1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

خلافت علیٰ منہاج نبوت ۔ جلد 2

'یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 22, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    خلافت علیٰ منہاج نبوت ۔ جلد 2

    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
    خلافت رحمت خداوندی
    ( تحریر فرمودہ ۲۳؍ جنوری ۱۹۲۲ء)
    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے نائیجیریا جانے والے دوسرے احمدی مبلغ حضرت حکیم فضل الرحمن صاحب کو ۲۳ جنوری ۱۹۲۲ء بعد از نماز فجر مسجد مبارک میں چند ہدایات لکھ کر دیں ان میں سے ایک حصہ یہ تھا کہ خلافت رحمت خداوندی ہے حضرت مصلح موعود تحریر فرماتے ہیں۔
    ’’خلافت کا سلسلہ ایک رحمت ہے۔ اور خداتعالیٰ کی رحمت کی ناشکری کرنی دُکھ میں ڈالتی ہے۔ انسان خواہ کس قدر بھی ترقی کر جائے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے مستغنی نہیں ہو سکتا۔ پس خلافت سے مسلمان کسی وقت بھی مستغنی نہیں ہو سکتے نہ اب نہ آئندہ کسی زمانہ میں۔ اللہ تعالیٰ کی بہت سی برکات اس سے متعلق اور وابستہ ہیں اور اس سے جو خلافت سے دور ہو جاتا ہے، دور ہو جاتا ہے اللہ اس سے۔ جو اس سے تعلق کرتا ہے، اپنا تعلق مضبوط کرتا ہے۔‘‘
    حضور نے مزید تحریر فرمایا:۔
    ’’اطاعت ایک اعلیٰ جوہر ہے اسے پیدا کرنے کی کوشش کرو اور جو آپ کا افسر ہو اس کی اطاعت کرو اور اپنے نفس کو اپنے پر غالب مت آنے دو۔ اگر کسی بات پر اعتراض ہو تو اس سے خلیفہ وقت کو اطلاع دو۔ خود ہی اس پر فیصلہ نہ دو کیونکہ تفرقہ طاقت کو توڑ دیتا ہے اور یہی کھڑکی ہے جس میں سے آدم کا دشمن اس کے گھر میں داخل ہوا کرتا ہے اور اس کو اس کے عزیزوں سمیت جنت میں سے خارج کر دیا کرتا ہے۔
    ہمیشہ خلیفۂ وقت سے تعلق کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتے رہو اور خط و کتابت میں کبھی سستی نہ کرو۔ وہ لوگ جن کو آپ کے ذریعہ سے ہدایت ہو ان کو بھی ان سب نصائح پر عمل کرنے کی تحریک کرو جو اوپر بیان ہوئیں یا بعد میں آپ تک پہنچتی رہیں۔
    دینی لٹریچر سے آگاہ رہنے کی ہمیشہ کوشش کرو قرآن کریم کے متعلق تو مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں وہ تو مومن کی جان ہے۔ مگر حدیث اور کتب مسیح موعود کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔ ان سے غافل نہ ہو۔ کوئی نہ کوئی اخبار قادیان کا جس میں مرکز اور سلسلہ کے حالات ہوں ضرور زیرمطالعہ رہنا چاہیے کہ یہ ایمان کو تازہ کرتا ہے اور اس کی تاکید وہاں کے لوگوں کو بھی کریں جنہیں آپ تبلیغ کر رہے ہوں اور پھر خلفاء کے اعلانات اور ان کی کتب کا مطالعہ بھی ضروری ہے کیونکہ خداتعالیٰ ان کے ذریعہ اپنی مرضی کو ظاہر کرتا ہے اور انسان کے لئے ان کا کلام بھی بمنزلہ دودھ کے ہوتا ہے‘‘۔
    (الفضل ۳۰؍ جنوری۱۹۲۲ء صفحہ۴)


    امریکہ جانے والے مبلغ
    حضرت ماسٹر محمد دین صاحب بی اے کو ہدایات
    ’’زندگی کا اعتبار نہیں اس امر کو خوب یاد رکھیں کہ ہم آدمیوں کے پرستار نہیں خدا کے بندے ہیں۔ جو شخص بھی اور جب بھی مسندخلافت پر بیٹھے اُس کی فرمانبرداری کو اپنا شعار بنائیں اور یہی روح اپنے زیر اثر لوگوں میں پیدا کریں۔ اسلام تفرقوں سے تباہ ہوا اور اب بھی سب سے بڑا دشمن یہی ہے۔ کاش! انسان اس دل کو نکال کر پھینک دیتا جو اسے نفسانیت کی وجہ سے سلسلہ کے مفاد کو قربان کرنے کی تحریک کرتا ہے گو بعض دفعہ نیکی کے رنگ میں بھی یہ تحریک ہوتی ہے کہ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَۃَ فَلَیْسَ مِنَّا۔‘‘ ۱؎
    (الفضل ۲۰ جنوری ۱۹۲۳ء)
    ۱؎ مسلم کتاب الامارۃ باب وجوب ملازمۃ المسلمین

    روحانی خلافت سیاست سے بالاتر ہوگی
    ۱۹۲۴ء میں لندن میں ویمبلے نمائش منعقد ہوئی جس کے پروگرام میں ایک مذہبی کانفرنس کا انعقاد بھی شامل تھا۔ دنیا کے چوٹی کے علماء کو دعوت دی گئی کہ وہ اپنے مذاہب کی خوبیاں بیان کریں۔ حضرت مصلح موعود کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی۔ آپ نے ۲۴؍مئی تا ۶؍ جون ۱۹۲۴ء دو ہفتے کے دَوران ایک ضخیم کتاب ’’احمدیت یعنی حقیقی اسلام‘‘ تصنیف فرمائی۔ اس کتاب میں تمدن کی دوسری قسم یعنی حکومت اور رعایا، امیر اور غریب کے متعلق احکام بیان فرماتے ہوئے خلافت کے بارے میں فرمایا:۔
    ’’چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خداتعالیٰ نے صرف روحانی خلافت دے کر بھیجا تھا اس لئے آئندہ جہاں تک ہو سکے آپ کی خلافت اُس وقت بھی جب کہ بادشاہتیں اس مذہب میں داخل ہوں گی سیاسیات سے بالا رہنا چاہتی ہے۔ وہ لیگ آف نیشنز کا اصلی کام سرانجام دے گی اور مختلف ممالک کے نمائندوں سے مل کر ملکی تعلقات کو درست رکھنے کی کوشش کرے گی اور خود مذہبی، اخلاقی، تمدنی اور علمی ترقی اور اصلاح کی طرف متوجہ رہے گی تا کہ پچھلے زمانہ کی طرح اس کی توجہ کو سیاست ہی اپنی طرف کھینچ نہ لے اور دین و اخلاق کے اہم امور بالکل نظر انداز نہ ہو جائیں۔
    جب میں نے کہا جہاں تک ہو سکے تو میرا یہ مطلب ہے کہ اگر عارضی طو رپر کسی مُلک کے لوگ کسی مشکل کے رفع کرنے کے لیے استمداد کریں تو ان کے مُلک کا انتظام نیابتاً خلافت روحانی کرا سکتی ہے مگر ایسے انتظام کو کم سے کم عرصہ تک محدود رکھا جانا ضروری ہوگا‘‘۔
    (انوارلعلوم جلد ۸ صفحہ ۲۹۵)

    خلیفہ کا مرکز میں رہنا ضروری ہے
    ۱۹۲۴ء میں انگلستان میں ویمبلے کے مقام پر منعقد ہونے والی مذہبی کانفرنس کے منتظمین نے حضرت مصلح موعود کو بھی شرکت کی دعوت دی۔ آپ نے بعد از مشورہ یہ دعوت قبول فرمائی۔ انگلستان جانے سے پہلے ’’امام جماعت احمدیہ کا عزمِ یورپ‘‘ کے عنوان سے حضور کی ایک تحریر جون ۱۹۲۴ء میں شائع ہوئی جس میں آپ نے اس بات کی وضاحت فرمائی کہ خلیفہ کا مرکز میں رہنا ضروری ہے۔ فرمایا:۔
    ’’اس کے بعد میں احباب کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ بعض احباب نے اپنے مشورہ کی بناء اس امر پر رکھی ہے کہ مذہبی کانفرنس نے چونکہ بُلایا ہے اس لئے وہاں ضرور جانا چاہیے اور یہ خیال کیا ہے کہ گویا اس سفر کے ساتھ ہی یورپ فتح ہو جائے گا اور ہزاروں لاکھوں آدمی اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔ میرے نزدیک اس امر پر اور اس امید پر مشورہ دینا درست نہ تھا۔ میں نے پہلے بھی بار ہا بیان کیا ہے کہ خلیفہ دورہ کرنے والا واعظ نہیں کہ وہ جس جگہ لیکچر دینے کی ضرورت ہو وہاں جائے۔ وہ ایک سپاہی نہیں کہ لڑنے کے لئے جائے بلکہ ایک کمانڈر ہے جس نے سپاہیوں کو لڑوانا ہے۔ کسی مذہبی کانفرنس کی درخواست پر اس کا باہر جانا یا محض لیکچر دینے کے لئے اس کا مرکز سے نکلنا درست نہیں۔ یہی طریق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تھا اور یہی آپ سے پہلے اُمت محمدیہ کے خلفاء کا رہا ہے۔ پس میں طبعاً اس خیال کے مخالف ہوں کہ کسی مذہبی کانفرنس کے بُلاوے پر مرکز کو چھوڑوں۔ ایک دوست نے خوب لکھا ہے کہ اگر اگلے سال اس سے بڑی مذہبی کانفرنس ہوگئی تو پھر کیا ہم اپنے خلیفہ سے درخواست کریں گے کہ وہ اب وہاں جائے۔ یہ بات بالکل درست ہے مذہبی کانفرنسیں تو ہر سال ہو سکتی ہیں اور لوگوں کی توجہ اگر مذہب کی طرف پھر جائے تو بہت بڑے بڑے پیمانوں پر ہو سکتی ہیں مگر ان کی وجہ سے خلیفۂ وقت اپنے مرکز کو نہیں چھوڑ سکتا ورنہ اس کے لئے مرکز میں رہنا مشکل ہو جائے گا۔ ایک مشہور جرمن مدبر فلاسفر کا یہ قول مجھے نہایت پسند ہے اور بہت ہی سچا معلوم ہوتا ہے کہ ہر کام کے افسروں کو بالکل کام سے الگ اور فارغ رہنا چاہیے تا کہ وہ یہ دیکھتے رہیں کہ کام کرنے والے فارغ نہیں ہیں۔ اگر وہ خود کام میں لگ جائیں گے تو دوسرے کام کرنے والوں کی نگرانی نہیں کر سکیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مرکزی کارکنوں کو صرف نگرانی کا کام کرنا چاہیے جزئی کاموں میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔ یہ بات اَور محکموں کے متعلق بھی درست ہوتی ہے مگر خلافت کے متعلق تو بہت ہی درست ہے۔ میں اپنے تجربہ کی بناء پر جانتا ہوں کہ خلافت ایک مردم کش عہدہ ہے۔ اس کا کام اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ اگر خداتعالیٰ کا فضل اس کے ساتھ نہ ہو تو یقینا ایک قلیل عرصہ میں اس عہدہ پر متمکن انسان ہلاک ہو جائے مگر چونکہ خداتعالیٰ اس عہدہ کا نگران ہے وہ اپنے فضل سے کام چلا دیتا ہے۔
    غرضیکہ وعظوں اور لیکچروں کے لئے باہر جانا خواہ وہ کسی عظیم الشان مذہبی کانفرنس کی دعوت ہی پر کیوں نہ ہو خلفاء کے کام کے خلاف بلکہ مشکلات پیدا کرنے کا موجب ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ آئندہ امریکہ جاپان وغیرہ ممالک میں مذہبی کانفرنسیں ہوں اور وہاں کے لوگ دعوت دیں۔ اگر وہاں بھی جاویں تو ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور اگر نہ جاویں تو قومی تعصب کی وجہ سے ان مُلکوں کے لوگ اس کو اپنی ہتک خیال کریں گے اور تبلیغ سلسلہ میں رُکاوٹ پیدا ہوگی۔ مغربی ممالک کے لوگ قومی عزت کا اس قدر احساس رکھتے ہیں کہ جن امور کو ہم لوگ بالکل معمولی خیال کرتے ہیں وہ اسے اپنی زندگی اور موت کا سوال سمجھ بیٹھتے ہیں۔ پس میں مذہبی کانفرنس کی دعوت کے جواب میں جانے کے مخالف ہوں اور اس امر میں جو لوگ نہ جانے کا مشورہ دیتے ہیں اُن سے متفق ہوں‘‘۔
    (انوارالعلوم جلد ۸ صفحہ۳۸۱،۳۸۲)


    مسلمان صرف روحانی خلیفہ کے ہاتھ پر جمع ہوسکتے ہیں
    حضرت مصلح موعود نے سفر انگلستان ۱۹۲۴ء کے دوران ۱۵؍ اگست کو جہاز سے احبابِ جماعت کے نام تیسرا خط تحریر فرمایا اس میں مصر، فلسطین اور شام کے جو حالاتحضور کو ملاحظہ کرنے کا موقع ملا بیان کر کے ان کا حیرت انگیز تجزیہ کیا۔ جامعہ ازہر کی خلافت کمیٹی سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔
    ’’آج اگر ایک ہاتھ پر مسلمان جمع ہو سکتے ہیں تو صرف روحانی خلیفہ کے ہاتھ پر کیونکہ اس کے ہاتھ پر جمع ہونے سے کوئی حکومت مانع نہیں ہوگی یا کم از کم اس کو منع کرنے کا حق نہ ہوگا اور اگر منع کرے گی تو سب دنیا میں ظالم کہلائے گی۔ سیاسی معاملات کا حال بالکل الگ ہے۔ کوئی حکومت اس بات کی اجازت نہیں دے سکتی اور ہر حکومت حق بجانب ہوگی اگر وہ اجازت نہ دے کہ اس کی رعایا کسی دوسرے شخص کی سیاسی امور میں فرمانبرداری کرنے کا عہد کرے در آنحالیکہ وہ شخص جس کے ہاتھ پر اس کی رعایا مجتمع ہو اس کے قبضہ سے باہر اور اس کے تصرف سے الگ ہو‘‘۔ (انوارالعلوم جلد۸ صفحہ۴۴۳)


    کیا خلیفہ سے اختلاف ہو سکتا ہے؟
    حضرت مصلح موعود نے۱۹۲۵ء کو قادیان کے جلسہ سالانہ کے موقع پر اپنی تقریر میں چند متفرق امور جو جماعت کی اصلاح اور ترقی کے لئے ضروری تھے بیان فرمائے۔ یہ تقریر منہاج الطالبین کے نام سے شائع ہوچکی ہے۔ اس میں حضور ’’خلیفہ کے ساتھ اختلاف ہو سکتا ہے یا نہیں‘‘ کے مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔
    ’’ایک اور خیال مجھے بتایا گیا ہے اور وہ یہ کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ خلیفہ سے چونکہ اختلاف جائز ہے اس لئے ہمیں ان سے فلاں فلاں بات میں اختلاف ہے۔ میں نے ہی پہلے اس بات کو پیش کیا تھا اور میں اب بھی پیش کرتا ہوں کہ خلیفہ سے اختلاف جائز ہے مگر ہر بات کا ایک مفہوم ہوتا ہے۔ اس سے بڑھنا دانائی اور عقلمندی کی علامت نہیں ہے۔ دیکھو کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ڈاکٹر کی ہر رائے درست ہوتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ ڈاکٹر بیسیوں دفعہ غلطی کرتے ہیں مگر باوجود اس کے کوئی یہ نہیں کہتا کہ چونکہ ڈاکٹر کی رائے بھی غلط ہوتی ہے اس لئے ہم اپنا نسخہ آپ تجویزکریں گے، کیوں؟ اس لئے کہ ڈاکٹر نے ڈاکٹری کا کام باقاعدہ طور پر سیکھا ہے اور اس کی رائے ہم سے اعلیٰ ہے۔ اسی طرح وکیل بیسیوں دفعہ غلطی کر جاتے ہیں مگر مقدمات میں انہی کی رائے کو وقعت دی جاتی ہے اور جو شخص کوئی کام زیادہ جانتا ہے اس میں اس کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے۔ پس اختلاف کی بھی کوئی حد بندی ہونی چاہیے۔ ایک شخص جو خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے اُسے سمجھنا چاہیے کہ خلفاء خدا مقرر کرتا ہے اور خلیفہ کا کام دن رات لوگوں کی راہنمائی اور دینی مسائل میں غور وفکر ہوتا ہے۔ اس کی رائے کا دینی مسائل میں احترام ضروری ہے اور اس کی رائے سے اختلاف اُسی وقت جائز ہو سکتا ہے جب اختلاف کرنے والے کو ایک اور ایک دو کی طرح یقین ہو جائے کہ جو بات وہ کہتا ہے وہی درست ہے۔ پھر یہ بھی شرط ہے کہ پہلے وہ اس اختلاف کو خلیفہ کے سامنے پیش کرے اور بتائے کہ فلاں بات کے متعلق مجھے یہ شبہ ہے اور خلیفہ سے وہ شبہ دُور کرائے۔ جس طرح ڈاکٹر کو بھی مریض کہہ دیا کرتا ہے کہ مجھے یہ تکلیف ہے آپ بیماری کے متعلق مزید غور کریں۔ پس اختلاف کرنے والے کا فرض ہے کہ جس بات میں اُسے اختلاف ہو اُسے خلیفہ کے سامنے پیش کرے نہ کہ خود ہی اس کی اشاعت شروع کردے۔ ورنہ اگر یہ بات جائز قراردے دی جائے کہ جو بات کسی کے دل میں آئے وہی بیان کرنی شروع کر دے تو پھر اسلام کا کچھ بھی باقی نہ رہے۔ کیونکہ ہر شخص میں صحیح فیصلہ کی طاقت نہیں ہوتی۔ ورنہ قرآن شریف میں یہ نہ آتا کہ جب امن یا خوف کی کوئی بات سنو تو اُولِی الْاَمْرِ کے پاس لے جاؤ۔ کیا اُولِی الْاَمْرِ غلطی نہیں کرتے؟ کرتے ہیں مگر ان کی رائے کو احترام بخشا گیا ہے اور جب ان کی رائے کا احترام کیا گیا ہے تو خلفاء کی رائے کا احترام کیوں نہ ہو۔ ہر شخص اس قابل نہیں ہوتا کہ ہر بات کے متعلق صحیح نتیجہ پر پہنچ سکے۔
    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ اگر کوئی شخص تقویٰ کے لئے سَو بیویاں بھی کرے تو اس کے لئے جائز ہیں۔ ایک شخص نے یہ بات سن کر دوسرے لوگوں میں آ کر بیان کیا کہ اب چار بیویاں کرنے کی حد نہ رہی سَو تک انسان کر سکتا ہے اور یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرما دی ہے۔ آپ سے جب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا میری تو اِس سے یہ مراد تھی کہ اگر کسی کی بیویاں مرتی جائیں تو خواہ اُس کی عمر کوئی ہو تقویٰ کے لئے شادیاں کر سکتا ہے۔
    پس ہر شخص ہر بات کو صحیح طو رپر نہیں سمجھ سکتا اور جماعت کے اتحاد کے لئے ضروری ہے کہ اگر کسی کو کسی بات میں اختلاف ہو تو اُسے خلیفہ کے سامنے پیش کرے۔ اگر کوئی شخص اس طرح نہیں کرتا اور اختلاف کو اپنے دل میں جگہ دے کر عام لوگوں میں پھیلاتا ہے تو وہ بغاوت کرتا ہے اسے اپنی اصلاح کرنی چاہیے‘‘۔
    (انوارالعلوم جلد ۹صفحہ ۱۶۲،۱۶۳)

    خلیفہ کا ادب اور مقام
    جلسہ سالانہ ۱۹۲۶ء کے دوسرے دن ۲۷؍ دسمبر کی تقریر میں دیگر متفرق امور کے علاوہ احبابِ جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے خلیفہ کے ساتھ ادب اور تقویٰ سے معاملات کرنے کے بارہ میںحضرت مصلح موعود نے فرمایا:۔
    ’’ اسی طرح یہاں جب ہمارے عقیدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ خلیفہ قائم کرتا ہے وہ اگر اموال تلف کرتا ہے یا تلف کرنے دیتا ہے تو وہ خود خدا کے حضور جوابدہ ہے تم اس پر اعتراض نہیں کر سکتے لیکن اگر بہترین نتائج پیدا کرنے کے لئے خرچ کرتا ہے تو پھر معترض شخص خطرہ میں ہے۔
    تقویٰ اور ادب سیکھو
    آپ لوگوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ تم نے اقرار کیا ہے کہ تم ہر چیز کو میرے حکم پر قربان
    کر دو گے۔ لیکن میں دیکھتا ہوں کہ اس اقرار کا پورے طور پر خیال نہیں رکھا جاتا۔ اقرار تو یہ تھا کہ جو کچھ میں کہوں وہ تم کرو گے لیکن عمل یہ ہے کہ چند پیسوں پر ابتلاء آ جاتا ہے۔ یہ تمام وسوسے تقویٰ کی کمی سے پیدا ہوتے ہیں اس لئے میں تقویٰ کے حصول کے لئے اور اس میں ترقی کے لئے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں۔ خواہ آپ میں سے بعض مجھ سے عمر میں بڑے ہوں لیکن ایک بات آپ میں سے کسی میں نہیں۔ وہ یہ کہ میں خدا کا قائم کردہ خلیفہ ہوں۔ میری تمام زندگی میں لوگ میری بیعت کریں گے۔ میں کسی کی خدا کے قانون کے مطابق بیعت نہیں کر سکتا اور یہ عہدہ میری موجودگی میں تم میں سے کسی کو نہیں مل سکتا۔ نبوت کے بعد سب سے بڑا عہدہ یہ ہے۔ ایک شخص نے مجھے کہا کہ ہم کوشش کرتے ہیں تا گورنمنٹ آپ کو کوئی خطاب دے۔ میں نے کہا یہ خطاب تو ایک معمولی بات ہے۔ میں شہنشاہِ عالَم کے عہدہ کو بھی خلافت کے مقابلہ میں ادنیٰ سمجھتا ہوں۔ پس میں آپ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے معاملات میں ایسا رنگ اختیار کریں جس میں تقویٰ اور ادب ہو۔ اور میں کبھی یہ بھی نہیں پسند کر سکتا کہ وہ ہمارے دوست جن کو اعتراض پیدا ہوتے ہیںضائع ہوں کیونکہ خلافت کے عہدہ کے لحاظ سے بڑی عمر کے لوگ بھی میرے لئے بچہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور کوئی باپ نہیں چاہتا کہ اس کا ایک بیٹا بھی ضائع ہو۔ میں تو ہمیشہ یہی خواہش رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہر ابتلاء سے ہمیشہ دوستوں کو محفوظ رکھے‘‘۔
    (انوار العلوم جلد ۹ صفحہ ۴۲۵،۴۲۶)


    خلافت اور مرکز سے مضبوط تعلق رکھیں
    ۲۰؍ مئی ۱۹۲۸ء کو امریکہ اور ماریشس کے مبلغین کے اعزاز میں ایک دعوت کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے خلافت اور مرکز سے تعلق پیدا کرنے کے بارہ میں فرمایا:۔
    ’’ روحانی امور میں ایک نظام پر سارا کام چلتا ہے جسمانیات میں نیچے سے اوپر کی طرف ترقی ہوتی ہے لیکن روحانیات میں اوپر سے نیچے کی طرف فیض پہنچتا ہے۔ اس لئے روحانیت میں نظام بہت بڑا تعلق رکھتا ہے۔ پس کوشش کرنی چاہیے کہ لوگوں کا مرکز اور خلافت سے تعلق مضبوط ہو۔ ان کو یاد دلاتے رہنا چاہیے کہ مرکز میں خط لکھیں سلسلہ کی طرف سے جو تحریکیں ہوں، وہ سنائی جائیں، خطبات پڑھائے جائیں، مذہبی طور پر خلافت کے نظام کی اہمیت بتائی جائے اور بتایا جائے کہ خلافت مذہبی نظام کا جز ہے‘‘۔
    (الفضل ۲۹ مئی ۱۹۲۸ء)


    خلیفہ سے تعلق ارادت
    ۱۱؍ ستمبر ۱۹۲۸ء تعلیم الاسلام ہائی سکول اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کی طرف سے حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے باغ میں ملک غلام فرید صاحب ایم اے کے اعزاز میں ایک پارٹی دی گئی اور ایڈریس پیش کیا گیا اس موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے جو تقریر فرمائی اس میں خلیفہ کے ساتھ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔
    ’’سو کبھی اخلاق کی درستی، کارکنوں میں توازن قائم رکھنے اور دیگر کئی ایک وجوہ کے باعث کام لینے والے کو جذبات کو دبانا پڑتا ہے لیکن یہ دبانے سے اور بھی تیز ہوتے ہیں۔ ہر وہ شخص جو دین کا کوئی بھی کام کرتا ہے گو وہ اپنا فرض ہی ادا کرتا ہے لیکن خلیفہ پر احسان بھی کرتا ہے کہ اس کی ذمہ داری خلیفہ پر ہے اور میں اس احسان کو اچھی طرح محسوس کرتا ہوں۔
    ایک اور بات بھی ہے خلیفہ کے تعلقات جماعت سے باپ بیٹے کے ہوتے ہیں۔ اس لئے جہاں اسے مختلف موقعوں پر جذبات کو دبانا پڑتا ہے وہاں دوسروں کا فرض ہے کہ انہیں ظاہر کریں۔ خلیفہ نے چونکہ بہتوں سے کام لینا ہوتا ہے اس لئے اسے جذبات تو دبانے پڑتے ہیں لیکن دوسروں کو ضرور ظاہر کرنے چاہئیں کیونکہ جذبات کے اظہار سے ظاہر کرنے والوں کی حقیقت اور میلانِ طبعی کا پتہ چلتا ہے اور اگر ہر کوئی اپنے جذبات کو دبائے ہی رکھے تو پھر کام لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن ظاہر کرنے کے بعد کام لینے والے کے دل میں جو بھی خداتعالیٰ ڈالے وہ اس کے مطابق کام لے سکتا ہے۔ پس دوسروں کو اپنے جذبات دبانے نہیں چاہئیں کیونکہ جذبات کا دبانا بعض اوقات ٹھوکر کا موجب بھی ہو جاتا ہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ایک مخلص خادم تھے۔ وہ حضور کی مجالس میں نہیں آتے تھے اور ظاہر یہ کرتے تھے کہ حضور کے رُعب کے باعث جانے کی جرأت نہیں ہوتی۔ آپ کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا یہ بھی شیطانی وسوسہ ہے۔ حضرت ابوبکر اور دیگر اکابر صحابہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجالس میں آتے تھے۔ ہماری مجلس میں کسی کا نہ آنا سخت غلطی ہے اس کے بھی یہی معنی ہیں کہ جذبات کو دبانا نہیں چاہیے۔
    پیر مرید کا تعلق دراصل جذبات کا ہی تعلق ہوتا ہے۔ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ۱؎۔ یہ بھی دراصل جذبات کا ہی اظہار ہے۔ یہاں اتباع فرمایا۔ جس کے معنی ہیں پیچھے چلنا۔ یہاں حکم ماننا یا اطاعت کرنا نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا کہ جیسے بچہ اپنی ماں کے ساتھ ساتھ چلتا ہے اسی طرح تم رسول کے پیچھے پیچھے اگر چلو گے تو خداتعالیٰ تم سے اس کے نتیجہ میں محبت کرے گا اور پیچھے چلنا محض جذبات کا تعلق ہے اور خلیفہ بھی رسول کا ظل ہوتا ہے اس لئے وہ بھی جذبات سے ہی تعلق رکھنے والی چیز ہے۔
    ایڈریس کے متعلق جو اس وقت پیش کیا گیا ہے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ اس لحاظ سے قابل قدر ہے کہ اس میں عام ایڈریسوں سے جو ایسے موقعوں پر پیش کئے جاتے ہیں ایک قدم آگے اُٹھایا گیا ہے۔ یعنی اس میں محبت آمیز جرح بھی تھی۔ میرے نزدیک اپنے خیالات کو اس حد تک بیان کرنا کہ محبت اور ادب و احترام کا پہلو مدنظر رہے ایک خوشنما پہلو ہے۔ صرف یہ کہہ دینا کہ آپ آئے اور بہت خوشی ہوئی اس میں کوئی زیادہ لذت نہیں ہوتی بلکہ اس میں تکلّف پایا جاتا ہے پس ایڈریس کے طریق بیان پر بھی میں اظہارِ خوشنودی کرتا ہوں‘‘۔ (الفضل ۵۔ اکتوبر ۱۹۲۸ء)
    ۱؎ آل عمران: ۳۲

    امارت کا خلافت کے ماتحت نظام
    اور خلافت سے وابستگی
    ۱۹۳۰ء میں جماعت احمدیہ صوبہ بنگال کے عہدیداروں میں اختلاف کی وجہ سے جماعتی کام میں نقص پیدا ہونے لگا۔ اس پر حضور نے صوبہ کے آئندہ نظام کے بارہ میں احباب جماعت بنگال سے مشورہ طلب کیا۔ حصولِ مشورہ کے بعد آپ نے ایک مضمون تحریر فرمایا کہ امارت کا نظامِ خلافت کے ماتحت بہترین نظام ہے جسے اگر صحیح چلایا جائے تو تمام ضرورتیں پوری ہو جاتی ہیں۔ابتدائً یہ مضمون حضور نے ۱۳؍ دسمبر ۱۹۳۰ء کو تحریر فرمایا جو ’’امیر جماعت اور منصب امارت کی حقیقت‘‘ کے نام سے شائع ہوا اس میں خلافت سے وابستگی کی ضرورت بیان کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔
    ’’دوسری طرف آپ کی تحریرات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس جماعت کی ترقی خلافت سے وابستگی کے ساتھ مشروط رکھتے ہیں۔ خلیفہ کو واجب الاطاعت قرار دیتے ہیں اور اس کے وجود کو خداتعالیٰ کے فضل کا نشان اور ذریعہ فرماتے ہیں جس کے فقدان کے ساتھ سلسلہ کی برکات بھی ختم ہو جائیں گی اور اس سے بغاوت کو شقاوت اور طغیانی قرار دیتے ہیں۔
    خلافت کے لئے مشورہ کی ضرورت
    تیسری طرف اسلام سے یہ امر باوضاحت ثابت ہے کہ کوئی خلافت
    بغیر مشورہ کے نہیں چل سکتی اور یہ کہ جہاں تک ہو خلیفہ کو کثرتِ رائے کا احترام کرنا چاہیے اور اس کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔ سوائے اس صورت کے کہ وہ خدا اور اس کے رسول کی خلاف ورزی کثرتِ رائے میں پائے یا اسلام کو کوئی واضح نقصان پہنچتا دیکھے یا مشورہ کو جماعت کی کثرتِ رائے کا آئینہ نہ سمجھے وغیرہ وغیرہ۔
    مجلس عاملہ کی حیثیت
    ان تینوں امور کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک خلیفہ کو سب کام
    اپنے ہاتھ سے نہیں کرنے چاہئیں بلکہ ایک مجلس عاملہ کے ذریعہ سے کرنے چاہئیں تا کہ اس کی رائے میں کوئی خاص تعصب نہ پیدا ہو جائے۔ وہ مجلس عاملہ اپنے دائرہ عمل میں سب دنیا کی جماعتوں کیلئے واجب الاطاعت ہونی چاہیے۔ خلیفہ کو جماعت سے مشورہ لے کر اپنی پالیسی کو طے کرنا چاہیے اور اس مشورہ کا انتہائی حد تک لحاظ کرنا چاہیے اور اس سے یہ امر خود بخود نکل آیا کہ جب جماعت کے مشورہ سے کوئی امور طے ہوں تو مجلس عاملہ اس کی پابند ہو۔
    بہترین نظام
    جب قادیان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجلس عاملہ کا مرکز قرار دیا تو بدرجہ اَوْلیٰ خلیفہ اور مجلس شوریٰ کیلئے اس مرکز کی پابندی ضروری ہے۔ حقیقت
    یہ ہے کہ اس سے بہتر نظام کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔ اس نظام میں بغیر کسی حصۂ ملک کو تکلیف میں ڈالنے کے ترقی کی بے انتہاء گنجائش ہے اور باوجود مختلف صوبہ جات کی مخصوص ضرورتوں کو پورا کرنے کے قومیت کے تنگ بندھنوں سے نکالنے کی بھی پوری صورت موجود ہے۔
    خلیفہ کے لئے کوئی شرط نہیں کہ وہ کس مُلک کا باشندہ ہو۔ انجمن عاملہ کے لئے کوئی شرط نہیں کہ وہ کس مُلک کے باشندوں سے چنی جائے۔ مجلس شوریٰ اپنی بناوٹ کے لحاظ سے لازماً سب دنیا کی طرف سے چنی جانی چاہیے اور چونکہ بیشتر حصہ اصولی تجاویز کا ایسی مجلس کے ہاتھوں سے گزرنا ہے اس وجہ سے ہر مُلک اور قوم کے افراد کو سلسلہ کے کام میں اپنی رائے دینے کا موقع ہوگا اور یہ خیال نہیں کیا جا سکتا کہ مسیحی پاپائیت کی طرح کسی خاص قوم کے ہاتھ میں سلسلہ کا کام چلا جائے گا۔ کیونکہ رومن کیتھولک نظام میں مجلس شوریٰ پوپ کے مقرر کردہ نمائندوں پر مشتمل ہوتی ہے لیکن اسلامی مجلس شوریٰ میں سب مسلمانوں کو نمائندگی کا کافی موقع ملتا ہے۔ پس اس نظام کے ذریعہ سے ہر مُلک کو یکساں نمائندگی سلسلہ کے کام میں حاصل ہونے کے لئے راستہ کھلا ہے اور اس کے ماتحت سب دنیا کو ایک نقطہ پر جمع کیا جانا ممکن ہے اور یہی مقصد اسلام کا ہے جو قومیت کے تنگ دائرہ سے دنیا کو نکالنا چاہتا ہے‘‘۔
    (انوارالعلوم جلد ۱۱ صفحہ ۲۳۷ تا۲۳۹)

    خلفاء کی اقسام
    حضور نے ۲۷؍ دسمبر ۱۹۳۰ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر خواتین سے خطاب میں خلفاء کی اقسام بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔
    ’’دنیا میں خلیفہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جنہیں انسان بناتا ہے دوسرے جنہیں خدا الہام کے ذریعہ بناتا ہے۔ الہام کی بناء پر ہونے والے خلیفہ کو نبی کہتے ہیں جو ملہم خلیفے ہوتے ہیں ان کے آنے پر دنیا میں فساد برپا ہو جاتا ہے اس لئے نہیں کہ وہ خود فسادی ہوتے ہیں بلکہ وجہ یہ ہوتی ہے کہ طبائع ناموافق ہوتی ہیں۔ اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کی پیدائش کے واقعہ کے متعلق فرمایا کہ اُس وقت فرشتوں نے بھی یہی کہا کہ آپ دنیا میں ایسے شخص کو پیدا کرنا چاہتے ہیں جو زمین میں فساد کرے۔ یعنی فرشتوں نے سوال کیا کہ آپ کی غرض تو اصلاح معلوم ہوتی ہے مگر درحقیقت یہ فساد کا موجب ہے۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ میں خلیفہ اس لئے بناتا ہوں کہ تا اچھے اور خراب علیحدہ کئے جائیں‘‘۔ (انوارالعلوم جلد ۱۱ صفحہ۵۱۷)


    انتخابِ خلافت کی مشکل گھڑی
    ۱۹۳۰ء میں جب حضور کی وفات کی خبر مشہور ہوئی تو حضو رنے جلسہ سالانہ کے موقع پر ۲۷؍ دسمبر ۱۹۳۰ء کو تقریر کرتے ہوئے فرمایا:۔
    ’’بہت سے خطوط مجھے ایسے آئے جن میں جماعت کے معزز افراد نے لکھا ہے کہ اس خبر کے سنتے ہی اُنہوں نے ارادہ کر لیا کہ ’’ملازمتیں چھوڑ کر بقیہ عمر دین کی خدمت میں صرف کریں گے اور اسلام کی اشاعت میں لگ جائیں گے‘‘۔
    ’’جہاں خداتعالیٰ نے جماعت کو اخلاص کے اظہار کا موقع دیا وہاں یہ بھی بتا دیا کہ انسان آخر انسان ہی ہے خواہ وہ کوئی ہو جب ایسا وقت آئے تو انتخاب خلافت کس طرح کرنا ہے‘‘۔
    انتخاب خلافت کے متعلق جماعت کو ہدایت
    ’’اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ جہاں خداتعالیٰ نے اس طرح جماعت کو اخلاص کے اظہار کا موقع دیا، مخلصین کے اخلاص کو انتہاتک پہنچا دیا اور
    کثیر حصہ کو دشمنوں کی شرارت سے محفوظ رکھا وہاں یہ بھی بتا دیا کہ انسان آخر انسان ہی ہے خواہ وہ کوئی ہو آخر ایک نہ ایک دن اسے اپنے مخلصین سے جدا ہونا ہے اس بات کا احساس خداتعالیٰ نے جماعت کو کرا دیا۔ جماعت کے لحاظ سے اس سے ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے اور وہ یہ کہ انسان مرتے ہیں، رسول اور خلفاء فوت ہوتے ہیں، تمام ابنیاء کے سردار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی فوت ہوگئے، آپ کے خلفاء بھی فوت ہوگئے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا بھی انتقال ہوگیا۔ ایک وقت تک لوگوں کو ایک ہی کی امید تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی بھی موت ثابت کردی۔ غرض موت ہر ایک کے لئے مقدر ہے۔ مگر یاد رکھو دشمن اب بھی زندہ ہے وہ مرا نہیں صرف ڈرا ہے۔ اس صورت میں تمہیں یاد رکھنا چاہئے کہ خلیفہ سے جماعت کو جو تعلق ہے وہ جماعت ہی کی بہتری اور بھلائی کا موجب ہے اور جو بھی خلیفہ ہو اس سے تعلق ضروری ہے۔ پس اسلام اور احمدیت کی امانت کی حفاظت سب سے مقدم ہے اور جماعت کو تیار رہنا چاہیے کہ جب کبھی بھی خلفاء کی وفات ہو اُس وقت جو اسلام کی بہترین خدمت وہ کر سکتی ہے وہ یہی ہے کہ صحیح ترین انسان کو اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرنے اور اُس سے الہام پانے کے بعد جماعت کی راہنمائی کے لئے منتخب کیا جائے اور ساری جماعت اِس پر متفق ہو جائے۔ انتخابِ خلافت سے بڑی آزمائش مسلمانوں کے لئے اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ یہ ایسی ہی ہے جیسے باریک دھار پر چلنا جس سے ذرا قدم لڑکھڑانے سے انسان دوزخ میں جا گرتا ہے۔ اور ذرا سی احتیاط سے جنت میں پہنچ جاتا ہے۔ پھر یہ ذمہ داری اس لئے بھی نہایت نازک ہے کہ اس کے متعلق خداتعالیٰ کا الہام قلوب میں نازل ہوتا ہے۔ الفاظ میں نازل نہیں ہوتا۔ الفاظ میں جو الہام ہو اُسے آسانی کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے لیکن قلوب میں نازل ہونے والے الہام کے متعلق ہو سکتا ہے کہ جو کچھ خیال کیا جائے وہ اصل الہام نہ ہو۔
    خلافت خداتعالیٰ کا ایک بہت بڑا انعام ہے۔ جب تک لوگ اس کے پانے کے قابل رہتے ہیں یہ انہیں حاصل رہتا ہے لیکن جب وہ اپنے آپ کو اس کے قابل نہیں رکھتے تو چھین لیا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں آتا ہے ۱؎ کہ یہ مومنوں اور عمل صالح کرنے والوں کے لئے انعام ہے۔ اگر لوگ مومن ہونگے اور عمل صالح کریں گے تو یہ انعام ملے گا ورنہ چھن جائے گا۔ پس ہو سکتا ہے کہ ایک شخص جسے خلافت کے لئے منتخب کیا جائے اُس کا انتخاب صحیح الہام کے ماتحت نہ ہو بلکہ اپنی نفسی حالت کے ماتحت ہو اور وہ جماعت کو غلط راستہ پر لے جائے۔
    پس یاد رکھو کہ انتخابِ خلافت سے بڑھ کر مشکل اور کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ باقی جس قدر ذمہ داریاں ہیں ان کے متعلق ضروری ہدایات الفاظ میں موجود ہیں لیکن اس کے لئے الفاظ میں کوئی ہدایت نہیں ہے۔ اس کی مثال وائرلیس کے آلہ کی سی ہے اگر اس کی تاریں ٹھیک ہوں تو صحیح پیغام سنا جا سکتا ہے ورنہ نہیں۔
    پس جماعت کو اس کے متعلق اپنی ذمہ داری پہچاننی چاہیے اور نَسْلاً بَعْدَ نَسْلٍ یہ روایت چھوڑ جانی چاہیے کہ ایک موقع جماعت پر ایسا آتا ہے جب کہ اسے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے بہترین انسان پر متفق ہو جانا چاہے‘‘۔ (غیر مطبوعہ مواد)
    غیر مبائعین کی کذب بیانی
    اس کے بعد حضور نے غیر مبائعین کے فتنہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ لوگ جھوٹ اور غلط بیانی
    میں کس طرح حد سے گزر چکے ہیں اور اس بات پر اظہارِ تعجب و افسوس فرمایا کہ ایسے ایسے جھوٹ دیکھ کر ان لوگوں کے دل میں کیوں درد نہیں پیدا ہوتا جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ تعلیم دی کہ کسی حالت میں خفیف سے خفیف جھوٹ بھی نہیں بولنا چاہیے۔ حضور نے ان لوگوں کے حد سے بڑھے ہوئے جھوٹ کی مثال میں ۳۰؍ ستمبر کے ’’پیغام‘‘ کا ایک مضمون پڑھ کر سنایا جس میں لکھا ہے کہ خلیفہ قادیان کو اپنے بعد کی خلافت کی فکر ابھی سے دامن گیر ہے اور اس منصب جلیلہ کے لئے اپنے لخت جگر میاںناصر احمد کے نام قرعہ فال نکالا ہے۔ اس انتخاب کے بعد ولی عہد خلافت پرنس آف ویلز کی طرح دورہ پر نکلے۔ تمام قادیانی جماعتوں کو اپنے دیدار فیض آثار سے آنکھوں کا نور اور دل کا سرور عطا فرمایا۔ ہدیے، نذرانے اور تحائف وصول کر کے کامیابی سے قادیان واپس تشریف فرما ہوئے۔ اس کامیاب دورہ کا اندازہ لگانے کے بعد کہ مریدوں نے میاں ناصر کو سر آنکھوں پر قبول کیا۔ اخباروں، پوسٹروں، اشتہاروں اور خطوط وغیرہ کی پیشانیوں کو ھُوَالنَّاصِرُ کے فقرہ سے مزین کیا جانے لگا اور یوں ایک رنگ میں اعلان کیا گیا کہ ہونے والا خلیفہ ناصر میاں ہے۔ تمام حاضرین نے لَعْنَتَ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ کہتے ہوئے شہادت دی کہ میاں ناصر احمد صاحب نے کوئی دورہ نہیں کیا۔ حضور نے وضاحت کے ساتھ پیغام کے اس مضمون کی تردید کی اور بتایا کہ میاں ناصر احمد کو خلافت کے لئے دورہ کرانے کا الزام لگانے والے دیکھیں میں تو وہ ہوں جس نے ۱۹۲۴ء کی مجلس مشاورت میں یہ بات پیش کی تھی کہ کوئی خلیفہ اپنے کسی رشتہ دار کو اپنا جانشین نہیں مقرر کر سکتا چنانچہ میں نے پیش کیا تھا کہ:۔
    ’’کوئی خلیفہ اپنے بعد اپنے کسی قریبی رشتہ دار کو یعنی اپنے باپ یا بیٹے یا بھائی یا بہنوئی یا داماد کو یا اپنے باپ یا بیٹوں یا بیٹیوں یا بھائیوں کے اوپر یا نیچے کی طرف کے رشتہ داروں کو اپنا جانشین مقرر نہیں کر سکتا۔ نہ کسی خلیفہ کی زندگی میں مجلس شوریٰ اس کے کسی مذکورہ بالا رشتہ دار کو اس کا جانشین مقرر کر سکتی ہے۔ نہ کسی خلیفہ کے لئے جائز ہوگا کہ وہ وضاحتاً یا اشارتاً اپنے کسی ایسے مذکورہ بالا رشتہ دار کی نسبت تحریک کرے کہ اس کو جانشین مقرر کیا جائے۔ اگر کوئی خلیفہ مذکورہ بالا اصول کے خلاف جانشین مقرر کرے تو وہ جائز نہ سمجھا جائے گا اور مجلس شورٰی کا فرض ہوگا کہ خلیفہ کی وفات پر آزادانہ طور سے خلیفہ حسب قواعد تجویز کرے اور پہلا انتخاب یا نامزدگی چونکہ ناجائز تھی وہ مسترد سمجھی جائے گی‘‘۔
    اب دیکھو غیر مبائعین کی طرف سے یہ الزام اس شخص پر لگایا جاتا ہے جس نے خلافت کے متعلق پیش بندیاں پہلے سے ہی کر دی ہیں تا کہ کوئی ایسی کارروائی نہ کر سکے اور اگر کرے تو اسے مسترد کر دیا جائے‘‘۔ (انوارالعلوم جلد ۱۱ صفحہ۵۳۶ ،۵۳۷)
    ۱؎ النور: ۵۶

    خلیفہ کا احترام اور مقام
    ۱۹۳۲ء کے جلسہ سالانہ کے دوسرے دن ۲۷؍ دسمبر کو حضور نے حسب معمول متفرق امور کے بارہ میں تقریر فرمائی۔ ابتدائً حضور نے فرمایا کہ عورتوں کی جلسہ گاہ ناکافی ہونے کی وجہ سے بہت دِقت پیش آئی ہے اس لئے منتظمین کو توجہ کرنی چاہیے۔ اسی طرح کی توجہ طلب مزید کچھ باتوں کی طرف توجہ دلائی اور مقامِ خلافت بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔
    ’’ ایک اور بات ہے اور وہ یہ کہ ایک طبقہ ایسا ہے جو سفارش میں خلافت کو بھی کھینچ کر لانا چاہتا ہے۔ یہ بہت گری ہوئی اور نہایت قابلِ نفرت بات ہے۔ خلافت نبوت کی نیابت ہے اور نبوت خدا کی نیابت ہے پس خلیفہ کو ایسی جگہ کھڑا کرنا جہاں اس کی گردن نیچی ہو، بہت بڑی ہتک ہے۔ ہم دُنیوی لحاظ سے بادشاہ کی اطاعت کرتے ہیں مگر یہ بھی سمجھتے ہیں کہ خلیفہ کا درجہ تمام دنیا کے بادشاہوں سے بڑا ہے۔ اگر کوئی یہ نہیں یقین رکھتا تو وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مسیحیت سے واقف نہیں۔ خلیفہ کے پاس اس لئے آنا کہ ڈپٹی کمشنر یا کسی مجسٹریٹ کو سفارش کرائی جائے اس کا مطلب یہ ہے کہ خلیفہ کی ان حکّام کے سامنے نظر نیچی کرائی جائے اور اگر اس حد تک خلیفہ کی سفارش لے جائیں تو پھر خداتعالیٰ پر توکّل کہاں رہا۔ جو شخص کسی مجسٹریٹ کے لئے سفارش چاہتا ہے اسے تو میں مجرم سمجھتا ہوں۔ میں نے جب یہ رکھا ہے کہ اپنی جماعت کے کسی قاضی کے متعلق اگر مجھے یہ معلوم ہوا کہ اس نے کسی معاملہ میں کسی کی سفارش قبول کی ہے تو میں اسے نکال دوں گا تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ کسی مجسٹریٹ سے خود سفارش کروں۔ بعض دفعہ کر دیتا ہوں مگر وہ اور رنگ کی سفارش ہوتی ہے۔ مثلاً یہ کہ مقدمہ کا جلدی تصفیہ کر دیا جائے اس قسم کی سفارش میں نقص نہیں مگر یہ کہ فلاں کے حق میں فیصلہ کیا جائے یہ نہیں ہو سکتا۔ ایک شخص نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ میرا کیس اتنا اہم ہے کہ خلیفہ کو خود گورنر کے پاس جا کر کہنا چاہیے کہ فیصلہ میرے حق میں ہو۔ ایک شخص نے کہا ہمارے علاقہ میں تبلیغ کا بڑا موقع نکلا ہے اور وہ یہ کہ مجھے نمبردار بنوا دیا جائے۔ میں متنبہہ کرتا ہوں کہ اس قسم کی سفارشات چاہنا خلافت کی ہتک ہے اور اسے جاری نہیں رہنا چاہیے۔ اِس قسم کے کاموں کے لئے مجھے مت کہا کرو بلکہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو نہ کہا کرو اور خداتعالیٰ پر توکّل کرو۔ جب ہمارے آپس کے ایسے تعلقات نہ تھے اُس وقت کون حفاظت کرتا تھا۔ خدا پر ہی توکّل کرو تا کہ کسی مشکل اور مصیبت کے وقت خود خداتمہاری سفارش کرنے والا ہو‘‘۔ (انوارالعلوم جلد۱۲ صفحہ۶۰۴)


    خلیفہ کی ذات پر حملہ *** الٰہی کا مستحق بناتا ہے
    مورخہ ۲۶؍ جون ۱۹۳۷ء کو بمقام بیت اقصیٰ قادیان سیدنا المصلح الموعود نے خطاب فرمایا جس میں میاں فخر الدین صاحب ملتانی کی فتنہ پردازیوں اور جماعت کے خلاف بغض و کینہ کی تفصیلات سے احباب جماعت کو آگاہ فرمایا اور اسے اخراج اور مقاطعہ کی سزا سنائی۔ حضور نے خلافت کی حفاظت اور اس کی عزت اور وقار کی اہمیت بیان کرتے ہوئے جماعت کو نصیت فرمائی کہ:۔
    ’’ قرآن کریم کا یہ حکم ہے کہ جب رسول یا اس کا خلیفہ فیصلہ کرے تو اسے ٹھیک مان لیا جائے۔ ہو سکتا ہے کہ خلیفہ غلط فیصلہ کر دے مگر پھر بھی اسے رغبتِ دل کے ساتھ تسلیم کرنا ضروری ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو سزا دینا چاہے اور اس لئے وہ سچا ہونے کے باوجود مقدمہ میں جھوٹا ثابت ہو جائے۔ ممکن ہے کوئی کہے کہ یہ آیت صرف آنحضرت ﷺ کیلئے ہے کیونکہ وہ نبی تھے۔ مگر اس معاملہ میں نبی اور خلیفہ میںکوئی فرق نہیں کیونکہ نبی اور خلیفہ میں اس جگہ فرق ہوتا ہے جہاں نبوت کا مخصوص سوال ہو۔ اور مقدمات میںنبوت کے مقام کو کوئی دخل نہیں کیونکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں مقدمات کے فیصلہ کرنے میں غلطی کر سکتا ہوں۔ اگر نبی کے فیصلے منصبِ نبوت کے ماتحت ہوتے تو وہ ان میں کبھی غلطی نہ کر سکتا۔
    حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ ایک مقدمہ کا فیصلہ ایک شخص کے حق میں کر دیا تو دوسرے نے کہاکہ میں اس فیصلے کو تو مانتا ہوں مگر یہ ہے غلط۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کہ ہو سکتاہے کہ کوئی لسّان شخص مجھے دھوکا دیکر مجھ سے اپنے حق میں فیصلہ کروالے مگر میرا فیصلہ اسے خداتعالیٰ کی گرفت سے نہیں بچا سکے گا ۱؎ گویا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ قضاء کے بارہ میں مَیں بھی غلطی کر سکتا ہوں مگر باوجود اس کے قرآن کریم کہتا ہے کہ اگر یہ لوگ شرح صدر سے تیرے فیصلے کو نہیں مانیں گے تو یہ ایمان والے نہیں ہیں۔ پس اس معاملہ میں نبی اور خلیفہ کی پوزیشن ایک ہی ہے۔ نظام کے قیام کیلئے یہ بات ضروری ہے کہ ایک انسان کو ایسا حَکم مان لیا جائے کہ جس کے فیصلہ کے آگے کوئی چون و چرا نہ کرے۔ یہ لوگ کہتے ہیںکہ کیا خلیفہ بے گناہ ہوتا ہے؟ کیا وہ غلط فیصلہ نہیں کر سکتا؟ مگر میں کہتا ہوں کہ اے بیوقوفو! کیا مجسٹریٹ بے گناہ ہوتے ہیں؟ کیا وہ غلطی نہیں کر سکتے؟ پھر یہ تسلیم کرنے کے باوجود کہ وہ رشوت بھی لیتے ہیں، جھوٹے بھی ہوتے ہیں، متعصّب بھی ہوتے ہیں، پکڑے جاتے اور سزا بھی پاتے ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ حکومتوں نے ان کے فیصلہ پر سخت جرح کرنے کو ہتکِ عدالت قرار دیا ہے اور ایسا کرنے والے کو سزا دی جاتی ہے۔ تم اگر کسی مجسٹریٹ کے فیصلہ کے خلاف اِس قسم کی بات کہو کہ اُس نے رعایت سے کام لیا ہے توفوراً جیل خانہ میں بھیج دیئے جاؤ۔ مگر کیا خدائی گورنمنٹ کی تمہارے نزدیک کوئی وقعت ہی نہیں کہ جو کچھ منہ میں آئے کہہ دیتے ہو۔ کیا تم میں سے کوئی عَلَی الْاِعْلاَن کہہ سکتا ہے کہ مجسٹریٹ نے دیانت داری کے خلاف فیصلہ کیا ہے۔ مگر یہ کہنے میں تمہیںکوئی باک نہیںکہ خلیفہ نے دیانت داری کے خلاف فیصلہ کیا ہے اور اس کا نام حُریّت و آزادی رکھتے ہو۔ لیکن سرکاری مجسٹریٹ کے فیصلہ کے متعلق یہ بات کہتے وقت حُریّت و آزادی کہاں جاتی ہے۔ اس کے متعلق صرف اس وجہ سے نہیں کہتے کہ گورنمنٹ کی جوتی سر پر ہوتی ہے۔ تم میں بعض لوگ بیٹھے ہیں جو کہتے ہیں کہ کیا چھوٹی سی بات پر جماعت سے نکال دیا مگر سوچو! کیا یہ بات چھوٹی ہے؟ قرآن کریم نے کہا ہے کہ جو کہتا ہے کہ نبی یا اس کے جانشینوںکا فیصلہ غلط ہے وہ مومن ہی نہیں۔ صحابہؓ نے تو اس بات کو اِس قدر اہم قرار دیا ہے کہ ایک دفعہ دو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہاکہ ہمارا فیصلہ کر دیں۔ ان میں سے ایک منافق تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی بات سن ہی رہے تھے کہ اُس نے خیال کیا، شاید فیصلہ میرے خلاف ہی نہ کر دیں اس لئے اُس نے کہا کہ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! آپ کو تکلیف دینے کی کیا ضرورت ہے، ہم اپنا یہ مقدمہ حضرت عمرؓ کے پاس لے جاتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا لے جاؤ۔ چنانچہ حضرت عمرؓ کے پاس گئے اور دورانِ گفتگو میں حضرت عمرؓ کو اِس بات کا علم ہوا کہ پہلے یہ آنحضرت ﷺ کے پاس گئے تھے مگر وہاں منافق یہ کہہ کر آیا ہے کہ حضرت عمرؓ سے ہم فیصلہ کرالیں گے۔ اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا۔ ذرا ٹھہرو، میں ابھی آتا ہوں گھر گئے اور تلوار لا کر اُس شخص کی گردن اُڑا دی ۲؎ اُس کے رشتہ دار رسول کریم ﷺ کے پاس شکایت لیکر گئے۔ آپؐ نے فرمایا میں یہ ماننے کو تیار نہیںکہ عمر مومنوں کی گردنیں کاٹتا پھرتا ہے۔ مگر آپؐ نے حضرت عمرؓ کو بُلا کر دریافت فرمایا۔ تو انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے۔ مجھے معلوم ہوا تھا کہ یہ شخص اس طرح آپ کو کہہ کر گیا ہے اس لئے میں نے مار دیا کہ جو شخص محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے عمر پر زیادہ اعتبار کرتا ہے اُس کی سزا یہی ہے۔ بیشک حضرت عمرؓ کا یہ فعل درست نہ تھا، ہماری شریعت اِس کی اجازت نہیں دیتی لیکن جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بِحُکْمِ اللّٰہ اُن کے اِس فعل کو ناپسند فرمایا، وہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر کے اصل کو تسلیم کیا کہ ایسا کہنے والا مومن نہیں کہلا سکتا اور فرمایا۔ ۳؎ ہم اپنی ذات کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ گو قتل کا فعل درست نہیں مگر یہ بھی درست نہیں کہ وہ شخص مومن تھا اور عمرؓ نے مومن کو قتل کیا۔ جو شخص تیرے فیصلہ کو نہیں مانتا وہ خداتعالیٰ کے نزدیک ہرگز مومن نہیں۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت عمرؓ نے ایک فاسق کو مارا تھا۔ پس جب آنحضرت ﷺ خود فرماتے ہیں کہ میں غلطی کر سکتا ہوں تو پھر خلیفہ سے غلطی کس طرح ناممکن ہے۔ مگر پھر بھی اس کے فیصلہ کو شرح صدر کے ساتھ ماننا ضروری ہے۔ اس اصل کو بُھلا دو تو تمہارے اندر بھی تفرقہ اور تنفر پیدا ہو جائے گا۔ اِسے مٹا دو اور لوگوں کو کہنے دو کہ خلیفہ بھی غلطی کر سکتا ہے تو تم بھی پراگندہ بھیڑوں کی طرح ہو جاؤ گے جن کو بھیڑئیے اُٹھا کر لے جائیں گے اور دنیا کی لعنتیں تم پر پڑیں گی۔ جسے خدا نے عزت دی ہے، تمہارے لئے اس کی عیب جوئی جائز نہیں۔ اگر وہ غلطی بھی کرتا ہے اور اُس کی غلطی سے تمہیں نقصان پہنچتا ہے تو تم صبر کرو۔ خدا دوسرے ذریعہ سے تمہیں اس کا اجر دے گا اور اگر وہ گندہ ہو گیا ہے تو جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح فرماتے ہیں، تم خدا کے آگے اس کا معاملہ پیش کرو۔ وہ اگر تم کو حق پر دیکھے گا اُسے خود موت دے دیگا اور تمہاری تکلیف دور کر دے گا۔ مگر تمہارا اپنے ہاتھ میں قانون لینا اور ظاہر یا خفیہ خلیفہ کی ذات یا عزت پر حملہ کرنا تم کو خداتعالیٰ کی *** کا مستحق بناتا ہے۔ اگر تم خداتعالیٰ کے قائم کردہ کی عزت پر ہاتھ ڈالو گے تو یاد رکھو کہ خداتعالیٰ تمہاری عزت کی چادر کو چاک چاک کر دے گا اور تم تباہ و برباد ہو جاؤ گے۔ تمہاری عزت اسی میں ہے کہ خلافت کی عزت کرو اور جو شخص اس کی بے عزتی کیلئے کھڑا ہو، تم اُس سے تعلق نہ رکھو۔ بے شک اسلام میں قانون کا اپنے ہاتھ میں لینا جائز نہیں ہے لیکن ایسے شخص سے بیزاری اور قطع تعلق کا اظہار کر کے تم اپنے فرض کو ادا کر سکتے ہو اور اعلان کر سکتے ہو کہ اب یہ شخص ہم میں سے نہیں ہے۔ اب یہ بات تمہارے اپنے اختیار میں ہے۔ چاہے تو خداتعالیٰ کے قائم کردہ خلیفہ کی عزت کو قائم کر کے خود بھی عزت پاؤ اور چاہے تو اس کی عزت پر ہاتھ ڈالو اور خدائی تلوار تمہیں اور تمہاری اولادوں کو تباہ و برباد کر دے‘‘۔
    (انوارالعلوم جلد۱۴ صفحہ۴۷۶ تا۴۷۸)
    ۱؎ مسند احمد بن حنبل جلد۶ صفحہ۳۲۰ المکتب الاسلامی بیروت ۱۳۱۳ ھ
    ۲؎ الصَّارِمُ الْمَسْلُول عَلٰی شَاتِم الرَّسُوْلِ لابن تیمیہصفحہ۳۹،۴۰ الطبعۃ الاولٰی حیدر آباد دکن
    ۳؎ النساء: ۶۶

    خلیفہ کی کامل اطاعت
    ۱۹۳۴ء کے فتنہ میں احراریوں کی زبردست شکست کے بعد مخالفین نے جماعت کے خلاف کئی نئے محاذ کھول لئے۔ ایک فتنہ مرتدین کا تھا۔ حضور نے خلیفہ کی کامل اطاعت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اگست ۱۹۳۷ء میں اَلِاْمَامُ جُنَّۃٌ یُقَاتَلُ مِنْ وَّرَائہٖ حدیث کی تشریح میں فرمایا:۔
    ’’دوسری بات جس کی طرف مَیں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ موجودہ فتنہ خلافت کے خلاف ہے۔ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ خلافت اسلام کا ایک اہم جزو ہے اور جو اس سے بغاوت کرتا ہے وہ اسلام سے بغاوت کرتا ہے۔ اگر ہمارا یہ خیال درست ہے تو جو لوگ اس عقیدہ کو تسلیم کرتے ہیں، ان کیلئے اَلِاْمَامُ جُنَّۃٌ یُقَاتَلُ مِنْ وَّرَائِہ ٖ۱؎ کا حکم بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے۔کیونکہ خلافت کی غرض تو یہ ہے کہ مسلمانوں میں اتحادِ عمل اور اتحادِ خیال پیدا کیا جائے اور اتحادِ عمل اور اتحادِ خیال خلافت کے ذریعہ سے تبھی پیدا کیا جا سکتا ہے اگر خلیفہ کی ہدایات پر پورے طور پر عمل کیا جائے۔ اور جس طرح نماز میں امام کے رکوع کے ساتھ رکوع اور قیام کے ساتھ قیام اور سجدہ کے ساتھ سجدہ کیا جاتا ہے اسی طرح خلیفۂ وقت کے اشارہ کے ماتحت ساری جماعت چلے اور اس کے حکم سے آگے نکلنے کی کوشش نہ کرے۔ نماز کا امام جو صرف چند مقتدیوں کا امام ہوتا ہے جب اس کے بارہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو اس کے رکوع اور سجدہ میں جانے سے پہلے رکوع یا سجدہ میں جاتا ہے یا اس سے پہلے سراُٹھاتا ہے، وہ گنہگار ہے ۲؎ تو جو شخص ساری قوم کا امام ہو اور اُس کے ہاتھ پر سب نے بیعت کی ہو اُس کی اطاعت کتنی ضروری سمجھی جائے گی۔ چنانچہ رسول کریم ﷺ اِسی اہمیت کو واضح کرنے کیلئے فرماتے ہیں کہ اَلِاْمَامُ جُنَّۃٌ یُقَاتَلُ مِنْ وَّرَائِہٖ تم اپنی انفرادی عبادتوں میں شریعتِ اسلامیہ کے مطابق جس طرح چاہو عمل کرو لیکن اپنی قوم کے مخالفوں کے مقابلہ کا جب وقت آئے، اُس وقت تمہاری سب آزادی سلب ہو جاتی ہے اور تم کو حق نہیں پہنچتا کہ امام کی موجودگی اور آزادی کے وقت میں تم اس بارہ میں کوئی آزاد فیصلہ کرو بلکہ چاہئے کہ امام تمہارے لئے بطور ڈھال کے ہو۔ جس طرح سپاہی ڈھال کے پیچھے چلتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں ڈھال سے اِدھر اُدھر ہؤا اور مرا۔ اسی طرح تم سب امام کے اشارہ پر چلو اور اس کی ہدایات سے ذرہ بھر بھی اِدھر اُدھر نہ ہو۔ جب وہ حُکم دے بڑھو اور جب وہ حُکم دے ٹھہر جاؤ۔ اور جدھر بڑھنے کا وہ حُکم دے اُدھر بڑھو اور جدھر سے ہٹنے کا حُکم دے اُدھر سے ہٹ آؤ۔
    اِس حُکم کی جب تک فرمانبرداری نہ کی جائے، خلافت ایک بے معنی شَے رہ جاتی ہے اور وہ اتحاد جس کے پیدا کرنے کیلئے اسلام نے یہ سب سامان پیدا کیا ہے کسی طرح بھی پیدا نہیں ہو سکتا اور اسلام کی وہ ترقی جو اِس اتحاد سے مقصود ہے حاصل نہیں ہو سکتی۔ ادھوری اتباع صرف طاقت کو ضائع کرنے والی ہوتی ہے۔ اس سے صرف لوگوں کی آزادی چھنتی ہے اور وہ شیریں پھل نہیں پیدا ہوتے جن پھلوںکا پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کا منشا ہے اور جن پھلوں کو کھا کر مومن اِسی دنیا میںجنت کے مزے لُوٹ سکتا ہے‘‘۔
    (انوارالعلوم جلد۱۴ صفحہ۵۱۵ ،۵۱۶)
    ۱؎ بخاری کتاب الجہاد باب یقاتل من وراء الامام
    ۲؎ بخاری کتاب الاذان باب اثم من رفع رأسہ قبل الامام

    جلسہ خلافت جوبلی ۱۹۳۹ء
    تقریر بجواب ایڈریس ہائے جماعتہائے احمدیہ
    (تقریر فرمودہ ۲۸؍ دسمبر ۱۹۳۹ء)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃفاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    مَیں جب سے تقریر کے میدان میں آیا ہوں اور جب سے مجھے تقریر کرنے یا بولنے کا موقع ملا ہے مَیں نے شروع دن سے یہ بات محسوس کی ہے کہ ذاتی بناوٹ کے لحاظ سے تقریر کرنا میرے لئے بڑا ہی مشکل ہوتا ہے اور میری کیفیت ایسی ہو جاتی ہے جسے اُردو میں ’’گھبرا جانا‘‘ کہتے ہیں اور انگریزی میں NERVAUS ہو جانا کہتے ہیں۔ مَیں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا ہے کہ اپنی دماغی کیفیت کے لحاظ سے مَیں ہمیشہ نروس ہو جاتا ہوں یا گھبرا جاتا ہوں۔ مجھے یاد ہے جب مَیں نے پہلی تقریر کی اور اس کے لئے کھڑا ہوئا توآنکھوںکے آگے اندھیرا آگیا اور کچھ دیر تک تو حاضرین مجھے نظر نہ آتے تھے اور یہ کیفیت تو پھر کبھی پیدا نہیں ہوئی لیکن یہ ضرور ہوتا ہے کہ ایک خاص وقت میں جس کی تفصیل مَیں آگے چل کر بیان کروں گا میرے دل میں ایک اضطراب سا پیدا ہو جاتا ہے لیکن وہ حالت اُس وقت تک ہوتی ہے جب تک کہ بجلی کا وہ کنکشن قائم نہیں ہوتا جو شروع دن سے کسی بالا طاقت کے ساتھ میرے دماغ کا ہو جایا کرتا ہے اور جب یہ دَور آ جاتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے تمام بڑے بڑے مقرر اور لسّان جو اپنی اپنی زبانوں کے ماہر ہیں میرے سامنے بالکل ہیچ ہیں اور میرے ہاتھوں میں کھلونے کی طرح ہیں۔ جب مَیں پہلے پہل تقریر کے لئے کھڑا ہوا اور قرآن کریم سے آیات پڑھنے لگا تو مجھے الفاظ نظر نہ آتے تھے اور چونکہ وہ آیات مجھے یاد تھیں مَیں نے پڑھ دیں لیکن قرآن گو میرے سامنے تھا مگر اِس کے الفاظ مجھے نظر نہ آتے تھے اور جب مَیں نے آہستہ آہستہ تقریر شروع کی تو لوگ میری نظروں کے سامنے سے بالکل غائب تھے۔ اس کے بعد یکدم یوں معلوم ہوا کہ کسی بالا طاقت کے ساتھ میرے دماغ کا اتّصال ہو گیا ہے۔ یہاں تک کہ جب مَیں نے تقریر ختم کی تو حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ یہ تقریر سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی اور انہوں نے قرآن کریم کے جو معارف بیان کئے ہیں باوجود اس کے کہ میں نے بڑی بڑی تفاسیر پڑھی ہیں اور میری لائبریری میں بعض نایاب تفاسیر موجود ہیں مگر یہ معارف نہ مجھے پہلے معلوم تھے اور نہ میں نے کہیں پڑھے ہیں۔ سو جب دَورانِ تقریر میں وہ کیفیت مجھ پر طاری ہوتی ہے تو مَیں محسوس کرتا ہوں کہ خداتعالیٰ کے فضل سے وہ کَل دبائی گئی ہے اور اب اللہ تعالیٰ میرے دماغ میں ایسے معارف نازل کرے گا کہ جو میرے علم میں نہیں ہیں اور بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ قرآن شریف پڑھتے ہوئے بھی وہ کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ آج بھی وہ کیفیت شروع ہوئی تھی مگر اِس وقت جو ایڈریس پڑھے گئے ہیں اِن کو سن کر وہ دُور ہو گئی۔
    ایک دفعہ آنحضرت ﷺ گھر سے باہر تشریف لائے تو دو شخص آپس میں لڑ رہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے لیلۃ القدر کے متعلق بتایا تھا کہ وہ کونسی رات ہے مگر ان کی لڑائی کو دیکھ کر وہ مجھے بھول گئی۔۱؎ اِسی طرح مجھ پر بھی وہ کیفیت طاری ہوئی تھی مگر ا سکے بعد ایڈریس شروع ہوئے۔ ان میں سے بعض ایسی زبانوں میں تھے کہ نہ میں کچھ سمجھ سکا اور نہ آپ لوگ۔ اور میں نے محسوس کیا کہ یہ بناوٹ ہے اور منتظمین دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں کہ ہم میں ایسی ایسی زبانیں جاننے والے لوگ موجود ہیں اور اس ظاہر داری کو دیکھ کر میری طبیعت پر ایسا بُرا اثر ہؤا کہ وہ کیفیت جاتی رہی۔ہم لوگ تو اپنے جذبات کو دبانے کے عادی ہیں اور جن لوگوں نے بڑے کام کرنے ہوتے ہیں اُن کو یہ مشق کرنی پڑتی ہے۔ سرکاری افسروں کو دیکھ لو مثلاً تحصیلدار اور تھانیدار وغیرہ ہیں سب قِسم کے لوگ ان کے پاس آتے اور باتیں کرتے ہیں اور وہ سب کی باتیں سُنتے جاتے ہیں لیکن اس مجلس میں ایسے لوگ بھی تھے جو جذبات کو دبانے کے عادی نہیں اِس لئے اِن میں ایک بے چینی سی تھی اور وہ بھاگ رہے تھے اور یہ نظارہ میرے لئے تکلیف دِہ تھا اور اِس وجہ سے وہ کیفیت دُور ہو گئی۔ گو اَب میں اگر اِسی مضمون کو بیان کرنا شروع کر دوں تو وہ بٹن پھر دَب جائے گا مگر پہلے جو کچھ میرے ذہن میں تھا وہ اب یاد نہیں آ سکتا۔ بہرحال مجھے کچھ کہنا چاہئے اور اس کارروائی کے متعلق جہاں تک دُنیوی عقل کا تعلق ہے میں اَب بھی بیان کر سکتا ہوں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ ہر ایک نمائندہ نے وعدہ کیا تھا کہ تین منٹ کے اندراندر اپنا ایڈریس ختم کر دے گا لیکن سوائے اس ایڈریس کے جو ہندوستان کی جماعتوں کی طرف سے پیش کیا گیا اور کسی نے یہ وعدہ پورا نہیں کیا ۔
    پھر وہ جس طرح پیش کیا گیا ہے اِس میں حقیقی اِسلامی سادگی کا نمونہ نظر آتا ہے اور اِس لئے میں انہیں مبارک باد دیتا ہوں۔ محض چھاپ لینے کو مَیں سادگی کے خلاف نہیں سمجھتا۔ باقی جو ایڈریس پیش کئے گئے ہیں اِن میں سادگی کو ملحوظ نہیں رکھا گیا۔ حقیقی سادگی وہ ہوتی ہے جسے انسان ہر جگہ اور ہمیشہ نباہ سکے اور اِس کی قدردانی کے طور پر مَیں اِن سے وعدہ کرتا ہوں کہ اِن کا سارا ایڈریس پڑھوں گا۔
    جب سے یہ خلافت جوبلی کی تحریک شروع ہوئی ہے میری طبیعت میں ہمیشہ ایک پہلو سے انقباض سا رہتا آیا ہے اور میں سوچتا رہا ہوں کہ جب ہم خود یہ تقریب منائیں تو پھر جو لوگ ’’برتھ ڈے‘‘ یا ایسی دیگر تقاریب مناتے ہیں اُنہیں کس طرح روک سکیں گے۔ اَب تک اِس کے لئے کوئی دلیل میری سمجھ میں نہیں آ سکی اور مَیں ڈرتا ہوں کہ اِس کے نتیجہ میں ایسی رسوم جماعت میں پیدا نہ ہو جائیں جن کو مٹانے کے لئے احمدیت آئی ہے۔ ہماری کامیابی اور فتح یہی ہے کہ ہم دین کو اُسی طرح دوبارہ قائم کر دیں جس طرح رسول کریم ﷺ اِسے لائے تھے اور ایسے رنگ میں قائم کر دیں کہ شیطان اس پر حملہ نہ کر سکے اور کوئی کھڑکی، کوئی روشن دان اور کوئی دَر اِس کے لئے کُھلا نہ رہنے دیں۔ اور جب سے یہ تقریب منانے کی تحریک شروع ہوئی ہے میں یہی سوچتا رہا ہوں کہ ایسا کرتے ہوئے ہم کوئی ایسا روشن دان تو نہیں کھول رہے کہ جس سے شیطان کو حملہ کا موقع مل سکے اور اس لحاظ سے مجھے شروع سے ہی ایک قسم کا انقباض سا رہا ہے کہ مَیں نے اس کی اجازت کیوں دی اور اس کے متعلق سب سے پہلے انشراحِ صدر مجھے مولوی جلال الدین صاحب شمس کا ایک مضمون الفضل میں پڑھ کر ہوئا جس میں لکھا تھا کہ اِسوقت گویا ایک اور تقریب بھی ہے اور وہ یہ کہ سلسلہ کی عمر پچاس سال پوری ہوتی ہے۔ تب میں نے سمجھا کہ یہ تقریب کسی انسان کے بجائے سلسلہ سے منسوب ہو سکتی ہے اور اِس وجہ سے مجھے خود بھی اِس خوشی میں شریک ہونا چاہئے۔ دوسرا انشراح مجھے اِس وقت پیدا ہوا جب دُرثمین سے وہ نظم پڑھی گئی جو آمین کہلاتی ہے۔ اِس کو سُن کر مجھے خیال آیا کہ یہ تقریب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک پیشگوئی کو بھی پورا کرنے کا ذریعہ ہے جو اِس میں بیان کی گئی ہے اور اِس کا منانا اِس لحاظ سے نہیں کہ یہ میری پچیس سالہ خلافت کے شکریہ کا اظہار ہے بلکہ اِس لئے کہ خداتعالیٰ کی بات کے پورا ہونے کا ذریعہ ہے نامناسب نہیں اور اِس خوشی میں مَیں بھی شریک ہو سکتا ہوں اور مَیں نے سمجھا کہ گو اپنی ذات کے لئے اِس کے منائے جانے کے متعلق مجھے انشراح نہ تھا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے پورا ہونے کے لحاظ سے انشراح ہو گیا۔ یہ ایسی ہی بات ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ایک مرتبہ ایک صحابی کے متعلق فرمایا تھا کہ مَیں نے دیکھا ہے اِس کے ہاتھوں میں کسریٰ کے کڑے ہیں۔ چنانچہ جب ایران فتح ہوئا اور وہ کڑے جو کسریٰ دربار کے موقع پر پہنا کرتا تھا غنیمت میں آئے تو حضرت عمرؓ نے اِس صحابی کو بُلایا اور باوجودیکہ اِسلام میں مردوں کیلئے سونا پہننا ممنوع ہے آپ نے اِسے فرمایا کہ یہ کڑے پہنو۔ حالانکہ خلفاء کا کام قیامِ شریعت ہوتا ہے نہ کہ اِسے مٹانا مگر جب اِس صحابی نے یہ کہا کہ سونا پہننا مردوں کے لئے جائز نہیں۔ تو آپ نے فرمایا کہ یہ پہنو۔ ورنہ میں کوڑے لگاؤں گا۔۲؎ اِسی طرح میں نے یہ خیال کیا کہ گویہ کڑے مجھے ہی پہنائے گئے ہیں مگر چونکہ اِس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی پوری ہوتی ہے اِس لئے اِس کے منانے میں کوئی حرج نہیں اور اِس لئے میرے دل میں جو انقباض تھا وہ دُور ہو گیا اور میری نظریں اِس مجلس سے اُٹھ کر خداتعالیٰ کی طرف چلی گئیں اورمَیں نے کہا ہمارا خدا بھی کیسا سچا خدا ہے۔
    مجھے یاد آیا کہ جب یہ پیشگوئی کی گئی اُس وقت میری ہستی ہی کیا تھی پھر وہ نظارہ میری آنکھوں کے سامنے پھر گیا جب ہمارے نانا جان نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پا س شکایت کی کہ آپ کو پتہ ہی نہیں یہ لڑکا کیسا نالائق ہے پڑھتا لکھتا کچھ نہیں اس کا خط کیسا خراب ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے بلایا۔ مَیں ڈرتا اور کانپتا ہوئا گیا کہ پتہ نہیں یہ کیا فرمائیں گے۔ آپ نے مجھے ایک خط دیا کہ اِسے نقل کرو۔ مَیں نے وہ نقل کر کے دیا تو آپ نے حضرت خلیفہ اوّل کو جج کے طور پر بلایا اور فرمایا۔ میر صاحب نے شکایت کی ہے کہ یہ پڑھتا لکھتا نہیں اور کہ اِس کا خط بہت خراب ہے۔ مَیں نے اِس کا امتحان لیا ہے آپ بتائیں کیا رائے ہے؟ لیکن جیسا امتحان لینے والا نرم دل تھا ویسا ہی پاس کرنے والا بھی تھا۔ حضرت خلیفہ اوّل نے عرض کیا کہ حضور! میرے خیال میں تو اچھا لکھا ہے۔ حضور نے فرمایا۔ کہ ہاں اس کا خط کچھ میرے خط سے مِلتا جُلتا ہی ہے اور بس ہم پاس ہو گئے۔ ماسٹر فقیراللہ صاحب جو اَب پیغامیوں میں شامل ہیں ہمارے اُستاد تھے اور حساب پڑھایا کرتے تھے جس سے مجھے نفرت تھی۔ میری دماغی کیفیت کچھ ایسی تھی جو غالباً میری صحت کی خرابی کا نتیجہ تھا کہ مجھے حساب نہیں آتا تھا ورنہ اَب تو اچھا آتا ہے۔ ماسٹر صاحب ایک دن بہت ناراض ہوئے اور کہا کہ میں تمہاری شکایت کروں گا کہ تم حساب نہیں پڑھتے اور جا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہہ بھی دیا۔ میں بھی چُپ کر کے کمرہ میں کھڑا رہا۔ حضور نے ماسٹر صاحب کی شکایت سُن کر فرمایا کہ اس نے دین کا کام ہی کرنا ہے اِس نے کونسی کسی دفتر میںنوکری کرنی ہے۔ مسلمانوں کے لئے جمع تفریق کا جاننا ہی کافی ہے وہ اِسے آتا ہے یا نہیں؟ ماسٹر صاحب نے کہا وہ تو آتا ہے۔ اس سے پہلے تو مَیں حساب کی گھنٹیوں میں بیٹھتا اور سمجھنے کی کوشش کرتا تھا مگر اس کے بعد مَیں نے وہ بھی چھوڑ دیا اور خیال کر لیا کہ حساب جتنا آنا چاہئے تھا مجھے آگیا تو یہ میری حالت تھی جب یہ آمین لکھی گئی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے دعائیں کیں کہ اِسے دین کی خدمت کی توفیق عطا کر۔
    دُنیا میں یہ قاعدہ ہے کہ سب بی۔اے اور ایم۔اے لائق نہیں ہوتے۔ لیکن جو لوگ لائق ہوتے ہیں وہ انہی میں سے ہوتے ہیں۔ سارے وکیل لائق نہیں ہوتے مگر جو ہوتے ہیں وہ انہی میں سے ہوتے ہیں۔ سب ڈاکٹر خداتعالیٰ کی صفتِ شافی کے مظہر نہیں ہوتے مگر بہترین ڈاکٹر انہی میں سے ہوتے ہیں جنہوں نے ڈاکٹری کے امتحان پاس کئے ہوں۔ ہر زمیندار مٹی سے سونا نہیں بنا سکتا مگر جو بناتے ہیں انہی میں سے ہی ہوتے ہیں ترکھانوں میں سے نہیں۔ ہر ترکھان اچھی عمارت نہیں بنا سکتامگر جو بناتے ہیں وہ ترکھانوں میں سے ہی ہوتے ہیں لوہاروں میں سے نہیں۔ پھر ہر انجینئر ماہرِ فن نہیں مگر جو ہوتا ہے وہ انہی میں سے ہوتا ہے۔ ہرمعمار دہلی اور لاہور کی شاہی مساجد اور تاج محل نہیں بنا سکتا مگر اِن کے بنانے والے بھی معماروں میں سے ہی ہوتے ہیں کپڑا بُننے والوں میں سے نہیں ہوتے۔ پس ہر فن کا جاننے والا ماہر نہیں ہوتا مگر جو ماہر نکلتے ہیں وہ اِنہی میں سے ہوتے ہیں۔ مگر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ دعا کی اُس وقت مَیں ظاہری حالات کے لحاظ سے اپنے اندر کوئی بھی اہلیت نہ رکھتا تھا لیکن اِس وقت اِس آمین کو سُن کر مَیں نے کہا کہ خداتعالیٰ نے آپؑ کی دعائیں سن لیں۔ جب یہ دعائیں کی گئیں مَیں معمولی رِیڈریں بھی نہیں پڑھ سکتا تھا مگر اَب خداتعالیٰ کا ایسا فضل ہے کہ مَیں کسی علم کی کیوں نہ ہو انگریزی کی مشکل سے مشکل کتاب پڑھ سکتا ہوں اور سمجھ سکتا ہوں اور گو مَیں انگریزی لکھ نہیں سکتا مگر بی۔ اے اور ایم۔ اے پاس شُدہ لوگوں کی غلطیاں خوب نکال لیتا ہوں۔ دینی علوم میں مَیں نے قرآن کریم کا ترجمہ حضرت خلیفہ اوّل سے پڑھا ہے اور اِس طرح پڑھا ہے کہ اَور کوئی اِس طرح پڑھے تو کچھ بھی نہ سیکھ سکے۔ پہلے تو ایک ماہ میں آپ نے مجھے دو تین سیپارے آہستہ آہستہ پڑھائے اور پھر فرمایا میاں! آپ بیمار رہتے ہیں میری اپنی صحت کا بھی کوئی اعتبار نہیں۔ آؤ کیوں نہ ختم کر دیں اور مہینہ بھر میں سارا قرآن کریم مجھے ختم کرا دیا اور اللہ تعالیٰ کا فضل تھا پھر کچھ اُن کی نیت اور کچھ میری نیت ایسی مبارک گھڑی میں ملیں کہ وہ تعلیم ایک ایسا بیج ثابت ہوئا جو برابر بڑھتا جا رہا ہے۔ اِس طرح بخاری آپ نے مجھے تین ماہ میں پڑھائی اور ایسی جلدی جلدی پڑھاتے کہ باہر کے بعض دوست کہتے کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ میں اگر کوئی سوال کرتا تو آپ فرماتے پڑھتے جاؤ اللہ تعالیٰ خود سب کچھ سمجھا دے گا۔ حافظ روشن علی مرحوم کو کُریدنے کی بہت عادت تھی اور اُن کا دماغ بھی منطقی تھا۔ وہ درس میں شامل تو نہیں تھے مگر جب مجھے پڑھتے دیکھا تو آ کر بیٹھنے لگے اور سوالات دریافت کرتے۔ اُن کو دیکھ کر مجھے بھی جوش آیا اور مَیں نے اُسی طرح سوالات پوچھنے شروع کر دیئے۔ ایک دو دن تو آپ نے جواب دیا اور پھر فرمایا تم بھی حافظ صاحب کی نقل کرنے لگے ہو مجھے جو کچھ آتا ہے وہ خود بتا دوں گا بُخل نہیں کروں گا اور باقی اللہ تعالیٰ خود سمجھا دے گا۔ اور میں سمجھتا ہوں سب سے زیادہ فائدہ مجھے اِسی نصیحت نے دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ خود سمجھا دے گا۔ یہ ایک کبھی نہ ختم ہونے والا خزانہ میرے ہاتھ آگیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ایسا سمجھایا ہے کہ میں غرور تو نہیں کرتا مگر خداتعالیٰ کے فضل سے یہ حالت ہے کہ میں کوئی کتاب یا کوئی تفسیر پڑھ کر مرعوب نہیں ہوتا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو کچھ مجھے ملا ہے اُن کو نہیں ملا۔بیس بیس جلدوں کی تفسیریں ہیں مگر مَیں نے کبھی اِن کو بِالاستیعاب دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور اِن کے مطالعہ میں مجھے کبھی لذت محسوس نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ مجھے قرآن کریم کے چھوٹے سے لفظ میں ایسے مطالب سکھا دیتا ہے کہ میں سمجھتا ہوں مَیں اِن کتابوں کے مطالعہ میں کیوں وقت ضائع کروں اور کبھی کوئی مسئلہ وغیرہ دیکھنے کے لئے کبھی ان کو دیکھتا ہوں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ اِس مقام سے بہت دُور کھڑے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے اور یہ سب اس کا فضل ہے ورنہ بظاہر میں نے دنیا میں کوئی علم حاصل نہیں کیا حتّٰی کہ اپنی زبان تک بھی صحیح نہیں سیکھی۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کا احسان اور فضل ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کو قبول کر کے اُس نے مجھے ایک ایسا گُر بتا دیا کہ جس سے مجھے ہر موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت حاصل ہو جاتی ہے۔ مَیں ہمیشہ یہی کہا کرتا ہوں کہ مَیں تو خداتعالیٰ کی طرف سے ایک ہتھیار کی مانند ہوں اور مَیں نے کبھی محسوس نہیں کیا کہ کوئی چیز چاہئے اور اُس نے مجھے نہ دی ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دُعا کی تھی کہ اِس سے ہر اندھیرا دُور ہو۔ دشمنوں کی طرف سے مجھ پر کئی حملے کئے گئے ،اعتراضات کئے گئے اور کہا کہ ہم خلافت کو مٹا دیں گے اور یہی وہ اندھیرا تھا جسے اللہ تعالیٰ نے دُور کر دیا اور خلافت جوبلی کی تقریب منانے کے متعلق میرے دل میں جو انقباض تھا وہ اِس وقت یہ نظم سُن کر دُور ہو گیا اور میں نے سمجھا کہ آج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے پورا ہونے کا اظہار ہو رہا ہے۔ دشمنوں نے کہا کہ ہم جماعت کو پھرا لیں گے مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم اور بھی زیادہ لوگوں کو لائیں گے اور جب ہم روشن کرنا چاہیں تو کوئی اندھیرا رہ نہیں سکتا اور اِس طرح اِس تقریب کے متعلق میرے دل میں جو انقباض تھا وہ یہ نظارہ دیکھ کر دُور ہو گیا ورنہ مجھے تو شرم آتی ہے کہ میری طرف یہ تقریب منسوب ہو مگر ہمارے سب کام اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں اور اِس کے ذریعہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی باتیں پوری ہوتی ہیں اِس لئے اِس کے منانے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ سب کام اللہ تعالیٰ کے ہیں اگر وہ نہ کرتا تو نہ مجھ میں طاقت تھی اور نہ آپ میں، نہ میرے علم نے کوئی کام کیا اور نہ آپ کی قربانی نے۔ جو کچھ ہوئا خداتعالیٰ کے فضل سے ہوئا اور ہم خوش ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک اور نشان دکھایا۔ دنیا نے چاہا کہ ہمیں مٹا دیں مگر خداتعالیٰ نے نہ مٹایا اور یہ نظارہ دیکھ کر میرے دل میں جو انقباض تھا وہ سب دُور ہو گیا۔ اس لئے جن دوستوں نے اِس تقریب پر اپنی انجمنوں کی طرف سے ایڈریس پڑھے ہیں مثلاً چوہدری سر محمد ظفراللہ خان صاحب، پروفیسر عطاء الرحمن صاحب، حکیم خلیل احمد صاحب، چوہدری ابوالہاشم خان صاحب، حاجی جنود اللہ صاحب اِسی طرح دمشق، جاوا، سماٹرا اور علی گڑھ اور بعض دوسری جگہوں کے دوستوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے پھر بعض ہندو صاحبان نے بھی اس موقع پر خوشی کا اظہار کیا ہے میں اِن سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور اِن سب کو جَزَاکُمُ اللّٰہُ اَحْسَنَ الْجَزَائِ کہتا ہوں اور یہ ایسی دُعا ہے کہ جس میں سارے ہی شکریے آجاتے ہیں۔ پس میں اِن دوستوں کا اور اِن کے ذریعہ اِن کی تمام جماعتوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور جَزَاکُمُ اللّٰہُ اَحْسَنَ الْجَزَائِ کہتا ہوں اور دُعا کرتا ہوں کہ میرے زندگی کے اور جو دن باقی ہیں اللہ تعالیٰ انہیں دین کی خدمت، اسلام کی تائید اور اِس کے غلبہ اور مضبوطی کے لئے صرف کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاجب اُس کے حضور پیش ہونے کا موقع ملے تو شرمندہ نہ ہوں اور کہہ سکوں کہ تو نے جو خدمت میرے سپرد کی تھی تیری ہی توفیق سے مَیں نے اِسے ادا کر دیا۔ پھر میں دُعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب پر اپنے فضل نازل کرے اور نیک اعمال کی توفیق عطاء فرمائے اور ہم میں سے جس کے دل میں بھی کوئی کمزوری ہو اُسے دُور کرے، اخلاص میں مضبوط کرے اور ہماری زندگیوں کو اپنے لئے وقف کر دے۔ ہماری زندگیوں کو بھی خوشگوار بنائے اور ہماری موتوں کو بھی تاجب جنتی سُنیں تو خوش ہوں کہ اور پاکیزہ روحیں ہمارے ساتھ شامل ہونے کے لئے آ رہی ہیں‘‘۔
    اِس کے بعد حضرت میر محمد اسحاق صاحب سٹیج پر تشریف لائے اور کہا کہ پروگرام میں اِس وقت میری کوئی تقریر نہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظم آمین کے جو ابھی پڑھی گئی ہے ایک شعر کے متعلق مَیں مختصراً کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ اِس وقت جماعت کی طرف سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خدمت میں ایک حقیر سی رقم پیش کی جانے والی ہے جس سے حضور کی وہ دُعا کہ ’’دے اِس کو عمر و دولت‘‘ کی قبولیت بھی ظاہر ہو گی۔ آج ہم حضور کی خلافت پر پچیس سال گزرنے پر حضور کی خدمت میں حقیر سی رقم پیش کرتے ہیں اور مَیں آنریبل چوہدری سر محمد ظفراللہ خان صاحب کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ وہ تشریف لا کر یہ رقم حضور کی خدمت میں پیش کریں۔
    اِس کے بعد جناب چوہدری صاحب نے چیک کی صورت میں یہ رقم پیش کی اور کہا حضور اِسے قبول فرمائیں اور جس رنگ میں پسند فرمائیں اِسے استعمال کریں اور حضور مجھے اجازت دیں کہ مَیں دوستوں کے نام پڑھ کر سُنا دوں جنہوں نے اِس فنڈ میں نمایاں حصہ لیا ہے تا حضور خصوصیت سے اِن کے لئے دُعا فرمائیں۔ اور حضور کی اجازت سے جناب چوہدری صاحب نے وہ نام پڑھ کر سُنائے۔
    اِس کے بعد حضور نے فرمایا:۔
    ’’مَیں نے جو کہا تھا کہ جس وقت آمین پڑھی جا رہی تھی میرے دل میں ایک تحریک ہوئی تھی وہ دراصل یہ مصرع تھا جس کا ذکر میر صاحب نے کیا ہے مگر چونکہ ابھی تک وہ رقم مجھے نہ دی گئی تھی اِس لئے مَیں نے مناسب نہ سمجھا کہ پہلے ہی اِس کا ذکرکروں۔ اِس کے لئے میں سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری حقیقی دولت تو دین ہی ہے دین کے بغیر دولت کوئی چیز نہیں اور اگر دین ہو اور دولت نہ ہو تو بھی ہم خوش نصیب ہیں۔ مجھے یہ علم پہلے سے تھا کہ یہ رقم مجھے اِس موقع پر پیش کی جائے گی اور اِس دَوران میں مَیں یہ غور بھی کرتا رہا ہوں کہ اِسے خرچ کِس طرح کیا جائے لیکن بعض دوست بہت جلد باز ہوتے ہیں اور وہ اس عرصہ میں مجھے کئی مشورے دیتے رہے کہ اِسے یوں خرچ کیا جائے اور فلاں کام پر صَرف کیا جائے یہ بات مجھے بہت بُری لگتی تھی کیونکہ میں دیکھتا تھا کہ ایک طرف تو اِس کا نام تحفہ رکھا جاتا ہے اور دوسری طرف اِس کے خرچ کرنے کے متعلق مجھے مشورے دیئے جا رہے ہیں اگر یہ تحفہ ہے تو اِس سے مجھے اتنی تو خوشی حاصل ہونی چاہئے کہ مَیں نے اِسے اپنی مرضی سے خرچ کیا ہے۔ بہرحال میں اِس امر پر غور کرتا رہا ہوں کہ اِسے کس طرح خرچ کیا جائے اور اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ بات ڈالی کہ اِس سے برکاتِ خلافت کے اظہار کا کام لیا جائے۔ یہ امر ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء اِس کام کے کرنے والے تھے جو آپ کے اپنے کام تھے یعنی ۳؎ قرآن کریم میں رسول کریم ﷺ کے چار کام بیان کئے گئے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نشان بیان کرتا ہے، اِن کا تزکیہ کرتا، اِن کو کتاب پڑھاتا اور حکمت سکھاتا ہے۔ کتاب کے معنے کتاب اور تحریر کے بھی ہیں اور حکمت کے معنی سائنس کے بھی اور قرآن کریم کے حقائق و معارف اور مسائلِ فقہ کے بھی ہیں۔ پھر مَیں نے خیال کیا کہ خلیفہ کا کام استحکامِ جماعت بھی ہے اِس لئے اِس روپیہ سے یہ کام بھی کرنا چاہئے۔ بے شک بعض کام جماعت کر بھی رہی ہے مگر یہ چونکہ نئی چیز ہے اِس سے نئے کام ہونے چاہئیں اور اِس پر غور کرنے کے بعد مَیں نے سوچا کہ ابھی کچھ کام اِ س سلسلہ میں ایسے ہیں کہ جو نہیں ہو رہے۔ مثلاً یہ نہیں ہو رہا کہ غیر مُسلموں کے آگے اسلام کو ایسے رنگ میں پیش کیا جائے کہ وہ اِس طرف متوجہ ہوں چنانچہ مَیں نے اِرادہ کیا کہ یہ سلسلہ پہلے ہندوستان میں اور پھر بیرونِ ممالک میں شروع کیا جائے اور اِس غرض سے ایک، چار یا آٹھ صفحہ کا ٹریکٹ لکھا جائے جسے لاکھوں کی تعداد میں ہندوستان کی مختلف زبانوں میں چھپوا کر شائع کیا جائے۔ اِس وقت تک اِن زبانوں میں ہمارا تبلیغی لٹریچر کافی تعداد میں شائع نہیں ہوئا ۔ اُردو کے بعد میرا خیال ہے سب سے زیادہ اِس ٹریکٹ کی اشاعت ہندی میں ہونی چاہئے۔ ابھی تک یہ سکیم مَیں نے مکمل نہیں کی۔ فوری طور پر اِس کا خاکہ ہی میرے ذہن میں آیا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ کم سے کم ایک لاکھ اشتہار یا ہینڈ بل وغیرہ اذان اور نماز کی حقیقت اور فضیلت پر شائع کئے جائیں تا ہندوؤں کو سمجھایا جا سکے کہ جس وقت آپ لوگ مساجد کے سامنے سے باجہ بجاتے ہوئے گزرتے ہیں تو مسلمان یہ کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ بات معقول رنگ میں ان کے سامنے پیش کی جائے کہ مسلمان تو یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اللہ سب سے بڑا ہے اور آپ اُس وقت ڈھول کے ساتھ ڈَم ڈَم کا شور کرتے ہیں۔ آپ سوچیں کہ کیا یہ وقت اِس طرح شور کرنے کیلئے مناسب ہوتا ہے؟ جب یہ آواز بلند ہو رہی ہو کہ خداتعالیٰ سب سے بڑا ہے تو اُس وقت چُپ ہو جانا چاہئے یا ڈھول اور باجہ کے ساتھ شور مچانا چاہئے؟ تو اِن کو ضرور سمجھ آ جائے گی کہ اِن کی ضد بے جا ہے اور اِس طرح اِس سے ہندو مسلمانوں میں صلح و اتحاد کا دروازہ بھی کُھل جائے گا۔ تعلیم یافتہ غیر مُسلم اب بھی اِن باتوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔
    اِسی طرح میں نے جلسہ ہائے سیرت کی جو تحریک شروع کی ہوئی ہے اِسے بھی وسعت دینی چاہئے یہ بھی بہت مفید تحریک ہے اور سیاسی لیڈر بھی اِسے تسلیم کرتے ہیں۔ بابوبین چندرپال کانگرس کے بہت بڑے لیڈروں میں سے ہیں انہوں نے اِن جلسوں کے متعلق کہا تھا کہ یہ ہندو مُسلم اتحاد کے لئے بہترین تجویز ہے اور مَیں اِن جلسوں کو سیاسی جلسے کہتا ہوں اِس لئے کہ اِن کے نتیجہ میں ہندو مسلم ایک ہو جائیں گے اور اِس طرح دونوں قوموں میں اتحاد کا دروازہ کُھل جائے گا۔ میرا ارادہ ہے کہ ایسے اشتہار ایک لاکھ ہندی میں، ایک لاکھ گورمکھی میں، پچاس ہزار تامل میں اور اِسی طرح مختلف زبانوں میں بکثرت شائع کئے جائیں اور ملک کے ایک سِرے سے دوسرے سِرے تک اسلام کے موٹے موٹے مسائل غیر مُسلموں تک پہنچا دیئے جائیں۔ اشتہار ایک صفحہ، دو صفحہ یا زیادہ سے زیادہ چار صفحہ کا ہو اور کوشش کی جائے کہ ہر شخص تک اِسے پہنچا دیا جائے اور زیادہ نہیں تو ہندوستان کے ۳۳کروڑ باشندوں میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک ایک اشتہار پہنچ جائے یہ اسلام کی بہت بڑی خدمت ہو گی۔ اِسی طرح میرا اِرادہ ہے کہ ایک چھوٹا سا مضمون چار یا آٹھ صفحات کا مسلمانوں کیلئے لکھ کر ایک لاکھ شائع کیا جائے جس میں مسلمانوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد اور آپ کے دعاوی سے آگاہ کیا جائے اور بتایا جائے کہ آپ نے آ کر کیا پیش کیا ہے تا لوگ غور کر سکیں۔ پہلے یہ کام چھوٹے پیمانہ پر ہوں مگر کوشش کی جائے کہ آہستہ آہستہ اِن کووسیع کیا جائے۔
    مَیں چاہتا ہوں کہ اِس رقم کو ایسے طور پر خرچ کیا جائے کہ اِس کی آمد میں سے خرچ ہوتا رہے اور سرمایہ محفوظ رہے۔ جیسے تحریک جدید کے فنڈ کے متعلق میں کوشش کر رہا ہوں تا کسی سے پھر چندہ مانگنے کی ضرورت نہ پیش آئے۔ اِس میں دینی تعلیم جو خلفاء کا کام ہے وہ بھی آ جائے گی پھر آرٹ اور سائنس کی تعلیم نیز غرباء کی تعلیم و ترقی بھی خلفاء کا اہم کام ہے۔ ہماری جماعت کے غرباء کی اعلیٰ تعلیم کے لئے فی الحال انتظامات نہیں ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ کُندذہن لڑکے جن کے ماں باپ استطاعت رکھتے ہیں تو پڑھ جاتے ہیں مگر ذہین بوجہ غربت کے رہ جاتے ہیں۔ اِس کا نتیجہ ایک یہ بھی ہے کہ ملک کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اِس لئے مَیں چاہتا ہوں کہ اِس رقم سے اِس کا بھی انتظام کیا جائے اور مَیں نے تجویز کی ہے کہ اِس کی آمد سے شروع میں فی الحال ہر سال ایک ایک وظیفہ مستحق طلباء کو دیا جائے۔ پہلے سال مڈل سے شروع کیا جائے۔ مقابلہ کا امتحان ہو اور جو لڑکا اوّل رہے اور کم سے کم ستّر فی صدی نمبر حاصل کرے اسے انٹرنس تک بارہ روپیہ ماہوار وظیفہ دیا جائے اور پھر انٹرنس میں اوّل ، دوم اور سوم رہنے والوں کو تیس روپیہ ماہوار، جو ایف۔اے میں یہ امتیاز حاصل کریں انہیں ۴۵ روپے ماہوار اور پھر جو بی۔اے میں اوّل آئے اِسے ۶۰ روپے ماہوار دیا جائے اور تین سال کے بعد جب اِس فنڈ سے آمد شروع ہو جائے تو احمدی نوجوانوں کا مقابلہ کا امتحان ہو اور پھر جو لڑکا اوّل آئے اُسے انگلستان یا امریکہ میں جا کر تعلیم حاصل کرنے کے لئے اڑھائی سَو روپیہ ماہوار تین سال کے لئے امداد دی جائے۔ اِس طرح غرباء کی تعلیم کا انتظام ہو جائے گا اور جوں جوں آمد بڑھتی جائے گی اِن وظائف کو ہم بڑھاتے رہیں گے۔ کئی غرباء اس لئے محنت نہیں کرتے کہ وہ سمجھتے ہیں ہم آگے تو پڑھ نہیں سکتے خواہ مخواہ کیوں مشقت اُٹھائیں لیکن اِس طرح جب اِن کے لئے ترقی کا امکان ہوگا تو وہ محنت سے تعلیم حاصل کریں گے۔ مڈل میں اوّل رہنے والوں کیلئے جو وظیفہ مقرر ہے وہ صرف تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے طلباء کے لئے ہی مخصوص ہو گا کیونکہ سب جگہ مڈل میں پڑھنے والے احمدی طلباء میں مقابلہ کے امتحان کا انتظام ہم نہیں کر سکتے۔ یونیورسٹی کے امتحان میں امتیاز حاصل کرنے والا خواہ کِسی یونیورسٹی کا ہو وظیفہ حاصل کر سکے گا۔ ہم صرف زیادہ نمبر دیکھیں گے کسی یونیورسٹی کا فرسٹ، سیکنڈ اور تھرڈ رہنے والا طالب علم بھی اِسے حاصل کر سکے گا اور اگر کسی بھی یونیورسٹی کا کوئی احمدی طالب علم یہ امتیاز حاصل نہ کر سکے تو جس کے بھی سب سے زیادہ نمبر ہوں اُسے یہ وظیفہ دے دیا جائے گا۔ انگلستان یا امریکہ میں حصولِ تعلیم کے لئے جو وظیفہ مقرر ہے اِس کے لئے ہم سارے ملک میں اعلان کر کے جو بھی مقابلہ میں شامل ہونا چاہیں ان کا امتحان لیں گے اور جو بھی فرسٹ رہے گا اُسے یہ وظیفہ دیا جائے گا۔
    کے ایک معنی ادنیٰ حالت سے اعلیٰ کی طرف لے جانے کے بھی ہیںاور اِس طرح اِس میں اقتصادی ترقی بھی شامل ہے اس کی فی الحال کوئی سکیم میرے ذہن میں نہیں مگر میرا ارادہ ہے کہ انڈسٹریل تعلیم کا کوئی معقول انتظام بھی کیا جائے تا پیشہ وروں کی حالت بھی بہتر ہو سکے۔ اِسی طرح ایگریکلچرل تعلیم کا بھی ہو، تا زمینداروں کی حالت بھی درست ہو سکے۔
    خلفاء کا ایک کام مَیں سمجھتا ہوں اِس عہدہ کا استحکام بھی ہے۔ میری خلافت پر شروع سے ہی پیغامیوں کا حملہ چلا آتا ہے مگر ہم نے اِس کے مقابلہ کے لئے کماحقہٗ توجہ نہیں کی۔ شروع میں اِس کے متعلق کچھ لٹریچر پیدا کیا تھا مگر اَب وہ ختم ہو چکا ہے۔ پس اِس فنڈ سے اِس قوم کی ہدایت کے لئے بھی جدوجہد کی جانی چاہئے اور اِس کے لئے بھی کوئی سکیم مَیں تجویز کروں گا۔ ہماری جماعت میں بعض لوگ اچھا لکھتے ہیں مَیں نے الفضل میں اِن کے مضامین پڑھے ہیں اِن سے فائدہ اُٹھانے کی کوئی صورت کی جائے گی۔
    پس یہ خلفاء کے چار کام ہیں اور انہی پر یہ روپیہ خرچ کیا جائے گا۔ پہلے اِسے کسی نفع مند کام میں لگا کر ہم اِس سے آمد کی صورت پیدا کریں گے اور پھر اِس آمد سے یہ کام شروع کریں گے۔ ایک تو ایسا اُصولی لٹریچر شائع کریں گے کہ جس سے ہندو، سکھ اسلامی اُصول سے آگاہی حاصل کر سکیں۔ اب تک ہم نے اِن کی طرف پوری طرح توجہ نہیں کی حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض الہامات سے پتہ لگتا ہے کہ اِن لوگوں کے لئے بھی ہدایت مقدر ہے۔ مثلاً آپ کا ایک الہام ہے کہ’’ آریوں کا بادشاہ‘‘ ۴؎ ۔ایک ہے ’’جے سنگھ بہادر‘‘۔ ’’ہے کرشن رودّر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے‘‘۵؎ مگر ہم نے ابھی تک اِن کی طرف کوئی توجہ نہیں کی۔ پس اَب اِن کے لئے لٹریچر شائع کرنا چاہئے۔ مَیں چاہتا ہوں کہ یہ اتنا مختصر ہو کہ اِسے لاکھوں کی تعداد میں شائع کر سکیں۔ پھر ایک حصہ مسلمانوں میں تبلیغ پر خرچ کیا جائے۔ ایک آرٹ، سائنس، انڈسٹری اور زراعت وغیرہ کی تعلیم پر اور ایک حصہ نظامِ سلسلہ پر دشمنوں کے حملہ کے مقابلہ کے لئے۔ آہستہ آہستہ کوشش کی جائے کہ اِس کی آمد میں اضافہ ہوتا رہے اور پھر اِس آمد سے یہ کام چلائے جائیں۔ اِس روپیہ کو خرچ کرنے کے لئے یہ تجویزیں ہیں۔ اِس کے بعد میں جھنڈے کے نصب کرنے کا اعلان کرتا ہوں منتظمین اِس کے لئے سامان لے آئیں۔
    جھنڈا نصب کرنے کے متعلق بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ کانگرس کی رسم ہے لیکن اِس طرح تو بہت سی رسمیں کانگرس کی نقل قرار دینی پڑیں گی۔ کانگرسی جلسے بھی کرتے ہیں اِس لئے یہ جلسہ بھی کانگرس کی نقل ہو گی۔ گاندھی جی دودھ پیتے ہیں دودھ پینا بھی اِن کی نقل ہو گی اور اِس اصل کو پھیلاتے پھیلاتے یہاں تک پھیلانا پڑے گا کہ مسلمان بہت سی اچھی باتوں سے محروم رہ جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کانگرس کی نقل نہیں۔ رسول کریم ﷺ نے خود جھنڈا باندھا اور فرمایا کہ یہ مَیں اُسے دوں گا جو اِس کا حق اداکرے گا۔ ۶؎ پس یہ کہنا کہ یہ بدعت ہے تاریخ اسلام سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔ جھنڈا لہرانا ناجائز نہیں ہاں البتہ اِس ساری تقریب میں مَیں ایک بات کو برداشت نہیں کر سکا اور وہ ایڈریسوں کا چاندی کے خولوں وغیرہ میں پیش کرنا ہے اور چاہے آپ لوگوں کو تکلیف ہو مَیں حُکم دیتا ہوں کہ اِن سب کو بیچ کر قیمت جوبلی فنڈ میں دے دی جائے۔ پس جھنڈا رسول کریم ﷺ سے ثابت ہے اور لڑائی وغیرہ کے مواقع پر اِس کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے تو جہاد سے ہی منع کر دیا ہے پھر جھنڈے کی کیا ضرورت ہے؟ مگر مَیں کہوں گا کہ اگر لوہے کی تلوار کے ساتھ جہاد کرنے والوں کے لئے جھنڈا ضروری ہے تو قرآن کی تلوار سے لڑنے والوں کے لئے کیوں نہیں۔ اگر اَب ہم لوگ کوئی جھنڈا معیّن نہ کریں گے تو بعد میں آنے والے ناراض ہوں گے اور کہیں گے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ ہی جھنڈا بنا جاتے تو کیا اچھا ہوتا۔ مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ سے ایک مجلس میں یہ سُنا ہے کہ ہمارا ایک جھنڈا ہونا چاہئے۔ جھنڈا لوگوں کے جمع ہونے کی ظاہری علامت ہے اور اِس سے نوجوانوں کے دلوں میں ایک ولولہ پیدا ہوتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’لو ائے ماپنہ ہر سعید خواہد بود۔‘‘ یعنی میرے جھنڈے کی پناہ ہر سعید کو حاصل ہو گی اور اِس لحاظ سے بھی ضروری ہے کہ ہم اپنا جھنڈا نصب کریں تا سعید روحیں اس کے نیچے آکر پناہ لیں۔ یہ ظاہری نشان بھی بہت اہم چیزیں ہوتی ہیں۔
    جنگِ جمل میں حضرت عائشہؓ ایک اُونٹ پر سوار تھیں دشمن نے فیصلہ کیا کہ اُونٹ کی ٹانگیں کاٹ دی جائیں تو آپ نیچے گِر جائیں اور آپ کے ساتھی لڑائی بند کر دیں لیکن جب آپ کے ساتھ والے صحابہ نے دیکھا کہ اس طرح آپ گِر جائیں گی تو گو آپ دین کا ستون نہ تھیں مگر بہرحال رسول کریم ﷺ کی محبت کی مظہر تھیں اس لئے صحابہ نے اپنی جانوں سے ان کے اونٹ کی حفاظت کی اور تین گھنٹہ کے اندر اندر ستّر جلیل القدر صحابی کٹ کر گِر گئے۔ ۷؎ قربانی کی ایسی مثالیں دِلوں میں جوش پیدا کرتی ہیں۔پس جھنڈا نہایت ضروری ہے اور بجائے اس کے کہ بعد میں آ کر کوئی بادشاہ اِسے بنائے یہ زیادہ مناسب ہے کہ یہ صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھوں اور موعودہ خلافت کے زمانہ میں بن جائے۔ اگر اب کوئی جھنڈا نہ بنے تو بعد میں کوئی جھنڈا کسی کیلئے سند نہیں ہو سکتا۔ چینی کہیں گے ہم اپنا جھنڈا بناتے ہیں اور جاپانی کہیں گے اپنا اور اس طرح ہر قوم اپنا اپنا جھنڈا ہی آگے کرے گی۔ آج یہاں عرب، سماٹری، انگریز سب قوموں کے نمائندے موجود ہیں ایک انگریز نومُسلمہ آئی ہوئی ہیںاور انہوں نے ایڈریس بھی پیش کیا ہے۔ جاوا، سماٹرا کے نمائندے بھی ہیں، افریقہ کے بھی ہیں انگریز گویا یورپ اور ایشیا کے نمائندے ہیں۔ افریقہ کا نمائندہ بھی ہے امریکہ والوں کی طرف سے بھی تار آ گیا ہے اور اِس لئے جو جھنڈا آج نصب ہو گا اِس میں سب قومیں شامل سمجھی جائیں گی اور وہ جماعت کی شَوکت کا نشان ہو گا اور یہی مناسب تھا کہ جھنڈا بھی بن جاتا تا بعد میں اِس کے متعلق کوئی اختلافات پیدا نہ ہوں۔ پھر یہ رسول کریم ﷺ کی سنت بھی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ایک شعر کو بھی پورا کرتا ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ مسیح دمشق کے منارۂ شرقی پر اُترے گا۸؎ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہزاروں روپیہ خرچ کر کے وہ مینارہ بنوایاتا رسول کریم ﷺ کی بات ظاہری رنگ میں بھی پوری ہو اور خداتعالیٰ کا شکرہے کہ اُس نے ہمیں یہ جھنڈا بنانے کی توفیق دی کہ جس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک شعر ظاہری رنگ میں بھی پورا ہوتا ہے اور اِس وجہ سے کہ ہم لوگوں کو باطن کا بھی خیال رہے اور یہ محض ظاہری رسم ہی نہ رہے مَیں نے ایک اقرار نامہ تجویز کیا ہے پہلے مَیں اِسے پڑھ کر سُنا دیتا ہوں اِس کے بعد میں کہتا جاؤں گا اور دوست اِسے دُہراتے جائیں۔ اقرار نامہ یہ ہے:۔
    ’’میں اقرار کرتا ہوں کہ جہاں تک میری طاقت اور سمجھ ہے اسلام اوراحمدیت کے قیام ،اس کی مضبوطی اور اس کی اشاعت کیلئے آخر دم تک کوشش کرتا رہوں گا اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے اِس امر کے لئے ہر ممکن قربانی پیش کروں گا کہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام دوسرے سب دینوں اور سلسلوں پر غالب رہے اور اِس کا جھنڈا کبھی سَرنِگوں نہ ہو بلکہ دوسرے سب جھنڈوں سے اُونچا اُڑتا رہے۔ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْنَ اَللّٰھَمَّ اٰمِیْنَ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْنَ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّااِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ
    (انوارالعلوم جلد ۱۵ صفحہ۴۲۷ تا ۴۴۰)
    ۱؎ بخاری کتاب فضل لیلۃ القدر باب رفع معرفۃ لیلۃ القدر
    ۲؎ اسد الغابۃ جلد۲ صفحہ۲۶۵۔۲۶۶
    ۳؎ الجمعۃ: ۳
    ۴؎ تذکرہ صفحہ ۳۸۱ ایڈیشن چہارم
    ۵؎ تذکرہ صفحہ ۳۸۰ ایڈیشن چہارم
    ۶؎ مسند احمد بن حنبل صفحہ ۳۵۳ المکتب الاسلامی بیروت
    ۷؎ تاریخ طبری جلد۵ صفحہ۵۷۵ مطبوعہ بیروت ۱۹۸۷ء
    ۸؎ مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال

    خلافت راشدہ
    (تقریر فرمودہ ۲۸،۲۹ دسمبر ۱۹۳۹ء برموقع [خلافت جوبلی] جلسہ سالانہ قادیان)
    تشہّد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    خلافت کے مختلف پہلوئوں پر بحث کی ضرورت
    ’’میرا طریق ہے کہ ہر جلسہ سالانہ پر میں
    ایک علمی تقریر کیا کرتا ہوں اِسی کے مطابق مَیں آج ایک اہم موضوع کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں اور چونکہ یہ جلسہ اس بات میں خصوصیت رکھتا ہے کہ اس کا تعلق ’’خلافت جوبلی‘‘ کے ساتھ ہے اور اس کے مضامین کا تعلق بھی مسئلہ خلافت سے ہی ہے اس لئے مَیں سمجھتا ہوں میری تقریر میں بھی زیادہ تر خلافت کے مختلف پہلوئوں پر ہی بحث ہونی چاہئے۔ ممکن ہے بعض لوگوں کیلئے یہ امر ملالِ طبع کا موجب ہو کہ جو شخص بھی تقریر کیلئے اٹھتا ہے وہ خلافت کے موضوع پر تقریر کرنا شروع کر دیتا ہے مگر اس موضوع کی اہمیت اور موجودہ جلسہ سالانہ کا اقتضاء یہی ہے کہ اِس مسئلہ کے متعلق عمدگی کے ساتھ تمام قسم کی تفصیلات بیان کر دی جائیں کیونکہ جس طرح انسانی فطرت میں یہ امر داخل ہے کہ اگر اسے کھانے کیلئے مختلف قسم کی چیزیں دی جائیں تو اُسے فائدہ ہوتا ہے اِسی طرح بعض دفعہ ایک ہی چیز بار بار بھی کھانی پڑتی ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ ہمارے کھانے پینے کے دن ہیں۱؎ اور عیدالاضحیہ کے ایام میں تو خصوصیت کے ساتھ گوشت کے سوا اور کوئی غذا ہی نہیں ہوتی۔ چنانچہ حج کے دنوں میں بڑی کثرت سے بکرے وغیرہ ذبح ہوتے ہیں اور اُن کا گوشت جتنا کھایا جا سکتا ہے کھا لیا جاتا ہے اور باقی پھینک دیا جاتا ہے۔ اسی طرح بعض دفعہ ایک ہی عنوان پر مختلف رنگوں میں روشنی ڈالنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
    مخالفینِ سلسلہ کی طرف سے خلافت کی تنقیص کی کوشش
    اِس وقت ہمارے سلسلہ کے خلاف دشمنوں کی طرف سے جو منصوبے کئے جا رہے ہیں اور جن جن تدابیر سے وہ احمدیت کے وقار کو ضعف پہنچانا
    چاہتے ہیں اُن میں سے ایک منصوبہ اور تدبیر یہ ہے کہ ان کی طرف سے متواتر خلافت کی تنقیص کی کوشش کی جاتی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اگر کسی کے دل میں شیطان کو زندہ کیا جاسکے تو اس کے دل میں شیطان کو زندہ کر دیں۔ اسی وجہ سے مَیں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اَب کی دفعہ مَیں خلافت کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کر وں تا کہ جو لوگ فائدہ اُٹھانا چاہیں اس سے فائدہ اُٹھا سکیں اور دین سے محبت رکھنے والوں کیلئے یہ تعلیم برکت اور راہنمائی کا موجب ہو جائے۔
    خلافت کا مسئلہ اسلام کے اہم ترین مسائل میں سے ہے
    خلافت کا مسئلہ میرے نزدیک اسلام کے اہم ترین مسائل میں سے ہے بلکہ مَیں سمجھتا ہوں اگر کلمۂ شریفہ کی تفسیر کی جائے تو اس تفسیر میں اس مسئلہ کا
    مقام سب سے بلند درجہ پر ہوگا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کلمہ طیبہ اسلام کی اساس ہے مگر یہ کلمہ اپنے اندر جو تفصیلات رکھتا ہے اور جن امور کی طرف یہ اشارہ کرتا ہے اُن میں سے سب سے بڑا امر مسئلہ خلافت ہی ہے۔ پس مَیں نے چاہا کہ اس مسئلہ کے متعلق اپنے خیالات جماعت کے سامنے واضح طور پر پیش کر دوں تا کہ مخالفین پر حجت تمام ہو اور ۲؎کا نظارہ نظر آجائے۔ یعنی جو شخص دلیل سے گھائل ہونے والا ہو اس کے سامنے دلیل کو کھول کر بیان کر دیا جائے اور جس کا ایمان بصیرت پر مبنی ہو اس کے ہاتھ میں ایسی بیّن دلیل آ جائے جس سے اس کا ایمان تازہ ہو جائے۔
    اُمّتِ مُسلمہ کا نظام کسی مذہبی مسئلہ کے ساتھ وابستہ کرنیکی ضرورت
    سب سے پہلے میں اس سوال کو لیتا ہوں جو مغربی تعلیم کے اثر کے نیچے اُٹھایا جاتا ہے اور وہی ایک اصولی سوال ہے جس پر اس
    مسئلہ کا انحصار ہے اور وہ یہ ہے کہ نظام بہرحال ایک دُنیوی چیز ہے اور جب کہ نظام ایک دُنیوی چیز ہے دینی چیز نہیں تو اُمّتِ مسلمہ کے نظام کو کسی مذہبی مسئلہ کے ساتھ وابستہ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے اور مذہب کا اس سے کوئی تعلق نہیں پھر اس پر مذہبی نقطۂ نگاہ سے غور کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا دین اُتارا اور ہم نے اسے مان لیا اب اسے اس امر میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں کہ ہم اپنے لئے کونسا نظام تجویز کرتے ہیںیہ ہر زمانہ میں مسلمانوں کی مرضی پر منحصر ہے وہ جس طرح چاہیں اس کا فیصلہ کر لیں۔ اگر مناسب سمجھیں تو ایک خود مختار بادشاہ پر متفق ہو جائیں، چاہیں تو جمہوریت کو پسند کر لیں، چاہیں تو بولشویک اصول کو قبول کر لیں اور چاہیںتو آئینی بادشاہت کے طریق کو اختیار کر لیں کسی ایک اصل کو مذہب کے نام پر رائج کرنے کی نہ ضرورت ہے نہ مفید ہو سکتا ہے اصل غرض تو دین کو پھیلانا ہے۔ بھلا اس میں پڑنے کی ضرورت کیا ہے کہ وہ نظام کیسا ہو جس کے ماتحت کام کیا جائے۔ موجودہ زمانہ میں نَو تعلیم یافتہ مغرب زدہ نوجوانوں نے اس بحث کو اُٹھایا ہے اور درحقیقت اس کے پیچھے وہ غلط حریّت کی روح کام کر رہی ہے جو مختلف خیالاتِ فلاسفہ سے متأثر ہو کر مسلمانوں میں موجودہ زمانہ میں پیدا ہوئی ہے۔ وہ اس سوال کو بار بار اُٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس رنگ میں مذہب بدنام ہوتا اور تعلیم یافتہ طبقہ مذہب سے بدظن ہوتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ مذہب کو اپنی جگہ پر رہنے دو اورسیاست کو اپنی جگہ۔
    مغربی اثر کے ماتحت خیالات کی یہ رَومدت سے چل رہی تھی مگر مسلمانوں میں سے کسی کوجرأت نہیں ہوتی تھی کہ عَلَی الْاِعْلانْ اس کا اظہار کرے۔ جب تُرکی خلافت تباہ ہوئی اور کمال اتاترک نے خلافت کو منسوخ کر دیا تو عالمِ اسلامی میں ایک ہیجان پیدا ہو گیا اور پُرانے خیالات کے جو لوگ تھے انہوں نے خلافت کمیٹیاں بنائیں۔ ہندوستان میں بھی کئی خلافت کمیٹیاں بنیں اور لوگوں نے کہا کہ ہم اس رَو کا مقابلہ کریں گے مگر وہ لوگ جن کے دلوں میں یہ شبہات پیدا ہو چکے تھے کہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے انہوں نے جب دیکھا کہ مسلمانوں کا ایک فاتح بادشاہ جس کی لوگوں کے دلوںمیں بہت بڑی عزت ہے اُس نے اپنے عمل سے اُن کے خیالات کی تائید کر دی ہے تو وہ اور زیادہ دلیر ہو گئے اور اُن میں سے بعض نے اس کے متعلق رسائل لکھے۔ اس قسم کے رسائل مسلمانوں نے بھی لکھے ہیں، یورپین لوگوں نے بھی لکھے ہیں اور بعض روسیوں نے بھی لکھے ہیں مگر اس خیال کو ایک مدلّل صورت میں ایک مصری عالم علی بن عبدالرزاق نے جو جامعہ ازہر کے علماء میں سے ہیں اور محاکمِ شرعیہ کے قاضی ہیں اپنی کتاب ’’اَ لْاِسْلاَمُ وَ اُصُوْلُ الْحِکَم‘‘ میں پیش کیا ہے اور اس کا جیسا کہ مَیں بتاچکا ہوں وہ شدید اضطراب ہوء ا جو ترکی خلافت کی منسوخی سے عالَمِ اسلامی میں عموماً اور عربی ممالک میں خصوصاً پیدا ہوء ا تھا۔
    ایک سوال کا جواب
    شاید کہا جائے کہ اس بحث کا اس خلافتِ احمدیہ سے کیا تعلق ہے جو اصل بحث میرے مضمون کا ہو سکتا ہے کیونکہ وہ خلافت
    جواس کتاب میں زیر بحث ہے خلافتِ سلطنت ہے اور احمدیہ جماعت کو جس خلافت سے تعلق ہے وہ مذہبی خلافت ہے تُرک بادشاہ ہیں اور احمدی بادشاہ نہیں۔ پس تُرکوں کی خلافت کی تائید میں جو دلائل ہونگے وہ اور رنگ کے ہونگے اور ان کی خلافت کی تردید میں جو دلائل ہونگے وہ بھی اور رنگ کے ہونگے۔ بھلا اس خلافت کا خلافتِ احمدیہ سے کیا تعلق ہے جسے کسی قسم کی بادشاہت حاصل نہیں اور جس کی خلافت محض مذہبی رنگ رکھتی ہے۔
    اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جس مسئلہ پر بحث کی جاتی ہے ضروری نہیں ہوتا کہ اُس کے صرف اُس پہلو پر روشنی ڈالی جائے جس کے متعلق کوئی سوال کرے بلکہ بسا اوقات اس کے تمام پہلوئوں پر بحث کی جاتی ہے اور یہ کوئی قابلِ اعتراض امر نہیں ہوتا۔ مثلاً ہم سے کوئی پوچھے کہ وضو میں ہاتھ کس طرح دھوئے جاتے ہیں تو اس کے جواب میں اگر ہم وضو کی تمام تفصیل اس کو بتا دیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا بلکہ اس کے لئے مفید ہوگا کیونکہ وہ باقی باتیں بھی سمجھ جائے گا۔ اسی طرح گو احمدیہ جماعت کو جس خلافت سے تعلق ہے وہ مذہبی خلافت ہے لیکن اگر خلافت سلطنت کے متعلق بھی بحث کر دی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا بلکہ اس مضمون کی تکمیل کیلئے ایسا کرنا ضروری ہوگا۔
    سیاست صرف حکومت کے ساتھ وابستہ نہیں ہوتی
    دوسرا جواب یہ ہے کہ درحقیقت سیاستنظام کا دوسرا نام ہے اور یہ سیاست حکومت کے ساتھ بھی تعلق رکھتی ہے اور حکومت کے بغیر بھی سیاست ہوتی ہے۔ یہ لوگوں
    کی غلطی ہے کہ انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ سیاست صرف حکومت کے ساتھ ہی وابستہ ہوتی ہے حالانکہ بغیر حکومت کے بھی سیاست ہوتی ہے اور بغیر حکومت کے بھی نظام کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے۔ مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تین شخص اکٹھے کہیں سفر پر جانے لگیں تو وہ اپنے میں سے ایک شخص کو امیر بنا لیں ۳؎ تا کہ نماز کے وقت اُسے امام بنایا جاسکے اور سفر میں جو جو ضرورتیں پیش آئیں اُن کے بارہ میں اُس سے مشورہ لیا جاسکے۔اب یہ ایک نظام ہے مگر اس کا تعلق حکومت سے نہیں۔ نظام درحقیقت ایک مستقل چیز ہے اگر حکومت شامل ہو تو اس پر بھی حاوی ہوتا ہے اور اگر نہ ہو تو باقی لوگوں کے لئے اُس کی پابندی ضروری ہوتی ہے۔ پس مسئلہ خلافت ایک اسلامی نظام سے تعلق رکھتا ہے خواہ وہ سلطنت پر مشتمل ہو یا نہ ہو۔
    مذہبی خلافت پر اعتراض
    تیسرا جواب یہ ہے کہ اگر کوئی ثابت کر دے کہ اسلام نے کوئی خاص نظام پیش نہیں کیا تو اس کی زد خلافت سلطنت
    پر ہی نہیں پڑے گی بلکہ اُس خلافت پر بھی پڑے گی جو ہم پیش کرتے ہیں گویا خلافت سلطنت اور خالص مذہبی نظام دونوں یکساں اس کی زد میں آئیں گے۔ پس گو وہ دلائل ترکی خلافت کے خلاف پیش کئے گئے ہیں لیکن چونکہ وہ احمدیہ خلافت پر بھی اسی طرح اثر انداز ہوتے ہیں جس طرح خلافت سلطنت پر، اس لئے ضروری ہے کہ ہم ان دلائل کا جائزہ لیں۔ اور اس کی وجہ یہی ہے کہ اگر اسلام نے کوئی معیّن نظام پیش نہیں کیا تو جس طرح نظامِ سلطنت میں مسلمان آزاد ہونگے اسی طرح خالص نظامِ مذہبی میں بھی وہ آزاد سمجھے جائیں گے اور انہیں اختیار ہوگا کہ ہر زمانہ اور ہر ملک میں وہ جس طرح چاہیں اور جس شکل میں چاہیں ایک نظام اپنے لئے تجویز کر لیں۔
    ابتدائے اسلام میں نظامِ مملکت اور نظامِ دینی کا اجتماع
    اس سوال کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ ابتدائے اسلام میں نظامِ مملکت اور نظامِ دینی اکٹھے تھے۔یعنی مذہب کا نظام
    توتھا ہی مگر اس کے ساتھ ہی وہ فوجیں بھی رکھتے تھے، اُن میں قاضی بھی موجود تھے، وہ حدود بھی جاری کرتے تھے، وہ قصاص بھی لیتے تھے، وہ لوگوں کو عہدوں پر بھی مقرر کرتے تھے، وہ وظائف بھی تقسیم کرتے تھے، اِسی طرح نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کی ادائیگی بھی ان میں جاری تھی گویا ابتدائے اسلام میں دونوں قسم کے نظام جمع ہو گئے تھے۔ پس اگر کوئی نظام اسلام سے ثابت نہیں تو خلافتِ مذہبی کی ابتداء بھی صرف اُس وقت کے مسلمانوں کا ایک وقتی فیصلہ قرار دیا جائے گا اور اس سے آئندہ کیلئے کوئی استدلال کرنا اور سند پکڑنا درست نہ ہوگا۔ اور جب خلافت کا وجود ابتدائے اسلام میں ہی ثابت نہ ہوگا تو بعد میں کسی وقت اس کے وجود کو قائم کرنا کوئی مذہبی مسئلہ نہیں کہلا سکتا۔ پس اگر خلافت کے مسئلہ پر کوئی زد آئے گی تو یہ تو نہیں ہوگا کہ لوگ کہیں گے کہ صرف ترکوں کی خلافت ناجائز ہے بلکہ وہ سِرے سے خلافت کا ہی انکار کر دیں گے اور اس طرح ہم پر بھی جو مسئلۂ خلافت کے قائل ہیں اس کا اثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جیسے اگر ہندوئوں اور عیسائیوں پر کوئی ایسا اعتراض کیا جائے جو اسلام پر بھی وارد ہوتا ہو تو یہ نہیں کہا جا سکے گا کہ اس سے ہندوئوں اور عیسائیوں کو ہی نقصان پہنچتا ہے اسلام کو اس سے کیا ڈر ہے کیونکہ اگر وہی بات اسلام میں بھی پائی جاتی ہے تو ہمارا فرض ہوگا کہ ہم اس اعتراض کا ازالہ کریں کیونکہ اگر لوگ اس کی وجہ سے مذہب سے بدظن ہونگے تو صرف ہندوئوں اور عیسائیوں سے ہی نہیں ہونگے بلکہ مسلمانوں سے بھی ہونگے۔
    چوتھا جواب یہ ہے کہ ہم خلافتِ احمدیہ کے ثبوت کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفائے راشدین کی مثال لوگوں کے سامنے پیش کیا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جس طرح حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ ہوئے اسی طرح حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے بعد بھی خلافت کا وجود ضروری ہے۔ اگر وہی خلافت اُڑ جائے تو لازماً خلافتِ احمدیہ بھی باطل ہو جائے گی۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نظام کے قیام سے تعلق رکھنے والا حصہ مذہبی حیثیت رکھتا ہے یا غیر مذہبی؟
    اس کے ساتھ ایک اور بات بھی یاد رکھنی
    چاہئے اور وہ یہ ہے کہ اگر اس عقیدہ کو درست تسلیم کر لیا جائے جو علی بن عبدالرزاق نے لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے اور جسے غیر مبائعین بھی پیش کرتے ہیں تو اس سے ایک اور اہم سوال بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ اور وہ یہ کہ آیا رسولِ کریم ﷺ کے اعمال کا وہ حصہ جو نظام کے قیام سے تعلق رکھتا ہے مذہبی حیثیت رکھتا ہے یا غیر مذہبی۔ کیونکہ جب ہم یہ فیصلہ کر دیں کہ اسلام کوئی معیّن نظام پیش نہیں کرتا بلکہ حضرت ابوبکرؓ ،حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، اور حضرت علیؓ کی خلافت مسلمانوں کا ایک وقتی فیصلہ تھا اور وہ نظامِ مملکت کے استحکام کیلئے جو کام کرتے تھے وہ محض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت میں کرتے تھے تو طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ اعمال جو حکومت اور نظام کے قیام سے تعلق رکھتے تھے وہ محض ضرورتِ زمانہ کے ماتحت آپ سے صادر ہوتے تھے یا اسے کوئی مذہبی تائید بھی حاصل تھی۔ اگر وہ وقتی ضرورت کے ماتحت تھے تو حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ نے آپ کے تتبُّع میں جو کچھ بھی کیا ہو گا وقتی ضرورت کے ماتحت کیا ہو گا اور وہ ہمارے لئے شرعی نہیں ہو گا اور اگر رسول کریم ﷺ کے وہ اعمال جو حکومت اور نظام کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں مذہبی حیثیت رکھتے تھے تو لازماً ہمیں ان سے سند لینی پڑے گی۔ پس یہ سوال صرف خلفاء تک محدود نہیں رہتا بلکہ رسول کریم ﷺ تک بھی جا پہنچتا ہے کہ اگر نظامِ خلافت کا اصول مذہبی نہیں تو چونکہ یہ نقل ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال کی اس لئے ان کے وہ اعمال بھی مذہبی نہیں ہوں گے جو نظام کے قیام سے تعلق رکھتے ہیں اور ہمارے لئے ان کی اتباع ضروری نہیں ہو گی جیسے کپڑوں اور کھانے پینے کی چیزوں کے متعلق کوئی نہیں کہتا کہ رسول کریمﷺ نے فلاں قسم کے کپڑے پہنے یا فلاں کھانا کھایا اس لئے لازماً وہی کپڑا پہننا اور وہی کھانا کھانا چاہئے۔ مثلاً کوئی نہیں کہتا کہ رسول کریم ﷺ چونکہ تہہ بند باندھا کرتے تھے اس لئے تم بھی تہہ بند باندھو یا رسول کریم ﷺ چونکہ کھجوریں کھایا کرتے تھے اس لئے تم بھی کھجوریں کھاؤ بلکہ اس سے اصولی رنگ میں ایک نتیجہ أخذ کرلیا جاتا ہے اور وہ یہ کہ انسان کو سادہ زندگی بسر کرنی چاہئے۔ اسی طرح اگر رسول کریم ﷺ کے ان اعمال کو جو نظام کے قیام کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں شرعی نہیں سمجھا جائے گا بلکہ ضرورتِ زمانہ کے ماتحت قرار دیا جائے گا تو وہ ہمارے لئے نہیں ہوں گے اور ہم زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکیں گے کہ عرب میں دشمنوں کی حکومت چونکہ ٹوٹ گئی تھی اور وہ سب آپ کے تابع ہو گئے تھے اس لئے آپ مجبور تھے کہ کوئی نہ کوئی نظام قائم کریں اور چونکہ نظام کے قیام کیلئے کچھ قوانین کی بھی ضرورت تھی اس لئے آپ نے بعض قوانین بھی بنا دیئے اور اس سے آپ کی غرض محض ان لوگوں کی اصلاح تھی۔ یہ غرض نہیں تھی کہ کوئی ایسا نظام قائم کریں جسے ہمیشہ کیلئے مذہبی تائید حاصل ہو جائے۔ غرض اس عقیدہ کو تسلیم کرنے سے یہ امر لازماً تسلیم کرنا پڑے گا کہ خود رسول کریم ﷺ کے اعمال کا وہ حصہ جو نظام کے قیام سے تعلق رکھتا ہے مذہبی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ وہ کام محض ضرورتِ زمانہ کے ماتحت آپ کرتے تھے اسے کوئی مذہبی تائید حاصل نہ تھی اگر مذہبی تائید حاصل ہوتی تو وہ بعد کے لوگوں کیلئے بھی سُنت اور قابِلِ عمل قرار پاتے۔ یہ ایک طبعی نتیجہ ہے جو اس عقیدہ سے پیدا ہوتا ہے مگر منکرین خلافت اس طبعی نتیجہ کو ہمیشہ لوگوں کی نگاہوں سے مخفی رکھنے کی کوشش کرتے چلے آئے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے یہ کہہ دیا کہ رسول کریم ﷺ کی زندگی کا و ہ حصہ جو سلطنت کے اُمور کے انصرام کے متعلق تھا محض ایک دُنیوی کام تھا اور وقتی ضرورتوں کے ماتحت تھا تو مسلمان اسے برداشت نہیں کریں گے اور وہ کہیں گے کہ تم رسول کریم ﷺکی ہتک کرتے ہو اسی لئے خلافت کے منکر اس بارہ میں ہمیشہ غیرمنطقی طریقہ اختیار کرتے رہے ہیں مگر علی بن عبدالرزاق جو جامعہ ازہر کے شیوخ میں سے ہے اس نے آزادی اور دلیری سے اس موضوع پر بحث کی ہے اور اس وجہ سے قدرتی طور پر وہ اسی نتیجہ پر پہنچا ہے جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔ چنانچہ یہ عجیب توارد ہوا کہ ادھر جب اس مضمون پر میں نے نوٹ لکھنے شروع کئے تو لکھتے لکھتے میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ اگراس دلیل کو اسی طرح اوپر کی طرف چلایا جائے تو اس کی زد رسول کریم ﷺ پر بھی پڑتی ہے اور تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ آپ کی زندگی کا یہ حصہ محض ایک دُنیوی کام تھا جسے آپ نے وقتی ضروریات کے ماتحت اختیار کیا۔ غرض پہلے میں اس نتیجہ پر پہنچا بعد میں جب میں نے اس کی کتاب کو پڑھا تو میں نے دیکھا کہ بعینہٖ اس نے یہی استنباط کیا ہوء ا ہے اور گو مسلمانوں کے خوف سے اُس نے اس کو کھول کر بیان نہیں کیا بلکہ شکر کی گولی میں زہر دینے کی کوشش کی ہے لیکن پھر بھی اس کا مطلب خوب واضح ہے کہ قضاء وغیرہ کا انتظام اس وقت ثابت نہیں اور نہ دوسری ضروریات کا جو حکومت کیلئے ضروری ہیں مثلاً میزانیہ وغیرہ۔ پس معلوم ہؤا کہ اُس وقت جو کچھ کیا جاتا تھا صرف وقتی مصالح کے ماتحت کیا جاتا تھا۔
    خلافت کے انکار کا ایک خطرناک نتیجہ
    حقیقت یہ ہے کہ خلافت کے انکار کرنے کے ساتھ یہ بھی کہنا پڑتا ہے
    کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی حکومت مذہبی نہیں تھی اور خواہ اس خیال کو مسلمانوں کی مخالفت کے ڈر سے کیسے ہی نرم الفاظ میں بیان کیا جائے صرف خلفاء کے نظامِ سلطنت کو ہی مذہبی حیثیت سے نہیں گرانا پڑتا بلکہ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے اس حصہ کے متعلق بھی جو امورِ سلطنت کے انصرام کے ساتھ تعلق رکھتا تھا کہنا پڑتا ہے کہ وہ محض ایک دُنیوی کام تھا جسے وقتی ضرورتوں کے ماتحت آپ نے اختیار کیا ورنہ نماز ،روزہ ،حج اور زکوٰۃ کو مستثنیٰ کرتے ہوئے نظامی حصہ آپ نے لوگوں کی مرضی پر چھوڑ دیا ہے اور آپ کی طرف سے اس بات کی کُھلی اجازت ہے کہ اپنی سہولت کے لئے جیسا نظام کوئی چاہے پسند کرے۔ علی بن عبدالرزاق نے اس بات پر بھی بحث کی ہے چنانچہ وہ کہتا ہے کہ اگر رسول کریم ﷺ کو صحیح معنوں میں حکومت حاصل ہوتی تو آپ ہر جگہ جج مقرر کرتے مگر آپ نے ہر جگہ جج مقرر نہیں کئے اسی طرح باقاعدہ میزانیہ وغیرہ بنائے جاتے مگر یہ چیزیں بھی آپ کے عہد میں ثابت نہیں۔ اسی طرح اس نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر امورِ سلطنت کے انصرام میں کوئی حصہ لیا ہے تو وہ وقتی ضرورتوں کے ماتحت لیا ہے جیسے گھر میں کرسی نہیں ہوتی تو انسان فرش پر ہی بیٹھ جاتا ہے اسی طرح اُس وقت چونکہ کوئی حکومت نہیں تھی آپ نے عارضی انتظام قائم کرنے کیلئے بعض قوانین صادر کر دیئے۔ پس آپ کا یہ کام ایک دُنیوی کام تھا اس سے مذہبی رنگ میں کوئی سند نہیں لی جا سکتی۔
    غرض اس اصل کو تسلیم کرکے خلفاء کے نظامِ حکومت کو ہی مذہبی حیثیت سے نہیں گرانا پڑتا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان کاموں کو بھی جو نظامِ سلطنت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں دُنیوی کام قرار دینا پڑتا ہے اور تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ بعد کے لوگوں کیلئے سنت اور قابلِ عمل نہیں ہے۔
    اس تمہید کے بعد اب میں اصولی طور پر خلافت و نظامِ اسلامی کے مسئلہ کو لیتا ہوں۔
    مذہب کی دو قسمیں
    میرے نزدیک اس مسئلہ کو سمجھنے سے پہلے یہ امر سمجھ لینا ضروری ہے کہ دنیا کے مذاہب دو قسم کے ہیں (۱) اوّل وہ مذاہب
    جومذہب کا دائرہ عمل چند عبادات اور اذکار تک محدود رکھتے ہیں اور امورِ اعمالِ دُنیوی کو ایک علیحدہ امر قرار دیتے ہیں اور ان میں کوئی دخل نہیںدیتے۔ وہ کہیں گے نماز یوں پڑھو، روزے یوں رکھو، صدقہ و خیرات یوں کرو، لوگوں کے حقوق یوں بجا لاؤ، غرض عبادات اور اذکار کے متعلق وہ احکام بیان کریں گے مگر کوئی ایسا حکم نہیں دیں گے جس کا نظام کے ساتھ تعلق ہو یا اقتصادیات کے ساتھ تعلق ہو یا بَیْنَ الاقوامی حالات کے ساتھ تعلق ہو یا لین دین کے معاملات کے ساتھ تعلق ہو یا ورثہ کے ساتھ تعلق ہو۔ وہ ان امور کے متعلق قطعاً کوئی تعلیم نہیں دیں گے۔
    مسیحی مذہب میں شریعت کو *** قرار دینے کا اصل باعث
    اِس قسم کے مذاہب میں سے ایک مسیحی مذہب ہے اور اس مذہب میں جو شریعت کو *** قرار دینے پر زور دیا گیا ہے اس کی وجہ بھی
    زیادہ تریہی ہے کہ وہ افراد کے اعمال کو مذہب کی پابندیوں سے الگ رکھناچاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں مذہب کا کام صرف یہ ہے کہ وہ کہے تم نمازیں پڑھو، تم روزہ رکھو، تم حج کرو، تم زکوٰۃ دو، تم عیسیٰ کو خدا سمجھو۔ اسے اس بات سے کیا واسطہ ہے کہ قتل، فساد، چوریوں اور ڈاکوں کے متعلق کیا احکام ہیں یا یہ کہ قومیں آپس میں کس طرح معاہدات کریں، یا اقتصاد کو کس طرح کنٹرول میں رکھا جا سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں شریعت کا اِن امور سے کوئی واسطہ نہیں۔ اگر لڑکوں اور لڑکیوں کو ورثہ میں سے حصہ دینے کا سوال ہو تو وہ کہہ دیں گے کہ اس میں شریعت کا کیا دخل ہے یہ ہمارے ملک کی پارلیمنٹ کا کام ہے کہ وہ جس امر میں قوم کا فائدہ دیکھے اسے بطور قانون نافذ کر دے۔ اسی طرح وہ کہتے ہیں اگر ہم فیصلہ کر لیں کہ ہم سود لیں گے چاہے روپیہ کی صورت میں لیں اور چاہے جنس کی صورت میں، تو مذہب کو کیا حق ہے کہ وہ یہ کہے کہ روپیہ کے بدلہ میں سودی روپیہ لینا ناجائز ہے۔ غرض وہ مذہب کے اُن احکام سے جو نظام کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں شدید نفرت کرتے ہیں اسی لئے انہوں نے شریعت کو *** قرار دے لیا ہے۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ روزہ رکھنا *** ہے۔ اگر روزہ رکھنا *** کا موجب ہوتا تو انجیل کے پُرانے ایڈیشنوں میں یہ کس طرح لکھا ہوتا کہ:-
    ’’اس طرح کے دیو بغیر دعا اور روزہ کے نہیں نکالے جاتے ‘‘ ۴؎
    اور کیا ممکن ہے کہ ایک طرف تو انجیلوں میں اس قسم کے الفاظ آتے اور دوسری طرف یہ کہا جاتا کہ شریعت *** ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب عیسائیوں نے یہ کہا کہ شریعت *** ہے تو اس کے معنی یہی تھے کہ شریعت کا نظامِ قومی کو معیّن کر دینا *** ہے اور مذہب کو امور ِدُنیوی کے متعلق کوئی حکم دینے کا اختیار نہیں بلکہ ان امور کے متعلق ضرورت کے مطابق ہر قوم خود اپنے لئے قوانین تجویز کر سکتی ہے۔ اس طرح انہوں نے موسوی شریعت کی ان پابندیوں سے اپنے آپ کو آزاد کر لیا جو امورِ سلطنت میں اس نے لگائی تھیں۔ بیشک حضرت مسیح علیہ السلام نے جب یہ فقرہ کہا (بشرطیکہ ان کی طرف اسے منسوب کیا جا سکے) تو ان کا مطلب یہ نہیں تھا بلکہ ان کا مطلب صرف یہ تھا کہ یہود نے جو شریعت کے ظاہری احکام کو اس قدر اہمیت دے دی ہے کہ باطن اور روحانیت کو انہوں نے بالکل بُھلا دیا ہے یہ امر ان کے لئے ایک *** بن گیا ہے اور اس نے انہیں حقیقت سے کوسوں دور پھینک دیا ہے۔ لیکن جب مسیحیت روما میں پھیلی تو چونکہ وہ لوگ اپنے قومی دستور کو ترک کرنے کیلئے تیار نہیں تھے اور سمجھتے تھے کہ رومن لاء سے بہتر اورکوئی لاء نہیں بلکہ آج تک رومن لاء سے ہی یورپین حکومتیں فائدہ اُٹھاتی چلی آئی ہیں اس لئے وہاں کے لوگ جو بڑے متمدّن اور قانون دان تھے انہوں نے خیال کیا کہ دُنیا میں ہم سے بہتر کوئی قانون نہیں بنا سکتا ادھر انہوں نے دیکھا کہ عیسائی مذہب کی تعلیم بڑی اچھی ہے خداتعالیٰ کی محبت کے متعلق، معجزات اور نشانات کے متعلق، دعاؤں کے متعلق، مسیح کی قربانیوں کے متعلق۔ جب انہوں نے عیسائیت کی تعلیمات کو دیکھا تو ان کے دل عیسائی مذہب کی طرف مائل ہو گئے اور انہوں نے اقرار کیا کہ یہ مذہب واقع میں اس قابل ہے کہ اسے قبول کر لیا جائے۔ مگر دوسری طرف وہ یہ امر بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ یہودی شریعت کو جس کو وہ رومن لاء کے مقابلہ میں بہت ادنیٰ سمجھتے تھے اپنے اندر جاری کریں۔ پس وہ ایک عجیب مخمصے میں مبتلاء ہو گئے۔ ایک طرف عیسائیت کی دلکش تعلیم انہیں اپنی طرف کھینچتی تھی اور دوسری طرف رومن لاء کی برتری اور فوقیت کا احساس انہیں یہودی شریعت کے آگے اپنا سر جُھکانے نہیں دیتاتھا۔ وہ اسی شش و پنج میں تھے کہ ان کی نگاہ عہدِ جدید کے اِن فقرات پر پڑی کہ:-
    ’’جتنے شریعت کے اعمال پر تکیہ کرتے ہیں وہ سب *** کے ماتحت ہیں۔‘‘ ۵؎
    اور یہ کہ:-
    ’’مسیح جو ہمارے لئے *** بنا اس نے ہمیں مول لے کر شریعت کی *** سے چھڑایا۔۶؎
    یہ حضرت مسیح کے الفاظ نہیں بلکہ پولوس کے الفاظ ہیں۔ مگر انہیں ایک بہانہ ہاتھ آ گیا اور انہوں نے اِن فقرات کے معنی وسیع کر کے یہ فیصلہ کر لیا کہ مذہب کو امورِ دُنیوی کے متعلق کچھ حکم دینے کا اختیار نہیں بلکہ اِن امور کے متعلق ضرورت کے مطابق ہر قوم اپنے لئے خود قوانین تجویز کر سکتی ہے۔ حضرت مسیح کا (اگر بِالفرض انہوں نے کبھی یہ فقرہ کہا ہو) یا آپ کے حواریوں کا تو صرف یہ مطلب تھا کہ یہود صرف ظاہری احکام پر زور دیتے ہیں روحانیت کو انہوں نے بالکل بُھلا رکھا ہے اور یہ امر اُن کے لئے *** کا موجب ہے۔ وہ بے شک ظاہری طور پر نماز پڑھ لیتے ہیں مگر ان کے دل میں کوئی خشیت ،کوئی محبت اور خداتعالیٰ کی طرف کوئی توجہ پیدا نہیں ہوتی اور یہ نماز ان کیلئے *** ہے۔ وہ ظاہری طور پر صدقہ و خیرات کرتے وقت بکرے بھی ذبح کرتے ہیں مگر کبھی انہوں نے اپنے نفس کے بکرے کو ذبح نہیں کیا اور اس طرح صدقہ و خیرات بھی ان کے لئے *** ہے، وہ عبادت میں خداتعالیٰ کے سامنے ظاہری رنگ میں اپنا سر تو بے شک جُھکاتے ہیں مگر ان کے دل کبھی خدا کے آگے نہیں جھکتے اس وجہ سے ان کی عبادت بھی ان کے لئے *** ہے، وہ بیشک زکوٰۃ دیتے ہیں اور اس طرح اپنے مال کی خداتعالیٰ کے لئے قربانی کرتے ہیں مگر کبھی اپنے باطل افکار کی قربانی اپنے لئے گوارا نہیں کرتے اور اس وجہ سے زکوٰۃ بھی ان کے لئے *** کا موجب ہے۔ غرض یہود نے چونکہ ظاہر پر زور دے رکھا تھا اور باطنی اصلاح کو انہوں نے بالکل فراموش کر دیا تھا اس لئے حضرت مسیح یا ان کے حواریوں کو یہ کہنا پڑا کہ صرف ظاہر شریعت پر عمل کرنا اور باطن کی اصلاح کی طرف متوجہ نہ ہونا ایک *** ہے۔ اس کے یہ معنی نہیں تھے کہ شریعت *** ہے بلکہ یہ معنی تھے کہ ظاہر شریعت پر عمل کرنا اور باطنی اصلاح کی طرف تمہارا توجہ نہ کرنا تمہارے لئے *** کا باعث ہے۔ مگر رومیوں کو ایک بہانہ مل گیا اور انہوں نے کہا اس فقرہ کے یہ معنی ہیں کہ نماز روزہ وغیرہ احکام میں تو مذہب کی اطاعت کی جائے مگر امورِ دُنیوی میں اس کی اطاعت نہ کی جائے اور نہ اسے اِن امور کے متعلق احکام دینے کا کوئی اختیار ہے۔ یہ ہماری اپنی مرضی پر منحصر ہے کہ ہم اپنے لئے جو قانون چاہیں تجویز کر لیں اسی لئے جو رومی عیسائی مذہب اور شریعت کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ وہ *** ہے وہ خود ایک قانون بنا کر لوگوں کو اس کے ماتحت چلنے پر مجبور کرتے ہیں اگر محض کسی قانون کا ہونا *** ہوتا تو وہ خود بھی کوئی قانون نافذ نہ کرتے۔ مگر ان کا ایک طرف مذہب کو *** کہنا اور دوسری طرف خود اپنے لئے مختلف قسم کے قوانین تجویز کرنا بتاتا ہے کہ وہ اس فقرہ کے یہی معنی سمجھتے تھے کہ صرف لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے لئے جو قانون چاہیں بنا لیں مذہب کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دُنیوی امور کے متعلق لوگوں کے سامنے کوئی احکام پیش کرے۔ اس طرح انہوں نے موسوی شریعت کی اُن پابندیوں سے اپنے آپ کو آزاد کر لیا جو امورِ سلطنت میں اس نے لوگوں پر عائد کی ہوئی تھیں۔
    یہودی مذہب کا نظامِ حکومت میں دخل
    اس کے بالمقابل بعض دوسرے مذاہب ہیں جنہوں نے مذہب کے
    دائرہ کو وسیع کیا ہے اور انسانی اعمال اور باہمی تعلقات اور نظامِ حکومت وغیرہ کے متعلق بھی قواعد بنائے ہیں اور جو لوگ ایسے مذاہب کو مانتے ہیں لازماً انہیں یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ حکومت کے معاملات میں بھی مذہب کو دخل اندازی کا حق حاصل ہے اور نیز یہ کہ ان احکام کی پابندی افراد اور جماعتوں پر اسی طرح واجب ہے جس طرح عقائد اور انفرادی احکام مثلاً نماز اور روزہ وغیرہ میں واجب ہے۔ اس کی مثال میں یہودی مذہب کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص موسوی شریعت کو پڑھے تو اسے جا بجا یہ لکھا ہوء ا نظر آئے گا کہ اگر کوئی قتل کرے تو اسے یہ سزا دی جائے، چوری کرے تو یہ سزا دی جائے، جنگ ہو تو اِن قواعد کو ملحوظ رکھا جائے، قربانی کرنی ہو تو اِن اصول کے ماتحت کی جائے، اسی طرح لین دین اور تجارت وغیرہ معاملات کے متعلق وہ ہدایات دیتا ہے۔ غرض وہ معاملات جو حکومت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں یہودی مذہب ان میں بھی دخل دیتا ہے۔ چنانچہ جب بھی کوئی شخص موسوی شریعت پر غور کرے گا وہ اسی نتیجہ پر پہنچے گا کہ مذہب کو جس طرح افراد کے معاملات میں دخل دینے کا حق حاصل ہے اسی طرح اسے قومی اور ملکی معاملات میں بھی دخل دینے کا حق حاصل ہے۔
    اسلام کن مذاہب سے مشابہت رکھتا ہے
    اب ہمیں دیکھنا چاہئے کہ اسلام کونسی قسم کے مذاہب سے
    مشابہت رکھتا ہے۔ آیا اوّل الذکر قسم سے یا دوسری قسم کے مذاہب سے۔ اور آیا اسلام نے قومی معاملات میں دخل دیا ہے یا نہیں؟ اگر محمد ﷺ نے قومی معاملات میں دخل دیا ہے چاہے اپنی مرضی سے اور چاہے اس وجہ سے کہ ملک کو اس کی بے حد ضرورت تھی تو ماننا پڑے گا کہ جیسے جنگل میں اگر کسی کو کوئی آوارہ بچہ مل جائے تو وہ رحم کر کے اسے اپنے گھر میں لے جاتا ہے مگر اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ اسے اس کی ولایت کا حق حاصل ہو گیا ہے اسی طرح محمد رسول اللہ ﷺ نے رحم کر کے عرب کے یتیموں کو اپنی گود میں لے لیا مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ آپؐ کو ان کی ولایت کا حق حاصل ہو گیا تھا بلکہ جب وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے قابل ہو گئے تو انہیں اس بات کا اختیار تھا کہ وہ اپنے لئے جو قانون چاہتے تجویز کر لیتے لیکن اگر شریعت اسلام میں ایسے احکام موجود ہوں تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ رسول کریم ﷺ نے اپنے طور پر ان امورمیں دخل نہیںدیا بلکہ آپ نے اُسی وقت ان امور کو اپنے ہاتھ میں لیا جب خدا نے آپؐ کو اس کا حکم دیا اور جب خدا کا حکم دینا ثابت ہو جائے تو ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہو جائے گا کہ آپؐ کی زندگی کا وہ حصہ جو امورِسلطنت کے انصرام میں گزرا وہ مذہبی حیثیت رکھتا ہے اور مسلمان جس طرح خالص مذہبی نظام میں اسلامی ہدایات کے پابند ہیں اسی طرح نظامِ سلطنت میں بھی وہ آزاد نہیں بلکہ شریعتِ اسلامیہ کے قائم کردہ نظامِ سلطنت کے پابند ہیں۔ اس غرض کے لئے جب قرآن کریم اور احادیث نبویہ کو دیکھا جاتا ہے تو ان پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے ہی یہ امر ثابت ہو جاتا ہے کہ اسلام پہلی قسم کے مذاہب میں شامل نہیں بلکہ دوسری قسم کے مذاہب میں شامل ہے۔ اس نے صرف بعض عقائد اور انفرادی اعمال کے بتانے پر ہی اکتفانہیں کیا بلکہ اس نے ان احکام کو بھی لیا ہے جو حکومت اور قانون سے تعلق رکھتے ہیں۔ چنانچہ وہ صرف یہی نہیں کہتا کہ نمازیں پڑھو، روزے رکھو، حج کرو، زکوٰۃ دو بلکہ وہ ایسے احکام بھی بتاتا ہے جن کا حکومت اور قانون سے تعلق ہوتا ہے۔ مثلاً وہ میاں بیوی کے تعلقات پر بحث کرتا ہے وہ بتاتا ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان اگر جھگڑا ہو جائے تو کیا کِیا جائے اور ان کی باہمی مصالحت کیلئے کیاکیا تدابیر عمل میں لائی جائیں اور اگر کبھی مرد کو اِس بات کی ضرورت پیش آئے کہ وہ عورت کو بدنی سزا دے تو وہ سزا کتنی اور کیسی ہو، اسی طرح وہ لین دین کے قواعد پر بھی بحث کرتا ہے وہ بتاتا ہے کہ قرض کے متعلق کتنے گواہ تسلیم کئے جاسکتے ہیں، قرضہ کی کونسی صورتیں جائز ہیں اور کونسی ناجائز، وہ تجارت اور فنانس کے اصول بھی بیان کرتا ہے، وہ شہادت کے قوانین بھی بیان کرتا ہے جن پر قضاء کی بنیاد ہے۔ چنانچہ وہ بتاتا ہے کہ کیسے گواہ ہونے چاہئیں، کتنے ہونے چاہئیں، ان کی گواہی میں کِن کِن امور کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔ اسی طر ح وہ قضا ء کے متعلق کئی قسم کے احکام دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ قاضیوں کو کس طرح فیصلہ کرنا چاہئے۔ پھر ان مختلف انسانی افعال کی وہ جسمانی سزائیں بھی تجویز کرتا ہے جو عام طور پر قوم کے سپرد ہوتی ہیں۔ مثلاً قتل کی کیا سزا ہے یا چوری کی کیا سزا ہے؟ اسی طرح وہ وراثت کے قوانین بھی بیان کرتا ہے اور حکومت کو ٹیکس کا جو حق حاصل ہے اس پر بھی پابندیاں لگاتا ہے اور ٹیکسوں کی تفصیل بیان کرتا ہے۔ حکومت کو اِن ٹیکسوں کے خرچ کرنے کے متعلق جو اختیارات حاصل ہیںان کو بھی بیان کرتا ہے، فوجوں کے متعلق قواعد بھی بیان کرتا ہے، معاہدات کے متعلق قواعد بیان کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ دو قومیں جب آپس میں کوئی معاہدہ کرنا چاہیں تو کن اصول پر کریں۔ اسی طرح بَیْنَ الاقوامی تعلقات کے متعلق قواعد بیان کرتا ہے، مزدور اور ملازم رکھنے والوں کے متعلق قواعد بیان کرتا ہے، سڑکوں وغیرہ کے متعلق قواعد بیان کرتا ہے۔ غرض وہ تمام امور جو حکومت سے تعلق رکھتے ہیں ان سب کو اسلام بیان کرتا ہے۔ پس اسلام کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے حکومت کو آزاد چھوڑ دیا ہے بلکہ جیسا کہ ثابت ہے اس نے حکومت کے ہر شعبے پر سیرکن بحث کی ہے۔ پس جو شخص اسلام کو مانتا ہے اور اس میں حکومت کے متعلق تمام احکام کو تفصیل سے بیان کیا ہوء ا دیکھتا ہے وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ مذہب کو ان امور سے کیا واسطہ بلکہ اسے تسلیم کرنا پڑے گا کہ رسول کریم ﷺ کے وہ افعال جو حکومت سے تعلق رکھتے ہیں وہ بھی ویسے ہی قابلِ تقلید ہیں جیسے نماز اور روزہ وغیرہ کے متعلق احکام۔ کیونکہ جس خدا نے یہ کہا ہے کہ نماز پڑھو، جس خدا نے یہ کہا ہے کہ روزے رکھو، جس خدا نے یہ کہا ہے کہ حج کرو، جس خدا نے یہ کہا ہے کہ زکوٰۃ دو اُسی خدا نے امورِ سیاست اور تنظیم ملکی کے متعلق بھی احکام بیان کئے ہیں۔ پس یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہر قوم اور ہر ملک آزاد ہے کہ اپنے لئے ایک مناسب طریق ایجاد کر لے اور جس طرح چاہے رہے بلکہ اسے اپنی زندگی کے سب شعبوں میں اسلامی احکام کی پابندی کرنی پڑے گی کیونکہ اگر رسول کریم ﷺ نے یہ اپنی طرف سے کیا ہوتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ لوگ اس بارہ میں آزاد ہیں مگر جب ہم کہتے ہیں کہ یہ احکام قرآن مجیدمیں آئے ہیں اور خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بیان کیا تو معلوم ہوء ا کہ یہ رسول کریم ﷺ کا ذاتی فعل نہیں تھا۔ اور جبکہ قرآن نے ان تمام امور کو بیان کر دیا ہے جو حکومت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں تو عقل یہ تسلیم نہیں کر سکتی کہ اس نے حکومت سے تعلق رکھنے والی تو ساری باتیں بیان کر دی ہوں مگر یہ نہ بتایا ہو کہ حکومت کو چلایا کس طرح جائے۔ یہ توایسی ہی بات ہے کہ کوئی شخص مکان بنانے کیلئے لکڑیاں جمع کرے، کھڑکیاں اور دروازے بنوائے، اینٹوں اور چونے وغیرہ کا ڈھیرلگا دے مگر جب کوئی پوچھے کہ عمارت کب بنے گی اور اس کا کیا نقشہ ہو گا؟ تو وہ کہے کہ مجھے اس کا کوئی علم نہیں۔ صاف بات ہے کہ جب اس نے اینٹیں اکٹھی کیں، جب اس نے دروازے کھڑکیاں اور روشندان بنوائے، جب اس نے چونے اور گارے کا انتظام کیا تو آخر اسی لئے کیا کہ وہ مکان بنائے اس لئے تو نہیں کیا کہ وہ چیزیں بے فائدہ پڑی رہیں اور ضائع ہو جائیں۔ اسی طرح جب قرآن نے وہ تمام باتیںبیان کر دی ہیں جن کا حکومت کے ساتھ تعلق ہوء ا کرتا ہے تو عقلِ انسانی یہ بات تسلیم نہیں کر سکتی کہ اس نے نظامِ حکومت چلانے کا حکم نہ دیا ہو اور نہ یہ بتایا ہو کہ اس نظام کو کس رنگ میں چلایا جائے اور اگر وہ یہ نہیں بتاتا تو تم کو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ قرآن نَعُوْذُ بِاللّٰہِ ناقص ہے۔
    حکومت کے تمام شعبوں کے متعلق اسلام کی جامع ہدایات
    غرض جبکہ اسلام نے حکومت کے تمام شعبوں کے متعلق تفصیلی ہدایات دے دی ہیں تو کوئی شخص نہیںکہہ سکتا کہ مذہب کو ان امور سے کیا واسطہ۔
    ہر قوم اور ہر ملک اپنے لئے کوئی مناسبطریق تجویز کرنے میں آزاد ہے۔ ہاں وہ یہ بحث ضرور کرسکتا ہے کہ کسی خاص امر میں شریعت اسلامیہ نے اسے آزاد چھوڑ دیا ہے مگر یہ بات بالکل خلافِ عقل ہو گی کہ اسلام نے چھوٹے چھوٹے حقوق تو بیان کئے لیکن سب سے بڑا حق کہ فرد کوحکومت کے مقابل پر کیا حقوق حاصل ہیں اور حکومت کو کس شکل اور کس صورت سے افراد میں احکامِ الٰہیہ کو جاری کرنا چاہئے اس اہم ترین سوال کو اس نے بالکل نظر انداز کر دیا۔ اگر ہم یہ کہیں تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ وہ مذہب ناقص ہے۔ جو مذہب شریعت کو *** قرار دیتا ہے وہ تو کہہ سکتا ہے کہ یہ باتیں میرے دائرہ سے باہر ہیں اور اس مذہب کو ناقص بھی ہم اسی لئے کہتے ہیں کہ اس نے انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کے متعلق روشن ہدایات نہیں دیں۔ مثلاً ایسا مذہب اگر خدا اور بندے کے تعلق پر بحث نہیں کرتا یا یہ نہیں بتاتا کہ بندوں کا بندوں سے کیسا تعلق ہونا چاہئے یا امورِ مملکت اور سیاست کے متعلق کوئی ہدایت نہیں دیتا تو وہ آسانی سے چُھٹکارا پا جاتا ہے کیونکہ وہ شریعت کو *** قرار دیتا ہے لیکن جومذہب ان امور میں دخل دیتا ہے اور اس امر کو مانتا ہے کہ خداتعالیٰ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ان امور میں دخل دے اس کا ایسے اہم مسئلہ کو چھوڑ دینا اور لاکھوںکروڑوں آدمیوں کی جانوں کو خطرہ میں ڈال دینا یقینا ایک اور نقص کہلائے گا۔
    نفاذِ قانون کے متعلق تفصیلی ہدایات
    اس تمہید کے بعد میں اب اصل سوال کی طرف آتا ہوں۔ رسول کریمﷺ
    عرب میں مبعوث ہوئے اور عرب کا کوئی تحریر قانون نہ تھا۔ قبائلی رواج ہی ان میںقانون کا مرتبہ رکھتا تھا۔ چنانچہ کسی قبیلہ میں کوئی قانون تھا اور کسی قبیلہ میں کوئی۔ وہ انہی قبائلی رواج کے مطابق آپس کے جھگڑوں کا فیصلہ کر لیتے یا جب انہوں نے کوئی معاہدہ کرنا ہوتا تو معاہدہ کر لیتے مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو آپ نے ان کے سامنے آسمانی شریعت پیش کی اور کہا کہ میرے خدا نے تمہارے لئے یہ تعلیم مقرر کی ہے تم اس پر عمل کرو اور پھر اس پر ان سے عمل کرایا بھی۔ اگر تو قرآن جو آسمانی صحیفہ ہے صرف نماز روزہ کے احکام پر اور بعض عقائد کے بیان پر اکتفاء کرتا اور سیاست و تدبیر مُلکی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتے تو خواہ وہ زور سے ان کی پابندی کراتے کوئی کہہ سکتا تھاکہ عربوں نے مسلمانوں پر ظالمانہ حملہ کر کے اپنی حکومت تباہ کر لی اور ملک بغیر نظام اور قانون کے رہ گیا۔ اس مشکل کی وجہ سے وقت کی ضرورت سے مجبور ہو کر محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملک کو ابتری سے بچانے کیلئے کچھ قانون تجویز کر دیئے اور ان پر لوگوں سے عمل کرایا اور یہ حصہ آپ کے عمل کا مذہب نہ تھا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ان امور کے متعلق بھی تفصیلی احکام قرآن کریم میں موجود ہیں اور نہ صرف احکام موجود ہیں بلکہ ان کے نفاذ کے متعلق بھی احکام ہیں۔ مثلاً (۱) اللہ تعالیٰ سورہ حشر میں فرماتا ہے۔ ۷؎
    یعنی اے مسلمانو! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ تمہیں دیں وہ لے لو اور جس بات سے وہ تمہیں روکیں اُس سے رُک جاؤ۔ گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم مسلمانوں کیلئے ہر حالت میں ماننا ضروری ہے۔
    (۲) دوسری جگہ فرماتا ہے۔


    یعنی تیرے ربّ کی قسم! جب تک وہ ہر اُس بات میں جس کے متعلق ان میں جھگڑا ہو جائے تجھے حَکَم نہ بنائیں اور پھر جو فیصلہ تو کرے اس سے وہ اپنے نفوس میں کسی قسم کی تنگی نہ پائیں اور پورے طور پر فرمانبردار نہ ہو جائیںاُس وقت تک وہ ہرگز ایماندار نہیں ہو سکتے۔
    بعض لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ اعتراض کیا کرتے تھے بلکہ اس زمانہ میں بھی ایسے معترض موجود ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نَعُوْذُ بِاللّٰہِ یہ حق حاصل نہیںتھا کہ وہ باہمی جھگڑوں کے نپٹانے اورنظام کو قائم رکھنے کے متعلق کوئی ہدایات دے سکیں۔ مگر فرمایا۔ ہم ان کی اس بات کو غلط قراردیتے ہیں اور عَلَی الْاِعْلان کہتے ہیں کہ یہ کبھی مومن نہیں کہلا سکتے جب تک وہ اپنے جھگڑوں میںاے محمد رسول اللہ ﷺ! تجھے حَکَم تسلیم نہ کریں اور پھر تیری قضاء پر وہ دل و جان سے راضی نہ ہوں۔ اس آیت کریمہ میں دو نہایت اہم باتیں بیان کی گئی ہیں۔
    اوّل یہ کہ خدا تعالیٰ اس آیت میں رسول کریم ﷺ کو آخری قاضی قرار دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ آپ کا جو فیصلہ بھی ہو گا وہ آخری ہو گا اور اس پر کسی اور کے پاس کسی کو اپیل کا حق حاصل نہیں ہو گا اور آخری فیصلہ کا حق رسول کریم ﷺ کو دینا بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو حکومت کے اختیارات حاصل تھے۔
    دوسری بات جو اس سے ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اِن فیصلوں کے تسلیم کرنے کو ایمان کا جزو قرار دیتا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے۔ تیرے ربّ کی قسم! وہ کبھی مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک وہ تیرے فیصلوں کو تسلیم نہ کریں۔ گویا یہ بھی دین کا ایک حصہ ہے اور ویسا ہی حصہ ہے جیسے نماز دین کا حصہ ہے، جیسے روزہ دین کا حصہ ہے، جیسے حج اور زکوٰۃ دین کا حصہ ہے۔ فرض کرو زید اور بکر کا آپس میں جھگڑا ہو جاتا ہے ایک کہتا ہے میں نے دوسرے سے دس روپے لینے ہیںاور دوسرا کہتا ہے میں نے کوئی روپیہ نہیں دینا۔ دونوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچتے ہیں اور اپنے جھگڑے کو آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کے حق میں فیصلہ کر دیتے ہیں تو دوسرا اس فیصلے کو اگر نہیں مانتا تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے وہ مؤمن نہیں رہا۔ پس باوجودیکہ وہ نماز پڑھتا ہو گا، وہ روزے رکھتا ہو گا، وہ حج کرتا ہو گا، اگر وہ اس حصہ میں آ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی فیصلہ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا فتویٰ اس کے متعلق یہی ہے کہ اس انکار کے بعد وہ مؤمن نہیں رہا۔ پس کے الفاظ نے بتا دیا کہ خدا تعالیٰ نے اس حصہ کو بھی دین کا ایک جزو قرار دیا ہے علیحدہ نہیں رکھا۔
    (۳) تیسری جگہ فرماتا ہے ۹؎ یعنی مؤمنوں کو جب خدا اور اُس کا رسول بُلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آؤ ہم تمہارے جھگڑے کا فیصلہ کر دیں تو وہ یہی کہتے ہیں کہ ۔ حضور کا حکم ہم نے سن لیا اور ہم ہمیشہ حضور کی اطاعت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہوں گے اور ہمیشہ مظفر و منصور رہیں گے۔ اب ایک طرف رسول کریم ﷺ کے فیصلوں کو تسلیم کرنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ایمان کو وابستہ قرار دینا اور دوسری طرف انہی لوگوں کو کامیاب قرار دینا جو کہیں اور آپ کے کسی فیصلہ کے خلاف نہ چلیں، بتاتا ہے کہ ان احکام کے ساتھ خدائی تصرف شامل ہے۔ اگر کوئی شخص ان احکام کو نہ مانے تو خدائی عذاب اس پر اُترتا اور اُسے ناکام و نامراد کر دیتا ہے لیکن دُنیوی امور میں ایسا نہیں ہوتا۔ وہاں صرف طبعی نتائج پیدا ہوء ا کرتے ہیں۔
    (۴) پھر فرماتا ہے




    یعنی وہ لوگ جو اس کی اتباع کرتے ہیں جو خدا کا رسول ہے اور جو نبی اور اُمّی ہے اور جس کے متعلق تورات اور انجیل میں وہ کئی پیشگوئیاں لکھی ہوئی پاتے ہیں وہ جانتے ہیںکہ یہ رسول انہیں ہمیشہ نیک کاموں کا حکم دیتا اور باتوں سے روکتا ہے۔ گویا وہ لوگوں میں ایک قانون نافذ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ کرو اور وہ نہ کرو۔ اسی طرح وہ ان کے لئے طیبات کو حلال ٹھہراتا اور ناپاک چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے۔ گویا وہ انسانی اعمال اور اقوال اور کھانے پینے کے متعلق بھی مناسب ہدایات دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے فلاں چیز کھاؤ اور فلاں نہ کھاؤ۔ فلاں بات کرو اور فلاں نہ کرو۔ اسی طرح وہ ان کے وہ بوجھ اُتارتا ہے جو ان کے لئے ناقابلِ برداشت ہو رہے ہیں اور ان کے اُن طوقوں کو دُور کرتا ہے جنہوں نے ان کو ترقی کی طرف بڑھنے سے روکا ہوا تھا۔پس وہ لوگ جو اس رسول پر ایمان لاتے اور اس کے احکام کی عزت کرتے اور اس کی نصرت اور تائید کرتے اور اس نور کی اتباع کرتے ہیں جو اس کے ذریعہ نازل کیا گیا ہے وہی لوگ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوں گے۔
    اب دیکھ لو گورنمنٹیں بھی ہمیشہ اسی قسم کے قوانین بناتی ہیں اور کہتی ہیں کہ یہ کرو اور وہ نہ کرو اور قرآن کہتا ہے کہ ہم نے یہ اختیار جو حکومت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے محمد رسول اللہ ﷺ کو دے دیا ہے جو لوگ اس کی اتباع کریں گے وہ کامیاب ہوں گے اور جو اطاعت سے انحراف کریں گے وہ ناکام ہوں گے۔
    (۵) اسی طرح فرماتا ہے۔


    ۱۱؎
    اس آیت میں اللہ تعالیٰ یہ بتاتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت ہو گی کس طرح؟ آیا دُنیوی بادشاہوں کی طرح یا کسی اور رنگ میں؟ فرماتا ہے خدا کا رسول تم میں موجود ہے اگر وہ تمہارے اکثر مشوروں کو قبول کرے تو تم یقینا مصیبت میں پڑ جاؤ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں میں ایمان پیدا کر دیا ہے اور تم اُس کی قدر و قیمت کو اچھی طرح سمجھتے ہو اور جانتے ہو کہ ایمان کا تمہارے پاس رہنا تمہارے لئے کس قدر مفید اور بابرکت ہے اور ایمان کا ضیاع تمہارے لئے کس قدر مُہلک ہے وَ اور پھر اس ایمان کو اس نے تمہارے دلوں میں نہایت خوبصورت شکل میں قائم کر دیا ہے اور کُفر، فسق، عِصیان اور خروج عن الاطاعت کو اس نے تمہاری آنکھوں میں مکروہ بنا دیا ہے اس لئے تمہیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ ہمارے رسول کو اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ وہ اگر چاہے تو تمہارے مشوروں کو قبول کرے اور اگر چاہے تو ردّ کر دے۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو ہدایت پانے والے ہیں۔
    رسول کریم ﷺ کا طریق حکومت
    اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق
    حکومت کا ذکر کیاہے اور بتایا ہے کہ آپ کا طریق حکومت یہ نہیں تھا کہ آپ ہر بات میں لوگوں کا مشورہ قبول کرتے۔ اور اس کا ذکر اس لئے ضروری تھا کہ کوئی کہہ سکتاتھا محمد صلی اللہ علیہ وسلم درحقیقت وہی فیصلہ کیا کرتے تھے جو قوم کا فیصلہ ہوء ا کرتا تھا جیسے پارلیمنٹیں مُلک کے نمائندوں کی آواز کے مطابق فیصلے کرتی ہیں۔ اسی طرح کوئی کہہ سکتا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ملک کا فیصلہ ہی لوگوں سے منواتے تھے اپنا قانون ان میں نافذ نہیں کرتے تھے۔ سو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس شبہ کا ازالہ کر دیا اور خود مُلک والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ دیا کہ اگر ہمارا رسول تمہاری کثرتِ رائے کے ماتحت دیئے ہوئے اکثر مشوروں کو قبول کر لے تو تم مصیبت میں پڑ جاؤ۔ گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت کا یہ طریق نہیں تھا کہ آپ کثرتِ رائے کے مطابق فیصلہ کرتے بلکہ جب کثرتِ رائے کو مفید سمجھتے تو کثرتِ رائے کے حق میں اپنا فیصلہ دے دیتے اور جب کثرتِ رائے کو سمجھتے تو اس کے خلاف فیصلہ کرتے۔ کَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِکے الفاظ بتاتے ہیں کہ یہ ضروری نہیں تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر بات قبول کر لیتے بلکہ آپ کو اختیار تھا کہ جب آپ لوگوںکی رائے میں کسی قسم کا نقص دیکھیں تو اسے رد ّکر دیں اور خود اپنی طرف سے کوئی فیصلہ فرما دیں۔
    (۶) پھر فرماتا ہے۔ ۱۲؎ کہ اے محمدﷺ ان کے اموال سے صدقہ لو اور اس کے ذریعہ ان کے دلوں کو پاک کرو۔ ان کی اقتصادی حالت کو درست کرو۔ اور پھر ہمیشہ ان سے نرمی کا معاملہ کرتے رہو۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین احکام دیئے ہیں۔
    اوّل یہ کہ لوگوں سے زکوٰۃ لو کیونکہ اس کے ذریعہ ان کے دلوں میں غریبوں سے پیار اور حسنِ سلوک کا مادہ پیدا ہو گا۔
    دوسرا حکم یہ دیا کہ زکوٰۃ کے روپیہ کو ایسے طور پر خرچ کیا جائے کہ اس سے غربا ء کی حالت درست ہو اور وہ بھی دنیا میں ترقی کی طرف اپنا قدم بڑھا سکیں۔
    تیسرا حکم کے الفاظ میں یہ دیا کہ زکوٰۃ کے لینے میں سختی نہ کی جائے بلکہ ہمیشہ حکم کا نرم پہلو اختیار کیا جائے۔ اسی وجہ سے رسول کریم ﷺ جب محصّلین کو زکوٰۃ کی وصولی کے لئے بھیجتے تو آپ ہمیشہ یہ تاکید فرمایا کرتے کہ موٹا دُنبہ اور اونٹ چُن کر نہ لینا بلکہ اپنی خوشی سے وہ جن جانوروں کو بطور زکوٰۃ دے دیں اُنہی کو لے لینا اور یہ خواہش نہ کرنا کہ وہ زیادہ اعلیٰ اور عمدہ جانور پیش کریں۔ گویا شرعاً اور قانوناً جس قدر نرمی جائز ہو سکتی ہے اُسی قدر نرمی کرنے کا آپ لوگوں کو حکم دیتے۔
    (۷) ساتویں آیت جس میں حکومت سے تعلق رکھنے والے امور کا ذکر کیا گیا ہے وہ یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
    ۱۳؎
    یعنی وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے غضب کے ماتحت اس امر کی توفیق نہ پا سکے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کے لئے نکلیں اور جنگ میں شامل ہوں، وہ اپنے پیچھے رہنے پر بہت ہی خوش ہوئے اور انہوں نے اس بات کو بُرا سمجھا کہ وہ اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کریں۔ اور انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ سخت گرمی کا موسم ہے ایسے موسم میں جہاد کیلئے نکلنا تو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ اب گرمی کا بہانہ بنا کر تو تم پیچھے رہ گئے ہو مگر یاد رکھو جہنم کی آگ کی تپش بہت زیادہ ہو گی۔ کاش وہ اس امر کو جانتے اور سمجھتے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے صریح لفظوں میں رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلم کو جہاد کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ سپاہی بنو اور دشمنوں سے لڑو اور یہ بھی فرما دیا ہے کہ جو لوگ تیرے حکم کے ماتحت لڑنے کے لئے نہیں نکلیں گے وہ خدا تعالیٰ کے حضور مجرم قرار پائیں گے۔
    (۸) پھر فرماتا ہے۔

    ۱۴؎
    کہ وہ لوگ جو اللہ اور رسول سے لڑتے اور زمین میں فساد پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی جزاء یہ ہے کہ انہیں قتل کیا جائے یا انہیں صلیب دیا جائے یا ان کے ہاتھوں اور پاؤں کو مقابل پر کاٹ دیا جائے یا انہیں ملک بدر کر دیا جائے۔ اور یہ امر ان کے لئے دنیا میں رُسوائی کا موجب ہو گا اور آخرت میں عذابِ عظیم کا موجب۔
    عرب سے کُفّار کے نکالے جانے کا حکم
    (۹) اِسی طرح سورۃ توبہ کی پہلی آیات میں عرب سے کُفّار کے
    نکالے جانے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے۔


