑی طاقت رکھتا تھا۔ہر جگہ اس کی جڑیں تھیں ‘ اس وقت اس حصے کو انہوں نے بہت اچھی طرح استعمال کیا۔ کہ بعض ایسے لوگ جو بڑے بڑے رازوں کے واقف تھے ان کو اس بیماری سے پکڑا اور بعد میں ان کو ‘ ان پر انگوٹھا رکھ دیا کہ تم اگر ہماری مرضی کی بات نہ کرو گے تو اس طرح ہم تمہیں بدنام کریں گے اور بعض ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ ایسے بعض جرنیلوں نے یا امبیسیڈرز نے‘ جب کہ فرانس کا ایک امبیسیڈر تھا اس نے خود کشی کرنا بہتر سمجھا۔ بہ نسبت اس کے کہ اپنے ملک کے رازکو بیچے۔
    تو یہ وہ کمزوریاںہیں جن کی حمایت میںہر قسم کی کوششیںہورہی ہیں اور بلوغت کی تعریف پر بھی اب حملے ہورہے ہیں اور چونکہ انسان نے اپنا اختیار سمجھ لیا ہے اس کو میڈیکل کام نہیں سمجھا ۔ حالانکہ اصل بات یہ تھی کہ اس تعریف کو ڈاکٹروں کے سپرد کرتے‘ عمر طے کرنے کی خاطر نہیں بلکہ ہر وہ شخص جس کا معاملہ مبحث ہو اس کے متعلق میڈیکل رائے دینی چاہیے کہ یہ طبی نقطہ نگاہ سے بالغ ہے کہ نہیں۔ پس قرآن کریم نے یہ راہ بھی کھلی ہوئی رکھی ہے۔مگر یہ لوگ چونکہ اپنے طور پر مقر ر کرتے عمریں۔ ان کو مشکلات درپیش ہے مثلاً میں نے ابھی مثال دی تھی کہ یہاں اب یہ قانون جاری ہورہا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ بدبخت رحجان رکھتا ہو‘ ہم جنس پرست ہو اور وہ چھوٹی عمر کے بچوں کے ساتھ یہ حرکت کرے تو اس کی یہ سزا ہے اور سخت سزا ہے اور اگر بالغ آپس میںکریں تو کہتے ہیں کوئی سزا نہیں وہ ٹھیک ہیں آزاد ہیں۔اب ان لوگوں نے دیکھا کہ بہت سے لوگ اس سزا کی عمر والوں کی طرف زیادہ مائل ہیں یا آسانی سے دھوکہ دے سکتے ہیں تو باقاعدہ بل پیش ہورہے ہیں پارلیمنٹس میں کہ یہ عمر بہت زیادہ ہے اٹھارہ کی بجائے سولہ کردو اور سولہ کی بجائے بارہ کردو۔ کیونکہ بارہ سال کی عمر میں اچھا بھلا بچہ سمجھتا ہے۔ اگر وہ کسی بدبخت کے قابوآگیا تو وہ اس کا قصور ہے۔ اس لیے بدمعاش کو سزا نہ ملے۔ اس بدمعاش کو سز اسے بچانے کیلئے بلوغت کی عمریں چھوٹی کی جارہی ہیں۔ تو غیر معقول طریق تمہارا ہے کہ قرآن کا ہے۔ قرآن نے تو لفظ بلوغت کو ایک کھلے لفظ کے طور پر سامنے رکھ دیا کہ لفظ بلوغت کو سمجھنا تو دنیا میں کسی قوم کیلئے مشکل نہیں۔ جب جنسی لحاظ سے ایک شخص اس قابل ہوجائے خواہ وہ مرد ہو یا عورت کہ جب وہ اگر اپنے کسی دوسرے جوڑسے ملے تو بچہ پیدا ہوسکتا ہو۔ امکاناً عقلًا۔ ایسے شخص کیلئے بلوغت کا لفظ جو ہے وہ ایک طبی مضمون رکھتا ہے اور رواج سے بسا اوقات ظاہر ہوجاتی ہے بات۔ بچیوں میں علامتیں کھل کر سامنے آجاتی ہیں۔ مردوں کے اندر بھی‘ لڑکوں کے اندر بھی بلوغت کی عام روز مرہ علامتیں ہوتی ہیں۔ بعضوں کے ناک یہاں سے پھٹنے لگتے ہیں۔ بعضوں کی آوازیں پھٹنے لگتی ہیں۔ کہ آج کل جو ہماری اردوکلاس ہے اس میں کئی بچے اچھی بھلی آواز والے ایسے ہیں جب میں اُن سے نظم پڑھوائوں غَو۔۔۔۔۔کرکے آوازیں نکالتے ہیں۔ تو میں کہتا ہوں کوئی بات نہیں تم بالغ ہورہے ہو اور یہ درست بات ہے۔ اس عمر میں پہنچ کے آواز بھی پھٹنے لگتی ہے۔ گویا کہ یہ علامت ہے کہ تم کھرے کھوٹے کی تمیز کی حد کو پہنچ رہے ہو۔ اب تم ذمہ دار ہوجائو گے۔ یہ بلوغت کی صحیح تعریف ہے۔ باقی سب لوگوں کے نخرے ہیں۔ ۱۲ سال‘۱۱ سال‘ ۱۸ سال یہ سب عارضی اور فرضی قصے ہیں۔ اب یہ جو ہمارے کرم فرما ہیں ان کی طرف بھی جانا چاہیے تھوڑا سا۔ اب ان صاحب نے اس کا ترجمہ عجیب کیا ہے سیل صاحب نے کہتے ہیں:-
    and women also ought to have a part of what their parents and kinderd leave.
    یہ ترجمہ ہے وأ توا لیتامٰی۔ اوّل تو یہاںبھی اس نے عورت کا ترجمہ کردیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے مستشرقین بعض دفعہ ایک ترجمے کو لے کر پھر آگے اُسی کو پھیلاتے رہتے ہیں۔ یہ سیل سے شاید بات شروع ہوئی کہ
    women also ought to have a part of what their parents and kinderd leave.
    یعنی ضمناً ان کو بھی دے دو یہ تو بالکل بحث ہی نہیںہے۔ بے تعلق بات اٹھائی ہے۔ اور منٹگمری واٹ صاحب کہتے ہیں:
    ‏ That is girl orphans... ( یہ میں پہلے بیان کرچکا ہوں)
    And let the rich guardian not even touch it.
    یہ بڑا اچھا ترجمہ کیا ہے کسی نے۔ یہ راڈویل کا ہے؟
    ‏ The Quran translated from the Arabic. یہ انصاف کا ترجمہ ہے بالکل۔
    And let the rich guardian not even touch it.
    یہ عفف کا لفظ جو ہے نا۔یہ مراد ہے پوری طرح احتراز کرو اور احتیاط کرو۔ اُسے ہاتھ تک نہ لگائو۔ یعنی ان کے مال کے قریب تک نہ پھٹکو۔ یہ اس نے بہت اچھا ترجمہ کیا ہے۔
    And let him who is poor use it for his support, eat of it with discussion. And who is rich let him abstain and who so is poor let hem eat their-of with equity.
    بہت اچھا ترجمہ کیا ہے راڈ ویل صاحب نے ۔ ماشاء اللہ۔ رچرڈ بیل صاحب کیا کہتے ہیں۔(جب ہے ناں فاشھدوا علیھم کے لفظ جو ہیں وہ) فاشھدوا علیھمکے لفظ ہیں اس کا ترجمہ یہ ہے: ان پر ان کے خلاف حجت نہ رہے تمہارے پاس ‘اس حد تک گواہ بنالو۔ یہ معنیٰ ہے اس کا ۔ محض عام گواہ نہیں ہے جسے کسی transationکے بعد دو گواہ بن جاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس احتیاط کے ساتھ گواہ بنائو کہ آئندہ وہ تمہارے خلاف کبھی کوئی شکوہ نہ کرسکے۔ اورکوئی شکایت نہ کرسکیں کہ تم نے ان کی حق تلفی کی تھی ۔ یہ ہے علیھم ان کے مفاد کے خلاف نہیں ان کے مفاد کے حق میں بات ہورہی ہے۔ علیٰ کا مطلب ہے ان سے بچنے کیلئے تاکہ آئندہ ان کی زد میں نہ تم آسکو۔ اس مضمون‘ اس کی بجائے یہ ترجمہ کرتا ہے۔ Call witness agaisnt themاب against themکا کیا موقع ہوا۔ call witness against themکا مطلب تو یہ ہے کہ ان کو ملزم قرار دیا جارہا ہے۔ ان کے جرم ثابت کیے جارہے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ اپنے آپ کو ان کے جائز اعتراض سے بچانے کی خاطر پوری احتیاط کرو اور اس لیے گواہ بنالو۔ اب بیل صاحب اپنی پرانی عادت کے مطابق اس کے حصے تقسیم کررہے ہیں verse7 کے کہتے ہیں یہ ٹکڑا فلاں verseمیں جانا چاہیے یہ فلاںمیں جانا چاہیے۔ Quran reorgnized by Bell.
    اچھا ایک دوباتیں پرانی رہ گئی تھیں ’’ہاںخَسَأَ ‘‘ میں نے جو کہا تھا کونوا قردۃً خاسئین میں ۔مجھے لگتا ہے کہ شاید ایڈز کے تعلق میں بھی یہ لفظ خَاسِأًاستعمال کیا گیا ہو۔ اور میں نے کہا تھا اہل لغت جو ہمارے ہیں وہ پوری طرح دیکھیں کہ اس کا اصل معنٰی کیا ہے۔ چنانچہ خاسئًا کا ایک معنی تو وہی ہے جو ہمیں قرآن کریم کی آیت سورۃ الملک میںنظر آتا ہے۔ ینقلب إلیک البصر خاسئًا وّھو حسیرًا کہ تمہاری نظر لوٹ آئے گی‘ تھکی ہوئی خاسئًا کا مطلب ہے تھکی ہوئی۔ دوسرامعنی جو اس مضمون سے بہت گہر ا تعلق رکھتا ہے وہ یہ ہے کہ خَسَأَ الکلبُ وغیرُہٗ کتا دور ہٹ گیا اور ذلیل ہوگیا۔۔ اور کسی کیلئے إِخسأً کا لفظ استعمال کیا جائے جیسا کہ قرآن کریم نے یہاں استعمال کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے میرے قریب بھی نہ آئو‘ میرے پاس بھی نہ پھٹکو۔ مجھ سے آپس کے تعلقات نہ رکھو کوئی اور ہٹ جائو۔ بعینہٖ یہی سلوک ہے جو ایڈز کے مریضوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ پس کُوْنُوْا‘ اورچونکہ مرض بھی بندروں ہی سے آئی ہے ا س لیے ایک پیشگوئی کا رنگ بھی رکھتا ہے یہ قرآنی کلام کہ کونوا قردۃً خاسئین۔ ہر بندر کو تو انسان دھتکارتا ہی نہیں بعض بندروں کو تو ساتھ گلے لگا کر لوگ پھرتے ہیں۔ پیار سے پالتے بھی ہیں ۔بندر بہت کچھ سیکھ بھی لیتا ہے ۔مگر وہ بندر ہوجائو جس کولوگ دھتکاریںگے اور دور ہٹائیں گے اور کہیں گے ہمارے قریب تک نہ آئو۔ تمہارے برتن الگ ‘ تمہارا اٹھنا بیٹھاالگ۔ تمہاری سانسیں ہماری سانسوںسے نہ ملیں۔ بعینہٖ یہی مضمون خَسَأَ کا اہل لغت نے دیا ہے۔
    پس جیساکہ میرا خیال تھا وہ یقینا درست بات نکلی کہ جب فرمایا گیا کونواقردۃً خاسئینتو ہر بندر بننا مراد نہیں ہے۔ وہ بندر بنو جو بعض ایسی بیماریاںرکھتے ہو کہ ان کا ملنا جلنا‘ کھانا پینا‘ لازمًا الگ کرنا پڑے اور تم پرے رہو‘ پرے رہو‘ پرے رہو۔ یہ ویسا ہی ہے جیساکہ سامری کے متعلق تھا وہ کہے گا میرے قریب نہ پھٹکو۔ دوسری بات ہے وہ جو اٹھائی گئی تھی وہ میں پہلے ہی بیان کرچکا ہون جو میرے پیش نظر تھی۔ کسی نے کہا تھا کہ خطاب چونکہ مردوں کو ہے سفہاء کو اس لیے محض عورت ترجمہ کرنا جائز نہیں ہے وہ میں بیان کرچکا ہوں۔ ( اور تو نہیںکوئی بات) اب وقت بھی ختم ہوگیا ہے۔ اچھا جی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
    إإإ

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    درس القرآن ماہ رمضان
    مورخہ14؍رمضان بمطابق4؍ فروری 1996ء
    للرجال نصیب مما ترک الوالدن والاقربون و للنساء نصیب مما ترک الوالدن والاقربون مما قل منہ او کثر نصیبا مفروضاO(النسائ:۸)
    مردوں کیلئے بھی حصہ ہے ایک معین حصہ ہے نصیب مما ترک الوالدن والاقربون جو کچھ اس کے والدین یا اقرباء نے چھوڑا ہو۔ و للنساء نصیب مما ترک الوالدن والاقربون ۔اور عورتوں کیلئے بھی ایک حصہ ہے جو ان کے والدین یا ان کے اقرباء نے چھوڑا ہو۔ قل منہ او کثر خواہ وہ تھوڑا ہو یا وہ زیادہ ہو۔ نصیباً مفروضا ایک ایسا حصہ ہے جو فرض ہے کہ ان کو ادا کیا جائے یہ ان کا حق بنتا ہے۔ تو تھوڑے اور زیادہ کی بحث نہیں ہے۔ وراثت ایک ایسا قانون ہے جس پر ہر ایک کا عمل کرنا لازم ہے۔ یہ سورہ النساء کی آٹھویں آیت ہے۔ اس سے پہلے جو آیت گزری ہے یہ ہے وابتلوا لیتمی حتی اذا بلغوا النکاح فان انستم منھم رُشدًا فادفعوا الیھم اموالھم ولا تاکلوھا اسرافا وبدارا ان یکبرواومن کان غنیا فلیستعفف و من کان فقیرا فلیاکل بالمعروف فاذا دفعتم الیھم اموالھم فاشھدوا علیھم و کفی باللہ حسیباO یہاں یتامی کے مضمون کی بحث سے اب انتقال ہوا ہے۔ دوسرے اور ایسے معاشرے کے افراد کی طرف جن کے والدین یا اقرباء مرتے ہیں تووہ چونکہ بڑی عمر کے ہیں اس لیے ان کو یتامیٰ کے ذیل میں بطور یتامیٰ کے تو شمار نہیں کیا گیا مگر مضمون ایک ہی ہے۔ اس لیے اس پہلی آیت سے اس بعد میں آنے والی آیت کا ایک گہرا تعلق ہے۔
    (فرمایا) ہر وہ شخص خواہ وہ مرد ہو یا عورت اپنے والدین کا ورثہ پائے گا اور یہ ورثہ اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمارکھا ہے اور اقرباء کا بھی ورثہ پائے گا۔ یہاں والدین کا اور اقرباء کا ورثہ الگ الگ کیوں بیان ہوا ہے۔ اس کے متعلق میں اب کچھ باتیں بیان کروں گا۔
    سر دست میںآپ کو لُغت اور تفسیر کے حوالے سے نصیب کا پہلے معنی بتاتا ہوں، نصیب کیا چیز ہے۔ اوّ ل تو نصب کرنا جیسا کہ ہم کہتے ہیں جھنڈا نصب کردیا۔ عربی میں یہی استعمال ہے نَصَبَ کا۔ کسی چیز کو بلند کیا او رکھڑا کیا او رنمایاں طور پر واضح طور پر دکھایا دنیا کوکہ یہ وہ مقام اور مرتبہ ہے۔ نصب لفلان اعداہُ اُس نے کسی سے دشمنی دل میں گاڑھ لی۔ یہاں دل میں ایک انسان ایک بات گاڑھ کے بیٹھ جائے ۔ ہم اردو میں بھی بعینہٖ انہیں معنوں میں نَصب کے لفظ کو استعمال کرتے ہیں۔ نَصَّبَ الشیء ۔ کسی چیز کو نیچے رکھا۔ یہاں نَصَبَ نہیں بلکہ نَصَّبَ ہے نَصَّبَ کے باب میں اس کا مطلب ہے اُونچا نہیں کیا بلکہ نیچے رکھا۔ اَنْصَبَہٗ۔ جَعَلَ لَہٗ نَصِیْبًا ۔ اَنْصَبْ کا مطلب ہے اس کیلئے حصہ مقرر کیا۔ پس یہ جو نصیب ہے اس کا اس سے تعلق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حصہ مقرر فرمایا ہے اور ہر حصہ نصیب کہلاتا ہے۔ تناصب الشیئ۔ تَقَاسَمُوْہُ انہوں نے کوئی چیز باہم بانٹی ۔ پس اس لحاظ سے بھی نصیب، کیونکہ ورثہ بانٹا جاتا ہے۔ اس لیے لفظ نصیب اس کیلئے برمحل استعمال ہے۔ النُصب۔ گاڑھی ہوئی چیز کو بھی کہتے ہیں ۔ ’’اَلنِّصْب‘‘ نصیبہ اور قسمت کو بھی کہتے ہیں۔ النصیب الحصِّۃُ من الشیء کسی چیز کا ایک حصہ۔ الحظّ یعنی کوئی ٹکڑا۔ کوئی تھوڑا سا جو بھی جو قسمت میں ہو۔ کہتے ہیں ھٰذا نصیبی ۔ ان معنوں میں کہتے ہیں یہ میرا نصیب تھا اور اردو میں بھی اور پنجابی میں بھی نصیب ، دونوں جگہ بالکل انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ پس یہ ایک ایسا لفظ ہے جو ہماری زبانوں میں بالکل عربی کی طرح ہر پہلو سے راہ پاگیا ہے اور مستعمل ہوچکا ہے۔
    تفسیر بحر محیط میں لکھا ہے مزوری کہتے ہیں کہ اہل یونان سارا مال لڑکیوں کو دے دیتے تھے کیونکہ مرد تو روزی کمانے سے عاجز نہیں آتا۔ جبکہ عورت عاجز آجاتی ہے۔ اہل عرب لڑکیوں کو کچھ بھی نہیں دیتے تھے۔ یہ ایک علمی بحث ہے مگر اس آیت کے نزول سے اس کا کوئی بھی تعلق نہیں ہے۔ اہل یونان کیا کرتے تھے کیا نہیںکرتے تھے یہ ایک بے تعلق بحث ہے۔ قرآن کریم نے جوورثہ کی تعلیم دی ہے وہ نہایت متناسب، متوازن ہے جیسا کہ حضرت مصلح موعود کے ایک نوٹ میں اس کی وضاحت ہے۔ کسی دنیا کے مذہب میں، کسی دنیا کے قانون اور رواج میں ورثہ سے متعلق اتنی تفصیلی ، ہر پہلو سے حاوی اور متناسب تعلیم نہیںملتی جیسا کہ قرآن کریم میں ملتی ہے۔ رواج تو مختلف قوموں کے الگ الگ رہے ہیں مگر ہر رواج میںایک ناانصافی کا پہلو ملتا ہے۔
    یونان نے لڑکیوں کو سب کچھ دے دیا لڑکوںکو کچھ نہ دیا اور بعض دوسرے مذاہب میں لڑکوں کو سب کچھ مل گیا لڑکیوں کو کچھ نہ ملا۔ یہود کی تعلیم کاذکر آگے آئے گا ۔ اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ لڑکیوں کو اس وقت ملتا ہے جب لڑکا کوئی نہ ہو، ورنہ محروم رہ جاتی ہیں۔ تو اس طرح ہر مختلف مذہب میںورثہ کی کوئی تعلیم تو بہر حال ملتی ہے لیکن ادھوری اور یک طرفہ۔ اور بض دفعہ ذکر ملتا ہی نہیں کچھ بھی نہیں۔ صرف رواج پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ تفسیر قاسمی میں اس آیت کی وجہ نزول کی یہ بیان کی ہے کہ گویا عربوں کے رواج کے حوالے سے ہے ۔ لوگ عورتوں اور بچوں کو ورثہ نہیں دیتے تھے اور کہتے تھے ہمارا وارث صرف وہی ہوگا جس نے نیزوں کے ساتھ مقابلہ کیا۔ اپنی ملکیت کی حفاظت کی اور مال غنیمت حاصل کیا۔ تو عربوں میں صرف عورتو ں کو ہی محروم نہیں کیا جاتا تھا بلکہ بچوں کو بھی وراثت سے محروم کردیا جاتا تھا۔ حضرت ابن عباس کا ایک قول بیان کیا گیا ہے باب نزول میں اور امام رازی نے اس میں اپنی تفسیر میں اس کو درج فرمایا ہے۔ حضرت ابن عباس کاجو قول بیان کیا گیا ہے اس کے مطابق اوس بن ثابت الانصاری فوت ہوگئے اور ایک بیوہ اور تین بیٹیاں چھوڑیں ۔ (یہ جنگ بدر میں ہوئے تو پھرتو شہید کا لفظ ہونا چاہیے تھا ۔ فوت کا لفظ بتاتا ہے کہ اس زمانہ میںجبکہ یہ سوrۃ نازل ہورہی تھی طبعی وفات پاگئے ہیں)۔
    پس وہ مرد جو اس کے وصی بھی (وصی سے مراد جن کے حق میں رواج کے مطابق اس کا مال جانا چاہیے تھا) وہ سوید اورعرفجہ نامی دو شخص تھے وہ آئے اور مرحوم کے تمام مال پر قبضہ کرلیا اور نہ بیوہ کیلئے کچھ چھوڑا، نہ بچیوں کیلئے۔ اس پر وہ بیوہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یہ واقعہ گزرا ہے۔ کیا ہمارے لیے کچھ بھی نہیں ہے؟ اس کے جواب میں آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ گھر جائو اور انتظار کرو اللہ تعالیٰ تیرے بارے میں کیا فیصلہ فرماتا ہے۔ اس بات کا انتظار کر گھر جاکر دیکھ ،تب رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ اس آیت کے نزول کو اس روایت نے بہت محدود کیا ہے اور میرے نزدیک راڈویل نے جو اس پر تبصرہ کیا ہے وہ زیادہ معقول اور قرین قیاس ہے۔ راڈویل اسی بحث میں یہ سوال اٹھاتا ہے ، کہتا ہے یہ جو روایت درج ہوئی ہے اس عورت کے متعلق …… اس کی اس سے ملتی جلتی روایات میں چھ مختلف نام لیے گئے ہیں یعنی وہ جو خاوند کا نام جو فوت ہوا تھا ایک روایت میں کچھ اور ہے ، دوسری میں کچھ اور اور تیسری میں کچھ اور۔ پھر ایک عورت کے حوالے سے مختلف نام ہیں۔ کہتا ہے اس کے ہم دو ہی نتیجے نکال سکتے ہیں یا تو یہ کہ محمدن روایات ہی قابل اعتبار نہیں ہیں کیونکہ ان میں بنیادی فرق ہے لیکن ایک اس کی توجیہہ ہے اوروہ معقول توجیہہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ اُس زمانے میں جب کہ جنگ ہورہی تھی اور بھی بہت سے ایسے تھے جو بے باپ کے رہ گئے تھے۔
    It is however probable that these and similar laws and ralative to inharitences were given at a time when many heads of families had fallen at OHAD in battle.
    تو بہت معقول بات ہے۔ اس کی یہ اکثر متوازن بات ہی پیش کرتا ہے ۔ کہتا ہے کہ اس ایک روایت سے محدود ماننا درست نہیں ہے ورنہ پھر روایتوں کا اعتبار ہی اُٹھ جائے گا۔ غالباً بہت سے ایسے واقعات ہوئے ہیں کیونکہ اُحد کے زمانہ میں یہ آیت نازل ہوئی ہے جب کہ کئی شہید ہوئے ہیں۔ اُن شہداء میں سے کئی ایسے ہیں جن کی صرف بیٹیاں ہوں گی، بیٹا کوئی نہیں ہوگا ۔ پس موقع اور محل کے مطابق یہ آیت ایک سے زیادہ محرومین کے حق میں ان کے حقوق کے قیام کی خاطر نازل ہوئی ہے اورجو آئندہ مستقل طور پر ایک رہنما اُصول ساری امت کیلئے بن جانا تھی۔ لیکن موقع یہ ہے۔ یہ جو راڈویل کی رائے ہے یہ ان مفسرین کی رائے کے مقابل پر بہت زیادہ وزنی، معقول اور اندرونی دلائل اپنے ساتھ رکھتی ہے۔ ابن کثیر نے بھی وہی روایت لی ہے جو میں نے بیان کی ہے اور اُسی کی بحث میں راڈویل نے لکھا ہے کہ یہ روایت ایک طرح نہیں آئی، چھ مختلف ناموں سے آئی ہوئی ہے۔ اس لیے لازماً ایک سے زیادہ واقعات ہیں جو ملتے جلتے تھے اور ان کے متعلق خداتعالیٰ نے نازل فرمائی یعنی یہ درست نہیں کہ ایک عورت گئی ہے کہ اچھا جائو تم ٹھہرو اور ا س کا انتظار کرو۔ بلکہ ایک صورتِ حال تھی جو تقاضا کررہی تھی اور اس صورت حال کے اوپر یہ آیت نازل ہوئی ۔
    حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس آیت کے ضمن میں یہ اہمیت اس آیت کی یہ بیان فرمائی ہے۔ یہ آیت ورثاء کے متعلق ہے چاہے اس کا نام وصیت رکھیں اور چاہے ترکہ دونوں صورتوں میں آیت یہ کہتی ہے کہ کوئی شخص خواہ تھوڑی جائیداد چھوڑے یا زیادہ اس کے بیٹے بیٹیاں اس کے وارث ہیں۔ قرآن کریم کی اس آیت میں اس بات کا ذکر نہیں کہ وصیت جو دنیا کیلئے کی جائے وہ کتنے مال کی ہو بلکہ یہاں یہ ذکر ہے کہ ایک شخص جو کچھ چھوڑ جائے وہ اس کے وارثوں کا ہوناچاہیے خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ ہو۔ یہ جو تھوڑے اور زیادہ کی بحث ہے یہ بہت اہم بحث ہے، اس کی طرف میں ابھی واپس آتا ہوں۔للرجال نصیب مما ترک الوالدن والاقربون و للنساء نصیب مما ترک الوالدن والاقربون مما قل منہ او کثرنصیبا مفروضاO مردوں کیلئے ایک معین حصہ ہے جو بھی والِدٰن چھوڑیں والاقربون اور اقرباء چھوڑیں۔ اب والدین چھوڑیں تو بیٹے وارث ہوجائیں گے اور والدین چھوڑیں تو بیٹیا ںوارث ہوجائیں گی تو ان کا حصہ اقربان کو کیسے ملے گا پھر سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ماں باپ مرتے ہیں جو کچھ وہ چھوڑتے ہیں اس واضح او رقطعی حکم کے مطابق ان کے وارث ان کے بیٹے یا ان کی بیٹیاں ہوں گی ۔ تو جو دوسرے ان کے اقربان ہیں ان کے مرنے پر وہ کیسے وارث بن جائیں گے ۔ اگر اقربان سے یہ مراد لی جائے کہ تمام اقربان حصہ پائیں گے کیونکہ جب ایک سے زیادہ بیٹے اور بیٹیاں ہوں تو کل حصہ جتنا بھی ہے اس کی برابر تقسیم کا حکم ہے ایک او ردو کی نسبت سے۔ دو حصے بیٹے کے اور ایک حصہ بیٹی کا اور ان کے جو اقرباء ہیں مرنے والوں کے ، اُن کے کسی حصہ کی گنجائش باقی دکھائی نہیں دیتی۔ اس لیے والاقربون سے جو میں معنی یہاں سمجھتا ہوں او رجو اس میں منطوق ہے اس آیت کا وہ یہ ہے کہ اصولی طور پر یہ عنوان ہے وراثت کا دراصل۔ اسلامی قانون وراثت کے اوپر ایک رہنما اصول ہے جو یہ آیت پیش فرمارہی ہے۔ فرماتی ہے للرجال نصیب مما ترک الوالدن۔ اوّل حق والدین پر ان کی اولاد کا ہے کیوں ہے؟ اس لیے کہ والدین اپنی اولاد کو پالنے پوسنے، بڑا کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ ان کے حقوق کی ذمہ داری خدا نے والدین کے سپرد کی ہوئی ہے۔ پس حقوق جو کسی کی پرورش کے دراصل وراثت پر بھی منعکس ہوتے ہیں ۔پس والدین کے اُوپر اولاد کے حقوق ہیں۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ ان کو پالیں پوسیں۔ تواوّل ورثہ چونکہ اکثر والدین پہلے مرتے ہیں اور بیٹے بعد میں یا بیٹیاں بعد میں۔اس اصول کے پیش نظر پہلا ذکر ان بچوں کا کیا گیا ہے جن کے والدین فوت ہوجائیں۔ اگر والدین زندہ رہیں اور بیٹے بیٹیاں فوت ہوجائیں تو قرآن کریم نے اسی اصول کے تابع آگے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے کہ پھر وہ بھی حصہ پائیں گے۔ پس اوّل حصہ دار یا بیٹے ہیں یا باپ ہیں، یا بیٹیاں ہیں یا ماںباپ ہیں ، یا بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔ اور ماں باپ ہیں کیونکہ یہ تعلق سمجھ آجاتی ہے۔ روز مرہ جن کی ذمہ داریاں جس کے سپرد ہیں جب وہ مریں گے تو وہی ذمہ داریاں آگے بھی منتقل ہوں گی۔ جب ماں باپ زندہ تھے تو اقرباء پر کسی کے ماں باپ کا تو کوئی فرض نہیں تھا۔ اقرباء کے ہمدردی کے طو رپر قرآن کریم کی یہ تعلیم کہ دیکھو اقرباء کا خیال رکھنا، اقرباء کا خیال رکھنا۔ ایک اخلاقی طور پر تو وہ ماں باپ جو کسی مثلاً ماںباپ کی بات میں کررہا ہوں ۔ کوئی دو میاںبیوی جن کی اولاد بھی ہے وہ ہرگز فریضہ کے طور پر قانون کے طور پر اقرباء کو اپنے مال میں سے کچھ دینے کے پابند نہیں ہیں ۔ پابند ہیں تو اولاد کو دینے کے پابند ہیں۔ ان کی ذمہ داریاں ان کے اوپر ہیں۔
    پس ورثہ میں بھی یہی اصول جاری ہوگا اور باقی آیات جو ہیں اگر ان کو اس اصول کی روشنی میں پڑھیں تو پھر کوئی کنفیوژن نہیں پیدا ہوتا۔ جہاں اس کو بھلادیں وہاں فقہاء کے بنائے ہوئے اصول عجیب و غریب شاخیں نکال دیتے ہیں اور ایسے ایسے عجیب مضامین اس سے پیدا ہوتے ہیں کہ جن کے مخمصے سے آج تک ماہرین وراثت نکل ہی نہیں سکے۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ماں باپ بیٹیاں چھوڑیں یا بیٹے چھوڑیں ، خصوصاً بیٹیوں کی صورت میں اُن سے بھی زیادہ حصہ اقرباء میں سے دوسروں کو مل جائے کیونکہ اس اُصول کو بھلاکر جب انسان کے بنائے ہوئے قوانین کو اصل وراثت کے قوانین سمجھ لیا گیا اگرچہ وہ استنباط سے ہی بنائے گئے ہیں از خود نہیں گھڑے گئے مگر استنباط در استنباط ہوتے ہوتے بات کہیں سے کہیں پہنچ گئی اور اس بنیادی اصول کو پیش نظر نہیں رکھا گیا کہ ورثہ کا فلسفہ یہ ہے کہ زندگی میں تم جن کے پالنے کے ذمہ دار ہو جب تم مرجائو گے تو وہ بعد میں بھی تمہارے اُنہی اموال کا حق دار ہوںگے جو زندگی میں وہ استعمال کرتے رہے ہیں۔ ایک طبعی او رمنطقی نتیجہ ہے اور جنہوں نے تمہیں دیا ہے اگر تم مرجائو تو جن سے لیا ہے ،جن کا کھاتے رہے ہو ، جن کے اموال پر تمہاری پرورش ہوئی ہے اول حصہ دار وہ بنیں گے پھرماں اور باپ کی طرف انتقال شروع ہوجائے گا۔ یہ وہ روح ہے جس کو ہمیشہ ورثوں کی تقسیم کی الجھنوں میں جاتے ہوئے ایک رہنما روشنی کے طور پر ساتھ رکھنا چاہیے۔یہ لیمپ ہاتھ میں ہوگا اس آیت کا تو ٹھوکر سے بچے رہو گے۔ اگر اس کی روشنی کے بغیر سفر شروع کئے تو پھر کئی جگہ ٹھوکریں پید اہوںگی ، ایسے ایسے مضامین میں داخل ہوجائو گے گویا دَلدل میں پھنس گئے ہو پھر اس سے نکلا ہی نہیں جاسکتا۔
    اس اصول کے پیش نظر جماعت احمدیہ کی فقہ جو ہے وراثت کی اُس پر از سر نو غور ہونا ضروری ہے کیونکہ بہت سے ایسے پہلو ہیں جو کئی لوگ مجھے توجہ دلاتے ہیں۔ کئی پہلوئوں کے بارے میں مَیں سوچتا ہوں جو دیکھتا ہوں تو میں سمجھتا ہوںکہ فقہاء کی غیر معمولی طور پر آنکھیںبند کرکے پیروی کرلی گئی ہے۔ ذوالفرائض، ذوالارحام، ذوالفلاں یہ جو اصطلاحیں ہیں ان کو اپنے اوپر اس طرح نافذ کردیا گیا ہے کہ ان کے جال میں جکڑے گئے ہیں سب فقہائ۔ اور فقہی در فقہی ان اصطلاحوں کی پیروی کرتے کرتے ورثہ کو پھیلاتے کہیں سے کہیں پہنچ جاتے ہیں۔ اصل قرآن کریم کی روح کا فقدان ہوچکا ہوتا ہے، وہ غائب ہوچکی ہوتی ہے صرف ایک منطقی بحث جو ہے وہ آگے جاری رہتی ہے۔ اس لیے اس کو نظر انداز کرکے روح قرآنی اور وہ روح قرآنی جو عین فطرت کے مطابق ہے اس کو رہنما اصول بنائیں اور پھر جن آیتوں میں کچھ اشتباہ ہو وہ متشابہات ہیں۔ اُن متشابہات کے ترجمے کریں اِن آیات کی روشنی میں جو محکمات ہیں۔ اوّل محکم اس مضمون میں یہ آیت ہے جو عنوان بن رہی ہے ورثہ کا۔للرجال نصیب مما ترک الوالدن والاقربون۔ پس اقربون کا حصہ پھر کیسے ملے گا۔ اقربون کا ذکر کیوں آیا ہے جب کہ والدین جب مرتے ہیں تو ان کے بیٹے اور بیٹیاں ، ساری اولاد ان کی وارث بن جاتی ہے تو ان کے اقرباء کہاں گئے؟ یہاں اس کا تعلق یتامیٰ سے ہے اب۔ اس مضمون سے براہ راست ہے جو پہلے گذرچکا ہے۔ یہ آیت اس مضون پرچسپاں ہورہی ہے۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک مرنے والا مرگیا ہے وہ اگر جائیداد چھوڑتا بھی ہے بچوںکیلئے تو بہت معمولی ہوتی ہے۔ وہ اس قابل نہیں ہوتی کہ ان کی دیکھ بھال کیلئے کافی ہوسکے۔ ایک مزدور ہے جو مزدوری کما کر اپنے بچے پال رہا ہے۔ اب جب وہ مرتاہے تو مزدوری کمانے والا پہلو تو نکل گیا جو دراصل بچوں کی روزی کا اصل ذمہ دار تھا۔ کمانے والا اُٹھ گیا تو اس غریب کی جائیدادچند کپڑے ، چند گھر کے سامان چھوٹے موٹے یہ ان کی کفالت کیسے کرسکتے ہیں۔ ایسی صورت میں اقرباء میں سے جو قریب تر ہیں اور یہاں وہ اقرباء مراد ہیں کہ جب اولاد نہ ہو ماں باپ نہ ہوں تو جو حصہ پاتے ہیں پھر جو potentiallyکسی کے وارث ہوں۔ وہی ایسی صورت میں جب اوروارث نہ ہو اس کے، ذمہ دار اور نگران بھی بن جاتے ہیں۔ پس قرآن کریم کا جویہ اصول ہے کہ دو طرفہ معاملہ چلے، احسان کا بدلہ احسان سے ہونا چاہیے۔ اگر روز مرہ کی زندگی میں بعض غریب بچوں کی دیکھ بھال کیلئے ان کے وہ اقرباء ذمہ داری سنبھالتے ہیں جو اکثر میّت کے بھائی ہوتے ہیں یا بھائی نہ ہوں تو ماموں وغیرہ ہوں گے ۔ وہ پھر ان کے مرنے پر ان کے حصہ دار بھی ہونے چاہئیں۔ یہ وہ مرکزی کھڑکی ہے جو اس مضمون کی طرف داخل کررہی ہے۔ والاقربون ۔ اقربون کا بھی ورثہ جب پائیں گے کیونکہ جب ان کی زیر کفالت آجائیں گے تو وہ ایک دوسرے کے وارث بن جائیں گے جب یہ مریں گے تو ورثہ وہ پائیں گے وہ ماں باپ ہیں نہیں ۔تو اقربون اس موقع کیلئے ہیں جہاں ماںباپ نہ ہوں۔ اُس صورت میں یہ بچے جو اقربون سے بھی ورثہ پائیں گے جن شرائط کا میں نے ذکرکیا ہے۔ آگے قرآن کریم ان مختلف categoriesکو۔ ان مختلف قسموں کو بیان کرکے تفصیلی روشنی بھی ڈالتا ہے یا اصولی روشنی ڈالتا ہے۔ وہ اقربون یہاں مراد ہیں۔ ان کے حصہ پانے والے جو اقربون سے پانے والے ہیں ان میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ مردوں کا یا لڑکوں کا دو حصے ہوں گے اور لڑکیوں کے ایک ایک حصے۔ یہ ہے اصول جس کے اوپر عموماً ساری وراثت کی تعلیم چل رہی ہے۔ جہاں استثناء ہیں وہاں اس کی وجوہات ہیں اور قرآن کریم اُن پر روشنی ڈالتا ہے کہ کیوں استثناء فرمائے گئے ہیں۔
    قل منہ او کثر ۔ اس کی کیا ضرورت پیش آئی؟ یہ کافی تھا کہ ورثہ دے دیا گیا ہے تھوڑا ہو یا بہت ۔ ظاہر بات ہے۔ ہر ایک نے اپنے مرحوم والدین کے یا اقرباء کے حصے میں سے جو کچھ ان کی حالت ہے اس کے مطابق ہی پانا ہے۔ غریب ہیں تو غریبانہ ورثہ ہوگا، امیر ہیں تو امیرانہ ورثہ ہوگا۔ قل منہ او کثر بڑی واضح طور پر یہ جو آیت کا حصہ ہے۔ بڑا واضح طور پر کسی مضمون کی طرف اشارہ کررہا ہے ورنہ اس کی ضرورت نہ ہوتی اور یہ اتنی اہمیت والا حصہ ہے کہ اس کو نظر انداز کرکے ہمارا سارا اسلامی معاشرہ ورثہ کے معاملہ میں تباہ ہوچکا ہے۔ چھوٹا موٹا اگر ہو گھر کا روز مرہ کا سامان جس کی حیثیت کوئی نہ ہو تو لڑکیاں بھی لے لیتی ہیں ، لڑکے بھی لے لیتے ہیںپرواہ ہی کوئی نہیں۔ جہاں جائیدادیں آجائیں اور وسیع اموال ہو ں وہاں ساری برادری تنگی محسوس کرتی ہے کہ بیٹیوں کو کچھ دے دیں جو اس گھر کا مال ایک اورگھر کی طرف منتقل کردیں گی وہاں اور وارث بن جائیں گے جو اس خاندان کے افراد نہیں ہیں۔ یہ جو خطرہ ہے اس نے عملاًاسلامی دنیا کے اکثر ممالک میں ایک مصیبت ڈالی ہوئی ہے۔ اگر ساری اسلامی دنیا میں نہیں تو کم سے کم ہندوستان اور پاکستان میں تو قطعی طور پر اس حصہ کو نظر انداز کرنے کے نتیجہ میں سارا نظام وصیت درہم برہم ہوچکا ہے۔ زمیندار دو طرح سے بچیوں سے زیادتی کرتے ہیں۔ اوّل تو جب جائیداد تقسیم ہوتی ہے تو لڑکے ہی لے جاتے ہیں، لڑکیوں کوکوئی جرأت ہی کوئی نہیں ہوتی اور اگر وہ مطالبہ کریں توپھر طرح طرح کے دبائو ڈالے جاتے ہیں بڑے سخت! بعض دفعہ خون خرابے بھی ہوجاتے ہیں کہ تم ہوتے کون ہو، یہ ہماری جائیداد ہے ہمارے پاس ہی رہے گی ۔ یہ برداشت نہیں کرسکتے کہ کوئی غیر قوم کا آدمی جس کے ہاں ان کی بیٹی بیاہی گئی ہے وہ آکر وہاں ان کی جائیدادوں میں دخل دے اور وہاں آکر وہ اپنے ڈیرے لگالے اور اپنا جھنڈا نصب کرلے۔ یہ ان کی طبیعت برداشت ہی نہیں کرتی۔
    پس قرآن کریم میں جو فرمایا مما قل منہ اوکثر کہ بہت ہی اہم انتباہ ہے کہ خبردار کہیں زیادہ ہونے کی وجہ سے ڈر نہ جانا۔ یہ حکم ہے، فریضہ ہے نصیبا مفروضا ایسا حصہ ہے جو خداتعالیٰ نے مقرر اور فرض فرمادیا ہے۔ تمہیں مجال نہیں ہونی چاہیے اس سے انحراف کرو۔ افسوس ہے کہ احمدیوں میں بھی بہت سی جگہ یہ باتیں رائج ہوگئیں۔ ایک موقعہ پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے اعلان فرمایا کہ اب میں ایک گویا اعلان جنگ کررہا ہوںان لوگوں کے خلاف۔ پہلے تو نصیحتیں کی جاتی تھیں مگر اب اگر ایسا ہوا تو ایسے لوگو ں کو جماعت سے خارج کردیا جائے گا جو اپنی بہنوں کے حق مار کے بیٹھے ہوئے ہیں اور بہت سی ایسی بہنیں تھیں جو عملاً آواز نہیں اُٹھارہی تھیں ۔اس سے یہ سمجھا گیا کہ ان کی مرضی شامل ہوگئی ہے۔ وہ تو ڈر کے مارے بیچاری بولتی نہیں تھیں۔ جب یہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خطبہ آیا ہے تو بیحد مطالبے شروع ہوگئے اور آج تک بھی میرے پاس آتے رہتے ہیں۔ بہنیں کہتی ہیں ہمیں طاقت نہیں ہے، ہمارا کوئی بولنے والا نہیں ہے، ہم بولیں گیں تو بری بنیں گی گھر میں۔ ہمارے ساتھ ذلیل سلوک کیا جائے گا اگر اور کچھ نہیں تو ہمیں کوڑھیوں کی طرح ایک طرف پھینک دیں گے اور ہم میں یہ جرأ ت نہیں ہے۔ تو میں اُن سے کہتا ہوں خدا نے تمہیں جو حق دیا ہے تمہیں جرأت سے کام لینا چاہیے کیونکہ یہ اگر تمہاری خاموشی اور تمہاری کمزوری ان ظالموں کے ہاتھ مضبوط کرے گی تو ان کے گناہوں کا ایک حصہ تم بھی کمائو گی کیونکہ وہ اس پر دلیر ہوتے چلے جائیں گے۔ ہر احمدی عورت کو میدان میں آنا چاہیے جس کا حصہ مارا گیا ہے۔ خدا نے فریضہ مقرر کیا ہے ، اس کو لازماً قضاء کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے کہ اس کا ردّ عمل کیا ہے اور اگر ایسا کریں گے تو پھر آئندہ لوگوں کو نصیحت ہوگی ، خوف پیدا ہوگا اور وہی مضمون ہوگا وشردبھم من خلفھم۔ جو چند سامنے آتے ہیں ان سے ایسی سختی کرو کہ پچھلے ڈر جائیں پھر ان کو جرأت ہی نہ پیدا ہو۔ اب چونکہ پہلوںسے نہیں ہوا اور بہت سے زمیندار ہ خاندان ہیں جن میں جہاں تک میرا علم ہے ابھی تک بھی اس کی پرواہ نہیں کی جارہی اس لیے اس کو مثال بنا بنا کر اگلے لوگوں نے بھی پکڑ لیا ہے۔ اس کے خلاف جماعت کو بہر حال اب جہاد کرناہوگا یہ نصیبا مفروضا لازماً دلانا ہے اور اس معاملہ میں خواہ کئی پرانے خاندانوں کو بھی جماعت سے خارج کرنا پڑے قطعاً کوئی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ ان کا نکلنا باعث برکت ہوگا کیونکہ اللہ کے حکم کی تائید میں اس کی حفاظت کی خاطر ان کونکالا جارہا ہے۔ اس کی کمی اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے پوری فرمادے گا۔ اس کی بالکل پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ جہاںکوئی بہن اپنے طور پر حصہ چھوڑنا چاہتی ہے اس کے اوپر وہی اصول صادق آئے گا جو حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کا فتویٰ اُس مرد کے متعلق تھا جس نے کہا تھا کہ میری بیوی نے حق مہر معاف کردیا ہے ( وہ حکیم فضل دین صاحب تھے نہ بھیروی جن کا ذکر ہوا تھا ہاں) وہ پہلے دیں اس کو اس کے بعد پھر وہ واپس کردے تو شوق سے واپس کردے ۔ لیکن Riskبڑی ہے میں بتادیتا ہوں ابھی! شاذ ہی کوئی ہوگی بہن ،جو یہ کہے کہ چلو میں واپس کرتی ہوں ان کو دے دے۔
    اب اس ضمن میں ایک اور مسئلہ بھی اٹھ کھڑا ہوتا ہے جو یہاں زیر نظر آنا چاہیے۔ ایک آدمی ورثہ میں جو کچھ پاتا ہے اس نے وصیت بھی کی ہوئی ہے اور اپنا ورثہ ہبہ کردیتا ہے دوسرے وارثوں کو کہ مجھے ضرورت نہیں۔ اب وہ مرتا ہے تو اس کی وصیت کا کیامعاملہ ہوگا؟ ایک ایساکیس میرے سامنے آیا ہے تو میں نے ہدایت دی اصولی کہ آئندہ ہر گز اس بات کو قبول نہ کیا جائے کہ میں نے ورثہ اس کو دے دیا تھا۔ تم نے اس کو جو دیا تو اپنا حق چھوڑا ہے لیکن تم اس سے پہلے خدا سے وعدہ کرچکے ہو کہ میںاپنی کل جائیداد کا 1/10حصہ خدا کو دوں گا یا دوںگی۔ اس وعدہ خلافی کا تمہیں کوئی حق نہیں ہے کیونکہ تقسیم ورثہ وصیت کے بعد ہوتی ہے جو وصیت یاقرض واجب ہیں ان کے بعد باقی وصیت تقسیم ہوتی ہے اور یہ جو حصہ ہے یہ قرض کی صورت ہے جو تم دے بیٹھے ہو اللہ کو اسے واپس نہیں لے سکتے۔ تو ایسی وصیت اس وقت تک منظور نہیں ہوئی جب تک وارثان نے وہ حصہ بھی ادا نہیں کردیا جو مرنے والے پر واجب آتا تھا اگر وہ اپنا حصہ وصول کرلیتا۔ ایسا ہی معاملہ انگلستان میں بھی پیش آیا۔ باہر بھی پیش آتے رہتے ہیں۔ ایک معین کیس میرے سامنے نہیں ہے۔ بہت سے ہیں جو بعد میں سامنے آئے ان پر یہی اصول چلا ہے۔ تو اپنا ورثہ چھوڑنا اور بات ہے اور اپنے حقوق کی ادائیگی سے انحراف اور چیز ہے ۔ حصہ چھوڑنے کی اجازت ہے جب کہ حقوق کی ادائیگی پر یہ بات اثر انداز نہ ہو وہ تمہیں بہرحال ادا کرنے ہوں گے۔
    دوسرا ایک اور پہلو ہے شادیوں کا جس مسئلہ پر اس مسئلہ نے بہت برا منفی اثر ڈالا ہوا ہے۔ کئی زمیندار خواتین ہیں، بچیاں ہیںجن کی شادیاں محض اس لیے نہیںہورہیں کہ وہ صاحب جائیداد ہیں۔ وہ خاندان صاحب جائیداد ہیں۔ اگر ماں باپ مریں تو بیٹیاں بہت سی زرعی زمین ورثہ میں پائیںگی۔ اگر وہ دوسرے خاندانوں میں بیاہی جائیں، اگر حسب و نسب کو نہ دیکھا جائے اور رشتہ تقویٰ کے اوپر ہو تو ہوسکتا ہے وہ ایک غریب ایسے شخص کو بیاہی جائیں جس کو یہ لوگ زمیندار کمین کہتے ہیں۔ یعنی بے جائیداد کے لوگ جو ہاتھوں کی کمائی کھاتے ہیں۔ یہ لفظ بہت ہی ظالمانہ ہے ان کو کمین کہنے کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے ہرگز۔ مراد ان کی یہ فخر ہے کہ ہم زمیندار ہیں ، زمینوں پر پلنے والے لوگ ہیں یہ ہاتھوں کی کمائی کھاتے ہیں۔ اب وہی زمیندار یہاںآکر ٹیکسی ڈرائیو کرتے ہیں اس وقت ان کو شرم نہیں آتی۔ زمیندار پھر بھی وہیں کے وہیں رہے۔ تو یہ ہاتھوں کی کمائی زیادہ معزز ہے۔ ورثہ کی کمائی بھی کھاتے ہو تو کھائو لیکن اصل بابرکت کمائی وہی ہے جو محنت سے کمائی جاتی ہے جو اپنے خون پسینے سے ہاتھ آتی ہے، ایسے لوگوں کو ذلیل کردینااور جو ورثہ پاتے ہیں ان کو عزت دینا یہ ناجائز ہی نہیں قرآن کریم میں اس کے اوپر بہت ہی ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا گیاہے۔ جہاں طعن کا ذکر ہے وہاں یہ ظالم ایسے ہیں ان غریبوں کو بھی طعن کرتے ہیں اموال میں جن کا اپنے ہاتھ کی کمائی کے سواکچھ نہیں۔ اس طعن کے متعلق ایک دفعہ باہر سے مجھے کسی نے حدیث لکھ کے بھیجی تھی کہ یہ طعن تھی! میں نے اس لیے نہیںپڑھ کے سنائی (یہ طعن تھا وہ جس میں لکھا تھا)۔ وہ صرف ایک طعن نہیں ہے ہر قسم کے طعن موجود ہیںاس میں ۔ وہ سوسائٹی بھی بڑی اپنی خاص روایات کے اوپر فخر کرنے والی سوسائٹی تھی اور اس قسم کے مزدوروں وغیرہ کو حقارت سے دیکھتے تھے وہ غریب تھوڑا چندہ دیتے ہیں اورتب بھی طعن کرتے ہوں گے۔ یہ جو لکڑیوں کے ڈھیر ی میں سے چار لکڑیاں لے آیا ہے یہ کوئی چندہ ہے! یہ قربانیاں ہیں! اس قسم کے طعن بھی تو کرتے ہوں گے۔ اور کچھ ان میں سے جو چندہ اکٹھا کرنے والے ہوں گے ان کے اوپر یہ طعن بھی ہوتا ہوگا کہ یہ بیج میں سے کھاگیا ہوگاضرور۔ہے غریب آدمی اس کے کپڑے ہم نے سفید دیکھے ہیں ضرور کھا گیا ہوگا۔ تو اس قسم کی باتیں ہیں جو طعن کے بہت سے امکانات ، احتمالات ہمارے سامنے کھولتی ہیں۔ قرآن نے غریبوں پر اور خصوصیت سے مزدوروں پر طعن کرنے پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا ہے اور جن کو پیشہ ور کہتے ہیں وہ ہیں وہی مزدور لوگ جو اپنے ہاتھ کی کمائیاں کھاتے ہیں ، اپنے فن کی کمائی کھاتے ہیں۔ ایک زمانے میں انگلستان میں بھی ان کے خلاف ایک بڑا تعصب پایا جاتا تھا۔ جینٹری وہ تھی جو لینڈڈ جینٹری ہو جس کے پاس زمین ورثہ میں آنے کے امکانات ہوں خواہ وہ زمین ان کوورثہ میں ملے نہ ملے وہ معزز لوگ۔ نہ ملے اس لیے کہ اکثر کو ملتی کوئی نہیں تھی کیونکہ لینڈڈ جینٹری وہ تھی جن میں سے جو چھوڑے ہوئے بچوں میں سے جو سب سے بڑا بیٹا ہے وہ ساری جائیداد لے کر بھاگ جاتا تھا۔ وہی ٹائٹل لے لیتا تھا، وہی ڈیوڈ اور وہی اس جائیداد کا مالک اور واحد وارث بن جاتا تھا اپنے چھوٹے بھائی بھی محروم اپنی بہنیں بھی محروم۔ مگر عزت کی جوہے نا انا وہ موجود تھی۔وہ رسّی جل گئی پر بل نہ گیا۔ ان کی جائیدادیں تو ختم ہوجاتی تھیں ماں باپ کے مرنے پر اکثر بچوں کی، لیکن وہ شان رہتی تھی کہ ہم بڑے ہیں۔ کچھ زندگی میں چونکہ ان کو advantagesتھیں۔ وہ کما بھی لیتے ہوں گے اورآئندہ اپنی جائیداد کچھ بنالیتے ہوں گے ۔ یہ رواج ابھی کل تک کی بات ہے۔ اسی طرح رائج تھے انگلستان میں ۔ اس لیے یہ ہردنیا میں ایک *** ہے کہ ہاتھ کی کمائی کو برا سمجھاجاتا ہے اور ورثہ کی کمائی کو اچھا سمجھا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قل منہ او کثر میں یہ بھی اشارہ فرمادیا ہے کہ تھوڑے بہت کی کوئی عزت نہیں ہے جو بھی ہے ورثہ میں حق ہے تمہارا، مگر اصل بات یہ ہے کہ اس ورثہ کے دوران اگر اکثر دیکھ کر تم نے زیاہ مال دیکھ کر، ورثہ کی تقسیم میں تفریق کی اور خدا کے قانون میں دخل دیا تو تم مردودلوگ ہو۔ یہ فریضہ ہے جسے تمہیں بہرحال نافذ کرنا ہوگا۔ اس پہلو سے یہ اثر تو پڑتا ہے ۔جو دوسرا اثر پڑرہا ہے وہ بچیوں کے حقوق پر ہے۔ لیکن ہے اسی کا اثر جس کی اب میں بات کررہا ہوںکہ بے زمینے سے شادی کرلیں گی تو ہم کہاں جائیں گے؟ ہماری جائیدادیں موچیوں اور سناروں اور فلاںاور فلاں میں چلی جائیں گی ۔ حالانکہ موچی بھی کوئی ذات نہیں ہے، سنیاروں کی ،کوئی ذات نہیں ہے۔ کئی راجپوت ہیں جو سنیارے ہیں مگر کام سنیاروں کا کرتے تھے آہستہ آہستہ نام بھی سنیارا بن گیا۔ اور کئی بڑھئی ہیں جو پٹھان تھے پہلے اور بڑھئی کے کام کئے ۔ خان ہوا کرتے تھے اب وہ ترکھان ہوگئے یعنی بھیگے ہوئے خان بن گئے بیچارے! تو یہ چیزیں یوں ہی فرضی انسان کی بنائی ہوئی جھوٹی عزتیں ہیں،مگر ہویہ رہا ہے! ابھی تین دن کی بات ہے بعینہٖ یہی ایک تکلیف دہ خبر مجھے ملی کہ ایک بچی ہے جو بڑی شریف ، بہت اعلیٰ اخلاق کی مالک تیس سال کی عمر ہوگئی ہے اس کیلئے کوئی زمیندار رشتہ ڈھونڈ دیں۔ زمیندار کیوں ڈھونڈوں باقی مانیں گے نہیں۔ کہتے ہیں اگر آپ نے زمیندار کا رشتہ نہ ڈھونڈا جو برابر کا ہو ان کی چوٹ کا تا کہ وہ سمجھیں کہ ہمارے اپنے اندر ہی بات رہی ہے تو وہ مانیں گے نہیں اور ساتھ یہ بھی ہے ایک اشارہ کہ اگر اسی خاندان میںسے وسیع تر جو ہے نسبتاً اس میں سے لڑکا ملے تو پھرزیادہ مناسب ہے کیونکہ وہ کہیں گے کہ یہ جائیداد گھر میں ہی رہی ہے اور اس وجہ سے اس کی شادی نہیںکررہے۔ کہتے ہیں اچھے سے اچھے رشتے آتے ہیں لیکن وہ ردّکردیتے ہیں۔
    تو ایسے یہی وہ مواقع ہیں جہاں جماعت کو اپنی ولایت کا حق استعمال کرنا چاہیے۔ خلیفہ وقت کو جو ولایت کا حق ہے وہ انہی معنوں میں ہے کہ جہاں بھی ولایت کا ناجائز استعمال ہورہا ہو قرآن کی رُوح کے منافی فیصلے ہو رہے ہوں ، ولایت اس غرض سے ملتی ہے کسی کو کہ کسی کے حقوق کا خیال رکھے ، اس کے مفاد کی حفاظت کرے ۔ جب ولایت بالکل برعکس موقع پر استعمال ہورہی ہو اور حقوق دبانے کیلئے اوراس کے مفاد کے خلاف فیصلے کرنے کیلئے ایک دھونس کے طور پر استعمال ہو وہ ولایت کالعدم ہو جاتی ہے پھرہر گز ولایت نہیں رہتی۔وہ ولایت لوٹتی ہے پھر خدا کے قائم کردہ نظام کی طرف۔ ان معنوں میں خلیفہ ولی ہوجاتا ہے ۔ اس کو خدا نے حق دیا ہے کہ ایسی صورتوں میں جب وہ سمجھے کہ ولایت کے غلط استعمال کے نتیجہ میں بچیوں کا یا بعض دوسروں کا نقصان ہورہا ہے تو خود فیصلہ کرے۔ پس ایسے سارے معاملات کومرکز کی طرف پہلے بھیجنا چاہیے قضاء سے پہلے ۔ بہتر یہ ہے کہ اصلاح وارشاد اور امور عامہ اور ان کے ساتھ کوئی اور انجمن مقر رکردے کسی نظارت کا نمائندہ، یا علماء میں سے جو بیشک باہر سے ہوں۔ ایک دو مقررکرکے ایک کمیٹی بنادی جائے۔ ان میں ایسے اگر وکیل ہوں تو وہ بھی بہتر ہے۔ اس کمیٹی کی طرف تمام ایسی بچیاں جو غلط انداز میں غلط سلوک کی شاکی ہیں وہ اپنے حالات لکھ کر بھیجیں۔ پھر اس کمیٹی کا فرض ہے کہ اخلاقی دبائو ڈالے، سمجھائے ، جہاں مشکلات میںمدد کرسکتی ہے، مدد کرے اور جن لوگوں کو ہلاکت سے بچاسکتی ہے بچالے۔ اگر ناکام رہے تو پھر بچیوں کو سہارا دے ، ان کو وکیل مہیا کرے کہ وہ قضاء میں جائیں اور پھر قضائی فیصلے کی اگر نافرمانی کی ان لوگوں نے تو قطعی طور پر قطع نظر اس سے کہ ان کا کیا مقام بنا ہوا ہے جماعت میں، ان کو جماعت سے نکال کر باہر پھینک دیا جائے گا۔ نظام جماعت ،نظام خلافت کا وہ حصہ رہ ہی نہیں سکتے اگر اس بنیادی حکم کی وہ کھلم کھلا نافرمانی کررہے ہیں اور بلکہ بغاوت کررہے ہیں۔ ایک انفرادی نافرمانی ہوتی ہے وہ ایک انسان کے ساتھ ہے خدا اس کا حساب کتاب خود کرتا ہے اس کے ساتھ۔ ایک ہے قومی بغاوت اس میں نظام کو اختیار ہی نہیں ہے نظر بندکرنے کا، آنکھیں پھیرنے کی اجازت ہی نہیں ہے۔ اس لیے ہم مجبور ہیں، یہاں رحم کے نام پر کوئی بات نہیںچلے گی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہم مجبورہیں، ہمار ے اختیارات محدود ہیں۔ ہمارے علم میں آئے تو لازماً وہی کارروائی کرنی ہوگی جس کا قرآن تقاضا کرتا ہے کہ انضباطی کارروائی مضبوطی کے ساتھ اور پھر اس بات کی پرواہ نہیں ہوگی کہ وہ جماعت میںرہنا چاہتے ہیں یا نہیں رہنا چاہتے۔ یہ صفائی ضروری ہے جہاں جہاں بھی اس اصول پر ہم نے صفائی کا کام کیا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ کبھی بھی کوئی نقصا ن جماعت کو نہیں پہنچا بلکہ غیر معمولی فوائد ہوئے ہیں۔ مالیاتی نظام میں بھی جہاں صفائی کاکام کیا گیا وہاں پہلے سے بہت بڑھ کر چندے بڑھ گئے اور ان لوگوں کے اموال میں بھی برکت پڑی جنہوں نے اس راہ میں قربانیاں دیں۔ انفرادی طور پر بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص پر ابتلاء آجاتا ہے خدا کی خاطر ایک حرام مال کے حرام کمائی سے رکتا ہے اور فوراً اس کا کچھ نہیں بنتا۔ اُن استثنات کی میں بات نہیں کررہا عمومی طور پر ایسے لوگوں کاحال بتارہا ہوں کہ بلا شبہ یقینی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ لوگ جو پہلے حرام کاموں میں ملوث تھے ان کی زندگیوں کی کیفیتیں بدل گئیں ، ان کے اموال میں برکت پڑی۔ جو چند استثناء ہیں ان کا حال اللہ جانتا ہے کہ کیوں وہ استثناء ہیں۔ ان کے رویے کے اندر، ان کی نیتوں کے اندر ، ان کے تعاون کے طرز عمل میں کہ پتہ نہیں کیا کیا باتیں تھیں جن کے نتیجہ میں ان کے ابتلاء کو لمبا کردیا گیا ہے یا محض ابتلاء آیا ہے کہ اس دَور سے گزر جائو تو پھر خداتعالیٰ تمہیں بہت برکت دے گا۔ اس دَور پر جو ابتلاء کا دور ہے وہ ایسے لوگ جو اس وقت اس دور پر ہیں یا اس میں سے گزر رہے ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ اپنی اطاعت کی روح کو زخمی نہ ہونے دیں۔ صبرشکرکے ساتھ اس امتحان سے گزریں اور بار بار یہ جماعت کوطعنے نہ دیں کہ آپ نے کہا تھا ہم نے چھوڑدیا یہ مصیبت پڑ گئی۔ جب مجھے بھی ایسا لکھتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ جیسے میں ہی ذمہ دار بن گیا ہوں ساری مصیبت کا۔ وہ یہ کیوں نہیں کہتے کہ خدا نے کہا تھا ہم نے مانا یہ مصیبت پڑ گئی۔ اس کی جرأت ہی نہیں! تو مجھے کیاحق ہے کہ کسی کے اموال میں دخل دوں میں نے تومحمد رسول اللہ ﷺکی بات پہنچائی تھی اور زور دیا تھا کہ مجھے اختیار ہی نہیںہے کہ یہ بات سن کرعلم میں آنے کے باوجود میں اس کے برعکس کسی چیز کی اجازت دوں۔اس لئے میرا اختیار نہیںہے اگر تم مانو گے تو محمد رسول اللہ کی بات مانو گے نہیں مانو گے توپھر میرے ساتھ بھی تعلق کٹے گا۔ یہ ہے فیصلہ دو ٹوک! اس پر جب وہ لکھتے ہیں کہ آپ نے فرمایا تھا ہم مان گئے اب بتائیں کیا کریں؟ کچھ بھی نہیں، نہ نوکری مل رہی ہے نہ دوسری بزنس کا انتظام ہورہا ہے۔ توان کو میرا جواب یہ ہے کہ پھر خدا سے لڑیں اگر لڑ سکتے ہیں، تو اس سے شکوہ کریں اگر شکوہ کا حق ہے۔ ہرگز کوئی شکوہ کا حق نہیں۔ اس کا تو مطلب ہے کہ اگریہ دلیل مان لی جائے تو ہر شخص حرام کی طرف دوڑ سکتا ہے یہ کہہ کر کہ اگر میں حرا م نہ کروں تو میں غریب ہوجائوں گا۔ یہ دلیل جائز ہے؟ پھر چوریاں بھی کرو، پھر ڈاکے بھی ڈالو، پھر قتل و غارت بھی کرو، پھر یتامیٰ کے مال بھی غصب کرو۔ اور روکا جائے تو رُک کر الٹ کے کہو کہ دیکھیں آپ نے کہا تھا کہ اسلام اجازت نہیں دیتا، اب ہم کیا کریں؟ یتیم کامال اس کو مل گیا ہمارے بچے بھوکے مرجائیں۔ فلاں کا مال غصب کیا ہوا تھا آپ نے زبردستی اس کو دلوادیا اب ہمارے حقوق کہاں گئے۔ تو تمہارے حقوق وہی ہیں جوہاتھ کی کمائی کے رہ گئے ہیں پھر ۔ اور اس میں بھی عزت ہے اس کو بھی قرآن کریم نے معزز پیشہ گردانا ہے۔ پھر از سر نو سفر شرو ع کرو۔ فرضی عیش و عشرت کے جو محل بنائے ہوئے تھے وہ حرام کے کام پر بنائے ہوئے تھے ان کا تمہیں حق نہیں تھا۔ خدا نے اُس غلاظت سے تمہیں نکالا ہے۔ اس لیے جماعت پر احسان نہ جتائو، جماعت کے احسان مند ہوجائو۔ پھر زیادہ قرین قیاس ہے کہ تمہیں برکت ملے گی۔
    ایسے ہی ایک کیس کے متعلق مجھے پتہ ہے کہ اُس خاندان کو دو یا تین سال تک بڑی مصیبت پڑی کچھ بھی نہیں بنا ۔ لیکن ان کے اندر یہ گہری شرافت اور حیاء تھی وہ یہ نہیں کہتے تھے کہ اس وجہ سے ہمیں ہوا۔ انہوں نے کہا الحمد للہ ہم نجات پاگئے ہیں ۔ آگے اللہ جب عطا کرے گا ہم انتظا رکررہے ہیں۔ان کو اتنی برکت ملی ہے کہ جو پہلے حرام والے کام تھے ان کے مقابل پر کہیں سے کہیں بات پہنچ چکی ہے۔ تو اس لیے یہ کھلی بات ہے، یقینی بات ہے میرے نزدیک۔ اپنے نفس کی، اپنے طرز اطاعت کی اصلاح کرلو اسے خالص کر لو اللہ کیلئے ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے فضلوں سے مشروط نہ کرو بلکہ اُس کی مرضی پر چھوڑ دو۔ اگر مرضی پر چھوڑو گے تو پھر غربت کا ابتلاء بھی تمہارے ایمان کو نقصان نہیں پہنچاسکے گا۔ اس میں بھی لذت محسوس کرو گے ایک اور ہی کیفیت پائو گے کہ اب ہم غریب ہیں تو خدا کی خاطر ہیں بہت مزہ آرہا ہے۔ ٹھیک ہے مالک ہے جتنا چاہے دے ہم اس پر راضی ہیں۔ اس رُوح کی حفاظت کرو گے تو پھر خداتعالیٰ کے فضل کے ساتھ سارے مسائل حل ہوجاتے ہیں۔ پس اُن زمینداروںکو جو کَثُرْ سے ڈرتے ہیں کہ بہت بڑی جائیداد ہے یہ بیٹیاں یا بہنیں لے کر کہیں اور چلی جائیں گی، اُن کو میں کہتا ہوں کہ جائیدادیں بنانا، بڑھانا ، برکت دینا خدا کے ہاتھ میںہے او رکم کردینا بھی خدا کے ہاتھ میں ہے۔ قادر ہے وہ بارگاہ جو ٹوٹا کام بناوے۔ بنابنایا توڑدے کوئی اس کا بھید نہ پاوے۔ تمہاری جائیدادیں حرام کی کمائی کی یا غصب کی ہوئی تمہارے کسی کام نہیں آئیں گی۔ عین ممکن ہے کہ جائیدادیں تو بڑھ جائیں مگر برکتیں اٹھ جائیں، گھروں میں مصیبتیں پڑ جائیں، اولاد تمہاری دشمن ہوجائے۔تم ایک دوسرے کے گلے کاٹنے لگو او وہ مال *** بن جائیں جن اموال کی حرص میں تم نے قرآنی احکام کو نظر انداز کیا تھا۔
    پس اس آیت کا یہ پہلو جو ہے یہ میں ضرور خصوصیت سے سمجھانا چاہتا تھا ، باقی جو بحثیں ہیں وہ ساری معمولی گرائمر وغیرہ کی بحثیں ہیں یا لغت کے لحاظ سے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ البتہ بعض مستشرقین کے تبصرے میں دیکھتا ہوں اگر اس قابل ہوئے جو آپنے سامنے پڑھ کر سنائے جانے ہوں تومیں سنا کے رکھتا ہوںآپ کے سامنے۔ ایک وعدہ میں نے کیا تھا کہ حضرت مصلح موعود کا ایک تفصیلی نوٹ ہے اس سلسلے میں جو بڑا جامع مانع ہے وہ میں آپ کو بتائوں گا۔ وہ اب میں پڑھ کر سناتا ہوں۔
    ’’حفاظت مال کا اسلام نے ایک قاعدہ بتایا ہے جس کے مقابلے میں اور کسی مذہب نے کچھ بھی بیان نہیں کیا کیونکہ جس رنگ میں اسلام نے ورثہ مقرر کیا ہے اور کسی نے نہیں کیا(یہ غیر مطبوعہ نوٹس ہیں اس آیت پر، ابھی اس کے اوپر تفسیر حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کی چھپی نہیں تھی نہ آپ کو موقع ملا تھا لیکن نوٹس لکھ چکے تھے جو ہمارے پاس اس وقت سامنے ہے)۔ اسلام نے ورثہ مقر رکیا اور کسی نے نہیں کیا۔ نہ عیسائی مذہب نے، نہ یہودی مذہب نے، نہ آریہ مت نے اور نہ کسی اور مذہب نے، کسی مذہب نے بھی تمام پہلوئوں کو مدنظر نہیں رکھا۔ یورپ میں تو کہتے ہیں کہ ورثہ کا سارا مال جو جدی ہو بڑے لڑکے کو دے دیا جائے۔کسی ملک میں بیٹوں کو تو دیتے ہیں لیکن بیٹیوں کو نہیں دیتے۔ بعض جگہ بیٹیوں کو بھی دیتے ہیں ، ماں باپ کا خیال نہیں رکھتے۔ کہیں خاوند مرتا ہے تو بیوی کا لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ کہیں بیوی مرتی ہے تو خاوند کو کچھ نہیں ملتا اور انگلستان میںاور یورپ میں یہ بھی ہورہا ہے کہ خاوند مرتا ہے تو سب کچھ بیوی لے جاتی ہے۔ اگر اولاد نہ ہو اور وہ حقوق جو اسلام نے قائم کیے ہیں دوسرے اقرباء اور عزیزوں وغیرہ کے ان کو نظر انداز کردیا جاتاہے‘‘۔
    اس معاملہ میں بھی ایک نصیحت کی ضرورت ہے۔ اگر کسی ملکی قانون کا عذر رکھ کر واضح طور پر شریعت کے احکام کو نظر انداز کیا جائے تو جماعت اس وجہ سے ہاتھ نہ ڈالے کہ قانون نے اجازت دے دی ہے اگر جماعت نے دخل دیا تو قانون اعتراض کرے گا کہ تم نے ہمارے قانون پر چلنے والے کو سزا کیوں دی ہے ۔ اگر کسی ایسی حکمت کے پیش نظر جماعت کوئی معین سزا نہ دے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیںکہ یہ لوگ خدا کے حضور سزاوار نہیں ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اس بات کا پابند نہیں ہے کہ جماعت نے ایکشن لیا ہے یا نہیں لیا۔ اللہ تعالیٰ اس بات کا بھی پابند نہیں ہے کہ جماعت نے چونکہ ایکشن لے لیا ہے اس لیے اب اور سزا نہ ملے۔ جماعتی ایکشن ایک نظام کا اظہار ناپسندیدگی ہے جو بعینہٖ جرم کے مطابق ضروری نہیںہے۔ایک اظہار ناپسندیدگی کے طور پر آپ کسی کو کاٹ کر جماعت سے الگ کردیں۔ اس کو احمدی کہلانے کا حق دیں بیشک کہے، مسیح موعود کو مانے، قرآن کومانے اقرار کرے۔ نظام سے کٹا ہے یہ ایسی سزا نہیں ہے کہ اس کے گناہ کے پوری طرح کفیل بن جائیںاور کہہ دیا جائے کہ چونکہ اس کو سزا مل گئی ہے اب آئندہ کیلئے یہ امن میں ہے، ہرگز نہیں یہ ایک عارضی ابتدائی انتظامی ضرورت ہے جو پوری کی گئی ہے بس ۔ ایسا شخص جو قرآن کے احکام کو توڑ تا ہے اور سوسائٹی میں نظام اس اسلام کے خلاف بغاوت کرتا ہے وہ بعض دفعہ انفرادی بڑے گناہوں سے بھی زیادہ بڑا مجرم ہوتا ہے، کیونکہ بغاوت کا قانون جو ہے وہ سب سے بڑا گناہ شمار ہوا ہے۔ شیطان نے اس کے سوا کوئی قانون نہیں توڑا۔ اس نے بغاوت کی ہے اور اس وقت سے آج تک گناہ کی تعریف ہی بغاوت ہے اصل میںتو جو بغاوت کرتا ہے وہ سزا پائے گا۔
    پس ملکی قانون اگر کسی کو ایسے حقوق دلوائیں جس میں دوسروں کا بھی حصہ ہوگیا ہو تو ملکی قانون خدا کی پکڑ سے اُس کو بچا نہیں سکتے۔ اس کی قطعی مثال آنحضرتﷺ کے اس فیصلے میں ہے جو یہ ہے کہ اگر کوئی چرب زبان اموال اور جائیدادوں کی تقسیم میں اس رنگ میں بات میرے سامنے پیش کرے کہ میں مطمئن ہوں کہ یہ اس کا حق بنتا ہے جب کہ خدا کی نظر میں وہ اس کا حق نہ ہو۔ یہ احتمال اٹھا گیا ہے جو میرے نزدیک کبھی ایسا ہوا نہیں ہوگا مگر رسول اللہﷺ نے ہم لوگوں کی رہنمائی کیلئے اس قسم کے احتمالات کئی جگہ اٹھائے ہیں۔ مثلاً یہ کہ میری بیٹی فاطمہؓ بھی اگر چوری کرتی یا کرے تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دوں۔ اب اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ نعوذ باللہ من ذلک حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے چوری کا احتمال تھا۔ پس یہ بھی اس قسم کے احتمالات میں سے ہے جو ناممکن دکھائی دیتا ہے مجھے۔ مگر امت کی اصلاح کیلئے ، امت کی تعلیم و تربیت کی خاطر آنحضرت ﷺ کا یہ طریق تھا کہ احتمالات اُٹھاتے تھے اور ان کا جواب دیتے تھے تاکہ دوسرے نصیحت پکڑیں۔ آپؐ نے فرمایا میں اگر دے دوں تو وہ شخص اس پہ راضی نہ ہوجائے کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیا ہے ہوسکتا ہے میں ایک جہنم کا ٹکڑا کاٹ کر اُسے دے رہا ہوں وہ کھائے گا تو جہنم کی آگ کھائے گا۔ پس اگر یہ فیصلہ رسول اللہ ﷺکا فیصلہ احتمالی طور پر اس کو مجاز نہیں کرتا اس بات کا کہ اس غلط چیز کو استعمال کرے جو اس کا حق نہیں تھی۔ تو حکومت برطانیہ یا حکومت جرمنی یا حکومت پاکستان کا فیصلہ کس طرح اس کو مجاز بنادے گا۔ جماعت کی پکڑ سے بچ جائے بیشک بچے،مگر اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکتا۔ اس لیے تقویٰ کا تقاضا ہے یہ اُن لوگوں کا اپنا فرض ہے کہ وہ ایسے تما م حقوق ادا کریں جو ادا کرنے پر قانون مجبور نہیں کرتا مگر ادا کرنے سے روکتا بھی نہیں ایسے قوانین کھلے ہیں۔ آپ تحفۃً چاہیں تو ساری جائیداد کسی کودے دیں، تو وہاں خدا کے قائم کردہ حقوق پانے والوں کو آپ کیوں محروم رکھتے ہیں؟ یہ بہانہ بنا کر کہ قانون نے ہمیں دیا ہے ، قانون نے تو دیا ہے مگر قانون نے کب روکا ہے کہ خدا کے قانون کی اطاعت نہ کرو۔ کر نا چاہتے ہو تو شوق سے کرو۔ تو کسی جماعتی اقدام کے خوف سے نہیں بلکہ اس خوف سے کہ خدا کی تلوار تمہارے سروں پر لٹکی پڑی ہے اور وہ تمہیں نہیں چھوڑے گی اگر تم نے نافرمانی میں باغیانہ رنگ اختیار کیا۔ اس بات کی پابندی کرنی چاہیے۔ اس کے بعد اب چونکہ وقت ہوگیا ہے آدھا گھنٹہ چاہیے تھا آخری۔ میرا خیال ہے کہ اس عرصہ میں ایک دو حوالے ان مستشرقین کے پڑھ دیں۔
    راڈویل نے تو صحیح تبصرہ کیا ہے اور ساتھ یہ بھی کہہ دیتے تھے کہ wise provision and the circumstances of the time صرف یہ بات ہے circumstancesکی بحث نہیں ہمیشہ کیلئے ایک wise decisionہے۔ رچرڈ بیل کی commentryیہ ہے کہ General recognition of rightyغالباً اس سے پہلے کی آیت ہے جب تفصیل بیان ہوئی تھی۔ حالانکہ یہ عنوان ہے تمام وصیت کے نظام کا، بنیادی اصول تمام تر اس میں بیان ہوگئے ہیںکوئی حصہ بھی وصیت کی تقسیم کا اس آیت کے رہنما اصول کے دائرے سے باہر نہیں ہے۔ یہ میں بیان کرچکا ہوں اس کو سمجھ نہیں آئی بات کی (کیاکہتے ہیں وہ محاورہ کہ دشمن بولے تو پھر بات کا مزہ ہے) (والفضل ما شھدت بہ الاعداء میں پہلے بھی بیان کرچکا ہوں)۔ تو مزے کی بات یہ ہے کہ یہ نظام (قانون) وراثت جو ہے اس کے اوپر ویری نے بھی منفی تبصرہ کرنے کی بجائے تعریف کے پل باندھ دیئے ہیں اور حیران ہوجاتا ہے آدمی دیکھ کے کہ آخر قرآن کریم کے حسن نے وہ مارا ہے ایک دشمن کو۔ اس کے الفاظ یہ ہیں۔
    The importance of this reform cannot be over rated previous to this women and helpless children might be disinherited by the adult male and theus the reduced to absolute.......... for no fault but widows and widows and orphans.
