1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

خلافت علیٰ منہاج نبوت ۔ جلد 3

'یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 22, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    خلافت علیٰ منہاج نبوت ۔ جلد 3

    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
    ملتان میں خطبہ جمعہ
    ۱۹۱۳ء کو ملتان کی جماعت نے ایک جلسہ منعقد کیا اور حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی خدمت میں اجازت کے لئے لکھا۔ ۲۹،۳۰نومبر ۱۹۱۳ء کوجلسہ منعقد ہوا۔ حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد تشریف لے گئے۔ آپ کے ساتھ اور رفقاء بھی تھے۔۲۹نومبر کو آپ نے نماز جمعہ پڑھائی۔
    ’’حضرت صاحبزادہ نے خطبہ میں خلافت کی برکات اور رحمت کا بیان کیا۔ اور اس کی مخالفت کا خلافِ قرآن و حدیث و تعامل صحابہ ہوناثابت کیا۔ اور جماعت کو تاکید فرمائی کہ اختلافات میںنہ پڑیں ۔ کوئی امر شراُن کے علم میںآوے تواپنی مجلسوں میں اس پر مباحثات نہ کریں بلکہ ایسے معاملات حضرت خلیفۃ المسیح تک پہنچادیویںاور پھر وہاںسے جو حکم آوے اُس پر عمل درآمد کریںاور جولوگ خلافت کے خلاف کوئی بکواس کریں اُن کی مجلسوں میں بیٹھنا اور ان سے تعلق رکھناغیرت کے خلاف سمجھیں‘‘۔
    ( اخبار البدر دسمبر ۱۹۱۳ء)


    خلافت سے وابستہ ہونے میں بڑی برکات ہیں
    (فرمودہ ۱۳ ؍اگست ۱۹۱۵ء)
    تشہّد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی:۔
    ۱؎
    پھر فرمایا:۔
    آج اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ہمیںدو عیدیں نصیب ہوئی ہیں ۔ ایک عید الفطر اور دوسری جمعہ کی عید۔ دونوں نمازوں کے ساتھ خطبے بھی ہیں۔ عید سے بعد خطبہ ہے اور جمعہ سے پہلے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی طرزِ عمل تھا۔ میری عادت ہے کہ میں تقریر کرنے آتا ہوںتو کوئی مضمون سوچ کر نہیںآتا بلکہ اس وقت جو خدا تعالیٰ دل میںڈال دیتا ہے وہی سنا دیتا ہوں۔ ابھی ایک شخص نے مجھ سے کہا کہ کچھ غیر مبائعین عیدو جمعہ کے لئے آئے ہوئے ہیں اس لئے میں ان کے متعلق کچھ کہہ دوں۔
    میں تو صرف بڑے آدمیوں ہی کو نہیں بلکہ ایک ضعیف‘ غریب اور ناکارہ سے ناکارہ انسان کو بھی جونہایت ہی بدترین مخلوق سمجھا جاتا ہو سمجھانے کے لئے تیار ہوں بلکہ وہ غریب ایک منکر بادشاہ سے بہتر ہے کیونکہ وہ خدا کی باتوں پر زیادہ غور و فکر کرتا ہے۔ بہرحال میںاللہ تعالیٰ کے لئے سناتا ہوں اگر غیر مبائعین فائدہ نہ اُٹھائیں تو ممکن ہے کوئی اور ہی فائدہ اُٹھائے اور ہدایت پائے۔ حقیقت میںہدایت دیناتو خدا ہی کاکام ہوتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی خداتعالیٰ فرماتا ہے ۲؎ کہ تو اُن پر داروغہ نہیںتیرا کا م تو سنا دینا ہے منوانا نہ منوانا خدا کا کام ہے۔ اس طرح خلافت کے متعلق مجھے تعجب آتا ہے کہ خلافت کے لئے کس بات کا جھگڑا ہے۔ کیایہ کوئی سیاست کا نزاع ہے، کوئی ایسی چیز میری تو سمجھ میںنہیںآتی۔ جھگڑے یا تو عقائد پر ہوتے ہیں یا شریعت پر کہ خدا کا فلاں حکم یوں ہے اور یوںکرنا چاہیے۔ پھر جھگڑے مُلکوںپر ہوتے ہیں، مال و دولت پر ہوتے ، مکانات پر اورمختلف اشیاء پر جھگڑے ہوتے ہیں ۔ دیکھو جیسے فرانس، جرمن، بیلجیئم، آسٹریا، یہ سب ملکوں کے لئے لڑتے جھگڑتے ہیں لیکن خلافت کسی ملک کا نام نہیں ۔ خلافت کوئی مال کی تھیلی نہیں ، خلافت کوئی کھانے پینے کی چیز نہیں ۔ خلافت کی دو ہی اغراض ہو سکتی ہیں ایک یہ کہ جماعت پراگندہ نہ ہو، جماعت کو تفرقہ سے بچایاجائے اور ان کو ایک مرکز پر جمع کیا جائے۔ یہی تفرقہ کو مٹانے ، پراگندگی کو دور کرنے کے لئے ایک خلیفہ کی ضرور ت ہوتی ہے نیز اس سے یہ غرض ہوتی ہے کہ جماعت کی طاقت متفرق طور پر رائیگاں نہ جائے بلکہ ان کو ایک مرکز پر جمع کر کے ان کی قوت کو ایک جگہ جمع کیاجائے۔
    اب ایک فریق کہتا ہے کہ آیت استخلاف کے ماتحت خلافت ضروری ہے اور ایک کہتا ہے کہ خلافت ضروری نہیں۔ فیصلہ کے لئے ایک آسان راہ یہ ہوسکتی ہے کہ ہر شخص یہی سوچ لے کہ جو کام میں کرتا ہوں جماعت کے لئے کس قدرمفید ہے اور کس قدر مضر۔ اگر اس کام کے کرنے سے جماعت کو فائدہ پہنچتا ہے تو کرے ورنہ اسے چھوڑ دے۔
    اب دیکھو کہ جماعت کا کثیر حصہ خلافت کے وجود کو جماعت کے لئے رفع تفرقہ کے لئے ضروری سمجھتا ہے اور دوسرا فریق اسے غیر ضروری خیال کرتاہے۔ بحثوں کا فیصلہ تو کبھی ہو نہیںسکتا۔ دیکھو خدا کی ہستی ہے اس میںاختلاف ہے پھر اس کی صفات میںاختلاف ہے ۔ ملائکہ کا وجود ہے اختلاف اس میںبھی موجود ہے۔ اختلاف تو رہے گا۔ اب دونوں فریق میں سے کس کا فرض ہے کہ اپنی ضد اور ہٹ کو چھوڑ دے۔ اگر فریق مخالف یہ کہے کہ خلافت ثابت نہیں تو ہم یہ کہتے ہیں کہ اس کے خلاف بھی تو ثابت نہیں۔ خلافت کو ماننے والے اگر خلافت کو چھوڑدیں تو خدا کے نزدیک مجرم ہیں کیونکہ وہ آیت استخلاف کے ماتحت خلافت کو مانتے ہیں مگر خلافت کا ہونانہ ہونا یکساں سمجھنے والے اگر اتفاق کے لئے خلافت کو مان لیں تو جماعت سے وہ تفرقہ مٹ سکتا ہے جس کی وجہ سے اتنا فتور پڑ رہا ہے ۔ حضرت مولوی صاحب کی وفات کے روز مولوی محمد علی صاحب نے مجھ سے کہا کہ میاں صاحب! آپ ایثار کریں۔ میںنے کہا کہ کیا خلافت کا ہوناگناہ ہے؟ تو وہ کہنے لگے نہیںجائز ہے۔ میں نے کہا کہ میرے نزدیک ضروری اور واجب ہے۔ اب جب وہ دونوں گروہ ایک بات پر قائم ہیں ایک کے نزدیک فعل اور عدمِ فعل برابر ہے اور دوسرے کے نزدیک واجب، تو اس فریق کو جو جواز کا قائل ہے چاہیے کہ وہ اپنی ضد کو چھوڑ دے۔ خدا تعالیٰ ضرور اس سے پوچھے گا کہ جب ایک فعل کا کرنا اور نہ کرنا تمہارے نزدیک برابر تھا تو تم نے کیوں اپنی ضد کو نہ چھوڑا۔ پس اس فریق کو خدا کے حضور جواب دینا پڑے گا۔
    پھر میںبتاتا ہوں کہ اسلام نے جتنی اس زمانہ میںترقی کی ہے جب کہ اس کے ماننے والے ایک خلیفہ کے ماتحت تھے اتنی پھر کسی زمانے میںنہیں کی۔ حضرت عثمانؓ و علی ؓ کے زمانے کے بعد کوئی بتا سکتا ہے کہ پھر بنی عباس کے زمانہ میںبھی ترقی ہوئی۔ جس وقت خلافتیں پراگندہ ہو گئیں اُسی وقت سے ترقی رُک گئی جو لوگ خلیفہ کے متعلق مامور غیر مامور کی بحث شروع کر دیتے ہیں اپنے گھرہی میں غور کریں کہ کیاایک شخص کے بغیر گھر کا انتظام قائم رہ سکتا ہے ؟
    یورپ کے کسی مصنّف نے ایک ناول لکھاہے جس میں اس نے ان لوگوں کاخوب خاکہ اُڑایا ہے اس کا مَاحصل یہ ہے کہ دو لڑکیوں نے اپنے باپ کے اس اصول کو حجت قرار دے کر کہ مرد و عورتوںکے حقوق و فرائض یکساں ہیں اور گھر کا ایک واجب الاطاعت سربراہ ہونے کی ضرورت نہیں اپنے اپنے دل پسند مشاغل میں مصروف رہ کر اور انتظام خانہ داری میں اپنی خود سری سے ابتری ڈال کر باپ کو ایسا تنگ کیاکہ اُسی کو معافی مانگنی پڑی۔ الغرض ایک مرکز اور ایک امام کے بغیر کبھی کام نہیںہو سکتا۔ جنگ میں بھی ایک آفیسر کے ماتحت فرمانبرداری کرنی پڑتی ہے اور اگر کوئی ذرا نافرمانی کرے تو فوراً گولی سے اُڑادیا جاتا ہے۔ بعض وقت آفیسر غلطی سے حکم دے دیتے ہیں تو بھی فوجی کو ماننا پڑتاہے۔
    اسلامی شریعت نے مسلمانون کو بتایاکہ اگر امام بھول جائے اور بجائے دو رکعت کے چار پڑھ لے تو تم بھی اس کے ساتھ چار ہی رکعت ادا کرو۔ اگر وہ چار کی بجائے پانچ پڑھ لے تو تم بھی اس کی اتباع کرو حالانکہ وہ کوئی نیاحکم نہیںلاتا ۔ پھر امام کا اتنا ادب ملحوظ رکھا کہ اس کو غلطی پر ٹوکنے کی بجائے سُبْحَانَ اللّٰہ کاکلمہ سکھایاجس کے معنے یہ کہ سہوو خطا سے پاک تو اللہ تعالیٰ کی ہی ذات ہو سکتی ہے۔ پھر یہ بات کہ غیر مامور خلیفہ غلطی کر سکتا ہے لہٰذا اس کی یا اس کا حکم ماننے کی ضرورت ہی نہیں، کیسا خطرناک خیال ہے۔ در حقیقت غلطی کرنے سے پاک کوئی انسان نہیںہوسکتا۔ دیکھو! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی کہتے ہیں کہ تم میں سے دو آدمی میرے پاس ایک فیصلہ لاتے ہیں لیکن ایک انسان زبان کی چالاکی سے اپنے حق میںفیصلہ کرا لیتا ہے حالانکہ وہ حقدار نہیں ہوتا۔ پس اس طرح پرایا حق لینے والا آگ کا ٹکڑا لیتا ہے۔ ۳؎ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میںبھی غلطی کر سکتا ہوں تو دوسرا کون ہے جویہ کہے کہ میںغلطی سے پاک ہوں ۔اگر ایک شخص علیحدہ نماز پڑھے اور یہ کہے کہ میں امام کے پیچھے اس لئے نماز نہیں پڑھتا کہ وہ غلطی کرتا ہے تو ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر وہ اکیلا نماز پڑھے تو کیا وہ غلطی نہیںکرسکتا؟ جس طرح امام بتقاضائے بشریت غلطی کر سکتا ہے اسی طرح پر وہ شخص بھی جو اکیلا نماز پڑھتا ہے غلطی سے نہیں بچ سکتا ۔
    پس جماعت جماعت ہے اس کے ساتھ مل کر نماز پڑھنے والا اور اکیلا نماز پڑھنے والادونوں کبھی برابر نہیںہوسکتے۔ جو خلیفہ کی مخالفت کرتے ہیں ان کو واضح رہے کہ حضرت عثمانؓ کے وقت میں جب لوگ مخالفت کے لئے اُٹھے تو آپ نے فرمایاتم خوب یاد رکھو تم یہ فتنہ مت پھیلاؤ اس فتنہ سے تم میںکبھی صلح نہیںہوگی ، تم میںکبھی اتفاق نہیںہوگا۔ چنانچہ آج تک مسلمانوں میںصلح نہیںہوئی۔ عبداللہ بن سلام کا یہ قول سن کرکہ آخری وقت میں فتنہ ہوگاابن عباس نے کہاکہ تم جماعت کو اختیار کرنا۔ لوگوں نے کہا اگرچہ قاتل ہی ہو۔ انہوں نے کہاہاںاگرچہ قاتل ہی ہو؟ (ایسے ہی تین بار کہا) لوگ موازنہ کر کے دیکھ لیں کہ کس طرف زیادہ فوائد ہیں ۔ تم کہتے ہو بیعت ضروری نہیں لیکن ہم کہتے ہیں اتفاق تو ضروری ہے پس کیوں اس طریق کو اختیار کرتے ہو جواتفاق سے دور کرنے والا ہے۔ میںکل ہی ذکر کر رہا تھا لَوْکَانَ الْاِیْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثُّرَ یَّالَنَا لَہ‘ رِجَالٌ مِّنْ اَبْنَائِ فَارَسْ۴؎۔اس میں رِجَال کا لفظ آیاہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک پیشگوئی ہے کہ اگر ایمان معلق بِالثُّرَیَّا ہوگا تو ابنائے فارس میں سے بعض رِجَال ایمان کو لائیں گے۔ تو اَب ضروری ہے کہ ابنائِ فارس یعنی حضرت کے خاندان سے ہوں اوراگر کسی دوسرے خاندان سے ہوں تو وہ ابنائِ فارس سے نہیںکہلا سکتے۔ اور پھریہ پیشگوئی غلط ہوجاتی ہے۔ رَجُلٌ مِنْ فَارَسْ نے بتایا اصل بانیٔ سلسلہ ایک ہی ہے مگر رِجَال نے بتا دیاکہ اس کے مُمِدّو معاون اور بھی ابنائِ فارس سے ہوں گے۔ غرض میرا کام فساد کو بڑھانا نہیں ۔ کسی انسان کے بنانے سے کچھ نہیںبن سکتا۔ چونکہ اِس وقت دنیا میں شرک حد سے بڑھ چکا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے ایک کمزور انسان کوکھڑا کر کے بتادیاکہ کسی کام کا کرنا میرے ہاتھ میں ہے۔
    جب خدا نے مجھے پکڑ کر کھڑا کر دیاتومیرا ا س میں کیادخل ہے۔ میرے مخالفوں کو علم میں، تجربہ میں، جذبات میں مجھ سے بڑے ہونے کا دعویٰ ہے مگر خدا نے سب سے کمزور سے کا م لیا۔ میںتو اپنی حیثیت کو کچھ نہیں سمجھتا۔ خدا یہ بتانا چاہتاہے کہ میںکمزور سے کمزور کو بڑی طاقت دے سکتا ہوں۔
    خلافت سے پہلے میں نے رؤیا میںدیکھاکہ میرا ایک ہم جماعت ہے وہ مجھ سے کہتا ہے کہ میں تمہارے لیکچر کے خلاف لیکچر دوں گاتو میں نے اس سے کہاکہ اگر تم میرے خلاف لیکچر دوگے اور مجھ پر سچا الزام بھی لگاؤ گے تو تم ہلاک ہو جاؤگے۔ پس یاد رکھوخدا کے کاموں کو کوئی روک نہیں سکتا ۔ خدا تمہیں ان باتوں کی سمجھ دے۔ آمین۔
    ( خطبات محمود جلد ۴صفحہ۰ ۴۲ تا ۴۲۴)
    ۱؎ الفلق: ۲ تا آخر ۲؎ الغاشیۃ: ۲۳
    ۳؎ بخاری کتاب الاحکام باب موعظۃ الامام للخصوم (مفہوماً)
    ۴؎ المعجم الکبیر للحافظ ابی القاسم سلمان بن احمدالطبرانی جلد۱۸ صفحہ۳۵۵ مکتبہ ابن تیمیہ قاہرہ ۱۳۹۷ھ

    خلفاء کی سچے دل سے اطاعت کرو
    (فرمودہ ۲۹ جون ۱۹۱۷ء)
    تشہّد و تعوّذ کے بعد مندرجہ ذیل آیا ت کی تلاوت فرمائی:۔

    فرمایا: ۔
    ’’بہت سے لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے کلام اور اپنی تحریر پر قابو نہیںرکھتے۔ حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ صوفیاء کا قول ہے۔ ’’اَلطَّرِیْقَۃُ کُلُّھَااَدَبٌ ‘‘تو جب تک انسان اپنے قول اور تحریر پر قابو نہیںرکھتااور نہیں جانتا کہ اس کی زبان اور قلم سے کیا نکل رہا ہے وہ انسان کہلانے کا مستحق نہیں وہ توحیوان سے بھی بدتر ہے کیونکہ جانور بھی خطرہ کی جگہوںسے بچتاہے۔ لیکن انسان مآل اندیشی سے ہرگزکام نہیںلیتا۔ جانور کو کسی خطرہ کی جگہ مثلاً غار کی طرف کھینچیںتو وہ ہرگز ادھر نہیںجائیگا۔ مولوی رومی صاحب نے اپنی مثنوی میں ایک مثال لکھی ہے ۔ کہ ایک چوہا ایک اونٹ کو جس طرف وہ اونٹ جارہاتھاادھر ہی اس کی نکیل پکڑ کر لے چلالیکن جب راستہ میں ندی آئی تو اونٹ نے اپنا رُخ پھیر لیااور چوہا ادھر گھسٹتا ہو اچلنے لگاجدھر اونٹ جارہاتھاتو ایک چوہا بھی ایک اونٹ کو جہاںخطرہ نہ ہو لے جاسکتا ہے مگر جہاں خطرہ ہو وہاں چوہا تو کیاایک طاقتور آدمی بھی اونٹ کو نہیںلے جاسکتا۔
    یا شکرے اور باز جس وقت آتے ہیں تو جانور درختوں میں اس طرح دَبک کر بیٹھتے ہیں گویا وہاں کوئی جانور ہے ہی نہیں مگر انسانوں میں ایک ایسی جماعت ہے جو بات کہتی ہے اور نہیں سمجھتی کہ اس کا کیا مطلب ہے حالانکہ اکثر اوقات ذرا سی غلطی خطرناک نتائج پیدا کر دیا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اے مؤمنو! دو معنی والے لفظ رسول کے مقابلہ میں استعمال نہ کرو۔ ورنہ تمہارا ایمان ضائع ہو جائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ مومن تھے اس لئے فرمایا کہ تمہار ایمان ضائع ہو جائے گا۔ فرمایا کہ تم اگرچہ اس وقت مومن ہو لیکن اگر تم نے اپنی زبانوں پر قابو نہ رکھا تو یادرکھوکہ ہم تمہیں کافر بنا کے دُکھ کے عذاب میں مبتلا کر کے ماریںگے مومن سے شروع کیا لیکن اس غلطی کے باعث کفر پر انجام ہوا ۔ پس انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے قول کا نگران ہو۔ ورنہ ایمان کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔
    میںدیکھتا ہوں کہ بعض لوگ زبان سے تو اقرار کرتے ہیں اور تحریرو تقریر میں خلیفۃ المسیح خلیفۃ المسیح کہتے ہیں مگر جو حق اطاعت ہے اس سے بہت دور ہیں زبانی خلیفۃ المسیح کہنا یالکھنا کیا کچھ حقیقت رکھتا ہے؟ شیعوں نے لفظ خلیفہ کے استخفاف اور ہنسی کے لئے نائیوں اور درزیوں تک کو خلیفہ کہنا شروع کر دیا ۔ لیکن کیا خلفاء ان لوگوں کی ہنسی سے ذلیل ہو گئے ہرگز نہیں ۔ لوگوں نے اس لفظ خلیفہ کو معمولی سمجھاہے ۔ مگر خدا کے نزدیک معمولی نہیں ۔ خدا نے ان کو بزرگی دی ہے اور کہا ہے کہ میںخلیفہ بناتا ہوںاور پھر فرمایا ۲؎ ان خلفاء کے انکارکا نام فسق ہے جوانکا انکار کرے گا وہ میری اطاعت سے باہر ہو گیا۔
    پس لفظ خلیفہ کچھ نہیں لوگ نائی کو بھی خلیفہ کہتے ہیں ۔ مگر وہ خلفاء جو خدا کے مامورین کے جانشین ہوتے ہیں ان کا انکار اوران پر ہنسی کوئی معمولی بات نہیں وہ مومن کوبھی فاسق بنا دیتی ہے۔ پس یہ مت سمجھو کہ تمہارا اپنی زبانوںاور تحریروں کو قابومیں نہ رکھنااچھے نتائج پیدا کرے گا۔ خدا تعالی فرماتا ہے کہ میں ایسے لوگو ں کو اپنی جماعت سے علیحدہ کر دوں گا ۔ فاسق کے معنی ہیں کہ خدا سے کوئی تعلق نہیں ۔ اس کو خوب یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو انتظام ہو جوشخص اس کی قدر نہیںکرے گا اور اس انتظام پر خواہ مخواہ اعتراضات کرے گاخواہ وہ مومن بھی ہو۔ اور جواس کے متعلق بولتے وقت اپنے الفاظ کو نہیںدیکھے گا تو یاد رکھو کہ وہ کافر ہو کر مرے گا۔
    اس آیت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مخاطب ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ مگر جس کیلئے ادب کا حکم ہوتا ہے وہ بھی اس آیت میںداخل ہوتاہے۔ خدا نے حضرت ابوبکرؓ کواُس مقام پر کھڑا کیاتھا جو ادب کی جگہ تھی۔ جس وقت اختلاف شروع ہوا آپ نے کہاکہ میں اُس وقت تک تم لوگوں سے لڑوں گا خواہ تمام جہان میرے برخلاف ہوجائے جب تک یہ لوگ اگر ایک رسّی بھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے نہیںدیں گے۔۳؎
    پس یہ مت سمجھو کہ حفظِ مراتب نہ کرنا کوئی معمولی بات ہے اور کسی خاص شخص سے تعلق رکھتا ہے۔ بلکہ خواہ دینی ہو یا دنیاوی خلافت جب ان کے لئے ادب کا حکم ہے سب کے لئے ضروری ہے کہ اس کا ادب کیا جائے۔ کوئی شخص اگر بادشاہ کا ادب نہیںکرے گا تو جانتے ہو وہ سزا سے بچ جائے گا؟
    میںنے کئی دفعہ سنایا ہے کہ انشاء اللہ خان بڑا شاعر تھااورہمیشہ اس امر کی کوشش کیا کرتا تھاکہ بادشا ہ کی تعریف میں دوسروں سے بڑھ کر بات کہے۔ دربار میںبادشاہ کی تعریف ہونے لگی کسی نے کہاہمارے بادشاہ کیسے نجیب ہیں ۔ انشاء اللہ خان نے فوراً کہانجیب کیا حضور تو انجب ہیں ۔ اب انجب کے معنی زیادہ شریف کے ہیں اورساتھ ہی لونڈی زادہ کے بھی۔ اتفاق یہ ہوا کہ بادشاہ تھابھی لونڈی زادہ ۔ تما م دربار میں سناٹا چھا گیااور سب کی توجہ لونڈی زادہ کی طرف ہی پھر گئی ۔ بادشاہ کے دل میںبھی یہ بات بیٹھ گئی اور انشاء اللہ خان کو قید کر دیاجہاںوہ پاگل ہو کر مرگیا۔
    پس زبان سے محض خلیفۃ المسیح خلیفۃ المسیح کہنا کچھ نہیں ۔ مجھے آج ہی ایک خط آیا ہے جس میں اس خط کا لکھنے والا لکھتا ہے کہ آپ نے جو فیصلہ کیا ہے، وہ غریب سمجھ کر ہمارے خلاف کیاہے۔ اب اگر فی الواقع ایسی ہی بات ہوکہ کوئی شخص فیصلوں میں درجوں کا خیال رکھے تو وہ تو اوّل درجہ کا شیطان اور خبیث ہے چہ جائیکہ کہ اس کو خلیفہ کہاجائے۔ دیکھو میں نے ان لوگوں کی بھی کچھ پرواہ نہیںکی جو میرے خیال میں سلسلہ کے دشمن تھے۔ پس میںکسی انسان کی کچھ بھی پرواہ نہیںکرتا خواہ سب کے سب مجھ سے علیحدہ ہو جائیں کیونکہ مجھ کو کسی انسان نے خلیفہ نہیںبنایابلکہ خدا نے ہی خلیفہ بنایا ہے ۔ اگر کوئی انسان کی ہی حفاظت میں آئے تو انسان اس کی کچھ حفاظت نہیں کر سکتا ۔ خدا ایسے شخص کو ایسے امراض میں مبتلا کر سکتا ہے جن میں پڑ کر بُری طرح جان دے۔
    میںاِس خلافت کو جوکسی انسان کی طرف سے ہو *** سمجھتا ہوں ۔ نہ مجھے اس کی پرواہ ہے کہ مجھے کوئی خلیفۃ المسیح کہے۔ میں تو اُ س خلافت کا قائل ہوں جو خدا کی طرف سے ملے بندوں کی دی ہوئی خلافت میرے نزدیک ایک ذرّہ کے بھی برابر قدر نہیںرکھتی۔ مجھے کہا گیا ہے کہ میںانصاف نہیں کرتا غریبوں کی خبر گیری نہیںکرتا۔ پس اگر میں عادل نہیں ہوں تو میرے ساتھ کیوں تعلق رکھتا ہے۔ جو عدل نہیںکرتا وہ کوئی حقیقت نہیںرکھتاایسے لوگوں کا مجھے کوئی نقصان نہیں مجھے تو اس سے بھی زیادہ لکھا گیا ہے ۔ قاتل مجھ کو کہا گیا۔ سلسلہ کو مٹا نے والا غاصب اور اسی قسم کے اور بُرے الفاظ سے مجھ کو مخاطب کیا گیاہے ۔ پس اس کے مقابلہ میں تو یہ کچھ بھی نہیں ۔
    ہر ایک وہ شخص جو مقدمہ کرتا ہے وہ اپنے تئیں ہی حق پرسمجھتا ہے لیکن عدالت جو فیصلہ کرتی ہے وہ اس کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ۴؎
    جب تک یہ لوگ کامل طور پرتیرے فیصلوں کو نہ مان لیں یہ مومن ہو ہی نہیںسکتے۔ جب لوگوں کو عدالتوں کے فیصلوںکو ماننا پڑتا ہے تو خدا کی طرف سے مقرر شدہ خلفاء کے فیصلوں کا انکار کیوں ۔ اگر دنیاوی عدالتیں سزا دے سکتی ہیں تو کیا خد ا نہیں دے سکتا۔ خدا کی طرف سے فیصلہ کرنے والے کے ہاتھ میں تلوار ہے مگر وہ نظر نہیںآتی اس کی کاٹ ایسی ہے کہ دور تک صفایا کر دیتی ہے ۔ دنیاوی حکومتوںکا تعلق صرف یہا ں تک ہے مگر خدا وہ ہے جس کا آخرت میں بھی تعلق ہے ۔ خدا کی سزا گو نظر نہ آوے مگر حقیقت میں بہت سخت ہے۔ اپنی تحریروں اور تقریروں کو قابومیںلاؤ اگر تم خدا کی قائم کی ہوئی خلافت پراعتراض کرنے سے باز نہیں آؤ گے تو خدا تمہیں بغیر سزا کے نہیںچھوڑے گا جہاں تمہاری نظر بھی نہیںجاسکتی وہاں خدا کا ہاتھ پڑتا ہے۔اللہ تعالیٰ تمہیں فہم دے اپنے آپ کو اور اس شخص کے درجہ کو جوتمہارے لئے کھڑ اکیاگیا ہے پہچانو۔ کسی شخص کی عزت اس شخص کے لحاظ سے نہیںہوا کرتی۔ آنحضرتصلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اس لئے نہیں کہ آپؐ عرب کے باشندہ تھے اور عبداللہ کے بیٹے تھے بلکہ اس درجہ کے لحاظ سے ہے جو خدا نے آپ کو دیا تھا۔
    اسی طرح میں ایک انسان ہوں اور کوئی چیز نہیں ۔ مگر خدا نے جس مقام پر مجھ کو کھڑا کیاہے ۔ اگر تم ایسی باتوں سے نہیںرکوگے تو خدا کی گرفت سے نہیںبچ سکتے۔ بعض باتیںمعمولی ہوتی ہیں مگر خدا کے نزدیک بڑی ہوتی ہیں ۔ خدا تم کو سمجھ دے۔ آمین۔
    ( خطبات محمود جلد نمبر۵ صفحہ ۴۹۸ تا ۵۰۲)
    ۱؎ البقرۃ: ۱۰۵،۱۰۶ ۲؎ النور: ۵۶
    ۳؎ تاریخ الخلفاء للسیوطی صفحہ۵۱ مطبوعہ لاہور۱۸۹۲ء
    ۴؎ النسآء: ۶۶

    خلافت ترکی اور مسلمانانِ ہند
    (فرمودہ ۱۴ مارچ ۱۹۲۴ء )
    تشہّد، تعوّذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔
    عام قدرتی قواعد کے ماتحت یہ بات بُری سمجھی جاتی ہے کہ کوئی شخص کسی موقع پر اپنے بھائی کو یہ کہے کہ تم نے میری فلاں بات نہ مانی تو یہ نقصان ہوا۔ قرآن کریم نے ایک لڑائی کے موقع کا ذکرکر کے بعض لوگوں کے متعلق کہا ہے کہ انہوںنے کہا کہ ہم نے جو مشورہ دیا تھااس کے خلاف جن کی رائے تھی ان کی رائے پر عمل کیاگیا اس لئے نقصان ہوا ۱؎۔اس بات کو اللہ تعالیٰ نے ناپسند فرمایاہے اور کہا کہ یہ منافقت ہے۔ اگر تمہارے منشاء کے خلاف تھا اوراس سے نقصان بھی ہوا تو بھی نہیںکہنا چایئے تھا۔ کیونکہ یہ ضروری نہیں تھا کہ تم نے جو مشورہ دیاتھا وہ ضرور مانا جاتا۔ تو یہ ایک تمدنی غلطی ہے جو قوموں میں رائج ہے۔ اور اس کی قرآن کریم نے تصدیق فرمائی ہے۔ اور ایسا کہنے کو منافقت ٹھہرایا ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے کے خلاف چلنے والوںکو بھی بات کہی ہے جوعام تمدنی حالات میں درست نہ تھی کہ تم نے اس کی رائے کے خلاف کیا۔ اس لئے نقصان ہوا ۔ یہ کیوں کہا گیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ بھائی بھائی کو یا دوست دوست کو یا چھوٹا بڑے کو یہ بات نہیں کہہ سکتاکہ تم نے میری رائے کے خلاف کیااس لئے نقصان اُٹھایا۔ مگر جو بڑا ہے اور جس کو یہ حق ہے کہ دوسروں کی راہنمائی کرے اور جس کا کام سمجھانا ہواورلوگوںکی نگرانی کرنا ہو وہ کہہ سکتا ہے۔
    بچہ کو حق نہیں کہ ماں باپ کوکہے۔ تم نے میری فلاں بات نہ مانی اس لئے نتیجہ اچھا نہ نکلامگر ماں باپ کو حق ہے کہ وہ ایسا کہیں ۔ ماں باپ کے ایسا کہنے پر کوئی اعتراض نہیںکرتا۔ بچہ ایسی جگہ کھیلتا ہو جہاںاسے نہیںکھیلنا چاہئے اور جہاں سے ماں باپ نے اسے روکا ہو پھر اگر اسے تکلیف پہنچے تو ماں باپ کہتے ہیں ہم نے تمہیں پہلے نہیںکہا تھاکہ وہاں نہ کھیلو۔ یہ ایک اخلاق کی بات ہے اور درست ہے ماں باپ کو کوئی نہیںکہہ سکتا کہ ان کو یہ نہیںکہنا چاہئے۔ لیکن اگر برابر کا یا چھوٹا بڑے کو یہی بات کہے تو اس کو متکبر اور بے ادب کہا جائے گا۔ کیونکہ اس کو شرعاً، عرفاً،اخلاقاً ،قانوناً حق نہیںکہ ایسا کہے جس کو حق حاصل ہوتا ہے وہ کہتا ہے کہ میںنے تمہیں پہلے نہیںکہہ دیا تھاکہ تمہیں ایساکرنے میںنقصان ہو گا۔
    اس تمہید کے بعد میںایک ایسے واقعہ کی طرف توجہ دلاتا ہوں ۔ جوواقعہ مسلمانوں کے لئے نہایت اہم ہے اور وہ خلافت کا سوال ہے۔ جب ترکوںکی انگریزوں سے لڑائی شروع ہوئی تو مسلمانوں نے انگریزوں کی مدد کی۔ مولویوںنے فتوے دیئے کہ انگریزوں کی مدد کرنا فرض ہے اس لئے کہ وہ ہمارے حلیف ہیں اور حلیف کی مدد کرناضروری ہے۔ اس قسم کے فتوے تنخواہوں کے خیال سے یا مربعوں کی امید پر یا عہدوں اور خطابوں کے لالچ میں یا حکام کی نظر میں پسندیدہ ہونے کے لیے دیئے گئے اور انگریزی فوج کے لیے رکروٹ (RECRUIT) ۲؎ بھرتی کروائے گئے ۔ اُس وقت بھی مسلمان ترکوں کے سلطان کو خلیفۃ المسلمین کہتے تھے۔ مگر خلیفۃ المسلمین کی فوجوں کے مقابلہ میںبندوقیں کندھوں پر رکھ کر گئے اور ان ہی مقاماتِ مقدسہ کو جن کے لئے برسرجدال ہوئے خلیفۃالمسلمین سے گولیوں اور تلواروںکے زور سے چھین لیا۔ اُس وقت کسی نے اس کے خلاف آواز نہ اُٹھائی۔ کیااُس وقت قرآن کریم کا حکم یاد نہ رہا تھا؟ اگرچہ وہ عقیدہ جو یہ لوگ اب ظاہر کرتے ہیں۔ اسلامی نہیں ۔ مگر میں پوچھتا ہوں اس وقت اس عقیدے کے لحاظ سے ان کا کیا فرض تھا۔ اور انہوں نے کیا کیا۔
    ہم نے بھی انگریزوںکی مدد کی مگر ہم اپنے مذہبی عقیدے کی روسے فرض سمجھتے تھے کہ ہم جس حکومت کے ماتحت رہیںاس کی مدد اور اس کی ہمدردی کریں۔ ہم انگریزوںکے ساتھ ہوکر ترکوں سے لڑنے کیلئے گئے۔ مگر خلیفۃالمسلمین سے لڑنے نہ گئے تھے۔ کیونکہ ہم سلطانِ ترکی کو خلیفۃ المسلمین نہیںمانتے۔ ہم اس لئے لڑنے کے لئے گئے کہ ترک ہمارے بادشاہ کے مخالف تھے اور ہم اپنے بادشاہ کے مخالف سے لڑنے گئے تھے۔ پس ہمار ا فعل جائز اور شریعت کے مطابق تھا۔
    مگر جب جنگ کا نتیجہ نکلنے لگا اورصلح ہونے لگی تو وہ لوگ جونہ صرف ترکوں سے لڑنے کو تیار تھے بلکہ لڑے تھے اور جنہوںنے اپنے خلیفہ کے قائم مقاموں کے سینوں پر گولیاں چلا کر اور ان سے ملک چھین کر انگریزوں کے قبضہ میںدیا تھابگڑ گئے اور کہنے لگے یہ کیوں کرتے ہو اگر ایسا کرو گے تو یہ ہمارے مذہب میںدست اندازی ہوگی اوراس بات کے لئے انہوں نے انگریزوں کے ملک میں وہ طوفان بے تمیزی برپا کیاکہ اس کو دیکھ کر حیرت ہوتی تھی۔
    اس بارے میںہمیں بھی ترکوں سے ہمدردی تھی۔اس لئے کہ ہمارے نزدیک ترکوں سے وہ سلوک نہیںکیا گیاتھاجو دوسرے مفتوحین سے کیاگیا۔ ہمارے نزدیک دوسرے مفتوحوں کے مقابلہ میں ترکوں سے زیادہ سختی کی گئی تھی اور وہ محض اس لئے تھی کہ ترک مسلمان تھے گو آسٹریا سے بھی سختی کی گئی تھی ۔ مگر وہ سختی جو ترکوں سے کی گئی تھی، زیادہ تھی کیونکہ آسٹریاکے علاقے آزاد تھے اور آزاد ہونا چاہتے تھے۔ مگر ترکوں کے ماتحت جو علاقے تھے ان سے نہیںپوچھا گیا تھاکہ تم ترکوںکے ماتحت رہناچاہتے ہو یا نہیں؟ انہیں انگریزوں اور امریکنوں اور فرانسیسیوں نے جبراً ترکوںسے علیحدہ کر لیا۔ اگر ان علاقوںسے پوچھا جاتا تو ان میںکتنے ہی ترکوںکے ماتحت رہنے کو پسند کرتے۔ جن علاقوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ اُن کی سنی نہ گئی ۔ پھر آسٹریا کا جو کچھ باقی رکھا گیاوہ آزاد تھا۔ لیکن ترکوںکوجوآزادی دی گئی وہ برائے نام تھی اور چار پانچ طاقتوں کا ان پر تسلّط تھا۔ پس ترکوں کے متعلق اس فیصلہ سے مذہبی تعصب کی بو آتی تھی۔ ہم نے فاتحین کے اس فیصلہ کے متعلق اس طریق پر کا م کیا اورتوجہ دلائی جو رعایا کے لئے ضروری ہے ۔ اور جس طرح توجہ دلاناہمارا حق تھاکہ ترکوں کے ساتھ وہ کیا جائے جو سیاسی طور پر ضروری ہے نہ یہ کہ انکے ساتھ فیصلہ میںمذہبی تعصب کو دخل دیا جائے ۔ بعد میںاس کے مطابق فیصلہ ہوااور یہ مان لیا گیاکہ پہلے صلح نامے میںسختی تھی اور ضروری تھا کہ اس میںتبدیلی کی جائے۔
    لیکن باوجود اس کے وہ لوگ ہمیںبزدل اور خوشامدی کہنے لگے جو باوجود ترک سلطان کو اپنا خلیفہ سمجھنے کے اس کے خلاف لڑنے کے لئے گئے تھے۔ اگر ہم ترکوںکے سلطان کو اپنا خلیفہ مان کر اس سے لڑنے جاتے تو یہ ہماری بے غیرتی انگریزوںکی خوشامد اور انگریزوں کے مقابلہ میں بزدلی ہوتی۔ مگر جب یہ بات نہ تھی تو خو شامد اوربزدلی کیسی؟ ہم تو ترکوںکے ساتھ لڑنے کے لئے اس لئے نکلے کہ وہ ہمارے خلیفہ نہ تھے اور ان سے لڑنے میںہمارے لئے کوئی مذہبی روک نہ تھی۔ مگر غصہ میں انسان سوچتا نہیں ۔ اور وہ لوگ جن پر الزام آتا تھا غصہ میںآکر ہمیںالزام دینے لگے۔ اسی غصہ کی حالت میں ایک غلط راستہ اختیار کر لیا گیا۔ ابتدا میں ترکوں کے خلاف فیصلہ کے متعلق سوچنے کے لئے دو جلسے کئے گئے۔ اور ان دونوں جلسوں میں مجھے بلایا گیا۔ میںجانتا تھاکہ ذاتی طور پر ان جلسوںمیں میرا شامل ہونا غیرضروری ہے۔ کیونکہ جس امر کے متعلق پہلے سے فیصلہ کر لیا جائے اس میںلوگوںکو بلا کر مشورہ کرنے کے معنی بجز اس کے کچھ نہیں کہ لوگوںکو اپنے پیچھے گھسیٹتے پھریں۔ تاہم میں نے حجت قائم کرنے کے لئے ان جلسوںمیں دو ٹریکٹ لکھ کر بھیج دیئے جن میںمیں نے بتایاکہ جورویہ تم اختیار کر رہے ہو اورجس پر اپنے مطالبات کی بنیاد رکھ رہے ہو یہ ترکوں کے لئے مفید نہیںہوسکتابلکہ خطرناک ہے۔مثلاً یہ کہنا کہ ترکوں کے بادشاہ کو سب مسلمان خلیفہ مانتے ہیں اس لئے ہم ان کی امداد کے لئے کھڑے ہوئے ہیں یہ اصولاً اور واقعتہً غلط تھا۔ شیعہ ترک سلطان کو خلیفہ نہیںمانتے۔ سات سو سال سے ایرانی حکومت عرب حکومت کے خلاف نبرد آزما رہی ہے اور۵۔۶ سو سال سے کرد اور ترک عرب کو زیر کرنے کی کوشش میں مصروف رہے ہیں اگر ایرانی خلیفہ سمجھتے تو ایسا کیوںکرتے۔ علاوہ ازیں اگر خلافت کا حق مقدم سمجھا جائے تو ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ زیادہ مستحق ہیں کہ ان کو خلیفہ مانا جائے لیکن شیعہ جو ان کو خلیفہ نہیںمانتے وہ سلطان ترکی کو کس طرح خلیفہ مان سکتے ہیں۔
    پھر ہم لوگ ہیں ہم کسی بھی صورت میں ترک سلطان کو خلیفہ نہیںمان سکتے۔ ہمارے نزدیک خلیفہ وہ ہو سکتا ہے جو اِس زمانہ کے مامور حضرت مسیح موعود ؑ کا متبع ہو اور اس کے سوا کوئی خلیفہ نہیںہو سکتا۔
    اہلحدیث کا یہ مذہب ہے کہ خلیفہ قریش میںسے ہونا چاہیے۔ ان میں سے جن لوگوں نے شوروہنگامہ میںخلافت ٹرکی کی تائید میں آواز اُٹھائی اور خلافت کو جائز سمجھا۔ وہ ان کے مذہبی عقیدے کے مطابق رائے نہ تھی بلکہ بزدلی اور خود غرضی کے ماتحت رائے تھی۔ علاو ہ اس کے سنیوں میں سے بھی اس خیال کے لوگ پائے جاتے ہیں ۔ جوترک سلطان کو خلیفہ تسلیم نہیںکرتے۔ اس لئے میں نے کہا تھاکہ ترکوں کی ہمدردی کی تحریک کی بنیاد ایک ایسی بات پر رکھنا غلطی ہے جس پر سب مسلمان متفق نہیںہوسکتے۔ بلکہ اس کی بجائے اس تحریک کو سیاسی طور پرچلایا جائے اور مخالف رائے کو موافق بنایا جائے اور ترکی حکومت کو بحیثیت ایک اسلامی سلطنت کے پیش کیا جائے۔ میری اس بات کو حقارت سے دیکھا گیا یاظاہر کیا گیا کیونکہ بعض ذی اثر اصحاب نے اپنی پرائیویٹ ملاقاتوں میںمیری تجویز کی تعریف کی اور کہا کہ ہونا تو ایسا ہی چاہئے مگر اب حالات ایسے ہیں کہ ہم عوام کی مخالفت نہیںکر سکتے۔
    لیکن جوہجرت کی تحریک کا نتیجہ ہوا اور بائیکاٹ کی تحریک کا ہوا وہی آخر کار خلافت کا نتیجہ ہوا ۔ خلافت کی تحریک کے جوش کے زمانہ میںکہا جاتا تھاکہ نماز کا چھوڑ نا زکوٰۃ نہ دینا کوئی بات نہیں ۔ مگر جو خلافت کا منکر ہے وہ کافر ہے ۔ اور وہ شخص جس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ خلافت کامنجی ہے۔ اور خلافت کو قائم کرنے والا ہے وہ آج خلافت کے متعلق ایسا فعل کرتا ہے جونہایت شرمناک ہے ۔ وہ خلافت کو مٹا کر ہی دم نہیںلیتا بلکہ ایک ایسے ظالمانہ فعل کا مرتکب ہوتا ہے جو بہت ہی شرمناک اور ظالمانہ ہے۔
    وہ نہ صرف خلیفہ کو معزول کرتا ہے ۔ بلکہ اس کے خاندان کے بیوی بچوں اور کل افراد کو ملک سے نکال دیتا ہے اور ملک کا داخلہ ان پر بند کر کے ان لوگوں کو ان کے آبائی وطن میں آنے سے محروم کردیتا ہے۔ یہ وہ سزاہے جوچوروں اور ڈاکوؤں کو بھی نہیںدی جاتی۔ چور قید کیا جاتا ہے مگر اس کی نسل کو قید نہیںکیا جاتا۔ اس کی بیوی اور اس کے بچوں کو جلاوطن نہیں کیا جاتاکیونکہ ان کاقصور نہیںہوتا۔ مگر ترک خلیفہ کے ساتھ یہ سب کچھ کیا جاتا ہے۔ اگر خلیفہ ترکی خلافت کے اہل نہ تھا اگر وہ اپنے افعال کی بناپر قابل سزا تھا تو یہ کون سا اخلاق کا قانون ہے کہ اس کے اہل کو بھی جلا وطن کر دیا جائے اور ان کی جائدادیں زیر نگرانی کر لی جائیں۔ یہ وہ فعل ہے جو کسی ظالم ترین بادشاہ سے کیا جاتا ہے۔ پھر اس شرمناک طریق پر اس کو معزول کیاگیا ہے کہ جس سے افسوس ہوتا ہے۔ یہ نہیں کیا گیا کہ معمولی طور پر خط لکھ دیاہو کہ آپ چلے جائیں آپ معزول کر دیئے گئے ہیں بلکہ جب وہ تخت پربیٹھا ہوتا ہے ۔ تب اُس کو کہا جاتا ہے کہ ملک کی طرف سے حکم ہے کہ تخت سے اُتر آؤیہ کیسی ذلت کا نظارہ ہوگاجو وہاں پیش آیا۔ ایک وقت تھا جب دنیا کو اس کی مدد کے لئے اُبھاراجاتا تھا۔ اس بات کا خیال کر کے اس وقت خلیفہ کے دل میں مسلمانوں کی بیس کروڑ تعداد کی وفاداری کا کیا احساس ہوگاجب اسے کہاگیا ہوگا کہ تم تخت سے اُتر آؤ اور دوگھنٹے کے اندر اندر ملک سے باہر نکل جاؤ۔ تم اور تمہاری اولاد بیوی اور خاندان کے دوسرے لوگوں کو اس ملک میںگھسنے کا حکم نہیںہے۔ اگر کوئی سلطنت ہوتی تو مجھے امید ہے کہ وہ ایسا بزدلانہ سلوک نہ کرتی۔مگر یہ کیوں ہوا ؟ یہ اس لئے ہوا کہ ترکوںکا خیال ہوا کہ خلافت کا مسئلہ سخت پیچیدہ ہو گیا ہے اور یہ کہ اس سے جمہوریت کے خلاف طوفان اٹھایا جاسکتا ہے۔ میرے نزدیک ترکوںکی یہ کارروائی مسلمانوںکے اس جوش کا نتیجہ ہے جوانہوںنے خلافت ٹرکی کے متعلق دکھایا۔ ترکوںکویہ خیال ہوا کہ اگرخلیفہ اور جمہوریت کاسوال اٹھا تو خلیفہ کے ساتھ لوگوں کی ہمدردی ہوگی اور ہماری حکومت ٹوٹ جائیگی۔ سیاسی طورپر ان کا یہ خیال درست تھااور ان کو اس خطرہ سے بچنے کے لئے خلافت کا نام و نشان مٹانا ضروری تھا۔ مگر جو غیرشریفانہ سلوک خلیفہ کے ساتھ اُنہوں نے کیاہے وہ نہایت ہی قابل افسوس اور قابل نفرت ہے ۔ امیدہے کہ مسلمانوں کی سمجھ میں اب وہ باتیں آجائیں گی جن کو وہ پہلے نہیںسمجھتے تھے۔
    میں افسوس سے کہتا ہوںاور اس لئے کہتا ہوں کہ جس مقام پر خدا نے مجھے کھڑا کیاہے اس کے لحاظ سے مجھے کہنے کا حق ہے کہ دیکھو میںنے کہا تھاکہ تم سلطنت ٹرکی کے متعلق ایسا نہ کرو مگر تم نے وہی کیا۔ اب اس کی خوفناک غلطی تم پر ظاہر ہو گئی ۔ میںیہ بات کہہ سکتا ہوں اور دوسرا نہیںکہہ سکتا اب بھی وہ راستہ کھلا ہے جو خدا نے کھولاتھااس آواز کو سنیں جو خداکے مامور نے بلند کی۔ اس آواز کے مقابلہ میں کوئی آواز نہیں ٹھہرسکتی۔
    اب کوئی خلیفہ نہیںہوسکتا جس کی گردن میں مسیح موعود ؑکی اتباع کا جؤا نہ ہو۔ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے اختیارات حضرت مسیح موعود ؑکو ملے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں جذب ہو کر ملے ہیں اور اب اُسی کو خلافت مل سکتی ہے جو مسیح موعود ؑمیںہوکر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستہ ہو۔
    جس وقت حسین کامی قادیان میں آیاتھا۔اُس وقت حضرت صاحب نے فرمایا تھا کہ میں کشفی نظر سے دیکھتا ہوں کہ سلطان کے دربار میں کچھ کچے دھاگے ہیں جو نازک وقت پر ٹوٹ جائیںگے ۳؎۔ چنانچہ وہ ٹوٹ گئے اور سلطا ن کو بھی لے کر غرق ہو گئے۔ یہ کیسی عظیم ا لشا ن خبر تھی جوپوری ہوئی اور پندرہ سال کے عرصہ میں متعدد بار پوری ہوچکی ہے۔ پہلے سلطان عبدالحمید خان کے وقت میںپوری ہوئی پھر موجودہ خلیفہ سے پہلے کے وقت میںپوری ہوئی اور اب پھر پوری ہوئی جبکہ خلافت ٹوٹ گئی اور خدا کی بات پوری ہو گئی۔
    ہمارے متعلق کہا جاتا ہے کہ ایک ایسے گاؤں میںرہنے والے جو سٹیشن سے بھی گیارہ میل دور ہے سیاست کو کیا سمجھ سکتے ہیں ۔ ہم کہتے ہیں دیکھو سٹیشن سے ۱۱ میل پرے رہنے والے کی بات پوری ہوئی اس لئے کہ اس میںصداقت بھری ہوئی تھی۔ سیاستدان بے خبر رہے مگر وہ جسے سیاست سے بے خبر کہا جاتا تھا اس کی بات سچی نکلی۔ اگر اس کی بات مانی جاتی تو آج سیاست دان منہ کے بل نہ گرتے۔
    اب بھی مسلمانوں کے لئے موقع ہے کہ سمجھ سے کام لیں اور ٹوٹنے والے تاگوں کی نظیر سے فائدہ اُٹھائیں جیسا کہ مولوی رومیؒ نے کہاہے۔
    ہر بلا کیں قومِ را حق دادہ اند
    زیر آں گنج کرم بنہادہ اند
    اِس وقت تمام جہان کی نگاہ ہندوستان پر پڑ رہی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آئندہ ترقی کا سامان ہندوستان کی طرف سے ہوگا ۔ اس بات کو کوئی مانے یا نہ مانے ہندوستان کی طرف توجہ کا ہونااِس بات کو ظاہرکررہاہے کہ ہندوستان کو خاص درجہ حاصل ہورہا ہے ۔ دیکھووہ شخص جو کل تک خلیفہ تھاآج مظلوم ہے اور جس کو سلطان المعظم کہاجاتا تھا وہ کہتا ہے کہ ہم ہندوستان کی آواز کے منتظر ہیں ۔ پھر مسٹر گاندھی نے مسٹر محمد علی کو خلافت کے ٹوٹنے پر جو تار دیا ہے اس میں لکھا ہے کہ اسلام کا مستقبل مسلمانانِ ہند کے ہاتھ میںہے ۔ اس کی کیاوجہ ہے کہ ہندوستان کی طرف نگاہیں پڑرہی ہیں ۔ یہ دراصل خدا کی مخفی اُنگلی کام کر رہی ہے اور دنیاکو ہندوستان کی طرف متوجہ کررہی ہے اس لئے نہیں کہ ہندوستان میں گاندھی اور محمد علی ہیں ان کی طرف دنیا کو لائے بلکہ اس لئے کہ غلام احمد ہندوستان میںپیدا ہوا ہے اور خدا چاہتا ہے کہ اس کی طرف دنیاکو لائے اور یہ ظاہرکرے کہ دنیا کی آ ئندہ نجات کس سے وابستہ ہے۔
    یہ قدرت کی آواز امریکہ اور انگلستان کی طرف متوجہ نہیںکرتی ۔ جہاں ڈوئی اور پگٹ ہوئے ۔ یہ ایران اور شام کی طرف متوجہ نہیں کرتی جہاںباب اور بہاء اللہ ہوئے۔ یہ افریقہ کی طرف نہیں لے جاتی کہ وہاںچارہ کار تلاش کیاجائے بلکہ ہندوستان کی طرف متوجہ کرتی ہے اس لئے کہ وہ راستباز ہندوستان میںآیاجس سے دنیاکی آئندہ ترقی وابستہ ہے۔
    یہ جمعہ کا خطبہ ہے میں اس کو لمبا نہیںکرناچاہتا مگر میںیہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ خداتعالیٰ کا قانون ہے کہ جب وہ کسی طرف دنیاکی توجہ پھیرنی چاہتا ہے تو اس کے لئے غیرمعمولی اور غیر متعلق سامان پیدا کردیتا ہے۔ اب جہاں سیاسی امور کی وجہ سے ہندوستان پر نظر پڑ رہی ہے اسی طرح ہندوستان کو لوگوں کی نظروں میںلانے کے لئے اور سامان بھی کر دیئے گئے ہیں کیونکہ دنیامیں بیشمار لوگ ایسے ہیں جومذ ہب پر براہ راست متوجہ ہونے کے لئے تیار نہیںہوتے اس لئے خدا تعالیٰ نے ہندوستان میں ٹیگور کو پیدا کیاکہ لٹریچر سے مذاق رکھنے والے ہندوستان کی طرف متوجہ ہوں اور اس طرح ٹیگور مسیح موعود کی طرف لوگوںکو لانے کا ایک ذریعہ ہوگیا۔ پھر خدا کے نبی سائنس کے مسائل حل کرنے کے لئے نہیںآتے ۔ مگراِس زمانہ میں چونکہ سائنس کی طرف دنیا متوجہ ہے۔اس لئے خدا نے ہندوستان میںبوس ۴؎ کو پیدا کیا۔ جس نے اپنے اکتشافات سے ہندوستان کو دنیاکی نظر میں ممتاز کر دیااور یہ اس لئے ہوا کہ و ہ لوگ جن کوسائنس سے لگاؤ ہے وہ اسی ذریعہ سے ہندوستان کی طرف متوجہ ہوں۔ اور اس طرح یہ ذرائع اختیار کر کے خداتعالیٰ نے دنیاکو مسیح موعود ؑ کے پاس لا کھڑا کیا ہے۔ اور یہ سامان اس لئے ہو رہے ہیں کہ دنیا کو معلوم ہو جائے کہ دنیا کی آئندہ مصلح قوم ہندوستان میںہی ہو گی اور دنیاکاہادی ہندوستان میں آیا ہے اوروہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں ۔
    اب بھی مجھے امید ہے کہ ہمارے بھائی اگر غور کریں تو ٹھوکر سے بچ سکتے ہیں اور اس بات پر غور کر کے اسلام کو ہلاکت سے بچائیں کیونکہ حق کے قبول کرنے میں شرم نہیں ہوتی نہ بزدلی ہوتی ہے ۔ بزدل وہ شخص ہوتا ہے جوحق کو پاکر قبول نہ کرے اگر وہ ۲۰۔۳۰ سال تک مخالفت کرتے رہے ہیں اور اب ان کی سمجھ میںحق آگیا ہے تو اسے تسلیم کرنے میں کوئی عیب نہیں ۔ اب بھی سستی سے کام نہ لیں ۔ میںاپنے بھائی مسلمانوں اور دیگر اہل وطن کو کہتا ہوں کہ وہ خدا کی آواز کو سنیں ۔ خدا نے جو ہاتھ بڑھایا ہے اس کو پکڑ لیں۔ خدا کے پیغام کو معمولی نہ سمجھیں اور خدا کے ہو کر اور خدا میں ہوکر زندگی بسر کریں۔
    ( خطبات محمود جلد ۸ صفحہ ۳۲۴ تا ۳۳۱)
    ۱؎

    (اٰل عمران: ۱۵۵)
    ‏۲؎ RECRUIT: رَنگروٹ۔ نیا سپاہی، نیا بھرتی کیا ہوا، نو آموز
    ۳؎ تذکرہ صفحہ۳۰۰ ،۳۰۱۔ایڈیشن چہارم (مفہوماً)
    ۴؎ بوس: سرجگدیش چندر (۱۸۵۸ء۔ ۱۸۳۷ء) پیدائش راری خان ضلع ڈھاکہ۔ متحدہ بنگال کے مشہور ماہر طبیعات نباتی زندگی پر وسیع تحقیق سے انہیں عالمگیر شہرت حاصل ہوئی۔ لندن یونیورسٹی سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کلکتے کے پریذیڈنسی کالج میں طبیعات کے پروفیسر مقرر ہوگئے بعد میں انہیں کئی ڈگریاں اور اعزاز ملے۔ انہوں نے ایک آلہ ’’کریسکوگراف‘‘ ایجاد کیا جس سے پودوں کے نشوونما کو ناپا جا سکتا تھا۔ نباتی زندگی کے متعلق ان کی بعض دریافتیں حیرت انگیز ثابت ہوئیں۔ کالج سے سبکدوش ہونے کے بعد انہوں نے نباتات کے بارے میں تحقیق کے لیے ایک الگ ادارہ قائم کیا۔
    (اُردو جامع انسائیکلوپیڈیا جلد۱ صفحہ ۲۶۹۔۲۷۰ مطبوعہ لاہور ۱۹۸۷ء)

    سفر یورپ کے متعلق انتظام
    ( فرمودہ ۱۱ جولائی ۱۹۲۴ء)
    ۱۹۲۴ء میں حضرت مصلح موعود یورپ تشریف لے گئے ۱۱ جولائی ۱۹۲۴ء کو قادیان میں سفر یورپ کے متعلق خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے آپ نے فرمایاکہ:۔
    ’’سب سے پہلی بات تویہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوآدمی ہوں تو ان میںایک امیر ہونا چاہیے ۱؎ مجھے ہندوستان میں جب کبھی سفر کا موقع پیش آیا ہے اس وقت اس بات کی ضرورت ہوتی تھی کہ قادیان کی جماعت کے لئے امیر مقررکیاجائے۔لیکن یہ سفر چونکہ ہندوستان سے باہر کاہے اس لئے اس وقت یہی ضرورت نہیں کہ قادیان کے لئے کوئی امیر مقررکیاجائے بلکہ یہ ضرورت ہے کہ ایسا نائب مقرر کیا جائے جوسارے ہندوستان کی جماعتوں کے معاملات سے تعلق رکھتاہو اورمیں نے اس غرض کے لئے مولوی شیرعلی صاحب کو تجویز کیا ہے ۔ وہ ایسے معاملات کے متعلق جوفوری اورضروری ہوں اورجن کے متعلق مجھ سے مشورہ بذریعہ خط یا بذریعہ تار نہ لیا جاسکتاہو فیصلہ کریں گے اورچونکہ یہ کام نہایت اہم ہے اورچونکہ خلیفہ اورنائب میںفرق ہے ۔کیونکہ خلیفوں کے لئے تو خداتعالیٰ فرماتاہے کہ اللہ ان کی حفاظت کرتاہے اورایسے امور کی طرف ان کی راہنمائی کی جاتی ہے جن میں جماعت کی بہتری ہوتی ہے اورفرماتاہے ان کا انتخاب خود خداکرتاہے گوبندوں کے ذریعہ ہی انتخاب ہوتاہے مگران کی زبانوںپر خدابول رہاہوتا ہے۔ لیکن نائبوں کے لئے یہ نہیں‘‘۔
    ( خطبات محمود جلد ۸ صفحہ ۴۶۱)
    ’’خلیفہ کا کام مرض کی تشخیص کرنا اورعلاج تجویز کرنا ہے۔ اس کے بعد دوسرے لوگ جو خلیفہ سے کم حیثیت رکھتے ہیں وہ نسخے دیں گے۔ پس یہ سفر اس لئے نہیں کہ ہم جاکر اہل یو ر پ کو کلمہ پڑھاآئیں ۔ گویہ بھی نہیں کہ اگر کوئی پڑھنا چاہے توبھی نہیں پڑھائیں گے۔ مگراس سفر کی غرض یہ نہیں۔ اگر اس سفر میں بھی خداتعالیٰ بعض روحوں کوہدایت دے دے تویہ اُس کا احسان اورفضل ہوگا مگر ہماری یہ غرض نہیں کہ چند لوگوں کو مسلمان بنا آئیں بلکہ یہ ہے کہ کون ساطریق ہے کہ جس سے ساری دنیا کو مسلمان بنائیں۔ اتنی بڑی غرض بغیر قربانیوں کے حاصل نہیں ہوسکتی۔
    ( خطبات محمود جلد ۸صفحہ۴۷۰)
    ۱؎ ابوداؤد کتاب الجہاد باب فی الْقَوْمِ یُسَافِرُوْنَ (الخ) میں تین افراد کا ذکر ہے۔

    وصیت کی اصل غرض اورضرورت
    (فرمودہ۱۴ ؍مئی۱۹۲۶ء)
    حضور فرماتے ہیں:۔
    ’’ سب سے بڑا فتنہ ایک اورپیدا ہواجوخیال میں بھی نہیں آسکتا۔ اوروہ خلافت کے متعلق فتنہ تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خیال بھی نہ ہوگاجب آپ نے وصیت لکھی کہ ایسی جماعت بھی پیدا ہوگی جو اس کے ماتحت کہے گی کہ خلیفہ نہیں ہونا چاہئے مگر اس طرح بھی وصیت ٹھوکر کا باعث ہوئی اورایسا فتنہ پیدا ہواجس نے جماعت کو تہہ و بالا کردیا۔ اورایک وقت توایسا آیا کہ سوائے معدودے چند لوگوں کے سب اس طرف ہوگئے کہ خلیفہ کو منتخب کرنا غلط تھا۔ مگر حضرت خلیفہ اوّل کی تقریر نے بتا دیا کہ یہ خیال غلط تھااورخلیفہ کا انتخاب بالکل درست تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے بعد جماعت پر روحانیت اوربرکات کے نزول کا خاص وقت تھا اوریہ ممکن ہی نہیں کہ نبی کے فوت ہونے کے معاً بعدجماعت گمراہی اورضلالت پر جمع ہو۔کیایہ ممکن ہے کہ جب خداتعالیٰ نے نبی کو اُٹھالیا اورجماعت سب سے زیادہ رحم کی مستحق ہوگئی۔ اُس وقت خدا تعالیٰ جماعت کو گمراہ ہونے دے پس درحقیقت سچا فیصلہ وہی تھا جو جماعت نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے بعد خلیفہ کے انتخاب کے متعلق کیا۔لیکن پھر بھی کچھ ایسے لوگ تھے اور اب تو ان میں اوربھی اضافہ ہوگیاجن کا خیال ہے کہ خلیفہ نہیں ہونا چاہئے۔ اس کانتیجہ یہ ہوا کہ جماعت کے دوٹکڑے ہوگئے اورایک ٹکڑہ پراگندہ ہوکر جماعت سے باہر چلاگیا۔ پراگندہ میں اس لئے کہتاہوں کہ اس میں کوئی اتحاد نہیں مگر ان میں ایسے لوگ شامل ہیں جو کسی وقت جماعت میں اہمیت رکھتے تھے۔ ( خطبات محمود جلد۱۰صفحہ ۱۷۴)

    ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈا نہ کرنے کی ہدایت
    ۲۱؍ فروری ۱۹۳۰ء کو خطبہ جمعہ ارشاد فرمایاجس میں ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈا نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے فرمایا:۔
    ’’صحابہ کو دیکھو ۔ خلیفہ کے انتخاب کے لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سات آدمیوں کی ایک کمیٹی بنادی تھی۔ لیکن انہوں نے بھی آپس میں پروپیگنڈا نہیںکیا۔ اِس وقت میں اس بحث میں نہیںپڑتا کہ انہوں نے آپس میںکس طرح رائے کو پختہ کر لیا۔ باوجود یکہ پروپیگنڈا بھی نہ کیا۔ مگر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس طرح پروپیگنڈا جائز نہیں ۔ اس لئے اگر کسی خاص شخص کی تائید میں کوئی شخص پروپیگنڈا کر رہا ہو تومیں یہ کہوں گا کہ اس کی ِمخالفت کی جائے ۔ لیکن یہ بات صرف جماعت کے لئے ہے ۔ جب جماعت کسی فیصلہ پر پہنچ جائے تو پھر دوسروں میں اس کے متعلق پروپیگنڈا ضرور ہونا چایئے ۔ کیونکہ اس کا اثر جماعت کی رائے پر نہیں بلکہ دوسروں کی رائے پر ہوگالیکن اگر ثابت ہوجائے کہ جماعت میں کسی شخص کا دوست دشمن نہیں۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کوئی دشمن کسی کو نقصان پہنچانے کے لئے اس کے حق میں پروپیگنڈا کر کے میرے ان الفاظ سے بھی فائدہ اُٹھانا چاہیے۔اس لئے دشمن نہیں بلکہ اگر کسی دوست کی طرف سے پروپیگنڈا ہو رہا ہو تو اس کی مخالفت کی جائے ۔ اس کے متعلق ایک ہدایت میں اور بھی دینا چا ہتا ہوں اور وہ یہ کہ سمال ٹاؤن کمیٹی کا کا م ابھی نیا نیا ہے اور نئے کاموں کو جاری رکھنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ کام کرنے والوں کو کافی وقت دیا جائے ۔ اس لئے اگر کسی ممبر پر کوئی خاص اعتراض نہ ہو تو میں یہی مشورہ دوں گا کہ موجودہ ممبران کو برقراررکھا جائے تا انہیں کام کرنے کے لئے چھ سال کا موقع مل سکے۔ چھ سال کے بعد اگر بہتر آدمی ملے تو ضرور اسے منتخب کر لیا جائے ۔ لیکن اب کے چاہے بہتر آدمی ملے پھر بھی اگر کسی ممبر کی ذات میں کوئی خاص نقص نہ ہو جس کااثر جماعت کے فوائد پر پڑتا ہو تو اسے ہی رہنے دینا چاہیے۔ تا انہیں کام کرنے کا موقع اور مل سکے ۔ ابھی کام ابتدائی حالت میں تھا اور کمیٹی نے ٹیکس بھی وصول کرنے تھے۔ اور یہ قدرتی بات ہے کہ ایسی حالت میںکام کرنے والوں سے منافرت سی پیدا ہو جاتی ہے ۔ لیکن وہ جو کچھ کرتے رہے ہیں ۔اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ جماعت کے فائدہ کے لئے کر تے رہے ہیں ۔ کیونکہ جب تک کسی قوم کو تمدنی حقوق نہ ملیں اور اس میں انہیں استعمال کرنے کی عادت نہ ہو جائے خاطر خواہ ترقی نہیں ہوسکتی۔ ٹیکس وغیرہ کا لگانا اور وصول کرناجن لوگوں کے ذمہ ہوتا ہے وہ ہمیشہ نکو بن جایاکرتے ہیں ۔ اور ہمیشہ یہی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے سختی کی۔حالانکہ و ہ جو کچھ کرتے ہیں شہر کے فائدہ اور آئندہ ممبروں کی سہولت کے لئے کرتے ہیں ۔
    اس ڈیوٹی کے لحاظ سے ان کے خلاف بعض باتیں ایسی ہو سکتی ہیں جن کی بنا پر ان کی مخالفت کا خیال پیدا ہو ۔ لیکن ان کا خیال نہیںکرنا چایئے ۔ اگر موجودہ ممبروں میں سے کسی کا وجود سلسلہ کے مفاد کے لحاظ سے نقصان رساں ہو تو اسے ضرور بدل دینا چایئے۔ لیکن اگر ضرر کا سوال نہ ہو تو خواہ ان سے بہتر آدمی بھی مل سکیں توبھی انکو ابھی نہیں ہٹانا چایئے بلکہ کام کرنے کے لئے انہیںمزید موقع دینا چایئے تاکہ وہ مفید عام کام کر کے دکھا سکیں ۔‘‘
    ( الفضل ۱۸ مارچ ۱۹۳۰ء )


    حقیقی اطاعت
    ۲۹ مارچ ۱۹۳۱ء کو ایک نکاح کا اعلان کرتے ہوئے یہ مضمون بیان فرمایاکہ اگر میاںبیوی محض اللہ کی رضا کے لئے ایک دوسرے سے معاملہ کریں تو ان کے لئے رحمت کے دروازسے کھل جاتے ہیں اور پھر ابراہیم ؑ کی اطاعت کاذکر کرتے ہوئے فرمایا۔
    ’’حقیقی اطاعت عبودیت تامہ کسی ایسی ذات کی نہیں ہوسکتی جو صحیح احکام نہ دے سکے ۔ سوحقیقی اطاعت اسی کیلئے ہے جس کیلئے حقیقی حمد ہے اور وہ خدا تعالیٰ ہی ہے ۔ پھرظل کے طور پر جو اس کے مظہر ہوتے ہیںجیسے انبیاء اور خلفاء وغیرہ ان کی اطاعت کرنابھی ضروری ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے۔ ۱ ؎ جو خدا اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ کامیاب ہوجائے گا۔ تو حمد کے جواب میں اللہ تعا لیٰ نے عبودیت کو رکھا اور اطاعت کے جواب میں فوز فرمایا۔ جس کا مطلب یہی ہے کہ اطاعت سے فوز اورحمد سے اطاعت پیداہوتی ہے ۔ کامل حمدسے کامل اطاعت پیدا ہوگی اور کامل اطاعت کے بدلے فیضانِ الہٰی نازل ہوں گے۔اس پر انسان اور حمد کرے گا ۔ اور خداکے فضل زیادہ سے زیادہ نازل ہوتے رہیں گے۔‘‘
    (الفضل۷ پریل ۱۹۳۱ء)
    ۱؎ الاحزاب: ۷۲

    خلیفۂ وقت کی مجلس میں بیٹھنے والوں کیلئے
    چندضروری آداب
    (فرمودہ ۲۱؍اپریل۱۹۳۳ء)
    تشہّد ،تعوّذ اورسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:ـ۔
    ’’چونکہ ہماری جماعت خداتعالیٰ کے فضل سے روزبروز بڑھ رہی ہے اورنئے اورپرانے ہرقسم کے دوست قادیان میں آتے رہتے ہیں،یہاں کے باشندوں کی تعداد بھی اب اتنی ہوچکی ہے کہ وہ اس بات کے محتاج ہیں کہ وقتاًفوقتاً ان کی تربیت کاخیال رکھا جائے۔ کیونکہ انہیں دینی کتب کے پڑھنے ،دینی باتیں سننے اوردینی تربیت حاصل کرنے کا بوجہ کثرتِ آ با د ی اتنا موقع نہیں ملتا جتنا پہلے ملا کرتا تھا، اس لئے آج کا خطبہ میں اس امر کے متعلق پڑھنا چاہتا ہوں کہ جو دوست اِس مجلس میں شامل ہوتے ہیںجس میں میں موجود ہوتا ہوں، ان کو کیا طریق عمل اختیار کرنا چاہیے ۔
    پہلی بات جو ہمارے دوستوں کومدنظر رکھنی چاہئے یہ ہے کہ مجھ سے ملنے والے نہ صرف احمدی ہوتے ہیں بلکہ غیر احمدی، ہندو،سکھ اورعیسائی ہرقسم کے لوگ ہوتے ہیں۔پھر احمدیوں میں سے نئے بھی ہوتے ہیںاورپرانے بھی۔ سمجھدار طبقہ کے بھی ہوتے ہیں اور کم سمجھ کے بھی۔ واقف بھی ہوتے ہیں اورناواقف بھی۔ایسے لوگوں کی گفتگوئیں کبھی علمی رنگ کی ہوتی ہیں اورکبھی کج بحثی والی۔ کبھی ان میں تحقیق حق مد نظر ہوتی ہے اورکبھی محض چھیڑ خوانی مقصد ہوتاہے۔ مگر خواہ کوئی بھی مقصدو مدعاہو،دوباتیں ہیں جو ہماری جماعت کے ان لوگوں کو جواس مجلس میں موجود ہوں مدنظر رکھنی چاہئیں اورجو مجھے افسوس ہے کہ بعض اوقات دوستوں کے مدنظر نہیں رہتیں۔
    اوّل تویہ کہ جب کوئی کلام امام کی موجودگی میں کرتاہے اورامام کو مخاطب کرکے کرتاہے تودوسروں کا حق نہیں ہوتا کہ وہ خودا س میں دخل دیں اور مخاطب کو خود اپنی طرف مخاطب کرکے اُس سے گفتگو شروع کردیں۔ علاوہ اس کے کہ یہ عام آداب کے خلاف ہے، دشمن کو یہ کہنے کا موقع ملتاہے کہ امام خود جواب نہیںدے سکتا اوراس کے معتقدین کوضرورت پیش آتی ہے کہ ا س کے حملہ کواپنے اوپر لے لیں۔ چنانچہ ایک دوست کی ایسی ہی سادگی کی وجہ سے ایک دفعہ مجھے یہ بات بھی سننی پڑی۔ کوئی صاحب اعتراض کررہے تھے کہ ایک جوشیلے احمدی بول اُٹھے یہ بات تو بالکل صاف ہے، اس کاتویہ مطلب ہے۔آخر سوال کرنے والے نے چڑ کر کہا میں توآپ کے امام سے مخاطب ہوں اگروہ جواب نہیں دے سکتے تومیں آپ سے گفتگو شروع کردیتاہوں۔ یہ فقرہ اُس دوست نے اپنی سادگی یا بیوقوفی کی وجہ سے کہلوایاکیونکہ عام آداب کے یہ خلاف ہے کہ کسی کی گفتگو میں دخل دیا جائے۔ یہ محض اعصابی کمزوری کی علامت ہوتی ہے اوراس کے اتنے ہی معنی ہوتے ہیں کہ ایسا شخص اپنے جذبات کو دَبا نہیں سکتاہے۔ ایسی دخل اندازی ا س کے علم پر دلالت نہیں کرتی بلکہ اس کی کمزوری اورکم فہمی پر دلالت کرتی ہے۔ پس ہمیشہ اس امر کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ جب امام کی مجلس میںامام سے گفتگو ہورہی ہو تو سب کو خاموش ہوکر سامع کی حیثیت اختیار کرنی چاہئے اورکبھی اس میں دخل اندازی کرکے خود حصہ نہیں لینا چاہئے سوائے اس صورت کے کہ خود امام کی طرف سے کسی کو کلام کرنے کی ہدایت کی جائے۔مثلاً بعض دفعہ کوئی ضروری کام آپڑتا ہے، اس کے لئے مخاطب کرنا پڑتا ہے یا بعض دفعہ قرآن کی کسی آیت کی تلاش کیلئے اگر کوئی حافظِ قرآن ہوں تواُن سے آیت کا حوالہ پوچھنا پڑتا ہے یا ہو سکتا ہے کہ کسی کو عیسائیت کی کتب کے حوالہ جات بہت سے یاد ہوں اورضرورت پر اس سے کلام کرنی پڑے۔ ایسی حالتوں میں سامعین میں سے بھی بعض شخص بول سکتے ہیں مگر عام حالات میں دخل اندازی بالکل ناواجب ہوتی ہے۔ ہماری شریعت نے ان تمام باتوں کا لحا ظ رکھا ہے۔چنانچہ خطبوں کے متعلق بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی ہے کہ اس دوران کلام نہیں کرنی چاہئے ۱؎۔غرض جب امام سے گفتگو ہورہی ہو تواس میں دخل نہیں دینا چاہئے۔ کیونکہ اس طرح یا توبات ناقص اورادھوری رہ جائے گی اوریا دشمن پریہ اثر پڑے گا کہ شاید امام اس کا جوا ب نہیں دے سکتااورمعتقدین نے گھبرا کراس حملہ کو اپنی طرف منتقل کرلیا ہے پس ایک تواس امر کا لحاظ رکھنا چاہئے۔
    دوسرے اس امر کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ مُخَا طِبْ اورمُخَاطَبْ کا ایک تعلق ہوتاہے۔ وہ آپس میں بعض دفعہ بعض مجبوریوں کی وجہ سے ایک رنگ کی شدت کاپہلوبھی اختیار کرلیتے ہیں یا اختیار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ایسے موقع پر سامعین کواپنے جذبات پر قابو رکھنا چاہئے اوردوسرے کی گفتگو پر ہنسنا نہیں چاہئے۔ کیونکہ گفتگوکا اصل مطلب تویہ ہوتا ہے کہ اُس شخص کوہدایت حاصل ہو لیکن اگر گفتگو کے ضمن میں ایسا رنگ پیدا ہو جائے جس سے اس کے دل میں تعصب پیدا ہو جانے کا خطرہ ہو، تووہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔ میں نے دیکھا ہے نوجوان اور خصوصاً طالب علم ،اگر بعض دفعہ کوئی ایسا جواب دیا جا رہا ہو جو دوسرے کے کسی نقص کو نمایاں کرنے والاہو،توہنس پڑتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ سائل سمجھتاہے مجھے لوگوں کی نگاہ میں بیوقوف بنایا گیا اوران کے ہنس پڑنے سے وہ خیال کرتاہے کہ اس گفتگو کا مقصد مجھ پر ہنسی اُڑانا ہے، بات سمجھانا مدنظر نہیں۔ اس وجہ سے اس کے اندر نفسانیت کا جذبہ پیداہوجاتا اورحق کے قبول کرنے سے وہ محروم رہ جاتاہے۔ پس جو لوگ ایسے موقع پرجبکہ امام کسی کوہدایت دینے کی فکرمیں ہوتاہے،ہنس پڑتے ہیں وہ دراصل اس شخص کو ہدایت سے محروم کرنے کی فکر میں ہوتے ہیں۔ ا ن کے نزدیک ہنسی ایک معمولی چیز ہوتی ہے مگرجس پر ہنسی اُڑائی جاتی ہے اس کے نزدیک خطرناک حملہ ہوتا ہے۔پس دوستوں کوچاہئے کہ اگر دورانِ گفتگو میں کوئی ایساجواب دیاجائے جس سے ہنسی آسکتی ہو یا دوسرے کی کسی کمی کو نمایاں کرکے دکھایاجائے تووہ اپنے جذبات کو دبائے رکھیں۔ جواب دینے والا تو مجبور ہے کہ وہ ایسے نمایاں طورپر کسی کا نقص بیان کرے کہ اُسے اپنی غلطی کا احساس ہوجائے مگر ہنسنے والا اس مقصد پرپردہ ڈال دیتا اورسائل یہ سمجھنے پر مجبورہوجاتاہے کہ ان کا مقصد مجھے غلطی بتانا نہیں بلکہ بیوقوف بنانا ہے ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وسلم کے صحابہ کے متعلق ایک حدیث آتی ہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ جب وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھتے تویوں معلوم ہوتاہے کہ ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں ۲؎۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ سوالات نہیں کرتے تھے ان سے زیادہ سوال کرنے والا ہمیں کوئی نظر نہیں آتا۔ حدیثیں ان کے سوالا ت سے بھری پڑی ہیں بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کلام کررہے ہوتے تووہ ہمہ تن گوش ہوجاتے۔ اوریوں معلوم ہوتاکہ گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں اگر انہوں نے ذرا حرکت کی توپرندے اُڑجائیں گے۔
    تیسری چیز جس کو مدنظر رکھنا ضروری ہے یہ ہے کہ جو لوگ چند دنوں کیلئے عارضی طورپر باہر سے یہاں آتے ہیں ان کو آگے بیٹھنے کا زیادہ موقع دینا چاہئے۔ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جویہ سمجھتے ہیں کہ قادیان کے لوگ آگے نہ بیٹھاکریں بلکہ ان کے ایک حصہ کا آگے بیٹھنا ضروری ہوتاہے اوردوسرے حصہ میں سے اگر کوئی شخص کوشش کرکے آگے بیٹھتااوراس طرح اپنے حق کو مقدم کرلیتاہے توکوئی وجہ نہیں کہ اسے اس حق سے محروم کیاجائے۔ میں سمجھتاہوں اگر کسی کو متواترآگے بیٹھنے کا موقع ملتارہے توآخر میں وہ سست ہوجاتاہے لیکن اگرکوئی شخص متواتر آگے بیٹھنے کے باوجود سُست نہیں ہوتا اوروہ ہمیشہ کوشش کرکے آگے جگہ حاصل کرتاہے تومیں نہیں سمجھتا کہ محض اِس وجہ سے کہ وہ ہمیشہ آگے بیٹھاکرتاہے،اُس کی محبت کومسل دیاجائے اوراس کے جذبۂ اخلاق کی قدر نہ کی جائے۔ پس ہم ایسے لوگوں کی محبت کی قدر کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا واقعہ ہے غرباء آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اورکہا یا رسول اللہ!ہمیں ایک بڑی مشکل نظر آتی ہے ۔ جب ہم جہاد کیلئے جاتے ہیں توامراء بھی جہاد کے لئے چل پڑتے ہیں۔ جب روزوں کا وقت آتاہے توہمارے ساتھ یہ بھی روزوں میں شریک ہوجاتے ہیں۔ جب نمازیں پڑھتے ہیں تویہ بھی اخلاص سے نمازیں پڑھتے ہیں۔ مگر یَا رَسُولَ اللہ! جب چندہ دینے کا وقت آتاہے توہم کچھ نہیں دے سکتے اوریہ ہم سے آگے نکل جاتے ہیں۔ اس وجہ سے ہمیں بڑی تکلیف ہے اورہماری سمجھ میں نہیں آتاکہ مال کی وجہ سے انہیں جو فوقیت حاصل ہے ،اس کا ہم کیا جواب دیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا جواب یہ ہے کہ ہرنماز کے بعد تینتیس تینتیس دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہِ ،اَلْحَمْدُلِلّٰہِ اورچونتیس دفعہ اَللّٰہُ اَکْبَر پڑھ لیا کرو۔یہ سَو دفعہ ذکرالہٰی ہوجائے گا اوربڑے ثواب کا موجب ہوگا۔ انہوں نے بڑے شوق سے اس پر عمل شروع کردیا۔ مگر چونکہ صحابہ میں سے ہرشخص نیکی کے حصول کے لئے کوشاں رہتا تھا امراء کا کوئی ایجنٹ بھی وہاں موجودتھا۔ اس نے انہیں جاکر بتادیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ذکر بتایا ہے اورانہوں نے بھی پڑھنا شروع کردیا ۔کچھ دنوں بعد پھر غرباء رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اورعرض کیا یا رسول اللہ !یہ تو امراء نے بھی پڑھنا شروع کردیا۔ آپ نے فرمایا جب خداکسی پر اپنا فضل نازل کرنا شروع کردے تو میں اسے کس طرح روک دوں ۳؎۔باوجود اس کے کہ دولت انسان کواعمال میں سست کردیتی ہے اگروہ سست نہیں ہوتے بلکہ تقویٰ اوراخلاص میں بڑھ رہے ہیں تومیں انہیں نیکی سے کس طرح محروم کر سکتا ہوں۔ اسی طرح باوجود اس کے کہ متواتر صحبت انسان کو سست کردیتی ہے اگر کوئی شخص اپنے اخلاص میں ترقی ہی کرتا چلاجاتاہے توکون ایسے شخص کو محروم کرسکتاہے۔
    پس میرا یہ منشاء نہیں کہ قادیان کے وہ مخلصین جواپنے اوقات اورکاموں کا حرج کرکے اِس مسجد میں نماز پڑھنے آتے ہیں جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے برکات کے وعدے کئے ہیں اور پھر اپنے امام کی مجلس میں حاضر ہوتے ہیں،ا نہیںمحروم کر دیا جائے۔ بلکہ میرا منشاء صرف یہ ہے کہ باہر سے آنے والوں کے حق کو نظر انداز نہ کیا جائے۔اور اگر کبھی قادیان کے مخلصین باری باری اپنا حق بھی چھوڑ کر باہر کے لوگوں کوآگے بیٹھنے کا موقع دے دیا کریں تومیرے نزدیک یہ ان کے لئے ثواب کا موجب ہوگا۔ پھر ایک اورچیز بھی جس سے یہ موقع نکالاجاسکتاہے۔ بچوں کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم ہے کہ وہ پیچھے رہیں ۴؎۔ اس لحاظ سے سکولوں کے طالبعلم جو چھوٹی عمر کے ہوں۔ اگر بعض دفعہ باہر سے آنے والے دوستوں کے لئے ان کوپیچھے بٹھا کر موقع نکالاجائے تویہ بھی ایک طریق ہے جس سے فائدہ اُٹھایا جاسکتاہے۔ مگر بچوں کے پیچھے بٹھانے کا بھی مَیں یہ مطلب نہیں سمجھتا کہ ان کے اندر اخلاص کاجو جذبہ پیدا ہو رہاہے اسے کچل دیاجائے۔
    پچھلے دنوں یہ طریق نکالاگیاتھا کہ میرے آنے پر چونکہ ہجوم زیادہ ہوجاتاہے،اس لئے قطار باندھ کر مصافحہ کیا جائے اورکسی کو آگے بڑھنے نہ دیاجائے۔ میںنے مستقل طورپر اسے کبھی پسند نہیں کیا کیونکہ جب جذبات کو دَبادیاجائے توآہستہ آہستہ مُردنی پیدا ہوجاتی ہے۔ بچوں میںبھی اگر خلوص کے جذبات پیداہوں توکوئی وجہ نہیں کہ ہم انہیں دَبادیں۔ مگر یہ ایک ذریعہ ہے جس سے ہم دوسروں کے لئے موقع پیداکرسکتے ہیں بچے اوررنگ میںبھی فائدہ حاصل کرسکتے ہیں اوربوجہ قادیان میں مستقل رہنے کے ان کے لئے اورمواقع پیداہوسکتے ہیں۔ پس اگر باہرسے آنے والے لوگوں کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کے ماتحت بچوں کو پیچھے رکھاجائے جبکہ اورموقعوں پر بھی وہ فائدہ اُٹھاسکتے ہیں تواس سے ان کے جذبات کو ٹھیس لگنے کا احتمال نہیں ہوسکتا۔
    پھر ایک اورہدایت اس موقع کے متعلق میں یہ دینا چاہتاہوں کہ اسلام نے اجتماع کے موقعوں پر حفظانِ صحت کا خصوصیت سے خیال رکھاہے۔ مجھے افسوس ہے کہ ابھی تک ہماری جماعت نے اس طرف پوری توجہ نہیں کی۔ حفظانِ صحت کا خیال نہ صرف اپنی ذات کے لئے مفید ہوتاہے بلکہ دوسروں پر بھی اس کا اچھا اثر پڑتاہے۔ بعض لوگ مضبوط ہوتے ہیں اورکئی قسم کی بدعنوانیاں کرنے کے باوجود ان کی صحت میں نمایاں خرابی پیدانہیں ہوتی۔ جس سے وہ خیال کرتے ہیںکہ چونکہ ان پر کوئی بُرااثر نہیں پڑا اس لئے دوسروں پربھی کوئی خراب اثر ان کی وجہ سے پیدانہیں ہوسکتا۔ حالانکہ دنیا میں سینکڑوں نہیں ہزاروں آدمی ایسے ہوتے ہیں کہ جن کے اندر بیماریوں کے اثرات موجود ہوتے ہیں اوراپنی قوت کی وجہ سے وہ ان کااثر محسوس نہیں کرتے مگران سے ملنے والے ان کے اثرات سے متأثر ہوجاتے ہیں۔یہی وجہ ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ اورعیدین کے موقع پر فرمایا کہ نہاکرآئو،اچھے کپڑے پہن کر آئو، خوشبو استعمال کرواوران امور کی تاکیدکی۵؎۔ آپ خود ہمیشہ غسل کرتے اوردوسروں کو غسل کرنے کی تاکید فرماتے۔ خوشبو استعمال کرتے اوردوسروں کوخوشبو لگانے کی تاکیدکرتے۔ حالانکہ جمعہ یاعیدین کے ساتھ غسل کی کوئی خصوصیت نہیں۔ ہروقت انسان غسل کرسکتاہے اورہروقت خوشبواستعمال کرسکتاہے۔ جمعہ اورعیدین کے ساتھ غسل جو رکھا گیا ہے وہ محض اس لیے کہ ان موقعوں پر جبکہ اژدہام ہوتاہے کئی لوگوں کو جلدی بیماریاں ہوتی ہیں،بعضوں کوکھجلی ہوتی ہے،بعضوں کو بغل گند کی شکایت ہوتی ہے، بعضوں کے ہاتھ یا منہ وغیرہ میں بیماری ہوتی ہے ،مگر تازہ بتازہ غسل کے ساتھ کچھ عرصہ کے لئے اس قسم کی بیماریاں دَب جاتی ہیں۔ اورپاس بیٹھنے والے اتنی تکلیف محسوس نہیں کرتے جتنی دوسری صورت میں کرسکتے ہیں۔یامثلاًرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے کہ مسجد میں گندنا،۶؎ پیاز اورلہسن وغیرہ ایسی چیزیں کھاکر مت آیا کرو۔ یہ چیزیں اپنی ذات میں مضرنہیں لیکن اِن کی بوسے دوسروں کو تکلیف ہوتی ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاان کے کھانے سے فرشتے نہیں آتے۔ ۷ ؎ جس کے معنی یہ ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے بھائی کو تکلیف دیتاہے توخداتعالیٰ کے ملائکہ اس سے الگ ہوجاتے ہیں۔ یہ ایک مثال ہے جورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی۔ ورنہ اگر کسی کو کوئی ایسی بیماری ہے جس سے بُوپیداہوتی ہے اوروہ اس کا وقتی علاج کرکے بھی مجلس میں نہیں آتا تووہ بھی فرشتوں کی معیت سے محروم رہتا ہے۔ عام طورپر میں دیکھتاہوں ہمارے ملک میں پچانوے فیصدی لوگوں کے منہ سے بدبُوآتی ہے یہ بدبُو کسی بیماری کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ محض اس بے اختیاطی کی وجہ سے ہوتی ہے کہ وہ کھانے کے بعد کُلّی نہیں کرتے یادرمیانی وقفوں میں اگر مٹھائی یا کوئی میوہ وغیرہ کھاتے ہیں تواس کے بعد منہ کی صفائی نہیں کرتے یالمبے عرصہ تک خاموش رہنے اورمنہ بند رکھنے کے بعد بھی منہ میں بدبو پیداہوجاتی ہے۔ ایسے لوگ بھی صفائی کی طرف توجہ نہیں کرتے اورجب مجلس میں ایسے لوگوں کا اجتماع ہوتاہے توہرایک کی تھوڑی تھوڑی بُو مِل کر ایسی تکلیف دہ چیز بن جاتی ہے کہ بیسیوں کمزور صحت والوں کو سردرد ،نزلہ اورکھانسی وغیرہ کی شکایت ہوجاتی ہے۔
    اسلام نے ہمارے لئے ہربات کے متعلق احکام رکھے ہیں۔ یہ احکام بیکار اور فضول نہیں بلکہ نہایت ضروری ہیں اورانہی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے مجموعہ کانام اسلامی تمدن ہے۔ اسلامی تمدن نماز کانام نہیں ،روزے کانام نہیں، زکوٰۃ کا نام نہیں بلکہ ان چھوٹے چھوٹے احکام کے مجموعہ کانام ہے جوایسا تغیر پیداکردیتے ہیں کہ اس کی وجہ سے وہ سوسائٹی دوسری سوسائٹیوں سے نمایاں اورممتاز نظر آتی ہے۔ یورپین لوگ یوں تو صفائی کے بڑے پابند ہیں مگر کھاناکھانے کے بعد منہ کی صفائی کرنے کے وہ بھی عادی نہیں اوراس وجہ سے اگران کے اُن پوڈروں اوریوڈی کلون وغیرہ خوشبوئوں کونکال دیاجائے جووہ اپنے چہروں پر ملتے ہیں تو صاف طورپر ان کے منہ سے بدبو محسوس ہوتی ہے۔ اب چونکہ انہیں ہندوستانیوں سے ملنے کا موقع ملاہے اس لئے آہستہ آہستہ ان میں یہ احساس پیدا ہورہاہے اورمجھے بھی بعض انگریزوں سے ملنے کا موقع ملاہے میں نے دیکھاہے کہ اب مسلمانوں سے مل کر وہ صفائی کے اس پہلو کو بھی سیکھ رہے ہیں۔ غرض مجلس میں آنے والوں کویہ امور مدنظر رکھنے چاہئیں۔ اگر کسی شخص کو بغل گندہویااُس کے ہاتھوں کی انگلیاں خراب ہوں اوران میں ایسی بُو ہوجو دوسروں کو ناگوار گزرے تواسے چاہیے کہ وہ ایسی صفائی کے بعدمجلس میں آئے جس سے اس کے اثر کوکم سے کم مضر بنایاجاسکے۔ یوں تو اللہ تعالیٰ نے ہرمرض کاعلاج پیداکیاہے لیکن اگر کسی کو علاج میسر نہیں آتا تووہ عارضی صفائی کے بعد مجلس میں آیا کرے۔
    پھر مجلس میں ان چیزوں کے بعد ایک اورچیز کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔ میں نے دیکھاہے کہ جب لوگ بیٹھتے ہیں توایسا تنگ حلقہ بناتے ہیں کہ اس میں سانس لینا مشکل ہوجاتاہے۔ کئی دفعہ ایساہواہے کہ مجلس میں زیادہ دیر بیٹھنے کو میرا جی چاہا مگر تنگ حلقہ کی وجہ سے تھوڑی ہی دیر میں مجھے سردرد ہوگیااورمیں اُٹھنے پر مجبور ہوگیا اوربسااوقات میں صحت کے ساتھ مجلس میں بیٹھتاہوں اور بیمارہوکر اُٹھتاہوں۔ ہرشخص اپنے اخلاص میں یہ خیا ل کرتا ہے کہ اگر میں ایک انچ آگے بڑھ گیا توکیا نقصان ہے اوراس طرح ہرشخص کے ایک ایک انچ بڑھنے سے وہی مثال ہوجاتی ہے جیسے کہتے ہیں کہ ایک شخص کووہم کی بیماری تھی۔ وہ جب باجماعت نماز میں کھڑا ہوتا تو کہتا ’’چاررکعت نماز فرض پیچھے اس امام کے ‘‘اورپھر خیال کرتا کہ امام اورمیرے درمیان توکئی صفیں ہیں، نیت ٹھیک نہیں ہوئی ۔ یہ خیال کرکے وہ بڑھتے بڑھتے پہلی صف میں آجاتا اورامام کی طرف اشارہ کرکے کہتا پیچھے اِس امام کے۔ آخر اس طرح بھی اس کی تسلی نہ ہوتی تووہ امام کوہاتھ لگاکرکہتا پیچھے اِس امام کے۔ پھر بڑھتے بڑھتے اس کے وہم کی یہاں تک کیفیت ہوجاتی کہ وہ امام کو دھکے دینے لگ جاتا اورکہتا پیچھے اِس امام کے۔ ہرشخص مجلس میں آگے آنا چاہتاہے اورخیال کرتاہے کہ میرے ذرا سا آگے بڑھنے سے کیا نقصان ہو جائیگا۔ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ حلقہ نہایت ہی تنگ ہوجاتاہے اورصحت پر اس کا بُرا اثر پڑتاہے۔ مگر علاوہ اس کے کہ صحت کے لئے یہ مفید بات نہیں اس کانتیجہ یہ بھی ہوتاہے کہ زیادہ آدمی اس حلقہ سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔ مجھے ایسے حلقہ میں سخت تکلیف ہوتی ہے کیونکہ مجھے گلے اورآنکھوں کی ہمیشہ تکلیف رہتی ہے۔ پھر یہ حلقہ توبڑی بات ہے میری تویہ حالت ہے کہ اگر لیمپ کی بتی خفیف سی بھی اونچی رہے اوراس سے ایسا دھواں نکلے جو نظربھی نہ آسکتاہوتومجھے شدید کھانسی اورنزلہ ہوجاتاہے۔ ناک کی حِسّ اللہ تعالیٰ نے میری ایسی تیز بنائی ہے کہ میں دوسرے لوگوں کی نسبت کئی گُنے زیادہ بُو یا خوشبو محسوس کرلیتاہوں۔یہاں تک کہ جانوروں کے دودھ سے پہچان لیتا ہوں کہ انہوں نے کیا چارہ کھایاہے۔جس شخص کے ناک کی حِس اتنی شدید واقع ہووہ اس قسم کی باتوں سے بہت زیادہ تکلیف محسوس کر تا ہے ۔
    ایک اور ادب مجلس کایہ مدّ نظررکھنا چاہئے کہ جہاں تک ہوسکے مجلس کو مفید بنانا چاہیے۔ اور خصوصاً جو باہر سے دوست آئیں انہیں چاہیے کہ اپنی مشکلات پیش کرکے میرے خیالات معلوم کرنے کی کوشش کیا کریں۔ بہت لوگ خیال کرتے ہیں کہ شاید یہ بے ادبی ہے مگر میں انہیں بتانا چاہتاہوں کہ یہ بے ادبی نہیں بلکہ مجلس کو مفید بناناہے۔ میں نے دیکھا ہے بسااوقات مجلس میں دوست خاموش بیٹھے رہتے ہیں اورمیں بھی خاموش بیٹھا رہتا ہوں۔ میری اپنی طبیعت ایسی ہے کہ میں گفتگو شروع نہیں کرسکتا ۔ اس مقام کے لحاظ سے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطافرمایاہے میں کوشش کرتاہوں کہ بولوں مگر طبیعت کی اُفتاد ایسی ہے کہ کوشش کے باوجود میں کلام شروع نہیں کرسکتا اورجب کوئی شخص سوال کرے تبھی میرے لئے گفتگو کا راستہ کھلتاہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں جودوست باہر سے آیا کرتے تھے وہ مشکل مسائل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پوچھا کرتے اوراس طرح گفتگوکا موقع ملتا رہتاتھا اوربعض دوست توعادتاً بھی کرلیا کرتے اورجب بھی وہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس میں بیٹھتے کوئی نہ کوئی سوال پیش کردیاکرتے۔ مجھے ان میں سے دوشخص جو اس کام کوخصوصیت سے کیا کرتے تھے اچھی طرح یادہیں۔ ایک میاں معراج دین صاحب عمر جو آجکل قادیان میں ہی رہتے ہیں اوردوسرے میاں رجب الدین صاحب جو خواجہ کمال الدین صاحب کے خسر تھے۔ مجھے یاد ہے مجلس میں بیٹھتے ہی یہ سوال کردیاکرتے کہ حضور فلاں مسئلہ کس طرح ہے اورحضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس مسئلہ پر تقریر شروع فرما دیتے توجودوست باہر سے آتے ہیںانہیں چاہیے کہ وہ اپنے مطالب پیش کرنے کے علاوہ مشکل مسائل دریافت کیا کریں تاکہ مجلس زیادہ سے زیادہ مفید ہواوران کے علاوہ دوسروں کو بھی فائدہ پہنچے۔ میں نے بتایا ہے کہ اوّل تو میری عادت ہے کہ میں گفتگو شروع نہیں کرسکتا ۔ لیکن اگرمیں کبھی نفس پر زوردے کر گفتگو شروع بھی کردوں توبھی مجھے کیا معلوم ہوسکتاہے کہ کسی کوکیا مشکلات درپیش ہیں۔ گوایسا بھی ہوتاہے کہ بسااوقات اللہ تعالیٰ القاء اورالہام کے ذریعہ زبان پر ایسی گفتگو جاری کردیتاہے کہ جو اُس وقت کی مجلس کے مطابق ہو۔ مگر پھربھی کئی خیالات ایسے ہوسکتے ہیں جن کے متعلق کوئی شخص چاہتاہو کہ وہ مجھ سے ہدایت لے لیکن سوال نہ کرنے کی وجہ سے وہ اس سے محروم رہے۔ پس باہر سے آنے والوں کو چاہئے کہ وہ اس تبلیغی زمانہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایسے سوالات پوچھا کریںجن کے جوابات سے عام لوگوں کو فائدہ پہنچے۔ مگر ایک چیز ہے جس کا خیال رکھناچاہیے اوروہ یہ کہ بعض لوگ سوال توکرتے ہیں مگر ان کی غرض یہ نہیں ہوتی کہ مجھ سے کچھ سنیں بلکہ یہ ہوتی ہے کہ اپنی سنائیں ۔بعض مبلّغین میں بھی یہ عادت پائی جاتی ہے ۔ جب وہ میرے پاس آتے ہیں تووہ شروع سے آخر تک مباحثہ کی روئیداد سناناشروع کردیتے ہیں۔ اورکہتے ہیں اس نے یہ اعتراض کیا میں نے یہ جواب دیا۔ اس نے فلاں اعتراض کیا میں نے فلاں جواب دیا۔ اوراس ذریعہ سے وہ اپنی گفتگو کو اتنا لمبا لے جاتے ہیں کہ وہ ملال پیدا کرنے والا طُول بن جاتاہے اورپھر لوگوں کوبھی غصہ آتاہے کہ یہ اپنی بات کیوں ختم نہیں کرتے۔ جو لوگ میرے پاس آتے ہیں ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ مجھ سے کچھ سنیں یہ نہیں ہوتی کہ دوسروں کی سنیں۔ اس کانتیجہ یہ ہوتاہے کہ بعض لوگوں کی طرف سے خلافِ آداب حرکات سرزد ہوجاتی ہیں۔ مثلاً یہی کہ کہتے ہیں جَزَاکَ اللّٰہُ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بس کریں اب ہم سے زیادہ باتیں نہیں سنی جاتیں۔ مگر وہ بھی اپنی طبیعت کے ایسے پختہ ہوتے ہیں کہ جَزَاکَ اللّٰہ پر خوش ہوکر اورزیادہ باتیں سنانے میں مشغول ہوجاتے ہیں اوریہ نہیں سمجھتے کہ یہ جَزَاکَ اللّٰہ تعریف کے لئے نہیں بلکہ گفتگو بند کرانے کے لئے کہاگیاہے۔
    پس یہ ایک مرض پیدا ہورہاہے جس کی طرف میں توجہ دلاتاہوں لوگ میری وجہ سے یہ تودوسرے کو نہیں کہہ سکتے کہ چُپ کرو اورمیں بھی حیا کی وجہ سے کچھ نہیں کہہ سکتا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ ایسے اشاروں میں انہیں بات کہی جاتی ہے جو گِرے ہوئے اخلاق پر دلالت کرتے ہیں۔ انہیں چاہئے کہ وہ بجائے اس کے کہ اپنی گفتگو سنائیں جووہ پوچھنا چاہتے ہوں پوچھیں۔ پچھلے ایام میں مَیں ایک جگہ گیا وہاں بہت سے دوست میرے ملنے کے لئے جمع ہوگئے۔ مگر دوگھنٹہ تک ایک شخص مجھے اپنا مباحثہ ہی سناتارہا اورآخر رات کے ساڑھے گیارہ بجے کے قریب اُس کی گفتگو ختم ہوئی۔ مگر اُس وقت اتنا وقت گزر چکا تھا کہ میں بھی اُٹھ کھڑاہوا اور دوست بھی جو میری باتیں سننے کے لئے آئے تھے چلے گئے۔ وہ اس سارے عرصہ میں یہی سناتے رہے کہ اس نے یوں کہا میں نے یوں جواب دیاپھراس نے یہ کہا میں نے یہ کہا۔ حالانکہ مباحثات کی تفصیل کی مجھے ضرورت ہی نہیں ہوتی اورگو دوسروں کو ضرورت ہو بھی مگر وہ محبت اوراخلاص کی وجہ سے میری باتیں سننے کے مشتاق ہوتے ہیں اوروہ سمجھتے ہیں کہ دوسروں سے باتیں سننے کے لئے کافی اوقات ہیں۔ پس گفتگو ایسے رنگ میں ہونی چاہئے کہ دوستوں کا اصل مقصد یعنی یہ کہ وہ میری باتیں سننے کے لئے آتے ہیں کسی طرح فوت نہ ہوجائے اوروقت ضائع نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت کوایسا بنایا ہے کہ لمبی چوڑی فلسفیانہ تقریریں اُس پر وہ اثر پیدا نہیں کرتیں جو اخلاص سے کہی ہوئی ایک چھوٹی سی بات کرجاتی ہے۔ گھروں میں روزانہ دیکھا جاتاہے بعض اوقات بچہ ضدّ میں آکر ایک بات نہیں مانتا،ہزاروں دلائل دووہ کچھ نہیں سنتا لیکن جب ماں کہے بیٹا یوں کرنا اچھانہیں ہوتا تووہ فوراً سمجھ جاتاہے۔ اس پر غیر کی زبردست دلیلیںاثرنہیںکرتیں مگر ماں کا یہ فقرہ کہ ایسا کرنا اچھا نہیں ہوتا فوراً اثر کرجاتاہے۔ اسی طرح لوگو ں کے سامنے اخلاص ہوتاہے وہ دوسروں کی فلسفیانہ تقریریں سننا پسندنہیں کرتے بلکہ اپنے امام کے منہ سے چند سادہ کلمات سننا چاہتے ہیں اوریہ محبت کے کرشمے ہیں۔ جب تک اورجس سے اخلاص اورمحبت ہوگی اُس کی سادہ بات بہ نسبت دوسروں کی لمبی فلسفیانہ تقریر کے بڑ ااثر کرے گی۔ پس مجلس کو زیادہ سے زیادہ مفید بنانے کی کوشش کرنی چاہیے اوروقت ضائع نہیں کرناچاہئے۔ پھر یہ بات بھی مد نظر رکھنی چاہئے کہ میری مجلس میں جیسا کہ میں بتاچکاہوں ہرقسم کے لوگ آتے ہیں عالم بھی آتے ہیں اور جاہل بھی اوربعض دفعہ پاگل بھی آتے ہیں۔ چنانچہ کئی دفعہ ایساہوا ہے کہ ایک پاگل شخص آیا ہے اوراُس نے مجھے اپنی باتیں سنانی شروع کردیں۔ میں سمجھتاہوں کہ ایسے لوگوں کاایک ہی جواب ہوتاہے اوروہ یہ کہ خاموشی سے وقت گزاردیاجائے۔ مگر دوسرے لوگ چونکہ اس امر کو نہیں سمجھتے اس لئے بعض دفعہ وہ بیچ میں آکودتے ہیں۔ اور سمجھتے ہیں کہ ہماری مدد کی ضرورت ہے۔ یہ دماغی خلل والے کئی لوگ میرے پاس آتے ہیں اوراِس قسم کے سوال کرتے ہیںجن کے متعلق وہ خیال کرتے ہیں کہ وہ معقول ہیں مگر میں اُن کی دماغی حالت کو جانتاہوں۔ پس میں مختصر جواب دے دیتاہوں یاخاموش رہتاہوں اورجب وہ تکرار کرتے ہیں تومیں کہتاہوں میں نے سن لیا اس پر غور کروں گا۔ مگر ناواقف آدمی دخل دے دیتاہے اوراس طرح بات کو خراب کردیتاہے۔
    اسی طرح میں سمجھتاہوں ایک مصافحوں والا معاملہ بھی ہے ۔ باہر سے آنے والے دوست جن کو یہاں آنے کا باربار موقع نہیں ملتا یاجمعہ کے موقع پر جبکہ مقامی لوگوں میں سے ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں ہفتہ بھرملنے کااورکوئی موقع نہیں ملاہوتا،مجھ سے مصافحہ کرتے ہیںاوران کے لئے مصافحہ کی معقولیت میری سمجھ میں آسکتی ہے ۔ کیونکہ مصافحہ قلوب میں وابستگی اورپیوستگی پیدا کرتاہے اوریہ معمولی چیزنہیں۔ بلکہ احادیث سے ثابت ہے کہ عیدین وغیرہ مواقع پر صحابہ ؓ خصوصیت سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مصافحہ کیاکرتے۔ مگر مجھے شبہ ہے کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہرنماز کے وقت مصافحہ کرنادینی ضرورتوں میں سے کوئی ضرورت ہے ۔بعض لوگ محبت میں گداز ہوتے ہیں میں اُن کو الگ کرتاہوںکیونکہ ان پر کوئی قانون جاری نہیں ہوسکتا۔ میں نے دیکھا ہے بعض لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں ساراسارادن اُس کھڑکی کے سامنے بیٹھے رہتے جس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام باہر آیا کرتے تھے۔ اورجب باہر آتے تو وہ آپ سے مصافحہ کرتے یاآپ کے کپڑوں کوہی چھولیتے۔ ایسے لوگ محبت کی وجہ سے مجبور ہوتے ہیں۔ مگر مجھے شبہ ہے کہ بعض لوگ دوسروں کو دیکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہروقت مصافحہ کرنا ضروری ہے۔ مصافحہ کا اصل وقت تو وہ ہوتاہے جب کوئی شخص باہر جارہاہویا باہر سے آیاہو۔ یا ساتویں آٹھویں دن اس لئے مصافحہ کرے کہ تادعائوں میں اسے یاد رکھاجائے اوراس کا تعارف قائم رہے یا کسی بیمار نے بیماری سے شفاپائی ہوتووہ یہ بتانے کیلئے مصافحہ کرے کہ اب وہ اچھاہوگیاہے یہ اورچیز ہے۔ ،مگر باِلالتزام بغیر اس کے کہ نفس اس مقام پر پہنچا ہوا ہوکہ انسان مصافحہ کرنے پرمجبور ہوجائے دوسروں کو دیکھ کر یہ کام کرنا کوئی پسند یدہ امر نہیں۔
    مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں قاضی سید امیر حسین صاحب مرحوم کو جو میرے استاد بھی تھے بوجہ اس کے کہ وہ اہلحدیث میں سے آئے تھے بعض مسائل میں اختلاف تھا۔ ایک دفعہ یہ سوال زیر بحث تھا کہ مجلس میں کسی بڑے آدمی کے آنے پر کھڑا ہو ناجائز ہے یا نہیں قاضی سید امیرحسین صاحب فرمایا کرتے تھے کہ یہ شرک ہے اوررسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے ۔ آخر یہ جھگڑا اتنا طول پکڑ گیا کہ اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے سامنے پیش کیا گیا۔ اُس وقت یہ سوال ایک رُقعہ پر لکھاگیااورمیں رُقعہ لے کر اندر گیا۔ اُس وقت اگرچہ میں طالب علم تھا مگر چونکہ مذہبی باتوں سے مجھے بچپن ہی سے دلچسپی رہی ہے اس لئے میں ہی وہ رُقعہ اندرلے گیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اُس کے جواب میں زبانی کہا یا تحریر کیا مجھے اچھی طرح یاد نہیں خیال یہی آتاہے کہ آپ نے تحریر فرمایا کہ دیکھو وفات کے موقع پر کوئی ایسی حرکت کرنا جیسے دو ہتڑمارنا شریعت نے سخت ناجائز قراردیاہے لیکن جہاں تک مجھے خیال ہے روایت توصحیح یادنہیں آپ نے غالباً حضرت عائشہ ؓ کا ذکر کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے موقع پر انہوں نے بے اختیا ر اپنے سینہ پر ہاتھ مارا۸؎ یہ روایت لکھ کر آپ نے تحریر فرمایا کہ ایک چیز ہوتی ہے تکلف اوربناوٹ اورایک چیزہوتی ہے جذبۂ بے اختیاری ۔ جو امر جذبۂ بے اختیاری کے ماتحت ہواورایسا نہ ہو جو نصِّ صریح سے ممنوع ہوبعض حالتوں میں وہ جائز ہوتاہے اوروہاں یہ دیکھا جائے گاکہ یہ فعل کرنے والے نے کس رنگ میں کیا۔ سجدہ توبہرحال منع ہے خواہ کسی جذبہ کے ماتحت ہومگر بعض افعال ایسے ہوتے ہیں کہ وہ بعض صورتوں میں تکلف اوربعض صورتوں میں جذبہ بے اختیاری کے ماتحت صادرہوتے ہیں۔ اس کے بعد آ پ نے تحریر فرمایا کہ اگر کوئی شخص اس لئے کھڑ اہوتاہے کہ ایک بڑے آدمی کے آنے پر چونکہ باقی لوگ کھڑے ہیں اس لئے میں بھی کھڑا ہوجائوں تووہ گنہگار ہوگا۔ مگروہ جو بے قرار ہوکر کھڑا ہوجاتاہے جیسے معشوق جب عاشق کے سامنے آئے تو وہ اس کے لئے کھڑا ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا، اس پر گرفت نہیں۔ قاضی سید امیر حسین صاحب مرحوم نہایت ہی مخلص احمدی تھے۔ میں نے ان سے بہت عرصہ پڑھا ہے وہ احمدیت کے متعلق اپنے اندر عشق کا جذبہ رکھتے تھے۔ مجھے یاد ہے میری خلافت کے ایام میں ایک دفعہ جب میں مسجد میں آیا توقاضی صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے مجھے دیکھتے ہی کھڑے ہوگئے میں نے کہا قاضی صاحب! آپ تو کسی کی تعظیم کے لئے کھڑاہونا شرک قرار دیاکرتے تھے کہنے لگے۔ ’’کی کراں میں سمجھداتے ایہی ہاں پر دیکھدے ہی کچھ ہوجاندا اے رہیا جاندا ہی نہیں‘‘۔ یعنی کیا کروں میں سمجھتاتویہی ہوںلیکن آپ کو دیکھ کر ایسا جذبہ طاری ہوتاہے کہ میں بیٹھا نہیں رہ سکتا۔ توحالات کے مختلف ہونے اورجذبات کی بے اختیاری کی وجہ سے حکم بدلتے رہتے ہیں۔ میں سمجھتاہوں مصافحہ بھی اسی رنگ کی چیز ہے۔ جب مصافحہ رسم ورواج کے ماتحت ہویا دکھاوے کے طورپر یا اس لئے ہوکہ شاید یہ شرعی احکام میں سے ہے یا اخلاص کے اظہار کا یہ بھی کوئی ذریعہ ہے تواس کا کوئی فائدہ نہیں۔ لیکن جب کوئی دیر سے ملتاہے اورچاہتاہے کہ بتلائے کہ میں آگیاہوں یا بیمار چاہتاہے کہ میں بتائوں مجھے صحت ہوگئی ہے یا کوئی اِس لئے مصافحہ کرتاہے کہ تادعائوں میںوہ یاد رہ سکے توایسے موقعوں پر مصافحہ ایک نہایت ہی مفید مقصد کو پورا کر رہا ہوتا ہے ۔ مگر دوسرے اوقات میں وہ بعض دفعہ وقت کو ضائع کرنے والا بھی ہوجاتاہے۔
    یہ چند باتیں ہیں جو میں نے کہی ہیں اورکچھ باتیں اِس وقت بھول بھی گئی ہیں اوربعض ممکن ہے ابھی اوربھی بیان کرنے والی ہوں ، انہیں پھربیان کردوںگا۔ لیکن یہ تمام باتیں اپنی اپنی جگہ بہت سے مفید مقاصد رکھتی ہیں جماعت کو چاہئے کہ انہیں مدنظر رکھے۔ مجالس کو کھلا رکھناچاہیے ،قرآن کریم سے بھی معلوم ہوتاہے کہ یہ ضروری ادب ہے اوراس کے بہت سے فائد ے ہیں۔ یہی فائدہ نہیں کہ دوسروں کو جگہ مل جائے گی اور صحت پر اس کا خوشگوار اثر پڑے گا بلکہ اوربھی باریک روحانی مطالب پر مشتمل فوائد ہیں اوریہ مختصر خطبہ ان کا حامل نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح کھڑکیوں کو کھلا رکھناچاہئے۔ جسم اورگھروں کی صفائی کا خیال رکھنا چاہئے۔ اورمجلس میں خوشبو لگا کر آنا چاہئے۔بد بو دار چیزیں کھا کر اجتماع کے موقعوں پر نہیں آنا چاہئے۔ اوربدبودار چیزیں ہی نہیں اگرکسی کو کوئی بغل گند وغیرہ کی بیماری ہوتواچھی طرح صفائی کرکے آئے۔مجلس کو مفید بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ مشکل مسائل درپیش ہوں توان کے متعلق سوال کرناچاہئے۔ جب گفتگو ہورہی ہو تواُس وقت دخل نہیں دینا چاہئے اورکسی کی غلطی معلوم کرکے اس پر ہنسنا نہیں چاہیے۔ ان باتوں پر عمل کرنے سے مجلس میں برکت ہوتی، تعلقات مضبوط ہوتے اورفائدہ زیادہ ہوتاہے۔ لیکن اگر یہ باتیں نہ ہوں توصحت کے خراب ہونے کے خیال سے یا وقت کے ضائع ہونے کے خطرہ سے طبیعت میں اس امر پر بشاشت پیدا نہیں ہوتی کہ مجلس میں بیٹھا جائے۔ میں امید کرتاہوں کہ ہمارے دوست آئندہ مجالس میں ان امور کو مدنظر رکھیںگے۔ (خطبات محمود جلد۱۴صفحہ۹۴تا۱۰۹)
    ۱؎ بخاری کتاب الجمعۃ باب الانصات یوم الجمعۃ والامام یخطب، ابن ماجہ
    کتاب اقامۃ الصلٰوۃ باب ماجاء فی الاستماع للخطبۃ والانصات
    ۲؎ بخاری کتاب الجہاد باب فضل النفقۃ فی سبیل اللّٰہ
    ۳؎ مسلم کتاب الصلٰوۃ باب استحباب الذکر بعد الصلٰوۃ و بیان صفتہٖ
    ۴؎ ابوداؤد کتاب الصلٰوۃ باب مقام الصبیان من الصف
    ۵؎ بخاری کتاب الجمعۃ باب الدھن للجمعۃ
    ۶؎ گندنا: ایک ترکاری کا نام جو لہسن سے مشابہہ ہوتی ہے۔ (علمی اُردو لغت صفحہ۱۲۴۳ مطبوعہ لاہور ۱۹۹۶ء
    ۷؎ مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلوٰۃ باب نہی من اکل ثوماً اوبصلاً
    او کراثاً او نحوھا
    ۸؎ طبقات ابن سعد جلد۲ صفحہ۲۶۲ دار صادر بیروت

    نظامِ سلسلہ کی پابندی کے بغیر ترقی محال ہے
    حضرت خلیفۃالمسیح الثانی نے ۲ جون ۱۹۳۳ء کوخطبہ ارشاد فرمایاجس میں نظامِ سلسلہ کی پابندی کے بغیر ترقی محال ہے کا ذکر کرتے ہوئے خلیفہ وقت کی اطاعت کے بارہ میں فرمایا۔
    ’’خلیفۂ وقت کے ایک حکم کا انکار بھی انسان کو جماعت سے خارج کر دیتا ہے مگر یہاں یہ حالت ہے کہ خلیفہ تین مرتبہ ایک بات کو دُہراتا ہے کہ ایسا نہیں ہونا چایئے، میں اس کی اجازت نہیں دیتا مگر وہی بات کر لی جاتی ہے۔ پھر یہ بیوقوف کہتے ہیں ناظر امور عامہ ظالم ہے کہ اُس نے سزا دی حالانکہ اگر ان کے اندر غیرت ہوتی اور واقعہ میں ان کے دلوں میں ایمان ہوتا تو بجائے اس کے کہ امور عامہ یہ سزادیتا ، انہیں خودایسے لوگوںکو سزا دینی چاہیے تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ بیان کیاجاتا ہے ۔ ایک دفعہ کسی منافق کاایک یہودی سے جھگڑا ہوگیا۔ وہ دونوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوفیصلہ فرمایا یا جو فرمانے لگے اُس منافق نے سمجھا کہ یہ میرے خلاف ہو گا تب اس نے یہودی سے کہا بہتر ہے کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس چلیںاور وہاںسے فیصلہ کرائیں ۔ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دروازہ پر پہنچے اور کہا ہمارا فیصلہ کر دیجئے۔ گفتگو کے دوران میںیہودی نے یہ بھی کہہ دیاکہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کو ماننے کے لئے تیار نہیںہوا۔ آپ نے کہا اچھا یہ بات ہے ۔ میں ابھی آتا ہوں یہ کہہ کر گھر میں گئے تلوا ر لی اور باہر آکر اُس منافق کی گردن اُڑا دی اور کہا جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ منظور نہیں اُس کا فیصلہ یہ ہے۱؎ ۔ توبجائے اسکے کہ امور عامہ سزا تجویز کرتا، اگر ان لوگوںکے دلوں میںایمان ہوتا تو چایئے تھاکہ خود سزا دیتے۔ یہ نہیں کہ ان لوگوں کو اس سے انکار ہو کہ میںنے انہیںمنع نہیںکیا۔ انہوںنے خود اپنے بیان میں اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ ہم نے تین دفعہ پوچھا مگر تینوں دفعہ ہمیں روکا گیالیکن باوجود اس کے نکاح کردیا گیا۔ اس پرجب سزا دی گئی تو میں نے پانچ پانچ صفحوں کے بعض لوگوں کے خطوط پڑھے جن میں ایسی ایسی دلّالیاں کی گئی ہیں کہ دلّالہ جو عرب میں مشہور ہے ، اُس نے بھی نہیں کی ہوں گی ۔ ایک شور مچا رکھاہے کہ ظلم ہوگیا، اندھیر نگری اور چوپٹ راجہ والی مثال بن گئی۔ قادیان کے مخلصین، مجاہدین اور مہاجرین جوسلسلہ کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہیں اوراپنے اخلاص اورتقویٰ میں بے نظیر ہیں ، ان کی کوئی بات سنی نہیںجاتی۔ بغیر سوچے سمجھے دباؤ ڈالا جاتا اور ہر طرح اپنی حکومت جتائی جاتی ہے ۔ میں ایسے لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ فرمانبرداری کس جانور کا نام ہے ۔ تین دفعہ فیصلہ دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ نکاح نہ ہو مگر دوچار بے وقوف اوردو چار لونڈے سمال ٹاؤن کمیٹی کے دفتر میں نکاح پڑھ دیتے ہیں ۔ کیاقادیان کے نکاح اسی طرح ہوا کرتے ہیں؟ میں ان جو فروش گندم نما احمدی کہلانے والوںسے پوچھتا ہوں کہ وہ جو سزادیئے جانے پر پانچ پانچ صفحے کے مجھے خط لکھتے ہیں کہ کتنا ظلم اور اندھیر ہوگیا، کیا وہ خط ان کی فرمانبرداری اور اطاعت کی روح پر دلالت کرتے ہیں یااس بات پر کہ ان کے اندر اطاعت کی روح ہی نہیں ؟ وہ لوگ جنہوںنے براہِ راست نافرمانی کی انہوں نے تو ممکن ہے کسی معذوری کے ماتحت ایسا کیا ہو۔ ممکن ہے جس کے پاس لڑکی رہتی ہو، اس نے چاہا ہو کہ میں جلدی اس کے بوجھ سے فارغ ہو جاؤں ۔ اور ممکن ہے لڑکے نے یہ خیال کیا ہو کہ مجھے اور رشتہ تو ملتا نہیں چلواسی سے نکاح کرلوںبعد میں معافی مانگ لوںگا۔ مگر یہ خط لکھنے والے وہ ہیں جن کا اِس نکاح سے کوئی بھی واسطہ اور تعلق نہیں ۔ اور محض پرائے شگون میں ناک کٹاکر اپنے آپ کو جہنم میں گرارہے ہیں ۔ بظاہروہ خطوط میں اپنا اتقاء بھی ظاہر کرتے ہیں مگر ان کا اتقاء ایساہی ہے جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول ،بنوقینقاع اور بنو نضیر کے معاملہ میں ظاہر کرتا تھا۔ وہ بھی یہی کہتا تھا کہ رحم رحم مگر کیا قرآن نے اسے رحیم قرار دیا۔ قرآن مجید اسے رحیم نہیںبلکہ منافق قرار دیتاہے ۔ اگر نظامِ سلسلہ کو اس رنگ میں چلایا جائے اور اس قسم کے احمقوں کی بات کومان لیا جائے تو وہی بے لگامی احمدیت میںآجائے جواِس وقت دوسروںمیں ہے۔
    پس گو میں کئی دفعہ جماعت کے لوگوںکو توجہ دلا چکا ہوں کہ اگر انہوںنے بیعت کی ہے تو اس کے کوئی معنی ہونے چاہئیں ، کوئی قیمت ہونی چاہئے، چاہے دھیلہ اور دمڑی ہی کیوں نہ ہو۔ مگر اِس قسم کی بیعت کی کہ منہ سے بیعت کااقرار کیاجائے اور اطاعت کے معاملہ میں خلیفۂ وقت کی صریح نافرمانی کی جائے، ایک دَمڑی بھی قیمت نہیں ۔ مگر اب میں پھر توجہ دلاتاہوں کہ کمزور سے کمزور ایمان والوں کی بیعت کی بھی کچھ نہ کچھ قیمت ہوتی ہے ۔ چاہے وہ کوڑی ہی ہو لیکن اس قسم کی نامعقول حرکت کے بعد تو بیعت کی کوڑی بھر بھی قیمت نہںرہتی اور یہ اطاعت کا اقرار نہیں بلکہ دھوکا بازی اور فریب ہے جسے کوئی بھی دنیامیںوقعت دینے کے لئے تیارنہیں ہوسکتا ۔ انسانوںکے سامنے ایسا آدمی ممکن ہے متقی بن جائے اورحقیقت سے ناواقف انسان اسے دیکھ کر کہے کہ کیاہی متقی شخص ہے ۔ مگر خدا کے حضور وہ متقیوں کی فہرست میں نہیں ہوسکتا اور ایسا شخص جواِن حالات میںدوسرے پر رحم کرنے کی تلقین کرتا ہے اور اگر خود اسے کسی دفترکا چپڑاسی بھی بنا دیا جائے ، تو وہ ساری دنیاکی گردنیں کاٹنے لگ جائے اور کہے کہ چپڑاسی کی یہ لوگ کیوں بات نہیں مانتے۔ میںدیکھتا ہوں کہ اس قسم کے خطوط لکھنے والے اگر مدرّس ہیں تو چھوٹے چھوٹے طالب علموں کے متعلق ایسے ایسے بغض نکالتے ہیں کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے ۔ دکاندار ہیں تو وہ اپنے معاملات میںاتنے بغیض ہوتے ہیںکہ گویا خدا کی خدائی بھی انکی حکومت کے آگے ہیچ ہے ۔ مگر کوئی سلسلہ کے نظام کے خلاف بغاوت کرے تو اُس وقت یہ لوگ کود کر سب سے آگے آجائیںگے اور کہیںگے رحم کریں، رحم کریں۔ میں سمجھتا ہوں کبھی کوئی جماعت منافقوںسے خالی نہیںہوئی۔ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت منافق موجود تھے تو اب بھی ہونے چاہئیں ۔ مگر عموماً اس قسم کے لوگوں کاذکر نہیںکیا جاتا ۔ ہاںمومنوں کو بیدار کرنے کے لئے کبھی کبھی یہ باتیںبتائی جاتی ہیں۔ چونکہ ان کی باتیں سننے والا یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ جسے سزا دی گئی وہ ہمارا ایک بھائی ہے ، اس لئے وہ کہہ دیتا ہے کہ کتنا ظلم ہوگیا۔ حالانکہ منافق جب لوگوںسے باتیں کرتے ہیں تو انہیں یہ نہیں بتاتے کہ خلیفۂ وقت سے تین دفعہ پو چھا گیا اور تینوں دفعہ انکا رکے باوجود چند لفنگوںاور بدمعاشوں کواکٹھا کر کے نکاح پڑھوا دیاگیا۔ بلکہ وہ کہتے ہیں تو یہ کہ ہمیں یہ پتہ نہیں تھا کہ مسجد مبارک میں نکاح ہونا ضروری ہے اور اگر کسی اور جگہ نکاح پڑھوائیں گے تو ہمارا بائیکاٹ کر دیا جائے گا ۔ وہ تین دفعہ کے انکا رکا ذکر نہیںکرتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ سزا صرف اس لئے دی گئی ہے کہ کیوں یہ نکاح مسجد مبارک میںنہیں ہوا؟ یہ سننے والا جھٹ کہہ اُٹھتا ہے ، کتنابڑا ظلم ہے۔ شریعت میں یہ کہاں لکھا ہے کہ ہر نکاح مسجد مبارک میں ہی ہو یا کیا جماعت کے ذمہ دار افسر وں کی طرف سے اعلان ہوا ہے کہ نکاح ہمیشہ مسجد مبارک میں ہی پڑھے جایا کریں ۔ تب سننے والا کہتا ہے یہاں کے لوگ کتنے ظالم اور سیاہ دل ہوگئے کہ مسجد مبار ک میں نکاح نہیںہوا تو محض اس بنا ء پر بائیکاٹ کر دیاگیا۔ منافق کھا جائیںگے اِس بات کو کہ مجلس شوریٰ میں یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ قادیان کے نکاح اور باہرکے بھی ایک مقرر شدہ فارم کی خانہ پری اور اس کی تصدیق کے بعد پڑھے جائیںمگر ایسا نہیں کیاگیا۔ وہ اس بات کو بھی کھا جائیںگے کہ تین دفعہ خلیفۂ وقت سے پوچھا گیا، مگر اس کے انکار کے باوجود چند لونڈے جن میں سے چند اوباش اور چند بدمعاش تھے، انہیںاکٹھا کر کے سمال ٹاؤن کمیٹی کے دفتر میں نکاح پڑھ دیاگیا۔ سمال ٹاؤن کمیٹی کے دفتر میں آخر کیا برکت ہو سکتی تھی سوائے اس کے کہ اس نکاح کی پوشیدگی مدنظر تھی ۔ وہ ان تمام باتوں کو کھا جائیںگے اور صر ف یہ کہہ کر پروپیگنڈا کریں گے کہ دیکھئے کتنا ظلم ہوگیاہے ۔ صرف اتنے قصور پر کہ کیوں یہ نکاح مسجد مبارک میں نہیںہوا، ہمارا بائیکاٹ کیا جاتا ہے ۔ اور اس طرح ناواقفوں کو دھوکا دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بالکل ممکن تھا میرے حکم کو سننے میں انہیں کوئی غلط فہمی ہو گئی ہو ۔ گو میں نہیں سمجھ سکتا کہ تین دفعہ کے واضح انکا ر کے باوجود کس طرح کوئی غلط فہمی ہو سکتی ہے ۔ خصوصاً جبکہ ان کا اقرار ہے کہ انہیں کہا گیا کہ اس نکاح کی اجازت نہیں لیکن انہوں نے اس کے باوجود نکاح کر دیا۔ تاہم مان لیا جا سکتا تھا کہ انہیں غلط فہمی ہوئی مگر وہ جوکہا جاتا ہے کہ ’’خدامجھے نادان دوستوں سے بچائے ‘‘ ان کے منافق دوست ہیں جو اِس معاملہ کو بھیانک شکل دیتے چلے جارہے ہیں۔
    پس اس لئے اب انہیںجتنی بھی شدید سزا ملے ،اس کی ذمہ داری ان منافق پروپیگنڈا کرنے والوںپر ہے جو ان کی تائید میں لکھتے ہیں اور محض جھوٹ اور فریب سے کام لے کر لکھتے ہیں۔ اگر اس موقع پر رحم کیاجائے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے جو ذمہ داری مجھ پر عائد ہے اس سے میں عہدہ برآ نہیںہوسکتا ۔ خلیفۂ وقت کا کا م ہے کہ وہ ایک مضبوط چٹان کی طرح ہو۔ ایسی چٹان کہ دنیا بھر کے سمندر بھی مل کر اسے ہلا نہ سکیں ۔ اگر چند منافقوںسے میںڈر جاؤں اور ایسے موقع پر رحم کرنے پر آمادہ ہو جاؤں جبکہ رحم مناسب نہیں ،تو میں اپنی خلافت کی ذمہ داریوں میںکوتاہی کرنے والا ہوں گا۔ مجھے یہ چند منافق کیا اگر دنیا کی حکومتیں بھی مل کر ایک مقصد سے ہٹانا چاہیں تو نہیں ہٹا سکتیں اور اگر میں یاکوئی اور خلیفہ اِس لئے نرمی کرے کہ لوگ اسے مجبور کرتے ہیں تو یقینا وہ خدا کا قائم کردہ خلیفہ نہیں ہوسکتا۔ رحم ہمارا کام ہے لیکن دباؤ سے ماننا ہمارا کام نہیں ، بلکہ دباؤ کو کچلنا ہمارا کا م ہے ۔ یہ لوگ کیا ہیں ،شیطان کا ایک آلہ ہیں ۔ مگر خدا کے خلفاء شیطان پر غالب آیا کرتے ہیں، مغلوب نہیں ہوتے۔ اور ایک دن آتا ہے کہ شیطانی ہتھیاروں کو وہ توڑ کر رکھ دیتے ہیں۔
    ( خطبات محمود جلد۱۴ صفحہ ۱۴۴ تا ۱۴۸)
    ۱؎ الصارم المسلول علٰی شاتم الرسول صفحہ۳۹، ۴۰۔ابن تیمیہ طبقہ اولیٰ حیدر آباد دکن

