1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

خلافت علیٰ منہاج نبوت ۔ جلد 1

'یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 22, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    خلافت علیٰ منہاج نبوت ۔ جلد 1

    ؎بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
    عصر جدید
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات پر بعض مخالف اخباروں کی آراء حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب نے رسالہ تشحیذالاذہان میں درج فرمائیں اور اس میں بیان کردہ غلط باتوں کی درستگی بھی ساتھ ساتھ فرمائی۔ ان اخبارات و رسائل میں سے ایک رسالہ’’ عصر جدید‘‘ لکھنؤ کے نام سے شائع ہوتا تھا اس کے بارے میںآپ نے فرمایا:۔
    ’’رسالہ عصر جدیدکے پرچہ ماہِ جون میں ایک مضمون جس کا ہیڈنگ ’’اَلانصاف ‘‘ تھا نکلا ہے جس میں صاحبِ مضمون نے جو اپنا نام بتانا تقیہ کے برخلاف سمجھتے ہیں قادیانی جماعت کے خاتمہ پر بحث کی ہے۔ اس مضمون کا جواب لکھنے سے پہلے میں اِس قدر لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ایڈیٹر عصر جدید کو احمدی جماعت سے ہمیشہ دلچسپی رہی ہے اور جب کبھی آپ سے ہوسکا آپ نے کوشش کی ہے کہ حضرت مسیح موعو دعلیہ الصلوٰۃ والسلام اور اُن کے پیروان پر کوئی ذلیل نیش زنی کریں۔ چنانچہ آپ کے ایک دو مضامین کا جواب رسالہ ریویو آف ریلیجنز میں شائع بھی ہوچکا ہے چونکہ آپ کا مذہب شیعہ ہے اس لئے بیجا طعن و تشنیع سے کچھ پرہیز نہیں۔ غرض یہ مضمون ان کے کسی ہم خیال کی طرف سے جس نے اپنا نام ’’ماوروں رابنگریم و حال را‘‘ بتایا ہے شائع ہوا ہے اور آپ نے اُس کے کسی خیال کی تردید نہیں کی۔ مضمون متانت سے بالکل گرا ہوا اور تہذیب سے کوسوں دُور ہے اور ناول کی طرز پر زید اور عبداللہ کی گفتگو کے پیرایہ میں ہے۔ اگر راقم مضمون واقعی عبداللہ ہیں اور وہی عبداللہ جن کو مولوی نورالدین صاحب خلیفۃ المسیح کے برخلاف لکھنا شرعاً و انصافاً کسی طرح بھی جائز نہیں۔۔۔۔۔۔۔
    آپ نے لکھا ہے کہ مولوی نورالدین صاحب بھی اس سلسلہ کے اصل مرکز تھے اور آج اُن کی مدت کی خواہش بر آئی کہ وہ خلیفہ بن گئے تو آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ مولوی صاحب نے اپنے پہلے ہی خطبہ میں اس بات کا اقرار کیا تھا کہ میرے دل میں کبھی اِس عہدہ کا خیال تک نہیں آیا۔ چنانچہ اِس بات کے ہم لوگ گواہ ہیں کیونکہ کسی شخص کے پاس رہنے والے اُس کی عادات کو بہ نسبت دُور کے رہنے والوں اور بے تعلقوں کے زیادہ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں اور حالات بھی ایسے ہیں کہ ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ یہ سلسلہ مشورہ اور منصوبہ سے نہیں بنا بلکہ خداتعالیٰ کے ارادہ کے ماتحت بنا ہے۔ چنانچہ حضرت صاحب کی وفات پر بہت سے دانا اور چشمِ بصیرت رکھنے والے مخالفوں تک نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ یہ سلسلہ منصوبوں کا نتیجہ نہ تھا۔ ہاں ایک آپ کی متعصب آنکھ تھی جو نہ دیکھ سکی۔ سو یاد رہے کہ اعتراض بغیر دلیل کے کوئی وقعت نہیں رکھتا بلکہ اگر کوئی شخص تعصب سے اعتراض کرے تو نَعُوْذُ بِاللّٰہِ حضرت علیؓ پر زیادہ اعتراض کر سکتا ہے کہ وہ خلافت لینا چاہتے تھے اور مدت سے اُن کے دل میں یہ بات پوشیدہ تھی۔ چنانچہ بقول آپ لوگوں کے اُنہوں نے اسی غصہ میں حضرت ابوبکرؓ کی بیعت بھی چھہ مہینے تک نہیں کی اور کی بھی تو تقیہ کے طور پر۔ پس ہر ایک اعتراض کرتے وقت دلائل ساتھ دینے چاہئیں تا کہ عقلمندوں میں رُسوائی نہ ہو‘‘۔
    (تشحیذ الاذہان۔ اگست ستمبر ۱۹۰۸ء)


    خلافت اسلامیہ

    حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب جب اخبار الفضل کے ایڈیٹر تھیتو اُس وقت بہت سے مضامین خود تحریر فرمایا کرتے تھے۔ پیسہ اخبار نے جب سردار والا گوہر صاحب پنشنر ڈسٹرکٹ جج لدھیانہ کا ایک مضمون خلافت عثمانیہ کے بارے میں شائع کیا تو آپ نے اس مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے اس پر ایک تبصرہ تحریرکرتے ہوئے خلافت اسلامیہ کی حقیقت ان الفاظ میں بیان فرمائی:۔
    ’’ہم عصر پیسہ اخبار نے اپنی ایک پچھلی اشاعت میں سردار والا گوہر صاحب پنشنر ڈسٹرکٹ جج لدھیانہ کا ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں اُنہوں نے خلافتِ عثمانیہ پر نہایت عمدگی اور خوبی کے ساتھ بحث کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ موجود خلافت قطعاً اسلامی خلافت کہلانے کی مستحق نہیں ہے کیونکہ اس میں تمام ان امور کی پابندی نہیں کی جاتی جو اسلامی خلافت کے لئے ضروری ہیں اور پارلیمنٹ کے وجود سے اس شیرازۂ قومی کو بالکل بکھیر دیا گیا ہے جو اسلام نے خلافت کے رشتہ میں باندھ دیا تھا۔ انہوں نے دنیاوی نقطہ نظر سے بھی اس بات کو ثابت کیا ہے کہ ایک ایسے ملک میں جس میں یہودی اور مسیحی کثرت سے آباد ہوں پارلیمنٹ کبھی مسلمانوں کو راس نہیں آ سکتی کیونکہ پارلیمنٹ تو باشندوں کے قائم مقاموں کا مجموعہ ہوتی ہے اگر پورے طور سے اس میں باشندوں کو نیابت دی گئی تو حکومت بجائے مسلمانوں کے مسیحیوں کے قبضہ میں چلی جائے گی۔ خصوصاً جب کہ ان کی پُشت پر بہت سی مسیحی حکومتیں ہیں جو ان کے قول کی تائید کے لئے ہر وقت آمادہ و تیار رہیں گی۔
    دنیاوی پہلو سے بہت زیادہ اہم مذہبی پہلو ہے اور اس پہلو کو بھی انہوں نے جس خوبی سے نباہا ہے اِس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ مشورہ قرآن شریف سے ثابت ہے اور پارلیمنٹ بھی مشیروں کی ایک مجلس ہے پھر اِس کو کیوں مخالف ہدایت اسلامی کہا جائے۔ اس اعتراض کا جواب میں یہ دوں گا کہ مجلس شوریٰ جس کا اشارہ قرآن شریف میں ہے ہرگز پارلیمنٹ کے درجہ میں ذِی اختیار نہیں… بلکہ ان کا صرف یہ کام ہوتا ہے کہ مُہماتِ مُلکی میں اپنا مشورہ اُولِی الْاَمْر کے سامنے پیش کریں اگر اُولِی الْاَمْر نے مان لیا بہتر ورنہ حکم اُولِی الْاَمْر اس پر غالب رہتا ہے۔
    پھر آگے چل کر لکھتے ہیں کہ پارلیمنٹ تو خود ہی صاحبِ حکم بن جاتی ہے۔ مسلمانوں میں کبھی بھی اِس قسم کی پارلیمنٹ جاری نہیں ہوئی۔ البتہ خلیفہ بمشورہ قوم منتخب ہوا کرتا تھا مگر بعد انتخاب کے جب تک وہ مسندِ حکومت پر رہتا تھا اُس کا حُکم سب پر واجبُ التعمیل ہوا کرتا تھا۔ خدا نے مسلمانوں کو مشورہ کا حکم دیا ہے نہ پارلیمنٹ کا۔ یہ مسلمانوں پر غلط الزام ہے کہ اُنہوں نے پارلیمنٹ کا عنصر ڈالا ہے۔
    پھر آگے چل کر لکھتے ہیں کہ اب دوسری دلیل سنو جو یہ ہے کہ خدا نے اپنے حکم کی فرمانبرداری کا ارشاد کیا اور رسول کے حکم کی اور پھرتیسرے درجہ میں اُولِی الْاَمْر کے۔ اس حکم کی آیت سے اُولِی الْاَمْر کا وجود ضرور ہے کہ مسلمانوں میں موجود ہو اور وہ شخص خاص ہونا چاہیے۔ بعض اشخاص جو اس آیت سے علمائے وقت مراد لیتے ہیں وہ میرے خیال میں صحیح نہیں ہے ۔ کیا معنی کہ ایک ہی زمانہ میں بہت سے عالم صاحبِ اجتہاد ہوتے ہیں اور ہر ایک کا اجتہاد جداگانہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ شخصمطیع ایک ہی وقت میں جداگانہ اجتہادوں کی تعمیل کر سکے۔ تعمیل تو اُس حکم کی ہو سکتی ہے جس میں اختلاف نہ ہو کیونکہ رعایا پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تک حکمِ خدا و رسول کی مخالفت نہ ہو اُولِی الْاَمْر کا حکم دل و جان سے قبول کر کے تعمیل کریں۔
    پھر آگے چل کر کیا سچا فقرہ لکھتے ہیں کہ’’ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں کیونکہ یہ خود ہی مُجرم ہیں‘‘۔
    ہم سردار والا گوہر صاحب کی تحریر کے ساتھ بالکل متفق ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام نے خلافت کا حکم دیا ہے اور جس کے ماتحت رہنے کی کُل مسلمانوں کو تاکید کی ہے وہ ایسی خلافت نہیں ہے جیسے کہ آجکل کے بادشاہوں کی حکومت ہے کہ گو بظاہر وہ بادشاہ کہلاتے ہیں لیکن دراصل کسی معاملہ میں آزادی سے رائے نہیں دے سکتے اور رعایا کی نسبت بھی ان کے حقوق کم ہوتے ہیں کیونکہ رعایا کسی حکم کے خلاف اپنی آواز اُٹھاسکتی ہے لیکن موجودہ بادشاہوں کو اتنا اختیار بھی نہیں دیا گیا۔ اسلامی خلافت ایک شاندار چیز ہے جسے چھوڑ کر مسلمان کبھی سُکھ نہیں پا سکتے۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ خلیفہ کا مقابلہ کر کے مسلمانوں پر ایسی نحوست طاری ہوگئی ہے کہ ان کی دعائیں تک اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرتا۔ لیکن ہم اس بات کے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ وہ خلافتِ عثمانیہ کی مخالفت کا نتیجہ ہے بلکہ خدا کے مقرر کردہ خلیفۂ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی جانشین کی مخالفت کے سبب مسلمانوں پر یہ عذاب نازل ہوا ہے اور اُس وقت تک وہ ان مصائب سے نہیں چُھوٹیں گے جب تک اس کی اطاعت کی طرف متوجہ نہ ہوں۔ خدا کا منشاء ہے کہ وہ اس خلیفہ کی معرفت دنیا پر اسلام کو غالب کرے لیکن لوہے کے ہتھیاروں اور توپ کے گولوں کے ساتھ نہیں بلکہ نصرتِ الٰہی اور دعاؤں کے ساتھ۔ جس خدا نے پہلے دشمن کی تلوار کا جواب تلوار سے دینے کا حکم دیا ہے اب اس خدا نے اسلام کے دشمنوں کا جواب دلائلِ صحیحہ اور برہانِ قاطعہ سے دینے کا حکم دیا ہے ۔ چونکہ اسلامی خلافت پر آجکل بہت زور سے بحث ہوتی ہے اور بعض لوگ قرآن و حدیث سے لوگوں کو مغالطہ میں ڈال رہے ہیں اس لئے میں اِنْشَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی اگلے پرچہ میں اِس مضمون پر کچھ لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ وَاللّٰہُ الْمُسْتَعَانُ۔ لیکن سردار صاحب کو اتنا ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ آسمانی خلافت کی موجودگی میں وہ کیوں ایک وہمی خلافت کی تیاری کا مشورہ دیتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ اس بات کو قبول کریں جسے خدا نے پسند کیا ہے‘‘۔
    (الفضل ۹ جولائی ۱۹۱۳ء)
    ’’پچھلے پرچہ سردار والا گوہر صاحب کے مضمون کا خلاصہ دینے اور اس پر مناسب ریمارک کرنے کے بعد ہم نے وعدہ کیا تھا کہ اگلے ہفتہ اِنْشَائَ اللّٰہُ خلافت اسلامیہ کے متعلق اپنی تحقیقات لکھیں گے۔ سو اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہ آج اللہ تعالیٰ نے اس وعدہ کے پورا کرنے کا موقع دیا۔
    دنیا میں ایک حاکم اور اُس کے ماتحت حُکّام کے سِوا گذارہ نہیں
    انسان تو آزادی پسند ہے اگر سوائے بادشاہ کے گذارہ ہو سکتا تو یہ ضرور اس طرح رہنا چاہتالیکن حاکم کا سایہ سر سے
    اُٹھا اور فساد ہونے شروع ہوئے۔ کوئی کسی کو قتل کرتا ہے، کوئی کسی کا مال لُوٹ لیتا ہے، کوئی کسی کی جائداد پر قابض ہو جاتا ہے، کوئی کسی کو اپنا خادم اور غلام بنا لیتا ہے، کوئی کسی کی عزت آبرو کو غارت کرنے کی کوشش کرتا ہے غرضیکہ ہر ممکن سے ممکن طریقہ سے ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی دولت، جائداد ، عزت اور اختیار کو زیادہ کرنا چاہتا ہے اس لئے ایک حاکم کی ضرورت پیش آتی ہے جو صاحبِ اختیار ہو اور مظلوم کی حمایت کرے اور ظالم کی خبر لے اور حقدار کو اُس کا حق دلائے ۔ لوگوں نے اپنی اپنی سمجھ اور فہم کے مطابق مختلف قسم کے حکام تجویز کئے ہیں کہیں تو ایسا کیا گیا ہے کہ ایک شخص کو کچھ مدت کے لئے اختیار دیئے جاتے ہیں وہ اس عرصہ میں انتظام کو قائم رکھتا ہے۔ اس عرصہ کے ختم ہونے پر اس کی بجائے کوئی اور شخص مقرر ہو جاتا ہے۔ کہیں ایک حاکم کی بجائے ایک جماعت مقرر کی جاتی ہے جو آپس کے مشورہ سے امور متعلقہ انتظام کا فیصلہ کرتی ہے۔ کہیں ایک آدمی بادشاہ مقرر ہوتا ہے اور نَسْلاً بَعْدَ نَسْلٍ وہ خاندان حکومت کرتا چلا جاتا ہے اور ان کے معاملات میں کوئی شخص مشورہ دینے کا استحقاق نہیں رکھتا ۔ کہیں بادشاہ اور مجلس مشیراں ایسے رنگ کی ہوتی ہے کہ بادشاہ صرف برائے نام ہوتا ہے اور اصل کام سب پارلیمنٹ کرتی ہے۔ اسلام نے ان تدابیر کے خلاف ایک حاکمِ اعلیٰ تجویز کیا ہے جو تین طرح مقرر ہوتا ہے ۔ یا اسے خود اللہ تعالیٰ مقرر فرماتا ہے جیسے آدم، نوح و ابراہیم اور موسٰی و داؤد و ہمارے رسول اللہ خاتم النّبیین رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ صَلٰوۃُ اللّٰہِ وَسَلاَمُہٗ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنَکو۔ اور یا پہلا حاکم اُسے مقرر کرتا ہے یا مدبّرین حکومت اُسے منتخب کرتے ہیں۔ ان سب حکام کو حکم ہے مناسب لوگوں سے امورِ مملکت میں مشورہ طلب کیا کریں۔ یہ بلکہ خود حضرت نبی کریم ﷺکو بھی قرآن کریم میں ارشاد ہے ۱؎
    یہ حاکم اپنی وفات تک اپنے عہدہ پر قائم رہتا ہے اور انسانوں کا اختیار نہیں کہ اُسے الگ کر سکیں کیونکہ اس کا انتخاب خدا کا یا اللہ تعالیٰ کے منتخب کردہ کا انتخاب قرار دیا گیا ہے اور قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خلیفہ ہم بناتے ہیں۔
    اسلامی خلیفہ کا طرز حکومت
    اِس زمانہ میں جب کہ پارلیمنٹوں کا زور ہے اور لبرٹی لبرٹی کے آوازہ کَسے۲؎جا رہے ہیں، آزادی کی چیخ و پکار
    زوروں پر ہے ، حریت کی صدائیں اُفق عالَم میںگونج رہی ہیں۔ مسلمانوں میں بھی اِس مسئلہ پر بحث شروع ہوگئی ہے کہ خلافتِ اسلامیہ کیا چیز ہے۔ اور اکثر فدائیانِ یورپ اور شیدائیانِ تہذیبِ جدید اسلام میں بھی پارلیمنٹ کا وجود دکھانے میں کوشاں ہیں اور آیات و احادیث اور خلفائے راشدین کے عمل سے اپنے اقوال کے ثبوت بہم پہنچاتے ہیں۔ گو میرے خیال میں اس کی کچھ ضرورت نہیں تھی اتنا کہہ دینا کافی تھا کہ نازنینِ یورپ کا میلانِ طبع اس قسم کی حکومت کی طرف ہے اس لئے محبانِ صادق کا یہی فرض ہے کہ اس کی ہاں میں ہاں ملائیں اور اس رنگ میں رنگین ہوں جس سے ان کا مطلوب مزین ہے۔ جو لوگ اس طرزِ حکومت کی تائید اپنی عقل اور فہم سے کرتے تھے ان پر اتنا افسوس نہیں جتنا ان لوگوں پر جو پارلیمنٹ میں حکومت کو اپنی اصلی صورت میں یا بہ تغیرخفیف اسلام کے سر تھوپنا چاہتے ہیں۔

    ۳؎
    چونکہ یہ فتنہ بڑھتا جاتا ہے او رعام طور پر لوگوں کو دھوکا دیا جاتا ہے اس لئے میں نے ارادہ کیا ہے کہ مختصر طور پر اسلامی خلافت پر اپنی تحقیق یہاں بیان کروں۔
    قرآن شریف سے بیانِ خلافت
    قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خوشخبری دی ہے کہ وہ بنی اسرائیل کی
    طرح اُن میں سے بھی خلفاء بنائے گا چنانچہ فرماتا ہے۔

    ۴؎ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے تم میں سے مؤمنوں کو اور نیک عمل کرنے والوں کو کہ انہیں زمین میں خلیفہ بنا دے گا۔ اسی طرح جس طرح ان سے پہلی قوموں کو خلیفہ بنا دیا اور ان کا وہ دین جسے خدا نے ان کے لئے پسند کیا ہے قائم کردے گا اور ان کے خوفوں کو امن سے بدل دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے کسی کو شریک نہ بنائیں گے اورجو اُس کے بعد کُفر کرے گا تو ایسے لوگ بدعمل ہو جائیں گے۔
    اس آیت سے کئی باتیںمعلوم ہوتی ہیں ایک تو یہ کہ اسلام میں خلفاء ہوں گے۔ دینی و دُنیوی دونوں قسم کے ان کے مشرب و طریق کو خداتعالیٰ دنیا میں پھیلائے گا۔ ان کی حفاظت کرے گا ۔ ان کے منکر گنہگار ہوں گے اور ان کے انکار کی وجہ سے ان کے دل ایسے سیاہ ہو جائیں گے کہ وہ بدکار ہو جائیں گے۔
    حدیث میں خلافت کاذ کر
    جس طرح قرآن شریف میں خلافت کا ذکر ہے اسی طرح احادیث سے بھی مسئلہ خلافت ثابت ہے۔
    حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے حضرت ابوبکر اور عبدالرحمن کو بُلا کر لکھوا دوں۵؎ (یعنی خلافت) اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپؐ نے حضرت عثمان سے فرمایا کہ خداتعالیٰ تجھے ایک کُرتہ پہنائے گا (قمیص خلافت) اور لوگ تجھ سے وہ چھیننا چاہیں گے تو اُتاریو نہیں۔ ۶؎
    پھر آپ کی ایک رؤیا بھی ہے کہ ابوبکرؓ نے ایک دو ڈول کھینچے اور عمرؓ نے جب کھینچا تو چولہ بن گیا۷؎ اور ایک رؤیا ہے جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ پہلے خلافت حضرت ابوبکر کے ہاتھوں میں جائے گی، پھر حضرت عمر کے اور حضرت عمر اس کا انتظام خوب عمدگی کے ساتھ کریں گے۔ ۸؎ ان سب حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود خلافت کا فیصلہ کر دیا تھا اور حضرت ابوبکرؓ، عمرؓ، علی رضی اللہ عنہم کی خلافت پیشگوئیوں کے ماتحت اور اللہ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت تھی۔
    خلافتِ اسلامیہ کا دستورُ العمل
    جب کہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے ماتحت
    خلافت اسلامیہ قائم ہوئی ہے اور خود صحابہؓ کا دستورُ العمل ۹؎کے حکم سے قرآن شریف نے ہمارے لئے واجب الاطاعت قرار دیا ہے تو پھر کسی مسلمان کو کوئی حق نہیں کہ اس دستورُالعمل کے خلاف کوئی اور راہ نکالے اور اگر کوئی دوسری راہ نکالے گا تو کبھی کامیاب نہ ہوگا بلکہ خائب و خاسر ہی رہے گا ۔ برکت اس طریقِ خلافت میں ہے جس پر خلفائے راشدین کے زمانہ میں عمل ہوتا رہا یعنی ایک خلیفہ ہو۔
    اگر پارلیمنٹ اسلام میں ہوتی تو اللہ تعالیٰ ایک پارلیمنٹ کی خبر دیتا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بجائے حضرت ابوبکر کی خلافت کے ایک پارلیمنٹ قائم کرتے اور بجائے حضرت عثمان کو خلافت پر قائم رہنے کی نصیحت کرنے کے خلافت سے دست بردار ہونے کی صلاح دیتے۔
    عزم خلفاء
    خلافت کیا چیز ہے ؟ دنیا کی روحانی اور جسمانی اصلاح کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی نیابت کرنی۔ اور جس طرح رسول کریم
    صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کیجسمانی اور روحانی اصلاح کی طرف متوجہ رہتے تھے خلیفہ کا فرض ہے کہ مخلوقِ خدا کا نگران رہے۔ ہاں بعض دفعہ خلافتِ روحانی عَلٰی حَدِّہٖ بھی قائم ہو جاتی ہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلمکو اللہ تعالیٰ نے کیا ارشاد فرمایا ہے وہی ارشاد دوسرے خلفاء کیلئے بہ حیثیت خلیفہ ہونے کے واجب العمل ہوگا۔ وہ حکم یہ ہے کہ
    ۱۰؎ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تُو ان لوگوں کے لئے نرم ہو گیا ہے ورنہ اگر تُو لوگوں کو پراگندہ کر دینے والا سخت دل ہوتا تو لوگ تیرے پاس سے متفرق ہو جاتے پس تُو ان کی غلطیوں کو معاف کیا کر اور خدا سے دعا مانگا کر کہ وہ ان کے گناہوں کو معاف کرے اور حکومت کے بارہ میں ان سے مشورہ کر لیا کر۔ پھر جب مشورہ کے بعد تُو ایک بات کا پختہ ارادہ کر لے تو خدا پر توکل کر کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے پر توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
    اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ کے لئے سرگروہانِ قوم سے بلکہ بعض دفعہ ساری قوم سے مشورہ کرنے کا حکم ہے اور اس کا فرض ہے کہ کُل اہم مسائل میں لوگوں سے مشورہ کر لیا کرے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ان مشوروں پر کاربند بھی ضرور ہو بلکہ مشورہ کے بعد جو فیصلہ اُس کا دل کرے اُس پر کاربند ہو اور خدا پر توکل کر کے اسے جاری کر دے ۔ احادیث و آثار سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ حکم اصل میں خلفاء کیلئے ہیں۔ چنانچہ حسن بصری کا قول ہے کہ یہ حکم اس لئے نازل ہوا کہ لوگوں کے لئے سنت ہو جائے اور آئندہ خلفاء اس پر عمل کریں۔ امام سیوطی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اَمَّا انَّ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ لَیَغْنِیَانِ عَنْھَا وَلٰٰـکِنَّ اللّٰہَ جَعَلَھَا رَحْمَۃً لِاُمَّتِیْ فَمَنِ اسْتَشَارَ مِنْ اُمَّتِیْ لَمْ یَعْدَمْ رُشْدًا وَمَنْ تَرَکَھَا لَمْ یَعْدَمْ غَیًّا ۱۱؎ اچھی طرح سن لو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اس مشورہ سے غنی ہیں لیکن خدا نے میری اُمت پر رحم کر کے یہ حکم دیا ہے۔ پس جس نے میری اُمت میں سے مشورہ کیا ہدایت سے بے بہرہ نہ ہوگا اور جس نے مشورہ نہ کیا ہلاکت میں پڑ جائے گا۔
    اس آیت اور احادیث و آثار سے یہ بات صاف ثابت ہے کہ اسلامی خلافت اسی کا نام ہے کہ ایک خلیفہ ہو جو عمر بھر کے لئے مقرر کیا جائے اور اسی کے ساتھ ایک مشیروں کی جماعت ہو جس سے وہ مشورہ کرے۔ لیکن وہ اُن کے مشوروں پر کاربند ہونے کے لئے مجبور نہ ہوگا بلکہ جب وہ مشورہ کے بعد ایک رائے پر پختہ ہو جائے تو خواہ کثرتِ رائے اس کے موافق ہو یا مخالف توکّل علی اللہ کر کے اس کام کو شروع کر دے۔
    خلفاء کا دستورُ العمل
    قرآن و حدیث سے اس مسئلہ کے متعلق اپنی تحقیق بیان کرنے کے بعد اب میں خلفاء کادستورُ العمل بیان کرتا ہوں
    مجھیافسوس ہے کہ بعض لوگوں نے واقعات کواس طرح موڑ توڑ کر بیان کیا ہے کہ جس سے عوام کو دھوکا ہو جاوے۔ حتی کہ ایک بہت بڑے مؤرخ نے زمانہ حال میں ایک خلیفہ کی سوانح عمری میں بالالتزام اس بات کا خیال رکھا ہے کہ کس طرح نوجوان پارٹی کو خوش کرے اور اسلام میں پارلیمنٹ ثابت کرے۔ ۱۲؎۔ اس مؤرخ نے بھی اور چند دیگر مدعیانِ حریت نے بھی چند واقعات یاد کئے ہوئے ہیں کہ جنہیں وہ ہر موقع پر پیش کر دیتے ہیں کہ ان سے ثابت ہوتا ہے اسلام میں خلیفہ کی حیثیت صرف ایک پریذیڈنٹ کی تھی اور جس طرح فرانس و امریکہ کے پریذیڈنٹ ہیں اسی طرح وہ بھی ہوا کرتے تھے اور مشورۂ عوام پر چلنے پر مجبور تھے۔ ہم اس بات سے قطعاً انکار نہیں کرتے کہ مشورہ لینے کا خلفاء کو ضرور حکم ہے اور وہ ایسا کرتے بھی تھے لیکن اس مشورہ کا پابند بنانے کے لئے انہیں کوئی حکم نہیں ملا اور قرآن و حدیث سے کہیں ثابت نہیں بلکہ خلفاء کا عمل اس کے خلاف ثابت ہے اور کئی ایسے امور ہوئے ہیں کہ جن کے متعلق خلفاء نے مشورہ تو لیا لیکن اس پر کاربند نہ ہوئے۔ اور یہ کچھ ضروری نہیں کہ ایسے سب معاملات تاریخ نے محفوظ ہی رکھے ہوں بلکہ چند ایک اہم واقعات محفوظ رکھے باقی حوادثِ زمانہ میں مٹ گئے۔
    جیش اُسامہ کا واقعہ
    ایک عظیم الشان واقعہ جس میں حضرت ابوبکرؓ نے کثرت رائے کی مخالفت کی ہے جیشِ اسامہ کا واقعہ ہے۔ قریباً سب انصار
    اور بہت سے مہاجرین (جیسا کہ احادیث و تواریخ سے ثابت ہے) اسامہ کے سردارِ لشکر مقرر ہونے پر معترض تھے لیکن حضرت ابوبکرؓ نے کسی کا ایک اعتراض نہیں سُنا اور انہیں کو مقرر کیا۔ اسی طرح اس لشکر کے بھیجنے کے متعلق بھی صحابہؓ کو اعتراض تھا مگر آپ نے کچھ پرواہ نہ کی اور یہ کہہ کر ڈانٹ دیا کہ جس لشکر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کیا ہے میں اُسے کبھی نہیں روکوں گا۔۱۳؎ چنانچہ اشہر المشاہیر میں لکھا ہے کہ آپ نے لوگوں کے اس مشورہ کے جواب میں فرمایا کہ اگر مجھے اس بات کا بھی یقین ہو جائے کہ دشمن مجھ پر درندوں کی طرح حملہ کریں گے تب بھی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے لشکر جہاں آپ نے بھیجا ہے ضرور بھیجوں گا۱۴؎۔
    مرتدین سے جنگ
    دوسرا عظیم الشان واقعہ مرتدین سے جنگ ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جب عرب کی اقوام باغی ہو گئیں۔
    حضرت ابوبکرؓ نے ان سے جنگ کرنے کا ارادہ کیا ۔ صحابہؓ نے اعتراض کیا جس کے سرگروہ حضرت عمرؓ تھے ۔ لیکن آپ نے جواب دیا کہ خدا کی قسم !جب تک وہ لوگ تمام زکوٰۃ حتی کہ ایک اونٹ کے باندھنے کی رسّی بھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلمکو دیتے تھے ادا نہ کریں گے میں ان سے جنگ کروں گا۱۵؎۔ چنانچہ صحابہؓ کو سرِتسلیم خم کرنا پڑا اور جنگ ہوئی۔
    ایسی مثالیں دے کرجن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ یا حضرت ابوبکرؓ نے شوریٰ کے مشورہ پر عمل کیا یہ ثابت کرنا کہ اس سے خلیفہ پر اطاعتِ شورٰی لازمی ہے غلط ہے بلکہ دیکھنا تو یہ ہے کہ جن موقعوں پر خلیفہ اور مجلس شوریٰ میں اختلاف ہوتاکیا کِیا جاتا تھا۔ آیا اس کی مثالیں بھی ملتی ہیں کہ باوجود اس کے کہ ایک امر خلیفہ کی خواہش کے خلاف تھا اور وہ اس پرمُصِر تھا شوریٰ نے کچھ اور کر دیا۔ اگر یہ ثابت ہو جائے تو تب جا کر ایسے لوگوںکے دعاوی ثابت ہوتے ہیں ورنہ نہیں مگر مذکورہ بالا مثالوں سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ ایسا نہیں تھا ایسے اوقات میں خلیفہ وقت کی ہی رائے پر عمل کیا جاتا تھا۔
    عوام کا مشورہ اور رائے
    عوام سے مشورہ طلب کرنا بھی بہت ضروری ہے اور خداتعالیٰ کا حکم ہے بلکہ بعض علماء نے لکھا ہے کہ
    جو خلیفہ مشورہ نہیں لیتا وہ خلیفہ ہی نہیں لیکن یہاں بھی سوال وہی ہے کہ ۔
    بعض حریت کی مثالیں
    بعض لوگ خلفائے اسلامیہ کے زمانہ کی حریت ثابت کرنے کے لئے اِس واقعہ کو بار بار دُہرایا کرتے ہیں کہ
    ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ میری بات سنو۔ اس پر ایک شخص نے اُٹھ کر صاف کہہ دیا کہ ہم تب تک نہیں سنیں گے جب تک یہ نہ بتاؤ کہ یہ کُر تہ تم نے کیونکر بنایا ہے جو حصہ تمہیں ملا تھا اس سے تو یہ کُرتہ تیار نہیں ہو سکتا تھا۔ آپ نے اس کی تسلی کی کہ میرے بیٹے نے اپنے حصہ کا کپڑا مجھے دے دیا تھا اس سے مل کر یہ کُرتہ تیار ہوا۔ جس پر معترض نے اپنا اعتراض واپس لیا اور حضرت عمرؓ نے اپنا خطبہ سنایا۱۶؎ ۔
    اس سے یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ ہرایک مسلمان کو خلیفہ سے محاسبہ کرنے کا حق تھا اور جب تک وہ جواب باثواب نہ دے اس کی اطاعت فرض نہ سمجھی جاتی تھی لیکن میرے خیال میں یہ لوگ بہت دور چلے گئے ہیں انہیں ایسی مثالیں ڈھونڈنے کے لئے دور جانے کی ضرورت نہ تھی۔ اگر اس قسم کے واقعات سے حریت ثابت ہوتی ہے تویہ حُریت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ایک خاص گروہ میں پائی جاتی تھی۔ چنانچہ حدیثوں سے ثابت ہے کہ بنونضیر کو جب قتل کا حکم ہوا تو عبداللہ بن ابی بن سلول نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے میں پٹکا ڈال دیا اور کہا جب تک اِنہیں چھوڑو گے نہیں میں آپ کو نہ چھوڑوں گا۔ جس پر آپ نے آخر ان کو چھوڑ دیا۔ ۱۷؎
    اسی طرح ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مالِ غنیمت تقسیم کیا۔ ایک شخص نے آپ پر اعتراض کیا اور کہا کہ آپ نے انصاف نہیں کیا جس کا جواب آپ نے یہ دیا کہ میں نے انصاف نہیں کیا تو اور کون کرے گا۱۸؎۔
    اب اگر اِسی کا نام حُریت ہے تو ان منافقین کو بھی حُر اور خدامِ قومی کا خطاب دینا پڑے گا۔ اصل بات یہ ہے کہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں فتوحات کی کثرت کی وجہ سے حدیث العہد مسلمان کثرت سے ہوگئے تھے اور وہ خلفاء کا ادب نہیں جانتے تھے اس لئے وہ اس قسم کے اعتراض کر دیتے تھے یہی لوگ جب اور بڑھے تو حضرت عثمان ؓکے زمانہ میں سخت فتنہ کا موجب ہوئے اور آپؓ شہید ہوئے۔ حضرت علیؓ کے زمانہ میں ان کی شرارت اور بھی بڑھ گئی۔ اگر ان کی تقلید پر مسلمان اُتر آئے تو ان کا خدا ہی حافظ ہے۔ اگر یہ اعتراضات کوئی اعلیٰ حریت کا نمونہ تھے تو کیا وجہ کہ صحابہ کبار کی طرف سے نہ ہوئے۔ اگر یہ خوبی تھی تو سب سے زیادہ اس کے عامل عشرہ مبشرہ ہوتے مگر ان کی خاموشی ثابت کرتی ہے کہ وہ اس فعل کو جائز نہ سمجھتے تھے۔
    حضرت عمرؓ کا اپنا قول
    کچھ لوگ حضرت عمرؓ کا ایک قول نقل کرتے ہیں کہ تم میری خواہشوں کی پیروی نہ کرو ۔۱۹؎ مگر اس سے بھی پارلیمنٹ
    کا نتیجہ نکالنا غلط ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اطاعت کے عہد میں یہ شرط کرتے تھے کہ امرباِلمعروف میں میری پیروی کرنا۔ ۲۰؎ تو کیا اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض حکم خراب بھی دیتے تھے اور ان کی پیروی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ پس اس سے پارلیمنٹ کا ثبوت نکالنا غلطی ہے اب میں کافی طور سے ثابت کر چکا ہوں کہ اسلامی خلافت کا طریق یہ تھا کہ ایک خلیفہ عمر بھر کے لئے منتخب ہوتا تھا اور وہ ایک مجلس شوریٰ سے مشورہ لے کر کام کرتا تھا مگر اس کے مشورہ کا پابند نہ ہوتا تھا اور جو لوگ ایک پارلیمنٹ کا وجود ثابت کرتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔ (الفضل ۱۴؍ جولائی ۱۹۱۳ء)
    ۱؎ اٰل عمران: ۱۶۰
    ۲؎ آوازہ کسنا: طعنہ زنی کرنا۔ چھیڑنا
    ۳؎ البقرۃ: ۸۰ ۴؎ النور: ۵۶
    ۵؎ مسلم کتاب فضائل الصحابۃ رضی اللّٰہ عنھم باب من فضائل ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہ
    ۶؎ ابن ماجہ کتاب السنۃ باب فی فضائل اصحاب رسول اللّٰہ ﷺ
    ۷؎ بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم باب قول النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم لوکنت متخذا خلیلا
    ۸؎
    ۹؎ الانعام: ۹۱ ۱۰؎ اٰل عمران: ۱۶۰
    ۱۱؎ تفسیر درمنثور جلد۲ صفحہ۵۹مطبوعہ بیروت ۱۹۹۰ء
    ۱۲؎ البقرۃ: ۱۵۷
    ۱۳تا ۱۵؎ تاریخ الخلفاء للسیوطی صفحہ۵۱ مطبوعہ لاہور ۱۸۹۲ء
    ۱۶؎
    ۱۷؎
    ۱۸؎ بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوۃ فی الاسلام
    ۱۹؎
    ۲۰؎ بخاری کتاب مناقب الانصار باب وفود الانصار (الخ)

    ۱؎
    تصدیق المسیح
    اخبار الفضل میں’’ تصدیق المسیح‘‘ کے عنوان کے تحت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمد کے دو مضامین دو علیحدہ شماروں میں شائع ہوئے جن میں سے ایک کا عنوان ’’خلیفہ بنانا خدا کا کام ہے‘‘ اور دوسرے کا ’’ضرورتِ امام‘‘ تھا۔ ان مضامین کے متن ذیل کے صفحات میں درج کئے جارہے ہیں:۔
    ’’خلیفہ بنانا خدا کا کام ہے
    شریعتِ غراء اسلامیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ مقرر کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں لیا ہے۔ خلیفہ کہتے ہیں جو کہ اپنا حکم نافذ کرے۔ دوسرے کے جا بجا آنے والا ۔ اور خلیفہ کے یہ بھی معنی ہوتے ہیں کہ اس کا کوئی قائمقام ہو۔ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کے وقت اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو فرمایا۔ ۲؎ میں ضرور زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ ۳؎۔ اُنہوںعرض کیا، کیا تُو بناتا ہے جو زمین میں فساد کرے اور خون گرائے۔ ہم تیری حمد کے ساتھ تیری تسبیح اور تقدیس کرتے ہیں۔
    خدا کی عجیب شان ہے کہ جو جو خدانے خلیفہ بنایا ہے اس کی ضرور سخت مخالفت ہوتی ہے۔ مخالفت ابتدا میں نیک لوگ بھی کرتے ہیں اور اشرار بھی ۔ لیکن نیک لوگوں کو خدا بچا لیتا ہے اور وہ خلیفۂ برحق کے آگے سربسجود ہو جاتے ہیں اور ابلیس صفت لوگ اس کے آگے سرِتسلیم خم نہیں کرتے اور اپنے تئیں بڑا سمجھ بیٹھتے ہیں۔
    سب سے پہلا گناہ جو دنیا میں سرزد ہوا ہے وہ اِبَا۴؎ اور تکبر ہے اور وہ گناہ خلیفۂ برحق کے مقابل میں کیا گیا ہے۔ ارشادِ الٰہی کے مقابلہ میں قیاس ہرگز کام نہیں آ سکتا۔ بڑا وہی ہو سکتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ بڑا کردے۔ ۵؎ کہنے والا ہمیشہ کے لئے اللہ تعالیٰ کی درگاہ سے دور پھینکا گیا بلکہ یوں فرمایا گیا کہ جو ابلیس کی پیروی کرے گا وہ بھی دوزخ میں ڈالا جاوے گا۔ ایک جگہ اللہ تعالیٰ بنی آدم کو غیرت دلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ تم اپنے مورثِ اعلیٰ کے قدموں کی پیروی کرو اور اس پلید خبیث ہلاک شُدہ روح کی پیروی مت کرو جس نے تمہارے مورثِ اعلیٰ کی اطاعت سے انحراف کیا تھا۔۶؎۔ اے آدم کی اولاد! کیا تم ابلیس کو اور اُس کی ذُرّیّت کو مجھے چھوڑ کر اپنا دوست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں۔ ظالموں کے لئے بہت بُرا بدلہ ہے۔
    خلیفہ کا مقابلہ اور اس کا انکار حقیقت میں خلیفہ بنانے والے کا مقابلہ اور انکار ہوتا ہے۔ دیکھو حضرت آدم علیہ السلام کی اطاعت نہ کرنے پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۷؎۔ فرمایااے ابلیس! کس چیز نے تجھ کو روکا کہ اس کی فرمانبرداری کرے جس کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ کیا تُو اپنے تئیں بڑا خیال کرتا ہے؟ ۸؎۔ اس حالت تکبر سے اُتر جا۔ تیری یہ شان نہیں ہے کہ تو تکبر کرے۔ چلا جا تُو ذلیلوں میں سے ہے۔
    دوسرے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں خلیفہ کا لفظ حضرت داؤد علیہ السلام پر بولا ہے۔

    ۹؎۔ اے داؤد! ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا تُو لوگوں کے درمیان حق کا فیصلہ دے اور لوگوں کی گری ہوئی خواہشات کی پیروی نہ کر۔ وہ تجھ کو اللہ کی راہ سے ہٹا دیں گی ۔ جو اللہ کی راہ سے ہٹا دیتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے کیونکہ انہوں نے حساب کے دِن کو بھلا دیا۔
    جانتے ہو کہ داؤد کی مخالفت کرنے والوں نے کیا ثمرہ پایا؟ قرآن کریم میں یہ سب کچھ لکھا ہوا ہے کیوں قرآن شریف تدبر سے نہیں پڑھتے۔۱۰؎ یہ لوگ کیوں قرآن شریف کو تدبر سے نہیں پڑھتے؟ کیا ان کے دلوںپر قفل لگ گئے ہیں؟ چھٹے پارہ کے آخری رکوع میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ۱۱؎ ملعون قرار پائے بنی اسرائیل میں سے وہ لوگ جنہوں نے کُفر کیا۔ حضرت داؤد ؑ اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بنی اسرائیل کے اُن لوگوں پر *** کی جنہوں نے اس سے رُوگردانی کی اورکُفر کیا۔ یہ اس لئے ہوا کہ وہ نافرمانی کیا کرتے تھے اور حد سے تجاوز کر جاتے تھے۔ حضرت داؤد علیہ السلام کو خداتعالیٰ نے خلیفہ بنایا تھا اس کا مقابلہ کرنا کوئی چھوٹی سی بات نہ تھی۔ اس مقابلہ کی وجہ سے *** کا زنجیر ان کے گلے کا ہار بنا۔
    اسی طرح اللہ جل شانہٗ نے ہم مسلمانوں کو وعدہ دیا ہوا ہے۔



    ۱۲؎ اللہ مومنوں سے وعدہ کرتا ہے کہ تم میں سے ایمانداروں کو جو اصلاح کرنے کے قابل ہونگے زمین میں خلیفہ بناتا رہے گا۔
    یہاں بھی خلیفہ بنانے کے کام کو اللہ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے جیسا کہ اس نے حضرت آدم اور حضرت داؤدعلیھما السلام کی خلافت اپنی طرف منسوب کی ہے۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء کے تقرر کو اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ پس کیسے ظالم ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ لوگ خلیفہ بناتے ہیں۔ ان کو شرم کرنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ کے کلام کی تکذیب نہیں کرنی چاہیے۔ انسان بیچارہ ضعیف البنیان کیا طاقت اور سکت رکھتا ہے کہ وہ دوسرے کو بڑا بنا سکے۔ ۱۳؎ کسی کو بڑا بنانا خدا کے ہاتھ میں ہے کسی کے اختیار میں نہیں ہے۔ انسان کا علم کمزور، اُس کی طاقت اور قدرت محدود اور ضعیف۔ طاقتور مقتدر ہستی کا کام ہے کہ کسی کوطاقتِ اقتدار عطا کرے اور عجیب بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تقررِ خلافت کسی انسان کے سپرد نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد کسی کو نامزد نہیں کیا کیونکہ آنحضور خوب سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ خود اس وقت یہ انتظام کر دے گا۔ ایسا ہی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے کُھلے الفاظ میں اپنے بعد کسی کو خلافت کے لئے نامزد نہیں کیا بلکہ یہ معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا جو آڑے وقتوں پر اپنے بندوں اور سلسلوں کی حفاظت فرمایا کرتا ہے۔ اور آپ نے کھلے الفاظ میں دو قدرتوں کا ذکر فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کی قدیم سنت ہے جو ہمیشہ اسے ظاہر فرماتا رہا ہے۔ قدرتِ اوّل تو رسولوں اور نبیوں کے وجود میں ظہور پذیر ہوتی ہے اور خداتعالیٰ ان کو اپنی قدرتِ کاملہ سے دنیا میں استحکام بخشتا ہے اگرچہ دنیا کی زبردست طاقتیں ان کے اِستیصال کے درپے ہوتی ہیں اور ان کی تخریب میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جاتا ۔ اور یہ تو مسلّم امر ہے کہ رُسل کے اتباع ابتداء میں غرباء ہی ہوا کرتے ہیں۔ اشراف القوم ہمیشہ مخالفت کرتے رہتے ہیں اور یہ محض اس لئے ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت نمائی سے غرباء کو بڑے انسان بنا دے اور رسولوں کے مخالف اکابر کو ذلیل اور خوار کر دے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قدرتِ ثانیہ کے متعلق یہ فرمایا ہے کہ جب رسول اپنی اُمت کے سر پر سے اُٹھ جاتا ہے اور اُس کی موت بے وقت سمجھی جاتی ہے اور اُمت پر سخت ابتلاء کی آندھیاں چلنے لگ پڑتی ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ اپنی دوسری قدرت ظاہر فرماتا ہے اور گرِتی ہوئی جماعت کو پھر سنبھال لیتا ہے اور ایک زبردست انسان ان کے امور کا متولی بنا دیتا ہے۔ اور حضرت اقدس علیہ السلام نے صاف بیان فرما دیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرنے کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم کو سخت ابتلا آیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنی دوسری قدرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے وجود میں ظاہر فرمائی اور اسلام کی کشتی کا ان کو ناخدا بنایا اور ڈوبتی ہوئی کشتی کو بچا لیا۔ اسی قدرت ِثانیہ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے آیت استخلاف میں کُھلے اور بیّن الفاظ میں کیا ہے۔ بانی سلسلہ کی موت کے باعث اس کی موت پر چونکہ دین میں سخت ضُعف اور اختلال واقعہ ہو جاتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ اس خلیفہ کے ذریعہ اس دین کو تمکین عطا کر دیتا ہے اور جو اَخواف اور اَخطار اُس وقت پیدا ہو جاتے ہیں اُس خلیفہ کے ذریعہ سے اُن کو امن سے بدل دیتا ہے۔ وہ خلیفہ شرک کا سخت دشمن ہوتا ہے۔ عبادتِ الٰہی کرتا ہے اور تمام لوگوں کو شرک سے منع کرتا رہتا ہے اور عبادتِ الٰہیہ کی طرف بُلاتا رہتا ہے۔ ہم اللہ کے محض فضل و کرم سے بتا سکتے ہیں کہ ہر خلیفہ جو اس محک ۱۴؎ میںپورا اُترا ہے وہ ضرور اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا۔ اور حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں تمام عرب نے ارتداداختیار کر لیا تھا اور سوائے جواثی۱۵؎ مدینہ اور مکہ کے اور مقامات کے لوگوں نے نماز تک چھوڑ دی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفہ اوّل کے ذریعہ دین کو دوبارہ تمکین اور طاقت بخشی اور تمام خوف امن سے بدل گئے اور اللہ تعالیٰ نے دوبارہ شرک کو فروغ نہ پانے دیا۔ اور عبادتِ الٰہیہ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوتی تھی پھر ویسے ہی ہونے لگی۔
    چوتھی بات خلفاء کے منکروں میں فسق بڑھ جاتا ہے اور ان میں راستبازی بالکل نہیں رہتی۔ یہی چاروں باتیں ہمارے خلیفہ اوّل میں مِنْ کُلِ الْوُجُوْہِ موجود ہیں۔ آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے سلسلہ کو تمکین بخشی۔ سلسلہ عالیہ پر جو خوف کی آندھیاں چلی تھیں اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و رحم کے ساتھ ان کو امن میں بدل دیا۔ وہ اللہ کی خالص عبادت کرتا ہے، شرک سے سخت بیزار ہے۔ اس کے منکر فسق و فجور میں مبتلا ہیں۔ کیا ان شرائط کو کسی کے وجود میں جمع کر دینا کسی انسان کا کام ہو سکتا ہے؟یہ سب اللہ تعالیٰ کے کام ہیں۔ اور ہماری آنکھوں میں عجیب۔ بس خلیفہ بنانا اللہ ہی کا کام ہے کسی کو اس میں دخل نہیں۔ (الفضل ۱۰ ؍دسمبر ۱۹۱۳ء)
    ضرورتِ امام
    اسلام نے جو اللہ تعالیٰ پیش کیا ہے اُس کی صفاتِ کاملہ کا فوٹو سورۃ اَلْحَمْدُ میں کمال بسط و ایجاز سے بیان فرمایا گیا ہے اور لطیف بات
    یہ ہے کہ وہ صفاتِ الٰہیہ افعالِ الٰہیہ کے عین مطابق ہیں کہ ایک عقلمند فہیم اس نظارہ کو دیکھ کر بالکل حیران و ششدر رہ جاتا ہے۔ سب سے بڑی صفت اللہ تعالیٰ کی ربوبیتِ عامہ ہے۔ تمام اشیاء خدا تعالیٰ کی ربوبیت سے فیض پارہی ہیں۔ اگر اس کا یہ فیض ایک ہزارویں حصۂ سیکنڈ کے لئے بھی رُک جاوے تو سلسلۂ عالَم درہم برہم ہو جائے۔ غلطی پر ہیں وہ لوگ جو یہ مان رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اب روحانی تربیت کے سلسلہ کو مسدود کر دیا ہے حالانکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ روح اور جسم میں اتنا سخت ارتباط اور توافق ہے کہ ایک بغیر دوسرے کے ایک منٹ کیلئے بھی نہیں چل سکتا۔ ربُّ العٰلمین کی صفت صاف بتا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کی تربیت کرتا ہے خواہ وہ جسمانی ہوں یا روحانی۔
    جیسا جسمانی عالم کے لئے اللہ تعالیٰ نے بارش وغیرہ سامان مہیا کردئیے ہیں۱۶؎۔ پانی کے بغیراشیاء کی طراوت اور نضارت میں سخت اختلال واقع ہو جاتا ہے ایسا ہی اگر روحانی بارش کا سلسلہ بند ہو جاوے تو روحانی عالَم میں یکدم پژمردگی چھا جائے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے روحانی بارش کو بھی بند نہیں کیا اور وقتاً فوقتاً اللہ کی طرف سے خدا کے بندے تشریف لاتے رہتے ہیں تا کہ وہ اس خشکی کو دور کریں جو روحانی بارش نہ ہونے کی وجہ سے لاحق ہو چکی ہے یہی وجہ ہے کہ سچے مذہب نے الہام کے ابواب کو قُفل نہیں لگایا اور جن مذاہب نے ابوابِ الہامِ الٰہی پرقُفل لگا دیا ہے وہ معرفت الٰہی سے بالکل خام ہیں۔ باوجودیکہ دنیا میں تری خشکی سے بہت زیادہ ہے یہاں تک کہ تین چوتھائی دنیا میں سمندر ہے اور پھر خشکی میں جو کہ صرف ایک چوتھائی ہے اتنے دریا ہیں کہ حدوشمار سے باہرہیں اور پہاڑوں کے ندی نالے اس کے علاوہ ہیں۔ پھر اس قدر پانی کے ہوتے ہوئے دنیا میں اگر بارش ایک سال کے لئے بھی بند ہو جاوے تو دنیا میں قحط کے آثار نمودار ہو جاتے ہیں۔ پھر اس نظارہ ٔقدرت کو ملاحظہ کرتے ہوئے لوگ یہ سبق نہیں سیکھتے کہ بغیر بارشِ الٰہی کے دنیا کا کام نہیں چلتا تو پھر ہم سوائے اس کے کیا کہیں کہ لوگ تغافل سے کام لیتے ہیں اور ان میں احساس اور شعور نہیں پیدا ہوا۔۱۷؎ اور زمین و آسمان میں کتنے نشان ہیں۔ لوگ ان کے پاس سے گذرتے ہیں مگر ان سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھاتے بلکہ ان سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ دنیا میں پانی کی اس قدر بہتات اور کثرت ہے پھر بھی بغیر بارانِ الٰہی کے قحط پڑ جاتا ہے تو پھر کیسی بدقسمتی کی بات ہے کہ لوگ اس قانونِ الٰہی کو فراموش کر دیتے ہیں اور کہہ دیا کرتے ہیں کہ بس دنیا کیلئے صرف وید ہی کافی ہیں جو ابتدائے پیدائش عالَم میں دنیا کو عطا ہوئے تھے۔ صرف ژند اَوِسْتاو دساتیر ہی کافی ہیں جو کہ ویدوں کے بعد اہل فارس کودئیے گئے۔ یہودی لوگ کہہ دیتے ہیں کہ صرف تورات ہی کافی ہے جو بنی اسرائیل کے لئے خدائی عہد اور قانون تھا اور عیسائی صاحبان بائبل پر ہی اکتفا ء کر بیٹھتے ہیں اور مسلمان بھی ان کی دیکھا دیکھی اس بات کے قائل ہوگئے ہیں کہ جب ہمارے پاس قرآن مجید موجود ہے اور احادیث صحیحہ موجود ہیں تو پھر ہمیں کسی مجدد یا امام کی کیا ضرورت ہے۔ یہ ایسی ہی بات ہے کہ کوئی کہہ دے جب کہ ہمارے پاس پانی کے سمندر اور دریا اور کنویں موجود ہیں تو پھر ہمیں کسی بارش کی کیا ضرورت ہے ۔ کیا ایسا انسان عقلمند کہلا سکتا ہے۔ کَلاَّوَحَاشَا۔
    صاحبان ! جب کہ عالَمِ جسمانی کی تربیت کے لئے سمندر، دریا اور کنویں کافی نہیں ہیں تو پھر کس طرح روحانی سمندر، دریا اور کنویں کے ساتھ روحانی بارش کی ضرورت نہ ہوگی۔ اگر صرف کُتب ہی کافی ہوتیں اور کسی انسان کی ضرورت نہ ہوتی تو رُسل کی کیا ضرورت تھی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کتاب بغیرمُعلّم کے کبھی کوئی پڑھ نہیں سکتا۔ انسان بغیر زندہ نمونہ کے کچھ سمجھ نہیں سکتا۔ اور یہی وجہ ہے کہ انسانوں کے لئے انسان سمجھانے کے لئے بھیجے گئے ہیں اور اُنہوں نے اس تعلیم پر خود چل کر ثابت کر دیا کہ تعلیمِ الٰہی قابل عمل ہے انسانی طاقت اور وُسعت سے بڑھ کر نہیں ہے۔ بے شک قرآن شریف اور احادیث صحیحہ کے ہوتے ہوئے کسی اور تعلیم کی ضرورت نہیں ہے مگر مُعلّم کی تو ضرورت بہرحال رہے گی کتب حساب میں مثالیں حل کی ہوئی بھی ہیں مگر پھر بھی بڑی مُغْلَق ہوتی ہیں کہ وہاں تک ہر ایک کے فہم کی رسائی نہیں ہو سکتی اور بغیر مدد اُستاد کے انسان اس سے مستفید نہیں ہو سکتا۔
    لوگوں کا کیا حق ہے کہ وہ کہیں کہ ہمیں کسی امام یا مجدد کی ضرورت نہیں ہے۔ جب کہ دنیا کے علوم کے سیکھنے کے لئے اُستاد سے مدد لیتے ہیں۔ اگر ان کی یہ دلیل اور وسیع کی جاوے تو پھر قرآن کے مُعلّموں اور قاریوں اور مولویوں کی کیا ضرورت ہے۔ کیوں ہم اپنے بچوں کو کسی مولوی، یا قاری یا حافظ کے پاس بھیجیں کہ وہ ان سے جا کر قرآن کے الفاظ پڑھے ۔ اگر قرآن کے الفاظ سیکھنے میں انسانوں کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے تو کیا اس کے معانی سیکھنے کے لئے خدائی ماموروں کی ضرورت پیش نہیں آئے گی؟ کسی کا کیا حق ہے کہ وہ کہے کہ ہمیں کسی مجدد یا امام یا مأمور من اللہ انسان کی ضرورت نہیں ہے جب کہ خود قرآن شریف اور احادیث صحیحہ پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ضرور ضرور اپنی طرف سے ایسے بندے مبعوث فرماتا رہے گا جو کہ اس کے باغ کی آبیاری کرتے رہیں گے۔
    دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تین فرائض منصبی قرآن شریف نے قرار دیئے ہیں۔۱۸؎۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر بڑا احسان اور فضل کیا جب ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا۔ وہ ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور دعاؤں سے ان کا تزکیہ کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اور ضرور وہ اس سے پہلے کُھلی گمراہی میں تھے۔
    سوچنے اور غور کرنے کا مقام ہے کہ اگر صرف کتاب ہی کافی ہو تو پھر تالی ۱۹؎ کی کیا ضرورت ہے اور معلّم کی کیا ضرورت ہے اورمزکی کی کیا ضرورت ہے جب کہ قرآن شریف کے عین نزول کے وقت تالی، معلّم اور مزکی کی ضرورت تھی۔ تو پھر اب اس قدر مرور ِزمانہ کے بعد کیوں ان کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اگر عام مولوی تالی کا کام دے سکتے ہیں تو پھر مزکی اور معلّم کون بنے۔ مزکی اور معلّم بننے کے لئے اللہ تعالیٰ نے آئمہ اور خلفاء اور مأمورین من اللہ کا وجود باجود قائم فرمایا ہے اور آئمہ اور خلفاء کے کام بھی قرآن شریف میں ذکر فرما دیئے ہیں۔۲۰؎۔ امام اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ لوگوں کو ہدایت کرتے ہیں اور مخالفت میں صبر اور استقلال سے کام لیتے ہیں اور ان کو آیاتِ الٰہی کے ساتھ کامل یقین ہوتا ہے۔ ۲۱؎ مومنوں میں سے اللہ خلیفے بناتا رہے گا۔ ان کے ذریعہ سے دینِ اسلام کی تمکین کرے گا اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔ وہ عبادتِ الٰہیہ کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے ۔
    کیا اب یہ ظلمِ صریح نہیں کہ اب کسی مجدد یا امام یا خلیفہ کی ضرورت نہیں ہے حالانکہ خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ خلیفہ بناتا رہے گا جب کہ قانونِ قدرت جو خدائی فعل ہے صاف بتا رہا ہے کہ بارانِ الٰہی کی ہر زمانہ میں ضرورت ہے۔ جب کہ قرآن مجید جو خدائی قول ہے صاف بتا رہا ہے کہ اللہ کی طرف سے خلیفہ آیا کرے گا تو کس مسلمان کا گردہ ہے کہ وہ جسارت اور جرأت سے کہے کہ اب ہمیں کسی امام کی ضرورت نہیں ہے کافی ہے ماننے کو اگر اہل کوئی ہے۔ (الفضل ۷؍جنوری ۱۹۱۴ء)
    ۱؎ الصف: ۷ ۲،۳؎ البقرۃ: ۳۱
    ۴؎ اِبَا: انکار
    ۵؎ الاعراف: ۱۳ ۶؎ الکھف: ۵۱ ۷؎ ص: ۷۶
    ۸؎ الاعراف: ۱۴ ۹؎ ص: ۲۷ ۱۰؎ محمد: ۲۵
    ۱۱؎ المائدہ: ۷۹ ۱۲؎ النور: ۵۶ ۱۳؎ ال عمران: ۷۴
    ۱۴؎ محک: کسوٹی
    ۱۵؎ جواثی: مدینہ کے قریب ایک جگہ
    ۱۶؎ الانبیاء: ۳۱ ۱۷؎ یوسف: ۱۰۶ ۱۸؎ اٰل عمران: ۱۶۵
    ۱۹؎ تالی: تلاوت کرنے والا
    ۲۰؎ السجدۃ: ۲۵ ۲۱؎ النور: ۵۶