    اور اس کا یہ tributesدینا it cannot be over waitedایک بہت بڑی چیز ہے ۔ اس کے دل سے یہ بات نکلوالی آخر قرآن کریم نے یہ ایک بہت ہی حسین کلام ہے۔ اب اگلی بات شرو ع کریں۔
    میں نے کہا تھاکہ مَیں اتوار کے دن کبھی کبھی آدھا گھنٹہ بعد میں رکھ لیا کروں گا تاکہ جنہوں نے سوال کرنے ہوں وہ کریں (یہ کریں نہ آپ نے کرنا ہے میں نے تو نہیں کرنا) ۔۔ ۔۔ (حوالہ آپ پڑھ کر سنادیں بات ختم ہوجائے گی۔ بس ٹھیک ہے)
    سوال نمبر1:- حضور کل درس میں آیت کریمہ ولا تؤتوالسفھاء اموالکم التی جعل اللہ لکم قیام وارزقوھم واکسوھم کا ذکر آیا تھا۔ اس سے پہلے جمعرات کو اس کی تفسیر کا جب آغاز ہوا تھا تو حضور نے جو ترجمہ فرمایا اور تفسیر فرمائی اس سے ساری بات کھل گئی تھی مگر کل کے درس میں لفظ ’’قیام‘‘ کو مخاطب کی طرف پھیر دیا گیا تو اس سلسلے میں حضور سے درخواست ہے کہ وضاحت فرمادیں کہ کیایہ سھواً ہوا یا کوئی حکمت پیش نظر تھی؟
    جواب:- یہ بات اچھا کیا آپ نے اٹھائی ہے۔ یہ باہر سے تو نہیں آئی۔ آپ کے اور امام صاحب کے سر جوڑنے کے نتیجے میں سوال اُٹھا ہے (ماشاء اللہ)۔ بہت اہم بات ہے اس کو اگر نظر انداز کردیا جاتا تو کئی جگہ ابہام پیدا ہوجاتے اور بعض گریمیرژن (گرائمر جاننے والے۔ناقل) بعدمیں سوال اٹھاتے کہ شاید بھول کے میں نے ایک غلط ترجمہ کردیا ہے۔ ہرگز بھول کر غلط ترجمہ نہیں کیا ہے۔ بلکہ ایک ایسا ترجمہ کیا ہے جو اس سے پہلے مجھے کہیں نہ ترجموں میں، نہ مفسرین کے بیان میں ملا ہے۔ لیکن آیت کے محل اور سیاق و سباق کے عین مطابق اور عربی گرائمر کے قوانین کے بھی تابع ہے ۔یہ بات جب تک میں کھولوں نہ ان کو سمجھ نہیں آئے گی۔ قیاماً کا میں نے ترجمہ وہی کیا تھا جو اس سے پہلے (پہلے ہی دفعہ) جو اس سے پہلے تمام مفسرین، تمام مترجمین بالاتفاق کرکے چلے آئے ہیں کہ وہ مال جو تمہارا ہے وہ قیام ہے۔ وہ مال تمہارے بقائ، تمہارے بود وباش کا ذریعہ ہے وہ ’’قیام‘‘ ہے۔ تو قیاماً کی ضمیر مال کی طرف پھِر گئی اور وہ مال کس کا ہے؟ یتیموں کا، غریبوں کا اور علماء جب اس بحث میں پڑتے ہیں تو قیاماً کی ضمیر ہمیشہ مال کی طرف پھیر کر وہ بہانے تو نہیں مگر وجہ جواز تلاش کرتے پھرتے ہیں ۔ صاف پتا چلتا ہے کہ کوئی بات ہاتھ نہیں آرہی۔وہ کہتے ہیں تمہارا مال کہہ دیا اور مال یتیموں کا ہے اور قیاماً تمہارے لیے قیام ہے گویا کہ تو یہ کیا بحث ہے؟ کیا گفتگو؟ اس پر میں نے یہ روشنی ڈالی تھی کہ اگر یہ مفہوم لیا جائے جیسا کہ سب نے لیا ہے تو قومی اموال جو ہیں وہ دراصل قوم کے اقتصادی بقاء اور احیاء کیلئے ضروری ہوا کرتے ہیں اور ایسی صورت میں جب کہ کثرت سے احتمال پیدا ہوجائے کہ بعض لوگ جو اُن اموال کو سنبھالنے اور تجارتی جو تقاضے ہیں وہ پورا کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے تو قوم کے اقتصادی نظام درہم برہم ہوسکتا ہے۔ خصوصاً اگر نسبت بڑھ جائے تو مدینہ میں مسلمانوں کی بھلاکتنی تعداد تھی۔ وہاں جو ایسے واقعات پیش آئے ہیں وہ اتنے کثرت سے تھے تعداد کے مقابل پر کہ واقعتاً اقتصادی نظام پر اثر انداز ہوسکتے تھے۔ اگر واضح تعلیم نہ دی جاتی تو اس لیے وہ معنی درست ہیں ، وہ غلط نہیں ہیں کہ مال قیام کا ذریعہ ہیں قوم کے قیام کا ذریعہ مگر انفرادی ملکیت قوم کی نہیں ہے۔ انفرادی ملکیت یتامیٰ کی ہے۔
    دوسرے جو میں نے معنی کیے ہیں اس میں یہ مسئلہ نہیںاُٹھتا بلکہ اس آیت کی تفسیر ہوجاتی ہے خود۔ اسی آیت کی رُو سے وہ ترجمہ یہ بنتا ہے۔ پہلے فرمایا ہے ولا تؤتو السفھاء اموالکم غریبوں کو ، یتامی کو، یتامی نہیں بیوقوفوں کو اپنے اموال نہ دو التی جعل اللہ لکم قیاماً جن کو خدا نے تمہارے لیے قیام کا ذریعہ بنایا ہے اور پھر ان کو صرف پہنائو اور کھلائو۔ اس کا وہ معنی بھی میں نے لیا کہ یہاں مالک یتیم، مالک غریب نہ ہوں بلکہ ایسے غریب ہوسکتے ہیں جن کے واقعتاً مال نہ ہوں ۔ ایسی صورت میں باوجود اس کے کہ مال ان کے نہیںہیں تمہارے ہیں۔ ان کی نگہداشت کرنا اور ان کے بنیادی حقوق ادا کرنا یہ تمہارا فریضہ ہوگا۔
    یہ بھی ایک ترجمہ میں نے کیا جو اُس سے پہلے ترجمہ کے عین مطابق ہے کہ ’’قیام‘‘ تو تمہارے لیے تھا مگر اس کا فائدہ دوسروں کو پہنچانا فرض ہے اب جو میں ترجمہ کررہا ہوں یہ وہ ہے جس کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے۔ میں نے یہ ترجمہ کیا ہے کہ وہ اموال جن کے تم ’’قیام‘‘ بنائے گئے ہو جو تمہارے سپرد بطور قیام کے ہوئے ہیں یہ ترجمہ چونکہ بظاہر گرائمر سے ہٹا ہوا دکھائی دے رہا ہے اس لیے اکثر مفسرین نے اس طرف نظر ہی نہیں اُٹھائی۔ حالانکہ فی الواقعہ گرائمر سے ہٹا ہوا نہیں ہے۔ کسی عذر کے تلاش کرنے کی ضرورت ہی کوئی نہیں۔ بعینہٖ عربی گرائمر کے قواعد کے مطابق یہ ترجمہ ممکن ہے اور بہت ہی اعلیٰ درجے کا ترجمہ ہے وہ یہ بنے گا ۔ اس طرح سفھاء کو اپنے وہ مال نہ دو التی جعل اللہ لکم جن کو خداتعالیٰ نے تمہارے لیے تمہارے قیام کی حیثیت سے سپرد کیا۔ قیاماً تمہاری قیام کی حیثیت سے یہ مال تمہارے سپرد ہوئے ہیں اس لیے ہم تمہارے مال کہہ رہے ہیں کیونکہ تم ’’قیام‘‘ ہو تو قیاماً جو ہے یہ منصوب ان معنوں میں ہے کہ تمہاری قیام کی حیثیت سے بوجہ اس کے کہ تم ان کے قیام ہو یہ تمہارے سپرد مال ہیں اور انہیں تمہارامال کہا جارہا ہے۔ مگر فی الحقیقت یہ تمہارا مال نہیں بنے گا۔ تو یہ ترجمہ عین عربی گرائمر کے مطابق اور اس آیت کے سیاق و سباق کے مطابق بالکل برحق بیٹھتا ہے۔ اس لیے اچھا کیا آپ نے وضاحت طلب کرلی۔ عجیب بات ہے کہ دوسرے علماء کو خیال نہیں آیا کہ یہ سوال اٹھائیں،یا آیا ہوگا تو کچھ گھبراگئے ہیں پچھلے سوالوں سے مگر اٹھانا ضروری تھا۔ اچھا کیا جزاک اللہ۔
    بات واضح ہوگئی آپ پرامام صاحب۔ کھل گئی ہے نا بات کہ قیاماً سے مراد یہاں مال نہیںہوں گے بلکہ وہ لوگ ہوں گے۔ قیاماً کن معنوں میں ؟ ان معنوں میں کہ ان مال کی حفاظت کے ذمہ دار بنائے گئے ہیں تمہارے لیے۔ یہ ذمہ داری سپرد ہوئی یا تمہارے سپرد یہ اموال کے گئے ہیں لکم ای قیاماً اس صورت میں کہ تم قیام ہو(آگے چلیں)۔
    سوال نمبر2:- سورۃ النساء کے زمانہ نزول کی بحث کرتے ہوئے حضور نے کسی مستشرق کی طرف سے اس بات کا بھی ذکر فرمایاتھا کہ وہ اس کو مدنی سورہ قرار دیتے ہیں اور اس کی بعض آیا ت کو ان کے زمانوں کی تعیین بھی کرتے ہیں۔ اس ضمن میں یہ آیت یاایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً۔۔۔۔۔۔۔۔
    جواب:- پہلے میں وضاحت کردوں کہ موقع کیا ہے۔ جب اس سے پہلے آیت کی تفسیر ہورہی تھی تو اس وقت میں نے بتایا تھا کہ ویری نے یہ سوال اٹھایا ہے اور اس کے علاوہ نولڈک یا نولڈیکے یا جو بھی اس کا تلفظ ہے جرمن جو مستشرق ہے اس نے بھی اُٹھایا ہے کہ سورۃ النساء اگرچہ مدنی ہے لیکن اس کی بعض آیات مکی ہیں یا سورۃ النساء اگرچہ جنگ احد اور جنگ بدر اور جنگ بدر ثانی یا جنگ احد کے بعد کا جو غزوہ تھا اس عرصے میں اور پھر بنو قینقاع کے ساتھ جب جھڑپیں ہوئی ہیں اس دورمیں یہ نازل ہوئی ہے مگر یہ دو مستشرقین کہتے ہیںکہ اس کی بعض آیات اس دور سے تعلق نہیں رکھتیں کچھ ابتدائی مدینے کے دور کی ہیں کچھ بعد کے دور کی ہیں جن کو نولڈیکے مکی کہہ رہا ہے اس تعلق میں مَیں نے یہ حوالہ مانگا تھا نولڈیکے جو مکی کہتا ہے۔ اس سے مراد ہرگز یہ نہیں ہے کہ یہ مدنی دَور سے پہلے کی ہیں۔ وہ صرف اتنا کہنا چاہتا ہے کہ مکے میں جب آنحضرتﷺ کی واپسی ہوئی تو مکے قیام کے دوران یہ آیات نازل ہوئیں اس لیے مکی ہیں۔ مگر دوسرے جو اہل علم ہیں وہ بات کھول چکے ہیں کہ مدنی اور مکی کی اصطلاح کا اب یہ معنی نہیں لیا جاتا ہے۔ مدینے میں نازل ہوئی یا مکے میںنازل یہ معنی لیا جاتا ہے ہجرت سے پہلے نازل ہوئی یا ہجرت کے بعد نازل ہوئی۔ پس وہ مکی جو کہتا ہے تو ہرگز یہ مراد نہیں کہ ہجرت سے پہلے ہوئی ۔ اس طرح اس نے ویری نے جو سوال اٹھایا ہے وہ بھی کسی آیت کو مکی نہیں کہہ رہا ، ہجرت سے پہلے کی نہیں کہہ رہا۔ کہتا ہے ابتدائے ہجرت میں ہوئی ہوگی اور وجہ یہ استنباط بنا رہا ہے عجیب و غریب کہ بات یہ ہے کہ یہ جو خطاب ہے یاایھا الناس والا اگرچہ جو حوالہ دینا ہے اس کتاب میں اس میں ذکر ہی کوئی نہیں اس کا۔ تو پتہ نہیں حوالے میں کوئی غلطی ہوئی ہے یا کیا ہے! مگر جو مراد ہے وہ میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ وہ یہ اٹھاتا ہے کہ مکے کے ابتدائی دور میں یہود کے ساتھ آنحضرتﷺ گویا نعوذ باللہ چاپلوسی کا تعلق رکھتے تھے اور انہیں راضی کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے جب مخالفت ہوئی تو پھر نرمی اُٹھ گئی تو ان آیات میں جو بہت ہی اعلیٰ درجے کی انصاف کی تعلیم دی گئی ہے یہود کے متعلق اور ان کی خوبیوں کا بھی اعتراف کیا گیا ہے۔ یہ ضرور پہلے کی ہوں گی۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تعصب کی آنکھ سے دیکھا جائے اور تاریخ کے حقائق کو نظر انداز کردیا جائے یا اسلام کی عظیم روح کونہ سمجھا جائے تو پھر یہ نتیجہ نکالنا پڑے گا کہ یہ آیات پہلے کی ہیں لیکن وہ آیات وہاں سے اٹھا کر کسی اور جگہ پہلے دَور میں فٹ ہو ہی نہیں سکتیں کیونکہ قرآن کریم کی یہ صورت مربوط سورۃ ہے اور ہر آیت کا پچھلی سے بھی تعلق ہے او ربعد میں بھی آنے والی سے بھی تعلق ہے۔ اس لیے محض ایک یا وہ گوئی کے طور پر کوئی شخص کہہ دے کہ اس وجہ سے کہ یہود کی تعریف ضرور پہلے ہوگی۔ یہ بالکل جھوٹ ہے عین موقع پر معہ اطلاق پانے آیتیں ہیں۔ دوسرا ایک خفیف اشارہ اس بات کا اس میں ملتا ہے کہ یاایھاالناس قسم کا خطاب اہل کتاب سے تعلق سے پہلے موجود تھا۔ اہل کتاب سے تعلق کے بعد پھر یہ خطاب متروک ہوگیا اور یا اہل کتاب یا ، یاایھا المومنون وغیرہ قسم کے یا ، یاایھا الذین امنوا اتقواللہ وہ لوگ جو ایمان لائے تقویٰ اختیار کریں۔ یہ خطاب شروع ہوگئے ہیں یا مومنون کو یا اہل کتاب کو اور گویا کہ مکی زمانے کو پیچھے چھوڑ دیا گیا۔ وہاں محدود دائرے میں خطا ب تھا کیونکہ نہ زیادہ متقی تھے ، نہ اہل کتاب تھے۔ الناس کہہ کہہ کے (بات) گزارہ چلایا گیا ۔ اس آیت، ا س دعوے کو توڑ اور ردّ کے طور پر میں نے سوال اٹھایاتھا کہ معلوم کریں یہ آیت کس دور کی ہے۔ یاایھاالناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا ۔ یہ ایھا الناس والی آیت وَیری کو بھی تسلیم ہے اور تمام دوسرے مستشرقین کو تسلیم ہے۔ یہ پہلے کی مکی دور کی آیت ہے اور وہاں یہ مضمون بیان فرمایا گیا ہے۔ کسی مخاطب کو محدود نہیں کیا اہل مکہ یا مشرکوں کے ساتھ۔ قل یاایھا الناس کہہ دے اے بنی نوع انسان دنیا کے پردے میں جہاں بھی رہتے ہو مکہ ہو یامدینہ ہو، عرب ہو یا عجم ہو انی رسول اللہ الیکم جمیعا میں تم سب کی طرف جمیعاً تما م تر کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔
    اس آیت کے ہوتے ہوئے اس کا مکے میں نازل ہونا یا ایھاالناس کی وجہ سے اسے اور بھی زیادہ روشن کردیتا ہے اور بھی زیادہ اس کے مضمون کو خوبصورتی سے دکھاتا ہے کہ آنحضورﷺ کے پیش نظر خدا کے ارشاد کے مطابق کچھ بھی اہل مکہ نہیں تھے۔ بلکہ بنی نوع انسان تھے اور یہی عمومی تعلیم تھی جب خاص مخاطب ہوئے ہیں بعد میں تو ان کو پیش نظر رکھ کر بھی پھر تعلیمات دی گئی ہیں اور جب شریعت کی تفاصیل بیان ہوئی ہیں تو پھر اہل تقویٰ اورمومنین کو خصوصیت سے مخاطب کیا گیا ہے ۔ وہ جو دَور ہے وہ اعلیٰ اصولوں کی تعلیم کا دَور تھا اور ایسا دور تھا جس میں پیشگوئیاں تھیں۔ آئندہ زمانوں کی اور بنی نوع انسان کو مطمئن کرنے کیلئے ایسی قطعی پیشگوئیاں آئندہ زمانوں کی تھیں جس سے پتا چلتا تھا کہ یہ جو بولنے والا ہے یہ اپنے منہ سے کلام نہیں کررہا ، یہ عالم الغیب خدا کا نمائندہ بن کر کلام کررہا ہے۔ یہ تھی وجہ اب اس کی جو تاریخ نکلی ہے وہ معلوم ہوتا ہے کہ بہت earlyبہت پہلے کی ہے۔ یہ آپ بخاری والا حوالہ پڑھ کر سنائیں؟یہ حوالہ صحیح بخاری کتاب التفسیر سے ہے کہ ایک موقع پر حضرت ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ میں کسی بات پر تکرار ہوئی اور یہ معاملہ آنحضرتﷺ کے حضور پیش ہوا تو حضور ﷺنے فرمایا۔ (بخاری کتاب التفسیر ۔ باب یاایھاالناس انی ۔۔۔ سورۃ اعراف)
    ھل انتم تارکونی صاحبی …… انی قلت ، یاایھاالناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا و قلتم کذبت و قال ابوبکر صدقت بہت عجیب ہے یہ حوالہ ۔ اس دور میں نازل ہوئی ہے جب کہ ابھی اسلام کا آغاز تھا نہ ابھی عمر مسلمان ہوئے نہ اور بہت سے صحابہ مسلمان ہوئے تھے۔ رسول اللہﷺ کے سامنے ایک جھگڑا آیا جس میںحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے درمیان اختلاف ہوا۔ ہوتے رہتے تھے اختلاف اور رسول اللہﷺ نے حضرت ابو بکررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مظلوم جانا اور تکلیف اٹھائی اس بات سے کہ ابوبکررضی اللہ عنہ کے اوپر کوئی سختی ہوئی ہے۔ اس کے جواب میں یہ فرمایا ہے کہ تم میرے ساتھی کو چھوڑو گے بھی کہ نہیں۔ ترکتم لی میری خاطر اس کا پیچھا چھوڑو گے کہ نہیں وہ ساتھی ہے جس نے جب میں نے یہ اعلان کیا کہ یاایھاالناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً کہ تم لوگ تھے جنہوں نے کہا جھوٹ بولتے ہو۔ اس نے کہا سچ بولتے ہو۔
    کیسا پیارا حوالہ ہے اور قرب کی وجہ بیان کی ہے وہ للہ ہے۔ واضح طور پر جو تصدیق میں آگے تھا ، جوبہادر تھا جس نے قطعاً پرواہ نہیں کی کہ اہل مکہ کیا سوچ رہے ہیں۔ اپنی سرداری، اپنی عزتوں کو اس خطرے میںجھونک دیا کہ وہ سب کچھ چھین لی جائیں گی۔ اس نے ایسے موقع پر تصدیق کی ہے اور آیت یہ پڑھی ہے یاایھاالناس انی رسول اللہ الیکم جمیعًا اس کا مطلب یہ ہے کہ انتہائی آغاز میں ہی نزول قرآن کے آغاز ہی میں تمام دنیا کے رسول ہونے کا دعویٰ ثابت ہوچکا تھا۔ اس لئے جھوٹ ہے کہ رفتہ رفتہ ترقی ہوئی ہے اور رفتہ رفتہ اہل کتاب کو بھی شامل کیا گیا یا رفتہ رفتہ دیگر مذاہب کو بھی مخاطب کیا گیا؟ یہ وجہ تھی جو میں نے پیش کی تھی۔ (اب آگے کوئی مقامی سوال ہے ۔ مقامی یا غیر مقامی، مرادہے کوئی اور سوال فرمائیے ۔ڈاکٹر صاحب اٹھے ہیں)۔
    سوال نمبر3:- (آپ کا نام کیا ہے ؟ تعارف کروائیں ۔ تھرپاکر کے رہنے والے ہیں پرانے؟ جی حضور!۔ کنری سے تعلق ہے۔ اور یہاں لند ن میں ۔۔۔۔۔ گئے ہیں ۔ ماشاء اللہ! جی حضور۔ اور عارضی طور پر وقف کرکے تنزانیہ میں بھی جاچکے ہیں ۔ ہاں آپ بتائیے سوال) حضور گزشتہ دنوں ایڈز کا ذکر چلا تھا درس میں تو اس کے متعلق میرا یہ سوال ہے کہ حضور نے فرمایا تھا کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے فرمایا کہ ایک قسم کی طاعون پھیلے گی اور طاعون سے ایڈز کو جب کیا جائے تو ایڈز کا براہ راست تعلق انسان کی اخلاقی بدکرداری کے ساتھ ہے۔ اس طور سے طاعون کا تعلق اس طور سے نہیںتھا۔ انسان کی اخلاقی حالت کے ساتھ ۔ تو کیاہم یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ جس طرح اگر یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نشان کے طور پر ایڈز ظاہر ہوئی ہے تو کیا حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ جو وعدہ تھا انی احافظ کل من فی الدار کا۔ تو کیا اس زمانے میں بھی ایڈز کے متعلق بھی وہ وعدہ پورا ہوسکتا ہے۔
    جواب:- یہ جو سوال ہے یہ آپ کے علاوہ کسی لکھنے والے نے باہر سے خط میں بھی لکھا ہوا ہے اور اچھا کیا آپ نے یاد دلادیا۔ اس کا جواب ضروری تھا۔ آپ کا سوال پہلے ایک اور نہج میں چل رہا تھا ، ایک اور رخ میں چل رہا تھا پھر اس نے رستہ بدل دیا ہے۔ دو سوال اٹھنے چاہئیں تھے۔ ایک سوال یہ ہے یہ طاعون جس کو اگر ہم ایک قسم کی طاعون کہتے ہیں اس کا تو بے حیائی سے تعلق ہے۔ حضرت مسیح موعو د علیہ السلام کی صداقت میں، اس کی تائید میں جو طاعون ظاہر ہوا تھااس کا بے حیائی سے کوئی تعلق نہیں تھا، اس کا انکار سے تعلق تھا۔ یہ بات آپ شاید فراموش کرگئے کہ میں نے اس کو رسول اللہ کی اس حدیث سے بھی باندھا ہوا ہے جس حدیث میں یہ پیشگوئی تھی کہ آئندہ ایک قسم کا طاعون نازل ہوگا سزا کے طور پر جو بے حیائی کی سزا ہوگی۔ سمجھ گئے (جی)۔ اس لیے بے حیائی والا پہلو بھی اس میں موجود ہے۔ دیکھنا یہ تھا کہ یہ انکار والا پہلو بھی ہوگا کہ نہیں۔ انکار والے پہلو کی تائیدمیں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی پیشگوئی بیان کردی کہ آپ بھی ایک قسم کے طاعون کو پیش کررہے ہیں جو آئندہ سزا کے طور پر آئے گا اور انکا ر والا پہلو اس میںنمایاں ہے اس میں بے حیائی والا پہلو بیان نہیں فرمایا۔ تو ایسا طاعون جو بے حیائی سے وابستہ ہو بے حیائی کے طبعی نتیجے کے طور پر پیدا ہو۔ اس کو اگر خداتعالیٰ مسیح موعودعلیہ السلام کی تائید میں استعمال فرمائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ حوادثِ زمانوں کو بھی تو استعمال فرماتا ہے تو یہ بھی ایک حادثہ سمجھیں جسے تائید میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے (ایک پہلو)۔
    دوسرا پہلو یہ ہے کہ جب میں نے یہ کہا تھا تو یہ مراد نہیں تھی کہ کوئی شخص جو احمدی ہوجائے وہ حرکتیں کرتا پھرے جس کے نتیجے میں ایڈ contractہوتی ہے ۔ ایڈز کے ساتھ ایک سودا بازی ہوتی ہے ، تو احمدی ہوگیا اس لیے بچ جائے گا۔ من فی الدار میں یہ مضمون ہے کہ جو چاردیواری میں ہے وہ بچایا جائے گا اور حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے اس کی تشریح میں یہ واضح فرمادیا ہے کہ الدّار سے مراد صرف یہ مٹی کی چار دیواری نہیں بلکہ میری تعلیم کی چار دیواری ہے اور کشتی نوح میں اس مضمون کو کشتی کے حوالے سے بیان فرمایا ہے اوربارہا اس کا ذکر فرمایا ہے کہ کشتی میں ہوگا تو بچے گا۔ کشتی سے باہر کیسے بچ جائے گا؟ تو اہل بیت بھی تو الدّاروالے ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا بھی تو نہیں بچ سکا تھا حالانکہ وہ اہل بیت کہلاتا تھا مگر الدّار میں شامل نہیںتھا۔ البیت میں داخل نہیں تھا اس لیے وہ بچ نہیں سکا۔ تو اس ضمن میں افریقہ سے بھی ایک خط آیا تھا ان کو میں نے جو جواب دیا تھا میں یہاں مختصر وہ بھی بیان کردیتا ہوں۔
    میں نے کہا تھا کہ میرا ایمان ہے اگرچہ قطعیت سے یہاں ذکرنہیں ان باتوں کا کہ اگر ایک شخص سابقہ غلطیاںکرتا بھی رہا ہو اور پھر ایمان لائے تو ہرگز بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کی دوسرے ایسے لوگوں کے مقابل پرزیادہ حفاظت فرمائے اور ایک امتیاز ظاہر کردے لیکن جو بیت میں داخل ہوجائے اور پھر دروازے توڑ کے گھر سے باہر نکل جائے اس کی حفاظت کا کوئی وعدہ نہیں ہے۔ اس کے اوپر تو اس گدھے والی مثال آتی ہے جو میں پہلے بھی بیان کرچکا ہوں کہ بھیڑیا آیا باہر گدھا بندھا ہوا تھا۔ اس نے بھی ڈھینچوں کیا اور دیوار پر بیٹھے ہوئے مرغے نے بھی اذان بلند کردی تو جو مالک تھا وہ باہر نکلا لاٹھی لے کر تو اس کو دیکھ کر بھیڑیا بھاگ گیا تو گدھے نے یہ سمجھا کہ میں محفوظ ہوں، رسّی تڑائی اس کے پیچھے آخر جاکر کھیت میں اس کا شکار ہوگیا ۔ تو وہ جو رسّی تڑانے والے ہیں جو گھر کی حفاظت سے باہر نکل جاتے ہیں ان کیلئے کوئی وعدہ نہیں ہے۔ لیکن دوسروں کیلئے جو وعدہ ہے وہ میں جیسا کہ بیان کیا ہے ۔ بعض دفعہ ایک رحم کا اور فضل کا نشان دکھایا جاتا ہے او ریہ نشان ممکن ہے میں ہرگز اسے بعید از قیاس نہیں سمجھتا کہ احمدیت کے حق میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی تائیدمیں دکھایا جائے کہ بہت سے لوگ جو پہلے غلطیاں کر بیٹھے تھے اُن کے اندر موجود بھی تھے کیڑے پھر بھی وہ بچ گئے اور یہ بات جو میں دوائی دیتا ہوں اُس نے بھی عجیب بات دکھائی ہے مجھے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی تو تقریباً سارے ہی بچ گئے ،شاذ ہی کوئی ہو جو نہ بچا ہو کیونکہ اُن کے استغفار کی طرف بھی ان کو توجہ دلائی جاتی ہے۔ ان کو خود بھی خیال ہوتا ہے ۔ ان کے چونکہ نام ظاہر کرنے مناسب نہیں مگر افریقہ کے رواج کی وجہ سے ایسے لوگ ہیں مگر باقی سب پر دوائی نے اُ س طرح کام نہیں کیا کیونکہ ان کو دار کا اضافی تحفظ حاصل نہیں تھا۔ تو ان معنوں میں بھی ہوسکتا ہے یہ اثر انداز ہو مگر احمدی دنیا کے متعلق چونکہ ہمارا یہ ایمان ہے کہ اللہ کے فضل سے ان میں سے اکثریت تقویٰ کی زندگی بسرکرتے ہیں اور الدّار میں داخل ہیں اس پہلو سے ایسے سارے ملکوں میں جہاں واقعتاً جماعت الدّار میں داخل ہوگی وہاں یہ امتیازی نشان تو خود بخود نظر آنا شروع ہوجائے گا(سمجھ گئے ہیں) جزاک اللہ۔
    سوال نمبر4:- 1964ء میں اگر کسی بہن کا مہر پانچ ہزار ہے تو اگر آج اس کی ادائیگی کرنی ہے 31سال کے بعد تو پھر کتنے پیسے ہوں گے؟
    جواب:- پانچ ہزار۔ اگر قرض ہو تو اس پر کیا ہوتا ہے؟ (وہ بھی اتنا ہی رہتا ہے ) یہ قرض ہے آپ کے اوپر لیکن اگر بیوی نے مطالبہ کردیا ہو اور آپ نے نہ دیا ہو تو پھر مارے گئے۔ (جزاکم اللہ)
    إإإ
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    درس القرآن ماہ رمضان
    مورخہ15؍رمضان بمطابق5؍ فروری 1996ء
    سورہ النساء کی آٹھویں آیت ایک پہلو سے تو ہم مکمل کرچکے ہیں۔مگر ایک پہلو ابھی باقی تھا وہ بائبل میں (یعنی اولڈ Old Testamentاور New Testament دونوں جگہوںمیں) ورثہ کا کیا تصور پایا جاتا ہے؟ اور اس ضمن میںاورکچھ بحثیں ہیں۔ یہودیت کا قانون کیا تھا؟ کیسے پھیلا؟بہتر ہے موازنہ کے طور پر اس کا بھی ذکر چل پڑے (حضور ایدہ اللہ نے سورۃ النساء کی آیت نمبر۸ دوبارہ تلاوت فرمائی اور ساتھ ترجمہ بھی بیان فرمایا)۔ بائبل میں بھی جوورثہ کی تعلیم ملتی ہے کچھ اس کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔اور اُس ورثہ کی تعلیم میں خصوصیت سے روحانی ورثہ کا بھی ذکر آتا ہے۔ جبکہ قرآن کریم میں ورثہ کی تقسیم میں مادی ورثہ کی تقسیم فرمائی ہے۔ روحانی ورثہ بعض اعلیٰ اقدار سے وابستہ فرمایا ہے۔ اور بائبل میں روحانی ورثہ بھی یوں بیان ہوا ہے جیسے وہ باپ سے بیٹے میں جائے گا۔ مگر وہاں بھی انصاف نہیں ہے بلکہ دھوکے سے بھی ورثہ پایاجاسکتا ہے اور روحانی ورثہ کیلئے ذاتی خوبیاں ہونی ضروری نہیں بلکہ کچھ اور شرائط ہیں مثلا پلوٹھا ہو ، پلوٹھا بھی ضروری نہیں کہ پائے، اگر باپ اس کی بجائے کسی اور کو دے دے تو وہ بھی جائز ہے ۔ وہاں ایک ایسا نظام ہے جس کا روحانی دنیا سے اصل میں تعلق کوئی نہیں۔ اس لیے اسے حقیقت میںبائبل کی تعلیم کے طور پر نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ بعد کی انسانی تعلیمات کا روحانی اور دینی تعلیمات میں داخل ہونا ، یہ ہے مضمون جو ہمیں دکھائی دے رہا ہے۔ حقیقت میں یہ ناممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے روحانی ورثہ کی اولاد میں اس طرح خود بخود منتقلی کو تسلیم کیا جائے اور پھر جس طریق پر بائبل میں ذکر ملتاہے وہ تو اللہ تعالیٰ کے تقدس کو جھٹلاتا ہے۔ وہ ناممکن ہے کہ خداتعالیٰ کی طرف ان باتوں کو منسوب کیا جائے۔ پس جہاں بھی اس کا (Criticism)اس کی تنقیدہے وہ حقیقت میں بائبل کی نہیں بلکہ بائبل نگاروں کی تنقید ہے۔کیونکہ وہ ناممکن ہے کہ خدا کا کلام ہو۔ اس تمہید کے بعد اَب میںاُن کے ورثہ کی تعلیم آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔
    یہودکا قانونِ وراثت Law of Inheritanceکچھ تو بائبل پر مبنی ہے، کچھ یہود کے جو علماء ہیں بڑے بڑے انہوں نے مل کے مختلف وقتوں میں اس قانون میں ترمیم کی ہے اور بعض رواجات کو اس میں داخل کیا ہے۔ بعض مختلف ممالک میں رائج الوقت قوانین کو پیش نظر رکھ کر کچھ ترمیمات کرتے رہے ہیں اس وقت جو یہودی شریعت ہے وہ ان علماء کی تخلیق ہے ۔ اس میں بائبل بھی شامل ہے مگر اس کے علاوہ علماء کی کونسل نے جو فیصلے کیے یہودی علماء زور پکڑ گئے تو طالمود کتاب جو بنی ہے وہ اسی سے بنی ہے ۔وہ اکثر علماء کے فیصلہ تک محدود رہتی ہے اور اس سے کوئی غرض نہیں کہ آیا وہ فیصلہ بعینہٖ بائبل پرمبنی تھا یا نہیں تھا؟ تو اب جو رائج قانون ہے وہ طالمود بن گیا ہے۔ مگر اُس میں بائبل کے بھی حوالے ہیں اس لیے سب باتیں دوہرے طور پر ملی ہیں۔ اوّل بائبل میں دخل اندازی ہوئی اور خدا کی باتوں کے ساتھ انسانی باتیں داخل کردی گئیں ۔ پھر جو کچھ بائبل نے دیا اسے انسان نے ترمیم شدہ صورت میں یعنی ان کے علماء نے پھر یہود قوم کو دیا تو ایک نہیں بلکہ دوہری غلطی ہے۔ مگر بعض دفعہ بعض غلطیاں پہلی غلطیوں کی اصلاح بھی کردیتی ہیں۔ پس بعض یہود علماء کے فیصلے فطرت کے قریب تر ہیں اُن فیصلوں کے مقابلہ پہ جو بائبل میں ملتے ہیں۔ تو ان کا انحراف بتارہا ہے کہ خود ان کو بھی یقین نہیں تھا کہ یہ خدا ہی کی تعلیم ہے۔ اس لیے وہ غلطی دَر غلطی بعض دفعہ ایک دوسرے پر جس طرح منفی منفی کو cancleکرکے مثبت بنادیا کرتی ہے ایسے ہی نتائج پیدا کردیتی ہے۔اب میں پہلے یہود کا قانونِ وراثت آپ کے سامنے رکھتا ہوں اور اس کے بعد پھر باقی بائبل کے حوالے سے اور باتیں پیش کروں گا۔ ابتدائی عبرانیوں اور اُن کے ہم عصر قدیم اقوام میں رواج کے طور پر مرنے والوں کا پلوٹھا اس کی جائیداد کا وارث اور خاندان کا سربراہ قرار پاتا تھا۔ اگر مرنے والے کی کوئی نرینہ اولاد نہ ہوتی تھی تو مرنے والا اپنے کسی قابل اعتبار دوست کو اپنا وارث قرارد یتا تھا اور اس لحاظ سے وارث کا رشتہ دار ہونا بھی ضروری نہیں تھا۔ پس یہ جو حصہ ہے اس کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ ورنہ یہودی نظام اور کتاب کے جو احکامات ہیں ان کی سمجھ نہیں آئے گی۔ مالک کون ہے؟ وہ جس کی جائیداد ہے ۔ یہ اصول پہلے تسلیم ہوگیااور ساتھ ہی یہ تسلیم ہوگیا کہ وہ ضروری نہیں کہ کسی دوسرے قانون کے تابع اپنی جائیداد کو خود بخود تقسیم ہونے دے۔مرنے والا مرنے سے پہلے جو فیصلہ کرجائے گا وہ نافذ العمل ہوگا اور وہ اپنی اولاد کے حق میں ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔ یہ ہے بنیادی بات جو آپ کومیں سمجھارہا ہوں۔ اس سلسلہ میں وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا حوالہ پیش کرتے ہیں ۔ یہودی شریعت کو منضبط کرنیوالے پیدائش باب 15آیت3کا حوالہ دیتے ہیں -ابراہام جب اولاد سے مایوس ہوئے تو قریب تھا کہ وہ اپنے غلام الیعزر کو اپنا وارث قراردے دیں۔یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام اتنے بوڑھے ہو چکے تھے کہ وہ اپنی دانست میں اولاد سے محروم ہو چکے تھے اور کسی بیٹے کی کوئی امید نہ رہی تھی ایسے وقت میں ان کا ایک غلام الیعزر تھا۔انہوں نے احتیاطا ًاس کو وارث بنانے کی بات سوچی اور اس پر اللہ تعالیٰ نے جوبائبل کے بیان کے مطابق ان کو ہدایت فرمائی ہے وہ میں بتاتا ہوں۔ پیدائش باب 15آیات 2تا4۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بائبل میں ابراہام کہا جاتا ہے۔ ’’ابراہام نے کہا اے خدا وند خدا تومجھے کیا دے گا؟ کیونکہ میں تو بے اولاد جاتاہوں اورمیرے گھر کامختار دمشقی الیعزر ہے(یہ کے ساتھ زیر لگی ہوئی ، اس لئے الیعزر ہوگا غالباً)۔ پھر ابراہام نے کہا دیکھ تو نے مجھے کوئی اولاد نہیں دی اور دیکھ میرا خانہ زاد میرا وارث ہوگا تب خداوند کا کلام اس پر نازل ہوا اور اس نے فرمایا یہ تیرا وارث نہ ہوگا۔ بلکہ وہ جو تیرے صلب سے پیدا ہوگا وہی تیرا وارث ہوگا‘‘۔ تو پہلی خوشخبری اولاد کی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس دعا کے نتیجہ میںملی جو حضرت ذکریاعلیہ السلام کی دعا سے کچھ مشابہہ دکھائی دیتی ہے۔ یایوں کہنا چاہیے کہ حضرت زکریاعلیہ السلام کی دعا اس دعا کے مشابہہ ہے کہ میں بوڑھا ہوگیا ، بال سفید ہوگئے، ہڈیاںگل گئیں اور میںبظاہر بے اولادجاتاہوں مگر تیرے فضل سے مایوس نہیںہوں۔ تجھے پکار کر مایوس ہونے کی بدبختی مجھے نہیں ہے۔ یہ ناممکن ہے۔ بہت زیادہ طاقتور دعا ہے۔ مگرجس رنگ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا پیش کی گئی ہے۔ اصل میں پورا مقام حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اس میں ظاہر نہیں کیا گیا۔ قرآن کریم نے اس مضمون کو اور طرح پیش فرمایا ہے جب ابراہیم علیہ السلام کو خوشخبری ملی ہے تو انہوں نے پورے ایمان کا اظہار کیا ہے۔ ان کی بیگم حضرت سارہ کے متعلق آتا ہے کہ وہ کچھ پریشان ہوئیں اور اپنے بڑھاپے کا ذکر کرکے اپنے بانجھ ہونے کا ذکر کرکے تعجب کا اظہار کیا۔ وہ آیات اس وقت سامنے نہیں ہیں اس لیے موازنہ ان کا نہیں کرسکتا۔ اگرآپ نکالیں تو پھر میں موازنہ کردوں گا۔ سردست اس آیت کی طرف واپس آتا ہوں جو بائبل سے لی گئی ہیںیا دوآیات ، تین آیات۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق یہ ہے جو تیرے صلب سے ہوگا وہی تیرا وارث ہوگا۔ اب یہاںحضرت سارہ یا حضرت ہاجرہ کی کوئی تفریق یہاں نہیںملتی ۔ اگر حضرت اسمٰعیل اس وقت تک پیدا ہوچکے ہوتے تو بائبل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام یہ دعا مانگ ، یہ کہہ ہی نہیں سکتے تھے کہ میں اپنے غلام کو بنارہاہوں۔ پس غلام کو بنانا بتارہا ہے کہ آپ کا کسی طرف سے بھی کوئی بیٹا نہیں ہے۔ اُس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تیرا وارث وہی ہوگا جو تیرے صلب سے پیدا ہوگا۔ اور صلب سے کون پیدا ہوا ہے۔ سب سے پہلے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام پیدا ہوئے ہیں نہ کہ حضرت اسحق علیہ السلام ۔ لیکن بائبل پھر ساتھ یہ بھی بتاتی ہے کہ ابراہام نے اپنا سب کچھ اسحق کو دیا اور اپنی حرموں کے بیٹوں کو ابراہام نے بہت کچھ انعام دے کر اپنے جیتے جی ان کو اپنے بیٹے اسحق کے پاس سے مشرق کی طرف یعنی مشرق کے ملک میں بھیج دیا۔ یہ جو آیت ہے یہ مزید الجھائو پیدا کردیتی ہے صورتِ حال کو سمجھنے میں ۔ کیونکہ مشکل اس میںیہ ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا تو اس میں ذکر ہی کوئی نہیں(ربقہ تھیں تیسری بیوی؟ قطورہ تھیں ہاں۔ ربقہ تو ان کی تھیں حضرت اسحق علیہ السلام کی)۔ یہ قطورہ تھیں ایک اور بیوی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ۔ ان کے متعلق بائبل میں ہے کہ وہ بیوی کے طور پر آئیں ہیں ، لونڈی کے طورپر نہیں آئیں۔ اس لیے یہ سارے جھگڑے جو انہوں نے اٹھائے ہیں لونڈی کا بچہ وارث ہوسکتا ہے کہ نہیں اوربیوی کے مقابل پر لونڈی کی کیا حیثیت ہوگی؟ یہ سارے صرف اسلام کی دشمنی میں یا اس سے پہلے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دشمنی میں حضرت اسحق علیہ السلام کو ترجیح دینے کی خاطر یہ قصے بنائے گئے ہیں ورنہ بائبل میں خود ایسی آیات موجود ہیں جو قطعیت سے اس فرق کی اجازت نہیں دیتیں۔ اور یہ مسئلہ کہ لونڈی کے پیٹ سے ہوگا تو وارث نہیںہوسکتا یہ سب ان کی بناوٹ ہے۔ کیونکہ بائبل میں کہیں بھی اس کا ذکر نہیں سوائے اس کے کہ حضرت سارہ نے ابراہیم علیہ السلام کے سامنے یہ بات رکھی کہ یہ وارث نہیں ہوگا۔ بلکہ میرا بیٹا وارث ہوگا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دلداری فرمائی ہے۔ فرمایا کہ اس کی باتوں کو برا نہ منانا۔ یہ نہیں کہا کہ یہ میرا حکم ہے اس لیے تو اس بات کو تسلیم کر۔ یہ فرمایا ہے کہ اس کی باتوں کودل کو نہ لگا۔ یہ عورتیں کیا کرتی ہیں ایسی باتیں۔ تو اس کو شریعت قرار دے دینا اس کا قطعاً کوئی دُورکا بھی جواز نہیں۔ یہ جب ایک اور موقع آئے گاآگے تو میں اِس کو ایک دوسرے حوالے سے بھی ثابت کروں گا کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک جو ابراہیم علیہ السلام کے صلب سے پیداہوا ۔ اسماعیل بھی وہی بیٹا تھا اور اسماعیل پہلاتھا اور اسحق بعد میں آئے۔ ابراہیم نے سب کچھ اسحق کو دیا۔ یہ واقعہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اور حضرت اسحق علیہ السلام کی پیدائش کے بہت بعدکا واقعہ ہے اور اس وقت وہ جو دوسر ی بیگم تھیں ان کے بہت سے بچے تھے جن کی پوری لسٹ بائبل میں موجود ہے۔ ان بچوں کو اور ان کی والدہ کو بہت کچھ دے کر رخصت کیا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام اس میں قطعاً شامل نہیں ہوتے کیونکہ حضرت اسماعیل کوتو ایک بے آب و گیاہ وادی میں ایک مشکیزہ اور چند کھجور دے کر چھوڑ کے واپس آگئے تھے۔ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام تو اس وقت چھوٹے تھے بالکل۔ تویہ کہنا کہ اسماعیل علیہ السلام بھی گویا اس آیت کے تابع ہیں بالکل غلط ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو خدا کے سپرد کرکے آئے ہیں اور اپنی دنیا وی جائیداد کا ورثہ نہیں دیا۔ بیوی کی بات مانی ہے خدا کا حکم نہیں ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اجازت دی کہ اس کو لے جا اور اس کو الگ کردے۔ یعنی خدا خود اس کا نگران بنا ، خدا خود اس کا کفیل ہوا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اجازت دی کہ سارہ کی مرضی کرلے مگروہ شریعت نہیں بنتی۔ ایک عورت کی مرضی کو خدا کی اجازت سے وقتی طور پر اختیار کیا گیا ہے۔ لونڈی کی بحث بھی قابل توجہ ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت سارہ نے جو حضرت ہاجرہ کو پایا ہے وہ دراصل ایک شہزادی تھیں جو ان کے ساتھ رخصت کی گئی ہیں اور وہ کوئی خریدی ہوئی لونڈی نہیں تھیں۔ اور حضرت سارہ نے خود حضرت ابراہیم علیہ السلام کویہ کھل کے دلی خوشی سے اجازت دی کہ ان سے بیاہ کرلو تاکہ اولاد ہو ۔ اس لیے جب وہ بیاہ ہوگیا تو لونڈی والا مسئلہ تو پہلے بھی غلط ہے۔ اس طرح کی لونڈی تھیں ہی نہیں مگر وہ ساتھ خدمت کرتی تھیں۔ اس لیے ان کیلئے لونڈی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ۔ مگر وہ زرخرید لونڈی نہیں تھیں تحفہ میں ملی تھیں۔
    دوسری بات یہ ہے کہ جب وہ بیٹاپیدا ہوگیا تو پھر jealousyشروع ہوئی ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام پیداہوئے اوربڑے ہوئے آنکھوں کے سامنے۔ پھر عورت کی رقابت جو ہے وہ بھڑک اُٹھی ہے اور اس کے بعد پھر خداتعالیٰ نے وہ خوشخبری دی ہے۔ حضرت اسحق علیہ السلام والی اور حضرت اسحق علیہ السلام پیدا ہوئے ہیں ۔ تو حضرت اسماعیل علیہ السلام کافی بڑے اور کھیلتے کودتے تھے۔ چنانچہ بائبل میں یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ حضرت سارہ نے جوان کو نکالنے کا کہا ہے وہ وارث غیر وارث کے جھگڑے کی وجہ سے نہیں کہا۔ عذر یہ رکھا کہ حضرت ابراہیم نے جب حضرت اسحق کی پیدائش کی خوشی میں ایک بڑی دعوت دی تو اس وقت حضرت سارہ کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ہنسنا کھیلنا بہت برا لگااور انہوں نے اس رنگ میں کہا کہ یہ ٹھٹھے کرتا ہے۔ یعنی گویا مجھ پر اور میرے بچے پر مذاق اڑارہا ہے۔ اتنے بڑے ہوچکے تھے کہ ان کے ٹھٹھے کرنے کا امکان پیدا ہوگیا تھا۔ اس وقت انہوں نے بے قرار ہوکے کہا کہ اب میں برداشت نہیں کرسکتی اس کو۔ اپنا بیٹا مل گیا ہے تب جاکر اس رقابت نے پورا سر اٹھایا اور کہا کہ ان کو نکال دے ۔ جہاں تک وراثت سے محرومی کا تعلق ہے، جہاں تک شریعت کا تعلق ہے جس کے تابع حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے۔ ایک اگلا حوالہ میں آپ کے سامنے رکھتاہوں۔ اس سے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ یہ سب جھوٹ قصہ بنارکھا ہے۔ حقیقت میں بائبل کی رو سے ایسا نہ منظور تھا نہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ تعلیم دی ہے۔ حضرت ہاجرہ پر جو فرشتے اترے ہیں و ہ کہاں ہیں (وہ اس وقت مطلب ہے وہ فرشتے نہیں میں پوچھ رہاکیا ہیں؟ وہ حوالہ کیا ہے)استثناء باب16آیت 6تا 12۔ تب ساری (حضرت سارہ کو ساری کہا گیا ہے) اس پر سختی کرنے لگی اور وہ اس کے پاس سے بھاگ گئی۔ یہ واقعہ جو ہے یہ ایک دفعہ پہلے ہوچکا تھا اور جس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آخر پہ رخصت کیا ہے اس سے پہلے حضرت ہاجرہ کی اولاد کو اللہ تعالیٰ نے وارث ہونے کی خوشخبری دے دی تھی۔ پس حضرت سارہ کا کہنا کہ یہ نہیں ہے بلکہ میرا بیٹا ہوگا۔ یہ خداکے کلام کے مقابل پر کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتا۔ واقعات کو ان کی تاریخ کی ترتیب سے دیکھیں اب اس مضمون پر غور کریں ’’تب ساری اس پر سختی کرنے لگی اور وہ اس کے پاس سے بھاگ گئی اور وہ خداوند کے فرشتے کو بیاباں میں پانی کے ایک چشمے کے پاس ملی‘‘۔ یہ وہی چشمہ ہے جو شور کی راہ پر ہے۔اور اُس نے کہا اے ساری کی لونڈی ہاجرہ تو کہاں سے آئی اور کدھر جاتی ہے‘‘۔ (اب یہ لونڈی کے جہاں جہاںلفظ آئے ہیں یہ تحقیق طلب ہیں کہ اصل میں بائبل میں کیا تھا اور ایک ایسی بائبل کاہمیں علم ہوا ہے جو نسبتاً زیادہ قابل اعتماد ہے۔اس پر ہم تحقیق کررہے ہیںآج کل ۔ اس میں اکثر بیانات وہی ہیں جو قرآن کریم نے دیے ہیں اور بائبل کے مقابل پر اب تک جتنی ہم نے تحقیق کی ہے قرآن کی تائید کرتی ہے۔ اور وہ ایسی بائبل ہے جو مسّلم ہے۔ اس کے متعلق کوئی مستشرق یہ اعتراض نہیں کرسکتا یہ بعد کی بنائی ہوئی چیز ہے۔ اس کو عملاً نظر انداز کررہے ہیں۔ کیونکہ اس کواگر زیادہ اچھالیں اور لوگوں کے سامنے لائیں بار بار تو وہ قرآن کی بہت بڑی تائید کرتی ہے۔یہ ہمارے جو میر لطیف صاحب ہیںجرمنی میں، اُن کے سپرد میں نے ایک تحقیق کی تھی طورغم کے متعلق ۔ چنانچہ انہوں نے طورغم کی تحقیق کے دوران یہ چیزیں نکالیں۔ طور غم ایک لفظ مشہور ہے۔ یہ بائبل کا ایک نسخہ ہے طور غم کہلاتا ہے۔ جو آرمیک زبان میں ہے۔ اس کے متعلق کوئی خاص اہمیت نہیں دی گئی۔کوئی یہ نہیں سوچا گیا کہ کوئی غیر معمولی چیز ہے۔ انہوں نے کہا ہاں آرمیک نسخہ بھی ایک ہے۔ لطیف صاحب کو چونکہ شوق ہے تحقیق وغیرہ کا ، ان کے سپرد میں نے یہ کیا کہ طورغم کو نکالیں ،اچھی طرح دیکھیں، ان کے حقائق معلوم کریں۔ ان کا جوپہلا پیپر مجھے ملاہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت ہی امید افزاء ہے۔ اور بہت سے شیریں پھل اس سے ملے ہیں۔ ایک تو لفظ طورغم ترجمہ ہے اصل میں اور یہ بادشاہ خورس جب آئے ہیں فلسطین کودوبارہ آباد کرنے کیلئے یروشلم کو تو اس وقت جوان کے رابطے ہوئے تھے یہودیوں سے ۔ اس زمانے میں فارسی زبان اور Hebrewزبان نے مل کر جو زبان پیدا کی اس کا نام آرمیک ہے۔ اس لیے بعض علماء کا یہ کہناکہ آرمیک زبان محض Hebrewکی بول چال کی قسم ہے، غلط ہے۔ اس میں جو بائبل اُس وقت منضبط کی گئی ہے وہ قدیم ترین سب سے قابل اعتبار نسخہ ہے اصل میں۔ چونکہ وہ Hebrewکے ساتھ ایک ملتی جلتی زبان جو فارسی اور Hebrewکے امتزاج سے وجود میں آئی ہے اس میں براہ راست اس وقت کی موجود بائبل کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ اور وہ نیوٹرل آدمیوں کا ترجمہ ہے۔ اور یہودعلماء ان مترجمین کے خلاف ایک ادنیٰ سابھی اعتراض نہیں کرسکتے ،نہ کرتے ہیں۔
    یہ طورغم جس کو طورغم کہتے ہیں دراصل فارسی لفظ کاترجمہ ہے ۔ اس میں جوباتیں بیان ہوئی ہیںوہ جہاں تک ہم موازنہ کرسکے ہیں اب تک۔ جہاں بھی قرآن کریم سے اختلاف کیا ہے آج کل کی بائبل نے وہاں وہاں طورغم نے قرآن کی تائید کی ہے اور بائبل کو جھٹلایا ہے۔ جس سے پتا چلتا ہے کہ ایک معلومات کا بہت بڑا ذخیرہ ہے۔ جس سے انشا ء اللہ آئندہ بھی بہت سے مسائل حل ہوں گے۔ وہاں جو لفظ ہے وہ بھی دیکھنا چاہیے کہ یہ لونڈی کا لفظ ہے یا کچھ اور لفظ ہے۔ ہوسکتا ہے (فارسی) کنیز ہو جو ایک لڑکی کے متعلق بھی آجاتا ہے، لونڈی کے متعلق بھی آجاتا ہے۔ مگر یہ تحقیق طلب باتیں ہیںضمناًمیں نے بیان کی ہیں۔ اب میں اس کی طرف آتا ہوں ’’اے ساری کی لونڈی ہاجرہ تو کہاںسے آئی ہے اورکدھر جاتی ہے۔ اس نے کہا میں اپنی بی بی ساری کے پاس سے بھاگ آئی ہوں۔ خداوند کے فرشتے نے اس سے کہا تو اپنی بی بی کے پاس لوٹ جا۔ اور اپنے کو اس کے قبضے میں کردے۔ اور خداوند کے فرشتے نے اس سے کہا کہ میں تیری اولاد کو بہت بڑھائوں گا۔ یہاں تک کہ کثرت کے سبب سے ان کا شمار نہ ہوسکے گا اور خداوند کے فرشتے نے اس سے کہا کہ تو حاملہ ہے اور تیرے بیٹا ہوگا۔ اس کا نام اسماعیل رکھنا اس لیے کہ خداوند نے تیرا دکھ سن لیا ۔ وہ گورخر کی طرح آزاد مرد ہوگا۔ اس کا ہاتھ سب کے خلاف اور سب کے ہاتھ اس کے خلاف ہوں گے ۔ اور وہ اپنے سب بھائیوں کے سامنے بسا رہے گا‘‘۔ یہ ہے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی خوشخبری آپ کی پیدائش سے پہلے۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ہاجرہ ان دکھوں کی وجہ سے جو سارہ کی طرف سے پہنچتے رہے پہلے بھی دلبرداشتہ ہوکر بھاگی تھیں۔ اس وقت ان کو علم نہیں تھا کہ وہ حاملہ ہوچکی ہیں۔ تب خدا کے فرشتے نے نازل ہوکر بتایا کہ تو حاملہ بھی ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل تجھ سے جاری ہوگی۔ اور جو وعدے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کیے گئے ہیں کہ تیری نسل پھیلے گی۔ انہیں الفاظ میں یہ وعدہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے متعلق موجود ہے اس لیے وہ بعد کا حوالہ جس میں سارہ کہتیں ہیں کہ یہ لونڈی ہے اس کا بچہ ہے یہ وارث نہیں ہوسکتیں۔ یہ اس حوالے کے مقابل پرکوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ یہ خدا کا کلام ہے۔ فرشتہ نے حضرت ہاجرہ کو خودخوشخبری دی ہے اور اس کے مقابل پرحضرت سارہ پر بائبل میں بھی کہیں فرشتہ اُترنے کا ذکر نہیں ہے کہ براہ راست فرشتہ حضرت سارہ پر اُترا ہو اور آ پ کی اولاد کو خوشخبری دی ہو۔ پس حضرت اسماعیل علیہ السلام کا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پشت سے ہونا اور خوشخبریوں کاوارث ہونا بائبل سے قطعی طور پر ثابت ہے۔ اب جو اس کے مقابل پر وہ حوالہ دیتے ہیں وہ اتنا ہے صرف کہ جب ابراہیم علیہ السلام نے دودھ چھڑایا ہے حضرت اسحق کا اس وقت دعوت دی ہے اور دو سال کا یا اس کے لگ بھگ بچہ ہوگا جب دودھ چھڑایاگیا ہے۔ ’’ اور سارہ نے دیکھا کہ ہاجرہ مصری کا بیٹا جو اس کے ابراہام سے پیدا ہوا تھا‘‘۔ اب یہاں بھی ابراہام سے پید اہوا تھا اس کی نسل ہونے کی طرف اشارہ اس میں ملتا ہے۔ ’’ٹھٹھے مارتا ہے تب اُس نے ابراہام سے کہا کہ اس لونڈی کواور اس کے بیٹے کو نکال دے۔ کیونکہ اس لونڈی کا بیٹا میرے بیٹے اسحق کے ساتھ وارث نہ ہوگا‘‘۔ یہ جو وارث نہ ہوگا کا حکم ہے یہ خدا کا حکم نہیں ہے۔ بلکہ ایک سوکن کا حکم ایک سوکن کے بچے کے خلاف ہے۔ اور اس سے پہلے جس کو غیروارث کہہ رہی ہیں اِن کے وارث ہونے کی خداخوشخبری خود دے چکا ہے۔ پیدائش سے بھی پہلے دے چکا ہے۔ تو اسے حضرت سارہ کا قول کیسے منسوخ کرسکتا ہے۔ ’’ابراہام کو اس کے بیٹے کے باعث یہ بات نہایت بری معلوم ہوئی‘‘ ۔ اب بتائیں اللہ کا کلام ہوتا تو ابراہیم علیہ السلام کو ایسی بری معلوم ہوتی اور پھر خدا ان کی دلداری کرتا؟ ’’ خدا نے ابراہام سے کہا کہ تجھے اس لڑکے اور اپنی لونڈی کے باعث برا نہ لگے جو کچھ سارہ تجھ سے کہتی ہے تو اس کی بات مان کیونکہ اسحق سے تیری نسل کا نام چلے گا اور اس لونڈی کے بیٹے سے بھی میں ایک قوم پید اکروں گا اس لیے کہ وہ تیری نسل سے ہے‘‘۔
    اب بتائیں کہاں گیا ان کا تانا بانا جو انہوں نے فرضی بنا کے رکھا ہوا ہے۔ کچھ بھی باقی نہیں رہتا اس حوالے کے سامنے۔ یہ دو حوالے اکٹھے پڑھیں ، دو اقتباسات اکٹھے پڑھیںتو ان کی جو وراثت کا تصور باندھ رکھا ہے اس کی تار و پود بکھر جاتی ہے۔ لیکن جو نیو ٹسٹامنٹ ہے وہ اسی راگ کو الاپتی چلی جارہی ہے۔ گلیتیون جو Galationsکہلاتے ہیں انگریزی میںاس میں لکھا ہے باب 4آیت 28تا 31۔ ’’ پس اے بھائیو! ہم اسحق کی طرح وعدہ کے فرزند ہیں‘‘ کیونکہ ان کے نزدیک صرف اسحق سے وعدہ ہے۔ حالانکہ خود بائبل بتارہی ہے کہ اسحق سے بھی وعدہ ہے اسماعیل سے بھی وعدہ ہے۔ ابراہیم کی نسل سے دونوں کو قرار دیاجارہا ہے اور نام چلنا فرمایا ہے لیکن برکتوں سے محروم حضرت اسماعیل علیہ السلام کو نہیں کیاگیا۔ بلکہ برکات کی خوشخبریوں کا وارث قرار دیا جارہا ہے۔ نام چلنے سے مرادیہ ہے کہ اسحق کی نسل دیر تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ورثہ پائے گی لیکن دوسری جگہ بائبل میں ایسی آیات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام کی سلامتی اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے وابستہ ہوگی جو آخرین میں یاد کیا جائے گااور درود شریف میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نام دراصل اسی وعدہ کے مطابق ہے۔مگر یہ چونکہ مضمون اصل سے دورہٹ جائے گا اس لیے سردست اس کو میںچھوڑ کے واپس اس مضمون کی طرف آتاہوں۔ گلتیوں کہتی ہے ’’ہم اسحق کی طرح وعدہ کے فرزند ہیں۔ اور جیسے اس وقت جسمانی پیدائش والا روحانی پیدائش والے کو ستاتا تھا ویسے ہی اب بھی ہوتا ہے‘‘۔ اب یہ بھی بڑی Tell-Taleبات ہے۔ بات تو اب بظاہر اپنی مرضی کی کررہے ہیں لیکن منہ سے سچی بات نکل گئی ہے۔ جسمانی پیدائش والا روحانی پیدائش والے کو ستاتا ہے۔ وہ الٹ ہے بات۔ اسماعیل اسحق کو نہیں ستاتے تھے، اسحق کی وجہ سے اسماعیل ستائے گئے اور ان کی والدہ ستائی گئیں۔ مگر کتاب مقدس کیاکہتی ہے؟ یہ کہ لونڈی اور اس کے بیٹے کو نکال دے ۔ کیونکہ لونڈی کابیٹا آزاد کے بیٹے کے ساتھ ہرگز وارث نہ ہوگا۔ یہ کتا ب مقدس کوئی نہیں کہتی۔ حضرت سارہ کہہ رہی تھیں۔ کتاب مقدس نے اس کا ردّ فرمایا ہے بات خوب کھولی ہے کہ ابراہیم کی نسل سے ہے اسماعیل اور ضرور وارث ہوگا۔ اور قوموں کے بڑھنے کی جو برکت ہے وہ اس سے وابستہ فرمائی ہے۔ اور اسحق سے چونکہ فوری طور پر نام چلنا تھا اس لیے وہ خوشخبری اسحق کے حق میں بھی بیان کی۔ پس اے بھائیو! ہم لونڈی کے فرزند نہیں بلکہ آزاد کے ہیں۔ اور اس طرح حضرت اسماعیل کو بے حقیقت اور بے حیثیت کرکے الگ پھینکا گیا۔ اور مسیح نے ہمیں آزاد رہنے کیلئے آزاد کیا ہے ۔آزاد رہنے کیلئے آزاد کیا ، کیا ہے؟ جو آزاد ہیں ہی ان کو کس طرح آزاد کیا ۔ یہ تو ویسی بات ہے کسی نے کہا تھا میرے گھوڑے پر کاٹھی ڈال دو ۔ تو کسی عرض کیانوکر نے کہ حضور کاٹھی ڈالی جاچکی ہے۔ وہ مصروف تھا اس نے کہا ایک اور کاٹھی ڈال دو۔ تو ایک آزادی کو دوبارہ کیسے آزاد کیا۔ یہ فرضی قصے صرف لفاظیاںہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اصل میں یہ اسماعیل کی نسل سے ایک تعصب چلا آرہا ہے۔ جو پرانا ہے سوکنا پے کا تعصب جسے اللہ نے قبول نہیں فرمایا۔اور ابراہیم علیہ السلام کی دلداری کی اور وعدہ کیا کہ اس بیٹے سے میں ضرور برکتوں والی نسل تجھے دوں گا۔ کیونکہ یہ تیری نسل سے ہے۔ یہ تو ایک پہلو ہے دوسرا یہ ہے کہ بائبل کی تعلیم میں جو اب ہمارے سامنے ہے وراثت کی یہ عجیب و غریب تعلیم ملتی ہے کہ ایسا بیٹا تو وارث ہوسکتا ہے جو ناجائز ہو جس کی شریعت میں کوئی حیثیت نہ ہو ۔لیکن لونڈی کابیٹا وارث نہیں ہوسکتا۔ یہ جو تعلیم ہے یہ ظاہر ہے کہ اسی تعصب کا شاخسانہ ہے کیونکہ دل میں ایک آگ لگی ہوئی تھی کہ اسماعیل روحانی ورثہ جب پاجائیں گے تو ہماری نسل اپنے اختتام کو پہنچے گی اور وہ نسل ہمیشہ کیلئے جاری ہوجائے گی۔ جو ابراہیم کی دائمی آنے والی نسل ہے وہ اسماعیل سے جاری ہوگی۔ یہ اس کی پیش بندیاں کی جارہی ہیں ، اس کے رستے بند کرنے کی خاطر یہ ساری تدبیریں اختیار کی جارہی ہیں۔ ایک حوالہ یہ ہے ورثہ سے متعلق گنتی باب 36آیت 6تا9۔ گنتی اس کو numbersکہتے ہیںجو انگریزی بائبل میں numbers اس کو اردو میں گنتی کہتے ہیں۔ ’’صلاف حاد کی بیٹیوں کے حق میں خداوند کاحکم یہ ہے کہ وہ جن کو پسند کریں انہیں سے بیاہ کریں۔ لیکن اپنے باپ دادا کے قبیلہ ہی کے خاندانوں میں بیاہی جائیں‘‘۔ وہ جو کل میں نے بیان کیا تھا نا آج کل بد رسمیں پھیل گئی ہیں یہ اُس زمانے میں اُن میں بھی پھیلی ہوئی تھیں کیونکہ یہ جھگڑا تھا کہ ہماری جائیداد ورثہ کے نتیجے میں دوسروں میں نہ چلی جائے۔ حکم یہ ہے کہ جن کو پسند کریں ان سے بیاہی جائیں ۔ لیکن اپنے باپ دادا کے قبیلہ ہی کے خاندانوں میں ہی بیاہی جائیں۔ ’’یوںبنی اسرائیل کی میراث ایک قبیلے سے دوسرے قبیلے میں نہیں جانے پائے گی۔ کیونکہ ہر اسرائیلی کواپنے باپ دادا کے قبیلے کی میراث کو اپنے قبضہ میں رکھناہوگا اور اگر بنی اسرائیل کے کسی قبیلے میں کوئی لڑکی ہو جو میراث کی مالک ہو تو اپنے باپ کے قبیلے کے کسی خاندان میں بیاہ کرے تاکہ ہر اسرائیلی اپنے باپ دادا کی میراث پر قائم رہے۔یوں کسی کی میراث ایک قبیلہ سے دوسرے قبیلہ میں نہیں جانے پائے گی۔ کیونکہ بنی اسرائیل کے قبیلوں کو لازم ہے کہ اپنی اپنی میراث اپنے قبضہ میں رکھیں‘‘۔ یہ گنتی کا حوالہ ہے لیکن جہاں تک پلوٹھے کا تعلق ہے یہ بات قطعیت سے ثابت ہے بائبل سے کہ خوا ہ کوئی کسی بیوی کو زیادہ پسند کرے کسی کو کم پسند کرے۔ اگر کسی بیوی سے نفرت بھی ہو اور وہ پہلے بچہ جن دے تو اصل وارث وہی ہوگا۔ اور کسی خاوند کی ذاتی محبت اس خدائی قانون کو تبدیل نہیں کرسکتی کہ جوپلوٹھا ہوگا وہ وارث ہوگا۔ بعد میں جو حوالے آئے ہیں پلوٹھے کو غیر وارث کرنے والے وہ عجیب و غریب حوالے ہیں میں اس وقت ان کو چھوڑتا ہوں۔ اس پر ذرا توجہ فرمائیے کہ اگر کسی مرد کی دو بیویاں ہو اور ایک محبوبہ اور دوسری غیر محبوبہ ہو اورمحبوبہ اور غیر محبوبہ دونوں سے لڑکے ہوں اور پلوٹھا بیٹا غیر محبوبہ سے ہو۔ اب یہ لفظ ہے جو اہل کتاب کو جکڑ لیتا ہے۔ پلوٹھا بیٹا کس کو کہتے ہیںیہ؟ حضر ت اسماعیل کو یا حضرت اسحق کو۔ کہتے ہیں اسحق پلوٹھا بیٹا ہے۔ کیا وہ غیر محبوبہ کابیٹا تھا؟ اور پہلے ہوا تھا؟ یا محبوبہ کا بیٹا تھا اور بعد میںہوا تھا۔ ان کے نزدیک حقیقت میں محبوبہ کا بیٹا بعد میں ہوا ہے اور غیر محبوبہ حضرت ہاجرہ کہلائیںگی حضرت سارہ نہیں کہلائیں گی۔ اس تعلق میںتو ’’جب وہ اپنے بیٹوں کو اپنے مال کا وارث کرے تو محبوبہ کے بیٹے کو غیر محبوبہ کے بیٹے پرجو فی الحقیقت پلوٹھا ہے فوقیت دے کر پلوٹھا نہ ٹھہرائے بلکہ وہ غیر محبوبہ کے بیٹے کو اپنے سب مال کادوناحصہ دے کر اسے پلوٹھا مانے کیونکہ وہ اس کی قوت کی ابتداء ہے اور پلوٹھے کا حق اسی کا ہے‘‘۔ یہ جو شریعت نازل ہوئی ہے یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دراصل بعد میںنازل ہوئی ہے کیونکہ اس مضمون کو اگر سمجھیں تو شریعت کی رو سے جو بعد میں نازل ہوئی کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ اپنے پلوٹھے کو اس کے وراثتی حق سے محروم کرے جو یہ ہے کہ تقسیم کے وقت اسے دوگنا دیا جائے گا اور غیر پلوٹھوں کو ایک حصہ یعنی جس طرح اسلام میںلڑکے اورلڑکی کا فرق ہے۔ اس طرح پلوٹھے اور غیر پلوٹھوں کا فرق بائبل میں ہے۔ یہ آیت حضرت ابراہیم پرویسے اطلاق نہیں پاتی۔ میں نے ضمناًبات کی تھی۔ یہ چونکہ مانتے ہیں کہ یہ شریعت پیچھے بھی کام کررہی ہے اس لیے میں نے الزامی جواب کے طور پربات کی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بعد کے زمانہ کی تعلیم ہے۔ حضرت ابراہیم سے اس کا تعلق نہیں ہے۔ کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خدا نے جو وقتاً فوقتاً احکام دیے ہیں اگر بائبل نے ان کا صحیح اندراج کیا ہے تو اس کی روسے آپ نے اپنے پلوٹھے کو دنیاوی مال کچھ نہیں دیا۔ جو حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے وہ پلوٹھے تھے۔ خدا کہتا ہے تیری صلب سے ہے اس لیے تیرا بیٹا ہے۔ پہلے پیدا ہوئے اس کو بائبل تسلیم کرتی ہے مگر پلوٹھا نہیں مانتی۔یہ اس کی ضدہے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ پس اگر یہ شریعت حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اطلاق پاتی تو لازم تھا کہ حضرت سارہ کی مرضی ہوتی یا نہ ہوتی۔ حضرت اسماعیل کو اپنی جائیداد میں سے دوگنا دیتے۔ پھر جہاں تک حضرت اسحق علیہ السلام کا دوسری بیوی کے بچوں سے موازنہ ہے قطورہ کی اولاد کو بھی آپ نے عملاً لاوارث کردیا۔ کیونکہ زندگی میں کچھ دے کر رخصت کردیااور وہ مشرق کی طرف کسی ملک میں جاکر آباد ہوگئے اور جہاں تک حضرت اسحق علیہ السلام ہیں وہ اکیلے رہ جاتے ہیں پھر وارث بننے کیلئے۔ پس اگر یہ الٰہی منشاء کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام کیلئے خصوصی احکامات نہیں تھے تو پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام خود الٰہی شریعت کو توڑنے والے بنتے ہیں۔ پس اصل میں جو تورات کا آغاز ہے یہ ہے اصل بنیادی بات۔ اس ضمن میں مَیں نے پہلے بھی اپنے محققین سے کہا تھا ،تحقیق کرنے والی جو نئی نسلیں پیدا ہورہی ہیں کہ تورات کے آغاز کا پتا کریں۔ قرآنی حوالوں سے تو پتا چلتا ہے کہ تورات کا آغاز دراصل حضرت یعقوب علیہ السلام کے زمانہ میں ہوا ہے اور اس کے بعد سے پھر مختلف انبیاء پر جو وحی نازل ہوتی رہی شریعت کے مطابق یعنی شریعت کے بیان کیلئے وہ کچھ slabsمیں پتھر کی سلوںپر درج ہوتی رہی اور انہی سلوں کی طرف حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بلایا گیا اور غار میں لے جاکر دکھائی گئیں کہ یہ وہ سلیں ہیںجن میں تمہارے لیے تعلیم ہے۔ یہ وہی تعلیم ہے جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ جب تک تورات نہیں نازل ہوئی اس وقت تک حضرت اسحق علیہ السلام نے اپنی مرضی سے اپنے لیے جو چیزیں پسند کیںتھیں اورناپسند کی تھیں اسی تعلیم پر عمل کرتے رہے ۔ یہاں تک کہ تورات میں پھرجاکر ایک اور تعلیم داخل ہوگئی۔ مگرحضرت اسحق علیہ السلام کے تعلق میں تورات کا بھی ذکر ہے جو بعد میں آئی ہے اُن تعلیمات کے جو تعلیمات آپ کے نفس کی فطرت کے طبعی تقاضوں کے مطابق تھیں۔ ایک وقت میں وہی شریعت چل رہی ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کی نسل میں یعنی حضرت یعقوب علیہ السلام کے زمانہ میں پھر تورات نازل ہوجاتی ہے اور اس میں کچھ تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ قرآن فرماتا ہے کہ جب تک تورات کی تعلیم نہیں آئی وہی ان کیلئے خدا کی نازل کردہ شریعت کا حکم رکھتی تھی۔تو یہ تو نہیں ہوسکتا کہ اس واقعہ کے بعد موسیٰ کے وقت تک پھرمکمل خلاء ہوا ہو۔ ورنہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے حوالے سے خداتعالیٰ تورات کی بات نہ کرتا اور موسیٰ علیہ السلام کو جو Slabsدی گئی ہیں وہ کہاں سے آگئیں پھر۔ وہ کیا تھیں؟ ان کی حیثیت کیا تھی؟ اور پھر موسیٰ علیہ السلام کو تورات دینے کا کیوں ذکر نہیں کرتا۔ یہ جوچیزیں ہیں ان کواکٹھا پڑھیں تو واضح طور پر جو تاریخ آنکھوں کے سامنے ابھرتی ہے وہ یہ ہے کہ تورات ایک وسیع زمانے پر پھیلی ہوئی الٰہی احکامات کی کتاب ہے۔جوموسیٰ علیہ السلام سے پہلے اور یعقوب علیہ السلام کے بعد یا یعقوب علیہ السلام کے زمانہ کے آخری حصہ میںجاری ہوچکی تھی۔ اور مختلف انبیاء پر تورات نازل ہوتی رہی اور اس کو جمع کیا گیا ہے۔ اصل تورات کو خدا نے تختیوںپر یا پتھروں پر کندہ کروایا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سپرد ایک وہ حصہ کیا ہے اور اس کے علاوہ کچھ تعلیمات حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دی گئی ہیں۔ یہ ہے تورات جوانبیاء پر نازل ہوئی۔ اس کو قرآن کریم حضرت موسیٰ علیہ السلام پرنازل ہونے والی کتاب نہیں کہتا بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کتاب دی ہے یہ کہتا ہے۔ تورات دی ہے یہ کہیں نہیں فرماتا۔ کیونکہ تورات میں دوسرے نبی بھی حصہ دار تھے۔ پس اس پہلو سے یہ میں عرض کررہا ہوں کہ یہ بائبل کی آیت اگرچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فعل سے متصادم ہے اوریوں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑخود خدا کی تعلیم پرعمل نہیں کرتے مگر یہ غلط بات ہے۔ یہ تعلیم بعدکی بات ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کوجستہ جستہ وہ تعلیم دی گئی ہے جو آپ کی ذات سے تعلق رکھتی ہے اور یہ تعلیم بعض انبیاء کو امت کی تعلیم سے الگ دی جاسکتی ہے۔ جیسا حضرت ابراہیمعلیہ السلام سے ہوا ویساہی آنحضرتﷺ سے بھی ہوا۔ اور اس پہلو سے اہل کتاب کوآنحضورﷺ کے متعلق ان استثنائی آیات پر اعتراض کا کوئی حق نہیںہے۔ جو نبی جس پر شریعت نازل ہوتی ہے یا جو کسی امت کا باپ ہے اس کے خصوصی حالات میں ایسی تعلیم نازل ہوسکتی ہے جو عامۃ الناس کیلئے مستقل قانون سے مختلف ہو اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھ لیں۔ اس بائبل کی تعلیم سے مختلف تعلیم ملی ہے۔ تبھی انہوں نے اس پرعمل ہی مختلف طریقے سے کیا ہے۔ فقہاء نے جو خلاصہ نکالا ہے ان کی شریعت کا وہ یہ ہے، بیٹے اور ان کی اولاد ،بیٹیاں اور ان کی اولاد، والد، بھائی اور ا ن کی اولاد، بہنیں اور ان کی اولاد ، دادا ۔والد کے بھائی اور ان کی اولاد۔ والد کی بہنیں اور ان کی اولاد، پردادا، یہ سارے بائبل کی رو سے وارث کہلارہے ہیں جبکہ حقیقت میںبائبل میں ان سب کا ذکر نہیںملتا۔ پس جوموجودہ شریعت ہے یہود کی اس میں ورثہ انہوں نے یا اپنی عقل سے بنایا ہے یا رواج سے متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے قریبی رشتہ دار کے الفاظ سے استدلال کرتے ہوئے خاوندکو بھی ورثاء میں شامل کرلیا ہے۔ اور تمام بیٹوں کو برابر کا حصہ ملے گاسوائے پلوٹھے کے۔یہ بات یہود نے رکھی ہے اپنے سامنے جو بیٹا والد کی وفات کے بعد پیدا ہوگا۔ اسی طرح غیر قانونی بیٹا (illegitimate)بھی والد کے جائز وارث ہوں گے۔ جو بھی بعدمیں پیدا ہو وہ بھی وارث ہوجائے گا۔ یعنی اگر حاملہ ہے کوئی ماں تو اس وقت تک تقسیم نہیںکی جائے گی جب تک کہ وہ بیٹا پید انہ ہو۔ اور اس کو دیکھا جائے کہ کتنے حصہ کا وارث بنتا ہے۔ورنہ اگر وہ مردہ پیدا ہو توپھر کچھ بھی نہیں ملے گا۔ اگر وہ لڑکا ہو تو خیرلڑکی ہو تو دونوں کوبرابرہی ملتا ہے نا اس میں؟ صرف پلوٹھے کو دوگنا ملتا ہے۔ کہتے ہیں جو بیٹاوالد کی وفات کے بعدپیدا ہوگا وہ بھی وارث ہوگا۔ جو غیر قانونی بیٹا یعنی مطلب ہے illegitimate childجس کیلئے اردو میں جو لفظ ہے بڑا خطرناک ساہے وہ بھی والد کے جائزوارثوں میں شامل ہوگا۔البتہ لونڈی یا غیر یہودی عورت سے پیداہونے والی اولاد وارث نہیں ہوگی۔ اب یہ انہوں نے تعلیم بنالی ہے ۔
    ایک طرف اسلام پریہ الزام لگاتے ہیں کہ لونڈیوں کی باتیں کرتا ہے اور لونڈیوں کو بغیر کسی نکاح کے بیوی کے طور پر استعمال میںلانے کی اجازت دیتا ہے ۔ یہ تمام مستشرقین بڑھ بڑھ کر اسلام کے خلاف باتیں کرتے ہیں اور یوں باتیں کرتے ہیں گویا اسلام ہی نے لونڈی کی تعلیم دی ہے اور اسلام ہی نے غلامی کو طاقت بخشی ہے۔ حالانکہ جو غلام اورلونڈی کی تعلیم ان کے ہاں ملتی ہے وہ اتنی بھیانک ہے کہ لونڈی کا بیٹا ہوجائے تو وہ غیر وارث رہے گا۔ حرام کی اولاد ہو تو وہ وارث ہوگی۔ اب موازنہ دیکھیں اسلام کے ساتھ ۔ اسلام فرماتا ہے کہ اگر لونڈی کے بیٹا ہو تو وہ بیوی کی طرح شمار ہوگی۔ اس کے بعد اسے لونڈی کہنے کا کوئی حق نہیں ہے، وہ مائوں میں سے ایک ماں بن جاتی ہے۔ کتنی اعلیٰ اورروشن الٰہی تعلیم ہے۔ پس اس پہلو سے یہ جو بھیانک تصور ہے غلام کا اورلونڈی کا اور ایک انسان کی آزادی کا، اس حدتک کچلے جانا کہ اس کی اولاد بھی آگے غلام در غلام پیدا ہوتی چلی جائے۔یہ تصور اسلام نے بالکل ملیامیٹ کرکے رکھ دیا ہے اور اصل آزادی اسلام نے دلائی ہے انسان کو اور ان کے جولغو حملے ہیں ان کی کوئی بھی حقیقت نہیں ۔ بائبل کی رُو سے تو غلام لونڈی انسان ہی نہیں ہیں۔ کچھ بھی ان کی حیثیت نہیں ہے۔ اور دوسرا بائبل کی رُو سے یہ قطعی طور پر ثابت ہے کہ عورتیں ورثہ میں بانٹی جاتی تھیں۔ اور عورتیں وارث اس لیے نہیں ہوسکتی تھیں۔ (یہ بعد میں انہوں نے عورتوں کو وارث کیا ہے لیکن) اس سے پہلے عورتوں کے ورثہ کا کوئی تصور نہیں تھا۔پہلا تصور جوعورتوں میں ورثہ کا پیدا ہوا ہے، وہ ایک عورت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میری بیٹیاں ہیں اوران کے ورثہ کے متعلق کیا حکم ہے۔ تو اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر جو آیات نازل ہوئیں ہیںان کی رو سے اگر بیٹا نہ ہو تو پھر بیٹیوں کو ورثہ ملے گا۔ یہ ہے اصل بنیادی تعلیم ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: گنتی باب 26آیت 6تا11 ’’صلاف حادکی بیٹیاں ٹھیک کہتی ہیں یعنی ان کی ماں ہی نے نہیں بلکہ بیٹیوں نے مل کر شکایت کی ہوگی۔ ان کے باپ کے بھائیوں کے ساتھ ضرور ہی میراث کا حصہ دینا یعنی ان کو اُن کے باپ کی میراث ملے اوربنی اسرائیل سے کہہ کہ اگر کوئی شخص مرجائے اور اس کا کوئی بیٹا نہ ہو تو اس کی میراث اس کی بیٹی کو دینا۔
    مشروط ہے اگر بیٹا نہ ہو تو پھر بیٹیاں وارث ہوں گی۔ اس لیے بعدمیں طالمود نے اگر اس تعلیم کوبدلا ہے تو ان کے پاس کوئی جواز نہیں ہے، کوئی سند نہیں ہے۔ یہ اسلام میں لڑکے کو دو حصے اور لڑکی کو ایک حصہ پرتو اعتراض کرتے ہیں مگر اپنی تعلیم نہیں دیکھتے کہ بیٹا اگر ہوجائے تو بیٹیوں میں صف ماتم بچھ جائے گی کہ کیا مصیبت آگئی ہے۔ ایک ایک پائی سے محروم کردی جائیں گی۔ اس لیے اسلامی تعلیم کے ساتھ بائبل کی تعلیم کا موازنہ کرکے دیکھیں تو کوئی نسبت ہی نہیں رہتی۔ مگرمیں پھر متنبہ کررہا ہوں کہ بعید نہیں کہ اس تعلیم پر یہود کاتبوں کا اثر پڑ گیا ہو۔ رواج کا اثر پڑ گیا ہو۔ یا اس زمانہ کے حالات میں ایک معاشرہ سے رفتہ رفتہ نکال کر خداتعالیٰ اندھیرے سے روشنی کی طرف لارہا ہو۔ اس پہلو سے احکامات فوری اور اچانک تبدیلی پیدا کرنے والے نہیںہوتے۔ یہ بھی ایک مضمون ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔ قرآن کریم نے بھی ایسے احکامات نازل فرمائے جن سے رفتہ رفتہ تربیت ہوئی ہے۔ اور رفتہ رفتہ اندھیروں سے روشنی میں نکالا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ غلام اورلونڈی کو اچانک ناجائز قرار نہیںدیا گیا بلکہ کچھ وقت لگا ہے اور ناجائز قرار دینے کے ایسے طریقے اختیار کیے ہیں کہ اگر اسلام ان پر عمل کرتا یعنی قرآن کریم کی تعلیم پر مسلمان عمل کرتے تو لونڈی اور غلام کا کوئی وجود ہی باقی نہ رہتا کلیۃً مٹ جاناتھا۔ تو بہت ہی حکمت کے ساتھ ایک جاری و ساری رواج کو اچانک کالعدم کرکے جس کا اقتصادیات پر بہت گہرا اثر پڑتا اور چوٹ پڑتی ، اس کی بجائے ایک تدریج اختیار فرمائی گئی ہے۔پس اس پہلو سے بعض احکامات بائبل کے جو بظاہر خلافِ فطرت دکھائی دیتے ہیں اورمحسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک نقص ہے۔ ضروری نہیں کہ وہ مصنوعی طورپر بعد میں داخل کیے گئے ہوں ۔ اس زمانے کے رواج تھے انسان کا معاشرہ رفتہ رفتہ ترقی کررہا تھا اور ایک ہی دن میں civilizationنے دنیا کو روشن نہیں کیا ہے ۔ایک جاری سلسلہ ہے ۔ پس بعض اندھیروں سے نکالنے کیلئے فطرت انسانی کو ملحوظ رکھتے ہوئے آہستہ روی اختیار کی جاتی ہے، رفتہ رفتہ نکالاجاتا ہے۔ پس میںسمجھتاہوں کہ ورثہ کی تعلیم میں بھی ہمیں اعتراضات میںجلدی نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ یہ ایک ارتقائی صورت ہے۔ جس کے آخر پر اسلام نازل ہوا ہے اور اسلام میں بھی وہی تدریجی رُخ ہمیں صاف دکھائی دیتا ہے ۔ اگر وہاں اعتراض کریں گے تو پھربعض جگہ موقعوں پرآکر اسلام بھی محل اعتراض میں ٹھہرے گا۔ اس پر بھی اعتراض وارد ہوسکتے ہیں۔ مگر یہ الٰہی حکمتوں کا بیان ہے اصل میں۔ شریعتیں اس طرح نازل ہوئی ہیں۔ روایات کو ایک دم کالعدم قرار نہیں دیا گیا۔ رفتہ رفتہ انسان کو پرانی عادتوں سے نکال کر آزادی کی طرف منتقل کیا گیا ہے۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جو بیٹے کی بشارت دی گئی ہے قرآن کریم میں وہ یوں ہے وامراتہ قائمۃ فضحکت فبشرنہا باسحق ۔ ومن وراء اسحق یعقوب۔ قالت یویلتی ع الدوانا عجوز و ھذا بعلی شیخا۔ ان ھذا لشیء عجیب۔ قالوا اتعجبین من امراللہ رحمۃ اللہ وبرکاتہ علیکم اھل البیت ۔ انہ حمید مجید۔مگر دوسری جگہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جہاں تعجب کا اظہار کیا ہے وہ بھی نکالیں ورنہ ایک چھپادیں گے ایک نکالیں گے۔ و اوجس منہم خیفۃ۔ قالوا لا تخف۔ فبشروہ بغلام علیم۔ فاقبلت امراتہ فی صرّۃٍ فصکت وجھھا و قالت عجوز عقیم۔ایک اور جگہ بھی ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی تعجب کا اظہار کیا ہے۔ وہ نکالیں۔ جب نکالیں گے پھر میں پڑھوں گا اس طرح نہیں۔اچھایہ تو اس آیت کے حوالے سے بنی اسرائیل کو دی جانے والی تعلیم کا ذکر چھڑ گیا تھا۔