    ۱۵؎
    یعنی اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ان لوگوں میںاعلان کر دو کہ خدا اور رسول نے تمہاری ذلّت کے متعلق جو پیشگوئیاں کی تھیں وہ پوری ہو گئیں۔ اب خدا اور رسول پر تمہارا کوئی الزام نہیں لگ سکتا۔ پس اِن کو کہو کہ اب جاؤ اور سارے عرب میں چار ماہ پھر کر دیکھ لو کہ کہیں بھی تمہاری حکومت رہ گئی ہے؟ یقینا تمہیں معلوم ہو گا کہ تم اللہ تعالیٰ کو شکست نہیں دے سکے۔ اور خدا ہی ہے جس نے تمہیں رُسوا کیا۔ اسی طرح حج اکبر کے دن لوگوں میں اعلان کر دو کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکوں کے تمام اعتراضات سے بَری ہو چکا ہے اور تمہارے جس قدر اعتراضات تھے وہ دُور ہو گئے۔ اگر وہ توبہ کر لیں تو یہ ان کے لئے بہتر ہو گا اور اگر وہ پھر بھی نہ مانیں تو جان لو کہ اَب بقیہ عرب میں ان کی تھوڑی بہت اگر کچھ حکومت باقی ہے تو وہ بھی تباہ ہو جائے گی۔ سوائے ان کے جو اُن مشرکوں میں سے تمہارے ساتھ معاہدہ کر لیں۔ مگر اس شرط کے ساتھ کہ انہوں نے معاہدہ کو کسی صورت میں نہ توڑا ہو اور نہ انہوں نے تمہارے خلاف دشمنوں کی کسی قسم کی مدد کی ہو۔ ایسے لوگوں کے ساتھ تم معاہدہ کو نبھاؤ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ متقیوں سے محبت رکھتا ہے۔ لیکن ان کے علاوہ اور جس قدر مشرک ہیں ان میںایک اعلان کر دو اور وہ یہ کہ آج سے چار ماہ کے بعد وہ عرب میں سے نکل جائیں اگر وہ نہ نکلیں اور عرب میں ہی ٹھہرے رہیں تو چونکہ انہوں نے گورنمنٹ کا آرڈر نہیں مانا ہو گا اس لئے ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اس کے بعد تم مشرکوں کو جہاں بھی پاؤ قتل کر دو اور جہاں پاؤ ان کو پکڑ لو اور پکڑ کر قید میں ڈال دو اور ان کی گھات میں تم ہر جگہ بیٹھو۔ ہاں اگر وہ مسلمان ہو جائیں اور نمازیں پڑھیں اور زکوٰتیں دیں تو بے شک انہیں چھوڑ دو کیونکہ خدا غفور اور رحیم ہے۔
    اَب دیکھو حکومت کس چیز کا نام ہوتا ہے۔ حکومت اس بات کا نام نہیں کہ میاں، بیوی سے اپنی باتیں منوائے اور بیوی، میاں سے۔ بلکہ حکومت کا ایک خاص دائرہ ہوتا ہے یہ نہیں کہ جو بھی کسی کو حکم دے اسے بادشاہ کہہ دیا جائے۔ انگریزی میں لطیفہ مشہور ہے کہ ایک بچے نے اپنے باپ سے پوچھا کہ ابا جان! بادشاہ کس کو کہتے ہیں؟ باپ کہنے لگا بادشاہ وہ ہوتا ہے جس کی بات کو کوئی ردّ نہ کر سکے۔بچہ یہ سن کر کہنے لگا کہ ابا جان پھر تو ہماری اماں جان بادشاہ ہیں۔ معلوم ہوتا ہے وہ باپ ’’زَن مرید‘‘ ہو گا۔ تبھی اس کے بچہ نے کہا کہ اگر بادشاہ کی یہی تعریف ہے تو یہ تعریف تو میری والدہ پر صادق آتی ہے۔
    حکومت کیلئے ضروری شرائط
    غرض حکومت کا ایک خاص دائرہ ہوتا ہے اور جب ہم تسلیم کریں گے کہ فلاں حکومت ہے تو اس میں
    چند شرائط کا پایا جانا بھی ضروری ہو گا جن میں سے بعض یہ ہیں:۔
    (۱) حکومت کیلئے مُلکی حدود کا ہونا ضروری ہے۔ یعنی جو نظام بھی رائج ہو اُس کی ایک حدبندی ہو گی اور کہا جا سکے گا کہ فلاں جگہ سے فلاں جگہ تک اس کا اثر ہے۔ گویا مُلکی حدود حکومت کا ایک جُزوِ لَایَنْفَکْ ہے۔
    (۲) حکومت کو افراد کی مالی جانی اور رہائشی آزادی پر پابندیاں لگانے کا اختیار ہوتا ہے۔ مثلاً حکومت کو اختیار ہے کہ وہ کسی کو قید کر دے، کسی کو اپنے ملک سے باہر نکال دے یاکسی سے جبراً روپیہ وصول کر لے۔ اسی طرح جانی آزادی پر بھی وہ پابندی عائد کر سکتی ہے۔ مثلاً وہ حکم دے سکتی ہے کہ ہر نوجوان فوج میں بھرتی ہو جائے۔ یا اگر کہیں والنٹیئروں کی ضرورت ہو تو وہ ہر ایک کو بُلا سکتی ہے۔
    (۳) تیسرے، لوگوں پر ٹیکس لگانے اور ٹیکسوں کے وصول کرنے کا بھی اسے اختیار ہوتا ہے۔
    اسی طرح ایسے ہی اختیارات رکھنے والے ممالک سے اسے معاہدات کرنے کا اختیار ہوتا ہے، اسے باہر سے آنے والوں اور باہر جانے والوں پر پابندیاں لگانے کا اختیار ہوتا ہے، اسے تجارت اور لین دین کے متعلق قوانین بنانے کا اختیار ہوتا ہے، اسے قضاء کا اختیار ہوتا ہے، غرض یہ تمام کام حکومت کے سپرد ہوتے ہیں اور اسے اختیار ہوتا ہے کہ وہ جس طرح چاہے ان امور کو سرانجام دے۔ بالخصوص ملکی حدود کا ہونا حکومت کے لئے نہایت ہی ضروری ہے کیونکہ اِسی کے ماتحت وہ فیصلہ کرتی ہے کہ فلاں جگہ سے فلاں جگہ تک رہنے والوں پر ہمارے احکام حاوی ہوں گے اور ان کا فرض ہو گا کہ وہ ان کی اطاعت کریں اس مُلکی حد میں چاہے کسی وقت غیرآجائیں ان کے لئے بھی حکومت کے احکام کی اطاعت ضروری ہو گی اور جو اس حد میں سے نکل جائے وہ ایک حد تک ان قوانین کی اطاعت سے بھی باہر ہو جاتا ہے۔ غرض حکومت کا کام بعض باتوں کا حکم دینا بعض باتوں سے روکنا، افراد کی مالی، جانی اور رہائشی آزادی پر ضرورت کے وقت پابندیاں عائد کرنا، ٹیکس وصول کرنا، لوگوں کوفوج میں بھرتی کرنا، معاہدات کرنا اور قضاء کے کام کو سرانجام دینا ہوتا ہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سب اختیارات دیئے گئے ہیں یا نہیں۔
    پہلا امر مُلکی حد بندی تھی۔ سو اس اختیار کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملنا ایک واضح امر ہے کیونکہ آپ نے اعلان کر دیا کہ اتنے حصہ میں مسلمانوں کے سوا اور کوئی نہیں رہ سکتا اور اگر کوئی آیا تو اسے نکال دیا جائے گا۔ دوسری طرف فرما دیا کہ جو لوگ اس حد کے اندر رہتے ہیں ان کے لئے یہ یہ شرائط ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو دوسروں سے معاہدات کرنے کا بھی اختیار دیا اور پھر شرائط کے ماتحت اس بات کا بھی اختیار دیا کہ آپ اگر مناسب سمجھیں تو معاہدہ کو منسوخ کر دیں۔ اسی طرح آپ کو ٹیکس وصول کرنے کا بھی اختیار دیا گیا۔ آپ کو ضرورت پر لوگوں کی مالی، جانی اور رہائشی آزادی پر پابندیاں عائد کرنے کا بھی اختیار دیا گیا۔ غرض حکومت کے جس قدر اختیارات ہوتے ہیں وہ تمام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کواللہ تعالیٰ نے دے دیئے ۔ حکومت کا کام بعض باتوں کا حکم دینا ہوتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ یہ حق دیتا ہے۔ حکومت کا کام بعض باتوں سے روکنا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حق بھی دیتا ہے۔ پھر افراد کی مالی، جانی اور رہائشی آزادی کو حکومت ہی خاص حالات میں سَلب کر سکتی ہے۔ چنانچہ اس کا حق بھی اللہ تعالیٰ آپ کو دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ تم ان کے مال لے سکتے ہو، ٹیکس وصول کر سکتے ہو، جانیں ان سے طلب کر سکتے ہو اور جنگ پر لے جا سکتے ہو۔ اسی طرح ملک سے لوگوں کو نکالنے کا اختیار بھی آپ کو دیا گیا۔ پھر قضاء حکومت کا کام ہوتا ہے سو یہ حق بھی اسلام آپ کو دیتا ہے اور آپ کے فیصلہ کو آخری فیصلہ قرار دیتا ہے۔ پھر حکومت کی قسم بھی بتا دی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کے پابند نہیں کہ تمہاری سب باتیں مانیں بلکہ تم اس بات کے پابند ہو کہ ان کی سب باتیں مانوکیونکہ اگر یہ تمہاری سب باتیں مانے تو اس کے خطرناک نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔
    پس ان آیات سے ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق امورِ حکومت کے انصرام سے وقتی ضرورت کے ماتحت نہ تھا بلکہ شریعت کا حصہ تھا اور جس طرح نماز روزہ وغیرہ احکام مذہب کا ہیں اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نظامِ ملکی کا کام اور طریق بھی مذہب اور دین کا حصہ ہے اور دُنیوی یا وقتی ہرگز نہیں کہلا سکتا۔
    کیا نظام سے تعلق رکھنے والے احکام صرف رسول کریم ﷺ کی ذات سے مخصوص تھے؟
    خلافت کی اس دلیل پر کہ اسلام نے کوئی معیّن نظام پیش نہیں کیا جو
    یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اس طرح رسول کریم ﷺ کے اعمال کا وہ حصہ جو نظام کے قیام سے تعلق رکھتا ہے مذہبی حیثیت نہیں رکھے گا بلکہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ کام محض ضرورتِ زمانہ کے ماتحت آپ کرتے تھے اسے علی بن عبدالرزاق نے بھی محسوس کیا ہے اور چونکہ وہ آدمی ذہین ہے اس لئے اس نے اس مشکل کو بھانپا ہے اور یہ سمجھ کر کہ لوگ اس پر یہ اعتراض کریں گے کہ جب قرآن کریم میں ایسے احکام موجود ہیں جن کا تعلق حکومت کے ساتھ ہے تو تم کس طرح کہتے ہو کہ رسول کریمﷺ نے اِن کاموں کو وقتی ضرورت کے ماتحت کیا اور اسلام نے کوئی مخصوص نظامِ حکومت پیش نہیں کیا اسے اس رنگ میں حل کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کہتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی حکومت حکومتِ رسالت و محبت تھی نہ کہ حکومتِ ملوکیت۔ وہ کہتا ہے بیشک رسول کریم ﷺ نے کئی قسم کے احکام دیئے مگر وہ احکام رسول ہونے کے تھے بحیثیت نظام کے سردار ہونے کے نہیں تھے۔ اور اس سے اس کی غرض یہ ہے کہ چونکہ وہ احکام نظام کا سردار ہونے کے لحاظ سے نہیں دیئے گئے اس لئے وہ دوسروں کی طرف منتقل نہیں ہو سکتے اور چونکہ وہ تمام احکام بحیثیت رسول تھے اس لئے آپ کی وفات کے ساتھ ہی وہ احکام بھی ختم ہو گئے۔ پھر وہ ان تمام اختیارات کورسول کریم ﷺ کے ساتھ مخصوص ثابت کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ رسول کے ساتھ لوگوں کو غیر معمولی محبت ہوتی ہے اور اس محبت کی وجہ سے ہر شخص اُن کی بات کو تسلیم کر لیتا ہے یہی کیفیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تھی۔ صحابہؓ کو آپ کے ساتھ عشق تھا اور وہ آپ کے ہر حکم پر اپنی جانیں فدا کرنے کیلئے تیار رہتے تھے۔ پس آپ نے جو حکم بھی دیا وہ انہوں نے مان لیا اور وہ ماننے پر مجبور تھے کیونکہ وہ اگر عاشق تھے تو آپ معشوق، اور عاشق اپنے معشوق کی باتوں کو مانا ہی کرتا ہے۔ مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ احکام ہمیشہ کیلئے واجب العمل بن گئے بلکہ وہ صرف آپ کے ساتھ مخصوص تھے اور جب آپ وفات پا گئے تو ان احکام کا دائرہ عمل بھی ختم ہو گیا۔
    نبی کے ساتھ اُس کے متبّعین کی غیر معمولی محبت
    علی بن عبدالرزاق کی یہ دلیل اِس لحاظ سے تو
    درست ہے کہ واقع میں نبی کے ساتھ اُس کے ماننے والوں کو غیر معمولی محبت ہوتی ہے۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ہماری جماعت کے ہزاروں لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جو کچھ کرتے دیکھتے تھے وہی خود بھی کرنے لگ جاتے۔ ایک دفعہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے کسی نے بطور اعتراض کہا کہ آپ کی جماعت کے بعض لوگ ڈاڑھی منڈواتے ہیںاور یہ کوئی پسندیدہ طریق نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا جب اِن کے دلوں میں محبتِ کامل پیدا ہو جائے گی اور وہ دیکھیں گے کہ مَیں نے ڈاڑھی رکھی ہوئی ہے تو وہ خود بھی ڈاڑھی رکھنے لگ جائیں گے اور کسی وعظ و نصیحت کی اِنہیں ضرورت نہیں رہے گی۔
    پس اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نبی اور اس کے ماننے والوں کے درمیان محبت کا ایک ایسا رشتہ ہوتا ہے جس کی نظیر اور کسی دُنیوی رشتہ میں نظر نہیں آ سکتی بلکہ بعض دفعہ محبت کے جوش میں انسان بظاہر معقولیت کو بھی چھوڑ دیتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی عادت تھی کہ جب وہ حج کیلئے جاتے تو ایک مقام پر پیشاب کرنے کیلئے بیٹھ جاتے اور چونکہ وہ باربار اُسی مقام پر بیٹھتے اس لئے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ آپ کو اِسی مقام پر پیشاب آتا ہے اِدھر اُدھر کسی اور جگہ نہیں آتا۔ انہوں نے کہا اصل بات یہ ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں پیشاب کرنے کیلئے بیٹھے تھے اس وجہ سے جب بھی میں یہاں سے گزرتا ہوں مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یاد آ جاتے ہیں اور میں اِس جگہ تھوڑی دیر کیلئے ضرور بیٹھ جاتاہوں۔ ۱۶؎
    تو محبت کی وجہ سے انسان بعض دفعہ ایسی نقلیں بھی کر لیتا ہے جو بظاہر غیر معقول نظر آتی ہیں۔ پس یہ جو اُس نے کہا کہ چونکہ صحابہؓ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت تھی اس لئے وہ آپ کی اطاعت کرتے تھے اِسے ہم بھی تسلیم کرتے ہیں مگر یہاں یہ سوال نہیں کہ وہ لوگ آپ کی محبت سے اطاعت کرتے تھے یا دبائو سے بلکہ سوال یہ ہے کہ آیا اسلام نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی اقتدار مُلک اور جان پر دیا تھا یا نہیں؟ اِسی طرح نہ ماننے والوں پر آپ کو کوئی اختیار دیا تھا یا نہیں؟ اگر قرآن میں صرف احکام بیان ہوتے اور نہ ماننے والوں کے متعلق کسی قسم کی سزا کا ذکر نہ ہوتا تو کہا جا سکتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احکام دیئے اور صحابہؓ نے اُس عشق کی وجہ سے جو انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے تھا ان احکام کو قبول کر لیا۔ مگر ہم تو دیکھتے ہیںکہ قرآن میں سزائیں بھی مقرر کی گئی ہیں اور کہا گیا ہے کہ اگر فلاں جُرم کرو گے تو تمہیں یہ سزا ملے گی اور فلاں جُرم کرو گے تو یہ سزا ملے گی اور جب کہ قرآن نے سزائیں بھی مقرر کی ہیں تو معلوم ہوء ا کہ محبت کا اصول کُلّیۃً درست نہیں کیونکہ جہاں احکام کی اطاعت محض محبت سے وابستہ ہو وہاں سزائیں مقرر نہیں کی جاتیں۔ پھر اسلام نے صرف چند احکام نہیں دیئے بلکہ نظامِ حکومت کی تفصیل بھی بیان کی ہے۔ گو بعض جگہ اس نے تفصیلات کو بیان نہیں بھی کیا اور اس میں لوگوں کیلئے اُس نے اجتہاد کے دروازہ کو کھلا رکھا ہے تا کہ اُن کی عقلی اور فکری استعدادوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ چنانچہ بعض امور میںحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اجتہاد کر کے اصل اسلامی مسئلہ لوگوں کے سامنے پیش کیا اور بعض امور میں حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، اور حضرت علی رضی اللہ عنہم نے حالاتِ پیش آمدہ کے مطابق لوگوں کی رہبری کی بلکہ بعض امور ایسے ہیں جن کے متعلق آج تک غور و فکر سے کام لیا جا رہا ہے۔
    خیارِ بلوغ کا مسئلہ
    مثلاً باپ اگر بیٹی کا بلوغت سے پہلے نکاح کر دے تو بالغ ہونے پر اسے فسخ نکاح کا اختیار حاصل ہے یا نہیں؟ یہ ایک سوال ہے
    جو عام طور پر پیدا ہوتا رہتا ہے۔ فقہ کی پُرانی کتابوں میں یہی ذکر ہے کہ باپ اگر بیٹی کا نکاح کر دے تو اُسے خیارِ بلوغ حاصل نہیں ہوتا مگر مَیں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ لڑکی کو خیارِ بلوغ حاصل ہے اور اسے اس بات کا حق ہے کہ اگر وہ بالغ ہونے پر اس رشتہ کو پسند نہ کرے تو اسے ردّ کر دے۔ اسی طرح اور بہت سے فقہی مسائل ہیں جو اسلامی تعلیم کے ماتحت آہستہ آہستہ نکلتے آتے ہیں اور بہت سے آئندہ زمانوں میں نکلیں گے۔ پس ہمیں تفصیلات سے غرض نہیں اورنہ اِس وقت یہ سوال پیش ہے کہ اسلام نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی خاص رنگ کی حکومت دی تھی یا نہیںکیونکہ نظامِ حکومت علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں۔ انگلستان کا امریکہ سے امریکہ کا روس سے اور روس کا جرمنی سے نظامِ حکومت مختلف ہے مگر اس اختلاف کی وجہ سے یہ تونہیں کہ ایک کو ہم حکومت کہیں اور دوسرے کو ہم حکومت نہ کہیں۔ حکومت کے معنی یہ ہیں کہ کوئی خاص نظام مقرر کیا جائے اور لوگوں کی باگ ڈور ایک آدمی یا ایک جماعت کے سپرد کر کے مُلکی حدود کے اندر اس کو قائم کیا جائے۔ پس دیکھنا یہ ہے کہ کسی نظام کا خواہ وہ دوسرے نظاموں سے کیسا ہی مخالف کیوں نہ ہو اسلام حکم دیتا ہے یا نہیں اور اُس نظام کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلاتے تھے یا نہیں۔
    اسلام مُلکی اور قانونی نظام کا قائل ہے
    اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام ملوکیت کا قائل نہیں کیونکہ ملوکیت ایک خاص
    معنی رکھتی ہے اور اُن معنوں کی حکومت کا اسلام مخالف ہے۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متعلق بھی فرمایا کہ مَیں بادشاہ نہیں اور خلفاء کے متعلق بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملوک کا لفظ استعمال نہیں فرمایا مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ اسلام مذہبی طور پر کسی بھی ملکی نظام کا قائل نہیں۔ اگر کوئی نظام قرآن اور اسلام سے ثابت ہو تو ہم کہیں گے کہ اسلام ملوکیت کا بے شک مخالف ہے مگر ایک خاص قسم کے نظام کو اس کی جگہ قائم کرتا ہے اور وہ اسلام کا مذہبی حصہ ہے اور چونکہ وہ مذہبی حصہ ہے اس کا قیام مسلمانوں کیلئے ضروری ہے جہاں تک اُن کی طاقت ہو۔ حکومت در حقیقت نام ہے ملکی حدود اور اس میں خاص اختیارات کے اجراء کا۔ کسی خاص طرز کا نام نہیں۔ اور ملکی حدود اور خاص اختیارات کا نفاذ قرآن کریم سے ثابت ہے۔جیسا کہ ان آیات سے ظاہر ہے جن کو مَیں ابھی پیش کر چکا ہوں۔ پس جب کہ ایک ملکی حد اور اس حد میں ایک خاص قانون اور ایک اصلی باشندے ملک کے اور ایک معاہد اور ایک غیر ملکی کا وجود پایا جاتا ہے تو ایک خاص نظامِ حکومت بھی ثابت ہے اس کا نام ہم بھی ملوکیت نہیں رکھتے کیونکہ ایسے معنوں کی حامل ہے جن کی اسلام اجازت نہیں دیتا لیکن بہرحال ایک ملکی اور قانونی نظام ثابت ہے اور اسی کے وجود کو ہم ثابت کرنا چاہتے ہیں اور اسی نظام کے قیام کیلئے ہم خلافت کو ضروری قرار دیتے ہیں۔ پس خلافت ایک اسلامی نظام ہے نہ کہ وقتی مصلحت کا نتیجہ۔
    مَیں اِس امر کو مانتا ہوں کہ خلافت کے انکار سے منطقی نظریہ وہی قائم ہوتا ہے جو علی بن عبدالرزاق نے قائم کیا ہے اور خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نظام کو بھی کسی نہ کسی رنگ میں ردّ کرنا پڑتا ہے اور جو لوگ اِس نظریہ کو تسلیم کئے بغیر خلافت کا انکار کرتے ہیں وہ یا تو بیوقوف ہیں یا لوگوں کی آنکھوں میں خاک جھونکنا چاہتے ہیں۔ اب جب کہ قرآن کریم سے یہ امر ثابت ہو گیا کہ اسلام امورِ ملکی اور نظامِ قومی کو مذہب کا حصہ قرار دیتا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اِن امور میں حصہ لینا اسے مذہب کا جزو قرار دیتا ہے تو اِن امور میں آپ کی ہدایت اور راہنمائی اُسی طرح سنت اور قابلِ نمونہ ہوئی جس طرح کہ نماز روزہ وغیرہ احکام میں۔ اور اِن امور میں کسی آزادی کا مطالبہ اُسی وقت تسلیم ہو سکتا ہے جب کہ انسان اسلام سے بھی آزادی کا مطالبہ کرے۔ اور جب یہ ثابت ہو گیا تو ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہو گیا کہ جس طرح نماز روزہ کے احکام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک ختم نہیں ہو گئے اسی طرح نظامِ قومی یا نظامِ ملکی کے احکام بھی آپ کی وفات کے ساتھ ختم نہیں ہو گئے کیونکہ جس طرح فرد کی باطنی ترقی کیلئے نماز روزہ کی ضرورت باقی ہے اِسی طرح قوم کی ترقی کیلئے ان دوسری قسم کے احکام کے نفاذ اور انتظام کی بھی ضرورت ہے۔ اور جس طرح نماز باجماعت جو ایک اجتماعی عبادت ہے آپ کے بعد آپ کے نواب کے ذریعے ادا ہوتی رہنی چاہئے اسی طرح وہ دوسرے احکام بھی آپ کے نواب کے ذریعے سے پورے ہوتے رہنے چاہئیں۔ اور جس طرح نماز روزہ کے متعلق خداتعالیٰ نے جو احکام دیئے اُن کا یہ مطلب نہیں تھا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو جائیں تو تم بے شک نہ نمازیں پڑھو اور نہ روزے رکھو اسی طرح نظام کے متعلق اسلام نے جو احکام دیئے اُن سے یہ مقصد نہیں تھا کہ وہ بعد میں قابل عمل نہیں رہیں گے بلکہ جس طرح نماز میں ایک کے بعد دوسرا امام مقرر ہوتا چلا جاتا ہے اِسی طرح نظام سے تعلق رکھنے والے احکام پر بھی آپ کے نائبین کے ذریعہ ہمیشہ عمل ہوتے رہنا چاہئے۔
    قبائل عرب کی بغاوت کی وجہ
    مَیں سمجھتا ہوں اِسی دھوکا کی وجہ سے کہ نظام سے تعلق رکھنے والے احکام رسول کریم ﷺکی
    ذات سے مختص تھے آپ کی وفات کے بعد عرب کے قبائل نے بغاوت کر دی اور انہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا۔ وہ بھی یہی دلیل دیتے تھے کہ خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سِوا کسی اور کو زکوٰۃ لینے کا اختیار ہی نہیں دیا۔ چنانچہ وہ فرماتا ہے۔ اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم! تو ان کے اموال کا کچھ حصہ بطور زکوٰۃ لے۔ یہ کہیں ذکر نہیں کہ کسی اور کو بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زکوٰۃ لینے کا اختیار ہے۔ مگر مسلمانوں نے ان کی اس دلیل کو تسلیم نہ کیا حالانکہ وہاں خصوصیت کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی مخاطب کیا گیا ہے۔ بہرحال جو لوگ اُس وقت مرتد ہوئے اُن کی بڑی دلیل یہی تھی کہ زکوٰۃ لینے کا صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار حاصل تھا کسی اور کو نہیں۔ اور اس کی وجہ یہی دھوکا تھا کہ نظام سے تعلق رکھنے والے احکام ہمیشہ کے لئے قابلِ عمل نہیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ احکام مخصوص تھے۔ مگر جیسا کہ مَیں ثابت کر چکا ہوں یہ خیال بالکل غلط ہے اور اصل حقیقت یہی ہے کہ جس طرح نماز روزہ کے احکام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک ختم نہیں ہو گئے اسی طرح قومی یا ملکی نظام سے تعلق رکھنے والے احکام بھی آپ کی وفات کے ساتھ ختم نہیں ہو گئے اور نماز باجماعت کی طرح جو ایک اجتماعی عبادت ہے اِن احکام کے متعلق بھی ضروری ہے کہ ہمیشہ مسلمانوں میں آپ کے نائبین کے ذریعہ اِن پر عمل ہوتا رہے۔
    مسئلہ خلافت کی تفصیلات
    اس اصولی بحث کے بعد مَیں خلافت کے مسئلہ کی تفصیلات کی طرف آتا ہوں۔ یاد رکھنا چاہئے کہ نبی کو
    خدا تعالیٰ سے شدید اتصال ہوتا ہے ایسا شدید اتصال کہ بعض لوگ اسی وجہ سے دھوکا کھا کر یہ خیال کر لیتے ہیں کہ شاید وہ خدا ہی ہے جیسا کہ عیسائیوں کو اِسی قسم کی ٹھوکر لگی۔ لیکن جنہیں یہ ٹھوکر نہیں لگتی اور وہ نبی کو بشر ہی سمجھتے ہیں وہ بھی اس شدید اتصال کی وجہ سے جو نبی کو خداتعالیٰ سے ہوتا ہے اور اس وجہ سے کہ اُس کے وجود میں اس کے اَتباع خدائی نشانات دیکھتے رہتے ہیں اُس کے زمانہ میں یہ خیال تک نہیں کرتے کہ وہ فوت ہو جائے گا۔ یہ نہیں کہ وہ نبی کو بشر نہیں سمجھتے بلکہ شدتِ محبت کی وجہ سے وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم پہلے فوت ہونگے اور نبی کو اللہ تعالیٰ ابھی بہت زیادہ عمر دے گا۔ چنانچہ آج تک کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کے متعلق اس کی زندگی میں اس کے متّبعین نے یہ سمجھا ہو کہ وہ فوت ہو جائے گا اور ہم زندہ رہیں گے بلکہ ہر شخص (سِوائے حدیث العہد اور قلیل الایمان لوگوں کے) یہ خیال کرتا ہے کہ نبی تو زندہ رہے گا اور وہ فوت ہو جائیں گے اور اس وجہ سے وہ ان اُمور پر کبھی بحث ہی نہیں کرتے جو اس کے بعد اُمت کو پیش آنے والے ہوتے ہیں۔ اور زمانوں میں تو لوگ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ اگر فلاں فوت ہو گیا تو کیا بنے گا مگر نبی کے زمانہ میں انہیں اس قسم کا خیال تک نہیں آتا۔ اور اس کی وجہ جیسا کہ مَیں بیان کر چکا ہوں شدتِ محبت ہوتی ہے چنانچہ اس کا ہمیں ذاتی تجربہ بھی ہے۔
    ایک ذاتی تجربہ
    ہم میں سے کوئی احمدی سوائے اس کے کہ جس کے دل میں خرابی پیدا ہو چکی ہو یا جس کے ایمان میں کوئی نقص واقع ہو چکا ہو ایسا
    نہیں تھا جس کے دل میں کبھی بھی یہ خیال آیا ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو فوت ہو جائیں گے اور ہم آپ کے پیچھے زندہ رہ جائیں گے۔ چھوٹے کیا اور بڑے کیا، بچے کیا اور بوڑھے کیا، مرد کیا اور عورتیں کیا سب یہی سمجھتے تھے کہ ہم پہلے فوت ہونگے اور حضرت صاحب زندہ رہیں گے۔ غرض کچھ شدتِ محبت کی وجہ سے اور کچھ اس تعلق کی عظمت کی وجہ سے جو نبی کو خدا تعالیٰ سے ہوتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ معلوم نہیں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو کتنی لمبی عمر دے گا۔ چاہے کوئی شخص یہ خیال نہ کرتا ہو کہ یہ نبی ہمیشہ زندہ رہے گا مگر یہ خیال ضرور آتا ہے کہ ہم پہلے فوت ہونگے اور خدا تعالیٰ کا نبی دنیا میں زندہ رہے گا۔ چنانچہ بسا اوقات اٹھارہ اٹھارہ بیس بیس سال کے نوجوان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوتے اور نہایت لجاجت سے عرض کرتے کہ حضور! ہمارا جنازہ خود پڑھائیں۔ اور ہمیں تعجب آتا کہ یہ تو ابھی نوجوان ہیں اور حضرت صاحب ستّر برس سے اوپر کی عمر کو پہنچ چکے ہیں اس کے علاوہ آپ بیمار بھی رہتے ہیں مگر یہ کہتے ہیں کہ ہمارا جنازہ آپ پڑھائیں۔ گویا انہیں یقین ہے کہ حضرت صاحب زندہ رہیں گے اور وہ آپ کے سامنے فوت ہونگے۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام جب وفات پا گئے تو دس پندرہ دن تک سینکڑوں آدمیوں کے دلوں میں کئی دفعہ یہ خیال آتا کہ آپ ابھی فوت نہیں ہوئے۔ میرا اپنا یہ حال تھا کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی وفات کے تیسرے دن مَیں ایک دوست کے ساتھ باہر سیر کیلئے گیا اور دارالانوار کی طرف نکل گیا۔ اُن دنوں ایک اعتراض کے متعلق بڑا چرچا تھا اور سمجھا جاتا تھا کہ وہ بہت ہی اہم ہے۔ راستہ میں مَیں نے اس اعتراض پر غور کرنا شروع کر دیا اور خاموشی سے سوچتا چلا گیا۔ مجھے یکدم اس اعتراض کا ایک نہایت ہی لطیف جواب سُوجھ گیا اور مَیں نے زور سے کہا کہ مجھے اس اعتراض کا جواب مل گیا ہے اب میں گھر چل کر حضرت صاحب سے اس کا ذکر کروں گا اور آپ کو بتائوں گا کہ آپ کی وفات پر جو فلاں اعتراض دشمنوں نے کیا ہے اس کا یہ جواب ہے حالانکہ اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو وفات پائے تین دن گزر چکے تھے۔ تو وہ لوگ جنہوں نے اس عشق کا مزا چکھا ہو ا ہے وہ جانتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی زندگی میں وہ کیا خیال کرتے تھے اور آپ کی وفات پر اُن کی کیا قلبی کیفیات تھیں۔ یہی حال صحابہؓ کا تھا۔ انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو عشق تھا اُس کی مثال تاریخ کے صفحات میں اور کہیں نظر نہیں آتی۔ اس عشق کی وجہ سے صحابہؓ کیلئے یہ تسلیم کرنا سخت مشکل تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو جائیں گے اور وہ زندہ رہیںگے۔ یہ نہیں کہ وہ آپ کو خدا سمجھتے تھے، وہ سمجھتے تو آپ کو انسان ہی تھے مگر شدتِ محبت کی وجہ سے خیال کرتے تھے کہ ہماری زندگی میں ایسا نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ آپ کی وفات پر جو واقعہ ہو ا وہ اس حقیقت کی ایک نہایت واضح دلیل ہے۔
    رسول کریم ﷺ کی وفات پر صحابہؓ کی کیفیت
    حدیثوں اور تاریخوں میں آتا ہے کہ رسول کریم
    صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر جب لوگوں میں مشہور ہوئی تو حضرت عمرؓ تلوار لے کر کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ یہ افواہ محض منافقوں کی شرارت ہے ورنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں اور وہ فوت نہیں ہوئے۔ آپ آسمان پر خدا سے کوئی حکم لینے کیلئے گئے ہیں اور تھوڑی دیر میں واپس آ جائیں گے اور منافقوں کو سزا دیں گے۔ چنانچہ انہوں نے اِس بات پر اتنا اصرار کیا کہ انہوں نے کہا اگر کسی نے میرے سامنے یہ کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں تو مَیں اُس کی گردن اُڑا دوں گا اور یہ کہہ کر ایک جوش اور غضب کی حالت میں تلوار ہاتھ میں لٹکائے مسجد میں ٹہلنے لگ گئے۔۱۷؎ لوگوں کو ان کی یہ بات اتنی بھلی معلوم ہوئی کہ ان میں سے کسی نے اس بات کے انکار کی ضرورت نہ سمجھی حالانکہ قرآن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ صاف طور پر لکھا ہوئا تھا کہ ۱۸؎ اگر محمدرسول اللہ ﷺ فوت ہو جائیں یا خداتعالیٰ کی راہ میں شہید ہو جائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بَل پھر جاؤ گے؟ مگر باوجود اس کے کہ قرآن کریم میں ایسی صریح موجود تھی جس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وفات پانا ثابت ہو سکتا تھا پھر بھی انہیں ایسی ٹھوکر لگی کہ ان میں سے بعض نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر یہ خیال کر لیا کہ آپ فوت نہیں ہوئے یہ منافقوں نے جھوٹی افواہ اُڑا دی ہے اور اس کی وجہ یہی تھی کہ محبت کی شدّت سے وہ خیال بھی نہیں کر سکتے تھے کہ کبھی ایسا ممکن ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو جائیں اور وہ زندہ رہیں۔ بعض صحابہؓ جو طبیعت کے ٹھنڈے تھے انہوں نے جب یہ حال دیکھا تو انہیں خیال آیا کہ ایسا نہ ہو لوگوں کو کوئی ابتلاء آ جائے چنانچہ وہ جلدی جلدی سے گئے اور حضرت ابوبکرؓ کو بُلا لائے۔ جب وہ مسجد میں پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ ہر شخص جوش اور خوشی کی حالت میں نعرے لگا رہا ہے اور کہہ رہا ہے منافق جھوٹ بولتے ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے بلکہ زندہ ہیں۔ گویا ایک قسم کے جنون کی حالت تھی جو ان پر طاری تھی۔ جیسے میں نے کہہ دیا تھا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو بتاؤں گا کہ آپ کی وفات پر دشمنوں نے جو فلاں اعتراض کیا ہے اُس کا یہ جواب ہے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے جب یہ حالت دیکھی تو آپ اُس کمرہ میں تشریف لے گئے جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسد مبارک پڑا ہوء ا تھا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول کریم ﷺکا کیا حال ہے؟ انہوں نے بتایا کہ آپؐ فوت ہو چکے ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے یہ سنتے ہی کپڑا اُٹھایا اور آپ کی پیشانی پر انہوں نے بوسہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا۔ یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک تو آپ وفات پا جائیں اور دوسری طرف قوم پر موت وارد ہو جائے اور وہ صحیح اعتقادات سے منحرف ہو جائے۔ پھر آپ باہر تشریف لائے اور منبر پر کھڑے ہو کر آپ نے ایک وعظ کیا جس میں بتایا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی کہ۱۹؎ اس کے بعدآپ نے بڑے زور سے کہا کہ اے لوگو! محمد رسول اللہ ﷺ بیشک اللہ کے رسول تھے مگر اب وہ فوت ہو چکے ہیں۔ اگر تم میں سے کوئی شخص محمد رسول اللہ ﷺ کی عبادت کیا کرتا تھا تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ آپؐ وفات پا چکے ہیں لیکن اگر تم خدا کی عبادت کیا کرتے تھے تو تم سمجھ لو کہ تمہارا خدا زندہ ہے اور اُس پر کبھی موت وارد نہیں ہو سکتی۔ حضرت عمرؓ جو اُس وقت تلوار کی ٹیک کے ساتھ کھڑے تھے اور اِس انتظار میں تھے کہ ابھی یہ منبر سے اُتریں تو مَیں تلوار سے اُن کی گردن اُڑا دوں۔ انہوں نے جس وقت یہ آیت سُنی مَعًا ان کی آنکھوں کے سامنے سے ایک پردہ اُٹھ گیا۔ ان کے گھٹنے کانپنے لگ گئے۔ ان کے ہاتھ لرزنے لگ گئے اور ان کے جسم پر ایک کپکپی طاری ہو گئی اور وہ ضُعف سے نڈھال ہو کر زمین پر گِر گئے۔ باقی صحابہؓ بھی کہتے ہیں کہ ہماری آنکھوں پر پہلے پردے پڑے ہوئے تھے مگر جب ہم نے حضرت ابوبکرؓ سے یہ آیت سنی تو وہ تمام پردے اُٹھ گئے۔ دنیا ان کی آنکھوں میں اندھیر ہو گئی اور مدینہ کی تمام گلیوں میں صحابہؓ روتے پھرتے تھے اور ہر ایک کی زبان پر یہ آیت تھی کہ ۲۰؎
    حضرت حسانؓ کا یہ شعر بھی اسی کیفیت پر دلالت کرتا ہے کہ
    کُنْتَ السَّوَادَ لِنَا ظِرِیْ فَعَمِیَ عَلَیَّ النَّاظِرٗ
    مَنْ شَا ئَ بَعْدَکَ فَلْیَمُتْ فَعَلَیْکَ کُنْتُ اُحَاذِرٗ۲۱؎
    کہ اے خدا کے رسول! تو میری آنکھ کی پتلی تھا اب تیرے وفات پا جانے کی وجہ سے میری آنکھ اندھی ہو گئی ہے۔ صرف ہی ایک ایسا وجود تھا جس کے متعلق مجھے موت کا خوف تھا۔ اب تیری وفات کے بعد خواہ کوئی مرے مجھے اس کی کوئی پروا ہنہیں ہو سکتی۔
    نبی کی زندگی میں اس کی جانشینی کے مسئلہ کی طرف توجہ ہی نہیں ہو سکتی
    پس جب نبی کی زندگی میں قوم کے دل اور دماغ کی یہ کیفیت ہوتی ہے تو سمجھا جا سکتا ہے کہ خدا بھی اور نبی بھی ان کو
    اس ایذاء سے بچاتے ہیں اور اس نازک مضمون کو کہ نبی کی وفات کے بعد کیا ہو گا لطیف پیرایہ میں بیان کرتے ہیں اور قوم بھی اس مضمون کی طرف زیادہ توجہ نہیں دیتی اور نہ اِن امور میں زیادہ دخل دیتی ہے کہ نبی کے بعد کیا ہو گا۔ چنانچہ یہ کہیں سے ثابت نہیں کہ کسی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ہو کہ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! آپ جب فوت ہو جائیں گے تو کیا ہو گا؟ آیا آپ کے بعد خلافت کا سلسلہ جاری ہو گا یا کوئی پارلیمنٹ اور مجلس بنے گی جو مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے امور کا فیصلہ کرے گی کیونکہ ایسے امور پر وہی بحث کر سکتا ہے جو سنگدل ہو اور جو نبی کی محبت اور اس کی عظمت سے بالکل بیگانہ ہو۔ باقی کئی مسائل کے متعلق تو ہمیں احادیث میں نظر آتا ہے کہ صحابہؓ ان کے بارہ میں آپ سے دریافت کرتے رہتے تھے اور کُرید کُرید کر وہ آپ سے معلومات حاصل کرتے تھے مگر جانشینی کا مسئلہ ایسا تھا جو صحابہؓ آپ سے دریافت نہیں کر سکتے تھے اور نہ اس کو دریافت کرنے کا خیال تک ان کے دل میں آ سکتا تھا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ آپ زندہ رہیں گے اور ہم وفات پا جائیں گے۔ پس یہ مسئلہ ایک رنگ میں اور ایک حد تک پردۂ اخفاء میں رہتا ہے اور اس کے کُھلنے کا اصل وقت وہی ہوتا ہے جبکہ نبی فوت ہو جاتا ہے۔
    یہی حالات تھے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے آپؐ کی وفات صحابہؓ کے لئے ایک زلزلہ عظیمہ تھی۔ چنانچہ آپ کی وفات پر پہلی دفعہ انہیں یہ خیال پیدا ہوء ا کہ نبی بھی ہم سے جدا ہو سکتا ہے اور پہلی دفعہ یہ بات ان کے دماغ پر اپنی حقیقی اہمیت کے ساتھ نازل ہوئی کہ اس کے بعد انہیں کسی نظام کی ضرورت ہے جو نبی کی سنت اور خواہشات کے مطابق ہو اور اس کی پر انہوں نے غور کرنا شروع کیا۔ بیشک اس نظام کی تفصیلات قرآن کریم میں موجود تھیں مگر چونکہ وہ پہلے ہوئی تھیں اور ان کو کبھی کُریدا نہیں گیا تھا اس لئے لوگ ان آیات کو پڑھتے اور ان کے کوئی اور معنے کر لیتے۔ وہ خاص معنے نہیں کرتے تھے جن سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ نبی کی وفات کے بعد اس کے متّبعین کو کیا کرنا چاہئے۔
    ہر نبی کی دو زندگیاں ہوتی ہیں ایک شخصی اور ایک قومی
    درحقیقت اس جذبۂ محبت کی تہہ میں بھی ایک الٰہی حکمت کام کر رہی ہوتی ہے اور وہ یہ کہ نبی کی دو زندگیاں ہوتی ہیں۔ ایک شخصی اور ایک قومی اور
    اللہ تعالیٰ اِن دونوں زندگیوں کو الہام سے شروع کرتاہے۔ نبی کی شخصی زندگی تو الہام سے اس طرح شروع ہوتی ہے کہ جب وہ تیس یا چالیس سال کا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے الہامات اس پر نازل ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور اسے کہا جاتا ہے کہ تو ماء مور ہے اور تجھے لوگوں کی اصلاح اور ان کی ہدایت کیلئے کھڑا کیا جاتا ہے۔ ان الہامات کے نتیجہ میں وہ اپنے اوپر خداتعالیٰ کے غیر معمولی فضل نازل ہوتے دیکھتا ہے اور وہ اپنے اندر نئی قوت، نئی زندگی اور نئی بزرگی محسوس کرتا ہے۔ اور نبی کی قومی زندگی الہام سے اس طرح شروع ہوتی ہے کہ جب وہ وفات پاتا ہے تو کسی بنی بنائی سکیم کے ماتحت اس کے بعد نظام قائم نہیں ہوتا بلکہ یکدم ایک تغیر پیدا ہوتا ہے اور خداتعالی کا مخفی الہام قوم کے دلوں کو اس نظام کی طرف متوجہ کر دیتا ہے۔
    قدرتِ اُولیٰ نبی کی شخصی زندگی ہوتی ہے اور قدرتِ ثانیہ قومی زندگی
    غرض جس طرح نبی کی شخصی زندگی کو اللہ تعالیٰ الہام سے شروع کرتا ہے اسی طرح وہ اس کی قومی زندگی کو جو اس کی
    وفات کے بعد شروع ہوتی ہے الہام سے شروع کرنا چاہتا ہے تاکہ دونوں میں مشابہت قائم رہے اسی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کا نام قدرتِ ثانیہ رکھا ہے۔ گویا قدرتِ اُولیٰ تو نبی کی شخصی زندگی ہے اور قدرتِ ثانیہ نبی کی قومی زندگی ہے۔ پس چونکہ اللہ تعالیٰ اس قومی زندگی کو ایک الہام سے اور اپنی قدرت سے شروع کرنا چاہتا ہے اس لئے اس کی کو نبی کے زمانہ میں قوم کی نظروں سے پوشیدہ رکھتا ہے۔پھر جب نبی فوت ہو جاتا ہے تو خداتعالیٰ کا مخفی الہام قوم کے دلوں کو اس زندگی کی تفصیلات کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ انجیل میں بھی اسی قسم کی مثال پائی جاتی ہے جہاں ذکر آتا ہے کہ حضرت مسیح ناصری کی وفات کے بعد حواری ایک جگہ جمع ہوئے تو ان پر روح القدس نازل ہوء ا اور وہ کئی قسم کی بولیاں بولنے لگ گئے اور گو انجیل نویسوں نے اس واقعہ کو نہایت مضحکہ خیز صورت میں لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے مگر اس سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کی وفات کے بعد حواریوں میں یکدم کوئی ایسا تغیر پیدا ہوا جس کی طرف پہلے ان کی توجہ نہیں تھی اور وہ اس بات پر مجبور ہو گئے کہ اس تغیر کو روح القدس کی طرف منسوب کریں۔ غرض اللہ تعالیٰ نبی کی اس نئی زندگی کو بھی اس کی شخصی زندگی کی طرح اپنے الہام اور قدرت نمائی سے شروع کرتا ہے اور اسی وجہ سے نبی کے زمانہ میں اس کی جزئیات قوم کی نظروں سے پوشیدہ رکھی جاتی ہیں۔
    قضیۂ قرطاس پر ایک نظر
    یہاں مَیں ایک بات بطور لطیفہ بیان کر دیتا ہوں اور وہ یہ کہ شیعوں اور سُنیوں میں بہت مدت سے ایک نزاع
    چلا آتا ہے جسے قضیۂ قرطاس کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس قضیۂ قرطاس کی تفصیل یہ ہے کہ احادیث میں آتا ہے رسول کریم ﷺکو مرض الموت میں جب تکلیف بہت بڑھ گئی تو آپؐ نے صحابہؓ سے فرمایا کہ کاغذ اور قلم دوات لاؤ تاکہ میں تمہارے لئے کوئی ایسی بات لکھوا دوں جس کے نتیجہ میں تم کبھی گمراہ نہ ہو۔ اس پر شیعہ کہتے ہیں کہ دراصل رسول کریم ﷺیہ لکھوانا چاہتے تھے کہ میرے بعد علیؓ خلیفہ ہوں اور انہیں کو امام تسلیم کیا جائے لیکن حضرت عمرؓ نے آپؐ کو کچھ لکھوانے نہ دیا اور لوگوں سے کہہ دیا کہ جانے دو، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت تکلیف زیادہ ہے اور یہ مناسب نہیں کہ آپ کی تکلیف کو اور زیادہ بڑھایا جائے ہمارے لئے ہدایت کے لئے قرآن کافی ہے اس سے بڑھ کر کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ شیعہ کہتے ہیں کہ یہ ساری چالاکی عمرؓ کی تھی کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی وصیت کر جائیں تاکہ بعد میں حضرت علیؓ کو محروم کر کے وہ خود حکومت کو سنبھال لیں۔ اگر وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وصیت لکھوانے دیتے تو آپ ضرور حضرت علی ؓ کے حق میں وصیت کر جاتے۔ اس اعتراض کے کئی جواب ہیں مگر میں اس وقت صرف دو جواب دینا چاہتا ہوں۔
    اوّل یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر حضرت علیؓکے حق میں ہی خلافت کی وصیت کرنا چاہتے تھے تو حضرت عمرؓ کے انکار پر آپ نے دوبارہ یہ کیوں نہ فرمایا کہ قلم دوات ضرور لاؤ۔ میں تمہیں ایک اہم وصیت لکھوانا چاہتا ہوں۔ آخر آپ کو پتہ ہونا چاہئے تھا کہ عمرؓ (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ) علیؓ کا دشمن ہے اور اس وجہ سے عمرؓ کی کوشش یہی ہے کہ کسی طرح علیؓ کو کوئی فائدہ نہ پہنچ جائے۔ ایسی صورت میں یقینا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمرؓ سے فرماتے کہ تم کیا کہہ رہے ہو مجھے بے شک تکلیف ہے مگر میں اس تکلیف کی کوئی پروا ہ نہیں کرتا۔ تم جلدی قلم دوات لاؤ تاکہ میں تمہیں کچھ لکھوا دوں۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ قلم دوات لانے کی ہدایت نہیں دی بلکہ حضرت عمرؓ نے جب کہا کہ ہماری ہدایت کے لئے خدا کی کتاب کافی ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔۲۲؎ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم درحقیقت وہی کچھ لکھوانا چاہتے تھے جس کی طرف حضرت عمرؓ نے اشارہ کیا تھا اور چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے انہوں نے ایک رنگ میں خدا کی کتاب پر ہمیشہ عمل کرنے کا عہد کر لیا اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی ضرورت نہ سمجھی کہ آپ کوئی علیحدہ وصیت لکھوانے پر اصرار کریں۔ پس اس واقعہ سے حضرت عمرؓ پر نہ صرف کوئی الزام عائد نہیں ہوتا بلکہ آپ کے خیال اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیال کا توارد ظاہر ہوتا ہے۔
    دوسرا جواب جو درحقیت شیعوں کے اس قسم کے بے بنیاد خیالات کو ردّ کرنے کے لئے ایک زبردست تاریخی ثبوت ہے وہ یہ ہے کہ ایسے موقعوں پر وصیت وہی شخص لکھوا سکتا ہے جسے یہ یقین ہو کہ اَب موت سر پر کھڑی ہے اور اگر ا س وقت وصیت نہ لکھوائی گئی تو پھر وصیت لکھوانے کا کوئی موقع نہیں رہے گا لیکن جسے یہ خیال ہو کہ مریض کو اللہ تعالیٰ صحت عطا کر دے گا اور جس مرض میں وہ مبتلاء ہے وہ مرض الموت نہیں بلکہ ایک معمولی مرض ہے تو وہ وصیت کو کوئی اہمیت نہیں دیتا اور سمجھتا ہے کہ اس غرض کے لئے اسے تکلیف دینا بالکل بے فائدہ ہے۔ اب اس اصل کے ماتحت جب ہم ان واقعات کو دیکھتے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر صحابہؓ کو پیش آئے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ کو حکومت سنبھالنے کا خیال تو الگ رہا یہ بھی خیال نہیں تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہونے والے ہیں۔ چنانچہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو اس اچانک صدمہ نے جو ان کی توقع اور امید کے بالکل خلاف تھا حضرت عمرؓ کو دیوانہ سا بنا دیا اور انہیں کسی طرح یہ یقین بھی نہیں آتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں۔ وہ جنہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی یہ یقین نہیں آتا تھا کہ آپ وفات پا گئے ہیں اور جن کے دل میں آپ کی محبت کا احساس اس قدر شدت سے تھا کہ وہ تلوار ہاتھ میں لے کر کھڑے ہو گئے اور انہوں نے اعلان کر دیا کہ جو شخص یہ کہے گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں میں اس کی گردن اُڑا دوں گا ان کے متعلق یہ کس طرح خیال کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے یہ سمجھ کر کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اَب فوت ہونے والے ہیں آپؐ حضرت علیؓ کے حق میں کوئی بات نہ لکھوا دیں آپؐ کو کچھ لکھنے سے روک دیا ہو۔ بلکہ اگر ہم غور کریں تو شیعوں کی اِن روایات سے حضرت علیؓ پر اعتراض آتا ہے کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی توقع کر رہے تھے جبکہ حضرت عمرؓ شدتِ محبت کی وجہ سے یہ سمجھ رہے تھے کہ معمولی بیماری کی تکلیف ہے آپ اچھے ہو جائیں گے اور ابھی وفات نہیں پا سکتے۔ پس اس سے حضرت علیؓ پر تو اعتراض وارد ہوتا ہے مگر حضرت عمرؓ پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا بلکہ یہ امر ان کی نیکی،تقوٰی اور فضیلت کو ثابت کرتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ نبی کی قومی زندگی کی بھی الہام سے ابتدا کرتا ہے
    غرض میں یہ مضمون بیان کر رہا تھا کہ نبی کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ الہام کے ذریعہ نبی کی قومی زندگی کی ابتدا کرتا ہے اسی لئے
    نبی کی وفات کے بعد قائم ہونے والی خلافت اور اس کی تفصیلات کو اللہ تعالیٰ نبی کی زندگی میں پردۂ اخفاء میں رکھتا ہے ایسے ہی حالات میں رسول کریم ﷺ فوت ہوئے۔ جب آپ وفات پا گئے تو پہلے تو بعض صحابہؓ نے سمجھا کہ آپ فوت نہیں ہوئے مگر جب انہیں پتہ لگا کہ آپ واقعہ میں فوت ہو چکے ہیں تو وہ حیران ہوئے کہ اب وہ کیا کریں اور وہ کون سا طریق عمل میں لائیں جو رسول کریم ﷺ کے لائے ہوئے مشن کی تکمیل کے لئے ضروری ہو۔ اسی پریشانی اور اضطراب کی حالت میں وہ اِدھر اُدھر پھرنے لگے۔ نتیجہ یہ ہوء ا کہ تھوڑی ہی دیر کے اندر اُن میں دو گروہ ہو گئے جو بعد میں تین گروہوں کی صورت میں منتقل ہو گئے۔
    رسول کریم ﷺ کی وفات پر صحابہؓ کے تین گروہ
    ایک گروہ نے یہ خیال کیا کہ رسول کریم
    ﷺ کے بعد ایک ایسا شخص ضرور ہونا چاہئے جو نظامِ اسلامی کو قائم کرے مگر چونکہ نبی کے منشاء کو اس کے اہل و عیال ہی بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں اس لئے نبی کریم ﷺ کے اہل میں سے ہی کوئی شخص مقرر ہونا چاہئے کسی اَور خاندان میں سے کوئی شخص نہیں ہونا چاہئے۔ اس گروہ کے ذہن میں یہ بات تھی کہ اگر کسی اور خاندان میں سے کوئی شخص خلیفہ مقرر ہو گیا تو لوگ اس کی باتیں مانیں گے نہیں اور اس طرح نظام میں خلل واقع ہو گا لیکن اگر آپ کے خاندان میں سے ہی کوئی خلیفہ مقرر ہو گیا تو چونکہ لوگوں کو اس خاندان کی اطاعت کی عادت ہے اس لئے وہ خوشی سے اس کی اطاعت کو قبول کر لیں گے۔ جیسے ایک بادشاہ جس کی بات ماننے کے لوگ عادی ہو چکے ہوتے ہیںجب وفات پا جاتا ہے اور اُس کا بیٹا اُس کا جانشین بنتا ہے تو وہ اُس کی اطاعت بھی شوق سے کرنے لگ جاتے ہیں۔ مگردوسرے فریق نے سوچا کہ اس کے لئے رسول کریم ﷺ کے اہل میں سے ہونے کی شرط ضروری نہیں مقصد تو یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کا ایک جانشین ہو پس جو بھی سب سے زیادہ اس کا اہل ہو اس کے سپرد یہ کام ہونا چاہئے۔
    اس دوسرے گروہ کے پھر آگے دو حصے ہو گئے اور گو وہ دونوں اس بات میں متحد تھے کہ رسول کریم ﷺ کا کوئی جانشین ہونا چاہئے مگر ان میں اس بات پر اختلاف ہوگیا کہ رسول کریمﷺ کا یہ جانشین کِن لوگوں میں سے ہو۔ ایک گروہ کا خیال تھا کہ جو لوگ سب سے زیادہ عرصہ تک آپ کے زیر تعلیم رہے ہیں وہ اس کے مستحق ہیں یعنی مہاجر اور ان میں سے بھی قریش جن کی بات ماننے کیلئے عرب تیار ہو سکتے ہیں اور بعض نے یہ خیال کیا کہ چونکہ رسول کریم ﷺ کی وفات مدینہ میں ہوئی ہے اور مدینہ میں انصار کا زور ہے اس لئے وہی اس کام کو اچھی طرح سے چلا سکتے ہیں۔
    انصار اور مہاجرین میں اختلاف
    غرض اب انصار اور مہاجرین میں اختلاف ہو گیا۔ انصار کا یہ خیال تھا کہ چونکہ
    رسول کریم ﷺ نے اصل زندگی جو نظام کے ساتھ تعلق رکھتی ہے ہمارے اندر گذاری ہے اور مکہ میں کوئی نظام نہیں تھا اس لئے نظامِ حکومت ہم ہی بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں اور خلافت کے متعلق ہمارا ہی حق ہے کسی اور کا حق نہیں۔ دوسری دلیل وہ یہ بھی دیتے کہ یہ علاقہ ہمارا ہے اور طبعاً ہماری بات کا ہی لوگوں پر زیادہ اثر ہو سکتا ہے، مہاجرین کا اثر نہیں ہو سکتا پس رسول کریمﷺ کا جانشین ہم میں سے ہونا چاہئے مہاجرین میں سے نہیں۔ اس کے مقابلہ میں مہاجرین یہ کہتے کہ رسول کریم ﷺ کی جتنی لمبی صحبت ہم نے اُٹھائی ہے اتنی لمبی صحبت انصار نے نہیں اُٹھائی اس لئے دین کو سمجھنے کی جو قابلیت ہمارے اندر ہے وہ انصار کے اندر نہیں۔ اس اختلاف پر ابھی دوسرے لوگ غور ہی کر رہے تھے اور وہ کسی نتیجہ پر نہیں پہنچے تھے کہ اِس آخری گروہ نے جو انصار کے حق میں تھا بنی ساعدہ کے ایک برآمدہ میں جمع ہو کر اس بارہ میں مشورہ شروع کر دیا اور سعد بن عبادہ جو خزرج کے سردار تھے اور نقباء میں سے تھے ان کے بارہ میں طبائع کا اِس طرف رُجحان ہو گیا کہ انہیں خلیفہ مقرر کیا جائے۔ چنانچہ انصار نے آپس میں یہ گفتگو کرتے ہوئے کہ ملک ہمارا ہے، زمینیں ہماری ہیں، جائدادیں ہماری ہیں اور اسلام کا فائدہ اسی میں ہے کہ ہم میں سے کوئی خلیفہ مقرر ہو، فیصلہ کیا کہ اس منصب کیلئے سعد بن عبادہ سے بہتر اور کوئی شخص نہیں۔ یہ گفتگو ہو رہی تھی کہ بعض نے کہا اگر مہاجرین اس کا انکار کریں گے تو کیا ہو گا؟ اس پر کسی نے کہا کہ پھر ہم کہیں گے مِنَّا اَمِیْرٌ وَمِنْکُمْ اَمِیْرٌ ۲۳؎ یعنی ایک امیر تم میں سے ہو جائے اور ایک ہم میں سے۔ سعد جو بہت دانا آدمی تھے انہوں نے کہا کہ یہ تو پہلی کمزوری ہے۔ یعنی یا تو ہم میں سے خلیفہ ہونا چاہئے یا ان میں سے۔ مِنَّا اَمِیْرٌ وَمِنْکُمْ اَمِیْرٌ کہنا تو گویا خلافت کے مفہوم کو نہ سمجھنا اور اسلام میں رخنہ ڈالنا ہے۔ اس مشورہ کی جب مہاجرین کو اطلاع ہوئی تو وہ بھی جلدی سے وہیں آ گئے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر مہاجرین میں سے کوئی خلیفہ نہ ہوا تو عرب اس کی اطاعت نہیں کریں گے۔ مدینہ میں بیشک انصار کا زور تھا مگر باقی تمام عرب مکہ والوں کی عظمت اور ان کے شرف کا قائل تھا۔ پس مہاجرین نے سمجھا کہ اگر اس وقت انصار میں سے کوئی خلیفہ مقرر ہو گیا تو اہل عرب کے لئے سخت مشکل پیش آئے گی اور ممکن ہے کہ ان میں سے اکثر اس ابتلاء میں پورے نہ اُتریں چنانچہ سب مہاجرین وہیں آ گئے۔ ان میں حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت ابوعبیدہؓ بھی شامل تھے۔ حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے اس موقع پر بیان کرنے کے لئے ایک بہت بڑا مضمون سوچا ہوء ا تھا اور میرا ارادہ تھاکہ میں جاتے ہی ایک ایسی تقریر کروں گا جس سے تمام انصار میرے دلائل کے قائل ہو جائیں گے اور وہ اس بات پر مجبور ہو جائیں گے کہ انصار کی بجائے مہاجرین میں سے کسی کو خلیفہ منتخب کریں مگر جب ہم وہاں پہنچے تو حضرت ابوبکرؓ تقریر کرنے کیلئے کھڑے ہو گئے۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ انہوں نے بھلا کیا بیان کرنا ہے؟ مگر خدا کی قسم !جتنی باتیں میں نے سوچی ہوئی تھیں وہ سب انہوں نے بیان کر دیں بلکہ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے پاس سے بھی بہت سے دلائل دیئے۔ تب میں سمجھا کہ میں ابوبکرؓ کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔۲۴؎
    غرض مہاجرین نے انہیں بتایا کہ اِس وقت قریش میں سے ہی امیر ہونا ضروری ہے اور رسول کریم ﷺ کی یہ حدیث بھی پیش کی کہ ۲۵؎ اور ان کی سبقتِ دین اور ان قربانیوں کا ذکر کیا جو وہ دین کیلئے کرتے چلے آئے تھے۔ اس پر حباب بن المنذر خزرجی نے مخالفت کی اور کہا کہ ہم اس بات کو نہیں مان سکتے کہ مہاجرین میں سے خلیفہ ہونا چاہئے ہاں اگر آپ لوگ کسی طرح نہیں مانتے اور آپ کو اس پر بہت ہی اصرار ہے تو پھر مِنَّا اَمِیْرٌ وَ مِنْکُمْ اَمِیْرٌ پر عمل کیا جائے یعنی ایک خلیفہ ہم میں سے ہو اور ایک آپ لوگوں میں سے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ میاں سوچ سمجھ کر بات کرو کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ایک وقت میں دو امیروں کا ہونا جائز نہیں۲۶؎ (اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیثیں تو ایسی موجود تھیں جن میں رسول کریم ﷺ نے نظامِ خلافت کی تشریح کی ہوئی تھی مگر آپ کی زندگی میں صحابہؓ کا ذہن اِدھر منتقل نہیں ہوء ا اور اس کی وجہ وہی خدائی حکمت تھی جس کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں)
    پس تمہارا یہ مطالبہ کہ ایک امیر تم میں سے ہو اور ایک ہم میں سے، عقلاً اور شرعاً کسی طرح جائز نہیں۔
    حضرت ابوبکرؓ کا انتخاب
    آخر کچھ بحث مباحثہ کے بعد حضرت ابوعبیدہؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے انصار کو توجہ دلائی کہ تم پہلی
    قوم ہو جو مکہ کے باہر ایمان لائی اب رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد تم پہلی قوم نہ بنو جنہوں نے دین کے منشاء کو بدل دیا۔ اس کا طبائع پر ایسا اثر ہوء ا کہ بشیر بن سعد خزرجی کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ یہ لوگ سچ کہتے ہیں ہم نے محمد رسول اللہ ﷺ کی جو خدمت کی اور آپ کی نصرت و تائید کی وہ دُنیوی اغراض سے نہیں کی تھی اور نہ اس لئے کی تھی کہ ہمیںآپ کے بعد حکومت ملے بلکہ ہم نے خدا کیلئے کی تھی پس حق کا سوال نہیں بلکہ سوال اسلام کی ضرورت کا ہے اور اس لحاظ سے مہاجرین میں سے ہی امیر مقرر ہونا چاہئے کیونکہ انہوں نے رسول کریم ﷺ کی لمبی صحبت پائی ہے۔ اس پر کچھ دیر تک اور بحث ہوتی رہی مگر آخر آدھ یا پون گھنٹہ کے بعد لوگوں کی رائے اسی طرح ہوتی چلی گئی کہ مہاجرین میں سے کسی کو خلیفہ مقرر کرنا چاہئے چنانچہ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عمرؓ اور حضرت ابوعبیدہؓ کو اس منصب کے لئے پیش کیا اور کہا کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کی بیعت کر لو مگر دونوں نے انکار کیا اور کہا کہ جسے رسول کریم ﷺ نے نماز کا امام بنایا اور جو سب مہاجرین میں سے بہتر ہے ہم اس کی بیعت کریں گے۔ مطلب یہ تھا کہ اس منصب کیلئے حضرت ابوبکرؓ سے بڑھ کر اور کوئی شخص نہیں۔ چنانچہ اس پر حضرت ابوبکرؓ کی بیعت شروع ہو گئی۔ پہلے حضرت عمرؓ نے بیعت کی، پھر حضرت ابوعبیدہ نے بیعت کی، پھر بشیرؓ بن سعد خزرجی نے بیعت کی اور پھر اوس نے اور پھر خزرج کے دوسرے لوگوں نے اور ا سقدر جوش پیدا ہوء ا کہ سعد جو بیمار تھے اور اُٹھ نہ سکتے تھے ان کی قوم ان کو روندتی ہوئی آگے بڑھ کر بیعت کرتی تھی۔ چنانچہ تھوڑی ہی دیر میں سعدؓ اور حضرت علیؓ کے سِوا سب نے بیعت کر لی۔ حتیّٰ کہ سعدؓ کے اپنے بیٹے نے بھی بیعت کر لی۔ حضرت علیؓ نے کچھ دنوں بعد بیعت کی۔ چنانچہ بعض روایات میں تین دن آتے ہیں اور بعض روایات میں یہ ذکر آتا ہے کہ آپ نے چھ ماہ بعد بیعت کی۔ چھ ماہ والی روایات میں یہ بھی بیان ہوء ا ہے کہ حضرت فاطمہؓکی تیمارداری میں مصروفیت کی وجہ سے آپ حضرت ابوبکرؓ کی بیعت نہ کر سکے اور جب آپ بیعت کرنے کے لئے آئے تو آپ نے یہ معذرت کی کہ چونکہ فاطمہؓ بیمار تھیں اس لئے بیعت میں دیر ہو گئی۔۲۷؎
    حضرت عمرؓ کا انتخاب
    حضرت ابوبکرؓ کی وفات جب قریب آئی تو آپ نے صحابہؓ سے مشورہ لیا کہ میں کس کو خلیفہ مقرر کروں۔ اکثر
    صحابہؓ نے اپنی رائے حضرت عمرؓ کی امارت کے متعلق ظاہر کی اور بعض نے صرف یہ اعتراض کیا کہ حضرت عمرؓ کی طبیعت میں سختی زیادہ ہے ایسا نہ ہو کہ لوگوں پر تشدّد کریں۔ آپ نے فرمایا یہ سختی اُسی وقت تھی جب تک ان پر کوئی ذمہ واری نہیں پڑی تھی اب جبکہ ایک ذمہ واری اِن پر پڑ جائے گی ان کی سختی کا مادہ بھی اعتدال کے اندر آ جائے گا۔ چنانچہ تمام صحابہؓ حضرت عمرؓ کی خلافت پر راضی ہو گئے۔ آپ کی صحت چونکہ بہت خراب ہو چکی تھی اس لئے آپ نے اپنی بیوی اسماءؓ کا سہارا لیا اور ایسی حالت میں جبکہ آپ کے پاؤں لڑ کھڑا رہے تھے اور ہاتھ کانپ رہے تھے آپ مسجد میں آئے اور تمام مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بہت دنوں تک متواتر اس امر پر غور کیا ہے کہ اگر میں وفات پا جاؤں تو تمہارا کون خلیفہ ہو۔ آخر بہت کچھ غور کرنے اور دعاؤں سے کام لینے کے بعد میں نے یہی مناسب سمجھا ہے کہ عمرؓ کو خلیفہ نامزد کر دوں۔ سو میری وفات کے بعد عمرؓ تمہارے خلیفہ ہوں گے۔۲۸؎ سب صحابہؓ اور دوسرے لوگوں نے اس امارت کو تسلیم کیا اور حضرت ابوبکرؓ کی وفات کے بعد حضرت عمرؓ کی بیعت ہو گئی۔
    حضرت عثمانؓ کا انتخاب
    حضرت عمرؓ جب زخمی ہوئے اور آپ نے محسوس کیا کہ اب آپ کا آخری وقت قریب ہے تو آپ نے چھ
    آدمیوں کے متعلق وصیت کی کہ وہ اپنے میں سے ایک کو خلیفہ مقرر کر لیں۔ وہ چھ آدمی یہ تھے۔ حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت عبدالرحمن بن عوف،حضرت سعد بن الوقاصؓ‘‘ حضرت زبیرؓ، حضرت طلحہؓ ۔۲۹؎ اس کے ساتھ ہی حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو بھی آپ نے اس مشورہ میں شریک کرنے کیلئے مقرر فرمایا مگر خلافت کا حقدار قرار نہ دیا اور وصیت کی کہ یہ سب لوگ تین دن میں فیصلہ کریں اور تین دن کیلئے صہیب ؓ کو امام الصلوٰۃ مقرر کیا اور مشورہ کی نگرانی مقداد بن الاسودؓ کے سپرد کی اور انہیں ہدایت کی کہ وہ سب کو ایک جگہ جمع کر کے فیصلہ کرنے پر مجبور کریں اور خود تلوار لے کر دروازہ پر پہرہ دیتے رہیں۔ اور فرمایا کہ جس پر کثرتِ رائے سے اتفاق ہو سب لوگ اس کی بیعت کریں اور اگر کوئی انکار کرے تو اسے قتل کر دو۔ لیکن اگر دونوں طرف تین تین ہو جائیں تو عبداللہ بن عمرؓ اِن میں سے جس کو تجویز کریں وہ خلیفہ ہو۔ اگر اس فیصلہ پر وہ راضی نہ ہوں تو جس طرف عبدالرحمن بن عوفؓ ہوں وہ خلیفہ ہو۔
    آخر پانچوں اصحاب نے مشورہ کیا (کیونکہ طلحہؓ اُس وقت مدینہ میں نہ تھے) مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوئا۔ بہت لمبی بحث کے بعد حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے کہا کہ اچھا جو شخص اپنا نام واپس لینا چاہتا ہے وہ بولے۔ جب سب خاموش رہے تو حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے کہا کہ سب سے پہلے میں اپنا نام واپس لیتا ہوں۔ پھر حضرت عثمانؓ نے کہا پھر باقی دو نے۔ حضرت علیؓ خاموش رہے۔ آخر انہوں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ سے عہد لیا کہ وہ فیصلہ کرنے میں کوئی رعایت نہیں کریں گے۔ انہوں نے عہد کیا اور سب کام ان کے سپرد ہو گیا۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف تین دن مدینہ کے ہر گھر گئے اور مردوں اور عورتوں سے پوچھا کہ ان کی رائے کس شخص کی خلافت کے حق میں ہے۔ سب نے یہی کہا کہ انہیں حضرت عثمانؓ کی خلافت منظور ہے۔ چنانچہ انہوں نے حضرت عثمانؓ کے حق میں اپنا فیصلہ دے دیا اور وہ خلیفہ ہو گئے۔
    حضرت علیؓ کا انتخاب
    اس کے بعد حضرت عثمانؓ کا واقعۂ شہادت ہوء ا اور وہ صحابہؓ جو مدینہ میں موجود تھے انہوں نے یہ دیکھ کر کہ مسلمانوں
    میں فتنہ بڑھتا جا رہا ہے حضرت علیؓ پر زور دیا کہ آپ لوگوں کی بیعت لیں۔ دوسری طرف کچھ مفسدین بھاگ کر حضرت علیؓ کے پاس پہنچے اور کہا کہ اِ س وقت اسلامی حکومت کے ٹوٹ جانے کا سخت اندیشہ ہے آپ لوگوں سے بیعت لیں تاکہ ان کا خوف دور ہو اور امن و امان قائم ہو۔ غرض جب آپ کو بیعت لینے پر مجبور کیا گیا تو کئی دفعہ کے انکار کے بعد آپ نے اس ذمہ واری کو اُٹھایا اور لوگوں سے بیعت لینی شروع کر دی بعض اکابر صحابہؓ اس وقت مدینہ سے باہر تھے اور بعض سے تو جبراً بیعت لی گئی۔ چنانچہ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ کے متعلق آتا ہے کہ ان کی طرف حکیم بن جبلہ اور مالک اشتر کو چند آدمیوں کے ساتھ روانہ کیا گیا اور اُنہوں نے تلواروں کا نشانہ کر کے انہیں بیعت پر آمادہ کیا۔ یعنی وہ تلواریں سونت کر ان کے سامنے کھڑے ہو گئے اور کہا کہ حضرت علیؓ کی بیعت کرنی ہے تو کرو ورنہ ہم ابھی تم کو مار ڈالیں گے۔ حتیّٰ کہ بعض روایات میں یہ ذکر بھی آتا ہے کہ وہ ان کو نہایت سختی کے ساتھ زمین پر گھسیٹتے ہوئے لائے۔ ظاہر ہے کہ ایسی بیعت کوئی بیعت نہیں کہلا سکتی۔ پھر جب انہوں نے بیعت کی تو یہ بھی کہہ دیا کہ ہم اس شرط پر آپ کی بیعت کرتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے آپ قصاص لیں گے مگر بعد میں جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت علیؓ قاتلوں سے قصاص لینے میں جلدی نہیں کر رہے تو وہ بیعت سے الگ ہو گئے اور مدینہ سے مکہ چلے گئے۔
    حضرت عائشہؓ کا اعلانِ جہاد
    انہی لوگوں کی ایک جماعت نے جو حضرت عثمانؓ کے قتل میں شریک تھی حضرت عائشہؓ کو
    اس بات پر آمادہ کر لیا کہ آپ حضرت عثمانؓ کے خون کا بدلہ لینے کیلئے جہاد کا اعلان کر دیں۔ چنانچہ انہوں نے اِس بات کا اعلان کیا اور صحابہؓ کو اپنی مدد کیلئے بُلایا۔ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے اور اس کے نتیجہ میں حضرت علیؓ اور حضرت عائشہؓ، حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ کے لشکر میں جنگ ہوئی جسے جنگ جمل کہا جاتا ہے۔ اس جنگ کے شروع میں ہی حضرت زبیرؓ ، حضرت علیؓ کی زبان سے رسول کریم ﷺ کی ایک پیشگوئی سن کر علیحدہ ہو گئے اور انہوں نے قسم کھائی کہ وہ حضرت علیؓ سے جنگ نہیں کریں گے اور اس بات کا اقرار کیا کہ اپنے اجتہاد میں انہوں نے غلطی کی ہے۔ دوسری طرف حضرت طلحہؓ نے بھی اپنی وفات سے پہلے حضرت علیؓ کی بیعت کا اقرار کر لیا۔ کیونکہ روایات میں آتا ہے کہ وہ زخموں کی شدت سے تڑپ رہے تھے کہ ایک شخص ان کے پاس سے گزرا انہوں نے پوچھا تم کس گروہ میں سے ہو؟ اس نے کہا حضرت علیؓ کے گروہ میں سے۔ اس پر انہوں نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیکر کہا کہ تیرا ہاتھ علیؓ کا ہاتھ ہے اور میں تیرے ہاتھ پر حضرت علیؓ کی دوبارہ بیعت کرتا ہوں۳۰؎۔ غرض باقی صحابہؓ کے اختلاف کا تو جنگ جمل کے وقت ہی فیصلہ ہو گیا مگر حضرت معاویہؓ کا اختلاف باقی رہا یہاں تک کہ جنگ صَفّین ہوئی۔
    جنگ صَفّین کے واقعات
    اِس جنگ میں حضرت معاویہؓ کے ساتھیوں نے یہ ہوشیاری کی کہ نیزوں پر قرآن اُٹھا دیئے اور کہا کہ جو
    کچھقرآن فیصلہ کرے وہ ہمیں منظور ہے اور اس غرض کیلئے حَکَم مقرر ہونے چاہئیں۔ اِس پر وہی مُفسد جو حضرت عثمانؓ کے قتل کی سازش میں شامل تھے اور جو آپ کی شہادت کے معاً بعد اپنے بچاؤ کیلئے حضرت علیؓ کے ساتھ شامل ہو گئے تھے اُنہوں نے حضرت علیؓ پر یہ زور دینا شروع کر دیا کہ یہ بالکل درست کہتے ہیں آپ فیصلہ کیلئے حَکَم مقرر کر دیں۔ حضرت علیؓ نے بہتیرا انکار کیا مگر انہوں نے، اور کچھ ان کمزور طبع لوگوں نے جو ان کے اس دھوکا میں آ گئے تھے حضرت علیؓ کو اس بات پر مجبور کیا کہ آپ حَکَم مقرر کریں۔ چنانچہ معاویہ کی طرف سے حضرت عمرو بن العاص اور حضرت علیؓ کی طرف سے حضرت ابوموسیٰ اشعری حَکَم مقرر کئے گئے۔ یہ تحکیم دراصل قتلِ عثمانؓ کے واقعہ میں تھی اور شرط یہ تھی کہ قرآن کریم کے مطابق فیصلہ ہو گا مگر عمرو بن العاص اور ابو موسیٰ اشعری دونوں نے مشورہ کر کے یہ فیصلہ کیا کہ بہتر ہو گا کہ پہلے ہم دونوں یعنی حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کو اُن کی امارت سے معزول کر دیں کیونکہ تمام مسلمان انہی دونوں کی وجہ سے مصیبت میں مبتلاء ہو رہے ہیں اور پھر آزادانہ رنگ میں مسلمانوں کو کوئی فیصلہ کرنے دیں تاکہ وہ جسے چاہیں خلیفہ بنا لیں حالانکہ وہ اس کام کیلئے مقرر ہی نہیں ہوئے تھے مگر بہرحال ان دونوں نے اس فیصلہ کا اعلان کرنے کیلئے ایک جلسہ عام منعقد کیا اور حضرت عمرو بن العاص نے حضرت ابوموسیٰ اشعری سے کہا کہ پہلے آپ اپنے فیصلہ کا اعلان کر دیں بعد میں مَیں اعلان کر دوں گا چنانچہ حضرت ابو موسیٰ نے اعلان کر دیا کہ وہ حضرت علیؓ کو خلافت سے معزول کرتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت عمرو بن العاص کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ابوموسیٰ نے حضرت علیؓ کو معزول کر دیا ہے اور میں بھی ان کی اس بات سے متفق ہوں اور حضرت علیؓ کو خلافت سے معزول کرتا ہوں لیکن معاویہؓ کو میں معزول نہیں کرتا بلکہ ان کے عہدہ امارت پر انہیں بحال رکھتا ہوں ( حضرت عمرو بن العاص خود بہت نیک آدمی تھے لیکن اِس وقت میں اِس بحث میں نہیں پڑتا کہ انہوں نے یہ فیصلہ کیوں کیا تھا) اِس فیصلہ پر حضرت معاویہ کے ساتھیوں نے تو یہ کہنا شروع کر دیا کہ جو لوگ حَکَم مقرر ہوئے تھے انہوں نے علیؓ کی بجائے معاویہؓ کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے اور یہ درست ہے ۔ مگر حضرت علیؓ نے اس فیصلہ کو ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ نہ حَکَم اس غرض کیلئے مقرر تھے اور نہ ان کا یہ فیصلہ کسی قرآنی حُکم پر ہے۔ اس پر حضرت علیؓ کے وہی منافق طبع ساتھی جنہوں نے حَکَم مقرر کرنے پر زور دیا تھا یہ شور مچانے لگ گئے کہ حَکَم مقرر ہی کیوں کئے گئے تھے جبکہ دینی معاملات میں کوئی حَکَم ہو ہی نہیں سکتا۔ حضرت علیؓ نے جواب دیا کہ اوّل تو یہ بات معاہدہ میں شامل تھی کہ ان کا فیصلہ قرآن کے مطابق ہو گا جس کی انہوں نے تعمیل نہیں کی۔ دوسرے حَکَم تو خود تمہارے اصرار کی وجہ سے مقرر کیا گیا تھا اور اب تم ہی کہتے ہو کہ میں نے حکم کیوں مقرر کیا۔ انہوں نے کہا ہم نے جَھک مارا اور ہم نے آپ سے جو کچھ کہا تھا وہ ہماری غلطی تھی مگر سوال یہ ہے کہ آپ نے یہ بات کیوں مانی۔ اس کے تو یہ معنی ہیں کہ ہم بھی گنہگار ہو گئے اور آپ بھی۔ ہم نے بھی غلطی کا ارتکاب کیا اور آپ نے بھی۔ اَب ہم نے تو اپنی غلطی سے توبہ کر لی ہے مناسب یہ ہے کہ آپ بھی توبہ کریں اور اس امر کا اقرار کریں کہ آپ نے جو کچھ کیا ہے ناجائز کیا ہے۔ اس سے ان کی غرض یہ تھی کہ اگر حضرت علیؓ نے انکار کیا تو وہ یہ کہہ کر آپ کی بیعت سے الگ ہو جائیں گے کہ انہوں نے چونکہ ایک خلافِ اسلام فعل کیا ہے اس لئے ہم آپ کی بیعت میں نہیں رہ سکتے اور اگر انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا اور کہا کہ میں توبہ کرتا ہوں تو بھی ان کی خلافت باطل ہو جائے گی کیونکہ جو شخص اتنے بڑے گناہ کا ارتکاب کرے وہ خلیفہ کس طرح ہو سکتا ہے۔ حضرت علیؓ نے جب یہ باتیں سنیں تو کہا کہ میں نے کوئی غلطی نہیں کی جس امر کے متعلق میں نے حَکَم مقرر کیا تھا اس میں کسی کو حَکَم مقرر کرنا شریعت اسلامیہ کی رُو سے جائز ہے۔ باقی میں نے حَکَم مقرر کرتے وقت صاف طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ وہ جو کچھ فیصلہ کریں گے اگر قرآن اور حدیث کے مطابق ہو گا تب میں اسے منظور کروں گا ورنہ میں اسے کسی صورت میں بھی منظور نہیں کروں گا۔ انہوں نے چونکہ اس شرط کو ملحوظ نہیں رکھا اور نہ جس غرض کیلئے انہیں مقرر کیا گیا تھا اس کے متعلق اِنہوں نے کوئی فیصلہ کیا ہے اس لئے میرے لئے ان کا فیصلہ کوئی نہیں۔ مگر انہوں نے حضرت علیؓ کے اِس عذر کو تسلیم نہ کیا اور بیعت سے علیحدہ ہو گئے اور خوارج کہلائے اور انہوں نے یہ مذہب نکالا کہ واجبُ الاِْطاَعت خلیفہ کوئی نہیں۔ کثرتِ مسلمین کے فیصلہ کے مطابق عمل ہؤا کرے گا کیونکہ کسی ایک شخص کو امیرواجب الاطاعت ماننا لَاحُکْمَ اِلاَّ لِلّٰہِ ۳۱؎کے خلاف ہے۔
    حضرت علیؓ کی خلافتِ بِلافصل کا نظریہ
    یہ خلافت کے بارہ میں پہلا اختلاف تھا جو واقع ہوئا۔ اس
    موقع پر جو لوگ حضرت علی ؓ کی تائید میں تھے انہوں نے ان امور کا جواب دینا شروع کیا اور جواب میں یہ امر بھی زیر بحث آیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض پیشگوئیاں حضرت علیؓ کے متعلق ہیں۔ یہ پیشگوئیاں جب تفصیل کے ساتھ بیان ہونی شروع ہوئیں تو ان پر غور کرتے ہوئے بعض غالیوں نے یہ سوچا کہ خلافت پر کیا بحث کرنی ہے۔ ہم کہتے ہیں حضرت علیؓ کی خلافت کسی انتخاب پر مبنی نہیں بلکہ صرف ان پیشگوئیوں کی وجہ سے ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق کی تھیں اس لئے آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ خلیفہ بِلافصل ہیں۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے میرے متعلق جب مصلح موعود کے موضوع پر بحث کی جائے تو کوئی شخص کہہ دے کہ ان کو تو ہم ا س لئے خلیفہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں ہیں نہ اس لئے کہ ان کی خلافت جماعت کی اکثریت کے انتخاب سے عمل میں آئی۔ جس دن کوئی شخص ایسا خیال کرے گا اُسی دن اس کا قدم ہلاکت کی طرف اُٹھنا شروع ہو جائے گا کیونکہ اس طرح آہستہ آہستہ صرف ایک شخص کی امامت کا خیال دلوں میں راسخ ہو جاتا ہے اور نظامِ خلافت کی اہمیت کا احساس ان کے دلوں سے جاتا رہتا ہے۔ غرض حضرت علیؓ کے متعلق بعض غالیوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں سے یہ نتیجہ نکالا کہ آپ کی خلافت صرف ان پیشگوئیوں کی وجہ سے ہے جو آپؐ نے ان کے متعلق کیں کسی انتخاب پر مبنی نہیں ہے۔ پھر رفتہ رفتہ وہ اس طرف مائل ہو گئے کہ حضرت علیؓ درحقیقت امام بمعنی مائمور تھے اور یہ کہ خلافت ان معنوں میں کوئی شَے نہیں جو مسلمان اس وقت تک سمجھتے رہے ہیں بلکہ ضرورت پر خداتعالیٰ کے خاص حُکم سے امام مقرر ہوتا ہے اور وہ لوگوں کی ہدایت و راہنمائی کا موجب ہوتا ہے۔
    خلافت کے بارہ میں مسلمانوں میں تین گروہ
    ان مختلف قسم کے خیالات کے نتیجہ میں مسلمانوں میں
    خلافت کے بارہ میں تین گروہ ہو گئے۔
    (۱) خلافت بمعنی نیابت ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کا کوئی نائب ہونا چاہئے۔ مگر اس کا طریق یہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت کے فیصلہ کے مطابق یاخلیفہ کے تقرر کے مطابق جسے اُمت تسلیم کرے وہ شخص خلیفہ مقرر ہوتا ہے اور وہ واجبُ الاطاعت ہوتا ہے۔ یہ سُنّی کہلاتے ہیں۔
    (۲) حُکم خدا کا ہے۔ کسی شخص کو واجب الاطاعت ماننا شرک ہے۔ کثرتِ رائے کے مطابق فیصلہ ہونا چاہئے اور مسلمان آزاد ہیں وہ جو کچھ چاہیں اپنے لئے مقرر کریں۔ یہ خوارج کہلاتے ہیں۔
    (۳) انسان امیر مقرر نہیں کرتے بلکہ امیر مقرر کرنا خدا کا کام ہے اسی نے حضرت علیؓ کو امام مقرر کیا اور آپ کے بعد گیارہ اور امام مقرر کئے۔ آخری امام اب تک زندہ موجود ہے مگر مخفی۔ یہ شیعہ کہلاتے ہیں۔ ان میں سے ایک فریق ایسا نکلا کہ اس نے کہا۔ دنیا میں ہر وقت زندہ امام کا ہونا ضروری ہے جو ظاہر بھی ہو اور یہ اسماعیلیہ شیعہ کہلاتے ہیں۔
    خلافتِ احمدیہ کا ذکر
    یہ تو اُس خلافت کی تاریخ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاً بعد ہوئی۔ اب میں اُس خلافت کا ذکر کرتا ہوں جو
    حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے بعد ہوئی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت بھی جماعت کی ذہنی کیفیت وہی تھی جو آنحضرت ﷺ کے وقت میں صحابہؓ کی تھی۔ چنانچہ ہم سب یہی سمجھتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ابھی وفات نہیں پا سکتے اس کا نتیجہ یہ تھا کہ کبھی ایک منٹ کیلئے بھی ہمارے دل میں یہ خیال نہیں آیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب فوت ہو جائیں گے تو کیا ہو گا۔ میں اُس وقت بچہ نہیں تھا بلکہ جوانی کی عمر کو پہنچا ہوء ا تھا، میں مضامین لکھا کرتا تھا، میں ایک رسالے کا ایڈیٹر بھی تھا، مگر میں اللہ تعالیٰ کی قَسم کھا کر کہتا ہوں کہ کبھی ایک منٹ بلکہ ایک سیکنڈ کیلئے بھی میرے دل میں یہ خیال نہیں آیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام وفات پاجائیں گے حالانکہ آخری سالوں میں متواتر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ایسے الہامات ہوئے جن میں آپ کی وفات کی خبر ہوتی تھی اور آخری ایام میں تو ان کی کثرت اور بھی بڑھ گئی مگر باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایسے الہامات ہوتے رہے اور باوجود اس کے کہ بعض الہامات و کشوف میں آپ کی وفات کے سال اور تاریخ وغیرہ کی بھی تعیین تھی اور باوجود اس کے کہ ہم ’’الوصیت‘‘ پڑھتے تھے ہم یہی سمجھتے تھے کہ یہ باتیں شاید آج سے دو صدیاں بعد پوری ہوں گی اِس لئے اِس بات کا خیال بھی دل میں نہیں گزرتا تھا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام وفات پا جائیں گے تو کیا ہو گا۔ اور چونکہ ہماری حالت ایسی تھی کہ ہم سمجھتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہمارے سامنے فوت ہی نہیں ہو سکتے اس لئے جب واقعہ میں آپ کی وفات ہو گئی تو ہمارے لئے یہ باور کرنا مشکل تھا کہ آپ فوت ہو چکے ہیں۔ چنانچہ مجھے خوب یاد ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد جب آپ کو غسل دیکر کفن پہنایا گیا تو چونکہ ایسے موقع پر بعض دفعہ ہَوا کے جھونکے سے کپڑا ہِل جاتا ہے یا بعض دفعہ مونچھیں ہِل جاتی ہیں اس لئے بعض دوست دوڑتے ہوئے آتے اور کہتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو زندہ ہیں۔ ہم نے آپ کا کپڑا ہلتے دیکھا ہے یا مونچھوں کے بالوں کو ہلتے دیکھا ہے اور بعض کہتے کہ ہم نے کفن کو ہلتے دیکھا ہے۔ اس کے بعد جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نعش کو قادیان لایا گیا تو اسے باغ میں ایک مکان کے اندر رکھ دیا گیا۔ کوئی آٹھ نو بجے کا وقت ہو گا کہ خواجہ کمال الدین صاحب باغ میں پہنچے اور مجھے علیحدہ لے جا کر کہنے لگے کہ میاں! کچھ سوچا بھی ہے کہ اب حضرت صاحب کی وفات کے بعد کیا ہو گا۔ میں نے کہا کچھ ہونا تو چاہئے مگر یہ کہ کیا ہو اِس کے متعلق میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ وہ کہنے لگے میرے نزدیک ہم سب کو حضرت مولوی صاحب کی بیعت کر لینی چاہئے۔ اُس وقت کچھ عمر کے لحاظ سے اور کچھ اس وجہ سے بھی کہ میرا مطالعہ کم تھا میں نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو یہ کہیں نہیں لکھاکہ ہم آپ کے بعد کسی اور کی بیعت کر لیں اِس لئے حضرت مولوی صاحب کی ہم کیوں بیعت کریں۔ (گو ’’الوصیّۃ‘‘ میں اس کا ذکر تھا مگر اُس وقت میرا ذہن اس طرف گیا نہیں) اُنہوں نے اِس پر میرے ساتھ بحث شروع کر دی اور کہا کہ اگر اِس وقت ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت نہ کی گئی تو ہماری جماعت تباہ ہو جائے گی پھر انہوں نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی تو یہی ہوء ا تھا کہ قوم نے حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کر لی تھی اس لئے اب بھی ہمیں ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کر لینی چاہئے اور اِس منصب کیلئے حضرت مولوی صاحب سے بڑھ کر ہماری جماعت میںاور کوئی شخص نہیں۔ مولوی محمد علی صاحب کی بھی یہی رائے ہے اور وہ کہتے ہیں کہ تمام جماعت کو مولوی صاحب کی بیعت کرنی چاہئے۔ آخرجماعت نے متفقہ طور پر حضرت خلیفہ اوّل کی خدمت میں درخواست کی کہ آپ لوگوں سے بیعت لیں۔ اس پر باغ میں تمام لوگوں کا اجتماع ہوء ا اور ا س میں حضرت خلیفہ اوّل نے ایک تقریر کی اور فرمایا کہ مجھے امامت کی کوئی خواہش نہیں مَیں چاہتا ہوں کہ کسی اور کی بیعت کر لی جائے۔ چنانچہ آپ نے اس سلسلہ میں پہلے میرا نام لیا پھر ہمارے نانا جان میر ناصر نواب صاحب کا نام لیا۔ پھر ہمارے بہنوئی نواب محمد علی خان صاحب کا نام لیا اسی طرح بعض اور دوستوں کے نام لئے لیکن ہم سب لوگوں نے متفقہ طور پر یہی عرض کیا کہ اس منصبِ خلافت کے اہل آپ ہی ہیں چنانچہ سب لوگوں نے آپ کی بیعت کر لی۔
    خلیفۂ وقت کے اختیارات
    ابھی آپ کی بیعت پر پندرہ بیس دن ہی گزرے تھے کہ ایک دن مولوی محمد علی صاحب مجھے ملے اور کہنے
    لگے کہ میاں صاحب! کبھی آپ نے اس بات پر غور بھی کیا ہے کہ ہمارے سلسلہ کا نظام کیسے چلے گا؟ میں نے کہا اِس پر اب اور غورکرنے کی کیا ضرورت ہے ہم نے حضرت مولوی صاحب کی بیعت جو کر لی ہے۔ وہ کہنے لگے وہ تو ہوئی ۔ سوال یہ ہے کہ سلسلہ کا نظام کس طرح چلے گا؟ میں نے کہا میرے نزدیک تو اب یہ بات غور کرنے کے قابل ہی نہیں کیونکہ جب ہم نے ایک شخص کی بیعت کر لی ہے تو وہ اس امر کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے کہ کس طرح سلسلہ کا نظام قائم کرنا چاہئے ہمیں اس میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے۔ اس پر وہ خاموش تو ہو گئے مگر کہنے لگے یہ بات غور کے قابل ہے۔
    حضرت خلیفہ اوّل کی خدمت میں میر محمد اسحاق صاحب کے چند سوالات
    کچھ دنوں بعد جب جماعت کے دوستوں میں اس قسم کے سوالات کا چرچا ہونے لگا کہ خلیفہ کے کیا
    اختیارات ہیں اور آیا وہ حاکم ہے یاصدرانجمن احمدیہ حاکم ہے تو میرمحمد اسحاق صاحب نے حضرت خلیفہ اوّل کی خدمت میں بعض سوالات لکھ کر پیش کئے جن میں اس مسئلہ کی وضاحت کی درخواست کی گئی تھی۔ حضرت خلیفہ اوّل نے وہ سوالات باہر جماعتوں میں بھجوا دیئے اور ایک خاص تاریخ مقرر کی کہ اس دن مختلف جماعتوں کے نمائندے جمع ہو جائیں تاکہ سب سے مشورہ لینے کے بعد فیصلہ کیا جا سکے مگر مجھے ابھی تک ان باتوں کا کوئی علم نہیں تھا۔ یہاں تک کہ مجھے ایک رؤیا ہوئا۔
    ایک رؤیا
    میں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا مکان ہے جس کا ایک حصہ مکمل ہے اور دوسرا نامکمل۔ نامکمل حصے پر اگرچہ بالے رکھے ہوئے ہیں مگر ابھی اینٹیںوغیرہ
    رکھ کر مٹی ڈالنی باقی ہے۔ اس حصہ عمارت پر ہم چار پانچ آدمی کھڑے ہیں جن میں سے ایک میر محمد اسحاق صاحب بھی ہیں۔ اچانک وہاں کڑیوں پر ہمیں کچھ بھوسا دکھائی دیا۔ میرمحمداسحاق صاحب نے جلدی سے ایک دِیاسلائی کی ڈبیہ میں سے ایک دِیاسلائی نکال کر کہا میرا جی چاہتا ہے کہ اس بُھوسے کو آگ لگا دوں۔ میں انہیں منع کرتا ہوں مگر وہ نہیں رُکتے۔ آخر میں انہیں سختی سے کہتا ہوں کہ اس بھوسے کو ایک دن آگ تو لگائی ہی جائے گی مگر ابھی وقت نہیں آیا اور یہ کہہ کر میں دوسری طرف متوجہ ہو گیا لیکن تھوڑی دیر کے بعد مجھے کچھ شور سا سنائی دیا۔ میں نے منہ پھیرا تو دیکھا۔ میر محمد اسحاق صاحب دِیاسلائی کی تیلیاں نکال کر اس کی ڈبیہ سے جلدی جلدی رگڑتے ہیں مگر وہ جَلتی نہیں ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری دِیا سلائی نکال کر وہ اس طرح رگڑتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بھوسے کو آگ لگا دیں۔ میں یہ دیکھتے ہی ان کی طرف دَوڑ پڑا مگر میرے پہنچنے سے پہلے پہلے ایک دِیاسلائی جَل گئی جس سے انہوں نے بھوسے کو آگ لگا دی۔ میں یہ دیکھ کر آگ میں کُود پڑا اور اسے جلدی سے بُجھا دیا مگر اس دوران میں چند کڑیوں کے سِرے جل گئے۔ میں نے یہ خواب لکھ کر حضرت خلیفہ اوّل کے سامنے پیش کی تو آپ نے میری طرف دیکھ کر فرمایا کہ خواب تو پوری ہو گئی۔ میں نے عرض کیا کہ کس طرح؟ آپ نے فرمایا۔ میر محمد اسحاق نے کچھ سوالات لکھ کر دیئے ہیں۔ وہ سوال میں نے باہر جماعتوں کو بھجوا دیئے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں اس سے بہت بڑا فتنہ پیدا ہو گا۔ مجھے اس پر بھی کچھ معلوم نہ ہوئا کہ میرمحمد اسحاق صاحب نے کیا سوالات کئے ہیں لیکن بعد میں مَیں نے بعض دوستوں سے پوچھا تو انہوں نے ان سوالات کا مفہوم بتایا اور مجھے معلوم ہوئا کہ وہ سوالات خلافت کے متعلق ہیں۔ میر صاحب کے ان سوالات کی وجہ سے جماعت میں ایک شور برپا ہو گیا اور چاروں طرف سے ان کے جوابات آنے شروع ہو گئے۔ اس وقت ان لوگوں نے جس طرح جماعت کو دھوکا میں مبتلاء کرنا چاہا وہ اس سے ظاہر ہے کہ انہوں نے متواتر جماعت کو یہ کہا کہ جن خیالات کا وہ اظہار کر رہے ہیں وہی خیالات حضرت خلیفہ اوّل کے ہیں۔ چنانچہ وہ کہتے خدا کا شکر ہے کہ ایسے بے نفس آدمی کے زمانہ میں یہ سوال اُٹھا اگر بعد میں اُٹھتا تو نہ معلوم کیا فساد کھڑا ہوتا۔ بعض کہتے کہ بہت اچھا ہوئا آج جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اکثر صحابہؓ زندہ ہیں اس امر کا فیصلہ ہونے لگا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اصل جانشین انجمن ہی ہے۔ غرض جماعت پر یہ پوری طرح اثر ڈالنے کی کوشش کی گئی کہ (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ) حضرت خلیفہ اوّل ان کے خیالات سے متفق ہیں۔ مگر بہرحال اس وقت جماعت میں ایک غیرمعمولی جوش پایا جاتا تھا اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ خلیفۂ وقت کے خلاف خطرناک بغاوت ہو جائے گی۔
    بیرونی جماعتوں کے نمائندوں کا قادیان میں اجتماع
    آخر وہ دن آ گیا جو حضرت خلیفہ اوّل نے اس غرض کیلئے مقرر کیا تھا اور جس میں بیرونی جماعتوں کے نمائندگان کو قادیان میں جمع
    ہونے کیلئے کہا گیا تھا۔ میں اس روز صبح کی نمازکے انتظار میں اپنے دالان میں ٹہل رہا تھا اور حضرت خلیفہ اوّل کی آمد کا انتظار کیا جا رہا تھا کہ میرے کانوں میں شیخ رحمت اللہ صاحب کی آواز آئی۔ وہ بڑے جوش سے مسجد میں کہہ رہے تھے کہ غضب خدا کا ایک لڑکے کی خاطر جماعت کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ پہلے تو میں سمجھا کہ اس سے مراد شاید میر محمد اسحاق صاحب ہیں مگر پھر شیخ رحمت اللہ صاحب کی آواز آئی کہ جماعت ایک لڑکے کی غلامی کس طرح کر سکتی ہے۔ اس پر میں اور زیادہ حیران ہوا اور میں سوچنے لگا کہ میرمحمد اسحاق صاحب نے تو صرف چند سوالات دریافت کئے ہیں ان کے ساتھ جماعت کی غلامی یا عدمِ غلامی کا کیا تعلق ہے مگر باوجود سوچنے اور غور کرنے کے میری سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ اس بچے سے کون مراد ہے۔ آخر صبح کی نماز کے بعد میں نے حضرت خلیفہ اوّل سے اس واقعہ کا ذکر کیا اور میں نے کہا کہ نہ معلوم آج مسجد میں کیا جھگڑا تھا کہ شیخ رحمت اللہ صاحب بلند آواز سے کہہ رہے تھے کہ ہم ایک بچہ کی بیعت کس طرح کر لیں اسی کی خاطر یہ تمام فساد ڈلوایا جا رہا ہے۔ میں تو نہیں سمجھ سکا کہ یہ بچہ کون ہے۔ حضرت خلیفہ اوّل میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا۔ تمہیں نہیں پتہ؟ اس سے مراد تم ہی تو ہو۔ غالباً شیخ صاحب کے ذہن میں یہ بات تھی کہ یہ تمام سوالات میں نے ہی لکھوائے ہیں اور میری وجہ سے ہی جماعت میں یہ شور اُٹھا ہے۔
    مسئلہ خلافت کے متعلق حضرت خلیفہ اوّل کی تقریر
    اس کے بعد حضرت خلیفہ اوّل تقریر کرنے کیلئے تشریف لائے۔ اس تقریر کے متعلق بھی پہلے سے میں نے ایک رؤیا دیکھا ہوئا تھا میں نے دیکھا کہ کوئی
    جلسہ ہے جس میں حضرت خلیفۂ اوّل کھڑے تقریر کر رہے ہیں اور تقریر مسئلہ خلافت پر ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی لشکر ہے جو آپ پر حملہ آور ہوئا ہے۔ اس وقت میں بھی جلسہ میں آیا اور آپ کے دائیں طرف کھڑے ہو کر میں نے کہا کہ حضور! کوئی فکر نہ کریں ہم آپ کے خادم ہیں اور آپ کی حفاظت کیلئے اپنی جانیںتک دینے کیلئے تیار ہیں۔ ہم مارے جائیں گے تو پھر کوئی شخص حضور تک پہنچ سکے گا۔ ہماری موجودگی میں آپ کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکتا۔ خواب مَیں نے حضرت خلیفۂ اوّل کو سنائی ہوئی تھی۔ چنانچہ اِس جلسہ میں شامل ہونے کیلئے جب مَیں آیا تو مجھے اُس وقت وہ خواب یاد نہ رہی اور میں حضرت خلیفۂ اوّل کے بائیں طرف بیٹھ گیا۔ اس پر آپ نے فرمایا۔ میاں! یہاں سے اُٹھ کر دائیں طرف آ جائو اور پھر خود ہی فرمایا۔ تمہیں معلوم ہے میں نے تمہیں دائیں طرف کیوں بٹھایا ہے؟ میں نے عرض کیا مجھے تو معلوم نہیں۔ اس پر آپ نے میری اُسی خواب کا ذکر کیا اور فرمایا کہ اس خواب کی وجہ سے میں نے تمہیں اپنے دائیں طرف بٹھایا ہے۔
    جب آپ تقریر کیلئے کھڑے ہوئے تو بجائے اس کے کہ اُس جگہ کھڑے ہوتے جو آپ کیلئے تجویز کی گئی تھی آپ اس حصۂ مسجد میں کھڑے ہو گئے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بنوایا تھا اور لوگوں پر اظہارِ ناراضگی کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے اپنے عمل سے مجھے اتنا دکھ دیا ہے کہ میں اس حصۂ مسجد میں بھی کھڑا نہیں ہوئا جو تم لوگوںکا بنایا ہوا ہے بلکہ اپنے پِیر کی بنائی ہوئی مسجد میں کھڑا ہوا ہوں۔ اس کے بعد آپ نے مسئلہ خلافت پر قرآن و حدیث سے روشنی ڈالی اور فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں خلیفہ کا کام صرف نمازیں پڑھا دینا، جنازے پڑھا دینا اور لوگوںکے نکاح پڑھا دینا ہے اُسے نظام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ یہ کہنے والوں کی سخت گُستاخانہ حرکت ہے۔ یہ کام تو ایک مُلاّں بھی کر سکتا ہے اس کیلئے کسی خلیفہ کی کیا ضرورت ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے یہ تقریر سنی ہوئی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ تقریر اتنی درد انگیز اور اِس قدر جوش سے لبریز تھی کہ لوگوں کی روتے روتے گھِگھی بندھ گئی۔
    خواجہکمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب سے دوبارہ بیعت
    تقریر کے بعد آپ نے خواجہ کمال الدین صاحب، مولوی محمد علی صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب سے کہا کہ دوبارہ
    بیعت کرو۔ چنانچہ انہوں نے دوبارہ بیعت کی۔ میرا ذہن اُس وقت اِدھر منتقل نہیں ہوئا کہ ان سے بیعت ان کے جُرم کی وجہ سے لی جا رہی ہے چنانچہ میں نے بھی بیعت کیلئے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا مگر حضرت خلیفۂ اوّل نے میرے ہاتھ کو پیچھے ہٹا دیا اور فرمایا تمہارا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے تو ایک جُرم کیا ہے جس کی وجہ سے دوبارہ ان سے بیعت لی جا رہی ہے مگر تم نے کونسا جُرم کیا ہے۔
    شیخ یعقوب علی صاحب سے اس موقع پر جو بیعت لی گئی وہ اس لئے لی گئی تھی کہ شیخ صاحب نے ایک جلسہ کیا تھا جس میں اُن لوگوں کے خلاف تقریریں کی گئی تھیں جنہوں نے نظامِ خلافت کی تحقیر کی تھی اور گو یہ اچھا کام تھا مگر حضرت خلیفۂ اوّل نے فرمایا جب ہم نے ان کو اس کام پر مقرر نہیں کیا تھا تو ان کا کیا حق تھا کہ وہ خود بخود الگ جلسہ کرتے۔ غرض ان تینوں سے دوبارہ بیعت لی گئی اور انہوںنے سب کے سامنے توبہ کی مگر جب جلسہ ختم ہو گیا اور لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے تو ان لوگوں نے حضرت خلیفہ اوّل کے خلاف اور زیادہ منصوبے کرنے شروع کر دیئے اور مولوی محمد علی صاحب نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ میری اس قدر ہتک کی گئی ہے کہ اب میں قادیان میں نہیں رہ سکتا۔ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم ان دنوں مولوی محمد علی صاحب سے بہت تعلق رکھا کرتے تھے۔ ایک دن وہ سخت گھبراہٹ کی حالت میں حضرت خلیفہ اوّل کے پاس پہنچے۔ مَیں بھی اتفاقاً وہیں موجود تھا اور آتے ہی کہا کہ حضور! غضب ہوگیا آپ جلدی کوئی انتظام کریں۔ حضرت خلیفہ اوّل نے فرمایا کیا ہوا؟ انہوں نے کہا مولوی محمد علی صاحب کہہ رہے ہیں کہ میری یہاں سخت ہتک ہوئی ہے اور مَیں اب قادیان میں کسی صورت میں نہیں رہ سکتا۔ آپ جلدی کریں اور کسی طرح مولوی محمد علی صاحب کو منانے کی کوشش کریں، ایسا نہ ہو کہ وہ چلے جائیں۔ حضرت خلیفہ اوّل نے فرمایا۔ ڈاکٹر صاحب! مولوی صاحب سے جا کر کہہ دیجئے کہ کل کے آنے میں تو ابھی دیر ہے آپ جانا چاہتے ہیں تو آج ہی قادیان سے چلے جائیں۔ ڈاکٹر صاحب جو یہ خیال کر رہے تھے کہ اگر مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے تو نہ معلوم کیا زلزلہ آجائے گا اُن کے تو یہ جواب سن کر ہوش اُڑ گئے اور انہوں نے کہا حضور! پھر تو بڑا فساد ہوگا۔ حضرت خلیفہ اوّل نے فرمایا۔ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ میں خدا کا قائم کردہ خلیفہ ہوں مَیں ان دھمکیوں سے مرعوب ہونے والا نہیں۔ اِس جواب کو سن کر مولوی محمد علی صاحب بھی خاموش ہو گئے اور پھر انہوں نے حضرت خلیفہ اوّل کی زندگی میں قادیان سے جانے کے ارادے کا اظہار نہیں کیا۔ البتہ اندر ہی اندر کھچڑی پکتی رہی اور کئی طرح کے منصوبوں سے اُنہوں نے جماعت میں فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ یہ بہت لمبے واقعات ہیں جن کو تفصیلاً بیان کرنے کا یہ موقع نہیں۔
    حضرت خلیفۂ اوّل کی بیماری میں ایک اشتہار شائع کرنے کی تجویز
    حضرت خلیفۂ اوّل جب مرض الموت سے بیمار ہوئے تو طبعاً ہم سب کے قلوب میں ایک بے چینی تھی اور ہم نہایت ہی افسوس کے ساتھ
    آنے والی گھڑی کو دیکھ رہے تھے اور چونکہ آپ کی بیماری کی وجہ سے لوگوں کی عام نگرانی نہیں رہی تھی اور اختلافی مسائل پر گفتگو بڑھتی چلی جا رہی تھی، اس لئے میں نے ایک اشتہار لکھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اب جب کہ حضرت خلیفۃ المسیح سخت بیمار ہیں یہ مناسب نہیں کہ ہم اختلافی مسائل پر آپس میں اس طرح بحثیں کریں مناسب یہی ہے کہ ہم ان بحثوں کو بند کر دیں اور اس وقت کا انتظار کریں جب کہ اللہ تعالیٰ حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کو صحت دے دے اور آپ خود اِن بحثوں کی نگرانی فرما سکیں۔ میں نے یہ اشتہار لکھ کر مرزا خدا بخش صاحب کو دیا اور میں نے کہا کہ آپ اسے مولوی محمد علی صاحب کے پاس لے جائیں تا کہ وہ بھی اس پر دستخط کر دیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ میرے ہم خیال اور ان کے ہم خیال دونوں اس قسم کی بحثوں سے اجتناب کریں گے اور جماعت میں کوئی فتنہ پیدا نہیں ہوگا۔ یہ حضرت خلیفہ اوّل کی وفات سے صرف دو یا ایک دن پہلے کی بات ہے مگر بجائے اس کے کہ مولوی محمد علی صاحب اس اشتہار پر دستخط کر دیتے انہوں نے جواب دیا کہ جماعت کے دوستوں میں جو کچھ اختلاف ہے چونکہ اس سے عام لوگ واقف نہیں اس لئے ایسا اشتہار شائع کرنا مناسب نہیں اس طرح دشمنوں کو خواہ مخواہ ہنسی کا موقع ملے گا۔ میرے خیال میں اشتہار شائع کرنے کی بجائے یہ بہتر ہے کہ ایک جلسہ کا انتظام کیا جائے جس میں آپ بھی تقریر کریں اور مَیں بھی تقریر کروں اور ہم دونوں لوگوں کو سمجھا دیں کہ اس طرح گفتگو نہ کیا کریں۔ چنانچہ مسجد نور میں ایک جلسے کا انتظام کیا گیا۔ مولوی محمد علی صاحب نے مجھ سے خواہش کی کہ پہلے میں تقریر کروں۔ چنانچہ میں نے جو کچھ اشتہار میں لکھا تھا وہی تقریر میں بیان کر دیا اور اتفاق پر زور دیا۔ میری تقریر کے بعد مولوی محمد علی صاحب کھڑے ہوئے مگر بجائے اس کے کہ وہ لوگوں کو کوئی نصیحت کرتے اُلٹا انہوں نے لوگوں کو ڈانٹنا شروع کر دیا کہ تم بڑے نالائق ہو مجھ پر اور خواجہ صاحب پر خواہ مخواہ اعتراض کرتے ہو تمہاری یہ حرکت پسندیدہ نہیں اس سے باز آ جائو۔ غرض انہوں نے خوب زجروتوبیخ سے کام لیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوئا کہ بجائے اتفاق پیدا ہونے کے افتراق اور بھی زیادہ ترقی کر گیا اور لوگوں کے دلوں میں اُن کے متعلق نفرت پیدا ہوگئی۔
    جماعت کو اختلاف سے محفوظ رکھنے کی کوشش
    چونکہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی طبیعت اب زیادہ کمزور ہوتی
    جا رہی تھی اس لئے ہر شخص کے دل میں یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ آپ کے بعد کیا ہوگا۔ میرے سامنے صرف جماعت کے اتحاد کا سوال تھا۔ یہ سوال نہیں تھا کہ ہم میں سے خلیفہ ہو یا اُن میں سے۔ چنانچہ گو عام طور پر وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نبوت پر ایمان رکھتے تھے اُن کا یہی خیال تھا کہ ہم کسی ایسے شخص کے ہاتھ پر بیعت نہیں کر سکتے جس کے عقائد اُن کے عقائد سے مختلف ہوں کیونکہ اس طرح احمدیت کے مِٹ جانے کا اندیشہ ہے مگر میں نے دوستوں کو خاص طور پر سمجھانا شروع کیا کہ اگر حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات پر ہمیں کسی فتنے کا اندیشہ ہو تو ہمیں انہیں لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لینی چاہئے اور جماعت کو اختلاف سے محفوظ رکھنا چاہئے۔ چنانچہ مَیں نے اکثر دوستوں کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ اگر جھگڑا محض اِس بات پر ہو کہ خلیفہ کس جماعت میں سے ہو ہم میں سے یا اُن میں سے تو ہمیں اُن میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کرنے کیلئے تیار رہنا چاہئے۔
    حضرت خلیفۂ اوّل کی وفات
    ۱۳؍ مارچ ۱۹۱۴ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل وفات پا گئے۔ میں جمعہ پڑھا کر نواب محمد علی خان صاحب
    کی گاڑی میں آ رہا تھا کہ راستہ میں مجھے آپ کی وفات کی اطلاع ملی اور اس طرح میرا ایک اور خواب پورا ہو گیا جو مَیں نے اس طرح دیکھا تھا کہ میں گاڑی میں سوار ہوں اور گاڑی ہمارے گھر کی طرف جا رہی ہے کہ راستہ میں مجھے کسی نے حضرت خلیفۃالمسیح کی وفات کی خبر دی۔ میں اس رؤیا کے مطابق سمجھتا تھا کہ غالباً میں اس وقت سفر پر ہونگا جب حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی وفات ہو گی مگر خدا تعالیٰ نے اسے اس رنگ میں پورا کر دیا کہ جب جمعہ پڑھا کر مَیں گھر واپس آیا تو نواب محمد علی خان صاحب کا ملازم ان کا یہ پیغام لے کر میرے پاس آیا کہ وہ میرے انتظار میں ہیں اور ان کی گاڑی کھڑی ہے۔ چنانچہ میں اُن کے ہمراہ گاڑی میں سوار ہو کر چل پڑا اور راستہ میں مجھے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی وفات کی اطلاع مل گئی۔
    دعائوں کی تحریک
    حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی وفات پر تمام جماعتوں کو تاریں بھجوا دی گئیں اور مَیں نے دوستوں کو تحریک کی کہ ہر شخص اُٹھتے بیٹھتے،
    چلتے پھرتے دعائوں میں لگ جائے۔ راتوں کو تہجد پڑھے اور جسے توفیق ہو وہ کَل روزہ بھی رکھے تا کہ اللہ تعالیٰ اس مشکل کے وقت جماعت کی صحیح راہنمائی کرے اور ہمارا قدم کسی غلط راستہ پر نہ جا پڑے۔
    خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا متفقہ فیصلہ
    اُسی دن مَیں نے اپنے رشتہ داروں کو جمع کیا
    اور اُن سے اس اختلاف کے متعلق مشورہ طلب کیا۔ انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ خلیفہ ایسا شخص ہی مقرر ہونا چاہئے جس کے عقائد ہمارے عقائد کے ساتھ متفق ہوں مگر میں نے ان کوسمجھایا کہ اصل چیز جس کی اِس وقت ہمیں ضرورت ہے اتفاق ہے۔ خلیفہ کا ہونا بے شک ہمارے نزدیک مذہباً ضروری ہے لیکن چونکہ جماعت میں اختلاف پیدا ہونا بھی مناسب نہیں اس لئے اگر وہ بھی کسی کو خلیفہ بنانے میں ہمارے ساتھ متحد ہوں تو مناسب یہ ہے کہ عام رائے لے لی جائے اور اگر انہیں اس سے اختلاف ہو تو کسی ایسے آدمی کی خلافت پر اتفاق کیا جائے جو دونوں فریق کے نزدیک بے تعلق ہو۔ اور اگر وہ یہ بھی قبول نہ کریں تو پھر انہیں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لی جائے چاہے وہ مولوی محمد علی صاحب ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ بات منوانی اگرچہ سخت مشکل تھی مگر میرے اصرار پر ہمارے تمام خاندان نے اس بات کو تسلیم کر لیا۔
    مولوی محمد علی صاحب سے ملاقات
    اس کے بعد میں مولوی محمد علی صاحب سے ملا اور میں نے اُن سے کہا کہ مَیں آپ سے کچھ
    باتیں کرنی چاہتا ہوں۔ چنانچہ ہم دونوں جنگل کی طرف نکل گئے۔ مولوی محمد علی صاحب نے کہا کہ حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کے بعد جلد ہی کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس وجہ سے کہ جماعت میں اختلاف ہے اور فتنے کا ڈر ہے پورے طور پر بحث کر کے ایک بات پر متفق ہو کرکام کرنا چاہئے۔ میں نے کہا کَل تک امید ہے کافی لوگ جمع ہو جائیں گے اس لئے میرے نزدیک کل جب تمام لوگ جمع ہو جائیں تو مشورہ کر لیا جائے۔ مولوی صاحب نے کہا کہ نہیں اتنی جلدی کی کیا ضرورت ہے چار پانچ ماہ جماعت غور کر لے پھر اس کے بعد جو فیصلہ ہو اُس پر عمل کر لیا جائے۔ میں نے کہا کہ اس عرصہ میں اگر جماعت کے اندر کوئی فساد ہو گیا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔ جماعت بغیر لیڈر اور راہنما کے ہوگی اور جب جماعت کا کوئی امام نہیں ہوگا تو کون اس کے جھگڑوں کو حل کرے گا اور جماعت کے لوگ کس کے پاس اپنی فریاد لے کر جائیں گے۔ فساد کا کوئی وقت مقرر نہیں ممکن ہے آج شام کو ہی ہو جائے پس یہ سوال رہنے دیں کہ آج اس امر کا فیصلہ نہ ہو کہ کون خلیفہ بنے بلکہ آج سے پانچ ماہ کے بعد فیصلہ ہو۔ ہاں اس امر پر ہمیں ضرور بحث کرنی چاہئے کہ کون خلیفہ ہو اور میں نے مولوی محمد علی صاحب سے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اور میرے ہم خیال اس بات پر تیار ہیں کہ آپ لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لیں۔ مولوی صاحب نے کہا یہ بڑی مشکل بات ہے آپ سوچ لیں اور کل اس پر پھر گفتگو ہو جائے چنانچہ ہم دونوں الگ ہو گئے۔
    مولوی محمد علی صاحب کا ایک ٹریکٹ
    رات کو جب مَیں تہجد کیلئے اُٹھا تو بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی نے مجھے ایک
    ٹریکٹ دیا اور کہا کہ یہ ٹریکٹ تمام راستہ میں بیرونجات سے آنے والے احمدیوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ میں نے اسے دیکھا تو وہ مولوی محمد علی صاحب کا لکھا ہوا تھا اور اس میں جماعت پر زور دیا گیا تھا کہ آئندہ خلافت کا سلسلہ نہیں چلنا چاہئے اور یہ کہ حضرت خلیفہ اوّل کی بیعت بھی انہوں نے بطور ایک پِیر کے کی تھی نہ کہ بطور خلیفہ کے۔ ساتھ ہی یہ بھی لکھا تھا کہ جماعت کا ایک امیر ہو سکتا ہے مگر وہ بھی ایسا ہونا چاہئے جو واجبُ الاِْطاَعت نہ ہو، جو غیر احمدیوں کو کافر نہ کہتا ہو اور جس کی چالیس سال سے زیادہ عمر ہو۔ مقصد یہ تھا کہ اگر خلیفہ بنایا جائے تو مولوی محمد علی صاحب کو کیونکہ اُن کی عمر اُس وقت چالیس سال سے زائد تھی اور وہ غیر احمدیوں کو کافربھی نہیں کہتے تھے۔
    انتخاب خلافت پر جماعت کے نوے فیصد دوستوں کا اتفاق
    میں نے جب یہ ٹریکٹ پڑھا تو آنے والے فتنہ کا تصور کر کے خود بھی دعا میں لگ گیا اور دوسرے لوگ جو اس کمرہ میں تھے اُن کو بھی
    میں نے جگایا اور اس ٹریکٹ سے باخبر کرتے ہوئے انہیں دعائوں کی تاکید کی۔ چنانچہ ہم سب نے دعائیں کیں، روزے رکھے اور قادیان کے اکثر احمدیوں نے بھی دعائوں اور روزہ میں حصہ لیا۔ صبح کے وقت بعض دوستوں نے یہ محسوس کر کے کہ مولوی محمد علی صاحب نے نہ صرف ہم سے دھوکا کیا ہے بلکہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اور حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی وصیتوں کی بھی تحقیر کی ہے۔ ایک تحریر لکھ کر تمام آنے والے احباب میں اس غرض سے پھرائی تا معلوم ہو کہ جماعت کا رُحجان کِدھر ہے۔ اس میں جماعت کے دوستوں سے دریافت کیا گیا تھا کہ آپ بتائیں حضرت خلیفۂ اوّل کے بعد کیا ویسا ہی کوئی خلیفہ ہونا چاہئے یا نہیں جیسا کہ حضرت خلیفۂ اوّل تھے اور یہ کہ انہوں نے حضرت خلیفۂ اوّل کی بیعت آپ کو خلیفہ سمجھ کر کی تھی یا ایک پِیر اور صوفی سمجھ کر۔ اس ذریعہ سے جماعت کے دوستوں کے خیالات معلوم کرنے کا یہ فائدہ ہوا کہ ہمیں لوگوں کے دستخطوں سے یہ معلوم ہو گیا کہ جماعت کا نوے فیصدی سے بھی زیادہ حصہ اس امر پر متفق ہے کہ خلیفہ ہونا چاہئے اور اِسی رنگ میں ہونا چاہئے جس رنگ میں حضرت خلیفہ اوّل تھے۔
    مولوی محمد علی صاحب سے دوبارہ گفتگو
    دس بجے کے قریب مجھے مولوی محمد علی صاحب کا پیغام آیا کہ کل والی بات
    کے متعلق مَیں پھر کچھ گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ میں نے اُن کو بلوا لیا اور باتیں شروع ہو گئیں۔ میں نے اِس امر پر زور دیا کہ خلافت کے متعلق آپ بحث نہ کریں کیونکہ آپ ایک خلیفہ کی بیعت کر کے اس اصول کو تسلیم کر چکے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد جماعت میں خلفاء کا سلسلہ جاری رہے گا صرف اِس امر پر بحث کریں کہ خلیفہ کون ہو۔ وہ باربار کہتے تھے کہ اس بارہ میں جلدی کی ضرورت نہیں جماعت کو چار پانچ ماہ غور کر لینے دیا جائے۔ اور میرا جواب وہی تھا جو میں ان کو پہلے دے چکا تھا بلکہ مَیں نے اُن کو یہ بھی کہا کہ اگر چار پانچ ماہ کے بعد بھی اختلاف ہی رہا تو کیا ہوگا۔ اگر آپ کثرتِ رائے پر فیصلہ کریں گے تو کیوں نہ ابھی جماعت کی کثرتِ رائے سے یہ فیصلہ کر لیا جائے کہ کون خلیفہ ہو۔ جب سلسلۂ گفتگو کسی طرح ختم ہوتا نظر نہ آیا تو مَیں نے مولوی محمد علی صاحب سے کہا کہ باہر جو لوگ موجود ہیں اُن سے مشورہ لے لیا جائے۔ اس پر مولوی صاحب کے منہ سے بے اختیار یہ فقرہ نکل گیا کہ میاں صاحب! آپ کو پتہ ہے کہ وہ لوگ کس کو خلیفہ بنائیں گے؟ میں نے کہا لوگوں کا سوال نہیں مَیں خود یہ فیصلہ کر چکا ہوں کہ آپ لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لوں اور میرے ساتھی بھی اس غرض کیلئے تیار ہیں مگر انہوں نے پھر بھی یہی جواب دیا کہ آپ جانتے ہیں وہ کس کو منتخب کریں گے۔ اس پر مَیں مایوس ہو کر اُٹھ بیٹھا کیونکہ باہر جماعت کے دوست اس قدر جوش میں بھرے ہوئے تھے کہ وہ ہمارے دروازے توڑ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ہم زیادہ صبر نہیں کر سکتے۔ جماعت اس وقت تک بغیر کسی رئیس کے ہے اور آپ کی طرف سے کوئی امر طے ہونے میں ہی نہیں آتا۔ آخر مَیں نے مولوی صاحب سے کہا چونکہ ہمارے نزدیک خلیفہ ہونا ضروری ہے اس لئے آپ کی جو مرضی ہو وہ کریں۔ ہم اپنے طور پر لوگوں سے مشورہ کر کے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لیتے ہیں۔ چنانچہ یہ کہتے ہوئے مَیں وہاں سے اُٹھ کھڑا ہوئا اور مجلس برخواست ہو گئی۔
    خلافتِ ثانیہ کا قیام
    عصر کی نماز کے بعد جب نواب محمد علی خان صاحب نے حضرت خلیفہ اوّل کی وصیت سنانے کے بعد لوگوں سے
    درخواست کی کہ وہ کسی کو آپ کا جانشین تجویز کریں تو سب نے بِالاتفاق میرا نام لیا اور اس طرح خلافتِ ثانیہ کا قیام عمل میں آیا۔
    مَیں نے سنا ہے کہ اُس وقت مولوی محمد علی صاحب بھی کچھ کہنے کیلئے کھڑے ہوئے تھے مگر کسی نے اُن کے کوٹ کو جھٹک کر کہا کہ آپ بیٹھ جائیں۔ بہرحال جو کچھ ہوا اللہ تعالیٰ کی مشیّت کے ماتحت ہوا اور وہ جس کو خلیفہ بنانا چاہتا تھا اُس کو اُس نے خلیفہ بنا دیا۔
    حضرت خلیفۂ اوّل کے بعض ارشادات کی اصل حقیقت
    یہ لوگ حضرت خلیفۂ اوّل کو اپنے متعلق ہمیشہ غلط فہمی میں مبتلاء کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے اسی لئے حضرت خلیفۂ اوّل کے لیکچروں میں بعض
    جگہ اس قسم کے الفاظ نظر آ جاتے ہیں کہ لاہوری دوستوں پر بدظنی نہیں کرنی چاہئے۔ یہ خیال کرنا کہ وہ خلافت کے مخالف ہیں جھوٹ ہے۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ یہ خود حضرت خلیفۂ اوّل سے بار بار کہتے کہ ہمارے متعلق جو کچھ کہا جاتا ہے جھوٹ ہے، ہم تو خلافت کے صدقِ دل سے مؤیّد ہیں۔ مگر اب دیکھ لو اِن کا جھوٹ کس طرح ظاہر ہو گیا اور جن باتوں کا وہ قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کرتے تھے اب کس طرح شدت سے اُن کا انکار کرتے رہتے ہیں۔
    غرض حضرت خلیفۂ اوّل کی خلافت کو تسلیم کر لینے کے بعد ان لوگوں نے بھی خوارج کی طرح اَلْحُکْمُ لِلّٰہِ وَالْاَمْرُشُوْریٰ بَیْنَنَا۳۲؎ کا راگ الاپنا شروع کر دیا مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں ناکام رکھا اور جماعت میرے ہاتھ پر جمع ہوئی۔ اِن کے بعد بھی بعض لوگ بعض اغراض کے ماتحت بیعت سے علیحدہ ہوئے اور انہوں نے بھی ہمیشہ وہی شور مچایا جو خوارج مچایا کرتے تھے مگر خدا تعالیٰ نے آج تک اُن کو ناکام و نامراد رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آئندہ بھی جماعت کو ان کے فتنوں سے محفوظ رکھے۔
    خلافت کے بارہ میں قرآنی احکام
    یہ تو تاریخ خلافت ہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن و احادیث میں اس بارہ میں کیا روشنی ملتی ہے اور کیا کوئی نظام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسلام نے تجویز کیا ہے یا نہیں اور اگر کیا ہے تو وہ کیا ہے۔
    اس بارہ میں جب ہم غورکرتے ہیں تو ہمیں پہلا اصولی حکم قرآن کریم میں یہ ملتا ہے کہ:۔


    ۳۳؎
    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اہل کتاب جھوٹ اور فریب اور شرک کی باتوں پر عمل کرتے ہوئے سچائی کو چھوڑ رہے ہیں اور جب بھی مؤمنوںاور غیر مؤمنوں کا مقابلہ ہوتا ہے تو مؤمنوں کے متعلق تو وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ بہت ہی بُرے ہیں اور کافروں کے متعلق اُن کی یہ رائے ہوتی ہے کہ وہ مؤمنوں سے بہتر ہیں۔ جیسے غیر مبائعین ہماری دشمنی کی وجہ سے عام مسلمانوں کو ہم سے بہتر سمجھتے اور اُن کے پیچھے نمازیں بھی پڑھ لیتے ہیں۔ چنانچہ جب بھی کوئی بات ہو وہ کہتے ہیں یہ مسلمان احمدیوں سے زیادہ اچھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ تم چونکہ مؤمنوں کو دور کرتے ہو اور غیر مؤمنوں کو اپنے قریب کرتے ہو اس لئے آج ہم تم سے بھی یہی کہتے ہیں کہ تم ہمارے قرب سے دور ہو جائو۔ اور لوگ تو *** صرف زبان سے کرتے ہیں اور جب کسی پر *** ڈالنی ہو تو کہتے ہیں جا تجھ پر *** مگر جس پر ہماری *** پڑتی ہے اس کا کوئی مددگار نہیں رہتا۔ یہود کو دیکھ لو اللہ تعالیٰ نے اُن پر *** ڈالی تو اُن کا کیسا بُرا حال ہوئا۔ باوجود اس کے کہ مال و دولت اُن کے پاس بہت ہے مختلف قومیں مختلف وقتوں میں اُٹھتی اور انہیں ذلیل و رُسوا کرتی رہتی ہیں۔ یہی حال غیر مبائعین کا ہے۔ جب میری بیعت ہوئی تو اُس وقت قادیان میں دو ہزار کے قریب آدمی جمع تھے اور سِوائے پچاس ساٹھ کے باقی سب نے میری بیعت کرلی۔ مگر ’’پیغامِ صلح‘‘ نے لکھا کہ:-
    ’’حاضر الوقت جماعت میں سے نصف کے قریب لوگوں نے بیعت نہ کی اور افسوس کرتے ہوئے مسجد سے چلے آئے‘‘۔ ۳۴؎
    پھر اُسی پیغامِ صلح میں انہوں نے میرے متعلق اعلان کیا کہ:۔
    ’’ابھی بمشکل قوم کے بیسویں حصہ نے خلیفہ تسلیم کیا ہے‘‘ ۳۵؎
    گویا پانچ فیصدی آدمی ہمارے ساتھ تھے اور پچانوے فیصدی اُن کے ساتھ۔ مگر اب کیا حال ہے۔ اب وہ بار بار لکھتے ہیں کہ جماعت کی اکثریت خلافت سے وابستہ ہے۔ بلکہ اب تو ان کے دلائل کا رُخ ہی بدل گیا ہے۔ پہلے وہ اپنی سچائی کی یہ دلیل دیا کرتے تھے کہ جماعت کی اکثریت اُن کے ساتھ ہے مگر جب اکثریت خدا تعالیٰ نے ہمارے ساتھ کر دی تو وہ یہ کہنے لگ گئے کہ جماعت کی اکثریت کا کسی بات کا قائل ہونا اُس کی سچائی کی دلیل نہیں ہوتا۔ قرآن میں صاف آتا ہے کہ ۳۶؎ گویا جب تک وہ زیادہ رہے اُن کی یہ دلیل رہی کہ نبی کو ماننے والوں کی اکثریت گمراہ نہیں ہو سکتی اور جب ہم زیادہ ہو گئے تو کا مصداق ہمیں قرار دے دیا گیا۔ بہرحال انہوں نے اتنا تو ضرور اقرار کر لیا کہ اُن کے نصیر جاتے رہے ہیں۔ اور یہی اس قرآنی آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ پھر فرماتا ہے۔ ان لوگوںکو تو یہ حَسد کھائے چلا جاتا ہے کہ انہیں حکومت اور طاقت کیوں نہ مل گئی۔ حالانکہ اگر دنیا کی حکومت ان کے قبضہ میں ہوتی تو یہ بال برابر بھی لوگوں کو کوئی چیز نہ دیتے۔ کھجور کی گٹھلی کے نشان کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی طبیعت میں سخت بخل ہے۔ جیسے پیغامیوں کو یہی بخل کھا گیا کہ ایک لڑکے کو خلافت کیوں مل گئی۔ فرماتا ہے۔ تم جوبُخل کرتے ہو اور کہتے ہو کہ انہیں حکومت اور خلافت کیوں مل گئی تو اتنا تو سوچو کہ یہ حکومت اور سلطنت کس کو ملی ہے؟ کیا جسے حکومت ملی ہے وہ آل ابراہیم ؑ میں شامل نہیں۔ اگر ہے تو پھر تمہارے حسد سے کیا بنتا ہے۔ خدا نے پہلے بھی آل ابراہیم ؑکو حکومت اور سلطنت دی اور اب بھی وہ آل ابراہیم کو حکومت اور سلطنت دے گا۔ ہم اس سے پہلے بھی آل ابراہیم ؑ کو حکومت دے چکے ہیں۔ جن لوگوں نے اُن کی حکومت کو تسلیم کر لیا تھا وہ عزت پا گئے اور جنہوں نے انکار کیا اُن کو سزا مل گئی۔ فرماتا ہے یہ حکومت جو آل ابراہیم ؑ کو دی جائے گی یہ لوگوں کیلئے بڑی رحمت اور برکت کا موجب ہوگی۔ جب تک وہ اس رحمت کے نیچے رہیں گے اور اس حکومت سے بھاگنے کی کوشش نہیں کریں گے وہ بڑے آرام اور سُکھ میں رہیں گے مگر جب انہوں نے انکار کر دیا تو پھر اللہ تعالیٰ انہیں ایسے عذاب میں مبتلاء کرے گا جس سے رہائی کی کوئی صورت ہی نہیں ہوگی اور وہ ہمیشہ دُکھوں میں مبتلاء رہیں گے۔
    انسان کی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ جب وہ ایک عذاب کا عادی ہو جاتا ہے تو اُس کی تکلیف اسے پہلے جیسی محسوس نہیں ہوتی۔ ایک بادشاہ خواہ کتنا ہی ظالم ہوجب اُس کی حکومت پر کچھ عرصہ گزر جاتا ہے تو اُس کا ظلم لوگوں کو پہلے جیسا محسوس نہیں ہوتا اور وہ خود بھی نرمی کا پہلو اختیار کرنے لگ جاتا ہے لیکن اگر وہ بدل جائے اور اُس کی جگہ کوئی اور ظالم بادشاہ آ جائے تو اُس کا ظلم بہت زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ پس فرماتا ہے اگر تم نے اس انعام کو ردّ کر دیا تو پھر ظالم بادشاہ تم پر حکومتیں کریں گے اور وہ حکومتیں جلد جلد بدلیں گی تا کہ تمہیں اپنے کئے کی سزا ملے۔


    ۔مگر جو لوگ ایمان لانے والے ہونگے اور اعمالِ صالحہ بجالائیں گے، اُن کو ہم اعلیٰ درجہ کی حکومتیں بخشیں گے اور ان جنات میں اُن کے ساتھ اُن کی بیویاں بھی ہونگی اور اُن سب کو آرام اور سُکھ کا بہت لمبا زمانہ بخشا جائے گا۔ اِن آیات میں دراصل اسلامی حکومت کے قیام کی پیشگوئی کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہود جو اس کی مخالفت کرتے ہیں وہ سخت نقصان اٹھائیں گے اور ہمیشہ عذاب میں مبتلاء رہیں گے لیکن مؤمن جو اس فضل کو تسلیم کریں گے اللہ تعالیٰ انہیں جنتی زندگی دے گا اور اُن کی بیویاں بھی اُن کے ساتھ ہونگی۔
    اَزْوَاجٌ مُطَھَّرَۃٌ کے الفاظ پر دشمنانِ اسلام کا ایک ناواجب اعتراض
    ٌ کے الفاظ پر کئی نادان دشمنانِ اسلام اعتراض کرتے رہتے ہیں کہ اسلام جنت کو ایک چَکْلہ بناتا ہے
    کیونکہ عورتوں کا بھی ساتھ ہی ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے جنت میں جہاں مرد ہونگے وہاں عورتیں بھی ہونگی حالانکہ وہ نادان نہیں جانتے کہ چَکْلہ تو وہ خود اپنے نفس کی وجہ سے بناتے ہیں۔ ورنہ اسلام تو یہ بتاتا ہے کہ جس طرح مرد جنت کے حقدار ہیں عورتیں بھی حقدار ہیں اور یہ کہ جنت مرد اور عورت کے تعاون سے بنتی ہے، اکیلا مرد جنت نہیں بنا سکتا۔ چنانچہ دیکھ لو اس رکوع میں دُنیوی حکومتوں کا ذکر ہے اور ان حکومتوں کا ذکر کرتے کرتے اللہ تعالیٰ یہ بتاتا ہے کہ اس میں عورتوں کا شریک ہونا بھی ضروری ہے اور اگر وہ شریک نہ ہوں تو یہ مکمل نہیں کہلا سکتی۔ پس مرد اور عورت دونوں مل کر بناتے ہیں اور اگر وہ دونوں متحدہ طور پر کوشش نہ کریں تو کبھی یہ نہیں بن سکتی نہ دنیا کی اور نہ اُخروی ۔ بلکہ دنیا کی کی تعمیر میں بھی مرد اور عورت کو مل کر کام کرنا پڑتا ہے اور اُخروی کی تعمیر میں بھی مرد کے ساتھ عورت کی شراکت ضروری ہے۔ اگر وہ دونوں مل کر اس کی تعمیر نہیں کریں گے تو کبھی والی نعمت کو وہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔
    عورت اور مرد کے تعاون کے بغیر نہ دُنیوی جنت حاصل ہو سکتی ہے اور نہ اُخروی
    اگر لوگ اس نکتہ کو سمجھتے اور قومی زندگی میں عورت کو شریک رکھتے اور اس کی اہمیت اور قدروقیمت
    کو پہچانتے تو آج اسلام کی وہ حالت نہ ہوتی جو نظر آ رہی ہے اور نہ دنیا کی وہ حالت ہوتی جو دکھائی دے رہی ہے بلکہ یہ دنیا انسانوں کیلئے جنت ہو جاتی اور وہ یہیں جنت کو پا لیتے۔ مگر جو لوگ عورت کے بغیر حاصل کرتے ہیں اُن کی حقیقی نہیں ہوتی کیونکہ کی خصوصیت یہ ہے کہ عدن ہو۔ اور عورت کے بغیر عدن نصیب نہیں ہوتی بلکہ اِدھر مرد تیار کرتا ہے اور اُدھر عورت اُس کی اولاد کو سے باہر نکال دیتی ہے کیونکہ اولاد کی صحیح تربیت کے بغیر قوم کو دائمی حاصل نہیں ہو سکتی اور اولاد کی تربیت کا اکثر حصہ چونکہ عورت کے ہاتھ میں ہوتا ہے، اس لئے اس کی تکمیل کیلئے عورت کے تعاون اور اس کو اپنے ساتھ شریک کرنے کی انسان کو ہمیشہ ضرورت رہے گی۔ جب عورت کو تعلیم حاصل ہوگی، جب عورت کے اندر تقویٰ ہوگا، جب عورت کے اندر دین کی محبت ہوگی، جب عورت کے دل میں خدا اور اُس کے رسول کے احکام پر چلنے کی ایک والہانہ تڑپ ہوگی تو ناممکن ہے کہ وہ یہی جذبات اپنی اولاد کے اندر بھی پیدا کرنے کی کوشش نہ کرے۔ پس مردوں کا یہ کام ہے کہ وہ آج کی جنت تیار کریں اور عورتوں کا یہ کام ہے کہ وہ کَل کی تیار کریں۔ مردوں کا یہ کام ہے کہ وہ بنائیں اور عورتوں کا یہ کام ہے کہ وہ اس کیلئے نئے مالی پیدا کریں۔ اگر ایک طرف مرد اُس کی تعمیر میں لگا ہوئا ہو اور دوسری طرف عورت اس کی تعمیر میں لگی ہوتی ہے۔ اگر ایک طرف مرد اس کی حفاظت کرتا ہو اور دوسری طرف عورت اس کی حفاظت کیلئے نئے سے نئے مالی پیدا کرتی چلی جاتی ہو تو پھر کون ہے جو اُس کو برباد کر سکے۔ کون ہے جو قومی وحدت، قومی عظمت اور قومی شان کو نقصان پہنچا سکے۔ مگر جس دن عورت کو اس جنت کی تعمیر میں شریک ہونے سے روک دیا جائے گا اُسی دن اگلے مالی پیدا ہونے بند ہو جائیں گے اُسی دن پہلوں کی ٹریننگ ختم ہو جائے گی اور جب پہلوں کی ٹریننگ ختم ہو گئی اور اگلوں کا سلسلہ بھی بند ہو گیا تو وہ جنت کبھی قائم نہیں رہ سکتی بلکہ ضرور ہے کہ شیطان اُسے اُجاڑ کر رکھ دے۔
    ایک عظیم الشان نکتہ
    پس یہ ایک عظیم الشان نکتہ ہے جو قرآن کریم نے ہمیں بتایا کہ حیاتِ ملّی کے قیام کیلئے مَردوں اور عورتوں دونوں کو مِل کر
    کوششکرنی چاہئے۔ جب تک عورتوں کو اپنے ساتھ شریک نہیں کرو گے اُس وقت تک تم یقین رکھو کہ تم جنت نہیں بنا سکو گے۔ اگر تم اپنی کوشش سے ساری دنیا کو بھی ایک دفعہ نمازی بنا لو تو اس کا کیا فائدہ جب کہ اُن نمازیوںکی اولادوں کو انہی کی مائیں بے نماز بنانے میں مصروف ہوں۔ اس طرح تو یہی ہوگا کہ تم بنائو گے اور عورتیں اُس جنت کو برباد کرتی چلی جائیں گی۔
    ہمارا ایک رشتہ دار ہوا کرتا تھا جو دین کا سخت مخالف اور خدا اور رسول کے احکام پر ہمیشہ ہنسی اور تمسخر اُڑایا کرتا تھا۔ ایک دفعہ وہ بیمار ہوا اور علاج کیلئے حضرت خلیفۂ اوّل کے پاس آیا۔ حضرت خلیفۂ اوّل نے باتوں باتوں میں اس سے کہا کہ مرزا صاحب! آپ کے پہلو میں پانچ وقت لوگ مسجد میں آ کر نمازیں پڑھتے ہیں کیا آپ کو کبھی اس پر رَشک نہیں آیا؟ اور کیا آپ کے دل میں کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ آپ کو بھی نمازیں پڑھنی چاہئیں؟ اس نے یہ سن کر بڑے زور سے قہقہہ لگایا اور کہا مولوی صاحب مَیں تو بچپن سے ہی سلیم الفطرت واقع ہوا ہوں۔ چنانچہ ان دنوں میں بھی جب میں لوگوں کو دیکھتا کہ انہوں نے سر نیچے اور سرین اونچے کئے ہوئے ہیں تو میں ہنسا کرتا تھا کہ یہ کیسے احمق لوگ ہیں۔
    اب بتائو جب مائیں ایسے ’’سلیم الفطرت بچے‘‘ پیدا کرنے شروع کر دیں تو واعظوں کے وعظ سے جو جنت تیار ہو آیا وہ ایک دن بھی قائم رہ سکتی ہے۔ اسی طرح کوئی مسئلہ لے لو علمی ہو یا مذہبی، سیاسی ہو یا اقتصادی، اگر عورت کو اپنے ساتھ شریک نہیں کیا جائے گا تو ان مسائل کے بارہ میں وہ تمہاری اولاد کو بالکل ناواقف رکھے گی اور تمہارا علم تمہارے ساتھ ہی ختم ہو جائے گا۔ غرض ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ دائمی مرد کو عورت کے بغیر نہیں مل سکتی اور یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے۔ پس وہ جنہوں نے اسلامی جنت کو چَکْلہ قرار دیا ہے انہوں نے اپنے کا اظہار کرنے کے سوا اور کچھ نہیں کیا۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ ۳۷؎ کہ وہ لوگ جو اپنے دلوں میں خدا کا خوف رکھتے ہیں اُن کیلئے دو جنتیں ہیں۔ دوسری جگہ فرماتا ہے۔ ۳۸؎کہ دو جنتیں دنیا میں ہونگی اور دو ہی اگلے جہاں میں۔ کیونکہ ایک باغ مرد نے لگایا ہوگا اور ایک عورت نے۔ اسی کو کہا گیا ہے اور اسی کو قرار دیا گیا ہے۔ گویا اس باغ کی دو حیثیتیں بھی ہیں اور ایک بھی۔ دو اس لحاظ سے کہ ایک مرد کی کوششوں کا نتیجہ ہوگا اور دوسرا عورت کی کوششوں کا نتیجہ اور ایک اس لحاظ سے کہ مرد و عورت دونوں کی یہ مشترکہ جنت ہوگی۔
    پھر فرماتا ہے کہ صرف اگلے جہان میں ہی یہ دو نہیں ہونگے بلکہ اس دنیا میں بھی دو ہیں جن میں سے ایک کی تعمیر مرد کے سپرد ہے اور ایک کی تعمیر عورت کے سپرد۔ پس مؤمنوں کو دو جنتیں تو اس دنیا میں ملتی ہیں اور دو اگلے جہان میں یعنی اسے جسمانی اور روحانی دونوں رنگ کی کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں۔ جو اپنا دائمی اثر چھوڑ جاتی ہیں۔ چنانچہ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ۳۹؎ یعنی جو لوگ مال و اسباب سے دُنیوی فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں انہیں ایک وقتی فائدہ تو مل جاتا ہے لیکن جو لوگ ایسے اعمال کرتے ہیںجو خدا تعالیٰ کی رضا کیلئے ہوں اُن کے عمل ابدیّت کا مقام پا لیتے ہیں اور نہ صرف انہیں حاضر ثواب ملتا ہے بلکہ اُن کی وجہ سے ثواب کا ایک دائمی سلسلہ جاری ہوتا ہے۔
    اس حدیث کی تشریح کہ جنت مائوںکے قدموں کے نیچے ہے
    یہ حدیث کہ جنت مائوں کے قدموں کے نیچے ہے یہ بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگر ماں اچھی تربیت کرے تو اچھی نسل پیدا ہوگی
    اور جو انعامات باپ حاصل کرے گا وہ دائمی ہو جائیں گے لیکن اگر ماں اچھی تربیت نہیں کرے گی تو باپ کے کمالات باپ تک ختم ہو جائیں گے اور دنیا کوجنّاتِ عدن حاصل نہیں ہونگی۔ یہی مفہوم اس حدیث سے بھی ظاہر ہوتا ہے جو معاویہ بن جاہمہ سے مروی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مجھے اجازت دیجئے کہ میں فلاں جہاد میں شامل ہو جائوں۔ آپ نے فرمایا۔ کیا تیری ماں زندہ ہے۔ اس نے کہا ہاں حضور زندہ ہے۔ آپ نے فرمایا۔ فَالْزِمْھَا فَاِنَّ الْجَنَّۃَ تَحْتَ رِجْلَیْھَا۔۴۰؎ جا اور اسی کے پاس رہ کیونکہ اُس کے قدموں میں ہے۔ معلوم ہوتا ہے اس میں بعض ایسے نقائص تھے جن کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے تھے کہ اگر وہ ماں کی صحبت میں رہا تو اس کی عمدہ تربیت سے وہ دُور ہو جائیں گے۔ ممکن ہے اس میں تیزی اور جوش کا مادہ زیادہ ہو اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سمجھا ہو کہ اگر یہ جہاد پر چلا گیا تو اس کی طبیعت میں جو جوش کا مادہ ہے وہ اور بھی بڑھ جائے گا لیکن اگر اپنی والدہ کے پاس رہا اور اس کی اطاعت کرتے ہوئے اسے اپنے جوشوں کو دبانا پڑا تو اس کی اصلاح ہو جائے گی۔ بہرحال کوئی ایسی ہی کمزوری تھی جس کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کیلئے ماں کی تربیت جہاد کے میدان سے زیادہ بہتر سمجھی اور اُسے اپنی والدہ کی خدمت میں رہنے کا ارشاد فرمایا۔ یہ حدیث بھی ظاہر کرتی ہے کہ عورت کے تعاون کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔ غرض عورت کا میں ہونا ضروری ہے نہ صرف اگلی میں بلکہ دُنیوی میں بھی کیونکہ اس کے بغیر کوئی قوم کامیاب نہیں ہو سکتی۔
    امانات کو اُ ن کے اہل کے سپرد کرنے کا حکم
    پھر فرماتاہے کہ یہ فضل اور رحمت جو تم کو حاصل ہوگی اُس کے قیام
    کے لئے ایک نظام کی ضرورت ہے، خود سری اور پراگندگی سے قوم اس انعام کو حاصل نہیں کر سکتی۔ پس اس جنت کے قیام کیلئے جو طریق تم کو اختیار کرنا چاہئے وہ ہم تمہیں بتاتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ دُنیوی حکومتیں اور مال و املاک پر قبضے یہ سب تمہارے پاس خدا تعالیٰ کی امانتیں ہیں۔ پس ہم تم کو حکم دیتے ہیں کہ (۱) تم امانتوں کو اُن کے اہل کے سپرد کرو۔ یعنی اپنے لئے ایسے سردار چنو جو اس امانت کو اٹھانے کے اہل ہوں۔(۲)پھر ہم ان کو جن کے سپرد یہ امانت کی جائے حکم دیتے ہیں کہ وہ انصاف اور عدل سے کام کریں گویا دونوں کو حکم دے دیا۔ ایک طرف لوگوں سے کہا کہ اے لوگو! ہم تم کو حکم دیتے ہیں کہ تم حکومت کے اختیارات ہمیشہ ایسے لوگوں کے سپرد کیا کرو جو ان اختیارات کو سنبھالنے اور حکومت کے کام کو چلانے کے سب سے زیادہ اہل ہوں اور پھر اے اہل حکومت! ہم تم کو بھی حکم دیتے ہیں کہ تم رعایا کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ رکھو اور کبھی بے انصافی کو اپنے قریب نہ آنے دو۔
    اللہ تعالیٰ کا یہ حکم بہت بڑی حکمتوں پر مشتمل ہے اور وہ ہمیشہ تم کو اچھی باتوں کا حکم دیتا ہے اور وہ سننے اور دیکھنے والا ہے۔
    اس طرح جب ایک نظام قائم ہو جائے تو فرماتا ہے کہ اب جو غرض نظام کی تھی یعنی دین کی تمکین تم اس کی طرف توجہ کرو اور قومی عبادات اور قومی کاموں کے متعلق جو احکام ہیں ان کی بجاآوری کی طرف توجہ کرو۔ عبادات اور فرائض شخصی بھی ہوتے ہیں اور قومی بھی۔ جو شخصی عبادات اور فرائض ہیں اُن کیلئے کسی نظام کی ضرورت نہیں اور انہیں انتخابِ امراء کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ پس انتخاب امراء کے بعد جو بیان فرمایا اس کے یہی معنی ہیں کہ نظام کی غرض یہ تھی کہ قومی عبادات اور فرائض صحیح طور پر ادا ہو سکیں۔ پس تم کو چاہئے کہ جب نظام قائم ہو جائے تو اس کی غرض کو پورا کرنے کی کوشش کرو۔ یہ نہیں کہ نظام بنا کر اپنے گھروں میں بیٹھ جاؤ اور سارا کام امراء پر ڈال دو۔ امراء کا قیام کام کرنے کیلئے نہیں ہوتا بلکہ کام لینے کیلئے ہوتا ہے۔ پس چاہئے کہ جب امراء قائم ہو جائیں تو تم قومی ذمہ واریوں کو ادا کرنے میں لگ جاؤ۔ چنانچہ فرماتا ہے۔ ۔ یعنی جب تم نے امراء کا انتخاب کر لیا تواَب سن لو کہ تم پر تین حکومتیں ہوں گی۔ اوّل اللہ کی حکومت۔ دوم رسول کی حکومت۔ سوم اُولِی الْاَمْر کی حکومت ہاں ۔ چونکہ امراء ان ذمہ واریوں کی ادائیگی کے متعلق مختلف سکیمیں تجویز کریں گے تمہیں چاہئے کہ تم ان سکیموں میں ان کی اطاعت کرو لیکن اگر کبھی تمہارا ان سے اختلاف ہو جائے تو ان اختلافات کو اللہ اور رسول کی طرف لے جاؤ۔ یعنی ان اصول کے مطابق طے کرو جو اللہ اور اس کے رسول نے مقرر کئے ہیں اور اپنی ذاتی خواہشات کی پیروی نہ کرو ۔یہ تمہارے لئے بہت بہتر اور انجام کے لحاظ سے بہت بابرکت ہوگا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر یہ امر بیان کر دیا ہے کہ جب حکومت کے اختیارات تم قابل ترین لوگوں کے سپرد کر دو تو پھر اللہ اور رسول کے احکام کے ساتھ ان حکام کے احکام کی بھی تمہیں اطاعت کرنی ہو گی اور یہ اس لئے فرمایا کہ پہلے اس نے حکومت کا مقام بتا دیا ہے کہ وہ کیسا ہونا چاہئے۔ وہ کہتا ہے کہ تمہاری ترقی کیلئے یہ امر ضروری ہے کہ تم اپنی باگ ڈور ایک ہاتھ میں دے دو مگر یاد رکھو انتخاب کرتے وقت اہلیت کو مدّنظر رکھو ایسا نہ ہو کہ تم یہ سمجھ کر کہ کسی نے تم پر احسان کیا ہوئا ہے یا کوئی تمہارا قریبی عزیز اور رشتہ دار ہے یا کسی سے تمہارے دوستانہ تعلقات ہیں اسے ووٹ دے دو۔ دنیا میں عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے اور ووٹ دیتے وقت یہ دیکھا جاتا ہے کہ ہمیں کس سے زیادہ تعلق ہے یا کون ہمارا عزیز اور دوست ہے۔ یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کون اس کام کے زیادہ اہل ہے مگر فرمایا اسلامی انتخاب میں ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہئے کہ تم کسی کو محض اس لئے منتخب کر دو کہ وہ تمہارا باپ ہے یا تمہارا بیٹا ہے یا تمہارا بھائی ہے بلکہ اس کام کا جو شخص بھی اہل ہو اُس کے سپرد کر دو خواہ اس کے ساتھ تمہارے تعلقات ہوں یا نہ ہوں۔ اس کے بعد فرماتا ہے کہ جب تم امراء کا انتخاب کر لو گے تو لازماً وہ اسلام کی ترقی کیلئے بعض سکیمیں تجویز کریں گے اس لئے ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ جو احکام بھی ان کی طرف سے نافذ ہوں وہ خواہ تمہاری سمجھ میں آئیں یا نہ آئیں ان کی اطاعت کرو۔ ہاں اگر کسی مقام پر تمہارا اُن سے اختلاف ہو جائے تو اسے خدا اور رسول کے احکام کی طرف پھرا دو۔ یہاں آ کر خلافت کے منکرین خوشی سے پھولے نہیں سماتے اور کہتے ہیں بس بات حل ہو گئی اور معلوم ہو گیا کہ خلفاء کی باتیں ماننا کوئی ایسا ضروری نہیں۔ اگر وہ شریعت کے مطابق ہوں تو انہیں مان لینا چاہئے اور اگر شریعت کے مطابق نہ ہوں تو انہیں ردّ کر دینا چاہئے۔ اس اعتراض کو میں انشاء اللہ بعد میں حل کروں گا۔
    نظامِ اسلامی کے متعلق قرآنی اصول
    سرِدست میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ نظامِ اسلامی کے متعلق قرآن کریم
    نے عام احکام بیان کئے ہیں اور ان میں مندرجہ ذیل اصول بیان ہوئے ہیں:۔
    (۱) قومی نظام ایک امانت ہوتا ہے کیونکہ اس کا اثر صرف ایک شخص پر نہیں پڑتا بلکہ ساری قوم پر پڑتا ہے۔ پس اس کے بارہ میں فیصلہ کرتے وقت اپنی اغراض کو نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ قوم کی ضرورتوں اور فوائد کو دیکھنا چاہئے۔
    (۲) اس امانت کی ادائیگی کیلئے ایک نظام کی ضرورت ہے جس کے بغیر یہ امانت ادا نہیں ہو سکتی۔ یعنی افراد فرداً فرداً اس امانت کو پورا کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے بلکہ ضرور ہے کہ اس کی ادائیگی کیلئے کوئی منصرم ہوں۔
    (۳) ان منصرموں کو قوم منتخب کرے۔
    (۴) انتخاب میں یہ مدنظر رکھنا چاہئے کہ جنہیں منتخب کیا جائے وہ ان امانتوں کو پورا کرنے کے اہل ہوں۔ اس کے سِوا اور کوئی امر انتخاب میں مدنظر نہیں ہونا چاہئے۔
    (۵) جن کے سپرد یہ کام کیا جائے گا وہ امر قومی کے مالک نہ ہوں گے بلکہ صرف منصرم ہوں گے۔ کیونکہ فرمایا یعنی ان کے سپرد اس لئے یہ کام نہ ہو گا کہ وہ باپ دادا سے اس کے وارث اور مالک ہوں گے بلکہ اس لئے کہ وہ اس خدمت کے اہل ہوں گے۔
    یہ احکام کسی خاص مذہبی نظام کے متعلق نہیں بلکہ جیسا کہ الفاظ سے ظاہر ہے عام ہیں خواہ مذہبی نظام ہو اور خواہ دُنیوی ہو اور ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ملوکیت کو اپنے نظام کا حصہ تسلیم نہیں کرتا بلکہ اسلام صرف انتخابی نظام کو تسلیم کرتا ہے اور پھر اس نظام کے بارہ میں فرماتا ہے کہ جن کے سپرد یہ کام ہو افراد کو چاہئے کہ ان کی اطاعت کریں۔
    کیا اسلام کسی خالص دُنیوی حکومت کو تسلیم کرتا ہے
    اگر کہا جائے کہ کیا اسلام کسی
    خالص دُنیوی حکومت کو بھی تسلیم کرتا ہے یا نہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام سب صحیح سامانوں کی موجودگی میں جبکہ سارے سامان اسلام کی تائید میں ہوں اور جبکہ اسلام آزاد ہو خالص دُنیوی نظام کو تسلیم نہیں کرتا۔ مگر وہ حالات کے اختلاف کو بھی نظر انداز نہیں کرتا کیونکہ ہو سکتا ہے کہ کسی وقت وہ اعلیٰ نظام جو اسلام کے مدنظر ہو نافذ نہ کیا جا سکے اس صورت میں دُنیوی نظاموں کی بھی ضرورت ہو سکتی ہے۔ مثلاً کسی وقت اگر مسلمانوں کا معتدبہ حصہ کُفّار حکومتوں کے ماتحت ہو جائے، ان کی سَلب ہو جائے، ان کی آزادی جاتی رہے اور ان کی اجتماعی قوت قائم نہ رہے تو جن ملکوں میں اسلام کا زور ہو وہ مذہبی اور دُنیوی نظام اکٹھا قائم نہیں کر سکتے۔ کیونکہ مسلمانوں کی اکثریت اس کی اتباع نہیں کر سکتی۔ پس اس مجبوری کی وجہ سے ان ملکوں میں خالص دُنیوی نظام کی اجازت ہو گی جو انہی اصول پر قائم ہو گا جو اسلام نے تجویز کئے ہیں اور جن کا قبل ازیں ذکر کیا جا چکا ہے۔
    خالص دُنیوی نظام کا مفہوم
    خالص دُنیوی نظام سے یہ مراد نہیں کہ وہ نظام اسلامی احکام کو جو حکومت سے تعلق رکھتے ہیں نافذ نہیں
    کرے گا بلکہ مراد یہ ہے کہ مذہبی طور پر اس کے احکام سب عالمِ اسلامی پر واجب نہ ہوں گے کیونکہ مسلمانوں کی اکثریت سیاسی حالات کی وجہ سے ان کی پابندی نہ کر سکے گی اور نہ اس نظام کے قیام میں مسلمانوں کی اکثریت کا ہاتھ ہو گا۔
    پس ایسے وقت میں جائز ہو گا کہ ایک خالص مذہبی نظام الگ قائم کیا جائے بلکہ جائز ہی نہیں ضروری ہو گا کہ ایک خالص مذہبی نظام علیحدہ قائم کر لیا جائے جس کا تعلق اس اسلامی نظام سے ہو جس کا تعلق کسی حکومت سے نہ ہو بلکہ اسلام کی روحانی تنظیم سے ہو تاکہ غیر حکومتیں دخل اندازی نہ کریں اور چونکہ وہ صرف روحانی نظام ہو گا اور حکومت کے کاروبار میں وہ دخل نہ دے گا اس لئے ایسا نظام غیر حکومتوں میں بسنے والے مسلمانوں کو اکٹھا کر سکے گا اور اسلام پراگندگی سے بچ جائے گا۔
    اگر مسلمان اس آیت کے مفہوم پر عمل کرتے تو یقینا جو تنزّل مسلمانوں کو آخری زمانہ میں دیکھنا نصیب ہوئا اس کا دیکھنا انہیں نصیب نہ ہوتا۔
    مسلمانوں کی ایک افسوسناک غلطی
    مسلمانوں سے تنزل کے وقت میں یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے سمجھا کہ اگر وہ
    ساری دنیا میںایک ایسا نظام قائم نہیں کر سکے جو دینی اور دُنیوی امور پر مشتمل ہو تو اُن کیلئے خالص دینی نظام کی بھی کوئی صورت نہیں اور انہوں نے یہ سمجھا کہ یہ دونوں نظام کسی صورت میں بھی الگ نہیں ہو سکتے اور جب ایک نظام ان کیلئے ناممکن ہو گیا تو انہوں نے دوسرے نظام کو بھی ترک کر دیا حالانکہ مسلمانوں کا فرض تھا کہ جب ان میں سے خلافت جاتی رہی تھی تو وہ کہتے کہ آؤ جو قومی مسائل ہیں ان کیلئے ہم ایک مرکز بنا لیں اور اس کے ماتحت ساری دنیا میں اسلام کو پھیلائیں۔ چنانچہ وہ اس مرکز کے ماتحت دنیا بھر میں تبلیغی مشن قائم کرتے، لوگوں کے اخلاق کی درستی کی کوشش کرتے، لوگوں کو قرآن پڑھاتے، غیر مسلموں کو اسلام میں داخل کرتے اور جو مشترکہ قومی مسائل ہیں ان میں مشترکہ جدوجہد اور کوشش سے کام لیتے مگر انہوں نے سمجھا کہ اب ان کیلئے کسی خالص دینی نظام کے قیام کی کوئی صورت ہی باقی نہیں رہ گئی۔ نتیجہ یہ ہوئا کہ وہ روز بروز تنزّلمیں گِرتے چلے گئے۔ اگر وہ دینی اور دُنیوی امور پر مشتمل نظام کے قیام میں ناکام رہنے کے بعد خالص دینی نظام قائم کر لیتے تو وہ بہت بڑی تباہی سے بچ جاتے اور اس کی وجہ سے آج شاید تمام دنیا میں اسلام اتنا غالب ہوتا کہ عیسائیوں کا نام و نشان تک نہ ہوتا مگر چونکہ انہیں یہ غلطی لگ گئی کہ اگر وہ ساری دنیامیں ایک ایسا نظام قائم نہیں کر سکے جو دینی اور دُنیوی دونوں امور پر مشتمل ہو تو اب ان کیلئے کسی خالص دینی نظام کے قیام کی کوئی صورت ہی نہیں اس لئے جب ایک نظام ان کے ہاتھ سے جاتا رہا تو دوسرے نظام کو بھی انہوں نے ترک کر دیا۔
    دوسری غلطی
    دوسری غلطی ان سے یہ ہوئی کہ انہوں نے یہ سمجھا انتخاب صرف اس نظام کیلئے ہے جو سب مسلمانوں کے دینی اور دُنیوی امور پر حاوی ہوحالانکہ
    ان آیات میں خداتعالیٰ نے واضح طور پر بتلا دیا تھا کہ انتخاب خالص دُنیوی نظام میں بھی اسی طرح ضروری ہے جس طرح دینی و دُنیوی مشترکہ نظام میں۔ اگر اور نہیں تو وہ اتنا ہی کر لیتے کہ جب بھی کسی کو بادشاہ بناتے تو انتخاب کے بعد بناتے۔ تب بھی وہ بہت سی تباہی سے بچ سکتے تھے مگر انہوں نے انتخاب کے طریق کو بھی ترک کر دیا حالانکہ اگر وہ اس نکتہ کو سمجھتے تو وہ ملوکیت کا غلبہ جو اسلام میں ہؤا اور جس نے اسلامی حکومت کو تباہ کر دیا کبھی نہ ہوتا اور مسلمانوں کی کوششیں اسلامی حکومت کے قیام کیلئے جاری رہتیں۔ اور مسلمان ڈیما کریسی (DEMOCRACY) کی صحیح ترقی کے پہلے اور سب سے بہتر علمبردار ہوتے۔
    اختلاف کی صورت میں ایک خالص مذہبی نظام قائم کرنے کا ثبوت
    یہ جو مَیں نے کہا ہے کہ ایسے حالات میں کہ اختلاف پیدا ہو چکا ہے ایک خالص مذہبی نظام قائم کرنے کا اس
    آیت سے ثبوت ملتا ہے۔ وہ اس طرح ہے کہ اس آیت میں سب مسلمان مخاطب ہیں اور انہیں ہر وقت کی اطاعت کا حکم ہے اس میں کسی زمانہ کی تخصیص نہیں کہ فلاں زمانہ میں کی اطاعت کرو اور فلاں زمانہ میں نہ کرو بلکہ ہر حالت اور ہر زمانہ میں ان کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر کوئی کہے کہ کی اطاعت کا حکم محض وقتی ہے تو ساتھ ہی اسے یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کا حکم بھی محض وقتی ہے کیونکہ خدا نے اس سے پہلے کا حکم دیا ہے۔ لیکن اگر خدا اور رسول کے احکام کی اطاعت ہر وقت اور ہر زمانہ میں ضروری ہے تو معلوم ہوئا کہ کی اطاعت کا حکم بھی ہر حالت اور ہر زمانہ کیلئے ہے اور دراصل اس آیت کے ذریعہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ کسی نہ کسی نظام کی پابندی ان کیلئے ہر وقت لازمی ہو گی۔ پس جس طرح دوسرے احکام میں اگر ایک حصہ پر عمل نہ ہو سکے تو دوسرے حصے معاف نہیں ہو سکتے، جو جہاد نہ کر سکے اس کیلئے نماز معاف نہیں ہو سکتی، جو وضو نہ کر سکے اس کیلئے رکوع اور سجدہ معاف نہیں ہو سکتا، جو کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھ سکے اس کیلئے بیٹھ کر یا لیٹ کر یا اشاروں سے نماز پڑھنا معاف نہیں ہو سکتا، اسی طرح اگر سارے عالمِ اسلامی کا ایک سیاسی نظام نہ ہو سکے تو مسلمان کی اطاعت کے ان حصوں سے آزاد نہیں ہو سکتے جن پر وہ عمل کر سکتے تھے۔ جیسے اگر کوئی حج کیلئے جائے اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کر سکے تو سعی اس کیلئے معاف نہیں ہو جائے گی بلکہ اس کیلئے ضروری ہو گا کہ کسی دوسرے کی پیٹھ پر سوار ہو کر اس فرض کو ادا کرے۔ پس مسلمانوں سے یہ ایک شدید غلطی ہوئی کہ انہوں نے سمجھ لیا کہ چونکہ ایک نظام ان کیلئے ناممکن ہو گیا ہے اس لئے دوسرا نظام انہیں معاف ہو گیا ہے۔ حالانکہ خالص مذہبی نظام مختلف حکومتوں میں بَٹ جانے کی صورت میں بھی ناممکن نہیں ہو جاتا جیسا کہ آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ظہور سے اللہ تعالیٰ نے پیدا کر دیاہے اگر لوگ ہم سے کہتے ہیں کہ تم چور کا ہاتھ کیوں نہیں کاٹتے؟ تو ہم کہتے ہیں کہ یہ ہمارے بس کی بات نہیں لیکن جن امور میں ہمیں آزادی حاصل ہے ان امور میں ہم اپنی جماعت کے اندر اسلامی نظام کے قیام کی کوشش کرنا اپنا پہلا اور اہم فرض سمجھتے ہیں۔ پس اگر مسلمان بھی سمجھتے کہ ہر وقت اور ہر زمانہ میں کی اطاعت ان پر واجب ہے اور جن حصوں میں کی اطاعت ان کیلئے ناممکن تھی ان کو چھوڑ کر دوسرے حصوں کیلئے وہ نظام قائم رکھتے تو وہ اس حکم کو پورا کرنے والے بھی رہتے اور اسلام کبھی اس حالت کو نہ پہنچتا جس کو وہ اب پہنچا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کا شاید یہ منشاء تھا کہ اسلامی حکم کا یہ حصہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت کے ذریعہ سے عمل میں آئے اور یہ فضیلت اس ۴۱؎ کی جماعت کو حاصل ہو کیونکہ آخر ہمارے لئے بھی کوئی نہ کوئی فضیلت کی بات رہنی چاہئے۔ صحابہؓ نے تو یہ فضیلت حاصل کر لی کہ انہوں نے ایک دینی و دُنیوی مشترکہ نظام اسلامی اصول پر قائم کیا مگر جو خالص مذہبی نظام تھا اس کے قیام کی طرف اس نے ہمیںتوجہ دلا دی۔ گویا اس آیت کے ایک حصے پر صحابہؓ نے عمل کیا اور دوسرے حصے پر ہم نے عمل کر لیا۔ پس ہم بھی صحابہؓ میں جا ملے۔ خلاصہ یہ کہ اس آیت میں اسلامی نظام کے قیام کے اصول بیان کئے گئے ہیں اور یہ حکم دیا گیا ہے کہ (۱) اسلامی نظام انتخاب پر ہو۔ (۲)یہ کہ مسلمان ہر زمانہ میں کے تابع رہیں مگر افسوس کہ مسلمانوں نے اپنے تنزّل کے زمانہ میں دونوں اصولوں کو بُھلا دیا۔ جہاں ان کا بس تھا انہوں نے انتخاب کو قائم نہ رکھا اور جو امور ان کے اختیار سے نکل گئے تھے ان کو چھوڑ کر جو امور ان کے اختیار میں تھے ان میں بھی انہوں نے کا نظام قائم کر کے ان کی اطاعت سے وحدتِ اسلامی کو قائم نہ رکھا اور ان لغو بحثوں میں پڑ گئے کہ انہیں صرف کی اطاعت کرنی چاہئے۔ اور اس طرح جو اصل غرض اس حکم کی تھی وہ نظر انداز ہو گئی حالانکہ جو امر ان کے اختیار میںنہ تھا اس میں ان پر کوئی گرفت نہ تھی اگر وہ اس حصہ کو پورا کرتے جو ان کے اختیار میں تھا۔
    اُولِی الْاَمْرِمِنْکُمْ کے متعلق ایک اعتراض کا جواب
    اس جگہ شاید کوئی اعتراض کرے کہ احمدیہ جماعت کی تعلیم تو یہ ہے کہمیں غیر مذاہب کے بھی شامل ہیں
    اور اس آیت کے ماتحت غیر مسلم حکام کی اطاعت بھی فرض ہے۔ مگر اب جو معنی کئے گئے ہیں اس کے ماتحت غیر مسلم آ ہی نہیں سکتے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ درست ہے لیکن یہ معنی صرف کے ٹکڑے سے نکلتے ہیں۔ یعنی جب ہم کہتے ہیں کہ غیرمسلم بھی اس میں شامل ہیں تو اس وقت ہم سارے رکوع کو مدنظر نہیں رکھتے بلکہ آیت کے صرف ایک ٹکڑہ سے اپنے دعوے کا استنباط کرتے ہیں لیکن یہ ٹکڑہ ساری آیتوں سے مل کر جو معنی دیتا ہے انہیں باطل نہیں کیا جا سکتا۔ بیشک دُنیوی امور میں ہر کی اطاعت واجب ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ حکم بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ہر زمانہ میں کی اطاعت جو مسلمانوں میں سے ان کیلئے منتخب ہوں ان پر واجب ہے۔
    اُولِی الْاَمْرِ سے اختلاف کی صورت میں رُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ کے کیا معنی ہیں؟
    اب میں اس مضمون کو لیتا ہوں جس کے بیان کرنے کا میں پیچھے وعدہ
    کر آیا ہوں کہبعض لوگ اس مقام پر یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اُوْلِی الْاَمْرِ سے اختلاف کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اطاعت واجب نہیں بلکہ اختلاف کی صورت میں ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ خدا اور رسول کا کیا حکم ہے؟
    اس کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ معنی کئے جائیں تو آیت بالکل بے معنی ہو جاتی ہے۔ کیونکہ ہر شخص اپنے خیال کو درست سمجھا کرتا ہے۔ پس اگر اس آیت کا یہی مفہوم لیا جائے تو اطاعت کبھی ہو ہی نہیں سکتی۔ آخر وہ کونسا امر ایسا نکلے گا جسے تمام لوگ متفقہ طور پر خدا اور رسول کا حکم سمجھیں گے۔ یقینا کچھ لوگوں کو اختلاف بھی ہوئا کرتا ہے۔ پس ایسی صورت میں اگر ہر شخص کو یہ اختیار ہو کہ وہ حکم سنتے ہی کہہ دے کہ یہ خدا اور رسول کی تعلیم کے خلاف ہے تو اس صورت میں خلیفہ صرف اپنے آپ پر ہی حکومت کرنے کیلئے رہ جائے ، کسی اور پر اس نے کیا حکومت کرنی ہے۔ بِالخصوص موجودہ زمانہ میں تو ایسا ہے کہ آجکل ماننے والے کم ہیں اور مجتہد زیادہ۔ ہر شخص اپنے آپ کو اہل الرائے خیال کرتا ہے۔ اس صورت میں خلیفہ تو اپنا بوریا بچھا کر الگ شور مچاتا رہے گا کہ یوں کرو اور لوگ یہ شور مچاتے رہیں گے کہ پہلے ان حکموں کو قرآن اور حدیث کے مطابق ثابت کرو، تب مانیں گے ورنہ نہیں اور یہ تو ظاہر ہے کہ دنیا میں کوئی دینی امر ایسا نہیں جسے ساری دنیا یکساں طور پرمانتی ہو بلکہ ہر بات میں کچھ نہ کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔
    لطیفہ مشہور ہے کہ ایک جاہل شخص تھا جسے مولویوں کی مجلس میں بیٹھنے کا بڑا شوق تھا مگر چونکہ اسے دین سے کوئی واقفیت نہ تھی اس لئے جہاں جاتا لوگ دھکّے دے کر نکال دیتے۔ ایک دفعہ اس نے کسی دوست سے ذکر کیا کہ مجھے علماء کی مجلس میں بیٹھنے کا بڑا شوق ہے مگر لوگ مجھے بیٹھنے نہیں دیتے میں کیا کروں؟ اس نے کہا ایک بڑا سا جُبّہ اور پگڑی پہن لو۔ لوگ تمہاری صورت کو دیکھ کر خیال کریں گے کہ کوئی بہت بڑا عالم ہے اور تمہیں علماء کی مجلس میں بیٹھنے سے نہیں روکیں گے۔ جب اندر جا کر بیٹھ جاؤ اور تم سے کوئی بات پوچھی جائے تو کہہ دینا کہ اختلافی مسئلہ ہے بعض نے یوں لکھا ہے اور بعض نے اس کے خلاف لکھا ہے اور چونکہ مسائل میں کثرت سے اختلاف پایا جاتا ہے اس لئے تمہاری اس بات سے کسی کا ذہن اِدھر منتقل نہیں ہو گا کہ تم کچھ جانتے نہیں۔ چنانچہ اس نے ایک بڑا سا جُبّہ پہنا، پورے تھان کی پگڑی سر پر رکھی اور ہاتھ میں عصا لے کر اس نے علماء کی مجالس میں آنا جانا شروع کر دیا۔ جب کسی مجلس میں بیٹھتا تو سر جُھکا کر بیٹھا رہتا۔ لوگ کہتے کہ جناب آپ بھی تو کچھ فرمائیں۔ اِس پر وہ گردن ہِلا کر کہہ دیتا اس بارہ میں بحث کرنا لغو ہے۔ علمائے اسلام کا اس کے متعلق بہت کچھ اختلاف ہے کچھ علماء نے تو اس طرح لکھا ہے جس طرح یہ مولانا فرماتے ہیں اور کچھ علماء نے اُس طرح لکھا ہے جس طرح وہ مولانا فرماتے ہیں۔ لوگ سمجھتے کہ اس شخص کا مطالعہ بڑا وسیع ہے۔ چنانچہ کہتے بات تو ٹھیک ہے جھگڑا چھوڑو اور کوئی اور بات کرو۔ کچھ مدت تو اسی طرح ہوتا رہا اور علماء کی مجالس میں اس کی بڑی عزت و تکریم رہی۔ مگر ایک دن مجلس میں یہ ذکر چل پڑا کہ زمانہ ایسا خراب آ گیا ہے کہ تعلیم یافتہ طبقہ خدا کا انکار کرتا چلا جاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ اگر خدا ہے تو کوئی دلیل دو۔ اس پر لوگوں نے حسبِ دستور ان سے بھی کہا کہ سنایئے مولانا آپ کا کیا خیال ہے؟ وہ کہنے لگا بحث فضول ہے کچھ علماء نے لکھا ہے کہ خدا ہے اور کچھ علماء نے لکھا ہے کہ خدا نہیں۔ یہ سنتے ہی لوگوں میں اس کا بھانڈا پھوٹ گیا اور اُنہوں نے دھکّے دے کر اسے مجلس سے باہر نکال دیا۔ تو دنیا میں اس کثرت سے اختلاف پایا جاتا ہے کہ اگر کے یہ معنی کئے جائیں کہ جب بھی خلیفہ کے کسی حکم سے کسی کو اختلاف ہو اس کا فرض ہے کہ وہ خلیفہ کو دھکّا دے کر کہے کہ تیرا حکم خدا اور رسول کے احکام کے خلاف ہے تو اس کو اتنے دھکّے ملیں کہ ایک دن بھی خلافت کرنی اس کیلئے مشکل ہو جائے۔ پس یہ معنی عقل کے بالکل خلاف ہیں۔ ہماری جماعت میں سے بھی بعض لوگوں کو اس آیت کا صحیح مفہوم نہ سمجھنے کی وجہ سے ٹھوکر لگی ہے اگر وہ صحیح معنی سمجھ لیتے تو ان کو کبھی ٹھوکر نہ لگتی۔
    اُولِی الْاَمْرِمِنْکُمْ والی آیت دُنیوی حکام اور خلفائے راشدین دونوں پر حاوی ہے
    وہ صحیح معنی کیا ہیں؟ ان کو معلوم کرنے کیلئے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ آیت
    عام ہے اس میںخالص دُنیوی حکام بھی شامل ہیں اور خلفائے راشدین بھی شامل ہیں پس یہ آیت خالص اسلامی خلفاء کے متعلق نہیں بلکہ دُنیوی حکام کے متعلق بھی ہے۔
    اب اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ یہ آیت اپنے مطالب کے لحاظ سے عام ہے اور اس میں خالص دُنیوی حکام اور خلفائے راشدین دونوں شامل ہیں یہ سمجھ لو کہ اِن دونوں کے بارہ میں قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام الگ الگ ہیں۔ جو خالص دُنیوی حکام ہیں ان کیلئے شریعتِ اسلامی کے الگ احکام ہیں۔ اور جو خلفائے راشدین ہیں ان کیلئے الگ احکام ہیں۔ پس جب خدا نے یہ کہا کہ تو اس کے یہ معنی نہیں کہ جب تمہارا سے جھگڑا ہو تو تم یہ دیکھنے لگ جاؤ کہ خدا اور رسول کا حکم تم کیا سمجھتے ہو بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ چونکہ اس عام حکم میں خلفائے راشدین بھی شامل ہیں اور دُنیوی حکام بھی اس لئے جب اختلاف ہو تو دیکھو کہ وہ حکام کس قسم کے ہیں۔ اگر تو وہ خلفائے راشدین ہیں تو تم ان کے متعلق وہ عمل اختیار کرو جواللہ تعالیٰ نے خلفائے راشدین کے بارہ میں بیان فرمایا ہے اور اگر وہ حکام دُنیوی ہیں تو ان کے بارہ میں تم ان احکام پر عمل کرو جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے ان کے متعلق بیان کئے ہیں۔
    دونوں کے متعلق الگ الگ احکام
    اَب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا اِن دونوں قسم کے کے متعلق اللہ تعالیٰ اور
    اس کے رسول نے الگ الگ قسم کے احکام بیان کئے ہیں یا نہیں۔ اگر کئے ہیں تو وہ کیا ہیں۔ سو ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن دونوں قسم کے کی نسبت دومختلف احکام بیان کئے ہیں جو یہ ہیں:۔
    (۱) عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے بَایَعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِی الْعُسْرِ وَالْیُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَ الْمَکْرَہِ وَ عَلٰی اَثَرَۃٍ عَلَیْنَا وَ عَلٰی اَنْ لاَّنُنَازِعَ الْاَمْرَ اَھْلَہٗ وَ عَلٰی اَنْ نَّقُوْلَ بِالْحَقِّ فَاَیْنَمَا کُنَّا لَانَخَافُ فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِمِ وَ فِیْ رِوَایَۃٍ اَنْ لاَّنُنَازِعَ الْاَمْرَ اَھْلَہٗ اِلاَّ اَنْ تَرَوْا کُفْراً بَوَاحًا عِنْدَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ فِیْہِ بُرْھَانٌ مَتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔ ۴۲؎
    یعنی ہم نے رسول کریم ﷺ کی اِن شرائط پر بیعت کی کہ جو ہمارے حاکم مقرر ہوں گے ان کے احکام کی ہم ہمیشہ اطاعت کریں گے خواہ ہمیں آسانی ہو یا تنگی اور چاہے ہمارا دل ان احکام کے ماننے کو چاہے یا نہ چاہے بلکہ خواہ ہمارے حق وہ کسی اور کو دلا دیں پھر بھی ہم ان کی اطاعت کریں گے۔ اسی طرح ہماری بیعت میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ جب ہم کسی کو اہل سمجھ کر اس کے سپرد حکومت کا کام کر دیں گے تو اس سے جھگڑا نہیں کریں گے اور نہ اس سے بحث شروع کر دیں گے کہ تم نے یہ حکم کیوں دیا وہ دینا چاہئے تھا۔ ہاں چونکہ ممکن ہے کہ وہ حکام کبھی کوئی بات دین کے خلاف بھی کہہ دیں اس لئے اگر ایسی صورت ہو تو ہمیں ہدایت تھی کہ ہم سچائی سے کام لیتے ہوئے انہیں اصل حقیقت سے آگاہ کر دیں اور خدا کے دین کے متعلق کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں۔ ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ ہدایت تھی کہ جو لوگ حکومت کے اہل ہوں اور ان کے سپرد یہ کام تمہاری طرف سے ہو چکا ہو اُن سے تم کسی قسم کا جھگڑا نہ کرو۔ مگر یہ کہ تم ان سے کھلا کھلا کفر صادر ہوتے ہوئے دیکھ لو۔ ایسی حالت میں جبکہ وہ کسی کُھلے کفر کا ارتکاب کریں اور قرآن کریم کی نص صریح تمہاری تائید کر رہی ہوں تو تمہارا فرض ہے کہ تم اس خلافِ مذہب بات میں ان کی اطاعت کرنے سے انکار کر دواور وہی کرو جس کے کرنے کا تمہیں خدا نے حکم دیا ہے۔
    اسی طرح ایک اور حدیث میں آتا ہے عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکِ الْاَشْجَعِیِّ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ خِیَارُاَئِمَّتِکُمُ الَّذِیْنَ تُحِبُّوْنَھُمْ وَیُحِبُّوْنَکُمْ وَتُصَلُّوْنَ عَلَیْھِمْ وَیُصَلُّوْنَ عَلَیْکُمْ وَشِرَارُاَئِمَّتِکُمُ الَّذِیْنَ تَبْغَضُوْنَھُمْ وَ یَبْغَضُوْنَکُمْ وَتَلْعَنُوْنَھُمْ وَیَلْعَنُوْنَکُمْ قَالَ قَالُوْا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَفَلا نُنَابِذُھُمْ عِنْدَ ذٰلِکَ قَالَ لَا مَا اَقَامُوْا فِیْکُمُ الصَّلٰوۃَ قَالَ لَا مَا اَقَامُوافِیْکُمْ الصَّلٰوۃَ اِلاَّ مَنْ وُلِیَ عَلَیْہِ وَالٍ فَرَاٰہُ یَاْتِیْ شَیْئًا مِنْ مَّعْصِیَۃِ اللّٰہِ فَلْیَکْرَہْ مَا یَاْتِیْ مِن مَّعْصِیَۃِ اللّٰہِ وَلَا یَنْزِعَنَّ یَدًا مِنْ طَاعَۃٍ ۴۳؎
    حضرت عوف بن مالک اشجعی سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺنے فرمایا۔ تمہارے بہترین حکام وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں۔ تم ان پر درود بھیجو اور ان کی ترقیات کیلئے دعائیں کرو اور وہ تم پر درود بھیجیں اور تمہاری ترقیات کیلئے دعائیں کریں۔ اور بدترین حُکّام وہ ہیں جن سے تم بغض رکھو اور وہ تم سے بغض رکھیں۔ تم ان پر *** ڈالو اور وہ تم پر *** ڈالیں۔ راوی کہتا ہے کہ ہم نے کہا۔ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! جب ایسے حکمران ہمارے سروں پر مسلّط ہو جائیں تو کیوں نہ ہم ان کا مقابلہ کر کے انہیں حکومت سے الگ کر دیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لَامَا اَقَامُوا فِیْکُمُ الصَّلٰوۃَ قَالَ لَامَا اَقَامُوْا فِیْکُمْ الصَّلٰوۃ۔ ہرگز نہیں۔ ہرگز نہیں جب تک وہ نماز اور روزہ کے متعلق تم پر کوئی پابندی عائد نہ کریں اور تمہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت سے نہ روکیں تم ان کی اطاعت سے ہرگز منہ نہ موڑو۔ اِلاَّ مَنْ وُلِیَ عَلَیْہِ وَالٍ فَرَاٰہُ یَاْتِیْ شَیْئًا مِنْ مَّعْصِیَۃِ فَلْیَکُرَہْ مَایَأْتِیْ مِنْ مَّعْصِیَۃِ اللّٰہِ وَلَا یَنْزِعَنَّ یَدًا مِنْ طَاعَتِہٖ۔ سنو! جب تم پر کسی کو حاکم بنایا جائے اور تم دیکھو کہ وہ بعض امور میں اللہ تعالیٰ کی معصیت کا ارتکاب کر رہا ہے تو تم اپنے دل میں اس کے ان افعال سے سخت نفرت رکھو مگر بغاوت نہ کرو۔
    دوسری حدیث میں اس سے یہ زائد حکم ملتا ہے کہ اگر کفر بواح اس سے ظاہر ہو تو اِس حالت میں اس کے خلاف بغاوت بھی کی جا سکتی ہے۔
    خلفائے راشدین کی سنت پر ہمیشہ قائم رہنے کا حکم
    اس کے مقابلہ میں احادیث میں عرباض
    بن ساریہؓ سے ہمیں ایک اور روایت بھی ملتی ہے۔ وہ کہتے ہیں صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ ذَاتَ یَوْمٍ ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَیْنَا فَوَعَظَنَا مَوْعِظَۃً بَلِیْغَۃً ذَرَفَتْ مِنْھَا الْعُیُوْنُ وَوَجِلَتْ مِنْھَا الْقُلُوْبُ فَقَالَ قَائِلٌ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَانَّ ھٰذِہٖ مَوْعِظَۃَ مُوَدِّعٍ فَمَاذَا تُعَھِّدُ اِلَیْنَا۔ فَقَالَ اُوْصِیْکُمْ بِتَقْوَی اللّٰہِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ وَاِنْ کَانَ عَبْداً حَبْشِیًّا فَاِنَّہٗ مَنْ یَّعِشْ مِنْکُمْ بَعْدِیْ فَسَیَرٰی اِخْتِلَافًا کَثِیْرًا فَعَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَھْدِیِّیْنَ فَتَمَسَّکُوْا بِھَا وَعَضُّوْا عَلَیْھَا بِالنَّوَاجِذِ وَاِیَّاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْاُمُوْرِ فَاِنَّ کُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالۃٌ۔۴۴؎
    عرباض بن ساریہؓ کہتے ہیں۔ ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی اور جب نماز سے فارغ ہو چکے تو آپؐ نے ہمیں ایک وعظ کیا۔ وہ وعظ ایسا اعلیٰ درجہ کا تھا کہ اس سے ہمارے آنسو بہنے لگ گئے اور دل کانپنے لگے۔ اِس پر ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! معلوم ہوتا ہے یہ الوداعی وعظ ہے۔ آپ ہمیں کوئی وصیت کر دیں۔ آپؐ نے فرمایا۔ اُوْصِیْکُمْ بِتَقْوَی اللّٰہِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ وَاِنْ کَانَ عَبْداً حَبْشِیًّا میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ تم اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور اطاعت اور فرمانبرداری کو اپنا شیوہ بناؤ خواہ کوئی حبشی غلام ہی تم پر حکمران کیوں نہ ہو۔ جو لوگ میرے بعد زندہ رہیں گے وہ لوگوں میں بہت بڑا اختلاف دیکھیں گے پس ایسے وقت میں میری وصیت تمہیں یہی ہے کہ عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدْیْنَ الْمَھْدِیِّیْنَتم میری سنت اور میرے بعد میں آنے والے خلفاء الراشدین کی سنت کو اختیار کرنا۔ تَمَسَّکُوْابِھَا تم اس سنت کو مضبوطی سے پکڑ لینا وَعَضُّوْا عَلَیْھَا بِالنَّوَاجِذِ اور جس طرح کسی چیز کو دانتوںسے پکڑ لیا جاتا ہے اسی طرح اس سنت سے چمٹے رہنا اور کبھی اس راستے کو نہ چھوڑنا جو میرا ہے یا میرے خلفائے راشدین کا ہو گا۔ وَاِیَّاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْاُمُوْرِ اور تم نئی نئی باتوں سے بچتے رہنا فَاِنَّ کُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالۃٌکیونکہ ہر وہ نئی بات جو میری اور خلفاء راشدین کی سنت کے خلاف ہو گی وہ بدعت ہو گی اور بدعت ضلالت ہوئا کرتی ہے۔
    ان دونوں قسم کے حوالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کے تسلیم کئے ہیں۔ ایک دُنیوی اور ایک دینی اور اسلامی۔ دُنیوی امراء کے متعلق اطاعت کا حکم ہے مگر ساتھ ہی کُفربواح کا جواز بھی رکھا ہے اور اس صورت میں بشرطیکہ برہان ہو قیاس نہ ہو ان کُفریہ اُمور میں ان کی اطاعت سے باہر جانے کی نہ صرف اجازت دی ہے بلکہ حکم دیا ہے۔ گو بعض اسلامی علماء نے جیسے حضرت محی الدین ابن عربی ہیں اس بارہ میں بھی اتنی احتیاط کی ہے کہ وہ کہتے ہیں ایسی صورت میں بھی صرف علیحدگی کا اعلان کرنا جائز ہے بغاوت کرنا پھر بھی جائز نہیں۔ مگر ایک دینی اور اسلامی بتائے ہیں جن کے بارہ میں ہمیں حَکَم نہیں بنایا بلکہ انہیں اُمت پر حَکَم بنایا ہے اور فرمایا ہے جو کچھ وہ کریں وہ تم پر حجت ہے اور ان کے طریق کی اتباع اسی طرح ضروری ہے جس طرح میرے حکم کی۔
    پس حاکم دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جو دُنیوی ہیں اور جن کے متعلق اس بات کا امکان ہے کہ وہ کُفر کا ارتکاب کر سکتے ہیں۔ ان کے متعلق تو یہ حکم دیا کہ تم ان کی اطاعت کرتے چلے جاؤ، ہاں جب ان سے کُفربواح صادر ہو تو الگ ہو جاؤ۔ مگر دوسرے حکام وہ ہیں جو غلطی کر ہی نہیں سکتے ان کے متعلق یہ ہدایت کی گئی ہے کہ ہمیشہ ان کی سنّت اور طریق کو اختیار کرنا چاہئے اور کبھی ان کے راستہ سے علیحدہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ اگر کبھی تمہیں یہ شبہ پڑ جائے کہ تمہارے عقائد درست ہیں یا نہیں تو تم اپنے عقائد کو خلفائے راشدین کے عقائد کے ساتھ ملاؤ۔ اگر مل جائیں تو سمجھ لو کہ تمہارا قدم صحیح راستہ پر ہے اور اگرنہ ملے تو سمجھ لو کہ تم غلط راستے پر جارہے ہو۔
    خلفائے راشدین اُمت کیلئے ایک میزان ہیں
    گویا خلفائے راشدین ایک میزان ہیں جن سے دوسرے
    لوگ یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کا قدم صحیح راستہ پر ہے یا اس سے منحرف ہو چکا ہے۔ جیسے دو سیر کا بٹہ ایک طرف ہو اور مولیاں گاجریں دوسری طرف تو ہر شخص ان مولیوں، گاجروں کو ہی دوسیر کے بٹہ کے مطابق وزن کرے گا یہ نہیں ہو گا کہ اگر پانچ سات مولیاں کم ہوں تو بٹے کو اُٹھا کر پھینک دے اور کہہ دے کہ وہ صحیح نہیں۔ اسی طرح رسول کریم ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ تم خلفائے راشدین کے اعمال کا جائزہ لو اور دیکھو کہ وہ تمہاری عقل کے اندر آتے ہیں یا نہیں اور وہ تمہاری سمجھ کے مطابق خدا اور رسول کے احکام کے مطابق ہیں یا نہیں بلکہ یہ فرمایا ہے کہ اگر تمہیں اپنے متعلق کبھی یہ شبہ پیدا ہو جائے کہ تمہارے اعمال خدا اور اس کے رسول کی رضا کے مطابق ہیں یا نہیں تو تم دیکھو کہ ان اعمال کے بارہ میں خلفائے راشدین نے کیا کہا ہے۔ اگر وہ خلفائے راشدین کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق ہوں گے تو درست ہوں گے اور اگر وہ ان کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق نہ ہوں گے تو غلط ہوں گے۔
    پس خدا اور رسول کا وہ حکم جس کی طرف بات کو لوٹانے کا ارشاد ہے یہی احکام ہیں جن کو میں نے بیان کیا ہے۔ یعنی تم یہ دیکھو کہ جن حکام سے تمہیں اختلاف ہے وہ کس قسم سے تعلق رکھتے ہیں۔ آیا وہ دُنیوی حُکّام میں سے ہیں یا خلفائے راشدین میں سے۔ اگر وہ دُنیوی حُکّام ہیں تو حتیّٰ الوسع ان کی اطاعت کرو۔ ہاں اگر وہ کسی نص صریح کے خلاف عمل کرنے کا حکم دیں تو تمہارا حق ہے کہ ان کی غلطی پر انہیں متنبہ کرو، انہیں راہِ راست پر لانے کی کوشش کرو اور انہیں بتاؤ کہ تم غلط راستے پر جا رہے ہو اور اگر نہ مانیں اور کا ارتکاب کریں مثلاً نماز پڑھنے سے روک دیں یا روزے نہ رکھنے دیں تو تمہیں اس بات کا اختیار ہے کہ ان کے اس قسم کے احکام ماننے سے انکار کر دو اور کہو کہ ہم نمازیں پڑھیں گے، ہم روزے رکھیں گے، تم جو جی میں آئے کر لو لیکن اگر وہ خلفائے راشدین ہوں تو پھر سمجھ لو کہ وہ غلطی نہیں کر سکتے۔ وہ جو کچھ کریںگے اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق ہو گا اور اللہ تعالیٰ انہیں اُسی راہ پر چلائے گا جو اس کے نزدیک درست ہو گا۔ پس ان پر حَکَم بننے کی بجائے اُن کو اپنے اوپر حَکَم بناؤ اور ان سے اختلاف کر کے اللہ تعالیٰ سے اختلاف کرنے والے مت بنو۔
    آیتِ استخلاف پر بحث
    اس عام حکم کے بعد اَب میں ان احکام کو لیتا ہوں جو خالص دینی اسلامی نظام کے متعلق ہیں۔ اللہ تعالیٰ سورۂ نورمیں
    فر ماتا ہے