    کلماتِ طیبات
    (حضرت مصلح موعود کی ’’بیعت خلافت‘‘ کے وقت پہلی تقریر)
    (فرمودہ ۱۴؍ مارچ ۱۹۱۴ء)
    اَشْھَدُ اَنْ لاَّاِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ
    سنو!دوستو! میرا یقین اور کامل یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ میرے پیارو! پھر میرا یقین ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔ میرا یقین ہے کہ آپ کے بعد کوئی شخص نہیں آ سکتا جو آپ کی دی ہوئی شریعت میں سے ایک شوشہ بھی منسوخ کر سکے۔
    میرے پیارو! میرا وہ محبوب آقا سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ایسی عظیم الشان شان رکھتا ہے کہ ایک شخص اس کی غلامی میں داخل ہو کر کامل اِتباع اور وفاداری کے بعد نبیوں کا رُتبہ حاصل کر سکتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ایسی شان اور عزت ہے کہ آپؐ کی سچی غلامی میں نبی پیدا ہو سکتا ہے یہ میرا ایمان ہے اور پورے یقین سے کہتا ہوں۔
    پھر میرا یقین ہے کہ قرآن مجید وہ پیاری کتاب ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور وہ خاتم الکتب اور خاتم شریعت ہے۔ پھر میرا یقین کامل ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام وہی نبی تھے جس کی خبر مسلم میں ہے اور وہی امام تھے جس کی خبر بخاری میں ہے۔ میں پھرکہتا ہوں کہ شریعت اسلامی سے کوئی حصہ اب منسوخ نہیں ہو سکتا۔
    صحابہ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنَ کے اعمال کی اقتداء کرو۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں اور کامل تربیت کا نمونہ تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوسرا اجماع جو ہوا وہ وہی خلافت حقّہ راشدہ کا سلسلہ ہے۔ خوب غور سے دیکھ لو اور تاریخ اسلام میں پڑھ لو کہ جو ترقی اسلام کی خلفائے راشدین کے زمانہ میں ہوئی جب وہ خلافت محض حکومت کے رنگ میں تبدیل ہوگئی تو گھٹتی گئی۔ یہاں تک کہ اب جو اسلام اور اہل اسلام کی حالت ہے تم دیکھتے ہو۔ تیرہ سَو سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسی منہاجِ نبوۃ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدوں کے موافق بھیجا اور ان کی وفات کے بعد پھر وہی سلسلہ خلافت راشدہ کا چلا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح مولانا مولوی نورالدین صاحب (ان کا درجہ اعلیٰ عِلیین میں ہو۔ اللہ تعالیٰ کروڑوں کروڑ رحمتیں اور برکتیں ان پر نازل کرے جس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت ان کے دل میں بھری ہوئی اور ان کے رگ و ریشہ میں جاری تھی جنت میں بھی اللہ تعالیٰ انہیں پاک وجودوں اور پیاروں کے قُرب میں آپ کو اکٹھا کرے) اس سلسلہ کے پہلے خلیفہ تھے اور ہم سب نے اسی عقیدہ کے ساتھ ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ پس جب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا اسلام مادی اور روحانی طور پر ترقی کرتا رہے گا۔ اِس وقت جو تم نے پکار پکار کر کہا ہے کہ میں اِس بوجھ کو اُٹھاؤں اور تم نے بیعت کے ذریعہ اظہار کیا ہے میں نے مناسب سمجھا کہ میں تمہارے آگے اپنے عقیدہ کا اظہار کروں۔
    میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ میرے دل میں ایک خوف ہے اور اپنے وجود کو بہت ہی کمزور پاتا ہوں ۔ حدیث میں آیا ہے کہ تم اپنے غلام کو وہ کام مت بتاؤ جو وہ کر نہیں سکتا۔ تم نے مجھے اِس وقت غلام بنانا چاہا ہے تو وہ کام مجھے نہ بتانا جو میں نہ کر سکوں۔ میں جانتا ہوں کہ میں کمزور اور گنہگار ہوں میں کس طرح دعویٰ کر سکتا ہوں کہ دنیا کی ہدایت کرسکوں گا اور حق اور راستی کو پھیلا سکوں گا۔ ہم تھوڑے ہیں اور اسلام کے دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ ہے مگر اللہ تعالیٰ کے فضل اور کرم اور غریب نوازی پر ہماری امیدیں بے انتہاء ہیں۔ تم نے یہ بوجھ مجھ پر رکھا ہے تو سنو! اِس ذمہ داری سے عُہدہ برآ ہونے کے لئے میری مدد کرو اور وہ یہی ہے کہ خداتعالیٰ سے فضل اور توفیق چاہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور فرمانبرداری میں میری اطاعت کرو۔
    میں انسان ہوں اور کمزور انسان۔ مجھ سے کمزوریاں ہوں گی تو تم چشم پوشی کرنا۔ تم سے غلطیاں ہوں گی میں خداتعالیٰ کو حاضر ناظر سمجھ کر عہد کرتا ہوں کہ میں چشم پوشی اور درگزر کروں گا اور میرا اور تمہارا متحد کام اس سلسلہ کی ترقی اور اِس سلسلہ کی غرض و غایت کو عملی رنگ میں پورا کرنا ہے پس اب جو تم نے میرے ساتھ ایک تعلق پیدا کیا ہے اس کو وفاداری سے پورا کرو۔ تم مجھ سے اور میں تم سے چشم پوشی خدا کے فضل سے کرتا رہوں گا۔ تمہیں امربِالمعروف میں میری اطاعت اور فرمانبرداری کرنی ہوگی۔ اگر نَعُوْذُبِاللّٰہِ کہوں کہ خدا ایک نہیں تواُسی خدا کی قسم دیتا ہوں جس کے قبضۂ قدرت میں ہم سب کی جان ہے جو وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ اور ۱؎ہے کہ میری ایسی بات ہرگز نہ ماننا۔
    اگر میں تمہیں نَعُوْذُبِاللّٰہِ نبوت کا کوئی نقص بتاؤں تو مت مانیو۔ اگر قرآن کریم کا کوئی نقص بتاؤں تو پھر خدا کی قسم دیتا ہوں مت مانیو۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو خداتعالیٰ سے وحی پا کر تعلیم دی ہے اس کے خلاف کہوں تو ہرگز ہرگز نہ ماننا۔ ہاں میں پھر کہتا ہوں اور پھر کہتا ہوں کہ امرمعروف میں میری خلاف ورزی نہ کرنا۔ اگر اطاعت اور فرمانبرداری سے کام لو گے اور اس عہد کو مضبوط کرو گے تو یاد رکھو اللہ تعالیٰ کا فضل ہماری دستگیری کریگا۔
    ہماری متحد دعائیں کامیاب ہوں گی
    اور میں اپنے مولیٰ کریم پر بہت بڑا بھروسہ رکھتا ہوں مجھے یقین کامل ہے کہ
    کہ میری نصرت ہوگی۔ پرسوں جمعہ کے روز میں نے ایک خواب سنایا تھا کہ میں بیمار ہو گیا اور مجھے ران میں درد محسوس ہوا اور میں نے سمجھا کہ شاید طاعون ہونے لگا تب میں نے اپنا دروازہ بند کر لیا اور فکر کرنے لگا کہ یہ کیا ہونے لگا ہے۔ میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وعدہ کیا تھا اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ ۲؎ یہ خدا کا وعدہ آپ کی زندگی میں پورا ہوا۔ شاید خدا کے مسیح ؑ کے بعد یہ وعدہ نہ رہا ہو کیونکہ وہ پاک وجود ہمارے درمیان نہیں۔ اِسی فکر میں میں کیادیکھتا ہوں یہ خواب نہ تھا بیداری تھی میری آنکھیں کُھلی تھیں میں در و دیوار کو دیکھتا تھا، کمرے کی چیزیں نظر آ رہی تھیں میں نے اسی حالت میں اللہ تعالیٰ کو دیکھا کہ ایک سفید اور نہایت چمکتا ہوا نور ہے۔ نیچے سے آتا ہے اور اوپر چلا جاتا ہے نہ اس کی ابتداء ہے نہ انتہاء ۔ اس نور میں سے ایک ہاتھ نکلا جس میں ایک سفید چینی کے پیالہ میں دودھ تھا جو مجھے پلایا گیا جس کے بعد معاً مجھے آرام ہو گیا اور کوئی تکلیف نہ رہی۔ اس قدر حصہ میں نے سنایا تھا اس کا دوسرا حصہ اُس وقت میں نے نہیں سنایا اَب سناتا ہوں وہ پیالہ جب مجھے پلایا گیا تو معاً میری زبان سے نکلا ’’میری اُمت بھی کبھی گمراہ نہ ہوگی‘‘۔
    میری اُمت کوئی نہیں تم میرے بھائی ہو مگر اِس نسبت سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہے یہ فقرے نکلے۔ جس کام کو مسیح موعود علیہ السلام نے جاری کیا اپنے موقع پر وہ امانت میرے سپرد ہوئی ہے۔ پس دعائیں کرو اور تعلقات بڑھاؤ اور قادیان آنے کی کوشش کرو اور بار بار آؤ ۔ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا اور بار بار سنا کہ جو یہاں بار بار نہیں آتا اندیشہ ہے کہ اس کے ایمان میں نقص ہو۔
    اسلام کا پھیلانا ہمارا پہلا کام ہے مل کر کوشش کرو تا کہ اللہ تعالیٰ کے احسانوں اور فضلوں کی بارش ہو۔ میں پھر تمہیں کہتا ہوں، پھر کہتا ہوں اور پھر کہتا ہوں اب جو تم نے بیعت کی ہے اور میرے ساتھ ایک تعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد قائم کیا ہے اس تعلق میں وفاداری کا نمونہ دکھاؤ اور مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھو میں ضرور تمہیں یاد رکھوں گا۔ ہاں یاد رکھتا بھی رہا ہوں۔ کوئی دعا میں نے آج تک ایسی نہیں کی جس میں میں نے سلسلہ کے افراد کے لئے دعا نہ کی ہو مگر اب آگے سے بھی بہت زیادہ یاد رکھوں گا۔ مجھے کبھی پہلے بھی دعا کے لئے کوئی ایسا جوش نہیں آیا جس میں احمدی قوم کے لئے دعا نہ کی ہو۔
    پھر سنو! کہ کوئی کام ایسا نہ کرو جو اللہ تعالیٰ کے عہد شکن کیا کرتے ہیں۔ ہماری دعائیں یہی ہوں کہ ہم مسلمان جیئیں اور مسلمان مریں۔ آمین
    الفاظ بیعت
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل جس طرح پر ہاتھ میں ہاتھ لے کر فرماتے جاتے تھے اور طالب تکرار کرتا تھا
    اسی طرح پر اب بیعت لیتے ہیں۔
    اَشْھَدُ اَنْ لاَّاِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ
    (تین بار) آج میں احمدی سلسلہ میں محمود کے ہاتھ پر اپنے اُن تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہوں جن میںمیں گرفتار تھا اور میں سچے دل سے اقرار کرتا ہوں کہ جہاں تک میری طاقت اور سمجھ ہے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے آئندہ بھی گناہوں سے بچنے کی کوشش کروں گا۔ اور دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔ شرک نہیں کروں گا۔ اسلام کے تمام احکام بجالانے کی کوشش کروںگا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء یقین کروں گا۔ اور مسیح موعود علیہ السلام کے تمام دعاوی پر ایمان رکھوں گا۔ جو تم نیک کام بتاؤ گے ان میں تمہاری فرمانبرداری کروں گا۔ قرآن شریف اور حدیث کے پڑھنے اور سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا۔ حضرت صاحب کی کتابوں کو پڑھنے یا سننے اور یاد رکھنے اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا۔ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ (۳بار) رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْمًا کَثِیْرًا وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ فَاِنَّہٗ لَایَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلاَّ اَنْتَ اے میرے رَبّ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور بہت ظلم کیا۔ اور میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں۔ میرے گناہ بخش کہ تیرے سوا کوئی بخشنے والا نہیں۔ (آمین)
    (الفضل غیر معمولی پرچہ ۲۱؍ مارچ ۱۹۱۴ء)
    ۱؎ الشورٰی: ۱۲
    ۲؎ تذکرہ صفحہ۴۲۵۔ایڈیشن چہارم

    کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ
    (مضمون محررہ ۲۱؍ مارچ ۱۹۱۴ء)
    ۱؎ اور جب تیرے ربّ نے ملائکہ سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ مقرر کرنا چاہتا ہوں تو اُنہوں نے جواب دیا کہ کیا آپ ایسے شخص کو خلیفہ مقرر کرتے ہیں جو فساد کرے گا اور خون بہائے گا اور ہم وہ لوگ ہیں جو حضور کی تسبیح و تحمید کرتے ہیں اور آپ کی قدوسیت کا اقرار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی اِس بات کو سن کر فرمایا کہ میں وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
    یہ ایک ایسی آیت ہے جس سے خلافت کے کُل جھگڑوں کا فیصلہ ہو جاتا ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم کے زمانہ سے خلافت پر اعتراض ہوتے چلے آئے ہیں اور ہمیشہ بعض لوگوں نے خلافت کے خلاف جوشوں کا اظہار کیا ہے پس میں بھی جماعت احمدیہ کو اسی آیت کی طرف متوجہ کرتا ہوں تا وہ صِرَاطِ مُسْتَقِیْم کو پا سکے اور ہدایت کی راہ معلوم کر سکے۔
    خوب یاد رکھو کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور جھوٹا ہے وہ انسان جو یہ کہتا ہے کہ خلیفہ انسانوں کا مقرر کردہ ہوتا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح مولوی نورالدین صاحب اپنی خلافت کے زمانہ میں چھ سال متواتر اس مسئلہ پر زور دیتے رہے کہ خلیفہ خدا مقرر کرتا ہے نہ انسان۔ اور درحقیقت قرآن شریف کا غور سے مطالعہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ایک جگہ بھی خلافت کی نسبت انسانوں کی طرف نہیں کی گئی بلکہ ہر قسم کے خلفاء کی نسبت اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ انہیں ہم بناتے ہیں چنانچہ انبیاء و مأمورین کے خلفاء کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۲؎ اللہ تعالیٰ تم میں سے مؤمنوں اور نیک اعمال والوں سے وعدہ کرتا ہے کہ وہ انہیں اسی طرح زمین میں خلیفہ مقرر فرمائے گا جس طرح ان سے پہلوں کو مقرر کیا اور ان خلفاء کے اس دین کو جو اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے قائم کرے گا اور ان کے خوفوں کو امن سے بدل دے گا وہ میری ہی عبادت کریں گے اور میرا کسی کو شریک نہیں قرار دیں گے اور جو شخص اس حکم کے ہوتے ہوئے بھی ان کا انکار کرے گا تو وہ خدا تعالیٰ سے دور کیا جائے گا۔
    اب اس آیت کے ماتحت جس قسم کی خلافت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہوئی وہی خلافت راشدہ ہے اور اسی قسم کی خلافت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد ہونی ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت فرماتا ہے۳؎ خدا ہی ہے جس نے اُمیوں میں ایک رسول بھیجا جو انہی میں سے ہے اور جو ان پر خدا کا کلام پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اور بیشک اس سے پہلے کھلی کھلی گمراہی میں تھے اور وہ رسول ایک اور قوم کو بھی سکھائے گا جو ابھی تک ان سے نہیں ملی اور خداتعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے تشبیہہ دی ہے اور فرمایا ہے کہ ایک دفعہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی تربیت کی ہے اور ایک دفعہ وہ پھر ایک اور قوم کی تربیت کریں گے جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئی ۔ پس مسیح موعود کی جماعت کو صحابہ رضوان اللہ علیہم سے مشابہہ قرار دے کر بتا دیا ہے کہ دونوں میں ایک ہی قسم کی سنت جاری ہوگی پس جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کا سلسلہ جاری ہوا ضرور تھا کہ مسیح موعود علیہ السلام کے بعد بھی ایسا ہی ہوتا۔ چنانچہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الوصیت میں صاف لکھ دیا ہے کہ جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابوبکرؓ کے ذریعہ دوسری قدرت کا اظہار ہوا ضرور ہے کہ تم میں بھی ایسا ہی ہو۔ اور اس عبارت کے پڑھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنے بعد سلسلۂ خلافت کے منتظر تھے مگر جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امر میں صرف اشارات پر اکتفا کیا اسی طرح آپؑ نے بھی اشارات کو ہی کافی سمجھا کیونکہ ضرور تھا کہ جس طرح پہلی قدرت یعنی مسیح موعود علیہ السلام کے وقت ابتلاء آئے دوسری قدرت یعنی سلسلۂ خلافت کے وقت بھی ابتلاء آتے۔
    ہاں ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ خلیفہ اپنے پیش رَو کے کام کی نگرانی کے لئے ہوتا ہے اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء مُلک و دین دونوں کی حفاظت پر مأمور تھے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے دینی اور دنیاوی دونوں بادشاہتیں دی تھیں لیکن مسیح موعود علیہ السلام جس کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جمالی ظہور ہوا صرف دینی بادشاہ تھا اس لئے اس کے خلفاء بھی اسی طرز کے ہوں گے۔
    پس جماعت کے اتحاد اور شریعت کے احکام کو پورا کرنے کیلئے ایک خلیفہ کا ہونا ضروری ہے اور جو اِس بات کو ردّ کرتا ہے وہ گویا شریعت کے احکام کو ردّ کرتا ہے صحابہ کا عمل اس پر ہے اور سلسلہ احمدیہ سے بھی خداتعالیٰ نے اسی کی تصدیق کرائی ہے ۔جماعت کے معنی ہی یہی ہیں کہ وہ ایک امام کے ماتحت ہو جو لوگ کسی امام کے ماتحت نہیں وہ جماعت نہیں اور ان پر خداتعالیٰ کے وہ فضل نازل نہیں ہو سکتے اور کبھی نہیں ہو سکتے جو ایک جماعت پر ہوتے ہیں۔
    پس اے جماعت احمدیہ! اپنے آپ کو ابتلاء میں مت ڈال اور خداتعالیٰ کے احکام کو ردّ مت کر کہ خدا کے حُکموں کو ٹالنا نہایت خطرناک اور نقصان دہ ہے۔ اسلام کی حقیقی ترقی اُس زمانہ میں ہوئی جو خلافت راشدہ کا زمانہ کہلاتا ہے پس تو اپنے ہاتھ سے اپنی ترقیوں کو مت روک اور اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مت مار۔ کیسا نادان ہے وہ انسان جو اپنا گھر آپ گراتا ہے اور کیا ہی قابلِ رحم ہے وہ شخص جو اپنے گلے پر آپ چھُری پھیرتا ہے پس تُو اپنے ہاتھ سے اپنی تباہی کا بیج مت بو اور جو سامان خداتعالیٰ نے تیری ترقی کیلئے بھیجے ہیں اُن کو ردّ مت کر کیونکہ فرمایا ہے۴؎ البتہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں بڑھاؤں گا اور زیادہ دوں گا اور اگر تم نے ناشکری کی راہ اختیار کی تو یاد رکھو کہ میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے۔
    یہ ایک دھوکا ہے کہ سلسلۂ خلافت سے شرک پھیلتا ہے اور گدیوں کے قائم ہونے کا خطرہ ہے کیونکہ آج سے تیرہ سَو سال پہلے خداتعالیٰ نے خود اس خیال کو ردّ فرما دیا ہے کیونکہ خلفاء کی نسبت فرماتا ہے ۵؎ خلفاء میری ہی عبادت کیا کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں قرار دیں گے۔ خداتعالیٰ جانتا تھا کہ ایک زمانہ میں خلافت پر یہ اعتراض کیا جائے گا کہ اس سے شرک کا اندیشہ ہے اور غیر مامور کی اطاعت جائز نہیں پس خداتعالیٰ نے آیت ِاستخلاف میں ہی اس کا جواب دے دیا کہ خلافت شرک پھیلانے والی نہیں بلکہ اسے مٹانے والی ہوگی اور خلیفہ مشرک نہیں بلکہ موحد ہوں گے ورنہ آیت استخلاف میں شرک کے ذکر کا اور کوئی موقع نہ تھا۔
    غرض کہ خلافت کا کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا خصوصاً وہ قوم جو اپنے عمل سے چھ سال تک مسلۂ خلافت کے معنی کر چکی ہو اس کا ہرگز حق نہیں کہ اب خلافت کی تحقیقات شروع کرے۔ اور اگر کوئی شخص ایسا کرے گا تو سمجھا جائے گا کہ خلیفہ اوّل کی بیعت بھی اس نے نِفا ق سے کی تھی کیونکہ وہ اپنے آپ کو ہمیشہ خلفائے سلسلہ اوّل سے مشابہت دیتا تھا اور خلیفہ کی حیثیت میں بیعت لیا کرتا تھا اور اس کے وعظوں اور لیکچروں میں اس امر کو ایسا واضح کر دیا گیا تھا کہ کوئی راستباز انسان اس کا انکار نہیں کر سکتا اور اب اس کی وفات کے بعد کسی کا حق نہیں کہ جماعت میں فساد ڈلوائے۔
    مجھے اس مضمون کے لکھنے کی اس لئے ضرورت پیش آئی ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں تفرقہ کے آثار ہیں اور بعض لوگ خلافت کے خلاف لوگوں کو جوش دلا رہے ہیں یا کم سے کم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خلیفہ ایک پریذیڈنٹ کی حیثیت میں ہو اور یہ کہ ابھی تک جماعت کا کوئی خلیفہ نہیں ہوا۔ مگر میں اس اعلان کے ذریعہ سے تمام جماعت کو اطلاع دیتا ہوں کہ خلیفہ کا ہونا ضروری ہے جیسا کہ میں ثابت کر چکا ہوں اور اس کی بیعت کی بھی اسی طرح ضرورت ہے جس طرح حضرت خلیفہ اوّل کی تھی اور یہ بات بھی غلط مشہور کی جاتی ہے کہ جماعت کا اِس وقت تک کوئی خلیفہ مقرر نہیں ہوا بلکہ خدا نے جسے خلیفہ بنانا تھا بنا دیا اور اب جو شخص اس کی مخالفت کرتا ہے وہ خدا کی مخالفت کرتا ہے۔
    میں نے کسی سے درخواست نہیں کی کہ وہ میری بیعت کرے نہ کسی سے کہا کہ وہ میرے خلیفہ بننے کے لئے کوشش کرے۔ اگر کوئی شخص ایسا ہے تو وہ علی الاعلان شہادت دے کیونکہ اس کا فرض ہے کہ جماعت کو دھوکے سے بچائے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ خدا کی *** کے نیچے ہے اور جماعت کی تباہی کا عذاب اُس کی گردن پر ہوگا۔ اے پاک نفس انسانو! جن میں بدظنی کا مادہ نہیں میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے کبھی انسان سے خلافت کی تمنا نہیں کی اور یہی نہیں بلکہ خداتعالیٰ سے بھی کبھی یہ خواہش نہیں کی کہ وہ مجھے خلیفہ بنا دے یہ اُس کا اپنا فعل ہے یہ میری درخواست نہ تھی۔ میری درخواست کے بغیر یہ کام میرے سپرد کیا گیا ہے اور یہ خداتعالیٰ کا فعل ہے کہ اس نے اکثروں کی گردنیں میرے سامنے جُھکا دیں میں کیونکر تمہاری خاطر خداتعالیٰ کے حکم کو ردّکر دوں۔ مجھے اُس نے اسی طرح خلیفہ بنایا جس طرح پہلوں کو بنایا تھا۔ گو میں حیران ہوں کہ میرے جیسا نالائق انسان اُسے کیونکر پسند آ گیا لیکن جو کچھ بھی ہو اُس نے مجھے پسند کر لیا اور اب کوئی انسان اِس کُر تہ کو مجھ سے نہیں اُتار سکتا جو اُس نے مجھے پہنایا ہے۔ یہ خدا کی دین ہے اور کون سا انسان ہے جو خدا کے عطیہ کو مجھ سے چھین لے۔ خداتعالیٰ میرا مددگار ہوگا۔ میں ضعیف ہوں مگر میرا مالک بڑا طاقتور ہے، میں کمزور ہوں مگر میرا آقا بڑا توانا ہے، میں بِلااسباب ہوں مگر میرا بادشاہ تمام اسبابوں کا خالق ہے ، میں بے مددگار ہوں مگر میرا ربّ فرشتوں کو میری مدد کیلئے نازل فرمائے گا۔ (اِنْشَائَ اللّٰہ) میں بے پناہ ہوں مگر میرا محافظ وہ ہے جس کے ہوتے ہوئے کسی پناہ کی ضرورت نہیں۔
    لوگ کہتے ہیں میں جھوٹا ہوں اور یہ کہ میں مدتوں سے بڑائی کا طلبگار تھا اور فخر میں مبتلا تھا، جاہ طلبی مجھے چین نہ لینے دیتی تھی مگر میں ان لوگوں کو کہتا ہوں کہ تمہارا اعتراض تو وہی ہے جو ثمود نے صا لؑح پر کیا یعنی ۶؎ وہ تو جھوٹا اور متکبر اور بڑائی کا طالب ہے۔ اور میں بھی تم کو وہی جواب دیتا ہوں جو حضرت صالح علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دیا کہ ۷؎ ذرا صبر سے کام لو خداتعالیٰ کچھ دنوں تک خود بتا دے گا کہ کون جھوٹا اور متکبر ہے اور کون بڑائی کا طلبگار ہے۔
    بعض لوگ کہتے ہیں کہ خلافت کے انتخاب کیلئے ایک لمبی میعاد مقرر ہونی چاہیے تھی کہ کل جماعتیں اکٹھی ہوتیں اور پھر انتخاب ہوتا لیکن اِس کی کوئی دلیل پیش نہیں کی جاتی کہ ایسا کیوں ہوتا۔ نہ تو ایسا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہوا اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر ہوا۔ حضرت مولوی نورالدین صاحب کی بیعت کرنے والے ۱۲۰۰ آدمی تھے اور ۲۴ گھنٹہ کا وقفہ ہوا تھا لیکن اب ۲۸ گھنٹہ کے وقفہ کے بعد قریباً دو ہزار آدمی نے ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کی۔ حالانکہ حالات بھی مخالف تھے اور یہ سوال پیدا کیا گیا تھا کہ خلافت کی ضرورت ہی نہیں اور یہ خداتعالیٰ ہی کا کام تھا کہ اس نے اس فتنہ کے وقت جماعت کو بچا لیا اور ایک بڑے حصہ کو ایک شخص کے ہاتھ پر متحد کر دیا۔ حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پر تو ابتدا میں صرف تین آدمیوں نے بیعت کی تھی یعنی حضرت عمرؓ اور حضرت ابوعبیدہ ؓ نے مہاجرین میں سے اور قیس بن سعدؓ نے انصار میں سے۔ اور بیعت کے وقت بعض لوگ تلواروں کے ذریعہ سے بیعت کو روکنا چاہتے تھے اور پکڑ پکڑ کر لوگوں کو اُٹھانا چاہتے تھے اور بعض تو ایسے جوش میں تھے کہ طعنہ دیتے تھے اور بیعت کو لغو قرار دیتے تھے تو کیا اس کا یہ نتیجہ سمجھنا چاہئے کہ نَعُوْذُبِاللّٰہِ حضرت ابوبکرؓ کو خلافت کی خواہش تھی کہ صرف تین آدمیوں کی بیعت پر آپ بیعت لینے کے لئے تیار ہوگئے اور باوجود سخت مخالفت کے بیعت لیتے رہے یا یہ نتیجہ نکالا جائے کہ آپ کی خلافت ناجائز تھی۔ مگر جو شخص ایسا خیال کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔ پس جب کہ ایک شخص کی دوہزار آدمی بیعت کرتے ہیں اور صرف چند آدمی بیعت سے الگ رہتے ہیں تو کون ہے جو کہہ سکے کہ وہ خلافت ناجائز ہے۔ اگر اس کی خلافت ناجائز ہے تو ابوبکرؓ، عثمان و علی اور نورالدین رِضْوَانُ اللّٰہِ عَلَیْھِمْکی خلافت اس سے بڑھ کر ناجائز ہے۔
    پس خدا کا خوف کرو اور اپنے منہ سے وہ باتیں نہ نکالو جو کل تمہارے لئے مصیبت کا باعث ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرو اور وہ سلسلہ جو اس کے مامور نے سالہا سال کی مشقت اور محنت سے تیار کیا تھا اسے یوں اپنے بُغضوں اور کینوں پر قربان نہ کرو۔
    مجھ پر اگر اعتراض ہوتے ہیں کیا ہوا مجھے وہ شخص دکھاؤ جس کو خدا نے اس منصب پر کھڑا کیا جس پر مجھے کیا… اور اس پر کوئی اعتراض نہ ہوا ہو۔ جب کہ آدمؑ پر فرشتوں نے اعتراض کیا تو میں کون ہوں جو اعتراضوں سے محفوظ رہوں۔ فرشتوں نے بھی اپنی خدمات کا دعویٰ کیا تھا اور ابلیس نے بھی اپنی بڑائی کا دعویٰ کیا تھا مگر بے خدمت آدمؑ جو ان کے مقابلہ میں اپنی کوئی بڑائی اور خدمت نہیں پیش کر سکتا تھا خدا کو وہی پسند آیا اور آخر سب کو اس کے سامنے جھکنا پڑا۔ پس اگر آدمؑ کے مقابلہ میں فرشتوں نے اپنی خدمات کا دعویٰ کیا تھا کہ ہم نے بڑی بڑی خدمات کی ہیں۸؎ آج بھی وہی دعویٰ نہ پیش کیا جاتا۔ مگر فرشتہ خصلت ہے وہ انسان جو ٹھوکر کھا کر سنبھلتا ہے اور خداتعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو تکبر کی وجہ سے آخر تک اطاعت سے سرگردان رہے۔ پس اے میرے دوستو! تم فرشتہ بنو اور اگر تم کو ٹھوکر لگی بھی ہے تو توبہ کروکہ تا خدا تمہیں ملائکہ میں جگہ دے ورنہ یاد رکھو کہ فتنہ کا نتیجہ اچھا نہیں ہوتا۔
    کیا تمہیں مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں پر اعتبار نہیں؟ اگر نہیں تو تم احمدی کس بات کے ہو؟ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سبز اشتہار میں ایک بیٹے کی پیشگوئی کی تھی کہ اس کا ایک نام محمود ہوگا دوسرا نام فضل عمر ہوگا اور تریاق القلوب میں آپ نے اس پیشگوئی کو مجھ پر چسپاں بھی کیا ہے۔ پس مجھے بتاؤ کہ عمرؓ کون تھا؟ اگر تمہیں علم نہیں تو سنو کہ وہ دوسرا خلیفہ تھا۔ پس میری پیدائش سے پہلے خدا تعالیٰ نے یہ مقدر کر چھوڑا تھا کہ میرے سپرد وہ کام کیا جائے جو حضرت عمرؓ کے سپرد ہوا تھا۔ پس اگر مرزا غلام احمد خدا کی طرف سے تھا تو تمہیں اس شخص کے ماننے میں کیا عذر ہے جس کا نام اس کی پیدائش سے پہلے عمر رکھا گیا۔ اور میں تمہیں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ حضرت خلیفۃ المسیح کی زندگی میں اس پیشگوئی کا مجھے کچھ بھی علم نہ تھا بلکہ بعد میں ہوا۔
    اس پیشگوئی کے علاوہ خداتعالیٰ نے سینکڑوں آدمیوں کو خوابوں کے ذریعہ سے میری طرف جُھکا دیا اور قریباً ڈیڑھ سَو خواب تو اِن چند دنوں میں مجھ تک بھی پہنچ چکی ہے اور میرا ارادہ ہے کہ اس کو شائع کر دیا جائے۔ اور میری ان تمام باتوں سے یہ غرض نہیں ہے کہ میں اپنی بڑائی بیان کروں بلکہ غرض یہ ہے کہ کسی طرح جماعت کا تفرقہ دور ہو اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی ہدایت دے جو اِس وقت ایک اتحاد کی رسّی میں نہیں جکڑے گئے۔ ورنہ میری طبیعت ان باتوں کے اظہار سے نفرت کرتی ہے۔ مگر جماعت کا اتحاد مجھے سب باتوں سے زیادہ پیارا ہے۔
    وہ لوگ جو میری مخالفت کرتے ہیں یا اب تک بیعت میں داخل نہیں ہوئے آخر کیا چاہتے ہیں؟ کیا وہ چاہتے ہیں کہ آزاد رہیں؟ مگر وہ یاد رکھیں کہ ان کا ایسا کرنا اپنے آپ کو ہلاک کرنے کے مترادف ہوگا۔ پھر کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ کوئی اور خلیفہ مقرر کریں؟ اگر وہ ایسا چاہتے ہیں تو یاد رکھیں کہ ایک وقت میں دو خلیفہ نہیں ہو سکتے اور شریعت اسلام اسے قطعاً حرام قرار دیتی ہے۔ پس اب وہ جو کچھ بھی کریں گے اس سے جماعت میں تفرقہ پیدا کریں گے۔ خدا چاہتا ہے کہ جماعت کا اتحاد میرے ہی ہاتھ پر ہو اور خدا کے اس ارادہ کو اب کوئی نہیں روک سکتا۔ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ان کے لئے صرف دو ہی راہ کھلے ہیں۔ یا تو وہ میری بیعت کر کے جماعت میں تفرقہ کرنے سے باز رہیں یا اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے پڑ کر اس پاک باغ کو جسے پاک لوگوں نے خون کے آنسوؤں سے سینچا تھا اُکھاڑ کر پھینک دیں ۔ جو کچھ ہو چکا ہوچکا مگر اب اس میں کوئی شک نہیں کہ جماعت کا اتحاد ایک ہی طریق سے ہو سکتا ہے کہ جسے خدا نے خلیفہ بنایا ہے اس کے ہاتھ پر بیعت کی جائے ورنہ ہر ایک شخص جو اس کے خلاف چلے گا تفرقہ کا باعث ہوگا۔
    میرا دل اِس تفرقہ کو دیکھ کر اندر ہی اندر گھلا جاتا ہے اور میں اپنی جان کو پگھلتا ہوا دیکھتا ہوں رات اور دن میں غم و رنج سے ہم صحبت ہوں۔ اس لئے نہیں کہ تمہاری اطاعت کا میں شائق ہوں بلکہ اس لئے کہ جماعت میں کسی طرح اتحاد پیدا ہو جائے۔ لیکن میں اس کے ساتھ ہی کوئی ایسی بات نہیں کر سکتا جو عہدۂ خلافت کی ذلّت کا باعث ہو۔ وہ کام جو خدا نے میرے سپرد کیا ہے خدا کرے کہ عزت کے ساتھ اس سے عہدہ برآ ہوں اور قیامت کے دن مجھے اپنے مولا کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔
    اب کون ہے جو مجھے خلافت سے معزول کر سکے۔ خدا نے مجھے خلیفہ بنایا ہے اور خداتعالیٰ اپنے انتخاب میں غلطی نہیں کرتا۔ اگر سب دنیا مجھے مان لے تو میری خلافت بڑی نہیں ہو سکتی۔ اور اگر سب کے سب خدانخواستہ مجھے ترک کر دیں تو بھی خلافت میں فرق نہیں آ سکتا۔ جیسے نبی اکیلا بھی نبی ہوتا ہے اسی طرح خلیفہ اکیلا بھی خلیفہ ہوتا ہے۔ پس مبارک ہے وہ جو خدا کے فیصلہ کو قبول کرے۔ خداتعالیٰ نے جو بوجھ مجھ پر رکھا ہے وہ بہت بڑا ہے اور اگر اُسی کی مدد میرے شامل حال نہ ہو تو میں کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ لیکن مجھے اُس پاک ذات پر یقین ہے کہ وہ ضرور میری مدد کرے گی۔ میرا فرض ہے کہ جماعت کو متحد رکھوں اور انہیں متفرق نہ ہونے دوں اس لئے ہر ایک مشکل کا مقابلہ کرنا میرا کام ہے اور اِنْشَائَ اللّٰہُ آسمان سے میری مدد ہوگی۔ میں اس اعلان کے ذریعہ ہر ایک شخص پر جو اَب تک بیعت میں داخل نہیں ہوا یا بیعت کے عہد میں متردّد ہے حُجت پوری کرتا ہوں اور خدا کے حضور میں اب مجھ پر کوئی الزام نہیں۔ خدا کرے میرے ہاتھ سے یہ فساد فرو ہو جائے اور یہ فتنہ کی آگ بُجھ جائے تا کہ وہ عظیم الشان کام جو خلیفہ کا فرضِ اوّل ہے یعنی کل دنیا میں اپنے مُطاع کی صداقت کو پہنچانا میںاُس کی طرف پوری توجہ کر سکوں۔ کاش! میں اپنی موت سے پہلے دنیا کے دور دراز علاقوں میں صداقتِ احمدیہ روشن دیکھ لوں۔ ۹؎
    مجھے اپنے ربّ پر بہت سی امیدیں ہیں اور میں اس کے حضور میں دعاؤں میں لگا ہوا ہوں اور چاہیے کہ وہ تمام جماعت جو خدا کے فضل کے ماتحت اس ابتلاء سے محفوظ رہی ہے اس کام میں میری مدد کرے اور دعاؤں سے اس فتنہ کی آگ کو فرو کرے۔ اور جو ایسا کریں گے خدا کے فضل کے وارث ہو جائیں گے اور میری خاص دعاؤں میں ان کو حصہ ملے گا۔
    میرے پیارو! آجکل نمازوں میں خشوع و خضوع زیادہ کرو اور تہجد کے پڑھنے میں بھی سُستی نہ کرو۔ جو روزہ رکھ سکتے ہیں وہ روزہ رکھیں اور جو صدقہ دے سکتے ہیں وہ صدقہ دیں۔ نہ معلوم کس کی دعا سے، کس کے روزے سے، کس کے صدقہ سے خداتعالیٰ اِس اختلاف کی مصیبت کو ٹال دے اور احمدی جماعت پھر شاہراہِ ترقی پر قدم زَن ہو۔ خوب یاد رکھو کہ گو اکثر حصہ جماعت بیعت کر چکا ہے مگر تھوڑے کو بھی تھوڑا نہ سمجھو کیونکہ ایک باپ یا ایک بھائی کبھی پسند نہیں کرتا کہ اس کے دس بیٹوں یا بھائیوں میں سے ایک بھی جدا ہو جائے پس ہم کیونکر پسند کر سکتے ہیں کہ ہمارے بھائیوں میں سے بعض کھوئے جائیں خدا نہ کرے کہ ایسا ہو۔
    پھر میں یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ فتنہ کی مجلسوں میں مت بیٹھو کیونکہ ابتداء میں انسان کا ایمان ایسا مضبوط نہیںہوتا کہ وہ ہر ایک زہر سے بچ سکے۔ پس ایسا نہ ہو کہ تم ٹھوکر کھاؤ۔ ان دو نصیحتوں کے علاوہ ایک اور تیسری نصیحت بھی ہے اور وہ یہ کہ جہاں جہاں تمہیںمعلوم ہو کہ اختلاف کی آگ بھڑک رہی ہے وہاں وہ لوگ جو مضبوط دل رکھتے ہیں اپنے وقت کا حرج کر کے بھی پہنچیں اور اپنے بھائیوں کی جان بچائیں اور جو ایسا کریں گے خدا کی اُن پر بڑی بڑی رحمتیں ہوں گی۔
    فتنے ہیں اور ضرور ہیںمگر تم جو اپنے آپ کو اتحاد کی رسّی میں جکڑ چکے ہو خوش ہو جاؤ کہ انجام تمہارے لئے بہتر ہوگا۔ تم خدا کی ایک برگزیدہ قوم ہوگے اور اس کے فضل کی بارشیں اِنْشَائَ اللّٰہُ تم پر اِس زور سے برسیں گی کہ تم حیران ہو جاؤ گے۔ میں جب اس فتنہ سے گھبرایا اور اپنے ربّ کے حضور گرا تو اس نے میرے قلب پر یہ مصرعہ نازل فرمایا کہ
    ’’شکرللہ مل گیا ہم کو وہ لعلِ بے بدل‘‘
    اتنے میں مجھے ایک شخص نے جگا دیا اور میں اُٹھ کر بیٹھ گیا مگر پھر مجھے غنودگی آئی اور میں اس غنودگی میں اپنے آپ کو کہتا ہوں کہ اس کا دوسرا مصرعہ یہ ہے کہ
    ’’کیا ہوا گر قوم کا دل سنگ خارا ہو گیا‘‘
    مگر میں نہیں کہہ سکتا کہ دوسرا مصرعہ الہامی تھا یا بطور تفہیم تھا۔
    پھر کل بھی میں نے اپنے ربّ کے حضور میں نہایت گھبرا کر شکایت کی کہ مولا ! میں ان غلط بیانیوں کا کیا جواب دوں جو میرے برخلاف کی جاتی ہیں اور عرض کی کہ ہر ایک بات حضور ہی کے اختیار میں ہے اگر آپ چاہیں تو اس فتنہ کو دور کر سکتے ہیں تو مجھے ایک جماعت کی نسبت بتایا گیا کہ لَیُمَزِّقَنَّھُمْ یعنی اللہ تعالیٰ ضرور ضرور ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ پس اس سے معلوم ہوتا ہے ابتلاء ہیں لیکن انجام بخیر ہوگا مگر یہ شرط ہے کہ تم اپنی دعاؤں میں کوتاہی نہ کرو۔
    حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ بعض بڑے چھوٹے کئے جائیں گے اور چھوٹے بڑے کئے جائیں گے ۱۰؎ پس خدا کے حضور میں گر جاؤ کہ تم ان چھوٹوں میں داخل کئے جاؤ جنہوں نے بڑا ہونا اور ان بڑوں میں داخل نہ ہو جن کیلئے چھوٹا ہونا مقدر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم کرے اور اپنے فضل کے سایہ کے نیچے رکھے اور شماتت اعداء سے بچائے۔ اسلام پر ہی ہماری زندگی ہو اور اسلام پر ہی ہماری موت ہو ۔ آمین یَارَبَّ الْعٰلَمِیْنَ
    خاکسار
    مرزا محمود احمد
    از قادیان ۲۱؍ مارچ ۱۹۱۴ء
    (انوار العلوم جلد ۲ صفحہ ۱۱ تا ۱۹ )
    ۱؎ البقرۃ: ۳۱ ۲؎ النور: ۵۶ ۳؎ الجمعۃ: ۳،۴
    ۴؎ ابراہیم: ۸ ۵؎ النور: ۵۶ ۶؎،۷ القمر: ۲۶،۲۷
    ۸؎ البقرۃ: ۳۱ ۹؎ ابراہیم: ۲۱
    ۱۰؎ تذکرہ صفحہ۵۳۹۔ایڈیشن چہارم