    اب میں اگلی آیت کی طرف جاتا ہوںاور اس ضمن میں کچھ ایسی باتیں بھی ہیں جس کا اس گزری ہوئی آیت سے بھی تعلق ہے وہ انشاء اللہ اس تفسیر کے دوران میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔ اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم۔ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ۔ واذا حضر القسمۃ اولوا القربی و الیتمی والمسکین فارزقوھم منہ و قولوا لھم قولا معروفا ۔ اور جب ترکہ کی تقسیم کے وقت دوسرے قرابت دار حضر القسمۃ اولواالقربی۔ دوسرے کا جو لفظ ہے وہ بریکٹ میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رکھا ہے۔جو لفظی ظاہری ترجمہ ہے اس میں دوسرے کا ذکر نہیںملتا۔پس ظاہری طور پر جو بیان ہے وہ اتنا ہے کہ جب بھی وراثت کی تقسیم کے وقت القسمۃ سے مراد وراثت کی تقسیم۔ اولواالقربی قرابت دار یا اقرباء آئیں والیتمیٰ اوریتیم بھی آئیں ۔ والمسکین اور مسکین بھی حاضر ہوں۔ فارزقوھم منہ تو اس میں سے ان کو بھی کھلائو پلائو، ان کو بھی حصہ دو۔ و قولوا لھم قولا معروفا ۔ اور ان سے اچھی بات ، حسن بات کرو جو ان کی دلآزاری کا موجب نہ بنے ۔ یہ پہلی آیت ہے للرجال نصیب مما ترک الوالدان والاقربون و للنساء نصیب مما ترک الوالدن والاقربون۔ تو اس آیت کو بہت سے علماء نے اس آیت سے متصادم سمجھا ہے اور اس کے نتیجے میں یہ جو غلط خیال پیدا ہوا کہ قرآن کریم کی بعض آیتیں منسوخ ہیں ان میں ایک یہ آیت بھی بیان کی جارہی ہے۔ یہ میں نے آپ کو متوجہ کیا تھا کہ اس آیت اور اس کے تعلق میں ایک ایسا مضمون ہے جس میں فقہاء نے اورعلماء نے بہت کچھ بحثیں اٹھائی ہیں کیونکہ وہ ان کو جو تضاد دکھائی دیتا ہے وہ میں آپ کو بتائوں پہلے وہ کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں پہلی آیت سے تو لگتا ہے کہ نصیب ہے پختہ حصہ ہے۔ مما ترک الوالدان والا قربون- اقربون جو بھی چھوڑیں گے اس سے اور والدین جو بھی چھوڑیں گے اس میں کچھ لوگوں کو حصہ ملے گا۔ اولاد کو تو حصہ ملے گا لازماً اور اقرباء کو بھی معلوم ہوتا ہے ضرور ملے گا۔ اگرچہ اقرباء چھوڑیں گے کی بات ہورہی ہے مگر جب اقرباء چھوڑیں گے تو ورثہ پانے والے بھی تو اقرباء ہی کہلائیں گے۔ اس لیے یہاں یہ بحث نہیں ہے کہ کون چھوڑے گا۔ جس کو ملے گا اس کو اقرباء کی حیثیت سے بھی ملے گا۔ اور وہ کہتے ہیں نصیبًا مفروضا ۔ یہ ایک فرض والا حصہ ہے جو قطعی طور پر واجب ہے کہ ادا ہو۔ یہاں یہ مضمون ہے دوسری طرف اگلی آیت میں یوںبات چھیڑی گویا کہ ایک طوعی حکم تھا اور نصیحت کے طور پر فرمایا جارہا ہے کہ ان کو بھی دو۔ اذا حضر القسمۃ اولوا القربی و الیتمی والمسکین فارزقوھم منہ و قولوا لھم قولا معروفا ۔ ان کو اس میں سے کچھ دو اور قولِ معروف کرو ان سے اچھی ، حسن بات کرو۔ ایک یہ ہے جو الجھن ان کو پیدا ہوئی ہے دوسری یہ الجھن بنتی ہے کہ اذا حضر القسمۃ اولوا القربی و الیتمی والمسکین فارزقوھم منہ میں یہاں حکم ملتا ہے کہ ضروران کو دو اور جو پہلی آیت کے بعد مفہوم سمجھے ہیں وہ یہ ہے کہ جو نصیب مقرر ہوچکا ہے وہی تم نے دینا ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس جگہ اقرباء کا ذکر تو ہے یتامیٰ کا نہیں ہے مساکین کا نہیں ہے اور اس آیت نے جن کو حصہ دینا ہے ان کی قسمیں زیادہ بڑھادی ہیں ۔ تو گویا یہ ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ اس وجہ سے نسخ کا ایک خیال دلوں میں اٹھا ہے جو بالکل غلط اور بے حقیقت ہے۔ اس کے متعلق میں زیادہ وضاحت سے ان کے حوالے پیش کرنے کے بعد بات کروں گا۔
    قسم یقسم قسما۔ قسم الشی جزّئہ۔ کسی چیز کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ تقاسم القوم المال اخذ کل قِسْمَہٗ منہ ۔ یعنی ہر ایک نے مال میں سے اپنا اپنا حصہ لیا۔ غرض یہ کہ قِسْمَۃ کی بحث میں کوئی زیادہ جانے کی ضرورت نہیں ہے۔یہ تقسیم کو کہتے ہیں ۔ اس کی شان نزول کی بحث میں ابو حیان اندلسی نے یہ بیان فرمایا ہے ۔ یہ آیت ایسے مالدار لوگوں کے بارہ میں بغرض ترغیب اتری ہے جو جان کنی کے وقت اپنی وصیت میں جائیداد کو ترجیحات کی بناء پر تقسیم کرتے ہیں اور غیر وارث رشتے داروں کو نظر انداز کردیتے ہیں اس طرح وہ غیر وارث وصیت سے بھی محروم ہوجاتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ابن مصیّب، عکرمہ اور ضحاک کے نزدیک یہ آیت منسوخ ہے ۔ اُنہوں نے کہا اس تقسیم کو اللہ تعالیٰ نے تین حصوں میں منقسم فرمایا جسے آیت میراث نے منسوخ کرکے ہر مستحق کو اس کا حصہ دیا او روصیت کو غیر وارث محروموں سے مخصوص کردیا۔ یہ جو مضمون ہے یہ سب فرضی ہے اس کی کوئی بھی حقیقت نہیں۔ کیونکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کی طرف منسوب ایک بخاری کی روایت قطعیت کے ساتھ اس الزام کو حضرت (ابن) عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دور کررہی ہے۔ کتاب التفسیر ترجمہ یہ ہے : عکرمہ کہتے ہیں (اورعکرمہ کی طرف بھی حوالہ دیا گیا تھا کہ انہوںنے کہا یہ منسوخ ہوگئی ہے) عکرمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس نے کہا ہے کہ یہ آیت واذا حضر القسمۃ اولواالقربی والیتمی والمسکین محکم ہے۔ نہ صرف یہ کہ منسوخ نہیں ہے بلکہ متشابہات میں بھی داخل نہیں ہے۔ محکم ہے منسوخ نہیں ہے۔ عکرمہ کے ساتھ اس حدیث کو سعید بن جبیر نے بھی ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے۔ اب عکرمہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ اور شاگرد بھی تھے ۔ بکثرت ان سے روایات ملتی ہیں لیکن سعید بن جبیر کی روایت اگر الگ سند سے آجائے تو پھر حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق یہ روایت بہت قوی شمار ہوتی ہے۔ دواکٹھے ہوجائیں جس بات پر اس کے انکار کی کوئی گنجائش نہیں رہتی ۔ پس یہ قطعی بخاری کی جو روایت ہے یہ اہل تفسیر کی ان روایتوں کو پارہ پارہ کردیتی ہے۔ پہلا تقسیم کا عمل یہ کرتی ہے۔ قَسَمَ کا مطلب ہوتا ہے ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ جَزَّئَہٗ تو یہ محکم آیت ہے جو اس طرح اس روایت کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے پھینک دیتی ہے۔ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ قرآن کریم میں ناسخ منسوخ کا کوئی تصور نہیں ہے۔ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس مضمون کو حرف آخر کے طور پر ہمیشہ کیلئے ختم کردیا ہے۔ قرآن کریم میں ایک آیت کیا ایک شوشہ بھی منسوخ نہیں ہے۔ اب اس تعلق میں حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو اس کی تفسیر فرمائی ہے، ان آیات کوجوڑا ہے وہ میں اب آپ کے سامنے پڑھ کر سنائوں گا۔ لیکن اس سے پہلے بعض اورعلماء کی باتیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ امام جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں کہ یحیٰ بن یعمر سے مروی ہے کہ تین مدنی آیات محکم ہیں۔ لوگوں کی اکثریت نے اس پر عمل نہیں کیا یعنی اذا حضر القسمۃ ۔ ایک اور روایت کے سلسلے سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے اور اس کے علاوہ دو اور آیتیں جو بیان کی گئی ہیں ان میں ۔۔۔۔۔۔ والذین لم یبلغوا لحلم منکم۔ اور انا خلقنکم من ذکر و انثی۔ یہ بیان کی گئی ہیں۔ مگر اس آیت کے محکم ہونے پر ایک اور دلیل بھی ہے۔ صاحب تفسیر القاسمی محمدجمال الدین صاحب تحریر فرماتے ہیں۔ حضرت عبدالرزاق سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ نے اپنے باپ عبدالرحمن بن ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ورثہ تقسیم کیا ۔ اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حیات تھیں یعنی زندہ تھیں انہوں نے گھر کے ہر مسکین اور رشتہ دار کو ورثہ میں حصہ دیا اور یہ آیت تلاو ت کی واذا حضر القسمۃ اولواالقربی تو مراد یہ ہے کہ ایک طوعی نیکی کی طرف رغبت دلائی جارہی ہے اور پہلا جو ورثہ کا دائمی اور بالا قانون ہے اس کو ہرگز منسوخ کرنے والی آیت نہیں بلکہ یہ روشنی ڈال رہی ہے کہ اگر ورثہ قرآن کریم کی رو سے معین نہ ہوا ہو یا کسی موصی نے وصیت کے ذریعہ کوئی ورثہ کسی کے حق میں معین نہ کیا ہو جتنا اسے اختیا رہے یعنی 1/3تک تو اُس صورت میں ، اس لیے کہ بعض لوگ غیر وارث ہیں مگر ہیں اقربائ۔ یتامیٰ ہیں ورثہ میں ان کا ذکر نہیں اس لیے ان کو محروم نہ کیاکرو۔ جب وہ آتے ہیں تعزیت وغیرہ کیلئے اور ورثے تقسیم ہوتے دیکھتے ہیں تو ان کی ضرورتوں کا خیال کیا کرو اور ان کو بھی کچھ دو۔پس یہ ایک طوعی حکم ہے جوپہلے واجبی حکم کو منسوخ نہیںکرتا بلکہ اس کے ایک پہلو کو اور روشن کررہا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اقرباء والا حکم ثانوی ہے ۔ اوّل اولاد کا حکم ہے اور اقرباء اولاد کی محرومی کے بعد پھر درجہ بدرجہ ورثہ پاتے ہیں۔ اور اقرباء کا ورثہ بھی انسان اسی وقت پاتا ہے جبکہ والدین کا ورثہ اُسے نہ ملا ہو اور اقرباء نے اس کی پرورش کی ہو تو اقرباء کو حق ہے کہ پھر اس کے حق میں کچھ نہ کچھ چھوڑیں اور اس پہلو سے وہ اقرباء کے وارث بھی بنتے ہیں ۔مگر اقرباء کا وارث بننا کوئی دائمی قانون نہیں مشروط قانون ہے۔ دو طرح سے وارث بنتے ہیں اوّل یہ کہ اقرباء ہی رہ گئے ہوں کسی کے سرپرست۔ یعنی کسی کے سرپرست والدین نہ ہوں وہ مرچکے ہیں اور اقرباء نے پرورش کی ہے تو ایسی صورت میں اقرباء سے توقع خدا تعالیٰ رکھتا ہے کہ ان بیچاروں کا بھی حصہ رکھنا جو تمہارے گھروں میں پرورش پارہے ہیں۔ وہ 1/3تک کی جو اجازت ہے اس میں سے وہ دیں گے لیکن ان کوپھر ۔لیکن معین حصہ تب ملے گا اگر آئندہ آیت میراث اقرباء کا معین حصہ ان کے سپرد کرتی ہو۔ پس یہ جو پہلو ہے یہ ہے بہت توجہ طلب کیونکہ میراث کی بات ہورہی ہے، اس میں بڑے جھگڑے چلتے ہیں۔ اس آیت کے غلط استنباط کے نتیجے میں کہیں اور رائے قائم کرکے لوگ میراث کے مضمون میںناجائز حرکتیں نہ شروع کردیں اس لیے میں بات کو کھول رہا ہوں۔ ایک وہ اقرباء ہیں جن کے متعلق قرآن کریم نے واضح طور پر کوئی حصے وغیرہ کی بات نہیں کی ہے۔ وہ اقرباء جو ہیں وہ اگر حصہ دیں تو یہ ان کی نیکی ہے اور ان کو اس کی ترغیب و تحریض کی گئی ہے۔کچھ اقرباء وہ ہیں جن کے حصہ کے متعلق آیت میراث ذکر کرے گی اور وہ ذکر اسی طرح کرتی ہے جو میں پہلے خلاصہ بیان کرچکا ہوں کہ اگر وہ وارث جو براہِ راست وارث ہونا چاہیے جو اولیٰ ہے جس کو ذوالفرائض میںداخل کہتے ہیں یہ لوگ۔ وہ نہ ہو تو پھر اقرباء میں سے فلاں فلاں کا یہ حصہ ہوگا، وہاںاقرباء کا حصہ طوعی نہیں رہتا پھر وہاں فرضی ہوجاتا ہے۔ پس یہ جو فرمایا گیا ہے کہ نصیبا مفروضاً وہ کسی قسم کے تضاد کا حامل نہیں ہے بلکہ بعض صورتوں میں اقرباء کا ورثہ نصیبًا مفروضًا ہی ہے۔ ان صورتوں میں جہاں قرآن کریم نے آیت میراث میں اقرباء کا ذکر کرکے فرمایا ہے کہ فلاں نہ ہو تو یہ ہوگا، فلاں نہ ہو تو یہ ہوگا۔ اب کلالہ کی آیات ہیں اسی سورۃ میں۔ دو قسم کے کلالوں کا ذکرملتا ہے۔جب ان کی بات آئے گی تو وہ آپ کے سامنے پوری کھل جائے گی۔ کلالہ کیلئے جو خدا نے اقرباء کو حصے دلوائے ہیں وہاں وہ نصیباً مفروضًاہے۔ وہاں وہ طوعی کی تعلیم نہیں ہے۔ پس طوعی تعلیم اُس صورت میں ہے جبکہ اقرباء کیلئے کوئی نصیبًا مفروضًانہ ہو اور نصیبًا مفروضًا کا فیصلہ خدا نے کرنا ہے اس نصیبًا مفروضًاکے سوا باقی تمام صورتوں میں اقرباء اور یتامیٰ اور مسکینوں کو جو دینا ہے وہ نصیحت کے طور پر ہے اوربہت بھاری نصیحت کے طور پر ہے ۔ایسی نصیحت کے طور پر ہے جس کے عمل نہ کرنے میں بے برکتیاں ہیں۔ جس پر عمل نہ کرنے میں بعض خدشات بھی ہیں جو خداتعالیٰ کی ناراضگی کی صورت میں اُن لوگوں کوبطور سزا درپیش آسکتے ہیں ۔ یہ ہے مضمون جو ان دو آیتوں کے تعلق کا مضمون ہے۔ امید ہے سمجھ آگئی ہوگی سب کو۔ کیونکہ وراثت کے جو مسائل ہیں یہ کافی پیچیدہ ہوتے ہیں اور علماء بھی آپس میں خوب الجھے ہوئے ہیں ابھی تک۔ (ابن محی الدین) ابن عربی نے تو اس کو صوفیانہ رنگ میں لیا ہے صرف، ظاہری بحث ہی نہیںکی۔ امام رازی یتامیٰ کومساکین پر مقدم کرنے کی وجہ ان کی بیچارگی اور ضرورتوں کا زیادہ ہونا بتاتے ہیں۔ ان کو صدقات اور خیرات دینا افضل اور اجر کے لحاظ سے زیادہ بڑا ہے۔ یہاں جو الفاظ کی ترتیب ہے اُس پر گفتگو کرتے ہوئے امام رازی فرماتے ہیں کہ یتامیٰ کو اس لیے مقدم کیا گیا ہے کہ ان کی بیچارگی ظاہر ہو اور ورنہ مساکین بھی تو بیچارے ہی ہیں بیچارے ۔ مسکین ہوتاہی وہ ہے جو بیچارہ ہو۔ پنچابی میں ا س کو کیاکہتے ہیں شُہدہ؟ ہاں شُہدہ نمانا، نمانا بھی کہتے ہیں(ہاں شُہدے کو)۔ نمانا میرا خیال ہے زیادہ نسبتاً زیادہ عزت والا ہے۔ کیونکہ شودے میں منفی پہلو بھی ہے۔ کوئی گھٹیامانگنے کا عادی یا حریص اُس کو بھی شودہ کہتے ہیں۔ (ہاں ہاں! لیکن یہاں اس تعلق میں نہیں کہتے)۔ ٹھیک ہے۔ بیچارہ تو میں پہلے ہی کہہ رہا ہوں بار بار۔ کتنی بیچارہ کہوں تو آپ مانیں گے۔ اچھا یہ ہے مساکین کی بحث۔ اب میں حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے اقتباس کی طرف آتا ہوں جو اس مضمون پر جیسا کہ میں نے کہا تھا حرف آخر ہے۔’’ مردوں کیلئے اس جائیداد میں سے ایک حصہ ہے جو ماں باپ اورقرابتی چھوڑ گئے ہوں اور ایسا ہی عورتوں کیلئے اس جائیداد میں سے ایک حصہ ہے جو ماں باپ اور قرابتی چھوڑ گئے ہوں۔ اس میں سے کسی کا حصہ تھوڑ اہو یا بہت ۔ بہر حال ہر ایک کیلئے ایک حصہ مقررکیا گیا ہے‘‘۔ یہ جومقررکیا گیا ہے نا جب تک وہ مقرر ثابت نہ ہو وہ حصہ مفروضاً نہیں ہے اور یہی بات میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں کہ ایک پہلو ہے ترغیب کا۔ قرابتداری کے تعلق میں وہ بھی اختیار کیا گیا ہے۔ ایک ہے مقرر کیا گیا وہ مفروضاً ہے اس کو ہم تبدیل نہیں کرسکتے ۔ جب ترکہ کی تقسیم کے وقت ایسے قرابتی لوگ حاضر آویں جن کو حصہ نہیں پہنچتا تو صاف فرمایا ہے کہ جو قرابتی چھوڑ گئے ہیں اس میں مقرر حصہ ہے۔ اس سے مراد حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی یہ نہیں کہ از خود ہر قرابتی زبردستی حصہ دار ہوجائے گا۔ فرمایا ہے جن کا مقررکیا گیاہے وہی ہیں جو وارث ہیں۔ہا ں تقسیم کے وقت ایسے بہت سے قرابتی آسکتے ہیں جن کیلئے خدا نے کوئی حصہ واضح طور پر مقر نہ فرمایا ہو، یعنی ان سے اولیٰ درجہ کے وارث موجود ہوں اس لیے وہ ثانوی حصہ جو ان کیلئے ہے اس سے وہ محروم ہوجاتے ہیں طبعاً۔ کیونکہ اولیٰ کو جب مل گیا تو جو ثانوی ہے وہ از خود اس دائرہ سے نکل جاتا ہے۔’’ایسا ہی اگر یتیم اور مسکین بھی تقسیم کے موقع پر آجاویں تو کچھ کچھ اس مال میں سے ان کو دے دو اور ان سے معقول طور پر پیش آئو یعنی نرمی اور خلق کے ساتھ پیش آئو اور سخت جواب نہ دو اور وارثان حقدار کو ڈرنا چاہیے۔
    یہ جو آیت ہے یہ اگلی آیت ہے جس کے ساتھ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کو جوڑا ہے اس لیے یہ جو حصہ ہے اس کو بعد میں پھر بیان کریں گے۔ اب ایک اور بڑی اہم بحث اس میں جو اٹھتی ہے وہ ہے دادا کا ورثہ یتیم بچہ پائے گا کہ نہیں۔ اب یتیم جس کے متعلق فرمایا گیا ہے اس کو دو۔ وہاں فرض کے طور پر نہیں فرمایا گیا۔ یہ فرمایا گیا ہے جن کا مفروض حصہ ہے مقرر حصہ ہے وہ پائیں گے اور یتامیٰ اور اقرباء اور دوسرے جو ہیں ان کو دینا بہتر ہے۔اس ضمن میں یہ بحث جو آجکل پاکستان میں بھی بڑے زوروں سے اٹھائی جارہی ہے اور جماعت احمدیہ میں بھی کئی مختلف خیال کے لوگ پائے جاتے ہیں یہ ایسے یتیم کے متعلق ہے جو مرنے والے کا پوتا ہو یعنی اس کا اپنا بیٹا اس کی زندگی میں فوت ہوجائے تو پھر آپ اس کو وہ جائیداد یں گے کہ نہیں۔ یعنی حصے میں شامل کریں گے کہ نہیں۔ عام طور پر جذباتی سوال اٹھا کر یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ بیٹے کا بیٹا ہے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ باقی بیٹے تو پائیں اور وہ بیٹے محروم رہ جائیں، اس لیے لازماً ہونا چاہیے۔ قرآن کریم کے بیان میں اگر نہیں آیا تو وہ سمجھتے ہیں قرآن کریم سے گویا کچھ سہو ہوگئی ہے۔ اور ہمیں انڈر لائن (under line)یہ پڑھنا چاہیے۔ مگر انڈر لائن پڑھنے کی گنجائش کہیں نہیں ہے کیونکہ یتامی کا ذکر بھی چلتا ہے اقرباء کا بھی ذکر چلتا ہے۔ کہیں یہ ذکر نہیں آیا کہ پوتا بھی دادا کا وارث ہوگا۔ اس کی ایک حکمت ایسی ہے جس کو نظر انداز کیا جاہی نہیں سکتا۔ قرآن کریم ہر شخص کو اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا مالک مانتا ہے اور یہی اصول ہے جو بائبل بھی تسلیم کرتی ہے۔ اور اس اصول میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ ہر شخص اپنی جائیداد کا مالک ہے۔ وارث تب مالک بننے کا اہل ہوتا ہے جب مالک اُٹھ جائے اور ملکیت خدا کو لوٹ جائے۔ اس کے بغیر وہ از خود مالک نہیں بن سکتا۔ اب وہ شخص جس کابچہ اس کی زندگی میں فوت ہوجائے وہ بے مالک بنے فوت ہوگیا کیونکہ اس نے مالک بننا تھا اپنے باپ کی وفات کے بعد۔ اگر آپ یہ تسلیم کرلیںکہ وہ ابھی بھی مالک ہے تو باپ کی زندگی میں اولاد کو دخل اندازی کا حق ماننا پڑے گا اور قرآن اور حدیث نے کہیں بھی اشارۃً بھی باپ کی زندگی میںاولاد کو دخل اندازی کا کوئی حق نہیں ہے۔ کہیں نہیں دیا گیا۔ باپ خرچ کرتا ہے، باپ سودے کرتاہے، کہیں امیر غریب بن جاتے ہیں کہیں غریب امیر ہوجاتے ہیں ۔ کہیںبھی قرآن کریم نے یہ نہیں فرمایا کہ اولاد کا حق ہے اٹھ کھڑے ہو۔ کہے کہ ہمارا باپ بیوقوف ہے اس سے چھین لو۔ سوسائٹی کو حق دیا گیا ہے کہ وہ سفہاء سے مال اپنے قبضے میں لیں لیکن بطور مالک نہیں بطورامین، بطو رقیام ۔ تو جہاں تک اولاد کا تعلق ہے اگر یہ حق ہوتا تو قرآن کریم یہ کہتا کہ سفہاء میں سے اگر ان کے بچے ہوں اور وہ سفیہہ نہ ہوں تو وہ چونکہ مالک ہیں ان کا حق ہے کہ وہ چارج لے لیں اور اپنے بڈھے باپ کو ایک طرف کردیں۔ یہ کہیں اجازت نہیں ہے۔ پس اصول یہ ہے کہ ہر شخص اپنی جائیداد کا جو خدا نے اسے دی ہے خود مالک ہے جب تک زندہ ہے اس پر تصرف کا اختیار رکھتا ہے سوائے ان چیزوں کے جہاں خدا نے اس کے تصرف کے اختیار کو واضح طور پر محدود فرمادیا ہے۔ اس کے سوا جو جائز اخراجات خداتعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں نفاقات کی تعلیم دی ہے کہ یہ کرسکتے ہوان میںکوئی شخص اس کو پابند نہیں کرسکتا۔ اس پہلو سے جب باپ مرتا ہے، ایک شخص مرتا ہے جس کی زندگی میں اس کا پہلے بیٹا مرچکا ہے اور وہ وارث نہیں بنا تو اس کی اولاد کو پھر کس اصول سے وارث بنایاجائے گایہ بحث ہے۔ ہاں جذباتی دلیل اس کے حق میں جاتی ہے اور اس دلیل کا توڑ یہ ہے کہ تمہیں اس بیٹے کی اولادسے زیادہ محبت ہے بہ نسبت اس باپ کے جس کا بیٹااس کی آنکھوں کے سامنے مرا اور اپنے یتیم بچوں کو اس نے دیکھا اور ان کیلئے کوئی درد محسوس نہیں کیا۔ وہ اپنی جائیداد پر تصرف رکھتا تھا کیوں اس نے اس کو وہ حصہ نہیں دے دیا۔ یہ بات بتارہی ہے کہ نہ اس نے دیا نہ وصیت کی اگر دے دیتا تو مالک تھا اگر وقتی طور پر اس لیے نہیں دے سکا کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح اس کے اپنے تصرفات پر اثر پڑے گاوہ وصیت کرسکتا تھا۔
    پس اس کا وصیت نہ کرنا کسی دوسرے کو یہ حق نہیں دیتا کہ بچوں کی ہمدردی کے اور محبت بہانے لازماًان کو کچھ دلوائے۔ دوسرا وہ بھائی بھی ہیں جن کا بھائی فوت ہوا ہے کیا سارا خاندان ہی ایسا بہیمانہ مزاج ہے کہ باپ مرنے سے پہلے اپنے بیٹے کو مرتا دیکھتا ہے اور اس کی اولاد کی کوئی بھی پرواہ نہیں کرتا آگے سے چھوٹے میاں بھی ویسے ہی پیدا ہوتے ہیں سارے۔ جیسا باپ ویسے ہی بیٹے۔وہ اپنے بھائی پر کوئی رحم نہیںکرتے اپنے بھائی کی اولاد پر رحم نہیں کرتے۔ اگر یہ نہیں کرتے تو ان پر یہ آیت ہے جو ان پر نگران ہے کہ اولوالقربی اور یتامیٰ اور مساکین اگر حاضر ہوں گے تو تمہارا فرض ہے کہ ان کو بھی ضرور کچھ دو۔ اس میںاولیٰ وہ ہیں جو یتامیٰ ہیں ۔ اسی لیے یتامیٰ کا پہلے ذکر ہے۔ اس لیے نہیں کہ بیچارے نمانے لوگ ہیں وہ تو یتامیٰ کے علاوہ اور بھی بڑے نمانے ہوسکتے ہیں ۔ کئی کھاتے پیتے یتامیٰ ہیں۔ کئی مسکین یتامیٰ بھی ہوتے ہوں گے مگر اصل مسکین جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔ تو یہاں حقوق کے لحاظ سے ان کو اوّل کیا گیا ہے۔ ایسے یتامیٰ ہوسکتے ہیں جو تمہارے خاندان کا حصہ ہوں۔ اقرباء بھی کہلاتے ہوں۔ ذوالقربیٰ بھی ہوں اور یتامیٰ بھی ہوں۔ ان کے حق کو نہ بھولنا اور ان سے اچھی بات کہنا اور جس حد تک تمہیں توفیق ملتی ہے ان کی خدمت ان کے حقوق ادا کرکے کرنا۔ حقوق نہیں لفظ فرمایا کیونکہ حقوق قائم ہی نہیں ہوئے اس لیے بڑی حکمت سے نصیحت کے طور پر ایک معاشرتی خرابی کا ازالہ فرمایا گیا ہے اور اسی مضمون کو اگلی آیت یوں تقویت دے رہی ہے ولیخش الذین لو ترکوا من خلفھم ذریۃ ضعافًا خافوا علیھم فلیتقوا اللہ ولیقولوا قولا سدیدًا ۔ یہ لوگ جن کو نصیحت کی جارہی ہے یہ اس بات سے ڈریں کہ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ ایسے حال میں مرجائیں کہ ان کے یتیم بچے بے سہارا رہ جائیں اور چھوٹی عمر میں مرنے کی وجہ سے ان کا کوئی نگران اور والی وارث نہ رہے۔ وہ ہر قسم کے حقوق سے محروم رہ جائیں۔ کیا وہ اپنی اولاد پر خوف نہیں کھائیں گے۔ کیا یہ پسند کرتے ہیں کہ وہ مرجائیں اور ان کے بچے اس طرح رہ جائیں۔ اگر یہ پسند نہیں کرتے تو پھر ان یتیموں کے حقوق ادا کریں جن کو ایک اصول کے تابع ظاہراً محروم رکھا گیا ہے۔ لیکن خداتعالیٰ ان کی طرف توجہ تمہیں دلارہا ہے ۔ عملاً وہ محروم نہیں رہنے چاہئیں۔ یہ ہے اس آیت کا منطوق ۔ ورنہ پھر اگر تم نہیں کرو گے تو یتقواللہکا مطلب خدا سے ڈرو۔ ہوسکتا ہے تمہارے ساتھ بھی پھر یہی سلوک ہو۔ تو نسلاً بعد نسلٍ بعض قوانین اپنے طور پر جاری قانون خدا کے بعض لوگوں کو سزائیں دیتے جاتے ہیں، ان کی نسلوں کو سزا مل جاتی ہے وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ یہی وہ مضمون ہے دراصل جو دادا پوتے کے تعلق میں یہاں بیان ہونا ضروری تھا۔ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اس مضمون پر واضح روشنی ڈالی ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ بیٹوں کی موجودگی میں پوتا محروم الارث کیوں ہے ۔یعنی صحابہ اس زمانے میں یہ تو سمجھتے تھے کہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہی مسلک ہے۔ یہ نہیں پوچھا ہے کہ نہیںہے؟ یہ پوچھا کہ کیوں ہے عجیب سی بات لگتی ہے فرمایا کہ ’’دادے کا اختیار ہے کہ وصیت کے وقت اپنے پوتے کو کچھ دے دے بلکہ جو چاہے دے دے اور کیونکہ مالک ‘‘یہ جو چاہے دے دے سے پتا چلتا ہے کہ وہ مالک ہے اور باپ کے بعد بیٹے وارث قرار دیے گئے کہ تا ترتیب بھی قائم رہے اور اگر اس طرح نہ کہا جاتا تو پھر ترتیب ہرگز قائم نہ رہتی ۔ کیونکہ پھر لازم آتا ہے کہ پوتے کا بیٹا بھی وارث ہو اورپھر آگے اس کی اولاد ہو تو وہ بھی وارث ہو۔ اب یہ سلسلہ کہاں تک چلے گاپھر۔ یہ جو مضمون ہے ا س پر حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک اشارہ فرماکر اس کی قباحتوں کی طرف بھی اشارہ فرمادیا کہ (اس کے) یہ کرنے کے نتیجے میں کیا قباحتیں لازم آئی ہیں۔ اس صورت میں دادا کا کیا گناہ ہے۔’’ یہ خدا کا قانون ہے اور اس سے حرج نہیں ہوا کرتا ورنہ اس طرح تو ہم سب آدم کی اولاد ہیں اور جس قدر سلاطین ہیں وہ بھی آدم کی اولاد ہیں۔ تو ہم کو چاہیے کہ سب کی سلطنتوں سے حصہ بٹانے کی درخواست کردیں‘‘۔ وہ مضمون جو آگے چلایا تھا وہ چلا کر ذہن نشین کراکے پیچھے کی طرف رخ کردیا ہے ۔ بہت ہی عجیب کلام ہے۔ حیرت انگیز فصاحت و بلاغت کا مظہر ۔ فرمایا کہ اچھا اب اس کو روکو گے کہاں پھر۔ نہیں نارکے گا۔ جب آگے دیکھتے ہیں تو یہ کہنے والے کہ پوتوں کوملنا چاہیے، رکنے کی جگہ پاتے ہی نہیںوہ بیچارے ریڑھوں پر بیٹھ کر اوپر سے نیچے اتر جائیں اس طرح کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ رک سکتے ہی نہیں۔ جب کہہ دیا کہ اب نہیں رک سکتے اب اپنے دادا آدم ؑ سے بات کرو ۔ جب آگے نہیں رک سکتے پیچھے کہاں رکو گے تو پھر سلاطین کے سب تم وارث ہو۔ ورثے کا نظام ہی سارا درہم برہم ہوجاتا ہے۔ (چونکہ بیٹے کی نسبت ) ۔ آگے فرمایا (ہاں۔ کہاں سے میں نے شروع کیا تھا؟) ’’تو ہم کو چاہیے کہ سب کی سلطنتوں سے حصہ بٹانے کی درخواست کریں چونکہ بیٹے کی نسبت سے آگے پوتے میں جاکر کمزوری ہوجاتی ہے اور آخر ایک حد پر آکر تو برائے نام رہ جاتاہے ۔ خداتعالیٰ کو علم تھا کہ اس طرح کمزوری نسل میں اور ناطے میں ہوجاتی ہے‘‘۔ یعنی بعینہٖ برابرکی بات نہیں رہتی’’ اور اس لیے یہ قانون رکھا۔ ہاں ایسے سلوک اور رحم کی خاطر خداتعالیٰ نے ایک اور قانون رکھا ہے ۔ جیسے قرآن شریف میں ہے اذا حضر القسمۃ اولواالقربی‘‘۔ بعینہٖ وہی بات ہے جو میں آپ کو سمجھارہاہوں۔
    حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں یہ قانون ا س کے ساتھ تعلق رکھتا ہے’’ اذا حضر القسمۃ اولوا القربی و الیتمی والمسکین فارزقوھم منہ و قولوا لھم قولا معروفا ۔ یعنی جب ایسی تقسیم کے وقت بعض خونیںاقارب موجود ہوں اور یتیم اور مساکین تو ان کو کچھ دیا کرو تو وہ پوتا جس کا باپ مرگیا ہے وہ یتیم ہونے کے لحاظ سے زیادہ مستحق اس رحم کاہے۔ اور یتیم میں اور لوگ بھی شامل ہیں جن کا کوئی حصہ مقرر نہیں کیا گیا۔ خداتعالیٰ نے کسی کا حق ضائع نہیں کیا مگر جیسے جیسے رشتے میں کمزوری بڑھتی جاتی ہے حق کم ہوتا جاتا ہے‘‘۔ ٹھیک ہے۔ باقی پھر ، وقت ہوگیا ہے۔ مولوی غلام رسول صاحب راجیکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی ایک مضمون ہے بڑا دلچسپ، وہ کل پھر اس کی بات شروع ہوگی۔(یہ لیں جی۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ)۔
    إإإ
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    درس القرآن ماہ رمضان
    مورخہ16؍رمضان بمطابق6؍ فروری 1996ء
    واذا حضر القسمۃ اولوا القربی والیتمی والمسکین فارزقوھم منہ و قولوا لھم قولاً معروفًاکی تلاوت فرمائی اور پھر فرمایا:-
    اورجب ترکہ کی تقسیم کے وقت قرابت دار اور یتیم اور مسکین پہنچے ہوئے ہوں ان کو بھی کچھ کھلائو اور ان سے اچھی بات کرو۔ اس آیت کے اوپر ہم نے کل گفتگو کی تھی۔ اس سلسلہ میں یتیم پوتے والا مسئلہ ابھی باقی تھا۔ اس کے متعلق مزید وضاحتیں ضروری تھیں۔ چنانچہ میں نے ایک تو یہ کہا تھا کہ حضرت مولوی غلام رسول صاحب راجیکی کا ایک بڑا اچھا مضمون شائع ہوا تھا۔(اس نے بھی) وہ بھی آپ کے سامنے ان کے دلائل بھی رکھوں گاکچھ۔ ایک مضمون ملک سیف الرحمن صاحب مرحوم کا بھی چھپا ہوا ہے الفضل میں ۔ اس پہ مختلف پہلوئوں سے یہ بحث اُٹھائی گئی ہے۔ اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ آخر پر بات وہی بنتی ہے ۔ ملک صاحب کے مسلک کی جو ہمارے فقہ میں درج ہوگئی ہے وہی ہے نا؟ اور وہ وہی بات ہے جو مجھے قبول نہیں۔ اس لیے یہ جو میں بات کہہ رہا ہوں اس کے دلائل دوں گا۔ لیکن فیصلہ نہیں ہے۔ فیصلہ حسب دستور اسی طرح ہوگا کہ ہماری مجلس افتاء ان باتوں پر غورکرکے پھر جب باقاعدہ مجھے سفارش کرے گی پھر فیصلہ تبدیل ہونے یا نہ ہونے یعنی فقہ کا وہ حصہ تبدیل ہونے یا نہ ہونے کا باقاعدہ رسمی فیصلہ ہوگا۔ اس وقت تو درس کے تعلق میں مَیں جو کچھ سمجھا ہوں وہ آپ کے سامنے بیان کروں گا۔ بہرحال مثلاً ایک بات تو ملک صاحب کھل کر اپنے اس مضمون میں لکھتے ہیں کہ یتیم پوتے کی محرومی کا مسئلہ منصوص علیہ نہیں بلکہ اجتہاد پرمبنی ہے۔جس میں خطا اور ثواب دونوں کا احتمال ہے۔ یعنی یتیم پوتے کا وارث ہونے کا مسئلہ کہنے کی بجائے یتیم پوتے کی محرومی کامسئلہ! اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا رحجان کس طرف ہے۔ لیکن جو فیصلہ کیا چونکہ دیانتداری سے ہے اس لیے اپنے کیے ہوئے اثر کو پھر کاٹ دیاہے کیونکہ کہتے ہیں یہ اجتہاد پر مبنی ہے۔ جس میں خطا اور ثواب دونوں کا احتمال ہے۔ تو خطا اور ثواب کا احتمال ہوگیا تو ہونا نہ ہونا برابر ہوگیا۔نہ اس کی سند نہ اس کی سند، پھر دلوانے کی بھی کوئی سند نہ رہی۔ اگر نہ دلوانے کی سند نہیں ہے تو حصہ دلوانے کی بھی پھرکوئی سند باقی نہیں رہتی۔ مگر یہ ضمنی بات ہے۔ میں اب آپ کو تفصیل سے اس مسئلہ پر وہ باتیں سمجھاتا ہوں جواز خود ان مسائل سے فقہ کی موجودہ اس زمانہ کی بحثوں سے جو چیزیں اُٹھنی چاہئیں اور جن پر واضح طو رپر فیصلے ہونے چاہئیں وہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔
    مختلف اسلامی ممالک میں اس سلسلہ میں جو نیا رحجان ہے وہ پوتے کو کچھ دلوانے کا رحجان ہے اور یہ دلیل کہ کیسے دیا جائے، یہ مختلف ہے۔ چنانچہ اکثر اسلامی ممالک میں جہاں یہ فیصلہ ہوا ہے وہاں وہی طرز اختیار کی گئی ہے۔ جو ہماری فقہ احمدیہ میں اختیار کی گئی ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ گویا پوتے کے حق میں وصیت کرنا دادا کا فرض ہے ۔ اور اس فرض کی ادائیگی سے قاصر ہوجائے تو خدا کی سزا کامسئلہ نہیں ہے صرف۔ ہم یہ سمجھیں گے کہ گویا اس نے وصیت کردی اور اگر وصیت نہ کرے تو پھر پوتے پوتیوں کا حق ہے کہ وہ قضاء میں جاکے بھی یہ فیصلہ کروائیں اور قضاء اس صورت میں لازماً یہ فیصلہ کرے گی کہ اس کا فرض تھا۔ اس لیے اس نے وصیت کردی۔ اب یہ بہت پیچدار بات اُٹھائی گئی ہے۔ فرض کیسے تھا؟ اگر فرض ایسا تھا کہ نہ بھی کرتا تو ہونی سمجھی جاتی ۔ تو قرآن کریم نے یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ اُن کاحصہ ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ اس کووصیت فرمائی جارہی ہے۔ کہ تم ان کے نزدیک یہ بالکل غلط خیال ہے میں آگے ثابت کروں گا۔ ان کو نصیحت کی جارہی ہے کہ وہ شخص جس کا بیٹامر جائے اور اس کے بھائی وغیرہ بھی ہوں تو اس کا فرض ہے کہ اس بیٹے کے حق میں وصیت کریں۔ اگر نہیں بھی کرے گا تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ کیونکہ وہ تو ہم نے دلوانا ہی دلوانا ہے۔ اس لیے پھر یہ سمجھ لیں کہ وصیت کردی۔ یہ عجیب و غریب منطق قرآن کریم کے مزاج کے بالکل منافی ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ قرآن کان کو اس طرف سے پکڑنے کی بجائے دوسری طرف سے پکڑے یہ فقہاء نے پکڑا ہے کان قرآن کریم نے نہیں۔اور اس طرز فیصلہ کے نقائص ایسے ہیں کہ سمجھ نہیں آتی کہ ان کو کیوں زیر بحث نہیں لاتے۔ مثلاً نواسے نواسی کی بحث کیوں نہیں اُٹھائی گئی ، پوتا پوتی کی بحث اُٹھائی گئی ہے تو نواسے نواسی کی کیوں نہیں۔ بیٹی بھی تو حقدار تھی۔ یہ آپ نے اپنے رسم و رواج کے مطابق قرآن سے وہ فیصلے چاہے ہیں جو جہالت کے زمانہ کے فیصلے ہیں۔ بڑی شان کے ساتھ ہم قرآن کریم کوسب دنیا میں پیش کرتے ہیں کہ وہ لڑکی محروم جس کو ورثہ میں بانٹا جاتا تھا اس کو وارث قرار دے دیا۔ متعصب مستشرقین بھی بول اُٹھے ہیں کہ واہ واہ کیا فیصلہ ہے۔ اور اپنے علماء اس بیٹی کو عملاً مرحوم سمجھتے ہیں۔ کیونکہ پھر صرف دادا پوتے کی کیا بحث ہوتی ۔ دادا پوتا، دادا پوتیاں، دادا نواسہ، دادا نواسیاں او ریہ بحثیں بھی اُٹھنی چاہئیں تھیں، ان سب کو دلوانا چاہیے تھا اور پھر اس بیوہ کا کیا قصور ہے۔ کسی بیٹے کی بیوہ جس کے بچے نہیں ہیں اگر وہ وارث ہوتا تو اُس کی بیوہ کو کچھ نہ ملتا۔ اس کو قرآن کی رو سے 1/4ملتا اگر اسکے بچے نہ ہوتے۔ تواس کا ذکر ہی کوئی نہیں۔ تو کیسی فقہ ہے جو قرآنی مضمون میں دخل دیتی ہے اور سارے نظام کو اُلٹا کے رکھ دیتی ہے۔ اصولی فیصلہ صرف یہ ہونا چاہیے تھا کہ کیا باپ کی زندگی میں بیٹے حقدار ہیں اس کے مال کے برابر کے کہ نہیں۔ اگر حقدار ہیں تو پھر بیٹیاں بھی اُسی طرح حقدار ہیں جس طرح بیٹے حقدار ہیں۔ پھر وہ بیٹے بھی حقدار ہیں جو لاولد مرجاتے ہیں اور شادیاں ہوئی ہوئیں ہیں۔ وہ بیٹے بھی حقدار ہیں جولاولد مرجاتے ہیں کیونکہ شادیاں ہی نہیں ہوئیں۔ تو پھر ان کا حصہ اس طرح تقسیم ہونا چاہیے جس طرح شریعت نے ایسے لوگوں کا حصہ واضح طور پر مقر ر فرمادیا ہے۔ ایک آدمی کا بیٹا وارث ہوتا ہے یعنی مرنے کے بعد تو تسلیم شدہ بات ہے۔ ان کے نزدیک وہ مرے یا نہ مرے وہ شریعت اسلامیہ کے مطابق اپنے باپ کی جائیداد کا گویا ایسا ہی وارث ہے جیسے اس کی زندگی میں مرچکا ہو۔ تاخیرسے عمل ہورہا ہے، انتظار ہے کہ وہ مرے تو پھر اس پر عمل ہو ۔ یہ held in suspense ہے معاملہ سارا لٹکا ہوا ہے کہ والد مرے گا تو فیصلہ ہوگا۔ یہ اصول ہے جو انہوں نے تسلیم کیا ہے۔ اب جو بیٹا لاولد مرگیا ہے یا شادی سے پہلے مرگیا ہے اس کو اس شق سے کس طرح نکالیں گے۔کوئی حق نہیں ہے نکالنے کا۔ اس لیے یہ پھر سمجھنا چاہیے کہ ایک بیٹا مرگیا چھوٹے ہوتے دوسرا بیٹا مرگیا۔ ان دونوں کے حصے ان کو پہلے دیئے جائیں ۔ پھر اگرماں زندہ ہو تو چونکہ وہ لاولدمرتے ہیں تو ان کی ماں کا حصہ نکالا جائے اور پھر باقی حصہ ورثاء میں اسی طرح حصہ تقسیم کیاجائے جس طرح کلالہ کا حصہ تقسیم ہوتا ہے اور کلالہ کا حصہ تقسیم ہونے میں ایک حصہ اس کا ایسا بھی ہوگا جو ان میں سے کسی کو بھی نہیں ملے گا۔ بہن بھائیوں میں سے کسی کو نہیں ملے گا۔ وہ ٹکڑا الگ رہ جائے گا۔
    پھربیوہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے وہ بیچاری کیوں محروم رہے۔ میاں بیوی دو ہی ہیں ابھی تو حادثہ میںبیٹا فوت ہوجاتا ہے کسی کا تو اس کی بیوہ کو باہر نکال دیں گے یا جب وہ مرے گا تو پھرآئے گی واپس حصہ لینے کیلئے ۔ اگر آئے گی تو کیا جواب دو گے اس کو۔ کیا اصول ہیں؟ وہ لاوارث مرا تھا تو پھر جو بیٹے چھوڑکے مرا وہ کیسے لاوارث نہیں مرا؟ تو سارا نظام وصیت قرآن کریم کا ان فیصلوں نے اُکھاڑ کے تتر بتر کردیا ہے۔ جو قرآن کریم کی تعلیم میں دخل دینے کا لازمی نتیجہ ہونا چاہیے۔ اپنے جو جاہلانہ تصورات یا رواجات ہیں ان کی پیروی کی گئی ہے اور قرآن کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ بنیادی اصول یہی ہے کہ ہر شخص اپنی زندگی میں مالک ہے۔ جو ورثہ پائے بغیر مرجائے وہ ورثہ پائے بغیر مرگیا۔ اور حادثات کے نتیجہ میں ایک ہی خاندان میں اونچ نیچ ہوجایا کرتی ہے اس کو روکنے کا کوئی بھی اختیار نہیں کسی کو۔ کوئی بچہ امیر ہوجاتا ہے، کوئی غریب ہوجاتا ہے۔یہ کہاں سے نکالا ہے کہ ساروں کو برابر ضرور ایک ہی حال میں رکھا جائے۔ سب کے بچوں کو ایک ہی حال میں رکھا جائے ۔ تومالی اونچ نیچ اور حالات کا اختلاف یہ زبردستی یکساں کیا جاہی نہیں سکتا۔ اسلامی مالی نظام اور اس کی تقسیم میںکوئی کارل مارکس کا اصول کارفرما نہیں ہے۔ خدا نے جو اقتصادی قوانین بنائے ہیں ان کی روشنی میں اگر وہ قانون نافذ ہوتے تو کسی کارل مارکس کی ضرورت ہی کوئی باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ جس طرح جائیدادوںکو تقسیم کردیا گیاہے۔ بعض ہاتھوں میں اکٹھی رہ ہی نہیںسکتیں اب۔ اورکوئی لاکھ ناپسند کرے اگر شریکوں میں بیٹی بیاہی گئی ہے تو وہ لے کے جائے گی مال ۔مجال ہے جو اس کو روک سکے اگر قرآن پرعمل کرنا ہے ۔تو کہاں وہ صاحب جائیداد زمیندارایسے پیدا ہوںگے جو رفتہ رفتہ جائیدایں بڑھاتے چلے جائیں اور اس پر قابض ہوتے چلے جائیں اور ایک حصہ لاوارث رہتا چلا جائے۔ یہ قرآنی تعلیم کی رو سے ممکن ہی نہیں ہے۔ اسی لیے سب سے کم اشتراکیت کے امکانات ان اسلامی ممالک میں جہاں اگرچہ شریعت پر پوری طرح عمل نہیں ہورہا مگر اس حد تک ہورہا ہے کہ وہاں زیادہ اونچ نیچ نہیں ملتی۔ اگرتیل کی دولت اچانک ظاہرنہ ہوتی اور اس پر بعض لوگوں نے غاصبانہ قبضہ نہ کیا ہوتا تو اسلامی ممالک میں کم سے کم اونچ نیچ ہے۔ اس کے مقابل پر ہر دوسرے ملک میں اونچ نیچ جو ہے وہ غیر معمولی طور پر ہے۔کہیں دولتوں کے پہاڑ بن گئے ہیں اور کہیں سطحیں گرتے گرتے بنیادی سطح سے جس پر انسان زندہ رہ سکتا ہے اس سے بھی نیچے گر گئی ہیں۔
    تویہ باتیں اسلامی نظام کی روح سے تعلق رکھنے والی یں۔ جس نے پیدا کیا ، جس نے نظام جاری فرمایا وہی حقدار ہے یہ فیصلے کرے۔ اور رحم کے نام پر تمہیں اس کے معاملات میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں ۔ اور اگر دو گے تو پھر سارے نظام کو بگاڑ دو گے۔ (وہ) تمہیں کہا ں سے حق مل جائے گا۔ للذکر مثل حظ الانثیین ۔ اب یہ قانون ہے جو اگلی آیت کا عنوان بنا ہوا ہے۔ اور اس کو یہ لوگ کس طرح توڑتے ہیں۔ اب آپ دیکھیں کہ یہ کہتے ہیں کہ اگر بیٹا باپ کی زندگی میں مرجائے تو وارث تو وہ ہوگا ہی! کیونکہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس کی اولاد یعنی پوتا پوتیاں وغیرہ وارث ہوں گے۔ بیٹیاں کیوں نہیں ہوں گی۔ یہ بحث میں پہلے کرچکا ہوں اس لیے اس کو ایک طرف چھوڑ دیتا ہوں۔ اب میں ایک مثال آپ کے سامنے رکھتاہوں۔ بیٹا چونکہ وارث کے حکم میں تھااس لیے وہ ضرور پائے گاخواہ وہ مربھی چکا ہو۔اس کا حق ورثہ گویا اس کی اولاد میں منتقل ہوجائے گا۔ یہاں تک تو ابھی کوئی تضاد نہیں ہے مگر جب ان قوانین کو زیادہ وضاحت سے آگے پڑھیں تو یہ لکھتے ہیں کہ 1/3 سے زیادہ اُس کو نہیں ملے گا۔ یعنی وہ بیٹا جو جوانی میں باپ کی زندگی میںفوت ہوجائے اور پیچھے اولاد چھوڑجائے اور اس کے اور بھی بیٹے اور بیٹیاں ہوں،تو مرنے والے بیٹے کو 1/3سے زیادہ نہیں ملے گا۔ یہ 1/3کا اصول کہاں سے آیا ہے یہ ایک الگ بحث ہے۔ وہ بعد میں اٹھائی جائے گی ۔ لیکن یہ تسلیم ہے ان لوگو ں کو۔ اس کامطلب تو پھر بنتاہے کہ اگر ایک بیٹی ہواورایک بیٹا ہو ، ایک بیٹا مرنے والے کی زندگی میں پہلے مرچکا ہو جس کاورثہ تقسیم ہونا ہے اس کی زندگی میں ہی، اس کی موت سے پہلے مرچکا ہوتو پیچھے کیا رہ گیا ایک بیٹی۔ٹھیک ہے۔ ایک بیٹی رہ جائے تو اس کا نصف حصہ مقرر فرمایا گیا وہ نصف کی مالک ہوگئی اور جو بیٹا مر چکا ہے اس کی اولاد کو 1/3سے زیادہ نہیں دیا جائے گا۔ تو بیٹی زیادہ لے گئی اور بیٹاکم لے گا۔ اس قانون کے مطابق کیونکہ وہ خداکا قانون نہیں ہے، ان لوگوں کا قانون ہے۔1/3کے چکر میں پڑ کر جب یہ نئے قانون کے ساتھ اس کی مطابقت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو عجیب و غریب نتیجے پیدا ہوتے ہیں۔ اور عجیب و غریب بات ہے کہ اگر وہ وارث تھا تو پھر اپنی بہن سے اس کو دوگنا ملنا چاہیے تھا۔ اپنی بہن کے برابر بھی نہیں ملا، اس سے بھی کم ملا اور یہ ابھی قرآن کے مطابق ورثوں کی تقسیم کررہے ہیں۔ اور یہی نقص ہماری فقہ میں پیدا کردیاگیا ہے ۔ اور جو میں بیان کررہا ہوں اور آگے بیان کرو ں گا۔ اس کی روشنی میں دوبارہ افتاء میں یہ مسائل پیش ہونے چاہئیں۔ ہرگز قرآن کریم کی واضح قطعی روح کے منافی اپنے وہم کے نتیجہ میں فیصلے کرنے کا مجاز نہیں ہے۔ اس ساری فقہ میں کہیں بھی نواسہ اور نواسی کی بحث ہی نہیں اُٹھائی گئی۔پوتا پوتی پر لگے ہوئے ہیں سارے۔ پوتا پوتی کہاں سے آگئے بیچ میں۔ اگر قرآن کا اصول ہے تو پھر قرآن کے پیچھے چلو۔ لڑکی کا حق قائم کرو پھر سارے تمام دوسرے حقوق جواس تعلق میں قائم ہوتے ہیں، وہ سارے قائم کرو۔ تب چاہے غلط فیصلہ بھی ہو کم ازکم یہ توکہہ سکتے ہیں کہ تم نے دیانتداری سے غلطی کی ہے۔ لیکن اگراس کو چھوڑ کر غلط فیصلے کرو گے جو قرآن کے منافی ہوں گے تو یا بیوقوفی سے غلطی کی ہے یا بددیانتی سے غلطی کی ہے تیسرا کوئی حکم نہیں لگ سکتا۔ اس لیے یہ جو صورت حال ہے اس کو اسی طرح رہنے نہیں دیا جاسکتا۔ جب تک اصولوں کے مطابق جو قرآن کے اصول ہیں ازسر نو ان معاملات کو سلجھایا نہ جائے۔
    دوسرا پاکستان کا قانون وہ سب مسلمان ممالک سے الگ ہے اور انہوں نے اپنی طرف سے اس بات کو پیش نظر رکھ لیا ہے۔ ایک پہلو ہے وہ بہتر ہے۔ جبکہ بعض فقہ کے ماہر بننے والے احمدی وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا قانون سب سے زیادہ اسلام سے دور ہے اور باقی اسلامی ممالک کا قانون اسلام کے تابع ہے۔ عجیب و غریب دلیل دیتے ہیں ۔ پہلے میں اسلامی قانون کا خلاصہ بتادیتا ہوں۔ جو پاکستانی قانون ہے ، پاکستان میں صرف پوتا پوتی کو نہیں بلکہ نواسے نواسیوں کو بھی ورثہ میں شامل کیا گیا ہے(حوالہ) ۔ اس کی تفصیل بعد میں بیان کریں گے۔ بہرحال اتنا ضرور ہے ۔لیکن پاکستان کا قانون پھر بھی ناقص رہتا ہے۔ پاکستان کا قانونobligatory requestکے نام سے جاری ہوا ہے جو دادا، نانا ایسی وصیت نہ کرسکے تو عدالت اس کی اس طرح کارروائی کرسکتی ہے۔ گویا اس نے کی تھی یعنی یہاں بھی 1/3تو خود ہی آجائے گا۔ میرے ذہن پرجو اثر ہے اس کی وجہ یہی ہے۔ اس کی بنیاد انہوں نے وہی بنائی ہے جو ہمارے دوسرے فقہاء نے بنیاد بنائی ہے کہ گویا اس نے وصیت کردی اور اسی قسم کی درخواست کو ہر دوسری رضاکارانہ درخواست پر ترجیح دی جائیگی جو کہ متوفی نے اصلاًاپنی وصیت میں کی تھی۔ جو قانون ہے اسے Inheritance by rightکا نام دیا گیا ہے۔ Obligatory requestکے تابع اس قانون کو جاری کیا گیا ہے۔ یعنی وہ وصیت جو لازم تھی اُس کی روشنی میں جو قانون بنایا گیا ہے اس کا نام ہے Inheritance by right ،قانون کے الفاظ یہ ہیں۔ یہاں جو پہلو ہے وہ اسلام کے قریب تر ہے بجائے اس کے کہا جائے کہ اسلام سے دورتر ہے۔ بیٹے یا بیٹی کی وفات کی صورت میں جبکہ وہ ترکہ کی تقسیم سے پہلے فوت ہوتا ہے تو متوفی کے بچے اگر اس وقت زندہ ہیںتو وہ اسی حصے کے وارث ہوں گے جن کا وارث ان کی ماں یا باپ بنتے اگر وہ زندہ ہوتے۔ اس میں پھر 1/3کی وضاحت نہیں ہے ۔ مگر obligatory requestکے تابع ہے۔
    تو یہ تمام ایسے فقہاء جو اس کو تسلیم کرتے ہیں ان کے نزدیک مطلب یہ ہے کہ 1/3سے زیادہ ایسی صورت میں باپ وصیت نہیں کرسکتاکیونکہ وصیت کی جس آیت کی طرف وہ اس مضمون کو پھیرتے اور اس سے روشنی لے رہے ہیں بظاہراس کے تابع تمام فقہاء کو تسلیم ہے کہ یہاں غیر وارث کی وصیت کی بات ہورہی ہے۔ اس لیے اب یہ مضمون سمجھنا بڑاضروری ہے۔ وہ آیت جس میں یہ فرمایا گیا ہے کہ وصیت کرے یعنی جب تم میں سے کسی کو موت آجائے تو وہ وصیت کرے۔ یہ ہے وہ obligatoryوصیت۔ اور وصیت کیا کرو اس کی تفاصیل نہیں ہیں۔ اس پر یہ بحث اُٹھ کھڑی ہوئی کہ کیا قرآن کریم کی اس آیت میں اس وصیت کی آیت کومنسوخ کردیا ہے۔ جس میں تفصیل تھی کہ بیٹے اس طرح حصہ پائیں گے بیٹیاںاس طرح حصہ پائیں گی۔ ماں اس طرح، باپ اس طرح وغیرہ وغیرہ۔ یا اُس آیت نے اس آیت کو منسوخ کردیا ہے کیونکہ اگر اس نے منسوخ نہیں کیا تو پھر یہ کیسے اُس آیت کے خلاف وصیت کرسکتا ہے۔ اگر اس نے اس کومنسوخ کردیا ہے تو پھر وصیت کر ہی نہیں سکتا۔ یہ آیت منسوخ شدہ فہرست میں نسیاً منسیاً ہوجائے گی۔ اس تضاد کو دور کرنے کیلئے جو تضاد ہے نہیں دراصل فقہاء نے یہ بات سمجھ لی کہ یہاں غیر وارث کے حق میں وصیت ہے اور وصیت جن لوگوں کے حق میں قرآن نے واضح کردی اور کھول دی کہ بیٹا دو حصے پائے گا بیٹی ایک حصہ پائے گی۔ اس میں دخل اندازی کا حق یہ آیت نہیں دیتی۔ بلکہ ہر شخص کو اپنی جائیداد کا 1/3حصہ تک غیر وارث کو دینے کا حق ہے، یہ وصیت ہے۔ یہ مضمون اپنی ذات میں ابھی مزید تحقیق طلب ہے۔ 1/3کا حق کہاں سے نکالا گیا۔ قرآن کریم نے تو کہیں نہیں لکھا کہ غیر موصی کو تم1/3حصہ تک دے سکتے ہو۔ جہاں تک مجھے یاد ہے جب ان باتوں کو پہلے زمانہ میں پڑھا تھا تو زیادہ تربنا فقہاء کی اُن احادیث پر ہے جن سے پتا چلتا ہے کہ آنحضرت ﷺنے بعض قربانیاں پیش کرنے والوں کو کہاں کہ 1/3 سے زائد میں نہیں لوں گا۔ باقی تمہارے اپنے بچے ہیں ان کے حقوق ہیں ان میں تقسیم کرو۔ اس بناء پر اس سے ایک فقہی اصول بنایا گیا اور اس بات کو بھلادیا گیا کہ خود ایسی ہی حدیثوں بلکہ اس سے مضبوط تر سند کی حدیثوں سے یہ بات ثابت ہے کہ حضرت ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب اپنا سارامال پیش کیاتو سارا قبول کرلیا گیا اور حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب اپنا نصف مال پیش کیا تو نصف قبول کرلیا گیا۔ اور یہ جو سیرت کی تقاریر ہیں اور سیرت کے مضامین ہیں ان میں علماء بڑے جوش و خروش سے پیش کرتے ہیں اور بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کے غیرمعمولی قربانی کو اس طرح پیش کرتے ہیں۔ اب یہ کیوں قبول کیا گیا۔ او ر وہ کیوں قبول نہیں کیا گیا۔ اگر ایک جگہ قبول کیا گیا تو کیا اس کا یہ مطلب نہیں نکلتا کہ آنحضرتﷺ نے ہر قربانی کرنے والے کے اخلاص کے معیار کو پیش نظر رکھا اور اس کے دلی جذبہ کو بھی پیش نظر رکھا۔ اور اس کے اپنے خاندان سے تعلقات کو بھی پیش نظر رکھا اور ایسے فیصلے فرمائے جو آنحضرت ﷺکی فراست سے تعلق رکھتے تھے۔ کوئی فقہی فیصلہ نہیں فرمارہے تھے۔ فراست کے تعلق میں بہت سی باتیں آنحضرت ﷺ کے پیش نظر رہی ہیں۔ جن کو فقہ میں ان فیصلوں میں گھسیٹ کر علماء بہت مشکلات میں پڑ گئے ہیں۔ یہ سوچتے نہیں کہ بنیاد وہی ہے کہ ہر شخص اپنی زندگی میں اپنے مال کا حقدار ہے۔ اور باپ کی زندگی میں اس کا بیٹا اور بیٹی اس پر کوئی حق نہیں رکھتے ۔ سوائے اس حق کے جس کو خدا نے ان کی اچھی تربیت کرو ان کی پرورش کرو ، ان کی ربوبیت کرو، ظاہر فرمادیا ہے۔ اس کے سوا قانونی حق نہیں رکھتے۔ بعض لوگ اندرنی جھگڑوں کی وجہ سے ایسے لوگوں کو محروم کرنے کی خاطر بظاہر نیکی کا لبادہ اوڑھتے ہیں اور یہ ساری جائیداد جماعت کے نام جیسے اب کرتے ہیں ویسے پہلے بھی کیا کرتے تھا۔ اورآنحضرت ﷺکی خدمت میں حاضر ہوکر نیکی کے نام گویا رسول اللہﷺ کو نعوذ باللہ دھوکا دینے کی کوشش کرتے تھے کہ یارسول اللہ! میری ساری جائیداد ہے۔ آنحضورﷺ کی سارے حالات پر نظر تھی۔ آپ جانتے تھے کہ بعض لوگوں میں اتنا اخلاص و خلاص کوئی نہیں ہے۔ یہ بڑائی ہے۔ بدخلق لوگ ہیں اپنے بیوی بچوں کو محروم کرنا چاہتے ہیں اور یہ جائز بات نہیں۔ بعضوں کے متعلق یہ سمجھتے ہوں گے کہ یہ اخلاص سے تو کررہے ہیں لیکن اس کے نتیجہ میں جو بچے رہ جائیں گے اُن کا کوئی والی وارث نہیں ہوگا۔ وہ کسمپرسی کی حالت میں رہیں گے مسکین بن کر لوگوں سے مانگتے پھریں گے۔ تو یہ نیکی دوسری نیکی سے متصادم ہے نہ کہ شرعی مسئلہ ایک دوسرے مسئلہ سے متصادم ہے۔ یہ استنباط کیوں نہیں کرتے علماء ،اگر یہ استنباط کریں تو اس قبیل کی تمام حدیثیں ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت کھائیں گی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پورا وصول کرلیا ان کے خلوص پر کامل یقین اور اس بات پر بھی یقین کہ اُن کی اولاد دربدر دھکے نہیں کھائے گی۔ وہ کچھ الٰہی بشارات کے نتیجہ میں ہوگا۔ یا اپنی فراست کے نتیجہ میں ۔ جب یہ یقین تھا تو لیااور اُن کی اولاد نے کبھی کسی سے بھیک نہیں مانگی۔ حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نصف وصول کیا جتنا انہوں نے دیا۔ اور ان کے اخلاص کو قبول فرمایا۔ باقیوں کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ اگر ان کی نیکی کے طور پر میں یہ وصول کرلوں تو یہ نیکی بعض بچوں کے حق میں بدی بن جائے گی اور اپنے بچوں پر تو بے رحمی جو قرابت دار ہیں جن کا خدا تعالیٰ نے بار بار ذکر فرمایا ہے اور دوسرے اعلیٰ مقاصد کو اس طرح ترجیح دے دینا کہ ایک نیکی دوسری نیکی کا گلہ کاٹ رہی ہو، اُس کو قبول نہیں فرمایا۔ اور یہ جو مضمون ہے یہ ہر فیصلہ کے ساتھ آنحضرتﷺ کے ساتھ منسلک ہوتا چلا جاتا ہے۔ اور اگر آپ بااصول فیصلے کریں تو آنحضرتﷺ کے فیصلوں میں کہیں تضاد دکھائی نہیں دے گا۔ بعض جنگوں کے موقع پر جب رزق کی کمی اس حد تک پہنچی کہ بعض کھاسکتے تھے اور بعض بھوکے مرجاتے وہاں آپ نے سب سے منگوالیا اور کلیۃً ہر ایک سے لے لیا گیا۔ وہاں انفرادی ملکیت کے حق کو اگرچھوڑ ا گیا ہے تو کیوں چھوڑا گیا ہے۔ یہ سوال پھر اٹھتا ہے ۔ اس کی وجہ صاف نظرآرہی ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے بعض بنیادی حقوق انسان کے قائم کیے ہیں جن کے بعد اگر اُن حقوق سے کسی کی دولت ٹکراتی ہے اس حد تک وہ اپنی دولت کا مالک نہیں رہتا ۔و فی اموالھم حقٌ للسائل والمحروم۔ ان کے اموال میں ایسی صورت بھی ہوسکتی ہے کہ غریب اور سائل کا حق شامل ہوگیا ہو۔ اس کا جو چاہے اورترجمہ کرے۔ رسول اللہﷺ کی یہ حدیث اس آیت کا ہر مضمون ہمارے سامنے رکھ رہی ہے کہ اگر اموال لوگوں کی ملکیت ہوں لیکن وہ ان کے کھاتے پیتے میں دوسرے لوگ بھوکے مررہے ہوں تو جو بنیادی حق خداتعالیٰ نے قائم فرمایا ہے آدم کے زمانہ سے شریعت کے آغاز میں کہ تم کھائو گے، پیئو گے، پہنو گے اور ننگے نہیں رہو گے، بے چھت کے نہیں رہو گے ۔ اس قانون سے جب وہ ذاتی ملکیت کا حق ٹکرائے گاتو یہ سمجھا جائے گا کہ ان کا حق ان زائد دولت رکھنے والوں کے حق میں داخل ہوگیا ہے۔ پس ایسے موقع پر جب کہ اجتماعی صورت میں دولت چند ہاتھوں میں بٹ کر بڑھ گئی ہو اور بقیہ دولت باقیوں کی کم ازکم ضرورتیں پوری کرسکتی ہو ۔ کسی کو اسلام حق نہیں دیتا کہ ان سے زبردستی چھینے ۔ کیونکہ یہ اقتصادی نظام کمیونزم پر مبنی نہیں ہے۔ لیکن جب بعضوں کے بنیادی حقوق سے محروم ہونے کا خطرہ ہو تو ا سوقت اس آیت کا یہ معنی ہوگا کہ ان کا حق شامل ہوگیا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کسی کے پاس زیادہ ہے وہ لے آئے۔ تھوڑا ہے وہ لے آئے۔ اور سب کو اکٹھا کیا او رپھر برابر تقسیم کردیا جو روزہ مرہ کی زندگی میں نہیں ہوتا تھا۔ روزمرہ کی زندگی کے عام حالات میں ایک فتویٰ اورایک طرز عمل ایک اورمعنے پیدا کرتا ہے اور خصوصی حالات میں ایک اور معنے پیدا کرتا ہے۔ لیکن ان میں تصادم نہیں ہے کیونکہ بعض بالا اصول کے تابع موقع محل کے مطابق ان اصول کی روشنی میں فیصلے ہورہے ہیں جن میں کوئی تضاد نہیں ہے۔
    یہ صورتحال ہے جو 1/3والے حصہ پر بھی اطلاق پاتی ہے۔ 1/3کو اگر تم اس طرح تسلیم کرو گے اور پھر یہ بھی تسلیم کرو گے کہ جو مررہا ہے اس کے پہلے مرے ہوئے بیٹے کا حق شامل ہے تو پھر تم نے حدیث سے جو استنباط کیا وہ قرآن کے واضح فیصلہ سے متصادم ہوگیا۔ کیونکہ 1/3کو مان بیٹھے ہو کہ اولاد کے حق میں 1/3کا مضمون نہیں آرہا بلکہ غیر وارث کو دیا جارہا ہے۔ دو باتیںتسلیم ہوگئیں ایک تو یہ کہ جو مرنے والا ہے اس سے پہلے جو اس کا مرا ہوا بیٹا تھا جس کی جائیداد تقسیم ہونی ہے( یہ میں بار بار اس لیے کھول رہا ہوں کہ یہ مضمون عموماً لوگ ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے اس لیے یاد دہانی کرانی پڑتی ہے کہ کیا بات کررہے ہیں) ۔ایک شخص زید مرتا ہے، اس کا ایک بیٹا بکر اس سے پہلے مرچکا ہے اگر وہ وارث ہے تو لازماً بیٹیوں کے مقابل پر د وحصے پائے گااور بھائیوں کے ساتھ دو حصوں میں شریک ہوگا، قطعی بات ہے۔ اگر وہ غیر وارث ہے تو پھر ان کے اصول کے مطابق 1/3سے زیادہ اس کو نہیں دیا جاسکتا کیونکہ 1/3تک تقسیم کرنے کا حق غیر وارث کو ہے۔ اپنی اولادکے متعلق یہ کہتے ہیں کہ جائز نہیں ہے یعنی وہ اولاد جس نے وارث ہونا ہے۔ اس کے حق میں فقہاء کے نزدیک 1/3اپنی مرضی سے تقسیم کرنے کاجو حق ہے وہ چسپاں نہیں ہوتا، ان پر صادق نہیں آتا یعنی یہ مسلّمہ ہے تمام علماء کو۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ اگر ایک شخص مررہا ہو تو اس آیت کی رو سے جس میں وصیت کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔و ہ اپنی اس اولاد کے حق میں اس وصیت کے حق کو اس طرح استعمال نہیں کرسکتا کہ بعضوں کو زیادہ دلوادے اور بعضوں کو کم دلوادے۔ کیونکہ یہ پھر تصادم ہے وصیت کی اُس آیت سے جو حصوں کو باقاعدہ تقسیم کرکے معین طور پر بانٹ رہی ہے جس کو نصیباً مفروضاً فرمایا گیا ہے۔ یہ مشکل ہے ۔اس لئے 1/3تک کی وصیت سے زائد بھی نہیں کرسکتااور 1/3وارثوں کے حق میں نہیں کرسکتا تو پھر جو مرچکا تھا اس کو غیر وارث کے طو رپر دیا گیا ہے اصل میں۔ یہ ماننا پڑے گا اس لئے وراثت کے سب بہانے ختم ہوگئے اگر وہ وارث تھا۔ تو 1/3کا قانون اس پر کیسے لگ جائے گا۔ وارث کو تو 1/3کے تابع کچھ دیا جاہی نہیںسکتا اور وارث کو جو مستقل تعلیم ہے اس کے تابع بیٹیوں بہنوں کے مقابل پر دو حصے اور بھائیوں کے ساتھ شریک دو حصے ملیں گے۔ مگر اس طرح انہوں نے آپس میں خلط مبحث کرکے سارا نظام وراثت الٹا پلٹادیا ہے اور کسی ایک اصول کے پیچھے بھی چل کر دیکھیں دوسرے اصولوں سے ٹکراجاتے ہیں۔(اب سمجھ گئے ہیں بات ڈاکٹر صاحب! نیند تو نہیں نہ آرہی۔ 1/3میں آپ کو یہ نہیں کہتا کہ مجھے دہرا کے بتائیں۔ کیونکہ ایک روز پہلے تجربہ ہوچکا ہے ۔ لیکن یہ نیا مضمون ہے اس لیے۔ مگر ہوسکتا ہے کچھ ایسے بھی ہوں جو آپ کی طرح زیادہ تیز نہ ہوں ۔ آپ کے بیٹے کو بھی سمجھ آگئی ہوگی میرے خیال میں۔ وہ بڑا ذہین ہے کیوں جی۔ آگئی ہے نا! دیکھئے۔ ماشاء اللہ ایک خاندان کو تو سمجھ آگئی اب باقی خاندانوں کو بھی آنی چاہیے) یہ جو 1/3کی بحث ہے میں نے واضح کردی ہے۔
    اوّل یہ کہ1/3کا اصول قرآن کریم سے کہیں مترتب نہیں ہوتا، نکالا نہیں جاسکتا، مستخرج نہیں ہے۔ قرآن کریم میں کہیں یہ نہیں لکھا کہ کوئی موصی اپنے وارثوں کے علاوہ غیر وارثوں کو اپنی جائیداد کا 1/3دے سکتا ہے درست۔ 1/3کا اصول احادیث سے منضبط کیا گیا ہے اور ان احادیث کو چھوڑ دیا گیا ہے اور ان کو زیر بحث نہیں لایا گیا جو خود 1/3کے اصول سے متصادم ہیں اور یا کلیۃً بعضوں سے وصول کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔ اور بعض یہ ہے کہ سب سے سب کچھ وصول کرلیا تھوڑا بہت سب بحث ختم ہوگئی۔ ان حدیثوں کے درمیان میں رکھ کر پھر فیصلہ کریں ثابت کریں کہ آپ کا 1/3کا اصول جائز ہے ۔ پھر 1/3کا اصول غیر وارث کے حق میں مانتے ہیں۔ خود ہی جس شاخ پر بیٹھے تھے اس کو کاٹ دیا۔ یہ بیٹا چونکہ وارث ہے اس لیے اس کی اولاد کوملے گا۔ اگر وارث ہے تو 1/3سے زیادہ کیوں نہیں دے سکتے اور اگر نہیں دے سکتے تو پھر قرآنی حکم اس سے پھر ٹکراگئے کہ وللذکر مثل حظ الانثیین ۔ حدیث سے استنباط کرتے کرتے وہاں پہنچے جہاں قرآن کے اوپر تبر رکھ دیا اور اس کی واضح تعلیم سے بالکل متصادم بات کی اور اسے چھوڑ دیا ۔ اور اپنے استنباط کو قبول کرلیا اس کا تمہیں کہاں سے حق مل گیا۔
    یہ ہیں جو جھگڑے اُٹھ کھڑے ہوئے اور پھر وراثت کے اصول کے تابع بیوائوں کو محروم کردیا ان کے حق سے ۔ بیوائیں بھی تو ہیں اس بیٹے کی بیوہ بیچارے کی جو مرگیا ہے۔ پوتے کی بڑی بحث چلی ہوئی ہے ،پوتا بہت پیارا ہے۔ لیکن قرآن پیارا ہوتا ہے۔ تو پھر قرآن نے جہاں جہاں حقوق قائم کیے ہیں ان سب کی بحثیں پورے جوش و خروش سے ہونی چاہئیں تھیں۔ بیوائوں کے حق میں بھی آواز بلند ہونی چاہیے تھی کہ تم غلط قوانین ہیںجو اپنی طرف سے بعض چیزوں کو قبول کررہے ہیں اور بعض چیزوں کو چھوڑ رہے ہیں جس کا قرآن تمہیں حق نہیں دیتا۔ بیوائوں کا بتائوکہاں رکھا ہوا ہے تم نے۔تو ہر ایسے مرنے والے کی بیوہ کو بھی اس کا حصہ اس میں ملنا چاہیے تھا۔ پھر یہ فیصلہ طلب بات ہے کہ کس عمر میں بچہ مرے تو وہ وارث ہے۔کس عمر میں مرے تو غیر وارث ہے۔ بعض لوگوں نے الرّجال کے لفظ سے یہ نکالا ہے۔ رجال اور نساء سے کہ یہاں صرف بالغ مرد اور بالغ عورتیں مراد ہیں۔ اگر یہ ہو تو یہ جو دوسری آیت ہے (تو پھر بعد میں کسی وقت بتائوں گا)اس وقت میں آپ کوبتاتاہوں یہ فیصلہ بھی تو ہونا چاہیے تھا کہ کون سابچہ وارث مرا ہے کون ساغیر وارث مرا ہے۔ اگر بچپن میں کوئی فوت ہوجاتا ہے تو اس کے اوپر کیا حکم ہے۔وہ غیر وارث مرا ہے یا وارث مرا ہے اس کے حق میں وصیت فرض ہے کہ نہیں ۔اس کے حق میں وصیت ا س طرح فرض ہوسکتی تھی کہ ا سکے بھی تو بعض حقوق ہیں۔ باپ پہلے مرجاتا ہے تو وہ جس کا وارث ہونا تھا اس کی ماں اس کا ورثہ پائے گی اور وہ قانون جس آیت میںبیان ہے وہ آگے کھڑی ہوجائے گی کہ یہ دیکھو! یہ حق ہم قائم کرتے ہیں تم کون ہوتے ہو اس حق کو ہٹانے والے۔ اور پھریہ فقہاء نے بڑی دلچسپ بحثیں اُٹھائی ہیں کہ اگر باقاعدہ نکاح ہوجائے، مہر مقرر ہوچکا ہو تو پھر خواہ رخصتانہ نہ بھی ہو تو نصف تک اس کو ملنا چاہیے (ٹھیک ہے)اور اس میں عمر کی بحث کو بعض لوگ اڑادیتے ہیں بالکل کہتے ہیں چاہے بچہ ہو اس کا بھی نکاح جائز ہے۔ میں نے اس کی مثالیں آپ کے سامنے رکھی ہیں۔
    اب یہ دلچسپ بات میں اپنی والدہ کے حوالے سے بتارہاہوں ۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے زمانہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کے ساتھ میری والدہ کا نکاح ہوا اور باقاعدہ ان کی بیوی بنیں اور اس نکاح میں حق مہر وغیرہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لازماً رکھا ہوگا۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ مسیح موعود علیہ السلام اس کو نہ رکھتے اور پھر یہ اگروارث بیٹا تھا جو فوت ہوا تو اس کا جو ورثہ کا بیوہ کو حق ملنا چاہیے تھا وہ کیوں نہیں ملامیری والدہ کو۔ پھر تو بات اوپر تک جائے گی ۔ساری ہماری جائیداد دوبارہ تقسیم ہونی شروع ہوجائے گی۔ تو جہاں بھی اسلام کے قوانین میں اپنی سوچوں اور اپنی جھوٹی ہمدردیوں سے دخل اندازی کریں گے وہاں سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا اور حرف آخر وہی بات ہے جو مسیح موعود علیہ السلام نے تفصیلی بحث چھیڑے بغیر ایک نکتہ میں بیان فرمادی۔ کہ پھر سلاطین پر بھی مقدمے کرو کہ تم ابنائے آدم ہو اور سار ے حصہ رسدی پر دوبارہ تقسیم ہوں گے دنیا میں۔ اس لیے یہ سب جھگڑے جو ہیں یہ بالکل اپنی دلی تمنائوں یا جو فقہ پڑھی ہوئی ہے۔ اس کے اثرات کے نتیجہ میں ہورہے ہیں۔یوں لگتا ہے کہ جیسے فقہاء نے جو بات کہہ دی وہ حرف آخر ،وہ شریعت بنانے والے فقہاء تھے وہ شریعت بنانے والے نہیں تھے۔ شریعت سمجھنے کی ذمہ داری ان پر تھی جہاں ان سے غفلت ہوئی ہے۔ انسان ٹھوکر کھاتا ہے غلطی کا پتلا ہے۔ کئی وجوہات سے ہوجاتی ہیں ۔ ہمارا ہرگز یہ حق نہیں ہے کہ ہم ان غلطیوں میں ان کے پیچھے چلیں، اسلام ہمیں یہ حق ہی نہیں دیتا ۔ قرآن سے متصادم جس چیز کو تم پائو گے اسے ردّ کرنا تمہارا فرض ہے ۔ پس قرآن کے بالا اصول کو پہلے بنائو رہنما۔جو عنوان خداتعالیٰ نے ان آیات میراث میں لگا رکھے ہیں ان آیات کو درجہ بدرجہ پڑھواور اُن بالا اصولوں کی روشنی میں فیصلے کرو تو تصادم پید اہو ہی نہیں سکتا۔ ناممکن ہے اگر کوئی حصہ بخرا تھوڑا سا بغیر وضاحت کے رہ جاتا ہے تو پھر اسے یا تو غربا ء اور اقرباء میں اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ جن کا ذکر قرآن کریم ہی میں ملتا ہے ان کیلئے بھی توکوئی جگہ چاہیے تھی۔ بعض تقسیمات کو جب آپ حساب سے پڑھتے ہیں تفصیل سے توسب کچھ دینے کے بعدپھرکچھ ٹکڑے بچ جاتے ہیں ، وہ ٹکڑے کس کیلئے چھوڑے گئے ہیں۔ وہ اس آیت کی روشنی میں جو غریب فقیر لوگ ہیں یا ان کیلئے چھوڑے گئے ہیں یا ایک موصی نے وصیت کی ہوئی ہے تو اس وصیت کیلئے چھوڑے گئے ہیں جو اس نے اپنے حقوق کے اندر کی تھی۔ یہ جو مضمون ہے اس نے 1/3کی طر ف ان کو مجبور کیا ہے جانے کیلئے اصل میں۔ یہ نہیں سوچا کہ اس وصیت میں یہ حق ہے کہ کسی حد تک وہ اپنے اموال کو غیر موصیوں میں بھی تقسیم کردے اور یہ بھی حق ہے کہ فقرائ، غربائ، مساکین جو تقسیم کے وقت اکٹھے ہوتے ہیں ان کے حق میں کوئی بات کہہ دے۔ اس خیال سے اس وجہ سے وہ وصیت جو ہے وہ قائم رہ گئی اور یہ بھی نہیں سوچا کہ ہر جگہ اسلامی حکومت ہے ہی نہیں۔ اس لیے وہاں 1/3کی بحث ویسے ہی ضروری نہیں ہے۔ کیونکہ اسلام جو پھیل رہا تھا اس زمانہ میں بھی اسلام کی حکومت کی حدود سے بہت دور تک آگے نکل چکا تھا اور وہاں قوانین جو تھے وہ جاہلانہ ، مشرکانہ یا بعض دیگر مذاہب کے قوانین چل رہے تھے جن سے اسلام بہت آگے نکل آیا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیسے کامل کتاب ہوتی ۔ اگر وصیت کی وہی تعلیم دی جاتی جس میں 1/2اور1/3اولاد وغیرہ کی باتیں تو ہوئیں مگر ایسے ممالک کیلئے جہاں دوسرے قانون رائج ہوںان مسائل کیلئے کوئی حل پیش نہ کرتی۔ پس میرے نزدیک 1/3کی بحث سے قطع نظر ، وہ آیت کریمہ اپنی ذات میں نہ صرف بغیر تصادم کے موجود رہنی چاہیے بلکہ لازم تھا کہ یہ تعلیم اتاری جاتی۔ پس ایسے ممالک جیسے انگلستان ہے، جرمنی ہے جیسے افریقہ کے ممالک ہیں۔ چین ہے، جاپان ہے جہاں کے قوانین وصیت، اولاد کے حق میں بالکل اور فیصلے کررہے ہیں۔ وہاں یہ فرض ہوجائے گاکہ مرنے والا مرنے سے پہلے وہ وصیت کرے جس وصیت کی قرآن نے اس کو تعلیم دی ہے۔ پس کُتِبَ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اپنے اُس بچے کے حق میں وصیت کرے جو پہلے مرگیا۔ یہ زبردستی کی تعیین کی گئی ہے اس کا کوئی جواز بھی نہیں یہاں سے نکلتا۔ کُتِبَ کا مطلب ہے کہ لازم ہے اس پر وصیت کرنا جس کو یہ خدشہ ہو کہ انصاف نہیں ہوگامیرے مرنے کے بعد اور قرآنی ہدایات پر عمل نہیں ہوگا ۔ اس کا فرض ہے کہ قرآنی ہدایات کے مطابق وصیت کرے ۔ اُس وصیت میں یہ حصہ شامل ہے کہ اقرباء کا بھی خیال رکھنا۔ حصوں کی تقسیم نہیں ہے۔ اس لیے یہ عُرف پہ چھوڑ اگیا ہے ۔ معروف کے مطابق باتیں ہیں اور وہاں چونکہ قرآن نے حصے مقرر نہیں کیے اس لیے آپ کو بھی حصہ مقرر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ مرنے والا خود سمجھتا ہے کہ میں اسلامی تعلیم کے مطابق وصیت کی تاکید کر بھی جائوں تو کچھ اور اقرباء ہوں گے کچھ اور لوگ ہوں گے جن کے حق میں مجھے کچھ کہنا چاہیے کیونکہ قرآن مجھ سے تقاضا کرتا ہے۔ اس کیلئے حصے کی اور نسبت کی کوئی پابندی ظاہر نہیں فرمائی گئی۔ پھر اگر جھگڑے ہوں کہ اس کی گواہی کا نظام کیسے ہوتا، کون کس کے خلاف گواہی دے گا، کتنے آدمی اکٹھے ہوں گے، اگر کوئی جنگل میں ہو تو کیا کرے گا وغیرہ وغیرہ۔وہ سارے احتمالات کو پیش نظر رکھ کر تمام دنیامیں ہونے والے امکانات کو وصیت کے نظام نے اپنے گھیرے میں لے لیا ہے۔ یہ ہے وہ مضمون جو میں ان آیات کی تلاوت سے سمجھتا ہوں۔ مگر جو علماء ہیں وہ چونکہ بہت زیادہ فقہاء کے پیچھے چل پڑے ہیں اور اصطلاحیں بنا بنا کر اصطلاحوں کے چنگل میں جکڑے گئے ہیں بالکل۔ ان کو میری نصیحت ہے کہ از سرنو غور کریں، قرآنی رہنما اصولوں کو پیش نظر رکھیں۔ جہاں اُن سے تصادم ہو وہاں کسی بات کو قبول نہ کریں اور پھر از سر نو غور کریں کہ ہمیں وصیت کے نظام کوکیسے جاری کرنا چاہیے۔حضرت مولوی غلام رسول صاحب راجیکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت گہرے عالم تھے اور بہت ہی وسیع نظر تھی ۔ یعنی آپ کا تقویٰ اور علم دونوںکا مقام اتنا بلند تھا کہ صحابہ میں ان کو ایک غیر معمولی حیثیت حاصل ہے۔غیر معمولی شان ہے۔ تین چیزیں آپ کی شخصیت کا نمایاںحصہ تھیں ۔ ایک تقویٰ جو بہت بلند پایہ کا اور اس کے نتیجے میں آپ نے صوفیانہ طرز اختیار فرمائی۔ دوسرا علم۔ ظاہری علم ایسا وسیع اور ایسا مضبوط کہ شاذو نادر اس پایہ کے علماء آپ کو ملیں گے جو ظاہری علم کے لحاظ سے بھی اتنا وسیع گہرا علم رکھتے ہوں او رتیسری بات جو ان سب پر غالب تھی وہ خلافت سے اطاعت کا ایسا تعلق کہ خلیفہ ٔ وقت کے منہ سے جو بات نکلتی تھی اپنے علم کو دہرا لیتے تھے اور جانتے تھے غلطی ہوگی کوئی اگر میں اس سے مخالف۔ اور کبھی ایک بھی بات آپ کی ایسی نہ ٹھہری جو خلیفہ وقت کے ساتھ پوری طرح موافق نہ ہوگی اور اگر نہیں ہوئی تو خاموش رہے اور اس پرپھر کبھی زبان نہیں کھولی ۔ دوسرے علماء کا ایسا اختلاف ملتا ہے جس کو اخلاص کی کمی نہیں کہہ سکتے۔ ہر ایک کے تقویٰ کی پہچان الگ الگ ہے ۔ بعض لوگ اختلاف رکھتے ہیں جائز ہے، فقہ میں اختلاف رکھنا ہرگز ناجائز نہیں۔ مگر جو بات میں بیان کررہاہو ں حضرت مولوی راجیکی صاحب کی وہ یہ تھی کہ جن مضامین پر خلیفۂ وقت نے زبان کھول دی اور فیصلہ دے دیا اپنا پھرمضمون یا تو اس کے مطابق غو ر کرکے غلطی پکڑی اور ٹھیک کرلیا یا پھر خاموش ہوگئے کبھی اشارۃً بھی اس کے متعلق بات نہیں کی کہ نہیں یہ بات تو انہوں نے یوں کی تھی اصل میںیوں ہونی چاہیے۔انہوں نے حضرت مولوی صاحب نے بھی ایک یتیم پوتے کی وراثت کے مسئلہ پر غور فرمایا اور ایک مضمون شائع کیا(کس الفضل میں شائع ہوا یہ۔ الفضل میں ہوا تھایا۔ یہ لکھا نہیں ہوا۔ میں نے ایک دفعہ پہلے کسی زمانہ میں یہ مضمون پڑھا تھااور مجھے جہاں تک یاد پڑتا ہے یہ ہمارے کسی اخبار یا رسالہ میں شائع ہواہواتھا۔ وہاں سے لیا گیا۔ اب جب دوبارہ نوٹوں میں آیا ہے تو اس کا سر پیر نہیں ہے، کہاں سے آیا؟ کب لکھا؟ ہیں؟ ہاں ان کو کہیں حوالہ دیا کریں۔ جب وہ ایسی چیزیں بھیجتے ہیں جو علمی مضامین سے تعلق رکھنے والی ہیں تولازم ہے کہ حوالہ دیں، تاریخ اشاعت بتائیں۔کیونکہ بعض دفعہ بعض دوسرے فیصلے جو اس کے بعد کے ہیں وہ اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ ہمیں ترمیم کرنی پڑے گی بعض باتوں میں۔ مثلاً اس کے بعد اگرکوئی فیصلہ شائع ہوا ہے دوسرا، اس کو دیکھنا پڑے گا اس کی حیثیت کیاہے) ۔
