1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

خلفائے ثلاثہ کا ایمان از روئے قرآن

'مذہب شیعہ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جولائی 13, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    خلفائے ثلاثہ کا ایمان از روئے قرآن

    ۱۔ (البقرۃ:۲۱۹)

    ترجمہ:۔تحقیق جو ایمان لائے اور جنہوں نے جہاد کیا راہ خدا میں وہی امید رکھتے ہیں رحمت الٰہی کی اور اﷲ بخشنے والا مہربان ہے۔

    ۲۔ (المائدۃ:۵۷)

    ترجمہ:۔اور جو دوست رکھے اﷲ اور اس کے رسول کو اور ان کو جو ایمان لائے ۔پس یقیناً گروہ اﷲ ہی کا غالب ہے۔

    ۳۔ (التوبۃ:۲۰) جو کہ ایمان لائے اور ہجرت کی اور جہاد کیا راہ خدا میں اپنے ما لوں اور اپنے جانوں سے بڑے درجے ہیں اﷲ کے حضور اور یہی ہیں مراد پانے والے۔

    ہر سہ خلفاء مہاجر اور مجاہد تھے۔ضروری تھا کہ اس وعدہ الٰہی کے مطابق ان کو وہ درجات ملتے۔ اور چونکہ وہ آخر تک کامیاب ہوئے اس لئے ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ کا وعدہ پورا ہوا۔

    ۴۔……الآیہ (آل عمران:۱۹۶)

    ترجمہ:۔پس جنہوں نے ہجرت کی اور انہیں ان کے گھروں سے نکالا گیا اور میری راہ میں تکلیف دی گئی اور انہوں نے جنگ کی اور مارے گئے۔میں ان کی بدیوں (کے اثر) کو ان (کے جسم) سے یقیناً مٹادوں گا اور میں انہیں یقینا ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی (یہ انعام) اﷲ کی طرف سے بدلہ کے طور پر ملے گا اور اﷲ تو وہ ہے جس کے پاس بہترین جزا ہے۔

    ۵۔ (الاحزاب:۶۱)

    ترجمہ:۔ اگر باز نہ رہیں گے منافق اور وہ کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور بد خبر اڑانے والے شہر میں البتہ لگا دیں گے ہم تجھ کو ان کے پیچھے۔پھر نہ قریب پھٹکنے پاویں گے تیرے اس شہر میں مگربہت کم۔

    اگر خلفاء بخیال شیعوں کے منافق تھے تو ضرور تھا کہ آنحضرت ﷺ ان سے جہاد کرتے اور ان کو آنحضرت کے قریب رہنے کا موقع نہ ملتا۔

    ۶۔ (التوبۃ:۷۳) مگر چونکہ اس قسم کا کوئی جہاد ثابت نہیں اور نہ ہی یہ خلفاء آپ سے تا وفات الگ ہوئے بلکہ وفات کے بعد بھی تا ایں دم قبر میں بھی ساتھ رہے۔اس لئے ثابت ہوا کہ موجب قرآن یہ مومن تھے۔

    ۷۔ (الفتح:۱۹) چونکہ تحت الشجرۃ کے حاضرین میں سے یہ خلفاء بھی تھے اس لئے ثابت ہوا کہ آپ ہی کو رضی اﷲ کا سر ٹیفکیٹ ملا۔

    ۸۔ (النور:۵۶) چونکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد اسلام دور دراز ملکوں میں پھیلا اور اسلام نے وہ موعودہ زور اور عروج پکڑا ۔اور وعدہ الٰہی تھا کہ مومنوں کے ذریعہ اسلام تمکنت پکڑے گا پس خلفاء کا ایمان ثابت ہے۔

    ۹۔ (المجادلۃ:۲۳) جن کی روح القدس سے تائید کی ان میں یہ خلفاء بھی تھے اور یہی حزب اﷲ ٹھہرے۔

    ۱۰۔ (التوبۃ:۴۰) یہ یار غار حضرت ابو بکر صدیق تھے جن پر اﷲ تعالےٰ نے سکینت اتاری اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے انہی کو اپنا رفیق الطریق بنایا۔

    شیعہ مفسرین نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ حضرت ابو بکر ؓ ہی اُس وقت آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ غار ثور میں موجود تھے اور صَاحِبِہٖ سے مراد آپ ہی ہیں (دیکھو تفسیر مجمع البیان از شیخ ابی الفضل الحسن الطبری و تفسیر صافی از علامہ کاشانی سورہ توبہ زیر آیت (توبہ:۴۰)
     

اس صفحے کو مشتہر کریں