    منصبِ خلافت
    (نمائند گان جماعت سے ایک اہم خطاب فرمودہ ۱۲؍ اپریل ۱۹۱۴ء)
    اَشْھَدُ اَنْ لاَّاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ
    اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
    ۱؎
    دعائے ابراہیم ؑ
    اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ایک پیشگوئی کا ذکر فرمایا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاکے
    رنگ میں ہے وہ دعا جو ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر مکہ کے وقت کی۔
    یہ دعا ایک جامع دعا ہے اس میں اپنی ذرّیت میں سے ایک نبی کے مبعوث ہونے کی دعا کی۔ پھر اِسی دعا میں یہ ظاہر کیا کہ انبیاء علیہم السلام کے کیا کام ہوتے ہیں، ان کے آنے کی کیا غرض ہوتی ہے؟ فرمایا الٰہی! ان میں ایک رسول ہو، انہی میں سے ہو۔
    انبیاء کی بعثت کی غرض
    وہ رسول جو مبعوث ہو اُس کا کیا کام ہو؟اس کا پہلا کام یہ ہو کہ وہ تیری آیات ان پر
    پڑھے۔ دوسرا کام اُن کو کتاب سکھائے اور تیسرا کام یہ ہو کہ حکمت سکھائے۔ چوتھا کام اُن کو پاک کرے۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد میں مبعوث ہونے والے ایک رسول کے لئے دعا کی اور اس دعا ہی میں اُن اغراض کو عرض کیا جو انبیاء کی بعثت سے ہوتی ہیں اور یہ چار کام ہیں۔ میں نے غور کر کے دیکھا ہے کہ کوئی کام اصلاحِ عالَم کا نہیں جو اس سے باہر رہ جاتا ہو۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اصلاح دنیا کی تمام اصلاحوں کو اپنے اندر رکھتی ہے۔
    خلفاء کا کام
    انبیاء علیہم السلام کے اغراضِ بعثت پر غور کرنے کے بعد یہ سمجھ لینا بہت آسان ہے کہ خلفاء کا بھی یہی کام ہوتا ہے کیونکہ خلیفہ جو آتا ہے اس کی
    غرض یہ ہوتی ہے کہ اپنے پیشرو کے کام کو جاری کرے پس جو کام نبی کا ہوگا وہی خلیفہ کا ہوگا۔ اب اگر آپ غور اور تدبر سے اس آیت کو دیکھیں تو ایک طرف نبی کا کام اور دوسری طرف خلیفہ کا کام کھلجائے گا۔
    میں نے دعا کی تھی کہ میں اس موقع پر کیا کہوں تو اللہ تعالیٰ نے میری توجہ اس آیت کی طرف پھیر دی اور مجھے اسی آیت میں وہ تمام باتیں نظر آئیں جو میرے اغراض اور مقاصد کو ظاہر کرتی ہیں اس لئے میں نے چاہا کہ اس موقع پر چند استدلال پیش کر دوں۔
    شکر ربّانی برجماعت حقانی
    مگر اس سے پہلے کہ میں استدلال کو پیش کروں میں خداتعالیٰ کا شکر کرنا چاہتا ہوں کہ اس نے ایک ایسی
    جماعت پیدا کر دی جس کے دیئے جانے کا انبیاء سے وعدہ ٔالٰہی ہوتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ چاروں طرف سے محض دین کی خاطر، اسلام کی عزت کے لئے اپنا روپیہ خرچ کر کے اور اپنے وقت کا حرج کر کے احباب آئے ہیں۔ میں جانتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ایسے مخلص دوستوں کی محنت کو ضائع نہیں کرے گا وہ بہتر سے بہتر بدلے دے گا کیونکہ وہ اس وعدہ کے موافق آئے ہیں جو خداتعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام سے کیا تھا۔ اس لئے جب کل میں نے درس میں ان دوستوں کو دیکھا تو میرا دل خداتعالیٰ کی حمد اور شکر سے بھر گیا کہ یہ لوگ ایسے شخص کے لئے آئے ہیں جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ چالباز ہے (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ) اور پھر میرے دل میں اور بھی جوش پیدا ہوا جب میں نے دیکھا کہ وہ میرے دوستوں کے بُلانے ہی پر جمع ہو گئے ہیں۔ اس لئے آج رات کو میں نے بہت دعائیں کیں اور اپنے ربّ سے یہ عرض کیا کہ الٰہی! میں تو غریب ہوں میں اِن لوگوں کو کیا دے سکتا ہوں حضور! آپ ہی اپنے خزانوں کو کھول دیجئے اور ان لوگوں کو جو محض دین کی خاطر یہاں جمع ہوئے ہیں اپنے فضل سے حصہ دیجئے۔ اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دعاؤں کو ضرور قبول کرے گا کیونکہ مجھے یاد نہیں میں نے کبھی دردِ دل اور بڑے اضطراب سے دعا کی ہو اور وہ قبول نہ ہوئی ہو۔ بچہ بھی جب درد سے چِلاتا ہے تو ماں کی چھاتیوں میں دودھ جوش مارتا ہے۔ پس جب ایک چھوٹے بچے کے لئے باوجود ایک قلیل اور عارضی تعلق کے اس کے چِلّانے پر چھاتیوں میں دودھ آ جاتا ہے تو یہ ناممکن ہے کہ خداتعالیٰ کی مخلوق میں سے کوئی اضطراب اور درد سے دعا کرے اور وہ قبول نہ ہو۔ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ وہ دعا ضرور قبول ہوتی ہے یہ معاملہ میرے ساتھ ہی نہیں بلکہ ہر شخص کے ساتھ ہے چنانچہ فرماتا ہے۔
    ۲؎جب میرے بندے میری نسبت تجھ سے سوال کریں تو ان کو کہہ دے کہ میں قریب ہوں اور پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں اور اسے قبول کرتا ہوں۔ یہاں فرمایا یہ نہیں کہا کہ میں صرف مسلمان یا کسی خاص مُلک اور قوم کے آدمی کی دعا سنتا ہوں، کوئی ہو، کہیں کا ہو، اور کہیں ہو۔
    اس قبولیت دعا کی غرض کیا ہوتی ہے؟ مان لے اور مسلمان ہو جاوے اور مسلمان اور مؤمن ہو تو اس ایمان میں ترقی کرے۔ کافر کی دعائیں اس لئے قبول کرتا ہوں کہ مجھ پر ایمان ہو اور وہ مؤمن بن جاوے۔ اور مؤمن کی اس لئے کہ ُرشد اور یقین میں ترقی کرے۔ خداتعالیٰ کی معرفت اور شناخت کا بہترین طریق دعا ہی ہے اور مؤمن کی امیدیں اسی سے وسیع ہوتی ہیں۔ پس میں نے بھی بہت دعائیں کی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ قبول ہوں گی۔
    پھر میں نے اس کے حضور دعا کی کہ میں ان لوگوں کے سامنے کیا کہوں تو آپ مجھے تعلیم کر اور آپ مجھے سمجھا۔ میں نے اس فتنہ کو دیکھا جو اِس وقت پیدا ہوا ہے میں نے اپنے آپ کو اِس قابل نہ پایا کہ اُس کی توفیق اور تائید کے بغیر اِس کو دور کر سکوں میرا سہارا اُسی پر ہے اس لئے میں اُسی کے حضور جھکا اور درخواست کی کہ آپ ہی مجھے بتائیں اِن لوگوں کو جو جمع ہوئے ہیں کیا کہوں۔ اُس نے میرے قلب کو اسی آیت کی طرف متوجہ کیا اور مجھ پر ان حقائق کو کھولا جو اِس میں ہیں۔ میں نے دیکھا کہ خلافت کے تمام فرائض اور کام اِس آیت میں بیان کر دیئے گئے ہیں تب میں نے اِسی کو اِس وقت تمہارے سامنے پڑھ دیا۔
    لَاخِلَافَۃَ اِلاَّ بِالْمَشْوَرَۃِ
    میرا مذہب ہے لَاخِلَافَۃَ اِلاَّ بِالْمَشْوَرَۃِ۳؎ خلافت جائز ہی نہیںجب تک اس میں شوریٰ نہ ہو۔اِسی
    اصول پر تم لوگوں کو یہاں بُلوایا گیا ہے اور میں خداتعالیٰ کے فضل سے اس پر قائم ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اِس پر قائم رہوں۔ میں نے چاہا کہ مشورہ لوں مگر میں نہیں جانتا تھا کہ کیا مشورہ لوں۔ میرے دوستوں نے کہا کہ مشورہ ہونا چاہیے میں نے اس کی تصریح نہیں پوچھی۔ میں چونکہ مشورہ کو پسند کرتا ہوں اس لئے ان سے اتفاق کیا اور انہوں نے آپ کو بُلا لیا مگر مجھے کل تک معلوم نہ تھا کہ میں کیا کہوں آخر جب میں نے خدا کے حضور توجہ کی تو یہ آیت میرے دل میں ڈالی گئی کہ اسے پڑھو۔
    تفسیر دعائے ابراہیم ؑ
    اس آیت کی تلاوت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی یا خلیفہ کا پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ آیاتُ اللہ لوگوں کو سنائے۔
    آیت کہتے ہیں نشان کو، دلیل کو جس سے کسی چیز کا پتہ لگے۔ پس نبی جو آیاتُ اللہ پڑھتا ہے اس سے یہ مراد ہے کہ وہ ایسے دلائل سناتا اور پیش کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اُس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فرشتوں، رسولوں اور اس کی کتب کی تائید اور تصدیق ان کے ذریعہ ہوتی ہے۔ پس اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو ایسی باتیں سنائے جن سے ان کو اللہ پر اور نبیوں اور کتب پر ایمان حاصل ہو۔
    پہلا کام
    اس سے معلوم ہوا کہ نبی اور اس کے جانشین خلیفہ کا پہلا کام تبلیغ الحق اور دعوت اِلَی الْخَیْرِ ہوتی ہے۔ وہ سچائی کی طرف لوگوں کو بُلاتا ہے اور اپنی دعوت کو
    دلائل اور نشانات کے ذریعہ مضبوط کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میںیہ کہو کہ وہ تبلیغ کرتا ہے۔
    دوسرا کام
    پھر دوسرا فرض نبی یا خلیفہ کا اس آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے ان کو کتاب سکھا دے۔ انسان جب اس بات کو مان لے کہ
    اللہ تعالیٰ ہے اور اس کی طرف سے دنیا میں رسول آتے ہیں اور خداتعالیٰ کے ملائکہ ان پر اُترتے ہیں اور ان کے ذریعہ کتب الٰہیہ نازل ہوتی ہیں تو اس کے بعد دوسرا مرحلہ اعمال کا آتا ہے کیونکہ خداتعالیٰ پر ایمان لاکر دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے آدمی کو اَب کیا کرنا چاہیے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے والی آسمانی شریعت ہوتی ہے اور نبی کا دوسرا کام یہ ہے کہ ان نَو مُسلموں کو شریعت سکھائے۔ ان ہدایات اور تعلیمات پر عمل ضروری ہوتا ہے جو خداتعالیٰ کے رسولوں کی معرفت آتی ہیں۔ پس اس موقع پر دوسرا فرض نبی کا یہ بتایا گیا ہے کہ وہ انہیں فرائض کی تعلیم دے۔
    کتاب کے معنی شریعت اور فرض کے ہیں۔ جیسے قرآن مجید میں یہ لفظ فرض کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے جیسے ۴؎ پس اس ترتیب کو خوب یاد رکھو کہ پہلا کام اسلام میں لانے کا تھا۔ دوسرا ان کو شریعت سکھانے اور عامل بنانے کا۔
    تیسرا کام
    عمل کے لئے ایک اور بات کی ضرورت ہے اُس وقت تک انسان کے اندر کسی کام کے کرنے کے لئے جوش اور شوق پیدا نہیں ہوتا جب تک
    اسے اس کی حقیقت اور حکمت سمجھ میں نہ آجائے۔ اس لئے تیسرا کام یہاں یہ بیان کیا اور وہ ان کو حکمت کی تعلیم دے۔ یعنی جب وہ اعمالِ ظاہری بجا لانے لگیں تو پھر ان اعمال کی حقیقت اور حکمت سے انہیں باخبر کرے جیسے ایک شخص ظاہری طور پر نماز پڑھتا ہے۔ نماز پڑھنے کی ہدایت اور تعلیم دینا یہ کے نیچے ہے۔ اور نماز کیوں فرض کی گئی، اِس کے کیا اغراض و مقاصد ہیں؟ اِس کی حقیقت سے واقف کرنا یہ تعلیم الحکمۃ ہے۔ ان دونوں باتوں کی مثال خود قرآن شریف سے ہی دیتا ہوں۔ قرآن شریف میں حکم ہے ۵؎ نمازیں پڑھو، یہ حکم تو گویا کے ماتحت ہے۔ ایک جگہ یہ فرماتا ہے ۶؎ یعنی نماز بدیوں اور ناپسند باتوں سے روکتی ہے۔ یہ نماز کی حکمت بیان فرمائی کہ نماز کی غرض کیا ہے۔ اسی طرح پھر رکوع، سجود، قیام اور قعدہ کی حکمت بتائی جائے اور خدا کے فضل سے میں یہ سب بتا سکتا ہوں۔ غرض تیسرا کام نبی یا اس کے خلیفہ کا یہ ہوتا ہے کہ وہ احکامِ شریعت کی حکمت سے لوگوں کو واقف کرتا ہے۔
    غرض ایمان کے لئےفرمایا۔ پھر ایمان کے بعد اعمال کے لیے ۔ پھر ان اعمال میں ایک جوش اور ذوق پیدا کرنے اور ان کی حقیقت بتانے کے واسطے فرمایا، نماز کے متعلق میں نے ایک مثال دی ہے ورنہ تمام احکام میں اللہ تعالیٰ نے حکمتیں رکھی ہیں۔
    چوتھا کام
    پھر چوتھا کام فرمایا حکمت کی تعلیم کے بعد انہیں پاک کرے۔ تزکیہ کا کام انسان کے اپنے اختیار میں نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے اپنے قبضہ اور
    اختیارمیں ہے۔
    اب سوال ہوتا ہے کہ جب یہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے تو نبی کو کیوں کہا کہ وہ پاک کرے؟ اس کی تفصیل میں آگے بیان کروں گا مختصر طور پر میںیہاں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس کا ذریعہ بھی اللہ تعالیٰ نے آپ ہی بتا دیا ہے کہ پاک کرنے کا کیا طریق ہے اور وہ ذریعہ دعا ہے، پس نبی کو جو حکم دیا گیا ہے کہ ان لوگوں کو پاک کرے تو اس سے مراد یہ ہے کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرے۔
    اِس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی حکمتیں مخفی رکھی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ آیت سورہ بقرہ کی ترتیب کا پتہ دیتی ہے لوگوں کو سورہ بقرہ کی ترتیب میں بڑی بڑی دقتیں پیش آئی ہیں لوگ حیران ہوتے ہیں کہ کہیں کچھ ذکر ہے کہیں کچھ۔
    کہیں بنی اسرائیل کا ذکر آ جاتا ہے کہیں نماز روزہ کا، کہیں طلاق کا،کہیں ابراہیم علیہ السلام کے مباحثات کا، کہیں طالوت کا، ان تمام واقعات کا آپس میں جوڑ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعہ مجھے یہ سب کچھ سکھا دیا ہے۔
    سورہ بقرہ کی ترتیب کس طرح سمجھائی گئی
    حضرت خلیفۃ المسیح کی زندگی کا واقعہ ہے کہ منشی فرزند علی صاحب
    نیمجھ سے کہا کہ میں تم سے قرآن مجید پڑھنا چاہتا ہوں۔ اُس وقت اُن سے میری اس قدر واقفیت بھی نہ تھی میں نے عذر کیا مگر انہوں نے اصرار کیا، میں نے سمجھا کہ کوئی منشاء الٰہی ہے آخر میں نے ان کو شروع کرا دیا۔ ایک دن میں پڑھا رہا تھا کہ میرے دل میں بجلی کی طرح ڈالا گیا کہ آیت سورہ بقرہ کی ترتیب پورے طور میری سمجھ میں آ گئی، اب آپ اس کو مدنظر رکھ کر سورہ بقرہ کی ترتیب پر غور کریں تو حقیقت معلوم ہو جائے گی۔
    ترتیب سورہ بقرہ
    اب غور کرو! پہلے بتایا کہ قرآن کریم کا نازل کرنے والا عالم خدا ہے پھر بتایا کہ قرآن مجید کی کیا ضرورت ہے کیونکہ سوال ہوتا تھا
    کہمختلف مذاہب کی موجودگی میں اس مذہب کی کیا ضرورت پیش آئی اور یہ کتاب خداتعالیٰ نے کیوں نازل کی، اس کی غرض و غایت بتائی۔ یعنی سب مذاہب تو صرف متقی بنانے کا دعویٰ کرتے ہیں اور یہ کتاب ایسی ہے جو متقی کو بھی آگے لے جاتی ہے۔ متقی تو اسے کہتے ہیں جو انسانی کوشش کو پورا کرے پس اسے آگے لے جانے کے یہ معنی ہیں کہ خداتعالیٰ اب خود اس سے ہمکلام ہو۔ پھر متقین کے اعمال اور کام بتائے پھر بتایا کہ اس کتاب کے ماننے والوں اور منکروں میں کیا امتیاز ہوگا۔ پھر بتایا کہ انسان چونکہ عبادتِ الٰہی کے لیے پیدا ہوا ہے اس لیے اس کے لیے کوئی ہدایت نامہ چاہیے اور وہ ہدایت نامہ خدا کی طرف سے آنا چاہیے۔ پھر بتایا کہ خداتعالیٰ کی طرف سے ہدایت آتی بھی رہی ہے جیسے کہ ابتدائے عالم میں آدم کی بعثت ہوئی، اس کے بعد اس کو اور کھولا اور آدم کی مثال پیش کر کے بتایا کہ یہ سلسلہ وہیں ختم نہ ہو گیا بلکہ ایک لمبا سلسلہ انبیاء کا بنی اسرائیل میں ہوا۔ جو موجود ہیں ان سے پوچھو ہم نے ان پر کس قدر نعمتیں کی ہیں اور یہ بھی فرمایا کہ ظالم ہمارے کلام کے مستحق نہیں ہو سکتے اب جب کہ یہ ظالم ہوگئے ہیں ان کو ہمارا کلام سننے کا حق نہیں اب ہم کسی اور خاندان سے تعلق کریں گے اور وہ بنی اسماعیل کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا کیونکہ ابراہیم علیہ السلام سے خداتعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ دونوں بیٹوں کے ساتھ نیک سلوک کروں گا جب ایک سے وہ وعدہ پورا ہوا، تو ضرور تھاکہ دوسرے سے بھی پورا ہو چنانچہ بتایا کہ ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر کعبہ کے وقت اس طرح دعا کی تھی جو اَب پوری ہونے لگی ہے۔ بار بار ۷؎ فرما کر یہ بتایا کہ بنی اسرائیل کا حق شکایت کا کوئی نہیں ان سے وعدہ پورا ہو چکا ہے اور جس خدا نے ان کا وعدہ پورا کیا ضرور تھا کہ بنی اسماعیل کا وعدہ بھی پورا کرتا۔ اور اس طرح پر بنی اسرائیل پر بھی اتمامِ حجت کیا کہ باوجود انعامِ الٰہیہ کے تم نے نافرمانی کی اور مختلف قسم کی بدیوں میں مبتلا ہو کر اپنے آپ کو تم نے محروم کرنے کا مستحق ٹھہرا لیا ہے تم میں نبی آئے، بادشاہ ہوئے اب وہی انعام بنی اسماعیل پر ہوں گے۔
    اس کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ یہ دعا تو تھی ہم کیونکر مانیں کہ یہ شخص وہی موعود ہے اس کا ثبوت ہونا چاہیے ۔ اس کے لئے فرمایا کہ موعود ہونے کا یہ ثبوت ہے کہ اس دعا میں جو باتیں بیان کی گئی تھیں وہ سب اس کے اندر پائی جاتی ہیں او رچونکہ اس نے ان سب وعدوں کو پورا کر دیا ہے اس لئے یہی وہ شخص ہے۔ گو سارا قرآن شریف ان چار ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہے لیکن اس سورۃ میں خلاصۃً سب باتیں بیان فرمائیں تا معترض پر حجت ہو کے متعلق فرمایا ۸؎ اور آخر میں فرمایا ۹؎ اس میں عقل رکھنے والوں کے لئے کافی دلائل ہیں جن سے اللہ تعالیٰ، ملائکہ، کلامِ الٰہی اور نبوت کا ثبوت ملتا ہے یہ تو نمونہ دیا تلاوتِ آیات کا۔ اس کے بعد تھا اس کیلئے مختصر طور پر شریعت اسلام کے موٹے موٹے احکام بیان فرمائے اور ان میں بار بار فرمایا ، جس سے یہ بتایا کہ دیکھو اس پر کیسی بے عیب شریعت نازل ہوئی ہے۔ پس یہ کا بھی مصداق ہے اور کا بھی۔ تیسرا کام بتایا تھا کہ لوگوں کو حکمت سکھائے۔ اس لئے شریعت کے موٹے موٹے حکم بیان فرمانے کے بعد قومی ترقی کے راز اور شرائع کی اغراض کا ذکر فرمایا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور طالوتؑ کے واقعات سے بتایا کہ کس طرح قومیں ترقی کرتی ہیں اور کس طرح مُردہ قومیں زندہ کی جاتی ہیں۔ پس تم کو بھی ان راہوں کو اختیار کرنا چاہیے اور اس حصہ میں ۱۰؎ فرما کر یہ اشارہ فرما دیا کہ لو تیسرا وعدہ بھی پورا ہو گیا۔ اس رسول نے حکمت کی باتیں بھی سکھا دی ہیں۔ مثلاً طالوت کا واقعہ بیان فرمایا کہ اُنہوں نے حکم دیا کہ نہر سے کوئی پانی نہ پیئے اور پینے والے کو ایسی سزا دی کہ اسے اپنے سے علیحدہ کر دیا اور بتایا کہ جب کوئی شخص چھوٹا حکم نہیں مان سکتا تو اس نے بڑے بڑے حکم کہاں ماننے ہیں۔ اور یہ بھی بتایا کہ جس وقت جنگ ہو اُس وقت حاکم کی کیسی اطاعت کرنی چاہیے۔ اس میں یہ بھی بتایا کہ خلفاء پر اعتراض ہوا ہی کرتا ہے اور آخر اللہ تعالیٰ ان کو غلبہ دیتا ہے۔ ان حکموں کے بتانے کے بعد تزکیہ رہ گیا تھا۔ اس کے لئے یہ انتظام فرمایا کہ اس سورۃ کو دعا پر ختم کیا ہے جس میں یہ بتایا ہے کہ تزکیہ کا طریق دعا ہے۔ نبی بھی دعا کرے اور جماعت کو بھی دعا کی تعلیم دے۔ آپ لوگ اس سورۃ کو اَب پڑھ کر دیکھیں جس ترتیب سے آیت مذکورہ میں الفاظ ہیں اسی ترتیب سے اس سورۃ میں آیات اور کتاب اور حکمت اور طریق تزکیہ بیان فرمایا ہے۔ پس یہ آیت اس سورۃ کی کنجی ہے جو اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھ میں دی ہے۔
    الغرض نبی کا کام بیان فرمایا تبلیغ کرنا، کافروں کو مؤمن کرنا، مؤمنوں کو شریعت پر قائم کرنا، پھر باریک در باریک راہوں کا بتانا، پھر تزکیۂ نفس کرنا۔ یہی کام خلیفہ کے ہوتے ہیں۔ اب یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے یہی کام اِس وقت میرے رکھے ہیں۔
    آیات اللہ کی تلاوت میں اللہ تعالیٰ کی ہستی پر دلائل، ملائکہ پر دلائل، ضرورتِ نبوت اور نبوتِ محمدیہ کے دلائل، قرآن مجید کی حقّیت پر دلائل، اور ضرورتِ الہام و وحی پر دلائل، جزاء و سزا اور مسئلہ تقدیر پر دلائل، قیامت پر دلائل شامل ہیں۔ یہ معمولی کام نہیں اس زمانہ میں اس کی بہت بڑی ضرورت ہے اور یہ بہت بڑا سلسلہ ہے۔
    پھر دوسرا کام ہے بار بار شریعت پر توجہ دلائے اور احکام و اوامرالٰہی کی تعمیل کے لئے یاددہانی کراتا رہے۔ جہاں سُستی ہو اس کا انتظام کرے۔ اب تم خود غور کرو کہ یہ کام کیا چند کلرکوں کے ذریعہ ہو سکتے ہیں اور کیا خلیفہ کا اتنا ہی کام رہ جاتا ہے کہ وہ چندوں کی نگرانی کرے؟ اور دیکھ لے کہ دفتر محاسب ہے، اس میں چندہ آتا ہے اور چند ممبر مل کر اسے خرچ کر دیں؟ انجمنیں دنیا میں بہت ہیں اور بڑی بڑی ہیں جہاں لاکھوں روپیہ سالانہ آتا ہے اور وہ خرچ کرتی ہیں مگر کیا وہ خلیفہ بن جاتی ہیں؟
    خلیفہ کا کام کوئی معمولی اور رذیل کام نہیں یہ خداتعالیٰ کا ایک خاص فضل اور امتیاز ہے جو اُس شخص کو دیا جاتا ہے جو پسند کیا جاتا ہے۔ تم خود غور کر کے دیکھو کہ یہ کام جو میں نے بتائے ہیں میں نے نہیں خدا نے بتائے ہیں کیا کسی انجمن کا سیکرٹری اِس کو کر سکتا ہے؟ ان معاملات میں کوئی سیکرٹری کی بات کو مان سکتا ہے؟ یا آج تک کہیں اِس پر عمل ہوا ہے؟ اور جگہ کو جانے دو یہاں ہی بتا دو کہ کبھی انجمن کے ذریعہ یہ کام ہوا ہو۔ ہاں چندوں کی یاددہانیاں ہیں وہ ہوتی رہتی ہیں۔
    یہ پکی بات ہے کہ کے لئے ضرور خلیفہ ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ کسی انجمن کے سیکرٹری کے لئے یہ شرط کہاں ہے کہ وہ پاک بھی ہو۔ ممکن ہے ضرورتاً عیسائی رکھا جاوے یا ہندو ہو جو دفاتر کا کام عمدگی سے کر سکے پھر وہ خلیفہ کیونکر ہو سکتا ہے؟
    خلیفہ کے لئے تعلیم الکتاب ضروری ہے اس کے فرائض میں داخل ہے سیکرٹری کے فرائض میں قواعد پڑھ کر دیکھ لو کہیں بھی داخل نہیں۔ پھر خلیفہ کا کام ہے کہ خداتعالیٰ کے احکام کے اغراض و اسرار بیان کرے جن کے علم سے ان پر عمل کرنے کا شوق و رغبت پیدا ہوتی ہے۔ مجھے بتاؤ کہ کیا تمہاری انجمن کے سیکرٹری کے فرائض میں یہ بات ہے؟ کتنی مرتبہ احکامِ الٰہیہ کی حقیقت اور فلاسفی انجمن کی طرف سے تمہیں سکھائی گئی کیا اس قسم کے سیکرٹری رکھے جاسکتے ہیں؟ یا انجمنیں اس مخصوص کام کو کر سکتی ہیں؟ ہرگز نہیں۔
    انجمنیں محض اِس غرض کے لئے ہوتی ہیں کہ وہ بہی کھاتے رکھیں اور خلیفہ کے احکام کے نفاذ کے لئے کوشش کریں۔ پھر خلیفہ کاکام ہے قوم کا تزکیہ کرے۔ کیا کوئی سیکرٹری اِس فرض کو ادا کر سکتا ہے؟ کسی انجمن کی طرف سے یہ ہدایت جاری ہوئی؟ یا تم نے سنا ہو کہ سیکرٹری نے کہا ہو کہ میں قوم کے تزکیہ کے لئے رو رو کر دعائیں کرتا ہوں؟
    میں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ کام سیکرٹری کا ہے ہی نہیں اور نہ کوئی سیکرٹری کہہ سکتا ہے کہ میں دعائیں کرتا ہوں۔ جھوٹا ہے جو کہتا ہے کہ انجمن اس کام کو کر سکتی ہے۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کوئی سیکرٹری یہ کام نہیں کر سکتا اور کوئی انجمن نبی کے کام نہیں کر سکتی۔ اگر انجمنیں یہ کام کر سکتیں تو خداتعالیٰ دنیا میں مامور اور مرسل نہ بھیجتا بلکہ اس کی جگہ انجمنیں بناتا مگر کسی ایک انجمن کا پتہ دو جس نے کہا ہو کہ خدا نے ہمیں مامور کیا ہے۔
    کوئی دنیا کی انجمن نہیں ہے جو یہ کام کر سکے۔ ممبر تو اکٹھے ہو کر چند امور پر فیصلہ کرتے ہیں کیا کبھی کسی انجمن میں اس آیت پر بھی غور کیا گیا ہے۔ یاد رکھو خداتعالیٰ جس کے سپرد کوئی کام کرتا ہے اُسی کو بتاتا ہے کہ تیرے یہ کام ہیں۔ یہ کام ہیں جو انبیاء اور خلفاء کے ہوتے ہیں۔ روپیہ اکٹھا کرنا ادنیٰ درجہ کاکام ہے۔ خلفاء کاکام انسانی تربیت ہوتی ہے اور ان کو خداتعالیٰ کی معرفت اور یقین کے ساتھ پاک کرنا ہوتا ہے۔ روپیہ تو آریوں اور عیسائیوں کی انجمنیں بلکہ دہریوں کی انجمنیں بھی جمع کر لیتی ہیں۔ اگر کسی نبی یا اس کے خلیفہ کا بھی یہی کام ہو تو نَعُوْذُ بِاللّٰہِ یہ سخت ہتک اور بے ادبی ہے اُس نبی اور خلیفہ کی۔
    یہ سچ ہے کہ ان مقاصد اور اغراض کی تکمیل کے لئے جو اس کے سپرد ہوتے ہیں اس کو بھی روپیہ کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ بھی ۱۱؎ کہتا ہے مگر اس سے اُس کی غرض روپیہ جمع کرنا نہیں بلکہ اِس رنگ میں بھی اُس کی غرض وہی تکمیل اور تزکیہ ہوتی ہے۔ اور پھر بھی اس غرض کے لئے اس کی قائم مقام ایک انجمن یا شوریٰ ہوتی ہے جو انتظام کرے۔ میں پھر کہتا ہوں کہ خلیفہ کا کام روپیہ جمع کرنا نہیں ہوتا اور نہ اس کے اغراض و مقاصد کا دائرہ کسی مدرسے کے جاری کرنے تک محدود ہوتا ہے یہ کام دنیا کی دوسری قومیں بھی کرتی ہیں۔
    خلیفہ کے اس قسم کے کاموں اور دوسری قوموں کے کاموں میں فرق ہوتا ہے وہ ان امور کو بطور مبادی اور اسباب کے اختیار کرتا ہے یا اختیار کرنے کی ہدایت کرتا ہے دوسری قومیں اس کو بطور ایک اصل مقصد اور غایت کے اختیار کرتی ہیں۔
    حضرت صاحب نے جو مدرسہ بنایا اس کی غرض وہ نہ تھی جو دوسری قوموں کے مدرسوں کی ہے۔ پس یاد رکھو کہ خلیفہ کے جو کام ہوتے ہیں وہ کسی انجمن کے ذریعہ نہیں ہو سکتے۔
    اس قومی اجتماع کی کیا غرض ہے
    اب آپ کو جو بلایا گیا ہے تو خداتعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ میں ان کاموںکے
    متعلق جو خدا نے میرے سپرد کر دیئے ہیں آپ سے مشورہ کروں کہ انہیں کس طرح کروں۔ میں جانتا ہوں اور نہ صرف جانتا ہوں بلکہ یقین رکھتا ہوں کہ وہ آپ میری ہدایت اور رہنمائی کرے گا کہ مجھے کس طرح ان کو سرانجام دینا چاہئے۔ لیکن اُسی نے مشورہ کا بھی تو حکم دیا ہے۔ یہ کام اُس نے خود بتائے ہیں، اُس نے آپ میرے دل میں اس آیت کو ڈالا جو میں نے پڑھی ہے۔ پرسوں مغرب یا عصر کی نماز کے وقت یکدم میرے دل میں ڈالا۔ میں حیران تھا کہ بُلا تو لیا ہے کیا کہوں ۔ اِس پر یہ آیت اُس نے میرے دل میں ڈالی۔
    پس یہ چار کام انبیاء اور ان کے خلفاء کے ہیں ان کے سرانجام دینے میں مجھے تم سے مشورہ کرنا ہے میں اب ان کاموں کو اور وسیع کرتا ہوں۔
    چار نہیں بلکہ آٹھ
    میں اس آیت کی ایک اور تشریح کرتا ہوں جب ان پر میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ ان چار میں اور معنی پوشیدہ تھے اور اس
    طرح پر یہ چار آٹھ بن جاتے ہیں۔
    (۱) اس کے معنی ایک یہ کرتا ہوں کہ کافروں کو مؤمن بنا دے یعنی تبلیغ کرے۔ دوسرے مؤمنوں کو آیات سنائے۔ اس صورت میں ترقی ایمان یا درستی ایمان بھی کام ہوگا یہ دو ہوگئے۔
    (۲) قرآن شریف کتاب موجود ہے اس لئے اس کی تعلیم میں قرآن مجید کا پڑھنا پڑھانا، قرآن مجید کا سمجھنا آ جائے گا۔ کتاب تو لکھی ہوئی موجود ہے اس لئے کام یہ ہوگا کہ ایسے مدارس ہوں جہاں قرآن مجید کی تعلیم ہو۔ پھر اس کے سمجھانے کے لئے ایسے مدارس ہوں جہاں قرآن مجید کا ترجمہ سکھایا جائے اور وہ علوم پڑھائے جائیں جو اس کے خادم ہوں۔ ایسی صورت میں دینی مدارس کا اجراء اور ان کی تکمیل کام ہوگا۔ (ب) دوسرا کام اس لفظ کے ماتحت قرآن شریف پر عمل کرانا ہوگا کیونکہ تعلیم دو قسم کی ہوتی ہے ایک کسی کتاب کا پڑھا دینا اور دوسرے اس پر عمل کروانا۔
    (۳) ۔ تَعْلِیْمُ الْحِکْمَۃِ کے لئے تجاویز اور تدابیر ہوں گی کیونکہ اس فرض کے نیچے احکامِ شرائع کے اسرار سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔
    (۴) ۔ کے معنوں پر غور کیا تو ایک تو یہی بات ہے جو میں بیان کر چکا ہوں کہ دعاؤں کے دزیعہ تزکیہ کرے۔ پھر ابن عباسؓ نے معنی کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اخلاص پیدا کرنا۔ غرض ایک تو یہ معنی ہوئے کہ گناہوں سے بچانے کی کوشش کرے۔ اس لئے جماعت کو گناہوں سے بچانا ضروری ٹھہرا کہ وہ گناہوں میں نہ پڑے۔ اور دوسرے معنوں کے لحاظ سے یہ کام ہوا کہ صرف گناہوں سے نہ بچائے بلکہ ان میں نیکی پیدا کرے۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہو کہ ایک تو وہ تدابیر اختیار کرے جن سے جماعت کے گناہ دور کر دے۔ دوسرے اُن کو خوبصورت بنا کر دکھاوے۔ اعلیٰ مدارج کی طرف لے جاوے اور اُن کے کاموں میں اخلاص اور اطاعت پیدا کرے۔ پھر تیسرے معنی بھی کے ہیں وہ یہ کہ ان کو بڑھائے۔ ان معانی کے لحاظ سے دین و دنیا میں ترقی دینا ضروری ہوا اور یہ ترقی ہر پہلو سے ہونی چاہیے۔ دُنیوی علوم میں دوسروں سے پیچھے ہوں تو اس میں ان کو آگے لے جاوے، تعداد میں کم ہوں تو بڑھائے، مالی حالت کمزور ہو تو اس میں بڑھاوے۔ غرض جس رنگ میں بھی کمی ہو بڑھاتا چلا جاوے۔ اب ان معنوں کے لحاظ سے جماعت کی ہر قسم کی ترقی نبی اور اس کے ماتحت اس کے خلیفہ کا فرض ہوا۔ پھر جب میل سے پاک کرنا اور ترقی کرانا اس کا کام ہوا تو اسی میں غرباء کی خبر گیری بھی آ گئی کیونکہ وہ بھی ایک دنیاوی میل سے لتھڑے ہوتے ہیں اُن کو پاک کرنا اس کا فرض ہے۔ اس غرض کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کا صیغہ رکھا ہے کیونکہ جماعت کے غرباء اور مساکین کا انتظام کرنا بھی خلیفہ کا کام ہے اور اس کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خود ہی اس کا بھی انتظام فرما دیا اور امراء پر زکوٰۃ مقرر فرمائی۔
    پس یاد رکھو کہ کے معنی ہوئے پاک کرے، اخلاص پیدا کرے اور ہر رنگ میں بڑھائے۔ چہارم صدقات کا انتظام کر کے اصلاح کرے۔ اب انجمن والے بھی بے شک بولیں کیونکہ ان امور کے انتظام انجمن کو چاہتے ہیں۔ مگر باوجود اس کے بھی یہ انجمن کا کام نہیں بلکہ خلیفہ کا کام ہے۔ اب تمہیں معلوم ہو گیا ہوگا کہ یہ سب باتیں اس کے نیچے ہیں اور یہ خیالی طور پر نہیں، ڈھکوسلہ کے رنگ میں نہیں بلکہ لغت اور صحابہؓ کے اقوال اِس کی تائید کرتے ہیں۔
    پس میں نے تمہیں وہ کام خلیفہ کے بتائے ہیں جو خداتعالیٰ نے بیان کئے ہیں اور اس کی حقیقت لغت عرب اور صحابہؓ کے مسلّمہ معنوں کی رو سے بتائی ہے میرا کام اتنا ہے۔ خداتعالیٰ نے مجموعی اور یکجائی طور پر مجھے اس سے آگاہ کر دیا اور محض اپنے فضل سے سورۃ بقرہ کی کلید مجھے بتا دی۔ میں اِس راز اور حقیقت کو آج سمجھا کہ تین سال پیشتر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت بجلی کی طرح میرے دل میں کیوں ڈالی؟ قبل از وقت میں اِس راز سے آگاہ نہیں ہو سکتا تھا مگر آج حقیقت کھلی کہ ارادۂ الٰہی میں یہ میرے ہی فرائض اور کام تھے اور ایک وقت آنے والا تھا کہ مجھے ان کی تکمیل کے لئے کھڑا کیا جانا تھا۔ پس جب یہ ظاہر ہوچکا کہ خلیفہ کے کیا کام ہیں یا دوسرے لفظوں میں یہ کہو کہ میرے کیا فرائض ہیں تو اب سوال ہوتا ہے کہ ان کو کیونکر کرنا ہے؟ اور اسی میں مجھے تم سے مشورہ کرنا ہے۔
    مقاصدِ خلافت کی تکمیل کی کیا صورت ہو
    یہ تو آپ کو معلوم ہوچکا کہ خلافت کا پہلا اور ضروری
    کام تبلیغ ہے اس لئے ہمیں سوچنا چاہیے کہ تبلیغ کی کیا صورتیں ہوں۔ مگر میں ایک اور بات بھی تمہیں بتانا چاہتا ہوں اور یہ بات ابھی میرے دل میں ڈالی گئی ہے کہ خلافت کے یہ مقاصدِ اربعہ حضرت خلیفۃ المسیح کی وصیت میں بھی بیان کئے گئے ہیں۔
    خلیفۃ المسیح کی وصیت اسی کی تشریح ہے
    حضرت خلیفۃ المسیح نے اپنی وصیت میں اپنے جانشین کیلئے فرمایا۔
    متقی ہو، ہر دلعزیز ہو، قرآن و حدیث کا درس جاری رہے، عالم باعمل ہو۔ اس میں کی طرف اشارہ اس حکم میں ہے کہ قرآن و حدیث کا درس جاری رہے کیونکہ کے معنی قرآن شریف ہیں اور کے معنی بعض آئمہ نے حدیث کے کئے ہیں۔ اس طرح کے معنی ہوئے قرآن و حدیث سکھائے عام ترجمہ ہے کا۔ کیونکہ تبلیغ کے لئے علم کی ضرورت ہے۔ متقی اور باعمل ہونا اور ہر دلعزیز ہونا یہ کے لئے ضروری ہے کیونکہ جو متقی ہے وہی تزکیہ کر سکتا ہے اور جو خود عمل نہ کرے گا اس کی بات پر اور لوگ عمل نہیں کر سکتے۔ اسی طرح جو قوم کا مزکی ہوگا وہ ہر دلعزیز بھی ضرور ہوگا۔ پھر کہو کہ وصیت میں ایک اور بات بھی ہے کہ درگزر سے کام لے۔ میں کہتا ہوں اس کا ذکر بھی اس آیت میں ہے۔ اللہ تعالیٰ جو ہے اُس کو بھی معزز کرے گا اور غلبہ دے گا۔ جس کا لازمی نتیجہ درگزر ہوگا کیونکہ یہ ایک طاقت کو چاہتا ہے طاقت ملے تو درگزر کرے۔ پس اس دعا میں اللہ تعالیٰ کے ان اسماء کا ذکر کرنے کے یہی معنی ہیں۔ پھر یہ بتایا کہ درگزر نَعُوْذُ بِاللّٰہِ لغو نہیں بلکہ کے خیال کے نیچے ہوگا۔ پس یاد رکھو کہ حضرت خلیفۃ المسیح (خداتعالیٰ کے بڑے بڑے فضل اُن پر ہوں) کی وصیت بھی اسی آیت کی تشریح ہے۔ اب جب کہ یہ ظاہر ہے کہ قرآن مجید نے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اور خود حضرت خلیفۃ المسیح نے خلیفہ کے کام پہلے سے بتا دیئے تو اب جدید شرائط کا کسی کو کیا حق ہے۔ گورنمنٹ کی شرائط کے بعد کسی اور کوکوئی حق نہیں ہوتا کہ اپنی خود ساختہ باتیں پیش کرے۔
    خلیفہ تو خداوند مقرر کرتا ہے پھر تمہارا کیا حق ہے کہ تم شرائط پیش کرو۔ خدا سے ڈرو اور ایسی باتوں سے توبہ کرو یہ ادب سے دور ہیں۔ خداتعالیٰ نے خود خلیفہ کے کام مقرر کر دیئے ہیں اب کوئی نہیں جو ان میں تبدیلی کر سکے یا ان کے خلاف کچھ اور کہہ سکے ۔ پھر کہتا ہوں کہ حضرت خلیفۃ المسیح (خدا کی ہزاروں ہزار رحمتیں اُن پر ہوں) نے بھی وہی باتیں پیش کیں جو اس آیت میں خدا نے بیان کی تھیں گویا ان کی وصیت اس آیت کا ترجمہ ہے۔ اب میں چاہتا ہوں کہ اور تشریح کروں۔
    تبلیغ
    پہلافرض خلیفہ کاتبلیغ ہے جہاں تک میں نے غور کیا ہے میں نہیں جانتا کیوں بچپن ہی سے میری طبیعت میں تبلیغ کا شوق رہا ہے اور تبلیغ سے ایسا اُنس رہا ہے کہ میں سمجھ ہی نہیں
    سکتا۔ میں چھوٹی سی عمر میں بھی ایسی دعائیں کرتا تھا اور مجھے ایسی حرص تھی کہ اسلام کا جو کام بھی ہو میرے ہی ہاتھ سے ہو۔ میں اپنی اس خواہش کے زمانہ سے واقف نہیں کہ کب سے ہے ۔ میں جب دیکھتا تھا اپنے اندر اس جوش کو پاتا تھا اور دعائیں کرتا تھا کہ اسلام کا جو کام ہو میرے ہی ہاتھ سے ہو پھر اِتنا ہو اِتنا ہو کہ قیامت تک کوئی زمانہ ایسا نہ ہو جس میں اسلام کی خدمت کرنے والے میرے شاگرد نہ ہوں۔ میں نہیں سمجھتا تھا اور نہیں سمجھتا ہوں کہ یہ جوش اسلام کی خدمت کا میری فطرت میں کیوں ڈالا گیا ۔ ہاں اتنا جانتا ہوں کہ یہ جوش بہت پُرانارہا ہے۔ غرض اسی جوش اور خواہش کی بناء پر میں نے خداتعالیٰ کے حضور دعا کی کہ میرے ہاتھ سے تبلیغ اسلام کا کام ہو اور میں خداتعالیٰ کا شکر کرتا ہوں کہ اُس نے میری اِن دعاؤں کے جواب میں بڑی بڑی بشارتیں دی ہیں۔ غرض تبلیغ کے کام سے مجھے بڑی دلچسپی ہے۔ یہ میں جانتا ہوں کہ خداتعالیٰ دعاؤں کو قبول کرتا ہے اور یہ بھی جانتا ہوں کہ سب دنیا ایک مذہب پر جمع نہیں ہو سکتی۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جس کام کو نہیں کر سکے اور کون ہے جو اسے کر سکے یا اس کا نام بھی لے لیکن اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی خادم اور غلام توفیق دیا جاوے کہ ایک حد تک تبلیغ اسلام کے کام کو کرے تو یہ اس کی اپنی کوئی خوبی اور کمال نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا کام ہے۔ میرے دل میں تبلیغ کے لئے اتنی تڑپ تھی کہ میں حیران تھا اور سامان کے لحاظ سے بالکل قاصر۔ پس میں اس کے حضور ہی جھکا اور دعائیں کیں اور میرے پاس تھا ہی کیا؟ میں نے بار بار عرض کی کہ میرے پاس نہ علم ہے، نہ دولت، نہ کوئی جماعت ہے، نہ کچھ اور ہے جس سے میں خدمت کر سکوں۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ اس نے میری دعاؤں کو سنا اور آپ ہی سامان کر دیئے اور تمہیں کھڑا کر دیا کہ میرے ساتھ ہو جاؤ۔
    پس آپ وہ قوم ہیں جس کو خدا نے چُن لیا اور یہ میری دعاؤں کا ایک ثمرہ ہے جو اُس نے مجھے دکھایا۔ اس کو دیکھ کر میں یقین رکھتا ہوں کہ باقی ضروری سامان بھی وہ آپ ہی کرے گا اور ان بشارتوں کو عملی رنگ میں دکھاوے گا۔ اور اب میں یقین رکھتا ہوں کہ دنیا کو ہدایت میرے ہی ذریعہ ہوگی اور قیامت تک کوئی زمانہ ایسا نہ گزرے گا جس میں میرے شاگرد نہ ہوں گے۔ کیونکہ آپ لوگ جو کام کریں گے وہ میرا ہی کام ہوگا۔
    اب تم یہ تو سمجھ سکتے ہو کہ میری دلچسپی تبلیغ کے کام سے آج پیدا نہیں ہوئی اس حالت سے پہلے بھی جہاں تک مجھے موقع ملا مختلف رنگوں اور صورتوں میں تبلیغ کی تجویزیں کرتا رہا۔ وہ جوش اور دلچسپی جو فطرتاً مجھے اس کام سے تھی اور اس راہ کے اختیار کرنے کی جو بے اختیار کشش میرے دل میں ہوتی تھی اس کی حقیقت کو بھی اب میں سمجھتا ہوں کہ یہ میرے کام میں داخل تھا ورنہ جب تک اللہ تعالیٰ ایک فطرتی جوش اس کے لئے میری روح میں نہ رکھ دیتا میں کیونکر اسے سر انجام دے سکتا تھا۔اب میں آپ سے مشورہ چاہتا ہوں کہ تبلیغ کے لئے کیا کیا جاوے۔ میں جو کچھ اس کے متعلق ارادہ رکھتا ہوں وہ میں بتا دیتا ہوں مگر تم سوچو اور غور کرو کہ اس کی تکمیل کی کیا صورتیں ہو سکتی ہیں اور ان تجاویز کو عملی رنگ میں لانے کے واسطے کیا کرنا چاہیے۔
    ہر زبان کے مبلّغ ہوں
    میں چاہتا ہوں کہ ہم میں ایسے لوگ ہوں جو ہر ایک زبان کے سیکھنے والے اور پھر جاننے والے ہوں تاکہ ہم ہر ایک
    زبان میں آسانی کے ساتھ تبلیغ کر سکیں۔ اس کے متعلق میرے بڑے بڑے ارادے اور تجاویز ہیں اور میں اللہ تعالیٰ کے فضل پر یقین رکھتا ہوں کہ خدا نے زندگی دی اور توفیق دی اور پھر اپنے فضل سے اسباب عطا کئے اور ان اسباب سے کام لینے کی توفیق ملی تو اپنے وقت پر ظاہر ہو جاویں گے۔ غرض میں تمام زبانوں اور تمام قوموں میں تبلیغ کا ارادہ رکھتا ہوں اس لئے کہ یہ میرا کام ہے کہ تبلیغ کروں۔ میں جانتا ہوں کہ یہ بڑا ارادہ ہے اور بہت کچھ چاہتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا ہی کے حضور سے سب کچھ آوے گا۔ میرا خدا قادر ہے جس نے یہ کام میرے سپرد کیا ہے۔ وہی مجھے اس سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق اور طاقت دے گا۔ کیونکہ ساری طاقتوں کا مالک تو وہ آپ ہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس مقصد کے لئے بہت روپیہ کی ضرورت ہے بہت آدمیوں کی ضرورت ہے مگر اس کے خزانوں میں کس چیز کی کمی ہے۔ کیا اس سے پہلے ہم اس کے عجائباتِ قدرت کے تماشے دیکھ نہیں چکے؟ یہ جگہ جس کو کوئی جانتا بھی نہیں تھا اس کے مأمور کے باعث دنیا میں شُہرت یافتہ ہے اور جس طرح پر خدا نے اس سے وعدہ کیا تھا ہزاروں نہیں لاکھوں لاکھ روپیہ اس کے کاموں کی تکمیل کے لئے اس نے آپ بھیج دیا۔ اس نے وعدہ کیا تھا یَنْصُرُکَ رِجَالٌ نُّوْحِیْ اِلَیْھِمْ۱۲؎ تیری مدد ایسے لوگ کریں گے جن کو ہم خود وحی کریں گے۔ پس میں جب کہ جانتا ہوں کہ جو کام میرے سپرد ہوا ہے یہ اُسی کا کام ہے اور میں نے یہ کام خود اس سے طلب نہیں کیا خدا نے خود دیا ہے تو وہ انہی رِجَال کو وحی کرے گا جو مسیح موعود علیہ السلام کے وقت وحی کئے جاتے تھے۔
    پس میرے دوستو!روپیہ کے معاملہ میں گھبرانے اور فکر کرنے کی کوئی بات نہیں۔ وہ آپ سامان کرے گا۔ آپ اُن سعادت مند روحوں کو میرے پاس لائے گا جو اِن کاموں میں میری مددگار ہوںگی۔
    میں خیالی طور پر نہیں کامل یقین اور بصیرت سے کہتا ہوں کہ ان کاموں کی تکمیل و اجراء کے لئے کسی محاسب کی تحریکیں کام نہیں دیں گی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام سے خود وعدہ کیا ہے کہ یَنْصُرُکَ رِجَالٌ نُّوْحِیْ اِلَیْھِمْ تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کو ہم وحی کریں گے۔ پس ہمارے محاسب کا عُہدہ خود خداتعالیٰ نے اپنے ذمہ لے لیا ہے اور وعدہ فرمایا ہے کہ روپیہ دینے کی تحریک ہم خود لوگوں کے دلوں میں کریں گے۔ ہاں جمع کا لفظ استعمال کر کے بتایا کہ بعض انسان بھی ہماری اس تحریک کو پھیلا کر ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔ پس خدا آپ ہی ہمارا محاسب اور محصل ہوگا۔ اُسی کے پاس ہمارے سب خزانے ہیں۔ اس نے آپ ہی وعدہ کیا ہے یَنْصُرُکَ رِجَالٌ نُّوْحِیْ اِلَیْھِمْ پھرہمیںکیا فکر ہے؟ ہاں ثواب کا ایک موقع ہے۔ مبارک وہ جو اس سے فائدہ اُٹھاتا ہے۔
    ہندوستان میں تبلیغ
    تبلیغ کے سلسلہ میں میں چاہتا ہوں کہ ہندوستان کا کوئی قصبہ یا گاؤں باقی نہ رہے جہاں ہماری تبلیغ نہ ہو۔ ایک بھی بستی باقی نہ
    رہ جاوے جہاں ہمارے مبلّغ پہنچ کر خداتعالیٰ کے اس سلسلہ کا پیغام نہ پہنچادیں اور خوب کھول کھول کر انہیں سنا دیں۔ یہ کام معمولی نہیں اور آسان بھی نہیں ہاں اس کو آسان بنا دینا اور معمولی کر دینا خداتعالیٰ کی قدرت کا ایک ادنیٰ کرشمہ ہے۔ ہمارا یہ کام نہیں کہ ہم لوگوں کو منوا دیں البتہ یہ کام ہمارا ہے اور ہونا چاہیے کہ ہم انہیں حق پہنچا دیں وہ مانیں نہ مانیں یہ اُن کا کام ہے۔ وہ اگر اپنا فرض پورا نہیں کرتے تو اس کے یہ معنے نہیں کہ ہم بھی اپنا فرض پورا نہ کریں۔
    اِس موقع پر مجھے ایک بزرگ کا واقعہ یاد آیا۔ کہتے ہیں کہ ایک بزرگ بیس برس سے دعا کر رہے تھے وہ ہر روز دعا کرتے اور صبح کے قریب اُن کو جواب ملتا مانگتے رہو کہ میں تو کبھی بھی تمہاری دعا قبول نہیں کروں گا۔ بیس برس گزرنے پر ایک دن ان کا کوئی مرید بھی ان کے ہاں مہمان آیا ہوا تھا۔ اس نے دیکھا کہ پیر صاحب رات بھر دعا کرتے ہیں اور صبح کے قریب ان کو یہ آواز آتی ہے۔ یہ آواز اس مرید نے بھی سنی۔ تیسرے دن اس نے عرض کیا کہ جب اس قسم کا سخت جواب آپ کو ملتا ہے تو پھر آپ کیوں دعا کرتے رہتے ہیں؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ تُو بہت بے استقلال معلوم ہوتا ہے بندے کا کام ہے دعا کرنا خداتعالیٰ کا کام ہے قبول کرنا۔ مجھے اِس سے کیا غرض کہ وہ قبول کرتا ہے یا نہیں۔ میرا کام دعا کرنا ہے سو میں کرتا رہتا ہوں میں تو بیس سال سے ایسی آوازیں سن رہا ہوں میں تو کبھی نہیں گھبرایا تو تین دن میں گھبرا گیا۔ دوسرے دن خداتعالیٰ نے اسے فرمایا کہ میں نے تیری وہ ساری دعائیں قبول کر لیں جو تو نے بیس سال کے اندر کی ہیں۔
    غرض ہمارا کام پہنچا دینا ہے اور محض اس وجہ سے کہ کوئی قبول نہیں کرتا ہمیں تھکنا اور رُکنا نہیں چاہئے۔ کیونکہ ہمارا کام منوانا نہیں ہم کو تو اپنا فرض ادا کرنا چاہیے تا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہم کہہ سکیں کہ ہم نے پہنچا دیا۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا ۱۳؎۔۱۴؎ اور آپ کاکام اتنا ہی فرمایا ۱۵؎جو تم پر نازل ہوا اُسے پہنچاؤ ۔ پس ہمیں اپنا کام کرنا چاہیے۔ جب منوانا ہمارا کام نہیں تو دوسرے کے کام پر ناراض ہو کر اپنا کام کیوں چھوڑیں؟ ہم کو اللہ تعالیٰ کے حضور سُرخرو ہونے کے لئے پیغامِ حق پہنچا دینا چاہیے۔ پس ایسی تجویز کرو کہ ہر قصبہ اور شہر اور گاؤں میں ہمارے مبلّغ پہنچ جاویں اور زمین و آسمان گواہی دے دیں کہ تم نے اپنا فرض ادا کر دیا اور پہنچا دیا۔
    دوم ہندوستان سے باہر ہر ایک مُلک میں ہم اپنے واعظ بھیجیں۔ مگر میں اس بات کے کہنے سے نہیں ڈرتا کہ اس تبلیغ سے ہماری غرض سلسلہ احمدیہ کی صورت میں اسلام کی تبلیغ ہو۔ میرا یہی مذہب ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس رہ کر اندر باہر ان سے بھی یہی سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے کہ اسلام کی تبلیغ یہی میری تبلیغ ہے پس اِس اسلام کی تبلیغ کرو جو مسیح موعود علیہ السلام لایا۔ حضرت صاحب اپنی ہر ایک تحریر میں اپنا ذکر فرماتے تھے اور ہم مسیح موعود علیہ السلام کے ذکر کے بغیر زندہ اسلام پیش کر بھی کب سکتے ہیں۔ پس جو لوگ مسیح موعود علیہ السلام کی تبلیغ کا طریق چھوڑتے ہیں یہ ان کی غلطی ہے، کمزوری ہے ان پر حُجت پوری ہو چکی ہے۔ حضرت صاحب کی ایک تحریر ملی ہے جو مولوی محمد علی صاحب کو ہی مخاطب کر کے فرمائی تھی۔ اور وہ یہ ہے۔
    اخبار بدر جلد۶نمبر۸ مؤرخہ ۲۱؍ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ۴ ’’۱۳؍ فروری ۱۹۰۷ء مولوی محمد علی صاحب کو بُلا کر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہم چاہتے ہیں کہ یورپ امریکہ کے لوگوں پر تبلیغ کا حق ادا کرنے کے واسطے ایک کتاب انگریزی زبان میں لکھی جائے اور یہ آپ کا کام ہے۔ آجکل ان مُلکوں میں جو اسلام نہیں پھیلتا اور اگر کوئی مسلمان ہوتا بھی ہے تو وہ بہت کمزوری کی حالت میںرہتا ہے۔ اس کا سبب یہی ہے کہ وہ لوگ اسلام کی اصل حقیقت سے واقف نہیں ہیں اور نہ ان کے سامنے اصل حقیقت کو پیش کیا گیا ہے۔ ان لوگوں کا حق ہے کہ ان کو حقیقی اسلام دکھلایا جائے جو خداتعالیٰ نے ہم پر ظاہر کیا ہے۔ وہ امتیازی باتیں جو خداتعالیٰ نے اس سلسلہ میں رکھی ہیں وہ ان پر ظاہر کرنی چاہئیں اور خداتعالیٰ کے مکالمات اور مخاطبات کا سلسلہ ان کے سامنے پیش کرنا چاہیے اور ان سب باتوں کو جمع کیا جائے جن کے ساتھ اسلام کی عزت اِس زمانہ میں وابستہ ہے۔ ان تمام دلائل کو ایک جگہ جمع کیا جائے جو اسلام کی صداقت کے واسطے خداتعالیٰ نے ہم کو سمجھائے ہیں۔ اس طرح ایک جامع کتاب تیار ہو جائے تو امید ہے کہ اس سے ان لوگوں کو بہت فائدہ حاصل ہو‘‘۔
    اب بتاؤ کہ جب مسیح موعود علیہ السلام نے خود یورپ میں تبلیغ اسلام کا طریق بتا دیا ہے تو پھر کسی نئے طریق اختیار کرنے کی کیا وجہ ہے۔ افسوس ہے جن کو اس کام کے لائق سمجھ کر ہدایت کی گئی تھی وہی اَور راہ اختیار کر رہے ہیں۔ یہ غلط ہے کہ لوگ وہاں سلسلہ کی باتیں سننے کو تیار نہیں۔ ایک دوست کا خط آیا ہے کہ لوگ سلسلہ کی باتیں سننے کو تیار ہیں کیونکہ ایسی جماعتیں وہاں پائی جاتی ہیں جو مسیح کی آمد کی اِنہی دنوں میں منتظر ہیں۔ ایسا ہی ریویو کو پڑھ کر بعض خطوط آتے ہیں۔ سویڈن اور انگلستان سے بھی آتے ہیں۔ ایک شخص نے مسیح کے کشمیر آنے کا مضمون پڑھ کر لکھا ہے کہ اسے الگ چھپوایا جائے اور دو ہزار مجھے بھیجا جائے میں اسے شائع کروں گا یہ ایک جرمن یا انگریز کا خط ہے۔ ایسی سعادت مند روحیں ہیں جو سننے کو موجود ہیں مگر ضرورت ہے سنانے والوں کی۔
    میں یورپ میں تبلیغ کے سوال پر آج تک خاموش رہا اِس کی یہ وجہ نہ تھی کہ میں اس سوال کا فیصلہ نہیں کر سکتا تھا، نہیں بلکہ میں نے احتیاط سے کام لیا کہ جو لوگ وہاں گئے ہیں وہ وہاں کے حالات کا بہترین علم رکھتے ہیں میں چونکہ وہاں نہیں گیا اس لئے مجھے خاموش رہنا چاہیے لیکن جو لوگ وہاں گئے ان میں سے بعض نے لکھا ہے کہ حضرت صاحب کا ذکر لوگ سنتے ہیں اور ہماری تبلیغ میں حضرت صاحب کا ذکر ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ خود حضرت صاحب نے یورپ میں تبلیغ کے لئے یہی فرمایا کہ اس سلسلہ کو پیش کیا جاوے۔ اور جو کشف آپ نے دیکھا تھا اس کے بھی یہی معنی کئے کہ میری تحریریں وہاں پہنچیں گی۔ ان تمام امور پر غور کر کے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ممالکِ غیر اور یورپ میں بھی اس سلسلہ کی اشاعت ہو اور ہمارے مبلّغ وہاں جا کر انہیں بتائیں کہ تمہارا مذہب مردہ ہے اس میں زندگی کی روح نہیں ہے زندہ مذہب صرف اسلام ہے جس کی زندگی کا ثبوت اس زمانہ میں بھی ملتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نازل ہوئے۔ غرض وہاں بھی سلسلہ کا پیغام پہنچایا جاوے اور جہاں ہم سرِدست واعظ نہیں بھیج سکتے وہاں ٹریکٹ اور چھوٹے چھوٹے رسالے چھپوا کر تقسیم کریں۔
    اشتہاری تبلیغ کا جوش
    چونکہ مجھے تبلیغ کے لئے خاص دلچسپی رہی ہے اس دلچسپی کے ساتھ عجیب عجیب ولولے اور جوش پیدا ہوتے رہے ہیں اور
    اس تبلیغی عشق نے عجیب عجیب ترکیبیں میرے دماغ میں پیدا کی ہیں۔ ایک بار خیال آیا کہ جس طرح پر اشتہاری تاجر اخبارات میں اپنا اشتہار دیتے ہیں میں بھی چین کے اخبارات میں ایک اشتہار تبلیغِ سلسلہ کا دوں اور اس کی اُجرت دے دوں تا کہ ایک خاص عرصہ تک وہ اشتہار چھپتا رہے۔ مثلاً یہی اشتہار کہ ’’مسیح موعود آگیا‘‘ بڑی موٹی قلم سے اس عنوان سے ایک اشتہار چھپتا رہے۔ غرض میں اِس جوش اور عشق کا نقشہ الفاظ میں نہیں کھینچ سکتا جو اس مقصد کے لئے مجھے دیا گیا ہے یہ ایک نمونہ ہے اس جوش کے پورا کرنے کا۔ ورنہ یہ ایک لطیفہ ہی ہے۔ اس تجویز کے ساتھ ہی مجھے بے اختیار ہنسی آئی کہ یہ اشتہاری تبلیغ بھی عجیب ہوگی۔ مگر یہ کوئی نئی بات نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی تبلیغ سلسلہ کے لئے عجیب عجیب خیال آتے تھے اور وہ دن رات اسی فکر میں رہتے تھے کہ یہ پیغام دنیا کے ہر کونے میں پہنچ جاوے۔ ایک مرتبہ آپ نے تجویز کی کہ ہماری جماعت کا لباس ہی الگ ہو تاکہ ہر شخص بجائے خود ایک تبلیغ ہو سکے اور دوستوں کو ایک دوسرے کی ناواقفی میں شناخت آسان ہو۔ اِس پر مختلف تجویزیں ہوتی رہیں۔ میں خیال کرتا ہوں کہ شاید اسی بناء پر لکھنؤ کے ایک دوست نے اپنی ٹوپی پر احمدی لکھوا لیا۔ غرض تبلیغ ہو اور کونہ کونہ میں ہو کوئی جگہ باقی نہ رہے۔ یہ جوش، یہ تجویزیں اور کوششیں ہماری نہیں یہ حضرت صاحب ہی کی ہیں اور سب کچھ اِنہیں کا ہے ہمارا تو کچھ بھی نہیں۔
    مبلّغ کہاں سے آویں
    جب ہم چاہتے ہیں کہ دنیا کے ہر گوشہ اور ہر قوم اور ہرزبان میں ہماری تبلیغ ہو تو دوسرا سوال جو قدرتاً پیدا
    ہوتا ہے یہ ہوگا کہ تبلیغ کے لئے مبلّغ کہاں سے آویں؟یہ وہ سوال ہے جس نے ہمیشہ میرے دل کو دُکھ میں رکھا ہے۔ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی یہ تڑپ رکھتے تھے کہ اخلاص کے ساتھ تبلیغ کرنے والے ملیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح کی بھی یہ آرزو رہی۔ اسی خواہش نے اِسی جگہ اِسی مسجد میں مدرسہ احمدیہ کی بنیاد مجھ سے رکھوائی اور اِسی مسجد میں بڑے زور سے اس کی مخالفت کی گئی۔ لیکن میری کوئی ذاتی خواہش اور غرض نہ تھی محض اعلائے سلسلہ کی غرض سے میں نے یہ تحریک کی تھی باوجود یکہ بڑے بڑے آدمیوں نے مخالفت کی آخر اللہ تعالیٰ نے اِس مدرسہ کو قائم کر ہی دیا۔ اُس وقت سمجھنے والوں نے نہ سمجھا کہ اس مدرسہ کی کس قدر ضرورت ہے اور مخالفت میں حصہ لیا۔ میں دیکھتا تھا کہ علماء کے قائم مقام پیدا نہیں ہوتے۔