    آپ نے ایک اصول یہ بیان کیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ میت کے ورثاء اقربیت کی بنیاد پر وارث قرار پاتے ہیں۔ اس اصول کے تحت میت کے والد کی موجودگی میں دادا وارث نہیںہوتا۔ٹھیک ہے؟ میت کے والد کی موجودگی میں دادا وارث نہیں ہوتا اور بیٹوں کی موجودگی میں پوتا وارث نہیں قرار پاتا۔ یہ ان کاخلاصہ ہے جو سب سے پہلے بیان کرتے ہیں۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول مندرجہ بخاری لایرث ولد الابن مع الابن سے اس بات کی تائید ہوتی ہے۔ یہ حدیث ان معنوں میں تو نہیں ہے یہ اثر ہے دراصل۔ حدیث اور اثر کا فرق یہ ہے کہ حدیث میں آنحضرت ﷺ کی طرف کوئی معین ہدایت منسوب کی جاتی ہے جو آپ نے فرمایا وہ حدیث ہے۔ بعض صحابہ نے آنحضرتﷺ کے اقوال اور آپ کے عمل کی روشنی میں ایک استنباط خود کیا ہے گویا وہ سمجھتے ہیں کہ رسولﷺ کا یہ مسلک تھا۔ مگر تقویٰ کے تقاضا کے پیش نظر یہ نہیں کہتے کہ یہ رسولﷺ کامسلک تھا ۔ وہ کہتے ہیں یہ یوں ہونا چاہیے ایسی باتیںجو صحابہ اپنی طرف سے کہیں ان کو اثر کہا جاتاہے۔ پس حضرت مولوی مبارک صاحب نے یہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول پیش کیا ہے حدیث نہیں ہے ان معنوں میں کہ لا یرث ولدُ الابنِ مع الابنکسی کا بیٹا دوسرے بیٹے کے ساتھ ورثہ میں شریک نہیں ہوسکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک بیٹا اور ایک پوتا دونوں بیک وقت وراثت میں حصہ دارنہیں ہوسکتے۔ یعنی سب بیٹے مرچکے ہوں توپھر جو پہلا قریبی ہے اس کے نہ ہونے کے نتیجہ میں ایک دوسرے اثر کے تابع پوتوں کو جائیداد جاسکتی ہے یا نواسوں کو بھی جاسکتی ہے۔ لیکن زندگی میں یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک اوپر کی شاخ اورایک نیچے کی شاخ کے بچوں میںجائیداد کسی اصول کے تابع برابر تقسیم کی جائے یہ ممکن نہیں ہے۔ اوریہ بات حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گہرے غور اور اُس زمانہ کے حالات پر نظر ڈالنے کا نتیجہ ہے جو میں نے (جیسا کہ) بیان کیا ہے۔ میرااپنا یہی مسلک ہے۔ یعنی ایسا مسلک نہیں ہے کہ جو آخری فقہی فتویٰ کے طور پر ہے۔ درس کے تعلق میںمیرا تفسیری مسلک یہی ہے جو میں کھول چکا ہوں۔
    دوسری بات یہ اٹھائی ہے کہ صحابہ کرام سے لے کر آج تک کے علماء کا اتفاق کہ یتیم پوتا وارث نہیں قرار پاتا لن یجمع اللہ علی الضللۃ (الحدیث)۔ یہ ایک دوسری بات آپ نے یہ پیش فرمائی ہے کہ آجکل کے زمانہ میں جو رحجان ہوگیا ہے پوتے کو وارث قرار دینے یا یہ ایک نیا رحجان ہے۔ پرانے فقہاء میں سے ہر مسلک کے فقہاء پر نظر ڈال کے دیکھیں کسی مسلک کے فقہی نے بھی کبھی یہ فتویٰ نہیں دیا کہ اس بیٹے کے بچے جو کسی کی زندگی میںفوت ہوگیا ہو وارث ہوسکتے ہیں۔ اور چونکہ یہ بھی حدیث ہے کہ امت کبھی بھی گمراہی میں تمام تر جمع نہیں ہوسکتی ضرور استثنائی آوازیں اُٹھنی چاہئیں ۔یہ ناممکن ہے کہ ساری امت(جو اجماع کہا جاتا ہے جس کو۔ اس کو ایک اور رنگ میں حضرت مولوی صاحب پیش فرمارہے ہیں) گمراہی پر اجماع نہیں ہوسکتا یہ ناممکن ہے۔ پس پرانے فقہاء کا اس بات پر اتفاق یہ ہمارے فقہاء پیش نہیںکرتے۔ زیر بحث ہی نہیں لاتے(دیکھا ہے آپ نے وہ؟)۔ حضرت مولوی صاحب نے جو بڑی گہری نظر یہ بات لازماً پوری تحقیق کے بعد کہی ہے۔ تیسری بات آپ یہ فرماتے ہیں ۔ اگر شفقت کو بنیاد بنایا جائے جیسا کہ میں کہہ رہا ہوں کہ شفقت بنائی ہوئی ہے صرف۔ تو پھر یتیم نواسے کو نانا سے ۔ یہ وہی دلیل مولوی صاحب نے اُٹھائی ہے اور یہ میں آپ کو بتارہا ہوں کہ چونکہ حضرت مولوی صاحب کی سوچ قرآن اور حدیث کے مطابق تھی اس لیے یہ نہیں ہے کہ میںنے پہلے وہ پڑھ کر اور یاد کرکے پھر آپ کو بتائی ہے یہ بات۔ مجھے جس بات کی خوشی ہے ، وہی سوچ میری از خود جو پید اہوئی ہے وہ حضرت مولوی صاحب کی سوچ کے ساتھ عین مطابقت رکھ رہی ہے۔ سوائے بعض ایسے علمی حصوں پر جن پر میری نظر نہیں تھی، حضرت مولوی صاحب کی تھی۔ مگر طبعی فیصلوں کے مطابق اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس درس اور پہلے درسوں کے دوران میں نے یہ باتیں محسوس کی ہیں کہ جو استنباط میں کرتا ہوں اللہ کے فضل کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان حصوں کا جب اس نظر سے مطالعہ کیا جائے تو عین مطابق نکلتے ہیں اور یہ اللہ کا بڑا فضل اور احسان ہے۔ اب نواسے کو بھی انہوں نے اُٹھایا ہے اور یتیم بھتیجے کو بھی مالدار چچا سے حصہ ملنا چاہیے۔ اگر شفقت کی باتیں کرتے ہو تو ان غریبوں کو کیوں چھوڑ دیا ہے ۔ دادا کو یتیم پوتے کیلئے وصیت کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم ہر مسلمان پر جملہ مستحقین کیلئے وصیت کی تلقین ۔ یہ بالکل وہی بات ہے جو میں پہلے آپ کے سامنے پیش کرچکا ہوں ایک ذرہ کا بھی اختلاف نہیں ہے۔ کسی مسلمان کو قرآن کریم کی ان آیات کی رو سے مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ضرور وصیت کرے۔ اللہ کی طرف سے ایک تلقین ہے اور وہ تلقین محض پوتوں کے حق میں نہیں ہے۔ یہ غلط ہے کہ اس تلقین کو پوتوں کے حق میں محدود کردیا جائے۔ تمام بیٹیوں کے حق میں بھی ہوگی اور تمام یتامیٰ اور مستحقین اور اقرباء جو بالعموم خاندان سے تعلق رکھنے والے لیکن غرباء ہیں ان سب کے حق میں تلقین ہے تو پھر جیسا ان سے سلوک کرو گے ویسا پوتوں سے بھی کرو۔ لیکن پوتے کے حق میں جہاں تک غیر وارث کے حق میں کچھ کہنے کاتعلق ہے یا نواسے کے حق میںجہاں تک غیر وارث کے حق میں کچھ کہنے کا تعلق ہے ، یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ اولیٰ ہے بہرحال، اوّلیت اسی کو ہے۔ اور اگلی آیت اسی مضمون کو تقویت دے رہی ہے کہ دیکھویتامیٰ کے حقوق کا خیال رکھنا۔ ان بچوں کے یتامی جو تمہارا وارث ہوئے بغیر مر گئے ہیں وہ سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ کس حد تک ان کو دیا جاسکتا ہے یہ ایک الگ بحث ہے۔ یہ 1/3 والی بحثوں کی مزید چھان بین کے بعد جب کوئی قطعی اصول طے ہوجائے گا پھر وہ treetہوں گے اور غیر وارث کے طور پر ہوں گے اور غیر وارث کے طو رپر treatہوں گے۔ تو ایسی ہی تعلیم نہیں دی جاسکتی کہ وہ جو ورثاء قرآن کی روشنی میں ہیںوہ زیادہ حصہ پائیں گے۔ کیونکہ حصوں کو الٹانے کی بھی ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ توتصادم قرآن کریم میں کسی صورت میں نہیں ہوگا۔ ان باتوں کے دائرہ کے اندر رہتے ہوئے ہمارے علماء کو چاہیے کہ از سر نو اِن باتوں پر غور کریں۔
    اب اس کے بعد ملک صاحب والی کا جو تفصیلی مضمون ہے وہ میرے نزدیک پڑھنے کی ضرورت نہیں رہتی جو دلائل دیے ہیں وہی بنارہی ہیں بات جو درحقیقت مولوی راجیکی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مضمون میں بھی آگئی میں بھی بیان کرچکا ہوں۔ دلائل دیتے وقت بڑے تقویٰ کے ساتھ کہتے ہیں۔ مثلاً ایک حدیث پیش کرکے فرماتے ہیں جس کی بناء پر جو متفق علیہ حدیث ہے قریبی عَصبہ یعنی بیٹے کی موجودگی میں دورکا عَصبہ یعنی پوتا محروم ہوگا۔ دیکھ لیا آپ نے یعنی نتیجہ بالکل صحیح نکالا۔ لیکن آخر پراپنے رحم کے نتیجہ میں رستہ وہ نکالا دوسرا کہ ہر دادا پر فرض ہے کہ وہ اس پوتے کے حق میں وصیت کرے جس پوتے کو قرآن کریم لازماً حصہ دار اور وارث قرار نہیں دیتا۔ ان دو باتوں میں تضاد نہیں ہے؟ یعنی نتیجہ نکالتے وقت بالکل صحیح نتیجہ نکالتے ہیں کیونکہ آخرایک بہت بلند پایہ اورمتقی بزرگ تھے مگر وہ تاثرجو ہے نا اس دورکا تاثر، لوگوں کی باتیں، یہ ڈر کہ قرآن کریم پر یہ اعتراض نہ ہو کہ پوتوں کو چھوڑ دیا گیا اور اسی قسم کے معاشرتی دبائو جو نیک نیتی اورنرمی پرمبنی تھے۔ ملک صاحب کا دل بڑا نرم تھا تو اس وجہ سے انہوں نے اپنے آپ کو ایک اور رستہ سے دخل دینے کی اجازت دے دی۔ وہ وہی جس کوبعض دوسروں نے بھی اٹھایا ہے کُتِبَ کہہ کے فرض قرار دے دیا ہے۔ اور فرض بھی ایسا کہ اگرنہیں کرتا تو قضاء لازماً کروائے گی۔ تو وصیت کا کیا مطلب اگر لازمی کروانا ہے تو پھر حصہ مقررہوگیا۔(یہ ہے جی وصیت کا مضمون)۔ اب حضرت ابراہیم علیہ السلام (میں دیکھ رہا تھا) بعض باتیں دوسری بھی کہنے والی ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنا تاثر کیا تھا۔ جب آپ کو خوشخبری ملی ہے اور ان کی بیوی کا تاثرکیا تھا۔جب ان کو یہ خوشخبری ملی ہے حضرت ابراہیم کا تاثر یوںبیان ہوا ہے۔
    اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔و نبئھم عن ضیف ابراہیم- ا ذدخلوا علیہ فقالوا سلٰمًا۔
    ابراہیم کے مہمانوں کے متعلق بھی خبر دے ان کو ۔ دنیا کو بتادے کہ اصل واقعہ کیا ہوا تھا۔ اذدخلوا علیہ فقالوا سلٰمًا۔ وہ مہمان جب ابراہیم کے گھر داخل ہوئے علیہ سے مراد اس پر داخل ہوئے نہیں۔ مراد ہے آپ کے گھر میں داخل ہوئے یا آپ کے سامنے حاضر ہوئے۔ علی وجھہ کا مضمون بھی ہوتا ہے۔ اس لیے عَلیٰکا لفظ استعمال ہوا ہے۔کہ آپ کے سامنے حاضر ہوئے ۔ قالوا سلٰمًاانہوں نے کہا سلام۔ قال انا منکم وجلون۔ جواب میں سلاماً فرشتوں نے کہاجو داخل ہونے والے تھے۔ تو کہا انا منکم وجلونہم تم سے کچھ ڈر رہے ہیں۔ اے آنے والو تم سے ہم کچھ خوف رکھتے ہیں۔ قالوا لا توجل کوئی خوف نہ کرو۔ یہ جو خوف رکھتے ہیں کا مضمون ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم کو پہلے سے یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ قوم کی بدکرداری کہ وجہ سے اس کی سزا کا فیصلہ ہورہا ہے یا حضرت لوط کے حالات سے آپ واقف تھے اور یہ ڈر تھا کہ کچھ ہونے والا ہے تو سلام کے جواب میں کہتے ہیں کہ ہمیں آناتو خوش آمدید۔لیکن کچھ ڈرتا ہوں کہ کچھ بات ہے، اس کے پیچھے کوئی تکلیف دہ بات ہے۔ انہوں نے فرمایا تمہیں کیا اس تکلیف دہ بات سے۔ لا توجل انا نبشرک بغلامٍ علیم۔ بالکل نہ ڈر ہم تجھے ایک بہت بڑے عالم بیٹے کی خوشخبری دے رہے ہیں۔ اس کے جواب میں فرماتے ہیں۔ قال ابشرتمونی علی ان مسنی الکبر فبما تبشرون۔ کیا تم مجھے خوشخبری دیتے ہو ایسی صورت میں کہ مجھے بڑھاپے نے آلیا ہے۔ مسنی مجھے چھوگیا ہے بڑھاپا۔ مطلب یہ نہیں کہ ابھی شروع ہوا ہے۔ مسنی الکبر کا مطلب ہے کہ بڑھاپے نے آ لیا ہے۔ یہاں مسَّ العذاب وغیرہ کاجو محاورہ قرآن کریم میں انہی معنوںمیں ہے گویا میرے جسم میں داخل ہوگیا ہے،مجھے چھوگیا ہے۔ فبم تبشرون تم مجھے کس بنا پر ’’فَبِمَ‘‘ کا ایک ترجمہ ہے کس بنا پر تم یہ خوشخبری دے رہے ہو۔ قالوا بشرنٰک بالحق فلا تکن من القانطین۔ انہوں نے کہا ہم تجھے حق کے ساتھ بشارت دے رہے ہیں۔فلا تکن من القانطین۔ پس ناامید وں میں سے نہ ہو۔ جو مایوس ہوجایا کرتے ہیں یعنی بڑھاپے کی طر ف جو اشارہ کیا تو انہوں نے یہ سمجھاکہ فرشتے یہ سمجھتے ہیں کہ اپنے بڑھاپے کی وجہ سے مایوس ہیں۔ حضرت ابراہیم اس کو غلط قرار دیتے ہیں۔ قال ومن یقنط من رحمۃ ربہ الاالضالون یہ کیسے ممکن ہے کہ گمراہوں کے سوا دوسرے لوگ بھی خدا کی رحمت سے مایوس ہوں۔ یہ تو ناممکن ہے یہ بات کیا کررہے ہو۔ یہ بات نہیں ہے کچھ اور باتیں پیش نظر ہوں گی۔ ان باتوں میں یہ بھی ہوسکتی ہے کہ بڑھاپے کی اولاد کو پیچھے کون سنبھالے گا ان کی تربیت اس طرح ہوسکے گی کہ نہیں جس طرح میں چاہتا ہوں۔ اور جس کیلئے میں دعائیں کرتا ہوں کیونکہ جب بھی آپ نے دعا کی ہے اس میں اولاد کے حق میں غیر معمولی طو رپر نیک ہونے اور خدا رسیدہ ہونے کی دعائیں شامل تھیں ۔ اور جب دعا نہیں بھی کی اور خداتعالیٰ نے آپ کو اپنی ذات کے متعلق خوشخبریاں دیں تو من ذریتیساتھ لگادیا ہر جگہ ۔ اور میری اولاد کو بھی۔ اولاد تھی یا نہیں تھی اس سے قطع نظر وہ ساتھ ہی مانگ لیا ہے۔ یہ روح تھی جس کے پیش نظرآپ نے کہا بڑھاپے میں ۔ یعنی اتنی دیر بعد اولاد ہورہی ہے جس کے بعد زندگی لمبی ممکن ہے کہ اتنی نہ رہے کہ انسان اپنی آنکھوں کے سامنے تربیت کرسکے۔
    اب دوسری آیت میں لیتاہوں۔ سورۃ ذٰرِیٰت سے ، سورۃ الحجر کی یہ آیت تھی۔ آیات ۲۵ تا ۳۱ میں ہے۔(الذٰریٰت میں) ھل أتک حدیث ضیف ابراہیم المکرمین۔ کیا تجھے ابراہیم کے معزز مہمانوں کی اطلاع نہیں ملی۔ کیا یہ خبر تمہیں نہیں ہنچی ۔ یہ جو حدیث ہے یہاں اس سے مراد ذکر ہے قطعی بات، کوئی سنی سنائی بات نہیں۔ بلکہ واقعہ مراد ہوتی ہے، حدیث کا لفظ استعمال تھا۔ بسا اوقات واقعات کے ضمن میں حدیث کا لفظ بولا جاتا ہے۔ حدیث کا لفظ اس حق میںبولا جاتا ہے ۔ کیا تجھے ابراہیم کے معزز مہمانوں کا واقعہ نہیں پہنچا۔ اذ دخلوا علیہ فقالوا سلماً قال سلمٌ قومٌ منکرون۔ یہاں منکرون میں دراصل اسی بات کی طرف اشارہ ہے انا منکم وجلون ۔ ترجمہ کرنے والے ترجمہ کرتے ہیں۔ اجنبی لوگوں تو منکرون کا ایک مطلب ہوتا ہے کہ جن کی آمد اتنی پسندیدہ نہیں ہوتو، مہمان سر آنکھوں پر لگتا ہے وہ ایسے کام پر آئے ہو کہ ہم ڈررہے ہیں۔ اس لیے منکرون کا لفظ کہہ دیناآتے ہی ان مخفی خوفوں کی طرف اشارہ کررہا ہے او رمضمون اس سے متضاد نہیں ہے۔ جو پہلے بیان ہوا ہے اسی کے بیان کا ایک اور ذریعہ ہے۔ قال سلٰمٌ یہاں ایک بات زائد بیان ہوئی ہے۔ قال سلمٌ جو پہلے میں نہیں ہے۔ اس لیے بعید نہیں کہ یہ ایک موقع پر ایک دفعہ یہ خوشخبری ملی ہو تو یہ واقعہ ہوا ہو۔ایک اور موقع پرجب وہ خوشخبری ملی ہو تو وہ واقعہ ہواہو۔اوربعض دفعہ ایک خوشخبری باربارملتی ہے مختلف صورتوں میں ملتی ہے ۔ حضرت مریم کے تعلق میں واضح طور پر قرآن سے ثابت ہوتا ہے کہ بارہا خوابوں میں بھی خوشخبری ملی اور فرشتوں نے متمثل ہوکر بھی خوشخبری دی۔ پس یہ کہنا کہ ایک ہی واقعہ کے دوبیان ہیں یہ بھی درست نہیں یہ واقعہ بار بار ہوا ہوگا۔ اور جب ہوتا ہے تو کسی قدر فرق کے ساتھ سوال و جواب ہوتے ہیں۔ بعینہٖ انہی باتوں کو سوفیصدی دہرایا جاتا ہے۔ فراغ الی اہلہ فجاء بعجل سمین ۔ تو ان کو چھوڑ کر قومٌ منکرون کا ترجمہ اجنبی کرنا بھی اس لحاظ سے درست ہے۔ کہ مراد یہ ہوسکتاہے کہ تم جانے پہنچانے لوگ نہیں ہو۔ اور اس پہلو سے یہ ترجمہ کرنا زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے ۔ا گر وجلون کے ساتھ ایک ہی واقعہ بنا یا جائے تو پھر یہ مطلب بنتا ہے جومیں پہلے بیان کرچکا ہوں۔ اب دوسری تشریح کی رو سے میں بتارہا ہوںکہ یہ جو واقعہ ایک سے زائد بارہوسکتا ہے۔ اس دفعہ جو یہ واقعہ ہوا ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام علاقے کے لوگوں کو جانتے تھے اور جانتے تھے کہ خداتعالیٰ بعض دفعہ دوسرے لوگوں کے ذریعہ بھی باتیں پہنچاتا ہے۔ ان کا آنا، ان کی طرز ، ان کے چہروں کا نور ظاہر کررہا تھا کہ یہ کوئی عام آدمی نہیں ہے۔ تبھی فرمایاالمکرمین بہت معرزز دکھائی دینے والے لوگ تھے۔ اوران کو منکر کہا ان معنوں میں زیادہ قرین قیاس لگتا ہے کہ یہ واقعہ وہ پہلے وجلون والا نہ ہو دوسرا واقعہ ہو۔ اورمنکر ان معنوںمیںکہ یہ اجنبی لوگ ہیں کبھی دیکھے نہیں گئے اس علاقے میں ۔ ہیں معزز مگر باہر کے ہیں۔اگر یہ درست ہے کہ بعینہٖ اس کے مطابق اس سے اگلی آیت اس کی تشریح کررہی ہے اس کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے۔ فراغ الی اہلہ فجاء بعجل سمینٍ۔ ان سے یہ پوچھا ہی نہیں کہ تم بھوکے بھی ہو کہ نہیں۔ کھانا کھانا ہے یا کھاچکے ہو۔جیساکہ آجکل ہمارے ہاں عموماً پوچھ لیتے ہیں مہمانوں سے ۔ پہلے حاضرو کرو یہ اعلیٰ اخلاق ہیں۔ ابراہیمی سنت یہ ہے۔ اور اس جھگڑے میں نہ پڑو۔ کہ کھانا کھایا ہوا ہے کہ نہیں کھایا ہوا۔ کیونکہ جب یہ پوچھا جاتا ہے کئی دفعہ میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے گھروںمیں بھی ہوجاتاہے یہ واقعہ میں ان کو روک دیا کرتا ہوں۔ کیونکہ اگلے کو ابتلاء میں ڈالنے والی بات ہے۔ بعض لوگ کھانے کے وقت آتے ہیں۔ شرم محسوس کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بات ختم کریں اور گھر جائیں۔ اب ان سے پوچھ لو کہ کھانا کھایا ہے کہ نہیں کھایا تو کئی بیچارے اخلاق اور سچائی کے درمیان فیصلہ نہیںکرسکتے ۔ وہ اخلاق پر سچائی کو قربان کردیتے ہیں کہتے ہیں کھایا ہوا ہے۔ اور کئی بیچارے پھنس جاتے ہیں اور کہتے ہیں نہیں کھایا۔ اور ساتھ یہ کہتے ہیں کہ کھایا تو نہیں لیکن کوئی بھوک بھی نہیں ۔اس قسم کی مصیبت میں ڈالنے کی ضرورت کی کیا ہے۔ کھانا ہوتو سامنے بلا لو کہ آئو کھانا کھائیں اور اگر نہیں ہے تو پہلے کچھ پیش کرو۔ پوچھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ کھایا ہے کہ نہیںکھایا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ سنت تھی فراغ الی اہلہ فجاء بعجل سمینٍ۔ اپنے اہل کی طرف متوجہ ہوگئے اور موٹا پلا ہوا بچھڑا ذبح کرکے لائے ہیں پکاکے اور اس عرصے کے دوران کچھ وقت بھی لگا ہوگا بہرحال۔ ایک سیکنڈ میں تو وہ ذبح نہیں ہوا ہوگا اور وہ اس وقت تک انتظار کررہے ہیں۔ فقربہ علیھم قال الا تأکلون ۔ ان کو پیش کیا کہ کچھ کھائو گے نہیں۔ حیران ہوگئے ہیں۔ کیونکہ اوّل تو اکثر مہمان آتے ہیں تو راستے میں ہوٹل تو نہیں ڈرائیور ہوٹل تو نہیںہوا کرتے تھے اس زمانے میں تو وہاں سے کھاکے آگئے ہوں گے۔ عموماً یہی خیال ہوتا ہے کہ بھوکے ہوں گے وہ سفر کرکے آئے ہیں اور اتنا عرصہ کہ ایک بچھڑے کو پکڑا ہے ذبح کیا ہے اور اس کو بھونا ہے اور اس قابل ہوا ہے کہ پیش کیاجاسکے۔ اس میں توکھانا کتنا بھی کھایا ہودوبارہ بھوک لگ جاتی ہے اور اس کی خوشبو جو اُٹھتی ہے اس سے تو کھائے ہوئے پھر بھی صبرنہیں ہوتا۔ پھر اسی لیے تعجب سے پوچھا ہے۔ الا تأکلون فاوجس منھم خیفۃ۔ اب یہاں بھی ’’خیفہ‘‘ کا ذکر آگیا ہے۔ خوف محسوس کیا۔ پہلے واقعہ میں وہ ساری وہ بات نہیں دہرائی گئی ۔ اس لیے یہ امکان تو رہتا ہے کہ دونوں ایک ہی واقعہ ہو۔ اس امکان کو اگر سمجھاجائے تو پھر یہ شکل بنے گی کہ وجلون جو پہلے فرمایا تھا وہ ایک واقعہ گزرنے کے بعد ان سے بعض آثار ظاہر ہوئے ہیں تب وجلون کہا ہے اور جیسا کہ میں نے کہا ہے خوشخبریاں بعض دفعہ ایک سے زیادہ مرتبہ آتی ہیں۔ تو اس وقت جو خوشخبریاں ہیں وہ الگ حالات سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان میں الگ باتیں ہوتی ہیں ۔ وہاں اس قسم کی تفصیل کو نہیں دہرایا گیا۔ اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں یہ دو الگ الگ واقعات ہیں۔ پہلے واقعہ میں صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر ہے اور آپ کا جواب ہے اور بات وہاں ختم ہوگئی۔ اس واقعہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خوشخبری نہیں دی گئی۔ عورت ان کی بیگم کو خوشخبری دی گئی ہے۔ قالوا لا تخف و بشروہ ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو تو خوشخبری دی گئی ہے مگر اس رنگ میں کہ بیگم کے سننے میں خبر دی گئی ہے اور وہ سننے کے بعد اپنی طرف اس خوشخبری کو منسوب کرتے ہوئے بیچ میں پھر اس میں دخل دیتی ہے۔ قالوا لاتخف و بشروہ بغلامٍ علیم۔ غلام علیم وہی ہے کہ صاحب علم بیٹے کی خوشخبری دی گئی ہے۔ فاقبلت امرأتہ فی صرّۃٍ فصکّت وجھھا وقالت عجوزٌ عقیم عورتیں بعض دفعہ اپنے چہرے پر تھپڑ مارلیتی ہیںتعجب کے اظہار کے طور پرہیں ہیںواہ واہ یہ کیا بات ہوگئی ہے۔ اور یہ جو عورتوں کا رحجان ہے یہ قدیم دور سے چلا آرہا ہے۔ اس لیے کچھ اس میں مشکل کوئی نہیں ترجمہ کرنے میںاس لیے ترجمہ کرنے والے خود شرم محسوس کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں اس طرح مارا ہے اس نے۔ حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی غالباً ترجمہ کرتے وقت یہی دقّت محسوس کی ہے۔ فرماتے ہیں اتنے میں اس کی بیوی آگئی جس کے چہرے پر شرم کے آثار تھے اور پس اس نے زور سے اپنے ہاتھ چہرے پر مارے اور بولی کہ میں تو ایک بانجھ بڑھیا ہوں۔ اٌقبلت امرأتہ فی صرّۃٍ ( صرّۃٍ کا معنی شرم ہے) شرم کے آثار چہرہ پرجو تھے یہ اس لیے کھولا گیا ہے میرے نزدیک کہ ہاتھ مارنا چہرے پر حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عجیب لگا۔خصوصاً اتنے بڑی نبی کی بیوی کے بارے میں یہ ترجمہ کریں گے کہ انہوں ے تھپڑ مارلیا ۔ کوئی وجہ بیان کردی جائے جو اس واقعہ کاجواب بیان کرے۔ آپ نے شرم کو اس واقعہ کا جواز بتایا ہے صرّۃً کا لفظ اب دیکھیں (کیا؟ سیاہی کے؟ ہاں توسیاہی ہوئی نہ پھر)۔ چہرے پر سیاہی آگئی تو شرم تو نہیں نا وہاں صرّۃٍ کا تعلق شرم سے تونہیں ۔ میں یہ بتارہا ہوں کہ جہاں ادب کے پہلو ہوں۔ ادب کے تعلقات ہوں۔ وہاں مترجمین احتیاط کرکے حتی المقدور اصل عربی کے الفاظ کو نرم کرکے دوسری زبان میں پیش کرتے ہیں۔ اس خوف سے کہ ہم جب ایسا ترجمہ کریں گے۔ تو گویا ہم سے ایک قسم کی بے ادبی ظاہر نہ ہوجائے اور پھر جو تشریح سمجھتے ہیں کہ کیاواقعہ ہوا ہوگا۔ منہ چہرہ سیاہ پڑ گیا ہے۔ اگر کہہ دیا جائے تو یہ سخت ترجمہ ہوگا۔ چہرے پر ہلکا سا سایہ آگیا کہہ دیا جائے تو نرم بھی ہے اور بات کے قریب بھی ہے۔ اور شرم کردیا جائے تو شرم سے بعض دفعہ چہرہ تمتما اُٹھا ۔ مگر اسے سیاہی سے ظاہر نہیں کیا جاتا، وہ سرخ ہوجایا کرتاہے۔ مگر بہرحال حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہے کہ اس کی بیوی آگئی جس کے چہرے پر شرم کے آثار تھے اس نے زور سے ہاتھ چہرے پر مارا کیونکہ یہ تو ترجمہ لازماً کرنا پڑے گا کہ فصکّت وجھھااس نے منہ پر تھپڑ مارا ہے اور کہا میں توایک بانجھ بڑھیا ہوں۔ میں کیسے ہوسکتی ہوں ۔یہاں جو تعجب ہے اس میںکچھ مایوسی کا پہلو ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے معاملے میں وہ پہلو نہیں ہے۔ اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جواب کے بعد فرشتے کچھ اور نہیں سمجھاتے۔ ان کو سمجھاتے ہیں قالوا کذلک قال ربک انہ ھوالحکیم العلیم۔ کہ دیکھ اے بی بی! ایسا ہی ہوگا۔ تو بڑھیا بھی ہے مسلّم۔ تو بانجھ بھی ہے تسلیم لیکن تیرے ربّ نے فرمایا ہے اس لیے ایسا ہی ہوگا۔یہ ہے دوسرا واقعہ ۔ تیسرا (ابھی وقت ہے میرا خیال ہے ساتھ ہی پڑھ لیںگے) ولقد جاء ت رسلنا إبراہیم بالبشری قالوا سلمًا قال سلامٌ فما لبث ان جاء بعجلٍ حنیذ ۔ یہ ہے اس دوسرے واقعہ سے بہت مشابہ ہے۔ پہلے میں فوری طور پر بچھڑا لانے کا ذکر نہیں تھا۔ یہ یا تو خلاصہ ہے یا تووہ اورواقعہ ہے۔ میںسمجھتا ہوں یہ امکان موجود ہے کہ پہلی خوشخبری حضرت اسماعیل علیہ السلام کے متعلق ہو اور دوسری خوشخبری حضرت اسحق علیہ السلام کے متعلق ہو۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام سے خوشخبری بائبل سے بھی ثابت ہے اور وہاں بیوی نے وہ بات نہیں کی کیونکہ گھر کی مالکہ دوسری تھی اور اسے یہ حق نہیں تھا کہ وہ مالکہ بن کے آنے والے مہمانوں میں گفت وشنید کرے اور مالکیت جتائے۔ تو یہ بعید نہیں ہے۔ سردست میرا یہ تاثر ہے۔ مزید تحقیق بھی اس پرکریں گے کہ پہلا واقعہ اگر کوئی اور ہے تووہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی خوشخبری کاہوگا جو پہلے بیٹے تھے۔ پھر دوسری دفعہ جب ہوا ہے تو یہ بوڑھی تو تھیں اور ان کاابھی تک کوئی بچہ نہیں تھا۔ اس لیے یہاں ان کا ذکر چلتا ہے۔ فلما رأی ایدیھم لا تصل الیہ نکرھم و اوجس منھم خیفۃً قالوا لا تخف انا اُرسلنا الی قوم لُوطٍ۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ وہ عجلٍ حنیذٍ آنے کے باوجود ان کے ہاتھ اس طرف اُٹھ نہیں رہے تو پھر پریشان ہوئے ہیں اور خوف محسوس کیا ہے۔ قالوا لا تخف انہوں نے کہا خوف نہ کر ہم لوط کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ تیری طرف نہیں آئے ۔ یعنی خوف اپنی ذات کے متعلق نہیں کیا۔ اپنی قوم کے بارہ میں کہا کہ یہ کوئی اور مصیبت آنے والی ہے ہماری قوم پر۔ فرمایاکہ غم نہ کر فکر نہ کر یہ لوط کا واقعہ ہے لوط کے متعلق ہم پیغام لے کر آئے ہیں۔ اس پر فرمایا کہ قرآن کریم فرماتا ہے وامراتہ قائمۃٌ فضحکت فبشرنھا باسحق تب اس کی بیوی جو پاس کھڑی تھی وہ ہنسی ہے اس بات پر اور فضحکت کا ترجمہ گھبراگئی بھی کیا ہے ۔ حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گھبراگئی کیا ہے ۔ فضحکت کے تین ترجمے ممکن ہیں ۔ ایک ہے گھبراگئی ایک ہے ہنس پڑی اور ایک ہے حیض جاری ہوگیا۔ اور یہ ترجمہ بھی اس موقعہ پر چسپاں ہوسکتاہے۔ یعنی ایسی عجیب خبرتھی کہ بعض دفعہ بعض عورتوں کے بند حیض ایک اچانک حیرت انگیز خوف یا خوشی سے دھکا لگنے کے نتیجے میں جاری ہوجاتے ہیں۔ اور بعضوں کے دودھ جاری ہوجاتے ہیں۔ پس عورت کے رحمی جو اعضاء اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے ہوئے ہیں بچے کے تعلق میں وہ چھاتیاںہوں یا رحم ہو ان پر بہت بڑے واقعہ یا بہت بڑی اچانک خبر سے ضرور اثر پڑ جاتا ہے۔ تو یہ بھی ممکن ہے کہ وہی خبر اثر اندازہوگئی ہو۔ اب اس سے ملتا جلتا مضمون حضرت مریم کے متعلق بھی بیان ہوا ہے۔ کہ جب وہ فرشتہ خوبرو آیا تو کوئی واقعہ گزرا ہے۔ حضرت مریم کے اندر جس نے کچھ تبدیلیاں پیدا کردی ہیں ۔ تویہاں پھر یہ مضمون یہ دونوں چونکہ ملتے ہیں اس لیے میرے نزدیک یہ دونوں حضرت اسحق علیہ السلام سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ اور جہاںبیوی کا ذکر اور اس کے تعجب کا ذکر نہیں ہے وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا واقعہ جو پہلے گزرچکا ہے کہ قالت یا ویلتی أألدو و أنا عجوزٌوّ ھذا بعلی شیخًا انّ ھذا لشیء عجیب ۔ اور اس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نمائندگی میں بول پڑی ہیں کہ مجھے خوشخبری دے رہے ہو یویلتی وائے وائے کیا ہوگیا اٌنا عجوزٌاورمیں بڑھیا وھذا بعلی شیخًا یہ میرا بڈھا خاوند۔ ان ھذا لشیئٌ عجیب یہ تو عجیب سی بات ہے۔ قالوا اتعجبین من امراللہ انہوں نے کہا کہ کیا تو اللہ کے حکم پر تعجب کررہی ہے۔ رحمۃ اللہ وبرکاتہ علیکم اہل البیت ۔ ا ے اہل بیت تم پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں۔ انہ حمیدٌ مجیدٌ۔ وہ بہت ہی قابل تعریف اور بہت ہی بزرگی والا ہے۔ وہ مجید کا جو لفظ ہے یہ حمید کے ساتھ اس لیے باندھا ہے کہ تیر ابچہ ہوگا لیکن جب رسائی کا کوئی معاملہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسی پاک تبدیلیاں تیرے اند رپیدا کرے گا کہ گویا تو جوانی کی طرف واپس مڑ گئی ہے اور صحت کی حالت میں بچہ جنے گی۔ یہاں ایک اور مسئلہ بھی ضمناً ساتھ ہی حل ہوگیاوہ ہے اہل البیت کا۔ ترجمہ جو شعبہ کرتے ہیں وہ درست ہے یا جو ہم کرتے ہیں وہ درست ہے۔ وہ کہتے ہیں اہل البیت کا محاورہ بیویوں پر نہیں استعمال ہوتا اولاد پر ہوتا ہے۔ اور یہاں بیوی کو مخاطب فرما کر اہل البیت کہاجارہا ہے۔ اے اہل البیت! تم پر رحمتیں اور برکتیں ہوں۔ تو قطعی طور پر ثابت ہوا کہ اہل بیت میں قرآن کریم خداتعالیٰ کے نزدیک اور قرآن میں جو بیان ہوا ہے اس کے مطابق بیویاں شامل ہوتی ہیں۔ اہل بیت سے الگ نہیں ہوتیں اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ انہ حمید مجید ۔ فلما ذھب عن ابراہیم الروع و جاء تہ البشری یجادلنا فی قوم لوطٍ۔ ان ابراہیم لحلیم اوّاہٌ مّنیب پھر جب یہ خوف گذر گیا ابراہیم کے دل سے تو جن خوفوں میں مبتلاء تھا کہ یہ کیسے لوگ ہیں کھانا بھی نہیں کھارہے ، یہ دشمنی کی علامت بھی ہوا کرتی تھی۔ یہ فرشتے تھے ۔ تو اس لئے تمثیل ہونے کے باوجود نہیں کھارہے کہ کوئی بڑی بری خبر لے کر آئے ہیں۔ تو لوط کا جب پتا چلا کہ یہ خوشخبریاںہیں مگرلوط کی قوم پر عذاب آنے والا ہے تو اس بارے میں بحث چھیڑ دی اللہ تعالیٰ سے۔ اوّاہٌ مّنیب بیحد ہمدرد اور بردبار تھے ابراہیم علیہ السلام بڑے نرم خواور بیحد بنی نوع انسان سے ہمدردی کرنے والے ۔ پس یہاں خدا سے جھگڑ ے سے یہ مراد نہیں کہ نعوذ باللہ کوئی گستاخی ہے بلکہ حد سے زیادہ رحمت جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شخصیت کی شان تھی وہ پھر یہ بحث کردیتی ہے کہ اے خدا چھوڑ پرے تو بخشنے والا ہے یہ تھا حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ جس کے متعلق میں نے کہا تھا کہ تین آیتیں ہیں الگ الگ۔جو میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔ اس کی روشنی میں جب پہلی آیت کی طرف دوبارہ جائیں گے تو وہاں بشرناک بالحق ہے کہ بشرناک باسحق نہیں ہے۔ اسحق کا ذکر اگرملتا ہے تو بیگم کے ذکر میں ملتا ہے۔ جہاں بھی ملتا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خوشخبری جو پہلی ہے اس میں کوئی ایسا ذکر نہیں ملتا ، نہ کھڑی ہوئی بیوی بولتی ہے۔ نہ وہ کوئی احتجاج کرتی ہے۔ اور رحمت سے مایوسی کا جو پہلااظہار ہے وہ یہاں ہوا ہے۔ جو پہلے واقعہ میں ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ دوسری دفعہ جب آئے ہیں توحضرت ابراہیم علیہ السلام نے سوال اُٹھایا ہی نہیں ہے۔ کیونکہ وہ واقعہ ہوبھی چکا تھا۔اس لیے جس بیوی کو بھی بچہ ملنے والا تھا اسی نے سوال اٹھانا تھا اور اسی نے اٹھایا ہوگا اور اسی نے اُٹھایا تھا۔ باقی پھر انشاء اللہ تعالیٰ کل۔ السلام علیکم
    إإإ

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    درس القرآن ماہ رمضان
    مورخہ17؍رمضان بمطابق7؍ فروری 1996ء
    درس میں جو بعض دوست کمی محسوس کررہے ہیں حاضرین کی اس کے متعلق ایک دلچسپ بات شاکر صاحب نے پیش کی تھی۔ میرے نزدیک توبڑی واضح وجہ یہ ہے کہ ایک تو سردی بھی زیادہ ہے ، ورکنگ ڈیز ہیں اور چونکہ لوگوں نے کام پہ جانا ہوتا ہے ، بچوں نے سکول ۔توان کیلئے ممکن نہیں ہے کہ اس وقت درس میں شامل ہوسکیں۔ اور جو گھر پہ رہتے ہیں بڑی عمر کے ان کیلئے سردی مانع اور گھر پہ ٹیلیویژن کی سہولت مہیا ہے۔ اس لیے یہاں بھی بہت سے ٹیلیویژن کے ذریعے دیکھ رہے ہیں۔ بعض جو آتے ہیں وہ کہتے ہیں ٹیلیویژن کے ذریعے بھی دیکھ سکتے ہیں مگر موجود ہونے کا مزہ بھی ہے اورآسکتے ہیں تو کیوں نہ آئیں۔ بہر حال شاکر صاحب نے ایک بالکل نیا تجزیہ پیش کیا ہے۔ شاکر صاحب کہتے ہیں کہ اگر کرسیاں لگادی جائیں تو بڑے لوگ آئیں گے۔ اس لیے میںنے ان سے وعدہ کرلیا ہے کہ اگلے ہفتہ اتوار کو دیکھیں گے ، یہ فیصلہ آج بھی ہوگا۔ ہفتہ اتوارکو اگر لوگ اتنے ہی ہوئے جتنے اب ہیں اور یہ ہال نہ بھرا تو شاکر صاحب کو کرسی پر بٹھادیا جائے گا۔ منظور ہے یہ فیصلہ۔ شاکر صاحب کو کرسی تب ملے گی اگر اس دن بھی نہ آئے تو (ہاں) اگر آگئے پھر نہیں ملے گی۔اچھا جی چلیں پھر شروع کرتے ہیں۔
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم
    ولیخش الذین لو ترکوا من خلفھم ذریۃً ضعٰفًا خافوا علیھم فلیتقوا اللہ ولیقولوا قولاً سدیدًا- (النسائ:۱۰)
    اس کا ترجمہ تفسیر صغیر سے ہے کہ جو لوگ ڈرتے ہوں کہ اگر وہ بعض کمزور اولاد چھوڑ گئے توان کا کیا بنے گا اور ایک ہے چاہے کہ لوگ ڈریں۔ حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو ترجمہ اختیار کیا ہے اس کے پیچھے ایک حکمت ہے جو آپ کے نوٹس میںملتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ سب لوگ تو چونکہ اپنے پیچھے ذریت ضعفاکمزور ذریت چھوڑ کر نہیں مرا کرتے اور ان کو پھر کیسے یہ آیت تحریک کرے گی کہ اگر چھوٹی ذریت والے ہوں تو پھر کیا ہو ۔ تو اس کیلئے یہ طرز اختیار کی گئی ہے۔ ولیخش الذین لو ترکوا ممکن تو ہے نا کہ تم لوگ چھوٹی ذریت پیچھے چھوڑ جائو۔ پس وہ لوگ جن کیلئے ممکن ہے کہ وہ چھوٹی ذریت چھوڑ جائیں وہ اس بات سے ڈریں کہ اگر وہ چھوڑ جاتے تو کیا ہوتا۔ یہ ہے وہ طرز جو حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ترجمہ کی اختیار کی اور وجہ یہ لکھی ہوئی ہے کہ کیونکہ یہی تو نہیں لکھی ہوئی مگر جو میرے نوٹس آپ نے لکھے تھے اس میں ملتا ہے، اس میں ہے شامل نوٹ۔ میں پہلے وہیں سے شروع کرتا ہوں بات۔ لو ترکوا اس لیے فرمایا کہ بظاہر حالات یہ اندیشہ نہ بھی ہو تو بھی ایسے شخص کو ڈرنا چاہیے۔ یعنی بظاہر ایک شخص کے بچے بڑے بھی ہوں وہ بھی اس خوف میں جودلایا جارہا ہے اس میں مخاطب ہوجاتا ہے لَوْکے ذریعے۔ فرض کرو تمہارے بچے ہوتے تو تم کیا سوچتے ، کیا کرتے۔ اس لیے اس خیال سے ان چھوٹے چھوٹے یتیم بچوں کو جو تمہارے سامنے حاضر ہوئے ہیں ان کو رحم کی نظر سے دیکھو، ان سے حسن سلوک کرو، شفقت کی بات کرو۔ یہ ہے مراد حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس لیے وہ ترجمہ ’’جو ہے‘‘ وہ اختیار کیا گیا ہے۔ ایک اور وجہ ترجمہ ’’جو‘‘ سے شروع کرنے کی یہ ہے کہ ولیخش الذین لو ترکوا من خلفھم الذین میں اور ڈرے جو لوگ لو ترکوا اگر وہ چھوڑتے یہ ۔ اگر اردو میں اس طرح ترجمہ کیا جائے تو یہ ٹھیک بنتا۔ ولیخش الذین لو ترکوا وہ لوگ جو اگر چھوڑتے ڈریں ۔تو ہم جو ترجمہ عام طور پر کرتے ہیں وہ یہ ہے ولیخش الذین عام لوگ ڈریں، سب لوگ ڈریں مگر الذین لو ترکوا کو جب اکٹھا پڑھا جائے تو یہ ترجمہ ہو نہیں سکتا کیونکہ الذین کی تعریف یہ ہے الذین لو ترکوا ۔ اس لیے یہ ترجمہ ہوگا ولیخش الذین لو ترکوا من خلفھم۔ مگر ولیخش میں الذین واضح ہے اور لو ترکوا ایک شرط مبہم ہے جو ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی ہوسکتی۔ یہ دقتیں ہیں جو ترجمہ کرنے کا فن کچھ جانتے ہیں ان کو سمجھ آئیں گی۔ عامتہ الناس کیلئے اس کو سمجھنا مشکل ہے مگر جو میں ترجمہ کرتا رہاہوںوہ یہی ہے کہ سیدھا سادا ۔ الذین میں کچھ مضمون حذف سمجھا جائے یعنی یہ سمجھا جائے کہ معروف بات ہے سب لوگ سمجھیں گے توترجمہ پھریہ بنے گا کہ چاہیے کہ لوگ ڈریں جو لوگ نہیں ہوگا پھر چاہیے کہ سب لوگ ڈریں۔ لو ترکوایہ سوچ کرکہ اگر انہوں نے اپنے پیچھے چھوٹی اولاد چھوڑی ہوتی ضعٰفًا جو کمزور ہوتے ۔ کئی پہلوئوں سے کمزورہوسکتے ہیں بچے۔ عمر کے کم ہونے کی وجہ سے اپنے مال کی حفاظت نہ کرنے کی وجہ سے اور کئی باتیں اوربھی ضعٰفًا کی طرف اشارہ کرتی ہیں خافوا علیھم وہ اس بات پر ڈرتے تمام وہ لوگ یخشمیںسب شامل ہیں یعنی سب لوگ ڈریں اس بات سے کہ اگر وہ لوگ ایسے ہوتے جو چھوٹی اولاد پیچھے چھوڑتے اور دیکھتے کہ ہم جارہے ہیں اور پیچھے چھوٹی اولاد رہ رہی ہے تو ان کے دل کا کیا حال ہوتا۔ اس تصورکو سامنے رکھیں فلیتقواللہ پھر خدا کاخوف کھائیں ولیقولوا قولاً سدیدًا اور سیدھی صاف بات کہا کریں۔ کوئی ایچ پیچ رکھ کر قریبیوں کو ان کے حقوق سے یا یتیموں ، غریبوں ، فقراء اور مساکین کو اپنی بخشش سے محروم نہ کیا کریں۔قول سدید کایہاں تعلق یہی بنتا ہے کہ بعض دفعہ لوگ بہانے بنالیتے ہے کہ ہاں تمہارے لیے بھی کچھ رکھا ہوا ہے۔ کچھ آنے والا ہے کچھ یہ ہوجائے گا فکر نہ کرو۔ تو کئی قسم کی چالاکیوں سے کام لیتے ہیں اور جو غرباء اس وقت اکٹھے ہوں یا فوراً اکٹھے نہ بھی ہوں عام طور پر آتے جاتے رہتے ہیں کیونکہ وفات کے وقت اکٹھے ہونے سے یہ مراد نہیں ہے کہ ضروری ایک ہی وقت ورثہ تقسیم ہونے لگا سارے اکٹھے ہوجائیں۔ کیونکہ ورثے اعلانات کے ذریعہ تو تقسیم نہیں ہوتے۔ اکثر جو شرکا ء ہیں یعنی ورثوںمیں شریک ہیں ایک دوسرے کے وہ آپس میں مل کر یہ فیصلہ کرلیتے ہیں کہ جو معین واضح کھلے حصے ہیں وہ تو ہم شریعت کے مطابق بانٹ لیں گے۔ اب یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں گھریلو استعمال کی ، کچھ دوسری ایسی چیزیں ہیں خواہ وہ قیمتی ہوں یا بے قیمت ہوں ان کی تقسیم بالعموم ایک اور دو کی نسبت سے نہیں کی جاتی بلکہ یہ زیور اس کو فلاں ماں سے ملا تھا اس نے بات کی تھی کہ فلاں بیٹی کو چلا جاتا تو اچھا تھاتو اس لیے یہ اس کو دے دیا جائے۔ فلاں چیز اس نے دی استعمال نہیں ہوئی مگر یہ اس کی زندگی میں مثلاً فلاں بیٹی کو یا بیٹے کو پسند آگئی تھی تو اس نے کہا کہ ہاں میں تمہیں دے دوں گا یا دے دوں گی۔ اس قسم کی تقسیم ہے جو دراصل یہاں موقع محل کے مطابق چسپاں ہورہی ہے۔ ورنہ اعلان عام کے ذریعے جائیدادیں تقسیم نہیں کی جاتیں۔ جو کی جاتیں ہیں وہ شرعی حصوں کے مطابق کی جاتی ہیں۔ ان کے بعض دفعہ اعلان بھی کیے جاتے ہیں مگر یہ تناظر نہیں پیدا ہوتا جو یہاں پیش کیا جاریا ہے۔ اس سے مرادیہی ہے کہ روز مرہ کی گھر کی چیزیں ۔ یعنی ایک یہ مراد ہوسکتی ہے اور بھی ہوسکتی ہیں مگر میں اس وقت ایک آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ روزمرہ کی گھر کی چیزیں خواہ قیمتی ہوں خواہ غیر قیمتی ہوں بعض دفعہ بہت قیمتی چیزیں بھی ہوتی ہیں ان کو بھی آپس میں بانٹ لیا جاتا ہے ایک دوسرے کے ساتھ عمومی سمجھوتے کے ذریعے اور عین معین قیمتیں نہیں ڈالی جاتیں۔ مثلاً حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک کیمرہ تھا۔ وہ پرانا تاریخی کیمرہ اور اس کی خوبی یہ تھی کہ جتنا پرانا ہوتا جاتا تھا اتنا مہنگا ہوتا جاتاتھا اور کچھ چیزیں کوئی بندوق ہے کوئی ایسی دوسری چیزیں ہیں۔ اب ان کو ناپ تول کے مارکیٹ کی قیمتیں لگواکر بانٹنا ایک بہت عجیب بات ہے، بڑا مشکل کام ہے ۔ تو اس قسم کی چیزیں جو بعض دفعہ مہنگی بھی بہت ہوتی ہیں ان کو آپس میںخاندان کے لوگ مل کے بیٹھ کے بانٹتے ہیں جب وہ بانٹتے ہیں تو اس وقت ایسے بچوں کا بھی خیال کریں جو شرعی طور پر واضح تقسیم میںحصہ دار نہیں بنتے اور جو بچے ہوئے حقوق ہیں جن کی قرآن کریم نے نشاندہی نہیں کی لیکن بعض کونے کھدرے باقی چھوڑ دیے ہیں وہ اسی غرض سے چھوڑے گئے ہیں کہ ان سے استفادہ کرکے ان میں سے ان کو نکال دو پھر جو بچتا ہے وہ آپس میں بانٹ لو یعنی تقسیم اگر ایک دفعہ پوری ہوگئی تو پھر تو بچے گا ہی کچھ نہیں۔ تو ان غربائ، ان یتامی ،ان مساکین جو ذی القربی ہوں تو بھی ذی القربی نہ بھی ہوں تو بھی خاندان کے ملنے جلنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ بعض لوگوں کے تعلقات ہیں آتے ہیں خدمتیں کرتے ہیں۔ بعضوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں۔ حالانکہ خاندانی رشتے نہیں ہیں تویہ سارے لوگ میرے نزدیک اس مضمون میں داخل ہیں۔
    اب ان کی ایک شق ایسی ہے جو چھوٹے ہیںنسبتاً بچے اور ان کی دیکھ بھال والا کوئی نہیں ہے ایسے موقعوں پر ان کو فضیلت دو ان کو فوقیت دودوسروں پر اور پہلے ان کا خیال کرو کیونکہ تمہیں یاد رہنا چاہیے ایسے موقع پرجب کہ تمہارا کوئی فوت ہو اہے اور تم رہ گئے ہو کہ تم تو بڑے ہو لیکن چھوٹے چھوٹے بھی رہ سکتے تھے۔ اگر تم چھوٹے رہ جاتے تو تم سے یہ کیا کچھ ہوتا اور یہ نہیں سو چ سکتے تو یہ تو سوچ سکتے ہو کہ تمہارے بچے سب ہوسکتا ہے بڑے ہوں یا چھوٹے ہوںمگر تمہارے بچے اگرچھوٹے ہوتے تو تمہارے دل میں کیا کیفیت پید اہوتی۔ اس لیے یتیموں کے احساس کیلئے۔ یتیم چھوڑنے والوں کے اس احساس کی طرف اشار ہ فرمادیا جو موت کے قرب کے وقت ان کو بے چین کردیتا ہے اور خاص طور پر مرنے والا ایسے بچوں پر زیادہ توجہ دیتا ہے اور بہت زیادہ بے قرار ہوتا ہے جن کے کام وہ اپنے سامنے بنانہیں سکا جو چھوٹے چھوڑ گیا خواہ اس کے بڑے بچے بھی ہوں۔ یہ مضمون ہے نفسیاتی جس کا اس آیت میں ذکر ہے اس سیاق و سباق کے ساتھ۔ اس لحاظ سے اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو کسی دوسری آیت کے مضمون کے منافی ہو اور قول سدید میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے لارے دینے کے خلاف تعلیم ہے۔ جھوٹی لگی لپٹی باتیں کرکے ان کو کوئی سہارا نہ دو صاف صاف کہو کہ تمہارے ہم نے حقوق مقرر کرنے کا طریق اختیار کیا ہے دیں گے۔ نہیں دینا تو خاموش رہو یا قول معروف کہو۔ السدید لفظ کیا ہے؟
    سَدَّ۔ یَسِدُّ۔ یَسَدُّ۔ صفت مشبہہ( ای السُّؤال من القول وہ بات یہ)صفت مشبہہ ہے السّدیدجس کے افعال ہیں سَدَّ۔ یَسِدُّاور یَسَدُّ۔دونوں طرح کے زیر زبر آتے ہیں ۔اس میںسَدَّ ہے ماضی اور یَسِدُّ مستقل یامضارع اور یَسَدُّ بھی پڑھا جاتا ہے۔السدید کو صفت مشبہہ کہتے ہیں جس میں سداد کا معنی پایا جاتا ہے اور مستقل پایا جاتا ہے اچانک نہیں بلکہ ایک صفت کے طور پر اس کو سدید کہیں گے۔ تو قول سدید جواس کی صفت ہے کسی خاص وقت سیدھا ہوگیا ، کسی خاص وقت ٹیڑھا ہوگیا یہ مراد نہیں ہے۔قول سدید وہ ہے جوسیدھا ہی رہے گا۔ قول سدید قول سدید ہی ہے اس میں کوئی خم آہی نہیں سکتا ،درست اور سچی بات کو کہتے ہیں۔ سد قولہ و فعلہجس شخص کا قول اور فعل دونوں سچے نکلیں اس کو کہتے ہیں سدّ قولہ و فعلہ ۔ سد الشیئُ اغلق خلدہ و رَدَم سلمہ۔ کسی چیز کے نقص کو دور کرکے اس کوسیدھا کرنا ، ہڈیاں جو ٹوٹی ہوئی ہڈیاں تو وہ جوڑی جاتی ہیں۔ یہی مضمون ہے سدید کرنے والا۔ سدیسُدُّوالا اور سدالشیئکسی چیز کو اس کے خم نکالنے اس کی خرابیاں دور کرے، ٹھیک ٹھاک کرکے جوڑ دینا، خلا پورا کردینا۔
    توقول سدید کے ان معنوں کی رو سے دوبارہ دیکھیں کہ قُولوا قولاً سدیدًا سے کیا معنے اور بھی مل سکتے ہیں ۔ یہ معنی بنے کہ ان کے ساتھ صاف بات بھی کیا کرو اور ان کے ساتھ ایسا معاملہ کرو جو ان کی کمزوریوں کو ٹھیک کرنے والا ہو، ان کی خامیوں کو دور کرنے والا ہو۔ جو خلا ملتے ہیں ان کے ہاںان کو پر کرنے والا ہو یعنی حسن سلوک کے ساتھ ان کی ضرورتیں پوری کرو۔ اب یہ وہ پہلو ہے جس کے متعلق آئندہ بھی آگے مختلف آیات کے حوالے سے ذکر آئیں گے۔ مفردات میںلکھا ہے کہ سداد اس چیز کو کہتے ہیں جس سے کوئی سوراخ یا دراڑ بند کی جائے۔ تو انہوں نے بھی یہ معنی لیا ہے غربت کو دور کرنے والے مال کو بھی سداد کہا گیا ہے۔ پس سداد دینے کی بحث نہیں ہے۔قولوا قولاً سدیدًا اس لیے مراد یہی ہے کہ ان کو یہ کہا جائے کہ ہم تمہارے متعلق یہ فیصلہ کررہے ہیں۔ مثلاً ایک تعلیم کا محتاج بچہ ہے۔ ایک خاندان کو کسی ایسے اوزار کی ضرورت ہے جو ان کے پیشے میں کام آسکتا ہے، ان کو خود کفیل کرسکتے ہیں۔ تو قول سدیدیہاں ان باتوں پر اطلاق پائے گا جو مختلف غرباء اور یتامیٰ وغیرہ میں ضرورت کی کمزوریاں ہیں اور ایسے موقعہ پر ان کو واضح طور پر کہہ دینا چاہیے کہ تمہارے متعلق بجائے اس کے کہ تمہیں کوئی چیزدے دی جائے ایک ٹکڑا کسی چیز کا۔ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ تمہاری مستقل کمزوریاںدور کرنے کیلئے تمہیں خود کفیل بنانے کیلئے یہ یہ اقدامات کریں۔ ایک عجیب و غریب چیز جو مفسرین نے یہاں اس آیت کے گرد بن لی ہے وہ بھی ذکر کرنی ضروری ہے۔ اس کی شان نزول نکالی گئی ہے ایک اور جو شان نزول ہے وہ ایک حیرت انگیز چیز ہے۔ چونکہ کوئی معین روایت یہ نہیں ہے کہ اس وجہ سے یہ نازل ہوئی اس لیے عربوں کا دستور پیش نظر رکھ کر جو کہتے ہیں کہ دستور تھاانہوں نے اس آیت کی ایک عجیب و غریب شان نزول نکالی اور یہاں پیش کی ہے۔ میں لفظ شان نزول کے نیچے اس کو ڈھونڈ رہا ہوں اس لئے دیر لگ رہی ہے۔ ورنہ اس لفظ کے بغیر بھی یہ بار بار مفسرین نے جو باتیںاٹھائی ہیں ان میں شامل ہے یہ تقریباً سب مفسروں نے یہ بات یوں اُٹھائی ہے کہ خطاب ان لوگوں سے ہے جو مریض کے پاس بیٹھتے ہیں اور کہتے ہیں تیری اولاد کی طرف سے تجھ سے کسی چیز کا محتاج نہیں۔ پس اپنے مال کی فلاںفلاں کیلئے وصیت کرجا اور اسے حکم دیتے رہتے ہیں وصیت کا اور وصیت بھی اجانب کیلئے یہاں تک کہ اس کے مال میں سے ورثاء کیلئے کوئی چیز بھی نہیں بچتی۔ آپ یہ جو scenarioبنایا گیا ہے یہ حیرت انگیز ہے ناقابل یقین ہے ، اصل حقیقی زندگی میں ہو ہی نہیں سکتا۔ ایک طرف یہ کہتے ہیں کہ ایسے لوگ مراد ہیں جو آکے مشورے دیتے ہیں مرنے والے کو کہ تمہارے بچوں کو تو کوئی ضرورت ہی نہیں ہے ، احتیاج ہی نہیں ہے تم اپنے مال میں سے فلاں فلاں کو دے دو۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر وہ بچے چھوٹے ہیں جن کا ذکر یہاں آرہا ہے تو مرنے والا پاگل ہے جو یہ بات سنتا ہے اور کہتا ہے ہاں ٹھیک ہے تم ٹھیک ہی کہتے ہو۔ بچوں کو کیا ضرورت ہے۔ چھوٹے چھوٹے بھوکے مرہی جائیں گے زیادہ سے زیادہ۔ اس لیے یہ بات ہو ہی نہیں سکتی۔ عقل میں آہی نہیں سکتی۔ اور اگر وہ بڑے بچے ہیں تو وہ بیٹھے کیا کررہے ہیں ۔ مریض کوجو جان کنی کی حالت کو پہنچنے والا ہے کن لوگوں کے سپرد کرکے آپ کہا ں غائب ہوگئے ہیں سارے۔ ان کی روٹی ہانڈی پکارہے ہیں کہ وہ آکر مشورہ دے رہے ہیںاور وہ مررہا ہے سانس اُکھڑ گئے ہیں ، ڈاکٹروں کو بھی ہوش نہیں رہی اوریہ مشورہ دینے والے کہہ رہے ہیں کہ دیکھو دیکھودیکھو! مرنے سے پہلے فلاں کے نام لکھ جائو، فلاں کے نام لکھ جائو، فلاں کے نام لکھ جائو۔ اور اصل بچے جو ہیں چپ کرکے سن رہے ہیں بول نہیں سکتے بیچ میں۔ باپ کو یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ان کی باتیں نہ مانو۔ یہ کون ہوتے ہیں ہمارے معاملات میں دخل دینے والے۔ یہ تناظر ہے ہی بے تکا، غلط، بے حقیقت ۔ کبھی حقیقی زندگی میں آپ کویہ نقشہ نظر نہیں آئے گا عرب ہویا غیرعرب، کہ مرنے والے کے سانس اکھڑے ہوئے ہیں اور لوگ آکے بجائے اس کے کوئی دعا کریں کوئی عیادت کریں کہتے ہیں اوہو اوہو مرنے سے پہلے پہلے فلاں کے نام چیز لکھوادو اوراپنے نام نہیں گواہوں کے نام مشورے دے رہے ہیں کہ اس کو بھی لکھ جائو اس کو بھی لکھ جائو۔ بالکل قابل قبول بات نہیں۔ غیر حقیقی بات ہے اور اس آیت کو پڑھ کر دیکھیں وہاں یہ بات fitہوتی ہی نہیں۔
    ولیخش الذین لو ترکوا من خلفھم ذریۃً ضعٰفًا خافوا علیھم فلیتقوا اللہ۔اب فلیتقوا اللہ سے انہوں نے مشورہ دینے والوں کو مخاطب بنالیا۔ وہ کہتے ہیں تم اس غریب بیچارے کوتو مشورہ دے رہے ہو اے لوگو! مشورہ دینے والو!یہ چیز اس کو دے جائو اور یہ چیز اس کو دے جائو۔ اگر تم مررہے ہو اور تمہارے پیچھے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں تمہیں کوئی ایسے مشورے دے گا تو کیسا لگے گاتمہیں۔ اس لیے خداکا خوف کرو اور سیدھی بات کرو۔ اب یہ قرآن کریم کا مضمون تو نہیں ہے۔ کسی ایسے شخص کاکلام ہو نہیں سکتا جو جانتا ہے کہ مرض الموت میں کیا کارروائیاں ہوتی ہیں۔ آنے والے کیا کہتے ہیں اور گھر والوں کا کس قدر اس وقت احترام ہوتا ہے۔ مجال نہیں کہ کوئی ایسی بات کرسکیںجو ان کی یا مریض کی طبیعت خراب کرنے والی بات ہو۔ اس لیے یہ سب فرضی قصے ہیں ۔ اس کے پیچھے کوئی مصنوعی حدیث بھی نہیں صرف روایت ہے کہ عرب ایسا کیا کرتے تھے ۔ اب اللہ معاف کرے ان بیچارے عربوں کو وہ بھی نہیں ایساکیا کرتے ہوں گے۔ میںنہیں مان سکتا۔ کبھی ہو ہی نہیں سکتا کہ عرب اس طرح کرتے ہوں۔ اپنے مردوں کو اس طرح لوگوں کے رحم پر چھوڑ دیں۔ یعنی مریضوں کو جو مرنے والے ہیں۔ تو یہ مفسرین کو جو شوق ہے شان نزول کا یہ اس کی پیداوار ہے سب۔ سیدھی بات وہی ہے کہ ایک عام انسانی فطرت ہے کہ اپنے حوالے سے وہ زیادہ ہمدردی کے مضمون کو سمجھتا ہے۔ اس لیے مرنے کے بعد جو لوگ ہیں وہ مخاطب ہیں اور ان سے یہ کہا گیا ہے کہ غرباء اور یتامیٰ سے ایسا سلوک کرو کہ جو تم اگر جوانی میں مر جاتے چھوٹے بچے چھو ڑ کر تو چاہتے کہ تمہارے غرباء اور یتامیٰ سے کیا جائے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو اس کا ترجمہ ، ہاں ایک اور بھی بحث اس میں وہ بھی ناسخ منسوخ کی بھی ہوئی ہے نا۔ اسی آیت میں ہے یاہیں۔۔۔ اس دن نوٹ دیکھے تھے تو آپ کو بتایا تھا اسی میں ہی ہے۔ اچھا وہ اگلی میں آئے گی۔ایک ناسخ منسوخ کا بڑا شوق ہے لوگوں کو۔جس بات کی سمجھ نہ آئے فوراً نسخ منسوخ۔ نسخ کرتے کرتے اور منسوخ کرتے کرتے پانچ سو آیات تک کو مختلف وقتوں میں مفسرین نے منسوخ قرار دے دیا یعنی پانچ سو ناسخ بنیں توپانچ سو منسوخ ہوئیں اور ایک ہزار آیات سے اعتبار اُٹھ گیا۔ کتنی خوفناک بات ہے لیکن خداتعالیٰ نے خود عقل دی۔ ایک کے بعد دوسری صدی میں مجددین ایسے پیدا ہوئے ، ایسے خدا ترس علماء پیدا ہوتے رہے جنہوں نے اس کو پسندنہیں کیا اس بات کو اورغور کیا کہ کہاں تک ممکن ہے کہ نسخ کا جو داغ لگ رہا ہے اس کو اُڑایا جائے۔ چنانچہ انہوں نے حل تجویز کرنے شروع کیے اورکہا اوہو! یہ تو خواہ مخواہ نسخ منسوخ لگائی ہوئی ہے۔ ان دو آیتوں کا تو تضاد ہی کوئی نہیں۔ یہ سمجھو تو اس طرح پھر تضاد دورہوجاتا ہے۔ ان کی اس کاوش کے نتیجہ میں رفتہ رفتہ پانچ سو سے آیتیں گھٹنی شروع ہوئیںاور حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی تک بیس تک سنا ہے پہنچ چکی تھیں۔ یعنی پانچ سو پہلے بڑھنی شروع ہوئیں پھر پانچ سو سے گھٹنی شروع ہوئیں۔ جب بیس کے قریب پہنچ گئیں تو انہوں نے پھرغور کرکے یہ فیصلہ کیا کہ دراصل صرف پانچ آیتیں ہیں جن کے متعلق یہ احتمال ہے کہ یہ ناسخ منسوخ کے چکر میں آتی ہوں۔ باقی سب انہوں نے حل کردیں انہوں نے وہ بھی۔ پھر حضرت مسیح موعودعلیہ السلام امام مہدی و معہود نے اللہ کے اذن سے یہ اعلان کیا کہ ’’قرآن کریم کا ایک شوشہ بھی منسوخ نہیں‘‘۔
    وہ لوگ جو آیت خاتم النبییٖن کے متعلق جماعت پر الزام لگاتے ہیںکہ ہم نے اس آیت کو تسلیم نہیں کیا، معلوم ہوتاہے کہ بالکل اندھے ہیں۔ اگر نسخ منسوخ کی بات حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام تسلیم کرلیتے تو اس کو بھی ایک منسوخ آیت میں شمار کرسکتے تھے اور اس آیت کو سورہ نساء کی اس آیت سے منسوخ قرار دے سکتے تھے جس میں ہے ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی اور بات سوچی جاسکتی تھی جو بنی نوع انسان کو عام خطاب ہے کہ جب بھی تم میں نبی آئیں تو اسے منسوخ قرار دے دیتے۔ مگر حضرت مسیح موعودعلیہ السلام تو ایک شوشہ کے بھی نسخ کے قائل نہیں ۔ ایسے امام کی جماعت پر یہ الزام کہ قرآن کریم کی ایک آیت کو مانتے نہیں کیسا جھوٹا اور ظالمانہ الزام ہے۔ لیکن اپنا یہ حال ہے مفسرین کا کہ چھوٹے چھوٹے بہانوں پرجب بات سمجھ نہ آئے نسخ قرار دینے میں بڑی جرأت دکھاتے ہیں۔ اور کئی بزرگ ایسے ہیں جو پھر مقابلہ بھی کرتے ہیں کہتے ہیں نسخ نہیں مگر نسخ کا جو رحجان ہے اس کے خلاف آواز نہیں اٹھتی ۔ان لوگوں کے خلاف کوئی فتوے نہیں لگائے جاتے کیونکہ اصولاً پرانے زمانہ میںلوگ تسلیم کرچکے تھے کہ واقعتاً نسخ اور منسوخ کا قرآن میں ہونا ممکن ہے۔ صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہیں جنہوں نے اس کا امکان ہی باطل قرار دیا ہے۔ فرمایا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا لاریب فیہ۔ایک نکتہ بھی اس قرآن کا منسوخ نہیں ہے ۔ اس کا غالباً یہاں نہیں ہے تو اگلی آیت میں اس کا ذکر آئے گا۔ میں پھر وہاں سے لوں گا۔ ہاں اب امام رازی کی باتیں میں آپ کے سامنے رکھ چکا ہوں۔ایک تہائی والی بحث بھی اٹھائی گئی ہے یہاں امام رازی نے یہ بحث بھی اٹھائی ہے کہ اس بات کا بھی امکان موجود ہے کہ وہ شخص مخاطب ہو جو مرنے کے قریب پہنچا ہوا ہے اور اسے نصیحت کی جارہی ہو کہ وہ وصیت کرتے وقت حد سے تجاوز نہ کرے۔ امام رازی کے الفاظ یہ ہیں۔ اگرچہ مجھے اس سے اتفاق نہیں مگر امام رازی کا جو مسلک ہے وہ پیش کرنا ضروری ہے ایک امکان کے طور پرہے۔ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ اس آیت میں خطاب اس سے ہو جس کا انجام قریب ہے اور مقصود زیادہ حصہ کی وصیت سے روکتا ہے۔ مراد یہ نہیں کہ اس وقت یہ آیت اس کو پڑھ کر سنائی جائے۔ مراد یہ ہے کہ قرآن کریم نے تعلیم دے دی تاکہ جب بھی کوئی شخص مرنے والا ہو تو اس کو اس آیت کا مضمون یاد آئے اور اس کی روشنی میں فیصلے کرے اس کو نظر انداز کرکے نہ کرے۔ جس کا انجام قریب ہے اور مقصود زیادہ حصہ کی وصیت سے روکنا ہے۔ اس کو یہ ہدایت کی جارہی ہے کہ زیادہ وصیت نہ کرجانا دوسروں کے حق میں۔ یہ ایک تصور پید اکیا گیا ہے مراد یہ تھی کہ اس کے ورثاء لاچار اور بھوکے نہ رہیں اس لیے وصیت ثلث کی یا اولاد کے محروم ہونے کا ڈر ہو تو اس سے بھی کم کی جائے۔ اب ثلث کا لفظ پھر دوبارہ آگیا ہے۔ تویہ وہ کہتے ہیں کہ یہ ڈر ہو اگر کہ وہ اپنی اولاد کومحروم نہ رکھ جائے یہاں تک کہ وہ لاچار اور بھوکے رہ جائیں اس لیے اس کو نصیحت ہے کہ 1/3سے زیادہ وصیت نہ کرنا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس حد تک غربت کا عالم ہوکہ کسی شخص کے بچے لاچار اور بھوکے مررہے ہوں اس کو نصیحت کی ضرورت ہے کہ دوسروں کو نہ دے جانا۔ ہو ہی نہیں سکتا۔ فطرت کے خلاف بات ہے سوائے اس کے کوئی پاگل ہو۔ پاگل کی تووصیت ویسے ہی validنہیں ہے۔ قابل قبول ہی نہیں قانون میں۔ عام حالات میں اگرکوئی ایسی وصیت کرے گا تو عام حالات کہلائیں گے ہی نہیں۔ وہ حالات اس کے پاگل پن کی دلیل کے طور پر پیش ہوں گے اور عدالت میں یہ مقدمہ چلے گا کہ یہ تو پاگل ہوگیا ہے ۔ کوئی ہوسکتا ہے اتنا غریب کہ بچوں کے بھوکے مرجانے کا اور ہاتھ پھیلانے کا فقیر بننے کا سوال پید اہو اور وہ کہہ رہاہو کہ میں اس کو دے دیتا ہوں اس کو دے دیتا ہوں ۔ یہاں تک کہ چونکہ دماغ میں بخار کی وجہ سے کیونکہ سوچنے کی طاقت نہیں نا حساب سے نکل کر 1/3سے بھی آگے نکل جائے۔ ہوسکتاہے نصف تقسیم کرجائے۔ یہ ساری باتیں ان بزرگوں نے امکانات کی تلاش میں کی ہیں۔ ہرگز یہ مراد نہیں ہے کہ حضرت امام رازی خود اس بات کے قائل تھے کہ ایسا ہی ہے ۔
    چونکہ آیت میں ایک کھلا مضمون تھا تو امکانات کی دنیا کی تلاش میں پھر فقہاء جہاں جہاں جاسکتے تھے وہاں وہاں چلے گئے اور سیدھے سادے مضمون کو بعض دفعہ ان امکانات کے نیچے اس طرح دبا دیا کہ سوچیں بکھر گئیں اور اصل مضمون کی طرف سے توجہ ہی ہٹ گئی۔ حالانکہ جو مرنے والا ہے وہ ایسی باتیں نہیں سوچا کرتا یعنی ایسی حرکتیں نہیں کیا کرتا جو حرکتیں اس کی طرف منسوب ہیں اگر وہ صاحب عقل ہولیکن اس کے علاوہ جو میں نے یہ بات پیش کی ہے ضمنی بعض سوال اس سے اُٹھائے جارہے ہیں ۔ مثلاً 1/3کے متعلق میں پہلے سے بات کرچکا ہوں کہ اس کی بنیاد کیا ہے اور دوسرا یہ کہ یہ تسلیم کیا گیا ۔ اس طرز استدلال میں کہ اگر ایک شخص ثلث سے زیادہ بھی دے دے اور وہ خود نہ رکے تو سوسائٹی اس میں کچھ نہیں کرسکے گی کیونکہ اگر یہ نصیحت اس کو ہے جو مرنے والا ہے اور جو اپنی جائیداد تقسیم کرنے والا ہے ۔ اگر اسکو اختیار ہی نہیں ہے کہ تیسرے سے زیادہ دے دے تو اس کو یہ نصیحت کیوں کی جارہی ہے اور اگر وہ کرتا ہے تو یہ چاہیے کہ تم نے اس کی بات نہیں ماننی کیونکہ اس میں وہ تبدیلی کا حق نہیں رکھتا ۔ تو اس طرز فکر سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ فقہاء کے ذہن پر یہ بات تو بہرحال حاضر تھی کہ مرنے والا مالک ہے جب تک مر نہیں جاتا وہ اپنی زندگی کے تصرفات میںبھی اختیار رکھتا ہے اور مرنے کے بعد کے تصرفات پر بھی وصیت کرنے کا حق رکھتا ہے۔ پس اس کی وصیت اولیٰ ہوگی۔ یہ بحث کہ اگر وہ خداتعالیٰ کے قوانین کو توڑ رہا ہے تو کیا بنے گا۔ یہ بحث اُٹھاتے ہوئے امام رازی نے بھی سوال اُٹھایا ہے اوربہت درست بات یہی ہے کہ اللہ سے ڈرے کہ خدا اس کو پکڑے گا۔ یہ بڑی اہم اور بنیادی بحث ہے ۔ ایک شخص وصیت کے ان قوانین کے برعکس جائیداد کسی کو دے جاتا ہے کیا زبردستی اس کو الٹادیاجائے گااس کی وصیت کو یا نہیں۔ یہ جو صورت ہے اس کے متعلق یہ آیت اور بعض دوسری آیتیںیہ تصور پیش کررہی ہیں کہ مرنے والے کا گناہ ہوگا وہ خدا کے سامنے جواب دہ ہوگا ۔لیکن چونکہ اس کی جائیداد تھی اس لیے تم زبردستی اس کو ٹھیک نہیں کرو گے۔ اگر یہ زبردستی ٹھیک کرنا ہوتا تو اس کو نصیحت کرنے کی ضرورت ہی کوئی نہیں تھی ۔ وصیت کرنے اور ساتھ اللہ فرماتا کہ اگر یہ نہ مانے تو پھر بھی نہ مانو۔مگر ایسا کوئی مضمون دکھائی نہیں دیتا۔ تو امام رازی کے ذہن پر بھی یہی بات ہے کہ 1/3سے زیادہ کی وصیت وہ کرسکتا ہے اگرچہ ناجائز ہوگی۔ مگر نصیحت کے طور پر اور تنبیہ کے طور پر اللہ تعالیٰ اسے یاد کرارہا ہے کہ ایسی حرکت نہ کرنا۔پھر امام رازی نے بھی وہی بات چھیڑی ہے کہ یہ خطاب ان لوگوں سے ہے جو مریض کے پاس بیٹھتے ہیں اور یہ حکم دیتے رہتے ہیں اس کو کہ یوں کرو وصیت یوں کرو۔ پتا نہیں کون سے وہ مریض تھے بیچارے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ولیخش الذین لو ترکوا اور جو شخص فوت ہونے لگے اور بچے اس کے ضعیف اور صغیرالسن ہوں تو اس کو نہیں چاہیے کہ کوئی ایسی وصیت کرے جس میں بچوں کی حق تلفی ہویہ اسلامی اصول کی فلاسفی میں آپ نے یہ فرمایا ہے۔ یہاں 1/3یا 2/3کی وصیت کا ذکر نہیں فرمایا صرف عمومی نصیحت کے طور پر اگر مخاطب ہیں تو یہ ہوگا لیکن ایک دوسری جگہ دوسرے امکان کو اولیٰ طور پر پیش فرمایا ہے۔ اس لیے اس سے اگر کسی کو شبہ پڑے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام صرف انہی کو مخاطب سمجھتے ہیں تودرست نہیں۔ اب میں نے مگر میں نے پڑھ کرپہلے سنادیا ہے جو شخص فوت ہونے لگے اور بچے اس کے ضعیف اور صغیر السن ہوں تو اس کو نہیں چاہیے کہ کوئی ایسی وصیت کرے جس میں بچوں کی حلق تلفی ہو۔ یہ مضمون کھلا ہے یہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے 1/3یا 2/3کی بحث نہیں اُٹھائی۔ وصیت بعض دفعہ ایسی ہوسکتی ہے کہ براہ راست حقوق سے تو محروم نہ کیا جائے لیکن ان کے اوپر شرطیں ایسی عائد کردی جائیں اور ایسے ظالموں کے سپردان کو کردیا جائے کہ وہ ان کے حق ماردیں کہ ان بچوں کے اوپر تم نگران ہو مگر اگر تمہیں ضرورت پڑے تو تم یہ کھابھی سکتے ہو۔ اگر تم ضروری سمجھو تو جاکر دیکھ بھی سکتے ہو۔ کئی ایسی بے احتیاطی کی باتیں وصیت میں داخل ہوسکتی ہیں جس سے بچوں کے حقوق پر غلط اثر پڑے گا۔ پس اگر مخاطب وہ ہے (یہ اگر کے ساتھ ہے) تو اس کو یہ نصیحت کی جارہی ہے کہ تمہارے بچے چھوٹے ہیں کوئی ایسی پابندیاں ان کے تعلق میں وصیت میں نہ لگادینا جس سے ان کے حقوق پر برا اثر پڑسکتا ہو ۔ یاد رکھنا اصل وہ ہے جو وارث ہیں باقی لوگ تو ضمناً ان کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے اس تعلق میں آئے ہیں۔ ایک یہ معنی جواس سے میں سمجھتا ہوںوہ یہ ہے۔
    دوسرا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام چشمہ معرفت میں اسی آیت کو سامنے رکھتے ہوئے فرماتے ہیں۔ اس آیت کو اورا س سے پہلی آیات کے مضمون کو اکٹھا کیا گیاہے آخر پر اس آیت کا ذکر خصوصیت سے آئے گا۔
    ’’مردوں کیلئے اس جائیدا د میں سے ایک حصہ ہے جو ماں باپ اور قرابتی چھوڑ گئے ہوں۔ ایسا ہی عورتوں کیلئے اس جائیداد میں سے ایک حصہ ہے جو ماں باپ اور قرابتی چھوڑ گئے ہوں۔ اس میں کسی کا حصہ تھوڑا ہو یا بہت ہو بہر حال ہر ایک کیلئے ایک حصہ مقرر کیا گیا ہے اور جب ترکہ کی تقسیم کے وقت ایسے قرابتی لوگ حاضر آویں جن کو حصہ نہیں پہنچتا، ایسا ہی اگر یتیم اور مسکین بھی تقسیم کے موقع پر آجاویں تو کچھ کچھ اس مال میں سے ان کو دے دو اور ان سے معقول طور پر پیش آئو یعنی نرمی اور خلق کے ساتھ پیش آئواور سخت جواب نہ دو اور وارثان حقدار کو ڈرنا چاہیے ( یہاں اس آیت کا مخاطب وارثان کو اب کیا گیا ہے نہ کہ وصیت کرنے والے کو)کہ اگر وہ خود کچھ چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ مرتے تو ان کے حال پر ان کو کیسا کچھ ترس آتا‘‘۔
    پس جومیں نے پہلے بیان کیا تھا بعینہٖ اس کی واضح تائید فرمارہا ہے یہ حوالہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہی مؤقف تھا۔ چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ مرتے تو ان کے حال پران کو کیسا کچھ ترس نہ آتا اور کیسی وہ ان کی کمزوری کی حالت دیکھ کر خوف سے بھر جاتے ۔ پس چاہیے کہ وہ کمزور بچوں کے ساتھ سختی کرنے میںاللہ سے ڈریں اور ان کے ساتھ سیدھی طرح بات کریں یعنی کسی قسم کے ظلم اور حق تلفی کا ارادہ نہ کریں۔ یہ جو ہے ناکہ کسی قسم کے ظلم اور حق تلفی کا ارادہ نہ کریں اس نے اس مضمون کو وسعت دے دی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نصیحت کی رو سے اس سے زیادہ معانی ہیں جو آپ تک آپ کے سامنے پیش ہوئے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں اس آیت میں وہ بچے بھی پیش نظر ہوں گے جو اس وقت تقسیم کے وقت حاضر ہوتے ہیں۔ آنا جانا ہے ان کا ان پر نظر رکھواور ان کے حقوق کا خیال کرو، ان سے پیا ر کی بات کرو۔ بعض لوگ ایسے بچوں سے بعض دفعہ بدخلقیاں کرتے بھی ہیں کیونکہ جب چیزیں بکھری پڑی ہیں گھرمیںمرنے والی کی جائیدادبھی سمیٹی نہیں، کچھ کہاں پڑی ہیں کچھ کہاں پڑی ہیں ۔ تو آنے والے جو ہیں بعض غریب ان کی نظریں بھی پڑتی ہیں۔ ان کی آنکھوں میں کچھ ان کی تمنا بھی لوگ دیکھ لیتے ہیں تو بعض دفعہ ان کو ڈانٹتے ڈپٹتے ہیں یہ کیا مصیبت پڑی ہوئی ہے جائو بھاگو۔ خبردار جو اس چیز کو ہاتھ لگایا۔ تو یہ جو طریق ہے یہ عام فطر ت کے مطابق ہوتا ہے اور روزہ مرہ دکھائی دیتا ہے۔ اس پہلو سے اس کامطلب یہی ہوگا کہ ان سے سختی نہ کریں اور ڈریں۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ ظلم اور حق تلفی کا ارادہ نہ کریں۔ اس سے مراد وہ بچے بھی ہیں جن کے اموال کے یہ نگران ہونے والے ہیں۔
    پس یہاں اموال کے نگران مخاطب ہوجائیں گے جن کوبعد میں اموال کی ذمہ داری سونپی جائے گی ان کو یہ آیت یوںکہے گی کہ دیکھو! تم نے ان بچوں کا خیال کرنا ہے اگر تم نے ان سے حق تلفی کا سلوک کیا ، ان کے اموال ناجائز کھائے تو یہ بھی سوچو اگر تم مرتے ایسے بچے چھوڑ کران سے بھی تو ایسا سلوک کرنے والا کوئی ہوسکتا تھا۔ یا کل کلاں کومرجائو تو ایسا سلوک ہوگا ۔ تویاد رکھنا خدا کی پکڑ کا ایک یہ بھی ذریعہ ہے یعنی ایک سزا توآخرت میں ملے گی ایک دنیا میں بھی بعض دفعہ ظلم کرنے والے کو ویسی ہی سزا مل جایا کرتی ہے جیسا وہ ظلم کرتا ہے۔ اس احتمال کو دکھا کر نصیحت گویا ان لوگوں کو ہوگئی جن کے سپرد چھوٹی عمر کے بچے کردیئے جاتے ہیں، جن کا والی وارث کوئی نہیں۔ ورثہ ان کا ہے نگران دوسرے ہیں۔ ویری یہ کہتا ہے۔
    No doubt Muhammad had learned the substance of his revelotion by his own experience as an orphan. Ceartinly the ansiety he exhibitied to allebiate the sad condition of such is most praiseworthy. His terrible curses against the oppressors of such (see next verse) evins the earnestness of his purpose to inform this abuse.