    ۴۵؎
    ان آیات میں پہلے اللہ اور رسول کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے اور پھر مسلمانوں سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اگر وہ اطاعت میں کامل ہوئے تو اللہ تعالیٰ انہیں مطاع بنا دے گا اور پہلی قوموں کی طرح ان کو بھی زمین میں خلیفہ بنائے گا اور اُس وقت ان کا فرض ہو گا کہ وہ نمازیں قائم کریں اور زکوٰتیں دیں اور اس طرح اللہ کے رسول کی اطاعت کریں۔ یعنی خلفاء کے ساتھ دین کی تمکین کر کے وہ اطاعت ِرسول کرنے والے ہی ہوں گے گویا مَنْ یُّطِعِ الْاَمِیْرَ فَقَدْ اَطَا عَنِیْ وَمَنْ یَّعْصِ الْاَمِیْرَ فَقَدْ عَصَانِیْکا نکتہ بیان کیا کہ اس وقت رسول کی اطاعت اسی رنگ میں ہو گی کہ اشاعت و تمکینِ دین میں خلفاء کی اطاعت کی جائے۔
    اقامتِ صلوٰۃ صحیح معنوں میں خلافت کے بغیر نہیں ہو سکتی
    پس اِن آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے پہلے خلافت کا وعدہ کیا ہے اور پھر فرمایا ہے کہ ان کا فرض ہو گا کہ وہ نمازیں قائم کریں اور زکوٰۃ
    دیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اقامتِ صلٰوۃ اپنے صحیح معنوں میں خلافت کے بغیر نہیں ہو سکتی اور زکوٰۃ کی ادائیگی بھی خلافت کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ دیکھ لو، رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں زکوٰۃ کی وصولی کا باقاعدہ انتظام تھا۔ پھر جب آپؐ کی وفات ہو گئی اور حضرت ابوبکرؓ خلیفہ ہوئے تو اہلِ عرب کے کثیر حصہ نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ حکم صرف رسول کریم ﷺ کیلئے مخصوص تھا بعد کے خلفاء کیلئے نہیں مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کے اس مطالبہ کو تسلیم نہ کیا اورفرمایا کہ اگر یہ اونٹ کے گھٹنے کو باندھنے والی ایک رسی بھی زکوٰۃ میں دینے سے انکار کریں گے تو میں ان سے جنگ جاری رکھوں گا اور اس وقت تک بس نہیں کروں گا جب تک ان سے اسی رنگ میں زکوٰۃ وصول نہ کر لوںجس رنگ میں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ادا کیا کرتے تھے۔ چنانچہ آپ اس مہم میں کامیاب ہوئے اور زکوٰۃ کا نظام پھر جاری ہو گیا جو بعد کے خلفاء کے زمانہ میں بھی جاری رہا۔ مگر جب سے خلافت جاتی رہی مسلمانوں میں زکوٰۃ کی وصولی کا بھی کوئی نظام نہ رہا اور یہی اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا تھا کہ اگر خلافت کا نظام نہ ہو تو مسلمان زکوٰۃ کے حکم پر عمل ہی نہیں کر سکتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ زکوٰۃ جیسا کہ اسلامی تعلیم کا منشاء ہے امراء سے لی جاتی اور ایک نظام کے ماتحت غرباء کی ضروریات پر خرچ کی جاتی ہے۔ اب ایسا وہیں ہو سکتا ہے جہاں ایک باقاعدہ نظام ہو۔ اکیلا آدمی اگر چند غرباء میں زکوٰۃ کا روپیہ تقسیم بھی کر دے تو اس کے وہ شاندار نتائج کہاں نکل سکتے جو اس صورت میں نکل سکتے ہیں جب زکوٰۃ کے تمام روپیہ کو جماعتی رنگ میں غرباء کی بہبودی اور ان کی ترقی کے کاموں پر خرچ کیا جائے۔ پس زکوٰۃ کا نظام بِالطبع خلافت کا مقتضی ہے۔ اسی طرح اقامتِ صلوٰۃ بھی بغیر اس کے نہیں ہو سکتی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ صلوٰۃ کا بہترین حصہ جمعہ ہے جس میں خطبہ پڑھا جاتا ہے اور قومی ضرورتوں کو لوگوں کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ اب اگر خلافت کا نظام نہ ہو تو بھلا چھوٹے چھوٹے دیہات کی جماعتوں کو کیا علم ہو سکتا ہے کہ چین اور جاپان میں کیا ہو رہا ہے اور اسلام ان سے کن قربانیوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اگر ایک مرکز ہو گا اور ایک خلیفہ ہو گا جو تمام مسلمانوں کے نزدیک واجب الاطاعت ہو گا تو اسے تمام اکناف ِعالم سے رپورٹیں پہنچتی رہیں گی کہ یہاں یہ ہو رہا ہے اور وہاں وہ ہو رہا ہے اور اس طرح وہ لوگوں کو بتا سکے گا کہ آج فلاں قسم کی قربانیوں کی ضرورت ہے اور آج فلاں قسم کی خدمات کیلئے اپنے آپ کو پیش کرنے کی حاجت ہے اسی لئے حنفیوں کا یہ فتویٰ ہے کہ جب تک مسلمانوں میں کوئی سلطان نہ ہو جمعہ پڑھنا جائز نہیں اور اس کی تہہ میں یہی حکمت ہے جو میں نے بیان کی ہے۔ اسی طرح عیدین کی نمازیں ہیں۔ رسول کریم ﷺ کی سنت سے یہ امر ثابت ہے کہ آپ ہمیشہ قومی ضرورتوں کے مطابق خطبات پڑھا کرتے تھے۔ مگر جب خلافت کا نظام نہ رہے تو انفرادی رنگ میں کسی کو قومی ضرورتوں کا کیا علم ہو سکتا ہے اور وہ ان کو کس طرح اپنے خطبات میں بیان کر سکتا ہے بلکہ بالکل ممکن ہے حالات سے ناواقفیت کی وجہ سے وہ خود بھی دھوکا میں مبتلاء رہے اور دوسروں کو بھی دھوکا میں مبتلاء رکھے۔
    میں نے ایک دفعہ کہیں پڑھا کہ آج سے چالیس پچاس سال پیشتر ایک شخص بیکانیر کے علاقہ کی طرف سیر کرنے کیلئے نکل گیا، جمعہ کا دن تھا وہ ایک مسجد میں نماز پڑھنے کیلئے گیا تو اس نے دیکھا کہ امام نے پہلے فارسی زبان میں مروّجہ خطبات میں سے کوئی ایک خطبہ پڑھا اور پھر ان لوگوں سے جو مسجد میں موجود تھے کہا کہ آؤ اب ہاتھ اُٹھا کر دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ امیرالمو ء منین جہانگیر بادشاہ کو سلامت رکھے۔ اب اس بیچارے کو اتنا بھی معلوم نہ تھا کہ جہانگیر بادشاہ کو فوت ہوئے مدتیں گزر چکی ہیں اور اب جہانگیر نہیں بلکہ انگریز حکمران ہیں۔
    غرض جمعہ جو نماز کا بہترین حصہ ہے اسی صورت میں احسن طریق پرا دا ہو سکتا ہے جب مسلمانوں میں خلافت کا نظام موجود ہو۔ چنانچہ دیکھ لو ہمارے اندر چونکہ ایک نظام ہے اس لئے میرے خطبات ہمیشہ اہم وقتی ضروریات کے متعلق ہوتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ بعض غیراحمدی بھی ان سے اِتنے متأثر ہوتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں ہمیں تو آپ کے خطبات الہامی معلوم ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کا ایک مشہور لیڈر باقاعدہ میرے خطبات پڑھا کرتا ہے۔ چنانچہ ایک دفعہ اس نے کہا کہ اِن خطبات سے مسلمانوں کی صرف مذہبی ہی نہیں بلکہ سیاسی راہنمائی بھی ہوتی ہے۔
    درحقیقت لیڈر کا کام لوگوں کی راہنمائی کرنا ہوتا ہے مگر یہ راہنمائی وہی شخص کر سکتا ہے جس کے پاس دنیا کے اکثر حصوں سے خبریں آتی ہوں اور وہ سمجھتا ہو کہ حالات کیا صورت اختیار کر رہے ہیں۔ صرف اخبارات سے اس قسم کے حالات کا علم نہیں ہو سکتا کیونکہ اخبارات میں جھوٹی خبریں بھی درج ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں واقعات کو پورے طور پر بیان کرنے کا التزام بھی نہیں ہوتا لیکن ہمارے مبلّغ چونکہ دنیا کے اکثر حصوں میں موجود ہیں، اس کے علاوہ جماعت کے افراد بھی دنیا کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں اس لئے ان کے ذریعہ مجھے ہمیشہ سچی خبریں ملتی رہتی ہیں اور میں ان سے فائدہ اُٹھا کر جماعت کی صحیح راہنمائی کر سکتا ہوں۔
    اطاعتِ رسول بھی صحیح معنوں میں خلافت کے بغیر نہیں ہو سکتی
    پس درحقیقت اقامت ِصلوٰۃ بھی بغیر خلیفہ کے نہیں ہو سکتی اسی طرح اطاعت ِرسول بھی جس کا کے
    الفاظ میں ذکر ہے خلیفہ کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ رسول کی اطاعت کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ سب کو وحدت کے ایک رشتہ میں پرویا جائے۔ یوں تو صحابہؓ بھی نمازیں پڑھتے تھے اور آجکل کے مسلمان بھی نمازیں پڑھتے ہیں، صحابہؓ بھی روزے رکھتے تھے اور آجکل کے مسلمان بھی روزے رکھتے ہیں، صحابہؓ بھی حج کرتے تھے اور آجکل کے مسلمان بھی حج کرتے ہیں پھر صحابہؓ اور آجکل کے مسلمانوں میں کیا فرق ہے؟ یہی فرق ہے کہ وہ اس وقت نمازیں پڑھتے تھے جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے تھے کہ اب نماز کا وقت آ گیا ہے، وہ اس وقت روزے رکھتے تھے جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے تھے کہ اب روزوں کا وقت آ گیا ہے اور وہ اُس وقت حج کرتے تھے جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے تھے کہ اب حج کا وقت آ گیا ہے اور گو وہ نماز اور روزہ اور حج وغیرہ عبادات میں حصہ لیکر اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتے تھے مگر ان کے ہر عمل میں رسول کریم ﷺ کی اطاعت کی روح بھی جَھلکتی تھی جس کا یہ فائدہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جب بھی کوئی حکم دیتے، صحابہؓ اُسی وقت اس پر عمل کرنے کیلئے کھڑے ہو جاتے تھے لیکن یہ اطاعت کی روح آجکل کے مسلمانوں میں نہیں۔ مسلمان نمازیں بھی پڑھیں گے، مسلمان روزے بھی رکھیں گے، مسلمان حج بھی کریں گے مگر ان کے اندر اطاعت کا مادہ نہیں ہو گا کیونکہ اطاعت کا مادہ نظامِ خلافت کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتا۔ پس جب بھی خلافت ہو گی اطاعت رسول بھی ہو گی کیونکہ اطاعت رسول یہ نہیں کہ نمازیں پڑھو یا روزے رکھو یا حج کرو یہ تو خدا کے حکم کی اطاعت ہے۔ اطاعت رسول یہ ہے کہ جب وہ کہے کہ اب نمازوں پر زور دینے کا وقت ہے تو سب لوگ نمازوں پر زور دینا شروع کر دیں اور جب وہ کہے کہ اب زکوٰۃ اور چندوں کی ضرورت ہے تو وہ زکوٰۃ اور چندوں پر زور دینا شروع کر دیں اور جب وہ کہے کہ اب جانی قربانی کی ضرورت ہے یا وطن کو قربان کرنے کی ضرورت ہے تو وہ جانیں اور اپنے وطن قربان کرنے کیلئے کھڑے ہو جائیں۔ غرض یہ تینوں باتیں ایسی ہیں جو خلافت کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں اگر خلافت نہ ہو گی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری نمازیں بھی جاتی رہیں گی، تمہاری زکوٰتیں بھی جاتی رہیں گی، اور تمہارے دل سے اطاعت رسول کا مادہ بھی جاتا رہے گا۔ ہماری جماعت کو چونکہ ایک نظام کے ماتحت رہنے کی عادت ہے اوراس کے افراد اطاعت کا مادہ اپنے اندر رکھتے ہیں اس لئے اگر ہماری جماعت کے افراد کو آج اُٹھا کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں رکھ دیا جائے تو وہ اسی طرح اطاعت کرنے لگ جائیں جس طرح صحابہؓ اطاعت کیا کرتے تھے لیکن اگر کسی غیراحمدی کو اپنی بصیرت کی آنکھ سے تم اس زمانہ میں لے جاؤ تو تمہیں قدم قدم پر وہ ٹھوکریں کھاتا دکھائی دے گا اور وہ کہے گا کہ ذرا ٹھہر جائیں مجھے فلاں حکم کی سمجھ نہیں آئی بلکہ جس طرح ایک پٹھان کے متعلق مشہور ہے کہ اس نے کہہ دیا تھا ’’خو محمدؐ صاحب کا نماز ٹوٹ گیا۔ قدوری میں لکھا ہے کہ حرکتِ صغیرہ سے نماز ٹوٹ جاتاہے۔‘‘ اسی طرح وہ بعض باتوں کا انکار کرنے لگ جائے گا۔ لیکن اگر ایک احمدی کو لے جاؤ تو اس کو پتہ بھی نہیں لگے گاکہ وہ کسی غیرمانوس جگہ میں آ گیا ہے بلکہ جس طرح مشین کا پُرزہ فوراً اپنی جگہ پر فِٹ آ جاتا ہے اسی طرح وہ وہاں پر فِٹ آ جائے گا اور جاتے ہی محمد رسول اللہ ﷺ کا صحابی بن جائے گا۔
    آیتِ استخلاف کے مضامین کا خلاصہ
    غرض یہ آیت جو آیتِ استخلاف کہلاتی ہے اس کے مفہوم کا خلاصہ یہ
    ہے کہ:-
    (۱) جس بات کا ذکر کیا گیا ہے، وہ ایک وعدہ ہے۔
    (۲) وعدہ اُمت سے ہے جب تک وہ ایمان و عمل صالح پر کار بند رہے۔
    غیر مبائع ہمیشہ اِس بات پر زور دیا کرتے ہیں کہ اِن آیات میں خلافت کا جو وعدہ کیا گیا ہے وہ افراد سے نہیں بلکہ اُمت سے ہے اور میں نے ان کی یہ بات مان لی ہے۔ میں بھی یہی کہتا ہوں کہ یہ وعدہ اُمت سے ہے اور اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ جب تک وہ ایمان اور عملِ صالح پر کاربند رہے گی اس کا یہ وعدہ پورا ہوتا رہے گا۔
    (۳) اس وعدہ کی غرض یہ ہے کہ
    (الف) مسلمان بھی وہی انعام پائیں جو پہلی قوموں نے پائے کیونکہ فرماتا ہے
    (ب) اس وعدہ کی دوسری غرض تمکینِ دین ہے۔
    (ج) اس کی تیسری غرض مسلمانوں کے خوف کو امن سے بدل دینا ہے۔
    (د) اس کی چوتھی غرض شرک کا دور کرنا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کا قیام ہے۔
    اس آیت کے آخر میں کہہ کر اس کے وعدہ ہونے پر پھر زور دیا اور ۴۶؎کے وعید کی طرف توجہ دلائی کہ ہم جو انعامات تم پر نازل کرنے لگے ہیں اگر تم ان کی ناقدری کرو گے تو ہم تمہیں سخت سزا دیں گے۔ خلافت بھی چونکہ ہمارا ایک انعام ہے اس لئے یاد رکھو جو لوگ اِس نعمت کی ناشکری کریں گے وہ فاسق ہو جائیں گے۔
    یہ آیت ایک زبردست شہادت خلافتِ راشدہ پر ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور احسان مسلمانوں میں خلافت کا طریق قائم کیا جائے گا جو مُؤَیَّد مِنَ اللّٰہ ہو گا۔ (جیسا کہ

    اور سے ظاہر ہے) اور مسلمانوں کو پہلی قوموں کے انعامات میں سے وافر حصہ دلانے والا ہوگا۔
    سچے خلفاء کی علامات
    اس آیت میں خلفاء کی علامات بھی بتائی گئی ہیں جن سے سچے اور جھوٹے میں فرق کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ ہیں:-
    (۱) خلیفہ خدا بناتا ہے یعنی اس کے بنانے میںانسانی ہاتھ نہیں ہوتا، نہ وہ خود خواہش کرتا ہے اور نہ کسی منصوبہ کے ذریعہ وہ خلیفہ ہوتا ہے بلکہ بعض دفعہ تو ایسے حالات میں ہوتا ہے جب کہ اُس کاخلیفہ ہونا بظاہر ناممکن سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ یہ الفاظ کہ خود ظاہر کرتے ہیں کہ خلیفہ خدا ہی بناتا ہے کیونکہ جو وعدہ کرتا ہے وہی دیتا ہے۔ بعض لوگ غلطی سے یہ کہتے ہیں کہ اس وعدے کا یہ مطلب ہے کہ لوگ جس کو چاہیں خلیفہ بنا لیں، خدا اُس کو اپنا انتخاب قرار دے دے گا۔ مگر یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ہمارے ایک استاد کا یہ طریق ہو ا کرتا تھا کہ جب وہ مدرسہ میں آتا اور کسی لڑکے سے خوش ہوتا تو کہتا کہ اچھا تمہاری جیب میںجو پیسہ ہے وہ مَیں نے تمہیں انعام میں دے دیا۔ یہ بھی ویسا ہی وعدہ بن جاتا ہے کہ اچھا تم کسی کو خود ہی خلیفہ بنا لو اور پھر یہ سمجھ لو کہ اُسے مَیں نے بنایا ہے۔اور اگر یہی بات ہو تو پھر انعام کیا ہوا اور ایمان اور عملِ صالح پر قائم رہنے والی جماعت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے محبت کا امتیازی سلوک کونسا ہوا؟ وعدہ تو جو کرتا ہے وہی اسے پورا بھی کیا کرتا ہے نہ یہ کہ وعدہ تو وہ کرے اور اسے پورا کوئی اور کرے۔ پس اس آیت میں پہلی بات یہ بتائی گئی ہے کہ خلفاء کی آمد خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوگی۔ ظاہری لحاظ سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کیونکہ کوئی شخص خلافت کی خواہش کر کے خلیفہ نہیں بن سکتا اسی طرح کسی منصوبہ کے ماتحت بھی کوئی خلیفہ نہیں بن سکتا۔ خلیفہ وہی ہوگا جسے خدا بنانا چاہے گا بلکہ بسا اوقات وہ ایسے حالات میں خلیفہ ہوگا جب کہ دنیا اس کے خلیفہ ہونے کو ناممکن خیال کرتی ہوگی۔
    (۲) دوسری علامت اللہ تعالیٰ نے سچے خلیفہ کی یہ بتائی ہے کہ وہ اس کی مدد انبیاء کے مشابہہ کرتا ہے۔ کیونکہ فرمایا کہ یہ خلفاء ہماری نصرت کے ویسے ہی مستحق ہونگے جیسے پہلے خلفاء۔ اور جب پہلی خلافتوں کو دیکھا جاتا ہے تو وہ دو قسم کی نظر آتی ہیں۔ اوّل خلافتِ نبوت۔ جیسے آدم علیہ السلام کی خلافت تھی جس کے بارہ میں فرمایا کہ ۴۷؎ مَیںزمین میں اپنا ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ اَب آدم علیہ السلام کا انتخاب نہیں کیا گیا تھا اور نہ وہ دُنیوی بادشاہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے ایک وعدہ کیا اور انہیں اپنی طرف سے زمین میں آپ کھڑا کیا اور جنہوں نے انکار کیا انہیں سزا دی۔
    جیسے دائود علیہ السلام کے متعلق فرمایا کہ


    ۴۸؎ اے دائود! ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا (حضرت دائود علیہ السلام چونکہ اللہ تعالیٰ کے نبی تھے اس لئے معلوم ہوء ا کہ یہاں خلافت سے مراد خلافتِ نبوت ہی ہے) پس تو لوگوں کے درمیان عدل و انصاف سے فیصلہ کر اور لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کر ایسا نہ ہو کہ وہ تجھے سیدھے راستہ سے منحرف کر دیں۔ یقینا وہ لوگ جو گمراہ ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سخت عذاب ہوگا اس لئے ایسے لوگوں کے مشوروں کو قبول نہ کیا کر بلکہ وہی کر جس کی طرف خدا تیری راہنمائی کرے۔ ان آیات میں دراصل وہی مضمون بیان ہو ا ہے جو دوسری جگہ ۴۹؎ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
    بعض لوگوں نے غلطی سے کے یہ معنی کئے ہیں کہ اے دائود! لوگوں کی ہوا و ہوس کے پیچھے نہ چلنا حالانکہ اس آیت کے یہ معنی ہی نہیں بلکہ اس میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ بعض دفعہ لوگوں کی اکثریت تجھے ایک بات کا مشورہ دے گی اور کہے گی کہ یوں کرنا چاہئے مگر فرمایا تمہارا کام یہ ہے کہ تم محض اکثریت کو نہ دیکھو بلکہ یہ دیکھو کہ جو بات تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے وہ مفید ہے یا نہیں۔ اگر مفید ہو تو مان لو اور اگر مفید نہ ہو تو اُسے ردّ کر دو۔ چاہے اُسے پیش کرنے والی اکثریت ہی کیوں نہ ہو بِالخصوص ایسی حالت میں جب کہ وہ گناہ والی بات ہو۔
    پہلی خلافتیں یا تو خلافتِ نبوت تھیں یا خلافتِ ملوکیت
    پس پہلی خلافتیں یا تو خلافت نبوت تھیں جیسے حضرت آدم اور حضرت دائود عَلَیْھِمَا السَّلامُ کی خلافت تھی اور یا پھر خلافتِ حکومت تھیں جیسا
    کہ فرمایا۔ ۵۰؎ یعنی اُس وقت کو یاد کروجب کہ قومِ نوح کے بعد خدا نے تمہیں خلیفہ بنایا اور اُس نے تم کو بناوٹ میں بھی فراخی بخشی یعنی تمہیں کثرت سے اولاد دی پس تم اللہ تعالیٰ کی اُس نعمت کو یاد کرو تا کہ تمہیں کامیابی حاصل ہو۔
    اِس آیت میں خلفاء کا جو لفظ آیا ہے اِس سے مراد صرف دُنیوی بادشاہ ہیں اور نعمت سے مراد بھی نعمتِ حکومت ہی ہے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں نصیحت کی ہے کہ تم زمین میں عدل و انصاف کو مدنظر رکھ کر تمام کام کرو ورنہ ہم تمہیں تباہ کر دیں گے۔ چنانچہ یہود کی نسبت اس انعام کا ذکر ان الفاظ میں فرماتا ہے۔ ۵۱؎ یعنی اس قوم کو ہم نے دو طرح خلیفہ بنایا کے ماتحت انہیں خلافتِ نبوت دی اور کے ماتحت انہیں خلافتِ ملوکیت دی۔
    غرض پہلی خلافتیں دو قسم کی تھیں۔ یا تو وہ خلافتِ نبوت تھیں اور یا پھر خلافتِ ملوکیت۔ پس جب خدا نے یہ فرمایا تو اس سے یہ استنباط ہوء ا کہ پہلی خلافتوں والی برکات اِن کو بھی ملیں گی اور انبیائے سابقین سے اللہ تعالیٰ نے جو کچھ سلوک کیا وہی سلوک وہ اُمتِ محمدیہ کے خلفاء کے ساتھ بھی کرے گا۔
    خلافتِ ملوکیت کو چھوڑ کر صرف خلافتِ نبوت کے ساتھ مشابہت کو کیوں مخصوص کیا گیا ہے
    اگر کوئی کہے کہ پہلے تو خلافتِ ملوکیت کا بھی ذکر ہے پھر خلافت ملوکیت
    کا ذکرچھوڑ کر صرف خلافتِ نبوت کے ساتھ اُس کی مشابہت کو کیوں مخصوص کیا گیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ آیت کے الفاظ بتاتے ہیں کہ گو مسلمانوں سے دوسری آیات میں بادشاہتوں کا بھی وعدہ ہے مگر اس جگہ بادشاہت کا ذکر نہیں ہے بلکہ صرف مذہبی نعمتوں کا ذکر ہے۔ چنانچہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔کہ خدا اپنے قائم کردہ خلفاء کے دین کو دنیا میں قائم کر کے رہتا ہے۔ اب یہ اصول دنیا کے بادشاہوں کے متعلق نہیں اور نہ اُن کے دین کو خداتعالیٰ نے کبھی دنیا میں قائم کیا بلکہ یہ اصول روحانی خلفاء کے متعلق ہی ہے۔ پس یہ آیت ظاہر کر رہی ہے کہ اس جگہ جس خلافت سے مشابہت دی گئی ہے وہ خلافتِ نبوت ہی ہے نہ کہ خلافتِ ملوکیت۔ اسی طرح فرماتا ہے۔۔ کہ خدا اُن کے خوف کو امن سے بدل دیا کرتا ہے۔ یہ علامت بھی دُنیوی بادشاہوں پر کسی صورت میں چسپاں نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ دُنیوی بادشاہ اگر آج تاج و تخت کے مالک ہوتے ہیں تو کل تخت سے علیحدہ ہو کر بھیک مانگتے دیکھے جاتے ہیں۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کی طرف سے اُن کے خوف کو امن سے بدل دینے کا کوئی وعدہ نہیں ہوتا بلکہ بسا اوقات جب کوئی سخت خطرہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اس کے مقابلہ کی ہمت تک کھو بیٹھتے ہیں۔
    پھر فرماتا ہے کہ وہ خلفاء میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔گویا وہ خالص موحّد اور شرک کے شدید ترین دشمن ہونگے۔ مگر دنیا کے بادشاہ تو شرک بھی کر لیتے ہیں حتیّٰ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ اُن سے کبھی کفر بواح صادر ہو جائے۔ پس وہ اس آیت کے مصداق کس طرح ہو سکتے ہیں۔
    چوتھی دلیل جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان خلفاء سے مراد دُنیوی بادشاہ ہرگز نہیں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ یعنی جو لوگ اِن خلفاء کا انکار کریں گے وہ فاسق ہو جائیں گے۔ اب بتائو کہ جو شخص کفربواح کا بھی مرتکب ہو سکتا ہو آیا اس کی اطاعت سے خروجِ فسق ہو سکتا ہے؟ یقینا ایسے بادشاہوں کی اطاعت سے انکار کرنا انسان کو فاسق نہیں بنا سکتا۔ فسق کا فتویٰ انسان پر اُسی صورت میں لگ سکتا ہے جب وہ روحانی خلفاء کی اطاعت سے انکار کرے۔
    غرض یہ چاروں دلائل جن کا اس آیت میں ذکر ہے اس امر کا ثبوت ہیں کہ اس آیت میں جس خلافت کا ذکر کیا گیا ہے وہ خلافتِ ملوکیت نہیں۔ پس جب خدا نے یہ فرمایا کہ ہم اُن خلیفوں پر ویسے ہی انعامات نازل کریں گے جیسے ہم نے پہلے خلفاء پر انعامات نازل کئے تو اس سے مراد یہی ہے کہ جیسے پہلے انبیاء کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد ہوتی رہی ہے اسی طرح ان کی مدد ہوگی۔ پس اس آیت میں خلافتِ نبوت سے مشابہت مراد ہے نہ کہ خلافتِ ملوکیت سے۔
    خلافت کا وعدہ ایمان اور
    عملِ صالح کے ساتھ مشروط ہے
    (۳) تیسری بات اِس آیت سے یہ نکلتی ہے کہ یہ وعدہ اُمت سے اُس وقت تک کیلئے ہے جب تک کہ اُمت مؤمن اور عمل صالح کرنے والی ہو۔
    جب وہ مومن اور عملِ صالح کرنے والی نہیں رہے گی تو اللہ تعالیٰ اپنے اس وعدہ کو واپس لے لے گا۔ گویا نبوت اور خلافت میں یہ عظیم الشان فرق بتایا کہ نبوت تو اُس وقت آتی ہے جب دنیا خرابی اور فساد سے بھر جاتی ہے۔ جیسے فرمایا۔ ۵۲؎ کہ جب بر اور بحر میں فساد واقعہ ہو جاتا ہے، لوگ خدا تعالیٰ کو بھول جاتے ہیں، الٰہی احکام سے اپنا منہ موڑ لیتے ہیں، ضلالت اور گمراہی میں گرفتار ہو جاتے ہیں اور تاریکی زمین کے چَپہ چَپہ کا احاطہ کر لیتی ہے، تو اُس وقت لوگوں کی اصلاح کے لئے خدا تعالیٰ کسی نبی کو بھیجتا ہے جو پھر آسمان سے نورِ ایمان کو واپس لاتا اور اُن کو سچے دین پر قائم کرتا ہے لیکن خلافت اُس وقت آتی ہے جب قوم میں اکثریت مؤمنوں اور عمل صالح کرنے والوں کی ہوتی ہے۔ گویا نبوت تو ایمان اور عمل صالح کے مٹ جانے پر آتی ہے اور خلافت اُس وقت آتی ہے جب قریباً تمام کے تمام لوگ ایمان اور عملِ صالح پر قائم ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خلافت اُسی وقت شروع ہوتی ہے جب نبوت ختم ہوتی ہے کیونکہ نبوت کے ذریعہ ایمان اور عملِ صالح قائم ہو چکا ہوتا ہے اور چونکہ اکثریت ابھی ان لوگوں کی ہوتی ہے جو ایمان او رعملِ صالح پر قائم ہوتے ہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ انہیں خلافت کی نعمت دے دیتا ہے۔
    اور درمیانی زمانہ جب کہ نہ تو دنیا نیکوکاروں سے خالی ہو اور نہ بدی سے پُر ہو دونوں سے محروم رہتا ہے کیونکہ نہ تو بیماری شدید ہوتی ہے کہ نبی آئے اور نہ تندرستی کامل ہوتی ہے کہ اُن سے کام لینے والا خلیفہ آئے۔
    خلافت کا فُقدان کسی خلیفہ کے نقص کی وجہ سے نہیں بلکہ جماعت کے نقص کی وجہ سے ہوتا ہے
    پس اس حکم سے معلوم ہوتا ہے کہ خلافت کا فُقدان کسی خلیفہ کے
    نقص کی وجہ سے نہیں بلکہ جماعت کے نقص کی وجہ سے ہوتا ہے اور خلافت کا مٹنا خلیفہ کے گنہگار ہونے کی دلیل نہیں بلکہ اُمت کے گنہگار ہونے کی دلیل ہوتا ہے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کا یہ صریح وعدہ ہے کہ وہ اُس وقت تک خلیفہ بناتا چلا جائے گا جب تک جماعت میں کثرت مؤمنوں اور عملِ صالح کرنے والوں کی رہے گی۔ جب اس میں فرق پڑ جائے گا اور کثرت مؤمنوں اور عملِ صالح کرنے والوں کی نہیں رہے گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا اب چونکہ تم بدعمل ہوگئے ہو اس لئے مَیں بھی اپنی نعمت تم سے واپس لیتا ہوں۔ (گو خدا چاہے تو بطور احسان ایک عرصہ تک پھر بھی جماعت میں خلفاء بھجواتا رہے) پس وہ شخص جو یہ کہتا ہے کہ خلیفہ خراب ہو گیا ہے وہ بالفاظِ دیگر اس امر کا اعلان کرتا ہے کہ جماعت کی اکثریت ایمان اور عملِ صالح سے محروم ہو چکی ہے کیونکہ خدا کا یہ وعدہ ہے کہ جب تک اُمت ایمان اور عملِ صالح پر قائم رہے گی اُس میں خلفاء آتے رہیں گے اور جب وہ اس سے محروم ہو جائے گی تو خلفاء کا آنا بھی بند ہو جائے گا۔ پس خلیفہ کے بگڑنے کا کوئی امکان نہیں ہاں اِس بات کا ہر وقت امکان ہے کہ جماعت کی اکثریت ایمان اور عملِ صالح سے محروم نہ ہو جائے۔اور چونکہ خلیفہ نہیں بگڑ سکتا بلکہ جماعت ہی بگڑ سکتی ہے اس لئے جب کوئی شخص دنیا کے سامنے یہ دعویٰ پیش کرتا ہے کہ جماعت احمدیہ کا خلیفہ بگڑ گیا تو اسے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ابھی جب کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے کثیر صحابہؓ ہم میںموجود ہیں، جب کہ زمانہ ابھی دجّالی فِتن سے پُر ہے، جب کہ اس درخت کی ابھی کونپل ہی نکلی ہے جس نے تمام دنیا میں پھیلنا ہے تو شیطان اس جماعت پر حملہ آور ہوء ا۔ اُس نے اُس کے ایمان کی دولت کو لوٹ لیا، اعمالِ صالحہ کی قوت کو سلب کر لیا اور اس درخت کی کونپل کو اپنے پائوں کے نیچے مسل ڈالا جس کے متعلق یہ کہا جاتا تھا کہ وہ ایک بارآور درخت کی صورت میں تمام دنیا کو اپنے سایہ سے فائدہ پہنچائیگا کیونکہ بقول اُس کے خلیفہ خراب ہو گیا اور قرآن یہ بتاتا ہے کہ سچے خلفاء اُس وقت تک آتے رہیں گے جب تک جماعت کی اکثریت ایمان اور عملِ صالح پر قائم رہے۔ پس خلافت کا انکار محض خلافت کا انکار نہیں بلکہ اِس امر کا اظہار ہے کہ جماعت ایمان اور عملِ صالح سے محروم ہوچکی ہے۔
    تمکینِ دین کا نشان
    چوتھی علامت خلفاء کی اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ اُن کے دینی احکام اور خیالات کو اللہ تعالیٰ دنیا میں پھیلائے گا۔ چنانچہ
    فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کے دین کو تمکین دے گا اور باوجود مخالف حالات کے اُسے دنیا میں قائم کر دے گا۔ یہ ایک زبردست ثبوت خلافتِ حقہ کی تائید میں ہے اور جب اس پر غور کیا جاتا ہے تو خلفائے راشدین کی صداقت پر خدا تعالیٰ کا یہ ایک بہت بڑا نشان نظر آتا ہے۔ یہ ایک عجیب بات ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما ایسے خاندانوں میں سے تھے جو عرب میں کوئی جتّھا نہیں رکھتے تھے۔ لیکن حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہما ایسے خاندانوں میں سے تھے جو عرب میں جتھے رکھتے تھے۔ چنانچہ بنو اُمیّہ حضرت عثمانؓ کے حق میں تھے اور بنو عباسؓ حضرت علیؓ کے حق میں اور ان دونوں کو عرب میں بڑی قوت حاصل تھی۔ جب خلافت میں تنزّل واقع ہوء ا اور مسلمانوں کی اکثریت میں سے ایمان اورعملِ صالح جاتا رہا تو حضرت عثمانؓ اور حضرت علی ؓ کی شہادت کے بعد بنو اُمیّہ نے مسلمانوں پر تسلط جما لیا اور یہ وہ لوگ تھے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے تعلق رکھتے تھے۔ چنانچہ ان کی حکومت کے دوران میں حضرت علیؓ کی تو مذمّت کی جاتی رہی مگر حضرت عثمانؓ کی خوبیاں بیان ہوتی رہیں۔ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے مداح اور ان کی خوبیوں کا ذکر کرنے والے اس دَور میں بہت ہی کم تھے۔ اس کے بعد حالات میں پھر تغیر پیدا ہوء ا اور بنو اُمیّہ کی جگہ بنوعباس نے قبضہ کر لیا اور یہ وہ لوگ تھے جو اہلِ بیت سے تعلق رکھتے تھے چنانچہ ان کا تمام زور حضرت علیؓ کی تعریف اور آپ کی خوبیاں بیان کرنے پر صرف ہونے لگ گیا اور کہا جانے لگا کہ عثمانؓ بہت بُرا تھا۔ غرض بنو اُمیّہ تو یہ کہتے رہے کہ علیؓ بہت بُرا تھا اور بنو عباس یہ کہتے رہے کہ عثمانؓ بہت بُرا تھا اور اس طرح کئی سَو سال تک مسلمانوں کا ایک حصہ حضرت عثمانؓ کے اوصاف شمار کرتا رہا اور ایک حصہ حضرت علیؓ کے اوصاف شمار کرتا رہا مگر باوجود اس کے کہ خلفائے اربعہ کے بعد اسلامی حکومتوں کے یہ دو دَور آئے اور دونوں ایسے تھے کہ ان میں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ سے تعلق رکھنے والے لوگ کوئی نہ تھے پھر بھی دنیا میں جو عزت اور جو رُتبہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے فتووں اور ارشادات کو حاصل ہے وہ ان دونوں کو حاصل نہیں۔ گو اِن سے اُتر کر انہیں بھی حاصل ہے اور یہ ثبوت ہے کا کہ خدانے ان کے دین کو قائم کیا اور اُن کی عزت کو لوگوں کے قلوب میں جاگزیں کیا۔ چنانچہ آج کسی مسلمان سے پوچھ لو کہ اُس کے دل میں خلفاء میں سے سب سے زیادہ کس کی عزت ہے تو وہ پہلے حضرت ابوبکرؓ کا نام لے گا پھر حضرت عمرؓ کا نام لے گا پھر حضرت عثمانؓ اور پھر حضرت علیؓ کا نام لے گا حالانکہ کئی صدیاں ایسی گذری ہیں جن میں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کا نام لینے والا کوئی نہیں تھا اور اتنے لمبے وقفہ میں بڑے بڑے لوگوں کے نام دنیا سے مٹ جایا کرتے ہیں لیکن خدا نے اُن کے نام کو قائم رکھا اور اُن کے فتووں اور ارشادات کو وہ مقام دیا جو حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کے فتووں اور ارشادات کو بھی حاصل نہیں۔ پھر بنو اُمیّہ کے زمانہ میں حضرت علیؓ کو بدنام کرنے کی بڑی کوششیں کی گئیں اور بنو عباس کے زمانہ میں حضرت عثمانؓ پر بڑا لعن طعن کیا گیا مگر باوجود اس کے کہ یہ کوششیں حکومتوں کی طرف سے صادر ہوئیں اور انہوں نے اپنے اپنے زمانوں میں اُن کو بدنام کرنے اور اُن کے ناموں کو مٹانے کی بڑی کوشش کی پھر بھی یہ دونوں خلفاء دُھلے دُھلائے نکل آئے اور خدا نے تمام عالمِ اسلامی میں ان کی عزت و توقیر کو قائم کر دیا۔
    خوف کو امن سے بدلنے کی پیشگوئی
    (۵) پانچویں علامت اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ کہ
    وہ اُن کے خوف کے بعد اُن کے خوف کی حالت کو اَمن سے بدل دیتا ہے۔ بعض لوگ اِس کے یہ معنی کرتے ہیں کہ وہ ہر تخویف سے محفوظ رہتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کو چونکہ خلافت کے بعد خوف پیش آیا اور دشمنوں نے انہیں شہید کر دیا اس لئے حضرت ابوبکرؓ کے سوا اور کسی کو خلیفہ ء راشد تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ شیخ عبدالرحمن صاحب مصری نے بھی اس بات پر بڑا زور دیا ہے اور لکھا ہے کہ اصل خلیفہ صرف حضرت ابوبکرؓ تھے۔ حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کی خلافت آیت استخلاف کے ماتحت نہیں آتی۔
    سو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ غلطی لوگوں کو صرف اس لئے لگی ہے کہ وہ قرآنی الفاظ پر غور نہیں کرتے۔ بیشک خوف کا امن سے بدل جانا بھی بڑی نعمت ہے لیکن اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ کہ جو بھی خوف پیدا ہوگا اُسے امن سے بدل دیا جائے گا بلکہ فرمایا کہ جو خوف اُن کے دل میں پیدا ہوگا اور جس چیز سے وہ ڈریں گے اللہ تعالیٰ اُسے دُور کر دے گا اور اُس کی جگہ امن پیدا کردے گا۔ پس وعدہ یہ نہیں کہ زید اور بکر کے نزدیک جو بھی ڈرنے والی بات ہو وہ خلفاء کو پیش نہیں آئے گی بلکہ وعدہ یہ ہے کہ جس چیز سے وہ ڈریں گے اللہ تعالیٰ اُسے ضرور دُور کر دے گا اور اُن کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔ مثال کے طور پر یوں سمجھ لو کہ سانپ بظاہر ایک بڑی خوفناک چیز ہے مگر کئی لوگ ہیں جو سانپ اپنے ہاتھ میں پکڑ لیتے ہیں ایسے لوگوں کیلئے سانپ کا خوف کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ اسی طرح فقر ایک بڑی خوف والی چیز ہے مگر رسول کریم ﷺ کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ اَب اگر کسی کے ذہن میں یہ بات ہو کہ کھانے کیلئے اگر ایک وقت کی روٹی بھی نہ ملے تو یہ بڑی ذلّت کی بات ہوتی ہے تو کیا اُس کے اِس خیال کی وجہ سے ہم یہ مان لیں گے کہ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ رسول کریم ﷺ کی بھی ذلت ہوئی۔ جو شخص فقر کو اپنی عزت کا موجب سمجھتا ہے، جو شخص چیتھڑوں کو قیمتی لباس سے زیادہ بہتر سمجھتا ہے اور جو شخص دُنیوی مال و متاع کو نجاست کی مانند حقیر سمجھتا ہے اُس کیلئے فقر کا خوف بالکل بے معنی ہے۔ پس خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ بلکہ فرمایا ہے کہ کوئی ایسی خوف والی بات پیدا نہیں ہوگی جس سے وہ ڈرتے ہونگے۔ اس فرق کو مدنظر رکھ کر دیکھو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ خلفاء پر کوئی ایسی مصیبت نہیں آئی جس سے انہوںنے خوف کھایا ہو اور اگر آئی تو اللہ تعالیٰ نے اُسے امن سے بدل دیا۔
    حضرت عمرؓ کو اپنی شہادت سے کوئی خوف نہیں تھا
    اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ شہید
    ہوئے۔ مگر جب واقعات کو دیکھا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس شہادت سے کوئی خوف نہیں تھا بلکہ وہ متواتر دعائیںکیا کرتے تھے کہ یا اللہ! مجھے شہادت نصیب کر اور شہید بھی مجھے مدینہ میںکر۔ پس وہ شخص جس نے اپنی ساری عمر یہ دعائیںکرتے ہوئے گذار دی ہو کہ یا اللہ! مجھے مدینہ میں شہادت دے، وہ اگر شہید ہو جائے تو ہم یہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ اُس پر ایک خوفناک وقت آیا مگر وہ امن سے نہ بدلا گیا۔ بیشک اگر حضرت عمرؓ شہادت سے ڈرتے اور پھر وہ شہید ہو جاتے تو کہا جا سکتا تھا کہ اُن کے خوف کو خداتعالیٰ نے امن سے نہ بدلا مگر وہ تو دعائیں کرتے تھے کہ یا اللہ! مجھے مدینہ میں شہادت دے۔ پس اُن کی شہادت سے یہ کیونکر ثابت ہو گیا کہ وہ شہادت سے ڈرتے بھی تھے۔ اور جب وہ شہادت سے نہیں ڈرتے تھے بلکہ اس کے لئے دعائیں کیاکرتے تھے جن کوخدا تعالیٰ نے قبول کر لیا تو معلوم ہوئاکہ اس آیت کے ماتحت اُن پر کوئی ایساخوف نہیں آیا جو اُن کے دل نے محسوس کیا ہو۔ اور اس آیت میں جیسا کہ مَیں بیان کر چکا ہوں یہی ذکر ہے کہ خلفاء جس بات سے ڈرتے ہونگے وہ کبھی وقوع پذیر نہیں ہو سکتی اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اُن کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔مگر جب وہ ایک بات سے ڈرتے ہی نہ ہوں بلکہ اُسے اپنی عزت اوربلندی درجات کا موجب سمجھتے ہوں تو اُسے خوف کہنا اور پھر یہ کہنا کہ اسے امن سے کیوںنہ بدل دیا گیا بے معنی بات ہے۔ مَیں نے تو جب حضرت عمرؓ کی اِس دعا کو پڑھا تو مَیں نے اپنے دل میں کہا کہ اس کا بظاہر یہ مطلب تھا کہ دشمن مدینہ پر حملہ کرے اور اُس کا حملہ اتنی شدت سے ہو کہ تمام مسلمان تباہ ہو جائیں پھر وہ خلیفہ ٔوقت تک پہنچے اور اُسے بھی شہید کر دے مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت عمرؓ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے ایسے سامان کر دیئے کہ بجائے اس کے کہ مدینہ پر کوئی بیرونی لشکر حملہ آور ہوتا اندر سے ہی ایک خبیث اُٹھا اور اس نے خنجر سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کر دیا۔
    حضرت عثمانؓ نے بھی کوئی خوف محسوس نہیں کیا
    پھر حضرت عثمانؓ کے ساتھ جو واقعات پیش آئے اُن
    سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ اِن باتوں سے کبھی خائف نہیں ہوئے۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ جب باغیوں نے مدینہ پر قبضہ کر لیا تو وہ نماز سے پہلے تمام مسجد میں پھیل جاتے اور اہلِ مدینہ کو ایک دوسرے سے جُدا جُدا رکھتے تا کہ وہ اکٹھے ہو کر ان کا مقابلہ نہ کر سکیں مگر باوجود اس شورش اور فتنہ انگیزی اور فساد کے حضرت عثمانؓ نماز پڑھانے کیلئے اکیلے مسجد میں تشریف لاتے اور ذرا بھی خوف محسوس نہ کرتے اور اُس وقت تک برابر آتے رہے جب تک لوگوں نے آپ کو منع نہ کر دیا۔ جب فتنہ بہت بڑھ گیا اور حضرت عثمانؓ کے گھر پر مفسدوں نے حملہ کر دیا تو بجائے اس کے کہ آپ صحابہؓ کا اپنے مکان کے اِردگرد پہرہ لگواتے آپ نے انہیں قسم دے کر کہا کہ وہ آپ کی حفاظت کر کے اپنی جانوں کو خطر ہ میں نہ ڈالیں اور اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں۔ کیا شہادت سے ڈرنے والا آدمی بھی ایسا ہی کیا کرتا ہے اور وہ لوگوں سے کہا کرتا ہے کہ میرا فکر نہ کرو بلکہ اپنے اپنے گھروںکو چلے جائو۔
    پھر اس بات کا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ان واقعات سے کچھ بھی خائف نہیں تھے ایک اور زبردست ثبوت یہ ہے کہ اس فتنہ کے دوران میں ایک دفعہ حضرت معاویہؓ حج کیلئے آئے جب وہ شام کو واپس جانے لگے تو مدینہ میں وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ملے اور عرض کیا کہ آپ میرے ساتھ شام میں چلیں وہاں آپ تمام فتنوں سے محفوظ رہیں گے۔ آپ نے فرمایا کہ معاویہؓ! میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمسائیگی پر کسی چیز کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ انہوں نے عرض کیا کہ اگر آپ کو یہ بات منظور نہیں تو میں شامی سپاہیوں کا ایک لشکر آپ کی حفاظت کے لئے بھیج دیتا ہوں۔ حضرت عثمانؓ نے فرمایا مَیں اپنی حفاظت کیلئے ایک لشکر رکھ کر مسلمانوں کے رزق میں کمی کرنا نہیں چاہتا۔ حضرت معاویہؓ نے عرض کیا کہ امیرالمؤمنین! لوگ آپ کو دھوکا سے قتل کر دیں گے یا ممکن ہے آپ کے خلاف وہ برسرِ جنگ ہو جائیں۔ حضرت عثمانؓ نے فرمایا مجھے اِس کی پرواہ نہیں میرے لئے میرا خدا کافی ہے۔ آخر انہوں نے کہااگر آپ اور کچھ منظور نہیں کرتے تو اتنا ہی کریں کہ شرارتی لوگوں کو بعض اکابر صحابہؓ کے متعلق گھمنڈ ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ آپ کے بعد وہ کام سنبھال لیں گے۔ چنانچہ وہ اُن کا نام لے لے کر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں آپ ان سب کو مدینہ سے رخصت کر دیں اور بیرونی ملکوں میں پھیلا دیں اس سے شریروں کے ارادے ہو جائیں گے اور وہ خیال کریں گے کہ آپ سے تعرض کر کے انہوں نے کیا لینا ہے جب کہ مدینہ میں کوئی اور کام کو سنبھالنے والا ہی نہیں۔ مگر حضرت عثمانؓ نے یہ بات بھی نہ مانی اور کہا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ جن لوگوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمع کیا ہے مَیں انہیں جلا وطن کر دوں۔ حضرت معاویہؓ یہ سن کر رو پڑے اور انہوں نے عرض کیا اگر آپ اور کچھ نہیں کرتے تو اتنا ہی اعلان کر دیں کہ میرے خون کا بدلہ معاویہؓ لے گا۔ آپ نے فرمایا معاویہؓ! تمہاری طبیعت تیز ہے میں ڈرتا ہوں کہ مسلمانوں پر تم کہیں سختی نہ کرو اس لئے مَیں یہ اعلان بھی نہیں کر سکتا۔ اب کہنے کو تو یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت عثمانؓ دل کے کمزور تھے مگر تم خود ہی بتائو کہ اس قسم کی جرأت کتنے لوگ دکھا سکتے ہیں اور کیا ان واقعات کے ہوتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اُن کے دل میں کچھ بھی خوف تھا۔ اگر خوف ہوتا تو وہ کہتے کہ تم اپنی فوج کا ایک دستہ میری حفاظت کیلئے بھجوا دو، انہیں تنخواہیں میں دلا دوں گا اور اگر خوف ہوتا تو آپ اعلان کر دیتے کہ اگر مجھ پر کسی نے ہاتھ اٹھایا تو وہ سن لے کہ میرا بدلہ معاویہؓ لے گا۔ مگر آپ نے سوائے اِس کے کوئی جواب نہ دیا کہ معاویہؓ! تمہاری طبیعت تیز ہے میں ڈرتا ہوں کہ اگر مَیں نے تم کو یہ اختیار دے دیا تو تم مسلمانوں پر سختی کرو گے۔
    پھر جب آخر میں دشمنوں نے دیوارپھاند کر آپ پر حملہ کیا تو بغیر کسی ڈر اور خوف کے اظہار کے آپ قرآن کریم کی تلاوت کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت ابوبکرؓ کا ایک بیٹا (اللہ تعالیٰ اُس پر رحم کرے) آگے بڑھا اور اُس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی ڈاڑھی پکڑ کر اُسے زور سے جھٹکا دیا۔ حضرت عثمانؓ نے اُس کی طرف آنکھ اُٹھائی اور فرمایا۔ میرے بھائی کے بیٹے! اگر تیرا باپ اِس وقت ہوتا تو تو کبھی ایسا نہ کرتا۔ یہ سنتے ہی اُس کا سر سے لیکر پَیر تک جسم کانپ گیا اور وہ شرمندہ ہو کر واپس لوٹ گیا۔ اس کے بعد ایک اور شخص آگے بڑھا اور اس نے ایک لوہے کی سیخ حضرت عثمانؓ کے سر پر ماری اور پھر آپ کے سامنے جو قرآن پڑا ہوئا تھا اُسے اپنے پائوں کی ٹھوکر سے الگ پھینک دیا۔ وہ ہٹا تو ایک اور شخص آگے آ گیا اور اس نے تلوار سے آپ کو شہید کر دیا۔ ان واقعات کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ان واقعات سے خائف تھے اور جب وہ ان واقعات سے خائف ہی نہ تھے توکے خلاف یہ واقعات کیونکر ہو گئے۔ یہ لوگ تو اگر کسی امر سے خائف تھے تو اس سے کہ اسلام کی روشنی میں فرق نہ آئے۔ سو باوجود ان واقعات کے وہی بات آخر قائم ہوئی جسے یہ لوگ قائم کرنا چاہتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے خوف کو امن سے بدل دیا۔
    حضرت علیؓکی شہادت
    یہی حال حضرت علیؓ کا ہے۔ اُن کے دل کا خوف بھی صرف صداقت اور روحانیت کی اشاعت کے بارہ میں تھا۔ سو
    اللہ تعالیٰ نے اس خوف کو امن سے بدل دیا۔ یہ ڈر نہیں تھا کہ لوگ میرے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ چنانچہ باوجود اس کے کہ حضرت معاویہؓ کا لشکر بعض دفعہ حضرت علیؓ کے لشکر سے کئی کئی گنے زیادہ ہوتا تھا آپ اس کی ذرا بھی پرواہ نہیں کرتے تھے اور یہی فرماتے تھے کہ جو کچھ قرآن کہتا ہے وہی مانوں گا اس کے خلاف میں کوئی بات تسلیم نہیں کر سکتا۔
    اگر محض لوگوں کی مخالفت کو ہی خوفناک امر قرار دے دیا جائے تب تو ماننا پڑے گا کہ انبیاء (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ) ہمیشہ لوگوں سے ڈرتے رہے کیونکہ جتنی مخالفت لوگ ان کی کرتے ہیں اتنی مخالفت اور کسی کی نہیں کرتے۔ بہرحال دنیا کی مخالفت کوئی حقیقت نہیں رکھتی اور نہ خداتعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہبلکہ فرمایا ہے یعنی جس چیز سے وہ ڈرتے ہوں گے اسے اللہ تعالیٰ دور کر دے گا اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا اور جیسا کہ میں بتا چکا ہوں وہ صرف اس بات سے ڈرتے تھے کہ اُمت محمدیہ میں گمراہی اور ضلالت نہ آ جائے۔ سو اُمتِ محمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کی اس توجہ اور دعا کی برکت سے بحیثیت مجموعی ضلالت سے محفوظ رکھا اور اہل السنت و الجماعت کا مذہب ہی دنیا کے کثیر حصہ پر ہمیشہ غالب رہا۔
    اللہ تعالیٰ اپنے خلفاء کو عام خوف سے بھی محفوظ رکھتا ہے
    میں نے اس آیت کے جو معنی کئے ہیں کہ اس جگہ خوف سے مراد عام خوف نہیں بلکہ وہ خوف ہے جسے خلفاء کا دل محسوس کرتا ہو اس کا یہ
    مطلب نہیں کہ انہیںعام خوف ضرورہوتا ہیبلکہ عام خوف بھی اللہ تعالیٰ اُن سے دور ہی رکھتا ہے سوائے اس کے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی مصلحت ہو۔ جیسے حضرت علیؓ کے زمانہ میں جب خوف پیدا ہوا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ عام مسلمانوں کی حالت ایسی ہو چکی تھی کہ اب وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک خلافت کے انعام کے مستحق نہیں رہے تھے۔ پس میرا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو عام خوفوں سے محفوظ نہیں رکھتا بلکہ مطلب یہ ہے کہ اصل وعدہ اس آیت میں اسی خوف کے متعلق ہے جس کو وہ خوف قرار دیں۔ اور وہ بجائے کسی اور بات کے ہمیشہ اس ایک بات سے ہی ڈرتے تھے کہ اُمتِ محمدیہؐ میں گمراہی اور ضلالت نہ آ جائے۔ سو خدا کے فضل سے اُمتِ محمدیہ ایسی ضلالت سے محفوظ رہی اور باوجود بڑے بڑے فتنوں کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی وفات کے بعد اس کی ہدایت کے سامان ہوتے رہے۔ اور اصل معجزہ یہی ہوتا ہے کہ کسی کی وفات کے بعد بھی اس کی خواہشات پوری ہوتی رہیں۔ زندگی میں اگر کسی کی خواہشیں پوری ہوں تو کہا جا سکتا ہے کہ اس نے تدبیروں سے کام لے لیا تھا مگر جس کی زندگی ختم ہو جائے اور پھر بھی اس کی خواہشیں پوری ہوتی رہیں اس کے متعلق نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے کسی ظاہری تدبیر سے کام لے لیا ہو گابلکہ یہ امر اس بات کا ثبوت ہو گا کہ وہ شخص خداتعالیٰ کا محبوب اور پیارا تھا اور اللہ تعالیٰ کا اس سے گہرا تعلق تھا۔
    رسول کریم ﷺ کا ایک کشف جو آپؐ کی وفات کے بعد پورا ہوا
    اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلمنے کشفی حالت میں ایک شخص کے ہاتھوں میں شہنشاہِ ایران
    کے سونے کے کڑے دیکھے۔ اَب رسول کریم ﷺ کامعجزہ یہ نہیں کہ آپؐ نے اس کے ہاتھ میں سونے کے کڑے دیکھے بلکہ معجزہ یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ رسول کریم ﷺ فوت ہو گئے ایک لمبا عرصہ گزرنے کے بعد مالِ غنیمت میں سونے کے کڑے آئے اور باوجود اس کے کہ شریعت میں مَردوں کو سونے کے کڑے پہننے ممنوع ہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت عمرؓ کے دل میں یہ جذبہ پیدا کر دیا کہ وہ رسول کریم ﷺ کے اس کشف کو پورا کرنے کیلئے اسے سونے کے کڑے پہنائیں چنانچہ آپ نے اسے پہنا دیئے۔ پس اس واقعہ میں معجزہ یہ ہے کہ باوجودیکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے تھے، اللہ تعالیٰ نے حضرت عمرؓ کے دل میں رسول کریم ﷺ کی ایک پیشگوئی کو پوراکرنے کا جذبہ پیدا کر دیا۔ پھر یہ بھی معجزہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کی یہ بات حضرت عمرؓ نے سن لی اور آپ کو اسے پورا کرنے کا موقع مل گیا۔ آخر حضرت عمرؓ رسول کریم ﷺ کی ہر بات تو نہیں سنا کرتے تھے ممکن ہے یہ بات کسی اور کے کان میں پڑتی اور وہ آگے کسی اور کو بتانا بُھول جاتا مگر اس معجزے کا ایک یہ بھی حصہ ہے کہ جس شخص کے پاس سونے کے کڑے پہنچنے تھے اُسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کشف پہنچ چکا تھا۔ پھر اُسی معجزہ کا یہ بھی حصہ ہے کہ حضرت عمرؓ کے دل میں اللہ تعالیٰ نے یہ تحریک پیدا کر دی کہ وہ اس صحابیؓ کو سونے کے کڑے پہنائیں حالانکہ شریعت کے لحاظ سے مردوں کیلئے سونا پہننا ممنوع ہے مگر چونکہ اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کو پورا کرنا چاہتا تھا اس لئے آپ کے دل کو اس نے اس طرف مائل کر دیا کہ مردوں کے سونا نہ پہننے میں جو حکمتیں ہیں وہ بھی بے شک اچھی ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کو پورا کرنے کیلئے کسی کو تھوڑی دیر کیلئے سونے کے کڑے پہنا دینا بھی کوئی بُری بات نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ انہوں نے اس صحابیؓ کو اپنے سامنے سونے کے کڑے پہنائے۔۵۳؎
    خلفائے راشدین کی وفات کے بعد بھی اُن کا خوف امن سے بدلتا رہا
    اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ خلفائے راشدین فوت ہوگئے تو اُن کی وفات کے سالہا سال بعد خدا تعالیٰ نے اُن کے خوف کو
    امن سے بدلا۔ کبھی سَو سال کے بعد، کبھی دو سَو سال کے بعد، کبھی تین سَو سال کے بعد، کبھی چار سَو سال کے بعد اور کبھی پانچ سَو سال کے بعد اور اس طرح ظاہر کر دیا کہ خدا اُن سے محبت رکھتا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ اُن کے ارادے رائیگاں جائیں۔ اگر اس ساری آیت کو قوم کی طرف منسوب کر دیا جائے تب بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ اس صورت میں بھی وہی معنی لئے جائیں گے جن کو مَیں نے بیان کیا ہے۔ یعنی اس صورت میں بھی ساری قوم کو اگر کوئی خوف ہو سکتا تھا تو وہ کُفّار کے اسلام پر غلبہ کا ہو سکتا تھا۔ فردی طور پر تو کسی کو خوف ہو سکتا ہے کہ میرا بیٹا نہ مر جائے یا کسی کو خوف ہو سکتا ہے کہ مجھے تجارت میں نقصان نہ پہنچ جائے مگر قوم کا خوف تو قومی ہی ہو سکتا ہے اور وہ خوف بھی پھر یہی بن جاتا ہے کہ ایسا نہ ہو اسلام پر کُفّار غالب آجائیں سو قوم کا یہ خوف بھی اسلام کے ذریعہ ہی دور ہوئا اور اسلام کو ایسا زبردست غلبہ حاصل ہوئا جس کی اور کہیں مثال نہیں ملتی۔
    خلفائے راشدین کا غیر مسلم بادشاہوں پر رُعب
    حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب مسلمانوں کے
    اندرونی جھگڑے اور مناقشات بہت بڑھ گئے تو ایک دفعہ روم کے بادشاہ کو خیال آیا کہ یہ وقت مسلمانوں پر حملہ کرنے کیلئے بہت اچھا ہے وہ آپس میں لڑ رہے ہیں اور اُن کی طاقت اندرونی خانہ جنگی کی وجہ سے کمزور ہو چکی ہے اس لئے مسلمانوں پر اگر حملہ کیا گیا تو وہ بہت جلد شکست کھا جائیں گے۔ جب یہ افواہ اُڑتے اُڑتے حضرت معاویہؓ تک پہنچی تو انہوں نے اس بادشاہ کو کہلا بھیجا کہ یاد رکھو اگر تم نے مسلمانوں پر حملہ کیا تو علیؓ کی طرف سے پہلا جرنیل جو تمہارے خلاف لڑنے کیلئے نکلے گا وہ مَیں ہونگا۔ جب یہ پیغام اسے پہنچا تو اس نے لڑائی کا ارادہ فوراً ترک کر دیا۔ یہ واقعہ بھی بتاتا ہے کہ خلفاء کا بہت بڑا رُعب تھا کیونکہ جب اسے معلوم ہوئا کہ معاویہؓ بھی علیؓ کے ماتحت ہو کر مجھ سے لڑنے کیلئے آ جائے گا تو وہ دم بخود رہ گیا اور اس نے سمجھ لیا کہ لڑائی کرنا میرے لئے مفید نہیں ہوگا۔
    سچے خلفاء توحیدِ حقیقی کے علمبردار ہوتے ہیں
    (۶) خلفاء کی چھٹی علامت اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ
    وہ خلفاء میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے یعنی اُن کے دلوں میں خدا تعالیٰ غیر معمولی جرأت اور دلیری پیدا کر دے گا اور اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کسی اَور کا خوف اُن کے دل میں پیدا نہیں ہوگا۔ وہ لوگوں کے ڈر سے کوئی کام نہیں کریں گے بلکہ اللہ تعالیٰ پر توکّل رکھیں گے اور اُسی کی خوشنودی اور رضاء کیلئے تمام کام کریں گے۔ یہ معنی نہیں کہ وہ بُت پرستی نہیں کریں گے۔ بُت پرستی تو عام مسلمان بھی نہیں کرتے کُجا یہ کہ خلفاء کے متعلق یہ کہا جائے کہ وہ بُت پرستی نہیں کریں گے۔ پس یہاں بُت پرستی کا ذکر نہیں بلکہ اس امر کا ذکر ہے کہ وہ بندوں سے ڈر کر کسی مقام سے اپنا قدم پیچھے نہیں ہٹائیں گے بلکہ جو کچھ کریں گے خدا کے منشاء اور اُس کی رضاء کو پورا کرنے کیلئے کریں گے اور اِس امر کی ذرا بھی پرواہ نہیں کریں گے کہ اس راہ میں اُنہیں کن بلائوں اور آفات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دنیا میں بڑے سے بڑا دلیر آدمی بھی بعض دفعہ لوگوں کے ڈر سے ایسا پہلو اختیار کر لیتا ہے جس سے گو یہ مقصود نہیں ہوتا کہ وہ سچائی کو چھوڑ دے مگر دل میں یہ خواہش ضرور ہوتی ہے کہ مَیں ایسے رنگ میں کام کروں کہ کسی کو شکوہ پیدا نہ ہو۔
    مولوی غلام علی صاحب ایک کٹر وہابی ہوئا کرتے تھے۔ وہابیوں کا یہ فتویٰ ہے کہ ہندوستان میں جمعہ کی نماز ہو سکتی ہے لیکن حنفیوںکے نزدیک ہندوستان میں جمعہ کی نماز جائز نہیں کیونکہ وہ کہتے ہیں جمعہ پڑھنا تب جائز ہو سکتا ہے جب مسلمان سلطان ہو۔ جمعہ پڑھانے والا مسلمان قاضی ہو اورجہاں جمعہ پڑھا جائے وہ شہر ہو۔ ہندوستان میں انگریزی حکومت کی وجہ سے چونکہ نہ مسلمان سلطان رہا تھا نہ قاضی اس لئے وہ ہندوستان میں جمعہ کی نماز پڑھنا جائز نہیں سمجھتے تھے۔ اِدھر چونکہ قرآن کریم میں وہ یہ لکھا ہوئا دیکھتے تھے کہ جب تمہیں جمعہ کیلئے بلایا جائے تو فوراً تمام کام چھوڑتے ہوئے جمعہ کی نماز کیلئے چل پڑو اس لئے اُن کے دلوںکو اطمینان نہ تھا۔ ایک طرف ان کا جی چاہتا تھا کہ وہ جمعہ پڑھیں اور دوسری طرف وہ ڈرتے تھے کہ کہیں کوئی حنفی مولوی ہمارے خلاف فتویٰ نہ دے دے۔ اس مشکل کی وجہ سے ان کا یہ دستور تھا کہ جمعہ کے روز گائوں میں پہلے جمعہ پڑھتے اور پھر ظہر کی نماز ادا کر لیتے اور یہ خیال کرتے کہ اگر جمعہ والا مسئلہ درست ہے تب بھی ہم بچ گئے اور اگر ظہر پڑھنے والا مسئلہ صحیح ہے تب بھی بچ گئے اسی لئے وہ ظہر کا نام ظہر کی بجائے ’’احتیاطی‘‘ رکھا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ اگر خدا نے ہمارے جمعہ کی نماز کو الگ پھینک دیا تو ہم ظہر کو اٹھا کر اس کے سامنے رکھ دیں گے اور اگر اُس نے ظہر کو ردّ کر دیا تو ہم جمعہ اُس کے سامنے پیش کر دیں گے۔ اگر کوئی ’’احتیاطی‘‘ نہ پڑھتا تو سمجھا جاتا کہ وہ وہابی ہے۔
    مولوی غلام علی صاحب کا ایک واقعہ
    حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ ہم مولوی غلام علی
    صاحب کے ساتھ گورداسپور گئے راستہ میں جمعہ کا وقت آ گیا ہم نماز پڑھنے کیلئے ایک مسجد میں چلے گئے۔ آپ کا عام طریق وہابیوں سے ملتا تھا کیونکہ وہابی حدیثوں کے مطابق عمل کرنا اپنے لئے ضروری جانتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرنا ہر انسان کی نجات کیلئے ضروری ہے۔ غرض آپ بھی مولوی غلام علی صاحب کے ساتھ گئے اور جمعہ کی نماز پڑھی۔ جب مولوی غلام علی صاحب جمعہ کی نماز سے فارغ ہو گئے تو انہوں نے چار رکعت ظہر کی نماز پڑھ لی۔ آپ فرماتے تھے کہ مَیں نے اُن سے کہا مولوی صاحب! یہ جمعہ کی نماز کے بعد چار رکعتیں کیسی ہیں۔ وہ کہنے لگے یہ ’’احتیاطی‘‘ ہے۔ مَیں نے کہا مولوی صاحب آپ تو وہابی ہیں اور عقیدۃً اس کے مخالف ہیں پھر’’احتیاطی‘‘ کے کیا معنی ہوئے؟ وہ کہنے لگے یہ ’’احتیاطی‘‘ ان معنوں میں نہیں کہ خدا کے سامنے ہمارا جمعہ قبول ہوتا ہے یا ظہر بلکہ اِن معنوں میں ہے کہ لوگ مخالفت نہ کریں۔ توکئی لوگ اِس طرح بھی کام کر لیتے ہیں جیسے مولوی غلام علی صاحب نے کیا کہ اپنے دل میںتو وہ اس بات پر خوش رہے کہ انہوں نے جمعہ پڑھا ہے اور اُدھر لوگوں کو خوش کرنے کیلئے چار رکعت ظہر کی نماز بھی پڑھ لی۔
    ایک سُنّی بزرگ کا لطیفہ
    اِسی طرح ایک لطیفہ مشہور ہے۔ کہتے ہیں کوئی سُنّی بزرگ تھے جو شیعوں کے علاقہ میں رہتے تھے۔ ایک دفعہ غربت
    کی وجہ سے وہ بہت پریشان ہو گئے اورانہوں نے فیصلہ کیا کہ بادشاہ کے پاس پہنچ کر مدد کی درخواست کرنی چاہئے۔ چنانچہ وہ اُس کے پاس گئے اور مدد کی درخواست کی۔ وزیر نے اُن کی شکل کو دیکھ کر بادشاہ سے کہا کہ یہ شخص سُنّی معلوم ہوتا ہے۔ بادشاہ نے کہا تمہیں کس طرح معلوم ہوئا؟ وہ کہنے لگا بس شکل سے ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔ بادشاہ کہنے لگا یہ کوئی دلیل نہیں، تم میرے سامنے اس کا امتحان لو۔ چنانچہ وزیر نے اُن کے سامنے حضرت علیؓ کی بڑے زور سے تعریف شروع کر دی وہ بزرگ بھی حضرت علیؓ کی تعریف کرنے لگ گئے۔ بادشاہ نے دیکھ کر کہا کہ دیکھا! تم جو کچھ کہتے تھے وہ غلط ثابت ہوئا یا نہیں۔ اگر یہ شیعہ نہ ہوتا تو کیا حضرت علیؓ کی ایسی ہی تعریف کرتا۔ وزیر کہنے لگا۔ بادشاہ سلامت! آپ خواہ کچھ کہیں مجھے یہ سُنّی ہی معلوم ہوتا ہے۔ بادشاہ نے کہا اچھا امتحان کیلئے پھر کوئی اور بات کرو۔ چنانچہ وزیر کہنے لگا کہو ’’برہرسہ ***‘‘ یعنی ابوبکرؓ، عمرؓ اور عثمانؓ پر (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ) ***۔ وہ بھی کہنے لگ گیا۔ ’’برہرسہ ***‘‘ ۔بادشاہ نے کہا اَب تو یہ یقینی طور پر شیعہ ثابت ہو گیا ہے۔ وہ کہنے لگے بظاہر تو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے مگر میرا دل مطمئن نہیں۔ آخر وزیرانہیں الگ لے گیا اور کہا سچ سچ بتائو تمہارا مذہب کیا ہے؟ انہوں نے کہا مَیں ہوںتو سُنّی ہی۔ وہ کہنے لگا پھر تم نے ’’برہرسہ ***‘‘ کیوں کہا؟ وہ بزرگ کہنے لگے تمہاری اِن الفاظ سے تو یہ مراد تھی کہ حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ پر *** ہو مگر میری مراد یہ تھی کہ آپ دونوں اور مجھ پر *** ہو۔ آپ لوگوں پر اِس لئے کہ آپ بزرگوں پر *** کرتے ہیں اور مجھ پر اس لئے کہ مجھے اپنی بدبختی کی وجہ سے تم جیسے لوگوں کے پاس آنا پڑا۔ غرض انسان کئی طریق سے وقت گذار لیتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح اُس نے کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کیا۔ مگر فرمایا خلفاء انتہائی طور پر دلیر ہونگے اور خوف و ہراس اُن کے قریب بھی نہیں پھٹکے گا۔ وہ جو کچھ کریں گے خدا کی رضا کیلئے کریں گے، کسی انسان سے ڈر کر اُن سے کوئی فعل صادر نہیں ہوگا۔
    فتنۂ ارتداد کے مقابلہ میں حضرت ابوبکرؓ کی استقامت
    یہ علامت بھی خلفائے راشدین میں بتمام و کمال پائی جاتی ہے۔ چنانچہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اور حضرت ابوبکر
    رضی اللہ عنہخلیفہ مقرر ہوئے تو اُس وقت سارا عرب مرتد ہو گیا۔ صرف دو جگہ نماز باجماعت ہوتی تھی باقی تمام مقامات میں فتنہ اُٹھ کھڑا ہوئا اور سوائے مکہ اور مدینہ اور ایک چھوٹے سے قصبہ کے تمام لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا تھا کہ خُذْمِنْ اَمْوَالِھِمْ صَدَقَۃً اِن کے مالوںسے صدقہ لے، کسی اَور کو یہ اختیار نہیں کہ ہم سے زکوٰۃ وصول کرے۔ غرض سارا عرب مرتد ہو گیا اور وہ لڑائی کیلئے چل پڑا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں گو اسلام کمزور تھا مگر قبائلِ عرب متفرق طور پر حملہ کرتے تھے۔ کبھی ایک گروہ نے حملہ کر دیا اور کبھی دوسرے نے۔ جب غزوۂ احزاب کے موقع پر کُفّار کے لشکر نے اجتماعی رنگ میں مسلمانوں پر حملہ کیا تو اُس وقت تک اسلام بہت کچھ طاقت پکڑ چکا تھا گو ابھی اِتنی زیادہ طاقت حاصل نہیں ہوئی تھی کہ انہیں آئندہ کیلئے کسی حملے کا ڈر ہی نہ رہتا۔ اس کے بعد جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ فتح کرنے کیلئے گئے تو اُس وقت عرب کے بعض قبائل بھی آپ کی مدد کیلئے کھڑے ہوگئے تھے۔ اِس طرح خدا نے تدریجی طور پر دشمنوں میں جوش پیدا کیا تا کہ وہ اتنا زور نہ پکڑ لیں کہ سب مُلک پر چھا جائیں۔ لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں یکدم تمام عرب مرتد ہوگیا صرف مکہ اور مدینہ اور ایک چھوٹا سا قصبہ رہ گئے باقی تمام مقامات کے لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا اور وہ لشکر لے کر مقابلہ کیلئے نکل کھڑے ہوئے۔ بعض جگہ تو اُن کے پاس ایک ایک لاکھ کا بھی لشکر تھا۔ مگر اِدھر صرف دس ہزار کا ایک لشکر تھا اور وہ بھی شام کو جارہا تھا اور یہ وہ لشکر تھا جسے اپنی وفات کے قریب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رومی علاقہ پر حملہ کرنے کیلئے تیار کیا تھا اور اسامہؓ کو اس کا افسر مقرر کیا تھا باقی لوگ جو رہ گئے تھے وہ یا تو کمزور اور بڈّھے تھے اور یا پھر گنتی کے چند نوجوان تھے۔ یہ حالات دیکھ کر صحابہؓ نے سوچا کہ اگر ایسی بغاوت کے وقت اسامہؓ کا لشکر بھی روانہ ہو گیا تو مدینہ کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں ہو سکے گا۔ چنانچہ اکابر صحابہؓ کا ایک وفد جس میں حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ بھی شامل تھے اور جو اپنی شجاعت اور دلیری کے لحاظ سے مشہور تھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئا اورعرض کیا کہ کچھ عرصہ کیلئے اس لشکر کو روک لیا جائے۔ جب بغاوت فرو ہو جائے تو پھر بیشک اُسے بھیج دیا جائے مگر اب اس کا بھیجنا خطرہ سے خالی نہیں، مدینہ کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں اور دشمن کا لشکر ہماری طرف بڑھتا چلا آ رہا ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نہایت غصہ کی حالت میں فرمایا کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ابوقحافہ کا بیٹا سب سے پہلا کام یہ کرے کہ جس لشکر کو روانہ کرنے کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا اُسے روک لے۔ مَیں اِس لشکر کو کسی صورت میں روک نہیں سکتا۔ اگر تمام عرب باغی ہو گیا ہے تو بے شک ہو جائے اور اگر مدینہ کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں تو بے شک نہ رہے، خدا کی قسم! اگر دشمن کی فوج مدینہ میں گُھس آئے اور ہمارے سامنے مسلمان عورتوں کی لاشیں کتے گھسیٹتے پھریں تب بھی مَیں اس لشکر کو ضرور روانہ کروں گا جس کو روانہ کرنے کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے۔۵۴؎ اگر تم دشمن کی فوجوں سے ڈرتے ہو تو بے شک میرا ساتھ چھوڑ دو مَیں اکیلا تمام دشمنوں کا مقابلہ کرونگا۔ یہ کی صداقت کاکتنا بڑا ثبوت ہے۔
    دوسرا سوال زکوٰۃ کا تھا۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ اگر آپ لشکر نہیں روک سکتے تو صرف اتنا کر لیجئے کہ اِن لوگوں سے عارضی صلح کر لیں اور انہیں کہہ دیں کہ ہم اس سال تم سے زکوٰۃ نہیں لیں گے۔ اس دوران میں ان کا جوش ٹھنڈا ہو جائے گا اور تفرقہ کے مٹنے کی کوئی صورت پیدا ہو جائیگی۔ موجودہ صورت میں جب کہ وہ جوش سے بھرے ہوئے ہیں اور لڑنے مرنے کیلئے تیارہیں ان سے زکوٰۃ وصول کرنا مناسب نہیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایساہرگز نہیں ہوگا۔ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ لوگ اونٹ کے گھٹنے کو باندھنے والی ایک رسی بھی زکوٰۃ میں دیا کرتے تھے اور اب نہیں دیں گے تو مَیں اُس وقت تک ان سے جنگ جاری رکھوں گا جب تک وہ رسی بھی اُن سے وصول نہ کر لوں۔ اس پر صحابہؓ نے کہا کہ اگر جَیشِ اسامہؓ بھی چلا گیا اور ان لوگوں سے عارضی صلح بھی نہ کی گئی تو پھر دشمن کا کون مقابلہ کرے گا۔ مدینہ میں تو یہ بُڈّھے اور کمزور لوگ ہیں اور یا صرف چند نوجوان ہیں وہ بھلا لاکھوں کا کیا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا۔ اے دوستو! اگر تم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے تو ابوبکرؓ اکیلا ان کا مقابلہ کرنے کے لئے نکل کھڑا ہوگا۔۵۵؎ یہ دعویٰ اُس شخص کا ہے جسے فنونِ جنگ سے کچھ زیادہ واقفیت نہ تھی اور جس کے متعلق عام طور پر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ دل کا کمزور ہے۔ پھر یہ جرأت، یہ دلیری، یہ یقین اور یہ وثوق اُس میں کہاں سے پیدا ہوئا۔ اسی بات سے یہ یقین پیدا ہوئا کہ حضرت ابوبکرؓ نے سمجھ لیا تھا کہ مَیں خلافت کے مقام پر خدا تعالیٰ کی طرف سے کھڑا ہوئا ہوں اور مجھ پر ہی تمام کام کی ذمہ داری ہے۔ پس میرا فرض ہے کہ مَیں مقابلہ کیلئے نکل کھڑا ہوں کامیابی دینا یا نہ دینا خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے اگر وہ کامیابی دینا چاہے گا تو آپ دے دے گا اور اگر نہیں دینا چاہے گا تو سارے لشکر مل کر بھی کامیاب نہیں کر سکتے۔
    حضرت عمرؓ کے بہادرانہ کارنامے
    اِس کے بعد جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ ہوئے تو وہی عمرؓ جو ابوبکرؓ کو یہ مشورہ دیتے
    تھے کہ اتنے بڑے لشکر کا ہم کہاں مقابلہ کر سکتے ہیں وہ بہت ہیں اور ہم تھوڑے جَیشِ اسامہؓ کو روک لیا جائے تا کہ وہ ہماری مدد کر سکے، اُن میں بھی وہی توکّل آ جاتا ہے اور وہ ایک وقت میں ساری دنیا سے جنگ کرتے ہیں اور ذرا نہیں گھبراتے چنانچہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں رومی حکومت سے لڑائی ہوئی۔ وہ حکومت بڑی زبردست تھی اور اُس سے مسلمانوں کا مقابلہ کرنا ایسا ہی تھا جیسے افغانستان انگریزی حکومت سے لڑائی شروع کر دے مگر باوجود اتنی زبردست حکومت کے ساتھ جنگ جاری ہونے کے جب حضرت عمرؓ کے سامنے یہ سوال پیش ہوئا کہ کسریٰ کی فوجوں نے مسلمانوں کے مقابلہ میں سرگرمی دکھانی شروع کر دی ہے اور اُن کے بہت سے علاقے جو مسلمانوں کے قبضہ میں تھے اُن میں بغاوت اور سرکشی کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں تو وہی عمرؓ جو ابوبکرؓ کو یہ مشورہ دیتے تھے کہ اگر ہم ایک ہی وقت میں ایک طرف جَیشِ اسامہؓ کو رومیوں کے مقابلہ میں بھیج دیں گے اور دوسری طرف اندرونی باغیوں کا مقابلہ کریں گے تو یہ سخت غلطی ہوگی حکم دیتے ہیں کہ فوراً ایران پر حملہ کر دو۔ صحابہؓ کہتے ہیں کہ ایک وقت میں دو زبردست حکومتوں سے کس طرح مقابلہ ہوگا مگر آپ فرماتے ہیں کچھ پروا ہ نہیں جائو اور مقابلہ کرو۔ مسلمان چونکہ اُس وقت رومی حکومت سے جنگ کرنے میں مشغول تھے اِس لئے ایران پر مسلمانوں کا حملہ اِس قدر دُور اَز قیاس تھا کہ ایران کے بادشاہ کو جب یہ خبریں پہنچیں کہ مسلمان فوجیں بڑھتی چلی آ رہی ہیں تو اُس نے اِن خبروں کو کوئی اہمیت نہ دی اور کہا کہ لوگ خواہ مخواہ جھوٹی افواہیں اُڑا رہے ہیں مسلمان بھلا ایسی حالت میں جب کہ وہ پہلے ہی ایک خطرناک جنگ میں مبتلاء ہیں ایران پر حملہ کرنے کا خیال بھی کر سکتے ہیں۔ چنانچہ کچھ عرصہ تک تو ایرانیوں کی شکست کی بڑی وجہ یہی رہی کہ دارالخلافہ سے مسلمانوں کے مقابلہ میں کوئی فوج نہیں آتی تھی اور بادشاہ خیال کرتا تھا کہ لوگ جھوٹی خبریں اُڑا رہے ہیں مگر جب کثرت اور تواتر کے ساتھ اُسے اس قسم کی خبریں پہنچیں تو اُس نے اپنا ایک جرنیل بھیجا اور اُسے حکم دیا کہ میرے پاس صحیح حالات کی رپورٹ کرو۔ چنانچہ اس نے جب رپورٹ کی کہ مسلمان واقع میں حملہ کر رہے ہیں اور وہ بہت سے حصوں پر قابض بھی ہو چکے ہیں تب اُس نے اُن کے مقابلہ کیلئے فوج بھیجی۔ اس سے تم اندازہ لگا لو کہ مسلمانوں کا اس لڑائی میں کُودنا بظاہر کتنا خطرناک تھا جب کہ اس کے ساتھ ہی وہ رومی لشکروں کا بھی مقابلہ کر رہے تھے مگر حضرت عمرؓ کو خدا تعالیٰ نے مقامِ خلافت پر کھڑا کرنے کے بعد جو قوت بخشی اُس کے آگے اِن چیزوں کی کوئی حقیقت نہ تھی۔
    حضرت ابوہریرہؓ کا کسرٰی کے رومال میں تھوکنا
    یہی وہ جنگ ہے جس میں مسلمانوں کو جب فتح حاصل
    ہوئی تو مالِغنیمت میں کِسریٰ کا ایک رومال بھی آیا جو حضرت ابوہریرہؓ کو ملا۔ ایک دن انہیں کھانسی اُٹھی تو انہوں نے کسریٰ شاہ ِ ایران کا رومال نکال کر اس میں تھوک دیا اور پھر کہا بخ بخ ابوھریرہ۔ کہ واہ، واہ ابوہریرہ تیری بھی کیا شان ہے کہ تُو آج کسریٰ شاہِ ایران کے رومال میں تُھوک رہا ہے۔ لوگوں نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بعض دفعہ مجھے اتنے فاقے ہوتے تھے کہ میں بھوک سے بیتاب ہو کر بیہوش ہو جاتا تھا اور لوگ یہ سمجھ کر کہ مجھے مرگی کا دَورہ ہو گیا ہے میرے سر پر جُوتیاں مارنی شروع کر دیتے تھے مگر آ ج یہ حالت ہے کہ میںشاہی رومال میں تُھوک رہا ہوں۔۵۶؎ تو کی علامت خداتعالیٰ نے خلفائے راشدین کے ذریعہ نہایت واضح رنگ میں پوری فرمائی اور انہوں نے خداتعالیٰ کے سِوا کبھی کسی کا خوف اپنے دل میں نہیں آنے دیا۔
    حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کا دلیرانہ مقابلہ
    اِسی طرح حضرت عثمانؓ جیسے باحیا اور رقیق القلب انسان
    نے اندرونی مخالفت کا مقابلہ جس یقین سے کیا وہ انسانی عقل کو دنگ کر دیتا ہے۔ حالانکہ وہ عام طور پر کمزور سمجھے جاتے ہیں مگر جب ان کا اپنا زمانہ آیا تو انہوں نے ایسی بہادری اور جرأت سے کام لیا کہ انسان ان واقعات کو پڑھ کر حیران رہ جاتا ہے۔
    یہی حال حضرت علیؓ کا ہے کسی مخالفت یا خطرے کی انہوں نے پرواہ نہیں کی حالانکہ اندرونی خطرے بھی تھے اور بیرونی بھی۔ مگر ان کے مدنظر صرف یہی امر رہا کہ خداتعالیٰ کی مرضی پوری ہو اور ذرا بھی کسی سے خوف کھا کر اس منشائِ الٰہی میں جو انہوں نے سمجھا تھا فرق نہیں آنے دیا۔
    غرض تمام خلفاء کے حالات میں ہمیں کا نہایت اعلیٰ درجہ کا نظارہ نظر آتا ہے جو اِس بات کا یقینی اور قطعی ثبوت ہے کہ خداتعالیٰ نے انہیں خود مقامِ خلافت پر کھڑا کیا تھا اور وہ آپ ان کی تائید اور نصرت کا ذمہ وار رہا۔
    آیت استخلاف پر اعتراضات
    اَب میں اُن اعتراضات کو لیتا ہوں جو عام طور پر اِس آیت پر کئے جاتے ہیں۔ پہلا اعتراض
    اس آیت پر یہ کیا جاتا ہے کہ اس آیت میں اُمتِ مُسلمہ سے وعدہ ہے نہ کہ بعض افراد سے اور اُمت کو خلیفہ بنانے کا وعدہ ہے نہ کہ بعض افراد کو۔ پس اس سے مراد مسلمانوں کو غلبہ اور حکومت کا مل جانا ہے۔
    دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اس آیت میں کہا ہے اور پہلی قوموں کو خلافت نبوت یا ملوکیت کے ذریعہ سے ملی تھی۔ پس اسی حد تک تشبیہہ تسلیم کی جا سکتی ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ مسلمانوں میں نبی ہوں گے اور پھر یہ کہ ملوک ہوں گے مگر جس قسم کی خلافت تم کہتے ہو وہ نہ تو نبوت کے تحت آتی ہے اور نہ ملوکیت کے تحت آتی ہے۔ پھر اس کا وجود کہاں سے ثابت ہوئا۔
    تیسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اگر اس خلافت کو تسلیم بھی کر لیا جائے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہوئی تو چونکہ اس خلافت کے ساتھ حکومت بھی شامل تھی اس لئے کے ماتحت وہ آ سکتی تھی لیکن اس خلافت کا ثبوت کہاں سے ملا جو جماعت احمدیہ میں قائم ہے۔ یہ خلافت نہ تو خلافتِ نبوت ہے اور نہ خلافت ِملوکیّت۔
    چوتھا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اس آیت سے اگر افراد مراد لئے جائیں جماعت نہ لی جائے تو پھر خلافتِ نبوت اور خلافتِ ملوکیّت کا پتہ چلتا ہے اور معنی یہ بنتے ہیں کہ اس اُمت میں سے بعض افراد نبی ہوں گے اور بعض افراد ملوک ہوں گے۔ مگر جو خلافتِ نبوت پہلے جاری تھی اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ختم کر دیا اور تم خود بھی تسلیم کرتے ہو کہ جس قسم کے نبی پہلے آیا کرتے تھے اب اس قسم کے نبی نہیں آ سکتے اور ملوکیّت کے متعلق بھی تم خود قائل ہو کہ خلفاء ملوک میں شامل نہ تھے۔ جیسا کہ احادیث میں آتا ہیعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ تَکُوْنُ النُّبُوَّۃُ فِیْکُمْ مَاشَائَ اللّٰہُ اَنْ تَکُوْنَ ثُمَّ یَرْفَعُھَا اللّٰہُ تَعَالٰی ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَۃٌ عَلٰی مِنْھَا جِ النُّبُوَّۃِ مَاشَائَ اللّٰہُ اَنْ تَکُوْنَ ثُمَّ یَرْفَعُھَا اللّٰہُ تَعَالٰی ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکاً عَاضَّا فَتَکُوْنُ مَاشَائَ اللّٰہُ اَنْ تَکُوْنَ۔۵۷؎
    یعنی رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ تم میں نبوت رہے گی جب تک خدا چاہے گا پھر خدا اس نعمت کو اُٹھا لے گا اور تمہیں خلافت علی منہاجِ النبوۃ کی نعمت دے گا اور یہ خلافت تم میں اس وقت تک رہے گی جب تک خدا چاہے گا۔ پھر خدا اس نعمت کو بھی اُٹھا لے گا اور جب تک چاہے گا تم میں ملوکیّت کو قائم رکھے گا۔ پس جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلفاء کے بادشاہ ہونے سے بھی انکار کیا ہے جیسا کہ فرمایا کہ پہلے خلافت ہو گی اور پھر ملوکیت تو معلوم ہوا کہ خلافت ِنبوت اور خلافتِ ملوکیت دونوں اُمت محمدیہ کے افراد کو نہیں مل سکتیں اور جب صورت یہ ہے تو اس آیت سے کسی فردی خلافت کا ثبوت نہ ملا بلکہ صرف قومی خلافت ہی مراد لی جا سکتی ہے اور اس سے کسی کو انکار نہیں۔
    اِس سوال کا جواب کہ اس آیت میں اُمتِ مُسلمہ سے وعدہ ہے، نہ کہ بعض افراد سے
    اَب مَیں اِن تمام سوالات کے جواب دیتا ہوں۔پہلا سوال کہ اس آیت میں
    اُمتِ مُسلمہ سے وعدہ ہے نہکہ بعض افراد سے اس کے یہ جوابات ہیں۔
    (۱) بے شک وعدہ قوم سے ہے مگر قوم سے وعدہ کے یہ معنی نہیں کہ افراد کے ذریعہ سے وہ وعدہ پورا نہ ہو۔ بعض وعدے قوم سے ہوتے ہیں لیکن افراد کے ذریعہ سے پورے کئے جاتے ہیں اور کہا یہی جاتا ہے کہ قوم سے جو وعدہ کیا گیا تھا وہ پورا ہو گیا۔ اس کی مثالیں دنیا کی ہر زبان میں ملتی ہیں۔ مثلاً ہماری زبان میں کہا جاتا ہے کہ انگریز بادشاہ ہیں۔ اب کیا اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ ہر انگریز بادشاہ ہے۔ ہر انگریز تو نہ بادشاہ ہے اور نہ بادشاہ بن سکتا ہے مگر کہا یہی جاتا ہے کہ انگریز بادشاہ ہیں۔ اسی طرح کہا جاتا ہے کہ فلاں قوم حاکم ہے حالانکہ ساری قوم کہاں حاکم ہوتی ہے چند افراد کے سپرد حکومت کا نظم و نسق ہوتا ہے اور باقی سب اس کے تابع ہوتے ہیں۔ اسی طرح کہا جاتا ہے فلاں قوم بڑی دولت مند ہے مگر اس کے یہ معنی تو نہیں ہوتے کہ اس قوم کا ہر فرد دولتمند ہے۔ انگریزوں کے متعلق عام طور پر کہا جاتا ہے کہ وہ بڑے دولتمند ہیں حالانکہ ان میں بڑے بڑے غریب بھی ہوتے ہیں۔ ہمارے بڑے بھائی مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم و مغفور نے ایک دفعہ سنایا کہ جب وہ لنڈن میں تھے تو ایک دن جس مکان میں وہ رہتے تھے اس کا کوڑا کرکٹ اٹھا کر خادمہ نے جب باہر پھینکا تو ایک انگریز لڑکا دَوڑ کر آیا اور اُس نے کوڑا کرکٹ کے ڈھیر میں سے ڈبل روٹی کا ایک ٹکڑا نکال کر کھا لیا۔
    اسی طرح برنڈزی ۵۸؎ میں مَیں نے دیکھا کہ عورتیں اپنے سروں پر برتن رکھ کر پانی لینے جاتی تھیں اور ان کے بچوں نے جو پتلونیں پہنی ہوئی ہوتی تھیں ان کا کچھ حصہ کسی کپڑے کا ہوتا تھا اور کچھ حصہ کسی کپڑے کا مگر کہا یہی جاتا ہے کہ انگریز بڑے دولتمند ہیں۔
    غرض قوم سے وعدہ کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ افراد کے ذریعہ وہ وعدہ پورا نہ ہو۔ کئی وعدے قوم سے ہی ہوتے ہیں لیکن پورے وہ افرد کے ذریعہ کئے جاتے ہیں۔ اس کی مثال ہمیں قرآن کریم سے بھی ملتی ہے۔
    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ یعنی موسٰیؑ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم! اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے تم میں اپنے انبیاء مبعوث کئے وَجَعَلَکُمْ مُّلُوْکًا اور اس نے تم کو بادشادہ بنایا۔ اب کیاکوئی ثابت کر سکتا ہے کہ سب بنی اسرائیل بادشاہ بن گئے تھے۔ یقینا بنی اسرائیل میں بڑے بڑے غریب بھی ہوں گے مگر موسیٰ ؑ ان سے یہی فرماتے ہیں کہ اس نے تم سب کو بادشاہ بنایا۔ مراد یہی ہے کہ جب کسی قوم میں سے بادشاہ ہو تو چونکہ وہ قوم اُن انعامات اور فوائد سے حصہ پاتی ہے جو بادشاہت سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے بالفاظ دیگر ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ بادشاہ ہوگئی (غرض جب کی موجودگی کے باوجود اس آیت کے یہ معنی نہیں کئے جاتے کہ ہریہودی بادشاہ بنا توسے یہ کیونکر نتیجہ نکال لیا جاتا ہے کہ یہ وعدہ بعض افراد کے ذریعہ پورا نہیں ہونا چاہئے بلکہ اُمت کے ہر فرد کو خلافت کا انعام ملنا چاہئے۔ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ یہود کے متعلق جب اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ تو مفسرین نہایت ٹھنڈے دل کے ساتھ یہ کہہ دیتے ہیں کہ گو بادشاہت چند افراد کو ہی ملی مگر چونکہ اُن کے ذریعہ قوم کا عام معیار بلند ہو گیا اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان سب کوبادشاہت ملی۔ مگر جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہتو کہنے لگ جاتے ہیں کہ یہ وعدہ سب قوم سے ہے ہم یہ تسلیم نہیں کر سکتے کہ بعض افراد کے ذریعہ یہ وعدہ پورا ہوئا حالانکہ اگر اس سے قومی غلبہ ہی مراد لے لیا جائے تو بھی ہر مؤمن کو یہ غلبہ کہاں حاصل ہوتا ہے۔ پھر بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ بعض کو غلبہ ملتا ہے اور بعض کو نہیں ملتا۔ صحابہؓ میں سے بھی کئی ایسے تھے جو قومی غلبہ کے زمانہ میں بھی غریب ہی رہے اور ان کی مالی حالت کچھ زیادہ اچھی نہ ہوئی) حضرت ابوہریرہؓ کا ہی لطیفہ ہے۔ جب حضرت علیؓ اور معاویہؓ کی آپس میں جنگ ہوئی اور صَفّین کے مقام پر دونوں لشکروںنے ڈیرے ڈال دیئے تو باوجود اس کے کہ حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے کیمپوں میں ایک ایک میل کا فاصلہ تھا جب نماز کا وقت آتا تو حضرت ابوہریرہؓ حضرت علیؓ کے کیمپ میں آ جاتے اور جب کھانے کا وقت آتا تو حضرت معاویہؓ کے کیمپ میں چلے جاتے۔ کسی نے اُن سے کہا کہ آپ بھی عجیب آدمی ہیں اُدھر حضرت علیؓ کی مجلس میں چلے جاتے ہیں اور اِدھر معاویہؓ کی مجلس میں شریک ہو جاتے ہیں۔ یہ کیا بات ہے؟ وہ کہنے لگے۔ نماز علیؓ کے ہاں اچھی ہوتی ہے اور کھانا معاویہؓ کے ہاں اچھا ملتا ہے اس لئے جب نماز کا وقت ہوتا ہے مَیں اُدھر چلا جاتا ہوں اور جب روٹی کا وقت آتا ہے تو اِدھر آ جاتا ہوں۔ معاویہؓ کے ہاں سے انہیں چونکہ کھانے کیلئے پلائو اور متنجن وغیرہ ملتا تھا اس لئے وہ اُس وقت اُدھر چلے جاتے مگر نماز چونکہ حضرت علیؓ کی رقّت اور سوز والی ہوتی تھی اس لئے نماز کے وقت وہ آپ کے ساتھ شریک ہو جاتے۔
    ایک غیر مبائع دوست کا لطیفہ
    ہمارے بعض غیر مبائع دوستوں کا بھی ایسا ہی حال ہے بلکہ اُن کا لطیفہ تو ابوہریرہؓ کے لطیفے
    سے بھی بڑھ کر ہے۔ مَیں ایک دفعہ چوہدری ظفراللہ خان صاحب کے ہاں بیٹھا ہوئا تھا کہ کسی دوست نے ایک غیر مبائع کے متعلق بتایا کہ وہ کہتے ہیں عقائد تو ہمارے ہی درست ہیں مگر دعائیں میاں صاحب کی زیادہ قبول ہوتی ہیں۔ گویا جیسے ابوہریرہؓ نے کہا تھا کہ روٹی معاویہؓ کے ہاں سے اچھی ملتی ہے اور نمازعلیؓ کے ہاں اچھی ہوتی ہے۔ اسی طرح اُس نے کہا عقائد تو ہمارے ٹھیک ہیں مگر دعائیں اِن کی قبول ہوتی ہیں۔
    غرض قوم میں بادشاہت کے آجانے کے باوجود پھر بھی کئی لوگ غریب ہی رہتے ہیں مگر کہا یہی جاتا ہے کہ وہ قوم بادشاہ ہے حالانکہ بادشاہ ایک ہی ہوتا ہے باقی سب بادشاہ نہیں ہوتے۔ اِسی طرح یہود کے متعلق یہ کہا گیا کہ ۔ اگر یہی ضروری ہے کہ جب خدا یہ کہے کہ مَیں نے تم کو بادشاہ بنایا تو قوم کا ہر فرد بادشاہ بنے تو ثابت کرنا چاہئے کہ ہر یہودی کو خدا نے بادشاہ بنایا۔ مگر ایسا کوئی ثابت نہیں کر سکتا بلکہ یہی کہا جاتا ہے کہ جب کسی قوم میں سے بادشاہ ہو تو چونکہ وہ تمام قوم بادشاہت کے فوائد سے حصہ پاتی ہے اس لئے ہم دوسرے الفاظ میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ قوم بادشاہ ہوگئی۔ اِسی طرح جب کسی قوم میں سے بعض افراد کو خلافت مل جائے تو یہی کہا جائے گا کہ اُس قوم کو وہ انعام ملا۔ یہ ضروری نہیں ہوگا کہ ہر فرد کو یہ انعام ملے۔
    دوسری مثال اس کی یہ آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ۵۹؎ کہ جب یہود سے یہ کہا جاتا ہے کہ قرآن میں جو کچھ اُترا ہے اُس پر ایمان لائو تو وہ کہتے ہیں ہم تو اس پر ایمان لائیں گے جو ہم پر نازل ہوئا ہے۔ اب یہ امر صاف ظاہر ہے کہ وحی اُن پر نہیں اُتری تھی بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اُتری تھی۔ مگر وہ کہتے ہیں ’’ہم پر اُتری‘‘ گویا وہ حضرت موسیٰ یا دیگر انبیاء علیہم السلام کے کلام کے متعلق کہتے ہیں حالانکہ وہ کلام اُن پر نہیں بلکہ اُن کے انبیاء پر اُترا تھا۔ پس بعض افراد پر جو ایساانعام نازل ہو جس سے ساری قوم کو فائدہ پہنچتا ہو تو یہی کہا جاتا ہے کہ وہ ساری قوم کو ملا۔ مثلاً زید کے پاس روپیہ ہو تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ سارا شہر دولتمند ہے لیکن اگر شہر میں ایک عالم بھی ایسا ہو جو درس و تدریس کے ذریعہ لوگوں کی علمی خدمت کر رہا ہو تو اس شہر کو عالموں کا شہر کہہ دیا جاتا ہے۔ اس کی موٹی مثال یہ ہے کہ قادیان میں ہر قسم کے لوگ موجود ہیں۔ عالم بھی ہیں جاہل بھی ہیں، دُکاندار بھی ہیں، مزدور بھی ہیں، پڑھے لکھے بھی ہیں اور اَنْ پڑھ بھی ہیں، مگر اِردگِرد کے دیہات میں قادیان کے جب بھی دو چار آدمی چلے جائیں تو وہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ ’’قادیان کے مولوی‘‘ آ گئے چاہے وہ اینٹیں ڈھونے والے مزدور ہی کیوں نہ ہوں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ قادیان میں ہر وقت علم کا چرچا رہتا ہے اور اس علمی چرچے کی وجہ سے قادیان کے ہر آدمی کو مولوی کہہ دیا جاتا ہے۔ جیسے باپ حکیم ہوتا ہے تو بیٹا خواہ طِبّ کا ایک حرف بھی نہ جانتا ہو اُسے لوگ حکیم کہنے لگ جاتے ہیں۔ تو جہاں شدید نسبت ہوتی ہے وہاں اس نسبت کو ملحوظ رکھا جاتا ہے اور اُس کی وجہ سے افراد بھی اس میں شریک سمجھے جاتے ہیں۔ جب کسی نبی پر خدا کا کلام نازل ہو تو وہ نبی جس قوم میں سے ہو اس کے متعلق بھی کہا جاتا ہے کہ اس پر خدا کا کلام نازل ہوئا حالانکہ کلام نبی پر نازل ہوتا ہے۔ اسی طرح قوم میں سے کوئی بادشاہ ہو تو ساری قوم کو بادشاہ سمجھا جانے لگتا ہے۔ انگلستان میں کئی ایسے غریب لوگ ہیں جو دوسروں سے بھیک مانگتے ہیں لیکن ہندوستان میں اگر وہاں کا ایک چوہڑا بھی آ جائے تو اسے لوگ دور سے سلام کرنے لگ جاتے ہیں۔ پولیس والے بھی خیال رکھتے ہیں کہ ’’صاحب بہادر‘‘ کی کوئی ہتک نہ کر دے حالانکہ اپنے ملک میں اُسے کوئی اعزاز حاصل نہیں ہوتا مگر چونکہ قوم کے بعض افراد کو بادشاہت مل گئی اس لئے قوم کا ہر فرد معزز سمجھا جانے لگا۔
    کچھ عرصہ ہوئا ہندوستان کے ایک راجہ صاحب ولایت گئے۔ جب وہاں سے واپس آئے اور بمبئی میں پہنچے تو انہیں کوئی ضروری کام تھا اس لئے انہوں نے چاہا کہ بندرگاہ سے جلدی نکلنے کی اجازت مل جائے۔ پاسپورٹ دیکھنے پر ایک انگریز مقرر تھا۔ وہ جلدی سے پاسپورٹ لے کر آگے بڑھے اور کہا کہ میرا پاسپورٹ دیکھ لیجئے مجھے ایک ضروری کام ہے اور مَیں نے جلدی جانا ہے مگر اس نے کہا ٹھہرو مَیں باری باری دیکھوں گا۔ چنانچہ اس نے راجہ کی کوئی پرواہ نہ کی اور سب کے بعد اسے گزرنے کی اجازت دی۔ اس پر اخبارات میں بڑا شور اُٹھا کہ راجہ صاحب کی ہتک ہوئی ہے مگر کسی نے اس انگریز کو پوچھا تک نہیں کہ تم نے ایسا کیوں کیا۔
    تو جس قوم کو غلبہ حاصل ہو اس کے غرباء کو بھی ایک رنگ کی عزت حاصل ہو جاتی ہے۔ امریکہ میںجب شراب کی بندش ہوئی تو اُس وقت بعض غیر ممالک کے جہاز چوری چوری وہاںشراب پہنچاتے تھے۔ ایک دفعہ ایک انگریزی جہاز وہاں شراب لے گیا۔ اتفاقاً امریکہ والوں کو علم ہو گیا اور اُن کے جہازوں نے اُس جہاز کا تعاقب کیا مگر اِس دوران میں وہ ساحلِ امریکہ سے تین میل دور نکل آیا اگر اُس حد کے اندر جہاز گرفتار ہو جاتا تو اور بات تھی مگر اب چونکہ یہ جہاز امریکہ کی مقررہ حد سے باہر نکل آیا اس لئے بے فکر ہو کر چلنے لگ گیا۔ اس پر امریکہ کے جہازوں نے سگنل کیا جس کا مطلب یہ تھا کہ ٹھہر جائو اور اگر نہ ٹھہرے تو تم پر بمباری کی جائے گی اِس پر انگریزی جہاز نے اپنا جھنڈا اُونچا کر کے اُس پر بجلی کی روشنی ڈال دی۔ مطلب یہ تھا کہ پہلے یہ دیکھ لو کہ یہ جہاز کس قوم کا ہے اگر اس کے بعد بھی تم میں بمباری کی ہمت ہوئی تو بیشک کر لینا۔ امریکہ والوں نے جب دیکھا کہ اس جہاز پر انگریزی جھنڈا لہرا رہا ہے تو وہ اُسی وقت واپس چلے گئے اور انہوں نے سمجھا کہ اگر ہم نے اس کا مقابلہ کیا تو امریکہ اور انگلستان کے درمیان جنگ چھڑ جائے گی۔
    تو کوئی قوم جب غلبہ پا لیتی ہے تو بعض باتوں میں اس کے ادنیٰ افراد کو بھی عزت مل جاتی ہے۔ یہاں کے کئی ہندو دوستوں نے مجھے سنایا کہ جب وہ باہر جاتے ہیں اور ذکر کرتے ہیں کہ وہ قادیان سے آئے ہیں تو لوگ اُن کی بڑی خاطر تواضع کرتے ہیں، محض اس لئے کہ اُن کا قادیان سے تعلق ہوتا ہے۔ عرب سے جب کوئی آدمی ہندوستان میں آئے تو ہمارے ہندوستانیوں کی عرب صاحب، عرب صاحب کہتے زبانیں خشک ہو جاتی ہیں حالانکہ اپنے ملک میں اُسے کوئی پوچھتا بھی نہیں۔
    اپنی جماعت کو ہی دیکھ لو۔ ہماری جماعت میں چونکہ اللہ تعالیٰ نے خلافت کی نعمت رکھی ہوئی ہے اس لئے بہت سے فوائد قوم کو پہنچ رہے ہیں۔ کہیں کسی احمدی کو ذرا بھی تکلیف ہو تو ساری دنیا میں شور مچ جاتا ہے۔ اسی طرح اگر لوگوں کو کسی امداد کی ضرورت ہو تو وہ قادیان میں پہنچ جاتے ہیں اور یہاں سے اُن کی اکثر ضرورتیں پوری ہو جاتی ہیں۔ اگر خدانخواستہ ہمارے اندر بھی ویسا ہی تفرقہ ہوتا جیسا مسلمانوں کے اندر ہے تو نہ ہماری آواز میں کوئی طاقت ہوتی اور نہ مجموعی رنگ میں افرادِ جماعت کو وہ فوائد پہنچتے جو اَب پہنچ رہے ہیں۔
    افغانستان کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنیکا اثر
    افغانستان میں جب ہماری جماعت کے بعض آدمی
    شہید ہوئے تو ہم نے صدائے احتجاج بلند کی اور وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنی مؤثر ہوئی کہ چھ مہینے تک لنڈن کے گلی کوچوں میں اِس کا چرچا رہا اور افغانی سفیر کیلئے شرم کے مارے باہر نکلنا مشکل ہو گیا۔ جب بھی وہ نکلتا لوگ اُسے طعنے دیتے اور کہتے کہ کیا تمہارے ملک میں یہ آزادی ہے حالانکہ افغانستان میں روزانہ کئی پٹھان مارے جاتے ہیں اور کوئی ان کا ذکر تک نہیں کرتا۔ تو جماعتی نظام کی وجہ سے چونکہ افرادِ جماعت کو بہت کچھ فوائد حاصل ہوتے ہیں اس لئے جب قوم کے بعض افراد کو کوئی ایسا انعام ملتا ہے تو یہی کہا جاتا ہے کہ وہ انعام اس قوم کو ملا کیونکہ قوم اُن انعامات اور فوائد سے حصہ پاتی ہے جو خلافت یا بادشاہت سے تعلق رکھتے ہیں۔ غرض چونکہ ملوکیّت کے ذریعہ سے ساری قوم کی عزت ہوتی ہے اس وجہ سے فرمایا۔ اور چونکہ خلافت سے سب قوم نے نفع اُٹھانا تھا اور اُٹھایا اس لئے خلافت کے بارہ میں بھی یہی کہا کہ تم کو خلیفہ بنایا جائے گا۔
    خلافت ایک انتخابی چیز ہے جس میں سب قوم کا دخل ہوتا ہے
    دوسرا جواب یہ ہے کہ خلافت چونکہ انتخابی امر ہے اور انتخابی امر میں سب قوم کا دخل ہوتا ہے اس لئے انتخاب پر زور دینے کیلئے
    کہا گیاکہ چونکہ یہ وعدہ قوم سے ہے اس لئے ورثہ کے طور پر یہ عہدہ نہیں مل سکتا بلکہ وہی خلیفہ ہو گا جس پر قوم جمع ہو۔ اس طرح انتخاب کے مسئلہ پر خاص طور پر زور دیا ہے اور بتا دیا ہے کہ وہی شخص خلیفہ ہو سکتا ہے جس کی خلافت میں مؤمنوں کا ہاتھ ہو۔ بیشک یہ ایک الٰہی انعام ہے مگر یہ انعام ایسا ہے جو اللہ تعالیٰ پہلے اپنے مؤمن بندوں کو دیتا ہے اور پھر ان کو نصیحت کرتا ہے کہ اپنے میں سے قابل ترین انسان کو منتخب کر کے اسے دے دو۔ پس وہ مؤمنوں کے ذریعہ سے خلافت کا انتخاب کراتا ہے تاکہ خلافت ورثہ کے طور پر نہ چل پڑے۔ اور ہمیشہ اس غرض کے لئے قوم بہترین لوگوں کو منتخب کیا کرے۔ پس اللہ تعالیٰ نے میں اُمت مُسلمہ سے اس لئے وعدہ کیا ہے تایہ امر ان کے ذہن نشین ہو جائے کہ خلافت کا وعدہ قومی ہے اور قوم کے ہاتھ سے اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا خلیفہ بنا دے گا۔
    حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عمرؓ کو نامزد کیوں کیا تھا؟
    اگر کہا جائے کہ جب قوم کے انتخاب
    سے ہی کوئی خلیفہ ہو سکتا ہے تو حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عمرؓ کو نامزد کیوں کیا تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ نے یونہی نامزد نہیں کر دیا بلکہ پہلے صحابہؓ سے آپ کا مشورہ لینا ثابت ہے۔ فرق ہے تو صرف اتنا کہ اور خلفاء کو خلیفہ کی وفات کے بعد منتخب کیا گیا اور حضرت عمرؓ کو حضرت ابوبکرؓ کی موجودگی میں ہی منتخب کر لیا گیا۔ پھر آپ نے اسی پر بس نہیں کیا کہ چند صحابہؓ سے مشورہ لینے کے بعد آپ نے حضرت عمرؓ کی خلافت کا اعلان کر دیا ہو بلکہ باوجود سخت نقاہت اور کمزوری کے آپ اپنی بیوی کا سہارا لے کر مسجد میں پہنچے اور لوگوں سے کہا کہ اے لوگو! میں نے صحابہؓ سے مشورہ لینے کے بعد اپنے بعد خلافت کے لئے عمرؓ کو پسند کیا ہے کیا تمہیں بھی ان کی خلافت منظور ہے؟ اس پر تمام لوگوں نے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ پس یہ بھی ایک رنگ میں انتخاب ہی تھا۔
    کیا حضرت معاویہؓ کا یزید کو خلیفہ مقرر کرنا بھی انتخاب کہلا سکتا ہے؟
    اگر کہا جائے کہ پھر معاویہؓ کا یزید کو مقرر کرنا بھی انتخاب کہلائے گا کیونکہ انہوں نے بھی لوگوں کے سامنے اس معاملہ کو
    پیش کیا تھا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ خودمعاویہؓ کا انتخاب نہیں ہوا اور جب ان کی اپنی خلافت ہی ثابت نہیں تو ان کے بیٹے کی خلافت کس طرح ثابت ہو سکتی ہے۔ ہم یزید کو معاویہ کا جانشین ماننے کیلئے تیار ہیں مگر ہم اسے خلیفہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ خلافت خود معاویہؓ کی بھی ثابت نہیں پھر ان کے بیٹے کی کس طرح ثابت ہو جائے۔ معاویہؓ ایک دُنیوی بادشاہ تھے اس لئے یزید کو بھی ہم ایک دُنیوی بادشاہ مان سکتے ہیں مگر خلیفہ تو نہ معاویہؓ تھے اور نہ یزید۔
    پھر معاویہؓ نے جب یزید کے متعلق لوگوں سے مشورہ لیا تو اُس وقت وہ لوگوں کے حاکم تھے۔ ایسی صورت میں جو انہوں نے مشورہ لیا وہ کوئی مشورہ نہیں کہلا سکتا کیونکہ مشورہ میں آزادی ضروری ہے لیکن جہاں آزادی نہ ہو اور جہاں بادشاہ اپنی رعایا سے کہہ رہا ہو کہ میرے بیٹے کی بیعت کر لو وہاں رعایا مشورہ دینے میں کہاں آزاد ہو سکتی ہے اور کب وہ اس کی بات کا انکار کر سکتی ہے۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے افغانستان کا بادشاہ اپنی رعایا سے کہہ دے کہ اے لوگو! مجھے خلیفہ مان لو اور جب وہ مان لیں تو کہہ دے لوگوں نے مجھے حکومت کے لئے منتخب کیا ہے۔ یہ ہرگز انتخاب نہیں کہلا سکتا اور نہ اس قسم کا مشورہ مشورہ کہلا سکتا ہے۔ مشورہ اسی صورت میں ہوتا ہے جب لوگ آزاد ہوں اور ہر ایک کو اجازت ہو کہ وہ مخلّٰی بالطبع ہو کر جس کا نام چاہے پیش کرے۔ پس اوّل تو معاویہؓ خود خلیفہ نہ تھے بلکہ بادشاہ تھے۔ دوسرے انہوں نے بادشاہ ہونے کی حالت میں اپنے بیٹے کی خلافت کا لوگوں کے سامنے معاملہ پیش کیا اور یہ ہرگز کوئی مشورہ یا انتخاب نہیں کہلاسکتا۔
    باپ کا اپنے بیٹے کو خلافت کیلئے تجویز کرنا سنتِ صحابہؓ کے خلاف ہے
    پھر باپ کا بیٹے کو خلافت کیلئے پیش کرنا بھی ظاہر کرتا ہے کہ یہ حقیقی انتخاب نہیں تھا کیونکہ باپ کا اپنے
    بیٹے کو خلافت کیلئے پیش کرنا سنتِ صحابہؓ کے خلاف ہے۔ حضرت عمرؓ کی وفات کے قریب آپ کے پاس لوگوں کے کئی وفود گئے اور سب نے متفقہ طور پر کہا کہ آپ کے بعد خلافت کا سب سے زیادہ اہل آپ کا بیٹا عبداللہ ہے آپ اسے خلیفہ مقرر کر جائیں۔ مگر آپ نے فرمایا مسلمانوں کی گردنیں ایک لمبے عرصہ تک ہمارے خاندان کے آگے جُھکی رہی ہیں۔ اَب میں چاہتا ہوں کہ یہ نعمت کسی اور کو ملے۔ ۶۰؎ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر حضرت عمرؓ کی وفات کے بعد لوگ آپ کے بیٹے عبداللہ کو خلافت کیلئے منتخب کرتے تو یہ اور بات ہوتی مگر یہ جائز نہیں تھا کہ حضرت عمرؓ اپنے بیٹے کو خلافت کیلئے خود نامزد کر جاتے۔ اسی طرح اگر معاویہؓ اپنی موجودگی میں یزید کا معاملہ لوگوں کے سامنے پیش نہ کرتے اور بعد میں قوم اسے منتخب کرتی تو ہم اسے انتخابی بادشاہ کہہ سکتے تھے مگر اب تو نہ ہم اسے خلیفہ کہہ سکتے ہیں اور نہ انتخابی بادشاہ۔ ہم معاویہؓ کو گنہگار نہیں کہتے انہوں نے اُس وقت کے حالات سے مجبور ہو کر ایسا کیا مگریزید کو بھی بلکہ خود معاویہؓ کو بھی خلیفہ نہیں کہہ سکتے،ایک بادشاہ کہہ سکتے ہیں۔ یزید کا معاملہ تو جب معاویہؓ نے لوگوں کے سامنے پیش کیا اُس وقت تمام صحابہؓ اسے ایک تمسخرسمجھتے تھے اور ان کے نزدیک اس کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ چنانچہ تاریخ میں آتا ہے کہ معاویہؓ نے جب لوگوں کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اے مسلمانو! تم جانتے ہو ہمارا خاندان عرب کے رؤساء میں سے ہے۔ پس آج مجھ سے زیادہ حکومت کا کون مستحق ہو سکتا ہے اور میرے بعد میرے بیٹے سے زیادہ کون مستحق ہے تو اُس وقت حضرت عبداللہ بن عمرؓ بھی ایک کونہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ کہتے ہیں جب میں نے معاویہؓ کو یہ بات کہتے سنا تو وہ چادر جو میں نے اپنے پاؤں کے گرد لپیٹ رکھی تھی اُس کے بند کھولے اور میں نے ارادہ کیا کہ کھڑے ہو کر معاویہؓ سے یہ کہوں کہ اے معاویہؓ! اِس مقام کا تجھ سے زیادہ حقدار وہ ہے جس کا باپ تیرے باپ کے مقابلہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے نیچے کھڑے ہو کر لڑتا رہا اور جو خود اسلامی لشکروں میں تیرے اور تیرے باپ کے مقابلہ میں جنگوں میں شامل رہا ہے۔ مگر پھر مجھے خیال آیا کہ یہ دنیا کی چیزیں میں نے کیا کرنی ہیں اس سے فتنہ اُٹھے گا اور مسلمانوں کی طاقت اور زیادہ کمزور ہو جائے گی۔ چنانچہ میں پھر بیٹھ گیا اور میں نے معاویہؓ کے خلاف کوئی آواز نہ اُٹھائی۔ تو صحابہؓ معاویہؓ کی اس حرکت کو بالکل لغو سمجھتے تھے اور ان کے نزدیک اس کی کوئی قیمت نہیں تھی۔
    یزید کے ایک بیٹے کی تختِ حکومت سے دستبرداری
    پھر یزید کی خلافت پر دوسرے لوگوںکی رضا تو الگ رہی خود اس کا اپنا بیٹا متفق نہ تھا بلکہ اس نے تخت نشین ہوتے ہی بادشاہت سے انکار کر کے
    کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ یہ ایک مشہور تاریخی واقعہ ہے مگر میں نہیں جانتا مسلمان مؤرخین نے کیوں اس واقعہ کو زیادہ استعمال نہیں کیا۔ حالانکہ انہیں چاہئے تھا کہ اس واقعہ کو بار بار دُہراتے کیونکہ یہ یزید کے مظالم کا ایک عبرتناک ثبوت ہے۔
    تاریخ میں لکھا ہے کہ یزید کے مرنے کے بعد جب اس کا بیٹا تخت نشین ہوئا جس کا نام بھی اپنے دادا کے نام پر معاویہ ہی تھا تو لوگوں سے بیعت لینے کے بعد وہ اپنے گھر چلا گیا اور چالیس دن تک باہر نہیں نکلا۔ پھر ایک دن وہ باہر آیا اور منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں سے کہنے لگا کہ میں نے تم سے اپنے ہاتھوں پر بیعت لی ہے مگر اس لئے نہیں کہ میں اپنے آپ کو تم سے بیعت لینے کا اہل سمجھتا ہوں بلکہ اس لئے کہ میں چاہتا تھا کہ تم میں تفرقہ پیدا نہ ہو اور اُس وقت سے لیکر اب تک میں گھر میں یہی سوچتا رہا کہ اگر تم میں کوئی شخص لوگوں سے بیعت لینے کا اہل ہو تو میں یہ امارت اُس کے سپرد کر دوں اور خود بری الذمّہ ہو جاؤں مگر باوجود بہت غور کرنے کے مجھے تم میں کوئی ایسا آدمی نظر نہیں آیا اس لئے اے لوگو! یہ اچھی طرح سن لو کہ میں اِس مَنصب کے اہل نہیں ہوں اور میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ میرا باپ اور میرا دادا بھی اِس منصب کے اہل نہیں تھے۔ میرا باپ حسینؓ سے درجہ میں بہت کم تھا اور اس کا باپ حسنؓ حسینؓ کے باپ سے کم درجہ رکھتا تھا۔ علیؓ اپنے وقت میں خلافت کا حقدار تھا اور اس کے بعد بہ نسبت میرے دادا اور باپ کے حسنؓ اور حسینؓ خلافت کے زیادہ حقدار تھے اس لئے میں اس امارت سے سبکدوش ہوتا ہوں۔۶۱؎ اب یہ تمہاری مرضی پر منحصر ہے کہ جس کی چاہو بیعت کر لو۔ اس کی ماں اُس وقت پردہ کے پیچھے اُس کی تقریر سن رہی تھی جب اُس نے اپنے بیٹے کے یہ الفاظ سنے تو بڑے غصہ سے کہنے لگی کہ کمبخت! تو نے اپنے خاندان کی ناک کاٹ دی ہے اور اس کی تمام عزت خاک میں ملا دی ہے۔ وہ کہنے لگا جو سچی بات تھی وہ میں نے کہہ دی ہے اب آپ کی جو مرضی ہو مجھے کہیں۔ چنانچہ اس کے بعد وہ اپنے گھر میں بیٹھ گیا اور تھوڑے ہی دن گزرنے کے بعد وفات پا گیا۔
    یہ کتنی زبردست شہادت اس بات کی ہے کہ یزید کی خلافت پر دوسرے لوگوں کی رضا تو الگ رہی خود اس کا اپنا بیٹا بھی متفق نہ تھا۔ یہ نہیں کہ بیٹے نے کسی لالچ کی وجہ سے ایسا کیا ہو۔ یہ بھی نہیں کہ اس نے کسی مخالفت کے ڈر سے ایسا کیا ہو بلکہ اس نے اپنے دل میں سنجیدگی کے ساتھ غور اور فکر کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ میرے دادا سے علیؓ کا حق زیادہ تھا اور میرے باپ سے حسنؓ حسینؓ کا۔ اور میں اس بوجھ کو اُٹھانے کیلئے تیار نہیں ہوں۔ پس معاویہؓ کا یزید کو مقرر کرنا کوئی انتخاب نہیں کہلا سکتا۔
    آیتِ استخلاف کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیان فرمودہ تشریح
    تیسرا جواب احمدیوں کیلئے ہے اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس آیت کے معنی
    کرتے ہوئے ’’سِرّالخلافہ‘‘ میں تحریر فرمایا ہے کہ اِنَّ اللّٰہَ قَدْ وَعَدَ فِیْ ھٰذِہِ الاٰیَاتِ لِلْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمٰتِ اَنَّہٗ سَیَسْتَخْلِفَنَّ بَعْضَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْھُمْ فَضْلاً وَرَحْمَۃً ۶۲؎
    اللہ تعالیٰ نے مسلمان مردوں اور عورتوں سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ ان میں سے بعض کو اپنے فضل اور رحم کے ساتھ خلیفہ بنائے گا۔ پس جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام یہ فرماتے ہیں کہ
    میں ساری قوم مراد نہیں بلکہ بعض افرادِ اُمت مراد ہیں تو کم از کم کوئی احمدی یہ معنی نہیں کر سکتا کہ یہاں ساری قوم مراد ہے۔
    خلافتِ محمدیہ کا اِستنباط
    چوتھاجواب بھی احمدیوں کیلئے ہے اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بارہا اس آیت سے اپنی
    خلافتِ محمدیہ کا استنباط کیا ہے اور اس وعدہ میں خلافتِ نبوت بھی شامل کی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ خلافتِ نبوت سے ساری قوم مراد نہیں ہو سکتی بلکہ بعض افراد ہی ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم نے جہاں بادشاہت کا ذکر کیا ہے وہاں تو یہ فرمایا ہے کہ اس نے تم کو بادشاہ بنایا مگر جب نبوت کا ذکر کیا تو جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَائَ فرمایا۔ یعنی اس نے تم میں انبیاء مبعوث فرمائے اور اس فرق کی وجہ یہی ہے کہ یہ تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ خدا نے فلاں قوم کو بادشاہ بنایا مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں قوم کو نبی بنایا۔ پس اگر نبوت کا وعدہ ساری قوم کو مخاطب کرنے کے باوجود بعض اشخاص کے ذریعہ پورا ہو سکتا ہے تو خلافت کا وعدہ بھی ساری قوم کو مخاطب کرنے کے باوجود بعض اشخاص کے ذریعہ پورا ہو سکتا ہے۔ اور جس طرح وعدے کے ایک حصے کا ایفاء ہوئا اسی طرح وعدہ کے دوسرے حصے کا ایفاء ممکن ہے۔
    خداتعالیٰ کی فعلی شہادت
    پانچواں جواب اس کا یہ ہے کہ خداتعالیٰ کے فعل نے اس پر شہادت دے دی ہے کہ اس کی اس آیت سے کیا مراد ہے۔
    خدا نے یہ کہا تھا کہ کہ وہ ایمان اور عملِ صالح پر قائم رہنے والوں کو زمین میں اسی طرح خلیفہ بنائے گا جس طرح اس نے پہلوں کو خلیفہ بنایا۔ پس اگر اللہ تعالیٰ کی اس سے یہ مراد تھی کہ ہم جمہوریت قائم کر دیں گے تو ہمیں دیکھنا چاہئے کہ آیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جمہوریت قائم ہوئی یا نہیں۔ اور اگر خداتعالیٰ کا یہ منشاء تھا کہ بعض افرادِ اُمت کو خلافت ملے گی اور ان کی وجہ سے تمام قوم برکاتِ خلافت کی مستحق قرار پا جائے گی تو ہمیں دیکھنا چاہئے کہ آیا اس رنگ میں مسلمانوں میں خلافت قائم ہوئی یا نہیں۔ بہرحال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جس طرح اس نے یہ وعدہ پورا کیا وہی اس آیت سے مراد ہو سکتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو اللہ تعالیٰ سے زیادہ عمدگی کے ساتھ اور کوئی پورا نہیں کر سکتا۔ اس نقطہ نگاہ کے ماتحت جب ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کے حالات کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بعض افرادِ امت کو ہی خلافت ملی سب کو خلافت نہیں ملی۔ پس یا تو یہ مانو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد لوگ کے مصداق نہیں رہے تھے اور جس طرح شیعہ کہتے ہیں کہ اُمت میں صرف اڑھائی مؤمن تھے اسی طرح یہ تسلیم کر لو کہ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ سب منافق ہی منافق رہ گئے تھے، اس لئے خلافتِ قومی کا وعدہ ان سے پورا نہ ہوئا اور اگر وہ ایمان اور عمل صالح پر قائم تھے تو پھر اگر ان سے ہی صحیح رنگ میں یہ وعدہ پورا نہیں ہوئا تو اور کس سے ہو سکتا ہے۔ بہرحال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں میں جس رنگ میں خلافت قائم کی وہ خداتعالیٰ کی فعلی شہادت ہے اور خداتعالیٰ کی یہ فعلی شہادت بتا رہی ہے کہ قوم سے اس وعدہ کو بعض افراد کے ذریعہ سے ہی پورا کیا جائے گا۔
    خلفائے اربعہ کی پہلے خلفاء سے ہر رنگ میں مشابہت ضروری نہیں
    دوسرا اعتراض اس آیت پر یہ کیا جاتا ہے کہ بہت اچھا ہم نے مان لیا کہ اس آیت میں افراد کی خلافت کا ذکر ہے مگر تم خود تسلیم
    کرتے ہو کہ پہلوں میں خلافت، یا نبوت کیذریعہ سے ہوئی یا ملوک کے ذریعہ۔ مگر خلفائے اربعہ کو تم نہ نبی مانتے ہو نہ ملوک۔ پھریہ وعدہ کس طرح پورا ہوا اور وہ اس آیت کے کس طرح مصداق ہوئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں پہلوں کو خلافت یا تو نبوت کی شکل میں ملی یا ملوکیت کی صورت میں۔ مگر مشابہت کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ ہر رنگ میں مشابہت ہو بلکہ صرف اصولی رنگ میں مشابہت دیکھی جاتی ہے۔ مثلاً کسی لمبے آدمی کا ہم ذکر کریں اور پھر کسی دوسرے کے متعلق کہیں کہ وہ بھی ویسا ہی لمبا ہے تواب کوئی شخص ایسا نہیں ہو گا جو یہ کہے کہ تم نے دونوں کو لمبا قرار دیا ہے تو یہ مشابہت کس طرح درست ہوئی جبکہ ان میں سے ایک چور ہے اور دوسرا نمازی یا ایک عالم ہے اور دوسرا جاہل بلکہ صرف لمبائی میں مشابہت دیکھی جائے گی۔ ہربات اور ہر حالت میں مشابہت نہیں دیکھی جائے گی۔ اس کی مثال قرآن کریم سے بھی ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ۶۳؎ کہ ہم نے تمہاری طرف اپنا ایک رسول بھیجا ہے جو تم پر نگران ہے اور وہ ویسا ہی رسول ہے جیسے ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا۔ اب دیکھو اللہ تعالیٰ نے یہاں رسول کریم ﷺ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آپس میں مشابہت بیان کی ہے حالانکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کی طرف بھیجے گئے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایک بادشاہ کی طرف مبعوث نہیں ہوئے تھے۔ اسی طرح موسیٰ علیہ السلام صرف بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے مگر رسول کریم ﷺ ساری دنیا کی ہدایت کیلئے بھیجے گئے۔ پھر موسیٰ علیہ السلام کی رسالت کا زمانہ صرف چند سَو سال تک ممتد تھا اور آخر وہ ختم ہو گیا مگر رسول کریم ﷺ کی رسالت کا زمانہ قیامت تک کیلئے ہے۔ یہ حضرت موسیٰ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات میں اہم فرق ہیں مگر باوجود ان اختلافات کے مسلمان یہی کہتے ہیں بلکہ قرآن کہتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مثیل ہیں حالانکہ نہ تو رسول کریم ﷺ فرعون کی طرح کے کسی ایک بادشاہ کی طرف مبعوث ہوئے، نہ آپ کسی ایک قوم کی طرف تھے بلکہ سب دنیا کی طرف تھے اور نہ آپ کی رسالت کسی زمانہ میں موسیٰؑ کی رسالت کی طرح ختم ہونے والی تھی۔ پس باوجود ان اہم اختلافات کے اگر آپ کی مشابہت میں فرق نہیں آتا تو اگر پہلوں کی خلافت سے جزوی امور میں خلفائے اسلام مختلف ہوں تو اس میں کیا حرج ہے۔ درحقیقت حضرت موسیٰ علیہ السلام سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مشابہت صرف ان معنوں میں ہے کہ جس طرح موسیٰ علیہ السلام کو ایک شریعت کی کتاب ملی جو اپنے زمانہ کی ضروریات کے لحاظ سے تمام مضامین پر حاوی اور کامل تھی اسی طرح رسول کریم ﷺ کو ایک شریعت کی کتاب ملی جو قیامت تک کی ضروریات کیلئے تمام مضامین پر حاوی اور کامل ہے گو تو رات سے وہ بہرحال کئی درجے افضل اور اعلیٰ ہے۔ پھر جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سلسلہ کو اللہ تعالیٰ ان کی وفات کے بعد اپنے انبیاء کے ذریعہ چلاتا رہا اسی طرح اُمت محمدیہ میں جب بھی کوئی خرابی پیدا ہو گی اللہ تعالیٰ ایسے لوگ کھڑا کرتا رہے گا جو اِن خرابیوں کی اصلاح کریں گے۔ اسی طرح اس مشابہت کے ذریعے اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا گیا تھا کہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تیرہ سَو سال بعد ایک مسیح آیا اسی طرح اُمتِ محمدیہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تیرہ سَو سال بعد مسیح موعود آئے گا۔ یہ مقصد نہیں تھاکہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک خاص زمانہ اور ایک خاص قوم کیلئے تھے اسی طرح رسول کریم ﷺ کی رسالت بھی کسی خاص زمانہ یا خاص قوم کیلئے مخصوص ہو گی۔ پس اگر پہلوں کی خلافت سے خلفائے راشدین کی بعض باتوں میں مشابہت ہو تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ ان کی مشابہت ثابت ہو گئی۔ یہ ضروری نہیں ہو گا کہ ہر بات میں پہلوں سے ان کی مشابہت دیکھی جائے۔ اصل امر تو یہ ہے کہ جس طرح ان کی قوم کو ان کی وفات کے بعد سنبھالنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے بعض وجود کھڑے کئے اسی طرح بتایا گیا تھا کہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد بھی اللہ تعالیٰ ایسے وجود کھڑے کرے گا جو آپ کی اُمت کو سنبھال لیں گے اور یہ مقصد بہ نسبت پہلے خلفاء کے رسول کریم ﷺ کے خلفاء نے زیادہ پورا کیا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قائم مقام نبی تھے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قائم مقام نبی تھے، اسی طرح اور انبیاء جب وفات پا جاتے تو ان کے کام کو جاری رکھنے کیلئے انبیاء ہی ان کے جانشین مقرر کئے جاتے مگر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ پہلے انبیاء کے ذریعہ جو تمکینِ دین ہوئی وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء کے ذریعہ نہیں ہوئی۔ اگر بصیرت اور شعور کے ساتھ حالات کا جائزہ لیا جائے تو اقرار کرنا پڑے گا کہ تمکینِ دین کے سلسلہ میں یوشعؑ اور اسماعیل ؑ اور اسحاقؑ اور یعقوبؑ وہ کام نہیں کر سکے جو ابوبکرؓ اور عمرؓ اور عثمانؓ اور علیؓ نے کیا۔ نادان انسان کہے گا کہ تم نے نبیوں کی ہتک کی مگر اس میں ہتک کی کوئی بات نہیں۔ جب نبوت کا سوال آئے گا تو ہم کہیں گے کہ ابوبکرؓ نبی نہیں، عمرؓ نبی نہیں، عثمانؓ نبی نہیں، علیؓ نبی نہیں مگر جب تمکینِ دین کا سوال آئے گا تو ہم کہیں گے کہ اس حصہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع خلفاء یقینا پہلے انبیاء سے بڑھ کر ہیں۔
    اصل بات یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے انبیاء چونکہ کامل شریعت لے کر نہ آئے تھے اِس لئے اُن کے بعد یا نبی مبعوث ہوئے یا ملوک پیدا ہوئے۔چنانچہ جب اصلاحِ خلق کیلئے الہام کی ضرورت ہوتی تو نبی کھڑا کر دیا جاتا مگر اُسے نبوت کا مقام براہِ راست حاصل ہوتا اور جب نظام میں خلل واقع ہوتا تو کسی کو بادشاہ بنا دیا جاتا اور چونکہ لوگوں کو ابھی اس قدر ذہنی ارتقاء حاصل نہیں ہوئا تھا کہ وہ اپنی اصلاح کے لئے آپ جدوجہد کر سکتے اس لئے نہ صرف انبیاء کو اللہ تعالیٰ براہِ راست مقامِ نبوت عطا فرماتا بلکہ ملوک بھی خدا کی طرف سے ہی مقرر کئے جاتے تھے۔ جیسے قرآن کریم میں آتا ہے کہ ۶۴؎ طالوت کو تمہارے لئے خدا نے بادشاہ بنا کر بھیجا ہے۔ گویا ابھی لوگ اِس قابل نہیں ہوئے تھے کہ خود اپنے بادشاہ کا بھی انتخاب کر سکیں اورنہ شریعت اتنی کامل تھی کہ اُس کے فیضان کی وجہ سے کسی کو مقامِ نبوت حاصل ہو سکتا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ ایک کامل تعلیم لے کر آئے تھے اس لئے دونوں قسم کے خلفاء میں فرق ہو گیا۔ پہلے انبیاء کے خلیفے تو نبی ہی ہوتے تھے گو انہیں نبوت مستقل اور براہِ راست حاصل ہوتی تھی اور اگر انتظامی امور چلانے کیلئے ملوک مقرر ہوتے تو وہ انتخابی نہ ہوتے بلکہ یا تو ورثہ کے طور پر ملوکیت کو حاصل کرتے یا نبی اُنہیں اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت بطور بادشاہ مقرر کر دیتے۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم چونکہ زیادہ اعلیٰ درجہ کی تھی اس لئے آپ کے بعد خلفائے انبیاء کی ضرورت نہ رہی اس کے ساتھ ہی ملوکیت کی ادنیٰ صورت کو اُڑا دیا گیا اور اُس کی ایک کامل صورت آپ کو دی گئی اور یہ ظاہر ہے کہ اسلامی خلافت کے ذریعہ سے جس طرح قوم کے ساتھ وعدہ پورا ہوتا ہے کہ اُس میں انتخاب کا عنصر رکھا گیا ہے اور قومی حقوق کو محفوظ کیا گیا ہے وہ پہلے بادشاہوں کی صورت میں نہ تھا اور زیادہ کامل صورت کا پیدا ہو جانا وعدہ کے خلاف نہیں ہوتا۔ جیسے اگر کسی کے ساتھ پانچ روپے کا وعدہ کیا جائے اور اُسے دس روپے دے دیئے جائیں تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ وعدہ کی خلاف ورزی ہوئی۔ پس اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلوں سے افضل تھے آپ کی خلافت بھی پہلے انبیاء کی خلافت سے افضل تھی۔
    عُلَمَائُ اُمَّتِیْ کَاَنْبِیَائِبَنِیْ اِسْرَائِیْلَ سے مُراد روحانی خلفاء ہی ہیں
    دوسرا جواب یہ ہے کہ رسول کریم ﷺفرماتے ہیں۔ عُلَمَائُ اُمَّتِیْ کَاَنْبِیَائِ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ ۶۵؎
    یعنی میری اُمت کے علماء انبیاء بنی اسرائیل کی طرح ہیں۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ اُمتِ محمدیہ کا جو بھی عالم ہے وہ انبیائے بنی اسرائیل کی طرح ہے کیونکہ علماء کہلانے والے ایسے ایسے لوگ بھی ہیں جن کی دینی اور اخلاقی حالت کو دیکھ کر رونا آتا ہے۔ میری عمر کوئی دس گیارہ برس کی ہوگی کہ نانا جان مرحوم کے ساتھ بعض چیزیں خریدنے کیلئے میں امرتسر گیا۔ رام باغ میں مَیں نے دیکھا کہ ایک مولوی صاحب ہاتھ میں عصا اور تسبیح لئے اور ایک لمبا سا جبہ پہنے جا رہے ہیں اور اُن کے پیچھے پیچھے ایک غریب شخص اُن کی منتیں کرتا جاتا ہے اور کہتا جاتا ہے کہ مولوی صاحب مجھے خدا کیلئے روپے دے دیں، مولوی صاحب مجھے خدا کیلئے روپے دے دیں۔ مولوی صاحب تھوڑی دیر چلنے کے بعد اس کی طرف مڑ کر دیکھتے اور کہتے جا خبیث دُور ہو۔ آخر وہ بیچارہ تھک کر الگ ہو گیا۔ مَیں نے اس شخص سے پوچھا کہ کیا بات تھی؟ وہ کہنے لگا مَیں نے اپنی شادی کیلئے بڑی مشکلوں سے سَو دو سَو روپیہ جمع کیا تھا اور اس شخص کو مولوی اور دیندار سمجھ کر اس کے پاس امانتاً رکھ دیا تھا مگر اب مَیں روپیہ مانگتا ہوں تو یہ دیتا نہیں اور کہتا ہے کہ مَیں تجھے جانتا ہی نہیں کہ تُو کون ہے اور تو نے کب میرے پاس روپیہ رکھا تھا۔ اب بتائو ایسے علماء کَأَ نْبِیَائِ بَنِیْ اِسْرَائِیلَ ہو سکتے ہیں؟ اور کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ان ننگِ اسلام علماء کے متعلق ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اِن علماء سے مراد دراصل خلفاء ہیں جو علمائِ رُوحانی ہوتے ہیں اور اِس ارشادِ نبوی سے اِس طرح اشارہ کیا گیا ہے کہ پہلے نبیوں کے بعد جو کام بعض دوسرے انبیاء سے لیا گیا تھا وہی کام میری اُمت میں اللہ تعالیٰ بعض علمائِ ربّانی یعنی خلفائے راشدین سے لے گا۔ چنانچہ موسیٰؑ کے بعد جو کام یوشعؑ سے لیا گیا وہ اللہ تعالیٰ ابوبکرؓ سے لے گا اور جو کام دائود ؑسے لیا گیا وہ اللہ تعالیٰ عمرؓ سے لے گا اور جو کام بعض اور انبیاء مثلاً سلیمانؓ وغیرہ سے لیا گیا وہ اللہ تعالیٰ عثمانؓ اور علیؓ سے لے گا۔ غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے وہ مقام بخشا ہے کہ میری اُمت کے خلفاء وہی کام کریں گے جو انبیاء سابقین نے کیا۔ پس اس جگہ علماء سے مراد رشوتیں کھانے والے علماء نہیں بلکہ ابوبکرؓ عالم، عمرؓ عالم، عثمانؓ عالم اورعلیؓ عالم مراد ہیں۔ چنانچہ جب ادنیٰ ضرورت تھی اللہ تعالیٰ نے اِن لوگوں کو پیدا کر دیا اور پھر زیادہ روشن صورت میں جب زمانہ کو ایک نبی کی ضرورت تھی اللہ تعالیٰ نے اس وعدہ کو حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ سے پورا کر دیا۔ گو فرق یہ ہے کہ پہلے انبیاء براہ راست مقام نبوت حاصل کرتے تھے مگر آپ کو نبوت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کی وجہ سے ملی۔
    خلافتِ احمدیہ
    تیسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اس آیت میںآیا ہے۔ چلو ہم مان لیتے ہیں کہ پہلے خلفاء اِس آیت کے ماتحت تھے کیونکہ اُن کے پاس نظامِ ملکی تھا لیکن اس آیت سے وہ خلافت جو احمدیہ جماعت میں ہے کیونکر ثابت ہو گئی کیونکہ ان کے پاس تو کوئی نظامِ مُلکی نہیں؟
    اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ یہ کیا ہے کہ وہ اورکی مصداق جماعت کو خلیفہ بنائے گا اور خلیفہ کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے سے پہلے کا نائب ہوتا ہے۔ پس وعدہ کی ادنیٰ حدّ یہ ہے کہ ہر نبی کے بعد اُس کے نائب ہوں اور یہ ظاہر ہے کہ جس رنگ کا نبی ہو اگر اسی رنگ میںاس کا نائب بھی ہو جائے تو وعدہ کی ادنیٰ حدّ پوری ہو جاتی ہے اور چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سپرد مُلکی نظام نہ تھا اس لئے آپ کی امرِ نبوت میں جو شخص نیابت کرے وہ اس وعدہ کو پورا کر دیتا ہے۔ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مُلکی نظام عطا ہوتا تب تو اعتراض ہو سکتا تھا کہ آپ کے بعد کے خلفاء نے نیابت کس طرح کی مگر نظامِ مُلکی عطا نہ ہونے کی صورت میں یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ جس نبی کا کوئی خلیفہ ہو اُسے وہی چیز ملے گی جو نبی کے پاس ہو گی اور جو اُس کے پاس ہی نہیں ہوگی وہ اُس کے خلیفہ کو کس طرح مل جائے گی۔
    حضرت خلیفہ اوّل کے متعلق یہ بات بہت مشہور تھی اور آپ خود بھی فرمایا کرتے تھے کہ مجھے جب بھی روپیہ کی ضرورت ہو اللہ تعالیٰ کہیں نہ کہیں سے روپیہ بھجوا دیتا ہے۔ ایک دفعہ کسی نے آپ کے پاس بتّیس روپے بطور امانت رکھے جو کسی ضرورت پر آپ نے خرچ کر لئے چند دنوں کے بعد وہ شخص آیا اور کہنے لگا کہ میری امانت مجھے دے دیجئے۔ اُس وقت آپ کے پاس کوئی روپیہ نہیں تھا مگر آپ نے اُسے فرمایا ذرا ٹھہر جائیں ابھی دیتا ہوں۔ دس پندرہ منٹ ہی گزرے ہونگے کہ باہر سے ایک مریض آیا اور اس نے فیس کے طور پر آپ کے سامنے کچھ روپے رکھ دیئے۔ حافظ روشن علی صاحب پاس بیٹھے ہوئے تھے انہیں حضرت خلیفۂ اوّل فرمانے لگے کہ یہ روپے گِن کر اس شخص کو دے دیں۔ انہوں نے روپے گِن کر دے دیئے اور رسید لے کر پھاڑ دی۔ بعد میں ہم نے حافظ روشن علی صاحب سے پوچھا کہ کتنے روپے تھے انہوں نے بتایا کہ جتنے روپے وہ مانگتا تھا بس اتنے ہی روپے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ عجیب در عجیب رنگ میں آپ کی مدد فرمایا کرتا تھا اور بسا اوقات نشان کے طور پر آپ پر مال و دولت کے عطایا ہو جایا کرتے تھے۔ ہم تو سمجھتے تھے کہ یہ سب دُعا کی برکات ہیں مگر بعض لوگ غلطی سے یہ سمجھتے تھے کہ آپ کو کیمیا کا نسخہ آتا ہے۔ چنانچہ حضرت خلیفہ اوّل جب وفات پا گئے تو دہلی کے ایک حکیم صاحب میرے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ مَیں آپ سے الگ ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ مَیں نے انہیں موقع دے دیا۔ وہ پہلے تو مذہبی رنگ میں باتیں کرنے لگے اور کہنے لگے آپ کے والد صاحب کو خدا تعالیٰ نے بڑا درجہ بخشا ہے وہ خداتعالیٰ کے مائمور تھے اور جسے خداتعالیٰ نے مائمور بنا دیا ہو اس کا بیٹا بھلا کہاں بخیل ہو سکتا ہے مجھے آپ سے ایک کام ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ اس معاملہ میں میری مدد کریں اور بُخل سے کام نہ لیں۔ میں نے کہا فرمائیے کیا کام ہے۔ وہ کہنے لگے مجھے کیمیا گری کا بڑا شوق ہے اور مَیں نے اپنی تمام عمر اس میں برباد کر دی ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ حضرت مولوی صاحب کو کیمیا کا نسخہ آتا تھا اب چونکہ آپ اُن کی جگہ خلیفہ مقرر ہوئے ہیں اس لئے وہ آپ کو ضرور کیمیا کا نسخہ بتا گئے ہونگے۔ پس مہربانی کر کے وہ نسخہ مجھے بتا دیجیئے۔ مَیں نے کہا مجھے تو کیمیا کا کوئی نسخہ نہیں بتا گئے۔ وہ کہنے لگے یہ ہو کس طرح سکتا ہے کہ آپ اُن کی جگہ خلیفہ ہوں اور وہ آپ کو کیمیا کا نسخہ بھی نہ بتا گئے ہوں۔ غرض میں انہیں جتنا یقین دلائوں کہ مجھے کیمیا کا کوئی نسخہ نہیں ملا اتنا ہی ان کے دل میں میرے بخل کے متعلق یقین بڑھتا چلا جائے میں انہیں بار بار کہوںکہ مجھے ایسے کسی نسخہ کا علم نہیں اور وہ پھر میری خوشامد کرنے لگ جائیں اور نہایت لجاجت سے کہیںکہ میری ساری عمر اس نسخہ کی تلاش میں گزر گئی ہے آپ تو بخل سے کام نہ لیں اور یہ نسخہ مجھے بتا دیں۔ آخر جب میں اُن کے اصرار سے بہت ہی تنگ آ گیا تو میرے دل میں خدا تعالیٰ نے ایک نکتہ ڈال دیا اور مَیں نے اُن سے کہا کہ گو مَیں مولوی صاحب کی جگہ خلیفہ بنا ہوں مگر آپ جانتے ہیں کہ حضرت مولوی صاحب کے مکان مجھے نہیں ملے۔ وہ کہنے لگے مکان کس کو ملے ہیں۔ مَیںنے کہا اُن کے بیٹوں کو۔ پھر مَیں نے کہا اُن کا ایک بڑا بھاری کتب خانہ تھا مگر وہ بھی مجھے نہیں ملا۔ پس جب کہ مجھے نہ اُن کے مکان ملے اور نہ اُن کا کتب خانہ ملا ہے تو وہ مجھے کیمیا کا نسخہ کس طرح بتا سکتے تھے۔ اگر انہوں نے یہ نسخہ کسی کو بتایا ہوگا تو اپنے بیٹوں کو بتایا ہوگا۔ آپ اُن کے پاس جائیں اور کہیں کہ وہ نسخہ آپ کو بتا دیں۔ چنانچہ وہ میرے پاس سے اُٹھ کر چلے گئے۔ عبدالحی مرحوم ان دنوں زندہ تھے وہ جاتے ہی اُن سے کہنے لگے کہ لائیے نسخہ۔ انہوںنے کہا نسخہ کیسا۔ کہنے لگے وہی کیمیا کا نسخہ جو آپ کے والد صاحب جانتے تھے۔ اب وہ حیران کہ میں اسے کیا کہوں۔ آخر انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ مجھے کسی نسخے کا علم نہیں۔ اس پر وہ ناکام ہو کر میرے پاس آئے اور کہنے لگے باپ والا بخل بیٹے میں بھی موجود ہے۔ مَیں نے کہا۔ یہ آپ جانیں کہ وہ بخیل ہیں یا نہیں مگر مَیں اُن کے جس حصے کا خلیفہ ہوں وہی مجھے ملا ہے اور کچھ نہیں ملا۔
    غرض جس رنگ کا کوئی شخص ہو اُسی رنگ کا اُس کا جانشین ہوتا ہے۔ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سپرد مُلکی نظام نہیں تھا اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آپ کے خلفاء کے پاس کوئی نظامِ مُلکی کیوں نہیں؟
    آیت ِاستخلاف میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی نبوت اور خلافت دونوں شامل ہیں
    دوسرا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں خلافتِ نظامی ہی کے بارہ میں یہ نہیں آیا کہ
    بلکہ اس آیت میں جس قدر وعدے ہیں سب کے ساتھ ہی یہ الفاظ لگتے ہیں۔مگر غیر مبائعین میں سے بھی جو لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی مانتے ہیں جیسے شیخ مصری وغیرہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ آپ کی نبوت کلی طور پر پہلے نبیوں کی قسم کی نبوت نہیں بلکہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود لکھا ہے یہ نبوت پہلی نبوتوں سے ایک بڑا اختلاف رکھتی ہے اور وہ یہ کہ پہلے نبی مستقل نبی تھے اور آپ اُمتی نبی ہیں۔ پس جس طرح آپ کی نبوت کے پہلے نبیوں کی نبوت سے مختلف ہونے کے باوجود اس وعدہ کے پورا ہونے میں کوئی فرق نہیں آیا کہ اسی طرح خلافت کے مختلف ہونے کی وجہ سے بھی اس وعدہ کے پورا ہونے میں کوئی فرق نہیں آ سکتا۔ اور اگر بعض باتوں میں پہلی خلافتوں سے اختلاف رکھنے کی وجہ سے یہ خلافت اس آیت سے باہر نکل جاتی ہے تو ماننا پڑیگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت بھی اس آیت کے ماتحت نہیں آتی کیونکہ اگر ہماری خلافت ابوبکرؓ اور عمرؓ کی خلافت سے کچھ اختلاف رکھتی ہے تو حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی نبوت بھی پہلے نبیوں سے کچھ اختلاف رکھتی ہے۔ پس اگر ہماری خلافت اس آیت کے ماتحت نہیں آتی تو ماننا پڑے گا کہ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت بھی اس آیت کے ماتحت نہیں آتی حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس نبوت کو باوجود مختلف ہونے کے اسی آیت کے ماتحت قرار دیتے ہیں۔ پس جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت پہلی نبوتوں سے اختلاف رکھنے کے باوجود اس آیت کے وعدہ میں شامل ہے اِسی طرح یہ خلافت باوجود پہلی خلافتوں سے ایک اختلاف رکھنے کے اِس آیت کے وعدہ میں شامل ہے۔
    حضرت مسیح ناصریؑ کے خلفاء بھی نظامِ مُلکی سے کوئی تعلق نہ رکھتے تھے
    تیسرا جواب یہ ہے کہ مسیح ناصری ؑکے بعد کے خلفاء بھی نظامِ ملکی سے کوئی تعلق نہ رکھتے تھے۔ اگر کوئی کہے کہ آپ کے بعد
    کوئی خلیفہ ہوئا ہی نہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خود فرماتے ہیں۔ مَاکَانَتْ نُبُوَّۃٌ قَطُّ اِلَّا تَبِعَتْھَاخِلَافَۃٌ۶۶؎۔ کہ دنیا میں کوئی بھی ایسی نبوت نہیں گزری جس کے پیچھے اُسی قسم کی خلافت قائم نہ ہوئی ہو۔ پس اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبوت ملی تھی تو آپ کے بعد ویسی ہی خلافت کے قیام کو ماننا ہمارے لئے ضروری ہے بصورت دیگر معترضین کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی نہیں تھے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلافت کو نبوت کے بعد لازمی قرار دیا ہے۔
    دوسرے مسیحی لوگ پطرس کو خلیفہ مانتے چلے آئے ہیں۔ پس جب کہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ آپ کے بعد ضرور خلافت ہوئی اور مسیحی خود اقرار کرتے ہیں کہ پطرس حضرت مسیح ناصری ؑ کا خلیفہ تھا تو پھر یہ تیسرا گروہ کہاں سے پیدا ہوگیا جو کہتا ہے کہ آپ کے بعد کوئی خلیفہ ہی نہیں ہوئا جنہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے علم دیا گیا تھا یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب انہوں نے بھی فرما دیا کہ ہر نبی کے بعد خلافت قائم ہوئی ہے اور جب عیسائی جن کے گھر کا یہ معاملہ ہے وہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت مسیحؑ کے بعد خلافت قائم ہوئی اور جب کہ تاریخ سے بھی یہی ثابت ہے تو پھر اس سے انکار کرنا محض ضد ہے۔ اگر کہا جائے کہ بعض مسیحی انہیں خلیفہ تسلیم نہیں کرتے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بعض مسلمان بھی خلفاء اربعہ کو خلیفہ تسلیم نہیں کرتے، بعض کے ردّ کر دینے سے مسئلہ تو ردّ نہیں ہو جاتا۔
    تیسرے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ’’الوصیت‘‘ میں مسیحیوں کے بارہ میں ایسا انتظام تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔
    ’’جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آ جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردّد میں پڑ جاتے ہیں اور ان کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی بدقسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کر لیتے ہیں۔ تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبردست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گِرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔ پس وہ جو اَخیر تک صبر کرتا ہے خداتعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے وقت میں ہوئا جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہو گئے اور صحابہؓ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہو گئے تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا… ایسا ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ہوئا… ایسا ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ معاملہ ہوئا‘‘۔۶۷؎
    گویا جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکرؓ خلیفہ ہوئے اِسی طرح حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کے بعد بھی خلافت قائم ہوئی۔ پس وہ شخص جو یہ کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد خلافت قائم نہیں ہوئی وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس صریح ارشاد کے خلاف قدم اٹھاتا ہے اور ایک ایسی بات پیش کرتا ہے جس کی نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے تائید ہوتی ہے نہ تاریخ سے تائید ہوتی ہے اور نہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام اس کی تائیدکرتے ہیں۔
    مخالفین کا ایک اور اعتراض اور اس کا جواب
    چوتھا اعتراض یہ ہے کہ اگر اس آیت سے افراد مراد لئے
    جائیں تو یہ اعتراض ہوتا ہے کہ وعدہ دو قسم کے وجودوں کے متعلق ہے۔ ایک نبیوں کے متعلق اور ایک بادشاہوں کے متعلق۔ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جس قسم کے نبی آیا کرتے تھے اُن کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ختم کر دیا اور بادشاہت کو آپ نے پسند نہیں فرمایا بلکہ صاف فرما دیا کہ میرے بعد کے خلفاء بادشاہ نہ ہونگے تو پھر کیوں نہ تسلیم کیا جائے کہ اس آیت میں وعدہ قوم سے ہی ہے افراد سے نہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پہلی قسم کی نبوت بھی ختم ہو گئی اور پہلی قسم کی ملوکیت بھی ختم ہو گئی لیکن کسی خاص قسم کے ختم ہو جانے سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ اس کا قائم مقام جو اس سے اعلیٰ ہو وہ نہیں آ سکتا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ سب انبیاء سے نرالے تھے اس لئے ضروری تھا کہ آپ کے بعد کا نظام بھی سب نظاموں سے نرالا ہو۔ اس کا نرالا ہونا اُسے مشابہت سے نکال نہیں دیتا بلکہ اس کے حسن اور خوبصورتی کو اَور زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ چنانچہ آپ چونکہ کامل نبی تھے اور دنیا میں کامل شریعت لائے تھے اس لئے ضروری تھا کہ آپ کے بعد ایسے نبی ہوتے جو آپ سے فیضان حاصل کر کے مقامِ نبوت حاصل کرتے اسی طرح آپ کا نظام چونکہ تمام نظاموں سے زیادہ کامل تھا اس لئے ضروری تھا کہ آپ کے بعد ایسے خلفاء ہوتے جو پبلک طور پر منتخب ہوتے۔ غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اللہ تعالیٰ نے نبوت بھی اور ملوکیت بھی ایک نئے رنگ میں ڈھال دی اور پہلی قسم کی نبوت اور پہلی قسم کی ملوکیت کو ختم کر دیا۔
    پہلے انبیاء کی خلافت خواہ خلافتِ نبوت ہو یا خلافتِ ملوکیت۔ ناقص تھی
    یاد رکھنا چاہئے کہ خلافتِ نبوت پہلے نبی کی تائید کے لیے آتی ہے اور خلافتِ ملوکیت مؤمنین کے حقوق کی
    حفاظتاور اُن کی قوتوں کے نشوونما کیلئے آتی ہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیاء کو جو خلفاء انبیاء ملے تو اُن کی خلافت ناقص تھی کیونکہ گو وہ ان کے کام کو چلاتے تھے مگر نبوت براہِ راست پاتے تھے ۔ پس اُن کی خلافت کامل خلافت نہ ہوتی تھی اور اگر ان کی اقوام کو خلفائِ ملوکی ملے تو اُن کی خلافت بھی ناقص خلافت ہوتی تھی کیونکہ وہ اختیارات براہِ راست ورثہ سے پاتے تھے۔ اور اس کے نتیجہ میں اُن کی قوم کے قویٰ پورے طور پر نشوونما نہ پاتے تھے کیونکہ اُن کے مقرر کرنے میں اُمت کا دخل نہ ہوتا تھا اُسی طرح جس طرح نبیوں کا اپنے تابع نبیوں کی نبوت میں دخل نہ ہوتا تھا۔ چنانچہ جہاں بھی باپ کے بعد بیٹا اور بیٹے کے بعد پوتا ورثہ کے طور پر تختِ حکومت سنبھالتے چلے جاتے ہیں وہاں اس بات کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی کہ پبلک کے علمی معیار کو بلند کیا جائے اور اُس کے ذہنی قویٰ کو ایسا نشوونما دیا جائے کہ وہ صحیح رنگ میں حکام کا انتخاب کر سکے لیکن جہاں حکام کا انتخاب پبلک کے ہاتھ میں ہو وہاں حکومت اس بات پر مجبور ہوتی ہے کہ ہر فرد کو عالم بنائے، ہر فرد کو سیاست دان بنائے اور ہر فرد کو ملکی حالات سے باخبر رکھے تا کہ انتخاب کے وقت اُن سے کوئی بیوقوفی سرزد نہ ہو جائے۔ پس اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے لوگوں کے علمی نشوونما کو مدنظر رکھتے ہوئے حُکّام کے انتخاب کا حکم دیا۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیاء کی خلافت خواہ وہ خلافتِ نبوت ہو یاخلافتِ ملوکیت ناقص تھی لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ صحیح معنوں میں کامل نبی تھے اس لئے آپ کے بعد جو نبی آیا یا آئیں گے وہ آپ کے تابع ہی نہ ہونگے بلکہ آپ کے فیض سے نبوت پانے والے ہونگے۔ اِسی طرح چونکہ آپ کی قوم صحیح معنوں میں کامل اُمت تھی جیسا کہ فرمایا۔ ۶۸؎ اس لئے ضروری تھا کہ اُن کے کام کو چلانے والے بھی اُسی رنگ میں آئیں جس طرح اس اُمت میں نبی آنے تھے یعنی اُن کے انتخاب میں قوم کو دخل ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرمایا کہ وہ ملوکی خلیفہ نہ ہوں جن کے انتخاب میں قوم کو دخل نہ ہوتا تھا بلکہ انتخابی خلیفہ ہوں تا کہ اُمتِ محمدیہ کی پوری ترجمانی کرنے والے ہوں اور اُمت کی قوت کا صحیح نشوونما ہو۔ چنانچہ اس حکم کی وجہ سے ہر خلیفہ اس بات پر مجبور ہے کہ وہ لوگوں میں زیادہ سے زیادہ علم اور سمجھ کا مادہ پیدا کرے تا کہ وہ اگلے انتخاب میں کوئی غلطی نہ کر جائیں۔ پس یہ فرق اس وجہ سے ہے کہ نبی کریم ﷺ سیدالانبیاء ہیں اور آپ کی اُمت خَیْرُالْاُمَم ہے۔ جس طرح سید الانبیاء کے تابع نبی آپ کے فیضان سے نبوت پاتے ہیں اسی طرح خَیْرُ الْاُمَم کے خلفاء قوم کی آواز سے خلیفہ مقرر ہوتے ہیں۔ پس یہ نظامِ اسلام کی برتری اور اسلام اور اُمّتِ اسلامیہ کے عُلّوِمرتبت کی وجہ سے ہے اور اس سے خلافتِ فردی کو مٹایا نہیں گیا بلکہ خلافتِ شخصی کو زیادہ بہتر اور مکمل صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ ان اصولی سوالوں کے بعد میں ایک دو ضمنی اعتراضوںکو لے لیتا ہوں۔
    کیا خلافتِ موعودہ محض اُس خلیفہ کے متعلق ہے جو نبی کے معاً بعد آتا ہے؟
    (۱) ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ خلافتِ موعودہ جس کا اس آیت میں ذکر ہے محض اُس خلیفہ کے متعلق
    ہے جو نبی کے معاً بعد آتا ہے نہ کہ خلفاء کے ایک لمبے سلسلہ کے متعلق۔ اس کا جواب یہ ہے۔
    (۱) رسول کریم ﷺ نے خود چاروں خلافتوں کو خلافتِ راشدہ قرار دیا ہے۔ آپؐ فرماتے ہیں۔ عَنْ سَفِیْنَۃَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ الْخِلَافَۃُ ثَـلَاثُوْنَ سَنَۃً ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکاً۔۶۹؎ یعنی حضرت سفینہؓ کہتے ہیں مَیں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ میرے بعد خلافت صرف تیس سال ہو گی اس کے بعد ملوکیت قائم ہو جائے گی۔ اور چاروں خلفاء کی مدت صرف تیس سال ہی بنتی ہے۔ پس جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خلافت کو چاروں خلفاء تک لمبا کرتے ہیں تو کسی دوسرے کا کیا حق ہے کہ اسے پہلے خلیفہ تک محدود کر دے۔
    بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس خیال کو ’’سِرُّالخلافہ‘‘ میں بیان فرمایا ہے مگر یہ درست نہیں۔ آپ نے جو کچھ فرمایا ہے وہ شیعوں کے ردّ میں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصل جانشین حضرت علیؓ تھے آپ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ خلافت کا وعدہ قرآن کریم کی آیت میں ہے اور اس میں جو شرائط پائی جاتی ہیں وہ بدرجہء کمال حضرت ابوبکرؓ میں پائی جاتی ہیں۔۷۰؎
    پس آپ کا مطلب تو یہ ہے کہ قرآن کریم سے حضرت ابوبکرؓ کی خلافت حضرت علیؓ کی خلافت سے زیادہ ثابت ہے نہ یہ کہ حضرت علیؓ خلیفہ نہ تھے۔ آپ نے اپنی کتب میں چار خلفاء کے الفاظ بھی استعمال کئے ہیں ۷۱؎ اور حضرت علیؓ کی خلافت کا بھی ذکر فرمایا ہے ۷۲؎ اس کا مزید ثبوت یہ ہے کہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحومؓ نے شیعوں کے ردّ میں ایک لیکچر دیا تھا جس میں انہوں نے اسی آیت سے حضرت ابوبکرؓ ، حضرت عمرؓاور حضرت عثمانؓ کو خلیفہ ثابت کیا ہے اور حضرت علیؓ کی خلافت کو بھی مختلف مقامات میں تسلیم کیا ہے۔ آپ نے بعد میں اس لیکچر کو بعض زوائد کے ساتھ کتابی صورت میں ’’خلافتِ راشدہ‘‘ کے نام سے چھپوا دیا تھا۔ اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ میرا یہ مضمون حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سنا اور بار بار پڑھوایا اور اس کے کچھ حصہ کا ترجمہ اپنی کتاب حجۃ اللہ میں بھی کر دیا اور مختلف مقامات پر میرا یہ مضمون دوستوں کو اپنی طرف سے بطور تحفہ بھجوایا۔
    پس معلوم ہوئا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس عقیدہ میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سے متفق تھے جس کا انہوں نے ’’خلافتِ راشدہ‘‘ میں اظہار کیا ہے۷۳؎۔
    دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ پہلے خلیفہ کی خلافت ثابت ہو جائے تو دوسروں کی خود بخود ثابت ہو جاتی ہے۔ جیسے حضرت ابوبکرؓ پہلے خلیفہ ہوئے اور پھر حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عمرؓ کا انتخاب کیا اور مسلمانوں سے مشورہ کر کے انھیں خلیفہ مقرر کیا۔ اسی طرح اس زمانہ میں حضرت خلیفہ اوّل نے ایک دفعہ تو میرا نام لے کر وصیت کی اور دوسری دفعہ بغیر نام کے وصیت کی مگر بہرحال خلافت کے وجود کو آپ نے قائم کیا۔ آپ کی وصیت کے الفاظ یہ ہیں:۔
    ’’خاکسار بقائمی حواس لکھتا ہے لَااِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ……میرا جانشین متقی ہو، ہر دلعزیز عالم باعمل ۔ حضرت صاحب کے پرانے اور نئے احباب سے سلوک چشم پوشی و درگزر کو کام میں لاوے ۔ میں سب کا خیرخواہ تھا وہ بھی خیرخواہ رہے قرآن و حدیث کا درس جاری رہے۔
    والسلام
    نورالدین
    ۴؍مارچ ۷۴؎
    اسی طر ح آپ ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ مجھے بھی خداتعالیٰ نے خلیفہ مقرر کیا ہے اور میرے بعد جو ہو گا اسے بھی خدا ہی خلیفہ مقرر کرے گا۔ چنانچہ آپ نے فرمایا:۔
    ’’خلافت کیسری کی دُکان کاسوڈا واٹر نہیں۔ تم اس بکھیڑے سے کچھ فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔ نہ تم کو کسی نے خلیفہ بنانا ہے اور نہ میری زندگی میں کوئی اور بن سکتا ہے۔ میں جب مر جاؤں گا تو پھر وہی کھڑا ہو گا جس کوخدا چاہے گا اور خدا اس کو آپ کھڑا کر دے گا۔‘‘۷۵؎
    پس اگر پہلے خلفاء اس آیت کے ماتحت خلیفہ تھے تو ان کے فیصلے اسی کی تائید میں ہیں کہ ان کے بعد بھی خلافت رہے گی اور اسی رنگ میں ہو گی جس رنگ میں ان کی اپنی خلافت تھی اور ان کے فیصلے اس بارہ میں حُجّت ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔
    تیسرا جواب یہ ہے کہ جب موجبات موجود ہوں تو پھر ان کا طبعی نتیجہ کیوں نہ ہو گا یا تو یہ مانا جائے گا کہ ضرورتِ خلافت بعد میں نہ رہی اور اُمت بھی مؤمنوں اور عملِ صالح کرنے والوں کی نہ رہی اور یا پھر خلافت کے وجود کو تسلیم کرنا ہو گا۔
    کیا خلیفہ کا عزل جائز ہے؟
    ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ جب خلیفہ انتخاب سے ہوتا ہے تو پھر امت کیلئے اس کا عزل بھی جائز
    ہوا ا س کا جواب یہ ہے کہ گو خلیفہ کا تقرر انتخاب کے ذریعہ سے ہوتا ہے لیکن آیت کی نص صریح اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ امت کو اپنے فیصلہ کا اس امر میں ذریعہ بناتا ہے اور اس کے دماغ کو خاص طور پر روشنی بخشتا ہے لیکن مقرر اصل میں اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے کہ وہ خود ان کو خلیفہ بنائے گا۔ پس گو خلفاء کا انتخاب مؤمنوں کے ذریعہ سے ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا الہام لوگوں کے دلوں کو اصل حقدار کی طرف متوجہ کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ ایسے خلفاء میں مَیں فلاں فلاں خاصیتیں پیدا کر دیتا ہوں اور یہ خلفاء ایک انعامِ الٰہی ہوتے ہیں۔ پس اس صورت میں اس اعتراض کی تفصیل یہ ہوئی کہ کیا اُمت کو حق نہیں کہ وہ اس شخص کو جو کامل موحّد ہے جس کے دین کو اللہ تعالیٰ نے قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلئے خدا نے تمام خطرات کو دور کرنے کا وعدہ کیا ہے اور جس کے ذریعہ سے وہ شرک کو مٹانا چاہتا ہے اور جس کے ذریعہ سے وہ اسلام کو محفوظ کرنا چاہتا ہے معزول کر دے۔ ظاہر ہے کہ ایسے شخص کو امّتِ اسلامیہ معزول نہیں کر سکتی۔ ایسے شخص کو تو شیطان کے چیلے ہی معزول کریں گے۔
    دوسرا جواب یہ ہے کہ اس جگہ وعدہ کا لفظ ہے اور وعدہ احسان پر دلالت کرتا ہے۔ پس اس اعتراض کے معنی یہ ہوں گے کہ چونکہ انعام کا انتخاب اللہ تعالیٰ نے اُمت کے ہاتھ میں رکھا ہے اسے کیوں حق نہیں کہ وہ اس انعام کو ردّ کر دے۔ ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ یہ استنباط بدترین استنباط ہے۔ جو انعام منہ مانگے ملے اس کا ردّ کرنا تو انسان کو اور بھی مجرم بنا دیتا ہے اور ا س پر شدیدحجت قائم کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو فرمائے گا کہ اے لوگو! میں نے تمہاری مرضی پر چھوڑا اور کہا کہ میرے انعام کو کس صورت میں لینا چاہتے ہو؟ تم نے کہا ہم اس انعام کو فلاں شخص کی صورت میں لینا چاہتے ہیں اور میں نے اپنے فضل اس شخص کے ساتھ وابستہ کر دیئے۔ جب میں نے تمہاری بات مان لی تو اب تم کہتے ہو کہ ہم اس انعام پر راضی نہیں۔ اب اس نعمت کے اوپر میں اس کے سوا اور کیا کہہ سکتا ہوں کہ لَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ اسی کی طرف اشارہ کرنے کیلئے فرمایا کہ یعنی انتخاب کے وقت تو ہم نے اُمت کو اختیار دیا ہے مگر چونکہ ا س انتخاب میں ہم اُمت کی راہبری کرتے ہیں اور چونکہ ہم اس شخص کو اپنا بنا لیتے ہیں اس کے بعد اُمت کا اختیار نہیں ہوتا اور جو شخص پھر بھی اختیار چلانا چاہے تو یاد رکھے وہ خلیفہ کا مقابلہ نہیں کرتا بلکہ ہمارے انعام کی بے قدری کرتا ہے۔ پس اگر انتخاب کے وقت وہمیں شامل تھا تو اب اس اقدام کی وجہ سے ہماری درگاہ میں اس کا نام کی فہرست سے کاٹ کر فاسقوں کی فہرست میں لکھا جائے گا۔
    ایک لطیف نکتہ
    اب ایک لطیف نکتہ بھی سن لو۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا عجیب بات بیان کی ہے۔ خلافت کے انعام کا وارث اس قوم کو بتایا ہے جو(۱) ایمان
    رکھتی ہو یعنی اس کے ارادے نیک ہوں۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں نِیَّۃُ الْمُؤْمِنِ خَیْرٌمِنْ عَمَلِہٖ۷۶؎ کہ مؤمن کے عمل محدود ہوتے ہیں مگر اس کے ارادے بہت وسیع ہوتے ہیں۔ اور وہ کہتا ہے کہ میں یوں کروں گا اورووں کروں گا۔ گویا مؤمن کے ارادے بہت نیک ہوتے ہیں۔
    (۲)دوسری بات یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ کے مصداق ہوتے ہیں۔ یعنی صالح ہوتے ہیں مگر فرماتا ہے جب وہ خلافت کا انکار کرتے ہیں تو فاسق ہو جاتے ہیں۔ فاسق کے معنی ہیں جو حلقہ اطاعت سے نکل جائے اور نبی کی معیت سے محروم ہو جائے۔ پس آیت کا مفہوم یہ ہوئا کہ نیک ارادے رکھنے والوں اور صالح لوگوں میں خلافت آتی ہے۔ مگر جو اس سے منکر ہو جائیں تو باوجود نیک ارادے رکھنے اور صالح ہونے کے وہ اس فعل کی وجہ سے نبی کی معیت سے محروم کر دیئے جاتے ہیں۔
    اب آیت کے اِن الفاظ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس رؤیا کے مقابل پر رکھو جو آپ نے مولوی محمدؐ علی صاحب کے متعلق دیکھا اور جس میں آپ ان سے فرماتے ہیں:۔
    ’’آپ بھی صالح تھے اور نیک ارادہ رکھتے تھے۔ آؤ ہمارے ساتھ بیٹھ جاؤ۔‘‘ ۷۷؎
    تو معلوم ہوا کہ یہ بعینٖہ وہی بات ہے جو اور کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے کہ ایمان رکھنے اور عمل صالح کرنے والوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ ان میں خلافت قائم کرے گا۔ مگر جو شخص اس نعمت کا انکار کر دے گا وہ نبی کی معیت سے محروم کر دیا جائے گا۔ اس رؤیا میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس بیٹھایا نہیں بیٹھا۔ مگر قرآنی الفاظ بتاتے ہیں کہ ایسے شخص کو پاس بیٹھنے کی توفیق نہیں ملی۔ ۷۸؎
    خلافتِ راشدہ کی تائید میں دوسری آیت
    دوسری آیت جو خلافت کے ثبوت میں قرآن کریم میں
    بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے

    ۷۹؎
    یعنی اُس وقت کو یاد کرو جب ابراہیم کو اس کے ربّ نے بعض باتوں کے ذریعہ سے آزمایا اور اس نے ان سب کو پورا کر کے دکھا دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ابراہیم ؑ! میں تجھے لوگوں کا امام مقرر کرنے والا ہوں۔ حضرت ابراہیمؑ نے عرض کیا کہ اے خدا! میری اولاد میں سے بھی امام بنائیو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ بہت اچھا مگر اِن میں سے جو لوگ ظالم ہو جائیں گے ان کو امام نہیں بنایا جائے گا۔
    اس آیت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے انہیں امام بنانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام فوراً اور جائز طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ جو کام میرے سپرد ہونے والا ہے وہ ایک نسل میں پورا نہیں ہو سکتا اور ضرورت ہے کہ میرے بعد بھی کچھ اور وجود ہوں جو اس کام کو چلائیں اور اللہ تعالیٰ سے اپنی ذریت کے امام بنانے کی درخواست کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہاں اِن سے بھی میں وعدہ کرتا ہوں مگر ظالموں کو میرا عہد نہیں پہنچے گا۔
    اس آیت میں بھی وعدہ اولاد سے ہے گو ظالم اولاد سے نہیں لیکن کون کہہ سکتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں یا تو امام تھے یا ظالم تھے اِن دونوں کے سوا بھی اور اولاد تھی۔ پھر ان سے امامت کا وعدہ کس طرح پورا ہوئا؟ اسی طرح کہ بعض کو امامت ملی اور بعض کو ان کے ذریعہ سے امامت سے فائدہ پہنچا ۔ یہ بھی آیتِ استخلاف کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ وعدہ تو سب سے تھا پھر خلافت شخصی کس طرح ہو سکتی ہے۔
    مگر میں اِس وقت آیت کے ایک دوسرے پہلو کی طرف اشارہ کر رہا ہوں اور وہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اولاد کے متعلق امامت کا وعدہ تھا وہ وعدہ کس طرح پورا ہوا؟ آپ کے بعد آپ کی اولاد میں سے چار نبی ہوئے (۱) حضرت اسماعیل ؑ (۲)حضرت اسحاقؑ (۳)حضرت یعقوبؑ (۴) حضرت یوسفؑ۔ اوران چاروں انبیاء خلفاء نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مشن کو تکمیل تک پہنچایا۔
    قرآن کریم میں دوسری جگہ ان چاروں کی طرف اشارہ بھی کیا ہے۔ فرماتا ہے۔


    ۸۰؎
    یعنی اس واقعہ کو بھی یاد کرو جب ابراہیمؑ نے کہا تھا کہ اے میرے رب! مجھے بتا کہ تُو مردے کس طرح زندہ کرتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا تو ایمان نہیں لا چکا؟ حضرت ابراہیمؑ نے کہا۔ کیوں نہیں ایمان تو مجھے حاصل ہو چکا ہے لیکن صرف اطمینانِ قلب کی خاطر میں نے یہ سوال کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو چار پرندے لے اور ان کو اپنے ساتھ سدھا لے پھر ہر ایک پہاڑ پر اُن میں سے ایک ایک حصہ رکھ دے، پھر اُنہیں بلا۔ وہ تیری طرف تیزی کے ساتھ چلے آئیں گے اور جان لے کہ اللہ تعالیٰ بڑا غالب اور حکمت والا ہے۔
    یہ واقعہ اگر ظاہری ہوتا تو اس پر بہت سے اعتراض پڑتے ہیں۔ اوّل یہ کہ احیائے موتی کے ساتھ پرندوں کے سِدھانے کا کیا تعلق؟ (۲) چار پرندے لینے کے کیا معنی؟ کیا ایک سے یہ غرض پوری نہ ہوتی تھی؟ (۳)پہاڑوں پر رکھنے کا کیا فائدہ؟ کیا کسی اور جگہ رکھنے سے کام نہ چلتا تھا؟
    پس حقیقت یہ ہے کہ یہ ظاہری کلام نہیں بلکہ باطن رکھنے والا کلام ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی کہ الٰہی! جو احیائے موتی کا کام تو نے میرے سپرد کیا ہے اسے پورا کر کے دکھا اور مجھے بتا کہ یہ قومی زندگی کس طرح پیدا ہو گی جبکہ میں بڈھا ہوں اور کام بہت اہم ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ہم نے وعدہ کیا ہے تو یہ ہو کر رہے گا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہو کر تو ضرور رہے گا مگر میں اپنے اطمینان کیلئے پوچھتا ہوں کہ یہ مخالف حالات کیونکر بدلیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے چار پرندے لے کر سِدھا اور ہر ایک کو پہاڑ پر رکھ دے۔ پھر بلاؤ اور دیکھو کہ وہ کس طرح تیری طرف دوڑتے آتے ہیں۔ یعنی اپنی اولاد میں سے چار کی تربیت کرو۔ وہ تمہاری آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس احیاء کے کام کی تکمیل کریں گے۔ یہ چار جیسا کہ میں بتا چکا ہوں حضرت اسماعیل ؑ ، حضرت اسحاقؑ ، حضرت یعقوبؑ اور حضرت یوسفؑ ہیں۔ اِن میں سے دو کی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے براہِ راست تربیت کی اور دو کی بِالواسطہ۔ پہاڑ پر رکھنے کے معنی بھی یہی ہیں کہ ان کی اعلیٰ تربیت کر کیونکہ وہ بہت بڑے درجہ کے ہوں گے گویا پہاڑ پر رکھنے کے معنی ان کے رفیع الدرجات ہونے کی طرف اشارہ ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ بلندیوں کی چوٹیوں تک جا پہنچیں گے۔
    غرض اس طرح احیائے قومی کا وہ نقشہ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قریب زمانہ میں ظاہر ہونا تھا انہیں بتا دیا گیا۔ اب دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھی مثیل ہیں جیسا کہ درود پڑھنے والے مسلمان جانتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا سکھائی ہے کہ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدُ مَّجِیْدٌ۔ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا باَرَکْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ لیکن جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابراہیم علیہ السلام سے افضل ہیں تو یقینا کسی خاص خصوصیت کی طرف ہی اِس درود میں اشارہ ہو سکتا ہے اور وہ خصوصیت ان کی اولاد میں امامت و نبوت کی ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ۸۱؎ یعنی ہم نے اس کی ذرّیت کے ساتھ نبوت اور کتاب کو مخصوص کر دیا اور ہم نے اس کو اس دنیا میں بھی اجر بخشا اور آخرت میں بھی وہ نیک بندوں میں شامل کیا جائے گا۔ پس وہ فضیلت جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ملی وہ نبوت ہی تھی جس کے بعد متواتر ان کی اولاد کو نبوتِ خلافت حاصل ہوئی جس نے ان کے گھر کو شرف سے بھر دیا۔ چنانچہ ایک دفعہ کسی نے رسول کریم ﷺ سے پوچھا کہ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! سب سے زیادہ معزز کون ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا جو شخص سب سے زیادہ تقویٰ رکھتا ہے۔ اس نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! میرا یہ سوال نہیں۔ آپؐ نے فرمایا تو پھر یوسفؑ بڑا معزز ہے جو خود بھی نبی تھا اور نبی کا بیٹا بھی تھا۔ پھر اُس کا دادا بھی نبی تھا اور اُس کا پڑدادا ابراہیمؑ بھی نبی تھا۸۲؎۔ پس جب ہم کَمَا صَلَّیْتَ یا کَمَا بَارَکْتَ کہتے ہیں تو ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہی فضیلت دے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حاصل تھی۔ ذاتی طور پر بھی اور اولاد کی طرف سے بھی۔ یعنی آپ ابوالانبیاء ہو جائیں اور آپ کی اولاد روحانی میں بھی نبوت مخصوص ہو جائے۔ سو اللہ تعالیٰ نے اِس دعا کو سنا اور جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے معاً بعد چار رسول ہوئے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاً بعد چار خلیفے ہوئے جنہوں نے آپ کے دین کی تمکین کی اور جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں دُور زمانہ میں پھر نبی پیدا ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعید زمانہ بعد بھی انبیاء کی بعثت کی خبر دی گئی مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس امر میں بھی فضیلت دی گئی ہے۔ یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تو دو خلفاء کی تربیت بِلاواسطہ کی تھی اور دو کی بِالواسطہ۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاروں اماموں کی تربیت خود فرمائی اگر یہ مشابہت نہ ہوتی تو پھر کَمَا صَلَّیْتَ اور کَمَا بَارَکْتَ کے معنی ہی کیا ہوتے۔ پھر تو یہ تسلیم کرنا پڑتا کہ شاید حضرت ابراہیم علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا درجہ رکھتے ہیں۔ پس ابراہیمی وعدہ اور درود مل کر صاف بتاتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ایسا ہی ہونے والا تھا اور آپ کے بعد بھی آپ کے دین کی تمکین کیلئے خلفاء آنے والے تھے۔
    اگر کہو کہ وہ خلفاء تو نبی تھے یہ تو نبی نہ تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اولاد کے امام ہونے کے درحقیقت دو وعدے تھے ایک تو قریب عہد میں اور ایک بعید عہد میں جس میں موسیٰ ؑ اور عیسیٰ ؑ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح موعود ؑشامل تھے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت نے تقاضا کیا کہ قریب عہد کے امام خلیفہ امام ہوں اور بعید کا خلیفہ نبی خلیفہ ہو۔ چنانچہ خلفائے راشدین عُلَمَائُ اُمَّتِیْ کَاَنْبِیَائِ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ کے ماتحت انبیاء سے شدید مشابہت رکھتے تھے مگر نبی نہ تھے اور آخری خلیفہ ایک پہلو سے اُمتّی اور ایک پہلو سے نبی ہوا تا کہ مشابہت میں نقص نہ رہ جائے۔
    اب دیکھو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت میں ان خلفاء نے ان چار انبیاء سے زیادہ تمکین دین کی ہے اور یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ قدسیہ کا ایک زبردست ثبوت ہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک تحریر بھی اس اُلجھن کو دور کر دیتی ہے۔ آپ ’’الوصیت‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:۔
    ’’تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا اور اس وعدہ کو پورا کیا جو فرمایا تھا … ایسا ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ہوئا‘‘۔ ۸۳؎
    اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس آیت میں حضرت موسیٰؑ کے نبی جانشین سے حضرت ابوبکرؓ کی مشابہت کو تسلیم کیا ہے۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بھی اس پر روشنی ڈالتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں۔ لَوْکَانَ نَبِیٌّ بَعْدِیْ لَکَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابُ۸۴؎۔ یعنی اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ بن الخطاب ہوتا۔ اس کے یہی معنی ہیں کہ عمرؓ میرے بعد امام ہونے والے ہیں۔ اگر میرے معاً بعد نبوت کا اجراء اللہ تعالیٰ نے کرنا ہوتا تو عمرؓ بھی نبی ہوتے مگر اب وہ امام تو ہونگے مگر نبی نہ ہونگے۔
    ایک دوسری حدیث بھی اس پرروشنی ڈالتی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ جنگ پر گئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے قائم مقام بنا گئے۔ پیچھے صرف منافق ہی منافق رہ گئے تھے۔ اس وجہ سے وہ گھبرا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ مجھے بھی لے چلیں۔ آپ نے تسلی دی اور فرمایا۔ اَلاَ تَرْضٰی اَنْ تَکُوْنَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ھَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی اِلاَّ اَنَّہٗ لَیْسَ نَبِیٌّ بَعْدِیْ ۸۵؎ یعنی (۱) اے علیؓ! تمہیں مجھ سے ہارونؑ اور موسیٰؑ کی نسبت حاصل ہے۔ ایک دن ہارونؓ کی طرح تم بھی میرے خلیفہ ہوگے (۲) لیکن باوجود اس نسبت کے تم نبی نہ ہوگے۔
    اس میں ایک ہی وقت میں نبی سے مشابہت بھی دے دی اور نبوت سے خالی بھی بتا دیا۔ پس جس طرح علیؓ ہارونؑ کے مشابہ ہو سکتے ہیں چاروں خلفاء چار دوسرے نبیوں کے بھی مشابہ ہو سکتے ہیں۔
    اس حدیث سے علاوہ اس کے کہ یہ ثبوت ملتا ہے کہ خلفاء نبیوں کے مشابہ قرار دیئے جا سکتے ہیں حضرت علیؓ کے زمانہ کے فتنہ پر بھی روشنی پڑتی ہے اور اس میں یہ پیشگوئی نظر آتی ہے کہ جس طرح حضرت ہارونؑ کے زمانہ میں فساد ہوا حضرت علیؓ کے زمانہ میں بھی فساد ہوگا اور لوگ حضرت علیؓ پر الزام لگائیں گے لیکن وہ الزام اُسی طرح غلط ہونگے جس طرح ہارونؑ پر یہ اعتراض غلط ہے کہ انہوں نے شرک کیا۔ بہرحال حضرت علیؓ کا طریق حضرت ہارونؑ کے مشابہ ہوگا کہ تفرقہ کے ڈر سے کسی قدر نرمی کریں گے (جیسا کہ صَفّین کے موقع پر تحکیم کو تسلیم کر کے انہوں نے کیا)
    خلافت کے بارہ میں رسول کریمﷺ کا ایک ارشاد
    اس کے بعد مَیں حدیثوں میں سے
    صرف ایک حدیث بطور مثال خلافت کے بارہ میں پیش کردیتا ہوں کیونکہ اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مَا مِنْ نَّبِیٍّ اِلاَّ تَبِعَتْہُ خِلافَۃٌ ۸۶؎ یعنی کوئی نبی نہیں کہ اس کے بعد خلافت نہ ہوئی ہو۔ اس عام فیصلہ کے بعد خلافت کا انکار درحقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کا انکار ہے کیونکہ یہ ایک قاعدہ کلّیہ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا۔
    خلفاء کے حقوق کے بارہ میں ایک بہت بڑا اعتراض
    اب مَیں ایک اعتراض جو بہت مشہوراور جو خلفاء کے حقوق کے بارہ میں ہے اس کا جواب دیتا ہوں۔ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ جیسا کہ آیت استخلاف سے ثابت
    ہے اور جیسا کہ آیت وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ سے ثابت ہے اور جیسا کہ آیت سے ثابت ہے خلفاء پر گو اہم امور میں مشورہ لینے کی پابندی ہے لیکن اُس پر عمل کرنے کی پابندی نہیں۔ اس پر بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔ سب سے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکرؓ خود فرماتے ہیں کہ اِنْ زِغْتُ فَقَوِّمُوْنِیْ۸۷؎ اگر مَیں کجی دکھائوں تو مجھے سیدھا کر دینا۔ معلوم ہوئا کہ وہ پبلک کو خلیفہ کو روکنے کا اختیار دیتے ہیں۔ غیر مبائعین ہمیشہ یہ اعتراض کیا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکرؓ نے یہ کہہ دیا تھا کہ اگر مَیں ٹیڑھا ہو جائوں تو مجھے سیدھا کر دینا تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خلیفہ غلطی کر سکتا ہے اور پبلک کو حق ہے کہ جب بھی وہ اسے سیدھے راستہ سے منحرف ہوتا دیکھے اُسے پکڑ کر سیدھا کر دے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کا عمل اس بات پر شاہد ہے کہ آپ نے اپنے اس قول کے کبھی بھی وہ معنی نہیں سمجھے جو معترضین لیتے ہیں۔ اور نہ مسلمان آپ کے اس قول کا کبھی یہ مفہوم لیتے تھے کہ جب وہ حضرت ابوبکرؓ کی رائے کو اپنی رائے کے خلاف دیکھیں تو سختی سے آپ کو سیدھا کر دیں۔ جَیشِ اسامہؓ کو رُکوانے کے متعلق جب بڑے بڑے صحابہؓ حضرت ابوبکرؓ کے پاس آئے تو انہوں نے یہ تو نہیں کہا کہ ہماری یہ بات ماننی ہے تو مانو ورنہ ہم تمہیں ابھی سیدھا کر دیں گے بلکہ آپ نے جب ان تمام لوگوں کے مشورہ کو ردّ کر دیا اور فرمایا کہ مَیں جَیشِ اسامہؓ کو نہیں روک سکتا تو انہوں نے اپنی رائے واپس لے لی۔ اسی طرح جب باغیوں سے جنگ کے بارہ میں صحابہؓ نے کسی قدر نرمی کی درخواست کی تو آپ نے ان کی اس درخواست کو بھی ردّ کر دیا اور فرمایا کہ مَیں تو ان کے ساتھ وہی سلوک کروں گا جو مُرتدین کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر بھی صحابہؓ نے یہ نہیں کہا کہ اگر آپ ہماری بات نہیں مانتے تو ہم آپ کو سیدھا کر کے چھوڑیں گے بلکہ انہوں نے اپنی غلطی کا اقرار کیا اور حضرت ابوبکرؓ کے فیصلہ کے سامنے انہوں نے اپنی گردنیں جُھکا دیں۔ اسی طرح جہاں بھی آپ کا لوگوں سے مقابلہ ہوئا آپ نے یہی کہا کہ میری بات صحیح ہے اور تمہاری غلط۔ یہ کہیں نظر نہیں آتا کہ کبھی لوگوں نے آپ کو سیدھا کیا ہو۔ یا آپ نے ہی لوگوں سے کہا ہو کہ اے مسلمانو! مَیں کچھ ٹیڑھا سا ہو گیا ہوں مجھے سیدھا کر دینا۔ پس آپ کے قول کے وہی معنی لئے جا سکتے ہیں جو خدا اور رسول کے احکام کے مطابق ہوں اور خود آپ کے فعل کے مطابق ہوں نہ کہ مخالف۔
    کجی سے مراد صرف کُفربواح ہے
    سو یاد رکھنا چاہئے کہ آپ کی ٹیڑھا ہونے سے مراد وہی کفرِبواح ہے جس کا ذکر احادیث
    آتا ہے اور آپ فرماتے ہیں کہ جب تک مَیں اسلام پر چلتا ہوں تم پر میری اطاعت فرض ہے اور اگر مَیں اسلام کو ترک کر دوں یا مجھ سے کفرِ صادر ہو تو پھر تم پر یہ فرض ہے کہ میرا مقابلہ کرو ورنہ یہ مُراد نہیں کہ میرے روز مرہ کے فیصلوں پر تنقید کر کے جو تمہاری مرضی کے مطابق ہوں اُن پر عمل کرو اور دوسروں کو چھوڑ دو۔
    کیا حضرت ابوبکرؓ کُفربواح کر سکتے تھے؟
    اگر کوئی کہے کہ کیا حضرت ابوبکرؓ کفربواح کر سکتے تھے؟ تو
    اس کا جواب یہ ہے کہ کیا حضرت ابوبکرؓ اس قدر ٹیڑھا ہو سکتے تھے کہ انہیں سیدھا کرنے کی مسلمانوں کو ضرورت پیش آئے! ایسی صورت تو اُسی وقت پیش آ سکتی تھی جب صحابہؓ کہیں کہ قرآن اور حدیث سے فلاں امر ثابت ہے اور حضرت ابوبکرؓ کہیں کہ مَیں قرآن اور حدیث کی بات نہیں مانتا۔ پس کیا یہ ممکن تھا کہ حضرت ابوبکرؓ کبھی قرآن اور حدیث کے خلاف ایسا قدم اُٹھا سکیں؟ اور مسلمانوں کو انہیں لٹھ لیکر سیدھا کرنے کی ضرورت پیش آئے۔ اگر اس قدر کجی بھی آپ سے ممکن نہ تھی مگر آپ نے یہ فقرہ کہا تو کفرِ بواح بھی گو آپ سے ممکن نہ تھا مگر آپ نے یہ ظاہر کرنے کیلئے کہ صداقتِ ازلی سب چیزوں سے بڑی ہے یہ فقرہ کہہ دیا اس سے آپ کا یہ منشا ء نہیں تھا کہ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ آپ سے کفربواح صادر ہو سکتا ہے بلکہ یہ منشاء تھا کہ میری حیثیت محض ایک خلیفہ کی ہے اور میرا کام اپنے رسول اور مطاع کی تعلیم کو صحیح رنگ میں دنیا میں قائم کرنا ہے۔ پس تم اس صداقتِ ازلی کو ہر چیز پر مقدم رکھو اور خواہ مَیں بھی اُس کے خلاف کہوں تم اصل تعلیم کو کبھی ترک نہ کرو۔
    قرآن کریم سے بعض مثالیں
    اَب مَیں بتاتا ہوں کہ اس قسم کے الفاظ قرآن کریم میں بھی موجود ہیں۔ حضرت شعیبؑ
    فرماتے ہیں۔۔۸۸؎ جب کُفّار نے حضرت شعیب علیہ السلام سے کہا کہ آئو اور ہم میں مل جائو تو حضرت شعیب علیہ السلام نے یہ جواب دیا کہ ہمارے لئے یہ بالکل ناممکن ہے کہ تمہارے مذہب میں شامل ہوں ہاں اگر خدا چاہے تو ہو سکتا ہے۔ اب کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ حضرت شعیبؑ کو کافر کر دینا اللہ تعالیٰ کیلئے ممکن تھا یا شعیبؑ کا کافر ہو جانا ممکن تھا۔ یقینا اُن کا کافر ہونا ناممکن تھا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نبی تھے۔ مگر انہوں نے یہ کہا اور اس لئے کہا تا اللہ تعالیٰ کامقام اور اُس کی عظمت لوگوں پر ظاہر ہو کہ گو میرا کافر ہونا ناممکن ہے مگر اس میں میرے نفس کی کوئی بڑائی نہیں بلکہ یہ مقام محض اللہ تعالیٰ کی مدد سے حاصل ہوئا ہے اگر وہ نہ ہو تو پھر یہ عصمت بھی نہ رہے۔
    اِسی طرح رسول کریم ﷺ کی زبان سے اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی کلمات نکلوائے ہیں چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے ۸۹؎ یعنی اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! تو لوگوں سے کہہ دے کہ اگر خدا کا بیٹا ہو تو مَیں سب سے پہلے اُس کی پرستش اور عبادت کرنے کیلئے تیار ہوں۔ اب اس آیت کے یہ معنی نہیں ہیں کہ خدا تعالیٰ کے لئے بیٹے کا امکان موجود ہے بلکہ اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ خدا کا بیٹا تو یقینا کوئی نہیں لیکن اگر ہوتا تو میرے جیسا مطیع و فرمانبردار بندہ اُس کی ضرور عبادت کرتا۔
    اِسی طرح حضرت ابوبکرؓ سے گو کُفربواح کا صدور بالکل ناممکن تھا مگر آپ نے صداقت ازلی کی اہمیت لوگوں کو ذہن نشین کرانے کیلئے فرما دیا کہ اگر مَیں بھی اس کے مقابلہ میں آجائوں تو میری پرواہ نہ کرنا۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک واقعہ
    ایسا ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی ایک واقعہ ہے۔
    آپ کے زمانہ میں ایک شخص میاں نظام الدین نامی تھے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعویٰ کیا کہ مسیح ناصری فوت ہو چکے ہیں تو تمام ہندوستان میں ایک شور مچ گیا، اُن دنوں حضرت خلیفہ اوّل جموں سے چند دنوں کی رخصت لیکر لاہور آئے ہوئے تھے۔ مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی بھی وہیں جا پہنچے اور انہوں نے آپ کو مباحثہ کا چیلنج دے دیا اور کہا کہ صرف حدیثوں سے اس مسئلہ پر بحث ہونی چاہئے۔ حضرت خلیفہ اوّل فرماتے کہ حدیث حاکم نہیں بلکہ قرآن حاکم ہے۔ پس ہمیں اس معاملہ کا قرآن کریم کی آیات سے فیصلہ کرنا چاہئے۔ اس پر کئی دن بحث ہوتی رہی اور ایک دوسرے کی طرف سے اشتہارات بھی نکلتے رہے۔ میاں نظام الدین چونکہ مولوی محمد حسین بٹالوی کے بھی دوست تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی گہرا تعلق رکھتے تھے اس لئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس جھگڑے کو نپٹا نا چاہئے۔ انہوں نے اپنے دل میں سمجھا کہ مرزا صاحب نیک آدمی ہیں وہ قرآن کریم کے خلاف تو کوئی بات نہیں کہہ سکتے۔ ضرور انہوںنے کوئی ایسی بات کہی ہوگی جسے مولوی محمد حسین بٹالوی سمجھے نہیں اور جوش میں آ کر مخالفت پر آمادہ ہوگئے ہیں ورنہ یہ ہو کس طرح سکتا ہے کہ قرآن سے حیاتِ مسیح ثابت ہو اور مرزا صاحب جیسا نیک اور متقی آدمی قرآن کے خلاف یہ دعویٰ کر دے کہ حضرت مسیحؑ فوت ہو چکے ہیں۔ چنانچہ وہ بڑے جوش سے قادیان آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہنے لگے کہ میں نے سنا ہے آپ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ آپ نے فرمایا ہاں میرا یہی دعویٰ ہے۔ وہ کہنے لگے کہ اگر قرآن سے یہ ثابت ہو جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو کیا آپ اپنا یہ عقیدہ ترک کر دیں گے۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے فرمایا کیوں نہیں۔ اگر قرآن سے حیات مسیحؑ ثابت ہو جائے تو مَیں انہیں زندہ ماننے لگ جائوں گا۔ اس پر وہ بڑے خوش ہوئے اور کہنے لگے مَیں پہلے ہی کہتا تھا کہ مرزا صاحب بڑے نیک آدمی ہیں وہ قرآن کے خلاف عمداً کوئی بات نہیں کہہ سکتے۔ انہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے اور اگر اُسے رفع کر دیا جائے تو اُن سے حیاتِ مسیح کا منوا لینا کوئی بڑی بات نہیں۔ چنانچہ کہنے لگے اچھا اگر مَیں ایسی سَو آیتیں نکال کر لے آئوں جن سے حیاتِ مسیح ثابت ہوتی ہو تو کیا آپ مان لیں گے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمانے لگے سَو چھوڑ آپ ایک آیت ہی ایسی لے آئیں تو میرے لئے وہی کافی ہے۔کہنے لگے اچھا سَو نہ سہی پچاس تو ضرور لے آئوں گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا مَیں تو کہہ چکا ہوں کہ میرے لئے ایک آیت بھی کافی ہے سَو یا پچاس کا سوال ہی نہیں۔ وہ کہنے لگے اچھا یہ بات ہے تو دس آیتیں تو میں ایسی ضرور نکال کر لے آئوں گا جن سے مسیحؑ کی حیات ثابت ہوتی ہو۔ چنانچہ وہ سیدھے لاہور پہنچے اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے جا کر ملے۔ اِس دوران میں چونکہ حضرت خلیفہ اوّل اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی بحث نے بہت طول پکڑ لیا تھا اس لئے تنگ آ کر حضرت خلیفہ اوّل نے اتنا مان لیا کہ قرآن کے علاوہ بخاری سے بھی تائیدی رنگ میں حدیثیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اپنی اس فتح پر بڑے خوش تھے اور وہ مسجد میں بیٹھے بڑے زور شور سے لافیں مار رہے تھے کہ مَیں نے نورالدین کو ایسا رگیدا اور ایسی پٹخیاں دیں کہ آخر اُسے ماننا پڑا کہ قرآن کے علاوہ حدیثیں بھی پیش کی جا سکتی ہیں۔ اتفاق ایسا ہوئا کہ اِدھر وہ ڈینگیں مار رہے تھے اور اُدھر میاں نظام الدین صاحب اُن کے سر پر جا پہنچے اور کہنے لگے بس اس بحث مباحثہ کو ایک طرف رکھیں مَیں قادیان گیا تھا اور مَیں حضرت مرزا صاحب کو منوا آیا ہوں کہ اگر مَیں قرآن سے دس آیتیں ایسی نکال کر لے آئوں جن سے حیاتِ مسیحؑ ثابت ہوتی ہو تو وہ اپنے عقیدہ کو ترک کر دیں گے اس لئے آپ جلدی کریں اور مجھے قرآن سے ایسی دس آیات نکال کر دے دیں مَیں ابھی اس جھگڑے کا فیصلہ کئے دیتا ہوں اور خود مرزا صاحب کی زبان سے یہ اقرار کروا لیتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو بڑے فخر سے کہہ رہے تھے کہ مَیں نے نورالدین کو ایسا رگیدا کہ وہ میرے مقابلہ میں شکست کھانے پر مجبور ہو گیا انہوں نے جب میاں نظام الدین صاحب کی یہ بات سنی تو اُن کے تن بدن میں آگ لگ گئی اور وہ بڑے غصّہ سے کہنے لگے تجھے کس جاہل نے کہا تھا کہ تو مرزا صاحب کے پاس جائے۔ مَیں دو مہینے جھگڑ جھگڑ کر نور الدین کو حدیث کی طرف لایا تھا تو پھر بحث کو قرآن کی طرف لے گیا۔ وہ آدمی تھے نیک، انہوں نے جب یہ سنا تو وہ حیرت و اِستعجاب سے تھوڑی دیر تو بالکل خاموش کھڑے رہے اور پھر مولوی صاحب سے مخاطب ہو کر کہنے لگے اچھا مولوی صاحب! اگر قرآن میں حیاتِ مسیحؑ کا کوئی ثبوت نہیں تو پھر جدھر قرآن ہے اُدھر ہی مَیں ہوں اور یہ کہہ کر وہاں سے چلے آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں شامل ہوگئے۔
    اب دیکھ لو باوجود اس بات کے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام پر اس حقیقت کو کھولا تھا کہ حضرت مسیح ناصریؑ فوت ہو چکے ہیں اور باوجود اس کے کہ آپ نے قرآن و احادیث سے اس مسئلے کو مدلّل طور پر ثابت کر دیا تھا آپ نے فرمایا کہ اگر ایک آیت بھی اس کے خلاف لے آئو تو مَیں اپنا عقیدہ ترک کرنے کیلئے تیار ہوں۔ اب کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو نَعُوْذُبِاللّٰہِ اس کے متعلق کامل یقین حاصل نہیں تھا اور آپ کا خیال تھا کہ شاید اس کے خلاف بھی کوئی آیت ہو۔ اگر کوئی ایسا کہے تو وہ اوّل درجے کا جاہل ہوگا کیونکہ آپ نے جب یہ کہا کہ اگر ایک آیت بھی میرے پاس ایسی نکال کر لے آئیں جس سے حیاتِ مسیحؑ ثابت ہوتی ہو تو مَیں اپنے عقیدہ کو ترک کر دوں گا تو یہ قرآن مجید کی عظمت اور اُس کی بزرگی کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا اور آپ کا مقصد یہ تھا کہ قرآن کے ایک لفظ کے خلاف بھی اگر میرا عقیدہ ہو تو مَیں ترک کرنے کیلئے تیار ہوں۔ یہ مقصد نہیں تھا کہ واقع میں آپ کا کوئی عقیدہ خلافِ قرآن ہے۔ اِسی طرح حضرت ابوبکرؓ کے اس قول کے یہ معنی نہیں ہیں کہ آپ سے کُفربواح صادر ہو سکتا تھا بلکہ یہ معنی ہیں کہ صداقت ہر حالت میں قابلِ اتباع ہوتی ہے اور اُس کیلئے زید یا بکر کا کوئی سوال نہیں ہوتا اگر مَیں بھی کسی ایسے امر کا ارتکاب کروں تو تم میری اطاعت سے انکار کر دو۔ یہ مطلب نہیں تھا کہ آپ کبھی خدا اور رسول کے حکم کے خلاف بھی کسی فعل کا ارتکاب کر سکتے تھے اور نہ اور آیت استخلاف کی موجودگی میں یہ معنی ہو سکتے ہیں۔
    آیتِ استخلاف اور خلافتِ ثانیہ
    اَب مَیں مختصراً آیت استخلاف کے ماتحت احمدیہ خلافت کے ذکر کو چھوڑ کر صرف اپنی خلافت کو لیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے میں یہ بتایا ہے کہ جب تک قوم کی اکثریت میں ایمان اور عملِ صالح رہتا ہے اُن میں خلافت کا نظام بھی موجود رہتا ہے۔ پس دیکھنا یہ چاہئے کہ (۱) کیا جماعت اب تک ایمان اور عملِ صالح رکھتی ہے یعنی کیا ہماری جماعت کی شہرت نیک ہے اور کیا ہماری جماعت کے افراد کی اکثریت عملِ صالح رکھتی ہے؟ اس کیلئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ یہ بات ہر شخص پر ظاہر ہے کہ جماعت کی شہرت نیک ہے اور جماعت کی اکثریت عمل صالح پر قائم ہے۔ پس جب ایمان اور عملِ صالح کی یہ حالت ہے تو خلافت کا وعدہ ضرور پورا ہونا چاہئے کیونکہ کے الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں سے اِس بات کا وعدہ کیا ہے اور وعدہ ضرور پورا ہوئا کرتا ہے۔
    (۲)دوسری بات اِس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ یعنی جس طرح پہلے خلفاء ہوئے اسی طرح اُمتِ محمدیہ میں خلفاء ہونگے۔ مطلب یہ کہ جس طرح پہلے خلفاء الٰہی طاقت سے بنے اور کوئی اُن کی خلافت کا مقابلہ نہ کر سکا اِسی طرح اب ہوگا۔ سو میری خلافت کے ذریعہ یہ علامت بھی پوری ہوئی۔ حضرت خلیفہ اوّل کی خلافت کے وقت صرف بیرونی اعداء کا خوف تھا مگر میری خلافت کے وقت اندرونی اعداء کا خوف بھی اس کے ساتھ شامل ہو گیا۔ پھر حضرت خلیفہ اوّل کو حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں ہی حکیم الامت اور اَور بہت سے القاب سے ملقّب کیا جاتا تھا مگر میرے متعلق سالہا سال سے جماعت میں یہ پروپیگنڈا کیا جارہا تھا کہ اگر اِس بچہ کے ہاتھ میں جماعت کی باگ ڈور آگئی تو جماعت تباہ ہو جائے گی۔ پھر میں نہ عربی کا عالم تھا، نہ انگریزی کا عالم تھا، نہ ایسا فن جانتا تھا جو لوگوں کی توجہ اپنی طرف پھرا سکے، نہ جماعت میں مجھے کوئی عہدہ اور رسوخ حاصل تھا تمام اختیارات مولوی محمد علی صاحب کوحاصل تھے اور وہ جس طرح چاہتے تھے کرتے تھے۔ ایسے حالات میں ایک ایسا شخص جس کو عمر کے لحاظ سے بچہ کہا جاتا تھا، جس کو علم کے لحاظ سے جاہل کہا جاتا تھا، جسے انجمن میں کوئی اختیار حاصل نہیں تھا، جس کے ہاتھ میں کوئی روپیہ نہیں تھا، اُس کی مخالفت میں وہ لوگ کھڑے ہوئے جن کے پاس بڑی بڑی ڈگریاں تھیں، وہ لوگ کھڑے ہوئے جن کے ہاتھوں میں قوم کا تمام روپیہ تھا، وہ لوگ کھڑے ہوئے جو ایک عرصہ درازسے بہت بڑی عزتوں کے مالک سمجھے جاتے تھے اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم اس بچہ کو خلیفہ نہیں بننے دیں گے مگر خدا نے اُن کو ناکام و نامراد کیا اور وہی جسے جاہل کہا جاتا تھا، جسے کودن۹۰؎ قرار دیا جاتا تھا اور جس کے متعلق یہ عَلَی الْاِعْلان کہا جاتا تھا کہ وہ جماعت کو تباہ کر دے گا، خدا تعالیٰ نے اُسی کو خلافت کے مقام کیلئے منتخب کیا۔ یہ لوگ اپنی امیدوں پر پانی پھرتا دیکھ کر یہاں سے الگ ہو گئے اور انہوں نے کہا جماعت نے بے وقوفی کی جو اُس نے ایک نادان اور احمق بچہ کو خلیفہ بنا لیا تھوڑے دنوں میں ہی اُسے اپنی حماقت کا خمیازہ نظر آ جائے گا، جماعت تباہ ہو جائے گی، روپیہ آنا بند ہو جائے گا، تمام عزت اور نیک نامی خاک میں مل جائے گی اور وہ عروج جو سلسلہ کو اب تک حاصل ہوئا ہے اس نادان بچے کی وجہ سے ضائع ہو جائیگا مگر ہوتا کیا ہے؟ وہی بچہ جب خدا کی طرف سے خلافت کے تخت پر بیٹھتا ہے تو جس طرح شیر بکریوں پر حملہ کرتا ہے اُسی طرح خدا کا یہ شیر دنیا پر حملہ آور ہوئا اور اس نے ایک یہاں سے اور ایک وہاں سے، ایک مشرق سے اور ایک مغرب سے، ایک شمال سے اور ایک جنوب سے بھیڑیں اور بکریاں پکڑ پکڑ کر خدا کے مسیحؑ کی قربان گاہ پر چڑھا دیں یہاں تک کہ آج اس سٹیج پر اس وقت سے زیادہ لوگ موجود ہیں جتنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی کے آخری سال جلسہ سالانہ پر آئے تھے۔ جس کی آنکھیں دیکھتی ہوں وہ دیکھے اور جس کے کان سنتے ہوں وہ سنے کہ کیا خدا کے فضل نے ان تمام اعتراضات کو باطل نہیں کر دیا جو مجھ پر کئے جاتے تھے۔ اور کیا اُس نے اُسی پچیس سالہ نوجوان کو جس کے متعلق لوگ کہتے تھے کہ وہ جماعت کو تباہ کر دے گا خلیفہ بنا کر اور اُس کے ذریعہ سے جماعت کو حیرت انگیز ترقی دے کر یہ ظاہر نہیں کر دیا کہ یہ کسی انسان کا بنایا ہوئا خلیفہ نہیں بلکہ میرا بنایا ہوئا خلیفہ ہے اور کوئی نہیں جو اس کا مقابلہ کر سکے۔
    (۳) تیسری علامت اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ یعنی جو علومِ دینیہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اُن پر ظاہر ہونگے انہیں خدا دنیا میں قائم کرے گا اور کوئی اُن کو مٹانے پر قادر نہ ہو سکے گا۔ اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب کی وجہ سے صحابہؓ کو ایک خاص مقام حاصل ہے اور اس میں بھی کوئی شُبہ نہیں کہ صحابہؓ نے جو حدیثیں جمع کیں وہ بجائے خود اتنا بڑا کارنامہ ہے جو اُن کے درجہ کو عام لوگوں کے وہم و گمان سے بھی بلند تر کر دیتا ہے۔ پھر اس میںبھی کوئی شُبہ نہیں کہ حضرت خلیفہ اوّل قرآن کریم کے کامل ماہر اور اُس کے عاشق تھے اور آپ کے احسانات جماعت احمدیہ پر بہت بڑے ہیں لیکن یہ سب وہ تھے جن میں سے کسی ایک پر بھی جاہل ہونے کا اعتراض نہیں کیا گیا اس لئے خدا تعالیٰ کی صفتِ علیم جس شان اور جس جاہ و جلال کے ساتھ میرے ذریعہ جلوہ گر ہوئی اُس کی مثال مجھے خلفاء کے زُمرہ میںاور کہیں نظر نہیں آتی۔ مَیں وہ تھا جسے کَل کا بچہ کہا جاتا تھا، مَیں وہ تھا جسے احمق اور نادان قرار دیا جاتا تھا مگر عہدۂ خلافت کو سنبھالنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھ پر قرآنی علوم اتنی کثرت کے ساتھ کھولے کہ اب قیامت تک اُمتِ مُسلمہ اِس بات پر مجبور ہے کہ میری کتابوں کو پڑھے اور اُن سے فائدہ اٹھائے۔ وہ کونسا اسلامی مسئلہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ اپنی تمام تفاصیل کے ساتھ نہیں کھولا۔ مسئلہ نبوت، مسئلہ کفر، مسئلہ خلافت، مسئلہ تقدیر، قرآنی ضروری امور کا انکشاف، اسلامی اقتصادیات، اسلامی سیاسیات اور اسلامی معاشرت وغیرہ پر تیرہ سَو سال سے کوئی وسیع مضمون موجود نہیں تھا مجھے خدا نے اِس خدمتِ دین کی توفیق دی اور اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے ہی ان مضامین کے متعلق قرآن کے معارف کھولے جن کو آج دوست دشمن سب نقل کر رہے ہیں۔ مجھے کوئی لاکھ گالیاں دے، مجھے لاکھ بُرا بھلا کہے جو شخص اسلام کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے لگے گا اُسے میرا خوشہ چیں ہونا پڑے گا اور وہ میرے احسان سے کبھی باہر نہیں جاسکے گا چاہے پیغامی ہوں یا مصری۔ ان کی اولادیں جب بھی دین کی خدمت کا ارادہ کریں گی وہ اس بات پر مجبور ہونگی کہ میری کتابوں کو پڑھیں اور اُن سے فائدہ اُٹھائیں بلکہ میں بغیر فخر کے کہہ سکتا ہوں کہ اس بارہ میں سب خلفاء سے زیادہ مواد میرے ذریعہ سے جمع ہوئا ہے اور ہو رہا ہے۔ پس مجھے یہ لوگ خواہ کچھ کہیں خواہ کتنی بھی گالیاں دیں ان کے دامن میں اگر قرآن کے علوم پڑیں گے تو میرے ذریعہ ہی اور دنیا ان کو یہ کہنے پر مجبور ہوگی کہ اے نادانو! تمہاری جھولی میں تو جو کچھ بھرا ہوئا ہے وہ تم نے اسی سے لیا ہے پھر اس کی مخالفت تم کس منہ سے کر رہے ہو۔
    (۴) چوتھی علامت یہ بتائی تھی کہ۔ خدا اُن کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔ یہ علامت میرے زمانہ میں خدا نے نہایت صفائی کے ساتھ پوری کی۔ چنانچہ حضرت خلیفہ اوّل جب خلیفہ ہوئے ہیں تو اُس وقت صرف یہ خوف تھا کہ باہر کے دشمن ہنسی مذاق اُڑائیں گے اور وہ جماعت کے اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ مگر میری خلافت کے آغاز میں نہ صرف بیرونی دشمنوں کا خوف تھا بلکہ جماعت کے اندر بھی بگاڑ پیدا ہو چکا تھا اور خطرہ تھا کہ اَور لوگ بھی اس بگاڑ سے متائثر نہ ہو جائیں ایسے حالات میں خدا نے میرے ذریعہ ہی اس خوف کو امن سے بدلا اور یہ خطرہ کہ جماعت کہیں صحیح عقائد سے منحرف نہ ہو جائے بالکل دُور کر دیا۔ چنانچہ دیکھ لو آج مصری صاحب بھی باوجود میری مخالفت کے نبوتِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قائل ہیں اور اگر وہ دیانتداری اور سچائی سے کام لیں تو اس بات کا اعتراف کر سکتے ہیں کہ اس مسئلہ پر جماعت کو ثبات میری وجہ سے ہی حاصل ہوئا اور مَیں نے ہی اس مسئلہ کو حل کیا۔ پھر کیا یہ مسئلہ خدا نے اِسی سے حل کرانا تھا جو بقول مصری صاحب معزول ہونے کے قابل تھا؟ اِسی طرح جماعت پر بڑے بڑے خطرات کے اوقات آئے مگر خدا تعالیٰ نے ہر خطرہ کی حالت میں میری مدد کی اور میری وجہ سے اس خوف کو امن سے بدل دیا گیا۔
    احرار کا جن دنوں زور تھا لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اب جماعت تباہ ہو جائے گی مگر میں نے کہا میں احرار کے پاؤں تلے سے زمین نکلتی دیکھتا ہوں اور اس کے تھوڑے دنوں بعد ہی احرار کے پاؤں تلے کی زمین نکل گئی اور وہ دنیا میں ذلیل اور رُسوا ہو گئے۔ تھوڑا ہی عرصہ ہوئا ایک سکھ نے ایک رسالہ لکھا ۹۱؎ جس میں وہ میرا ذکر کرتے ہوئے لوگوں کو مخاطب کر کے لکھتا ہے کہ تم انہیں خواہ کتنا ہی جھوٹا کہو، ایک بات ایسی ہے جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا اور وہ یہ کہ جن دنوں احرار اپنے زور پر تھے اور یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ جماعت احمدیہ کو مٹا کر رکھ دیں گے اُن دنوں امام جماعت احمدیہ نے کہا کہ میں احرار کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکلتی دیکھ رہا ہوںاور سچی بات تو یہ ہے کہ ان کی یہ بات بڑی شان سے پوری ہوئی۔ پہلے احرار جس تحریک کو بھی اپنے ہاتھ میں لیتے تھے کامیاب ہوتے تھے مگر اب ان کی یہ حالت ہے کہ وہ جس تحریک کو بھی اُٹھاتے ہیں اس میں ناکام ہوتے ہیں۔ اسی طرح ارتدادِ ملکانا کا فتنہ لے لو، رنگیلا رسول کے وقت کی ایجی ٹیشن کو لے لو یا ان بہت سی سیاسی اُلجھنوں کو لے لو جو اِس دوران میں پیدا ہو ئیں تمہیں نظر آئے گا کہ ہر مصیبت کے وقت خدا نے میری مدد کی، ہر مشکل کے وقت اس نے میرا ساتھ دیا اور ہر خوف کو اس نے میرے لئے امن سے بدل دیا۔ میں کبھی بھی نہیں سمجھتا تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے ایسا عظیم الشان کام لے گا مگر میں اس حقیقت کو چھپا نہیں سکتا کہ خدا نے میرے وہم اور گمان سے بڑھ کر مجھ پر احسانات کئے۔ جب میری خلافت کا آغاز ہوئا تو اُس وقت میں نہیں سمجھتا تھا کہ میںکوئی دین کی خدمت کر سکوں گا۔ ظاہری حالات میرے خلاف تھے، کام کی قابلیت میرے اندر نہیں تھی، پھر میں نہ عالم تھا نہ فاضل، نہ دولت میرے پاس تھی نہ جتھا،چنانچہ خدا گواہ ہے جب خلافت میرے سپرد ہوئی تو اس وقت میں یہی سمجھتا تھا کہ خدا کے عرفان کی نہر کا ایک بند چونکہ ٹوٹ گیا ہے اور خطرہ ہے کہ پانی اِدھر اُدھر بہہ کر ضائع نہ ہو جائے، اس لئے مجھے کھڑا کیا گیا ہے تاکہ میں اپنا مردہ دھڑ اس جگہ ڈال دوں جہاں سے پانی نکل کر بہہ رہا ہے اور وہ ضائع ہونے سے محفوظ ہو جائے چنانچہ میں نے دین کی حفاظت کیلئے اپنا دھڑ وہاں ڈال دیا اور میں نے سمجھا کہ میرا کام ختم ہو گیا مگر میری خلافت پر ابھی تین دن بھی نہیں گزرے تھے کہ خداتعالیٰ کے نشانات بارش کی طرح برسنے شروع ہو گئے۔
    اللہ تعالیٰ کا ایک عجیب نشان
    چنانچہ علی گڑھ کا ایک نوجوان جس کی حالت یہ تھی کہ وہ حضرت خلیفہ اوّل کے عہد میں ہی میرے
    متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیشگوئیاں جمع کرنے لگ گیا تھا اور اس کا دعویٰ تھا کہ یہ پیشگوئیاں اتنی زبردست ہیں کہ ان کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ وہ حضرت خلیفہ اوّل کی وفات سے بارہ تیرہ دن پہلے قادیان آیا اور یہ دیکھ کر کہ آپؓ کی حالت نازک ہے مجھے کہنے لگا کہ میں آپ کی بیعت کرنے کیلئے تیار ہوں۔ میں نے کہا تم کیسی گناہ والی بات کر رہے ہو ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرے خلیفہ کے متعلق گفتگو کرنا شرعاً بالکل ناجائز اور حرام ہے تم ایسی بات مجھ سے مت کرو۔ چنانچہ وہ علی گڑھ واپس چلا گیا اور بارہ تیرہ دن کے بعد حضرت خلیفہ اوّل کی وفات ہو گئی۔ وہ چونکہ حضرت خلیفہ اوّل سے اچھے تعلقات رکھتا تھا اس لئے جب آپ کی وفات پر اختلاف ہوئا تو بعض پیغامیوں نے اُسے لکھا کہ تم اس فتنہ کو کسی طرح دور کرو۔ اس پر اُس نے علی گڑھ سے مجھے تار دیا کہ فوراً ان لوگوں سے صلح کر لو ورنہ انجام اچھا نہیں ہو گا۔ میں نے اُسے جواب لکھا کہ تمہارا خط پہنچا تم تو مجھے یہ نصیحت کرتے ہو کہ میں ان لوگوں سے صلح کر لوں مگر میرے خدا نے مجھ پر یہ الہام نازل کیا ہے کہ:-
    ’’کون ہے جو خدا کے کاموں کوروک سکے‘‘
    پس میں ان سے صلح نہیں کر سکتا۔ رہا تمہارا مجھے یہ تحریک کرنا سو یاد رکھو تم خدا تعالیٰ کی ایک بہت بڑی حُجت کے نیچے ہو۔تم نے حضرت خلیفہ اوّل کی زبان سے میرے متعلق بارہا ایسا ذکر سنا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ ان کے بعد خداتعالیٰ مجھے خلافت کے مقام پر کھڑا کرے گا پھر تم خود میرے متعلق ایک کتاب لکھ رہے تھے جس میں ان پیشگوئیوں کا ذکر تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے میرے متعلق کیں پس تم پر حجت تمام ہو چکی ہے اور تم میرا انکار کر کے اب دہریت سے ورے نہیں رہو گے۔
    یہ خط میں نے اُسے لکھا اور ابھی اس پر ایک مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ وہ دہریہ ہو گیا۔ چنانچہ وہ آج تک دہریہ ہے اور عَلَی الْاِعْلانْ خداتعالیٰ کی ہستی کا منکر ہے حالانکہ وہ حضرت خلیفہ اوّل کی وفات سے بارہ تیرہ دن پہلے میری بیعت کیلئے تیار تھا اور پھر میرے متعلق ایک کتاب بھی لکھ رہا تھا جس میں اس کا ارادہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اُن تمام پیشگوئیوں کو جمع کر دے جو میرے متعلق ہیں مگر چونکہ اس نے ایک کھلی سچائی کا انکار کیا اس لئے میں نے اُسے لکھا کہ اب میرا انکار تمہیں دہریت کی حد تک پہنچا کر رہے گا چنانچہ ایسا ہی ہوئااور وہ ایک مہینہ کے اندر اندر دہریہ ہو گیا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ایک دفعہ وہ میرے پاس آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیشگوئیوں پر بحث کرنے لگا۔ میں نے اُسے کہا کہ مرزا صاحب کی پیشگوئیوں کو جانے دو تم یہ بتاؤ کہ میں نے تمہارے متعلق جو پیشگوئی کی تھی وہ پوری ہوئی یا نہیں؟ اس پر وہ بالکل خاموش ہو گیا۔
    غیر مبائعین کے متعلق الہام لَیُمَزِّقَنَّھُمْ پورا ہو گیا
    غیرمبائعین کے پاس دوسری بڑی
    چیز جتھا تھی۔ انہیں اس بات پر بڑا گھمنڈ تھا کہ جماعت کا پچانوے فیصدی حصہ ان کے ساتھ ہے مگر اللہ تعالیٰ نے انہی دنوں مجھ پر الہام نازل کیا کہ ’’لَیُمَزِّقَنَّھُمْ ‘‘ اللہ تعالیٰ ان کو ضرور ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔
    چنانچہ خدا کی قدرت وہی خواجہ کمال الدین صاحب جن کے مولوی محمد علی صاحب کے ساتھ ایسے گہرے تعلقات تھے کہ خواجہ صاحب اگر رات کو دن کہتے تو وہ بھی دن کہنے لگ جاتے اور وہ اگر دن کو رات کہتے تو یہ بھی رات کہنے لگ جاتے ان کی خواجہ صاحب کی وفات سے دو سال پہلے آپس میں وہ لڑائی ہوئی اور ایک دوسرے پر ایسے ایسے اتہامات لگائے گئے کہ حد ہو گئی۔ پھر ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب اور ان کی انجمن کے دوسرے ممبروں میں احمدیہ بلڈنگس میں عَلَی الْاِعْلاَنْ لڑائی ہوئی۔ یہاں تک کہ بعضوں نے کہہ دیا ہم عورتوں کو پکڑ کر یہاں سے نکال دیں گے۔ کل بھی انہی میں سے ایک آدمی میرے پاس آیا ہوئا تھا اور کہتا تھا کہ میری جائداد فلاں شخص لوٹ کر کھا گیا ہے آپ میری کہیں سفارش کرادیں۔ غرض جس طرح الہام میں بتایا گیا تھا اسی طرح واقعہ ہوئا اور ان کی طاقت ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔ اس کے مقابلہ میں وہ پچیس سالہ نوجوان جسے یہ تحقیر سے بچہ کہا کرتے تھے اسے خداتعالیٰ نے ایسی طاقت دی کہ جب بھی کوئی فتنہ اُٹھتا ہے اُس وقت وہ اسے اس طرح کچل کر رکھ دیتا ہے جس طرح مکھی اور مچھر کو مسل دیا جاتا ہے اور کسی کی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ مقابلہ میں دیر تک ٹھہر سکے۔
    اللہ تعالیٰ پر کامل یقین
    پانچویں علامت اللہ تعالیٰ نے سچے خلفاء کی یہ بتائی ہے کہ
    وہ میری عبادت کریں
    گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔ اس علامت کے مطابق بھی میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کبھی کسی سے نہیں ڈرا۔ احتیاط میرے اندر حد درجہ کی ہے اور میں اسے عَیب نہیں بلکہ خوبی سمجھتا ہوں لیکن جب مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ فلاں بات یوں ہے تو پھر میں نے مشکلات کی کبھی پرواہ نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ باوجود شدید ترین خطرات کے خداتعالیٰ نے ہمیشہ مجھے مداہنت سے بچایا ہے اور کبھی بھی میں جھوٹی صلح کی طرف مائل نہیں ہوئا۔
    مستریوں کے فتنہ کے بارہ میں ایک رؤیا
    میں نے ایک دفعہ رؤیا میں دیکھا کہ میں بہشتی مقبرہ کی طرف سے
    آ رہا ہوں اور میرے ساتھ میر محمد اسحاق صاحب ہیںراستہ میں ایک بڑا سمندر ہے جس میں ایک کشتی بھی موجود ہے۔ میں اور میر محمد اسحاق صاحب دونوں اس کشتی میں بیٹھ گئے اور چل پڑے۔ جب وہ کشتی اس مقام پر پہنچی جہاں مستریوں کا مکان ہوئا کرتا تھا تو وہ بھنور میں پھنس گئی اور چکر کھانے لگی۔اتنے میں اس سمندر میں سے ایک سرنمودار ہوئا اور اس نے کہا کہ یہاں ایک پیر صاحب کی قبر ہے تم ان کے نام ایک رقعہ لکھ کر ڈال دو تاکہ یہ کشتی بھنور سے نکل جائے اور تم سلامتی کے ساتھ منزلِ مقصود پر پہنچ جاؤ۔ میں نے کہا ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا یہ سخت مشرکانہ فعل ہے۔ اس کے بعد چکر اور بھی بڑھ گئے اور یہ خطرہ محسوس کیا جانے لگا کہ کہیں کشتی ڈوب ہی نہ جائے۔ اس پر میر محمد اسحاق صاحب مجھ سے کہتے ہیں کہ اس میں حرج ہی کیا ہے بہتر یہ ہے کہ اس وقت ہم رُقعہ لکھ کر ڈال دیں جب بچ جائیں گے تو پھر توبہ کر لیں گے۔ میں نے کہا ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔ اس پر انہوں نے مجھ سے چُھپ کر رُقعہ لکھا اور اُس کی مروڑی سی بنا کر چاہا کہ وہ رُقعہ سمندر میں ڈال دیں۔ اتفاقاً میں نے دیکھ لیا اور میں نے کہا میر صاحب! چاہے ہم ڈوب جائیں ایسی مشرکانہ بات کا ارتکاب مَیں نہیں ہونے دوں گا۔ چنانچہ میں نے وہ رُقعہ ان سے چھین کر پھاڑ ڈالا اور اس کے بعد میں نے دیکھا کہ کشتی خود بخود بھنور میں سے نکل گئی۔
    اِس رؤیا کے سالہا سال بعد اسی مقام پر جہاں خواب میں ہماری کشتی بھنور میں پھنسی تھی مستریوں کا فتنہ اٹھا اور انہوں نے کئی قسم کے الزامات لگائے۔ پھر اس خواب کے عین مطابق ایک دن میر محمد اسحاق صاحب سخت گھبرا کر میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اس میں کیا حرج ہے کہ ہم اِن لوگوں کو کچھ روپیہ دے دیں اور اس طرح ان کو خاموش کرا دیں؟ میں نے کہا میر صاحب! اگر وہ باتیں ٹھیک ہیں جن کو یہ پیش کرتے ہیں تو پھر اِن کو خاموش کرانے کے کوئی معنی نہیں اور اگر وہ باتیں غلط ہیں تو خدا ان کو خود تباہ کرے گا ہمیں اس بات کی کیا ضرورت ہے کہ ہم ان کو روپیہ دیں۔
    پس جہاں تک خلافت کا تعلق میرے ساتھ ہے اور جہاں تک اس خلافت کا ان خلفاء کے ساتھ تعلق ہے جو فوت ہو چکے ہیں ان دونوں میں ایک امتیاز اور فرق ہے۔ ان کے ساتھ تو خلافت کی بحث کا علمی تعلق ہے اور میرے ساتھ نشاناتِ خلافت کا معجزاتی تعلق ہے۔ پس میرے لئے اِس بحث کی کوئی حقیقت نہیں کہ کوئی آیت میری خلافت پر چسپاں ہوتی ہے یا نہیں۔ میرے لئے خدا کے تازہ بتازہ نشانات اور اس کے زندہ معجزات اس بات کا کافی ثبوت ہیں کہ مجھے خدا نے خلیفہ بنایا ہے اور کوئی شخص نہیں جو میرا مقابلہ کر سکے۔ اگر تم میں کوئی ماں کا بیٹا ایسا موجود ہے جو میرا مقابلہ کرنے کا شوق اپنے دل میں رکھتا ہو تو وہ اب میرے مقابلہ میں اٹھ کر دیکھ لے۔ خدا اُس کو ذلیل اور رُسوا کرے گا بلکہ اُسے ہی نہیں اگر دنیا جہان کی تمام طاقتیں مل کر بھی میری خلافت کو نابود کرنا چاہیں گی تو خدا اُن کو مچھر کی طرح مسل دے گا اور ہر ایک جو میرے مقابلہ میں اُٹھے گا گرایا جائے گا، جو میرے خلاف بولے گا وہ خاموش کرایا جائے گا اور جو مجھے ذلیل کرنے کی کوشش کرے گا وہ خود ذلیل اور رُسوا ہو گا۔
    پس اے مؤمنوں کی جماعت اور اے عملِ صالح کرنے والو! میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ خلافت خداتعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اِس کی قدر کرو جب تک تم لوگوں کی اکثریت ایمان اور عملِ صالح پر قائم رہے گی خدا اس نعمت کو نازل کرتا چلا جائے گا لیکن اگر تمہاری اکثریت ایمان اور عملِ صالح سے محروم ہو گئی تو پھر یہ امر اس کی مرضی پر موقوف ہے کہ وہ چاہے تو اس انعام کو جاری رکھے اور چاہے تو بند کر دے۔ پس خلیفہ کے بگڑنے کا کوئی سوال نہیں خلافت اس وقت چھینی جائے گی جب تم بگڑ جاؤ گے۔ پس اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی ناشکری مت کرو اور خداتعالیٰ کے الہامات کو تحقیر کی نگاہ سے مت دیکھو بلکہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے تم دعاؤں میں لگے رہو تا قدرتِ ثانیہ کا پے درپے تم میں ظہور ہوتا رہے۔ تم ان ناکاموں اور نامرادوں اور بے علموں کی طرح مت بنو جنہوں نے خلافت کو ردّ کر دیا بلکہ تم ہر وقت ان دعاؤں میں مشغول رہو کہ خدا قدرتِ ثانیہ کے مظاہر تم میں ہمیشہ کھڑے کرتا رہے تا کہ اس کا دین مضبوط بنیادوں پر قائم ہو جائے اور شیطان اس میں رخنہ اندازی کرنے سے ہمیشہ کیلئے مایوس ہو جائے۔
    قدرتِ ثانیہ کے نزول کیلئے ہمیشہ دعاؤں میں مشغول رہو
    تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قدرتِ ثانیہ کے نزول کیلئے دعاؤں کی جو شرط لگائی ہے وہ کسی ایک زمانہ
    کیلئے نہیں بلکہ ہمیشہ کیلئے ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی زندگی میں اس ارشاد کا یہ مطلب تھا کہ میرے زمانہ میں تم یہ دعا کرو کہ تمہیں پہلی خلافت نصیب ہو اور پہلی خلافت کے زمانہ میں اس دعا کا یہ مطلب تھا کہ الٰہی! اس کے بعد ہمیں دوسری خلافت ملے اور دوسری خلافت میں اِس دعا کے یہ معنی ہیں کہ تمہیں تیسری خلافت ملے اور تیسری خلافت میں اِس دعا کے یہ معنی ہیں کہ تمہیں چوتھی خلافت ملے ایسا نہ ہو کہ تمہاری شامتِ اعمال سے اس نعمت کا دروازہ تم پر بند ہو جائے۔
    پس ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعاؤں میں مشغول رہواور اس امر کو اچھی طرح یاد رکھو کہ جب تک تم میں خلافت رہے گی دنیا کی کوئی قوم تم پر غالب نہیں آ سکے گی اور ہر میدان میں تم مظفرو منصور رہو گے کیونکہ خدا کا وعدہ ہے جو اُس نے ان الفاظ میںکیا کہ
    مگر اس بات کو بھی یاد رکھو کہ
    خداتمہارے ساتھ ہو اور اَبَدُالآباد تک تم اس کی برگزیدہ جماعت رہو۔
    اختتامی الفاظ:-۲۹؍ دسمبر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے دوبجے جب تقریر ختم فرمائی تو جلسہ پر تشریف لانے والے اصحاب کو جانے کی اجازت دیتے ہوئے فرمایا:-
    ’’اب جلسہ ختم ہوتا ہے اور احباب اپنے گھروں کو جائیں گے۔ انہیں احمدیت کی ترقی کیلئے ہر وقت کوشاں رہنا چاہئے ۔ اولاد پیدا ہونے کے ذریعہ بھی ترقی ہوتی ہے مگر وہ ایسی نہیں جو تبلیغ کے ذریعہ ہوتی ہے۔ یہ ترقی اولاد کے ذریعہ ہونے والی ترقی سے بڑھ کر بابرکت ہوتی ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے ایک شخص کا ہدایت پا جانا اِس سے زیادہ بہتر ہوتا ہے کہ کسی کے پاس اِس قدر سرخ اونٹ ہوں کہ ان سے دو وادیاں بھر جائیں۔۹۲؎
    پس تبلیغ کرو اور احمدیت کی اشاعت میں منہمک رہو تاکہ تمہاری زندگی میں اسلام اور احمدیت کی شوکت کا زمانہ آ جائے جبکہ سب لوگ احمدی ہو جائیں گے تو پھر رعایا بھی احمدی ہو گی اور بادشاہ بھی احمدی۔
    میں نے بچپن میں ایک رؤیا دیکھا تھا ۱۲۔۱۳ سال کی عمر تھی کہ کبڈی ہو رہی ہے۔ ایک طرف احمدی ہیں اور دوسری طرف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور ان کے ساتھی جو شخص کبڈی کہتا ہوئا مولوی محمد حسین صاحب کی طرف سے آتا ہے اسے ہم مار لیتے ہیں۔ اور اس میں قاعدہ یہ ہے کہ جو مر جائے وہ دوسری پارٹی کا ہو جائے۔ اس قاعدہ کی رُو سے مولوی صاحب کا جو ساتھی مارا جاتا وہ ہمارا ہو جاتا۔ مولوی صاحب کے سب ساتھی اس طرح ہماری طرف آ گئے تو وہ اکیلے رہ گئے۔ اس پر انہوں نے پاس کی دیوار کی طرف منہ کر کے آہستہ آہستہ لکیر کی طرف بڑھنا شروع کیا اور لکیر کے پاس پہنچ کر کہا میں بھی اس طرف آ جاتا ہوں اور وہ بھی آ گئے۔
    مولوی محمد حسین صاحب سے مراد اَ ئمہء کُفرہیں اور اس طرح بتایا گیا کہ جب عام لوگ احمدی ہو جائیں گے تو وہ بھی ہو جائیں گے اور جب رعایا احمدی ہو جائے گی تو بادشاہ بھی ہو جائیں گے پس تبلیغ کرو، احمدیت کو پھیلاؤ اور دعاؤں میں لگے رہو۔ دل میں درد پیدا کرو، عاجزی، فروتنی اور دیانت داری اختیار کرو اور ہر طرح خدا کے مخلص بندے بننے کی کوشش کرو۔ اگر کبھی کوئی غلطی ہو جائے تو اس پر اصرار مت کرو کیونکہ جو اپنی غلطی پر اصرار کرتا ہے اس کے اندر سے نور جاتا رہتا ہے۔ نہ اُس کی نمازوں میں لذت رہتی ہے اور نہ دعاؤں میں برکت۔ اپنی غلطی پر نادم ہونا اور خداتعالیٰ کے حضور گریہ وزاری کرنا ترقی کا بڑا بھاری گُر ہے۔
    پس اگر غلطی کرو تو بھی اور نہ کرو تو بھی خداتعالیٰ کے حضور جھکو اور اس سے عفو طلب کرو۔ اس طرح مستقل ایمان حاصل ہو جاتا ہے اور اسے توبہ ٹوٹنے نہیں دیتی۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے جب کوئی مؤمن چوری کرتا ہے یا زنا کرتا ہے تو اس کا ایمان اس کے سر پر معلّق ہو جاتا ہے اور جب وہ ایسا فعل کر چکتا ہے تو پھر اس میں داخل ہو جاتا ہے۹۳؎۔ اس سے بتایا کہ توبہ کرنے والے کا ایمانِ کُلّی طور پر اسے نہیں چھوڑتا، اس کی غلطی کی وجہ سے نکل جاتا ہے مگر پھر توبہ کرنے سے لوٹ آتا ہے۔ پس دعائیں کرتے رہو میرے لئے بھی، تمام مبلغین کے لئے بھی اور سب احمدیوں کیلئے بھی۔ بے شک خداتعالیٰ کے میرے ساتھ وعدے ہیں لیکن میری طاقت تمہارے ذریعہ ہے۔ پس اپنے لئے دعائیں کرو اور میرے لئے بھی۔ اب کے تو خلافت جوبلی کی وجہ سے اتنے لوگ جمع ہوئے ہیں کوشش کرو کہ جماعت اتنی بڑھ جائے کہ اگلے سال یوں بھی اتنے لوگ جمع ہو سکیں۔
    پھر غیروں کیلئے بھی دعائیں کرو۔ ان کے متعلق اپنے دلوں میں غصہ نہیں بلکہ رحم پیدا کرو۔ خداتعالیٰ کو بھی اس شخص پر رحم آتا ہے جو اپنے دشمن پر رحم کرتا ہے۔ پس تم اپنے دلوں میں ہر ایک کے متعلق خیرخواہی اور ہمدردی کا جذبہ پیدا کرو۔
    انہی دنوں ایک وزیری پٹھان آئے اور کہنے لگے دعا کریں انگریز دفع ہو جائیں۔ میں نے کہا۔ ہم بددعا نہیں کرتے۔یہ دعا کرتے ہیں کہ ہمارے ہو جائیں۔ پس کسی کیلئے بددعا نہ کرو۔ کسی کے متعلق دل میں غصہ نہ رکھو بلکہ دعائیں کرو اور کوشش کرو کہ اسلام کی شان و شوکت بڑھے اور ساری دنیا میں احمدیت پھیل جائے۔
    اس موقع پرمَیں ان لوگوں کیلئے بھی دعا کرتا ہوں جنہوں نے تاروں کے ذریعہ دعاؤں کیلئے لکھا۔ ان کے نام نہیں پڑھ سکتا کیونکہ وقت تنگ ہو رہا ہے۔ آپ لوگ ان کیلئے اور دوسروں کیلئے اور اسلام و احمدیت کیلئے دعا کریں۔
    (انوارالعلوم جلد نمبر۱۵ صفحہ۴۴۳ تا ۵۹۵)
    ۱؎ بخاری کتاب الاضاحی باب ما یؤکل من لحوم الاضاحی… الخ (مفہوماً)
    ۲؎ الانفال: ۴۳
    ۳؎ ابوداؤد کتاب الجہاد باب فی النوم یسامرون… الخ
    ۴؎ متی باب ۱۷ آیت ۲۱، نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء
    ۵؎ گلتیوں باب ۳ آیت ۱۰۔ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور ۱۹۲۲ء
    ۶؎ گلتیوں باب ۳ آیت ۱۳۔ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور ۱۹۲۲ء
    ۷؎ الحشر: ۸ ۸؎ النساء: ۶۶ ۹؎ النّور: ۵۲
    ۱۰؎ الاعراف: ۱۵۸ ۱۱؎ الحجرٰت :۸ ۱۲؎ التوبۃ: ۱۰۳
    ۱۳؎ التوبۃ: ۸۱ ۱۴؎ المائدۃ: ۳۴ ۱۵؎ التوبۃ: ۱ تا ۵
    ۱۶؎ بخاری کتاب الحج باب النزول بین عرفۃ و جمع
    ۱۷؎ السیرۃ الحلبیۃ جلد۳ صفحہ۳۹۲ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء
    ۱۸؎،۱۹؎ اٰل عمران: ۱۴۵
    ۲۰؎ سیرت ابن ہشام جلد۳ صفحہ۹۹،۱۰۰ مطبوعہ مصر ۱۲۹۵ھ
    ۲۱؎ شرح دیوان حسان بن ثابت صفحہ۲۲۱ آرام باغ کراچی
    ۲۲؎ مسلم کتاب الوصیۃ باب ترث الوصیۃ لمن لیس لہ شییٌٔ…
    ۲۳؎ تاریخ ابن اثیر جلد۲ صفحہ۳۲۵ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵ء
    ۲۴؎ تاریخ ابن اثیر جلد۲ صفحہ۲۲۷ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵ء
    ۲۵؎،۲۶؎ تاریخ ابن اثیر جلد۲ صفحہ۳۲۸،۳۲۹ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵ء
    ۲۷؎ تاریخ ابن اثیر جلد۲ صفحہ۳۳۱ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵ء
    ۲۸؎ تاریخ ابن اثیر جلد۲ صفحہ۴۲۵ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵ء
    ۲۹؎ تاریخ ابن اثیر جلد۳ صفحہ۲۴۳مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵ء
    ۳۰؎ تاریخ ابن اثیر جلد۳صفحہ۲۴۳مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵ء
    ۳۱؎ تاریخ ابن اثیر جلد۳صفحہ۳۳۴ ،۳۳۵مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵ء
    ۳۲؎ تاریخ ابن اثیر جلد۳ صفحہ۳۲۶،۳۳۴ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵ء (مفہوماً)
    ۳۳؎ النساء: ۵۲تا ۶۰
    ۳۴؎ پیغام صلح ۲۲ ؍مارچ ۱۹۱۴ء
    ۳۵؎ پیغام صلح ۵ ؍مئی ۱۹۱۴ء
    ۳۶؎ التوبۃ: ۸ ۳۷؎ الرّحمٰن: ۴۷ ۳۸؎ الرّحمٰن: ۶۳
    ۳۹؎ الکھف: ۴۷
    ۴۰؎ نسائی کتاب الجہاد باب الرخصۃ فی التخلف لمن لہ والدۃ
    ۴۱؎ الجمعۃ: ۴
    ۴۲؎ مسلم کتاب الامارۃ باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ
    ۴۳؎ مسلم کتاب الامارۃ باب خیار الأئمۃ و شرارھم
    ۴۴؎ مسند احمد بن حنبل جلد۴ صفحہ ۱۲۷۔ المکتب الاسلامی بیروت
    ۴۵؎ النور: ۵۵ تا ۵۷ ۴۶؎ ابراھیم: ۸ ۴۷؎ البقرۃ: ۳۱
    ۴۸؎ ص: ۲۷ ۴۹؎ اٰل عمران: ۱۶۰ ۵۰؎ الاعراف: ۷۰
    ۵۱؎ المائدۃ: ۲۱ ۵۲؎ الرّوم: ۴۲
    ۵۳؎ اسد الغابۃ جلد۲ صفحہ۲۶۶ مطبوعہ ریاض ۱۲۸۵ھ
    ۵۴؎ تاریخ الخلفاء للسیوطی صفحہ ۵۱ مطبوعہ لاہور ۱۸۹۲ء
    ۵۵؎ تاریخ الخمیس جلد۲ صفحہ ۲۰۱ مطبوعہ مصر ۱۲۸۳ھ
    ۵۶؎ بخاری کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ باب ماذکر النبی ﷺ
    ۵۷؎ مسند احمد بن حنبل جلد۴ صفحہ۲۷۳۔ المکتب الاسلامی بیروت
    ۵۸؎ برنڈزی (BRINDISI) جنوبی اٹلی کا شہر۔ رومی دَور کا اہم بحری اڈہ
    (اُردو جامع انسا ئیکلوپیڈیا جلد۱ صفحہ۲۴۳ مطبوعہ لاہور ۱۹۸۷ء)
    ۵۹؎ البقرۃ: ۹۲
    ۶۰؎ تاریخ ابن اثیر جلد۴ صفحہ۶۵ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵ء
    ۶۱؎ تاریخ ابن اثیر جلد۴ صفحہ۱۳۰مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵ء
    ۶۲؎ سِرُّا الخلافۃ صفحہ۲۰ روحانی خزائن جلد۸ صفحہ۳۳۴
    ۶۳؎ المزّمل: ۱۶ ۶۴؎ البقرۃ: ۲۴۸
    ۶۵؎ موضوعات مُلاّ علی قاری صفحہ۴۸ مطبوعہ دہلی ۱۳۴۶ھ
    ۶۶؎ کنزالعمال جلد۱۱ صفحہ۲۵۹ مطبوعہ حلب ۱۹۷۴ء
    ۶۷؎ الوصیت صفحہ۶،۷ روحانی خزائن جلد۲۰ صفحہ۳۰۴،۳۰۵
    ۶۸؎ اٰل عمران: ۱۱۱
    ۶۹؎ مسند احمد بن حنبل جلد۵ صفحہ۲۲۰،۲۲۱ مطبوعہ بیروت
    ۷۰؎ سرّاالخلافۃ صفحہ۱۹،۲۰ روحانی خزائن جلد۸ صفحہ۳۳۳،۳۳۴
    ۷۱؎ سرّاالخلافۃ صفحہ۱۲ روحانی خزائن جلد۸ صفحہ۳۲۶
    ۷۲؎ سرّالخلافۃ صفحہ ۴۴ روحانی خزائن جلد۸ صفحہ۳۵۸، ۳۵۹
    ۷۳؎ خلافت راشدہ حصہ اوّل صفحہ ۱۱۰ مصنفہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مطبوعہ امرتسر ۱۹۲۲ء
    ۷۴؎ الفضل ۱۱ ؍مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ۱
    ۷۵؎ بدر ۱۱؍جولائی ۱۹۱۲ء صفحہ۴
    ۷۶؎ المعجم الکبیر للطبرانیجلد۶ صفحہ۲۲۸ مطبوعہ عراق ۱۹۷۹ء کے مطابق یہ حدیث ہے۔
    ۷۷؎ تذکرہ صفحہ ۵۱۸۔ ایڈیشن چہارم
    ۷۸؎ البقرۃ: ۱۵۷
    ۷۹؎ البقرۃ: ۱۲۵ ۸۰؎ البقرۃ: ۲۶۱ ۸۱؎ العنکبوت: ۲۸
    ۸۲؎ بخاری کتاب الانبیاء باب قول اللّٰہ تعالیٰ لقد کان فی یوسف و اخوتہ…
    ۸۳؎ الوصیت صفحہ۶،۷ روحانی خزائن جلد۲۰ صفحہ۳۰۴، ۳۰۵
    ۸۴؎ ترمذی ابواب المناقب باب لوکان نبیٌّ بعدی…
    ۸۵؎ بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ تبوک
    ۸۶؎ الخصائص الکبٰری للسیوطی الجزء الثانی صفحہ۱۱۵ مطبوعہ فیصل آباد
    ۸۷؎ تاریخ ابن اثیر جلد۲ صفحہ۳۳۲ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵ء میں ’’زِغْتُ‘‘ کی بجائے ’’اَسَأْتُ‘‘
    ہے۔
    ۸۸؎ الاعراف: ۹۰ ۸۹؎ الزخرف: ۸۲
    ۹۰؎ کودن: نادان، کُند ذہن
    ۹۱؎ اِس رسالہ کا نام ’’خلیفۂ قادیان‘‘ ہے اور اس کے مصنّف سردار اَرجن سنگھ صاحب امرتسری
    ہیں۔
    ۹۲؎ مسلم کتاب الفضائل باب من فضائل علی ابن ابی طالب رضی اللّٰہ عنہ۔
    ۹۳؎ ترمذی ابواب الایمان باب ماجاء لایزنی الزانی وھومؤمن۔