    نئے سال کے لئے جماعت احمدیہ کا پروگرام
    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ۴؍ جنوری ۱۹۳۵ء کو نئے سال کے لئے جماعت احمدیہ کا پروگرام بیان فرمایا جس میں مختلف سکیموں کا ذکر کیا۔ عملی حصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔
    ’’ مجھے قتل کی دھمکیوں کے کئی خطوط ملے ہیں لیکن میں پھر بھی یہی کہوں گا کہ اَلْاِمَامُ جُنَّۃٌ یُقَاتَلُ مِنْ وَّرَائِہٖ۱؎۔ ہماری جماعت کے دوستوں کو چاہئے کہ اپنے جوشوں کو اپنے قابو میں رکھیں۔میں جانتا ہوں کہ وہ دُہرے طور پر جکڑے ہوئے ہیں۔ان پر ایک قانون کی گرفت ہے اور ایک ہماری، اور ہماری گرفت قانون کی گرفت سے بہت زیادہ سخت ہے۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس ناراضگی کے بعد جو ہمارے دلوںمیں پیدا کی جا رہی ہے، قانون کی گرفت کسی احمدی کے دل پر رہ سکتی ہے کیونکہ اشتعال اِس قدر سخت ہے کہ صبر ہاتھوں سے نکلا جا رہا ہے۔اگر احمدیت ہمیں نہ روکتی تو جس طرح سلسلہ کی بے حرمتی کی جا رہی ہے میں نہیں سمجھتا ایک منٹ کے لئے بھی قانون ہم میں سے کسی کو روک سکتالیکن بہر حال قانون چلتا ہے اور ہمارا مذہب ہمیں اس کی پابندی کرنے کا حکم دیتا ہے۔پس ایک طرف تو اس کی رُکاوٹ ہے دوسری طرف سے ہماری گرفت جماعت کے دوستوں پر ہے کہ وہ حتّٰی الوسع اپنے جذبات کو دبائے رکھیں اور ہماری گرفت ایسی سخت ہے کہ اس کے مقابل میں قانون کی گرفت کوئی چیز نہیں۔ اور ان حالات میں میں دیکھ رہا ہوں کہ ان کے دل خون ہو رہے ہیں،طبیعتیں بے چین ہیں،صحتوں پر بہت بُرا اثر پڑ رہا ہے اور انہیں موت سے زیادہ تلخ پیالہ پینا پڑ رہا ہے مگر میں پھر بھی یہی کہتا ہوں کہ میں ان کی تکالیف سے ناواقف نہیں ہوں ۔جس وقت تک کہ میں دیکھوں گا کہ ہم دونوں پہلو نبھا ہ سکتے ہیں ،میں ان کو صبر کی تلقین کرتا رہوںگامگر جب میں دیکھوںگا کہ ہمارے صبر کی کوئی قیمت نہیں،حاکم اسے کوئی وقعت نہیں دیتے بلکہ وہ اسے ہماری بزدلی پر محمول کرتے ہیں تو اس دن میں دوستوں سے کہہ دوں گا کہ میں ہر کوشش کر چکا لیکن تمہاری تکلیف کا علاج نہیں کر سکا اب تم جانو اور قانون۔ کیونکہ قانون صرف اپنی پابندی کا مجھ سے مطالبہ کرتا ہے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ میں اس کے حکم سے بھی زیادہ لوگوں کو روکے رکھوں۔ جیسا کہ میں اب کر رہا ہوںکہ جہاں قانون اجازت دیتا ہے وہاں بھی تمہارے ہاتھ باندھے رکھتا ہوں۔ قانون یہ تو حکم دے سکتا ہے کہ یہ کرو اور وہ نہ کرو مگر اپنے مذہب کو اس کی تائید میں استعمال کرنے کا مجھے پابند نہیں کر سکتا۔حقیقت یہ ہے کہ اِس وقت تک جو احمدی جوش میں آتے ہیں وہ قانون کے منشاء سے بھی بڑھ کر اپنے نفس پر قابو رکھتے ہیں اور اس کا باعث میری وہ تعلیم ہے جو میں اسلام کے منشاء کے مطابق انہیں دیتا ہوں۔جب میری آواز اُنہیں آتی ہے کہ رُک جاؤ تو وہ رُک جاتے ہیں۔جیسا کہ احرار کے جلسہ پر ہوا کہ میں نے انہیں کہا کہ خواہ کوئی مارے تم آگے سے جواب نہ دوحالانکہ قانون خود حفاظتی کی اجازت دیتا ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے گھروں میں احرار گُھس گئے۔خود میری کوٹھی میں وہ لوگ آتے رہے اور بعض دوستوں نے ان کی تصاویر بھی لیںلیکن کسی نے انہیں کچھ نہ کہاحالانکہ گھر میںگُھسنے والوں پر وہ قانوناً گرفت کر سکتے تھے لیکن آئندہ کے لئے میں یہ سوچ رہا ہوں کہ حالات ایسی صورت اختیار کر رہے ہیں کہ ممکن ہے کسی وقت مجھے یہ بھی کہنا پڑے کہ میں اب تمہیں اپنے قانونی حق کے استعمال سے نہیں روکتا۔تم اپنے حالات کو خود سوچ لو، میری طرف سے تم پر کوئی گرفت نہ ہو گی لیکن اُس وقت تک کہ میں کوئی ایسا اعلان کروں مجھے امید ہے کہ ہماری جماعت کے دوست اپنے جوشوں کو اسی طرح دبائے رکھیں گے جس طرح کہ اِس وقت تک دباتے چلے آئے ہیں۔اور اگرچہ حکومت کے متعلق ان کے دل کتنے ہی رنجیدہ کیوں نہ ہوں اور انہیں بہت بُری طرح مجروح کیا جا چکا ہو مگر پھر بھی وہ میری اطاعت سے باہر نہیں جاسکتے اور انہیں صبر سے کام لینا چاہئے ۔میں جانتا ہوں کہ اس قسم کے مواقع پر کسی قسم کا ڈر یا خوف یا تعزیر کا خیال انسان کو نہیں روک سکتا۔میں نے مولوی رحمت علی صاحب کا واقعہ کئی بار سنایا ہے۔جس وقت ان کے کان میں یہ آواز پڑی کہ نیّر صا حب مارے گئے ہیں اور بعض احمدی زخمی ہو گئے ہیں تو وہ پاگل ہو کر اس مکان کی طرف جا رہے تھے وہ جانتے تھے کہ ممکن ہے وہاں لڑائی ہو اور میں مارا جاؤں یا زخمی ہو جاؤں۔ یا ممکن ہے مقدمہ چلے اور باوجود دفاعی پہلو اختیار کرنے کے میری براء ت ثابت نہ ہو اور میں قید یا پھانسی کی سزا پاؤں مگر پھر بھی وہ تھر تھر کانپ رہے تھے کہ کیوں ہمیں روکا جا رہا ہے اور کوئی خیال انہیں آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتا تھا۔اُس وقت میری آواز تھی کہ اگر ایک قدم بھی آگے بڑھے تو جماعت سے نکال دوں گا ۔یہ لفظ تھے جنہوں نے اُن کو آگے بڑھنے سے روکاورنہ کوئی قانون اُس وقت تک نہ انہیں روکتا تھا اور نہ روک سکتا تھا ۔مگر کون سا قانون ہے جو مجھ سے یہ امید کرتا ہے کہ جب کسی کے بھائی بندوں پر یا اس پر دشمن حملہ آور ہو اور قانون اُسے خود حفاظتی کی اجازت دیتا ہو میں اسے اس حق کے استعمال سے روکوں ۔جہاں تک مجھے معلوم ہے ایسا کوئی قانون نہیںاور میں صرف سلسلہ کی نیک نامی اور حکومت کی خیرخواہی کے لئے یہ کام کر رہا ہوں مگر حکومت کا بھی تو فرض ہے کہ وہ اس قربانی کی قدر کرے وگرنہ ہمارے دل اس قدر زخمی ہیں کہ اگر دشمنوں کے حملوںکا جواب ہم سختی سے دیں تو کوئی قانون ایک لمحہ کے لئے بھی ہمیں گرفت نہیں کر سکتا کیونکہ مجرم وہ ہے جو پہلے گالی دیتا ہے اس وقت تک میں یہی سمجھتا ہوں کہ انسانی فطرت ایسی سیاہ نہیں ہو گئی کہ ملک کے لوگ زیادہ دیر تک اس گند کی اجازت دیں اور نہ حکومت کی ساری کی ساری مشینری خراب ہو چکی ہے بلکہ اس کا بیشتر حصہ ابھی اچھا ہے چند مقامی افسر اسے دھوکا دے رہے ہیں اور ان کی نیت یہ ہے کہ احمدیوں کو گورنمنٹ سے لڑا کر وہ کام کریں جو کانگرس نہیں کر سکی مگر میں ان لوگوں کو ناکام کرنے کے لئے انتہائی کوشش کروں گااور جماعت کا قدم وفاداری کی راہ سے ہٹنے نہ دوں گا۔پس جب تک میں یہ نہیں کہہ دیتا کہ میری سب تدابیر ختم ہو چکی ہیں اُس وقت تک ہماری جماعت کے احباب کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے نفوس کی قربانی کر کے اور دلوں کا خون کر کے بھی جوشوں کو دبائیں اور ایسی باتوں سے مجتنب رہیںجن سے میری گرفت ان پر ہو اور میں یہ کہہ سکوں کہ تم نے ایسا فعل کیا ہے جس کی سزا گوقانون نہ دیتا ہو مگر میں خود دینی چاہتا ہوں۔
    یاد رکھو کہ ہمارا سلسلہ کوئی ایک دو دن کا نہیں بلکہ یہ ایک لمبی چیز ہے۔ساری دنیا کی باگیں ایک دن ہمارے ہاتھ میں آنی ہیں اس لئے ہمارے مدّ نظر ہر وقت یہ بات ہونی چاہئے کہ ہمارا مقصود ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے۔ہمیں آدمیوں کا خیال نہیں کرنا چاہئے کہ ان میں سے کوئی زندہ رہتا ہے یا مرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق قتل کے منصوبے کئے گئے ،حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے زمانہ میں پیغامی آپ کو اِس قدر بدنام کرتے رہتے تھے کہ جس کے نتیجہ میں دلوں کے اندر اِس قدر شکوک پیدا ہو چکے تھے کہ آپ سے محبت رکھنے والے بعض لوگ یہ بھی پسند نہ کرتے تھے کہ ان میں سے کسی کی دی ہوئی دوائی آپ استعمال کریں۔اگرچہ میں آج بھی اِس قدر مخالفت کے باوجود اس بات کو غلط سمجھتا ہوں اور میں یہ امید بھی نہیں کر سکتاکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لانے والے اِس قدر گندے ہو سکتے تھے مگر میں دیکھتا تھا کہ ایسے لوگ موجود تھے جن کے دلوں میں یہ شکوک پائے جاتے تھے۔ اب یہ زمانہ ہے اور مجھے صراحتاً ہر سال کئی کئی بار قتل کی دھمکیاں دی جاتی ہیں اور زمیندار کے مضمون کی اشاعت کے بعد متواتر تین چٹھیاں ایسی موصول ہوئیں۔ایک ابھی ۳۱؍دسمبر کو ملی تھی کہ یکم جنوری کے روز تم کو قتل کر دیا جائے گا۔میں ان کے بیشتر حصہ کو دھمکی سمجھتا ہوںمگر ایک حصہ ایسا بھی ہوسکتا ہے جو سنجیدگی سے میرے متعلق ایسا ہی ارادہ رکھتا ہو لیکن جیسا کہ میں نے کہا ہے ہمارا سلسلہ انسانوں کا نہیں کہ یہ سمجھ لیا جائے کہ کسی شخص کی وفات کے بعد یہ ختم ہو جائے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں مخالف خیال کیا کرتے تھے کہ آپ کی زندگی کے ساتھ ہی یہ سلسلہ بھی ختم ہو جائے گا۔لیکن پھر حضرت خلیفہ اوّل کے زمانہ میں یہ کہا جانے لگا کہ مرزا صاحب تو جاہل تھے سارا کام مولوی صاحب ہی کرتے تھے ان کی آنکھیں بند ہونے کی دیر ہے تو بس یہ سلسلہ ختم۔پھر ان کی آنکھیں بند ہوئیںاور لوگوں نے خیال کیا کہ اصل کام انگریزی خوان لوگ کرتے تھے لیکن اﷲ تعالیٰ نے ان کو بھی نکال کر باہر کیا اور جماعت کی باگ ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دے دی جس کے متعلق پیغامی کہتے تھے کہ ہم خلافت کے دشمن نہیں ہیںبلکہ ہماری مخالفت کی بناء یہ ہے کہ اگر جماعت کی باگ ایک بچے کے ہاتھ میں آ گئی تو سلسلہ تباہ ہو جائے گا ۔مگر دیکھو کہ اس بچے کے ہاتھ سے اﷲ تعالیٰ نے جماعت کی گاڑی ایسی چلائی کہ وہ ترقی کر کے کہیں سے کہیں جا پہنچی اور اب اﷲ تعالیٰ کا ایسا فضل ہے کہ ان لوگوں کے وقت میں جتنے لوگ جلسہ سالانہ پر شامل ہوتے تھے اُس سے بہت زیادہ آج میرے جمعہ میں ہیں۔سوائے افغانستان کے باقی تمام بیرونی ممالک کی جماعتیں میرے ہی زمانہ میں قائم ہوئی ہیںاور یہ ساری باتیں بتاتی ہیں کہ یہ سلسلہ خدا کے ہاتھوں میں ہے اس لئے دشمن کی باتوں سے نہ گھبراؤ ۔وہ کسی کو مار بھی دیں تو بھی یہ سلسلہ ترقی کرے گا۔تمہیں چاہئے کہ تم اپنے اصول کو قائم رکھو،حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اپنے ایمان کو قائم رکھو اور آپ کی آمد کے مقصد کو یاد رکھو،خلافت کی اہمیت کو نہ بھولو اور اسے پکڑے رہوپھر تمہیں کوئی نہیں مٹا سکتا۔ڈر کی بات صرف یہ ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ اپنے اصول کو نہ بھول جائیںاور سلسلہ کی وجہ سے جو فوائد حاصل ہو رہے ہیں انہیں اپنی طرف منسوب نہ کر لیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام آئے اور آپ کی نبوت اور مأموریت سے آپ کی جماعت نے فائدہ اُٹھایامگر بعض انگریزی دانوں نے سمجھا کہ ترقی ہم سے ہو رہی ہے اس لئے اﷲ تعالیٰ نے ان کو الگ کر دیااور پھر بھی سلسلہ کو ترقی دے کر بتا دیا کہ اس سلسلہ کی ترقی کسی انسان سے وابستہ نہیں۔
    پس مجھے یہ ڈر نہیں کہ میرے بعد کیا ہو گا بلکہ ڈر یہ ہے کہ خلافت سے علیحدہ ہو کر تم لوگ نقصان نہ اُٹھاؤ۔کسی خلیفہ کی وفات سلسلہ کے لئے نقصان کا موجب نہیں ہو سکتی لیکن خلافت سے علیحدگی یقینا نقصان کا باعث ہے۔یہ بات میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ میں نے ایک رؤیا دیکھا ہے جس کے دونوں پہلو ہو سکتے ہیں،منذر بھی اور مبشر بھی۔ لیکن چونکہ باہر سے بھی قریباً ایک درجن خطوط آئے ہیںجن میں دوستوں نے لکھا ہے کہ ہم نے خواب میں دیکھا ہے کہ آپ کو قتل کر دیا گیا ہے اور اسی طرح دشمنوں کے ارادوں کے متعلق بھی دوست اطلاع دیتے رہتے ہیںاس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ دوستوں کو ہوشیار کر دوں کہ اصل چیز اصول ہیں۔اگر تم ان کو یاد رکھو گے تو کوئی تمہیں نہیں مٹا سکتا لیکن اگر اصول کو بھول جاؤ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام، حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل اور میں مل کر بھی تم کو نہیں بچا سکتے۔
    بعض دوستوں نے لکھا ہے کہ ہم نے دعائیں کیں تو معلوم ہوا کہ آپ کی عمر بیس سال بڑھ گئی ہے مگر اصل بات اﷲ تعالیٰ ہی جانتا ہے ۔ اگر چہ دعا سے مبرم تقدیریں بھی بدل جاتی ہیں مگر وثوق سے قبل از وقت کچھ نہیں کہا جا سکتا۔بہر حال اِس جلسہ پر بھی شبہ کیا جاتا تھا کہ دشمن شرارت کریں گے اور اس کے آثار بھی موجود تھے اس لئے ہمارے دوستوں نے کئی قِسم کی تدابیر اختیار کیںلیکن چوبیس یا پچیس دسمبر کی شب کو میں نے ایک رؤیا دیکھاکہ لوگ کہتے ہیں کہ جلسہ کے ایام میں مجھ پر حملہ کیا جائے گااور بعض کہتے ہیں کہ موت اِنہی دنوں میں ہے۔میں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ ہے جس سے میں یہ بات پوچھتا ہوں اُس نے کہا کہ میں نے تمہاری عمر کے متعلق لوحِ محفوظ دیکھی ہے آگے مجھے اچھی طرح یاد نہیں رہا کہ اس نے کہا میں بتانا نہیں چاہتا یا بھول گیا ہوں۔زیادہ تر یہی خیال ہے کہ اُس نے کہا میں بتانا نہیں چاہتا۔ لیکن جلسہ کی اور بعد کی دو ایک تاریخیں ملا کر اس نے کہا کہ ان دنوں میں یہ بات یقینا نہیں ہو گی۔ اُس دن سے میں نے تو بے پرواہی شروع کر دی اور اگرچہ دوست کئی ہدایتیں دیتے رہے کہ یوں کرنا چاہئے مگر میں نے کہا کوئی حرج نہیں۔
    چند دن ہوئے میں نے ایک اور رؤیا دیکھا ہے جس کا مجھ پر اثر ہے اور اس سے مجھے خیال آیا کہ جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاؤں کہ وہ ہمیشہ اصل مقصود کو مدّ نظر رکھیں ۔میں نے دیکھا کہ ایک پہاڑی کی چوٹی ہے جس پر جماعت کے کچھ لوگ ہیں میری ایک بیوی اور بعض بچے بھی ہیں۔وہاںجماعت کے سرکردہ لوگوںکی ایک جماعت ہے جو آپس میں کبڈی کھیلنے لگے ہیں جب وہ کھیلنے لگے تو کسی نے مجھے کہا یا یونہی علم ہوا کہ انہوں نے شرط یہ باندھی ہے کہ جو جیت جائے گا،خلافت کے متعلق اس کا خیال قائم کیا جائے گا۔میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس فقرہ کا مطلب یہ تھا کہ جیتنے والے جسے پیش کریں گے وہ خلیفہ ہو گا یا یہ کہ اگر وہ کہیں گے کہ کوئی خلیفہ نہ ہو تو کوئی بھی نہ ہو گا۔بہر حال جب میں نے یہ بات سنی تو میں ان لوگوں کی طرف گیا اور میں نے ان نشانوں کو جو کبڈی کھیلنے کے لئے بنائے جاتے ہیںمٹا دیا اور کہا کہ میری اجازت کے بغیر کون یہ طریق اختیار کر سکتا ہے یہ بالکل ناجائز ہے اور میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔اس پر کچھ لوگ مجھ سے بحث کرنے لگے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ اکثریت پہلے صرف ایک تلعّب کے طور پر یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ کون جیتتا ہے اور خلیفہ کا تعیّن کرتا ہے اور کم لوگ تھے جو خلافت کے ہی مخالف تھے مگر میرے دخل دینے پر جو لوگ پہلے خلافت کے مؤیّد تھے وہ بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے گویا میرے روکنے کو اُنہوں نے اپنی ہتک سمجھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ میرے ساتھ صرف تین چار آدمی رہ گئے اور دوسری طرف ڈیڑھ ، دوسَو۔اُس وقت میں یہ سمجھتا ہوں کہ گویا احمدیوں کی حکومت ہے اور میں اپنے ساتھیوں سے کہتا ہوں کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے خون ریزی کے ڈر سے بھی میں پیچھے قدم نہیں ہٹا سکتااس لئے آؤہم اُن پر حملہ کرتے ہیں ۔وہ مخلصین میرے ساتھ شامل ہوئے مجھے یاد نہیں کہ ہمارے پاس کوئی ہتھیار تھے یا نہیں مگر بہر حال ہم نے ان پر حملہ کیا اور فریق مخا لف کے کئی آدمی زخمی ہو گئے اور باقی بھاگ کر تہہ خانوں میں چھپ گئے ۔اب مجھے ڈر پیدا ہوا کہ یہ لوگ تو تہہ خانوں میں چُھپ گئے ہیں ہم ان کا تعاقب بھی نہیں کر سکتے ۔اور اگر یہاں کھڑے رہے تو یہ لوگ کسی وقت موقع پا کر ہم پر حملہ کر دیں گے اور چونکہ ہم تعداد میں بالکل تھوڑے ہیں ہمیں نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے اور اگر ہم یہاں سے جائیں تو یہ لوگ پُشت پر سے آ کر حملہ کر دیں گے۔پس میں حیران ہوں کہ اب ہم کیا کریں؟ میری ایک بیوی بھی ساتھ ہیں اگرچہ یہ یاد نہیں کہ کونسی اور ایک چھوٹا لڑکا انور احمد بھی یاد ہے کہ ساتھ ہے۔میرے ساتھی ایک زخمی کو پکڑ کر لائے ہیں جسے میں پہچانتا ہوںاور جو اِس وقت وفات یافتہ ہے اور بااثر لوگوں میں سے تھا۔میں اُسے کہتا ہوں کہ تم نے کیا یہ غلط طریق اختیار کیا اور اپنی عاقبت خراب کر لی مگر وہ ایسا زخمی ہے کہ مر رہا ہے۔مجھے یہ درد اور گھبراہٹ ہے کہ اس نے یہ طریق کیوں اختیار کیامگر جواب میںاُس کی زبان لڑکھڑائی اور وہ گر گیا۔ اتنے میں پہاڑی کے نیچے سے ایک شور کی آواز پیدا ہوئی اور ایسا معلوم ہوا کہ تکبیر کے نعرے بلند کئے جا رہے ہیں۔ میں نے کسی سے پوچھا کہ یہ کیا شور ہے؟تو اُس نے بتایا کہ یہ جماعت کے غرباء ہیں ان کو جب خبر ہوئی کہ آپ سے لڑائی ہو رہی ہے تووہ آپ کی مدد کے لئے آئے ہیں۔میں خیال کرتا ہوں کہ جماعت تو ہمیشہ غرباء سے ہی ترقی کیا کرتی ہے۔یہ خدا کا فضل ہے کہ غرباء میرے ساتھ ہیں مگر تھوڑی دیر بعد وہ تکبیر کے نعرے خاموش ہو گئے اور مجھے بتایا گیا کہ آنے والوں سے فریب کیا گیا ہے۔انہیں کسی نے ایسا اشارہ کر دیا ہے کہ گویا اب خطرہ نہیں اور وہ چلے گئے ہیں۔کوئی مجھے مشورہ دیتا ہے کہ ہمارے ساتھ بچے ہیں اس لئے ہم تیز نہیں چل سکیں گے آپ نیچے جائیں آپ کو دیکھ کر لوگ اکٹھے ہو جائیں گے اور آپ اِس قابل ہو نگے کہ ہماری مدد کر سکیں ۔ چنانچہ میں نیچے اُترتا ہوں اور غرباء میں سے مخلصین کی ایک جماعت کو دیکھتا ہوں اور ان سے کہتا ہوں کہ میں یہاں اس لئے آیا ہوں کہ تا مخلصین اکٹھے ہو جائیں۔تم اوپر جاؤ اور عورتوں اور بچوں کو با حفاظت لے آؤ۔اس پر وہ جاتے ہیں اتنے میں مَیں دیکھتا ہوں کہ پہلے مرد اُترتے ہیں اور پھر عورتیں لیکن میرا لڑکا انور احمد نہیں آیا۔پھر ایک شخص آیا اور میں نے اُس کو کہا کہ انور احمد کہاں ہے؟ اس نے کہا وہ بھی آ گیا ہے۔ پھر جماعت میں ایک بیداری اور جوش پیدا ہوتا ہے۔چاروں طرف سے لوگ آتے ہیں۔ان جمع ہونے والے لوگوں میں سے میں نے شہر سیالکوٹ کے کچھ لوگوں کو پہچانا ہے۔ان لوگوں کے ساتھ کچھ وہ لوگ بھی آ جاتے ہیں جو باغی تھے اور میں انہیں کہتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ نے تمہیں اتحاد کے ذریعہ طاقت دی تھی اگر تم ایسے فتنوں میں پڑے تو کمزور ہو کر ذلیل ہو جاؤ گے۔کچھ لوگ مجھ سے بحث کرتے ہیںمیں انہیں دلائل کی طرف لاتا ہوں اور یہ بھی کہتا ہوں کہ اس سے جماعت کاتو کچھ نہیں بگڑے گاالبتہ اس کے وقار کو جو صدمہ پہنچے گا اس کے لئے اﷲ تعالیٰ کے حضور تم ذمہ دار ہو گے۔اِس پر بعض لوگ کچھ نرم ہوتے ہیں لیکن دوسرے انہیں پھر ورغلا دیتے ہیںاور اسی بحث مباحثہ میں میری آنکھ کھل جاتی ہے۔
    اِس رؤیا کے کئی حصوں سے معلوم ہوتا ہے یہ واقعات میری وفات کے بعد کے ہیں وَاﷲُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ اور اس موقع پر اس رؤیا کا آنا شاید اس امر پر دلالت کرتا ہو کہ مجھے جماعت کو آئندہ کے لئے ہوشیار کر چھوڑنا چاہئے کیونکہ زندگی کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔اس رؤیا سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ میرے ساتھ تعلق رکھنے والے خواہ تھوڑے ہوں اپنے دشمنوں پر غالب آئیں گے۔اِنْشَائَ اﷲُ۔
    جب میں ابھی بچہ تھااور خلافت کا کوئی وہم وگمان نہ تھا۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں اُس وقت بھی اﷲ تعالیٰ نے مجھے خبر دی تھی۔اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔یعنی تیرے ماننے والے اپنے مخالفوں پر قیامت تک غالب رہیں گے۔اُس وقت میں یہی سمجھتا تھا کہ یہ الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق ہے کیونکہ میرے اتباع کا تو خیال بھی میرے ذہن میں نہ آ سکتا تھاکہ کبھی ہوں گے۔یہ عبارت قرآن کریم کی ایک آیت سے لی گئی ہے جو حضرت مسیح ناصریؑ کے متعلق ہے مگر آیت میں وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ ۲؎ہے اور میری زبان پر اِنَّ الَّذِیْنَ کے لفظ جاری کئے گئے۔غرضیکہ اﷲ تعالیٰ نے اس قدر عرصہ پہلے سے یہ خبر دے رکھی تھی اور کہا تھا کہ مجھے اپنی ذات کی قَسم ہے کہ تیرے متبع تیرے منکروں پر قیامت تک غالب رہیں گے۔اب اس کی ایک مثال تو موجود ہے۔کتنے شاندار وہ لوگ تھے جنہوں نے جماعت سے علیحدگی اختیار کی مگر دیکھو اﷲ تعالیٰ نے ان کو کس طرح مغلوب کیا ہے۔بعد کا میرا ایک اور رؤیا بھی ہے جو اس کی تائید کرتا ہے۔
    میں نے ایک دفعہ دیکھا کہ اﷲ تعالیٰ نور کے ستون کے طور پر زمین کے نیچے سے نکلا۔ یعنی پاتال سے آیا اور اوپر آسمانوں کو پھاڑ کر نکل گیا۔اگرچہ مثال بُری ہے لیکن ہندوؤں میں یہ عقیدہ ہے کہ شِو جی زمین کے نیچے سے آیا اور آسمانوں سے گزرتا ہوا اوپر چلا گیا۔یہ مثال اچھی نہیں مگر اس میںاسی قِسم کا نظارہ بتایا گیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ پاتال سے نکل کر افلاک سے بھی اوپر نکل گیا۔میں نے بھی دیکھا کہ ایک نور کا ستون پاتال سے آیا اور افلاک کو چیرتا ہوا چلا گیا۔میں کشف کی حالت میں سمجھتا ہوں کہ یہ خدا کا نور ہے۔پھر اس نور میں سے ایک ہاتھ نکلا لیکن مجھے ایسا شبہ پڑتا ہے کہ اس کے رنگ میں ایسی مشابہت تھی کہ گویا وہ گوشت کا ہے۔اس میں ایک پیالہ تھا جس میں دودھ تھا جو مجھے دیا گیااور میں نے اسے پیااور پیالے کو منہ سے ہٹاتے ہی پہلا فقرہ جو میرے منہ سے نکلا وہ یہ تھا کہ اب میری اُمت کبھی گمراہ نہ ہو گی۔معراج کی حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تین پیالے پیش کئے گئے۔پانی، شراب اور دودھ کا اور آپؐ نے دودھ کا پیالہ پیا تو جبرائیل نے کہا کہ آپ کی اُمت کبھی گمراہ نہ ہو گی۔ہاں اگر آپ ؐ شراب کا پیالہ پیتے تو یہ اُمت کی گمراہی پر دلالت کرتا۳؎۔
    پس ان رؤیاؤں سے معلوم ہوتاہے کہ ممکن ہے دشمن باہر سے مایوس ہو کر ہم میں سے بعض کو ورغلانا چاہے لیکن بہر حال فتح اُن کی ہے جو میرے ساتھ ہیں ۔ میں یقینی طور پر نہیں کہہ سکتا کہ یہ واقعات میری زندگی میں ہوں گے یا میرے بعدکیونکہ بعض اوقات زندگی کے بعد کے واقعات بھی رؤیا میں دکھا دیئے جاتے ہیں۔اور بظاہر ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ بعد کے واقعات ہیںمگر میں جماعت کو ہوشیار کرتا ہوں کہ یہ قیمتی اصول ہیں جن پر انہیں مضبوطی سے قائم رہنا چاہئے ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مأموریت اور آپ کے اُمتی ہونے کو کبھی نہ بھولو۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے سب سے بڑی لذّت اِس میں ملتی ہے کہ میں اُمتی نبی ہوں۔ پس جس خوبصورتی پر آپ کو ناز تھا ،اسے کبھی نہ چھوڑو۔پھر آپ کی تعلیم اورالہامات کو سامنے رکھو۔اس کے بعد خلافت ہے جس کے ساتھ جماعت کی ترقی وابستہ ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی تھی کہ جس دن مسلمانوں نے اِس چادر کو پھاڑ دیااُس کے بعد ان میں اتحاد نہیں ہو گا۔ حضرت عبد اﷲ بن سلام نے جو یہود سے مسلمان ہوئے تھے ،حضرت عثمان کی شہادت کے وقت کہا کہ اب مسلمانوں میں قیامت تک اتحاد نہیں ہو سکتا۴؎ پس خلافت بہت قیمتی چیز ہے۔بے شک خلیفہ کا وجود قیمتی ہوتا ہے مگر اس سے بہت زیادہ قیمتی چیز خلافت ہے۔ جس طرح نبی کا وجود قیمتی ہو تا ہے مگر اس سے زیادہ قیمتی چیز نبوت ہوتی ہے۔پس یہ اصول ہیں اُن کو مضبوطی سے پکڑو۔پھر یہ خیال نہ کرو کہ تم تھوڑے ہویا بہت کیونکہ ان اصولوں کے پیچھے خدا ہے اور جو تم پر ہاتھ ڈالے گا وہ گویا خدا پر ہاتھ ڈالنے والا ہو گا۔جس طرح بجلی کی تار پر غلط طریق پر ہاتھ ڈالنے والا ہلاک ہو جاتا ہے لیکن صحیح طور پر ہاتھ ڈالنے والا اس سے انجن چلاتا ہے اور بڑے بڑے فوائد حاصل کر لیتا ہے۔اسی طرح ان اصول کے اگر تم پابند رہو،اﷲ تعالیٰ پر توکّل رکھواور ہر قربانی کے لئے تیاررہو تو تم پر حملہ آور ہونیوالا ہلاکت سے نہیں بچ سکے گا۔‘‘ (خطباتِ محمود جلد۱۶ صفحہ ۱۱ تا ۱۹ )
    ۱؎ بخاری کتاب الجہاد باب یُقَاتَلُ مِنْ وَّرَائِ الْامَامِ (الخ)
    ۲؎ اٰل عمران: ۵۶
    ۳؎ بخاری کتاب مناقب الانصار باب المواج
    ۴؎ تاریخ ابن اثیر جلد۳ صفحہ۱۷۷،۱۷۸ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵ء

    ہر حا ل میںخلیفہ کی اطا عت فرض ہے
    (فرمودہ ۸؍ فروری ۱۹۳۵ء)
    تشہّد ،تعوّذ اور سورۃفاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔
    میں نے گزشتہ خطبہ جمعہ میں ایک انصاری صحابی کا ذکر کیا تھا کہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد بعض انصارکی تحریک تھی کہ انصار میں سے خلیفہ مقرر کیا جائے لیکن جب مہاجرین نے خصوصاً حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابہ کو بتایا کہ اس قسم کا انتخاب کبھی بھی ملتِ اسلامیہ کے لئے مفید نہیں ہو سکتا اور یہ کہ مسلمان کبھی اس انتخاب پر راضی نہیں ہونگے تو پھر انصار اورمہاجر اس بات پر جمع ہوئے کہ وہ کسی مہاجر کے ہاتھ پر بیعت کر لیں اور آخر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی ذات پر ان سب کا اتفاق ہوا ۔میں نے بتایا تھا کہ اُس وقت جب سعد نے بیعت سے تخلف کیا تو حضرت عمررضی اللہ عنہ نے کہا اُقْتُلُوْا سَعْدًا یعنی سعد کو قتل کر دو۔مگر نہ تو انہوں نے سعد کو قتل کیا اور نہ کسی اور صحابی نے بلکہ وہ حضرت عمر رضی ا للہ عنہ کی خلافت تک زندہ رہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں شام میں فوت ہوئے جس سے آئمہ سلف نے یہ استدلال کیا ہے کہ قتل کے معنی یہاں جسمانی قتل نہیں بلکہ قطع تعلق کے ہیں اور عربی زبان میں قتل کے کئی معنی ہوتے ہیں جیسا کہ میں پچھلے خطبہ میںبیان کر چکا ہوں۔ اُردو میں بے شک قتل کے معنی جسمانی قتل کے ہی ہوتے ہیں لیکن عربی زبان میں جب قتل کا لفظ استعمال کیا جائے تو وہ کئی معنوں میں استعمال ہو تا ہے جن میں سے ایک معنی قطع تعلق کے ہیں اور لغت والوں نے استدلال کیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مراد قتل سے قتل نہیں بلکہ قطع تعلق تھا ۔ورنہ اگر قتل سے مراد ظاہری طور پر قتل کر دینا تھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو بہت جوشیلے تھے اُنہیں خود کیوں نہ قتل کردیا۔ یا صحابہ میں سے کسی نے کیوں انہیں قتل نہ کیا مگر جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نہ صرف انہیں اُس وقت قتل نہ کیا بلکہ اپنی خلافت کے زمانہ میں بھی قتل نہ کیا ۔ اور بعض کے نزدیک تو وہ حضرت عمرؓ کی خلافت کے بعد بھی زندہ رہے اور کسی صحابی نے ان پر ہاتھ نہ اُٹھایا ۔تو بہرحال اِس سے ظاہر ہوتاہے کہ قتل سے مراد قطع تعلق ہی تھاظاہری طور پر قتل کرنا نہیں تھا ۔اور گو وہ صحابی عام صحابہ سے الگ رہے لیکن کسی نے ان پر ہاتھ نہ اُٹھایا۔پس میں نے مثال دی تھی کہ رؤیا میں بھی اگرکسی کے متعلق قتل ہونا دیکھا جائے تو اس کی تعبیر قطع تعلق اور بائیکاٹ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ رؤیا بھی بسا اوقات الفاظ کے ظاہری معنی پر مبنی ہوتی ہے ۔
    مجھ سے ایک دوست نے بیان کیا ہے کہ انہی تین افراد میں سے جن کا میں نے ایک گزشتہ خطبہ میںذکر کیا تھا ایک نے خطبہ کے بعد کہا کہ سعد نے گو بیعت نہیں کی تھی لیکن مشوروں میں انہیں ضرور شامل کیا جاتا تھا ۔اس کے دوہی معنی ہو سکتے ہیں یا تو میرے مفہوم کی تردید یا یہ کہ خلافت کی بیعت نہ کرنا کوئی اتنا بڑا جرم نہیں کیونکہ سعد نے گو بیعت نہیں کی تھی مگر مشوروں میں شامل ہوا کرتے تھے کسی شاعر نے کہا ہے ۔
    تا مرد سخن نگفتہ باشد
    عیب وہنرش نہفتہ باشد
    انسان کے عیب وہنر اُس کے بات کرنے تک پوشیدہ ہوتے ہیں جب انسان بات کر دیتا ہے توکئی دفعہ اپنے عیوب ظاہر کر دیتا ہے ۔اس شخص کا بات کرنا بھی یہ معنی رکھتا ہے کہ یا تو وہ خلافت کی بیعت کی تخفیف کرنا چاہتا ہے یا اپنے علم کا اظہار کرنا چاہتا ہے لیکن یہ دونوں باتیںغلط ہیں۔ علم کے اظہار کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ بات اتنی غلط ہے کہ ہر عقلمند اس کو سن کر سوائے مسکرادینے کے اور کچھ نہیں کر سکتا ۔
    صحابہ کے حالات کے متعلق اسلامی تاریخ میں تین کتابیں بہت مشہورہیں اور تمام تاریخ جو صحابہ سے متعلق ہے انہی کتابوں پر چکر کھاتی ہے ۔وہ کتابیں یہ ہیں تہذیب التہذیب، اصابہ اور اسدالغابہ۔ ان تینوں میں سے ہر ایک میں یہی لکھا ہے کہ سعد باقی صحابہ سے الگ ہو کر شام میں چلے گئے اور وہیں فوت ہوئے ۱؎ اور بعض لغت کی کتابوں نے بھی قتل کے لفظ پر بحث کرتے ہوئے اِس واقعہ کا ذکر کیا ہے ۔ بات یہ ہے کہ صحابہ میں سے ساٹھ ستّر کے نام سعد ہیں۔ انہی میں سے ایک سعد بن ابی وقاص بھی ہیں جو عشرہ مبشرہ میں سے تھے ۔حضرت عمرؓ کی طرف سے کمانڈراِنچیف مقررتھے اور تمام مشوروں میں شامل ہوا کرتے تھے۔ معلوم ہو تا ہے کہ اس شخص نے کمی ٔ علم سے سعد کا لفظ سن کر یہ نہ سمجھا کہ یہ سعد اور ہے اور وہ سعد اور۔ جَھٹ میرے خطبہ پر تبصرہ کر دیا ۔یہ میں نے سعد بن ابی وقاص کا ذکر نہ کیا تھا جو مہاجر تھے بلکہ میں نے جس کا ذکر کیا وہ انصاری تھے ۔ان دو کے علاوہ اور بھی بہت سے سعد ہیں بلکہ ساٹھ ستّرکے قریب سعد ہیں جس سعد کے متعلق میں نے ذکر کیا ان کا نام سعدبن عبادہ تھا۔
    عرب کے لوگوں میں نام دراصل بہت کم ہوتے تھے ۔اور عام طور پر ایک ایک گائوں میں ایک نام کے کئی کئی آدمی ہو اکرتے تھے جب کسی کا ذکر کرنا ہوتا تو اس کے باپ کے نام سے اس کا ذکر کرتے مثلاً ًصرف سعد یا سعید نہ کہتے بلکہ سعد بن عبادہ یا سعد بن ابی وقاص کہتے۔ پھرجہاں باپ کے نام سے شناخت نہ ہو سکتی وہاں اس کے مقام کا ذکر کرتے اور جہاں مقام کے ذکر سے بھی شناخت نہ ہو سکتی وہاں اس کے قبیلہ کا ذکر کرتے۔ چنانچہ ایک سعد کے متعلق تاریخوں میں بڑی بحث آئی ہے چونکہ نام ان کا دوسروں سے ملتاجلتا تھا اس لئے مؤرخین ان کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیںکہ مثلاً ہماری مراد اَوسی سعد سے ہے یا مثلاً خزرجی سعد سے ہے۔ان صاحب نے معلوم ہو تا ہے ناموں کے اختلاف کو نہیں سمجھا اور یونہی اعتراض کر دیا مگر ایسی باتیں انسانی علم کو بڑھا نے والی نہیں ہوتیں بلکہ جہالت کا پردہ فاش کرنے والی ہوتی ہیں۔خلافت ایک ایسی چیز ہے جس سے جُدائی کسی عزت کا مستحق انسان کو نہیںبناسکتی ۔اسی مسجد میں میں نے حضرت خلیفہ اوّل سے سنا آپ فرماتے تم کو معلوم ہے پہلے خلیفہ کادشمن کون تھا؟ پھر خودہی اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ قرآن پڑھو تمہیں معلوم ہو گا کہ اس کا دشمن ابلیس تھا اس کے بعد آپ نے فرمایا مَیں بھی خلیفہ ہوں اور جومیرا دشمن ہے وہ بھی ابلیس ہے۔
    اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خلیفہ مأمور نہیں ہوتا گویہ ضروری بھی نہیں کہ وہ مأمور نہ ہو۔ حضرت آ دم مأ مور بھی تھے اور خلیفہ بھی تھے۔حضرت دائودمأمور بھی تھے اور خلیفہ بھی تھے اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام مأمور بھی تھے اور خلیفہ بھی تھے پھر تمام انبیاء مأمور بھی ہوتے ہیں اور خدا کے قائم کردہ خلیفہ بھی ۔جس طرح ہر انسان ایک طور پر خلیفہ ہے اسی طرح انبیاء بھی خلیفہ ہوتے ہیں مگر ایک وہ خلفاء ہوتے ہیں جو کبھی مأمور نہیںہوتے ۔گو اطاعت کے لحاظ سے ان میں اور انبیاء میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ اطاعت جس طرح نبی کی ضروری ہوتی ہے ویسے ہی خلفاء کی ضروری ہو تی ہے ہاں ان دونوںاطاعتوں میں ایک امتیازاور فرق ہوتا ہے اور وہ یہ کہ نبی کی اطاعت اور فرمانبرداری اس وجہ سے کی جاتی ہے کہ وہ وحی الٰہی اور پاکیزگی کا مرکز ہوتا ہے مگر خلیفہ کی اطاعت اس لئے نہیں کی جاتی کہ وہ وحی الٰہی اور تمام پاکیزگی کا مرکز ہے بلکہ اس لئے کی جاتی ہے کہ وہ تنفیذ وحی الٰہی اور تمام نظام کا مرکز ہے۔ اسی لئے واقف اور اہلِ علم لوگ کہا کرتے ہیں کہ انبیاء کو عصمت ِکُبریٰ حاصل ہوتی ہے اور خلفاء کو عصمتِ صغریٰ۔اِسی مسجد میں اسی منبر پر جمعہ کے ہی دن حضرت خلیفہ اوّل سے میں نے سنا آپ فرماتے تھے کہ تم میرے کسی ذاتی فعل میں عیب نکال کر اِس اطاعت سے باہر نہیں ہو سکتے جو خدا نے تم پر عائد کی ہے کیونکہ جس کام کے لئے میں کھڑا ہوا ہوں وہ اور ہے اور وہ نظام کا اتحاد ہے اس لئے میری فرمانبرداری ضروری اور لازمی ہے ۔تو انبیاء کے متعلق جہاںالٰہی سنت یہ ہے کہ سوائے بشری کمزوریوں کے جس میں توحید اور رسالت میں فرق ظاہر کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ دخل نہیں دیتا اور اس لئے بھی کہ وہ اُمت کی تربیت کیلئے ضروری ہو تی ہیں (جیسے سجدہ سہو کہ وہ بھول کے نتیجہ میں ہوتا ہے مگر اس کی ایک غرض اُمت کو سہو کے احکام کی عملی تعلیم دینا تھی ) ان کے تمام اعمال خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہوتے ہیں وہاں خلفاء کے متعلق خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ انکے وہ تمام اعمال خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہونگے جو نظامِ سلسلہ کی ترقی کے لئے اُن سے سر زد ہونگے اور کبھی بھی وہ کوئی ایسی غلطی نہیں کریں گے اور اگر کریں تو اس پر قائم نہیں رہیں گے جو جماعت میں خرابی پیدا کرنے والی اوراسلام کی فتح کو اس کی شکست سے بدل دینے والی ہو ۔و ہ جو کام بھی نظام کی مضبوطی اور اسلام کے کمال کے لئے کریں گے خدا تعالیٰ کی حفاظت اس کے ساتھ ہو گی اور اگر وہ کبھی غلطی بھی کریں تو خدا اس کی اصلاح کا خود ذمہ دار ہو گا۔گویا نظام کے متعلق خلفاء کے اعمال کے ذمہ دار خلفاء نہیں بلکہ خدا ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خلفاء خود قائم کیا کرتا ہے۔ اس کایہ مطلب نہیں کہ وہ غلطی نہیں کر سکتے بلکہ مطلب یہ ہے کہ یا تو ان ہی کی زبان سے یا عمل سے خدا تعالیٰ اس غلطی کی اصلاح کرا دے گا یا اگر ان کی زبان یا عمل سے غلطی کی اصلاح نہ کرائے تو اس غلطی کے بدنتائج کو بدل ڈالے گا۔ اگر اللہ تعالیٰ کی حکمت چاہے کہ خلفاء کبھی کوئی ایسی بات کر بیٹھیں جس کے نتائج بظاہر مسلمانوں کیلئے مُضِرّ ہوں اور جسکی وجہ سے بظاہر جماعت کے متعلق خطرہ ہو کہ وہ بجائے ترقی کرنے کے تنزّل کی طرف جائے گی تو اللہ تعالیٰ نہایت مخفی سامانوںسے اس غلطی کے نتائج کو بدل دے گا اور جماعت بجائے تنزّل کے ترقی کی طرف قدم بڑھائے گی اور وہ مخفی حکمت بھی پوری ہو جائے گی جس کے لئے خلیفہ کے دل میں ذہول پیدا کیا گیا تھا۔مگر انبیاء کو یہ دونوں باتیں حاصل ہوتی ہیں۔ یعنی عصمت ِکبریٰ بھی اور عصمتِ صغریٰ بھی ۔وہ تنفیذ ونظام کا بھی مرکز ہوتے ہیں اور وحی وپاکیزگی ٔاعمال کا مرکز بھی ہوتے ہیں ۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر خلیفہ کے متعلق ضروری ہے کہ وہ پاکیزگی ٔاعمال کا مرکز نہ ہو۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ پاکیزگی ٔاعمال سے تعلق رکھنے والے بعض افعال میں وہ دوسرے اولیاء سے کم ہو۔
    پس جہاںایسے خلفاء ہو سکتے ہیں جو پاکیزگی اعمال کا مرکز ہوں اور نظامِ سلسلہ کا مرکز بھی ،وہاں ایسے خلفاء بھی ہو سکتے ہیں جو پاکیزگی اور ولایت میں دوسروں سے کم ہوں لیکن نظامی قابلیتوں کے لحاظ سے دوسروں سے بڑھے ہوئے ہوں۔مگر ہر حال میں ہر شخص کے لئے ان کی اطاعت فرض ہو گی چونکہ نظام کاایک حد تک جماعتی سیاست کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اس لئے خلفاء کے متعلق غالب پہلو یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ نظامی پہلو کو برتر رکھنے والے ہوں۔ گو ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ دین کے استحکام اور اس کے صحیح مفہوم کے قیام کو بھی وہ مد نظر رکھیں اس لئے خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں جہاں خلافت کا ذکر کیا وہاں بتایا ہے کہ ۲؎ خدا ان کے دین کو مضبوط کرے گا اور اسے دنیا پر غالب کریگا ۔پس جو دین خلفاء پیش کریں وہ خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہوتا ہے مگریہ حفاظتِ صغریٰ ہوتی ہے ۔جزئیات میں وہ غلطی کر سکتے ہیں اور خلفاء کا آپس میں اختلاف بھی ہوسکتا ہے مگر وہ نہایت ادنیٰ چیزیں ہوتی ہیں ۔ جیسے بعض مسائل کے متعلق حضرت ابوبکرؓاور حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنھما میں اختلاف رہا بلکہ آج تک بھی اُمتِ محمدیہ ان مسائل کے بارے میں ایک عقیدہ اختیار نہیں کر سکی مگر یہ اختلاف صرف جزئیات میں ہی ہو گااصولی امور میںان میں کبھی اختلاف نہیں ہو گا بلکہ اس کے بر عکس ان میں ایسا اتحاد ہو گا کہ وہ دنیا کے ہادی و راہنما اور اسے روشنی پہنچانے والے ہوں گے ۔
    پس یہ کہہ دیناکہ کوئی شخص باوجود بیعت نہ کرنے کے اسی مقام پررہ سکتا ہے جس مقام پربیعت کرنے والا ہو ۔در حقیقت یہ ظاہر کر تا ہے کہ ایسا شخص سمجھتا ہی نہیں کہ بیعت اور نظام کیا چیز ہے ۔مشورہ کے متعلق بھی یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ایک ایکسپرٹ اور ماہرِ فن خواہ وہ غیرمذہب کا ہو اس سے مشورہ لے لیا جاتا ہے ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مقدمہ میں ایک انگریز وکیل کیا مگر اس کا یہ مطلب نہ تھا کہ آپ نے اُمورِ نبوت میں اُس سے مشورہ لیا ۔جنگ احزاب ہوئی تو اُس وقت رسول کریم ﷺ نے سلمان فارسی ؓسے مشورہ لیا اور فرمایا کہ تمہارے ملک میں جنگ کے موقع پر کیا کیا جاتا ہے؟ انہوںنے بتایا کہ ہمارے ملک میں تو خندق کھودلی جاتی ہے ۔آپ نے فرمایا یہ بہت اچھی تجویز ہے چنانچہ خندق کھودی گئی۳؎ اور اسی لئے اسے غزوہ خندق بھی کہا جاتا ہے ۔مگر باوجود اس کے ہم نہیں کہہ سکتے کہ سلمان فارسی ؓ فنونِ جنگ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ماہر تھے۔ انہیں فنونِ جنگ میں مہارت کا وہ مقام کہاں حاصل تھا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھا ۔یا محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے جوکام کئے وہ کب حضرت سلمان ؓ نے کئے بلکہ خلفاء کے زمانہ میں بھی انہیں کسی فوج کا کمانڈراِنچیف نہیں بنایا گیا حالانکہ انہوں نے لمبی عمر پائی۔ تو ایک ایکسپرٹ خواہ وہ غیرمذہب کاہو اس سے بھی مشورہ لیا جا سکتاہے ۔میں جب بیمار ہو تا ہوں تو انگریز ڈاکٹروں سے بعض دفعہ مشورہ لے لیتا ہوں مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ خلافت میں مَیں نے ان سے مشورہ لیا ۔یا یہ کہ میں انہیں اسی مقام پر سمجھتا ہوں جس مقام پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کو سمجھتاہوں بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ میں نے طب میں مشورہ لیا۔ پس فرض کرو سعد بن عبادہ سے کسی دُنیوی امر میں جس میں وہ ماہرِ فن ہوں مشورہ لینا ثابت ہو تب بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ مشوروں میں شامل ہوتے تھے مگر ان کے متعلق تو کوئی صحیح روایت ایسی نہیں جس میں ذکر آتاہو کہ وہ مشوروں میں شامل ہوتے تھے بلکہ مجموعی طور پرروایات یہی بیان کرتی ہیں کہ وہ مدینہ چھوڑ کر شام کی طرف چلے گئے تھے اور صحابہ پر یہ اثر تھا کہ وہ اسلامی مرکز سے منقطع ہو چکے ہیں اِسی لئے ان کی وفات پر صحابہ کے متعلق آتاہے کہ انہوں نے کہا فرشتوں یا جنوں نے انہیں مار دیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کے نزدیک ان کی موت کو بھی اچھے رنگ میں نہیں سمجھا گیا کیونکہ یوں تو ہر ایک کو فرشتہ ہی مارا کرتاہے ۔ان کی وفات پر خاص طور پر کہنا کہ انہیں فرشتوں نے یا جنوں نے ماردیا بتاتا ہے کہ ان کے نزدیک وفات ایسے رنگ میں ہوئی کہ گویا خداتعالیٰ نے انہیں اپنے خاص فعل سے اُٹھالیا کہ وہ شِقاق کا موجب نہ ہوں ۔یہ تمام روایات بتلاتی ہیں کہ ان کی وہ عزت صحابہ کے دلوں میں نہیں رہی تھی جو ان کے اس مقام کے لحاظ سے ہونی چاہئے تھی جو کبھی انہیں حاصل تھا اور یہ کہ صحابہ ان سے خوش نہیں تھے ورنہ وہ کیونکر کہہ سکتے تھے کہ فرشتوں یا جنوں نے انہیں مار دیا بلکہ ان الفاظ سے بھی زیادہ سخت الفاظ ان کی وفات پر کہے گئے ہیں جنہیں میں اپنے منہ سے کہنا نہیں چاہتا۔ پس یہ خیال کہ خلافت کی بیعت کے بغیر بھی انسان اسلامی نظام میں اپنے مقام کو قائم رکھ سکتا ہے واقعات اور اسلامی تعلیم کے بالکل خلاف ہے اور جو شخص اس قسم کے خیالات اپنے دل میں رکھتاہے میں نہیں سمجھ سکتا کہ وہ بیعت کا مفہوم ذرّہ بھر بھی سمجھتا ہو ۔
    ( خطبات محمود جلد ۱۶ صفحہ ۹۰ تا ۱۰۱)
    ۱؎ اسد الغابۃ جلد۲ صفحہ۲۸۴،۲۸۵ مطبوعہ بیروت ۱۲۸۵ھ
    ۲؎ النور: ۵۶
    ۳؎ تاریخ طبری جلد۳ صفحہ۱۶۵۔ مطبوعہ بیروت ۱۹۸۷ء


    خلیفۂ وقت کی اطاعت
    خطبہ جمعہ ۲۴؍ جنوری ۱۹۳۶ء میں قرآن کریم کے ذوالبطون ہونے کا ذکرنے کے بعد خلیفۂ وقت کی اطاعت کا مضمون سمجھاتے ہوئے فرمایا:۔
    ’’ضرورت اِس بات کی ہے کہ جماعت محسوس کرے کہ خلیفۂ وقت جو کچھ کہتا ہے اُس پرعمل کرنا ضروری ہے۔ اگر تووہ سمجھتی ہے کہ خلیفہ نے جو کچھ کہا وہ غلط کہا اور اس کا نتیجہ اچھا نہیںنکل سکتا تو جو لوگ یہ سمجھتے ہوں ان کافرض ہے کہ وہ خلیفہ کو سمجھائیں اور اُس سے ادب کے ساتھ تبادلۂ خیالات کریں لیکن اگر یہ نہیں کرسکتے تو پھر ان کا فرض ہے کہ وہ اُسی طرح کام کریں جس طرح ہاتھ دماغ کی متابعت میں کام کرتا ہے۔ ہاتھ کبھی دماغ کو سمجھاتا بھی ہے کہ ایسا نہ کرو۔ مثلاً دماغ کہتا ہے فلاں جگہ مُکّا مارو۔ ہاتھ مُکّا مارتا ہے تو آگے وہ زِرہ کی سختی محسوس کرتا ہے اور ہاتھ کو درد ہوتا ہے۔ اِس پر ہاتھ دماغ سے کہتا ہے کہ اس جگہ مُکّا نہ مروائیں یہاں تکلیف ہوتی ہے اور دماغ اس کی بات مان لیتاہے۔ اِسی طرح جماعت میں سے ہر شخص کا حق ہے کہ اگر وہ خلیفۂ وقت سے کسی بات میں اختلاف رکھتا ہے تو وہ اُسے سمجھائے اور اگر اِس کے بعد بھی خلیفہ اپنے حکم یا اپنی تجویز کو واپس نہیں لیتا تو اس کا کام ہے کہ وہ فرمانبرداری کرے۔ اور یہ تو دینی معاملہ ہے دُنیوی معاملات میں بھی افسروں کی فرمانبرداری کے تاریخ میںایسے ایسے واقعات آتے ہیں کہ انہیں پڑھ کر طبیعت سرور سے بھر جاتی ہے۔
    بیلاکلاوا کی جنگ ایک نہایت مشہور جنگ ہے۔ اس میں انگریزوں کو روسی فوج کا مقابلہ کرنا پڑا۔ ایک دن جنگ کی حالت میں اطلاع ملی کہ روسی فوج کا ایک دستہ حملہ کیلئے آرہاہے اور اُس میں آٹھ نوسَو کے قریب آدمی ہیں۔ اِس اطلاع کے آنے پر انگریز کمانڈر نے ماتحت افسر کوحکم دیا کہ تم اپنی فوج کا ایک دستہ لے کر مقابلے کیلئے جائو ۔ اس افسر کو اطلاع مل چکی تھی کہ روسی دستہ آنے کی اطلاع غلط ہے اصل میں روسی فوج آرہی ہے جو ایک لاکھ کے قریب ہے۔ جب انگریز کمانڈر نے حکم دیا کہ ایک دستہ لے کر مقابلے کیلئے جائو تو اُس افسر نے کہا یہ خبر صحیح نہیں ایک لاکھ فوج آرہی ہے اور اُس کا مقابلہ ایک دستہ نہیں کرسکتا۔ انگریز کمانڈر نے کہا مجھے صحیح اطلاع ملی ہے تمہارا کام یہ ہے کہ اطاعت کرو۔ وہ سات آٹھ سَو کا دستہ لے کر مقابلہ کیلئے چل پڑا لیکن جب قریب پہنچا تو معلوم ہوا کہ حقیقت میں ایک لاکھ کے قریب دشمن کی فوج ہے۔ بعض ماتحتوں نے کہا کہ اِس موقع پر جنگ کرنا درست نہیں ہمیں واپس چلے جانا چاہئے مگر اُس افسر نے گھوڑے کو ایڑ لگا کر آگے بڑھایا اور کہا ماتحت کا کام اطاعت کرنا ہے اعتراض کرنا نہیں۔ باقیوں نے بھی گھوڑے بڑھادیئے اور سب ایک ایک کرکے اس جنگ میں مارے گئے۔ قوم آج تک اِس واقعہ پر فخر کرتی ہے اور کہتی ہے کہ اس کی قوم کے لوگوں نے اطاعت کا کیسا اعلیٰ نمونہ دکھایا اور گو یہ انگریز قوم کا واقعہ ہے مگر کون ہے جو اِس واقعہ کو سن کر خوشی محسوس نہیں کرتا۔ ایک جرمن بھی جب اِس واقعہ کو پڑھتا ہے تو وہ فخر محسوس کرتا اور کہتا ہے کاش! یہ نمونہ ہماری قوم دکھاتی، ایک فرانسیسی بھی جب یہ واقعہ پڑھتا ہے تو فخر محسوس کرتا اور کہتا ہے کاش!یہ نمونہ ہماری قوم دکھاتی، ایک روسی بھی جب یہ واقعہ پڑھتا ہے تو فخر محسوس کرتا اور کہتا ہے کاش! یہ نمونہ ہماری قوم دکھاتی۔ پس اطاعت اور افسر کی فرمانبرداری ایسی اعلیٰ چیز ہے کہ دشمن بھی اِس سے متأثر ہوئے بغیرنہیں رہ سکتا مگر بغیر مصائب میں پڑے اور تکلیفوں کوبرداشت کرنے کے یہ مقام حاصل نہیں ہوسکتا۔
    اسی طرح ایک اور موقع پر ایک تُرک جرنیل نے روسیوں سے لڑائی کی۔ تُرک جرنیل کو مشورہ دیاگیا کہ اپنے ہتھیار ڈال دو کیونکہ دشمن بہت زیادہ طاقتور ہے لیکن وہ اِس پر تیار نہ ہوا۔ آخر وہ قلعہ میں بند ہوگیا روسیوں نے مہینوں اُس کا محاصرہ رکھا اور کوئی کھانے پینے کی چیز باہر سے اندر نہ جانے دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب غذا کا ذخیرہ ختم ہوگیا تو اُس نے سواری کے گھوڑے ذبح کرکے کھانے شروع کردیئے مگر ہتھیار نہ ڈالے لیکن آخر وہ بھی ختم ہوگئے تو اُس نے بوٹوں کے چمڑے اور دوسری ایسی چیزیں اُبال اُبال کر سپاہیوں کو پلانی شروع کردیں مگر ہتھیار نہ ڈالے۔ آخر سب سامان ختم ہوگئے اور روسی فوج نے قلعہ کی دیواروں کوبھی توڑ دیا تو یہ بہادر سپاہی اطاعت قبول کرنے پرمجبور ہوئے۔ چونکہ یہ ایک عام قاعدہ ہے کہ مفتوح فاتح کے سامنے اپنی تلوار پیش کرتا ہے اسی قاعدہ کے مطابق جب اُس ترکی جرنیل نے روسی کمانڈر کے سامنے اپنی تلوار پیش کی تو روسی کمانڈر کی آنکھوں میںآنسو آگئے او روہ کہنے لگا مَیں ایسے بہادر جرنیل کی تلوار نہیں لے سکتا۔ تو اطاعت اور قربانی اور ایثار ایسی اعلیٰ چیزیں ہیں کہ دشمن کے دل میں بھی درد پیدا کردیتی اور اُس کی آنکھوں کو نیچا کردیتی ہیں۔
    انگریزی قوم سے جہاں اچھے واقعات ہوئے ہیں وہاں اس سے ایک بُرا واقعہ بھی ہوا مگر اس کے اندر بھی یہ سبق ہے کہ قربانی اور ایثار نہایت اعلیٰ چیزہے۔ جب نپولین کو انگریزوں کے مقابلہ میں شکست ہوئی اور اُس کے اپنے ملک میں بغاوت ہوگئی تو اس نے کہا میں اپنے آپ کو اب خود انگریزوں کے سپرد کردیتاہوں۔ انگریزوں سے ہی اس کی لڑائی تھی چنانچہ وہ اُسے پکڑ کر انگلستان لے گئے۔ جب پارلیمنٹ کے سامنے معاملہ پیش ہوا تو اُس نے کہا نپولین سے تلوار کیوں نہیں لی گئی؟ یہ تلوار لینے کا وہی طریق تھا جس کا میں پہلے ذکرکرچکاہوں کہ مفتوح جرنیل سے فاتح جرنیل تلوار لے لیا کرتا تھا۔ جب پارلیمنٹ نے یہ سوال اُٹھایا تو ایک انگریزلارڈ کو اِس غرض کیلئے مقرر کیا گیا کہ وہ جاکر نپولین سے تلوار لے آئے۔ جب اُس کے سپرد یہ کام کیا گیا تو وہ پارلیمنٹ میں کھڑا ہوگیا اور اُس نے کہا ایسے بہادر دشمن سے جس نے اپنے آپ کو خود ہمارے حوالے کردیا ہے تلوار لینا ہماری ذلّت ہے۔ مگر چونکہ اُس وقت انگریزوں میں بہت جوش تھا اور اُنہیںنپولین کے خلاف سخت غصہ تھا اِس لئے بہادری کے خیالات ان کے دلوں میں دبے ہوئے تھے انہوں نے کہا یہ نہیں ہوسکتا نپولین سے تلوار ضرور لی جائے گی۔پھر انہوں نے اُس لارڈ کے ساتھ ایک ایسے شخص کو کردیا جو ایسے اعلیٰ اخلاق کا مالک نہیں تھا جن اعلیٰ اخلاق کا وہ لارڈ مالک تھا اور کہا کہ نپولین سے ضرور تلوار لی جائے۔ جب وہ نپولین کے پاس پہنچے تو وہ لارڈ نہایت رقّت کے ساتھ نپولین سے کہنے لگا میری زبان نہیں چلتی اورمجھے شرم آتی ہے کہ میں آپ کو وہ پیغام پہنچائوں مگر چونکہ مجھے حکم ہے اِس لئے میں آپ سے کہتاہوں کہ آپ اپنی تلوار ہمارے حوالے کردیں ۔ نپولین نے یہ سن کر کہا کیا انگریز قوم جس کو میں اتنا بہادر سمجھتا تھا اپنے مفتوح دشمن سے اتنی معمولی رعایت بھی نہیں کرسکتی! یہ سن کر اُس لارڈ کی چیخ نکل گئی اور وہ پیچھے ہٹ گیا مگر اس کے نائب نے آگے بڑھ کر اُس کی تلوار لے لی۔ تو بہادری اورجرأت کے واقعات غیر کے دل پربھی اثرکرجاتے ہیں۔
    اگرہمارے کارکن بھی وہ اطاعت، قربانی اور ایثار پیدا کریں جن کا حقیقی جرأت تقاضا کرتی ہے تو دیکھنے والوں کے دل پر جماعت احمدیہ کا بہت بڑا رُعب پڑے گا اور ہر شخص یہی سمجھے کہ یہ جماعت دنیا کو کھاجائے گی۔ اور اگر یہ نہ ہو بلکہ میں خطبے کہتا چلاجائوں لوگ کچھ اَور ہی کرتے جائیں، مبلّغین کسی اور رستے پر چلتے رہیں، ناظر اپنے خیالوں اور اپنی تجویزوں کو عملی جامہ پہنانے کی فکرمیں رہیں، اسی طرح کارکن، سیکرٹری، پریذیڈنٹ، اُستاد، ہیڈماسٹر سب اپنے اپنے راگ الاپتے رہیں اور بندھے ہوئے جانور کی طرح اپنے کیلے کے گِرد باربار پھرتے رہیں تو بتائو کیا اس طرح ترقی ہوسکتی ہے؟
    خلافت کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اُس وقت سب سکیموں، سب تجویزوں اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیاجائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی سکیم، وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفۂ وقت کی طرف سے حکم ملا ہے۔ جب تک یہ روح جماعت میں پیدا نہ ہو اُس وقت تک سب خطبات رائیگاں،تمام سکیمیں باطل اور تمام تدبیریں ناکام ہیں۔میں آج تک جس قدر خطبات دے چکاہوں اُنہیں نکال کر ناظر دیکھ لیں کہ آیا وہ ان پر عمل نہ کرنے کے لحاظ سے مجرم ہیں یا نہیں؟ اِسی طرح محلوں کے پریذیڈنٹ ان خطبات کو سامنے رکھ کر دیکھیں کہ آیا وہ مجرم ہیں یا نہیں؟ ۱۴ ماہ اِس تحریک کوہوگئے مگر کیا ناظروں،محلہ کے پریذیڈنٹوں اور دوسرے کارکنوں نے ذرا بھی اُس روح سے کام لیا جو میں ان کے اندر پیدا کرنا چاہتا تھا۔ اگر وہ میرے ساتھ تعاون کرتے تو پچھلے سال ہی اتنا عظیم الشان تغیر ہوجاتا کہ جماعت کی حالت بدل جاتی اور دشمن مرعوب ہوجاتا مگر چونکہ وہ اس رنگ میں رنگین نہیں ہوئے جس رنگ میں مَیں اُنہیں رنگین کرنا چاہتا تھا اس لئے عملی طور پر انہوںنے وہ نمونہ نہیں دکھایا جو انہیں دکھانا چاہئے تھا۔ ان کی مثال بدر کے ان گھوڑوں کی سی نہیں جن کے متعلق ایک کافر نے کہا تھا کہ ان گھوڑوں پر آدمی نہیں موتیں سوار ہیں ۱؎ ۔ بلکہ ان کی مثال حنین کے ان گھوڑوں کی سی ہے جنہیں سوار میدانِ جنگ کی طرف موڑتے مگر وہ مکہ کی طرف بھاگتے تھے۲؎
    پس میں بیکاری کو دور کرنے کی طرف پھر جماعت کو توجہ دلاتا ہوں اور تمام کارکنوں کو خواہ وہ ناظر ہوں یا افسر، کلرک ہوں یا چپڑاسی، پریذیڈنٹ ہوں یا سیکرٹری توجہ دلاتا ہوں کہ اِس روح کو اپنے اندر پیدا کرو۔ کیا فائدہ اِس بات کا کہ تم نے چار سَو یا تین سَو یا دو سَو یا ایک سَو ،یا ساٹھ یا پچاس روپیہ چندہ میں دے دیا، اگر تمہارے اندر وہ روح پیدا نہیں ہوئی جو ترقی کرنے والی قوموں کیلئے ضروری ہوتی ہے ۔ ہم اگر پچاس روپے کابیج خریدتے ہیں جسے گھن لگا ہوا ہے تو وہ سب ضائع ہے لیکن اگر ہم ایک روپیہ کا بیج خریدتے ہیں اور وہ تازہ اور عمدہ ہے تو وہ پچاس روپوں کے بیج سے اچھا ہے۔ اسی طرح صرف روپیہ کوئی فائدہ نہیں دے سکتا جب تک وہ ایثار، وہ قربانی، وہ تعاون اور وہ محبت و اخوت کی روح پیدا نہیں ہوتی جو جماعت کو ’’یکجان و دو قالب‘‘ بنادیتی ہے۔
    اگر خلافت کے کوئی معنی ہیں تو پھر خلیفہ ہی ایک ایسا وجود ہے جو ساری جماعت میں ہونا چاہئے او راُس کے منہ سے جو لفظ نکلے وہی ساری جماعت کے خیالات اور اَفکار پرحاوی ہونا چاہئے، وہی اوڑھنا، وہی بچھونا ہونا چاہئے ، وہی تمہارا ناک، کان، آنکھ اور زبان ہونا چاہئے۔ ہاں تمہیںحق ہے کہ اگر کسی بات میں تم خلیفۂ وقت سے اختلاف رکھتے ہو تو اسے پیش کرو۔ پھر اگر خلیفہ تمہاری بات مان لے تو وہ اپنی تجویز واپس لے لے گا اور اگر نہ مانے تو پھر تمہارا فرض ہے کہ اُس کی کامل اطاعت کرو ویسی ہی اطاعت جیسے دماغ کی اطاعت اُنگلیاں کرتی ہیں۔ دماغ کہتا ہے فلاں چیز کو پکڑو اور اُنگلیاں جھٹ اُسے پکڑ لیتی ہیں۔ لیکن اگر دماغ کہے اور اُنگلیاں نہ پکڑیں تو پھر ماننا پڑے گا کہ ہاتھ مفلوج اور اُنگلیاں رعشہ زدہ ہیں کیونکہ رعشہ کے مریض کی یہ حالت ہوا کرتی ہے کہ وہ چاہتا ہے ایک چیز کو پکڑے مگر اس کی اُنگلیاں اسے نہیں پکڑسکتیں۔ پس خلیفہ ایک حکم دیتا ہے مگر لوگ اُس کی تعمیل نہیں کرتے تو اِس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ رعشہ زدہ وجود ہیں۔ لیکن کیا رعشہ والے وجود بھی دنیا میں کوئی کام کیا کرتے ہیں؟‘‘
    (خطبات محمود جلد ۱۷ صفحہ۷۱تا ۷۶)
    ۱؎ سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحہ۲۷۴ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء
    ۲؎ سیرت ابن ہشام جلد۴ صفحہ۸۷ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

    اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَکی تفسیر
    ۱۹؍ جون ۱۹۳۶ء کو خطبہ جمعہ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔
    ’’میںنے متواتر بتایا ہے کہ ہر چیز اپنے ماحول کے ساتھ ہی ترقی کرسکتی ہے بغیر اس کے نہیں۔ تم اچھے سے اچھاگیہوں کا بیج اگر جیٹھ یاہاڑ میں بودو تو اس سے کھیتی پید انہیں ہوگی، تم عمدہ سے عمدہ کپاس کا بیج اگر اگست اورستمبر میں بودو تو اس بیج سے کپاس کی فصل نہیں ہوگی، یا بہتر سے بہتر گنّا اگر تم اپریل یا مئی میں بودو تو اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا کیونکہ ہرچیز کیلئے خداتعالیٰ نے کچھ قانون مقرر فرمائے ہیں اور ان کے ماتحت ہی نتیجہ نکلا کرتا ہے۔ میں نے ہمیشہ بتایا ہے اور اب دو سال سے تو متواتر بتاتا چلا آرہا ہوں کہ خلافت کی غرض و غایت کچھ نہ کچھ ضرور ہونی چاہئے اور جب کوئی شخص خلیفہ کی بیعت کرتاہے تو اس کی بیعت کے بھی کوئی معنے ہونے چاہئیں۔ اگر تم بیعت کے بعد اورمیرے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دینے کے بعد میری سنتے ہی نہیں اور اپنی ہی کہے چلے جاتے ہو تو ایسی بیعت کافائدہ ہی کیا؟ اس صورت میں تو ایسی بیعت کو تہہ کرکے الگ پھینک دینا زیادہ فائدہ مند ہے بہ نسبت اس کے کہ انسان دنیامیں بھی ذلیل ہو او رخداتعالیٰ کی نظر میں بھی *** بنے۔
    میںنے متواتر آپ لوگوں کو بتایا ہے کہ ہر کام جو آپ لوگ کریں عقل کے ماتحت کریں اور ان ہدایات کے ماتحت کریں جو میں آپ لوگوں کو دیتا آرہا ہوں۔آپ لوگ اس بات کو سمجھیں یا نہ سمجھیں، اسی طرح دنیااس بات کو سمجھے یانہ سمجھے مگر امرِ واقعہ یہ ہے کہ اِس وقت اسلا م کی ترقی خداتعالیٰ نے میرے ساتھ وابستہ کردی ہے جیسا کہ ہمیشہ وہ اپنے دین کی ترقی خلفاء کے ساتھ وابستہ کیا کرتا ہے۔ پس جومیری سُنے گا وہ جیتے گا اور جو میری نہیں سُنے گا وہ ہارے گا، جومیرے پیچھے چلے گا خداتعالیٰ کی رحمت کے دروازے اُس پر کھولے جائیں گے اور جو میرے راستہ سے الگ ہوجائے گا خداتعالیٰ کی رحمت کے دروازے اُس پربند کردیئے جائیں گے۔ ایسا انسان جس کی آنکھوںکے سامنے نمونہ نہ ہو وہ معذور ہوتا ہے مگر جس شخص کے سامنے نمونہ ہو اُس کا باوجود نمونہ سامنے ہونے کے صداقت پر مضبوطی سے قائم نہ رہنا بہت بڑا جرم ہوتا ہے۔
    خداتعالیٰ نے خلافت کی باگ میرے ہاتھ میں اُس وقت دی جب ہمارے خزانے میں صرف چند آنے کے پیسے تھے غالباً اٹھارہ آنے تھے جو اُس وقت خزانہ میںموجود تھے۔ پھر پندرہ بیس ہزار روپیہ قرض تھا اور جماعت کا اٹھانوے فیصدی حصہ دشمنوں کے ساتھ ملا ہوا تھا تب اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ اور میرے ہاتھوں سے تمام جماعت کو اکٹھا کیا ، اس کی مالی پریشانیوں کودور کیا اور جماعت آگے سے بھی زیادہ مضبوطی کے ساتھ چلنے لگی۔ پھر مسائل کی بحث شروع ہوئی اگر اہل پیغام اِس جنگ میں جیتتے تو کیا نتیجہ نکلتا۔ احمدیت بالکل مٹ جاتی اور روحانی دنیا پر ایک موت آجاتی مگر کیا ا س جنگ کے ہرحصہ میں اللہ تعالیٰ نے مجھے فتح نہیں دی؟ کیا ۱؎کا نظارہ اس نے نہیں دکھایا؟ پھر تبلیغ دین اور اشاعتِ احمدیت کی جنگ میں اس نے میری پالیسی کوکامیاب نہیں کیا؟ سلسلہ کے نظام کے بارہ میں میری سکیم کو غیرمعمولی برکت نہیں بخشی؟ حتّٰی کہ دشمن بھی اس پر رشک کرتے ہیں اور اس کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھرنیم سیاسی امور میں ہماری شرکت کے سوال کو لوکیا اس میدان میں اس نے میری باتوں کو درست ثابت نہیں کیا؟ جب جنگ عظیم کے بعد ادھر خلافت کی شورش پید اہوئی ادھر کانگرس کی شورش نے ملک میں ایک آگ لگادی تو یہ ایک بہت بڑا ابتلاء تھا اور ہندوستان کے عقلمند سے عقلمند انسان بھی اس شورش میں بہہ گئے تھے اُس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے جو راستہ مجھے بتایا وہی ٹھیک اوردرست نکلا اور آخر لوگ پچھتا کراسی جگہ پر واپس آگئے جس جگہ میں لانا چاہتا تھا۔ پھر ملکانوں میں تبلیغ کا زمانہ آیا خلافت کے فساد کے بعد نئے رنگ میں خلافت کے مٹنے کا جوش پیدا ہوا ، عرب میں اختلافات کاسلسلہ شروع ہوا ، ان میں سے ہرمعاملہ میں خداتعالیٰ نے میری رائے کو صحیح ثابت کیا اور دوسروں کی رائے غلط ثابت ہوئی۔ ایک وہ وقت تھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے زمانہ میں پیغامیوں کے اس کہنے پرکہ ایک بچہ کے ذریعہ جماعت کو تباہ کیا جارہا ہے، مسجد میں بیٹھے ہوئے احمدی گریہ وبُکا کررہے تھے اور رورہے تھے کہ واقعہ میں جماعت کو ایک بچہ کے ذریعہ تباہ کیا جارہا ہے مگر آج وہی بچہ ہے جس کے سامنے وہی لوگ اس کی بیعت میں داخل ہوکر بیٹھے ہوئے ہیں کیا یہ سب کچھ نشان اورمعجزہ نہیں؟
    پس اگر خلافت کے کوئی معنی ہیں تو آپ لوگوں کو وہی طریق اختیار کرنا چاہئے جو میں بتاتا ہوں ورنہ بیعت چھوڑ دینابیعت میں رہ کر اطاعت نہ کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔ وہ طریق جو میں نے متواتر بتایا ہے یہ ہے کہ ہمارے سامنے نہایت ہی اہم معاملات ہیں۔ آج تک ہمارے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت پر ایک عدالت نے جو حملہ کیا تھا وہ بغیربدلہ لئے قائم ہے۔ میں ہر اُس احمدی سے جوسمجھتا ہے کہ وہ غیرت مند ہے کہتا ہوں اگر اس کی غیرت کسی اورجگہ ظاہر ہوتی ہے تو وہ سخت بے غیرت ہے۔ اگر وہ واقعہ میں غیرت مند ہے تو کیوں اس کی غیرت اس جگہ ظاہر نہیں ہوتی جہاںحضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت پر حملہ کیا جاتا ہے۔ ابھی تک نہ اس فیصلہ کی تردید ہندوستان میں پھیلائی گئی ہے نہ ہائی کورٹ کا فیصلہ ہی کثرت سے لوگوں میں پھیلایا گیا ہے اور نہ اس کے ازالہ کیلئے گورنمنٹ کو مجبور کیا گیا ہے۔ آجکل تو میں نے طریق ہی یہ اختیار کیا ہوا ہے کہ جب کوئی احمدی مجھے اِس قسم کا خط لکھتا ہے کہ فلاں احمدی نے میرے ساتھ یہ معاملہ کیا تھا جس پرمجھے بڑاجوش آیا مگر میںنے پہلے آپ کو خبر دینا مناسب سمجھا تو میں اُسے لکھا کرتا ہوں میں یہ ماننے کیلئے ہرگز تیار نہیں کہ تم باغیرت ہو۔ تم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت کی حفاظت کیلئے غیرت نہیں دکھائی تو میںیہ کس طرح مان سکتا ہوں کہ تم میں اِس وقت غیرت پیدا ہوسکتی ہے جب تمہاری ذات پرکوئی حملہ کرے۔‘‘
    ( خطبات محمود جلد ۱۷ صفحہ ۳۹۶ تا ۳۹۸)
    ۱؎ النور: ۵۶

    سلسلہ احمدیہ میں نظامِ خلافت خداتعالیٰ کا قائم کردہ ہے
    تئیس سالہ واقعات کی شہادت
    (فرمودہ ۲۶ ؍ مارچ ۱۹۳۷ء )
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    آج سے ۲۳ سال قبل اِس مقام پر اِسی مسجد میں ہمارے سامنے ایک ایسا سوال پیش ہوا تھا جو ہماری جماعت کیلئے زندگی اور موت کا سوال تھا۔ تاریخ آج کی نہ تھی لیکن مہینہ یہی تھا جبکہ جماعت کے مختلف نمائندوں اوراحباب کے سامنے یہ سوال اُٹھایا گیا تھا کہ آیا ہماری جماعت کا نظام اسلامی طریق کے مطابق خلافت کے ماتحت ہوگا یا مغربی طریق پر ایک انجمن کے ماتحت۔
    میری عمر اُس وقت پچیس سال دو ماہ تھی۔ دُنیوی تجربہ کے لحاظ سے میں کوئی کام ایسا پیش نہیں کرسکتا تھااور نہیں کرسکتا کہ جس کی بناء پر یہ کہا جاسکے کہ مجھے دنیا کے کاموں کا کوئی تجربہ حاصل تھا۔ سلسلہ کے تمام کام ایک ایسی جماعت کے سپرد تھے جو اُس وقت نظامِ خلافت کی شدید مخالف تھی اور اس کا دعویٰ تھا کہ نظامِ جماعت ایک انجمن کے ماتحت چاہئے جس کے پریذیڈنٹ کو کسی قدر اختیارات تو دے دیئے جائیں لیکن وہ کثرتِ رائے کاپابند ہو اور خلافت کا نظام چونکہ اس زمانہ کے طریق اور اس زمانہ کی رَو کے خلاف ہے اور اس نظام میں بہت سے نقائص ہیں اس لئے اسے اختیار نہیں کرنا چاہئے۔ حضرت خلیفہ اوّل کی بیعت ایک پریشانی ، گھبراہٹ اور صدمہ کے ماتحت ہوئی تھی اور ضروری نہیں کہ جماعت پھر اسی غلطی کا اعادہ کرے۔اس کے برخلاف میں اور بعض میرے احباب اس بات پر قائم تھے کہ خلافت شریعتِ اسلامیہ کا ایک اہم مسئلہ ہے اور یہ کہ بغیر خلافت کے صحیح طریق کے اختیار کرنے کے جماعت اور سلسلہ کو کوئی ترقی حاصل نہیں ہوسکتی۔ ہمارے متعلق کہاجاتا تھا کہ ہم لوگ صرف خلافت کے حصول کیلئے اس مسئلہ کو پیش کررہے تھے اور اپنی حکومت اور طاقت کے بڑھانے کا ذریعہ اسے بنارہے تھے۔ جب میں نے دیکھاکہ اس تائید کو ایک غلط رنگ دیا جاتا ہے اور غلط پیرایہ میں اسے پیش کیا جاتا ہے تو میں نے سمجھا کہ خدا تعالی ٰکے فیصلہ کوکسی ایسے امر سے نقصان نہیں پہنچنا چاہئے جس کا ازالہ ہمارے امکان میں ہو اور اس لئے میں نے مولوی محمد علی صاحب کو جو اُس وقت اِس تحریک کے لیڈر تھے اِس غرض سے بلوایا تا ان کے ساتھ کوئی مناسب گفتگوکی جاسکے۔ اِس مسجد کے دائیں جانب نواب محمد علی خان صاحب کامکان ہے جہاں حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نے وفات پائی تھی اس کے ایک کمرہ میں مَیں نے مولوی محمد علی صاحب کو بلوا کر کہا کہ خلافت کے متعلق کوئی جھگڑا پیش نہ کریں اوراپنے خیالات کو صرف اِس حدتک محدود رکھیں کہ ایسا خلیفہ منتخب ہو جس کے ہاتھ میں جماعت کے مفاد محفوظ ہوں اور جو اسلام کی ترقی کی کوشش کرسکے۔ چونکہ صلح ایسے ہی امور میں ممکن ہوتی ہے جن میں قربانی ممکن ہو۔ میں نے مولوی صاحب سے کہا جہاں تک ذاتیات کا سوال ہے میں اپنے جذبات کو آ پ کی خاطر قربان کرسکتا ہوں لیکن اگر اصول کا سوال آیا تو مجبوری ہوگی کیونکہ اصول کا ترک کرنا کسی صورت میں بھی جائز نہیں۔ ہمارے اور آپ کے درمیان یہی فرق ہے کہ ہم خلافت کو ایک مذہبی مسئلہ سمجھتے ہیں اور خلافت کے وجود کو ضروری قرار دیتے ہیں مگر آپ خلافت کے وجود کو ناجائز قرار نہیں دے سکتے کیونکہ ابھی ابھی ایک خلیفہ کی بیعت سے آپ کو آزادی ملی ہے اور چھ سال تک آپ نے بیعت کئے رکھی ہے اور جو چیز چھ سال تک جائز تھی وہ آئندہ بھی حرام نہیں ہوسکتی۔ آپ کی اور ہماری پوزیشن میں یہ ایک فرق ہے کہ آپ اگر اپنی بات کو چھوڑ دیں تو آپ کو وہی چیز اختیار کرنی پڑے گی جسے آپ نے آج تک اختیار کئے رکھا۔ لیکن ہم اگر اپنی بات چھوڑیں تو وہ چیز چھوڑنی پڑتی ہے جسے چھوڑنا ہمارے عقیدہ اور مذہب کے خلاف ہے اور جس کے خلاف ہم نے کبھی عمل نہیں کیا۔ پس انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ آپ وہ راہ اختیار کرلیں جو آپ نے آج تک اختیار کررکھی تھی اور ہمیں ہمارے مذہب اور اصول کے خلاف مجبور نہ کریں۔ باقی رہا یہ سوال کہ جماعت کی ترقی اور اسلام کے قیام کیلئے کون مفید ہوسکتا ہے،سو جس شخص پر آپ متفق ہوں گے اُسے ہی ہم خلیفہ مان لیں گے۔
    کسی غیرجانبدار شخص کے سامنے اگر یہ باتیں پیش کردی جائیں تو وہ تسلیم کرے گا کہ میرا نقطہ ٔنگاہ صحیح تھامگر مولوی صاحب یہی کہتے رہے کہ ہم کسی واجب الاطاعت خلیفہ کو ماننا ناجائز سمجھتے ہیں اور جب میں نے کہا کہ آپ لوگ حضرت خلیفہ اوّل کو چھ سال تک مانتے آئے ہیں تو کہا کہ ایک بزرگ سمجھ کر ہم نے ان کی بیعت کرلی تھی۔اس پر میں نے کہا کہ اب بھی کسی بزرگ کو خلیفہ مان لیں میں تیار ہوں کہ اُس کی بیعت کرلوں۔ مگر وہ کسی بات پر رضامند نہ ہوئے اور جب بحث لمبی ہوگئی تو طبائع میں سخت اشتعال پیدا ہوگیا کہ جماعت کسی فیصلہ پر کیوں نہیں پہنچتی۔ لوگوں نے کمرہ کا احاطہ کرلیا اور بعض نے دروازے کھٹکھٹانے شروع کردیئے اوراس میںاِتنی شدت پیدا ہوئی کہ بعض شیشے ٹوٹ گئے۔ جماعت کے افراد کہہ رہے تھے کہ باہر آکر فیصلہ کریں یا ہم خود فیصلہ کرلیں گے۔ اُس وقت میں نے پھر مولوی صاحب سے کہا کہ دیکھئے !یہ بہت نازک وقت ہے اور شدید تفرقہ کا خطرہ ہے میں آپ سے اسی چیز کا مطالبہ کرتا ہوں جو آپ آج تک خود کرتے آئے ہیں اور آپ اس چیز کا مطالبہ کرتے ہیںجو ہمارے نزدیک جائز ہی نہیں۔ آپ کے خدشات کا میں نے ازالہ کردیا ہے اس لئے آپ کے سامنے اب یہ سوال ہونا چاہئے کہ خلیفہ کون ہو؟یہ نہیں کہ خلیفہ ہونا نہیں چاہئے۔ لیکن اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ کیوں اِس قدر زور دے رہے ہیں اور میں جانتا ہوں کہ لوگ کسے خلیفہ منتخب کریں گے۔ میں نے کہا مجھے تو معلوم نہیں کہ کسے منتخب کریں گے لیکن میں خود اُس کی بیعت کرلوں گا جسے آپ چنیں گے۔ اگر آ پ کا یہ خیال ہے کہ لوگ ہم میں سے کسی کو منتخب کریں گے تو جب میں آپ کے تجویز کردہ کی بیعت کرلوں گا تو پھر چونکہ خلافت کے مؤیّد میری بات مانتے ہیں مخالفت کا خدشہ ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔ لیکن انہوں نے پھر یہی کہا کہ میں جانتا ہوں کہ آپ کیوں زور دے رہے ہیں۔ میں نے اُن سے کہا کہ میں اپنا دل چیر کر آپ کو کس طرح دکھائوں۔ میں توجو قربانی میرے امکان میں ہے کرنے کیلئے تیار ہوں لیکن پھر بھی اگر آپ نہیں مانتے تو اختلاف کی ذمہ واری آپ پر ہوگی نہ کہ مجھ پر۔ یہ کہہ کر ہم وہاں سے اُٹھے اوراُسی مسجدنور میں آگئے جہاں لوگ جمع تھے۔ بعض لوگوں کی رائے تھی کہ مولوی محمداحسن صاحب امروہوی کانام تجویز کریں اوراس کیلئے وہ تیار تھے۔ مگر ابھی وہ لوگ اُٹھ ہی رہے تھے کہ مولوی محمد احسن صاحب نے خود کھڑے ہوکر میرا نام تجویز کردیا۔اُس وقت جیسا کہ بعدمیںمعلوم ہوا کیونکہ بہت گھبراہٹ اور شور تھا اور سارامجمع مجھے نظر بھی نہ آتا تھا مولوی محمد علی صاحب نے کچھ کہنا چاہا مگر لوگوںنے اُن کو روک دیا۔ میں نے بعد میں سنا کہ انہوں نے یہی کہنے کی کوشش کی تھی کہ ہم نہیں چاہتے کہ کوئی خلیفہ ہو مگر ان لوگوں نے جو اُن کے قریب بیٹھے تھے اُن سے کہہ دیا کہ ہم آپ کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس پر مولوی صاحب مجمع سے اُٹھ کر اپنی کوٹھی میں جہاں اب جامعہ احمدیہ ہے چلے گئے اور ان کے جانے کے بعد تمام جماعت کا رُحجان میری طرف ہوگیا۔ حالانکہ جیسا مجھے بعض دوستوں نے بعد میں بتایااُس وقت تک وہ اس کیلئے تیار تھے کہ مولوی صاحب کی بیعت کرلیں۔ خدا کی قدرت ہے مجھے بیعت کے الفاظ بھی یاد نہ تھے اورجب لوگوں نے کہا کہ ہم آپ کی بیعت کرنا چاہتے ہیں تو چونکہ میں چاہتا تھا کہ ابھی ٹھہر جائیں شاید صلح کی کوئی صورت نکل آئے۔میں نے کہا کہ مجھے تو بیعت کے الفاظ بھی یاد نہیں ہیں لیکن مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب بھی وہاں موجود تھے وہ اُٹھ کر میرے قریب آگئے اور کہا کہ مجھے بیعت کے الفاظ یاد ہیں میں کہتا جاتا ہوں آپ دُہراتے جائیں۔ میں نے اِس پر بھی کچھ ہچکچاہٹ ظاہر کی لیکن لوگوںنے شور مچادیاکہ فوراً بیعت لی جائے۔ چونکہ میرا عقیدہ ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے، میں نے سمجھ لیاکہ اب یہ خدائی فیصلہ ہے اورمیں نے بیعت لینی شروع کردی اوراُس وقت بیعت لی جبکہ جماعت پراگندگی کی حالت میں تھی،جبکہ تمام لیڈر مخالف تھے اور جب کہ وہ دھمکیاں دے رہے تھے کہ اگریہ طریق اختیار کیا گیا توہم اُسے کچلنے کیلئے تمام ذرائع اختیار کریں گے۔
    ماسٹر عبدالحق صاحب مرحوم جنہوں نے قرآن کریم کے پہلے پارہ کا ترجمہ انگریزی میں کیا تھا وہ پہلے ان لوگوں کے ساتھ تھے مگر بعدمیں بیعت میں شامل ہوگئے ۔ انہوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ یہاں سے جاکر مولوی صدردین صاحب نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جس پر چالیس مومن اتفاق کریں وہ بیعت لے سکتا ہے۔ (حالانکہ اس سے مراد جماعت میں شامل کرنے کی بیعت ہے اطاعت کی نہیں)ہم یہ کیوں نہ کریں کہ چالیس لوگوں کو جمع کرکے سید عابد علی شاہ صاحب کو خلیفہ بنادیں تا لوگوں کی توجہ اِدھر سے ہٹ جائے۔ عابد علی شاہ صاحب کو الہامِ الٰہی کا دعویٰ تھا ۔اُن کا خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں کوئی عُہدہ ملنے والا ہے چنانچہ انہوں نے عابد علی شاہ صاحب کو منوابھی لیا لیکن لالٹین لے کر وہ ساری رات دربدرپِھرتے رہے مگر انہیں چالیس آدمی بھی میسر نہ آئے۔ حالانکہ آبادی بہت کافی تھی اور ہزاروں اشخاص باہر سے بھی آئے ہوئے تھے۔ خدا کی قدرت ہے اگر ان کو چالیس آدمی مل جاتے تو ممکن ہے اُسی وقت خلافت کا ڈھونگ رچاتے۔ لیکن اتنے آدمی بھی نہ ملے اور ادھر عابد علی شاہ صاحب کو دوسرے دن رئویا ہوا اور انہوں نے آکر میری بیعت کرلی وَاللّٰہُ اَعْلَمُ یہ ان کی کوئی خیالی بات تھی یا اللہ تعالیٰ کا انہیں ہدایت دینے کا منشاء تھا۔ انہوں نے دوسرے روز آکر بیعت کرلی۔ لیکن پہلے چونکہ انہوں نے خلیفہ بننے کیلئے رضامندی کا اظہار کردیا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کی انہیں بڑی سخت سزا دی۔ بیعت کے کچھ عرصہ بعد وہ کہنے لگے کہ دراصل اللہ تعالیٰ نے مجھے خلیفہ منتخب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کا خدا بھی عجیب ہے کبھی تو آپ کو خلیفہ مقرر کرتا ہے اور کبھی بیعت کرنے کا حکم دیتا ہے۔ مگر وہ آہستہ آہستہ اس دعویٰ میں بڑھتے گئے اور آخر جماعت سے الگ ہوکر بیعت لینے لگ گئے۔ چند سالوں کے بعد جب طاعون پھیلی تو انہوں نے کہا کہ مجھے خداتعالیٰ نے بتایا ہے کہ میرا گھر طاعون سے محفوظ رہے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا بھی یہی الہام تھا مگر دیکھو دونوں میں کتنا فرق ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہام کے شائع ہونے کے بعد پانچ سات سال تک قادیان میں طاعون پھیلتی رہی بلکہ اس محلہ میں جس میں آپ کا گھر تھا پھیلتی رہی اور ان گھروں میں پھیلتی رہی جو آپ کے مکان کے دائیں بائیں واقع تھے اور پھر معمولی حالت میں نہیںبلکہ ایسی شدید تھی کہ تین تین، چار چار اموات ان گھروں میںہوئیں مگر آپ کے مکان میں ایک چُوہا تک نہ مرا۔ لیکن سید عابدعلی صاحب کے الہام کے بعد نہ صرف یہ کہ ان کے گھر میں آنے والے بعض لوگ طاعون سے ہلاک ہوئے بلکہ وہ خود بھی اور اُن کی بیوی بھی اسی سال طاعون سے فوت ہوگئے۔ بیشک وہ ظاہری نماز روزہ کے پابند اور صوفی منش آدمی تھے مگر بعض لوگوں کے اندر ایک مخفی رنگ کا کبر ہوتا ہے جو خداتعالیٰ کو پسند نہیں ہوتا۔ ایسے لوگوں کو شیطان نیکی کی راہیں دکھا کر ہی قابو کرتا ہے اور بعد میں خداتعالیٰ کا سلوک یہ فیصلہ کردیتا ہے کہ الہام شیطانی تھا یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو اِن کا تو یہ حال ہوا۔
    ادھر وہ لوگ جو اپنے آپ کو جماعت کا لیڈر اور رئیس سمجھتے تھے اور جن میں سے ایک نے اس سکول کی عمارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم جاتے ہیں لیکن دس سال نہیں گزریں گے کہ اس پر آریوں اور عیسائیوں کا قبضہ ہوگامگر آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ دس سال گزرے پھر دس سال گزرے اور پھر تیسرے دس سالوں میں سے بھی تین سال گزر گئے۔ مگر خداتعالیٰ کے فضل سے اِس عمارت پر کسی عیسائی یا آریہ کا قبضہ نہیں بلکہ عیسائیوں اور آریوں کا مقابلہ کرنے والے احمدیوں کا ہی قبضہ ہے۔ اور جن احمدیوں کا قبضہ ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے روز بروز بڑھتے اور طاقتور ہوتے جارہے ہیں اور وہ شخص جس نے اِسی مسجد میں کھڑے ہوکر یہ اعلان کرنا چاہا تھا کہ کوئی خلیفہ نہیں ہونا چاہئے اس سال ان کے اخبار میں اعلان کیا جارہا ہے کہ ہم اُس وقت تک ترقی نہیں کرسکتے جب تک کوئی واجب الاطاعت خلیفہ مقرر نہ کریں اور ہمیں چاہئے کہ ہم مولوی محمد علی صاحب کو ایسا مان لیں۔ جس شخص کومیرے مقابلہ پر کھڑا کرنا چاہتے تھے وہ طاعون کا مارا ہوا اپنے گائوں میں پڑا ہے اورجو لوگ میرے مقابل پر یہ کہہ رہے تھے کہ خلافت کی ضرورت ہی نہیں وہ آج ناکام ہوکر اس مسئلہ کی طرف آرہے ہیں اور ۲۳ سال بعد پھر اسی نکتہ کی طرف لَوٹتے ہیں۔ یہ لوگ کہا کرتے تھے کہ صدرانجمن کا پریذیڈنٹ بھی ایسا ہونا چاہئے جو کم سے کم چالیس سال کی عمرکا ہو کیونکہ اس سے کم عمر میں عقل اور تجربہ پختہ نہیں ہوسکتا۔ کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ ۲۵سال عمر والے کو تویہ نکتہ اسی وقت معلوم ہوگیا اور چالیس سال والے کو آج جبکہ وہ پینسٹھ سال کو پہنچ چکا ہے معلوم ہوا۔ مگر کیا وہ سمجھتے ہیںکہ انسانوں کے بنائے ہوئے خلیفے بھی خلیفے ہوتے ہیں۔ ہمارا اور ان کا ایک اختلاف یہ بھی تھا کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور اب شاید اللہ تعالیٰ انہیں یہ دکھانا چاہتا ہے کہ خلیفے وہی بناتا ہے۔ انسانوں کے بنانے سے کوئی واجب الاطاعت خلیفہ نہیں بن سکتا۔
    دیکھو جماعت کتنے خطرات میں سے گزررہی ہے اور غورکرو ان کو دبانا کس انسان کی طاقت میں تھا۔ کم سے کم وہ انسان تو نہیں دباسکتا تھا جس کے متعلق دوست دشمن سب کی یہی رائے تھی کہ یہ ناتجربہ کار نوجوان ہے۔ پھر سوچو کہ اس قدر شدید خطرات کے باوجود کون جماعت کو ترقی پر لے گیا؟ کیا وہی خدا نہیں جس نے کہا ہوا ہے کہ خلیفے ہم بناتے ہیں؟یہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا تقاضا ہے کہ وہ ہمیشہ کام ایسے ہی لوگوں سے لیتا ہے جنہیں دنیا نالائق سمجھتی ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کام کرنے والا کون ہوسکتا ہے نہ آپ سے پہلے کوئی ایسا تھا نہ اب تک ہوا ہے اور نہ آئندہ ایسا ہوگا۔ مگر دنیا نے آپ کی جو قیمت سمجھی تھی وہ پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے ذریعہ بتادی تھی یعنی وہ پتھر جسے معمارو ں نے ردّ کر دیا۔ بائبل میںیہ بتا دیا گیا تھا کہ جو لوگ اپنے آپ کو کارخانۂ عالم کے انجینئر سمجھتے ہیں اور دنیا کی عام اصلاح کے مدعی ہیں جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جوہر اُن کے سامنے پیش کیا جائے گا تو وہ یہی کہیں گے کہ یہ ہمارے مطلب کانہیں، مگر دنیا کے قیام اور زینت کا موجب وہی بنا۔ پھر اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کام لیا۔ آج دشمن کہتے ہیںکہ آپ پاگل تھے مگر خدا کی شان دیکھو کہ اُس نے آپ سے کتنا کام لیا۔ سب نبیوں کو اُن کے مخالف پاگل کہتے آئے ہیں مگر ہم کہتے ہیں کہ بہت اچھا پاگل ہی سہی مگر ہمیں تو اُس شخص کی ضرورت ہے جو ہمیں خدا سے ملادے اور اسلام کو دنیا میں قائم کردے۔ اگر پاگل سے یہ امور سرزدہوں تو ہم نے فلسفیوں کو کیا کرناہے؟ بلکہ میں کہوں گا کہ لاکھوں فلسفیوں کو اُس کی جوتی کی نوک پر قربان کیا جاسکتاہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعویٰ کے ابتدائی زمانہ میں لوگ کہتے تھے کہ مرزا صاحب تو نَعَوْذُ بِاللّٰہِ جاہل ہیں۔ ساراکام تو ’’نورالدین‘‘ کرتا ہے۔ زمانہ گزرتا گیا گزرتا گیا اور گزرتا گیا۔ پھر کہا گیا کہ نہیں ہماری غلطی تھی نورالدین صرف مضامین بتاتاہے لکھنا اور بولنا نہیں جانتا۔ مرزا صاحب کی تحریر اور تقریر میں بجلیاں ہیںجس دن آپ فوت ہوئے یہ سلسلہ ختم ہوجائے گا۔ تب اللہ تعالیٰ نے نورالدین کو خلیفہ مقرر کیا جن کے متعلق یہ کہا جاتا تھا کہ وہ لکھنا اوربولنا نہیں جانتے۔اُس وقت تو لوگوں نے بیعت کرلی مگرزیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ بعض نے کہا یہ ستّرا بہتّرا ہے، لائی لگ ہے، کمزور طبیعت ہے اور اگراس مسئلہ کا فیصلہ اس کے زمانہ میں نہ کرایا گیا تو پھر نہ ہوسکے گا کیونکہ یہ تو ڈر جاتا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے حضرت خلیفہ اوّل نے مسجد مبارک کے اوپر ان کو بلایا۔مولوی محمد علی صاحب، خواجہ کمال الدین صاحب، ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب کے علاوہ جماعت کے دوسرے دوست بھی بکثرت تھے۔ آپ نے فرمایا کہا جاتاہے کہ تمہارا کام صرف نمازیں پڑھانا، درس دینا اورنکاح پڑھانا ہے مگر میں نے کسی کو نہیں کہا تھا کہ میری بیعت کرو تم خوداس کی ضرورت سمجھ کر میرے پاس آئے۔ مجھے خلافت کی ضرورت نہ تھی لیکن جب دیکھا کہ میرا خدا مجھے بُلارہا ہے تومیں نے انکار مناسب نہ سمجھا۔ اب تم کہتے ہو کہ میری اطاعت تمہیں منظور نہیں۔ لیکن یاد رکھو اب میں خدا کا بنایا ہوا خلیفہ ہوںاب تمہاری یہ باتیں مجھ پرکوئی اثر نہیں کرسکتیں۔ یاد رکھو خلفاء کے دشمن کا نام قرآن کریم نے ابلیس رکھا ہے۔ اگر تم میرے مقابل پر آئو گے تو ابلیس بن جائو گے آگے تمہاری مرضی ہے چاہے ابلیس بنو اور چاہے مومن۔ اس پرمیری آنکھوں نے ان لوگوں کے چہرے زرد دیکھے ہیں۔ جماعت میں اس قدر جوش تھا کہ میں خیال کرتاہوں کہ اگر حضرت خلیفہ اوّل نہ ہوتے تو لوگ شایداُن کوجان سے مارڈالتے۔ پھر میری آنکھوں نے وہ نظارہ بھی دیکھاہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے حکم سے مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ صاحب آگے بڑھے اور دوبارہ بیعت کی۔ گویا جسے وہ کہتے تھے کہ کمزور دل ہے خداتعالیٰ نے طاقتوروں کو اُس کے مقابل پر کھڑ اکیا،پھراُس کمزور دل سے اُن کو شکست دلوائی اور دنیا پر ظاہر کردیاکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں بھی اور حضرت خلیفہ اوّل کے زمانہ میں بھی وہ خود ہی کام کرنے والا تھا۔
    پھر ان لوگوں نے کہا کہ بڈھا تجربہ کار اور خرانٹ تھا۔ تھا تو نرم دل مگر تجربہ کار اور عالم تھا۔ تب اللہ تعالیٰ نے اُس شخص کو چُنا جو پرائمری میں بھی فیل ہوتا رہا تھا۔ جس نے کبھی کسی دینی مدرسہ میں بھی پڑھائی نہ کی تھی۔ صحت کمزور تھی اورعمر صرف ۲۵ سال تھی۔ جسے کبھی کوئی بڑا کام کرنے کا موقع نہ ملا تھا اور کوئی تجربہ کار نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ تم کہتے تھے نور الدین بڈھا،تجربہ کار اور علم والا تھا آئو ہم اب اس سے کام لے کر دکھاتے ہیں جو نہ عمر رسیدہ ہے اور نہ عالم۔ میرے خلاف تو سب سے بڑا اعتراض ہی یہ تھا کہ بچہ ہے، ناتجربہ کار ہے۔ پھراس بچہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو جس طرح شکستیں دی ہیں اور جس طرح ہر میدان میں ذلیل کیا ہے وہ دنیا کے سامنے ہے۔ اور جس رنگ میں اللہ تعالیٰ نے اہم اسلامی مسائل کا فیصلہ میرے ذریعہ سے کرایا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ وہ کونسا مسئلہ ہے جو پوشیدہ تھا اور خدا نے میرے ذریعہ سے اسے صاف نہیں کرایا۔ کئی معارف چھپے ہوئے موتیوں کی طرح پوشیدہ پڑے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ نکلوایا ہے۔ ایک طرف جماعت کی ترقی اور دوسری طرف اسلام کی ترقی کا کام اللہ تعالیٰ نے اس بچہ سے لیا اوراُن مطالب کا اظہار کیا جن سے دنیا فائدہ اُٹھارہی ہے اور اُٹھاتی رہے گی۔ مخالفوں نے کہا دراصل پیچھے اور لوگ کام کررہے ہیںاور بعض نے کہا کہ مولوی محمد احسن کا جماعت میں رسوخ تھا ان کے ساتھ ہونے کی وجہ سے یہ سب کارخانہ چل رہا ہے۔ اس کے بعد مولوی محمداحسن صاحب کو ایسا ابتلا آیا کہ وہ لاہور چلے گئے اور جاکر اعلان کیا کہ میں نے ہی اسے خلیفہ بنایا تھااور میں ہی اسے معزول کرتا ہوں۔ مگر خداتعالیٰ نے کہا کہ تم کون ہو خلیفہ بنانے والے؟ اورچونکہ تم نے ایسا دعویٰ کیا ہے اس لئے ہم تمہیں قوتِ عمل سے ہی محروم کرتے ہیں۔ چنانچہ اُن پر فالج گِراپھر وہ قادیان آئے اورمیرا ہاتھ پکڑ کر اور رو رو کر کہا کہ میرے بیوی بچوں نے مجھے گمراہ کیا ورنہ دل سے تو میں آپ پر ایمان رکھتا ہوں۔ سید حامد شاہ صاحب پُرانے آدمیوں میں سے تھے اور بہت کام کرنے والے، خداتعالیٰ کی حکمت ہے وہ جلد فوت ہوگئے اُن کو بھی پہلے ابتلا آیا تھا مگر جلد ہی اللہ تعالیٰ نے اُن کو ہدایت دے دی اور وہ بیعت میں شامل ہوگئے۔ ان کے علاوہ کچھ اور بھی ہیں جو ابتلا میں ہیں اوربجائے سلسلہ کی ترقی کا موجب ہونے کے وہ نِفاق کی بیماری میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ تا خداتعالیٰ کا جلال دنیا پر ظاہر ہو اور وہ بتادے کہ وہ خودکام کررہا ہے ۔
    میںنے پہلے بھی کئی بار کہا ہے اور اب بھی کہتا ہوں اور یہ ایک سچائی ہے جس کا اظہار کرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ نے میری زبان یا قلم سے قرآن کریم کے جو معارف بیان کرائے ہیں یا جو اور کوئی کام مجھ سے لیا ہے مجھ سے زیادہ جھوٹا اور کوئی نہ ہوگا اگر میں کہوں کہ یہ میرا کام ہے۔ میں جب بھی بولنے کیلئے کھڑا ہوا ہوں یا قلم پکڑا ہے میرا دماغ بالکل خالی ہوتا ہے۔ شایدسَومیں سے ایک آدھ دفعہ ہی ہو جب کوئی مضمون میرا سوچا ہوا ہوتا ہے ورنہ میرا ذہن بالکل خالی ہوتا ہے او رمیں جانتا ہوں کہ سب کچھ اُسی کا ہے جس کا یہ سلسلہ ہے۔ اگرمیں اس پراِترائوں تو یہ جھوٹی بات ہوگی ہاں جو غلطی ہو وہ بے شک مجھ سے ہے۔ بھلا ایک انسان جو ظاہری علوم سے بالکل ناواقف اور بے بہر ہ ہو وہ ان باتوں کو کیسے نکال سکتاہے۔ جو شاید آئندہ صدیوں تک اسلام کی ترقی کیلئے بطور دلیل کام دیں گی جیسے تعزیراتِ ہند ہندوستان کے لئے کام دیتی ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ غیراحمدی بھی اُن دلائل کو استعمال کررہے ہیں جو میںنے پیش کئے ہیں۔تمدن کے متعلق اسلامی تعلیم یعنی ترکِ سُود، زکوٰۃ اور وراثت کا قیام یہ تین نکات والی سہ پہلو عمارت کوئی ثابت نہیں کرسکتا کہ پچھلی صدیوں میں کسی نے تیار کی ہو۔ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے طفیل اللہ تعالیٰ نے مجھے ہی توفیق دی ہے اور میں نے اِن مسائل کو بیان کیا ۔ پھر اور سینکڑوں مسائل ہیں جو خداتعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے مجھے سکھائے۔
    پس یہ سلسلہ خدا کا ہے آدمیوں کا نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی اسے بڑھائے گا ۔ انسانوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ صرف ایک بات ہے جسے تمہیں یاد رکھنا چاہئے۔ جب تک تمہارے اندر اطاعت اور فرمانبرداری رہے گی وہ نور تم کو ملتا رہے گا۔ لیکن جب اطاعت سے منہ موڑو گے اللہ تعالیٰ کہے گا کہ جائو اب توجوان ہوگئے ہو، اپنی جائداد سنبھالو۔ تب تم محسوس کرو گے کہ تم سے زیادہ کمزور اور کوئی نہیں۔
    حضرت علیؓ کے بعد بھی مسلمانوں نے فتوحات حاصل کیں۔ ملک فتح کئے، علمی تمدن اور سیاسی غلبے پائے۔ مگر جو برکت ، جورُعب، جو دبدبہ او رجو شوکت حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ ، حضرت علیؓ رِضْوَانُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ کے زمانہ میں تھی وہ تیرہ سَو سال میں پھر حاصل نہیں ہوئی۔اُس وقت تویوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ دنیا کے سر پر پائوں رکھ کر کھڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ کوئی ہے جو ہمارے مقابل پر آئے۔ گویا خداتعالیٰ کے فرشتے اُن کے گِرد کھڑے پہرہ دے رہے تھے۔ حضرت علیؓ کے وقت میں بعض بدبختوں نے اختلاف کیا جس سے ایسا تفرقہ پیداہوا کہ جو تیرہ سَو سال میں بھی نہیں مٹا۔ اب دوبارہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اتحاد کی بنیاد رکھی ہے اور آپ سے خداتعالیٰ نے دوبارہ وعدہ کیا ہے کہ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ۱؎ اور یہ رعب چلتا جائے گا۔ جب تک تم اس فیصلہ کا احترام کرو گے جو ۱۴؍مارچ ۱۹۱۴ء کو اس مسجد میں تم نے کیا تھا۔ لیکن جب اس میں تزلزل آیا اللہ تعالیٰ بھی اپنی نصرت کو کھینچ لے گا جو اُس نے اس مسجد میں تمہارے فیصلہ کے بعد نازل کی تھی۔ جب تک تم اس فیصلہ میں تبدیلی نہ کرو گے چونکہ اللہ تعالیٰ کا قانو ن ہے کہ ۲؎ وہ بھی نصرت کو واپس نہیں لے گا۔ اُس وقت تک تمام حکومتیں اور تمام طاقتیں تم سے ڈریں گی اور ہر ترقی پر تمہارا قدم ہوگا۔ دنیا کی تمام اقوام تمہارے پیچھے چلنے میں فخر محسوس کریں گی اور تمہارا سر سب سے اونچا ہوگا۔ ابھی تو یہ ایک بیج ہے، ایک کونپل پھوٹی ہے جو بڑھتے بڑھتے ایک مضبوط درخت بنے گا جس پر دنیا کے بڑے بڑے حاکم آرام کیلئے گھونسلے بنائیں گے۔ لیکن جس دن تم اس فیصلہ کوبُھول جائو گے خدا نہ کرے اُس دن کے تصور سے بھی دل کانپ اُٹھتا ہے جب تم کہو گے کہ خدا نے خلیفہ کیا بنانا ہے ہم خود بنائیں گے۔ تب فرشتے تبر لے کر آئیں گے کہ لو ہم اس درخت کو کاٹتے ہیں جسے خداتعالیٰ نے تمہارے لئے لگایا تھا مگر تم نے اس کی قدر نہ کی۔ اب تم اپنے باغ لگائو اور مزے اُڑائو۔ پچھلوں نے اس غلطی کا تجربہ کیاخدا نہ کرے کہ تم بھی کرو۔ لیکن خدانخواستہ اگر کبھی ایسی غلطی کی گئی تو دنیا دیکھ لے گی کہ تم صدیوں میں ایک درخت بھی نہ لگاسکو گے یہاں تک کہ خداتعالیٰ پھر کوئی مأمور مبعوث کرے۔
    (خطباتِ محمود جلد۱۸ صفحہ۷۱ تا۸۰ )