    میرے دوستو! یہ معمولی مصیبت اور دکھ نہیں ہے۔ کیا تم چاہتے ہو، ہاں کیا تم چاہتے ہو کہ فتویٰ پوچھنے کے لئے تم ندوہ اور دوسرے غیراحمدی مدرسوں یا علماء سے سوال کرتے پھرو جو تم پر کفر کے فتوے دے رہے ہیں؟ دینی علوم کے بغیر قوم مُردہ ہوتی ہے پس اِس خیال کو مدنظر رکھ کر باوجود پُرجوش مخالفت کے میں نے مدرسہ احمدیہ کی تحریک کو اُٹھایا اور خدا کا فضل ہے کہ وہ مدرسہ دن بدن ترقی کر رہا ہے لیکن ہمیں تو اِس وقت واعظ اور معلّموں کی ضرورت ہے۔ مدرسہ سے تعلیم یافتہ نکلیں گے اور اِنْشَائَ اللّٰہ وہ مفید ثابت ہوں گے مگر ضرورتیں ایسی ہیں کہ ابھی ملیں۔ میرا اپنا دل تو چاہتا ہے کہ گاؤں گاؤں ہمارے علماء اور مفتی ہوں۔ جن کے ذریعہ علومِ دینیہ کی تعلیم و تدریس کا سلسلہ جاری ہو اور کوئی بھی احمدی باقی نہ رہے جو پڑھا لکھا نہ ہو اور علومِ دینی سے واقف نہ ہو۔ میرے دل میں اس غرض کے لئے بھی عجیب عجیب تجویزیں ہیں جو خدا چاہے گا تو پوری ہو جائیں گی۔
    غرض یہ ضروری سوال ہے کہ مبلّغ کہاں سے آویں؟ اور پھر چونکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہر قوم اور ہر زبان میں ہماری تبلیغ ہو اس لئے ضرورت ہے کہ مختلف زبانیں سکھائی جاویں۔ حضرت خلیفۃ المسیح کی زندگی میں میں نے ارادہ کیا تھا کہ بعض ایسے طالبعلم ملیں جو سنسکرت پڑھیں اور پھر وہ ہندوؤں کے گاؤں میں جا کر کوئی مدرسہ کھول دیں اور تعلیم کے ساتھ تبلیغ کا سلسلہ بھی جاری رکھیں اور ایک عرصہ تک وہاں رہیں۔ جب اسلام کا بیج بویا جائے تو مدرسہ کسی شاگرد کے سپرد کر کے آپ دوسری جگہ جا کر کام کریں۔ غرض جس رنگ میں تبلیغ آسانی سے ہو سکے کریں۔
    اِس قسم کے لوگوں کی بہت بڑی ضرورت ہے جو خدمتِ دین کے لئے نکل کھڑے ہوں۔ یہ ضرورت کس طرح پوری ہو؟ ایک سہل طریق خداتعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہاں ایک مدرسہ ہو۔ تم باہم مل کر اس کے لئے مشورہ کرو پھر میں غور کروں گا۔ میں پھر کہتا ہوں کہ میں تم سے جو مشورہ کر رہا ہوں یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے نیچے کر رہا ہوں۔ قرآن مجید میں اس نے فرمایا ہے ۱۶؎ پس تم مشورہ کرکے مجھے بتاؤ۔ پھر اللہ تعالیٰ جو کچھ میرے دل میں ڈالے گا میں اس پر تَوَکُّلاً عَلَی اللّٰہِ عزم کروں گا۔ غرض ایک مدرسہ ہو اس میں ایک ایک مہینے یا تین تین مہینے کے کورس ہوں۔ اس عرصہ میں مختلف جگہ سے لوگ آ جاویں اور وہ کورس پورا کر کے اپنے وطنوں کو چلے جاویں اور وہاں جا کر اپنے اس کورس کے موافق سلسلہ تبلیغ کا جاری کریں۔ پھر ان کی جگہ ایک اور جماعت آوے اور وہ بھی اسی طرح اپنا کورس پورا کر کے چلی جاوے۔ سال تک برابر اسی طرح ہوتا رہے پھر اسی طریق پر وہ لوگ جو پہلے سال آئے تھے آتے رہیں۔ اس طرح پر ان کی تکمیل ہو اور ساتھ ہی وہ تبلیغ کرتے رہیں۔ میں اس مقصد کے لئے خاص استاد مقرر کروں گا اور جو لوگ اس طرح پر آتے رہیں گے وہ برابر پڑھتے رہیں گے۔ یہ تعلیم کا ایک ایسا ہی طریق ہے جیسا کہ میدانِ جنگ میں نماز کا ہے۔ اِس وقت بھی دشمن سے جنگ ہے اب تیروتفنگ کی لڑائی نہیں بلکہ دلائل اور براہین سے ہو رہی ہے اس لئے اِنہیں ہتھیاروں سے ہم کو مسلح ہونا چاہیے اور اِس کی یہ ایک صورت ہے۔
    غرض ایک سال کا کورس ختم ہونے کے بعد پھر پہلی جماعت آئے اور کورس ختم کرے ۔ ایک ایک سال کے لئے ذخیرہ موجود ہوگا حتیّٰ کہ چار پانچ چھ سات سال میں جب تک خدا چاہے کام کرتے رہیں اتنے عرصہ میں مبلّغ تیار ہو جاویں گے۔ یہ ایک طریق ہے، یہ ایک رنگ ہے پس تم غور کرو کہ ایک مدرسہ اس قسم کا چاہیے۔
    واعظین کا تقرر
    واعظین کے تقرر کی بھی ضرورت ہے اور میری رائے یہ ہے کہ کم از کم دس تو ہوں۔ ان کو مختلف جگہ بھیج دیا جاوے۔ مثلاً ایک سیالکوٹ
    چلا جاوے وہ وہاں جا کر درس دے اور تبلیغ کرے تین ماہ تک وہاں رہے اور پھر دوسری جگہ چلا جاوے۔ کسی جگہ ایک آدھ دن کے لیکچر یا وعظ کی بجائے یہ سلسلہ زیادہ مفید ہو سکتا ہے واعظین کم از کم دس ہوں اور اگر یہ بھی نہ مل سکیں تو کم از کم پانچ ہی ہوں۔
    قومِ لوط کا واقعہ
    اِس موقع پر مجھے ایک خطرناک واقعہ یاد آگیا۔ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر جب عذاب آیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی
    ’’تب ابراہام نزدیک جا کے بولا۔ کیا تُونیک کو بَد کے ساتھ ہلاک کرے گا؟ شاید پچاس صادق اس شہر میں ہوں۔ کیا تو اسے ہلاک کرے گا اور ان پچاس صادقوں کی خاطر جو اس کے درمیان ہیں اس مقام کو نہ چھوڑے گا؟ایساکرنا تجھ سے بعید ہے کہ نیک کو بَد کے ساتھ مار ڈالے اور نیک بَد کے برابر ہو جاویں یہ تجھ سے بعید ہے۔ کیا تمام دنیا کا انصاف کرنے والا انصاف نہ کرے گا؟ اور خداوند نے کہا کہ اگر میں سدوم میں شہر کے درمیان پچاس صادق پاؤں تو میں ان کے واسطے تمام مکان کو چھوڑوں گا۔ تب ابراہام نے جواب دیا اور کہا کہ اب دیکھ میں نے خداوند سے بولنے میں جرأت کی اگرچہ میں خاک اور راکھ ہوں۔ شاید پچاس صادقوں سے پانچ کم ہوں۔ کیا ان پانچ کے واسطے تُو تمام شہر کو نیست کرے گا؟ اور اس نے کہا اگر میں وہاں پنتالیس پاؤں تو نیست نہ کروں گا۔ پھر اس نے اس سے کہا شاید وہاں چالیس پائے جائیں۔ تب اس نے کہا کہ میں چالیس کے واسطے بھی نہ کروں گا۔ پھر اس نے کہا کہ میں منت کرتا ہوں کہ اگر خداوند خفا نہ ہوں تو میں پھر کہوں شاید وہاں تیس پائے جائیں۔ وہ بولا اگر میں وہاں تیس پاؤں تو میں یہ نہ کروں گا۔ پھر اس نے کہا دیکھ میں نے خداوند سے بات کرنے میں جرأت کی شاید وہاں بیس پائے جائیں۔ وہ بولا میں بیس کے واسطے بھی اسے نیست نہ کروں گا۔ تب اس نے کہا میں منت کرتا ہوں کہ خداوند خفا نہ ہوں تب میں فقط اب کی بار پھر کہوں شاید وہاں دس پائے جائیں۔ وہ بولا میں دس کے واسطے بھی اسے نیست نہ کروں گا۱۷؎۔
    قرآن شریف میں اس کی نسبت فرمایا ۱۸؎ غرض دس کے ذکر پر مجھے یہ واقعہ یاد آ گیا تو کس قدر افسوس کی بات ہے کہ دس مولوی بھی نہ ملیں یہ بہت ہی رونے اور گڑگڑانے اور دعاؤں کا مقام ہے کیونکہ جب علماء نہ ہوں تو دین میں کمزوری آ جاتی ہے میں تو بہت دعائیں کرتا ہوں کہ اللہ اس نقص کو دور فرماوے۔
    یہ تجویز جو میں نے پیش کی ہے قرآن مجید نے ہی اس کو پیش کیا ہے چنانچہ فرمایا ۱۹؎ سارے مؤمن تو ایک وقت اکٹھے نہیں ہو سکتے اس لئے یہ فرمایا کہ ہر علاقہ سے کچھ لوگ آویں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور رہ کر دین حاصل کر کے اپنی قوم میں جا کر انہیں سکھائیں۔ یہ تو میری پہلی تجویز کی تائید قرآن مجید سے ہے یا یوں کہو کہ قرآن مجید کی ہدایت کے موافق میری پہلی تجویر ہے۔
    دوسری تجویز بھی قرآن مجید ہی کی ہے چنانچہ فرمایا ۲۰؎ یہ آیت واعظین کی ایک ایسی جماعت کی تائید کرتی ہے جس کا کام ہی تبلیغ ہو۔
    تعلیمشرائع
    ان امور کے بعد پھر تعلیم شرائع کا کام آتا ہے جب تک قوم کو شریعت سے واقفیت نہ ہو، انہیں معلوم نہ ہو کہ اُنہوں نے کیا کرنا ہے عملی حالت
    کی اصلاح مشکل ہوتی ہے اس لئے خلیفہ کے کاموں میں تعلیم شرائع ضروری ہے۔ میں نے ایک شخص کو دیکھا جو بیعت کرنے لگا۔ اُس کو کلمہ بھی نہیں آتا تھا۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہماری جماعت کا کوئی فرد باقی نہ رہے جو ضروری باتیں دین کی نہ جانتا ہو۔ پس اس تعلیمِ شرائع کے انتظام کی ضرورت ہے۔ یہ کام کچھ تو مبلغین اور واعظین سے لیا جاوے۔ وہ ضروری دینی مسائل سے قوم کو واقف کرتے رہیں۔ میں نے ایسے آدمیوں کو دیکھا ہے جو قوم میں لیڈر کہلاتے ہیں وہ نماز نہیں پڑھنا جانتے اور بعض اوقات عجیب عجیب قسم کی غلطیاں کرتے ہیں اور نمازیں پڑھنی نہیں آتی ہیں اور یقینا نہیں آتی ہیں۔ کوئی کہہ دے گا کہ یہ (تعدیل ارکان) فضول ہیں میں کہتا ہوں کہ خدا نے کیوں فرمایا پس یہ ضروری چیزہے اور میں خداتعالیٰ کے فضل سے ہر ایک کی حکمت بیان کر سکتا ہوں۔ میں نے حضرت صاحب کو دیکھا ہے کہ جراب میں ذرا سوراخ ہو جاتا تو فوراً اُس کو تبدیل کر لیتے۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ لوگ ایسی پھٹی ہوئی جرابوں پر بھی جن کی ایڑی اور پنجہ دونوں نہیں ہوتے مسح کرتے چلے جاتے ہیں یہ کیوں ہوتا ہے؟ شریعت کے احکام کی واقفیت نہیں ہوتی۔ اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ رخصت اور جواز کے صحیح محل کو نہیں سمجھتے۔
    مجھے ایک دوست نے ایک لطیفہ سنایا کہ کسی مولوی نے ریشم کے کنارے والا تہہ بند پہنا ہوا تھا اور وہ کنارہ بہت بڑا تھا ۔ میں نے ان سے کہا کہ ریشم تو منع ہے۔ مولوی صاحب نے کہا کہ کہاں لکھا ہے؟ میں نے کہا کہ آپ لوگوں سے ہی سنا ہے کہ چار انگلیوں سے زیادہ نہ ہو؟ مولوی صاحب نے کہا کہ چار انگلیاں ہماری تمہاری نہیں بلکہ حضرت عمرؓ کی۔ اُن کی چار انگلیاں ہماری بالشت کے برابر تھیں ۔ اسی طرح انسان خیالی شریعتیں قائم کرتا ہے۔ یہ خوف کا مقام ہے ایسی باتوں سے پرہیز کرنا چاہیے اور یہ اُسی وقت ہو سکتا ہے جب انسان حدودِ شرائع سے واقف ہو اور خدا کا خوف دل میں ہو۔
    یہ مت سمجھو کہ چھوٹے چھوٹے احکام میں اگر پرواہ نہ کی جاوے تو کوئی حرج نہیں یہ بڑی بھاری غلطی ہے جو شخص چھوٹے سے چھوٹے حکم کی پابندی نہیں کرتا وہ بڑے سے بڑے حکم کی بھی پابندی نہیں کر سکتا۔ خدا کے حکم سب بڑے ہیں بڑوں کی بات بڑی ہی ہوتی ہے جن احکام کو لوگ چھوٹا سمجھتے ہیں ان سے غفلت اور بے پرواہی بعض اوقات کُفر تک پہنچا دیتی ہے۔ خداتعالیٰ نے بعض چھوٹے چھوٹے احکام بتائے ہیں مگر ان کی عظمت میں کمی نہیں آتی۔ طالوت کا واقعہ قرآن مجید میں موجود ہے۔ ایک نہر کے ذریعہ قوم کا امتحان ہوگیا۔ سیر ہو کر پینے والوں کو کہہ دیا ۲۱؎ اب ایک سطحی خیال کا آدمی تو یہی کہے گا کہ پانی پی لینا کونسا جُرم تھا مگر نہیں اللہ تعالیٰ کو اطاعت سکھانا مقصود تھا۔ وہ جنگ کے لئے جا رہے تھے اس لئے یہ امتحان کا حکم دے دیا اگر وہ اس چھوٹے سے حکم کی اطاعت کرنے کے بھی قابل نہ ہوں گے تو پھر میدانِ جنگ میں کہاں مانیں گے؟ بہرحال اللہ تعالیٰ کے تمام احکام میں حکمتیں ہیں اور اگر انسان ان پر عمل کرتا رہے تو پھر اللہ تعالیٰ ایمان نصیب کر دیتا ہے اور اپنے فضل کے دروازے کھول دیتا ہے۔
    (چونکہ وقت زیادہ ہو گیا تھا آپ نے فرمایا کہ گھبرانا نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بعض وقت لمبی تقریر کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے آپ لوگوں کو جس غرض کے لئے جمع کیا گیا ہے میں چاہتا ہوں کہ آپ پورے طور پر اس سے واقف ہو جاویں)
    غرض شرائع میں حکمتیں ہیں اگر ان کی حقیقت معلوم نہ ہو تو بعض وقت اصل احکام بھی جاتے رہتے ہیں اور پھر غفلت اور سُستی پیدا ہو کر مٹ جاتے ہیں۔ کسی جنٹلمین نے لکھ دیا کہ نماز کسی بنچ یا کرسی پر بیٹھ کر ہونی چاہیے کیونکہ پتلون خراب ہو جاتی ہے۔ دوسرے نے کہہ دیا کہ وضو کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ اس سے کفیں وغیرہ خراب ہو جاتی ہیں۔ جب یہاں تک نوبت پہنچی تو رکوع اور سجدہ بھی ساتھ ہی گیا۔ اگر کوئی شخص ان کو حکمت سکھانے والا ہوتا اور انہیں بتاتا کہ نماز کی حقیقت یہ ہے، وضو کے یہ فوائد ہیں اور رکوع اور سجود میں یہ حکمتیں ہیں تو یہ مصیبت کیوں آتی اور اس طرح وہ دین کو کیوں خیرباد کہتے۔ مسلمانوں نے شرائع کی حکمتوں کے سیکھنے کی کوشش نہیں کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہت لوگ مرتد ہو رہے ہیں اگر کوئی عالم ان کو حکمتوں سے واقف کرتا تو کبھی دہریت اور ارتداد نہ پھیلتا۔
    یہاں اسی مسجد والے مکان کے مالک حضرت صاحب کے چچا کا بیٹا مرزا امام الدین دہریہ تھا۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے ایک مرتبہ ان سے پوچھا کہ مرزا صاحب! کبھی یہ خیال بھی آیا ہے کہ اسلام کی طرف توجہ کرنی چاہیے؟ کہنے لگا کہ میری فطرت بچپن سے ہی سلیم تھی لوگ جب نماز پڑھتے اور رکوع سجود کرتے تو مجھے ہنسی آتی تھی کہ یہ کیا کرتے ہیں۔ یہ کیوں ہوا؟ اس لئے کہ انہیں کسی نے حکمت نہ سکھائی، شرائع اسلام کی حقیقت سے واقف نہ کیا نتیجہ یہ ہوا کہ دہریہ ہو گیا۔ سو یہ کام خلیفہ کا ہے کہ حکمت سکھائے اور چونکہ وہ ہر جگہ تو جا نہیں سکتا اس لئے ایک جماعت ہو جو اس کے پاس رہ کر اِن حکمتوں اور شرائع کے حدود کو سیکھے پھر وہ اس کے ماتحت لوگوں کو سکھائے تا کہ لوگ گمراہ نہ ہوں۔ اِس زمانہ میں اس کی خصوصیت سے ضرورت ہے کہ لوگ جدید علوم پڑھ کر ہوشیار ہو رہے ہیں۔ عیسائیوں نے اسلام پر اعتراض کیا ہے کہ عبادات کے ساتھ مادی امور کو شامل کیا ہے۔ انہیں چونکہ شریعت کی حقیقت کی خبر نہیں اس لئے دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں پس ضرورت ہے کہ واعِظ مقرر ہوں جو شرائع کی تعلیم دیں اور ان کی حکمت سے لوگوں کو آگاہ کریں۔
    تعلیم العقائد کی کتاب
    اس کے سوا ایک اور ضروری بات ہے حضرت صاحب کو اس کے متعلق بڑی توجہ تھی مگر لوگوں نے بھلا دی۔
    پھر حضرت خلیفۃ المسیح نے توجہ دلائی مگر لوگوں نے پھر بھلا دی۔ میں اب پھر یاد دلاتا ہوں اور اِنْشَائَ اللّٰہُ الْعَزِیْزُ میں اس کو یاد رکھوں گا اور یاد دلاتا رہوں گا جب تک اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کی تکمیل کے کام سے سُرخرو کردے۔ میں نے حضرت صاحب سے بارہا یہ خواہش سنی تھی کہ ایسا رسالہ ہو جس میں عقائد احمدیہ ہوں۔ اگر ایسا رسالہ تیار ہو جائے تو آئے دن کے جھگڑے فیصل ہو جائیں اور پھر نزاعیں برپا نہ ہوں۔
    میں چاہتا ہوں کہ علماء کی ایک مجلس قائم کروں اور وہ حضرت صاحب کی کتابوں کو پڑھ کر اور آپ کی تقریروں کو زیر نظر رکھ کر عقائد احمدیہ پر ایک کتاب لکھیں اور اس کو شائع کیا جاوے۔ اِس وقت جو بحثیں چھڑتی ہیں جیسے کفرواسلام کی بحث کسی نے چھیڑ دی اس سے اس قسم کی تمام بحثوں کا سدباب ہو جائے گا۔ لیکن اب جب کہ کوئی ایسی مستند اور جامع کتاب موجود نہیں مختلف جھگڑے آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے حضرت صاحب مسیح ناصری سے افضل تھے دوسرا کہتا ہے نہیں۔ اِس کی جڑ یہی ہے کہ لوگوں کو واقفیت نہیں۔ مگر جب ایسی جامع کتاب علماء کی ایک مجلس کے کامل غور کے بعد شائع ہو جاوے گی تو سب کے سب اسے اپنے پاس رکھیں گے اور اس طرح پر عقائد میں اِنْشَائَ اللّٰہ اختلاف نہیں ہوگا۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق وعظ
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق یہ تھا کہ آپؐ بہت ہی
    مختصر وعظ فرماتے لیکن کبھی ایسا بھی ہوا کہ آپؐ وعظ فرما رہے ہیں اور ظہر کا وقت آگیا۔ پھر نماز پڑھ لی۔ پھر وعظ کرنے لگے اور عصر کا وقت آ گیا پھر نماز پڑھ لی۔ پس آج کا وعظ اِسی سنت پر عمل معلوم ہوتا ہے۔ میں جب یہاں آیا ہوں تو بیت الدعا میں دعا کر کے آیا تھا کہ میرے منہ سے کوئی بات ایسی نہ نکلے جو ہدایت کی بات نہ ہو۔ ہدایت ہو اور لوگ ہدایت سمجھ کر مانیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ وقت زیادہ ہو گیا ہے اور میں اپنے آپ کو روکنا چاہتا ہوںمگر باتیں آ رہی ہیں اور مجھے بولنا پڑتا ہے۔ پس میں انہیں ربّانی تحریک سمجھ کر اور اپنی دعا کا نتیجہ یقین کرکے بولنے پر مجبور ہوں۔ غرض تعلیم العقائد کیلئے ایک ایسے رسالہ یا ٹریکٹ کی ضرورت ہے۔ اس کے نہ ہونے کی وجہ سے یہ دقت آرہی ہے کہ کسی نے صرف تریاق القلوب کو پڑھا اور اس سے ایک نتیجہ نکال کر اس پر قائم ہو گیا حقیقۃ الوحی کو نہ دیکھا۔ اب دوسرا آیا اس نے حقیقۃ الوحی کو پڑھا اور سمجھا ہے وہ اس کی بناء پر اس سے بحث کرتا ہے اور تیسرا آتا ہے اس نے حضرت صاحب کے تمام اشتہارات کو بھی جن کی تعداد ۱۸۰ سے زیادہ ہے پڑھا ہے وہ اپنے علم کے موافق کلام کرتا ہے۔ مثلاً مجھے اب تک معلوم نہ تھا کہ اشتہارات کی اس قدر تعداد ہے آج ہی معلوم ہوا ہے اور اب اِنْشَائَ اللّٰہ میں خود بھی ان تمام اشتہارات کو پڑھوں گا۔
    پس ضرورت ہے کہ علماء کی ایک جماعت ہو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں پڑھ کر عقائد کے متعلق ایک نتیجہ نکال کر ایک رسالہ میں انہیں جمع کریں۔ وہ تمام عقائد جماعت کو دیئے جاویں اور سب انہیں پڑھیں اور یاد رکھیں۔ یہ اختلاف جو عقائد کے متعلق پیدا ہوتا ہے اِنْشَائَ اللّٰہ بالکل مٹ جاوے گا۔ سب کا ایک ہی عقیدہ ہوگا اور اگر پھر اختلاف ہوگا بھی تو نہایت ہی خفیف ہوگا۔ تفرقہ نہ ہوگا جیسے اب ہوا۔ میں یہ بھی کہتا ہوں کہ اِس وقت بھی جو اختلاف ہوا وہ عقائد کی وجہ سے نہیں کفرواسلام کا بہانہ ہے۔ احمدی اور غیراحمدی کے سوال کو خلافت سے کیا تعلق۔ اگر یہ سوال حل ہو جائے تو کیا یہ معترض خلافت کو مانیں گے؟ کبھی نہیں۔ یہ تو غیر احمدیوں کی ہمدردی کو حاصل کرنے اور بعض احمدیوں کو بھڑکانے کے لئے ہے بھلا خیال تو کرو کہ دو میاں بیوی یا بھائی بھائی اگر آپس میں لڑ کر ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں کہ ہمارے ہمسایہ کا کیا مذہب ہے تو یہ عقلمندی ہوگی؟ نہیں یہ مسئلہ صرف ایک آڑ ہے۔
    میری خواہش
    میرا دل چاہتا ہے کہ ان خواہشوں کی تکمیل میرے وقت میں ہو جاوے یہ اتحاد کے لئے بڑی ضروری ہیں اگر خداتعالیٰ نے چاہا جیسا کہ
    میں اپنے خدا پر بڑی بڑی امیدیں رکھتا ہوں تو سب کچھ ہو جائے گا۔ تعلیم شرائع کا انتظام بھی ہو جاوے گا اور حکمت بھی سکھائیں گے اور یہ ساری باتیں قرآن شریف سے ہی اِنْشَائَ اللّٰہ بتا دیں گے۔
    تزکیہ نفوس
    ان امور کے بعد اب تزکیہ نفس ہے میں نے کہا ہے کہ قرآن مجید سے اور سورہ بقرہ کی ترتیب سے معلوم ہوتا ہے کہ تزکیہ نفوس کے لئے سب
    سے بڑا ہتھیار، ناقابل خطا ہتھیار دعا ہے۔ نماز بھی دعا ہے۔ سورہ بقرہ جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کام تزکیہ بتایا ہے اسے بھی دعا پر ہی ختم کیا ہے اور نماز کے آخری حصہ میں بھی دعائیں ہی ہیں۔
    پس تزکیہ نفوس کے لئے پہلی چیز دعا ہی ہے خدا کے محض فضل سے میں بہت دعائیں کرتا ہوں اور بہت کرتا ہوں تم بھی دعاؤں سے کام لو۔ خداتعالیٰ زیادہ توفیق دے۔ یہ بھی یاد رکھو کہ میری اور تمہاری دعاؤں میں فرق ہے جیسے ایک ضلع کے افسر کی رپورٹ کا اور اثر ہوتا ہے، لیفٹیننٹ گورنر کا اور، اور وائسرائے کا اور۔ اسی طرح پر اللہ تعالیٰ جس کسی کو منصب خلافت پر سرفراز کرتا ہے تو اس کی دعاؤں کی قبولیت بڑھا دیتا ہے کیونکہ اگر اس کی دعائیں قبول نہ ہوں تو پھر اس کے اپنے انتخاب کی ہتک ہوتی ہے۔ تم میرے لئے دعا کرو کہ مجھے تمہارے لئے زیادہ دعا کی توفیق ملے اور اللہ تعالیٰ ہماری ہر قسم کی سستی دور کر کے چستی پیدا کرے۔ میں جو دعا کروں گا وہ اِنْشَائَ اللّٰہ فرداً فرداً ہر شخص کی دعا سے زیادہ طاقت رکھے گی۔
    تزکیہ نفس کے متعلق کسی نے ایک لطیف بات بیان کی ہے اور وہ یہ ہے کہ ان تین باتوں کا نتیجہ ہوتا ہے یعنی قرآن مجید کی تلاوت کرے اور تَعْلِیْمُ کرے اس کے بعد اس جماعت میں تزکیہ پیدا ہو جائے گا۔
    پھر ایک اور بڑا ذریعہ تزکیہ نفوس کا ہے جو مسیح موعود علیہ السلام نے کہا ہے اور میرا یقین ہے کہ وہ بالکل درست ہے۔ ہر ہر حرف اس کا سچا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر شخص جو قادیان نہیں آتا یا کم از کم ہجرت کی خواہش نہیں رکھتا اس کی نسبت شُبہ ہے کہ اس کا ایمان درست ہو۔ عبدالحکیم کی نسبت یہی فرمایا کرتے تھے کہ وہ قادیان نہ آتا تھا۔ قادیان کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اِنَّہٗ اٰوَی الْقَرْیَۃَ؟۲۲؎ فرمایا۔ یہ بالکل درست ہے کہ یہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی فرماتے ہیں۔
    زمین قادیان اب محترم ہے
    ہجومِ خلق سے ارضِ حرم ہے۲۳؎
    جب خداتعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا کہ ’’بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے‘‘۲۲؎ تو پھر جہاں وہ پیدا ہوا، جس زمین پر چلتا پھرتا رہا اور آخر دفن ہوا کیا وہاں برکت نازل نہ ہوگی!
    یہ جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ وعدہ دیا کہ مکہ میں دجال نہ جائے گا کیا زمین کی وجہ سے نہیں جائے گا؟ نہیں بلکہ اس لئے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں مبعوث ہوئے۔
    میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتا دیا ہے کہ قادیان کی زمین بابرکت ہے۔ میں نے دیکھا کہ ایک شخص عبدالصمد کھڑا ہے اور کہتا ہے
    ’’مبارک ہو قادیان کی غریب جماعت تم پر خلافت کی رحمتیں یا برکتیں نازل ہوتی ہیں‘‘۔
    یہ بالکلدرست ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام کے مقامات دیکھنے سے ایک رقت پیدا ہوتی ہے اور دعا کی تحریک ہوتی ہے اس لئے قادیان میں زیادہ آنا چاہیے۔
    پھر دعاؤں کے لئے تعلق کی ضرورت ہے حضرت صاحب کو میں نے دیکھا ہے مگر حضرت خلیفۃ المسیح بچتے تھے اور میں خود بھی بچتا ہوں۔ حضرت صاحب بعض لوگوں کو کہہ دیا کرتے تھے کہ تم ایک نذر مقرر کرو میں دعا کروں گا۔ یہ طریق محض اس لئے اختیار کرتے تھے کہ تعلق بڑھے۔ اس کے لئے حضرت صاحب نے بارہا ایک حکایت سنائی ہے کہ ایک بزرگ سے کوئی شخص دعا کرانے گیا اس کے مکان کا قبالہ گم ہو گیا تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ میں دعا کروں گا مگر پہلے میرے لئے حلوہ لاؤ۔ وہ شخص حیران تو ہوا مگر دعا کی ضرورت تھی حلوہ لینے چلا گیا اور حلوائی کی دکان سے حلوہ لیا۔ وہ جب حلوہ ایک کاغذ میں ڈال کر دینے لگا تو وہ چلِّایا کہ اس کو پھاڑیو نہیں یہ تو میرے مکان کا قبالہ ہے اسی کے لئے وہ دعا کرانا چاہتا تھا۔ غرض وہ حلوہ لے کر گیا اور بتایا کہ قبالہ مل گیا تو اس بزرگ نے کہا میری غرض حلوہ سے صرف یہ تھی کہ تعلق پیدا ہو۔ غرض دعا کے لئے ایک تعلق کی ضرورت ہے اور میں اس کے لئے اتنا ہی کہتا ہوں کہ خطوط کے ذریعہ یاد دلاتے رہو تا کہ تم مجھے یاد رہو۔
    یُزَکِّیْھِمْ کے دوسرے معنی
    اب کے دوسرے معنی لو جس میں غرباء و مساکین کی خبر گیری داخل ہے۔ لوگ یہ تو نہیں
    نہیں جانتے کہ میرے پاس ہے یا نہیں مگر جب وہ جانتے ہیں کہ میں خلیفہ ہو گیا ہوں تو حاجت مند تو آتے ہیں اور یہ سیدھی بات ہے کہ جو شخص کسی قوم کا سردار بنے گااس کے پاس حاجت مند تو آئیں گے اس لئے شریعت نے زکوٰۃ کا انتظام خلیفہ کے سپرد کیا ہے تمام زکوٰۃ اُس کے پاس آنی چاہیے تا کہ وہ حاجتمندوں کو دیتا رہے۔ پس چونکہ یہ میرا ایک فرض اور کام ہے کہ میں کمزور لوگوں کی کمزوریوں کو دور کروں اس لئے تمہارا فرض ہونا چاہیے کہ اس میں میرے مددگار رہو۔ ابھی تو جھگڑے ہی ختم نہیں ہوئے مگر پھر بھی کئی سَو کی درخواستیں آچکی ہیں جن کا مجھے انتظام کرنا پڑتا ہے جیسا کہ ابھی میں نے کہا ہے کہ یہ سلسلہ خلیفہ کے ذمہ رکھا ہے کہ ہر قسم کی کمزوریاں دور کرے خواہ وہ جسمانی ہوں یا مالی، ذہنی ہوں عملی یا علمی اور اس کے لئے سامان چاہئے۔ پس اس کے انتظام کے لئے زکوٰۃ کی مدکا انتظام ہونا ضروری ہے۔ میں نے اس کے انتظام کے لئے یہ تجویز کی ہے کہ زکوٰۃ سے اس قسم کے اخراجات ہوں۔ حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میںبھی یہ تجویز میں نے پیش کی تھی۔ پہلے تو میں ان سے بے تکلّف تھا اور دو دو گھنٹہ تک مباحثہ کرتا رہتا تھا لیکن جب وہ خلیفہ ہو گئے تو کبھی میں ان کے سامنے چوکڑی مار کر بھی نہیں بیٹھا کرتا تھا۔ جاننے والے جانتے ہیں خواہ مجھے تکلیف بھی ہوتی مگر یہ جرأت نہ کرتا اور نہ اونچی آواز سے کلام کرتا۔ کسی ذریعہ سے میں نے انہیں کہلا بھیجا تھا کہ زکوٰۃ خلیفہ کے پاس آنی چاہئے۔ کسی زمانہ میں تو عُشر آتے تھے اب وہ وقت نہیں ۔آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔ اس شخص کو کہا کہ تم مجھے زکوٰۃ دے دیا کرو میرا یہی مذہب ہے۔ اور میرا بھی یہی عقیدہ ہے کہ زکوٰۃ خلیفہ کے پاس جمع ہو۔
    پس تمہیںچاہئے کہ اپنی انجمنوں میں زکوٰۃ کے رجسٹر رکھو اور ہر شخص کی آمدنی تشخیص کر کے اس میں درج کرو اور جو لوگ صاحب نصاب ہوں وہ حساب کر کے پوری زکوٰۃادا کریں اور وہ براہِ راست انجمن مقامی کے رجسٹروں میں درج ہو کر میرے پاس آ جائے اس کا باقاعدہ حساب کتاب رہے۔ ہاں یہ بھی ضروری ہے کہ جن زکوٰۃ دینے والوں کے بعض رشتہ دار مستحق زکوٰۃ ہوں کہ ان کی مدد زکوٰۃ سے ہو سکتی ہو وہ ایک فہرست اِس مطلب کی یہاں بھیج دیں۔ پھر ان کے لئے بھی مناسب مدد یا تو یہاں سے بھیج دی جایا کرے گی یا وہاں ہی سے دے دیئے جانے کا حکم دیا جایا کرے گا۔ بہرحال زکوٰۃ جمع ایک جگہ ہونی چاہئے اور پھر خلیفہ کے حکم کے ماتحت وہ خرچ ہونی چاہیے۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر باقاعدہ رجسٹر کھولے گئے اور اس کے جمع کرنے میں کوشش کی گئی تو اس مد میں ہزاروں روپیہ جمع ہو سکتا ہے بلکہ میرا یقین ہے کہ تھوڑے ہی دنوں میں لاکھ سے بھی زیادہ آمدنی ہو سکتی ہے اس طرف زور سے توجہ ہو۔ میں یہ کروں گا کہ مسئلہ زکوٰۃ پر ایک ٹریکٹ لکھوا کر شائع کر دوں گا جس میں زکوٰۃ کے تمام احکام ہوں گے مگر آپ کا یہ کام ہے کہ زکوٰۃ کے لئے باقاعدہ رجسٹر کھول دیں اور نہایت احتیاط اور کوشش سے زکوٰۃ جمع کریں اور وہ زکوٰۃ باقاعدہ میرے پاس آنی چاہیے یہ ایک تجویز ہے۔
    ترقیٔ تعلیم
    میں نے بتایا تھا کہ کے معنوں میں اُبھارنا اور بڑھانا بھی داخل ہے اور اس کے مفہوم میں قومی ترقی داخل ہے اور اس ترقی میں علمی ترقی بھی
    شامل ہے اور اسی میں انگریزی مدرسہ، اشاعتِ اسلام وَغَیْرَہُمَا امور آ جاتے ہیں اس سلسلہ میں میرا خیال ہے کہ ایک مدرسہ کافی نہیں ہے جو یہاں کھولا ہوا ہے اس مرکزی سکول کے علاوہ ضرورت ہے کہچ مختلف مقامات پر مدرسے کھولے جائیں زمیندار اس مدرسہ میں لڑکے کہاں بھیج سکتے ہیں۔ زمینداروں کی تعلیم بھی تو مجھ پر فرض ہے پس میری یہ رائے ہے کہ جہاں جہاں بڑی جماعت ہے وہاں سرِدست پرائمری سکول کھولے جائیں ایسے مدارس یہاں کے مرکزی سکول کے ماتحت ہوںگے۔
    ایساہونا چاہیے کہ جماعت کا کوئی فرد عورت ہو یا مرد باقی نہ رہے جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو۔ صحابہؓ نے تعلیم کے لئے بڑی بڑی کوششیں کی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض دفعہ جنگ کے قیدیوں کا فدیۂ آزادی یہ مقرر فرمایا ہے کہ وہ مسلمان بچوں کو تعلیم دیں۔ میں جب دیکھتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیا فضل لے کر آئے تھے تو جوشِ محبت سے روح بھر جاتی ہے۔ آپؐ نے کوئی بات نہیں چھوڑی ہر معاملہ میں ہماری راہنمائی کی ہے۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفۃ المسیح نے بھی اسی نقش قدم پر چل کر ہر ایسے امر کی طرف توجہ دلائی ہے جو کسی بھی پہلو سے مفید ہو سکتاہے۔
    غرض عام تعلیم کی ترقی کے لئے سردست پرائمری سکول کھولے جائیں۔ ان تمام مدارس میں قرآن مجید پڑھایا جائے اور عملی دین سکھایا جائے ، نماز کی پابندی کرائی جائے مؤمن کسی معاملہ میں پیچھے نہیں رہتا۔ پس تعلیمِ عامہ کے معاملہ میں ہمیں جماعت کو پیچھے نہیں رکھنا چاہیے اگر اس مقصد کے ماتحت پرائمری سکول کھولے جائیں گے تو گورنمنٹ سے بھی مدد مل سکتی ہے۔
    جماعت کی دُنیوی ترقی
    تعلیم کے سوال کے ساتھ ہی یہ بھی قابلِ غور امر ہے کہ جماعت کی دُنیوی ترقی ہو۔ ان کو فقر اور سوال سے بچایا
    جائے اور واعظین، تبلیغ اور تعلیم شرائع کے لئے جائیں ۔ ان کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ وہ جماعت کی مادی ترقی کابھی خیال رکھیں اور یہاں رپورٹ کرتے رہیں کہ احمدی سُست تو نہیں۔ اگر کسی جگہ کوئی شخص سست پایا جائے تو اُس کو کاروبار کی طرف متوجہ کیا جائے۔ مختلف حرفتوں اور صنعتوں کی طرف انہیں متوجہ کیا جائے اِس قسم کی باقاعدہ اطلاعیں جب ملتی رہیں گی تو جماعت کی اصلاحِ حال کی کوشش اور تدبیر ہو سکے گی۔
    عملی ضرورت ہے
    جب میں نے ان باتوں پر غور کیا تو میں نے دیکھا کہ یہ بہت بڑا میدان ہے۔ میں نے غور کیا تو ڈر گیا کہ باتیں تو بہت کیں
    اگر عمل میںسُستی ہو تو پھر کیا ہوگا اور دوسری طرف خیال آیا کہ اگر چستی ہو تو پھر اور قسم کی مشکلات ہیں۔ حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کی خلافت پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ حضرت عمرؓ چل پھر کر خوب واقفیت پیدا کر لیتے تھے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ کا قصور تھا وہ جھوٹے ہیں۔ حضرت عثمانؓ بہت بوڑھے تھے اور چل پھر کر وہ کام نہیں کر سکتے تھے جو حضرت عمرؓ کر لیتے تھے۔ پھر میں نے خیال کیا کہ میرا اپنا تو کچھ بھی نہیں جس خدا نے یہ امور اصلاحِ جماعت کے لئے میرے دل میں ڈالے ہیں وہی مجھے توفیق بھی دے دے گا۔ مجھے دے گا تو میرے ساتھ والوں کو بھی دے گا۔
    غرض دُنیوی ترقی کے لئے مدارس قائم کئے جائیں اور واعظین اپنے دَوروں میں اِس امر کو خصوصیت سے مدنظر رکھیں کہ جماعتیں بڑھ رہی ہیںیا گھٹ رہی ہیں؟ اور تعلیمی اور دُنیوی حالت میں کیا ترقی ہو رہی ہے؟ عملی پابندیوں میں جماعت کی کیسی حالت ہے؟ باہم اخوت اور محبت کے لحاظ سے وہ کس قدر ترقی کر رہے ہیں؟ ان میں باہم نزاعیں اور جھگڑے تو نہیں؟ یہ تمام امور ہیں جن پر واعظوں کو نظر رکھنی ہوگی اور اس کے متعلق مفصل رپورٹیں میرے پاس آتی رہیں۔
    کالج کی ضرورت
    جب مختلف مقامات پر مدرسے کھولے جائیں گے تو اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ہمارا اپنا ایک کالج ہو۔ حضرت خلیفۃ المسیح کی بھی
    یہ خواہش تھی۔ کالج ہی کے دنوں میں کیرکٹر بنتا ہے۔ سکول لائف میں تو چال چلن کا ایک خاکہ کھینچا جاتا ہے اس پر دوبارہ سیاہی کالج لائف ہی میں ہوتی ہے پس ضرورت ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کی زندگیوں کو مفید اور مؤثر بنانے کے لئے اپنا ایک کالج بنائیں۔ پس تم اس بات کو مدنظر رکھو میں بھی غور کر رہا ہوں۔ یہ خلیفہ کے کام ہیں جن کو میں نے مختصراً بیان کیا ہے ان کو کھول کر دیکھو اور ان کے مختلف حصوں پر غور کرو تو معلوم ہو جائے گا کہ انجمن کی کیا حقیقت ہے اور خلیفہ کی کیا۔ میں یہ بڑے زور سے کہتا ہوں کہ نہ کوئی انجمن اس قسم کی ہے اور نہ ایسا دعویٰ کر سکتی ہے نہ ہو سکتی ہے نہ خدا نے کبھی کوئی انجمن بھیجی۔
    انجمن اور خلیفہ کی بحث
    بعض کہتے ہیں کہ خلیفہ نے انجمن کا حق غضب کر لیا پھر کہتے ہیں کہ یہ لوگ شیعہ ہیں۔ میں جب ان باتوں کو سنتا ہوں
    تو مجھے افسوس آتا ہے کہ ان لوگوں کو کیا ہوگیا۔ کہتے ہیں بیٹے کو خلافت کیوں مل گئی؟ میں حیران ہوں کہ کیا کسی ولی یا نبی کا بیٹا ہونا ایسا ناقابلِ عفو جُرم ہے کہ اس کو کوئی حصہ خدا کے فضل سے نہ ملے اور کوئی عہدہ وہ نہ پائے؟ اگر یہ درست ہے تو پھر نَعُوْذُبِاللّٰہِ کسی ولی یا نبی کا بیٹا ہونا تو ایک *** ہوئی برکت نہ ہوئی۔ پھر انبیاء علہیم السلام اولاد کی خواہش یونہی کرتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کی اولاد کی پیشگوئی نَعُوْذُبِاللّٰہِ لغوکی اور خداتعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام سے جو وعدے کئے وہ برکت کے وعدے نہ تھے؟ (نَعُوْذُبِاللّٰہِ مِن ذٰلِکَ) اور اگر یہ پیر پرستی ہے کہ کوئی بیٹا وارث ہو تو پھر اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ پیر کی اولاد کو ذلیل کیا جائے تا کہ پیر پرستی کا الزام نہ آئے پھر احترام اور عزت و تکریم کے دعاوی کس حد تک درست سمجھے جائیں۔
    یہ شرم کرنے کامقام ہے سوچو اور غور کرو۔ میں تمہیں کھول کر کہتا ہوں کہ میرے دل میں یہ خواہش نہ تھی اور کبھی نہ تھی۔ پھر اگر تم نے مجھے گندہ سمجھ کر میری بیعت کی ہے تو یاد رکھو کہ تم ضرور پیرپرست ہو۔ لیکن اگر خداتعالیٰ نے تمہیں پکڑ کر جھکا دیا ہے تو پھر کسی کو کیا؟
    یہ کہنا کہ میں نے انجمن کاحق غصب کر لیا ہے بہت بڑا بول ہے۔ کیا تم کو معلوم نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے خداتعالیٰ کا وعدہ تھا کہ میں تیری ساری خواہشوں کو پورا کروں گا۔ اب ان لوگوں کے خیال کے موافق تو حضرت صاحب کا منشاء اور خواہش تو یہ تھی کہ انجمن ہی وارث ہے اور خلیفہ ان کے خیال میں بھی نہ تھا تو اب بتاؤ کہ کیا اس بات کے کہنے سے تم اپنے قول سے یہ ثابت نہیں کر رہے کہ نَعُوْذُبِاللّٰہِ خدانے ان کے منشاء کو پورا نہ ہونے دیا۔
    سوچ کر بتاؤ کہ شیعہ کون ہوئے؟ شیعہ بھی تو یہی کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ علیہ وسلم کا منشاء تھا کہ حضرت علیؓ خلیفہ ہوں آپؐ کے خیال و وہم میں بھی نہ تھا کہ ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ خلیفہ ہوں۔ تو جیسے ان کے اعتقاد کے موافق مسئلہ خلافت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منشاء کو لوگوں نے بدل دیا اسی طرح یہاں بھی ہوا۔ افسوس! کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی عزت اور عظمت تمہارے دلوں میں ہے کہ تم قرار دیتے ہو کہ وہ اپنے منشاء میں نَعُوْذُبِاللّٰہِ ناکام رہے۔ خدا سے ڈرو اور توبہ کرو۔
    پھر ایک تحریر لئے پھرتے ہیں اور اس کے فوٹو چھپوا کر شائع کئے جاتے ہیں یہ بھی وہی شیعہ والے قرطاس کے اعتراض کا نمونہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے قرطاس نہ لانے دیا اگر قرطاس آ جاتا تو ضرور حضرت علیؓ کی خلافت کا فیصلہ کر جاتے ۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ افسوس قرطاس لکھ کر بھی دئیے گئے پھر بھی کوئی نہیں مانتا بتاؤ شیعہ کون ہوا؟ میں کہتا ہوں کہ اگر وہ قرطاس ہوتا تو کیا بنتا۔ وہی کچھ ہونا تھا جو ہو گیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ لکھوایا اور شیعہ کو خلیفہ ثانی پر اعتراض کا موقع ملا۔ یہاں مسیح موعود علیہ السلام نے لکھ کر دیا اور اب اس کے ذریعہ اس کے خلیفہ ثانی پر اعتراض کیا جاتا ہے۔
    یاد رکھو کہ مسیح موعود علیہ السلام تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جس قدر اعتراض ہوتے ہیں اُن کو دور کرنے آئے تھے جیسے مثلاً اعتراض ہوتا تھا کہ اسلام تلوار کے ذریعہ پھیلایا گیا ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آ کر دکھا دیا کہ اسلام تلوار کے ذریعہ نہیں پھیلا بلکہ وہ اپنی روشن تعلیمات اور نشانات کے ذریعہ پھیلا ہے اسی طرح قرطاس کی حقیقت معلوم ہو گئی۔ سن لو! خداتعالیٰ کے مقابلہ میں قرطاس کی کیا حقیقت ہوتی ہے؟ اور میں یہ بھی تمہیں کھول کر سناتا ہوں کہ قرطاس منشائِ الٰہی کے خلاف بھی نہیں ہو سکتا۔
    حضرت خلیفۃ المسیح فرمایا کرتے تھے کہ ایک شیعہ ہمارے اُستاد صاحب کے پاس آیا اور ایک حدیث کی کتاب کھول کر ان کے سامنے رکھ دی۔ آپ نے پڑھ کر پوچھا کیا ہے؟ شیعہ نے کہا کہ منشائِ رسالت پناہی حضرت علیؓ کی خلافت کے متعلق معلوم ہوتا ہے فرماتے تھے میرے استاد صاحب نے نہایت متانت سے جواب دیا ہاں منشائِ رسالت پناہی تو تھا مگر منشائِ الٰہی اس کے خلاف تھا اس لئے وہ منشاء پورا نہ ہو سکا۔ میں اِس قرطاس کے متعلق پھر کہتا ہوں کہ اگر کوئی کہے تو یہ جواب دوں گا کہ حقیقۃ الوحی میں ایک جانشین کا وعدہ کیا ہے اور یہ بھی فرمایا خَلِیْفَۃٌ مِّنْ خُلَفَائِہٖ پس غصب کی پُکار بالکل بیہودہ اور عبث ہے۔ حضرت صاحب کو الہام ہوا تھا۔
    سپردم بتو مایۂ خویش را
    تو دانی حساب کم و بیش را
    ایک شریف آدمی بھی امانت میں خیانت نہیں کرتا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تو اللہ تعالیٰ نے خود یہ دعا کرائی۔ پھر کیا تم سمجھتے ہو کہ نَعُوْذُبِاللّٰہِ خداتعالیٰ نے خیانت کی؟ توبہ کرو توبہ کرو۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اتنا توکّل کہ وفات کے قریب یہ الہام ہوتا ہے پھر خدا نے نَعُوْذُبِاللّٰہِ یہ عجیب کام کیا کہ امانت غیر حقدار کو دے دی۔ خداتعالیٰ نے خلیفہ مقرر کر کے دکھا دیا کہ’’ سپردم بتو مایۂ خویش را‘‘ کے الہام کے موافق کیا ضروری تھا۔ پھر میں پوچھتا ہوں کہ کیا خدا (نَعُوْذُبِاللّٰہِ) گمراہی کرواتا ہے؟ ہرگز نہیں خداتعالیٰ تو اپنے مرسلوں اور خلفاء کو اس لئے بھیجتا ہے کہ وہ دنیا کو پاک کریں۔ اس لئے انبیاء کی جماعت ضلالت پر قائم نہیں ہوتی۔ اگر مسیح موعود علیہ السلام نے ایسی گندی جماعت پیدا کی جو ضلالت پر اکٹھی ہوگئی تو پھر نَعُوْذُبِاللّٰہِ اپنے منہ سے ان کو جھوٹا قرار دو گے! تقویٰ کرو۔
    لیکن اگر مسیح موعود علیہ السلام خدا کی طرف سے تھے اور ضرور تھے تو پھر یاد کرو کہ یہ جماعت ضلالت پر اکٹھی نہیں ہو سکتی۔ قرآن شریف کو کوئی مسیح نہیں توڑ سکتا۔ میرا یقین ہے کہ کوئی ایسا مسیح نہیں آ سکتا۔ جو آئے گا قرآن کا خادم ہو کر آئے گا اس پر حاکم ہو کر نہیں۔ یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عقیدہ تھا یہی شرح ہے آپ کے اس قول کی
    ’’وہ ہے میں چیز کیا ہوں‘‘۔
    یہ تو دشمن پر حجت ہے مسیح موعود علیہ السلام قرآن کریم کی حقانیت ثابت کرنے کو آیا تھا۔ اسے نَعُوْذُبِاللّٰہِ باطل کرنے نہیں آیا تھا۔ اس نے اپنے کام سے دکھا دیا کہ وہ قرآن مجید کا غلبہ ثابت کرنے کے لئے آیا تھا۔
    قرآن مجید میں فرمایا ہے۲۵؎ ۔
    طریق حکومت کیا ہونا چاہیے؟
    پھر کہتے ہیں کہ خلیفہ کا طریق حکومت کیا ہو؟ خداتعالیٰ نے اس کا فیصلہ کر دیا ہے تمہیں
    ضرورت نہیں کہ تم خلیفہ کیلئے قواعد اور شرائط تجویز کرو یا اس کے فرائض بتاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں اس کے اغراض و مقاصد بتائے ہیں قرآن مجید میں اس کے کام کرنے کا طریق بھی بتا دیا ہے ۲۶؎ ایک مجلس شوریٰ قائم کرو، ان سے مشورہ لے کر غور کرو پھر دعا کرو جس پر اللہ تعالیٰ تمہیں قائم کر دے اس پر قائم ہو جاؤ۔ خواہ وہ اس مجلس کے مشورہ کے خلاف بھی ہوتو خداتعالیٰ مدد کرے گا۔ خداتعالیٰ تو کہتا ہے جب عزم کر لو تو اللہ پر توکّل کرو۔ گویا ڈرو نہیں اللہ تعالیٰ خود تمہاری تائید اور نصرت کرے گا اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ خواہ خلیفہ کا منشاء کچھ ہو اور خدا تعالیٰ اسے کسی بات پر قائم کرے مگر وہ چند آدمیوں کی رائے کے خلاف نہ کرے۔ حضرت صاحب نے جو مصلح موعود کے متعلق فرمایا ہے۔
    ’’وہ ہوگا ایک دن محبوب میرا‘‘
    اس کا بھی یہی مطلب ہے کیونکہ خداتعالیٰ متوکلین کو محبوب رکھتا ہے جو ڈرتا ہے وہ خلیفہ نہیں ہو سکتا اسے تو گویا حکومت کی خواہش ہے کہ ایسا نہ ہو میں کسی آدمی کے خلاف کروں تو وہ ناراض ہو جائے ایسا شخص تو مشرک ہوتا ہے اور یہ ایک *** ہے۔ خلیفے خدا مقرر کرتا ہے اور آپ اُن کے خوفوں کو دُور کرتا ہے جو شخص دوسروں کی مرضی کے موافق ہر وقت ایک نوکر کی طرح کام کرتا ہے اُس کو خوف کیا اور اس میں موحد ہونے کی کونسی بات ہے۔ حالانکہ خلفاء کے لئے تو یہ ضروری ہے کہ خدا انہیں بناتا ہے اور ان کے خوف کو امن سے بدل دیتا ہے اور وہ خدا ہی کی عبادت کرتے ہیں اور شرک نہیں کرتے۔
    اگر نبی کو ایک شخص بھی نہ مانے تو اس کی نبوت میں فرق نہیں آتا وہ نبی ہی رہتا ہے یہی حال خلیفہ کا ہے اگر اُس کو سب چھوڑ دیں پھر بھی وہ خلیفہ ہی ہوتا ہے کیونکہ جو حکم اصل کا ہے وہی فرع کا ہے۔ خوب یاد رکھو کہ اگر کوئی شخص محض حکومت کے لئے خلیفہ بنا ہے تو جھوٹا ہے اور اگر اصلاح کے لئے خدا کی طرف سے کام کرتا ہے تو وہ خدا کا محبوب ہے خواہ ساری دنیا اس کی دشمن ہو۔ اس آیت مشورہ میں کیا لطیف حکم ہے۔
    اُس مشورہ کا کیا فائدہ جس پر عمل نہیں کرنا
    بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر مشورہ لے کر اس پرعمل
    کرنا ضروری نہیں تو اس مشورہ کا کیا فائدہ ہے وہ تو ایک لغو کام بن جاتا ہے اور انبیاء اور اولیاء کی شان کے خلاف ہے کہ کوئی لغو کام کریں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مشورہ لغو نہیں بلکہ بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص ایک بات سوچتا ہے دوسرے کو اس سے بہتر سُوجھ جاتی ہے۔ پس مشورہ سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ مختلف لوگوں کے خیالات سن کر بہتر رائے قائم کرنے کا انسان کو موقع ملتا ہے جب ایک آدمی چند آدمیوں سے رائے پوچھتا ہے تو بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ان میں سے کوئی ایسی تدبیر بتا دیتا ہے جو اسے نہیں معلوم تھی۔ جیسا کہ عام طور پر لوگ اپنے دوستوں سے مشورہ کرتے ہیں کیا پھر اسے ضرور مان بھی لیا کرتے ہیں؟پھر اگر مانتے نہیں تو کیوں پوچھتے ہیں؟ اس لئے کہ شائد کوئی بہتر بات معلوم ہو۔ پس مشورہ سے یہ غرض نہیں ہوتی کہ اس پر ضرور کاربند ہوں بلکہ یہ غرض ہوتی ہے کہ ممکن ہے کہ بہت سے لوگوں کے خیالات سن کر کوئی اور مفید بات معلوم ہو سکے۔ اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مشورہ لینے والا مخاطب ہے اگر فیصلہ مجلس شوریٰ کا ہوتا تو یوں حکم ہوتا کہ عَزَمْتُمْ فَتَوَکَّلُوْا اگرتم سب لوگ ایک بات پر قائم ہو جاؤ تو اللہ پر توکّل کر کے کام شروع کر دو۔ مگر یہاں صرف اس مشورہ کرنے والے کو کہا کہ تُو جس بات پر قائم ہو جائے اُسے تَوَکُّلاً عَلَی اللّٰہِ شروع کر دے۔ دوسرے یہاں کسی کثرتِ رائے کا ذکر ہی نہیں بلکہ یہ کہا ہے کہ لوگوں سے مشورہ لے یہ نہیں کہا کہ اُن کی کثرت دیکھ اور جس پر کثرت ہو اُس کی مان لے یہ تو لوگ اپنی طرف سے ملا لیتے ہیں قرآن کریم میں کہیں نہیں کہ پھر ووٹ لئے جائیں اور جس طرف کثرت ہو اُس رائے کے مطابق عمل کرے بلکہ یوں فرمایا ہے کہ لوگوں سے پوچھ، مختلف مشوروں کو سن کر جس بات کا تو قصد کرے ( کے معنی ہیں جس بات کا تو پختہ ارادہ کرے) اُس پر عمل کر اور کسی سے نہ ڈر بلکہ خداتعالیٰ پر توکّل کر۔
    عجیب نکتہ
    کے لفظ پر غور کرو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشورہ لینے والا ایک ہے دو بھی نہیں اور جن سے مشورہ لینا ہے وہ بہرحال تین یا تین سے
    زیادہہوں۔ پھر وہ اس مشورہ پر غور کرے پھر حکم ہے جس بات پر عزم کرے اُس کو پورا کرے اور کسی کی پرواہ نہ کرے۔
    حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں اس عزم کی خوب نظیر ملتی ہے۔ جب لوگ مرتد ہونے لگے تو مشورہ دیا گیا کہ آپ اس لشکر کو روک لیں جو اسامہؓ کے زیر کمانڈ جانے والا تھا۔ مگر اُنہوں نے جواب دیا کہ جو لشکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا ہے میں اسے واپس نہیں کر سکتا۔ ابوقحافہ کے بیٹے کی طاقت نہیں کہ ایسا کر سکے۲۷؎۔ پھر بعض کو رکھ بھی لیا چنانچہ حضرت عمرؓ بھی اسی لشکر میں جا رہے تھے اُن کو روک لیا گیا۔
    میں یہ ایک مصلحت سے کہتا ہوں
    پھر زکوٰۃ کے متعلق کہا گیا کہ مرتد ہونے سے بچانے کے لئے ان کو معاف کر دو۔ اُنہوںنے جواب دیا کہ اگر یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹ باندھنے کی ایک رسّی بھی دیتے تھے تو وہ بھی لوں گا۔ اور اگر تم سب مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ اور مرتدین کے ساتھ جنگل کے درندے بھی مل جائیں تو میں اکیلا اُن سب کے ساتھ جنگ کروں گا۔ یہ عزم کا نمونہ ہے پھر کیا ہوا؟ تم جانتے ہو خداتعالیٰ نے فتوحات کا ایک دروازہ کھول دیا۔ یاد رکھو جب خدا سے انسان ڈرتا ہے تو پھر مخلوق کا رُعب اس کے دل پر اثر نہیں کر سکتا۔
    شرک کا مسئلہ کیسے سمجھا دیا
    مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے شرک کا مسئلہ خوب سمجھا دیا ہے۔ ایک رؤیا کے ذریعہ اس کو حل کر دیا۔
    میں نے دیکھا کہ میں مقبرہ بہشتی میں گیا ہوں۔ واپس آتے وقت ایک بڑا سمندر دیکھا جو پہلے نہ تھا اس میں ایک کشتی تھی اس میں بیٹھ گیا دو آدمی اور ہیں ایک جگہ پہنچ کر کشتی چکر کھانے لگی۔ اس سمندر میں سے ایک سر نمودار ہوا۔ اس نے کہا کہ یہاں ایک پیر صاحب کی قبر ہے تم ان کے نام ایک رُقعہ لکھ کر ڈال دو تا کہ یہ کشتی صحیح سلامت پار نکل جائے۔ میں نے کہا کہ یہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ وہ آدمی جو ساتھ ہیں ان میں سے کسی نے کہا کہ جانے دو کیا حرج ہے رُقعہ لکھ کر ڈال دو۔ جب بچ جائیں گے تو پھر توبہ کر لیں گے۔ میں نے کہا ہرگز نہیں ہوگا۔ اس پر اُس نے چُھپ کر خود رُقعہ لکھ کر ڈالنا چاہا میں نے دیکھ لیا تو پکڑ کر پھاڑنا چاہا۔ وہ چھپاتا تھا آخر اس کشمکش میں سمندر میں گر پڑے مگر میں نے وہ رُقعہ لے کر پھاڑ ڈالا اور پھر کشتی میں بیٹھ گیا تو میں نے دیکھاکہ وہ کشتی اس بھنور سے نکل گئی۔ اس کھلی کھلی ہدایت کے بعد میں خدا کی پناہ چاہتا ہوں کہ اس کی مخلوق سے ڈروں۔ میں دعا کرتا ہوں کہ یہ کشتی جس میں میں اب سوار ہوں اس بھنور سے نکل جائے اور مجھے یقین ہے کہ ضرور نکل جائے گی۔
    چھوٹی عمر ہے
    منکرین خلافت یہ بھی کہتے ہیں کہ عمر چھوٹی ہے۔ اس پر مجھے ایک تاریخی واقعہ یاد آگیا۔ کوفہ والے بڑی شرارت کرتے تھے جس گورنر کو وہاں
    بھیجا جاتا وہ چند روز کے بعد اس کی شکائتیں کر کے اُس کو واپس کر دیتے۔ حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے جب تک حکومت میں فرق نہ آئے ان کی مانتے جاؤ۔ آخر جب ان کی شرارتیں حد سے گزرنے لگیں تو حضرت عمرؓ نے ایک گورنر جن کا نام غالباً ابن ابی لیلیٰ تھا اور جن کی عمر ۱۹ برس کی تھی کوفہ میں بھیجا۔ جس وقت یہ وہاں پہنچے تو وہ لوگ لگے چہ میگوئیاں کرنے کہ عمرؓ کی عقل (نَعُوْذُبِاللّٰہِ) ماری گئی جو ایک لڑکے کو گورنر کر دیا۔ اور اُنہوں نے تجویز کی کہ ’’گربہ کشتن روزِ اوّل‘‘ پہلے ہی دن اس گورنر کو ڈانٹنا چاہیے اور اُنہوں نے مشورہ کر کے یہ تجویز کی کہ پہلے ہی دن اس سے اس کی عمر پوچھی جائے۔ جب دربار ہوا تو ایک شخص بڑی متین شکل بنا کر آگے بڑھا اور بڑھ کر کہا کہ حضرت! آپ کی عمر کیا ہے؟ ابن ابی لیلیٰ نے نہایت سنجیدگی سے جواب دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صحابہؓ کے لشکر پر اُسامہؓ کو افسربنا کر شام کی طرف بھیجا تھا تو جو اُس وقت اُن کی عمر تھی اُس سے میں دو سال بڑا ہوں (اُسامہؓ کی عمراُس وقت سترہ سال کی تھی اور بڑے بڑے صحابہؓ اُن کے ماتحت کئے گئے تھے) کوفہ والوں نے جب یہ جواب سنا تو خاموش ہوگئے او رکہا کہ اِس کے زمانہ میں شور نہ کرنا۔ اِس سے یہ بھی حل ہو جاتا ہے کہ چھوٹی عمر والے کی بھی اطاعت ہی کریں جب وہ امیر ہو۔ حضرت عمرؓ جیسے انسان کو سترہ سال کے نوجوان اسامہؓ کے ماتحت کر دیا گیا تھا۔ میں بھی اِسی رنگ میں جواب دیتا ہوں کہ میری عمر تو ابن ابی لیلیٰ سے بھی سات برس زیادہ ہے۔
    ایک اور اعتراض کا جواب
    ایک اور اعتراض کرتے ہیں مگر خداتعالیٰ نے اس کا جواب بھی تیرہ سَو سال سے پہلے ہی دے دیا ہے۔
    کہتے ہیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہے خلافت کہاں سے نکل آئی۔ لیکن یہ لوگ یاد رکھیں کہ حضرت ابوبکرؓ پر جب زکوٰۃ کے متعلق اعتراض ہوا تو وہ بھی اِسی رنگ کا تھا کہ خُذْ مِنْ اَمْوَالِھِمْ صَدَقَۃً۲۸؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہے اب وہ رہے نہیں اور کسی کا حق نہیں کہ زکوٰۃ وصول کرے جسے لینے کا حکم تھا وہ فوت ہو گیا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے یہی جواب دیا کہ اب میں مخاطب ہوں۔ اِسی کا ہم آہنگ ہو کر اپنے معترض کو کہتا ہوں کہ اب میں مخاطب ہوں۔ اگر اُس وقت یہ جواب سچا تھا اور ضرور سچا تھا تو یہ بھی درست ہے جو میں کہتا ہوں۔ اگر تمہارا اعتراض درست ہوتو اس پر قرآن مجید سے بہت سے احکام تم کو نکال دینے پڑیں گے اور یہ کھلی کھلی ضلالت ہے۔
    ایک عجیب بات
    میں تمہیں ایک اور عجیب بات سناتا ہوں جس سے تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ خداتعالیٰ کے کاموں میں تفاوت نہیں ہوتا۔ اشتہارسبز میں
    میرے متعلق خدا کے حُکم سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بشارت دی۔ خدا کی وحی سے میرا نام اولوالعزم رکھا۔ اور اس آیت میں فرمایا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مجھے اس آیت پر عمل کرنا پڑے گا پھر میں اس کو کیسے ردّ کر سکتا ہوں۔
    کیا خدمت کی ہے؟
    پھر ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ اس نے کیا خدمت کی ہے؟ اس سوال کا حل تو اسامہؓ والی بات ہی میں موجود ہے۔ اسامہؓ
    کی خدمات کس قدر تھیں کہ وہ بڑے بڑے صحابہ پر افسر مقرر کر دیا گیا۔ خلافت تو خداتعالیٰ کے فضل سے ملتی ہے وہ جسے چاہتا ہے دے دیتا ہے ہاں اس کا یہ فعل نَعُوْذُبِاللّٰہِ لغو نہیں ہوتا۔ پھر خالد بن ولیدؓ، ابوعبیدہؓ، عمرو بن العاصؓ، سعد بن الوقاصؓ اُنہوں نے جو خدمات کیں ان کے مقابلہ میں حضرت عمرؓ کیا خدمات پیش کر سکتے ہیں مگر خلیفہ تو حضرت عمرؓ ہوئے۔ وہ نہ ہوئے خداتعالیٰ سے بہتراندازہ کون لگا سکتا ہے۔
    آیت استخلاف
    میں نے آیت استخلاف پر غور کیا ہے اور مجھے بہت ہی لطیف معنی آیت استخلاف کے سمجھائے گئے ہیں جن پر غور کرنے سے بڑا مزا آیا۔
    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