    کارکنانِ جلسہ خلافت جوبلی ۱۹۳۹ء سے خطاب
    (فرمودہ ۶؍ جنوری ۱۹۴۰ء) ۱؎
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    میں اللہ تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں جس نے باوجود ہر قسم کے موانع اور ہر قسم کی کمیوں کے گزشتہ سالوں سے زیادہ اِس بات کی توفیق بخشی کہ اس کے قائم کردہ سلسلہ اور دین کیلئے جمع ہونے والے مہمانوں کی خدمت کیلئے ہم میں سے ہر ایک کو اپنے حوصلہ ،اپنے اخلاص اور اپنی طاقت وہمت کے مطابق موقع ملا۔ ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک کے اندر بھی ایسا اجتماع کہیں نہیں ہوتا جس میں اتنی مقدار میں مہمانوں کو کھانا کھلایا جاتا ہو۔ انگلستان، امریکہ، جرمنی، فرانس اور روس یہ اس وقت ترقی یافتہ اور بڑے بڑے ممالک خیال کئے جاتے ہیں مگر ان میں تیس چالیس ہزار آدمیوں کے اجتماع ایسے نہیں ہوتے جن کو کھانا کھلایا جاتا ہو۔ ہندوستان میں کانگرس کے اجتماع بے شک بڑے ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال مَیں نے نمائندے تحریک جدید سے وہاں بھجوائے تو انہوں نے بتایا کہ ان کو کھانا مفت ملنا تو الگ مول لینے میں بھی دقّتیں پیش آئیں۔ غرض یہ ہمارے جلسہ کی خاص خصوصیت ہے اور یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ جن کو دوسرے اجتماع دیکھنے کا موقع ملا ہے جب وہ یہاں آتے ہیں تو ہمارے انتظام کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔ اسی سال یو۔پی کے ایک اخبار کے نمائندے جو بعض انگریزی اخبارات کے بھی نمائندے رہ چکے ہیں اور کانگرس سے تعلق رکھتے ہیں یہاں آئے تو انہوں نے ملاقات کے وقت کہا کہ کانگرس کے اجلاس سے اُتر کر ہندوستان میں اتنا بڑا اجتماع مَیں نے کہیں نہیں دیکھا۔ میں نے کہا سنا ہے کانگرس کے اجلاس میں لاکھ لاکھ دو دو لاکھ آدمی شریک ہوتے ہیں۔ کہنے لگے لاکھ دو لاکھ تو ہرگز نہیں چالیس پچاس ہزار کے قریب ہوتے ہیں اور مرد عورتیں اکٹھے ہوتے ہیں۔ میں نے کہا ہمارے ہاں مستورات کے لئے الگ جلسہ گاہ ہے تو وہ کہنے لگے پھر آپ کے جلسہ کے مردوں کی اِس تعداد کے ساتھ مستورات کی تعداد بھی شامل کر لی جائے تو کانگرس کے اجتماع میں بھی شاید اتنے ہی مرد عورتیں ہوتی ہوں۔
    غرض قادیان کا جلسہ سالانہ اب کم از کم ہندوستان میں دوسرے نمبر پر ہے اور اپنے انتظام کے لحاظ سے تو دنیا بھر کے اجتماعوں سے اوّل نمبر پر ہے۔ کیونکہ ایسا انتظام کھانا کھلانے کا قادیان کے سوا اور کسی اتنے بڑے اجتماع میں نہیں ہوتا۔ ہاں میلے بے شک ہوتے ہیں۔ جن میں بڑے بڑے اجتماع ہوتے ہیں مگر ان میں نہ تو رہائش کا انتظام ہوتا ہے نہ کھانے کا اور نہ روشنی کا۔ پس قادیان کا یہ جلسہ ایک لحاظ سے اوّل نمبر پر اور تعداد کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر۔اور جس رنگ میں خداتعالیٰ کے فضل سے سلسلہ کی ترقی ہو رہی ہے اس کے لحاظ سے ہمارا جلسہ سالانہ اِنْشَائَ اللّٰہ کسی وقت کانگرس سے بھی ہر لحاظ سے اوّل نمبر پر ہو گا۔
    (اس کے بعد حضور نے انتظامی امور کے متعلق متعلقہ صیغوں کو ہدایات دیں اور آخر میں فرمایا۔)
    میں ان سب دوستوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس خدمتِ دین میں حصہ لیا اور محنت و مشقت سے جی نہ چُرایا۔ دیکھو خداتعالیٰ نے اس خدمت میں تم لوگوں کو منفرد کیا ہے اور منفرد ہونا کوئی معمولی بات نہیں۔ بعض لوگ تو منفرد ہونے کے لئے بعض پاجی۲؎ کام بھی کر لیتے ہیں جیسا کہ چاہِ زمزم میں پیشاب کرنے والے کے متعلق مشہور ہے۔ اِس وقت خدا کے فضل سے آپ لوگوں کو قومی طور پر یہ فخر حاصل ہے کہ آپ لوگوں کے ذمہ خداتعالیٰ کے مہمانوں کی میزبانی کا کام سپرد کیا گیا ہے یہ میزبانی اور اتنی بڑی جماعت کی اس رنگ میں میزبانی کسی اور کے سپرد نہیں کی گئی۔ آپ لوگوں کے ہی مکان ایسے ہیں جو خدا کے دین کیلئے آنے والے مہمانوں کیلئے وقف ہوتے ہیں۔ مکہ میں بھی بے شک مہمانوں کیلئے مکانات دیئے جاتے ہیں مگر وہ کرایہ لیتے ہیں۔ یہ صرف قادیان ہی کے مکانات ہیں جن کی نسبت ۳؎کے مطابق خرچ کرنے کا آپ لوگوںکو موقع ملتا ہے۔ پھر آپ لوگ ہی ایک ایسی جماعت ہیں جسے وہ شرف حاصل ہے جس کا حضرت خدیجہ ؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے یوں ذکر کیا تھا کہ خدا کی قسم! خدا تعالیٰ آپ کو ضائع نہیں کرے گا کیونکہ آپ مہمان نواز ہیں۔۴؎ پس یہ کوئی معمولی چیز نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے خاص انعامات سے ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ قیامت کے دن پانچ شخص ایسے ہوں گے جن پر خداتعالیٰ اپنا سایہ کرے گا۔ ان میں سے آپ نے ایک مہمان نواز قرار دیا ہے۔
    بے شک ایک دوست دوست کی میزبانی کرتا ہے مگر وہ ایک رنگ کا سَودا ہوتا ہے۔ ایک رشتہ دار اپنے رشتہ دار کی میزبانی کرتا ہے اور وہ بھی ایک سَودا ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے تعلق کی وجہ سے مہمان نوازی کرتا ہے۔ مگر آپ لوگ جن لوگوں کی میزبانی کرتے ہیں ان سے کوئی دُنیوی تعلق نہیں ہوتا اوریہی دراصل مہمانی ہے جو خداتعالیٰ کی رحمت کے سایہ کے نیچے آپ لوگوں کو لے جانے والی ہے اور یہی وہ مہمانی ہے جو شاذونادر ہی کسی کو نصیب ہوتی ہے مگر خداتعالیٰ نے قادیان والوں کو عطا کر رکھی ہے۔ یہ اتنی بڑی نعمت ہے کہ اگر اخلاص سے آپ لوگ کام لیتے ہوں تو نہ معلوم کتنے اُحد پہاڑوں کے برابر آپ کو ثواب حاصل ہوتا ہو گا۔
    ممکن ہے کہ جب ہماری جماعت بڑھ جائے اور یہاں قادیان میں ایسے جلسے کرنا مشکل ہو جائیں تو پھر ہم اجازت دے دیں کہ ہر ملک میں الگ سالانہ جلسے ہوا کریں اُس وقت ان ممالک میں کام کرنے والے بھی ثواب کے مستحق ہوا کریں گے مگر وہ وقت تو آئے گا جب آئے گا اِس وقت تو آپ لوگوں کے سِوا ایسی خوش قسمت جماعت اور کوئی نہیں۔
    اب میں دعا کرتا ہوں آپ لوگ بھی دعا کریں کہ خدا تعالیٰ ہماری اس حقیر خدمت کو قبول فرمائے اور ہماری غلطیوں،سُستیوں اور کمزوریوں سے درگزر کرے تا ایسا نہ ہو کہ غلطیاں ہماری نیکیوں کو کھا جانے والی ہوں۔ اور ہم آئندہ سال اس سے بھی بڑھ کر خدمت خلق کر کے اپنے خدا کو راضی کر سکیں۔
    (انوارالعلوم جلد نمبر۱۵ صفحہ۶۰۱ تا ۶۰۳)
    ۱؎ قادیان ۲ جنوری جلسہ خلافت جوبلی ۱۹۳۹ء کے انتظامات بخیروخوبی ختم ہونے پر مدرسہ احمدیہ کے صحن میں صبح سَوا نو بجے کے قریب کارکنانِ جلسہ کا اجتماع ہوا۔ جہاں سٹیج پر لاؤڈ سپیکر کا بھی انتظام کیا گیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے تشریف لانے پر جلسہ سالانہ کے انتظامات کرنے والی پانچ نظامتوں کی طرف سے رپورٹیں سنائی گئیں۔ پھر حضرت صاحب نے سَوا دس بجے سے سَوا بارہ بجے تک تقریر فرمائی جس میں حضور انور نے اہم امور کی اصلاح کے متعلق ہدایات دیں۔
    ۲؎ پاجی: ذلیل، کمینہ
    ۳؎ البقرۃ: ۴
    ۴؎ بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی (الخ)

    خلافت نبوت کو زندہ رکھتی ہے
    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے مؤرخہ ۲۸دسمبر ۱۹۴۰ء کو جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر سیرروحانی کے عنوان سے کی جانے والی تقاریر کے تسلسل میں یہ تقریر فرمائی۔ اِس تقریر میں آپ نے خصوصیت سے مساجد اور قلعوں کی بابت تفصیل سے روشنی ڈالی۔
    مساجد کے تعلق میں مساجد کی دس خصوصیات بیان فرمائیں اور صحابہ اور مساجد میں مماثلت بیان کرتے ہوئے امامت کے قیام کا ذکر کیا اور فرمایا:۔
    ’’درحقیقت جس طرح مسجد ،خانہ کعبہ کی یاد کو تازہ رکھتی ہے اس طرح امام نبوت کی یاد تازہ رکھتا ہے اب دیکھ لو اس امر کو بھی مسلمانوں نے تازہ کیا اور مقام ابراہیم کو مصلّٰی بنایا یعنی امامت کا وجود ظاہر کیا ۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر صحابہ ؓ نے خلافت کو قائم کیا اور امامت کو زندہ رکھا ۔
    پہلے حضرت ابوبکر ؓ ،پھر حضرت عمر ؓ ِپھر حضرت عثمان ،پھر حضرت علی ؓ مقامِ ابراہیم پر کھڑے رہے، گویا بالکل مسجد کا نمونہ تھے۔ جس طرح مسجد میں لوگ ایک شخص کو امام بنالیتے ہیں اس طرح صحابہ ؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فوت ہوتے ہی ایک شخص کو اپنا امام بنا لیا۔اس پر مجھے ایک لطیفہ یاد آگیا ۔گجرات کے ایک دوست نے سنایا جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃو السلام کی وفات کی خبر پھیلی تو ایک مولوی کہنے لگا کہ جماعت احمدیہ انگریزی خوانوں کی جماعت ہے اسے دین کا کچھ پتہ نہیں اب فیصلہ ہوجائے گا کہ مرزا صاحب نبی تھے یا نہیں؟ کیونکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے ہر نبو ت کے بعد خلافت ہوتی ہے۱؎ اور تم میں چونکہ انگریزی خوانوں کا غلبہ ہے وہ ضرور انجمن کے ہاتھ میں کام دیدیں گے او ر اس طرح ثابت ہوجائے گا کہ مرزا صاحب نبی نہیں تھے ۔دوسرے ہی دن یہاں سے تار چلا گیا کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ ہوگئے ہیں یہ خبر جماعت کے دوستوں نے اُس مولوی کو بھی جاکر سنا دی ۔وہ کہنے لگا مولوی نور الدین دین سے واقف تھا وہ چالاکی کرگیا ہے اس کے مرنے پر دیکھنا کہ کیا بنتا ہے ۔جب حضرت خلیفہ اوّل فوت ہوئے تو اُس وقت وہ ابھی زندہ تھا اور اُس وقت چونکہ یہ شو ر پیدا ہوچکا تھا کہ بعض لوگ کہتے ہیں اصل جانشین انجمن ہے اور بعض خلافت کے قائل ہیں اِس لئے اس نے سمجھا کہ اب تو جماعت ضرور ٹھوکر کھا جائے گی چنانچہ اس نے کہنا شروع کردیا کہ میری بات یاد رکھنا اب ضرور تم نے انجمن کو اپنا مطاع تسلیم کرلینا ہے مگر معاً یہاں سے میر ی خلافت کی اطلاع چلی گئی۔ یہ خبر سن کر وہ مولوی کہنے لگا کہ تم لوگ بڑے چالاک ہو۔
    خلافت ،محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد کو قائم رکھتی ہے
    غرض رسول کریم ﷺ نے جو یہ فرمایا کہ ہر نبوت کے بعد خلافت ہوتی ہے تو اس لیے کہ مسجد سے اس کی مشابہت ثابت ہو۔ جس
    مسجد بنائی ہی اس لئے جاتی ہے تاکہ عبادت میں اتحاد قائم رہے اسی طرح نبیوں کی جماعت قائم ہی اِسی لئے کی جاتی ہے تاکہ عبودیت میں اتحاد قائم رہے ۔پس جس طرح مسجد خانہ کعبہ کی یاد کو قائم رکھتی ہے اسی طرح خلافت محمد ﷺ کی یاد کو قائم رکھتی ہے یہی وہ حکم ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دیا تھا کہ ۲؎ ایک خانہ خد ا قائم کردیا گیا ہے اب تم بھی ابراہیمی طریق پر زندگی بسر کرواور اس کی روح کو زندہ رکھو۔
    مقام ابراہیمی کو مصلّٰی بنانے کامفہوم
    مقامِ ابراہیم کو مصلّٰی بنانے کے یہ معنی نہیں کہ ہر شخص ان کے مصلّٰی پر جا کر
    کھڑا ہو یہ تو قطعی طور پر ناممکن ہے اگر اس سے یہی مراد ہوتی کہ مقامِ ابراہیم پر نماز پڑھو تو اوّل تو یہی جھگڑا رہتا کہ حضرت ابراہیمؑ نے یہاں نماز پڑھی تھی یاوہاں؟اور اگر بالفرض یہ پتہ یقینی طور پر بھی لگ جاتا کہ انہوں نے کہاں نماز پڑھی تھی تو بھی ساری دنیا کے مسلمان وہاں نماز نہیں پڑھ سکتے تھے ۔صرف حج میں ایک لاکھ کے قریب حاجی شامل ہوتے ہیں ،اگر حنفیوں کی طرح نماز میں مرغ کی طرح ٹھونگیں ماری جائیں تب بھی ایک شخص کی نماز پر دومنٹ صرف ہونگے اس کے معنے یہ ہوئے کہ ایک گھنٹہ میں تین اور چوبیس گھنٹے میں سات سَو بیس آدمی وہاں نماز پڑھ سکتے ہیں اب بتائو کہ باقی جو ۹۹ہزار ۲۸۰رہ جائیں گے وہ کیا کریں گے ؟اور باقی مسلم دنیا کے لئے تو کوئی صورت ہی ناممکن ہوگی ۔پس اگر اس حکم کو ظاہر پر محمول کیا جائے تو اس پر عمل ہوہی نہیں سکتا ۔پھر ایسی صورت میں فسادات کا بھی احتمال رہتا ہے بلکہ ایک دفعہ تو محض اس جھگڑے کی وجہ سے مکہ میں ایک قتل بھی ہوگیا تھا پس اس آیت کے یہ معنی نہیں بلکہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں اس میں اللہ تعالیٰ نے امامت کی طرف اشارہ کیا ہے اور ہدایت دی ہے کہ تمہارا ایک امام ہو تاکہ اس طرح سنت ابراہیمی پوری ہوتی رہے۔ درحقیقت آیت
    ۳؎میں دو امامتوں کاذکر کیا گیا ہے پہلے فرمایا کہ میں تجھے امام یعنی نبی بنانے والا ہوں ۔اس پر حضرت ابراہیمؑ نے عرض میر ی ذریت کو بھی نبی بنا،کیونکہ اگر میں مرگیا تو کام کس طرح چلے گا؟خدا تعالیٰ نے فرمایاکہ یہ بات غلط ہے ،تمہاری اولاد میں سے تو بعض زمانوں میں ظالم ہی ظالم ہونے والے ہیں ،یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ان ظالموں کے سپرد یہ کام کیا جائے۔ہاں ہم تمہاری اولاد کو یہ حکم دیتے ہیں کہ سنت ابراہیمی کو قائم رکھیں جولوگ ایسا کریں گے ہم ان میںسے امام بناتے جائیں گے۔اس طرح ابراہیم ان میں زندہ رہے گا اور وہ خدا تعالیٰ کے تازہ بتازہ انعامات سے حصہ لیتے چلے جائیں گے۔ پس اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو امامتوں کا ذکر کیا ہے ایک امامت نبوت جو خدا تعالیٰ کی طرف سے براہِ راست ملتی ہے اور دوسر ی امامت خلافت جس میںبندوں کا بھی دخل ہوتا ہے اور جس کی طرف میں اشارہ کیا گیا ہے یعنی اس میں کسب کا دخل ہے پس تم اس کیلئے کوشش کرتے رہو ۔غرض اِس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو یہ ہدایت کی ہے کہ جب امامت نبوت نہ ہو تو امامت خلافت کو قائم کرلیا کرو،ورنہ اگر ظاہر ی معنی لئے جائیں تو اس حکم پر کوئی عمل نہیں کرسکتا‘‘۔
    (انوارالعلوم جلد۱۶ سیر روحانی (۲) صفحہ۷۹،۸۰)
    ۱؎
    ۲؎ البقرۃ: ۱۲۶ ۳؎ البقرۃ: ۱۲۵،۱۲۶

    خلافت کو بادشاہت کا رنگ نہیں دینا چاہیے
    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ۲۶ دسمبر ۱۹۴۲ء کو جلسہ سالانہ کے موقع پر بعض اہم اور ضروری امور پر تقریرفرمائی ۔اس موقع پر ایک پرائیویٹ بات کا ذکر فرمایا جو ملاقات کے بارہ میں تھی۔ آپ نے فرمایا:۔
    ’’میں ایک واقعہ کابھی ذکر کرنا چاہتا ہوں جو اگرچہ پرائیویٹ ہے مگر اس لئے بیان کرتا ہوں کہ دوسروں کو بھی فائدہ ہوسکے ۔آج ملاقات کے بعد مجھے پرائیویٹ سیکرٹری نے بتایا کہ ایک عزیز مجھ سے ملنے کیلئے آئے تھے اور انہوں نے دروازہ میں داخل ہونا چاہا مگر پہرہ دار نے روکا۔ انہوں نے کہا کہ میں ملاقات کرنا چاہتا ہوں مگر پہرہ دار نے کہا کہ میں نہیں جانتا آپ کون ہیں۔ اُس عزیز نے کہا میں اسی جماعت کے ساتھ تعلق رکھتا ہوں جس کی ملاقات ہورہی ہے۔ اس پر پہرہ دار نے کہا کہ آپ وقت پر کیوں نہیں آئے بعد از وقت میں اجازت نہیں دے سکتا۔ اُس پر بھی اس عزیز نے ملاقات پر اصرار کیا۔ پہرہ دار نے اجازت نہ دی تو اُس نے اُسے مُکّا مارا جس سے پہر ہ دار کے جسم سے خون بہہ نکلا ۔اس واقعہ میں دونوں کی غلطی ہے۔ اس نوجوان کے متعلق میں جانتا ہوں کہ وہ مخلص ہے اور اس نے ایسے وقت میں اپنے اخلاص کو قائم رکھا جبکہ اُس کے بزرگ اس سے محروم ہوگئے تھے وہ ملاقات کرنا چاہتے تھے تو اس طرح ان کو روکنا مناسب نہ تھا ۔چاہیے یہ تھا کہ پہرہ دار اُنہیں کہتے کہ تشریف لائیے آپ کا کس جماعت کے ساتھ تعلق ہے اور پھر اس جماعت کے سیکرٹری صاحب کے پاس لے جاتے کہ یہ آپ کی جماعت کے فرد ہیں اور اس طرح ان کیلئے میرے ساتھ ملاقات کا انتظام کرتے۔پہرہ والوں کو سوچنا چاہیے کہ ان کے روکنے کے بعد میرے ساتھ ملاقات کا ان کے پاس کیا ذریعہ تھا ۔ اس بات کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ یہ بادشاہت نہیں بلکہ خلافت ہے خلافت کو بادشاہت کا رنگ ہر گز نہیں دینا چاہئے۔روکنے والے کو خودغور کرنا چاہئے تھا کہ اگر وہ خود باہر کا رہنے والا ہوتا، سال کے بعد یہاں آتا اور پھر اسے خلیفہ کے ساتھ ملاقات سے روکا جاتا تو اُسے کتنا دکھ ہوتا اور اس دکھ کا احساس کرتے ہوئے اسے اس طرح روکنا نہ چاہئے تھا ۔ملاقات کا موجودہ انتظام تو اس لئے ہے کہ جماعتیں اکٹھی ملیں تا واقفیت ہوسکے مگر بعض دفعہ ایک جماعت کے ساتھ دوسر ی جماعت کا کوئی دوست بھی آجاتا ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں اگر اسے آنے بھی دیا جاتا تو کیا اس نے آتے ہی گولی چلا دینی تھی؟یہ انتظام تو صرف سہولت کیلئے ہے ورنہ لوگوں نے بہر حال ملنا ہے ۔پس جہاں تک ملاقات سے روکنے کا تعلق ہے روکنے والے کی غلطی ہے باقی رہا مُکّا مارنے کا معاملہ سو مارنے والا سپاہی ہے او رفوجی افسر ہے ۔مجھے خوشی ہے کہ ان کو مُکّا بازی آگئی مگر اتنا کہتا ہوں یہ شرعاً ناجائز ہے۔ اگر ان پر ظلم ہوا تو چاہئے تھا کہ وہ اسے برداشت کرتے تاہم جسے مارا گیا ہے میں اسے کہتا ہوں کہ وہ معاف کردے کیونکہ اس نے ا س جذبہ کے زیر اثر مارا ہے کہ اسے خلیفہ سے ملنے سے روکا گیا‘‘۔
    (انوارالعلوم جلد۱۶ صفحہ۴۶۸،۴۶۹)


    خلافت احمدیہ کا قیام اور اس کی برکات
    دعویٰ مصلح موعود کے سلسلہ میں دوسرا عظیم الشان جلسہ مؤرخہ ۱۲؍ مارچ ۱۹۴۴ء کو لاہور میں منعقد ہوا ۔ اس جلسہ میں مختلف مذاہب کے لوگ کثرت سے شامل ہوئے۔ اس موقع پر جو تقریر آپ نے فرمائی اس کا عنوان تھا ’’میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں‘‘ اس تقریر میںخلافت احمدیہ کے قیام اور اس کی برکات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔
    ’’ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہوئے اور لوگ یہ سمجھنے لگے کہ اَب مرزا صاحب تو فوت ہو گئے ہیں اِس سلسلہ کا اَب خاتمہ سمجھو۔ تب اللہ تعالیٰ نے جماعت کے لوگوں کے دلوں میں ڈالا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک خلیفہ مقرر کریں۔ چنانچہ سب جماعت نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کے ہاتھ پر بیعت کر لی اوروہ خلیفہ اوّل مقرر ہوئے۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ جماعت کا شیرازہ بِکھرا نہیں بلکہ پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو گیا ہے تو انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ سب ترقی حضرت مولوی نورالدین صاحب کی وجہ سے اِس سلسلہ کو حاصل ہو رہی تھی۔ وہ پیچھے بیٹھ کر کتابیں لکھتے اور مرزا صاحب اپنے نام سے شائع کر دیتے تھے۔ بس اِس کی زندگی تک اِس سلسلہ نے ترقی کرنی ہے، مولوی نورالدین صاحب کے مرتے ہی یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ مگر خدا کی قدرت ہے کہ اپنے تمام زمانہ خلافت میں حضرت خلیفہ اوّل نے ایک کتاب بھی نہ لکھی اور اِس طرح وہ اعتراض باطل ہو گیا جو مخالف کرتے رہتے تھے کہ کتابیں مولوی نورالدین صاحب لکھتے ہیں اور نام مرزا صاحب کا ہوتا ہے بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ حضرت خلیفہ اوّل کا طرزِ تحریر ہی بالکل اور رنگ کا تھا۔ مگر بہرحال لوگوں نے یہ سمجھا کہ حضرت مولوی صاحب تک ہی اِس سلسلہ کی زندگی ہے اِس کے بعد یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا مگر وہ خدائے واحد و قہار جس نے بانی سلسلہ احمدیہ کو خبر دی تھی کہ تیرا ایک بیٹا ہو گا جو تیرا نام دنیا کے کناروں تک پہنچائے گا اور دین اسلام کی شوکت قائم کرنے کا موجب ہو گا اُس نے مخالفوں کی اِس امید کو بھی خاک میں ملا دیا۔ آخر وہ وقت آ گیا جب حضرت خلیفہ اوّل کی وفات ہوئی۔اُس وقت جماعت میں اختلاف پیدا ہو گیا۔ جماعت کے ایک برسراقتدار حصہ نے جس کے قبضہ میں صدرانجمن احمدیہ تھی، جس کے قبضہ میں خزانہ تھا اور جس کے زیر اثر جماعت کے تمام بڑے بڑے لوگ تھے کہنا شروع کر دیا کہ خلافت کی ضرورت نہیں۔ خواجہ کمال الدین صاحب جیسے سحرالبیان لیکچرار، مولوی محمد علی صاحب جیسے مشہور مصنف، شیخ رحمت اللہ صاحب جیسے مشہور تاجر، مولوی غلام حسین صاحب جیسے مشہور عالم جن کے سرحدی علاقہ میں اکثر شاگرد ہیں، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب جیسے بارسوخ اور صاحب جائداد ڈاکٹر یہ سب ایک طرف ہو گئے اور اِن لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ایک بچہ کو بعض لوگ خلیفہ بنا کر جماعت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔
    وہ بچہ جس کی طرف ان کا اشارہ تھا مَیں تھا۔ اُس وقت میری عمر بیس سال کی تھی اور اللہ بہتر جانتا ہے مجھے قطعاً علم نہیں تھا کہ میرے متعلق یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ میں جماعت کا خلیفہ بنوں۔ اللہ تعالیٰ گواہ ہے نہ میںاِن باتوں میں شامل تھا اور نہ مجھے کسی بات کا علم تھا۔ سب سے پہلے میرے کانوں میں یہ آواز شیخ رحمت اللہ صاحب مالک انگلش ویئرہاؤس کی طرف سے آئی۔ میں نے سنا کہ وہ مسجد میں بڑے جوش سے کہہ رہے تھے کہ ایک بچہ کی خاطر سلسلہ کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ مجھے اُس وقت اُن کی یہ بات اتنی عجیب معلوم ہوئی کہ باہر نکل کر میں نے دوستوں سے پوچھا کہ وہ بچہ ہے کون جس کا آج شیخ رحمت اللہ صاحب ذکر کر رہے تھے۔ وہ میری اِس بات کو سُن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے وہ بچہ تم ہی تو ہو۔ غرض میں اِن باتوں سے اتنا بے بہرہ تھاکہ مجھے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ مَیں زیر بحث ہوں اور میرے متعلق یہ کہا جا رہا ہے کہ اِس کی وجہ سے جماعت تباہ ہو رہی ہے۔ مگر خداتعالیٰ کی مشیّت یہی تھی کہ وہ مجھے دنیا کی مخالفانہ کوششوں کے باوجود آگے کرے اور میرے سپرد جماعت کی نگرانی کا کام کرے۔ میں نے امن قائم رکھنے اور جماعت کو تفرقہ سے بچانے کی بڑی کوشش کی مگر خداتعالیٰ کے ارادہ کو کون روک سکتا ہے۔ آخر وہی ہوا جو اُس کا منشاء تھا۔ جوں جوں حضرت خلیفہ اوّل کی وفات نزدیک آتی گئی اِن لوگوں نے جماعت میں کثرت کے ساتھ پراپیگنڈا شروع کر دیا کہ آئندہ خلافت کا سلسلہ جاری نہیں ہونا چاہئے۔ جس دن حضرت خلیفہ اوّل فوت ہوئے دنیا نے کہا اَب یہ سلسلہ ختم ہو گیا کیونکہ جس شخص پر اِس سلسلہ کا تمام انحصار تھا وہ اُٹھ گیا۔ اُس دن جب مخالفوں کی زبان پر یہ تھا کہ یہ سلسلہ ختم ہو گیا میں نے جماعت کو تفرقہ سے بچانے کے لئے مولوی محمد علی صاحب سے گفتگو کی اور میں نے اُن سے کہا کہ آپ کسی شخص کو خلیفہ مقرر کریں میں اُس کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں۔ مَیں نے اُن سے یہ بھی کہا کہ جب میں بیعت کر لوں گا تو وہ لوگ جو میرے ساتھی ہیں وہ بھی میرے ساتھ ہی خود بخود بیعت کر لیں گے اور اِس طرح تفرقہ پیدا نہیں ہوگا۔ مگر باوجود میری تمام کوششوں کے آخری جو اب مولوی محمد علی صاحب نے یہ دیا کہ آپ جانتے ہیں جماعت والے کس کو خلیفہ مقرر کریں گے اور یہ کہہ کر وہاں سے چلے آئے۔ حالانکہ میری نیک نیتی اِس سے ظاہر ہے کہ جس دن عصر کی نماز کے وقت لوگوں نے میری بیعت کی اُسی دن صبح کے وقت میں نے اپنے تمام رشتہ داروں کو جمع کیا اور اُن سے کہا کہ ہمیں ضد نہیں کرنی چاہئے اگر وہ خلافت کو تسلیم کر لیں تو کسی ایسے آدمی پر اتفاق کر لیا جائے جو دونوںفریق کے نزدیک بے تعلق ہو اور اگر وہ یہ بھی قبول نہ کریں تو پھر اِن لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لی جائے اور میرے اصرار پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تمام اہلِ بیت نے اِس امر کو تسلیم کر لیا۔ پھر میری یہ حالت تھی کہ حضرت خلیفہ اوّل کی وفات سے چند دن پہلے میں اُس مقام پر گیا جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام دعا کیا کرتے تھے اور میں نے وضو کر کے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی۔ میری عمر اُس وقت اتنی چھوٹی نہ تھی مگر بڑی بھی نہ تھی۔ ۲۵سال میری عمر تھی، میری والدہ موجود تھیں، میری بیوی موجود تھیں اور میرے بچے بھی تھے مگر مَیں نے اُس وقت نیت کر لی کہ چونکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ میری وجہ سے جماعت میں تفرقہ پیدا ہو رہا ہے اِس لئے میں خاموشی سے کہیں باہر نکل جاؤں گا تاکہ میں تفرقہ کا باعث نہ بنوں۔ چنانچہ میں نے دعا کی کہ خدایا! مَیں اِس جماعت میں فتنہ پیدا کرنے والا نہ بنوں تُو میرے دل کو تقویت عطا فرما تاکہ مَیں پنجاب یا ہندوستان کے کسی علاقہ میں اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر نکل جاؤں اور میری وجہ سے کوئی فتنہ پیدا نہ ہو۔ اِس کے بعد میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ کہیں نکل کر چلا جاؤں گا مگر خدا کی قدرت ہے دوسرے تیسرے دن ہی اچانک حضرت خلیفہ اوّل کی وفات ہو گئی اور میں اِس جھگڑے میں پھنس گیا۔ تب جماعت کے غریب طبقہ نے میرے ہاتھ پر بیعت کر لی اور وہ جو بڑے بڑے لوگ کہلاتے تھے جماعت سے الگ ہو گئے۔ اِن میں سے ایک ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب تھے۔ انہوں نے وہاں سے روانہ ہوتے وقت ہماری عمارتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو جاتے ہیں کیونکہ جماعت نے ہم سے اچھا سلوک نہیں کیا لیکن تم دیکھ لو گے کہ دس سال کے عرصہ میں اِن جگہوں پر عیسائیوں کا قبضہ ہو جائے گا اور احمدیوں کے ہاتھ سے یہ تمام جائدادیں نکل جائیں گی۔ اُس وقت میرے ہاتھ پر دو ہزار کے قریب آدمیوں نے بیعت کی، باہر کی اکثر جماعتیں ابھی بیعت میں داخل نہیں ہوئی تھیں۔ یہاں تک کہ ’’پیغام صلح‘‘ میں لکھا گیا کہ پچانوے فیصدی جماعت ہمارے ساتھ ہے اور صرف پانچ فیصدی جماعت مرزا محمود احمد کے ساتھ ہے۔ مگر ابھی دو مہینے نہیں گزرے تھے بلکہ ابھی صرف ایک مہینہ ہی ہوا تھا کہ ساری کی ساری جماعت میری بیعت میں شامل ہو گئی اور پیغام صلح نے یہ لکھنا شروع کر دیا کہ ۹۵فیصدی جماعت مرزا محمود احمد کے ساتھ ہے اور صرف پانچ فیصدی ہمارے ساتھ۔ پھر میری مخالفت بھی تھوڑی نہیں ہوئی میرے قتل کی کئی بار کوششیں کی گئیں۔
    احرار کی شورش کے ایام میں ہی ایک دفعہ قادیان میں سرحد کی طرف سے ایک پٹھان آیا اور میرے مکان کے دروازے پر کھڑے ہو کر اُس نے لڑکا اندر بھیجا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتا ہے۔ مَیں تو اِن باتوں کی پرواہ نہیں کیا کرتا مَیں آنے ہی لگا تھاکہ مجھے باہر کچھ شور کی آواز سنائی دی۔ معلوم ہوا کہ ہماری جماعت کے ایک مخلص دوست جو پٹھان ہیں اُنہوں نے اُسے پکڑ لیا اور اُس کے نیفے میں سے چھرا نکال لیا۔ بعد میں اُس نے تسلیم کیا کہ میں واقع میں قتل کرنے کی نیت سے ہی آیا تھا۔
    اِسی طرح یہاں لاہور میں ایک دفعہ ایک دیسی عیسائی کو پھانسی ہوئی۔ جے میتھوز اُس کا نام تھا۔ اُس نے اپنی بیوی کو قتل کر دیا تھا جس کی پاداش میں سیشن جج نے اُسے پھانسی کی سزا دی۔ اُس نے اپنے بیانات میں اِس اَمر کا اظہار کیا کہ میں ایک دفعہ پستول لے کر مرزا محمود احمد کو مارنے کے لئے قادیان گیا تھا مگر ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ میں اُن سے مل نہ سکا اور وہ دریا پر چلے گئے۔ پھر میں پستول لیکر اُن کے پیچھے پیچھے دریا پر گیا۔ وہاں ایک دن میں نے اُن کے ایک ساتھی کو بندوق صاف کرتے دیکھا جس سے میں ڈر گیا کہ بندوق تو دُور تک وار کر جاتی ہے، ایسا نہ ہو میں خود ہی مارا جاؤں چنانچہ میں واپس آگیا اور اپنی بیوی سے کسی بات پر لڑکر میں نے اُسے قتل کر دیا۔یہ ایک عدالتی بیان ہے جو سیشن جج کی عدالت میں اُس نے لاہور میں دیا۔ اُس نے یہ بھی ذکر کیا کہ لوگوں کی جوش دلانے والی باتیں سن کر مَیں نے اِن کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔
    پھر اِسی قسم کا ایک اور کیس ہوا۔ ایک شخص ہماری دیوار پھاندتے ہوئے پکڑا گیا۔ بعد میں پولیس نے اُسے پاگل قرار دیکر چھوڑ دیا حالانکہ وہ دیوار پھاندتے ہوئے پکڑا گیا تھا اور جیسا کہ بعد میں معلوم ہوا وہ قتل کرنے کی نیت سے ہی آیا تھا۔
    چوتھا واقعہ یہ ہے کہ میں ایک دفعہ اپنے سالانہ جلسہ میں تقریر کر رہا تھا کہ پیچھے سے کسی شخص نے ملائی دی کہ جلدی سے حضرت صاحب تک پہنچا دی جائے آپ تقریر کرتے کرتے تھک گئے ہیں۔ چنانچہ گھبراہٹ میں لوگوں نے جلدی جلدی ملائی آگے پہنچانی شروع کر دی یہاں تک کہ وہ سٹیج پر پہنچ گئی۔ سٹیج پر کسی شخص کو ہوش آیا اور اُس نے ذرا سی ملائی اپنی زبان پر لگائی تو لگاتے ہی اُس کی زبان کٹ گئی۔ تب اِدھر اُدھر تلاش کیا گیا کہ ملائی دینے والا کون تھا مگر وہ نہ ملا۔ غرض ہر رنگ میں دشمنوں نے مجھے مٹانے اور گرانے کی کوشش کی مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ اُن کو ناکام ونامراد رکھا۔
    گزشتہ سالوں میں ہی لاہور میں سرسکندر حیات خاں نے اپنی کوٹھی پر مجھے اِس غرض کے لئے بُلا بھیجا کہ اگر کشمیر کمیٹی اور احرار میں کوئی سمجھوتہ ہو جائے تو حکومت کسی نہ کسی رنگ میںفیصلہ کر دے گی۔ اُنہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آیا آپ کو ایسی میٹنگ میں شامل ہونے پر کوئی اعتراض تو نہیں؟ میں نے کہا مجھے کوئی اعتراض نہیں اور نہ مجھے سیاسیات سے کوئی دلچسپی ہے میں تو ایک مذہبی آدمی ہوں اور چاہتا ہوں کہ اِس قسم کے جھگڑے جلد دُور ہو جائیں۔ وہاں احرار کی طرف سے چوہدری افضل حق صاحب شامل ہوئے اور انہوں نے بڑے غصہ سے کہاکہ میں اِن سے ہرگز صلح نہیں کر سکتا کیونکہ میں جب الیکشن کے لئے کھڑا ہوا تھا تو اِنہوں نے میری دو دفعہ مخالفت کی تھی۔ میں نے اُن سے کہا کہ مخالفت کرنا ہر شخص کا حق ہے مگر یہ درست نہیںکہ مَیں نے آپ کی دو دفعہ مخالفت کی ہے۔ ایک دفعہ مخالفت کی ہے اور ایک دفعہ تائید کی ہے۔ سرسکندرحیات خاں بھی اِن سے کہنے لگے کہ آپ بھولتے ہیں آپ نے خود مجھے کہا تھا کہ امام جماعت احمدیہ سے چونکہ میرے دوستانہ تعلقات ہیں اِس لئے میں آپ کے متعلق اِن کے پاس سفارش کر دوں اور میں نے آپ کے کہنے پر سفارش کی اور انہوں نے آپ کی مدد کی۔ پس یہ درست نہیں کہ انہوں نے دو دفعہ مخالفت کی ہے ایک دفعہ انہوں نے مخالفت کی ہے اور ایک دفعہ تائید کی ہے۔ اِس پر چوہدری افضل حق صاحب کہنے لگے خواہ کچھ ہو مَیں نے تو فیصلہ کر لیا ہے کہ میں جماعت احمدیہ کو کُچل کر رکھ دوں گا۔اسی طرح وہ غصہ میں اور بھی بہت کچھ کہتے چلے گئے مَیں مسکراتا رہااور خاموش رہا ۔جب وہ اپنا غصہ نکال چکے تو میں نے کہا چوہدری صاحب! ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ ہمارا سلسلہ اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے اگر ہمارا یہ دعویٰ جھوٹا ہے تو آپ کی کسی کوشش کی ضرورت نہیںخدا خود ہمارے سلسلہ کو کچل دے گا لیکن اگر یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے قائم کردہ سلسلہ ہے تو پھر آپ کی کیا حیثیت ہے دنیا کے سارے بادشاہ مل کر بھی ہمارے سلسلہ کو کچلنا چاہیں تو وہ خودکُچلے جائیں گے مگر ہمارے سلسلہ کو کچل نہیں سکتے۔ اُس وقت مجلس میں نواب مظفر خان صاحب موجود تھے،شیخ محمد صادق صاحب موجود تھے، نواب احمد یار خاں صاحب دولتانہ موجود تھے،جب مجلس ختم ہوئی تو شیخ محمد صادق صاحب چوہدری افضل حق صاحب کے ساتھ اُن کے گھر تک گئے اور انہیں کہا کہ چوہدری صاحب! آپ نے اچھا نہیں کیا۔گھر پر بُلا کر امام جماعت احمدیہ کی آج شدید ہتک کی گئی ہے چنانچہ بعد میں واپس آکر اُنہوں نے خود ہی ذکر کیا کہ میں چوہدری افضل حق صاحب کے ساتھ اُن کے دووازہ تک گیا تھا اور اُن سے کہا تھا کہ آپ نے آج جو کچھ کیا ہے اچھا نہیں کیا اور چوہدری افضل حق صاحب کہتے تھے کہ اب میں بھی محسوس کرتاہوں کہ مجھے یہ الفاظ نہیں کہنے چاہئیں تھے اصل بات یہ ہے غصہ میں میری زبان قابو میں نہیں رہی تھی۔ تو لوگوں نے ہر طرح زور لگایا کہ ہمارے سلسلہ کو مٹا دیں ۔
    یہاں تک کہ ۱۹۳۴ء میںانگریزی گورنمنٹ بھی ہماری جماعت کی مخالف ہوگئی۔ سرایمرسن جو گورنر پنجاب رہ چکے ہیں گورنری سے پہلے میرے بڑے دوست تھے یہاں تک کہ لندن سے انہوں نے مجھے چٹھی لکھی کہ میں اب گورنر بن کر آرہا ہوں اور امید کرتے ہیں کہ آپ میرے ساتھ تعاون کریں گے مگر یہاں آتے ہی ہماری جماعت کے شدید مخالف ہوگئے یہاں تک کہ سر فضل حسین صاحب نے ایک ملاقات کے دَوران میں مجھ سے کہا کہ نہ معلوم سرایمرسن کو کیا ہوگیا ہے وہ تو آپ کے سلسلہ کو بہت کچھ بُرا بھلا کہتے رہتے ہیں۔پھر انہوں نے کریمنل لاء ایمنڈمنٹ (CRIMINAL LAW AMENDMENT)ایکٹ مجھ پر لگانا چاہا اور قادیان میں احرار کا جلسہ کرایاجس میں ہمارے سلسلہ کی شدید ہتک کی گئی۔ غرض ہر رنگ میں ہماری مخالفت ہوئی اور ہر طبقہ نے مخالفت کی۔افغانستان میں میرے زمانہ میں جماعت احمدیہ کے چار آدمی یکے بعد دیگر ے شہید کئے گئے حالانکہ افغانستان کے وزیر خارجہ نے خود ہمیں چٹھی لکھی تھی کہ افغانستان میں آپ کو تبلیغ کی اجازت ہے بے شک اپنے مبلّغ بھجوائیں۔مگر جب ہم نے اپنے مبلّغ بھجوائے تو حکومت نے اُن کو سنگسار کر دیا۔ غرض جتنا زور دُنیا لگا سکتی تھی اُس نے لگا کر دیکھ لیامگر باوجود اِس کے خدانے ہمیں بڑھایا اور ایسی ترقی دی جوہمارے وہم اور خیال میں بھی نہیں تھی۔
    جب میں خلیفہ ہوا اُس وقت ہمارے خزانہ میں صرف چودہ آنے کے پیسے تھے اور ۱۸ ہزار کا قرض تھایہاں تک کہ میں نے اپنے زمانۂ خلافت میں جوپہلا اشتہار لکھا اور جس کا عنوان تھا۔ ’’کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے‘‘ اُس کو چھپوانے کے لئے بھی میرے پاس کوئی روپیہ نہ تھا۔ اُس وقت ہمارے نانا جان کے پاس کچھ چندہ تھاجو اُنہوں نے مسجد کے لئے لوگوں سے جمع کیا تھا اُنہوں نے اُس چندہ میں سے دو سَوروپیہ اِس اشتہار کے چھپوانے کے لئے دیا اور کہا کہ جب خزانہ میں روپیہ آنا شروع ہو جائے گا تو یہ دو سَو روپیہ ادا ہو جائے گا۔ غرض وہ روپیہ اُن سے قرض لے کر یہ اشتہار شائع کیا گیا۔مگر اُس وقت جب جماعت کے سر کردہ لوگ میرے مخالف تھے، جب جماعت کے لیڈر میرے مخالف تھے، جب خزانہ خالی تھا، جب صرف چودہ آنے کے پیسے اس میں موجود تھے، جب اٹھارہ ہزار کا انجمن پر قرض تھا، جب انجمن کی اکثریت میر ی مخالف تھی، جب انجمن کا سیکرٹری میرا مخالف تھا، جب مدرسہ کا ہیڈماسٹر میرامخالف تھا میرے یہ الفاظ ہیں جو میں نے خدا کے منشاء کے ماتحت اُس اشتہار میں شائع کئے کہ:
    ’’خدا چاہتا ہے کہ جماعت کا اتحاد میرے ہی ہاتھ پر ہو اور خدا کے اِس ارادہ کو اَب کوئی نہیں روک سکتا۔کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ان کے لئے صرف دو ہی راہ کھلے ہیں یا تو وہ میری بیعت کرکے جماعت میں تفرقہ کرنے سے باز رہیں یا اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے پڑ کر اُس پاک باغ کو جسے پاک لوگوں نے خون کے آنسوئوں سے سینچا تھا اُکھاڑ کر پھینک دیں۔جو کچھ ہو چکا ہو چکا مگر اب اِس میں کوئی شک نہیں کہ جماعت کا اتحاد ایک ہی طریق سے ہو سکتا ہے کہ جسے خدا نے خلیفہ بنایا ہے اُس کے ہاتھ پر بیعت کی جائے ورنہ ہر ایک شخص جو اُس کے خلاف چلے گا تفرقہ کا باعث ہوگا‘‘۔
    پھر میں نے لکھا:۔
    ’’ اگر سب دنیا مجھے مان لے تو میری خلافت بڑی نہیں ہوسکتی اور سب کے سب خدانخواستہ مجھے تر ک کر دیں تو بھی خلافت میں فرق نہیں آسکتا۔ جیسے نبی اکیلا ہی نبی ہوتا ہے اِسی طرح خلیفہ اکیلا بھی خلیفہ ہوتا ہے۔ پس مبارک ہے وہ جو خدا کے فیصلہ کو قبول کرے۔ خدا تعالیٰ نے جو بوجھ مجھ پر رکھا ہے وہ بہت بڑا ہے اور اگر اُس کی مدد میرے شاملِ حال نہ ہو تو میں کچھ نہیں کر سکتا۔لیکن مجھے اُس پاک ذات پر یقین ہے کہ وہ ضرور میری مدد کرے گی۔‘‘
    غرض طرح طرح کی مخالفتیں ہوئیں سیاسی بھی اور مذہبی بھی، اندرونی بھی اور بیرونی بھی مگر خداتعالیٰ نے مجھے توفیق دی کہ میں جماعت کو اَور زیادہ ترقی کی طرف لے جائوں۔چنانچہ یہ جماعت بڑھنی شروع ہوئی یہاں تک کہ آج دنیا کے کونے کونے میں یہ جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے پھیل چکی ہے۔ اِسی شہر لاہور میں پہلے جماعت احمدیہ کے صرف چند افراد ہوا کرتے تھے مگر آج ہزاروں کی تعداد میں یہاں جماعت موجود ہے اِسی طرح دنیا کے ہر گوشہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام اور اسلام کا پیغام میرے ذریعہ سے پہنچ چکا ہے اور وہ پیشگوئی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے بیٹے کے متعلق فرمائی تھی وہ میرے وجود میں بڑی شان سے پوری ہو چکی ہے۔ اِس پیشگوئی میں اُنسٹھ باتیں بتائی گئی ہیںمگر ان تمام باتوں کے متعلق اِس وقت تفصیل سے روشنی نہیں ڈالی جا سکتی۔صرف ایک دو باتیں میں بیان کردیتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ پیشگوئی فرمائی تھی کہ جس طرح میرا نام دنیا کے کناروں تک پہنچے گا اسی طرح میرا بیٹا دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا۔ دنیا کے کناروں کے لحاظ سے امریکہ ایک طرف ہے اور جاپان دوسری طرف۔ درمیان میںیورپ اور افریقہ کا علاقہ ہے۔ ہماری جماعت ایک غریب جماعت ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اِس پیشگوئی کے مطابق مجھے توفیق عطا فرمائی کہ میں دنیا کے مختلف ممالک میں احمدیہ مشن قائم کروں۔ چنانچہ اِس وقت امریکہ میں احمدیہ مشن قائم ہے، انگلستان میں احمدیہ مشن قائم ہے، شمالی اور جنوبی افریقہ میں احمدیہ مشن قائم ہے،چین اور جاپان میں بھی احمدیہ مشن قائم کئے گئے تھے مگر جنگ کی وجہ سے کچھ عرصہ کیلئے بند کردئیے ہیں، سماٹرا اور جاوا میں احمدیہ مشن قائم ہیں، اسی طرح جرمنی میں اورہنگری میں،ارجنٹائن میں، یوگوسلاویہ میں ،البانیہ میں ،پولینڈ میں، زیکوسلواکیہ میں، سیرالیون میں، گولڈکوسٹ میں، نائیجیریا میں، مصر میں، فلسطین میں، ماریشس میں، شام میں، روس میں، سڑیٹ سیٹلمنٹس ۱؎ میں ،ایران میں ،کابل میں، ملایا میں اور دوسرے کئی ممالک میں اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے احمدیت کا پیغام پہنچایا اور و ہ پیشگوئی پوری ہوئی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے بیٹے کے متعلق فرمائی تھی کہ دنیا کے کناروں تک وہ اسلام اور احمدیت کا نام پہنچائے گا‘‘۔(انوارالعلوم جلد۱۷ صفحہ۲۱۳ تا۲۲۱)
    ۱؎ سٹریٹ سیٹلمنٹس: (Straits Settlements) ملایا میں برطانیہ کی سابق شاہی نوآبادی ۱۸۲۶ء سے ۱۸۵۸ء تک برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی نے پیانگ، ملکا اور سنگا پور کو ایک انتظامی جزو کی حیثیت سے سنبھالے رکھا۔ بعد ازاں قلیل مدت کے لیے انڈیا آفس نے انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ ۱۸۶۷ء میں یہ نو آبادی قائم کی گئی اور ۱۹۴۶ء میں ختم کر دی گئی۔ اب سنگا پور ایک الگ کالونی ہے مگر باقی حصے ملایا کے اتحاد میں شامل ہوگئے۔(اُردو جامع انسائیکلوپیڈیا جلد۱ صفحہ۷۴۱ مطبوعہ لاہور)

    خلافت کے ذریعہ خداتعالیٰ سے وابستہ رہو
    (تقریر فرمودہ ۲۵؍جون ۱۹۴۴ء بمقام قادیان)
    تشہّد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:-
    انسانی زندگی بھی اللہ تعالیٰ نے عجیب بنائی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سِوا ساری ہی چیزیں اپنی جگہ پر ضروری بھی ہیں اور غیر ضروری بھی۔ جو خالصتہً ضروری چیز ہے وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ہی ذات ہے۔ ہر چیز اپنے وقت میں اور اپنے ماحول میں ضروری نظر آتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ ایک مرکز ہے دنیا کا جس کے گرد ساری دنیا چکر لگا رہی ہے مگر باوجود اِس کے پھر ایک وقت پر وہ چیز جاتی رہتی ہے ایک اثر اور ایک نشان تو وہ ایک عرصہ کے لئے چھوڑ جاتی ہے لیکن دنیا پھر بھی جاری ہی رہتی ہے۔ پھر نئے وجود دنیا میں پیدا ہو جاتے ہیں جن کے متعلق لوگ یہ خیال کرتے ہیںکہ شاید اِن کے بغیر اَب دنیا نہیں چل سکتی۔ پھر وہ مٹ جاتے ہیں اور کچھ دیر کے لئے وہ اپنا اثر اور نشان چھوڑ جاتے ہیں مگر پھر خدا کی طرف سے اُس وقت کے ماحول کے ساتھ لوگوںکو ایک مناسبت پیدا ہو جاتی ہے اور اِس کے بعد وہ خیال کرتے ہیںکہ اَب یہ نئے وجود نہایت ضروری ہیں۔
    جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو دنیا میں پیدا کیا اُس وقت ابھی دنیا کی ابتداء تھی۔ ابھی لوگوں کو یہ معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کیسی کیسی مخلوق دنیا میں بھجوانے والا ہے۔ خدا کا تازہ کلام اور ان معنوں میں تازہ کلام کہ اِس شکل میں اِس سے پہلے نازل نہیں ہوا تھا آدم پر اُترا اور لوگوں کے لئے ابھی ایمانیات سے باہر اور کوئی دلیل ایسی نہ تھی جس کی بناء پر وہ سمجھتے کہ یہ کلام پھر بھی دنیا میں اُترے گا اور انسان اپنے تجربہ کا غلام ہوتا ہے۔ جس وقت آدم کے ساتھی یہ خیال کرتے ہوں گے کہ آدم بھی ایک دن اِس دنیا سے گزر جائے گا وہ وقت اُن کے لئے کیساتکلیف دِہ ہوتا ہو گا۔ اُن کے لئے کوئی مثال موجود نہ تھی کہ آدم کا قائم مقام کوئی اور آدمی بھی ہو سکتا ہے۔ وہ خداتعالیٰ کے سارے فضلوں کو آدم ؑ میں ہی مرکوز دیکھتے تھے اور آدم سے بڑھ کر کسی اور وجود میں اِن فضلوں کا مشاہدہ کرنا اُن کے نزدیک خام خیالی تھی کیونکہ اور کوئی انسان انہوں نے نہیں دیکھا تھا جو آدمؑ سے بڑھ کر ہوتا۔ غرض آدمؑ جس کی تعلیم کا نشان سوائے قرآن کے اور کہیں نہیں ملتا، آدم جس کی تربیت کا نشان دنیا کی کسی تاریخ سے مہیا نہیں ہوتا وہ اُن لوگوں کیلئے اپنے زمانہ کے لحاظ سے ایسا ہی ضروری تھا جیسے حیات کے قیام کے لئے ہوا اور پانی ضروری ہوتا ہے۔ وہ آدم کو اپنی روحانی حیات کے قیام کا ذریعہ سمجھتے تھے اور روحانی حیات کو آدم کا نتیجہ قرار دیتے تھے مگر ایک دن آیا جب خدا کی قدرت نے آدم کو اُٹھا لیا۔ آدم کے مومنوں پر وہ کیسا تکلیف کا دن ہو گا وہ کس طرح تاریکی اور خلا اپنے اندر محسوس کرتے ہوں گے مگر وہ نسل گزری اور اُس نسل کی نسل گزری اور اِسی طرح کئی نسلیں گزرتی چلی گئیں اور آدم کی قیمت اُن کے دلوں سے کم ہو گئی یہاں تک کہ وہ اُس وجود کو بھی بھول گئے جس کی وجہ سے آدم کی قدر وقیمت تھی یعنی انہوں نے خداتعالیٰ کو بھی بھلا دیا، اُس سے قطع تعلق کر لیا اور اُن کی ساری کوششیں دنیا میں ہی محدود ہوگئیں۔
    تب خدا نے نوحؑ کو دنیا میں بھیجا۔ یا کم سے کم ہمارے لئے جس شخص کے ذکر کی ضرورت سمجھی گئی ہے وہ نوحؑ ہی ہے۔ درمیان میں بعض اور وجود بھی آئے ہوں گے مگر وہ اہم وجود جس کا قرآن نے ذکر کیا نوحؑ ہی ہے۔ نوحؑ کے زمانہ میں جو لوگ اُس پر ایمان لائے کس طرح اُنہیں محسوس ہوتا ہوگا کہ وہ تاریکی سے نکل کر نور کی طرف آگئے ہیں۔ وہ تنہائی کی زندگی کو چھوڑ کر ایک نبی کی صحبت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ خدا تعالیٰ کا تازہ کلام اور اُس کی پُرمعرفت باتیں سن کر ان کے اندر کیسی زندگی پیدا ہوتی ہوگی، کیسا یقین پیدا ہوتا ہوگا، کتنی خوشی ہوتی ہوگی کہ کس طرح انہوں نے یہ غلط خیال کر لیا تھا کہ خداتعالیٰ کا کلام اور اُس کا نور اَب دنیا میں نہیں آئے گا۔ وہ سوچتے ہوں گے کہ ہم کس طرح دنیا میں مشغول تھے کہ خدا کا ہاتھ پھر ہماری طرف لمبا ہوا اور اُس نے ہمیں تاریک گڑھوں سے نکال کر معرفت کی روشنی میںکھڑا کر دیا۔ لیکن اُس زمانہ کے لوگ بھی یہ خیال کرتے ہوں گے کہ نوحؑ جیسی نعمت کے بعد اور کیا نعمت ہوگی، کون سی برکت ہوگی جو اُس کے بعد بھی آئے گی۔ وہ خیال کرتے ہوں گے کہ خدا تعالیٰ کی آخری نعمت ہم کو حاصل ہوگئی اَب ہماری زندگیاں خوشی کی زندگیاں ہیں اب ہم علیحدگی اور تنہائی کی بدمزگیوں سے بچ گئے۔ اَب خدا ہمارے ساتھ ہے اور ہم خداکے ساتھ ہیں لیکن پھر ایک زمانہ آیا جب خدا کی حکمتِ کا ملہ نے نوحؑ کو اُٹھا لیا۔ اُس وقت نوحؑ کے ماننے والوں کی جو کیفیت ہوگی اُسے ہم تو سمجھ سکتے ہیں جنہیں ایک نبی کی جماعت میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہوا مگر دوسرے لوگ اِس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔ کس طرح چمکتا ہوا سورج اُن کے لئے تاریک ہوگیا ہو گا، کس طرح نور والا چاند اُن کے لئے اندھیرا ہوگیا ہوگا، کس طرح اللہ تعالیٰ کا روشن چہرہ جو ہر وقت اُن کی آنکھوں کے سامنے رہتا تھا اُنہیں دُھندلکے میں چھپا ہوا دکھائی دینے لگا ہوگا اور کس طرح دہ یہ خیال کرتے ہوں گے کہ دنیا اب ہلاکت کے گڑھے میں گر گئی۔ لیکن ابھی نوحؑ کا پیدا کردہ ایمان لوگوں کے دلوں میں موجود تھا اُس ایمان کی وجہ سے وہ خیال کرتے ہوں گے کہ جس طرح آدمؑ کے بعداللہ تعالیٰ نے نوحؑ کو کھڑا کر دیا اِسی طرح شاید نوحؑ کے بعد کسی اور کو کھڑا کر دے۔ پس وہ ایک ہلکی سی امید اپنے دل میںرکھتے ہوں گے گویہ امید اپنے ساتھ ایسا زخم رکھتی ہوگی، ایسا درد اور اضطراب رکھتی ہوگی جس کی مثال انبیاء کی جماعتوں کے باہر اور کہیں نہیں مل سکتی۔
    پھر خداتعالیٰ کے فضل نے نہ معلوم کتنے عرصے کے بعد، کتنے تغیرات کے بعد، کتنی چھوٹی چھوٹی روشنیوں کے بعد ابراہیم ؑ کو پیدا کیا اور پھر وہی کیفیت جو نوحؑ کے زمانہ میں لوگوں پر گزری تھی ابراہیم ؑ کے زمانہ میں دکھائی دینے لگی۔ اب لوگوں کی دماغی ترقی کو دیکھ کر خدا نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ پے درپے اپنے انبیاء لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجے چنانچہ ابراہیم ؑ کے بعد اسحاقؑ کو ایک مُلک میں اور اسماعیل ؑ کو دوسرے مُلک میں کھڑا کیا گیا۔ پھر یعقوبؑ آئے پھر یوسفؑ آئے اور یہ سلسلہ چلتا چلا گیا اور لوگ نورِ ہدایت سے منور ہوتے رہے۔ مگر پھر ایک ایسا وقت آیا جب دنیا تاریکی کے گڑھوں میں گر گئی، گمراہی میں مبتلا ہو گئی، خداتعالیٰ کے تازہ نشانوں سے محروم ہوگئی اور یہ دَورِ ضلالت جاری رہا یہاں تک کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ آیا اور اُنہوں نے بندوں کا خدا سے پھر تازہ عہد باندھا۔ اِس کے بعد پے درپے انبیاء لوگوں کی ہدایت کے لئے آتے رہے۔داؤد ؑ آئے، سلیمانؑ آئے، الیاسؑ آئے، یحییٰ ؑ آئے، عیسیٰ ؑ آئے اور آخر میں ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تشریف لائے۔ جس طرح آدمؑ کے زمانہ میں لوگوں کو یہ احساس تھا کہ خدا نے ایک نیانور پیدا کیا ہے، ایک نئی چیز دنیا میں ظاہر کی ہے اور وہ خیال کرتے تھے کہ ایسی چیز پھر دنیا میں کب آسکتی ہے وہ اپنے تجربہ کے مطابق آدمؑ کو ہی اوّل الانبیاء اور آدمؑ کو ہی آخر الانبیاء سمجھتے تھے۔ اِسی طرح کا احساس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگوں کے دلوں میں پیدا ہونا شروع ہوگیا۔ بات یہ ہے کہ سارے ہی نبی اتنے پیارے ہوتے ہیں کہ ہر نبی کی اُمت یہی سمجھ لیتی ہے کہ یہ نبی آخری نبی ہے۔ قرآن کریم میں ذکر آتا ہے کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام فوت ہوگئے تو اُن کی قوم نے کہا اب یوسف ؑ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔۱؎ حقیقت یہ ہے کہ انبیاء خداتعالیٰ کی مہربانی اور اُس کی شفقت اور اُس کی عنایت اور اُس کی رأفت کاایسا دلکش نمونہ ہوتے ہیں کہ اُن کو دیکھنے کے بعد لوگ یہ خیال بھی نہیں کرسکتے کہ ایسے وجود دُنیا پھر بھی پیدا کرسکتی ہے۔
    لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا وجود تو ایسا تھا جس کے متعلق یہ دعویٰ بھی موجود تھا کہ آپ خاتم النبیین ہیں اور آپؐ کی شریعت آخری شریعت ہے۔ خدا تعالیٰ کے نزدیک تو اِس کے یہ معنی تھے کہ آپؐ آخری شرعی رسول ہیں اوریہ کہ اب دنیا میں جو بھی رسول اور مصلح آئے گا وہ آپؐ سے روحانی فیوض حاصل کرکے اور آپؐ کا غلام اور شاگرد بن کر آئے گا۔ مگر جو دیکھنے والے تھے جن کو ابھی آئندہ کا تجربہ نہیں تھا اُن میں سے بعض شاید یہی سمجھتے ہوں کہ آپ دنیا کے لئے آخری روشنی ہیںاور وہ یہی خیال کرتے ہوں کہ اِس روشنی کو خدا اب واپس نہیں لے گا اِسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کا خیال بھی اُن کے لئے ایک ایسا صدمہ تھا جن کو برداشت کرنا اُن کی طاقت سے بالکل باہر تھا چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے تو یہ بات صحابہ کے لئے اِس قدر صدمہ کا موجب ہوئی کہ وہ لمبی تعلیم جو متواتر تیئیس سال تک خدا کا رسول اُن کو دیتا رہا اُس کو بھی وہ بھول گئے۔ جس رسول نے بڑے زور سے اُن پر یہ واضح کیا تھا کہ مرنے کے بعد انسان اِس دنیا میں واپس نہیں آتا، جس رسول نے بڑے زور سے واضح کیا تھاکہ ہر انسان جو اِس دنیا میں آیا وہ ایک دن مرے گا اور جس رسول کے کلام میں یہ بات موجود تھی کہ ایک دن وہ خود بھی مرنے والا ہے اُس کی اُمت کے ایک جلیل القدر فرزند نے کہنا شروع کر دیا کہ جو شخص کہے گا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے اُس کی تلوار سے گردن اُڑا دی جائے گی۔۲؎ ہماری جماعت کے وہ لوگ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کا زمانہ نہیں دیکھا شاید اِس پر تعجب کرتے ہوں گے اور یہ واقعہ پڑھ کر اُن کو خیال آتا ہوگا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر صحابہ کو یہ خیال کیونکر پیدا ہوگیا کہ آپ فوت نہیں ہو سکتے۔مگر جب وہ اِس نقطۂ نگاہ سے دیکھیں گے تو اِس بات کا سمجھنا ان کے لئے کوئی مشکل نہیں رہے گا کہ جن وجودوں سے شدید محبت ہوتی ہے اُن کی جدائی کا اِمکان بھی دل پر گراں گزرتا ہے اور جب وہ وقت آجاتا ہے جس کا تصور بھی انسان کو بے چین کر دیتا ہے تو عارضی طور پر انسان پر ایک سکتہ کی سی حالت طاری ہو جاتی ہے۔ کیا ہی سچے جذبات کا آئینہ ہے حسانؓ کا وہ شعر جو اُنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر کہا جب آپ کی وفات اُن پر ثابت ہوگئی تو انہوں نے کہا ع
    کُنْتَ السَّوَا دَ لِنَاظِرِیْ۔ فَعَمِیَ عَلَیَّ النَّاظِرٗ
    مَنْ شَائَ بَعْدَکَ فَلْیَمُتْ۔ فَعَلَیْکَ کُنْتُ اُحَاذِرٗ۳؎
    یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! آپ تو میری آنکھ کی پتلی تھے آج آپ فوت ہوئے تو میری آنکھ بھی جاتی رہی۔
    یادرکھنا چاہئے کہ اِس شعر کی عظمت اور اِس کی خوبی کا اِس امر سے پتہ چلتا ہے کہ یہ شعر کہنے والا آخری عمر میں نابینا ہوگیا تھا اور اندھے کی نظر پہلے ہی جا چکی ہوتی ہے۔ پس اُس کے یہ کہنے کا کہ آپ میری آنکھ کی پتلی تھے آپ کی وفات سے مَیں اندھا ہوگیا مطلب یہ تھا کہ باوجود اِس کے کہ مَیں اندھا تھا آپ کی موجودگی میں مجھے اپنا اندھا پن بُرا معلوم نہیں ہوتا تھا، بے شک میں نے اپنی جسمانی آنکھیں کھودی تھیں مگر مَیں خوش تھا، مَیںشاداں تھا، مَیں فرحاں تھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ میری روحانی آنکھیں موجود ہیں، مجھے وہ پتلی حاصل ہے جس کے ساتھ میں اپنے خدا کو دیکھ سکتا ہوں۔ اگر میری جسمانی آنکھیں نہیں ہیں، اگر میں لوٹے اور گلاس کو نہیں دیکھ سکتا تو کیا ہوا مجھے وہ پتلی تو ملی ہوئی ہے جس سے مَیں اپنے پیدا کرنے والے خدا کو دیکھ سکتا ہوں۔ بھلا لوٹے اور گلاس اور رنگ کو دیکھنے میں کیا مزا ہے۔ مزا تو یہ ہے کہ انسان اپنے خدا کو دیکھ سکے لیکن آج جب وہ پتلی مجھ سے لے لی گئی ہے، جب وہ عینک مجھ سے چھین لی گئی ہے تو فَعَمِیَ عَلَیَّ النَّاظِرٗاے لوگو! تم مجھے پہلے اندھا کہا کرتے تھے لیکن حقیقتاً میں اندھا آج ہوا ہوں۔ مَنْ شَائَ بَعْدَکَ فَلْیَمُتُ میریبیوی بھی ہے، میرے بچے بھی ہیں اور عزیز اور رشتہ دار بھی ہیں مگر اب مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ ان میں سے کون مر جاتا ہے جو بھی مرتا ہے مر جائے اُس کی موت میرے لئے اس نقصان کا موجب نہیں ہو سکتی جس نقصان کا موجب میرے لئے یہ موت ہوئی ہے۔ فَعَلَیْکَ کُنْتُ اُحَاذِرٗ۔ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! میں تو اِسی دن سے ڈرتا تھا کہ میر ی یہ بینائی کہیں چھین نہ لی جائے۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس قسم کی تاریکیوں سے لوگوں کو نکالا، جس قسم کی تباہیوں سے عربوں کو بچایا، جس قسم کی ذلّت سے اور رُسوائی سے نکال کر ان کو ترقی کے بلند مقام تک پہنچایا اُس کو دیکھتے ہوئے آپ کے احسانوں کی جو قدروقیمت صحابہؓ کے دل میں ہوسکتی تھی وہ بعد میں آنے والے لوگوں کے دلوں میں نہیں ہوسکتی۔ مگر پھر بھی دنیا چلی اور چلتی چلی گئی یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت صرف زبانوں پر رہ گئی دلوں میں سے مٹ گئی۔خداتعالیٰ کا نور کتابوں میں تو رہ گیا مگر دماغوں میں سے جاتا رہا۔ دنیا خدا کو بھول گئی اور اُس کی لذتیں دنیا سے ہی وابستہ ہوگئیں۔ جس طرح کسی درخت کو ایک زمین سے اُکھیڑ کر دوسری جگہ لگادیا جاتا ہے اِسی طرح خدا کی زمین میں سے لوگوں کی جڑیں اُکھڑ گئیں اور شیطان کی زمین میں جا لگیں، ان کا ماحول شیطانی ہوگیا اور اُن کی تمام لذت اور اُن کا تما م سرور شیطانی کاموں سے وابستہ ہوگیا۔
    تب خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو لوگوں کی ہدایت کے لئے مبعوث کیا۔ دنیا اِن کی بعثت پر حیران رہ گئی کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب خداتعالیٰ کے انعامات کو اِس رنگ میں پانے والا کہ وہ قطعی اور یقینی طور پر خدا اور بندے کو آمنے سامنے کر دے کوئی نہیں آسکتا۔ جن لوگوں کی آنکھیں کھلی تھیں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دیکھا آپ پر ایمان لائے اور انہوں نے یوں محسوس کیا جیسے ایک کھویا ہوا بچہ اپنی ماں کی گود میں بیٹھ جاتا ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ لوگ جو صدیوں سے خداسے دُور جا چکے تھے اِس شخص کے ذریعہ خدا کی گود میں جابیٹھے ہیں۔ اُن کی خوشیوں کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا،اُن کی فرحت کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا۔ وہ لوگ جو سمجھتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خدا تعالیٰ کے کسی نبی کا مبعوث ہونا نا ممکن ہے جہاں اُن کے غصہ کی کوئی حد نہ تھی وہاں مومنوں کی خوشی اور اُن کی مسرت کی بھی کوئی حد نہ تھی اور اُنہوں نے یہ خیال کرنا شروع کر لیا کہ اتنے صدموں کے بعداب کوئی اور صدمہ انہیں پیش نہیں آئے گا۔ چنانچہ ہر شخص جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لاتا تھا اِلاَّ مَاشَائَ اللّٰہُجس کا ایمان ابھی اپنے کمال کو نہیں پہنچا تھا یہ تو نہیں سمجھتا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فوت نہیں ہوں گے مگر ہر شخص یہ ضرور سمجھتا تھا کہ کم سے کم میری موت کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ہوگی۔
    مگر ایک دن آیا کہ ہر شخص جو یہ سمجھ رہا تھا کہ میری موت کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہوں گے اُس نے دیکھا کہ وہ تو زندہ تھا مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے اُٹھا لیا۔ وہ وقت پھر اُن لوگوں کے لئے جو سچے مومن تھے نہایت مصیبت کا وقت تھااور یہ صدمہ ایسا شدید تھا کہ جس کی چوٹ کو برداشت کرنا بظاہر وہ ناممکن خیال کرتے تھے لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے جو چیز آتی ہے اُسے بہر حال لینا پڑتا ہے اور انسان کو نئی حالت کے تابع ہونا پڑتا ہے اِسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایاتھا کہ:
    ’’اے عزیزو! جب کہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھادے سو اَب ممکن نہیں ہے کہ خداتعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے۔ اِس لئے تم میری اِس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہوجائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اُس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا۔ اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک مَیں نہ جاؤں لیکن مَیں جب جاؤں گا تو پھر خدا اُس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی‘‘۔۴؎
    اللہ بہتر جانتا ہے کہ جماعت کی یہ حالت کب تک رہے گی، کب تک خدا کا نور ہمارے درمیان موجودرہے گا، کب تک ہم اپنے آپ کو اِس نور سے وابستہ رکھیں گے،مگر بہرحال یہ لمبا سلسلہ بتاتا ہے کہ کس طرح ایک کے بعد ایک چیز آئی۔ لوگ جب پہلی چیز کو بھول جاتے ہیں تو خدا دوسری چیز کو بھیج دیتا ہے اور دنیا کی خوشی اور اُس کی شادمانی کا سامان مہیا کردیتا ہے لیکن ایک چیز ہے جو شروع سے آخر تک ہمیں تمام سلسلہ میں نظر آتی ہے۔ آدمؑ آیا اور آدم ؑکے ساتھ خدا آیا۔آدمؑ چلا گیا لیکن ہمارا زندہ خدا اِس دنیا میںموجود رہا، نوحؑ آیا اور نوحؑ کے ساتھ خدا آیا۔ نوحؑ چلا گیا لیکن ہمارا زندہ خدا اِس دنیا میں موجود رہا، ابراہیم ؑ آیا اور ابراہیم ؑ کے ساتھ خدا آیا ابراہیم ؑ فوت ہوگیا لیکن ہمارا زندہ خدا اِس دنیا میں موجود رہا۔ اِسی طرح اسماعیل ؑ، اسحاقؑ، یعقوبؑ، یوسفؑ ،موسیٰ ؑ ،عیسیٰ ؑ اور آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میںسے ہر ایک کے ساتھ خدا آیا۔ اِن میں سے ہر شخص فوت ہوگیا لیکن ہمارا خدا زندہ رہا، زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔ ہر شخص جواُس سے تعلق پیدا کر لیتا ہے وہ ہمیشہ اپنی جڑیں اِس زمین میں پائے گا جو خدا کی رحمت کے پانی سے سیراب ہوتی ہے۔ اُس پودے کی طرح اپنے آپ کو نہیں پائے گا جس کی جڑیں اچھی زمین میں سے اُکھیڑ کر ایک خراب اور ناقص زمین میں لگا دی جاتی ہیں۔
    پس یاد رکھو! جسمانی تناسل انسان کو موت اور فنا کی طرف لے جاتا ہے گو وہ انسان کے لئے خوشی کا بھی موجب ہوتا ہے، راحت کا بھی موجب ہوتاہے مگر روحانی تناسل جس کے ذریعہ ایک پاک انسان دوسرے پاک انسان کو پیدا کرنے کا موجب بنتا ہے دنیا سے رنج اور غم کو بالکل مٹا دیتا ہے کیونکہ اِس تعلق کیلئے موت نہیں، اِس تعلق کیلئے فنا نہیں اور اگر بنی نوع انسان چاہیں تو وہ اپنی زندگی کو دائمی زندگی بناسکتے ہیں۔ جس کاطریق یہی ہے کہ ہر نسل قدرتِ ثانیہ کے مظاہر کے ذریعہ اِس طرح خدا تعالیٰ سے وابستہ رہے جس طرح پہلی نسل اُس سے وابستہ رہی ہو بلکہ اِس سے بھی بڑھ کر۔ کیونکہ روحانی تناسل کا انقطاع ایک موت ہے لیکن جسمانی تناسل کا انقطاع صرف ایک عارضی صدمہ۔
    تم عیسائیوں کو دیکھ لو انہیں تم کچھ کہہ لو۔چا ہے اُن کو خدا کا منکر کہو، چاہے اُن کو صلیب پرست کہو، چاہے اُن کو مشرک کہو اور چاہے اُن کو ضالّین کہہ لو مگر ایک مثال اُن کے اندر ایسی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کی آنکھ اُن کے سامنے جھک جانے پر مجبور ہوجاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے سورہ نور کی آیت استخلاف میں وعدہ کیا تھا کہ تمہارے اندر خلافت قائم کی جائے گی اور اِس وعدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے اندر خلافت قائم بھی کی لیکن مسلمانوں نے خداتعالیٰ کی قائم کردہ خلافت کو اپنی نادانی سے اُڑا دیااور عیسائیوں نے خود خلافت قائم کی جو اُنیس سَو سال کا لمبا عرصہ گزارنے کے باوجود آج تک اُن کے اندر قائم ہے۔ عیسائیوں کے پوپ کو دیکھ لو اُس کو وہ خلیفہ کے برابر ہی سمجھتے ہیں اور باوجود یکہ مذہب نے اُن کو کوئی ہدایت نہیں دی تھی انہوں نے خداتعالیٰ کی گزشتہ سنت کو دیکھتے ہوئے اِسی میں اپنی بہتری سمجھی اور کہا آؤ ہم اس خدا ئی سنت سے فائدہ اُٹھائیں اور اپنے اندر خلافت قائم کریں۔ وہ قوم دینی لحاظ سے بالکل تباہ ہو گئی، وہ قوم اچھے اعمال کو کھو بیٹھی، اس قوم نے اپنے آپ کو کُلّی طور پر دُنیوی رنگ میں رنگین کر لیا، اس قوم نے خداتعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کی لیکن اُنہوں نے آج تک اِس چیز کو مضبوطی کے ساتھ پکڑا ہوا ہے کہ آج بھی ان کا پوپ یورپ کے بڑے سے بڑے تاجدار اور شہنشاہ کی برابری کرتا ہے اور بعض تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ بادشاہت ہمیں پوپ سے ہی پہنچی ہے۔ یہ وہ چیز تھی جو اُن کی کامیابی کا موجب ہوئی۔ اگرمسلمان بھی اِس کو قائم رکھتے تو آج اِن کو یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔ اِنہوں نے خلافت کو اُڑا دیا اورپھر اپنے دلوں کو تسکین دینے کے لئے ہر بادشاہ کو خلیفہ کہنا شروع کر دیا مگر کُجا لکڑی کی بنی ہوئی بھینس اور کُجا اصل بھینس ۔ لکڑی کی بنی ہوئی بھینس کو دیکھ کر کوئی شخص خوش نہیں ہو سکتالیکن وہ اپنی اصل بھینس کو دیکھ کر ضرور خوش ہوتا ہے چاہے وہ کتنی ہی لاغر اور دُبلی پتلی کیوں نہ ہو اور چاہے وہ دودھ دے یا نہ دے۔
    مسلمانوں نے چونکہ خدا تعالیٰ کی قائم کردہ خلافت کی ناقدری کی اور اُسے اُڑا دیا اور پھر اِس کی برکات کو سمجھنے کی کوشش نہ کرتے ہوئے دُنیوی بادشاہوں کو خلیفہ کہنا شروع کردیا اس لئے وہ خلافت کی برکات سے محروم ہوگئے۔ اب یہ ہماری جماعت کا کام ہے کہ وہ اِس غفلت اور کوتاہی کا ازالہ کرے اور خلافت احمدیہ کوایسی مضبوطی سے قائم رکھے کہ قیامت تک کوئی دشمن اِس میں رخنہ اندازی کرنے کی جرأت نہ کر سکے اور جماعت اپنی روحانیت اور اتحاداور تنظیم کی برکت سے ساری دنیا کو اِسلام کی آغوش میں لے آئے۔
    بے شک جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ دنیا چلتی چلی جاتی ہے اور ایسے رنگ میں جاری ہے کہ ہرزمانہ کے لوگ اپنے آپ کوپہلوں سے ترقی یافتہ سمجھتے ہیں۔ مرنے والے مر جاتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں اب کیا ہوگا؟ لیکن ابھی ایک صدی بھی نہیں گزرتی کہ لوگ کہنا شروع کردیتے ہیں اَب ہم زیادہ عقلمند ہیں پہلے لوگ جاہل اور علومِ صحیحہ سے بے بہرہ تھے ۔ گویا وہی جن کے متعلق ایک زمانہ میں کہا جاتا ہے کہ اُن کے بغیر کوئی کام نہیں ہو سکتا انہیں آئندہ آنے والے احمق اور جاہل قرار دیتے ہیں لیکن روحانی تعلق ایسا نہیں ہوتا کہ اِس میںایک دوسرے کو جاہل کہا جاسکے نہ یہ تعلق اِس قسم کی مایوسی پیدا کرتا ہے جس قسم کی مایوسی جسمانی تعلق کا انقطاع پیدا کرتا ہے۔ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو شخص خدا سے تعلق پیدا کرلیتا ہے اُسے بھی غم ہو سکتا ہے لیکن مایوسی اُس کے دل میں پیدا نہیں ہو سکتی۔ غم ایک ایسی چیز ہے جسے خدا نے روحانی ترقی کیلئے اِس دنیا میں ضروری قرار دیا ہے۔ دو وفائیں ہیں جو خدا نے ضروری قرار دی ہیں ایک اپنے ساتھ اور ایک اپنے بندوں کے ساتھ۔ اگر غم نہ ہوتو یہ بندوں کے ساتھ وفا نہیں سمجھی جائے گی اور اگر مایوسی ہو تو یہ خدا کے متعلق بے وفائی ہوگی اِسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ آنکھ آنسو بہاتی ہے، دل غمگین ہے مگر ہم کہتے وہی ہیں جس کا ہمیں خدا نے حکم دیا۔ ۵؎ تو جہاں انسان کو دنیا میں کئی قسم کی خوشیاں حاصل ہوتی ہیں وہاں اُسے یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ یہ سب خوشیاں عارضی ہیں۔ اُسے وہ حقیقی تعلق استوار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جو موت کو مٹا دے۔ موت اُسی صورت میں موت ہے جب انسان یہ سمجھتا ہو کہ میں ایک ایسی چیز سے محروم کیا گیا ہوں جس کا کوئی قائم مقام نہیں۔ روحانیت میں چونکہ انسان کا اصل تعلق خدا سے ہوتا ہے اور اِس تعلق میں انقطاع واقع نہیں ہو سکتا جب تک کوئی شیطان سے تعلق پیدا نہ کرلے۔ اِس لئے کسی کی موت اُسے اپنے محبوب سے جدا نہیں کر سکتی۔ اس طرح اگر جسمانی طور پر اُس کے عزیزوں اور رشتہ داروں میں سے بعض لوگ مر جاتے ہیں تو مایوسی اُس پر طاری نہیں ہوتی کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ جدائی عارضی ہے اور ایک دن آنے والا ہے جب ہم پھر ایک دوسرے سے مل جائیں گے لیکن جب انسان کا خداسے تعلق نہیں ہوتا تو ہر موت، ہر جدائی اور ہر تفرقہ اُسے دائمی معلوم ہوتا ہے اور وہ اُس کے دل کو ہمیشہ کیلئے مایوسی اور تاریکی میں مبتلا کر دیتا ہے‘‘۔ (انوارالعلوم جلد۱۷ صفحہ۳۵۷ تا۳۶۷)
    ۱؎

    (المؤمن: ۳۵)
    ۲؎ اسد الغابۃ جلد۳ صفحہ۲۲۱ مطبوعہ ریاض ۱۲۸۶ھ
    ۳؎ شرح دیوان حسان بن ثابت صفحہ۲۲۱ مطبوعہ آرام باغ کراچی
    ۴؎ الوصیت صفحہ۷۔ روحانی خزائن جلد۲۰ صفحہ۳۰۵
    ۵؎ بخاری کتاب الجنائز باب قول النبیﷺ انابک لمحزونون

    خلیفہ کی زندگی میں کسی اور کے خلیفہ ہونے
    کا ذکر کرنا گناہ ہے
    حضور انور نے ۲۷؍ اکتوبر ۱۹۴۵ء کو نماز عصر کے بعد نو تعمیر شدہ فضل عمر ہوسٹل واقع دارالعلوم کا افتتاح کرتے ہوئے تقریر فرمائی۔ اس میں جماعت کے ۱۹۱۴ء کے حالات کا ذکر کیا اور احبابِ جماعت کو ابتدائی صحابہ اور مبائعین جیسا ایمان پیدا کرنے کی ضرورت کی طرف توجہ بھی دلائی اور یہ نکتہ بھی بیان فرمایا کہ خلیفہ کی زندگی میں دوسرے خلیفہ کا ذکر کرنا گناہ ہے فرمایا:۔
    ’’سب سے عجیب واقعہ میں آپ لوگوں کو سناؤں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی وفات سے چند دن پہلے ایک پروفیسر تھا جو ایم۔ اے تھا۔ میرا گہرا دوست اور حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کا مقبول شاگرد۔ اُس کے والد سے جو جموں میں جج تھا حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی ذاتی دوستی تھی۔ وہ خود بھی احمدیت میں اخلاص رکھتا تھا اور میرا دوست ہونے کی وجہ سے میرا ہم سبق بھی بن جایا کرتا تھا اور حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی صحبت میں بیٹھا کرتا تھا۔ جب اسے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی بیماری کی اطلاع پہنچی تو وہ یہاں آیا اور تین چار روز یہاں رہا۔ مسجد مبارک میں آنے کے لئے ہمارے گھر کا ایک دروازہ ہوتا تھا جو سیڑھیوں کے اندر کھلتا تھا ایک دن اُس پر آ کر اُس نے دستک دی اور میں باہر نکلا۔ اُس نے میرا ہاتھ نہایت گرم جوشی سے پکڑ لیا اور رقت سے اُس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اُس نے کہا مجھے اور چھٹی نہیں مل سکتی اس لئے میں واپس علی گڑھ جا رہا ہوں آپ اس مصافحہ کو میری بیعت سمجھیں۔ میں نے کہا (اس کا نام تیمور تھا۔ اور اب ایک کالج کا وائس پرنسپل ہے) تیمور! تمہارا حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل سے کتنا گہرا تعلق ہے اور تم ان سے سنتے رہے ہو کہ خلیفہ کی زندگی میں کسی اور کے خلیفہ ہونے کا ذکر کرنا گناہ ہے تم بجائے اِس کے کہ اچھا نمونہ دکھاتے بہت بُرا نمونہ پیش کر رہے ہو۔ میرے یہ کہنے پر اُسے اور بھی رقت آ گئی اور وہ بے ساختہ رونے لگ گیا اور کہا میں جانتا ہوں مگر مجھ سے رہا نہیں گیا کیونکہ میں فتنہ کے آثار دیکھ رہا ہوں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی حالت نازک ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی آنکھیں بند ہوتے ہی قابو یافتہ لوگ نظامِ سلسلہ کو بدلنے کی کوشش کریں گے اِس وجہ سے میں نے بیعت کے لئے کہا ہے۔ یہ سات آٹھ دن حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی وفات سے پہلے کا واقعہ ہے۔ وہ میرا گہرا دوست تھا اور چند ہی گہرے دوستوں میں سے تھا۔ اس نے اس جوش سے مصافحہ کیا اور یہ جانتے ہوئے کہ خلیفہ کی زندگی میں کسی اور کے خلیفہ ہونے کا ذکر کرنا جائز نہیں بے تاب ہو کر کیا اور روتے ہوئے کہا کہ اسے میری بیعت سمجھیں مگر حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی وفات کے بعد جماعت نے جب یہ فیصلہ کیا کہ خلافت کو قائم رکھیں گے اور خداتعالیٰ نے مجھے توفیق دی کہ اس فیصلہ کے مطابق جو قرآن اور اسلام کے رو سے درست ثابت ہے میں جماعت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لوں تو تیسرے ہی دن اس کی طرف سے تار پہنچا کہ فوراً مولوی محمد علی وغیرہ سے صلح کر لو ورنہ انجام اچھا نہ ہوگا۔ اِس سے قیاس کر لو کہ وہ کیسے ہیجان کا زمانہ تھا جو شخص آٹھ ہی دن پہلے میرا ہاتھ پکڑ کر کہتا ہے کہ اِسے میری بیعت سمجھو اور میں اسے ملامت کرتا ہوں کہ تمہیں ایسا نہیں کہنا چاہیے وہی آٹھ دن بعد مجھے کہتا ہے کہ تم نے غلطی کی ہے فوراً مولوی محمد علی صاحب سے صلح کر لو ورنہ تمہارا انجام اچھا نہ ہوگا۔ اِس سے پتہ لگتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا کہ ایک شخص رات کو مومن سوئے گا اور صبح کو کافر اُٹھے گا اور ایک شخص رات کو کافر سوئے گا اور صبح کو مومن اُٹھے گا ۱؎ وہ بات پیدا ہوگئی تھی۔ تو آج آپ لوگ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ وہ دن کیسے خطرناک تھے اور خداتعالیٰ نے کس قسم کے فتنوں میں سے جماعت کو گزارا۔ اُس حالت کا آج کی حالت سے مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ اگر وہی جوش اور وہی اخلاص جو اُس وقت جماعت میں تھا آج بھی آپ لوگوں میں ہو تو یقینا تم پہاڑوں کو ہِلا سکتے ہو۔ اُس وقت جماعت کے لوگ بہت تھوڑے تھے مگر خدا تعالیٰ نے ان کو ایسا ایمان اور ایسا جوش بخشا کہ کوئی بڑی سے بڑی روک بھی انہیں کچھ نہ نظر آئی تھی۔ آج کے نوجوان اور آج کی جماعت اگر ویسا ہی ایمان پیدا کرلے تو دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کر سکتی ہے۔ جو کام ایک پونڈ بارود کر سکتا ہے ایک ٹن بارود اس سے بہت زیادہ کام کر سکتا ہے۔ اگر اُس وقت جماعت کی حیثیت پونڈ کی تھی تو آج خدا کے فضل سے ٹن کی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اُس وقت جماعت کے لوگ بارود تھے کیا آج بھی وہ بارود ہیں یا ریت کا ڈھیر؟ اگر بارود ہیں تو یقینا آج اُس وقت کی نسبت بہت زیادہ کام کر سکتے ہیں لیکن اگر ریت ہیں تو اُس وقت کے کام کا سواں حصہ بھی نہیں کر سکتے۔ پس میں نوجوانوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اپنے اندر اخلاص پیدا کریں۔
    مجھے اُس وقت کے ایک طالب علم کا واقعہ یاد آ گیا ۔ اب وہ دارجلینگ میں تاجر ہے۔ اُس وقت یہاں سوال پیدا ہوا کہ جماعت کیا چاہتی ہے؟ آیا خلافت قائم رہے یا نہ؟ اس کے لئے لوگوں کی رائے نوٹ کرنے کا بعض اصحاب نے انتظام کیا۔ بعض سکول کے لڑکوں نے بھی کہا کہ رائے نوٹ کرنے والے کاغذ ہمیں بھی دو ہم بھی دستخط کرائیں گے۔ ان سے کہا گیا کہ تمہارے ہیڈماسٹر صاحب خلاف ہیں تمہیں تکلیف نہ پہنچے۔ اُس وقت مولوی صدر دین صاحب ہیڈ ماسٹر تھے مگر لڑکوں نے کہا ہمیں نقصان کی پرواہ نہیں۔ اس طرح اس لڑکے نے بھی کاغذ لے لیا اور جو مہمان آتے ان کے سامنے پیش کرتا کہ اپنی رائے لکھ دیجئے۔ اسے دیکھ کر ہیڈماسٹر آیا اور اس نے اس کے ہاتھ سے زبردستی کاغذ چھین کر پھاڑ دیا اور کہا جاؤ ایسا نہ کرو یہ میرا حکم ہے مگر اس نے پھر کاغذلیا اور پنسل سے وہی عبارت اس پر لکھ کر جو پہلے کاغذ پر لکھی تھی لوگوں کے سامنے پیش کرنے لگ گیا۔ پھر ہیڈماسٹر آیا اور اس نے کاغذ چھین کر پھاڑ ڈالا اور دستخط کرانے سے منع کیا۔ اس پر اس نے کہا میں آپ کے ادب کی وجہ سے اور تو کچھ نہیں کہتا مگر یہ دینی کام ہے میں اسے چھوڑ نہیں سکتا۔ اس کا والد بھی مخالف تھا اس نے اسے خرچ دینا بھی بند کر دیا مگر اس نے کوئی پرواہ نہ کی اور آج اچھا تاجر ہے۔‘‘
    (الفضل یکم نومبر ۱۹۴۵ء)
    ۱؎ مسلم کتاب الایمان باب الحث علی المبادرۃ بالاعمال… الخ