    ۱؎ تذکرہ صفحہ۶۶۹۔ ایڈیشن چہارم
    ۲؎ الرعد: ۱۲

    اپنی تمام حرکات خلیفۂ وقت کے احکام کے تابع رکھو
    (فرمودہ ۷؍ مئی ۱۹۳۷ء )
    تشہّد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:-
    جو کچھ میں آج جمعہ میں بیان کرنا چاہتا ہوںشاید وہ اس اجتماع کے مناسب حال نہیں اور وہ وقت جو اِس وقت میرے پاس ہے وہ بھی اِس مضمون کیلئے کافی نہیں ہوسکتا کیونکہ ہم میں سے بعضوں نے ریل کے ذریعہ واپس جانا ہے۔ مگر چونکہ سفرمیں میرے پاس اِتنا وقت نہیں ہے کہ مضمون کے ذریعہ قادیان کی جماعت اور بیرونی جماعتوں کو توجہ دلائوں اِس لئے میں نے یہی مناسب سمجھا کہ خطبہ کے ذریعہ بیان کردوں اور زود نویس جہاں تک اِن سے ہوسکے خطبہ لکھ کر الفضل کو بھجوادیں تاکہ قادیان اور بیرونی جماعتوں کو اطلاع ہوجائے۔
    جماعت کے دوستوں کو معلوم ہے کہ ایک عرصہ سے کچھ افراد قادیان میں ایسے آبسے ہیں جن کی غرض محض یہ ہے کہ جماعت میں فتنہ پیدا کریں اور انہوں نے قِسم قِسم کی تدابیر سے بعض مقامی ہندوئوں اور سکھوں کو بھی ملالیا ہے۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ قادیان کے سارے کے سارے ہندو اور سکھ اِس میں شامل ہیں۔ ان میں سے بعض اچھے بھی ہیںاور وہ ہم سے تعلقات بھی رکھتے ہیں اور ان کی ایسی حرکات پر اظہارِ ناپسندیدگی کرتے ہیں۔
    اس کے علاوہ ان کو اس بات سے بھی تقویت پہنچ گئی کہ ضلع کے بعض حکام کے مذہبی تعصب یا سیاسی اختلاف یا کسی ذاتی کمزوری کی وجہ سے جو بعض طبائع میں پائی جاتی ہے اِن کو ایسی فضا میسر آگئی ہے کہ ایسے حکام کو اپنے ساتھ شامل کرکے جماعت کے راستے میں مشکلات پیدا کریں۔دو اڑھائی سال کے اختلاف کے بعد کسی قدر کمی پید اہوئی تھی لیکن مہینہ دو مہینہ سے اِس میں پھر کسی قدر حرکت معلوم ہوتی ہے۔
    میں نے بارہا اپنی جماعت کو نصیحت کی ہے کہ جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اَ لْاِ مَامُ جُنَّۃٌ یُّقَاتَلُ مِنْ وَّرَائِہٖ ۱؎ امام کے بنانے کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ ڈھال کے طور پرہوتا ہے اور جماعت اس کے پیچھے لڑتی ہے۔ یہ جائز نہیں کہ جماعت کے لوگ خود لڑائی چھیڑ دیں۔ اعلانِ جنگ امام کا کام ہے اور وہ جس امر کے متعلق اعلان کرے جماعت اُس طرف متوجہ ہو۔ مگر کئی دوست نہیں سمجھتے اور جھٹ ہر امر پر اظہارِ خیال کرنے لگ جاتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بسا اوقات دشمن اس سے چڑ کر شدت سے گالیاں دینے لگ جاتا ہے اور چھوٹی سی بات بہت بڑی بن جاتی ہے اور پھر ساری جماعت اس میں ملوث ہوجاتی ہے۔
    ایک عام آدمی جس کو خداتعالیٰ نے اختیار نہیں دیا ہوتا نہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ سلسلہ کی ضرورتیں کیا ہیں نہ اُس کو کسی سکیم کاپتہ ہوتا ہے، نہ دشمن کی چالوں کو سمجھتا ہے، نہ اسے یہ علم ہوتا ہے کہ طاقت کہاں کہاں خرچ کرنی ہے، نہ جماعت کی ضرورتیں اور ترقی کی سکیمیں اُس کے ذہن میں ہوتی ہیں، نہ اس کے علم میں ہوتا ہے کہ خلیفہ کی اس امر کے متعلق کیا تجویزیں ہیں کیونکہ اس کے پاس کوئی رپورٹیں نہیں پہنچتیں اور نہ حالات کا اُس کو علم ہوتا ہے۔ وہ اپنی حماقت سے ایک چنگاری چھوڑدیتا یا دشمن کی لگائی ہوئی آگ کو اپنی پھونکوں سے روشن کردیتا ہے اور پھر ساری جماعت کو اسے بجھانا پڑتا ہے۔ خلیفہ کو اپنی سکیمیں پیچھے ڈالنی پڑتی ہیں اور جماعت کی ساری طاقت اس شخص کی بھڑکائی ہوئی آگ کے بجھانے میں صرف ہوجاتی ہے۔
    میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ ایسے امور میں قطعی طور پر امام کی اتباع کی جائے۔ اب کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ ایک طرف تو لوگ بیعت میں اقرار کریں کہ ہم آپ کی اطاعت کریں گے اور دوسری طرف اپنی جھوٹی عزت کا خیال کرتے ہوئے اور امام کے اعمال کی حکمت کو نہ سمجھتے ہوئے یہ خیال کریں کہ اگر امام گالی کا جواب نہیں دیتا تو اُس کی بے غیرتی ہے۔ حالانکہ امام خوب سمجھتا ہے کہ فلاں جگہ خاموش رہنا مناسب ہے یا جواب دینا اور وہی خوب سمجھتاہے کہ اس کا کیا جواب دیا جائے۔ ہر گالی جواب کے قابل نہیں ہوتی۔
    بچپن میں لوگ ہمیں میاں صاحب اور قادیان کے محاورہ کے مطابق میاں جی بھی کہا کرتے تھے۔ پنجاب کے بعض دوسرے علاقوں میں میاں جی کو ملا بھی کہتے ہیں۔ پنجاب کی اردو ریڈروں میں لکھا ہوا ہے کہ میاں جی گھوڑے پر سوار ہیں۔ اُستاد کو بھی میاں جی کہتے ہیں۔ بعض طالب علموں نے جو استادوں کے خلاف ہوتے ہیں انہوں نے ان کے متعلق بعض فقرے بنائے ہوئے ہوتے ہیں۔ جیسے ’’میاں جی سلام تہاڈی گھوڑی نوں لگام‘‘ اِسی طرح مجھے بھی بعض لڑکے چھیڑا کرتے۔عمر کے لحاظ سے بعض دفعہ مجھے اِس پر غصہ بھی آتا لیکن خاموش رہتا۔ ایک دفعہ میں گزررہا تھاکہ ایک لڑکے نے مجھے دیکھ کر یہ فقرہ کہا۔ اِس پر مجھے اشتعال آیا لیکن معاً خیال آیا کہ یہ بچے ہیں میرے اشتعال سے اِن کو کیا فائدہ۔ اگر میں نے اشتعال دکھایا تو یہی فقرہ دُہرایا جائے گا اور بچے یاد رکھیں گے اور ایسا کہہ کر بھاگ جایا کریں گے۔ پس میں نے اپنے نفس کو روکا حتّٰی کہ ایک دو دن کے بعد وہ بھول گئے۔پس ہر گالی قابل جواب نہیں ہوتی۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ۲؎ کہ ان مشرکوں کی طرف سے گالیاں دی جائیں گی تُو ان کی طرف توجہ نہ کرنا اور تبلیغ کی طرف لگے رہنا تاایسا نہ ہو کہ اصل مقصود بُھول جائے اور ایسے کام کی طرف لگ جائو جس کا کچھ فائدہ نہیں۔ یہ ایک عظیم الشان اور اخلاقی فلسفہ ہے جو قرآن کریم نے پیش کیا کہ ۔
    یاد رکھنا چاہئے کہ مخالف دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو کوئی اہمیتِ ذاتی یا پوزیشن رکھتے ہیں ان کو صداقت کی جاذبیت دیکھ کر غصہ پیدا ہوتا ہے اور وہ سخت کلامی کرتے ہیں۔ اور ایک اوباش ہوتا ہے کہ اس کے مقابلہ میں سخت الفاظ کہنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا ۔ کیونکہ اس کی تو عزت کوئی نہیں ، اس کی ایک گالی کے جواب میں اگر تم بھی گالی دو گے تو اِس کے جواب میں وہ پانچ دے گا اور تمہاری دس گالیوں کے مقابلہ میں پچاس دے گا پھر مقابلہ کیا رہا۔ وہ معزز شخص جس کے پیچھے ایک قوم ہوتی ہے اگر اُس کو اُس کی سخت کلامی کا جواب دیا جائے تو مفید ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اُس کے ساتھی اُس کو ملزم کریں گے اور اُس کو کہیں گے کہ غلطی تمہاری تھی، کیوں تم نے ابتداء کی اور وہ اپنی پردہ دری کے خوف سے چُپ ہوجائے گا۔ مگر اوباش کو کون بتلائے اور اسے کون سمجھائے۔ وہ بتلانے والے کو بھی دس بیس سُنادے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا کہ استہزاء کرنے والوں کو جواب نہ دینا، ہم خود جواب دیں گے کیونکہ ہم تمہاری طرف سے ان لوگوں کے مقابلہ کیلئے کافی ہیں جو حقارت اور تذلیل کے ذریعہ مخالفت کرتے ہیں ایسے لوگوں کے مقابلہ میں تمہیں نہ ہمت ہے نہ طاقت نہ ہی دُنیوی ڈھنگ آتے ہیں۔ ان لوگوں کی اپنی کوئی عزت نہیں، وہ اس سے بڑھ کر گالیاں دیں گے اور بجائے اس کے کہ ان کے دل ٹھنڈے ہوں دشمن بدگوئی میں بڑھتا چلا جائے گا۔ ایسے انسان کی زبان کو لگام نہ عزت دے سکتی ہے نہ رُتبہ نہ شرافت۔ کیونکہ یہ باتیں اسے میسرنہیں ہوتیں۔ اگریہ چیزیں اسے حاصل ہوں تو جواب کی اہمیت اُس کی سمجھ میں آجاتی ہے کیونکہ وہ خیال کرتاہے کہ میری بھی عزت ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسلام کے بعض دشمنوں میں سے ایسے ہی بعض لوگوں کو جواب دیا جو مثلاً پادری تھے اور اپنی قوم میں معزز تھے۔ جبکہ وہ اسلام کے متعلق بدگوئی میں انتہا درجہ پر پہنچ گئے تا ان کو احساس ہو اور ان کی پوزیشن ان پر ظاہر ہوجائے۔ چنانچہ ایسے لوگوں کے پاس ایک جماعت متفرق لوگوں کی گئی جنہوں نے ان کو کہا کہ اگر تم ایسی سختی نہ کرتے تو حضرت مسیح موعود عَلَیْہِ السَّلاَم کے متعلق تم کو ایسی باتیں نہ سننی پڑتیں۔ جس سے ان کو شرم محسوس ہوئی اور وہ رُک گئے۔ حتی کہ بعضوں نے عَلَی الْاِعْلَان کہنا شروع کیا کہ کسی مذہب کے خلاف کچھ نہیں کہنا چاہئے۔ اِس کانتیجہ یہ ہوا کہ آئندہ کیلئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف دشمنوں کی بدگوئی بہت حد تک رُک گئی۔ لیکن اگر آپ بعض اوباش عیسائیوں کے خلاف لکھتے تو کسی شریف نے اُن کو روکنا نہیں تھا نہ خود اُن کو اپنی عزت کا پاس ہوتا اور اِس طرح وہ گالیوں میں بڑھ جاتے۔ ایسے لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کبھی مخاطب نہیں کیا بلکہ ان کی نسبت فرمایا کہ ان کی گالیاں سن کر ان کو دعا دو۔
    خداتعالیٰ بھی قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ۳؎ کہ جو تمسخر کرتے ہیں ان میں علم اور عقل نہیں ہوتی ان کے جواب کی تم میں ہمت نہیں ہم ان کو خود جواب دیں گے۔ پس ایسے لوگوں کو مخاطب کرنا بے فائدہ ہے۔
    اب قادیان کے ہندو مسلمانوں کی پوزیشن کیا ہے۔ وہ قوم میں معزز نہیں ۔ وہ اگر گالیاں دیں تو کے مطابق ایسے مشرکین سے اعراض کرنا چاہئے۔ ایسے شخصوں کا مقابلہ کرنے والا درحقیقت پاگل ہے اور وہ خود زیادہ گالیاں دلاتا ہے بلکہ سلسلہ کا دشمن ہے کیونکہ آپ گالیاں دلاتا اور قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف عمل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے تم ان کے بڑوں کو گالیاںمت دو کہ پھر یہ بغیر علم کے تمہارے خداکو گالیاں دینے لگ جائیں گے۔ کیونکہ دشمنی کے ساتھ بعض دفعہ عقل بھی ماری جاتی ہے اورحملہ کرتے وقت صرف یہی احساس دل میں ہوتا ہے کہ دوسرے کے نقصان کی خاطر اگر اپنا نقصان بھی ہوجائے توکوئی پرواہ نہیں۔ بیسیوں لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ دوسرے کو نقصان پہنچانے کی خاطر اپنے مکان کو آگ لگادیتے ہیں تا کہ دوسرے کو مقدمہ میں پھنسادیں۔ کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اپنے بیٹے کو ماردیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں نے ماردیا۔ پس پاگلوں کو چھیڑنا خود پاگل پن ہے۔ ہماری جماعت کو سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو ایک امام کے تابع کیا ہے اور امام خوب سمجھتا ہے کہ کہاں جواب دینا مناسب ہے اور کہاں نہیں۔ ہر جگہ جواب دینے والے کی مثال کُتّے کی سی ہوتی ہے جو بغیر امتیاز کے بھونکتا ہے۔ ایک شریف انسان کو بھی جواب دیتا ہے لیکن وہ یہ دیکھتا ہے کہ کس کو جواب دیا جائے اور کیا جواب دیا جائے۔
    پس یہ امام کا حق ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ کون سے دشمن اسلام ایسے ہیں جن کو جواب دیاجائے او رکون سے دشمن ایسے ہیں جن کے اعتراضات سننے کے باوجود خاموشی اختیار کی جائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں بھی ایسے گالیاں دینے والے لوگ موجود تھے۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اُن کو کبھی جواب نہیں دیا۔ آخر جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے جواب دیا اور ’’قادیان کے آریہ اور ہم‘‘ کتاب لکھی۔ تو دیکھو ان میں سے کون باقی رہا۔ سب طاعون سے فنا ہوگئے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خود جواب دیا۔ اس سے تم لوگ سمجھ سکتے ہو کہ اگر تمہارا جواب خدا کے حکم سے ہو تو اس کے نتیجہ میں بھی وہ بات پیدا ہوجائے۔ لیکن جب پیدا نہیں ہوتی تو معلوم ہوا کہ تمہارا جواب خدا کے حکم کے خلاف ہے ورنہ چاہئے تھا کہ خدا کے فرشتے تمہاری مدد کرتے اور اس کا جواب دیتے۔ آسمان و زمین میں ایسے سامان پیدا ہوجاتے کہ وہ باتیں پوری ہوجائیں۔ اگر تم ان کو ذلیل و بے شرم کہتے تو خدا کے فرشتے بھی ان الفاظ کو دُہراتے اور ان کے دوست بھی انہیں ایسا ہی کہتے۔ لیکن جب ایسا نہیں ہوتا تو معلوم ہوا کہ تمہارے سخت الفاظ محض الفاظ ہی ہیں ان میں حقائق نہیں۔ اس کے مقابلہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حقائق پیش کئے۔ دشمنوں نے آپ کو اَبْتَرُکہا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے دشمنوں کو ابتر کہا۔ ان کی اولادیں موجود تھیں لیکن خدا نے ایسے سامان پیدا کردیئے کہ بعضوں کی اولاد کو لڑائیوں میں ختم کردیا اور بعض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد بن گئے اور ان لوگوں کی اولاد نہ رہے۔
    پنجابی میں اَوتر بھی اَبْتَر کو ہی کہتے ہیں۔ پنجابی عورتیں بھی یہ گالیاں دیتی ہیں کہ تم اَوتر ہوجائو۔ لیکن وہ محض گالی ہوتی ہے ۔ ان عورتوں کی اس گالی سے کسی کے بچے نہیں مرتے۔ لیکن رسول کریم ﷺ نے جن دشمنوں کو اَوتر کہا تو ان کی اولادیں واقعہ میں فنا ہوگئیں۔ پس معلوم ہوا کہ رسول کریم ﷺ کا ابتر کہنا گالی نہ تھی بلکہ واقعہ تھا جو پورا ہوا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعض سخت اقوال سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے کیونکہ انہوں نے خدا کے حکم سے وہ الفاظ کہے اور زمین و آسمان ان کے ساتھ ہوگئے۔ میں دیکھتا ہوں ہماری جماعت کے بعض لوگ جب جواب دینے کیلئے کھڑے ہوتے ہیں اور دشمن اس کے جواب میں اس سے بڑھ کر گالیاں دیتا ہے تو بے غیرت بن کر اپنے گھر میں بیٹھ جاتے ہیں۔ حالانکہ ان کو چاہئے تھا کہ یا تو دشمن کا منہ بند کرتے یا گالی کا جواب دینے میں ابتداء نہ کرتے۔ پس میں جماعت کو نصیحت کرتاہوں کہ ان کے اخلاق دوسروں سے اعلیٰ ہونے چاہئیں۔ پیغامِ حق پہنچانا اخلاقِ فاضلہ پیدا کرکے دین و دنیا کی بہتری کی تجاویز سوچنا نیکی اور علم کو وسعت دینا اور دنیا کی تکالیف دور کرنا ان کا مقصود ہو، تاکہ جو خدا کامقصد سلسلہ احمدیہ کے قیام سے ہے وہ پوراہو۔
    یہ سنت ہے کہ جب خدا کاکام بندہ اپنے ذمہ لے لیتا ہے تو خدا اسے چھوڑ دیتا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ ایک مجلس میں بیٹھے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس جگہ تشریف رکھتے تھے کہ ایک شخص آپ کو گالیاں دینے لگا۔ آپ خاموش رہے۔ جب اُس نے زیادہ سختی کی تو حضرت ابوبکرؓ نے بھی اُس کو جواب دیا۔ اس پر رسول کریم ﷺنے فرمایا جب تک آپ خاموش رہے، خدا کے فرشتے اسے جواب دیتے رہے ۔ لیکن جب آپ نے خود جواب دینا شروع کیا تو وہ چلے گئے۔۴؎ پس جس کام کو خدا نے اپنے ذمہ لیا ہواہوتاہے اگر بندہ اس میں دخل دے تو خدا اسے چھوڑ دیتا ہے۔ لیکن اگر بندہ صبر کرے اور یقین رکھے کہ خداتعالیٰ جلد یا بدیر اس کا بدلہ لے لے گا تو خدا اس کا بدلہ لے لیتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں ۱۳ سال تک اور پھر مدینہ میں جاکر بھی دشمن نے گالیاں دیں اور تنگ کیا۔ نہ صرف ایک دن نہ صرف ایک ماہ نہ صرف ایک سال بلکہ اِس وقت تک مخالفین آپ کو گالیاں دے رہے ہیں اور تورات کی پیشگوئی کے مطابق کہ حضرت اسماعیل جو رسول کریم ﷺ کے جدِّامجد تھے، ان کے خلاف ان کے بھائیوں کی تلوار ہمیشہ اُٹھی رہے گی۔ آپ کو لوگ ہمیشہ گالیاں دیتے رہتے ہیں لیکن خدا نے اس کا علاج اپنے ذمہ لے رکھا ہے اور اس سے بہتر علاج اس کا کیا ہوسکتا ہے کہ خداتعالیٰ ان لوگوں کو اسلام میں داخل کردے لیکن اسلام میں داخل کرنا ہمارے اختیار میں نہیں۔
    مجھے ایک دفعہ ایک یہودی نے چٹّھی لکھی کہ میں وہ شخص تھا کہ شاید ہی کسی کے دل میں میرے دل سے بڑھ کر محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق دشمنی ہو بلکہ رسول کریم ﷺ کا نام سنتے ہی مجھے اشتعال پیدا ہوجاتا تھا۔ لیکن آپ کے مبلغوں سے اسلام کی خوبیاں سن کر اب میری یہ حالت ہوگئی ہے کہ میں رات کو نہیں سوتا جب تک رسول کریم ﷺ پر درود نہ بھیج لوں۔ بھلا ہماری گالیوں سے سلسلہ کی کیا خدمت ہوسکتی ہے۔ اگر ہم دعا کریں کہ اے خدا! تیرا وعدہ سچا ہے تُو آپ اس کا علاج کر اور اس وعدہ پر اعتماد رکھ کر چپ رہیں تو خدا خود ہی انتظام کرے گا۔ اور اگر تم نے خود اِس میں دخل دینا شروع کردیا تو تم بیعت میں رخنہ ڈالنے والے، دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کے وعدہ کو پس پشت ڈالنے والے اور سلسلہ کو بدنام کرنے والے ہوگے۔
    رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ امام کی اطاعت کرو اور امام کے پیچھے ہوکر لڑو۔ پس لڑائی کا اعلان کرنا امام کا کام ہے تمہاری غرض محض اس کی اطاعت ہے۔ اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اس تعلیم کو خود ہی ردّ کرنے والے ٹھہرو گے۔ دنیا میں بعض دفعہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے عظیم الشان لڑائیاں ہوجاتی ہیں۔ جیسے آسٹریا کے شہزادہ کے قتل سے عظیم الشان جنگ ہوئی جس میں دو کروڑسے زیادہ انسان قتل ہوئے۔ پس امام جب چاہے اعلانِ جنگ کرے جب چاہے چُپ رہے۔ لوگوں کو چاہئے کہ اس کے پیچھے رہیں اور خودبخود کوئی حرکت نہ کریں۔
    پس میں پھر جماعت کو نصیحت کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ وہ اپنے فرائض کی طرف متوجہ ہوگی۔ میں مصلحت کو سمجھتا ہوں۔ ہر بات کی دلیل بیان کرنا امام کیلئے ضروری نہیں۔ جرنیل اور کمانڈر کے ہاتھ میں سارا راز ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کہاں اور کس طرح حملہ کیا جائے۔ اگر وہ راز کھول دے تو دشمن اس کا توڑ سوچ لے اور ساری سکیم باطل ہوجائے۔ اگر کوئی شخص سچے طور پر بیعت کرتا ہے اور اتباع کا اقرار کرتا ہے تو اس کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے اعتراض نہیں کرنا چاہئے ورنہ بیعت چھوڑ دے کیونکہ وہ منافق ہے۔ پس گالیوں کا جواب نہیں دینا چاہئے ورنہ آہستہ آہستہ بڑی لڑائی شروع ہوجائے گی اور پھر امام بھی مجبور ہوگا کہ اس میں شامل ہو اور اپنی طاقت ایسی جگہ خرچ کرے جہاں وہ مناسب نہیں سمجھتا۔ میں امید کرتا ہوں کہ دوست ان باتوں کی اہمیت کو سمجھیں گے۔
    کوئی مومن اِس قدر بیو قوف نہیں ہوتا کہ اس کے غصے سے ساری جماعت کو نقصان پہنچے۔ پس دوستوں کو چاہئے کہ اپنے نفس کوقابو میں رکھیں اور امام کے حکم کے منتظر رہیں۔ قرآن کریم میں جب لڑائی کا حکم آیا تو بعض لوگوں نے لڑنے سے انکار کردیا اور کہا ۵؎ کہ اگر ہم جانتے کہ یہ لڑائی ہے تو ہم ضرور شامل ہوتے۔ مگر یہ تو خودکشی ہے اور یہ وہی لوگ تھے جو لڑائی کیلئے زیادہ شور مچاتے تھے۔ پس زیادہ شور مچانا بسا اوقات نِفاق کی علامت ہوتی ہے۔ ایسے لوگ جماعت کو لڑائی میں ڈال کر آپ پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور بعض بالکل خاموش رہنے والے بعض دفعہ زیادہ مومن اور بہادر ہوتے ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ خاموش طبیعت تھے لیکن لڑائی میں سب سے زیادہ خطرناک جگہ پر موجود رہتے تھے یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ۔ کیونکہ لڑائی میں سب سے زیادہ خطرناک جگہ وہی ہوتی تھی جہا ں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے تھے۔ کیونکہ دشمن کا سارا زور وہیں ہوتا تھا اور لوگ کہتے تھے کہ یوں تو یہ بڈھا بہت نرم دل ہے لیکن لڑائی میں سب سے آگے رہتا ہے۔ پس خاموشی سے اخلاص میں فرق نہیں پڑتا بلکہ ممکن ہے جو زیادہ خاموش رہنے والا ہے خدا کے نزدیک زیادہ مخلص ہو اور وہ جو زیادہ شور مچانے والا ہے وہ منافق ہو۔ کیونکہ خدا تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے اور وہ خوب سمجھتا ہے کہ مومن کون ہے اور منافق کون ہے‘‘۔
    (خطباتِ محمود جلد۱۸ صفحہ۱۳۱ تا۱۳۸)
    ۱؎ بخاری کتاب الجہاد باب یُقَاتَلُ مِنْ وَّرَائِ الْامَامِ وَیتقٰی بہٖ
    ۲؎ الحجر: ۹۵ ۳؎ الحجر: ۹۶
    ۴؎ مسند احمد بن حنبل جلد۲ صفحہ۴۳۶ مطبوعہ بیروت ۱۹۷۸ء
    ۵؎ اٰل عمران: ۱۶۸

    امام اور ماموم کا مقام اور اس کے تقاضے
    (فرمودہ ۲۸؍ مئی ۱۹۳۷ء )
    تشہّد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:-
    غالباً دو جمعے گزرے ہیں کہ میں نے ایک خطبہ اپنے سفر کے دوران میں پڑھا تھا اور ہدایت کی تھی کہ اسے فوراً ’’الفضل‘‘ میں چھپنے کیلئے بھجوادیا جائے۔ کیونکہ وہ خطبہ موجودہ فتنوں کے متعلق تھا اور گو وہ پڑھا سفر میں گیا تھا اور جو لوگ اُس وقت سامنے بیٹھے تھے ان میں سے اکثریت ان لوگوں کی تھی جو قادیان میں نہیں رہتے تھے مگر اُس خطبہ کے پہلے مخاطب قادیان میں رہنے والے لوگ ہی تھے اور میں چاہتا تھا کہ جس قدر جلد ہوسکے اسے قادیان میں رہنے والے لوگوں تک پہنچادیا جائے تاکہ کم سے کم خداتعالیٰ کے سامنے مَیں بری الذمہ ہوسکوں اور اُسے کہہ سکوں کہ میں نے ان کے سامنے ہدایت اور راستی پیش کردی تھی۔ اگرباوجود میرے ہدایت پیش کردینے کے اُنہوں نے اِس پر عمل نہیں کیا تو اس کی ذمہ واری مجھ پر نہیں ان پر ہے۔
    میں آج پھر اُسی مضمون کے متعلق آپ لوگوں سے کچھ باتیں کہنا چاہتا ہوںاور نہ صرف آپ لوگوں سے بلکہ باہر کی جماعتوں سے بھی اور اللہ تعالیٰ کے سامنے اِس بات سے بری الذمہ ہوتا ہوں کہ میں نے وہ صداقت آپ لوگوں تک پہنچادی ہے جو میرے نزدیک اللہ تعالیٰ کا منشاء اور قرآنی تعلیم ہے۔ میں نے اُس خطبہ میں جماعت کو اِس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ جو جماعتیں منظم ہوتی ہیں اُن پر کچھ ذمہ واریاں عائد ہوتی ہیں اور کچھ شرائط کی پابندی کرنی ان کیلئے لازمی ہوتی ہے جن کے بغیر ان کے کام کبھی بھی صحیح طورپر نہیں چل سکتے۔اور سلسلہ کے متعلق میں نے کہا تھا کہ ان شرائط اور ذمہ واریوں میں سے ایک اہم شرط اور ذمہ واری یہ ہے کہ جب وہ ایک امام کے ہاتھ پر بیعت کرچکے اور اس کی اطاعت کا اقرار کرچکے تو پھر انہیں امام کے منہ کی طرف دیکھتے رہنا چاہئے کہ وہ کیا کہتا ہے اور اس کے قدم اُٹھانے کے بعد اپنا قدم اُٹھانا چاہئے۔ اور افراد کو کبھی بھی ایسے کاموں میں حصہ نہیں لینا چاہئے جن کے نتائج ساری جماعت پر آکر پڑتے ہوں کیونکہ پھر امام کی ضرورت اور حاجت ہی نہیں رہتی۔ اگر ایک شخص اپنے طور پر دوسری قوموں سے لڑائی مول لے لیتا ہے اور ایسا فتنہ یا جوش پیدا کردیتا ہے جس کے نتیجہ میں ساری جماعت مجبور ہوجاتی ہے کہ اس لڑائی میں شامل ہو تو اس کے متعلق یہی سمجھاجاسکتا ہے کہ اس نے امام اور خلیفہ کے منصب کو چھین لیا اور خود امام اور خلیفہ بن بیٹھا اور وہ فیصلہ جس کا اجرا ء خلیفہ اور امام کے ہاتھوں میں ہونا چاہئے تھا خود ہی صادر کردیا۔ اگر ہر شخص کو یہ اجازت ہو تو تم ہی بتائو پھر امن کہاں رہ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں جماعت کے نظام کی مثال اُس ٹین کی سی ہوگی جو کُتّے کی دُم سے باندھ دیا جاتا ہے اور جدھر جاتا ہے ساتھ ساتھ ٹین بھی حرکت کرتا جاتا ہے۔
    امام کا مقام تو یہ ہے کہ وہ حکم دے اور ماموم کا مقام یہ ہے کہ وہ پابندی کرے۔ لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت کے دوستوں نے باوجود بیعت کر لینے کے ابھی تک بیعت کا مفہوم نہیں سمجھا اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کی بہت بڑی ذمہ واری جماعت کے علماء پر ہے۔ وہ خلافت اور اس کی اہمیت پر تقریریں کرنے سے ساکت رہتے ہیں اور ان کے لیکچر ہمیشہ اور اَور مضامین پر ہوتے ہیں۔ اس امر کے متعلق بہت ہی کم دلائل قرآن مجید یا احادیث یا عقل سے دیئے جائیں گے کہ خلافت سے وابستگی کتنی اہم چیزہے۔ وہ سمجھتے ہیں شاید لوگ ان مسائل کو جانتے ہی ہیں اس لئے ان مسائل پر زور دینے کی کیا ضرورت ہے حالانکہ یہی وہ خیال تھا جس نے پہلے مسلمانوں کو تباہ کردیا۔ گزشتہ علماء نے خیال کرلیا کہ توحید پر زور دینے کی کیا ضرورت ہے۔ بھلا کوئی مسلمان ایسا بھی ہوسکتا ہے جو توحید کو نہ مانے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ توحید اُن کے ہاتھ سے جاتی رہی۔ انہوں نے خیال کرلیا کہ رسالت پر ایمان لانے کی اہمیت واضح کرنے کی کیا حاجت ہے یہ تو ایک صاف اور واضح مسئلہ ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ رسالت پر ایمان بھی جاتا رہا۔ انہوں نے خیال کرلیا کہ نظام کی ضرورت پر زور دینے کی کیا ضرورت ہے سب کو معلوم ہی ہے کہ نظام میں سب برکت ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا نظام بھی ٹوٹ گیا۔ انہوں نے خیال کرلیا کہ نماز اور روزہ کی تاکید کرنے کی بار بار کیا ضرورت ہے سب لوگ نمازیں پڑھتے اور روزے رکھتے ہی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نمازوں میں بھی سستی آگئی اور روزے بھی ہاتھ سے جاتے رہے۔ اسی طرح انہوں نے خیال کرلیا کہ حج کا مسئلہ بھی کوئی ایسا مسئلہ ہے جس سے کوئی ناواقف ہو اور نتیجہ یہ ہوا کہ حج کے مسائل بھی لوگوں کے ذہن سے اُتر گئے اور استطاعت کے باوجود انہوں نے حج کرنا چھوڑ دیا۔ تو جب کسی قوم کے علماء یہ خیال کرلیتے ہیں کہ فلاں فلاں مسائل لوگ جانتے ہی ہیں اس قوم میں آہستہ آہستہ ان مسائل سے ناواقفیت پید اہونی شروع ہوجاتی ہے اور آخر اس نیکی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ پس میں سمجھتا ہوں ایک حد تک اس کی ذمہ واری جماعت کے علماء پر ہے لیکن ایک حد تک اس کی ذمہ واری جماعت کے افراد پر بھی ہے۔ کیونکہ ان کے سامنے یہ مسائل بالکل تازہ ہیں اور وہ خلافت کی اہمیت سے پورے طور پر آگاہ کئے جاچکے ہیں اور گو آج اس پر بحثیں نہیں ہوتیں مگر آج سے بیس سال پہلے اس پر خوب بحثیں ہوچکی ہیں اور خود جماعت کے افراد اس میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ پھر آج وہ ان مسائل کو کیوں بھول گئے ۔ میں نے اس امر کی طرف توجہ ان واقعات کی وجہ سے دلائی تھی جوقادیان میں حال ہی میں ظاہر ہوئے ۔
    میں نے دیکھا ہے بعض لوگ فتنہ و فسادکی نیت سے کوئی بات چھیڑ دیتے ہیں اور ہماری جماعت کے دوست فوراً اس کے پیچھے بھاگ پڑتے ہیں اور وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ دشمن کی تو غرض ہی یہ تھی کہ وہ کوئی فتنہ و فساد پید اکرے اور انہیں زیر الزام لائے۔ ان کی مثال بالکل اس شخص کی سی ہے جس کا دشمن اس کیلئے گڑھا کھودتااور اُس پر گھاس پھونس ڈال دیتا ہے۔ اور وہ اپنی بیوقوفی سے گھاس پر پائوں رکھتا اور گڑھے میں جاپڑتا ہے۔ بلکہ میں کہتا ہوں خیالی مثال کی کیا ضرورت ہے۔ شیر کے شکاریوں کی مثال لے لو جو پہلے زمانہ میں شیر کا شکار اِس طرح کرتے تھے کہ گھاس کے نیچے بانس کی کھپچیوں کے اوپر خاص طور پر سریش تیار کرکے چپکادیتے اور گھاس پر بکرا باندھ دیتے۔ شیر خیال کرتا کہ بکرا میرا شکار ہے اور وہ اُس پر حملہ کردیتا۔ لیکن جب بکرے کے پاس پہنچتا تو کھپچیوں میں لپٹ جاتا۔ اسی طرح دشمن بعض دفعہ ایسی حرکات کرتا ہے جن کے ذریعہ وہ اپنے مخالف کو بُلاتا ہے کہ آئو اور مجھ پر حملہ کرو۔ عقلمند آدمی موقع کو خوب سمجھتا ہے اور وہ جانتاہے کہ حملے کا کونسا موقع ہے۔ لیکن نادان آدمی ان باتوں کو نہیں سمجھتا وہ حملہ کردیتا ہے اور کھپچیوں میں پھنس جاتا ہے۔ پھر شور مچاتا ہے کہ آئو آئو اور مجھے اس مصیبت سے بچائو۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اُس کی آواز سن کر دوچار آدمی اور دشمن پر حملہ کردیتے ہیں اور وہ بھی انہی کھپچیوں میں پھنس جاتے ہیں اور اسی طرح یہ معاملہ بڑھتا جاتا ہے۔
    انگریزوں میں ایک کہانی مشہور ہے جو اسی قسم کے فتنوں پر چسپاں ہوتی ہے۔ کہتے ہیں کسی کے پاس کوئی بطخ تھی۔ جب وہ کسی شخص پر ناراض ہوتا تو کسی طرح اُس کا ہاتھ بطخ کولگوادیتا۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ اس بطخ سے اُس کا ہاتھ چمٹ جاتا اور وہ چھوٹ نہ سکتا۔یہ دیکھ کر اُس کے دوست اور رشتہ دار اُسے چھڑانے کیلئے آتے اور جو بھی بطخ پرہاتھ ڈالتا اُس کے ساتھ چمٹا جاتا ۔ یہی حال ایسی لڑائی کا ہوتا ہے۔جب ایک شخص لڑائی میں شامل ہوتا اور دشمن کی گرفت میں آجاتا ہے تو شکوہ کرتا اور شور مچانے لگ جاتا ہے کہ میںجماعت کا ممبر ہوں، میری مدد کیوں نہیں کی جاتی۔ میرے ساتھ ہمدردی اور محبت کا سلوک کیوں نہیں کیا جاتا۔ اس شخص کو جواب تو یہ ملنا چاہئے کہ تمہارے ساتھ ہمدردی کیا کی جائے تم نے نظام کو توڑا اور سلسلہ کی ہتک کی۔ لڑائی کرنا امام کا کام تھا، تمہارا کام نہیں تھا۔ لیکن اُس کی آواز سن کر کئی رحم دل یا یوں کہو کہ کمزور دل کہنا شروع کردیتے ہیں کہ آئو اس کی مدد کریں۔ چنانچہ وہ اس کی مدد کیلئے اس کے پیچھے جاتے ہیں اور وہی لڑائی جو پہلے ایک شخص کی تھی اب بیس آدمیوں کی لڑائی بن جاتی ہے اور پھر ایک کی بجائے بیس آوازیں اُٹھنی شروع ہوجاتی ہیں کہ آناآنا، بچانا بچانا۔ اس پر وہ لوگ بھی جو پہلے اس خیال سے خاموش ہوتے ہیں کہ یہ انفرادی فعل ہے اِس میں ہمیں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے، جوش سے کھڑے ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں اب ایک کا سوال نہیں، بیس کا سوا ل ہے اور وہ بھی لڑائی میں شامل ہوجاتے ہیں ۔نتیجہ یہ ہوتاہے کہ اب لڑائی میں چالیس آدمی شامل ہوجاتے ہیں۔ پھر وہ چالیس اپنے ساتھ اَوروں کو ملاتے اور ساٹھ بن جاتے ہیں۔ ساٹھ ایک سَو بیس کی کشش کا موجب بنتے ہیں اور ایک سَو بیس کے شو رمچانے پر دو سَو چالیس کی تعداد ہو جاتی ہے۔ یہ دو سَو چالیس پھر چار سَو اسّی ہوجاتے ہیں جو بڑھ کر نو سَو ساٹھ کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ یہاں تک کہ رفتہ رفتہ ساری جماعت ایک معمولی وجہ سے ایسی لڑائی میں شامل ہوجاتی ہے جس کاکوئی بھی نتیجہ نہیں ہوتا اور دشمن دل میں ہنستا ہے کہ جو میری غرض تھی وہ پوری ہوگئی۔
    ایک مشہور واقعہ پنجاب کے ایک رئیس کا ہے جو اِس مقام پر خوب چسپاں ہوتا ہے۔ پنجاب کے ایک مشہور راجہ گزرے ہیں جن کا نام لینے کی ضرورت نہیں ان کے ہاں کوئی اولاد نہیں تھی۔ ان کے دربار میں دو پارٹیاں تھیں۔ ایک وزیر اعظم کی اور ایک اور وزیر کی اوریہ دونوں پارٹیاں روزانہ آپس میں لڑتیں او رراجہ کے پاس شکایتیں ہوتیں۔ ایک پارٹی دوسری پارٹی کے خلاف شکایت کرتی اور دوسری پہلی کے خلاف راجہ کے کان بھرتی اور ہر ایک کی یہی کوشش ہوتی کہ راجہ صاحب ہمارے ساتھ مل جائیں اور دوسری پارٹی پر ناراض ہوجائیں۔ اِس لڑائی نے ترقی کرتے کرتے سخت بھیانک شکل اختیار کرلی۔ ایک دن ایک پارٹی نے تجویز کی کہ کوئی ایسا کام کرنا چاہئے جس سے مخالف پارٹی کو بالکل کُچل دیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور یہ فیصلہ ہوا کہ ایک رانی کو اپنے ساتھ ملایا جائے اور یہ مشہور کردیا جائے کہ اُس کے ہاں اولاد ہونے والی ہے۔ چنانچہ انہوں نے ایک رانی کواپنے ساتھ ملالیا اور اُسے کہہ دیا کہ عین وقت پر ہم تمہیں ایک بچہ لاکر دے دیں گے اِس سے راجہ کی نگاہ میں تمہاری عزت بھی قائم ہوجائے گی اور اس کے بعد گدی پر بیٹھنے کا بھی وہی حقدار ہوگا۔ جب یہ خبر عام لوگوں میں مشہور ہوگئی تو دوسرے فریق نے راجہ کے کان بھرنے شروع کردیئے کہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ مہارانی حاملہ نہیں بلکہ شرارت سے مخالف پارٹی نے اسے حاملہ مشہور کردیا ہے۔ اب مہاراجہ صاحب نے بیوی کی نگرانی شروع کردی اور کچھ عرصہ کے بعد انہیں پتہ لگا کہ یہ محض فریب کیا جارہا ہے، رانی حاملہ نہیں ہے۔ اس پر انہوں نے گورنمنٹ کے پاس اس امر کے متعلق کوشش شروع کردی کہ جس بچہ کے متعلق مشہور کیا جارہا ہے کہ وہ پید اہونے والا ہے وہ میرا نہیں ہوگا اور نہ تخت کا وارث ہوگا۔ یہ بات دوسرے فریق پر بھی کھل گئی اور انہوں نے مشورہ کیا کہ اب کوئی ایسی چال چلنی چاہئے جس کے نتیجہ میں ہماری سکیم فیل نہ ہو۔ چنانچہ انہوں نے مختلف لوگوں سے گورنمنٹ کے پاس چٹھیاں لکھوانی شروع کردیں کہ مہاراجہ صاحب پاگل ہوگئے ہیں اور وہ گدی کا انتظام نہیں کرسکتے۔ ذرا ذرا سی بات پر لڑتے اور جوش میں آکر گالیاں دینے لگ جاتے ہیں اور ان کا غصہ حدِ اعتدال سے بالکل باہر نکل گیا ہے۔ مہاراجہ بیچارے کو پتہ بھی نہیں اور گورنمنٹ کے پاس شکایتیں ہورہی ہیں کہ مہاراجہ صاحب پاگل ہو گئے ہیں۔ پہلے چھوٹوں کی طرف سے گورنمنٹ کو لکھا گیا۔ پھر بڑے بڑے افسروں کی طرف سے اور پھر ان سے بھی بڑے عہدہ داروں کی طرف سے۔ جب شکایتوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی اور بڑے بڑے افسروں نے خود مل کر بھی گورنمنٹ کے پاس شکایت کرنی شروع کردی تو گورنمنٹ کو خیال پیدا ہوا کہ تحقیقات کرنی چاہئے۔ چنانچہ اس نے مخفی طور پر کمشنر کو بھجوایا کہ وہ مہاراجہ سے باتیں کرکے رپورٹ کرے کہ یہ شکایتیں کس حد تک صحیح ہیں اور یہ بھی کہہ دیا کہ ڈاکٹر کو بھی ساتھ لیتے جائو اور باتوں باتوں میں اندازہ کرکے رپورٹ کرو کہ ان شکایتوں میں کس حدتک معقولیت ہے۔ فریق مخالف جس نے شکایت کی تھی وہ چونکہ ہر تدبیر سے اپنی بات کو منوانا چاہتا تھا اس لئے اس نے سرکاری دفاتر میں بھی بعض آدمی خریدے ہوئے تھے۔ جس وقت کمشنر صاحب تحقیقات کیلئے جانے لگے، ان سرکاری آدمیوں نے اطلاع کردی کہ کمشنر صاحب آرہے ہیں۔ چنانچہ جونہی انہوں نے سمجھا کہ اب کمشنر صاحب کے آنے کا وقت بالکل قریب آپہنچا ہے اور ایک آدھ منٹ میں ہی وہ دربار میں داخل ہوجائیں گے۔ انہوں نے ایک چَوری ۱؎ جھلنے والے کو اشارہ کردیا جسے انہوں نے پہلے سے اپنے ساتھ ملایا ہوا تھا اور اُس نے جُھک کر مہاراجہ کے کان میں دو تین گالیاں ماں اور بہن کی دے دیں۔ اب تم سمجھ سکتے ہو کہ مہاراجہ تخت پر بیٹھا ہوا ہو ،دربار لگا ہوا ہو اور چَوری جھلنے والا مہاراجہ کو اُس کے کان میں ماں کی گالیاں دے دے تو اُس کی کیا کیفیت ہوسکتی ہے۔ مہاراجہ جوش سے اُٹھا اور اس نے بے تحاشہ اُسے مارنا شروع کردیا۔ اب غصہ سے اُس کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی اور وہ اسے ٹھڈے پر ٹھڈے مارتا چلاجارہا تھا کہ اتنے میں کمشنر صاحب اندر داخل ہوگئے اور وہ پارٹی کی پارٹی کھڑی ہوکر کہنے لگی ’’حضور! روز ساڈے نال اسے طرح ہوندا ہے‘‘۔ یعنی حضور! ہمارے ساتھ روزانہ یہی سلوک ہوتا ہے۔کمشنر صاحب کی رپورٹ پر گورنمنٹ نے فیصلہ کیا کہ مہاراجہ واقعہ میں حواس باختہ ہے نتیجہ یہ ہوا کہ مہاراجہ صاحب کے اختیارات محدود کردیئے گئے اور وہ لڑکا جسے رانی نے گود میں ڈال لیا تھا اور جو ایک ملازم سرکار کا لڑکا تھا جسے بعد میں جج بنادیا گیا، جوان ہوکر گدی پر بٹھایا گیا اور خوش قسمتی سے نہایت شریف اور کامیاب راجہ ثابت ہورہا ہے۔
    تو بعض دفعہ دشمن اس قسم کی چالاکی بھی کرتا ہے۔ سمجھنے والے تو بچ جاتے ہیں لیکن جو اندھا دھند کام کرنے والے ہوں وہ پھنس جاتے اور مصیبتوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اسی وجہ سے اسلام نے حکم دیا کہ اَلْاِمَامُ جُنَّۃٌ یُّقَاتَلُ مِنْ وَّرَائِہٖ ۲؎ کہ امام کو ہم نے تمہارے لئے ڈھال کے طور پر بنایا ہے۔ اگر اس کے پیچھے ہوکر لڑو گے تو زخموں سے بچ جائو گے۔ لیکن اگر آگے ہوکر حملہ کرو گے تو مارے جائو گے کیونکہ وہ خوب سمجھتا ہے کہ کیا حالات ہیں۔ کس وقت اعلانِ جنگ ہونا چاہئے اورکس وقت دشمن کے فریب سے بچنا چاہئے۔ کئی باتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں انسان تفصیل سے بیان نہیں کرسکتا۔
    رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بھی بعض دفعہ لوگ آتے اور گھنٹوں آپ سے مخفی باتیں کرتے۔ قرآن کریم میں اِسی امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے ۳؎ کہ منافق کہتے ہیں کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم تو کان ہی کان ہیں۔ ہر وقت لوگ آتے اور انہیں رپورٹیں پہنچاتے رہتے ہیں۔ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کئی مخفی باتوں کا علم ہوا کرتا تھا۔ بیسیوں دفعہ ایسا ہواکہ آپ فرماتے میرے پاس رپورٹ آئی ہے کہ آج فلاں جگہ یہ کام ہورہا ہے۔ تو امام کو وہ معلومات ہوتی ہیں جو اور لوگوں کونہیں ہوتیں۔ اس لئے وہ جانتا ہے کہ فلاں کام جو ہورہا ہے وہ کیوں ہورہا ہے اور کس طرح ہورہا ہے اور اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ جماعت سے اُسی وقت لڑائی کرائی جائے جب لڑائی کا کوئی فائدہ ہو۔ ورنہ یہ تو نہیں کہ لڑائی کرنے میں تم مجھ سے زیادہ بہادر ہو۔
    پچھلے دو سال میں میںنے ایک ہی وقت میں گورنمنٹ سے اور دوسرے مخالف اقوام سے لڑائی لڑی ہے یا نہیں۔ تم میں سے کئی لوگ تھے جو اُس وقت کہتے تھے کہ ہمیں کس مصیبت میں پھنسادیا۔ مگر میں جانتا تھا کہ وہ وقت لڑنے کا تھا۔ پس ہم لڑے اور خداتعالیٰ کے فضل سے ہم نے فتح پائی۔ لیکن اب جماعت کو ایک ایسے فتنہ میں مبتلا کیا جارہا ہے جس میں مَیں سمجھتا ہوں ہمارا فرض ہے کہ ہم دنیا کو دکھادیں کہ ہم مظلوم اور ہمارا دشمن ظالم ہے اور شرارت کی تمام تر ذمہ واری ہمارے دشمن پرہے ہم پر نہیں۔ پس جبکہ ہم کو معلوم ہے کہ اِس لڑائی کی وجہ لڑائی نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم نے پچھلے دنو ں جو حکومت پر یہ ثابت کردیا تھا کہ ہم ظالم نہیں بلکہ مظلوم ہیں اور ہمارا دشمن مظلوم نہیں بلکہ ظالم ہے، وہ چاہتے ہیں کہ اس خیال کو مٹایا جائے اَوربعض اور ذرائع سے اپنی مظلومیت حکومت پر ظاہر کریں۔ اگر تم ذرا بھی سوچ سمجھ سے کام لو تو یہ موٹی بات تو تمہیں بھی نظر آسکتی ہے کہ قادیان میں بِلاوجہ فتنے مختلف شکلیں بدلتے رہتے ہیں۔ ایک وقت مسلمانوں کی طرف سے شور مچایا جاتا ہے اور پھر یک دم اس میں تغیر آجاتا ہے اور پولیس کی طرف سے شور اُٹھنا شروع ہوجاتا ہے۔ پھر یکدم یہ حالت بھی بدل جاتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہماری لڑائی نہ مسلمانوں سے ہے نہ پولیس سے بلکہ سکھوں سے ہے۔ پھر سکھوں سے لڑتے لڑتے یکدم تغیر آجاتا ہے اور سکھ تو بالکل خاموش ہوجاتے ہیں اور ہندو شور مچانا شروع کردیتے ہیں اور ان لڑائیوں میں سے کسی لڑائی کے پیدا کرنے میں بھی ہمارا دخل نہیں ہوتا۔ جس وقت مسلمان شور مچارہے ہوتے ہیں اُس وقت کوئی ایسی حرکت ہم نے نہیں کی ہوتی جو پندرہ بیس سال پہلے ہم نے نہ کی ہو۔ گویا کوئی تازہ حرکت ایسی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے ہم سمجھیں کہ ان کا شور مچانا حق بجانب ہے۔ اسی طرح جب پولیس کی طرف سے شور مچایا جاتا ہے تو ہماری کوئی ایسی حرکت نہیں ہوتی جس کی وجہ سے وہ اشتعال میں آئے۔ پھر جب سکھ اور ہندو شور مچاتے ہیں اُس وقت بھی کوئی ایسا نیا فعل ہم سے صادر نہیں ہوتا جس کی وجہ سے سمجھا جائے کہ ان کا شور اور فتنہ و فساد کسی بنیاد پر ہے۔ پس کیا اس محاذ کی تبدیلی سے تمہاری سمجھ میں اتنی موٹی بات بھی نہیں آتی کہ یہ کسی سازش اور چالاکی کا نتیجہ ہے۔ اگر تم بات کی گہرائی تک نہیں پہنچ سکتے اور نہ تمہیں وسیع علم ہے اور نہ وسیع معلومات کے ذرائع تمہیں حاصل ہیں تو کم سے کم اتنی بات تو تمہیں سمجھ لینی چاہئے تھی کہ کیوں بِلا وجہ ایک وقت مسلمانوں کو جوش آتا ہے تو دوسرے وقت پولیس والوں کو کبھی سکھوں کوجوش آجاتا ہے تو کبھی ہندوئوں کو۔ کم سے کم اتنی موٹی بات تمہیں سمجھ لینی چاہئے تھی کہ یہ تغیرات جو پیدا ہوئے ان کا کوئی نہ کوئی سبب ہوگا ورنہ بِلاسبب تو یہ نہیں ہوسکتے اورجب یہ بِلاسبب نہیں ہوسکتے اور تمہیں ان کاسبب معلوم نہیں تو تم کیوں اندھیرے میں چھلانگ لگاتے اور سلسلہ کی بدنامی اور ہتک کا موجب بنتے ہو۔ یہ معاملات اُن لوگوں کے ہاتھ میں چھوڑ دو جو اِن تغیرات کا سبب جانتے اور اس کی وجہ کو خوب پہچانتے ہیں۔ وہ جب دیکھیں گے کہ سلسلہ کی عظمت لڑائی کرنے میں ہے تو اُس وقت وہ بغیر کسی قسم کے خطرہ کے لڑائی کریں گے اور اُس وقت تم میں سے وہ لوگ جو اِس وقت بڑھ بڑھ کر باتیں کرتے اور کہتے ہیں ہم صبر نہیں کرسکتے، ہم دشمن سے لڑیں گے اور مرجائیں گے وہ لڑائی کرنے سے انکار کردیں گے اور کہیں گے کہ ہم ہلاکت کے منہ میں اپنے آپ کو نہیں ڈال سکتے۔ گویا جس وقت ہم کہتے ہیں ہمیں صلح رکھنی چاہئے اور بِلاوجہ دشمن سے لڑائی نہیں لڑنی چاہئے اُس وقت وہ بزدل اور منافق جو اگر لڑائی ہو تو سب سے پہلے میدانِ جنگ سے بھاگ نکلیںگے ۔ کہتے ہیں ہم بے غیرت نہیں، ہم دشمن سے ضرور لڑیں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں اب کسی نے لڑنا نہیں اور جب لڑائی ضروری ہوجائے تو کہہ دیتے ہیں صلح رکھنی چاہئے، آپس کے تعلقات کو خراب کر لینے سے کیا فائدہ۔
    آخر کیا تم خیال کرتے ہو کہ ایک شخص کے ہاتھ پر تم بیعت کرتے ہو اور پھر یہ سمجھتے ہو کہ اس کے دل میں سلسلہ کے متعلق اتنی بھی غیرت نہیں جتنی تمہارے دلوں میں ہے۔ حالانکہ اس نے اپنی غیرت کا عملی ثبوت بھی تمہارے سامنے پیش کیا ہوا ہے۔ میں ہمیشہ اس بات پر حیران ہوتا ہوں کہ جماعت کا بیشتر حصہ سچے مخلصوں اور باتیں بنانے والوں میں فرق کیوں نہیں کرتا۔ گزشتہ دو سال میں تم نے دیکھ لیا کہ وہ لوگ جو بڑھ بڑھ کر باتیں کرنیوالے تھے جب اُن پر مقدمے ہوئے تو انہوں نے کیسی بزدلی اور دوں ہمتی دکھائی ۔ جماعت کا ان مقدموں اور سیاسی شرارتوں کے مقابلہ کیلئے تیس چالیس ہزار بلکہ اس سے بھی زیادہ روپیہ خرچ ہوچکا ہے۔ حالانکہ ان لوگوں کو سوچنا چاہئے تھا کہ ہماری حرکات سے اگر سلسلہ کیلئے مشکلات پیش آئیں گی اور سلسلہ کا روپیہ خرچ ہوگا تو اس کا کون ذمہ وارہوگا ۔اورپھر جب بعض حالات میں مقدمات چلائے گئے تو کیوں یہ لوگ گھبراگھبرا کر اچھے سے اچھے وکیلوں اور اچھے سے اچھے سامانوں کے طالب ہوئے۔ جن لوگوں کے افعال کی وجہ سے یہ صورتِ حالات پیدا ہوئی تھی انہیں چاہئے تھا کہ یا وہ خود مقدمہ چلاتے یا کانگرس والوں کی طرح ڈیفنس پیش کرنے سے انکار کردیتے اور قید ہوجاتے۔ مگر انہیں شرم نہیں آتی کہ کہتے تو وہ یہ تھے کہ ہم سلسلہ کیلئے اپنی جانیں قربان کردیں گے مگر جماعت کا پندرہ بیس ہزار روپیہ انہوں نے مقدمات پر خرچ کرادیا اور پھر بھی وہ مخلص کے مخلص بنے ہوئے ہیں۔ ان میں سے بعض کے کھانوں اور سفر خرچ کے بل جاکر دیکھو تو تم کو تعجب ہوگا کہ یہ کیا ہوا ہے۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ دشمن جھوٹ بول رہا تھا اور سلسلہ کو بدنام کرنے کیلئے جھوٹے مقدمات کر رہا تھا۔ ہم اِن کی مدد کیلئے مجبور تھے گو ہم جانتے تھے کہ بعض جگہ دشمن کو موقع دینے والے خود ہمارے اپنے آدمی تھے۔ اگر ہمارے آدمی میری تلقین کے مطابق صبر سے کام لیتے اور گالی کا جواب نہ دیتے تو اتنا فتنہ نہ بڑھتا۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر انہوں نے لڑائی کرنادین کیلئے ضروری ہی سمجھا تھا تو ان کا فرض تھا کہ یا مقدمہ کے تمام اخراجات خود برداشت کرتے اور کہتے کہ ہماری جماعت کی مالی حالت کمزور ہے، ہم اس پر اپنا بوجھ ڈالنا نہیں چاہتے اور یا جوابِ دعویٰ سے دستبردار ہو کر معاملہ خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیتے۔ مگر یہ جماعت کاتیس چالیس ہزار روپیہ خرچ کرا دینے کے باوجود مخلص کے مخلص بنے پھرتے ہیں ( میں سب مقدمات کے بارہ میں نہیں کہتا۔ بعض مقدمات سلسلہ کی ضروریات کیلئے خود کئے گئے ہیں اور نہ سب آدمیوں کے متعلق کہتا ہوں جو ان میں مبتلا تھے ۔ مگر چونکہ اصل لوگوں کو ظاہر نہیں کرنا چاہتا میں نے بات کو عام رکھا ہے تا کسی خاص شخص پر الزام نہ آ ئے اور اس نوٹ کے ذریعہ سے میں نے اس کا بھی ازالہ کر دیا ہے کہ نا کردہ گناہ لوگوں پر کوئی بد ظنی کرے )۔
    میں پوچھتا ہوں بھلا گالیاں دینے یا بے فائدہ جوش دکھانے میں کونسی خوبی اور کمال ہے۔ کیا موچی دروازہ کے غنڈے گالیاں نہیں دیتے؟ اگر تم بھی دشمن کے جواب میں زبان سے گالیاں دیتے چلے جاتے ہو تو زیادہ سے زیادہ یہی کہا جائے گاکہ تم نے وہ کام کیا جو حق کے دشمن کر رہے ہیں مگر تمہاری اس حرکت کو قربانی قرار نہیں دیا جائے گا۔ قربانی وہ ہوتی ہے جسے عام آدمی پیش نہ کرسکے۔ مگر تقریر کیلئے کھڑے ہوجانا اوراس میں پندرہ بیس گالیاں دے دینا یہ تو ہر شخـص کر سکتا ہے اور کرتا ہے۔ پس صرف اس لئے کہ کوئی شخص بڑھ چڑھ کر باتیں کرتا ہے،مخلص اور مومن نہیں کہلا سکتا۔ کیونکہ مخلص وہ ہے جو اس چیز کو پیش کرے جسے عام لوگ پیش کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ تم چلے جائو لاہور میں یا اور کسی شہر میں اور چلے جائو بد ا خلا ق نمائندگانِ مذاہب کی مجالس میں ،تمہیں یہی نظر آئے گا کہ جوشیلے اور فسادی لوگ ہمیشہ گالیاں دیتے،پتھر پھینکتے اور تالیاں پیٹتے ہیں۔ مگر مخلص وہ قربانی کرتے ہیں جو دوسرے نہیں کرتے۔ لاہور میں ہی جب کوئی فساد ہو، کمزور اخلاق کے لوگ ہمیشہ بڑھ بڑھ کر لاٹھی چلائیں گے۔ لیکن جب اسلام کیلئے مال کی قربانی کا سوال ہو تو پیچھے ہٹ جائیں گے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں ہمارا کام اتنا ہی ہے کہ ہم گالیاں دیں، لٹھ ماریں اورپھر پلائو زردہ کھائیں۔ پس گالیاں دینا تو کمزور طبع لوگوں کا کام ہے کامل مومنوں والا کام نہیں اور اگرواقعہ میں ان میں اخلاص ہوتا تو جن لوگوں پرمقدمہ چلایا گیا تھا وہ کہتے ہم جماعت کا ایک پیسہ بھی اِس پر خرچ نہیں ہونے دیں گے ہم نے اپنی ذمہ واری سے کام کیا ہے اور اب اِس بوجھ کو بھی یا خود برداشت کریں گے یا برداشت نہ کرسکنے کی صورت میں قید ہوجائیں گے۔جماعت کے پاس آگے ہی روپیہ کونسا زیادہ ہے ہم اس پرمزید اپنے مقدمات کا بوجھ کیوں ڈالیں۔ کیا یہ اتنی موٹی بات نہیں جو تمہاری سمجھ میں آسکے۔ تو تمہیں چاہئے کہ تم مخلص اور کمزور طبع انسانوں میں فرق کرو۔ میں انہیں منافق نہیں کہتا۔ بعض کمزور طبائع ہوتی ہیں ان کا دل ایسا کمزور ہوتا ہے کہ وہ نتائج کی برداشت نہیں کرسکتے۔ ہوتے مومن ہی ہیں مگر دل کی کمزوری کی وجہ سے نتائج برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ یہی حال ان لوگوں کا ہے انہوں نے بھی بڑھ بڑھ کر باتیں کیں اورجماعت کو مزید مشکلات میں مبتلا کرادیا اور جب کبھی ان کی مدافعت کی غلط تدبیروں سے فساد اور بڑھ گیا اور اس کے نتائج کو برداشت کرنے کا وقت آیا تو کمزوری دکھادی او رمقدمہ لڑ کر اِس امر کی کوشش شروع کردی کہ ان کی بریت ہوجائے۔ حالانکہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ جو شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو گالیاں دے گا میں ضرور اسے سزا دوں گا۔ تواگر اس کا یہ مقولہ صحیح ہے تو سزا دینے کے بعد اسے دلیری سے اپنے جرم کا اقرار کرنا چاہئے اور اسے کہنا چاہئے مجھے جہاں چاہتے ہو لے جائو۔ میں نے اس کے منہ سے گالی سنی اورمیں اسے برداشت نہیں کرسکا۔ فرض کرو کوئی شخص کہتا ہے کہ جو شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو گالیاں دے گا میں اُسے جُوتی ماروں گا۔ اگر اسے ہماری تعلیم سے اتفاق نہیں تو جائے اور اُسے جوتی مارے اور پھر نتائج بھگتنے کیلئے تیار رہے۔ مگر اِدھر تو وہ ہماری رائے سے اتفاق نہیں کرتا اُدھر جب دوسرے کو مار کر آتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے فعل کے جواب دہ تم ہو۔
    یاد رکھو دنیا میں قیامِ امن دو ذرائع سے ہوتا ہے یا اُس وقت جب مار کھانے کی طاقت انسان میں پیدا ہوجائے یا جب دوسرے کو مارنے کی طاقت انسان میں پیدا ہوجائے، درمیانی دوغلہ کوئی چیز نہیں۔ اب جو کچھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم سے میں سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم میں مار کھانے کی طاقت ہونی چاہئے۔بالکل ممکن ہے تم میں سے بعضوں کا یہ خیال ہو کہ ہم میں مارنے کی طاقت ہونی چاہئے۔ میں اِسے غیرمعقول نہیں کہتا ہاں غلط ضرور کہتاہوں۔ یہ ضرور کہتا ہوں کہ اُس نے قرآن کریم کو نہیں سمجھا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم کو نہیں سمجھا کیونکہ خداتعالیٰ نے مارنے کیلئے جو شرائط رکھی ہیں وہ اِس وقت ہمیں میسر نہیں۔ پس کم سے کم میں اسے شرارتی یا پاگل نہیں کہوں گا میں زیادہ سے زیادہ یہی کہوں گا کہ اُس کی ایک رائے ہے جومیری رائے سے مختلف ہے۔ لیکن تمہاری یہ حالت ہے کہ تم میں سے ایک شخص کہتا ہے کہ دشمن کو سزا دینی چاہئے اورپھر جب وہ ہماری تعلیم کے صریح خلاف کوئی ایسی حرکت کر بیٹھتا ہے تو بھاگ کر ہمارے پاس آتا ہے اور کہتا ہے مجھے بچانا مجھے بچانا۔ آخر جماعت تمہیں کیوں بچائے؟ کیا تم نے جماعت کے نظام کی پابندی کی یا اپنے جذبات پر قابو رکھا ؟اور اگر تم اس خیال کے قائل نہیں تھے تو پھر تمہیں ہمارے پاس بھاگ کر آنے کی کیا ضرورت ہے۔ تمہیں چاہئے کہ تم دلیری دکھائو اور اپنے جرم کا اقرار کرو۔ اگر اِن دونوں عقیدوں کے چالیس چالیس آدمی بھی میسر آجائیں تو ہم دنیا کو ڈراسکتے ہیں۔ اگر چالیس آدمی ایسے مل جائیں جو مار کھانے کی طاقت اپنے اندر رکھتے ہوں تو وہ دنیا کو ڈراسکتے ہیں اور اگر چالیس آدمی ایسے میسر آجائیں جو مارنے کی طاقت اپنے اندر رکھتے ہوں تو وہ بھی دنیا کو ڈراسکتے ہیں۔ مگر تمہاری حالت یہ ہے کہ جب تم میں سے بعض دشمن سے کوئی گالی سنتے ہیں تو ان کے منہ میں جھاگ بھر آتی ہے اور وہ کود کراُس پر حملہ کردیتے ہیں۔ لیکن اُسی وقت ان کے پیر پیچھے کی طرف پڑرہے ہوتے ہیں۔ تم میں سے بعض تقریر کیلئے کھڑے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم مرجائیں گے مگر سلسلہ کی ہتک برداشت نہ کریں گے لیکن جب کوئی ان پر ہاتھ اُٹھاتا ہے تو پھر اِدھر اُدھر دیکھنے لگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بھائیو! کچھ روپے ہیں جن سے مقدمہ لڑا جائے، کوئی وکیل ہے جو وکالت کرے؟ بھلا ایسے خنثوں ۴؎ نے بھی کسی قوم کو فائدہ پہنچایا ہے؟ بہادر وہ ہے جو اگر مارنے کا فیصلہ کرتا ہے تو مار کر پیچھے ہٹتا ہے اور پکڑا جاتا ہے تو دلیری سے سچ بولتا ہے۔ اور اگر مار کھانے کافیصلہ کرتا ہے تو پھر جوش میں نہیں آتا اور اپنے نفس کو شدید اشتعال کے وقتوں میں بھی قابو رکھتا ہے۔
    پس اگر تم جیتنا چاہتے ہو تو دونوں میں سے ایک اصل اختیار کرو۔ جو کچھ میں سمجھتا ہوں ، وہ یہ ہے کہ بہادر بنو مگر اس طرح کہ مار کھانے کی عادت ڈالو اور امام کے پیچھے ہوکر دشمن سے جنگ کرو۔ ہاںجب وہ کہے کہ اب لڑو اُس وقت بیشک لڑو۔ لیکن جب تک تمہیں امام لڑائی کا حکم نہیں دیتا اُس وقت تک دشمن کو سزا دینے کا تمہیں اختیار نہیں۔ لاٹھی اور سوٹے سے ہی نہیں بلکہ ایک ہلکا سا تھپڑ مارنا بھی تمہارے لئے جائز نہیں۔ بلکہ میں کہتا ہوں تھپڑ تو الگ رہا ایک گلاب کے پھول سے بھی تمہیں دشمن کو اُس وقت تک مارنے کی اجازت نہیں جب تک امام تمہیں لڑائی کی اجازت نہ دے۔لیکن اگر تمہارا یہ عقیدہ نہیں تب بھی میں شریف انسان تمہیں تب ہی سمجھوں گا کہ اگر تمہارا یہ دعویٰ ہو کہ گالی دینے والے دشمن کو ضرور سزا دینی چاہئے اور تم اُس گالی دینے والے کے جواب میں سخت کلامی کرتے ہو اور اُس سے جوش میں آکر وہ پھر اور بدکلامی کرتا ہے تو پھر تم مٹ جائو اور اپنے آپ کو فنا کردو لیکن اُس منہ کو توڑ دو جس منہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کیلئے گالی نکلی تھی۔ اُس کو خاموش کرانا تمہاراہی فرض ہے کیونکہ تمہارے ہی فعل سے اُس نے مزید گالیاں دی ہیں۔ کیا تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم ایک سخت بدلگام دشمن کا جواب دے کر اس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو گالیاں دِلواتے ہو اور پھر خاموشی سے گھروں میں بیٹھ رہتے ہو!! اگر تم میں ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی حیا ہے اور تمہارا سچ مچ یہ عقیدہ ہے کہ دشمن کو سزا دینی چاہئے تو پھر یا تم دنیا سے مٹ جائو یا گالیاں دینے والوں کومٹاڈالو۔ مگر ایک طرف تم جوش اور بہادری کا دعویٰ کرتے ہو اور دوسری طرف بُزدلی اور دون ہمتی کا مظاہرہ کرتے ہو۔ میں تو ایسے لوگوں کے متعلق بھی یہی کہتا ہوں کہ وہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو گالیاں دلواتے ہیں اور وہ آپ سلسلہ کے دشمن اور خطرناک ہیں۔
    اگر کسی کو مارنا پیٹنا جائز ہوتا تو میں توکہتا کہ ایسے لوگوں کو بازار میں کھڑا کرکے انہیں خوب پیٹنا چاہئے کیونکہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو آپ گالیاں دلواتے ہیں اور پھر مخلص اور احمدی کہلاتے پھرتے ہیں۔میں اِس موقع پر ان لوگوں کو بھی جو انہیں اعلیٰ مخلص سمجھتے ہیں کہتا ہوں کہ مومن بیوقوف نہیں ہوتا۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ گالیاں دینا کوئی بہادری ہے؟تم کسی چوہڑے کو دو روپے دے کر دیکھ لو وہ تم سے زیادہ گالیاں دے دے گا۔ پس تم بھی اگر گالیاں دیتے ہو تو زیادہ سے زیادہ چوڑھوں والا کام کرتے ہو۔ یہ کوئی ایسا پیچیدہ مسئلہ نہیں جو تمہیں سمجھ میں نہ آسکے۔ مگر میں متواتر تین سال سے سمجھارہا ہوں اور تم ابھی تک سمجھنے میں نہیں آتے۔ میرے سامنے کوئی آٹھ دس برس کابچہ لے آئو، میں یہ باتیں اُس کے سامنے دُہرادیتا ہوں تمہیں خودبخود معلوم ہوجائے گا کہ وہ بچہ میری بات کوکتنی جلدی سمجھ لیتا ہے مگر کیامیرے تین سالہ خطبات بھی تمہیں میرے منشاء سے آگاہ نہیں کرسکے۔
    پس میں پھر ایک دفعہ کھول کھول کر بتادیتا ہوں کہ شریفانہ اور عقلمندانہ طریق دو ہی ہوتے ہیں۔ یا انسان کو مرنا آتا ہو یا انسان کو مارنا آتا ہو۔ ہمارا طریقہ مرنے کا ہے مارنے کا نہیں۔ ہم کہتے ہیں ہمیں اللہ تعالیٰ نے ابھی اِس مقام پر رکھا ہوا ہے کہ مر جائو مگر اپنی زبان نہ کھولو۔ کیا تم نے جہاد پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نظم نہیں پڑھی؟ اس میں کس وضاحت سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بتایا ہے کہ اگر جہاد کاموقع ہوتا توخداتعالیٰ تمہیں تلوار کیوں نہ دیتا۔ اُس کا تلوار نہ دینا بتاتا ہے کہ یہ تلوار سے جہاد کا موقع نہیں۔ اسی طرح اگر تمہارے لئے مارنے کامقام ہوتا تو تمہیں اس منہ کے توڑنے کی طاقت اور اس کے سامان بھی ملتے جس منہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو گالیاں دی جاتی ہیں۔ مگرتمہیں اِس کی توفیق نہیں دی گئی اوروہ سامان نہیں دیئے گئے۔ پس معلوم ہوا کہ تمہارے لئے اللہ تعالیٰ نے یہی مقام مقدر کیا ہے کہ تم گالیاں سنو اور صبر کرو۔ اوراگر کوئی انسان سمجھتاہے کہ اس میں مارنے کی طاقت ہے تو میں اسے کہوں گا اے بے شرم !تُو آگے کیوں نہیں جاتا اور اُس منہ کو کیوں توڑ نہیں دیتا جس منہ سے تو نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو گالیاں دلوائی ہیں۔ گندے سے گندے الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق کہے جاتے ہیں۔ تم خود دشمن سے وہ الفاظ کہلواتے ہو اورپھر تمہاری تگ و دو یہیں تک آکر ختم ہوجاتی ہے کہ گورنمنٹ سے کہتے ہو کہ وہ تمہاری مدد کرے۔ گورنمنٹ کو کیا ضرورت ہے کہ وہ تمہاری مدد کرے۔ کیا اُس کا اور تمہارا مذہب ایک ہے؟ یا اس کی اور تمہاری سیاست ایک ہے؟ یا اس کا نظام تمہارے نظام سے ملتا ہے؟ پھر گورنمنٹ تمہاری کیوں مدد کرے۔ گورنمنٹ اگر ہمدردی کرے گی تو اُن لوگوں سے جو تمہارے دشمن ہیں کیونکہ وہ اکثریت میں ہیں اور تم اقلیت میں اور گورنمنٹوں کو اکثریت کی خوشنودی کی ضرورت ہوتی ہے۔ پس گورنمنٹ کو تم سے کس طرح ہمدردی ہوسکتی ہے۔ اُس کو تو اُسی وقت تک تمہارے ساتھ ہمدردی ہوسکتی ہے جب تک تم خاموش رہو اور دشمن کے مقابلہ میں صبر سے کام لو اور اِس صورت میں بھی صرف شریف حاکم تمہاری مدد کریں گے اور کہیں گے انہوں نے ہمیں فتنہ و فساد سے بچالیا۔ مگر یہ خیال کرنا کہ گورنمنٹ اُس وقت مدد کرے جب دشمن تم کو گالیاں دے رہا ہو اور تم جواب میں اُسے گالیاں دے رہے ہو نادانی ہے۔ اُس وقت اُس کی ہمدردی اکثریت کے ساتھ ہوگی کیونکہ وہ جانتی ہے اقلیت کچھ نہیں کرسکتی۔ پس گورنمنٹ سے اسی صورت میں تم امداد کی توقع کرسکتے ہو جب خود قربانی کرکے لڑائی اورجھگڑے سے بچو اور اُس وقت بھی صرف شریف افسر تم سے ہمدردی کریں گے اور کہیں گے کہ انہوں نے ہماری بات مان لی اور خاموش رہ کر اور صبر کرکے فتنہ و فساد کو بڑھنے نہ دیا مگر رذیل حکام پھر بھی تمہارے ساتھ لڑیں گے اور کہیں گے کیا ہوا اگر دشمن کا تھپڑ اُنہوں نے کھالیا ۔ وہ زیادہ تھے اور یہ تھوڑے۔ اگر اکثریت سے ڈر کر تھپڑ کھالیاہے تو یہ کوئی خوبی نہیں۔ پس وہ تمہارے صبر کو بُزدلی پر محمول کریں گے اور تمہاری خاموشی کو کمزوری کا نتیجہ قرار دیں گے۔ پس تمہارا گورنمنٹ کے پاس شکایت کرنا بالکل بے سُود ہے اورمجھے تمہاری مثال ویسی ہی نظر آتی ہے جیسے پہلے زمانہ میں جب یہ معلوم نہ تھا کہ کشمیری فوج میں بھرتی ہونے کے قابل نہیں۔
    ایک دفعہ سرحد پر لڑائی ہوئی اور حکومت انگریزی نے مہاراجہ صاحب جموں سے کہا کہ اپنی فوج میں سے ایک دستہ ہماری فوج کے ساتھ روانہ کردیں۔ اُنہوں نے ایک کشمیری دستہ کو تیار ہوجانے کاحکم دے دیا جب وہ تیار ہوگئے تو کشمیری افسرایک وفدکی صورت میں مہاراجہ صاحب کے پاس آئے اور کہنے لگے ہم نے اتنی مدت تک آپ کا نمک کھایا ہے ہمیں لڑائی سے ہرگز انکار نہیں،ہم ہروقت جانے کیلئے تیار ہیں صرف ایک ہماری عاجزانہ التماس ہے اوروہ یہ کہ سُنا ہے پٹھان سخت وحشی ہوتے ہیں آپ ہمارے ساتھ کچھ سپاہی کردیں جو ہماری جانوں کی حفاظت کریں۔ تم بھی خدا کے سپاہی کہلاتے ہو مگر انگریزی سپاہیوں کے پہرے میں کام کرنا چاہتے ہو۔ پھر تم سے زیادہ بے غیرت اور کون ہوسکتا ہے۔ اِس وقت تم سب اِس مثال کے سننے پر ہنس پڑے ہو مگر کیا تمہاری بھی یہی حالت نہیں؟ تم کہتے ہودشمن کامقابلہ کرنے کیلئے ہر وقت تیار ہیں مگر انگریزی سپاہیوں کی حفاظت میں۔ اگر واقعہ میں تم خداتعالیٰ کے سپاہی ہو اور اُس کے دشمن کے مقابل پر کھڑے ہو تو پھر تمہیں کسی حفاظت کی ضرورت ہی کیا ہے۔ تم میرے بتائے ہوئے طریق کے ماتحت صبر اور شکر کرو پھر خداتعالیٰ کے سپاہی آپ تمہاری مدد کیلئے آسمان سے اُتریں گے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایک دفعہ ایک مقدمہ ہوا ۔ جس مجسٹریٹ کے پاس وہ مقدمہ تھا اُس پر لاہور کے بعض آریوں نے سخت زور ڈالا کہ جس طرح بھی ہوسکے تم کسی نہ کسی طرح مرزا صاحب کو سزا دے دو اور اِس قدر اصرار کیا کہ آخر اس نے وعدہ کرلیا کہ میں کچھ نہ کچھ سزا انہیں ضرور دے دوں گا۔ ایک ہندو دوست جو اس مجلس میںموجود تھے انہوں نے یہ تمام حالات ایک احمدی وکیل کے پاس بیان کئے اور کہا کہ میں خود اس مجلس میں موجود تھا آریوں نے بہت اصرار کیا اور آخر مجسٹریٹ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ میں ضرور حضرت مرزا صاحب کوکچھ نہ کچھ سزا دے دوں گا۔ وہ احمدی وکیل گھبرائے ہوئے گورداسپور آئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اُن دنوں گورداسپور میں ہی تھے میں وہاں موجود نہیں تھا لیکن جو دوست وہاں موجود تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ جب اُس دوست نے آکر ذکر کیا کہ حضور! ہمیں کوئی فکر کرنا چاہئے اس مجسٹریٹ نے فیصلہ کردیا ہے کہ آپ کو ضرور سزا دے۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اُس کی طرف کوئی توجہ نہ فرمائی۔ آخر انہوں نے دوبارہ اور سہ بارہ یہی بات دُہرائی اور کچھ اور دوست بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئے اور سب نے کہا کہ اب ضرور کوئی فکر کرنا چاہئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اُس وقت لیٹے ہوئے تھے۔ آپ نے جب متواتر یہ بات سنی تو آپ نے چارپائی سے سر اُٹھایا اور لیٹے لیٹے کہنی پر ٹیک دے کربڑے جلال سے فرمایا وہ مجسٹریٹ ہوتا کیا چیز ہے وہ خدا کے شیرپرہاتھ ڈال کر تو دیکھے۔
    پس کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر خدا تمہارے ساتھ ہو تو یہ مجسٹریٹ اور افسر اور پولیس کے آدمی تمہیں کچھ نقصان پہنچا سکتے ہیں ؟کبھی نہیں۔ ہاں تمہیں اُس تعلیم پر عمل کرنا چاہئے جو خداتعالیٰ کے مامور نے تمہیں دی اور جو یہ ہے کہ ؎
    گالیاں سن کردعا دو پا کے دُکھ آرام دو
    کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھائو انکسار
    اور جو تعلیم قرآن کریم میں خداتعالیٰ نے دی ہے کہ جب کسی مجلس میں خدا اور اُس کے رسول کو گالیاں دی جاتی ہوں تو وہاں سے اُٹھ کر چلے آئو اور بے غیرت مت بنو۔ مگر تمہاری غیرت کا یہ حال ہے کہ اِدھر ہم منع کرتے ہیں اورکہتے ہیں کہ اُن کے جلسہ میں کوئی نہ جائے اور اُدھر تم میں سے کوئی کونوں میں چھپ کر ان کی تقریریں سنتا ہے، کوئی کسی ہمسایہ کے مکان پر چڑھ کر وہاں سے تقریریں سنتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے دل میں یہ گدگدی اُٹھ رہی ہوتی ہے کہ کسی طرح جائیں اور گالیاں سنیں۔ کیا تم نے کبھی مجھے بھی دیکھا کہ میں ان جلسوں میں گیا ہوں؟ پھر کیا تمہارے سینہ میں ہی دل ہے میرے سینہ میں نہیں۔ پھر تم کو کیوں شوق آتا ہے کہ جائو اور گالیاں سنو۔ اِسی وجہ سے کہ تمہارے دلوں میں غیرت نہیں اور جب میں یہ کہتا ہوں کہ تمہارے دلوں میں غیرت نہیںتو اِس سے مراد وہی خاص لوگ ہیںجو بڑھ بڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور پھر قابل شرم بے غیرتی کا نمونہ دکھاتے ہیں ۔پس تمہارا گالیاں سننا بتاتا ہے کہ تمہارے دل مردہ ہو چکے ہیں ۔تم بے ایمانی کے ساتھ ایمان کا جبہ پہن کر نکلے ہو اور تمہاری غرض محض تماش بینی ہے۔ ایسے لوگ اُس وقت بھی تماش بین ہوتے ہیں جب وہ ہماری مجلسوں میں شور مچارہے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عزت کی حفاظت ہونی چاہئے۔اور جب وہ اُس مجلس میں جاتے ہیں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو گالیاں دی جاتی ہیں تو وہاں بھی ان کی حیثیت ایک تماش بین کی سی ہوتی ہے اور یقینا ایسے لوگ اپنی قوم کیلئے عار اورننگ کا باعث ہوتے ہیں۔
    پھر میں تمہیں کہتا ہوں تم اپنے آپ کو با غیرت کہتے ہو اور تم سمجھتے ہو کہ تم سلسلہ کیلئے قربانی دینے والے ہو مگر تمہارے پاس اِس الزام کا کیا جواب ہے کہ جب آریوں کا پروسیشن نکل رہا تھاتو تم میں سے ایک شخص نے مرزا غلام احمد زندہ باد کا نعرہ لگایا۔اس میں غیرت کا کونسا سوال تھا؟کیا دوسری قوموں کا حق نہیں کہ وہ بھی اپنے بزرگوں کے حق میں نعرے لگائیں ؟ تم کہتے ہو لوگ ہم پر جھوٹا الزام لگاتے ہیںکہ ہم میں سے کسی نے ’’لیکھرام مُردہ باد‘‘کا نعرہ لگایا تھا۔ میں کہتا ہوںیہ درست ہے کہ تم میں سے کسی نے ایسا نہیں کیا مگر تم انصافاًآپ ہی بتائو کہ جس وقت تمہارا پروسیشن نکل رہا ہو اور تم محمد زندہ باد کے نعرے لگارہے ہوتو اُس وقت اگر کوئی شخص ابوجہل زندہ باد کا نعرہ لگا دے تو تمہارے تن بدن میں آگ لگ جائے گی یا نہیں؟اگر لگ جائے گی تو تمہیں سمجھنا چاہئے کہ تمہارے دشمن کے سینہ میں بھی دل ہے۔ اور اُس کادل بھی اُس وقت دُکھتا ہے جب تم اُس کے مظاہرہ کے وقت میں مرزا غلام احمد زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہو۔ پس تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے مُردہ باد نہیں کہا تھا،زندہ باد کہا تھا۔سوال یہ نہیں کہ تم نے کیا کہا بلکہ سوال یہ ہے کہ ایسے موقع پر زندہ باد کا نعرہ لگانا بھی دوسرے کو چڑانا اور اسے تکلیف دینا ہوتا ہے۔ جس وقت تم اپنا پروسیشن نکال رہے ہو اور سلسلہ کی تعریف میں نعرے لگا رہے ہو اُس وقت اگرکوئی شخص لیکھرام زندہ باد یا ثناء اللہ زندہ باد کا نعرہ لگا دے تو ایمان سے کہو کہ تمہیں غصہ آئے گا یا نہیں؟ آئے گااور ضرور آئے گا۔ پھر کیا تمہارے ہی سینہ میں دل ہیں اور تمہارے دشمن کے سینہ میں دل نہیں کہ تمہیں تو ایسے نعرے بُرے لگ سکتے ہیں مگر انہیں بُرے نہیں لگ سکتے ہیں۔میں تو حیران ہوتا ہوں جب میں یہ بحث سنتا ہوں کہ ہم نے مرزا غلام احمد زندہ باد کہا تھا۔ لیکھرام مردہ باد تو نہیں کہا تھاحالانکہ سوال زندہ باد کہنے کانہیںبلکہ سوال یہ ہے کہ وہ زندہ باد کا نعرہ کس موقع پر لگایا تھا۔کیا وہ تمہارا جلسہ تھا؟اگر تم اپنے جلسہ میں اس قسم کانعرہ لگاتے تو یہ ایک معقول بات سمجھی جا سکتی تھی مگر غیر کے جلسہ یا جلوس میں نعرے لگاناصریح اشتعال دلانے والی حرکت تھی۔ پس یہ بحث ہی کیاہوئی کہ ہم نے لیکھرام مردہ باد نہیں کہا، مرزا غلام احمد زندہ باد کہا۔اُس وقت مرزا غلام احمد زندہ باد کہنا بھی لیکھرام مردہ باد کہنے کے مترادف تھا۔ یاد رکھو جب کوئی قوم اپنے کسی لیڈر کے اعزاز میںپروسیشن نکال رہی ہو تو اس وقت تمہارا کوئی حق نہیں کہ تم اُس میں دخل دو اور اگر تم اپنے لئے یہ بات جائز سمجھتے ہو تو پھر دشمن کا بھی حق ہوگا کہ وہ تمہارے پروسیشن میں لیکھرام زندہ باد کے نعرے لگائے۔ میں یہ مانتا ہوں کہ جن لوگوں نے یہ کہاکہ لیکھرام مُردہ بادکا نعرہ لگایا گیا تھا انہوں نے جھوٹ بولا۔ کیونکہ اِس وقت تک کوئی گواہی ایسی نہیںملی جس سے یہ الزام ثابت ہوا ہو۔ علاوہ ازیں جب وہ شخص جس پر یہ الزام لگایا جاتا ہے قسم کھاکر کہہ چکا ہے کہ میں نے اِس قسم کا نعرہ نہیں لگایا تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اُس کی قسم کو تسلیم کریں۔ پس یہ جو کہا گیا کہ احمدیوں کی طرف سے لیکھرام مردہ باد کا نعرہ لگایا گیا یہ جھوٹ کہا گیا اور اس میں کسی قسم کی سچائی نہیں۔ یہ کہنا کہ پولیس کی ڈائری میں یہ لکھاہوا ہے یہ بھی کوئی معقول ثبوت نہیں۔ پولیس والے بیسیوں جھوٹ بول لیتے ہیں اور جب وہ انہی کے چٹے بٹے ہیں تو ان سے ہم سچائی کی توقع کس طرح رکھ سکتے ہیں۔ پھر جس شخص کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ اُس نے لیکھرام مردہ باد کا نعرہ لگایا جب وہ قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نے ایسا نعرہ نہیں لگایا تو اب اِس کے بعد تصفیہ کی صورت یہی رہ جاتی ہے کہ پولیس والے قسم اُٹھالیں کہ واقعہ میں لیکھرام مردہ باد کا نعرہ لگایا گیا تھا پھر خدا خود فیصلہ کر دے گاکہ کس نے سچ بولا اور کس نے جھوٹ۔
    پولیس کی ڈائریوں کا تو یہ حال ہے کہ گزشتہ سالوں میں جب یہ الزام لگایا گیا کہ احمدی لیکچراروں نے ڈپٹی کمشنر کو حرامزادہ کہا ہے تو پولیس کے جس آدمی نے یہ رپورٹ کی تھی اُسے جب کہا گیا کہ ڈپٹی کمشنر چھوڑ کسی کو بھی کسی احمدی لیکچرار نے حرامزادہ نہیں کہا پھر تم نے ایسا کیوں لکھا؟ تو وہ کہنے لگا یہ ایک راز کی بات ہے میں اس کا جواب نہیں دے سکتا۔ پھر کم سے کم بیس فیصلے ہائی کورٹ کے مَیں ایسے پیش کرسکتاہوںجن میںیہ تسلیم کیا گیا ہے کہ پولیس والوں نے جھوٹ بولا۔ پس ہم کہتے ہیں یہ الزام بالکل جھوٹا ہے۔جس پر یہ الزام لگایا جاتاہے وہ قسم اور غلیظ قسم کھا کر اپنے کو بری ثابت کر چکا ہے اور اگر یہ جھوٹی قسم ہے تواس کے مقابلے میں دوسرا شخص جسے یہ یقین ہے کہ واقعہ میں لیکھرام مردہ باد کا نعرہ لگایا گیاکیوں ایسی ہی قسم نہیں کھالیتا۔پھر یہ بھی تو غور کرنا چاہئے کہ کیا یہ ممکن نہیں کہ کسی مخالف نے خود اِس قسم کا نعرہ لگا دیاہو تاکہ فتنہ پیداہو جائے۔
    پس قسمیہ طورپر اس بات کو بیان کردینے کے بعد کہ لیکھرام مردہ باد کانعرہ نہیں لگایا گیا ہم اس امر کو تسلیم نہیں کرسکتے کہ یہ الزام درست ہے۔ ہاں ہم یہ ضرور کہیں گے کہ اس موقع پر مرزا غلام احمد زندہ باد کہنا بھی فتنہ پیدا کرنے کاموجب تھا۔ ہماری جماعت بھی اپنے جلوسوں میں زندہ باد کے نعرے لگایا کرتی ہے۔ ایسے مواقع پر اگر مقابل کا فریق بھی نعرے لگانا شروع کردے توفساد ہو گا یا نہیں ۔ پس میں تو ہر گز نہیں سمجھتا کہ جس چیز کو ہم اپنے لئے جائز نہیں سمجھتے وہ دوسروںکیلئے جائز سمجھیں۔ بحیثیت انسان ہونے کے ہندو بھی وہی حق رکھتے ہیںجو ہم رکھتے ہیں بلکہ سکھوںاور ہندوئوں کو جانے دو چوڑھوں کا بھی انسان ہونے کے لحاظ سے وہ حق ہے جو ایک مسلمان یا سکھ یا ہندو کاہے۔اورہمیں کوئی اختیار نہیں کہ ہم یہ کہیں کہ ہمیں تو فلاں حق حاصل ہے مگر ہندوئوں یا سکھوںیا چوڑھوں کو حاصل نہیں۔جو حق ہمیں حاصل ہو گا وہ دوسروں کوبھی حاصل ہوگا اور جو بات ہمیں بُری معلوم ہوتی ہو ہم کو چاہئے کہ دوسرے کے حق میں بھی اِس طرح نہ کریں۔ آج ہی اگر میں ایک میٹنگ کر کے لوگوں کے سامنے یہ بات پیش کروںکہ جب آپ لوگ کہتے ہیں’’ محمدؐ زندہ باد‘‘ یا’’ غلام احمد کی جے‘‘ تو کیا آپ اُس وقت برداشت کریں گے کہ آپ کے جلوس میں ہی مخالف ابوجہل زندہ باد یا لیکھرام زندہ باد کے نعرے لگائیں تو میں سمجھتا ہوں کہ سَو فیصدی لوگ اشتعال میںآ جائیں گے اوروہ کہیں گے کہ ہم اپنے جلسہ یا جلوس میں اس قسم کے نعرے ہر گز نہیں سُنیں گے۔ پس اگرتم اپنے جلسوں اور جلوسوں میں ان نعروں کو سننے کیلئے تیار نہیں تو کیا تمہارا فرض نہیں کہ دوسروں کے جلسوں اور جلوسوں میں بھی تم اپنی زبانوں کوروکواور اپنے جذبات پر قابو رکھو۔
    پھر ایک اورموٹی بات ہے جس کی طرف ہمیں توجہ کرنی چاہئے اور وہ یہ کہ تم میں سے ایک شخص ایک مجرمانہ فعل کرتا ہے تو تم سب کو کیوں فکرپڑ جاتی ہے حالانکہ تمہارا فرض صرف اتناہے کہ تم مجرم کو مجرم قرار دے دو اور اس کے فعل سے اپنی بے تعلقی اور براء ت کا اظہار کر دو۔ آج ہندوستان میں جس قدر فسادات ہیں ان کی بڑ ی وجہ یہ ہے کہ ایک شخص جُرم کرتا ہے اور اُس کی ساری قوم سمجھ لیتی ہے کہ شاید ہم پر الزام لگا ہے اور زخم کردہ قوم واقعہ میں بھی اس ساری قوم کو مجرم سمجھنے لگتی ہے۔ اگر تم بھی ایسا ہی کرو تو تم میں اور ان میں کیافرق رہ جائے۔ اگر کسی نے مرزا غلام احمد زندہ باد کا نعرہ لگایا تو بیشک یہ فقرہ بالکل سچ تھا مگر سچے فقرے بھی بعض دفعہ فتنہ وفساد کا موجب ہو جاتے ہیں۔ قرآن کریم میںہی آتا ہے،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ہمارے رسول !بعض منافق تیرے پاس آتے اور قسمیں کھاکھا کر کہتے ہیں کہ تو اللہ تعالیٰ کا رسول ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیںکہ تُو اللہ کا رسول ہے مگر اے ہمارے رسول منافق اس وقت جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں۔پس بعض لوگوں کا رسول اللہ ﷺ کو رسول کہنا بھی جھوٹ تھا حالانکہ اس سے بڑھ کر سچی بات اور کیاہو سکتی ہے۔
    اسی طرح حضرت علیؓ کے زمانہ میں کچھ لوگ تھے جنہوں نے ایک دفعہ کہا بادشاہت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۵؎ مسلمانوں کے کام باہمی مشورہ سے ہونے چاہئیں۔ حضرت علیؓ سے کسی نے یہ بات کہی تو آپ نے فرمایا کَلِمَۃُ الْحِکْمَۃِ اُرِیْدَ بِھَا الْبَاطِلُ۶؎ کہ یہ بات تو سچی ہے مگر اس سے فساد پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تو ہر سچی بات موقع و محل کو مدنظر رکھے بغیر بیان کرنی جائز نہیں ہوتی۔ میاں اوربیوی کے تعلقات سے زیادہ حلال اور کونسا تعلق ہوسکتا ہے مگر کیاجائز ہے کہ انسان مخصوص تعلقات کاذکر کرے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اُس عورت پر اللہ تعالیٰ کی *** ہے جو اپنے خاوند کے پاس جاتی اور پھر باہر جاکر اُس کے متعلق باتیں کرتی ہے مگر کیا وہ سچ نہیں ہوتا۔
    غرض سچائی کے اظہار کیلئے بھی شرائط ہوتی ہیں اور ان شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ ہر شخص جس بات کو سچائی سمجھتا ہے وہ اس سچائی کے اظہار کا حق تو رکھتا ہے لیکن دشمن کی مجلس میں جب طبائع میں جوش ہو اُسے اس کے بیان کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہئے۔ جب لوگ جلوس نکال رہے ہوتے ہیں اُس وقت ان کی ساری عقیدت جو اپنے پیشوائوں کے ساتھ وہ رکھتے ہیں پھوٹ پھوٹ کر نکل رہی ہوتی ہے۔ محرم میں جب شیعہ لوگ روتے پیٹتے ہیں، سنّی بھی شیعہ ہوجاتے اور ان میں سے اکثر ان میں شامل ہوجاتے ہیں۔ کسی عقلمند کا مقولہ ہے کہ مسلمان گیارہ مہینے سنّی رہتے ہیں اور بارہویں مہینہ سب شیعہ بن جاتے ہیں۔ درحقیقت یہ بات بالکل درست ہے۔ جس وقت شیعہ لوگ ’’یاحسین یا حسین‘‘ کے نعرے لگاتے ہیں تو واقعاتِ کربلا کی یاد سنیوں کی عقلوں پر بھی پردہ ڈال کر انہیں شیعہ بنادیتی ہے اور اپنی سُنیّت انہیں بھول جاتی اور شیعیت ان پر غالب آجاتی ہے۔ اسی طرح جس وقت ہندو یا سکھ جلوس نکال رہے ہوتے ہیں ان کی عقیدت کا جوش انتہاء تک پہنچا ہوا ہوتا ہے۔ اُس وقت اگر کوئی مخالف اپنے عقیدہ کااظہار کرتا ہے تو گو وہ ایک سچائی ہی ہو مگر چونکہ اس سے دوسرے کی دل آزاری ہوتی ہے اس لئے وہ مجرم ہے اور اس کی جماعت کا کوئی حق نہیں کہ اس سے ہمدردی کرے۔
    درحقیقت میں تو اب کچھ مدت سے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ گورنمنٹ کو چاہئے کہ وہ تمام جلوسوں کو بند کردے۔ جلوسوں کی وجہ سے ہندوستان میں بڑے بڑے فساد ہوتے ہیں۔ جب جلوس نکلتا ہے تو یوںمعلوم ہوتا ہے کہ ایک آفت آگئی۔ اِدھر جلوس والوں میں جوش ہوتاہے اُدھر جلوس کو دیکھ کر مخالفوں کے دلوں میں غیظ و غضب بھڑک اُٹھتا ہے اور بسااوقات فساد اور کشت و خون تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ پس ہندوستان کے امن کی راہ میں جلوس ایک خطرناک روک ہیں اور گورنمنٹ کو چاہئے کہ وہ ان جلوسوں کو بند کردے۔ اگر گورنمنٹ جلوسوں کے متعلق کوئی ایسا عام فیصلہ صادر کردے کہ کسی کو بھی جلوس نکالنے کی اجازت نہ ہوگی تو میں اپنی جماعت کی طرف سے حکومت کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اس کے خلاف نہ صرف کوئی پروٹسٹ نہیں کریں گے بلکہ حتّی الْاِمکان اس کی مدد کریں گے۔ کیونکہ اس زمانہ میں جلوس سخت فسادات کا موجب بنے ہوئے ہیں۔
    پس تم میں سے جس شخص نے بھی یہ نعرہ لگایا اُس نے سخت غلطی کی اور ایک مجرمانہ فعل کا ارتکاب کیا۔ میں بتاچکا ہوں کہ یہ کوئی سوال نہیں کہ نعرہ کیا لگایا گیا اور میں تو یہاں کے لوگوں کے خطوں کو پڑھ پڑھ کر سفر میں حیران ہوتا رہا کہ یہ کیا لکھا ہوتا ہے کہ پولیس کا الزام غلط ہے۔ ایک شخص نے مرزا غلام احمد زندہ باد کا نعرہ لگایا تھا، لیکھرام مردہ باد کا نعرہ اس نے نہیں لگایا، مجھے ان دونوں فقرات میں فرق تو نظر آتا ہے مگر مجھے ان میں سے کسی کے جواز کی بھی دلیل نظر نہیں آتی۔ میرے نزدیک تو یہ کہنا کہ لیکھرام مردہ باد ہم نے نہیں کہا مرزا غلام احمد زندہ باد ہم نے کہا۔ ویسی ہی بات ہے جیسے میری ایک بھانجی کو ایک اُستاد پڑھایا کرتا تھا۔ بچی بہت چھوٹی تھی۔ اُسے آداب کا کوئی پتہ نہ تھا۔ ایک دن اس نے کسی لڑکی کے منہ سے گدھی کا لفظ سنا اسے یہ لفظ بہت پسند آیا اور جب اُستاد اُسے پڑھانے آیا اور کسی بات پر ناراض ہوا تو وہ کہنے لگی ’’ددھی‘‘ یعنی تو گدھی ہے بوجہ زبان کے صاف نہ ہونے کے گدھی کی جگہ اُس نے ’’ددھی‘‘ کہا۔ اُستاد نے اس کے والد کے پاس شکایت کی کہ آپ کی لڑکی نے آج مجھے گدھی کہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اِس نے کہیں سے گدھی کا لفظ سنا ہے اور اب یہ گالی اس کی زبان پر چڑھ گئی ہے۔ باپ نے لڑکی کو بُلایا۔ چونکہ واقعہ تازہ ہی تھا اس لئے وہ سمجھ گئی کہ ضرور اِسی بات کی وجہ سے مجھے بلایا گیا ہے۔ وہ ڈرتی ڈرتی اور کانپتی کانپتی آئی اور کہنے لگی ددھی نہیں ددھا یعنی میں نے گدھی کہنے میں غلطی کی اصل میں مجھے گدھا کہنا چاہئے تھا۔ اُس نے سمجھا شاید غلطی اِس میں ہوئی ہے کہ میں نے مرد کو گدھی کہہ دیا حالانکہ اسے گدھا کہنا چاہئے تھا اور اسے یہ خیال ہی نہ آیا کہ مجھے ان میں سے ایک لفظ بھی نہیں کہنا چاہئے تھا۔ یہی مثال اس شخص پر صادق آتی ہے جس نے یہ حرکت کی ہے ۔اس موقع کے لحاظ سے یہ دونوں فقرے جو زیربحث ہیں نامناسب تھے اور نہیں کہنے چاہئیں تھے۔ پس تم اپنے جذبات کو روکنے کی عادت ڈالو اور لوگوں کے احساسات کا خیال رکھو۔ اب یہ ہوتا ہے کہ ہم انتہائی کوشش کرکے دشمن کو جب اس مقام پر لے آتے ہیں جہاں وہ مجرم ثابت ہونے والا ہوتا ہے اور اس کی سَو گالیاں پکڑ لیتے ہیں تو جھٹ تم میں سے ایک شخص کوئی سخت لفظ کہہ دیتا ہے اور خواہ وہ گالی نہ ہو محض ایک سخت لفط ہو حکومت ان کی سَو گالیوں کو پرے پھینک کر کہہ دیتی ہے کہ آپ کے آدمی نے بھی یہ گالی دی ہے۔ پس تمہارے اس ایک آدمی کی غلطی کی وجہ سے حکام ایک عرصہ تک یہی دُہراتے چلے جاتے ہیں کہ آپ کے آدمی نے بھی یہی بات کہی تھی اور اس طرح ہماری ساری سکیم تم میں سے ایک شخص جوش میں آکر تباہ کردیتا ہے اور جب بھی کوئی ایسا موقع آتا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں اب ضرب لگانے کاوقت ہے، ہماری جماعت کا کوئی شخص اپنی بیوقوفی سے اُس ضرب کو اپنے اوپر لے لیتا اور بنی بنائی سکیم کو بگاڑ دیتا ہے۔
    پس میں پھر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ میری یہ باتیں سمجھنی مشکل نہیں۔ تم میں سے جو شخص یہ سمجھتا ہو کہ یہ باتیں مشکل ہیں اور جلدی سمجھ میں نہیں آسکتیں وہ کوئی آٹھ دس سال کا بچہ میرے سامنے لے آئے، میں اُسے یہ تمام باتیں سمجھا کر بتادیتا ہوں۔ پھر اتنی وضاحت کے بعد بھی اگرتم لوگ نہ سمجھو تو سوائے اس کے اور کیا معنے ہوں گے کہ تم چاہتے ہی نہیں کہ سمجھو اور میری باتوں پر عمل کرو۔ میں سوئے ہوئے کو تو جگا سکتاہوں مگر جوجاگ رہا ہو اور یونہی آنکھیں بند کرکے پڑا ہوا ہو، اُسے کس طرح جگا سکتا ہوں۔ اس کے متعلق تو میرے پاس سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں کہ میں خدا سے ہی کہوں کہ خدایا! مجھے اِس نادان دوست سے بچا کہ یہ میرے کام میں روک بنا ہوا ہے۔
    (خطبات محمود جلد ۱۸ صفحہ ۱۴۳ تا۱۶۴ء)
    ۱؎ چَوری: چَورِی جھلنا یعنی پنکھا ہلانا
    ۲؎ بخاری کتاب الجھاد باب یقاتل من وراء الامام ویتقٰی بہٖ
    ۳؎ التوبۃ: ۶۱
    ۴؎ خنثوں: خنثیٰ کی جمع خناث: ہیجڑے
    ۵،۶؎ تاریخ ابن اثیر جلد۳ صفحہ۳۳۴ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵ء

    شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کے خط کا جواب
    خطبہ جمعہ ۱۶؍ جولائی۲۷ ۱۹ء میں شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کے تیسرے خط کے جواب میں حضور فرماتے ہیں:۔
    ’’تیسرے خط میں شیخ صاحب نے لکھا ہے کہ مجھے معلوم ہوچکا ہے اب آپ سے نرمی کرنا سلسلہ کے ساتھ غداری ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ دو سال تک یہ مسئلہ کیوں نہ سُوجھا۔۱۳ روز کے اندر اندر ہی یہ رموز اِن پر کھلے، دو سال پہلے کیوں نہ کھلے۔ اِس الزاموں والے خط میں بعض جگہ تو الزام نمایاں ہیں گو مجمل اور تشنہء تفصیل اور بعض جگہ یہ پتہ ہی نہیں لگتا کہ وہ کہتے کیا ہیں۔ ان دونوں طریقوں سے صاف پتہ لگتا ہے کہ پہلا خط اِس غرض سے تھا کہ دھمکیوں سے ڈر کر میں اِن کی بات مان لوں اور وہ جو چاہیں مجھ سے کراسکیں۔ جیسے دلی میں بادشاہ گر ہوتے تھے یہ خلیفہ گر بننا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ظاہر میں تومیں لیکن باطن میں وہ خلیفہ ہوں۔ مگرا نہیں کیا معلوم کہ خدا او ر انسان کے بنائے ہوئے خلفاء میں کیا فرق ہوتا ہے۔ خدا کا بنایا ہوا خلیفہ کبھی کسی سے نہیں ڈرتا۔ کیا میں اس بات سے ڈر جائوں گا کہ لوگ مرتد ہو جائیں گے؟ جس کے لئے ارتداد مقدر ہے وہ کل کی بجائے بیشک آج ہی مرتد ہو جائے، مجھے کیا فکر ہے۔میں جب جانتا ہوں کہ میں خدا کا بنایا ہوا خلیفہ ہوں تو خواہ ایک آدمی بھی میرے ساتھ نہ ہو تو بھی مجھے کیا ڈر ہے۔جب خدا تعالیٰ خود مجھے تسلیاں دیتا ہے تو میں انسانوں سے کیوں ڈروں۔ادھر یہ لوگ مجھے ڈراتے اور اُدھر خدا تعالیٰ مجھے تسلیاں دیتا ہے ۔اِن چند روز میں اس کثرت سے مجھے الہام اور رؤیا ہوئے ہیں کہ گزشتہ دو سال میں اتنے نہ ہوئے ہوں گے۔ ابھی چند روز ہوئے کہ مجھے الہام ہوا جو اپنے اندر دعا کا رنگ رکھتا ہے اوروہ یہ ہے کہ ـ’’ اے خدا! میں چاروں طرف سے مشکلات میں گھرا ہوا ہوں تُو میری مدد فرما ‘‘ ۔اور پھر اس کے تین چار روز بعد الہام ہوا جو گویا اس کا جواب ہے کہ ’’ میں تیری مشکلات کو دُور کروں گا اور تھوڑے ہی دنوں میں تیرے دشمنوں کو تباہ کر دوں گا‘‘۔ آخری الفاظ ’’تباہ کر دوں گا‘‘یا ’’برباد کروں گا‘‘یا ’’مٹا دوںگا ‘‘تھے، صحیح طور پر یاد نہیں رہے۔ تو جب خدا تعالیٰ خود مجھے تسلیاں دیتا ہے تو میں بندوں سے کیوں ڈروں۔ اور کیا ان واقعات کے بعد میں کسی بندے پر اعتماد کر سکتا ہوں ؟ شیخ عبدالرحمن مصری میرے بچپن کے دوست تھے مگر آج ان کے اقرار کے بموجب وہ دو سال سے میرے خلاف مواد جمع کر رہے تھے مگر ہماری تازہ تحقیق کے مطابق اس سے بھی بہت پہلے سے کینہ دل میں چھپائے بیٹھے تھے۔ پھر میں کسی انسان پر کس طرح بھروسہ کر سکتا ہوں ۔
    (خطبات محمود جلد۱۸ صفحہ۲۸۴ تا۲۸۵)