    ۲۹؎
    کے ایک معنی تو میں اپنے اس ٹریکٹ میں لکھ چکا ہوں جو ’’کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ ایک دوسرے معنی بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھائے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ اس آیت میں اوّل تو خداتعالیٰ کے وعدہ کا ذکر کیا گیا ہے کہ ۔ پھر خلافت دینے کے وعدے کو لامِ تاکید اور نونِ تاکید سے مؤکد کیا اور بتایا کہ خدا ایسا کرے گا اور ضرور کرے گا۔ پھر بتایا کہ خدا ضرور ضرور ان خلفاء کو تمکین عطا کرے گا اور پھر فرمایا کہ خدا ضرور ضرور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔ غرض کہ تین بار لامِ تاکید اور نونِ تاکید لگا کر اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسا خدا ہی کرے گا کسی کااس میں دخل نہ ہوگا۔ اس کی غرض بتائی کہ ایسا کیوں ہوگا؟ اس لئے کہ اس کے نتیجہ میں وہ میری ہی عبادت کریں گے کسی کو میرا شریک نہ قرار دیں گے یعنی اگر انسانی کوشش سے خلیفہ بنے تو خلیفہ کو گروہ سے دبتے رہنا پڑے کہ ان لوگوں نے مجھ پر احسان کیاہے۔ پس ہم سب کچھ خود ہی کریں گے تا شرک خلفاء کے قریب بھی نہ پھٹک سکے۔ اور جب خلیفہ اس وقت اور قدرت کو دیکھے گا جس کے ذریعہ خدا نے اسے قائم کیا ہے تو اُسے وہم بھی نہیں ہو سکتا کہ اس میں کسی دوسرے کا بھی ہاتھ ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ معنی خداتعالیٰ نے بتائے ہیں پس خلیفہ خدا مقرر کرتا ہے اور کوئی نہیں جو اس کو مٹا سکے۔
    بعض کہتے ہیں کہ اگر خلیفے نہ ہوں تو کیا مسلمانوں کی نجات نہ ہوگی جب خلافت نہ رہی تو اُس وقت کے مسلمانوں کا پھر کیا حال ہوگا؟ یہ ایک دھوکا ہے دیکھو قرآن مجید میں وضو کے لئے ہاتھ دھونا ضروری ہے لیکن اگر کسی کا ہاتھ کٹ جائے تو اس کا وضو بغیر ہاتھ دھوئے کے ہو جائے گا۔ اب اگر کوئی شخص کسی ایسے ہاتھ کٹے آدمی کو پیش کر کے کہے کہ دیکھو اس کا وضو ہو جاتا ہے یا نہیں؟ جب یہ کہیں کہ ہاں ہو جاتا ہے تو وہ کہے کہ بس اب میں بھی ہاتھ نہ دھوؤں گا تو کیا وہ راستی پر ہوگا؟ ہم کہیں گے کہ اس کا ہاتھ کٹ گیا مگر تیرا تو موجود ہے۔ پس یہی جواب اِن معترضین کا ہے۔ ہم انہیں کہتے ہیں کہ ایک زمانہ میں جابر بادشاہوں نے تلوار کے زور سے خلافتِ راشدہ کو قائم نہ ہونے دیا کیونکہ ہر کام ایک مدت کے بعد مٹ جاتا ہے پس جب خلافت تلوار کے زور سے مٹا دی گئی تو اب کسی کو گناہ نہیں کہ وہ بیعت خلیفہ کیوں نہیں کرتا۔ مگر اِس وقت وہ کونسی تلوار ہے جو ہم کو قیامِ خلافت سے روکتی ہے۔ اب بھی اگر کوئی حکومت زبردستی خلافت کے سلسلہ کو روک دے تو یہ الٰہی فعل ہوگا اور لوگوں کو رُکنا پڑے گا۔ لیکن جب تک خلافت میں کوئی روک نہیں آتی اُس وقت تک کون خلافت کو روک سکتا ہے اور اُس وقت تک کہ خلیفہ ہو سکتا ہو جب کوئی خلافت کا انکار کرے گا وہ اُسی حکم کے ماتحت آئے گا جو ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم کے منکرین کا ہے۔ ہاں جب خلافت ہو ہی نہیں تو اس کے ذمہ دار تم نہیں۔ سارق کی سزا قرآن مجید میں ہاتھ کاٹنا ہے۔ اب اگر اسلامی سلطنت نہیں اور چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا تو یہ کوئی قصور نہیں غیر اسلامی سلطنت اس حکم کی پابندنہیں۔
    موجودہ انتظام میں دِقتیں
    اب دیکھنا ہے کہ موجودہ انتظام میں کیا دِقتیں پیش آرہی ہیں۔ انجمن کے بعض ممبر جنہوں نے بیعت نہیں
    کی وہ اپنی ہی مجموعی رائے کو انجمن قرار دے کر کہتے ہیں کہ انجمن جانشین ہے۔ دوسری طرف ایک شخص کہتا ہے کہ مجھے خدا نے خلیفہ بنایا ہے اور واقعات نے اس کی تائید بھی کی کہ جماعت کے ایک کثیر حصہ کو اس کے سامنے جُھکا دیا۔ اب اگر دو عملی رہے تو تفرقہ بڑھے گا ایک میان میں دو تلواریں سما نہیں سکتیں۔ پس تم غور کرو اور مجھے مشورہ دو کہ کیا کرنا چاہیے۔ میری غرض اس مشورہ سے پر عمل کرنا ہے ورنہ میرے سامنے ہے میں تو یقین رکھتا ہوں کہ اگر کوئی میرا ساتھ نہ دے تو خدا میرے ساتھ ہے۔
    میں پھر ایک دفعہ اِس سوال کا جواب دیتا ہوں کہ اگر کوئی بات ماننی ہی نہیں تو مشورہ کا کیا فائدہ؟ یہ بہت چھوٹی سی بات ہے ایک دماغ سوچتا ہے تو اس میں محدود باتیں آتی ہیں اگر دو ہزار آدمی قرآن مجید کی آیات پر غور کر کے ایک مجلس میں معنی بیان کریں تو بعض غلط بھی ہوں گے مگر اس میں بھی تو کوئی شُبہ نہیں کہ اکثر درست بھی ہوں گے پس درست لے لئے جائیں گے اور غلط چھوڑ دیئے جائیں گے۔ اِسی طرح ایسے مشوروں میں جو امور صحیح ہوں وہ لے لئے جائیں گے۔ ایک آدمی اتنی تجاویز نہیں سوچ سکتا ایک وقت میں بہت سے آدمی ایک امر پر سوچیں گے تو اِنْشَائَ اللّٰہکوئی مفید راہ نکل آئے گی۔
    پھر مشورہ سے یہ بھی غرض ہے کہ تمہاری دماغی طاقتیں ضائع نہ ہوں بلکہ قومی کاموں میں مل کر غور کرنے اور سوچنے اور کام کرنے کی طاقت تم میں پیدا ہو۔ پھر ایک اور بات ہے کہ اس قسم کے مشوروں سے آئندہ لوگ خلافت کے لئے تیار ہوتے رہتے ہیں۔ اگر خلیفہ لوگوں سے مشورہ ہی نہ لے تو نتیجہ یہ نکلے کہ قوم میں کوئی دانا انسان ہی نہ رہے اور دوسرا خلیفہ احمق ہی ہو کیونکہ اسے کبھی کام کرنے کا موقع نہیں دیا گیا ۔ ہماری پچھلی حکومتوں میں یہی نقص تھا۔ شاہی خاندان کے لوگوں کو مشورہ میں شامل نہ کیا جاتا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ان کے دماغ مشکلات حل کرنے کے عادی نہ ہوتے تھے اور حکومت رفتہ رفتہ تباہ ہو جاتی تھی۔ پس مشورہ لینے سے یہ بھی غرض ہے کہ قابل دماغوں کی رفتہ رفتہ تربیت ہو سکے تا کہ ایک وقت وہ کام سنبھال سکیں۔ جب لوگوں سے مشورہ لیا جاتا ہے تو لوگوں کو سوچنے کا موقع ملتا ہے اور اس سے ان کی استعدادوں میں ترقی ہو تی ہے۔ ایسے مشوروں میں یہ بھی فائدہ ہوتا ہے کہ ہر شخص کو اپنی رائے کے چھوڑنے میں آسانی ہوتی ہے اور طبیعتوں میں ضد اور ہٹ نہیں پیدا ہوتی۔
    اِس وقت جو دِقتیں ہیں وہ اِس قسم کی ہیں کہ باہر سے خطوط آتے ہیں کہ واعظ بھیج دو۔ اب جو انجمن کے ملازم ہیں اُنہیں کون بھیجے۔ انجمن تو خلیفہ کے ماتحت ہے نہیں۔ حضرت خلیفہ اوّل ملازمین کو بھیج دیتے اور وہ آن ڈیوٹی (ON DUTY)سمجھے جاتے تھے ہمارے ہاں کام کرنے والے آدمی تھوڑے ہیں اس لئے یہ دِقتیں پیش آتی ہیں۔ یا ایک شخص آتا ہے کہ مجھے فلاں ضرورت ہے مجھے کچھ دو۔ پچھلے دنوں مونگیر والوں نے لکھا کہ یہاں مسجد کا جھگڑا ہے اور جماعت کمزور ہے مدد کرو۔ حضرت صاحب کو میں نے دیکھا ہے کہ مسجدوں کے معاملات میں بڑی احتیاط کرتے۔ حضرت خلیفۃ المسیح بھی بڑی کوشش کرتے۔ کپورتھلہ کی مسجد کا مقدمہ تھا حضرت صاحب نے فرمایا کہ اگر میں سچا ہوں تو یہ مسجد ضرور ملے گی۔ غرض مسجد کے معاملہ میں بڑی احتیاط فرماتے۔ اب ایسے موقع پر میں تو پسند نہیں کر سکتا تھا کہ ان کی مدد نہ کی جائے اس لئے مجھے روپیہ بھیجنا ہی پڑا۔ یا مثلاً کوئی اور فتنہ ہو اور کوئی ماننے والا نہ ہو تو کیا ہو۔ اِس قسم کی دِقتیں اس اختلاف کی وجہ سے پیش آ رہی ہیں اور پیش آئیں گی۔ اللہ تعالیٰ پر میری امیدیں بہت بڑی ہیں میں یقین رکھتا ہوں کہ معجزانہ طور پر کوئی طاقت دکھائے گا۔ لیکن یہ عالَمِ اسباب ہے اس لئے مجھ کو اسباب سے کام لینا چاہیے۔
    میں جو کچھ کروں گا خداتعالیٰ کے خوف سے کروں گا۔ اس بات کی مجھے پرواہ نہ ہوگی کہ زید یا بکر اِس کی بابت کیا کہتا ہے پس میں پھر کہتا ہوں کہ اگر میں خدا سے ڈر کر کرتا ہوں، اگر میرے دل میں ایمان ہے کہ خدا ہے تو پھر میں نیک نیتی سے کر رہا ہوں جو کچھ کرتا ہوں اور کروں گا۔ اور اگر میں نَعُوْذُبِاللّٰہِ خدا سے نہیں ڈرتا تو پھر تم کون ہو کہ تم سے ڈروں پس میں تم سے مشورہ پوچھتا ہوں کہ کیا تجویز ہو سکتی ہے کہ اِن دِقتوں کو رفع کیا جائے؟
    لوگ کہتے ہیں کہ کبھی خلیفہ نے انجمن کو کوئی حکم نہیں دیا مگر میں سیکرٹری کے دفتر پر کھڑا ہوںبہت ہی کم کوئی ایجنڈا نکلا ہوگا جس میں بحکم خلیفۃ المسیح نہ لکھا ہو۔ یہ واقعات کثرت سے موجود ہیں اور انجمن کی روئدادیں اور رجسٹر اس شہادت میںموجود ہیں (اس مقام پر منشی محمدنصیب صاحب ہیڈکلرک دفتر سیکرٹری کھڑے ہوئے اور اُنہوں نے بہ آواز بلند کہا کہ میں شہادت دیتا ہوں یہ بالکل درست ہے)
    اس قسم کے اعتراض تو فضول ہیں جو واقعات کے خلاف ہیں۔ غرض اس وقت کچھ دِقتیں پیش آئی ہیں اور آئندہ اور ضرورتیں پیش آئیں گی۔ اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ احباب غور کریں۔ میں نے اس موجودہ اختلاف کے متعلق کچھ تجاویز سوچی ہیں ان پر غور کیا جائے اور مجھے اطلاع دی جائے۔ میری غیر حاضری میں آپ لوگ ان پر غور کریں تا کہ ہر شخص آزادی سے رائے دے سکے۔
    اوّل: خلیفہ اور انجمن کے جھگڑے نپٹانے کی بہتر صورت کیا ہے۔ انجمن سے یہ مراد ہے انجمن کے وہ ممبر جنہوں نے بیعت نہیں کی وہ اپنے آپ کو انجمن کہتے ہیں اس لئے میں نے انجمن کہا ہے صرف مبائعین رائے دیں۔
    دوم: جن لوگوں نے میری بیعت کر لی ہے میں انہیں تاکید کرتا ہوں کہ وہ ہر قسم کا چندہ میری معرفت دیں۔ یہ تجویز میں ایک رؤیا کی بناء پر کرتا ہوں جو ۸؍ مارچ ۱۹۰۷ء کی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے ان کی اپنی کاپی الہامات میں درج ہے اس کے آگے پیچھے حضرت صاحب کے اپنے الہامات درج ہیں اور اب بھی وہ کاپی موجود ہے یہ ایک لمبی خواب ہے اس میں میں نے دیکھا کہ ’’ایک پارسل میرے نام آیا ہے محمد چراغ کی طرف سے آیا ہے اس پر لکھا ہے محمود احمد پرمیشر اس کا بھلا کرے۔ خیر اس کو کھولا تو وہ روپوں کا بھرا ہوا صندوقچہ ہو گیا۔ کہنے والا کہتا ہے کہ کچھ تم خود رکھ لو، کچھ حضرت صاحب کو دے دو، کچھ صدر انجمن احمدیہ کو دے دو‘‘ پھر حضرت صاحب کہتے ہیں کہ محمود کہتا ہے کہ ’’کشفی رنگ میں آپ مجھے دکھائے گئے اور چراغ کے معنی سورج سمجھائے گئے اور محمدچراغ کا یہ مطلب ہوا کہ محمد جو کہ سورج ہے اس کی طرف سے آیا ہے‘‘۔
    غرض یہ ایک سات سال کی رؤیا ہے حضرت صاحب کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کسی وقت صدرانجمن احمدیہ کو روپیہ میری معرفت ملے گا ہمیں جو کچھ ملتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہی ملتا ہے۔ پس جو روپیہ آتا ہے وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی بھیجتے ہیں۔ حضرت صاحب کو دینے سے یہ مراد معلوم ہوتی ہے کہ اشاعتِ سلسلہ میں خرچ کیا جائے۔ قرآن شریف کی ایسی آیات کے صحابہؓ نے یہی معنی کئے ہیں۔ یہ ایک سچی خواب ہے ورنہ کیا چھ سال پہلے میں نے ان واقعات کو اپنی طرف سے بنا لیا تھا اور خداتعالیٰ نے اسے پورا بھی کر دیا۔ نَعُوْذُبِاللّٰہ مِنْ ذٰلِکَ پس ہر قسم کے چندے ان لوگوں کو جو میرے مبائعین ہیں میرے پاس بھیجنے چاہئیں۔
    سوم: جب تک انجمن کا قطعی طور پر فیصلہ نہ ہو اشاعت اسلام اور زکوٰۃ کا روپیہ میرے ہی پاس آنا چاہیے۔ جو واعظین کے اخراجات اور بعض دوسری وقتی ضرورتوں کیلئے خرچ ہوگا جو اشاعت اسلام سے تعلق رکھتی ہیں یا مصارفِ زکوٰۃ سے متعلق ہیں۔
    چہارم: مجلس شوریٰ کی ایسی حالت ہو کہ ساری جماعت کا اس میںمشورہ ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے زمانہ میں ایسا ہی ہوتا تھا کیا وجہ ہے کہ روپیہ تو قوم سے لیا جائے اور اس کے خرچ کرنے کے متعلق قوم سے پوچھا بھی نہ جائے۔ یہ ہو سکتا ہے کہ بعض معاملات میں تخصیص ہو وَاِلاَّ ساری جماعت سے مشورہ ہونا چاہیے۔ سوچنا یہ ہے کہ اس مشورہ کی کیا تدبیر ہو۔
    پنجم: فی الحال اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ انجمن میں دو ممبر زائد ہوں کیونکہ بعض اوقات ایسی دقتیں پیدا ہو جاتی ہیں کہ ان کا تصفیہ نہیں ہوتا اور اب اختلاف کی وجہ سے ایسی دِقتوں کا پیدا ہونا اور بھی قرین قیاس ہے علاوہ ازیں مجھے بھی جانا پڑتا ہے اور وہاں دِقتیں پیدا ہو جاتی ہیں اس لئے دو بلکہ تین ممبر اَور ہونے چاہئیں اور یہ دو ممبر عالم ہونے چاہئیں۔
    ششم: جہاں کہیں فتنہ ہو ہمارے دوستوں کو چاہیے کہ وہاں جا کر دوسروں کو سمجھائیں اور اس کو دور کریں۔ اس کے لئے اپنی عقلوں اور علموں پر بھروسہ نہ کریں بلکہ خداتعالیٰ کی توفیق اور فضل کو مقدم کریں اور اس کے لئے کثرت سے دعائیں کریں۔ اپنے اپنے علاقوں میں پھر کر کوشش کرو اور حالاتِ ضروریہ کی مجھے اطلاع دیتے رہو۔
    یہ وہ امور ہیں جن پر آپ لوگوں کو غور کرنا چاہیے۔ ان میں فیصلہ اس طرح پر ہو کہ مولوی سید محمد احسن صاحب یہاں تشریف رکھتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفۃ المسیح بھی آپ کا اعزاز فرماتے تھے اور وہ اپنے علم و فضل اور سلسلہ کی خدمات کی وجہ سے اس قابل ہیں کہ ہم ان کی عزت کریں وہ اس جلسہ شوریٰ کے پریذیڈنٹ ہوں میں اس جلسہ میں نہ ہوں گا تا کہ ہر شخص آزادی سے بات کر سکے۔ جو بات باہمی مشورہ اور بحث کے بعد طَے ہو وہ لکھ لی جائے اور پھر مجھے اطلاع دو۔ دعاؤں کے بعد خداتعالیٰ جو میرے دل میں ڈالے گا اُس پر عمل درآمد ہوگا۔ تم کسی معاملہ پر غور کرتے وقت اور رائے دیتے وقت یہ ہرگز خیال نہ کرو کہ تمہاری بات ضرور مانی جائے بلکہ تم خداتعالیٰ کی رضا کے لئے سچے دل سے ایک مشورہ دے دو اگر وہ غلط بھی ہوگا تو بھی تمہیں ثواب ہوگا لیکن اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کی بات ضرور مانی جائے تو پھر اس کو کوئی ثواب نہیں۔
    میری اِن تجاویز کے علاوہ نواب صاحب کی تجاویز پر غور کیا جائے، شیخ یعقوب علی صاحب نے بھی کچھ تجاویز لکھی ہیں ان میں سے تین کے پیش کرنے کی میںنے اجازت دی ہے ان پر بھی فکر کی جائے۔
    پھر میں کہتا ہوںکہ مولوی صاحب کا جو درجہ ان کے علم اور رُتبہ کے لحاظ سے ہے وہ تم جانتے ہو حضرت صاحب بھی ان کا ادب کرتے تھے پس ہر شخص جو بولنا چاہے وہ مولوی صاحب سے اجازت لے کر بولے۔ ایک بول چکے تو پھر دوسرا، پھر تیسرا بولے۔ ایسا نہ ہو کہ ایک وقت میں دو تین کھڑے ہو جائیں جس کو وہ حکم دیں وہ بولے۔ نواب صاحب یا منشی فرزند علی صاحب اس مجلس کے سیکرٹری کے کام کو اپنے ذمہ لیں۔ وہ لکھتے جائیں اور جو گفتگو کسی امر پر ہو اُس کا آخری نتیجہ سنا دیا جائے۔ اگر کسی امر پر دو تجویزیں ہوں تو دونوں کو لکھ لیا جائے۔
    اب آپ سب دعا کریں میں بھی دعا کرتا ہوں کیونکہ پھر دوستوں نے کھانا کھانا ہے۔ قادیان کے دوست ساتھ مل کر کھانا کھلائیں، کسی قسم کی تکلیف نہ ہو، پانی کا انتظام اچھی طرح سے ہو۔ خود بھی دعا کریں، مہمان بھی کریں سفر کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اس مشورہ اور دعا کے ساتھ جو کام ہوگا خدا کی طرف سے ہوگا۔ وَاٰخِرُدَعْوٰئنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
    (انوار العلوم جلد ۲ صفحہ ۲۳ تا ۶۶)
    ۱؎؎ البقرۃ: ۱۳۰ ۲؎ البقرۃ: ۱۸۷
    ۳؎ کنزالعمال جلد۵ صفحہ۶۴۸۔ مطبوعہ حلب ۱۹۷۱ء
    ۴؎ البقرۃ: ۱۸۴ ۵؎ البقرۃ: ۴۷ ۶؎ العنکبوت: ۴۶
    ۷؎ البقرۃ: ۴۱ ۸،۹؎ البقرۃ: ۱۶۵ ۱۰؎ البقرۃ: ۲۷۰
    ۱۱؎ الصف: ۱۵
    ۱۲؎ تذکرہ صفحہ۵۰۔ایڈیشن چہارم
    ۱۳؎ الغاشیہ: ۲۳ ۱۴؎ البقرۃ: ۲۵۷ ۱۵؎ المائدۃ: ۶۸
    ۱۶؎ اٰل عمران: ۱۶۰
    ۱۷؎ پیدائش باب ۱۸ آیت ۲۳ تا ۳۲ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور ۱۹۲۲ء
    ۱۸؎ الذّٰریات: ۳۷ ۱۹؎ التوبۃ: ۱۲۲ ۲۰؎ اٰل عمران: ۱۰۵
    ۲۱؎ البقرۃ: ۲۵۰
    ۲۲؎ تذکرہ صفحہ۳۱۴۔ایڈیشن چہارم
    ۲۳؎ درثمین اُردو صفحہ۵۶
    ۲۴؎ تذکرہ صفحہ۱۰۔ایڈیشن چہارم
    ۲۵،۲۶؎ اٰل عمران: ۱۶۰
    ۲۷؎ تاریخ الخلفاء للسیوطی صفحہ۵۱ مطبوعہ لاہور ۱۸۹۲ء
    ۲۸؎ التوبۃ: ۱۰۳ ۲۹؎ النور: ۵۶