    نبوت اور خلافت اپنے وقت پر ظہور پذیر ہو جاتی ہیں
    (تقریر ۲۷؍ دسمبر ۱۹۴۵ء بر موقع جلسہ سالانہ)
    تشہّد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    انسانی زندگی ایک دَور بلکہ چند ادوار کا نام ہے ایک دَور چل کر ختم ہوتا ہے تو ایک اور دَور چل پڑتا ہے وہ ختم ہوتا ہے تو پھر ایک اور دَور ویسا ہی چل پڑتا ہے۔ جیسے رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات آتی ہے اسی طرح ایک دَور کے بعد دوسرا چلتا چلا جاتا ہے اور الٰہی منشاء اسی قسم کا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارے دَور ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا ان اَدوار کے لوگ ایک دوسرے کی نقلیں کر رہے ہیں۔ مومنوں کی باتیں ویسی ہی معلوم ہوتی ہیں جیسے پہلے مومنوں کی اور کافروں کی باتیں ویسی ہی معلوم ہوتی ہیں جیسی پہلے کافروں کی۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ حیرت کا اظہار فرماتا ہے کہ ۱؎ ان کافروں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہی باتیں کہتے ہیں جو پہلے نبیوں کو ان کے نہ ماننے والوں نے کہیں اور کوئی ایک بات بھی ایسی نہیں جو نئی ہو اور پہلے انبیاء کو ان کے مخالفوں نے نہ کہی ہو۔ عیسائی اور یہودی مصنفین یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ہمیں کیا علم ہے کہ پہلے انبیاء کے دشمنوں نے وہی اعتراض اپنے وقت کے نبیوں پر کئے تھے یا نہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کئے گئے۔ اور ہمارے پاس کیا ثبوت ہے اس با ت کا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی کہ مجھے یہ الہام ہوا ہے کہ آدمؑ کے دشمنوں نے بھی یہی اعتراض کئے تھے، نوحؑ کے دشمنوں نے بھی یہی اعتراض کئے تھے، ابراہیمؑ کے دشمنوں نے بھی یہی اعتراض کئے تھے۔ یہ کہنا کہ یہ خبریں آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام کی گئی ہیں محض باتیں ہی باتیں ہیں ان میں حقیقت کچھ بھی نہیں بلکہ یہ قصّے آدمؑ اور نوحؑ اور ابراہیمؑ کے منہ سے کہلوا دیئے گئے ہیں۔ اگر ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا زمانہ نہ ملا ہوتا اور کوئی اس بات کا ثبوت ہم سے مانگتا تو ہمیں مشکل پیش آتی لیکن اس علم کے زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق بعینہٖ وہی باتیں کہی گئیں جو جہالت کے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں نے کہی تھیں اور وہی اعتراض آپؐ پر کئے گئے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دشمنوں نے آپ پر کئے تھے۔ اس سے ہم نے یقین کر لیا اور ہمارے لئے شک کی کوئی گنجائش نہ رہی کہ واقعی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دشمن وہی باتیں کہتے ہونگے جو حضرت آدمؑ، حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰ ؑاور حضرت عیسیٰؑ کے دشمن کہتے تھے کیونکہ آج ۱۳۰۰ سال کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دشمن آپ پر وہی اعتراض کرتے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر آپؐ کے دشمنوں نے کئے اور ان میں اتنی مطابقت اور مشابہت ہوتی ہے کہ حیرت آتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دشمن جب آپ پر اعتراض کرتے تو آپ فرماتے یہی اعتراض آج سے ۱۳۰۰ سال پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر آپؐ کے مخالفین نے کئے تھے جب وہ باتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے قابل اعتراض نہ تھیں بلکہ آپؐ کی صداقت کی دلیل تھیں تو وہ میرے لئے کیوں قابلِ اعتراض بن گئی ہیں۔ پس جو جواب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا دیا وہی جواب مَیں تمہیں دیتا ہوں۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جواب میں یہ طریق اختیار فرماتے اور لوگوں پر اس طریق سے حجت قائم کرتے تو مخالفین شور مچاتے کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی برابری کرتا ہے حالانکہ یہ صاف بات ہے کہ جو اعتراض ابوجہل کرتا تھا جو شخص اُن اعتراضوں کو دُہراتا ہے وہ مثیلِ ابوجہل ہے اور جس شخص پر وہ اعتراض کئے جاتے ہیں وہ مثیلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ پس ہر زمانہ میں مومنوں اور کافروں کی پہلے مومنوں اور کافروں سے مشابہت ہوتی چلی آئی ہے لیکن دنیا ہمیشہ اس بات کو بھول جاتی ہے اور جب کبھی نیا دور آتا ہے تو نئے سرے سے لوگوں کو یہ سبق دینا پڑتا ہے اور اس اصول کو دنیا کے سامنے دُہرانا پڑتا ہے اور خدا کی طرف سے آنے والا لوگوں کے اس اصول کو بھول جانے کی وجہ سے لوگوں سے گالیاں سنتا ہے اور ذلّتیں برداشت کرتا ہے۔ اس کے اپنے اور بیگانے، دوست اور دشمن سب مخالف ہو جاتے ہیں اور قریبی رشتہ دار سب سے بڑے دشمن بن جاتے ہیں۔
    حدیثوں میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار پاس کے مکانوں میں نئے آنے والوں کو روکنے کے لئے بیٹھے رہتے تھے اور جب کوئی شخص مسلمانوں کے پاس آتا تو وہ رستہ میں اسے روک لیتے اور سمجھاتے کہ یہ شخص ہمارے رشتہ داروں میں سے ہے ہم اس کے قریبی رشتہ دار ہونے کے باوجود اس کو نہیں مانتے کیونکہ ہم لوگ جانتے ہیں کہ سوائے جھوٹ کے اور کوئی بات نہیں۔ ہم آپ لوگوں سے اس کو زیادہ جانتے ہیں ہم سے زیادہ آپ کو واقفیت نہیں ہو سکتی ہم اس کے ہر ایک راز سے واقف ہیں بہتر ہے کہ آپ یہیں سے واپس چلے جائیں اسی میں آپ کا فائدہ ہے۔ یہی حال ہم نے ان کا دیکھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے رشتہ دار تھے۔ ان کی باتوں کو سن کر جو وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف کیا کرتے اور ان کی حرکات کو دیکھ کر جو وہ باہر سے آنے والوں کو روکنے کے لئے کرتے انسان حیرت زدہ ہو جاتا ہے کہ ان کی باتوں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کی باتوں میں کس قدر مشابہت ہے۔
    مرزا امام الدین سارا دن اپنے مکان کے سامنے بیٹھے رہتے۔ دن رات بھنگ گھٹا کرتی اور کچھ وظائف بھی ہوتے رہتے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دیکھ کر اُنہوں نے پیری مریدی کا سلسلہ شروع کر لیا تھا۔ جب کوئی نیا احمدی باہر سے آتا یا کوئی ایسا آدمی جو احمدی تو نہ ہوتا لیکن تحقیق کے لئے قادیان آتا تو اُس کو بُلا کر اپنے پاس بیٹھا لیتے اور اُسے سمجھانا شروع کر دیتے۔ میاں تم کہاں اس کے دھوکا میں آ گئے یہ تو محض فریب اور دھوکا ہے اگر حق ہوتا تو ہم لوگ جو کہ بہت قریبی رشتہ دار ہیں کیوں پیچھے رہتے۔ ہمارا اور مرزا صاحب کا خون ایک ہے تم خود سوچو بھلا خون بھی کبھی دشمن ہو سکتا ہے۔ اگر ہم لوگ انکار کرتے ہیں تو اس کی وجہ سوائے اِس کے اور کوئی نہیں کہ ہم خوب جانتے ہیں کہ یہ شخص صحیح راستے سے لوگوں کو پھیرنے والا ہے اور اس نے لوگوں سے پیسے بٹورنے کے لئے یہ دکان کھول رکھی ہے۔ اب حیرت آتی ہے کہ کونسا ابوجہل آیا جس نے مرزا امام الدین کو یہ باتیں سکھائیں کہ تم باہر سے آنے والوں کو اس طریق سے روکا کرو یہ نسخہ میرا آزمایا ہوا ہے یا پھر یہ ماننا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے وہی باتیں مسمریزم کے ذریعہ مرزا امام الدین سے کہلوالیں۔ دونوں میں سے ایک بات ضرور صحیح ہوگی۔
    لدھیانہ کے ایک دوست نور محمد نامی نَو مسلم تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ بہت محبت و اخلاص رکھتے اُنہوں نے مصلح موعود ہونے کا دعویٰ بھی کیا تھا وہ کہا کرتے تھے کہ بیٹا جب باپ کے پاس جائے تو اسے کچھ نہ کچھ نذر ضرور پیش کرنی چاہیے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ میں مصلح موعود ہونے کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بیٹا ہوں اور چونکہ وہ اپنے آپ کو خاص بیٹا سمجھتے تھے اُنہوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ کم سے کم ایک لاکھ روپیہ تو انہیں ضرور پیش کرنا چاہیے۔ کہتے ہیں ابھی اُنہوں نے چالیس پچاس ہزار روپیہ ہی جمع کیا تھا کہ وہ فوت ہوگئے اور نہ معلوم روپیہ کون کھا گیا۔ اُنہوں نے بہت سے چوہڑے مسلمان کئے اور ان سے کہا کرتے تھے کہ کچھ روپیہ جمع کرو پھر تمہیں دادا پیر کے پاس ملاقات کے لئے لے چلوں گا کچھ عرصہ کے بعد ان نَومسلموں نے کہا کہ پتہ نہیں کہ آپ کب جائیں گے آپ ہمیں اجازت دیں کہ ہم قادیان ہو آئیں۔ اس پر اُنہوں نے ان نَو مسلموں کو قادیان آنے کی اجازت دے دی۔ وہ قادیان آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جب سیر کے لئے نکلے تو وہ باہر کھڑے ہوئے تھے غالباً وہ ۹ آدمی تھے۔ ان میں سے ہر ایک نے ایک ایک اشرفی پیش کی کیونکہ ان کے پیر نے کہا تھا کہ تم دادا پیر کے پاس جا رہے ہو میں تمہیں اس شرط پر جانے کی اجازت دیتا ہوں کہ تم دادا پیر کے سامنے سونا پیش کرو۔ چنانچہ اُنہوں نے ذکر کیا کہ ہمارے پیر نے ہمیں اس شرط پر آنے کی اجازت دی ہے کہ ہم میں سے ہر ایک آدمی آپ کی خدمت میں سونا پیش کرے۔ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ وہ سیر کو چلے گئے جب سیر سے واپس آئے تو چونکہ اُن کو حقہ پینے کی عادت تھی اس لئے وہ حقہ پینے کے لئے مرزا امام الدین کے پاس چلے گئے۔ وہ حقہ پینے کے لئے بیٹھے ہی تھے کہ مرزا امام الدین نے کہنا شروع کیا انسان کو کام وہ کرنا چاہیے جس سے اُسے کوئی فائدہ ہو۔ تم جو اتنی دور سے پیدل سفر کر کے آئے ہو (کیونکہ ان کے پیر کا حکم تھا کہ تم چونکہ دادا پیر کے پاس جا رہے ہو اس لئے پیدل جانا ہوگا) بتاؤ تمہیں یہاں آنے سے کیا فائدہ ہوا؟ ایمان انسان کو عقل بھی دے دیتا ہے بلکہ عقل کو تیز کر دیتا ہے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد ان میں سے ایک نَو مسلم کہنے لگا کہ ہم پڑھے لکھے تو ہیں نہیں اور نہ ہی کوئی علمی جواب جانتے ہیں اصل بات یہ ہے کہ آپ کو بھلے مانس مرید ملے نہیں اس لئے آپ چوہڑوں کے پیر بن گئے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ ہمیں کیا ملا؟ آپ مرزا صاحب کی مخالفت کر کے مرزا سے چوہڑے بن گئے اور ہم مرزا صاحب کو مان کر چوہڑوں سے مرزا ہوگئے۔ لوگ ہمیں مرزائی مرزائی کہتے ہیں یہ کتنا بڑا فائدہ ہے جو ہمیں حاصل ہوا۔ اب دیکھو یہ کیسی مشابہت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے رشتہ داروں کی باتوں میں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے رشتہ داروں کی باتوں میں۔
    مرزا علی شیر صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سالے اور مرزا فضل احمد صاحب کے خسر تھے انہیں لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس جانے سے روکنے کا بڑا شوق تھا۔ راستہ میں ایک بڑی لمبی تسبیح لے کر بیٹھ جاتے، تسبیح کے دانے پھیرتے رہتے اور منہ سے گالیاں دیتے چلے جاتے بڑا لٹیرا ہے، لوگوں کو لُوٹنے کے لئے دُکان کھول رکھی ہے۔ بہشتی مقبرہ کی سڑک پر دارالضعفاء کے پاس بیٹھے رہتے ۔ اُس وقت یہ تمام زمین زیر کاشت ہوتی تھی۔ عمارت کوئی نہ تھی۔ بڑی لمبی سفید داڑھی تھی سفید رنگ تھا۔ تسبیح ہاتھ میں لئے بڑے شاندار آدمی معلوم ہوتے تھے اور مغلیہ خاندان کی پوری یادگار تھے۔ تسبیح لئے بیٹھے رہتے جو کوئی نیا آدمی آتا اُسے اپنے پاس بُلا کر بٹھا لیتے اور سمجھانا شروع کر دیتے کہ مرزا صاحب سے میری قریبی رشتہ داری ہے آخر میں نے کیوں نہ اُسے مان لیا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ میں اُس کے حالات سے اچھی طرح واقف ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ یہ ایک دُکان ہے جو لوگوں کو لُوٹنے کے لئے کھولی گئی ہے۔ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ باہر سے پانچ بھائی آئے غالباً وہ چک سکندر ضلع گجرات کے رہنے والے تھے۔ اب تو لوگ جلسہ کے دوران میں بھی باہر پھرتے رہتے ہیں لیکن ان پہلے لوگوں میں اخلا ص نہایت اعلیٰ درجہ کا تھا اور قادیان میں دیکھنے کی کوئی خاص چیز نہ تھی نہ منارۃ المسیح تھا نہ دفاتر تھے، نہ مسجد مبارک کی ترقیاں ایمان پرور تھیں، نہ مسجد اقصیٰ کی وسعت اس قدر جاذب تھی، نہ محلوں میں یہ رونق تھی، نہ کالج تھا، نہ سکول تھے۔ اُن دنوں لوگ اپنے اخلاص سے خود ہی قابلِ زیارت جگہ بنا لیا کرتے تھے۔ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے والد صاحب کا باغ ہے اسے دیکھو اور یہ حضرت صاحب کے لنگر کا باورچی ہے اس سے ملو اور اس سے باتیں پوچھو۔ ان کا ایمان اسی سے بڑھ جاتا تھا۔ اُن دنوں ابھی بہشتی مقبرہ بھی نہ بنا تھا صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے والد کا لگایا ہوا باغ تھا۔ لوگ وہاں برکت حاصل کرنے کیلئے جاتے اور علی شیر صاحب رستہ میں بیٹھے ہوئے ہوتے۔ وہ پانچوں بھائی بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا باغ دیکھنے کے لئے گئے تو اُن میں سے ایک جو زیادہ جوشیلا تھا وہ کوئی دو سَوگز آگے تھا اور باقی آہستہ آہستہ پیچھے آ رہے تھے۔ علی شیر نے اُسے دیکھ کر کہ یہ باہر سے آیا ہے اپنے پاس بُلا لیا اور پوچھا کہ مرزا کو ملنے آئے ہو؟ اُس نے کہا ہاں مرزا صاحب کو ہی ملنے آیا ہوں۔ علی شیر نے اُس سے کہا ذرا بیٹھ جاؤ اور پھر اُسے سمجھانا شروع کیا کہ میں مرزا کے قریبی رشتہ داروں میں سے ہوں میں اِس کے حالات سے خوب واقف ہوں، اصل میں آمدنی کم تھی بھائی نے جائداد سے بھی محروم کر دیا اس لئے یہ دُکان کھول لی ہے۔ آپ لوگوں کے پاس کتابیں اور اشتہار پہنچ جاتے ہیں آپ سمجھتے ہیں کہ پتہ نہیں کتنا بڑا بزرگ ہوگا پتہ تو ہم کو ہے جو دن رات اس کے پاس رہتے ہیں۔ یہ باتیں میں نے آپ کی خیر خواہی کے لئے آپ کو بتائی ہیں۔ چک سکندر سے آنے والے دوست نے بڑے جوش کے ساتھ مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ علی شیر صاحب سمجھے کہ شکار میرے ہاتھ آ گیا ہے۔ اُس دوست نے علی شیر صاحب کا ہاتھ پکڑ لیا اور پکڑ کر بیٹھ گیا۔ گویا اِسے اُن سے بڑی عقیدت ہوگئی ہے۔ علی شیر صاحب دل میں سمجھے کہ ایک تو میرے قابو میں آ گیا ہے۔ اِس دوست نے اپنے باقی بھائیوں کو آواز دی کہ جلدی آؤ جلدی آؤ۔ اب تو مرزا علی شیر پھولے نہ سمائے کہ اِس کے کچھ اور ساتھی بھی ہیں وہ بھی میرا شکار ہو جائیں گے اور مَیں ان کو بھی اپنا گرویدہ بنا لوں گا۔ اس دوست کے باقی ساتھی دَوڑ کر آگئے تو اس نے کہا۔ مَیں نے تمہیں اِس لئے جلدی بلایا ہے کہ ہم قرآن کریم اور حدیث میں شیطان کے متعلق پڑھا کرتے تھے مگر شکل نہیں دیکھی تھی آج اللہ تعالیٰ نے اُس کی شکل بھی دکھا دی ہے تم بھی غور سے دیکھ لو یہ شیطان بیٹھا ہے۔ مرزا علی شیر غصہ سے ہاتھ واپس کھینچتے لیکن وہ نہ چھوڑتا تھا اور اپنے بھائیوں سے کہتا جاتا تھا دیکھ لو اچھی طرح دیکھ لو، شاید پھر دیکھنا نہ ملے یہ شیطان ہے۔ پھر اس نے اپنے بھائیوں کو سارا قصہ سنایا۔
    اب دیکھو کس طرح ایک قوم دوسری قوم کے قدم بقدم چلتی ہے۔ ہم نے خود دیکھ لیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دشمن تیرہ سَو سال کے بعد وہی اعتراض کرتے ہیں جو رسول کریم ﷺپر کئے گئے بلکہ وہی اعتراض کئے جاتے ہیں جو حضرت نوحؑ پر آپ کے دشمنوں نے کئے یا جو اعتراض حضرت ابراہیم ؑ پر آپ کے دشمنوں نے کئے، یا جو اعتراض حضرت موسیٰ ؑکے دشمنوں نے آپ پر کئے، یا جو اعتراض حضرت عیسیٰ ؑپر آپ کے دشمنوں نے کئے۔ پس حقیقت یہ ہے کہ سچ کا مقابلہ سوائے جھوٹ اور فریب کے کیا ہی نہیں جا سکتا۔ سچ ہر زمانہ میں سچ ہے اور جھوٹ ہر زمانہ میں جھوٹ ہے۔ سچ کے مقابلہ میں سوائے جھوٹ اور فریب کے آ ہی کیا سکتا ہے۔ اگر کوئی چیز دشمنوں کے پاس سوائے جھوٹ کے ہو تو نکلے۔
    ہمارے ہاں مثل مشہور ہے کہ کسی میراثی کے گھر میں رات کے وقت چور آیا یہ سمجھ کر کہ آخر دس بیس پچاس روپے تو اس کے ہاں ضرور ہونگے اور نہیں تو کوئی کپڑا ہی سہی۔ چور کونسا لاکھ پتی ہوتا ہے کہ ضرور لاکھوں والی جگہ ہی چوری کرے اگر اُسے ایک روپیہ بھی مل جائے تو وہ اُسے ہی غنیمت سمجھتا ہے۔ وہ بھی یہی سمجھا کہ آخر کوئی نہ کوئی ہدیہ ہی میراثی کو ججمانوں ۲؎کے ہاں سے ملا ہوگا وہی سہی۔ پُرانے زمانے میں یہ دستور تھا کہ جس کے پاس کوئی نقدی یا زیور ہوتا وہ اُسے کسی برتن میں ڈال کر زمین میں دفن کر دیتا تھا اور چوروں نے اُسے نکالنے کا یہ طریق نکالا تھا کہ وہ لاٹھی لے کر گھر کی زمین کو ٹھکور ٹھکور کر دیکھتے جہاں انہیں نرم نرم زمین معلوم ہوتی وہاں سے کھود کر نقدی یا زیور نکال لیتے تھے۔ یہی طریق اُس چور نے اختیار کیا اور لاٹھی لے کر گھر کی زمین کو ٹھکور ٹھکور کر دیکھنے لگا۔ اِسی اثناء میں میراثی کی آنکھ کھل گئی اور اُسے چور کی یہ حرکت دیکھ کر ہنسی آنے لگی کہ ہمیں تو کھانے کو نہیں ملتا اور یہ سوٹیاں مار مار کر خزانہ تلاش کر رہا ہے۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اُس نے ہنس کر چور سے کہا۔ ’’ججمان! سانوں ایتھے دن نوں کچھ نہیں لبھدا۔ تہانوں راتیں کی لبھنا ہے‘‘۔ یعنی ہمیں یہاں دن کو کوئی چیز نہیں ملتی آپ کو رات کے وقت یہاں کیا ملے گا۔ یہی حالت مخالفین کی ہے سچ کے مقابلہ میں سوائے جھوٹ کے کوئی اورچیز ہو تو وہ پیش کریں اور سچ کے مقابلہ میں سچ کہاں سے لائیں۔
    مقابلہ کے دو ہی طریق ہیں ایک تو یہ کہ خدا تعالیٰ کا بندہ جب کہتا ہے کہ میں نشان دکھاتا ہوں تو دشمن بھی کہیں کہ ہم بھی ویسا ہی نشان دکھاتے ہیں لیکن چونکہ وہ اس بات پر قادر نہیں ہوتے اس لئے نشان کے مقابل پر نشان دکھانے کے لئے سامنے نہیں آتے۔ ہاں دوسرا طریق یہ ہے کہ آئیں بائیں شائیں کرتے اور خوب شور و شغب پیدا کر کے سمجھتے ہیں کہ ہم خوب مقابلہ کر رہے ہیں اور یہی طریق ہمیشہ انبیاء اور خدا تعالیٰ کے دوسرے خادموں کے دشمن اختیار کیا کرتے ہیں۔
    جب سے میں نے مصلح موعود ہونے کا اعلان کیا ہے مولوی محمد علی صاحب نے ویسے ہی اعتراض کرنے شروع کر دیئے ہیں جیسے مولوی ثناء اللہ صاحب کیا کرتے تھے۔ میں خواب یا الہام سناتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے اعلام کی بناء پر اعلان کرتا ہوں لیکن مولوی محمد علی صاحب نہ تو مقابل پر کوئی خواب یا الہام پیش کرتے ہیں اور نہ ہی وہ پیش کر سکتے ہیں کیونکہ وہ سارا زور لگا کر تیس سالہ پُرانا ایک الہام پیش کر سکے ہیں مگر وہ بھی واقعات کے رو سے غلط نکلا ہے۔ پس جب الہام ہوا ہی نہیں تو وہ الہام پیش کیسے کریں۔ اب سوائے اعتراضوں کے ان کے پاس کوئی چیز نہیں اگر وہ اعتراض بھی نہ کریں تو مقابلہ کس طرح کریں۔ حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰ ؑ، حضرت عیسیٰ ؑ کے دشمن اِس بات کا تو انکار نہیں کر سکتے تھے کہ الہام ہوتا ہی نہیں کیونکہ ان سے پہلے انبیاء کو الہام ہوتا تھا اور وہ اس بات کے قائل تھے اِس لئے ان انبیاء کا انکار کرنے والے اس بات کا انکار نہ کر سکتے تھے کہ الہام کوئی چیز نہیں۔ اپنی بات کو درست ثابت کرنے کیلئے اور ان انبیاء کا مقابلہ کرنے کیلئے یہ کہتے تھے کہ ان کے الہام خود ساختہ ہیں۔ اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دشمنوں نے بھی یہی کہا کہ ان کے الہام خود ساختہ ہیں۔ اگر عیسائیوں اور یہودیوں کا یہ قول درست تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وحی نَعُوْذُ بِاللّٰہِ خود ساختہ تھیتو اللہ تعالیٰ کی غیرت کا تقاضا یہ تھا کہ وہ ان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مقابل پر الہام کر دیتا تا مفتریوں کی قلعی کھل جاتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا ان کو الہام سے محروم رکھنا بتاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی حق پر تھے اور آپؐ کے دشمن یہودی اور عیسائی ناحق پر تھے۔ اسی طرح آج مولوی محمد علی صاحب یہ کہتے ہیں کہ میرے الہام جھوٹے ہیں لیکن کیوں اللہ تعالیٰ ان کو میرے مقابل پر سچے الہام نہیں کر دیتا، تا دنیا پر واضح ہو جائے کہ مولوی صاحب حق پر ہیں اور مَیں ناحق پر ہوں۔
    حیرت کی بات ہے کہ ایک شخص دن رات اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو گمراہ کرے اور دن رات اُس کے بندوں کو فریب اور دغا بازی سے غلط راستہ کی طرف لے جائے لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ کو غیرت نہ آئے۔ اگر اللہ تعالیٰ کو غیرت نہیں آتی تو اِس کی وجہ سوائے اِس کے یقینا اور کوئی نہیں کہ اللہ تعالیٰ یہ جانتا ہے کہ مولوی صاحب اِس کے قرب سے بہت دُور ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے اُن کو الہام نہیں کیا۔ پس سچائی کے مقابلے میں ابتداء سے انکار ہوتا رہا ہے یہ سلسلہ ابتداء سے چلتا آیا ہے اور چلتا چلا جائے گا۔
    یہ ایک بالکل واضح بات ہے کہ نبوت کے بعد خلافت ہوتی ہے لیکن لوگ پھر بھی اس طریق کو بھول جاتے ہیں۔ وقت سے پہلے وہ ان باتوں کو اپنی مجالس میں دُہراتے اور ان کا اقرار کرتے ہیں لیکن عین موقع پر اِن کا صاف انکار کر دیتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جب فوت ہوئے تو حضرت خلیفہ اوّل کو اِس قدر صدمہ ہوا کہ شدتِ غم کی وجہ سے آپ کے منہ سے بات تک نہیں نکلتی تھی اور ضعف اِس قدر تھا کہ کبھی کمر پر ہاتھ رکھتے اور کبھی ماتھے پر ہاتھ رکھتے۔ اِسی حالت میں مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی نے حضرت خلیفہ اوّل کا ہاتھ پکڑ کر کہا اَنْتَ الصِّدِّیْقُ اور بعض اور فقرات بھی کہے جن کا مفہوم یہ تھا کہ خلافت اسلام کی سنت ہے لیکن بعد میں مولوی سید محمد احسن صاحب اِس بات پر قائم نہ رہے اور اُنہوں نے خلافت سے منہ پھیر لیا۔ مولوی محمد علی صاحب یا ان کے رفقاء نے ان کے بچوں کو آٹے کی مشین لگوا دینے کا وعدہ کیا تھا۔ پس اِس بات پر لڑکے اور بیوی پیغامیوں کا ساتھ دیتے رہے اور مولوی صاحب کو بھی مجبور کرتے رہے کہ وہ لاہوریوں کا ساتھ دیں۔ جب وہ ابتلاء کے کچھ عرصہ بعد قادیان میں مجھ سے ملنے کے لئے آئے تو صاف کہا کہ میں مجبور ہوں فالج نے قویٰ مار دیئے ہیں میں طہارت تک خود نہیں کر سکتا ان لوگوں کو وعدہ دے کر لاہوریوں نے بگاڑ رکھا ہے اور میں ان کے ساتھ رہنے پر مجبور ہوں۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ اگر یعقوب اور اُس کی والدہ کو سنبھال لیا جائے تو میں بھی رہ سکوں گا مگر چونکہ میں اِس قسم کی رشوت دینے کا عادی نہیں مَیں نے اس طرف توجہ نہیں کی۔ مجھے اکثر ایسے لوگوں کی حالت پر حیرت آتی ہے کہ ذرا ان کو سلسلہ سے کوئی شکایت پیدا ہو تو اُنہیں خلافت کے مسئلہ میں بھی شک پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
    گجرات کے دوستوں نے سنایا کہ جب حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام فوت ہوئے تو ایک اہل حدیث مولوی نے ہمیں کہا اب تم لوگ قابو آئے ہو کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر نبوت کے بعد خلافت ہے۳؎ اور تم میں خلافت نہیں ہوگی تم لوگ انگریزی دان ہو اِس لئے خلافت کی طرف تم نہیں جاؤ گے۔ وہ دوست بتاتے ہیں کہ دوسرے دن تار موصول ہوئی کہ جماعت نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کی بیعت کر لی ہے اور ان کو اپنا خلیفہ بنا لیا ہے۔ جب احمدیوں نے اُس مولوی کو بتایا تو کہنے لگا نورالدین بڑا پڑھا لکھا آدمی تھا اِس لئے اُس نے جماعت میں خلافت قائم کر دی اگر اس کے بعد خلافت رہی تو پھر دیکھیں گے۔ جب حضرت خلیفہ اوّل فوت ہوئے تو کہنے لگا اُس وقت اور بات تھی اب کوئی خلیفہ بنے گا تو دیکھیں گے۔ دوست بتاتے ہیں کہ اگلے دن تار پہنچ گئی کہ جماعت نے میرے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے۔ اِس پر کہنے لگا یارو تم بڑے عجیب ہو، تمہارا کوئی پتہ نہیں لگتا۔(انوار العلوم جلد۱۸ صفحہ۲۳۳ تا ۲۵۲)
    ۱؎ الذّٰریٰت:۵۴
    ۲؎ ججمان: برہمنوںیا نائیوں کی آسامی جس کا وہ پشتوں سے کام کرتے آ رہے ہوں۔ مخدوم، آقا، مربی
    ۳؎ کنزالعمال جلد۱۱ صفحہ۱۱۵ مطبوعہ بیروت ۱۹۹۸ء
    قادیان سے پاکستانی احمدیوں کے نام ایک درد انگیز پیغام
    ۲۲؍ اگست ۱۹۴۷ء کو جب کہ ہندوپاکستان میں فتنہ و فساد کے شعلے بلند ہو رہے تھے، حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے احمدیت کے بنیادی مرکز قادیان سے پاکستانی احمدیوں کے نام ایک درد انگیز پیغام تحریر فرمایا جس کا آخری حصہ درج ذیل ہے۔
    ’’میں جماعت کو محبت بھرا پیغام بھجواتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو۔ اگر ابھی میرے ساتھ مل کر کام کرنے کا وقت ہو تو آپ کو وفاداری اور دیانتداری سے کام کرنے کی توفیق ملے اور اگر ہمارے تعاون کا وقت ختم ہو چکا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہو اور آپ کے قدموں کو ڈگمگانے سے محفوظ رکھے۔ سلسلہ کا جھنڈا نیچا نہ ہو۔ اسلام کی آواز پست نہ ہو۔ خداتعالیٰ کا نام ماند نہ پڑے۔ قرآن سیکھو اور حدیث سیکھو اور دوسروں کو سکھاؤ اور خود عمل کرو اور دوسروں سے عمل کراؤ۔ زندگیاں وقف کرنے والے ہمیشہ تم میں سے ہوتے رہیں اور ہر ایک اپنی جائیداد کے وقف کا عہد کرنے والا ہو۔ خلافت زندہ رہے اور اس کے گرد جان دینے کے لیے مومن آمادہ کھڑا ہو۔ صداقت تمہارا زیور، امانت تمہارا حسن، تقویٰ تمہارا لباس ہو۔ خداتعالیٰ تمہارا ہو اور تم اس کے ہو۔ آمین
    میرا یہ پیغام باہر کی جماعتوں کو بھی پہنچا دو اور انہیں اطلاع دو کہ تمہاری محبت میرے دل میں ہندوستان کے احمدیوں سے کم نہیں۔ تم میری آنکھ کا تارا ہو۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ جلد سے جلد اپنے مُلکوں میں احمدیت کا جھنڈا گاڑ کر آپ لوگ دوسرے ملکوں کی طرف توجہ دیں گے اور ہمیشہ خلیفہ وقت کے جو ایک وقت میں ایک ہی ہو سکتا ہے، فرمانبردار رہیں گے اور اس کے حکموں کے مطابق اسلام کی خدمت کریں گے‘‘۔والسلام
    خاکسار
    مرزا محمود احمد (خلیفۃ المسیح)
    (رسالہ خالد ستمبر۱۹۵۶ء)

    دستورِ اسلامی یا اسلامی آئین اساسی
    قیام پاکستان کے شروع میں یہ سوال زور پکڑ رہا تھا کہ پاکستان کا دستور اسلامی ہو یا قومی۔ حضرت مصلح موعود نے بھی اس سلسلہ میں رتن باغ لاہور میں کچھ لیکچر دیے جن کے نوٹس کو ’’اسلام کا آئین اساسی کے نام‘‘ سے شائع کیا گیا اس ضمن میں حضور فرماتے ہیں:۔
    ’’اسلامی اصول پر مبنی گورنمنٹ کے لئے چونکہ انتخاب کی شرط ہے اس لئے اگر اسلامی آئین پر گورنمنٹ کی بنیاد رکھی جائے گی تو مندرجہ ذیل شرائط کو مد نظر رکھنا ہوگا۔
    اوّل: حکومت کا ہیڈ منتخب کیا جائے گا۔ انتخا ب کا زمانہ مقرر کیا جاسکتا ہے کیونکہ پاکستان کا ہیڈ خلیفہ نہیں ہوگا خلیفہ کو سارے مسلمانوں پر حکومت حاصل ہوتی ہے اور وہ صرف حکومت کا ہیڈ نہیں ہوتا بلکہ مذہب کا بھی ہیڈ ہوتا ہے۔ پاکستان کے ہیڈ کو نہ دوسرے مُلکوں کے مسلمان تسلیم کریں گے اور نہ علماء مذہب کے مسائل میں اُس کو اپنا ہیڈ ماننے کے لئے تیار ہوں گے اس لئے خلافت کے اصول پر اس کے اصول تو مقرر کئے جا سکتے ہیں مگر نہ وہ خلیفہ ہوسکتا ہے نہ خلافت کے سارے قانون اُس پر چسپاں ہو سکتے ہیں۔ خلافت کے اصول یہ ہیں۔
    (۱) اُس کا تقرر انتخابی ہو( اس انتخاب کے کئی طریق ہیں لیکن اس تفصیل میں جانے کی اِس وقت گنجائش نہیں۔)
    (۲) وہ مملکت کے کام مشورہ سے چلائے ( مشورہ کے لئے اسلام کے تین اصول ہیں (i)عام مسلمانوں سے مشورہ لینا یعنی ریفرنڈم۔ (ii) چند تجربہ کار لوگوں سے مشورہ لینا یعنی ایگزیکٹو باڈی سسٹم ۔(iii) قوموں کے منتخب نمائندوں سے مشورہ لیناجیسے آجکل کی پارلیمنٹس ہوتی ہیں۔ یہ تین طریقے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہیں) لیکن جہاں تک خلافت کا سوال ہے خلیفہ مشورہ لینے کا پابند ہے مشورے پر عمل کرنے کا پابند نہیں۔
    پس اگر سوفیصدی خلافت کے اصول پر پاکستان کا آئین بنایا جائے تو حکومت کا ہیڈ ایگزیکٹو کا ہیڈ ہو گا۔ ایگزیکٹو کا انتخاب اس کے اپنے اختیار میں ہوگا وہ تمام ضروری امور میں پبلک کے نمائندوں سے مشورہ لے گا لیکن اُن مشوروں پر کار بند ہونے کا پابند نہیں ہوگا۔ لیکن میں پہلے بتا چکا ہوں کہ پاکستان کا ہیڈخلیفہ نہیں ہوگا کیونکہ نہ ساری اسلامی حکومتیں اس کو ہیڈ تسلیم کریں گی نہ علماء اس کو مذہبی ہیڈ تسلیم کریں گے اس لئے ہم خلافت کے پس پردہ جو اصول کار فرما ہیں ان سے روشنی تو حاصل کر سکتے ہیں ان کی پوری نقل نہیں کر سکتے۔ اور چونکہ خلافت اُس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک دنیا کی سب مسلمان حکومتیں اور افراد اس انتخاب پر متفق نہ ہو جائیں یا اکثریت متفق نہ ہو جائے اور یہ ناممکن ہے اس لئے یہ کہنا کہ پاکستان کا آئین اساسی اسلام پر مبنی ہو درست نہیں۔ جس طرح انگریزی حکومت کے ماتحت ہمیں شریعت کے وہ احکام نافذ کرنے کا اختیار نہ تھا جو حکومت کے متعلق تھے اور ہم اس کی وجہ سے گنہگار نہیں تھے اسی طرح اسلامی آئین حکومت چونکہ خلافت سے تعلق رکھتا ہے اور خلافت کا قیام مسلمان افراد اور حکومتوں کی اکثریت کے اتفاق کے بغیر ناممکن ہے اس لئے اگر ہم اس نظام کو قائم نہیں کرتے تو ہم ہرگز خداتعالیٰ کے سامنے مجرم نہیں کیونکہ اس نظام کے قائم کرنے کے لئے جو شرطیں اسلام نے مقرر کی ہیں وہ شرطیں اِس وقت پوری نہیں ہوتیں‘‘۔
    (اسلام کا آئین اساسی صفحہ۳،۴)


    خلافت وعدۂ الٰہی، اس کی شرائط اور برکات
    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے سورہ نور کی جو تفسیر، تفسیر کبیر جلد پنجم حصہ اوّل میں بیان فرمائی اس میں مسلمانوں سے خلافت کا وعدۂ الٰہی، اس کی شرائط اور اس کی برکات بیان فرمائیں۔آپ فرماتے ہیں:۔
    ’’کل ہی میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا اس میں لکھا تھا کہ فرانس کے ایک جرنیل کو ایک آرڈر آیا جو ظالمانہ تھا ۔ یہ دیکھ کر کہ وہ آرڈر نہایت ظالمانہ ہے دوستوں نے اُسے مشورہ دیا کہ تم اِسے ردّ کر دو۔ یہ جرنیل وہی تھا جس نے سسلی کو فتح کیا تھا اور اسے مسلمان جرنیل موسیٰ کی طرح سسلی فتح کر لینے کے بعد سزا ملی۔ اس نے کہا تم مجھے غلط مشورہ دیتے ہو گورنمنٹیں آتی ہیں اور جاتی ہیں لیکن فرانس زندہ رہے گا۔ میں فرانس کا خادم ہوں اور اس سے غداری نہیں کر سکتا۔ موسیٰ نے بھی دوستوں کے اس مشورہ پر کہ تم سرنڈر (Sarrender) نہ کرو یہی جواب دیا تھا کہ ولید کا حکم نہیں بلکہ خلیفہ کا حکم ہے اس حکم کی تعمیل کر کے میں مارا ضرور جاؤں گا لیکن میں نہیں چاہتا کہ کوئی یہ کہے کہ خلیفہ کے حکم کی تعمیل نہیں کی گئی۔ خواہ اس حکم کا نفاذ میرے گرنے یا مرنے سے ہی ہو میں اسے ردّ نہیں کرونگا۔ اسی طرح اس جرنیل نے کہا کہ قومیں آئیں گی اور بدل جائیں گی لیکن فرانس زندہ رہے گا اور یاد رکھا جائے گا۔ میں موت قبول کر لوں گا لیکن یہ بات سننے کے لئے تیار نہیں ہوں کہ دنیا میں یہ کہا جائے کہ فرانس کے کسی جرنیل نے حکم ردّ کر دیا تھا۔ انہی چیزوں کے ساتھ افراد کی عزت ہوتی ہے۔ بعض لوگوں کی محبت چیزوں سے ہوتی ہے اور بعض کی محبت اصول سے ہوتی ہے جو لوگ اصول کے ساتھ محبت رکھتے ہیں وہی جیتتے ہیں جو قومیں اصول کی قدر کرتی ہیں گو ان کا ایک واجب الاـطاعت امام ہوتا ہے لیکن حقیقتاً وہ خود لیڈر ہوتی ہیں۔ جب ایک لیڈر مر جاتا ہے تو وہ دوسرا لیڈر پیدا کر لیتی ہیں۔ ان کی مثال کیلے کے درخت کی سی ہوتی ہے اگر کیلے میں پھل لگ جائے تو لوگ اسے کاٹ دیتے ہیں ورنہ اسے پھل نہیں لگتا۔ یہی حال زندہ قوموں کا ہوتا ہے زندہ قوموں کے افراد اپنی شخصیت کو کچل دیتے اور قومیت کو زندہ کر دیتے ہیں اور مذہبی نقطۂ نگاہ سے وہ اپنی جسمانیت کو مار کر روحانیت کو زندہ کر لیتے ہیں۔
    نادان کہتا ہے کہ خلیفہ خدا نہیں بناتا بلکہ اسے لوگ چنتے ہیں لیکن وہ یہ نہیں جانتا کہ خداتعالیٰ نے آیت استخلاف میں کتنا بڑا فلسفہ بیان کیا ہے۔ ساری تاریخ دیکھ لو۔ تمہیں یہی نمونہ ملے گا کہ وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو لیڈر پیدا کرتی ہیں۔ تمہیں ایک تیمور مل جائے گا، تمہیں ایک نپولین مل جائے گا، تمہیں ایک ہٹلر مل جائے گا لیکن تیموروں، ہٹلروں اور نپولینوں کا سلسلہ اسی جگہ ملے گا جہاں قوم میں زندگی پائی جاتی ہو۔ انگلینڈ کے مدبر کہاں سے گرتے ہیں؟ امریکہ کا پریذیڈنٹ سائنس کے کون سے عمل خانہ میں بنایا جاتا ہے؟ وہ معمولی آدمیوں میں سے ہی ایک آدمی ہوتا ہے لیکن وہ جانتا ہے کہ اس کے پیچھے قوم کی روح کھڑی ہے۔ قوم پریذیڈنٹ کا آئینہ بن جاتی ہے اور پریذیڈنٹ قوم کا آئینہ بن جاتا ہے۔ قرآن کریم نے اس گُر کو بیان کیا ہے کہ خلیفہ تم چنو لیکن وہ ہمارا نمائندہ ہوگا۔
    (الفضل ۲۴ مئی ۱۹۶۲ء)


    خلافت راشدہ کے سات امتیازات
    (تحریر فرمودہ مئی ۱۹۵۲ء)
    ۱۹۵۲ء میں الفرقان کے خلافت نمبر کی اشاعت کے لئے مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری نے حضور سے استفسار کیا کہ ’’اسلامی خلافت راشدہ کی وہ کونسی علامتیں ہیں جن سے وہ ممتاز ہوتی ہے اور اس میں اور باقی تمام اقسام اقتدار، ملوکیت وغیرہ میں کھلے طورپر فرق کیا جا سکتا ہے؟‘‘ اس کے جواب میں حضور نے تحریر فرمایا:۔
    ’’اسلام میں خلافت راشدہ کے مجموعی امتیازات سات ہیں۔
    اوّل: انتخاب۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۱؎ یہاںامانت کا لفظ ہے لیکن ذکر چونکہ حکومت کا ہے اس لئے امانت سے مراد امانت حکومت ہے آگے طریق انتخاب مسلمانوں پر چھوڑ دیا۔ چونکہ خلافت اُس وقت سیاسی تھی مگر اس کے ساتھ مذہبی بھی۔ اس لئے دین کے قائم ہونے تک اُس وقت کے لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ انتخاب صحابہ کریں کہ وہ دین اور دیندار کوبہتر سمجھتے تھے ورنہ ہر زمانہ کے لئے طریقِ انتخاب الگ ہو سکتا ہے۔ اگر خلافت صحابہؓ کے بعد چلتی تو اِس پر بھی غور ہو جاتا کہ صحابہؓ کے بعد انتخاب کس طرح ہوا کرے۔ بہرحال خلافت انتخابی ہے اور انتخاب کے طریق کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر چھوڑ دیا ہے۔
    دوم: شریعت۔ خلیفہ پر اوپر سے شریعت کا دباؤ ہے وہ مشورہ کو ردّ کر سکتا ہے مگر شریعت کو ردّ نہیں کر سکتا گویا وہ کانسٹی ٹیوشنل ہیڈ ہے، آزاد نہیں۔
    سوم: شوریٰ۔ اوپر کے دباؤ کے علاوہ نیچے کا دباؤ بھی اُس پر ہے یعنی اسے تمام اہم امور میںمشورہ لینا اور جہاں تک ہو سکے اس کے ماتحت چلنا ضروری ہے۔
    چہارم: اندرونی دباؤ یعنی اخلاقی۔ علاوہ شریعت اور شوریٰ کے اس پر نگران اس کا وجود بھی ہے کیونکہ وہ مذہبی رہنما بھی ہے اور نمازوں کا امام بھی۔ اس وجہ سے اس کا دماغی اور شعوری دباؤ اور نگرانی بھی اسے راہِ راست پر چلانے والا ہے جو خالص سیاسی، منتخب یا غیر منتخب حاکم پر نہیں ہوتا۔
    پنجم: مساوات۔ خلیفہ اسلامی انسانی حقوق میں مساوی ہے جو دنیا میں اور کسی حاکم کو حاصل نہیں وہ اپنے حقوق عدالت کے ذریعہ سے لے سکتا ہے اور اس سے بھی حقوق عدالت کے ذریعہ سے لئے جا سکتے ہیں۔
    ششم: عصمت صغریٰ۔ عصمت صغریٰ اسے حاصل ہے یعنی اسے مذہبی مشین کا پُرزہ قرار دیا گیا ہے اور وعدہ کیا گیا ہے کہ ایسی غلطیوں سے اُسے بچایا جائے گا جو تباہ کُن ہوں اور خاص خطرات میں اس کی پالیسی کی اللہ تعالیٰ تائید کرے گا اور اسے دشمنوں پر فتح دے گا گویا وہ مؤیَّدمِنَ اللہ ہے اور دوسرا کسی قسم کا حاکم اِس میں اس کا شریک نہیں۔
    ہفتم: وہ سیاسیات سے بالا ہوتا ہے اس لئے اس کا کسی پارٹی سے تعلق نہیں ہو سکتا۔ وہ ایک باپ کی حیثیت رکھتا ہے اس کے لئے کسی پارٹی میں شامل ہونا یا اس کی طرف مائل ہونا جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہےِ۲؎ یعنی جب ایسے شخص کا انتخاب ہو تو اس کا فرض ہے کہ وہ کامل انصاف سے فیصلہ کرے۔ کسی ایک طرف خواہ شخصی ہو یا قومی ہو نہ جھکے‘‘۔
    (الفرقان مئی ۱۹۶۷ء صفحہ۶،۷)
    ۱،۲؎ النساء: ۵۹

    مسئلہ خلافت
    (۲۵؍ اکتوبر ۱۹۵۳ء کو خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع منعقدہ ربوہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے مسئلہ خلافت کے موضوع پر تقریر فرمائی)
    تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔
    ’’میں کَل تھوڑی دیر ہی بولا تھا لیکن گھر جاتے ہی میری طبیعت خراب ہوگئی اور سارا دن پسینے آتے رہے آج بھی گلے میں تکلیف ہے کھانسی آ رہی ہے بخار ہے اور جسم ٹوٹ رہا ہے جس کی وجہ سے میں شاید کل جتنا بھی نہ بول سکوں لیکن چونکہ خدام الاحمدیہ کے اجتماع کا یہ آخری اجلاس ہے اِس لئے چند منٹ کے لئے یہاں آ گیا ہوں۔ چند منٹ بات کر کے میں چلا جاؤں گا اور اس کے بعد باقی پروگرام جاری رہے گا۔ انسان دنیا میں پیدا بھی ہوتے ہیں اور مرتے بھی ہیں کوئی انسان ایسا نہیں ہوا جو ہمیشہ زندہ رہا ہو لیکن قومیں اگر چاہیں تو وہ ہمیشہ زندہ رہ سکتی ہیں یہی امید دلانے کے لئے حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ:۔
    ’’میںباپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے‘‘۔۱؎
    اس میں حضرت مسیح علیہ السلام نے لوگوں کو اسی نکتہ کی طرف توجہ دلائی تھی کہ چونکہ ہر انسان کے لئے موت مقدر ہے اس لئے میں بھی تم سے ایک دن جدا ہو جاؤں گا لیکن اگر تم چاہو تو تم اَبد تک زندہ رہ سکتے ہو۔ انسان اگر چاہے بھی تو وہ زندہ نہیں رہ سکتا لیکن قومیں اگر چاہیں تو وہ زندہ رہ سکتی ہیں اور اگر وہ زندہ نہ رہنا چاہیں تو مَر جاتی ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی یہی فرمایا کہ:۔
    ’’ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا اور وہ دوسری قدرت آ نہیں سکتی جب تک میں نہ جاؤں لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی‘‘۔۲؎
    اس جگہ ہمیشہ کے یہی معنی ہیں کہ جب تک تم چاہو گے تم زندہ رہ سکو گے لیکن اگر تم سارے مل کر بھی چاہتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام زندہ رہتے تو وہ زندہ نہیں رہ سکتے تھے ہاں اگر تم یہ چاہو کہ قدرتِ ثانیہ تم میں زندہ رہے تو وہ زندہ رہ سکتی ہے۔
    قدرت ثانیہ کے دو مظاہر ہیں۔اوّل تائید الٰہی۔ دوم خلافت
    اگر قوم چاہے اور اپنے آپ کو مستحق بنائے تو تائید الٰہی بھی اس کے شامل حال رہ سکتی ہے اور خلافت بھی اس میں زندہ رہ سکتی ہے۔ خرابیاں ہمیشہ ذہنیت کے خراب ہونے سے پیدا ہوتی ہیں۔ ذہنیت درست رہے تو کوئی وجہ نہیں کہ خداتعالیٰ کسی قوم کو چھوڑ دے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ یہی فرماتا ہے کہ ۳؎ یعنی اللہ تعالیٰ کبھی کسی قوم کے ساتھ اپنے سلوک میں تبدیلی نہیں کرتا جب تک کہ وہ خود اپنے دلوں میں خرابی پیدا نہ کر لے یہ چیز ایسی ہے جسے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اس بات کو نہیں سمجھ سکتا۔ کوئی جاہل سے جاہل انسان بھی ایسا نہیں ہوگا جسے میں یہ بات بتاؤں اور وہ کہے کہ میں اسے نہیں سمجھ سکا یا اگر ایک دفعہ سمجھانے پر نہ سمجھ سکے تو دوبارہ سمجھانے پر بھی وہ کہے کہ میں نہیں سمجھا۔ لیکن اتنی سادہ سی بات بھی قومیں فراموش کر دیتی ہیں۔ انسان کا مرنا تو ضروری ہے اگر وہ مر جائے تو اس پر کوئی الزام نہیں آتا لیکن قوم کیلئے مرنا ضروری نہیں۔ قومیں اگر چاہیں تو وہ زندہ رہ سکتی ہیں لیکن وہ اپنی ہلاکت کے سامان خود پیدا کر لیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ صحابہ کو ایک ایسی تعلیم دی تھی جس پر اگر ان کی آئندہ نسلیں عمل کرتیں تو ہمیشہ زندہ رہتیں لیکن قوم نے عمل چھوڑ دیا اور وہ مر گئی۔ دنیا یہ سوال کرتی ہے اور میرے سامنے بھی یہ سوال کئی دفعہ آیا ہے کہ باوجود اس کے کہ خداتعالیٰ نے صحابہ کو ایسی اعلیٰ درجہ کی تعلیم دی تھی جس میں ہر قسم کی سوشل تکالیف اور مشکلات کا علاج تھا اور پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل کر کے بھی دکھا دیا تھا پھر وہ تعلیم گئی کہاں اور ۳۳ سال ہی میں وہ کیوں ختم ہو گئی۔ عیسائیوں کے پاس مسلمانوں سے کم درجہ کی خلافت تھی لیکن ان میں اب تک پوپ چلا آ رہا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عیسائیوں میں پوپ کے باغی بھی ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی اکثریت ایسی ہے جو پوپ کو مانتی ہے اور انہوں نے اس نظام سے فائدے بھی اُٹھائے ہیں لیکن مسلمانوں میں ۳۳ سال تک خلافت رہی اور پھر ختم ہو گئی ۔اسلام کا سوشل نظام ۳۳ سال تک قائم رہا اور پھر ختم ہو گیا۔ نہ جمہوریت باقی رہی، نہ غربا پروری رہی، نہ لوگوں کی تعلیم اور غذا اور لباس اور مکان کی ضروریات کا کوئی احساس رہا۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ساری باتیں کیوں ختم ہوگئیں؟ اس کی یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں کی ذہنیت خراب ہوگئی تھی۔ اگر ان کی ذہنیت درست رہتی تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ یہ نعمت اُن کے ہاتھ سے چلی جاتی۔
    پس تم خداتعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرو اور ہمیشہ اپنے آپ کو خلافت سے وابستہ رکھو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو خلافت تم میں ہمیشہ رہے گی۔ خلافت تمہارے ہاتھ میں خداتعالیٰ نے دی ہی اس لئے ہے تا وہ کہہ سکے کہ میں نے اسے تمہارے ہاتھ میں دیا تھا۔ اگر تم چاہتے تو یہ چیز ہمیشہ تم میں قائم رہتی۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اسے الہامی طور پر بھی قائم کر سکتا تھا مگر اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ اس نے یہ کہا کہ اگر تم لوگ خلافت کو قائم رکھنا چاہو گے تو میں بھی اسے قائم رکھوں گا گویا اس نے تمہارے منہ سے کہلوانا ہے کہ تم خلافت چاہتے ہو یا نہیں چاہتے؟ اب اگر تم اپنا منہ بند کر لو یا خلافت کے انتخاب میں اہلیت مدنظر نہ رکھو۔ مثلاً تم ایسے شخص کو خلافت کے لئے منتخب کر لو جو خلافت کے قابل نہیں تو تم یقینا اس نعمت کو کھو بیٹھو گے۔
    مجھے اس طرف زیادہ تحریک اس وجہ سے ہوئی کہ آج رات دو بجے کے قریب میں نے ایک رؤیا میں دیکھا کہ پنسل کے لکھے ہوئے کچھ نوٹ ہیں جو کسی مصنف یا مؤرخ کے ہیں اور انگریزی میں لکھے ہوئے ہیں پنسل بھی Copying یا Blue رنگ کی ہے۔ نوٹ صاف طور پر نہیں پڑھے جاتے اور جو کچھ پڑھا جاتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان نوٹوں میں یہ بحث کی گئی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمان اتنی جلدی کیوں خراب ہوگئے۔ باوجود اس کے کہ خداتعالیٰ کے عظیم الشان احسانات اِن پر تھے اعلیٰ تمدن اور بہترین اقتصادی تعلیم انہیں دی گئی تھی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل کر کے بھی دکھا دیا تھا پھر بھی وہ گر گئے اور ان کی حالت خراب ہوگئی۔ یہ نوٹ انگریزی میں لکھے ہوئے ہیں لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جو انگریزی لکھی ہوئی تھی وہ بائیں طرف سے دائیں طرف کو نہیں لکھی ہوئی تھی بلکہ دائیں طرف سے بائیں طرف کو لکھی ہوئی تھی لیکن پھر بھی میںاسے پڑھ رہا تھا۔ گو وہ خراب سی لکھی ہوئی تھی اور الفاظ واضح نہیں تھے بہرحال کچھ نہ کچھ پڑھ لیتا تھا اس میں ایک فقرہ کے الفاظ قریباً یہ تھے کہ
    ‏There were two reasons for it. There temperment becoming (1) Morbid and (2) Anorchical
    یہ فقرہ بتا رہا ہے کہ مسلمانوں پر کیوں تباہی آئی۔ اس فقرہ کے یہ معنی ہیں کہ وہ خرابی جو مسلمانوں میں پیدا ہوئی اُس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کی طبائع میں دو قسم کی خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں ایک یہ کہ وہ ماربڈ (Morbid) ہوگئے تھے یعنی اَن نیچرل (Unnatural) ناخوشگوار ہوگئے تھے اور دوسرے ان کی ٹنڈنسیز (Tendancies) انارکیکل (Anarchical) ہوگئی تھیں۔ میں نے سوچا کہ واقعہ میں یہ دونوں باتیں صحیح ہیں۔ مسلمانوں نے یہ تباہی خود اپنے ہاتھوں مول لی تھی۔ ماربڈ (Morbid) کے لحاظ سے یہ تباہی اس لئے واقع ہوئی کہ جو ترقیات اُنہیں ملیں وہ اسلام کی خاطر ملی تھیں، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بدولت ملی تھیں ان کی ذاتی کمائی نہیں تھی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پیدا ہوئے اور مکہ والوں کی ایسی حالت تھی کہ لوگوں میں اُنہیں کوئی عزت حاصل نہیں تھی لوگ صرف مجاور سمجھ کر ادب کیا کرتے تھے اور جب وہ غیر قوموں میں جاتے تھے تو وہ بھی ان کی مجاور یا زیادہ سے زیادہ تاجر سمجھ کر عزت کرتی تھیں وہ انہیں کوئی حکومت قرار نہیں دیتی تھیں۔ اور پھر ان کی حیثیت اتنی کم سمجھی جاتی تھی کہ دوسری حکومتیں ان سے جبراً ٹیکس وصول کرنا جائز سمجھتی تھیں۔ جیسے یمن کے بادشاہ نے مکہ پر حملہ کیا جس کا قرآن کریم نے اصحاب الفیل کے نام سے ذکر کیا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے تو تیرہ سال تک آپ مکہ میں رہے۔ اس عرصہ میں چند سَو آدمی آپ پر ایمان لائے۔ ۱۳ سال کے بعد آپ نے ہجرت کی اور ہجرت کے آٹھویں سال سارا عرب ایک نظام کے ماتحت آ گیا اور اس کے بعد اُسے ایک ایسی طاقت اور قوت حاصل ہوگئی کہ اس سے بڑی بڑی حکومتیں ڈرنے لگیں۔
    اُس وقت دنیا حکومت کے لحاظ سے دو بڑے حصوں میں منقسم تھی۔
    اوّل رومی سلطنت۔ دوم ایرانی سلطنت۔ رومی سلطنت کے ماتحت مشرقی یورپ، ٹرکی ایبے سینیا، یونان مصر، شام اور اناطولیہ تھا اور ایرانی سلطنت کے ماتحت عراق، ایران، رشین ٹری ٹوری کے بہت سے علاقے، افغانستان، ہندوستان کے بعض علاقے اور چین کے بعض علاقے تھے۔ اُس وقت یہی دو بڑی حکومتیں تھیں۔ ان کے سامنے عرب کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی لیکن ہجرت کے آٹھویں سال بعد سارا عرب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہو گیا ۔اس کے بعد جب سرحدوں پر عیسائی قبائل نے شرارت کی تو پہلے آپؐ خود وہاں تشریف لے گئے۔ اس کی وجہ سے کچھ دیر کے لئے فتنہ ٹل گیا لیکن تھوڑے عرصہ بعد قبائل نے پھر شرارت شروع کی تو آپؐ نے ان کی سرکوبی کے لئے لشکر بھجوایا۔ اس لشکر نے بہت سے قبائل کو سرزنش کی اور بہتوں کو معاہدہ سے تابع کیا۔ پھر آپؐ کی وفات کے بعد اڑھائی سال کے عرصہ میں سارا عرب اسلامی حکومت کے ماتحت آ گیا بلکہ یہ حکومت عرب سے نکل کر دوسرے علاقوں میں بھی پھیلنی شروع ہوئی۔ فتح مکہ کے پانچ سال کے بعد ایرانی حکومت پر حملہ ہو گیا تھا اور اس کے بعض علاقوں پر قبضہ بھی کر لیا گیا تھا اور چند سالوں میں رومی سلطنت اور دوسری سب حکومتیں تباہ ہوگئی تھیں۔ اتنی بڑی فتح اور اتنے عظیم الشان تغیر کی مثال تاریخ میں اور کہیں نہیں ملتی۔ تاریخ میں صرف نپولین کی ایک مثال ملتی ہے لیکن اس کے مقابلہ میں کوئی ایسی طاقت نہیں تھی جو تعداد اور قوت میں اس سے زیادہ ہو۔ جرمن کا مُلک تھا مگر وہ اُس وقت ۱۴ چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں منقسم تھا۔ اس طرح اس کی تمام طاقت منتشر تھی۔ ایک مشہور امریکن پریذیڈنٹ سے کسی نے پوچھا کہ جرمن کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟ تو اس نے کہا ایک شیر ہے دو تین لومڑ ہیں اور کچھ چوہے ہیں۔ شیر سے مراد رشیا تھا، لومڑ سے مراد دوسری حکومتیں اور چوہوں سے مراد جرمن تھے گویا جرمن اُس وقت ٹکڑے ٹکڑے تھا۔ روس ایک بڑی طاقت تھی مگر وہ روس کے ساتھ ٹکرایا اور وہاں سے ناکام واپس لوٹا۔ اس طرح انگلستان کو بھی فتح نہ کر سکا اور انجام اس کا یہ ہوا کہ وہ قید ہو گیا۔
    پھر دوسرا بڑا شخص ہٹلر آیا بلکہ دو بڑے آدمی دو مُلکوں میں ہوئے۔ ہٹلر اور مسولینی دونوں نے بے شک ترقیات حاصل کیں لیکن دونوں کا انجام شکست ہوا۔ مسلمانوں میں سے جس نے یکدم بڑی حکومت حاصل کی وہ تیمور تھا۔ اس کی بھی یہی حالت تھی وہ بے شک دنیا کے کناروں تک گیا لیکن وہ اپنے اس مقصد کو کہ ساری دنیا فتح کر لے پورا نہ کر سکا۔ مثلاً وہ چین کو تابع کرنا چاہتا تھا لیکن تابع نہ کر سکا اور جب وہ مرنے لگا تو اُس نے کہا میرے سامنے انسانوں کی ہڈیوں کے ڈھیر ہیں جو مجھے ملامت کر رہے ہیں۔
    پس صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی آدم سے لے کر اب تک ایسے گزرے ہیں جنہوں نے فردِ واحد سے ترقی کی۔ تھوڑے سے عرصہ میں ہی سارے عرب کو تابع فرمان کر لیا اور آپؐ کی وفات کے بعد آپؐ کے ایک خلیفہ نے ایک بہت بڑی حکومت کو توڑ دیا اور باقی علاقے آپؐ کے دوسرے خلیفہ نے فتح کر لئے۔یہ تغیر جو واقع ہوا خدائی تھا کسی انسان کا کام نہیں تھا۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو آپ کے بعد حضرت ابوبکرؓ خلیفہ ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر مکہ میں پہنچی تو ایک مجلس میں حضرت ابوبکرؓ کے والد ابوقحافہ بھی بیٹھے تھے۔ جب پیغامبر نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے ہیں تو سب لوگوں پرغم کی کیفیت طاری ہوگئی اور سب نے یہی سمجھا کہ اب مُلکی حالات کے ماتحت اسلام پراگندہ ہو جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے کہا کہ اب کیا ہوگا۔ پیغامبر نے کہا آپؐ کی وفات کے بعد حکومت قائم ہوگئی ہے اور ایک شخص کو خلیفہ بنا لیا گیا ہے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ کون خلیفہ مقرر ہوا ہے؟ پیغامبر نے کہا۔ ابوبکرؓ۔ ابوقحافہ نے حیران ہو کر پوچھا کہ کون ابوبکر؟ کیونکہ وہ اپنے خاندان کی حیثیت کو سمجھتے تھے اور اس حیثیت کے لحاظ سے وہ خیال بھی نہیں کر سکتے تھے کہ ان کے بیٹے کو سارا عرب بادشاہ تسلیم کر لے گا۔ پیغامبر نے کہا ابوبکر جو فلاں قبیلہ سے ہے۔ ابوقحافہ نے کہا وہ کس خاندان سے ہے؟پیغامبر نے کہا فلاں خاندان سے۔ اِس پر ابوقحافہ نے دوبارہ دریافت کیا وہ کس کا بیٹا ہے؟ پیغامبر نے کہا۔ ابوقحافہ کا بیٹا۔ اس پر ابوقحافہ نے دوبارہ کلمہ پڑھا اور کہا آج مجھے یقین ہو گیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خداتعالیٰ کی طرف سے ہی تھے۔ ابوقحافہ پہلے صرف نام کے طور پر مسلمان تھے لیکن اِس واقعہ کے بعد انہوں نے سچے دل سے سمجھ لیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دعویٰ میں راستباز تھے کیونکہ حضرت ابوبکرؓ کی خاندانی حیثیت ایسی نہ تھی کہ سارے عرب آپ کو مان لیتے یہ الٰہی دین تھی۔ مگر بعد میں مسلمانوں کی ذہنیت ایسی بگڑی کہ انہوں نے یہ سمجھنا شروع کیا کہ یہ فتوحات ہم نے اپنی طاقت سے حاصل کی ہیں۔ کسی نے کہنا شروع کیا کہ عرب کی اصل طاقت بنو اُمیہ ہیں اس لئے خلافت کا حق ان کا ہے۔ کسی نے کہا بنو ہاشم عرب کی اصل طاقت ہیں، کسی نے کہا بنو مطلب عرب کی اصل طاقت ہیں۔ کسی نے کہا خلافت کے زیادہ حقدار انصار ہیں جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھروں میں جگہ دی۔ گویا تھوڑے ہی سالوں میں مسلمان ماربڈ (Morbid) ہوگئے اور ان کے دماغ بگڑ گئے۔ ان میں سے ہر قبیلہ نے یہ کوشش کی کہ وہ خلافت کوبزور حاصل کر لے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خلافت ختم ہوگئی۔
    پھر مسلمانوں کے بگڑنے کا دوسرا سبب انارکی تھی۔ اسلام نے سب میں مساوات کی روح پیدا کی تھی۔ لیکن مسلمانوں نے یہ نہ سمجھا کہ مساوات پیدا کرنے کے معنی یہ ہیں کہ ایک آرگنائزیشن ہو اس کے بغیر مساوات قائم نہیں ہو سکتی۔ اسلام آیا ہی اس لئے تھا کہ وہ ایک آرگنائزیشن اور ڈسپلن قائم کرے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی تھی کہ یہ ڈسپلن ظالمانہ نہ ہو اور افراد اپنے نفسوں کو دبا کر رکھیں تا کہ قوم جیتے۔لیکن چند ہی سال میں مسلمانوں میں یہ سوال پیدا ہونا شروع ہو گیا کہ خزانے ہمارے ہیں اور اگر حکّام نے ان کے راستہ میں کوئی روک ڈالی تو اُنہوں نے انہیں قتل کرنا شروع کر دیا۔ یہ وہ روح تھی جس نے مسلمانوں کو خراب کیا۔ انہیں یہ سمجھنا چاہیے تھا کہ یہ حکومت الٰہیہ ہے اور اسے خداتعالیٰ نے قائم کیا ہے اس لئے اسے خداتعالیٰ کے ہاتھ میں ہی رہنے دیا جائے تو بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ سورہ نور میں فرماتا ہے کہ خلیفے ہم بنائیں گے لیکن مسلمانوں نے یہ سمجھ لیا کہ خلیفے ہم نے بنائے ہیں اور جب انہوں نے یہ سمجھا کہ خلیفے ہم نے بنائے ہیں تو خداتعالیٰ نے کہا اچھا اگر خلیفے تم نے بنائے ہیں تو اب تم ہی بناؤ ۔چنانچہ ایک وقت تک تو وہ پہلوں کا مارا ہوا شکار یعنی حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کا مارا ہوا شکار کھاتے رہے لیکن مرا ہوا شکار ہمیشہ قائم نہیں رہتا زندہ بکرا زندہ بکری زندہ مرغا اور زندہ مرغیاں تو ہمیں ہمیشہ گوشت اور انڈے کھلائیں گے لیکن ذبح کی ہوئی بکری یا مرغی زیادہ دیر تک نہیں جا سکتی کچھ وقت کے بعد وہ خراب ہو جائے گی۔ حضرت ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓ کے زمانہ میں مسلمان تازہ گوشت کھاتے تھے لیکن بے وقوفی سے اُنہوں نے سمجھ لیا کہ یہ چیز ہماری ہے اس طرح انہوں نے اپنی زندگی کی روح کو ختم کر دیا اور مرغیاں اور بکریاں مُردہ ہوگئیں۔ آخر تم ایک ذبح کی ہوئی بکری کو کتنے دن کھا لو گے۔ ایک بکری میں دس بارہ سیر یا پچیس تیس سیر گوشت ہوگا اور آخر وہ ختم ہو جائے گا۔ پس وہ بکریاں مُردہ ہوگئیں اور مسلمانوں نے کھا پی کر انہیں ختم کر دیا۔ پھر وہی حال ہوا کہ ’’ہتھ پرانے کھونسٹرے بسنتے ہوری آئے‘‘ وہ ہر جگہ ذلیل ہونے شروع ہوئے، انہیں ماریں پڑیں اور خداتعالیٰ کا غضب ان پر نازل ہوا۔ عیسائیوں نے تو اپنی مُردہ خلافت کو آج تک سنبھالا ہوا ہے لیکن ان بدبختوں نے زندہ خلافت کو اپنے ہاتھوں گاڑ دیا اور یہ محض عارضی خواہشات، دُنیوی ترقیات کی تمنا اور وقتی جوشوں کا نتیجہ تھا۔ خداتعالیٰ نے جو وعدے پہلے مسلمانوں سے کئے تھے وہ وعدے اب بھی ہیں۔ اُس نے جب ۴؎ فرمایا توفرمایا۔ حضرت ابوبکرؓ سے نہیں فرمایا۔ حضرت عمرؓ سے نہیں فرمایا۔ حضرت عثمانؓ سے نہیں فرمایا۔ حضرت علیؓ سے نہیں فرمایا۔ پھر اس کا کہیں ذکر نہیں کہ خداتعالیٰ نے یہ وعدہ صرف پہلے مسلمانوں سے کیا تھا یا پہلی صدی کے مسلمانوں سے کیا تھا یا دوسری صدی کے مسلمانوں سے کیا تھا بلکہ یہ وعدہ سارے مسلمانوں سے ہے چاہے وہ آج سے پہلے ہوئے ہوں یا ۲۰۰ یا ۴۰۰ سال کے بعد آئیں وہ جب بھی کے مصداق ہو جائیں گے ،وہ اپنی نفسانی خواہشات کو مار دیں گے، وہ اسلام کی ترقی کو اپنا اصل مقصد بنا لیں گے، شخصیات، جماعتوں، پارٹیوں، جتھوں، شہروں اور ملکوں کو بھول جائیں گے تو ان کے لئے خداتعالیٰ کا یہ وعدہ قائم رہے گا کہیہ وعدہ اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں سے چاہے وہ عرب کے ہوں، عراق کے ہوں، شام کے ہوں، مصر کے ہوں، یورپ کے ہوں، ایشیا کے ہوں، امریکہ کے ہوں، جزائر کے ہوں، افریقہ کے ہوں کیا ہے کہ وہ انہیں اس دنیا میں اپنا نائب اور قائمقام مقر رکرے گا۔ اب اس دنیا میں شام، عرب اور نائیجیریا، کینیا، ہندوستان، چین اور انڈونیشیا ہی شامل نہیں بلکہ اور ممالک بھی ہیں پس اس سے مراد دنیا کے سب ممالک ہیں گویا وہ موعود خلافت ساری دنیا کے لئے ہے۔ فرماتا ہے وہ تمہیں ساری دنیا میں خلیفہ مقرر کرے گا اسی طرح جس طرح اس نے پہلے لوگوں کو خلیفہ مقرر کیا۔ اس آیت میں پہلے لوگوں کی مشابہت ارض میں نہیں بلکہ استخلاف میں ہے گویا فرمایا ہم انہیں اسی طرح خلیفہ مقرر کریں گے جس طرح ہم نے پہلوں کو خلیفہ مقرر کیا اور پھر اس قسم کے خلیفے مقرر کریں گے جن کا اثر تمام دنیا پر ہوگا۔
    پس اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کو یاد رکھو اور خلافت کے استحکام اور قیام کے لئے ہمیشہ کوشش کرتے رہو۔ تم نوجوان ہو، تمہارے حوصلے بلند ہونے چاہئیں اور تمہاری عقلیں تیز ہونی چاہئیں تا کہ تم اس کشتی کو ڈوبنے اور غرق نہ ہونے دو۔ تم وہ چٹان نہ بنو جو دریاکے رُخ کو پھیر دیتی ہے بلکہ تمہارا یہ کام ہے کہ تم وہ چینل (Channal) بن جاؤ جو پانی کو آسانی سے گزارتی ہے۔ تم ایک ٹنل ہو جس کا یہ کام ہے کہ وہ فیضان الٰہی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ حاصل ہوا ہے تم اسے آگے چلاتے چلے جاؤ۔ اگر تم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے تو تم ایک ایسی قوم بن جاؤ گے جو کبھی نہیں مرے گی ۔اور اگر تم اس فیضانِ الٰہی کے رستہ میں روک بن گئے، اس کے رستے میں پتھر بن کر کھڑے ہوگئے اور تم نے اپنی ذاتی خواہشات کے ماتحت اسے اپنے دوستوں، رشتہ داروں اور قریبیوں کے لئے مخصوص کرنا چاہا تو یاد رکھو وہ تمہاری قوم کی تباہی کا وقت ہوگا پھر تمہاری عمر کبھی لمبی نہیں ہوگی اور تم اس طرح مَر جاؤ گے جس طرح پہلی قومیں مریں۔ لیکن قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ قوم کی ترقی کا رستہ بند نہیں۔ انسان بے شک دنیا میں ہمیشہ زندہ نہیں رہتا لیکن قومیں زندہ رہ سکتی ہیں۔ پس جو آگے بڑھے گا وہ انعام لے جائے گا اور جو آگے نہیں بڑھتا وہ اپنی موت آپ مَرتا ہے اور جو شخص خود کشی کرتا ہے اسے کوئی دوسرا بچا نہیں سکتا۔ (الفضل۲۳مئی ۱۹۶۱ء)
    ۱؎ یوحنا باب۱۴ آیت۱۶۔۱۷، بائبل سوسائٹی انارکلی لاہور ۱۹۹۴ء
    ۲؎ الوصیت صفحہ۷، روحانی خزائن جلد۲۰ صفحہ۳۰۵
    ۳؎ الرعد: ۱۲ ۴؎ النور: ۵۶

    نوجوانانِ جماعت سے خطاب
    خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع منعقدہ ۲۰نومبر ۱۹۵۵ء کو نوجوانانِ جماعت سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے فرمایا:۔
    ’’پھر میں ایک اور بات کہنی چاہتا ہوں۔ کل میں نے تم کو بھی دیکھا اور انصار کو بھی دیکھا۔ شاید کچھ اس بات کا بھی اثر ہوگا کہ فالج کی وجہ سے میری نظر کمزور ہوگئی ہے اور میں پوری طرح نہیں دیکھ سکا ہوں گا لیکن بہرحال مجھے نظر یہ آیا کہ جیسے چہرے افسردہ ہیں اور جھلسے جھلسے سے ہیں۔ میں نے سمجھا شاید میری بیماری کے خیال سے ایسا ہے چنانچہ میں نے بعض دوستوں سے ذکر کیا تو اُنہوں نے کہا طوفان کی وجہ سے لوگوں کی مالی حالت خراب ہوگئی ہے اس وجہ سے ان کے چہرے افسردہ ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ اگر میری بیماری اس کی وجہ ہو تو میں تو ایک انسان ہوں۔ آخر انسان کب تک تمہارے اندر رہے گا۔ اس کے بعد آخر خدا ہی سے واسطہ پڑنا ہے… کیوں نہ خدا ہی سے شروع سے واسطہ رکھو۔ حضرت ابوبکرؓ نے کیا سچائی بیان کی تھی کہ مَنْ کَانَ یَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَاِنَّ مُحَمَّدًا قَدْمَاتَ وَمَنْ کَاَن یَعْبُدُ اللّٰہَ فَاِنَّ اللّٰہَ حَیٌّ لَایَمُوْتُ ۱؎ اگر خدا پر توکل کرو گے تو معلوم نہیں تمہارا اس دنیا کے ساتھ ہزار سال واسطہ پڑنا ہے یا دو ہزار سال پڑنا ہے بہرحال ہزار دو ہزار کا عرصہ خدا کے لئے تو کچھ بھی نہیں مگر اس توکّل کے نتیجہ میں وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گا۔ اس بیماری میں مجھے خیال آیا کرتا ہے کہ کچھ خیر خواہ دوستوں کی بیوقوفیوں کی بھی سزا مجھے ملی ہے۔ وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ ’’خدا آپ کو عمر نوح دے‘‘۔ عمر نوح تو ہزار سال کہتے ہیں میں تو ستاسٹھ سال میں اپنے جسم کو ایسا کمزور محسوس کر رہا ہوں کہ مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے میری روح گویا قید کی ہوئی ہے۔ اگر بجائے عمر نوح کی دعا کرنے کے، وہ یہ دعا کرتے کہ اللہ تو ہمارے خلیفہ کو اِتنی عمر دے جس میں وہ بشاشت کے ساتھ کام کر سکے اور تیری مدد اس کے ساتھ ہو تو مجھے کتنا فائدہ ہوتا۔ اگر وہ مجھے عمر نوح ہی دے تو ہزار سال کی تو قوم نہیں ہوا کرتی۔ قومیں تو دو ہزار سال چلتی ہیں۔ پھر بھی تو ہزار سال کے بعد میں تم سے جدا ہو جاتا۔ تو ایسی غلط دعا مانگنے سے کیا فائدہ تھا۔
    دعا یہ مانگنی تھی کہ یا اللہ تو ان کو ایسی عمر دے جس میں اس کا جسم اس کام کا بوجھ اُٹھا سکے اور بشاشت سے تیرے دین کی خدمت کر سکیں اور ہمارے اندر وہ طاقت پیدا کر کہ جو کام تو ان سے لے رہا ہے وہ ہم سے بھی لیتا چلا جا۔ یہ دعا میرے لئے بھی ہوتی اور تمہارے لئے بھی ہوتی اور اسلام کے لئے بھی ہوتی۔(الفضل ۴مارچ ۱۹۵۶ء)
    ۱؎ بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم باب قول النبیﷺ کُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِیْلاً

    خدام الاحمدیہ کراچی کے لئے روح پرور پیغام
    (خیبر لاج مری۲۴ جولائی ۱۹۵۶ء)
    خدام الاحمدیہ کراچی
    عزیزان! اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ
    آپ کے افسران نے مجھ سے خدام الاحمدیہ کراچی کے جلسہ کے لئے پیغام مانگا ہے۔ میں اس کے سِوا پیغام کیا دے سکتا ہوں کہ ۱۹۱۴ء میں جب میں خلیفہ ہوا اور جب میری صرف ۲۶ سال عمر تھی خدام الاحمدیہ کی بنیاد ابھی نہیں پڑی تھی مگر ہر احمدی نوجوان اپنے آپ کو خادمِ احمدیت سمجھتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جس دن انتخابِ خلافت ہونا تھا مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے ایک ٹریکٹ شائع ہوا کہ خلیفہ نہیں ہونا چاہیے صدر انجمن احمدیہ ہی حاکم ہونی چاہیے۔ اُس وقت چند نوجوانوں نے مل کر ایک مضمون لکھا اور اُس کی دستی کاپیاں کیں۔ اُس کا مضمون یہ تھا کہ ہم سب احمدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے وقت فیصلہ کر چکے ہیں کہ جماعت کا ایک خلیفہ ہونا چاہئے اس فیصلہ پر ہم قائم ہیں اور تازندگی قائم رہیں گے اور خلیفہ کا انتخاب ضرور کرا کے چھوڑیں گے۔ سکول کے درجنوں طالب علم پیدل اور سائیکلوں پر چڑھ کے بٹالہ کی سڑک پر چلے گئے اور ہر نووارد مہمان کو دکھا کر اُس سے درخواست کی کہ اگر آپ اس سے متفق ہیں تو اس پر دستخط کر دیں۔ جماعت احمدیہ میں خلافت کی بنیاد کا وہ پہلا دن تھا اور اس بنیاد کی اینٹیں رکھنے والے سکول کے لڑکے تھے۔ مولوی صدر الدین صاحب اُس وقت ہیڈ ماسٹر تھے۔ اُن کو پتہ لگا تو وہ بھی بٹالہ کی سڑک پر چلے گئے وہاں اُنہوں نے دیکھا کہ سکول کا ایک لڑکا نووارد مہمانوں کو وہ مضمون پڑھوا کر دستخط کروا رہا ہے۔ انہوں نے وہ کاغذ اُس سے چھین کر پھاڑ دیا اور کہا چلے جاؤ۔ وہ لڑکا مومن تھا اس نے کہا مولوی صاحب! آپ ہیڈماسٹر ہیں اور مجھے مار بھی سکتے ہیں مگر یہ مذہبی سوال ہے میں اپنے عقیدہ کو آپ کی خاطر نہیں چھوڑ سکتا۔ فوراً جھک کر وہ کاغذ اُٹھایا اور اُسی وقت پنسل سے اس کی نقل کرنی شروع کر دی اور مولوی صاحب کے سامنے ہی دوسرے مہمانوں سے اُس پر دستخط کروانے شروع کر دیئے۔ اس پر ۴۲ سال گزر گئے ہیں میں اُس وقت جوان تھا اور اَب ۶۸ سال کی عمر کا ہوں اور فالج کی بیماری کا شکار ہوں۔ اُس وقت آپ لوگوں کی گردنیں پیغامیوں کے ہاتھ میں تھیں اور خزانہ میں صرف ۱۸ آنے کے پیسے تھے میں نے خالی خزانہ کو لے کر احمدیت کی خاطر ان لوگوں سے لڑائی کی جو کہ اُس وقت جماعت کے حاکم تھے اور جن کے پاس روپیہ تھا۔ لیکن خداتعالیٰ نے میری مدد کی اور جماعت کے نوجوانوں کو خدمت کرنے کی توفیق دی۔ ہم کمزور جیت گئے اور طاقتور دشمن ہار گیا۔ آج ہم ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور جن لوگوں کو ایک تفسیر پر ناز تھا ان کے مقابلہ میں اتنی بڑی تفسیر ہمارے پاس ہے کہ ان کی تفسیر اس کا تیسرا حصہ بھی نہیں۔ جو ایک انگریزی ترجمہ پیش کرتے تھے اس کے مقابلہ میں ہم چھ زبانوں کا ترجمہ پیش کر رہے ہیں لیکن ناشکری کا بُرا حال ہو کہ وہی شخص جس کو پیغامی ستر ا بہترا قرار دے کر معزول کرنے کا فتویٰ دیتے تھے اور جس کے آگے اور دائیں اور بائیں لڑکر میں نے اُس کی خلافت کو مضبوط کیا اُس سے تعلق رکھنے والے چند بے دین نوجوان جماعتوں میں آدمی بھجوا رہے ہیں کہ خلیفہ بڈھا ہو گیا ہے اسے معزول کرنا چاہیے۔ اگر واقع میں میں کام کے قابل نہیں ہوں تو آپ لوگ آسانی کے ساتھ ایک دوسرے قابل آدمی کو خلیفہ مقرر کر سکتے ہیں اور اُس سے تفسیر قرآن لکھوا سکتے ہیں۔ میری تقریریں مجھے واپس کر دیجئے اور اپنے روپے لے لیجئے اور مولوی محمد علی صاحب کی تفسیر یا اور جس تفسیر کو آپ پسند کریں اسے پڑھا کریں اور جو نئی تفسیر میری چھپ رہی ہے اُس کو بھی نہ چھوئیں۔ یہ اوّل درجہ کی بے حیائی ہے کہ ایک شخص کی تفسیروں اور قرآن کو دنیا کے سامنے پیش کر کے تعریفیں اور شہرت حاصل کرنی اور اُسی کو نکما اور ناکارہ قرار دینا۔ مجھے آج ہی اللہ تعالیٰ نے الہام سے سمجھایا کہ’’ آؤ ہم مدینہ والا معاہدہ کریں‘‘ یعنی جماعت سے پھر کہو کہ یا تم مجھے چھوڑ دو اور میری تصنیفات سے فائدہ نہ اُٹھاؤ۔ نہیں تو میرے ساتھ وفاداری کا ویسا ہی معاہدہ کرو جیسا کہ مدینہ کے لوگوں نے مکہ کی عقبہ جگہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ کیا تھا اور پھر بدر کی جنگ میں کہا تھا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! یہ نہ سمجھیں کہ خطرہ کے وقت میں ہم موسیٰ کی قوم کی طرح آپؐ سے کہیں گے کہ جا تو اور تیرا خدا لڑتے پھرو ہم یہیں بیٹھے ہیں یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ہم آپؐ کے دائیں بھی لڑیں گے بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن اُس وقت تک آپؐ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک ہماری لاشوں کو روندتا ہوا آگے نہ آئے ۱؎ سو گو میرا حافظ خدا ہے اور اُس کے دیئے ہوئے علم سے آج بھی میں ساری دنیا پر غالب ہوں لیکن چونکہ خداتعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اپنی جماعت کا امتحان لے اور اس سے کہہ دے کہ ’’آؤ ہم مدینہ والا معاہدہ کریں‘‘ سو تم میں سے جو شخص خداتعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر قسم کھا کر معاہدہ کرتا ہے کہ وہ اپنے آخری سانس تک وفاداری دکھائے گا وہ آگے بڑھے وہ میرے ساتھ ہے اور میں اور میرا خدا اس کے ساتھ ہے لیکن جو شخص دُنیوی خیالات کی وجہ سے اور منافقوں کے پراپیگنڈا کی وجہ سے بُزدلی دکھانا چاہتا ہے اُس کو میرا آخری سلام۔ میں کمزور اور بوڑھا ہوں لیکن میرا خدا کمزور اور بوڑھا نہیں۔ وہ اپنی قہری تلوار سے ان لوگوں کو تباہ کر دے گا جو کہ اس منافقانہ پراپیگنڈا کا شکار ہوں گے۔ اس پراپیگنڈا کا کچھ ذکر الفضل میں چھاپ دیا گیا ہے چاہیے کہ قائد خدام اُس مضمون کو بھی پڑھ کر سنا دیں۔ اللہ تعالیٰ جماعت کا حافظ و ناصر ہو۔ پہلے بھی اس کی مدد مجھے حاصل تھی اب بھی اس کی مدد مجھے حاصل رہے گی۔ میں یہ پیغام صرف اس لئے آپ کو بھجوا رہا ہوں تا کہ آپ لوگ تباہی سے بچ جائیں ورنہ حقیقتاً میں آپ کی مدد کا محتاج نہیں۔ ایک ایک مرتد کے مقابلہ میں خداتعالیٰ ہزاروں آدمی مجھے دے گا اور مجھے توفیق بخشے گا کہ میرے ذریعہ سے پھر سے جماعت جواں سال ہو جائے۔ آپ میں سے ہر مخلص کے لئے دعا اور کمزور کے لئے رُخصتی سلام۔
    خاکسار
    مرزا محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی
    (الفضل ۴ ؍اگست ۱۹۵۶ء)
    ۱؎ بخاری کتاب المغازی باب قصۃ غزوۃ بدر

    خلیفہ خداتعالیٰ بنایا کرتا ہے
    ذیل میں ایک اور شہادت ظہور القمر صاحب دلدہری داس کی جو ہندوؤں سے مسلمان ہوئے ہیں شائع کی جاتی ہے جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ منافق پارٹی پیغامیوں کی ایجنٹ ہے۔ ظہور القمر صاحب تحریر فرماتے ہیں:۔
    ’’میں مسمی ظہور القمر ولدہری داس متعلم جامعۃ المبشرین ربوہ حال مسجد احمدیہ گلڈنہ مری حلفیہ بیان کرتا ہوں کہ تقریباً دس روز ہوئے ایک شخص جس نے اپنا نام اللہ رکھا سابق درویش قادیان بتایا مسجد احمدیہ گلڈنہ میں آیا اور کہا کہ میں مولوی محمد صدیق مربی راولپنڈی کو ملنے آیا ہوں۔ میرا سامان راولپنڈی میں اُن کے مکان پر ہے اور میں نے اُن سے مکان کی چابی لینی ہے۔ اس کے بعد وہ مولوی محمد صدیق صاحب کو ملا اور اُنہوں نے اسے مسجد احمدیہ گلڈنہ میں ٹھہرایا اور بستر وغیرہ بھی دیا اور اس کے پاس کھانے کے لئے کچھ نہیں تھا۔ مولوی محمد صدیق صاحب اسے اپنے ساتھ کھانا بھی کھلاتے رہے (مولوی محمد صدیق صاحب نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ چونکہ اُس شخص نے اُن سے کہا تھا کہ بڑے بڑے احمدی مجھ سے بڑی محبت کرتے ہیں اور میاں عبدالوہاب صاحب کا خط دکھایا تھا کہ آپ ہمیں بھائیوں کی طرح عزیز ہیں اور یہ بھی کہا تھا کہ میاں بشیر احمد صاحب کا خط بھی میرے پاس ہے۔ گو اُنہوں نے امرائے جماعت کو لکھا ہے کہ اس شخص کو معافی مل چکی ہے اب جماعت اس کے ساتھ تعاون کرے اور اس کی مدد کرے مگر یہ بھی کہا تھا کہ وہ خط اِس وقت میرے ساتھ نہیں ہے۔ پس میں نے اس شخص پر حُسنِ ظنی کی اور اُس کو مخلص احمدی سمجھا اور یقین کیا کہ اس کو معافی مل چکی ہے) پھر ظہور القمر صاحب لکھتے ہیں کہ میں عیدالاضحی سے ایک روز قبل خیبر لاج میں آیا اور منشی فتح دین صاحب سے دریافت کیا کہ عید کی نماز کب ہوگی اور کون پڑھائے گا؟ منشی صاحب نے بتایا کہ ساڑھے آٹھ بجے ہوگی اور صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پڑھائیں گے۔ باہر صحن میں درخت کے ساتھ اعلان بھی لگا ہوا ہے۔ لہٰذا میں نے واپس جا کر سب دوستوں کو جو مسجد میں تھے نماز کے وقت کی اطلاع دی۔ اِس ضمن میں اللہ رکھا مذکور کو بھی بتایا کہ کل نماز ساڑھے آٹھ بجے ہوگی اور صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نماز پڑھائیں گے تو اس نے جواب دیا کہ ’’میں ایسوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا‘‘ دوسرے روز مولوی محمدصدیق صاحب اسے زبردستی خیبر لاج لائے اور اسے اپنے ہمراہ نماز کی ادائیگی کے لئے کہا۔ اللہ رکھا کہتا تھا کہ میں پیغامیوں کی مسجد میں نماز پڑھوں گا۔ نیز وہ جتنے روز یہاں رہا پیغامیوں کا لٹریچر تقسیم کرتا رہا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اس کی خط و کتابت مولوی صدر دین صاحب سے ہے اور ہر روز وہ کہا کرتا تھا کہ میں نے انہیں آج خط لکھا ہے۔
    اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ وہ ابتدائی دنوں میں پیغامیوں کی مسجد میں رہتا رہا ہے اور میاں محمد صاحب لائلپوری جو کچھ عرصہ پیغامیوں کے امیر رہے ہیں اور گذشتہ دنوں مری میں تھے ان کے گھر جا کرکھانا کھاتا رہا ہے اور اس نے مجھے کہاکہ انہوں نے مجھے اجازت دے رکھی ہے کہ جب چاہو میرے گھر آ جایا کرو۔ میں رات کے گیارہ بجے تک مکان کا دروازہ کھلا رکھا کروں گا۔ جس روز محمد شریف صاحب اشرف سے اللہ رکھا کا جھگڑا ہوا تھا اُس دن رات کو جب وہ مسجد میں آیا تو اس نے کہا یہ میری پیشگوئی ہے کہ جس طرح پہلے خلافت کا جھگڑا ہوا تھا اب پھر ہونے والا ہے آپ ایک ڈیڑھ سال میں دیکھ لیں گے‘‘۔
    (دستخط ظہورالقمر ۲۵؍ جولائی ۱۹۵۶ء)
    اس شہادت کو پڑھ کر دوستوں کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ سب سازش پیغامیوں کی ہے اور اللہ رکھا انہی کا آدمی ہے وہ مولوی صدر دین غیر مبائع منکر نبوتِ مسیح موعود کے پیچھے نماز جائز سمجھتا ہے لیکن مرزا ناصر احمد جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پوتا ہے اور ان کی نبوت کا قائل ہے اس کے پیچھے نماز جائز نہیں سمجھتا اور پیشگوئی کرتا ہے کہ ایک دو سال میں پھر خلافت کا جھگڑا شروع ہو جائے گا۔
    موت تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر یہ فقرہ بتاتا ہے کہ یہ جماعت ایک دو سال میں مجھے قتل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تبھی اسے یقین ہے کہ ایک دو سال میں تیسری خلافت کا سوال پیدا ہو جائے گا اور ہم لوگ خلافت کے مٹانے کو کھڑے ہو جائیں گے اور جماعت کو خلافت قائم کرنے سے روک دیں گے۔ خلافت نہ خلیفہ اوّل کی تھی نہ پیغامیوں کی۔ نہ وہ پہلی دفعہ خلافت کے مٹانے میں کامیاب ہوسکے نہ اب کامیاب ہوں گے۔ اُس وقت بھی حضرت خلیفہ اوّل کے خاندان کے چند افراد پیغامیوں کے ساتھ مل کر خلافت کے مٹانے کے لئے کوشاں تھے ۔ مجھے خود ایک دفعہ میاں عبدالوہاب کی والدہ نے کہا تھا ہمیں قادیان میں رہنے سے کیا فائدہ۔ میرے پاس لاہور سے وفد آیا تھا اور وہ کہتے تھے کہ اگر حضرت خلیفہ اوّل کے بیٹے عبدالحی کو خلیفہ بنا دیا جاتا تو ہم اِس کی بیعت کر لیتے مگر یہ مرزا محمود احمد کہاں سے آگیا ہم اس کی بیعت نہیں کر سکتے۔ وہی جوش پھر پیدا ہوا عبدالحی تو فوت ہو چکا اب شاید کوئی اور لڑکا ذہن میں ہوگا جس کو خلیفہ بنانے کی تجویز ہوگی۔ خلیفہ خداتعالیٰ بنایا کرتا ہے اگر ساری دنیا مل کر خلافت کو توڑنا چاہے اور کسی ایسے شخص کو خلیفہ بنانا چاہے جس پر خدا راضی نہیں تو وہ ہزار خلیفہ اوّل کی اولاد ہو اُس سے نوحؑ کے بیٹوں کا سا سلوک ہوگا اور اللہ تعالیٰ اُس کو اور اُس کے سارے خاندان کو اِس طرح پیس ڈالے گا جس طرح چکی میں دانے پیس ڈالے جاتے ہیں۔ خداتعالیٰ نے نوحؑ جیسے نبی کی اولاد کی پرواہ نہیں کی۔ نہ معلوم یہ لوگ خلیفہ اوّل کو کیا سمجھے بیٹھے ہیں۔ آخر وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے غلام تھے اور ان کے طفیل خلیفہ اوّل بنے تھے ان کی عزت قیامت تک محض مسیح موعود علیہ السلام کی غلامی میں ہے بے شک وہ بہت بڑے آدمی تھے مگر مسیح موعود علیہ السلام کے غلام ہو کر نہ کہ ان کے مقابل میں کھڑے ہو کر۔ قیامت تک اگر ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا غلام قرار دیا جائے گا تو ان کا نام روشن رہے گا لیکن اگر اس کے خلاف کسی نے کرنے کی جرأت کی تو وہ دیکھے گا کہ خداتعالیٰ کا غضب اس پر بھڑکے گا اور اس کو ملیا میٹ کر دیا جائے گا۔ یہ خدا کی بات ہے جو پوری ہو کر رہے گی۔ یہ لوگ تو سال ڈیڑھ سال میں مجھے مارنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن آسمانوں کا خدا حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام کو یہ فرماتا ہے۔
    ’’سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا جس کا نزو ل بہت مبارک اور جلالِ الٰہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔ نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ ہم اس میں اپنی روح (یعنی کلام) ڈالیں گے ‘‘۔
    (میرے الہاموں کا زبردست طور پر پورا ہونا جماعت پچاس سال سے دیکھ رہی ہے۔ اور جس کو شبہ ہو اب بھی اس کے سامنے مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں اخباروں میں چھپی ہوئی کشوف اور رؤیا کے ذریعہ سے بھی اور چوہدری ظفراللہ خان جیسے آدمیوں کی شہادت سے بھی)
    پھر خدا نے آپ سے فرمایا:۔
    ’’وہ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا (یہ شہرت کس نے پائی؟) اور قومیں اس سے برکت پائیں گی ‘‘(قوموں نے برکت کس سے پائی؟) پھر فرمایا:’’ تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اُٹھایا جائے گا وَکَانَ اَمْراً مَّقْضِیًّا۔
    پس میری موت کو خدا نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے اور فرماتا ہے کہ جب وہ اپنا کام کرلے گا اور اسلام کو دنیا کے کناروں تک پہنچا لے گا تب میںاس کو موت دوں گا۔ پس اس قسم کے چوہے محض لاف زنی کر رہے ہیں۔
    ایک شخص نے مجھ پر چاقو سے حملہ کیا تھا مگر اُس وقت بھی خدا نے مجھے بچایا۔ پھر جماعت کی خدمت کرتے کرتے مجھ پر فالج کا حملہ ہوا اور یورپ کے سب ڈاکٹروں نے یک زبان کہا کہ آپ کا اس طرح جلدی سے اچھا ہو جانا معجزہ تھا۔ پھر فرمایا ’’تیری نسل بہت ہوگی‘‘ (جس پیشگوئی کے مطابق ناصر احمد پیدا ہوا) پھر فرمایا ’’اور میں تیری ذُریّت کو بہت بڑھاؤں گا اور برکت دوں گا‘‘۔ مگر عبدالوہاب کے اس پیارے بھائی کے نزدیک اس پیشگوئی کے مصداق ناصر احمد کے پیچھے نماز پڑھنی ناجائز ہے مگر مولوی صدر دین کے پیچھے پڑھنی جائز ہے۔ پس خود ہی سمجھ لو کہ اِس فتنہ کے پیچھے کون لوگ ہیں؟ اور آیا یہ فتنہ میرے خلاف ہے یا مسیح موعودؑکے خلاف۔ مسیح موعودؑ فوت ہو چکے ہیں جب وہ زندہ تھے تب بھی ان کو تم پر کوئی اختیار نہیں تھا۔ قرآن مجید میں خداتعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی فرماتا ہے کہ تُو داروغہ نہیں۔ اب بھی تم آزاد ہو چاہو تو لاکھوں کی تعداد میں مرتد ہو جاؤ۔ خداتعالیٰ مٹی کے نیچے دبے ہوئے مسیح موعودؑ کی پھر بھی مدد کرے گا اور ان لوگوں کو جو آپ کے خادموں کی طرف منسوب ہوکر آپ کے مشن کو تباہ کرنا چاہتے ہیں ذلیل و خوار کرے گا۔ تمہارا اختیار ہے خواہ مسیح موعود علیہ السلام اور ان کی وحی کو قبول کرو یا مرتدوں اور منافقوں کو قبول کرو۔ میں اس اختیار کو تم سے نہیں چھین سکتا مگر خدا کی تلوار کو بھی اُس کے ہاتھ سے نہیں چھین سکتا۔
    والسلام
    خاکسار
    مرزا محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی
    ۲۵۔۷۔۱۹۵۶
    (الفضل ۲۸ جولائی ۱۹۵۶ء)

    ایمان شیشہ سے بھی زیادہ نازک چیز ہے اور اس کی حفاظت کیلئے ایمانی غیرت کی ضرورت ہے
    مجلس خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع منعقدہ ۱۹ تا ۲۱؍ اکتوبر ۱۹۵۶ء میں ۱۹؍اکتوبر کو حضور نے خطاب کے شروع میں مندرجہ ذیل آیت قرآنیہ کی تلاوت فرمائی۔


    ۱؎
    اس کے بعد فرمایا:۔
    قرآن کریم کی یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اِس میں اِس دَور کے متعلق جو آجکل ہم پر گزر رہا ہے اللہ تعالیٰ نے ایک ہی تعلیم دی ہے جو ہماری جماعت کو ہر وقت مدنظر رکھنی چاہیے۔ بے شک ہماری جماعت کے دوستوں نے موجودہ فتنہ کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے عہدِوفاداری کو تازہ کیا ہے اور ہر جگہ کی جماعت نے وفاداری کا عہد مجھے بھجوایا ہے مگر قرآن کریم میں اس آیت میں وفاداری کے عہد کے علاوہ کچھ اور باتیں بھی بیان کی گئی ہیں یا یوں کہو کہ وفاداری کی صحیح تعریف بیان کی گئی ہے۔
    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خالی منہ سے کہہ دینا کہ میں وفادار ہوں، کافی نہیں بلکہ اس مثبت کے مقابلہ میں ایک منفی کی بھی ضرورت ہے اور وہ یہ ہے کہ اے مومنو! اگر تمہاری وفاداری کا عہد سچا ہے تو تمہیں جس طرح وفاداری کرنی ہوگی اسی طرح ایک بات نہیں بھی کرنی ہوگی۔ جب تک یہ کرنا اور نہ کرنا دونوں جمع نہ ہو جائیں، تم مومن نہیں ہو سکتے۔ کرنا تو یہ ہے کہ تم نے وفادار رہنا ہے لیکن اس کی علامت ایک نہ کرنے والا کام ہے۔ خالی منہ سے کہہ دینا کہ میں وفادار ہوں کوئی چیز نہیں۔ اگر تم واقعہ میں وفادار ہو تو تمہیں ایک اور کام بھی کرنا ہوگا یا یوں کہو کہ تمہیں ایک کام سے بچنا پڑے گا اور وہ یہ ہے کہ جو لوگ تمہارے ہم خیال نہیں، وہ تم سے الگ ہیں، ان سے مخفی تعلق اور دوستی ترک کرنی پڑے گی۔ اگر تم ہماری یہ بات نہیں مانو گے تو وہ تمہارے اندر فتنہ اور فساد پیدا کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کریں گے اور تمہارے وفاداری کے عہد خاک میں مل جائیں گے۔ تمہارا عزم اور تمہارا دعویٰ مٹی میں مل جائے گا اور وہ کچھ بھی نہیں رہے گا جب تک کہ تم ہماری اس ہدایت کو نہیں مانو گے یعنی وہ لوگ جو تم سے الگ ہیں اور تمہارے اندر فساد اور تفرقہ پیدا کرتے ہیں، تم ان سے قطعی طور پر کسی قسم کی دوستی اور تعلق نہ رکھو۔
    ایک شخص جو میرا نام نہاد رشتہ دار کہلاتا ہے وہ یہاں آیا اور ایک منافق کو ملنے گیا۔ جب اُس کو ایک افسر سلسلہ نے توجہ دلائی کہ وہ ایک منافق سے ملنے گیا تھا تو اُس نے کہا کہ صدرانجمن احمدیہ نے کب حکم دیا تھا کہ اس شخص سے نہ ملا جائے۔ اس افسر نے کہا کہ تم یہ بتاؤ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کس نے حکم دیا تھا کہ پنڈت لیکھرام کے سلام کا جواب نہ دیا جائے۔ اگر تمہارے لئے کسی حکم کی ضرورت تھی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو پنڈت لیکھرام کے سلام کا جواب نہ دینے اور اپنا منہ پرے کر لینے کا کس نے حکم دیا تھا۔ جو محرک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دماغ میں پیدا ہوا تھا وہ تمہارے اندر کیوں نہ پیدا ہوا۔ چنانچہ اس شخص کے اندر منافقت گھسی ہوئی تھی اس لئے اس نے جواب میں کہا کہ یہ کس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ شخص لیکھرام کے مقام تک پہنچ گیا ہے حالانکہ قرآن کریم نے صرف اتنا کہا ہے کہ یہ نہیں کہا کہ لیکھرام و مثلہ کہ تم لیکھرام اور اس جیسے لوگوں سے نہ ملو بلکہ فرمایا ہے کہ جو لوگ اپنے عمل سے یہ ثابت کر چکے ہیں کہ وہ تمہارے ساتھ نہیں چاہے وہ لیکھرام کے مقام تک پہنچے ہوں یا نہ پہنچے ہوں تم ان سے بِطَانَہ یعنی دوستی اور مخفی تعلق نہ رکھو۔ وہ یہ تو کہہ سکتا ہے کہ میں نے تو اس شخص کے ساتھ دوستی نہیں کی مگر بِطَانَہ کے معنی صرف دوستی کے نہیں بلکہ مخفی تعلق کے بھی ہیں اور وہ شخص اس منافق سے چوری چھپے ملا تھا۔ اب اس کے قول کے مطابق اس کی اس منافق سے دوستی ہو یا نہ ہو، یہ بات تو ظاہر ہوگئی کہ اس نے اس سے مخفی تعلق رکھا۔ پھر جب اُسے سمجھایا گیا تو اس نے بہانہ بنایا اور کہا کہ اس منافق کو لیکھرام کا درجہ کس نے دیا ہے۔ اسے یہ خیال نہ آیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پنڈت لیکھرام کو سلام کا جواب نہ دیتے وقت جس آیت پر عمل کیا تھا وہ یہی آیت تھی جو میں نے تلاوت کی ہے۔ اس میں لیکھرام یا اس جیسے لوگوں کا ذکر نہیں بلکہ صرف یہ ذکر ہے کہ ایسے لوگ جو تمہارے اندر اختلافات پیدا کرنا چاہتے ہیں، تم ان سے کوئی تعلق نہ رکھو۔
    پس یا تو اسے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ جس شخص سے وہ ملا تھا وہ جماعت کے اندر اختلاف اور فساد پیدا کرنے والا نہیں اور اگر اس شخص نے واقعہ میں جماعت کے اندر اختلاف اور فساد پیدا کیا ہے تو اس کا یہ کہنا کہ اُسے لیکھرام کا درجہ کس نے دیا ہے، اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خود احمدیت پر ایسا ایمان نہیں رکھتا۔ بہرحال قرآن کریم میں خداتعالیٰ نے وفاداری کے عہد کی ایک علامت بتائی اور اس علامت کو پورا کئے بغیر وفاداری کے عہد کی کوئی قیمت نہیں۔ تم ان جماعتوں سے آئے ہو جنہوں نے وفاداری کے عہد بھجوائے ہیں لیکن اگر تم اِس عہد کے باوجود کسی منافق سے تعلق رکھتے ہو اور اس سے علیحدگی میں ملتے ہو تو وہ بِطَانَۃ کے پنجے میں آ جاتا ہے۔ کیونکہ وہ منافق اور اس کی پارٹی کے لوگ جماعت میں فتنہ اور فساد پیدا کرتے ہیں۔ اگر تم ان سے مخفی طور پر تعلق رکھتے ہو تو تمہارا عہدِ وفاداری اتنی حیثیت بھی نہیں رکھتا جتنی حیثیت گدھے کا پاخانہ رکھتا ہے۔ گدھے کے پاخانہ کی تو کوئی قیمت ہو سکتی ہے کیونکہ وہ رُوڑی کے طور پر کام آ سکتا ہے لیکن تمہارا عہد وفاداری خداتعالیٰ کے نزدیک رُوڑی کے برابر بھی حیثیت نہیں رکھتا اور وہ اسے قبول نہیں کرے گا۔
    پس یاد رکھو کہ ایمان شیشہ سے بھی زیادہ نازک چیز ہے اور اس کی حفاظت کے لئے غیرت کی ضرورت ہے۔ جس شخص کے اندر ایمانی غیرت نہیں وہ منہ سے بے شک کہتا رہے کہ میں وفادار ہوں لیکن اس کے اس عہدِ وفاداری کی کوئی قیمت نہیں۔ مثلاً اِس وقت تمہارے اندر ایک شخص بیٹھا ہوا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ ہمیں اس کی منافقت کا پتہ نہیں۔ وہ ہمیشہ مجھے لکھا کرتا ہے کہ آپ مجھ سے کیوں خفا ہیں؟ میں نے تو کوئی قابلِ اعتراض فعل نہیں کیا حالانکہ ہم نے اس کا ایک خط پکڑا ہے جس میں اس نے لکھا ہے کہ خلیفہ جماعت کا لاکھوں روپیہ کھا گیا ہے اور لاکھوں روپیہ اس نے اپنے بھائیوں اور رشتہ داروں کو کھلایا ہے۔ اس نے سمجھا کہ میرے خط کو کون پہچانے گا۔ اسے یہ پتہ نہیں تھا کہ آجکل ایسی ایجادیں نکل آئی ہیں کہ بغیر نام کے خطوط بھی پہچانے جا سکتے ہیں۔ چنانچہ ایک ماہر جو یورپ سے تحریر پہچاننے کی بڑی اعلیٰ درجہ کی تعلیم حاصل کر کے آیا ہے ہم نے وہ خط اسے بھیج دیا اور چونکہ ہمیں شُبہ تھا کہ اس تحریر کا لکھنے والا وہی شخص ہے اس لئے ایک تحریر اسے بغیر بتائے اس سے لکھوا لی اور وہ بھی اس خط کے ساتھ بھیج دی۔ اس نے علومِ جدیدہ کے مطابق خط پہچاننے کی پینتیس جگہ بتائی ہیں جو ماہرین نے بڑا غور کرنے کے بعد نکالی ہیں اور انہوں نے بتایا ہے کہ لکھنے والا خواہ وہ کتنی کوشش کرے کہ اس کا خط بدل جائے، یہ پینتیس جگہیں نہیں بدلتیں چنانچہ اس نے دونوں تحریروں کو ملا کر دیکھا اور کہا کہ لکھنے والے کی تحریر میں پینتیس کی پینتیس دلیلیں موجود ہیں اس لئے یہ دونوں تحریریں سَو فیصدی ایک ہی شخص کی لکھی ہوئی ہیں اور وہ شخص بار بار مجھے لکھتا ہے کہ آپ خواہ مخواہ مجھ سے ناراض ہیں۔ میں نے کیا قصور کیا ہے؟ میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا۔ اس بیوقوف کو کیا پتہ ہے کہ اس کی دونوں تحریریں ہم نے ایک ماہر فن کو دکھائی ہیں اور ماہر فن نے بڑے غور کے بعد جن پینتیس جگہوں کے متعلق لکھا ہے کہ وہ کبھی نہیں بدلتیں، وہ اس کی تحریر میں نہیں بدلیں۔ وہ شخص غالباً اب بھی یہاں بیٹھا ہوگا اور غالباً کل یا پرسوں مجھے پھر لکھے گا کہ میں تو بڑا وفادار ہوں آپ خواہ مخواہ مجھ پر بدظنی کر رہے ہیں میں نے تو کچھ بھی نہیں کہا حالانکہ اس نے ایک بے نام خط لکھا اور وہ خط جب ماہر فن کو دکھایا گیا اور اس کی ایک اور تحریر اسے ساتھ بھیجی گئی جو اس سے لکھوائی گئی تھی تو اس ماہر فن نے کہا کہ یہ دونوں تحریریں اسی شخص کی ہیں۔ پس خالی عہد کوئی حقیقت نہیں رکھتا جب تک کہ اس کے ساتھ انسان ان باتوں کو بھی مدنظر نہ رکھے جن کے متعلق خداتعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ وہ نہ کی جائیں۔
    عبدالمنان کو ہی دیکھ لو۔ جب وہ امریکہ سے واپس آیا تو میں نے مری میں خطبہ پڑھا اور اس میںمیں نے وضاحت کر دی کہ اتنے امور ہیں، وہ ان کی صفائی کر دے تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ وہ یہاں تین ہفتے بیٹھا رہا لیکن اُس کو اپنی صفائی پیش کرنے کی توفیق نہ ملی صرف اتنا لکھ دیا کہ میں تو آپ کا وفادار ہوں۔ ہم نے کہا ہم نے تجھ سے وفاداری کا عہد کرنے کا مطالبہ نہیں کیا۔ ہمیں معلوم ہے کہ پیغامی تمہارے باپ کو غاصب کا خطاب دیتے تھے۔ وہ انہیں جماعت کا مال کھانے والا اور حرام خور قرار دیتے تھے تم یہ کیوں نہیں کہتے کہ میں ان پیغامیوں کو جانتا ہوں، یہ میرے باپ کو گالیاں دیتے تھے یہ آپ کو غاصب اور منافق کہتے تھے میں ان کو قطعی اور یقینی طور پر باطل پر سمجھتا ہوں مگر اس بات کا اعلان کرنے کی اسے توفیق نہ ملی۔ پھر اس نے لکھا کہ میں تو خلافت حقہ کا قائل ہوں۔ اسے یہ جواب دیا گیا کہ اس کے تو پیغامی بھی قائل ہیں۔ وہ بھی کہتے ہیں کہ ہم خلافت حقہ کے قائل ہیں لیکن ان کے نزدیک خلافت حقہ اُس نبی کے بعد ہوتی ہے جو بادشاہ بھی ہو۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ بادشاہ بھی تھے اس لئے ان کے نزدیک آپ کے بعد خلافت حقہ جاری ہوئی اور حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ خلیفہ ہوئے لیکن مرزا صاحب چونکہ بادشاہ نہیں تھے اس لئے آپ کے بعد وہ خلافت تسلیم نہیں کرتے۔ پس یہ بات تو پیغامی بھی کہتے ہیں کہ وہ خلافت حقہ کے قائل ہیں۔ تم اگر واقعی جماعت احمدیہ میں خلافت حقہ کے قائل ہو تو پھر یہ کیوں نہیں لکھتے کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد خلافت کو تسلیم کرتا ہوں اور جو آپ کے بعد خلافت کے قائل نہیں، انہیں *** سمجھتا ہوں۔ پھر تم یہ کیوں نہیں لکھتے کہ خلافت حقہ صرف اسی نبی کے بعد نہیں جسے نبوت کے ساتھ بادشاہت بھی مل جائے بلکہ اگر کوئی نبی غیر بادشاہ ہو تب بھی اس کے بعد خلافت حقہ قائم ہوتی ہے۔ تمہارا صرف یہ لکھنا کہ میں خلافت حقہ کا قائل ہوں، ہمارے مطالبہ کو پورا نہیں کرتا۔ ممکن ہے تمہاری مراد خلافت حقہ سے یہ ہو کہ جب میں خلیفہ بنوں گا تو میری خلافت، خلافت حقہ ہوگی یا خلافت حقہ سے تمہاری یہ مراد ہو کہ میں تو اپنے باپ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی خلافت کا قائل ہوں یا تمہاری یہ مراد ہو کہ میں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی خلافت کا قائل ہوں۔ بہرحال عبدالمنان کو امریکہ سے واپس آنے کے بعد تین ہفتہ تک ان امور کی صفائی پیش کرنے کی توفیق نہ ملی۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ اگر وہ لکھ دیتا کہ پیغامی لوگ میرے باپ کو غاصب، منافق اور جماعت کا مال کھانے والے کہتے رہے ہیں، میں انہیں اچھی طرح جانتا ہوں تو پیغامی اس سے ناراض ہو جاتے اور اُس نے یہ امیدیں لگائی ہوئی تھیں کہ وہ ان کی مدد سے خلیفہ بن جائے گا۔ اور اگر وہ لکھ دیتا کہ جن لوگوں نے خلافت ثانیہ کا انکار کیا ہے، میں انہیں *** سمجھتا ہوں تو اس کے وہ دوست جو اس کی خلافت کا پروپیگنڈا کرتے رہے ہیں اس سے قطع تعلق کر جاتے اور وہ ان سے قطع تعلقی پسند نہیں کرتا تھا اس لئے اس نے ایسا جواب دیا ہے جسے پیغامِ صلح نے بڑے شوق سے شائع کر دیا۔ اگروہ بیان خلافت ثانیہ کی تائید میں ہوتا تو پیغامِ صلح اسے کیوں شائع کرتا۔ اس نے بھلا گزشتہ بیالیس سال میں کبھی میری تائید کی ہے؟ انہوں نے سمجھا کہ اس نے جو مضمون لکھا ہے وہ ہمارے ہی خیالات کا آئینہ دار ہے اس لئے اسے شائع کرنے میں کیا حرج ہے چنانچہ جماعت کے بڑے لوگ جو سمجھدار ہیں وہ تو الگ رہے، مجھے کالج کے ایک سٹوڈنٹ نے لکھا کہ پہلے تو ہم سمجھتے تھے کہ شاید کوئی غلط فہمی ہوگئی ہے لیکن ایک دن میں بیت الذکر میں بیٹھا ہوا تھا کہ مجھے پتہ لگا کہ پیغامِ صلح میں میاں عبدالمنان کا کوئی پیغام چھپا ہے تو میں نے ایک دوست سے کہا، میاں! ذرا ایک پرچہ لانا چنانچہ وہ ایک پرچہ لے آیا۔ میں نے وہ بیان پڑھا اور اسے پڑھتے ہی کہا کہ کوئی پیغامی ایسا نہیں جو یہ بات نہ کہہ دے۔ یہ تردید تو نہیں اور نہ ہی میاں عبدالمنان نے یہ بیان شائع کر کے اپنی بریت کی ہے۔ اس پر ہر ایک پیغامی دستخط کر سکتا ہے کیونکہ اس کا ہر فقرہ پیچ دار طور پر لکھا ہوا ہے اور اسے پڑھ کر ہر پیغامی اور خلافت کا مخالف یہ کہے گا کہ میرا بھی یہی خیال ہے۔ غرض قرآن کریم نے واضح کر دیا ہے کہ اے مؤمنو! جو لوگ تمہارے اندر اختلاف پیدا کرنا چاہتے ہیں، تم ان سے خفیہ میل جول نہ رکھو۔ اب دیکھو یہاں دوستی کا ذکر نہیں بلکہ خداتعالیٰ فرماتا ہے، تم ان سے بِطَانَہ نہ رکھو اور بِطَانَہ کے معنی محض تعلق ہوتے ہیں۔
    اب اگر کوئی ان لوگوں کو گھر میں چھپ کر مل لے او ربعد میں کہہ دے کہ آپ نے یا صدر انجمن احمدیہ نے کب کہا تھا کہ انہیں نہیں ملنا تو یہ درست نہیں ہوگا۔ ہم کہیں گے کہ خداتعالیٰ نے تمہارے اندر بھی تو غیرت رکھی ہے پھر ہمارے منع کرنے کی کیا ضرورت ہے تمہیں خود اپنی غیرت کا اظہار کرنا چاہیے۔ اگر تم ہمارے منع کرنے کا انتظار کرتے ہو تو اس کے یہ معنی ہیں کہ تمہیں خود قرآن کریم پر عمل کرنے کا احساس نہیں۔ دیکھ لو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب لیکھرام نے سلام کیا تو آپ نے یہ نہیں کہا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دینے سے کب منع فرمایا ہے بلکہ آپ نے سمجھا کہ بے شک اس آیت میں لیکھرام کا ذکر نہیں لیکن خداتعالیٰ نے تو فرما دیا ہے کہ تم ایسے لوگوں سے تعلق نہ رکھو جو تمہارے اندر فساد اور تفرقہ پیدا کرنا چاہتے ہیں پس گو اس آیت میں لیکھرام کا ذکر نہیں لیکن اس کی صفات تو بیان کر دی گئی ہیں۔ انہی صفات سے میں نے اسے پہچان لیا ہے جیسے کسی شاعر نے کہا ہے:۔
    بہر رنگے کہ خواہی جامہ مے پوش
    من اندازِ قدت را مے شناسم
    کہ اے شخص تو چاہے کس رنگ کا کپڑا پہن کر آ جائے میں کسی دھوکا میں نہیں آؤں گا کیونکہ میں تیرا قد پہچانتا ہوں۔
    حضرت مرزا صاحب نے بھی یہی فرمایا کہ اے لیکھرام! تو چاہے کوئی شکل بنا کر آ جائے قرآن کریم نے تیری صفت بیان کر دی ہے اس لئے میں تجھے تیری صفت سے پہچانتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر فرما دیا ہے کہ کہ تمہارے دشمن وہ ہیں جو قوم میں فتنہ پیدا کرنا چاہتے ہیں اس لئے قرآن کریم کی ہدایت کے مطابق میں نے تم سے کوئی تعلق نہیں رکھا۔
    میں بھی تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم نوجوان ہو اور آئندہ سلسلہ کا بوجھ تم پر پڑنے والا ہے۔ تمہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہر چیز کی بعض علامتیں ہوتی ہیں اس لئے خالی منہ سے ایک لفظ دُہرا دینا کافی نہیں بلکہ ان علامات کو دیکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہی عجیب نکتہ بیان فرما دیا ہے۔ آپؐ فرماتے ہیں کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک شخص ساری رات اپنی بیوی سے محبت کا اظہار کرتا ہے مگر دن چڑھے تو اُس سے لڑنے لگ جاتا ہے۔۲؎ اس حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بیان فرمایا ہے کہ اگر میاں کو اپنی بیوی سے واقعی محبت ہے تو وہ دن کے وقت اُس سے کیوںمحبت نہیں کرتا۔ اسی طرح جو شخص کسی جلسہ میں وفاداری کا اعلان کر دیتا ہے اور مخفی طور پر ان لوگوں سے ملتا ہے جو جماعت میں تفرقہ اور فساد پیدا کرنے چاہتے ہیں تو یہ کوئی وفاداری نہیں کیونکہ قرآن کریم نے یہ نہیں کہا کہ جو لوگ تمہارے ہم مذہب نہیں، ان سے کوئی تعلق نہ رکھو۔ غیر مذہب والوں سے تعلق رکھنا منع نہیں۔
    حضرت ابن عباسؓ کے متعلق آتا ہے کہ آپ جب بازار سے گزرتے تو یہودیوں کو بھی سلام کرتے اس لئے یہاں کی تشریح کی گئی ہے کہ تم ان لوگوں سے الگ رہو جو کے مصداق ہیں یعنی وہ تمہارے اندر فساد اور تفرقہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔اگر کوئی غیر مذہب والا تمہارے اندر فتنہ اور فساد پیدا نہیں کرناچاہتا تو وہ شخص میں شامل نہیں۔ اگر تم اس سے مل لیتے ہو یا دوستانہ تعلق رکھتے ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن ایسا شخص جو تمہاری جماعت میں فتنہ اور فساد پیدا کرنا چاہتا ہے، اس سے تعلق رکھنا خداتعالیٰ نے ممنوع قرار دے دیا ہے۔ پھر آگے فرماتا ہے تم کہہ سکتے ہو کہ اس کی کیا دلیل ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ کچھ باتیں ان کے منہ سے نکل چکی ہیں ان پر قیاس کر کے دیکھ لو کہ جو کچھ ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے وہ کیا ہے۔ کہتے ہیں ایک چاول دیکھ کر ساری دیگ پہچانی جا سکتی ہے اسی طرح یہاں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ مثلاً ایک منافق نے بقول اپنے بھائی کے کہا کہ خلیفہ اب بڈھا اور پاگل ہو گیا ہے اب انہیں دو تین معاون دے دینے چاہئیں۔ اور ہمیں جو شہادت ملی ہے اس کے مطابق اس نے کہا کہ اب خلیفہ کو معزول کر دینا چاہئے۔ اِس فقرہ سے ہر عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ اس کے پیچھے بغض کا ایک سمندر موجزن تھا۔ جس شخص کا اپنا باپ، جب اس نے بیعت لی تھی اس عمر سے زیادہ تھا جس عمر کو میں بیالیس سال کی خدمت کے بعد پہنچا ہوں،وہ اگر کہتا ہے کہ خلیفہ بڈھا ہو گیا ہے اسے اب معزول کر دینا چاہیے تو یہ شدید بُغض کی وجہ سے ہی ہو سکتا ہے ورنہ اس کے منہ سے یہ فقرہ نہ نکلتا۔ شدید بُغض انسان کی عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ اگر اس میں ذرا بھی عقل ہوتی تو وہ سمجھ سکتا تھا کہ میں یہ فقرہ منہ سے نکال کر اپنے باپ کو گالی دے رہا ہوں۔ جیسے انسان بعض اوقات غصہ میں آکر یا پاگل پن کی وجہ سے اپنے بیٹے کو حرامزادہ کہہ دیتا ہے اور وہ یہ نہیں سمجھتا کہ وہ یہ لفظ کہہ کر اپنی بیوی کو اور اپنے آپ کو گالی دے رہا ہے اسی طرح اس نوجوان کی عقل ماری گئی اور اس نے وہ بات کہی جس کی وجہ سے اس کے باپ پر حملہ ہوتا تھا۔ دنیا میں کوئی شخص جان بوجھ کر اپنے باپ کو گالی نہیں دیتا۔ ہاں بُغض اور غصہ کی وجہ سے ایسا کر لیتا ہے اور یہ خیال نہیں کرتا کہ وہ اپنے باپ کو گالی دے رہا ہے۔اس نوجوان کی مجھ سے کوئی لڑائی نہیں تھی اور نہ ہی میں اس کے سامنے موجود تھا کہ وہ غصہ میں آ کر یہ بات کہہ دیتا۔ ہاں اس کے دل میں بغض اتنا بڑھ گیا تھا کہ اس کی وجہ سے اس نے وہ بات کہی جس کی وجہ سے اس کے باپ پر بھی حملہ ہوتا تھا۔ قرآن بھی یہی کہتا ہے کہ کہ ان کے منہ سے بغض کی بعض باتیں نکلی ہیں ان سے تم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وَجوکچھ ان کے سینوں میں ہے وہ اس سے بہت بڑا ہے کیونکہ ہر انسان کوشش کرتا ہے کہ اس کے دل کے بغض کا علم کسی اور کو نہ ہو اس لئے جو کچھ اس کے دل میں ہے وہ اس سے بہت بڑا ہے جو ظاہر ہوچکا ہے۔
    غرض خداتعالیٰ نے اس آیت میں جماعتی نظام کی مضبوطی کے لئے ایک اہم نصیحت بیان فرمائی ہے۔ تمہیں یہ نصیحت ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے اور اس کے مطابق اپنے طریق کو بدلنا چاہیے ورنہ احمدیت آئندہ تمہارے ہاتھوں میں محفوظ نہیں ہو سکتی۔ تم ایک بہادر سپاہی کی طرح بنو۔ ایسا سپاہی جو اپنی جان، اپنا مال، اپنی عزت اور اپنے خون کا ہر قطرہ احمدیت اور خلافت کی خاطر قربان کر دے اور کبھی بھی خلافت احمدیہ ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں نہ جانے دے جو پیغامیوں یا احراریوں وغیرہ کے زیر اثر ہوں۔ جس طرح خداتعالیٰ نے بائبل میں کہا تھا کہ سانپ کا سرہمیشہ کچلا جائے گا اس طرح تمہیں بھی اپنی ساری عمر فتنہ و فساد کے سانپ کے سر پر ایڑی رکھنی ہوگی اور دنیا کے کسی گوشہ میں بھی اسے پنپنے کی اجازت نہیں دینی ہوگی۔ اگر تم ایسا کرو گے تو قرآن کریم کہتا ہے کہ خداتعالیٰ تمہاری مدد کرے گا اور خداتعالیٰ سے زیادہ سچا اور کوئی نہیں۔
    دیکھو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے بعد جماعت کو کس قدر مدد دی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی میں جو آخری جلسہ سالانہ ہوا اس میں چھ سات سَو آدمی آئے تھے اور حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے عہدِ خلافت کے آخری جلسہ سالانہ پر گیارہ بار ہ سَو احمدی آئے تھے لیکن اب ہمارے معمولی جلسوں پر بھی دو اڑھائی ہزار احمدی آ جاتے ہیں اور جلسہ سالانہ پر تو ساٹھ ستر ہزار لوگ آتے ہیں اس سے تم اندازہ کر لو کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کتنی طاقت دی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں لنگر خانہ پر پندرہ سَو روپیہ ماہوار خرچ آ جاتا تو آپ کو فکر پڑ جاتی اور فرماتے لنگر خانہ کا خرچ اِس قدر بڑھ گیا ہے، اب اتنا روپیہ کہاں سے آئے گا۔ گویا جس شخص نے جماعت کی بنیاد رکھی تھی وہ کسی زمانہ میں پندرہ سَو ماہوار کے اخراجات پر گھبراتا تھا لیکن اب تمہارا صدر انجمن احمدیہ کا بجٹ بارہ تیرہ لاکھ کا ہوتا ہے اور صرف ضیافت پر پینتیس چھتیس ہزار روپیہ سالانہ خرچ ہو جاتا ہے۔ پندرہ سَو روپیہ ماہوار خرچ کے معنی یہ ہیں کہ سال میں صرف اٹھارہ ہزار روپیہ خرچ ہوتا تھا لیکن اب صرف جامـعۃ المبشرین اور طلباء کے وظائف وغیرہ کے سالانہ اخراجات چھیاسٹھ ہزار روپے ہوتے ہیں گویا ساڑھے پانچ ہزار روپیہ ماہوار۔ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مقابلہ میں حیثیت ہی کیا رکھتے ہیں۔ وہ مامورمِنَ اللہ تھے اور اس لئے آئے تھے کہ دنیا کو ہدایت کی طرف لائیں۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت دنیا کے کونہ کونہ میں قائم کریں اور مسلمانوں کی غفلتوں اور سستیوں کو دور کر کے انہیں اسلامی رنگ میں رنگین کریں لیکن ان کی زندگی میں جماعتی اخراجات پندرہ سَو روپیہ پر پہنچتے ہیں تو گھبرا جاتے ہیں اور خیال فرماتے ہیں کہ یہ اخراجات کہاں سے مہیا ہوں گے لیکن اِس وقت ہم جو آپ کی جوتیاں جھاڑنے میں بھی فخر محسوس کرتے ہیں صرف ایک درس گاہ یعنی جامعۃ المبشرین پر ساڑھے پانچ ہزار روپیہ ماہوار خرچ کر رہے ہیں۔ اسی طرح مرکزی دفاتر اور بیرونی مشنوں کو ملا لیا جائے تو ماہوار خرچ ستر اسّی ہزار روپیہ بن جاتا ہے گویا آپ کے زمانہ میں جو خرچ پانچ سات سال میں ہوتا تھا وہ ہم ایک سال میں کرتے ہیں اور پھر بڑی آسانی سے کرتے ہیں۔ اس طرح یہ خلافت کی ہی برکت ہے کہ تبلیغ اسلام کا وہ کام جو اِس وقت دنیا میں اور کوئی جماعت نہیں کر رہی صرف جماعت احمدیہ کر رہی ہے۔ مصر کا ایک اخبار الفتح ہے وہ ہماری جماعت کا سخت مخالف ہے مگر اس نے ایک دفعہ لکھا کہ جماعت احمدیہ کو بے شک ہم اسلام کا دشمن خیال کرتے ہیں لیکن اِس وقت وہ تبلیغ اسلام کا جو کام کر رہی ہے گزشتہ تیرہ سَو سال میں وہ کام بڑے بڑے اسلامی بادشاہوں کو بھی کرنے کی توفیق نہیں ملی۔ جماعت کا یہ کارنامہ محض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے طفیل اور تمہارے ایمانوں کی وجہ سے ہے۔ آپ کی پیشگوئیاں تھیں اور تمہارا ایمان تھا۔ جب یہ دونوں مل گئے تو خداتعالیٰ کی برکتیں نازل ہونی شروع ہوئیں اور جماعت نے وہ کام کیا جس کی توفیق مخالف ترین اخبار الفتح کے قول کے مطابق کسی بڑے سے بڑے اسلامی بادشاہ کو بھی آج تک نہیں مل سکی۔ اب تم روزانہ پڑھتے ہو کہ جماعت خداتعالیٰ کے فضل سے روز بروز بڑھ رہی ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تم اور بھی ترقی کرو گے اور اُس وقت تمہارا چندہ بیس، پچیس لاکھ سالانہ نہیں ہوگا بلکہ کروڑ، دو کروڑ، دس کروڑ، بیس کروڑ، پچاس کروڑ، ارب، کھرب، پدم بلکہ اس سے بھی بڑھ جائے گا اور پھر تم دنیا کے چپہ چپہ میں اپنے مبلغ رکھ سکو گے۔ انفرادی لحاظ سے تم اُس وقت بھی غریب ہوگے لیکن اپنے فرض کے ادا کرنے کی وجہ سے، ایک قوم ہونے کے لحاظ سے تم امریکہ سے بھی زیادہ مالدار ہوگے۔ دنیا میں ہر جگہ تمہارے مبلّغ ہوں گے اور جتنے تمہارے مبلّغ ہوں گے، اتنے افسر دنیا کی کسی بڑی سے بڑی قوم کے بھی نہیں ہوں گے۔ امریکہ کی فوج کے بھی اتنے افسر نہیں ہوں گے جتنے تمہارے مبلّغ ہونگے اور یہ محض تمہارے ایمان اور اخلاص کی وجہ سے ہوگا۔ اگر تم اپنے ایمان کو قائم رکھو گے تو تم اُس دن کو دیکھ لو گے۔ تمہارے باپ دادوں نے وہ دن دیکھا جب ۱۹۱۴ء میں پیغامیوں نے ہماری مخالفت کی جب میں خلیفہ ہوا تو خزانہ میں صرف سترہ روپے تھے۔ انہوں نے خیال کیا کہ اب قادیان تباہ ہو جائے گا لیکن اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایسی برکت دی کہ اب ہم اپنے کسی طالب علم کو سترہ روپے ماہوار وظیفہ بھی دیتے ہیں تو یہ وظیفہ کم ہونے کی شکایت کرتا ہے۔
    پیغامیوں کے خلاف پہلا اشتہار شائع کرنے کے لئے میرے پاس روپیہ نہیں تھا۔ میرناصر نواب صاحب جو ہمارے نانا تھے، اُنہیں پتہ لگا وہ دارالضعفاء کے لئے چندہ جمع کیا کرتے تھے۔ ان کے پاس اُس چندہ کا کچھ روپیہ تھا وہ دواڑھائی سَو روپیہ میرے پاس لے آئے اور کہنے لگے اِس سے اشتہار چھاپ لیں پھر خدا دے گا تو یہ رقم واپس کر دیں۔ پھر خداتعالیٰ نے فضل کیا اور آمد آنی شروع ہوئی اور اب یہ حالت ہے کہ پچھلے بیس سال کی تحریک جدید میں تین لاکھ ستر ہزار روپیہ چندہ میں نے دیا ہے۔ کجا یہ کہ ایک اشتہار شائع کرنے کے لئے میرے پاس دو اڑھائی سَو روپیہ بھی نہیں تھا اور کجا یہ کہ خداتعالیٰ نے میری اس قسم کی امداد کی اور زمیندارہ میں اِس قدر برکت دی کہ میں نے لاکھوں روپیہ بطور چندہ جماعت کو دیا۔
    پھر مجھے یاد ہے کہ جب ہم نے پہلا پارہ شائع کرنا چاہا تو میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ ہمارے خاندان کے افراد اپنے روپیہ سے اسے شائع کر دیں لیکن روپیہ پاس نہیں تھا۔ اُس وقت تک ہماری زمینداری کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ میں نے اپنے مختار کو بُلایا اور کہا ہم قرآن کریم چھپوانا چاہتے ہیں لیکن روپیہ پاس نہیں۔ وہ کہنے لگا آپ کو کس قدر روپے کی ضرورت ہے؟میں نے کہا کہتے ہیں کہ پہلی جلد تین ہزار روپے میں چھپے گی۔ اس نے کہا میں روپیہ لا دیتا ہوں۔ آپ صرف اس قدر اجازت دے دیں کہ میں کچھ زمین مکانوں کے لئے فروخت کر دوں۔ میں نے کہا اجازت ہے۔ ظہر کی نماز کے بعد میں نے اُس سے بات کی اور عصر کی اذان ہوئی تو اُس نے ایک پوٹلی میرے سامنے لا کر رکھ دی اور کہا یہ لیں روپیہ۔ میں نے کہا ہیں! قادیان والوں کے ہاں اتنا روپیہ ہے؟ وہ کہنے لگا اگر آپ تیس ہزار روپیہ بھی چاہیں تو میں آپ کو لا دیتا ہوں۔ لوگ مکانات بنانا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس زمین نہیں۔ اگر انہیں زمین دے دی جائے تو روپیہ حاصل کرنا مشکل نہیں۔ میں نے کہا خیر اِس وقت ہمیں اِسی قدر روپیہ کی ضرورت ہے چنانچہ اُس وقت ہم نے قرآن کریم کا پہلا پارہ شائع کر دیا۔
    پھر میں نے الفضل جاری کیا تو اُس وقت بھی میرے پاس روپیہ نہیں تھا۔ حکیم محمد عمر صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے میں آپ کو کچھ خریدار بنا کر لا دیتا ہوں اور تھوڑی دیر میں وہ ایک پوٹلی روپوں کی میرے پاس لے آئے۔ غرض ہم نے پیسوں سے کام شروع کیا اور آج ہمارا لاکھوں کا بجٹ ہے اور ہماری انجمن کی جائیداد کروڑوں کی ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ میں خود گزشتہ بیس سال کی تحریک جدید میں تین لاکھ ستر ہزار روپیہ چندہ دے چکا ہوں۔ اسی طرح ایک لاکھ پچاس ہزار روپیہ میں نے صدر انجمن احمدیہ کو دیا ہے اور اتنی ہی جائیداد اسے دی ہے گویا تین لاکھ صدر انجمن احمدیہ کو دیا ہے اور تین لاکھ ستر ہزار روپیہ تحریک جدید کو دیا ہے اس لئے جب کوئی شخص اعتراض کرتا ہے کہ میں نے جماعت کا روپیہ کھا لیا ہے تو مجھے غصہ نہیں آتا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ حسابی بات ہے۔ جب انجمن کے رجسٹر سامنے آ جائیں گے تو یہ شخص آپ ہی ذلیل ہو جائے گا۔
    بہرحال اِس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے میں آپ سب کو اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ ان کو یاد رکھو اور اپنی جگہوں پر واپس جا کر اپنے بھائیوں اور دوستوں کو بھی سمجھاؤ کہ زبانی طور پر وفاداری کا عہد کرنے کے کوئی معنی نہیں۔ اگر تم واقعی وفادار ہو تو تمہیں منافقوں کا مقابلہ کرنا چاہئے اور ان کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ اُنہوں نے والی بات پوری کر دی ہے اور وہ جماعت میں فتنہ اور تفرقہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ قرآن کریم کی ہدایت یہی ہے کہ ان سے مخفی طور پر اور الگ ہو کر بات نہ کی جائے اور اس پر تمہیں عمل کرنا چاہیے تا کہ تم شیطانی حملوں سے محفوظ ہو جاؤ ورنہ تم جانتے ہو کہ شیطان حضرت حوا کی معرفت جنت میں گھس گیا تھا اور جو شیطان حضرت حوا کی معرفت جنت میں گھس گیا تھا وہ جماعت احمدیہ میں کیوں نہیں گھس سکتا۔ ہاں اگر تم کو حضرت آدم والا قصہ یاد رہے تو تم اس سے بچ سکتے ہو۔ بائبل کھول کر پڑھو تمہیں معلوم ہوگا کہ شیطان نے دوست اور خیر خواہ بن کر ہی حضرت آدمؑ اور حوا کو ورغلایا تھا اسی طرح یہ لوگ بھی دوست اور ظاہر میں خیر خواہ بن کر تمہیں خراب کر سکتے ہیں لیکن اگر تم قرآنی ہدایت پر عمل کرو تو محفوظ ہو جاؤ گے اور شیطان خواہ کسی بھیس میں بھی آئے تم اس کے قبضہ میں نہیں آؤ گے۔
    میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تم کو ہمیشہ خلافت کا خدمت گزار رکھے اور تمہارے ذریعہ احمدیہ خلافت قیامت تک محفوظ چلی جائے اور قیامت تک سلسلہ احمدیہ کے ذریعہ اسلام اور احمدیت کی اشاعت ہوتی رہے اور تم اور تمہاری نسلیں قیامت تک اس کا جھنڈا اونچا رکھیں اور کبھی بھی وہ وقت نہ آئے کہ اسلام اور احمدیت کی اشاعت میں تمہارا یا تمہاری نسلوں کا حصہ نہ ہو بلکہ ہمیشہ ہمیش کے لئے تمہارا اور تمہاری نسلوں کا اس میں حصہ ہو اور جس طرح پہلے زمانہ میں خلافت کے دشمن ناکام ہوتے چلے آئے ہیں تم بھی جلد ہی سالوں میں نہیں بلکہ مہینوں میں ان کو ناکام ہوتا دیکھ لو‘‘۔
    (اس کے بعد حضور نے عہد دُہرایا اور دعا کروائی۔ دعا سے فارغ ہونے کے بعد حضور نے ارشاد فرمایا کہ:۔)
    ’’واپس جانے سے پہلے میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اِس وقت موجودہ زمانہ کے حالات کے لحاظ سے میں نے جماعت کے فتنہ پردازوں کا ذکر کیا ہے لیکن اس موقع کے زیادہ مناسب حال آج کا خطبہ جمعہ تھا جس میں میں نے خدمت خلق پر زور دیا ہے۔ خدام الاحمدیہ نے پچھلے دنوں ایسا شاندار کام کیا تھا کہ بڑے بڑے مخالفوں نے یہ تسلیم کیا کہ ان کی یہ خدمت بے نظیر ہے۔ تم اِس خدمت کو جاری رکھو اور اپنی نیک شہرت کو مدھم نہ ہونے دو۔ جب بھی ملک اور قوم پر کوئی مصیبت آئے سب سے آگے خدمت کرنے والے خدام الاحمدیہ کو ہونا چاہیے یہاں تک کہ سلسلہ کے شدید سے شدید دشمن بھی یہ مان لیں کہ درحقیقت یہی لوگ ملک کے سچے خادم ہیں۔ یہی لوگ غریبوں کے ہمدرد ہیں ۔ یہی لوگ مسکینوں اور بیواؤں کے کام آنے والے ہیں۔ یہی لوگ مصیبت زدوں کی مصیبت کو دور کرنے والے ہیں۔ تم اتنی خدمت کرو کہ شدید سے شدید دشمن بھی تمہارا گہرا دوست بن جائے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ایسا سلوک کرو کہ تمہارا دشمن بھی دوست بن جائے۔ یہی خدام الاحمدیہ کو کرنا چاہیے۔ اگر تمہارے کاموں کی وجہ سے تمہارے علاقہ کے لوگ تمہارے بھی اور تمہارے احمدی بھائیوں کے بھی دوست بن گئے ہیں ، تمہارے کاموں کی قدر کرنے لگ گئے ہیں اور تم کو بھی اپنا سچا خادم سمجھتے ہیں اور اپنا مددگار سمجھتے ہیں تو تم سچے خادم ہو۔ اور اگر تم یہ روح پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے تو تمہیں ہمیشہ استغفار کرنا چاہئے کہ تمہارے کاموں میں کوئی کمی رہ گئی ہے جس کی وجہ سے تم لوگوں کے دلوں میں اثر پیدا نہیں کر سکے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور آپ کی مدد کرے‘‘۔(الفضل ۲۴ ؍اپریل ۱۹۵۷ء)
    ۱؎ اٰل عمران: ۱۱۹
    ۲؎ سنن ابن ماجہ کتاب النکاح باب ضرب النساء