    جو شخص خلافت کی مخالفت کرتا ہے
    وہ اسلام کی عملی زندگی پر تبر چلاتا ہے
    (فرمودہ ۲۳؍ جولائی ۱۹۳۷ء )
    تشہّد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    میں آج بہت زیادہ دیر سے آسکا ہوں جس کی وجہ یہ ہے کہ کل مجھے شدید سردرد کا دورہ ہوا اور اس کی وجہ سے میں رات بھر جاگتا رہا۔ صبح اُٹھ کر میں نے برومائیڈ پیا اور تھوڑی دیر کے لئے سوگیا۔ پھر میں دفترمیں آیا اور کچھ دوست جو مجھ سے ملنے آئے ہوئے تھے، اُن سے ملا۔ اس کے بعد چونکہ بعض حوالے تاریخی کتب سے میں نے نکالنے تھے اِس لئے وہ حوالہ جات تلاش کرتا رہا اور ان سے ایسے وقت میں فارغ ہوا جبکہ غسل اور کھانے کے بعد نماز کو بہت دیر ہوجاتی تھی۔ چنانچہ میں نے جلدی جلدی ان دونوں کاموں سے فراغت پائی مگر پھر دیر ہوگئی۔
    اس کے بعد میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میںنے پچھلے جمعہ کے خطبہ میں مصری صاحب کے بعض ان اعتراضات کے جوابات دیئے تھے جو انہوں نے اپنے ایک اشتہار میں شائع کئے ہیں اور وہ اعتراض دو تھے۔ ایک تو یہ کہ جماعت نے بغیر تحقیق کئے انہیں گالیاں دی ہیں اور دوسرا یہ کہ جماعت نے ایک ایسے آدمی کو گالیاں دی ہیں جس نے جماعت کے مفاد کیلئے قربانی کی ہے۔ میں نے بتایا تھا کہ ان کی یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ جماعت نے ان کو کوئی گالیاں نہیں دیں بلکہ انہوں نے جماعت کو گالیاں دیں اور جماعت نے جو کچھ جواباً کہا وہ اس سے بہت کم ہے جو انہوں نے ہمارے متعلق کہا۔ اسی طرح ان کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ میں نے جماعت کیلئے قربانی کی۔ وہ حالات سے مجبورہوگئے تھے اس لئے وہ ہم سے علیحدہ ہوئے ورنہ انہوں نے پہلاخط جو مجھے لکھا اس سے ان کا مقصد ہرگز جماعت سے علیحدگی نہیں تھا بلکہ مجھے ڈرانا اور بعض باتیں مجھ سے منوانا تھا۔ لیکن جب ان کی وہ غرض پوری نہ ہوئی اور انہوں نے دیکھا کہ اب میرا اندرونہ بھی ظاہر ہوچکا ہے جس کے بعدمیرا اس جماعت میں رہنا ناممکن ہے تو انہوں نے خود ہی اپنے تیسرے خط میں جماعت سے علیحدہ ہونے کا وقت مقرر کردیا۔
    اسی اشتہار میں انہوں نے ایک بات یہ بھی لکھی ہے کہ میرے متعلق کہا یہ جاتا ہے کہ میں جماعت سے الگ ہوگیا ہوں حالانکہ میں جماعت سے الگ نہیں ہوا، صرف بیعت سے الگ ہوا ہوں۔ میں نے اس سوال کے اصولی حصہ کا جواب پہلے دے دیا ہے بلکہ ان کے اشتہار کے شائع ہونے سے بھی پہلے میرے ایک خطبہ میں ان کے اس اعتراض کا جواب آچکا ہے اور وہ خطبہ آج کے الفضل میں چھپ بھی گیا ہے۔ آج میں ان کے بعض اُن دلائل کا جواب دینا چاہتا ہوں جو انہوں نے اس بارہ میں اپنے اشتہار میں دیئے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں ’’میں اس جگہ بعض دوستوں کے اس خیال کے متعلق بھی کہ خلیفہ سے علیحدگی جماعت سے علیحدگی کے ہی مترادف ہے کچھ عرض کردینا ضروری سمجھتا ہوں۔ یہ بات بالکل غلط ہے کہ جو شخص خلیفہ کی بیعت نہیں کرتا یا بیعت سے علیحدگی اختیار کرتا ہے وہ اصل سلسلہ سے بھی الگ ہوجاتا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ نے حضرت ابوبکرؓ کی چھ ماہ تک بیعت نہیں کی تھی تو کیا کوئی ان کے متعلق یہ کہنے کی جرأت کرسکتا ہے کہ وہ اُس وقت تک اسلام سے خارج تھے؟ حضرت علیؓ کی بیعت مسلمانوں کے ایک بڑے گروہ نے نہیں کی تھی تو کیا وہ سب اسلام سے خارج تھے؟ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے حضرت علیؓ کی بیعت نہیں کی تھی تو کیا انہیں اسلام سے خارج سمجھتے ہو؟ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ جیسے جلیل القدر صحابہ نے حضرت علیؓ کی بیعت کرلینے کے بعد بیعت کو فسخ کرلیا مگر کوئی ہے جو جرأت کرکے انہیں اسلام سے خارج قرار دے۔ دوستو! یہ خیال کسی مصلحت کے ماتحت آج پیدا کیاجارہا ہے ورنہ قرآن کریم ، احادیث نبوی، عمل صحابہ کرام میں اِس کا نام و نشان بھی نہیں ملتا‘‘۔
    یہ گویا انہوں نے اِس بات کی تائید میں اپنی طرف سے دلائل دیئے ہیں کہ میں خلیفہ کی بیعت سے الگ ہوا ہوں جماعت سے الگ نہیں ہوا۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ مصری صاحب نے اس جگہ دیدہ دانستہ غلط بیانی سے کام لیا ہے۔ مجھے ہرگز یہ امید نہیں تھی کہ باوجود اس تمام مخالفت کے جو انہوں نے اختیار کی ہے، باوجود اس تمام عِناد کے جو انہوں نے ظاہر کیاہے اور باوجود اس شدید دشمنی کے جس کے وہ مرتکب ہوئے ہیں، وہ احمدیت سے اتنے بے بہرہ ہوجائیں گے کہ چند دنوں کے اندر ہی اندر دیدہ دانستہ خلاف بیانی کے مرتکب ہونے لگ جائیں گے۔ چنانچہ میں ابھی ثابت کردوں گا اور خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایسا ثابت کر دوں گاکہ ایک جاہل سے جاہل اوراَنْ پڑھ سے اَنْ پڑھ انسان بھی یقینی طورپر سمجھ جائے گا کہ مصری صاحب نے قطعی طور پر جان بوجھ کر غلط بیانی سے کام لیا ہے۔
    میرے اعلان کامضمون یہ تھا کہ مصری صاحب ہماری جماعت سے الگ ہیں میں انہیں اپنی جماعت سے خارج سمجھتا اور ان کے خروج کا اعلان کرتا ہوں۔ مصری صاحب اس پر اعتراض یہ کرتے ہیں کہ میں نے جماعت سے نہیں بلکہ بیعت سے الگ ہونے کو کہا تھا۔ پس یہ مجھ پر غلط الزام ہے کہ میں نے جماعت چھوڑ دی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت سے حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ الگ ہوگئے تھے مگر کوئی ہے جو جرأت کرکے انہیں اسلام سے خارج قرار دے۔ اب اس امر کو دیکھو کہ ہم تویہ کہتے ہیں کہ وہ جماعت سے الگ ہوگئے اور وہ مثال میں حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ کو پیش کرتے ہوئے دریافت یہ کرتے ہیں کہ کیا وہ اسلام سے نکل گئے تھے؟ یہ وہ دیدہ دانستہ دھوکا ہے جو انہوں نے لوگوں کو دیا ۔ کیا ہماری جماعت آج قائم ہوئی ہے کہ ابھی تک ہم اپنی اصطلاحات کے مفہوم کو واضح نہیں کرسکے یا کیا مصری صاحب نئے آدمی ہیں کہ انہیں آج تک یہ علم نہیں ہوسکا کہ خلیفۂ وقت کی بیعت سے جب کوئی شخص الگ ہوتا ہے تو وہ احمدیت یا اسلام سے خارج نہیں سمجھا جاتا بلکہ جماعت سے علیحدہ سمجھا جاتا ہے۔ جماعت احمدیہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد خلافت کے سلسلہ میں منسلک ہوئے قریباً تیس سال گزرچکے ہیں۔ مئی ۱۹۰۸ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے وفات پائی اور آج جولائی ۱۹۳۷ء ہے گویا ۲۹ سال اور کچھ مہینے سلسلۂ خلافت کو شروع ہوئے ہوچکے ہیں۔ اس تیس سال کے عرصہ میں ان اصطلاحات کے متعلق ہماری جماعت کے خیالات بار بارظاہر ہوچکے ہیں۔ اگر کوئی نئی بات ہو تو انسان کہہ سکتا ہے کہ مجھے معاف فرمایئے مجھے چونکہ علم نہیں تھا اس لئے دھوکا کھایا۔ مگر جس امر کے متعلق ۳۰ سال تک ہر ادنیٰ اعلیٰ، چھوٹا بڑا، عالم جاہل گفتگو کرتے چلے آئے ہوں اور بار بار اس کے متعلق جماعت کے خیالات ظاہر ہوچکے ہوں، اس کے متعلق ایک عالم کہلانے والا، ایک مولوی کہلانے والا، ایک تبلیغیں کرنے والا، ایک مناظرے کرنے والا، ایک بحثیں کرنے والا اور ایک مدرسہ دینیہ کا لمبے عرصہ تک ہیڈ ماسٹر رہنے والا اگر یہ کہے کہ مجھے اس بات کا علم نہیں تھا، دراصل مجھے دھوکا لگ گیا تھا، تو کیا کوئی بھی عقلمند اس کے اس عذر کو تسلیم کرے گا؟ اگرمصری صاحب جب میری بیعت سے الگ ہوئے تھے، ہم ان کی نسبت کہتے کہ مصری صاحب غیراحمدی ہوگئے ہیں تب بیشک وہ کہہ سکتے تھے کہ میں نے تو صرف خلیفۂ وقت کی بیعت چھوڑی ہے اور آپ لوگ مجھے احمدیت سے ہی خارج سمجھنے لگ گئے ہیں۔ یا اگر میں نے اپنی کسی تحریر یا تقریر میں ایک جگہ بھی یہ الفاظ استعمال کئے ہوں کہ مصری صاحب غیراحمدی ہوگئے ہیں تب تو بے شک وہ یہ مثال پیش کرسکتے اور کہہ سکتے تھے کہ جب حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت سے الگ ہوئے تھے تو کیا وہ اسلام سے خارج ہوگئے تھے؟ اگرنہیں تو پھر مجھے کیوں غیراحمدی کہا جاتا ہے۔ لیکن ہم نے ایسا نہیں کہا۔ اگر کوئی شخص میری کسی تحریر یا تقریر سے اشارۃً یا وضاحتاً ظاہراً یا باطناًیہ ثابت کردے کہ میں نے کہا ہو مصری صاحب احمدیت سے علیحدہ ہوگئے ہیں اور اب وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر بھی ایمان نہیں رکھتے تب بیشک یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوںنے بیعت سے علیحدگی اختیار کی ہے، احمدیت سے علیحدگی تو اختیار نہیں کی اور تب بیشک وہ خود بھی سوال کرسکتے تھے کہ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ نے بھی حضرت علیؓ کی بیعت کو فسخ کرلیا تھا مگر کیا کوئی ہے جو جرأت کرکے انہیں اسلام سے خارج قرار دے ۔ لیکن جب میں نے ایک دفعہ بھی یہ الفاظ استعمال نہیں کئے اور نہ ہماری جماعت نے انہیں غیراحمدی کہا تو ان کا اپنے دعویٰ کے ثبوت میں حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ کو پیش کرنا اور یہ دریافت کرناکہ کیا وہ بیعت سے علیحدہ ہوکر اسلام سے نکل گئے تھے صریح دھوکا اور فریب نہیں تو اور کیاہے۔ میں نے جو الفاظ استعمال کئے ہیں وہ یہ ہیں کہ وہ جماعت سے الگ ہوچکے ہیں نہ یہ کہ وہ احمدیت یا اسلام سے علیحدہ ہوگئے ہیں۔
    اب دوسری صورت یہ ہوسکتی تھی کہ اگر ہماری جماعت کا یہ محاورہ ہوتا کہ جو شخص بھی ہماری جماعت میں نہیں وہ احمدی نہیں۔ تب بھی وہ کہہ سکتے تھے کہ گو تم نے یہ الفاظ نہ کہے ہوں کہ میں احمدیت سے خارج ہوں مگر چونکہ جماعت میں عام محاورہ یہی ہے کہ جو شخص جماعت سے علیحدہ ہوتا ہے اسے احمدی نہیں سمجھا جاتا، اس لئے میں نے دھوکا کھایا اور سمجھا کہ آپ مجھے احمدی نہیں سمجھتے۔ گو ہم پھر بھی مصری صاحب کو غلطی پر سمجھتے ۔ کیونکہ جب ہم نے انہیں غیراحمدی نہ کہا ہوتا تو انکا کوئی حق نہ تھا کہ وہ خودبخود یہ قیاس کرلیتے کہ مجھے احمدی نہیں سمجھا جاتا۔ لیکن بہرحال اس صورت میں کسی حد تک ہم سمجھ سکتے تھے کہ انہوں نے دھوکا کھایا۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ ہمار ی جماعت میں نہ صرف یہ کہ یہ محاورہ نہیں بلکہ اس کے بالکل اُلٹ محاورہ رائج ہے۔ آپ لوگوں میں سے ہر شخص جانتا ہے کہ ۲۳ سال حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کو وفات پائے گزرچکے ہیں ۔ اس ۲۳ سال کے عرصہ میں احمدیوں میں سے جن لوگوں نے میری بیعت نہیں کی وہ سینکڑوں کی تعدادمیں ہیں اور گو ہم ان کی نسبت یہ کہتے ہیں کہ وہ ہماری جماعت میں نہیں مگر ہم یہ کبھی نہیں کہتے کہ وہ احمدی نہیں۔ ہم یہ تو کہا کرتے ہیں کہ مولوی محمد علی صاحب ہماری جماعت میں نہیں یا یہ تو ہم کہا کرتے ہیں کہ خواجہ کمال الدین صاحب ہماری جماعت میں نہیںمگر ہم یہ نہیں کہتے کہ مولوی محمد علی صاحب احمدی نہیں یا خواجہ کمال الدین صاحب احمدی نہیں۔ چنانچہ اگرکوئی شخص ہماری جماعت کے کسی آدمی سے کہے کہ مولوی محمد علی صاحب کے پاس میری سفارش کردیں تو وہ یہی کہے گا کہ مولوی محمد علی صاحب سے ہمارا کیا تعلق، وہ ہماری جماعت میں نہیں۔ لیکن کیا آج تک ہم میں سے کسی شخص نے یہ کہا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب غیراحمدی ہیں؟ یقینا ایک مثال بھی ایسی پیش نہیں کی جاسکتی کہ ہم میں سے کسی عالمِ دین نے اُن کو غیراحمدی کہا ہو۔ پس ۲۳سال کے عرصہ میں سینکڑوں ہیں جو ہماری جماعت میں سے نکلے مگر کیا ہم ان کو بیعت نہ کرنے کی وجہ سے یا بعض کو بیعت توڑ دینے کی وجہ سے غیراحمدی کہتے ہیں؟ ہم انہیں احمدی ہی کہتے ہیں۔ گو ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ متفرق گروہ ہے۔ مگربہرحال کہتے ہم انہیں احمدی ہی ہیں اور آج تک کسی ایک شخص نے بھی میرے منہ سے یہ نہیں سنا ہوگا کہ میں نے کہا ہو مولوی محمد علی صاحب غیراحمدی ہیں، خواجہ کمال الدین صاحب غیراحمدی تھے یا شیخ رحمت اللہ صاحب غیراحمدی تھے۔ پس ہم ۲۳ سال سے برابر یہ اقرار کرتے چلے آئے ہیں کہ گو بعض لوگ ہماری جماعت میں نہیں مگر ہیں وہ احمدی ہی۔ پس یہ کوئی نیامسئلہ نہیں تھا جو آج پیداہوا۔ اگر مصری صاحب پہلے احمدی ہوتے جس نے خلیفئہ وقت کی بیعت کو توڑا ہوتا تب توکہا جاسکتا تھا کہ انہیں دھوکا لگ گیا مگر وہ بیعت توڑنے والوں میں سے پہلے نہیں بیسیوں احمدی ان سے پہلے بیعت توڑ چکے ہیں مگر ان کو اگر وہ اپنے آپ کو احمدی کہتے ہوں ہم نے کبھی نہیں کہا کہ وہ غیراحمدی ہوگئے تو آج مصری صاحب کو یہ شبہ کس طرح پڑ گیا کہ انہیں غیراحمدی کہا جاتا ہے۔ جب وہ ہم میں شامل تھے وہ بھی یہی کہا کرتے تھے کہ مولوی محمد علی صاحب ہماری جماعت میں نہیں، خواجہ کمال الدین صاحب ہماری جماعت میں نہیں مگرساتھ ہی وہ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ گو وہ ہماری جماعت میں نہیں مگر ہیں وہ احمدی ہی۔ اسی طرح شیخ رحمت اللہ صاحب اور سید محمد احسن صاحب امروہی کے متعلق بھی باوجود یہ کہنے کے کہ وہ ہماری جماعت میں نہیں وہ یہ نہیں کہا کرتے تھے کہ وہ غیراحمدی ہیں۔ جو شخص ۲۳ سال خود یہ محاورہ استعمال کرتا رہا ہو اُس کا بیعت سے الگ ہوتے ہی یہ کہنا شروع کردینا کہ مجھے جماعت سے الگ قرار دے کر غیراحمدی سمجھا جاتا ہے، سراسر دنیا داری اور چالاکی ہے۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کا سمجھنا کسی کیلئے مشکل ہو۔ تم کسی احمدی بچے کے پاس چلے جائو۔ ایک سکول کے احمدی طالب علم سے ہی دریافت کرلو کہ کیا مولوی محمد علی صاحب ہمار ی جماعت میں ہیں؟ وہ کہے گا نہیں پھر اس سے پوچھو کیا مولوی محمد علی صاحب احمدی ہیں؟ وہ کہے گا ہاں ۔بلکہ وہی طالب علم جنہیں وہ پڑھایا کرتے تھے ان سے سوال کرکے دیکھ لو کہ کیا مولوی محمد علی صاحب ہماری جماعت میں ہیں وہ کہیں گے نہیں پھر ان سے سوال کرو کہ کیا وہ احمدی ہیں وہ کہیں گے ہاں۔
    اب دوسری موٹی مثال اس کی میں یہ دیتا ہوں کہ اسی منبر پر کھڑے ہوکر میں نے مولوی سید محمداحسن صاحب امروہی کی وفات پر اُن کا جنازہ پڑھنے کا علان کیا اور ساری جماعت کے ساتھ ان کا جنازہ پڑھا۔ لیکن اس کے مقابلہ میں کیا کوئی بتاسکتا ہے کہ ہم نے کسی غیراحمدی کا بھی کبھی جنازہ پڑھا۔ ہم غیراحمدیوں کا جنازہ کبھی نہیں پڑھتے صرف احمدیوں کا جنازہ پڑھتے ہیں۔ پس میرا مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی کاجنازہ پڑھنا بتاتاہے کہ میں ایسے لوگوں کو جو خلیفۂ وقت کی بیعت سے الگ ہوجائیں یا احمدی کہلاکر بیعت نہ کریں احمدی ہی سمجھتا ہوں۔ اور مصری صاحب تومیرے متعلق یہ اعلان کررہے ہیں کہ میں انہیں معزول کرائوں گا۔ لیکن مولوی سید محمد احسن صاحب وہ تھے جنہوں نے میرے متعلق یہ اعلان کیا تھا کہ میں نے انہیں خلافت سے معزول کردیا۔ پس وہ ہماری جماعت سے الگ ہوچکے تھے۔ مگر باوجود اس کے کہ وہ ہماری جماعت سے الگ تھے اورباوجود اس کے کہ انہوں نے میرے متعلق یہ اعلان کیا تھا کہ میں انہیں خلافت سے معزول کرتا ہوں، اُن کی وفات پر میں نے اُن کا جنازہ پڑھا اور یہ ہر شخص جانتا ہے کہ اگر ہم انہیں غیراحمدی سمجھتے تو کبھی ان کا جنازہ نہ پڑھتے۔ لیکن جب میں نے مولوی سید محمد احسن صاحب کا جنازہ پڑھا تو اِس کے معنی یہی تھے کہ میں ان کو احمدی سمجھتا ہوں۔ پھر شیخ رحمت اللہ صاحب فوت ہوئے تو میں نے اُن کا جنازہ پڑھا، وہ بھی مبائع نہیں تھے۔ مگر باوجود اس کے کہ وہ ہماری جماعت میں شامل نہ تھے میں نے ان کا جنازہ پڑھا۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ کسی شخص کے جماعت میں نہ ہونے کا ہم یہ مفہوم نہیں لیتے کہ وہ احمدی نہیں۔ بلکہ اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ وہ مبائع احمدی نہیں۔ یعنی خلیفۂ وقت کے ہاتھ پر بیعت کرنے والی جماعت کا وہ حصہ نہیں وہ بیشک پہلے ہمارے ساتھ تھا مگر اب وہ کٹ گیا اور ہماری جماعت سے الگ ہوگیا ہے۔ تو یہ کتنا بڑا دھوکا ہے کہ ایک شخص ۲۳ سال ہمارے اندررہتا ہے، جماعت کی اصطلاحات اورمحاورات سے واقف ہے خود بھی یہ محاورہ استعمال کرتا رہتاہے مگر جونہی وہ جماعت سے علیحدہ ہوتا ہے لوگوں کو دھوکا دینے کیلئے کہتا ہے مجھ پر اتہام لگایا جاتا ہے کہ میں احمدی نہیں رہا۔ سوال یہ ہے کہ کس نے تمہیں کہا کہ تم احمدی نہیں رہے۔ جب کسی نے بھی ایسا نہیں کہا تو تمہارا جماعت پر یہ الزام لگانا بتاتا ہے کہ خود تمہارے دل میں کوئی شکوک پیدا ہوئے ہیں جن کو تم دوسروں کی طرف منسوب کرتے ہو ۔ ہمارا تو یہ طریق ہی نہیں کہ جب کوئی شخص ہماری جماعت میں سے الگ ہو تو اُس کے متعلق ہم یہ کہنا شروع کردیں کہ وہ احمدی نہیں رہا۔ خواجہ کمال الدین صاحب کے متعلق بھی ہم یہی کہتے تھے کہ وہ ہماری جماعت میں نہیں۔ مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی کے متعلق بھی یہی کہتے تھے کہ وہ ہماری جماعت میں نہیں۔مولوی محمدعلی صاحب کے متعلق بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ ہماری جماعت میں نہیں۔ اسی طرح باقی تمام غیر مبائعین کے متعلق ہم یہی کہتے ہیں کہ وہ ہماری جماعت میں نہیں۔ ہاں ساتھ ہی ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ سب احمدی ہیں اور ہم انہیں احمدی ہی سمجھتے ہیں گو احمدیہ جماعت میں نہیں سمجھتے۔ چنانچہ جب کبھی پیغامیوں اور ہماری جماعت میں مباحثہ ہو تو ہم انہیں یہی کہتے ہیں کہ جماعت تو ہماری ہی ہے جو ایک خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کر چکی ہے تم لوگ پراگندہ اور متفرق ہو۔ تمہارا حق نہیں کہ تم اپنے آ پ کو جماعت کہو۔
    پھر میرے متعدد فتوے موجود ہیں جن میں دوستوں نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ کیا غیرمبائعین کے پیچھے نماز جائز ہے؟ اور میں نے ہمیشہ انہیں یہی جواب دیا کہ جائز توہے مگر مکروہ ہے۔ کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تم امام اُس شخص کو بنائو جو تم میں سے اَتْقٰی اور معزز ہو۔ وہ لوگ چونکہ خلیفۂ وقت کا انکار کرکے ۱؎ کے ماتحت آچکے ہیں اس لئے ان کی اقتدا میں نماز پڑھنا پسندیدہ فعل نہیں سمجھا جاسکتا۔ ہاں اگر کسی موقع پر مجبور ہوجائو تونماز کے ادب کے لحاظ سے یہ جائز ہے کہ تم کسی غیرمبائع کے پیچھے نماز پڑھ لو ۔ لیکن کیا یہی فتویٰ ہم نے کبھی غیراحمدیوں کے متعلق بھی دیا ہے کہ اگر مجبور ہوجائو تو ان کے پیچھے نماز پڑھ لو۔ جب نہیں تو صاف معلوم ہوا کہ ہمارے نزدیک بیعت سے الگ ہونا اور چیز ہے اور احمدیت سے الگ ہونا اور چیز ۔ اب باوجود یکہ پیغامیوں کو ہم اپنی جماعت میں نہیں سمجھتے، پھر بھی ہم انہیں احمدی ہی کہتے ہیں۔کیونکہ جماعت اور چیز ہے اور احمدیت اور چیز۔ جماعت متفرق ہوجاتی ہے مگر مذہب دنیامیں باقی رہتا ہے۔
    خلافت راشدہ جب دنیا سے مٹی تو جماعت بھی ساتھ ہی مٹ گئی مگر اس کے ساتھ مذہب نہیں مٹا۔ بلکہ مسلمانوں کی کئی جماعتیں بن کر کوئی افغانستان میں قائم ہوگئی ، کوئی ایران میں، کوئی عرب میں قائم ہوگئی اور کوئی سپین میں۔ پس باوجود اس کے کہ مسلمان دنیا میں متفرق ہوگئے مذہب ان کے پاس رہا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خلافت موجود نہ ہو تو بیعت میں نہ شامل ہونے والے کا اور حال ہوتا ہے اور جب موجود ہو تو اَور ہوتا ہے۔ جس طرح پانی کی موجودگی میں تیمم کرنے والے اور عدم موجودگی میں تیمم کرنے والے میں فرق ہے۔ لیکن پھر بھی ہم یہ نہیں کہتے کہ جس نے بیعت توڑ دی وہ مسلمان نہیں رہا۔ ہاں اُس شخص کو گنہگار اور روحانیت سے دور ہوجانے والا ضرور قرار دیتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ اگر اس کے نفس میں شرارت ہے تو وہ ایمان سے کسی دن محروم ہوجائے گا۔
    یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء ہمارے ساتھ عقائد میں بھی اختلاف رکھتے ہیں۔ مثلاً وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نبوت کے قائل نہیں۔ وہ آپ کے منکروں کے متعلق یقین رکھتے ہیں کہ ان میں بھی بزرگ اور نیک ہوسکتے ہیں۔ لیکن اِس وقت تک شیخ عبدالرحمن صاحب مصری نے کوئی ایسا اعلان نہیں کیا جس سے ظاہر ہو کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نبوت کے قائل نہیں۔ پھر یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ہم مولوی محمد علی صاحب کے متعلق تو یہ کہیں کہ وہ احمدی ہیں اور مصری صاحب کے متعلق یہ کہیں کہ وہ احمدی نہیں۔ جنہوں نے عقائد میں ہم سے بہت زیادہ اختلاف کیا جب ہم انہیں بھی آج تک احمدی کہتے رہے اور کہتے ہیں تو مصری صاحب کے متعلق یہ کس طرح کہہ سکتے تھے کہ چونکہ انہوں نے بیعت سے علیحدگی اختیارکرلی ہے اس لئے وہ احمدی نہیں رہے۔ پس یہ کیسی چالبازی ہے کہ کہا جاتا ہے ’’حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ جیسے جلیل القدر صحابہ نے حضرت علیؓ کی بیعت کرلینے کے بعد بیعت کو فسخ کرلیا۔ مگر کوئی ہے جو جرأت کرکے انہیں اسلام سے خارج قرار دے‘‘۔ یہ سوال تو تب ہوتا جب ہم کہتے کہ چونکہ مصری صاحب نے بیعت سے علیحدگی اختیار کرلی ہے اس لئے وہ غیراحمدی ہوگئے ہیں۔ لیکن جب ہم نے یہ کہا ہی نہیں تو ایک جھوٹی بنیاد پر لوگوں کو اشتعال دلانا صریح دھوکا دہی ہے جو انہوں نے اختیار کی۔ غرض یہ بات جو کہی گئی ہے اس میں دیدہ دانستہ اور جانتے بُوجھتے ہوئے انہوں نے غلط بیانی سے کام لیا ہے۔ اگر غیرمبائعین کو ہم غیراحمدی کہا کرتے تب تو انہیں شبہ ہوسکتا تھا اور وہ کہہ سکتے تھے کہ مجھے بھی ان کی طرح غیراحمدی کہا جاتا ہے۔ مگر غیرمبائعین جو نہ صرف خلافت بلکہ نبوت میں بھی ہم سے اختلاف رکھتے ہیں، جب ہم نے انہیں بھی آج تک غیراحمدی نہیں کہا تو ان کو کس طرح احمدیت سے خارج قرار دے سکتے تھے اور جب ہم نے انہیں احمدیت سے خارج قرار نہیں دیا تو ان کا یہ کہنا کہ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت سے الگ ہوگئے تھے تو کیا وہ اسلام سے نکل گئے تھے، صریح غلط بیانی ہے جو انہوں نے لوگوں کو جوش دلانے کیلئے کی ہے۔
    پس نہ کبھی ہم نے ان کو غیراحمدی کہا اور نہ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ کے متعلق ہم نے کہا کہ وہ اسلام سے نکل گئے تھے بلکہ مصری صاحب سے زیادہ اختلاف رکھنے والوں یعنی غیرمبائعین کے متعلق بھی ہم نے کبھی نہیں کہا کہ وہ غیراحمدی ہوگئے ہیں۔ باوجود یکہ وہ ہم سے خلافت میں اختلاف رکھتے ہیں،امامت میں اختلاف رکھتے ہیں، نبوت میں اختلاف رکھتے ہیں،غیراحمدیوں کے جنازے پڑھنے اور ان سے رشتہ داری تعلقات قائم کرنے میں اختلاف رکھتے ہیں،کفر و اسلام میں اختلاف رکھتے ہیں پھر بھی ہم نے انہیں کبھی نہیں کہا کہ وہ غیراحمدی ہوگئے بلکہ ان کے پیچھے اشد ضرورت کے موقع پر نماز پڑھ لینے کے جواز کے متعلق میرے فتوے شائع شدہ موجود ہیں۔ اور ان میں سے بعض کے جنازے پڑھنا میرے عمل اور طریق سے ثابت ہے۔ تو پھر کس طرح ممکن تھا کہ مصری صاحب کی موجودہ حالت میں ہم انہیں غیراحمدی کہتے۔
    اب میں ان روایات کو لیتا ہوں جو انہوںنے بیان کی ہیں۔ پہلی روایت انہوں نے یہ پیش کی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضرت ابوبکرؓ کی چھ ماہ تک بیعت نہیں کی تھی ۲؎ یہ روایت صحیح ہے۔ چنانچہ بعض روایتوں میں اس قسم کا ذکر آتا ہے مگر ساتھ ہی یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ مختلف فیہ روایت ہے یعنی یہ بھی روایت آتی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت فوراً کرلی تھی ۳؎ اور یہ بھی روایت آتی ہے کہ انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی چھ ماہ تک بیعت نہیں کی تھی۔ پس ایک روایت کو قائم کرنے اور اسے درست قرار دینے کی کوئی وجہ ہونی چاہئے۔ پھر جن روایات میں یہ آتا ہے کہ انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کی اُنہی میں سے بعض میں (میں نے حضرت خلیفۂ اوّل سے سنا ہے) یہ بھی آتا ہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی دستی بیعت میں نے ابتدائی چھ ماہ میں اس لئے نہ کی کہ حضرت فاطمہؓ اتنی شدید بیمار تھیں کہ میںا نہیں چھوڑ کر نہیں آسکتا تھاحضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کا یہی مذہب تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر کی بیعت فوراً ہی کرلی تھی۔
    پس یہ دلیل کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیعت نہیں کی، اوّل تو یہ مکمل دلیل نہیں کیونکہ اس کے خلاف بھی روایات پائی جاتی ہیں۔ اور اگر بفرضِ محال دوسری روایت درست ہو تو پھر بھی یہ ماننا پڑے گا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیعت سے کبھی انکار نہیں کیا۔ صرف حضرت فاطمہؓ کی شدید بیماری کی وجہ سے تیمارداری میں مشغول رہنے کے باعث وہ فوراً دستی بیعت نہیں کرسکے۔ اور یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی شخص باہر ہو اور وہ کسی اشد مجبوری کی وجہ سے نہ آسکے۔ ایسی حالت میں اگر وہ اپنے دل میں خلیفۂ وقت کی بیعت کا اقرار کرچکا ہے تو وہ بیعت میں ہی شامل سمجھا جائے گا۔
    دوسری دلیل انہوں نے یہ دی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے حضرت علیؓ کی بیعت نہیں کی تھی۔ مگر حضرت عائشہؓ کے متعلق یہ کہنا کہ انہوں نے حضرت علیؓ کی بیعت نہیں کی تھی ، اوّل تو تاریخی طور پر ثابت نہیں اور میں نے یہ کہیں نہیں پڑھا کہ حضرت عائشہؓ نے اپنی وفات تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کی۔ لیکن اگر بفرضِ محال اس امر کوتسلیم بھی کرلیا جائے تو ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ وہ ثابت کریںکہ اُس زمانہ میں ہرفردِ واحد خلیفۂ وقت کی اصالتاًدوبارہ بیعت کیا کرتا تھا۔ ہمیں تو تاریخی کتب کے مطالعہ سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اُس زمانہ میں بڑے بڑے آدمی خلیفۂ وقت کی بیعت کرلیا کرتے تھے اور اُن کے بیعت کرلینے کی وجہ سے سارے علاقوں کی بیعت سمجھی جاتی تھی۔ صرف وہ لوگ خارج از بیعت سمجھے جاتے تھے جو خود بیعت کا انکار کریں ورنہ خاموشی اقرارِ بیعت قرار دی جاتی تھی۔ خصوصاً عورتوں کا خلفاء کی بیعت کرنا یہ تفصیلاً ثابت نہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چونکہ مذہب کے بدلنے کا سوال ہوتا تھا اس لئے ہر فردِ واحد آپ کی بیعت کرتا تھا۔ لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جہاں تک تو میں نے تاریخ کا مطالعہ کیا ہے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہر مرد، ہر عورت اور ہر بچہ نے خلفاء کی دوبارہ بیعت کی ہو بلکہ جو کچھ ثابت ہے وہ یہ ہے کہ شہر کے معزز مرد بیعت کرلیا کرتے تھے اور انہی کی بیعت میں عورتوں او ربچوں کی بیعت بھی شامل سمجھی جاتی تھی۔ یا ممکن ہے بعض عورتیں شوقیہ طور پر یا بعض مصالح کے ماتحت بیعت میں شامل ہوجاتی ہوں لیکن ملک کے تمام مردوں، تمام عورتوں او رتمام بچوں کے بیعت کرنے کا ثبوت کم از کم میری نگاہ سے کوئی نہیں گزرا۔ پس حضرت عائشہؓ کا بیعت نہ کرنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ عورتوں سے بلکہ دُوردراز کے مردوں سے بھی بیعت کا خاص تعہّد نہ ہوتا تھا۔ جب عام بیعت ہوجاتی تو باقی توابع اور عورتوں کی بیعت بیچ میں ہی شامل سمجھی جاتی تھی۔ ان حالات میں جب تک کوئی یہ ثابت نہ کردے کہ اُس زمانہ میں تمام عورتیں خلفاء کی بیعت کیا کرتی تھیں اور حضرت عائشہؓ نے بیعت نہ کی تھی اُس وقت تک حضرت عائشہؓ عنہا کے بیعت کا ثبوت تاریخ میں نہ ملنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ پھر صریح طور پر تاریخوں میں آتا ہے کہ گو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ابتدا میں مقابلہ کرنا چاہا تھامگر جس وقت حضرت علیؓ کے لشکر اور حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ کے لشکر میں لڑائی ہوئی ہے، اُس وقت وہ لڑائی کیلئے نہیں بلکہ صلح کیلئے نکلی تھیں۔ چنانچہ جتنے معتبر راوی ہیں وہ تواتر اور تسلسل سے یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ اِسی لئے نکلی تھیں کہ وہ دونوں لشکروں میں صلح کرائیں۔
    اصل بات یہ ہے کہ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ نے حضرت علیؓ کی اِس شرط پر بیعت کی تھی کہ وہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے جلد سے جلد بدلہ لیں گے۔ یہ شرط ان کے خیال میں چونکہ حضرت علیؓ نے پوری نہ کی اِس لئے شرعاً وہ اپنے آپ کو بیعت سے آزاد خیال کرتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی اِس سے قبل حضرت عثمانؓ کے خون کا بدلہ لینے کیلئے جہاد کا اعلان کرچکی تھیں اور صحابہ کو اُنہوں نے اپنی مدد کیلئے طلب کیا تھا۔اِس پر لوگوں کا ایک حصہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ، حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ کے ساتھ ہوگیا اور انہوں نے جنگ کیلئے ایک لشکر تیار کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اِس بات کا علم ہوا تو آپ نے بھی ایک لشکر تیار کیا۔ لیکن جب دونوں لشکر اکٹھے ہوئے تو دوسرے صحابہ نے دونوں فریق کو سمجھانا شروع کیا اور آخر صلح کا فیصلہ ہوگیا۔ جب یہ خبر اس فتنہ کے بانیوں کوپہنچی تو اُنہیں سخت گھبراہٹ ہوئی اور انہوں نے مشورہ کیا کہ جس طرح بھی ہو صلح نہ ہونے دو کیونکہ اگرصلح ہوگئی تو ہمارے بھانڈے پھوٹ جائیں گے۔ چنانچہ جب رات ہوئی تو انہوں نے صلح کو روکنے کیلئے یہ تدبیر کی کہ ان میں سے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے انہوں نے حضرت عائشہؓ اور حضرت طلحہؓ و زبیرؓکے لشکرپر اور جو اُن کے لشکر میں تھے انہوں نے حضرت علیؓ کے لشکر پر شبخون ماردیا اور ہر فریق نے یہ خیال کیا کہ دوسرے فریق نے اس سے دھوکا کیا ہے۔ اس پر جنگ شروع ہوگئی اور دونوں فریق کے سرداروں کو میدان میں نکلنا پڑا۔ یہ دیکھ کر بعض صحابہ اور رئوسا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور اُن سے کہا کہ اے عائشہؓ! آپ کے سوا آج اسلامی لشکر میں کوئی صلح نہیں کراسکتا۔ آپ تشریف لائیں اور صلح کرائیں۔ چنانچہ وہ صلح کیلئے باہر نکلیں۔ یہ دیکھ کر اُن شریروں اور فتنہ پردازوں نے جو یہ چاہتے تھے کہ صلح نہ ہو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ اور ہودج پر تیر مارنے شروع کردیئے۔ اس پر وہ لوگ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں سرشار تھے، آپے سے باہر ہوگئے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ کے اِردگرد حلقہ باندھ لیا اور ان لوگوں کا مقابلہ کرنا شروع کردیا جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ پر تیر چلارہے تھے۔ یہ دیکھ کر ایک شخص ان لوگوں میں سے ایک شخص کے پاس گیا جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ کے اِردگِرد حلقہ باندھے ہوئے تھا اور کہا کہ کیا تُو مسلمانوں کے اوپر تیر چلائے گا؟ وہ کہنے لگا خدا گواہ ہے میں مسلمانوں کے اوپر تیر نہیں چلانا چاہتا مگر میں اپنے آقا کی بیوی کو بھی یونہی نہیں چھوڑ سکتا۔ پس شرارتیوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ پر تیر چلائے اور بعض صحابہ نے دفاع کے طور پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے دشمنوں کا مقابلہ کیا۔ ورنہ تاریخی طور پر یہ ثابت ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے لڑائی کیلئے نہیں نکلی تھیں بلکہ آپس میں صلح کرانے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مقابلہ کرنے والے لشکر کو سمجھانے کیلئے نکلی تھیں اور ان کا وہی فعل بیعت تھا۔
    باقی رہا یہ کہنا کہ ’’حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابہؓ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلینے کے بعد بیعت کو فسخ کرلیا۔ مگر کوئی ہے جو جرأت کرکے انہیں اسلام سے خارج قرار دے‘‘۔ میں اس کے متعلق بتاچکا ہوں کہ ہم نہ انہیں غیرمسلم کہتے ہیں اور نہ مصری صاحب کو غیراحمدی کہتے ہیں۔ ہاں اس سے یہ معلوم ضرور ہوتا ہے کہ انہیں غیراحمدی کہلانے کا شوق ہے اور شاید یہ پیش خیمہ ہے ان کے غیراحمدی بننے کا۔ چنانچہ کچھ تعجب نہیں کہ وہ تھوڑے دنوں کے بعد ہی یہ کہنے لگ جائیں کہ چلو جب جماعت مجھے غیراحمدی سمجھتی ہے تو میں غیراحمدی ہی ہوجاتا ہوں۔ ورنہ ہم نے تو آج تک ایک دفعہ بھی انہیں غیراحمدی نہیں کہا۔
    یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے متعلق جو یہ کہا گیا ہے کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کو توڑا، یہ ایک غلط مثال اور تاریخ سے ان کی ناواقفیت کا ثبوت ہے۔ تاریخیں اِس بات پر متفقہ طور پر شاہد ہیں کہ حضرت طلحہؓ اورحضرت زبیرؓ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جو بیعت کی تھی وہ بیعت طَوعی نہیں تھی بلکہ جبراً اُن سے بیعت لی گئی تھی۔ چنانچہ محمدؓ اور طلحہؓ دو راویوں سے طبری میں یہ روایت آتی ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جب شہید ہوگئے تو لوگوں نے آپس میں مشورہ کرکے فیصلہ کیا کہ جلد کسی کو خلیفہ مقرر کیا جائے تا امن قائم ہو اور فساد مٹے۔ آخرلوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور اُن سے عرض کیا کہ آپ ہماری بیعت لیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا اگر تم نے میری بیعت کرنی ہے تو تمہیں ہمیشہ میری فرمانبرداری کرنی پڑے گی اگر یہ بات تمہیں منظور ہے تومیں تمہاری بیعت لینے کیلئے تیار ہوں ورنہ کسی اور کو اپنا خلیفہ مقرر کرلو، میں اُس کا ہمیشہ فرمانبردار رہوں گا اور تم سے زیادہ اُس کی اطاعت کروں گا۔ انہوں نے کہا ہمیں آپ کی اطاعت منظور ہے۔ آپ نے فرمایا پھر سوچ لو اور آپس میں مشورہ کرلو۔ چنانچہ انہوں نے مشورہ سے یہ طے کیا کہ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلیں تو سب لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلیں گے ورنہ جب تک وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کریں گے اُس وقت تک پورے طور پر امن قائم نہیں ہوگا۔ اِس پر حکیم بن جبلہ کو چند آدمیوں کے ساتھ حضرت زبیر ؓکی طرف اور مالک اشتر کو چند آدمیوں کے ساتھ حضرت طلحہؓ کی طرف روانہ کیا گیا۔ جنہوں نے تلواروں کا نشانہ کرکے اُنہیں بیعت پر آمادہ کیا یعنی وہ تلواریں سونت کر ان کے سامنے کھڑے ہوگئے اورانہوں نے کہا کہ حضرت علی کی بیعت کرنی ہے تو کرو ورنہ ابھی ہم تم کو مارڈالیں گے۔ چنانچہ انہوں نے مجبورہوکر رضامندی کا اظہار کردیا اور یہ واپس آگئے۴؎ دوسرے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے اور فرمایا اے لوگو! تم نے کل مجھے ایک پیغام دیا تھا اور میں نے کہا تھا کہ تم اس پر غور کرلو۔ کیا تم نے غور کرلیا ہے اور کیا تم میری کل والی بات پر قائم ہو؟ اگر قائم ہو تو یاد رکھو تمہیں میری کامل فرمانبرداری کرنی پڑے گی۔ اِس پر وہ پھر حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ کے پاس گئے اور اُن کو زبردستی کھینچ کر لائے ۔ روایت میں صاف لکھا ہے کہ جب وہ حضرت طلحہ کے پاس پہنچے اور ان سے بیعت کیلئے کہا تو انہوں نے جواب دیا اِنِّیْ اِنَّمَا اُبَایِعُ کَرْھًا۵؎ دیکھومیں زبردستی بیعت کررہا ہوں خوشی سے بیعت نہیں کررہا۔ اسی طرح حضرت زبیر کے پاس جب وہ لوگ گئے اور بیعت کیلئے کہا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ اِنِّیْ اِنَّمَا اُبَایِعُ کَرْھًا تم مجھ کو مجبور کرکے بیعت کروا رہے ہو دل سے میں یہ بیعت نہیں کررہا۔
    اسی طرح عبدالرحمن بن جندب اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان ؓکے قتل کے بعد اشتر، طلحہ کے پاس گئے اور بیعت کے لئے کہا۔ انہوں نے کہا مجھے مُہلت دو میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ لوگ کیا فیصلہ کرتے ہیں مگر انہوں نے نہ چھوڑا اور جَائَ بِہٖ یَتُلُّہٗ تَلاًّ عَنِیْفًا۶؎ ان کو زمین پر نہایت سختی سے گھسیٹتے ہوئے لے آئے جیسے بکرے کو گھسیٹا جاتا ہے۔
    پھر حارث الوالی کی روایت ہے کہ حضرت زبیر کو جبراً حکیم بن جبلہ بیعت کیلئے لایا تھا اور حضرت زبیر یہ کہا کرتے تھے کہ جَائَ نِیْ لِصٌّ مِنْ لُصُوْصِ عَبْدِالْقَیْسِ فَبَایَعْتُ وَالُّلجُّ عَلٰی عُنُقِیْ۷؎ یعنی عبدالقیس قبیلہ کے چوروں میں سے ایک چور میرے پاس آیا اور اس کے مجبور کرنے پر اِس حالت میں مَیں نے بیعت کی کہ تلوار میری گردن پر تھی اور مجھے کہا جاتا تھا کہ بیعت کرو ورنہ تمہاری گردن اُڑادی جائے گی۔ اِس بیعت کو کون شخص ہے جو بیعت کہہ سکے۔
    پھر تاریخوں سے صاف ثابت ہے کہ جب وہ حضرت علیؓ کی بیعت کرنے لگے تو انہوں نے کہا ہماری شرط یہ ہے کہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے آپ بدلہ لیں۔ پس چونکہ اُنہوں نے شرط کرکے بیعت کی تھی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کی شرط پوری نہ کرسکے کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ خیال تھا کہ پہلے تمام صوبوں کا انتظام ہوجائے اور پھر قاتلوں کو سزا دینے کی طرف توجہ کی جائے اور اس سے حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ نے یہ سمجھاکہ حضرت علیؓ اپنے عہد سے پھرتے ہیں اور پھر چونکہ جبراً ان سے بیعت لی گئی تھی اس لئے وہ چوتھے دن ہی چلے گئے اور بیعت سے الگ ہوگئے۔
    پس یہ کہنا کہ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ نے بیعت کرکے چھوڑ دی ایک مغالطہ ہے وہ بیعت نہیں تھی بلکہ جبری بیعت تھی ۔ اور اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کسی شخص کا ہاتھ زبردستی نیل کے مٹکے میں ڈال دیا جائے اور پھر کہنا شروع کردیا جائے کہ اس نے اپنے ہاتھ نیلے کرلئے ہیں۔ انہوں نے بھی جبراً بیعت کی تھی۔ وہ خود کہتے ہیں ہم نے ایسی حالت میں بیعت کی وَاللُّجُّ عَلٰی اَعْنَاقِنَا جبکہ تلواریں ہماری گردنوں پر رکھی تھیں۔ پھر انہوں نے بیعت پر زیادہ دیر بھی نہیں لگائی۔ تیسرے یا چوتھے دن وہ مکے چلے جاتے ہیں اور کہتے ہیں چونکہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے بدلہ نہیں لیا جاتا اور اِسی شرط پر ہم نے بیعت کی تھی اِس لئے ہم اپنی بیعت پر قائم نہیں رہتے۔ اب بتائو اس میں اور مصری صاحب کی بیعت میں آیا کوئی بھی مناسبت ہے؟ اور کیا مصری صاحب سے جب بیعت لی گئی تھی تو تلوار اُن کی گردن پر رکھی گئی تھی؟ یا کیا انہوں نے کسی شرط پر میر ی بیعت کی تھی؟ اور کیا وہ ۲۳ سال تک میری اطاعت اور فرمانبرداری کا اقرار نہیں کرتے رہے؟ پھر ان کی اور حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ کی نسبت ہی کیاہے کہ وہ ان کی مثال اپنے لئے پیش کرتے ہیں۔
    چنانچہ اس بات کا ایک اور ثبوت کہ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ سے زبردستی بیعت لی گئی یہ ہے کہ جب جنگ جمل ہوئی انہوں نے حضرت علیؓ کا مقابلہ کیا۔ تو لکھا ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت طلحہ سے کہا اَمَا بَا یَعْتَنِیْ؟تم نے میری بیعت نہیں کی تھی؟ حضرت طلحہؓ نے کہا بَایَعْتُکَ وَ عَلٰی عُنُقِی اللُّجُّ ۸؎ میں نے بیعت تو کی تھی مگر ایسی حالت میں جب تلوار میری گردن پر تھی۔ مگر باوجود اس جبرکے انہوں نے بیعت کے وقت اقامتِ حد کی شرط کرلی ۔ گویا حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ نے جو بیعت کی وہ انہوں نے اپنی خوشی سے نہیں کی بلکہ زبردستی ان سے بیعت کرائی گئی۔ اور اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے جبراً کسی شخص سے کلمہ پڑھایا جائے اور پھر کہہ دیا جائے کہ وہ مسلمان ہوگیا ہے۔ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓکو بھی وہ تلواروں سے ڈرادھمکا کر بلکہ سختی سے گھسیٹ کرلائے اور انہوں نے کہہ بھی دیا کہ گو ہم بیعت کرتے ہیں مگر جبراً کرتے ہیں اور پھر اس شرط پر کرتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے بدلہ لیا جائے۔ دراصل زبردستی بیعت لوگوں نے انہیں اس لئے کرائی کہ وہ سمجھتے تھے یہ دونوں صحابہ اثر و رسوخ رکھنے والے ہیں اور اگر ان دونوں نے بیعت کرلی تو باقی مسلمان بھی بیعت کرلیں گے اور عَالمِ اِسلامی میں امن قائم ہوجائے گا۔ مگر کیا مصری صاحب اور ان کے رفقاء نے بھی ایسی حالت میں بیعت کی تھی کہ ان کی گردنوں پر تلواریں تھیں؟ اور کیا انہوں نے بھی بیعت کے وقت کوئی شرط کی تھی؟
    پھر حدیثوں میں محمد و طلحہ کی روایت سے یہاں تک آتا ہے کہ بیعت کرنے کے معاً بعد حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ اور بعض دوسرے صحابہ حضرت علیؓ کے گھر گئے اور انہوں نے کہا کہ ہماری بیعت میں شرط تھی کہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں پر حد قائم کی جائے گی پس آپ ان کو سزادیں اور حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے بدلہ لیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عُذر کیا اور کہا اِس وقت فساد کا خطرہ ہے اور سب سے مقدم اسلام کی حفاظت ہے قاتلوں کے معاملہ میں دیر ہوجانے سے کوئی حرج نہیں ۔ گویا انہوں نے ایک گھنٹہ بھی انتظار نہیں کیا بلکہ اِدھر بیعت کی اور اُدھر اُن کے گھر چلے گئے کہ ہماری شرط پوری کی جائے ورنہ ہم آپ کی بیعت سے آزاد ہیں۔ اور یہ وہ ہیں کہ ۲۳ سال تک اِن کا منہ میری تعریفیں کرکرکے سُوکھتا رہا مگر آج یہ کہہ رہے ہیں کہ میرا اور طلحہؓ و زبیرؓ کا معاملہ ایک ہی ہے۔
    میں ضمناً اِس جگہ یہ بھی بتادینا چاہتا ہوں کہ اُس زمانہ میں بیعت کا مفہوم کیا سمجھا جایا کرتا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جب لوگوں سے بیعت لی تو اُس کے الفاظ یہ تھے علیک عھداللّٰہ و میثاقہ بالوفاء لتکونن لسلمنا سلما و لحربنا حربا و لتکفن عنا لسانک ویدک کہ تم خدا کی قسم کھا کر مجھ سے یہ عہد کرتے ہو کہ تم ہمیشہ میرے مطیع و فرمانبردار رہو گے۔ جس سے میں صلح کروں اُس سے تم بھی صلح کرو گے اور جس سے میں جنگ کروں گا اُس سے تم بھی جنگ کرو گے اور تم نہ اپنی زبان سے مجھ پر کوئی اعتراض کرو گے اور نہ اپنے اعمال سے میرے لئے کسی تکلیف کاباعث بنو گے۔ گویا بیعت کی یہ اہم شرط تھی کہ و لتکفن عنا لسانک ویدک۔ اپنی زبانوں اور اپنے ہاتھوں کو روکے رکھنا ہے اورمجھ پر کسی قسم کا اعتراض نہیں کرنا۔ یہ عہد تھا جو صحابہ بیعت کا سمجھتے تھے مگر مصری صاحب کہتے ہیں کہ میں برابر دو سال تک آپ کے خلاف مصالحہ جمع کرتا رہا اور ابھی ان کے نزدیک وہ میری بیعت میں ہی شامل تھے۔ پس جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے کیا قصور کیا، ہم نے صرف اعتراض ہی کیا تھااور اعتراض کرنے میں آزادی ہونی چاہئے۔ انہیں غور کرنا چاہئے کہ اگر خلفاء پر اعتراضات کرنے میں اسلام آزادی سکھاتا ہے تو وَ لَتَکْفَنْ عَنَا لَسَانَکَ وَیَدَکَکا کیا مفہوم ہے۔ اس میں تو صاف طور پر حضرت علیؓ نے لوگوں سے کہہ دیاتھا کہ تم اپنی زبانوں کو روکے رکھنا اور کبھی مجھ پر اعتراض نہ کرنا۔ اسی طرح اپنے ہاتھوں کو ہمیشہ بند رکھنا اور کوئی ایسی حرکت نہ کرناجو میرے لئے دُکھ اور اذیت کا موجب ہو۔
    پھر روایتوں سے یہ بھی ثابت ہے کم سے کم حضرت طلحہؓ کی نسبت کہ انہوں نے وفات سے پہلے دوبارہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلی تھی اور حضرت زبیرؓ نے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی سن کر حضرت علیؓ کا مقابلہ کرنے سے اِعراض کرلیا تھا۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ حضرت زبیرؓ جب جنگ کیلئے حضرت علیؓ کے سامنے نکلے تو اُس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت زبیر سے کہا زبیر !تم کو وہ دن بھی یاد ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک دن میں اور تم اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ نے مجھے اور تمہیں اکٹھے بیٹھے دیکھ کر میری طرف مخاطب ہوکر فرمایا اے علیؓ! وہ بھی کیا دن ہوگا جب یہ تیرے چچا کا بیٹا زبیر تجھ سے ایسی حالت میں لڑائی کرے گا جبکہ یہ ظالم ہوگا اور تو مظلوم ہوگا۔ یہ سن کر حضرت زبیر اپنے لشکر کی طرف واپس لَوٹے اور انہوں نے قسم کھائی کہ وہ حضرت علیؓ سے ہرگز جنگ نہیں کریں گے اور اقرار کرلیا کہ انہوں نے اپنے اجتہاد میں غلطی کی۹؎ لیکن لطیفہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زبیرؓ کو حضرت علیؓ کے مقابلہ میں ظالم قرار دیتے ہیں اور مصری صاحب کہتے ہیں اگر میں نے بیعت توڑ دی ہے تو کیا حرج ہوا زبیرؓ نے بھی تو بیعت توڑی تھی اور حضرت علیؓ کا مقابلہ کیاتھا۔ گویا وہ اپنے منہ سے یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ظالم ہیں۔ کیونکہ وہ اپنے آپ کو حضرت زبیرؓ سے نسبت دیتے ہیں اور حضرت زبیرؓ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظالم قرار دیا تھا۔ اب کیا ظالم ہونا ان کے خیال میں کوئی گناہ نہیں صرف غیراحمدی ہونا ہی گناہ ہے۔ یہ مانا کہ حضرت زبیرؓ نے حضرت علیؓ کی بیعت عملاً توڑ دی تھی مگر ساتھ ہی یہ بھی تو حدیث ہے کہ اے زبیر! تو علیؓ سے ایسی حالت میں مقابلہ کرے گا جبکہ تو ظالم ہوگا۔ پس جب وہ حضرت زبیرؓ سے اپنی نسبت دیتے ہیں تو کیا وہ اس حدیث کے ماتحت ظالم قرار نہیں پاتے؟ اور کیا ظالم ہونا ان کے نزدیک کم گناہ ہے کہ وہ اسے معمولی بات سمجھتے ہیں۔ پس حضرت زبیر تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی سن کر جنگ سے الگ ہوگئے اور اچانک حملہ کے وقت چونکہ وہ زخمی ہوگئے تھے بعد میں فوت ہوگئے۔ باقی رہے حضرت طلحہؓ ان کی نسبت روایات میں آتا ہے کہ حضرت طلحہؓ بھی میدانِ جنگ کو چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ ان کے پیچھے ایک شخص گیا اور ان پر غفلت میں حملہ کرکے انہیں زخمی کردیا۔ اس کے بعد ان کے پاس سے ایک شخص گزرا اور آپ نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے کر کہا کہ تیرا ہاتھ علیؓ کاہاتھ ہے اور میں تیرے ہاتھ پر علی ؓکی دوبارہ بیعت کرتا ہوں۔
    اب کجا حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ کی حالت اور کجا مصری صاحب کی حالت۔ کیاان دونوں میں کوئی بھی نسبت ہے ؟اور کیا ان کا حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ کی مثال پیش کرنا کسی لحاظ سے بھی درست ہوسکتا ہے؟ مصری صاحب دریافت کرتے ہیں کہ حضرت طلحہؓاور حضرت زبیرؓ نے جب بیعت کو فسخ کرلیا تھا تو کوئی ہے جوجرأت کرکے انہیں اسلام سے خارج قرار دے۔ اور میں انہیں کہتا ہوں کہ ہم اگر انہیں اسلام سے خارج قرار نہیں دیتے تو آپ کو بھی بیعت سے الگ ہوجانے کی وجہ سے احمدیت سے کب خارج قرار دیتے ہیں۔ اگر آپ ایک بھی میری ایسی تحریر دکھادیں جس میں مَیں نے آپ کو غیراحمدی قرار دیا ہو تب تو سمجھ لیا جائے گاکہ آپ سچ بولتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی تحریر نہ دکھاسکیں تو کیا اس سے صاف طور پر یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ آپ نے دیدہ دانستہ غلط بیانی کی ہے۔ میری جس قدر تحریریں ہیں وہ چھپ چکی ہیں، میری تقاریر بھی محفوظ ہیں اور شائع ہوچکی ہیں پس اگر ان میں شرافت کا ایک ذرّہ بھی باقی ہے اور اگر ایمان کی کوئی حس اِن میں موجود ہے تو وہ میرا کوئی ایک ہی ایسا حوالہ پیش کریں جس میں مَیں نے یہ کہا ہو کہ وہ میری بیعت سے الگ ہوکر غیراحمدی ہوگئے ہیں۔ اِس وقت ہزاروں وہ لوگ ہیں جنہوں نے میرے خطبات کو سُنا اور ہزاروں وہ لوگ ہیں جنہوں نے ’’الفضل‘‘ کے ذریعہ میرے خطبات کوپڑھا پھر کیاان ہزاروں لوگوں میں سے کوئی ایک بھی بتاسکتا ہے کہ میں نے شیخ صاحب کو غیراحمدی کہا۔ جب ایک بھی ایسی گواہی نہیں مل سکتی تو یقینا انہوں نے غلط بیانی کی۔ یقینا انہوں نے ایک جُرمِ عظیم کیا، یقینا انہوں نے لوگوں کو دھوکا و فریب دیا۔ اور پھر دیدہ دانستہ ان امور کا ارتکاب کیا کیونکہ ہم پہلے بھی کئی لوگوں کو اپنی جماعت سے خارج کرچکے ہیں اور ہم نے ان میں سے آج تک کسی کو محض جماعت سے الگ ہونے کی وجہ سے غیراحمدی نہیں کہا۔
    اب ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فیصلہ دیکھتے ہیں کہ وہ کیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت علیؓ کی مخالفت کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے ’’سرالخلافہ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں والحق ان الحق کان مع المرتضٰی ومن قاتلہ فی وقتہٖ فبغٰی و طغٰی۱۰؎ یعنی سچی بات یہ ہے کہ سچ اور حق جو تھا وہ حضرت علیؓ کے ساتھ تھا۔ ومن قاتلہ فی وقتہٖ فبغٰی و طغٰی اور حضرت علیؓ کی خلافت کے زمانہ میں جن لوگوں نے آپ کا مقابلہ کیا وہ باغی اور سرکش تھے۔ اب چاہے حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ ہی کیوں نہ ہوں جس کسی نے حضرت علیؓ کا مقابلہ ان کی خلافت میں کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جس وقت تک وہ حضرت علیؓ کے مقابلہ میں کھڑا رہا اُس وقت تک وہ باغی اور طاغی تھا (مگرمیں جیساکہ بتاچکا ہوں کہ صحابہ مقابلہ سے پہلے ہی پیچھے ہٹ گئے تھے اور فی الْحقیقت مقابلہ کرنے والوں میں سے نہ تھے)۔ اب اگر مصری صاحب اس لئے خوش ہیں کہ میں گو غیراحمدی نہیں مگر باغی اور طاغی ہوں تو وہ بے شک خوش ہولیں۔ ہم تو یہ جانتے ہیں کہ جو شخص مومن ہو وہ خداتعالیٰ کی ادنیٰ سے ادنیٰ ناراضگی سے بھی ڈرتا اور چھوٹے سے چھوٹے گناہ کے ارتکاب سے بھی خوف کھاتا ہے۔ ان کواگر اس بات کی پرواہ نہیں اور انہیں اس بات پر فخرہے کہ میں باغی اور طاغی ہوں غیراحمدی نہیں تو بیشک اس پر فخر کرلیں ہم بھی انہیں غیراحمدی نہیں کہتے بلکہ باغی اور طاغی ہی کہتے ہیں۔
    پس یاد رکھو حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ نے گو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی مگر وہ جبری بیعت تھی، طَوعی بیعت نہیں تھی۔ اور پھر بیعت کے وقت انہوں نے شرط بھی کرلی تھی کہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے بدلہ لیا جائے گا۔ مگر جب ان کی نگاہ میں یہ شرط پوری نہ ہوئی تو انہوں نے بیعت توڑ دی۔ لیکن تاریخی طور پر ثابت ہے کہ ان کے بیعت توڑنے کے فعل کو اُن کے ساتھیوں نے بھی ناپسند کیا۔ چنانچہ ایک شخص سے جب کسی دوسرے شخص نے کہاکہ تم تو حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کے مخالف تھے پھر آج حضرت علیؓ کے ساتھیوں میں کیوں شامل ہوگئے؟ تو اُس نے کہا میں اس لئے ان کے ساتھ شامل ہوا ہوں کہ اِنَّھُمْ نَکَثُوا الْبَیْعَۃَ۔ طلحہؓ اور زبیرؓ نے بیعت کی اور پھر توڑ دی گویا باوجود یکہ ان کی بیعت جبری بیعت تھی، پھر بھی ان کے ساتھیوں نے ان کے فعل کو ناپسند کیا اور کہا کہ جب بیعت کرلی تھی تو خواہ جبری بیعت تھی پھر بھی اس بیعت کو توڑنا نہیں چاہئے تھا۔
    غرض ان لوگوں کی مثالوں سے استنباط بالکل غلط ہے۔ انہوں نے بیعت یا تو عارضی طور نہ کی اور پھر کرلی یا پھر جنہوں نے بیعت کی کَرْھاً کی اور پھر فوراً الگ ہوگئے، استقرارِ بیعت کبھی نہیں ہوا۔ یا پھر انہوں نے بیعت نہ کی مگر خلافت کا مقابلہ بھی نہیں کیا بلکہ صرف یہ کہا کہ اگر فلاں امر ہوجائے مثلاً حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے بدلہ لے لیا جائے تو ہم بیعت کرلیں گے۔ جیسے حضرت معاویہؓ ہیں کہ انہوں نے گو حضرت علیؓ کی اِسی وجہ سے بیعت نہیں کی مگر انہوں نے آپ کا مقابلہ بھی نہیں کیا۔ غرض تمکینِ خلافت کے بعد کسی کی مخالفت یا بیعتِ طَوعی کا توڑنا ہرگز ثابت نہیں اور اگر ہو تو اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فیصلہ یہی ہے کہ فَبَغٰی وَ طَغٰی۔
    بعض نادان اس موقع پر کہا کرتے ہیں کہ جب بیعت سے الگ ہونے کی وجہ سے کوئی شخص غیراحمدی نہیں ہوجاتا تو پھر بیعت نہ کرنا یا بیعت کا توڑ دینا کوئی بڑا گناہ تو نہ ہوا۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ ایک خطرناک غلطی ہے۔ ایمان کے معاملہ میں جب انسان جان بوجھ کر کہتا ہے کہ فلاں فعل کا ارتکاب اگرچہ گناہ ہے مگر میں نے اگر کرلیا تو کیا حرج ہوا تو وہ ضرور اپنے ایمان کو تباہ کرلیتا ہے۔ اگر کوئی شخص مجبوراً یا عادتاً یا جہالتاً نادانی سے کوئی گناہ کرتا ہے تو یہ اَور بات ہے۔ لیکن اگر ایک شخص سمجھتا ہے کہ فلاں امر گناہ ہے اور پھر وہ اسے معمولی بات خیال کرکے اس گناہ کا ارتکاب کرلیتا ہے تو اس شخص کو خدا دولتِ ایمان سے محروم کرکے ہی چھوڑتا ہے کیونکہ وہ باغی ہے اور خداتعالیٰ کی ہتک کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی تباہی میں بھی بہت بڑا دخل اس امر کا بھی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ چھوٹا گناہ ہے اور وہ بڑا۔ حالانکہ مومن کامل وہ ہے جو خداتعالیٰ کی ادنیٰ ناراضگی سے بھی ڈرے اور اس کے ارتکاب سے بچے۔ یہ نہ کہے کہ میرا احمدی نہ ہونا تو بہت بڑا گناہ ہے لیکن احمدی ہوکر نماز نہ پڑھنا یا روزے نہ رکھنا معمولی باتیں ہیں۔ جوشخص اس طرح اپنی رضامندی اور خوشی سے جانتے بوجھتے ہوئے کوئی گناہ کرتاہے اور اسے چھوڑتا نہیں وہ خداتعالیٰ کو چیلنج کرتاہے اور کہتا ہے کہ مجھے تیری رضا کی پرواہ نہیں۔ پس مومن تو خداتعالیٰ کی ادنیٰ ناراضگی سے بھی ڈرتا ہے کُجا یہ کہ اس قدر اہم ناراضگی سے نہ ڈرے جو گو کفر نہیں مگر کفر کے دروازہ تک انسان کو پہنچادیتی ہے۔ اور کا اسے مورد بنا دیتی ہے۔ دراصل جو شخص نیکیوں کو یہ سمجھ کر چھوڑتا چلا جاتا ہے کہ وہ معمولی ہیں اور گناہوں کاا س لئے ارتکاب کرلیتا ہے کہ اس کے نزدیک ان گناہوں کا ارتکاب کوئی بڑی بات نہیں، اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کہتے ہیں کسی شخص کو بہادری کا دعویٰ تھا وہ ایک دن کسی گودنے والے کے پاس گیا اور کہا کہ میرے بازو پر شیر گود دو۔ اس نے شیر گودنے کیلئے جب سُوئی ماری تو اُسے درد ہوا اور کہنے لگا بتاؤ کیاکرنے لگے ہو؟ اس نے کہا میں شیر کا کان گودنے لگا ہوں۔ کہنے لگاکون سا کان دایاں یابایاں؟ اس نے کہا دایاں۔وہ کہنے لگا اچھا اگر شیر کا دایاں کان نہ ہو تو آیا شیر رہتا ہے یا نہیں؟ وہ کہنے لگا رہتا کیوں نہیں۔ اس نے کہا اچھا تو دایاں کان چھوڑدو اور آگے چلو۔ جب اس نے دوسرا کان بنانے کیلئے سوئی ماری تو پھر اسے درد ہوا اور وہ کہنے لگا اب کیا کرنے لگے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ اب بایاں کان گودنے لگا ہوں۔ وہ کہنے لگا اگر بایاں کان نہ ہو تو شیر رہتا ہے یا نہیں ؟اس نے کہا رہتا کیوں نہیں۔ وہ کہنے لگا اسے بھی چھوڑ دو اور آگے چلو۔ پھر جب اس نے ٹانگ گودنا شروع کی تو وہ پھر کہنے لگا اگر ٹانگ نہ ہو تو شیر رہتا ہے یا نہیں؟ وہ کہنے لگا ٹانگ کے بغیر بھی شیر ہوسکتا ہے۔ کہنے لگا اسے بھی چھوڑو اور آگے چلو۔ اس کے بعد اس نے دوسری ٹانگ گودنی چاہی تو پھر اس نے روک دیا۔ یہ دیکھ کر اُس گودنے والے نے سُوئی ہاتھ سے رکھ دی اور کہنے لگا ایک کان کے بغیر بھی شیر رہ سکتا ہے اور دوسرے کان کے بغیر بھی مگر یہ سب چیزیں چھوڑ دی جائیں تو پھر شیر کاکچھ نہیں رہتا۔تو جب انسان دلیری سے یہ کہتا ہے کہ اگر فلاں نیکی چھوڑدوں تب بھی ایمان باقی رہتا ہے اور فلاں گناہ کرلوں تب بھی میرے ایمان میں کوئی خلل واقع نہیں ہوسکتا۔ وہ آہستہ آہستہ تمام نیکیوں کو چھوڑتا ہی چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اُس کے ایمان میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔
    پھر یہ بھی یاد رکھو کہ زمانوں کے بدلنے سے سزائیں بھی بدل جاتی ہیں۔ اور گو واقعہ ایک ہی قسم کا ہوتا ہے مگر حالات کے اختلاف کی وجہ سے سزا کی نوعیت تبدیل ہوجاتی ہے۔ مثال کے طور پر دیکھ لو تم کسی شہرمیں رہتے ہو اور تمہارے پاس کوئی بھوکا شخص آتاہے اور کہتا ہے مجھے کچھ کھانے کیلئے دو تمہارے پاس کھانا موجود ہے مگر تم اسے نہیں دیتے اور وہ چلا جاتا ہے۔ اب تم ایک گناہ کے مرتکب ہوئے ہو کیونکہ وہ بھوکا تھا مگر تم نے اسے کھانا نہیں دیا۔ لیکن اگر تم ایک ایسے جنگل میں ہو جہاں بیس بیس تیس تیس میل تک آبادی کا نام و نشان نہیں اور کہیں سے کھانا ملنے کی امید نہیں ہوسکتی ،لیکن تمہارے پاس وافر کھانا موجود ہے مثلاً ایک گھوڑا روٹیوں اور کھانے پینے کے سامان سے لدا ہوا تمہارے پاس کھڑا ہے ایسی حالت میں اگر ایک بھوکا تمہارے پاس آتا ہے اور کہتا ہے میر ابہت بُرا حال ہے مجھے ایک روٹی دے دو تا اسے کھا کر میرے بدن میں کچھ طاقت آجائے اورمیں آبادی کے قریب پہنچ جائوں تو ایسی حالت میں اگر تم اسے روٹی نہیں دیتے اور وہ بھوکا چلا جاتا ہے تو اس صورت میں بھی تم ایک گناہ کے مرتکب ہوگے کیونکہ کھانا تمہارے پاس موجود تھا مگر تم نے اسے نہیں دیا۔ لیکن ان دونوں جگہ ایک بین فرق بھی موجود ہے جو تمہارے جرم کو ایک جگہ معمولی اور دوسری جگہ سنگین بنادیتا ہے ۔ جب تم نے آبادی میں ایک بھوکے اور غریب شخص کو روٹی نہ دی تو اُس وقت امکان تھا کہ اسے کوئی اور شخص روٹی دے دیتا مگرجنگل میں جب تم نے ایک بھوکے کو روٹی نہ دی اور ایسی حالت میں نہ دی جبکہ بیس بیس تیس تیس میل تک اسے کھانا ملنے کی امید نہ ہوسکتی تھی تو تم نے اسے بھوکا ہی نہیں رکھابلکہ اگر وہ مرجائے گا تو تم اس کے قاتل بھی ٹھہرو گے۔ تو صرف عمل کودیکھا نہیں جاتا بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ اِردگِرد کے حالات اس عمل کو کیا شکل دے رہے ہیں۔ بالکل ممکن ہے ایک عمل ظاہری نگاہ میں بالکل چھوٹا ہو مگر حالات کی وجہ سے وہ بہت بڑی اہمیت رکھنے لگے۔ مثلاً دنیا میں ہزاروں لوگ ایسے ہیں جو حافظ قرآن ہیں اگر کوئی شخص کسی حافظ قرآن کو قتل کرتا ہے تو ہم اسے قاتل کہیں گے۔ لیکن فرض کرو اگر کسی وقت دنیا میں صرف ایک ہی حافظِ قرآن ہو تو اگر کوئی شخص اُس کو مارے گا تو نہیں کہا جاسکے گا کہ دونوں کا فعل ایک جیسا ہے کیونکہ گو دونوں جگہ حافظِ قرآن ہی قتل ہوئے ہوں گے مگر ان دونوں قتلوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ پہلا قاتل صرف ایک عام آدمی کا قاتل ہے مگر دوسرا قاتل صرف ایک آدمی کا قاتل نہیں بلکہ قرآن کا بھی قاتل ہے۔ کیونکہ اس کے قتل کے بعد دنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں رہے گا جس کے سینہ میں قرآن محفوظ ہو۔ تو صرف کسی عمل کی ظاہری شکل نہیں دیکھی جاتی بلکہ اس کے باطنی حالات بھی دیکھے جاتے ہیں۔
    اب دیکھ لو رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں بہت بڑا فرق ہے۔ اُس وقت حکومت ساتھ تھی، اسلام مضبوط ہوچکا تھا ، مُلکوں کے ملک اسلام میں داخل ہوچکے تھے اور اسلامی شریعت پر رات اور دن عمل کروایا جارہا تھا۔ پس اُس وقت تفرقہ صرف سیاسی کمزوری پیدا کرتا تھا مگر یہ زمانہ اَور ہے، ترقی آہستہ ہے، حکومت غیر ہے، اسلامی تمدن قائم نہیں ہوا۔ پس آج کا تفرقہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کو بالکل رائیگاں کرسکتا ہے۔ اسی لئے آج کا فساد اور اُس وقت کا فساد بالکل مختلف ہے۔ اُس وقت رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ہی اسلامی حکومت قائم ہوچکی تھی اور اس وجہ سے وہ تمام مسائل جن کا تعلق حکومت کے ساتھ ہے قائم کردیئے گئے تھے۔ مثلاً زکوٰۃ اور عشر کی تقسیم، لین دین کے مسائل، اقتصادیات کے متعلق احکام، بادشاہوں کا رعایا سے تعلق اور رعایا کا بادشاہ سے تعلق۔ یہ تمام امور ایسے تھے کہ ان کے متعلق شریعتِ اسلامی جن تفاصیل کی حامل ہے، وہ مسلمانوں میں قائم کردی گئی تھی۔
    پس حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جو تفرقہ ہوا گو اس سے مسلمانوں کو سیاسی لحاظ سے کمزوری ہوئی مگر بہرحال اس تفرقہ کے نتیجہ میں جو حکومتیں قائم ہوئیں وہ اسلامی حکومتیں ہی تھیں۔ کیونکہ اسلام عملی صورت میں دنیا میں قائم ہوچکا تھا۔ مگر اِس زمانہ میں اسلام کی ترقی آہستہ آہستہ مقدر ہے اورابھی احمدی حکومتیں دنیا میں قائم نہیں ہوئیں۔ زکوٰۃ اور خراج کے مسائل ، لین دین کے معاملات، حکومت اور رعایا یا امیر اور غریب کے متعلق احکام، آقا اور ملازمین کے تعلقات، رعایا کے فرائض، اسلامی حکومت کے حقوق اور فرائض، حکومتوں کے آپس کے تعلقات او رورثہ اور سُود وغیرہ سینکڑوں مسائل ایسے ہیں جن کے متعلق اسلامی تعلیم دنیا میں قائم نہیں ہوئی۔ پس یہ ساری عملی اسلامی زندگی ابھی پوشیدہ ہے اور اُس وقت کا انتظار کررہی ہے جب کہ اسلامی بادشاہتیں دنیا میں پھر قائم ہوں اور ان امور کے متعلق اسلامی تعلیم کا احیاء ہو۔
    پس چونکہ ابھی تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم دنیا میں صحیح طور پرقائم نہیں ہوئی اور نہ تمدن کے متعلق اسلام کی وہ تعلیم دنیا میں رائج ہوئی ہے جس کو کامل طور پر رائج کرنا خداتعالیٰ کا منشاء ہے اس لئے آج اگر کوئی شخص تفرقہ کرتا اور جماعت کو پراگندہ کرنے کی کوشش کرتاہے تو وہ صرف معمولی مجرم نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کاقاتل ہے ۔ کیونکہ ابھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم دنیا میں قائم نہیں ہوئی اور اس کے قائم ہونے میں ایک لمبا عرصہ درکار ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں صاف طور پر اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت کی نسبت فرماتا ہے ۱۱؎ یعنی وہ جماعت اس سبزے کی طرح ہوگی جو زمین میں سے نکلتا ہے اور نہایت ہی کمزور اور ناطاقت ہوتا ہے۔ جدھر سے بھی ہوا چلتی ہے وہ اس کے دبائو سے جھک جاتا ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ آندھیاں اور ہوائیں اُسے جڑ سے نہیںاُکھاڑ سکیں گی بلکہ وہ پودا بڑھے گا اور بڑھتا چلا جائے گا یہاں تک کہ مضبوط ہوجائے گا اور دنیا کے حوادث اور مخالفت کی آندھیاں اسے اپنی جگہ سے نہیں ہِلاسکیں گی۔
    حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی خلافت قائم ہوئی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد بھی خلافت قائم ہوئی مگر اِن دونوں خلافتوں میں ایک فرق بھی ہے اور وہ یہ کہ اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی اسلام کے تمام احکام عملی طور پر قائم ہوگئے تھے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد ان احکام کے عملی صورت میں قائم ہونے کیلئے ایک لمبا عرصہ مقدر ہے۔ پس گو پہلے خلفاء کے زمانہ میں بھی اگر کوئی تفرقہ کرتا تو وہ شدید گناہ کا مرتکب ہوتا مگر عملی صورت میں یقینا اسلامی احکام کو نقصان نہ پہنچ سکتا کیونکہ اسلامی تعلیم قائم ہوچکی تھی اسے جو بھی نقصان اور ضُعف پہنچتا وہ سیاسی ہوتا ۔ لیکن آج اگر کوئی شخص تفرقہ پیدا کرتا اور جماعت کے اتحاد کو تباہ کرنے کے درپے ہوتا ہے تو وہ صرف تفرقہ پیدا نہیں کرتا بلکہ اسلام کو ضُعف پہنچاتا اور اس کی ترقی میں زبردست روک بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خداتعالیٰ کی سزائوں میں بھی دونوں جگہ فرق ہے اور خداتعالیٰ کا یہ فعل بتارہا ہے کہ اُس زمانہ کے خلفاء اور اِس زمانہ کے خلفاء کے انکار کی سزائوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ اُس وقت جو خلافت کے مخالفین تھے وہ مذہب سے دور نہیں ہوئے مگر آج جو شخص خلافت کی مخالفت کرتا ہے وہ آہستہ آہستہ مذہب کو بھی یا تو بالکل چھوڑ دیتاہے یا اس کے مذہب میں رخنہ پڑ جاتا ہے۔ چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سعد نے بیعت نہ کی۔ آپ نے حکم دیا کہ ان سے قطع تعلق کرلیا جائے۔ چنانچہ کوئی شخص اُن سے نہ بولتا اور نہ لین دین کے تعلقات رکھتا لیکن وہ مسجد میں آتے ، نماز پڑھتے اور چلے جاتے۔ پھر سعد جب فوت ہوئے تو تمام مسلمانوں نے اُن کا جنازہ پڑھا اور اس طرح اُنہوں نے اپنے عمل سے بتادیا کہ وہ انہیں مومن ہی سمجھتے تھے( سعد نے بھی کبھی کوئی اعتراض حضرت ابوبکرؓ پر یا نظامِ سلسلہ پر نہیں کیا نہ کبھی عملاً اِس کی مخالفت کی)۔
    حضرت طلحہؓ ، حضرت زبیرؓ اور حضرت معاویہؓ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت کی مگر ان کے ایمانوں میںکوئی فرق نہیں آیا۔ یہ ممکن ہے دنیا میں انہیں جسمانی طور پربعض سزائیں ملی ہوں مگر ان کے ایمان ضائع نہیں ہوئے۔ پھر بعض نے ان میں سے توبہ کرلی اور بعض کے متعلق ہمیں پورے حالات معلوم نہیں۔ بہرحال ان میں سے کسی کے ایمان ضائع ہونے کی خبر ہمیں نہیں ملتی مگر اِس زمانہ میں جس نے بھی خلفاء کی مخالفت کی آہستہ آہستہ اس کے مذہب میں بھی رخنہ پڑ گیا اور وہ اصل اسلام اور احمدیت سے بہت دور ہوگیا۔ چنانچہ سب سے پہلے مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء نے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی مخالفت کی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے بعد سب سے پہلا جو جلسہ سالانہ ہوا اُس میں اپنی تقریروں کے دوران میں انہوں نے آپ پر حملے کرنے شروع کردیئے اور جماعت کے لوگوں کو اس امر کی طرف مائل کرنا شروع کردیا کہ خداتعالیٰ کے مامور کی مقرر کردہ جانشین اور خلیفہ صدرانجمن احمدیہ ہے حضرت خلیفہ اوّل نہیں۔ مگر اس مخالفت کا کیا نتیجہ ہوا؟ سعد کی طرح ان کا حال نہیں ہوا، حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ اور حضرت معاویہؓ کی طرح محض حدود کے قیام تک ان کی مخالفت محدود نہیں رہی بلکہ خلافت کا انکار کرنے کے بعد انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کا بھی انکار کردیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درجہ اور مقام کا بھی انکار کردیا۔بعض اُن امور کا بھی انکار کر دیا جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے عقائد میں شامل فرمایا ہے اور اس طرح ان کے مذہب میں بہت بڑا رخنہ واقع ہوگیا۔
    پھر مستریوں نے جب میری مخالفت کی تو انہوں نے سب سے پہلے جو اعلان کیا وہ مصری صاحب کی طرح ’’ایک دردمندانہ اپیل‘‘ ہی تھی اور اس میں لکھاکہ ہم احمدیت سے الگ نہیں ہوئے۔ ہمارا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر کامل ایمان ہے ہمارا اختلاف صرف موجودہ خلیفہ سے ہے ورنہ یہ کب ہوسکتا ہے کہ ہم احمدیت چھوڑ دیں۔ مگر پھر وہی عبدالکریم وفاتِ مسیح کے مسئلہ پر احمدیوں سے مناظرے کرتا رہا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وہ بالکل الگ ہوگئے۔ آخر یہ فرق جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے خلفاء کے منکروں اور موجودہ خلفاء کے منکروں کی سزا میں ہے ، کیوں ہے؟ خدا نے اُس وقت کے خلفاء کے منکرین کے ایمان کیوں ضائع نہ کئے اور آج جو خلفاء کا انکارکرتا ہے اس کا ایمان کیوں ضائع ہوجاتا ہے؟ اسی لئے کہ آج جو شخص خلفاء کا انکار کرتا ہے اور جماعت میں تفرقہ و اِنشقاق پیدا کرتا ہے وہ نہ صرف خلفاء کا انکار کرتا ہے بلکہ اسلام کی اُس عملی زندگی پر بھی تبر چلاتا ہے جس کو قائم کرنا خداتعالیٰ کا منشاء ہے۔ لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اسلام کی عملی زندگی قائم ہوچکی تھی اور خلفاء کا انکار سیاسی نقصان پہنچاتا تھا۔ پس چونکہ آج جو شخص خلفاء کی مخالفت کرتا ہے وہ اسلام کی عملی زندگی اور دنیا کے ایمان پر تبر چلاتا ہے اس لئے خداتعالیٰ اس جُرم کی سزا میں اس کا ایمان بھی ضائع کردیتا ہے۔ لیکن پہلے زمانہ میں مخالفت، اسلام کو صرف سیاسی نقصان پہنچاتی تھی اس لئے مخالفت کرنے والوں کو دنیا میں بعض جسمانی سزائیں مل جاتیں روحانی سزا اِس حد تک انہیں نہیں ملتی تھی۔
    مصری صاحب بے شک کہہ رہے ہیں کہ گو مجھے خلیفۂ وقت سے اختلاف ہے مگر میں احمدیت پر قائم رہوں گا۔ پہلوں سے یہ غلطی ہوئی ہے کہ انہوں نے اس اختلاف کو وسیع کرکے احمدیت کے خصائص بھی ترک کردیئے۔ اب میں بتائوں گا کہ مخالفت اور اختلاف کے باوجود کس طرح احمدیت پر انسان قائم رہتا ہے۔ مگر جس قسم کے گندے اعتراض وہ کررہے ہیں اور جس قسم کے ناپاک حملوں کے کرنے کی ان کی طرف سے اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے اطلاعیں آرہی ہیں، اگر وہ ان پر مُصِر رہے اور اگر انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے توبہ نہ کی تو میں کہتا ہوں احمدیت کیا اگر ان کے خاندانوں میں حیا بھی باقی رہی تو وہ مجھے کہیں۔ بلکہ میں اس سے بھی واضح الفاظ میں یہ کہتا ہوں کہ جس قسم کے خلافِ اخلاق اورخلافِ حیا حملے وہ کررہے ہیں اس کے نتیجہ میں اگر ان کے خاندان فحش کا مرکز بن جائیں تو اسے بعید از عقل نہ سمجھو۔
    پس میں پھر جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ انہوں نے اپنے اشتہار میں جس قدر مثالیں پیش کی ہیں وہ بالکل غلط ہیں اور ان میں سے ایک بھی ان کے طریقِ عمل پر چسپاں نہیں ہوتی۔ علاوہ ازیں خداتعالیٰ کے فعل نے پہلے زمانہ اور اِس زمانہ میں نمایاں امتیاز قائم کرکے دکھلادیا ہے۔ پس اب جو شخص خلافت کی مخالفت کرتا ہے وہ پہلوں سے بہت زیادہ سزا کا مستحق ہے او ریقینا اگر کوئی شخص خلافت کے مقابلہ پر اصرار کرے گا اور اپنے اس فعل سے تو بہ نہیں کرے گا تو اُس کا ایمان بالکل ضائع ہوجائے گا اور آج نہیں تو کل وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی حملہ کرنے لگے گا۔ اور پھر بالکل ممکن ہے وہ اس سزا کے نتیجہ میں اخلاقِ فاضلہ کو بھی اپنے ہاتھ سے چھوڑ دے اور حیا اور شرم سے اسے دور کی بھی نسبت نہ رہے۔ پس زمانہ کے حالات سزائوں کو بدل دیتے ہیں ۔ اُس زمانہ کے حالات بالکل اور تھے اور اب حالات اور ہیں۔ اب جو لوگ خلافت کا مقابلہ کریں گے اُنہیں یقینا ایسی سزائیں ملیں گی جو نہایت ہی عبرتناک ہوں گی اور یقینا اپنی اپنی مخالفت اور عِناد کے مطابق ان کے ایمان بھی ضائع ہوتے چلے جائیں گے۔
    (خطبات محمود جلد۱۸ صفحہ ۲۸۹ تا۳۱۴)
    ۱؎ النور: ۵۶
    ۲؎ تاریخ ابن اثیر جلد ۲صفحہ ۳۳۱مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵ء
    ۳؎ تاریخ طبری جلد۴ صفحہ۲۶۔۲۷ مطبوعہ بیروت ۱۹۸۷ء
    ۴؎ تاریخ طبری جلد۵ صفحہ۴۵۰ مطبوعہ بیروت ۱۹۸۷ء
    ۵تا۷؎تاریخ طبری جلد۵ صفحہ ۴۵۷ مطبوعہ بیروت ۱۹۸۷ء
    ۸؎ تاریخ طبری جلد۵ صفحہ ۵۴۳ مطبوعہ بیروت ۱۹۸۷ء
    ۹؎ تاریخ ابن اثیر جلد۳ صفحہ ۲۴۰ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵ء
    ۱۰؎ سرالخلافۃ صفحہ۳۸ روحانی خزائن جلد ۸ صفحہ ۳۵۲ شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ
    ۱۱؎؎ الفتح: ۳۰

    شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کی طرف سے انکسار
    کا جھوٹا دعویٰ
    خطبہ جمعہ ۳۰ جولائی ۱۹۳۷ء میں شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کے متعلق اظہارِ خیال کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔
    ’’ان لوگوں کی طرف سے ایک دستی اشتہار آج ہی مجھے دفتر نے بھیجا ہے جس میں مصری صاحب کی امارت کا اعلان کردیا گیا ہے۔ ہمیں اس سے خوشی ہے کیونکہ جو شخص جماعت میں تفرقہ پیدا کرے اسے خداتعالیٰ خود سزا دیتا ہے۔ اور یہ اعلان کرکے انہوں نے اپنے آپ کو اس مقام پر کھڑا کردیا ہے کہ الٰہی سزا کے مستحق ہوگئے ہیں۔ اس اعلانِ امارت کے ساتھ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی سزا کو کھینچا ہے دورنہیں کیا۔
    اسی اشتہار میں ان کی پارٹی کی طرف سے اعلان ہوا ہے کہ دیکھو! ہمیں مرتد ، منافق، فاسق وغیرہ الفاظ سے پکارا جاتا ہے، ایسا نہ کیا جائے۔ سو اِس کا جواب یہ ہے کہ ہم نے تو انہیں ان ناموں سے نہیں پکارا بلکہ ہمارے آدمیوں نے تو صرف اُن کی اپنی باتیں دُہرائی ہیں۔ پکارنے والا تو ابتدا کرنے والا ہوتا ہے۔ انہوں نے مجھے مرتد قرار دیا، معزول کرنے کے لائق کہا حالانکہ میں تو خلیفہ ہوں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ جب تک تم اپنے دُنیوی بادشاہ میں کفر بواح نہ دیکھو اُس کی اطاعت کرو۔۱؎ اللہ تعالیٰ خود اسے سزا دے گا اور اس لحاظ سے مصری صاحب نے گویا یہ کہا ہے کہ مجھ میں کفربواح یعنی کھلا کھلاپایا جاتا ہے۔ باقی رہا فتنہ پرداز کہنا، سو جیسا کہ میں نے بتایا ہے اپنے پہلے خط میں ہی انہوں نے مجھے فتنہ پرداز کہا ہے اور پھر فَتَبَیَّنُوْاوالی آیت مجھ پر چسپاں کرکے مجھے فاسق قرار دیا ہے۔ پھر مجھے منافق بھی کہا ہے یہ کہہ کر کہ میں جماعت کو دہریت کی طرف لے جارہا ہوں حالانکہ بظاہر اسلام سے تعلق ظاہر کرتاہوں۔ پس یہ ثابت ہے کہ پہل اُنہوں نے کی اور اُنہوں نے جو کچھ ہمارے متعلق کہا جماعت نے اُسے دُہرادیا ہے۔ وہ اپنے الفاظ واپس لے لیں تومیں جماعت کو بھی آئندہ ایسے الفاظ استعمال کرنے سے روک دوں گا مگر پہلے وہ توبہ کریں پھر ان کا حق ہوگا کہ ہم سے ایسا مطالبہ کریں۔
    حقیقت یہ ہے کہ وہ خود کہتے ہیں کہ میں نے بیعت توڑی ہے اور ہر جماعت کی اصطلاح میں ایسے شخص کو مرتد کہتے ہیں۔ بیعت میں یہ اقرار ہوتا ہے کہ مبائع کامل فرمانبرداری اور کُلّی طور پر تعاون کرے گا اور جو شخص اس اقرار کو توڑ دے اُسے اگر مرتد نہیں تو اَور کیا کہا جائے گا۔ مرتد کے معنی ہیں واپس جانے والا۔ پس جو بیعت کو توڑ دے اُسے مرتد ہی کہا جاسکتا ہے۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے غیراحمدی کہتے ہیں کہ ہمیں کافر کیوں کہا جاتا ہے۔ حالانکہ کافر کے معنی ہیں نہ ماننے والا۔ اور جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہیں مانتا اسے ہم مومن کس طرح کہہ دیں۔ اگر ہم ان سے پوچھیں کہ کیا آپ لوگ مرزا صاحب کے دعویٰ مأموریت کو مانتے ہیں؟ تو وہ یہی کہیں گے کہ نہیں۔ پس چونکہ نہ ماننے والے کو عربی میں کافر کہتے ہیں کسی مدعی ماموریت کو جب کوئی نہ مانے تو اُسے کافر کے سِوا اور کیا کہا جاسکتا ہے۔ اسی طرح اگر بیعت کرنے کے بعد کوئی واپس لُوٹے تو اُسے مرتد کے سِوا اور کیا کہا جائے گا۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد عرب میں اکثر لوگ نمازیں بھی پڑھتے تھے، روزے بھی رکھتے تھے صرف زکوٰۃ کے متعلق انہیں شبہ تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ یہ صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک ہی کیلئے حکم تھا مگر پھر بھی اُن کو مرتد ہی کہاجاتاتھا۔ پھر یہ لوگ اندر ہی اندر سازش کررہے تھے ۔ میاں عبدالعزیز کا فوراً الگ ہوجانا بتاتا ہے کہ وہ پہلے ہی ان کے ہم خیال ہوچکے تھے۔ اور فخرالدین صاحب کے اخراج پر مصری صاحب کا نوٹس دینا بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ پہلے ہی جتھے بنارہے تھے اور اندر ہی اندر فتنہ پیدا کررہے تھے۔ پھر ایسے لوگوں کو اگر فتنہ پرداز نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے۔
    پھر آیت استخلاف میں خلافت کی بیعت کے بعد انکار کرنے والوں کو فاسق کہا گیا ہے اور سب سے بڑھ کر لطیفہ یہ ہے کہ کہتے ہیں ہمیں منافق نہ کہا جائے۔ لیکن اسی اشتہار میں جس میں امارت کا اعلان بھی کیا گیا ہے یہ بھی لکھا ہے کہ جو شخص خلیفہ کی بیعت میں رہتے ہوئے بھی ہمارے ساتھ ملنا چاہے، اُس کا نام پوشیدہ رکھا جائے گا۔ گویا وہ صرف منافق ہی نہیں بلکہ منافق گر ہیں۔ وہ لوگوں کو یہ تعلیم دیتے ہیں کہ تم بظاہر خلیفہ کی بیعت میں رہو اور خداتعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر عہد کرلو کہ ہم ہر ایک نیک بات میں آپ کی فرمانبرداری کریں گے۔ سَمْعًا وَّ طَاعَۃً کے نعرے بھی لگائو، مگر درپردہ ہم سے ملے رہو اور پھر ساتھ ہی کہتے ہیں کہ ہمیں منافق نہ کہو۔ یہ تو صحیح ہے کہ جس جماعت کا کوئی نظام نہ ہو اُس کے افراد خفیہ بیعت کرسکتے ہیں جیسے کہ سید محمد علی شاہ صاحب مرحوم کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خفیہ بیعت کی اجازت دی تھی۔ مگر شاہ صاحب کسی اور پیر کے مرید تو نہ تھے وہ ایک آزاد آدمی تھے ان کی خفیہ بیعت کسی عہد کو باطل نہ کرتی تھی۔ ایسے شخص کو اگر کوئی مجبوری ہو تو اختیار ہے کہ چاہے اپنے عقیدہ کو ظاہر کرے اور چاہے چُھپائے۔ مگر ظاہر میں کسی اور کے ساتھ بیعت کا رشتہ قائم کرکے درپردہ کسی اور سے تعلق رکھنا ہرگز ہرگز جائز نہیں۔ اگر ایک شخص کا مکان کسی کے پاس رہن نہیں تو اسے اختیار ہے کہ چاہے اپنا مکان خفیہ طور پر اسے رہن کردے اور چاہے ظاہراً کردے لیکن جس کا مکان پہلے سے رہن ہے وہ اگر خفیہ طور پر کسی دوسرے کے پاس رہن کردیتا ہے تو ہر شخص کہے گا کہ یہ پکا بدمعاش ہے۔ پس ایک طرف بیعت کرنے والا دوسری طرف ملے تو یقیناوہ منافق ہے۔ ہاں جو کسی سلسلہ میں شامل نہیں وہ اگر خفیہ طور پر کسی سے ملتا ہے تو یہ اور بات ہے۔ صحابہ اس امر کا اِس قدر لحاظ رکھتے تھے کہ ایک دفعہ قیصرروم کا ایلچی حضرت عمرؓ کے پاس آیا اور چاہا کہ اسلام قبول کرے۔ انہوں نے اس سے صاف انکار کیا اور فرمایا اِس وقت تم قیصر کے ایلچی ہو ۔ اِس وقت تمہارا اسلام میں داخل ہونا بددیانتی ہوگا۔ واپس جاکر استعفیٰ دے کر آئو تو پھر تم کو اسلام میں داخل کروں گا۔
    پھر مصری صاحب کہتے ہیں کہ جماعت ایک آزاد کمیشن مقرر کرے مگر یہ معلوم نہیں اس سے ان کا مطلب کیاہے۔ میں اِس وقت تک ان کے اس مطالبہ کو لغو سمجھتا ہوں مگر ممکن ہے ان کے ذہن میں کوئی ایسی صورت ہو جو ہمارے ذہن میں نہ ہو او روہ ہمارے نزدیک بھی معقول ہو اس لئے میں ان سے ان کے ان الفاظ کے معنے پوچھنا چاہتا ہوں اور اس ضمن میں پہلی بات میں ان سے یہ پوچھتا ہوں کہ:۔
    پہلے خلفاء کے خلاف بھی بعض لوگوں نے شکایات کی ہیں اور بعض دفعہ ایسے مقدمات عدالتوں میں بھی سنے گئے ہیں،مصری صاحب بتائیں کہ ان کے فیصلوں کیلئے کس قسم کے کمیشن مقرر ہوئے تھے؟ یا ان خلفاء کے اپنے مقرر کردہ قاضی ہی ان مقدمات کا فیصلہ کرتے تھے؟
    دوسرا سوال یہ ہے کہ آزاد کمیشن مانگنا مصری صاحب کا ہی حق ہے یا اور کسی کا بھی؟ کیا جب کوئی آکر کہے کہ خلیفہ کے متعلق آزاد کمیشن بٹھایا جائے یہ مطالبہ منظورہوجانا چاہئے یا صرف اُس وقت جب مصری صاحب اِس کامطالبہ کریں؟ جس طرح پنجابی میں مثل مشہور ہے کہ ’’جتھے میاں نور جمال اوتھے مُردہ کھوتا وی حلال‘‘۔ غرض وہ بتائیں کہ ہر معترض آزاد کمشن طلب کرسکتا ہے یا صرف وہی ایسا کرسکتے ہیں۔
    تیسرا سوال یہ ہے کہ وہ بتائیں کہ آزاد کمیشن سے ان کی مراد کیا ہے؟ کیا مادر پدرآزاد؟ یعنی دہریوں کا کمیشن وہ مانگتے ہیں یا ان کے نزدیک آزاد کمیشن وہ ہے جسے وہ مقرر کریں خلیفہ نہ مقرر کرے؟ اگر یہ دونوں مراد نہیں تو وہ بتائیں کہ ان کا مطلب کیا ہے۔ آیا وہ چاہتے ہیں کہ ساری جماعت کو دعوت دی جائے اور پھر ووٹ لئے جائیں کہ کون کون جج مقرر ہو؟ اور ہمیشہ کیلئے یہی طریق ہو کہ جب کوئی الزام لگائے جماعت کو یہاں بُلالیاجائے؟ اور ضمناً اس بات کا بھی وہ جواب دیں کہ ایسا کرنے پر پچاس ساٹھ ہزار بلکہ لاکھ روپیہ کا خرچ ہوگا وہ مصری صاحب دیں گے یا کون دے گا؟ پھر یہ ممکن ہے کہ کل کوئی اور اُٹھے اور کہے کہ مصری صاحب نے جو الزام لگائے تھے وہ غلط تھے اب میں یہ الزام لگاتا ہوں ان کی تحقیقات کی جائے اور اِدھر لوگ مصری صاحب کے کمیشن سے فارغ ہوکر گھر پہنچیں اور اُدھر پھر تاریں چلی جائیں کہ خلیفہ پر ایک اور مقدمہ ہوگیا ہے فوراً چلے آئو۔ اور پھر اس سے فارغ ہوکر جائیں تو کوئی اور کہہ دے کہ میں خلیفہ پر یہ الزام لگا تا ہوں اور لوگ ابھی بعض رستوں میں ہی ہوں اور بعض ابھی پہنچے ہی ہوں کہ پھر تاریں چلی جائیںکہ فوراً آجائو پھر آزاد کمیشن بیٹھنے لگا ہے۔ پھر یہ بھی سوال ہے کہ آیا ہر الزام پر آزاد کمیشن چاہئے یا آزاد کمیشن والے الزامات کی کوئی خاص نوعیت والے الزام ہی آزاد کمیشن کے حقدار ہوں گے تو اس نوعیت کا فیصلہ قرآن و حدیث کی کس سند کے ذریعہ کیاجائے گا؟ وہ یہ بھی بتائیں کہ آزاد کمیشن کا مطالبہ کرنے کا حق ان کو اگر حاصل ہے تو صرف اس دفعہ ہی یا جب وہ چاہیں جماعت سے اس کا مطالبہ کرلیں۔ اوراگر دوسروں کو بھی اس کا حق حاصل ہے تو انہیں بھی ایک ایک دفعہ عمر بھر میں یا جب اورجس وقت کوئی شخص آزاد کمیشن کا مطالبہ کرے فوراً آزاد کمیشن بیٹھ جانی چاہئے۔ اور یہ آزاد کمیشن جماعت کے اندر رہنے والے لوگ مانگ سکتے ہیں یا جماعت سے باہر کے لوگ بھی اس کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ مثلاً پیغامی اور غیراحمدی اس بارہ میں مطالبہ کریں تو آیا ان کا یہ مطالبہ جائز سمجھا جائے گا یا ناجائز؟ اگر جماعت سے باہر کے لوگوں کا یہ مطالبہ درست تسلیم نہ کیا جائے تو پھر مصری صاحب جو جماعت سے نکل چکے ہیں ان کو ایسا مطالبہ کرنے کا حق کہاں سے حاصل ہوا ہے اوراگر یہ قانون ہے کہ جو جماعت سے قریب زمانہ میں نکلا ہو ، وہ آزاد کمیشن کامطالبہ کرسکتا ہے دوسرا نہیں۔ تو پھر وہ یہ بھی بتائیں کہ کتنی دیر تک کا مرتد اِس قسم کا مطالبہ کرسکتا ہے۔ پھر وہ یہ بھی بتائیں کہ آزاد کمیشن سے مراد غیراحمدیوں کا کمیشن ہے یا احمدیوں کایا مشترک؟ اگر مشترک مراد ہے تو کس کس نسبت سے احمدی اور غیراحمدی ممبر مقرر کئے جائیں گے اورا نہیں کون مقرر کرے گا۔ اگر خلیفہ مقرر کرے گا تو پھر وہ بقول مصری صاحب آزاد نہ رہے گا اور اگر احمدی مقرر کریں گے تو پھر بھی آزاد کمیشن نہ رہے گاکیونکہ وہ تو پہلے ہی خلیفہ کو حق پر سمجھ رہے ہیں ورنہ مصری صاحب کے ساتھ ہی بیعت توڑ کر الگ ہوجاتے اور اگر وہ کہیں کہ نہیں احمدی بہ حیثیت جج مقرر کرنے والے کے دیانتدار ہیں تو پھر غیراحمدی کمیشن کی کیا ضرورت رہی۔ پھر احمدی جج ہی کمیشن بن سکتے ہیں۔ اسی طرح وہ یہ سوال بھی حل کریں کہ ان ممبرانِ کمیشن کواگر جماعت احمدیہ نے مقرر کرنا ہے تو کیا ساری جماعت کو اکٹھا ہوکر منتخب کرنا چاہئے یا الگ الگ جماعتیں ایسا انتخاب کریں۔ اور اگر غیراحمدیوں نے بھی کوئی حصہ منتخب کرنا ہے تو ان کے انتخاب کا کیا ذریعہ ہوگا۔ اور اگر آزاد کمیشن سے مراد یہ ہے کہ آدھے جج معترض تجویز کیا کریں اور آدھے خلیفۂ وقت کیا کرے تو پھر سوال یہ ہے کہ اگر غیراحمدی ججوں پر خلیفہ کو اعتبار نہ ہوتو کیا وہ حصہ بھی معترض ہی مقرر کردیا کرے گا یا خلیفہ کو مجبور کیا جائے گا کہ ضرور کچھ غیراحمدیوں پر یا غیرمُسلموں پر اعتبار کرکے ان میں سے جج مقرر کرو۔ اور جب احمدیت خداتعالیٰ کے فضل سے ترقی کرجائے گی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق دوسری اقوام اس کے ماتحت آجائیں گی تو اُس وقت غیراحمدی یا غیرمسلم بھی جانبدار نہ رہیں گے۔ اُس وقت آزادکمیشن کیلئے ممبر کہاں سے لائے جائیں گے ۔ آیا یہ کوشش کی جائے گی کہ کچھ حصہ دنیا کا بالکل آزاد رہے اور اسلامی حکومت میں داخل نہ ہو تا مصری صاحب کے ہم خیالوں کیلئے آزاد کمیشن کے ممبر ملتے رہیں اور پھر یہ بھی سوال ہے کہ اگر آزاد کمیشن یہ کہے کہ مصری صاحب جھوٹے ہیں تو ان کو کیا سزا دی جائے گی خلیفہ کیلئے تو یہ سزا ہوئی کہ وہ غیراحمدیوں کے کہنے پر خلافت سے معزول ہوجائے گا مگر اس کے مقابل پر مصری صاحب کیلئے کیا سزا ہوگی۔ آیا ان کیلئے صرف یہ کافی ہوگا کہ ہنس کر کہیں کہ چلو توبہ کرتے ہیں یا کوئی اَورسزا بھی ہوگی۔ پھر یہ بھی سوال ہے کہ اگر ان کے خلاف کمیشن فیصلہ کرے تو کیا وہ اس کے فیصلہ کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے آپ کو جھوٹا کہیں گے؟ یا یہ کہیں گے کہ خلیفہ ہے تو بدکار ہی مگر کمیشن کی خاطر میں اسے مان لیتا ہوں۔ اگر اپنے آپ کو جھوٹا کہیں گے تو اُس وقت وہ براہین کہاں جائیں گے جن کی وجہ سے خلافت سے روگردانی ان کیلئے جائز ہوگئی ہے۔ اگر پھر بھی وہ اپنے آپ کو حق پر ہی سمجھتے رہیں گے اور باوجود اس کے خلیفہ کی بیعت کرلیں گے، تو آج آپ کو بیعت توڑنے کی کیا مجبوری پیش آئی تھی۔ یا آپ کا ارادہ یہ ہے کہ اگر فیصلہ آپ کے حق میں ہوا تو قابلِ قبول ہوگا ورنہ نہیں۔ یہ بہت سے سوال ہیں جن کا جواب دینا آزاد کمیشن کے مطالبہ سے پہلے ضروری ہے۔ اور امید ہے کہ مصری صاحب جلد اِن کا جواب دے کر اپنے نقطۂ نگاہ کو واضح کردیں گے۔ بہرحال ہمیں یہ علم ہونا چاہئے کہ وہ آزاد کمیشن کسے کہتے ہیں۔ اس کے فیصلہ کی پابندی ان کیلئے ضروری ہوگی یا نہیں۔ اسے کون مقرر کرے ، کس طرح کرے اور کس کس کو ایسا کمیشن مقرر کرانے کا حق ہے۔
    ایک سوال اَور بھی ہے کہ اگر خلافت کے عزل کا سوال آزاد کمیشن سے طے کرایا جاسکتا ہے تو خلیفہ مقرر بھی کیوں غیراحمدیوں کی ایک کمیٹی سے نہ کروایا جائے۔ آخر میں میں ایک اَور شبہ کا ازالہ کردینا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اِس فتنہ کو اہمیت کیوں دی جاتی ہے؟ مصری صاحب یا ان کے ساتھیوں کی حیثیت ہی کیا ہے۔ ایسے لوگوں کی واقفیت کیلئے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اسے اہمیت مصری صاحب کی حیثیت کی وجہ سے نہیں دی جاتی بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ احراریوں، مستریوںاور پیغامیوں کے نمائندہ ہیں۔ بلکہ شبہ ہے کہ بعض حکام سے بھی ان کے تعلقات ہیں۔ یا کم سے کم ان کے بعض ساتھی ایسا کہتے ہیں او رچونکہ بعض حکام نیز احرار اور پیغامیوں کی امداد ان کی پشت پر ہے اور وہ مل کر حملہ کر رہے ہیں، اس لئے ہمارا فرض ہے کہ جماعتی طور پر اِس فتنہ کا مقابلہ کریں اور اسے کُچل دیں۔ احرار کے فتنہ نے ہمارے ایمانوں کو بیشک خراب نہیں کیا مگر دُنیوی طور پر تو انہوں نے ضرور دِق کیا ہے۔ اسی طرح ان لوگوں کے متعلق خیال ہے کہ یہ سلسلہ کیلئے مشکلات نہ پیدا کریں۔ پھر اس کے علاوہ ہمارا فرض صرف یہی نہیں کہ احمدیوں کی حفاظت کریں بلکہ جن لوگوں کو ہم نے احمدی بنایا ہے ان کی حفاظت کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔ یہ لوگ باہر ہمارے خلاف بہت پروپیگنڈا کررہے ہیں اور غیراحمدیوں میں اپنا زہر پھیلا رہے ہیں۔ کئی جگہ سے ہمارے دوستوں نے لکھا ہے کہ ہم نے ان کے اشتہار تقسیم کرنیو الوں سے مانگے تو انہوں نے انکار کردیا اور کہا کہ ہمیں ہدایت ہے کہ آپ لوگوں کو نہ دیئے جائیں۔ ‘‘
    ( خطبات محمود جلد۱۸ صفحہ۳۳۰ تا۳۳۵)
    ۱؎ بخاری کتاب الفتن باب قول النبی ﷺ سَتَرَوْنَ بَعْدِی اُمُوراَ تُنْکِرُوْنَھَا

    خلیفۂ وقت کی اطاعت میں یقینی فتح اور کامیابی ہے
    (فرمودہ ۲۷ ؍ اگست ۱۹۳۷ء )
    تشہد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:-
    سب سے پہلے تو میں ایک رپورٹ کے متعلق بعض باتیں کہنا چاہتا ہوںجو ایک دوست نے ایک باہر کے گائوں سے لکھ کر بھیجی ہے۔وہ دوست بیان کرتے ہیںکہ میں اپنی بیماری کے متعلق مشورہ کرنے کے لئے اور بعض انتظامات کی خاطر قادیان آیا تھا۔ ایک مجلس میں مجھے باہر کے ایک مہمان کے ساتھ بیٹھنے کا اتفاق ہوا جس کا نام تو میں نہیں جانتا مگر غالباً وہ ایم ۔ اے تھے۔ وہ دوست لکھتے ہیںکہ موجودہ فتنہ کے متعلق ہماری باہمی گفتگو شروع ہو گئی۔ اور میں نے بر سبیلِ تذکرہ یہ بات بیان کی کہ ہمارے گائوں میں بعض نوجوان اُن اِتہامات اور الزامات کی وجہ سے جو آجکل بعض جماعت سے خارجین کی طرف سے لگائے جاتے ہیں، بہت اشتعال میں تھے لیکن میںنے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے خطبات اور نصائح کی طرف ان کو توجہ دلائی اور بتلایا کہ ہمارے جوش اسی راہ پر چلنے چاہئیں جس پرچلنے کی خلیفۂ وقت کی طرف سے ہدایت ہو اور ہماری قربانیاں اسی رنگ میںہونی چاہئیں جس رنگ میں امام کی طرف سے قربانی کے لئے ہمیں بُلایا جائے۔ اِس پر وہ دوست جو بیرونی مہمان تھے اور جن کا رپورٹ کرنے والے دوست کو نام معلوم نہیںکہنے لگے کہ آپ کو کیا ضرورت پیش آئی تھی کہ خوامخواہ ان کے جوشوں کو ٹھنڈا کرتے۔چونکہ جس شخص سے ان کی بات ہوئی ہے اس کانام وہ نہیں جانتے اور جس کا نام معلوم نہیں اسے پرائیویٹ طور پر نصیحت کرنا ناممکن ہے۔ اور پھر چونکہ ناممکن ہے کہ ایسے اور لوگ بھی ہوں میں نے مناسب سمجھا کہ اس رپورٹ کے متعلق خطبہ میں بعض باتیں بیان کروں۔
    میں نے متواتر جماعت کو بتلایا ہے کہ خلافت کی بنیاد محض اور محض اس بات پر ہے کہ اَلْاِمَامُ جُنَّۃٌ یُقَاتَلُ مِنْ وَّرَائِہٖ ۱؎ یعنی امام ایک ڈھال ہوتا ہے اور مومن اس ڈھال کے پیچھے سے لڑائی کرتا ہے۔ مومن کی ساری جنگیں امام کے پیچھے کھڑے ہو کر ہوتی ہیں۔اگر ہم اس مسئلہ کو ذرا بھی بُھلادیں، اِس کی قیود کو ڈھیلا کردیں اور اس کی ذمہ واریوں کو نظر انداز کردیں تو جس غرض کیلئے خلافت قائم ہے وہ مفقود ہوجائے گی۔ میں جانتا ہوںانسانی فطرت کی کمزوریاں کبھی کبھی اسے اپنے جوش اور غصہ میں اپنے فرائض سے غافل کردیتی ہیں۔ پھر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ کبھی انسان ایسے اشتعال میں آجاتا ہے کہ وہ یہ نہیں جانتا کہ میں منہ سے کیا کہہ رہا ہوں مگر بہرحال یہ حالت اس کی کمزوری کی ہوتی ہے نیکی کی نہیں۔ اور مومن کا کام یہ ہے کہ کمزوری کی حالت کو مستقل نہ ہونے دے اور جہاں تک ہوسکے اسے عارضی بنائے بلکہ بالکل دُور کردے۔ اگر ایک امام اور خلیفہ کی موجودگی میں انسان یہ سمجھے کہ ہمارے لئے کسی آزاد تدبیر اور مظاہرہ کی ضرورت ہے تو پھر خلیفہ کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ امام اور خلیفہ کی ضرورت یہی ہے کہ ہر قدم جو مومن اُٹھاتا ہے اُس کے پیچھے اُٹھاتا ہے اپنی مرضی اور خواہشات کو اس کی مرضی اور خواہشات کے تابع کرتا ہے، اپنی تدبیروں کو اس کی تدبیروں کے تابع کرتا ہے، اپنے ارادوں کو اس کے ارادوں کے تابع کرتا ہے، اپنی آرزوئوں کو اس کی آرزوئوں کے تابع کرتا ہے اور اپنے سامانوں کو اس کے سامانوں کے تابع کرتا ہے۔ اگر اس مقام پر مومن کھڑے ہوجائیں تو ان کیلئے کامیابی اور فتح یقینی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں اِسی نکتہ کو واضح کرنے کے لیے فرماتا ہے کہ ۲؎ یعنی جو خلفاء اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کئے جاتے ہیں ہمارا وعدہ یہ ہے کہ یعنی ان کے طریق کو جو ہم ان کیلئے خود چنیں گے دنیا میں قائم کریں گے۔ دین کے معنی صرف مذہب کے ہی نہیں۔ گو مذہب بھی اس میں شامل ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ مذہب تو انبیاء کے ذریعہ سے قائم ہوتا ہے۔ خلفاء کے ذریعہ سنن اور طریقے قائم کئے جاتے ہیں ورنہ احکام تو انبیاء پر نازل ہوچکے ہوتے ہیں۔ خلفاء، دین کی تشریح اور وضاحت کرتے ہیں اور مُغْلَقْ امور کو کھول کر لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں اور ایسی راہیں بتاتے ہیں جن پر چل کر اسلام کی ترقی ہوتی ہے۔
    یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ جو مسلمانوں کا دین ہوگا ہم اسے مضبوط کریں گے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ جو خلیفہ کا دین ہوگا اسے مضبوط کریں گے۔ جس پالیسی کو خلفاء پیش کریں گے ہم اسے ہی کامیاب بنائیں گے اور جو پالیسی ان کے خلاف ہوگی اُسے ناکام کریں گے۔ پس اگر کوئی مبائع اور مومن کوئی اور طریق اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم اسے ناکام کریں گے۔ اب اس پر غور کرو ایک شخص یا دس بیس یا ہزار دو ہزار یا دس بیس ہزار لوگ خلیفہ سے کوئی الگ پالیسی رکھتے ہیں یا اپنی اپنی الگ پالیسیاں رکھتے ہیں تو خداتعالیٰ نے تو جیسا کہ وہ فرماچکا ہے صرف خلیفہ کی پالیسی کو ہی کامیاب کرنا ہے۔ تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ اگر جماعت ایک لاکھ کی ہے تو اس میں سے اتنے ہزار کی کوششیں رائیگاں جائیں گی۔اگر ایک ہزار کی کوششیں اللہ تعالیٰ ردّ کررہا ہے تو گویا ۹۹ ہزار یا اگر دس ہزار کی ردّ ہورہی ہیں تو نوے ہزار، اگر بیس ہزار کی ردّ ہورہی ہیں تو اسی ہزار ، اگر پچاس ہزار کی ردّ ہورہی ہیں تو صرف پچاس ہزار لوگوں کی کوششیں کامیابی کے راستہ پر ہورہی ہوں گی اور اس طرح جس نسبت کے ساتھ خداتعالیٰ کی طرف سے فتوحات آنی ہیں وہ اسی نسبت سے کم ہوتی جائیں گی۔ ایک لاکھ سپاہیوں کوجو کامیابی ہونی تھی اتنی نہیں ہوگی اور جتنی کوششیں ردّ ہورہی ہوں گی اتنی کامیاب کوششوں میں کمی ہوجائے گی۔ اور اس طرح ایسے لوگ دین کی مدد کرنے والے نہیں ہوں گے بلکہ اس میں رخنہ ڈالنے والے اور اسے ضعیف اورکمزور کرنے والے ہوں گے۔
    یہ تمام نقائص پید اہی تب ہوتے ہیں جب خداتعالیٰ کے کلام پر یقین نہ ہو اور یہ خیال ہو کہ اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مدد نہیں آئے گی بلکہ ہم نے خود کام کرنا ہے۔ یا خداتعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق پر چلنے سے کامیابی نہیں ہوگی بلکہ کامیابی اس طریق پر چلنے سے ہوگی جو ہم نے سوچا ہے۔ جس شخص نے جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا ہو اُس کیلئے ضروری ہے کہ سستیوں کو دور کرکے لوگوں کے اندر اخلاص، تقویٰ اور اُمنگ پید اکرے۔ لیکن اگر کچھ آدمی ایسے ہوں کہ جتنی اُمنگیں اور امیدیں اور جوش خلیفہ پیدا کرے اس کاایک حصہ وہ ضائع کردیں، تو ایسے لوگ بجائے اسلام کی ترقی کا موجب ہونے کے اس کے تنزّل کا موجب ہوں گے۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دیکھ لو صلح حدیبیہ کی مثال بالکل واضح ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رئویا میں دیکھا کہ کعبہ کا طواف کررہے ہیں۔ چونکہ وہ حج کا وقت نہیں تھا، آپ نے عمرہ کی نیت کی اور صحابہؓ کو بھی اطلاع دی۔ چلتے چلتے آپ کی اونٹنی حدیبیہ کے مقام پر بیٹھ گئی اور زور لگانے کے باوجود نہ اُٹھی۔ آپ نے فرمایا کہ اسے خداتعالیٰ نے بٹھادیا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ اس کی مشیت یہی ہے کہ ہم آگے نہ جائیں۳؎۔ مسلمانوں کی آمد دیکھ کر کفار نے بھی اپنا لشکر جمع کرنا شروع کیا۔ کیونکہ وہ یہ گوارا نہیں کرسکتے تھے کہ مسلمان طواف کریں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے آدمیوں کی انتظارمیں تھے کہ آئیں تو شائد کوئی سمجھوتہ ہوجائے۔ ان کی طرف سے مختلف نمائندے آئے اور آخرکار صلح کا فیصلہ ہوا۔ شرائط صلح میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ مسلمان اِس وقت واپس چلے جائیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر اب انہوں نے طواف کرلیا تو ہمارے پرسٹیج (PRESTIGE) میں فرق آئے گا اس لئے انہوں نے یہی شرط پیش کی کہ اب کے واپس چلے جائیں اور اگلے سال آکر طواف کرلیں۔دوسری شرط یہ ہوئی کہ اگر کوئی کافر مسلمان ہوکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آجائے تو آپ اسے واپس کردیں گے لیکن اگر کوئی مسلمان مرتد ہوکر مکہ والوں کے پاس جانا چاہے تو اسے اس کی اجازت ہوگی۔ بظاہر یہ شرطیں بڑی کمزور شرطیں تھیں اور پھر جس وقت آپ نے اس شرط کو منظور کرلیا، اُسی وقت ایک مسلمان جس کے ہاتھوں اور پائوں میں کڑیاں اور بیڑیاں پڑی تھیں، جس کا تمام جسم لہولہان تھا نہایت تکلیف سے لڑھکتا اور گِرتا پڑتا وہاں پہنچا اور عرض کیا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! میرا حال دیکھئے میں مسلمان ہوں اور میرے رشتہ داروں نے اس طرح مجھے بیڑیاں پہنائی ہوئی ہیں اور مجھے شدید تکالیف پہنچا رہے ہیں۔ آج کفار لڑائی کیلئے تیار ہوئے تو میرا پہرہ ذرا کمزور ہوا اور میں موقع پاکر نکل بھاگا اور اس حالت میں یہاں پہنچا ہوں۔ صحابہؓ کو اُس کی حالت دیکھ کر اتنا جوش تھا کہ وہ آپے سے باہر ہورہے تھے۔ لیکن اہل مکہ کی طرف سے جو شخص سفیر ہوکر آیا ہوا تھا اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لے کر کہا کہ ہمیں آپ سے غداری کی امید نہیں۔ آپ نے وعدہ کیا ہے کہ ہم میں سے اگر کوئی شخص آپ کے پاس آئے تو اسے واپس کردیں گے اس لئے یہ شخص واپس کیا جائے۔ اُس وقت اُن ہزاروں آدمیوں کے سامنے جو اپنے گھروں سے جانیں دینے کیلئے نکلے تھے، ان کا ایک بھائی تھا جو مہینوں سے قید تھا، جس کے ہاتھوں اور پائوں سے خون کے فوارے پھوٹ رہے تھے اور جس کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ خداتعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لایا تھا۔ اسے دیکھ کر صحابہؓ کی تلواریں میانوں سے باہر نکل رہی تھیں اور وہ دلوں میں کہہ رہے تھے کہ ہم سب یہیں ڈھیر ہوجائیں گے مگر اسے واپس نہیں جانے دیں گے۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ خدا کے رسول دھوکا نہیں کیا کرتے۔ ہم نے وعدہ کیا ہے اور اب خواہ ہمارے دلوں کو کتنی تکلیف ہو، اسے پورا کریں گے اور آپ نے کفار کے نمائندہ سے فرمایا کہ اسے لے جائو۔ جب اس شخص نے دیکھا کہ مجھے واپس کیا جارہا ہے تو اس نے پھر نہایت مترحمانہ نگاہوں کے ساتھ صحابہؓ کی طرف دیکھا او رکہا تم جانتے ہو مجھے کس طرف دھکیلتے ہو؟ تم مجھے ظالم لوگوں کے قبضہ میں دے رہے ہو؟ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی کو تاب نہ تھی کہ آنکھ اُٹھاسکے اس لئے خون کے گھونٹ پی کر رہ گئے۔۴؎ لیکن صحابہ کو اس کا رنج اتنا تھا ، اتنا تھا کہ جب صلح نامہ پر دستخط ہوچکے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا اللہ تعالیٰ کی مشیت یہی تھی کہ اس سال ہمیں عمرہ کا موقع نصیب نہ ہو۔ جائو اور اپنی قربانیوں کو ذبح کردو۔ آپ نے یہ فرمایا اور وہ صحابہؓ جو آپ کے ایک اشارے پر اُٹھ کھڑے ہوتے اور نہایت بے تابی کے ساتھ فرمانبرداری کا اعلیٰ نمونہ دکھانے کی کوشش کرتے تھے، ان میں سے ایک بھی نہ اُٹھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر اپنے خیمہ میں تشریف لے گئے۔ آپ کے ساتھ اُمّہات المؤمنین میں سے ایک بی بی تھیں۔ آپ نے ان سے کہا کہ آج میں نے وہ نظارہ دیکھا ہے جو نبوت کے ایام میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔ میں نے باہر جاکر صحابہؓ سے کہا کہ اپنی قربانیاں ذبح کردو مگر ان میں سے ایک بھی نہیں اُٹھا۔ انہوں نے کہا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! آپ کسی سے بات ہی نہ کریں۔ آپ سیدھے جاکر اپنی قربانی کے جانور کو ذبح کردیں۔ یہ زجر زبان کی زجر سے بہت سخت تھی اور یہ مشورہ نہایت ہی اچھا تھا۔ چنانچہ آپ باہر آئے ، نیزہ لیا اور بغیر کسی مدد کے اپنے جانور ذبح کرنے شروع کردیئے۔ جونہی صحابہؓ نے یہ دیکھا معاً انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ دَوڑے، بعض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کیلئے اور بعض اپنی قربانیوں کی طرف۔ اور ان کی بے تابی اِس قدر بڑھ گئی کہ وہ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کیلئے تلواروں کی نوکوں سے ایک دوسرے کو ہٹاتے تھے۔۵؎ لیکن گو انہوں نے یہ فرمانبرداری دکھائی اور ان کا جوش بھی ٹھنڈا ہوا مگر پوری طرح نہیں ہوا۔ حضرت عمرؓ جیسا مخلص انسان بھی اپنے جوش کو نہ دباسکا۔ آپ رسول کریم ﷺ کی مجلس میں جاکر بیٹھ گئے اور عرض کیا کہ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کیا آپ خدا کے رسول نہیں ہیں؟ کیا ہم خدا کی سچی جماعت نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں ہیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! آپ کو ایک رئویا ہوئی تھی کہ ہم مکہ میں داخل ہوکر عمرہ کررہے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں یہ صحیح ہے۔ اِس پر حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ یہ ناکامی پھر کس بات کا نتیجہ ہے؟ ہم ایمان پر ہوتے ہوئے دب گئے اور کفار کاپہلو بھاری رہا اور ہم نے ایسی ایسی شرطیں منظور کرلیں کہ اپنے ایک بھائی کو سخت مصیبت کی حالت میں دیکھا مگر کچھ نہ کرسکے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک مجھے رئویا ہوئی تھی مگر کیا میں نے کہا تھا کہ اس سال ہم عمرہ کریں گے؟ میں نے صرف قیاس کیا تھا اور اسی قیاس کی بناء پر آیا اور تم کو معلوم ہے کہ یہ بات شرائط میں ہے کہ ہم اگلے سال عمرہ کریں گے اور خواب پورا ہوگا۔ پھر اس میں ذلّت کی کوئی بات نہیں کہ جو مسلمان ہو اُسے واپس کیا جائے اور جو کافر ہو اسے اپنے ہم مذہبوں کے پاس جانے دیا جائے۔ جس مسلمان کو کفار پکڑ کر رکھیں گے وہ تبلیغ ہی کرے گا اور جو مسلمان مرتد ہوجائے تم بتائو ہم نے اُسے رکھ کر کرنا ہی کیا ہے۔ اس پر حضرت عمرؓ خاموش ہوگئے۔ ان کا جوش کم ہوا مگر پوری طرح فرو نہیں ہوا۔ اور پھر وہ اس شخص کے پاس پہنچے جسے اللہ تعالیٰ نے صدیق کہا ہے اور جس کی نبض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبض کے تابع چلتی تھی اور کہا ابوبکرؓ!کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے رسول ہیں؟ کیا ہمارا دین سچا ہے؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب نہیں دیکھا تھا کہ ہم عمرہ کررہے ہیں؟ پھر ہوا کیا؟ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا عمرؓ! کیا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ہم ضرور اِسی سال عمرہ کریں گے؟ خواب صرف یہی ہے کہ ہم عمرہ کریں گے سو ضرور کریں گے۔ تب حضرت عمرؓ کادل صاف ہوا اور انہوں نے سمجھ لیا کہ صداقت جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکلی اُسی طرح ابوبکرؓ کی زبان سے بھی نکلی۔۶؎ تو صلح حدیبیہ بڑا بھاری امتحان تھا، بڑی آزمائش تھی مگر صحابہؓ نے انتہائی اطاعت کا نمونہ دکھایا۔
    مؤمن کو بعض دفعہ ایسی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں ہم انتہائی طور پر ذلیل کئے جارہے ہیں۔ پہلوں سے بھی ایسا ہوا اور ضروری ہے کہ تمہارے ساتھ بھی ایسا ہو۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ غرضیکہ سب انبیاء کی جماعتوں سے ایسا ہوا۔ حضرت عیسیٰؑ کی صلیب کا واقعہ کچھ کم نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہمیشہ یہ وعظ کیا کرتے تھے کہ اپنے کپڑے بیچ کر بھی تلواریں خریدو۔ مگر جب حکومت نے آپ کو پکڑا تو پطرس جوش میں آیا اور اُس نے لڑنا چاہا مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا پطرس جوش میں مت آ اور خاموش رہ ۔چنانچہ انجیل میں آتا ہے ’’پطرس نے تلوار جو اس کے پاس تھی کھینچی اور سردار کاہن کے نوکر پر چلاکر اُس کا داہنا کان اُڑادیا۔ یسوع نے پطرس سے کہا تلوار کو میان میں رکھ۔ جو پیالہ باپ نے مجھ کو دیا کیامیں اسے نہ پیئوں‘‘۷؎۔ حضرت موسیٰؑ کے زمانہ میں بھی کئی واقعات ایسے ہوئے ہیں کہ ان کی قوم جوش میں لڑنا چاہتی مگر وہ حکم دیتے کہ ٹھہر جائو۔
    قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ انبیاء کی جماعتوں کیلئے ضروری ہے کہ اپنے آپ کو کُلّی طور پر خداکی تدبیر کے ماتحت کردیں۔ مگر وہ مردہ نہیں ہوتے ان کے اندر جوش اور اخلاص ہوتا ہے۔ وہ قربانی کیلئے تیار رہتے ہیں مگر قربانی کرنے کیلئے خداتعالیٰ کی طرف دیکھتے ہیں۔ جب خداتعالیٰ کی طرف سے اِذن ہو اور جس رنگ میں ہو وہ اُسی وقت اور اُسی رنگ میں قربانی کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی فوقیت اور عظمت کی بڑی علامت فرمانبرداری اور اطاعت کا ایسا نمونہ ہی ہوتا ہے جو دوسری قوموں میں نظر نہیں آتا۔ جو چیز دوسروں کی نگاہ میں ذِلّت ہو وہ ان کی نگاہ میں عزت ہوتی ہے۔ جو دوسروں کو عزت نظر آئے وہ اسے ذِلّت سمجھتے ہیں۔ لوگ عزت اس میں سمجھتے ہیں کہ اپنے نفس کا غصہ نکال لیں اور مومن اس میں کہ خداتعالیٰ کا حکم پورا ہو، نفس کا غصہ بے شک نہ نکلے۔ جب کوئی شخص ایسا ہوجائے تو اس کیلئے اللہ تعالیٰ آسمان سے فرشتے نازل کرتا ہے جو اُس کی مدد کرتے ہیں اور یہی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ تم سوچو تو سہی کیا ہماری اتنی طاقت ہے کہ ساری دنیا کو فتح کرسکیں۔ ہمیں تو جو کامیابی ہوگی فرشتوں کے ذریعہ سے ہوگی اور یہ اُسی وقت ہوتا ہے جب مومن اپنے نفسوں پر قابو رکھیں اور دل میں اس کیلئے بالکل تیار رہیں کہ جب خداتعالیٰ کی طرف سے آواز آئے گی اپنے نفسوں کو قربان کردیں گے مگر اپنے ہاتھوں اور زبانوں کو قابو میں رکھیں گے اور کوئی بات ایسی نہ کریں گے جو خلافِ شریعت اور خلافِ آداب ہو۔ شریعت وہ ہے جو قرآن کریم میں بیان ہے اور آداب وہ ہیں جو خلفاء کی زبان سے نکلیں۔ پس ضروری ہے کہ آپ لوگ ایک طرف تو شریعت کا احترام قائم کریں اور دوسری طرف خلفاء کا ادب و احترام قائم کریں اور یہی چیز ہے جو مومنوں کو کامیاب کرتی ہے۔
    تمہارے دل پتھر کے ہوں گے اگر وہ ان معجزات سے متأثر نہیں ہوتے جو خداتعالیٰ نے گزشتہ پچاس سال میں جماعت کیلئے ظاہر کئے ہیں۔ میںتو سمجھتا ہوں کہ اگر وہ نشانات، جمادات پر ظاہر ہوں تو درختوں پر اور پتھروں پر اور لوہے پر او رلکڑی پربھی ان کا اثر ضرور ہو اور تم تو انسان ہو۔ غور تو کرو تم نے کتنے نشان دیکھے ہیں او رکتنی وحیوں، کشوف اور الہامات کو پورا ہوتے دیکھا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ، آپ کے خلفاء اور پھر اپنے نفسوں کے ذریعہ تم میں سے بہت ہی کم ہوں گے جنہیں خداتعالیٰ نے کبھی کوئی سچا خواب نہ دکھایا ہو اور پھر وہ پورا نہ ہوا ہو۔ تم تو زمین پر اللہ تعالیٰ کا چلتا پھرتا نشان ہو۔ دنیا کو تم انسان نظر آتے ہو مگر خداتعالیٰ کی نظر میں تم خدا کا ہاتھ ہو جو دنیا کی طرف بڑھایا گیا ۔ تم خداتعالیٰ کا دنیا کی طرف ایک چیلنج ہو جس طرح پُرانے بادشاہ بکرے چھوڑ دیتے تھے اور وہ علامت ہوتے تھے اِس بات کی کہ جو اُن پر ہاتھ اُٹھائے گا وہ گویا بادشاہ کو چیلنج دے گا اور پھر اس بکرے کیلئے ہزاروں لاکھوں انسان تہہِ تیغ ہوجاتے تھے۔ اسی طرح تم خدا کے برّے ہو۔ خداتعالیٰ نے دنیا میں تم کو چھوڑا اور کہا ہے کہ یہ میری نشانیاں ہیں۔ جو اِن پر ہاتھ اُٹھائے گا وہ مجھ پر ہاتھ اُٹھانے والا سمجھا جائے گا۔ پس تم کو خداتعالیٰ نے اپنی طاقت کی آزمائش کیلئے بھیجا ہے نہ کہ تمہاری طاقت کے اظہار کیلئے۔ ذرا سوچو کہ بکرے کی کیا طاقت ہوتی ہے۔ اگر وہ خود سینگ مارنے لگے تو لوگ اُس پر ہنسی کریں گے۔ لیکن ہر شخص جانتا ہے کہ اُس بکرے کے پیچھے بادشاہ کی طاقت ہے اور جس طرح بادشاہ کا بکرا اپنے سینگ مار کر اپنی ہلاکت خریدتا ہے اسی طرح تمہارا حال ہے۔ کیا تم کو خداتعالیٰ پر یقین نہیں کہ تم اپنی تدبیروں سے کامیابی کی کوشش کرو۔ جولوگ کامیابی اپنی تدبیروں سے سمجھتے ہیں وہ سوچیں تو سہی کہ ہماری طاقت کیا ہے۔ خداتعالیٰ نے ہمارے ذریعہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پس تم اُسی کی طاقت پر بھروسہ رکھو اور اپنی تدبیروں کو دماغ سے نکال دو۔ مومن وہ ہے جو ہر ابتلاء سے بچتا ہے اور جسے دنیا کی کوئی طاقت اپنی طرف نہیں پھیر سکتی۔
    موجودہ فتنہ جو ہے اس گند کے دو ہی نتیجے ہوسکتے ہیں۔ جن لوگوں کے دلوں میں ایمان اور تقویٰ ہے اُن پر تو اس کا کچھ اثر ہو نہیں سکتا اور ایسے لوگوں کو کیا صدمہ ہوسکتا ہے اور جن پر اثر ہوتا ہے وہ ازلی راندے ہوئے لوگ ہیں جن کو خداتعالیٰ چاہتا ہے کہ سلسلہ سے الگ کردے اور ظاہر ہے کہ ایسے لوگوں کو کون بچاسکتا ہے۔ انہیں تو نہ میں بچاسکتا ہوں اور نہ تم نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بچاسکتے تھے اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ۔ جس کے دل پر موت وارد کرنے کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کرلے اسے کون بچاسکتا ہے۔ ہدایت دینااور پھر ابتلائوں سے بچانا اللہ تعالیٰ کا ہی کام ہے۔ ہمارا کام یہ ہے کہ اپنے ایمانوں کو مضبوط بنالیں اور ایسے مقام پر کھڑے ہوں کہ اس کے فضل سے ہمارے ایمان پر کوئی چھاپہ نہ مارسکے۔ جب کوئی شخص اپنے ایمان کو حملہ سے بچالیتا ہے تو پھر فرشتے خودبخود اُس کی حفاظت کرتے ہیں۔
    میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ میں پندرہ سولہ سال کا تھا جب اللہ تعالیٰ نے مجھے الہام کیا کہ اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ یعنی میں تیرے متبعین کو تیرے منکروں پر قیامت تک غالب رکھوں گا۔ یہ الہام اُس وقت کا ہے جب مجھے نہ خلافت کا پتہ تھا اور نہ اس کاکوئی وہم و گمان ہوسکتا تھا۔ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ کا الہام ہے جسے حضور نے خود اپنے ہاتھ سے اپنی کاپی میں درج فرمایا۔ پندرہ سولہ سال کے بچہ کو ان باتوں کا علم ہی کیا ہوسکتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے وقت میری عمر اُنیس سال کی تھی اور یہ دو تین سال پہلے کا الہام ہے جبکہ میری عمر زیادہ سے زیادہ سترہ سال کی ہوگی۔ اُس وقت کون کہہ سکتا تھا کہ کبھی میرے متبع ہوں گے اور پھر میرے منکر بھی ہوں گے۔ پھر اگر متبع ہوں تو منکروں کا ہونا تو ضروری نہیں ہوتا۔ حضرت خلیفہ اوّل کی بیعت سب نے کرلی تھی صرف دو تین آدمی رہ گئے تھے مگر وہ بھی کبھی ظاہر نہیں ہوئے۔ حضور کی وفات کے بعد انہوں نے کہا کہ ہم نے بیعت نہیں کی تھی مگر لوگ یہی سمجھتے تھے کہ یہ بیعت میں شامل ہیں اور ایسا ہی پھر بھی ہوسکتا تھا یعنی اگر میرے متبع ہوتے تو منکر نہ ہوتے۔ پھر میری خلافت کے خلاف تو حضرت خلیفہ اوّل کی زندگی میں ہی ایجی ٹیشن شروع ہوگئی تھی۔ اُس وقت جو لوگ صاحبِ کار اور صاحبِ تدبیر تھے وہ ہمیشہ میرے خلاف جماعت کو اُکساتے رہتے تھے اور پھر دوسری طرف حضرت خلیفہ اوّل کو مجھ سے بدظن کرنے کی کوششیں کرتے رہتے تھے۔ وہ جماعت کو تو کہتے تھے کہ یہ غلو کرتا ہے، کفر واسلام کا مسئلہ چھیڑ کر جماعت کوتباہ کرنا چاہتا ہے اور حضرت خلیفۂ اوّل کو عجیب تدبیروں سے مجھ سے ناراض کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ یہ دو ہی ذریعے میری خلافت کے ممکن تھے یعنی یا تو جماعت منتخب کرتی اور یا پھر حضرت خلیفہ اول نامزد کرتے۔ اور یہ لوگ دونوں رستے بند کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ حضرت خلیفہ اوّل جب پہلی باربیمار ہوئے تو آپ نے اپنی وصیت میں تحریر فرمادیا تھا کہ میرے بعد محمود خلیفہ ہو مگر بعدمیں مخالفتوں کو دیکھ کر آپ نے وہ وصیت پھاڑ دی۔ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے یہ خیال کیا کہ اگر میں نے یہ لکھ دیا تومخالفت کرنیو الے اسے میرا بنایا ہوا خلیفہ کہیں گے اور خلافت کا امر مشتبہہ ہوجائے گا، اللہ تعالیٰ جسے چاہے بنادے۔
    حضرت خلیفہ اوّل کو مجھ سے جس رنگ میں بدظن کرنے کی کوشش کی جاتی تھی میں اس کی ایک مثال سناتا ہوں۔ حضرت خلیفہ اوّل اُس کمرہ میں رہا کرتے تھے جہاں اب شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ آکر ٹھہرتے ہیں یعنی مسجد مبارک کے ساتھ جو کمرہ ہے۔ ایک روز قریشی امیر احمد صاحب مجھے گھر پر بُلانے آئے اور کہا کہ حضرت خلیفۃ المسیح بلاتے ہیں۔ میں گیا تو اُس وقت وہاں شیخ رحمت اللہ صاحب، مرزا یعقوب بیگ صاحب، ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب، مولوی محمد علی صاحب اور غالباً مولوی صدرالدین صاحب بیٹھے تھے۔ جب میں دروازہ میں پہنچا تو دیکھا ان کے چہروں کے رنگ اُڑے ہوئے ہیں۔میں گھبرایا کہ خدا خیر کرے۔ میں نے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہا اور مجھے یاد نہیں حضرت خلیفہ اول نے جواب دیا یا نہیں اور فرمایا میاں! تم بھی اب ہمارے خلاف منصوبوں میں شامل ہوتے ہو؟ میں نے کہا کہ نہیں میں تو کسی ایسے منصوبہ میں شامل نہیں ہوا؟ آپ نے فرمایا یہ لوگ بیٹھے ہیں میں نے ایک مکان کے متعلق کہا تھا کہ وہ فلاں شخص کو دے دیا جائے اور ان لوگوں نے میرے خلاف فیصلہ کیاہے اور میرے پوچھنے پر کہتے ہیں کہ میاں صاحب نے بھی یہی فیصلہ کیا ہے۔ میں نے کہا یہ بالکل خلافِ واقعہ امر ہے۔ اِن لوگوں نے یہ معاملہ پیش کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ شخص کم قیمت دیتا ہے۔ میںنے کہا حضرت خلیفہ اوّل کامنشاء ہے کہ اِسی کو دیا جائے۔ اِس پر ڈاکٹر محمد حسین صاحب نے کہا کہ ہم لوگوں کو تقویٰ سے کام لینا چاہئے۔ ہم لوگ ٹرسٹی ہیں اور جماعت کے اموال کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں اعتمادی بنایا ہے دین کیلئے ہمیں جہاں سے زیادہ رقم ملے لے لینی چاہئے۔ میں نے کہا کہ حضرت خلیفۃ المسیح سے زیادہ تقویٰ کا خیال کون رکھ سکتا ہے۔ اگر ان کے نزدیک کم قیمت پر اس شخص کو دے دینا ضروری ہے تو میرے نزدیک یہی تقویٰ ہے۔ مگر یہ کہنے لگے کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے اجازت دے دی ہے۔ میںنے کہا کہ ان کی تحریر دکھائیں۔ اِس پر انہوں نے آپ کی ایک تحریر دکھائی جس میں لکھا تھا کہ میں نے وہ مشورہ دیا تھا جو میرے نزدیک صحیح تھا لیکن اب میں وہ مشورہ واپس لیتا ہوں جس طرح چاہو کرو۔یہ دیکھ کر میں نے کہا یہ اجازت تو نہیں ناراضگی کی تحریر ہے اس لئے اگر آپ لوگوں کا پہلے ارادہ بھی کسی اور کو دینے کا تھا تو اب رُک جانا چاہئے۔ لیکن اس کے جواب میںانہوں نے پھر کہا کہ تقویٰ سے کام لینا چاہئے اور میں یہ کہہ کر کہ میرے نزدیک تقویٰ وہی ہے جو حضرت خلیفۃ المسیح پسند کرتے ہیں، خاموش ہوگیا۔ حضرت خلیفہ اوّل نے ان سے پوچھا کہ یہ بات ٹھیک ہے؟ انہوں نے کہا ہاں ٹھیک تو ہے مگر انہوں نے منع بھی نہیں کیا۔ اس پر حضرت خلیفہ اوّل جوش میں آگئے اور فرمایا کہ تم لوگ مجھے اس پر ناراض کرنے کی کوشش کرتے ہو!۔ یہ بڑی عمر کا تھا یا تم! اس نے کہہ دیا کہ اطاعت کرو اور کیا کرتا تم لوگوں کے ہاتھ پکڑ لیتا!! غرض حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کو مجھ سے بدظن کرنے کی جو تدابیر بھی ممکن تھیں یہ لوگ انہیں اختیار کرتے رہتے تھے مگر خدا کی مشیت نے پورا ہوکر رہنا تھا۔ انسانوں نے سارا زور لگایا اورخلافت کے جتنے دروازے ان کے نزدیک تھے وہ مجھ پربند کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ حالانکہ میرے تو ذہن میں بھی کبھی خلافت کا خیال نہ آیا تھا بلکہ اگر کوئی کبھی مجھ سے اس کے متعلق کوئی ذکر بھی کرتا تو میں اسے روک دیتا اور کہتا کہ یہ جائز نہیں۔
    ابھی حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی نے ایک حلفی بیان شائع کرایا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’حضرت خلیفہ اوّل بیمار تھے اور مجھے گوجرانوالہ ایک مباحثہ پرجانے کا حکم ہوا۔ مولوی محمد علی صاحب مجھے ملے تو کہنے لگے حافظ صاحب!آپ سفر پر جاتے ہیں اور مولوی صاحب بیمار ہیں۔ خلیفہ بنانے میں جلدی نہ کرنا۔ میں نے یہ بات حضرت مرزا محمود احمد صاحب کے سامنے پیش کی کہ آپ کا کیا خیال ہے؟ تو آپ نے فرمایا حافظ صاحب! اگر مولوی محمد علی صاحب کو اللہ تعالیٰ خلیفہ بنادے تو میں اپنے تمام متعلقین کے ساتھ ان کی بیعت کرلوں گا‘‘۔
    تو میں نے آگے آنا نہیں چاہا تھا، میں پیچھے ہٹتا تھا مگر خدا کے ہاتھ نے مجھے پکڑا اور کہا کہ جب ہم کام لینا چاہتے ہیں تو تُو پیچھے رہنے والاکون ہے اور خداتعالیٰ نے مجھے کھڑا کردیا۔ اب کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم خوش نہیں ہیں مگر میں کہتا ہوں تمہاری خوشی کا سوال ہی کیاہے۔ اگر تم خوش نہیں ہو تو جائو اُس سے لڑو جس نے مجھے خلیفہ بنایا ہے۔ اگر تم میں کچھ طاقت اور زور ہے تو اُس کے پاس جائو اور اس سے اُس تائید اور نصرت کو بند کرادو جو مجھے مل رہی ہے۔ مگر میں ہر ایسے شخص کوبتادیتا ہوں کہ اسے سوائے ناکامی و نامرادی کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ یہ سلسلہ خداکا سلسلہ ہے اور خدا کے سلسلوں پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ آج بے شک تم اتنے لوگ میرے ساتھ ہو مگر اُس وقت کون تھا جب خداتعالیٰ نے مجھے خلیفہ بنایا۔ بے شک قادیان کے اکثر لوگوں نے بیعت کرلی تھی لیکن باہر کی بہت سی جماعتیں متردّد تھیں۔ بڑے بڑے کارکن سب مخالف تھے، خزانہ خالی تھا اور مخالفت کا دریا تھا جو اُمڈا ہوا چلا آرہا تھا۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اُس وقت میں اس کی نصرت سے کامیاب ہوا۔ اُس وقت خدا ہی تھا جو میری تائید کیلئے آیا اور اسی نے دوسرے دن مجھ سے وہ ٹریکٹ نکلوایا کہ ’’کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے‘‘ اور جہاں جہاں یہ ٹریکٹ پہنچا جس طرح حنین کی لڑائی کے موقع پر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ آواز بلند کرائی گئی کہ اے انصار! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے اور صحابہ بیتاب ہوکر اُس آواز کی طرف بھاگے بلکہ جن کے گھوڑے نہیں مڑتے تھے انہوں نے اُن کی گردنیں کاٹ دیں اورپیدل دَوڑے۔۸؎ اسی طرح جب میری آواز باہر پہنچی متردّد جماعتوں کے دل صاف ہوگئے اور تاروں اور خطوں کے ذریعہ بیعت کرنے لگیں۔ وہی خدا جو اُس وقت فوجوں کے ساتھ تائید کرنے آیا آج میری مدد پر ہے اور اگر آج تم خلافت کی اطاعت کے نکتہ کو سمجھ لو تو تمہاری مدد کو بھی آئے گا۔ نصر ت ہمیشہ اطاعت سے ملتی ہے۔ جب تک خلافت قائم رہے نظامی اطاعت پر اور جب خلافت مٹ جائے انفرادی اطاعت پر ایمان کی بنیاد ہوتی ہے۔
    پس میں تمہیں نصیحت کرتاہوں کہ خواہ تم کتنے عقلمند اور مدبر ہو، اپنی تدابیر اور عقلوں پر چل کر دین کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتے۔ جب تک تمہاری عقلیں اور تدبیریں خلافت کے ماتحت نہ ہوں اورتم امام کے پیچھے پیچھے نہ چلو ہرگز اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت تم حاصل نہیں کرسکتے۔ پس اگر تم خداتعالیٰ کی نصرت چاہتے ہو تو یاد رکھو کہ اس کاکوئی ذریعہ نہیں سوائے اس کے کہ تمہارا اٹھنا بیٹھنا، کھڑا ہونا اور چلنا، تمہارا بولنا اور خاموش ہونا میرے ماتحت ہو۔ بیشک میںنبی نہیں ہوں لیکن میں نبوت کے قدموں پر اور اس جگہ پر کھڑا ہوں۔ ہر وہ شخص جو میری اطاعت سے باہر ہوتاہے وہ یقینا نبی کی اطاعت سے باہر جاتا ہے۔ جو میرا جوأ اپنی گردن سے اُتارتا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جوأ اُتارتا ہے۔ اور جو اِن کا جوأ اُتارتا ہے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جوأ اُتارتا ہے۔ اورجو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جوأ اُتارتا ہے وہ خداتعالیٰ کا جوأ اُتارتا ہے۔ میں بے شک انسان ہوں خدا نہیں ہوں مگرمیں یہ کہنے سے نہیں رہ سکتا کہ میری اطاعت اور فرمانبرداری میں خداتعالیٰ کی اطاعت اورفرمانبرداری ہے۔ مجھے جو بات کہنے کا خداتعالیٰ نے حکم دیا ہے میں اسے چھپا نہیں سکتا۔ مجھے اپنی بڑائی بیان کرنے میں شرم محسوس ہوتی ہے اور میں اِس وقت تک اِس شرم کی وجہ سے رُکا رہا ہوں لیکن آخر خداتعالیٰ کے حکم کو بیان کرناہی پڑتا ہے۔ میں انسانوں سے کام لینے کا عادی نہیں ہوں۔ تم بائیس سال سے مجھے دیکھ رہے ہو اور تم میں سے ہر ایک اِس امر کی گواہی دے گا کہ ذاتی طور پر کسی سے کام لینے کا مَیں عادی نہیں ہوں۔ حالانکہ اگرمیں ذاتی طور پر بھی کام لیتا تو میرا حق تھا مگر میں ہمیشہ اس کوشش میں رہتا ہوں کہ خود دوسروںکو فائدہ پہنچائوں مگر خود کسی کا ممنونِ احسان نہ ہوں۔ خلفاء کا تعلق ماں باپ سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ تم میںسے کوئی ایسا نہیں جس سے اس کے ماں باپ نے خدمات نہ لی ہوں گی۔ مگر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کسی سے ذاتی فائدہ اٹھانے یا خدمات لینے کی میں نے کوشش کی ہو۔ میرے پاس بعض لوگ آتے ہیں کہ ہم تحفہ پیش کرنا چاہتے ہیں، آپ اپنی پسند کی چیز بتادیں مگر میں خاموش ہوجاتا ہوں۔ آج تک ہزاروں نے مجھ سے یہ سوال کیا ہوگا مگر ایک بھی نہیں کہہ سکتا کہ میں نے اس کا جواب دیا ہو۔ میرا تعلق خداتعالیٰ سے ایسا ہے کہ وہ خود میری دستگیری کرتا ہے اور میرے تمام کام خود کرتا ہے۔
    بندے کا کام خداتعالیٰ کا امتحان لینا نہیں مگر میں نے کئی دفعہ ابراہیم کی طرح جوشِ محبت میں خداتعالیٰ سے اُس کی قدرتوں کے دیکھنے کی خواہش کی ہے اور اس نے میری خواہش پوری کی ہے۔ ایک دفعہ میں ایک سفر پرتھا اور ایسے علاقہ سے گزررہا تھا جہاں کوئی احمدی نہ تھا۔ غالباً نشانات کا ذکر تھا میں نے اُس وقت اللہ تعالیٰ سے کہا کہ مجھے اپنے نشان کے طور پر ایک روپیہ دلوادیں۔ اب یہ بات تو بالکل عقل کے خلاف تھی کہ میرے ساتھیوں میں سے کوئی مجھے ایک روپیہ دے دیتا۔ او راُس وقت یہ ذکر ہورہا تھا کہ اس علاقہ میں کوئی احمدی نہیں اور لوگ شدید مخالف ہیں۔ مگر اِدھر میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا اور اُدھر سامنے ایک گائوں کے لوگ کھڑے نظر آئے اور ہمارے کسی ساتھی نے کہا کہ اس گائوں میں سے نہیں گزرنا چاہئے یہ لوگ سخت مخالف ہیں اور نمبردار کئی دفعہ کہہ چکا ہے کہ یہاں اگر کوئی احمدی آیا تو اُسے جُوتے مروائوں گا اس لئے اس گائوں سے ہٹ کر چلنا چاہئے۔ مگر ہم اِس قدر قریب پہنچ چکے تھے کہ اورکوئی رستہ ہی نہ تھا، اس لئے چلتے گئے۔ ہمیں دیکھ کر وہ نمبردار آگے بڑھا۔ میرے ساتھی میرے اِردگِرد ہوگئے کہ ایسا نہ ہو حملہ کردے۔ مگر اُس نے بڑھ کر سلام کیا اور ایک روپیہ اپنی ہتھیلی پر رکھ کر بطور نذرانہ پیش کیا۔ میں مُسکرا پڑا اور وہ دوست گائوں سے باہر نکل کر اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تحمید کرنے لگے۔ ایک نے کہا اس کا روپیہ لینانہیں چاہئے تھا۔ میں نے کہا اِسی کا تولینا چاہئے تھا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ وہ روپیہ خداتعالیٰ کا اپنے بندہ کے ناز کو پورا کرنے کی علامت تھا۔ تو اللہ تعالیٰ کا معاملہ مجھ سے ایسا ہے کہ اسے کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ بیسیو ں مرتبہ میں نے اپنی آمد اور اخراجات کا حساب کیا ہے تو اخراجات آمد سے ہمیشہ دوگنا ہوئے ہیں اور پھر پتہ نہیں وہ کس طرح پورے ہوتے ہیں۔ پھر حساب کے معاملہ میں مَیں اس قدر محتاط ہوں کہ میں چیلنج کرتا رہتاہوں کہ جو چاہے میرے حساب کو دیکھ لے۔
    پچھلے دنوں ایک شخص کے اعتراضات کے جواب میں مَیں نے جو خطبہ پڑھا تو ایک غیرمبائع کا خط آیا کہ میں نے آپ کا خطبہ پڑھا ہے میں آپ کو مبارک باد دیتا ہوں کہ آپ کے حسابات ہمارے حسابات سے زیادہ صاف ہیں۔ ہم پر اعتراض ہوسکتے ہیں مگر آپ پر نہیں۔ مگر آخر میں یہ بھی لکھ دیا کہ تین سال سے جو فلاں شخص پیدا ہوا ہے، شاید اس سے ڈر کر یہ حساب رکھے گئے ہیں۔ میںنے اسے لکھا کہ تین سال سے نہیں بلکہ ۲۲ سال سے ہی ایسے ہیں جب سے میں خلیفہ ہوا ہوں تو اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت کو اپنے ساتھ دیکھ کر میں کسی انسان پر کوئی امید نہیں رکھ سکتا۔
    کئی لوگ کہتے ہیں کہ موٹر رکھا ہوا ہے۔ نادان نہیں جانتے کہ موٹر تو جلدی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کا ذریعہ ہے۔موٹر کی قیمت عرب کے گھوڑے کے برابر ہی ہوتی ہے۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کئی کئی گھوڑے رکھتے تھے۔ پھر گاڑی بھی تو سواری کا ذریعہ ہے۔ اگر موٹر سادگی کے خلاف ہے تو پھر گاڑی میں بھی سفر نہیں کرنا چاہئے۔ کامل سادگی اسی میں ہے کہ پیدل چلاجائے۔ میرا موٹر تو بہت سارا دینی کاموں کے کام آتا ہے۔ سلسلہ کے جومہمان یہاںآتے ہیں ان کے سواری کے کام یہی آتا ہے۔ پھر سلسلہ کے کاموں کیلئے لاہور وغیرہ جانا پڑے تو اِسی پر چلے جاتے ہیں۔اگر سلسلہ موٹر خریدتا اور میں اسے استعمال کرتا تب بھی کوئی اعتراض کی بات نہ تھی۔ اگر وائسرائے گاڑی میں سفر کرے یا ہوائی جہاز پر کرے تو کیا حکومت اس کا انتظام کرتی ہے یا نہیں؟ اس کیلئے سواری کاانتظام حکومت کے ہی ذمہ ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ پِھرے گا نہیں تو کام کیسے کرے گا۔ اس لئے اگر سلسلہ کی طرف سے خرید کردہ موٹر کومَیں استعمال کرتاتو بھی کوئی اعتراض کی بات نہ تھی ۔ لیکن حقیقت تویہ ہے کہ یہ میرے روپے سے خریدا گیا اور سلسلہ کے کام آتا ہے یہ ایک قابلِ تعریف بات تھی لیکن نادان اس پر بھی اعتراض کرتے ہیں ۔
    میںنے کئی دفعہ سنایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ سیدعبدالقادر جیلانی علیہ الرحمۃ ایک ایک ہزار دینار کا لباس پہنا کرتے تھے۔کسی نے اس پر اعتراض کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ نادان نہیںجانتا کہ میں اُس وقت تک کوئی کپڑا پہنتا ہی نہیں ہوںجب تک خدا تعالیٰ مجھے نہیںکہتا کہ اے عبدالقادر!تجھے میری ہی قسم کہ یہ کپڑا پہن۔ اور میں نہیں کھاتا جب تک خدا تعالیٰ مجھے نہیںکہتا کہ عبدالقادر! تجھے میری ہی قسم کھا۔ اور تم کو یاد ہوگا کہ ۱۹۳۳ء کی عیدالفطر کے خطبہ کے موقع پر میں نے اپنا ایک رؤیاسنایا تھا۔ میںنے دیکھا کہ ایک بڑا ہجوم ہے میں اس میں بیٹھا ہوں اور ایک دو غیر احمدی بھی میرے پاس بیٹھے ہیں ۔ کچھ لوگ مجھے دبارہے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص جو سامنے کی طرف بیٹھا تھا ، اُس نے آہستہ آہستہ میرا اِزار بند پکڑ کر گِرہ کھولنی چاہی۔میں نے سمجھا اِس کا ہاتھ اتفاقاً لگا ہے اور میں نے اِزار بند پکڑ کر اُس کی جگہ پر اٹکا دیا ۔ پھر دوبارہ اُس نے ایسی ہی حرکت کی اور میں نے پھر یہی سمجھا کہ اتفاقیہ اُس سے ایسا ہوا ہے۔تیسری دفعہ پھر اُس نے ایساہی کیا تب مجھے اُس کی بدنیتی کے متعلق شبہ ہوا اور میں نے اسے روکا نہیں جب تک کہ میں نے دیکھ نہ لیا کہ وہ بِالارادہ ایسا کر رہا ہے تا جب میں کھڑا ہوں تو ننگا ہو جائوں اور لوگوںمیں میری سُبکی ہو ۔تب میں نے اُسے ڈانٹا اور کہا تو جانتا نہیں مجھے اللہ تعالیٰ نے عبدالقادر بنایا ہے (یہ خواب جیسا کہ ظاہر ہے موجودہ فتنہ پربوضاحت دلالت کرتا ہے)۔
    پس میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ بالکل سید عبدالقادر جیلانی والا ہے۔وہ میرے لئے اپنی قدرتیں دکھاتاہے مگر نادان نہیں سمجھتا ۔ یہ زمانہ چونکہ بہت شُبہات کاہے اِس لئے میںتو اِس قدراحتیاط کرتا ہوںکہ دوسروں سے زیادہ ہی قربانی کروں۔ پس یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت کو دیکھتے ہوئے میں انسانوں پر انحصار نہیںکر سکتا اور تم بھی یہ نصرت اس طرح حاصل کرسکتے ہو کہ اطاعت کا اعلیٰ نمونہ دکھائو ۔اور ایسا کرنے میں صرف خلیفہ کی اطاعت کا ثواب نہیں بلکہ موعود خلیفہ کی اطاعت کا ثواب تمہیںملے گا۔ اور اگر تم کامل طور پر اطاعت کرو تو مشکلات کے بادل اُڑ جائیں گے، تمہارے دشمن زیر ہو جائیں گے اور فرشتے آسمان سے تمہارے لئے ترقی والی نئی زمین اور تمہاری عظمت و سطوت والا نیا آسمان پیدا کریں گے۔ لیکن شرط یہی ہے کہ کامل فرمانبرداری کرو۔ جب تم سے مشورہ مانگا جائے مشورہ دو ورنہ چُپ رہو ، ادب کا مقام یہی ہے۔ لیکن اگر تم مشورہ دینے کے لئے بیتاب ہو بغیر پوچھے بھی دے دو مگر عمل وہی کرو جس کی تمہیں ہدایت دی جائے۔ہاں صحیح اطلاعات دینا ہر مومن کا فرض ہے اور اس کیلئے پوچھنے کاانتظارنہیں کرنا چاہئے ۔ باقی رہا عمل اِس کے بارہ میں تمہارا فرض صرف یہی ہے کہ خلیفہ کے ہاتھ اور اُس کے ہتھیار بن جائو ، تب ہی برکت حاصل کر سکو گے اور تب ہی کامیابی نصیب ہوگی۔ اللہ تعالیٰ تم کو اِس کی توفیق بخشے ۔
    (خطباتِ محمود جلد۱۸ صفحہ۳۶۶ تا۳۸۰)
    ۱؎ بخاری کتاب الجھاد باب یقاتل مِن وَّراء الامام (الخ)
    ۲؎ النور: ۵۶
    ۳؎ بخاری کتاب الشروط باب الشروط فی الجھاد (الخ)
    ۴؎ سیرت ابن ہشام جلد۳ صفحہ ۳۳۲۔۳۳۳ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء
    ۵،۶؎ بخاری کتاب الشروط باب الشروط فی الجھاد (الخ)
    ۷؎ یوحنا باب ۱۸ آیت۱۰،۱۱ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء
    ۸؎ سیرت ابن ہشام جلد۴ صفحہ۸۷ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