    (Sipara IV) Chap IV, Page 71, Verse 8, Vol II, by the Rev. E. Wherry M.A Publisher London
    Kegan Pual, Trench, Trubner & Co. Ltd. Peteroster House, Charing Cross Road. 1896
    وہ باتیں جہاں ویری بھی واہ واہ کرنے پر مجبور ہوگیا ہے تعریف منہ پر لانے پر بے اختیارہے مگر اس احتیاط کے ساتھ کہ کوئی اسے خدا کا کلام نہ سمجھ لے۔ کلام محمدﷺہی کا ہے مگر اس کی بچپن کی یادوں نے یہ کلام بنایا ہے کیونکہ خود یتیم تھا، دردناک حالات کا سامنا تھا اس لیے اس کو یہ باتیں یاد رہیںاور اس نے باقی یتامیٰ کی حفاظت اور ان کا خیال رکھنے کیلئے یہ باتیں کہیں۔ جہاں تک آنحضرت ﷺ کا تعلق ہے آپ کے یتم کے باوجود آپ کو ایسے بزرگ پرورش کرنے والے ملے جنہوں نے باپ سے بڑھ کر آپ سے محبت کی۔ اس لیے یہ ویری کا خیال غلط ہے کہ یتم کی تلخیوں نے نعوذ باللہ رسول اللہ ﷺ کو اس آیت کا مضمون سکھایا ہے۔ پہلے عبدالمطلب پھر ابو طالب اور ان کا سلوک ۔ وہ تو اپنے بیٹوں سے زیادہ چاہتے تھے اور اولین طور پر محمد رسول اللہ ﷺ کو عزت دیتے تھے۔ اس لیے وہم و گمان بھی نہیں کیا جاسکتا کہ آپ کے ساتھ ناانصافیاں ہوئی ہوں اور اس کے نتیجے میں آپ نے اس آیت کا مضمون سوچا اور سوچا بھی تو کب جا کر کتنی دیر بعد۔ یہ آخری دور کی آیات میں سے ہے۔ جب جنگیں شروع ہوئیں ہیں ان کے تعلق میں یاد آیا ورنہ بھول ہی گئے تھے۔ تو یہ بیچارے جب تعریف بھی کرتے ہیں تو اس میں بھی ایک نفس کی خامی رہ جاتی ہے ۔ اچھا نہیں لگتا کہ کلام الٰہی اپنی شان سے اپنی صداقت ثابت کررہا ہو اور یہ چیز ضرور کھٹکی ہے۔ ایسی اعلیٰ پایہ کی تعلیم نہ بائبل میں ملے نہ کسی اور کتاب میںملے آکہاں سے گئی۔ اگر یہ عذر بیچ میں نہ رکھتا تو یہ لوگ متاثر ہوکر کہہ سکتے تھے کہ سبحان اللہ یہ اللہ کا کلام ہے جو انسانی فطرت پر نظر رکھتا ہے۔ اس لیے تعریف رسول اللہ ﷺ کی کردی اس خدشہ کے ازالہ کی خاطر کہ کوئی خدا کا کلام ہی نہ سمجھ بیٹھے۔ اورجو عذر رکھا ہے وہ جھوٹا ہے ۔اس میں کوئی حقیقت نہیں۔
    اب اگلی آیت ہے سورہ نساء آیت گیارہ۔
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم
    ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما ان یاکلون فی بطونھم نارا سیصلونَ سعیرا۔
    جو لوگ ظلم سے یتیموں کے مال کھاجاتے ہیں وہ یقینا اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں اور یقینا شعلہ زن آگ میں داخل ہوں گے۔ یہ بھی ویری رسول اللہ ﷺ کی طرف اس آیت کے جوڑ میں یوں لگارہا ہے ۔ ایک طرف تعریف کی ہے آپ کے حسن تعلیم کی دوسری طرف کہتا ہے دیکھو کس جوش کے ساتھ غضب کا اظہار کررہے ہیں ان لوگوں کے خلاف جن کی بچپن کی یادیں آپ کو آکر بتارہی ہیں جنہوں نے یہ ظلم کیے تھے،اب ان کو سنادو جو سنانا ہے اور یہ آیت اس بات پر مظہر ہے کہ آپ نے پھر خوب دل کی بھڑاس نکالی ہے ان کے خلاف۔ حالانکہ ایسا کوئی نہ واقعہ ہوا ہے نہ کوئی ایسی صورت حال رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں پیش آئی۔ اس لیے صرف آپ کے خاندان ہی میں نہیں بلکہ سارے سوسائٹی میں آپ بچپن سے معزز تھے۔ سب کی آنکھوں کا تارا تھے۔ اس لیے اسے ذاتی غیظ و غضب کا نتیجہ قرار دینا یہ اگرچہ اس نے بڑے محتاط الفاظ میں تعریف کے رنگ میں باتیں کہی ہیں مگر واقعات کے خلاف ہیں۔ درست نہیں ہیں۔ اس کا سیدھا ترجمہ وہ ہی ہے کہ وہ لوگ یتیموں پر ظلم سے باز نہیں آئیں گے ان کے اموال کھائیں گے وہ گویا جہنم اپنے پیٹو ں میں کھارہے ہیں۔ یہ محاورہ تو عام ہے۔ ہر زبان میں پایا جاتا ہے آگ کھانے والی بات ہے۔ اس لیے یہ کوئی خصوصی طور پر کوئی ایسا محاورہ نہیں جو غیر معمولی طور پر رسول اللہﷺ نے ایجاد فرمایا ہو۔ روز مرہ کی زبانوںمیں یہ ملتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے کلام میں بھی اس کا ملنا ایک طبعی بات ہے۔ لیکن جہنم کی آگ میںجو جھونکے جائیں گے یہ سزا ہے یتیموں کا غریبو ں کامال کھانے والوں کی۔اس کی جو لغوی بحث ہے وہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔
    یصلون السعیر، صلل لحم یا صلل لحم شوّہ۔ صَلیٰ کہتے ہیں بھوننے کو اگر گوشت کے متعلق کہا جائے۔ صَلَل لَحْمَ تو مراد ہے گوشت بھونا۔ صل الشیء القہ فی النار للاحتراق کسی چیز کو جلانے کی غرض سے آگ میں ڈالنے کو صَلیٰ کہتے ہیں۔ ضروری نہیں گوشت ہی ہو جو بھوناجائے۔ بلکہ کوئی بھی چیز آگ میں جلادینے کی خاطر جیسے ردّی کا مال پھینک دیا جاتا ہے۔ اس کیلئے لفظ صلیٰ استعمال ہوتا ہے۔ صَلیٰ فلانٌ: خاطَلَہٗ وَخَدَعَہٗ ۔ کسی کے متعلق کہا جائے اس نے فلاں کو صَلیٰ کیا ہے تو دھوکے میں ڈالا، فریب کیا اس کے ساتھ۔ صَلیٰ لِلصَّیْدِ شکار کیلئے جو جال نسب کیا جاتا ہے اس کیلئے لفظ صَلیٰاستعمال ہوتا ہے کیونکہ جال میں ایک قسم کا دھوکہ بھی ہے اور ہلاکت بھی ہے۔ بہت ہی عمدہ لفظ ہے شکار کو جال میں پھنسانے کیلئے۔صَلیٰ لِلصَّیْدِ اس نے شکار کو دھوکا بھی دے دیا اور عذاب میںمبتلاء بھی کردیا۔ صلہ العذاب اوالحیوان اوالذلۃ۔ یعنی عذاب یا ذلت نے اسے خاک کردیا۔ صلہ العذاب جلاکر خاکستر کردیا۔ راکھ بنادیا۔ جب اتنا بڑا عذاب دیا جائے کسی کو تو اس کے متعلق بھی عرب صَلیٰ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ یقال فلانٌ لا یسطل بنارہ اذا کان شجاعًا لا یطاق ۔ یعنی ایسا شخص جو بہت بہادر ہو اس کے متعلق کہتے ہیں۔ اس کی آگ میں نہیں جلاسکتا۔ کیا مطلب ہے اس کیا آگ میںنہیں جلاسکتا۔
    مراد یہ ہے کہ جن جن چیزوں کی وہ برداشت کرسکتاہے اور حوصلہ کے ساتھ سربلندی کے ساتھ ان مصیبتوں اور ابتلائوں سے گزر سکتا ہے یہ اسی کا حصہ ہے۔ ہر شخص کو یہ توفیق نہیں ہے کہ ایسا کام کرے۔ تو لا یسطل بنارہٖ سے مراد اس کی آگ میں نہیں جلاجاسکتا۔ یعنی اس جیسا حوصلہ نہیں ہے کسی میں۔ پس کسی شخص کی بہادری اور غیر معمولی صبر عزم اورحوصلہ کی تعریف کرنی ہو تو عرب اس طرح کیا کرتے تھے لایسطل بنارہٖ ۔ سعیر ۔ سَعَرَ، یَسْعَرُ یہ سعیر بھی صفت مشبہ ہے ۔ یعنی ایسا شخص جس کے اندر ایک دائمی صفت پائی جائے عارضی نہ ہو۔ یا ایسی چیز جس میںایک دائمی صفت پائی جائے عارضی نہ ہو۔ مثلاً عالم جب ہم کہتے ہیں تو یہ اسم فاعل ہے اس سے یہ صفت بن جاتی ہے۔بسا اوقات ھوالعالم وہ عالم ہے۔ ھوالعالم وہ عالم ہے۔ یہ جو عالم لفظ ہے یہ علم والے کو کہتے ہیں۔ مگر عالم آج عالم ہے کل جاہل بھی ہوجاتا ہے۔ ایک چیز کا عالم ایک چیز کا نہیں ۔ عالم ہونا دائمی صفت اگر بن بھی سکتا ہوتو یہ ایک اور مثال دیتا ہوں کہ آپ کو سمجھ آجائے گی۔ وہ دائمی صفت نہیں ہے۔ ضرب زیدٌ بکرًا۔ زید نے بکر کومارا۔ اب جو مارنے کا فعل ہے اس کے نتیجے میں ضارب کون ہوگا؟ زید جس نے مارا اور جو مضروب ہے وہ بکر ہوگا۔ضرب زید بکرًازید نے بکر کو مارا۔زید ضارب زید ضارب ہے اور بکرا مضروبابکر مضروب ہے۔ اب ہمیشہ کیلئے زید ضارب تو نہیں بن گیا۔ کبھی مارا، کبھی پیار کیا، کبھی مرہم لگائی، کبھی زخم پہنچائے۔ تو یہ ایسی صفت جو ادلتی بدلتی رہتی ہے۔ یہ اسم فاعل یا اسم مفعول کے نام سے اس کو یاد کرتے ہیں۔صفت فاعل یا صفت مفعولی۔ لیکن جب یہ کہیں گے ضریب اگر کہا جائے تو مراد ہے وہ شخص جو ہمیشہ مارتا ہی رہے ۔ وہ شخص جو ہمیشہ کیلئے علم رکھتا ہو اس کا علم دائمی ہے اس کو علیم کہیں گے اور وہ شخص جو مستقل طور پر محتاج ہوجائے اس کو فقیر کہیں گے۔ تو اسی طرح لفظ سعیر ہے۔جو صفت مشبہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایسی آگ جو مستقل جلانے والی چیز جس میں دائماً جلانے کی صفت موجود ہو۔ سَعَرَ النَّار اشْعَلَھا اگر کہتے ہیں آگ بھڑکائی اس نے تو اس کیلئے بھی لفظ سَعَرَ استعمال کرتے ہیںعرب۔ سِعِیرٌ۔ النَّار ولَھُبُھَا۔ آگ اور اس کا شعلہ اس کو سعیر کہتے ہیں۔ السُّعْرُ۔ الحرُّ۔ گرمی کو بھی سعرکہتے ہیں اور بھوک کی شدت کو بھی اور جنون کو بھی اور وبائی بیماری کو بھی ۔ ان سب کیلئے عرب سعر کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ سَعَرَ النَّارَ والحَرْبَ آگ یا جنگ کو بھڑکادیا۔اس کیلئے بھی یہ لفظ سعراستعمال ہوتا ہے۔
    اب بعض لوگوں نے شان نزول بناتے ہوئے یہ لکھ دیا ہے کہ یہ آیت ان مشرکوں کے بارہ میں نازل ہوئی ہے جو یتامی کے اموال کھاتے تھے او ران کو ورثہ میں سے حصہ نہ دیتے تھے۔ اسی طرح عورتوں کو بھی حصہ نہیں دیتے تھے۔ یہ بالکل بے تعلق بات ہے۔ یہ ایک دائمی مضمون ہے اس کا نہ مشرک سوسائٹی سے تعلق ہے نہ اہل کتاب سے، نہ مسلمان سے ہے ، نہ غیر مسلم سے۔ایک دائمی فطری مضمون ہے جس کو بیان فرمایا جارہا ہے۔یتیموں کاحق مارنے والے، یتیموں کو اپنے جائز حقوق سے محروم کرنے والے دنیا کی ہر سوسائٹی میں ملتے ہیں۔ انگلستان میں بھی ملتے ہیں، امریکہ میں بھی ملتے ہیں، غریب ترین ممالک میں بھی ملتے ہیں۔ اس لیے اس کے متعلق یہ کہہ دینا کہ یہ مشرکوں کیلئے تھی یہ جائز نہیں۔ دراصل مشرکوں کی طرف خیال اس لیے گیا ہے و ہ کہتے ہیں مومن کیسے جہنم میں جاسکتا ہے۔ یہ روک ہے ذہنی مگر جو بھی یہ کام کرے گا اس کو سزا وہی ملے گی خواہ وہ بظاہر مومن ہویا مسلم کہلائے ۔ بعض کام ہیں جو اپنی ذات میںجہنم کمانے کا موجب بن جاتے ہیں ۔ یتیموں کے اموال کھانا یہ انہی خطرناک فعلوں میں سے ایک ہے۔ ایک صاحب ہیں علی بن احمد الواحدی ’’اسباب النزول‘‘ میںوہ صفحہ ۸۳ پر لکھتے ہیں اور کہتے ہیں مشرکوں کے متعلق نہیں۔ یہ آیت جس کے متعلق مقاتل بن حیان نے کہا ہے کہ قبیلہ غطفان کے ایک آدمی کے بارہ میں نازل ہوئی ہے۔ کتنا ظلم ہے ، اتنا عظیم الشان وسیع کلام جو کل عالم کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں تا قیامت جاری رہنے والا کلام ہے۔یہ اپنے شوق میںکہ ہم بتادیں جو دوسروں نے نہیں بتایا کہ اصل بات کیا تھی کیوں نازل ہوئی تھی۔ قبیلہ غطفان کا کوئی آدمی ہے اس کے متعلق یہ آیت اتری تھی۔حضرت امام رازی نے یہ صرف سوال اٹھایا ہے کہ کھانا تو سارے پیٹ میں ڈالتے ہیں تو یاکلون فی بطونھم نارًا کیوں کہا ہے۔ وہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ قرآن کریم کا ایک انداز ہے کسی بات کے مضمون میں شدت پیدا کرناہو اور نمایاں طور پر سامنے لانا ہو تو اس کے پورے فعل کو جس کا بعض لوگ جانتے بھی ہیںیہ ہوتا ہے پوری طرح بیان کردیتا ہے۔ اپنی آنکھوں سے دیکھو گے ، اپنے کانوں سے سنو گے ۔ حالانکہ سنتے کانوں سے ہیں اور آنکھوں سے ہی دیکھتے ہیں، دلوں سے اگر سوچتے ہیں تو التی فی الصدور و ہ دل جو سینوں میں ہیں کون نہیں جانتا کہ دل سینوں میں ہوتے ہیں ۔ تو یہ طرزبیان ایک مضمون کی اہمیت کو واضح کرنے کیلئے اور کھولنے کیلئے ،اس میںشدت پیدا کرنے کیلئے اختیار کی جاتی ہے۔ اس لیے کوئی اس میں قابل اعتراض بات نہیں ہے کہ بطون فرمایا ہے۔ اور بطون کادراصل ایک او رمعنی بھی ہے کہ وہ بات جو چھپائی جائے ، اندر رکھی جائے ۔یہ لوگ جو یتیموں کے مال کھاتے ہیں اور ظلم کرتے ہیں وہ حقیقت میں ظاہریہ تو نہیں کرتے کہ ہم یہ مال کھارہے ہیں۔ وہ بتارہے ہوتے ہیں کہ یہ فلاںغرض سے خرچ کیا جارہا ہے یا فلاں غرض کیلئے خرچ کیا جارہا ہے۔ کہاں ہر ایک کی حساب فہمی دنیا میں کی جاتی ہے۔جنہوں نے ظلم کرناہو وہ ساراعرصہ جتنا عرصہ بھی ملا ہے وہ کھاپی جاتے ہیں یہاں تک کہ یتیموں کیلئے کچھ باقی نہیں بچتا۔ تو ایسے لوگوں کے بطون ہیں جو ناقص ہیں ان کے اندر جو نیتیں کھول رہی ہیں وہ زہریلی اور غلط ہیں ۔ تو فرمایا کہ وہ جو کھاتے ہیں بظاہر ان کے پیٹوں میں جو جاتا ہے وہ ان معنوں میں بطون کیلئے جہنم کا موجب بنے گا کہ انہوں نے اپنے بطون میں جو بد ارادے رکھے ہوئے تھے۔ جو جرم پال رہے تھے اس کی سزا ان کو آگ کی صورت میں وہاں تک پہنچے گی اس وجہ سے لفظ بطون میں یہ معنی بھی آجاتا ہے کہ وہ مخفی باتیں کرتے ہیں او ر مخفی ارادے چونکہ گندے ہیں اس لیے ظاہر پر نہ جائو اللہ ان کے اندرونے پر نظر رکھ کر ان کو وہ سزا دے جو اندرونے تک کو جلا کر رکھ دے گی۔
    اب اسی آیت کو منسوخ کہا گیا ہے پھر ۔( یہ وہی آیت ہے جس کا میں (۔۔۔۔ ذکر کررہا تھا)’’روی انہ نزلت ھذہ الایۃ ثقل ذلک علی الناس فاعترضوا عن مخالطۃ الیتمیٰ بالکلیۃ‘‘۔ یہ عجیب و غریب ایک بات مفسرین نے بیان کی ہے ، جو سوچی نہیں جاسکتی وہ کہتے ہیں کہ اس آیت کے نتیجہ میں بعض لوگوں نے یہ کہا ہے یہ نہیں کہتے کہ یہ حقیقت ہے۔ حضرت امام رازی کہتے ہیں کہ بعض لوگوں نے یہ کہا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ لوگ جو یتیموں کامال کھاتے ہیں اپنے پیٹ میںجہنم کھاتے ہیں، آگ کھاتے ہیں۔ تو لوگ اس آیت سے اتنا ڈر گئے کہ لوگوں نے یتیموں سے ملنا جلنا او رسلام کلام ہی چھوڑ دیا۔ گویا کہ ان کو معلق کی طرح سوسائٹی میں چھوڑ دیا کہ اچھا پھر اگر تم ہمارے لیے جہنم کاموجب بنتے تو پھر ایسی کی تیسی تمہاری۔ ہمیں بولنا ہی نہیں تم سے۔ یہ بالکل جھوٹ ہے اور غلط تصور ہے۔ کسی حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ کا نقشہ کھینچتے ہوئے اس کا کوئی تصور نہیں ہے۔ مسلسل رسول اللہ ﷺ مسلسل لوگوں کو یتامی کے حقوق کی طرف متوجہ فرما رہے تھے۔ انا وکافل الیتیم کھاتین میں اور یتیموں کا خیال رکھنے والا اوران کی کفالت کرنے والا اس طرح ہوں گے۔۔۔۔ کیسے ممکن ہے کہ ایسی سوسائٹی میں وہ منظر ہو کہ یہ آیت نازل ہوئی تو لوگ چھوڑ چھاڑ کر بھاگ گئے سب۔گویا ملتے تھے تو کھانے کی نیت سے ملتے تھے ورنہ ملنے جلنے کا ویسے کوئی شوق نہیں تھا، ارادہ نہیں تھا۔ فرضی باتیں بنا رکھی ہیں جس سے رسول اللہ ﷺ کی سوسائٹی پر داغ لگائے جاتے ہیں۔ یہ بالکل جھوٹ ہے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے اور جب یہ بات کہہ دی تو پھر آگے ناسخ منسوخ بھی اسی سے نکلا ہے ۔ وہ اس طرح نکالتے ہیںایک لمبی عبارت ہے میں اس کا ترجمہ ہے آپ کے سامنے پڑھ کر سنادیتا ہوں ترجمہ یہی ہے نابھاری محسوس کی، آئے اور پھر انہوں نے اختلاط ہی چھوڑ دیا اور کلی احتراز کرنا شروع کردیا۔ یتامی کیلئے مشکل ہوگئی کوئی ان سے نہ بات کرتا تھا نہ ملتاتھا ۔ کس مصیبت میں غریب وہ مبتلاء ہوگئے ۔ تو خداتعالیٰ کا یہ قول نازل ہوا و ان تخالطوھم فاخوانکم اگر تم ان سے خلط ملط کرو تو وہ آخر تمہارے بھائی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس بات کا اتنا یقین ہے جو سوچی تھی کہ گویا اُس آیت نے اِس آیت کو منسوخ کردیا۔ یعنی پہلے اس آیت کا مفہوم خود ہی یہ سمجھ لیا کہ ان سے ملنا جلنا ہی نہیں ہے اورجب یہ نتیجہ نکلا کہ لوگوں نے ملنا جلنا چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے سوچا کہ یہ تو پھر تو زیادتی ہوگی۔ میں تو فائدہ پہنچانا چاہتا تھا، الٹا مصیبت میں ڈال دیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کرکے وہ آیت منسوخ کردی۔ یہ ہے ان کا ناسخ منسوخ کا چکر۔
    حضرت امام رازی بالکل ردّ کرتے ہیں، کہتے ہیں بالکل لغو بات ہے سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔ اور ایک بہت ہی پیاری بات اپنے اس استدلال کے حق میں یہ کہتے ہیں کہ یہ بات دور کی کوڑی لانے کے مترادف ہے کیونکہ یہ آیت ظلم سے روکتی ہے اور یہ منسوخ ہو ہی نہیں سکتی۔ بہت ہی پیارا نکتہ ہے وہ کہتے ہیں باقی بحثیںچھوڑو۔ وہ کلام الٰہی جو ظلم سے روکتا ہے وہ منسوخ ہوسکتا ہے بھلا۔ یہ تو ناممکن ہے تو فرضی باتیں ہیں۔ ناسخ منسوخ کے چکر۔اوراپنی فرضی جو تفسیر تھی اس پر اتنا یقین کرلیا کہ قرآن کومنسوخ کردیا اس کی روح سے۔ کیونکہ دراصل منسوخی کا تصور اس غلط تفسیر سے پیدا ہوا ہے۔ تو تفسیر اپنی کی، بیہودہ، لغو ،غیر فطری اور ناممکن اور محکمات قرآنیہ یعنی وہ جوظلم سے روکنے والی وہ محکم ہیں آیات ان کو اس تفسیر سے منسوخ کرتے پھرتے ہیں۔ اس طرح اگر پانچ سورہ گئی ہیں تویہ بھی غنیمت ہیں ورنہ ان سوچوں سے تو ہزار ہا آیتیں منسوخ ہوجاتیں تو تعجب کی بات نہیں تھی۔ وہ جو آیت ہے میں نے رکھی ہوئی ہے نکال کر لیکن پھر زیادہ انحراف ہوجائے گا مضمون سے اصل بحث سے۔ وہ آیات کس موقع پر نازل ہوئی ہیں اختلاط کرو کن معنوں میں، بھائی کیسے ہو۔ یہ الگ دلچسپ مضمون ہے مگر اس وقت اس کی تفسیر میں جانے کاموقع نہیں ہے۔ (ابن) علامہ آلوسی کہتے ہیں کہ یہ آیت کسی ایک قوم ،کسی ایک مذہب کیلئے خاص نہیں ہے۔خواہ مومن ہو یامشرک ہو یہ بات بالکل درست ہے۔ ہر شخص جو یتامی کے مال چاٹتا ہے وہ اپنے پیٹ میںآگ چاٹتا ہے۔ ایک روایت بیان کرتے ہیں روح المعانی والے کہ رسول اللہ ﷺ نے وہ جو رات تھی اسراء والی رات کو ایک ایسی قوم کودیکھا جن کے ہونٹ -- اونٹ کے ہونٹوں کی طرح ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ان روایات کے حوالے کہیں نہیں دیے گئے ۔ اور بعض روایتیں ایسی ہیں جو اجنبیت رکھتی ہیں اور رسول اللہ ﷺ کے عام ارشادات سے کچھ ہٹی ہوئی معلوم ہوتی ہیں اور بعض ہیں جو اجنبیت کے باوجو اپنے اندر گہرے معانی رکھتی ہیں۔ اس لیے اس فیصلے سے پہلے کہ یہ کس مضمون سے تعلق رکھنے والی آیت ہے اس کی سند کا پیش اوراس کے قابل اعتماد کی بحث اُٹھانا ضروری ہے۔سمجھ گئے ہیں یہ آیت آپ کیا دیں گے وہ سن ہی رہے ہوں گے۔ وہاں ہمارے علماء جو محنت کررہے ہیں، ہماری مدد کررہے ہیں نوٹوں میں وہ اس قسم کی حدیثیں جو پانچ چھ سو سال کے بعد کسی تفسیر میں نمودار ہوتی ہیں جب تک ان کے متعلق یہ نہ بتادیں کہ یہ حدیث سند کے اعتبار سے کیا وقعت رکھتی ہے اور چھ سات سو سال تک کہاں پڑی رہی ہے۔ کیا صحاح ستہ میں یا دوسری اُن مستند کتب میں جو اس سے پہلے گزری ہیں ان میں اس حدیث کو کسی رنگ میں پیش کیا گیا ہے۔ خواہ مختلف الفاظ میں پیش کیا گیا ہو۔ یہ بحث ساتھ آئے گی تو پھر ان حدیثوں پر استدلال شروع ہوسکتا ہے اس کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک اور روایت علامہ سیوطی نے پیش کی ہے وہ بھی اسی نوع کی ہے حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے یہ ۔ اس پر بھی میں سمجھتا ہوں کہ بحث اٹھانے سے پہلے اس کی حیثیت معلوم ہونی چاہیے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اسی مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیںیہ اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ ۳۸پر:-
    ’’جو لوگ ایسے طورسے یتیم کامال کھاتے ہیں جس سے یتیم پر ظلم ہوجائے وہ مال نہیں بلکہ آگ کھاتے ہیں اور آخر جلانے والی آ گ میں ڈالے جائیں گے۔ اب دیکھو خداتعالیٰ نے دیانت اور امانت کے کس قدر پہلو بتائے ۔ سو حقیقی دیانت اور امانت وہی ہے جو ان تمام پہلوئوں کے لحاظ سے ہو اور اگر پوری عقلمندی کو دخل دے کر امانتداری میں تمام پہلوئوں کا لحاظ نہ ہو تو ایسی دیانت اور امانت کئی طور سے چھپی ہوئی خیانتیں اپنے ہمراہ رکھے گی‘‘۔
    یہ جو چھپی ہوئی خیانتوں کا لفظ ہے یہ وہی بطون سے استنباط ہوتا ہے ،بطون میں آگ کھاتے ہیں تو پھر بطون کو سزا ملنی چاہیے اور بطون میں چھپی ہوئی خیانتیں فرماتا ہے اللہ تعالیٰ کہ یہ کئی طور سے چھپی ہوئی ہوتی ہیں جوان کیلئے جہنم کااور آگ کا موجب بن جاتی ہیں لیکن ان کو پتہ نہیں چلتا ۔ اب دیکھو قرآن کریم نے کس باریکی کے ساتھ ان تمام خطرات سے آگاہ فرمایا ہے کوئی پہلو ایسا نہیں چھوڑا جس پر روشنی نہ ڈال دی ہو۔ حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آگ کھاتے ہیں کی حکمت یہ بیان کی ہے کہ ان کو اس دنیا میں بھی ایسا عذاب ملے گا جو ان کو اپنے اموال کے فائدوں سے بھی محروم کردے گا۔ فرماتے ہیں اپنے پیٹوں میں آگ کھاتے ہیں سے مراد یہ ہے کہ جب وہ ان کامال کھاتے ہیں تو ساتھ اپنا مال بھی کھاتے ہیں جائز بھی کھاتے ہیں مگر معدوں کے اندر تو خانے نہیں بنے ہوئے الگ الگ۔ یہ جائز مال کا خانہ ہے یہ ناجائز مال کا خانہ ہے۔ یاد رکھیں وہ کہ وہ ایسا مال کھارہے ہیں جو ان کے دوسرے مال کو بھی جلا کر خاکستر کردے گا اور اس کی منفعت سے بھی ان کو محروم کردے گا۔ پس حرام مال کھانا دوسرے جائز مال کی حیثیت کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ اور اس سے فائدہ اُٹھانے کی بجائے تم اس سے نقصان اُٹھاسکتے ہو۔ حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ واقعتا اس دنیامیں ان لوگوں سے ایسا سلوک ہوگا ۔ یہ مراد ہے کہ ان کی برکتیں اُٹھ جائیں گی ان کے اموال ضائع ہوں گے اور ایک غلط استعمال جس کا حق نہیں تھا اس نے ان اموال کو بھی تباہ کردیا جن پر ان کا حق تھا۔ بہت لطیف نکتہ ہے جو حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اُٹھایا ہے۔ سیصلون سعیرًا پھر بعد کی جو سزا ہے وہ تو ہوگی ہی تو بعد میں جو فرمایا ہے سیصلون سعیرًا اس سے حضرت مصلح موعو درضی اللہ تعالیٰ عنہ نے استنباط فرمایا ہے کہ دو سزائیں ہیں اصل میں۔ ایک وہ سزا ہے جو اس دنیا میں ملے گی اور پھر جہنم کی سزا تو ا س کے علاوہ مقدر ہے ہی۔
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم
    یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین فان کن نسائً فوق اثنتین فلھن ثلثا ما ترک و ان کانت واحدۃً فلھا النصف- ولابویہ لکل واحدٍ منھما السدس مما ترک ان کان لہ ولدٔ فان لم یکن لہ ولدٌ وورثہ ابوہ فلامہ الثلث فان کان لہ اخوۃٌ فلامہ السدس من بعد وصیۃ یوصی بھا اودین۔ اباؤکم و ابناؤکم لا تدرون ایھم اقرب لکم نفعًا فریضۃ من اللہ ان اللہ کان علیمًا حکیمًا-
    یوصیکم اللہ فی اولادکم اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی اولاد کے متعلق وصیت فرماتا ہے ۔ وصیت سے مراد تاکیدی حکم اور تاکیدی نصیحت دونوں ہوتے ہیں۔ وصیت تاکیدی حکم کو بھی کہتے ہیں تاکیدی نصیحت کو بھی۔ اور ایسی نصیحت جس کو اگر نہ مانا جائے تو اس کے نتیجہ میں خدا کی ناراضگی یا اور کئی قسم کی قباحتیں نہ ماننے والے کو درپیش ہونی لازم ہیں اس کو وصیت کہا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کو وصیت کی۔ وفات کے وقت حضرت اسحق علیہ السلام نے اپنی اولاد کو وصیت کی اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی اولاد کو وصیت کی۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے ان نصیحتوں کا ذکر کیاہے۔ تو یہ وہ وصیتیں ہیں جو حکم ان معنوںمیں تو نہیں ہیں کہ ان کو پابند کردیں وہ ان سے باہر نکل کر جانہ سکتے ہوں۔ وصیت ان معنوںمیں ہے کہ ایسی تاکیدی وصیت ہے کہ اگراس سے وہ ہٹیں گے لازماً اپنا نقصان کریں گے اور خدا کی پکڑ کے نیچے آئیں گے۔ تو اسی طرح اللہ تعالیٰ نے جہاں وصیت کا لفظ استعمال فرمایا ہے وہاں دونوں باتیں موجود ہیں۔ حکم بھی ہوسکتا ہے ایسا جس کا ان کو پابند کیا گیا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس حکم کو توڑنے کے نتیجہ میں دنیا کی کوئی سزا نہ بتائی گئی ہو۔ پس کتاب اور وصیت میں ایک فرق ہے جس کو نہ سمجھ کر فقہاء نے بعض دفعہ غلطیاں کی ہیں۔ جو کُتِبَ کا لفظ ہے اس کے تابع جو حکم توڑا جاتا ہے اس کا قرآن کریم میں نقصان ایک سزا کی صورت میں بیان کیا جاتا ہے۔ اور حدود قائم کردی جاتی ہیں۔ مگر جہاں وصیت کا لفظ استعمال ہوا ہے وہاں ویسی حدود کاذکر نہیں ملتا ۔بعض حدود والے واقعات کے متعلق بھی نصیحت کی جاسکتی ہے جس کیلئے وصیت کہیں گے آپ بعض غیر حدود کی باتوں کے متعلق جرائم کے متعلق بھی وصیت کا لفظ استعمال ہوتا ہے لیکن اس کی کوئی سزا مقرر نہیں ہے۔ یعنی ایسی سزا مقرر نہیں جس کو سوسائٹی نے دینا ہے۔ پس حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب یہ وصیت فرمائی جس کا قرآن کریم نے ذکر فرمایا اس وصیت کو قائم رکھا ہے کہ میرے بعد تم لوگ اسی خدا کی عبادت کرنا جو خدائے واحد و یگانہ ہے۔ جس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ نہ کرنے کی صورت میں کوئی حد نہ حضرت ابراہیم نے لگائی ،نہ آج تک قرآن نے لگائی۔ پس جہاں وصیت کا لفظ بہت تاکیدی طور پر موجود ہے اس سے یہ استنباط کرنا کہ ہمیں حق ہوگیا ہے کہ واضح طور پر اللہ کے دیئے ہوئے حق کے بغیر ہی لفظ وصیت سے وہ طاقت حاصل کریں ۔ چونکہ خدا نے فرض کیا ہے اس لیے اگر نہیں کرو گے تو ہم ماریں گے تمہیں ، ہم تمہیں زبردستی ٹھیک کریں گے اور اگر تم اس پر عمل نہیں کرو گے تو ہم عمل زبردستی کروادیں گے۔ یہ نتیجہ نکالنا جائز نہیں ہے اور وصیت میں اگر انسان کرے تو ناجائز بات بھی داخل ہوجاتی ہے ۔ وصیت میں یہ بھی شامل نہیں کہ وہ ضرور ٹھیک بات ہی ہو۔ ہاں اللہ وصیت کرتا ہے تو اچھی بات ہوتی ہے جس کا نتیجہ عمل کی صورت میں اچھا اور ترک عمل کے نتیجہ میں عذاب کی صورت میں نکلتا ہے۔ لیکن انسان جب وصیت کرتا ہے تو اس میں آگے خامیاں پیدا ہوجاتی ہیں اور بعض دفعہ وہ وصیت اس کیلئے نقصان دہ ہے اور خداتعالیٰ باوجود اس کے کہ اپنی وصیت کوزبردستی منواسکتا ہے بعض دفعہ اسی طرح چھوڑ دیتا ہے یہ بتانے کیلئے کہ اس کے بعد تمہارا کام ہے تم چاہو تو کرو نہ کرو۔ مگر نہ کرو گے تو ضرور پکڑے جائو گے ۔ انسانی وصیت اس لحاظ سے بھی بے اختیار ہے۔ وصیت کرجائے کوئی نہ عمل کرے تو اس بیچارے کا کیا اختیار ہے کہ وہ اس کو پکڑے یااس کو سزا دے یا زبردستی اپنی بات کو منوالے بعدمیں۔
    پس یوصیکم اللہ فی اولادکمیہاں یہی مضمون ہے کہ خداتعالیٰ تمہیں تاکیدی طو رپر یہ نصیحت فرمار ہا ہے یا حکم دے رہاہے یہ بھی ترجمہ کیا گیا ہے۔ اپنی اولاد کے بارہ میں اور حکم کیا ہے اس کا عنوان یہ ہے۔ جو پہلا ایک عنوان تھا تقسیم ورثہ کا وہ میں بیان کرچکا ہوں۔ شروع میں آیا تھا تما م ورثے اس رہنما اصول کے تابع تقسیم ہوں گے۔ اب یہ دوسرارہنما اصول جوہے سب سے اوپر لگادیا گیا ہے ۔ اس کے بعد اس کی تفصیل بعد میں آئے گی وہ یہ ہے للذکر مثل حظ الانثیین کہ مرد کو عورت کے مقابل پردو حصے دیئے جائیں گے۔ یہاں میں وہ بحث ضمناً بتاتا ہوں کہ ذکرکو انث کے مقابل یا رجال کو نساء کے مقابل پر حصے دینا یہ مراد نہیں ہے کہ صرف بالغ کو حصہ ملے اور غیر بالغ کو نہیں ملے گا ۔قرآن کریم میں جب رجال اور نساء کو ایک جوڑے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو وہاں عمر کی قید نہیں موجود ہوتی جبکہ محض رجال کی بحث کریں گے۔ عرب تو مردِ میدان مرادہیں محض مرد ہی نہیں بلکہ مرد میدان۔ جیسا کہ رسول کریم ﷺ کے متعلق آتا ہے محمد رسول اللہ والذین معہ وہاں جس قسم کے لوگ آپ کے ساتھ ہیں اورجو سورہ نور میں جن کی تفصیل ملتی ہے آیت نور کے تابع وہاں الرجال فرمایا ہے ان کو۔یہ وہ لوگ ہیں جو رجال ہیں اوراس رجال میں عورتیں بھی شامل ہیں۔ ا س لیے لغوی بحثوں میں پھنسنے والے ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتے جب تک کہ قرآن کریم کے وسیع استعمال پر نظر نہ رکھیں۔ وہاں الرجال سے مراد بہادر لوگ خواہ وہ مرد ہوں یا عورت ہوں۔ اعلیٰ صفات کے حامل لوگ جو غیر معمولی صفات حسنہ ہیں ۔ جو محمد رسو ل اللہ سے حاصل ہوتی ہیں الرجال کو ۔ النساء کو بھی ہوتی ہیں۔ لیکن وہاں ان کو النساء نہیں کہا جائے گا وہاں ان کو الرجال ہی کہا جائے گا ان کے اندر وہ خوبیاں ہیں اور الرجال میں چھوٹے بچے بھی ہوتے ہیں بعض دفعہ۔ جیسا کہ قرآن کریم کی اسی سورہ کے شروع میں فرمایا گیا ہے۔ یایھا الناس ا تقوا ربکم الذی خلقکم من نفسٍ واحدۃٍ و خلق منھا زوجھا و بث منھما رجالاً کثیرًاوّ نسائً اگر رجال سے مراد بالغ مرد ہی لینے ہیں اور نساء سے مراد بالغ عورتیں ہی لینی ہیں تو کیا یہ مائوں کے پیٹوں سے مرد پیدا ہوتے ہیں اور وہ عورتیں پیدا ہوتی ہیں جو بلوغت کے بعد پہنچتی ہیں۔ پس جو آخری صورت ہے جس کے نتیجہ میں آخر میں مرد بھی بنتے ہیں عورتیں بھی بنتی ہیں۔ اس سے پہلے کی منازل کو بھی لفظ رجل اور لفظ نساء سمیٹے ہوئے ہوتا ہے۔ ورنہ یہ ماننا پڑے گا کہ قرآن کریم فرمارہا ہے کہ پہلے تو اس طرح پیدا کرتے تھے پھر ہم نے سیدھا مائوں کے پیٹوں سے داڑھیوں والے مرد پیدا کرنے شروع کردیے اور بالغ عورتیں اپنی جوانی کے ساتھ مائوں کے پیٹوں سے نکلنے لگ گئیں۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ قرآن کریم کے مضامین کے ساتھ مذا ق ہوگا اگر یہ ترجمہ کیا جائے۔پس وہاں الرجال اور النساء مذکر اور مونث ۔ ذکر اور انثیٰ کے معنوںمیں ہے خواہ وہ چھوٹا بچہ ہو خواہ وہ چھوٹی بچی ہو۔
    پس یہاں جو وصیت ہے جو اس سے پہلے شروع میں عنوان باندھا گیا ہے وہاں بھی اور یہاں بھی جو خداتعالیٰ فرماتا ہے میں بتائوں گا للذکر مثل حظ الانثیین ۔ وہاں رجال اور نساء تھا یہاں ذکر اور انثی ہے دونوں ہم معنی ہیں عمر کی کوئی بحث نہیں ہے۔ بچہ ہو یا بچی ہو یہ معنی ہیں لڑکا ہو یا لڑکی ہو۔ چونکہ ورثہ کے وقت مرد بھی ہوسکتے ہیں وہ اور نساء بھی ہوسکتے ہیں بڑی عورتیں بھی ہوسکتے ہیں۔ اس لیے وہ لفظ استعمال کیا جس کی ذیل میں چھوٹے تو آجاتے ہیں مگر وہ لفظ استعمال نہیں کیا جس کی ذیل میں پھر بڑے نہ آسکتے۔ اگر خدا یہ فرماتا کہ بچوں اور بچیوں کو تو مرد اور عورتیں بیچارے کہاں جاتے جو بڑے ہوچکے ہیں۔ پس الرجال ،النساء قرآنی استعمال سے ثابت ہے کہ بعض دفعہ تو رجال عورتوں کیلئے بھی استعمال ہوجاتا ہے مگر جہاں جوڑے کے طور پر استعمال ہو وہاں Maleاور Femaleکے معنے رکھتا ہے ذکر اور انثیٰ کے۔ اس کے متعلق قانون جو یہ ہے مرد کو یعنی بچہ بھی ہو تو اس کواگر وہ اس کا باپ مرتا ہے تو اس کو بھی بچی جس کا باپ مرتا ہے اس کوبھی اس طرح حصہ ملے گا کہ لڑکے کو تو دواور لڑکی کو ایک حصہ۔ فان کن نسائً فوق الثنتین اگر محض لڑکیاں ہوںعورتیں مراد نہیں ہیں اگر محض لڑکیاں ہوں فوق الثنتین دو سے زیادہ فلھن ثلثا ماترکتو ان کے درمیان دو تہائی تقسیم کردیا جائے گا۔ ایک تہائی باقی رہ گیا ہے وہ کیوں چھوڑا گیا۔ کس کیلئے ہے، جس کانام لے کر بتادیا جائے۔ اس کیلئے تو فرض ہوجائے گاجس کابتایا نہ جائے۔ اس کے اوپر وہ آیتیں اطلاق پائیں گے کہ جن کا مال ہے ان کونصیحت ہے کہ غریبوں وغیرہ پر خرچ کرو اور ان کے حقوق بھی رکھو مگر فرض کے طور پر۔ نظام وصیت میں ان کیلئے یہ کہنا کہ فلاں کو زائد کچھ دیں دیں یہ درست نہیں ہے۔ قرآن کا فیصلہ ہے قرآن جس کانام لے گا اس کو لازماً دیا جائے گا، جس کانام نہیں لیتا اس کیلئے وصیت کا معنی ایک نصیحت ہے کہ اپنے اقرباء وغیرہ کا خیال رکھنے کی خاطر اس میں سے خرچ کرسکتے ہو۔لیکن یہاں معین طور پر بتادیاگیا ہے کہ ایک تہائی کیوں چھوڑا گیا ہے۔ دو تہائی کے بعد ایک تہائی کیوں چھوڑا جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بلکہ ایک اور بات کی شرط لگاتا ہے پھر باقی بحث اکٹھی آئے گی۔ فان کن نسائً فوق الثنتین فلھن ثلثا ما ترک۔ اگر عورتیں یعنی لڑکیاں دو سے زائد ہوں تو دو تہائی ان سب پہ برابر تقسیم ہوگا۔ و ان کانت واحدۃً فلھا النصف اگر صرف ایک ہو تو اسے نصف دیا جائے گا۔ولابویہ لکل واحدٍ منھما السدس مما ترک ان کان لہ ولدٌ اور ماں باپ کیلئے اگر ان کی اولاد یعنی اولاد کی صورت بیان ہورہی ہو تو ماں باپ دونوںچھٹا حصہ برابر پائیں گے ، چھٹا چھٹا حصہ۔ ماں کیلئے بھی چھٹا اور باپ کیلئے چھٹا گویا 1/3۔ تو جہاں تک یہ بحث تھی کہ لڑکیوں کو 2/3ملے اور ماں باپ کو 1/3ملے تو 1/3کہاں جائے۔ اگر لڑکیاں ہوں دو سے زائد او رماں باپ ہوں تو حساب بعینہٖ برابر بیٹھ رہاہے۔ 2/3ماں باپ کو مل گیا مگر صرف یہی حسابی الجھن نہیں ہے اور بھی بنتی ہے۔ اگر ایک لڑکی ہواس کو نصف ملے گا باقی ماں باپ اگرہوں تو ان کو1/3مل جائے گا 1/6+1/6باقی ٹکڑا کہاں گیا۔ ایک ٹکڑا بچ جاتا ہے نا۔ جس طرح چوڑی توڑو بیچ میں سے ایک ٹکڑا نکلتا ہے اس طرح یہاں بھی ایک ٹکڑا بچا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔اور اگر لڑکے ہوں اور لڑکیاں ہوں تو پھر تمام فقہاء کہتے ہیں سب کودو اور ایک کی نسبت سے تقسیم کردیا جائے گا۔ مگر اگر ماں باپ زندہ ہوں تو پھر 1/3اس صورت میں ان کو بھی ملے گا صرف لڑکیوں کی صورت میں نہیں۔ تو یہ حساب پھر کیسے پورا ہوگا ۔ اس کا مفہوم یہ بنے گا کہ اگر تو واضح طور پر ایک ٹکڑا ملتا ہے تو پھربرابر بیک وقت تقسیم ممکن ہے کہ 2/3بچیوں کیلئے الگ کرلو اور1/3ماں باپ کو دے دو اور حساب اکٹھا ہوسکتا ہے۔ اگریہ نہ ہواور تم نے دو اور ایک کی نسبت سے تقسیم کرنا ہے تو پہلے وہ حقوق نکالے جائیں گے جو دو اور ایک کی تقسیم کی صورت میں نہیں بچیں گے اگرتم آپس میں پہلے تقسیم کربیٹھو توصرف ماں اور باپ کی بحث نہیں۔
    ایک بنیادی اصول طریق تقسیم کاہمیں بتایا گیا ہے کہ جہاں ماں باپ کے حقوق آپس کی تقسیم کے حکم پر اثر انداز ہوئے بغیر دیئے جاسکتے ہیں وہاں سیدھا کیس ہے تم اس پر عمل کرو۔ جہاں نہیں دیے جاسکتے وہاں حقوق مارے نہیں جاسکتے ۔اس لیے ایسا طریق اختیار کرو کہ نہ تمہاری تقسیم کا نظام اثر انداز ہو اور نہ خدا کا وہ حکم جو دوسروں کے حق میں ہے وہ اثر انداز ہو اور تقسیم ہوسکے اس کی ایک ہی صورت بنتی ہے اور وہ یہ ہے کہ پہلے ان کا حصہ نکالا جائے جن کا معین حصہ قرآن کریم نے پہلے کردیا ہے اور ایک اور دو کا جو معاملہ ہے یہ تناسب ہے حصہ معین نہیں ہے یہ سوچنے والی بات ہے۔ اگر پچاس روپے تقسیم کئے جائیں یا پچاس لاکھ تقسیم کئے جائیں ایک سے زائد ہوں لڑکے اور لڑکیاں تو یہ اصول سب جگہ برابر اطلاق پائے گا اور ایک اور دو کی نسبت سے تقسیم ہوجائے گا وہ اثر انداز ہو ہی نہیں سکتا۔ مگر اگر باپ کو 1/3ملنا ہو تو ماں کو 1/3ملنا ہو تو اگر یہ پہلے سب بانٹ گئے تو ان کو کہاں سے ملے گا۔ اس لیے ان کو پہلے دے دو۔ کل ٹوٹل جائیداد کا 1/3اس طرح تقسیم کردو کہ زندہ باپ کو 1/6اور زندہ ماں کو 1/6۔ یہ مل جائے پھر جو بچتا ہے وہ ایک اور دو کی نسبت سے تقسیم کرلو۔ اس کے علاوہ اس کی چھوڑ ی ہوئی بیوی بھی ہے ، باپ مررہا ہے تو اس کی بیوی ابھی زندہ ہے۔ اس صورت میں ایک تو ہے ناں کہ کوئی شخص فوت ہورہا ہو اس کے ماں باپ زندہ ہیں یہ ایک الگ مضمون ہے بالکل لیکن ایک اور بھی موقع پیدا ہوسکتا ہے کہ ایک شخص فوت ہورہا ہے جس کی جائیداد بچوںمیں تقسیم کرنی ہے اس کے ماں باپ تو زندہ نہیں مگر بیوہ جس کو وہ چھوڑ رہا ہے وہ زندہ ہے یا دو بیوائیں ہیں ان کا کیا کرو گے۔ اگر دو دو اور ایک ایک کرکے بانٹ بیٹھے تو ان کو کہاں سے ملے گا۔ تو پہلے ان کا حصہ نکالو۔ 1/8 یا1/4جو بھی قرآن کے حکم کے مطابق بنتا ہو وہ پہلے نکال دو پھر جو بچتا ہے وہ پھر آپس میں بانٹو۔ تو یہ اس آیت میں جو بعض بظاہر خلاء دکھائی دے رہے ہیں وہ خلاء نہیں ہیں بلکہ غور کریں تو اس سے تقسیمِ اصول کھل کر سامنے آجاتا ہے۔ اگر اس کو نہیںکریں گے تو آیت کا مضمون اطلاق پائے گا ہی نہیں۔ یہ لگے کی تب جب آپ ان اصولوں کی پیروی کریں گے جو اس میں مضمر ہیں جو موجود ہیں صرف غور کرنے سے نکلیں گے۔
    اب ایک حصہ صرف باقی رہ گیا کہ آدھا اور ……باقی۔ اب آدھے میں سے جو باقی ہے اس میں یہ تو ممکن ہے کہ ماںاور باپ کو 1/3دے دیا جائے لیکن پھر بھی ایک ٹکڑا بچ جاتا ہے۔وہ کس مصرف میں آئے گا اس کے متعلق فقہاء کی رائے اس قسم کی ہے کہ وہ جو ذوالفروض اور عصبات ہیں اور ذوالارحام ہیں اور بھی اصطلاحیں ہیں وہ بھی ہیں نا جو کیا کہتے ہیں اس کو علاتی بھائی اخیافی بھائی اوربہت ساری انہوں نے اصطلاحیں بنائی ہوئی ہیں وہ پھر ان میں وہ بانٹنا شروع کرتے ہیں اور ایک کے بعد دوسرے تیسرے اور چوتھے وہ نہ ہوں توفلاں کو ملے گا۔لیکن یہ نہیں مانتے کہ یہ ممکن ہے کہ آدھا دینے کے بعد اگر وہ وارث نہ ہوں جن کا قرآن نے ذکرکردیا ہے جو اوّل طور پر ماں باپ ہیں تو یہ اس کی طرف لوٹ سکتا ہے۔ یہ بات وہ نہیں مانتے اور نہ ماننے کے نتیجہ میں عجیب و غریب تضادات پیدا ہوجاتے ہیں ۔ جیسا کہ میں نے کل کی بحث میں بعض تضادات آپ کے سامنے رکھے تھے مگر اب ہمارا وقت کے ساتھ جھگڑا شروع ہوگیا ہے(کتنے منٹ) سات منٹ اوپر ہوگئے ہیں۔ آپ نے بتایا ہی نہیں۔ باقی انشاء اللہ کل۔ اس میں کافی بحثیں ہیں جو ورثہ سے تعلق والی موجود ہیں وہ انشاء اللہ باقی کل کریں گے۔
    إإإ

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    درس القرآن ماہ رمضان
    مورخہ18؍رمضان بمطابق8؍ فروری 1996ء
    (اس کے شروع کے سترہ منٹ مواصلاتی سیارے سے رابطہ نہیں ہوسکا تھا۔)
    جس حد تک نفاذ کا حکم دیا ہے اس سے بڑھ کر وہ شریعت نافذ نہیں کرسکتے۔ ۔ شریعت تو نافذ ہے سب پر جب فرمایا کتاب ہے یہ۔ ہر ایک پر فرض ہے کون روک رہا ہے تمہیں عمل کرنے سے۔ تم سارے مجبور ہو خدا کے نزدیک ضرور اس پر عمل کرو اس کی باریکیوں پر بھی عمل کرو۔ جہاں سزائوں کا مضمون ہوگا وہاں یہی شریعت ۔ یہ بھی کہے گی لٓا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِکہ دین کے معاملات میں ایک دوسرے کوزبردستی ٹھونسا نہیں جاسکتا ایک دوسرے پر۔ پھر کیا طریق رہ گیا ہے۔ عدل کے لفظ نے سب ضرورتیں پوری کردیں ۔ فرمایا:قانون سازی کرولیکن عدل کے تقاضوں کو چھوڑ کر نہیں کرنے دیں گے تمہیں۔ یہ نہیں کہہ سکتے تم کہ اسلام نے مسلمانوں کیلئے زیادہ حق رکھا ہے اور دوسروں کیلئے کم حق رکھا ہے اس لیے ہم قانون بناتے ہیں کہ مسلمانوں کو یہ حق دیا جائے گا غیر مسلموں کو یہ حق۔ یہ عدل سے ٹکرا رہا ہے اور عدل کا مضمون اتنا قطعی‘ اتنا محکم‘ اتنابالا ہے کہ ہر دوسرے اصول پر اس کا تبر چلے گا۔ جہاں بھی کوئی اصول تفصیلی طور پر عدل کے مضمون سے ٹکرائے گا وہاں عدل زندہ رہے گا ‘قائم رہے گا اور غیر عادلانہ چیز ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی۔ اس اصول کے تابع مسلمان حکومتیں قانون سازی کریں تو لفظ کتاب میںجہاں تک ممکن ہے اس کی پیروی کرکے منصفانہ قانون جاری کرسکتے ہیں جو سب پر برابر ہواس سے کم درجے پر نہیں۔
    جہاں تک شریعت کاتعلق ہے وہ تو فرض خدانے کردی ہے۔ تمہیںکون روک رہا ہے نمازیں پڑھنے سے، تمہیںکون روکتا ہے عدالتوں میں سچ بولنے سے ‘ تمہیں کون روکتا ہے بچوں کے مال غصب نہ کرنے سے‘ تمہیں کون روکتا ہے چوری، ڈاکے، لفنگ بازی، بے حیائیاں کرنے سے رک جانے سے۔ یہ تو سارے کتاب میں مضامین ہیں۔ ان کیلئے کسی حکومت کا قانون تو ضروری نہیں ہے۔ خدا نے فرمادیا شروع کردو ۔ کیا انتظار کررہے ہیں مولوی کہ جب حکومت پاکستان کہے گی تب قرآن مانیں گے اس کے بغیر نہیں مانیں گے۔ قرآن کا حکم تو جاری و ساری ہے۔ ماننے والے تیار کریں۔ (یہ ہے اور) اس سے وہ بہکتے اور ڈرتے ہیں اور گھبراتے ہیں کیونکہ یہ محنت کا کام ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺنے کتاب کے حکم کو کتاب کی صورت میں جاری کرنے میں محنت فرمائی ہے اور اُن لوگوں پر یہ جاری فرمایا ہے جنہوں نے کتاب کے دائرے میں آنے کیلئے از خود طوعی طور پر اپنے آپ کو پیش کردیا ۔ وہ جو کتاب کے دائرے میں آگئے پھر ان کیلئے کسی قانون سازی کی ضرورت نہ رہی، نہ علیحدہ قانون سازی کی گئی، نہ آپ ﷺکے زمانے میں نہ خلفاء کے زمانے میں۔ یہ کتاب ہی کتاب ہے اور از خود وہ اس باریکی سے اس پر عمل کرنے لگے کہ کسی قانون سازی کے محتاج بھی نہیں تھے ہاں حدود کے معاملہ میں ایک الگ مسئلہ ہے جو میں پہلے بیان کرچکا ہوں۔ تو شریعت کا نفاذ ہوچکا ہے۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں جو قرآن میں ہیں اور جو ں جوں نازل ہوتی چلی گئیں شریعت کا قانون جاری ہوتا رہا اور نافذ بھی ہوتا رہا مگر ان لوگوں پر جنہوں نے اس کو تسلیم کیا ۔ اور پھر جب یہ مکمل ہوگئی تو پھر یہ حکم آگیا اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاآج کے دن میں نے مکمل کردیا ہے دین تمہارے لئے یعنی رستہ جس پر چلنا ہے اور نعمت کو تمام کردیا ہے اور ہمیشہ کیلئے اسلام مذہب کے طور پر تمہارے لیے میں راضی ہوگیاہوں۔ شریعت تو نافذبھی ہوگئی جاری بھی ہوگئی چودہ سو سال پہلے، ان کو خبر بھی نہیں ہوئی کہ شریعت کا نفاذ ہوچکا ہے، کون روک رہا ہے تمہیں۔ یعنی نمازیں تب پڑھو گے جب ڈنڈے مارے جائیں گے، روزے تب رکھو گے اگر کمروں میں بند کیا جائے گا اور پانی کی بوند تک کیلئے ترسایا جائے گا۔ حقوق غصب کرنے سے تب باز آئو گے جب کہ جوتیاں پڑیں گی سر پر۔ یہ کون سی شریعت ہے۔ یہ شریعت اگر نافذ بھی ہوئی تو شریعت نہیں ہے کیونکہ لااِکراہ فی الدین ۔ جہاں جبر کے تابع شریعت پر عمل ہوا وہاں شریعت ہی اٹھ گئی۔ تو شریعت کے صفحۂ ہستی سے اٹھانے کے پروگرام کیوں بنارہے ہو۔ جب پاکستان میں قرآن کی شریعت نازل ہونے کے باوجود نافذ نہیںہورہی تو یہ کوشش کرو کہ نافذ ہو اور اس کیلئے محنت کرنی ہوگی، گلی گلی دستک دینی ہوگی، دروازے کھٹکھٹانے ہوں گے، لوگوں کو کہنا ہوگا کہ دیکھو یہ شریعت ہے تم کس قانون کا انتظار کررہے ہو۔ بجائے اس کے کہ قانون سازی کے ذریعے شریعت کو نافذ کرنے کی خاطر تم ایک ایسی جدوجہد کرو جس کے نتیجے میں طاقت تمہاری طرف منتقل ہو۔ اس صورت میں جو شریعت نافذ ہوگی شریعت کی رُو سے شریعت ہے ہی نہیں اور اس صورت میں دراصل تم خدائی کے اختیارات اپنے ہاتھ میںلو گے اور جمہوریت کے بھی لو گے اور جمہوریت سے بڑ ھ کر خدائی کے لو گے۔ کیونکہ جمہوریت میں تو انسان عام انسانی عدل سے جب بھی ہٹتا ہے وہ تنقید کے نیچے آتا ہے کیونکہ عدل کا مضمون ایسا نہیں ہے جو مشتبہ ہو کسی پر کھل گیا ہوکسی پر نہ کھلاہو۔ بالعموم موٹے معاملات میں کھلے معاملات میں عدل تو ایک مسلّمہ سمجھا ہوا معاملہ ہے۔ ایک ایسا مضمون ہے جس میں کسی ہیچ پیچ کی کوئی بات ہی نہیں ہے۔ باریکیوں میںجاکر پھر عدل میں فرق پڑتے ہیں وہ ایک الگ مسئلہ ہے۔ لیکن عدل کا جہاں تک تعلق ہے جب بھی تم یعنی ویسے علماء وہ علماء جو شریعت کے نام پر مہمیں چلاتے ہیں، جب بھی وہ حکومت میں آتے ہیں پھر اپنے فتوے دیتے ہیں جن فتووں سے دوسرے مسلمانوں کو اختلاف ہو سکتا ہے۔ اب وہ بھی شریعت پر عمل کرنے والے ہیں جو شریعت کا ایک معنیٰ سمجھ رہے ہیں ، وہ بھی شریعت پر عمل کروانے والے ہیں جو شریعت کادوسرا معنیٰ سمجھ رہے ہیںاور قانون جب ہاتھ میں لے لیں گے تو ان کو بالا دستی ہوجائے گی شریعت کی ہر دوسری فہم پر۔ ان کی فہم کو بالا دستی ہوجائیگی اور قانون کے ذریعے سے وہ آج شریعت کو (ایک سمجھ کر) ایک چیز سمجھ کر جو رو ستم کریں گے ، ظلم کی راہ اختیار کرتے ہوئے بعض لوگوں کی مرضی کے خلاف ان کی فہم کے خلاف بعض فتوے جاری کردیں گے اور ہوسکتا ہے کہ کل کی علماء کی کھیپ ایک ایسی نکلے جو تم لوگوں پر لعنتیں ڈالے اور کہے کہ تم نے غلط شریعت سمجھی تھی غلط خون بہایا ۔تو دیکھو کتنا فساد ہوجاتا ہے اگر غیروں سے تودرکنار اپنی سوسائٹی سے ان لوگوں سے بھی عدل ممکن نہیں رہتا جو شریعت کو مانے ہوئے ہیں۔ یہ مثال خلق قرآن کی صورت میں ہمارے سامنے بڑی بھیانک طور پر پیش ہوئی ۔ بعض بادشاہوں نے مسلمان بادشاہوں نے (بنو امیہ کے یہ بنو امیہ کے آخری بادشاہ تھے غالباً) عباسی کے، عباسی ہاں وہ ٹھیک ہے تو ہارون اور مامون، ٹھیک ہے۔یہ عباسی بادشاہ تھے ہارون اور مامون جن کے زمانے میں یہ بحث اٹھی ہے او رایک وقت میں یہ فیصلہ ہوا کہ قرآن کو مخلوق ماننا کہ تخلیق کیا گیا ہے یہ ایسا بڑا جرم ہے کہ اس کے نتیجے میں زندگی سلب کرنے کا حکم ہے، قتل کردینے کا حکم ہے، قتل و غارت کرو ،ان کے گھر جلا دو، ان کو برباد کردو، یہ زندہ رہنے کا حق ہی نہیں رکھتے۔ جو قرآن کو مخلوق سمجھتے ہیں۔ اب یہاں کون سا لفظ کتاب کا تھا جس سے انہوں نے رہنمائی حاصل کی۔ کتاب کو عموماً سمجھا اور جو اپنا عقیدہ خداتعالیٰ کے متعلق اور اس کی تخلیق کے متعلق سمجھا اسے شریعت کا ایسا بنیادی حصہ قرار دے دیا کہ اس کے نتیجے میں اگر وہ نہ کریں تو زندگی سلب، زندہ رہنے کا حق ختم اور خوب مارا اور خوب جلایا لوگوں کو۔ (اور اگلی) اگلے دور میں اس کے بھائی خلیفہ نے یا خود اس نے ہی بعد میں خیالات بدل لئے اپنے کہ ’’اوہ ہو‘‘ یہ تو غلطی ہوگئی۔ مارنا دوسروں کو چاہیے تھا اس لیے ڈنڈے اٹھاکر اور تلواریں سونت کے ان کے پیچھے پڑ گئے جن کے حق میں دوسروں کو جلایا گیا تھا اور ان کی قتل و غارت کا حکم جاری ہوگیا۔ یہ شریعت ہے، یہ کیسا عدل ہے۔
    پس لفظِ کتاب کا بہانہ رکھ کر یا لفظِ وصیّت کا بہانہ رکھ کر یا لفظِ فریضہ کا بہانہ رکھ کر انسان خدائی اختیار اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا۔ جہاں لے گا وہ خدا کی دشمنی کرنے والا ہوگا۔ شریعت کے حقوق کو تلف کرنے والا ہوگا اور بنیادی اصول وہی ہے جو کار فرما اور بالا ہے کہ عدل سے کام لو اور عدل سب سے اوپر ہے (شریعت کے ، کتاب کے لفظ کی بعض مثالیں۔ یہ کون سی ہیں۔ وہاں وصیّت کی۔ نکال دی ہیں) ۔ وصیّت کی کل بات ہورہی تھی۔ پہلے اس کا میں آیات کے حوالے سے مضمون سمجھادوں۔ قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبّکُم علیکم اَلاَّ تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئًا۔ تو کہہ دے آئو ۔ میں تمہیں بتائوں کہ تمہارے رب نے تم پر کیا حرام کردیا ہے اَلَّا تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئًاکہ اس کا کوئی شریک نہ ٹھہرائو وَبِالوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا یہ مراد نہیں ہے کہ والدین پر احسان حرام کردیا ہے بلکہ یہ بھی بنیادی فرائض میں سے ہے کہ والدین سے احسان کا سلوک کرو۔ اس کی ترکیب وغیرہ کیا ہے میں ترجمے کے دوران بیان کرچکا ہوں اس کو دہرانے کی ضرورت نہیں یعنی ترجمے کی جو الگ کلاس جاری ہے اُس میں مَیں اس آیت کو تفصیل سے زیر بحث لاچکا ہوں وَلَا تَقْتُلُوْا اَوْلَادَکُمْ مِّنْ اِمْلَاق اور اپنی اولاد کو رزق کی کمی کے خطرے سے قتل نہ کرو۔ نَحْنُ نَرْزُقُکُمْ وَ اِیَّاھُمْ ہم تمہیں رزق دیتے ہیں اور اُن کو بھی وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ اور فواحش کے قریب تک نہ پھٹکو خواہ وہ ظاہری ہوں یا باطنی ہوں وَلَا تَقْتُلُوْا النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقّ اور کسی ایسی جان کو قتل نہ کرو جس کا قتل خداتعالیٰ نے حق کے سوا حرام قرار دے دیا ہو۔یہ ما حرم کے بعد پھر حرم کے لفظ کی تفصیل ہے وَلَا تَقْتُلُوْا النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقّ یعنی جہاں خدا نے حق دیے ہیں وہاں اجازت ورنہ نہیں۔ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ اس کی تمہیں اللہ تعالیٰ وصیت کرتا ہے تاکہ تم عقل کرو۔ اب وَصّٰکُمْ کے تابع یہ ساری آیات سارے مضامین آگئے۔ جن میں کچھ ایسے ہیں جن میں انسان کو کوئی حق نہیں ہے۔ مثلاً والدین سے احسان زبردستی کس طرح کروائیں گے۔ حالانکہ جو اول دو حکم ہیں جو سب سے بالا رکھے گئے ہیں وہ یہ ہے کہ خدا کے شریک نہیں ٹھہرانا اور والدین سے ضرور احسان کا سلوک کرنا ہے۔ اس کے بعد جو باقی مضامین ہیں وہ نیچے ذیل میںآتے ہیں۔ ان میں سے سوائے قتل والے حصے کے باقی کسی پر انسان کو اختیار نہیں۔ تو یہ بھی درست نہیں۔ کل میں نے غالباًیہ تاثر دیا تھا کہ وصّٰی کے تابع کوئی ایسے احکام نہیں آتے جن پر انسان کو جبراً نافذ کرنے کا حق ہو لیکن بات تو وہی ہے مگر ایک فرق کے ساتھ یہ کہنی چاہیے تھی کہ جہاں دخل اندازی کا حق خدا نے الگ دیا ہے ایسے بعض امور وَصّٰیکے تابع ہی بیان ہوئے ہیں اور کتاب کے تابع تو سارے امور آگئے جو قرآن کے اندر ہیں۔ مال الیتیم کے کھانے کا جو حکم ہے وہ بھی اسی میں آگیا ہے اور اس میں بھی کسی انسان کو دخل کی واضح طور پر گنجائش نہیں ہے یا اس کو توفیق نہیں ہے کہ وہ اس میں دخل دے سکے کیونکہ اس باریک احسان کو یا انصاف کو سوسائٹی قائم نہیں کرسکتی جو روز مرہ گھروں میں چلتا ہے۔ لاَ نُکَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا ج وَاِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَلَوْ کَانَ ذَا قُرْبٰی یہ پھر آگے مضمون لمبا ہوجائے گا (آخر پہ پھر وصیّت کہاں آئی ہے)۔ اب یہ دو آیتیں ہیںجن میں پھر وصیّت کا لفظ آتا ہے۔ وَاِذَا ظَلَمُوا فَاعْدِلُوْا وَلَوْ کَانَ ذَا قُرْبٰی وَ بِعَھْدِ اللّٰہِ اَوْفُوْا ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ۔ جب تم بات کرو عدل سے بات کرو وَلَوْ کَانَ ذَا قُرْبٰیخواہ اپنے عزیز قریبی کے خلاف ہی فیصلہ دینا پڑے۔ اب اس میں بھی ایسی بات ہے جس پہ انسان قدرت نہیں رکھتا کہ اسے زبردستی نافذ کرسکے وَبِعَھْدِاللّٰہِ اَوْفُوْا۔ اللہ کے عہد کو ضرور پورا کرو۔ ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ یہ ہے وہ جس کی خدانے تمہیں نصیحت فرمائی ہے یا وصیّت فرمائی ہے تاکیدی حکم دیا ہے تا کہ تم نصیحت پکڑو۔ وَ أَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا اور یہ بات خدا نے گویا لکھ رکھی ہے وصیّت کی بنیادی بات یہ ہے کہ اس سیدھے رستے کو پکڑلو فَاتَّبِعُوْہٗ اور اس کی پیروی کرو۔ وَلَا تَتَّبِعُوْا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ۔ پس تمام کتاب پر عمل کی نصیحت وصیّت میں آگئی۔ بالکل کھل گئی ہے۔ أَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًایہ صراط مستقیم ہے۔ اس کے متعلق احکامات تو جاری ہوئے ہیں کتاب کے تابع لیکن ان پر عمل کرنے کی تاکیدی نصیحت خداتعالیٰ نے دی ہے جبکہ بہت سے اُن میں سے ایسے ہیں جن پرعمل نہ کرنے کے نتیجے میں خدا بعض دفعہ اِس دنیا میں اور بعض دفعہ اُس دنیامیں بعض دفعہ دونوں جگہ عذاب دینے کا معاملہ اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے اور انسان کو اجازت نہیں دیتا۔ آج آپ نے سارا معاملہ کَتَبَ پہ ہی لگادینا ہے۔ وہ آیات نکالی گئی ہیں جن میںلفظ کَتَبَ استعمال ہوا ہے تاکہ معاملہ اور کھل جائے ۔
    اب چونکہ وصیّت کے معاملے میں بھی تفصیلی بحثیں ہورہی ہیں ، احکامات کے بارے میں ہورہی ہیں تو جماعت کی تعلیم و تربیت کیلئے اگر اس درس میںکچھ زائد باتیں بھی داخل کردی جائیں جو براہ راست اس آیت سے تعلق نہیں رکھتیں بلکہ اور آیات سے تعلق رکھتی ہیں مگر مضمون ایسا ہے جو سب آیا ت پر اصل میں حاوی ہے۔کتاب اور وصیّت کا مضمون جیسا کہ ثابت ہوا ہے تمام آیات سے تعلق رکھتا ہے۔ تو اگر سمجھ لیا جائے اور سمجھادیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ کَتَبَ کی لغت کی (تفسیری) بحث یہ ہے ۔ کَتَبَ کا معنی ’’لکھ دیا‘‘۔ یَکْتُبُ کَتْبًا و کِتَابًا وَ کِتَابَۃً کِتَابَۃَ الکِتَاب: خَطَّہٗ کوئی عبارت تحریر کی۔ کَتَّبَہٗ: اسے لکھنا سکھایا۔ کَتَبَ الْقِرْبَۃَ: شَدَّھَا بِالْوِقَائ: مشکیزے کا منہ باندھا۔ کَتَبَ اللّٰہُ الشیَٔ: قضاہ وَ اَوْجَبَہٗ وَ فَرَضَہٗ ۔ اللہ نے کسی چیز کا فیصلہ کیا ۔ وہ واجب کردی ، وہ فرض کردی۔ کُتِبَ علیکم الصیّام کی مثال دی گئی ہے۔ کَتَّبَ الکتائِبَ وَ حَبَّھَا کَتِیْبَۃً کَتِیْبَۃًاس نے دستوں کو ایک ایک کرکے تیار کیا یعنی کاغذ ورق لے لے کے ان کو جوڑا اور ایک کتاب کی صورت میں یہ جو جلد ساز کرتے ہیں اس کیلئے لفظ کَتَّبَکا استعمال ہوتا ہے۔ کَتَّبُوْا: تَجَمَّعُوْا۔ تَکَتَّبُوْا: تَجَمَّعُوْا۔ اس کا مطلب ہے کہ لشکر اکٹھا ہوا۔ جیش اکٹھا ہوا یعنی’’ دستہ دستہ‘‘ فوج کیلئے بھی ’’دستوں ‘‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ فوجی ایک جگہ جمع ہوئے اس کیلئے تَکَتَّبُوْا کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اَلْکِتَابُ: اَلصُّحُفُ جمع شدہ تحریریں۔الرِسالۃ یعنی خط کو بھی کتاب کہتے ہیں۔ القُرْاٰن أَلْإِنْجِیْل التَّوْرَاۃ الحُکم اَلأْجل اَلْقَدْر۔ یعنی کتابوں کے ، سب کتابیں کتاب الکتاب کہلاتی ہیں جو الٰہی کتابیں ہوں۔ اور موت اور مدت کیلئے بھی ’أجل‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے یہ بھی کتاب کے اندر آجاتا ہے کیونکہ یہ مدّت اور موت لکھی گئی چیزیں ہیں مراد ہے۔ اَلْقَدر قضاء و قدر کو بھی۔ کَتَبَ کتاب کہا جاتا ہے۔ اور اِکْتَتَبَ بَطْنُہٗ اس کا پیٹ رک گیا مطلب ہے نفخ ہوگیا چلتا نہیں۔ اس کیلئے بھی لفظ اِکْتَتَباستعمال ہوا ہے۔ یہ کیسے ہوا۔ کیوں جی؟ باب افتعال ہے تو تحریر جو ہے وہ اپنے اوپر ہی سمٹ جائے اس کو بھی اِکْتِتَاب کہیں گے۔ گچھّا گچھّا ہوجانے کے معنوں میں ہوگا پھر۔ صحیفے کھول کھول کے الگ کرتے ہیں اس کو کتابت کہتے ہیں کَتَبَ یا کَتَّبَ شاید یہ معنی ہو کہ پیٹ گچھّا گچھّا ہوگیا اپنے اوپر ہی لیٹ گیا۔ الکتاب کُلُّ کتاب یُعْتَقد أنَّہٗ(یہ تو ) یہ بات تھی لغت کی۔ یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ علیکم القصاصُ فِی القَتْلٰییہ بہت اہم آیت ہے۔ یہاں قصاص کو فرض فرمایا گیا ہے لفظ کتاب کے نیچے۔ اور یہ آیت ایسی ہے جو غالباً میں اس سے پہلے بیان کرچکا ہوں درس کے دوران ۔ (کیوں جی) ہاں ہاں۔ یہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ پہلے درسوں میں آغاز میں اس پر تفصیلی بحث ہوگئی تھی کہ قصاص کس کو کہتے ہیں اور کیا مراد ہے یہاں۔ کُتِبَ عَلَیْکُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ المَوْتُ اِنْ تَرَکَ خَیْرَنِ الْوَصِیَّۃُ لِلْوَالِدَیْن یہ وہ آیت ہے جو موجودہ زیر نظر آیت کے تعلق میں اکثر فقہاء نے بیان کی۔ اکثر فقہاء نے بھی بیان کی یا مفسرین نے بھی بیان کی اور اس کو اٹھا کر اس کے مضمون کو زیر نظر وصیّت کے مقابل پر رکھ کر یہ فیصلہ کرنے کی کوشش کی کہ اس کی کیا حیثیت ہے۔ اور جہاں تک فرضیت کا تعلق ہے اس سے زیادہ لفظ استعمال ہو نہیں سکتا کہ کُتِبَ کے ذریعے فرمایا گیا۔ یہ فرض ہے ۔ کیا فرض ہے اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ المَوْتُکہ جب تم پر کسی کے پاس موت آئے اِنْ تَرَکَ خَیْرًا اگر وہ کچھ مال چھوڑنے والا ہو ۔ مال چھوڑا ہو سے مراد ہے اس نے اس کا کچھ مال ایسا ہو جوچھوڑا جانے وا لا ہو۔ َنِالْوَصِیَّۃُ لِلْوَالِدَیْن وصیّت فرض ہے والدین کے حق میں والاقربین اور اقرباء کے حق میں بالمعروف معروف طریق پر حقًا علی المتقین یہ متقیوں پر حق ہے۔ اب لفظ متقی کہہ کر حق جو فرمایا گیا اس سے کئی امکانات پیدا ہوجاتے ہیں اور وصیت جب خدا نے مقر ر کردی تو پھر اس آیت کا کیا مطلب ہے کہ وصیت فرض ہے ۔ یہ جو بحث ہے اس پر مفسرین نے بھی اور فقہاء نے بھی بڑی لمبی چوڑی بحثیں اٹھائی ہیں۔ بعضوں نے ناسخ منسوخ کا مسئلہ اٹھالیا کہ اس آیت کو وصیت کی تفصیلی آیت نے منسوخ کردیا۔ یعنی یہ آیت پہلے نازل ہوئی ہے وصیت والی آیت بعد میں نازل ہوئی ہے اُس نے اِس آیت کو منسوخ کردیا ۔ اِس ضمن میں مَیں پہلے بیان کرچکا ہوں کہ کوئی ناسخ منسوخ قرآن کریم میں نہیں ہے۔ ہاں یہ آیت وصیّت کی اُس تفصیلی آیت سے پہلے نازل ہوئی ہے۔ تو جیسا کہ قرآن کریم کا طریق ہے۔ بعض مضامین کو تدریجاً کھولتا ہے اور سوسائٹی کو تربیت دیتا ہے ایک تعلیم کو قبول کرنے کیلئے اور زور دے کر جب وہ ذہنی اور قلبی اور عملی طور پر تیار ہوجاتے ہیں تو پھر زیادہ تفصیلی قطعی تعلیم بعد میں آتی ہے۔
    پس یہ وہ عمومی تیاری تھی جو اس وصیت کی تفصیلی آیت سے پہلے نازل ہوچکی تھی اور اس میں لفظ معروف بتارہا ہے کہ جب تک وہ آیت نازل نہیں ہوئی معروف ہی پرانحصار تھا مگر معروف پر انحصار کو کیا اگلی تعلیم نے منسوخ کردیا ہے؟ اور اب اس کی ضرورت نہیں رہی یہ بحث ہے۔ میرے نزدیک اس کی ضرورت لازماً رہتی ہے کیونکہ یہ آیت جو ہے معروف کے تابع مختلف معنے اختیار کرتی ہے۔ جب وہ آیت نازل نہیںہوئی تھی تو معروف کا معنی یہ ہوگا عرف عام میں جو معلوم ہے وصیت کیا ہونی چاہیے اس کے مطابق جو رواجات ہیں جو اچھی چیزیں انسان کو معلوم ہوتی ہیں اس کے مطابق کرو۔ جب وہ آیت نازل ہوگئی تو بالمعروف سے مراد اس آیت کے مضمون کو پیش نظر رکھووہی معروف ہے اور اس کے مطابق وصیت کرو۔ وصیت کیوں کرو اس لئے کہ از خود وہ وصیت ہر جگہ نافذ نہیں ہوسکتی اور بعض لوگ اس وصیت کے خلاف بھی وصیت کردیتے ہیں ۔ اس آیت سے یہ استنباط ہوتا ہے کہ اگر ایسا کریں تو پھر ان کا گناہ ہوگا اور یہ بحث اٹھے گی کہ سوسائٹی اس کے باوجود جبراً اس وصیت کونافذ کرسکتی ہے کہ نہیں۔ لیکن قرآن کریم نے جہاں تک وصیت کا مضمون بیان فرمایا ہے ذاتی طور پر میں یہ سمجھتا ہوں کہ سوسائٹی کو جبراً وصیتوں کو ٹھیک کرنے کا حکم نہیں ہے۔ مگر اگر کوئی وصیت کا قانون کسی ملک میں یا کسی معاشرے میں یا جماعت میں بحیثیت جماعت ، بحیثیت ملک قبول کرلیا گیا ہو تو پھر جس کے حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے اس کا فرض ہے کہ وہ عدالت میں قضاء میں یا نظامِ جماعت کے سامنے اپنے معاملات پیش کرکے اس حوالے سے اپنا حق چاہے کہ چونکہ آپ نے ایک معاشرے کیلئے تمام کیلئے اس اصول کو تسلیم کرلیا ہے اس لئے اس پر عمل نہیں ہورہا تو فلاںجگہ اس پر عمل کروائیں۔ یہ ایک دوسرا پہلو ہے تضاد کوئی نہیں ہے۔ مگر بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں وصیت کے بغیر بات چلے گی ہی نہیں۔ اس لئے متقین کی بات چھیڑ ی گئی ہے کہ تقویٰ اختیار کرو یہ نہ سمجھو کہ بعض قوانین تمہارے تمہیں پورا اختیار دیتے ہیں اور اسلامی شریعت کو نافذ کرنے کا اشارہ بھی نہیں کرتے۔ تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہیے کیونکہ ایسی صورت میں اگر تمہیں معروف کے مطابق یعنی اِن معنوں میں کہ جب خداتعالیٰ کی تعلیم واضح ہوچکی ہے، کھل چکی ہے ، معاشرے کا حصہ بن گئی ہے تو رواج معروف نہیں رہا بلکہ وہ تعلیم معروف ہوچکی ہے اس کے مطابق اگر تم وصیت نہیں کرو گے تو اللہ سے ڈرو کیونکہ اس کے ہاں جواب دہی ہوگی۔ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَام کی بات ہوچکی ہے ۔ صیام میں بھی لفظ کُتُب استعمال ہوا ہے لیکن انسان کو اختیار نہیں ہے سزائیںدینے کا۔ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَھُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ قتال فرض ہے حالانکہ بہت ہی اہم فریضہ ہے۔ لفظ کتاب کے تابع ہے مگر ایک بھی ایسا واقعہ نہیں کہ بعض مسلمانوں نے فریضۂ قتال نہیںکیا۔ ادا نہیں کیا اور رسول اللہ ﷺ نے ان کے قتل کا فیصلہ کیا ہو اُن کو قومی غدار قرار دے کر کُتِبَ کا عذر رکھ کر اُن کی جائیدادیں غصب کی ہوں ، ضبط کی ہوں وغیرہ وغیرہ۔ جو واقعات قرآن میں محفوظ ہیں اُن سے صاف ثابت ہے کہ آنحضور ﷺ نے اجتماعی ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا ہے ،سوشل دبائو ڈالا گیا ہے، مقاطعہ کیا ہے اور قطع تعلقی اختیار کی ہے لیکن ان کے بنیادی انسانی حقوق سے اُن کو نہیںروکا اور وہ اپنے اموال پر اُسی طرح قابض رہے اپنے گھروں میں اسی طرح رہتے رہے، بیویاں ان کے ساتھ رہتی رہیں اور ان کو یہ نہیںکہا گیا کہ تم گھر سے نکل جائو تمہارا اب کوئی حق نہیں رہا ۔ تو لفظ کُتِبَ کے تابع قتال ہوتے ہوئے بھی ہر شخص کو یہ اختیار ہے کہ چاہے تو غلط فیصلہ کرے یعنی یہ اختیار نہیں کہ فیصلہ ایسا فیصلہ کرے جو قرآن کے خلاف ہوا اور وہ فیصلہ اس فیصلے کا اس کو حق ہے۔ فیصلے کا حق ہے مگر اگر غلط فیصلہ کرے گا تو غلط فیصلے کا حق ان معنوں میں ہے کہ وہ فیصلہ خدا کے نزدیک درست نہیں ٹھہرے گا اور وہ سزاوار ہوگا ان معنوں میں کہ حق ہے یعنی اپنے خلاف فیصلہ کررہا ہوگا اور اللہ دخل نہیں دے گا۔وَھُوَ کُرْہٌ لَّکُم سے پتہ چلتا ہے کہ قتال ایک ایسا مضمون ہے جس میں نفس نے بہانے ضرور پیش کرنے ہیں۔ بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کو یہ بات پسند نہیں ہے۔ مگر ان بہانوں کے ہوتے ہوئے ان کو قبول کرنا سوسائٹی کا فرض ہے۔ دلوں میں اُتر کر فیصلے کرنا سوسائٹی کا فرض نہیں ہے ۔