    برکاتِ خلافت
    (تقریر جلسہ سالانہ ۲۷؍ دسمبر۱۹۱۴ء)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    میں نے کچھ ضروری باتیں آپ لوگوں کے سامنے بیان کرنی ہیں۔ ان میں سے ایک وہ بات بھی ہے جو میرے خیال میں احمدیت کے لئے ہی نہیں بلکہ اسلام کے قیام کا واحد ذریعہ ہے اور جس کے بغیر کوئی انسان اللہ تعالیٰ تک پہنچ ہی نہیں سکتا اور نہ ہی کوئی مسلمان مسلمان ہو سکتا ہے مگر کوئی انسان خداتعالیٰ کی رحمت اور فضل کے بغیر اس کو حاصل بھی نہیں کر سکتا۔ اس کے علاوہ کچھ اور بھی ضروری باتیں ہیں مگر اس سے کم درجہ پر ہیں۔ میں نے ارادہ کیا ہے اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہوا اور اُس کی رحمت ممد اور معاون ہوئی تو اِنْشَائَ اللّٰہُ وہ بات جونہایت ضروری ہے اور جس کے پہنچانے کی مدت سے مجھے تڑپ تھی کل بیان کروں گا۔ آج ارادہ ہے کہ درمیانی باتیں جو اس سے کم درجہ پر ہیں مگر ان کا پہنچانا بھی ضروری ہے وہ پہنچا دوں۔ اس ضروری بات کو کل پر رکھنے سے میری یہ بھی غرض ہے کہ جو نعمت آسانی سے مل جاتی ہے اور جس کے لئے محنت نہیں کرنی پڑتی اُس کی قدر نہیں ہوتی۔ پس جو لوگ کل تک یہاں اس بات کو سننے کے اشتیاق میں رہیں گے وہی اس کے سننے کے حقدار ہوں گے۔ چونکہ مجھے کھانسی کی وجہ سے تکلیف ہے اس لئے اگر میری آواز سب تک نہ پہنچے تو بھی سب لوگ صبر سے بیٹھے رہیں۔ اگر انہیں آواز نہ پہنچے گی تو ثواب تو ضرور ہی ہو جائے گا۔ بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ کان میں پڑیں بھی تو اثر نہیں ہوتا مگر اس مقام کا اثر ہو جاتا ہے جہاں کوئی بیٹھا ہوتا ہے۔ باتیں تو اکثر لوگ سنتے ہیں مگر کیا سارے ہی پاک ہو جاتے ہیں؟ نہیں۔ تو معلوم ہوا کہ نیک باتوں کے سننے والے کو ہدایت ہو جانا ضروری بات نہیں ہے۔ پھر ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ ایک شخص کو کسی پاک مقام پر جانے کی وجہ سے بِلا کسی دلیل کے ہدایت ہوگئی ہے تو اگر بعض لوگوں تک آواز نہ پہنچے اور وہ بیٹھے رہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے اخلاص کی وجہ سے ہی بغیر باتیں سننے کے انہیں ہدایت دے دے گا۔
    اب میں اپنی اصل بات کی طرف آنے سے پیشتر چند ایسی باتیں بیان کرتا ہوں جن کا آجکل چرچا ہو رہا ہے اور جو نہایت ضروری ہیں۔
    پہلی بات
    میں کل یہاں آ رہا تھا چند لوگوں نے جو کہ دیہاتی زمیندار معلوم ہوتے تھے مجھے اس طرح سلام کیا کہ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ۔اس سے
    معلوم ہوا کہ وہ جانتے ہی نہیں کہ رسول کیا ہوتا ہے۔ میری یہ عادت نہیں ہے کہ کسی آدمی کو خصوصیت سے اُس کی غلطی جتلاؤں۔ اصل بات یہ ہے کہ مجھے شرم آ جاتی ہے۔ ایک تو اس لئے کہ اُس کو اپنی غلطی پر شرمندگی اُٹھانی پڑے گی دوسرے خود مجھے دوسرے کو ملامت کرنے پر شرم محسوس ہوتی ہے اس لئے میں کسی کی غلطی کو عام طور پر بیان کر دیا کرتا ہوں اور کسی خاص آدمی کی طرف اشارہ نہیں کرتا سوائے اُن خاص آدمیوں کے جن سے خاص تعلق ہوتا ہے ایسے آدمیوں کو میں علیحدگی میں بتا دیتا ہوں۔ سو یہ بات اچھی طرح یاد رکھو کہ رسول رسول ہی ہوتا ہے ہر ایک شخص رسول نہیں ہو سکتا۔ ہاں ہمیں خداتعالیٰ نے یہ فخر بخشا ہے کہ ایک رسول کی خدمت کا شرف عطا کیا ہے۔ تو تم لوگ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کا جو درجہ ہوتا ہے وہ رسولوں کو دو اور دوسرے کسی کو ان کے درجہ میں شامل نہ کرو۔ اللہ کے رسولوں کے نام قرآن شریف میں درج ہیں اور جو اِس زمانہ میں خداتعالیٰ نے اپنا رسول بھیجا ہے اُس کا نام بھی آپ لوگ جانتے ہیں باقی سب ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہیں۔ ہاں خداتعالیٰ نے جماعت احمدیہ کی ترقی کے لئے خلافت کا سلسلہ جاری کیا ہے اور جو انسان اِس کام کے لئے چنا گیا ہے وہ درحقیقت تمہارا بھائی ہی ہے پس اُس کو رسول کہنا ہرگز ہرگز جائز نہیں ہے۔
    دوسری بات
    بعض لوگ گُھٹنوں یا پاؤں کو ہاتھ لگا تے ہیں گو وہ یہ کام شرک کی نیت سے نہیں بلکہ محبت اور عقیدت کے جوش میں کرتے ہیں لیکن ایسے کاموںکا
    انجام ضرور شرک ہوتا ہے۔ اس وقت ایسا کرنے والوں کی نیت شرک کرنے کی نہیں ہوتی مگر نتیجہ شرک ہی ہوتا ہے۔ بخاری شریف میں آیا ہے ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ قرآن شریف میں حضرت نوحؑ کی قوم کے جن بُتوں کے نام آئے ہیںوہ دراصل مشرک اقوام کے بڑے بڑے آدمی تھے۔ اُن کے مرنے پر پچھلوں نے اُن کی یادگاریں قائم کرنی چاہیں تا کہ ان کو دیکھ کر ان میں جو صفات تھیں ان کی تحریک ہوتی رہے۔ اس کے لئے اُنہوں نے سٹیچو (STATUE) بنا دیئے لیکن ان کے بعد آنے والے لوگوں نے جب دیکھا کہ ہمارے آبا ؤاجداد ان مجسموں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے تو اُنہوں نے ان کی اور عزت کرنی شروع کر دی پھر اِسی طرح رفتہ رفتہ ان کی تعظیم بڑھتی گئی۔ باِ لآخر نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ان کے آگے سجدے کئے جانے لگے اور ان کی اصل حالت کو بُھلا کر انہیں خدا کا شریک بنا لیا گیا ۱؎ تو بعض باتیں ابتداء میں چھوٹی اور بے ضرر معلوم ہوتی ہیں مگر ان کا نتیجہ ایسا خطرناک نکلتا ہے کہ پھر اس کی تلافی ناممکن ہو جاتی ہے۔ میری اپنی حالت اور فطرت کا تویہ حال ہے کہ میں ہاتھ چومنا بھی ناپسند کرتا تھا لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ چومتے تھے اور وہ اس سے منع نہ فرماتے تھے جس سے میں سمجھتا تھا کہ یہ جائز ہے لیکن میرے پاس دلیل کوئی نہ تھی۔ پھر خلیفۃ المسیح جن کی نسبت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ میرے قدم بقدم چلتا ہے ان کے ہاتھوں کو لوگ چومتے۔ آپ میرے استاد بھی تھے اور دوسرے خلیفۂ وقت۔ میں آپ کے فعل کو بھی حجت خیال کرتا تھا لیکن مجھے پوری تسلی جو دلائل کے ساتھ حاصل ہوتی ہے تب حاصل ہوئی جب میں نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کو بھی صحابہؓ چومتے اور آنکھوں سے لگاتے تھے اس لئے میں ایسے لوگوں کو جو ہاتھ چومتے ہیں روکتا تو نہیں لیکن انہیں ایسا کرتے دیکھ کر مجھے شرم آ جاتی ہے اور میں صرف اس لئے انہیں منع نہیں کرتا کہ وہ یہ کام اپنی محبت اور عقیدت کے جوش میں کرتے ہیں لیکن ان باتوں کو بڑھانا نہیں چاہئے تا کہ وہ شرک کی حد تک نہ پہنچ جائیں۔
    پہلی اہم بات
    اب میں ایک بات بیان کرنا شروع کرتا ہوں اور وہ خلافت کے متعلق ہے۔ شاید کوئی کہے کہ خلافت کے بڑے جھگڑے سنتے رہے ہیں اور یہاں بھی کل اور پرسوں سے سُن رہے ہیں آخر یہ بات ختم بھی ہوگی یا نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ پہلے جو باتیں تم خلافت کے متعلق سن چکے ہو وہ تو تمہیں ان لوگوں نے سنائی ہیں جو راہرو۲؎ کی طرح ایک واقعہ کو دیکھنے والے تھے۔ دیکھو! ایک بیمار کی حالت اس کا تیماردار بھی بیان کرتا ہے مگر بیمار جو اپنی حالت بیان کرتا ہے وہ اَور ہی ہوتی ہے۔ اسی طرح دوسرے لوگوں نے اپنی سمجھ اور عقل کے مطابق تمہیں باتیں سنائی ہیں مگر میں جو کچھ تمہیں سناؤں گا وہ آپ بیتی ہوگی جگ بیتی نہیں ہوگی۔ دوسرے کے درد اور تکلیف کو خواہ کوئی کتنا ہی بیان کرے لیکن اس حالت کا وہ کہاں انداز ہ لگا سکتا ہے جو مریض خود جانتا ہے اس لئے جو کچھ مجھ پر گزرا ہے اُس کو میں ہی اچھی طرح سے بیان کر سکتا ہوں۔ دیکھنے والوں کو تو یہ ایک عجیب بات معلوم ہوتی ہوگی کہ کئی لاکھ کی جماعت پر حکومت مل گئی مگر خدا را غور کرو کیا تمہاری آزادی میں پہلے کی نسبت کچھ فرق پڑ گیا ہے؟ کیا کوئی تم سے غلامی کرواتا ہے؟ یا تم پر حکومت کرتا ہے؟ یا تم سے ماتحتوں، غُلاموں اور قیدیوں کی طرح سلوک کرتا ہے؟ کیا تم میں اور ان میں جنہوں نے خلافت سے روگردانی کی ہے کوئی فرق ہے؟ کوئی بھی فرق نہیں لیکن نہیں ایک بہت بڑا فرق بھی ہے اور وہ یہ کہ تمہارے لئے ایک شخص تمہارا درد رکھنے والا، تمہاری محبت رکھنے والا، تمہارے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے والا، تمہاری تکلیف کو اپنی تکلیف جاننے والا، تمہارے لئے خدا کے حضور دعائیں کرنے والا ہے۔مگر ان کے لئے نہیں ہے۔ تمہارا اسے فکر ہے، درد ہے اور وہ تمہارے لئے اپنے مولیٰ کے حضور تڑپتا رہتا ہے لیکن ان کے لئے ایسا کوئی نہیں ہے۔ کسی کااگر ایک بیمار ہو تو اس کو چین نہیں آتا لیکن کیا تم ایسے انسان کی حالت کا اندازہ کر سکتے ہو جس کے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بیمار ہوں۔ پس تمہاری آزادی میں تو کوئی فرق نہیں آیا ہاں تمہارے لئے ایک تم جیسے ہی آزاد پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوگئی ہیں۔
    سنا جاتا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مجھے حکومت کی خواہش تھی اس لئے جماعت میں تفرقہ ڈال کر لوگوں سے بیعت لے لی ہے لیکن بیعت لینے کے وقت کی حالت میں تمہیں بتاتا ہوں۔ جس وقت بیعت ہو چکی تو میرے قدم ڈگمگاگئے اور میں نے اپنے اوپر ایک بہت بڑا بوجھ محسوس کیا۔ اُس وقت مجھے خیال آیا کہ آیا اب کوئی ایسا طریق بھی ہے کہ میں اِس بات سے لَوٹ سکوں۔ میں نے بہت غور کی اور بہت سوچا لیکن کوئی طرز مجھے معلوم نہ ہوئی۔ اس کے بعد بھی کئی دن میں اِسی فکر میں رہا تو خداتعالیٰ نے مجھے رؤیا میں بتایا کہ میں ایک پہاڑی پر چل رہا ہوں۔ دُشوار گزار راستہ دیکھ کر میں گھبرا گیا اور واپس لَوٹنے کا ارادہ کیا جب میں نے لَوٹنے کے لئے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو پچھلی طرف میں نے دیکھا کہ پہاڑ ایک دیوار کی طرح کھڑا ہے اور لَوٹنے کی کوئی صورت نہیں۔ اس سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ اب تم آگے ہی آگے چل سکتے ہو پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔
    نکتۂ معرفت
    میں نے اس بات پر غور کیاہے کہ نبی پر چالیس سال کے بعد نبوت کیوں نازل ہوتی ہے؟ اس سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ چالیس سال کے بعد تھوڑے
    سال ہی انسان کی زندگی ہوتی ہے اس لئے ان میں مشکلات کو برداشت کر کے نبی گزارہ کر لیتا ہے لیکن اگر جوانی میں ہی اُسے نبوت مل جائے تو بہت مشکل پڑے اور اتنے سال زندگی کے بسر کرنے نہایت دشوار ہو جائیں کیونکہ یہ کام کوئی آسان نہیں ہے۔
    خلافت کی اہمیت
    دیکھنے میں آگ کا انگارہ بڑا خوشنما معلوم ہوتا ہے مگر اس کی حقیقت وہی جانتا ہے جس کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اسی طرح
    خلافت بھی دوسروں کو بڑی خوبصورت چیز معلوم ہوتی ہے اور نادان دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ خلیفہ بننے والے کو بڑا مزا ہو گیا ہے لیکن انہیں کیا معلوم ہے کہ جو چیز ان کی آنکھوں میں بڑی خوبصورت نظر آتی ہے دراصل ایک بہت بڑا بوجھ ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے بغیر کسی کی طاقت ہی نہیں کہ اسے اُٹھا سکے۔ خلیفہ اس کو کہتے ہیں کہ جو ایک پہلے شخص کا کام کرے اور خلیفہ جس کا قائم مقام ہوتا ہے اس کی نسبت اللہ تعالیٰ نے فرمایا۳؎ کہ ہم نے تیرا وہ بوجھ جس نے تیری کمر توڑ دی تھی اُتار دیا ہے تو جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ اس بوجھ سے ٹو ٹنے کے قریب تھی تو اور کون ہے جو یہ بار اُٹھا کر سلامت رہ سکے۔ لیکن وہی خدا جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بوجھ کو ہلکا کیا تھا اور اِس زمانہ میں بھی اپنے دین کی اشاعت کے لئے اُس نے ایک شخص کو اس بوجھ کے اُٹھانے کی توفیق دی وہی اس نبی کے بعد اِس کے دین کو پھیلانے والوں کی کمریں مضبوط کرتا ہے۔ میری طبیعت پہلے بھی بیمار رہتی تھی مگر تم نے دیکھا کہ میں اُس دن کے بعد کسی کسی دن ہی تندرست رہا ہوں اور کم ہی دن مجھ پر صحت کے گزرے ہیں۔ اگر مجھے خلافت کے لینے کی خوشی تھی اور میں اس کی امید لگائے بیٹھا تھا تو چاہئے تھا کہ اُس دن سے میں تندرست اور موٹا ہوتا جاتا۔ اگر منکرانِ خلافت کے خیال کے مطابق چھ سال میں اِسی کے حاصل کرنے کی کوشش میں رہا ہوں تو اب جب کہ یہ حاصل ہوگئی ہے تو مجھے خوشی سے موٹا ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بچپن میں کبھی والدہ صاحبہ مجھے پتلا دُبلا دیکھ کر گھبراتیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے کہ جب اس کو خوشی حاصل ہوگی تو موٹا ہو جائے گا اور مثال کے طور پر خواجہ صاحب کا ذکر فرماتے کہ وکالت کے امتحان کے پاس کرنے سے پہلے یہ بھی دُبلے ہوتے تھے جب سنا کہ وکالت پاس کر لی ہے تو چند دنوں میں ہی موٹے ہوگئے تو اگر مجھے خلافت ایک حکومت مل گئی ہے اور اس کے لینے میں میری خوشی تھی تو چاہیے تھا کہ میں موٹا اور تندرست ہوتا جاتا لیکن میرے پاس بیٹھنے والے اور پاس رہنے والے جانتے ہیں کہ مجھ پر کیسے کیسے سخت دن آتے ہیں اور اپنی تکلیف کو میں ہی جانتا ہوں۔
    مسئلہ خلافت
    خلافت کا مسئلہ کوئی پیچیدہ مسئلہ نہیں ہے۔ میں نے ۱۲؍اپریل۱۹۱۴ء کو جو تقریر کی تھی (یہ تقریر منصب خلافت کے نام سے چَھپ چکی ہے)
    اس میں قرآن شریف کی ایک آیت سے میں نے بتایا تھا کہ خلیفہ کا کیا کام ہوتا ہے۔ خلیفہ کے معنی ہیں کسی کے پیچھے آ کر وہی کام کرنے والا جو اس سے پہلے کیا کرتا تھا۔ اس کی پہچان کے لئے جس کا کوئی خلیفہ ہوگا اس کے اصل کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کیا کام کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کام یہ بتایا ہے ۴؎ یعنی یہ کہ (۱) خدا کی آیات لوگوں پر پڑھے۔ (۲) ان کا تزکیہ نفس کرے۔ (۳) انہیں کتاب سکھائے۔ (۴) ان کو حکمت سکھائے۔ میں نے یہ بھی اس تقریر میں بتایا تھا کہ یہ چاروں کام نبی کے دنیا کی کوئی انجمن نہیں کر سکتی۔ یہ وہی شخص کر سکتا ہے جو خداتعالیٰ کی طرف سے نبی کے بعد مقرر کیا جاتا ہے اور جسے خلیفہ کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر یہ باتیں نہیں ذکر کی جاتیں۔ ہاں چند موٹے موٹے اعتراضات میں بیان کر کے ان کے جواب دیتا ہوں اور یہ بھی بتاتا ہوں کہ کیوں میں نے دلیری اور استقلال کو ہاتھ سے نہ دیا اور اپنی بات پر مضبوط جما رہا۔
    بعض لوگ میری نسبت یہ کہتے ہیں کہ اس نے کیوں وسعت حوصلہ سے کام لے کر یہ نہ کہہ دیا کہ میں خلیفہ نہیں بنتا۔ ایسا کہنے والا سمجھتا ہے کہ خلافت بڑے آرام اور راحت کی چیز ہے مگر اس احمق کو یہ معلوم نہیں کہ خلافت میں جسمانی اور دنیاوی کسی قسم کا سُکھ نہیں ہے۔ اب میں یہ بتاتا ہوں کہ کیوں میں نے جرأت اور دلیری سے کام لے کر اس بار کو اُٹھایا اور وہ کیا چیز تھی جس نے مجھے قوم کے دو ٹکڑے ہوتے دیکھ کر ایک جگہ پر قائم رہنے دیا اور وہ کونسا ہاتھ تھا جس نے مجھے ایک جگہ کھڑا کئے رکھا۔ اِس وقت تو چاروں طرف کے لوگ موجود ہیں لیکن ایک وہ وقت تھا کہ بہت قلیل حصہ جماعت کا بیعت میں شامل ہوا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اُس وقت جماعت کے اتحاد کی خاطر میں نے کیوں نہ اپنی بات چھوڑ دی؟ اور اتحاد قائم رکھا اس لئے آج میں اس بات کو بیان کروں گا جس نے مجھے مضبوط رکھا لیکن اس سے پہلے میں چند اور باتیں بیان کرتا ہوں۔
    پہلا اعتراض اور اس کا جواب
    ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ خلیفہ وہ ہوتا ہے جو بادشاہ ہو یا مأمور۔ تم کون ہو؟ بادشاہ ہو؟
    میں کہتا ہوں۔ نہیں۔ مأمور ہو؟ میں کہتا ہوں نہیں۔ پھر تم خلیفہ کس طرح ہو سکتے ہو خلیفہ کے لئے بادشاہ یا مأمور ہونا شرط ہے۔ یہ اعتراض کرنے والے لوگوں نے خلیفہ کے لفظ پر ذرا بھی تدبر نہیں کیا۔ یہ ایسی ہی بات ہے کہ ایک شخص درزی کی دکان پر جائے اور دیکھے کہ ایک لڑکا اپنے استاد کو کہتا ہے ’’خلیفہ جی‘‘۔ وہ وہاں سے آ کر لوگوں کو کہنا شروع کر دے کہ خلیفہ تو درزی کو کہتے ہیں اور کوئی شخص جو درزی کا کام نہیں کرتا وہ خلیفہ کس طرح ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص مدرسہ میں جائے (پہلے زمانہ میں مانیٹر کو خلیفہ کہتے تھے) اور لڑکوں کو ایک لڑکے کو خلیفہ کہتے سنے اور باہر آ کر کہہ دے کہ خلیفہ تو اُسے کہتے ہیں جو لڑکوں کا مانیٹر ہوتا ہے۔ اس لئے وہ شخص جو لڑکوںکا مانیٹر نہیں وہ خلیفہ نہیں ہو سکتا خلیفہ کے لئے تو لڑکوں کا ہونا شرـط ہے۔
    اسی طرح ایک شخص دیکھے کہ آدم علیہ السلام کو خداتعالیٰ نے خلیفہ بنایا اور اُن کے لئے فرشتوں کو حکم دیا کہ سجدہ کرو۔ وہ کہے کہ خلیفہ تو وہی ہو سکتا ہے جس کو سجدہ کرنے کا حکم فرشتوں کو ملے ورنہ نہیں ہو سکتا۔
    اسی طرح ایک اور شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء کو دیکھے جن کے پاس سلطنت اور حکومت تھی تو کہے کہ خلیفہ تو اس کو کہتے ہیں جس کے پاس سلطنت ہو اس کے سوا اور کوئی خلیفہ نہیں ہو سکتا کیونکہ خلیفہ کے لئے سلطنت کا ہونا شرط ہے۔ لیکن ایسا کہنے والے اتنا نہیں سمجھتے کہ خلیفہ کے لفظ کے معنی کیا ہیں۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ جس کا کوئی خلیفہ کہلائے اس کا کام وہ کرنے والا ہو۔ اگر کوئی درزی کا کام کرتا ہے تو وہی کام کرنے والا اس کا خلیفہ ہے اور اگر کوئی طالب علم کسی استاد کی غیر حاضری میں اس کا کام کرتا ہے تو وہ اس کا خلیفہ ہے۔
    اسی طرح اگر کوئی کسی نبی کا کام کرتا ہے تو وہ اس نبی کا خلیفہ ہے۔ اگر خدا نے نبی کو بادشاہت اور حکومت دی ہے تو خلیفہ کے پاس بھی بادشاہت ہونی چاہیے اور خدا خلیفہ کو ضرور حکومت دے گا۔ اور اگر نبی کے پاس ہی حکومت نہ ہو تو خلیفہ کہاں سے لائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چونکہ خداتعالیٰ نے دونوں چیزیں یعنی روحانی اور جسمانی حکومتیں دی تھیں اس لئے ان کے خلیفہ کے پاس بھی دونوں چیزیں تھیں۔ لیکن اب جب کہ خداتعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حکومت نہیں دی تو اس کا خلیفہ کس سے لڑتا پھرے کہ مجھے حکومت دو۔ ایسا اعتراض کرنے والے لوگوں نے خلیفہ کے لفظ پر غور نہیں کیا۔ اگر کوئی شخص یہاں بیٹھے ہوئے آدمیوں کی پگڑیوں، ٹوپیوں اور کپڑوں کو دیکھ کر یہ لکھ لے کہ آدمی وہی ہوتے ہیں جن کی پگڑیاں، ٹوپیاں اور کپڑے ان کی طرح ہوتے ہیں اور باہر جا کر کسی شخص کو اس اپنے مقرر کردہ لباس میں نہ دیکھے تو کہے کہ یہ تو آدمی ہی نہیں ہو سکتا تو کیا وہ بیوقوف نہیں ہے؟ ضرور ہے۔ اسی طرح اگر کوئی چند نبیوں کے خلیفوں کو دیکھ کر کہے کہ ایسے ہی خلیفے ہو سکتے ہیں ان کے علاوہ اور کوئی خلیفہ نہیں ہو سکتا تو کیا اس کی بات کسی عقلمند کے نزدیک ماننے کے قابل ہے؟ ہرگز نہیں۔ اس کو چاہیے کہ خلیفہ کے لفظ کو دیکھے اور اس پر غور کرے۔ اس وقت خلیفہ کے لفظ کے متعلق عربی علم سے ناواقفیت کی وجہ سے لوگوں کو غلطی لگی ہے۔ خلیفہ اس کو کہتے ہیں۔ (۱) جو کسی کا قائم مقام ہو۔ (۲) خلیفہ اس کو کہتے ہیں جس کا کوئی قائم مقام ہو۔ (۳) خلیفہ وہ ہے جو احکام و اوامر کو جاری کرتا اور ان کی تعمیل کراتا ہے۔ پھر خلیفے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک تو اصل کے مرنے کے بعد ہوتے ہیں اور ایک اس کی موجودگی میں بھی ہوتے ہیں۔ مثلاً وائسرائے شہنشاہ کا خلیفہ ہوتا ہے۔ اب اگر کوئی وائسرائے کو کہے کہ چونکہ اسے دین سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لئے یہ شنہشاہ کا خلیفہ نہیں ہو سکتا تو یہ اس کی بہت بڑی غلطی ہے کیونکہ وہ جس بادشاہ کا نائب ہے اس کے پاس صرف حکومت ہی ہے اس لئے وائسرائے حکومت میں ہی اس کا خلیفہ ہے نہ کہ دین میں۔ تو یہ ایک موٹی بات ہے جس کو بعض لوگ نہیں سمجھے یا نہیں سمجھنا چاہتے۔
    دوسرا اعتراض اور اس کا جواب
    پھر یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت مسیحؑ اسرائیلی کے مثیل تھے اس لئے
    ان کے خلفاء بھی ایسے ہی ہونے چاہئیں جیسے مسیح اسرائیلی کے ہوئے لیکن چونکہ حضرت مسیح اسرائیلی کے بعد خلافت کا سلسلہ ثابت نہیں ہے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد بھی کوئی خلیفہ نہیں ہونا چاہیے۔ اوّل تو یہ بات ہی بہت عجیب ہے ہم تو یہ مانتے ہیں کہ حضرت مسیحؑ نے صلیب پر وفات نہیں پائی اور صلیب کے واقعہ کے بعد اسّی سال تک زندہ رہے ہیں لیکن انجیل جس سے ان کے بعد کی خلافت کا سلسلہ نہیں نکلتا وہ تو ان کی صلیب کے واقعہ تک کے حالاتِ زندگی کی تاریخ ہے۔ پس اس سے خلافت کا کس طرح پتہ لگ سکتا ہے۔ یہ تو ویسی ہی بات ہے کہ کوئی شخص حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام کی کتاب براہین احمدیہ پیش کر کے کہے کہ اس میں تو خلافت کا کوئی ذکر نہیں اور نہ ہی کسی خلیفہ کا اس سے پتہ چلتا ہے اس لئے آپ کے بعد کوئی خلیفہ بھی نہیں ہوا۔ پس لوگ حضرت مسیحؑ کا خلیفہ انجیل سے کس طرح پا لیں جب کہ وہ اس کی صرف ۳۳ سال کی زندگی کے حالات ہیں۔ حالانکہ حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیحؑ نے ایک سَو بیس سال کی عمر پائی ہے۔ تو جب ۳۳ سال انجیلی زندگی کے بعد بھی حضرت مسیحؑ زندہ رہے ہیںتو ان کے خلفاء کا پتہ انجیل سے کس طرح لگے۔ اگر کوئی کہے کہ حضرت مسیحؑ کے ایک سَو بیس برس کی عمر میں مرنے کے بعد بھی تو کسی خلیفہ کا پتہ نہیں لگتا۔ اس کے لئے ہم کہتے ہیں کہ اگر تم حضرت مسیحؑ کی تیس سالہ زندگی کے بعد کے حالات ہمیں لا دو تو ہم ان کے خلیفے بھی نکال دیں گے اور جب حضرت مسیحؑ کی پچھلی زندگی کی کوئی تاریخ ہی موجود نہیں ہے تو ان کے خلفاء کے متعلق بحث کرنا ہی فضول اور لغو ہے۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ صلیب پر لٹکنا اور مُلک سے چلا جانا بھی موت ہی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی الوصیت میں لکھا ہے کہ ’’ایسا ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ معاملہ ہوا‘‘ یعنی ان کے بعد بھی خلیفہ ہوا اس لئے کوئی خلیفہ دکھاؤ۔ اچھا ہم اس کو مان لیتے ہیں لیکن اس اعتراض سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے انجیل پر بھی غور نہیں کیا۔ انجیل میں بعینہٖ وہی نقشہ درج ہے جو الوصیت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کھینچا ہے اور جس طرح الوصیت میں خلیفہ اور انجمن کا ذکر ہے اسی طرح انجیل میں ہے۔ حضرت مسیحؑ جب صلیب کے بعد اپنے حواریوں کے پاس آئے اور کشمیر جانے کا ارادہ کیا تو اس کا ذکر یوحنا باب ۲۱ میں اس طرح پر ہے کہ :۔
    ’’اور جب کھانا کھا چکے تو یسوع نے شمعون پطرس سے کہا کہ اے شمعون یوحنا کے بیٹے! کیا تو ان سے زیادہ مجھ سے محبت رکھتا ہے؟ اس نے اس (مسیح) سے کہا۔ ہاں خداوند تو تو جانتا ہی ہے کہ میں تجھے عزیز رکھتا ہوں۔ اس نے اس سے کہا۔ تو میرے برے چَرا۔ اس نے دوبارہ اس سے پھر کہا کہ اے شمعون یوحنا کے بیٹے! کیا توُمجھ سے محبت رکھتا ہے؟ وہ بولا ہاں۔ خداوند تُو تو جانتا ہی ہے کہ میں تجھ کو عزیز رکھتا ہوں۔ اس نے اس سے کہا۔ تو میری بھیڑوں کی گلہ بانی کر۔ اس نے تیسری بار اس سے کہا کہ اے شمعون یوحنا کے بیٹے! کیا تُو مجھے عزیز رکھتا ہے؟ چونکہ اس نے تیسری بار اس سے کہا کیا تُو مجھے عزیز رکھتا ہے؟ اس سبب سے پطرس نے دلگیر ہو کر اس سے کہا اے خداوند! تُو تو سب کچھ جانتا ہے تجھے معلوم ہی ہے کہ میں تجھے عزیز رکھتا ہوں۔ یسوع نے اس سے کہا کہ تُو میری بھیڑیں چَرا‘‘ ۵؎
    تو حضرت مسیحؑ نے اپنے بعد پطرس کو خلیفہ مقرر کیا۔ ایک جگہ لوقا باب ۹ میں اس طرح حضرت مسیحؑ کے متعلق لکھا ہے۔
    ’’پھر اس نے ان بارہ (حواریوں) کو بُلا کر انہیں سب بَد روحوں پر اور بیماریوں کو دور کرنے کے لئے قدرت اور اختیار بخشا اور انہیں خدا کی بادشاہت کی منادی کرنے اور بیماروں کو اچھا کرنے کے لئے بھیجا‘‘۔۶؎ ’’پس وہ روانہ ہو کر گاؤں گاؤں خوشخبری سناتے اور ہر جگہ شفا دیتے پھرتے‘‘۔۷؎
    ان آیات سے ثابت ہے کہ حضرت مسیحؑ نے اپنے حواریوں کے سپرد تبلیغ کا کام کیا ہے لیکن اُنہوں نے اپنی جماعت کو کسی جماعت کے سپرد نہیں کیا بلکہ صرف پطرس کو ہی کہا ہے کہ ’’تو میرے برے چَرا‘‘ ’’تو میری بھیڑوں کی گلہ بانی کر‘‘ ’’تو میری بھیڑیں چَرا‘‘ ہاں اپنے سلسلہ میں داخل کرنے کا حکم دیتے وقت سارے حواریوں کو ’’خدا کی بادشاہت کی منادی کرنے اور بیماروں کو اچھا کرنے کیلئے بھیجا‘‘ ہے اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الوصیت میں تحریر فرمایا ہے اور جہاں آپ نے خلیفہ کا ذکر کیا ہے وہاں تو یہ لکھا ہے۔
    ’’یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ اُس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اِس سنت کو وہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے اور اُن کو غلبہ دیتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے ۸؎ اور غلبہ سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ رسولوں اور نبیوں کا یہ منشاء ہوتا ہے کہ خدا کی حجت زمین پر پوری ہو جائے اور اُس کا مقابلہ کوئی نہ کر سکے اِسی طرح خدا تعالیٰ قوی نشانوں کے ساتھ اُن کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اُس کی تخم ریزی اُنہیں کے ہاتھ سے کر دیتا ہے لیکن اُس کی پوری تکمیل اُن کے ہاتھ سے نہیں کرتا بلکہ ایسے وقت میں اُن کو وفات دے کر جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے مخالفوں کو ہنسی اور ٹھٹھے اور طعن اور تشنیع کا موقع دے دیتا ہے اور جب وہ ہنسی ٹھٹھا کر چکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے اور ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن کے ذریعہ سے وہ مقاصد جو کسی قدر ناتمام رہ گئے تھے اپنے کمال کو پہنچتے ہیں۔ غرض دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے (۱) اوّل خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے۔ (۲) دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آ جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردّد میں پڑ جاتے ہیں اور اُن کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی بدقسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کر لیتے ہیں تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبردست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے وقت میں ہوا جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہوگئے اور صحابہؓ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہوگئے۔ تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا اور اُس وعدہ کو پورا کیا جو فرمایا تھا ۹؎۔ یعنی خوف کے بعد پھر ہم ان کے پیر جما دیں گے۔ ایسا ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ہوا جب کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر اور کنعان کی راہ میں پہلے اِس سے جو بنی اسرائیل کو وعدہ کے موافق منزل مقصود تک پہنچا دیں فوت ہوگئے اور بنی اسرائیل میں اُن کے مرنے سے ایک بڑا ماتم برپا ہوا جیسا کہ توریت میں لکھا ہے کہ بنی اسرائیل اس بے وقت موت کے صدمہ سے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ناگہانی جدائی سے چالیس دن تک روتے رہے۔ ایسا ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ معاملہ ہوا۔ اور صلیب کے واقعہ کے وقت تمام حواری تتر بتر ہوگئے اور ایک ان میں سے مرتد بھی ہو گیا‘‘۱۰؎
    پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے گرتی ہوئی جماعت کوسنبھالنے کے لئے وہی طریق بتایا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑکے بعد عمل میں آیا یعنی خلفاء ہوئے۔ لیکن جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تبلیغ کا حکم فرمایا ہے وہاں یہ لکھا ہے۔
    ’’اور چاہئے کہ جماعت کے بزرگ جو نفس پاک رکھتے ہیں میرے نام پر میرے بعد لوگوں سے بیعت لیں خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اُن تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیاء اُن سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دینِ واحد پر جمع کرے یہی خداتعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لئے میں دنیا میں بھیجا گیا سو تم اس مقصد کی پیروی کرو مگر نرمی اور اخلاق اور دعاؤں پر زور دینے سے‘‘۔۱۱؎
    تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو کچھ اپنی جماعت کے متعلق فرمایا ہے ویسا ہی حضرت مسیحؑ نے بھی لکھا ہے۔ البتہ مسیح ناصری نے پطرس کا نام لے کر اس کے سپرد اپنی بھیڑوں (مریدوں) کو کیا تھا لیکن چونکہ مسیح محمدی کا ایمان اس سے زیادہ تھا اس لئے اس نے کسی کا نام نہیں لیا اور اللہ تعالیٰ کے سپرد اس معاملہ کو کر دیا کہ وہ جس کو چاہے گا کھڑا کر دے گا۔ اِدھر ایک جماعت کو حکم دے دیا کہ یہ ’’میرے نام پر میرے بعد لوگوں سے بیعت لیں‘‘ ۔ہم کہتے ہیں کہ یہ سب احمدیوں کا فرض ہے کہ وہ ایسا کریں۔ تو جس طرح حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنی جماعت کو پطرس کے حوالہ کیا اسی طرح مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کو ایک آدمی کے ماتحت رہنے کا حکم دیا اور جس طرح حضرت عیسیٰ ؑنے اپنے حواریوں کو تبلیغ کا حکم دیا اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کے لوگوں کو اپنے نام پر بیعت لینے کا حکم دیا۔
    اس کے بعد میں کچھ واقعات بیان کرتا ہوں جو لوگ بیٹھے ہوئے ہیں وہ غور سے سنیں اور جو نہیں بیٹھے ہوئے انہیں پہنچا دیں۔ جب حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل سخت بیمار ہوگئے تو میں نے اپنے اختلاف پر غور کیا اور بہت غور کیا۔ جب میں نے یہ دیکھا کہ جماعت کا ایک حصہ عقائد میں ہم سے خلاف ہے تو میں نے کہا کہ یہ لوگ ہماری بات تو نہیں مانیں گے آؤ ہم ہی ان کی مان لیتے ہیں۔ میں نے بہت غور کر کے ایک شخص کی نسبت خیال کیا کہ اگر کوئی جھگڑا پیدا ہوا تو پہلے میں اس کی بیعت کر لوں گا پھر میرے ساتھ جو ہوں گے وہ بھی کر لیں گے اور اس طرح جماعت میں اتحاد اور اتفاق قائم رہ سکے گا۔ حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کے دن پچھلے پہر وہ شخص مجھے ملا اور میرے ساتھ سیر کو چل پڑا اور اُس نے مجھے کہا کہ ابھی خلیفہ کی بحث نہ کی جائے جب باہر سے سب لوگ آ جائیں گے تو اس مسئلہ کو طَے کر لیا جائے گا۔ میں نے کہا دو دن تک لوگ آ جائیں گے اس وقت اس بات کا فیصلہ ہو جائے۔ اس نے کہا نہیں سات آٹھ ماہ تک یونہی کام چلے پھر دیکھا جائے گا اتنی جلدی کی ضرورت ہی کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اگر اس معاملہ میں میری رائے پوچھتے ہو تو میں تو یہی کہوں گا کہ خلافت کا مسئلہ نہایت ضروری ہے اور جس قدر بھی جلدی ممکن ہو سکے اس کا تصفیہ ہو جانا چاہیے۔ میں نے کہا کہ کیا آپ کوئی ایسا خاص کام بتا سکتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اوّل کے زمانہ میں اگر آپ خلیفہ نہ ہوتے تو وہ رُک جاتا اور جس کی وجہ سے فوراً ان کو خلیفہ بنانے کی حاجت پڑی۔ اگر اُس وقت کوئی ایسا خاص کام نہ ہوتے ہوئے پھر بھی ان کی ضرورت تھی تو اب بھی ہر وقت ایک خلیفہ کی ضرورت ہے۔ خلیفہ کا تو یہ کام ہوتا ہے کہ جماعت میں جب کوئی نقص پیدا ہو جائے تو وہ اُسے دور کر دے نہ کہ وہ مشین ہوتی ہے جو ہر وقت کام ہی کرتی رہتی ہے۔ آپ کو کیا معلوم ہے کہ آج ہی جماعت میں کوئی جھگڑا پیدا ہو جائے تو پھر کون اس کا فیصلہ کرے گا۔ میں نے کہا کہ ہماری طرف سے خلافت کے متعلق کوئی جھگڑا نہیں پیدا ہو سکتا آپ کوئی آدمی پیش کریں میں اس کی بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں۔ کچھ اور لوگوں کو بھی مجھ سے محبت ہے وہ بھی اس کی بیعت کر لیں گے اور کچھ لوگ آپ سے تعلق رکھنے والے ہیں وہ بھی بیعت کر لیں گے اس طرح یہ معاملہ طَے ہو جائے گا۔ پھر میں نے کہا یہ بحث نہیں ہونی چاہئے کہ خلیفہ ہو یا نہ ہو بلکہ اس بات پر بحث ہو سکتی ہے کہ کون خلیفہ ہو۔ اُس وقت پھر میں نے یہ کہا کہ آپ اپنے میں سے کوئی آدمی پیش کریں میں اُس کی بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں مگر میں یہ کبھی بھی نہیں مان سکتا کہ کوئی خلیفہ نہ ہو۔ اگر تمام لوگ اس خیال کو چھوڑ دیں اور اس خیال کے صرف چند آدمی رہ جائیں تب بھی ہم کسی نہ کسی کی بیعت کر لیں گے اور ایک کو خلیفہ بنائیں گے مگر ہم یہ کبھی نہ مانیں گے کہ خلیفہ نہ ہو۔ دوسرا آدمی خواہ کوئی ہو، غیر احمدیوں کو کافر کہے یا نہ کہے، ان کے پیچھے نماز جائز سمجھے یا نہ سمجھے ان سے تعلقات رکھے یا نہ رکھے ایک خلیفہ چاہئے تا کہ جماعت کا اتحاد قائم رہے اور ہم اس کی بیعت کرنے کے لئے تیار ہیں۔ یہ گفتگو بیچ میں ہی رہی اور کوئی فیصلہ نہ ہوا اور تجویز ہوئی کہ اس پر مزید غور کے بعد پھر گفتگو ہو اور دوسرے دوست بھی شامل کئے جائیں۔ دوسرے دن پانچ سات آدمی مشورہ کے لئے آئے اور اس بات پر بڑی بحث ہوئی کہ خلافت جائز ہے یا نہیں۔ بڑی بحث مباحثہ کے بعد جب وقت تنگ ہو گیا تو میں نے کہا اب صرف ایک ہی طریق ہے اور وہ یہ کہ جو لوگ خلیفہ کی ضرورت سمجھتے ہیں وہ اپنا ایک خلیفہ بنا کراس کی بیعت کر لیں۔ ہم ایسے لوگوں کو ایک جگہ جمع کر کے مشورہ پوچھتے ہیں۔ آپ لوگ جو کہ خلیفہ ہونا ناجائز سمجھتے ہیں وہاں تشریف نہ لائیں تاکہ کسی قسم کا جھگڑا نہ ہو۔ اس کے بعد ہم یہاں (مسجد نور میں) آ گئے۔ وہ لوگ بھی یہیں آپہنچے۔ پھر جو خدا کو منظور تھا وہ ہوا۔ اُس وقت جو لوگ میرے پاس بیٹھے تھے وہ خوب جانتے ہیں کہ اُس وقت میری کیا حالت تھی۔ اگر میں نے پہلے سے کوئی منصوبہ سازی کی ہوتی تو چاہیے تھا کہ پہلے سے ہی میں نے بیعت کے الفاظ یاد کئے ہوتے لیکن اُس وقت ایک شخص مجھے بتلاتا گیا اور میں وہ الفاظ کہتا گیا۔
    کیا یہی منصوبہ باز کا حال ہوتا ہے؟
    تیسرا اعتراض اور اُس کا جواب
    پھر کہتے ہیں کہ اُس وقت ایک شخص تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہوا تو اُس کو کہا گیا کہ
    بیٹھ جاؤ۔ اس سے اس کی ہتک ہوئی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اُس وقت اس کو اگر مار بھی پٹتی تو کوئی حرج نہ تھا کیونکہ یہی تو خلیفہ کی ضرورت تھی جس کا وہ انکار کرتا تھا۔ اس نے دیکھ لیا کہ نورالدین خلیفۃ المسیح نے ہی اس کی عزت سنبھالی ہوئی تھی اس کی آنکھ بند ہوتے ہی وہ ذلیل ہو گیا اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خلیفہ کی فوراً ضرورت ہوتی ہے نہ کہ سات آٹھ ماہ کے بعد جا کر اس کی حاجت پیش آتی ہے مگر مجھے اس معاملہ کے متعلق کچھ علم نہیں تھا کہ کون بولنے کے لئے کھڑا ہوا ہے اور کس نے منع کیا ہے۔ اس مسجد سے باہر جا کر مجھے ایک شخص نے سنایا کہ ایک آدمی کہتا ہے کہ واقعی قادیان ہسپتال ہے اور اس میں رہنے والے سارے مریض ہیں۔ میں نے پوچھا یہ اس نے کیوں کہا؟ تو اس نے جواب دیا کہ وہ کہتا ہے کہ اس وقت مولوی محمد علی بولنے کے لئے کھڑے ہوئے تھے ان کو بولنے نہیں دیا گیا جس سے ان کی ہتک ہوئی ہے اُس وقت مجھے اس بات کا علم ہوا اور اگر اُسی وقت مجھے علم ہو جاتا تو میرا کیا حق تھا کہ میں کسی کو روک دیتا اور ایسا نہ کرنے دیتا اور لوگوں کو مجھ سے اُس وقت کون سا تعلق تھا جس کی وجہ سے وہ میری بات ماننے کے لئے تیار ہو جاتے۔ اُس وقت تک توکوئی شخص جماعت کا امام مقرر نہ ہوا تھا۔
    ایک اور واقعہ
    اس کے بعد ایک اور واقعہ ہوا اور وہ یہ کہ میں نے سنا کہ مولوی محمد علی صاحب قادیان کو چھوڑ کر جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ میں نے
    اُنہیں لکھا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ یہاں سے جانا چاہتے ہیں آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ آپ اپنی تکلیف مجھے لکھیں کہ آپ کو کیا تکلیف ہے؟ میں نے لکھ کر ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب کو دیا کہ آپ ان کے پاس لے جائیں۔ میں نے کسی ملازم وغیرہ کے ہاتھ خط دے کر اس لئے نہ بھیجا تا کہ وہ یہ نہ کہیں کہ کسی اور آدمی کے ہاتھ خط بھیجنے سے میری ہتک ہوئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو میں نے یہ بھی کہا کہ آپ جا کر ان سے پوچھیں کہ آپ یہاں سے کیوں جاتے ہیں؟ اگر آپ کو کوئی تکلیف ہے تو میں اس کا ذمہ دار ہوں۔ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ بھلا ہم قادیان کو چھوڑ کر کہیں جا سکتے ہیں؟ آپ کو معلوم ہی ہے کہ میں نے چھٹی لی ہوئی ہے اسے پورا کرنے کے لئے جاتا ہوں۔ جواب کے آخر میں یہ بھی لکھا تھا کہ میرے جانے کی یہ وجہ بھی ہے کہ آجکل چونکہ بعض طبائع میں جوش ہے اس لئے میں نے خیال کیا ہے کہ کچھ عرصہ باہر رہوں تا کہ جوش کم ہو جائے ایسا نہ ہو پٹھانوں میں سے کوئی جوش میں مجھ پر حملہ کر بیٹھے۔ لیکن اس خط میں زیادہ تر زور اس بات پر دیا گیا تھا کہ ہم قادیان چھوڑ کر کہاں جا سکتے ہیں؟ میں تو چھٹی کے ایام باہر گزارنے کے لئے جاتا ہوں۔ اس کے بعد میں ان سے ملنے کے لئے اُن کے گھر گیا۔ میرے ساتھ نواب صاحب بھی تھے۔ جب ہم ان کے پاس جاکر بیٹھے تو کچھ اِدھر اُدھر کی باتیں ہوئیں۔ ترجمہ قرآن کے متعلق کچھ گفتگو ہوئی۔ پھر ڈاکٹر صاحب نے اصل مطلب کی طرف کلام کی رَو پھیرنے کے لئے کہا کہ میاں صاحب آپ کے خط پر خود آپ کے پاس آئے ہیں۔ ابھی یہ بات اُنہوں نے کہی ہی تھی کہ مولوی صاحب نے ایک ایسی حرکت کی جس سے ہم نے سمجھا کہ یہ ہمیں ٹالنا چاہتے ہیں۔ ممکن ہے کہ ان کا مطلب یہ نہ ہو اس وقت انہیں کم از کم یہ تو خیال کرنا چاہیے تھا کہ ہم گو اسے نہیں مانتے لیکن جماعت کے ایک حصہ نے اس کو امام تسلیم کیا ہے۔ ایک آدمی جس کا نام بگا ہے وہ کوٹھی کے باہر اُن کو نظر آیا اُنہوں نے فوراً اُس کو آواز دی کہ آ میاں بگا تو لاہور سے کب آیا؟ کیا حال ہے؟ اور اُس سے اِدھر اُدھر کی باتیں شروع کر دیں۔ یہ دیکھ کر ہم اُٹھ کر چلے آئے۔ میں نے ان کی اس حرکت سے یہ نتیجہ نکالا کہ شاید وہ اس معاملہ کے متعلق گفتگو کرنی ہی نہیں چاہتے۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ۔ ان کی یہ منشاء تھی یا نہ لیکن میرے دوسرے ساتھیوں کا بھی ایسا ہی خیال تھا اس لئے ہم چلے آئے۔
    اتحاد کی کوشش
    اِن باتوں کے علاوہ میں نے قوم کے اتحاد اور اتفاق کے قائم رکھنے کے لئے اور بھی تجویزیں کیں۔ جب حضرت خلیفۃ المسیح کی حالت
    بہت نازک ہوگئی اور مجھے معلوم ہوا کہ بعض لوگ مجھے فتنہ گر کہتے ہیں تو میں نے ارادہ کر لیا کہ میں قادیان سے چلا جاؤں اور جب اس بات کا فیصلہ ہو جائے تو پھر آ جاؤں گا۔میں نواب صاحب کی کوٹھی سے جہاں حضرت خلیفۃ المسیح بستر علالت پر پڑے تھے گھر آیا اپنی بیٹھک کے دروازے کھول کر نماز پڑھی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے میرے مولیٰ! اگر میں فتنہ کا باعث ہوں تو مجھے اس دنیا سے اُٹھا لیجئے یا مجھے توفیق دیجئے کہ میں قادیان سے کچھ دنوں کے لئے چلا جاؤں۔ دعا کرنے کے بعد پھر میں نواب صاحب کی کوٹھی پر آیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہی ڈالا کہ ہم ذمہ دار ہوں گے تم یہاں سے مت جاؤ۔ میں ایک دفعہ قسم کھا چکا ہوں اور پھر اُسی ذات کی قسم کھاتا ہوں جس کے قبضہ میں میری جان ہے اور جو اس گھر(مسجد) کا مالک ہے اور میں اسی کی قسم کھا کر کہتا ہوں جو آسمان اور زمین کا حاکم ہے اور جس کی جھوٹی قسم *** کا باعث ہوتی ہے اور جس کی *** سے کوئی جھوٹا بچ نہیں سکتا کہ میں نے کسی آدمی کو کبھی نہیں کہا کہ مجھے خلیفہ بنانے کے لئے کوشش کرو اور نہ ہی کبھی خداتعالیٰ کو میں نے یہ کہا کہ مجھے خلیفہ بنائیو۔ پس جب کہ خداتعالیٰ نے مجھے اس کام کے لئے خود اپنے فضل سے چن لیا ہے تو میں کس طرح اسے ناپسند کرتا؟ کیا اگر تمہارا کوئی دوست تمہیں کوئی نعمت دے اور تم اس کو لے کر نالی میں پھینک دو تو تمہارا دوست خوش ہوگا؟ اور تمہاری یہ حرکت درست ہوگی؟ ہرگز نہیں۔ تو اگر خداتعالیٰ نعمت دے تو کون ہے جو اس کو ہٹا سکے۔ جب دنیا کے دوستوں کی نعمتوں کو کوئی ردّ نہیں کرتا بلکہ بڑی عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو میں خداتعالیٰ کی دی ہوئی اس نعمت کو کس طرح ردّ کر دوں کیونکہ خداتعالیٰ کی نعمتوں کو ردّ کرنے والوں کے بڑے خطرناک انجام ہوتے رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ان کی قوم کے لوگ طُور پر گئے۔ خداتعالیٰ نے اُن کو فرمایا تھا کہ آؤ ہم تم سے کلام کریں۔ وہاں جب زلزلہ آیا تو وہ ڈرگئے اور کہنے لگے کہ ہم خدا کی باتوں کو نہیں سننا چاہتے اور واپس چلے آئے۔ خداتعالیٰ نے ان کو اس نعمت کی ناقدری میں یہ سزا دی کہ فرمایا اب تم سے کوئی شرعی نبی برپا نہیں کیا جائے گا بلکہ تمہارے بھائیوں میں سے کیا جائے گا۔ تو خداتعالیٰ کی نعمت کو ردّ کرنے والوں کی نسبت جب میں یہ دیکھ چکا ہوں تو پھر خدا کی نعمت کو میں کس طرح ردّ کر دیتا۔ مجھے یقین تھا کہ وہ خدا جس نے مجھے اس کام کے لئے چنا ہے وہ خود میرے پاؤں کو مضبوط کردے گا اور مجھے استقامت اور استقلال بخشے گا۔ پس اگر مجھے خلیفہ ماننے والے بھی سب کے سب نہ ماننے والے ہو جاتے اور کوئی بھی مجھے نہ مانتا اور ساری دنیا میری دشمن اور جان کی پیاسی ہو جاتی جو کہ زیادہ سے زیادہ یہی کرتی کہ میری جان نکال لیتی تو بھی میں آخری دم تک اس بات پر قائم رہتا اور کبھی خداتعالیٰ کی نعمت کے ردّ کرنے کا خیال بھی میرے دل میں نہ آتا کیونکہ یہ غلطی بڑے بڑے خطرناک نتائج پیدا کرتی ہے۔
    امام حسنؓ کا واقعہ
    امام حسنؓ سے یہی غلطی ہوئی تھی جس کا بہت خطرناک نتیجہ نکلا۔ گو یہ غلطی ان سے ایک خاص اعتقاد کی بناء پر ہوئی اور وہ یہ کہ
    بیٹا باپ کے بعد خلیفہ نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ حضرت عمرؓ کا اعتقاد تھا اور میرابھی یہی اعتقاد ہے اور یہی وجہ تھی کہ حضرت عمرؓ نے اپنے بعد انتخاب خلیفہ کے متعلق فرمایا کہ میرے بیٹے سے اس میں مشورہ لیا جائے لیکن اس کو خلیفہ بننے کا حق نہ ہوگا۔ حضرت علیؓ نے اپنے بیٹے امام حسنؓ کو اپنے بعد خلیفہ مقرر کیا۔ ان کی نیت نیک تھی کیونکہ اور کوئی ایسا انسان نہ تھا جسے خلیفہ بنایا جا سکتا اور جو خلافت کا اہل ہوتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حسنؓ بھی حضرت عمرؓ کا سا ہی خیال رکھتے تھے یعنی یہ کہ باپ کے بعد بیٹا خلیفہ نہیں ہونا چاہیے اس لئے اُنہوں نے بعد میں معاویہؓ سے صلح کر لی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے بعد امام حسینؓ اور ان کا سب خاندان شہید ہو گیا۔ ایک دفعہ اُنہوں نے خدا کی نعمت کو چھوڑا۔ خداتعالیٰ نے کہا اچھا اگر تم اس نعمت کو قبول نہیں کرتے تو پھر تم میں سے کسی کو یہ نہ دی جائے گی۔ چنانچہ پھر کوئی سیّد کبھی بادشاہ نہیں ہوا سوائے۔ چھوٹی چھوٹی حکومتوں کے سیّدوں کو حقیقی بادشاہت اور خلافت کبھی نہیں ملی۔ امام حسنؓ نے خدا کی دی ہوئی نعمت واپس کر دی جس کا نتیجہ بہت تلخ نکلا۔ تو خداتعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کو ردّ کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔
    اس شخص کو خداکی معرفت سے کوئی حصہ نہیں ملا اور وہ خدا کی حکمتوں کے سمجھنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتا جو مجھے کہتا ہے کہ آپ خلافت کو چھوڑ دیں۔ اس نادان کو کیا معلوم ہے کہ اس کے چھوڑنے کا کیا نتیجہ ہوگا۔ پس حضرت عثمانؓ کی طرح میں نے بھی کہا کہ جو قبا مجھے خداتعالیٰ نے پہنائی ہے وہ میں کبھی نہیں اُتاروں گا خواہ ساری دنیا اس کے چھیننے کے درپے ہو جائے۔ پس میں اب آگے ہی آگے بڑھوں گا خواہ کوئی میرے ساتھ آئے یا نہ آئے۔ مجھے خداتعالیٰ نے بتایا ہے کہ ابتلاء آئیں گے مگر انجام اچھا ہوگا۔ پس کوئی میرا مقابلہ کر کے دیکھ لے خواہ وہ کوئی ہو اِنْشَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی میں کامیاب رہوں گا اور مجھے کسی کے مقابلہ کی خدا کے فضل سے کچھ بھی پرواہ نہیں ہے۔
    بعض باتیں ایسی ہیں جو کہ میں خود ہی سنا سکتا ہوں کسی کو کیا معلوم ہے کہ مجھ پر کتنا بڑا بوجھ رکھا گیا ہے بعض دن تو مجھ پر ایسے آتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ شام تک میں زندہ نہیں رہوں گا۔ اُس وقت میں یہی خیال کرتا ہوں کہ جتنی دیر زندہ ہوں اتنی دیر کام کئے جاتا ہوں۔ جب میں نہ رہوں گا تو خداتعالیٰ کسی اور کو اس کام کے لئے کھڑا کر دے گا مجھے اپنی زندگی تک اس کام کی فکر ہے جو میرے سپرد خداتعالیٰ نے کیا ہے بعد کی مجھے کوئی فکر نہیں ہے۔ یہ سلسلہ اللہ تعالیٰ نے ہی چلایا ہے اور وہی اس کا انتظام کرتا رہے گا۔
    خلافت کیا گدی بن گئی ہے؟
    وہ نادان جو کہتا ہے کہ گدی بن گئی ہے اس کو میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں تو یہ جائز ہی نہیں سمجھتا
    کہ باپ کے بعد بیٹا خلیفہ ہو۔ ہاں اگر خداتعالیٰ چاہے مأمور کر دے تو یہ الگ بات ہے اور حضرت عمرؓ کی طرح میرا بھی یہی عقیدہ ہے کہ باپ کے بعد بیٹا خلیفہ نہیں ہونا چاہیے۔
    پھرکہا جاتا ہے کہ وصیت کے قول کو دیکھو چھ سال کا عمل کیا چیز ہوتی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ چھ سال کیا ہوتے ہیں۔ ہم مان لیتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سے لے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تک کے بارہ سَو سال کے زمانہ کا عمل بھی کوئی چیز نہیں ہوتا اور چھ سال کیا بلکہ اس سارے زمانہ کے عمل کی قربانی کرنے کے لئے ہم تیار ہو جاتے ہیں مگر ہمیں یہ نمونہ کہیں سے نہیں ملتا کہ کسی نبی کی وفات کے بعد ہی اس کی جماعت نے گمراہی پر اجماع کیا ہو۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کو ایک دن بھی گزرنے نہ پایا تھا کہ جماعت احمدیہ نے خلافت پر اجماع کیا۔ کیا نَعُوْذُ بِاللّٰہِ یہ گمراہی پر اجماع تھا؟ ہرگز نہیں۔
    ہمیں یہ سنایا جاتا ہے کہ کیا ہم منافق ہیں؟ ہم کہتے ہیں کہ ہم سب کو منافق نہیں کہتے۔ ہاں جس کے دل میں صداقت کا نام بھی نہیں اور جو بول اُٹھے کہ میں منافق ہوں اسے ہم منافق کہتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ بقول ان کے مان لیا کہ اس وقت جماعت کے بیسویں حصہ نے بیعت کی ہے مگر اُس وقت یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے وقت تو ساری جماعت نے ایک خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی تھی۔ وہ کہہ سکتے ہیں کہ اُس وقت جماعت نے گمراہی پر اجماع کیا تھا لیکن یہ نظیر پہلے کہیں سے نہ ملے گی۔ حضرت مسیحؑ کی وفات پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بہت بڑی دلیل تو ۱۲؎ کی دیا کرتے تھے اور دوسری بڑی بھاری دلیل صحابہؓ کے ’’اجماع‘‘ کو بتلاتے تھے۔ مگر آج کہا جاتا ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد چھ سال تک جماعت احمدیہ کا اجماع گمراہی پر رہا ہے۔ یہ تو ہو سکتا ہے کہ ان لوگوں کے بعد جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا اور آپ کی صحبت سے فیض اُٹھایا دوسرے لوگ کسی غلط مسئلہ پر اجماع کر لیں مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کے صحابی ایسا کریں۔ اگر یہ لوگ ہی ایسا کریں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دنیا میں آنے کا فائدہ ہی کیا ہوا۔ اس میں شک نہیں کہ ہم میں سے کچھ لوگ کمزور بھی ہیں لیکن کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت منافقوں کا گروہ نہیں تھا؟ اور کیوں بعض اشخاص کو جو کہ آپ کے صحابہ کے گروہ میں شامل رہتے تھے اب رضی اللہ عنہ نہیں کہا جاتا حتیّٰ کہ ان کو صحابی بھی نہیں کہا جاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ منافق تھے۔ وہ زبان سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے تھے لیکن ان کا دل نہیں مانتا تھا۔ اسی طرح اب ہم کہتے ہیں کہ جو دل سے مسیح موعود علیہ السلام کے احکام کو مانتے رہے اور مانتے ہیں ان کو ہم آپ کے صحابہ میں سے کہیں گے اور جو نہیں مانیں گے ان کو نہیں کہیں گے۔ کیا عبداللہ بن ابی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں رہتا تھا اور آپ کے صحابہؓ میں شامل نہیں تھا؟ مگر اس کو صحابہ میں اس لئے شامل نہیں کیا جاتا کہ وہ منافق تھا۔ اسی طرح اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ رہنے والوں میں سے کوئی ٹھوکر کھائے تو یہ اُس کا اپنا قصور ہے نہ کہ اس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں رہنا اس ٹھوکر کے نقصان سے اُسے بچا سکتا ہے۔
    پھر میں کہتا ہوں کہ یہ ہمارا قیاس ہی قیاس نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد ساری جماعت کو ٹھوکر نہیں لگی بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا تھا۔
    سپردم بتو مایۂ خویش را
    تو دانی حساب کم و بیش را
    مسیح موعود علیہ السلام اللہ تعالیٰ کو اپنا سرمایہ پیش کرتے ہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کرے اور یہ خداتعالیٰ نے خود فرمایا کہ تم اپنی جماعت کو میرے سپرد کردو ہم اس کی حفاظت کریں گے۔ اب اگر منکرین خلافت کی بات مان لی جائے تو خداتعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کی اچھی حفاظت کی کہ اس کا پہلا اجماع ضلالت پر کروا دیا۔ مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کو خدا کے سپرد کیا تھا خدا نے اس جماعت کو نور الدین کے سپرد کر دیا۔ جس کی نسبت (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ) کہا جاتا ہے کہ گمراہی تھی۔ کیا خداتعالیٰ کو یہ طاقت نہ تھی کہ نور الدین سے جماعت کو چھڑا لیتا اور گمراہ نہ ہونے دیتا؟ طاقت تھی لیکن اس نے ایسا نہیں کیا جس سے ثابت ہوا کہ جماعت کا اجماع غلطی پر نہ تھا بلکہ خداتعالیٰ کی منشاء کے ماتحت تھا۔
    یہی باتیں نہیں ہیں جنہوں نے مجھے اپنی بات پر قائم رکھا بلکہ ان سے بھی بڑھ کر ہیں اور میں نے اپنے قیاس پر ہی اس بات کو نہیں چلایا بلکہ یقینی امور پر سمجھا ہے اور وہ ایسی باتیں ہیں کہ جن کی وجہ سے میں اس سے ہٹ نہیں سکتا۔ اور وہ زمین کی گواہی نہیں ہے بلکہ آسمان کی گواہی ہے۔ وہ آدمیوں کی گواہی نہیں بلکہ خدا کی گواہی ہے۔ پس میں اس بات کو کس طرح چھوڑ سکتا ہوں۔ ساری دنیا بھی اگر مجھے کہے کہ یہ بات غلط ہے تو میں کہوں گا کہ تم جھوٹے ہو اور جو کچھ خداتعالیٰ کہتا ہے وہی سچ ہے کیونکہ خدا ہی سب سچوں سے سچا ہے ۔
    صلح کیونکر ہو؟
    بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپس میں صلح ہو جانی چاہیے۔ کیا ان لوگوں کا جو یہ عقیدہ ہے کہ خلیفہ نہیں ہونا چاہیے وہ اس کو چھوڑ دیں گے؟ یا ہمارا
    یہ عقیدہ ہے کہ خلیفہ ہونا چاہیے ہم اسے چھوڑ دیں گے؟ اگر نہیں چھوڑیں گے تو دو نہایت متضاد خیالات کے لوگوں کا اکٹھا کام کرنا اور ہر ایک کا یہ خیال کرنا کہ دوسرے فریق کے خیالات سلسلہ کے لئے سخت نقصان دہ ہیں اَور زیادہ اختلاف کا باعث ہوگا یا امن کا؟ میں تو صلح کے لئے تیار ہوں اور میں اس باپ کا بیٹا ہوں جس کو صلح کا شہزادہ کہا گیا ہے لیکن وہ صلح جو دین کی تباہی کا باعث ہوتی ہو وہ میں کبھی قبول نہیں کر سکتا۔ مگر وہ صلح جس میں راستی کو نہ چھوڑنا پڑے اس کے کرنے کے لئے مجھ سے زیادہ اور کوئی تیار نہیں ہے مجھے حضرت مسیح کی وہ تمثیل بہت ہی پسند ہے جو کہ لوقا باب ۱۵ میں لکھی ہے کہ ’’کسی شخص کے دو بیٹے تھے۔ ان میں سے چھوٹے نے باپ سے کہا کہ اے باپ! مال کا جو حصہ مجھ کو پہنچتا ہے مجھے دے۔ اس نے اپنا مال متاع انہیں بانٹ دیا اور بہت دن نہ گزرے کہ چھوٹا بیٹا اپنا سب کچھ جمع کر کے دُور دراز مُلک کو روانہ ہوا اور وہاں اپنا مال بَد چلنی میں اُڑا دیا اور جب سب خرچ کر چکا تو اس مُلک میں سخت کال پڑا اور وہ محتاج ہونے لگا۔ پھر اس مُلک کے ایک باشندہ کے ہاں جا پڑا۔ اس نے اس کو اپنے کھیتوں میں سؤر چرانے بھیجا اور اسے آرزو تھی کہ جو پھلیاں سؤر کھاتے تھے انہیں سے اپنا پیٹ بھرے مگر کوئی اسے نہ دیتا تھا۔ پھر اس نے ہوش میں آ کر کہا کہ میرے باپ کے کتنے ہی مزدوروں کو روٹی افراط سے ملتی ہے اور میں یہاں بھوکا مَر رہا ہوں۔ میں اُٹھ کر اپنے باپ کے پاس جاؤں گا اور اس سے کہوں گا کہ اے باپ! میں آسمان کا اور تیری نظر میں گنہگار ہوا اب اس لائق نہیں رہا کہ پھر تیرا بیٹا کہلاؤں مجھے اپنے مزدوروں جیسا کر لے۔ پس وہ اُٹھ کر اپنے باپ کے پاس چلا۔ وہ ابھی دور ہی تھا کہ اسے دیکھ کر اس کے باپ کو ترس آیا اور دَوڑ کر اُس کو گلے لگا لیا اور بوسے لئے۔ بیٹے نے اس سے کہا کہ اے باپ! میں آسمان کا اور تیری نظر میں گنہگار ہوا۔ اب اس لائق نہیں رہا کہ پھر تیرا بیٹا کہلاؤں۔ باپ نے اپنے نوکروں سے کہا کہ اچھے سے اچھا جامہ جلد نکال کر اسے پہناؤ۔ اور اس کے ہاتھ میں انگوٹھی اور پاؤں میں جوتی پہناؤ۔ اور پَلے ہوئے بچھڑے کو لا کر ذبح کرو تا کہ ہم کھا کر خوشی منائیں کیونکہ میرا یہ بیٹا مُردہ تھا اب زندہ ہوا۔ کھویا ہوا تھا اب ملا ہے۔ پس وہ خوشی منانے لگے لیکن اس کا بڑا بیٹا کھیت میں تھا جب وہ آ کر گھر کے نزدیک پہنچا تو گانے بجانے اور ناچنے کی آواز سنی اور ایک نوکر کو بُلا کر دریافت کرنے لگا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ اس نے اس سے کہا تیرابھائی آ گیا ہے اور تیرے باپ نے پَلا ہوا بچھڑا ذبح کرایا ہے اس لئے کہ اسے بھلا چنگا پایا۔ وہ غصے ہوا اور اندر جانا نہ چاہا مگر اس کا باپ باہر جاکے اُسے منانے لگا۔ اس نے اپنے باپ سے جواب میں کہا کہ دیکھ اتنے برس سے میں تیری خدمت کرتا ہوں اور کبھی تیری حکم عدولی نہیں کی مگر مجھے تو نے کبھی ایک بکری کا بچہ بھی نہ دیا کہ اپنے دوستوں کے ساتھ خوشی مناتا لیکن جب تیرا یہ بیٹا آیا جس نے تیرا مال متاع کسبیوں میں اُڑا دیا تو اس کے لئے تُو نے پَلا ہوا بچھڑا ذبح کرایا۔ اس نے اس سے کہا بیٹا تُو تو ہمیشہ میرے پاس ہے اور جو کچھ میرا ہے وہ تیرا ہی ہے لیکن خوشی منانی اور شادمان ہونا مناسب تھا کیونکہ تیرا یہ بھائی مُردہ تھا اب زندہ ہوا۔ کھویا ہوا تھا اب ملا ہے‘‘۔۱۳؎