    دُنیا انبیاء اور خلفاء کے ذریعہ ہی خداتعالیٰ کے
    نور کا مشاہدہ کرتی ہے
    (فرمودہ ۱۷ ؍ ستمبر ۱۹۳۷ء )
    تشہّد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    گزشتہ اتوار کی رات میں نے ایک عجیب رئویا دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک بڑا جلسہ گاہ ہے مگر اس رنگ کا نہیں جیساکہ ہمارا جلسہ گاہ ہوا کرتا ہے بلکہ جیساکہ تاریخوں میں ہم پڑھتے ہیں کہ روم میں بڑے بڑے قومی اجتماعوں کیلئے ایمفی تھیٹر (AMPHI THEATRE) بنائے جایا کرتے تھے اسی رنگ کا وہ جلسہ گاہ ہے۔ یعنی جو خطیب ہے اُس کے سامنے مربع یا مستطیل شکل میں جلسہ گاہ نہیں بلکہ ہلالی شکل میں ہے۔ جس طرح گھوڑے کا نعل بیچ میں سے خالی ہوتا اور قریباً نصف دائرہ یا اس سے کچھ زیادہ بناتا ہے اسی طرح ایک وسیع میدان میں جونصف میل یا میل کے قریب ہے اس طرح بینچ لگے ہوئے ہیں۔ جس طرح پہلے دن کا چاند ہوتا ہے ایک گول دائرہ ہے جو دور فاصلہ سے شروع ہوکر دونوں کناروں سے آگے بڑھنا شروع ہوتا ہے۔ اور جس طرح چاند کی ایک طرف خالی نظر آتی ہے اسی طرح ایک طرف اس دائرہ کی خالی ہے اور وہاں لیکچرار یا خطیب کی جگہ ہے۔ اس وسیع میدان میں کہ لوگوں کی شکلیں بھی اچھی طرح پہچانی نہیں جاسکتیں بہت سے لوگ لیکچر سننے کیلئے بیٹھے ہیں اور جو درمیانی جگہ خطیب کی ہے جہاں چاند کے دونوں کونے ایک دوسرے کے قریب ہوجاتے ہیں وہاں میں کھڑا ہوں اور اس وسیع مجمع کے سامنے ایک تقریر کررہا ہوں۔ وہ تقریر الوہیت، نبوت اور خلافت کے متعلق اور ان کے باہمی تعلقات کی نسبت ہے۔ گو یوں بھی میری آواز خدا تعالیٰ کے فضل سے جب صحت ہو تو بہت بلند ہوتی ہے اور دور دور سنائی دیتی ہے۔ لیکن وہ دائرہ اتنا وسیع ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ مجھ سے دُگنی آواز والا شخص بھی اپنی آواز اُن لوگوں تک نہیں پہنچاسکتا۔ مگر رئویا میں میری آواز اتنی بلند ہوجاتی ہے کہ میں محسوس کرتا ہوں کہ اس وسیع دائرہ کے تمام سروں تک میری آواز پہنچ رہی ہے۔ اسی ضمن میں مَیں مختلف آیاتِ قرآنیہ سے اپنے مضمون کو واضح کرتا ہوں اور بعض دفعہ تقریر کرتے کرتے میری آواز اتنی بلند ہوجاتی ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ دنیا کے سِروں تک پہنچ رہی ہے۔ جب میں اپنی تقریر کے آخری حصہ تک پہنچتا ہوں تو اُس وقت میری حالت اِس قسم کی ہوجاتی ہے جس طرح کوئی شخص جذب کی حالت میں آجاتا ہے۔ میںنے اُس وقت الوہیت، نبوت اورخلافت کے متعلق ایک مثال بیان کرکے اپنے لیکچر کوختم کیا اور اُس وقت میری آواز میں ایسا جلال پیدا ہوگیا کہ اسی کے اثر سے میری آنکھ کھل گئی۔ مجھے صرف وہ مثال ہی یاد رہ گئی ہے باقی مضمون بھول گیا ہے۔ وہ مثال میں نے رئویامیں یہ دی تھی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے انبیاء اور اس کے خلفاء کے تعلق کی مثال چوکٹھے میں لگے ہوئے آئینہ کی ہوتی ہے۔ آئینہ کا کام تو درحقیقت درمیانی شیشہ دیتا ہے مگر اس شیشہ کے ساتھ کچھ اور چیزیں بھی لگی ہوئی ہوتی ہیں۔ جیسے آئینہ کے پیچھے قلعی ہوتی ہے اور اس کے اِردگرد چوکٹھا ہوتا ہے ۔ لیکن دراصل جو چیز ہماری شکل ہمیںدکھاتی ہے اور جو چیز ہمارے عیب اور صواب کے متعلق ہماری راہ نمائی کرتی ہے، وہ آئینہ ہی ہے۔ نہ وہ قلعی جو اس کے پیچھے لگی ہوئی ہوتی ہے وہ اپنی ذات میں شکل دکھاسکتی ہے اور نہ وہ چوکٹھا جو اس کے اِردگرد لگا ہوتا ہے وہ ہمارے عیب اور صواب کے متعلق ہمیں کوئی ہدایت دے سکتاہے۔ لیکن آئینہ بھی عیب اور صواب ہمیں تبھی بتاتا ہے جب اُس کے پیچھے قلعی کھڑی ہو۔ اور وہ محفوظ بھی اُسی وقت تک رہتا ہے جب تک وہ چوکٹھے میں لگا رہتا ہے۔ چنانچہ چوکٹھوں میں لگے ہوئے آئینے لوگ اپنے میزوں پر رکھ لیتے ہیں اور اس طرح وہ ٹوٹنے سے محفوظ رہتے ہیں۔ مگر جب ہم اس کے چوکٹھے کو اُتار دیں اور اُس کی قلعی کو کھرچ دیں تو آئینہ بلحاظ روشنی کے تو آئینہ ہی رہتا ہے مگر پھر وہ ہماری شکل ہمیں نہیں دکھاتا۔ اور اگر دکھاتا ہے تو نہایت دُھندلی سی۔ جیسے مثلاً (یہ مثال میں نے رئویا میں نہیں دی۔ صرف سمجھانے کیلئے بیان کررہا ہوں) دروازوں میں وہی شیشے لگے ہوئے ہوتے ہیں، کھڑکیوں میں بھی وہی شیشے لگے ہوئے ہوتے ہیں جو آئینوں میں ہوتے ہیں مگر ان میں سے شکل نظر نہیں آسکتی کیونکہ ان کے پیچھے قلعی نہیں لگی ہوتی۔ اسی طرح جن شیشوں کے چوکٹھے اُتر جاتے ہیں رئویا میں ہی میَں کہتا ہوں کہ ان شیشوں کا محفوظ رکھنا مشکل ہوتا ہے اور وہ ٹوٹ جاتے ہیں۔ تو آئینہ اپنے اندرونی جوہر ظاہر کرنے کیلئے ایک ایسی چیز کے آگے کھڑا ہوتا ہے جو اپنی ذات میں تو چہرہ دکھانے والی نہیں مگر جب وہ آئینہ سے مل جاتی ہے تو آئینہ میں شکل نظر آنے لگ جاتی ہے اور وہ قلعی ہے۔ اسی طرح اس کا چوکٹھا اسے محفوظ رکھتا ہے۔
    تومیں رئویا میں یہ مثال دے کر کہتا ہوں کہ دیکھو اللہ تعالیٰ کی مثال ایک آئینہ کی سی ہے اور انسان کی پیدائش کا اصل مقصد اسی کو حاصل کرنا ہے۔ وہی ہے جو ہمیں علم دیتا ہے، وہی ہے جو ہمیں عرفان دیتا ہے، وہی ہے جو ہمیں عیب سے آگاہی بخشتا ہے، وہی ہے جو ہمیں ثواب کی باتوں کا علم دیتا ہے لیکن وہ اپنی قدیم سنت کے مطابق اُس وقت تک دنیا کوعیب اور صواب سے آگاہی نہیں بخشتا جب تک اُس کے پیچھے قلعی نہیں کھڑی ہوجاتی جو نبوت کی قلعی ہے۔ یعنی وہ ہمیشہ اپنے وجود کو نبیوں کے ہاتھ سے پیش کرواتا ہے۔ جب نبی اپنے ہاتھ میں لے کر خداتعالیٰ کے وجود کو پیش کرتا ہے تبھی دنیا اُس کو دیکھ سکتی ہے ورنہ نبوت کے بغیر خداتعالیٰ کی ہستی اتنی مخفی اور اتنی وراء الوراء ہوتی ہے کہ انسان صحیح اور یقینی طور پر اس کا اندازہ ہی نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ آسمانوں میں بھی ہے، اللہ تعالیٰ زمینوں میں بھی ہے، اللہ تعالیٰ دریائوں میں بھی ہے، اللہ تعالیٰ پہاڑوں میں بھی ہے، اللہ تعالیٰ سمندروں میں بھی ہے، اللہ تعالیٰ خشکیوں میں بھی ہے۔ غرض ہر ایک ذرّہ ذرّہ سے اس کا جلال ظاہر ہورہا ہے مگر باوجود اس کے کہ دنیا کے ذرّہ ذرّہ میں اس کا جلال پایا جاتا ہے بغیر انبیاء کے دنیا نے کب اِس کو دیکھا۔ انبیاء ہی ہیں جو خداتعالیٰ کا وجود دنیا پر ظاہر کرتے ہیں۔ لیکن انبیاء خداتعالیٰ کو بناتے تو نہیں، وہ تو ازل سے موجود ہے پھر وجہ کیا ہے کہ انبیاء کے آنے پر دنیا خداتعالیٰ کو دیکھنے لگ جاتی ہے اور پہلے نہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ جس طرح آئینہ کے پیچھے قلعی کاوجود ضروری ہوتا ہے اسی طرح انبیاء کو خداتعالیٰ نے اپنے ظہور کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔ پھر چوکٹھا جو ہوتا ہے وہ آئینہ کی حفاظت کا ذریعہ ہوتا ہے اور وہ بھی نبوت اور خلافت کا مقام ہے یعنی انبیاء اور ان کے خلفاء اللہ تعالیٰ کے وجود کو دنیا میں قائم رکھتے ہیں۔ خود اپنی ذات میں اللہ تعالیٰ حیی وقیوم ہے لیکن اُس نے اپنی سنت یہی رکھی ہے کہ وہ اپنے وجود کو بعض انسانوں کے ذریعہ قائم رکھے۔ ان وجودوں کو مٹادو ساتھ ہی خداتعالیٰ کا ذکر بھی دنیا سے مٹ جائے گا۔تم ساری دنیا کی تاریخیں پڑھ جائو (اب یہ جو اگلا حصہ ہے یہ خواب کا نہیں بلکہ بطور تشریح میں خود بیان کررہا ہوں) تمہیں کہیں یہ نظر نہیں آئے گا کہ اللہ تعالیٰ کا وجود بغیر انبیاء کے دنیا میں قائم ہوا ہو۔ حالانکہ انبیاء بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں او رخداتعالیٰ کے کلام سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود ہر وقت موجودہے اور اُس کا نور ہر چیز سے ظاہر ہے۔ مگر باوجود اس کے کہ اُس کا نور دنیا کی ہر چیز سے ظاہر ہورہا ہے، پھر بھی انبیاء ہی ہیں جو اسے ایسی طرز پر ظاہر کرتے ہیں کہ لوگ اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھاسکتے ہیں۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے کیا خدا نہیں تھا؟ خدا اُس وقت بھی اسی طرح آسمان سے ظاہر ہورہا تھا، اسی طرح زمین سے ظاہر ہورہا تھا، اسی طرح دریائوں سے ظاہر ہورہا تھا، اسی طرح فضا سے ظاہر ہورہاتھا، اسی طرح پاتال سے ظاہر ہورہا تھا جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ظاہر ہوا۔ پھر پہلے زمانہ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں فرق کیا تھا؟ فرق یہی تھا کہ اُس وقت اللہ تعالیٰ کے نور کے ظہور کیلئے کوئی ذریعہ موجود نہیں تھا۔ ایک آئینہ تھا مگر اس آئینہ کے ساتھ وہ قلعی نہیں تھی جو اسے روشن کرکے لوگوں کی نظروں کے قابل بنادیتی۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شیشے کو اپنے ہاتھ میں پکڑا تو جس طرح آئینہ کے پیچھے جب قلعی کھڑی کردی جاتی ہے تو آئینہ کو ایک خاص شکل مل جاتی ہے اور اس میں دوسروں کی بھی شکلیں نظر آنے لگ جاتی ہیں، اسی طرح ساری دنیا کو خدا نظر آنے لگ گیا اور اس کے وجود کا اسے احساس ہوگیا ورنہ شیشہ جتنا زیادہ مصفّٰی ہو اُتنا ہی لوگوں کو کم نظر آیا کرتا ہے۔ کئی دفعہ جب اعلیٰ درجہ کے شیشے دروازوں سے لگائے جاتے ہیں تو بعض دفعہ لوگ ان دروازوں سے ٹھوکر کھاجاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ رستہ کھلا ہے حالانکہ وہ آئینہ ہوتاہے اور رستہ بندہوتا ہے۔ رات کے وقت جب کمرہ میں روشنی ہو تو اُس وقت انسان کیلئے یہ معلوم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ منافذ میں شیشہ موجود ہے یا نہیں۔ بعض دفعہ شیشہ لگا ہوا ہوتا ہے اور انسان اس کے بہت زیادہ مصفٰے ہونے کی وجہ سے سمجھتا ہے کہ شیشہ میں کوئی نہیں۔ اور بعض دفعہ شیشہ نہیں ہوتا اور وہ خیال کرتا ہے کہ شیشہ ہے۔ پس شیشہ جتنا زیادہ مصفّٰی ہو اُتنا ہی لوگوں کو کم نظر آتا ہے۔ مگر انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ خداتعالیٰ کا وجود جو نہایت ہی مخفی اور وراء الوراء ہے اسی طرح لوگوں کو نظر آنے لگ جاتا ہے جس طرح شیشہ کے پیچھے جب قلعی کھڑی کردی جائے تو وہ شکلیں دکھانے کے قابل ہوجاتا ہے۔
    یہ مضمون ہے جو رئویا میں میں نے بیان کیا اور اسی مثال پر میری تقریر ختم ہوگئی۔ میں نے رئویا میں اِس مضمون کے متعلق کئی آیات بھی بیان کیں مگر جاگنے پر وہ ذہن سے اُتر گئی تھیں۔ اس پر میں نے غور کرنا شروع کیا کہ وہ آیتیں کون سی تھیں جو میں رئویا میں اس مضمون کو ثابت کرنے کیلئے پڑھ رہا تھا اور جن سے اس مضمون کا میں نے استدلال کیا۔ مگر باوجود اس کے کہ میں نے کافی غور کیا مجھے وہ آیتیں سمجھ میں نہ آئیں کیونکہ وہ بھول چکی تھیں۔ صرف اس تقریر کا آخری حصہ یاد رہا تھا جو یہ تھا کہ انبیاء اور خلفاء کی اللہ تعالیٰ سے وابستگی ایسی ہی ہے جیسے شیشے کے ساتھ چوکٹھا ہوتا ہے اور اس کے پیچھے قلعی لگی ہوئی ہوتی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے وجود کو دنیا میں قائم رکھتے ہیں۔ ان کے ذریعہ خدا ظاہر ہوتا ہے اور انہی کے ذریعہ اس کا وجود عالَم میں محفوظ رہتا ہے۔ غرض میں نے جن جن امورکو رئویا میں بیان کیا تھا اُن پر میں نے پھر غور کیا مگر مجھے وہ باتیں یاد نہ آئیں۔ گو ابھی جبکہ میں یہ خطبہ پڑھ رہا ہوں مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک الہام یاد آگیا جس میں اِسی مضمون کو بیان کیا گیا ہے اور جس کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی یہی تشریح کی ہے۔ گو الفاظ اس کے اور ہیں مگر مفہوم یہی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک الہام ہے جس میں اللہ تعالیٰ آپ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے یَاقَمَرُ یَا شَمْسُ اَنْتَ مِنِّیْ وَ اَنَا مِنْکَ ۔۱؎ یعنی اے سورج اور اے چاند! تُو مجھ سے ہے اورمیں تجھ سے ہوں۔ اب سورج اور چاند آپس میں ایک خاص نسبت رکھتے ہیں۔ سورج براہِ راست روشنی ڈالتا ہے لیکن چاند براہِ راست روشنی نہیں ڈالتا بلکہ سورج سے روشنی لے کر دنیا کی طرف پہنچاتا ہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام لکھتے ہیں یَاقَمَرُ یَا شَمْسُ اَنْتَ مِنِّیْ وَ اَنَا مِنْکَ میں ایک دفعہ خدانے مجھے سورج قرار دیا ہے اور ایک دفعہ مجھے چاند قرار دیا ہے اور فرماتے ہیں کہ جب خداتعالیٰ نے مجھے سورج قرار دیا تو اپنے آپ کو چاند قرار دیا ہے اور جب مجھے چاند قرار دیا ہے تو اپنے آپ کو سورج قرار دیا ہے۔ اب یہ جو بات ہے کہ خدا سورج ہے اور بندہ چاند، یہ بالکل واضح ہے اور ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ بندہ اسی طرح خدا کے نور سے لیتا اور اسے دنیا میں پھیلاتا ہے جس طرح چاند سورج سے نور لیتا اور اسے دنیا میں پھیلاتا ہے۔ مگر یہ جو خدا نے فرمایا کہ تُو سورج ہے اور خدا کی ذات بمنزلہ چاند ہے یہ بات بظاہر حقیقت سے دور معلوم ہوتی ہے۔ بھلا بندے کی کیا حقیقت ہے کہ وہ سورج کہلائے اور خدا اس کے مقابلہ میں چاند کہلائے۔ توچونکہ یہ بات بظاہر قابلِ اعتراض نظر آتی تھی اِس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود دنیا سے مخفی ہوتا ہے اور جب وہ ظاہر ہوتا ہے تو انبیاء کے ذریعہ ہی ظاہر ہوتا ہے۔ پس چونکہ خداتعالیٰ کے نور کا ظہور انبیاء کے ذریعہ ہوتا ہے اس لئے دنیا والوں کی نگاہ میں نبی سورج اور خدا چاند ہوتا ہے۔ کیونکہ جب نبی آتا ہے تب ہی خدا کا چہرہ انہیں نظر آنے لگتا ہے۔ اس سے پہلے وہ پوشیدہ ہوتا ہے۔ پس گو حقیقتاً خدا ہی سورج ہے اور بندہ چاند ہے مگر دنیا والے جن کی نگاہیں کمزور ہوتی ہیں اور جو نبی کے ذریعہ خدا کے جلال اور اس کے جمال کا مشاہدہ کرتے ہیں ان کے لحاظ سے نبی سورج اور خدا چاند ہوتا ہے۔ جیسے سورج کی روشنی جب چاند پر پڑے تب وہ چمکتا ہے نہ پڑے تو چاند تاریک رہتا ہے۔ اسی طرح جب تک نبی کا وجود خداتعالیٰ کو ظاہر نہ کرے وہ مخفی رہتا ہے۔ مگر جب نبوت کی روشنی الوہیت پر پڑتی ہے تو خدا کا وجود ہر ایک کو نظر آنے لگ جاتا ہے۔
    پس دنیا کے حالات کے مطابق تمثیلی زبان میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ بندہ سورج ہے اور خدا چاند۔ یہ بھی ویسی ہی مثال ہے جیسی میں نے رئویا میں دی اور اس سے بھی یہی امر ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی روشنی اور اس کے جلال کو ظاہرکرنے کا ذریعہ انبیاء و خلفاء اور اولیاء و صلحاء ہوتے ہیں۔ زمین و آسمان سے خدا کا وجود حق الیقین کے طور پر ثابت نہیں ہوسکتا۔ جیسے براہین احمدیہ حصہ پنجم میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس پر مفصّل بحث کی ہے اور بتایا ہے کہ زمین و آسمان کی پیدائش پر غور کرکے انسان جس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ اس زمین و آسمان کا کوئی خالق ہونا چاہئے۔ مگر یہ کہ وہ ہے اس کا پتہ زمین و آسمان سے نہیں لگتا۔ گویا یہ نتیجہ صرف سکنے سے تعلق رکھتا ہے، ہے سے نہیں۔ یعنی یہ تو ہوسکتا ہے کہ انسان اس عالَم کی صنعتوں پر نظر کرکے صانع کی ضرورت محسوس کرے مگر ضرورت کا محسوس کرنا اور شَے ہے اور اس درجہ عین الیقین تک پہنچنا کہ جس خدا کی ضرورت تسلیم کی گئی ہے وہ درحقیقت موجود بھی ہے یہ اَور بات ہے۔ اسی لئے آپ نے بتایا کہ جتنے فلسفی عقلی ذریعہ سے خداتعالیٰ کو معلوم کرنا چاہتے ہیں وہ ٹھوکر کھاتے اور بِالآخر دہریہ بن جاتے ہیں اور زمین و آسمان کی مصنوعات پر غور کرنا انہیں کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچاسکتا۔ کیونکہ اس غوروفکر کا نتیجہ صرف اس حد تک نکلتا ہے کہ خدا کا وجود ہونا چاہئے۔ یہ نتیجہ نہیں نکل سکتا کہ خدا کا وجود ہے۔ آپ فرماتے ہیںجب وہ زمین کو دیکھتے ہیں تو اسے دیکھ کر یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اس کا کوئی پیدا کرنے والا ہونا چاہئے۔ جب وہ آسمان کو دیکھتے ہیں تب بھی وہ یہی نتیجہ نکالتے ہیں کہ اس کا کوئی پیدا کرنے والا ہونا چاہئے۔ مگر یہ وہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ پیدا کرنے والا یقینی طور پرموجود ہے اور اس طرح پھر بھی شبہ رہ جاتا ہے اور انسان خیال کرتا ہے کہ ممکن ہے کوئی مخفی قانون ایسا ہو جس کے ماتحت یہ کارخانۂ عالَم آپ ہی آپ چل رہاہو۔ جس طرح آجکل کے فلسفی کہتے ہیں کہ اس دنیا کی پیدائش میں خود ہی ایک ایسا قانون مخفی ہے جس کی وجہ سے یہ تمام دنیا چل رہی ہے، کسی خاص وجود کو تسلیم کرنے کی ضرورت نہیں۔ غرض آپ نے اِس بات پر بحث کی اور یہ ثابت فرمایا ہے کہ فلسفہ اور عقلِ انسانی خداتعالیٰ کے متعلق انسان کو ’’ہونا چاہئے‘‘ کی حد تک ہی رکھتے ہیں مگر الہامِ الٰہی نبوت کے ذریعہ ’’ہے‘‘ ثابت کرتاہے۔ ہم جب زمین کو دیکھتے ہیں ، ہم جب آسمان کو دیکھتے ہیں تو انہیں دیکھ کر یہ کہتے ہیں کہ ان کو بنانے والا کوئی ہونا چاہئے او رہماری دلیل ختم ہوجاتی ہے۔ مگر جب خدا ہمیں مخاطب کرتا اور فرماتا ہے اِنِّیْ اَنَااللّٰہُ یقینا مَیں ہی خدا ہوں۔ تو یہ اب ’’ہے‘‘ بن گیا اور ’’ہونا چاہئے‘‘ کی حد سے اس نے ہمیں نکال دیا۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کسی گھر میں آگ جل رہی ہو، چولہے پر ہنڈیا چڑھی ہوئی ہو، ہنڈیا کے اُبلنے کی آواز آرہی ہو تو ہم باہر سے اس آواز کو سُن کر یہ نتیجہ نکالیں کہ اس گھر کا کوئی مالک ہونا چاہئے کیونکہ ہم غور اور فکر کرنے کے بعد فوراً اس نتیجہ پر پہنچ جائیں گے کہ کوئی شخص ہوگا جو یہ ہنڈیا پکارہا ہوگا، کوئی شخص ہوگا جس نے آگ جلائی ہوگی اور کوئی شخص ہوگا جو گوشت وغیرہ لایا ہوگا مگر اِس قدر نتائج نکالنے کے بعد بھی ہم اِسی حد تک پہنچیں گے کہ گھر کا کوئی مالک اندر ہونا چاہئے۔ اس نتیجہ پر ہم نہیں پہنچ سکتے کہ وہ شخص اندر ہے بھی۔ ممکن ہے کوئی کہے اس سے زیادہ وضاحت اور کیا ہوسکتی ہے۔ جب آگ جل رہی ہے، ہنڈیا چولہے پر چڑھی ہے ، اس کے اُبلنے او رجوش کھانے کی آواز آرہی ہے تو اس سے ہم یہ نتیجہ کیوں نہیں نکال سکتے کہ اندر واقعہ میں کوئی شخص موجود ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان تمام قرائن کے باوجود ہم یقینی طور پر یہ ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ اندر کوئی مالک موجود ہے۔ فرض کرو اندر واقعہ میں کوئی شخص ہو اور اس نے ہنڈیا چولہے پر چڑھائی ہو مگر ہنڈیا چولہے پر رکھتے ہی وہ مرگیا ہو اور ہم یہ سمجھتے ہوں کہ اندر وہ موجود ہے حالانکہ وہ مرچکا ہو۔ کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی بیٹھے بیٹھے دل کی حرکت بندہوجاتی ہے اور وہ اُسی وقت مرجاتے ہیں۔ پس ممکن ہے وہ دل کی حرکت بند ہوجانے کی وجہ سے مرا پڑا ہو۔ یا ممکن ہے اسے کسی سانپ نے کاٹا ہو اور وہ مرچکا ہو۔ یا بعض دفعہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ہنڈیا رکھنے کے بعد اسے کوئی ضروری کام یاد آگیا ہو اور وہ گھر چھوڑ کر اُس وقت باہر گیا ہوا ہو۔ مثلاً فرض کرو اُس نے ہنڈیا چڑھائی ہو اور اس کے معاً بعد ایک شخص اس کے پاس دَوڑتا ہوا آیا ہو اور اس نے کہا ہو کہ تمہارا بیٹا ڈوب گیا ہے اور وہ اسی وقت اس کے ساتھ بھاگ کھڑا ہوا ہو اَور ہنڈیا اس نے چولہے پر ہی رہنے دی ہو۔ تو چونکہ ایسی کئی صورتیں ممکن ہیں اس لئے باوجود ہنڈیا کی آواز سننے کے اور باوجود آگ کوجلتا دیکھنے کے ہم اگر یہ نتیجہ نکالیں کہ اندر کوئی شخص واقعہ میں موجود ہے تو ہم اس نتیجہ کے نکالنے میں غلطی پر ہوسکتے ہیں۔ مگر جب حالات یہ نہ ہوں بلکہ جونہی ہم کسی کے دروازہ پر پہنچیں گھر کا مالک اندر سے باہر نکل آئے اور ہمیں کہے کہ آپ مسافر ہیں، تھکے ماندے آئے ہیں، تھوڑی دیر میرے پاس آرا م کیجئے۔ تو اس شخص کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ہم ’’ہونا چاہئے‘‘ کی حد سے نکل کر ’’ہے‘‘کی حد میں داخل ہوجاتے ہیں۔ تو نبوت اور الہام سے خدا کا وجود ’’ہے‘‘ کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے لیکن باقی دلیلوں سے ہم اس کے متعلق صرف ’’ہونا چاہئے‘‘ کی حد تک پہنچتے ہیں۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ الہام بھی اسی مضمون کی تائید کرتا ہے مگریہ خیال بھی مجھے اِسی وقت آیا ہے پہلے نہیں آیا۔
    بہرحال رئویا سے بیداری کے بعد مَیں غور کرتا رہا اور سوچتا رہا کہ اس مضمون پر میں نے اور کیا کیا باتیں بیان کی تھیں مگر مجھے کوئی بات یاد نہ آئی۔لیکن اس رئویا کا اثر میری طبیعت پر گہر ارہا اور کئی دفعہ مجھے یہ خیال آیا کہ وہ کون سی آیات تھیں جو رئویا میں مَیں نے پڑھیں اور جن میں یہ مضمون بیان کیا گیا ہے مگر قرآن کریم کی کوئی آیت میرے ذہن میں نہ آئی۔ اس کے دوسرے یا تیسرے دن یعنی پیر یا منگل کو مجھے اب یہ اچھی طرح یاد نہیں رہا کہ کونسا دن تھا بہرحال ان میں سے کسی دن نماز ظہر یا عصر (یہ بھی مجھے صحیح طور پر یاد نہیں) میں پڑھارہا تھا اور اُس وقت مجھے خواب کا خیال بھی نہیں تھا۔ گویا اُس وقت وہ میرے ذہن سے بالکل اُتری ہوئی تھی کہ جب میں نے رکوع کے بعد قیام کیا اور پھر سجدہ میں جانے کیلئے اَللّٰہُ اَکْبَرُکہا تو جس وقت اوپر سے نیچے سجدہ کی طرف جانے لگا تو مَعًا القاء کے طور پر میرے دل پر ایک آیت نازل ہوئی اور مجھے بتایا گیا کہ یہ وہ آیت ہے جو اس مضمون کی حامل ہے جو خواب میں بتایا گیا ہے۔ اور پھر بجلی کی طرح اس طرح وہ وسیع مضمون میرے سامنے آگیا کہ اس کی وجہ سے نہ صرف وہ آیت بلکہ سورۃ کی سورۃ ہی حل ہوگئی۔ اور اس کی ترتیب جو میں پہلے سمجھتا تھا اس کے علاوہ ایک ایسی ترتیب مجھ پر کھول دی گئی کہ مجھے یوں معلوم ہونے لگا کہ اس سورۃ میں ہر آیت اس طرح پروئی ہوئی ہے جس طرح ہار کے موتی پروئے ہوئے ہوتے ہیں اور کوئی آیت اس سورۃ میں ایسی نہ رہی جس کے متعلق یہ شبہ ہوسکے کہ اس کا پہلی آیتوں یا بعد کی آیتوں سے کیا تعلق ہے۔ وہ سورۃ جس کی طرف میرا ذہن منتقل کیا گیا سورئہ نور ہے اور وہ آیت جس کے متعلق مجھے بتایا گیا کہ اس میں الوہیت ، نبوت اور خلافت کے تعلقات پر بحث کی گئی ہے ہے۔
    قرآن کریم کی تفہیم کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کا یہ معاملہ میرے ساتھ کئی دفعہ ہوا ہے کہ ایک سیکنڈ میں بعض دفعہ ایک وسیع مضمون القاء کیا جاتا ہے اور الہام کے طور پر وہ میرے دل پر ایک نکتہ کی شکل میں نازل کیا جاتا ہے۔ پھر وہ نکتہ نازل ہوکر یوں پھیل جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے بیسیوں مطالب میرے دل پر حاوی ہوجاتے ہیں اسی طرح اُس دن میرے ساتھ ہوا۔ پہلے بھی اپنی بعض تقریروں میں میں ایسے نکات بیان کرچکا ہوں مثلاً ۲؎ کی تفسیر اور اس کے مطالب ایک سیکنڈ کے اندر میرے دل پر نازل ہوئے تھے اور میں نے کسی جلسہ سالانہ کے موقع پر انہیں بیان کردیا تھا۔ اسی طرح اور کئی مواقع پر اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا۔ اُس دن بھی نماز میں معاً مجھے القاء کیا گیا کہ وہ آیت ہے اور اس کے ساتھ ایسے عظیم الشان مطالب کھولے گئے جو پہلے میرے وہم اور گمان میں بھی نہیں تھے۔ اگرچہ اس سارے مفہوم کوسمجھنے کیلئے اس ساری سورۃ کو ہی سمجھنا ضروری ہے۔ کیونکہ ساری سورۃ کے مطالب کو آپس میں اس طرح جوڑدیا گیا ہے کہ ایک بات کی تکمیل دوسری بات کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ مگر چونکہ خطبہ میں اتنی لمبی تشریح نہیں کی جاسکتی اس لئے میں صرف اس آیت کو لے لیتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ یہ مضمون کس عمدگی کے ساتھ اس آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۳؎ یہ آیتیں سورئہ نور کی ہیں اور مجھے بتایا گیا ہے کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے خلافت، نبوت اور اللہ تعالیٰ کا تعلق بیان کیا ہے اور یہ بات میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے قطعی اور یقینی دلائل سے ثابت کروں گا کہ وہ شخص جو قرآن کریم کو بے ترتیب،بے ربط اور بے جوڑ کتاب نہ کہتا ہو، وہ اس بات پرمجبور ہوگا کہ اس مضمون کو مانے جو میں بیان کررہا ہوں۔ کیونکہ اس مضمون سے ان تمام آیات بلکہ تمام سورۃ کا آپس میں ایسا ربط قائم ہوجاتا ہے کہ اس کے بغیر ان آیات کے کوئی معنے ہی نہیں بنتے۔ مگر جیساکہ میں بیان کرچکا ہوں کہ اِس مضمون کو خطبہ کی وجہ سے اختصار کے ساتھ بیان کروں گا اور چونکہ اِن دنوں خلافت کا مسئلہ خصوصیت سے زیر بحث ہے اس لئے ان آیات کی تشریح سے خلافت کا مسئلہ بھی آسانی سے سمجھ میں آجائے گا۔
    اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں یہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ آسمان اور زمین کا نور ہے ۔ اور اس کے نورکی مثال ایک طاقچے کی سی ہے۔ مشکوٰہ اُس طاقچے کو کہتے ہیں جو دیوار میں بنا ہوا ہو اور جس کے دوسری طرف سوراخ نہ ہو۔ دیوار میں دو طرح کے طاق بنائے جاتے ہیں۔ ایک کھڑکی کی طرح کا ہوتا ہے یعنی اُس کے آرپار سوراخ ہوتا ہے کیونکہ کھڑکی کی غرض باہر دیکھناہوتی ہے۔ یا مثلاً روشندان رکھنے کیلئے طاقچہ کی طرح خلاء رکھا جاتا ہے۔ اس کے بھی آرپار سوراخ ہوتا ہے کیونکہ روشندان سے یہ غرض ہوتی ہے کہ ہوااور روشنی کی آمدو رفت رہے۔ مگر پُرانی عمارتوں خصوصاً مساجد میں اس قسم کے طاقچے بنائے جایا کرتے تھے جن میں چراغ یا قرآن شریف رکھے جاتے تھے اور جن کے دوسری طرف سوراخ نہیں ہوتا تھا۔ اس مسجد میں بھی بعض طاقچے بنے ہوئے ہیں بعض تو بڑے بڑے ہیں جو قرآن شریف رکھنے کیلئے ہیں اور ایک دو چھوٹے طاقچے ہیں جو لیمپ رکھنے کیلئے بنائے گئے ہیں۔ میں نے شاہی عمارتوں میں بھی دیکھا ہے کہ ان میں چھوٹے چھوٹے طاقچے بنے ہوئے ہیں جو دراصل دیا رکھنے کے لئے بنائے جایا کرتے تھے۔ تو مشکوٰۃ اُس طاقچہ کو کہتے ہیں کہ جس کے دوسری طرف سوراخ نہیں ہوتا اور وہ لیمپ رکھنے کے کام آتا ہے۔ تو فرماتا ہے اللہ تعالیٰ کے نور کی مثال کیاہے۔ اُس کے نور کی مثال ایک طاقچے کی سی ہے۔۔ جس میں ایک بتی رکھی ہوئی ہو۔۔ اوروہ بتی ایک شیشہ یا چمنی میں ہو۔ اور وہ چمنی یا گلوب ایسے اعلیٰ درجہ کے شیشے کا بنا ہوا ہو اور ایسا روشن ہو کہ گویا وہ ایک ستارہ ہے جو چمک رہا ہے۔ اس کے بعد میں اس کی تفصیل بتائی ہے۔ مگر ابھی میں اس کی تفصیل کی طرف نہیں جاتااور جو مضمون کا اصل حصہ ہے وہ میں بیان کرتا ہوں۔
    (اس موقع پر حضور نے دریافت فرمایا کہ کیا کسی دوست کے پاس ٹارچ ہے؟ مگر ٹارچ نہ ملی۔ اس کے بعد فرمایا)۔
    ان آیات میں درحقیقت اللہ تعالیٰ کے نور کو تین چیزوں میں محصور قرار دیا گیا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کمالِ نور ہمیشہ تین ذرائع سے ہوتا ہے۔ ایک مشکوٰۃ سے، ایک مصباح سے اور ایک زجاجہ سے۔ یہ مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے دی اور بتایا کہ ہمارا نور جو دنیا میں کامل طور پر ظاہر ہوا اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ ایک طاقچہ میں ایک بتی ہو اور بتی پر گلوب یا چمنی ہو اور وہ گلوب اتنا روشن ہو کہ گویا وہ ایک چمکتا ہوا ستارہ ہے۔ ہمارے ملک میں چونکہ عام طور پر اس قسم کے لیمپوں کا رواج نہیں اس لئے میں نے چاہا تھا کہ ٹارچ کے ذریعہ آپ لوگوں کو یہ مضمون سمجھائوں کیونکہ ٹارچ میں یہ تینوں چیزیں پائی جاتی ہیں۔ اور یہ عجیب بات ہے کہ قرآن مجید باوجود یکہ ایسے زمانہ میں نازل ہوا جبکہ سائنس ابھی کمال کو نہیں پہنچی تھی اور ایسے ملک میں نازل ہوا جہاں کے لوگ بدو سمجھے جاتے تھے اور تہذیب و تمدن سے ناآشنا تھے اور ایسے انسان پرنازل ہوا جو اُمّی تھا۔ پھر بھی روشنی کے کمال کو جس عجیب طرز سے ان آیات میں بیان کیا گیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یوں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بیسویں صدی کا انجینئر روشنی کی حقیقت بیان کررہاہے۔ مشکوٰۃ جس طرح اُس طاقچے کو کہتے ہیں جو دیوار میں بنایا جاتا ہے اور جس کے دوسری طرف سوراخ نہیں ہوتااسی طرح مصباح اُس شعلہ کو کہتے ہیں جو بتی میں سے نکلتا ہے یا بلب کی وہ تاریں سمجھ لو جن سے بجلی کی روشنی پید اہوتی ہے بشرطیکہ وہ روشن ہوں۔ مصباح کے معنے دراصل ’’صبح کردینے کا آلہ‘‘ کے ہیں اور اس لحاظ سے وہ ہر چیز جس سے روشنی ہوتی ہو اُسے مصباح کہا جاتا ہے اور وہ چونکہ بتی کا گل ہی ہوتا ہے یا بجلی کی وہ تاریں ہوتی ہیں جو بلب کے اندر ہوتی ہیں اور چمکتی ہیں، اس لئے عربی زبان میں انہیں مصباح کہتے ہیں۔ گویا وہ شعلہ جو آگ لگنے کے بعد بتی میں سے نکلتا ہے یا بجلی کی وہ تار جہاں بجلی پہنچتی ہے تو وہ یکدم روشن ہوجاتا ہے وہ مصباح ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے نور کی مثال ایک طاقچہ کی سی ہے جس میں ایک بتی جل رہی ہو اور پھر وہ بتی ایک زجاجہ میں ہو۔ اب تو قادیان میں بجلی آگئی ہے اور لوگوں کا ایک حصہ بجلی جلاتا ہے۔ لیکن پھر بھی اکثر گھروں میں ابھی بجلی نہیں لگی اور وہ لیمپ جلاتے ہیں اور جن کے ہاں بجلی لگی ہوئی ہے ان کی بجلی کی رَو بھی جس دن فیل ہوجائے اُس دن اُنہیں لیمپ جلانے پڑتے ہیں۔ یا انہیں قادیان سے جب باہر جانا پڑے تو لیمپ دیکھنے اور جلانے کا انہیں اکثر موقع ملتا رہتا ہے۔ بہرحال یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ ہری کین (HURRICANE LAMP) روشن کرنے کیلئے جب کوئی شخص دیا سلائی جلاتا اوربتی کو لگاتا ہے تو اُس وقت بتی کی روشنی کی کیا حالت ہوتی ہے۔ ایک زرد سا شعلہ بتی میں سے نکل رہا ہوتا ہے اور اُس کا دُھواں اُٹھ اُٹھ کر کمرہ میں پھیل رہا ہوتا ہے۔ نازک مزاج اشخاص کے دماغ میں وہ دُھواں چڑھتا ہے تو انہیں چھینکیں آنے لگ جاتی ہیں، بعض کو نزلہ ہوجاتا ہے۔ لیکن جونہی بتی میں سے دُھواں نکلتا اور کمرے میں پھیلنے لگتا ہے انسان جلدی سے چمنی پر ہاتھ مارتا اور ہری کین کا ہینڈل دبا کر اُسے بتی پر چڑھا دیتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اُسی وقت دُھواں جاتا رہتا ہے اور اس شعلہ کا رنگ ہی بدل جاتا ہے اور اس کی پہلی روشنی سے بعض دفعہ بیس گنے، بعض دفعہ تیس گنے، بعض دفعہ پچاس گنے، بعض دفعہ سَو گنے اور بعض دفعہ دو سَو گنے تیز روشنی پیدا ہوجاتی ہے اور تمام کمرہ روشن ہوجاتا ہے۔ پھر زائد بات اس چمنی یا گلوب سے یہ پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ بتی بجھتی نہیں۔ تیز بارشوں کے ایام میں رات کے وقت لوگ ہری کین لے کر باہر چلے جاتے ہیں۔ آندھی آرہی ہوتی ہے، طوفان اُٹھ رہا ہوتا ہے، چھتیں ہل رہی ہوتی ہیں، عمارتیں کانپ رہی ہوتی ہیں، پیر لڑکھڑارہے ہوتے ہیں مگر وہ روشنی جو انسان ہاتھ میں اُٹھائے ہوتا ہے نہیں بجھتی کیونکہ اُس کی چمنی اس کے ماحول کو محفوظ کردیتی ہے۔ تو چمنی نہ صرف اس کی روشنی کو کئی گنا زیادہ کردیتی ہے بلکہ اسے بجھنے سے بھی محفوظ کردیتی ہے۔ مگر بعض لیمپ ہری کین سے بھی زیادہ طاقتور ہوتے ہیں اور جو بڑے بڑے لیمپ کمروں کو روشن کرنے کیلئے جلائے جاتے ہیں اُن کو دیکھو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ اُن کی روشنی تیز کرنے کیلئے ان کے پیچھے ایک اس قسم کی چیز لگادی جاتی ہے جو روشنی کو آگے کی طرف پھینکتی ہے۔ پرانے زمانوں میں لوگ اس غرض کیلئے لیمپ کو طاقچہ میں رکھ دیا کرتے تھے اور اِس زمانہ میں اس کی ایک مثال ٹارچ ہے۔ ٹارچ پیچھے سے لمبی چلی آتی ہے اور اس کے آگے اس پر ایک نسبتاً بڑا خول چڑھادیتے ہیں جو بلب کے تین طرف دائرہ شکل میں پھیلا ہوا ہوتا ہے۔ جس سے غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ روشنی کو آگے کی طرف پھیلا دے ۔ اگر اس خول کو اُتار لیا جائے تو ٹارچ کی روشنی دس پندرہ گز تک رہ جاتی ہے۔ لیکن اس خول کے ساتھ وہی روشنی بعض دفعہ پانچ سَو گز، بعض دفعہ ہزار گز اور بعض دفعہ دو دو ہزار گز تک پھیل جاتی ہے۔یہ روشنی کو دور پھینکنے والا جو خول ہوتا ہے اِسے انگریزی میں رِی فلیکٹر (REFLECTOR) کہتے ہیں۔ اس رِی فلیکٹر کی وجہ سے ٹارچ کی روشنی بعض دفعہ ہزار گز اوربعض دفعہ دو ہزار گز تک چلی جاتی ہے اور بڑی طاقت کے لیمپ تو ری فلیکٹر کی وجہ سے بہت دور دور تک روشنی پہنچا دیتے ہیں۔
    ہمارے مینارۃ المسیح پر جب روشنی کرنے کا سوال پیدا ہوا اور اس پر بحث ہوئی کہ لیمپ کیسے لگائے جائیں تو رِی فلیکٹر لگوانے کا سوال زیر بحث آیا اور ماہرین فن نے بتایا کہ پانچ سَوطاقت کی اگر بتی لگائی جائے اور اس پر اعلیٰ درجہ کا رِی فلیکٹر لگا دیا جائے تو اس سے کئی گنے طاقت تک کی روشنی پیدا ہو سکتی ہے۔ مگر چونکہ رِی فلیکٹر بہت گراں آتے تھے غالباً اسی لئے پھر وہ منگوائے نہیں گئے تو پوری روشنی چمنی کے ذریعہ ہوتی ہے اور پھر اس روشنی کو دور پھینکنے کے لئے اس کے پیچھے ایک ایسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے تین جہت سے روک کر سامنے کی طرف لے جائے۔ اس طرح روشنی مکمل ہو جاتی ہے اور لوگ اس سے پوری طرح فائدہ اُٹھا سکتے ہیں ۔ تو اللہ تعالیٰ ان آیات میں یہ بیان فرماتا ہے کہ یہ تین چیزیں ہیں جن سے نور مکمل ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک تو شُعلہ ہے جو اصل آگ ہے اور جس کے بغیر کوئی نور ہو ہی نہیں سکتا۔ روحانی دنیا میں وہ شعلہ اللہ تعالیٰ کانور ہے اور چمنی جس سے وہ نور روشن ہوتا ہے وہ خداتعالیٰ کے انبیاء ہیں۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے دنیا کے ہر ذرّہ سے خدا تعالیٰ کا نور ظاہر ہے مگر وہ نور لوگوں کو نظر نہیںآتا ۔ہاں جب خدا کا نبی آتا اور اسے اپنے ہاتھ میں لے کر دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے، تب ہر شخص کو وہ نور نظر آنے لگ جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح بتی جب جلائی جائے تو ہوا کا ذرا سا جھونکا بھی اُسے بجھادیتا ہے۔ اس میں سے دُھواں نکل رہا ہوتا ہے مگر جونہی اس پر شیشہ رکھا جاتا ہے اندھیرا سب دورہوجاتا ہے، تاریکی سب مٹ جاتی ہے اور وہی نور آنکھوں کے کام آنے لگ جاتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اصل چیز شیشہ ہے اصل چیز تو وہ نور ہی ہے جو بتی میں سے نکل رہا ہوتا ہے۔ مگر چونکہ وہ نور دھویں کی شکل میں ضائع ہورہا ہوتا ہے اس لئے لوگ اس سے اُس وقت تک فائدہ نہیں اُٹھاسکتے جب تک اُس پر شیشہ نہیں چڑھایا جاتا۔ ہاں جب شیشہ چڑھ جاتا ہے تو وہی نور جو پہلے ضائع ہورہا ہوتا ہے ضائع ہونے سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ پھر چمنی سے مل کر پہلے نور سے بیس گنے ،سَوگنے، دو سَو گنے، ہزار گنے بلکہ دو ہزار گنے زیادہ تیز ہوجاتا ہے۔ یہ شیشے اور گلوب دراصل انبیاء کے وجود ہوتے ہیں جو خدا کے اس نور کو جوقدرت میں ہر جگہ پایا جاتا ہے لیتے ہیں اور اپنے گلوب اور چمنی کے نیچے رکھ کر اس کا ہر حصہ انسانوں کے استعمال کے قابل بنادیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ساری دنیا اس نور کو دیکھنے لگ جاتی ہے اُس کی آنکھیں روشن ہو جاتی ہیں اور وہ اس سے فائدہ حاصل کرنے لگ جاتی ہے۔
    اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ کے ذکر میں فرماتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کے نور کو آگ کی شکل میں دیکھا۔ وہ فرماتے ہیں ۔۴؎ میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ اس فقرہ سے صاف ظاہر ہے کہ دوسرے لوگ اس آگ کو نہیں دیکھ رہے تھے۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ نبی کے وجود میں ظاہر ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا ظہور اس دنیا میں بطور نار کے ہوتا ہے۔ یعنی کوئی تیز نظر والا ہی اسے دیکھتا ہے۔ اس کی روشنی تیز نہیں ہوتی لیکن جب وہ نبی میں ظاہر ہوتا ہے تو پھر وہ نور ہوجاتا ہے یعنی لیمپ کی طرح اس کی روشنی تیز ہوجاتی ہے۔ نبوت میں آکر یہ نور مکمل تو ہوجاتا ہے لیکن اس کا زمانہ پھر بھی محدود رہتا ہے۔ کیونکہ نبی بھی موت کا شکار ہوتے ہیں۔ پس اس روشنی کو دُور تک پہنچانے کیلئے اور زیادہ دیر تک قائم رکھنے کیلئے ضروری تھا کہ کوئی اور تدبیر کی جاتی۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کیلئے ایک رِی فلیکٹر ایجاد کیا جس کا نام خلافت رکھا۔ نبی کی روشنی اس رِی فلیکٹر کے ذریعہ سے دور تک پہنچادی جاتی ہے۔ پُرانے زمانہ کے طریق کے مطابق اس کا نام طاق رکھا گیا۔ جو تین طرف سے روشنی کو روک کر صرف اُس جہت میں ڈالتا ہے جدھر اُس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح خلیفہ نبی کی قوتِ قدسیہ کو جو اس کی جماعت میں ظاہر ہورہی ہوتی ہے ضائع ہونے سے بچا کر ایک خاص پروگرام کے ماتحت استعمال کرتا ہے اور جماعت کی طاقتیں پراگندہ نہیں ہوتیں اور تھوڑی سی طاقت سے بہت سے کام نکل آتے ہیں کیونکہ طاقت کا کوئی حصہ ضائع نہیں ہوتا۔ اگر خلافت نہ ہوتی تو بعض کاموں پر زیادہ طاقت خرچ ہوجاتی اور بعض کام توجہ کے بغیر رہ جاتے اور تفرقہ اور شِقاق کی وجہ سے کسی نظام کے ماتحت جماعت کا روپیہ اور اس کا علم اوراس کا وقت خرچ نہ ہوتا۔
    غرض خلافت کے ذریعہ سے الٰہی نور کو جو نبوت کے ذریعہ سے دنیا کے لحاظ سے مکمل ہوا تھا ممتد اور لمبا کردیا جاتا ہے۔ چنانچہ محمدی نور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے ساتھ ختم نہیں ہوگیا بلکہ ابوبکرؓ کی خلافت کے طاقچہ کے ذریعہ اس کی مدت کو تین سال اور بڑھادیا گیا۔ پھر حضرت ابوبکرؓ کی وفات کے بعد وہی نور خلافت عمرؓ کے طاق کے اندر رکھ دیا گیا اور سات سال اس کی مدت کو اور بڑھا دیا گیا۔ پھر وہ نور عثمانی طاقچہ میں رکھ دیا گیا اور تیرہ سال اس کی مدت کو اور بڑھادیا گیا۔ پھر حضرت عثمانؓ کی وفات کے بعد وہی نور علوی طاقچہ میں رکھ دیا گیا اور وہ چھ سال اور اس نور کو لے گیا۔ گویا پچیس تیس سال محمدی نور خلافت کے ذریعہ لمبا ہوگیا۔ جیسے ٹارچوں کے اندر رِی فلیکٹر ہوتا ہے اور اس کے ذریعہ بلب کی روشنی دور دو رتک پھیل جاتی ہے یا چھوٹے چھوٹے رِی فلیکٹر بعض دفعہ تھوڑا سا خم دے کربنائے جاتے ہیں۔ جیسے دیوارگیروں کے پیچھے ایک ٹین لگا ہو اہوتا ہے جو دیوار گیر ۵؎ کا رِی فلیکٹر کہلاتا ہے اور گو اس کے ذریعہ روشنی اتنی تیز نہیں ہوتی جتنی ٹارچ کے رِی فلیکٹر کے ذریعہ تیز ہوتی ہے مگر پھر بھی دیوار گیر کی روشنی اس رِی فلیکٹر کی وجہ سے پہلے سے بہت بڑھ جاتی ہے۔ چھ چھ آنے کے جو دیوارگیر آتے ہیں ان کے ساتھ بھی یہ رِی فلیکٹر لگا ہوا ہوتا ہے اور اس کے ذریعہ دیوار گیر کی روشنی زیادہ دور تک جاتی ہے۔ اسی طرح خلافت وہ رِی فلیکٹر ہے جو نبوت اور الوہیت کے نور کو لمبا کردیتا اور اسے دور دور تک پھیلا دیتا ہے۔ پس مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتایا گیا کہ اِس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خلافت، نبوت اور الوہیت کا ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ہمارے نور کی مثال ایسی ہی ہے جیسے بتی کا شعلہ۔ وہ ایک نور ہے جو دنیا کے ہر ذرّہ سے ظاہر ہورہا ہے مگر جب تک وہ نبوت کے شیشہ میں نہ آئے لوگ اس سے فائدہ نہیں اُٹھاسکتے۔ جیسے نیچر پر غور کرکے اللہ تعالیٰ کی ہستی معلوم کرنے کا شوق رکھنے والے ہمیشہ ٹھوکر کھاتے اور نقصان اُٹھاتے ہیں ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ۶؎ بالکل درست ہے۔ اور زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کی بہت سی آیات پائی جاتی ہیں مگر یہی یورپ کے فلاسفروں کو دہریہ بنارہی ہے۔ گویا میں اللہ تعالیٰ کا جو نور ہے اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے بتی کا شعلہ۔ یہ شعلہ جب نکلتا ہے تو اس کے ساتھ دُھواں بھی اُٹھتا ہے جو بعض دفعہ نزلہ پیدا کردیتا اور آنکھوں کو خراب کرتا ہے۔ وہ دُھواں تب ہی دور ہوتا ہے جب اس پر چمنی یا گلوب رکھ کر اسے روشنی کی صورت میں تبدیل کردیا جائے ۔ اگر اس کے بغیر کوئی اس شعلہ سے نور کا کام لینا چاہئے تو اسے ضرور کچھ نور ملے گا اور کچھ دُھواں، جو اس کی آنکھوں اور ناک کو تکلیف دے گا۔ چنانچہ اسی وجہ سے جو شخص نیچر پر غور کرکے خداتعالیٰ کو پانا چاہتا ہے تو وہ کئی ٹھوکریں کھاتا ہے اور بعض دفعہ بجائے خداتعالیٰ کو پانے کے دہریہ ہی ہوجاتا ہے۔ مگر جو شخص خداتعالیٰ کے وجود کو نبوت کی چمنی کی مدد سے دیکھنا چاہتا ہے اس کی آنکھیں اور اس کا ناک دُھویں کے ضرر سے بالکل محفوظ رہتے ہیں اور وہ ایک نہایت لطیف اور خوش کن روشنی پاتا ہے جو سب کثافتوں سے پاک ہوتی ہے۔
    غرض کائناتِ عالَم پر غور کرکے خداتعالیٰ کے وجود کو پانے والوں کیلئے خداتعالیٰ نے کچھ ابتلاء رکھے ہیں، کچھ شکوک رکھے ہیں، کچھ شُبہات رکھے ہیں تا وہ مجبور ہوکر نبوت کی چمنی اس نور پر رکھیں۔ چنانچہ جب بھی الٰہی نور پر نبوت کی چمنی رکھی جائے اس نور کی حالت یکدم بدل جاتی ہے او ریا تو وہ بو دینے والا دُھواں نظر آرہا تھا اور یا یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ نور ہی نور ہے اور اس میں دُھویں کا نشان تک نہیں۔ پھر جب اس روشنی کو اُٹھا کر ہم طاقچہ میں رکھ دیتے ہیں تو پہلے سے بہت دور دور اس کی روشنی پھیل جاتی ہے۔
    غرض یہ آیت ہے جو مجھے بتائی گئی اور مجھے سمجھایا گیا کہ اس میں الوہیت، نبوت اور خلافت کا جوڑ بتایا گیا ہے۔ اگر کوئی کہے کہ آخر خلافت بھی تو ختم ہوجاتی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ خلافت کا ختم ہونا یا نہ ہونا تو انسانوں کے اختیار میں ہے۔ اگر وہ پاک رہیں اور خلافت کی بے قدری نہ کریں تو یہ طاقچہ سینکڑوں ہزاروں سال تک قائم رہ کر ان کی طاقت کو بڑھانے کا موجب ہوسکتا ہے۔ اور اگر وہ خود ہی اس انعام کو ردّ کردیں تو اس کا علاج کسی کے پاس نہیں ہے۔ والی آیت کا مضمون مختصراً بتانے کے بعد مَیں اب یہ بتاتا ہوں کہ کس طرح یہ تمام سورۃ اسی ایک مضمون کے ذکر سے بھری ہوئی ہے اور اس کی کوئی آیت ایسی نہیں جس میں اسی مضمون کے مختلف پہلوئوں کو بیان نہ کیا گیاہو۔
    اس سورہ نور کو اللہ تعالیٰ نے بدکاری اور بدکاری کے الزامات لگانے والوں کے ذکر سے شروع کیا ہے اور اس کی تفصیلات بیان کرنے کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر جو الزام لگا تھا اُس کا ذکر کرتا ہے۔ پھر اور بہت سی باتیں اسی کے ساتھ تعلق رکھنے والی بیان کرتاہے اور مسلمانوں کو نصیحت کرتا ہے کہ انہیں ایسے مواقع پر کن کن باتوں پر عمل کرنا چاہئے۔ پھر وہ ذرائع بیان کرتا ہے جن پر عمل کرنے سے بدکاری دنیا سے مٹ سکتی ہے۔ یہ تمام مضامین اللہ تعالیٰ نے پہلے دوسرے اور تیسرے رکوع میں بیان کئے ہیں۔ چنانچہ دیکھ لو پہلا رکوع ان آیات سے شروع ہوتا ہے ۷؎ یہ مضمون چلتا چلا جاتا ہے۔ پھر آگے فرماتا ہے ۸؎ زنا کا الزام لگانے والوں کا ذکر اور ان کی سزا کا بیان کیا ہے۔ پھر فرماتا ہے۔۹؎ اس کے بعد ۱۰؎ میں ان لوگوں کا ذکر کیا جو اپنی بیویوں پر بدکاری کا الزام لگاتے ہیں۔ پھر ْ۱۱؎ کہہ کر مخصوص طور پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگانے والوں کاذکر کرتا ہے۔ پھر الزام لگانے کے نقائص بیان فرماتا ہے ۱۲؎ یہاں دو رکوع سورئہ نور کے ختم ہوجاتے ہیں۔ پھر اسی مضمون کو اگلے رکوع میں بھی جاری رکھتا اور فرماتا ہے۱۳؎ پھر اس شبہ کا ازالہ کرتا ہے کہ شاید صرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگانا کوئی اہمیت رکھتاہے ۔ عام الزام ایسے خطرناک نہیں ہوتے اور فرماتا ہے ۱۴؎ اس کے بعد چوتھا رکوع شروع ہوتا ہے اور پھر اسی سلسلہ میں مختلف ہدایات دی گئی ہیں کہ ان الزامات کے مراکز کو کس طرح روکنا چاہئے۔ چنانچہ فرماتا ہے ۱۵؎
    (اِس موقع پر ایک دوست محمد احمد صاحب مالک محمود الیکٹرک سٹور قادیان نے ٹارچ لاکر حضور کی خدمت میں پیش کردی۔ اس پر حضور نے ہاتھ سے بتایاکہ اس ٹارچ کے اندر جو بلب ہے اس کی باریک تاریں مصباح ہیں اور وہ گول شیشہ جس میں بلب رکھا جاتا ہے وہ زجاجہ ہے اور اس کا بیرونی دائرہ طاقچہ یا رِی فلیکٹر ہے جو روشنی کو لمبا کرکے آگے کی طرف پھینکتا ہے۔ گویا تیرہ سَو سال ترقی کرنے کے باوجود سائنس روشنی کے متعلق اُسی مقام پر آکر ٹھہری ہے جو قرآن کریم نے بتایا تھا اُس سے آگے نہیں بڑھی)۔
    پھر اسی رکوع میں اللہ تعالیٰ بدی سے محفوظ رہنے کے ذرائع کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ۔ ۱۶؎ پھر شادیوں کا ذکر کرتا ہے اور اس پر چوتھا رکوع ختم ہوجاتا ہے۔ گویا پہلے رکوع سے لے کر چوتھے رکوع تک سب میں ایک ہی مضمون بیان کیا گیا ہے۔ کسی جگہ الزام لگانے والوں کے متعلق سزا کا ذکر ہے، کسی جگہ الزامات کی تحقیق کے طریق کا ذکر ہے، کسی جگہ شرعی ثبوت لانے کا ذکر ہے، کسی جگہ ایسے الزامات لگنے کی وجوہ کا ذکر ہے، کسی جگہ اُن دروازوں کا ذکر ہے جن سے گناہ پیدا ہوتا ہے۔ غرض تمام آیتوں میں ایک ہی مضمون بیان کیا گیا ہے مگر اس کے معاً بعد فرماتا ہے ِ۱۷؎ اللہ آسمانوں اور زمین کا نورہے۔ اب انسان حیران رہ جاتا ہے کہ اس کا پہلے رکوعوں سے کیا تعلق ہے؟ ایک ایسا مفسر جو یہ خیال کرتا ہے کہ قرآن کریم میں کوئی ترتیب نہیں وہ بے ربط کلام ہے۔ اس کی آیتیں اسی طرح متفرق مضامین پر مشتمل ہیں جس طرح دانے زمین پر گرائے جائیں تو کوئی کسی جگہ جاپڑتا ہے اورکوئی کسی جگہ، وہ توکہہ دے گا اِس میں کیا حرج ہے۔ پہلے وہ مضمون بیان کیا گیا تھا اور اب یہ مضمون شروع کردیا گیا ہے۔ مگر وہ شخص جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم سے واقف ہے جو جانتا ہے کہ قرآن کریم کاہر لفظ ایک ترتیب رکھتا ہے، وہ یہ دیکھ کر حیران ہوجاتا ہے کہ پہلے تو بدکاری کے الزامات اور ان کو دور کرنے کا ذکر تھا اور اس کے معاً بعد یہ ذکر شروع کردیا گیا ہے کہ ان دونوں کا آپس میں جوڑ کیا ہوا۔ پھر انسان اور زیادہ حیران ہوجاتا ہے جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ پانچویں رکوع میں تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ اور اس سے دو رکوع بعد یعنی ساتویں رکوع میں اللہ تعالیٰ یہ ذکر شروع کردیتا ہے کہ ۱۸؎ کہ اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائے اور اعمال صالحہ بجالائے یہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ انہیں زمین میں اسی طرح خلیفہ بنائے گا جس طرح اس نے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا۔
    کیا یہ عجیب بات نہیں کہ پہلے زنا کے الزامات کا ذکر ہے۔ پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگنے کا بیان ہے۔ پھر ان الزامات کے ازالہ کے طریقوں کا ذکر ہے۔ پھر ذکر آگیا۔ اور پھر کہہ دیا کہ میرا یہ وعدہ ہے کہ جو مومن ہوں گے انہیں مَیں اِس اُمت میں اسی طرح خلیفہ بنائوں گا جس طرح پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا اور ان کے دین کو دنیا میں قائم کروں گا اور ان کے خوف کو امن سے بدل دوں گا۔ وہ میری عبادت کریں گے، میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور جو شخص ان خلفاء کا منکر ہوگا وہ فاسق ہوگا۔ پس لازماً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ پہلے زنا کے الزامات کا ذکر کیا پھر کا ذکر کیا اور پھر خلافت کا ذکر کردیا۔ ان تینوں باتوں کا آپس میں جوڑ ہونا چاہئے ورنہ یہ ثابت ہوگا کہ قرآن کریم نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ بے جوڑ باتوں کا مجموعہ ہے اور اس کے مضامین میں ایک عالم اور حکیم والا ربط اور رشتہ نہیں ہے۔ (اس جگہ ضمنی طور پر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جہاں دوسروں پر الزام لگانے والوں کا ذکر ہے وہاں الزام لگانے والوں کے متعلق فرمایا ہے کہ کہ وہ لوگ جو بے گناہ لوگوں پر الزام لگاتے ہیں اور پھر ایک موقع کے چار گواہ نہیں لاتے تو تم ان کو ۸۰کوڑے مارو۔ اور تم اُن کی موت تک ہمیشہ اُن کو جھوٹا سمجھو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو خداتعالیٰ کے نزدیک فاسق ہیں۔ پھر اسی سورۃ میں جہاں خلفاء کا ذکر کیا وہاں بھی یہی الفاظ رکھے اور فرمایا ۱۹؎ کہ جو شخص خلیفہ کا انکار کرے وہ فاسق ہے۔ اب جو زنا کا الزام لگانے والوں کے متعلق خداتعالیٰ نے الفاظ رکھے تھے اور جو نام ان کا تجویز کیا تھا بعینہٖ وہی نام خداتعالیٰ نے خلافت کے منکرین کا رکھا اور قریباً اسی قسم کے الفاظ اس جگہ استعمال کئے۔ وہاں بھی یہ فرمایا تھا کہ جو لوگ بدکاری کا الزام لگاتے اور پھر چار گواہ ایک موقع کے نہیں لاتے انہیں ۸۰ کوڑے مارو، انہیں ساری عمر جھوٹا سمجھو اور سمجھ لو کہ یہی لوگ فاسق ہیں۔ اور یہاں بھی یہ فرمایا کہ جو شخص خلفاء کا انکار کرتا ہے، سمجھ لو کہ وہ فاسق ہے۔ تو نام دونوں جگہ ایک ہی رکھتا ہے)۔
    اب میں پھر اصلی مضمون کی طرف لوٹتا ہوں جو یہ ہے کہ جو شخص قرآن کریم کو ایک حکیم کی کتاب سمجھتا ہے اور اس کے اعلیٰ درجہ کے باربط اور ہم رشتہ مضمونوں کے کمالات کے دیکھنے کا جسے ذرا بھی موقع ملاہے، وہ اس موقع پر سخت حیران ہوتا ہے کہ کس طرح پہلے بدکاری اور بدکاری کے جھوٹے الزامات لگانے کا ذکر کیا گیا ہے پھر یکدم کہہ دیا گیا اور پھر خلافت کا ذکر شروع کردیا گیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان تینوں مضمونوں میں ضرور کوئی اعلیٰ درجہ کا جوڑ اور تعلق ہے۔ اور یہ تینوں مضمون آپس میں مربوط اور ہم رشتہ ہیں۔ اس شکل کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مضمون پر غور کرو جو میں نے اوپر بتایا ہے اور جو یہ ہے کہ کی آیت میں الوہیت اور نبوت اور خلافت کے تعلق کو بتایا گیا ہے۔ اس مضمون کو ذہن میں رکھ کر آخری دو مضمونوں کا تعلق بِالکل واضح ہوجاتا ہے۔ کیونکہ والی آیت میں خلافت کا اصولی ذکر تھا اور بتایا گیا تھا کہ خلافت کا وجود بھی نبوت کی طرح ضروری ہے کیونکہ اس کے ذریعہ سے جلالِ الٰہی کے ظہور کے زمانہ کو ممتد کیا جاتا ہے اور الٰہی نور کو ایک لمبے عرصہ تک دنیا کے فائدہ کیلئے محفوظ کردیا جاتا ہے۔ اس مضمون کے معلوم ہونے پر طبعاً قرآن کریم پڑھنے والوں کے دل میں یہ خیال پیدا ہونا تھا کہ خدا کرے ایسی نعمت ہم کو بھی ملے۔ سو کی آیات میں اِس خواہش کے پورا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمادیا اور بتایا کہ یہ نعمت تم کو بھی اسی طرح ملے گی جس طرح پہلے انبیاء کی جماعتوں کو ملی تھی۔
    غرض میرے بیان کردہ معنوں کے رو سے کی آیت اور اس کی متعلقہ آیتوں کا کی آیت اور اس کی متعلقہ آیتوں سے ایک ایسا لطیف اور طبعی جوڑ قائم ہوجاتا ہے جو دل کو لذت اور سرور سے بھر دیتا ہے اور ایمان کی زیادتی کا موجب ہوتا ہے اور قرآنی مطالب کی عظمت کا سکّہ دلوں میں بٹھادیتا ہے۔ لیکن یہ سوال پھر بھی قائم رہتا ہے کہ اس مضمون کا پہلی آیتوں سے کیا تعلق ہوا۔ یعنی سورئہ نور کے پانچویں رکوع کا اِس کے نویں رکوع تک تو خلافت سے جوڑ ہوا لیکن جو پہلے چار رکوع ہیں اور جن میں بدکاری اور بدکاری کے الزامات کا ذکر آتا ہے، اُن کا اِس سے کیا تعلق ہے۔ جب تک یہ جوڑ بھی حل نہ ہو اُس وقت تک قرآن کریم کی ترتیب ثابت نہیں ہوسکتی۔
    اب میں یہ بتاتا ہوں کہ پہلے چار رکوعوں کا باقی پانچ رکوعوں سے جن میں خلافت کا ذکر آتا ہے کیا تعلق ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ پہلے چار رکوعوں میں بدکاری کے الزامات کا ذکر اصل مقصود ہے اور ان میں خصوصاً اس الزام کا ردّ کرنا مقصود ہے جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگایا گیا تھا۔ اب ہمیں دیکھنا چاہئے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر جو الزام لگانے والوں نے الزام لگایا تو اس کی اصل غرض کیا تھی۔ اس کا سبب یہ تونہیں ہوسکتا کہ ان لوگوں کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کوئی دشمنی تھی۔ ایک گھر میں بیٹھی ہوئی عورت سے جس کا نہ سیاسیات سے تعلق ہو ، نہ قضا سے، نہ عہدوں اور اموال کی تقسیم سے ، نہ لڑائیوں سے ، نہ مخالف اقوا م پرچڑھائیوں سے ، نہ حکومت سے ،نہ اقتصادیات سے، اس سے کسی نے کیا بغض رکھنا ہے۔ غرض حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے براہِ راست بُغض کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی ۔ پس اس الزام کے بارہ میں دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں یا تو یہ کہ الزام سچا ہو جس امر کو کوئی مومن ایک منٹ کیلئے بھی تسلیم نہیں کر سکتا اور اللہ تعالیٰ نے عرش سے اِس گندے خیال کو ردّ کیا ہے۔ دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ حضرت عائشہؓ پر الزام بعض دوسرے وجودوں کو نقصان پہنچانے کے لئے لگایا گیا ہو۔
    اب ہمیں غور کرنا چاہئے کہ وہ کون کون لوگ تھے جن کو بدنام کرنا منافقوں کے لئے یا ان کے سرداروں کے لئے فائدہ بخش ہو سکتا تھا اور کن کن لوگوں سے اس ذریعہ سے منافق اپنی دشمنی نکال سکتے تھے۔ایک ادنیٰ تدبر سے معلوم ہو سکتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگا کر دو شخصوں سے دشمنی نکالی جاسکتی تھی۔ ایک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ایک حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے۔ کیونکہ ایک کی وہ بیوی تھی اور ایک کی بیٹی تھیں۔ یہ دونوں وجود ایسے تھے کہ ان کی بدنامی سیاسی یا اقتصادی لحاظ سے یا دشمنیوں کے لحاظ سے بعض لوگوں کے لئے فائدہ بخش ہو سکتی تھی۔ یا بعض لوگوں کی اغراض ان کو بدنام کرنے کے ساتھ وابستہ تھیں۔ ورنہ خودحضرت عائشہ ؓ کی بدنامی سے کسی شخص کو کوئی دلچسپی نہ ہو سکتی تھی ۔ زیادہ سے زیادہ آپ سے سوتوں کا تعلق ہو سکتا تھااور یہ خیال ہو سکتا تھا کہ شاید حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی سوتوں نے حضرت عائشہؓ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں سے گرانے اور اپنی نیک نامی چاہنے کیلئے اس معاملہ میں کوئی حصہ لیا ہو۔ مگر تاریخ شاہد ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی سوتوں نے اس معاملہ میں کوئی حصہ نہیں لیا ۔ بلکہ حضرت عائشہؓ کا اپنا بیان ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے جس بیوی کو میں اپنا رقیب اور مد مقابل خیال کرتی تھی وہ حضرت زینبؓ تھیں ۔ ان کے علاوہ اور کسی بیوی کو میں اپنا رقیب خیال نہیںکرتی تھی مگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں زینب ؓ کے اِس احسان کو کبھی نہیں بھول سکتی کہ جب مجھ پر الزام لگایا گیا تو سب سے زیادہ زور سے اگر کوئی اس الزام کا انکار کیا کرتی تھیں تو وہ حضرت زینبؓ ہی تھیں۔ پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اگر کسی کو دشمنی ہو سکتی تھی تو وہ ان کی سوتوں کوہی ہو سکتی تھی ۔ اور وہ اگر چاہتیں تو اِس میںحصہ لے سکتی تھیں تا حضرت عائشہؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ سے گر جائیں اور ان کی عزت بڑھ جائے ۔ مگر تاریخ سے ثابت ہے کہ انہوں نے اس معاملہ میں دخل ہی نہیں دیا ۔اور اگر کسی سے پوچھا گیا تو اُس نے حضرت عائشہؓ کی تعریف ہی کی۔ چنانچہ ایک اور بیوی کے متعلق ذکر آتاہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے اِس معاملہ کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے تو سوائے خیر کے عائشہ میں کوئی چیز نہیںدیکھی ۔ ۲۰؎
    تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اپنی دشمنی نکالنے کا امکان اگر کسی کی طرف سے ہو سکتا تھا توان کی سوتوں کی طرف سے مگر ان کا اس معاملہ میں کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔ اسی طرح مردوں کی عورتوںسے دشمنی کی کوئی وجہ نہیںہوتی ۔ پس آپ پر الزام یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض کی وجہ سے لگایا گیا یا حضرت ابوبکرؓ سے بُغض کی وجہ سے ایسا کیا گیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو مقام حاصل تھا وہ تو الزام لگانے والے کسی طرح چھین نہیں سکتے تھے ۔ انہیں جس بات کا خطرہ تھا وہ یہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی وہ اپنی اغراض کو پورا کرنے سے محروم نہ رہ جائیں اور وہ دیکھ رہے تھے کہ آپ کے بعد خلیفہ ہونے کا اگر کوئی شخص اہل ہے تو وہ ابو بکر ہی ہے۔ پس اس خطرہ کو بھانپتے ہوئے انہوں نے حضرت عائشہؓ پر الزام لگادیا تا حضرت عائشہؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ سے گر جائیں اور ان کے گر جانے کی وجہ سے حضرت ابو بکرؓکو مسلمانوں میں جو مقام حاصل ہے وہ بھی جاتا رہے اور مسلمان آپ سے بد ظن ہو کر اس عقیدت کو ترک کردیں جو انہیں آپ سے تھی۔ اور اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکرؓ کے خلیفہ ہونے کا دروازہ بالکل بند ہو جائے۔ جس طرح حضرت خلیفہ اوّل کی زندگی میں پیغامیوں کا گروہ مجھ پر اعترض کرتا رہتاتھا اور مجھے بدنام کرنے کی کوشش کرتا رہتا تھا ۔ پس یہی وجہ تھی کہ خدا تعالیٰ نے حضرت عائشہؓ پر الزام لگنے کے واقعہ کے بعد خلافت کا بھی ذکر کیا ۔
    حدیثوں میں صریح طور پر آتا ہے کہ صحابہ آپس میں باتیں کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر کسی کا مقام ہے تو وہ ابو بکرؓ کا ہی مقام ہے۔ ۲۱؎ پھر حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ آپ میری فلاں حاجت پوری کردیں۔ آپ نے فرمایا اِس وقت نہیں پھر آنا ۔ وہ بدوی تھا اور تہذیب اور شائستگی کے اصول سے ناواقف تھااُس نے کہا آخر آپ انسان ہیںاگر میں پھر آئوں اور آپ اُس وقت فوت ہو چکے ہوں تو میں کیا کروں؟ آپؐ نے فرمایا اگر میں دنیا میں نہ ہوا تو ابوبکر کے پاس چلے جانا وہ تمہاری حاجت پوری کر دے گا۔ ۲۲؎
    اسی طرح حدیثوں میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا اے عائشہؓ! میں چاہتا تھاکہ ابوبکرؓ کو اپنے بعد نامزد کر دوں مگر میں جانتا ہوں کہ اللہ اور مومن اس کے سِوا اور کسی پر راضی نہ ہونگے۲۳؎ اس لئے میں کچھ نہیں کہتا۔ غرض صحابہ یہ قدرتی طور پر سمجھتے ہیں کہ رسول کریم کے بعد ان میں سے اگر کسی کا درجہ ہے تو ابوبکر کا اور وہی آپ کا خلیفہ بننے کے اہل ہیں۔مکی زندگی تو ایسی تھی کہ اس میں حکومت اور اس کے انتظام کا سوال ہی نہ پیدا ہوتا تھا۔ لیکن مدینہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے کے بعد حکومت قائم ہو گئی۔ اور طبعاً منافقوں کے دلوں میں یہ سوال پیدا ہونے لگاکیونکہ آپ کی مدینہ میں تشریف لانے کی وجہ سے ان کی کئی امیدیں باطل ہو گئی تھیں۔ چنانچہ تاریخوں سے ثابت ہے کہ مدینہ میں عربوں کے دو قبیلے تھے اوس اور خزرج۔ اور یہ ہمیشہ آپس میں لڑتے رہتے تھے اور قتل اور خونریزی کا بازار گرم رہتا۔ جب انہوں نے دیکھا کہ اس لڑائی کے نتیجہ میںہمارے قبائل کا رُعب مٹتا جارہاہے تو انہوں نے آپس میں صلح کی تجویز کی اور قرار پایا کہ ہم ایک دوسرے سے اتحاد کرلیںاور کسی ایک شخص کو اپنا بادشاہ بنا لیںچنانچہ اوس اور خزرج نے آپس میں صلح کر لی اورفیصلہ ہوا کہ عبداللہ بن ابی بن سلول کو مدینہ کا بادشاہ بنا دیا جائے۔ اس فیصلہ کے بعد انہوں نے تیاری بھی شروع کر دی اور عبداللہ بن ابی بن سلول کے لئے تاج بننے کا حکم بھی دے دیا گیا۔ اتنے میں مدینہ کے کچھ حاجی مکہ سے واپس آئے اور انہوں نے بیان کیا کہ آخری زمانہ کا نبی مکہ میں ظاہر ہو گیا ہے اور ہم اس کی بیعت کر آئے ہیں۔ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ کے متعلق چہ میگوئیاں شرو ع ہو گئیں۔ اور چند دنوں کے بعد بعض اور لوگوں نے بھی مکہ جا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر لی۔ پھر انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ ہماری تربیت اور تبلیغ کے لئے کوئی معلّم ہمارے ساتھ بھیجیں۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو مبلّغ بنا کر بھیجا اور مدینہ کے بہت سے لوگ اسلام میں داخل ہو گئے۔ اُنہی دنوں میں چونکہ مکہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو بہت سی تکالیف پہنچائی جا رہی تھیں اِس لئے اہل مدینہ نے آپ سے درخواست کی کہ آپ مدینہ میں تشریف لے آئیں۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت سے صحابہ سمیت مدینہ ہجرت کر کے آگئے۔ اور عبداللہ بن ابی بن سلول کے لئے جو تاج تیار کروایا جارہا تھا وہ دھرا کا دھرا رہ گیاکیونکہ جب انہیں دونوں جہانوں کا بادشاہ مل گیاتو انہیں کسی اور بادشاہ کی کیا ضرورت تھی۔ عبداللہ بن ابی ابن سلول نے جب یہ دیکھا کہ اُس کی بادشاہت کے تمام امکانات جاتے رہے ہیںتو اسے سخت غصہ آیا۔ اور گو وہ بظاہر مسلمانوں میں مل گیا مگر ہمیشہ اسلام میں رخنے ڈالتا رہتا تھا۔ اور چونکہ اب وہ اور کچھ نہیںکر سکتا تھا اس لئے اُس کے دل میں اگر کوئی خواہش پیداہو سکتی تھی تو یہی کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوں تو مَیں مدینہ کا بادشاہ بنوں لیکن مسلمانوںمیںجونہی بادشاہت قائم ہوئی اور ایک نیا نظام انہوں نے دیکھا تو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف سوالات کرنے شروع کر دیئے کہ اسلامی حکومت کا کیا طریق ہے۔ آپ کے بعد اسلام کا کیا حال ہوگا اور اس بارہ میں مسلمانوں کوکیا کرنا چاہئے۔ عبداللہ بن ابی بن سلول نے جب یہ حالت دیکھی تو اسے خوف پیدا ہونے لگا کہ اب اسلام کی حکومت ایسے رنگ میں قائم ہوگی کہ اس میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا وہ ان حالات کو روکنا چاہتا تھا اور اس کیلئے جب اس نے غور کیا تو اسے نظر آیا کہ اگر اسلامی حکومت کو اسلامی اصول پر کوئی شخص قائم کرسکتا ہے تو وہ ابوبکر ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں کی نظر اسی کی طرف اُٹھتی ہے اور وہ اسے سب دوسروں سے معزز سمجھتے ہیں۔ پس اُس نے اپنی خیر اِسی میں دیکھی کہ ان کو بدنام کردیا جائے اور لوگوں کی نظروں سے گرادیا جائے بلکہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ سے بھی گرادیاجائے۔ اور اس بدنیتی کے پورا کرنے کا موقع اسے حضرت عائشہؓ کے ایک جنگ میں پیچھے رہ جانے کے واقعہ سے مل گیا اور اس خبیث نے آپ پر گندہ الزام لگادیا جو قرآن کریم میں اشارۃً بیان کیا گیا ہے اور حدیثوں میں اس کی تفصیل آتی ہے۔ عبداللہ بن ابی بن سلول کی اِس میں یہ غرض تھی کہ اس طرح حضرت ابوبکرؓ ان لوگوں کی نظروں میں بھی ذلیل ہوجائیں گے اور آپ کے تعلقات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی خراب ہوجائیں گے اور اس نظام کے قائم ہونے میں رخنہ پڑ جائے گا جس کا قائم ہونا اسے لابُدِّی نظر آتا تھا اور جس کے قائم ہونے سے اس کی امیدیں تباہ ہوجاتی تھیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حکومت کے خواب صرف عبداللہ بن ابی بن سلول ہی نہیں دیکھ رہا تھا اَور بعض لوگ بھی اس مرض میں مبتلا تھے۔ چنانچہ مسیلمہ کذاب کی نسبت بھی حدیثوں میں آتا ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیااور آپ سے عرض کی کہ میرے ساتھ ایک لاکھ سپاہی ہیں میں چاہتا ہوں کہ اپنی تمام جماعت کے ساتھ آپ کی بیعت کرلوں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام میں چھوٹے اوربڑے کی کوئی تمیز نہیں اگر تم پر حق کھل گیا ہے تو تم بیعت کرلو۔ وہ کہنے لگا میں بیعت کرنے کیلئے تیار تو ہوں مگر میری ایک شرط ہے۔ آپ نے فرمایا وہ کیا؟ وہ کہنے لگا میری شرط یہ ہے کہ آپ تو خیر اَب عرب کے بادشاہ بن ہی گئے ہیں لیکن چونکہ میری قوم عرب کی سب سے زیادہ زبردست قوم ہے پس میں اِس شرط پر آپ کی بیعت کرتا ہوں کہ آپ کے بعد میں عرب کا بادشاہ ہوں گا۔ آپ نے فرمایا میں کوئی وعدہ نہیں کرتا۔ یہ خدا کا انعام ہے وہ جسے چاہے گا دے گا۔۲۴؎ اس پر وہ ناراض ہوکر چلا گیا اور اپنی تمام قوم سمیت مخالفت پر آمادہ ہوگیا۔
    تو مسیلمہ کذاب نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بادشاہت ملنے کی آرزو کی تھی، زندگی میں نہیں۔ یہی حال عبداللہ بن ابی بن سلول کا تھا۔ چونکہ منافق اپنی موت کو ہمیشہ دور سمجھتا ہے اور وہ دوسروں کی موت کے متعلق اندازے لگاتا رہتا ہے اس لئے عبداللہ بن اُبی بن سلول بھی اپنی موت کو دور سمجھتا تھااور وہ نہیں جانتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی وہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرے گا۔ وہ یہ قیاس آرائیاں کرتا رہتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوں تو مَیں عرب کا بادشاہ بنوں گا۔ لیکن اب اس نے دیکھا کہ ابوبکرؓ کی نیکی اور تقویٰ اور بڑائی مسلمانوں میں تسلیم کی جاتی ہے۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے تشریف نہیںلاتے تو ابوبکرؓ آپ کی جگہ نماز پڑھاتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی فتویٰ پوچھنے کا موقع نہیں ملتا تو مسلمان ابوبکرؓ سے فتویٰ پوچھتے ہیں۔ یہ دیکھ کر عبداللہ بن ابی بن سلول کو جو آئندہ کی بادشاہت ملنے کی امید لگائے بیٹھا تھا سخت فکر لگا اور اُس نے چاہا کہ اِس کا ازالہ کرے۔ چنانچہ اِسی امرکا ازالہ کرنے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شہرت اور آپ کی عظمت کو مسلمانوں کی نگاہوں سے گرانے کے لیے اس نے حضرت عائشہؓ پر الزام لگادیا تا حضرت عائشہؓ پر الزام لگنے کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہؓ سے نفرت پیدا ہو اور حضرت عائشہؓ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نفرت کا یہ نتیجہ نکلے کہ ابوبکرؓ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی نگاہوں میں جو اعزاز حاصل ہے وہ کم ہوجائے اور ان کے آئندہ خلیفہ بننے کا کوئی امکان نہ رہے۔ چنانچہ اِسی امر کا اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں ذکر کرتا اور فرماتا ہےکہ وہ لوگ جنہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر اتہام لگایا وہ تم لوگوں میں سے ہی مسلمان کہلانے والا ایک جتھا ہے مگر فرماتا ہے ۲۵؎ تم یہ خیال نہ کرو کہ یہ الزام کوئی بُرا نتیجہ پیدا کرے گا بلکہ یہ الزام بھی تمہاری بہتری اور ترقی کا موجب ہوجائے گا چنانچہ لو اب ہم خلافت کے متعلق اصول بھی بیان کردیتے ہیں اور تم کو یہ بھی بتادیتے ہیں کہ یہ منافق زور مار کر دیکھ لیں یہ ناکام رہیں گے اور ہم خلافت کو قائم کرکے چھوڑیں گے۔ کیونکہ خلافت، نبوت کا ایک جزو ہے اور الٰہی نور کے محفوظ رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔ پھر فرماتا ہے ۔ ۲۶؎ ان الزام لگانے والوں میں سے جیسی جیسی کسی نے کمائی کی ہے ویسا ہی عذاب اسے مل جائے گا۔ چنانچہ جو لوگ الزام لگانے کی سازش میں شامل تھے انہیں اسّی اسّی کوڑے لگائے گئے۔ پھر فرمایا۲۷؎ مگر ان میں سے ایک شخص جو سب سے بڑا شرارتی ہے اور جو اِس تمام فتنہ کا بانی ہے اسے ہم کوڑے نہیں لگوائیں گے بلکہ اس کو عذاب ہم خود دیں گے۔ وہ شخص جس نے اصل میں بات بنائی ہے (یعنی عبداللہ بن ابی بن سلول) وہ عام عذاب کا مستحق نہیں خاص اور بڑے عذاب کامستحق ہے، جو عذاب ہم ہی دے سکتے ہیں۔ چنانچہ اس حکم کے ماتحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُسے عذاب مل گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی وہ ہلاک ہوگیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے بعد خلیفہ ہوگئے۔ اس الزام کا ذکر کرنے اور عبداللہ بن ابی ابن سلول کی اِس شرارت کو بیان کرنے کے بعد کہ اس نے خلافت میں رخنہ اندازی کرنے کے لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگایا، اللہ تعالیٰ معاً فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان اور زمین کا نور ہے مگر اُس کے نور کو مکمل کرنے کا ذریعہ نبوت اور اس کے بعد اس کے دنیا میں پھیلانے اور اسے زیادہ سے زیادہ عرصہ تک قائم رکھنے کا اگر کوئی ذریعہ ہے تو وہ خلافت ہی ہے۔ پس ان منافقوں کی تدبیروں کی وجہ سے ہم اس عظیم الشان ذریعہ کو تباہ نہیں ہونے دیں گے بلکہ اپنے نور کے دنیا میں دیر تک قائم رکھنے کیلئے اس سامان کومہیا کریں گے۔
    اِس بات کا مزید ثبوت کہ اس آیت میں جس نورِ کا ذکر ہے وہ نورِ خلافت ہی ہے،اس سے اگلی آیتوں میں ملتا ہے جہاں اللہ تعالیٰ اِس سوال کا جواب دیتا ہے کہ یہ نور کہاں ہے۔ فرماتا ہے یہ نورِ خلافت چند گھروں میں پایاجاتا ہے۔ نورِ نبوت تو صرف ایک گھر میں ہے مگر نورِ خلافت ایک گھر میں نہیں بلکہ چند گھروں میں ہے۔ پھر فرماتا ہے وہ گھر ابھی چھوٹے سمجھتے جاتے ہیں مگر خدا نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ وہ ان گھروں کو اونچا کرے۔ کیونکہ نبوت کے بعد خلافت اس خاندان کو بھی اونچا کردیتی ہے جس میں سے کوئی شخص منصبِ خلافت حاصل کرتا ہے۔
    اس آیت نے یہ بتادیا کہ اس جگہ اللہ تعالیٰ کا مقصد نورِ خلافت کو بیان کرنا ہے اور یہ بتانا ہے کہ نورِ خلافت، نورِ نبوت اور نورِ الوہیت کے ساتھ کُلّی طور پر وابستہ ہے اور اس کو مٹانا دوسرے دونوں نوروں کو مٹانا ہے۔ پس ہم اِسے مٹنے نہ دیں گے اور اس نور کو ہم کئی گھروں کے ذریعہ ظاہر کریں گے تا نورِ نبوت کا زمانہ اور اس کے ذریعہ سے نورِ الٰہیہ کے ظہور کا زمانہ لمبا ہوجائے۔ چنانچہ خلافت پہلے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئی۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئی۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئی اور پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئی۔ کیونکہ خدا نے یہ فیصلہ کردیا تھاکہ ان بیوت کو اونچا کرے۔ کے لفظ نے یہ بھی بتادیا کہ الزام لگانے والوں کی اصل غرض یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو نیچا کریں اور انہیں لوگوں کی نگاہ میں ذلیل کریں۔ مگر خدا کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ ان کو اونچا کرے اور جب خدا انہیں عزت دینا چاہتا ہے تو پھر کسی کے الزام لگانے سے کیا بنتا ہے۔
    اب دیکھو سورئہ نور کے شروع سے لے کر اس کے آخر تک کس طرح ایک ہی مضمون بیان کیا گیا ہے پہلے اس الزام کا ذکر کیا جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگایا گیا تھا اور چونکہ حضرت عائشہؓ پر الزام لگانے کی اصل غرض یہ تھی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ذلیل کیا جائے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے جو تعلقات ہیں وہ بگڑ جائیں اور اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی نگاہ میںبھی ان کی عزت کم ہوجائے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد وہ خلیفہ نہ ہوسکیں۔ کیونکہ عبداللہ بن ابی بن سلول یہ بھانپ گیا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں کی نگاہ اگر کسی پر اُٹھنی ہے تو وہ ابوبکرؓ ہی ہے اور اگر ابوبکرؓ کے ذریعہ خلافت قائم ہوگئی تو عبداللہ بن ابی بن سلول کی بادشاہی کے خواب کبھی پورے نہ ہوں گے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس الزام کے ذکر کے معاً بعد خلافت کا ذکر کیا اور فرمایا کہ خلافت بادشاہت نہیں ہے۔وہ تو نورِ الٰہی کے قائم رکھنے کا ایک ذریعہ ہے اس لئے اس کا قیام اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ اس کا ضائع ہونا تو نورِنبوت اور نورِالوہیت کا ضائع ہونا ہے۔ پس وہ اس نور کو ضرور قائم کرے گا اور نبوت کے بعد بادشاہت ہرگز قائم نہیں ہونے دے گا اور جسے چاہے گا خلیفہ بنائے گا بلکہ وہ وعدہ کرتا ہے کہ مسلمانوں سے ایک نہیں متعدد لوگوں کو خلافت پر قائم کرکے نور کے زمانہ کو لمبا کردے گا۔یہ مضمون ایسا ہی ہے جیسے کہ حضرت خلیفہ المسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے کہ خلافت کیسری کی دکان کا سوڈا واٹر نہیں کہ جس کا جی چاہے پی لے۔ اسی طرح فرمایا تم اگر الزام لگانا چاہتے ہو تو بے شک لگائو نہ تم خلافت کومٹاسکتے ہو نہ ابوبکرؓ کو خلافت سے محروم کرسکتے ہو۔ کیونکہ خلافت ایک نور ہے وہ نور اللہ کے ظہور کا ایک ذریعہ ہے اس کو انسان اپنی تدبیروں سے کہاں مٹاسکتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اسی طرح خلافت کا یہ نور چند اور گھروں میں بھی پایا جاتا ہے اور کوئی انسان اپنی کوششوں اور اپنے مکروں سے اس نور کے ظہور کو روک نہیں سکتا۔ اب دیکھو اس تشریح کے ساتھ سورئہ نور کی تمام آیتوں کا آپس میں کس طرح ربط قائم ہوجاتا ہے اور کس طرح پہلے چار رکوعوں کے مضمون کا اور اس کے مَابَعْد کی آیتوں کے ساتھ ربط قائم ہوجاتا ہے اور ساری سورۃ کے مطالب آئینہ کی طرح سامنے آجاتے ہیں۔
    پس خلافت ایک الٰہی سنت ہے کوئی نہیں جو اِس میں روک بن سکے۔ وہ خداتعالیٰ کے نور کے قیام کا ذریعہ ہے جو اِس کو مٹانا چاہتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے نور کو مٹانا چاہتا ہے۔ ہاں وہ ایک وعدہ ہے جو پورا تو ضرور کیا جاتا ہے لیکن اس کے زمانہ کی لمبائی مومنوں کے اخلاص سے وابستہ ہے۔ فرماتا ہے ۲۸؎
    (خطباتِ محمود جلد۱۸ صفحہ۴۳۱ تا۴۵۸ )
    ۱؎ تذکرہ صفحہ ۵۸۸۔ ایڈیشن چہارم
    ۲؎ الم نشرح: ۲ ۳؎ النور: ۳۶ تا ۳۹ ۴؎ طٰہٰ: ۱۱
    ۵؎ دیوار گیر: دیوار میں لگانے کا لیمپ
    ۶؎ آل عمران: ۱۹۱ ۷؎ النور: ۲،۳ ۸؎ النور: ۵
    ۹؎ النور: ۶ ۱۰؎ النور: ۷ ۱۱؎ النور: ۱۲
    ۱۲؎ النور: ۲۰،۲۱ ۱۳؎ النور: ۲۲ ۱۴؎ النور: ۲۴
    ۱۵؎ النور: ۲۸ ۱۶؎ النور: ۳۱ ۱۷؎ النور: ۳۶
    ۱۸،۱۹؎ النور: ۵۶
    ۲۰؎ بخاری کتاب التفسیر۔ تفسیر سورۃ النور باب لولا اذ سمعتموہ (الخ)
    ۲۱؎ بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ باب فضل
    ابی بکر بعد النبیﷺ
    ۲۲؎ بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم باب قول النبیﷺ لوکنت متخذا خلیلا
    ۲۳؎ بخاری کتاب الاحکام باب الاستخلاف
    ۲۴؎ بخاری کتاب المغازی باب وفد بنی حنیفۃ (الخ)
    ۲۵تا۲۷؎ النور: ۱۲ ۲۸؎ النور: ۵۶