    چنانچہ آنحضرت ﷺ نے اُن تین کے حق میں جو اخلاص میں بہت اونچے تھے اور تقویٰ میں بہت اونچے تھے اُن کے متعلق تو فیصلہ فرمادیا کہ ان کا مقاطعہ ہوگا لیکن وہ جنہو ں نے جھوٹ بولے تھے ان کو کوئی سزا نہیں دی۔ تو یہ ہے وہ قرآن جو محمد رسول اللہ ﷺ کے دل پر اُترا اور آپ کی روح کی گہرائیوں تک سرایت کرگیا ہے۔ آپ کے فیصلوں کے خلاف کسی اور مولوی کا فیصلہ قابل قبول نہیں ہے۔ آپ کو پتہ تھاکہاں میں نے رکنا ہے۔ علم کے باوجود کہ بظاہر یہ جھوٹے نظر آتے ہیں دل میں اترنے کا دعویٰ آپ ﷺنے نہیں کیا نہ اپنی اس استطاعت کا عذر رکھ کر کہ میں دل پڑھ لیتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ اکثر دل پڑھ لیتے تھے اس کو یہ عذر رکھ کر بھی شریعت نافذ نہیں کی کیونکہ یہ خدا کے معاملات ہیں۔ پرانے زمانے میں بھی ہوچکا ہے قال ھل عسیتم ان کتب علیکم القتال الا تقاتلوا اس وقت کے نبی نے اپنی قوم سے کہا یا کسی جرنیل نے اس قوم سے کہا کہ کیا یہ ممکن نہیںہے کہ قتال فرض ہو جائے ۔ دیکھیں کس کا ہے یہ قول ‘ نبی لھم ۔ نبی لھم ابعث لنا ملکا ۔ موسیٰ کے بعد ان کی قوم نے ایک نبی سے یہ درخواست کی کہ ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کر تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد کرسکیں ۔ تو انہو ں نے یہ کہا کہ کیا یہ ممکن نہیں کہ جہاد فرض ہوجائے اور تم لوگ نہ کرو ۔ تو انہوں نے یہ کہا ناں یہ نہیں ہوسکتا۔ قالو وما لنا الا نقاتل فی سبیل اللہ ہم پاگل ہوگئے ہیں ہمیں کیا ہوگیا ہے، ہم خدا کی راہ میں جہاد نہ کریں و قد اخرجنا من دیارنا و ابناء نا اس بات نے یہ اور بات مضمون کھول دیا کہ جنہوں نے جہاد کیلئے درخواست کی تھی کوئی جارحانہ جہاد ان کے ذہن میںنہیں تھا بلکہ وہ بنیادی شرط جو سورۃ حج کی آیت میں ملتی ہے کہ وہ اپنے گھروں سے نکالے گئے بغیر کسی جرم کے۔کوئی ظلم نہیں کیا اور ان پر ظلم کیا گیا۔ یہ واقعہ ان کے ساتھ ہوچکا تھا یہاں تک کہ من دیارنا و ابناء ناان کے بچے بھی ان سے چھین لیے گئے جہاں تک چھینے جاسکتے تھے اور اپنے گھروںسے نکال دیے گئے پھر بھی جہاد نہیں کرتے جب تک خداتعالیٰ کی طرف سے مامور ان کیلئے ایک سردار مقرر نہیں کردیتا۔ اس حد تک یہ بالکل ٹھیک تھے لیکن ان میں کئی جوشیلے تھے جو منہ سے باتیں کرتے تھے مگر جانتے نہیںتھے کہ جہاد ہوتا کیا ہے۔ جب آپڑے تو پھر سمجھ آتی ہے۔ چنانچہ انہوں نے جہاد کے فرض ہونے کے باوجود وہ نہیں اختیار کیا حالانکہ اس سے پہلے فرض ہونے کے باوجود وہ چھوڑے گئے تھے۔ مگر مطالبہ کیا ہے۔ یعنی جہاد کا فریضہ ایک اور معنوں میں ہمارے سامنے آرہا ہے تاریخی پس منظر میں کہ جہاد عملاً فرض ہوچکا ہے مگر اس کو اس حق کو استعمال نہیں کیا گیا۔
    پس فرض سے بعض دفعہ یہاں اور بھی بعض ایسی آیات ہیں جہاں اجازت کے معنے اور جواز کے معنے بھی ملتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو جب گھروں سے نکالا گیا ، ظلم کیے گئے۔ تیرہ سال تک عملاً جہاد فرض تھا کیونکہ عدل کے تقاضوں کے مطابق آپ لڑ سکتے تھے مگر آپ نے استعمال نہیں کیا اُس حق کو جب تک واضح طور پر اُذِنَ کے تابع خداتعالیٰ نے آپ کو یہ حکم نہیں دیا اور یہ اجازت نہیں دی۔ اس وقت تک آپ نے جہاد نہیںکیا۔ اب اُذِنَ کا معنی ’’فرض کردیا گیا ہے‘‘اگر لیا جائے ان معنوں میں کہ اب حکم ہوگیا ہے تم ضرور لڑو تو رسول اللہ ﷺ کو فوراً مکے پر چڑھائی کردینی چاہیے تھی کیونکہ خدا کے منشاء کے سب سے زیادہ فرمانبردار اور مطیع آنحضرت ﷺ تھے اور اُذِنَ کا معنی آپ نے یہ نہیں سمجھا کہ مکے پر چڑھ دوڑو اور اب شروع کردو مار کٹائی۔ آپ نے اس کا معنی اجازت سمجھا ہے۔ اب اگر دشمن زیادتی کرے تو تمہیں اجازت ہے خداتعالیٰ کی طرف سے۔ پس جب اہل مکہ نے زیادتی کی تو پھر لڑائی ہوئی ہے۔ جب پھر زیادتی کی پھرلڑائی ہوئی ہے۔ تو یہ جو لفظ کتاب ہے اس کے تابع یہ ساری چیزیں آرہی ہیں اور ہر جگہ اس کا معنی وہ فرض نہیں ہے جو عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں۔ پھر کتب علیکم القتل الی مضاجعھم ۔ قل لو کنتم فی بیوتکم لبرزالذین کتب علیھم القتل الی مضاجعھم کہ جن پر قتل خدا نے فرض کردیا ہے وہ تو نکلیں گے بستر چھوڑ چھوڑ کے بھی نکلیں گے اور ان مقاتل کی جگہ پہ جا پہنچیں گے جہاں ان کا مرنا ، ان کا قتل ہونا مقدر ہوچکا ہے۔ تو یہاں تقدیر معنے ہیں کُتِبَ کے۔ یہ نہیں کہ لوگوں پر فرض ہے کہ بستر چھوڑ چھوڑ کے دوڑیں اور وہاں پہنچیں جہاں انہوں نے قتل ہونا ہے کسی کوکیا پتہ۔ فلما کتب علیھم القتال اذا فریق منھم یخشون الناس کخشیۃ اللہ یہاں بھی وہی مضمون ہے وہ ڈرے ، رک گئے مگر ان کا قتل نہیں کیا گیا۔ آگے و یستفتونک فی النساء قل اللہ یفتیکم فیھن وما یتلی علیکم فی الکتاب فی یتامی النساء الّٰتی لا تؤتونھن ما کتب لھن و ترغبون ان تنکحوھن ۔ اب یہاں بھی لفظ کُتِبَ بڑی شدت کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے مگر ایسے معاملات میں جہاں خداتعالیٰ فرمارہا ہے اس کتابت کے باوجود تم نہیں کررہے، جو خدا کا حکم تھا اس کو ٹال رہے ہو ، اس پر عمل درآمد نہیں کررہے ۔ لیکن اس کی کوئی سزا ایسی مقرر نہیں فرمائی جس کو نافذ کرنے کیلئے رسول اللہﷺ یا صحابہ کی جماعت کو حکم ہو ۔یہ موقع ہے جس کا اس سورہ النساء سے تعلق ہے اور سورہ نساء ہی سے لی گئی ہے۔ آیت ۱۲۸ ہے جب وہاں آئے گی تو پھر اس کی گفتگو وہاںہوگی انشا ء اللہ۔ اس پر گفتگووہاںہوگی۔
    سورہ توبہ میں الا کتب لھم بہ عمل صالح میں بھی کُتِبَ سے مرادایسی تحریر ہے جو بندے پر نہیں بلکہ خدا نے اپنے اوپرلکھی ہے کہ میں نے فرض کرلیا ہے کہ میں ایسے لوگوں کو ضرور اجر دوں گا جو ایسی جگہوں پر چلتے ہیں جہاں ان کے چلنے پر ان کے قدم اٹھانے پر بھی غیض کی نگاہیں ان پر پڑتی ہیں۔ جہاںکی سوسائٹی ان کو انتہائی نفرت کے ساتھ دیکھتی اور انتہائی ذلت کے ساتھ ان سے سلوک کرتی ہے۔ اُن کو میں ہر قدم پر جو وہ ایسی جگہوں پہ اٹھاتے ہیں ان پر اس کی جزا دوں گا۔ یہ مجھ پر فرض ہے یعنی اللہ نے اپنے اوپر فرض کرلیا ہے۔ کتب علیہ انہ من تولاہ فانہ یضلہ و یھدیہ الی عذاب السعیر۔ وہ تولہ سے (دیکھتا ہوں) تولی تو دوستی کو کہتے ہیں ناں۔ تولہسے مراد پہلی آیت میں کچھ لوگ ایسے گزرچکے ہیں جن کا ذکر ہے جو ناپسندیدہ اشخاص اسلام کے دشمن وغیرہ۔ تو مطلب یہ ہے کہ کتب علیہ ایک اور آیت سے ایک اور سورت سے لی گئی ہے اس لئے اس کا سیاق و سباق یہاںسامنے نہیں ہے اس لیے میں تھوڑا سا رکا تھا مگر یہ بہر حال قطعی بات ہے کہ تولہ سے مراد ایک ایسا شخص ہے جس کو خداتعالیٰ نے ناپسند فرمایا جو اسلام کا دشمن ہے۔ فرمایا خدا پر یہ بات فرض ہے کتب علیہ کہ جو بھی ایسے شخص سے دوستی کرے گا یضلہ و یھدیہ الی عذاب السعیرکہ اللہ تعالیٰ اسے گمراہ قرار دے گا اور جہنم کے عذاب کی طرف اس کو پکڑ کر لے جائے گا، رستہ دکھاتا ہوا لے جائے گا۔اب کُتِبَ کا معنی اجازت کا میں نے ایک بتایا تھا ۔ اب اس بات کو ختم۔ اس کے بعد میں اس مضمون کو ختم کرکے پھر واپس اپنی آیت کی طرف لوٹتا ہوں یعنی اس آیت کی طرف لوٹتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لیلۃ الصیام الرفث الی نساء کم حلال ہے اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے کہ خداتعالیٰ نے جن تعلقات کا حق تمہیں عام دنوں میں دیا ہے رمضان میں وہ منع نہیں ہوگئے وہ بھی جائز ہیں۔ اس لئے تم اپنے نفسوں سے زیادتی کرتے ہو جب کہ اس خطرے سے کہ رمضان میں کہیں اگر ہم نے اپنے روز مرہ کے ازدواجی تعلقات قائم رکھے تو خدا کی ناپسندیدگی کمالیں گے۔ نیکی یہ بنا رکھی ہے کہ رمضان میں کم سے کم راہب ہوجائو۔ اللہ فرماتا ہے غلط ہے یہ بات۔ اللہ تعالیٰ واضح طور پر حلال قرار دے رہا ہے روزے کے دوران کے علاوہ باقی وقت میں روز مرہ کی عام زندگی گزارنے کو یہ مراد ہے۔ روزے کی حدود ختم تو وہ زائد پابندیاں ختم۔ عام زندگی کی طرف لوٹ سکتے ہو یہاں تک کہ ہر قسم کے ازدواجی تعلقات بھی تم قائم کرسکتے ہو۔ فرمایا فالئٰن باشروھن وابتغوا ما کتب اللہ لکم اور اب تم بیشک جو چاہو کرو اُن کے ساتھ حسن معاشرت کرواور جو کچھ اللہ نے لکھ رکھا ہے کتاب میں فرض کردیا ہے تم پر ۔ اب کتب اللہ کا معنی یہاں یہ تو لیا ہی نہیں جاسکتا کہ ہر شادی شدہ جوڑے پر فرض ہوگیا کہ رمضان کے مہینے وہ ضروراپنے تعلقات کو قائم کرے۔ یہاں اجازت کے معنے ہیں (اور اجازت کے معنے بھی ہیں) اور یہ معنے بھی ہیں کہ وہ اجازت جو عام طور پر تمہیں حاصل ہوچکی ہے یعنی حلّت کی اجازت کتاب ہے۔ جو چیز کتاب کے تابع حلال کی گئی ہے اسے حرا م نہ کرو ۔ بس اتنی سی بات ہے۔ تو کتاب کے معنے بڑے وسیع ہیں اور کتاب اور وصیت کے مضامین کئی دفعہ اکٹھے بھی ہوجاتے ہیں۔
    یوصیکم اللہ فی اولاد کم للذکر مثل حظ الانثیین میں نے کہا تھا یہ ایک عنوان ہے کہ دو لڑکیوں کا حصہ ایک اورایک لڑکے کا حصہ ایک۔ ’’ذَکَرَ ‘‘ اور ’’اُنثٰی‘‘ کی جہاں تک بحث آئی تھی اس کے متعلق میں نے بیان کیا تھا کہ میرے نزدیک قطعی طور پر اس سے مراد لازماً بالغ مرد اور بالغ عورتیں نہیںہیں ۔ بسااوقات بالغ مردو ں کیلئے بھی لفظ استعمال ہوا ہے اور شاید زیاد ہ تر انہیںکیلئے استعمال ہوا ہو ۔ بالغ عورتوں کیلئے بھی ہوا ہے مگراس کے باوجود غیر بالغ مردوں، بچوں پر بھی استعمال ہوتا ہے اور لغت عرب لغت اس کی تائید کرتی ہے۔ لسان العرب میں لکھا ہے اور کہتے ہیں کہ نر بچہ بریکٹ میں اس وقت سے ہی رُجُل کہلائے گا جب کہ اس کی والدہ نے اسے جنم دیا اور جب تک رہے رجل کا لفظ استعمال ہوگا اور اگرچہ بعض بالغ ہونے کے متعلق بھی کہتے ہیں کہ معروف یہ ہے کہ رجل وہ کہلائے جو نر فرد ہو ، عورت کی ضد ہو۔ رجل تب بنتا ہے جب وہ غلام کی عمر سے آگے چلا جائے یہ عام تعریف ہے۔ لیکن چونکہ قرآن کریم نے رجل کے لفظ کو بچوں کیلئے بھی استعمال فرمایا ہے اور محض نر اور مادہ کیلئے رجل اور نساء کا لفظ استعمال کیا ہے اس لئے اہل لغت مجبور ہیں یہ ماننے پر کہ نر بچہ اس وقت سے ہی رجل کہلائے گا جب کہ اس کی والدہ نے اسے جنم دیا اور المعجم الوسیط نے رجل کے وہ معنے دیے ہیںجو میں پہلے بیان کرچکا ہوں کہ بہادر مرد یابالغ مرد۔
    پس یہ بحث مزید ضرورت نہیں اٹھانے کی۔ میں نے قرآنی آیات سے ثابت کیا تھا اب میں لغت کے حوالے سے بھی مزید اس کی تائید کررہا ہوں۔ پس ان کیلئے اگر ان کن نساء فوق اثنتین یہ بحث ہوچکی ہے ۔ و ان کانت واحدۃ فلھا النصف اگر وہ اکیلی ہو ایک لڑکی ہو تو اس کیلئے نصف ہوگا اور باقی کیا ہوگا ولابویہ لکل واحد منھما السدس اور اُن کے اس کے والدین کیلئے اُن میں سے ہر ایک کیلئے چھٹا حصہ ہوگا مما ترک ان کان لہ ولد ۔ اب جو کچھ بھی انہوں نے چھوڑا اگر ان کی اولاد ہو۔ اب وہ جو لڑکی ہے وہ بھی ولد کے اندر آتی ہے۔ کیونکہ وُلَدُ کی بحث فقہاء اٹھا چکے ہیں مراد یہ ہے صاحب اولاد ہیں اگر وہ صاحب اولاد نہیںتو لڑکیاں پھر ورثہ کیسے پائیں گی اور اگر ــوَلَدٌ سے مراد لڑکا لیا جائے تو پھر اس آیت کا اطلاق ہو ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس صورت میں دوسرا قانون جاری ہوتا ہے۔ ایک اور دو والا ۔ یہاں ہے ولابویہ لکل واحد منھما السدس مما ترک ان کان لہ ولد دونوں کیلئے چھٹا حصہ ہوگا۔ اب یہ جو چھٹے حصے والی بحث ہے یہ اب میں آپ کے سامنے کھولنا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم نے عنوان تو یہ لگایا ہے یوصیکم اللّٰہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین۔ للذکر مثل حظ الانثیین کے مضمون کو فقہاء نے ایک عمومی عنوان بنادیا ہے۔ ہر تقسیم کیلئے ۔ لیکن یہ لفظ بھی اس کے ساتھ جڑا ہوا ہے فی اولاد کم اس کو اگرنظر اندازکردیا جائے تو یہ عمومی عنوان ہر جگہ چسپاں نہیں ہوگا یعنی بظاہر یہ عمومی عنوان ہے مگر اولادِ کم کی شرط کی وجہ سے یہ ایک زائد بات ہے کہ اکثر اوقات اس کا اطلاق اولاد کے حق یا اولاد کے حق میں تو لازماً ہوگا اور باقی جگہ ضروری نہیں۔ یہ معنی اگرلیا جائے تو پھر اس آیت کا آخری حصہ سمجھ آجاتا ہے اور اس کا پہلے کے ساتھ تضاد نہیں ہے۔
    پس اس عنوان کو اولاد کے حق میں تولازماً ماننا ہوگا اس کے علاوہ جو دوسرے ہیں جن کا ذکر ہے ورثے میں جہاں خدا نے ان کو Independentlyدگنا دیا ہے وہاں ماننا پڑے گا مگر اس کے تابع یہ سمجھنا کہ ہر ورثے کی تقسیم میں عورت کو ایک اورمرد کو دو حصے ملیں گے یہ درست نہیں کیونکہ اس آیت کا آخری حصہ کہہ رہا ہے ۔ ولا بویہ لکل واحد منھما السدس اُن کے ماں باپ کیلئے جنہوں نے اولاد ایسی چھوڑی ہے اُن میں سے ہر ایک کیلئے چھٹا حصہ ہے۔یہ میںبات اب پہلے کھول چکا ہوں کہ اگر تو لڑکیاں ہوں دو یا دوسے زائد تو 1/3 بچتا ہے جو برابر تقسیم ہوجاتا ہے اور اگر یہ نہ ہو تو اس آیت سے یہ اصول مستنبط ہوتا ہے کہ ایک اور دو کی بحث بعدمیں (حصے کی بحث) بعد میں اٹھے گی پہلے والدین کا چھٹا حصہ اُن میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ یہ تسلیم کرو۔ اگر یہ تسلیم نہیں کرو گے تو ان کو کچھ نہیںملے گا۔ اس لئے جو بچے گا وہ ایک اور دو کی نسبت سے تقسیم ہوگا کیونکہ حصہ جہاں معین ہوجائے اس کو تبدیل نہیں کرسکتے۔ ایک اور دو جو ہے وہ تو مختلف صورتوں میں مختلف معنے رکھ سکتا ہے۔ یہ بات سمجھانے کی غرض سے تھوڑی سی اور کھولنی ہوگی کیونکہ بعض لوگوں کی آنکھوں میں تھوڑا سا نیند کا سایہ ساآرہا ہے۔اس لئے لازماً اپنی رفتار باقی سب کے سمجھنے کی رفتار کے ساتھ ملانی پڑے گی۔ مراد یہ ہے کہ ایک شخص کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں ۔ اُن کے حصے کس طرح ہوں گے۔ ایک بیٹے کو دو حصے ۔ دو بیٹیوں کو ایک حصہ دونوں میں برابر تقسیم یعنی ایک ایک حصہ ٹھیک ہے۔ دو حصے اکٹھے چار سمجھے جائیں گے پھر تو۔ دو بیٹیاں ایک بیٹا۔ جب تقسیم کریں گے تو چار پہ تقسیم کریں گے ۔ چار کے اوپر تقسیم کریں گے اگر آٹھ ہزار ہے تو فی حصہ کتنا بنا دو ہزار۔ دو ہزار میں سے دو حصے بیٹے کو دے دیں گے چار حصے آٹھ ہزار ہے تو ۔ چار حصے دو دو حصے مراد ہے دُگنا۔ چار ہزار بیٹے کو دے دیں گے اور باقی چار ہزار دو دو ہزار کرکے دو بیٹیوں کو دے دیں گے۔ ٹھیک ہے۔ اگر یہ بیٹیاں چار ہوں اور بیٹا ایک ہو تو یہ وہ دو دو اور چار چار ہزار تو نہیں نہ رہے گامعاملہ۔ یہ بدل جائے گا۔ اس لئے یہ تقسیم مختلف وقتوں میںمختلف کل جائیداد کا حصہ مختلف ہوتا چلا جائے گا۔ آٹھ ہزار تو آٹھ ہزار ہی رہے گا مگرا ن کو آٹھ ہزار کا نہ چھٹا ملا نہ دسواںملا نہ ساتواں نہ دوسرا کیونکہ تعداد کے اعتبار سے اس کو نہ ہم ساتواں کہہ سکتے ہیں نہ آٹھواں کہہ سکتے ہیں نہ نواں کہہ سکتے ہیں۔ اگر وارثوں کی تعداد بڑھ جائے گی تو سَتواں آٹھواںکا مضمون بدلتا چلا جائے گالیکن چھٹا چھٹا ہی رہے گا۔ اس لئے ماں کو چھٹا ضرور ملے گا۔ اور باپ کو بھی چھٹا ضرور ملے گا۔ پس اس پہلو سے ان کے چھٹے کو ٹچ (touch)نہیں کیا جاسکتا۔ کل جائیداد میں سے پہلے چھٹا چھٹا نکالا جائے گا یعنی 1/3الگ کرلیا جائے گا۔ باقی میں پھر ساری اولاد حصہ بانٹے گی اور اس کا اصول ہے ایک اور دو کا ۔
    پس اولادکیلئے تو ہے ماں باپ کیلئے ایک اور دو کا اصول نہیں ہے۔ صاف ظاہر ہوگیا کہ اس آیت کا یہ مطلب نکالنا کہ یہ قانون ہر صورت میں ہر وصیت کے اوپر اطلاق پائے گا درست نہیں ہے۔ اولاد کے حق میں لازماً ہوگا لیکن باقیوں کے حق میں نہیں ۔ اور اولاد میں بھی فقہاء میں اختلاف آگے جاکے بنتا ہے۔ وہ کہتے ہیں جہاں پوتا پوتی شروع ہوگئے، نواسہ نواسی شرو ع ہوگئے وہاں ایک اور دو کا اصول نہیں رہے گا کیونکہ اولاد سے مراد وارث اولاد ہے اور قرآن کی رو سے پوتا پوتی اور نواسا نواسی وارثوں کی فہرست میں نہیں ہیں۔ پس یہاں اولاد کے معنی ہوں گے بیٹا بیٹی یا بیٹیاں یا بیٹا۔ ان کے اوپر یہ اصول ہے ماں باپ کو چھٹا ملے گا۔اب سوال یہ ہے کہ ماں باپ کو اکیلے اکیلے کو چھٹاکیوں ملے گاجب انہوں نے اپنے ورثے پائے تھے تو ایک اور دو کی عادت پڑی ہوئی تھی اُن کو ۔ اب ان کو چھٹا چھٹا مل رہا ہے یہ کیا وجہ ہے۔ اس میںایک حکمت کی بات یہ ہے کہ والدین میں سے جو بھی مرے گا وہ اصل میں بچوںکو واپس لوٹے گا۔ اس لئے اولاد کے حق کے لحاظ سے کوئی بھی فرق نہیں پڑتا۔ ماں کو، ماں بھی مرے گی تو بچوں میں برابر تقسیم ہوگا۔ باپ بھی مرے گا تو بچوں میں برابر تقسیم ہوگا اور ان کی عمر بالعموم ایسا لڑکا جو مررہا ہے جائیداد چھوڑ کر صاف پتہ چل رہا ہے کہ ان کے والدین عمر کا اچھا حصہ گزار چکے ہیں، اپنی ذمہ داریاں ادا کر بیٹھے ہیں۔ اور بعید نہیں کہ اولاد ہی پر پل رہے ہوں اس لئے ان کیلئے یہ اصول نہیں ہے جیسے باپ کی ذمہ داری تھی خاندان کو پالنا اس لئے لڑکے کو دو حصے دیے گئے۔ اب ان کے پالنے پوسنے کی عمریں تو تقریباً گزرچکی ہیں۔ اب خوامخواہ کیوں تفریق کی جائے۔ دونوں کو برابر دے دو تاکہ وہ اپنے مزے کریں۔ جو چاہے ماں خرچ کرے جو چاہے باپ خرچ کرے کیونکہ اصل جو روح تھی ایک اور دو کی اس کا زیادہ تر تعلق اولاد کی پرورش اور عائلی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں باپ مردکو جو فریضہ سونپا گیا ہے ا س کے پیش نظر اس کو کچھ زیادہ ملنا چاہیے تھا اور اب یہ بات گزر چکی ہے۔منڈے بڈھے ماں باپ تو نہیں پالتے اکثر۔ بعض صورتوں میں پالتے بھی ہوں گے۔ بعض بچے ہیں جو لٹکے رہتے ہیں آخر تک۔ جیسے بعض بچے دودھ نہیں چھوڑتے بڑی مصیبت پڑی ہوتی ہے،تو اللہ ان پر رحم کرے۔ مگر قرآن نے جو مضمون کھینچا ہے ، نقشہ کھینچا ہے اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ (یہ ضمنی استنباط ہوتا ہے) کہ تمہارا ماں باپ پر بوجھ ڈالنے کا وقت گزر چکا ہے جب تم بڑے ہوگئے ہو، بالغ ہوگئے ہو تو پھر ان کی خدمت کرو بجائے اس کے کہ ان پر لٹکے رہو۔ اب آگے ہے فان لم یکن لہ ولد و ورثہ اَبوٰہ فلامہ الثلث اگر کوئی بچہ نہ ہو و ورثہ اَبوٰہ فلامہ الثلث تو سُدس کی بجائے یہاں ثلث کا لفظ آیا ہے۔ لیکن باپ کا ذکر نہیں فرمایا ہے۔ اگر کوئی بیٹا نہ ہو و ورثہ اَبوٰہ فلامہ الثلث یہ بہت ہی باریک مضمون ہے اسے خوب اچھی طرح کھول کے سمجھنا ضروری ہے۔ وہاں 1/3,1/3کیوں نہ دیا۔ وہاں ایک اور دو والا مضمون پھر واپس آگیا ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ اگر اولاد کوئی نہیں ہے تو ان دونوں کو جو کچھ ملا ہے وہ اولاد کی طرف نہیںلوٹے گا بلکہ اپنے بھائی بہنوں کی طرف لوٹے گا۔ اور اگر اپنے بھائی بہنوں کی طرف لوٹے گا تو روز مرہ کی کمائی میں خاوند کا زیادہ حصہ تھا بہ نسبت بیوی کے اور اگر وہاں برابر کردیا جاتا تو اس میں ایک مخفی ناانصافی ہوتی۔ خواہ باپ کے رشتہ داروں سے کہ روز مرہ کی زندگی میںکمانے میں محنت تو زیادہ باپ نے کی ہے اور بیٹوں کی طرف سے ماں اور باپ میںبرابر تقسیم ہوگیا جبکہ وہ بیٹوں کونہیں لوٹ سکتا۔ ان کے اپنے رشتہ داروںکو لوٹے گا یعنی ماں مرتی ہے پھر اگر تو اس کے دیور کو تو حق نہیں ملے گا۔ اس کے بھائی کوملے گا جو صلب سے الگ ایک رشتہ چل چکا ہے۔ اس لیے خداتعالیٰ نے یہاں ایک کا ذکر فرما کر دراصل للذکر مثل حظ الانثیین کے اصول کو یہاںدوبارہ زندہ کردیا ہے۔ زندہ تو ہے ہی دوبارہ اس کو یہاں اطلاق فرمادیااس کا ایسی صورت میں بقیہ 2/3باپ کا ہوگا۔
    و ان کان لہ اخوۃ فلامہ السدس اور اگر اس کے بھائی ہو ں تو فلامہ السدس من بعد وصیۃ یوصی بھا اودین۔ مرنے والے کے اگر بھائی ہوں۔ میں نے کہا تھا ناں اگر صحیح حقیقی وارث نہ ہو تو پھر بھائیوںکے حق قائم ہوتے ہیں اور اگر وہ بات درست ہے کہ باپ کے بھائیوں کو حقوق یا اس کے قریبیوں کے حقوق پیش نظر رہیں اس لیے ایک اور دو کا اصول بحال فرمایا گیا تو پھر مرنے والے کے بھائی بھی ہوسکتے ہیں بیٹے نہیںہوں گے مگر بھائی تو ہوسکتے ہیں تو ان کا بھی پھر ذکر ضروری تھا اور انہی کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ فان کان لہ اخوۃ اگر اس کے بھائی ہوں تو پھر ماں کو تیسرا نہیں ملے گا پھر ’’سدس‘‘ ہوگا ۔ اس صورت میں بھائیوں کا حق جو ہے وہ بیچ میں حائل ہوجاتا ہے۔ اس کو حجاب کہتے ہیں ۔ کس حد تک حجاب ہے آگے۔ علماء نے خوب پھر بحثیں چھیڑی ہیں۔تو آگے جب بحثوں میں جائیں گے تو میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔ مگر ان سب بحثوں ، ان سب باتوں کو دیکھنے کے بعد، پڑھنے کے بعدایک بات قطعیت کے ساتھ ثابت ہوجاتی ہے کہ ورثے میں مختلف دور کے علماء نے مختلف مذاہب یعنی فرقوں کے علماء نے بہت حد تک اصولوںکو چھوڑکر فروعات میں دخل دے دیا ہے یعنی بنیادی تعلیم قرآن نے جو دے دی تھی اس سے ہٹ کر بعض احادیث سے استنباط کرکے استنباط در استنباط در استنباط اور اس کے نتیجے میں اتنا فرق پڑگیا ہے کہ جو بنیادی قوانین ہیں جو اہم مرکزی قوانین ہیں ان میںلگتا ہے کہ شریعت ایک ہے ہی نہیں۔ بیشمار شریعتیں ہیں اور جو بھی کرلو جائز ہے اگر یہ جائز ہے تو وہ بھی جائز ہے۔ وہ جائز ہے تو یہ بھی جائز ہے۔ یا اگر یہ حرام ہے تو وہ بھی حرام ہے تو سارا معاملہ ہی تتر بتر ہوگیا ہے اور بکھر گیا ہے کیونکہ یہ ایک خطرناک بات ہے کہ قرآن کے ساتھ چمٹے رہنے کی بجائے قرآن کو سمجھنے اور غور کرنے، سمجھ کو غور کرکے اس سے رہنمائی لینے کی بجائے اگر انسان جلد ہی یہ کوشش چھوڑ دے اور گہر ا غورکرنے کی بجائے سہارا لے لے روایات کا یا پرانے علماء کے فیصلوں کا تو بڑا قطعی یقینی خطرہ ہے کہ وہ بہک جائے گا اور یہی ہوا ہے۔ چنانچہ آگے جاکے میں جب حوالے پڑھوں گا تو پھر آپ کو سمجھ آجائے گی کہ انہی باتوں میںکتنے اختلاف پائے جاتے ہیں۔
    اب ہم اس آیت کی طرف واپس آتے ہیں۔ واپس آتے ہیںفان کانا لہ اخوۃ فلامہ السدس من بعد وصیۃ یوصی بھا اودین پس اگر اس کے بیٹے نہ ہوں اور بھائی ہوں تو پھر 1/3نہیں ملے گا ماں کو پھر اس کو ’’سدس‘‘ ملے گا۔ اب یہاں ایک اور بحث اٹھ چکی ہے کہ اس کو سدس ملے گا تو باپ کو کیا ملے گا۔ ثلث ملے گا یا ثلث کا دو حصے یعنی 2/3ملے گا ۔ یہ بھی اب علماء نے اپنے اندازے سے بحثیں اٹھائی ہیں ۔ باپ کا حق پہلے بھی ذکر نہیں کیا یہاںبھی ذکر نہیں کیا جس کا مطلب ہے وہ ایک مسلمہ حق ہوگیا ہے۔ وہ مسلّمہ حق اگر ایک اور دو کے اصول پر ہو تو ثلث کی صورت میں 2/3لازماً باپ کو ملے گا۔ بھائی اگرہوں اور باپ بھی ہو اور ماںبھی ہو تو ماںکو چھٹا ملے گا تو باپ کو اگر ثلث ملے گاتو پھر تو ایک اور دو کا حق قائم ہوجاتا ہے۔ اگر اس کو 2/3ہی ملنا ہے تو پھر وہ حق ہی ٹوٹ جاتا ہے اس لیے اس سے جو ظاہری استنباط نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ ماںکے حصے کو معین کرنے سے ہم نے باپ کا حصہ استنباط کیا ہے۔ جب پہلی دفعہ یہ کیا ہے تو دوسری دفعہ بھی یہی کرنا چاہیے۔مگر بعض فقہاء نے اس سے اختلاف کیا ہے۔جب ان کی باری آئے گی تو میں اس کی تفصیل بتائوں گا ۔ اباؤکم و ابناؤکم لا تدرون ایھم اقرب لکم نفعا یہ جو بات یہ وہی ہے جو میں پہلے بیان کرچکا ہوں کہ میرے نزدیک پہلی آیت سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ اصل وصیت میں جو روح کار فرما ہے وہ اُن تعلقات پر اثر انداز ہوتی ہے جو باپ کے بیٹوں پر بچوں پر اور بچوں کے باپ پر۔ یعنی وہ خاندان جس کے پالنے کی ذمہ داری ہے اور اگر ماں باپ بوڑھے ہوں اور ان کا ، ان کے گزارے کی صورت نہ ہو تو لازماً قرآن کی رو سے فرض ہے انسان پر کہ ان کی دیکھ بھال کرے جس طرح انہوں نے بچپن میں ان کو رحم سے پالا تھا۔ تو اصل وراثت کا مضمون زندگی میں ایک دوسرے پر انحصار ہے جو بعد کے لوگ ہیں وہ تب آتے ہیں میدان میںجب یہ موجود نہ رہیں یا موجود تو رہیں مگر ان کے دوسرے حالات رحم کے تقاضے کرتے ہوں اور خدا تعالیٰ نے ان کی تقسیم میں کچھ ایسی جگہیں رکھ دی ہوں باقی جن کو ان کے متعلق معین نہ فرمایا ہو تو طوعی طور پر اس میں سے ان لوگوں کو دیا جاسکتا ہے۔ یہ ہے خلاصہ چنانچہ آخری بات جو خدا نے فرمائی وہ جو میں خلاصہ پیش کررہا ہوں اس کی تائید میں ہے۔ اباؤکم و ابناؤکم لا تدرون ایھم اقرب لکم نفعا۔ تمہارے ماں باپ بھی ہیں اولاد بھی ہے۔ تمہیںکچھ پتہ نہیں کہ کون تمہارے لئے نفع کے لحاظ سے زیادہ قریب ہے۔ یعنی کچھ پتہ نہیں کہ پہلے کون مرتا ہے ، بعد میں کون مرتا ہے۔ تم زندہ رہو اور اولاد فوت ہوجائے یا تم زندہ رہو اور ماں باپ فوت ہوجائیں یا تمہی فوت ہوجائو۔ نہ اس کا حصہ پائو نہ اس کا حصہ پائو۔ یہ باتیں تو خدا کے ہاتھ میں ہیں مگر ایک دوسرے سے رشتوں کے لحاظ سے منافعے وابستہ فرمادیے گئے ہیں۔ فریضۃ من اللہ یہ ہے اللہ کی طرف سے فریضہ ان اللہ کان علیما حکیما ۔ یقینا اللہ تعالیٰ بہت حکمت والا اور بہت جاننے والا ہے۔ (میں نے کہا میں جب اٹھا اٹھا کر ادھر دیکھ رہا ہوں ۔ آپ اگر دو تین منٹ رہ جائیں تو بتادینا۔ ٹھیک ہے)۔
    وصیت کے متعلق جو لغت کی کتب میںلکھا ہے وہ یہ ہے۔ إیصاَء کا اسم ہے وصیت۔ اس کی جمع ’’وصایا‘‘ ہیں بعض دفعہ وصیت اس چیز کوبھی کہا جاتا ہے جس کی وصیت کی جارہی ہو یہ وصیت ہے مراد ہے ترکے کو بھی وصیت کہا جاتا ہے۔ ھذہ وصیّتہٗ ای الموصی بہ یعنی وہ چیز جس کی وصیت کی گئی ہے یہ اس کی وصیت ہے۔ وصایا اللہ ایسے عمل جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر لازم قرار دیے اور ان پر واجب ٹھہرائے جس طرح کہ والدین کی تعظیم و اکرام۔ مثال پہلے گزر چکی ہے۔
    حل لغات:دَیْنٔ: دَانَ یَدِیْنُ سے مصدر دَینٌ آتا ہے۔ قرض اور اگر کہا جائے دَانَ تو اس کا مطلب ہے کسی انسان نے کسی کو قرض دیا۔ یعنی اس سے قرض لیا ۔ اور اگر ادنیٰ کاصیغہ افعال کا صیغہ استعمال کیا جائے تو اس سے قرض لیا مراد ہوتی ہے۔ نہ قرض دیا مراد ہوتی ہے۔ اب میںایک ایک لفظ پڑھتا ہوں۔ دِنْتُ الرِّجُلَ۔ میں نے ایک رجل کو دِنْتُ یعنی دَانَ کا فعل کیا اس کیلئے میں نے اس سے قرض لیا۔ تو دَانَ کا مطلب ہے قرض لینا۔ اور اگر کہا جائے کہ اَدَنْتُ میں نے اس کو ساتھ اَدْنیٰ اِدَان کا فعل باب افعال میں لفظ دَیْن کو اگر ڈھالا جائے تو اَدَنْتُ کہیں گے بجائے دنْتُ کے۔ دنْتُ کہیں گے تو ثلاثی مجرد ہے اس کا مطلب ہے میں نے اس سے قرض لیا ۔ اَدَنْتُ میں نے اس کو قرض دیا۔ ابو عبیدہ نے یہی معنے کیے ہیں اس کے۔ مَدِین یا مدیون مقروض کو کہتے ہیں وَدِنْتُہٗ میں نے اس سے قرض لیا ۔ اَدَنْتُ بعض کہتے ہیں دِنْتُ کی طرح ہی ہے۔ یعنی ایک اہل لغت مشہور ابو عبیدہ یہ فرق کررہے ہیں مگر بعض لوگ کہتے ہیں کہ اَدنی بھی کہا جائے تو دراصل دِنْتُکے معنے ہی ہیں۔ کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ یہ باقی دَانَ یَدِیْنُ کی بحث ہے۔ یہ محض لغت کی باریکیاں ہیں جس میں زیادہ تفصیل سے جانے کی ضرورت نہیں۔ خلاصہ کلام وہی ہے جو پہلے بیان ہوچکا ہے جو ضروری ہے آپ کا سمجھنا۔ مثلاً جب کہے گا دَانَ فُلانٌ: تو کہتے ہیں قرض طلب کرنے کیلئے بھی استعمال ہوجاتا ہے۔ یہی صیغہ۔ تو آپ نے کون سی عربیاں بولنی ہیں اس لیے اس کو چھوڑ دیں جہاں وصیت کے تعلق میں بات سمجھنی ضروری ہوگی وہ بتادوں گا۔ نَفَع کا معنی آپ سب جانتے ہیں (نقصان کا معنی کم سمجھتے ہوں گے مگر نفع کا سب کو پتہ ہے)(یہ حضور نے مزاحاً فرمایا ہے: ناقل)۔
    فریضہ کا معنی سب جانتے ہیں ہر ایک اُردو میں بڑی کثرت سے لفظ فریضہ استعمال ہوتا ہے فرض کے معنوں میں۔ کرنا ضروری ہو، بہت ہی اہم چیز ہو۔ فرضِ منصبی ہو یعنی اپنے منصب کے لحاظ سے ایک بات ضرور کرنی چاہیے۔ تو فریضہ کا لفظ بھی بہت عام مستعمل ہے۔ ہر زبان میںیہ ایک ہی قسم کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن بعض خصوصی عربی استعمالات ہیں جو باقی زبانوں میںمشترک نہیںہیں۔ اَلْفَرِیضَۃُ بوڑھے جانور کو بھی کہتے ہیں۔ اب یہ کیوں فریضہ بنا بیچارہ۔ اللہ بہتر جانتا ہے۔ شاید اس لیے کہ اس کو ذبح کردینا وہ سمجھتے ہیں ضروری ہے۔ اَلْفَرْضُ: السُنَّۃُ یعنی فرض سے مراد ایسی سنت محمد رسول اللہ ﷺ ہے جو قطعیت سے ثابت ہو۔ وصیت کے متعلق اوراس کے علم کے متعلق رسول اللہﷺ نے جوعلم کی تین قسمیں ایک روایت کے مطابق بیان فرمائیں ان کو المفردات امام راغب نے بیان کیا ہے وہ یہ ہیں کہ:
    علم کی تین قسمیں ہیں ایک ان میں سے عادلانہ تقسیم یعنی نظام وصیت کو سمجھ کر عدل کے ساتھ جب تقسیم کیا جائے یہ ہے ایک علم۔ لیکن اَلْعِلْمُ عِلْمَانکی حدیث بھی ہے اس لیے مختلف معنوں میں قسمیں مختلف لحاظ سے کی گئی ہیں۔ ایک ہے علم تو دو ہی ہیں یا دین کا علم یا قوانین قدرت کاعلم۔ اَبدان سے مراد صرف ڈاکٹری کا علم نہیں ہے بلکہ بدن بمقابل روح بمقابل دین ۔ تو دو ہی ہیںعلم دین کا علم یا سائنس کا۔ باقی تو نرے نخرے ہی ہیں۔ ٹامک ٹوئیاں ہیں۔ آرٹس وغیرہ کی اہمیت تو اس کے مقابل پر گر جاتی ہے۔ شعر و شاعری اور اس قسم کی ساری چیزیں یہ نخرے اور نفلی چیزیں ہیں اصل ہے سائنس یا دین کا علم یا دین اورسائنس کا علم۔ اب ایک روایت ہے جس سے دو یا دو سے زائد بچیاں ہوں تو ان کا کیا کرنا چاہیے اور اُن کو کس طرح ورثہ تقسیم ہوگا۔ اور کوئی اور ان میںشریک ہوگا کہ نہیں۔ اس پر روشنی پڑتی ہے۔ لیکن اس آیت سے نہیں، اس حدیث سے جو استنباط کیے گئے ہیں اس میں بھی علماء کا اختلاف ہے مگر میں آپ کے سامنے یہ حدیث پوری پڑھ کے سناتا ہوں۔
    حضرت جابر ابن عبداللہ سے روایت ہے کہ ایک عورت جس کی دو بیٹیاں تھیں حضور ﷺ کے پاس آئیںاور عرض کیا کہ یارسول اللہ! یہ دو بیٹیاں ثابت بن قیس کی ہیں۔ یا کہا کہ سعد بن ربیع کی ہیں جو آپ کے ساتھ جنگ احد میں شامل ہوئے او رشہید ہوئے۔ یہ وہی روایت ہے جس کو راڈویل نے اٹھایا ہے اور کہاہے کہ جو شہیدہونے والے کا نام ہے وہ مختلف روایتوں میں مختلف پایا گیا ہے یہاں تک کہ چھ الگ الگ نام ہیں۔ اس سے یہ بھی استنباط ہوسکتا ہے کہ یہ حدیثیں قابل اعتماد نہیں۔ جہاں اتنا اختلاف ہو وہاں اُن سے سند پکڑنا درست نہیں ہے۔ لیکن وہ کہتا ہے میرا استنباط یہ ہے رحجان اس طرح ہے کہ جنگ احد میں ایک سے زائد صحابہ شہید ہوئے تھے ، کئی شہید ہوئے تھے۔ ستر شہید ہوئے تھے۔ ان میں سے چھ ایسے ہوسکتے ہیں جن کی صرف بیٹیاں ہوں بیٹا کوئی نہ ہو۔ تو ان میں سے کبھی کوئی عورت آئی ہے اس نے اپنے مرنے والے، اپنے شہید کا خاوند کا ذکراور نام سے کیا ہے کسی اور نام سے کیا ہے۔ تو اس روایت میں بھی یہ بات دوبارہ دہرادی گئی ہے کہ یا اس نے ابن قیس کہا تھا یا سعد بن ربیع کہا تھا۔ ہوسکتا ہے دونوں کی بیوائیں آئیں ہوں۔ مگر دونوں کی اگلی روایت سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اس روایت میں بہر حال دو عورتوں، الگ الگ عورتوں کا ذکر ممکن نہیں ہے کیونکہ آگے ہے دونوں کے چچا نے ان کے مال اور میراث پر قبضہ کرلیا ۔ ممکن تو ہے پھر بھی رہتا ہے۔ کیونکہ ہوسکتا ہے ۔ ہاں ہوسکتا ہے کہ عرب رواج کے مطابق انہوں نے سمجھا ہو کہ شہید ہونے والے بھائی کا سب کچھ ہمارا ہے۔ انہوں نے کہا ان بچیوں کیلئے کیا رہ گیا ہے پھر۔ تب کہتے ہیں سورہ نساء جو نازل ہوئی تھی، ہورہی تھی یا ہوئی تھی اس کے بعد اس کی یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ یوصیکم اللہ فی اولادکم ۔۔۔۔۔۔۔ الی الاخر۔ اللہ تمہیں اپنی اولاد کے متعلق حکم دیتا ہے یہ آیت جو انہوں نے پڑھ کر سنائی ہے۔ کہتے ہیں مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اس عورت کو اور اس کے ساتھ مدعا علیہ کو بلائو۔ اسکو بھی بلائو اور اس کے مال پر جو دعویدار ہے یا جس پر اس نے دعویٰ کردیا ہے اس کو بھی بلائو۔ آپ نے ان دونوں کے چچا کو ارشاد فرمایا کہ ان دونوں کو دو تہائی حصہ دو ۔ یعنی پیشی ہوئی اس پر آپ نے فرمایا کہ یہ دو بچیاں دو تہائی حصہ پائیں گی اور اُن دونوں کی والدہ کو آٹھواںحصہ ملے گا اور جو باقی ہے وہ بھائی کو ملے گا۔ جو آٹھواں حصہ ہے اُس 1/3میں سے وہ جائے گا۔ اب اگر ماں نہ ہو اور بھائی بھی نہ ہوں تو پھر وہ کہاں جائے گا۔ یا ماں نہ ہو اور بھائی ہوں تو بھائیوں کو ملے گا یا اس کو واپس آئے گا ۔ اس پر پھر آگے فقہاء کے اختلافات ہورہے ہیں (تین منٹ میں سے دو منٹ رہ گئے ہیں کہ ایک منٹ رہ گیا ہے)۔
    علامہ رازی نے یہ بحث اٹھائی ہے کہ عربوںمیں رواج کیا کیا تھے۔ متبنّٰی کو بھی کہا جاتا تھا۔ فلاں کو بھی دیا جاتا تھا۔ اب یہ قصہ پارینہ ہوچکا ہے۔ ایسا جس میں زیادہ تفصیل سے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جہاں اسلامی قانون کو سمجھنے کیلئے اس پس منظر کی ضرورت ہو وہاں علماء کا کام ہے کہ اس کو بھی سمجھیں۔ آنحضرت ﷺ کی وراثت، کی جائیداد کی تقسیم کی بحث ایک الگ مضمون ہے اس کو میں نے الگ تیار رکھا ہے یہاں ابھی اس کو چھوڑتا ہوں کہ اگر یہ احکامات تھے شریعت کے سب پر فریضہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے متعلق قرآن نے الگ استثنائی حکم نہیں دیا۔ اس کے باوجود آپ کی جائیداد جو بھی تھی وہ شریعت کے قوانین کے مطابق تقسیم کیوں نہ کی گئی۔ اور رسول اللہ ﷺ نے خود کیوں روک دیا اور اس ساری جائیداد کو صدقہ کیوں فرمایا۔ یہ بحثیں ہیں جو الگ انشاء اللہ بعد میں پیش کی جائیں گی۔ اگلی بحثیں جو ہیں اُن کیلئے اب وقت نہیں رہا۔ کیونکہ کتابت کے مضمون پر بہت زیادہ وقت خرچ ہوگیا ۔ اب انشاء اللہ کل سے اسی مضمون کی جو باتیں رہ گئی ہیں وہ انشاء اللہ کل پیش کریں گے۔ ٹھیک ہے (کل جمعہ ہے) ۔ کل سے مراد یہی ہے۔ آپ اچھے فقیہ بن سکتے ہیں۔ لفظی پابندیوں میں۔ کل سے مراد آنے والاجو بھی کل ہوگا انشاء اللہ ۔ ٹھیک ہے۔ السلام علیکم (لیں جی اپنی امانت سنبھالیں)۔
    إإإ


    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    درس القرآن ماہ رمضان
    مورخہ 2رمضان بمطابق23؍جنوری 1996ء
    اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم۔
    بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
    یاایھاالناس اتقوا ربکم الذی خلقکم من نفسٍ واحدۃٍ و خلق منھا زوجھا و بث منھما رجالاً کثیراً و نساء ا واتقواللہ الذی تساء لون بہ والارحام۔ ان اللہ کان علیکم رقیبًا۔(النسا:۱،۲)
    سورۃ النساء آیت ایک اور دو۔ یعنی بسم اللہ پہلی آیت ہے اور یاایھاالناس اتقوا ربکم الذیوالی آیت دوسری ہے۔اس آیت کی تفسیر کے مختلف پہلو بیان کرنے سے پہلے میں اس سورۃ کا پچھلی سورتوں سے تعلق کا ذکر کرتا ہوں۔ عام طور پر مسلمان مفسرین نے بھی یہی مؤقف لیا ہے اور مستشرقین نے بھی کہ یہاں عورت کا ذکر اس لیے آیا ہے کہ اس سے پہلے چونکہ جنگوں کا ذکر تھا اور بہت سے ایسے نقصانات ہوئے جس کے نتیجے میں معاشرے میں کچھ تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ جنگوں کے نتیجے میںیتامیٰ پیدا ہوئے ، عورتیں بیوہ رہ گئیں، اور بہت سی ایسی تکالیف تھیں جس کا خانگی زندگی پر اثر پڑا ۔ اس لیے اس موقع پر عورتوں کے احکامات بیان کئے گئے ہیں۔ لیکن یہ نظریہ بہت ہی محدود نظریہ ہے اور قرآن کریم کے آغاز سے لے کر آخر تک کی ترتیب کو نظر انداز کررہا ہے۔ نساء کا مضمون جیسا کہ مستشرقین نے سمجھا محض اتفاقی جنگ کے حادثے کے نتیجے میں ہرگز نہیں بلکہ ایک مسلسل ترتیب کے ساتھ آگے بڑھنے والا مضمون ہے۔ جس کا بائبل کی غلط فہمیوں کو دور کرنے سے بھی تعلق ہے، عورت کے صحیح مقام کو بیان کرنے سے بھی تعلق ہے اور شریعت جس طرح رفتہ رفتہ مختلف احکامات کو لے کر اور مختلف مناہی کو لے کر آگے بڑھتی ہے۔ اس کی ترتیب کا بھی اس سورۃ کے ساتھ تعلق ہے۔ سب سے پہلے میں یہ آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ عورت کا جہاں تک تعلق ہے، سورۃ البقرہ میں عورت کو ایک ایسے رنگ میں پیش فرمایا گیا ہے، یعنی حوا کی مثال کے طور پر ، جس کو ان تمام الزامات سے بری قرار دیا گیا جو الزامات بائبل کی بدلی ہوئی بگڑی ہوئی صورت نے حوا پر لگائے تھے۔ تو سب سے پہلا جو عورت کا مقام اور مرتبہ ہے وہ سورۂ بقرہ میں ظاہر ہوتا ہے اور اس کے اوپر ہر قسم کے ناجائز ظالمانہ الزام سے عورت کی بریت فرمائی گئی ہے ۔ دوسرے بعد میں جو واقعات ہیں وہ میں بعد میںبیان کرو ں گا۔ لیکن سورۃ نساء کا بھی اسی طرح ایک ایسے عظیم الشان مضمون سے تعلق ہے جس میں بائبل کے غلط عقیدے کی یعنی اس بائبل کے غلط عقیدے کی جو زمانے کے ساتھ بگڑ گئی، یا جسے انسانو ں نے نہ سمجھ کر غلط رنگ پہنادیئے اس کی نفی فرمائی گئی ہے ۔ اور اصل حقیقت حال پیش فرمائی گئی ہے۔ اب میں سب سے پہلے اس ترتیب کو لے کر آپ کو بتاتا ہوں کہ سورۃ بقرۃ سے بھی پہلے سورۃ فاتحہ ہے اور سورہ فاتحہ میں نہ مرد کا الگ ذکر ہے نہ عورت کا ذکر ہے اور خطاب ،جو پہلا انسان خداتعالیٰ سے ہمکلام ہوتا ہے اور عاجزانہ خطاب کرتا ہے وہ نعبد میں ہے اور متکلم کا صیغہ نعبد کا وہ مرد اور عورت پر یکساں اطلاق پاتا ہے۔ اس لیے وہ بحث بھی بعد میں اُٹھے گی کہ سورہ فاتحہ میں احکامات کیا بیان ہوئے اور وہ احکامات کس طرح کھلتے رہے اور وسیع تر ہوتے چلے گئے۔
    سب سے پہلے میں عورت والے حصے کی بات کرتا ہوں۔ بقرۃ میں ، البقرۃ میںعورت کو گناہ میں پہل کرنے کے الزام سے بریت عطا ہوئی اور آل عمران میں عورت کو ایک مثالی پاکیزگی کا نشان بنا کر پیش کیا گیا۔ یعنی کتنا زمین آسمان کا فرق ہے ، عورت کے تصور میں جو قرآن میں ملتا ہے اور اس تصور میں جو اس بائبل میں ملتا ہے جس کو آج تک یہ خدا کا کلام کہہ رہے ہیں جو خدا کا کلام تھا وہ ماضی میں کہیں دب گیا ہے ، جو بندے کا کلام ہے اس کلام میں داخل ہوکر اس کی پاکیزگی پر اثر انداز ہوا۔ اس وجہ سے جب میں بائبل کہتا ہوں تو مراد ہرگز خدا کا کلام نہیں بلکہ وہ بائبل ،اس موازنے کے متعلق جب میں بات کرتا ہوں، جس میں انسان نے دخل دے کر خدا کے کلام پر شک کے پردے ڈال دیئے اور کچھ اس کا لے لیا اور کچھ اپنے خیالات داخل کردیئے ۔ تو پہلی بات بقرۃ نے عورت کو الزام سے بری قرار دیا ۔ دوسری بات آل عمران نے عورت کا وہ مرتبہ اور مقام بیان کیا جو بعد میں مومنوں کیلئے مثال قراردے دیا گیا۔ یعنی عورت بجائے اس کے کہ پہل نہیں کرتی گناہ کی طرف کھینچنے میں، بلکہ پاکیزگی کی علامت بن گئی اور ایسی مثال بن گئی کہ اس کی کوئی او رنظیر دکھائی نہیں دیتی۔ اور سورۃ نساء میں آغازہی میںجو عورت کا مقام بیان کیا گیا ہے وہ تمام بنی نوع انسان کی ماں کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور اس میں بھی بائبل کے اس تصور کی نفی فرمائی گئی ہے کہ آدم سے ہر چیز پیدا ہوئی۔ بلکہ پہلی آیت ہی یہ بتا رہی ہے کہ عورت سے تخلیق کا آغاز ہوا ہے۔ جہاں تک احکامات کا تعلق ہے وہ میں نے الگ سورۃ بسورۃ نکال کے اکٹھے رکھے ہیں۔ یہ مضمون میں بعد میں شروع کروں گا۔ پس سردست اتنی تمہید کافی ہے کہ قرآن کریم کی سورتوں کی ترتیب اتنی عظیم الشان ہے اور اس طرح درجہ بدرجہ مضمون کو آگے بڑھاتی ہے کہ مستشرقین کی باتیں جو بعد میں آئیں گی وقتاً فوقتاًاس کے کسی جواب کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔ ایسی ان کی عارضی، سطحی ، تنگ نظر ہے کہ ناممکن ہے کہ ان پر قرآن کریم کے معارف کھل سکتے کیونکہ دل بھی تقویٰ سے خالی تھے۔ اس لیے ان کی باتوں سے صرفِ نظر کرنا چاہیے اصل میں تو۔ ان کو پتا ہی نہیں وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ یہ آیت وہاں ہونے کی بجائے اُٹھا کے وہاں رکھ دو ، وہاں سے اُٹھا کے اُدھر رکھ دو، ایک سورۃ کے بعد دوسری سورۃ کا نزول کیوں تبدیل کردیاگیا؟ کچھ ان کو سمجھ نہیں آتی بالکل بہک چکے ہیں قرآن کے تعلق میں۔ لیکن اگر قرآن پر غور کریں تو پھر پتا چلتا ہے کہ اگرچہ سورتیں نزول کے لحاظ سے مختلف زمانوں میںنازل ہوئیں مگر ترتیب کے لحاظ سے ان کو دوسری ترتیب دے دی گئی۔ اور ترتیب میں چونکہ ہمیں غیر معمولی حکمت اور تسلسل اور نظام دکھائی دیتا ہے ، اس لئے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ ترتیب الٰہی حکم سے تھی، بندے کے بس کی بات نہیں تھی۔ کیونکہ یہ کہنا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مشورے سے ترتیب دی ہے، یہ بالکل جھوٹ ہے اور غلط الزام ہے۔ کیونکہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مشورے سے صرف یہ فیصلہ کیا گیاتھا کہ آنحضرت ﷺ نے اس کو کہا ںرکھا تھا؟ اور آنحضرت ﷺ کے ارشادات کی روشنی میں وہ آیات جن کے متعلق شک تھا کہ یہاں ہیں یا وہاںہیں، وہ قطعی گواہی کے بعد پھر وہاں رکھی گئیں ۔ اس کے علاوہ تحریری گواہی بھی تھی۔ لیکن تحریری گواہی قرآن کے بیان کے مطابق اکیلی کافی نہیں ہوتی، اس کے ساتھ گواہ لانے ضروری ہیں۔ اس میں بڑی حکمت ہے یہ بھی ایک الگ مضمون ہے مگر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے محض آنحضرتﷺ کے ارشادات کی تعیین اور ان کے یقینی ہونے کے تعلق میں یہ گواہیاں طلب کی تھیں۔ اور ترتیب بعینہٖ وہی ہے جو آنحضرت ﷺکو اللہ تعالیٰ نے بتائی ، جبریل علیہ السلام نے معین طور پر بار بار سمجھایا کہ یہ آیت فلاں جگہ ہوگی، یہ سورۃ پہلے آئے گی ، یہ بعد میں اور یہ بعد میں۔ یہ ترتیب اپنی ذات میں الٰہی ہونے کی گواہی رکھتی ہے کیونکہ اس ترتیب میںجو مضمر معانی ہیں وہ اتنے حیرت انگیز ہیں اور ترتیب اتنی ارتقائی ہے کہ کوئی انسان جس میں ادنیٰ بھی عقل ہو یہ تصور ہی نہیں کرسکتا کہ حادثاتی طور پر یہ ترتیب وجود میں آگئی ہے ۔ اس تعلق میں جیسا کہ عورت کا مَیں نے بیان کیا دیکھیں کیسی خوبصورت ایک تدریج ہے اور عورت کے مقام کو پہلے پاک صاف کیا گیا، الزامات سے، پھر اس کی حمدکی گئی ایک معنوں میں، اس کی تعریف بیان کی گئی کہ عورت جب پاکیزہ ہو تو بہت بڑے مراتب کو پہنچتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ مومنوں کیلئے مثال بن جاتی ہے جس میں سارے مرد شامل ہیں۔ اور مومنوں کی اعلیٰ مثال بنتی ہے اور عورت جب صابرہ شاکرہ ہو تو وہ بھی ایک مثال بنتی ہے۔ مگر دو ہی مثالیں ہیں جو قرآن کریم نے مومنوں کیلئے دیں۔ ایک اوّل صورت کی اورا یک آخری صورت کی۔ ابتدائی درجے کے مومن آسیہ، فرعون کی عورت کے مشابہ تو کم سے کم ہونے چاہئیں اور اعلیٰ درجہ کے مومن وہ جن کو اپنے نفس کے نتیجے میں، اپنے نفس کی تمنا اور خواہشات کے نتیجے میں روحانی مراتب حاصل کرنے کا ایک ذرہ بھی شوق نہیں ہوتا۔ ان کا شعلۂ نفس ان پر لپکتا ہی نہیں ہے۔ اور بغیر اُس کے ان سے روحانی اولاد پیدا ہوتی ہے۔ جو محض آسمان سے اترتی ہے جیسے مسیح کی روح کے متعلق یا مسیح کے وجود کے متعلق آیا کہ مرد کو چھوئے بغیر عورت سے وہ بچہ پیدا ہوا۔ جو خداتعالیٰ کی غیر معمولی عظیم تخلیق کا مظہر بنا کہ مرد کو چھوئے بغیر بچہ ہوسکتا ہے۔
    یہ مضمون ہے جو قرآن کریم نے بالآخر دوسری جگہ بیان فرمایا ہے اور یہی مضمون ہے جس سے آغاز ہوا سورۃ نساء کی پہلی یعنی دوسری آیت کا۔ آدم کے متعلق اور حوا کے متعلق جو بائبل نے بیان کیا تھا ۔ اب میں آپ کو وہ پڑھ کے سنادیتا ہوں تاکہ اس کے بعد یہ موازنہ آپ کے ذہن میں خوب اچھی طرح واضح ہوجائے۔ (وہ آپ نے کہاں رکھ دیئے ہیں حوالے۔ کہاں بلکہ چھپادیئے ہیں)۔
    میں نے کہا نا سورۃ نساء کے تعلق میں تدریجی ذکر دیکھنا ہوگا کہ عورت کا ذکر پہلے کہاں ملتا ہے اور کس رنگ میں ملتا ہے۔ جہاں تک قرآن کا تعلق ہے وہ میں نے بیان کردیا کہ عورت کو ہرقسم کے الزام سے بری الذمہ قرار دیتا ہے۔ جہاں تک بائبل کا تعلق ہے وہ یہ کہتی ہے۔
    ’’اور سانپ کل دَشتی جانوروں سے جن کو خداوند خدا نے بنایا تھا چالاک تھا(جتنے بھی جانور بنائے گئے تھے ان سے چالاک تھا) اور اس نے عورت سے کہا، کیا واقعی خدا نے کہا ہے کہ باغ کے کسی درخت کا پھل تم نہ کھانا؟ عورت نے سانپ سے کہا کہ باغ کے درختوں کا پھل تو ہم کھاتے ہیں پر جو درخت باغ کے بیچ میں ہے اس کے پھل کی بابت خدا نے کہا ہے کہ تم نہ تو اسے کھانا اورنہ چھونا، ورنہ مر جائو گے۔ تب سانپ نے عورت سے کہا کہ تم ہرگز نہ مرو گے۔ بلکہ خدا جانتا ہے کہ جس دن تم اسے کھائو گے تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی اور تم خدا کی مانند نیک و بد کے جاننے والے بن جائو گے۔ عورت نے جو دیکھا کہ وہ درخت کھانے کیلئے اچھا اور آنکھوں کو خوشنما معلوم ہوتا ہے اور عقل بخشنے کیلئے خوب ہے تو اس کے پھل میں سے لیا اور کھایا اور اپنے شوہر کو بھی دیا اور اس نے کھایا۔ تب دونوں کی آنکھیں کھل گئیں اور ان کومعلوم ہوا کہ وہ ننگے ہیں۔ اور انہوں نے انجیر کے پتوں کو سی کر اپنے لیے لنگیاں بنائیں۔ اور انہوں نے خداوند خدا کی آواز جو ٹھنڈے وقت باغ میں پھرتا تھا ، سنی اور آدم اور اس کی بیوی نے آپ کو خداوند کے حضور سے باغ کے درختوں میں چھپایا‘‘۔
    یہ قصہ سارا ، کیسے گناہ پیدا ہوتا ہے، کس طرح عورت نے کردار ادا کیا، اور پہل کی گناہ میں ،اس کا کوئی اشارہ بھی قرآن کریم میں سورۃ البقرہ میںنہیںہے، جہاں یہ مضمون چھیڑا گیاہے ۔ا س کے علاوہ اور بھی بہت سی ایسی باتیں ہیں جو بائبل کے بیان کو قطعی طور پر غیر محفوظ بتاتی ہیں۔ اور اس صورت میں خدا کی طرف اس کا منسوب کرنا، اللہ کی ذات کے اوپر سب سے بڑا ظلم ہے۔ یعنی خدا کی ذات سے جتنا بھی، یعنی ظلم کیا جاسکتا ہے،وہ اس آیت میں موجود ہے، جو بائبل کی آیت ہے جسے من و عن اگر لیا جائے تو یہ بات بنتی ہے ۔ اس کے بیان کے مطابق سانپ نے جب پوچھا عورت سے، کہ بتائو خدا نے کیا کہا تھا؟ کیوں نہ کھانا۔ تو عورت نے جواب دیا کہ خدا نے یہ کہا تھا کہ اس سے مرجائو گے، کھائو گے تو مرجائو گے۔ شیطان نے کہا بالکل جھوٹ ہرگز نہیں مرو گے بلکہ نیک و بد کی پہچان پیدا ہوجائے گی، تمہیں آنکھیں عطا ہوں گی تو بائبل کے بیان کے مطابق خدا سچا یا شیطان سچا؟ بائبل کا تو پہلا باب ہی بتا رہا ہے کہ خدا کی طرف خوامخواہ سچ منسوب ہوا ہے۔ آغازِ آفرینش سے یہ جھوٹ بولنے والی ذات ہے اور سب سے پہلا دھوکہ شیطان نے نہیں دیا تھا بلکہ خدا نے دیا تھا۔ اور خدا نے اپنی ذات کو بچانے کیلئے انسان سے یہ دھوکہ اور فریب کا طریق اختیا رکیا اور یہ شیطان تھا جس نے آکے آنکھیں کھولی ہیں۔ چنانچہ دوسرا بیان جو آفرینش کے متعلق ہے (آپ نے اس کے اندر داخل کردیا ہے کہیں؟ اچھا شروع میں ہی ہے) وہ سن لیجئے۔ بائبل اور پیدائش کیسے ہوئی انسان کی؟
    ’’ اور آدم نے کل چوپائیوں اور ہوا کے پرندوں اور کل دشتی جانوروں کے نام رکھے اب یہاں یاد رکھیں قرآن کریم کیا کہتا ہے۔ علّم ادم الاسماء کلھا اللہ نے آدم کو تمام اسماء بتائے اور ان اسماء کو جانوروں یامختلف چیزوں کی طرف منسوب نہیںفرمایابلکہ اسماء کا مضمون کھول دیا ہے۔ اسماء اوّلیت کے لحاظ سے ذاتِ باری تعالیٰ کی صفات ہیں اور جتنے اسماء بنتے ہیں انہی سے پھوٹتے ہیں پھر آگے۔اور مخلوق کے نام بھی اسمائِ باری تعالیٰ کے تعلق میں پھوٹتے ہیں خواہ وہ منفی رنگ بھی رکھتے ہوں تو ان صفات کے عدم سے بعض منفی نام پھوٹتے ہیں۔ مثلاً آدم کے تعلق میں فرشتوں نے سجدہ کیا، شیطان نے سجدہ نہ کیا تو شیطان کا نام جو باغی بنا ہے وہ ایک مثبت نام سے تعاون نہ کرنے کے نتیجے میں ایک اور نام بنا ،مگر نام سب اسی سے پھوٹتے ہیں جو اسمائِ باری تعالیٰ ہیں ۔ یہ دیکھیں یہ کیا کہہ رہی ہے بائبل)۔’’آدم نے کل چوپائیوں اور ہوا کے پرندوں کے اور کل دشتی جانوروں کے نام رکھے‘‘۔
    یعنی اس کا ، آدم کو پتا کیسے لگا کہ دنیا میں کتنے جانور ، کتنے پرندے ، کتنے سمندر کے جانور ہیں وہ تو آج تک بھی پوری تحقیق مکمل نہیںہوسکی۔ ابنائے آدم ترقی کرتے کرتے کہاں پہنچ گئے ہیں لیکن اب بھی آئے دن نئی قسم کی مخلوقات دریافت ہوتی رہتی ہیں۔ اور اتناعالم الغیب تھا آدم ، تو یہ نہیں پتا تھا کہ میں ننگا ہوں۔ اس قدر مضحکہ خیز ، ایسی حیرت انگیز کہانی ہے کہ اگر اس کو خدا کی طرف منسوب کیا جائے تو خدا غائب ہوجاتا ہے او رصرف بندہ رہ جاتا ہے۔ کیونکہ ایسی جہالت خدا کی طرف منسوب ہو ہی نہیں سکتی۔’’کل چوپائیوں اور ہوا کے پرندوں اور کل دشتی جانوروں کے نام رکھے۔ پر آدم کیلئے کوئی مددگار اس کی مانند نہ ملا۔ آدم نے سارا جہان چھان مارا ہر نام رکھ لیے، ہر جانور کو پہچانا، سمندر کی تہہ میں غوطے لگائے، وہاں کی مچھلیاںدیکھیں، وہاں کے ہر قسم کے سمندری جانوروں، کیڑوں مکوڑوں کو دریافت کرنے کے بعد مناسب حال نام رکھ دیئے۔ اپنے جیسا کوئی نہ ملا بیچارے کو ، اکیلا رہا۔ ’’اور خداوند نے آدم پر گہری نیند بھیجی اور وہ سوگیا۔ اور اس نے اس کی پسلیوں میں سے ایک کو نکال لیا(کیوںڈاکٹر صاحب کون سی پسلی missingہے آپ کی؟ ہیں بتائیں ،ہیں، کوئی ہے بیچ میں خلا ہوگیا ہو وہاں بیچ میں ، گوشت بھر گیا ہو۔ ہے کہیں؟ اچھا۔ پھر معلوم ہوتا ہے آپ ابنائے آدم میں سے نہیں ہیں۔ ان ابنائے آدم میں سے نہیں ہیں جو بائبل پیش کررہی ہے۔ ٹھیک ہے۔)
    پسلیوں میں سے ایک کو نکالا اس کی جگہ گوشت بھر دیا اور خداوند خدا اس پسلی سے جو اس نے آدم میں سے نکالی تھی ایک عورت بناکر اسے آدم کے پاس لایا اور پھر جگایا اس کو ۔ کہ دیکھ کون کھڑا ہے پاس۔ اور آدم نے کہا کہ یہ تو اب میری ہڈیوں میں سے ہڈی اور میرے گوشت میں سے گوشت ہے اس لیے وہ ناری کہلائے گی، کیونکہ وہ نر سے نکالی گئی ہے۔( اب یہ اُردو میں جو ترجمہ کرنے والوں کاکمال ہے کہ اگرچہ اصل الفاظ بدل کر کہیں سے کہیں پہنچ گئے ہیں، مگر انہوں نے اُردو میں بھی نر اور ناری کا لفظ ڈھونڈ لیا کہ نر سے نکلی اس لیے ناری کہلائے گی۔ انگریزی بائبل میں ہے Manسے نکلی ہے سو womanکہلائے گی۔ اب womanکاکیا مطلب ہوا ۔ مگر انہوں نے ایک چالاکی سوچی ہے اصل جو عبرانی عبارت ہے وہ نکلوائیں۔ اس میں کیا ہے۔ مگر بہرحال ایک یہ لفظی چالاکی ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں)۔ اس واسطے مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑ ے گا اور اپنی بیوی سے ملا رہے گا۔ اور وہ ایک تن ہوں گے۔ (مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑے گا کی بجائے ہوتا یہ ہے عورت اپنے ماں باپ کو چھوڑتی ہے اور مرد کے پاس جاکے رہتی ہے اور آدم اور اس کی بیوی دونوں ننگے تھے اور شرماتے نہ تھے)۔ یہ حال تھا ان کی لاعلمی کا کہ ننگے تھے اور شرماتے نہ تھے اور علم کایہ عالم تھا کہ تمام جہان کے کیڑے مکوڑے، پرند، چرند ، فضا، خشکی ، ہوا کے جانور سب کا آدم کو علم تھا اور ہر ایک کو نام اس نے دیا تھا۔
    جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
    سب جانوروں کو پتا تھا کہ ہم ننگے ہیں ، ایک آدم کو نہیں پتا تھابیچارے کو کہ میں ننگا ہوں۔تب اس کو کس نے بتایا، سانپ نے بتایا۔اور اس طرح بتایا) اس نے کہا: سانپ نے عورت سے کہا ’’تم ہرگز نہ مرو گے بلکہ خدا جانتا ہے کہ جس دن تم اسے کھائو گے تمہیں(تمہاری) آنکھیں کھل جائیں گی‘‘۔یہ اندھی آنکھوں نے سارے جانور دیکھے تھے ان کوکچھ نظر نہیں آتا تھا۔ پھر کہتا ہے کہ ’’خدا جانتا ہے کہ تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی اور تم خدا کی مانند نیک و بدکے جاننے والے بن جائو گے۔ عورت نے جو دیکھا کہ وہ درخت کھانے کیلئے اچھا اور آنکھوں کو خوشنما معلوم ہوتا ہے اور عقل بخشنے کیلئے خوب ہے ، تو اس کے پھل میں سے لیا اور کھایا اور اپنے شوہر کو بھی دیا اور اس نے کھایا۔ تب دونوں کی آنکھیں کھل گئیں‘‘۔ اس سے پہلے سارے واقعات گذر چکے تھے اور ان کومعلوم ہوا کہ وہ ننگے ہیں۔ پہلی دفعہ ان کو پتا چلا کہ وہ ننگے ہیں۔ اور انہوں نے انجیر کے پتوں کو سی کر اپنے لیے لنگیاں بنائیں۔پہنا، اوڑھنا، انجیر کے پتوں سے اُنہوں نے شروع کیا ہے اور انہوں نے خداوند خدا کی آواز، جو ٹھنڈے وقت باغ میں پھرتا تھا، سنی۔ اور آدم اور اس کی بیوی نے آپ کو خداوندخدا کے حضورسے، باغ کے درختوں میں چھپایا۔ اب وہ پتے اوڑھ لیے تھے اس وقت خدا سے شرم آنے کی کیا ضرورت تھی، جب ننگے پھرتے تھے اس وقت تو شرم آتی نہیں تھی۔ نہ اپنے سے نہ کسی اور سے۔ تب خداوند نے آدم کو پکارا اور اس سے کہا کہ تو کہاں ہے؟ اللہ کا علم الغیب یہ ہے۔ آوازیں دیتا پھرتا ہے باغ میں کہ آدم تو کہاں ہے بتا تو سہی؟ کہاں چھپ گیا ہے؟ اور اس نے کہا میں نے باغ میں تیری آواز سنی اور میں ڈرا، کیونکہ میں ننگا تھا۔ میں نے تجھے چلتے پھرتے سن لیا تھا ، تیرے قدموں کی چاپ سن لی تھی اور میں نے اپنے آپ کو چھپایا ۔ اس نے کہا تجھے کس نے بتایا کہ تو ننگا ہے۔ پکڑا گیا نا یہاں آدم آگے، اس نے یہ نہیں بتایا کہ میں گناہ کر بیٹھا ہوں، میں باغ کا پھل کھا بیٹھا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس جواب سے پکڑلیا اس کو۔ کہ ہیں!! تجھے کس طرح پتا چلا کہ تو ننگا ہے؟ میں نے تو تجھے آنکھیں ہی نہیں دیں تھی دیکھنے کیلئے! کیاتو نے اس درخت کا پھل کھایا جس کی بابت میں نے تجھ کو حکم دیا تھا کہ اسے نہ کھانا؟ آدم نے کہا کہ جس عورت کو تونے میرے ساتھ کیا ہے ، اس نے مجھے اس درخت کا پھل دیاا ور میں نے کھایا۔ یعنی یہ عورت کا مقام ہے، یہ آدم کا تصور ہے، اُس بائبل میں جس کو یہ لے لے کے گھر گھر پھرتے ہیں۔ اورکہتے ہیں کہ ادھر آئو، اس میں تمہارے لیے نجات ہے ، اس بائبل میں جس میں انسان نے اپنے دماغ کے سارے اندھیرے ڈال دیئے، خدا کی طرف جھوٹ منسوب کیا، خدا کی طرف دھوکہ منسوب کیا، اورا ٓدم کی تخلیق کا ایسا جاہلانہ تصور پیش کیا کہ خود ان انسانوں نے جنہوں نے یہ بائبل کے ساتھ اپنا تعلق باندھ رکھا ہے ایک ایک منزل پر جب بھی جستجو کی، بائبل کو جھوٹا پایا اور خداتعالیٰ کی قدرت کو کسی اور رنگ میں دنیا میںکائنات میں ڈھلتے اور کھلتے ہوئے دیکھا ہے۔ پھر بھی یہ چمٹے ہوئے ہیں۔ اس لئے اصل بات یہ ہے کہ آدم اگر دونوں آنکھوں سے اندھا تھا تو یہ ایک آنکھ سے اندھے ہیں۔ یعنی دائیںطرف کی آنکھ بند ہے، مذہب کی آنکھ سے بالکل اندھے ہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا اور بائیں طرف کی آنکھ جو دنیا طلبی کی آنکھ ہے وہ بہت روشن ہے، اس میں زمین کی پاتال سے بھی یہ راز نکال لاتے ہیں۔ اچھا، اب اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے سردست میں اس کو چھوڑتا ہوں ۔ اب میں واپس اس آیت کے مضمون کی طرف آتا ہوں ، جو میں نے تلاوت کی ہے۔
    اس پہلی آیت میںجو سورۂ النساء کی آیت ہے ، عورت کو ہی پہلی سورتوں کی طرح، پہلے سے بڑھ کر پیش کیا جارہا ہے اور تمام بنی نوع انسان کی ماں کے طو ر پر پیش کیا ہے، آدم کو پہلے نہیں رکھا بلکہ حوا کو پہلے رکھا ہے۔ ان معنوں میں کہ زندگی کا آغاز اور زندگی کی نشوونما کا آغاز جس نفس سے ہوا تھا، اسے مادہ بیان کرکے پیش کیا گیا ہے اور ابھی اس کا تعلق کسی نر سے کوئی نہیں تھا، کیونکہ نر پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔ نر بعد میں پیدا ہوا اور اس نفس میں سے پیدا ہو ا جس کو خداتعالیٰ ایک مادہ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ جب پیدا ہوا توپھر مرد اور عورت دونوں بن گئے۔ اور مرد اور عورت سے پھر تمام بنی نوع انسان کی نسلیں پھیلی ہیں۔ یہ تصور ہے جو قرآن کریم نے پیش کیا ہے اوربعینہٖ یہی ہے۔ جو سائنس نے دریافت کیا ہے۔ سائنس کی بہت سی باتیں تو بعد میں غلط ثابت ہوتی ہیں مگر بعض ایسی ہیں جو قانون بن جاتی ہیں، جن کے متعلق کوئی معمولی شعور رکھنے والا سائنسدان بھی انکار نہیں کرسکتا۔ یہ ان حقائق میں سے ایک ہے۔ اب اس کی طرف میں پہلے آتا ہوں ، بعد میں اس کے جو لغوی بحث وغیرہ ہے بعد میں لے لیں گے ، کیونکہ اب یہ مضمون چل پڑا ہے۔ بیچ میں اس کو تھوڑی دیر کیلئے چھوڑنا مناسب نہیں ہے۔ یاایھاالناس اتقوا ربکم الذی خلقکم۔ اوّل یہ بات بھی رکھیں یاد کہ یاایھاالناس کا خطاب ہے۔ یاایھاالذین امنوا کا خطاب نہیں۔ اور اس خطاب کا تعلق ہرگز مشرک یا اہل کتاب سے یا مومنوں سے الگ الگ نہیں ہے بلکہ لازماًمحض انسان پیش نظر ہے۔ اس لیے مستشرقین جو یہ کہتے ہیں کہ مکے میں جو خطاب تھا اس میںعام طور پر ایھاالناس کہا گیا تھا۔ اس غرض سے کہ تاکہ مشرکین مخاطب ہیں سامنے وہ مومن نہیں تھے، نہ وہ اہل کتاب تھے۔ تو قرآن کایہ کلام محدود نوعیت کا تھا، یہ انہوں نے محض اس شکست سے بچنے کی خاطر رستہ اختیار کیا ہے کہ قرآن کریم بنی نوع انسان کو بحیثیت بنی نوع انسان مخاطب کرتا ہے اور یہ کہتا ہے قل یاایھاالناس انی رسول اللہ الیکم جمیعًا کہہ دے اے بنی نوع انسان میں تم سب کی طرف جمیع طور پر رسول بناکر بھیجا گیاہوں۔ ( یہ آیت کس وقت نازل ہوئی ہے؟ یہ تو نکالیں کل کے درس میں لے آئیں گے)۔ یہ ویریؔ اور سیلؔ وغیرہ اس قسم کی جاہلانہ باتیں کرتے ہیں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ مگر بعض دفعہ غصے کی بجائے ان کی جہالت پر رحم آتا ہے۔ وہ بعض باتوں میں بالکل بے اختیار ہیں ان کو سمجھ آہی نہیں سکتی۔وہ یہ انداز ہ کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کلام بنایا ہے ، اس لئے اگر ہم بناتے تو اس طریق پر بناتے، اگر ہم بناتے تو مکے کے دور میں جو ہم آیات قرآنی بناتے اس میں خطاب ایھاالناس سے کرتے۔ اور جب مدینے میں داخل ہوتے تو یہود کا خیال رکھ کر اور عیسائیوں کا خیال رکھ کر اہل کتاب کے لفظ سے بھی ان کو مخاطب کرتے اور مومنوں کو پھر مومن کہہ کر مخاطب کرنا شروع کرتے۔ یہ انہوں نے اپنا انداز آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب کیا، اور واقعہ یہ ہے کہ اس اندا زکے خلاف مکی سورتیں گواہی کے ساتھ بھری پڑی ہیں۔ بالکل جھوٹا الزام ہے۔ الناس کا خطاب قرآن کریم کا شروع سے واضح اور ظاہر و باہر طور پر تمام بنی نوع انسان سے ہے۔ اس میں مشرک اور غیر مشرک کا کوئی فرق نہیں ہے۔ اور اس سورت میں مثلاً جو سورۃ نساء ہے جس کے متعلق یہ سب مستشرقین مانتے ہیں کہ یہ آیت بہرحال مدنی ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ ہے جن آیات کو انہوں نے غیر مدنی قرار دیا ان کی لسٹ میرے پاس موجود ہے، اس میں یہ آیت شامل نہیں ہے(کیوں جی ہے؟ نمبر ۲ آیت، ۱۴ اور شاید ۳۰ وغیرہ، ۴۳ سے شروع ہوتا ہے آگے) اور یہ خطاب دیکھیں۔
    یاایھاالناس اتقوا ربکم الذی خلقکم من نفسٍ واحدۃٍ اے لوگو! اے انسانو! نہ مشرک نہ غیر مشرک کوئی مذہبی تفریق پیش نظر نہیں ہے، تخلیق کا مضمون ہے۔ اتقوا ربکم الذی خلقکم من نفسٍ واحدۃٍ۔ اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو ، جس نے تمہیں پید ا کیا، من نفسٍ واحدۃٍ ۔نفس ایک ایسا لفظ ہے جو مؤنث بھی ہوتا ہے اور مذکر بھی ۔ یعنی اسمیں عورت کی ضمیر بھی اس کی طرف پھر سکتی ہے اور مرد کی بھی۔ اور نفس انسانی جان کے متعلق جب استعمال ہو تو اسے مؤنث حوالے سے بھی قرآن کریم یاد کرتا ہے، مگر یہاں صرف نفس کی بات نہیں فرمارہااللہ تعالیٰ، خلقکم من نفسٍ واحدۃٍ ۔ یہ لفظ واحدۃ ہے جس پر غور ضروری ہے۔ یعنی بنی نوع انسان کی پیدائش کا یہ نقشہ پیش کررہا ہے اللہ تعالیٰ ، کہ تمہیں سب سے پہلے ہم نے ایک ایسی جان سے پیدا کیا تھا جو مؤنث بھی تھی اور اکیلی بھی تھی۔ وخلق منھا زوجھا ۔ اور اس کا زوج، اس کا مذکر، نر ہم نے اس میں سے پیداکیا ہے۔ اور ابھی انسان وجود میں ہی نہیں آیا۔ آغاز اس طرح ہوچکا ہے کہ زندگی ایک ایسے مادے سے پھوٹتی ہے جو مادہ بھی ہے یعنی اس میںعورت کا مضمون پایا جاتا ہے اور اس مادہ کو کسی مرد کی احتیاج نہیں ہے۔ وہ اکیلی کافی ہے اور اس سے زندگی پھوٹ کر ایک لمبا سفر اختیار کرلیتی ہے، تب جاکر خلق منھا زوجھا کا مضمون آتا ہے۔ پس بائبل کا یہ بیان کہ آدم کی پسلی سے پیدا کیا تھا کیسے صاف جھٹلادیا گیا ۔ آدم کی پسلی سے کوئی پسلی نہیں نکالی گئی اورڈاکٹر صاحب کی پسلی میں نے دکھائی ہے ابھی آپ کو، مطلب ہے اشارہ کیا ہے اس طرف ۔ وہ ڈاکٹر ہیں جانتے ہیں پسلیاں کتنی ہوتی ہیں، انہوں نے ہاتھ لگا کے بھی احتیاطاً دیکھ لیا تھا۔ دونوں طرف ہاتھ پھیرا تھا کہ میری پسلیاںپوری ہیں۔ تو یہ پتا نہیں کون سا آدم ہے جس کا ذکر کررہے ہیں؟ اور فرمایا اس میں سے پھر ہم نے اس کا زوج نکالا ہے۔ جب نر اور مادہ پیدا ہوچکے، جب نر اور مادہ کے ذریعے افزائش نسل کانظام جاری ہوگیا۔ بث منھما رجالاً کثیرًا و نسائً ۔ تو رجال اور نساء ان دونوں سے پیدا ہوئے ہیں۔ ایک بھی دونوں میں سے جو انسان کہلاتے ہیںخواہ و ہ رجال ہوں ، خواہ وہ نساء ، ایک بھی اکیلا خود پیدا نہیںہوا۔ اب یہ وہ جو مضمون ہے ، یہ اتنا قطعیت کے ساتھ سائنس سے ثابت ہے کہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ کوئی دنیا کا سائنس دان مذہبی ہو یا غیر مذہبی اس حقیقت کا انکار نہیں کرسکتا کہ زندگی ایک لمبے عرصے تک تنہاسفر کرتی رہی اور عورت یعنی مادہ کے پیٹ سے پیدا ہوتی رہی، اور ہرگز اسے مرد کی احتیاج نہیں تھی۔ اس سے پہلی سورتوں میںجو عورت کا ذکر ہے اس کا اس آیت سے بھی گہرا تعلق ہے وجہ یہ ہے کہ سورۃ آل عمران میں یہ دعویٰ فرمایا گیا کہ مریم بغیر مرد کے تعلق کے بچہ جننے کی اہل ثابت ہوئی اور اس پر بڑے اعتراض ہوئے کہ کیسے ہوسکتا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ اس سورۃ جو نساء جس کا نام رکھا ہے اس کو اس سورۃکے آغاز ہی میں فرماتا ہے ، تمہیں کیوں تعجب ہے۔ تم سب کی ماں تو وہ مادہ تھی جس کو کبھی مرد کی احتیاج نہیں ہوئی اور انسان کی پیدا ئش کا آغاز ہی اس زندگی کے آغاز سے ہوا ہے جو مختلف شکلوں میں پہلے پائی جاتی تھی، مگر وہاں نہ نر کی تمیز تھی نہ مادہ۔ نر کی الگ تمیز تو ہوگی لیکن مطلب یہ ہے کہ نر کاوجود کوئی نہیں تھا۔ اکیلی مادہ افزائش نسل کیلئے کافی تھی۔ غور کرکے دیکھ لو ۔ پس مادہ ہے جو بغیر نر کے احتیاج کے بچے پید اکرتی رہی ہے اور کروڑوں سال تک ایسا کیا ہے اس نے اور اب تمہیں شک پڑ گیا ہے کہ عورت سے، اکیلی سے بچہ پیدا نہیں ہوسکتا۔ خدا نے اس میں سے پھر اس کا نر پیدا کیا تھا۔ اور عورت کو بطور ماں کے یہ عظیم مقام دیا گیا ہے یہاں۔ اور عیسائی کہتے ہیں کہ عورت بیچاری کو تو کوئی کسی شمار میں ہی نہیں رکھا گیا۔ جو عورت کا مضمون عیسائیت میں ملتا ہے(آگے حوالے رکھ دیئے ہیں ناآپ نے ساتھ شامل؟) عورت کو کس رنگ میں پیش کیا گیا ہے؟ وہ بھی حوالہ ہے کہ نہیں اس میں، نیو ٹیسٹامنٹ (New Testament)کا؟ اس میں بھی عورت کاذکر ملتا ہے(اچھا ٹھیک ہے)۔ وخلق منھا زوجھا و بثّ منھما رجالاً کثیرًا ونسائً۔ مرد اور عورت تو جوڑا بننے کے بعد جوڑوں ہی میں سے پیدا کئے گئے ہیں، یعنی انسان کے آبائو اجداد ابھی انسان کہلانے کے مستحق نہیں تھے۔ جوڑے پیدا ہوچکے تھے ، ان سے پھر آگے یہ پیدائش ہوئی ہے۔ ایک اس کا یہ مضمون ہے جو کھل کے سامنے آگیا ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ جب انسان جس کو ہوموسیپین(Homo Sapien) کہا جاتا ہے ،وہ پیدا ہوا ہے تو کیا واقعہ ہوا تھا؟ کیا پہلے ایک نر وجود میں آیا تھا، خواہ وہ دو جانوروں کے ملنے سے ہی آیا ہو، لیکن پہلے نر وجود میں آیا تھا جس کو ہم فرسٹ ہومو سیپین (First Homo Sapien)کہہ سکتے ہیں یا پہلے عورت وجودمیں آئی تھی جس کو فرسٹ ہو مو سیپین (Homo Sapien)کہہ سکتے ہیں۔ ہومو سیپین سائنس کی اصطلاح میں حیوان ناطق کو کہا جاتا ہے ، جس سے آگے انسان کی ساری نسل چلی ہے۔ جس کو آدم کہہ سکتے ہیں اور اس سے پہلے کہتے ہیں کہ ایک وجود تھا جس کو ہومو اریکٹس (Homo Eractus)کہتے تھے۔ وہ جانور ، انسان اور پہلے جانوروں کے درمیان انسان کے قریب ترین پیدا ہونے والا جانور تھا، جو دو ٹانگوں پر سیدھا چلنا سیکھ گیا تھا۔ مگر ابھی اس کا دماغ اتنا چھوٹا تھا کہ وہ ہومو سیپین(Homo Sapien)یعنی انسان ناطق کہلانے کے قابل نہیں تھا۔ اس کی جو کھوپڑی ملی ہے وہ سائز میںبہت چھوٹی ہے اور اس کے اندر اتنا مادہ دماغ کا آتا ہی نہیںکہ وہ سمجھتے ہیں سائنسدان کہ وہ ترقی کرتے ہوئے انسانی علوم کی آخری منازل طے کرسکتا، یعنی مسلسل انسانی علوم کا وہ سفر کرسکتا جس پر انسان کو ڈال دیا گیا۔