    سو میں بہت وسعتِ حوصلہ رکھتا ہوں۔ اگر کوئی پچھتاتا ہوا آئے تو میں اس کی آمد پر بہ نسبت ان کے بہت خوش ہوں گا جنہوں نے پہلے دن بیعت کر لی تھی کیونکہ وہ گمراہ نہیں ہوئے اور یہ گمراہ ہو گیا تھا۔ وہ کھوئے نہیں گئے اور یہ کھویا گیا تھا لیکن مل گیا ہے۔ باپ اپنے بیٹوں کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے مگر اس باپ سے بیٹے کے دیکھنے کی خوشی پوچھو جس کا بیٹا بیمار ہو کر تندرست ہو گیا ہو۔ میں نفاق کی صلح ہرگز پسند نہیں کرتا۔ ہاں جو صاف دل ہو کر اور اپنی غلطی کو چھوڑ کر صلح کے لئے آگے بڑھے میں اس سے زیادہ اس کی طرف بڑھوں گا۔
    ایک ضروری بات
    میں اب ایک اور بات بتاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جو منافقت کی صلح کرنی چاہتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ یہ کبھی نہیں ہو سکے گی کیونکہ
    پچھلے دنوں میں جو کچھ ہوا ہے وہ منشائِ الٰہی کے مطابق ہوا ہے۔ ہم میں شامل ہونے والے تو آئیں گے اور آتے ہی رہیں گے اور ان کو وہی رُتبہ اور درجہ دیا جائے گا جو اُن کا پہلے تھا مگر جو ہونا تھا وہ ہو گیا اس کو روکنا کسی انسان کی طاقت اور قدرت میں نہیں ہے۔ یہ جو فتنہ پڑا ہے اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خداتعالیٰ نے قبل از وقت خبر دے دی تھی۔ کمزور دل کے لوگ کہتے ہیں کہ اب کیا ہوگا، احمدیہ سلسلہ ٹوٹ جائے گا۔ میں کہتا ہوں کہ اس فتنہ سے سلسلہ ٹوٹتا نہیں بلکہ بنتا ہے مبارک ہے وہ انسان جو اس نکتہ کو سمجھے۔ اللہ تعالیٰ کے پیارے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب خداتعالیٰ انہیں ایک زخم لگاتا ہے تو ان کی جماعت اور بڑھتی اور ترقی کرتی ہے۔ کیا تم نے کبھی باغبان کو دیکھا نہیں جب وہ کسی درخت کی شاخیں کاٹتا ہے تو اور زیادہ شاخیں اُس کی نکل آتی ہیں۔ پس خداتعالیٰ نے جو اِس سلسلہ احمدیہ کے درخت کی کچھ شاخیں کاٹی ہیں تو اس لئے نہیں کہ یہ درخت سُوکھ جائے بلکہ اس لئے کہ اور زیادہ بڑھے۔ سو یہ مت سمجھو کہ اس فتنہ کی وجہ سے لوگ سمجھیں گے کہ یہ سلسلہ جھوٹا ہے کیونکہ یہ تو اس کی صداقت کو ظاہر کرتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں پوری ہوئی ہیں۔ اگر کوئی نبی بیمار ہو جائے اور اس کے مخالفین خوش ہوں کہ یہ اب فوت ہو جائے گا لیکن وہ انہیں اپنا الہام نکال کر دکھا دے کہ میرا بیمار ہونا تو میری صداقت کی دلیل ہے کیونکہ مجھے پہلے بتایا گیا تھا کہ تو بیمار ہوگا تو اس بیماری سے اس نبی کی صداقت پر کوئی دھبہ نہیں لگتا بلکہ اس کی صداقت اَور ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح جب اِس فتنہ کے لئے پہلے خبریں دی گئی تھیں تو یہ ہماری ترقی میں کوئی روک نہیں ہو سکتا بلکہ اور زیادہ ترقی کے لئے اس فتنہ کے ذریعہ خداتعالیٰ نے ہمیں دلائل و براہین کی تلواریں دے دی ہیں تا کہ نہ ماننے والوں کو دلائل کے ساتھ قتل کرتے پھر یں۔
    فتنہ کا ہونا ضروری تھا
    (۱) دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۷؍دسمبر۱۸۹۲ء کو اپنا ایک رؤیا بیان فرمایا کہ کیا دیکھتا ہوںکہ میں حضرت
    علی کرم اللہ وجہہ بن گیا ہوں یعنی خواب میں ایسا معلوم کرتاہوں کہ وہی ہوں اور خواب کے عجائبات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض اوقات ایک شخص اپنے تئیں دوسرا شخص خیال کر لیتا ہے سو اُس وقت میں سمجھتا ہوں کہ میں علی مرتضیٰ ہوں اور ایسی صورت واقعہ ہے کہ ایک گروہ خوارج کا میری خلافت کا مزاحم ہو رہا ہے یعنی وہ گروہ میری خلافت کے امر کو روکنا چاہتا ہے اور اس میں فتنہ انداز ہے۔ تب میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ہیں اور شفقت اور تودّد سے مجھے فرماتے ہیں کہ یَاعَلِیُّ دَعْھُمْ وَاَنْصَارَھُمْ وَزِرَاعَتَھُمْ یعنی اے علی! ان سے اور ان کے مددگاروں اور ان کی کھیتی سے کنارہ کر اور ان کو چھوڑ دے اور ان سے منہ پھیر لے۔ اور میں نے پایا کہ اس فتنہ کے وقت صبرکے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو فرماتے ہیں اور اعراض کے لئے تاکید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تُو ہی حق پر ہے مگر ان لوگوں سے ترکِ خطاب بہتر ہے۔۱۴؎ اس رؤیا میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بتایا گیا کہ لوگ تمہاری خلافت کا انکار کریں گے اور فتنہ ڈالیں گے لیکن صبر کرنا ہوگا۔ آپ نے اس رؤیا کے معنی یہ بھی کئے ہیں کہ لوگ میرا انکار کریں گے۔ لیکن خداتعالیٰ کی باتوں کے کئی معنی ہوتے ہیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے الہام شَاتَانِ تُذْبَحَانِ ۱۵؎کے پہلے اور معنی کئے تھے اور پھر اسے سیّد عبداللطیف صاحب شہید اور مولوی عبدالرحمن صاحب پر چسپاں فرمایا اور دونوں ہی معنی درست تھے۔ تو اس رؤیا کے ایک معنی تو یہ بھی ہیں کہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انکار کریں گے۔ لیکن اس کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کے بعد جو خلافت ہوگی اس کا انکار ایک جماعت کرے گی اور فتنہ ڈالے گی۔ پس اگر کوئی جماعت خلافت کی منکر نہ ہوتی تو یہ رؤیا کس طرح پوری ہوتی۔
    (۲) لوگ کہتے ہیں کہ خلافت کا انکارکرنے والے بڑے آدمی ہیں۔ ہم بھی کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام بڑے لوگوں کی نسبت ہی لکھتے ہیں کہ ’’پس جو شخص درحقیقت اپنی جان اور مال اور آبرو کو اس راہ میں بیچتا نہیں میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ خدا کے نزدیک بیعت میں داخل نہیں بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک ظاہری بیعت کرنے والے بہت ایسے ہیں کہ نیک ظنی کا مادہ بھی ہنوز ان میں کامل نہیں اور ایک کمزور بچہ کی طرح ہر ایک ابتلاء کے وقت ٹھوکر کھاتے ہیں اور بعض بد قسمت ایسے ہیں کہ شریر لوگوں کی باتوں سے جلد متأثر ہو جاتے ہیں اور بَدگمانی کی طرف ایسے دوڑتے ہیں جیسے کتا مردار کی طرف۔ پس میں کیونکر کہوں کہ وہ حقیقی طور پر بیعت میں داخل ہیں مجھے وقتاً فوقتاً ایسے آدمیوں کا علم بھی دیا جاتا ہے۔ مگر اِذن نہیں دیا جاتا کہ ان کو مطلع کروں۔ کئی چھوٹے ہیں جو بڑے کئے جائیں گے اور کئی بڑے ہیں جو چھوٹے کئے جائیں گے ۔ پس مقامِ خوف ہے‘‘۔۱۶؎ اگر یہ بات جو روزِ ازل سے مقدر ہو چکی تھی اور جس کی خبر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو وقتاً فوقتاً دی جاتی تھی اُس وقت اِس طرح پوری نہ ہوتی کہ جو بڑے تھے وہ چھوٹے نہ کئے جاتے اور وہ جماعت جس کو دبایا جاتا تھا اس کو بڑھایا نہ جاتا تو کس طرح اس کی صداقت ثابت ہوتی۔
    (۳) پھر اگر جماعت احمدیہ کے دو گروہ نہ ہوتے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام کس طرح پورا ہوتا کہ ’’خدا دو مسلمان فریق میں سے ایک کا ہوگا۔ پس یہ پھوٹ کا ثمرہ ہے۔۱۷؎ یعنی جماعت کے دو گروہ ہو جائیں گے اور ان میں سے خدا ایک کے ہی ساتھ ہوگا۔ اگر کوئی کہے کہ اس سے مراد احمدی اور غیر احمدی ہیں اور اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ وہ اس اختلاف میں احمدیوں کے ساتھ ہوگا تو ہم کہتے ہیں کہ اگر اس سے احمدی اور غیر احمدی مراد ہیں تو الہام اس طرح ہونا چاہیے تھا کہ ’’اللہ ایک کا ہے‘‘ نہ کہ ’’اللہ ایک کا ہوگا‘‘ کیونکہ حضرت صاحب کا الہام ہے اِنِّیْ مَعَکَ وَمَعَ اَھْلِکَ وَمَعَ کُلِّ مَنْ اَحَبَّکَ۱۸؎ (ترجمہ) میں تیرے ساتھ اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں اور ان تمام کے ساتھ جو تجھ سے محبت رکھتے ہیں یا رکھیں گے۔۱۹؎ یعنی اللہ تعالیٰ اِس وقت احمدیوں کے ساتھ ہے۔ مگر اس الہام کا لفظ ’’ہوگا‘‘ ثابت کرتا ہے کہ اللہ کسی آئندہ زمانہ میں ایک کا ہوگا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس الہام میں احمدی جماعت کے دو گروہوں کی طرف اشارہ ہے۔ پس اگر موجودہ فتنہ نہ ہوتا تو یہ الہام کس طرح پورا ہوتا؟
    (۴) پھر وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحبت یافتہ اور آپ کے بڑے پیارے دوستوں میں سے ہیں۔ ہم کہتے ہیں ٹھیک ہے ایک وقت آپ ایسے ہی تھے لیکن کیا آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ الہام یاد نہیں ہے جو کہ شیخ رحمت اللہ صاحب کے دعا کے عرض کرنے پر صبح کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سنایا تھا کہ میں نے آپ کے لئے دعا کی تھی اور مجھے یہ الہام ہوا ہے شَرُّ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ (ترجمہ) شرارت ان لوگوں کی جن پر انعام کیا تو نے۔۲۰؎ آج اگر اِس فتنہ میں بعض وہ لوگ شامل نہ ہوتے جن پر حضرت صاحب انعام فرماتے تھے تو وہ الہام کیونکر پورا ہوتا خصوصاً وہ شخص کہ جس کو مخاطب کر کے آپ نے اپنا یہ الہام سنایا۔
    (۵) ایک ۱۳؍ مارچ ۱۹۰۷ء کا الہام ہے ۱۳؍ مارچ کو ہی حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل فوت ہوئے۔ ۱۳؍ مارچ کو ہی لاہور سے ٹریکٹ شائع ہوا۔ اگر یہ ٹریکٹ شائع نہ ہوتا تو یہ الہام کہ ’’لاہور میں ایک بے شرم ہے‘‘۲۱؎ کس طرح پورا ہوتا۔
    (۶) کہتے ہیں پہلے ہمیں نیک کہا جاتا تھا اب کیوں بُرا بھلا کہا جاتا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ انسان کی حالت بدلتی رہتی ہے۔ نیک بَد اور بَد نیک ہو جاتے ہیں مبارک انسان وہی ہے جس کا انجام بخیر ہو۔ پھر اگر اِس فتنہ میں بعض لوگ شامل نہ ہوتے جن کو ہم پہلے صالح سمجھا کرتے تھے اور جن کے نیک ارادے ہوا کرتے تھے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ کشف کہ آپ نے مولوی محمد علی صاحب کو رؤیا میں کہا۔ آپ بھی صالح تھے اور نیک ارادہ رکھتے تھے۔ آؤ ہمارے ساتھ بیٹھ جاؤ۲۲؎ کیونکر پورا ہوتا۔
    (۷) پھر اگر کوئی لاہور میں ۱۹۰۹ء میں لاہور کی جماعت کو جمع کر کے ان سے اس بات کے لئے انگوٹھے نہ لگواتا اور دستخط نہ کرواتا کہ خلیفۃ المسیح کا کوئی دخل نہیں ہے اصل خلیفہ انجمن ہی ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ رؤیا کس طرح پورا ہوتا کہ چھوٹی مسجد کے اوپر تخت بچھا ہوا ہے اور میں اُس پر بیٹھاہوا ہوں اور میرے ساتھ ہی مولوی نورالدین صاحب بھی بیٹھے ہوئے ہیں ایک شخص (اس کا نام ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں) دیوانہ وار ہم پر حملہ کرنے لگا۔ میں نے ایک آدمی کو کہا کہ اس کو پکڑ کر مسجد سے نکال دو۔ اور اس کو سیڑھیوں سے نیچے اُتار دیا ہے۔ وہ بھاگتا ہوا چلا گیا۔ اور یاد رہے کہ مسجد سے مراد جماعت ہوتی ہے۔
    (۸) پھر میں کہتا ہوں کہ اس فتنہ کے دوران میں اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان پر حملہ نہ کیا جاتا (اور حضور کے) اہل بیت کے مقابلہ میں بدزبانی کی تلوار نہ کھینچی جاتی تو یہ الہام کہ ’’اے میرے اہل بیت! خدا تمہیں شر سے محفوظ رکھے‘‘۔۲۳؎ کس طرح پورا ہوتا۔ اگر کوئی شر کھڑا ہی نہیں ہونا تھا تو خداتعالیٰ نے یہ کیوں کہا تھا؟
    (۹) پھر اگر ان کے چال چلن پر حملہ نہ کیا جاتا تو اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِرَّکُمْ تَطْھِیراً اے اہلِ بیت! خدا تعالیٰ نے تم سے ناپاکی دور کرنے کا ارادہ کیا ہے اور تم کو ایسا پاک کرے گا جیسا کہ پاک کرنے کا حق ہے۲۴؎ کس طرح سچا ثابت ہوتا؟
    (۱۰) اگر بعض لوگ یہ نہ کہتے کہ حضرت (اماں جان) خلافت کے لئے منصوبے باندھتی رہی ہیں اور عورتوں میں اس بات کو پھیلاتی رہی ہیں اور اُنہوں نے اپنی مرضی کے لئے خداتعالیٰ کی رضا کو چھوڑ دیا ہے تو یہ خواب کیونکر پوری ہوتی جو آپ نے ۱۹؍مارچ ۱۹۰۷ء کو دیکھی اور فرمایا خواب میں میں نے دیکھا کہ میری بیوی مجھے کہتی ہے کہ ’’میں نے خدا کی مرضی کے لئے اپنی مرضی چھوڑ دی ہے‘‘ اس پر میں نے اُن کو جواب میں یہ کہا۔ اسی سے تو تم پر حُسن چڑھا ہے۔۲۵؎
    (۱۱) ہاں اگر میری عداوت کی وجہ سے میرے ان چھوٹے بھائیوں پر حملے نہ کئے جاتے جو ابھی تک عملی میدان میں داخل ہی نہیں ہوئے اور ابھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں تو حضرت صاحب کی یہ خواب جو آپ نے ۲۱؍ اگست ۱۹۰۶ء کو سنائی تھی کس طرح پوری ہوتی فرمایا ’’شب گزشتہ کو میں نے خواب میں دیکھا کہ اس قدر زنبور ہیں(جن سے مراد کمینہ دشمن ہیں) کہ تمام سطح زمین اُن سے پُر ہے اور ٹڈی دل سے زیادہ ان کی کثرت ہے۔ اس قدر ہیں کہ زمین کو قریباً ڈھانک دیا ہے اور تھوڑے ان میں سے پرواز بھی کر رہے ہیں جو نیش زنی کا ارادہ رکھتے ہیں مگر نامراد رہے اور میں اپنے لڑکوں شریف اور بشیر کو کہتا ہوں کہ قرآن کی یہ آیت پڑھو اور بدن پر پھونک لو کچھ نقصان نہیں کریں گے اور وہ آیت یہ ہے وَاِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَ‘‘۲۶؎
    (۱۲) اگر قادیان کے رہنے والوں پر حملے نہ کئے جاتے تو خداتعالیٰ کو یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ وَلَاتَسْئَمْ مِنَ النَّاسِ اَصْحَابُ الصُّفَّۃِ وَمَا اَدْرٰکَ مَا اَصْحَابُ الصُّفَّۃِ تَرٰی اَعْیُنَھُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ ۲۷؎
    (۱۳) اس وقت قادیان کو چھوڑ کر اگر لاہور کو مدینتہ المسیح نہ بنایا جانا ہوتا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آج سے تیس سال پہلے یہ کیوں دکھایا جاتا کہ قادیان کا نام قرآنِ شریف کے نصف میں لکھا ہوا ہے اور یہ دکھایا گیا کہ دنیا میں عزت والے تین گاؤں ہیں ایک مکہ، دوسرا مدینہ اور تیسرا قادیان۔۲۸؎ جن کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔ پھر یہ الہام کیوں ہوتا کہ ’’خدا قادیان میں نازل ہوگا‘‘۲۹؎ اگر لاہور کو قادیان کے مقابلہ میں نہ کھڑا کیا جانا ہوتا تو اس طرح خصوصیت سے قادیان کا کیوں ذکر ہوتا۔
    (۱۴) اگر خاندانِ نبوت پر کوئی اعتراض کرنے والا نہ ہوتا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام الوصیت میں یہ کیوں تحریر فرماتے۔ ’’میری نسبت اور میرے اہل و عیال کی نسبت خدا نے استثناء رکھا ہے۔ باقی ہر ایک مرد ہو یا عورت ان کو شرائط کی پابندی لازم ہوگی اور شکایت کرنے والا منافق ہوگا‘‘۔۳۰؎
    پس اس فتنہ کو کوئی روک نہیں سکتا تھا اور کیونکر کوئی روک سکتا جب کہ خدا نے مقدر کر رکھا تھا اس لئے ایسا ہونا ضروری تھا اور ہوا۔ مگر جس طرح کسی کا ہاتھ بیماری کی وجہ سے خراب ہو جاتا ہے تو وہ مجبوراً اسے کٹا دیتا ہے لیکن اس ہاتھ کٹانے پر وہ خوش نہیں ہوتا ہاں اس کو اس بات کی خوشی ہوتی ہے کہ ہاتھ کٹانے سے باقی جسم تو بچ گیا ہے اسی طرح ہمیں بھی اس بات کا درد تو ہے کہ ایک حصہ جماعت کا کٹ گیا ہے مگر خوشی بھی ہے کہ باقی جماعت تو اس کے مضر اثر سے بچ گئی ہے۔
    اب میں وہ شہادتیں پیش کرتا ہوں جو خداتعالیٰ نے مجھے اس معاملہ کے متعلق دی ہیں۔ گو دل چاہتا تھا کہ یہ فتنہ نہ اُٹھتا مگر ان الہامات اور رؤیا کی صداقت کیونکر ظاہرہوتی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس فتنہ کی نسبت قبل از وقت دکھلائی گئی تھیں اور میرے لئے تو ان تمام فسادات میں یہ الہامات ہی خضر راہ کا کام دینے کے لئے کافی تھے مگر میرے ربّ نے مجھے خود بھی آگاہ کرنا پسند فرمایا اور یہ اس کا ایک ایسا احسان ہے جس کا شکر میں جس قدر بھی بجا لاؤں تھوڑا ہے۔ اور میں چاہتا ہوں کہ ان لوگوں کے لئے جو صداقت کے قبول کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں ان شہادتوں کو بیان کر دوں جو اللہ تعالیٰ نے ان تمام فتن کے متعلق جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے بعد ظاہر ہوئے میرے لئے ظاہر فرمائیں جن سے میرے دل کو تسلی اور تسکین ہوئی کہ جو راہ میں اختیار کر رہا ہوں وہی درست ہے اور بعض آئندہ کی خبریں ایسی بتائیں جن کے پورا ہونے سے میرا ایمان تازہ ہوا۔
    خلافت کے جھگڑا کے متعلق آسمانی شہادت
    خلافت کے متعلق جس قدر جھگڑے ہیں ان کی بنیاد اسی
    مسئلہ پر ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام کا خلیفہ ہونا چاہیے یا نہیں۔ اگر یہ فیصلہ ہو جائے تو اصول مباحث سب طَے ہو جاتے ہیں اور صرف ذاتیات کا پردہ رہ جاتا ہے پس سب سے پہلے میں اِسی کے متعلق ایک آسمانی شہادت پیش کرتا ہوں جس کے بعد میں نہیں خیال کرتا کہ کوئی سعید انسان خلافت کا انکار کرے۔
    ۸؍ مارچ ۱۹۰۷ء کی بات ہے کہ رات کے وقت رؤیا میں مجھے ایک کاپی الہاموں کی دکھائی گئی اس کی نسبت کسی نے کہا کہ یہ حضرت صاحب کے الہاموں کی کاپی ہے اور اس میں موٹا لکھا ہوا ہے عَسٰی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ یعنی کچھ بعید نہیں کہ تم ایک بات کو ناپسند کرو لیکن وہ تمہارے لئے خیر کا موجب ہو۔
    اس کے بعد نظارہ بدل گیا اور دیکھا کہ ایک مسجد ہے اس کے متولی کے برخلاف لوگوں نے ہنگامہ کیا ہے اور میں ہنگامہ کرنے والوں میں سے ایک شخص کے ساتھ باتیں کرتا ہوں۔ باتیںکرتے کرتے اس سے بھاگ کر الگ ہو گیا ہوں اور یہ کہا کہ اگر میں تمہارے ساتھ ملوں گا تو مجھ سے شہزادہ خفا ہو جائے گا۔اتنے میں ایک شخص سفید رنگ آیا ہے اور اس نے مجھے کہا کہ مسجد کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کے تین درجے ہیں۔ ایک وہ جو صرف نماز پڑھ لیں یہ لوگ بھی اچھے ہیں۔ دوسرے وہ جو مسجد کی انجمن میں داخل ہو جائیں۔ تیسرا متولی۔ اس کے ساتھ ایک اور خواب بھی دیکھی لیکن اس کے یہاں بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
    ان دونوں رؤیا پر اگر کوئی شخص غور کرے تو اُسے معلوم ہو جائے گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات سے بھی ایک سال اور چند ماہ پہلے اللہ تعالیٰ نے مجھے اس فتنہ خلافت کے متعلق خبر دے دی تھی اور یہ وہ زمانہ تھا کہ جب خلافت کا سوال ہی کسی کے ذہن میں نہیں آسکتا تھا اور انجمن کا کاروبار بھی ابھی نہیں چلا تھا۔ بہت تھوڑی مدت اس کے قیام کو ہوئی تھی اور کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک دن یہ نوزائیدہ انجمن مسیح موعود علیہ السلام کی جانشین ہونے کا دعویٰ کرے گی بلکہ یہ وہ زمانہ تھا کہ احمدیوں کے دماغ میں وہم کے طور پر بھی یہ خیال نہیں آتا تھاکہ حضرت صاحب فوت ہوںگے بلکہ ہر ایک شخص باوجود اشاعت وصیت کے غالباً یہ خیال کرتا تھا کہ یہ واقعہ ہماری وفات کے بعد ہی ہوگا اور اس میں شک ہی کیا ہے کہ عاشق اپنے معشوق کی موت کا وہم بھی نہیں کر سکتا اور یہی حال جماعت احمدیہ کا تھا۔ پس ایسے وقت میں خلافت کے جھگڑے کا اس وضاحت سے بتا دینا اور اس خبر کا حرف بہ حرف پورا ہونا ایک ایسا زبردست نشان ہے کہ جس کے بعد متقی انسان کبھی بھی خلافت کا انکار نہیں کر سکتا۔ کیا کوئی انسان ایسا کر سکتا ہے کہ ایک واقعہ سے دو سال پہلے اس کی خبر دے اور ایسے حالات میں دے کہ جب کوئی سامان موجود نہ ہو اور وہ خبر دو سال بعد بالکل حرف بہ حرف پوری ہو اور خبر بھی ایسی ہو جو ایک قوم کے ساتھ تعلق رکھتی ہو۔
    دیکھو اِن دونوںرؤیا سے کس طرح ثابت ہوتا ہے کہ کوئی واقعہ ہوگا جو بظاہر خطرناک معلوم ہوگالیکن درحقیقت نہایت نیک نتائج کا پیدا کرنے والا ہوگا چنانچہ خلافت کا جھگڑا جو ۱۹۰۹ء میں برپا ہوا گو نہایت خطرناک معلوم ہوتا تھا مگر اس کا یہ عظیم الشان فائدہ ہوا کہ آئندہ کے لئے جماعت کو خلافت کی حقیقت معلوم ہوگئی اور حضرت خلیفۃ المسیح کو اس بات کا علم ہو گیا کہ کچھ لوگ خلافت کے منکر ہیں اور آپ اپنی زندگی میں برابر اس امر پر زور دیتے رہے کہ خلیفہ خدابناتا ہے اور خلافت جماعت کے قیام کے لئے ضروری ہے اور ان نصائح سے گو بانیانِ فساد کو فائدہ نہ ہواہو لیکن اِس وقت سینکڑوں ایسے آدمی ہیں جن کوان وعظوں سے فائدہ ہوا اور وہ اس وقت ٹھوکر سے اس لئے بچ گئے کہ اُنہوں نے مُخْتَلَفٌ فِیْہَا مسائل کے متعلق بہت کچھ خلیفہ اوّل سے سنا ہوا تھا۔
    پھر دوسری رؤیاسے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسجد ہے اس کے متولی کے خلاف کچھ لوگوں نے بغاوت کی ہے۔ اب مسجد کی تعبیر جماعت لکھی ہے۔ پس اس رؤیا سے معلوم ہوا کہ ایک جماعت کا ایک متولی ہوگا۔ (متولی اور خلیفہ بالکل ہم معنی الفاظ ہیں) اور اس کے خلاف کچھ لوگ بغاوت کریں گے اور ان میں سے کوئی مجھے بھی ورغلانے کی کوشش کرے گا مگر میں ان کے پھندے میں نہیں آؤں گا اور ان کو صاف کہہ دوں گا کہ اگر میں تمہارے ساتھ ملوں گا تو شہزادہ مجھ سے ناراض ہو جائے گا۔اورجب ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہامات دیکھتے ہیں تو آپ کا نام شہزادہ بھی رکھا گیا ہے۔ پس اس کے معنی یہ ہوئے کہ جو لوگ ان باغیوں کے ساتھ شامل ہوں گے ان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ناراض ہوں گے (یعنی ان کا یہ فعل مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم کے خلاف ہوگا) یہ تو اس فتنہ کی کیفیت ہے جو ہونے والا تھا لیکن ساتھ ہی یہ بتا دیا کہ یہ فتنہ کون کرے گا۔ اور وہ اس طرح کہ اس امر سے کہ متولی کے خلاف بغاوت کرنے والوں سے شہزادہ ناراض ہو جائے گا یہ بتایا گیا ہے کہ متولی حق پر ہے اور باغی ناحق پر اور پھر یہ بتا کر کہ مسجد کے ساتھ تعلق رکھنے والے دوسرے دو گروہوں یعنی عام نمازیوں اور انجمن والوں میں سے عام نمازی اچھے ہیں) بتا دیا کہ یہ فتنہ عام جماعت کی طرف سے نہ ہوگا۔ اب ایک ہی گروہ رہ گیا یعنی انجمن پس وہی باغی ہوئی۔ لیکن میری علیحدگی سے یہ بتا دیا کہ میں باوجود ممبر انجمن ہونے کے ان فتنہ پردازوں سے الگ رہوں گا۔
    یہ رؤیا ایسی کھلی اور صاف ہے کہ جس قدر غور کرو اس سے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور خلافت کی صداقت کا ثبوت ایسے کھلے طور پر ملتا ہے کہ کوئی شقی ہی انکار کرے تو کرے۔
    اس رؤیا کے گواہ
    شاید کوئی شخص کہہ دے کہ ہم نے مانا کہ یہ رؤیا نہایت واضح ہے لیکن اس بات کا ثبوت کیا ہے کہ واقعہ میں آپ نے کوئی ایسی
    رؤیا دیکھی بھی ہے یا نہیں اور جب تک اس بات کا ثبوت نہ ملے تو اس رؤیا کی کوئی قدرومنزلت نہیں ہو سکتی اور اس کا کہنا بالکل بجا ہوگا اس لئے میں اپنی صداقت کے لئے گواہ کے طور پر خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پیش کرتا ہوں۔ شاید بعض لوگوں کو تعجب ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو فوت ہو چکے ہیں آپ کیونکر اس دنیا میں واپس آ کر میری صداقت کی گواہی دے سکتے ہیں تو میں ان کو بتاتا ہوں کہ گو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں لیکن پھر بھی وہ اس بات کی شہادت دے دیں گے کہ واقعہ میں ۸؍ مارچ کو میں نے یہ رؤیا دیکھی تھی اور وہ اس طرح کہ جس رات کو میں نے یہ رؤیا دیکھی اُسی صبح کو حضرت والد ماجد کو سنایا۔ آپ سن کر نہایت متفکر ہوئے اور فرمایا کہ مسجد سے مراد تو جماعت ہوتی ہے شاید میری جماعت کے کچھ لوگ میری مخالفت کریں یہ رؤیا مجھے لکھوا دے۔ چنانچہ میں لکھواتا گیا اور آپ اپنی الہاموں کی کاپی میں لکھتے گئے۔ پہلے تاریخ لکھی پھر یہ لکھا کہ محمود کی رؤیا، پھر تینوں رؤیا لکھیں۔ ان تینوں رؤیا کے اِردگرد اس سے پہلی اور پچھلی تاریخوں کے الہام حضرت صاحب کے اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے موجود ہیں۔ (کاپی لوگوں کو دکھائی گئی) اور یہ کاپی اب تک میرے پاس ہے اور ہر ایک طالبِ حق کو دکھائی جا سکتی ہے جو لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دستخط پہچانتے ہیں وہ گواہی دے سکتے ہیں کہ یہ سب کاپی حضرت صاحب کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے اور کئی سال کے الہام اس میں درج ہیں اور یہ میری رؤیا بھی آپ ہی کے ہاتھ کی لکھی ہوئی اس میں موجود ہے۔ یہ ایک ایسی شہادت ہے کہ کوئی احمدی اس کا انکار نہیں کر سکتا کیونکہ ایسے کھلے کھلے نشان کا جو شخص انکار کرے گا اسے ہر ایک صداقت کا انکار کرنا پڑے گا۔
    اس رؤیا کے معلوم کر لینے کے بعد ہر ایک شخص معلوم کر سکتا ہے کہ کیوں مجھے خلافت کے مسئلہ میں اس قدر یقین اور تسلی ہے اور کیوں میں ہر ایک مقابلہ کی پرواہ نہ کرکے فتنہ کے وقت خلافت کامُمِد و معاون رہا ہوں۔
    میں اس شک کو بھی دور کر دینا چاہتا ہوں کہ کیوں اس رؤیا کو شیطانی نہ خیال کیا جائے اور وہ اس طرح کہ اوّل تو اس رؤیا کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قدر کی نگاہوں سے دیکھا اور لکھ لیا اور اپنے الہاموں کی کاپی میں لکھا۔ پھر یہ رؤیا دو سال بعد حرف بہ حرف پوری ہوئی اور جو رؤیا اس شان کے ساتھ پوری ہو وہ شیطانی نہیں ہو سکتی کیونکہ پھر شیطان اور رحمن کے کلام میں کیا فرق رہ جائے گا؟ اور کیوں نہ لوگ ہر ایک الہام کو شیطانی کہہ دیں گے۔
    مسئلہ خلافت کے متعلق دوسری آسمانی شہادت
    ۱۹۰۹ء کی بات ہے ابھی مجھے خلافت کے متعلق
    کسی جھگڑے کا علم نہ تھا صرف ایک صاحب نے مجھ سے حضرت خلیفۃ المسیح خلیفہ اوّل کی خلافت کے قریباً پندرہویں دن کہا تھا کہ میاں صاحب اب خلیفہ کے اختیارات کے متعلق کچھ غور کرنا چاہیے جس کے جواب میں میں نے اُن سے کہا کہ یہ وقت وہ تھا کہ سلسلہ خلافت قائم نہ ہوا تھا جب کہ ہم نے بیعت کر لی تو اب خادم مخدوم کے اختیارات کیا مقرر کریں گے۔ جس کی بیعت کی اُس کے اختیا رات ہم کیونکر مقرر کر سکتے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد کبھی مجھ سے اس معاملہ کے متعلق کسی نے گفتگو نہ کی تھی اور میرے ذہن سے یہ واقعہ اُتر چکا تھا کہ جنوری ۱۹۰۹ء میں میں نے یہ رؤیا دیکھی کہ ایک مکان ہے بڑا عالیشان سب تیار ہے لیکن اُس کی چھت ابھی پڑنی باقی ہے۔ کڑیاں پڑ چکی ہیںان پر اینٹیں رکھ کر مٹی ڈال کر کوٹنی باقی ہے۔ ان کڑیوں پر کچھ پھونس پڑا ہے اور اس کے پاس میر محمد اسحق صاحب کھڑے ہیں اور ان کے پاس میاں بشیر احمد اور نثار احمد مرحوم (جو پیر افتخار احمد صاحب لدھیانوی کا صاحبزادہ تھا) کھڑے ہیں۔ میر محمد اسحق صاحب کے ہاتھ میں ایک ڈبیہ دیا سلائیوں کی ہے اور وہ اس پھونس کو آگ لگانی چاہتے ہیں۔ میں انہیں منع کرتا ہوں کہ ابھی آگ نہ لگائیں نہیں تو کڑیوں کو آگ لگنے کا خطرہ ہے۔ ایک دن اس پھونس کو جلایا تو جائے گا ہی لیکن ابھی وقت نہیں۔ بڑے زور سے منع کرکے اور اپنی تسلی کر کے میں وہاں سے لَوٹا ہوں لیکن تھوڑی دُور جا کر میں نے پیچھے سے کچھ آہٹ سنی اور منہ پھیر کر کیا دیکھتا ہوں کہ میر محمد اسحق صاحب دیا سلائی کی تیلیاں نکال کر اس کی ڈبیہ سے جلدی جلدی رگڑتے ہیں وہ نہیں جلتیں پھر اور نکال کر ایسا ہی کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جلد اس پھونس کو آگ لگا دیں۔ میں اس بات کو دیکھ کر واپس بھاگا کہ ان کو روکوں لیکن میرے پہنچتے پہنچتے اُنہوں نے آگ لگا دی تھی۔ میں اس آگ میںکُود پڑا اور اسے میں نے بُجھا دیا لیکن تین کڑیوں کے سرے جل گئے۔ یہ خواب میں نے اُسی دن دوپہر کے وقت مولوی سید سرور شاہ صاحب کو سنائی جو سن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ یہ خواب تو پوری ہوگئی ہے اور اُنہوں نے مجھے بتایا کہ میر محمد اسحق صاحب نے چند سوالات لکھ کر حضرت خلیفۃ المسیح کو دیئے ہیں جن سے ایک شور پڑ گیا ہے۔ اس کے بعد میں نے حضرت خلیفۃ المسیح کو یہ رؤیا لکھ کر دی اور آپ نے وہ رُقعہ پڑھ کر فرمایا کہ خواب پوری ہوگئی ہے اور ایک کاغذ پر مفصّل واقعہ لکھ کر مجھے دیا کہ پڑھ لو۔ جب میں نے پڑھ لیا تو لے کر پھاڑ دیا۔ اس رؤیا کے گواہ مولوی سید سرور شاہ صاحب ہیں ان سے دریافت کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ یہ رؤیا حرف بہ حرف پوری ہوئی اور ان سوالات کے جواب میں بعض آدمیوں کا نِفاق ظاہر ہو گیا اور ایک خطرناک آگ لگنے والی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اُس وقت اپنے فضل سے بجھادی۔ ہاں کچھ کڑیوں کے سرے جل گئے اور ان کے اندر ہی اندر یہ آگ دہکتی رہی۔ اس خواب میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ یہ پھونس آخر جلا ہی دیا جائے گا اور بعد میں ایسا ہی ہوا۔
    مسئلہ خلافت کے متعلق تیسری آسمانی شہادت
    ابھی کسی جلسہ وغیرہ کی تجویز نہ تھی ہاں خلافت
    کے متعلق فتنہ ہو چکا تھا کہ میں نے رؤیا میں دیکھا کہ ایک جلسہ ہے اور اس میں حضرت خلیفہ اوّل کھڑے تقریر کر رہے ہیں اور تقریر مسئلہ خلافت پر ہے اور جو لوگ آپ کے سامنے بیٹھے ہیں ان میں سے کچھ مخالف بھی ہیں۔ میں آیا اور آپ کے دہنے کھڑا ہو گیا اور کہا کہ حضور کوئی فکر نہ کریں ہم لوگ پہلے مارے جائیں گے تو پھرکوئی شخص حضور تک پہنچ سکے گا ہم آپ کے خادم ہیں۔ چنانچہ یہ خواب حضرت خلیفہ اوّل کو سنائی جب جلسہ کی تجویز ہوئی اور احباب بیرون جات سے مسئلہ خلافت پر مشورہ کے لئے جمع ہوئے اور چھوٹی مسجد کے صحن میں حضرت خلیفہ اوّل کھڑے ہوئے کہ تقریر فرمائیں تو میں آپ کے بائیں طرف بیٹھا تھا آپ نے اس رؤیا کی بناء پر مجھے وہاں سے اُٹھا کر دوسری طرف بیٹھنے کا حکم دیا اور اپنی تقریر کے بعد مجھے بھی کچھ بولنے کے لئے فرمایا اور میں نے ایک مضمون جس کا مطلب اس قسم کا تھا کہ ہم تو آپ کے بالکل فرمانبردار ہیں بیان کیا۔
    مسئلہ خلافت پر چوتھی آسمانی شہادت
    جب خلافت کا جھگڑا شروع ہوا تو گو مجھے وہ رؤیا بھی ہو چکی تھی جس کا ذکر
    میں پہلے کرچکا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھ کی لکھی ہوئی موجود ہے اور وہ دوسری رؤیا بھی دیکھ چکا تھا جس میں میرمحمد اسحق صاحب کے سوالات سے منافقوں کے سر جلنے کا پتہ دیا گیا تھا لیکن پھر بھی طبیعت پر ایک بوجھ تھا اور میں چاہتا تھا کہ زیادہ وضاحت سے مجھے اس مسئلہ کی نسبت کچھ بتایا جائے اور میں نے اپنے ربّ کے حضور میں بار بار عرض کی کہ الٰہی! مجھے حق کا پتہ دیا جائے اور صداقت مجھ پر کھول دی جائے اور جو بات سچ ہو وہ مجھے بتا دی جائے کیونکہ مجھے کسی پارٹی سے تعلق نہیں بلکہ صرف حضور کی رضا حاصل کرنے کا شوق ہے۔ جس قدر دن جلسہ میں باقی تھے ان میں میں برابر یہ دعا کرتا رہا لیکن مجھے کچھ نہ بتایا گیا حتیّٰ کہ وہ رات آگئی جس دن صبح کو وہ جلسہ تھا جس میں یہ سوالات پیش ہونے تھے اور اُس رات میرا کرب بڑھ گیا اور میرا دل دھڑکنے لگا اور میں گھبرا گیا کہ اب میں کیا کروں۔ اُس رات میں بہت ہی گڑگڑایا اور عرض کیا کہ الٰہی! صبح کو یہ معاملہ پیش ہوگا حضور مجھے بتائیں کہ میں کس طرف ہوں۔ اِس وقت تک تو میں خلافت کو حق سمجھتا ہوں لیکن مجھے حضور کی رضا مطلوب ہے کسی اپنے اعتقاد پر اصرار نہیںمیں حضور سے ہی اس مسئلہ کا حل چاہتا ہوں تا میرے دل کو تسلی ہو۔ پس صبح کے وقت میری زبان پر یہ الفاظ جو قرآن کریم کی ایک آیت ہے جاری کئے گئے ۳۱؎ کہہ دے کہ میرا ربّ تمہاری پرواہ ہی کیا کرتا ہے۔ اس کے بعد مجھے تسلی ہوگئی اور میں نے خیال کیا کہ میں حق پر ہوں کیونکہ لفظ نے بتادیاہے کہ میرا خیال درست ہے تبھی تو مجھے حُکم ہوا کہ میں لوگوں کو حکمِ الٰہی سنا دوں اور اگر میرا عقیدہ غلط ہوتا تو یہ الفاظ ہوتے کہ میںنے یہ الفاظ کئی لوگوں کو سنا دیئے تھے مگر اب یاد نہیں کہ کس کس کو سنائے تھے۔
    مسئلہ خلافت پر پانچویں آسمانی شہادت
    میں نے حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات سے تین سال پہلے ایک
    خواب دیکھا جس کی تعبیر یہ تھی کہ آپ کی وصیت سے نواب صاحب کا بھی کچھ تعلق ہے۔ چنانچہ تین سال بعد اللہ تعالیٰ نے اس رؤیا کو پورا کر کے دکھا دیا کہ وہ کیسا زبردست ہے۔
    مسئلہ خلافت پر چھٹی آسمانی شہادت
    ۱۹۱۳ء میں میں ستمبر کے مہینہ میں چند دن کے لئے شملہ گیا تھا۔ جب میں
    یہاں سے چلا ہوں تو حضرت خلیفۃ المسیح کی طبیعت اچھی تھی لیکن وہاں پہنچ کر میں نے پہلی یا دوسری رات دیکھا کہ رات کا وقت ہے اور قریباً دو بجے ہیں میں اپنے کمرہ میں (قادیان میں) بیٹھا ہوں۔ مرزا عبدالغفور صاحب (جو کلانور کے رہنے والے ہیں) میرے پاس آئے او رنیچے سے آواز دی میں نے اُٹھ کر ان سے پوچھا کہ کیا ہے؟ اُنہوں نے کہا کہ حضرت خلیفۃ المسیح کو سخت تکلیف ہے تپ کی شکایت ہے ایک سَو دو کے قریب تپ ہو گیا تھا آپ نے مجھے بھیجا ہے کہ میاں صاحب کو جا کر کہہ دو کہ ہم نے اپنی وصیت شائع کر دی ہے مارچ کے مہینہ کے بدر میں دیکھ لیں۔ جب میں نے یہ رؤیا دیکھی تو سخت گھبرایا اور میرا دل چاہا کہ واپس لَوٹ جاؤں لیکن میں نے مناسب خیال کیا کہ پہلے دریافت کر لوں کہ کیا آپ واقع میں بیمار ہیں۔ سو میں نے وہاں سے تار دیا کہ حضور کا کیا حال ہے؟ جس کے جواب میں حضرت نے لکھا کہ اچھے ہیں۔ یہ رؤیا میں نے اُسی وقت نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کو اور مولوی سیّد سرور شاہ صاحب کو سنا دی تھی اور غالباً نواب صاحب کے صاحبزادگان میاںعبدالرحمن خان صاحب، میاں عبداللہ خان صاحب، میاں عبدالرحیم خان صاحب میں سے بھی کسی نے وہ رؤیا سُنی ہوگی کیونکہ وہاں ایک مجلس میں میں نے اس رؤیا کو بیان کر دیا تھا۔
    اب دیکھنا چاہیے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت مجھے حضرت کی وفات کی خبر دی اور چار باتیں ایسی بتائیں کہ جنہیں کوئی شخص اپنے خیال اور اندازہ سے دریافت نہیں کر سکتا۔
    اوّل تو یہ کہ حضور کی وفات تپ سے ہوگی۔
    دوم یہ کہ آپ وفات سے پہلے وصیت کر جائیںگے۔
    سوم یہ کہ وہ وصیت مارچ کے مہینہ میں شائع ہوگی۔
    چہارم یہ کہ اس وصیت کا تعلق بدر کے ساتھ ہوگا۔
    اگر ان چاروں باتوں کے ساتھ میں یہ پانچویں بات بھی شامل کر دوں تو نامناسب نہ ہوگا کہ اس رؤیا سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس وصیت کا تعلق مجھ سے بھی ہوگا کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو میری طرف آدمی بھیج کر مجھے اطلاع دینے سے کیا مطلب ہو سکتا تھا اور یہ ایک ایسی بات تھی کہ جسے قبل از وقت کوئی بھی نہیں سمجھ سکتا تھا لیکن جب واقعات اپنے اصل رنگ میں پورے ہوگئے تو اب یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ اس رؤیا میں میری خلافت کی طرف بھی اشارہ تھا لیکن چونکہ یہ بات وہم و گمان میں بھی نہ تھی اس لئے اُس وقت جب کہ یہ رؤیا دکھلائی گئی تھی اِس طرف خیال بھی نہیں جا سکتا تھا۔
    مندرجہ بالا پانچ نتائج جو اس رؤیا سے نکالے گئے ہیں ان سے چار تو صاف ہیں یعنی تپ سے وفات کا ہونا چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ وصیت کا کرنا وہ بھی صاف ہے کیونکہ آپ نے اپنی وفات سے پہلے وصیت کر دی تھی۔ تیسرے مارچ میں وصیت کا ہونا وہ بھی ایک بالکل واضح ہے کیونکہ آپ نے مارچ ہی میں وصیت کی اور مارچ ہی میں وہ شائع ہوئی۔ پانچواں امر بھی صاف ہے کہ اِس وصیت کا مجھ سے بھی کچھ تعلق تھا چنانچہ ایسا ہی ظاہر ہوا۔ لیکن چوتھی بات کہ بدر میں دیکھ لیں تشریح طلب ہے کیونکہ آپ کی وصیت جہاں الفضل، الحکم، نور میں شائع ہوئی وہاں بدر میں شائع نہیں ہوئی کیونکہ وہ اُس وقت بند تھا۔ پس اس کے کیا معنی ہوئے کہ بدر میں دیکھ لیں۔ سو اس امر کے سمجھنے کے لئے یاد رکھنا چاہیے کہ رؤیا اور کشوف کبھی بالکل اصل شکل میں پورے ہوتے ہیں اور کبھی وہ تعبیر طلب ہوتے ہیں اور کبھی ان کا ایک حصہ تو اصل رنگ میں ظاہر ہوتا ہے اور ایک حصہ تعبیر طلب ہوتا ہے سو یہ خواب بھی اسی طرح کی ہے اور جہاں اس رؤیا میں سے چار امور بالکل صاف اور واضح طور پر پورے ہوئے ایک امر تعبیرطلب بھی تھا لیکن رؤیا کی صداقت پر باقی چار امور نے مُہر کر دی تھی اور اس چوتھے امر کی تعبیر یہ تھی کہ بدر اصل میں پندرہویں رات کے چاند کو کہتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے رؤیا میں ایک قسم کا اخفاء رکھنے کے لئے مارچ کی چودھویں تاریخ کا نام چودھویں کی مشابہت کی وجہ سے بدر رکھا اور یہ بتایا کہ یہ واقعہ چودہ تاریخ کو ہوگا۔ چنانچہ وصیت باقاعدہ طور پرجو شائع ہوئی یعنی اس کے امین نواب محمد علی خان صاحب نے پڑھ کر سنائی تو چودہ تاریخ کو ہی سنائی اور اسی تاریخ کو خلافت کا فیصلہ ہوا۔
    مسئلہ خلافت کے متعلق ساتویں آسمانی شہادت
    اس بات کو قریباً تین چار سال کا عرصہ ہوا یا کچھ کم کہ
    میں نے رؤیا میں دیکھا کہ میں گاڑی میں سوار ہوں اور گاڑی ہمارے گھر کی طرف جا رہی ہے کہ راستہ میں کسی نے مجھے حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کی خبر دی تو میں نے گاڑی والے کو کہا کہ جلدی دَوڑاؤ تا میں جلدی پہنچوں۔ یہ رؤیا بھی میں نے حضرت کی وفات سے پہلے ہی بہت سے دوستوں کو سنائی تھی (جن میں سے چند کے نام یاد ہیں۔ نواب محمد علی خان صاحب، مولوی سید سرور شاہ صاحب، شیخ یعقوب علی صاحب، حافظ روشن علی صاحب اور غالباً ماسٹر محمدشریف صاحب بی۔ اے پلیڈر چیف کورٹ لاہور) کہ مجھے ایک ضروری امر کے لئے حضرت کی بیماری میں لاہور جانے کی ضرورت ہوئی اور چونکہ حضرت کی حالت نازک تھی میں نے جانا مناسب نہ سمجھا اور دوستوں سے مشورہ کیا کہ میں کیا کروں؟ اور ان کو بتایا کہ میں جانے سے اس لئے ڈرتا ہوں کہ میں نے رؤیا میں گاڑی میں سواری کی حالت میں حضرت کی وفات دیکھی ہے۔ پس ایسا نہ ہو کہ یہ واقعہ ابھی ہو جائے۔ پس میں نے یہ تجویز کی کہ ایک خاص آدمی بھیج کر اس ضرورت کو رفع کیا۔ لیکن منشائے الٰہی کو کون روک سکتا ہے۔ چونکہ حضرت ، نواب صاحب کے مکان پر رہتے تھے میں بھی وہیں رہتا تھا اور وہیں سے جمعہ کے لئے قادیان آتا تھا۔ جس دن حضور فوت ہوئے میں حسب معمول جمعہ پڑھانے قادیان آیا اور جیسا کہ میری عادت تھی نماز کے بعد بازار کے راستہ سے واپس جانے کے لئے تیار ہوا کہ اتنے میں نواب صاحب کی طرف سے پیغام آیا کہ وہ احمدیہ محلہ میں میرے منتظر ہیں اور مجھے بُلاتے ہیں کیونکہ اُنہوں نے مجھ سے کچھ بات کرنی ہے۔ میں وہاں گیا تو ان کی گاڑی تیار تھی اس میں وہ بھی بیٹھ گئے اور میںبھی اور ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اسسٹنٹ سرجن بھی ہمارے ساتھ تھے۔ گاڑی آپ کی کوٹھی کی طرف روانہ ہوئی اور جس وقت اُس سڑک پر چڑھ گئی جو مدرسہ تعلیم الاسلام کی گراؤنڈ میں تیار کی گئی ہے تو آپ کا ایک ملازم دوڑتا ہوا آیا کہ حضور فوت ہوگئے ہیں اُس وقت میں بے اختیار ہو کر آگے بڑھا اور گاڑی والے کو کہا کہ گاڑی دَوڑاؤ اور جلد پہنچاؤ۔ اُسی وقت نواب صاحب کو وہ رؤیا یاد آگئی اور آپ نے کہا کہ وہ رؤیا پوری ہوگئی۔
    یہ رؤیا ہستی باری کا ایک ایسا زبردست ثبوت ہے کہ سوائے کسی ایسے انسان کے جو شقاوت کی وجہ سے صداقت نہ ماننے سے بالکل انکار کر دے ایک حق پسند کے لئے نہایت رُشد اور ہدایت کا موجب ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ انسان خداتعالیٰ کے فیصلہ سے بچنے کی لاکھ کوشش کرے تقدیر پوری ہو کر ہی رہتی ہے میں نے جس خوف سے لاہور کا سفر ملتوی کرنے کا ارادہ کیا تھا وہ امر قادیان ہی میں پورا ہوا۔
    حضرت کی وفات اور میری خلافت کے متعلق آٹھویں آسمانی شہادت
    قریباً تین چار سال کا عرصہ ہوا جو میں نے دیکھا کہ میں اور حافظ روشن علی صاحب ایک جگہ بیٹھے ہیں اور ایسا
    معلوم ہوتا ہے کہ مجھے گورنمنٹ برطانیہ نے افواج کا کمانڈر اِن چیف مقرر فرمایا ہے اور میں سراومور کرے سابق کمانڈراِن چیف افواجِ ہند کے بعد مقرر ہوا ہوں اور ان کی طرف سے حافظ صاحب مجھے عہدہ کا چارج دے رہے ہیں۔ چارج لیتے لیتے ایک امر پر میں نے کہا کہ فلاں چیز میں تو نقص ہے میں چارج میں کیونکر لے لوں؟ میں نے یہ بات کہی ہی تھی کہ نیچے کی چھت پھٹی (ہم چھت پر تھے) اور حضرت خلیفۃ المسیح خلیفہ اوّل اس میں سے برآمد ہوئے اور میں خیال کرتا ہوں کہ آپ سراومور کرے کمانڈر اِن چیف افواج ہند ہیں آپ نے فرمایا کہ اس میں میرا کوئی قصور نہیں بلکہ لارڈ کچنر(KITCHENER) سے مجھے یہ چیز اِسی طرح ملی تھی۔
    اس رؤیا پر مجھے ہمیشہ تعجب ہوا کرتا تھا کہ اس سے کیا مراد ہے؟ اور میں اپنے دوستوں کو سنا کر حیرت کا اظہار کیا کرتا تھاکہ اس خواب سے کیا مراد ہو سکتی ہے؟ مگر خداتعالیٰ کی قدرت ہے کہ واقعات کے ظہور پر معلوم ہوا کہ یہ رؤیا ایک نہایت ہی زبردست شہادت تھی اس بات پر کہ حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کے بعد جو فیصلہ ہوا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے منشاء اور اس کی رضا کے ماتحت ہوا ہے۔ چنانچہ حضرت مولوی صاحب کی وفات پر میری طبیعت اس طرف گئی کہ یہ رؤیا تو ایک عظیم الشان پیشگوئی تھی اور اس میں بتایا گیا تھا کہ مولوی صاحب کے بعد خلافت کا کام میرے سپرد ہوگا اور یہی وجہ تھی کہ حضرت خلیفۃ المسیح مجھے بہ لباس سراومور کرے کے دکھائے گئے اور افواج کی کمانڈ سے مراد جماعت کی سرداری تھی کیونکہ انبیاء کی جماعتیں بھی ایک فوج ہوتی ہیں جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ دین کو غلبہ دیتا ہے۔ اِس رؤیا کی بناء پر یہ بھی امید ہے کہ اِنْشَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی تبلیغ کا کام جماعت احمدیہ کے ہاتھ سے ہوگا اور غیرمبائعین احمدیوں کے ذریعہ نہ ہوگا۔ اِلاَّ مَاشَائَ اللّٰہُ۔ برکت مبائعین کے کام میں ہی ہوگی۔
    اس رؤیا کا جب غور سے مطالعہ کیا جائے تو یہ ایک ایسی زبردست شہادت معلوم ہوتی ہے کہ جس قدر غور کریں اُسی قدر عظمتِ الٰہی کا اظہار ہوتا ہے اور وہ اس طرح کہ اس رؤیا میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لارڈ کچنر کے نام سے ظاہر کیا گیا ہے اور حضرت خلیفہ اوّل کو سراومور کرے کے نام سے۔ اور جب ہم ان دونوں افسروں کے عہدہ کو دیکھتے ہیں تو جس سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وفات پائی تھی اسی سال لارڈ کچنر ہندوستان سے رخصت ہوئے تھے اور سراومور کرے کمانڈر مقرر ہوئے مگر یہ بات تو پچھلی تھی۔ عجیب بات یہ ہے کہ جس سال اور جس مہینہ میں سراومور کرے ہندوستان سے راونہ ہوئے ہیں اُسی سال اور اُسی مہینہ یعنی مارچ ۱۹۱۴ء میں حضرت خلیفۃ المسیح فوت ہوئے اور مجھے اللہ تعالیٰ نے اِس کام پر مقرر فرمایا۔ کیا کوئی سعید الفطرت انسان کہہ سکتا ہے کہ یہ رؤیا شیطانی ہوسکتی تھی یا کوئی انسان اس طرح دو تین سال قبل از وقوع ایک بات اپنے دل سے بنا کر بتا سکتا ہے ؟کیا یہ ممکن تھا کہ میں دو سال پہلے یہ سب واقعات اپنے دل سے گھڑ کر لوگوں کو سُنا دیتا اور پھر وہ صحیح بھی ہو جاتے؟ یہ کون تھا جس نے مجھے یہ بتا دیا کہ حضرت مولوی صاحب مارچ میں فوت ہوں گے، ۱۹۱۴ء میں ہوں گے اور آپ کے بعد آپ کا جانشین میں ہوں گا۔ کیا خداتعالیٰ کے سوا کوئی اور بھی ایسا کر سکتا ہے؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔
    اس رؤیا میں یہ جو دکھایا گیا کہ چارج میں ایک نقص ہے اور میں اس کے لینے سے انکار کرتا ہوں تو وہ ان چند آدمیوں کی طرف اشارہ تھا کہ جنہوں نے اِس وقت فساد کھڑا کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس رؤیا کے ذریعہ سے حضرت مولوی صاحب پر سے یہ اعتراض دور کیا ہے جو بعض لوگ آپ پر کرتے ہیں کہ اگر حضرت مولوی صاحب اپنے زمانہ میں ان لوگوں کے اندرونہ سے لوگوں کو عَلَی الْاِعْلَان آگاہ کر دیتے اور اشارات پر ہی بات نہ رکھتے یا جماعت سے خارج کر دیتے تو آج یہ فتنہ نہ ہوتا۔ اور مولوی صاحب کی طرف سے قبل ازوقت یہ جواب دے دیا کہ یہ نقص میرے زمانہ کا نہیں بلکہ پہلے کا ہی ہے اور یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ہی بگڑ چکے تھے ان کے بگڑنے میں میرے کسی سلوک کا دخل نہیں مجھ سے پہلے ہی ایسے تھے۔
    شاید کوئی شخص اعتراض کرے کہ یہ تعبیر تو اَب بنائی جاتی ہے مگر یاد رکھنا چاہیے کہ تعبیر کا علم واقعہ کے بعد ہی ہوتا ہے یہ خواب صاف ہے اور اس میں کوئی پیچ نہیں۔ ہر ایک شخص اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ جو تعبیر میں نے کی ہے اس کے سوا کوئی درست تعبیر نہیں ہو سکتی۔ یہ خواب میں نے حافظ روشن علی صاحب کو قبل از وقت سنا دی تھی اَور دوستوں کو بھی سنائی ہے لیکن ان کے نام یاد نہیں۔
    مسئلہ خلافت پر نویں آسمانی شہادت
    جس طرح خلافت کے جھگڑے، حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات، آپ کی وصیت،
    میری جانشینی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت مجھے اطلاع دی تھی اسی طرح مجھے یہ بھی بتایا گیا تھا کہ میرے مقابلہ پر کون ہوگا جو سخت فتنہ برپا کرے گا لیکن ناکام رہے گا۔
    اس بات کو قریباً سات سال ہوگئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ۱۹۰۲ء کے اکتوبر یا نومبر میں میں نے رؤیا دیکھی کہ میں بورڈنگ کے ایک کمرہ میں ہوں یا ریویو آف ریلیجنز کے دفتر میںوہاں ایک بڑے صندوق پر مولوی محمد علی صاحب بیٹھے ہیں اور میں ذرا فاصلہ پر کھڑا ہوں اتنے میں ایک دروازہ سے شیخ رحمت اللہ صاحب تاجر داخل ہوئے اور ہم دونوں کو دیکھ کر کہا کہ میاں صاحب! آپ لمبے ہیں یا مولوی صاحب؟ مولوی صاحب نے کہا کہ میں لمبا ہوں۔ میں نے کہا کہ میں لمبا ہوں۔ شیخ صاحب نے کہا آؤ دونوں کو ناپیں۔ مولوی صاحب صندوق پر سے اُترنا چاہتے ہیں لیکن جس طرح بچے اونچی چار پائی پر سے مشکل سے اُترتے ہیں اس طرح بڑی مشکل سے اُترتے ہیں اور جب شیخ صاحب نے مجھے اور ان کو پاس کھڑا کیا تو وہ بے اختیار کہہ اُٹھے ہیں! میں تو سمجھتا تھا کہ مولوی صاحب اونچے ہیں لیکن اونچے تو آپ نکلے۔ میں نے کہا ہاں میں ہی اونچا ہوں۔ اس پر اُنہوں نے کہا کہ اچھا میں مولوی صاحب کو اُٹھا کر آپ کے کندھوں کے برابر کرتا ہوں دیکھیں ان کے پیر کہاں آتے ہیں اور یہ کہہ کر اُنہوں نے مولوی صاحب کو اُٹھا کر میرے کندھوں کے برابر کرنا چاہا۔ جتنا وہ اونچا کرتے جاتے اُسی قدر میں اونچا ہوتا جاتا آخر بڑی دقت سے اُنہوں نے ان کے کندھے میرے کندھوں کے برابر کئے تو اُن کی لاتیں میرے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچ سکیں جس پر وہ سخت حیران ہوئے ۔ یہ خواب اُس وقت کی ہے جب ان جھگڑوں کا وہم و گمان بھی نہ ہو سکتا تھا۔ سات سال کے بعد کے واقعات بتانا انسان کا کام نہیں۔ میں نے یہ رؤیا اُسی وقت سیّد سرور شاہ صاحب، سیّد ولی اللہ شاہ صاحب کو جو اِس وقت بیروت (شام) میں ہیں اور سید حبیب اللہ شاہ صاحب کو جو میڈیکل کالج کی آخری کلاس میں پڑھتے ہیں سنا دی تھی اور ان سے گواہی لی جا سکتی ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ اُن کو یہ رؤیا یاد ہوگی۔ ممکن ہے کہ اور دوستوں کو بھی سنائی ہو لیکن اور کسی کا نام یاد نہیں ہم اُس وقت اِس رؤیا پر حیران ہوا کرتے تھے کہ یہ قدوں کا ناپنا کیا معنی رکھتا ہے نہ خلافت کا سوال تھا نہ خلیفہ کی بیعت کا، حضرت مسیح موعود علیہ السلام زندہ تھے کون سمجھ سکتا تھا کہ کبھی واقعات بدل کر اور کی اور صورت اختیار کر لیں گے مگر خدا کی باتیں پورے ہوئے بغیر نہیں رہتیں۔ مولوی محمد علی صاحب کے دوستوں نے اُنہیں میرے مقابلہ پر کھڑا کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سخت ناکام کیا حتیّٰ کہ اُنہوں نے اپنی ذلّت کا خود اقرار کیا۔ جس قدر بھی ان کے دوستوں نے زور مارا کہ اُن کو اونچا کریں اُسی قدر خدا تعالیٰ نے اِن کو نیچا کیا اور قریباً ستانوے فیصدی احمدیوں کو میرے تابع کر دیا اور میرے ذریعہ جماعت کا اتحاد کر کے مجھے بلند کیا۔
    اب میں آخر میں تمام راستی پسند انسانوں کو کہتا ہوں کہ اگر وہ اب تک خلافت کے مسئلہ میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکے تو اب بھی فیصلہ کر لیں کیونکہ یہ کام خدا کی طرف سے ہوا ہے اور کسی انسان کا اس میں دخل نہیں۔ اگر آپ اس صداقت کا انکار کریں گے تو آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ پس حق کو قبول کریں اور جماعت میں تفرقہ نہ ڈالیں۔ میں کیا چیز ہوں؟ میں جماعت کا ایک خادم ہوں جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اس جماعت کومتحد کرنا چاہتا ہے ورنہ کام تو سب اللہ تعالیٰ کا ہے۔ مجھے خلافت کا نہ کوئی شوق تھا اور نہ ہے مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کام پر مقرر کر دیا تو میں ہوگیا میرا اس میں کوئی دخل نہیں۔ اور آپ ان باتوں کو سُن کر یہ بھی اندازہ کر سکیں گے کہ جب کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے قبل از وقت خلافت کا جھگڑا، خلیفہ کی صداقت، خلیفہ اوّل کی وفات کا سن، مہینہ، آپ کی وصیت، میرا گاڑی میں آپ کی وفات کی خبر سننا، آپ کی بیماری کا حال سب کچھ بتا دیا تھا تو کیا ایک لمحہ کے لئے بھی میرا دل متردّد ہو سکتا تھا اور جب کہ بعض دوسری رؤیا نے وقت پر پوری ہو کر بتا دیا کہ منشائے الٰہی یہی تھا کہ میں ہی دوسرا خلیفہ ہوں اور میری مخالفت بھی ہو اور کامیابی میرے لئے ہو تو کیا میں خلافت کے متعلق ان لوگوں کا مشورہ سُن سَکتا تھا جو مجھے مشورہ دیتے تھے کہ میں اب بھی اس کام کو ترک کر دوں ۔ کیا میں منشائے الٰہی کے خلاف کر سکتا ہوں؟ اگر میں ایسا کروں تو میں خداتعالیٰ کے فیصلہ کو ردّ کرنے والا ہوں گا اور اللہ تعالیٰ مجھے اس حرکت سے محفوظ رکھے۔ خدا نے جو چاہا وہ ہو گیا اور جو لوگوں نے چاہا وہ نہ ہوا۔ مگر مبارک ہے وہ جو خدا کے فیصلہ کو قبول کرے اور اس قدر آسمانی شہادتوں کے بعد ضد اور ہٹ سے کام نہ لے۔ (انوار العلوم جلد۲ صفحہ ۱۵۵ تا ۱۹۲)
    ۱؎ بخاری کتاب التفسیر تفسیر سورۃ نوح باب ودّ اولا سو اعا (الخ)
    ۲؎ راہرو: مسافر
    ۳؎ الم نشرح: ۳،۴ ۴؎ اٰل عمران: ۱۶۵
    ۵؎ یوحنا باب۲۱ آیت ۱۵ تا ۱۷ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور ۱۹۲۲ء
    ۶؎ لوقا باب۹ آیت ۱۔۲ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور ۱۹۲۲ء
    ۷؎ لوقا باب۹ آیت۶ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور ۱۹۲۲ء
    ۸؎ المجادلہ: ۲۲ ۹؎ النور: ۵۶
    ۱۰؎ الوصیت صفحہ۶،۷۔ روحانی خزائن جلد۲۰ صفحہ۳۰۴۔۳۰۵
    ۱۱؎ الوصیت صفحہ۸۔۹ روحانی خزائن جلد۲۰ صفحہ۳۰۶۔۳۰۷
    ۱۲؎ المائدہ: ۱۱۸
    ۱۳؎ لوقا باب۱۵ آیت ۱۱ تا ۳۲ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور ۱۹۲۲ء
    ۱۴؎ تذکرہ صفحہ۲۰۹۔ایڈیشن چہارم
    ۱۵؎ تذکرہ صفحہ۸۸۔ایڈیشن چہارم
    ۱۶؎ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔ روحانی خزائن جلد۲۱ صفحہ۱۱۴
    ۱۷؎ تذکرہ صفحہ۷۱۵۔ایڈیشن چہارم
    ۱۸،۱۹،۲۰؎ تذکرہ صفحہ۵۵۰۔ایڈیشن چہارم
    ۲۱؎ تذکرہ صفحہ۷۰۴۔ایڈیشن چہارم
    ۲۲؎ تذکرہ صفحہ۵۱۸۔ایڈیشن چہارم
    ۲۳،۲۴؎ تذکرہ صفحہ۷۰۰۔ایڈیشن چہارم
    ۲۵؎ تذکرہ صفحہ۷۰۷۔ایڈیشن چہارم
    ۲۶؎ تذکرہ صفحہ۶۶۹۔ایڈیشن چہارم
    ۲۷؎ تذکرہ صفحہ۵۲۔ایڈیشن چہارم
    ۲۸؎ تذکرہ صفحہ۷۵،۷۶۔ایڈیشن چہارم
    ۲۹؎ تذکرہ صفحہ۴۳۷۔ ایڈیشن چہارم
    ۳۰؎ الوصیت صفحہ۲۹۔ روحانی خزائن جلد۲۰ صفحہ۳۲۷
    ۳۱؎ الفرقان: ۷۸