    شیخ عبدالرحمن صاب مصری کی تسلی کے لئے قسموں کا اعلان
    خطبہ جمعہ ۱۲؍ نومبر ۱۹۳۷ء میں شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کی تسلی کے لئے قسموں کا اعلان کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔
    ’’ شیخ عبدالرحمن صاحب مصری نے اپنے خط میں تسلیم کیا ہے کہ وہ دو سال سے خفیہ تحقیق میرے خلاف کررہے تھے اور اس بارہ میں لوگوں سے گفتگو کیا کرتے تھے۔ اگر جس دن انہیں میرے متعلق شبہ پید اہوا تھا اور میرے خلاف انہیں کوئی بات پہنچی تھی، اُسی دن وہ میرے پاس آتے اور کہتے کہ میرے دل میں آپ کے متعلق یہ شبہ پیدا ہوگیا ہے تو میں یقینا انہیں جواب دیتا اور اپنی طرف سے اُن کو اطمینان دلانے اور ان کے شکوک کو دور کرنے کی پوری کوشش کرتا۔ چنانچہ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ بعض لوگ میرے پاس آئے اور انہوں نے دیانت داری سے اپنے شکوک پیش کرکے ان کا ازالہ کرنا چاہا اور میں ان پر ناراض نہیں ہوا بلکہ میں نے ٹھنڈے دل سے اُن کی بات کو سُنا اور آرام سے اُنہیں سمجھانے کی کوشش کی۔ اورمیں سمجھتا ہوں اگر وہ جھوٹ نہ بولیں تو ایسے لوگ بھی میں پیش کرسکتا ہوں جو اَب احمدی نہیں اور وہ اِس بات کے شاہد ہیں کہ انہوں نے مخفی طور پر اپنے بعض شکوک کے متعلق مجھ سے تسلی چاہی اور میں نے نہایت خندہ پیشانی سے ان کی باتوں کا جواب دیا۔ لیکن جو شخص پہلے مجھے مجرم قرار دیتا ہے اور پھر مجھ سے تسلی چاہتا ہے اُس کی تسلی کرنے کے کوئی معنی نہیں۔ جس نے فیصلہ کرلیا کہ میں مجرم ہوں،جس نے فیصلہ کرلیا کہ مجھ میں فلاں فلاں عیوب پائے جاتے ہیں اُس کی تسلی کرنی بالکل بے معنی بات ہے۔
    پس مجھے ان کے طریق پر اعتراض ہے ورنہ وسوسے بعض کمزور انسانوں کے قلوب میں پیدا ہوتے ہی رہتے ہیں۔ مجھے جس با ت پر اعتراض ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے خفیہ کارروائی کی اور خفیہ طور پر لوگوں کو بہکایا۔ چنانچہ اِس کا ثبوت اِس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے کہ اِدھر جماعت سے وہ نکلے اُدھر حکیم عبدالعزیز صاحب نے کہہ دیا کہ میں جماعت سے الگ ہوتا ہوں اور وہ جھٹ مصری صاحب کے ساتھ شامل ہوگئے۔ پھر مصری صاحب نے بھی اپنے خط میں یہی لکھا تھا کہ فخرالدین کو اگر آپ نے معاف نہ کیا تو اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا۔ گویا میری وجہ سے وہ جماعت سے الگ نہیں ہوئے بلکہ اس لئے ہوئے کہ فخرالدین کو کیوں معاف نہیں کیا گیا۔ پس صاف پتہ لگتا ہے کہ یہ ایک پارٹی تھی جو اندر ہی اندر خفیہ منصوبے کررہی تھی۔ چنانچہ ابتدائی رپورٹیں جو میرے پاس پہنچیں ان میں میاں فخرالدین صاحب، شیخ عبدالرحمن صاحب مصری، حکیم عبدالعزیز صاحب اور میاں مصباح الدین صاحب ان چاروں کے نام علاوہ بعض دوسرے ناموں کے آتے رہے ہیں۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ کیوںنہ فرض کرلیا جائے کہ رپورٹ دینے والوں نے جھوٹ بولا۔ یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ یہ شروع سے ایک پارٹی تھی۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ رپورٹ دینے والوں کو کیا پتہ تھا کہ کسی وقت یہ چاروں علیحدہ بھی ہوجائیں گے۔ انہوں نے ایک رپورٹ کی اور وقوعہ نے ثابت کردیا کہ انہوں نے جھوٹ نہیں بولا بلکہ سچ کہا ورنہ وجہ کیا ہے کہ اِدھر میاں فخرالدین صاحب ملتانی جماعت سے نکالے جاتے ہیں اوراُدھر شیخ عبدالرحمن صاحب مصری بھی نکل جاتے ہیں۔ وہ علیحدہ ہوتے ہیں تو میاں عبدالعزیز حکیم اور میاں عبدالرب بھی فسخ بیعت کا اعلان کردیتے ہیں اور میاں مصباح الدین صاحب سے بھی ایسی حرکات سرزد ہوتی ہیں کہ انہیں جماعت سے الگ کرنا پڑتا ہے۔ یہ باتیں ثبوت ہیں اِس بات کا کہ ان میں خفیہ کارروائیاں ہوتی رہی تھیں او ریہی تقویٰ کے خلاف فعل ہے۔ اگر پہلے دن ہی جب انہوں نے میرے متعلق کوئی بات سنی تھی، میرے پاس آتے اور مجھ سے کہتے کہ میں نے فلاں بات سنی ہے مجھے اس کے متعلق سمجھایا جائے تو جس رنگ میں بھی ممکن ہوتا میں انہیں سمجھانے کی کوشش کرتا اور گو تسلی دینا خدا کا کام ہے میرا نہیں مگر اپنی طرف سے میں انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کرتا۔ لیکن انہوں نے تقویٰ کے خلاف طریق اختیار کیا اور پھر ہر قدم جو انہوں نے اُٹھایا وہ تقویٰ کے خلاف اُٹھایا۔ چنانچہ جب انہوں نے یہ شور مچانا شروع کردیا کہ مجھ پر جماعت کی طرف سے کئی قسم کے مظالم کئے جارہے ہیں تو میں نے اس کی تحقیق کیلئے ایک کمیشن مقرر کیا جس کے ممبر مرزا عبدالحق صاحب اور میاں عطاء اللہ صاحب پلیڈر تھے۔ مرزا عبدالحق صاحب، شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کے گہرے دوست تھے۔ مگر انہوں نے مرزا عبدالحق صاحب کے متعلق کہہ دیا کہ یہ خلیفہ کے اپنے آدمی ہیں اور انہیں چونکہ جماعت کی طرف سے مقدمات ملتے ہیں اس لئے فیصلہ میں وہ خلیفہ کی طرفداری کریں گے اور میاں عطاء اللہ صاحب پلیڈر کہ وہ بھی ان کے گہرے دوستوں میں سے تھے ان کے متعلق انہوں نے یہ کہاکہ مجھے ان کے فیصلہ پر اس لئے تسلی نہیں کہ ان کی مرزا گل محمد صاحب نے جو خلیفہ کے چچا کے بیٹے ہیں ایک ضمانت دی ہوئی ہے۔ اب اگر احمدیوں کے ایمان اتنے کمزور ہیں کہ ان میں سے کوئی اس لئے صحیح فیصلہ نہ کرے کہ مجھے جماعت کی طرف سے مقدمات ملتے ہیں، اگر میں نے جماعت کے خلاف فیصلہ کیا تو مقدمات ملنے بند ہوجائیں گے۔ اور کوئی اس لئے صحیح فیصلہ نہ کرے کہ میرے چچا کے بیٹے نے ان کی ایک ضمانت دی ہوئی ہے تو ایسے لوگوں کے اندر شامل رہنے سے فائدہ کیا ہے۔ میں نے تو نہایت دیانتداری سے ان دونوں کو اس کا دوست سمجھ کر اس فیصلہ کیلئے مقرر کیا تھا مگر انہوں نے اس کمیشن کے سامنے اس لئے اپنے مطالبات پیش کرنے سے انکار کردیا کہ یہ دونوں ہمارے زیر اثر ہیں۔ اس کے مقابلہ میں مصری صاحب کے ایک اَور دوست مصباح الدین صاحب کے متعلق جب کمیشن مقرر کیا گیا تو میں نے یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ لوگ ان لوگوں پر جو جماعت سے کوئی ملازمت وغیرہ کا تعلق رکھتے ہوں، اعتراض کرنے کے عادی ہیں ایسے آدمی مقرر کئے جنہیں جماعت سے کبھی کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ ان میں سے ایک میر محمد بخش صاحب امیر جماعت احمدیہ گوجرانوالہ تھے۔ انہوں نے کبھی بھی جماعت سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا اور جماعت نے کسی مقدمہ میں انہیں کبھی فیس نہیں دی۔ دوسرے دوست چوہدری محمد شریف صاحب وکیل منٹگمری تھے انہیں بھی کبھی جماعت سے کوئی مالی فائدہ نہیں پہنچا۔ مگر جب ان دونوں کو میں نے مقرر کیا اور انہوں نے مصباح الدین صاحب کو بیان کیلئے بُلایا تو انہوں نے کہا کہ اگر خلیفہ خود مجھ سے جواب طلب کرے تو میں جواب دے سکتا ہوں، کسی اَور کا ان امور سے کیا تعلق ہے۔ مجھے جب یہ بات پہنچی تو میں نے جواب دیا کہ جب وہ سلسلہ پر اعتراض کرنے لگے تھے تو کیا انہوں نے خلیفہ سے اجازت لے لی تھی؟ اگر ان میں اتنا ہی اخلاص تھا تو چاہئے تھا کہ وہ اپنے اعتراضات کا بھی خلیفۂ وقت کے سوا اور کسی کے سامنے ذکر نہ کرتے۔ جب اعتراض کرنے کا وقت تھا اُس وقت تو اَوروں کے سامنے ہی اعتراض ہوتے رہے مگر جب جواب دینے کا وقت آیا تو کہہ دیا کہ میں خلیفہ کے سِوا اور کسی کو جواب نہیں دے سکتا۔ اصل بات یہ ہے کہ جب کسی انسان کے دل میں فتنہ پیدا ہوجاتا ہے تو وہ ’’نہ مانوں‘‘ ’’نہ مانوں‘‘ کی رٹ لگاتا رہتا ہے۔ جب کمیشن میں شیخ مصری صاحب کے دوست مقرر کئے گئے تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ پیڈ ایجنٹ (PAID AGENT) ہیں۔ ایک کو مقدمے مل جاتے ہیں اور دوسرے کو خلیفۂ وقت کے ایک رشتہ دارنے ضمانت دی ہوئی ہے۔ اور جب ایسے لوگ مقرر کئے گئے جن پر یہ اعتراض نہیں پڑ سکتا تھا تو یہ کہہ دیا گیا کہ خلیفۂ وقت کے سوا ہم کسی کے سامنے بات نہیں کرسکتے۔
    پس میں نے تو چاہا تھا کہ اگر ہماری جماعت کے کسی فرد کی طرف سے ان پر سختی ہوئی ہو تو اس کا ازالہ کروں مگر انہوں نے خود اس کو قبول نہیں کیا۔ میں یہ ہرگز نہیں کرسکتا تھا کہ سلسلہ احمدیہ کے جھگڑوں میں غیراحمدیوں کو جج مقرر کروں۔ ہمیشہ اُمت محمدیہ میں اُمت محمدیہ کے افراد ہی باہمی جھگڑوں کا تصفیہ کرتے رہے ہیں۔ اس پر اگر کسی کو اعتراض ہے تو یہ میرے بس کی بات نہیں۔
    خلفائے اسلام بھی بعض دفعہ دیوانی مقدموں میں بُلائے گئے ہیں مگر وہ اُنہی قاضیوں کے پاس گئے ہیں جنہیں انہوں نے خود مقرر کیا تھا۔ حضر ت عمرؓ اور حضرت علی رضی اللہ عنہما پر اگر کوئی دیوانی مقدمہ ہوا ہے تو اُنہی قاضیوں کے پاس جنہیں حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ نے مقرر کیا تھا۔ اُس وقت کسی نے نہیں کہا کہ قاضی تو آپ کا اپنا مقرر کردہ ہے اس سے ہم فیصلہ کیونکر کراسکتے ہیں، وہ آپ کی طرفداری کرے گا۔ وہ جانتے تھے کہ یہ مسلمان قاضی ہیں اور مسلمان قاضی دیانت داری سے ہی کام لیں گے۔ ان میں یہ بدظنی نہیں تھی کہ قاضی تو ان کا مقرر کردہ ہے وہ کس طرح صحیح فیصلہ کرسکتا ہے ۔ اور اگر کسی وقت قوم کی حالت ایسی گندی ہوجائے کہ اُس کا خلیفہ بگڑ جائے اور اُس کے افراد بددیانت ہوجائیں تو پھر اس مرض کا علاج کوئی بندہ نہیں کرسکتا اس کا علاج پھر اللہ تعالیٰ ہی کرسکتا ہے۔ اُس وقت پھر اصلاح کا دعویٰ کرنا محض ایک لاف ہے۔ اُس کا علاج ایک ہی ہوتا ہے کہ خداتعالیٰ سے فریاد کی جائے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے کہ اگر تمہیں مجھ پر ایسی بدظنی ہے اور تم سمجھتے ہو کہ یہ جماعت کو تباہ کررہا ہے تو تم خدا سے کہو کہ وہ مجھے تباہ کردے۔ بندوں کے پاس چیخ و پکار بالکل بے معنی بات ہے۔
    مصری صاحب کے اِسی ساتھی نے جس کے خط کا میں اوپر ذکر کرآیا ہوں یہ بھی لکھا ہے کہ آپ نے سازش کرکے مستریوں پر حملہ کروایا تھا۔ پھر آپ نے سازش کرکے محمد امین کو قتل کروایا اور اب فخرالدین کو مروادیا ہے۔ اور اس کے بعد آپ ہمیں مروانے کی فکر میں ہیں۔ مجھے اس قسم کے اعتراض کا جواب دینے کی ضرورت نہیں تھی کیو نکہ ہر غلط الزام کا جواب دینے کی نہ ضرورت ہوتی ہے اور نہ اس کا فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ خط لکھنے والے نے آئندہ کا شبہ بھی ظاہر کیا ہے اور میں کسی کو قلق اور اضطراب میں رکھنا نہیں چاہتا اِس لئے میں ان کے وسوسہ کو دور کرنے اور ان کے خدشات کو مٹانے کیلئے وہ بات کہتا ہوں جس کی مجھے عام حالات میں ضرورت نہیں تھی اور میں اُس خدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے کہ میں نے کسی کو پٹوانا اور قتل کروانا تو الگ رہا آج تک سازش سے کسی کو چپیڑ بھی نہیں لگوائی۔ کسی پر اُنگلی بھی نہیں اُٹھوائی اور نہ میرے قلب کے کسی گوشہ میں یہ بات آئی ہے کہ میں خدانخواستہ آئندہ کسی کو قتل کروائوں یا قتل تو الگ رہا ناجائز طور پر پٹوا ہی دوں۔ اگر میں اِس قسم میں جھوٹا ہوں تو اللہ تعالیٰ کی *** مجھ پر او رمیری اولاد پر ہو۔ ان لوگوں نے میری صحبت میں ایک لمبا عرصہ گزارا ہے۔ اگر یہ لوگ تعصب سے بالکل ہی عقل نہ کھوچکے ہوتے تو یہ ان باتوں سے شک میں پڑنے کی بجائے خود ہی ان باتوں کو ردّ کردیتے۔ خداتعالیٰ نے مجھے ظالم نہیں بنایا، اُس نے مجھے ایک ہمدرد دل دیا ہے جو ساری عمر دنیا کے غموں میں گھلتا رہا اور گھل رہا ہے۔ ایک محبت کرنے والا دل جس میں سب دنیا کی خیر خواہی ہے، ایک ایسا دل جس کی بڑی خواہش ہی یہ ہے کہ وہ اور اس کی اولاد اللہ تعالیٰ کے عشق کے بعد اس کے بندوں کی خدمت میں اپنی زندگی بسر کریں۔ ان امور میں مجبوریوں یا غلطیوں کی وجہ سے کوئی کمی آجائے تو آجائے مگر اس کے ارادہ میں اس بارہ میں کبھی کمی نہیں آئی۔
    میں اصل مضمون سے دُور چلا گیا۔ میں ان لوگوں کی تسلی کیلئے اس سے بھی بڑھ کر ایک قدم اُٹھاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اگر جماعت میں کوئی ایسا شخص ہے جسے میں نے کبھی بھی کسی کے قتل یا مخفی طور پر پیٹنے کا حکم دیاہو (مخفی کی شرط میں نے اس لئے لگائی ہے کہ قضاء کی سزائوں میں ان لوگوں کو جنہیں سزا دینے کا ہم کو شرعی اور قانونی حق ہوتا ہے کبھی بدنی سزا بھی دِلوادیتے ہیں)۔ تو اسے میں اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ وہ اس امر کو ظاہر کردے تا کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو دنیا پر میرا جھوٹ کھل جائے۔ پھر میں اس سے بھی بڑھ کر ایک اَور قدم اُٹھاتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے ہمیشہ ایسے افعال کو ناپسندکیا ہے جن میں ظلم پایا جائے اور ظاہر اور مخفی ہر طرح ان افعال کو روکنے کی کوشش کرتا رہا ہوں۔ ہاں اگر خدا کی بتائی ہوئی تقدیریں پوری ہوں تو ان میں میرا کوئی دخل نہیں۔ وہ خدا کا اپنا کام ہے جو وہ کرتا ہے او رمجھ پر اس کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ مجھ پر الزام تبھی آسکتا ہے کہ میرے منصوبہ یا اشارہ سے کوئی بات ہو۔ لیکن میں انہیں کہتا ہوں انہوں نے مجھ پر یہ اعتراض کر کے کہ میں پہلے اپنے دشمنوں کی تباہی کے متعلق ایک پیشگوئی کرتا ہوں اور پھر انسانوں کی منت سماجت کرکے اسے پورا کرواتا اور اپنے دشمنوں کو مرواڈالتا ہوں، غیر از جماعت لوگوں کے دلوں میں شبہات پیداکردیئے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہم بھی یہی کہا کرتے تھے کہ مرزا صاحب نے لیکھرام کے قتل ہونے کی پیشگوئی کی اور پھر ایک آدمی بھیج کر اُسے مروادیا۔ گویا انہوں نے مجھ پر یہ الزام لگاکر ایک ایسا خطرناک حربہ دشمن کے ہاتھ میں دے دیا ہے کہ گو وہ سلسلہ کو نقصان نہیں پہنچاسکتا مگر اس سے وہ ہنسی اور طعن و تشنیع کا نشانہ ضرور بن جاتا ہے۔ انہیں سوچنا چاہئے کہ میں خداتعالیٰ کی خبر کو کس طرح چھپائوں۔ میں اس بارہ میں بے بس ہوں۔ میں قسم کھاسکتا ہوں، ہر سخت سے سخت قسم کہ میں نے جو خبر دی وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی میں نے اپنے پاس سے نہیں بنائی اور میں ہر غلیظ سے غلیظ قسم کھاسکتا ہوں کہ اس خبر کے پورا کرنے کیلئے میں نے کوئی سازش نہیں کی۔ اس سے زیادہ میں اور کیا ذریعہ تسلی دلانے کیلئے اختیار کرسکتاہوں۔ جو اس پر بھی تسلی نہیں پاتا اس کا علاج خداتعالیٰ کے پاس ہی ہے میرے پاس نہیں۔ مگر بدقسمت ہے وہ جو خداتعالیٰ کے نشانات سے فائدہ اُٹھانے کی بجائے اَور بھی گمراہ ہوجاتا ہے۔ بے شک خداتعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ ۱؎ کچھ لوگ اس سے ہدایت پاتے ہیں اور کچھ گمراہ ہوجاتے ہیں۔ مگر اس قاعدہ کے گمراہی والے حصہ میں شامل ہونا کوئی اچھا مقا م نہیں کہ انسان اس مقام پر کھڑا ہونے کی کوشش کرے۔
    پیشگوئیاں ہمارے لئے کوئی نئی چیز نہیں۔ ابھی قریب کے زمانہ میں ہم خداتعالیٰ کے ایک مامور کی آواز سن چکے ہیں۔ پیشگوئی کے بعد پیشگوئی ہم نے سُنی اور پھر اپنی آنکھوں سے پورا ہوتے دیکھی۔ پھر کیا ہوا کہ اتنے قلیل عرصہ میں لوگ اس آواز سے ناآشنا ہوگئے اور کیوں نہ ہوا کہ وہ خداتعالیٰ کی آواز سے فائدہ اُٹھاتے اور انکار کرکے اپنے گناہوں کے بار کو زیادہ نہ کرتے۔ اے زمین اور آسمان! تو گواہ رہ کہ میں ان الفاظ کے بیان کرنے میں جو میں نے بیان کئے تھے جھوٹا نہ تھا۔ میں نے وہی کہا جو میرے دل اور کانوں پرنازل ہوا اور میں نے افتراء نہیں کیا اور میں خداتعالیٰ پر افتراء کرنے کو لعنتیوں کا کام سمجھتا ہوں۔ اور مجھے ایسا کہنے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ وہ خود کہہ چکا ہے کہ ۲؎ میں نے صرف وہی کہا جو میرے روحانی کانوں نے سُنا اور میرے دل نے محسوس کیا اور اِسی دفعہ نہیں میں نے بہت دفعہ آسمانی آواز کو سنا ہے۔ اور یہ کوئی میرا ذاتی فخر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا محض احسان ہے ورنہ میں تو ایک ناکارہ وجود ہوں، گناہوں سے پُر، خطائوں سے بھرا ہوا مگرمَیں کیا کروں کہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کرچکا ہے کہ وہ مجھ سے اِحیائے اسلام کا کام لے اور اسلام کی عظمت کو میرے ذریعہ سے قائم کرے اور یہ کام ہوکر رہے گا جلد یا بدیر۔ مبارک ہے وہ جو اِس کام میں میرا ہاتھ بٹاتا ہے اور افسوس اُس پر جو میرے راستہ میں کھڑا ہوتا ہے کیونکہ وہ میرا نہیں خداتعالیٰ کا مقابلہ کرتا ہے جس نے مجھ سے گنہگار کو اپنے جلال کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ کاش! وہ توبہ کرتا اور خداتعالیٰ کے اشارہ کو سمجھتا، کاش! وہ اپنے آپ کو اس خطرناک مقام پر کھڑا نہ کرتا کیونکہ اِس قسم کے اعتراضوں سے وہ جس مصیبت کو اپنے اوپر سے ٹلانا چاہتا ہے وہ اُس کو ٹلاتا نہیں بلکہ ان کی وجہ سے اپنے آپ کو پہلے سے کہیں زیادہ خداتعالیٰ کے غضب کے نیچے لے آتا ہے۔ میں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں اخلاص اور درد کے ساتھ اسے یہی کہتا ہوں کہ
    اے آنکہ سُوئے من بدویدی بصد تبر
    از باغباں بترس کہ من شاخِ مثمرم۳؎
    میں آخر میں پھر شیخ صاحب سے اخلاص اور خیر خواہی سے کہتا ہوں کہ جس جس رنگ میں خداتعالیٰ کی قسم کھانا میرے لئے ممکن تھا میں نے قسمیں کھالی ہیں اور ان کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ توبہ کریں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں۔ میںنے ان کی باتوں کو سُنا اور صبر کیا اور اِس حد تک صبر کیا کہ دوسرے لوگ اِس حد تک صبر نہیں کرسکتے۔ مگر وہ یقین رکھیں اور اگر وہ یقین نہیں کریں گے تو زمانہ اُن کو یقین دلادے گا اور اگر اس دنیا میں انہیں یقین نہ آیا تو مرنے کے بعد انہیں اس بات کا یقین آجائے گا کہ انہوں نے مجھ پر وہ بدترین ظلم کیا ہے جو زیادہ سے زیادہ انسان دنیا میں کسی پر کرسکتا ہے۔ انہوں نے ان حربوں کو استعمال کیا ہے جن حربوں کے استعمال کی اسلام اور قرآن اجازت نہیں دیتا۔ میں نے آج تک خداتعالیٰ کے فضل سے کبھی دیدہ دانستہ دوسرے پر ظلم نہیں کیا اور اگر کسی ایسے شخص کا مقدمہ میرے پاس آجائے جس سے مجھے کوئی ذاتی رنجش ہو تو میرا طریق یہ ہے کہ میں ہر وقت یہ دعا کرتا رہتا ہوں کہ الٰہی! یہ میرے امتحان کا وقت ہے تو اپنا فضل میرے شامل حال رکھ ایسا نہ ہو کہ میں فیل ہوجائوں۔ ایسا نہ ہو کہ میرے دل کی کوئی رنجش اس فیصلہ پر اثر انداز ہوجائے اور میں انصاف کے خلاف فیصلہ کردوں۔ پس میں ہمیشہ دعا کرتارہتا ہوں تا خداتعالیٰ مجھے انصاف کی توفیق دے اور میں یقینا کہہ سکتا ہوں کہ خداتعالیٰ نے مجھے ہمیشہ انصاف کی توفیق دی ہے۔ میں نے شدید سے شدید دشمنوں کی بھی کبھی بدخواہی نہیں کی۔ میں نے کسی کے خلاف اُس وقت تک قدم نہیں اُٹھایا جب تک شریعت مجھے اس قدم کے اُٹھانے کی اجازت نہیں دیتی۔ پس وہ تمام الزامات جو وہ مجھ پر مارپیٹ اور قتل وغیرہ کے سلسلہ میں عائد کرتے ہیں سب غلط اور بے بنیاد ہیں۔ بلکہ بیسیوں دفعہ ایسا ہوا ہے کہ جب بعض لوگوں نے مجھے کہا کہ لاتو ں کے بھوت باتوں سے نہیں مانا کرتے تو میں نے اُن کو ڈانٹا اور کہا کہ یہ شریعت کے خلاف فعل ہے۔ ان باتوں کا کبھی دل میں خیال بھی نہیں لانا چاہئے۔ اگر اِس قدر یقین دلانے کے باوجود بھی وہ اپنی باتوں پر قائم رہتے ہیں تو میرے پاس ان کے اعتراضات کا کوئی جواب نہیں اور میں خداتعالیٰ سے ہی اپیل کرتا ہوں کہ اے خدا! اگر تو نے مجھے عہدئہ خلافت پر قائم کیا ہے اور تُو نے ہی میرے ہاتھوں اور میری زبان کو بند کیا ہوا ہے تو پھر تو آپ ان مظالم کا جواب دینے کیلئے آسمان سے اُتر۔ نہ میرے لئے بلکہ اپنی ذات کیلئے، نہ میرے لئے بلکہ اپنے سلسلہ کیلئے۔
    مذکورہ بالا خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر کوئی آزاد کمیشن بیٹھے تو اس کے سامنے میرے خلاف لڑکوں اور لڑکیوں اور عورتوں کی گواہیاں وہ دِلوادیں گے بلکہ خود میری بھی گواہی دِلوادیں گے۔ جہاں تک میں سمجھ سکتا ہوں، میری اپنی گواہی سے لکھنے والے کی مراد شاید یہ ہو کہ وہ کوئی میری تحریرپیش کرنا چاہتے ہیں وَاللّٰہُ اَعْلَمُ اور کوئی معنی اس فقرہ کے میرے ذہن میں نہیں آئے۔ مگر ایسا ہو تو بھی خلفائے سابق سے میری ایک اور مماثلت ثابت ہوگی۔ پہلے خلفاء کے مقابلہ میں بھی لڑکیاں پیش کی گئیں۔ پہلے خلفاء کے مقابلہ میں بھی تحریریں پیش کی گئیں۔ چاہے ان لڑکیوں کی گواہیاں ہوئیں یا نہ ہوئیں اور چاہے وہ تحریریں کیسی ہی جعلی تھیں مگر بہرحال اِس قسم کے دلائل پہلے بھی پیش ہوتے چلے آئے ہیں۔ پس ان باتوں سے میں نہیں گھبراتا۔ میں نے بندوں پر کبھی توکّل نہیں کیا، میرا توکّل محض خدا کی ذات پر ہے۔ اگر میں جماعت سے بھی محبت کرتاہوں تو صرف اِس لئے کہ یہ خدا نے مجھے دی ہے اور اگر جماعت کے تمام لوگ مجھ سے الگ ہوجائیں تو میں سمجھ لوں گا کہ یہ خدا نے مجھے نہیں دیئے تھے۔ پس مجھے لوگوں کے ارتداد سے گھبراہٹ نہیں۔ مجھے یقین ہے خدا کے وعدوں پر، مجھے یقین ہے خدا کی نصرتوں پر اور مجھے یقین ہے کہ ہر وہ شخص جو سچے دل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان رکھتا ہے وہ نہیں مرے گا جب تک میری بیعت میں داخل نہ ہولے۔ او رمجھے یہ بھی یقین ہے کہ جو شخص مجھے چھوڑتا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو چھوڑتا ہے۔ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو چھوڑتا ہے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑتا ہے اور جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑتا ہے وہ خدا کو چھوڑتاہے۔ میں اِس یقین پر قائم ہوں قرآن مجید کے ماتحت، میں اِس یقین پر قائم ہوں حدیث کے ماتحت، میں اس یقین پر قائم ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کے ماتحت، میں اس یقین پر قائم ہوں ان رئویا و کشوف اور الہامات کے ماتحت جو مجھے خداتعالیٰ کی طرف سے ہوئے اور میں ا س یقین پر قائم ہوں خداتعالیٰ کی اُن کھلی کھلی تائیدات کے ماتحت جو ہروقت میرے شامل حال ہیں۔ اگر کسی کو خداتعالیٰ کا یہ عمل نظرنہیں آتا تو وہ اندھا ہے۔ ورنہ جو شخص ایک معمولی بصیرت بھی رکھتا ہو وہ دیکھ سکتا ہے کہ خدا نے ہمیشہ میری امداد فرمائی ہے اور غیب سے میری تائید کے سامان پیدا کئے ہیں اور ہمیشہ اپنے فضل سے وہ میری پشت پناہ بنا رہا ہے۔ اس نے ہر لمحہ میری تائید کی، اُس نے ہر گھڑی میری نصرت کی، اُس نے ہر حملہ سے مجھے بچایا، اُس نے ہر میدان میں مجھے کامیاب کیا۔ میں کمزور ہوں اِس کو میں مانتا ہوں، میں کم علم ہوں اِس سے میں ناواقف نہیں، میں نالائق ہوں اِس سے مجھے انکار نہیں مگر خداتعالیٰ نے مجھ سے پوچھ کر مجھے خلیفہ نہیں بنایا۔ اگر وہ پوچھتا تو میں اُس سے ضرور کہتا کہ مجھ میں کوئی خوبی اور لیاقت نہیں۔ مگر کون ہے جو خداتعالیٰ سے پوچھے کہ تُونے یہ کام کیوں کیا اور کون ہے جو اس کے فیصلہ پر اعتراض کرے۔ جب اُس نے مجھے اِس مقام پر کھڑ اکردیا تو اب میں کھڑا ہوں۔ اِس لئے نہیں کہ اپنی عزت قائم کروں بلکہ اِس لئے کہ خدا کی عزت دنیا میں قائم کروں۔ پس اُسی کے نام کو قائم کرنے، اُسی کی عزت کو بلند کرنے اور اُسی کے جلال کو ظاہر کرنے کیلئے میں کھڑا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے آخر دم تک کھڑا رہوں گا اور اس کا عمل بتارہا ہے کہ وہ میرے ساتھ ہے۔
    پس جو شخص مجھے چھوڑتا ہے وہ خدا کو چھوڑتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی کھلی کھلی تائیدات کو بھی نہیں دیکھ سکتا وہ روحانی اندھا ہے۔ اگر وہ راہِ راست پر نہیں آسکتا تو اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔ میری تو ہر آن اللہ تعالیٰ سے یہی دعا ہے کہ اے خدا! مجھ پر بھی رحم کر اور ان پر بھی جن کو تو نے میرے ساتھ تعلق پیدا کرنے کیلئے چنا اور اُن پر بھی جو اَب تک اس سے محروم ہیں۔ جس طرح تیرے فضل نے مجھ جیسے کمزور کو ڈھانپ لیا، میں تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ اِسی طرح وہ فضل ساری دنیا کو ڈھانپ لے۔ وَمَا ذٰلِکَ بِبَعِیْدٍ عَنْ رَحْمَتِکَ یَارَبِّ۔‘‘
    (خطباتِ محمود جلد۱۸ صفحہ۵۲۸ تا۵۳۷)
    ۱؎ البقرۃ: ۲۷ ۲؎ الانعام: ۲۲
    ۳؎ درثمین فارسی صفحہ ۱۰۶۔ شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ

    حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد کے واقعات سے متعلق
    خطبہ جمعہ ۲۱؍جنوری ۱۹۳۸ء میں حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے حضورنے فرمایا :۔
    ’’کیا عجیب نظارہ ہمیں نظر آتاہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وسلم کی مسجد میں حضرت علی ؓ کی شہادت کے بعد معاویہ ہزاروں مسلمانوں کے درمیان کھڑے ہوتے ہیں۔ وہی معاویہ جو فتح مکہ تک برابر رسول کریم کیخلاف لڑتے رہے تھے، اورکھڑے ہوکر مسلمانوں سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ اے مسلمانو!تم جانتے ہو ہمارا خاندان عرب کے رئوسا میں سے ہے اورہم لوگ اشرافِ قریش میں سے ہیں۔ پس آج مجھ سے زیادہ حکومت کا کون مستحق ہوسکتاہے اورمیرے بعد میرے بیٹے سے کون زیادہ مستحق ہو سکتا ہے۔ اُس وقت حضرت عبداللہ بن عمرؓمسجد کے ایک کونے میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ وہ عبداللہ بن عمرؓ جن کو حضرت عثمانؓ اورحضرت علی ؓ کی موجودگی میں صحابہؓ نے خلافت کا حق دار قراردیاتھا اورحضرت عمرؓ سے خواہش کی تھی کہ آپ اپنے بعد ان کو خلافت پر مقرر فرمائیں کیونکہ مسلمان زیادہ سہولت سے اُن کے ہاتھ پر جمع ہوجائیں گے اورکسی قسم کے فتنے پیدا نہیں ہوسکیں گے۔ لیکن حضرت عمرؓ نے جواب دیا میں اسکی نیکی کو جانتاہوں اوراس کے مقام کو پہچانتاہوں لیکن یہ رسم میں نہیں ڈالناچاہتا کہ ایک خلیفہ اپنے بعد اپنے بیٹے کو خلیفہ مقررکردے اورخصوصاً جبکہ اکابر صحابہؓ زندہ موجود ہیں اس لئے میںاسے مشورہ میں توشامل رکھوں گالیکن خلافت کا امیدوار قرارنہیں دوں گا۔‘‘
    (الفضل ۲۵جنوری ۱۹۳۸ء)

    جو شخص ایک خلیفہ پر حملہ کرتا ہے وہ دراصل سارے
    خلفاء پر حملہ کرتا ہے
    خطبہ جمعہ ۱۸؍ فروری ۱۹۳۸ء میں حضور نے فرمایا:۔
    ’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایاکرتے تھے کہ جو شخص مجھ پر حملہ کرے گا اس کے حملہ کی زد تمام انبیاء پرپڑے گی۔ اِسی طرح جو شخص ایک خلیفہ پر حملہ کرتاہے وہ دراصل سارے خلفاء پر حملہ کرتاہے۔ چنانچہ میں نے دیکھا ہے قریب کے عرصہ میں مصری صاحب نے ایک اشتہار شائع کیا ہے ۔جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے جب فلاں فلاں غلطیاں کیں اورمسلمانوں نے آپ سے مطالبہ کیا کہ آپ خلافت سے دستبردار ہوجائیں توگوانہوں نے الگ ہونے سے انکارکردیا مگر مسلمانوں نے توبہرحال ایک رنگ میں انہیں معزول کرہی دیا۔گویاحضرت عثمان ؓ اِسی بات کے مستحق تھے کہ خلافت سے معزول کئے جاتے حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان ؓ کے متعلق بارہایہ فرمایا ہے کہ انہوں نے جنت خریدلی اوروہ جنتی ہیں ۱؎ اورایک دفعہ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے دوبارہ بیعت لی اورحضرت عثمان ؓ اُس وقت موجود نہ تھے توآپ نے اپناہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھا اورفرمایا یہ عثمان ؓ کاہاتھ ہے۔ میں اُس کی طرف سے اپنے ہاتھ پرہاتھ رکھتاہوں۔ اس طرح آپ نے اپنے ہاتھ کو حضرت عثمانؓ کا ہاتھ قراردیا۔ پھر ایک دفعہ آپ سے فرمایا۔ اے عثمان! خداتعالیٰ تجھے ایک قمیص پہنائے گا منافق چاہیں گے کہ وہ تیری اس قمیص کو اُتاردیں مگر تواُس قمیص کو اُتاریونہیں ۲؎۔ اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو حضرت عثمان ؓ سے یہ فرماتے ہیں کہ اس قمیص کونہ اُتارنا اورجو تم سے اس قمیص کے اتارنے کا مطالبہ کرینگے وہ منافق ہوں گے مگر مصری صاحب محض میری مخالفت میں آج یہ کہتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ سے عز ل کا مطالبہ کرنے والے حق پر تھے۔ اورغلطی پر حضرت عثمان ہی تھے۔ یہ ویسی ہی بات ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی پٹھان کنز پڑھ رہاتھا۔ اس میں اس نے یہ لکھادیکھا کہ حرکت سے نماز ٹوٹ جاتی ہے ۔ اس کے بعد ایک دن جب وہ حدیث کا سبق لے رہاتھا تو اتفاقاً یہ حدیث آگئی ۔ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ نے اپنے ایک نواسہ کو اُٹھالیا تووہ حدیث پڑھتے ہی کہنے لگا خوہ محمد صاحب کا نماز ٹوٹ گیا۔ اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وسلم تویہ فرماتے ہیں کہ خداتجھے خلافت کی قمیص پہنائے گااورتواُس کاقائم کردہ خلیفہ ہوگا اورجو لوگ تجھ سے عزل کا مطالبہ کرینگے وہ منافق ہونگے ۔مگر مصری صاحب کہتے ہیں کہ نہیں وہ خدا کے قائم کردہ خلیفہ نہیں تھے اورجنہوں نے آپ سے عزل کا مطالبہ کیا وہی حق پر تھے۔ گویا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اورخداتعالیٰ کی بتائی ہوئی بات تو نَعُوْذُ بِاللَّہِ جھوٹ ہوئی۔ لیکن منافق جو کچھ کہہ رہے تھے وہ سچ تھا۔‘‘ (الفضل ۲۶؍فروری ۱۹۳۸ء)
    ۱؎ بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی ﷺ باب مناقب عثمان بن عفان (الخ)
    ۲؎ مسند احمدبن حنبل جلد۶ صفحہ۸۶،۸۷۔ مطبوعہ بیروت ۱۳۱۳ھ

    لیڈر بنانا خدا کا کام ہے
    یکم اپریل ۱۹۳۸ء کو حضور نے خدام الاحمدیہ کی مجالس کے قیام کا ذکر فرمایااور خدام الاحمدیہ کے معنی ’’احمدیت کا خادم‘‘ بیان فرمائے ۔ نیز فرمایا کہ بعض لوگوںکے دلوں میںخیال پایا جاتاہے کہ کاش! ہم کسی طرح لیڈر بن جائیں یہ بیہودہ خیال ہے پھر فرمایا۔
    ’’لیڈر بنانا خد اکا کا م ہے اور جس کو خدا لیڈر بنانا چاہتا ہے اسے پکڑ کر بنا دیتا ہے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی کتب میں تحریر فرمایا ہے کہ ۔
    ’’ میں پوشیدگی کے حجرہ میںتھا اور کوئی مجھے نہیںجانتا تھااور نہ مجھے یہ خواہش تھی کہ کوئی مجھے شناخت کرے ۔ اس نے گوشہ تنہائی سے مجھے جبراً نکالا۔ میں نے چاہا کہ میںپوشیدہ رہوں ۔ اور پوشیدہ مروں ۔ مگر اس نے کہاکہ میں تجھے تمام دنیا میںعزت کے ساتھ شہرت دوں گا۔‘‘ ۱؎
    حضرت خلیفۃالمسیح الاوّل کی مثال۔ انکسار
    ’’پھر حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کو ہم نے دیکھا ہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس میں آپ ہمیشہ پیچھے ہٹ کر بیٹھا کرتے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آپ پر نظر پڑتی تو آپ فرماتے مولوی صاحب آگے آئیں اورآپ ذرا کھسک کر آگے ہوجاتے۔ پھر دیکھتے تو فرماتے مولوی صاحب اور آگے آئیں اور پھر آپ ذرااور آگے آجاتے۔ خود میرا بھی یہی حال تھا۔ جب حضرت خلیفۃالمسیح الاوّل کی وفات کا وقت قریب آیا ۔ اُس وقت میں نے یہ دیکھ کر کہ خلافت کے لئے بعض لوگ میرا نام لیتے ہیں اور بعض اس کے خلاف ہیں ، یہ ارادہ کر لیا تھاکہ قادیان چھوڑ کر چلاجاؤں تا جو فیصلہ ہونا ہو میرے بعد ہو۔ مگر حالات ایسے پیدا ہوگئے کہ میں نہ جاسکا۔ پھر جب حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی وفات ہوگئی تو اُس وقت میں نے اپنے دوستوں کو اِس بات پر تیا ر کر لیاکہ اگر اِس بات پر اختلاف ہو کہ خلیفہ کس جماعت میںسے ہوتو ہم ان لوگوں میں سے(جواَب غیر مبائع ہیں ) کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لیں ۔اور پھر میرے اصرار پر میرے تما م رشتہ دار وں نے فیصلہ کیاکہ اگر وہ اس امر کو تسلیم کر لیں تو اوّل تو عام رائے لی جائے ۔اور اگراس سے وہ اختلاف کریں تو کسی ایسے آدمی پر اتفاق کر لیا جائے جو دونوں فریق کے نزدیک بے تعلق ہو۔ اور اگر وہ یہ بھی قبول نہ کریں توان لوگوںمیں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کرلی جائے اور میں یہ فیصلہ کر کے خوش تھا کہ اب اختلاف سے جماعت محفوظ رہے گی۔ چنانچہ گزشتہ سال حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی نے بھی حلفیہ بیان شائع کرایا تھاکہ میں نے حافظ صاحب کو اُنہی دنوں کہا تھاکہ ’’ اگر مولوی محمد علی صاحب کو اللہ تعالیٰ خلیفہ بنا دے تو میں اپنے تما م متعلقین کے ساتھ ان کی بیعت کرلوں گا‘‘ ۲؎ لیکن اللہ تعالیٰ نے دھکا دے کر مجھے آگے کردیا۔ تواللہ تعالیٰ جس کو بڑا بنانا چاہے وہ دنیا کے کسی کونہ میں پوشیدہ ہو خدا تعالیٰ اُس کو نکال کر آگے لے آتا ہے ۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کی نظر سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہو سکتی‘‘۔ ( الفضل ۱۰ــــ؍ مارچ ۱۹۳۸ء)
    ۱؎ الفضل۱۰؍اپریل ۱۹۳۸ء
    ۲؎ الفضل۲؍ اگست ۱۹۳۷ء

    خلیفہ کا مقام
    ۱۔ مجلس شوریٰ میں تنقید کے اصول
    ۲۔ جماعت احمدیہ اور حُکّام کے تعلقات
    (فرمودہ ۲۲؍ اپریل ۱۹۳۸ء)
    تشہّد،تعو ّذ اور سورئہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    میرے سامنے ایک سوال اُٹھایا گیا ہے جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ مجھے جماعت کے سامنے اپنے خیالات کے اظہار کی ضرورت ہے تا جس جس حصہ میں کوئی نقص ہے اس کی اصلاح ہوسکے۔ مجھ سے کہا گیا ہے کہ مجلس شوریٰ کے موقع پر ناظروں کے کام پر جس رنگ میں تنقید کی جاتی ہے اس کے نتیجہ میں ناظروں کے کام میں رُکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور ان کا مقام جماعت کی نگاہ میں گرجاتا ہے اور یہ کہ اِس تنقید کا موجب وہ تنقید ہوتی ہے جو کبھی میری طرف سے ناظروں کے کام پر کی جاتی ہے۔ میں اس امر کو تسلیم کرتا ہوں کہ اگر وہ لوگ جن کے ہاتھوں میں سلسلہ کے کام کی باگ ڈور ہو، اُن کی حیثیت اور مقام لوگوں کی نظروں سے گرادیا جائے اور لوگوں میں ان کی سبکی کردی جائے تو کام میں دقتیں ضرور پیدا ہوتی ہیں۔ اگر یہ امرواقعہ ہو کہ موجودہ حالات میں ناظروں کا مقام اور ان کی حیثیت اور ان کے عہدے کا اعزاز اور اکرام کم ہوگیا ہو اور لوگوں کی نظروں میں اُن کی عزت نہ رہی ہو تو اِس میں شک نہیں کہ ان کو کام میں دِقتیں پیدا ہوسکتی ہیں اور ہونے کا خطرہ ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں اس سوال کے کئی حصے ہیں اور وہ الگ الگ توجہ کے محتاج ہیں ۔ پس میں انہیں علیحدہ علیحدہ لیتا ہوں۔
    پہلا حصہ یہ ہے کہ خلیفۂ وقت کی تنقید خواہ وہ تربیت کیلئے ہو یا تادیب کیلئے یا ہدایت کیلئے وہ شوریٰ کے دوسرے ممبروں کے دلوں میں تنقید کا ایسا مادہ پید اکردیتی ہے کہ جس کے نتیجہ میں تنقید حد سے زیادہ گزر جاتی ہے۔جو لوگ دوسرے لوگوں سے ملتے جلتے رہتے ہیںاور قسم قسم کے لوگوں سے باتیں کرنے کا موقع ملتا ہے وہ اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ میرے متعلق دونوں قسم کی شکایتیں سنی جاتی ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ یہ ہمیشہ ناظروں کی پیٹھ ٹھونکتے اور ان کی حفاظت کرتے ہیں جس کی وجہ سے جماعت کا نظام درست نہیں ہوسکتا۔ ذرا کسی نے کسی ناظر پر اعتراض کیا تو انہوں نے فوراً اسے گرفت شروع کردی۔ اور یہ بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ ان کی طرف سے ناظروں کا صحیح طور پر اعزاز قائم نہیں کیا جاتا اور ایسی تنقید ان کے کام پر کی جاتی ہے جس سے وہ لوگوں کی نظروں سے گرجائیں۔ ان دونوں سوالوں کی موجودگی میں یہ ماننا پڑے گا کہ صداقت بہرحال تین میں سے ایک صورت میں ہے۔ یا تو پہلا اعتراض غلط ہوگا کہ یہ ناظروں کے مقابلہ میں جماعت کو زیادہ ڈانٹتے ہیں اور یا پھر یہ غلط ہوگا کہ جماعت کے مقابلہ میں ناظروں پر تنقید میں سختی کرتے ہیں۔ یا پھر یہ کہ دونوں ہی اعتراض غلط ہوں گے۔ یہ تین صورتیں ہی ممکن ہوسکتی ہیں ان کے سوا کوئی نہیں۔ لیکن ان تینوں صورتوں پر غور کرنے سے قبل یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ خلیفہ کا مقام کیا ہے۔ مجلس شوریٰ ہو یا صدر انجمن احمدیہ، خلیفہ کامقام بہرحال دونوں کی سرداری کا ہے۔ انتظامی لحاظ سے وہ صدر انجمن کیلئے بھی رہنما ہے اور آئین سازی و بحث کی تعیین کے لحاظ سے وہ مجلس شوریٰ کے نمائندوں کیلئے بھی صدر اور رہنما کی حیثیت رکھتا ہے۔ جماعت کی فوج کے اگر دو حصے تسلیم کرلئے جائیںتو وہ اِس کا بھی سردار ہے اور اُس کا بھی کمانڈر ہے اور دونوں کے نقائص کا وہ ذمہ وار ہے اور دونوں کی اصلاح اس کے ذمہ واجب ہے۔ اس لحاظ سے اس کیلئے یہ نہایت ضروری ہے کہ جب کبھی وہ اپنے خیال میں کسی حصہ میں کوئی نقص دیکھے تو اُس کی اصلاح کرے۔ اپنے خیال میں مَیں نے اِس لئے کہا ہے کہ انسان ہمیشہ غلطی کرسکتا ہے اور خلیفہ بھی غلطی کرسکتا ہے۔ میںنے کبھی اِس عقیدہ کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی یہ اسلامی عقیدہ ہے کہ خلیفہ غلطی نہیں کرسکتا۔ اور بشری انتظام میں جب نبی بھی غلطی کرسکتا ہے تو خلیفہ کی کیا حیثیت ہے۔ پس یقینا خلیفہ بھی غلطی کرسکتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ امکان کیا ہے بلکہ یہ ہے کہ موقع کا تقاضا کیا ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ ایک باپ اپنے لڑکے کی تعلیم و تربیت کے متعلق فیصلہ کرنے میں غلطی کرجائے۔ لیکن کیا اس غلطی کے امکان کی وجہ سے اپنے لڑکے کی تعلیم و تربیت کے متعلق انتظام کا اسے جو حق ہے وہ مارا جاتا ہے۔ ساری دنیا بالاتفاق اس بات کو مانتی ہے کہ باپ خواہ فیصلہ غلط کرے یا درست، اپنے لڑکے کی تعلیم و تربیت کے متعلق فیصلہ کرنے کا حق بہرحال اسی کو ہے۔ یہی صورت خلیفہ کے بارہ میں ہے۔ اس کی نسبت غلطی کا امکان منسوب کرکے اس کی ذمہ واری کو اُڑایا نہیں جاسکتا۔ لیکن یہ ادنیٰ تمثیل ہے۔ باپ اور خلیفہ کے مقام میں کئی فرق ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ ہماری شریعت کہتی ہے کہ خداتعالیٰ جسے خلیفہ بناتا ہے اُس سے ایسی اہم غلطی نہیں ہونے دیتا جو جماعت کیلئے نقصان کا موجب ہو۔ گویاعصمت کبریٰ تو بطور حق کے انبیاء کو حاصل ہوتی ہے لیکن عصمت صغریٰ خلفاء کو بھی حاصل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں وعدہ فرماتا ہے کہ جو کام خلفاء کریں گے اُس کے نتیجہ میں اسلام کا غلبہ لازمی ہوگا۔ ان کے فیصلوں میں جزئی اور معمولی غلطیاں ہوسکتی ہیں، ادنیٰ کوتاہیاں ہوسکتی ہیںمگر انجام کار نتیجہ یہی ہوگا کہ اسلام کو غلبہ اور اس کے مخالفوں کوشکست ہوگی۔ یہ خلافت کیلئے ایک معیار قائم کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے ۱؎ دین کے معنی مذہب کے بھی ہوتے ہیں اور اس لحاظ سے بھی دیکھ لو خلفائے اربعہ کا ہی مذہب دنیا میں قائم ہوا ہے۔ بے شک بعض علیحدہ فرقے بھی ہیں مگر وہ بہت اقلیت میں ہیں۔ اکثریت اُسی دین پر قائم ہے جسے خلفاء اربعہ نے پھیلایا۔ مگر دین کے معنی سیاست و حکومت کے بھی ہوتے ہیں اور اس لحاظ سے اس آیت کے یہ معنی ہوئے کہ جس سیاست او رپالیسی کو وہ چلائیں گے اللہ تعالیٰ اسے ہی دنیا میں قائم کرے گا اور بوجہ اس کے کہ ان کو عصمت صغریٰ حاصل ہے، خداتعالیٰ کی پالیسی بھی وہی ہوگی۔ بے شک بولنے والے وہ ہوں گے، زبانیں انہی کی حرکت کریں گی، ہاتھ انہی کے چلیں گے اور پیچھے دماغ انہی کا کام کرے گا۔ مگر دراصل ان سب کے پیچھے خداتعالیٰ ہوگا۔ کبھی ان سے جزئیات میں غلطیاں ہوں گی، کبھی ان کے مشیر غلط مشورہ دیں گے۔ بعض دفعہ وہ اور ان کے مشیر دونوں غلطی کریںگے لیکن ان درمیانی روکوں سے گزر کر کامیابی انہیں ہی حاصل ہوگی ۔ جب تمام کڑیاں مل کر زنجیر بنیں گی وہ صحیح ہوگی اور ایسی مضبوط کہ کوئی اُسے توڑ نہ سکے گا۔
    پس اس لحاظ سے خلیفۂ وقت کا یہ فرض ہے کہ جس حصہ میں بھی اسے غلطی نظر آئے اس کی اصلاح کرے۔ جہاں اس کا یہ فرض ہے کہ منتظمین اورکارکنوں کی پوزیشن قائم رکھے وہاں یہ بھی ہے کہ جماعت کی عظمت اور اس کے مشورہ کے احترام کو بھی قائم رکھے۔ اگر جماعت کسی وقت کارکنوں کے حقوق پر حملہ کرے تو اس کاکام ہے کہ اسے پیچھے ہٹائے۔ اگر کبھی کارکن جماعت کے حقوق کو دبانا چاہیں تو خلیفہ کا فرض ہے کہ انہیں روک دے۔ مجلس شوریٰ کی گزشتہ رپورٹوں سے جو چھپی ہوئی ہیں یہ بات پوری طرح ظاہر ہوتی ہے کہ میں نے متوازی طور پر ان دونوں باتوں کا خیال رکھا ہے۔ اگر ناظروں پر جماعت نے ناواجب اعتراض کئے ہیں تومیں نے سختی کے ساتھ اور بے پرواہ ہوکر ان کے اس فعل کے قباحت کی وضاحت کی ہے۔ اور اگر کبھی ناظروں نے جماعت کو اس کے حق سے محروم کرنا چاہا ہے تو ان کو بھی ڈانٹا ہے۔ یہ متوازی سلسلہ جو خداتعالیٰ نے جاری رکھا ہے، میں نے ہمیشہ اس کا خیال رکھا ہے اور کوشش کی ہے کہ اگر ایک طرف ناظروں کا احترام اور اعزاز جماعت کے دلوں میں پیدا کیا جائے تو دوسری طرف جماعت کی عظمت کو بھی قائم رکھا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اگر ایک حصہ کو چھوڑ دیا جائے تو دوسرے کی عظمت بھی قائم نہ رہ سکے گی۔ اور اگر دونوں کو چھوڑ دیا جائے تو باوجود نیک نیتی اور نیک ارادہ کے ایک حصہ دوسرے کو کھاجائے گا۔ اگر کارکنوں کے اعزاز اور احترام کا خیال نہ رکھا جائے تو نظام کا چلنا مشکل ہوجائے گا۔ اور اگر جماعت کے حقوق کی حفاظت نہ کی جائے اور اس کی عظمت کو تباہ ہونے دیا جائے تو ایک ایسا آئین بن جائے گاجس میں خود رائی ۲؎ اور خودستائی غالب ہوگی۔ اس لئے میں ہمیشہ اس بات کو مدنظر رکھتا ہوں کہ جس کی غلطی ہو اُسے صفائی کے ساتھ کہہ دیا جائے۔ چنانچہ مجلس شوریٰ کی گزشتہ رپورٹوں سے یہ بات پوری طرح ظاہر ہوتی ہے کہ میںنے ناظروں کے اعزاز کو قائم کرنے کا پوری طرح خیال رکھا ہے۔ چنانچہ گزشتہ رپورٹوں سے ظاہر ہوگا کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ ناظر بعض جگہ گئے اور جماعت نے لاپروائی کا ثبوت دیا تو میں نے شوریٰ میں اس پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور بتایا کہ یہ طریق صحیح نہیں۔ جب بھی کوئی ناظر بحیثیت ناظر کسی جگہ جائے تو جماعت کا فرض ہے کہ اس کا استقبال کرے اور اس کا مناسب اعزاز کرے۔ چنانچہ اس کے بعد جماعت میں اس کا احساس پیدا ہوا اور انہوں نے ناظروں کا مناسب اعزاز کیا۔ ابھی توہماری جماعت میںکوئی بڑے آدمی ہیں ہی نہیں لیکن بڑے سے بڑا آدمی بھی نظامِ سلسلہ کے لحاظ سے ناظروں کے ماتحت ہے اور جب بادشاہ ہمارے سلسلہ میں داخل ہوں گے تو وہ بھی نظامِ سلسلہ کے لحاظ سے ناظروں کے ماتحت ہوں گے خواہ کوئی ان ناظروں میں سے کسی بادشاہ کی رعایا کا فرد ہی کیوں نہ ہو اور نظامِ سلسلہ کے لحاظ سے وہ اس کے ماتحت ہوگا اور اُس کو اُس کا ادب و احترام اسی طرح کرنا ہوگا جیسے ایک ماتحت، افسر کا کرتا ہے۔ اس حقیقت کی موجودگی میں عقلاً یہ ممکن ہی کس طرح ہوسکتا ہے کہ قانون پر چلتے ہوئے کوئی شخص ناظروں کی سبکی یا ہتک کا خیال بھی کرسکے۔
    مگر اس کے مقابلہ میں جماعت کے بھی حقوق ہیں۔ مثلاً جب ناظروں سے کوئی ملے تو خواہ وہ چھوٹے سے چھوٹا کیوں نہ ہو ناظر کافرض ہے کہ اس کا ادب اور احترام کرے اور اگر میرے پاس یہ شکایت پہنچے کہ کوئی ناظر کسی چھوٹے آدمی کامناسب ادب نہیں کرتا تو اُس وقت میں افرادِ جماعت کے ساتھ ہوں گا۔ یوں میرے پاس بعض شکایات آتی ہیں میں ان کی تحقیقات نہیں کراتا کیونکہ میں نصیحت کو تحقیقات سے بہتر سمجھتا ہوں۔ پس نصیحت کردیتا ہوں۔ لیکن بہرحال ناظروں کا فرض ہے کہ جو لوگ ان سے ملنے آئیں اُن سے عزت و احترام سے پیش آئیں۔ میں خود بھی کوئی کونے میں بیٹھنے والا شخص نہیں ہوں۔ ہر روز دس پانچ بلکہ بیس تیس اشخاص مجھ سے ملنے آتے ہیں جن میں غریب سے غریب بلکہ سائل بھی ہوتے ہیں بلکہ اکثر سائل ہوتے ہیں۔ لیکن میں جیسا اعزاز بڑے سے بڑے آدمی کا کرتا ہوں ویسا ہی چھوٹے سے چھوٹے کا بھی کرتا ہوں۔ مثلاً حکومت کے عہدہ کے لحاظ سے ہماری ہندوستان کی جماعت میں چوہدری سرظفراللہ خان صاحب سب سے بڑے عہدہ دار ہیں لیکن ان کے آنے پر بھی میں ان کا استقبال اُسی طرح کرتا ہوں جس طرح ایک غریب کے آنے پر ۔ اور میں اس بارہ میں چوہدری صاحب اور ایک غریب کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا۔ اسی طرح چوہدری صاحب کو کھڑا ہوکر ملتا ہوں جس طرح ایک غریب آدمی کو۔ اور پہلے اُسے بٹھا کر پھر خود بیٹھتا ہوں۔ بعض غریب اپنے اندازہ سے زمین پر بیٹھنا چاہتے ہیں مگر میں نہیں بیٹھنے دیتا اور ان سے کہہ دیتا ہوں کہ جب تک آپ نہ بیٹھیں گے میں بھی کھڑا رہوں گا۔ بعض دفاتر کے چپڑاسی آتے ہیں اور وہ زمین پر بیٹھنا چاہتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ نہیں آپ چپڑاسی کی حیثیت سے نہیں بلکہ مجھے خلیفہ سمجھ کر ملنے آئے ہیں۔ غرضیکہ جب تک آنے والے کو نہ بٹھالوں میں خود نہیں بیٹھتا۔ مجھے ملنے والوں کی تعداد ہزاروں تک ہے مگر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس میںکبھی تخلف ہوا ہو۔ سوائے اِس کے کہ میں بیمار ہوں یا کسی کام میںمشغول ہونے کی وجہ سے کبھی غلطی ہوجائے۔ ہاں جلسہ سالانہ کے ایام مستثنیٰ ہیں۔ اُن دنوں میں ملنے والے اس کثرت سے آتے ہیں کہ ہر ایک کیلئے اُٹھنا مشکل ہوتا ہے۔ ہاں اُن دنوں میںبھی جب کوئی غیراحمدی آئے تو چونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ میری مشکلات کو نہیں سمجھ سکتا اِس کیلئے کھڑا ہوجاتا ہوں۔ یا پھر ان ایام میں جب ملاقات کا زور نہ ہو تو کھڑا ہوتا ہوں۔ یہ میرا اصول ہے اور میں سمجھتا ہوں ناظروں کوبھی ایسا کرنا چاہئے اور اگر اس کے خلاف کبھی شکایت آئے تو میں چاہتا ہوں کہ جس کے خلاف شکایت ہو، اُسے تنبیہہ کی جائے۔ جب تک یہ بات قائم نہ ہو اسلام کی روح قائم نہیں ہوسکتی۔
    ذرا غور کرو کہ خلیفہ چھوڑ نبی کا بھی کیا حق ہے کہ وہ بندوں پر حکومت کرے۔ اگر ہم مذہب اور اسلام کی روح کو سمجھتے ہیں تو اِس خدمت کی روح کو بھی سمجھنا چاہئے جس کیلئے ہم کھڑے کئے گئے ہیں۔ کیا ہمارے لئے یہ بات کم ہے کہ خداتعالیٰ نے ہم کو ایک رُتبہ دے دیا ہے۔ وہ ہمیں ایک چھوٹا سا دنیوی کام کرنے کو دیتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اپنا مقرب بنالیتا ہے۔ گویا اُجرت اس نے ادا کردی پھر ہمارا کیا حق ہے کہ دونوں جگہ سے اُجرت وصول کریں۔ کیا دنیا میں کوئی ایسا مزدور بھی ہوتا ہے جو دو جگہ سے اپنی اُجرت وصول کرے۔ پس جب خداتعالیٰ ہمیں اس خدمت کی اُجرت ادا کرتا ہے تو بندوں سے کیوں لیں۔ قرآن کریم میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو کہہ دے کہ میں تم سے کوئی اُجرت نہیں مانگتا۳؎۔ یہ نہیں فرمایا کہ میں اُجرت مانگتا ہی نہیں بلکہ یہ فرمایا کہ میں تم سے نہیں مانگتا جس کا یہ مطلب ہے کہ مجھے اُجرت خداتعالیٰ سے مل رہی ہے۔ پس میرا فرض ہے کہ میں اس بات کا خیال رکھوں کہ یہ اصل ہماری جماعت میں قائم ہو۔ اور اگر اس میں غلطی ہو او رمیرے پاس شکایت آئے تو میں اس بات کا خیال رکھوںگا کہ غریب سے غریب آدمی کا حق بھی مارا نہ جائے اور اس بات کا خیال نہیں رکھوں گا کہ اس کا حق دلانے میں ناظر کی ہتک ہوتی ہے۔ یہ خداتعالیٰ کاحق ہے جو بہرحال لیا جائے گا خواہ اس میں کسی بڑے آدمی کی ہتک ہو یا چھوٹے کی۔لیکن اس کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ کارکنوں کو جماعت میں ایک اعزاز حاصل ہے اور اگر کوئی فرد اسے نہیں سمجھتا یا ان کی طرف سے جو آواز اُٹھتی ہے اس پر کان نہیں دھرتا اور اپنی دُنیوی وجاہت کے باعث ناظر کو اپنے درجہ سے چھوٹا سمجھتا ہے تو یقینا وہ جماعت کا مخلص فرد نہیں۔ اُس کے اندر منافقت کی رگ ہے جو اگر آج نہیں تو کل ضرور پھوٹے گی۔
    پھر ناظروں کو یہ خیال رکھنا چاہئے کہ مجلس شوریٰ اپنے مقام کے لحاظ سے صدر انجمن پر غالب ہے۔ اس میں براہ راست اکثر جماعتوں کے نمائندے شریک ہوکر مشورہ دیتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ابھی بیرونی ممالک کی جماعتوںکے نمائندے شریک نہیں ہوسکتے۔ لیکن جب ان میںبھی امراء داخل ہوجائیںگے یا جماعتیں زیادہ ہوجائیں گی اور وہ اپنے نمائندوں کے سفر خرچ برداشت کرسکیںگی اور سفر کی سہولتیں میسر ہوں گی۔ مثلاً ہوائی جہازوں کی آمدورفت شروع ہوجائے گی تو اُس وقت ان ممالک کے نمائندے بھی اِس میں حصہ لے سکیں گے۔ پس مجلس شوریٰ جماعت کی عام رائے کو ظاہر کرنے والی مجلس ہے اور خلیفہ اُس کا بھی صدر اور رہنما ہے۔ انبیاء کو بھی اللہ تعالیٰ نے مشورہ کا حکم دیا ہے۔ اور خلافت کے متعلق تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لَا خِلَافَۃَ اِلَّا بِالْمَشْوَرَۃِ ۴؎ خلیفہ کو یہ حق تو ہے کہ مشورہ لے کر ردّ کردے لیکن یہ نہیں کہ لے ہی نہیں۔ مشورہ لینا بہرحال ضروری ہے اور جب وہ مشورہ لیتا ہے تو قدرتی بات ہے کہ وہ اسے ردّ اسی صورت میں کرے گا کہ جب سمجھے گا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور میری ذمہ داری کا یہی تقاضا ہے۔ اگر وہ شریف آدمی ہے اور جب اسے خداتعالیٰ کا مقرر کردہ خلیفہ سمجھا جائے تو اس کی شرافت میں کیا شبہ ہوسکتا ہے۔ تو وہ سوائے خاص حالات کے مشورہ کو ضرور مان لے گا۔ ہاں خاص صورتوں میں بوجہ اس کے کہ درحقیقت وہ خداتعالیٰ کا نمائندہ ہے اگر وہ سمجھے کہ اس بات کو ماننے سے دین کو یا اس کی شان و شوکت کو کوئی خاص نقصان پہنچتا ہے تو وہ اس مشورہ کو ردّ بھی کردے گا مگر اس اختیار کے باوجود اسلامی نظام مشورہ اور رائے عامہ کو بہت بڑی تقویت دیتا ہے اور وہ اس طرح کہ اتنے لوگوں کی رائے کو جو پبلک میںظاہر ہوچکی ہو کبھی کوئی شخص خواہ وہ کتنی بڑی حیثیت کا ہو معمولی طور پر ردّ کرنے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ وہ کثرتِ رائے کو اُسی وقت ردّ کرسکتا ہے جب وہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور اُس کی ذمہ داری کا یہی تقاضا ہے۔ یہ امر ظاہر ہے کہ اکیلے شخص کو یہ جرأت نہیں ہوسکتی کہ وہ کثرتِ رائے کو ردّ کردے۔ کثرتِ رائے کو ردّ یا تو پاگل کرسکتا ہے اور یا پھر وہ شخص جو سمجھتا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی طاقت ہے جو اس کی بات کو منوالے گی۔ پس خلفاء اُسی وقت ایسی رائے کو ردّ کریں گے جبکہ وہ خداتعالیٰ کی مدد کایقین رکھیں گے اور سمجھیں گے کہ ہم صرف خداتعالیٰ کے منشاء کو پورا کررہے ہیں۔ اور جب وہ خدائی طاقت سے جماعت کے مشورہ کو ردّ کریں گے تو ان کی کامیابی یقینی ہوگی۔
    غرض اسلام نے شوریٰ کے نظام سے خودسری اور خودرائی کیلئے ایک بڑی روک پیدا کردی ہے۔ پھر تربیت کے لحاظ سے بھی مشورہ ضروری ہے۔ کیونکہ اگر مشورہ نہیں لیا جائے گا تو جماعت کے اہم امور کی طرف افراد جماعت کو توجہ نہیں ہوگی۔ اس لئے بعد میںآنے والا خلیفہ بوجہ ناتجربہ کاری اور حالاتِ سلسلہ سے ناواقفیت کے بالکل بدھو ہوگا۔ یہ کسی کو کیا علم ہے کہ کون پہلے مرے گا اور کون بعد میں اور کس کے بعد کس نے خلیفہ ہونا ہے۔ اس لئے یہ حکم شریعت نے دے دیا ہے کہ مشورہ ضرور لو تا جماعت کی تربیت ہوتی رہے اور جو بھی خلیفہ ہو وہ سیکھا سکھایا ہو اور نئے سرے سے اُس کو نہ سیکھنا پڑے۔ اِس میں اور بھی بیسیوں حکمتیں ہیں مگر میںاِس وقت انہیں نہیں بیان کررہا ۔ مختصر یہ ہے کہ شوریٰ خداتعالیٰ کی طرف سے خاص حکمت کے ماتحت ہے۔ قرآن کریم میں ہے کہ ۵؎ گویا مشورہ والی انجمن کو قرآنی تائید حاصل ہے اور اس کا ذکر قرآن کریم میں کرکے اسے اہم قرار دے دیا ہے۔ گو قرآن کریم میں کارکنوں کا بھی ذکر ہے مگر شوریٰ کو ایک فضیلت دی گئی ہے اور جب جماعت کے مختلف افراد مل کر ایک مشورہ دیں اور خلیفہ اسے قبول کرلے تو وہ جماعت میں سب سے بڑی آواز ہے۔ اور ہر خلیفہ کا فرض ہے کہ وہ دیکھے جس مشورہ کو اس نے قبول کیا ہے اس پر کارکن عمل کرتے ہیں یا نہیں اورکہ اس کی خلاف ورزی نہ ہو۔ یہ دو مختلف پہلو ہیں جنہیں نظر انداز کرنے کی وجہ سے دونوں فریق اعتراض کرتے ہیں۔ جب میں جماعت کے دوستوں کو ان کی غلطی کی وجہ سے سمجھاتا ہوں تو کہا جاتا ہے کہ ضمیر کی حریت کہاںگئی اورجب میں دیکھوںکہ ناظروں نے غلطی کی ہے اور اُن کو گرفت کروں تو بعض دفعہ ان کو بھی شکوہ پیدا ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کام میں رُکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں۔ مگر مجھ پر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا فرض ہے جسے کسی صورت میں بھی نظر انداز نہیں کرسکتا اور دراصل خلافت کے معنی ہی یہ ہیں۔
    دوسرا حصہ اِس سوال کا یہ ہے کہ ناظروں پر تنقید خلیفہ کی تنقید کی وجہ سے ہوتی ہے۔ مجھے اس کے تسلیم کرنے سے انکار ہے۔ اگر اِسی مجلس شوریٰ کو لے لیا جائے تو جس حصہ پرمیں نے تنقید کی ہے اُس پر میری تنقید سے پہلے بہت سی تنقید ہوچکی تھی اور میں نے جو تنقید کی وہ بعد میںتھی اور شوریٰ کے ممبر بہت سی تنقید پہلے کرچکے تھے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ ناظر تنقید سے گھبراتے کیوں ہیں۔ ان کا مقام وہ نہیں کہ تنقید سے بالا سمجھاجاتا ہو۔ ہر کارکن خلیفہ نہیں کہلاسکتا۔ میرے نزدیک اس بارہ میں جماعت اور ناظر دونوں پر ذمہ داری ہے ۔ جماعت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ خیال رکھیں کہ ان میں سے جو لوگ سلسلہ کیلئے اپنی زندگیوں کو وقف کرکے بیٹھے ہوئے ہیں ان کا مناسب احترام کیا جائے۔ اور ناظروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ جماعت کی تنقید کو ایک مخلص بھائی کے مشورہ کے طور پر سنیں کیونکہ ان کا مقام تنقید سے بالا نہیں ہے۔ پارلیمنٹوں میں تو وزراء کو وہ جھاڑیں پڑتی ہیں جس کی حد نہیں۔ مگر پھر بھی وزراء کے رُعب میں فرق نہیں آتا۔ یہاںتو میں روکنے والا ہوں، مگر وہاں کوئی روکنے والا نہیںہوتا۔ گالی گلوچ کوسپیکر روکتاہے ، سخت تنقید کو نہیں بلکہ اسے ملک کی ترقی کیلئے ضروری سمجھا جاتا ہے پس اس تنقید سے گھبرانا نہیں چاہئے۔ اگرتنقید کا کوئی پہلو غلط ہو تو ثابت کریں کہ وہ غلط ہے اور اگر وہ صحیح ہے تو بجائے گھبرانے کے اپنی اصلاح کریں۔ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کا ثابت کرنا یا ردّ کرنا مشکل ہوتا ہے اور ان کی بنیاد ایسے باریک اصول پر ہوتی ہے کہ ان کی وجہ سے کوئی منطقی نتیجہ نکالنا قریباً ناممکن ہوتا ہے۔ مثلاً دو کمرے ایک سے ہوں اور یہ سوال ہو کہ ان میں سے کس میں بستر بچھانے چاہئیں اور کس کو بیٹھنے اُٹھنے کیلئے استعمال کرنا چاہئے تو یہ ایک ذوقی سوال ہوگا۔ لیکن دو شخص اگر اس پر بحث شروع کردیں کہ کیوں اس میں بستر بچھانا چاہئے اور دوسرے میں اُٹھنا بیٹھنا چاہئے تو یہ بحث خواہ مہینوں کرتے رہیںنتیجہ کچھ نہ ہوگا۔ تو اِس قسم کی ذوقی باتوں کو چھوڑ کر باقی باتوں کو ثابت یا ردّ کیا جاسکتا ہے اوراگر اعتراض نامناسب رنگ میںہوگا تو یا تو وہ کسی معذور کی طرف سے ہوگا جو بوجہ بڑھاپے کے یا ناتجربہ کاری یا سادگی کے ایسا کرے گا اور اس صورت میں سب محسوس کرلیںگے کہ اس شخص کے الفاظ کی کوئی قیمت نہیں اور اس کو روکنا فضول ہوگا۔ ایسی بات پر صرف مسکرا کر یا استغفار کر کے گزرجانا ہی کافی ہوگا۔ لیکن اگر ایسا نہ ہو تو مجلس شوریٰ کی رپورٹیں اِس پر گواہ ہیں کہ میں نے نامناسب رنگ میںاعتراض کرنے والوں کو ہمیشہ سختی سے روکا ہے اور جنہوں نے غلط تنقید کی اُن کواِس پر تنبیہہ کی ہے اور اگر آئندہ بھی ایسا ہوگا تو اِنْشَائَ اللّٰہ روکوں گا۔ اگر ساری جماعت بھی غلط تنقید کرے گی تو اسے بھی روکوںگا اور خداتعالیٰ کے فضل سے ڈروں گا نہیں۔ اس قسم کا لحاظ میں نے کبھی نہیں کیا کہ غلط طریق اختیار کرنے پر کسی کو تنبیہہ نہ کروں۔ ہاںاس وجہ سے چشم پوشی کرنا کہ کام کرنے والوںسے غلطیاں بھی ہوجاتی ہیں، اَور بات ہے۔ ایسی چشم پوشی میں جماعت سے بھی کرتا ہوں اور کارکنوں سے بھی۔ ورنہ میں نہ جماعت سے ڈرتا ہوں اور نہ انجمن سے اور جب بھی میں نے موقع دیکھا ہے جماعت کو اس کے فرائض کی طرف توجہ دلائی ہے اور انجمن کو بھی۔
    اِس سوال کا تیسرا حصہ جو پہلے سے ملتا جلتا بھی ہے اور علیحدہ سوال بھی وہ یہ ہے کہ تنقید ایسے رنگ میں کی جاتی ہے کہ جس سے ناظروں کی بے رُعبی ہوتی ہے۔ لیکن میںاس سے بھی متفق نہیں ہوں۔ جو لوگ خداتعالیٰ کے دین کے کام کیلئے کھڑے ہوں ان کی بے رُعبی نہیں ہو سکتی۔ جب تک جماعت میں اخلاص اور ایمان باقی ہے کوئی ان کی بے رُعبی نہیںکرسکتا۔ ان کے ہاتھ میں سلسلہ کا کام ہے۔ پس جو ان کی بے رُعبی کرے گا یہ سمجھ کر کرے گا کہ اس سے سلسلہ کی بے رُعبی ہوگی اور اس کیلئے کوئی مخلص مومن تیار نہیں ہوسکتا۔ ہاں بعض دفعہ بعض لوگ نادانی سے ایسا کرجاتے ہیں۔ مثلاً اس دفعہ ہی سرگودھا کے ایک دوست نے نامناسب الفاظ استعمال کئے لیکن میں بھی اور دوسرے دوست بھی محسوس کررہے تھے کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ یہ باتیں نہیں کررہے۔ اور میں نے دیکھا ہے کہ اُن کی باتوں پر دوست بالعموم مسکرارہے تھے اور سب یہ سمجھتے تھے کہ یہ جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں غلط کہہ رہے ہیں اور جوش میں انہیں اپنی زبان پر قابو نہیں رہا۔ اور ظاہر ہے کہ ایسی بات کی تردید کی کیا ضرورت ہوسکتی ہے۔ چنانچہ میں نے اس کی تردید نہ کی اور میں سمجھتا ہوں تردید نہ کرنے سے لوگوں نے یہ نہیں سمجھا کہ یہ باتیں وزنی ہیں بلکہ غالب حصہ کو یہی یقین تھا کہ یہ تردید کے قابل ہی نہ تھیں۔ کیونکہ دوست خود ان کی باتوں پر ہنس رہے تھے اور بعض کے ہنسنے کی آواز میں نے خود سنی۔ اور ہنسی کی وجہ یہ خیال تھا کہ انہوں نے کیا بے معنی نتیجہ نکالا ہے۔ اور جب جماعت پر ان کی بات کا اثر ہی نہ تھا اور سب سمجھ رہے تھے کہ یہ اپنی سادگی اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے یہ باتیں کررہے ہیں تو ان کی تردید نہ کرنے سے نقصان کیا ہوسکتا تھا۔ لیکن اس کے بالمقابل اِسی مجلس شوریٰ میں مَیں نے ایک مثال سنائی تھی کہ ایک انجمن نے جو کسی گائوں یا شہر کی انجمن نہ تھی بلکہ پراونشل انجمن تھی، مجھے لکھا کہ ہم نے صدر انجمن کو یہ بات لکھی ہے جو اگر اس نے نہ مانی تو اس کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات نہیں رہیں گے۔ میں نے انہیں لکھا کہ صدر انجمن احمدیہ جو کچھ کرتی ہے چونکہ وہ خلیفہ کے ماتحت ہے اس لئے خلیفہ بھی اس کا ذمہ دار ہوتا ہے اور جب آپ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آپ کی بات نہ مانی گئی تو صدرانجمن کے ساتھ آپ کے تعلقات اچھے نہ رہ سکیںگے تو ساتھ ہی آپ نے یہ بھی سوچ لیا ہوگا کہ خلیفہ کے ساتھ بھی آپ کے تعلقات اچھے نہ رہیں گے اور اس صورت میں آپ کو نئی جماعت ہی بنانی پڑے گی، اس جماعت میں آپ نہیںرہ سکیں گے۔ تو کیا کوئی سمجھ سکتا ہے کہ اس بات کے سننے کے بعد بھی کسی احمدی کے دل میں ناظروں کا رُعب مٹ سکتا ہے۔ یہ کیونکر ممکن ہے کہ شوریٰ کے ممبروں نے ناظروں کے کام پر تنقید کو تو سن لیا مگر یہ بات انہوں نے نہ سنی ہوگی اور یہ بات جو میںنے ایک دو آدمیوں کو نہیں بلکہ ایک صوبہ کی انجمن کو لکھی تھی اس کے سننے کے بعد کس طرح ممکن ہے کہ ناظروں کا رُعب مٹ جائے۔
    اِس میں شبہ نہیں کہ اِس شوریٰ میں جرح زیادہ ہوئی ہے مگر ناظروں کو بھی ٹھنڈے دل کے ساتھ یہ سوچنا چاہئے کہ ایسا کیوں ہوا۔ ایسا اِس وجہ سے نہیں ہوا کہ میں نے بھی ان پر تنقید کی تھی۔ جب وہ چھپے گی تو ہر شخص دیکھ سکے گا کہ شوریٰ کے ممبروں نے جو جرح کی وہ میری تنقید کے نتیجہ میںنہ تھی۔ اور حق بات یہ ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا اور جس کا مجھے شدید احساس ہے کہ ناظر شوریٰ کے فیصلوں پر پوری طرح عمل نہیں کرتے اور واقعات اِس بات کو پوری طرح ثابت کرتے ہیں کہ وہ ان پر خاموشی سے گزرجاتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ کیا جاتا ہے کہ سال کے آخر پر ناظر اعلیٰ دوسری نظارتوں سے پوچھ لیتا ہے کہ ان فیصلوں کا کیا حال ہوا ؟ اور پھر یا تو یہ کہہ دیتا ہے کہ کوئی جواب نہیں ملا اور یا یہ کہ کوئی عمل نہیں ہوا۔ میںیہ بھی مان لیتا ہوں کہ بعض فیصلے ناظروں کے نزدیک ناقابل عمل ہوتے ہیں مگر ایسے فیصلوں کو قانونی طور پر بدلوانا چاہئے۔ وہ ایسے فیصلوں کو میرے سامنے پیش کرکے مجھ سے بدلواسکتے ہیں۔ وہ میرے سامنے پیش کردیں میں اگر چاہوں تو دوسری شوریٰ بلوالوں یا چاہوںتو خود ان فیصلوں کو ردّ کردوں۔ اور پھر اگر دوسری شوریٰ میںان پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ان پر اعتراض ہو تو وہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ فیصلہ ردّ ہوچکا ہے۔ لیکن اگر وہ فیصلہ جوں کا توں قائم رہے اور پھر وہ اس پر عمل نہ کریں تو جماعت کے اندر بے انتظامی اور خودرائی کی ایسی روح پیدا ہوتی ہے جس کی موجودگی میں ہرگز کوئی کام نہیں ہوسکتا۔ اگر شوریٰ میں ایک فیصلہ ہوتا ہے تو ان کا فرض ہے کہ اس پر عمل کریں اور اگر وہ اس کوقابل عمل نہیں سمجھتے تو اس کو منسوخ کرائیں۔ لیکن ایسے فیصلوں کی ایک کافی تعداد ہے جن پر کوئی عمل نہیں کیا جاتا۔ مثلاً اُسی شوریٰ میںایک سوال پیدا ہوا تھا جس سے جماعت میں جوش پیدا ہوا۔ ۱۹۳۰ء کی شوریٰ میں فیصلہ ہوا تھا کہ سلسلہ کے اموال پر وظائف کا جو بوجھ ہے اسے ہلکا کرنا چاہئے۔ یہ تو صحیح ہے کہ جس احمدی کے پاس روپیہ نہ ہو وہ مستحق ہے کہ اپنے بچوں کی تعلیم کیلئے انجمن سے مدد مانگے اور اگر انجمن کے پاس ہو تو اُس کا فرض ہے کہ مدد کرے۔ مگر اس طرح مدد لینے والے کا یہ بھی فرض ہے کہ جب وہ مالدار ہوجائے تو پھر اسے ادا کرے۔ ۱۹۳۰ء کی شوریٰ میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ آئندہ پانچ سال میں گزشتہ تعلیمی وظائف کی رقوم وصول کی جائیں اور پھر آئندہ اِسی رقم میں سے وظائف دیئے جائیں، عام آمد سے امداد نہ کی جائے۔ اور اس کیلئے ناظربیت المال کو ذمہ دار مقرر کیا گیا تھا یہ پانچ سال ۱۹۳۵ء میں پورے ہوتے تھے اور ۱۹۳۵ء کے بعد وظائف اسی وصول شدہ رقم میں سے دیئے جانے چاہئیں تھے۔ لیکن تین سال ہوچکے ہیں مگر وظائف برابر خزانہ سے ادا کئے جارہے ہیں۔ شوریٰ کے ممبروں میں سے ایک کو یہ بات یاد آئی اور اس نے اعتراض کردیا کہ جب یہ فیصلہ ہوا تھا تو اس پر کیا کارروائی کی گئی اور اب وظائف گزشتہ وظائف کی وصول شدہ رقوم میں سے دیئے جاتے ہیں یا سلسلہ کے خزانہ پر ہی بوجھ ہے۔ اور اگر ایسا ہے تو کیوں؟ اب ظاہر ہے کہ اگر اس تنقید کا دروازہ بند کردیا جائے تو سلسلہ کیوں تباہ نہ ہوگا اور اسے ناظروں کی بے رُعبی کے ڈر سے کیونکر روکا جاسکتا ہے۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ کوئی ناظر نماز نہ پڑھے اور ہم اسے کہیں تو کہا جائے کہ اس بات سے ناظروں کی بے رُعبی ہوتی ہے۔ لیکن میںکہوںگا کہ اس کے نہ کہنے سے سلسلہ کی بے رُعبی ہوتی ہے۔ پس یہ اعتراض روکا نہیں جاسکتا تھا اور اس کیلئے جواب دینا ضروری تھا۔
    عام پارلیمنٹوں میں یہ قاعدہ ہے کہ وزراء بعض دفعہ کوئی ٹلاواں جواب دے دیتے ہیں تا اس پر مزید جرح نہ ہوسکے اور بات مخفی رہے لیکن یہاں یہ نہیںہوسکتا۔ بحیثیت خلیفہ میرا فرض ہے کہ صحیح جواب دلوائوں۔ پہلے اس سوال کے ایسے جواب دیئے گئے جو ٹالنے والے تھے مگر آخر اصل جواب دینا پڑا کہ اس فیصلہ پر عمل نہیں کیا گیا۔ اب اگر اس میں نظارتوں کی بے رُعبی ہوئی تو اس کی ذمہ دار نظارت ہے۔ اگر اس قسم کی تنقید کو روک دیا جائے تو سلسلہ کا نظام ایسا گرجائے گا کہ اس کی کوئی قیمت نہ رہے گی۔ اس میں شک نہیں کہ بعض دفعہ شوریٰ بھی غلط فیصلے کر دیتی ہے۔ مثلاًاِسی سال کی مجلس شوریٰ میں پہلے ایک مشورہ دیا گیا اور پھر اس کے خلاف دوسرا مشورہ دیا گیا جس کی طرف مجھے توجہ دلانی پڑی۔ تو ایسی غلطیاںمجلس شوریٰ بھی کرسکتی ہے، انجمن بھی کرسکتی ہے اور خلیفہ بھی کرسکتا ہے۔ بلکہ بشریت سے تعلق رکھنے والے دائرہ کے اندر انبیاء بھی کرسکتے ہیں۔ جو بالکل غلطی نہیں کرسکتا وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ مگر اس کے یہ معنی نہیںکہ شوریٰ کو تنقید کا جو حق ہے وہ ماردیا جائے۔ گو شوریٰ غلطی کرسکتی ہے مگر اس سے اس کا حق باطل نہیں کیا جاسکتا۔ اور ناظر بھی غلطی کرسکتے ہیں مگر ان کے دائرہ عمل میں ان کے ماتحتوں کا فرض ہے کہ ان کی اطاعت کریں۔ ہاں جو امور شریعت کے خلاف ہوں ان میں اطاعت نہیں ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ ایک صحابی کو ایک چھوٹے سے لشکر کا سردار بنا کر بھیجا۔ راستہ میں انہوں نے کوئی بات کہی جس پر بعض صحابہ نے عمل نہ کیا ، اس پر وہ ناراض ہوئے اور کہنے لگے کہ مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں پر امیر مقرر کیا ہے اور آپ نے یہ بھی فرمایا ہوا ہے کہ جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے اس کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ اور جب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قائمقام ہوں تو تم نے میری نافرمانی کیوں کی۶؎۔ اس پر صحابہ نے کہا کہ ہم آپ کی اطاعت کریں گے۔ انہوں نے کہا اچھا میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ اطاعت کرتے ہو یا نہیں۔ چنانچہ انہوں نے آگ جلانے کا حکم دیا اور جب آگ جلنے لگی تو صحابہ سے کہا کہ اس میں کود پڑو۔ بعض تو آمادہ ہوگئے مگر دوسروں نے ان کو روکا اور کہا کہ اطاعت امور شرعی میں ہے۔ ان کو تو شریعت کی واقفیت نہیں۔ اس طرح آگ میں کود کر جان دینا ناجائز ہے اور خداتعالیٰ کاحکم ہے کہ خودکشی نہیں کرنی چاہئے۷؎۔ جب یہ امر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا تو آپؐ نے اس میں ان لوگوں کی تائید کی جنہوں نے کہا تھا کہ آگ میں کودنا جائز نہیں۸؎۔ پس میں جو کہتا ہوں کہ ناظر کے دائرہ عمل میں اس کی اطاعت کرنی چاہئے تو اس کا یہ مطلب نہیںکہ اگر کوئی ناظر کسی سے کہے کہ جھوٹ بولو تو اسے بولنا چاہئے۔ نظارت کے شعبہ میں جھوٹ بلوانا شامل نہیں۔ اسی طرح اگر کوئی ناظر کہے کہ کسی کو قتل کردو تو اس میں اس کی اطاعت جائز نہیں۔ اطاعت صرف شریعت کے محدود دائرہ میںضروری ہے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ غلطی ہر شخص کرسکتا ہے۔ ممکن ہے کسی فیصلہ میں ناظر بھی غلطی کرے لیکن اس دائرہ میں اس کی غلطی کو بھی ماننا پڑے گا۔
    پس خلیفہ کا فیصلہ مجلس شوریٰ اور نظارت کیلئے ماننا ضروری ہے۔ اسی طرح شوریٰ کے مشورہ کو سوائے استثنائی صورتوں کے تسلیم کرنا خلیفۂ وقت کیلئے ضروری ہے۔ اور جس مشورہ کو خلیفۂ وقت نے بھی قبول کیا اور جسے شرعی احکام کے ماتحت عام حالتوں میں خلیفہ کو بھی قبول کرنا چاہئے یقینا نظارت اُس کی پابند ہے خواہ وہ غلط ہی ہو۔ ہاں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ کسی فیصلہ کی موجودگی میں وہ کام کو نہیں چلاسکتے تو ان کو چاہئے کہ اسے پیش کرکے وقت پرمنسوخ کرالیں۔ لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ ہر شوریٰ میں کچھ نہ کچھ شور ضرور اُٹھتا ہے کہ فلاں فیصلہ پرعمل نہیں ہوا، فلاں قانون کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ پھر ایسی باتوں پر کس طرح پردہ پڑ سکتا ہے۔ اور جب ایک نقص ظاہر ہو تومیرا فرض ہے کہ میں نظارت کو اس نقص کے دور کرنے کی طرف توجہ دلائوں۔ کیونکہ میں صدرانجمن احمدیہ کا رہنما ہونے کی حیثیت میں خود بھی اس خلاف ورزی کا گو قانونی طور پر نہیں مگر اخلاقی طور پر ذمہ دار ہوجاتا ہوں۔ پس میرا فرض ہے کہ غلطی پر اس کی اصلاح کی طرف توجہ دلائوں۔
    غرض ناظروں کا یہ فرض ہے کہ شوریٰ کے فیصلوں کی پابندی کریں یا پھر ان کو بدلوالیں۔ لیکن جب تک وہ فیصلہ قائم ہے ناظروں کا اس پر عمل کرنا ویسا ہی ضروری ہے جیسا ان کے ماتحت کلرکوں اور دوسرے کارکنوں کا ان کے احکام پر۔ اگر ناظر اس طرح کریں تو بہت سے جھگڑے مٹ جاتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ صدر انجمن احمدیہ کا فرض ہونا چاہئے کہ ہر شوریٰ کے معاً بعد ایک میٹنگ کرکے دیکھے کہ کونسا فیصلہ کس نظارت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ اور پھر اسے ناظر متعلقہ کے سپرد کرے کہ اس پر عمل ہو اور وقت مقرر کردیا جائے کہ اس کے اندر اندر اس فیصلہ کی تعمیل پوری طرح ہوجائے اور پھر اس مقررہ وقت پر دوسری میٹنگ کرکے دیکھے کہ عمل ہوا ہے یا نہیں۔ اس طرح تنقید کا سلسلہ خودبخود بند ہوجائے گا۔
    (الفضل ۲۷؍ اپریل ۱۹۳۸ء)
    ۱؎ النور: ۵۶
    ۲؎ خودرائی: خود سری، سرکشی
    ۳؎ (ص: ۸۷)
    ۴؎ کنزالعمالجلد۵ صفحہ۶۴۸۔ مطبوعہ حلب ۱۹۷۱ء میں لاخلافۃ الا عن مشورۃ کے الفاظ ہیں۔
    ۵؎ شوری: ۳۹
    ۶تا۸؎ بخاری کتاب الاحکام باب السمع والطاعۃ للامام مالم تکن معصیۃ

    خدام الاحمدیہ کے قیام کی غرض
    ۱۷؍ مارچ ۱۹۳۹ء کو حضور نے مجلس خدام الاحمدیہ کے قیام کی غرض بیان فرمائی اور فرمایادرحقیقت یہ روحانی ٹریننگ اور روحانی تعلیم و تربیت ہے اُس فوج کی جس فوج نے احمدیت کے دشمنوں سے مقابلۂ جنگ کرنی ہے۔ فرمایاـ۔
    ’’درحقیقت ایک ایسی زندہ قوم جو ایک ہاتھ کے اُٹھنے پر اُٹھے اورایک ہاتھ کے گرنے پر بیٹھ جائے دنیامیں عظیم الشان تغیر پیدا کر دیا کرتی ہے اور یہ چیز ہماری جماعت میں ابھی پیدا نہیںہوئی ۔ ہماری جماعت میں قربانیوں کا مادہ بہت کچھ ہے مگر ابھی یہ جذبہ ان کے اندر کمال کو نہیںپہنچا کہ جونہی ان کے کانوں میں خلیفۂ وقت کی طرف سے کوئی آواز آئے اُس وقت جماعت کو یہ محسوس نہ ہو کہ کوئی انسان بول رہا ہے بلکہ یوںمحسوس ہو کہ فرشتوں نے اُن کو اُٹھا لیا ہے او رصورِاسرافیل ان کے سامنے پھونکا جارہا ہے ۔ جب آواز آئے کہ بیٹھوتو اُس وقت اُنہیںیہ معلوم نہ ہوکہ کوئی انسان بول رہا ہے بلکہ یوں محسوس ہو کہ فرشتوںکا تصرف اُن پر ہورہا ہے اور وہ ایسی سواریاں ہیں جن پر فرشتے سوار ہیں ۔ جب وہ کہے بیٹھ جاؤ تو سب بیٹھ جائیں ۔ جب کہے کھڑے ہوجاؤ تو سب کھڑے ہوجائیں ۔ جس دن یہ روح ہماری جماعت میںپیدا ہوجائے گی اُس دن جس طرح باز چڑیا پر حملہ کرتا اور اُسے توڑ مروڑ کر رکھ دیتا ہے اسی طرح احمدیت اپنے شکار پر گرے گی اور تمام دنیاکے ممالک چڑیاکی طرح اس کے پنچہ میں آجائیںگے اور دنیامیں اسلام کا پرچم پھر نئے سرے سے لہرانے لگ جائے گا۔‘‘
    ( الفضل ۷؍ اپریل ۱۹۳۹ء)

    جرمنی میں تغیر
    (خطبہ جمعہ ۷جولائی۱۹۳۹ء)
    خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۳۹ء میں حضور نے جرمنی میںتغیر کا ذکر کرتے ہوئے جرمنی میں جاری شدہ نظا م کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ جرمنی والوں کا نیا نظام نہیں بلکہ آج سے ۱۳۰۰سال پرانا نظام ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے۔ نیز فرمایا
    ’’حقیقت یہ ہے کہ یہ نیانظام نہیں بلکہ یہ وہی نظام ہے جسے اسلام نے آج سے ساڑھے تیرہ سَوسال پہلے خلافت کی شکل میں دنیامیں قائم کیا۔ تم میں سے کوئی کہہ سکتا ہے کہ آج یورپ میں چونکہ یہ ایک نظام قائم ہوچکا ہے اور اس کے فوائد بھی ظاہر ہوچکے ہیں اَس لئے اَس کو دیکھ کر آپ نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے مگر میں بتاتا ہوں کہ یہ صحیح نہیں۔ تم ۱۹۱۴ء کا میراوہ لیکچر نکا ل کر دیکھ لو جو ’’برکات خلافت‘‘کے نام سے چھپا ہو اموجود ہے۔ اس میں میں نے وہی نظام پیش کیا ہے جس کی آج یوروپین حکومتیں تقلید کررہی ہیں۔ ۱۹۱۴ء میں تو نہ لینن تھا نہ مسولینی نہ مصطفی کمال پاشا تھا نہ ہٹلر۔ اُس وقت میں نے یہ نظام لوگوں کے سامنے رکھا اور انہیں بتایا کہ قومی ترقی انہی اصول پر ہوسکتی ہے ۔پیغامی ہمیشہ میری اِس تقریر اور اِسی قسم کی اور تقریروں پر اعتراض کرتے رہتے ہیں اور کہا کرتے ہیں دیکھو! یہ شخص خودرائی کی حکومت قائم کرنا چاہتاہے حالانکہ اسلام نے جو طریق بتا یا ہے وہ اس ڈکٹیٹر شپ سے ہزاروں درجے بڑھ کر ہے جو یوروپین ممالک میں قائم ہے بے شک اِن دونوں میں ایک مشابہت بھی ہے اور وہ یہ کہ جس طرح لوگ ڈکٹیٹروں کی اطاعت اور فرمانبرداری کرتے ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ خلفاء کی اطاعت اور فرمانبرداری کی تلقین کرتا ہے مگر اس کے مقابلہ میں ایک بہت بڑافرق بھی ہے اور وہ یہ کہ ڈکٹیٹر خود قانون ساز ہوتا ہے مگر خلیفہ قانون ساز نہیں بلکہ ایک اور قانون کے تابع ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتا ہے ہٹلر قانون سازہے مسولینی قانون ساز ہے لینن قانون ساز ہے لیکن اسلامی خلیفہ نظام اور قانون کا اسی طرح پابند ہے جس طرح جماعت کا ایک عام فرد۔ وہ قانون ساز نہیں بلکہ خدائی قانون کا تابع ہوتا ہے اور اسی قانون کو وہ لوگوں سے منواتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خلافت کی وجہ سے لوگوں پر وہ ظلم نہیں ہوتا جوان ملکوں میں ہورہا ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ یہاں ایک مکمل قانون قرآن کریم کی شکل میں موجود ہے جس پر عمل کرنا اور دوسروں سے عمل کرانا خلفاء کا کام ہے۔ لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت میں ابھی تک احکامِ خلافت کی پابندی کی و ہ روح پیدا نہیں ہوئی جو اسلام لوگوں کے دلوںمیں پیدا کرنا چاہتاہے اور نہ اس نظام کی قدروقیمت کو اس نے پوری طرح محسوس کیا ہے۔ مجھے حیرت ہوئی جب میں نے اپنی جماعت کے ایک اخبار میں غیر مبائعین کے ایک انگریزی اخبار کا ایک نوٹ پڑھا۔جس میں وہ ہٹلر کی کتاب ’’میری جدو جہد‘‘کے بعض اقتباسات درج کرنے کے بعد لکھتاہے کہ مسلمانوں کو اپنی توجہ اس نئے سوشل فلسفہ کی طرف مبذول کرنی چاہیے کیونکہ بظاہر یہ ان خیالات کے خلاف معلوم ہوتا ہے جواسلامی جمہوریت کے متعلق قبول کئے جاچکے ہیں لیکن اس تجربہ کے بعد جو جرمنی نے کیا اور ا س تجربہ کے بعد جو یورپ کے بعض اور ممالک میںکیا گیا یہ امر اس قابل ہوجاتا ہے کہ ہم دوبارہ تما م سوال پر غور کریں اور دیکھیںکہ اسلامی نقطہ نگاہ کیاہے؟گویاغیر مبائعین کے دلوں میں بھی اب یہ احساس پیداہونے لگاہے کہ آج سے پچیس سال پہلے جو تعلیم ہماری جماعت کی طرف سے پیش کی گئی تھی کہیںوہی تودرست نہیں اور کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ غلطی پر ہوں اور اسلامی نظام کے سمجھنے میں انہوںنے ٹھوکر کھائی ہو۔یہ اس بات کا ثبو ت ہے کہ اب غیر مبائعین کے دل بھی اس نظام کی خوبی کو تسلیم کرنے لگ گئے ہیں اور ان پر بھی یہ امر آشکا ر ہوگیا ہے کہ صحیح نظام وہی ہے جو خلافت کے ماتحت ہو ……۔
    میںنے دیکھا ہے لوگوں میںیہ ایک مرض پیداہوگیا ہے کہ جس کام پر خلیفہ کاہاتھ رہتا ہے اُس کام کی طرف وہ خوب توجہ کرتے رہتے ہیں مگر جونہی خلیفہ اپنے ہاتھ پیچھے کھینچ لیتا ہے لوگوں کاجوش بھی سرد پڑجاتا ہے اوران پر غفلت طاری ہوجاتی ہے۔ حالانکہ خلافت کا وجود تو خدا تعالیٰ نے بطور محور رکھا ہے اب کون سا وہ خلیفہ ہوسکتا جوہرکام کرے ابھی تو ہماری جماعت بہت قلیل ہے مگر جوں جوں ہماری جماعت ترقی کرے گی کاموںمیں بھی زیادتی ہوتی چلی جائے گی۔ ابھی تو ہمارے پاس نہ حکومت ہے نہ تجارت ہے نہ یونیورسٹیاں ہیں نہ علمی ادارے ہیں اورنہ کوئی اور چیز ہے مگر جب یہ تما م چیزیں آگئیں تو اُس وقت ہمارے کام کا دائرہ اتنا وسیع ہوجائیگا کہ ہمیں ہزاروں کی تعداد میں بڑے بڑے لائق آدمیوں کی ضرورت ہوگی جن کا یہ فرض ہوگا کہ وہ دن رات اپنے کاموں میں مشغول رہیں۔ اگر وہ خود کام نہیں کریں گے اور اپنا فرض صرف یہی سمجھیں گے کہ جس کام کی طرف خلیفہ توجہ دلاتا رہے اسے کرتے رہیں اور جس کام کی طرف وہ توجہ دلانا چھوڑ دے اُسے ترک کردیں تو جماعت کی ترقی کس طرح ہوگی۔ پس ضروری ہے کہ جماعت میں ابھی سے بیداری پیدا ہو اور وہ یہ غور کرنے کی عادت ڈالے کہ جو کام وہ کررہی ہے وہ اچھاہے یا نہیں۔ اور جب اسے معلوم ہو کہ وہ اچھا ہے اور خلیفہ نے بھی ایک آدھ دفعہ اس کی طرف توجہ دلادی ہے تو پھر وہ اس کام کو چھوڑے نہیں بلکہ مستقل طور پر اسے اپنی زندگی کے پروگرام میں شامل کرے کیونکہ اس کے بغیر ترقی ہونا ناممکن ہے۔ پس ہماری جماعت کو یہ عادت ترک کرنی چاہیے کہ جب تک خلیفہ کسی کام میں ہاتھ نہیں ڈالے گا اسے وہ نہیں کرے گی۔خلیفہ کا کام صرف توجہ دلانا اور نگرانی کرنا ہے آگے جماعت کا یہ کام ہے کہ وہ کاموں کو اپنے ہاتھ میںلے اور اس مضبوطی اور استقلال سے ان کو چلائے کہ پھر ان کو چھوڑے نہیں ۔پس جماعت کے دوستوں کو اپنے اندر بیداری پیدا کرنی چاہیے اور اُس دن کیلئے اپنے آپ کو تیار کرناچاہیے جب کہ خداتعالیٰ کی طرف سے ہمیں وسعت برکات حاصل ہوگی اور ایک ایک کام کیلئے ہمیں ہزاروں آدمیوں کی ضرورت ہوگی جو دن رات ان کاموںپر لگے رہیں۔ تم آج ہی ان اہم ذمہ داریوں کے کاموںکیلئے اپنے آپ کو تیار کرو اور اس بات کا انتظار نہ کیا کرو کہ ہر کام کے کرنے کا تمہیں خلیفہ کی طرف سے حکم ملے یہ محض نمائش ہے کہ جب تک تمہارا سردار جس کی تم نے بیعت کی ہوئی ہے تمہیںتوجہ دلاتا رہتا ہے تم کام کرتے رہتے ہو اورجب اس کی توجہ کسی اور کام کی طرف مبذول ہوجاتی ہے تو تم کام سے غافل ہوجاتے ہو۔ یہ ایک خطرناک مرض ہے جس کو دور کرنے کی طرف ہماری جماعت کو توجہ کرنی چاہئے۔‘‘
    ( الفضل ۲؍اگست ۱۹۳۹)


    خلافت جوبلی کے موقع پر جلوس اور چراغاں
    خطبہ جمعہ فرمودہ ۸؍ دسمبر ۱۹۳۹ء سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعدفرمایا:۔
    اخبارات میںمختلف اعلانات ’’ خلافت جوبلی کے متعلق‘‘ نکل رہے ہیں ان اعلانات کے پڑھنے کے بعد میں بعض باتیں کہہ دینا ضروری سمجھتا ہوں۔میں نے مجلس شوریٰ کے موقع پربھی ان باتوں کی طرف توجہ دلائی تھی مگر انسان کی فطر ت ایسی ہے کہ وہ نقل کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہے بہ نسبت عقل کے۔کیونکہ نقل کرنا زیادہ آسان ہوتا اور عقل سے کام لینا مشکل ہوتا ہے۔ یہ زمانہ عیسائیت کے فروغ کا زمانہ ہے وہ قومیں جو آہستہ آہستہ ترقی کرتی ہیں ان میں مظاہرے کرنے کی عادت زیادہ ہوتی ہے اور جن کو یکدم غلبہ حاصل ہوتاہے وہ چونکہ حقیقت سے آشنا ہوچکی ہوتی ہیں اور مقصود اُن کو مل چکا ہوتا ہے اسلئے اُن کو مظاہروں کی ضرورت پیش نہیںآتی۔ جو ماں باپ بچوں کے ساتھ رہتے ہیں انہیںان کی تصویریں رکھنے کا شوق اتنا نہیں ہوتالیکن جن کے بچے ان سے دور ہوتے ہیں انہیں تصویروں کی طرف زیادہ خیال ہوتا ہے کیونکہ جب اصل انسان کے سامنے نہ ہو تو وہ نقل سے دل بہلانے کی کوشش کرتا ہے۔ جن قوموں کو خدامل جاتا ہے وہ بتوں اور بت خانوں کی طرف توجہ نہیں کرتیں لیکن جن کو خدانہیں ملا ہوتا وہ بتوں اور بت خانوں کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہے کیونکہ کچھ نہ کچھ خداتعالیٰ کا نقشہ ضرور چاہیے ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو قریب عرصہ میں خدا تعالیٰ نے وہ باتیں دلادیں جو اُن کے اور اُن کی قوم کے متعلق موعود تھیں اِس لئے ان کی قوم میں ایسے مظاہروں کی طرف توجہ نہ تھی ۔عیسائیوں کو ایک لمبے عرصہ کے بعد وہ باتیں حاصل ہوئیں اس لئے وہ درمیانی زمانہ میں مظاہرے کرتے رہے کیونکہ کچھ نہ کچھ تو دل خوش کرنے کیلئے ہونا چاہیے۔ پھر مسلمانوں کو ان کے موعود انعامات بہت ہی تھوڑے عرصہ میں حاصل ہوگئے ۔ حضرت موسیٰ کی قوم کو جتنے وقت میں کامیابی حاصل ہوئی تھی اس کے ایک تہائی زمانہ میں انہوںنے کامیابیاں دیکھ لیں۔اس لئے ان کو بھی کوئی ضرورت نہ تھی کہ ایسے مظاہرے کرتے اور نقلیں کرتے ۔ہمارا زمانہ بھی عیسوی زمانہ کے نقش قدم پر ہے اور اس کے لئے آہستہ آہستہ ترقی موعود ہے۔ اس لئے ہمارے لوگوں میں بھی لازماًگد گدی پیدا ہوتی ہے کہ اگر ابھی فتح دور ہے تو فتح کے زمانہ کی نقل تو بنائیں۔ہندوئوں میں بعض قومیں مثلاًبھابڑے ایسے ہیں جو گوشت کبھی نہیں کھاتے اور اس بارہ میں بڑی احتیاط کرتے ہیں مگر چونکہ اپنے ہمسائے میں ان کے کانوں میں ایسی آوازیں آتی رہتی ہیںکہ ذرا ایک بوٹی اور دینا یا یہ کہ آج کباب بنائے ہیں اور پھر گوشت کی خوشبو بھی آتی ہے اس لئے ان میں سے بعض کی نسبت کہاجاتا ہے کہ جب گوشت کا بہت شوق پیدا ہوتو بڑیاں بنا لیتے ہیں اور پھر ان کو ہی بوٹیاں فرض کر لیتے ہیں اور آپس میں کہتے ہیںکہ ایک بوٹی مجھے بھی دینا، ذرا شوربا اور ڈال دینا وغیرہ اور اس طرح وہ بڑی کو بوٹی کہہ کر اپنے دل کو تسلی دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ لڑکیوں کو دیکھ لو خداتعالیٰ نے ان کی فطرت میں اولاد پیدا کرنا اور اس سے محبت کرنا رکھاہوتا ہے مگر ابھی ان کی عمر اتنی نہیں ہوتی کہ ان کی شادی ہو اور اولاد ہو اس لئے وہ گڑیا بنا لیتی ہیں اور اسی سے پیارکرتی ہیں اور کہتی ہیں لائو اسے دودھ دیں۔ میری بچی روتی کیوں ہے وغیرہ وغیرہ یہ ان کی فطرت کا تقاضا ہوتا ہے مگر زمانہ ابھی آیا نہیں ہوتا اس لئے وہ ایسی باتوں سے دل بہلا لیتی ہیں ۔ میں ڈرتاہوں بلکہ میں اس کے آثار دیکھ رہا ہوں کہ اِس قسم کے نقص جماعت میں پید انہ ہوجائیں۔ مظاہرات کی طرف طبیعت فطرتاً مائل ہوتی ہے اور لوگ چاہتے ہیں کہ چراغاں کیا جائے اور جلوس نکالے جائیں چاہے کتنی قیدیں لگائو وہ پھر بھی کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر ایسا کر ہی لیا جاتا ہے۔ یہاں خلافت یا خلافت جوبلی کا سوال نہیں بلکہ اہم سوال یہ ہے کہ ہم نے اسلام کی تعلیم کو قائم رکھنا ہے خلافت تو الگ رہی نبوت بھی اسلامی تعلیم کے تابع ہے کیونکہ اسلام دائمی صداقت کا نا م ہے اور ہر عقلمند شخص یہ تسلیم کرے گا کہ دائمی صداقت انبیاء پر بھی بالا ہے دائمی صداقت کو انبیاء کیلئے قربان نہیں کیاجاتا بلکہ انبیاء اس کیلئے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں اور ہمیشہ ادنیٰ چیز اعلیٰ کیلئے قربان کی جاتی ہے اعلیٰ ادنیٰ کیلئے نہیں۔ قرآن کریم نے یہ کہیں نہیں کہا کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان خطرہ میں ہو تو توحید کو قربان کر دیا جائے، صداقت اور حق کو قربان کر دیاجائے یہ کہا ہے کہ اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی خاطر تو اپنے آپ کو قربان کر دے پس صداقت انبیاء سے بھی بالاچیز ہے ۔انسان خواہ وہ نبی ہو یا نبیوںکا سردار بہر حال صداقت کے تابع ہے۔ جہاں تک صداقت کی اشاعت کا تعلق ہوتا ہے نبی بے شک بمنزلہ سورج کے ہوتے ہیں اس لئے کہ ان کے ذریعہ صداقت قائم ہوتی ہے ۔صداقت کو شہرت اور عزت ان کے ذریعہ ہی ملتی ہے اس لئے تمثیلی طور پر اللہ تعالیٰ ان کو سورج بھی قرار دیتاہے ورنہ حقیقتاًوہ قمر کی حیثیت رکھتے ہیں تمام انبیاء الحق یعنی خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں جو اصل صداقت ہے قمر کی حیثیت رکھتے ہیں ان کو سورج کہنا ایسی ہی بات ہے جس طرح ماں باپ کی عزت ہر مذہب میں ضروری ہے اور اسلام نے تو اس پر زیادہ زور دیا اور فرمایا ہے کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے ۱؎۔ قرآن کریم کا حکم ہے کہ ان کے سامنے اُف تک نہ کرو ۲؎ مگرباوجود اس کے ماں باپ اپنے بچے کو کہتے ہیں کہ میں قربان جائوں، واری جائوں ان کا یہ کہنا مقام کے لحاظ سے نہیں ہوتا بلکہ اظہار ِمحبت کے لئے ہوتا ہے اِسی طرح انبیاء کبھی شمس بھی کہلاتے ہیں مگر اصل مقام ان کا الحق کے مقابلہ میں قمر کا ہی ہوتا ہے۔ اس کی ایسی مثال ہے جیسے کسی دن جب جوّ بالکل صاف ہو، مطلع بالکل ابر آلود نہ ہو، چاند چودھویں کا ہو اور وہ تمام باتیں جن سے روشنی تیز ہوتی ہے موجود ہوں تو کوئی شخص کہے کہ آج چاند کیا ہے سورج ہے تو اس کے معنی یہی ہوں گے کہ آج چاند سورج سے اتنا مشابہہ ہے کہ اس کا دوسرانام رکھنا ٹھیک نہیں اس لئے بالکل وہی نام دینا چاہیے۔ تو یاد رکھنا چاہیے کہ ایسے مواقع پر ہمیشہ شریعت کی حفاظت اور اسے سب باتوں پر مقدم رکھنا چاہئے جلوس وغیرہ اسلام میں ثابت نہیں ہیں یعنی ایسے جلوس جیسے آجکل نکلتے ہیں یہ صحیح ہے کہ دوسرے شہروں میںجو جلوس وغیرہ نکلتے ہیں ان کے مقابلہ میں قادیان کے جلوس اسلامی جلوس کے سب سے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر پھر بھی مجھ پر یہ اثر ہے کہ قادیان میں جو جلوس نکلتے ہیں وہ بھی خالص اسلامی جلوسوں کے مشابہہ نہیں ہیں اسلام کے زمانہ میں ہمیں یہ تو نظر آتا ہے تاریخ سے ثابت ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کے عمل سے یہ تومعلوم ہوتا ہے کہ جماعت مسلمین جمع ہوکر خاص بازاروں میں سے گزررہی ہے اور جب لوگ ایک دوسرے کے سامنے آتے ہیں تو کسی تکلف کے بغیر ایک دوسرے کو بلند آواز سے یہ سلام کہتے ہیں یا تکبیر و تحمید کرتے ہیں مگر یہ کہ ایک شخص شعر پڑھتا ہے اور دوسرے اس کے پیچھے لچکتے جاتے اور وہی شعر پڑھتے ہیں۔ یہ کہیں سے ثابت نہیںمیں تو خیال کیا کرتا ہوں کہ اگر کوئی مجھے ایساکرنے کے لئے کہے اگر تو وہ حاکم مذہب ہوجس کی اطاعت ضروری ہے ورنہ میں کبھی ایسا نہ کرسکوںمیر ی فطرت اسے قبول کرنے کیلے تیار نہیں مجھے تو یہ جلو س دیکھ کر بچپن کا وہ زمانہ یاد آجاتا ہے جب بچے اکٹھے ہو کر کھیلا کرتے تھے اور ایک دوسرے کی کمر کو پکڑ کر کہتے تھے کہ ہم بکرا لینے آئے ہیں میں نے پہلے بھی کئی دفعہ اس سے منع کیا ہے مگر پھر بھی بعض لوگ اسی طرح کرنا شروع کر دیتے ہیں حالانکہ اگر سنجیدگی سے کام لیا جائے تو ایسے موقع پر دل میں ذکرِ الٰہی کر نا چاہیے ہاں جیسا کہ سنت ہے جب کوئی دوسری جماعت سامنے آتی ہوئی نظر آئے تو تکبیر اور تسبیح و تحمید کرنی چاہیے۔ اسلام بے شک شعر پڑھنے اور سننے کی اجازت دیتا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے مگر اس قسم کا کورس میں نے اسلام میں کہیں نہیں دیکھا(کورس سے مشابہہ ایک صورت اسلام میں ہے اور وہ امام کے پیچھے آمین کہنے کی ہے اسی طرح بعض آیات قرآنیہ کے جوا ب میںبعض فقرات کہے جاتے ہیں لیکن یہ اوّل تو نثر میںہوتا ہے دوسرے نمازمیں اور خاص سنجیدگی کے ساتھ ہوتا ہے بازاروں میں اس طرح کرتے پھرنے کی مثال پر، اور شعر پڑھ پڑھ کر ایسا کرنے کے متعلق میں اِس وقت بات کر رہاہوں اور اس کی مثال مجھے نہیں ملی) حالانکہ جہاں تک کوشش ہوسکتی ہے میں نے اسلامی تاریخ کا مطالعہ بہت لمبا اور گہرا کیا ہے اگر کسی اور کو اس کی کوئی مثال معلوم ہو تو وہ مجھے بتا دے میں تسلیم کرلوں گا کہ عورتیں مل کر شعر پڑھتی ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ میں تشریف لائے تو ان کے استقبال کیلئے عورت مرد نکلے اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نظر آئے تو انہوں نے شعر بھی پڑھے مگر یہ اس زمانہ کی بات ہے جب اہل مدینہ اسلام سے اچھی طرح واقف نہ تھے اُس وقت عورتوں نے جو شعر پڑھے وہ اس طرح شروع ہوتے تھے۔
    طَلَعَ الْبَدْ رُ عَلَیْنَا مِنْ ثَنِیَّۃِ الْوِدَاعِ۳؎
    یعنی آج ہم پر چودھویں رات کا چاند فلاں گوشے سے طلو ع ہوا ہے یہ سب لوگ استقبال کیلئے باہر نکلتے تھے اور جب آپ کو دیکھا تو یہ شعر پڑھنے لگے مگر یہ وہ زمانہ تھا جب ان لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھی طرح دیکھا بھی نہ تھا بلکہ یہ وہ زمانہ تھا جب ان لوگوں نے آپؐ کے ساتھ یہ معاہدہ کیا تھا کہ اگر آپ پر کوئی دشمن مدینہ میں حملہ آور ہوگا تو ہم آپ کی مدد کریں گے لیکن اگر آپؐ مدینہ سے باہر لڑنے جائیں تو ہم پر کوئی ذمہ داری نہ ہوگی مگر اِس سے زیادہ پھر بھی ثابت نہیں کہ لوگوں نے جمع ہوکر شعر پڑھے۔ یہ ثابت نہیں کہ تکلّف کے ساتھ ایک پہلے شعر پڑھتا ہے دوسرے اس کے پیچھے مٹکتے جاتے ہیں اور بعد میں اس کے شعر کو یا اس کے ٹکڑے کو دہرا دیتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود شعر پڑھوا کر سنتے تھے بعض بیوقوف اس پٹھان کی طرح جس نے کہہ دیا تھا کہ خو محمد صاحب کا نمازخراب ہوگیا اس کو جائز نہیں سمجھتے مگر یہ حقیقت ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود کہہ کہہ کر بعض دفعہ شعر پڑھواتے تھے۔ جہاد کو جاتے ہوئے خوش الحانوں سے کہہ کر شعر پڑھوانا تو حدیثوں میں کثرت سے ثابت ہے۔ پھر حدی خوانی تو عربوں کی مشہو رہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس سے منع نہیں فرمایا۔اونٹ شعر پر عاشق ہوتا ہے اور اسے سن کر تیز چلتا ہے تو اس قسم کی شعر خوانی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس میں ثابت ہے اپنے بے تکلف دوستوںمیں میں بھی بچپن میں شعر پڑھ لیا کرتا تھا اب تو گلے کی تکلیف کی وجہ سے خوش آواز ہی باقی نہیں رہی شعر کیا پڑھنا ہے اور اگر ہو بھی تو مجلس میں شعر پڑھنے سے مجھے حجاب ہے مگر اس کے باوجود میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ میری فطرت کے خلاف ہے۔ بچپن میں میں پڑھتا رہا ہوں لیکن جس طرح یہاں جلوسوں میں کیا جاتا ہے اس طرح نہ میں نے کبھی کہا ہے اور نہ میری فطرت اسے برداشت کرسکتی ہے۔ ہاں بعض ادعیہ حدیثوں سے ثابت ہیں ان کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں شعر بھی ہوتے تھے اور پڑھے بھی جاتے تھے اور وہی طریق اب تم بھی اختیا کر سکتے ہو مگر آپ کے فعل پر زیادتی کی کیا ضرورت ہے۔جلوس کی صورت میں جمع ہو کر چلنا ثابت ہے اور پھر یہ بھی ثابت ہے کہ جب دو جماعتیں آپس میںملیںتو بلند آواز سے تکبیر یا تسبیح و تحمید بھی کریں۔ عید کے موقع پر بھی ایسا کرنے کا حکم ہے اورہم کرتے ہیں مگر یہ جلوس نکالنے والے عید پر تکبیر اور تسبیح و تحمید نہیں کرتے۔ ہم نے کبھی نہیں دیکھاکہ عید کے روز بھی یہ اسی طرح بلند آواز سے تکبیر اور تسبیح و تحمید کہتے ہوئے جائیں میرا گلا خراب ہے میں خو ش الحانی کے طور پر صرف اونچی آواز نکا ل سکتا ہوں ہلکی نہیں نکال سکتا اور اگر آہستہ تلاوت کرنا چاہوں یا شعر پڑھنا چاہوں تو آواز منہ میںہی رہ جاتی ہے یا تو آواز بالکل چھوٹی نکلے گی یابہت بڑی۔ مگر پھر بھی میںکوشش کرکے بڑی عید کے موقع پر جب ایسا کرنے کا حکم ہے تکبیر اور تسبیح و تحمید کرتا ہوں مگر یہ جلوس نکال کرشور کرنے والے چپ کرکے پاس سے گزر جاتے ہیں پس اگر اس رنگ میںجوکہ میں نے بتایا ہے اور جو اسلامی جلوس کا رنگ ہے کر لیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ ا س طرح ذکرِ الٰہی کی کثرت ثواب کا بھی موجب ہے اور دوسرے اگر نقل کریں تو ان کے دلوں میں بھی خدا کی بڑائی پیدا ہوگی اور پھر ان کو بھی ثواب ہوگالیکن جس طرح یہاں عام طور پر جلوس نکالے جاتے ہیں ان کا ثبوت اسلامی تاریخ میں نہیں ملتا۔
    اسی طرح چراغاں کا سوال ہے مجھ سے میری ایک لڑکی نے سوال کیا اس نے کہا میں نے اپنے فلاں عزیزسے پوچھا تھا تو اس نے کہا کہ مجلس شوریٰ میں حضرت ( خلیفۃ المسیح) نے چراغاں کرنے سے جماعت کو منع کیا تھا،افراد کو نہیں، میںنے کہا ہاں یہ درست ہے اس قدر بات بالکل درست تھی کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ میں نے افراد کو منع نہیں کیا تھا مگر اُس وقت افراد کا سوال بھی تو پیش نہ تھا۔ پھر اِس کے بعد یہ بازگشت میرے کانوں میں آنی شروع ہوئی کہ افراد بے شک چراغاں کریںحالانکہ شوریٰ کے موقع پر جماعت کو منع کرنے کے یہ معنی نہیں تھے کہ افراد بے شک کریں۔ اُس وقت چونکہ جماعت ہی کے بارہ میں مجھ سے سوال کیا گیا تھا میں نے اُتنا ہی جواب دے دیا۔ افراد کے متعلق نہ مجھ سے پوچھا گیا اور نہ میں نے بتایا۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بڑھیا عورت آئی جو حضرت خدیجہ ؓ کی سہیلی تھی اُس کے ساتھ بوجہ اِس کے کہ وہ عمر میں بڑی تھی آپ اس قسم کی بے تکلفی فرمالیتے تھے جیسا کہ بڑوں سے انسان کر لیا کرتاہے۔ اس نے دریافت کیا یَا رَسُوْلَ اللہ! کیا میں جنت میں داخل ہوں گی؟ آ پ نے فرمایا کوئی بڑھیا جنت میں داخل نہیں ہوسکے گی۔ درحقیقت اس کا سوا ل بیوقوفانہ تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پتہ کہ کون جنت میں داخل ہوگا۔ پس آ پ نے سوال کے رنگ میں ہی جواب دیااور فرمایا کہ کوئی بڑھیا جنت میں داخل نہیں ہوگی اس کا مطلب یہ تھا کہ جنت میں سب جوان ہوں گے۔آخر جنت کی نعماء حظ اُٹھانے کے لئے ہیں اور اگر نہ منہ میں دانت نہ پیٹ میں آنت، ہوکمر جھکی ہوئی ہو، آنکھیں بصارت کھو چکی ہوںتو جنت کی نعماء سے انسان کیا فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔ پس آپ کا جواب بالکل درست تھا اور سوال کے مطابق الفاظ میں دیا گیا تھا۔ اُس عورت نے نہ غور کیا اور نہ آپ سے پوچھا بلکہ یہ بات سنتے ہی رونے لگ گئی اس پر آپ نے فرمایا تم روتی کیوں ہو؟ اُس نے کہا اس لئے کہ آپ فرماتے ہیں تو جنت میں داخل نہیں ہوگی۔ آپ نے فرمایا میں نے یہ تو نہیں کہا کہ تم داخل نہیں ہوگی میں نے تو کہا ہے کہ کوئی بڑھیا داخل نہیں ہوسکے گی اور یہ صحیح بات ہے کیونکہ جنت میں سب جوان ہوکر داخل ہوں گے ۴؎۔ تو اسی رنگ میں اپنی لڑکی کو جواب دیا اور کہا کہ میں نے افراد کو چراغاں سے منع نہیں کیا تھا میرا مطلب یہ تھا کہ شوریٰ میں سوال ہی جماعت کا تھا ورنہ مذہبی خوشیوں کے مواقع پرچراغاں شریعت سے ثابت نہیںہاں عیسائیوں سے ثابت ہے۔ بعض نقال کہہ دیا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بادشاہ کی جوبلی پر چراغاں کیا مگر بادشاہ کی جوبلی پر تو میں بھی کرنے کو تیار ہوں سوال تو یہ ہے کہ کیا خلافت جوبلی پر بھی ایسا کرنا جائز ہے؟ ہمیںکئی ہندو ملتے ہیں اور ہاتھ سے سلام کرتے ہیں اور جواب میں ہم بھی اُس طرح کردیتے ہیں مگر مسلمان تو اس طرح نہیں کرتے بلکہ اسے تو اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہتے ہیں توجن چیزوں کی حرمت ذاتی نہیں بلکہ نسبتی ہے بلکہ حرمت ہے ہی نہیں صرف کراہت ہے اسے ہم اپنے لئے تو اختیار نہیں کرسکتے ہاں دوسرے کیلئے کرنے کو تیا رہیں جب ترکی سفیر حسین کامی یہاں آیا توحضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک خاص آدمی بھیج کر لا ہور سے اس کیلئے سگریٹ اور سگار منگوائے کیونکہ قرآن کریم میں تمباکو کا ذکر نہیں آتا صرف قیاس سے اس کی کراہت ثابت کی جاتی ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود اس سے کراہت کرتے تھے مگر مہمان کیلئے لاہور سے منگوائے۔ اسی طرح چراغاں اپنی ذات میں بے شک منع نہیں سب لوگ اپنے گھروں میں لیمپ یا دیئے وغیرہ جلاتے ہیںاس لئے غیروں کی دلجوئی اور انہیں خوش کرنے کیلئے ان کی کسی تقریب پر چراغاں کرنے میں کوئی حر ج نہیں۔اب بھی اگر بادشا ہ یا حکومت کی کوئی تقریب ہو اور وہ کہے کہ چراغاں کرو تو ہم کردیں گے کیونکہ حکومت کی عزت ہم پر خدا تعالیٰ کی طرف سے واجب ہے اور ایسا کردینے سے ہمار اخدا بھی ہم سے خوش ہوگا اور حکومت بھی۔مگر یہی بات ہم اپنی کسی مذہبی تقریب پر اختیار نہیں کرسکتے اگر تو حکم کے ماتحت چراغ جلاتے ہیں تو ہمیں ثواب بھی پہنچتا ہے کہ ہم نے حکم مانا یہ جلانا ضائع نہیں جائے گا ورنہ یوں کسی غریب کو روٹی کھلا دینا اِس سے بہت زیادہ بہتر ہے کہ انسان گھر میں پندرہ بیس دیئے جلا لے۔ دیئے جلانے میں کم سے کم ڈیڑھ دو آنہ کا تیل تو ضائع ہوگا اور اتنے پیسوں میں دو غریبوں کا جو فاقہ سے تڑپ رہے ہوں پیٹ بھرا جاسکتا ہے۔ بتائو یہ اچھا ہے کہ دیئے جلا کر اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچالی جائے یاکسی غریب کا پیٹ بھر کر اللہ تعالیٰ کو خوش کیاجائے۔ تو چراغاں کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ اس کا شریعت نے حکم دیا ہے۔ شریعت نے صدقہ کا حکم دیا ہے اور اس سے کئی فوائد بھی ہیں اس طرح کئی لوگوں کی طرف جن کا ہمیں پتہ بھی نہیںہوتا توجہ ہوجاتی ہے اور پھر دوسرے کی مصیبت اوراپنی خوشی کے موقع پراس کی طرف توجہ ہوجاتی ہے پس ایسی تقریبات کے موقع پر ہمیںخیال رکھنا چاہیے کہ یورپین لوگوں کی نقل نہ ہوبلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نقل ہو۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کے متعلق فرمائے گا کہ ان کو جنت میں اعلیٰ انعام دو۔ میں بھوکا تھا انہوں نے مجھے کھانا کھلایا میں ننگا تھا انہوں نے مجھے کپڑے پہنائے وہ لوگ استغفار پڑھیں گے اور کہیں گے یا الٰہی! یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ تو بھوکا پیاسا یا ننگا ہو اور ہم کنگال کیا حیثیت رکھتے تھے کہ تجھے کھانا کھلاتے یا کپڑے پہناتے مگر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ نہیں تم نے ایسا ہی کیا جبکہ میرے غریب بندے بھوکے تھے اور تم نے اُن کو کھانا کھلایا وہ پیاسے تھے تم نے انہیں پانی پلایا وہ ننگے تھے او رتم نے انہیں کپڑے پہنائے ۵؎ غور کرو یہ کتنا عظیم الشان درجہ ہے جو غریبوں کو کھانا کھلانے سے حاصل ہوسکتا ہے اور خوشیوں کو ایسے رنگ میں منانے سے ہوسکتا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے مگر تیل خرچ کر دینے پر خد اتعالیٰ کیا کہہ سکتا ہے کیا و ہ کہے گا کہ ان میرے بندوں کو جنت میں اعلیٰ درجہ کے انعام دو کیونکہ یہ بازار سے تیل خرید کر لائے، بہت سے دیئے جلائے اور اس طرح اپنی آنکھیں تو خوش کرلیں مگر میرے کسی بھوکے اور پیاسے بندے کی خبر نہ لی۔ یہ فقرہ اللہ تعالیٰ کی زبان پر سجتا نہیں مگر وہ دوسرا فقرہ تودل کو لگتا ہے اور اُس سے ایسا درد پیدا ہوتا ہے کہ ہر انسان کے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کسی طرح اسے خدا تعالیٰ سے اپنے لئے سن لے۔مگر یہ تو ایسا ہے کہ نہ اسے کان برداشت کرسکتے ہیں اور نہ خداتعالیٰ کی زبان سے زیب دیتا ہے۔
    پس جو کرنا چاہو کرو لیکن شریعت کے مطابق کرو اور ایسے رنگ میں کرو کہ دنیا بھی زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرسکے جب تمہارے کام دنیا کے لئے مفید بن جائیں گے تو خدا تعالیٰ دنیا کے دوسرے کاموں کو بھی تمہارے لئے مفید بنادے گا۔ جب تم لوگوں کیلئے اپنے کاموں کو مفید بنائو گے تو خدا تعالیٰ دوسروں کے کام تمہارے لئے مفید بنا دے گا۔
    دوسر ی بات جو میںکہنا چاہتا ہوں اور جس کیلئے اب میں ایک دو منٹ سے زیادہ وقت نہیں دے سکتا یہ ہے کہ جلسہ سالانہ کے دن قریب ہیں اس لئے دوستوں کو چاہیے کہ اپنی خدمات اور مکانات بھی پیش کریں جن کے دلوںمیں یہ جوش اُٹھتا ہے کہ جوبلی کے موقع پر شعر پڑھتے ہوئے چلتے جائیں انہیں چاہیے کہ جلسہ پر آنے والوں کیلئے مکان بھی خالی کرکے دیں اور اپنی خدمات بھی پیش کریں۔ پس اگر جوبلی کے موقع پر خوشی منانا چاہتے ہو تو اس کا بہترین طریق یہی ہے کہ غرباء کو کھانا کھلائومکانات خالی کرکے مہمانوں کیلئے پیش کرو اور اپنے افراد کو زیادہ زیادہ تعدادمیں فارغ کرکے خدمات کیلئے پیش کرو۔ یہ تو ٹھیک نہیں کہ تم لوگوں کیلئے اعلان تویہ کرو کہ آجائو آجائو اور اگر وہ آجائیں تونہ ان کے رہنے کیلئے کوئی مکان ملے اور نہ کوئی خدمت کرنے والا ہو۔لوگ آئیں اور یہاں ان کیلئے نہ رہائش کا انتظام ہو اور نہ کوئی پوچھنے والا ہو تو وہ یہی کہیں گے کہیہ کتنے بے حیالوگ ہیں پہلے تو شورکر رہے تھے کہ آئو آئو اور اب آئے توکہتے ہیں کہ تم سے کوئی جان پہچا ن ہی نہیں۔ جب لوگ زیادہ آئیں گے تو ان کے کھانے پینے کیلئے بھی زیادہ اشیاء درکار ہوں گی مکان بھی زیادہ درکار ہوں گے اور خدمت کرنے والے بھی زیادہ زیادہ چاہئیں۔
    میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ منتظمین کا یہ خیال کہ اس موقع پر بہت زیادہ روسا آئیں گے اور سینکڑوں غیر احمدی امراء شامل ہوں گے صحیح نہیں تمہارے دلوں میں بے شک خلافت اور خلافت جوبلی کی عزت ہوگی مگر دوسروں کے نزدیک اس کی کیا عزت ہوسکتی ہے پندرہ بیس غیر احمدی رؤساتو ممکن ہے رونق دیکھنے کے لئے آجائیں یا ممکن ہے کچھ احمدیوں کے دوست آجائیں مگر یہ کہ ہزاروں دوڑے چلے آئیں گے یہ غلط ہے ان کے نزدیک خلافت جوبلی کی نہ کوئی قیمت ہے اور نہ اہمیت۔ ایاز قدر خود بشناس۔آج تمہاری کیاحیثیت ہے کہ بڑے بڑے لوگ دوڑے چلے آئیں گے آج اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو بے شک تمہاری قدر ہے مگر بڑے لوگوں کے نزدیک کوئی نہیں۔ آج تو بعض جگہ ایک نمبردار بھی تمہارے پاس سے گزرتا ہے تو ناک چڑھا کر کہہ دیتا ہے کہ یہ بے حیثیت لوگ ہیں مگر تم سمجھتے ہو کہ تمہاری بڑی اہمیت ہے۔ آج صرف خدا تعالیٰ کے گھرمیںتمہار ی اہمیت ہے اس لئے اُسی کی طرف توجہ کرو جس کے گھر میں تمہاری عزت ہے، اُسی پر نگاہ رکھو دنیا داروں کے نزدیک ابھی تمہاری عزت کوئی نہیں۔ بے شک ایک دن آئے گا جب ان کے نزدیک بھی عزت ہوگی اور اُس وقت یہ لوگ بھی کہیں گے کہ ہم تو ہمیشہ سے ہی اِس طرف مائل تھے مگر ابھی وہ دن نہیں آیا۔ اس کیلئے ابھی بہت زیادہ قربانیوں کی ضرور ت ہے جب وہ کر لوگے تو وہ دن آئے گا اور اس وقت بادشاہ بھی تمہاری طرف مائل ہوں گے اور کہیں گے کہ ہم تو بچپن سے ہی اِس طرف مائل تھے محض اتفاق ہے کہ اب تک اِس طرف نہ آسکے۔ گو اب تو معمولی نمبردار بھی ناک چڑھا کر گزر جاتا ہے اور کہتا ہے معلوم نہیں کہ یہ کون لوگ ہیں اور کون نہیں۔
    ہر زمانہ کی حیثیت علیحدہ ہوا کرتی ہے ایک زمانہ وہ بھی تھا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں مخالفین نے مسجد کا دروازہ بند کردیا اور آ پ کئی دفعہ گھر میں پردہ کرا کر لوگوں کو مسجد میں لاتے اورکئی لوگ اوپر سے ہو کر آتے سال یا چھ ماہ تک یہ راستہ بند رہا آخر مقدمہ ہوا اور خداتعالیٰ نے ایسے سامان کئے کہ دیوار گرائی گئی بعض خوابیں بھی عجیب ہوتی ہیں میں نے اُس زمانے میں خواب دیکھا کہ میں بڑی مسجد سے جارہا ہوں اور دیوار گرائی جارہی ہے میںنے پیچھے مڑکر دیکھا تو مولوی صاحب یعنی حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل تشریف لارہے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ دیوار گرائی جارہی ہے خداکی قدرت ہے کہ پہلے ایک مقدمہ ہوا وہ فیل ہوا دوسرا ہوا وہ ناکام ہوا تیسرے میں کامیابی ہوئی اور دیوار گرانے کا حکم ہوا۔ مسجد اقصیٰ میں حضرت خلیفہ اوّل درس دے رہے تھے جب درس ختم ہوا اور میں گھر کو چلا تو دیکھا کہ دیوار گرائی جارہی ہے میں نے پیچھے دیکھا تو حضرت خلیفہ اوّل آرہے تھے اور میںنے ان سے کہا کہ دیوار گرائی جارہی ہے بعینہٖ اسی طرح ہوا جس طرح میں نے خواب میں دیکھا تھا۔ جہاں تک مجھے یاد ہے میںنے یہ خواب حضرت خلیفۃ المسیح اوّل کو سنائی ہوئی تھی اور انہوں نے میر ی بات سن کر فرمایا کہ تمہاری خواب پوری ہوگئی۔
    پھر وہ بھی دن تھے کہ چوک میں جہاں آج کل موٹریں گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں اس کے سامنے لوگ جانور باندھنے کیلئے کیلے گاڑ کر جانور باند ھ دیتے تھے اور جب احمدی اندھیرے میں مہمان خانہ سے نماز کیلئے آتے تو ٹھوکریں کھا کر گرتے۔مگرآ ج یہ زمانہ ہے کہ کہتے ہیں قادیان میں احمدی ظلم کرتے ہیں میں کہتا ہوں کہ مان لو احمدی ظلم کرتے ہیں۔ مگر کیا یہ اللہ تعالیٰ کا نشان نہیں۔ میں مان لیتا ہوں کہ احمدیوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم پر عمل نہ کیا مگر اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی تو بہر حال ظاہر ہے۔ مانا کہ ہم ظالم ہوگئے مگر اس ظلم کی توفیق کا ہمیں ملنا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کا پورا ہونا ہے تم ہمیں ظالم مان لو مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر تو ایما ن لے آئو۔
    ا س میں شبہ نہیں کہ غالبا جماعت کے لوگ اس سال زیاد ہ آئیں گے گو بعض روکیں بھی ہیں جنگ کی وجہ سے سرکاری ملازموں کو چھٹیاں نہیں مل سکیں گی یا کم ملیں گی اس لئے ان میں کمی کا امکان ہے اس لئے ممکن ہے کمی بیشی اس طرح پوری ہوجائے لیکن بہر حال سمجھنا یہی چاہیے کہ اس سال پہلے سے زیادہ لوگ آئیں گے اس لئے زیادہ مکانوں اور زیادہ خادموں کی ضرورت ہوگی اور اگر واقعہ میں تمہارے دلوں میں خوشی ہے تواس کا اظہار اس طرح کرو کہ زیادہ سے زیادہ مکانات خالی کرکے دو اور زیادہ سے زیادہ تعدا د میں خدمات کیلئے پیش کرو۔ یہ ہم خرما وہم ثواب کا موجب ہوگا خوشی بھی حاصل ہوجائیگی اور ثواب بھی حاصل ہوگا اور اگر ثواب کی نیت نہ ہوگی تومیلہ ٹھیلہ توہو ہی جائے گا۔ میلوں میں کیا ہوتا ہے جب لوگ جمع ہوتے ہیں تودیکھنے والے کو کیامل جاتا ہے کیا اس کے ہاںلڑکا پیدا ہو تاہے یا اسے کوئی اور ذاتی خوشی حاصل ہوتی ہے؟ لوگ کندھے سے کندھے لگاتے ہوئے چلتے ہیں اور تمہاری باچھیںیونہی کھل جاتی ہیں گویا تمہارے گھر میں ہن برس گیا تو اجتماع میں اللہ تعالیٰ نے خوشی رکھی ہے۔
    حضرت خلیفہ اوّل فرمایا کرتے تھے کہ ایک مولوی میلوں کے خلاف بہت وعظ کیاکرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ یہ بدعت ہے دنیا گمراہ ہوگئی لوگوں نے سنت کو چھوڑ دیا وہ کوئی مہینہ بھر پہلے ہی شور مچاتا رہتا مگر جب میلہ کا دن آتا تو جبہ پہنے دوڑتا ہوا میلہ کی طرف چل دیتااور جب کوئی پوچھتا کہ مولوی صاحب! کہاں جارہے ہیں؟ تو کہتا دنیا گمراہ ہوگئی سمجھانے جاتا ہوں اور وہاں کونے میں کھڑا ہوکر تماشا دیکھنے لگ جاتا اور جب کوئی پوچھتا کہ مولوی صاحب! آپ یہاں کہاں وہ کہتا کہ حیران کھڑ اہوں کوئی سنتا ہی نہیں۔ تو ہجوم ایک ذریعہ خوشی کا ہوتے ہیں۔ کسی روتے ہوئے شخص کو میلہ میں لے جائو تو اس کی توجہ بھی ادھر ہوجائیگی اور وہ خوش ہوجائے گا حالانکہ ذاتی طورپر اس کیلئے خوشی کاکوئی سامان اس میں نہیں ہوتا خواہ کوئی پیسہ کے پکوڑے بھی میلہ میں جاکر نہ کھائے خواہ کوئی بچہ’’ میری گورائونڈ‘‘ پر سوار نہ ہوسکے ایک دھیلے کا کھلونا بھی نہ خرید سکے مگر وہ ماں سے اصرا ر ضرور کرے گا کہ میں میلہ میں ضرو ر جائوں گا تو ہجوم میں ایک خوشی انسان کو حاصل ہوتی ہے۔
    پس جو لوگ خداتعالیٰ کی خوشنودی کیلئے جوبلی میں ایک سبق پیدا کرنا چاہتے ہیں انہیں تو کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں مگر جو لوگ چاہتے ہیں کہ جوبلی کی ایک تقریب پر ہجوم زیادہ ہو تاوہ زیادہ خو شی حاصل کرسکیںان کو بھی چاہیے کہ وہ مکان بھی زیادہ خالی کر کے دیں اور خدمات کے لئے زیادہ سے زیادہ نام پیش کریں اور چندے بھی زیادہ دیں ابھی تو میں اخباروں میںیہی شور پڑھتا ہوں کہ چندہ پور انہیں ہوا۔ پس اگرتمہاری عقید ت سچی ہے تو خوشی کا اظہار ایسے رنگ میں کرو کہ ثواب بھی ہو اور خوشی بھی حاصل ہوجائے اور اس کی یہی صورت ہے کہ اپنے مالوں،جانوں اور مکانوں کی زیادہ سے زیادہ قربانی پیش کرو۔
    ( الفضل ۱۴دسمبر ۱۹۳۹ء )
    ۱؎ کنز العمال جلد۱۶ صفحہ۴۶۱ مطبوعہ حلب ۱۹۷۷ء
    ۲؎ (بنی اسرائیل: ۲۴)
    ۳؎ السیرۃ الحلبیۃ جلد۲ صفحہ۱۹۹ء مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء
    ۴؎ مشکوٰۃ باب المزاح صفحہ۴۱۶ مطبوعہ کراچی ۱۳۶۸ھ
    ۵؎ مسلم کتاب البروالصلۃ باب فضل عیادۃ المریض