    تو یہ جو فرمایاگیا ہے کہ عورت سے پیدا کیا گیا ہے اس کا ایک یہ معنی بنیں گے، یعنی مادہ سے ، اکیلی مادہ سے کہ جب انسان کا آغاز ہوا ہے، اس وقت بھی سب سے پہلا وجود جو ظہور میں آیا ہے وہ مادہ تھی۔ چنانچہ سائنسدانوں نے جو اب تک تحقیق کی ہے ، مختلف وقتوں میں مختلف پنجر زمین سے نکالتے رہے ہیں، جو ابتدائی انسانوں کے پنجر تھے ، ایک لاکھ سال سے بھی پرانے زمانے کے، ان پنجروں سے یہ اندازہ لگاتے رہے کہ آدم اور حوا کی پیدائش تو ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن، کل کی بات ہے۔ وہ جو انسان کی پیدائش ہے وہ تو لاکھ سال سے بھی اوپر بہت پرانے زمانے سے شروع ہوچکی تھی اور اس کے دبے ہوئے پنجر قطعی طور پرمل چکے ہیں۔ آخری چیز جو اس ضمن میں دریافت ہوئی وہ ایک عورت کا پنجر ہے جو کینیا سے یا مشرقی افریقہ کے کسی ملک سے نکلا ہے اور اس کے متعلق سائنسدان کہتے ہیں کہ جتنے بھی پنجر نکلے ہیں ان میں سے یہ قدیم ترین ہے۔ اور اس کے متعلق ان کا خیال ہے کہ یہ پہلا تھا یا اگر پہلانہیں تھا تو یہ ملک بہر حال وہ ملک ہے جہاں پہلی عورت پیدا ہوئی اور جس کو ہم ہوموسیپین(Homo Sapien)کہہ سکتے ہیں۔ اس عورت سے پھر مردکے تعلق سے جو چیزیں پیدا ہوئی ہیں وہ انسان کہلائے۔ یعنی وہ ایسے مقام پر کھڑی ہے عورت کہ پہلا ترقی کا قدم جو اٹھا ہے وہ ایک عورت کی شکل میں اُٹھا ہے۔ اس کے بعد خداتعالیٰ نے پہلے نسل کے آدمی سے اس کا تعلق جوڑا ہے یا اس کے ساتھ بعد میں اسی ماں کے پیٹ سے ، جس سے یہ پیدا ہوئی تھی ایک ایسا شخص پیدا ہوا جس کو ہم مرد کہہ سکتے تھے مقابل پر،اور اس زمانے میں وہ قوانین تونافذنہیں تھے جو شریعت کے بعد نافذ ہوئے ہیں۔ وہاں تو زندگی آزاد تھی تعلقات میں۔ تو اس لیے ہوسکتا ہے کہ وہ نسل جو بننی شروع ہوئی ہے اس کا پہلا فرد عورت اور بعدمیں پھر اسی سے وہ مرد بنے ہیں اور پھر ان دونوں کے تعلق سے مرد اور عورتیں دنیامیں پھیلنے شروع ہوگئے۔ پس اس آیت کو جس پہلو سے بھی دیکھیں، آج کی سائنسی دریافت قطعی طور پر اس کی سچائی پرگواہ بنتی ہیں۔ اور بائبل جو تصور پیدائش کا پیش کرتی ہے ، وہ مذہبی لحاظ سے بھی انتہائی ناقص اور سائنسی لحاظ سے بھی نہایت بودا اور بلا تاخیر، بلا تردّد ردّ کرنے کے لائق ہے۔ پھر فرماتا ہے، عورت کی عظمت کا خیال دیکھیں،کہ نشان کتنا بڑا ہے اس میں یعنی ساتھ یہ بھی ثابت کردیا کہ مریم کا جو ذکرگزرا ہے ، اس پہ تعجب کی کوئی ضرورت نہیں اور یہ جو فرمایا تھا کہ آدم کو بھی تو پیدا کیا تھا اس کی تشریح اس آیت نے کردی ہے۔ لوگ یہ ترجمہ کرتے ہیں۔ عیسیٰ کی مثال آدم سے ہے۔ لوگ یہ ترجمہ کرتے ہیں کہ جس طرح آدم بن ماں باپ کے پیدا ہوا ، اسی طرح مریم کا بیٹا عیسیٰ اگر بن باپ کے پیدا ہوگیا تو کیا تعجب ہے اور یہ بات ہے غلط کہ وہ آدم جس کا ذکر ملتا ہے اس سے تو لاکھ سال سے بھی اوپر پہلے زمانے سے انسان موجود تھا۔ تو کیا قرآن کریم نے نعوذ باللہ کوئی غلط بات کہی ہے۔ قرآن کریم نے جو کہاخود اسے سمجھا بھی دیا۔ فرمایا تم بحث یہ اٹھارہے ہو کہ کس طرح عورت سے بغیر مرد کے تعلق کے کچھ پیدا ہوگیا۔ خلق آدم پر کیوں غور نہیں کرتے۔ اگر تم خلق آدم پر غور کرو تو یہ مضمون پوری وضاحت کے ساتھ تم پر کھل جائے گا اور دل کی گہرائی تک تمہیں مطمئن کردے گا کہ عیسیٰ کے بے باپ کے پیدا ہونے میں ہرگز کوئی خدائی نشان اس کی ذات میں نہیں ہے۔ بلکہ اگر نشان ہے تو خالق کی ذات میں ہے اور وہ اس سے پہلے بھی ایسی تخلیق کرچکا ہے جو تمہاری نظر کے سامنے ہے ۔ تو آدم کی تخلیق پر غور کرو گے تو عیسیٰ کی تخلیق تو بالکل معمولی ایک چھوٹا سا رونما ہونے والا رستے کا واقعہ دکھائی دے گا ۔اور یہ تفصیل ہے، جس کا یہاں ذکر کردیا گیا ہے۔
    پس آدم کی مثال یہ ہے۔یاایھاالناس اتقوا ربکم الذی خلقکم من نفسٍ واحدۃٍ اے بنی نوع انسان! یاد رکھو، اے انسانو! یاد رکھو! اور تقویٰ کرو اللہ کا اپنے ربّ کا ، جس نے تمہیں ایک ہی مادہ ذات سے پیدا کیا ۔ اور اس مادہ ذات سے اس کا جوڑا نکالا اور جب جوڑا نکال لیا تو ان دونوں میں سے پھر مرد اورعورتیں پیدا کیں اور اکیلا نہ آدم پیدا ہوا نہ اکیلی حوا پیدا ہوئی۔ واتقوااللہ الذی تساء لون بہٖ والارحام۔ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، جس سے تم سوال کرتے ہو تساء لون بہٖ… جس سے تم سوال… یہاں جس کے ذریعے سے تم آپس میں سوال کرتے ہو کا ترجمہ بھی بنتا ہے اور جس سے تم سوال کرتے ہو یہ بھی ہے ۔ اس لیے میں آپ کو… یہاں رک گیا تھا کہ کون سا ترجمہ اختیار کروں۔ حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ ترجمہ کیا ہے کہ ’’جس کے حوالے دے دے کر تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو‘‘ واتقواللہ الذی تساء لون بہٖ والارحام۔ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ جس کے تعلق میں تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو۔ یعنی جس کے حوالے سے۔ والارحام اور ارحام کا خیال رکھنا یہ جو دوسرا ترجمہ ہے ا سکے متعلق ابھی میں پورے یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ اس لفظ تساء لون سے نکل سکتا ہے کہ نہیں۔ میرے ذہن میں دوسرا ترجمہ یہ ہے کہ جس کے بہ…واتقواللہ الذی تساء لون بہٖ… ساء ل بہٖ کا مطلب یہ ہے اس سے بھی مانگا، اس سے پوچھا۔ تو تساء لون کا مفہوم میرے ذہن میںیہ بھی ابھرتا ہے، اگر عربی گرائمر نے اجازت دی تو کل میں آپ کو بتادوں گا کہ بہت سوال کرتے ہو۔ صرف یہ نہیں کہ ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو بلکہ سوال اللہ سے ہی کرتے ہو مگر بہت سوال کرتے ہو(یہ چیک کریں جی کل)۔ والارحام،اور ارحام کا خیال رکھنا۔ اب دیکھیں عورت کا مرتبہ کس طرح خداتعالیٰ نے درجہ بدرجہ آگے بڑھایا ہے اور کس عظیم مقام تک اس کو پہنچادیا ہے کہ اگر تم نے اللہ سے سوال کرنے ہیں (اگر یہ میرا معنی درست ہے) تو یہ سوال جو ہیں یہ ارحام کے حق ادا کرنے سے قبول ہوں گے ورنہ نہیں ہوں گے۔ یہ جوبات ہے یہ تو قطعی طور پر آنحضرتﷺ سے ثابت ہے اس لیے گرائمر کی بحث جو بھی اُٹھے یہ مضمون بہر حال قطعی طور پر اس آیت سے نکلتا ہے کہ رِحم سے تعلق رکھو گے، رِحم کے حقوق ادا کرو گے تو رحمن خدا سے تعلق رہے گا۔ اگر رحم کے حقوق ادا نہیں کروگے تو رحمن خدا سے تعلق کاٹا جائے گا۔
    ان اللہ کان علیکم رقیبًا اللہ تعالیٰ تم پر(یعنی اس پہلو سے رقیباً مراد ہے ۔ ویسے تو رقیب ہر پہلو سے ہے مگر اس مضمون کے بعد یہ بات بنے گی) خداتعالیٰ تم پر مسلسل نگران ہے۔ پس جو حقوق رحم سے پیدا ہوتے ہیں ان کو اس طرح درجہ بدرجہ بڑھا کر یہاں دکھایا گیا اور اس کے بعد پھر عورت کے حقوق کا مضمون چھیڑ دیا گیا ہے جو سورہ نساء میں آتا ہے ۔ اس کا کسی اتفاقی جنگی حادثے سے کوئی تعلق نہیںہے۔ لیکن چونکہ جنگیں ہورہی تھیں، اس سے پہلے حکم تھا کہ صبر کرو اورایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرو اور رابطوا آپس میں ایک دوسرے سے تعلق باندھو، اللہ سے تعلق باندھ کے رکھو اور اپنی سرحدوں کی نگرانی کرو۔ یہ سارے مضمون رابطوا میں شامل ہیں۔ اس لیے اب فرمایا ہے کہ رابطوا کے کیا کیا طریق ہیں؟ رابطوا میں جو باہمی ربط ہے وہ رحمی تعلق کو توڑ کر قائم رہ ہی نہیں سکتا۔ پہلے گھر میں انسان ایک دوسرے سے مربوط ہوگا ، اگر خاندانی رِباط کو تم نے چھوڑدیا اور یہ خیال کیا کہ تم آپس میں بطور قوم کے ایک ہوکر رہ سکتے ہو تو اس بات کو جھوٹ سمجھو ۔ کیونکہ جس نے رِحمی رشتوں کا تعلق توڑا اس نے خدا کو بھی چھوڑد یا، کیونکہ رحمن اس سے تعلق کاٹ لے گا۔ اور آپس میں جس کا گھر ایک نہ ہوسکے وہ قوم ایک کیسے ہوسکتی ہے؟پس رابطوا کے مضمون کو ہی آگے بڑھایا گیا ہے اور (سورہ ٔنساء سے ایک یہ بھی اس کا تعلق ہے)،نہ پچھلی سورۂ آل عمران سے اس کایہ بھی ایک تعلق ہے۔پس اب دیکھ لیں تعلق کس طرح خداتعالیٰ کے فضل کے ساتھ صاف دکھائی دینے لگے ہیں کہ ایک سورت دوسری سے مربوط اور یہ رباط جو ہے یہ صرف انسانوں کا ہی نہیں سورتوں کا بھی آپس میں رباط ہے اور سورۃ نساء کا تو اتنا گہرا اور قطعی مضبوط تعلق پہلی سورتوں سے ہے کہ یہ باتیں وہ جو بیچارے محروم ہیں ان کو نظر نہ آئیں ، تو ہم اس میںان کو بے قصور سمجھتے ہیں۔ ہم بے قصور اس لیے سمجھتے ہیں کہ ہمیں ان کا بغض نظر نہیں آرہا پوری طرح جو اندر دبا ہوا ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ اندھے کیوں ہوئے ہیں اور کیوں ان کو یہ صاف دکھائی دینے والی باتیں دکھائی نہیں دیں؟ یہ ہے بہت ہی اہم مضمون۔ اب میںآپ کے سامنے پھر وہی بات دہراتاہوں جو بائبل میں لکھی گئی تھی عورت کے متعلق۔ اب New Testamentکے حوالے سے میں وہ بات پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے یہ مشہور کررکھا ہے کہ گویا نعوذ باللہ من ذالک اسلام نے عورت کوتو جوتی کے نیچے رکھنے کا حکم دیا ہے اور اس کی کوئی عزت نہیں ہے۔ حالانکہ بالکل اپنا الزام ہے، اپنے اوپر عائد ہونے والا الزام ہے جو اسلام کے اوپر یہ پھینک رہے ہیں اور میں نے قطعی طور پر ثابت کردیا ہے۔ عورت کا تصور تو ایسا ہولناک پیش کیا گیا ہے بائبل میں، کہ اس کے بعد اس کی کوئی حیثیت نہیں رہتی باقی۔ اورجتنا اس کو گناہ کی سزا دی جائے جو اس کو آدم نے، اس نے انسان کو تھکایا ہے وہ برحق ہوجاتی ہے پھر، اسی سے ساری شرارت پھوٹی ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ عورت کو خدا سے تعلق قائم کرنے کا ذریعہ بیان کرتا ہے۔رحمن خدا سے تعلق قائم کرنے کا ذریعہ بیان کرتا ہے۔ پس آنحضرت ﷺ کا یہ فرمانا کہ ’’جنت مائوں کے قدموں کے نیچے ہے‘‘۔ یہ مضمون اسی آیت سے پھوٹ رہا ہے، بالکل واضح طو رپر۔ ورنہ ویسے تو قرآن کریم میں کہیں یہ ذکرنہیں کہ جنت مائوں کے قدموں کے نیچے ہے۔ یہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد قطعی طور پر اس آیت سے بھی منسلک ہے اور دوسری اور بھی آیات ہیں جن سے یہ مضمون نکلتا ہے۔ تریموٹیس (اس کا انگریزی میں لکھا نہیں ہوا۔ اب اردو تلفظ ، سمجھ نہیں آرہی مجھے ۔ Trimthes۔۔۔) اصل میں جو حوالہ انہوں نے لیا ہے، کیونکہ درس اُردو تھا اس لیے اردو ترجمے سے لے لیا ہے۔ اور اس کی وجہ سے یہ دقتیں پیدا ہوتی ہیں۔ مگر اس کا اصل جو ہے انگریزی(وہ آپ نے دے دیا ہے ان کو جنہوں نے ترجمہ پیش کرنا ہے، کہ بھول گئے تھے۔ اچھا) وہ اگران کے پاس بائبل ہو تو ایک تریموتھیس باب ۲ آیات ۱۲ تا ۱۵ ہیں جو میں پڑھ کر سنانے لگا ہوں۔
    ’’اور میں اجازت نہیں دیتا کہ عورت سکھائے یا مرد پر حکم چلائے۔ بلکہ چپ چاپ رہے‘‘۔ اب یہاں یہ بحثیں اٹھائی گئیں ہیں کہ عورت کو ووٹ کا حق نہیں، فلاں حق نہیں اور حکومت کا حق نہیں اور بائبل کیا کہہ رہی ہے ، وہ سب باتیں تومولویوں نے بنائی ہوئی ہیں۔ میرا خیال ہے ان سے ہی سیکھ کر آگے پیش کررہے ہیں وہ۔ قرآن میں تو کوئی ذکر نہیں ’’میں اجازت نہیں دیتا کہ عورت سکھائے یا مرد پر حکم چلائے بلکہ چپ چاپ رہے، کیونکہ پہلے آدم بنایا گیا اس کے بعد حوا‘‘۔ اب قرآن کی آیت دیکھیں کس شان کی آیت ہے ، کتنی روشن، کتنے اندھیروں سے پردے دور کرنے والی۔ چودہ سو سال پہلے کی باتیں ہیں جواب یہ جستجو کرکے نکال رہے ہیں اور اس کی تائید میں گواہ بن گئے ہیں۔ ’’پہلے آدم بنایا گیا اس کے بعد حوا، اور آدم نے فریب نہیں کھایا‘‘۔آدم بیچارے کا تو، مرد بیچارے کا تو قصور ہی کوئی نہیں۔ عورت فریب کھا کر گناہ میں پڑ گئی(سمجھے ہیں)۔ ’’لیکن اولاد ہونے سے نجات پائے گی۔ بشرطیکہ وہ ایمان اور محبت اور پاکیزگی میں پرہیزگاری کے ساتھ قائم رہے‘‘ ۔ اب یہاں ’’اولاد ہونے سے نجات پائے گی‘‘ لکھا ہوا ہے ۔ یہ بھی ایک دلچسپ بات ہے کہ نجات دہندہ کی تو کہتے ہیں اولاد ہی کوئی نہیں تھی۔ اور یہاں عورت کی نجات کیلئے نجات دہندہ پر ایمان لانے کاذکر ہی کوئی نہیں ملتا ، جس عورت کے بچہ پیدا ہوگا وہ اس سے نجات پاجائے گی۔ اور یہ بحث ساتھ ضرور اٹھادی ہے کہ محبت اور پاکیزگی اور پرہیزگاری کے ساتھ بچہ جنے گی تو نجات پائے گی۔ پس اس کے نتیجے میں بچہ جو ہے وہ نجات دہندہ نہیں بنے گا بلکہ ماں کو نجات ملے گی۔ اور اس میں غالباًان کا ایک اورمضمون بھی ہے جو اس آیت کے لکھنے والے کے ذہن میں ہوگا۔ بائبل میں یہ آتا ہے کہ عورت نے جب گناہ کیا، تو اس کے گناہ کی یہ سزا مقرر کردی گئی کہ وہ تکلیف سے بچہ جنے گی، کیونکہ یہ حوالہ اس کلام کے لکھنے والے کے پیش نظر تھا۔ غالباً اس لیے اس نے کہاجب یہ سزا مل گئی کہ تکلیف سے بچہ جنے گی، تو جب تکلیف سے بچہ جنا وہیں اس کی نجات ہوگئی۔ ٹھیک ہے نا! اور جب نجات ہوگئی تو گناہ بخشا گیا کہ نہیں بخشا گیا؟ اگر گناہ بخشا گیا تو پھر آگے کیسے منتقل ہوگیا وہ، عورت تو بچہ جن کے نجات پاگئی بچہ پھر بھی گناہگار۔ اور اگر یہ اصول مان لیا جائے تو حضرت مریم نے تکلیف سے بچہ جنا تھا کہ نہیں؟ اور اتنی تکلیف سے کہ بائبل بھی اور قرآن بھی بتارہا ہے کہ غیر معمولی ، کیونکہ کنواری اگربچہ جنے تو اس کو بہت تکلیف ہوگی۔ یہ طبعی بات ہے، کیونکہ اس کے مسل اسی طرح کشادہ نہیں ہوتے، ان میںوہ جو آہستہ آہستہ مرد اور عورت کے تعلقات کے نتیجے میں بچے کی تیاری ہورہی ہوتی ہے وہ پوری طرح کنواری میںہو نہیں سکتی۔ اس لیے قرآن کریم نے بالکل صحیح نقشہ کھینچا ہے کہ حضرت مریم نے یہ کہا مت قبل ھٰذا ۔ اے کاش میں اس سے پہلے مرچکی ہوتی، اتنی تکلیف ہے تو اس تکلیف سے وہ بچہ جنا، آپ تو وہ جنّتی ہوگئیں۔ ان کا نظریہ تو یہ ہے کہ بچہ پھر بھی گناہگار پید اہوگا۔ تو عیسیٰ بے گناہ کیسے ہوگئے؟ صرف یہ ایک عذر بناتے ہیں کہ کیونکہ مرد نے اس کو نہیں چھوا۔ اس لیے وہ پاک پیدائش ہے حالانکہ بائبل کے لحاظ سے مرد کو چھونے سے پیدائش کا کوئی بھی تعلق نہیں ہے ، اس کی پاکی ناپاکی سے۔ عورت گناہگار ہوئی، وہاں مرد کے چھونے کا ذکر نہیں ہے۔ پھل کھانے سے اور شیطان کی بات ماننے سے ، اور شیطان کی وہ بات ماننے سے جو سچی تھی اور خدا کی نعوذ باللہ جھوٹی بات کے انکار کے نتیجے میں گناہ گار ہوگئی۔ اب یہ گناہ کا ایک اور تصور بھی پیداہوگیا کہ گناہ اس کو کہتے ہیں کہ سچ کو قبول نہ کرو۔ جھوٹ کے پیچھے چلو، یہ نیکی ہے، گناہ نہیں نیکی ہے۔ سچ کو ردّ کرو اور جھوٹ کے پیچھے چلو اور اندھے رہو۔ کچھ تمہیں سجھائی نہ دے۔ یہ نیکی کی بہترین تعریف ہے جو بائبل نے کردی ہے اور وہ عورت جس نے احتجاج کیا ہے اس کے خلاف، جو اُٹھ کھڑی ہوئی علم بغاوت لے کر اور کہتی ہے کہ میں تو سچ کے پیچھے چلو ں گی، میں تو روشنی کی اطاعت کرو ں گی، دیکھو ں گی اور سمجھوں گی۔ وہ عورت جس کے اوپر روشن ہوگیاکہ نعوذ باللہ من ذالک خد اجھوٹا تھا، جس نے یقین کرلیا اپنے تجربے سے کہ شیطان ہی پاکباز ہے اور سچا ہے، یہ اس کابیچاری کا گنا ہ ہے۔ اب اگر یہ گناہ ہے تو اس کے اور بڑے دلچسپ منطقی نتائج نکلتے ہیں۔ جب عیسیٰؑ نے گناہ سے نجات بخشی، توکس گناہ سے نجات بخشی؟ اسی پیدائشی گناہ سے کہ سچ کو سچا سمجھے اور جھوٹ کو برا سمجھے، جہالت کو پسند کرے اوربینائی کو قبول نہ کرے۔ تو جس گناہ سے بخشش ہوئی ہے، بخشش واپس اصل کی طرف لوٹادیا کرتی ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ جس شخص کا گناہ بخشا جاتا ہے وہ گویا ایسا ہوجاتا ہے جس طرح ما ں نے اس کو ازسر نو پیدا کیا ہو اور کچھ بھی گناہ کا بد اثر اس میں باقی نہ رہے۔ تو As you wereجس کو انگریزی میںکہتے ہیں۔ اگر گناہ کا یہی تصور ہے جو بائبل پیش کرتی ہے جس کو عیسائی سب دنیامیں پھیلارہے ہیں اور یہ عورت سے وابستہ ہے، مرد سے نہیں ہے ۔ تو اوّل تو جس عورت نے درد سے بچہ جنا، حضرت مریم نے، وہ خود پاک ہوگئیں لیکن ان کے اصول کے مطابق یسوع پاک نہیں ہوسکتے تھے ۔ لیکن اگر پاک ہوئے فرض کریں ،ہم تو ویسے ہی پاک مانتے ہیں، اس بناء پر نہیںمانتے۔ مگران کے طریق کے مطابق اگر پاک ہوئے اور بالآخر گناہ سے نجات بخشی دنیا کو تو گناہ کیا تھا؟ شیطان کی بات مان کر خدا کے جھوٹ کو سمجھ لینا اور سچائی کوقبول کرلینا اورنیک و بد میں تمیز کرنے کی اہلیت پانا۔ تو جو پھر مسیح پر ایمان لائے گا وہ بیچارہ از سر نو اسی جگہ پہنچ جائے گا، جہا ں سے یہ کہانی شروع ہوئی تھی۔ اچھی ترقی ہے کہ ابتدائے آفرینش کے اس مقام تک اس کو پہنچادیا گیا۔ جہاں وہ پھر بیچارہ اندھے کا اندھا اور غلط تصورات پر ایمان لانے والا اورنیک و بد میںتمیز کا اہل نہیںرہا۔ تو یہ دیکھیں کہ قرآن کریم اور بائبل کے بیان میں اگر تجزیہ کرکے ایک ایک پہلو سے دیکھا جائے تو کتنا زمین و آسمان کا فرق ہے۔
    (کیوں جی آپ نے کیا پکڑا ہوا ہے ہاتھ میں؟ ٹموتھی، ٹموتھیئس غلط ہوا نا پھر، ہاںاُردو میں یہی لکھا ہے۔۔۔ ہاں میں بھی سوچ رہا تھا، میں نے اس وقت آپ سے پوچھا بھی تھا میں نے کہا یہ حوالہ جو ہے یہ بتائیں۔۔۔۔۔۔ اولڈ ٹیسٹامنٹ کا ہے کہ نیو(New)کا ، کیونکہ مجھے ٹموتھی نیو ٹیسٹامنٹ میںکوئی یاد نہیں ہے ۔ تو آپ نے کہا کہ انہوں نے نیو ٹیسٹا منٹ کے حوالے سے ہی دیا ہے۔ یہ درست کرلیں ۔ اچھا ہوا وقت کے اوپر بات پکڑی گئی۔ یہ انگریزی میں Timothyہے اور یہ جو حوالہ ہے، یہ اولڈ ٹیسٹامنٹ کا ہی حوالہ ہے۔ اوروہ حوالہ ہے جس کو نیو ٹیسٹامنٹ نے، جب بھی ذکر چلا ہے اس کو قبول کیا ہوا ہے۔ اس کیخلاف بات نہیں کہی، کیونکہ اگر وہ اس کو قبول نہ کریں تو ان کا سار انظریہ گناہ اور نجات کا وہ دھڑا م سے نیچے گر پڑتا ہے ۔ اس لیئے کسی حوالے کی بھی ہمیںضرورت نہیں اگر وہ قبول نہ کریں تو عیسائیت ختم، کیونکہ عیسائیت کی بناء اس بات پر ہے کہ انسان پیدائشی گناہ گار ہے اور گناہ کا آغاز حوا کے گناہ سے ہوا تھا۔ اور سینٹ پال نے بھی بڑے کھل کر اس حوالے کو دے کر بات کی ہے اور غالباً سینٹ جان میں بھی ملتا ہے یہ۔ ہماری ریسرچ ٹیم (Research Team)بیٹھی ہوگی یہاں اس وقت، کافی ہوشیار ی سے کام کرتی ہیں یہ لڑکیاں۔ اگر وہ ان کے علم میں آگیا تو بتادیںگے یعنی جان (John)میں بھی، یوحنّا ہی کہتے ہیں نا اس کو؟ اردو میں بھی؟ جہاں تک مجھے یاد ہے یہ ذکر مل رہا ہے آپ کے پاس جو حوالوں کی کتاب ہے وہ کہاں چلی گئی ؟۔۔۔ اچھا ٹھیک ہے۔بہرحال یہ آپ کو میں بتارہا ہوں قطعیت کے ساتھ اس میں کوئی شک نہیں ، یہ حوالہ اوّل تو درست کرلیں کہ یہ اولڈ ٹیسٹامنٹ کا ہے نیو ٹیسٹامنٹ کا نہیں ہے، ٹموتھی باب ۲، آیات ۱۲ تا۱۵۔ اور دوسری بات یہ کہ یہ حوالہ عیسائیت کو تسلیم ہے۔ اس میںکوئی شک نہیں ہے اورمعین طور پر نیو ٹیسٹامنٹ میںجہاں اس کہانی کو ۔۔۔۔ کا ذکر ملتا ہے وہ ہم نکال کے کل پیش کردیں گے۔ مگر عیسائیت کی بنیاد اسی پر ہے بہرحال۔
    پس اگر نجات کا یہ معنی ہے تو پھر نجات کا مطلب ہے دوبارہ اندھے ہوجانا، سچ کا انکار کردینا اور جھوٹ کو قبول کرلینا اورنجات کا یہ مطلب ہے کہ خداتعالیٰ کو فریب دہندہ تسلیم کرنا، اور شیطان کو سچائی اور راہِ راست پر لانے کا علمبردار بنانا، سمجھنا۔ کیونکہ اس بائبل کی رو سے جو میں نے آپ کے سامنے پڑھی ہے ، سوفیصدی شیطا ن سچا ہے۔ ایک بات میں بھی بیچارے نے غلطی نہیں کی۔ اور مردود یونہی ہوگیا بیچارہ۔ اچھا اب چلتے ہیں دیگر پہلوئوں پر۔ نفس سے کیا مرا دہے؟ قرآن کریم کی بہت سی آیات میں لفظ نفس ملتا ہے، جن کی تعداد اس وقت میرے سامنے (۳۰ کے بعد پھر اکیس آگئی ، نہیں آگے پھر تعدادلکھناہی بند کردیا ہے۔ نہیں ہیں آگے ٹھیک ہے۔ اب میں سمجھا ہوں)۔ انہوں نے جو اکٹھی کی ہیں آیات نفس کی، نفس کے جو مختلف معانی ہیں ان کے تابع ایک نمبر کے نیچے ، ان ملتی جلتی آیات کو اکٹھا کردیا ہے۔ اس لیے نمبر شماری میں اب مشکل پیش ہوگی۔ میں اس کے بغیر ہی آپ کے سامنے مثال رکھتا ہوں۔ نفس سے صرف جان مراد ہے۔ اوریہ مضمون ملتا ہے وتجاہدون فی سبیل اللّٰہ باموالکم و انفسکم ۔ کہ تم اللہ کی راہ میںجہاد کرو، اپنے اموال سے اور اپنے انفس سے۔ تونفس میںانسانی وجود تمام کا تمام آجاتا ہے۔ اس کی روح اس کی زندگی ، اس کا وجود، جسم ، اس کی ہر چیز اس میںشامل ہے۔ اور دوسرا معنی نفس کا محض جان ہے نہ کہ جسم کیونکہ پہلی آیت میں تو قطعی طور پر جسم اس میںشامل ہے کیونکہ جہاد کے وقت وہ جسم کو لے کر انسان چلتا ہے۔ اگرچہ تکلیف جان محسوس کرتی ہے مگر بدن کے ذریعے ہی محسوس کرتی ہے۔ دوسری آیت میںنفس کا تعلق محض اس زندگی سے ہے جو آخری نقطہ اَنا ہے اور وہ زندگی کا آخری انا کا نقطہ جو موت کے وقت بدن کو چھوڑ کر الگ ہوجاتا ہے۔ فرمایا: والملائکۃ باسطوا ایدیھم اخرجوا انفسکم ۔ کہ فرشتے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہوں گے ۔ ان لوگوں کے سامنے موت کے وقت جو خدا کے نزدیک مجرم ہیں۔ جنہوں نے بد انجام دیکھنا ہے اخرجوا انفسکم ۔۔۔۔۔۔اپنی جانیں نکالو اور خود اچھال کے حاضر کردو۔ تو یہاں جان سے بدن مراد نہیں بلکہ بدن سے اس آخری نقطہ ٔ انا کی علیحدگی ہے۔ پھر نفس سے مراد ہر قسم کی زندگی ہے فرمایا ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق ۔ کسی زندگی کو لینے کا تمہیں کوئی حق نہیں، جسے اللہ نے حرام کردیا ہو۔ الا بالحق مگر حق کے ساتھ یعنی اجازت کے ساتھ یہاں اجازت کی بجائے حق ، اس لیے لفظ رکھا گیا ہے کہ بعض اجازتیں ہیں جن میںواضح طور پر نام لے کر کسی جانور کو مارنے کا حکم نہیں ملتا، مگر حق ہوتا ہے۔ اور حق سے مراد یہ ہے کہ ایک آدمی، سانپ حملہ کررہا ہے ، اس سے بچنا ہے اس نے ۔ کہاں لکھا ہوا ہے اللہ تعالیٰ نے کہ سانپ کو ماردیا کرو؟ لیکن وہ اس سے بچائو کرے گا ، اس کومارے گا۔ ایک بھڑ کو ماردیتا ہے ، ایک جنگل کا شیر یا کوئی اور جانور حملہ کرتا ہے اس کو مار دیتا ہے۔ تو یہ سارے حق کے ساتھ ہیں ، اگرچہ واضح الگ اجازت نہیں مگر اجازت دفاع کی ہے بس۔ تو اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق ۔ کسی نفس کو قتل نہ کروجسے اللہ نے حرام کردیا ہو، مگر حق کے ساتھ۔ حرم اللہ کا مطلب حرام سے مراد وہ حلال حرام نہیں ہے بلکہ جس کو یہاں نفس کی حرمت مراد ہے اصل میں۔ یہ مراد نہیں کہ سؤر کو نہ مارو اور جو Beastsہیں ان کو نہ مارو بلکہ حرّم سے مراد ، خداتعالیٰ نے انسانی زندگی کی حرمت قائم فرمائی ہے۔ تو وہ زندگی، یہاں النفس سے مراد ، وہ زندگی ہے جس کی خداتعالیٰ نے حرمت مقرر فرمادی ہے۔ اس کو تم نے قتل نہیں کرنا سوائے حق کے اور یہ مضمون بچوں کے اوپر بھی اطلاق پاتا ہے۔ جنین کے اوپر بھی اطلاق پاتا ہے، دنیا بھر کے جانوروں کے متعلق اطلاق پاتا ہے اور Sanctity of lifeکے ساتھ اس مضمون کا تعلق ہے کہ زندگی ایک بہت قیمتی چیز ہے اور دیکھو پیداکس طرح ہوئی ہے، النفس جو پہلی آیت بیان کررہی ہے۔ اتنا لمبا سفر ہے زندگی کے آغاز کا، کس حکمت کے ساتھ اس کو پیدا کیا گیا، اس کو آگے بڑھایا گیا۔ تو کسی کو حق نہیں کہ کوئی زندگی بھی لے، کیونکہ زندگی میں ایک حرمت پائی جاتی ہے۔ ہاں حق ہے تو پھر لے لے۔ حق پیدا ہوتا ہے مؤیّد اذن الٰہی سے، بچنے کی خاطر بھی اور استعمال کی خاطر بھی۔اسی آیت کے تابع بعض ایسے جانوروں کو مارنا بھی منع فرمادیا گیا، جن کے متعلق حرمت الگ بیان نہیں ہے۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے ایک موقع پر بچوں میں سے کسی سے فرمایا۔ یہ سب جانور مارنے کیلئے نہیں ہوتے، بڑے خوبصورت جانور، خوبصورت پدیاں، عجیب و غریب رنگ کی ، خوبصورت آوازوں والے پرندے ہیں ، یہ کھانے کیلئے نہیں ہیں، ان کے اور مقاصد ہیں۔ پس جب وہ جن مقاصد کیلئے پیدا کیے گئے ہیں اگر تم کھانے کی خاطر ان کو مارو گے تو یہ حق نہیں ہوگا۔ تو یہ آیت جو ہے یہ ایک ہی آیت بڑی وسیع ہے مگر مثال کے طور پر میں آپ کو سمجھارہا ہوں اور یہ ہے سورۃ الانعام سے لی گئی ہے۔ اس کا تعلق خاص طور پرمویشیوں سے ہے۔ پس مویشیوں میں سے بھی ، ان کو مارنا ہے جن کے اوپر آپ کا حق قائم ہوتا ہے۔ ورنہ خوامخواہ نہ ان کو قتل کرتے پھریں۔ پھر نفس انسانی سے مراد وہ نفس جو پہلے بیان کئے جس کو فرشتے نکالیں گے۔
    ولتنظر نفسٌ مّا قدّمت لغد آخری انا جو ہے زندگی کی، وہ یہ دیکھے کہ وہ کل کیلئے کیا پیچھے چھوڑ کر جارہی ہے۔ واتقوا یوماً لا تجزی نفسٌ عن نفسٍ شیئًا یہاںذات مراد ہے صرف۔ اس دن سے ڈرو جب کہ کوئی ذات ، کسی دوسری ذات کے کام نہیں آسکے گی۔ کل نفسٍ بما کسبت رھینۃ۔ یہاں رُوح مرا دہے کہ ہر روح جو ہے وہ جو کچھ کماتی ہے، اُسی پنجرے میں بند رہتی ہے جو پنجرہ اس نے خود اپنے ارد گرد بنایا ہے۔ رھینۃ ہے، اس میںوہ قید ہوچکی ہے۔ تو تم نے اگر اچھا انجام اپنے لیے پیدا کرنا ہے تو اس دنیا میں روح کیلئے ایسی جگہ تیار کرو ، جو جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے وسیع جنتوں کی شکل میںہوگی۔ اور اگر نہیں کرو گے تو پھر جو کچھ کمائو گے وہی تمہارا اوڑھنا، بچھونا تمہارا رہنا بن جائے گا اور تم اس میں قید ہوگے تو اس لیے کہ تمہاری روح نے وہ چیز بنائی ہے تمہارے لیے یاتمہارے اعمال نے وہ بنائی ہے۔ کل نفسٍ بما کسبت رھینۃٌ پھر دوسری جگہ فرمایا کل امرئٍ بما کسب رھین یعنی انسان، مرد لفظ بولاگیا ہے ، مگر یہاں مرد اور عورت سب دونوں برابرمراد ہیں۔ صرف فرق یہ ہے کہ پہلے مادہ کے حوالے سے اشارہ تھا یہاں مرد، ذکور یعنی نر کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔ بات وہی ہے۔ کل نفسٍ بما کسبت رھینۃٌہر جان رہین ہوگی اس کی جو وہ کماتی ہے کل امرئٍ بما کسب رھین ہر شخص جو وہ کمائے گا کماتا ہے اس کا وہ رہین ہوگا۔ و اذ قتلتم نفسًا فادّٰرء تم فیھا باقی نفوس کا زیادہ تر یہی ،تقسیم یہی ہے، استعمال تو اس کابہت وسیع ہے۔ میں قرآن کریم میں جہاں جہاں بھی، اس کے استعمال آئے ہیں وہ ساری تفصیل یہاں بیان نہیں کرسکتا، اگرچہ آیات اکٹھی ہیں۔ کیونکہ وہ مضمون ،ہر جگہ جہاںنفس کا مضمون بیان ہوا ہے کچھ اور معانے بھی رکھتا ہے۔ اگر ان کی تفاصیل میں چلے گئے تو ایک پورا مہینہ تو نفس کی بحث میں ہی گذر جائے گا۔
    لفظ خَلَقَ،خَلَقَکامطلب ہوتا ہے۔ صحیح اندازہ لگاکر اس کے مطابق کوئی ارادہ باندھنا، کوئی منصوبہ بنانا۔ تو اسی لیے میں نے آپ کو متوجہ کیا تھا کہ بَدَعَ اور خَلَقْ میں یہ فرق ہے کہ بدع میں تخلیق کا آغاز ہوتا ہے اور جو جب آغاز ہوجاتا ہے تو پھر جتنی شکلیں مختلف ڈھلتی ہیں وہ خلق کہلاتی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ بدیع السموات والارضبھی ہے اور خالق کل شیء بھی ہے۔ اس پہلو سے خَلَقَکا مضمون یہ ہے کہ کسی چیز کو جو موجود ہو اس کو ، اس کا صحیح اندازہ کرنا یعنی اس کے فطرت کے باریک تر رازوںپر نگاہ رکھنا ، اس کے مزاج کو سمجھنا، اور اس کے مزاج کے مطابق اس کو نئی شکلوں میں ڈھالنا۔ پس کیمسٹری اور فزکس یہ انسانی تخلیق کی مثالیں ہیں۔ لیکن چونکہ انسان کا علم محدود ہے اور نہ کیمیکلز کی آخری کنہ تک پہنچ سکتا ہے، اس کے تمام تر صفات پر نظر رکھ سکتا ہے ، نہ فزیکل صفات پر پوری نظر ہوسکتی ہے۔ اس لیے اس کی تخلیق ہمیشہ محدود رہے گی ۔ لیکن اللہ تعالیٰ چونکہ ٹھیک اندازہ کرنے میں ادنیٰ بھی اور ذرا بھی چوکتا نہیں کیونکہ تمام چیزیں اس کے علم میں ہیں تمام صفات۔ اس پہلو سے خدا ہی کی تخلیق ہے جو اصل ہے۔ اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے کہ تمہاری تخلیق کے مقابل پر اللہ کی تخلیق بہت عظیم ہے۔ حالانکہ جو تخلیق انسان کرتا ہے وہ بھی دراصل اللہ ہی کی تخلیق ہے۔ کیونکہ ایسا خالق نما وجود پیداکردینا، جو جہالت کے اندھیروں سے نکلا ہو، جس کو اپنی انا کا بھی شعور نہ ہو یعنی مادہ، جس میں جان نہ ہو ، جس میں شعور نہ ہو۔ اس سے ایک چیز اٹھا کر یہاں تک لے جانا کہ وہ پھر آگے تخلیق کرنے لگے بظاہر۔ یہ خالق ہی کی تخلیق ہے جو اصل خالق ہے۔ مگر جب انسان تکبر کرتاہے تواللہ بتاتا ہے کہ تمہاری تخلیق کی تو اس تخلیق کے مقابل پر جو میں نے کی ہے کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جو فرمایا اللہ کے حکم سے انی اخلق لکم من الطین کھیئۃ الطیر فانفخ فیہ فیکون طیرًا باذن اللّٰہ یہاں بھی خلق سے مراد ترتیب دینا ہے۔ نئی ترتیب دینا ، نئی ترتیب دینا، نئی چیز اس سے پیدا کرنا ۔ اب یہاں میں نے بتایا تھا کہ قرآن کریم متوجہ کرتا ہے انسان کو :-اھم اشدُّ خلقاً امّن خلقنا کیا ان کی جو تخلیق ہے وہ زیادہ مضبوط اور پائیدار ہے جو وہ کچھ پیدا کرتے ہیں یا وہ جو ہم نے پیدا کیا ہے۔ تو خداتعالیٰ نے جو تخلیق کائنات کو بخشی ہے اس کا تو انسانی تخلیق کے مقابل ، انسانی تخلیق کا تو اس سے کوئی دور کا بھی مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ۔ کوئی حیثیت ہی نہیں ہے انسانی تخلیق کی۔ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃالسلام فرماتے ہیں۔
    بناسکتا نہیں اک پائوں کیڑے کا بشر ہرگز
    اورامر واقعہ یہ ہے کہ پائوں کیڑے میں جو اندرونی حیرت انگیز باریکیاںرکھی گئی ہیں ، کوئی روبوٹ بنانے والا وہ ایک پائوں بھی نہیں بناسکتا، کیونکہ اس پائوں کے اندر جو نروس سسٹم ہے اس پائوں کے ہر خلیے میں جو سارے کیڑے کی تصویر ہے ۔ اور اس سے اگراس کو کوئی استعمال کرنا جانتا ہو، تو پائوں کے ایک خلیے سے بھی سارے کیڑے کا وجود دوبارہ بنایا جاسکتا ہے۔ یہ ہے اللہ کی تخلیق ، ان کے روبوٹس (Robots) تو اس کے مقابل پربہت ہی بے ہنگم اور بدسلیقہ چیزیںہیں۔ آپ مرعوب ہوجاتے ہیں دیکھ کر فلموں میں ٹیلی ویژن پر مگر جو کیڑے کے پائوں میں جو باریک لطائف ہیں وہ سائنسدان بھی خود تسلیم کرتے ہیں۔ ابھی تک ہم پورے پڑھ نہیں سکے۔ ایک دفتر ہے
    کون پڑھ سکتاہے دفتر سارا ان اسرار کا
    تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اھم اشد خلقًا امن خلقنا اور جب اس کے اوپر زبر آجائے تو یہ خَلق ہوجاتا ہے اور اس کے متعلق میں پہلے چونکہ خطبات میں بیان کرچکا ہوں۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے اس پر بہت عظیم روشنی ڈالی ہے اس مضمون پر۔ خَلقاور خُلق میں کیا فرق ہے خُلق باطنی تخلیق ہے جو خَلق کے بعد ہوتی ہے۔ پہلے ایک خَلق ہے جس میں تمام جانور جو انسان سے پہلے کے ہیں وہ داخل ہیں۔ اور ان جانوروں کے اندر جو سرشتیں ہیں وہ بھی ان کی خلق کا حصہ ہیں۔ خُلق کا مضمون انسان کی ذات سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس وقت وجود میں آتا ہے جب انسان دونوں طرح کے امکانات یا احتمالات سامنے رکھتے ہوئے ایک کو اختیار کرتا ہے اور ایک کو چھوڑ دیتا ہے۔ جب وہ اعلیٰ چیز اختیار کرلیتا ہے تو پھر وہ سرشت نہیں رہتی۔ سرشت انسان اور حیوان میں مشترکہ بھی ہے ۔حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں۔ مثلاً اسلامی اصول کی فلاسفی میں یہ بحث بڑی تفصیل سے اُٹھائی ہے کہ سرشت اس وقت تک رہتی ہے جب تک انسان اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے ادنیٰ اور اعلیٰ میں فرق نہیں کرتا ، اچھے اور برے میں تمیز نہیں کرتا۔ جب وہ یہ کرتا ہے تو اس پر پھر خُلق کا لفظ اطلاق پائے گا۔ اور سرشت کی حد سے وہ نکل جائے گا۔ پس اس پہلو سے لفظ خُلق کے اندر ہی ایک ہلکا سا پیچ ڈال کر ایک نیا لفظ پید اکردیا گیا ہے جس سے معانی کا ایک نیا جہاں پیدا ہوجاتا ہے اور الخَلَّاق جو ملتا ہے قرآن کریم میں یہ بھی خالق ہی کی ایک شکل ہے۔ جس میں مضمون کامبالغہ پایا جاتا ہے کہ وہ خَلَّاق ہے۔ بہت زیادہ پیدا کرنے والا، یا بہت شان کے ساتھ پیدا کرنے والا۔ یا خَلق کو تخلیق کو درجۂ کمال تک پہنچانے والا۔ یعنی ایسا خلَّاق جس نے اتنا کچھ پید اکیا ہے کہ تمہارے تصور میں بھی نہیں آسکتا۔
    اور امر واقعہ یہ ہے کہ تخلیق کی جو انواع ہیں اورپھر ان انواع میں جو اضافے ہوتے چلے جارہے ہیں۔ یہ مضمون انسان کے احاطے کی طاقت سے بہت زیادہ آگے ہے۔ناممکن ہے کہ انسان احاطہ کرسکے۔ پس تعداد کے لحاظ سے بھی اور نوعیت کے لحاظ سے بھی ، ایک چیز کو بھی اُٹھا کے دیکھیں اس میں خداکی خلَّاقی کے حیرت انگیز نشان دکھائی دیں گے۔ پس وسعت کے لحاظ سے بھی اور نوعیت کی نفاست اور باریکیوں کے لحاظ سے بھی ۔ ان ربّک ھوالخلاّق العظیم اے محمدﷺ! تیرا ربّ ہے جو خلَّاق العظیم ہے ۔ اور اس لفظ خلِّاق کو چونکہ محمد رسول اللہﷺ کے ربّ کے ساتھ باندھا گیا ہے تو اس خلّاق کے مضمون میں میرا رحجان یہ ہے کہ خُلق بھی داخل ہے اورخَلق بھی داخل ہے۔ کیونکہ رسو ل کریمﷺ کے ربّ کا جو کرشمہ ہے وہ محض خَلق کا کرشمہ نہیں بلکہ خُلق کی پیدائش کا بھی کرشمہ ہے اور اس کی عظمت کسی نے پہچاننی ہو تو آنحضرت ﷺ کی عظمت کو سمجھنے کی کوشش کرے، جتنا رسول اللہ ﷺ کے خُلق میں ڈوبے گا یا اس کو شناخت کرے گا اتنا ہی خداتعالیٰ کی خَلق کے بھی عظیم مظاہر سامنے آئیں گے۔یعنی انسان، خداتعالیٰ نے مٹی سے ایسا وجود پیدا کردیا جس کے اندر اتنا عظیم خُلق سمانے کا ، سمونے کی استطاعت رکھ دی۔ پس ہر خُلق کے حوالے سے ایک خَلق کا نظارہ بھی سامنے آتا ہے اور خلّاق کہنا خداتعالیٰ کو سب سے اچھا آنحضرت ﷺ کے حوالے سے ہے۔ کیونکہ اس میں تمام کائنات کی تخلیق کا ماحصل بھی اور تمام انسانی ترقیات اوراس کوخُلق سکھلانے کا ماحصل بھی آجاتا ہے۔ مُخَلَّقَۃ اس چیز کو کہتے ہیں جس کی بناوٹ مکمل ہوچکی ہو اور غیرمُخَلَّقَۃاس کو کہتے ہیں جو ابھی تک پایۂ تکمیل کو نہ پہنچی ہو۔ کچی ہانڈی ہو تو غیرمُخَلَّقَۃ حالانکہ وہ تخلیق کے مراحل میں سے ہے۔ مراد یہ نہیں کہ وہ پیدا نہیں کی جارہی، یا اس سے کچھ نیا بنایا نہیں جارہا ۔ کہتے ہیں نا ابھی سوجی ہے مثلاً ۔اس نے ابھی گھی چوس لیا ہے چھوڑا نہیں ابھی تک۔ تو جو اصل مقصود ہے وہ ہے حلوا بنانا جس میں سوجی کے دانے الگ ہوجائیں اور گھی الگ ہوجائے۔ اس وقت وہ پوری طرح پکتا ہے۔ تو وہ حالت غیر مُخَلَّقَۃ کی ہے۔ اور مُخَلَّقَۃ وہ حالت ہے جب وہ اس درجہ تک پہنچ جائے جو بنانا مقصود تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے نطفہ کے حوالے سے فرمایا۔ ثم من مضغۃٍمخَلَّقۃ و غیر مُخَلَّقَۃ ۔ پھرتمہیں ایسے مضغہ سے پیدا کیا گیا ہے جس میں سے جس کا کچھ حصہ پوری طرح اپنی آخری شکل کو پہنچ چکا ہے۔ کچھ حصہ ہے جو ابھی پوری طرح اپنی آخری شکل کو نہیں پہنچا۔ اور اس کے مراحل طے کررہا ہے۔ اختلاق کہتے ہیں جھوٹی بنائی ہوئی بات۔ باب افتعال میں جھوٹ اور مصنوعی ہونے کے معنے بھی پائے جاتے ہیں۔ یہ مضمون تو ابھی(ہاںیہاں بس) خُلق کے متعلق آخری بات یا خَلق کے متعلق جو کہنی تھی اس پر ہی ہم آج کے درس کو ختم کرتے ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ کل پھر واپس تفسیر والے حصے کی طرف آئیں گے۔ زَوْج تک پہنچے ہیں، زوج سے کل شروع ہوگا۔
    إإإ
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    درس القرآن ماہ رمضان
    مورخہ 20؍رمضان بمطابق10؍ فروری 1996ء
    حضور نے سورۃ النساء کی آیت کریمہ یوصیکم اللہ فی اولاد کم للذکر مثل حظ الانثیین کی تلاوت فرمائی اور فرمایا:-
    یہ وصیت کی وہ مرکزی آیت ہے جس پہ گفتگو جاری ہے ۔ اس میں جو باتیں میں نے پہلے بیان کی تھیں ان میں ایک خاص بات یہ قابل توجہ ہے کہ جہاں یہ فرمایا ہے و ان کانت واحدۃً فلھا النصف -- ولابویہ لکل واحدٍ منھماالسدس مما ترک ان کان لہ ولدٌ۔ یہاں حصہ کو 1/6کردیا گیا ہے والدین کے برابر کیا گیا ہے ۔ یہ میں پہلے سمجھاچکا ہوں کہ اس سے یہ استنباط ہوتا ہے کہ یوصیکم اللہ فی اولاد کم للذکر مثل حظ الانثیینمیں للذکر مثل حظ الانثیینکا اصول اولاد کے اوپرہے ہر ایک کے اوپر نہیں ہے ورنہ اسی آیت کے آخر پہ پھر اس کو ریشو کو تبدیل نہ کردیا جاتا لیکن اگر والدین اولاد کے حکم میں آتے ہوں کسی موقع پر تو ان کے اندر پھر یہی ایک او ردو کی نسبت بحال ہوجائے گی اس لیے نہیں کہ اولاد کے علاوہ بھی ایک اور دو کی نسبت کا حکم عام ہے بلکہ اس لیے کہ وہ اولاد کے محل میں آئیں گے یعنی اولاد نہ ہو تو ورثہ پائیں گے۔تو پھر کیا ہوگا پھر ایک اور دو کی نسبت بحال۔ فان لم یکن لہ ولد و ورثہ ابواہ فلامہ الثلث پس اگر اولاد نہ ہو اور ورثہ ماں باپ پائیں ۔ یہ شرطیں ہیںدو اولاد نہ ہو ماں باپ وارث بن رہے ہوں فلامہ الثلث تو ماں کا تیسرا یعنی باقی دو حصے باپ کے چلے جائیں گے۔ یہاں اُمّہ کیوں فرمایا جبکہ اس کا تیسرا بنتا تھا باپ کے دو حصے کیوں نہ کہہ دیا ۔ اس لئے کے کہ چونکہ عربوں میں خاص طور پر ورثہ کے معاملے میں مردوں کی طرفداری زیادہ پائی جاتی تھی اس لیے کوئی بعید نہیں کہ اس وقت کے علماء اور فقہاء یہ کہتے کہ باپ کا ذکر ہے ماں کا ذکر نہیں اس لیے چھوڑ ہی دوماں کو۔ قرآن کریم نے مجبور کردیا ہے ماں کا ذکر کرکے کہ باپ کا استنباط کرو۔ ماں کا تو کھلا ہے اس لیے وہ تمہیں دینا ہی دینا ہوگا۔ تو یہ بھی ایک اس وقت کے احتمالات کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن کریم کا طرز بیان ہے ۔ یہ قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت پر ایک بہت ہی اعلیٰ دلیل ہے ولکل واحدٍ منھما السدس مما ترک ان کان لہ ولد فان لم یکن لہ ولد- وورثہ ابواہ فلامہ الثلث۔ ماں کا ثلث تو دینا ہی دینا ہے باقی باپ کو۔ ورنہ کوئی یہ بھی بعید نہیں کہ باپ کو دوبھی دے دیتے تو ماں کو دوسروں کے ساتھ شریک کردیتے ۔ تو قطعی طور پر ماں کوبنادیا مگر سوال یہ ہے وورثہ ابواہ کیوں فرمایا؟ اگر اولاد نہیں ہے تو ذہن میں یہی آتا ہے کہ ماں باپ وارث ہوں گے لیکن وورثہ ابواہُ سے یوں لگتا ہے کہ یہ دو شرطیں ہیں ایک نہیں ہے اگر اولاد نہ ہوں مزید برآں والدین وارث ہوں تب یہ نسبت ہے دو اور ایک کی توکیا کوئی ایسی صورت ہے کہ والدین وارث نہ ہوں یعنی براہ راست کل حصے کے وارث نہ ہوں کوئی اور بھی شریک ہوجائے۔ اگلا حصہ آیت کاہے فان کان لہ اخوۃٌ ۔ فلامہ السدس اگر مرنے والے کی اولاد نہ ہو مگر بھائی بہن ہو ںتو پھر اس کی ماں کیلئے چھٹا ہے۔ من بعد وصیۃٍ یوصی بہا اودینٍ اس وصیت کی ادائیگی کے بعد جو مرنے والے نے کردی ہو اور یا اس کے قرضوں کی ادائیگی کے بعد اس میں قرضوں کی ادائیگی میںوہ جو خرچ ہوتا ہے تدفین کا اس کو بھی ہم ساتھ شامل کرتے ہیںسب۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ تدفین کا خرچ تو بہر حال پہلے نکالا جائے گا اوراس کے بعد پھر جو وصیت ہے، دَین ہے پھر جو کچھ بچتا ہے وہ تقسیم ہوگا اب اس ترتیب سے جس طرح ہم اتر رہے ہیں نیچے، بات جو کھل رہی ہے۔وہ اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کیونکہ پھر ہم اب فقہاء کی طرف جائیں گے۔ ترتیب یہ بنی ہے کہ اگر ایسی حالت میں ماں باپ کابچہ فوت ہوتا ہے کہ اس کی آگے اولاد ہے تو پھر اس اولاد کو دینے کے بعد چھٹا حصہ ۔ چھٹا حصہ ماں اور باپ کو جائے گا۔ یعنی 1/3اس سے زیادہ نہیں یا یوں کہنا چاہیے کہ اگر اولاد ہو تو ماں اورباپ کا چھٹا حصہ ،چھٹا حصہ پہلے نکالا جائے گا اورپھرجو بچے گا وہ برابر اسی اصول پر اولاد میں تقسیم ہوگا۔ لیکن اگر اولاد نہ ہو اوریہ بھی شرط ہو کہ ماں باپ ہی وارث بن رہے ہوں ان کا ورثہ میں اور کوئی شریک نہ ہو تو اس صورت میں وہی اصول ہوگا جو اولاد کے حق میں بیان کیا جاچکا ہے۔ کیونکہ وہ اولاد کے قائمقام شمار کیے جائیں گے۔ اور اس میں مرد کو دو حصے اور عورت کو ایک حصہ، بات کھل گئی۔ اب آگے کیا صورت ہوگی کہ والدین اکیلے وارث نہ ہوں فان کان لہ اخوہ فلامہ السدساگر مرنے والے کی اولاد نہ ہو اور بھائی ہوں تو ماں باپ پھر کلیۃً اولاد کے محل میں نہیں آئیں گے ۔ پھر پہلی حالت کی طرف لوٹاجائے گا جو 1/6والا حصہ تھا۔ اور دونوں کو 1/6ملے گا یہ ایک Big ifکے ساتھ جیسے کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔ بتارہا ہوں آپ کو جو استنباط از خود ہوتا چلا جارہا ہے ۔ میرے نزدیک وہ یہ ہے مگر جب فقہاء کی بحثوں میں جائیں گے پھر تو بات بہت الجھ جائے گی۔مگر پہلے سیدھی بات آپ سمجھ لیں یعنی یہ نظر آرہا ہے بظاہراس سے کہ چونکہ بھائی اور بہن ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسی صورت میں ماں ،باپ کو واحد وارث بمنزلہ اولاد قرار نہیں دیا بلکہ ان کی وہی اصل حالت واپس اپنی جگہ پر قائم ہوگئی کہ گویا اولاد ہے اور ان کو 1/6ملتا ہے صرف۔فی 1/6 ماں کیلئے 1/6باپ کیلئے تو گویا باقی بھائی بہن کوملے گا۔
    یہ جو حصہ ہے یہاں آکر پھربہت اختلافات شروع ہوجاتے ہیں اور وہ جو اختلافات ہیں وہ آگے جاکے میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ اٰبائُ کم و ابنائُکم لاتدرون ایھم اقرب لکم نفعًا ۔ تمہارے آباء یعنی باپ وابنائُ کماور تمہاری اولاد۔ ابائکممیںماں اور باپ دونوں شامل ہیں۔ لاتدرون ایھم اقرب لکم نفعًا۔ تم نہیں جانتے کہ تم نفع کے لحاظ سے تم کس سے زیادہ نفع پائو گے ان میں سے کون تمہارے زیادہ قریب ہے یا اولاد سے نفع پاسکتا ہے انسان یا ماں باپ سے ۔ یہ ایک ایسا بھید ہے جس کا علم غیب سے تعلق ہے کوئی نہیں جانتا لیکن یہ جو وصیت ہے یہ فریضۃً من اللہ ہے اس فریضہ میں کوئی تبدیلی کسی غیر قرآنی استدلا ل سے، قرآن کے استدلال سے باہر استدلا ل کرکے تم نہیں کرسکتے۔ یہ ہے بنیادی بات۔ دوسری یا آخری بنیادی بات جس سے ہم کسی صورت انحراف نہیںکرسکتے اختیار ہی نہیں رکھتے۔ قرآن کریم نے جو بیان کردیا یہ بطور فریضہ ہے اس کو تبدیل کرو اگردوسرے دلائل سے تو یہ درست نہیںبات بنتی۔ اس کے اندر رہو ، اسی میں سے استنباط کرو۔ ان اللہ کان علیمًا حکیمًا ۔ اللہ کے علم میں ہر بات ہے وہ سب حکمتوں کا منبع ہے ، تمام حکمتوں کا مالک ہے۔ اس لیے یہ نہ خیال کرنا کہ خدا کے علم میں کوئی بات نہیں آئی تھی جو بعد میں ظہور پذیر ہوئی۔ اس لیے اس آیت میں کوئی سقم رہ گئے ہیں کوئی سقم نہیں ہے ۔ اپنی عقلیں استعمال کرو ۔ تمہیں اسی آیت میں سے سارے استنباط مل سکتے ہیں۔ یہ ہے میرا نظریہ اور موقف اس سے اب جب ہم فقہاء کی بحثوں میں چلتے ہیں تو پھربہت سی نئی باتیں سامنے آتی ہیں یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے ۔ یہ جو میں نے بات پہلے کہی تھی اس پر اتفاق ہے سب کو کہ میت کی تجہیز و تکفین وغیرہ کے جملہ اخراجات اوروصیت وغیرہ اورقرض کی ادائیگی کے بعدپھر ترکہ شروع ہوگا اس سے پہلے نہیں۔ ایک بحث اٹھائی ہے موانع ارث۔ ورثہ کی راہ میںحائل کون کون سے ایسے موجبات ہیں یاایسے امور ہیں جن کے نتیجہ میں شرعی ورثہ مقرر ہونے کے باوجود کوئی شخص محروم الارث ہوسکتا ہے۔ اس بحث میں تین چیزیں اٹھائی گئی ہیں ۔ ایک غلامی، ایک کفر اور ایک قتل۔ غلامی اور کفر کی جو بحث ہے یہ آگے پھر غور طلب ہے کیونکہ بہت سی باتوں کو استنباط کیا گیا ہے۔ بغیر سارے حالات کا علم حاصل کیے بغیر اور یہ فیصلہ کیے بغیر کہ یہ رسولﷺ کے فیصلے یا قرآن کے فیصلے ان خاص حالات پر اطلاق پاتے تھے یا عمومی ہیں۔ مثلاً جنگ ہورہی ہے، جنگ کے دوران کفار الگ ہوگئے مسلمان الگ ہوگئے اور کفار نے مسلمانوں کو ان کی تمام جائیدادوں سے محروم کردیا ان کے گھروں پر قابض ہوگئے۔
    اب ایسی صورت میں اگریہ حکم ہو کہ ورثہ ان کو بھی نہیں ملے گا تو اس کا محرک یہ بات بنتی ہے نہ کہ ایک دائمی اصول۔ دو باتیں استنباط ہوسکتی تھیں جنگ ہورہی ہے اہل مکہ جو قریش تھے، جوانہوں نے مسلمانوں کو ہجرت پر مجبور کیا ان کی جائیدادوں پر قبضہ کر بیٹھے ، ہر حق سے ان کو محروم کردیاگیا اور اب ورثہ کی آیت کیا ان کوورثہ دلوائے گی۔ چونکہ وہ ان میں سے ،مہاجرین میں سے کوئی فوت ہوگیا مدینہ جاکر اس بیچارے کو مواخات کے ذریعہ کچھ ملا،انصار نے قربانیاں کیں یا بعدمیں خداتعالیٰ نے فضل کے دوسرے دروازے کھولے تو چونکہ ورثہ کی آیت نازل ہوگئی ہے اس لیے مشرک بچے اگر رہ گئے ہیں پیچھے تو ان کا ورثہ ان کو بھجوادیا جائے یہ ایک غیر معقول بات ہے۔ یہاں عام حالات کے تقاضے پورے نہیں کیے جائیں گے بلکہ وہ مخصوص حالات جو پیدا ہوتے ہیں وہاں بعض چیزیں معطل ہوجاتی ہیں۔ تو ارث سے محرومی مراد نہیں ہے تعطل مراد ہے۔ پس اگر یہ حالات دورہوجائیں اور دونوں طرف سے انصاف کے تقاضے پورے ہوں توپھر یہ کہنا کہ یہ دلائل مسلمانوں کی جائیداد کا غیر مسلموں کے وارث ہونے سے مانع ہے یعنی یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں ہوگا۔ یہ ویسا ہی معاملہ ہے جنگی حالات میں جیسے لونڈیوں کے استعمال کی اجازت ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام قطعیت کے ساتھ یہ فیصلہ دے چکے ہیں کہ یہ دراصل مشروط احکامات ہیں اگر دشمن تمہاری عورتوں سے یہ سلوک کرتا ہے تو تمہیں حق ہے کہ تم ایسا ہی کرو۔ اور اگر نہیں کرتا اور تم پھر کرو گے توتمام مسلم خواتین کی بے حرمتی کے تم ذمہ دار ہوگے۔ اس لیے قرآن کریم سے ایسا استنباط کرنا جو مسلمان عورتوں کی عزت پر حرف ڈالنے والا ہو یہ بالکل ناجائز ہے۔ اور کوئی معقول مسلمان اس کو قبول نہیں کرسکتا یا نہیں کرنا چاہیے۔ وہ جنگ کے حالات ہیں یہ جو استنباط کیے گئے بہت سارے ہیں کفر کے متعلق، یہ جنگ کے حالات ہیں اور ان احادیث سے جو استنباط کیے گئے ہیں ان میں اکثر فقہاء نے یہی نتیجہ نکالا کہ نہ کافر کا ورثہ مسلمان پائے نہ مسلمان کا ورثہ کافر پائے ۔ اس استنباط میں اگر وہ کمزوری بیشک ہو جومیں نے بیان کی ہے کہ جنگ کے خاص حالات کو عام بنادیا گیا ہے۔ وہ مشروط باتیں تھیں جن کو عام کردیا گیا مگر انصاف کی کمزوری نہیں ہے اس فیصلہ میں۔ کیونکہ اگر مسلمان کا بچہ کافر ہوکر وراثت سے محروم ہوتا ہے تو پھر کافر کا بچہ مسلمان ہوکر وراثت سے محروم ہوجائے برابر ہوگئے دونوں اور قرآن کریم کا جو انصاف کا اصول ہے وہ اطلاق پاگیا تو اس نقطہ نگاہ سے قابل اعتراض نہیں رہتا۔ مگر ایک اور نقطہ نگاہ سے قابل اعتراض ہوجاتا ہے۔ وہ یہ کہ تمام صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنھم جن کے ماں باپ کا مواحد ہونا ثابت نہیں بلکہ اکثرکا مشرک ہونا ثابت ہے ۔ انہوں نے اپنے مشرک ماں باپ سے ورثہ پایا اور جب پایا تو پھریہ اصول کہاں گیا کہ نہ مشرک کا مسلمان وارث ہو اور نہ مسلمان کا مشرک یا غیر مسلم وارث ہو۔ وہ تومشرک کی بحث نہیں کرتے وہ غیر مسلم کی بحث کرتے ہیں ۔ تو اس صورت میں پھر ایک اور بیچ میں ایک روک پیدا ہوعقلی ۔ یہ تو پھر درست نظر نہیں آتا۔
    پس لازماً اس سے ہمیں یہی استنباط کرناہوگا کہ جنگ کے حالات میں برابری کا اصول ہے جو بالا ہے اور اس وقت عارضی طور پر عام حالات کے فیصلے معطل ہوجاتے ہیں منسوخ نہیں ہوا کرتے۔ تعطل کے زمانہ کی باتیں عام زمانوں پر کھینچ کر زبردستی عائد کرنا بہت سی خرابیاں پیدا کردے گا اور اکثر خرابیاں یہ اسی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں پھر جہاں تک غلامی کا تعلق ہے اسے محروم الارث کرنے کی وجہ بیان کرنا یعنی موانع ارث میں شامل کرنا یہ بھی ایک بہت ہی پیچیدہ مسئلہ ہے۔ جس کو فقہاء کے کہنے پر یونہی آنکھیں بند کرکے قبول نہیںکیا جاسکتا کیونکہ غلام کے جو حقوق قرآن کریم نے قائم فرمائے ہیں ان کی رو سے وہ لازماً اپنے کچھ حصوں کا خود مالک ہوتا ہے۔ قطعی طور پر ثابت ہے ۔ اس لیے کہ کتابت کا اصول جو قرآن نے بیان کیااور فقہاء نے تسلیم کرلیا اس کے بعد ان کو یہ کہنے کا جواز ہی نہیں رہتا کہ غلام کا ہر مال مالک کا ہے۔ اس لیے اس کو مالک کو لوٹے گا اس کی اولاد محروم رہے گی ۔ گویا اس کے بچے بھی غلام ہی پیدا ہورہے ہیں۔ یہ بھی اسلام کو قبول نہیں ہے ، ہرگز درست نہیں کہ غلام کے بچے بھی غلام پیدا ہوتے ہیں۔ ہر بچہ جو پید اہوتا ہے آزاد پیدا ہوتا ہے اس کے متعلق قرآن کریم اور احادیث بالکل کھلے طور پر روشنی ڈال رہے ہیں۔کسی کو اس سے اختلاف کا حق نہیں سوائے اس کے کہ ضد کرکے کرلے۔ تو وہ بچے جو آزاد پیدا ہوئے ان بچوں کا کیا قصور ہے کہ وہ غلام کے گھر پیدا ہوئے اور غلام کا کسی چیز کا مالک نہ ہونا یہ کہاں سے ثابت ہوا۔ جبکہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ اگر غلام یہ کہے کہ مجھ سے پیسے لے لومیرے اور مجھے آزاد کرو تو فرض ہوگا کہ اسے آزاد کیا جائے ۔ ا س کے پیسے کہاں سے آئے اگر اس کا اپنا کچھ ہے ہی نہیں توکہاں سے آگئے پیسے او رپھر دوسری بات یہ کہ یہ بھی اگروہ کہے کہ میں بعد میں کما کر دوں گا تب بھی مسلمان اس وقت جو حاکم ہے یا قاضی ہے اس کا فرض ہے کہ اس کے حق میں فیصلہ کرکے ان کا آپس میں سمجھوتہ کرادے ۔ قضاء اس لیے نہیں بیٹھے گی کہ اس کا یہ دعویٰ مانا جائے یا نہ مانا جائے قضاء اس لیے بیٹھے گی کہ اس معاہدہ کی صورت میں غلام مناسب شرطیں پیش کررہا ہے یا غیر مناسب پیش کررہا ہے۔ یہ تو نہیں کہہ رہا کہ میں پچاس سال میں دس دس روپے سالانہ دے کر اپنی گردن آزاد کرائوں گا۔ بلکہ معقول جو اس زمانہ کے رائج الوقت اقتصادی تقاضے ہیں ان کو پورا کرتے ہوئے ان کو ملحوظ رکھتے ہوئے معقول شرطیں دونوں کے درمیان طے ہونی چاہئیں۔ یا مالک ضرورت سے زیادہ سختی کررہا ہے وہ کہتا ہے نہیں بس دو قسطوں کے اندر ادا کرو چھ چھ مہینے کی دو قسطیں اور ختم۔ اورغلام کی قیمت زیادہ ہو اور وہ اتنی دیر میں کما ہی نہ سکتا ہو تو اس لیے اس کو اجازت نہیں ہوگی۔ مگر غلام اس طرح کلیۃً مملوک نہیں ہے جس طرح غیر قوموں میں غلام کے مملو ک ہونے کا تصور پایا جاتا ہے وہ مشروط ملکیت ہے۔ بعض شرائط کے ساتھ قرآن کریم نے اس کی آزادی کے حقوق قائم رکھے ہیں۔
    پس یہ کہہ دینا کہ جی غلام ورثہ نہیں پائے گا یہ تو میری فطرت تو قبول نہیں کرتی اس طرح سوائے اس کے چھان بین ہو پتہ لگے کہ کن حالات میں فیصلہ ہوا تھا اور کیا واقعۃً اس کی قطعی سند ہے کہ نہیں۔ اگر کوئی سند ایسی قطعی ہوجو قرآن اور حدیث کی ہو تو پھرہماری فطرت قبول نہیں کرتی تو فطرت جھوٹی ہوگی پھر ہمیں ماننا پڑے گا۔ فطرت سے یہاں مراد کامن سینس، ورنہ فطرت تو جھوٹی نہیں ہوا کرتی ۔ پھر ہمیں سرتسلیم خم کرنا ہوگا۔ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہماری فہم بالا ہے اور اس قطعی سند کے مقابل پربھی ہماری فہم چلے گی اور یہ سند نامنظور ہوگئی ۔ مگر سند کی قطعیت بہت ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ سند ان تمام حالات پر روشنی ڈال رہی ہو جن حالات میں فیصلہ کیا گیا ہے۔ اوریہ بھی ضروری ہے کہ ثابت ہو کہ اس کے اور استنباط ممکن نہیں ہیں اگر اور استنباط ممکن ہوں تو ایک ہی استنباط کرکے اسے شریعت کا حصہ قرار دینے کا کسی کو حق نہیں ہے۔ پھر دونوں طرف کھلی چھٹی ہے ، پھر ہرانسان اپنے تقویٰ کے مطابق پوچھا جائے گا اگر ایک سے زیادہ استنباط ہوسکتے ہیں تو ایک آدمی اگر تقویٰ سے استنباط میں اختلاف کررہا ہے تو اس کا حق ہے اور اگر تقویٰ سے استنباط نہیں کیا تو خدا پکڑے گا مگر سوسائٹی کا یہ حق نہیں ہے کہ اپنے استنباط کو زبردستی دوسرے پر ٹھونس دے ۔ یہ علمی بحثوں کا تعلق ہے جہاں تک یہی طریق ہے لیکن اگر کسی کے استنباط کو یا بعض علماء کے استنباط کو قبول کرکے قوم بحیثیت قوم ایک فیصلہ دے دے تو اس پر عمل کرنا اس لیے ضروری نہیں ہے کہ شرعاً وہی درست ہے ، اس پر عمل کرنا اس لیے ضروری ہے کہ قوم کو حق ہے قانون سازی کا اوراس نے اس حق کو استعمال کیا ہے۔ قرآن کریم کے ایک استنباط یا حدیث کے استنباط کے تعلق میں۔ پس قانون کا پابند ہے انسان چونکہ اس لیے اس کیلئے انحراف کی وہاں گنجائش نہیں رہتی۔ انفرادی طور پر اس کے باوجود وہ یہ کہنے کا حق رکھتا ہے کہ میرے نزدیک یہ مضمون جو یہ سمجھے ہیں درست نہیں ۔ جو مضمون میں سمجھ رہا ہوں وہ درست ہے لیکن فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم ہوگا۔ اب ایک احمدی کو جہاں سزا مل جاتی ہے وہاں یہ مطلب تو نہیں کہ وہ احمدی یہ حق ہی نہیں رکھتا کہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے دعوٰی پر قائم رہے اور ڈیما کریسی (democracy)کی وجہ سے اس دعوے سے دستبردار ہوجائے یہ ڈیماکریسی کو کوئی حق نہیں، ڈیما کریسی نے کوئی ظالمانہ فیصلہ کیا ہے۔ تو جب تک اس میں طاقت ہے اس فیصلے پر عمل زبردستی سزائیں دے دے کے تو کراسکتی ہے مگر کسی احمدی کے دل سے یا منہ سے کلمہ توحید کے خلاف کچھ نکلوانے کا نہ سوسائٹی کا حق ہے نہ خدا اسے اجازت دیتا ہے ، نہ دنیا کے دستور اس کو اجازت دیتے ہیں۔
    پس یہ ہیں وراثت پر چسپاں ہونیوالے اصول بھی جو یکساں عالمی اصول ہیں۔ اس پہلو سے جو میں نے بیان کیا میرے نزدیک نہ کفر۔ بغیر کسی شرط کے محض کفر اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ کسی بچے کو کافر کہہ کراس کے والدین کے ورثہ سے اس کو محروم کیا جائے نہ کفار کو یہ حق ہے کہ وہ کسی بچے کے مسلمان ہونے پر (ابھی وہ زندہ ہیں بچہ بڑا ہوگیا ہے، مسلمان ہوگیا ہے)اس کو جائیداد کاورثہ پانے کے حق سے محروم کریں ، یہ بنیادی انسانی حقوق ہیں جو برابر دو طرفہ چسپاں ہوں گے اور اس میںفرق کرنے والا انصاف سے خلاف ورزی کررہاہو گا۔ سوائے ان حالات کے جن مخصوص حالات میںجنگ کی حالت میں آنحضرت ﷺنے بعض جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں فیصلے دیے (سمجھ گئے ہیں بات؟)۔ اس کے متعلق مزیدانشاء اللہ میں تحقیق کروںگا خواہ اس درس میں یا بعد میں کسی وقت آپ کے سامنے پھر دلائل رکھوں گاان علماء کے جنہوں نے غلامی کفر اور قتل کو موانع ارث قرار دیا ہے ۔ قتل میں تو ایک بات بالکل واضح ہے جو شخص کسی کی جان لیتا ہے وہ اپنی جان کے حق سے محروم ہوجاتا ہے وہاں ورثے کی بحث نہیں ہے وہ دراصل ہر حق سے محروم ہوجاتاہے تبھی اس کو قتل کردیا جاتا ہے۔جب تک زندہ ہے روٹی تودینی ہے اس کومگرجب قتل کافیصلہ ہوگا تو عملاً یہ فیصلہ ہے کہ اس نے ایک شخص کو اس کی زندگی کے حق سے محروم کیا یعنی ہر وہ چیز جو اس کی تھی اس کے حق سے محروم کردیا ۔ اس لیے یہ بھی از خود ان تمام حقوق سے محروم ہوگیا اگر قضاء یا عدالت فیصلہ دے دے کہ واقعۃً قاتل ہے ۔ ہاں اگر محروم ہوا ہے تو کچھ اورلوگ حقدار بنے ہیں وہ حقدار اگر از خود حق چھوڑیں تو اس کا قتل بھی معاف ہوسکتا ہے۔ پھرایک نئی زندگی ملتی ہے یہ الگ باتیں ہیں مگر قتل کا موانع ارث میں شامل ہونا یہ قرین عقل بات ہے۔ اس لیے میں نے اس کو چھوڑ دیا ہے ایک طرف۔قاتل جس کو قتل کرے اس کا وارث نہیںہوسکتا یہ تو ایسی بات ہے جس کے خلاف کوئی قرآنی دلیل نہیں دی جاسکتی کیونکہ جس نے قتل کیا وہ قتل کا سزاوار ہوا جب قتل کا سزاوار ہوا تو ورثہ کیسے پائے گا۔ ورثہ تو اس نے تب پانا ہے جب وہ شخص مرتا اپنی طبعی موت جو فیصلے ہیں وہ طبعی موت کے اصول کے پیش نظر ہیں۔ لیکن کسی کوورثے کی خاطر قتل کردیا جائے اس سے ورثہ اس کو نہیں مل سکتا پھرکیونکہ غیر قانونی حرکت کے نتیجہ میں کچھ فائدہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اصول ہے جو موانع ارث بن جائے گااس صورت میں۔
    اب آگے ہے بابت ماں اور بھائی کا حصہ۔ یہ جو آیت ہے اگر اس کی اولاد نہ ہو اور بھائی بہن ہوں تو پھر ماں کو 1/6ملے گا۔ اب میں اس کی طرف واپس آرہا ہوں۔ سب سے زیادہ جو الجھن والی بحثیں ہیں وہ اس حصہ میںشروع ہوجاتی ہیں۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں یعنی تفسیر کبیر رازی میں ہے اس کی چھان بین کہ کہاں کہا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ ابھی تک ہم نے نہیں کی(آپ لکھنا ان کو یا وہ سن رہے ہیں تو وہ خود ہی بھیج دیں گے) کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جو حوالہ دیا گیا ْہے اس کو بھی دیکھا جائے۔ ورنہ لوگوں کو بہت شوق ہے کہ فتویٰ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف اور عام حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف منسوب کردی جائے یہ عام شوق پایا جاتا ہے۔ اس لیے ایسے موقع پر جہاں اختلاف کا احتمال ہو وہاں زیادہ توجہ سے ان احادیث کی چھان بین ضروری ہے۔ جہاں مسلّمہ قرآن کی تائید کی عام باتیں ہیںوہاں ہرگز کوئی ضرورت کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے قرآن کریم کی تائید میں ہی کہنا تھا اس کو قبول کروگے تو نقصان کوئی نہیں فائدہ ہی ہوگا۔ لیکن جہاں اختلافات کے موضوع پر ایسی حدیثیں ہوں وہاں ضروری ہے کہ ذرا ٹھہر کے غور کرکے جس طرح انگریزی میں کہتے ہیں with a pinch of salt ان کو قبول کیا جائے اور دیکھاجائے کہ حقیقت میں ان کے اندر اتنا وزن ہے کہ نہیں روایات میںکہ ان حدیثوںکو قبول کیا جائے ۔ اب سنیے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ بھائی وہ چھٹا حصہ پائیں گے جس چھٹے حصے سے وہ والدہ کو محروم کررہے ہیں اورجو باقی ہوگا وہ والد کو ملے گا۔ اب یہ بڑی دلچسپ بات ہے، قرآن کریم نے فرمایاکہ اگر اولاد نہ ہو تو ماں اور باپ میںدو اور ایک کی نسبت سے تقسیم ہوگا ۔ اگر بہن بھائی ہوں تو ماں کو چھٹا ملے گا تو باقی کہاں جائے گا۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں یعنی روایت کے مطابق کہ باقی جو جائے گا وہ اصل میں ماں کا حصہ صرف کم کیا ہے باپ کا کیا ہی نہیں ۔ قرآن کریم نے جب ماں کا ذکر کردیا اور باپ کا نہیں کیا تو صرف ماں کا کم ہوا باپ کانہ کم ہوا۔ تو جو چھٹا حصہ ماں کاکم کیا وہ ان کو تقسیم ہوگا یہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے ساری آیت میں ماں کے حوالے سے بیٹی کے حوالے سے باتیں ہورہی ہیں ۔ دوسرا استنباط ہوجاتا ہے از خود لیکن اکثر علماء اس سے اتفاق نہیں کرتے۔یہ حجت استقرائی کہلاتی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ جتنے جمہور علماء ہیں ان کی دلیل یہ ہے کہ بھائیوں کی عدم موجودگی میں تمام کے مالک ماں باپ ہوتے ہیں ۔ بھائیوں کی موجودگی میں خداتعالیٰ نے ان کے حصے کا ذکر نہیں کیا سوااس ذکر کے کہ وہ ماں کے 1/3کو گھٹا کر 1/6 کردیتے ہیں اور کسی کا کسی کو وراثت سے محروم کرنا اس کے وارث ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ اب یہ عجیب و غریب ایک نیا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا کہ کوئی شخص حاجب الارث تو ہوگا مگر وارث نہیں ہوگا۔ یعنی شکل یہ بنی کہ اگر اولادنہ ہو توماں باپ اسی طرح شمار ہوں گے جیسے وہ اولاد تھے۔ یعنی وہ تمام حقوق جو اولاد کوملنے تھے، کیونکہ دوسرا ان سے بہتر ان سے زیادہ اولیٰ حقدار اور کوئی موجود نہیںہے۔ اس لیے بمنزلہ اولاد سمجھتے ہوئے ان کوسب کچھ دے دیا جائے اگر بھائی ہوں اور اولاد نہ ہوتو پھر بھائی catalitic agent کے طور پر کام کریں گے ۔ یعنی کچھ حصہ خود نہیں پائیں گے بلکہ ایک ایسی کنڈیشن پیدا کردیں گے جس کے نتیجہ میںوارثوں کے حصے تبدیل ہوجائیں گے اور پھر ماں کو 1/3کی بجائے 1/6ملے گا۔ تو ماں کا 1/6 جو رہ گیا وہ بھائیوں کو دیا جائے گا یہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دلیل ہے۔ دوسرے فقہاء نے کہا ہے کہ نہیں ان کا ذکر ہی نہیں کہ وہ ورثہ پائیں گے وہ صرف ایک ایسے ایجنٹ کے طور پر کام کریں گے جنہوں نے حصہ کو تبدیل کردیا اور چھٹی کی۔ تومرنے والے کے بھائی بہن ہوں بیشک ان کو کچھ نہیں ملے گا ، ماں ماری جائے گی ۔ اب یہ عجیب بات ہے کہ ماں بیچاری پہ سارا نزلہ ٹوٹے ان کے بہن بھائیوں کے ہونے کا اور قرآن کریم حصص کی تقسیم کررہا ہے اور یہ عجیب و غریب نئی بات اس میں پیدا کردی گئی ہے۔