    خدا تعالیٰ نے ہر میدان میں جماعت احمدیہ کو خلافت کی برکات سے نوازا ہے
    ( خطاب فرمودہ ۲۱؍ اکتوبر ۱۹۵۶ء برموقع سالانہ اجتماع خدام الاحمدیہ مرکزیہ بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    ’’اس دفعہ مختلف وجوہات کی بناء پر جماعت احمدیہ کی مختلف مرکزی انجمنوں نے قریب قریب عرصہ میں اپنے سالانہ اجتماع منعقد کئے ہیں جس کی وجہ سے مجھ پر زیادہ بوجھ پڑ گیا ہے۔ میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بتایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات سے تین چار سال پہلے جلسہ سالانہ پر میں آپ کی تقاریر سنتا رہا ہوں آپ کی وفات کے وقت میری عمر ۱۹ سال کی تھی۔ اور اس سے چار پانچ سال قبل میری عمر قریباً ۱۴ سال کی تھی اس لئے میں آپ کی مجالس میں جاتا اور تقاریر سنتا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تقریر عام طور پر پچاس منٹ یا ایک گھنٹہ کی ہوتی تھی اور وفات سے پانچ سال پہلے آپ کی عمر قریباً اتنی ہی تھی جتنی اِس وقت میری ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی کسی مشیت کے ماتحت مجھ پر ایک خطرناک بیماری کا حملہ ہوا جس کی وجہ سے میں اب لمبی تقاریر نہیں کر سکتا۔ پہلے میں جلسہ سالانہ کے موقع پر پانچ پانچ چھ چھ گھنٹہ کی تقاریر کر لیتا تھا مگر اس بیماری کے اثر کی وجہ سے مجھے جلدی ضعف محسوس ہونے لگتا ہے۔ آج لجنہ اماء اللہ کا اجتماع بھی تھا وہاں بھی میں نے تقریر کی۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ کئی سال سے آپ کی عورتوں میں کوئی تقریر نہیں ہوئی اس لئے آپ اس موقع پر عورتوں میں بھی تقریر کریں۔ چنانچہ میں نے تقریر کرنی منظور کر لی اور صبح وہاں میری تقریر تھی اِس وقت تمہاری باری آگئی ہے۔ چار پانچ دن کے بعد انصار اللہ کی باری آ جائے گی پھر جلسہ سالانہ آ جائے گا اُس موقع پر بھی مجھے تقاریر کرنی ہونگی۔ پھر ان کاموں کے علاوہ تفسیر کا اہم کام بھی ہے جو میں کر رہا ہوں۔ اس کی وجہ سے نہ صرف مجھے کوفت محسوس ہو رہی ہے بلکہ طبیعت پر بڑا بوجھ محسوس ہو رہا ہے اس لئے اگرچہ میری خواہش تھی کہ اس موقع پر میں لمبی تقریر کروں مگر میں زیادہ لمبی تقریر نہیں کر سکتا۔ اب پیشتر اس کے کہ میں اپنی تقریر شروع کروں آپ سب کھڑے ہو جائیں تا کہ عہد دُہرایا جائے‘‘۔
    (حضور کے اِس ارشاد پر تمام خدام کھڑے ہوگئے اور حضور نے عہد دُہرایا۔ عہد دُہرانے کے بعد حضور نے فرمایا:۔)
    ’’آج میں قرآن کریم کی ایک آیت کے متعلق کچھ زیادہ تفصیل سے بیان کرنا چاہتا تھا مگر اِس وقت میں محسوس کرتا ہوں کہ میں اس تفصیل کے ساتھ بیان نہیں کر سکتا کیونکہ کل میں نے خطبہ جمعہ بھی پڑھا اور پھر آپ کے اجتماع میں بھی تقریر کی۔ اسی طرح آج صبح لجنہ اماء اللہ کے اجتماع میں مجھے تقریر کرنی پڑی جس کی وجہ سے مجھے اِس وقت کوفت محسوس ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ :۔
    ۱؎
    یعنی ہم تم میں سے مومن اور ایمان بالخلافت رکھنے والوں اور اس کے مطابق عمل کرنے والوں سے وعدہ کرتے ہیں کہ ان کو ہم ضرور اس طرح خلیفہ بنائیں گے جس طرح کہ پہلی قوموں یعنی یہود اور نصارٰی میں سے بنائے ہیں۔ اس آیت سے پتہ لگتا ہے کہ خلافت ایک عہد ہے پیشگوئی نہیں۔ اور عہد مشروط ہوتا ہے لیکن پیشگوئی کے لئے ضروری نہیں کہ وہ مشروط ہو۔ پیشگوئی مشروط ہو تو وہ مشروط رہتی ہے اور اگر مشروط نہ ہو لیکن اس میں کسی انعام کا وعدہ ہو تو وہ ضرور پوری ہو جاتی ہے۔ یہاں وعدہ کا لفظ بھی موجود ہے اور اس کے ساتھ شرط بھی مذکور ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن کریم نے خود اِس وعدہ کی تشریح کر دی ہے کہ ہمارا یہ وعدہ کہ ہم تم میں سے مومنوں اور اعمال صالحہ بجا لانے والوں کو اسی طرح خلیفہ بنائیں گے جیسے ہم نے ان سے پہلے یہود و نصاریٰ میں خلیفہ بنائے، ضروری نہیں کہ پورا ہو۔ ہاں اگر تم بعض باتوں پر عمل کرو گے تو ہمارا یہ وعدہ ضرور پورا ہوگا۔پہلی شرط اس کی یہ بیان فرماتا ہے کہ تمہیں خلافت پر ایمان رکھنا ہوگا۔ چونکہ آگے خلافت کا ذکر آتا ہے اس لئے یہاں ایمان کا تعلق اس سے سمجھا جائے گا پھر تمہیںنیک اعمال بجا لانے ہوں گے۔ اب کسی چیز پر ایمان لانے کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ اسے پورا کرنے کی کوشش کی جائے مثلاً کسی شخص کو اس بات پر ایمان ہو کہ میں بادشاہ بننے والا ہوں یا اسے ایمان ہو کہ میں کسی بڑے عہدہ پر پہنچنے والا ہوں تو وہ اس کے لئے مناسب کوشش بھی کرتا ہے۔ اگر ایک طالب علم یہ سمجھے کہ وہ ایم۔ اے کا امتحان پاس کرے تو اس کیلئے موقع ہے کہ وہ سی۔ پی۔ ایس پاس کرے۔ یا پراونشل سروس میں ای۔ اے۔ سی بن جائے یا اسسٹنٹ کمشنر بن جائے تو پھر وہ اس کے مطابق محنت بھی کرتا ہے۔ لیکن اگر اسے یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ ان عُہدوں کے حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا تو وہ ان کے لئے کوشش اور محنت بھی نہیں کرتا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ لوگ جن کو اس بات پر یقین ہو کہ وہ خلافت کے ذریعہ ہی ترقی کر سکتے ہیں اور پھر وہ اس کی شان کے مطابق کام بھی کریںتو ہمارا وعدہ ہے کہ ہم انہیں خلیفہ بنائیں گے لیکن اگر انہیں یقین نہ ہو کہ ان کی ترقی خلافت کے ساتھ وابستہ ہے اور وہ اس کے مطابق عمل بھی نہ کرتے ہوں تو ہمارا ان سے کوئی وعدہ نہیں۔ چنانچہ دیکھ لو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت ہوئی اور پھر کیسی شاندار ہوئی۔ آپؐ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکرؓ خلیفہ ہوئے۔ اُس وقت انصار نے چاہا کہ ایک خلیفہ ہم میں سے ہواور ایک خلیفہ مہاجرین میں سے ہو۔ یہ سنتے ہی حضرت ابوبکر ؓحضرت عمرؓ اور بعض اور صحابہؓ فوراً اس جگہ تشریف لے گئے جہاں انصار جمع تھے اور آپ نے انہیں بتایا کہ دیکھو دو خلیفوں والی بات غلط ہے تفرقہ سے اسلام ترقی نہیں کرے گا خلیفہ بہرحال ایک ہی ہوگا اگر تم تفرقہ کرو گے تو تمہارا شیرازہ بکھر جائے گا۔ تمہاری عزتیں ختم ہو جائیں گی اور عرب تمہاری تکّا بوٹی کر ڈالیں گے تم یہ بات نہ کرو۔ بعض انصار نے آپ کے مقابل پر دلائل پیش کرنے شروع کئے۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں میں نے خیال کیا کہ حضرت ابوبکرؓ کو تو بولنا نہیں آتا میں انصار کے سامنے تقریر کروں گا لیکن جب حضرت ابوبکرؓ نے تقریر کی تو آپ نے وہ سارے دلائل بیان کر دئیے جو میرے ذہن میں تھے اور پھر اس سے بھی زیادہ دلائل بیان کئے۔ میں نے یہ دیکھ کر اپنے دل میں کہا کہ آج یہ بڈھا مجھ سے بڑھ گیا ہے آخر اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ خود انصار میں سے بعض لوگ کھڑے ہوگئے اور اُنہوں نے کہا حضرت ابوبکرؓ جو کچھ فرما رہے ہیں وہ ٹھیک ہے مکہ والوں کے سوا عرب کسی اور کی اطاعت نہیں کریں گے۔ پھر ایک انصاری نے جذباتی طور پر کہا۔ اے میری قوم! اللہ تعالیٰ نے اِس مُلک میں اپنا ایک رسول مبعوث فرمایا۔ اس کے اپنے رشتہ داروں نے اُسے شہر سے نکال دیا تو ہم نے اسے اپنے گھروں میں جگہ دی اور خداتعالیٰ نے اس کے طفیل ہمیں عزت دی۔ ہم مدینہ والے گمنام تھے، ذلیل تھے مگر اس رسول کی وجہ سے ہم معزز اور مشہور ہوگئے اب تم اس چیز کو جس نے ہمیں معزز بنایا کافی سمجھو اور زیادہ لالچ نہ کرو ایسا نہ ہو کہ ہمیں اس کی وجہ سے کوئی نقصان پہنچے۔ اُس وقت حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ دیکھو خلافت کو قائم کرنا ضروری ہے باقی تم جس کو چاہو خلیفہ بنا لو مجھے خلیفہ بننے کی کوئی خواہش نہیں۔ آپ نے فرمایا۔ یہ ابوعبیدہؓ ہیں ان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امین الا مت کا خطاب عطا فرمایا ہے تم ان کی بیعت کر لو۔ پھر عمرؓ ہیں یہ اسلام کے لئے ایک ننگی تلوار ہیں تم ان کی بیعت کر لو۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا ابوبکر! اب باتیں ختم کیجئے ہاتھ بڑھائیے او رہماری بیعت لیجئے۔ حضرت ابوبکرؓ کے دل میں بھی اللہ تعالیٰ نے جرأت پیدا کر دی اور آپ نے بیعت لے لی۔ بعینہٖ یہی واقعہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی وفات کے بعد میرے ساتھ پیش آیا۔ جب میں نے کہا میں اِس قابل نہیں کہ خلیفہ بنوں نہ میری تعلیم ایسی ہے اور نہ تجربہ۔ تو اُس وقت بارہ چودہ سَو احمدی جو جمع تھے اُنہوں نے شور مچا دیا کہ ہم آپ کے سوا اور کسی کی بیعت کرنا نہیں چاہتے مجھے اُس وقت بیعت کے الفاظ بھی یاد نہیں تھے۔ میں نے کہا مجھے تو بیعت کے الفاظ بھی یاد نہیں میں بیعت کیسے لوں۔ اِس پر ایک دوست کھڑے ہوگئے اور انہوں نے کہا کہ مجھے بیعت کے الفاظ یاد ہیں میں بیعت کے الفاظ بولتا جاتا ہوں اور آپ دُہراتے جائیں چنانچہ وہ دوست بیعت کے الفاظ بولتے گئے اور میں انہیں دُہراتا گیا اور اس طرح میں نے بیعت لی۔ گویا پہلے دن کی بیعت دراصل کسی اور کی تھی میں تو صرف بیعت کے الفاظ دُہراتا جاتا تھا۔ بعد میں میں نے بیعت کے الفاظ یاد کئے۔ غرض اُس وقت وہی حال ہوا جو اُس وقت ہوا تھا جب حضرت ابوبکرؓ خلیفہ منتخب ہوئے تھے۔ میں نے دیکھا کہ لوگ بیعت کرنے کے لئے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے۔ مولوی محمد علی صاحب ایک طرف بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کہا دوستو غور کر لو اور میری ایک بات سن لو۔ مجھے معلوم نہ ہوا کہ لوگوں نے انہیں کیا جواب دیا کیونکہ اُس وقت بہت شور تھا بعد میں پتہ لگا کہ لوگوں نے انہیں کہا ہم آپ کی بات نہیں سنتے۔ چنانچہ وہ مجلس سے اُٹھ کر باہر چلے گئے اس کے بعد لوگ ہجوم کر کے بیعت کے لئے بڑھے اور ایک گھنٹہ کے اندر اندر جماعت کا شیرازہ قائم ہو گیا۔ اُس وقت جس طرح میرے ذہن میں خلافت کا کوئی خیال نہیں تھا اِسی طرح یہ بھی خیال نہیں تھا کہ خلافت کے ساتھ ساتھ کونسی مشکلات مجھ پر ٹوٹ پڑیں گی۔ بعد میں پتہ لگا کہ پانچ چھ سَو روپے ماہوار تو سکو ل کے اساتذہ کی تنخواہ ہے اور پھر کئی سَو کا قرضہ ہے لیکن خزانہ میں صرف ۱۷ روپے ہیں گویا اُس مجلس سے نکلنے کے بعد محسوس ہوا کہ ایک بڑی مشکل ہمارے سامنے ہے۔ جماعت کے سارے مالدار تو دوسری پارٹی کے ساتھ چلے گئے ہیں اور جماعت کی کوئی آمدنی نہیں پھر یہ کام کیسے چلیں گے۔ لیکن بعد میں خداتعالیٰ کے فضلوں کی جو بارش ہوئی تو بگڑی سنور گئی۔ ۱۹۱۴ء میں تو میرا یہ خیال تھا کہ خزانہ میں صرف ۱۷ روپے ہیں اور اساتذہ کی تنخواہوں کے علاوہ کئی سَو روپیہ کا قرضہ ہے جو دینا ہے لیکن ۱۹۲۰ء میں جماعت کی یہ حالت تھی کہ جب میں نے اعلان کیا کہ ہم برلن میں مسجد بنائیں گے اس کے لئے ایک لاکھ روپیہ کی ضرورت ہے تو جماعتوں کی عورتوں نے ایک ماہ کے اندر اندر یہ روپیہ اکٹھا کر دیا۔ انہوں نے اپنے زیور اُتار کر دے دئیے کہ انہیں بیچ کر روپیہ اکٹھا کر لیا جائے۔ آج میں نے عورتوں کے اجتماع میں اِس واقعہ کا ذکر کیا تو میری ایک بیوی نے بتایا کہ مجھے تو اُس وقت پورا ہوش نہیں تھا میں ابھی بچی تھی اور مجھے سلسلہ کی ضرورتوں کا احساس نہیں تھا لیکن میری اماں کہا کرتی ہیں کہ جب حضور نے چندہ کی تحریک کی تو میری ساس نے (جو سید ولی اللہ شاہ صاحب کی والدہ تھیں اور میری بھی ساس تھیں) اپنی تمام بیٹیوں اور بہوؤں کو اکٹھا کیا اور کہا تم سب اپنے زیور اس جگہ رکھ دو۔ پھر انہوں نے ان زیورات کو بیچ کر مسجد برلن کے لئے چندہ دے دیا۔ اِس قسم کا جماعت میں ایک ہی واقعہ نہیں بلکہ سینکڑوں گھروں میں ایسا ہوا کہ عورتوں نے اپنی بیٹیوں اور بہوؤں کے زیورات اُتروالئے اور انہیں فروخت کر کے مسجد برلن کے لئے دے دیا۔ غرض ایک ماہ کے اندر اندر ایک لاکھ روپیہ جمع ہو گیا۔ اب دو سال ہوئے میں نے ہالینڈ میں مسجد بنانے کی تحریک کی لیکن اب تک اس فنڈ میں صرف ۸۰ ہزار روپے جمع ہوئے ہیں حالانکہ اِس وقت جماعت کی عورتوں کی تعداد اُس وقت کی عورتوں سے بیسیوں گنا زیادہ ہے۔ اُس وقت عورتوں میں اتنا جوش تھا کہ انہوں نے ایک ماہ کے اندر اندر ایک لاکھ روپیہ جمع کر دیا۔ تو درحقیقت یہ جماعت کا ایمان ہی تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے نمونہ دکھایا اور اس نے بتایا کہ میں سلسلہ کو مدد دینے والا ہوں۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے ایک دفعہ الہاماً فرمایا تھا کہ اگر ساری دنیا بھی تجھ سے منہ موڑ لے تو میں آسمان سے اُتار سکتا ہوں اور زمین سے نکال سکتا ہوں۔ تو حقیقت یہ ہے کہ ہم نے خلافت حقہ کی برکات اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کی ہیں۔ ہم ایک پیسہ کے بھی مالک نہیں تھے پھر اللہ تعالیٰ نے جماعت دی۔ جس نے چندے دئیے اور سلسلہ کے کام اب تک چلتے گئے اور چل رہے ہیں اور اب تو جماعت خداتعالیٰ کے فضل سے پہلے سے کئی گنا زیادہ ہے۔
    مجھے یاد ہے ایک دفعہ میں نے دینی ضرورتوں کے لئے خدا تعالیٰ سے کہا کہ اے اللہ! تو مجھے ایک لاکھ روپیہ دے دے تو سلسلہ کے کاموں کو چلاؤں لیکن اب کل ہی میں حساب کر رہا تھا کہ میں نے خود چھ لاکھ ستّر ہزار روپیہ سلسلہ کو بطور چندہ دیا ہے میں خیال کرتا ہوں کہ میں کتنا بیوقوف تھا کہ خداتعالیٰ سے سلسلہ کی ضرورتوں کے لئے صرف ایک لاکھ روپیہ مانگا۔ مجھے تو اس سے ایک ارب روپیہ مانگنا چاہیے تھا۔ مانگنے والا خداتعالیٰ کا خلیفہ ہو اور جس سے مانگا جائے وہ خود خدا کی ذات ہو تو پھر ایک لاکھ روپیہ مانگنے کے کیا معنی ہیں۔ مجھے تو یہ دعا کرنی چاہیے تھی کہ اے خدا ! تو مجھے ایک ارب روپیہ دے، ایک کھرب روپیہ دے یا ایک پدم روپیہ دے۔ میں نے بتایا ہے کہ اگرچہ میں نے خداتعالیٰ سے صرف ایک لاکھ روپیہ مانگا تھا لیکن خداتعالیٰ نے اتنا فضل کیا کہ صرف میں نے پچھلے سالوں میں چھ لاکھ ستر ہزار روپیہ سلسلہ کو چندہ کے طور پر دیا ہے۔ بے شک وہ روپیہ سارا نقدی کی صورت میں نہ تھا۔ کچھ زمین تھی جومیں نے سلسلہ کو دی مگر وہ زمین بھی خداتعالیٰ نے ہی دی تھی۔ میرے پاس تو زمین نہیں تھی۔ ہم تو اپنی ساری زمین قادیان چھوڑ آئے تھے۔ اپنے باغات اور مکانات بھی قادیان چھوڑ آئے تھے۔ قادیان میں میری جائداد کافی تھی مگر اس کے باوجود میں نے سلسلہ کو اتنا روپیہ نہیں دیا تھا جتنا قادیان سے نکلنے کے بعد دیا۔
    ۱۹۴۷ء میں ہم قادیان سے آئے ہیں اور تحریک جدید ۱۹۳۴ء میں شروع ہوئی تھی۔ گویا اُس وقت تحریک جدید کو جاری ہوئے بارہ سال کا عرصہ گزر چکا تھا اور اس بارہ سال کے عرصہ میں میرا تحریک جدید کا چندہ قریباً چھ ہزار روپیہ تھا لیکن بعد کے دس سال ملا کر میرا چندہ تحریک جدید دو لاکھ بیس ہزار روپیہ بن جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیڑھ لاکھ روپیہ کی زمین میں نے تحریک جدید کو دی ہے یہ زمین مجھے چوہدری ظفراللہ خان صاحب نے بطور نذرانہ دی تھی۔ میں نے خیال کیا کہ اتنا بڑا نذرانہ اپنے پاس رکھنا درست نہیں چنانچہ میں نے وہ ساری زمین سلسلہ کو دے دی۔ اس طرح تین لاکھ ستر ہزار روپیہ میں نے صرف تحریک جدید کو ادا کیا۔ اسی طرح خلافت جوبلی کے موقع پر چوہدری ظفراللہ خان صاحب کی تحریک پر جب جماعت نے مجھے روپیہ پیش کیا تو میر محمد اسحق صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی اولاد کے متعلق جو دعائیں کی ہیں ان میں یہ دعا بھی ہے کہ
    دے اس کو عمر و دولت کر دُور ہر اندھیرا
    پس اس روپیہ کے ذریعہ آپ کی یہ دعا پوری ہوگی۔ اس طرح یہ پیشگوئی بھی پوری ہوگی کہ:۔
    ’’وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا‘‘۔ اس پر میں نے کہا کہ میں یہ روپیہ تو لے لیتا ہوں لیکن اس شرط پر کہ میں یہ روپیہ سلسلہ کے کاموں پر ہی صرف کروں گا۔ چنانچہ میں نے وہ روپیہ تو لے لیا لیکن میں نے اسے اپنی ذات پر نہیں بلکہ سلسلہ کے کاموں پر خرچ کیا اور صدرانجمن احمدیہ کو دے دیا۔ اب میں نے ہیمبرگ کی مسجد کے لئے تحریک کی ہے کہ جماعت کے دوست اس کے لئے ڈیڑھ ڈیڑھ سَو روپیہ دیں لیکن اگر اللہ تعالیٰ ہمیں مال دے تو ہمارے سلسلہ میں تو یہ ہونا چاہیے کہ ہمارا ایک ایک آدمی ایک ایک مسجد بنا دے۔ خود مجھے خیال آتا ہے کہ اگر خداتعالیٰ مجھے کشائش عطا فرمائے تو میں بھی اپنی طرف سے ایک مسجد بنا دوں اور کوئی تعجب نہیں کہ خداتعالیٰ مجھے اپنی زندگی میں ہی اس بات کی توفیق دے دے اور میں کسی نہ کسی یورپین مُلک میں اپنی طرف سے ایک مسجد بنا دوں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے دینے پر منحصر ہے۔ انسان کی اپنی کوشش سے کچھ نہیں ہو سکتا۔ ہم لوگ زمیندار ہیں اور ہمارے مُلک میں زمیندارہ کی بہت ناقدری ہے یعنی یہاں لائلپور اور سرگودھا کے اضلاع کی زمینوں میں بڑی سے بڑی آمدن ایک سَو روپیہ فی ایکڑ ہے حالانکہ یورپین ممالک میں فی ایکڑ آمد اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔ میں جب یورپ گیا تو میں نے وہاں زمینوں کی آمدنیں پوچھنی شروع کیں مجھے معلوم ہوا کہ اٹلی میں فی ایکڑ آمد چار سَو روپیہ ہے اور ہالینڈ میں فی ایکڑ آمد تین ہزار روپیہ ہے۔ پھر میں نے میاں محمد ممتاز صاحب دولتانہ کا بیان پڑھا وہ جاپان گئے تھے اور وہاں اُنہوں نے زمین کی آمدنوں کا جائزہ لیا تھا۔ انہوں نے بیان کیا تھا کہ جاپان میں فی ایکڑ آمد چھ ہزار روپے ہے۔ اس کے یہ معنی ہوئے کہ اگر میری ایک سَوایکڑ زمین بھی ہو حالانکہ وہ اس سے بہت زیادہ ہے اور اس سے ہالینڈ والی آمد ہو تو تین لاکھ روپیہ سالانہ کی آمد ہو جاتی ہے اور اگر جاپان والی آمد ہو تو بڑی آسانی کے ساتھ ایک نہیں کئی مساجد میں اکیلا تعمیر کرا سکتا ہوں۔ میرا یہ طریق ہے کہ میں اپنی ذات پر زیادہ روپیہ خرچ نہیں کرتا اور نہ اپنے خاندان پر خرچ کرتا ہوں بلکہ جو کچھ میرے پاس آتا ہے اس میں سے کچھ رقم اپنے معمولی اخراجات کے لئے رکھنے کے بعد سلسلہ کے لئے دے دیتا ہوں۔ خرچ کرنے کو تو لوگ دس دس کروڑ روپیہ بھی کر لیتے ہیں لیکن مجھے جب بھی خداتعالیٰ نے دیا ہے میں نے وہ خداتعالیٰ کے راستے میں ہی دے دیا ہے۔ بیشک میرے بیوی بچے مانگتے رہیں میں انہیں نہیں دیتا میں انہیں کہتا ہوں کہ تمہیں وہی گزارے دوں گا جن سے تمہارے معمولی اخراجات چل سکیں۔
    زمانہ کے حالات کے مطابق میں بعض اوقات انہیں زیادہ بھی دے دیتا ہوں۔ مثلاً اگر وہ ثابت کر دیں کہ اِس وقت گھی مہنگا ہو گیا ہے، ایندھن کی قیمت چڑھ گئی ہے یا دھوبی وغیرہ کا خرچ بڑھ گیا ہے تو میں اس کے لحاظ سے زیادہ بھی دے دیتا ہوں لیکن اس طرح نہیں کہ ساری کی ساری آمدن ان کے حوالہ کر دوں کہ جہاں جی چاہیں خرچ کر لیں۔ غرض میں گھر کے معمولی گزارہ کے لئے اخراجات رکھنے کے بعد جو کچھ بچتا ہے وہ سلسلہ کو دے دیتا ہوں۔ اگر اللہ تعالیٰ فضل کرے اور کسی وقت وہ ہمارے مُلک والوں کو عقل اور سمجھ دے دے اور ہماری آمدنیں بڑھ جائیں تو سال میں ایک مسجد چھوڑ دو دو مساجد بھی ہم بنوا سکتے ہیں اور یہ سب خلافت ہی کی برکت ہے۔ میں جب نیا نیا خلیفہ ہوا تو مجھے الہام ہوا کہ ’’مبارک ہو قادیان کی غریب جماعت۔ تم پر خلافت کی رحمتیں یا برکتیں نازل ہوتی ہیں‘‘۔ اس دفعہ میں نے یہ الہام لکھ کر قادیان والوں کو بھجوا دیا اور ان کو توجہ دلائی کہ تم اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرو اور دعائیں کرو کہ خداتعالیٰ وہ برکتیں تم پر ہمیشہ نازل کرتا رہے۔ اب خلافت کی برکات سے اس علاقہ والوں کو بھی حصہ ملنا شروع ہو گیا ہے۔ چنانچہ اس علاقہ میں کسی زمانہ میں صرف چند احمدی تھے مگر اب ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی ہے اور ہمیں امید ہے کہ اگر خداتعالیٰ چاہے تو وہ ایک دو سال میں پندرہ بیس ہزار ہو جائیں گے۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے ایک دفعہ میں نے خداتعالیٰ سے ایک لاکھ روپیہ مانگا تھا لیکن اب میں خداتعالیٰ سے اربوں مانگا کرتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ میں نے اُس وقت ایک لاکھ روپیہ مانگ کر غلطی کی۔ اِس وقت یورپین اور دوسرے اہم ممالک کا شمار کیا جائے اور ان مقامات کا جائزہ لیا جائے جہاں مسجدوں کی ضرورت ہے تو ان کی تعداد ڈیڑھ سَو کے قریب بن جاتی ہے۔ اور اگر ان ڈیڑھ سَو مقامات پر ایک ایک مسجد بھی بنائی جائے اور ہر ایک مسجد پر ایک ایک لاکھ روپیہ خرچ کیا جائے تو ان پر ڈیڑھ کروڑ روپیہ خرچ ہو جائے گا اور پھر بھی صرف مشہور ممالک میں ایک ایک مسجد بنے گی۔ پھر ایک ایک لاکھ روپیہ سے ہمارا کیا بنتا ہے۔ ہمارا صرف مبلّغوں کا سالانہ خرچ سوا لاکھ روپیہ کے قریب بنتا ہے اور اگر اس خرچ کو بھی شامل کیا جائے جو بیرونی جماعتیں کرتی ہیں تو یہ خرچ ڈیڑھ دو لاکھ روپیہ سالانہ بن جاتا ہے۔ غرض میں نے اُس سے صرف ایک لاکھ روپیہ مانگا تھا مگر اُس نے مجھے اس سے بہت زیادہ دیا۔ اب ہماری صدر انجمن احمدیہ کا سالانہ بجٹ تیرہ لاکھ روپیہ کا ہے اور اگر تحریک جدید کا سالانہ بجٹ بھی ملا لیا جائے تو ہمارا سارا بجٹ ۲۲،۲۳ لاکھ روپیہ سالانہ بن جاتا ہے پس اگر خداتعالیٰ میری اس بیوقوفی کی دعا کو قبول کر لیتا تو ہمارا سارا کام ختم ہو جاتا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے کہا ہم تیری اس دعا کو قبول نہیں کرتے جس میں تو نے ایک لاکھ روپیہ مانگا ہے ہم تجھے اس سے بہت زیادہ دیں گے تا کہ سلسلہ کے کام چل سکیں۔ اب اللہ تعالیٰ کے اس انعام کو دیکھ کر کہ میں نے ایک لاکھ مانگا تھا مگر اُس نے ۲۲ لاکھ سالانہ دیا میں سمجھتا ہوں کہ اگر میں ایک کروڑ مانگتا تو ۲۲ کروڑ سالانہ ملتا۔ ایک ارب مانگتا تو ۲۲ ارب سالانہ ملتا۔ ایک کھرب مانگتا تو ۲۲ کھرب سالانہ ملتا اور اگر ایک پدم مانگتا تو ۲۲ پدم سالانہ ملتا اور اس طرح ہماری جماعت کی آمد امریکہ اور انگلینڈ دونوں کی مجموعی آمد سے بھی بڑھ جاتی۔
    پس خلافت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بہت سی برکات وابستہ کی ہوئی ہیں تم ابھی بچے ہو تم اپنے باپ دادوں سے پوچھو کہ قادیان کی حیثیت جو شروع زمانہ خلافت میں تھی وہ کیا تھی اور پھر قادیان کو اللہ تعالیٰ نے کس قدر ترقی بخشی تھی ۔جب میں خلیفہ ہوا تو پیغامیوں نے اس خیال سے کہ جماعت کے لوگ خلافت کو کسی طرح چھوڑ نہیں سکتے یہ تجویز کی کہ کوئی اور خلیفہ بنا لیا جائے۔ اُن دنوں ضلع سیالکوٹ کے ایک دوست میر عابد علی صاحب تھے۔ وہ صوفی منش آدمی تھے لیکن بعد میں پاگل ہو گئے تھے ایک دفعہ انہیں خیال آیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے جو خداتعالیٰ نے وعدے کئے تھے وہ میرے ساتھ بھی ہیں اور چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ قادیان میں طاعون نہیں آئے گی اس لئے میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے برابر ہوں تو خداتعالیٰ کا یہی وعدہ میرے ساتھ بھی ہے میرے گاؤں میں بھی طاعون نہیں آئے گی۔ چنانچہ جب طاعون کی وبا پھوٹی تو انہوں نے اپنے اس خیال کے مطابق اپنے مریدوں سے جو تعداد میں پانچ سات سے زیادہ نہیں تھے کہا کہ وہ اپنے گھر چھوڑ کر ان کے پاس آ جائیں۔ چنانچہ وہ ان کے پاس آ گئے لیکن بعد میں انہیں خود طاعون ہوگئی۔ ان کے مریدوں نے کہا کہ چلو اب جنگل میں چلیں لیکن انہوں نے کہا جنگل میں جانے کی ضرورت نہیںطاعون مجھ پر اثر نہیں کرے گی آخر جب مریدوں نے دیکھا کہ وہ پاگل ہو گئے ہیں تو وہ انہیںہسپتال میں لے گئے اور وہ اسی جگہ طاعون سے فوت ہوگئے۔ بہرحال جب بیعت خلافت ہوئی تو پیغامیوں نے سمجھا میر عابد علی صاحب چونکہ صوفی منش آدمی ہیں اور عبادت گزار ہیں اس لئے الوصیت کے مطابق چالیس آدمیوں کا ان کی بیعت میں آ جانا کوئی مشکل امر نہیں چنانچہ مولوی صدر دین صاحب اور بعض دوسرے لوگ رات کو ان کے پاس گئے اور کہا آپ اس بات کے لئے تیار ہو جائیں۔ چنانچہ وہ اِس بات پر آمادہ ہوگئے۔ اُس وقت مولوی محمد علی صاحب نے دیانتداری سے کام لیا وہ جب اس مجلس سے واپس آگئے جس میں جماعت نے مجھے خلیفہ منتخب کیا تھا تو ان لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ نے بڑی بیوقوفی کی۔ آپ اگر مجلس میں اعلان کر دیتے کہ میری بیعت کر لو تو چونکہ مرزا محمود احمد صاحب یہ کہہ چکے تھے کہ میں خلیفہ بننا نہیں چاہتا لوگوں نے آپ کی بیعت کر لینی تھی اور ان کی وجہ سے دوسرے لوگ بھی آپ کی بیعت کر لیتے انہوں نے کہا میں یہ کام کیسے کر سکتا تھا میں تو پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ خلافت کی کوئی ضرورت نہیں۔ بہرحال جب ان لوگوں نے دیکھا کہ مولوی محمد علی صاحب خلیفہ بننے کے لئے تیار نہیں تو انہوں نے جیسا کہ میں نے بتایا ہے میر عابد علی صاحب کو بیعت لینے کے لئے آمادہ کیا اور اس کے بعد وہ ہری کین لے کر ساری رات قادیان میں دو ہزار احمدیوں کے ڈیروں پر پھرتے رہے لیکن انہیں چالیس آدمی بھی سید عابد علی شاہ صاحب کی بیعت کرنے والے نہ ملے ۔ اُس وقت کے احمدیوں کا ایمان اس قدر پختہ تھا کہ غریب سے غریب احمدی بھی کروڑوں روپیہ پر تھوکنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ جماعت میں فتنہ اور تفرقہ پھیلے۔ جب انہیں میر عابد علی صاحب کی بیعت کے لئے چالیس آدمی بھی نہ ملے تو وہ مایوس ہو کر واپس چلے گئے۔
    غرض اللہ تعالیٰ نے ہمیں خلافت حقہ کی وجہ سے کئی معجزات دکھائے ہیں۔ تم دیکھ لو ۱۹۳۴ء میں مجلس احرار نے جماعت پر کس طرح حملہ کیا تھا لیکن وہ اس حملہ میں کس طرح ناکام ہوئے۔ انہوں نے منہ کی کھائی۔ پھر ۱۹۴۷ء میں قادیان میں کیسا خطرناک وقت آیا لیکن ہم نہ صرف احمدیوں کو بحفاظت نکال لائے بلکہ انہیں لاریوں میں سوار کر کے پاکستان لے آئے۔ دوسرے لوگ جو پیدل آئے تھے ان میں سے اکثر مارے گئے لیکن قادیان کے رہنے والوں کا بال تک بیکا نہیں ہوا۔ اب بھی کچھ دن ہوئے مجھے ایک آدمی ملا اس نے مجھے بتایا کہ آپ نے ہمیں حکم دیا تھا کہ میری اجازت کے بغیر کوئی شخص قادیان سے نہ نکلے۔ چنانچہ ہم نے تو آپ کے حکم کی تعمیل کی اور وہاں ٹھہرے رہے لیکن میرے ایک رشتہ دار گھبرا کر ایک قافلہ کے ساتھ پیدل آگئے اور راستہ میں ہی مارے گئے۔ ہم جو وہاں بیٹھے رہے لاریوں میں سوار ہو کر حفاظت سے پاکستان آ گئے ۔ اُس وقت اکثر ایسا ہوا کہ پیدل قافلے پاکستان کی طرف آئے اور جب وہ بارڈر کراس کرنے لگے تو سکھوں نے انہیں آ لیا اور وہ مارے گئے۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوا کہ پیدل قافلہ قادیان سے نکلتے ہی سکھوں کے ہاتھوں مارا گیا اور اگر وہاں سے محفوظ نکل آیا تو بٹالہ آ کر یا فتح گڑھ چوڑیاں کے پاس مارا گیا لیکن وہ میری ہدایت کے مطابق قادیان میں بیٹھے رہے اور میری اجازت کا انتظار کرتے رہے۔ وہ سلامتی کے ساتھ لاریوں میں سوار ہو کر لاہور آئے۔ غرض ہر میدان میں خداتعالیٰ نے جماعت کو خلافت کی برکات سے نوازا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جماعت انہیں یاد رکھے۔ مگر بڑی مصیبت یہ ہے کہ لوگ انہیں یاد نہیں رکھتے۔
    پچھلے مہینہ میں ہی میں نے ایک رؤیا دیکھا تھا کہ کوئی غیر مرئی وجود مجھے کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو وقفہ وقفہ کے بعد جماعت میں فتنہ پیدا ہونے دیتا ہے تو اس سے اس کی غرض یہ ہے کہ وہ ظاہر کرے کہ جماعت کس طرح آپ کے پیچھے پیچھے چلتی ہے یا جب آپ کسی خاص طرف مڑیں تو کس سرعت کے ساتھ آپ کے ساتھ مُڑتی ہے یا جب آپ اپنی منزل مقصود کی طرف جائیں تو وہ کس طرح اسی منزلِ مقصود کو اختیار کر لیتی ہے۔
    اب دیکھو یہ فتنہ بھی جماعت کے لئے ایک آزمائش تھی لیکن بعض لوگ یہ دیکھ کر ڈر گئے کہ اس میں حصہ لینے والے حضرت خلیفہ اوّل کے لڑکے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر غور نہ کیا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے نے بھی آپ کا انکار کیا تھا اور اس انکار کی وجہ سے وہ عذابِ الٰہی سے بچ نہیں سکا۔ پھر حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی اولاد کے اس فتنہ میں ملوث ہونے کی وجہ سے ہمیں کس بات کا خوف ہے اگر وہ فتنہ میں ملوث ہیں تو خداتعالیٰ ان کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا۔ شروع شروع میں جب فتنہ اُٹھا تو چند دنوں تک بعض دوستوں کے گھبراہٹ کے خطوط آئے اور انہوں نے لکھا کہ ایک چھوٹی سی بات کو بڑا بنا دیا گیا ہے۔ اللہ رکھا کی بھلا حیثیت ہی کیا ہے لیکن تھوڑے ہی دنوں کے بعد ساری جماعت اپنے ایمان اور اخلاص کی وجہ سے ان لوگوں سے نفرت کرنے لگ گئی اور مجھے خطوط آنے شروع ہوئے کہ آپ کے اور بھی بہت سے کارنامے ہیں مگر اس بڑھاپے کی عمر میں اور ضعف کی حالت میں جو یہ کارنامہ آپ نے سرانجام دیا ہے یہ اپنی شان میں دوسرے کارناموں سے بڑھ گیا ہے۔ آپ نے بڑی جرأت اور ہمت کے ساتھ ان لوگوں کو ننگا کر دیا ہے جو بڑے بڑے خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے اور سلسلہ کو نقصان پہنچانے کے درپے تھے۔ اس طرح آپ نے جماعت کو تباہی کے گڑھے میں گرنے سے بچا لیا ہے۔
    مری میں مجھے ایک غیر احمدی کرنل ملے انہوں نے کہا کہ جو واقعات ۱۹۵۳ء میں احمدیوں پر گزرے تھے وہ اب پھر ان پر گذرنے والے ہیں اس لئے آپ ابھی سے تیاری کر لیں اور میں آپ کو یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ ۱۹۵۳ء میں تو پولیس اور ملٹری نے آپ کی حفاظت کی تھی لیکن اب وہ آپ کی حفاظت نہیں کرے گی کیونکہ اُس وقت جو واقعات پیش آئے تھے ان کی وجہ سے وہ ڈر گئی ہے ۔ جب وہ خاموش ہوئے تو میں نے کہا کرنل صاحب! پچھلی دفعہ میں نے کون سا تیر مارا تھا جو اب ماروں گا۔ پچھلی دفعہ بھی خداتعالیٰ نے ہی جماعت کی حفاظت کے سامان کئے تھے اور اب بھی وہی اس کی حفاظت کرے گا جب میرا خدا زندہ ہے تو مجھے فکر کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ میری اس بات کا کرنل صاحب پر گہرا اثر ہوا چنانچہ جب میں ان کے پاس سے اُٹھا اور دہلیز سے باہر نکلنے لگا تو وہ کہنے لگے فیتھ از بلائنڈ (Faith is Blind) یعنی یقین اور ایمان اندھا ہوتا ہے وہ خطرات کی پرواہ نہیں کرتا جب کسی شخص میں ایمان پایا جاتا ہو تو اسے آنے والے مصائب کا کوئی فکر نہیں ہوتا۔
    جب منافقین کا فتنہ اُٹھا تو انہی کرنل صاحب نے ایک احمدی افسر کو جو ان کے قریب ہی رہتے تھے بُلایا اور کہا کہ میری طرف سے مرزا صاحب کو کہہ دینا کہ آپ نے یہ کیا کیا ہے؟ اللہ رکھا کی بھلا حیثیت ہی کیا تھی۔ اس مضمون سے اُسے بلاضرورت شہرت مل جائے گی۔ میں نے اس احمدی دوست کو لکھا کہ میری طرف سے کرنل صاحب کو کہہ دینا کہ آپ نے خود ہی تو کہا تھا کہ جماعت پر ۱۹۵۳ء والے واقعات دوبارہ آنے والے ہیں آپ ابھی سے تیاری کر لیں۔ اب جب کہ میں نے اس بارہ میں کارروائی کی ہے تو آپ نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ آپ خواہ مخواہ فتنہ کو ہوا دے رہے ہیں۔ جب میں دوبارہ مری گیا تو میں نے اس احمدی دوست سے پوچھا کہ کیا میرا خط آپ کو مل گیا تھا اور آپ نے کرنل صاحب کو میرا پیغام پہنچا دیا تھا انہوں نے کہا ہاں میں نے پیغام دے دیا تھا اور انہوں نے بتایا تھا کہ اب میری تسلی ہوگئی ہے شروع میں میں یہی سمجھتا تھا کہ یہ معمولی بات ہے لیکن اب جب کہ پیغامی اور غیر احمدی دونوں فتنہ پردازوں کے ساتھ مل گئے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ اس سے زیادہ عقلمندی اور کوئی نہیں تھی کہ آپ نے وقت پر اس فتنہ کو بھانپ لیا اور شرارت کو بے نقاب کر دیا۔
    غرض خداتعالیٰ ہر فتنہ اور مصیبت کے وقت جماعت کی خود حفاظت فرماتا ہے چنانچہ فتنہ تو اب کھڑا کیا گیا ہے لیکن خداتعالیٰ نے ۱۹۵۰ء میں ہی کوئٹہ کے مقام پر مجھے بتا دیا تھا کہ بعض ایسے لوگوں کی طرف سے فتنہ اُٹھایا جانے والا ہے جن کی رشتہ داری میری بیویوں کی طرف سے ہے۔ چنانچہ دیکھ لو عبدالوہاب میری ایک بیوی کی طرف سے رشتہ دار ہے۔ میری اس سے جدی رشتہ داری نہیں۔
    پھر میری ایک خواب جنوری ۱۹۳۵ء میں الفضل میں شائع ہوچکی ہے اس میں بتایا گیا تھا کہ میں کسی پہاڑ پر ہوں کہ خلافت کے خلاف جماعت میں ایک فتنہ پیدا ہوا ہے۔ چنانچہ جب موجودہ فتنہ ظاہر ہوا اُس وقت میں مری میں ہی تھا۔ پھر اس خواب میں میں نے سیالکوٹ کے لوگوں کو دیکھا جو موقع کی نزاکت سمجھ کر جمع ہوگئے تھے اور ان کے ساتھ کچھ ان لوگوں کو بھی دیکھا جو باغی تھے۔ یہ خواب بھی بڑے شاندار طور پر پوری ہوئی۔ چنانچہ اللہ رکھا سیالکوٹ کا ہی رہنے والا ہے جب میں نے اس کے متعلق الفضل میں مضمون لکھا تو خود اس کے حقیقی بھائیوں نے مجھے لکھا کہ پہلے تو ہمارا یہ خیال تھا کہ شاید اِس پر ظلم ہو رہا ہے لیکن اب ہمیں پتہ لگ گیا ہے کہ وہ پیغامی ہے۔ اس نے ہمیں جو خطوط لکھے ہیں وہ پیغامیوں کے پتہ سے لکھے ہیں پس ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم خلافت سے وفاداری کا عہد کرتے ہیں۔
    اب دیکھ لو ۱۹۳۴ء میں مجھے اس فتنہ کا خیال کیسے آ سکتا تھا۔ پھر ۱۹۵۰ء والی خواب بھی مجھے یاد نہیں تھی۔ ۱۹۵۰ء میں میں جب سندھ سے کوئٹہ گیا تو اپنی ایک لڑکی کو جو بیمار تھی ساتھ لے گیا۔ اس نے اب مجھے یاد کرایا کہ ۱۹۵۰ء میں آپ نے ایک خواب دیکھی تھی جس میں یہ ذکر تھا کہ آپ کے رشتہ داروں میں سے کسی نے خلافت کے خلاف فتنہ اُٹھایا ہے میں نے مولوی محمد یعقوب صاحب کو وہ خواب تلاش کرنے پر مقرر کیا چنانچہ وہ الفضل سے خواب تلاش کر کے لے آئے۔ اب دیکھو خداتعالیٰ نے کتنی دیر پہلے مجھے اس فتنہ سے آگاہ کر دیا تھا اور پھر کس طرح یہ خواب حیرت انگیز رنگ میں پورا ہوا۔
    ہماری جماعت کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ منافقت کی جڑ کو کاٹنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ اگر اس کی جڑ کو نہ کاٹا جائے تومیں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی جماعت سے جو وعدہ فرمایا ہے اس کے پورا ہونے میں شیطان کئی قسم کی رُکاوٹیں حائل کر سکتاہے۔ دیکھو خداتعالیٰ کا یہ کتنا شاندار وعدہ تھا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پورا ہوا۔ حضرت ابوبکرؓ کی خلافت صرف اڑھائی سال کی تھی لیکن اس عرصہ میں خداتعالیٰ نے جو تائید و نصرت کے نظارے دکھائے وہ کتنے ایمان افزا تھے۔ حضرت ابوبکرؓ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ادنیٰ غلام تھے لیکن انہوں نے اپنے زمانۂ خلافت میں رومی فوجوں کو گا جر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا۔ آخر اڑھائی سال کے عرصہ میں لاکھوں مسلمان تو نہیں ہو گئے تھے۔ اُس وقت قریباً قریباً وہی مسلمان تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دشمنوں کا مقابلہ کرتے رہے تھے لیکن خلافت کی برکات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں میں وہ شان اور اُمنگ اور جرأت پیدا کی کہ انہوں نے اپنے مقابل پر بعض اوقات دو دو ہزار گنا زیادہ تعداد کے لشکر کو بُری طرح شکست کھانے پر مجبور کر دیا۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ کا زمانہ آیا تو آپ نے ایک طرف رومی سلطنت کو شکست دی تو دوسری طرف ایرا ن کی طاقت کو ہمیشہ کے لئے ختم کر کے رکھ دیا۔ پھر حضرت عثمانؓ کی خلافت کا دَور آیا اِس دور میں اسلامی فوج نے آذربائیجان تک کا علاقہ فتح کر لیا اور پھر بعض مسلمان افغانستان اور ہندوستان آئے اور بعض افریقہ چلے گئے اور ان ممالک میں انہوں نے اسلام کی اشاعت کی، یہ سب خلافت کی ہی برکات تھیں۔ یہ برکات کیسے ختم ہوئیں؟ یہ اسی لئے ختم ہوئیں کہ حضرت عثمانؓ کے آخری زمانہ خلافت میں مسلمانوں کا ایمانِ بالخلافت کمزور ہو گیا اور اُنہوں نے خلافت کو قائم رکھنے کے لئے صحیح کوشش اور جدوجہد کو ترک کر دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے کا وعدہ واپس لے لیا لیکن عیسائیوں میں دیکھ لو ۱۹۰۰ سال سے برابر خلافت چلی آرہی ہے اور آئندہ بھی اِس کے ختم ہونے کے کوئی آثار نہیں پائے جاتے۔ آخر یہ تفاوت کیوں ہے اور کیوں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلافت ۳۰ سال کے عرصہ میں ختم ہو گئی؟ اس کی وجہ یہی تھی کہ مسلمانوں نے خلافت کی قدر نہ کی اور اس کی خاطر قربانی کرنے سے انہوں نے دریغ کیا۔ جب باغیوں نے حضرت عثمانؓ پر حملہ کیا تو آپ نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا کہ اے لوگو! میں وہی کرتا ہوں جو مجھ سے پہلے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کیا کرتے تھے میں نے کوئی نئی بات نہیں کی۔ لیکن تم فتنہ پرداز لوگوں کو اپنے گھروں میں آنے دیتے ہو اور ان سے باتیں کرتے ہو اس سے یہ لوگ دلیر ہوگئے ہیں لیکن تمہاری اس غفلت کا نتیجہ یہ ہوگا کہ خلافت کی برکات ختم ہو جائیں گی اور مسلمانوں کا شیرازہ بکھر کر رہ جائے گا۔ اب دیکھ لو وہی ہوا جو حضرت عثمانؓ نے فرمایا تھا۔ حضرت عثمانؓ کا شہید ہونا تھا کہ مسلمان بکھر گئے اور آج تک وہ جمع نہیں ہوئے۔
    ایک زمانہ وہ تھا کہ جب روم کے بادشاہ نے حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ میں اختلاف دیکھا تو اُس نے چاہا کہ وہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے ایک لشکر بھیجے۔ اُس وقت رومی سلطنت کی ایسی ہی طاقت تھی جیسی اِس وقت امریکہ کی ہے۔ اُس کی لشکر کشی کا ارادہ دیکھ کر ایک پادری نے جو بڑا ہوشیار تھا کہا بادشاہ سلامت! آپ میری بات سن لیں اور لشکر کشی کرنے سے اجتناب کریں یہ لوگ اگرچہ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں لیکن آپ کے مقابلہ میں متحد ہو جائیں گے اور باہمی اختلافات کو بھول جائیں گے۔ پھر اس نے کہا آپ دو کتے منگوائیں اور انہیں ایک عرصہ تک بھوکا رکھیں پھر ان کے آگے گوشت ڈال دیں۔ وہ آپس میں لڑنے لگ جائیں گے۔ اگر آپ انہی کتوں پر شیر چھوڑ دیں تو وہ دونوں اپنے اختلافات کو بھول کر شیر پر جھپٹ پڑیں گے۔ اِس مثال سے اس نے یہ بتایا کہ تو چاہتا ہے کہ اِس وقت حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے اختلاف سے فائدہ اُٹھا لے لیکن میں یہ بتا دیتا ہوں کہ جب بھی کسی بیرونی دشمن سے لڑنے کا سوال پیدا ہوگا یہ دونوں اپنے باہمی اختلافات کو بھول جائیں گے اور دشمن کے مقابلہ میں متحد ہو جائیں گے اور ہوا بھی یہی۔ جب حضرت معاویہؓ کو روم کے بادشاہ کے ارادہ کا علم ہوا تو آپ نے اُسے پیغام بھیجا کہ تو چاہتا ہے کہ ہمارے اختلاف سے فائدہ اُٹھا کر مسلمانوں پر حملہ کرے لیکن میں تمہیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ میری حضرت علیؓ کے ساتھ بے شک لڑائی ہے لیکن اگر تمہارا لشکر حملہ آور ہوا تو حضرت علیؓ کی طرف سے اس لشکر کا مقابلہ کرنے کے لئے جو سب سے پہلا جرنیل نکلے گا وہ میں ہونگا۔ اب دیکھ لو حضرت معاویہؓ حضرت علیؓ سے اختلاف رکھتے تھے لیکن اس اختلاف کے باوجود انہوں نے رومی بادشاہ کو ایسا جواب دیا جو اس کی امیدوں پر پانی پھیرنے والا تھا لیکن حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی اولاد کا یہ حال ہے کہ انہیں اتنی بھی توفیق نہ ملی کہ پیغامیوں سے کہتے کہ تم تو ساری عمر ہمارے باپ کو گالیاں دیتے رہے ہو پھر ہمارا تم سے کیا تعلق ہے ۔ انہیں وہ گالیاں بھول گئیں جو ان کے باپ کو دی گئی تھیں اور چپ کر کے بیٹھے رہے۔ انہوں نے ان کی تردید نہ کی اور تردید بھی انہوں نے اِس لئے نہ کی کہ اگر ہم نے ایسا کیا تو شاید پیغامی ہماری تائید نہ کریں حالانکہ اگر ان کے اندر ایمان ہوتا تو یہ لوگ کہتے ہمارا ان لوگوں سے کیا تعلق ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی وہ تقاریر موجود ہیں جن میں آپ نے بیان فرمایا ہے کہ یہ لوگ مجھے خلافت سے دستبردار کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ کون ہیں مجھے دستبردار کرنے والے مجھے خداتعالیٰ نے خلیفہ بنایا ہے اس لئے وہی خلافت کی حفاظت کرے گا۔ اگر یہ لوگ میری بات نہیں سنتے تو اپنے باپ کی بات تو سن لیتے۔ وہ کہتا ہے کہ مجھے خداتعالیٰ نے خلیفہ بنایا ہے اب کسی شخص یا جماعت کی طاقت نہیں کہ وہ مجھے معزول کر سکے۔ اسی طرح میں بھی کہتا ہوں کہ مجھے خداتعالیٰ نے خلیفہ بنایا ہے پھر یہ لوگ مجھے معزول کیسے کر سکتے ہیں۔ خداتعالیٰ نے اپنے فضل سے ایک جماعت کو پکڑ کر میرے ہاتھ پر جمع کر دیا تھا اور اُس وقت جمع کر دیا تھا جب تمام بڑے بڑے احمدی میرے مخالف ہوگئے تھے اور کہتے تھے کہ اب خلافت ایک بچے کے ہاتھ میں آ گئی ہے اس لئے جماعت آج نہیں تو کل تباہ ہو جائے گی لیکن اس بچہ نے ۴۲سال تک پیغامیوں کامقابلہ کر کے جماعت کو جس مقام تک پہنچایا وہ تمہارے سامنے ہے۔ شروع میں ان لوگوں نے کہا تھا کہ ۹۸ فیصدی احمدی ہمارے ساتھ ہیں لیکن اب وہ دکھائیں کہ جماعت کا ۹۸ فیصدی جو اُن کے ساتھ تھا کہاں ہے۔ کیا وہ ۹۸ فیصدی احمدی ملتان میں ہیں، لاہو رمیں ہیں، پشاور میں ہیں، کراچی میں ہیں؟ آخر وہ کہاں ہیں؟ کہیں بھی دیکھ لیا جائے ان کے ساتھ جماعت کے دو فیصدی بھی نہیں نکلیں گے۔ مولوی نورالحق صاحب انور مبلّغ امریکہ کی الفضل میں چٹھی چھپی ہے کہ عبدالمنان نے ان سے ذکر کیا کہ پشاور سے بہت سے پیغامی انہیں لینے کے لئے آئے ہیں اور وہ ان کا بہت ادب اور احترام کرتے ہیں لیکن کچھ دن ہوئے امیر جماعت احمدیہ پشاور یہاں آئے میں نے انہیں کہا کہ میاں محمد صاحب کی کھلی چٹھی کا جواب چھپا ہے آپ وہ کیوں نہیں خریدتے تو انہوں نے کہا پشاور میں دو سے زیادہ پیغامی نہیں ہیں لیکن ان کے مقابل پر وہاں ہماری دو مساجد بن چکی ہیں اور خداتعالیٰ کے فضل سے جماعت وہاں کثرت سے پھیل رہی ہے پیغامیوں کا وہاں یہ حال ہے کہ شروع شروع میں وہاں احمدیت کے لیڈر پیغامی ہی تھے لیکن اب بقول امیر صاحب جماعت احمدیہ پشاور وہاں دو پیغامی ہیں۔
    پس میری سمجھ میں نہیں آتا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی اولاد کس لالچ میں آگئی ہے۔ کیا صرف ایک مضمون کا پیغامِ صلح میں چھپ جانا ان کیلئے لالچ کا موجب ہو گیا؟ اگر یہی ہوا ہے تو یہ کتنی ذلیل بات ہے۔ اگر پاکستان کی حکومت یہ کہہ دیتی کہ ہم حضرت خلیفہ اوّل کی اولاد کو مشرقی پاکستان کا صوبہ دے دیتے ہیں یا وہ کہتے کہ انہیں مغربی پاکستان دے دیتے ہیں تب تو ہم سمجھ لیتے کہ انہوں نے اس لالچ کی وجہ سے جماعت میں تفرقہ اور فساد پیدا کرنا منظور کر لیا ہے لیکن یہاں تو یہ لالچ بھی نہیں۔
    حضرت خلیفہاوّل ایک مولوی کا قصہ سنایا کرتے تھے کہ اس نے ایک شادی شدہ لڑکی کا نکاح کسی دوسرے مرد سے پڑھ دیا۔ لوگ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے پاس آئے اور کہنے لگے فلاں مولوی جو آپ سے ملنے آیا کرتا ہے اس نے فلاں شادی شدہ لڑکی کا نکاح فلاں مرد سے پڑھ دیا ہے۔ مجھے اس سے بڑی حیرت ہوئی اور میں نے کہا کہ اگر وہ مولوی صاحب مجھے ملنے آئے تو میں ان سے ضرور دریافت کروں گا کہ کیا بات ہے؟ چنانچہ جب وہ مولوی صاحب مجھے ملنے کے لئے آئے تو میں نے ان سے ذکر کیا کہ آپ کے متعلق میں نے فلاں بات سنی ہے میرا دل تو نہیں مانتا لیکن چونکہ یہ بات ایک معتبر شخص نے بیان کی ہے اس لئے میں اس کاذکر آپ سے کر رہا ہوں کیا یہ بات درست ہے کہ آپ نے ایک شادی شدہ عورت کا ایک اور مرد سے نکاح کر دیا ہے؟ وہ کہنے لگا مولوی صاحب تحقیقات سے پہلے بات کرنی درست نہیں ہوتی۔ آپ پہلے مجھ سے پوچھ تو لیں کہ کیا بات ہوئی ؟میں نے کہا اسی لئے تو میں نے اس بات کا آپ سے ذکر کیا ہے۔ اس پر وہ کہنے گا بے شک یہ درست ہے کہ میں نے ایک شادی شدہ عورت کا دوسری جگہ نکاح پڑھ دیا ہے لیکن مولوی صاحب! جب اُنہوں نے میرے ہاتھ پر چڑیا جتنا روپیہ رکھ دیا تو پھر میں کیا کرتا۔ پس اگر حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی اولاد کو حکومت پاکستان یہ لالچ دے دیتی کہ مشرقی پاکستان یا مغربی پاکستان تمہیں دے دیا جائے گا تو ہم سمجھ لیتے کہ یہ مثال ان پر صادق آ جاتی ہے جس طرح اُس مولوی نے روپیہ دیکھ کر خلاف شریعت نکاح پر نکاح پڑھ دیا تھا انہوں نے بھی لالچ کی وجہ سے جماعت میں فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے مگر یہاں تو چڑیا چھوڑ اِنہیں کسی نے مردہ مچھر بھی نہیں دیا۔ حالانکہ یہ اولاد اس عظیم الشان باپ کی ہے جو اِس قدر حوصلہ کا مالک تھا کہ ایک دفعہ جب آپ قادیان آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا مجھے آپ کے متعلق الہام ہوا ہے کہ اگر آپ اپنے وطن گئے تو اپنی عزت کھو بیٹھیں گے۔ اس پر آپ نے وطن واپس جانے کا نام تک نہ لیا۔ اُس وقت آپ اپنے وطن بھیرہ میں ایک شاندار مکان بنا رہے تھے جب میں بھیرہ گیا تو میں نے بھی یہ مکان دیکھا تھا۔ اُس میں آپ ایک شاندار ہال بنوا رہے تھے تا کہ اس میں بیٹھ کر درس دیں اور مطب بھی کیا کریں۔ موجودہ زمانہ کے لحاظ سے تو وہ مکان زیادہ حیثیت کا نہ تھا لیکن جس زمانہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نے یہ قربانی کی تھی اُس وقت جماعت کے پاس زیادہ مال نہیں تھا۔ اُس وقت اِس جیسا مکان بنانا بھی ہر شخص کا کام نہیں تھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد کے بعد آپ نے واپس جا کر اس مکان کو دیکھا تک نہیں۔ بعض دوستوں نے کہا بھی کہ آپ ایک دفعہ جا کر مکان تو دیکھ آئیں لیکن آپ نے فرمایا کہ میں نے اسے خداتعالیٰ کے لئے چھوڑ دیا ہے اب اسے دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ایسے عظیم الشان باپ کی اولاد ایک مردہ مچھر سے بھی حقیر چیز پر آگری۔
    پھر دیکھو حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل تو اس شان کے انسان تھے کہ وہ اپنا عظیم الشان مکان چھوڑ کر قادیان آ گئے لیکن آپ کے پوتے کہتے ہیں کہ قادیان میں ہمارے دادا کی بڑی جائداد تھی جو ساری کی ساری مرزا صاحب کی اولاد نے سنبھال لی ہے۔ حالانکہ جماعت کے لاکھوں آدمی قادیان میں جاتے رہے ہیں اور ہزاروں وہاں رہے ہیں اب بھی کئی لوگ قادیان گئے ہیں انہیں پتہ ہے کہ وہاں حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کا صرف ایک کچا مکان تھا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی بڑی جائداد تھی مگر وہ جائداد مادی نہیں بلکہ روحانی تھی جو دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہے او رہر احمدی کے دل میں آپ کا ادب و احترام پایا جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اگر آپ کی اولاد خلافت کے مقابلہ میں کھڑی ہوگی تو ہر مخلص احمدی انہیں نفرت سے پرے پھینک دے گا اور ان کی ذرّہ بھر بھی پرواہ نہیں کرے گا۔
    آخر میں خدام کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ خلافت کی برکات کو یاد رکھیں۔ اور کسی چیز کو یاد رکھنے کے لئے پُرانی قوموں کا یہ دستور ہے کہ وہ سال میں اس کے لئے خاص طور پر ایک دن مناتی ہیں۔ مثلاً شیعوں کو دیکھ لو وہ سال میں ایک دفعہ تعزیہ نکالتے ہیں تا قوم کو شہادت حسینؓ کا واقعہ یاد رہے۔ اسی طرح میں بھی خدام کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ سال میں ایک دن خلافت ڈے کے طور پر منایا کریں۔ اس میں وہ خلافت کے قیام پر خداتعالیٰ کا شکریہ ادا کیا کریں اور اپنی پُرانی تاریخ کو دُہرایا کریں۔ پُرانے اخبارات کا ملنا تو مشکل ہے لیکن الفضل نے پچھلے دنوں ساری تاریخ کو از سر نو بیان کر دیا ہے۔ اِس میں وہ گالیاں بھی آ گئی ہیں جو پیغامی لوگ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کو دیا کرتے تھے اور خلافت کی تائید میں حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نے جو دعوے کئے ہیں وہ بھی نقل کر دیئے گئے ہیں تم اِس موقع پر اخبارات سے یہ حوالے پڑھ کر سناؤ۔ اگر سال میں ایک دفعہ خلافت ڈے منا لیا جایا کرے تو ہر سال چھوٹی عمر کے بچوں کو پُرانے واقعات یاد ہو جایا کریں گے۔ پھر تم یہ جلسے قیامت تک کرتے چلے جاؤتا جماعت میں خلافت کا ادب اور اس کی اہمیت قائم رہے۔
    حضرت مسیح علیہ السلام کی خلافت ۱۹۰۰ سال سے برابر قائم ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جو درجہ میں ان سے بڑے ہیں خدا کرے ان کی خلافت دس ہزار سال تک قائم رہے مگر یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ تم سال میں ایک دن اس غرض کے لئے خاص طور پر منانے کی کوشش کرو۔ میں مرکز کو بھی ہدایت کرتا ہوں کہ وہ بھی ہر سال سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلسوں کی طرح خلافت ڈے منایا کرے اور ہر سال یہ بتایا کرے کہ جلسہ میں ان مضامین پر تقاریر کی جائیں۔ الفضل سے مضامین پڑھ کر نوجوانوں کو بتایا جائے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نے خلافتِ احمدیہ کی تائید میں کیا کچھ فرمایا ہے اور پیغامیوں نے اس کے ردّ میں کیا کچھ لکھا ہے۔ اسی طرح وہ رؤیا و کشوف بیان کئے جایا کریں جو وقت سے پہلے خداتعالیٰ نے مجھے دکھائے اور جن کو پورا کر کے خداتعالیٰ نے ثابت کر دیا کہ اس کی برکات اب بھی خلافت سے وابستہ ہیں۔ ( الفضل ۵ ستمبر ۱۹۵۶ء، الفضل ۲۸؍ اپریل اور یکم مئی ۱۹۵۷ء)
    ۱؎ النور: ۵۶

    صحابہ کرام کی فدائیت اور اُن کا اخلاص و ایثار
    ۲۶؍اکتوبر ۱۹۵۶ء کو مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع منعقدہ ربوہ میں حضرت خلیفۃالمسیح الثانی نے حسب ذیل افتتاحی تقریر فرمائی۔
    تشہّد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے مندرجہ ذیل آیت قرآنیہ کی تلاوت فرمائی ۔
    ۱؎
    اس کے بعد فرمایا :۔
    ’’آپ لوگوں کانام انصار اللہ رکھا گیا ہے یہ نام قرآنی تاریخ میں بھی دو دفعہ آیاہے اور احمدیت کی تاریخ میں بھی دو دفعہ آیا ہے۔قرآنی تاریخ میں ایک دفعہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کے متعلق یہ الفا ظ آتے ہیں چنانچہ جب آپ نے فرمایا تو آپ کے حواریوں نے کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے انصا رہیں۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ؓ کے متعلق فرماتا ہے کہ ان میں سے ایک گروہ مہاجرین کا تھا اور ایگ گروہ انصار کا تھا ۲؎ گویا یہ نام قرآنی تاریخ میںدو دفعہ آیا ہے ۔ایک جگہ پر حضرت مسیح علیہ السلام کے حواریوںکے متعلق آیا ہے اور ایک جگہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ؓ کے ایک حصہ کو انصار کہا گیا ہے۔
    جماعت احمدیہ کی تاریخ میں بھی انصار اللہ کا دو جگہ ذکر آتا ہے۔ ایک دفعہ جب حضرت خلیفہ اوّل کی پیغامیوں نے مخالفت کی تو میں نے انصار اللہ کی ایک جماعت قائم کی۔اور دوسری دفعہ جب جماعت کے بچوں، نوجوانوں، بوڑھوں اور عورتوں کی تنظیم کی گئی تو چالیس سا ل سے اوپر کے مردوں کی جماعت کا نام انصار اللہ رکھا گیا گویا جس طرح قرآن کریم میںدوگروہوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا ہے اسی طرح جماعت احمدیہ میں بھی دو زمانوں میں دو جماعتوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا۔پہلے جن لوگوں کا نام انصار اللہ رکھا گیاان میں سے اکثر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے صحابہ تھے۔ کیونکہ یہ جماعت ۱۴۔۱۹۱۳ء میں بنائی گئی تھی اور اُس وقت اکثر صحابہ زندہ تھے اور اس جماعت میں بھی اکثر وہی شامل تھے۔ اسی طرح قرآن کریم میں بھی جن انصار کا ذکر آتا ہے ان میں زیادہ تر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ؓ شامل تھے۔ دوسری دفعہ جماعت احمدیہ میں آپ لوگوں کا نام اسی طرح انصار اللہ رکھا گیا ہے جس طرح قرآن کریم میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ادنیٰ نبی حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے ساتھیوں کو انصار اللہ کہا گیا ہے۔ آپ لوگوں میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کم ہیں اور زیادہ حصہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے میری بیعت کی ہے اس طرح حضرت مسیح علیہ السلام والی بات بھی پوری ہوگئی یعنی جس طرح حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھیوں کو انصار اللہ کہا گیا تھااسی طرح مثیلِ مسیح موعود کے ساتھیوں کو بھی انصاراللہ کہا گیا ہے گویا قرآنی تاریخ میں بھی دو زمانوں میں دو گروہوں کا نام انصاراللہ رکھا گیااور جماعت احمدیہ کی تاریخ میں بھی دو گروہوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا۔ خداتعالیٰ کے فضل سے حضر ت مسیح موعو د علیہ السلام کے صحابہؓ اب بھی زندہ ہیںمگر اب ان کی تعداد بہت تھوڑی رہ گئی ہے ۔
    صحابی اُس شخص کو بھی کہتے ہیں جو نبی کی زندگی میں اس کے سامنے آگیا ہو۔گویا زیادہ تر یہ لفظ انہی لوگوں پر اطلاق پاتا ہے جنہوں نے نبی کی صحبت سے فائدہ اُٹھایا ہو اوراُس کی باتیں سُنی ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۰۸ء میں فوت ہوئے ہیںاس لئے وہ شخص بھی آپ کا صحابی کہلاسکتا ہے جس نے خواہ آپ کی صحبت سے فائدہ نہ اُٹھایا ہو لیکن آپ کے زمانہ میں پیدا ہوا ہو اور اُس کا باپ اُسے اُٹھا کر حضر ت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ السلام کے سامنے لے گیا ہو لیکن یہ ادنیٰ درجہ کا صحابی ہوگا۔اعلیٰ درجہ کا صحابی وہی ہے جس نے آپ کی صحبت سے فائدہ اُٹھایا اور آپ کی باتیں سنیں۔ اور جن لوگوںنے آپ کی صحبت سے فائدہ اُٹھایا اور آپ کی باتیںسنیں ان کی تعداد اب بہت کم رہ گئی ہے اب صرف تین چار آدمی ہی ایسے رہ گئے ہیں جن کے متعلق مجھے ذاتی طور پر علم ہے کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی صحبت سے فائدہ اُٹھایا اور آپ کی باتیں سنی ہیں۔ ممکن ہے اگر زیادہ تلاش کیا جائے تو ان کی تعدا د تیس چالیس تک پہنچ جائے ۔اب ہماری جماعت لاکھوں کی ہے اورلاکھوں کی جماعت میں اگر ایسے تیس چالیس صحابہ بھی ہوںتب بھی یہ تعداد بہت کم ہے اِس وقت جماعت میں زیادہ تر وہی لوگ ہیںجنہوںنے ایسے شخص کی بیعت کی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا متبع تھا اور ان کا نام اسی طرح انصار اللہ رکھا گیاجس طرح حضر ت مسیح علیہ السلام کے حواریوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا تھا۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے کہ لَوْکَاَنَ مُوْسٰی وَ عِیْسٰی حَیَّیْنِ لَمَا وَسِعَھُمَااِلَّااتِّبَاعِیْ۔ ۳؎ کہ اگر موسیٰ اور عیسیٰ علیھما السلام میرے زمانہ میں زندہ ہوتے تو وہ میرے متبع ہوتے۔غرض اِس وقت جماعت کے انصار للہ میں دو باتیں پائی جاتی ہیں ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے ایک متبع اور مثیل کے ذریعہ اسلام کی خدمت کا موقع ملا اور وہ آپ لو گ ہیں۔ گویا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مثال آپ لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ جس طرح ان کے حواریوں کو انصار اللہ کہا گیا تھااسی طرح مثیلِ مسیح موعود کے ساتھیوں کو انصار اللہ کہا گیا ہے ۔پھر آپ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے انصار کی بات بھی پائی جاتی ہے۔یعنی جس طرح انصار اللہ میں وہی لوگ شامل تھے جو آپ کے صحابہ ؓ تھے اسی طرح آپ میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابہ شامل ہیں۔گویا آپ لوگوں میں دونوں مثالیں پائی جاتی ہیں۔آپ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ السلام کے صحابہ بھی ہیںجنہیں انصار اللہ کہا جاتاہے جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ؓ کو انصار کہا گیا۔پھر جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنا متبع قرار دیا ہے اور ان کے صحابہ کو بھی انصار اللہ کہا گیا ہے اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک متبع کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں کو بھی انصاراللہ کہاگیاہے۔شاید بعض لوگ یہ سمجھیں کہ یہ درجہ کم ہے لیکن چالیس سال اور گزر گئے تو اس زمانہ کے لوگ تمہارے زمانہ کے لوگوں کو بھی تلاش کریں گے۔ اور اگر چالیس سال اور گزر گئے تو اس زمانہ کے لوگ تمہارے ملنے والوں کو تلاش کریںگے اسلامی تاریخ میں صحابہ ؓ کے ملنے والوں کو تابعی کہا گیا ہے ۔کیونکہ وہ صحابہ ؓ کے ذریعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قریب ہوگئے تھے۔ اور ایک تبع تابعی کا درجہ ہے۔یعنی وہ لوگ جو تابعین کے ذریعہ صحابہ ؓ کے قریب ہوئے اور آگے صحابہ ؓ کے ذریعہ محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے قریب ہوئے۔اس طرح تین درجے بن گئے ۔ ایک صحابی دوسرے تابعی اور تیسرے تبع تابعی۔ صحابی وہ جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فائدہ اُٹھایا اور آپ ؐ کی باتیں سنیں۔تابعی وہ جنہوں نے آپ سے باتیں سننے والوں کو دیکھااور تبع تابعی وہ جنہوں نے آپ سے باتیں سننے والوں کے دیکھنے والوں کو دیکھا۔دُنیوی عاشق تو بہت کم حوصلہ ہوتے ہیں۔کسی شاعر نے کہا ہے۔
    تمہیں چاہوں تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں
    مرا دل پھیردو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا
    مگر مسلمانوں کی محبت رسول ؐ دیکھوجب محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے صحابہ فوت ہوئے تو انہوں نے آپؐ سے قریب ہونے کے لئے تابعی کا درجہ نکال لیا۔اور جب تابعی ختم ہوگئے تو انہوں نے تبع تابعین کا درجہ نکا ل لیا۔اس شاعر نے تو کہاتھا
    تمہیں چاہوں تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں
    مرا دل پھیردو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا
    مگر یہاں یہ صورت ہوگئی کہ تمہیں چاہوں تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں اور پھر ان کے چاہنے والوں کو بھی چاہوں۔ اور پھر تیرہ سَو سال تک برابر چاہتا چلا جائوں۔انہوں نے یہ نہیں کہا کہ
    مرا دل پھیر دو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا
    بلکہ انہوں نے کہا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ہم آپ کے چاہنے والوں کو چاہتے ہیںچاہے وہ صحابی ہوں،تابعی ہوں، تبع تابعی ہوں یا تبع تبع تابعی ہوں اور ان کے بعد یہ سلسلہ خواہ کہاں تک چلاجائے ہم کو وہ سب لوگ پیارے لگتے ہیںکیونکہ ان کے ذریعہ ہم کسی نہ کسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوجاتے ہیں۔
    محدثین کو اس بات پر بڑا فخر ہوتا تھاکہ وہ تھوڑی سی سندات سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئے ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے کہ میں گیارہ بارہ راویوں کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک جا پہنچتا ہوں۔ آپ کو بعض ایسے اساتذہ مل گئے تھے جو آپ کو گیار ہ بارہ راویوں کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیتے تھے۔ اور آپ اس بات پر بڑافخر کیا کرتے تھے۔ اب دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع نے آپ کی صحابیت کو بارہ تیرہ درجوں تک پہنچا دیا ہے اور اس پر فخر کیا ہے تو آ پ لوگ یا صحابی ہیں یا تابعی ہیںابھی تبع تابعین کا وقت نہیں آیا۔ان دونوں درجوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عزت بخشی ہے ۔اس عزت میں کچھ اور لوگ بھی شریک ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں انصار کا ذکر فرمایا ہے اور پھر ان کی قربانیاں بھی اللہ تعالیٰ کو بہت پسند تھیں۔چنانچہ جب ہم انصار کی تاریخ کو دیکھتے ہیں توہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے ایسی قربانیاں کی ہیںکہ اگر آپ لوگ جو انصار اللہ ہیںان کے نقشِ قدم پر چلیں تو یقینا اسلام اور احمدیت دور دور تک پھیل جائے۔اور اتنی طاقت پکڑلے کہ دنیا کی کوئی طاقت اس کے مقابل پر نہ ٹھہر سکے۔
    تاریخ میں لکھاہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو شہر کی تمام عورتیں اور بچے باہر نکل آئے۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کیلئے جاتے ہوئے خوشی سے گاتے چلے جاتے تھے کہ
    طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَیْنَا مِنْ ثَنِیَّۃِ الْوِدَاعِ ۴؎
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس جہت سے مدینہ میں داخل ہوئے وہی جہت تھی جہاں سے قافلے اپنے رشتہ داروںسے رخصت ہوا کرتے تھے اسی لئے انہوں نے اس موڑ کا نام ثنیۃ الوداع رکھا ہوا تھایعنی وہ موڑ جہاں سے قافلے رخصت ہوتے ہیں۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس موڑسے مدینہ میں داخل ہوئے تو مدینہ کی عورتوں اور بچوں نے یہ گاتے ہوئے آپؐ کا استقبال کیا
    طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَیْنَا مِنْ ثَنِیَّۃِ الْوِدَاعِ
    یعنی ہم لوگ کتنے خوش قسمت ہیں کہ جس موڑ سے مدینہ کے رہنے والے اپنے رشتہ داروں کو رخصت کیا کرتے تھے اس موڑ سے اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے بد ر یعنی محمدر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ظاہر کر دیا ہے پس ہمیں دوسرے لوگوں پرفضیلت حاصل ہے اس لئے کہ وہ تو اس جگہ جاکر اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کو رخصت کرتے ہیں لیکن ہم نے وہاں جاکر سب سے زیادہ محبوب محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وصول کیا ہے۔
    پھر ان لوگوں نے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد گھیرا ڈال لیا۔اور ان میں سے ہر شخص کی خواہش تھی کہ آپ ؐ اس کے گھر میں ٹھہریں۔جس جس گلی میںسے آپ ؐ کی اونٹنی گزرتی تھی اس گلی کے مختلف خاندان اپنے گھروں کے آگے کھڑے ہوکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرتے تھے اور کہتے تھے یاَرَ سُوْلَ اللہ! یہ ہمار ا گھر ہے جو آپ ؐ کی خدمت کیلئے حاضر ہے۔ یاَرَ سُوْلَ! آپ ہمارے پاس ہی ٹھہریں۔بعض لوگ جو ش میں آگے بڑھتے اور آپ ؐ کی اونٹنی کی باگ پکڑ لیتے تاکہ آپؐ کو اپنے گھرمیں اُتروا لیں۔مگر آپؐ ہر شخص کو یہی جواب دیتے تھے کہ میری اونٹنی کو چھوڑ دویہ آج خدا تعالیٰ کی طر ف سے مامور ہے یہ وہیں کھڑی ہوگی جہاں خداتعالیٰ کا منشاء ہوگا۔ آخر وہ ایک جگہ پر کھڑی ہوگئی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاسب سے قریب گھر کس کاہے؟ حضرت ابو ایوب انصاری ؓ نے فرمایا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! میر اگھر سب سے قریب ہے اور آپ کی خدمت کیلئے حاضر ہے۔ حضرت ابو ایوب ؓ کا مکان دو منزلہ تھا انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے اوپر کی منزل تجویز کی مگر آپ ؐ نے اس خیال سے کہ ملنے والوں کو تکلیف ہوگی نچلی منزل کو پسند فرمایا۔
    حضرت ابو ایوب انصاری ؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اِصرار پر مان تو گئے کہ آپؐ نچلی منزل میں ٹھہریں لیکن ساری رات میاں بیوی اِس خیال سے جاگتے رہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے نیچے سور ہے ہیںپھر وہ کس طرح اس بے ادبی کے مرتکب ہوسکتے ہیںکہ وہ چھت کے اوپر سوئیں۔اتفاقاً اُسی رات ان سے پانی کا ایک برتن گرگیا۔ حضرت ابو ایوب انصاری ؓ نے دَوڑکر اپنا لحاف اُس پانی پر ڈال کر پانی کی رطوبت کو خشک کیاتاکہ چھت کے نیچے پانی نہ ٹپک پڑے۔صبح کے وقت وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارے حالات عرض کئے جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اوپر کی منزل پر رہنے پر راضی ہوگئے۔ اب دیکھو یہ اُس عشق کی ایک ادنیٰ سی مثال ہے جو صحابہ ؓ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا۔
    پھر یہ واقعہ کتنا شاندار ہے کہ جب جنگ اُحد ختم ہوئی اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے فتح عطا فرمائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ ؓ کو اس بات پر مأمور فرمایا کہ وہ میدانِ جنگ میں جائیں اور زخمیوں کی خبر لیں۔ایک صحابی ؓ میدان میں تلاش کرتے کرتے ایک زخمی انصاری کے پاس پہنچے۔ دیکھا کہ اُن کی حالت نازک ہے اور وہ جان توڑ رہے ہیں۔اِس نے زخمی انصار ی ؓ سے ہمدردی کا اظہار کرنا شروع کیا۔ انہوں نے اپنا کانپتا ہوا ہاتھ مصافحہ کیلئے آگے بڑھایا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا میں انتظار کر رہا تھاکہ کوئی بھائی مجھے مل جائے۔ انہوں نے اس صحابی ؓ سے پوچھا کہ آپ کی حالت خطرناک معلوم ہوتی ہے اور بچنے کی امید نہیں کیا کوئی پیغام ہے جو آپ اپنے رشتہ داروں کو دینا چاہتے ہوں؟اس مرنے والے صحابی ؓنے کہا ہاں ہاں میری طرف سے میرے رشتہ داروں کو سلام کہنااور انہیں کہنا کہ میں تو مر رہا ہوںمگر میں اپنے پیچھے خداتعالیٰ کی ایک مقدس امانت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھوڑے جارہا ہوں میں جب تک زندہ رہااِس نعمت کی اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر بھی حفاظت کرتا رہالیکن اب اے میرے بھائیو اور رشتہ دارو! میں اب مر رہا ہوںاور خدا تعالیٰ کی یہ مقدس امانت تم میں چھوڑ رہا ہوں میں آپ سب کو اس کی حفاظت کی نصیحت کرتا ہوں اور امید کرتا ہو ں کہ اگر آپ سب کو اس کی حفاظت کے سلسلہ میں اپنی جانیں بھی دینی پڑیںتو آپ اس سے دریغ نہیں کریںگے اور میری اس آخری وصیت کو یاد رکھیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ خداتعالیٰ کے فضل سے آپ کے اندر ایمان موجود ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ سب کو محبت ہے اس لئے تم ضرور آپ ؐ کے وجود کی حفاظت کیلئے ہر ممکن قربانی کرو گے اور اس کیلئے اپنی جانوں کی بھی پرواہ نہیں کروگے ۔۵؎
    اب دیکھو ایک شخص مر رہا ہے اسے اپنی زندگی کے متعلق یقین نہیں وہ مرتے وقت اپنے بیوی بچوں کو سلام نہیں بھیجتا، انہیں کوئی نصیحت نہیں کرتا بلکہ وہ اگر کوئی پیغام بھیجتا ہے تو یہی کہ اے میر ی قوم کے لوگو!تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت میں کوتا ہی نہ کرنا۔ ہم جب تک زندہ رہے اس فرض کو نبھاتے رہے اب آپ ؐ کی حفاظت آپ لوگوں کے ذمہ ہے آپ کواس کے رستہ میں اپنی جانوں کی قربانی بھی پیش کرنی پڑے تو اس سے دریغ نہ کریں۔میری تم سے یہی آخری خواہش ہے اور مرتے وقت میں تمہیں اِس کی نصیحت کرتا ہوں۔یہ تھا وہ عشق و محبت جو صحابہ ؓ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا۔
    پھر جب آپؐ بدر کی جنگ کیلئے مدینہ سے صحابہ ؓ سمیت باہر نکلے تو آپؐ نے نہ چاہا کہ کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف جنگ پر مجبور کیا جائے چنانچہ آپؐ نے اپنے ساتھیوں کے سامنے یہ سوال پیش کیاکہ وہ اس بارہ میں آپؐ کو مشور ہ دیںکہ فوج کا مقابلہ کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ ایک کے بعد دوسرا مہاجر کھڑا ہوا اور اس نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اگر دشمن ہمارے گھروں پر چڑ ھ آیا ہے تو ہم اس سے ڈرتے نہیں ہم اس کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ آپؐ ہر ایک کا جواب سن کر یہی فرماتے چلے جاتے کہ مجھے اور مشورہ دو مجھے اور مشورہ دو۔مدینہ کے لوگ اُس وقت تک خاموش تھے اس لئے کہ حملہ آور فوج مہاجرین کی رشتہ دار تھی وہ ڈرتے تھے کہ ایسا نہ ہوکہ ان کی بات سے مہاجرین کا دل دُکھے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار فرمایا کہ مجھے مشورہ دو توایک انصاری ؓ سردار کھڑے ہوئے اور عرض کیا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مشورہ تو آپؐ کو مل رہا ہے مگر پھر بھی جو آپ ؐ بار بار مشورہ طلب فرما رہے ہیںتو شاید آپ ؐ کی مراد ہم انصار سے ہے۔ آپ ؐ نے فرمایا ہاں۔ اس سردار نے جواب میں کہا۔ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! شاید آپ اس لئے ہمارا مشورہ طلب فرمارہے ہیںکہ آپ ؐ کے مدینہ تشریف لانے سے پہلے ہمارے اور آپ ؐ کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھااور وہ یہ تھا کہ اگر مدینہ میں آپ ؐ پر اور مہاجرین پر کسی نے حملہ کیاتو ہم آپؐ کی حفاظت کریں گے مدینہ سے باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔لیکن اِس وقت آپ ؐ مدینہ سے باہر تشریف لے آئے ہیں۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ہاں یہ درست ہے۔ اس نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! جس وقت وہ معاہد ہ ہوا تھا اُس وقت تک ہم پر آپؐ کی حقیقت پورے طورپرروشن نہیں ہوئی تھی لیکن اب ہم پر آپ کا مرتبہ اور آپؐ کی شان پورے طور پر ظاہر ہوچکی ہے ۔اس لئے یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اب اس معاہدہ کاکوئی سوال ہی نہیں۔ہم موسیٰ ؑ کے ساتھیوں کی طرح آپؐ کو یہ نہیں کہیں گے کہ ۔۶؎ کہ تو اور تیرا رب جائو اور دشمن سے جنگ کرتے پھرو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں بلکہ ہم آپؐ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے۔ اور یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! دشمن جو آپ ؐ کو نقصان پہنچانے کیلئے آیا ہے وہ آپ تک نہیں پہنچ سکتا۔جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گذرے۔۷؎ پھر اس نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! جنگ تو ایک معمولی بات ہے یہاں سے تھوڑے فاصلہ پر سمندر ہے (بدر سے چندمنزلوں کے فاصلہ پر سمندر تھااور عرب تیرنا نہیں جانتے تھے اس لئے پانی سے بہت ڈرتے تھے) آپؐ ہمیں سمند ر میں اپنے گھوڑے ڈال دینے کا حکم دیجئے ہم بِلا چون و چرا اس میں اپنے گھوڑے ڈال دیں گے۸؎ یہ وہ فدائیت اوراخلاص کا نمونہ تھاجس کی مثال کسی سابق نبی کے ماننے والوں میں نہیں ملتی۔اس مشورہ کے بعد آپ ؐ نے دشمن سے لڑائی کرنے کا حکم دیااور اللہ تعالیٰ نے اس میں آپؐ کو نمایاں فتح عطا فرمائی۔حضرت مسیح ناصری ؑ کے انصار کی وہ شان نہیں تھی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انصار کی تھی لیکن پھر بھی وہ اِس وقت تک آپ کی خلافت کو قائم رکھے ہوئے ہیں اور یہ ان کی ایک بہت بڑی خوبی ہے مگر تم میں سے بعض لوگ پیغامیوں کی مدد کے لالچ میں آگئے اور انہوں نے خلافت کو مٹانے کی کوششیں شروع کردیں اور زیادہ تر افسوس یہ ہے کہ ان لوگوں میں اس عظیم الشان باپ کی اولاد بھی شامل ہے جس کو ہم بڑی قدر اور عظمت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی وفات پر ۴۲سال کا عرصہ گزر چکا ہے مگر میں ہر قربانی کے موقع پر آپ کی طرف سے قربانی کرتا ہوں۔تحریک جدید ۱۹۳۴ء سے شروع ہے اور اب ۱۹۵۶ء ہے گویا اس پر ۲۲سال کا عرصہ گزر گیاہے۔شاید حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی اولاد خود بھی اس میں حصہ نہ لیتی ہولیکن میں ہر سال آپ کی طرف سے اس میں چندہ دیتا ہوں تاکہ آپ کی روح کو بھی اس کا ثواب پہنچے۔ پھر جب میںحج پر گیا تو اُس وقت بھی میں نے آپ کی طرف سے قربانی کی تھی اور اب تک ہر عید کے موقع پر آپ کی طرف سے قربانی کرتا چلا آیا ہوں۔غرض ہمارے دل میں حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی بڑی قدر اور عظمت ہے لیکن آپ کی اولاد نے جو نمونہ دکھایا وہ تمہارے سامنے ہے۔اس کے مقابلہ میں تم حضرت مسیح علیہ السلام کے ماننے والوں کو دیکھوکہ وہ آج تک آپ کی خلافت کو سنبھالے چلے آتے ہیںہم تو اس مسیح کے صحابہ اور انصار ہیں جس کو مسیح ناصری ؑ پر فضیلت دی گئی ہے مگر ہم جو افضل باپ کے روحانی بیٹے ہیںہم میں سے بعض لوگ چند روپوں کی لالچ میں آگئے ۔شاید اس طرح حضرت مسیح علیہ السلام سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی یہ مماثلت بھی پوری ہونی تھی کہ جیسے آپ کے ایک حواری یہودا اسکریو طی نے رومیوں سے تیس روپے لے کر آپ کو بیچ دیا تھا اوراس طرح اِس مسیح ؑ کی جماعت میں بھی بعض ایسے لوگ پیدا ہونے تھے جنہوں نے پیغامیوں سے مدد لے کر جماعت میں فتنہ کھڑاکرنا تھا۔لیکن ہمیں عیسائیوں کے صرف عیب ہی نہیں دیکھنے چاہئیںبلکہ ان کی خوبیان بھی دیکھنی چاہئیں۔جہاں ان میں ہمیں یہ عیب نظر آتاہے کہ ان میں سے ایک نے تیس روپے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام کو بیچ دیاوہاں ان میں یہ خوبی بھی پائی جاتی ہے کہ آج تک جبکہ حضرت مسیح علیہ السلام پر دوہزار سال کے قریب عرصہ گزر چکاہے وہ آپ کی خلافت کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔چنانچہ آج جب میں نے اس بات پر غور کیاتو مجھے معلوم ہوا کہ اس چیز کا وعدہ بھی حواریوں نے کیاتھا۔ چنانچہ حضرت مسیح علیہ السلام نے جب کہا۔ کہ خدا تعالیٰ کے رستہ میں میری کون مدد کرے گا۔ تو حواریوںنے کہا۔ ۔ہم خداتعالیٰ کے رستہ میں آپ کی مدد کریںگے۔انہوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی طر ف منسوب کیاہے اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ قائم رہنے والاہے۔پس اس کے معنی ہیں کہ ہم وہ انصار ہیں جن کو خدا تعالیٰ کی طرف نسبت دی گئی ہے اس لئے جب تک خدا تعالیٰ زندہ ہے اُس وقت تک ہم بھی اس کی مدد کرتے رہیں گے۔ چنانچہ دیکھ لو حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات پر تقریباً دو ہزار سال کا عرصہ گذر چکاہے لیکن عیسائی لوگ برابرعیسائیت کی تبلیغ کرتے چلے جارہے ہیں اور اب تک ان میں خلافت قائم چلی آتی ہے۔ اب بھی ہماری زیادہ تر ٹکر عیسائیوں سے ہی ہورہی ہے جو مسیح علیہ السلام کے متبع اور ان کے ماننے والے ہیںاور جن کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال رکھتے ہوئے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے سارے نبی اس فتنہ کی خبر دیتے چلے آئے ہیں۔غرض وہ مسیح ناصری جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایاہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے ان پر فضیلت عطا فرمائی ہے ان کے انصار نے اتنا جذبۂ اخلاص دکھایاکہ انہوں نے دوہزار سال تک آپ کی خلافت کو مٹنے نہیں دیا کیونکہ انہوں نے یہ سمجھ لیاکہ اگر مسیح علیہ السلام کی خلافت مٹی تو مسیح علیہ السلام کا خود اپنا نام بھی دنیا سے مٹ جائے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شروع عیسائیت میں حضرت مسیح علیہ السلام کے ایک حواری نے آپ کو تیس روپے کے بدلہ میں دشمنوں کے ہاتھ بیچ دیا تھالیکن اب عیسائیت میں وہ لوگ پائے جاتے ہیںجو مسیحیت کی اشاعت اور حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا کا بیٹا منوانے کے لئے کروڑوں کروڑ روپیہ دیتے ہیں۔ اسی طرح اس بات میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ نے اپنے زمانہ میں بڑی قربانی کی ہے لیکن آپ کی وفات پر ابھی صرف ۴۸سال ہی ہوئے ہیں کہ جماعت میں سے بعض ڈانوا ڈول ہونے لگے ہیںاور پیغامیوں سے چند روپے لے کر ایمان کو بیچنے لگے ہیں۔حالانکہ ان میں سے بعض پر سلسلہ نے ہزارہا روپے خرچ کئے ہیں۔میں پچھلے حسابات نکلوا رہاہوںاور میں نے دفتر والوں سے کہا ہے کہ وہ بتائیں کہ صدر انجمن احمدیہ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خاندان کی کتنی خدمت کی ہے اور حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے خاندان کی کتنی خدمت کی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو فوت ہوئے ۴۸سال ہو چکے ہیںاور حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی وفات پر ۴۲سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کا فاصلہ زیادہ ہے اور پھر آپ کی اولاد بھی زیادہ ہے۔لیکن اس کے باوجود میں نے حسابات نکلوائے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ صدر انجمن احمدیہ نے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے خاندان کی نسبت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے خاندان پر کم خرچ کیاہے لیکن پھر بھی حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی اولاد میں یہ لالچ پیدا ہوئی کہ خلافت بھی سنبھالو یہ ہمارے باپ کا حق تھاجو ہمیں ملنا چاہیے تھا۔ چنانچہ سندھ سے ایک آدمی نے مجھے لکھا کہ یہاں میاں عبدا لمنان کے بھانجے مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی کا ایک پر وردہ شخص بشیر احمد آیااور اس نے کہا کہ خلافت تو حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کا مال تھا اور ان کی وفات کے بعد ان کی اولاد کو ملنا چاہیے تھالیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ السلام کی اولاد نے اسے غضب کر لیا۔اب ہم سب نے مل کر یہ کوشش کرنی ہے کہ اس حق کو دوبارہ حاصل کریں۔
    پھر میں نے میاں عبد السلام صاحب کی پہلی بیوی کے سوتیلے بھائی کا ایک خط پڑھا جس میں اس نے اپنے سوتیلے ماموںکو لکھا کہ مجھے افسوس ہے کہ مشرقی بنگال کی جماعت نے ایک ریزو لیشن پاس کرکے اس فتنہ سے نفرت کا اظہار کیاہے۔ہمیں تو اس سے فائدہ اُٹھانا چاہیے تھاہمارے لئے تو موقع تھاکہ ہم کوشش کرکے اپنے خاندان کی وجاہت کو دوبارہ قائم کرتے۔یہ ویسی ہی نامعقول حرکت ہے جیسی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات پر لاہو رکے بعض مخالفین نے کی تھی۔انہوں نے آپ کے نقلی جنازے نکالے اور آپ کی وفات پر خوشی کے شادیانے بجائے۔وہ تو دشمن تھے لیکن یہ لوگ احمدی کہلاتے ہیںاور کہتے ہیں کہ ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور اپنے خاندان کی وجاہت کو قائم کرناچاہیے حالانکہ حضرت خلیفۃ المیسح الاوّل کو جوعزت اور درجہ ملاہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے طفیل ملاہے جو چیز آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے طفیل ملی تھی وہ ان لوگوںکے نزدیک ان کے خاندان کی جائداد بن گئی۔یہ وہی فقرہ ہے جو پرانے زمانہ میں ان لڑکوں کی والدہ نے مجھے کہا کہ پیغامی میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خلافت تو حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی تھی۔ اگر آپ کی وفات کے بعد آپ کے کسی بیٹے کو خلیفہ بنا لیا جاتا تو ہم اس کی بیعت کرلیتے مگر مرزا صاحب کا خلافت سے کیا تعلق تھا کہ آپکے بیٹے کو خلیفہ بنا لیاگیا۔ اُس وقت میری بھی جوانی تھی میںنے انہیں کہا کہ آپ کیلئے رستہ کھلا ہے تانگے چلتے ہیں (اُن دنوں قادیان میں ریل نہیں آئی تھی) آپ چاہیں تو لاہور چلی جائیں۔ میں آپ کو نہیں روکتا۔وہاں جاکرآپ کو پتہ لگ جائیگا کہ وہ آپ کی کیا امدا د کرتے ہیںوہاں تو مولوی محمد علی صاحب کو بھی خلافت نہیںملی انہیں صرف امارت ملی تھی اور امارت بھی ایسی کہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں انہیں وصیت کرنی پڑی کہ فلاں فلاں شخص ان کے جنازے پر نہ آئے۔ان کی اپنی تحریر موجود ہے جس میںانہوں نے لکھا ہے کہ مولوی صدرالدین صاحب، شیخ عبد الرحمن صاحب مصری اور ڈاکٹر غلام محمد صاحب میرے خلاف پراپیگنڈہ میں اپنی پوری قوت خرچ کررہے ہیں۔اور انہوں نے تنکے کو پہاڑ بنا کر جماعت میں فتہ پیدا کرنا شروع کیاہوا ہے اور ان لوگوں نے مولوی محمد علی صاحب پر طرح طرح کے الزامات لگائے یہاں تک کیا کہ آپ نے احمدیت سے انکار کردیاہے اور انجمن کا مال غصب کرلیاہے۔اب بتائو جب وہ شخص جواِس جماعت کا بانی تھا اسے یہ کہنا پڑا کہ جماعت کے بڑے بڑے آدمی مجھ پر الزام لگاتے ہیںاور مجھے مرتد اور جماعت کا مال غصب کرنے والا قرار دیتے ہیں تو اگر وہاں دودھ پینے والے چھوکرے چلے جاتے تو انہیں کیا ملتا۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہو سکتا تھا کہ انہیں پانچ پانچ روپے کے وظیفے دے کر کسی سکو ل میں داخل کر دیا جاتا مگر ہم نے تو ان کی تعلیم پر بڑا روپیہ خرچ کیااور اس قابل بنایا کہ یہ بڑے آدمی کہلا سکیںلیکن انہوںنے یہ کیا کہ جس جماعت نے انہیں پڑھایا تھااُسی کو تباہ کرنے کیلئے حملہ کر دیا۔ اِس سے بڑھ کر او رکیا قساوتِ قلبی ہوگی کہ جن غریبوں نے انہیں پیسے دے کر اِس مقا م پر پہنچایا یہ لوگ اُنہی کو تباہ کرنیکی کوشش میںلگ جائیں۔
    جماعت میں ایسے ایسے غریب ہیں کہ جن کی غربت کاکوئی اندازہ نہیں کیا جاسکتا مگر وہ لوگ چندہ دیتے ہیں۔ایک دفعہ قادیان میں ایک غریب احمدی میرے پاس آیااورکہنے لگا کہ آپ امراء کے ہاں دعوتیں کھاتے ہیں ایک دفعہ آپ میرے گھر بھی تشریف لائیںاور میری دعوت کو قبول فرمائیں۔میں نے کہا تم بہت غریب ہو میں نہیں چاہتا کہ دعوت کی وجہ سے تم پر کوئی بوجھ پڑے۔اس نے کہا میںغریب ہوں تو کیا ہواآپ میری دعوت ضرور قبول کریں۔ میںنے پھر بھی انکار کیامگر وہ میرے پیچھے پڑ گیا۔ چنانچہ ایک دن میں اس کے گھرگیاتاکہ اُس کی دلجوئی ہوجائے۔ مجھے یاد نہیں اس نے چائے کی دعوت کی تھی یا کھانا کھلایا تھامگر جب میں ا س کے گھر سے نکلا تو گلی میں ایک احمدی دوست عبد العزیز صاحب کھڑے تھے وہ پسرور ضلع سیالکوٹ کے رہنے والے تھے اور مخلص احمدی تھے لیکن انہیں اعتراض کرنیکی عادت تھی۔میں نے انہیں دیکھا تو میرا دل بیٹھ گیااور میںنے خیال کیا کہ اب یہ دوست مجھ پر ضرور اعتراض کریں گے چنانچہ ایساہی ہوا۔ جب میں ان کے پاس پہنچا تو انہوںنے کہاحضور! آپ ایسے غریبوں کی دعوت بھی قبول کرلیتے ہیں؟میںنے کہا عبدالعزیز صاحب میرے لئے دونوں طرح مصیبت ہے اگر میں انکار کروں تو غریب کہتا ہے میں غریب ہوں اسلئے میری دعوت نہیں کھاتے اور اگر میں اس کی دعوت منظور کرلوں تو آپ لوگ کہتے ہیں کہ غریب کی دعوت کیوں مان لی۔ اب دیکھو اس شخص نے مجھے خود دعوت پر بلایاتھامیں نے با ر ہا انکار کیا لیکن وہ میرے پیچھے اس طرح پڑا کہ میںمجبو ر ہوگیاکہ اس کی دعوت مان لوں لیکن دوسرے دوست کو اس پر اعتراض پیدا ہوا۔غرض جماعت میں ایسے ایسے غریب بھی ہیںکہ ان کے ہاں کھانا کھانے پر بھی دوسروں کو اعتراض پیدا ہوتا ہے۔ ایسی غریب جماعت نے ان لڑکوں کی خدمت کرنے اور انہیں پڑھانے پر ایک لاکھ روپیہ سے زیادہ خرچ کیا۔میاں عبد السلام کو وکیل بنایا۔عبد المنان کو ایم اے کروایا۔ عبد الوہاب کو بھی تعلیم دلائی اسے وظیفہ دیا۔لاہو ربھیجا اور ہوسٹل میں داخل کروایامگر اسے خود تعلیم کا شوق نہیں تھااس لئے وہ زیادہ تعلیم حاصل نہ کرسکا۔لیکن پھر بھی جماعت نے اسے پڑھانے میںکوئی کوتاہی نہ کی۔بعد میں میں نے معقول گذارہ دے کر اسے دہلی بھجوایا اور کہا کہ تمہارے باپ کا پیشہ طب تھاتم بھی طب پڑھ لو۔چنانچہ اسے حکیم اجمل خان صاحب کے کالج میں طب پڑھائی گئی گو اس نے وہاں بھی وہی حرکت کی کہ پڑھائی کی طرف توجہ نہ کی اور فیل ہوا لیکن اس نے اتنی عقلمندی کی کہ اپنی بیوی کو بھی ساتھ لے گیا۔ چنانچہ بیوی پاس ہوگئی اور امتحان میںاوّل آئی۔اب سلسلہ کے اس روپیہ کی وجہ سے جواِس پر خرچ کیاگیاوہ اپنا گزارہ کر رہاہے اور اس نے اپنے دواخانہ کا نام دواخانہ نورالدین رکھا ہوا ہے۔ حالانکہ دراصل وہ دواخانہ سلسلہ احمدیہ ہے کیونکہ سلسلہ احمدیہ کے روپیہ سے ہی وہ اِس حد تک پہنچا ہے کہ دواخانہ کو جاری رکھ سکے۔اب وہ لکھتا ہے کہ میری بیوی جو گولڈ میڈلسٹ ہے وہ علاج کرتی ہے۔ وہ یہ کیوں نہیں لکھتا کہ میری بیوی جس کو سلسلہ احمدیہ نے خرچ دے کر پڑھایا ہے علاج کرتی ہے۔ غرض چاہے تعلیم کو لیا جائے ،طب کو لیا جائے یا کسی اور پیشہ کو لیا جائے یہ لوگ سلسلہ کی مدد کے بغیر اپنے پائوں پر کھڑے ہی نہیں ہوسکتے تھے مگر اس ساری کوشش کانتیجہ یہ ہواکہ اب یہ لوگ سلسہ احمدیہ کو ہی تباہ کرنے کی کوشش میںلگے ہوئے ہیں۔ مگر سلسلہ احمدیہ خداتعالیٰ کے ہاتھ کا لگایا ہوا پوداہے جسے کوئی تباہ نہیں کرسکتا۔ یہ سلسلہ ایک چٹان ہے جو اس پر گرے گا وہ پاش پاش ہوجائے گا۔اور جوا س کو مٹانا چاہے گاوہ خود مٹ جائے گااور کوئی شخص بھی خواہ اُس کی پشت پناہ احراری ہوں یا پیغامی ہوںاِس کو نقصان پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوگا۔اس کو نقصان پہنچانے کا ارادہ کرنے والے ذلیل اور خوار ہوں گے اور قیامت تک ذلت و رسوائی میں مبتلا رہیں گے۔اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ السلام کو عزت اور رفعت دیتا چلا جائے گااور تما م دنیا میں آپ کا نام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے ساتھ پھیلتا چلاجائیگا۔اور جب آپ کے ذریعہ ہی اسلام بڑھے گا تو لازمی طورپر جو لوگ آپ کے ذریعہ اسلام قبول کریں گے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں گے وہ آپ پر بھی ایمان لائیں گے لیکن اس سلسلہ کی تباہی کاارادہ کرنے والے ابھی زندہ ہی ہونگے کہ اِن کی عزتیں ان کی آنکھوں کے سامنے خاک میں مل جائیں گی۔ اور پیغامیوں نے جوان سے مدد کا وعدہ کیاہے وہ وعدہ بھی خاک میں مل جائے گا۔مولوی محمد علی صاحب سے ان لوگوں نے جو وعدہ کیا تھا کیا وہ پورا ہوا؟ان کا انجام آپ لوگوں کے سامنے ہے۔ اب ان لوگوں کا انجام مولوی محمدعلی صاحب سے بھی بد تر ہوگا۔اس لئے کہ جب انہوں نے سلسلہ سے علیحدگی اختیار کی تھی اور انجمن اشاعت اسلام کی بنیاد رکھی تھی تو انہوں نے سلسلہ احمدیہ کی ایک عرصہ کی خدمت کے بعد ایسا کیا تھا۔انہیںدنیا کی خدمت کا موقع ملاتھارسالہ ریویوآف ریلیجنز دنیا میں بہت مقبول ہوا اور وہ اس کے ایڈیٹر تھے۔ پھر انہوں نے اپنے خرچ سے پڑھائی کی تھی لیکن اِن لوگوں نے اپنے یا اپنے باپ کے پیسے سے پڑھائی نہیں کی بلکہ غریب لوگوں کے پیسے سے کی جو بعض دفعہ رات کو فاقہ سے سوتے ہیں اور اس سارے احسان کے بعد انہوں نے یہ کیا کہ وہ سلسلہ احمدیہ کو تباہ کرنے کے لئے کھڑے ہوگئے۔‘‘
    ’’یاد رکھو تمہارا نام انصار اللہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے مددگار گویا تمہیں اللہ تعالیٰ کے نام کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ ازلی اور ابدی ہے اس لئے تم کو بھی کوشش کرنی چاہیے کہ ابدیت کے مظہرہوجائو۔تم اپنے انصار ہونے کی علامت لئے خلافت کو ہمیشہ ہمیش کیلئے قائم رکھتے چلے جائو اور کوشش کرو کہ یہ کام نسلاًبَعْدَ نسلٍ چلتا چلا جاوے اور اس کے دو ذریعے ہوسکتے ہیں ایک ذریعہ تو یہ ہے کہ اپنی اولاد کی صحیح تربیت کی جائے اور اس میں خلافت کی محبت قائم کی جائے اس لئے میں نے اطفا ل الاحمدیہ کی تنظیم قائم کی تھی اور خدام الاحمدیہ کا قیام عمل میں لایا گیاتھایہ اطفال اور خدا م آپ لوگوں کے ہی بچے ہیں۔ اگر اطفال الاحمدیہ کی تربیت صحیح ہوگی تو خدام الاحمدیہ کی تربیت صحیح ہوگی اور اگر خدام الاحمدیہ کی تربیت صحیح ہوگی تو اگلی نسل انصار اللہ کی اعلیٰ ہوگی۔میںنے سیڑھیاں بنا دی ہیں آگے کام کرنا تمہار ا کام ہے۔ پہلی سیڑھی اطفال الاحمدیہ ہے دوسری سیڑھی خدام الاحمدیہ ہے تیسری سیڑھی انصار اللہ ہے اور چوتھی سیڑھی خدا تعالیٰ ہے۔ تم اپنی اولاد کی صحیح تربیت کرو اور دوسری طرف خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگو تو یہ چاروں سیڑھیاں مکمل ہو جائیں گی۔ اگر تمہارے اطفال اور خدام ٹھیک ہوجائیں اور پھر تم بھی دعائیں کرواور خداتعالیٰ سے تعلق پیدا کرلو تو پھر تمہارے لئے عرش سے نیچے کوئی جگہ نہیں۔ اور جو عرش پر چلا جائے وہ بالکل محفوظ ہوجاتاہے۔دنیا حملہ کرنے کی کوشش کرے تو وہ زیادہ سے زیادہ سَو دو سَو فٹ پر حملہ کرسکتی ہے وہ عرش پر حملہ نہیں کر سکتی۔ پس اگر تم اپنی اصلاح کرلوگے اور خداتعالیٰ سے دعائیں کروگے تو تمہارا اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم ہوجائے گا۔ او راگر تم حقیقی انصار اللہ بن جائواور خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرلوتو تمہارے اندر خلافت بھی دائمی طور پر رہے گی اور وہ عیسائیت کی خلافت سے بھی لمبی چلے گی۔عیسائیوں کی تعدا د تو تما م کوششوں کے بعد مسلمانوں سے قریباًدُگنی ہوئ