    خلافت جوبلی کی تقریب کے متعلق

    خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۲؍جنوری ۱۹۴۰ء سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    میں آج ایک اہم امر کے متعلق خطبہ پڑھنا چاہتا تھا اور میں اس بات کی ضرورت سمجھتا تھا کہ اس مضمون کو زیادہ بسط کے ساتھ بیان کیاجائے لیکن جلسہ کے بعد جو انفلوئنزا کا حملہ مجھ پر ہواپیچھے اِس میں بہت حد تک کمی آجانے کے بعد پرسوں سے پھر دوبارہ میرے سینہ پر نزلہ گرنا شروع ہوگیا ہے اور اس کی وجہ سے میں زیادہ نہیں بول سکتا اور نہ اونچا بول سکتا ہوں مگر مضمون کی اہمیت اور ا س کا موقع یہ چاہتا ہے کہ میں اِسے پیچھے نہ ڈالوں اور جلد سے جلد اس کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار جماعت کے سامنے کردوں اس لئے باوجود طبیعت کی خرابی کے میں نے یہی مناسب سمجھا کہ میں آج خطبہ میں اسی مضمون کو بیان کروں۔
    ہمار ی جمات نے اس جلسہ کو جو ابھی گزر اہے ایک خوشی اور شکریہ کا جلسہ قرار دیا ہے کیابلحاظ اِس کے کہ باوجود دنیا بھر کی مخالفتوں کے وہ نبوت کا پیغام جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا میں لائے تھے اور جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ میری بڑی مشکلات میں سے ایک نبوت کا مسئلہ بھی رہا ہے کیونکہ لوگ اِس مسئلہ کے سمجھنے کی قابلیت کم رکھتے تھے اور غلط خیالات اور غلط عقائد نے لوگوں کے دماغوں پر ایسا قبضہ جمالیا تھا کہ وہ اِس عقیدہ میں کسی اصلاح کیلئے تیا ر نہ تھے باوجود دنیا کی مخالفت کے پچاس سالہ عرصہ میں برابر دنیا میں پھیلتا چلا گیاہے اور جس عقیدہ کے متعلق لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ و ہ کسی صورت میں تسلیم کئے جانے کے قابل نہیں وہ دنیا کے ہر گوشہ میں تسلیم کیاجانے لگاہے اور آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے تمام براعظموں میں اس عقیدہ کے ماننے والے لوگ موجود ہیں اور دوسرے اس وجہ سے اس جلسہ کو ایک خوشی کا جلسہ قرار دیا گیا کہ وہ خلافت جو تابع نبوت ہوتی ہے اس کے متعلق بھی لوگوں میں ایسے ہی خیالات موجود تھے اور لوگ سمجھتے تھے کہ خلافت کا خیال دنیا میں قائم نہیں رہ سکتا اور اس آزادی اور نام نہاد ڈیما کریسی کی موجودگی میں خلافت دنیا میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ یہ خیال زیادہ تر دوسری خلافت کے شروع میں پیش کیاگیا اور اس پر بہت کچھ زور دیاگیا مگر باوجود اس کے گزشتہ پچیس سال میں اللہ تعالیٰ نے خلافت کی عظمت قائم کی اور اس کے دامن سے جولوگ وابستہ تھے انہیں ہر میدان میں فتح دی اور ان کا قدم ترقی کی طرف بڑھتا چلاگیا یہاں تک کہ پچیس سال میں جماعت کہیں کی کہیں پہنچ گئی ۔
    ہماری جماعت کی ترقی اور اِس کی رفتا ر کی تیزی اس امر سے ہی سمجھی جاسکتی ہے کہ آج ہم ایک معمولی جمعہ کیلئے یہاں جمع ہوئے ہیں جس میں کوئی خاص خصوصیت نہیں صرف قادیان اور چند اِرد گرد کے دیہات کے لوگ شامل ہیں مگر باوجود اس کے اس مسجد میں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کی مسجد سے چار گنے سے بھی زیادہ ہو چکی ہے تمام لوگ بھرے ہوئے ہیں اور ابھی مستورات کیلئے علیحدہ انتظام ہے وہ حصہ اِس سے قریباًتہائی ہوگا اور وہ بھی تمام کا تمام بھرا ہوا ہوتا ہے حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے آخری سال جو جلسہ سالانہ ہوا اس میں جو احمدی شامل ہوے وہ اس مسجد کے چوتھے حصہ میں سماگئے تھے۔ ہمارے دادا کی جو قبر ہے یہ انتہائی اور آخری حد تھی اور میرے بائیں طرف دو تین گز چھوڑ کر جو ستون ہے وہ اس کی ابتدائی حد تھی میرے دائیں طرف مسجد کا کل حصہ اسی طرح بائیں طرف کا برآمدہ اور قبر سے لے کر مشرق کی طرف کا سب حصہ یہ سب زائد ہیں اس نسبت سے جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ حلقہ اُس وقت کے اجتماع سے چار گنے سے بھی زیادہ ہوگا۔ یہ اُس وقت کے جلسہ کے لوگوںکی کل تعدا د تھی اور اِس تعداد کو اتنا اہم سمجھا گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس جلسہ میں متواتر فرمایا کہ ہم سمجھتے ہیں ہمارا کام دنیا میں ختم ہوچکا ہے مگر آج ہمارے ایک معمولی جمعہ میں اس سے چار گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ آدمی موجود ہیں۔ تو یہ دونوں باتیں چونکہ ہماری جماعت کیلئے خوشی کاموجب تھیں اس لئے انہوں نے اس سالانہ جلسہ کو دو خوشیوں کا موجب قرار دیا۔ ایک خوشی تو یہ کہ پیغامِ نبوت پچاس سالہ کامیابی کے ساتھ باوجود دشمنوں کی مخالفت کے ایسی شان و شوکت پید اکر چکا ہے کہ دنیا اس کی اہمیت تسلیم کرنے پر مجبور ہے دوسری خوشی یہ کہ پیغامِ خلافت پچیس سالہ مخالفت بلکہ شروع خلافت کے وقت کے جماعت کے عمائدین کی مخالفت کے باوجود ترقی کر تا چلا گیا یہاں تک کہ آج خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ دنیا کے تما م حصوں کو منظم کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے۔ دنیامیں جب کسی شخص کو کوئی خوشی پہنچتی ہے یا جب کوئی شخص ایسی بات دیکھتاہے جو اس کیلئے راحت کا موجب ہوتی ہے تو اگر وہ اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتا ہے تو وہ ایسے موقع پر یہی کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا بڑا شکر ہے کہ ہم کو یہ بات حاصل ہوئی اور جب کسی مسلمان کو ایسی خوشی پہنچتی ہے تو وہ اِس مفہوم کو عربی زبان میں ادا کرتا اور کہتا ہے ۔تو اس جلسہ پر ہماری جماعت نے جو خوشی منائی اس کا اگر خلاصہ بیان کیا جائے تو وہ یہی بنے گا کہ پیغام نبوت اور پیغام خلافت کی کامیابی پر ہماری جماعت نے اس سال کہامگر باقی دنیا اور اسلام کی تعلیم میں ایک فرق ہے۔ باقی دنیا کو اپنی آخری آواز سمجھتی ہے مگر اسلام کو نہ صرف آخری آواز قرار دیتا ہے بلکہ اس کو ایک نئی آواز بھی قرار دیتا ہے اسلامی تعلیم کے مطابق کائنات کے آدم اوّل کی بھی آواز تھی جیسا کہ وہ کائنات کے آدم آخر کی آواز ہے اور اس طرح اسلامکے ساتھ اگر ایک سلسلہ او رایک کڑی کو ختم کر تا ہے تو ساتھ ہی دوسرے سلسلہ اور دوسری کڑی کو شروع کر دیتا ہے۔ چنانچہ سورۃ فاتحہ میںہم کو یہی بتایا گیا ہے ۔ وہ سے شروع ہوتی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ کامیابی اور خوشی دیکھ کر ایک مسلم کہتا ہے مگرسورۃ فاتحہ کی آخری آیت نہیں بلکہ سورۃ فاتحہ کی پہلی آیت اور جب ہم اسے پڑھتے چلے جاتے ہیں تو اس کے درمیان ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ ۱؎ یعنی اے ہمارے ربّ! الحمد کے نتیجہ میں ایک اور پروگرام ہمارے سامنے آگیا ہے اور ایک نئے کام کی بنیا د ہم نے ڈال دی ہے ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم پورے طورپر اس کام کو چلانے کی کوشش کریں گے اور ہم تجھ سے چاہتے ہیں کہ تو اس راہ میں ضروری سامان ہمیں مہیا کر اور ہماری نصرت اور تائید فرما۔ پس کو پہلے رکھ کر او ر کو بعد میں رکھ کر اسلام نے یہ بتا یا ہے کہ کوئی حمد اسوقت تک حقیقی حمد نہیں کہلا سکتی جب تک اس کے ساتھ ایک نئے کام کی بنیاد نہ ڈالی جائے ہر حمد جو حمد پر ختم ہوجاتی ہے وہ درحقیقت حمدنہیں بلکہ ناشکری ہے لفظ چاہے حمد کے ہوں مگر حقیقت اس میں ناشکری کی پائی جاتی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس کی ایک مثال پائی جاتی ہے آ پؐ رات کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتے اور بعض دفعہ اتنی لمبی دیر نماز میںکھڑے رہتے کہ آپؐ کے پائوں سوج جاتے ۲؎جب آپ بوڑھے اور کمزور ہوگئے اور آپ میں اتنی طاقت نہ رہی کہ آپ ا س مجاہدہ کو آسانی سے برداشت کر سکیں تو ایک دفعہ آپ کی بیوی نے کہاکہ آپ اتنی تکلیف کیوں اُٹھاتے ہیں؟ کیا آپؐ کی نسبت خد ا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں نے تیرے اگلے پچھلے ذنوب معاف فرمادیئے ہیں اور کیا آ پ کے ساتھ اس کی بخشش کے وعدے نہیں؟ جب ہیں تو آپ اس قدر تکلیف کیوں اُٹھاتے ہیں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ اے عائشہ (حضرت عائشہ کی طرف سے ہی یہ سوا ل تھا) اَفَلَا اَکُوْن عَبْدًا شکُوْرًا ۳؎ کیا میں خداتعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ ہون جب خد انے مجھ پر اتنا بڑا احسان کیا ہے اور اس کا یہ احسان تقاضا کر تاہے کہ میں آگے سے بھی زیادہ اس کی عباد ت کروں اور آگے سے بھی زیادہ خداتعالیٰ کے دین کی خدمت میںلگ جائوں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں یہی بتا یا ہے کہ انعام کے نتیجہ میں مومن کا آخری قول نہیں ہوتا بلکہ وہ آخری قول بھی ہوتا ہے اور نئے کام کی بنیاد بھی ہوتا ہے۔ بہت لوگ جو اس حقیقت سے ناواقف ہوتے ہیں ان پر جب کوئی احسان ہوتا ہے تو وہ سمجھ لیتے ہیں کہ انہوں نے بڑا کا م کر لیا اور یہ کہ اب ان کا کام ختم ہوگیا مگر اسلام ایسا نہیں کہتا، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہیں کہتے بلکہ اسلام اور محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کاکوئی احسان ہوتا ہے تو اس کے بعد بندوں پر نئی ذمہ داریاں رکھی جاتی ہیں اگر وہ ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے کیلئے تیا ر ہوں تب وہ مستحق ہوتے ہیں کہنے کے او رتبھی ان کی سچی کہلاسکتی ہے۔ لیکن اگر ہم کام ختم کر دیتے ہیں یا اس کی قدر نہیں کرتے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ہماری حمد جھوٹی تھی کیونکہ ہم فرض کر لیتے ہیں کہ وہ کام جس پر ہم نے کہا ایسا اچھا نہ تھا اگر اچھا ہوتا تو اسے جاری رکھتے بلکہ اسے بڑھانے اور ترقی دینے کی کوشش کرتے پس یہ جو خوشی کا جلسہ ہوا اِس نے درحقیقت ہماری ذمہ داریوں کو بہت بڑھا دیا ہے ممکن ہے اگر یہ جلسہ نہ ہوتا تو لوگ کہہ دیتے کہ ہم نہیں سمجھتے تھے اللہ تعالیٰ کا ہم پر اتنا بڑااحسان ہے مگر اب کوئی نہیں کہہ سکتا کہ مجھے معلوم نہیں اللہ تعالیٰ کا ہم پر کتنا بڑا احسا ن ہے۔ اب ہر شخص نے اس امر کا اقرار کر لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر بہت بڑا احسا ن کیا اور جب خد انے احسان کیا ہے تو اس کو اب بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے یا ختم کرنیکی۔ پس میرے نزدیک اس جلسہ نے ہماری جماعت پر ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد کردی ہے۔ یوں تو ہر روز خداتعالیٰ کی جماعت کو خوشیاں پہنچتی ہی رہتی ہیں مگر ہرروز جشن نہیں منائے جاتے ایک خاص جلسے کے منانے کے معنی ہی یہ ہیں کہ وہ ایک منزل پر پہنچ گئے ہیں اور انہوںنے اپنے کام میں ایک درجہ کو حاصل کر لیا ہے۔ پس ا س کے بعد ایک نئی ولادت کی ضرورت ہے گویا پہلا سلسلہ ختم ہوا اور اب ایک نیا سلسلہ شروع ہوگا جیسے ایک دانہ بویا جاتا ہے توا س سے مثلاً ۷۰ یا ۱۰۰ دانے نکل آتے ہیں اب ۷۰ اور ۱۰۰ دانوں کا نکل آنا اپنی ذات میں ایک بڑی کامیابی ہے مگر وہ پہلے بیج کا ایک تسلسل ہوتا ہے اور زمیندا راسے کوئی نیا کام نہیں سمجھتا بلکہ وہ سمجھتا ہے میرے پہلے کام کا ہی سلسلہ جاری ہے لیکن جب زمیندار ان نئے دانوں کو پھر زمین میں ڈال دیتا ہے تو اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ اب میرے کام کا نیا دَور شروع ہوا ۔کام تو وہی ہے مگر اب کام کے دورمیں فرق کرنے لگ جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میر اپہلا کام ختم ہوا اور اب ایک نیا کام شروع ہے ۔اسی طرح جب ہماری جماعت نے اس جلسہ کو خوشی کا جلسہ قرار دیا توبالفاظِ دیگر انہوں نے یہ اعلان کیا کہ ہمارا پہلا بیج جو بویا ہوا تھا اُس کی فصل پک گئی اب ہم نیا بیج بو رہے ہیں اور نئی فصل تیار کرنے میںمصروف ہور ہے ہیں۔ یہ اقرار بظاہر معمولی نظر آتاہے لیکن اگر جماعت کی حالت کو دیکھا جائے تو اِس اقرار کی اہمیت بہت بڑھ جاتی اور اِس پر ایسی ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے کہ اگر اِس کے افراد رات دن کوشش نہ کریں تو اِس ذمہ داری سے کبھی عہدہ برآ نہیں ہوسکتے۔
    اِس پچا س سالہ دور کے متعلق ہم نے جو خوشی منائی ہمیں غور کر نا چاہیے کہ اس دور کی پہلی فصل کس طرح شرو ع ہوئی تھی جب ہم اس نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ اس پہلی فصل کا بیج صرف ایک انسان تھا رات کو دنیا سوئی ۔ساری دنیا اس بات سے ناواقف تھی کہ خدا اس کے لئے کل کیا کرنے والا ہے۔ کوئی نہیںجانتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کل کیا ظاہر کرنے والی ہے۔ یہ آج سے پچاس سال پہلے کی بات ہے ایک فرد بھی دنیاکا نہیں تھا جس کومعلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ دنیامیں ایک انقلاب پیدا کرنا چاہتا ہے۔ یک دم بغیر اس کے کہ پہلے کوئی انتباہ ہو بغیر اس کے کہ پہلے کوئی اِنذار ہو، بغیر اس کے کہ پہلے کوئی اعلان ہو ایک شخص جس کو خو د بھی یہ معلوم نہ تھا کہ کیا ہونے والا ہے خدا نے اُس کو جگایا اور کہا کہ ہم دنیا میں ایک نئی زمین اور نیا آسمان بنانا چاہتے ہیں اور تم کو اِس زمین اور آسمان کے بنانے کیلئے معمار مقرر کرتے ہیں۔ اُس کیلئے یہ کتنی حیرت کی بات ہوگی اس وسیع دنیا میں بڑی بڑی حکومتیں قائم تھیں بڑے بڑے نظام قائم تھے پھر ا س وسیع دنیا میں باوجود مسلمانوں کے سابقہ شوکت کھو چکنے کے آج سے پچاس سال پہلے ان کی حکومتیںموجود تھیں۔ ٹرکی ابھی ایک بڑی طاقت سمجھی جاتی تھی، مصرا بھی آزاد تھا، ایران اورافغانستان آزاد تھے اور یہ اسلامی حکومتیں اسلام کی ترقی اور اس کی تہذیب کا گہوارہ کہلاتی تھیں مگر یہاں وہ آواز پیدا نہیں ہوئی۔ خدا نے ترکوں کے بادشاہ سے یہ بات نہیں کہی خدانے مصر کے بادشاہ سے یہ بات نہیں کہی، خدانے ایران کے بادشاہ سے یہ بات نہیں کہی، خدانے افغانستان کے بادشاہ سے یہ بات نہیں کہی، خدا نے ترکی او رمصروغیرہ کے جو شیخ الاسلام کہلاتے یا علماء کے رئیس کہلاتے تھے اُن سے یہ نہیں کہا بلکہ ہندوستان کے ایک شخص سے خدا نے یہ بات کہی اور ہندوستان میں سے بھی اللہ تعالیٰ نے کلکتہ یا بمبئی کے کسی بڑے رئیس یا عالم سے یہ بات نہیں کہی، لاہور یا امرتسر کے کسی بڑے رئیس یا عالم سے یہ بات نہیں کہی، کسی ظاہری مرکز یا علمی اور سیاسی مرکز میں رہنے والے سے یہ بات نہیں کہی بلکہ خدا نے ریل سے دور، تمدن سے دور، تعلیمی مرکزوں سے دور قادیان میں ایک ایسی بستی میںجو کور کہلانے کی مستحق تھی اور جس کے رہنے والے بالکل جاہل اور تہذیب و تمدن سے کوسوں دور تھے ایک ایسے شخص سے جو نہ عالم سمجھا جاتا تھا، نہ فاضل سمجھا جاتا تھا، نہ مال دار تھا اس کے گھر میں اور اس کے کان میں یہ بات کہی۔ ہم کسی صورت میں بھی اندازہ نہیںکرسکتے اُس کیفیت کا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں اُس وقت پیدا ہوئی ہوگی جس لڑائی کی آ پ کو خبر دی گئی تھی وہ یقینا اس جنگ سے بہت اہم تھی اور ہے جو آجکل جرمنی اور برطانیہ و فرانس میں جاری ہے۔ تم میں سے آج اگر کسی بچہ کو خواب میں یہ کہا جائے کہ تمہار افرض ہے کہ جائو اور جرمنی کو فتح کرو تو وہ نہایت حیران ہوکر صبح اپنے دوستوں اور ملنے والوں سے کہے گاکہ آج میں نے ایک عجیب خواب دیکھا ہے اور جب وہ بیان کرے گا تو لوگ ہنستے ہوئے کہیں گے کہ معلوم ہوتا ہے رات تم زیادہ کھاگئے ہوگے جس کی وجہ سے تمہیں بدہضمی ہوگئی اور ایسا خواب آگیا۔ وہ خواب کی طرف کبھی توجہ نہیں کرے گا ہاں کبھی کھبی ہنس کراپنے دوستوں سے کہہ دے گا کہ میں نے ایک دفعہ ایک عجیب بے ہودہ سا خواب دیکھا تھا مگر اِسی قسم کی کیفیت میں قادیان میں ایک شخص کو الہام ہوتا ہے اور اسے جس جنگ کی خبر دی جاتی ہے وہ اس جنگ سے بہت زیادہ اہم ہے۔ پس اُس کے قلب کی جو کیفیت ہوئی ہوگی اس کا اندازہ نہیں کرسکتے۔ اگر تووہ اس الہام کو اس رنگ میں لے لیتا جیسے میں نے بچہ کی مثال دی ہے اوروہ سمجھتا ہے کہ مجھے بدہضمی ہوگئی ہے یا میں نے زیادہ کھالیا تھا جس کے نتیجہ میں اِس قسم کا خواب آیا یا بخار کی کیفیت تھی یا نزلہ اس کا باعث تھا تب بھی سمجھ آسکتا ہے کہ اس نے اس عظیم الشان خبر کو سن کر اسے برداشت کر لیا ہوگا تبھی تو اس نے توجیہہ کر لی کہ یہ محض وہم ہے دماغی خیا ل یا کسی بیماری کا نتیجہ ہے مگر اس نے یہ نہیں سمجھا کہ یہ الہام کسی دماغی خرابی کا نتیجہ ہے، اس نے یہ نہیں سمجھا کہ یہ کسی بیماری کا نتیجہ ہے ، اس نے یہ نہیں سمجھا کہ یہ کسی بدہضمی کانتیجہ ہے، اُس نے اسے خدا ہی کی آواز قرار دیا۔جیسا کہ وہ فی الحقیقت خدا کی طرف سے تھی اور اس نے یہ نہیں کہا کہ یہ اتفاقی آواز ہے جومیرے کان میں پڑگئی ہے بلکہ وہ فوراًاس آواز کا جواب دینے کیلئے تیار ہوگیا اور اُس نے کہا اے میرے ربّ! میں تیری طرف سے لڑائی کے لئے حاضر ہوں۔ اگر وہ اس آوا ز کے جواب میں اپنے نفس کو یہ کہہ کر تسلی دے لیتا کہ یہ میرا وہم ہے یا کسی اندرونی نقص اور بیماری کا نتیجہ ہے تو بے شک اس کے دل کو صبر آسکتا تھا اور ہم کہہ سکتے تھے کہ اس کی طبیعت میں اضطراب تو پیدا ہوا ہوگا مگر حددرجہ کانہیں۔مگر ا س نے جس رنگ میں اس کلام کو لیا اور اس کی اہمیت کو سمجھا وہ بتلاتا ہے کہ اس نے اسے کھیل نہیں سمجھا اس نے اسے بیماری نہیں سمجھا، اس نے اسے بدہضمی نہیں سمجھا، اس نے اسے دماغی خرابی نہیں سمجھا بلکہ اُس نے نہایت یقین اور وثوق کے ساتھ یہ سمجھا کہ خدا نے واقعہ میں یہ کام میرے سپرد کیا ہے۔ پس وہ تاریک گھڑیاں اور اس کی بقیہ رات اس پر کیسی گزری ہوگی اِس کا اندازہ ہم نہیں لگا سکتے۔ابھی تمہیں وہ مقام حاصل نہیں کہ تم بڑے لوگوں کی مجلسوں میں جاسکو۔ تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جسے یہ موقع مل سکتا ہو کہ وہ فرانس کے کمانڈر انچیف کے پاس رات گزارے تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جسے یہ موقع مل سکتا ہو کہ وہ جرمن کے کمانڈر انچیف کے پاس رات گزارے تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جسے یہ موقع مل سکتا ہو کہ وہ انگلستان کے کمانڈر انچیف کے پاس رات گزارے۔ مگر باوجود اس کے کہ وہ بہت چھوٹی سی جنگ کیلئے کھڑے ہوئے ہیں باوجود اس کے کہ ان کے پا س سامان موجود ہیں، باوجود اس کے کہ ان کے پاس فوجیں موجود ہیں، باوجود اس کے کہ ان کا تمام ملک ان کی مد د کیلئے کھڑا ہے پھر بھی ان کی راتیں اور دن جس کرب سے گزرتے ہیں اور جس بھاگ دوڑ سے وہ کام لے رہے ہیں اس کا اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں جن کو کبھی تھوڑی دیر کیلئے ان کے پاس جانے اور رہنے کا موقع ملا ہو مگر یہ شخص جس پر رات آئی اس کے پاس وہ سامان نہ تھے جو آج انگلستان کے کمانڈر انچیف کو حاصل ہیں اس کے پاس وہ سامان نہ تھے جو آج فرانس کے کمانڈر انچیف کو حاصل ہیں ،اس کے پاس وہ سامان نہ تھے جو آج جرمنی کے کمانڈر انچیف کو حاصل ہیں۔ پھر ان لوگوں کے پاس صرف سامان ہی نہیں بلکہ ملک کی متحدہ طاقت ان کے ساتھ ہے۔ انگلستان کا کمانڈر انچیف جانتا ہے کہ اگر میرے پاس گولہ بارود ختم ہوگیا تو بھی پرواہ نہیں انگلستان کی تما م طاقت میرے ساتھ ہے او راس کا بچہ بچہ میرے حکم پر کٹ مرنے کے لئے تیار ہے فرانس کا کمانڈرا نچیف صرف ان سامان کو نہیں دیکھتا جواسکے پاس ہیں بلکہ وہ جانتا ہے کہ ملک کی تما م آبادی میرے حکم پر لبیک کہنے کیلئے تیار ہے اور جب میں کہوں گا کہ گولہ بارود لائو تو وہ گولہ بارود اکٹھا کر دیں گے جب کہوں گا کہ جانی قربانی کرو تو وہ بھیڑ بکریوں کی طرح اپنے سر کٹانے کیلئے آگے آجائیں گے اور اگر اور سامانوں کا مطالبہ کروں گا توہ وہ حاضر کر دیں گے۔ پھر ان کے سامنے اپنی کامیابیوں کی ایک تاریخ موجو ہے لمبی اور مسلسل تاریخ۔ فرانس کے کمانڈر انچیف کے سامنے فرانس کی کامیابیوںکی ایک لمبی تاریخ ہے اور انگلستان کے کمانڈرانچیف کے سامنے انگلستان کی کامیابیوں کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ کس طرح بری اور بحری جنگوں میں کودے اور ہر میدان میں وہ فاتح اور کامیاب رہے یہ ساری چیزیں ان کے سامنے موجود ہیں مگر باوجود اِس کے وہ گھبراتے ہیں کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ اس جنگ کا کیا نتیجہ ہوگا حالانکہ یہ جنگ صرف تلوار کی جنگ ہے دلوں کو فتح کرنے کی جنگ نہیں جو تلوار کی جنگ سے بہت زیادہ اہم اور بہت زیادہ کٹھن ہوتی ہے۔ اس سے تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ وہ آواز جو اس کے کان میں پڑی اُس نے اُس کے دل میں کیا تغیر پیدا کیا ہوگا مگر اُس نے اس آواز کو ہنسی میں نہیں ڈالااس نے اسے پاگلانہ خیال نہیںسمجھا، اس نے اسے بیماری کا نتیجہ قرار نہیں دیا بلکہ اس نے اسے خدا ہی کی آواز قرار دیا اور کہا اے خدا! میں حاضر ہوں۔ اس جواب کے بعد اس نے اپنی باقی رات کسطرح گزاری ہوگی اس کا انداز ہ دنیا کا کوئی شخص نہیں لگا سکتا ۔ ایک بلبلہ جس طرح سمندر کی سطح پر نمودار ہوتا ہے بالکل اسی طرح وہ دنیاکے سامنے ظاہر ہوا بلکہ بلبلہ اور سمندر کی جو کیفیت ہوتی ہے وہ بھی اس کے مقابلہ میں ہیچ ہے ایک چھوٹا سا بیج تھا جو بہت بڑے جنگل میں ڈال دیا گیا جہاں خشکی ہی خشکی تھی اور پانی کا ایک قطرہ نہ تھا جہاں ریت ہی ریت تھی اور مٹی کا ایک ذرہ نہ تھا بلکہ وہ بیج جو بیابان میں ڈال دیا جائے ایسے ریگستان میں ڈال دیا جائے جہاں پانی نہیں اور جہاں مٹی کا ایک ذرّہ نہیں اس کیلئے بھی بڑھنے کا کچھ نہ کچھ موقع ہوسکتا ہے اُس بلبلے کو بھی کچھ دیر زندہ رہنے کا موقع مل جاتا ہے جسے سمندرکی ہوائیں اِدھر اُدھر لے جاتی ہیں مگر اِس کے لئے تو اتنی بھی امید نہ تھی جتنی بلبلے کے متعلق سمندر کی لہروں میں اُمید کی جاتی ہے اور اِس کیلئے اتنی بھی امید نہ تھی جتنی اس بیج کے متعلق امید کی جاسکتی ہے جو ایک وسیع ریگستان میں ڈال دیا جائے۔ پھر کوئی شخص نہ تھاجس سے وہ مشورہ کر سکتا اور وہ مشورہ کر تا تو کس سے کرتا۔ یہ انسانی آواز نہ تھی کہ اس کے متعلق کسی انسان سے مشورہ لیاجاتا اگر انسانی آواز ہوتی تو کسی دوسرے سے مشور ہ لیا جاسکتا تھا اورکہا جاسکتا تھا کہ ایک انسان نے مجھے یہ بات کہی ہے تمہارے بھی جذبات چونکہ ایسے ہی ہیں جیسے اس کے اسلئے مجھے مشورہ دو کہ میں کیاکروں اورکس طرح دنیا کا مقابلہ کروں مگر یہ آواز خدا کی آواز تھی اِس لئے وہ کسی بندے سے مشورہ نہیںکر سکتا تھا اور نہ کوئی بندہ ایسا تھا جو اُسے مشورہ دے سکتا۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی جب پہلی دفعہ یہ آواز آئی تو اُس وقت آپ کی جو قلبی کیفیت ہوئی اُس کا پتہ حدیثوں سے لگتا ہے احادیث میں آتا ہے کہ اس آواز کے بعد آپ گھر تشریف لائے آپ بہت گھبرائے ہوئے تھے جسم کانپ رہا تھا کندھوں کا گوشت شدت ہیبت سے ہل رہا تھااور رنگ اُڑا ہوا تھا آپ کی وفادار بیوی حضرت خدیجہ ؓ نے جب آپ کو اس حال میں دیکھا تو انہوں نے گھبر اکر کہا کہ میں آپ کو کس حال میں دیکھتی ہوں آپ کو یہ کیاہوگیا ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خدیجہ مجھے نہیں معلوم کہ مجھے کیا ہوگیا مجھے یہ آواز آئی ہے کہ ۴؎۔ آسمان کے خدا نے مجھے بلایا ہے تاکہ میں ا س کے نام کو لوں اور اسے دنیا میں پھیلائوں میں حیران ہوں کہ میںاس کام کو کس طرح کروں گا خدائی آواز چونکہ اپنے ساتھ یقین کے انوار رکھتی ہے اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ نہیں فرمایا کہ مجھے بیماری ہوگئی ہے، آپ نے بھی یہ نہیں فرمایا کہ یہ کوئی دماغی عارضہ ہے یا بدہضمی کا نتیجہ ہے بلکہ آپ نے فرمایا کہ یہ ہے تو آسمان کی آواز مگر جو کام میرے سپر د کیا گیا ہے میں حیران ہوں کہ اسے کس طرح کروں گا۔ حضرت خدیجہ آخر آپ کی صحبت میں ہی رہنے والی تھیں انہوں نے جب یہ بات سنی تو انہوںنے اس کابہت ہی لطیف جواب دیا وہ ہے تو عورتوںوالا جواب مگر بہت ہی ایمان افزاء ہے۔ عورتیں عموماً سامانوں کو نہیں دیکھتیں بلکہ ان کا ایمان ایمان العجائز ہوتا ہے وہ یہ نہیں دیکھتیں کہ سامان بھی میسر ہیں یا نہیں بلکہ وہ کہتی ہیں کہ کام ہوجائے گا کس طرح ہوگا؟ اس کا انہیں کوئی علم نہیں ہوتا۔ خدیجہؓ کاجواب بھی ویسا جواب ہے انہوں نے فرمایا کَلَّا وَاللّٰہِ لَایُخْزِیْکَ اللّٰہُ اَبَداً ۵؎ آپ کیوں گھبراتے ہیں مجھے خدا کی قسم ہے کہ خدا آپ کو کبھی رُسوا نہیں کرے گاجب اس نے آپ کے سپرد ایک کام کیا ہے تو وہ خود آپ کی مدد کرے گا اور آپ کی کامیابی کیلئے سامان مہیا کرے گا۔ حضرت خدیجہ ؓ نے کا یہ فقرہ تاریخ میں محفو ظ ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ فقرہ یہی نہیں کہ تاریخ میں محفوظ ہے بلکہ ان فقروں میں سے ہے جن کو تاریخ بھی مٹا نہیں سکتی۔ کَلَّا وَاللّٰہِ لَایُخْزِیْکَ اللّٰہُ اَبَداً وہی ایمان العجائز ہے، وہی یقین اور وہی وثوق ہے بغیر اس کے کہ وہ عواقب کو دیکھتیں، بغیر اس کے کہ وہ سامانوں پر نظر دَوڑاتیںپس ا س واقعہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قلبی کیفیت کا کسی قدر اندازہ ہوجاتاہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی الہامات نازل ہوئے کہ اُٹھو اور دنیا کو میری طرف بلائو اور دنیا میں پھر میرے دین کو قائم کروہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہی کیفیت آپ کی بھی ہوئی ہوگی۔ آ پ بھی حیران ہوئے ہوں گے کہ کہاں میں اور کہاں یہ کام۔ قادیان جیسی جگہ میں میرے جیسے انسان کو آج خدا یہ کہہ رہا ہے کہ دنیا، مہذب دنیا طاقتور دنیا، سامانوں والی دنیا سمجھ سے دو ر پڑی ہوئی ہے اتنی دو رکہ دنیا اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتی۔ جائو اور ان گناہ کے قلعوں کو پاش پاش کردو جو اسلام کے مقابلہ میں بنائے گئے ہیں او ر جائو اور ان شیطانی حکومتوں کو مٹا دو جو میری حکومت کے مقابلہ میں قائم کی گئی ہیں اور ان تمام بے دینی کے قلعوں اور شیطانی حکومتوں کی جگہ میری حکومت اور دین کی بادشاہت قائم کرو۔اگر کوئی شخص دُور بین نگاہ رکھتا ہے، اگر کوئی شخص حقیقت کو سمجھ سکتا ہے تو میںکہوں گا کہ یہ مطالبہ اس سے بھی زیاد ہ مشکل تھا جیسے کسی کو چاند دکھایاجائے اور کہا جائے کہ جائو اور اِس چاند کو جاکر توڑ ڈالو۔ وہ تو وہاں جا بھی نہیں سکتا پھر اس سے یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس کو توڑ ڈالے۔ اِسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تو وہاں پہنچ بھی نہ تھی جہاں خدا آپ کو پہنچانا چاہتا تھا۔ بھلا کونسے ذرائع آپ کے پاس ایسے موجود تھے کہ آپ امرتسر کے لوگوں تک ہی اپنی آواز پہنچا سکتے یا لاہور ،بمبئی ،اور کلکتہ کے لوگوں تک یہ الٰہی پیغام پہنچا سکتے یا کون سے ذرائع آپ کے پاس ایسے موجود تھے کہ آپ عرب کے لوگوں کو بیدار کر سکتے۔ آپ انگلستان اور امریکہ تک اپنی آواز پہنچا سکتے۔ ہزاروں آوازیں دنیا میں گونج رہی تھیں، ہزاروں قومیں دنیامیں موجود تھیں، بیسیوں حکومتیں دنیا میں پائی جاتی تھیںجن کی نگاہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اتنی بھی تو عزت نہ تھی جتنی دنیاوی حکومت کے سیکرٹریٹ کے چپڑاسی کی ہوتی ہے مگر خدا نے کہااُٹھ اور دنیا کو میرا پیغام پہنچا دے اور اُس نے کہا اے میرے ربّ! میں حاضر ہوں۔ اس نے یہ بھی نہیں سوچا کہ یہ کام کیونکر ہوگا اس کا جسم کانپاہوگا۔ یقینا اس کے دل پر رعشہ طاری ہوا ہوگا۔ یقینا وہ حیرا ن ہوا ہوگا۔ مگرا س نے یہ نہیں پوچھا کہ یہ کام کیونکر اور کس طرح ہوگا اس کے دل کے تقویٰ اور محبت الٰہی نے اسے سوچنے کا موقع ہی نہیں دیااور اس کے جذبۂ فدائیت نے یہ پوچھنے ہی نہیں دیا کہ اے میرے رب! یہ کس طرح ہوگا؟ اُس نے پہلے کہا ہاں اے میرے ربّ! میں حاضر ہوں اور پھر اس نے سوچا کہ میرے پاس تو کچھ نہیں یہ کا م کس طرح ہوگا؟یہی وہ حقیقی اطاعت کا جوش ہے جو لبیک پہلے کہلوا دیتا ہے اورفکر پیچھے پیدا ہوتا ہے ۔
    صحابہ ؓ کی مجلس کا ہی ایک واقعہ ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ جہاں سچی محبت ہوتی ہے وہاں تعمیل پہلے ہوتی ہے اور فکر بعد میں پیدا ہوتا ہے ۔
    اہل عرب شراب کے سخت عادی تھے ایسے عادی کہ بہت کم لوگ ان کی طرح شراب کے عادی ہوتے ہیں ان کا تمام لٹریچر ،شعر،نثراور خطبے شراب کے ذکر سے بھرے ہوئے ہوتے تھے مسلمان بھی چونکہ انہی میں سے آئے تھے اس لئے ان میں بھی وہی عادتیں تھیں اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے ماتحت شروع میں شراب حرام نہیں کی۔ مکہ کا سارا زمانہ گزر گیا اور شراب حلال رہی۔ مدینہ میں بھی چند سال اسی طرح گزر گئے اور شراب کی حرمت نہ ہوئی یہاں تک کہ ایک دن اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ اب شراب حرام کی جاتی ہے آپؐ مسجد میں آئے اور جو لوگ اُس وقت موجود تھے ان سے کہا کہ اب خدا نے شراب حرام کر دی ہے اور ایک شخص سے کہاکہ جائو مدینہ کی گلیوں میں شراب کی حرمت کا اعلان کر دو۔ اُس وقت مدینہ میں ایک خوشی کی مجلس منعقد ہو رہی تھی اور حسب دستور اس مجلس میں شراب کے مٹکے رکھے ہوئے تھے لوگ باتیں کرتے، گاتے بجاتے اور شرابیں پیتے جاتے تھے ایک بہت بڑا مٹکا وہ ختم کر چکے تھے اور دو مٹکے شراب کے ابھی باقی تھے۔تم سمجھ سکتے ہو کہ جہاں شراب کا ایک مٹکا ختم ہوچکا ہو وہاں دماغوں کی کیا کیفیت ہوگی۔ اُس وقت وہ لوگ نشہ میں آئے ہوئے تھے اور اُن کے ہوش و حواس بہت کچھ زائل ہو چکے تھے کہ بازارمیں سے اس شخص کی یہ آواز آئی کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب حرام کر دی ہے۔ انہیں شراب سے مد ہوش لوگوں میں سے ایک شخص گھبرا کر اُٹھا اور کہنے لگا میرے کان میں ایک آواز آئی ہے جو یہ کہہ رہی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب حرام کردی ہے میں باہر نکل کر دیکھوں تو سہی یہ آواز کیسی ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر اتنے پر ہی بس ہوجاتی تو یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُس محبت کا جو صحابہ ؓ کے دلوںمیں تھی۔معجزانہ نمونہ ہوتا۔ شراب کے نشہ میںبھلا کون دیکھتا ہے کہ کیسی آواز آرہی ہے۔ عام حالات میں تو وہ ہنستے اور کہتے کہ شراب کو کون حرام کر سکتا ہے۔پس اگر بات یہیں تک رہتی تب بھی یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا ایک معجزنما ثبوت ہوتی مگر اِسی پر بس نہیں جب اُس نے یہ کہا کہ میںدیکھوں تو سہی یہ آواز کیسی آرہی ہے تو ایک اور آدمی جو شراب کے نشہ میںمست بیٹھا ہوا تھا اور شراب پی پی کر اُس کے دماغ میں نشہ غالب آرہا تھا یک دم اس حالت سے بیدار ہوا اور بولا کہ کیا کہا تم نے ؟ہمارے کان میں آوز پڑتی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب حرام کر دی اور تم کہتے ہو تحقیق کرو۔ اِس کی بات کہاں تک سچ ہے خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا میں پہلے شرا ب کا مٹکہ توڑ وں گا بعد میں پوچھوں گا یہ کہہ کر اُس نے سونٹا پکڑ کر زور سے مٹکوں کو مار ا اور انہیں توڑ دیاا ور شراب صحن میں پانی کی طرح بہنے لگی۔ اس کے بعد اس نے دروازہ کھول کر اعلان کرنے والے سے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ اس نے بتایا کہ مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ اعلان کر دوں کہ شراب حرام کر دی گئی ہے اُس نے کہا ہم تو پہلے ہی شراب کے مٹکے توڑ چکے ہیں۔ خدا کی رحمتیں ہوں اُس شخص پر۔ اُس نے عشق کاایک ایسا نمونہ قائم کیا کہ قیس اور مجنوں کا عشق اگر اس میں کوئی حقیقت تھی بھی اس کے عشق کے مقابل پر مرجھا کر رہ جاتا ہے۔ اِس حقیقی محبت کے مظاہرہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جہاں محبت ہوتی ہے وہاں دلیلیں نہیں پوچھی جاتیں وہاں انسان پہلے اطاعت کا اعلان کرتاہے پھر یہ سوچتا ہے کہ میں اس حکم پر کسی طرح عمل کروں۔ یہی کیفیات انبیاء کی ہوتی ہیں جب اللہ تعالیٰ کا پہلا کلام اُترتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی محبت ان کے دلوں میں اتنی ہوتی ہے اتنی ہوتی ہے کہ وہ دلیل بازی نہیں کرتے اور جب خدا کی آواز ان کے کانوں میں پہنچتی ہے تو وہ یہ نہیں کہتے کہ اے ہمارے رب کیا تو ہم سے ہنسی کر رہا ہے کہاں ہم اور کہاں یہ کام بلکہ وہ کہتے ہیںاے ہمارے ر ب بہت اچھا اوریہ کہہ کر کام کیلئے کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد سوچتے ہیں کہ اب انہیں کیا کرنا چاہیے۔ یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس رات کیا۔ خدا نے کہا اُٹھ اور دنیاکی ہدایت کیلئے کھڑا ہواور وہ فوراًکھڑے ہوگئے اور پھر یہ سوچنے لگے کہ اب میں یہ کام کس طرح کروں گا۔
    پس آج سے پچاس سال پہلے کی وہ تاریخی رات جو دنیا کے آئندہ انقلابات کیلئے زبردست حربہ ثابت ہونے والی ہے جو آئندہ بننے والی نئی دنیا کیلئے ابتدائی رات اور ابتدائی دن قرار دی جانے والی ہے اگر ہم اس رات کا نظارہ سوچیں تو یقینا ہمارے دل اِس خوشی کو بالکل اور نگا ہ سے دیکھیں۔ ہم میں سے کتنے ہیںجو یہ سوچتے ہیں کہ یہ خوشی انہیںکس گھڑی کے نتیجہ میںملی۔ یہ مسرت انہیںکسی پل کے نتیجہ میں حاصل ہوئی اورکس رات کے بعد ان پر کامیابی و کامرانی کا دن چڑھا۔ یہ خوشی اور یہ مسرت اور یہ کامیابی و کامرانی کا دن اُن کواُس گھڑی اور اس رات کے نتیجہ میں ملا جس میں ایک تن تنہا بندہ جو دنیا کی نظروں میںحقیر اور تمام دنیوی سامانوں سے محروم تھا اُسے خدانے کہا کہ اُٹھ اور دنیا کی ہدایت کیلئے کھڑا ہو اور اس نے کہا اے میرے ربّ میں کھڑا ہوگیا یہ وہ وفاداری تھی یہ وہ محبت کا صحیح مظاہر ہ تھا جسے خدانے قبول کیا اور اس نے اپنے فضل اور رحم سے اُس کو نوازا۔
    رونا اور ہنسنا دونوں ہی اللہ تعالیٰ کی شان سے بعید ہیںلیکن محبت کی گفتگو میں اورمحبت کے کلاموں میں یہ باتیں آہی جاتی ہیں۔پس میں کہتا ہوں اگر خدا کیلئے بھی رونا ممکن ہوتا اگر خدا کیلئے بھی ہنسنا ممکن ہوتا تو جس وقت خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہا کہ میں تجھے دنیا کی اصلا ح کیلئے کھڑا کرتا ہوں اور آپ فوراًکھڑے ہوگئے اور آپ نے یہ سوچا تک نہیں کہ یہ کام مجھ سے ہوگا کیونکرـ؟اگر اُس وقت خدا کیلئے رونا ممکن ہوتا تو میں یقینا جانتا ہوں کہ خدا رو پڑتا اور اگر خدا کیلئے ہنسنا ممکن ہوتا تو وہ یقینا ہنس پڑتا۔ وہ ہنستا بظاہر اِس بے وقوفی کے دعویٰ پر جو تمام دنیا کے مقابلہ میںایک نحیف و ناتواں وجود نے کیا او روہ روپڑتا اِس جذبۂ محبت پر جو اس تن تنہا روح نے خداکیلئے ظاہر کیا یہی سچی دوستی تھی جو خدا کو منظو ر ہوئی اور اسی رنگ کی سچی دوستی ہی ہوتی ہے جو دنیا میں کام آیا کرتی ہے ۔
    میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہی یہ واقعہ سنا ہوا ہے کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو ہمیشہ یہ نصیحت کیا کرتا تھا کہ تم جلد ی لوگوں کو دوست بنالیتے ہو یہ کوئی اچھی بات نہیں۔سچے دوست کا ملنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے او روہ کہتا کہ آپ کو غلطی لگی ہوئی ہے میرے دوست سب سچے ہیں اور خواہ مجھ پر کیسی ہی مصیبت کا وقت آئے یہ میری مدد سے گریز نہیںکریں گے۔ اُس نے بہتیرا سمجھایا مگر بیٹے پرکوئی اثر نہ ہوا۔ باپ نے کہا کہ میںساٹھ ستر سال کی عمر کو پہنچ گیاہوں مگر مجھے تو اب تک صرف ایک ہی دوست ملا ہے اور وہ بھی فلاں غریب شخص، جسے اس کا بیٹا حقارت سے دیکھا کرتا تھا اوراپنے باپ سے کہا کرتا کہ آپ اتنے بڑے ہوکر اس سپاہی سے کیوں محبت رکھتے ہیں اور باپ ہمیشہ یہی کہتا کہ مجھے تمام عمر اگر کوئی سچا دوست ملا ہے تو یہی ہے۔ آخر ایک دن اس نے اپنے بیٹے سے کہا تم میری بات نہیں مانتے تو تجربہ کر لو اور اپنے دوستوں سے جاکر کہو کہ میرے باپ نے مجھے اپنے گھر سے نکال دیا ہے میرے پاس رہنے کی کوئی جگہ نہیں میرے لئے رہائش اور خوراک کاانتظام کردو ۔اُس نے کہا بہت اچھا چنانچہ وہ ایک ایک کے پاس گیا مگر جس دوست کے پاس بھی جاتا وہ پہلے تو کہتا کہ آپ نے بڑی عزت افزائی فرمائی سنائیے آپ کا کیسے آنا ہوا؟ او رجب یہ کہتا کہ میرے باپ نے مجھے نکال دیا ہے اب میں آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ میری رہائش وغیرہ کا انتظام کر دیں توہ یہ سنتے ہیں کوئی بہانہ بنا کر اندر چلا جاتا ۔ غرض اسی طرح اس نے سارے دوستوں کا چکر لگایا اور آخر باپ کے پاس آکر کہا کہ آپ کی بات ٹھیک نکلی۔میرے دوستوں میں سے ایک بھی تو نہیں جس نے مجھے منہ لگایا ہو باپ نے کہا اچھا تم نے اپنے دوستوں کا تو تجربہ کر لیا اب آج کی رات میرے دوست کا بھی تجربہ کر لینا ۔چونکہ وہ امیر آدمی تھا اِس لئے وہ اپنے دوست کے مکان پر نہیں جایا کرتا تھا اکثر وہی اس کے مکان پر آجاتا مگر اس رات وہ اچانک بیٹے کو ساتھ لیکر اپنے دوست کے مکان پر گیا اوردروازہ پر دستک دی۔آدھی رات کا وقت تھا اُس نے پوچھا کون؟ اُس نے اپنا نام بتایا کہ میں ہوں وہ کہنے لگا بہت اچھا ذرا ٹھہرئیے میں آتا ہوں یہ باہر انتظار کرنے لگ گئے مگر کافی وقت گزر گیا اور وہ اندر سے نہ نکلا یہ دیکھ کر بیٹا کہنے لگا جناب! آپ کا دوست بھی آخر ویسا ہی نکلا۔ باپ کہنے لگا ذرا ٹھہرو مایوس نہ ہو دیر لگانے کی کوئی وجہ ہوگی آخرکوئی آدھ گھنٹہ کے بعد وہ دوست باہر نکلا اس کی حالت یہ تھی کہ اس نے گلے میں تلوار لٹکائی ہوئی تھی ایک ہاتھ میں روپوں کی تھیلی تھی اور دوسرے ہاتھ سے اُس نے اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور کہنے لگا معاف کیجئے مجھے دیر ہوگئی اصل با ت یہ ہے کہ جب مجھے آپ کی آواز آئی تو میں نے سمجھا کہ ضرور کوئی بڑا کا م ہے جس کیلئے آپ رات کومیرے پاس آئے ہیں میں نے سوچا کہ آخر آپ کو مجھ سے اِس وقت کیا کام ہوسکتا ہے اور میرے دل میںخیال پیدا ہوا کہ دنیا میں مصیبتیں آتی رہتی ہیں اور بعض دفعہ بڑے بڑے امیر آدمی بھی بلاء میں گرفتار ہوجاتے ہیں پس میں نے سمجھا کہ شاید کوئی بیمار ہے جس کی خد مت کیلئے مجھے بلایا ہے اس لئے میں نے فوراًاپنی بیوی کو جگایا اور کہا کہ میرے ساتھ چل ممکن ہے کسی خدمت کی ضرورت ہو۔ پھر میںنے سوچا ممکن ہے کسی دشمن سے مقابلہ ہو جس میں میری جان کی ضرورت ہو سو اِس خیال کے آنے پر میںنے تلوار نکا ل کر گلے میں لٹکالی کہ اگر جانی قربانی کی ضرورت ہو تو میں اس کے لئے بھی حاضر ہوں۔ پھر میں نے سوچا کہ آ پ امیر توہیں ہی مگر بعض دفعہ امراء پر بھی ایسے اوقات آجاتے ہیں کہ وہ روپو ں کے محتاج ہوجاتے ہیں پس میں نے سوچا کہ شاید اِس وقت آپ کو روپوں کی ضرور ت ہو میں نے ساری عمر تھوڑا تھوڑا جمع کر کے کچھ روپیہ حفاظت سے رکھا ہوا تھا اور اسے زمین میں ایک طرف دبا دیا تھا۔اس خیال کے آنے پر میں نے زمیں کو کھود کر اس میں سے تھیلی نکالی اور اب یہ تینوں چیزیں حاضر ہیں فرمائیے آپ کا کیا ارشاد ہے؟
    دنیا کی زبان میں یہ دوستی کی نہایت ہی شاندار مثال ہے اور انسان ایسے جذبات کو دیکھ کر بغیر اس کے کہ وہ اپنے دل میں شدیدہیجان محسوس کرے نہیں رہ سکتا مگر اس دوستی کا اظہار اُس دوستی کے مقابلہ میں کچھ بھی تو نہیں جونبی اپنے خدا کیلئے ظاہر کرتے ہیں۔ وہاں قدم قدم پر قربانیاں پیش کرنی پڑتی ہیں اور وہاں قدم قدم پر مشکلات سے دو چار ہونا پڑتا ہے پس نبیوں کا جواب اپنے خداکو ویسا ہی ہوتا ہے بلکہ اس سے بہت بڑ ھ کر جیسے اس غریب آدمی نے امیر آدمی کو دیا۔ بے شک اگر ہم معقولات کی نظر سے اس کو دیکھیں اور منطقی نقطہ نگاہ سے اس پر غور کریں تو اس غریب آدمی کی یہ حرکت ہنسی کے قابل نظر آتی ہے کیونکہ اس امیر کے ہزاروں نوکر چاکر تھے ان کے ہوتے ہوئے اس کی بیوی نے کیازائد خدمت کر لینی تھی، اسی طرح وہ لاکھوں کا مالک تھا اس کو سَو ڈیڑھ سَو روپیہ کی تھیلی کیا فائدہ پہنچا سکتی تھی اور خود اس کے کئی پہریدار اور محافظ تھے اس کو اس دوست کی تلوار کیا نفع پہنچا سکتی تھی مگر محبت کے جوش میں اس نے یہ نہیں سوچا کہ میری تلوا رکیا کام دے گی، میرا تھوڑاسا روپیہ کیا فائدہ دے گا اور میری بیوی کیاخدمت سر انجام دے سکے گی اُس نے اتنا ہی سوچاکہ جو کچھ میرے پا س ہے وہ مجھے حاضر کر دینا چاہیے۔ ایسے ہی بے وقوفی کے واقعات میں مجھے بھی اپنا ایک واقعہ یاد ہے کئی دفعہ اس واقعہ کو یاد کرکے میںہنسا بھی ہوں اور بسا اوقات میری آنکھوں میں آنسو بھی آگئے ہیں مگر میں اِسے بڑی قدر کی نگاہ سے بھی دیکھا کرتا ہوں اور مجھے اپنے زندگی کے جن واقعات پر ناز ہے ان میں وہ ایک حماقت کا واقعہ بھی ہے وہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک رات ہم سب صحن میں سورہے تھے گرمی کا موسم تھا کہ آسمان پر بادل آیا اور زور سے گرجنے لگا اِسی دوران میں قادیان کے قریب ہی کہیں بجلی گرگئی مگر اس کی کڑک اس زور کی تھی کہ قادیان کے ہر گھر کے لوگوں نے یہ سمجھا کہ یہ بجلی شاید ان کے گھر میں ہی گری ہے۔ ہمارے مدرسہ میںہی ایک واقعہ ہوا جس کو یاد کرکے لڑکے مدتوں ہنستے رہے اور و ہ یہ کہ فخر دین ملتانی جو بعد میں مرتد ہوگیا وہ اُس وقت طالبعلم تھا اور بورڈنگ ہائو س میں رہا کرتا تھا جب بجلی کی زور سے کڑک ہوئی تو اُس نے اپنے متعلق سمجھا کہ بجلی شاید اُس پر گری ہے اور وہ ڈرکے مارے چارپائی کے نیچے چھپ گیا اور زور زور سے آواز دینے لگا کہ بلی بلی ۔بجلی کا لفظ اس کے منہ سے نکلتا ہی نہیں تھاڈر کے مارے بلی بلی کہنے لگ گیا پہلے تو سارے ہی لڑکے بھاگ کرکمروں میںچلے گئے مگر پھر تھوڑی دیر کے بعد باہر نکلے تو اسے چارپائی کے نیچے چھپا ہوا پایا اور دیکھا کہ وہ بلی بلی کر رہا ہے۔ آخر پوچھا تو اس کے ہو ش ٹھکانے آئے اور کہنے لگا کہ مجھ پر بجلی گر پڑی ہے تو وہ اتنی زور کی کڑک تھی کہ ہر شخص نے یہ سمجھا کہ اسی کے قریب بجلی گری ہے۔ اس کڑک کی وجہ سے اور کچھ بادلوں کی وجہ سے تما م لوگ کمروں میں چلے گئے۔ جس وقت بجلی کی یہ کڑک ہوئی اُس وقت ہم بھی جو صحن میں سور ہے تھے اُٹھ کر اندر چلے گئے مجھے آج تک وہ نظارہ یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب اند ر کی طرف جانے لگے تو میں نے اپنے دونوں ہاتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلا م کے سر پر رکھ دیئے کہ اگر بجلی گرے تو مجھ پر گرے ان پر نہ گرے۔ بعد میں جب میرے ہوش ٹھکانے آئے تو مجھے اپنی اس حرکت پر ہنسی آئی کہ ان کی وجہ سے تو ہم نے بجلی سے بچنا تھا نہ یہ کہ ہماری وجہ سے وہ بجلی سے محفوظ رہتے ۔ میں سمجھتا ہوں میری وہ حرکت ایک مجنوں کی حرکت سے کم نہیںتھی مگر مجھے ہمیشہ خوشی ہوا کرتی ہے کہ اِس واقعہ نے مجھ پر بھی اُس محبت کو ظاہر کر دیا جو مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تھی۔ بسا اوقات انسان خود بھی نہیں جانتا کہ مجھے دوسرے سے کتنی محبت ہے جب اس قسم کا کوئی واقعہ ہو تو اسے بھی اپنی محبت کی وسعت اور اس کی گہرائی کا اندازہ ہوجاتا ہے تو جس وقت محبت کا انتہائی جوش اُٹھتا ہے عقل اُس وقت کام نہیںکرتی محبت پر ے پھینک دیتی ہے عقل کو۔اور محبت پرے پھینک دیتی ہے فکر کو۔اور وہ آپ سامنے آجاتی ہے جس طرح چیل جب مرغی کے بچوں پر حملہ کرتی ہے تو مرغی بچوں کو جمع کر کے اپنے پروںکے نیچے چھپا لیتی ہے اور بعض دفعہ تو محبت ایسی ایسی حرکات کر اد یتی ہے کہ دنیا اسے پاگل پنے کی حرکات قرار دیتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ جنون دنیا کی ساری عقلوں سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے اور دنیا کی ساری عقلیں اس ایک مجنونانہ حرکت پر قربان کی جاسکتی ہیں کیونکہ اصل عقل وہی ہے جو محبت سے پیدا ہوتی ہے ۔
    نبی کو بھی جب آواز آتی ہے کہ خدا زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا خدا۔ خدا عزت و شوکت کوپیدا کرنے والاخدا،بادشاہوں کو گدا اور گدائوں کو بادشاہ بنانے والا خدا حکومتوں کو قائم کرنے اور ،حکومتوں کو مٹانے والا خدا، دولتوں کے دینے اور دولتوں کو لے لینے والاخد،ارزق کے دینے اوررزق کو چھیننے والا خدا، زمین و آسمان کے ذرہ ذرہ اور کائنات کامالک خدا آواز دیتا ہے ایک کمزور و ناتواں اور نحیف انسان کو کہ میں مدد کا محتاج ہوں میری مددکرو۔ تو وہ کمزور اور ناتواں اور نحیف بندہ عقل سے کام نہیں لیتا وہ یہ نہیں کہتا کہ حضور! کیا فرمارہے ہیں؟ کیا حضورمدد کے محتاج ہیں؟ حضور تو زمین و آسمان کے بادشاہ ہیں میں کنگال غریب اور کمزور آپ کی کیامدد کر سکتا ہوں۔ وہ یہ نہیں کہتا بلکہ وہ نحیف و نزار اور کمزور جسم کو لے کر کھڑ اہوجاتا ہے اور کہتا ہے میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں کون ہے جواِن جذبات کی گہرائیوں کا اندازہ کر سکتا ہے سوائے اس کے جسے محبت کی چاشنی سے تھوڑ ابہت حصہ ملاہو۔ آج سے پچاس سال پہلے اسی خدا نے پھر یہ آواز بلند کی اور قادیان کے گوشہ تنہائی میںپڑے ہوئے ایک انسان سے کہا کہ مجھے مدد کی ضرورت ہے، مجھے دنیا میں ذلیل کر دیا گیا ہے، میری دنیا میں کوئی عزت نہیں، میرا دنیا میں کوئی نام لیوا نہیں، میں بے یار و مدد گار ہوں، اے میرے بندے! میری مدد کر۔ اس نے نہیں سوچا کہ کہنے والاکون ہے اور جس سے خطاب کیا جاتا ہے وہ کون ہے اس کی عقل نے یہ نہیںکہا کہ مجھے بلانے والے کے پاس تمام طاقتیں ہیں میں بھلا اس کی کیا مدد کر سکتا ہوں۔ اس کی محبت نے اس کے دل میں ایک آگ لگادی او روہ دیوانہ وار جوش میں کھڑاہوگیا اور کہنے لگا میرے ربّ! میں حاضر ہوں، میرے ربّ! میںحاضر ہوں، میرے ربّ! میں بچائوں گا! میرے ربّ! میں بچائوں گا یہی تو وہ ساعت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ۶؎اس رات پر ہزاروں راتیں قربان ہیںاور چونکہ باربار ایسی راتیں آجاتی ہیں اس لئے خدانے کہا ورنہ اگر ایک ہی رات ہوتی تو دنیا کی ساری راتیں اس ایک رات، اس ایک گھنٹے، اس ایک منٹ اور اس ایک سیکنڈ پر قربان کی جاسکتی ہیں ۔جب ایک کمزور بندہ اپنی محبت کے جوش میں بغیر سوچے سمجھے اور بغیر عواقب پر غور کئے تلوار لے کر کھڑ اہوجاتا اور خداکے اردگرد پہرہ دینے لگ جاتا ہے وہ کیا ہی شاندار نظارہ ہوتا ہے جب قادرو قدیر خدا، جب زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا خدا، ایک نحیف و نزار جسم کے ساتھ چارپائی پر لیٹاہوا ہوتا ہے اور ایک نحیف و نزار انسان جو اپنی کمر بھی سیدھی نہیں کرسکتا وہ تلوار لے کر اس کے اِردگرد پہرہ دے رہا ہوتا ہے اور کہتا ہے میں اسے بچائوں گا، میں اسے بچائوں گا۔ اس سے زیادہ محبت کا شاندار نظارہ کبھی نظر نہیں آسکتا اور کبھی نظر نہیں آسکتا۔
    یہی رات ہمارے زمانہ میں بھی آئی اور خدائے قادر نے آواز دی کہ کوئی بندہ ہے جو مجھے بچائے تب زمین کے گوشوں میں سے ایک کمزور شخص آگے بڑھا اور اس نے کہا اے میرے ربّ! میں حاضر ہوں۔ عقلمند انسا ن چاہے اسے بے وقوفی قرار دیں اور فلاسفر چاہئے اسے نادانی قرار دیں مگر جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے ہزاروں عقلیں اِس بے وقوفی پر قربان کی جاسکتی ہیں اور ہزاروں فلسفے کے خیالات اِس بظاہر نادانی کے خیال پر قربان کئے جاسکتے ہیں۔ پھر اس کا وہ اعلان محض وقتی اعلان نہ تھا، اِس کا اظہارِ محبت ایک وقتی جوش نہ تھا وہ کھڑا ہوگیا اور کھڑا ہی رہایہاں تک کہ اس نے اپنے مقصود کو حاصل کر لیا ۔
    کیا تم نے کبھی گھروں میں نہیں دیکھا کہ وہاں بعض دفعہ کیا تماشہ ہواکرتاہے میں نے تو اِس قسم کا تماشہ کئی دفعہ دیکھا اور میں سمجھتا ہوں ہر گھرمیں کبھی نہ کبھی ایسا ہوجاتا ہوگا۔کہ کبھی کبھی مائیں ہنسی کے طو ر پر کپڑا منہ پر ڈال کر رونے لگ جاتی ہیں اور ’’اُوں اُوں‘‘ کرتے ہوئے اپنے کسی بڑے بھائی یا خاوند یا کسی دوسرے عزیز رشتہ دار کا نام لیکر بچے سے کہتی ہیں کہ وہ مجھے مارتے ہیں یہ دیکھ کر وہ ڈیڑھ سال کا بچہ کود کر کھڑا ہو جاتا ہے اور اپنا ہاتھ اُٹھالیتا ہے گویا وہ اس شخص کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے جس کے متعلق اس کی ماں کہتی ہے کہ وہ مجھے مارتا ہے حالانکہ ماں کو بچانا تو الگ رہا بعض دفعہ وہ اپنا ہاتھ بھی اچھی طرح نہیں اُٹھاسکتا مگر جانتے ہو یہ کیا ہوتاہے؟ یہ محبت کا مظاہر ہ ہوتا ہے کہ بچہ یہ نہیں دیکھتا میں کمزور اور ناتواں ہوں بلکہ ماں جب اسے آواز دیتی ہے تو وہ اپنی کمزور حالت کو نظر اندار کرتے ہوئے اُس کی مدد کیلئے کھڑا ہوجاتا ہے۔ یہی حالت اُس رات اس گھڑی، اس سیکنڈ اور اُس پل میں نبیوں کی ہوتی ہے خدا تعالی ٰ کہتا ہے اے میرے بندے! میں چھوڑ دیا گیا اے میرے بندے! مجھے دنیا نے دھتکار دیا اورمجھے اپنے گھر سے نکال دیا،کوئی ہے جو مجھے بچائے ۔ اور وہ ناتواں اور نحیف بندہ چھوٹے سے نادان بچے کی طرح مٹھیاں بھینچ کر کھڑا ہوجاتا ہے او رکہتا ہے میں بچائوںگامیں بچائوں گا۔ پھر وہ صرف کہتا ہی نہیں بلکہ اس کو بچانے میں لگ جاتا ہے ا س بچے کا تو عشق کامل نہیں ہوتا۔ اگر واقعہ میں جو شخص ہنسی کر رہا ہوتا ہے وہ اس بچے کو تھپڑ مارے۔ تو اس نے ماں کو تو کیا بچانا ہے وہ خود ماں سے لپٹ جائے گا اور دوڑ کر اس کی گو دمیں چلا جائیگا مگر یہ شخص ایسا ہوتا ہے کہ دنیا اسے مارتی ہے ہاتھوں سے بھی لاتوں سے بھی اور دانتوں سے بھی اور چاروں طرف سے اُس پر *** اور پھٹکار ڈالی جاتی ہے مگر وہ اپنے جسم کو ہلاتا نہیں ،وہ چیختا نہیں، وہ چلاتا نہیں بلکہ برابر مقابلہ کئے جاتا ہے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہونے لگتی ہیں اور ایک ایک کرکے ۔ ایک ایک کر کے، ایک ایک کرکے بندوں کو وہ خدا تعالیٰ کے دربا ر میں لانا شروع کر دیتا ہے وہ کمزور بازو طاقت پکڑنے لگ جاتے ہیں، وہ لڑکھڑانے والی زبان مضبوط ہونے لگ جاتی ہے، وہ دبی ہوئی آواز طاقت و قوت پکڑتی جاتی ہے او روہ نہایت ہی ذلیل نظر آنے والا وجود اپنے اندر ایسی ہیبت پیدا کر لیتا ہے کہ لو گ اُس سے کانپنے اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے لرزتے ہیں اور وہ قربانی کرتا چلا جاتا ہے کرتا چلا جاتا ہے اور کرتا چلا جاتا ہے یہاںتک کہ اللہ تعالیٰ کے حضور وہ ایک جماعت کو لا ڈالتا ہے اور زمین و آسمان کا خدا جسے لوگوں نے اپنے گھروں میں سے نکال دیا تھا اُس کیلئے نئے نئے محلات بننے لگ جاتے ہیں کوئی یہاں، کوئی وہاں کوئی اِدھر کوئی اُدھر اور وہ خدا جو مسیحؑ کی طرح اپنے نبی کو یہ آواز دیتا ہے کہ اے میرے بندے! لومڑیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور ہوا کے پرندوں کے گھونسلے مگر میرے لئے تو سر چھپانے کی بھی جگہ نہیں ۷؎ اس کے لئے وہ سب سے پہلے اپنے دل کا دروازہ کھول دیتا ہے او رکہتا ہے اے میرے ربّ یہ گھر حاضر ہے پھر وہ اور گھروں کے تالے کھولتا ہے اور دیوانہ وار مجنونانہ کھولتا چلا جاتا ہے یہاںتک کہ ایک گھر کی بجائے خداکے کئی گھر ہوجاتے ہیں اور خدا کی حکومت زمین پراسی طرح قائم ہوجاتی ہے جس طرح وہ آسمان پر قائم ہے۔ پھر یہ سلسلہ بڑھتا چلا جاتا ہے بڑھتا جاتا ہے اور بڑھتاجاتاہے یہاں تک کہ ایک وقت آتا ہے جب خدا اپنے بندے سے کہتا ہے کہ میرے بندے تو نے ! بہت خدمت کر لی اور میں سمجھتا ہوں تو نے اپنی خدمت کا حق ادا کر دیا پس جس طرح تو نے اپنے دل کو میرے لئے کھولا تھا اور اپنے دل کو میرا گھر بنایا تھا اسی طرح آج میںتجھ کو اپنے گھرمیں بلاتا ہوں آ اور میرے پاس بیٹھ ۔ پس خدا اس کو اپنے پاس بلا لیتا ہے اور وہ دنیا کی تکلیفوں شورشوں سے آزاد ہوجاتا ہے ۔
    اس نبی کے بلائے جانے کے بعد دنیا میں جو بھی بیج بوئے ہوئے ہوتے ہیں وہ پھر نئی جدو جہد شروع کر دیتے ہیں نبوت خلافت کا جامہ پہن لیتی ہے اور خلاف کے ذریعہ پھر خدا کیلئے نئے قلوب کی فتح شرو ع ہوجاتی ہے۔ یہی اِس زمانہ میں ہوا اور جب ہم نے ایک جشن منایا، ایک خوشی کی تقریب سرانجام دی تو کسان کی زبان میں ہم نے یہ کہا کہ ہم نے پہلی فصل کاٹ لی مگر کیا جانتے ہو کہ دوسرے لفظوں میں ہم نے کیا کہا؟ دوسرے لفظوں میں ہم نے یہ کہا کہ آج سے پچاس سال پہلے جو ایک بیج بویا گیا تھا اُس بیج کی فصل ہم نے کاٹ لی اب ہم ان بیجوں سے جو پہلی فصل سے تیار ہوئے تھے ایک نئی فصل بونے لگے ہیں۔ اس عظیم الشان کام کے آغاز کے بعد تم سمجھ سکتے ہوکہ تم پر کتنی عظیم الشان ذمہ داریاں عائد ہوگئی ہیں ۔تم نے اب اپنے اوپر یہ ذامہ داری عائد کی ہے کہ جس طرح ایک بیج بڑھ کر اتنی بڑی فصل ہوگیا اسی طرح اب تم ان بیجوںکو بڑھائوگے جواس فصل پر تم نے بوئے ہیں اور اسی رنگ میں بڑھائو گے جس رنگ میں پہلی فصل بڑھی۔پس ہم نے جشن مسرت منا کر اس بات کا اعلان کیا ہے کہ جس طرح ایک بیج سے لاکھوں نئے بیج پیدا ہوگئے تھے اسی طرح اب ہم ان لاکھوں بیجوں کو ازسر نو زمین میں بوتے ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ پچھلے پچیس یا پچاس سا ل میں جس طرح سلسلہ نے ترقی کی ہے اسی طرح اتنے ہی گنے اگلے پچیس یا پچاس سال میں ہم آج کی جماعت کو بڑھادیں گے یہ کوئی معمولی ذمہ داری نہیں جو تم نے اپنے اوپر عائد کی۔ گزشتہ پچاس سال میں ایک بیج سے لاکھوں بیج بنے تھے اب جب تک اگلے پچاس سال میں ان لاکھوں سے کروڑوں نہیں بنیں گے ۔اس وقت تک ہم اپنی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں سمجھے جائیں گے اگر ہم جشن نہ مناتے اگر ہم یہ نہ کہتے کہ کہنے کا زمانہ آگیا توہم کا زمانہ بھی پیچھے ڈال سکتے تھے مگر جب ہم نے جشن منا لیا او رپہلی فصل کاٹ لی تو بالفاظِ دیگر ہم نے دوسری فصل کو بو دیا اور ہمارا کام ازسر نو شروع ہوگیا اور جب کہ ایک بیج سے اتنے دانے نکلے تھے تو کیا اب ہمارا فرض نہیں کہ ہم ان بیجوںکو اتنے گنے بڑھائیں جتنے گنے وہ ایک بیج بڑھا اور پھولااور پھلا پس یقینا اس جشن کے بعد ہم پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوچکی ہے۔ کیونکہ کیا بالحاظ جانی قربانیوںکے، کیا بلحاظ مالی قربانیوں کے،کیابلحاظ علمی ترقیات کے، کیا بلحاظ تبلیغ کے، کیا بلحاظ تعلیم و تربیت کے، اور کیا بلحاظ کثرتِ تعداد اور زیادتِ نفوس کے غرض ہر رنگ میں ہم نے پہلی فصل کے کاٹنے اور دوسری فصل کے بونے کا اعلان کیا ہے مگر پہلی فصل صرف ایک بیج سے شروع ہوئی تھی اور اس دوسری فصل کی ابتداء لاکھوں بیجوں سے ہوتی ہے اس لئے جب تک ہم یہ ارادہ نہ کرلیں کہ ان لاکھوں بیجوںکو اتنی ہی تعداد سے ضرب دیں گے جتنی تعداد سے اس ایک بیج نے ضرب کھائی تھی اُس وقت تک ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ لیا ہے۔ مالی لحاظ سے وہ فصل خالی خزانے سے شروع ہوئی تھی اور لاکھوںتک پہنچ گئی مگر یہ فصل اب لاکھوں سے شرو ع ہوئی ہے اس طرح وہ فصل ایک کلمہ سے شروع ہوئی تھی اور سینکڑوں کتابوں تک پہنچ گئی اور یہ فصل سینکڑوں کتابوں سے شروع ہوئی ہے پس جب تک اب لاکھوں روپیہ سے کروڑوں روپیہ اور سینکڑوں کتابوں سے ہزاروں اور لاکھوں کتابیں نہ بن جائیں اس وقت تک ہمارا کام ختم نہیں ہوسکتا۔
    غرض اس جشن کے منانے سے ہم نے یہ اعلا ن کیا ہے کہ ہم نے پہلی فصل کاٹ اور نئے سرے سے اس سے حاصل شدہ بیجوں کو زمین میں ڈال دیا۔ میرا تو جسم کا ذرہ ذرہ کانپ جاتا ہے جب مجھے یہ خیال آتا ہے کہ کتنی اہم ذمہ داری ہے جو جماعت نے اپنے اوپر عائد کی۔ اگر ہم پہلی فصل نہ کاٹتے تو ہمارے ذمہ داریاں کم رہتیں مگر جب ہم نے اس فصل کو کاٹ کر کہا تو کی ذامہ داریوں کی ادائیگی کا سامان بھی ہمیں مہیا کرنا پڑا۔ پس میں جماعت کے دوستوں کو اُن کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ اس جلسہ کے نتیجہ میں ہم نے لاکھوں نئے بیج زمین میں بو دیئے ہیں اب ہمار افرض ہے کہ اگلے پچیس یا پچاس سال میں ہم جماعت میں حیرت انگیز طور پر تغیر پید اکریں۔ کیا بلحاظ آدمیوںکی تعدا دکے اور کیا بلحاظ مالی قربانی کے اور کیا بلحاظ تبلیٖغ کے اور کیا بلحاظ تربیت کے اور کیا بلحاظ تعلیم کے۔ آج سے مثلاًپچیس یا پچاس سال کے بعد اگرہم نئی فصل کے ویسے ہی شاندار نتائج نہ دکھائیں جیسے پہلی پچاس سالہ فصل کے نتائج نکلے تو ہماری بے معنی اورہماری جھوٹی ہوجاتی ہے۔ پس میںجماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس جلسہ کے بعد ان کو اپنی نئی ذمہ داریاں بہت جوش اورتوجہ کے ساتھ اد اکرنی چاہئیں۔اب ہماری پہلی فصل کے جو نتائج رونما ہوئے ہیں ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اگر اس سے زیادہ نہیں تو کم سے کم اتنے ہی گنے نتائج نئی فصل کے ضرور رونما کر دیں اور اگر پہلے ایک سے لاکھوں ہوئے تو آج سے پچاس سال کے بعدوہ کروڑوں ضرور ہوجائیں ۔اگر آج سے پچیس سال پہلے جماعت دس بارہ گنے بڑھی تھی تو اگلے پچیس سال میں کم سے کم دس بارہ گنے ضرو ربڑھ جانی چاہیے۔ مگر یہ کیونکر ہوسکتا ہے جب تک ہر احمد ی کیا مر د اور کیا عورت اور کیا بچہ اور کیا بوڑھا اور کیا کمزور اور کیا مضبوط اپنے ذمہ یہ فرض عائد نہ کرلے کہ میں احمدیت کی ترقی کیلئے اپنے اوقات صرف کروں گا اور اپنی زندگی کا اوّلین مقصد اشاعت دین اور اشاعت احمدیت سمجھوں گا اسی طرح علمی طور پر کب ترقی ہوسکتی ہے جب تک ہماری جماعت کا ہر فرد دین سیکھنے اور دینی باتیں سننے اور پڑھنے کی طرف توجہ نہ کرے۔ اسی طرح مالی قربانی میںکب ترقی ہوسکتی ہے جب تک ہماری جماعت نہ صرف قربانیوں میںبیش ازبیش ترقی کرے بلکہ اپنے اخراجات میں بھی دیانت داری سے کام لے۔
    مال ہمیشہ دونوں طرح سے بڑھتا ہے زیادہ قربانیوںسے بھی بڑھتا ہے اور زیادہ دیانت داری سے خرچ کرنے سے بھی بڑھتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ ایک شخص کو ایک دینار دیا اور فرمایا جاکر قربانی کیلئے کوئی عمدہ سا بکر الادو۔ اس نے کہا بہت اچھا تھوڑی دیر کے بعد وہ حاضر ہوا اور کہنے لگا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! یہ بکر ا موجود ہے اور ساتھ ہی اُس نے دینار بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس کر دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حیرا ن ہوئے اور فرمایا یہ کس طرح ؟ وہ کہنے لگا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مدینہ میں شہر کی وجہ سے چیزیں گراں ملتی ہیں میں دس بارہ میل باہر نکل گیا وہاں آدھی قیمت پر بکرے فروخت ہورہے تھے میں نے ایک دینا رمیں دو بکر ے لے لئے اور واپس چل پڑا ۔ جب میں آرہا تھا تو رستہ میں ایک شخص مجھے ملااسے بکرے پسند آئے اور کہنے لگا کہ اگر فروخت کرنا چاہوتو ایک بکرا مجھے دے دو میں نے ایک بکرا ایک دینار میں اسے دے دیا پس اب بکرا بھی حاضرہے اور دینار بھی ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بہت ہی خوش ہوئے اور آپؐ نے اس کیلئے دعا فرمائی کہ خد اتجھے برکت دے صحابہ ؓ کہتے ہیں اِس دعا کے نتیجہ میں اسے ایسی برکت ملی کہ اگر وہ مٹی میں بھی ہاتھ ڈالتا تو وہ سونا بن جاتی اور لوگ بڑے اصرار سے اپنے روپے اُسے دیتے اورکہتے کہ یہ روپیہ کہیں تجارت میں لگا دو۔ غرض کروڑوں کروڑ روپیہ اسے آیا۔ تو اچھی طرح خرچ کرنے سے بھی مال بڑھتا ہے مال بڑھنے کی صرف یہی صورت نہیں ہوتی کہ ایک کے دو بن جائیں بلکہ اگر تم ایک روپیہ کا کام اٹھنی میں کرتے ہو تو بھی تمہارے دو بن جاتے ہیں بلکہ اگر تم روپیہ کا کام اٹھنی میں کرتے ہو اور ایک روپیہ زائد بھی کمالیتے ہو تو تمہارے دو نہیں بلکہ چا ربن جائیں گے پس صرف یہی کوشش نہیں ہونی چاہیے کہ مالی قربانیوں میں زیادتی ہو بلکہ اخراجات میں کفایت کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے ۔اورمیں کارکنوںکو بالخصوص اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ایک روپے کا کام اٹھنی میں کرنے کی کوشش کیا کریں۔ غرض اب جوہمارے پاس جماعت موجود ہے، اب جو ہمار ے پاس روپیہ ہے، اب جو ہمارے پاس تبلیغی سامان ہے، اب جو ہمارے دنیا میں مشن قائم ہیں، اب جو ہماری تعلیم اور اب جو ہماری تربیت ہے ان سب کو نیا بیج تصور کرکے آئندہ پچاس سال میں ہمیں جماعت کی ترقی کیلئے سرگر م جدوجہد کرنی چاہیے تاکہ آئندہ پچاس سا ل میں موجودہ حالت سے ہماری تعداد بھی بڑھ جائے، ہمار ا علم بھی بڑھ جائے ،ہماری تبلیغ بڑھ جائے اور اسی نسبت سے بڑھے جس نسبت سے وہ پہلے پچاس سال میں بڑھا۔ اگرہم اس رنگ میں کوشش نہیں کریں گے تو اس وقت تک ہماری نئی فصل کبھی کامیاب نہیں کہلاسکتی۔ مگر یہ کام ویسا ہی ناممکن ہے جیسے آج سے پچاس سال پہلے نظرا ٓتا تھا۔ پھر اُس وقت خدا کا ایک نبی کھڑا تھا۔ بے شک اُس وقت کوئی احمدی نہ تھا مگر خدا کا نبی دنیا میں موجود تھا جو اس پیغام کو لے کر دنیا میںکھڑ اتھا مگر آج وہ نبی ہم میں موجود نہیں اور اس وجہ سے ہماری آوا زمیں وہ شوکت نہیں جو اُس کی آوازمیں شوکت تھی۔ پس آج ہمیں اس سے زیادہ آواز بلندکرنا پڑے گی اور ہمیں اس سے زیادہ قربانیاں کرنی پڑیں گی۔ اس کیلئے دعائیں بھی کرو اور اللہ تعالیٰ کے دروازہ کو کھٹکھٹائو اور یاد رکھو کہ جب تک جماعت دعائوں پر یقین رکھے گی جب تک تم ہر بات میں اللہ تعالیٰ سے امداد کے طالب رہو گے اُس وقت تک تمہارے کاموں میں برکت رہے گی مگر جس دن تم یہ سمجھو گے کہ یہ کام تم نے کیا۔ جس دن تم یہ سمجھو گے کہ یہ نتائج تمہاری محنت سے نکلے اور جس دن تم یہ سمجھو گے کہ یہ ترقی تمہاری کوششوں کا نتیجہ ہے اُس دن تمہارے کاموں میں سے برکتیں بھی جاتی رہیں گی۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ آج دنیا میں تم سے بہت زیادہ طاقت ور قومیں موجود ہیں مگر ان سے کوئی نہیں ڈرتا اور تم سے سب لوگ ڈرتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ تمہاری مثال اس تار کی سی ہے جس کے پیچھے بجلی کی طاقت ہوتی ہے اب اگر تار یہ خیال کرے کہ لوگ مجھ سے ڈرتے ہیں تو یہ اُس کی حماقت ہوگی کیونکہ لوگ تار سے نہیں بلکہ اس بجلی سے ڈرتے ہیں جو ا ُس تار کے پیچھے ہوتی ہے جب تک اس میںبجلی رہتی ہے ایک طاقتور آدمی بھی اگر تار پر ہاتھ رکھے تووہ اس کے ہاتھ کو جلا دے گی لیکن اگر بجلی نہ رہے تو ایک کمزور انسان بھی اس تا رکو توڑ پھوڑ سکتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھو اور اس بجلی کو اپنے اندر سے نکلنے نہ دو بلکہ اسے بڑھائو اور اسے ترقی دو تبھی اور تبھی تم کامیابی کو دیکھ سکتے ہو اور نئی فصل زیادہ شان اور زیادہ عمدگی کیساتھ پیدا کر سکتے ہو۔ لیکن اگر یہ بجلی نکل گئی تو پھر تم کچھ بھی نہیں رہو گے ۔ہاں اگر یہ بجلی رہی تو دنیا کی کوئی طاقت تمہارا مقابلہ نہیں کر سکے گی اور اس صور ت میں تمہارا یہ عزم کہ تم اگلے پچاس سال میں تمام دنیا پر چھا جائو ناممکن نہیں ہوگاکیونکہ کام خدا نے کرنا ہے اور خدا کیلئے کوئی چیز ناممکن نہیں؟
    (الفضل ۲۵ جنوری ۱۹۴۰ء)
    ۱؎ الفاتحہ: ۵
    ۲،۳؎ بخاری کتاب التفسیر۔ تفسیر سورۃ الفتح باب قولہ لیغفر لک اللّٰہ (الخ)
    ۴؎ العلق: ۳۲
    ۵؎ بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی (الخ)
    ۶؎ القدر: ۶
    ۷؎ متی باب ۸ آیت ۲۰۔ پاکستان بائبل سوسائٹی مطبوعہ ۱۹۹۴ء