    بعض کہتے ہیں کہ نہیں ورثہ پائیں گے مگر کتنا اور کیسے؟ یہ اختلافی بحثیں اب آگے چلیں گی ۔ علامہ شوکانی نے فتح القدیر میں یہ لکھا ہے کہ علماء کا اس بات پر اجماع ہے (یہ اجماع والی بحث جوہے یہ تو مشکوک ہے ساری۔ اجماع کہہ دیتے ہیں ہوتاکوئی اجماع نہیں) کہ مورث کی اولاد ہو تو معین حصے والے وارثوں کا حصہ پہلے دیا جائے پھر بچ جانے والا مال للذکر مثل(حظ الانثیین) یہ تو ٹھیک ہے۔ اس کے خلاف کوئی بات ہمارے علم میں نہیں یہ ٹھیک کہتے ہیں اجماع یہ ہے۔ وہ جو پہلے باتیں ہوچکی ہیں ساری کہ پہلے اس کے وصیت کے معاملات طے ہوں ا سکے قرضے اداہوں جو بچے وہ ماں باپ میں برابرکردو ۔ اس میں تو واقعی کوئی اختلاف کہیں نہیں ہے۔ آگے ایک اٹھ کھڑا ہوا ہے بیٹی، بہن، پوتی کاحصہ۔ اب پوتی واپس آگئی ہے اور بغیر پوتے کے ذکر کے آئی ہے۔ اوریہ حدیث اگرچہ بخاری کی بیان کی گئی ہے مگر حدیث کا انداز بتا رہا ہے کہ یہ ہو نہیں سکتا کیونکہ ایک ایسی فرضی بات نظر آرہی ہے بیچ میں کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا درست معلوم نہیں ہوتا۔معلوم ہوتا ہے کسی نے (جس کا مقصد حل ہوتا تھا اس سے)اس نے کوئی چیز الٹ پلٹ کی ہے۔ اس کے بیچ میں اس کی دلیل میں آپ کوپہلے حدیث سنادوں پھر بتاتا ہوں اب یہ حدیث جس طرح بنی ہے پچیدگی کے ساتھ یہ بھی بڑی قابل غور بات ہے۔ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی شخص مر جائے اور ورثاء میں ایک بیٹی،ایک پوتی،اور ایک بہن چھوڑ جائے۔یہ معین مثال دی جس کا مطلب ہے کہ جو پوچھا گیااور بیان کرنے والے ان کے سامنے ایک واضح مسئلہ تھا اور وہ چاہتے تھے کہ کچھ خاص طریقے سے دلوایا جائے۔۔۔ایک پوتی اور ایک بہن چھوڑ جائے تو انہیں کتنا کتنا حصہ ملے گا؟فرمایاآدھا بیٹی کو اورآدھا بہن کو اور پوتی محروم ہو گئی کیونکہ وہی اصول کہ اگر پوتی کا مطلب ہے کہ بیٹا پہلے مر چکا ہے اگر ہوتا تو وارث ہوتا تو اس لئے چونکہ وہ وارث بننے سے پہلے مرگیا پوتی محروم رہے گی۔ ساتھ لکھا ہے کہ انہوں نے کہا آپ احتیاطاً عبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جا کر دریافت کریںمیرا فتویٰ درست ہے کہ نہیں۔تو پھریہ عبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جاتے ہیں پوچھنے والے وہ فرمانے لگے اگر میں بھی ایسا کہوں تو درست نہ ہوگا۔ ابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ کہا میں تو اس معاملہ میں وہی فیصلہ کروں گا جو آنحضرتﷺ نے فرمایا اور فیصلہ پتا ہے کیا ہے بیٹی کو آدھا اور پوتی کو چھٹا حصہ دو تا کہ دو تہائیاں پوری ہوجائیں اور جو باقی رہ جائے وہ بہن کیلئے ہے ۔ یہ کہاں ہے؟
    واقعہ کوئی ایسا رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں اگرہوا ہوتا تو یہ پوتے والے کی بحث جوتھی ساری حل ہوجاتی اور تمام علماء یہ باتیں پیش کرتے۔ معلوم یہ ہوتا ہے اس حدیث سے کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ حوالہ دے رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں اس قسم کی کوئی بات ہوئی تھی تو آپ نے یہ فتویٰ دیا تھا ۔ اگر یہ استنباط ٹھیک نہیں تو دوسرا اس سے بھی زیادہ بعید از قیاس ہے کہ ایک واقعہ نہیں ہوا ہوا اور گویا رسول اللہ ﷺ اس باریک مسئلہ میں ایک پیشگوئی فرمارہے ہیں کہ ایک وقت آنے والا ہے جب کہ ایک مرنے والے کی ایک بیٹی ہوگی ،ایک بہن ہوگی اور ایک پوتی ہوگی۔ اس وقت تم پوتی کو 1/6دینا تاکہ دو تہائیاں پوری ہوجائیں یہ دلیل بھی دی ساتھ۔ یہ رسول اللہ ﷺ کا طرز بیان ہی نہیں ہے اور جو معاملہ سامنے نہ آیا ہو اس طرح وضاحت کے ساتھ اتنی باریکی سے اتر کر فتاویٰ دینا جبکہ فتویٰ سامنے ہونہ۔ یہ رسول اللہ ﷺ کا طریق ہرگزنہیں ، نہ خداکا یہ طریق ہے کہ اس قسم کی پیشگوئیاں وہ کروائے۔کبھی بھی نہیں ہوا۔تو لفظ بخاری سے مرعوب ہوکر ایسی بات قبول کرلینا جو آنحضرتﷺ کی مسلمہ شخصیت سے ٹکراتی ہو، حالات جس سے متصادم ہو ں اور حالات کے متصادم ہونے کیلئے یہ بات کافی ہے کہ اگر حضور اکرم ﷺ کی زندگی میں بعینہٖ ایسا واقعہ پیش آیا ہوتا تو پھر سب صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے علم میں یہ بات تھی۔ پھر ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ٹیڑھا فتویٰ دینے کی کیا ضرورت تھی۔ جو انہوں نے کہا کہ غلط فتویٰ دے دیا۔ اور پھر تمام فقہاء اس کا حوالہ دیتے کہ آنحضرت ﷺ اپنی زندگی میں یہ فیصلہ فرماگئے ہیں اس لیے اس کو قبول کرو۔وہ اس کا حوالہ اس لیے نہیں دے رہے کہ یہ زندگی کا فیصلہ نہیں ہے۔ بعدمیں آنے والا ایک واقعہ ہے جس کیلئے ایک دلیل ڈھونڈی گئی ہے۔ اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ۔دو ، دو سے زائد بیٹوں کا حصہ ۔ اب یہ ایک اوربحث اُٹھ گئی ہے ۔ قرآن کریم فرماتا ہے فان کن نسائً ا فوق اثنتین فلھن ثلثا (ماترک) اگر بیٹیاں دو سے زائد ہوں فوق کے معنی اس سے اوپر ۔ فلھن ثلثا تو ان کو 2/3دے دیا جائے گا، ان میں برابر تقسیم کیا جائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ دو ہوں تو پھر ان کو 1/2میں برابر حصہ دار کیا جائے گا۔ یعنی 1/4,1/4یا وہ دو سے زائد کے حکم میں آئیں گی۔ کئی فقہاء ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ دو سے زائد کا مضمون بالکل واضح ہے کہ اگر بیٹیاں دو ہوں تو پھر وہ آدھے میں برابر کی شریک ہوں گی یعنی 1/4,1/4حصہ پائیں گی 1/3کے حصہ سے محروم رہیں گی گویا کہ جو ایک اندرونی تضاد نظر آتا ہے۔ اس بحث میں جو فقہاء نے کچھ کہا ہے میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق یہاں یہ پھر مروی ہے، مفسرین میں سے یہ الکشاف نے جو بحث اُٹھائی ہے یہ میں وہ آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔
    وہ کہتے ہیں اگر کوئی کہے کہ یہ ذکر دو بیٹیوں کے معاملہ کا ہے اور ان کے بارہ میں کیا فیصلہ ہے اس کا جواب یہ ہے کہ ان دونوں کا حکم مختلف ہی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان دونوں کو جماعت کا مقام حسب آیت فان کن نسائً افوق اثنتین دینے سے انکار کیا۔ کیونکہ فوق اثنتین میں دو سے اوپر ہوناان کا ضروری ہوا،وہ ان پر ایک بیٹی کے سے احکام لاگو کرتے ہیں اس لیے دو بیٹیوں پر ایک بیٹی والے احکام لاگوہوں گے۔ یہ دلیل ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف منسوب کی گئی لیکن اس کا اندرونی سقم اس بات سے واضح ہے کہ اگر تین بیٹیاں ہو تو ان کوتو 1/3,1/3ملے گا۔ 2/3ان تین میں تقسیم ہوگا تو کتنابنے گا؟ 1/3یا ملے گانا !یااس سے زائد؟ 2/3میں اگر تین بیٹیاں شریک ہوں …میں بتاتا ہوں ابھی تو کتنا حصہ بنا؟…ایک بیٹی کو کتنا ملا؟ 2/3کا1/3…کتنا بنتا ہے ٹوٹل؟ (2/3کا 1/3ملے گا جو) 2/9بنتا ہے یعنی نصف سے کم اور 1/3سے زیادہ (1/3سے زیادہ نہ ہو ا کہ نہیں؟ ہاں ٹھیک ہے)او راگر چار ہوں تو پھر 1/6آجائے گا۔ یہ جو بحثیں ہیں اس میں مَیں صرف ایسے امکان کی تلاش میں ہوں جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ اگر ان کے اصول کے مطابق دو بیٹیاں ہوں تو وہ 1/3سے کم پائیں گی اور اگر اس سے زیادہ ہوجائیں تو زیادہ پاجائیں گی ۔ اگر ایک ہو تو نصف پاجائے گی۔ یہ جو باتیں ہیں یہ اندرونی اختلافات اس قسم کے ہیں جو غیر متوازن ہیں۔ اگر ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق جو روایت منسوب کی گئی ہے اس کو ہم قبول کرلیں تو صورت حال یہ بنتی ہے کہ اگر ایک بیٹی ہو تو نصف لے لے گی ۔ دوسری ہوئی تو وہ ماری گئی اور اس کی شریکہ آگئی ایک اورو ہ اس کو آدھا بانٹ دے گی اور تیسری ہوئی توپھر خوش قسمتی ہے وہ 1/4سے حصہ پھر بڑھادیں گے کیونکہ ساڑھے چار آپ نے بتایانا جو1/4کی بجائے…کتنا بنا؟ پھر معین بتائیں ؟2/9کا کتنا بنا؟ 1/4سے کم ہے زیادہ نہیں ہے، ٹھیک ہے یہی تو میں کہنا چاہتا تھا ایک بٹا ساڑھے چارہے۔ زیادہ نہ ہو اکم ہوا۔ تو تین ہوئیں تو 1/4سے اور کم ہوگیا اور اگر دو ہوں تو وہ دونوں کسی صورت میں بھی 1/3نہیں پائیں گی ۔ اب یہ جو بحث ہے دو کا قصور کیا ہے۔ دو 2/3میں شریک کیوں نہیں ہوں گی۔ یہ بحث ہے جو قابل توجہ ہے کیونکہ اس طرح ان کے حصوں کے اندر ایسی تفریق ہوتی ہے جس کیلئے کوئی معقول وجہ دکھائی نہیں دیتی۔ اس لیے علماء کو اس بات کو قبول کرنے میں تردّد رہا ہے اور انہوں نے بجائے اس کے کہ اس عقلی دلیل کو استعمال کریں اور یہ کہہ کر ردّ کردیں، احتیاط کی ہے اور کوشش کی ہے کہ قرآن کریم یا حدیث سے ہی وہ دلیل ڈھونڈیں جس سے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف منسوب اس بات کو ردّ کیا جاسکے(سمجھ گئے ہیں بات اب؟)۔
    اس کے خلاف ایک استدلال جو کیا گیا ہے فقہاء کی طرف سے او رحضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی بعینہٖ وہی قبول کیا اور اُسی کی تائید کی۔ وہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ بعض فقہاء کہتے ہیں کہ اصل میں فرق ہے ہی کوئی نہیں اور شیعہ مسلک اس کی تائید کرتاہے زیادہ تر۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک اصول کے تابع کچھ کم ملے گا مگر ایک دوسرے اصول کے تابع اس کی کمی پوری ہوجائے گی۔ اس لیے یونہی ایک توہمات کی بحثیں ہیں ورنہ عملاً بچیاں نقصان میں نہیں رہیں گی۔ وہ کہتے ہیں یہ قواعد الاحکام الجز ء الثانی کتاب الفرائض ازآیت اللہ حسن بن یوسف ۶۴۸ ؁ھ تا ۷۲۶ ؁ھ کا زمانہ ہے ان کا۔ اس زمانہ میں جوفتاویٰ دیے گئے آج کے فتاویٰ نہیں یہ پرانے فتاویٰ ہیں۔ کہتے ہیں اکیلے بیٹے کو سارا ترکہ ملے گا اور اسی طرح دو اور زیادہ کو ترکہ مساوی تقسیم ہوگا۔ دو کو شامل کرتے ہیں کہتے ہیں دو میں دو سے زیادہ ہونے کا مفہوم داخل ہے اوروہ کیوں ہے؟ اس کی دلیل نہیںدی مگر کہتے ہیں وہ شامل ہوں گی اور دو یا دوسے زیادہ بیٹیوں کو 2/3ملے گا اور باقی 1/3ردّ کے طور پر انہیں ملے گا اور اگر اولاد میں بیٹے اور بیٹیاں ہوں تو ترکہ للذکر مثل حظ الانثیین کے مطابق ہوگا۔ یہ ردّ والا مضمون یہ ہے کہ اگر دو یا دوسے زائد بیٹیاں ہوں تو2/3میں سب برابر کی شریک ہوں گی۔ لیکن جو 1/3ہے اگر دوسرا وارث نہ ہو جو لائن میں وارث ہے یعنی ماں باپ نہ ہوں یا اولاد نہ ہو تو انہی بیٹیوں کو واپس آجائے گا۔اور اولاد تو خیرہے ہی نہیں بیٹیاں ہی ہیں اگر ماں باپ نہ ہوں تو انہی بیٹیوں کو واپس مل جائے گا ۔ اس کو کہتے ہیں ردّ۔ یعنی چونکہ معین واضح وارث اس بقیہ حصہ کا پانے والا دعویدار موجود نہیں ہے اس لیے جس کو نسبتاً کم ملا تھا وہی اولیٰ ہے حق میں، اس کو واپس آجائے گا۔ یہ ہے فتویٰ آیت اللہ حسن بن یوسف کا۔
    منہاج الصالحین کتاب میراث میں یہ لکھا ہے اور یہ بھی فتویٰ ان کا ہی ہے شیعہ فتویٰ ہی ہے۔ اکیلا بیٹا وارث ہو تو تمام مال اسے ملے گا اور اسی طرح اکیلی بیٹی ہو تو تمام مال اسے ملے گا۔ اب حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ان کے پیش ہیںنظر چونکہ اس لیے اس پہلو سے یہ فتویٰ کمزور ہوجاتاہے۔کیونکہ اکیلی بیٹی کا وارث ہونا یہ ایک بہت ہی اہم متنازعہ فیہ مسئلہ بنا ہوا ہے اور اگر یہ کہہ دیں نہیں ہوسکتی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی یہ بحث ساری ختم ہوجائے گی کہ باغ فدک میں سے مجھے دو یا خیبر کی زمینوں سے مجھے دو۔ اس پہلو سے ان کا فتویٰ جب تک معین دلائل پیش نہ کریں مشکوک ہوجاتا ہے اور یہ کہہ کر بیٹی اکیلی ہو تو وارث ہو یہ کیسے نظر انداز کردیں گے کہ امہات المومنین رضی اللہ عنہن موجود تھیں اور ان کا حصہ قرآن کریم نے معین واضح فرمایا ہوا ہے۔ تو یہ اگر فتویٰ ہے ان کاتو صرف اس صورت میں اطلاق پاسکتا ہے کہ ایک بیٹی ہو اور لائن میں وہ وارث نہ ہوں جن کے متعلق قرآن کریم نے واضح طور پر ان کو وارث قرار دیا ہو۔ پھر ردّ کے طور پر اس کومل جائے پھر اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس میںکوئی قرآن کی مخالفت نہیں ہے مگر یہ فتویٰ دے کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حق میں وہ اس کو استعمال اس لیے نہیں کرسکتے کہ وہاں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی موجود تھیں اور دوسری امہات المومنین رضی اللہ عنہن بھی موجود تھیں اور ان کے ہوتے ہوئے اس واضح قرآنی حکم کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا کہ وہ بھی شریک ہیں اور اگر اولاد نہ ہو تو 1/4کی اوراگر اولاد ہو تو 1/8کی اور 1/8تو ان کو جائے گا کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی بچیاںتوتھیںنہ اولاد۔ یہ بحث چھوڑدیتے ہیں اور اس کیلئے جو انہوں نے اور بحثیں اُٹھائی ہیں وہ ایسی پیچیدہ ہیں کہ ضروری ہے کہ ان کا الگ جواب دیا جائے ۔ اس لیے اس حصہ پر اس وقت میں اس مضمون کو فی الحال چھوڑتا ہوں۔ شیعہ مسلک کے متعلق ایک الگ پورا وقت چاہیے کہ ورثہ کے متعلق ان کے مسلک کی چھان بین کی جائے اور دیکھا جائے کہ اہل سنت سے جہاں اختلاف ہے کس حد تک یہ درست ہیں اور کہاں تک اہل سنت کا مؤقف مضبوط ہے۔
    اب آگے بڑھنے سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک عبارت چشمۂ معرفت سے ہے جو اس مضمون پر روشنی ڈال رہی ہے اور بہت ہی حاوی ہے ہر پہلو پر ۔ یہ پڑھ کر سنادوں تاکہ اگر اس کے برعکس کوئی بات مثلاً اس سے پہلے میں نے کہہ دی ہوتو اس کو کالعدم سمجھا جائے۔ یہ اس امام کا فیصلہ ہے جس کو اس زمانہ کاخداتعالیٰ نے امام بنایا ہے اور اس کے فہم قرآن کے بعد کسی کافہم قرآن کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ اس پہلو سے بڑے غور سے اس کو سن لینا چاہیے اب۔
    ’’تمہاری اولاد کے حصوں کے بارہ میں خدا کی یہ وصیت ہے کہ لڑکے کو دو لڑکیوں کے برابر حصہ دیا کرو اور پھر اگر لڑکیاں دو یا دو سے بڑھ کر ہوں تو (دو یا دو سے بڑھ کر یہ قابل غور بات ہے آپ نے بھی فوق اثنتین میں دو کو شامل فرمایا ہے نکالا نہیں) جو کچھ مرنے ولاے نے چھوڑا ہے اس مال میں سے ان کا حصہ تہائی ہے۔(دو تہائی ہے، تہائی غلطی سے لکھا گیا ہے ۔ دو یا دو سے زائد ہوں تو جو کچھ مرنے والے نے چھوڑا ہے ان کا حصہ دو تہائی ہے۔ اس لیے لازماً ’’دو‘‘ چھٹ گیایہاں۔ ان کو کہیں کہ اصل کتاب میں لفظ ’’دو‘‘ چھٹا ہوا ہے تو درست کریں اس کو ۔ ہیں! کتاب سے چھٹا ہوا ہے اس کودرست کریں)اور اگر لڑکی اکیلی ہو تو مال متروکہ میں سے نصف کی مستحق ہے۔ (یہ توبالکل مسلّمہ بات ہے سب کی) او رمیت کے ماں باپ کو یعنی دونوں میں سے ہر ایک کو اس مال میں سے جو میت نے چھوڑا ہے چھٹا حصہ ہے۔ اس سے زیادہ نہیں ہے اور یہ اس حالت میں کہ مرنے والا کچھ اولاد چھوڑ گیا ہو۔ تو اس بارہ میں بھی جو میں نے اب تک کہا تھا اس سے میں کوئی ایسی بات نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وہی نہ فرمائی ہو۔ اور اگر مرنے والا لاولد مرا ہو اورمیت کے ایک سے زیادہ بھائی یا بہنیں ہوں تو اس صورت میں ماں کا چھٹا حصہ ہوگا لیکن یہ حصہ وصیت یا قرض کے ادا کرنے کے بعد دیناہوگا ۔ تمہارے باپ ہوں یا بیٹے تمہیں معلوم نہیں کہ ان میں سے باعتبار نفع رسانی کے کون سا تم سے زیادہ قریب ہے۔ پس جو حصے خدا نے قرار دے دیے ہیں ان پر کاربند رہو۔ کیونکہ وہ صرف خدا ہی ہے جس کا علم غلطی اور خطاء سے پاک ہے اور جو حکمت سے کام کرتا ہے اور ہر ایک مصلحت سے واقف ہے‘‘۔
    ختم ہوا یہاں فقرہ’’ اورجو ترکہ تمہاری بیویاں چھوڑ مریں پس اگر وہ لاولدمرجاویں تو ان کے ترکہ میں سے تمہارا حصہ آدھا ہے اور اگر تمہاری بیبیوں کی اولاد ہے تو اس حالت میں ان کے ترکہ میں سے تمہارا چوتھا حصہ ہے‘‘۔ اب جو پہلی آیت تھی وہ ختم ہوئی اس کے بعد یہ دوسری آیت بھی زیر بحث آگئی۔ اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ماں کے چھٹا حصہ تک بات ختم کردی ہے۔ اس لئے ہمارے لیے استنباط کی گنجائش پھر پڑی رہ گئی ۔ اس لیے اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تو اس کا یہ مطلب سمجھا تھا۔ آپ اس کے خلاف کوئی دوسرا مطلب کیسے پیش کرسکتے ہیں۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہاں 1/6کہہ کر باقی ایک غور کرنے والے، قرآنی علوم پر تفصح کرنے والوں کیلئے کھلی بات چھوڑ دی ہے اس لیے اس کی طرف ہم دوبارہ آئیں گے۔
    حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔۔۔۔۔۔’’ دو لڑکیوں کا حصہ یوصیکم اللہ ۔ وصیت کا مسئلہ یہاں سے شروع کیا۔ پہلاحکم یہ دیاکہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے پھر فرمایا کہ اگر دو سے زیادہ عورتیں ہی ہوں تو ان کا یہ حکم ہے کہ دو ثلث وہ لے لیں باقی سے ان کا تعلق نہیں ہے۔ اگر وہ دو ہوں تو ان کا حکم کیا ہے۔ یہ پہلی آیت سے نکل چکا ہے اور وہ یہ ہے کہ للذکر مثل حظ الانثیینکہ لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہوگا‘‘۔ مرد کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔ اب اگر ایک لڑکی ہو اور ایک مرد ہو تو مرد کو کتنا ملے گا؟ دو تہائی اس لیے اگردولڑکیاں ہوں تو دو تہائی ہونا چاہیے کیونکہ دونوں کا حصہ برابر ہے۔ اس لیے فرمایا کہ فوق الثنتینکی بحث لفظ فوق کی وجہ سے مضمون کو نہیںبدل سکتی کیونکہ فوق اثنتین میں تو بات کھل گئی۔رہی دو تو ان کا استنباط اس وجہ سے ہورہا ہے کہ للذکر مثل حظ الانثیین نے دائمی اصول بیان کردیا کہ اولاد اگر ہو تو لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔ فرمایا اگر ایک لڑکا ہوتا اور ایک لڑکی ہوتی تو ایک لڑکی کو 1/3اور ایک لڑکے کو 2/3ملتا۔ تو دو لڑکیاں ہوں تو برابر کیسے ہوں گی اگر 2/3 ان کاہوگا۔ اگر 2/3ان کا نہ ہوتو برابر کیسے رہیں گی؟ پس آپ نے ایک اور لطیف انداز میں یہ جو بحث تھی فوق کی اس کو بائی پاس کرد یا اور قرآن کے اندر موجود اصول کو نمایاں کرتے ہوئے اس سے استنباط کردیا جو بہت ہی وزنی استنباط ہے اوربڑا لطیف استنباط ہے۔ پس دو لڑکیوں کا حصہ کیا ہوا؟ دو ثلث۔ وہی جو تین لڑکیوں کا مقرر ہے۔ ’’پس اس آیت کی بناوٹ سے ہی ثابت ہوگیا کہ دو لڑکیوں کا حصہ دو ثلث ہے۔ یوصیکم اللہمیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بندہ کے احکام نہیں ہیں خداتعالیٰ کے ہیں۔ پس ان میں تبدیلی اور تصرف جائز نہیں‘‘۔ آگے فرماتے ہیں’’جمہور کا مذہب ہے کہ خواہ ماں باپ سے بھائی ہوں خواہ خالی باپ سے خواہ خالی ماں سے وہ حاجب ہوں گے۔ شیعہ زیدیہ شیعہ امامیہ کا مذہب ہے کہ ماں سے بھائی حاجب نہیں ہوں گے اور میرے نزدیک (یعنی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک) یہی درست ہے۔ ماں باپ سے ہوں ۔ ماں سے بھی اور باپ سے بھی تو حاجب ہوں گے لیکن اگر محض ماں سے ہوں تو حاجب نہیں ہوں گے کیونکہ جمہور کامذہب ہے کہ بھائی اس موقع پر صرف حاجب ہوں گے اور وارث نہیں ہونگے اور ان کو کوئی حصہ نہیں ملے گا۔ ہاں ماں کا حصہ ان کے سبب سے چھٹا رہ جائے گا۔
    اس جگہ یہ سوال (اب اس کایہ جو pointہے یہاں میں مزید وضاحت کرنا چاہتا ہوں کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جمہو کا یہ مؤقف قبول کرلیا کہ 1/6اس لیے ہوا کہ بھائی حاجب بن گئے ورنہ ورثہ میں وہ کچھ نہیں پائیں گے۔ یہ وہی بحث ہے جس کے متعلق میں نے آپ کو متنبہ کیا تھا کہ میں اس کی طرف واپس آئوں گا) اس جگہ یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ اگر وہ وارث نہیں تو وہ ماں کا حصہ کیوں کم کریں گے۔ جمہور اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ چونکہ زیادہ اولاد ہونے کے سبب باپ پر خرچ زیادہ ہوگا نفقہ اس پر ہے نہ کہ ماں پر اس لیے باپ کا حصہ اس صورت میں بڑھادیا ہے اور بھائی کو کچھ نہیں دیا۔یہ مؤقف حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ قبول کررہے ہیں کیونکہ یہ ایک معقول بات دکھائی دیتی ہے۔ لیکن میں اپنی پوری لاعلمی کا اعتراف کرتے ہوئے بھی یہاںاختلاف رکھتا ہوں اوروجہ بیان کرتا ہوں۔ آگے یہ سب کا حق ہے کہ اِس دلیل کو قبول کریں یا اُس دلیل کو قبول کریں۔ اس وقت تک حق ہے جب تک جماعت کی طرف سے کوئی افتاء کا فتویٰ جاری نہ ہوجائے۔ اگر فتویٰ جاری ہوجائے گا پھر انفرادی اختلاف رکھتے رہیں لیکن اس کو جماعتوں میں مبحث بنانے کا پھر جماعت کو کوئی حق نہیں ہے۔ اس سے پہلے پہلے میرے مسلک سے بیشک فقہی اختلاف کریں، علماء بھی کریں اور دلائل بتائیں کہ کیوں یہ دلیلیں کمزوراور ان کے نزدیک دوسری دلیل زیادہ مضبوط ہے۔ میرے نزدیک بھائیوں کو محض ایک catalitic agent سمجھنا درست نہیں ہے۔ ورثے کی بحثیںہورہی ہیں اور کوئی شخص جس کا ذکر آتا ہے وہ ورثہ کے تعلق میں ہی آرہا ہے اور 1/6کی یہ دلیل کہ بھائیوں نے اس لیے کم کردیا کہ ماں باپ پر بوجھ بڑھ گئے مگر باپ زیادہ ذمہ دار ہے ماں کم ہے اس لئے درست نہیں ہے میرے نزدیک کہ یہ بات اس بیٹے کے مرنے سے پہلے بھی تو اسی طرح تھی۔ جو ذمہ داریاں باپ ادا کررہا تھا وہ ذمہ داریاں اسی طرح چلی آرہی ہیں ان میں تو کوئی فرق نہیں پڑا اور کیا اس بیٹے کے مرنے کا ہی انتظار تھا کہ وہ مرے تو باپ کے ہاتھ مضبوط ہوں تاکہ باقی اولاد پر خرچ کرسکے اور اگر باقی اولاد پر خرچ کرنا مقصو دتھا تو باقی اولاد کو دے کر بھی تووہ ذمہ داریاں کم ہوجاتی ہیں۔point سمجھ رہے ہیں بات؟ باقی اولاد ہی کو اگر پیش نظر رکھا گیا ہے اور اس لیے ماں کا حصہ کم کیاگیا ہے تو اس صورت میں کہ باپ کو 2/3مل جائے یہ بحث بنے گی نہ پھر؟ 1/6ماں کا رہے گا 2/3باپ کومل جائے گا۔وجہ یہ ہے کہ وہ وارث بنے اور وارث بننے میں بدرجہ اولاد ہوئے اگر وہ بمنزلہ اولاد ہوئے تو ایک اور دو کی نسبت قائم ہوگئی یہ اصول بنایا گیا ہے۔ اگر یہ بات رکھتے ہیں تو 1/6کا 2/3تو 1/3ہے پھر۔ بیک وقت دو کشتیوں میں پائوں کیسے رکھا جاسکتا ہے۔ اگر ماں باپ کے معاملے میں عورت کا ایک اور مرد کا دو حصہ یہ اصول تسلیم کرلیا جائے او ریہاں اس کو چسپاں کیا جائے توماںکا جب 1/6 ہے تو اس کا دگنا کتناہے 1/3 ۔ تو پھر وہ اصول کہاں گیا اس کی طرف اگر اس کو چھوڑ رہے ہیں تو پھر اس کی طرف واپس کس طرح آرہے ہیں دوسری طرف سے۔
    امر واقعہ یہ ہے کہ اولاد کا جو ذکر ہے وہ محض حاجب کے طو رپر نہیں وہ اس طور پر ہے کہ ماں باپ کے متعلق پہلے ہی یہ اصول قائم ہوچکا ہے ۔ (یہ آیت) اس آیت نے پہلے 1/6کی بات کی ہے اس کوکیوں ہم نظرانداز کریں۔ کھلم کھلا آیت کا بیان موجود ہے اس کے عنوان میں ہی موجو دہے کہ جب 1/6ہوگا ماں کا تو باپ کا بھی 1/6ہوگا۔ وہاں 1/3 ، 2/3والا اصول نہیں چلایا ہوا۔ ایک اور دو حصے والا اصول نہیں چلایابلکہ قرآن کریم یہ فرماتا ہے کہاں ہے جی وہ آیت؟…یہ دیکھیںیوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین ۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اولاد کے متعلق وصیت کرتا ہے۔ یہ اصول للذکر مثل حظ الانثیین کہ لڑکی کو ایک اور لڑکے کو دو حصے ملیں گے۔ اس بارہ میں حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی تحریر میں یہ تسلیم کرتے ہیں پوری طرح۔ یہی مؤقف جو میں نے بیان کیا تھا کہ یہاں اولاد کے متعلق ایک اور دو کا اصول ہے باقی ورثوں میں یہ جاری ہونا ضروری نہیںہے۔ محض اولاد کیلئے ایک اور دو کا اصول ہے۔ میں نے اس سے پہلے بیان کیا کہ اگروالدین بمنزلہ اولاد ہوں یعنی سارا ورثہ پانے والے ہوں تو اس صورت میںایک استنباط کے طور پر ایک اور دو کا اصول قائم ہوجائے گا۔ اگر نہ بھی کریں گے تو ویسے ہی ہونا ہی ہونا ہے کیونکہ 1/6بھی کریں گے تو ردّ پھر ہوجائے گا ان کی طرف۔ تو سیدھی طرح ان کو وہی کیوں نہ دلوایا جائے اور یہی قرآن کریم نے فرمایا ہے۔ اس صورت میںایک اور دو کا اصول قائم ہوگا اگرچہ وہ اولاد نہیں ہے۔ فان کنّ نسائً افوق اثنتین فلھن ثلثا ما ترک وان کانت واحدۃً فلھا النصف ولابویہ لکل واحدٍ منھما السدس۔ کہ ان کے والدین کیلئے اولاد کی صورت میں ان میں سے ہر ایک کیلئے چھٹا حصہ ہے ۔ تو جب والدین چھٹا حصہ لیں تو ایک اور دو کا اصول پھرقائم نہیں رہے گا یہ میرا استنباط ہے۔ قرآن نے واضح طو رپر فرمادیا کہ چھٹے حصے کے معاملے میں دونوں برابر شریک ہوں گے۔ پس آخر پرجب ماں کا چھٹا حصہ بیان فرمایا ہے تو وہی بات ہے جو پہلے بیان ہوچکی ہے کہ جب چھٹے حصے کی بحث آئے گی تو ماں کا کہہ دیا جائے تو باپ کا اسی طرح ہوگا جس طرح پہلے بیان ہوچکا ہے اور اس طرح آیت کا جوربط ہے وہ ٹوٹتا ہی نہیں اور ایک اندرونی مضبوط ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت پیدا ہوتی ہے اور باہر جانے کی ضرورت نہیں رہتی۔ پس اس بناء پر میرا مؤقف یہی ہے کہ 1/6کا ذکر اس پہلے 1/6کی طرف اشارہ کررہا ہے جس میں ماں کا 1/6تھاباپ کا بھی 1/6تھا۔ پس جب 1/6ماں کا بیان کیا جائے تو باپ کا از خود وہی ہوگا جو پہلے بیان ہوچکا ہے اور جہاں ماں کا 1/3بیان کیا ہے وہاں باپ کا 2/3ذکر کردیا تبھی تاکہ اس میں غلط فہمی نہ ہو۔ تو قرآن کے اندر وضاحت کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ جو ربط ہے وہ اس مضمون سے پردے اٹھا رہا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ایسی صورت میں 1/6ہی ہوگا کیونکہ والدین اگر پہلے ضرورت تھی والدین کو ذاتی اس وقت پھر ان کو زیادہ کیوں نہ دیا گیا 1/6سے۔ اگر والدین کو ذاتی ضرورت تھی تو 1/6سے زائد پہلے بھی تو دینا چاہیے تھا۔ اس لیے یہ جو استنباط ہے یہ نسبتاً اصل مؤقف سے ذرا ہٹ کر استنباط ہے۔ قرآن نے جب 1/6کہہ دیا تو 1/6ہی ہے۔ قرآن نے ہر جگہ ماں کے ساتھ، لڑکی کے ساتھ لڑکے کا ذکر نہیں کیا۔ ماں کے ساتھ باپ کا ذکر نہیں کیا۔ ایک کاذکر کرتا ہے یعنی ماں کا اور دوسرا ہم استنباط کرتے ہیں اور استنباط کیلئے قرآن کا استنباط لاز م ہے اور اَولیٰ ہے دیگر استنباط کے۔ اور قرآن کا استنباط یہی ہے جو میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں کہ جہاں 1/6 کی بات کی تھی وہاں دونوں کو برابر ٹھہرایا تھا اور ان میں کوئی تفریق نہیںکی تھی۔ پس وہ جو بقیہ بچتا ہے وہ کس کیلئے پھر بچتا ہے۔ اس میں سے وصیت بھی ہوسکتی ہے ، اس میں سے قرضے تو خیر ادا ہوتے ہیں وصیت تو وہ کہیں گے کہ ہر جگہ نکلتی ہے مگر 1/3کی جو وصیت ہے وہ حصوں میںسے کاٹی جاتی ہے ا س لیے وہ نکالیں گے تو حصہ کم رہ جائے گا خودبخودہی۔مگر میں جو بات اب وضاحت سے کہنا یہ چاہتا ہوں کہ کوئی بھی ہو اگر ماں باپ کو 1/6اس لیے مل رہاہے کہ بھائی اور بہنیں موجود ہیں تو سوائے اس کے کوئی استدلال نہیں بنتا کہ بھائی او ربہن لینے کی وجہ سے محروم کررہے ہیں حق لینے کی وجہ سے ان کو محروم کررہے ہیں نہ کہ محض اپنی موجودگی کی وجہ سے۔ کیونکہ یہ کوئی دلیل نہیں ہے، کوئی موجود ہے تو دوسرے کو محروم کردے۔ موجود ہے تولینے والا بنتا ہے تو محروم کرتا ہے۔ لینے والا نہیں بنتا تومحروم نہیں کرتا۔ پس یہ اب صورتحال اگر اس استنباط کو قبول کیا جائے تو یہ بنے گی کہ اگر کوئی شخص مرتا ہے اس کی اولاد نہیں ہے تو ماں باپ بمنزلہ اولاد شمار ہوں گے اور اصل وراثت جو ہے وہ ماں باپ اور بیٹے، اور بیٹے اورماں باپ کے درمیان ہے ۔ اولاد اورماں باپ، ماں باپ اور اولاد کیونکہ دونوں کے وہ کفیل اور ذمہ دار ہیںاو ربیویاں بھی چونکہ ذمہ داری میں شامل ہوجاتی ہیں اس لیے ان کا معین حصہ مقررفرمادیا۔اب قریب ترین رشتے ہیں جن کی بحثیں اُٹھائی گئی ہیں۔ اس لیے ماں باپ کو دو اور ایک کی نسبت سے تقسیم کردیا جائے گا اگر اولاد نہ ہو۔ اگر بھائی بہن ہوں تو پھرماں باپ کا 1/6بحال ہوجائے گا جو پہلے گذرا تھا۔ اوربقیہ حصہ بھائی اور بہنوں میں تقسیم ہوگا اور اس کی وجہ سے ماں باپ کے اوپر کوئی بوجھ عائد نہیں ہوتا۔ کیونکہ ماں باپ نے بھی تو اولاد پر ہی خرچ کرنا تھا بجائے ا سکے کہ ان کی وساطت سے دوبارہ دلایاجائے اگر بھائی کی وساطت سے دلایا جائے تو بھائی کیلئے زیادہ محبت پیدا ہوتی ہے اور یا مرنے والی بہن کیلئے اور اس کیلئے دل سے پھردعا نکلتی ہے۔ اس سے ایک تعلق بحال ہوجاتا ہے اور اس کی یادگارپاس رہتی ہے۔ عملاً آنا تو واپس انہی کی طرف تھا اس لیے اس میں کچھ بھی رخنہ نہیں پیدا ہوا۔ ذرا بھی رخنہ پیدانہیں ہوا۔ رہنا تو انہی کے درمیان تھا نا۔ بھائیوں نے اور بہن نے ماں باپ کے مرنے پر پانا تھا اور ایک صاحب جائیداد جب مررہا تو معلوم ہوتا ہے عمریں ان کی کافی ہوچکی ہیں اس لیے اگر ان کے مرنے کے بعد ان سے پائیں اس کی بجائے اس مرنے والے سے کیوں نہ پالیں جبکہ جائیداد بعینہٖ اسی نسبت سے ان تینوں کے درمیان ہی رہی ہے اس سے باہر نہیں نکلی۔
    اس لیے میرے نزدیک ہرگز مضائقہ نہیں کہ 1/6کے اصول کو بحال رکھا جائے کیونکہ میرے نزدیک قرآن بحال کررہا ہے۔ اور بہن بھائیوں کو دے دیا جائے بالآخر انہوں نے ہی پانا ہے اور کوئی نہیں ہے۔ تومرنے والے کے حوالے سے دینامجھے زیادہ بہتر معلوم ہورہا ہے بہ نسبت اس کے کہ واپس باپ کے پاس جائے اور پھر لوٹے اور پھر جب باپ کے پاس جائے تو نہ 1/6قائم رہا نہ ایک اور دو کی نسبت قائم رہی۔ بہت بڑا رخنہ پیدا ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اس اصول کواگر مانا جائے تو اس کی طرف بھی متوجہ ہوں دوست کہ ماں کو تو 1/6کردیا باقی باپ کو 2/3کے اصول پر اگرکیا جائے تو 1/3ہی مل سکتا ہے ۔ پھر بھی کافی حصہ بچ جائے گا ۔ مگر یہ کہتے ہیں کہ بقیہ باپ کو دلوادیا جائے اگر بقیہ باپ کو دلوادیا جائے کیونکہ بیٹوں نے اور بہن بھائیوں نے تو کچھ نہیں پانا وہ تو صرف catalitic agentsتھے۔ اگر یہ بات ہے تو پھر سارامضمون بگڑ گیا وراثت کا۔ نہ ایک اور دو کا اصول قائم رہا نہ 1/6 کا اصول قائم رہا اور ایک عجیب سی بات پیدا ہوئی جس کی خداتعالیٰ نے کوئی وضاحت بھی نہیں فرمائی۔ اس لیے نہ چھیڑنا ہی بہتر ہے ۔ بعینہٖ جو قرآن نے فرمایا ہے اور اتنے قریبی ربط میں فرمایا ہے اوپر 1/6نیچے پھر 1/6 تو بریکٹ کردیں ان دونوں باتوں کوتو مسئلہ ختم ہوجاتا ہے ۔ اور محجوب الارث والی بات ! میرا دل تو قبول نہیں کرتا ۔محجوب الارث ان معنوں میں کہ وارث ہے ہی کچھ نہیں۔صرف حجاب ہی پیدا کرتا ہے ورنہ باقی سب جگہ حجاب پیدا کرنے والے وارث ہیں۔ اگر وارث موجود ہے تو حجاب پید اکرے گا کیونکہ زیادہ اہلیت والا وارث موجود ہے ۔وارث نہ ہو اور صرف پردہ کھڑا ہوجائے سکرین بن کے یہ بات میرا دل قبول نہیں کرسکتا۔ باقی ایک جواب حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ دیا ہے کہ عورت کیلئے نصف حصہ مرد کیلئے دوکیوں ہیں یا ایک کیوں ہے یا ایک اور دو کی نسبت کیوں ہے۔ یہ وہی جواب ہے جو بار ہا یہاں پہلے بھی ہوتا رہا ہے پیش کہ مرد کو کفیل بنایا گیا ہے ، ذمہ دار بنایا گیا ہے اس لیے اس لحاظ سے اس کوو رثہ میںبھی زیادہ ملنا چاہیے۔ اب حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہاں پہنچ کر مشکل محسوس کی ہے خود کہ اگر 1/6ماں کو دیا جائے اور باقی سارا باپ کو دے دیا جائے تو نسبت بدل جائے گی ایک اور دو کی ۔ کیا حل ہے اس کا پھر اور اگر نسبت قائم رکھو توکچھ حصہ بچ جائے گا تو اس مشکل میں پڑکے سوال اٹھا کر بغیر جواب دیئے آپ چھوڑ رہے ہیں اس بات کو ۔ فرماتے ہیں:-
    ’’یہاں پر سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اگر کوئی ایسی عورت مرجائے جس کی اولاد نہ ہو تو اس کی جائیداد سے 1/3حصہ تو اس کے خاوند کا ہوگا اور 1/3حصہ اس کی ماں کا تو اس کے باپ کا حصہ کیا ہوگا۔ باقی 1/6حصہ بچتا ہے۔ یہ تو باپ کا نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ عورت کے حصہ سے کم ہے۔ اس کے متعلق یہی کہنا کافی ہے کہ جب خداتعالیٰ نے باپ کا حصہ بیان نہیں فرمایا تو ہمیں اس کے مقرر کرنے کی حاجت نہیں ہے‘‘۔
    اب یہ جو مسئلہ ہے اگرچہ ایک اور حوالے سے پیش ہوا ہوا ہے مگرمیرے نزدیک اگر آیت کی اسی طرح پیروی کی جائے جو میں نے جس طرح کرکے دکھائی ہے تو یہ مسائل اٹھتے نہیں ہیں۔ اس کو دوبارہ میںلیتاہوں۔ یہ بڑا اہم مسئلہ ہے ویسے ۔میں پہلے سمجھا تھا وہ پہلی بات ہی کے تسلسل میںہورہی ہے بات ۔ یہ وہ نہیں ہے یہ نئی بات نکلی ہے ۔ ایک اور بات اٹھارہے ہیں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ اگر اولاد نہ ہو اور بہن بھائی ہوں وہ والی جو بات تھی وہ الگ چھوڑ چکے ہیں ایک نئی بات اٹھائی ہے۔ اس لیے دوبارہ پڑھنا پڑے گا اب اس کو ۔ فرماتے ہیں۔ یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اگر کوئی ایسی عورت مرجائے جس کی اولاد نہ ہو تو اس کی جائیداد سے 1/3حصہ تو اس کے خاوند کا ہوگا اور 1/3حصہ اس کی ماں کا۔یہ کس طرح بنا؟ (کیوں جی امام صاحب! کہاں غائب ہوگئے ، ایسے مشکل موقعوں پر چھپ جاتے ہیں وہ اکثر) اگر کوئی ایسی عورت مرجائے جس کی اولادنہ ہو تو اس کے خاوند کو بھی کچھ ملے گا ، اس کے باپ کو بھی کچھ ملے گا۔ درست۔ اگر اس کا خاوند موجود ہو تو اس کو کتناملے گا؟ 1/2ملنا چاہیے یا 1/4-1/4اور 1/8تو اولاد کی صورت میں ہوتا ہے۔ عورت کو 1/8،اگر اولاد ہو خاوند کو 1/4۔
    تو 1/3غلط لکھا گیا ہے یہاںیہ میںکہہ رہا ہوں ۔ جو واضح قطعی بات معروف ہے وہ یہ ہے کہ اگر کوئی خاوند مرجائے یا بیوی مرجائے اس صورت میں کیا ہوگا؟ اگر خاوندمرجائے اور بے اولاد مرے تو بیوی کو 1/4ملے گا اور اگر بیوی مرجائے تو خاوند کو 1/2ملے گا۔ اگر صاحب اولاد ہوں اور بیوی مرجائے تو خاوند کو بیوی کی جائیداد میں سے 1/4ملے گا اور اگرخاوند مرجائے اور صاحب اولاد ہو تو بیوی کو 1/8ملے گا۔ یہ ہے اصول۔ اس لیے جو لکھا گیا ہے اس کو نظر انداز کرتے ہوئے جو صورتحال حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ پیش فرمارہے ہیں اسی کی بحث کرتے ہیں ۔ صورتحال یہ پیش فرمارہے ہیں کہ اگر کوئی عورت مرجائے جس کی اولاد نہ ہو ۔ یہ سوال ہے۔ تواس کے خاوند کو کیا ملے گا؟ (1/2)اور 1/3اس کی ماں کو ملے گا۔ خاوند کو 1/2اور 1/3ماں کو کیوں ملے گا؟ یہ بتائیں اب۔1/3کیوں ملے گا؟ میں یہ کہنا چاہتا ہوں، اب اسی مضمون کی طرف واپس جائیں تو نجات وہیں ملے گی جو میں پہلے مسلک پیش کرچکا ہوں۔ 1/3اور2/3اگر اولاد نہ ہو تو ایک حصہ ماں کااور دو حصے باپ کے۔ یہ تسلیم کیا گیا ہے نا۔ بھائیوں کو غیر وارث سمجھ لیاگیا اس لیے یہ چکر پڑ گیا سارا۔ بھائیوں کو تو غیر وارث قرار دے دیا مگر اگر خاوند ہو تو وہ تو وارث بن گیا نا۔ اور خاوند لے لے گا تو ماں کا ذکر ہے 1/3اس کو دو۔ وہ سمجھا جائے گا کہ اس صورت میں اولاد نہیں ہے تو وہی اصول ہوگا۔ اور 1/3ماں کو مل گیا،باپ خالی اور یہ ہو نہیں سکتا ۔ کیونکہ ہر صورت میں خاوند کے حق کو عورت کے حق سے زیادہ سمجھایا۔ یہاں پہنچ کر حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ چونکہ ایک دفعہ وہ مؤقف اختیار کرچکے ہیں اس لیے یہاں آکر ٹھہر گئے ہیں اب اور فرماتے ہیں جب خدا نے ذکر نہیں کیا تو پھر ہم بھی نہیں کچھ بات کرتے۔ میں درست نہیں سمجھتا اس کو۔ میرے نزدیک اصل وجہ وہی ہے جو وہاں ایک دفعہ قدم دوسری طرف اُٹھ گیا ہے۔ بھائیوں کو اس لیے پیش کیا گیا ہے کہ وہ وارث ہیں۔ پس یہ ترجمہ کرنا پڑے گا کہ اگر کوئی شخص مرجائے اور اس کی اولاد بھی نہ ہو اور دوسرا کوئی وارث بھی نہ ہوتو پھر ماں کو 1/3 اور باپ کو 2/3، مسئلہ ختم۔ اگرکوئی اور وارث ہو جیسا کہ بھائی وارث ہیں تو پھر 1/6میںدونوں بحال ہوجائیں گے۔ اور جو بیچ میں بچتا ہے وہ یا بھائی پائیں گے یا دوسرا وارث اگر وہ بھی ہو۔ بھائی نہ ہوں تو بیوی کا خاوند اس کا وارث ہے۔ بیوی کی ماں بھی اس کی وارث ہے۔ بیوی کا باپ بھی اس کا وارث ہے ۔ تو اس طریق پر اگر آپ تقسیم کرکے دیکھیں تو کوئی حسابی دقت پیش نہیں آتی۔ ایک عورت مرتی ہے اس کا وارث خاوند موجود ہے۔ اس لیے جو معین حصہ ہے خاوند کاوہ 1/2ہے۔ جو باقی آدھا ہے اس میں 1/6۔1/6 ماں اور باپ میں برابر تقسیم ہوجاتا ہے۔ اورکچھ جو بچ جاتا ہے وہ صدقہ خیرات کے کام آسکتا ہے۔ اس لیے کوئی حسابی دقت نہیںپیدا ہوتی۔ اس لیے اگرچہ یہ بات اور ہورہی ہے مگر نتیجہ وہیں پہنچتا ہے اصل میںکہ اگر بھائیوں کو حاجب سمجھاجائے اوروارث نہ سمجھا جائے تو اس کا بد اثر آگے بھی مترتب ہوگا۔ اور قرآن کریم کی دوسری آیات پر بھی یہ بات اثر انداز ہوگی۔ اس لیے میںجو مؤقف سمجھ رہاہوں اس کو مزید مجھے تقویت ملی ہے۔ ورنہ حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ یہاں آگے ٹھہر نہ جاتے۔ اب یہ تقویٰ کا تقاضا تھاٹھہر گئے ورنہ کوئی اور عالم ہوتا اس نے کوئی نہ کوئی چیز نکال لینی تھی۔ مگر ضروری تو نہیں کہ ہر بات ہر ایک کوبعینہٖ اسی طرح سمجھ آجائے۔ اللہ کی مرضی ہے۔ بعض دفعہ بہت بڑے بڑے علماء بعض باتیں نہیں سوچ رہے ہوتے، چھوٹے کو سوجھ جاتی ہے۔ بعض دفعہ باپ کو سمجھ نہیں آتی بیٹے کو سمجھ آجاتی ہے۔
    حضرت دائود علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے جو مقدمہ پیش ہوا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ففھمناھا سلیمٰن۔ دائود علیہ السلام کو کیوںنہ سکھادیا اللہ میاں نے ۔ مقدمہ ایسے وقت میں پیش ہوا جبکہ دونوںزندہ تھے ان کے سامنے پیش ہوا ہے۔ حضرت دائود علیہ السلام کو نہیں سکھایا سلیمان علیہ السلام کو سکھادیا۔ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو صلاحتیں ان باتوں کوبخشیںتھیں ان میں سلیمان علیہ السلام کو ایک چیز سمجھ آئی حالانکہ حضرت دائودعلیہ السلام کو نہیں آسکی تھی۔ سوجھی نہیں تھی ۔ تو یہ کوئی گستاخی نہیں ہے۔ اس لیے کوئی اگر یہ کہے کہ تم کون ہوتے ہو، تمہاری کیا حیثیت ہے مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے کھڑے ہوکر ان کے استدلال پر ایک تبصرہ بھی کررہے ہو۔ میری کوئی حیثیت نہیں مگر ایک بات لازم ہے کہ جو قرآن کو عزت دے گا وہی عزت پائے گا۔ ہماری اوّل وفا ماں باپ یا اپنے بزرگوں کے فیصلوں سے نہیں بلکہ قرآن سے وفا ہے ۔ اور اس راہ میں سوائے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے فتویٰ کے میں اس دو رکے اوپر کسی اور کا فتویٰ جاری نہیںسمجھتا کیونکہ مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو خدا نے امام مہدی کا لقب دیا اور سارے دور کے بادشاہ بنائے گئے ہیں۔ خلفاء اپنے وقت میں اپنے فتوئوں کے اوپرعمل درآمد کرانے کے مجاز ہیں دوسرے خلیفہ کے سامنے پہلے خلیفہ کی رائے ایک سند کے طور پر اس طرح پیش نہیں کی جاسکتی کہ چونکہ اس نے یہ فیصلہ دے دیا تھا اس لیے تم اس کے خلاف بات نہیں کرسکتے۔ اگر استنباط قرآن سے ہو اور حدیث سے ہو او رعقل سے ہو تو پھر ہر خلیفہ وقت کو اختیار ہے ہاں وہ خلیفہ مرجاتا ہے تو کل کا خلیفہ اگر پہلے خلیفہ کی طرف واپس آجائے تو اس کا بھی حق ہے۔ اس طرح اندرونی تضاد کبھی پیدا نہیں ہوسکتا۔ اگر یہ نہ ہوا تو Papacyوالا حال ہوجائے گا۔ جہاں یہ تصور کیا گیا کہ کوئی پوپ بھی خطا نہیں کرسکتا۔ ہر پوپ معصوم عن الخطا ہے۔ اس لیے جب ہر پوپ کو معصوم عن الخطاء سمجھا تو اس کے فیصلہ کو اس کی زندگی میںہی نافذ نہیں بلکہ آئندہ بھی نافذ سمجھا گیا۔ جبکہ آئندہ آنے والے پوپوں نے اس سے اختلاف کرلیا اور وہ بھی معصوم عن الخطا۔ یہی جھگڑا ائمہ کا چل چکا ہے۔ کہ فلاں بیٹے کو محروم الارث قرار دے کر یعنی (اپنا لقب پانے سے محروم کرکے اسماعیل کو اس کی بجائے ان کو… کن کو کیا تھا؟ موسیٰ کاظم کو۔ چھٹے امام کی بات میں کررہا ہوں۔ اسماعیلی ا سی سے تو نکلے ہیں اسی گروہ سے) اسماعیل بڑے بیٹے تھے ان کو بظاہر امامت ملنی چاہیے تھی ان کومحروم قرار دے کر ان کے چھوٹے بھائی کو امام بنادیا اور جنہوںنے اس فیصلے کو قبول کیا انہوں نے کہا کہ اب امامت جاری ہے وہ چھٹے سے آگے چل پڑی ہے امامت۔ جنہوں نے اس کو تسلیم نہیں کیا انہوں نے کہا چونکہ امام معصوم عن الخطا ہے اس لیے ان کے نزدیک حضرت اسمٰعیل جو ان کے بیٹے تھے ان کو پہلے وہ امام بناچکے تھے تسلیم کرچکے تھے اپنے بعد۔ اس کے حق میں وصیت کرچکے تھے اس لیے ان کو تبدیلی کا کوئی حق نہیں تھا ورنہ خطا ہوگئی۔ اس لیے وہ فیصلہ کالعدم ہے ان کا اپنا اور اس طرح ان کا معصوم عن الخطا ہونا ثابت کرگیا کہ ان کا اپنا فیصلہ دوسرے بیٹے کے حق میں خطا ہے۔ تو یہ اندرونی تضاد تو بڑا واضح ہے ۔ لیکن اس کونظر انداز کرکے جب معصوم عن الخطا کی بحثوں میں پڑتے ہیں تو یہ سارے معاملات یہ سارے جھگڑے شروع ہوجاتے ہیں۔ کوئی خلیفہ بھی معصوم عن الخطا ان معنوں میں نہیں ہے۔ ان معنوں میں تو ہم ایمان رکھتے ہیں کہ خلیفہ کا ایسا فیصلہ جوجماعت کے مفادات سے تعلق رکھتا ہو اگر غلط ہوگا تو اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے گا۔ کیونکہ اس وقت اس کی بات ماننی ضروری ہوگی اوریا اس کو خود سمجھا دے گا اور وہ فیصلہ تبدیل کردے گا۔ یا جماعت کو اس کے شر سے بچائے گا ۔ اور آج تک جو تاریخ ہے کلیۃً اس کی تائید کررہی ہے ۔ خلیفہ ٔوقت کا کوئی فیصلہ کبھی بھی جماعت کے خلاف مضر ثابت نہیں ہوا۔ مگر یہ کہ قرآن کریم کی بعض آیات کی تفسیر میں یامسائل کی تحقیق میں ہر خلیفہ معصوم عن الخطا ہے بالکل غلط ہے۔ اگر یہ ہو تو حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اختلافات یابرعکس کہنا چاہیے یہ کیسے ہوگئے مسائل میں۔
    کئی مسائل میں اختلاف تفصیلی تفسیری ، مسائل میں مَیں پہلے بھی کرچکا ہوں اختلاف۔ بعض لوگوں نے مجھ سے ناپسندیدگی کا اظہار بھی کیا میں نے کوئی پرواہ نہیں کی۔ میں نے کہا میں نے تمہیں جان نہیں دینی میں نے اللہ کوجان دینی ہے۔ تقویٰ سے جو چیز مجھے جب تک دکھائی دے گی میں وہی کہوں گا جو مجھے دکھائی دے رہی ہے۔ لیکن اس سے پہلے کہ میں اس بات پر پہنچوں میں دُعا کے بعد ، استغفار کے بعد اللہ تعالیٰ سے مدد ہمیشہ مانگتا ہوں کہ اگر یہ غلطی ہے تو مجھے اس دوسری ٹھوکر سے بھی بچالے پھر۔ ایک تو غلط بات کہوں اور دوسرے اپنے سے بالا صاحب علم اور صاحب مقام آدمی کی بات کے مخالف ایک اور بات پیش کروں۔ دو ٹھوکریں ہوگئیں نا۔ لیکن اگر یہ نہ ہو تو میں لازماً مجبور ہوں وہی کہوں گا جو قرآن مجھے سمجھ آئے گا وہی کہوں گا جو استنباط میرا دل تقویٰ کے ساتھ کرے گا۔ اور اس وقت تک یہ فیصلہ چلے گا جب تک میں زندہ ہوں۔ جب میں مر جائوں گا تو اگلے خلیفہ کا حق ہے خواہ میرے ساتھ موافقت کرے یا پہلے کسی اور سے موافقت کرے۔لیکن تضاد نہیں ہو گاکیونکہ ہر خلیفہ کا دور اس کا اپنا دور ہے۔مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے نہ میری مجال ہے کہ کوئی اختلاف کرے نہ کسی آئندہ آنے والے خلیفہ کی مجال ہے کہ وہ اختلاف کرے۔اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام خدا کے مقرر کردہ امام ہیں۔ان معنوں میں معصوم عن الخطاء کے جو بھی معنی ہیں آپ پر پورے آتے ہیں۔لیکن ایک اور جھگڑا پیدا ہو سکتا ہے اس کی وضاحت بھی کر دوں۔کوئی شخص کہے کہ میں مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ مطلب سمجھتا ہوں اورآپ یہ سمجھ رہے ہیں اس لیے آپ غلط کہہ رہے ہیں ۔اس میں پھر خلیفہ وقت کی بات مانی جائے گی ۔ خلیفہ وقت کیلئے ناممکن ہے کہ مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک مؤقف سمجھ کر پھر اس کے مخالف کوئی تصور بھی باندھ سکے یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اس لیے کوئی ماں سے زیادہ چاہے گا تو پھپھا کٹنی ہوگا۔ یا غلط فہمی ہوئی ہوگی بیچارے کو۔ یہ تو حق ہے اس کا کہ وہ یہ لکھے خلیفہ وقت کو کہ آپ کی بات سن لی مگر مجھے ابھی بھی یہی لگ رہا ہے کہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ مسلک نہیں وہ مسلک ہے۔ اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ کوئی مجھے لکھتا ہے میں نے کہا ٹھیک ہے آپ یہی سمجھتے رہیں۔ مگر جماعت کے سامنے ایک مؤقف حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا خلیفہ وقت پیش کرتا ہے اس کے مقابل پر کسی شخص کو اپنے دوسرے مؤقف پیش کرنے کا کوئی حق نہیں۔ یہ اوربات ہے ۔ سمجھ گئے ہیں بات؟ اب آج کا درس ختم کل انشاء اللہ پھر اکٹھے ہوں گے۔ وہ نکالیں اب شیعوں والے حصے جو ہیں ناں ۔ یہ دیکھیں یہ ہے پلندہ سارہ۔ اس کے متعلق منگوائیں تفصیلی روایات۔ السلام علیکم ۔
    إإإ

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    درس القرآن ماہ رمضان
    مورخہ 21؍رمضان بمطابق11؍ فروری 1996ء
    یوصیکم اللہ فی اولاد کم للذکر مثل حظ الانثیین الخ۔۔۔۔۔۔ علیمًا حکیمًا
    یہ جو آیت ہے اس کے متعلق اب تک بہت سی بحثیں گذرچکی ہیں۔ کچھ باقی بھی ہیں جن پر اس وقت میں کچھ کہنا نہیں چاہتا ۔ کیونکہ کچھ تحقیق طلب باتیں ہیں جب ان کے جواب آجائیں گے تو پھر انشاء اللہ تعالیٰ جس وقت بھی وہ جواب موصول ہوں گے کسی موقع محل کے مطابق کسی وقت ان پہلوئوں کو دوبارہ چھیڑا جائے گا۔ جو باتیں واضح پر سامنے آچکی ہیں ان میں سے ایک اس حدیث کی بحث تھی جو میں نے کل اٹھائی تھی۔ ایک حدیث میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ پوتی کا یہ حصہ ہے جو آنحضرت ﷺ نے مقرر فرمایا ہے۔ اس پر میں نے درایت کے اعتبار سے بعض سوال اٹھائے تھے جس سے مجھ پر یہ تاثر تھا کہ اس حدیث میں بعض باتیں اتنی مبہم ہیں کہ ان کو دائمی اصول کے طور پر قطعیت کے ساتھ اور یقین کے ساتھ کہ یہی رسول کریم ﷺ کامنشاء تھا، ہم انسانی معاملات میں جاری نہیں کرسکتے۔ کیونکہ جہاں حقوق انسانی کا تعلق ہے وہاں قرآن کریم نے بہت زور دیا ہے اور بڑی وضاحت




    فرمائی ہے۔ اگرکسی جگہ ابہام ہو اور حدیث خواہ بخاری کی ہو یا کسی اور کتاب کی ہو ، روایتاً مضبوط ہو مگر اندر مضمون میں ابہام پایا جائے تو ابہام مانع ہوجاتا ہے کہ اس سے سند لے کر اسے مستقلاً معاملات کے فیصلے میں جاری کیا جاسکے۔ یہ تھا جو میں نے مسلک پیش کیا تھا۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بعض علماء میرا مطلب سمجھے نہیں۔ انہوں نے غالباً یہ سمجھا کہ میں بخاری کی اس حدیث کو محل نظر قرار دے رہا ہوں۔ کیونکہ اس کی روایت ٹھیک نہیںہے حالانکہ روایت کا میں نے اشارۃً بھی ذکر نہیں کیا۔میں نے تومضمون کی بحث اٹھائی تھی۔ چنانچہ انہوں نے بخاری کی اس روایت کی تائید میں دیگر کتب کا حوالہ دیا ہے۔ بخاری میں بھی یہ حدیث ہے ، ابودائود میں بھی ہے، ابن ماجہ میں بھی ہے، ترمذی میں بھی ہے، دارمی میں بھی ہے، طحاوی میں بھی ہے اور دار قطنی میں بھی ہے اور سب جگہ تقریباً یکساں الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ یہ اس حدیث کی صحت کی مضبوطی کے طور پر انہوں نے مجھے مزید معلومات مہیا کی ہیں کہ جب اتنی طاقتور حدیث ہو جو اتنی اہم کتابوں میں درج ہو تو اس پر کیا ہم کوئی رائے زنی کرسکتے ہیںکہ اس کا مضمون کسی لحاظ سے مبہم ہے۔ روایت کی بحث الگ ہے۔ روایت کے لحاظ سے ایک حدیث قطعی طو رپر صحیح ثابت ہوجائے تو اس کے باوجود درایت کا اپنا ایک مضمون ہے جو اس کے باوجود قائم رہتا ہے ۔ وہ نہ صرف انسانی حق ہے بلکہ فرض ہے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کی طرف بات منسوب کرکے اگر شریعت کے فیصلے جاری ہونے ہیں تو قیامت تک کیلئے انسانی حقوق اس سے متاثر ہوں گے۔
    جہاں شریعت معاملات میں اتنی احتیاط برتتی ہے ایک واقعہ کی سزا کیلئے چار گواہوں کا خاص حالت میں پایا جانا اور اتنی قطعیت کے ساتھ واقعہ کو دیکھنا بیان کیا گیا ہو کہ وہ شاذ کے طور پرممکن ہے اور اگر ایسا نہ کیا جائے تو قرآن فرماتا ہے کہ وہ لوگ جھوٹے ہیں۔ ان کو مفتری قرار دیا جائے گا ان کو اسّی کوڑے پڑیں گے فی آدمی۔ اگر یہ جو احتیاطیں ہیں ان احتیاطوں کے ساتھ گواہی کی شرط کو پورا نہیں کرتے۔ تو جہاں قرآن میں انسانی حقوق اور معاملات میں اس قدر احتیاط برتی گئی ہے اور گواہوں کے مضمون پر اتنا زور دیا گیا ہے اور ان کی گواہی کا واضح ہونا اس مضمون سے ثابت ہوتا ہے۔ وضاحت پر ایسا زور دنیا کے کسی عدلیہ کے نظام میں نہیں ملے گا اور چونکہ یہ شاذ کا معاملہ ہے اس لیے اگر دیانتداری کے ساتھ اس مضمون کو پیش نظر رکھیں تو بہت کم ایسا واقعہ ہوگا کہ یہ حد جاری ہوسکے اور زیادہ سے زیادہ کھلے بے حیائوں کے اوپر تو جاری ہوسکے گی عام حالات میں اس کا جو دائرہ ہے وہ قائم ہوتے ہوئے بھی اطلاق نہیں ہوسکتا۔ پس ایک طرف قرآن کریم نے معاملات پر اور حقوق انسانی پر اتنا زیادہ زور دیا ہو اور دوسری طرف کوئی حدیث ہو جس کے اندر (صرف حدیث ہے قرآن کی آیت نہیں ہے حدیث صحیح ہے مگر اس کے اندر) ابہامات ہوںاگر ابہام ہوں توپھران کو نظر انداز کرکے اس کو ایک جاری فیصلہ کے طور پر امت کے معاملات میں رائج کرنا میرے نزدیک قرآنی مصالح اور آنحضرت ﷺ کی سنت کے خلاف ہے۔ یہ بحث تھی جو میں نے کل چھیڑی تھی لیکن معلوم ہوتا ہے اس کی پوری وضاحت نہیں ہوسکی۔ اب میں دوبارہ وضاحت کرتا ہوں۔ جو ابہام ہیں جو قطعی طور پر قانونی گواہیوں میں نہیں ہونے چاہئیں مثلاً ترجمہ ہے۔ ابو موسیٰ سے بیٹی، پوتی اور بہن کی وراثت کے بارے میں پوچھاگیا، کس نے پوچھا، کون تھا، کون سا ایسا واقعہ درپیش آیا تھا کہ اس کو پوچھنے کی ضرورت پیش آئی۔ تو جہاں مجہول میںباتیں ہوں وہاںمعاملہ سارا ہی الجھایا جاتا ہے اور ایک مجہول کا سایہ باقی ساری روایت پر پڑ جاتا ہے ۔ جو سند کے طو رپر ،قوانین کے طور پرجاری کرنے والی باتیں ہیں ان میں مجہول حوالے کام نہیں دینے چاہئیں۔ کیونکہ پوچھا گیا ابو موسیٰ سے یہ حرج کیا تھا راوی کو بتانے میںکہ کس نے پوچھا تھا؟ یہ وضاحت کرنے میں کیا حرج تھا کہ یہ واقعہ فلاں جگہ ہوا تھا۔ راوی کے رشتہ دار تھے جن کے ساتھ یہ واقعہ گذرا یا کچھ اور تھے اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا اور جن روایتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ ان ان حدیثوں میں ملتی ہیں ان میں سے ایک میں بھی وضاحت نہیں سب خالی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ جس sourceنے ایک جگہ بات پہنچائی اور حضرت امام بخاریؒ نے روایت کے اصول کے مطابق راویوں کے اندر فرداً فرداً کسی راوی میں بھی کوئی نقص نہ دیکھا تو صحیح میں قبول کرلیا۔ جب بخاری میں آگئی تو ہاتھی کے پائوں میں سب کا پائوں۔ پچاس اورحدیثوں میںبھی آجائے تو بات وہی رہے گی ۔ اصل حدیث بخاری والی ہی ہے اور اسی حدیث کو اسی طریق پر باقیوں نے بھی بیان کیا ہے۔ میرے نزدیک تو نہ بھی کیا ہوتا تو بخاری کی سند اپنی ذات میں بہت بھاری اور کافی تھی کیونکہ اس پر جرح نہیں ہوئی ہوئی۔ تو سند کی بحث نہیں ہے۔ مگر مضمون پر یہ بحث ہے کہ یہ کہا گیا ایک سوال کیا گیا کہاں سے کیا کچھ پتا نہیں۔ حالانکہ مسائل میں اس کامعین ہونا ضروری تھا۔ اگلی بات ہے۔ آپ نے جواب دیا بیٹی کو نصف ملے گااور بہن کو بھی نصف ملے گا۔ پھر فرمایا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جائیں۔ اب یہ جو روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جائیں اس حصہ میں دوسری روایتوں میں اختلاف آگیا۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ اس کے باوجود وہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس نہیں گئے بلکہ ایک اور کے پاس گئے۔ اس نے بھی یہی جواب دیا اور اس نے بھی یہی مشورہ دیا کہ اب ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جائیں۔ تو یہ تردّد کیوں تھا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جانے میں؟ کوئی ایسا شخص تو نہیں تھا جس کے کچھ ذاتی مسائل تھے جن کو وہ حل کروانا چاہتا تھا ۔ یہ سارے ابہامات ہیں اور اختلاف پیدا ہوجانا مضمون میں یہ بھی اس کی سند کو تو کمزور نہیں کرتا مگر درایت کی طاقت کو کمزور کردیتا ہے۔ یعنی اس کی اپنے مضمون کی طاقت کو کمزور کردیتا ہے۔ اب آگے فیصلہ سنیں! آنحضرت ﷺ انہوں نے کہا فیصلہ دے چکے اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اس فیصلے کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی ہے۔ فیصلہ اس سے ایسے الفاظ میں پیش فرمارہے ہیں جو فقہاء کا طریق ہے اور وہ بہت بعدمیں رائج ہوا ہے۔ آنحضرت ﷺ اس طریق پر فتوے دیا نہیں کرتے تھے۔ اور صرف ایک مضمون پر دے کر خاموش ہوجائیں اور باقی تمام احادیث میں حوالوں سے بات کریں اور یہاں بغیر کسی حوالہ کے ایک فتویٰ جاری کریں۔ یہ میں نے تعجب کا اظہار کیا تھا کہ میرے نزدیک آنحضرت ﷺ کی سنت کے مزاج کے مطابق بات نہیں ہے۔ فتویٰ کہتے ہیں یہ دیا کہتے ہیںکہ بیٹی کو نصف ملے گا ، پوتی کو چھٹا حصہ تاکہ دو تہائیاں پوری ہوجائیں۔ یہ جو طریق ہے کہ دو تہائیاں پوری ہوجائیں یہ تو رسول کریم ﷺ کا طریق نہیں ہے اور اگر ہو بھی تو ابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب واضح نہیں کیا کہ کس کیس کے اوپر یہ واقعہ ہوا تھا تو یہ بات مشکوک ہوگئی۔ معلوم ہوتا ہے وہی دماغ کارفرما ہے جس نے پہلے بات شروع کی تھی۔ نہ پہلے پوچھنے والے کا ذکر ہے کہ وہ کون تھا، نہ ابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جواب میں کوئی صورتحال پیش کی گئی ہے کہ ایسا واقعہ رسول کریم ﷺ کی زندگی میں فلاں فلاں شخص کو پیش آیاتھااور اس کے نتیجے میں اس وقت یہ فیصلہ ہوا تھا۔ اگر یہ بات ہوتی تو یہ ایسی بات تھی جسے علمائے حدیث چیک کرلیتے اور بڑی جستجو کی ہے علماء نے ان کو رستہ مل جاتا وہاں تک پہنچنے کا اور یہ کہنے کا کہ ایسا واقعہ تو ہوا ہی نہیں اس لیے ہم کیسے مانیں۔ اگر ایسا ہوتا تو انہوں نے روایت کو ردّ ہی کردینا تھا ۔معلوم ہوتا ہے ایک جگہ پر پردہ ڈالا جارہا ہے۔ آغاز ہی سے پردہ ڈالا جارہا ہے۔ اس کے اگلے جواب میں بھی پردہ ڈالا گیا ہے۔ کوئی معین روایت ہی نہیں کی گئی۔ یہ دوسرا حصہ ہے درایت کا جس پر میں نے یہ سوال اٹھایا تھا روایت پر میں نے کوئی بحث نہیں کی۔
    تیسرا حصہ اور بھی اہم ہے اور و ہ یہ ہے کہ آنحضرتﷺ پوتی کا ذکر فرمارہے ہیں۔ کیا بغیر کسی واقعہ کے یوں ہی؟ اگر بغیر کسی واقعہ کے فرمارہے ہوتے تو پوتے کی بات کیوں نہ کی۔ پوتے کو کیوں چھوڑ دیا گیا؟ اور اگر واقعۃً مسئلہ کی بات ہورہی تھی کہ پوتا وارث ہوتا ہے تو پھر جو جواب دے رہے ہیں وہ قرآن کے مطابق نہیں ہوسکتا۔ اگر پوتا وارث ہوتا یا پوتی وارث ہوتی تو تمام فقہاء جو اس کے قائل ہیں تو ان کا فتویٰ یہ بنتا ہے ۔ ہم یہ کہہ سکتے اس کے سوا اورکوئی چارہ نہیں۔ نمبر ایک کہ وصیت کرنی چاہیے تھی دادا کو اور اگر وصیت نہیں کی تو گویا وصیت کردی اور اس صورت میں 1/3پورے کا پورا پوتا اور پوتی کو ملے گا ۔ لیکن رسول اللہ ﷺ1/3نہیں دلوارہے۔ اس 1/3کی بحث میں یہ بحث اٹھ جاتی ہے جب فرق پرجاتا ہے کہ بیٹی کو کتنا اور بیٹے کو کتنا ۔یہ رسول کریم ﷺ نے ذکر نہیں فرمایا کہ یہ میں کہہ رہا ہوں کہ ایسا شخص اگر وصیت نہ کرے تو اس کو پوتے کے یا پوتی کے حق میں وصیت سمجھا جائے اور اس وصیت کے نتیجہ میں 1/3تک کی وصیت اس کے حق میں ہو اگر ایک سے زائد پوتیاں ہوں گی تب بھی 1/3تقسیم ہوگا۔ ایک ہوگی تب بھی 1/3تقسیم ہوگا۔ یہ بات اس مضمون میں موجود نہیں ہے۔ یعنی پوتی کا حق بطور شریعت کے مستقلاً قائم کرنے کی کوئی دلیل یہاں موجود نہیں ہے اور جو دلیلیں اہل علم کو سوجھی ہیں جو اس کے حق میں ہیں وہ دلیلیں یہاں اثر انداز نہیں ہیں کیونکہ دو ہی طریق ہیں جن کے ذریعے پوتے یا پوتی کے حقوق آج کے زمانہ میں قائم کئے جارہے ہیں۔ اوّل یہ کہ قرآن کریم کے قانون کے مطابق گویا بیٹا زندہ ہوتا تو ورثہ پاتا اور اگر وہ زندہ ہوتا اور ورثہ پاتا تو پھر اس کا ورثہ لازماً اس کی اولاد کو ملنا چاہیے تھا۔ پس اگر یہ بات ہوتو یہاں تورسول اللہ ﷺ تو یہ فتویٰ دے ہی نہیں رہے۔ کیونکہ اگر یہ سمجھا جائے کہ بیٹا زندہ ہوتا تبھی بیٹی بننی تھی یا اس کے بغیر ہی بیٹی بن جانی تھی۔ اگر بیٹا زندہ ہوتا توپھر رسول ﷺ کا یہ فتویٰ ہونا چاہیے تھا کہ جھگڑا ہی کوئی نہیں۔ بیٹے نے دو حصے پالیے بیٹی نے ایک حصہ پالیا۔ بیٹی کو 1/3دے دو اور 2/3جو بیٹے کا ہے وہ آگے اولاد میں جائے گا۔ یہ توبحث اٹھی نہیںیہاں۔بالکل واضح بات ہے اگر بیٹا ہوتا اور وارث سمجھا جاتا تب اس کی اولاد کو حصہ ملتا۔ اگر وہ ہوتا تو یہ سارا معاملہ ہی ختم ہوگیا اپنی جگہ سے۔ یہ بحث غائب ہوجاتی ہے ۔ پھر یہ شکل بنی ہے ایک ایسا شخص فوت ہوا ہے جس کی ایک بیٹی ہے اور اس سے پہلے ایک بیٹا مرچکا تھا تقسیم کے وقت وہ موجود نہیں۔ اگر پوتا وارث ہوتا ہے تو بیٹے کی معرفت ہوتا ہے براہِ راست نہیں۔ پس بیٹا اگر وارث نہیں بنا تھا تو پوتی کو کچھ بھی نہیں جائے گا اگر وارث بنا تھا تو 2/3کا وارث بنا نہ کہ 1/6کا اور 2/3کا وارث بن گیا تو پھر 2/3تقسیم ہونا چاہیے۔ جو علماء کہتے ہیں یہ بات نہیں ہم اور طرح سے پکڑیں گے وہ کہتے ہیں وصیت سمجھیں گے کہ گویا اس نے کردی اگر وصیت تھی اور اس کا 1/3کاحق تھا اور نہ کی گئی ہو تو گویا اس نے کردی۔ اس مضمون کواب یہاں اطلاق کرکے دیکھیں وہ بھی صادق نہیں آتا۔ یعنی اس کا مطلب پھر یہ بنے گا کہ آنحضرتﷺ کی اس حدیث کی رو سے جو ہونا چاہیے تھا وہ یہ ہونا چاہیے تھا۔ یہ جو یہاں ہے یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اگر آنحضرتﷺ کے نزدیک پوتا یا پوتی اس لیے وارث قرار پاتے ہیں جیسا کہ آج کل مختلف ملکوں میں قانون جاری ہوئے ہیں کہ ہم سمجھیں گے کہ وصیت اس پر فرض تھی کہ اپنے یتیم پوتے یا پوتی کے حق میں کرے۔ چونکہ اس نے نہیں کی اس لیے ہم یہ سمجھیں گے کہ گویااس نے کردی اور اگر خلاف بھی کرتا تو تب بھی قانونِ اسلامی اس کے خلاف فیصلہ کو ردّ کرکے یہ وصیت شمار کرتا اور اس پر عمل کرواتا اور یہ عمل 1/3کی حد تک ممکن ہے۔ تو پھر 1/4 آدھا تو بیٹی کو مل گیا۔ یہ مثال ہے اس میں یہ ہے کہ ایک آدمی مرا ہے اس کی بیٹی ہے ،اس کی بہن ہے، اس کی ایک پوتی ہے۔ کون مرا تھا ، کس کی یہ بیٹیاں تھیں ، کس کی یہ پوتیاں تھیں کوئی ذکر نہیں ہے نہ پہلی صورت میں نہ دوسری صورت میں ۔ لیکن فرض کریں کہ واقعہ ہوا ہے کوئی ایسااس صورت میں شریعت کے مطابق بنے گا آدھا بیٹی کو مل جائے گا۔ اگرموصی جو مرنے والا ہے اس نے وصیت نہیں بھی کی تو گویا رسول اللہﷺ نے وصیت سمجھی تبھی پوتی کو پہنچے گاناں۔ اگروصیت سمجھی تو پھر 1/3تک اس مال کا نصف کے بعد جو بچتا ہے ٹوٹل کا 1/3اس بچے ہوئے میں سے لے لیا جائے گا ،وہ پوتی کو ملے گااور چونکہ وہ اگر اکیلی ہے(یہ بھی کوئی پتہ نہیں) تو اس کا پھرٹوٹل کے 1/3کا آدھا اس کوملنا چاہیے تھا۔ کیوں؟ اس لیے کہ بیٹی اگر رہ جائے تو اس کو نصف سے زیادہ نہیں مل سکتا یہ معاملہ جو ہے دو تین قدموںمیںطے ہوا ہے اس لیے میں دوبارہ سمجھادوں۔مرنے والا مرگیا بیٹی نے آدھا پالیا باقی کچھ آدھا رہ گیاکہ نہیں؟ اگر وصیت سمجھی جائے کہ مرنے والے نے وصیت کی تھی کہ میری پوتی یا پوتوں کو میری کل جائیداد کا 1/3تک دے دینا تو کل جائیداد کا 1/3پوتی کے نام منتقل ہونا چاہیے۔ ٹھیک ہے ایک اورمسئلہ بیچ میں آگیا ہے ۔ بیٹی اگر ایک ہی ہو اور وارث ہو تو اس کو آدھے سے زیادہ نہیں مل سکتا۔سمجھ گئے۔ تو اس کے کل جائیداد کا1/3بیٹی کو دینے کی بجائے کل جائیداد کا 1/3کا 1/2بیٹی کو ملے گا۔ٹھیک ہے اور باقی اس کی بہن کو جائے گا، جس کو پہلے آدھا مل چکا ہے۔ اس لیے کہ اس دفعہ وہ ورثہ اپنی بھتیجی سے پارہی ہو گی۔ سمجھے ہیں کہ نہیں ڈاکٹر صاحب بتا دیں ابھی آپ کی آنکھوں میں پوری ہوش نہیں آئی… آگئی ہے سمجھ؟ کچھ چہروں پر ابھی ابہام کے ہے آپ سامنے بیٹھے ہوئے نہیں سمجھ رہے تو دوسرے جو غائب ہیں ہیں ان کو اور مشکل پڑ جائے گی۔
    دوبارہ میںسمجھاؤں ٹھیک ہے؟ واضح ہو گئی یہ بات؟ پہلی بات یہ تھی دو صورتیںہیں صرف پوتے کو ورثہ پہنچانے کی جو شرعاً منظور شدہ صورتیں اورتسلیم شدہ ہیں ۔ ایک یہ کہ گویا کہ وہ زندہ ہوتا تو وارث بنتا۔ اگر وہ زندہ ہوتا اور وارث بنتا تو جب بھی وراثت تقسیم ہوئی اس کا نہ ہونا اس پر اثر انداز نہیں ہوگا۔ گویا جب وہ زندہ تھا اس نے ورثہ پالیا۔ اگر یہ صورت ہوتی تو پھر یہ اجنبی جھگڑا ہی پیدانہ ہوتا کیونکہ رسول کریم ﷺیہ فرماتے کہ بیٹا اگرزندہ ہوتا تو 2/3پاتا اور اس کی بہن 1/3لے جاتی، یہ جھگڑا تم نے کیا شروع کردیا ہے۔ پوتی کہاں سے آگئی۔ اس کی پھوپھی بیچ میں کہاں سے آگئی ۔جب حصہ رسدی پوری تقسیم ہوجائے تو بچتا ہی کچھ نہیں کہ زوائد کو دیا جائے۔ پس اس صورت میں مسئلہ حل ہوگیا ۔ مردہ بھائی چونکہ زندہ ہوتا تو ورثہ پاتا تو اس کو 2/3ملتا 1/3بہن کو۔ سب ختم ہوگیا، بچا کیا تھا جو کسی اور کو دینا ہے۔ نارمل حالات میں تو پھوپھیاںپھر نہیں پاتیں۔ یہ فیصلہ نہیں اس لیے یہ مضمون ختم ۔ دوسرا طریق ہے جو فقہاء نے ای