1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

درثمین ۔ بھائی کو ستایا ۔ مبارک کو میں نے ستایا نہیں

'درثمین ۔ منظوم کلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جون 27, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    بھائی کو ستایا

    مبارک کو میں نے ستایا نہیں
    کبھی میرے دل میں یہ آیا نہیں

    میں بھائی کو کیونکر ستا سکتی ہوں
    وہ کیا میری امّاں کا جایا نہیں

    الٰہی خطا کر دے میری معاف
    کہ تجھ بِن تو ربّ البرایا نہیں!

    الفضل 7 جولائی 1943ء

    ایک دفعہ حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے بچپن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی کہ اُن کے بھائی صاحبزادہ مرزا مبارک احمد(مرحوم)ان سے ناراض ہوگئے ہیں اور کسی طرح راضی نہیں ہورہے۔حضور نے جو اس وقت ایک کتاب تصنیف فرما رہے تھے مندرجہ ذیل اشعار لکھ کر دیے جو حضرت نواب مبارکہ بیگم نے صاحبزادہ صاحب کے سامنے پڑھ دیے تو وہ خوش ہوگئے۔(روایت حکیم دین محمد صاحب رجسٹر روایات جلد13صفحہ62)


    [​IMG]
     

اس صفحے کو مشتہر کریں