    فتنہ غیر مبائعین کی مختصر تاریخ
    ( فرمودہ ۱۲؍ اپریل ۱۹۴۰ء )
    تشہّد، تعوّذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    میںنے ایک گزشتہ خطبہ میں جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ غیر مبائعین جہاں بھی ہوں ان کے ناموں اور پتوں سے مرکز سلسلہ کو اطلاع دی جائے اور خود بھی ہر جگہ ایسے سیکرٹری مقرر کئے جائیں جن کا کا م غیر مبائعین میں تبلیغ اوران کے خیالات کی اصلاح کرنا ہو۔ میری اِس تحریک پر بعض جماعتوں نے اس امر کی طرف توجہ کی ہے اورانہوں نے غیر مبائعین کے پتے بھجوانے شروع کر دیئے ہیں ۔ لیکن بعض جماعتوں نے ابھی تک اس طرف توجہ نہیں کی یاممکن ہے ان کی رپورٹیں میرے سامنے پیش نہ ہوئی ہوں کیونکہ کچھ رپورٹیں براہِ راست شاید دعوت و تبلیغ کو بھی جارہی ہیں ۔ بہرحال یہ کا م شروع ہو گیا ہے اور میں امید کر تا ہوں کہ جماعت اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اس کام کو اِس عمدگی کے ساتھ انجام تک پہنچائے گی کہ ہمارے مخالفین کو یہ محسوس ہو جائے گا کہ حق کا مقابلہ کرنا کوئی آسان بات نہیں ہوتی اور جس طرح گزشتہ ایام میں جب بھی ان لوگوں نے ہماری جماعت کا مقابلہ کیااللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں ہی فتح حاصل ہوئی اورہم ہی ان کے آدمیوںکی کھینچ کر لے آئے۔ اسی طرح اب بھی یہ سبق دوبارہ ان کے لیے تازہ ہوجائے گا۔
    مجھے افسوس ہے کہ ہماری جماعت کے بعض دوست پرانے لٹریچر کونہیں پڑھتے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض باتوں کاجواب اگرچہ بار ہا دیا جا چکا ہے مگر وہ اس شبہ میںرہتے ہیں کہ شائد اِن باتوںکا جواب ابھی تک ہماری طرف سے نہیںدیا گیا حالانکہ سب باتوں کا جواب پوری تفصیل کے ساتھ ہماری طرف سے دیاجاچکا ہے۔ آج اِسی سلسلہ میں میںجماعت کے دوستوں کی راہنمائی کے لئے انہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ درحقیقت یہ اختلاف مذہبی بعد میں بنا ہے پہلے یہ صرف دنیوی اختلاف تھا۔ یعنی صدر انجمن احمدیہ کے بعض ممبروںکا خیال تھا کہ حضرت خلیفۂ اوّل کی خلافت غاصبانہ ہے اوران کا کوئی حق نہ تھا کہ وہ خلافت کے عہدہ پرمتمکن ہوتے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صحیح جانشین اور قائم مقام صدر انجمن احمدیہ ہے۔ چنانچہ وہ لوگ جواِس زمانہ کے ہیںان کو معلوم ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے بعد جوپہلا جلسہ سالانہ ہو ا اُس میں متواتر صدر انجمن احمدیہ کے ممبروں کی تقریروں میں اِس بات پرزور دیا جاتا رہا کہ خدا تعالیٰ کے مامور کی مقرر کردہ جانشین اور خلیفہ صدر انجمن احمدیہ ہے اور باربار اپنے لیکچروں میں اِس کا ذکر کیا جاتا۔ غرض ۱۹۰۸ء میں دسمبر کے ایام میں جو جلسہ سالانہ ہوا اور جس کا انتظام مدرسہ احمدیہ کے صحن میں کیا گیاتھااُس وقت کے واقف لوگ جانتے ہیں کہ ان لوگوں نے اس جلسہ کی تقریروں میں بڑے زور سے اس بات کو دُہرایاکہ خدا تعالیٰ کے مامور کی مقرر کردہ جانشین صدر انجمن احمدیہ ہے ۔ خداتعالیٰ کے مامور کی قائم مقام صدر انجمن حمدیہ ہے۔ خداتعالیٰ کے مامور کی خلیفہ صدر انجمن احمدیہ ہے اور اس کی اطاعت تمام جماعت کے لئے ضروری ہے۔ حضرت مولوی صاحب ہمارے پیر ہیں لیکن خلیفہ صدر انجمن احمدیہ ہے جس کے وہ صدر ہیں لیکن ان کی یہ تقریریں اب ان کے لئے فائدہ بخش نہیں ہوسکتی تھیں ۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے بعد سب سے پہلے انہی لوگوں نے حضرت خلیفۂ اوّل کی خدمت میں درخواست کی تھی کہ آپ خلافت کے بوجھ کو اُٹھائیں اور پھر انہیںلوگوں نے یہ اعلان کیا جو اُس وقت کے اخبارات میں شائع ہوا کہ ’’ مطابق فرمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مندرجہ رسالہ الوصیت ہم احمدیان جن کے دستخط ذیل میں ثبت ہیں اس امر پر صدق دل سے متفق ہیں کہ اوّل المہاجرین حضرت حاجی مولوی حکیم نورالدین صاحب جو ہم سب میں سے اَعْلَم وَ اَتْقٰی ہیں اور حضرت امام کے سب سے زیادہ مخلص اور قدیمی دوست ہیں اور جن کے وجود کو حضرت امام علیہ السلام اُسوۂ حسنہ قرار فرماچکے ہیں۔ جیسا کہ آپ کے شعر
    چہ خوش بودے اگر ہر یک ز اُمت نوردیں بودے
    ہمیں بودے اگر ہر دل پُر اَز نورِ یقین بودے
    سے ظاہر ہے کے ہاتھ پر احمد کے نام پر تمام احمدی جماعت موجودہ اور آئندہ نئے ممبر بیعت کریں اور حضرت مولوی صاحب موصوف کا فرمان ہمارے واسطے آئندہ ایسا ہی ہو جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا تھا۔‘‘ ۱؎
    اس اعلان کے بعد وہ جماعت جو صداقت کی شیدا تھی جس نے بڑی بڑی قربانیوں اور اپنے رشتہ داروں کو خدا تعالیٰ کے لئے چھوڑنے کے بعد ایمان کی دولت حاصل کی تھی کب ان لوگوں کی باتوںسے متاثر ہوسکتی تھی۔ چنانچہ جتنا زیادہ یہ لوگ اس بات کو دُہراتے کہ خداتعالیٰ کے مامور کی مقرر کردہ خلیفہ اور جانشین صدر انجمن احمدیہ ہے اُتنا ہی زیادہ جماعت میںجوش پیدا ہوتا چلا جاتاکیونکہ وہ حیران تھی کہ پہلے انہیںلوگوںنے یہ کہاتھا کہ خلافت کا انتخاب الوصیت کے مطابق ہے اوراب یہی کہہ رہے ہیں کہ اصل جانشین اور خلیفہ صدر انجمن احمدیہ ہے ۔
    اصل بات یہ ہے کہ خداتعالیٰ نے ان لوگوںکے ہاتھ پہلے ہی کاٹ کر رکھ دیئے تھے۔ ممکن ہے اگر انہوں نے یہ اعلان نہ کیا ہو ا ہوتا تو جماعت کو ان کی تقریروںکی وجہ سے ٹھوکر لگ جاتی۔ مگر چونکہ یہ لوگ خود ایک اعلان شائع کرچکے تھے اس لئے اب جو اس کے خلاف انہوں نے تقریریں کیں تو لوگوں میں جوش پید ہوا اور انہوں نے سمجھ لیا کہ ان کی اصل غرض حضرت خلیفہ اوّل کو خلافت سے جواب دینا ہے اور ان کی نیت حضر ت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی تعلیم کو جماعت میںقائم کرنانہیںبلکہ فتنہ و فساد اور تفرقہ پیداکرنا ہے۔
    حقیقت یہ ہے کہ انبیاء جب وفات پاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے بعد نشان کے طور پر خلافت کو قائم کیا کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ جس طرح اس نے نبی کی شخصی زندگی کوالہام سے شروع کیااسی طرح وہ اس کی قومی زندگی کو بھی الہام سے شروع کرے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی نبی فوت ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ کا مخفی الہام قوم کے دلوں کو اس زندگی کی تفصیلات کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی وفات کے بعد بھی ان لوگوں کے دل اس قدر مرعوب اور خائف ہوگئے تھے کہ اس وقت یہ یقینی طور پر سمجھتے تھے کہ اب کسی خلیفہ کے بغیر جماعت کا اتحاد اور اس کی ترقی ناممکن ہے۔ چنانچہ حضرت خلیفہ اوّل کا انتخاب عمل میںآیا۔ یوں منہ سے ان لوگوں کا اپنے آپ کو یا صدر انجمن احمدیہ کو حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا جانشین کہنا اور بات ہے۔ سوال تویہ ہے کہ انجمن کے یہ ممبر جو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام کا خلیفہ اور جانشین قراردیتے تھے وہ دل گردہ کہاںسے لاتے جو خداوند تعالیٰ کے خلیفہ کے لئے ضروری ہے ۔ منہ سے تو ہر شخص جو جی چاہے دعویٰ کرسکتا ہے خواہ حقیقت اس کے اندر کوئی ہو یا نہ ہو۔
    کہتے ہیں کوئی شخص تھا جسے بہادری کا بہت بڑ ا دعویٰ تھاایک دفعہ اس نے اپنی بہادری کے نشان کے طور پر اپنے بازو پر شیر گودواناچاہا۔ وہ گودنے والے کے پاس گیا اور کہنے لگا میرے بازو پر شیر گود دو ۔ اس نے کہابہت اچھا اور یہ کہہ کر اس نے سوئی جو ماری تو اسے درد ہوا اور کہنے لگا یہ کیاکرنے لگے ہو؟ اس نے کہا شیر گودنے لگا ہوں۔ وہ کہنے لگا شیر کا کون سا حصہ ؟ اس نے بتایا کہ دایاں کان ۔ اس نے کہا کہ اگر دایاں کان نہ ہو تو شیر رہتا ہے یانہیں؟ وہ کہنے لگا رہتا کیوں نہیں ۔اس نے کہا اچھا تو پھر اس دائیں کان کوچھوڑو اورآگے گودو۔ اُس نے پھر دوسرا کان بنانے کے لئے سوئی ماری تو اسے پھر درد ہوا اور یہ پھر چلا کے کہنے لگا اسے چھوڑو اور آگے چلو۔اُس نے اُسے بھی چھوڑا ۔اس کے بعد جس کسی عضو کے بنانے کے لئے وہ سوئی مارتا تو یہ شخص چلا کر اسے منع کردیتا آخر گودنے والے نے سوئی رکھ دی اور جب اُس نے پوچھا کہ کام کیوں نہیں کرتے؟ تو اس نے جواب دیا کہ میںکان گودنے لگا تو تم نے کہا اس کو چھوڑ دو، پھرسر گودنے لگاتو تم نے کہااس کوچھوڑو، منہ گودنے لگا تو تم نے کہا اِس کو چھوڑو، پیٹھ گودنے لگاتو تم نے کہا اس کو چھوڑو، ٹانگیں گودنے لگاتو تم نے کہااس کو چھوڑو۔ جب تمام چیزیں میںنے چھوڑتے ہی چلے جانا ہے تو شیر کا باقی کیا رہ گیا۔ تو منہ سے دعویٰ کرنااور بات ہے اور اللہ تعالیٰ سے طاقت اور قوت کا ملنا بالکل اور بات ہے ۔ جوشخص خداتعالیٰ کا سچا خلیفہ تھا وہ تو دلیر اور بہادرتھا اور ان لوگوںکا یہ حال تھا کہ قدم قدم پر ان لوگوںکے دل ڈرتے تھے ۔ ایک طرف انہیں یہ ڈر تھا کہ جماعت میںہمارے خلاف کوئی جوش پید ا نہ ہوجائے دوسری طرف یہ ڈر تھا کہ کہیںحضرت خلیفہ اوّل ان سے ناراض نہ ہوجائیں ۔
    تیسری طرف وہ اس بات سے بھی ڈرتے تھے کہ کہیں اس کے نتیجہ میں یہ تو نہیںہوگا کہ نہ ہم اِدھر کے رہیںاور نہ اُدھرکے اور نہ احمدی رہیں نہ غیر احمدی۔ غرض بات بات پر ان کادل ڈرتاتھا کیونکہ ان کے دل میں خدا نہیںبول رہاتھابلکہ نفسیاتی خواہشات جوش مار رہی تھیں اور نفسیاتی خواہشات حوصلے بڑھایا نہیںکرتیںبلکہ حوصلوں کو پست کیاکرتی ہیں۔ گویاان لوگوںکی جرأت اور پھر خلافت کے دعوے کی مثال ایسی ہی تھی جیسے بنیا جب کسی سے لڑتا ہے تو پنسیری اُٹھا کرکہتا ہے میں یہ مار کرتیرا سر پھوڑ دوںگا۔ مگر یہ کہنے کے ساتھ ہی بجائے اس کے کہ وہ دوقدم آگے بڑھے دو قدم پیچھے کود کر چلا جاتا ہے۔جس سے صاف پتا لگ جاتا ہے کہ جب اُس نے یہ کہا کہ میں پنسیری مار کر تیر ا سر پھوڑ دوںگا تواُس وقت اُس کا دل نہیں بول رہا تھا بلکہ صرف زبان بول رہی تھی۔ ورنہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ایک طرف توکوئی یہ کہے کہ میں مار کر تیرا سر پھوڑ دونگا اور دوسری طرف وہ بجائے آگے بڑھنے کے کودکر دوقدم پیچھے چلا جائے ۔
    اسی طرح یہ لوگ بھی ایک طرف تو یہ کہتے تھے کہ ہم خلیفہ ہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے صدر انجمن احمدیہ کوہی اپنا جانشین قرار دیا ہے اور دوسری طرف ڈرتے تھے کہ خبر نہیں کہیں جماعت ناراض نہ ہوجائے ۔ کہیں حضرت مولوی صاحب ہم پر ناراضگی کا اظہار نہ کردیں ۔ کہیںاللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی کوئی ایسے سامان نہ ہو جائیں جو ہمیں اپنی کوششوں میں ناکام و نامراد کردیں ۔ غرض قدم قدم پر ان لوگوں کوخوف و ہراس نے گھیر رکھا تھا۔ مگر بہرحال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے بعد اِن لوگوں نے حضرت خلیفہ اوّل کی بیعت کی اور جیسا کہ میںنے بتایا ہے ان لوگوں نے اخباراتِ سلسلہ میں ایک اعلان شائع کرایا جس میں لکھا کہ ہم نے الوصیت کی ہدایات کے مطابق خلافت کا انتخاب کیاہے ۔
    حضرت خلیفہ اوّل کی بیعت پرا بھی تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ خواجہ کمال الدین صاحب نے مولوی محمدعلی صاحب کے سامنے مجھ سے سوال کیا کہ میاںصاحب! خلافت کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے کہاآپ کا اس سوال سے کیا منشاء ہے؟کہنے لگے یہی کہ خلیفہ کے کیا اختیارات ہیں ؟میں نے کہا خواجہ صاحب وہ دن گئے اب اختیارات کے فیصلہ کاکوئی وقت نہیں ۔ اختیارات کے فیصلے کا وقت وہ تھاجب ہم نے حضرت خلیفہ اوّل کی ابھی بیعت نہیںکی تھی مگر جب ہم نے آپ کی بیعت کر لی تو ا ب بیعت کرنے کے بعد ہمارا کیاحق ہے کہ ہم خلیفہ کے اختیارات پربحث کریں۔ جب خلافت کا انتخاب عمل میں آگیاہے اور اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کردیاہے کہ کون شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جانشین بننے کا اہل ہے تو اس کے بعدہمار ا یہی کام ہے کہ ہم آپ کی اطاعت کریں یہ کام نہیں کہ آپ کے اختیارات پربحث کریں ۔
    میرے اِس جواب پر انہوں نے فوراً اپنی بات کارُخ بدل لیااور کہاکہ بات توٹھیک ہے میں نے تو یونہی علمی طور پر یہ بات دریافت کی تھی اور ترکوںکی خلافت کا حوالہ دے کر کہا کہ چونکہ آجکل لوگوںمیں اس کے متعلق بحث شروع ہے اس لئے میں نے بھی آپ سے اِس کا ذکرکر دیا، یہ معلوم کرنے کے لئے کہ آپ کی کیارائے ہے اور اِس پر ہما ری گفتگو ختم ہوگئی۔ لیکن بہرحال اِس سے مجھ پران کا عندیہ ظاہرہو گیا اور میں نے سمجھ لیا کہ ان لوگوں کے دلوںمیں حضرت خلیفہ اوّل کاکوئی ادب اور احترام نہیں او ر یہ چاہتے ہیںکسی طرح خلافت کے اس طریق کومٹا دیں جوہمارے سلسلہ میںجاری ہوا ہے ۔
    پس اصل اختلاف یہاں سے شروع ہوا مگر جب انہوں نے محسوس کیا کہ جماعت نے چونکہ حضرت خلیفہ اوّل کی بیعت کی ہوئی ہے اور اس وجہ سے اسے بیعت سے منحرف کرنا آسان کا م نہیں تو انہوںنے دوسرا قدم یہ اُٹھایا کہ لوگوں میںیہ کہنا شروع کردیاکہ حضرت خلیفہ اوّل توبڑے بزرگ انسان ہیں ان سے جماعت کو کوئی خطرہ نہیں۔ ہاں اگر کل کوئی بچہ خلیفہ ہوگیاتو پھر کیا ہو گا اور اس بچہ سے مراد میں تھامگر مجھے اُس وقت اس بات کا کوئی علم نہیںتھا۔
    جماعت میںجب یہ اختلاف پید ا ہوگیا کہ کچھ لوگ تو یہ کہنے لگے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مقرر کردہ جانشین انجمن ہے اورکچھ اس پر اعتراض کرنے لگے تو میرمحمد اسحاق صاحب نے حضرت خلیفہ اوّل کی خدمت میں بعض سوالات لکھ کر پیش کئے ۔ جن میں خلافت کے مسئلہ پر روشنی ڈالنے کی درخواست کی گئی تھی مگرمجھے اِن سوالات کا کوئی علم نہیں تھا۔ اِسی دوران میں میں نے رؤیا میںدیکھا کہ ایک بہت بڑامکان ہے اوراس کے دو حصے ہیں ایک حصہ تو مکمل ہے اور دوسرا نامکمل۔ نامکمل حصے پر چھت پڑ رہی ہے، بالے رکھے ہوئے ہیں مگر ابھی اینٹیں یا تختیاںرکھ کر مٹی ڈالنی باقی ہے۔ رؤیامیں میںنے دیکھا کہ چھت کے ننگے حصہ پر ہم چار پانچ آدمی کھڑے ہیں اور عمارت دیکھ رہے ہیں ۔ اِنہیں میں ایک میرمحمداسحاق صاحب بھی ہیں اور وہ بھی ہمارے ساتھ مل کر عمارت دیکھ رہے ہیں کہ وہاںکڑیوںپر ہمیں کچھ بھوسا پڑا دکھائی دیا۔ میرمحمد اسحاق صاحب کے ہاتھ میں ایک دیا سلائی کی ڈبیہ تھی اُنہوںنے اس میں سے ایک دیا سلائی نکال کر کہا میرا دل چاہتا ہے کہ میں اِس بھس کو جلادوں۔ میں نے انہیںکہاکہ یہ بھوسا جلایا تو جائے گا ہی مگر ابھی وقت نہیںآیا۔ آپ بھس کومت جلائیں کڑیاںبھی ننگی ہیںایسا نہ ہو کہ بھس کے ساتھ ہی بعض کڑیوںکو بھی آگ لگ جائے۔ مگر وہ کہتے ہیںمیرا دل چاہتا ہے کہ میںاس بھس کو جلا دوں۔ میںپھر انہیں روکتا ہوں اور کہتا ہوں ایسا نہ کرنا۔ اس پر وہ پھر کہنے لگے میں چاہتا ہوں اس بھس کو ضرور آگ لگادوں۔ مگر میںنے پھر اُنہیں روکااوریہ سمجھ کر کہ اب میرصاحب اس بھس کو آگ نہیںلگائیںگے دوسری طرف متوجہ ہوگیا۔ لیکن چند ہی لمحہ کے بعد مجھے کچھ شور سا معلوم ہوا۔ میںمنہ پھیر کر کیا دیکھتا ہوں کہ میرمحمد اسحاق صاحب دیاسلائی کی تیلیاں نکال کر اس کی ڈبیہ سے جلدی جلدی رگڑتے ہیں مگر وہ جلتی نہیں۔ ایک کے بعد دوسری تیلی نکال کر اس کو جلانے کی کوشش کرتے ہیںاور چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد اس بھس کو آگ لگا دیں۔ میں یہ دیکھ کر ان کی طرف دوڑا مگر میرے پہنچنے سے پہلے پہلے انہوںنے بھس کو آگ لگا دی۔میں یہ دیکھ کر آگ میںکود پڑا اور جلدی سے اسے بجھا دیا مگر اس عرصہ میں چند کڑیوں کے سرے جل گئے۔ میں نے جب یہ رؤیا دیکھاتو حیران ہوا کہ نہ معلوم اس کی کیا تعبیر ہے۔ اُن دنوںمیں حضرت خلیفہ اوّل سے بخاری پڑھا کرتا تھااور مسجد مبارک کو گلی میں سے جو سیڑھیاں چڑھتی ہیں اُن کے پاس ہی آپ دروازہ کے پاس مسجدمیںبیٹھا کرتے تھے۔ میںنے ایک خط لکھ کر حضرت خلیفہ اوّل کے سامنے پیش کیا جس میںلکھا کہ رات میں نے یہ عجیب خواب دیکھا ہے جو جماعت کے متعلق معلوم ہوتا ہے مگر ہے منذر مجھے معلوم نہیں اس کی کیا تعبیر ہے۔ حضرت خلیفہ اوّل نے اس خواب کو پڑھتے ہی میری طرف دیکھ کر فرمایا۔ خواب توپوری ہوگئی۔ میں حیران ہوا کہ خواب کس طرح پوری ہو گئی چنانچہ میں نے عرض کیا کس طرح ؟ آپ فرمانے لگے میاں! تمہیںمعلوم نہیں اور یہ کہہ کرکاغذ کی ایک سلپ پرآپ نے لکھا۔ میرمحمداسحاق نے کچھ سوالات لکھ کر دیئے ہیں۔ وہ سوال میںنے باہر جماعتوں کو بھجوا دیئے ہیں میںسمجھتا ہوںاس سے خوب آگ لگے گی۔ مجھے اس پربھی کچھ معلوم نہ ہوا کہ میر محمد اسحاق صاحب نے کیاسولات کئے ہیںلیکن میں نے ادب کی وجہ سے دوبارہ آپ سے دریافت نہ کیا۔ البتہ بعد میں شیخ یعقوب علی صاحب اور بعض اور دوستوں سے پوچھا تو اُنہوںنے ان سوالات کا مفہوم بتایا۔ بعد میں جب جماعتوں کی طرف سے ان کے جوابات آگئے اور بعض میںنے دیکھے تو اُس وقت مجھے معلوم ہوا کہ وہ سوالات خلافت کے متعلق تھے اور اُن میں اس کے مختلف پہلوؤںکی وضاحت کی درخواست کی گئی تھی۔
    میرصاحب کے اِن سوالات کی وجہ سے جوگویا بھس میںآگ لگانے کے مترادف تھے جماعت میں ایک شور پید ا ہوگیااور چاروںطرف سے ان کے جوابات آنے شروع ہوگئے۔ جلسہ سالانہ کے موقع پر انہیں یہ تومعلوم ہی ہو گیاتھاکہ جماعت کوبیعت کرنے کے بعد خلافت سے پھرانامشکل ہے اس لئے اب انہوںنے یہ کہنا شروع کر دیاتھاکہ جوکچھ وہ کہتے ہیںوہی خیالات (نَعُوْذُبِاللّٰہ) حضرت خلیفہ اوّل کے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ فتنہ ابھی ظاہر ہو گیااور سب کومعلوم ہوگیاکہ ایک بچہ کوخلیفہ بناکر بعض لوگ جماعت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ خداکاشکر ہے کہ ایسے بے نفس آدمی کے وقت میں یہ سوال پید ا ہوا جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ تحریر فرمایا ہے کہ وہ میری ویسی ہی اطاعت کرتا ہے جیسے نبض حرکت قلب کی کرتی ہے۔ ایسے بے نفس آدمی کے زمانہ میں اس سوال کاپیدا ہوجانا بڑی بابرکت بات ہے۔ ان کے بعد ہوتا تو نہ معلوم کیافساد کھڑ ا ہوتا ۔ گویاجماعت کویہ یقین دلایا جانے لگاکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اصل جانشین انجمن ہی ہے اور یہ کہ ان خیالات میں حضرت خلیفہ اوّل بھی ان سے متفق ہیں۔
    لاہور میں تو خصوصیت سے خواجہ کمال الدین صاحب نے اپنے مکان پر ایک جلسہ کیاجس میںتمام جماعت لاہور کوبلایاگیااور لوگوںکوسمجھایا گیاکہ سلسلہ پر یہ ایک ایسا نازک وقت ہے کہ اگردُور اندیشی سے کام نہ لیاگیاتو سلسلہ کی تباہی کاخطرہ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اصل جانشین انجمن ہی ہے اور اگر یہ بات نہ رہی تو جماعت (نَعُوْذُبِاللّٰہ) تباہ ہوجائے گی اور سب لوگوںسے اس بات پر دستخط لئے گئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمان کے مطابق انجمن ہی آپ کی جانشین ہے اور لاہور کی جماعت نے انہی تاثرات کی وجہ سے کہ حضرت خلیفہ اول کے بھی ہی خیالات ہیں اس پر دستخط کر دیئے صرف حکیم محمد حسین صاحب قریشی مرحوم نے اُن کی اِس بات کو بالکل ردّ کر دیااور کہاہم تمہارے کہنے سے اِس پر دستخط نہیںکرسکتے۔ یہ تمہارے خیالات ہیں حضرت خلیفہ اوّل کے خیالات نہیں اور ہم ایسے محضر نامہ پر دستخط کرنے کے لئے تیارنہیں۔ ہم جب ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کرچکے ہیں اور وہ ہم سے زیادہ عالم اور زیادہ خشیت اللہ رکھنے والا ہے تو جوکچھ وہ کہے گا وہی ہم کریںگے۔ تمہارے خیالات کی ہم تصدیق نہیں کریں گے۔ چنانچہ ان کی دیکھادیکھی ایک دو اور دوست بھی رُک گئے مگر بہرحال لاہور کی اکثریت جماعت نے دستخط کردیئے۔
    آخر حضرت خلیفہ اوّل نے ایک تاریخ مقرر کی جس میں بیرونی جماعتوں کے نمائندگان کو بھی بلایا اور ہدیت فرمائی کہ اُس دن مختلف جماعتوں کے قائم مقام قادیان میں جمع ہوجائیں تا سب سے اس کے متعلق مشورہ لے لیا جائے ۔ چنانچہ لوگ جمع ہوئے ۔ اس دن صبح کی نماز کے وقت میں بیتُ الْفِکر کے پاس کے دالان میںنماز کے انتظار میں ٹہل رہا تھامسجد بھری ہوئی تھی اور حضرت خلیفہ اوّل کی آمد کاانتظار کیاجارہاتھاکہ میرے کان میںشیخ رحمت اللہ صاحب کی آواز آئی کہ وہ مسجد میںبڑے جوش سے کہہ رہے ہیں کہ ہم کسی بچے کی بیعت کس طرح کرلیں ایک بچہ کے لئے جماعت میں فتنہ پیدا کیاجارہا ہے او ر لوگ چاہتے ہیںکہ اسے خلیفہ بناکر جماعت کوتباہ کردیں۔ میں اس وقت ان حالات سے اتنا ناواقف تھا کہ میں ان کا یہ فقرہ سن کرسخت حیران ہوا اور میں سوچنے لگا کہ یہ بچے کا ذکر کیا شروع ہو گیا ہے اور وہ کون سا بچہ ہے جسے لوگ خلیفہ بنانا چاہتے ہیں۔ اس کے متعلق بھی مجھے بعد میں حضرت خلیفہ اوّل سے ہی معلوم ہوا کہ بچہ سے ان کی کیا مراد ہے ۔ اور وہ اس طرح کہ اُس روز صبح کی نماز کے بعد میں بھی بعض باتیںلکھ کر حضرت خلیفہ اوّل کے پاس لے گیا اور گفتگو کے دوران میں میں نے ذکر کیاکہ خبر نہیں آج مسجد میںکیا باتیں ہو رہی تھیںکہ شیخ رحمت اللہ صاحب بلند آواز سے کہہ رہے تھے ایک بچہ کی ہم بیعت کس طرح کرلیں ۔ ایک بچہ کی وجہ سے جماعت میں یہ تمام فتنہ ڈالا جا رہا ہے۔ نہ معلوم یہ بچہ کون ہے؟ حضرت خلیفہ اوّل میری اِس بات کو سن کر مسکرائے اور فرمانے لگے تمہیں معلوم نہیں وہ بچہ کون ہے ؟ وہ تمہیں تو ہو۔
    خیر اِس کے بعد میٹنگ ہوئی اس میٹنگ کے متعلق بھی میں نے ایک رؤیا دیکھا جو حضرت خلیفہ اوّل کو میں نے سنا دیا تھا اور دراصل یہی رؤیا بیان کرنے کے لئے میں صبح کے وقت حضرت خلیفہ اوّل کے پاس گیا تھا۔
    میں نے رؤیا میں دیکھا کہ مسجد میں جلسہ ہورہا ہے اور حضرت خلیفہ اوّل تقریر فرما رہے ہیںمگر آپ اُس حصہ مسجد میںکھڑ ے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بنوایا تھا۔ اُس حصہ مسجد میں کھڑے نہیںہوئے جو بعد میںجماعت کے چندہ سے بنوایا گیا تھا۔ آپ تقریر مسئلہ خلافت پر فرما رہے ہیں اور میں آپ کے دائیںطرف بیٹھا ہوں۔ آپ کی تقریر کے دوران میں خواب میں ہی مجھے رِقت ا ٓگئی اور بعد میں کھڑے ہوکر میں نے تقریر کی جس کا خلاصہ تقریباً اِس رنگ کا تھاکہ آپ پر اِن لوگوں نے اعتراض کر کے آپ کوسخت دکھ دیا ہے مگر آپ یقین رکھیں کہ ہم نے آپ کی سچے دل سے بیعت کی ہوئی ہے اور ہم آپ کے ہمیشہ وفادار رہیں گے۔ پھر خواب میں مجھے انصار کا وہ واقعہ یاد آگیاجب ان میں سے ایک انصاری نے کھڑے ہوکر کہاتھاکہ یَارَسُوْلَ اللّٰہ!ہم آپ کے دائیںبھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیںگے آگے بھی لڑیںگے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکے گاجب تک وہ ہماری لاشوں کوروندتا ہوا نہ گزرے۲؎۔ اسی رنگ میں میں بھی کہتا ہوں کہ ہم آپ کے وفادار ہیں اور لوگ خواہ کتنی بھی مخالفت کریں ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیںبھی لڑیںگے اور آگے بھی لڑیںگے اور پیچھے بھی لڑیںگے اور دشمن آپ کے پاس اُس وقت تک نہیںپہنچ سکے گا جب تک وہ ہم پر حملہ کر کے پہلے ہمیں ہلاک نہ کر لے۔ قریباً اِسی قسم کا مضمون تھاجو رؤیا میں میں نے اپنی تقریر میں بیان کیا مگر عجیب بات یہ ہے کہ جب حضرت خلیفہ اوّل تقریر کرنے کے لئے مسجد میںتشریف لائے تو اُس وقت میرے ذہن میں سے یہ رؤیا بالکل نکل گیا اور بجائے دائیں طرف بیٹھنے کے بائیں طرف بیٹھ گیا۔ حضرت خلیفہ اوّل نے جب مجھے اپنے بائیںطرف بیٹھے دیکھاتو فرمایامیرے دائیںطرف آبیٹھو پھرخود ہی فرمانے لگے تمہیںمعلوم ہے کہ میںنے تمہیں دائیں طرف کیوںبٹھایا ہے؟ میں نے کہا مجھے تو معلوم نہیں۔ آپ نے فرمایاتمہیںاپنی خواب یاد نہیں رہی تم نے خود ہی خواب میںاپنے آپ کو میرے دائیںطرف دیکھاتھا۔
    اس وقت تک ان لوگوںنے جماعت پر مسلسل یہ اثر ڈالنے کی کوشش کی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام نے اس امر کا فیصلہ کیا ہوا ہے کہ میرے بعد انجمن جانشین ہوگی اور یہ کہ حضرت خلیفہ اوّل بھی اس سے متفق ہیں۔ چنانچہ ان میںسے بعض لوگ کہاکرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ بڑا فضل ہوا کہ :۔
    انجمن کی جانشینی کا سوال ایسے بے نفس آدمی کے زمانہ میں اُٹھا آج مولوی صاحب فوراً یہ فیصلہ کردیںگے کہ اصل خلیفہ انجمن ہی ہے ۔ بعد میں اُٹھتا تو نہ معلوم کیامشکلات پیش آتیں اوراس قسم کے پروپیگنڈا سے ان کی غرض لوگوںکو یہ بتانا تھی کہ حضرت خلیفہ اوّل ان کے خیالات سے متفق ہیں ۔
    بہرحال حضرت خلیفہ اوّل تقریر کے لئے کھڑے ہوئے اورآپ نے فرمایاتم نے اپنے عمل سے مجھے اتنادکھ دیا ہے کہ میں اس حصہ مسجد میںبھی کھڑ انہیں ہوا جوتم لوگوں کابنایاہوا ہے بلکہ میں اپنے پیر کی مسجد میںکھڑ ا ہوا ہوں ۔ لوگوں نے حضرت خلیفہ اوّل کے منہ سے جب یہ خیالات معلوم کئے توگو جماعت کے بہت سے دوست جو ان کے ہم خیال بن کر آئے ہوئے تھے مگر ان پر اپنی غلطی واضح ہوگئی او ر انہوںنے روناشروع کر دیا چنانچہ جو لوگ اُس وقت کے حالات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہ مجلس اُس وقت ایسی ہی معلوم ہوتی تھی جیسے شیعوں کی مرثیہ کی مجالس ہوتی ہے ۔ اُس وقت لوگ اتنے کرب اور درد سے رو رہے تھے کہ یوںمعلوم ہوتا تھاکہ مسجد ماتم کدہ بنی ہوئی ہے اور بعض تو زمین پر لیٹ کر تڑپنے لگ گئے۔ پھر آپ نے فرمایا۔
    کہاجاتا ہے کہ خلیفہ کاکام صرف نماز پڑھانا یاجنازہ یا نکاح پڑھا دینایا پھربیعت لے لیناہے یہ کام تو ایک مُلاّںبھی کر سکتا ہے اس کے لئے کسی خلیفہ کی ضرورت نہیں اور میں اس قسم کی بیعت پر تھوکتا بھی نہیں ۔ بیعت وہی ہے جس میں کامل اطاعت کی جائے اور جس میں خلیفہ کے کسی ایک حکم سے بھی انحراف نہ کیاجائے۔
    آپ کی اس تقریر کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں کے دل صاف ہوگئے اور ان پر واضح ہو گیا کہ خلافت کی کیا اہمیت ہے ۔ تقریر کے بعد آپ نے خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمدعلی صاحب کو کہا کہ وہ دوبارہ بیعت کریں۔ اسی طرح آپ نے فرمایا میںان لوگوںکے طریق کوبھی پسند نہیںکرتا جنہوں نے خلافت کے قیام کی تائید میںجلسہ کیا ہے اور فرمایا جب ہم نے لوگوںکو جمع کیا تھاتو ان کاکوئی حق نہ تھا کہ وہ الگ جلسہ کرتے ۔ ہم نے ان کو اس کا م پر مقرر نہیںکیاتھا پھر جب کہ مجھے خود خدا نے یہ طاقت دی ہے کہ میں اِس فتنہ کو مٹا سکوں تو انہوں نے یہ کا م خود بخود کیوںکیا۔ چنانچہ شیخ یعقوب علی صاحب سے جو اس جلسے کے بانی تھے انہیں بھی آپ نے فرمایا کہ آپ دوبارہ بیعت کریں ۔ چنانچہ خواجہ کمال الدین صاحب، مولوی محمد علی صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب سے دوبارہ بیعت لی گئی۔ میں نے اُس وقت یہ سمجھ کر کہ یہ عام بیعت ہے اپنا ہاتھ بھی بیعت کیلئے بڑھا دیامگر حضرت خلیفہ اوّل نے میرے ہاتھ کو پرے کردیا اور فرمایا یہ بات تمہارے متعلق نہیں ۔اس موقع پر دو چار سَوآدمی جمع تھے اور تما م لوگوں نے یہ واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھے مگر ان لوگوںکی دیانت اور ایمانداری کا یہ حال ہے کہ خواجہ صاحب نے بعد میں لوگوں سے بیان کیا کہ ہم سے جو دوبارہ بیعت لی گئی تھی یہ بیعت ارشاد تھی جو پیر اُس وقت لیتا ہے جب وہ اپنے مریدکے اندر اعلیٰ درجے کے روحانی کمالات دیکھتا ہے ۔ گویا حضرت خلیفہ اوّل نے یہ بیعت ان کی روحانی ترقی کی بناء پر خاص طورپر ان سے لی اور یہ بیعت’’ بیعت ارشاد‘‘ تھی۔ اس کے ساتھ ہی انہوںنے یہ بھی کہناشروع کر دیاکہ ہم سے تو بیعت ارشادلی گئی مگر جب میاںنے بھی بیعت کرنی چاہی تو ان کو ہٹا دیا۔ یہ بالکل ویسی ہی بات جیسے کہتے ہیں کہ کسی انگریز کا کوئی باورچی تھا جو کھانا بہت خراب پکایا کرتا تھا مگر وہ جہاںکہیں بیٹھتا بڑیں ہانکنی شروع کردیتااور کہتا کہ میں اتنا لذیذ کھانا پکاتا ہوں کہ بس یہی جی چاہتا ہے کہ انسان کھائے چلا جائے ۔ ایک دفعہ اس نے اپنے آقاکے لئے کھانا جو پکایاتو وہ اسے سخت بد مزہ معلوم ہو ااور اس نے باورچی کو کمرے کے اندر بلا کر خوب چپتیں لگائیں ۔ باورچی نے سمجھا کہ اب میں باہر نکلوںگا تو میری بڑی ذلّت ہوگی اس لئے کوئی ایسا طریق سوچنا چاہئے جس سے لوگوںکاذہن کسی اورطرف منتقل ہوجائے چنانچہ وہ باہر نکلا اور اس نے بڑے زور سے قہقہے لگانے شروع کردیئے ساتھ ہی وہ ہاتھ پر ہاتھ مارتا چلاجائے ۔ لوگوںنے پوچھا کیاہوا؟ وہ کہنے لگا کہ آج تو کھانا اتنا لذیذ تھا کہ صاحب ہاتھ پر ہاتھ مارتا تھااور کہتا تھا اتنا مزیدار کھانا میں نے آج تک کبھی نہیںکھایا۔ گویا انگریز نے تواسے چپتیں لگائیں اور اس نے یہ فسانہ بنا لیاکہ انگریز ہاتھ پر ہاتھ مارتا تھا اور کہتا تھا کہ آج خوب کھانا پکایا۔ یہی حال ان لوگوںکا ہے ۔یہ بھی جب یہاں سے نکلے تو انہوں نے کہناشروع کر دیا کہ ہم سے تو بیعت ارشادلی گئی تھی جو پیر اپنے مرید سے اُس وقت لیتا ہے جب وہ اعلیٰ درجے کی منازل روحانی طے کر لیتا ہے اور یہ بیعت ہمیں نصیب ہوئی میاں کو نصیب نہیں ہوئی۔ حالانکہ اوّل تو یہ بات ہی غلط ہے اور ہر شخص جو واقعات کو جانتا ہے وہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ بیعت ارشاد تھی یا نہیں۔ لیکن اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ یہ بیعت ارشاد تھی تو پھر یہ بیعت ارشاد تو شیخ یعقوب علی صاحب سے بھی لی گئی تھی۔ ان پر یہ لوگ کیوں ٹوٹے پڑتے تھے۔ بہرحال جلسہ ختم ہو ااور لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے مگر یہ لوگ جو حضرت خلیفہ اوّل کی دوبارہ بیعت کر چکے تھے اپنے دلوں میں اور زیادہ منصوبے سوچنے لگے اور انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہماری اِس قدر ہتک کی گئی ہے اب ہم قادیان میں نہیں ٹھہر سکتے۔
    ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم اُس وقت ان لوگوں سے خاص تعلق رکھتے تھے اور مولوی محمد علی صاحب کو وہ جماعت کا ایک بہت بڑا ستون سمجھتے تھے۔ ایک دفعہ میں حضرت خلیفہ اوّل کے پاس بیٹھاہو ا تھاکہ ڈاکٹر صاحب اس طرح گھبرائے ہوئے آئے کہ گویا آسمان ٹو ٹ پڑا ہے اور آتے ہی سخت گھبراہٹ کی حالت میں حضرت خلیفہ اوّل سے کہا کہ بڑی خطرناک بات ہو گئی ہے آپ جلدی کوئی فکر کریں ۔ حضرت خلیفہ اوّل نے فرمایا کیا بات ہے ۔ انہوں نے کہا مولوی محمد علی صاحب کہہ رہے ہیں کہ میری یہاں سخت ہتک ہوئی ہے اور میں اب قادیان میں نہیں رہ سکتا آپ جلدی سے کسی طرح اُن کو منو الیں ایسا نہ ہو کہ وہ قادیان سے چلے جائیں ۔ حضرت خلیفہ اوّل نے فرمایا ڈاکٹر صاحب! میری طرف سے مولوی محمدعلی صاحب کو جا کر کہہ دیں کہ اگر انہوں نے کل جانا ہے تو آج ہی قادیان سے تشریف لے جائیں ۔ ڈاکٹر صاحب جو سمجھتے تھے کہ مولوی محمد علی صاحب کے جانے سے نہ معلوم کیا ہوجائے گا آسمان ہل جائے گا یا زمین لرز جائے گی۔ انہوں نے جب یہ جواب سناتو ان کے ہوش اُڑ گئے اور انہوںنے کہا میرے نزدیک تو پھر بڑا فتنہ ہوگا ۔ حضرت خلیفہ اوّل نے فرمایاڈاکٹرصاحب! میں نے جو کچھ کہنا تھا کہہ دیااگر فتنہ ہو گا تو میر ے لئے ہوگا آپ کیو ں گھبراتے ہیں۔ آپ انہیں کہہ دیں کہ وہ قادیان سے جانا چاہتے ہیں تو کل کی بجائے آج ہی چلے جائیں ۔
    غرض اسی طرح یہ فتنہ بڑھتا چلا گیااور جب انہوں نے دیکھا کہ اس طرح ہماری دال نہیںگلتی تو انہوں نے غیروں میں تبلیغ کرنی شروع کردی اور سمجھا کہ عزت اور شہرت کے حاصل کرنیکا یہ ذریعہ زیادہ بہتر ہوگا۔ اِس تبلیغ کے سلسلہ میں کہیں انہوںنے نبوت کے مسائل میں ایسا رنگ اختیار کرنا شروع کر دیاجس سے غیر احمدی خوش ہوجائیں۔ کہیں کفرواسلام کے مسئلہ میں انہوںنے مداہنت سے کا م لینا شروع کردیا چنانچہ یہ نبوت اور کفرو اسلام وغیرہ مسائل ۱۹۱۰ء کے شروع میںپید ہوئے ہیں ۔بلکہ ان مسائل نے اصل زور۱۹۱۰ء اور ۱۹۱۱ء میں پکڑا ہے ۔ اس سے پہلے ۱۹۰۸ء میں اور۱۹۰۹ء میں صرف خلافت کا جھگڑا تھا۔ کفر واسلا م اور نبوت وغیرہ کے مسائل باعث اختلاف نہیں تھے۔ اُس وقت ان لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پید ا ہوا کہ ایک شخص کو خلیفہ مان کر اور اس کی اطاعت کااقرار کرکے ہم سے غلطی ہوئی ہے۔ اب کسی طرح اس غلطی کو مٹا نا چاہئے تا جماعت دوبارہ اس کا ارتکاب نہ کرے۔
    اس مسئلہ کے متعلق ایک سوال ہے جوہماری جماعت کے دوستوں کویاد رکھنا چاہئے اورہمیشہ ان لوگوں کے سامنے پیش کرتے رہنا چاہئے اور وہ یہ کہ یہی لوگ جو آج کہتے ہیں کہ الوصیت سے خلافت کا کہیں ثبوت نہیں ملتا ان لوگوںنے اپنے دستخطوں سے ایک اعلا ن شائع کیاہوا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے بعد حضرت خلیفہ اوّل کی بیعت کے وقت انہوں نے کیا۔ اس اعلان میںان لوگوں نے صاف طور پر لکھا ہوا ہے کہ ’’مطابق فرمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مندرجہ رسالہ الوصیت ہم احمدیان جن کے دستخط ذیل میں ثبت ہیں اس امر پر صدق دل سے متفق ہیں کہ اوّل المہاجرین حضرت حاجی مولوی حکیم نورالدین صاحب جوہم سب میں سے اَعْلَم اور اَتْقٰی ہیں اور حضرت امام کے سب سے زیادہ مخلص اور قدیمی دوست ہیں اور جن کے وجود کو حضرت امام علیہ السلام اسوۂ حسنہ قرار فرماچکے ہیں ۔ جیساکہ آپ کے شعر
    چہ خوش بودے اگر ہر یک زاُمت نورِ دیں بودے
    ہمیں بودے اگر ہر دل پُر اَز نورِ یقیں بودے
    سے ظاہر ہے کے ہاتھ پر احمد کے نام پر تمام احمدی جماعت موجودہ اور آئندہ نئے ممبر بیعت کریں اور حضرت مولوی صاحب موصوف کافرمان ہمارے واسطے آئندہ ایسا ہی ہوجیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا تھا‘‘۔
    پس جماعت کے دوستوں کو ان لوگوںسے یہ سوال کرنا چاہئے اور پوچھنا چاہئے کہ تم ہمیں ’’الوصیت ‘‘ کا وہ حکم دکھاؤ جس کے مطابق تم نے حضرت خلیفہ اوّل کی بیعت کی تھی۔ اس کے جواب میں یا تو وہ یہ کہیں گے کہ ہم نے جھوٹ بولا اور یا کہیں گے کہ الوصیت میں ایسا حکم موجو د ہے اور یہ دونوں صورتیں ان کے لئے کھلی شکست ہیں۔ یعنی یاتو وہ یہ کہیں گے کہ ایسا حکم الوصیت میں موجود ہے ایسی صورت میں ہم ان سے کہہ سکتے ہیں کہ جب الوصیت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نظام خلافت کی تائید کی ہے تو تم اِس نظام کے کیوں مخالف ہو اور یا پھر یہ کہیں گے کہ ہم نے اُس وقت گھبرا کر اور دشمنوںکے حملے سے ڈر کر حضرت خلیفہ اوّل کی بیعت کر لی تھی ہمیں معلوم تو یہی تھا کہ صدر انجمن خلیفہ ہے اور ہمیں یقین اِسی بات کاتھا کہ خدا تعالیٰ کے مامور کی مقرر کردہ جانشین انجمن ہی ہے مگر ہم نے سمجھا دشمن اِس وقت زور میں ہے او ر وہ احمدیت پر تیرچلارہا ہے بہتر یہی ہے کہ ان تیروںکے آگے حضرت مولوی صاحب کو کھڑا کر دیاجائے چنانچہ وہ کھڑے ہو گئے اور جب ہم نے دیکھا کہ امن قائم ہو گیا ہے تو ہم اپنا حصہ لینے کیلئے آگئے ۔ جیسے قرآن کریم میںبعض لوگوں کے متعلق آتا ہے کہ جب انہیں جہاد میں شامل ہونے کے لئے کہاجاتا ہے تو وہ بھاگ جاتے ہیں لیکن جب مسلمانوں کو فتح ہوجاتی ہے او ر وہ مالِ غنیمت لے کر میدانِ جنگ سے واپس لوٹتے ہیں تو وہ بھی دوڑ کر ان کے ساتھ آملتے ہیں اور کہتے ہیںہم بھی تمہارے ساتھی ہیں ہمیں بھی مالِ غنیمت میں سے حصہ ملناچاہئے۔ بہرحال کوئی صورت ہو ہرحال میں ان کو شکست ہی شکست ہے۔ اگر الوصیت میںخلافت کے متعلق کوئی حکم پایا جاتا ہے اور جیسا کہ ان لوگوں نے اپنے دستخطوں سے اعلان کیا کہ پایاجاتا ہے تو پھر اس حکم سے ان کاانحراف ان پر حجت قائم کرنے کیلئے کافی ہے اور اگر کوئی حکم نہ پائے جانے کے باوجود انہوںنے حضرت خلیفہ اوّل کو آگے کردیاتو اس کے معنی یہ ہوئے کہ جب حملے کا وقت تھااُس وقت تو یہ پیچھے بیٹھے رہے مگر جب حملے کا وقت گزر گیااور امن قائم ہو گیاتو اُس وقت یہ لوگ یہ کہتے ہوئے اُٹھ کھڑے ہوئے کہ ہمیں بھی مالِ غنیمت میں سے حصہ ملناچاہئے ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اسی کو عزت دیتا ہے جو قربانیوںکے میدان میں بھی آگے سے آگے قدم بڑھاتا ہے مگر ان لوگوںنے قربانیوں میں تو کوئی حصہ نہ لیا اور خدا تعالیٰ کی دی ہوئی عزت کے حصے بخرے کرنے میں مشغول ہوگئے ۔
    یہ سوال ہے جوبار باراِن لوگوںکے سامنے پیش کرنا چاہئے اور ان سے پوچھنا چاہئے کہ وہ بتائیں ’’الوصیت‘‘ میں وہ کون سے الفاظ ہیں جن کے مطابق حضرت خلیفہ اوّل کوخلیفہ منتخب کرکے ان کی بیعت کی گئی تھی اور جس کے ماتحت حضرت خلیفہ اوّل کی اطاعت ویسی ہی ضروری تھی جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اطاعت ضروری تھی۔ کیونکہ اس اعلان میں یہ بھی درج ہے کہ حضرت مولوی صاحب کا فرمان ہمارے لئے آئندہ ایسا ہی ہوگا جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہوا کرتا تھا۔ پس ان سے پوچھنا چاہئے کہ ’’الوصیت ‘‘ کے ہمیں وہ الفاظ دکھائیں۔ اور پھر ان سے یہ پوچھنا چاہئے کہ اب ہمیں ’’الوصیت‘‘ سے وہ دوسرے احکام دکھاؤ جن میں یہ لکھا ہو ا ہے کہ حضرت خلیفہ اوّل کے بعد پہلا حکم منسوخ ہوجائے گا ۔ دوسری بات جواِن کے سامنے پیش کرنی چاہئے اور جس کے متعلق ان کا دعویٰ بھی سب سے زیادہ ہے وہ قرآن شریف کاترجمہ ہے اوران لوگوںکو ہمارے مقابلہ میں سب سے زیادہ اگر کسی بات کا دعویٰ ہے تو وہ یہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب نے قرآن شریف کا ترجمہ کیا ہے حالانکہ قرآن کا یہ ترجمہ انجمن کے روپیہ اور اُن تنخواہوںکو وصول کرکے کیا گیا ہے جوسلسلہ کی طرف سے مولوی محمدعلی صاحب کو دی جاتی تھیں ۔ پھر سلسلہ کی طرف سے مولوی محمدعلی صاحب کو صرف تنخواہ ہی نہیں ملتی تھی بلکہ پہاڑ پر جانے کے اخراجات بھی انہیںملتے تھے اور پھر تنخواہ اور پہاڑ پرجانے کے اخراجات ہی مولوی محمد علی صاحب کو نہیں دیئے جاتے تھے بلکہ ہزاروں روپیہ کی کتب بھی سلسلہ کی طرف سے ان کو منگا کردی گئیں تا کہ وہ ان کی مدد سے ترجمہ تیار کرسکیںاور جیسا کہ اُس وقت کے اخبارات سے معلوم ہوتا ہے ترجمہ اور قرآن کریم کے نوٹس قریباً مکمل ہوچکے تھے کیونکہ اس کی اشاعت کے لئے چندہ کی تحریک شروع کردی گئی تھی۔پس تقریباً تمام کا تمام ترجمہ اور تفسیر وہی ہے جو صدر انجمن احمدیہ سے کئی سال تک تنخواہیں وصول کرنے اورہزاروں روپیہ کتب پر صرف کرانے کے بعد مولوی محمدعلی صاحب نے کیا۔ بعد میں سوائے اس کے کہ انہوںنے کچھ پالش کردی ہو اور کچھ نہیںکیا ۔ترجمہ اور تفسیر کا کا م درحقیقت حضرت خلیفہ اوّل کی زندگی میں ہی ختم ہو چکا تھا اور بعد میں صرف چندمہینے انہوںنے کام کیا ہے ۔ شاید دوچار مہینے ورنہ اصل کام جس قدر تھاوہ اس سے پہلے ختم ہو چکا تھا اور چار سال تک مولوی محمد علی صاحب کو اِس کے عوض صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے تنخواہ ملتی رہی تھی۔ پس یہ ترجمہ صدرانجمن احمدیہ کاتھا اور صدر انجمن احمدیہ ہی اِس کی مالک تھی مگر اب یہ ترجمہ مولوی محمد علی صاحب کی ذاتی ملکیت بن چکا ہے اور اس کی آمد میں سے نہ صرف ان کو حصہ ملتا ہے بلکہ شاید انہوںنے اپنے بیوی بچوں کے حق میںبھی اس کی وصیت کر دی ہے۔ پس سوال یہ ہے کہ سلسلہ کے ایک مال پر تصرف کرنے کا مولوی محمد علی صاحب کو کہا ں سے حق حاصل ہوگیا اور یہ کہاں کا تقویٰ ہے کہ ایک ترجمہ وہ صدر انجمن احمدیہ سے سالہا سال تک تنخواہ وصول کرکے کریں اورپھر وہ ان کی ذاتی ملکیت بن جائے۔ وہ ہم پر ہزاروںقسم کے اعتراضات کرتے ہیں، وہ ہماری مخفی زندگی کے عیوب بھی تلاش کرکر کے لوگوں کے سامنے رکھتے ہیں مگر ہم کہتے ہیں جوبات ہم پیش کر رہے ہیں وہ تو بالکل کھلی اور واضح ہے۔ وہ کسی کی مخفی زندگی کے متعلق نہیں بلکہ ایک ایسی بات ہے جو رجسٹروں میںآچکی ہے جوپبلک کے سامنے پیش ہو چکی ہے ۔ پس وہ بتائیں کہ سلسلہ احمدیہ نے ترجمۂ قرآن پر اپنا جو روپیہ خرچ کیا تھا اس کے متعلق مولوی محمد علی صاحب کو یہ کہاں سے حق حاصل تھا کہ وہ اس کو اپنی ذاتی جائیداد تصور کرلیتے۔
    بعض پیغامی اِس کایہ جواب دیا کرتے ہیں کہ اس روپیہ میں جومولوی محمدعلی صاحب کو بطور تنخواہ ملا کرتا تھا ہمارا چندہ بھی شامل تھا اور اس وجہ سے ہم نے علیحدگی پر ضروری سمجھا کہ اپنے چندہ کے معاوضہ کے طور پر ترجمہ قرآن کو بھی ساتھ لیتے آئیں کیونکہ جو روپیہ اس پر خرچ ہوا اس میں ہمار ابھی حصہ تھا۔ حالانکہ اوّل تو اصولاً یہ بات ہی غلط ہے کہ جس کے ہاتھ کوئی چیز لگے وہ اس بہانہ کی آڑ لے کر اسے ہتھیا لے کہ چونکہ میںبھی چندوہ دیا کرتا تھااس لئے میرے لئے جائز ہے کہ میں یہ چیز اپنے گھر لے جاؤں ۔ لیکن اگر یہ اصول درست ہے تو کیاوہ پسند کریںگے کہ جولوگ ان میں سے نکل کر ہمارے ساتھ شامل ہو گئے ہیں اور جو اُس زمانہ میں جب کہ وہ ان کے ساتھ شامل تھے انہیںسینکڑوں روپے بطور چندہ دیتے رہے ہیں وہ اب اُن کی انجمن کی چیزیں اُٹھاکر لے آئیںاور دلیل یہ دیں کہ چونکہ ہم غیرمبائعین کوایک زمانہ میںکافی چندہ دیتے رہے ہیں اور ان چیزوںپر ہمارا چندہ بھی خرچ ہوا ہے اس لئے ہمیںحق حاصل ہے کہ ان میںسے ہمیں جو چیز پسند آئے وہ اُٹھا لے جائیں۔ مثلاً لاہور میںہی پندرہ بیس احمدی غیرمبائعین میںسے نکل کر ہمارے ساتھ شامل ہوئے ہیں۔ میں نے ایک پچھلے خطبہ میں ہی ان میں سے بعض کے نام بھی لئے تھے جیسے ملک غلام محمد صاحب ہیں۔ اسی طرح ملک غلام محمدصاحب کے تین جوان لڑکے ان کے ساتھ شامل رہے ہیں۔ پھر ڈاکٹر غلام حیدر صاحب بھی انہیں لوگوںمیںسے نکل کر ہمارے ساتھ شامل ہوئے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو غیر مبائعین کوکافی چندہ دیتے رہے ہیں۔ پس کیا یہ جائز ہو گا کہ یہ لوگ غیرمبائعین کی انجمن کے دفتر میں سے چیزیں اُٹھا کرلے آئیں۔ اگر وہ اسے جائز تسلیم نہیںکریںگے تو ان کی یہ دلیل کیونکر معقول سمجھی جاسکتی ہے کہ چونکہ اس ترجمۂ قرآن میں ہمارے چندہ کا روپیہ بھی شامل تھا اس لئے اگر ترجمہ ہم اپنے ساتھ لے آئے تو کیا بُرا ہوا۔
    مجھے یاد ہے مولوی محمدعلی صاحب جس وقت ترجمہ قرآن اور کئی ہزاروں روپیہ کا سامان کتب وغیرہ کی شکل میں ساتھ لے کر قادیان سے گئے تو اُس وقت قاضی امیر حسین صاحب مرحوم تو اِس قدر جوش کی حالت میں تھے کہ وہ باربار پنجابی میںکہتے تھے’’نیک بختو ایہہ سلسلہ دامال لے چلیاہے میں سچ کہنداں ہاں اس نے پھر مڑ کے نہیں آناں‘‘ اور میں انہیںجواب دیتا تھا کہ قاضی صاحب! اگر یہ لے جاتے ہیں تو لے جانے دیں آپ کو اس موقع پر صبر سے کا م لینا چاہئے اورا نہیں یہ ترجمہ اور سامان وغیرہ اپنے ساتھ لے جانے سے نہیںروکنا چاہئے کیونکہ اگر ہم نے کہا کہ ترجمہ اور کتابیں وغیرہ اپنے ساتھ نہ لے جائیں تو یہ ساری دنیا میں شور مچاتے پھریں گے کہ انہوںنے قرآن کریم کے ترجمہ میںروک ڈالی ۔ پس کتابوںاور ترجمہ وغیرہ کا کیا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں یہ چیزیں پھر دے دیگا لیکن اِس وقت اگر ہم نے ان کوروکا تو یہ سارے جہاں میں ہمیں یہ کہہ کر بدنام کرتے رہیںگے کہ انہوں نے قرا ٓن کے ترجمہ میںروک ڈالی ۔پھر میں نے انہیں وہ مثال دی جو حضرت خلیفہ اوّل سنایا کرتے تھے کہ ایک بیوہ عورت تھی مگر تھی بڑی محنتی۔ہمیشہ چرخہ کاتتی اور چرخہ کات کات کر گزارہ کرتی۔ ایک دفعہ اس نے کئی سال تک محنت مزدوری کرنے اور تھوڑا تھوڑاپیسہ جمع کرنے کے بعد سونے کے کنگن بنوائے اور اپنے ہاتھوںمیںپہن لئے۔ کچھ دنوں کے بعد اُس کے مکان میں رات کے وقت کوئی چور آگیا اور اُس نے اُس عورت کو مار پیٹ کر اور ڈرا دھمکا کر اس کے کنگن اُتار لئے اور چھین کر چلا گیا۔ وہ کنگن چونکہ اُس عورت نے کئی سال کی محنت مزدوری کے بعد پیسہ پیسہ جمع کرکے بنوائے تھے اِس لئے وہ چور اُسے بھولتا نہیںتھا اور ہروقت آنکھوں کے سامنے اس کی شکل پھرتی رہتی تھی۔ اس کے بعد پانچ سات سال کا عرصہ اور گزر گیا اور اُس عورت نے پھر تھوڑا بہت جمع کر کے سونے کے کنگن بنوا لئے۔ ایک دن وہ اِسی طرح چرخہ کات رہی تھی کہ اُس نے پھر اُسی چور کو کہیںپا س سے گزرتے دیکھا۔ اُس نے ایک لنگوٹی باندھی ہوئی تھی اور کسی کام کیلئے جا رہاتھا۔ عورت نے جونہی اسے دیکھا آواز دے کر اُسے کہنے لگی بھائی ذرا بات سن جانا ۔ اُس نے خیال کیا کہ کہیں یہ مجھے پولیس کے سپرد نہ کرا دے اس لئے اس نے تیز تیز قدم اُٹھا کر وہاں سے غائب ہوجانا چاہا اِس پر اس عورت نے پھر اُسے آواز دی اور کہا بھائی میںکسی سے نہیںکہتی تم میری ایک بات سن جاؤ۔ چنانچہ وہ شخص آگیا۔ عورت اپنا ہاتھ نکال کر اُسے کہنے لگی ۔ دیکھ لوان ہاتھوںمیں تو پھرسونے کے کنگن پڑ گئے ہیں اور تمہارے جسم پر کنگن چرا کر بھی لنگوٹی کی لنگوٹی ہی رہی تو میں نے کہا قاضی صاحب! آپ گھبرائیں نہیں اللہ تعالیٰ ہمیںاپنے فضل سے اوربہت کچھ دے گا لیکن آ پ سمجھ لیںکہ ہم کتنے خطرناک الزام کے نیچے آسکتے ہیں اگر ہم انہیںیہ سامان لے جانے سے روک دیں۔ کل کو لوگوںمیں یہ کہتے پھریںگے کہ صرف دو مہینے کے لئے ترجمہ قرآن کرنے کی خاطر میں یہ کتابیںاور سامان اپنے ساتھ لے چلا تھا مگر ان لوگوںنے دومہینے کے لئے بھی یہ چیزیںنہ دیں اور اس طرح ترجمہ قرآن میں انہوں نے روک ڈالی ۔ پس اگر ہم یہ سامان لے جانے سے انہیں روکیں گے تو ساری عمر کے لئے ہماری پیشانی پر داغ لگ جائے گا اور اگر مولوی صاحب ان چیزوںکو واپس نہیں کریں گے تو وہ الزام کے نیچے آجائیں گے اوراللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیںاور سامان دے دیگا۔تو قاضی صاحب کواِس موقع پر بڑا طیش آیا مگر میں نے انہیں سمجھا بجھا کر ٹھنڈا کیا لیکن بات اُن کی ٹھیک نکلی کہ وہ کئی ہزار روپے کاسامان ترجمہ قرآن کے نام سے اپنے ساتھ لے گئے ۔ پس اگر یہ اصول درست ہے کہ چونکہ چندہ میں ان کا بھی حصہ تھا اس لئے اُن کو اِس بات کا حق حاصل تھا کہ وہ ترجمہ قرآن اور دوسرا سامان اپنے ساتھ لے جاتے تو پھروہ اس بات کی بھی اجازت ہمیں دے دیں تاہماری جماعت کے وہ دوست جو ان میں سے نکل کر ہمارے ساتھ شامل ہوئے ہیں اور جوانہیں ایک لمبے عرصہ تک چندے دیتے رہے ہیں وہ ان کی انجمن کی چیزیں اُٹھااُٹھا کر لے آئیں چونکہ ان چیزوں کی تیاری میں ان کے چندہ کابھی دخل ہے اور اگر وہ اس بات کی اجازت نہیں دیں گے تو دنیا جان لے گی کہ انہوںنے جوجواب دیا ہے وہ غلط ہے اور انہیں اس بات کا قطعاً کوئی حق حاصل نہیںتھا کہ وہ انجمن کی کسی چیز کو اس طرح لے جاتے اور اگر وہ اس بات کوجائز سمجھتے ہیں تو اس کا اعلان کر دیں۔ میں ان لوگوںکی ایک لسٹ پیش کر دوںگا جو ان میں سے نکل کر ہمارے ساتھ شامل ہوئے اور کافی رقوم انہیںچندے میںدیتے رہے ہیں ۔ میں ان تمام کوایک وفد کی صورت میں ان کے پاس بھیجنے کے لئے تیار ہوں وہ اپنی انجمن کے دروازے ان کے لئے کھول دیں تاکہ وہ جس چیز کو اپنے لئے ضروری سمجھیں اُٹھالیں کیونکہ ان کے چندہ میں وہ بھی حصہ دار رہ چکے ہیں۔ لیکن اگر وہ اس بات کے لئے تیار نہیںتو پھر ان کا یہ کہنا کس طرح درست ہو سکتا ہے کہ چونکہ ہمارے چندے بھی قادیان میں آتے تھے اس لئے ہم اپنے چندہ کے عوض ترجمہ قرآن اور دوسرا سامان لے آئے ۔
    پھر میںکہتا ہوں ایک منٹ کے لئے اگر اِس بات کوفرض بھی کر لیا جائے کہ اس وجہ سے سلسلہ کا ایک مال اپنے قبضہ میں کر لینا ان کے لئے جائز تھا تو سوال یہ ہے کہ یہ مال تو سلسلہ کا تھا مولوی محمدعلی صاحب کواس بات کی کس نے اجازت دی کہ وہ اس مال کو اپنی ذاتی جائیدادقرار دے لیں ۔ مان لیا کہ وہ ترجمہ قرآن اور کتب وغیرہ اس چندہ کے بدلہ میںلے گئے جوشیخ رحمت اللہ صاحب دیاکرتے تھے۔ مان لیا کہ وہ ترجمہ قرآن اور کتب وغیرہ اس چندہ کے بدلہ میں لے گئے جو ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب دیا کرتے تھے۔ مان لیا کہ وہ ترجمہ قرآن اور کتب وغیرہ اس چندہ کے بدلہ میں لے گئے جو ڈاکٹر سید محمدحسین شاہ صاحب دیاکرتے تھے۔ ہم نے ان تمام باتوںکو تسلیم کر لیا۔مگر سوال یہ ہے کہ دنیاکا وہ کونسا قانون ہے جس کے مطابق قوم کے چندہ اور قوم کے روپیہ سے تیار ہونے والی چیز مولوی محمدعلی صاحب کی ذاتی ملکیت بن جائے۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ ایک شخص باغ سے انگور کاٹوکرا اُٹھا کر گھر کو لئے جارہا تھاکہ باغ کے مالک کی اس پرنظر پڑ گئی او ر اُس نے پوچھا کہ تم میرے باغ سے انگور توڑ کر اور ٹوکرے میں بھر کر کس کی اجازت سے اپنے گھر لئے جارہے ہو وہ کہنے لگا پہلے میری بات سن لیجئے اور پھراگر کوئی الزام مجھ پر عائد ہوسکتا ہو تو بے شک مجھ پر عائد کیجئے۔ مالک آدمی تھا شریف اُس نے کہا بہت اچھا پہلے اپنی بات سناؤ وہ کہنے لگا بات یہ ہے کہ میںراستہ میںچلا جا رہاتھا کہ ایک بگولہ آیا اور اس نے اُڑا کر مجھے آپ کے باغ میں لا ڈالا۔ اب بتایئے اس میں میر ا کیا قصور ہے ۔ مالک بہت رحم دل تھااس نے کہا کہ اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں بلکہ مجھے تم سے ہمدردی ہے۔ وہ کہنے لگا، آگے سنیئے۔اتفاق ایسا ہوا کہ جہاںمیں گرا وہاں جابجا انگوروں کی بیلیں لگی ہوئی تھیں ایسے وقت میں آپ جانتے ہیںکہ انسان اپنی جان بچا نے کیلئے ہاتھ پاؤں مارا کرتا ہے ۔ میں نے بھی ہاتھ پاؤں مارے اور انگوروں نے گرناشروع کردیا۔ بتایئے اِس میں میرا کوئی قصور ہے ؟ وہ کہنے لگا قصور کیسا اگر تمہاری جان بچانے کے لئے میرا ساراباغ بھی اجڑ جاتا تو مجھے اس کی کوئی پرواہ نہ ہوتی۔ پھروہ کہنے لگا کہ جب انگور گرنے لگے تونیچے ایک ٹوکرا پڑا تھا انگور ایک ایک کر کے اس ٹوکرے میںاکٹھے ہوگئے۔ فرمایئے اس میںمیرا کیاقصور ہے مالک نے کہا یہ تم عجیب بات کہتے ہو۔ میںنے مانا کہ بگولہ تمہیں اُڑا کر میرے باغ میں لے گیا، میں نے مانا کہ تم ایسی جگہ گرے جہاں انگور کی بیلیں تھیں، میں نے مانا کہ تم نے اپنی جان بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارے تو انگور گرنے لگے، میں نے مانا کہ اُس وقت وہاں کوئی ٹوکرا پڑا تھاجس میں انگور اکٹھے ہوتے چلے گئے۔ مگر تمہیںیہ کس نے کہا تھا کہ ٹوکرا سر پر اُٹھا کر اپنے گھر کی طرف لے جاؤ۔ وہ کہنے لگا بس یہی بات میں بھی سوچتا آ رہا تھاکہ یہ کیا ہوگیا ۔تو میں نے مان لیا کہ یہ لوگ چندہ دیاکرتے تھے، میں نے مان لیا کہ ان چندوں کی وجہ سے اِن لوگوںکو اِس بات کا حق حاصل تھا کہ انجمن کی ایک چیز کو غاصبانہ طور پر اپنے ساتھ لے جائیں ۔ مگر مولوی محمد علی صاحب کے ہاتھ میں وہ ترجمہ دے کرانہیں یہ کس نے کہا تھا کہ وہ اسے اپنے گھر لے جائیں ۔
    اگر ترجمہ قرآن کی تمام آمد انجمن اشاعت اسلام لاہور کے کاموں پر خرچ ہوتی اور مولوی محمد علی صاحب کو اس سے ایک حبہ بھی نہ ملتا تو کہا جاسکتا تھاکہ یہ انجمن کی چیز تھی اور انجمن کے پاس ہی رہی ۔ مگر وہ ترجمہ قرآ ن جس کے حقوقِ ملکیت یا تو ہمیں حاصل تھے یا بطریق تنزل انجمن اشاعت اسلام لاہور کو۔ اس کے حقوق مولوی محمد علی صاحب کو کیونکر مل گئے اور ان کے لئے یہ کیونکر جائز ہوگیا کہ وہ اس کی آمد کو اپنے آ پ پر اور پنے اہل وعیال پر خرچ کریں ۔ یہ سوال ہے جو غیر مبائعین کے سامنے پیش کرنا چاہیے کہ دوسروںپر اعتراض کرنے سے پہلے تم اپنے گھر کا تو جائزہ لو او ربتاؤکہ مولوی محمد علی صاحب کو کس طرح یہ حق حاصل تھا کہ وہ ترجمہ قرآ ن اُٹھا کراپنے گھر لے جاتے۔ اور پھر ساتھ ہی ان سے یہ بھی پوچھ لوکہ آیا ہمیں بھی اس بات کی اجازت حاصل ہے کہ جو لوگ ہماری جماعت میںتم میں سے نکل کر شامل ہوئے ہیں اور تمہیںسینکڑوں روپے بطور چندہ دیتے رہے ہیں وہ تمہارا مال اُٹھا لیں اور کیاتم اس پر بُرا تو نہیں مناؤ گے اور کیا اسی قانون کے مطابق انہیں غیر مبائعین کی چیزیں ہتھیا لینے کا حق حاصل ہے یانہیں؟
    اِسی طرح ان کے جو نئے دوست مصری صاحب پیدا ہوئے ہیں۔ ان کے متعلق بھی جماعت کوبعض ضروری باتیں یاد رکھنی چاہئیں ۔ مصری صاحب اب دراصل انہیں کی پارٹی میں ہیں ۔گو ظا ہر وہ یہ کرتے ہیں کہ ان کا غیر مبایعین کے عقائد کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔ پیغامی لوگ بھی انکی باتیں اپنے اخبارات کے ذریعہ خوب پھیلاتے رہتے ہیں ۔ ان کے متعلق ’’فاروق ‘‘ میںایک مضمون شائع ہوا ہے جو بہت ہی لطیف ہے ۔ سید احمد علی صاحب مولوی فاضل اس مضمون کے لکھنے والے ہیں۔ اس میں انہوں نے دوحوالے ایسے جمع کردیئے ہیں جو بہت ہی کارآمد ہیں اور جماعت کے دوستوں کو چاہئے کہ وہ ان حوالوں کو یاد رکھیں۔ ان میں سے ایک حوالہ میں انہوں نے غیرمبائعین کو غلطی پر قرار دیا ہے اور دوسرے حوالہ میں انہوں نے ہمیں غلطی پر قرار دیا ہے ۔ اب جب کہ مصری صاحب کے نزدیک ہم بھی غلطی پر ہوئے اور غیر مبائعین بھی غلطی پر ہوئے تو سوال یہ ہے کہ پھر سچائی پر کون قائم ہے اور وہ کونسی جماعت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام کی صحیح تعلیم کی حامل ہے؟ اس صورت میںتو گویانہ ہماری جماعت اُس تعلیم پر قائم ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دی اور نہ غیر مبائعین اُس تعلیم پرقائم ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دی۔ صرف مصری صاحب اور ان کے بیٹے ہی باقی رہ جاتے ہیں اور غالباً ان کے نزدیک وہی ہیں جو سچائی پر قائم ہیں ۔
    پس یہ سوال بھی نہایت اہم ہے او ر اِس قابل ہے کہ اُن سے دریافت کیاجائے کہ آخر وہ کون سی جماعت ہے جوحضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام قائم کر کے گئے تھے اور جو آپ کے بتائے ہوئے صحیح راستہ پر چل رہی ہے ۔ جب ایک طرف وہ ہمیں غلطی پر قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف غیر مبائعین کو غلطی پر قراردے چکے ہیں تووہ کون سی جماعت رہ گئی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت ہے اور وہ جس کے متعلق کہہ سکتے ہیں کہ وہ سچائی پر قائم ہے۔ یاتو وہ یہ کہیں کہ اب دلائل سے انہیںمعلوم ہوگیا ہے کہ غیرمبائعین ہی حق پر ہیں اور نبوت وغیرہ مسائل کے متعلق جو عقائد وہ پہلے رکھتے تھے وہ درست نہیں تھے اور اس صورت میں بے شک وہ سوال قائم نہیں رہیگا جو موجودہ حالت میں ان پر عائد ہوسکتا ہے ۔ لیکن اس صورت میں مومنوںکی طرح دلیری سے کام لیتے ہوئے انہیںکہہ دینا چاہئے کہ پہلے میںغلطی پرتھا۔ اب مجھے پتہ لگ گیا کہ غیر مبائعین ہی حق پر ہیں۔ ہمارے متعلق تو وہ بار بار کہتے ہیں کہ میں مومنانہ جرأ ت کی وجہ سے ان باتوں کو چھپا نہیںسکتا جو میرے علم میںآئیں۔ پھر کیوںیہی مؤمنانہ جرأت غیر مبائعین کے متعلق ان سے ظا ہر نہیںہوتی۔
    پس اگر وہ سمجھتے ہیں کہ غیرمبائعین کے عقائد درست ہیں اور وہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صحیح تعلیم کے حامل ہیں تووہ جرأت سے کام لیتے ہوئے ایسا اعلان کردیں ۔ مگر جب تک وہ ایسا اعلان نہیں کرتے یہ سوال بدستور قائم رہے گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وہ کونسی جماعت ہے جو صحیح رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منشاء کو پورا کررہی ہے ۔ کوئی اِس بات کو اچھا کہے یا بُرا یہ ایک حقیقت ہے اور اس کا کوئی انکار نہیںکرسکتا کہ پیغامی کچھ نہ کچھ کام کررہے ہیں ۔ بعض علاقوں میں انہوں نے اپنے مبلغ بھی بھیجے ہوئے ہیں۔ لٹریچر اور کتابیں بھی شائع کرتے رہتے ہیں اور تبلیغ اسلام کے لئے بھی کوششیں کرتے رہتے ہیں ۔ اس کے مقابلہ میں ہم ہیں ہم پر بھی کوئی لاکھ اعتراض کرے ہمارے کام کواچھا کہے یا بُرا یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم بھی کچھ نہ کچھ کا م کر رہے ہیں ۔ ہم نے اپنے مبلغ دنیا کے مختلف مما لک میں بھجوائے ہوئے ہیں ۔ کوئی چین میں تبلیغ کررہا ہے، کوئی جاپان میں تبلیغ کر رہا ہے، کوئی یورپ میں تبلیغ کر رہا ہے، کوئی امریکہ میں تبلیغ کر رہا ہے ۔ اِسی طرح ہم اپنا لٹریچر اور کتابیں شائع کرتے رہتے ہیں ۔ یہ کام اچھا ہے یا بُرا اس سے قطع نظر دیکھنے والی بات یہ ہے کہ اس وقت دوجماعتیں ہیں اور دونوں اپنی اپنی جگہ کام کر رہیں ہیں مگر یہ دونوں مصری صاحب کے نزدیک غلط راہ پر ہیں۔ چنانچہ غیر مبائعین کے متعلق وہ آج سے اٹھارہ سال قبل کہہ چکے ہیں کہ وہ خوارج کے گروہ کی طرح ہیں ۔ اور ہمارے متعلق انہوں نے اب کہا ہے کہ یہ بھی خوارج کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ۔ پس جب دونوں جماعتیں ہی صحیح راستہ سے منحرف ہیں تواب سوال یہ ہے کہ پھردنیامیں صرف ایک ہی جماعت رہ گئی جوصداقت پر قائم ہے اور وہ مصری صاحب اور ان کے بیٹے ہیں ۔
    پس ہمیںیہ دیکھنا چاہئے کہ انہوں نے اسلام کی اشاعت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کو پھیلانے کے لئے کیا کیا ۔مصری صاحب جب سے علیحدہ ہوئے ہیں ان کا سارا زور ہمارے خلاف صرف ہورہاہے ۔ نہ وہ آریوں کے خلاف لکھتے ہیں‘ نہ وہ عیسائیوں کے خلا ف لکھتے ہیں،نہ وہ ہندوؤں کے خلاف لکھتے ہیں ،نہ وہ پیغامیوں کے خلاف لکھتے ہیں۔ گویا آج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا (نَعُوْذُ بِاللّٰہ) کوئی نام لیو ادنیا میں باقی نہیں اورجو مصریوں کی شکل میںباقی ہیں وہ بھی اسلام کی خدمت کاکوئی کام سرانجام نہیں دے رہے ۔ مصری صاحب کہہ سکتے ہیں کہ میر ایہ بھی کام ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک مومن کو اپنی نگاہ ہر طرف رکھنی چاہئے ۔
    پس اگر انہیںہم میںنقائص دکھائی دیتے ہیں تو وہ بے شک ہم پراعتراض کریں کیونکہ میرے نزدیک اگر ہم انہیں یہ کہیں کہ ہم پر اعتراض نہ کرو احرار پرکرو، یا ہم پر اعتراض نہ کرو عیسائیوں پر کرو، یاہم پر اعتراض نہ کرو آریوںپر کرو تو یہ کسی صورت میںدرست نہیں ہوگا۔ مومن کا کام ہے کہ وہ ہرطرف توجہ رکھے ۔ پس ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ ہم پر اعتراض نہ کریں بلکہ اگر وہ ہمیں غلطی پر سمجھتے ہیں تو یقینا ان کا حق ہے کہ وہ ہمارے خلاف جدوجہد کریں۔ لیکن ایک سوال ہے جس کو وہ کبھی حل نہیں کرسکتے کہ کیا یہ فتنہ جو مصری صاحب کے نزدیک بڑافتنہ ہے یہ تو اس بات کا حق رکھتا ہے کہ مصری صاحب اپنی تمام کوششیں اس کو مٹانے کیلئے وقف کردیں مگر وہ فتنے جنہیں خدا اور اس کے رسول نے بڑا قرار دیا ہے ان کو مٹا نے کے لئے مصری صاحب کے لئے کسی قسم کی جدو جہد کرنا جائز نہیں۔کیا مصری صاحب کوکبھی آریوں کے خلاف کچھ لکھنے کی بھی توفیق ملی؟ یا عیسائیوںکے خلاف بھی انہوں نے کچھ لکھا؟ یااحرار کے متعلق ہی کبھی انہوں نے دوچار مضمون لکھے؟ انہوں نے کبھی آریوںکے خلاف کچھ نہیںلکھا۔انہوں نے کبھی عیسائیوں اور احرا ر وغیرہ کے خلاف کچھ نہیںلکھا کیونکہ وہ جانتے ہیںکہ اگرانہوںنے ان کے خلاف لکھا تو ان کی جتھہ بندی ٹوٹ جائے گی اور وہ مدد جو انہیں احرار اور پیغامیوں سے مل رہی ہے وہ جاتی رہے گی۔ مگر کیا خدا اور رسول کا یہ حق نہیں کہ جن فتنوں کو انہوںنے بڑ اقرار دیا ہے انہیں بڑا سمجھا جائے ۔اور کیا یہ مصری صاحب کوہی حق حاصل ہے کہ جس فتنہ کو وہ بڑا سمجھیں وہ بڑ ابن جائے ۔ قرآن کریم نے دجالی فتنہ کو بہت بڑا فتنہ قرار دیا ہے حتیٰ کہ قرآن کریم میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ قریب ہے اِس فتنہ سے آسمان پھٹ جائے زمین تہہ و بالا ہوجائے اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں ۲؎۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب سے دنیا پید اہوئی ہے دجالی فتنہ سے بڑا فتنہ کوئی نہیں ہوا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام نے آریوں کے فتنہ کو بہت بڑا فتنہ قرار دیا ہے لیکن وہ کبھی آریوں کے خلاف نہیںلکھتے ۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر میں نے آریوں کے خلاف کچھ لکھا تو قادیان کے آریوں سے جو مدد مجھے مل رہی ہے وہ بند ہوجائے گی۔ اسی طرح وہ کبھی عیسائیوںاور ہندوؤں اور دوسرے مذاہب کے خلاف نہیںلکھتے اور اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام جس غرض کے لئے دنیا میں مبعوث فرمائے گئے تھے وہ آج کہیں پوری نہیںہورہی کیونکہ مصری صاحب کے نزدیک ہم بھی گمراہ اور مصری صاحب کے نزدیک غیرمبائعین بھی گمراہ اور پھر خود مصری صاحب بھی گمراہ۔ کیونکہ ان کی توجہ اس کام کی طرف ہے ہی نہیں جس کے لئے حضر ت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مبعوث فرمائے گئے تھے۔ نتیجہ یہ ہو ا کہ مصری صاحب کے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی وفات کے بعد جو کچھ چھوڑا وہ گمراہی ہی گمراہی تھی جو قاد یان میں بھی ظاہرہوئی ،جو لاہور میں بھی ظا ہر ہوئی، اورجومصری صاحب کے گھر میںبھی ظاہر ہوئی۔
    کیاکوئی بھی معقول انسان تسلیم کر سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا وہ مسیح جس کی نوحؑ نے خبر دی، خدا تعالیٰ کا وہ مسیح جس کی ابراہیم ؑ نے خبر دی، خدا تعالیٰ کا وہ مسیح جس کی موسیٰؑ نے خبر دی، خدا تعالیٰ کا وہ مسیح جس کی عیسیٰؑ نے خبر دی، خدا تعالیٰ کا وہ مسیح جس کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ، جس کی یا د میں ہزاروں نہیں لاکھوں اَئمہ دین اورصلحاء و اولیاء دعائیں کرتے ہوئے اِس جہان سے سے گزر گئے۔ وہ اس جہان میںآیا اورچلا گیا اور سوائے گمراہی اور ضلالت کے دنیا میں کچھ چھوڑنہیں گیا۔
    پس یا توغیر مبائعین مصری صاحب سے یہ اعلان کروادیں کہ انہوںنے پیغامیوں کے متعلق جو کچھ لکھا تھا وہ صحیح نہیںتھااور یہ کہ اب انہیں غور کرنے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ پیغامی ہی حق پر ہیں ۔ اس صورت میں بے شک ان کا پہلو مضبوط ہو سکتا ہے اوروہ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس جماعت کو سچائی پر قائم کیا اور جو صحیح معنوں میں آپ کی جماعت کہلا سکتی ہے وہ غیرمبائعین کی ہے ۔ لیکن جب تک وہ یہ اعلان نہیںکرتے کہ پیغامی حق پر ہیں اُس وقت تک گویا ان کے نزدیک اس وقت روئے زمین پر کوئی جماعت بھی ایسی نہیں جو صداقت اور راستی پر قائم ہو ۔ کیونکہ غیر مبائعین کی گمراہی کے متعلق ان کا پہلا عقیدہ اب تک قائم ہے اور گمراہی کے متعلق ان کے موجودہ اعلانات موجود ہیں اور ان کی اپنی گمراہی اس طرح ظاہر ہے کہ وہ اپنا سارا زور اس فتنہ کے مٹانے کیلئے صرف کر رہے ہیں جو ان کے نزدیک بڑا ہے مگر جنہیں خدا اوراس کے رسول نے بڑا فتنہ قرار دیا ہے ان کے استیصال اوراسلام کی اشاعت کی طرف ان کی کوئی توجہ نہیں۔ حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کواللہ تعالیٰ نے اس غرض کے لئے مبعوث نہیں فرمایا تھا کہ آپ کے ذریعہ پہلے ایک جماعت قائم کرے اور پھر آپ کی وفات کے ساتھ ہی اس میں بگاڑ پیدا کردے اور کچھ عرصہ کے بعد اس کی اصلاح کے لیے کسی کو کھڑ اکر دے۔ کیا دنیا میں کوئی شخص ایسا بھی ہوا کرتا ہے جو مکان بنائے اور پھر توڑ ڈالے اور توڑنے کے بعد پھر اُسے بنانا شروع کر دے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض صرف یہ تھی کہ آپؐ دنیاکی اصلاح کریں اور یہی کام ہے جو آپؐ کی جماعت کے سپرد ہے۔ پس جب ہم بھی گمراہ ہیں۔جب غیرمبائعین بھی گمراہ ہیں اور جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحیح تعلیم پر صرف مصری صاحب اور ان کے بیٹے ہی قائم ہیں تو کیا ان کا فرض نہیںتھا کہ وہ اس تین سالہ عرصہ میں عیسائیوںکے خلاف لکھتے ،آریوں کے خلاف لکھتے ، مذاہب باطلہ کاردّ کرتے اور اسلام کی شوکت اور عظمت ان پر ظاہر کرتے ۔ مگر کیا وہ بتاسکتے ہیں کہ اس تین سال کے عرصہ میں انہوں نے کیا اصلاح کی اور کتنے آریوں اورعیسائیوں پر اتمام حجت کی۔ یا کیاوہ اب اس بات کے لئے تیار ہیں کہ آریوں اور احرار وغیرہ کے خلاف لکھیں گے؟ تو یقینا وہ کبھی ایسا نہیںکریںگے۔ کیونکہ ان کے اس فتنہ کی بنیاد ہی آریوں اور احرار کی مدد پر ہے اور وہ جانتے ہیں کہ وہ انہیں کی مدد پر جی رہے ہیں ۔اگر وہ ان کے خلاف لکھیں تو ان کا خداہی مرجائے۔ پس ان کے خلاف لکھنے کی وہ کبھی جرأت نہیں کرسکتے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج دنیامیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لائی ہوئی تعلیم کے ماتحت کوئی جماعت بھی کام نہیں کر رہی۔ ہم نہیں کررہے کیونکہ مصری صاحب کے نزدیک ہم گمراہ ہیں ۔ غیر مبائعین نہیںکررہے کیونکہ مصری صاحب کے نزدیک وہ بھی گمراہ ہیں اور میںبتا چکا ہوں خود مصری صاحب بھی یہ کا م نہیں کر رہے پس وہ بھی گمراہ ہوئے اور جب تمام کے تمام گمراہی پر قائم ہیں تو سوال یہ ہے کہ وہ کون سی جماعت ہے جو حضر ت مسیح موعود علیہ السلام نے قائم کی تھی اور جسے آپ کی بتائی ہوئی تعلیم کے ماتحت دنیا میں کام کرنا چاہئے تھا۔
    غرض یہ وہ باتیںہیں جو جماعت کو ہر وقت اپنے سامنے رکھنی چاہئیں اور وقتاً فوقتاً ان لوگوںکے سامنے انہیںپیش کرتے رہنا چاہئے ۔پھر اس امر کو بھی مدنظر رکھناچاہئے کہ مخالف کے سوالات کا جواب دینے سے پہلے دلائل پر پوری طرح غور کر لیا جائے اور سوچ سمجھ کر اور فکر سے کام لے کر سوالات کا جواب دیاجائے ۔ بعض دفعہ غور سے کا م نہیںلیاجاتا اور یونہی جواب دے دیا جاتا ہے ۔ یہ درست طریق نہیں ۔ مثلاً آجکل ذرّیت مبشرہ کے متعلق بحث ہو رہی ہے ۔ میرے نزدیک سب سے پہلی چیز یہ تھی کہ لغت کے لحاظ سے اس پر بحث کی جاتی۔ اگر ہماری جماعت کے دوست لغت کے لحاظ سے اس پر بحث کرتے تو اس بحث کاخاتمہ ہی ہوجاتا ۔ اسی طرح بعض اور سوالات کا جواب دیتے وقت بھی میرے نزدیک پرانے لٹریچر کو نہیں پڑھاگیا۔اسی طرح ایک اور بحث بھی ہے مگر میں اُس کا نام نہیںلیناچاہتا تاکہ مخالف ہوشیار نہ ہو جائے۔ مگر اس کے متعلق بھی ایسے رنگ میں بحث کی جاسکتی تھی کہ مخالف اپنے منہ سے آپ ہی مجرم بن جاتا۔
    پھریہ بات بھی یاد رکھو کہ گناہ دوقسم کے ہوتے ہیں ایک ظاہر گناہ ہوتے ہیںاور ایک مخفی گناہ ۔ جو گناہ کسی کے باطن سے تعلق رکھتے ہیں ان کے متعلق شریعت نے ہمیں یہ ہدایت دے دی ہے کہ ہم ان کے بارہ میں جستجو نہ کیاکریں لیکن جو ظاہر گناہ ہوتے ہیں وہ چونکہ ہر ایک کو دکھائی دیتے ہیں اس لئے ان کے بارہ میں تجسس کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
    اب دیکھو کیا یہ عجیب نہیں کہ یہ نئی پارٹی جوہمارے خلاف نکلی ہے اسی طرح جو پیغامی ہمارے خلاف مضامین لکھتے رہتے ہیں ان میں سے اکثر ڈاڑھی مُنڈے ہوتے ہیں۔ اب بتاؤ کیا اللہ اوراس کے رسول کی حمایت کا جوش انہیںلوگوںمیںزیادہ ہو اکرتا ہے جو شریعت کی اس طرح کھلے طورپر ہتک کرنے والے ہوں ۔وہ اصلاح کا دعویٰ کرتے ہوئے اُٹھے ہیں مگر ان کے اپنے بیٹے اور رشتہ دار اور دوسرے قریبی سب ڈاڑھیاں مُنڈوا تے ہیں۔ وہ ہمارے خلاف جب لکھنے پراُترتے ہیں تو وہ ہمارے ان گناہوں کے متعلق بھی لکھ جاتے ہیں جو مخفی ہوتے ہیں اور جن کے متعلق شریعت انہیںیہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ ان کا ذکر کریں مگر کیاانہوںنے اپنا منہ کبھی شیشہ میں نہیںدیکھا اور کیا مصلح ایسے ہی ہو اکرتے ہیں۔ ممکن ہے وہ کہہ دیںکہ ہم نے کبھی شیشہ استعمال نہیں کیامگر خدا نے ان کو آنکھیںتو دی ہیں وہ دیکھ سکتے ہیں کہ ان کے اپنے بیٹوں اور بھتیجوںاور دوسرے رشتہ داروں کی کیا صورت ہے اور کیا ایسی صورتیں ہی لوگوںکی اصلاح کیاکرتی ہیں ۔
    پھر ان لوگوںکے اخلاق کی حالت یہ ہے کہ میں ابھی سندھ میں ہی تھاکہ وہاں مجھے ایک رسالہ ملا جس میں لکھنے والے نے یہ ذکر کیا تھاکہ میں نے ایک رجسٹر ڈ خط آپ کوبھجوایا تھاجس میں فلاں بات میں نے بیان کی تھی مگر اس کا مجھے کوئی جواب نہیںملا ۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ خط دفتر نے میرے سامنے پیش ہی نہیںکیاتھا۔ کیونکہ جیسا کہ انہوںنے مجھے بتایا انہوں نے اس کے پیش کرنے کی ضرورت نہ سمجھی اور دفتر متعلقہ میں بھجوادیا۔ بہرحال وہ رسالہ شیخ غلام محمد صاحب کا تھا جو اِنہیں پیغامیوں میں سے الگ ہوکر آجکل مصلح موعود ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ میں اُن دنوں چونکہ قدرے فارغ تھا اس لئے میں نے اس رسالہ کو کھولا اور اسے پڑھنا شروع کردیا۔ اس رسالہ میںلکھا ہوا تھاکہ ایک پیغامی ڈاکٹر یہ بیان کرتا ہے کہ میں مرزا محمود احمد صاحب سے قادیان ملنے کیلئے گیاتو مجھے معلوم ہوا کہ انہوںنے شراب پی ہوئی ہے اور جب انہیں پتہ لگا کہ میں ان سے ملاقات کرناچاہتا ہوں تو وہ ڈر سے کہ نشہ چڑھا ہوا ہے ایسا نہ ہو کہ اسے پتہ لگ جائے۔ چنانچہ انہوںنے ملاقات میں دوتین گھنٹے دیر لگا دی اور کہہ دیا کہ میں ابھی نہیںمل سکتا ۔ دو تین گھنٹے انتظار کے بعد انہوں نے مجھے بلوایا اور میں نے جاتے ہی فوراً پہچان لیا کہ انہوں نے شراب پی ہوئی تھی کیونکہ ان کے منہ سے شراب کی بو آرہی تھی ۔ مگرانہوںنے اس بات کو چھپانے کے لئے عطر مل رکھا تھا۔ شیخ غلام محمد صاحب نے اس رسالہ میں یہ بھی لکھا تھا کہ میں نے اس مضمون کا رجسٹری خط امام جماعت احمدیہ کو بھجوایا تھامگر مجھے اس کا کوئی جواب نہیںملا ۔ اب میں انہیں اس رسالہ کے ذریعہ توجہ دلاتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ پیغامیوںکے حلقہ میں آپ کے متعلق یہ بات زور سے پھیلی ہوئی ہے ۔ میں نے پرائیویٹ سیکرٹری کو ہدایت دی کہ آپ اس پیغامی ڈاکٹر کو ایک رجسٹرڈ خط لکھیں جس میں اُن سے دریافت کریں کہ یہ بات جو شائع ہوئی ہے کہاں تک درست ہے۔ ہمار ایہ حق نہیں کہ ہم خود بخود یہ فیصلہ کرلیں کہ آپ نے واقعہ میں یہ کہاہوگا۔ چونکہ یہ بات شائع ہوچکی ہے اس لئے آپ ہمیں بتائیں کہ یہ بات صحیح ہے یا غلط میری غرض یہ تھی کہ اگر اُنہوںنے جواب دیا تو اصل بات خود ان کی زبان سے معلوم ہوجائے گی اور اگر جواب نہ دیا تو یہ اِس بات کا ثبوت ہوگا کہ انہوں نے واقعہ میںیہ بات کہی ہے ۔ ایک مہینہ گزرنے کے بعد میں نے پرائیویٹ سیکرٹری صاحب سے دریافت کیاکہ کیاان کا کوئی جواب آیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ کوئی جواب نہیں آیا ۔اِس سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ان لوگوں کی اخلاقی حالت کس قدر گری ہوئی ہے ۔
    حالانکہ واقعہ صرف یہ تھا کہ شیخ محمد نصیب صاحب کواپنے ہمراہ لے کروہ میری ملاقات کے لئے آئے۔ پرائیویٹ سیکرٹری نے کہا کہ آجکل ملاقاتیں توبند ہیںمگر چونکہ آپ خاص طور پر ملاقات کے لئے ہی آئے ہیں اس لئے میں اطلاع کرادیتا ہوں ۔ انہوںنے مجھے اطلاع کی اُس وقت میری بیوی ایک خادمہ کے ساتھ مل کر کمروںکی صفائی کر رہی تھی اور گردو غبار اُڑ رہا تھا۔ میں نے خیال کیا کہ اگر برآمدہ میںبھی ہم بیٹھے تو مٹی اور گرد کی وجہ سے انہیں تکلیف ہوگی اس لئے بہتر یہی ہے کہ پہلے کمروں کی صفائی کر لی جائے۔ چنانچہ میں نے انہیں کہا کہ کمروں کی صفائی ہو رہی ہے اور اِس وقت گردوغبار اُڑ رہا ہے صفائی ہولے تو میں ان کو بلوا لوں گا۔ انہیں پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے جا کر یہ بات کہی تو کہنے لگے کہ اچھا اس دوران میں ہم مقبرہ بہشتی وغیرہ دیکھ آتے ہیں چنانچہ وہ چلے گئے اور میں نے ساتھ مل کر جلدی جلدی مکان کو صاف کیااور پھرگھنٹی بجائی۔ پرائیویٹ سیکرٹری آئے تو میں نے انہیںکہا کہ اب انہیں ملاقات کیلئے لے آیئے۔ وہ کہنے لگے ابھی تو وہ آئے نہیں جب آئیں گے تو میں اطلاع کردوں گا چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد وہ آگئے اور میں نے انہیں ملاقات کے لئے بلا لیااور گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ تک ان سے باتیں کرتا رہا مگر باوجود اِس کے کہ میں نے ان سے اُن دنوں میں ملاقات کی جب کہ سب دوستوں سے ملاقاتیں بند ہیں اور باوجود اس کے کہ میں نے ان کیلئے اپنے وقت میں سے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ قربان کیا اور باوجود اس کے کہ میںنے ان ہی کی خاطر جلدی جلدی مکان کو صا ف کرایا اور خود بھی اس صفائی میںشریک ہوگیااور گردوغبار میں میں نے انہیں اس لئے نہ بلایا کہ انہیں تکلیف ہوگی اُنہوں نے اس احسان کا بدلہ یہ دیاکہ چونکہ ملاقات کرنے میں انہوں نے دیر لگائی تھی اس لئے معلوم ہوا کہ انہوںنے شراب پی ہوئی تھی۔ اگر یہ اصول درست ہے تو اس کے بعد ہمارا بھی حق ہو گا کہ مولوی محمد علی صاحب سے اگر کوئی مبائع ملنے کے لئے جائے اور وہ نہ ملیں یا ملنے میںدیر لگا دیں تو ہم کہہ دیں گے کہ مولوی محمد علی صاحب نے شراب پی ہوئی تھی اس لئے انہوں نے ملاقات میںدیر لگادی۔ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اِس سنت پر کہ آپ عطر ملا کرتے تھے ۳؎ عطر کے متعلق آپ نے فرمایا ہے کہ وہ مجھے بہت ہی محبوب ہے، عمل کرنااس بات کا ثبوت ہے کہ عطر لگانے والے نے شراب پی ہوتی ہے تو پھر ہمارا بھی حق ہو گا کہ ہم مولوی محمد علی صاحب کو جب عطر لگائے ہوئے دیکھیں کہہ دیں کہ انہوں نے شراب پی ہوئی تھی جس کی بو کو دور کرنے کے لئے انہوںنے عطر لگا لیا۔ حالانکہ عطر وہ چیز ہے جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے دنیا میں جو چیزیں محبوب ہیں ان میںایک عطر بھی ہے ۔۴؎
    مجھے بھی عطر بڑ ا محبوب ہے اور میں ہمیشہ کثرت کے ساتھ عطر لگا یا کرتا ہوں ۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ میں بخاری ہاتھ میں لئے حضرت خلیفہ اوّل سے پڑھنے کے لئے جارہا تھاکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مجھے دیکھ لیااور فرمایاکہاں جارہے ہو؟ میں نے عرض کیا حضرت مولوی صاحب سے بخاری پڑھنے جا رہا ہوں۔ فرمانے لگے مولوی صاحب کو میری طرف سے کہناکہ ایک حدیث میں یہ ذکر بھی آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن نئے کپڑے بدلتے اور عطر لگایا کرتے تھے اِس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل اپنی سادگی میں بعض دفعہ بغیر کپڑے بدلے جمعہ کے لئے تشریف لے آیا کرتے تھے۔ میں نے جاکر اِسی رنگ میںذکر کر دیا ۔حضرت مولوی صاحب یہ سن کر ہنس پڑے اورفرمانے لگے حدیث تو ہے مگر یوں ہی کچھ غفلت ہوجاتی ہے۔ تو عطرلگانا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے مگر ان کے نزدیک جو شخص عطر ملتا ہے وہ اس بات کا ثبوت مہیا کرتا ہے کہ گویا اس نے شراب پی ہوئی تھی جس کی بو کوزائل کرنے کیلئے اس نے عطر لگا لیا۔ ایسے لوگوںکوملاقات کا موقع دینا میرے نزدیک ظلم ہے کیونکہ عقلمند لوگ کہا کرتے ہیں کہ جولوگ اہل نہ ہوں ان پر احسان بھی نہیںکرنا چاہئے ۔ پس یہ لوگ اس قسم کے اخلاق کے مالک ہیں کہ ان کے ساتھ شرافت اور خوش خلقی کے ساتھ پیش آنا بھی اپنا نقصان آپ کرنا ہے۔
    ذرا غور کرو کہ ملاقاتیں بند تھیں میں اپنی جماعت کے دوستوں سے بھی نہیںملتا تھا۔ گھر میں صفائی ہورہی تھی، گرد اُڑ رہی تھی سامان اِدھراُدھر بکھرا ہواتھااور میںمحض اس لئے کہ ایک پیغامی دوست ملنے کے لئے آئے ہیں جلدی جلدی صفائی کروانے لگا اور خود بھی اس صفائی میںشریک ہوا اور جب ان صاحب کو ملاقات کا موقع دیا تو وہ گھر جاکر کہنے لگ گئے کہ انہوں نے شراب پی ہوئی تھی تبھی ملنے میںدیر لگائی۔ یہ لوگ اگر دنیاکی اصلاح کرنے والے ہیںتو پھر اصلاح ہوچکی۔ مگر اس قسم کے صرف چند لوگ ہی ہیں ۔ میںنہیں سمجھتا کہ سارے غیرمبائعین ایسے ہی ہوں آخر ان میںشریف اور نیک لوگ بھی ہیں تبھی بعض شریف الطبع لوگ ان سے علیحدہ ہو کر ہم میںشامل ہوتے رہتے ہیں۔ پس اس قسم کی عداوت رکھنے والے لوگ بہت کم ہوتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہو تو بڑے بڑے معاندین کو بھی ہدایت نصیب ہوجاتی ہے ۔
    ابھی سیالکوٹ میںایک دوست احمدیت میںداخل ہوئے ہیں۔ شیخ روشن الدین صاحب تنویر ان کا نام ہے اور وکیل ہیں۔جب مجھے ان کی بیعت کا خط آیا تو میںنے سمجھا کہ کالج کے فارغ التحصیل نوجوانوںمیں سے کوئی نوجوان ہوںگے مگر اب جو وہ ملنے کے لئے آئے اور شوریٰ کے موقع پر میں نے انہیںدیکھاتو ان کی داڑھی میںسفید بال تھے ۔ میں نے چوہدری اسداللہ خان صاحب سے ذکر کیا کہ میں یہ سمجھتا تھا کہ یہ نوجوان ہیں اور ابھی کالج میں سے نکلے ہیں مگر ان کی تو داڑھی میںسفید بال آئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ تو دس بارہ سال کے وکیل ہیں ۔ پہلے احمدیت کے سخت مخالف ہوا کرتے تھے مگر احمدی ہو کر تواللہ تعالیٰ نے انکی کایا ہی پلٹ دی ہے ۔
    اِسی طرح قادیان کا ہی ایک واقعہ ہے جو حافظ روشن علی صاحب نے سنایا وہ فرماتے تھے کہ میںایک دفعہ جلسہ سالانہ کے ایا م میں مدرسہ احمدیہ کی طرف سے آرہا تھا کہ میںنے دیکھا ایک چھوٹی سی ٹولی جس میں چار پانچ آدمی ہیں مہمان خانے کی طرف سے آرہی ہے اور دوسری طرف ایک بڑی ٹولی جس میںچالیس پچاس آدمی ہیں باہر کی طرف سے آرہی ہے وہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو دیکھ کر ٹھہر گئیں اور پھر انہوں نے آگے بڑھ کر آپس میں لپٹ کرروناشروع کر دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھ پر اِس نظارے کا عجیب اثر ہوا او رمیں نے آگے بڑھ کراُن سے پوچھا کہ تم روتے کیوں ہو؟ اس پر وہ جو زیادہ تھے انہوںنے بتایا کہ بات یہ ہے کہ یہ لوگ جو آپ کوتھوڑے نظر آرہے ہیں یہ ہمارے گاؤں میں سب سے پہلے احمدی ہوئے ۔ ہم لوگوں کو ان کا احمدیت میں داخل ہونا اتنا بُرا معلوم ہوااتنابُرا معلوم ہوا کہ ہم نے ان پر ظلم کرنے شروع کر دیئے اور یہاں تک ظلم کئے کہ یہ اپنی جائیدادیں اور مکان وغیرہ چھوڑ کر دور کسی اور شہر میں جا بسے۔ کچھ عرصہ کے بعد ہمیںبھی خدا تعالیٰ نے ہدایت دی اور ہم بھی احمدیت میںداخل ہوگئے لیکن نہ ہمیں ان کی خبر تھی کہ یہ کہاں ہیں اور نہ اِنہوںنے پھر ہمارے متعلق کوئی خبر حاصل کی ۔آج جلسہ سالانہ پر ہم آئے ہوئے تھے کہ اِدھر سے ہم آنکلے اور اُدھر سے یہ آنکلے اور ہم نے ایک دوسرے کوپہچان لیا۔ ہمیں ان کو دیکھ کر وہ وقت یاد آگیا جب ہم ان پر ظلم وستم کیاکرتے تھے اور جب خدا کی آواز پر لبیک کہنے کی وجہ سے ہم نے ان کوان کے گھروںسے نکال دیا اور انہیںبھی وہ زمانہ یا د آگیا جب ہم نے انہیںدُکھ دیئے تھے اور ہم دونوںبیتاب ہو کر رونے لگ گئے۔ تو بڑے بڑے دشمن ہدایت پا جاتے ہیں اور بڑے بڑے مخالف راہِ راست پر آجاتے ہیں پس تم یہ مت سمجھو کہ چونکہ غیر مبائعین تمہارے دشمن ہیں اِس لئے انہیں ہدایت نہیںمل سکتی۔ ہدایت خدا تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا فضل جب نازل ہو تو تمام کدورتیں دل سے چلی جاتیںہیں۔ ہاں بے شک انہوں نے جماعت میں تفرقہ پیدا کیا ہے اور اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کوانہوںنے اپنے اوپرناراض کیاہے ۔ مگر پھر بھی اللہ تعالیٰ کی بخشش وسیع ہے اور اس کی رحمتوںکا کوئی شمار نہیں ۔
    پس تم ناامید مت ہو اور تبلیغ میں لگے رہو اورصداقت ان کے سامنے متواتر پیش کرتے رہو تا ان میں سے جو سعید روحیں ہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو کھینچ کر ہماری طرف لے آئے اور اس فتنہ کو جس کے متعلق یہ مقدر معلوم ہوتا ہے کہ وہ کچھ نہ کچھ اور کسی نہ کسی صورت میں ضرور قائم رہیگا، جس حد تک کم ہوسکتا ہوکم کردے تاہدایت کو قبول کرنے کے راستہ میںجو روکیںحائل ہیں وہ زیادہ سے زیادہ دور ہو جائیں اور ہدایت کی تائید میں جو سامان ہیں وہ زیادہ سے زیادہ ترقی کرجائیں۔
    (الفضل۲۱ ؍اپریل ۱۹۴۰ء)
    ۱؎ البدر ۲؍ جون ۱۹۰۸ء صفحہ۶
    ۲؎ مریم: ۹۱
    ۳؎ بخاری کتاب اللباس باب الطیب فی الراس واللحیۃ
    ۴؎ مسند احمد بن حنبل جلد۳ صفحہ۱۲۸ دارالفکر بیروت

    خلافت کے مخالفین کا ذکر
    خطبہ جمعہ ۷ جون ۱۹۴۰ء میں حضور نے اپنے ایک خواب کا ذکر کرتے ہوئے خلافت کے مخالفین کا ذکر کیا آپ فرماتے ہیں:۔
    ’’ میں نے ایک خواب دیکھا پہلے تو میں سمجھتا تھا کہ اس کا مطلب کچھ او رہے مگر ا ب میںسمجھتا ہوں کہ شائد یہ ان کے اور ان کی قماش کے دوسرے لوگوں کے متعلق ہو۔ میں نے دیکھا کہ ایک چارپائی ہے جس پر میں بیٹھا ہوں۔ سامنے ا یک بڑھیا عورت جو بہت ہی کریہہ النظر ہے کھڑی ہے ا س نے دوسانپ چھوڑے ہیں جو مجھے ڈسنا چاہتے ہیں ۔ وہ چارپائی کے نیچے ہیں اور سامنے نہیں آتے تاجب میں نیچے اتروں تو پیچھے سے کود کر ڈس لیں۔ میرا احساس یہ ہے کہ ان میں سے ایک چارپائی کے ایک سرے پر ہے اور دوسرا دوسرے سرے پر تامیں جدھر سے جاؤں حملہ کرسکیں۔ میں کھڑا ہوگیا ہوں اور جلدی جلدی کبھی پائنتی کی طرف جاتا ہوں اور کبھی سرہانے کی طرف ۔ میں خیال کرتا ہوں کہ جب میں پائنتی کی طرف جاؤں گا تو سرہانے کی طرف کاسانپ اس طرف دوڑے گا اور جب سرہانہ کی طرف آؤں گا تو پائنتی والااس طرف آئے گا اوراس طرح میں ان کو جھانسہ دے کر نکل جاؤں گا ۔ پانچ سات مرتبہ اس طرح کرنے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ اب دونوں سانپ ایک ہی طرف ہیں اورمیں دوسری طرف سے کود پڑ ا۔ جب نیچے اترا تو میں نے دیکھاکہ واقعی وہ دونوں دوسری طرف تھے۔ میںفوراً ان کی طرف منہ کر کے کھڑا ہوگیا۔ ان میں سے ایک نے مجھ پر حملہ کیااور میں نے اسے مار دیاپھر دوسرے نے حملہ کیا اور میں نے اسے مارا۔مگر میں سمجھتا ہوں ابھی وہ کچھ زندہ سا ہی ہے۔ اس جگہ کے پہلو میں ایک علیحدہ جگہ ہے میں ہٹ کر اس کی طرف چلا گیا ہوں۔ وہاں ایک نہایت خوبصورت نوجوان ہے ۔ جومیںسمجھتا ہوں فرشتہ ہے اورگویا میری مدد کے لئے آیا ہے ۔ وہ عورت چاہتی ہے کہ اس سانپ کو پکڑ کرمجھ پر پھینکے ۔ مگر وہ نوجوان میرے آگے آگیااور میری حفاظت کرنے لگا۔ عورت نے نشانہ تاک کر اس پر مارا اورایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی فوق العادت طاقت کا ہے ۔ اس نے اسے سر سے پکڑ لیا اور چاقو نکال کر اس کی گردن کاٹ دی ۔ اس عورت نے پھر اس کٹی ہوئی گردن کو اُٹھایااور ہماری طرف پھینکناچاہتی ہے۔ کبھی اس کی طرف نشانہ باندھتی ہے اور کبھی میری طرف۔ مگر اس فرشتہ نے مجھے پیچھے کر دیااور خود آگے ہوگیااور اسے پھینکنے کا موقع نہیں دیتا۔ آخر ایک دفعہ اس عورت نے پھینکا مگر فرشتہ آگے سے ایک طرف ہوگیا۔ سامنے کچی دیوار تھی وہ اس دیوار میں لگا اور اس میں سوراخ ہوگیاوہ اس سوراخ کے اندر ہی گھس گیا۔ میری پیٹھ اس طرف ہے ۔ وہ فرشتہ ایک کمرہ کی طرف جوپہلو میں ہے اشارہ کرکے مجھ سے کہتاہے کہ تم ادھر ہوجاؤاس سوراخ میں سے یہ سانپ پھر نکلیں گے (گویا ان کی موت مجازی تھی ا ور جسمانی موت نہ تھی۔اورابھی وہ حقیقتاً زندہ تھے)۔ میں نے دیکھا کہ کبھی وہ اس سوراخ میں سے سرنکالتا ہے اور کبھی زبان ہلاتا ہے کبھی اِدھر اور کبھی اُدھر رُخ کرتا ہے۔ گویا چاہتا ہے کہ ہم ذراغافل ہوں تو حملہ کردے۔ جونہی وہ سر نکالتا ہے فرشتہ اس کوڈراتا ہے اور وہ جھٹ اندر چلاجاتا ہے ۔اتنے میں یکدم یوں معلوم ہوا کہ ایک کی بجائے دوسانپ ہیں اور گویا دوسرا سانپ جسے میں نے مرد ہ سمجھا تھا وہ بھی درحقیقت زندہ تھا۔ چنانچہ پہلے تو ایک ہی سوراخ تھامگر یکدم ایک اور نمودار ہوگیا اور دونوں سانپ ان سوراخوں میں سے کودے اور زمین پر گرتے ہی آدمی بن گئے ۔ جو بڑے قَوِیُّ الْجُثّہ ہیں۔ اس پر فرشتہ نے کسی عجیب سی زبان میںکوئی بات کی جسے میں نہیں سمجھ سکا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے اس نے کسی زبان میں جسے میں نہیںجانتا دعائیہ الفاظ کہے ہیں اور وہ الفاظ ’’ہاکی پاکی‘‘ کے الفاظ سے مشابہہ ہیں ۔ مگر چونکہ وہ غیرزبان ہے میں نہیں کہہ سکتا کہ یہی الفاظ ہیں یاان سے ملتے جلتے کوئی اور الفاظ ۔ اس کے دعائیہ الفاظ کا اس کی زبان سے جاری ہونا تھاکہ میں نے دیکھا دونوں حملہ آور قید ہوگئے اور ان میں سے جو میرے قریب تھا میں نے دیکھاکہ اس کے دونوں ہاتھ اوپر اُٹھے اور ان میں ہتھکڑیاں پڑگئیں مگر اس طرح کہ ایک کلائی دوسری کے اوپر ہے اور دایاں ہاتھ بائیں طرف کر دیاگیاہے اور بایاں دائیں طرف کردیاگیاہے اور اس کے علاوہ ایک کمان دونوں ہاتھوں پر رکھی گئی ہے اوراس کے ایک سرے سے ایک ہاتھ کی انگلیاں اور دوسرے سرے سے دوسرے ہاتھ کی انگلیاں باندھ دی گئی ہیں ۔ دوسرے آدمی کو کس طرح قید کیاگیا ہے میں اچھی طرح نہیں دیکھ سکا۔ پھرفرشتہ نے مجھے اشارہ کیاکہ باہر آجاؤ۔ یہ خواب جب میں نے دیکھایہ لوگ ابھی پوشیدہ تھے اور اندر ہی اندر اتحاد عالمین کے نام سے اپنی گدی بنانے کی سکیمیں بنارہے تھے۔ ان کے اندر خود پسندی اور خود ستانی تھی اور اپنی ولایت بگھارتے پھرتے تھے۔ لوگوں سے کہتے تھے کہ ہم سے دعائیںکراؤ ۔ حالانکہ خلافت کی موجودگی میں اس قسم کی گدیوں والی دلایت کے کوئی معنی ہی نہیں ۔
    جیسے گوریلا وار کبھی جنگ کے زمانہ میں نہیں ہوا کرتی ۔ چھاپے اسی وقت مارے جاتے ہیں جب باقاعدہ جنگ کا زمانہ نہ ہو ۔ خلفاء کے زمانہ میں اس قسم کے ولی نہیں ہوتے۔ نہ حضرت ابوبکر ؓ کے زمانہ میں کوئی ایسا ولی ہوا۔ نہ حضرت عمرؓ یاعثمانؓ یاحضرت علیؓ کے زمانہ میں۔ ہاں جب خلافت نہ رہی تو اللہ تعالیٰ نے ولی کھڑے کئے کہ جولوگ ان کے جھنڈے تلے جمع ہوسکیں انہیںکرلیں تا قوم بالکل ہی تِتّر بِتّر نہ ہوجائے۔ لیکن جب خلافت قائم ہو اس وقت اس کی ضرورت نہیںہوتی۔ جیسے جب منظم فوج موجود ہو تو گوریلا جنگ نہیں کی جاتی۔
    (الفضل ۱۶ ؍جون ۱۹۴۰ء)


    خلیفۂ وقت کے مقرر کردہ عہدیداروں کی اطاعت بھی ضروری ہے
    (خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۳ ستمبر ۱۹۴۰ء بمقام قادیان)
    سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    نظام جہاں اپنے اندر بہت سی برکات رکھتا ہے اور دینی اور دُنیوی ترقیات کے لئے ایک نہایت ضروری چیز ہے وہاں اس میں بہت سی پیچیدگیاں بھی ہوتی ہیںاور جتنا نظام بڑھتا چلا جاتا ہے اتنی ہی اس میں پیچیدگیاں بھی بڑھتی چلی جاتی ہیں ۔ اس کے مقابلہ میں جتنی کوئی چیز منفرد او راکیلی ہو اتنی ہی وہ سادہ ہوتی ہے ۔ پس جہاں نظام کے ذریعہ قوموں اور مذہبوںکو فوائد پہنچتے ہیں وہاں اس کی وجہ سے بعض دفعہ غلطیاں بھی ہوجاتی ہیں اور جولوگ نظام سے سچا فائدہ اُٹھاناچاہیں ان کافر ض ہوتا ہے کہ وہ ان غلطیوں کی وہ اصلاح کریں اور اصلاح کرتے چلے جائیں۔ اگر ان غلطیوں کی وہ اصلاح نہ کریں تو آہستہ آہستہ وہی نظام جونہایت مفید ہوتا ہے کسی وقت لوگوں کے لئے عذاب بن جاتا ہے۔ یہ جوآجکل ڈکٹیٹر شپ، نازی ازم اور فیسی ازم رائج ہیں ۔
    یہ بھی نظام کی بگڑی ہوئی صورتیں ہیں یہ جو کمیونزم اور بالشوزم کہلاتے ہیں یہ بھی نظام کی بگڑی ہوئی صورتیں ہیں۔ ہیںوہ نظام ہی لیکن ان کی کل ٹیڑھی چل گئی اور کل کے بگڑ جانے کی وجہ سے ان میں ایسی خرابیاں پید اہوگئیں کہ وہ دنیا کے لئے مصیبت اور عذاب بن گئے ۔ اسلام نے بھی ایک نظام قائم کیاہے اور ہمارا دعویٰ ہے کہ وہ نہایت ہی اعلیٰ نظام ہے۔ مگر جس طر ح باقی نظام پیچیدہ ہیں ویسے ہی وہ بھی پیچیدہ ہے ۔ چنانچہ اُمت مسلمہ میں سے ہی وہ ایک گروہ کو اٹھا تا ہے اور اسے اٹھا کر دوسروں کے لئے ان کی اطاعت واجب کردیتا ہے۔ بعض لوگ غلط فہمی سے یہ خیال کرتے ہیں کہ صرف خلیفہ ہی واجب الاطاعت ہوتا ہے ۔ حالانکہ قرآن کریم نے صاف طور پر ایسا نظام بتایا ہے جس میں صرف خلیفہ ہی نہیں بلکہ خلیفہ کے مقرر کردہ عہدیدار بھی واجب الاطاعت ہوتے ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ۱؎ اس کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ جیسا کہ کئے گئے ہیں کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور ان کے بعد کی مگر اس کے معنی یہ بھی ہیں بلکہ قریب ترین معنی یہی ہیں کہ تم اللہ کی اطاعت کرو ۔ تم رسول کی اطاعت کرو اور تم اس زمانہ کے کی بھی اطاعت کرو گویااللہ بھی موجود اور رسول بھی موجودہے اور کی اطاعت بھی ضروری ہے اور یہ وہ معنی ہیں جن کی قرآن کریم کی متعدد آیات سے تصدیق ہوتی ہے ۔ مثلاً جہاں خبروں کے پھیلانے کا ذکرہے وہاں اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایاہے کہ کیوںتم ان لوگوںتک خبریں نہیں پہنچاتے جو بات کوسمجھنے کے اہل ہیں اور جن کے سپرد اس قسم کے امور کی نگرانی ہے گویاو ہ ایک جماعت تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود تھی اور لوگوںکو حکم تھاکہ بجائے پبلک میں غیرذمہ دارانہ طور پر خبریں پھیلانے کے اسے پہنچائی جائیں ۔ پس یہ آیت بتاتی ہے کہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایسے لوگ موجود تھے جوعام لوگوں سے ایک امتیاز رکھتے تھے اور لوگوں کو حکم تھا کہ وہ ضروری باتیں ان تک پہنچائیں ۔پھرایک اوردلیل اس بات پر کہ کی اطاعت اللہ اوررسول کی موجودگی میں ہی ضروری ہے یہ ہے کہ اللہ کے بعد رسول کی اطاعت نہیں ہوتی۔ بلکہ اُس کی موجودگی میں ہی رسول کی اطاعت ضروری ہوتی ہے۔ یہ معنی نہیںہیں کہ اللہ تعالیٰ نَعُوْذُبِاللّٰہ فوت ہوجائے توتم رسول کی اطاعت کرو اوررسول فوت ہوجائے تو کی اطاعت کرو بلکہ اللہ کی موجودگی میں رسول کی اطاعت کاحکم ہے۔ اسی طرح رسول کی موجودگی میں ہی کی اطاعت اوران کی فرمانبرداری کا حکم ہے۔
    ممکن ہے کہ کوئی اعتراض کردے کہ رسول کی اطاعت کا توحکم ہوا۔ مگر خلیفہ کی اطاعت کاکہاں حکم ہے؟ سوایسے لوگوں کو یاد رکھناچاہئے کہ خلیفہ رسول کا قائم مقام ہوتاہے۔ چنانچہ خلیفہ کے معنی نائب کے ہیں مگر وہ نائب اورقائم مقام کا نہیں بلکہ رسول کاہوتاہے۔ پس قرآن کریم کا یہ حکم ہے کہ اللہ اوررسول کی اطاعت کرو۔ اورجب رسول فوت ہوجائے توتم اس کے خلیفہ کی اطاعت کرو۔ اوراس زمانہ میں کی بھی اطاعت کرو۔ کیونکہ کوئی نظام اس وقت تک نہیں چل سکتا جب تک خلیفہ کے مقرر کردہ عہدیداروں کی اطاعت لوگ اپنے لئے ضروری خیال نہ کریں اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہٖ وسلم نے فرمایاہے کہ مَنْ اَطَاعَ اَمِیْرِیْ فَقَدْ اَطَاعَنِیْ وَمَنْ عَصٰی اَمِیْرِیْ فَقَدْ عَصَانِیْ یعنی جس نے میرے مقررکردہ حاکم کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اورجس نے میرے مقررکردہ حاکم کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی کیونکہ میں ہرجگہ نہیں پہنچ سکتا۔ مجھے لازماً کام کو عمدگی سے چلانے کے لئے اپنے نائب مقررکرنے پڑیں گے۔ اورلوگوں کے لئے ضروری ہوگا کہ ان کی اطاعت کریں اگروہ اطاعت نہیں کریں گے تونظام ٹوٹ جائے گا۔پس ان کی اطاعت درحقیقت میری اطاعت ہے اور ان کی نافرمانی میری نافرمانی۔ تو میںایک ایسا مکمل نظام پیش کیا گیا ہے جس کے تحت ایک ہی زمانہ میں اللہ کی اطاعت بھی ضروری ہے رسول کی اطاعت بھی ضروری ہے اوراگر رسول نہ ہو تواس کے خلیفہ کی اطاعت ضروری ہے اوراس زمانہ میں کی اطاعت بھی ضروری ہے۔ اللہ ایک ہے رسول ایک ہے خلیفہ بھی ایک ہی ہوگا۔ لیکن کئی ہوسکتے ہیں۔ اس لئے میں جمع کا صیغہ رکھا گیا ہے کیونکہ یہ کئی ہوںگے اورگو خلیفہ ایک ہوگا مگر اس کے تابع بہت سے عہدیدار ہوںگے۔
    یہ اسلامی نظام ہے جسے قرآنِ کریم پیش کرتاہے اوروہ اُمت محمدیہ کو حکم دیتاہے کہ کی اطاعت کرو۔ لیکن اس میں بعض دفعہ ایک بگاڑ بھی پیداہوجاتاہے اوروہ یہ کہ غلطی سے یہ خیال نہیں کرتے کہ لوگوں پر ان کی جو اطاعت فرض ہے وہ ہونے میں ہے زید اوربکر ہونے میں نہیں۔ زید اوربکر ہونے میں تورسول کی اطاعت بھی نہیں۔ یوں تو رسول کا مقام ایساہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو یہی حکم دیتاہے۔ کہ اس کی اطاعت کرو۔مگر خدا نے انہیں جو حق دیاہے ۔ وہ ہر بات میں نہیں اورنہ ہربات میں انہوں نے کبھی اپنے حق کا اظہار کیاہے۔ مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہٖ وسلم کویہ حق نہیں تھا۔ اورنہ آپ نے کبھی ایسا کیا کہ کسی کی بیٹی کا اپنی مرضی سے کسی دوسرے سے نکاح کردیں۔ اسی طرح آپ نے کبھی کسی سے نہیں کہا کہ اپنا مکان فلاں کو دے دو ۔ بلکہ آپ نے ان امورمیں ان کے اختیارات کو بحال رکھا چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہٖ وسلم کے زمانہ میں ایک لڑکی جو غلام تھی اوراس کاخاوند بھی غلام تھا۔ کچھ عرصہ کے بعد آزاد ہوئی تواسے شریعت کے ماتحت اس امر کا اختیار دیاگیا کہ چاہے تووہ اپنے غلام خاوند کے نکاح میں رہے اورچاہے تونہ رہے۔ اتفاق کی بات ہے بیوی کو اپنے خاوند سے شدید نفرت تھی اورادھر خاوند کی یہ حالت تھی کہ اس کو بیوی سے عشق تھا۔جب وہ آزادہوئی اورغلام نہ رہی تواس نے کہاکہ میں اب اس کے پاس نہیں رہ سکتی۔ خاوند کو چونکہ اس کے ساتھ شدید محبت تھی اس لئے جہاں وہ جاتی وہ پیچھے پیچھے چلاجاتا۔ اورروناشروع کردیتا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وسلم نے اسے اس حالت میں دیکھا تو آپٔ کو رحم آیا اور آپ نے اس لڑکی سے کہا کہ تم اس کے پاس رہو تمہارا کیا حرج ہے ۔ اس نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! یہ آپ کا حکم ہے یا مشورہ۔ آپ نے فرمایا مشورہ ہے حکم نہیں کیونکہ اب تم آزاد ہوچکی ہو اورشریعت کی طرف سے تمہیں اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ چاہو توتم اپنے غلام خاوند کے پاس رہو اورچاہوتونہ رہو۔ اس نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! اگر یہ آپ کا مشورہ ہے ۔ توپھرمیں اسے ماننے کے لئے تیارنہیں۔ مجھے اس سے نفرت ہے توذاتی معاملات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وسلم کبھی دخل نہیں دیتے تھے۔ اسی طرح خلفاء نے بھی کبھی ذاتی معاملات میں دخل نہیں دیا۔ خود میرے پاس کئی لوگ آتے ہیں اورکہتے ہیں کہ ہماری لڑکی کا آپ جہاں چاہیں نکاح پڑھادیں۔ ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ مگر باوجود اس کے کہ آج تک مجھے سینکڑوں لوگوں نے ایسا کہا ہوگا ۔ میں نے کسی ایک کی بات بھی نہیں مانی میں نے ہمیشہ کہاہے کہ کہ مجھ پر کیا آگے ذمہ داریاں کم ہیں کہ اب میں اورذمہ داریوں کو بھی اُٹھالوں۔ ممکن ہے میں انتخاب میں کوئی غلطی کرجائوں اوراس طرح قیامت کے روز خداتعالیٰ کے حضور مجھے جواب دہ ہونا پڑے۔ پس میں کیوں اس بوجھ کو برداشت کروں۔ شاید ماں باپ یہ سمجھتے ہوں کہ لڑکیوں کا نکاح کرتے وقت ان پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ مگر میرے نزدیک والدین پربہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ اوران کا فرض ہوتاہے کہ وہ سوچ سمجھ کر اوردعائوںسے کام لینے کے بعد اپنی لڑکیوں کا نکاح کیاکریں۔ اگر وہ بے احتیاطی سے کام لیں گے تویقینا وہ خداتعالیٰ کے حضور جوابدہ ہوں گے پس جبکہ نکاح کراناایک خاص ذمہ داری کا کام ہے توبالکل ممکن ہے مجھ سے کسی کے معاملہ میں کوئی بے احتیاطی ہوجائے اورقیامت کے دن باپ توآزاد ہو جائے اورمیں اس کاجواب دہ ٹھہر جائوں۔ پس باوجود اس کے کہ میرے زمانہ خلافت میں سینکڑوں لوگوں نے مجھے یہ کہاہوگا کہ آپ جہاں چاہیں میری لڑکیوں کا نکاح کردیں۔ مجھے اس وقت ایک مثال بھی ایسی یاد نہیں جس میں میں نے دخل دیاہواوراپنی مرضی سے ان کی لڑکیوں کا کہیں نکاح کردیاہو۔ میں ہمیشہ انہیں یہی جواب دیتاہوں کہ جب مجھے کسی رشتہ کا علم ہواتو آپ کو اطلاع دے دوں گا۔آگے یہ ماں باپ کا فرض ہے کہ وہ غور کرلیں کہ وہ یہ رشتہ ان کے لئے موزوں ہے یا نہیں۔ ایسے موقع پر بعض لوگ اصرار بھی کرتے ہیں اورکہتے ہیں میں نے اپنی لڑکیوں کا معاملہ آپ کے سپرد کردیاہے۔ مگر میں یہی کہتا ہوں کہ میں اس کے لئے تیارنہیں ۔ ہاں جب بھی مجھے رشتوں کاعلم ہوگا۔ میں لڑکے آپ کے سامنے پیش کرتاچلاجائوں گا۔آپ کو پسند آئیں تو لیتے جائیں اور اگر پسند نہ آئیں توردّ کرتے جائیں تو اللہ تعالیٰ نے کو جو حکومت دی ہے وہ ذاتی معاملات میں نہیں قومی معاملات میں ہے۔ رسول کو بھی اورخلیفہ کو بھی اورکوبھی یہ قطعاً حق حاصل نہیں کہ وہ ذاتی معاملات میں لوگوں پر رُعب جتائیں۔ مثلاً مجھے یہ حق نہیں کہ میں جماعت کے کسی آدمی سے یہ کہوں کہ میں چونکہ خلیفہ ہوں اس لئے تم میری نوکری کرو اورجو تنخواہ میں دوں وہ قبول کرو۔
    یہ خلافت کا کام نہیں بلکہ ایک دنیوی کام ہے اوردوسرے شخص کو اس بات کاحق حاصل ہے کہ وہ اگر چاہے توانکار کردے چاہے یہی کہے کہ میں نوکر نہیں ہونا چاہتا اور چاہے یہ کہے کہ جو تنخواہ آپ دیتے ہیں وہ مجھے منظور نہیں اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا کیونکہ شریعت نے ان معاملات میں اسے آزادی بخشی ہے۔ یا فرض کرو میں اپنا مکان بنانے کے لئے کسی دوست سے کوئی زمین خریدنا چاہتاہوں توہرشخص کا حق ہے کہ وہ اگر چاہے توانکار کر دے۔ مثلاً یہی کہہ دے کہ جو قیمت آپ دینا چاہتے ہیں۔ اس پر میں زمین فروخت کرنے کے لئے تیارنہیں۔ یا یہ کہہ دے کہ میں زمین بیچنا ہی نہیں چاہتا۔ بہرحال یہ اس کا حق ہے جسے وہ استعمال کرسکتاہے۔یہی حال کا ہے۔ ہماری جماعت میں بھی کچھ ناظر ہیں اورکچھ ناظروں کے ماتحت عہدیدارمقررہیں۔ ان ناظروں اور عہدیداروں کوبھی وہی محدود اختیارات حاصل ہیں۔ جو جماعتی نظام سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاں ایسے کاموں کا سوال آجائیگا۔ جو نظام جماعت سے تعلق نہیں رکھتے وہاں اگربعض لوگ ان کے کرنے سے انکار کردیں۔ تویہ ان کاحق سمجھا جائے گا۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ میرے پاس ایسی رپورٹیں پہنچتی رہتی ہیں کہ بعض آدمی ذاتی کام لیتے وقت اپنے عہدہ کے جتانے کے عادی ہیں ۔ اوروہ بات کرتے وقت دوسروں سے کہہ دیتے ہیں کہ تم جانتے ہو میں کون ہوں میں ناظرامورعامہ ہوں یا ناظر تعلیم وتربیت ہوں یا ناظر اعلیٰ ہوں یافلاں عہدیدار ہوں۔ اس قسم کے الفاظ کا دہرانایقینا اس ذمہ داری کے اداکرنے کے خلاف ہے جس کا اسلام ان سے مطالبہ کرتاہے۔ ہرشخص جسے خدا نے بعض معاملات میں آزادی دے رکھی ہے۔ اس کے متعلق ہم یہ حق نہیں رکھتے کہ اس کی آزادی کو سلب کریں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وسلم کی مثال موجودہے ۔ آپ نے ذاتی معاملات میں کبھی دخل نہیں دیا ۔ آ پ نے بریرہ سے یہ نہیں کہا کہ میں خداکا رسول ہوں ۔ تم میری بات مان لو۔ بلکہ فرمایا کہ یہ میرا ذاتی مشورہ ہے اسے ماننا یا نہ ماننا تمہارے اختیار کی بات ہے۔ اسی طرح بعض سودے ہوئے جن کے متعلق آپ نے صحابہ ؓ سے یہی فرمایا کہ لوگوں سے مشورہ کرلو۔ اورجو کچھ صحیح سمجھو اس کے مطابق کام کرو۔
    توجماعت کے ذمہ دار کارکنوں کو میں ہدایت کرتاہوں کہ وہ اپنے عہدے لوگوں کو ڈرانے کے لئے استعمال نہ کیا کریں۔ جو شخص کسی جھگڑے کے موقع پر یہ کہتاہے کہ تم جانتے ہو میں کون ہوں میں ناظرامورعامہ ہوں یاناظر تعلیم وتربیت ہوں یاناظر اعلیٰ ہوں وہ اپنے عمل سے یہ ظاہر کرتاہے کہ وہ نظارت کو دوسرے معاملات میں بالا سمجھتا ہے ۔ حالانکہ نظارت کا اپنا ایک محدود دائرہ ہے ۔اس دائرہ سے باہر اس کے اختیارات نہیں یا سلسلہ کا کوئی مربی اورکارکن ایسے مواقع پر اگر یہ کہتاہے کہ تم جانتے ہومیں کون ہوں میں سلسلہ کا مربی ہوں یا سلسلہ کا کارکن ہوں تووہ اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کرتاہے۔ مثلاً دو آدمی آپس میں جھگڑ رہے ہوں تو اگرایک ایسا شخص جسے نظام نے لوگو ں کے جھگڑوںکا فیصلہ کرنے کے لئے مقرر نہیں کیا وہاں جاکر کہتاہے کہ میں سلسلہ کا مربی ہوں یا سلسلہ کا کارکن ہوں تواس کے متعلق یہی سمجھا جائے گا کہ اس نے اپنا عہدہ دوسروں پر رُعب جتانے کے لئے استعمال کیا ہے کیونکہ مربی کا کام لوگوں کی تربیت واصلاح کرناہے نہ کہ جھگڑوں کا فیصلہ کرنا۔ اس کا یہ ہرگز حق نہیں کہ وہ لوگوں کے جھگڑوں کا فیصلہ کرے یا اپنافیصلہ لوگوں سے منوائے۔ ہاں اگر کوئی قاضی ہوتو وہ ایسا کہہ سکتاہے اوراپنا فیصلہ بھی اس جھگڑے کے متعلق دے سکتاہے تو یہ ایک ایسی غلطی ہے جس کی اصلاح نہایت ضروری ہے ۔ پس میں جماعت کے تمام عہدیداروں کوہدایت کرتاہوں کہ وہ اس بارہ میں احتیاط ملحوظ رکھیں اور عَلَی الْاِعْلَانَ خطبہ جمعہ میں میں نے اس کا اظہار اس لئے کیاہے تادوسرے لوگ بھی نگران رہیں اورجب سلسلہ کے کارکنوں میں سے کوئی اس کی خلاف ورزی کرے تو اس کی فوری طورپر میرے پاس رپورٹ کریں۔
    میں اس بارہ میں اپناہی ایک واقعہ سنا دیتاہوں جس میں میرانام ایک موقع پر ناجائز طورپر استعمال کیا گیاتھا۔ مگرجب مجھے معلوم ہوا تومیں نے اس افسر کو سختی سے ڈانٹا۔ وہ واقعہ یہ ہے جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہے ہم قادیان کے اِرد گرد دیہات میں اپنے لئے زمینیں خریدتے رہتے ہیں۔ اسی سلسلہ میں ہماری طرف سے ایک زمین کاسودا ہوا۔ مگر ابھی یہ سودا ہوہی رہاتھاکہ ننگل کے ایک شخص نے ہم سے زیادہ قیمت دے کراس زمین کو خرید لینا چاہا۔ اس پر ہمارے مختارنے اُسے کہا کہ تم خلیفۃ المسیح ثانی کا مقابلہ کرتے ہویہ تمہارے لئے اچھی بات نہیں ۔ مجھے جب اس بات کا علم ہواتومیں نے انہیں ڈانٹا اورکہا کہ اس میں خلیفۃ المسیح کا کیا تعلق ہے یہ سودا خلیفۃ المسیح سے نہیں بلکہ مرزا محمود احمد سے ہو رہا تھا اور دوسرا فریق اس بات کا حق رکھتاتھا کہ اگروہ چاہے تو سودے سے انکار کرکے کسی دوسرے سے سودا شروع کردے۔
    یہ زمیندارہ معاملہ ہے اوراس میں دوسرا شخص اختیاررکھتاہے کہ وہ چاہے تومان لے اورچاہے تو نہ مانے اس میں خلافت یا خلیفۃ المسیح کا کوئی سوال نہیں اورنہ یہ کہا جاسکتاہے کہ دوسرے نے خلیفۃ المسیح کا مقابلہ کیا۔ گو اخلاقی طورپر میرے نزدیک دوسرے فریق کی غلطی تھی کیونکہ جب کوئی شخص سوداکررہاہوتودوسرے کو اس میں دخل نہیں دینا چاہئے۔ مگر شریعت میں چونکہ یہ بھی مسئلہ ہے کہ جب تک کچھ پیشگی رقم نہ دے دی جائے اس وقت تک سودا مکمل نہیں ہوسکتا۔ اس لئے دوسرے کو اختیار ہوتاہے کہ وہ چاہے توسودے سے انکار کردے اورکسی دوسرے شخص کو زیادہ قیمت پر دے دے۔ بہرحال ہمارے ملک میں چونکہ عام طورپر لوگوں کو اپنے عہدے جتانے کی عادت ہے جیسے تحصیل دار کہہ دیا کرتے ہیں کہ تم جانتے ہوہم کون ہیں ہم تحصیلدار ہیں یا ڈپٹی کمشنر کہہ دیا کرتے ہیں تم جانتے ہوہم کون ہیں ہم ڈپٹی کمشنر ہیں۔ اسی طرح انہوں نے بھی دھمکی دے دی اورکہا کہ تم جانتے ہو یہ سودا خلیفۃ المسیح کررہے ہیں پس تم کسی اورسے نہیں بلکہ خلیفۃ المسیح کا مقابلہ کررہے ہو حالانکہ یہ زمین خلیفۃ المسیح نہیں بلکہ مرزا محمود احمد خرید رہا تھا اورمرزا محمود احمد کے مقابلہ میں ایسے معاملات میں ہرشخص خواہ وہ احمدی ہویانہ ہو اس بات کا حق رکھتاہے کہ وہ اگر چاہے توانکار کردے۔ غرض اخلاقی طورپر گو اس سے غلطی ہوئی ۔ مگر میں نے پسند نہ کیا کہ میں واقف ہوکراس کی ناواقفیت سے فائدہ اٹھالوں۔ تولوگ بلاوجہ اپنے عہدوں سے ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہیں اسی طرح جو عہدیدار ہیں۔ ان کی عورتوں کے متعلق میرے پاس شکایت آتی رہتی ہے کہ وہ بھی دوسروں پر رُعب جمانا چاہتی ہیں گویا جو احترام ناظر امور عامہ کو حاصل ہے وہی ناظر امورعامہ کی بیوی بھی حاصل کرنا چاہتی ہے اورجس طرح ملکہ کو ایک حق حاصل ہوتاہے اسی طرح وہ بھی اپنا حق جتاناچاہتی ہے حالانکہ ناظر امورعامہ کی بیوی کو کوئی حق نہیں کہ وہ لوگوں پر رُعب جمائے وہ جماعت میں محض ایک فرد کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگرجماعت سے لوگ اس لحاظ سے کہ اس کا خاوند قوم کا ایک خادم ہے۔ اس کی عزت کریں تو یہ ایک اچھی بات ہے لیکن محض اس وجہ سے کہ وہ ناظرامورعامہ کی بیوی ہے یا ناظر امورخارجہ کی بیوی ہے یا ناظرضیافت کی بیوی ہے یا ناظربیت المال کی بیوی ہے یا ناظرتعلیم وتربیت کی بیوی ہے یا ناظر اعلیٰ کی بیوی ہے اس کوکوئی حق حاصل نہیں کہ وہ دوسروں پر رُعب جتائے۔ وہ جماعت کا ایک ویسا ہی فرد ہے جیسے کوئی معمولی سے معمولی شخص کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو بعض لوگوں کو رتبہ دیاہے وہ کام کے لحاظ سے دیاہے اوران سے تعلق رکھنے والوں کو یہ قطعاً حق حاصل نہیں کہ وہ ان کے رتبہ سے ناجائز فائدہ اٹھاکر لوگوں پر رُعب جتانا شروع کردیں۔ میری جب وصیت شائع ہوئی تو بعض انگریزی اخبارات کے نمائندے مجھ سے ملنے کے لئے آئے۔ اُن کے آنے کی بڑی غرض یہ تھی کہ وہ مجھ سے یہ کہلوانا چاہتے تھے کہ میرے بعد یا تو چوہدری ظفراللہ خان صاحب خلیفہ ہونگے یا میرا بیٹا ناصر احمد۔ وہ بار بار اِدھر اُدھر کی باتیں کرکے پھر یہی سوال میرے سامنے پیش کردیتے اورکہتے کہ آپ کے بعد کون خلیفہ ہوگا۔ کیا چوہدری ظفراللہ خان صاحب ہونگے یا ناصر احمد۔میں نے اُنہیں کہا کہ خلافت توخداتعالیٰ کی ایک دین ہے اس میں چوہدری ظفراللہ خان اورناصراحمد کا ویسا ہی حق ہے جیسے ایک نومسلم چوہڑے کا۔ میں نے انہیں کہا کہ مجھے کیا معلوم اللہ تعالیٰ میرے بعد یہ رُتبہ کس کودیگا۔ کسی بڑے آدمی کویا ایک معمولی اورحقیر نظر آنے والے انسان کو ۔ مگر وہ دنیا داری کے لحاظ سے سمجھتے تھے کہ میرے بعد خلافت کے اہل یا توچوہدری ظفراللہ خان ہیں یا ناصر احمد۔ چنانچہ چکر کھاکر وہ پھریہی سوال کردیتے کہ اچھا توپھر آپ کے بعد کیاصورت ہوگی؟مگر میں انہیں یہی کہتا رہا کہ مجھے کچھ علم نہیں اللہ تعالیٰ میرے بعد یہ نعمت کس کو عطاکریگا۔ آخر انہیں میرے جوابوں سے اتنی مایوسی ہوئی کہ انہوں نے ملاقات کا ذکر شائع کرتے وقت اس سوال کو ہی اُڑا دیا۔ ایک اخبار والے نے تو میرے ساتھ اس سوال پربڑی بحث کی اورکہا کہ آخر کچھ توکہیں میں نے کہامیں اس بارہ میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتا۔ پھر میں نے انہیں بتایا کہ حضرت خلیفہ اوّل جب فوت ہوئے اورجماعت میں خلافت کے متعلق جھگڑا شروع ہوا تو بعض لوگوںکے دلوں میں یہ خیال پیدہوا کہ شاید میں نے اپنی خلافت کے لئے یہ جھگڑاکھڑا کر رکھا ہے۔ میں نے اس وقت اپنے رشتہ داروں کو جمع کیا ان رشتہ داروں میں میرے بزرگ بھی تھے۔ میرے برابر کے بھی تھے اورمجھ سے چھوٹے بھی تھے۔ نانا جان صاحب مرحوم بھی موجود تھے میرے بہنوئی نواب محمد علی خان صاحب بھی موجود تھے اِسی طرح میرے چھوٹے بھائی بھی تھے اورگھر کے دوسرے افراد بھی ۔ میں نے ان سب کو جمع کرکے کہا کہ دیکھو یہ وقت ایسا نہیں کہ ہم ذاتیات کا سوال لے بیٹھیں اس وقت جو لوگ خلافت کی مخالفت کررہے ہیں انہیں یہ وہم ہوگیاہے کہ چونکہ خلافت سے ہم فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں اس لئے ہم یہ جھگڑا پیدا کررہے ہیں ۔ یہ وہم خواہ کیسا ہی غلط اوربے بنیاد ہو ہمیں اپنے وجود سے سلسلہ میں تفریق پیدا نہیں کرنی چاہیے اوراگر وہ اس بات پر متفق ہوں کہ کسی نہ کسی کوضرورخلیفہ ہونا چاہئے تواوّل تو یہی مناسب ہے کہ اس کے متعلق لوگوں کی عام رائے لے لی جائے لیکن اگر انہیں اس سے اتفاق نہ ہو توایسے لوگوں کو چھوڑ کر جیسے خواجہ کمال الدین صاحب یا مولوی محمد علی صاحب ہیں کسی ایسے آدمی کے ہاتھ پر بیعت کرلی جائے جو دونوں فریق کے نزدیک بے تعلق ہو اوراگر وہ اسے بھی نہ مانیں توپھر ان لوگوں میں سے ہی کسی کے ہاتھ پر بیعت کرلیجائے۔ میںنے اس پر اتنا زوردیا کہ میں نے اپنے رشتہ داروں سے کہا اگر آپ لوگ میری اس بات کو نہیں مانتے تومیں پھر باہر جاتاہوں اور باہر جاکر عام لوگوں کے سامنے اپنی اس بات کو پیش کردیتا ہوں نتیجہ یہ ہوا کہ سب میری بات پر متفق ہوگئے اورانہوں نے کہا کہ اوّل تو یہی کوشش کرنی چاہئے کہ دونوں فریق کسی ایسے آدمی کے ہاتھ پر اکٹھے ہوں جو واضح طورپر گزشتہ جھگڑوں میں شامل نہ ہواہواورجو دونوں کے نزدیک بے تعلق ہو۔ اوراگر ایسا نہ ہوسکے توپھر اتحاد کے خیال سے انہی لوگوں میں سے کسی کو منتخب کرلیاجائے تو میں نے ان سے کہا کہ میں نے تو حضرت خلیفہ المسیح اوّل کی وفات پر بھی خلیفہ کے انتخاب میں اس حد تک دخل دیاتھا اورکسی کا نام بالتصریح نہیں لیا تھا پھر تم کس طرح سمجھ سکتے ہو کہ اب میں کسی کا نام لے لونگا اوراس کے متعلق کہہ دوں گا کہ وہ میرے بعد خلیفہ ہوگا۔ پھر اس میں میری مرضی کا بھی سوال نہیں۔ ہماراتو یہ عقیدہ ہے کہ خلیفہ خدابناتاہے اورجب خلیفہ بنانا خدانے اپنے ذمہ لے لیا ہواہے تومیرا اس میں دخل دینا کیسی حماقت ہوگی پھر اس نے کہا کہ کیا آپ کو یہ اختیار حاصل ہے یا نہیں کہ آپ اپنے بعد کسی کو خلیفہ مقرر کرجائیں میں نے کہا اختیار تو ہے مگر میں اس اختیار کو استعمال کرنا نہیں چاہتا۔ اورآئندہ کے متعلق مجھے معلوم نہیں کہ حالات کیا صورت اختیار کریں۔ غرض ان کی ساری کوشش اسی امر پر مرکوز رہی کہ میں یاتو اپنے رشتہ داروں میں سے کسی کے متعلق کہہ دوں کہ میرے بعد وہ خلیفہ ہوگا یا دنیا کے لحاظ سے ان کی نگاہ چونکہ چوہدری ظفراللہ خان صاحب پر پڑ سکتی تھی اس لئے انہوں نے سمجھا کہ اگرکوئی رشتہ دار خلیفہ نہ ہوا تو شاید وہ ہوجائیںمیں نے انہیں کہا کہ یہ میرا کام نہیں کہ میں انتخاب کرتا پھروں یہ خدا کاکام ہے اورمیں تو محض سلسلہ کے ایک خادم کے طورپر کام کررہا ہوں غرض ہم میں سے کوئی بھی نہیں جسے اس قسم کا اختیارحاصل ہو ہمیں جو حکومت حاصل ہے وہ شریعت کے ماتحت ہونے کے لحاظ سے ہے پس جتنا امر ہوگا اتنی ہی حکومت ہوگی اور جو شخص اس حکومت کے دائرہ کو وسیع کریگا وہ نظام کا دشمن قرار پائے گا۔ پس عام دُنیوی معاملات میں دوسروں سے یہ کہنا کہ میں تو ناظر امورعامہ ہوں یا ناظراعلیٰ ہوں نظارت کے جامہ کی ہتک ہے وہاں وہ ناظرنہیں بلکہ ایک فرد کی حیثیت رکھے گا اوراسے دوسروں پر کوئی تفوق حاصل نہیں ہوگااسلام میں اس کی کئی مثالیں بھی موجود ہیں چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ خلفاء پر دیوانی نالشیں ہوئیں اورانہیں قضا میں جواب کے لئے بلایا گیا۔ اب فرض کرو کہ کسی کو میرے خلاف کوئی شکایت ہو مثلاً وہ کہے کہ انہوں نے میرا اتنا روپیہ دینا ہے مگر دیتے نہیں یا اتنا دیاہے اوراتنا نہیں دیا تواسے اس بات کا پورا حق ہے کہ وہ اگر چاہے تو قضا میں میرے خلاف دعویٰ دائرکردے وہاں مجھے اسی طرح جواب دیناپڑے گا جس طرح ایک عام شخص قضا کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے لیکن جہاں خدانے مجھے کوئی حق دیاہے وہاں وہ میرا حق چھین نہیں سکتا۔
    پس جماعت کے دوستوں کو نصیحت کرتاہوں کہ نظام کی برکتیں اس کی پیچیدگیوں کو حل کرنے سے حاصل ہوتی ہیں ۔ ورنہ نظام کے لفظ کا اندھا دھند استعمال خطرناک نتائج پیدا کرسکتاہے ۔ جیسے ہمارے مختار نے ایک زمین کے معاملہ میں دوسرے سے کہہ دیا کہ تمہارا مقابلہ خلیفۃ المسیح سے ہے حالانکہ وہاں خلافت کا کوئی سوال نہ تھا۔ بلکہ اپنی ذاتی حیثیت میں میری طرف سے ایک سودا ہورہاتھا۔ اورایسی صورت میں دوسرے فریق کا حق تھا کہ وہ اگر چاہتا تو زیادہ قیمت پر دوسرے کو دے دیتا۔ اگر میں لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتاہوں تومیری حیثیت خلیفہ کی ہوتی ہے اگرمیں جماعت کوکوئی حکم دیتاہوں تومیری حیثیت خلیفہ کی ہوتی ہے لیکن اگرمیں اپنے لئے یا اپنے خاندان کے لئے کوئی زمین خریدتا ہوں تواس میں میری حیثیت خلیفہ کی نہیں ہوتی اوردوسرا اس بات کا حق رکھتاہے کہ وہ سودے سے انکار کردے یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ترکاری بکنے لگے توایک طرف سے میرا آدمی ترکاری لینے کے لئے چلاجائے اوردوسری طرف سے جماعت کا کوئی اور آدمی اب ایسے موقع پر اگر میرا آدمی دوسرے سے یہ کہے کہ تم ترکاری مت خریدو کیونکہ خلیفۃ المسیح یہ ترکاری لینا چاہتے ہیں تویہ اس کی غلطی ہوگی کیونکہ جیسے میرا حق ہے کہ ترکاری لوں اسی طرح اس کا حق ہے کہ وہ ترکاری لے۔ اگروہ پہلے پہنچ جاتاہے ۔ تویقینا اسی کا حق ہے۔ گوبعض دفعہ شریفانہ رنگ میں ایک دوسرے کی ضروریات کوبھی ملحوظ رکھا جاسکتاہے۔ اگر اس کی ضرورت زیادہ اہم ہوگی تومیرا آدمی اپنا حق چھوڑ سکتاہے اوراگرمیرے آدمی کی ضرورت زیادہ ہوگی تودوسرااپنا حق چھوڑسکتاہے۔
    پس جماعت کے عہدیداروں کومیں نصیحت کرتاہوں کہ ہرچیز کو اس کی حد کے اندر رکھو اگر تم اسے حد سے بڑھا دوگے تووہ چیز خواہ کتنی ہی اعلیٰ ہو ۔بُری بن جائے گی ۔ایک شاعر کا ایک شعر ہے جومجھے یادتونہیں رہا مگر اس کا مفہوم یہ ہے کہ تل بڑی خوبصورت چیز ہے ۔ لیکن جب وہ بڑا ہوجاتاہے تومسّہ بن جاتاہے ۔پس ہرچیزکو اس کی حدکے اندر رکھو۔ نظام کو بھی اورانفرادی معاملات کوبھی اورکبھی اپنے عہدوں کا نام لے کر ذاتی معاملات میں دوسروں پر رُعب نہ ڈالو۔ (الفضل ۲۷ جولائی ۱۹۶۰)
    ۱؎ النساء: ۶۰
    ۲؎ بخاری کتاب الاحکام باب قول اللّٰہ تعالٰی(الخ)

    درود شریف کی عظمت اور حکمت
    ۲۴؍ اکتوبر ۱۹۴۱ء کو خطبہ جمعہ میں حضور نے درود شریف کی عظمت اورحکمت بیان کرتے ہوئے ایک اہم نکتہ بیان فرمایا۔
    ’’خلفاء اگرچہ انبیاء کی طرح معصوم تو نہیں ہوتے مگر ان کو بھی ایک عصمت صغریٰ حاصل ہوتی ہے اوراللہ تعالیٰ ان کو ایسی غلطی میں پڑنے سے بچاتاہے جس کے نتیجہ میں دین کو نقصان پہنچ سکتاہو۔ نبی کا ہرفعل اپنی ذات میں معصوم ہوتاہے مگر خلفاء کے افعال بحیثیت مجموعی خداتعالیٰ کی حفاظت کے نیچے ہوتے ہیں‘‘۔
    (الفضل ۹ نومبر ۱۹۴۱ء)


    ابتدائے خلافتمیں قادیان کے غریبوں کی بے نظیر قربانی
    خطبہ جمعہ ۱۰مارچ ۱۹۴۴ء میں حضور فرماتے ہیں:۔
    ’’ابتدائے خلافت میںجب لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ چند مجاوروں نے جن کا کام روٹیاں کھانا تھاخلافت کوتسلیم کرلیاہے تومعلوم ہوتاہے قادیان کے لوگوں کواس سے ضرور صدمہ ہواہوگاکیونکہ اُنہی دنوں میں میں نے رؤیا میں دیکھا کہ ایک شخص کھڑاہے اورکہہ رہاہے کہــ:۔
    ’’مبارک ہوقادیان کی غریب جماعت تم پر خلافت کی رحمتیں یابرکتیں نازل ہوتی ہیں‘‘ ۔
    پس یہ خلافت کی برکت ہی ہے جو تم دیکھ رہے ہو کہ کس طرح قادیان کے غریبوں اور مسکینوں نے ایسی قربانی پیش کی جس کی نظیر اورکسی جماعت میں نہیں مل سکتی۔ آج مجھے حیرت ہوئی جبکہ ایک غریب عورت جو تجارت کرتی ہے جس کا ساراسرمایہ سَوڈیڑھ سَو روپیہ کا ہے اورجو ہندوئوں سے مسلمان ہوئی ہے صبح ہی میرے پاس آئی ہے اور اس نے دس دس روپیہ کے پانچ نوٹ یہ کہتے ہوئے مجھے دئیے کہ یہ میری طرف سے مسجد مبارک کی توسیع کے لئے ہیں۔ میں نے اُس وقت اپنے دل میں کہا کہ اِس عورت کا یہ چندہ اس کے سرمایہ کا آدھا یا ثلث ہے ۔ مگر اس نے خداکاگھر بنانے کے لئے اپنا آدھا یا ثلث سرمایہ پیش کردیا پھر کیوں نہ ہم یقین کریں کہ خدابھی اپنی اس غریب بندی کا گھر جنت میں بنائے گا اوراسے اپنے انعامات سے حصہ دے گا۔
    پس اللہ تعالیٰ کے جو فضل ہم پر ہیںان کو دیکھتے ہوئے ہم یہی سمجھتے ہیں کہ ہمارا ہرقدم ترقی کے میدان میں بڑھتاچلاجائے گا جتنا کام اِس وقت تک ہوا ہے خدا نے کیاہے اورآگے بھی خدا ہی کرے گا‘‘۔ (الفضل ۱۴ مارچ ۱۹۴۴ء)

    امام کی اطاعت کاذکر

    حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ۳۱مار چ ۱۹۴۴ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا کہ دین کے لئے مالی اورجانی قربانیوں کامطالبہ ہمیشہ اورہرآن ہوتارہے گا۔خدمت دین کے لئے زندگی وقف کرنے والوں کوجلد اپنا نام پیش کرنے کا ذکر کرتے ہوئے امام کی اطاعت کے بارہ میںفرمایا ۔
    ’’ یہ ایک خطرناک غلطی ہے جو بعض لوگوں میں پائی جاتی ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم وہ کام کریں گے جو ہماری مرضی کے مطابق ہوگا۔ یہ تمہار اکام نہیں کہ تم فیصلہ کرو کہ تمہیں کس کام پر لگایا جائے۔ جو شخص تمہارا امام ہے، جس کے ہاتھ میں تم نے اپنا ہاتھ دیا ہے جس کی اطاعت کاتم نے اقرار کیا ہے اُس کافرض ہے کہ وہ تمہیں بتائے کہ تمہیں کس کام پر مقرر کیا جاتاہے ۔ تم اس میں دخل نہیں دے سکتے نہ تمہارا کوئی حق ہے کہ تم اس میں دخل دو۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اَلْاِ مَامُ جُنَّۃٌ یُقْتَلُ مِنْ وَّرَائِہٖ ۱؎ امام ایک ڈھال کی طرح ہوتاہے اورلوگوں کا فرض ہوتاہے کہ اس کے پیچھے ہوکردشمن سے جنگ کریں۔ پس جہاں امام تمہیں کھڑاکرتاہے وہاں تم کھڑے ہوجائواور امام تمہیں سونے کا حکم دیتاہے توتمہارا فرض ہے کہ تم سوجائو۔اگر امام تم کو جاگنے کا حکم دیتاہے توتمہارا فرض ہے کہ تم جاگ پڑو۔ اگر امام تم کو اچھا لباس پہننے کا حکم دیتاہے توتمہاری نیکی، تمہاراتقویٰ اور تمہارا زُہد یہی ہے کہ اعلیٰ سے اعلیٰ لباس پہنو اوراگر امام تم کو پھٹے پُرانے کپڑے پہننے کا حکم دیتاہے توتمہاری نیکی تمہاراتقویٰ اورتمہارادینی عیش یہی ہے کہ تم پھٹے پُرانے کپڑے پہنو۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ کشفی حالت میں ایک شخص کے ہاتھ میں کسریٰ کے سونے کے کنگن دیکھے ۲؎۔ جب حضرت عمر ؓ کا زمانہ آیا اوراسلامی فوجوں کے مقابلہ میں کسریٰ کو شکست ہوئی توغنیمت کے اموال میں کسریٰ کے سونے کے کنگن بھی آئے۔ حضرت عمرؓ نے اُس شخص کو بلایا اورفرمایا تمہیں یاد ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ تمہیں کہا تھاکہ میں تمہارے ہاتھ میں کسریٰ کے سونے کے کنگن دیکھ رہاہوں ۔ اس نے عرض کیاہاں یاد ہے ۔ آپ نے فرمایا لویہ کسر یٰ کے سونے کے کنگن اورانہیں اپنے ہاتھوں میں پہنو۔ اُس نے اپنے ہاتھ پیچھے کرلئے اورکہا عمر ؓ! آپ مجھے اُس بات کا حکم دیتے ہیں جس سے شریعت نے منع کیا ہے۔ شریعت کہتی ہے کہ مردوں کے لئے سونا پہننا جائزنہیں اورآ پ مجھے یہ حکم دے رہے ہیں کہ میں کسریٰ کے سونے کے کنگن اپنے ہاتھوں میں پہنوں ۔ حضرت عمرؓ جس طبیعت کے تھے وہ سب کو معلوم ہے ۔ آپ اُسی وقت کھڑے ہوگئے۔ کوڑا اپنے ہاتھ میں لے لیااورفرمایا خداکی قسم! اگر تم یہ سونے کے کنگن نہیں پہنوگے تومیں کوڑے مارمارکر تمہاری کمراُدھیڑ دوںگا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ کہا تھا وہی میں پورا کروں گا اورتمہارے ہاتھوں میں سونے کے کنگن پہناکررہوںگا۳؎۔ تودرحقیقت یہی نیکی اوریہی حقیقی ایمان ہے کہ انسان وہی طریق اختیارکرے جس طریق کے اختیار کرنے کا امام اُسے حکم دے۔ وہ اگر اسے کھڑاہونے کے لئے کہے توکھڑاہوجائے اور اگرساری رات بیٹھنے کے لئے کہے وہ بیٹھ جائے اوریہی سمجھے کہ میری ساری نیکی یہی ہے کہ میں امام کے حکم کے ماتحت بیٹھا رہوں۔
    پس جماعت میں یہ احساس پیدا ہوناچاہئے کہ نیکی کا معیار یہی ہے کہ امام کی کامل اطاعت کی جائے۔ امام اگرکسی کو مدرس مقرر کرتاہے تو اس کی تبلیغ یہی ہے کہ وہ لڑکوں کو عمدگی سے تعلیم دے امام اگر کسی کو ڈاکٹر مقررکر کے بھیجتا ہے ۔ تواس کی تبلیغ یہی ہے کہ وہ لوگوں کا عمدگی سے علاج کرے اما م اگر کسی کو زراعت کے لئے بھیج دیتاہے تواس کی تبلیغ یہی ہے کہ وہ زمین کی عمدگی سے نگرانی کرے اورامام اگر کسی کوصفائی کے کام پر مقرر کردیتاہے تواس کی تبلیغ یہی ہے کہ وہ عمدگی سے صفائی کرے وہ بظاہر جھاڑو دیتانظرآئے گا۔ وہ بظاہر صفائی کرتا دکھائی دے گا۔ مگر چونکہ اُس نے امام کے حکم کی تعمیل میں ایسا کیا ہوگا۔ اس لئے اس کا جھاڑو دینا ثواب میں اس مبلغ سے کم نہیں ہوگا۔ جو دلوں کی صفائی کے لئے بھیجاجاتاہے۔ وہ زمین پر جھاڑو دے رہاہوگالیکن فرشتے اس کی جگہ تبلیغ کررہے ہوںگے کیونکہ وہ کہیں گے یہ وہ شخص ہے جس نے نظام میں اپنے لئے ایک چھوٹی سے چھوٹی جگہ پسند کی اورامام کے حکم کی اطاعت کی۔ پس ایک نظام کے اندر رہ کر کام کرو اورتمہاراامام جس کام کے لئے تمہیں مقررکرتاہے اس کو کرو کہ تمہارے لئے وہی ثواب کا موجب ہوگا۔ تمہارے لئے وہی کام تمہاری نجات اورتمہاری ترقی کا