    القول الفصل
    (مطبوعہ ۳۰؍ جنوری ۱۹۱۵ء)
    حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی وفات کے وقت خواجہ کمال الدین صاحب لندن میں تھے۔ آپ نومبر ۱۹۱۴ء میں واپس آئے اور اہل پیغام کے پہلے جلسہ سالانہ ۱۹۱۴ء میں ایک لیکچر ’’اندرونی اختلافاتِ سلسلہ احمدیہ کے اسباب‘‘ پر دیاجو بعد میںٹریکٹ کی شکل میں احمدی احباب میں مُفت تقسیم کیا گیا۔
    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے جب اس لیکچر کا مطالعہ فرمایا تو اُسی دن یعنی ۲۱؍ جنوری ۱۹۱۵ء کو صبح سے شام تک یہ جوابی رسالہ ’’القول الفصل‘‘کے نام سے تحریر فرمایا جو ۳۰؍جنوری ۱۹۱۵ء کو انجمن ترقی اسلام نے شائع کیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی، خواجہ کمال الدین صاحب کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:۔
    ’’اب ایک مسئلہ خلافت باقی رہ گیا ہے جس پر خواجہ صاحب نے بڑا زور دیا ہے اور درحقیقت یہی ایک بڑی بنائے مخاصمت ہے ورنہ ہم سے ان کو کچھ زیادہ پُرخاش نہیں۔ خلافت کے متعلق جو کچھ لکھا ہے وہ وہی باتیں ہیں جن کا مفصل جواب خلافت احمدیہ میں حضرت خلیفہ اوّل کے حکم کے ماتحت انجمن انصار اللہ نے دیا تھا۔ اب ایک طرف تو وہ مضمون ہے جس کا خود خلیفہ اوّل نے حکم دیا اسے دیکھا، اصلاح فرمائی، اجازت دی۔کیا اس کے مقابلہ میں آپ بھی کوئی ایسا مضمون خلافت کے خلاف پیش کر سکتے ہیں جسے حضرت خلیفہ اوّل نے پسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہو، پسند فرمایا ہو اور شائع کرنے کی اجازت دی ہو تا کہ اس سے آپ کے اس دعوے کی تصدیق ہو سکے کہ حضرت خلیفہ اوّل شخصی خلافت کے قائل نہ تھے۔
    میری اس سے یہ غرض نہیں کہ حضرت خلیفہ اوّل کی پسندیدگی سے خلافت کا مسئلہ حل ہو جائے گا کیونکہ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ آپ کی پسندیدگی یا عدمِ پسندیدگی سے فیصلہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ کیونکہ اصل فیصلہ وہی ہونا چاہئے جو اسلام اور مسیح موعودؑ کے حکم کے ماتحت ہو۔ لیکن میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کے مضمون سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح بھی آپ کے اس خیال کے مؤید تھے اور آپ صرف ایک بزرگ ہونے کے لحاظ سے بیعت لیتے تھے نہ کہ خلیفہ کی حیثیت سے۔ لیکن یہ بات صریح غلط ہے۔ حضرت کی پہلی تقریر جو خلافت سے پہلے آپ نے کی موجود ہے اور آپ لوگوں نے اس پر جو اعلان کیا وہ بھی موجود ہے۔ ان کو دیکھ کر کوئی انسان فیصلہ نہ کرے گا کہ حضرت خلیفۃ المسیح مسئلہ خلافت کے قائل نہ تھے بلکہ یہ بھی فیصلہ نہ کرے گا کہ خود خواجہ صاحب بھی قائل نہ تھے۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح کو جب بیعت کے لئے کہا گیا تو آپ نے ایک تقریر فرمائی جس کے بعض فقرات ذیل میں درج ہیں۔
    ’’موجودہ وقت میں سوچ لو کہ کیسا وقت ہے جو ہم پر آیا ہے۔ اِس وقت مردوں بچوں عورتوں کے لئے ضروری ہے کہ وحدت کے نیچے ہوں۔ اِس وحدت کے لئے ان بزرگوں میں سے کسی کی بیعت کر لو (جن کے آپ نے پہلے نام لئے تھے) میں تمہارے ساتھ ہوں‘‘۔
    پھر آگے فرماتے ہیں:۔
    ’’میں چاہتا ہوں کہ دفن ہونے (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دفن ہونے) سے پہلے تمہارا کلمہ ایک ہو جائے‘‘۔
    اب ان دونوں فقرات سے کیا ظاہر ہوتا ہے کیا یہ کہ آپ خلافت کی بیعت کے لئے کھڑے ہوئے تھے یا اپنے زہد و اتقاء کی وجہ سے آپ نے دوسرے پیروں کی طرح بیعت لی تھی۔ یہ فقرات دلالت کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دفن ہونے سے پہلے آپ چاہتے تھے کہ کُل جماعت ایک خلیفہ کے ماتحت ہو اور اس میں وحدت پیدا ہو جائے نہ کہ علم و تقویٰ کی وجہ سے بیعت لینے کے لئے آگے بڑھے تھے۔ پھر آپ نے جو اعلان حضرت خلیفہ اوّل کی بیعت پر شائع کیا اس میں آپ نے لکھا ہے کہ مطابق الوصیت آپ کی بیعت کی گئی ہے اور سب جماعت آپ کی خدمت میں بیعت کے خطوط لکھ دے۔ اب فرمائیے کہ کیا آپ کا یہ اعلان یہی ظاہر کرتا ہے کہ آپ نے صرف بزرگ سمجھ کر بیعت کی تھی۔ الوصیت کے کون سے فقرات میں یہ بات درج ہے کہ اگر کوئی نیک آدمی جماعت میں ہوتو میری ساری جماعت اس کی بیعت کرے۔ اور اس کا فرمان سب جماعت کے لئے آئندہ ایسا ہی ہو جیسا کہ حضرت مسیح موعودو مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا تھا‘‘۔
    بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات سے جماعت میں ایسے شدید تفرقہ کا خطرہ تھا کہ اُس وقت سوائے ایک خلیفہ کے ذریعہ جماعت کو متحد رکھنے کے آپ کو اور کوئی تدبیر سمجھ میں نہ آتی تھی اور خلافت کی مخالفت کے خیال بعد کے ہیں یا اُس وقت شدتِ غم میں دَب گئے تھے کیونکہ حضرت خلیفہ اوّل نے اُس وقت فرما دیا تھا کہ بیعت کے بعد میری ایسی فرمانبرداری کرنی ہوگی جس میں کسی انکار کی گنجائش نہ ہو۔ پس اگر اُس وقت آپ کے خیالات اِس کے خلاف ہوتے تو آپ کیوں بیعت سے انکار نہ کر دیتے۔
    خواجہ صاحب! اور امور میں میں خیال کر سکتا ہوں کہ آپ کو غلطی لگی ہوگی لیکن اس امر میں میں ایک منٹ کے لئے بھی خیال نہیں کر سکتا کہ آپ غلطی سے یہ اثر قارئین ٹریکٹ کے دل پر ڈالنا چاہتے ہیں کہ آپ خلیفہ اوّل کی وفات تک ان کے سامنے اظہار کرتے رہے کہ آپ خلافت کے قائل نہیں ہیں اور یہ کہ چھوٹی مسجد کی چھت پر آپ سے جو بیعت لی گئی وہ خوشنودی کی بیعت تھی۔ میرے کانوں میں یہ الفاظ گونج رہے ہیں کہ جس نے یہ لکھا ہے کہ خلیفہ کا کام بیعت لینا ہے اصل حاکم انجمن ہے وہ توبہ کر لے۔ خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ اگر اس جماعت میں سے کوئی تجھے چھوڑ کر مرتد ہو جائے گا تو میں اس کے بدلے تجھے ایک جماعت دوں گا اور آپ جانتے ہیں کہ وہ شخص جس نے یہ الفاظ لکھے تھے کون تھا۔ ہاں یہ الفاظ بھی میرے کانوں میں اب تک گونج رہے ہیں کہ دیکھو میں اس انجمن کی بنائی ہوئی مسجد پر بھی نہیں کھڑا ہوا بلکہ اپنے میرزا کی بنائی ہوئی مسجد پر کھڑا ہوں اور یہ وہ الفاظ تھے جن کو سن کر لوگوں کی چیخیں نکل گئی تھیں وہ لوگ اب تک زندہ ہیں جن کو سمجھا کر آپ لاہور سے لائے تھے اور جن کو الگ الگ حضرت خلیفہ اوّل نے سخت ڈانٹ پلائی تھی… خود مجھ سے دیر دیر تک آپ کی اس بغاوت کے متعلق حضرت ذکر فرمایا کرتے تھے اور سخت الفاظ میں اپنے رنج کا اظہار فرمایا کرتے تھے بلکہ یہی نہیں میں آپ کے دوستوں کے ہاتھ کے لکھے ہوئے خطوط پیش کر سکتا ہوں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت خلیفہ اوّل اس معاملہ میں آپ پر سخت ناراض تھے۔ وفات سے کچھ دن پہلے جلسہ کی خوشی میں جو اعلان کیا اس میں بھی اس واقعہ کا ذکر ان الفاظ میں موجود ہے۔
    ’’جب ایک دفعہ خلافت کے خلاف شور ہوا تھا تو مجھے اللہ تعالیٰ نے رؤیا میں دکھایا تھا‘‘۔ اور آپ جانتے ہیں کہ یہ رؤیا مسجد کی چھت پر اسی جلسہ میں جس میں آپ فرماتے ہیں کہ مجھ سے بیعت ارشاد لی، سنائی تھی اور وہ کون تھے جنہوں نے خلافت کے خلاف شور مچایا تھا۔ خلافت کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح کی بہت سی تحریریں موجود ہیں اور وہ شائع ہو چکی ہیں۔ جب آپ ملتان ایک مقدمہ میں گواہی دینے کے لئے تشریف لے گئے تھے تو آپ نے ان الفاظ میں اپنی شہادت کو شروع کیا تھا۔
    ’’میں حضرت مرزا صاحب کا خلیفہ اوّل ہوں۔ جماعت احمدیہ کا لیڈر ہوں‘‘۔
    پھر آپ اپنی ایک تقریر میں فرماتے ہیں:۔
    ’’میں خلیفۃ المسیح ہوں اور خدا نے مجھے بنایا ہے… خداتعالیٰ نے مجھے یہ رِدا پہنا دی ہے… اُس نے آپ۔ نہ تم میں سے کسی نے مجھے خلافت کا کُرتہ پہنا دیا… معزول کرنا اب تمہارے اختیار میں نہیں۔ ایک وہ خلیفہ ہوتا ہے جو ۱؎ میں موعود ہے… تم معزول کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ میں تم سے کسی کا بھی شکرگذار نہیں ہوں۔ جھوٹا ہے وہ شخص جو کہتا ہے کہ ہم نے خلیفہ بنایا۔ مجھے یہ لفظ بھی دکھ دیتا ہے جو کسی نے کہا کہ پارلیمنٹوں کا زمانہ ہے… میں کہتا ہوں وہ بھی توبہ کر لے جو اس سلسلہ کو پارلیمنٹ اور دستوری سمجھتا ہے… مجھے وہ لفظ خوب یاد ہیں کہ ایران میں پارلیمنٹ ہوگئی اور دستوری کا زمانہ ہے اُنہوں نے اس قسم کے الفاظ بول کر جھوٹ بولا بے ادبی کی… میں پھر کہتا ہوں وہ اب بھی توبہ کر لیں… اور حضرت مسیح موعود اور مہدی بھی آ چکے جس کا خدا نے اپنے فضل سے مجھ کو خلیفہ بنایا‘‘۔
    خواجہ صاحب! بتائیں کہ اگر آپ یا آپ کے دوست نہ تھے تو اور کون لوگ تھے جنہوں نے کہا تھا کہ ہمارا ہی بنایا ہوا خلیفہ ہے ہم اسے معزول کر دیں گے اور وہ کون لوگ تھے جو کہتے تھے کہ یہ زمانہ ہی پارلیمنٹوں کا ہے ایک حاکم کا نہیں ۔ دیکھو ایران میں بھی دستوریت ہوگئی ہے اس لئے انجمن ہی اصل حاکم ہونی چاہیے۔
    اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر جو پہلا جلسہ ہوا اس میں جو تقریر آپ نے فرمائی اس کے بعض فقرات یہ ہیں۔
    ’’اب ایک سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ تم ملہم نہیں تمہاری کیا ضرورت ہے۔ کیا حضرت صاحب ہمارے لئے کم ہدایت چھوڑ گئے ہیں۔ ان کی اسّی (۸۰) کے قریب کتابیں موجود ہیں وہ ہمارے لئے کافی ہیں یہ سوال بدبخت لوگوں کا ہے جو خداتعالیٰ کی سنت کا علم نہیں رکھتے۔ اس قسم کے سوال سے تمام انبیاء کا سلسلہ باطل ہو جاتا ہے چنانچہ کہہ سکتے ہیں کہ ۲؎ جب خدا نے سب کچھ آدم کو بتا دیا تو اب نوح اور ابراہیم کیا لائے جو ماننا ضروری ہے؟ تو ان کے حق میں آ چکا ہے۔ پھر آدم کے لئے سب ملائکہ نے سجدہ کیا پس اب ان دوسرے انبیاء کی کیا ضرورت ہے۔ پھر دم نقد واقعہ موجود ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جامع جمیع کمالات جن کی نسبت میرا اعتقاد ہے خاتم الرسل، خاتم الحکام، خاتم النبیّٖن، خاتم الاولیاء، خاتم الانسان ہیں۔ اب ان کے بعد اگر کوئی ابوبکر کو نہیں مانتا تو فرمایا ۳؎ یعنی جو انکار کرے گا وہ خدا کی اطاعت سے باہر نکلنے والا ہے‘‘۔
    ’’غرض یہ سوال پہلے آدم پر پڑتا ہے۔ پھر جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر۔ پھر ابوبکرؓ پر، پھر علیؓ پر، پھر مہدی پر۔ جب سارے علوم رسالت مآب سنا گئے تو مہدی کی کیا ضرورت ہے؟ حقیقی بات یہی ہے کہ ضرورت ہے اجتماع کی۔ اور شیرازۂ اجتماع قائم رہ سکتا ہے ایک امام کے ذریعہ۔ اور پھر یہ اجتماع کسی ایک خاص وقت میں کافی نہیں مثلاً صبح کو امام کے پیچھے اکٹھے ہوئے تو کیا کہہ سکتے ہیں کہ اب ظہر کو کیا ضرورت ہے؟ عصر کو کیا؟ پھر شام کو کیا؟ پھر عشاء کو کیا؟ پھر جمعہ کو اکٹھے ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ پھر عید کے دن کیا ضرورت ہے؟ پھر حج میں کیا ضرورت ہے؟ اسی طرح ایک وقت کی روٹی کھا لی تو پھر دوسرے وقت کیا ضرورت ہے؟ جب ان باتوں میں تکرار ضروری ہے تو اس اجتماع میں بھی تکرار ضروری ہے یہ میں اس لئے بیان کرتا ہوں تا تم سمجھو کہ ہمارے امام چلے گئے تو پھر بھی ہم میں اسی وحدت، اتفاق، اجتماع اور پُرجوش روح کی ضرورت ہے‘‘۔
    اس تقریر میں آپ نے جو اعتراض خلافت پر کئے ہیں ان کے جواب خود حضرت خلیفہ اوّل کی زبانی موجود ہیں لیکن میں نے یہ حوالہ جات اس لئے نقل نہیں کئے کہ میںیہ آپ پر حجت قائم کروں کہ حضرت خلیفہ اوّل نے یوں فرمایا ہے اس لئے آپ بھی مان لیں بلکہ اس لئے نقل کئے ہیں تا آپ کو معلوم ہو جائے کہ حضرت خلیفہ اوّل کا مذہب شائع ہو چکا ہے اور آخری حوالہ تو خود صدرانجمن احمدیہ کی رپورٹ سے نقل کیا گیا ہے پس آپ کی یہ کوشش کہ لوگوں پر یہ ثابت کریں کہ حضرت خلیفہ اوّل کسی شخصی حکومت کے قائل نہ تھے کامیاب نہیں ہو سکتی بلکہ اس سے آپ کی دیانت پر خطرناک اعتراض آتا ہے۔ پس آپ یہ بیشک اعلان کریں کہ خلافت کے متعلق حضرت خلیفہ اوّل کی رائے حجت نہیں لیکن یہ خیال لوگوں کے دلوں میں بٹھانے کی کوشش نہ کریں کہ حضرت خلیفہ اوّل آپ کے اس خیال پر آپ سے خوش تھے یا یہ کہ آپ سے ناراض نہ تھے یا یہ کہ خود آپ سے متفق تھے کیونکہ ان خیالات میں سے کسی ایک کا ظاہر کرنا گویا اس بات کا یقینی ثبوت دینا ہے کہ خلافت کے مقابلہ میں حق کی بھی پرواہ نہیں رہی ضرور ہے کہ اس مضمون کو پڑھ کر خود آپ کے وہ دوست جن کی مجلس میں آپ بیٹھتے ہیں آپ پر دل ہی دل میں ہنستے ہوں گے یا اگر ان کے دل میں ذرا بھی خوفِ خدا ہوگا تو روتے ہوں گے کہ خواجہ صاحب کو خلاف بیانی کی کیا ضرورت پیش آئی تھی۔ اگر وہ بیعت جو نہایت سخت ڈانٹ کے بعد آپ سے لی گئی اور اگر وہ بیعت جو حکیم فضل دین کے مکان کے جھگڑے پر آپ کے بعض دوستوں سے لی گئی ایک انعام تھا تو دنیا میں ناراضگی اور خفگی کوئی شَے کا نام نہیں۔ مولوی غلام حسن صاحب پشاوری بھی ان تمام واقعات سے آگاہ ہیں اور آپ کی جماعت کے خلیفہ ہیں کیا آپ اپنے بیان کی تصدیق انہی سے حلفی بیان کے ساتھ کروا سکتے ہیں؟ غالباً ان کو یاد ہوگا کہ ایک دفعہ حضرت خلیفۃ المسیح کو یہ خبر پہنچی تھی کہ ان کے خیالات بھی اسی قسم کے ہیں تو وہ کیسے ناراض ہوئے تھے بلکہ اس کی بھی ضرورت نہیں کیا آپ خود تریاق القلوب کے مطابق قسم کھا کر ان دونوں امور پر شہادت دے سکتے ہیں کہ خلیفہ اوّل خلافت کے متعلق آپ کے خیالات سے متفق تھے یا یہ کہ ناراض نہ تھے اور یہ کہ چھوٹی مسجد کی بیعت ایک انعام کے طور پر اور خوشی کی سند کے طور پر تھی یا اس لئے کہ آپ کی مخالفت کی بناء پر آپ کو جماعت سے الگ خیال کر کے آپ سے دوبارہ بیعت لی گئی تھی؟ مجھے اس پر بھی تعجب آتا ہے کہ آپ نے اس بیعت کے متعلق لکھا ہے کہ وہ مجھ سے اور نواب صاحب سے بھی لی گئی۔ اس کے متعلق میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ آپ نے جھوٹ بولا ہاں آپ کو یاد نہیں رہا۔ میں نے ایک خواب دیکھی تھی اور حضرت کو سنائی تھی اِسی کی بناء پر آپ نے عین تقریر میں مجھے اپنی بائیں طرف سے اُٹھا کر دائیں طرف بٹھایا اور پھر اپنی تائید میں تقریر کرنے کا ارشاد فرمایا۔ ورنہ مجھ سے کوئی بیعت نہیں لی گئی اور نہ نواب صاحب سے۔
    باقی رہا وصیت کا معاملہ اس پر خلافت احمدیہ میں مفصل بحث موجود ہے آپ پہلے اس کاجواب دے دیں۔ پھر اس پر بھی کچھ لکھ دیا جائے گا مگر ضروری ہے کہ جو کچھ پہلے لکھا جا چکا ہے اس کا جواب پہلے ہو جائے۔ اگر آپ کے پاس یہ رسالہ نہ ہو تو آپ مجھے اطلاع دیں میں آپ کی خدمت میں بھجوا دوں گا۔ اسی میں تحریر کا معاملہ بھی آچکا ہے مگر میں سوال کرتا ہوں دنیا میں لاکھوں نبی اور مامور گزرے ہیں کیا ان میں سے ایک بھی ایسا ہوا ہے کہ اس کی وفات کے بعد اس کی ساری اُمت گمراہ ہو جائے اور ضلالت پر اجماع ہو؟ یہ ناممکن ہے۔ پس وہی معنی درست ہیں جو خداتعالیٰ کے عمل نے کئے کیونکر ہو سکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے قول کے خلاف اس کا فعل ہو۔ خلافت پر ایک خاص رنگ میں بحث میرے لیکچر میں بھی ہے جو سالانہ جلسہ پر ہوا اور اب چھپ رہا ہے۔ وہ چھپ جائے گا تو وہ بھی آپ کو بھجوا دیا جائے گا اس کو بھی دیکھ لیں۔
    میں اس جگہ یہ بھی بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ خواجہ صاحب اپنے مضمون میں باربار لکھتے ہیں کہ ہم الوصیت پیش کرتے ہیں اور ہمارے مقابلہ میں پچھلا طریق عمل پیش کیا جاتا ہے اب بتاؤ کہ کون حق پر ہے۔ لیکن میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ طریق عمل تو اور دلیلوں میں سے ایک دلیل ہے ورنہ ہم الوصیت کو چھوڑتے نہیں آپ سے بڑھ کر ہم پیش کرتے ہیں۔ ہمارا یقین ہے کہ الوصیت میں نہایت وضاحت سے خلافت کا ذکر ہے۔ چنانچہ قدرتِ ثانیہ کے نام سے آپ نے خلافت کا مسئلہ ایسی وضاحت سے کھولا ہے کہ کسی صداقت پسند انسان کو اس میں شک و شُبہ کی گنجائش نہیں رہتی اور ابوبکرؓ کی مثال دے کر اس مسئلہ کا پوری طرح فیصلہ کر دیا ہے۔ پس آپ کا یہ لکھنا کہ لاہوری الوصیت پیش کرتے ہیں اور قادیانی نہیں کرتے ایک خلافِ واقعہ بات ہے۔ آپ خلافت احمدیہ کو پڑھیں اس میں الوصیت سے خلافت کو باِلوضاحت ثابت کیا گیا ہے اور الوصیت کیا حضرت صاحب کی اور مختلف کتب سے بھی ہم ثابت کر سکتے ہیں کہ آپ کے بعد خلافت کا سلسلہ قائم ہونا تھا۔ چنانچہ پیغامِ صلح، حمامۃ البشریٰ اور ایک لاہور کی تقریر سے جو ۱۹۰۸ء میں آپ نے فرمائی ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے بعد خلفاء ہوں گے وہ کل جماعت کے مطاع ہوں گے اور یہ کہ خلفاء کو نبی نہیں مقرر کرتا بلکہ خدا پر چھوڑ دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ خود خلیفہ مقرر کرتا ہے۔
    میں اس مضمون کو ختم کرنے سے پہلے آپ کو ایک اور واقعہ بھی یاد دلا دیتا ہوں جس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ ایک وقت آپ بھی کسی دوسرے خلیفہ کے منتظر تھے جب حضرت خلیفۃ المسیح گھوڑے سے گر کر سخت بیمار تھے تو اُس وقت مرزا یعقوب بیگ صاحب مجھے گھر سے بُلا کر مولوی محمد علی صاحب کی کوٹھی تک لے گئے تھے وہاں آپ بھی تھے۔ مولوی صاحب بھی تھے اور دوسرے آپ کے دوستوں میں سے بھی دو آدمی تھے۔ آپ نے مجھ سے بیان کیا تھا کہ حضرت کی حالت خطرناک ہے مجھے خلیفہ ہونے کی خواہش نہیں اور نہ مولوی صاحب کو ہے ہم سب آپ کو ہی خلیفہ بنائیں گے لیکن آپ یہ بات مدنظر رکھیں کہ ہمارے لاہور سے آنے تک خلیفہ کا انتخاب نہ ہو۔ آپ نے اپنے آنے تک انتظار کرنے پر جو زور دیا اِس میں آپ کی نیت کیا تھی اِس سے مجھے بحث نہیں مگر میں نے ایک اثر کی بناء پر کہ ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرے کے انتخاب پر بحث کرنا ناجائز ہے گفتگو کرنے سے انکار کر دیا اور بات ختم ہوگئی۔ اس واقعہ سے آپ کو یاد آگیا ہوگا کہ آپ بھی کسی وقت خلافت کے قائل تھے یا کسی مصلحت کی وجہ سے آپ نے ایسا ظاہر کرنا پسند فرمایا تھا آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس سے مراد بیعت لینے والا خلیفہ تھا کیونکہ اس کے لئے چالیس آدمیوں کی شرط ہے اور آپ کے آنے نہ آنے کا اس پر کوئی اثر نہ ہو سکتا تھا اور نہ ایسا خلیفہ بنانے کے لئے آپ کو یہ ضرورت تھی کہ آپ کہتے کہ نہ میں خلیفہ بننا چاہتا ہوں اور نہ مولوی محمد علی صاحب کیونکہ ایسے خلیفہ کئی ہو سکتے ہیں۔ (آپ ان کا نام خلیفہ رکھتے ہیں میں ان کو خلیفہ نہیں کہتا۔)
    خواجہ صاحب ایک جگہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ جو بیعت لے وہ خلیفۃ المسیح کہلا سکتا ہے بلکہ جو شخص پہلے کا کوئی کام کرے وہ اس کا خلیفہ ہے تو کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ کیا جس قدر صحابہ اشاعتِ اسلام میں لگے ہوئے تھے اور صحابہ سب ہی اس کام میں مشغول تھے خلیفۃ الرسول کہلاتے تھے؟ اگر صرف ایک شخص ہی کہلاتا تھا تو کیا اس سے ثابت نہیں کہ خلیفہ ایک اسلامی اصطلاح ہے جس کی آپ لوگ ہتک کرتے ہیں۔ پھر اگر خلیفہ اسی کو کہتے ہیں جو کسی کا کام کرے تو کیوں خلیفہ اوّل کی موجودگی میں آپ خلیفۃ المسیح نہیں کہلاتے تھے کیونکہ آپ بقول اپنے مسیح موعود کا اصل کام اشاعتِ اسلام کر رہے تھے اُس وقت کیوں آپ کو خلیفۃ المسیح کہلانے کی جرأت نہیں ہوئی۔ پھر میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ اگر آپ کو یہ دکھانا مدنظر نہیں کہ ہمارے امیر کے ماتحت چند خلیفۃ المسیح ہیں تو کیوں خود مولوی محمد علی صاحب کو خلیفۃ المسیح نہیں لکھا جاتا وہ تو آپ کے نزدیک مسیح موعود کے زیادہ قائم مقام ہیں۔
    باقی رہا سوال مقدمہ کا کہ مقدمہ ہوگا اور عدالتوں تک جانا پڑے گا یہ ایسی دھمکیاں ہیں جو ہمیشہ راست بازوں کو ملتی رہی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لئے کسریٰ نے اپنے آدمی بھیجے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عدالتوں میں گھسیٹا گیا اسی طرح اگر کوئی مجھے بھی عدالت میں بُلوائے یا انجمن پر مقدمہ کرے تو کیا حرج ہے۔ ’’ایں ہمہ اندر عاشقی بالائے غمہائے دگر‘‘۔ جب میں نے خدا کے لئے اور صرف خدا کے لئے اس کام کو اپنے ذمہ لیا ہے اور میں نے کیا لینا تھا خداتعالیٰ نے یہ کام میرے سپرد کر دیا ہے تو اب مجھے اس سے کیا خوف ہے کہ انجام کیا ہوگا۔ میں جانتا ہوں کہ انجام بہرحال بہتر ہوگا کیونکہ یہ خداتعالیٰ کا مجھ سے وعدہ ہے اور وہ سچے وعدوں والا ہے۔ پس آپ مجھے مقدموں سے کیا ڈراتے ہیں۔ ہمارا مقدمہ خدا کے دربار میں داخل ہے کیا یہ بات بعید ہے کہ پیشتر اس کے کہ دنیا کی حکومتیں ہمارے جھگڑے کا فیصلہ کریں اَحْکَمُ الْحَاکِمِیْنَ خود ہمارے مقدمہ کا فیصلہ کر دے اور گورنمنٹ کے دخل دینے کے بعد کسی ماتحت عدالت کا کیا حق ہے کہ کچھ کر سکے۔ پس اگر خداتعالیٰ ہی کوئی فیصلہ صادر فرمائے جس سے سب فساد دور ہو کر امن ہو جائے تو دنیا کی حکومتوں نے کیا دخل دینا ہے۔ مقدمات سے ان کو ڈرائیں جن کی نظر دنیا کے اسباب پر ہے کوئی دنیا کی حکومت ہمیں اس مقام سے نہیں ہٹا سکتی جس پر خداتعالیٰ نے ہمیں کھڑا کیا ہے کیونکہ دنیاوی حکومتوں کا اثر جسم پر ہے دل پر نہیں دل صرف خداتعالیٰ کے قبضہ میں ہیں۔
    اس ٹریکٹ میں کچھ متفرق باتیں بھی ہیں گو ان کا جواب ایسا ضروری نہیں مگر کچھ جواب دے دیتا ہوں۔ خواجہ صاحب اس ٹریکٹ میں اس امر سے بھی ڈراتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اوّل کے کوئی خطوط ان کے پاس ایسے بھی ہیں جن کے اظہار سے ہمیں سخت دقت پیش آئے گی۔ ان خطوں کی اطلاع مختلف ذرائع سے مجھے پہنچی ہے اور ہر ایک شخص نے یہی بیان کیا ہے کہ خواجہ صاحب فرماتے تھے کہ میں یہ خط صرف آپ کو ہی دکھاتا ہوں اور کسی کو نہیں دکھایا مگر جب دیکھا تو راوی چار پانچ نکلے جس پر مجھے حیرت ہوئی کہ صرف ایک کو سُنا کر اِس قدر لوگوں کو کیونکرعلم ہو گیا۔ مگر کوئی تعجب نہیں کہ خواجہ صاحب پہلے ایک سے ذکر کرتے ہوں اور پھر یہ بھول جاتے ہوں کہ میں پیغام بھیج چکا ہوں پھر کوئی اور شخص نظر آ جاتا ہو اور آپ مناسب خیال کرتے ہوں کہ اس کے ہاتھ بھی پیغام بھیج دیں بہرحال ہم خواجہ صاحب کی اِس مہربانی کے ممنون ہیں کہ اُنہوں نے ان خطوط کے مضمون سے بغیر اسے شہرت دینے کے ہمیں مطلع کر دیا۔ لیکن میں کہتا ہوں خواجہ صاحب بیشک ان خطوط کو شائع کر دیں مجھے ان کی عبارت پوری طرح یاد نہیں۔ نہیں تو میں ابھی لکھ دیتا۔ مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ کوئی میری نسبت کیا لکھتا ہے مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں نے اپنے پیر کے خلاف کبھی کچھ نہیں کہا اور ہمیشہ اس کا فرمانبردار رہا ہوں اور میں نے اس کے منہ سے بارہا یہ الفاظ سنے ہیں کہ مجھے آپ سے محبت نہیں بلکہ عشق ہے۔ اس نے مجھے اُس وقت جب کہ میں کسی قدر بیمار تھا اور بیماری بالکل خفیف تھی۔ ایسی حالت میں کہ خود اسے کھانسی کے ساتھ خون آتا تھا۔ اس طرح پڑھایا ہے کہ وہ مجھے یہ کہہ کر کتاب نہ پڑھنے دیتا تھا کہ آپ بیمار ہیں اور خود اس بیماری میں پڑھتا تھا۔ سو خداتعالیٰ کا شکر ہے کہ میں اپنے اُس محسن کا وفادار رہا۔ ہاں چونکہ انسان کمزور ہے اگر میری کسی کمزوری کی وجہ سے وہ کسی وقت مجھ سے ناراض ہوا ہو تو کیا تعجب ہے۔ بخاری میں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی جنگ کا ذکر ہے جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ کو سخت ڈانٹا۔ حتیّٰ کہ حضرت ابوبکرؓ کو حضور سے ان الفاظ میں سفارش کرنی پڑی کہ نہیں حضور قصور میرا ہی تھا ۴؎ تو کیا حضرت عمرؓ پر اس واقعہ سے کوئی الزام آ جاتا ہے زیادہ سے زیادہ یہ کہو گے کہ حضرت عمرؓ سے میری ایک اور مشابہت ہوگئی۔ استاد کا شاگرد کو ڈانٹنا بُری بات نہیں شاگرد کا استاد کو گالی دینا بُرا ہے۔ کیونکہ ڈانٹنا استاد کا کام تھا اور گالی دینا شاگرد کا کام نہیں ہے۔
    پس وہ لوگ ایسی کسی تحریر پر کیا خوش ہو سکتے ہیں جو آج بڑے زور سے اعلان کر رہے ہیں کہ ہم نے کبھی خلیفہ اوّل کی مخالفت نہیں کی حالانکہ ان کی دستخطی تحریریں موجود ہیں جن میں اُنہوں نے آپ کو اسلام کا دشمن اور حکومت پسند اورچڑچڑا وغیرہ الفاظ سے یاد کیا ہے۔ پھر جس تحریر پر ناز کیا جاتا ہے اگر وہ درست بھی مان لی جائے تو اس کے متعلق میرے پاس بھی سیّد ڈاکٹر صاحب کا خط موجود ہے جس سے اصل معاملہ پر روشنی پڑ جاتی ہے اور جس تحریر کی طرف خواجہ صاحب اشارہ کرتے ہیں اس کے بعد کی وہ تحریر ہے جس میں حضرت خلیفہ اوّل نے میری نسبت لکھا ہے کہ میں اسے مصلح موعود سمجھتا ہوں اور پھر اس کے بعد کا واقعہ ہے کہ آپ نے ایک بھری مجلس میں فرمایا کہ مسند احمد بن حنبل کی تصحیح کا کام ہم سے تو ہو نہ سکا میاں صاحب کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ چاہے تو ہو سکے گا۔ اور یہ جنوری ۱۹۱۴ء کی بات ہے۔ آخری بیماری سے ایک دو دن پہلے کی۔ پس آپ ان زبردست حملوں کی اشاعت سے ہرگز نہ چوکیں؟ کیوں اپنے ہاتھ سے موقع جانے دیتے ہیں شاید اسی سے آپ کو کوئی فائدہ پہنچ جائے مگر خوب یاد رکھیں کہ میرا معاملہ کسی انسان کی تعریف کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا اگر حضرت خلیفہ اوّل کی وہ تحریریں میری تائید میں موجود نہ ہوتیں جو آپ کے پاس جس قدر خطوط ہیں ان کی نفی کر دیتی ہیں تو بھی مجھے خدا نے اس کام پر کھڑا کیا ہے نہ کہ کسی انسان نے۔ میں کسی انسان کی تحریروں کا محتاج نہیں۔ خلافت خداتعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ جو انسانوں کے خیالات سے اندازہ لگا کر میری بیعت میں داخل ہوا ہے وہ فوراً اپنی بیعت کو واپس لے لے اور مجھے خدا پر چھوڑ دے میں مشرک نہیں ہوں۔ مجھے انسانوں کے خیالات کی پرواہ نہیں۔ خداتعالیٰ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ مجھے کامیاب کرے گا۔ پس میں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ماتحت کامیاب ہوں گا اور میرا دشمن مجھ پر غالب نہ آ سکے گا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی پوشیدہ درپوشیدہ حکمتوں کے ماتحت جن کو میں خود بھی نہیں سمجھتا۔ ایک پہاڑ بنایا ہے پس وہ جو مجھ سے ٹکراتا ہے اپنا سر پھوڑتا ہے۔ میں نالائق ہوں اس سے مجھے انکار نہیں۔ میں کم علم ہوں اس سے میں ناواقف نہیں۔ میں گنہگار ہوں اس کا مجھے اقرار ہے۔ میں کمزور ہوں اس کو میں مانتا ہوں لیکن میں کیا کروں کہ میرے خلیفہ بنانے میں خداتعالیٰ نے مجھ سے نہیں پوچھا اور نہ وہ اپنے کاموں میں میرے مشورہ کا محتاج ہے۔ میں اپنے ضعف کو دیکھ کر خود حیران ہو جاتا ہوں کہ خداتعالیٰ نے مجھے کیوں چنا اور میں اپنے نفس کے اندر ایک بھی ایسی خوبی نہیں پاتا جس کی وجہ سے میں اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا مستحق سمجھا گیا مگر باوجود اس کے اس میں کوئی شک نہیں کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس کام پر مقرر فرما دیا ہے۔ اور وہ میری اُن راہوں سے مدد فرماتا ہے جو میرے ذہن میں بھی نہیں ہوتیں۔ جب کُل اسباب میرے برخلاف تھے۔ جب جماعت کے بڑے بڑے لوگ میرے خلاف اعلان کر رہے تھے اور جن کو لوگ بڑا خیال کرتے تھے وہ سب میرے گرانے کے درپے تھے اُس وقت میں حیران تھا لیکن سب کچھ میرا ربّ آپ کر رہا تھا۔ اس نے مجھے اطلاعیں دیں اور وہ اپنے وقت پر پوری ہوئیں اور میرے دل کو تسلی دینے کے لئے نشان پر نشان دکھایا اور امورِ غیبیہ سے مجھے اطلاع دے کر اس بات کو پایۂ ثبوت کو پہنچایا کہ جس کام پر میں کھڑا کیا گیا ہوں وہ اس کی طرف سے ہے۔ خواجہ صاحب! آپ نے لکھا ہے کہ اگر آپ الہام سے مصلح موعود ہونے کا دعویٰ کریں تو میں پھر کچھ نہ بولوں گا۔ اگر آپ نے یہ بات سچ لکھی ہے تو میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے باربار بتایا ہے کہ میں خلیفہ ہوں اور یہ کہ وہ میرے مخالفوں کو آہستہ آہستہ میری طرف کھینچ لائے گا یا تباہ کر دے گا اور ہمیشہ میرے متبعین میرے مخالفوں پر غالب رہیں گے۔ یہ سب باتیں مجھے متفرق اوقات میں اللہ تعالیٰ نے بتائی ہیں۔ پس آپ اپنے وعدہ کے مطابق خاموشی اختیار کریں اور دیکھیں کہ خداتعالیٰ انجام کار کیا دِکھلاتا ہے۔ اگر مصلح موعود کے ہونے کے متعلق میرے الہام کی آپ قدر کرنے کے لئے تیار ہیں تو کیوں اِس امر میں آسمانی شہادت کی قدر نہیں کرتے۔ آپ خوب یاد رکھیں کہ یہاں خدمات کا سوال نہیں یہاں خدائی دین کا سوال ہے۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ خدمات کے متعلق میرا کوئی دعویٰ نہیں۔ اللہ تعالیٰ اگر مجھ سے کوئی خدمت لے لے تو یہ اُس کا احسان ہوگا ورنہ میں کوئی چیز نہیں۔ میں اِس قدر جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ اس جماعت کو پھر بڑھانا چاہتا ہے۔ میرا ایک بہت بڑا کام ہو گیا ہے۔ جماعت میں احساس پیدا ہو گیا ہے باقی حصہ بھی جلد پورا ہو جائے گا اور احمدیہ جماعت بے نظیر سرعت سے ترقی کرنی شروع کرے گی۔ میں نے تو اس قدر احتیاط سے کام لیا ہے کہ آپ کے طریق تبلیغ کی بھی اُس وقت تک مخالفت نہیں کی جب تک اللہ تعالیٰ نے مجھے نہیں بتایا کہ یہ غلط ہے۔ پس میں آسمان کو زمین کے لئے نہیں چھوڑ سکتا اور اللہ تعالیٰ سے توفیق چاہتا ہوں کہ وہ مجھے ہمیشہ اپنی رضا پر چلنے کی توفیق دے اور ہر قسم کی لغزشوں اور ٹھوکروں سے بچائے۔ آمین
    غیر ذمہ دار لوگ
    خواجہ صاحب اپنے سارے مضمون میں اس بات پربہت زور دیتے ہیں کہ یہ سب فساد غیر ذمہ دار لوگوں کا ہے اور اس امر کی طرف
    بھی اشارہ کرتے ہیں کہ مجھے کچھ لوگ ورغلاتے رہتے ہیں اور یہ لوگ امن نہیں ہونے دیتے۔ میں خواجہ صاحب کو اس معاملہ میں خاص طو رپر نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس لفظ کو میری جماعت کے لوگوں کی نسبت استعمال نہ کیا کریں۔ کیونکہ میں اس امر کا قائل نہیں کہ کچھ خاص لوگ سلسلہ کے ٹھیکیدار ہیں۔ خوب یاد رکھیں کہ ہر ایک وہ شخص جو مسیح موعود کے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ میں داخل ہوتا ہے وہ ذمہ دار ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ ۵؎ پھر آپ کیوں کر فرماتے ہیں کہ غیر ذمہ دار لوگ کیوں بولتے ہیں۔ انہی کا یہ سب فساد ڈالا ہوا ہے۔ آپ نے ذمہ داری شاید یہ سمجھ لی ہے کہ ایک شخص مالدار ہو یا ڈگری یافتہ ہو۔ میرے خیال میں ذمہ داری کچھ اور ہی چیز ہے اور ہر ایک مسلمان خدا کے نزدیک ذمہ دار ہے خواہ وہ گُدڑی پوش ہو یا تخت شاہی پر بیٹھا ہوا ہو۔ میں احمدی ہونے کے لحاظ سے جس طرح ایک امیر سے امیر مبائع کو سلسلہ کے کاموں کا ذمہ دار خیال کرتا ہوں۔ اسی طرح اس شخص کو جسے دو تین وقت کا فاقہ ہو اور جس کے تن پر پھٹے ہوئے کپڑے ہوں۔ آپ اپنی جماعت کے لوگوں میں خواہ کس قدر فریق ہی بنائیں میں اپنے مبائعین میں ہرگز کوئی فرق نہیں پاتا۔ خلیفہ ایک وجود ہے جس کو اللہ تعالیٰ انتظام کے لئے کھڑا کرتا ہے۔ اس امر کو چھوڑ کر خود خلیفہ جماعت میں سے ایک معمولی فرد ہے اور اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ اصولوں کا ایسا ہی پابند ہے جیسے اور ممبر۔ اور جس طرح اور لوگ سلسلہ احمدیہ کے افراد ہیں وہ ان افراد میں سے ایک فرد ہے ان کا بھائی ہے۔ انہی کا ہے۔ اسے اس انتظام سے علیحدہ ہو کر جو جماعت کے قیام کیلئے اس کے سپرد کیا گیا ہے اور کوئی فضیلت نہیں۔ اگر وہ غریب سے غریب آدمی کے حق کو دباتا ہے تو وہ خدا کے حضور جوابدہ ہے۔ پس اس جماعت کا ہرایک فرد ذمہ دار ہے اور اسلام کسی کو ذلیل نہیں کرتا۔ حضرت عمرؓ کے وقت ایک حبشی غلام نے ایک شہر سے صُلح کر لی تھی باوجود افسروں کی ناراضگی کے حضرت عمرؓ نے اُس کو قائم رکھا اور باوجود اس کے کہ اس میں بعض جگہ انتظامی دِقتیں پیدا ہو جانے کا خطرہ ہو سکتا تھا۔۶؎ مگر میں کہتا ہوں اس واقعہ سے خوب ظاہر ہو جاتا ہے کہ اسلام خلیفہ کو اس مقام پر کھڑا کرتا ہے جہاں اس کی نظر میں سب مسلمان برابر ہوں۔ آپ ایک طرف تو یہ اصل مقرر کرتے ہیں کہ یہ دیکھنا چاہیے کہ بات کیسی ہے اور یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ کس نے کہی ہے اور کن خیالات سے کہی ہے لیکن آپ نے اس پر عمل تو نہ کیا ۔ جماعت کے ایک حصہ کو جو آپ کی اور میری طرح معزز ہے بے وجہ غیر ذمہ دار قرار دے دیا۔ بے شک اگر بعض لوگوں کی بعض باتیں آپ کو پسند نہ آئی تھیں تو آپ کہہ سکتے تھے کہ فلاں فلاں باتیں ان کی غلط ہیں ان کو بند کیا جاوے یا ان کی اصلاح کی جائے۔ بجائے اس کے آپ ایک گروہ غیر ذمہ داروں کا قرار دے کر اس کی باتوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے مجھے مشورہ دیتے ہیں کہ اسے بند کر دوں۔ مگر چونکہ میں سب کو ذمہ دار خیال کرتا ہوں اس لئے اس مشورہ پر عمل کرنے سے معذور ہوں۔ ہاں اگر کوئی بات نامعقول ہو تو اس کے روک دینے کے لئے تیار ہوں۔ مگر خدا کی دی ہوئی طاقتوںکو زائل کرنا میرا کام نہیں۔
    انہی متفرق باتوں میں سے جن کا مختصر جواب میں اس جگہ دینا ضروری سمجھتا ہوں ایک یہ بھی ہے کہ خواجہ صاحب لکھتے ہیں کہ اگر محمد علی اور اس کے دوست ایسے ہی ہیں جیسے تم خیال کرتے ہو تو پھر مرزا کی نہ تعلیم درست نہ تربیت درست اور پھر الزام لگاتے ہیں کہ یہ خیال تو شیعوں کے تھے کہ سب صحابہ سوائے چند اہل بیت اورصحابہ کے منافق تھے۔ مگر میں پوچھتا ہوں کہ یہ خیال تو آپ کا ہے۔ آپ ستانوے فیصدی احمدیوں کو تو غلطی پر خیال کرتے ہیں، منصوبہ باز خیال کرتے ہیں، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کاموں کو تباہ کرنے والا بیان کرتے ہیں اور ایک بڑے حصہ کو اپنے اسی مضمون میں کافر ظاہر کرتے ہیں کیونکہ وہ مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں پھر تعجب ہے کہ اس صورت میں آپ شیعوں کے متبع ہوئے یا ہم۔ شیعہ بھی تو اکثر حصہ کو گندہ کہتے ہیں صرف چند کو پاک خیال کرتے ہیں اور انہی کو ذمہ وار اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیارا سمجھتے ہیں آپ کا بھی ایسا خیال ہے تو یہ اعتراض آپ پر پڑا یا ہم پر؟ اور اگر مولوی محمد علی صاحب اور ان کے چند دوستوں کے بُرا ہو جانے سے مرزا صاحب کی تعلیم پر بھی پانی پھر جاتا ہے تو کیوں احمدی جماعت کے کثیر حصہ کے کافر ہو جانے سے جیسا کہ آپ نے اپنے ٹریکٹ صفحہ۴۲ پر صریح الفاظ میں لکھا ہے مرزا صاحب ناکام نہیں رہے۔ اگر کہو کہ ہم نے تو حدیث اور مسیح موعود علیہ السلام کے فتویٰ کے مطابق کہا ہے کہ چونکہ آپ لوگ غیر احمدی مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں اس لئے کافر ہوگئے، اپنی طرف سے تو بات نہیں کہی تو میں بھی کہتا ہوں کہ ہم بھی جو فتویٰ لگاتے ہیں قرآن کریم اور احادیث کے مطابق لگاتے ہیں اور ہمارا فتویٰ بھی آیت استخلاف کے ماتحت ہی ہے۔ پس اگر آپ کا فتویٰ درست ہے تو یہ بھی درست ہے اور اگر آپ کا فتویٰ درست ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نَعُوْذُ بِاللّٰہِ ناکام گئے مگر یہ غلط ہے۔ ایسا نہیں ہوا ۔ مسیح موعود علیہ السلام کامیاب گئے او رہر طرح کامیاب گئے۔ جماعت کا اکثر حصہ اُس راہ پر چل رہا ہے جس پر آپ نے چلایا تھا۔ ہاں کچھ لوگ الگ ہوگئے۔ بے شک آپ لکھتے ہیں کہ کیا وہ اکابر خراب ہو سکتے ہیں جو سلسلہ کے خادم تھے؟ تو میں کہتا ہوں کہ مسیح موعود علیہ السلام کی وہ بات کیوں کر پوری ہوتی جو آپ نے الہام کی بناء پر لکھی تھی کہ ’’کئی چھوٹے ہیں جو بڑے کئے جائیں گے اور کئی بڑے ہیں جو چھوٹے کئے جائیں گے۔ پس مقامِ خوف ہے‘‘۷؎ اگر آپ کے خیال کے مطابق بڑے چھوٹے نہیں ہوسکتے تھے بلکہ اکابر معصوم عن الخطاء ہی سمجھے جانے کے لائق ہیں تو پھر اس عبارت کا کیا مطلب ہے۔ اس عبارت سے تو باِلبداہت ثابت ہو جاتا ہے کہ اکابر کا چھوٹا ہو جانا بھی ممکن ہے بلکہ بعض چھوٹے کئے بھی جائیں گے۔ پس آپ اس دلیل سے کوئی فائدہ نہیں حاصل کرسکتے۔ خصوصاً جب کہ صحابہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر ان لوگوں کو جنہوں نے بیعت ابی بکرؓ نہ کی تھی اور جن میں سے ایک ایسا بڑا رُتبہ رکھتا تھا کہ وہ بارہ نقیبوں میں سے ایک تھا مرتد اور منافق کہا ہے اور اس کا ثبوت صحیح احادیث اور مستند روایات سے مل سکتا ہے۔۸؎ پس چند آدمیوں کا ٹھوکر کھا جانا جب کہ کثرت حق پر قائم ہو سلسلہ کی تباہی کی علامت نہیں اور پھر اس حالت میں جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے رؤیا میں بتایا بھی ہے کہ جماعت کا ایک سنجیدہ آدمی مرتدوں میں مل گیا ہے۔
    ’’۱۸؍ ستمبر ۱۹۰۷ء رؤیا۔ فرمایا: چند روز ہوئے میں نے خواب میں ایک شخص کو دیکھا تھا کہ وہ مرتدین میں داخل ہو گیا ہے۔ میں اس کے پاس گیا وہ ایک سنجیدہ آدمی ہے۔ میں نے اُس سے پوچھا کہ یہ کیا ہوا؟ اُس نے کہا کہ مصلحت وقت ہے‘‘۔ ۹؎
    اور یہ رؤیا عبدالحکیم کے ارتداد کے بعد کی ہے۔ اور آپ جانتے ہیں کہ آپ کا قدم غیراحمدیوں کے زیادہ قریب ہے بہ نسبت ہمارے۔ کیونکہ ہم پر تو آپ الزام دیتے ہیں کہ ہم ان مسلمانوں سے دور ہی دور جا رہے ہیں اور خود جب کہ حضرت کا کشف مولوی محمد علی صاحب کی نسبت موجود ہے کہ آپ بھی صالح تھے اور نیک ارادہ رکھتے تھے، یہ ’’تھے‘‘ ظاہر کرتا ہے کہ کبھی ایسا وقت آنے والا ہے کہ ہمیں نہایت افسوس سے ’’ہیں‘‘ کی بجائے ’’تھے‘‘کہنا پڑے گا۔ اسی طرح شیخ رحمت اللہ صاحب کی نسبت دعا کرنا اور الہام ہونا کہ شَرٌّ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ۱۰؎ جن پر تُو نے انعام کیا ان کی شرارت۔اور یہ بات تو آپ بھی بار بار پیش کرتے ہیں کہ ہم پر حضرت بہت مہربان تھے اور شیخ صاحب کی نسبت دعا کرنے پر اس الہام کا ہونا مطلب کو اور بھی واضح کر دیتا ہے۔
    اور اگر آپ کہیں کہ کیا ہماری خدمات کا یہی بدلہ ملنا چاہیے تھا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدمات کا یہ بدلہ نہیں ملتا۔ خدمات تو سارے احمدیوں نے کی ہیں اور بُہتوں نے آپ سے بڑھ کر کی ہیں۔ جن کے پاس مسیح موعود علیہ السلام کی لکھی ہوئی سندات موجود ہیں۔ پس یہ نہیں کہہ سکتے کہ خدمات کا ایسا اُلٹا بدلہ کیوں ملا کیونکہ بہتوں نے خدمات کیں اور انعام پائے۔ اگر آپ کو ٹھوکر لگی تو اس کے کوئی پوشیدہ اسباب ہوں گے جن سے خداتعالیٰ واقف ہے اور ممکن ہے کہ آپ بھی واقف ہوں ہمیں اس بات کے معلوم کرنے کی کچھ ضرورت نہیں۔ باقی رہا یہ کہ حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام کو کیوں ایسے لوگوں سے آگاہ نہ کیا گیا اس کے دو جواب ہیں۔ اوّل یہ کہ مجملاً آگاہ کیا گیا جیسا کہ پہلے میں الہام لکھ آیا ہوں دوسرے یہ کہ کوئی ضروری نہیں کہ آپ کو آپ کی وفات کے بعد کیکُل کارروائیوں سے واقف کیا جاتا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ پر آپؐ کی وفات کے بعد سخت مصائب آئے مگر آپ کو نہیں بتایا گیا کہ کس کا کیال حال ہوگا۔ آپ لوگوں پر اصل ابتلاء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد آیا۔ خلافت بعد میں ہوئی اُس وقت تو نہ تھی۔ پھر یہ کون سی ضروری بات تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بتایا جاتا کہ فلاں فلاں شخص انکارِ خلافت کرے گا اور اگر ضروری تھا تو کیا یہ بتایا گیا کہ آپ کی اولاد سب کی سب اور سب قادیان کے مہاجرین اور اکثر حصہ جماعت آپ کی وفات کے بعد کافر ہو جائیں گے ( جیسا کہ آپ نے صفحہ۴۶ پر کافر قرار دیا ہے) اگر یہ امر آپ کے خیال کے مطابق واقعہ ہو گیا لیکن اس کا آپ کو علم نہ دیا گیا تو آپ کون سی ایسی خصوصیت رکھتے ہیں کہ آپ کے متعلق ضرور کوئی الہام ہونا چاہیے تھا۔ آپ کے سب بیٹے بقول آپ کے کافرہو جائیں تو کسی الہام کی ضرورت نہیں، سب مہاجرین بگڑ جائیں تو کسی الہام کی ضرورت نہیں لیکن اگر آپ کے عقائد میں کچھ فرق آتا تھا تو اس کی اطلاع مسیح موعود علیہ السلام کو ضرور ہو جانی چاہیے تھی۔ اور اگر نہیں ہوئی تو ثابت ہوا کہ آپ حق پر ہیں۔ خواجہ صاحب! ان دلائل سے کام نہیں چل سکتا کسی بات کے ثابت کرنے کیلئے کوئی مضبوط دلیل چاہیے۔ طلحہؓ اور زبیرؓ اور حضرت عائشہؓ کے بیعت نہ کرنے سے آپ حُجت نہ پکڑیں۔ ان کو انکارِ خلافت نہ تھا بلکہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کا سوال تھا۔ پھر میں آپ کو بتاؤں جس نے آپ سے کہا ہے کہ اُنہوں نے حضرت علیؓ کی بیعت نہیں کی وہ غلط کہتا ہے۔ حضرت عائشہؓ تو اپنی غلطی کا اقرار کرکے مدینہ جا بیٹھیں اور طلحہؓ اور زبیرؓ نہیں فوت ہوئے جب تک بیعت نہ کر لی۔ چنانچہ چند حوالہ جات ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔
    (الف) وَاَخْرَجَ الْحَاکِمُ عَنْ ثَوْرِبْنِ مَجْزَاۃَ قَالَ مَرَرْتُ بِطَلْحَۃَ یَوْمَ الْجَمَلِ فِیْ اٰخِرِ رَمَقٍ۔ فَقَالَ لِیْ مِمَّنْ اَنْتَ؟ قُلْتُ مِنْ اَصْحٰبِ اَمِیْرالْمُؤْمِنِیْنَ عَلِیٍّ۔ فَقَالَ اُبْسُطْ یَدَکَ اُبَایِعُکَ۔ فَبَسَطْتُ یَدِیْ وَبَایَعَنِیْ وَفَاضَتْ نَفْسُہٗ۔ فَاَتَیْتُ عَلِیًّا فَاَخْبَرْتُہٗ فَقَالَ اَللّٰہُ اَکْبَرُ صَدَقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَبَی اللّٰہُ اَنْ یَّدْخُلَ طَلْحَۃُ الْجَنَّۃَ اِلاَّ وَبَیْعَتِیْ فِیْ عُنُقِہٖ ۱۱؎
    ترجمہ: اور حاکم نے روایت کی ہے کہ ثوربن مجزاۃ نے مجھ سے ذکر کیا کہ میں واقعہ جمل کے دن حضرت طلحہؓ کے پاس سے گذرا۔ اُس وقت ان کی نزع کی حالت قریب تھی۔ مجھ سے پوچھنے لگے کہ تم کون سے گروہ میں سے ہو؟ میں نے کہا کہ حضرت امیرالمؤمنین علیؓ کی جماعت میں سے ہوں۔ تو کہنے لگے اچھا! اپنا ہاتھ بڑھاؤ تا کہ میں تمہارے ہاتھ پر بیعت کر لوں چنانچہ اُنہوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی اور پھر جان بحق تسلیم کر گئے۔ میں نے آکر حضرت علیؓ سے تمام واقعہ عرض کر دیا۔ آپ سن کر کہنے لگے۔ اللّٰہُ اَکْبَر خدا کے رسول کی بات کیا سچی ثابت ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے یہی چاہا کہ طلحہ میری بیعت کے بغیر جنت میں نہ جائے۔ (آپ عشرہ مبشرہ میں سے تھے)‘‘
    (ب) وَذکر کردہ شد۔ عائشہ را یک بار روز جمل۔ گفت مردم روز جمل میگویند۔ گفتند اری گفت من دوست داشتم کہ مے نشستم۔ چنانکہ بنشست غیر من کہ ایں احب ست بسوی من ازیں کہ می زائید م از رسول خدا صلعم دہ کس کہ ہمہ ایشاںمانند عبدالرحمن بن الحارث بن ہشام می بودند۱۲؎۔
    ترجمہ: اور حضرت عائشہؓ کے پاس ایک دفعہ واقعہ جمل مذکور ہوا تو کہنے لگیں کیا لوگ واقعہ جمل کا ذکر کرتے ہیں؟ کسی ایک نے کہا جی اسی کا ذکر کرتے ہیں۔ کہنے لگیں کہ کاش! جس طرح اور لوگ اس روز بیٹھے رہے میں بھی بیٹھی رہتی۔ اس بات کی تمنا مجھے اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہے کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دس بچے جنتی۔ جن میں سے ہر ایک بچہ عبدالرحمن بن حارث بن ہشام جیسا ہوتا۔
    (ج) نیز طلحہ و زبیر از عشرۃ مبشرۃ بالجنۃ اندوبشارت آنحضرت صلعم حق ست۔ با آنکہ ایشاں رجوع کردند از خروج و توبہ نمودند۱۳؎۔
    ترجمہ: اور طلحہ اور زبیر عشرہ مبشرہ میں سے بھی ہیں جن کی بابت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی ہوئی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کا سچا ہونا یقینی ہے پھر یہی نہیں بلکہ اُنہوں نے خروج سے رجوع اور توبہ کر لی۔
    خواجہ صاحب! آپ نے حضرت صاحب کا ایک الہام لکھا ہے۔ مسلمانوں کے دو فریق ہیں۔ خدا ایک کے ساتھ ہوا یہ سب پھوٹ کا نتیجہ۔ یہ کب ہوا تھا اور کہاں لکھا ہے۔ جب الہاموں کی نقل میں احتیاط سے کام نہیں لیتے تو دوسری باتوں میں آپ نے کیا احتیاط کرنی ہے۔ کلامِ الٰہی کے نقل کرنے میں تو انسان کو حد درجہ کا محتاط ہونا چاہیے اور اپنی طرف سے الفاظ بدل دینے سے ڈرنا چاہیے۔
    اس ٹریکٹ میں خواجہ صاحب نے ایک اور بات پر بھی زور دیا ہے کہ یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ مرشد سے عقیدہ میں خلاف ہو۔ اور پھر اس کو چھپائیں یہ تو نفاق ہے۔ بیشک ایک مرشد سے عقیدہ میں اختلاف رکھنا اور اسے چھپانا نفاق ہے لیکن ایک شخص کی بیعت کرنے سے پہلے اُس پر ظاہر کر دینا کہ میرے یہ اعتقادات ہیں اتحادِ عمل کے لئے آپ مجھے اپنی جماعت میں داخل کر سکتے ہیں یا نہیں؟ اور اس شخص کا اسے بیعت میں داخل کرنا نفاق نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی نواب صاحب کو لکھا تھا کہ آپ شیعہ رہ کر بھی بیعت کر سکتے ہیں۔ چنانچہ نواب صاحب کی گواہی ذیل میں درج ہے۔
    ’’میں نے بہ تحریک اپنے استاد مولوی عبداللہ صاحب فخری حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں غالباً آخر ۱۸۸۹ء یا ابتدائے ۱۸۹۰ء میں خط دعا کے لئے لکھا تھا۔ جس پر حضرت نے جواب میں لکھا کہ دعا بِلا تعلق نہیں ہو سکتی آپ بیعت کر لیں۔ اس پر میں نے جواباً ایک عریضہ لکھا تھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ میں شیعہ ہوں اور اہلِ تشیع اَئمہ اِثناعشر کے سوا کسی کو ولی یا امام نہیں تسلیم کرتے اس لئے میں آپ کی کس طرح بیعت کر سکتا ہوں؟ اِس پر حضرت نے ایک طولانی خط لکھا جس کامَا حصل یہ تھا کہ اگر برکات روحانیہ محض اَئمہ اِثنا عشر پر ختم ہوگئے تو ہم جو روز دعا مانگتے ہیں کہ ۱۴؎یہ سب بیکار ہے۔ اور اب مے تو ہو چکی دود۱۵؎ باقی ہے۔ کیا ہم دود کے لئے اب مشقت ریاضات کریں؟ حضرت نے یہ بھی لکھا کہ منجملہ ان لوگوں کے جو حضرت امام حسین کے ہم پلہ ہیں میں بھی ہوں بلکہ ان سے بڑھ کر۔ اس خط سے ایک گونہ میرا رُحجان ہو گیا مگر میں نے پھر حضرت کو لکھا کہ کیا ایک شیعہ آپ کی بیعت کر سکتا ہے؟ تو آپ نے تحریر فرمایا کہ ہاں۔ چنانچہ پھر بمقام لدھیانہ ستمبر یا اکتوبر ۱۸۹۰ء میں میں حضرت سے ملا اور اس ملاقات کے بعد میں نے حضرت صاحب کو بیعت کا خط لکھ دیا مگر ساتھ ہی لکھا کہ اس کا اظہار سرِدست نہ ہو۔ مگر ازالہ اوہام کی تصنیف کے وقت حضرت نے لکھا کہ مجھ کو اس طرح آپ کا پوشیدہ رکھنا نامناسب معلوم ہوتا ہے۔ میں آپ کے حالات ازالہ اوہام میں درج کرنا چاہتا ہوں۔ آپ اپنے حالات لکھ کر بھیج دیں چنانچہ میں نے حالات لکھ دیئے او رباوجود بیعت اور تعلق حضرت اقدس میں ۱۸۹۳ء تک شیعہ ہی کہلاتا رہا اور نماز وغیرہ سب ان کے ساتھ ہی ادا کرتا تھا بلکہ یہاں قادیان اس اثناء میں آیا تو نماز علیحدہ ہی پڑھتا رہاتھا۔ ۱۸۹۳ء سے میں نے شیعیت کو ترک کیا ہے۔ محمد علی خان‘‘۔
    خواجہ صاحب نفاق تو اس کو کہتے ہیں کہ ظاہر اور بات کی جائے اور دل میں اور ہو لیکن جو شخص آگے آ کر خود کہہ دے کہ میرا یہ عقیدہ ہے وہ نفاق کا مرتکب کیونکر کہلا سکتا ہے اور جس کی بیعت کرتا ہے اس سے کبھی اس عقیدہ کو پوشیدہ نہ رکھے اور وہ اسے اجازت دے دے تو یہ نفاق کیونکر ہوا۔
    خواجہ صاحب! نہ معلوم آپ نے یہ بات کہاں سے معلوم کی کہ احمدیت کی روک کا اصل باعث تکفیر ہے اگر یہ بات تھی تو چاہئے تھا کہ جب سے آپ الگ ہوئے ہیں آپ کا حصۂ جماعت سرعت سے بڑھنے لگتا لیکن بجائے اس کے آپ نے تو کوئی معتدبہ ترقی نہیں کی لیکن برخلاف آپ کے بیان کے کہ
    ’’پیارو تم احمدیت کو تو کیا پھیلاؤ گے سنو! اور ہوش سے سنو!! اگر وہ خبر درست ہے جو مجھے گذشتہ ہفتہ معتبر ذرائع سے معلوم ہوئی ہے تو تمہاری رفتارِ احمدیت جو نہایت سرعت سے خراسان اور حدودِ افغانستان میں جاری تھی ختم ہوگئی اور بہت سے احمدی احمدیت سے الگ ہوگئے اور اس کے ذمہ دار دو ہی مسئلے ہیں جیسے مجھے اطلاع ملی ایک تکفیرِ غیر احمدیاں اور دوسری مرزا صاحب کی نبوتِ مستقلہ۔ کوئی شخص نفاق کے سوائے اس عقیدہ پر افغانستان میں نہیں رہ سکتا‘‘۔۱۶؎
    احمدیت نہایت زور سے بڑھ رہی ہے اور پچھلے چند ماہ میں سینکڑوں نئے آدمی سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں جن میں انگریزی علوم کے لحاظ سے ایم۔ اے اور بی۔ اے بھی شامل ہیں۔ عربی علوم کے لحاظ سے تحصیل یافتہ مولوی ہیں، سرکاری عہدوں کے لحاظ سے ای۔اے۔ سی اور اسسٹنٹ انسپکٹران سکول ہیں۔ رئیسوں کے لحاظ سے بڑے بڑے جاگیردار ہیں غرض کہ غریب بھی اور امیر بھی جو اپنے اندر نہایت اخلاص رکھتے ہیں اس سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں اور مبائعین میں شامل ہوئے ہیں۔ بعض کو لوگ تکلیفیں بھی دیتے ہیں لیکن صبر سے کام لے رہے ہیں اور اپنے عقائد کو بدلنے کی انہیں کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ پھر میں کیونکر مان لوں کہ ہمارے عقائد سلسلہ کے راستہ میں روک ہیں اور کیونکر تسلیم کر لوں کہ اب سلسلہ کی ترقی رُک گئی ہے۔ اگر آپ کا خیال درست ہوتا تو واقعات اس کی تصدیق کرتے اور بجائے ہماری ترقی کے تنزّل ہوتا اور بجائے ہمارے بڑھنے کے آپ بڑھتے لیکن باوجود اس کے خلاف خدائے تعالیٰ کا معاملہ دیکھنے کے آپ کو ہم راستی پر کیونکر مان سکتے ہیں؟
    خواجہ صاحب نے ایک یہ شکوہ بھی کیا ہے کہ وہ جب ہندوستان میں آئے تو ان کا ارادہ فوراً قادیان جانے کا تھا لیکن بعض غیر ذمہ دار لوگوں کی تحریروں کی وجہ سے جن میں اُنہوں نے غیرمبائعین سے مِلنے جُلنے اور بولنے کی ممانعت کی ہے میں رُک گیا۔ پھر وہ شکایت کرتے ہیں کہ اگر احمدیوں سے یہ سلوک ہے تو غیر احمدیوں اور پھر عیسائیوں سے کیا سلوک کرنا چاہیے۔ اوّل تو یہ سوال ہے کہ یہ مضمون کب نکلا اور آپ لاہور کب تشریف لائے ۔ اگر آپ کا ارادہ تھا کہ فوراً ہی قادیان آئیں تو اس امر سے کونسی چیز آپ کو مانع ہوئی کہ آپ ایک عرصہ تک لاہور میں بیٹھے رہے اور فوراً نہ آ سکے اتنے میںوہ مضمون نکل گیا۔ پس اوّل تو یہ آپ کا فوراً ظاہر کرتا ہے کہ الفضل کا وہ مضمون ایک بہانہ کا کام دے رہا ہے۔
    پھر میں پوچھتا ہوں کہ آپ نے مجھ سے ملنا تھا یا لوگوں سے؟ لوگ آپ سے ملتے یا نہ ملتے؟ اگر آپ تبادلۂ خیالات چاہتے تھے تو مجھ سے ملتے۔ اگر آپ کہیں کہ مجھے یہ کیونکر معلوم ہو سکتا تھا کہ آپ مل لیں گے تو میں کہتا ہوں کہ اب تو کسی بڑے خرچ کی بھی ضرورت نہیں ایک پیسہ کے کارڈ کے ذریعہ سے آپ مجھ سے پوچھ سکتے تھے کہ اگر میں آؤں تو تم مجھ سے بات کر سکو گے یا نہیں؟ یا الفضل کے مضمون کے مطابق مجھ سے ملنا پسند نہ کرو گے۔ اگر اس خط کا جواب میں نفی میں دیتا یا جواب ہی نہ دیتا تو آپ کا عذر قابل سماعت ہوتا لیکن جب آپ نے یہ تکلیف نہیں اُٹھائی تو میں آپ کے عذر کو کس طرح قبول کروں ۔ کیا یہ بات درست نہیں کہ آپ نے میرے مریدین کو بڑی بڑی لمبی چِٹھیاں لکھی تھیں؟ پھر کیا یہ درست نہیں کہ آپ نے ان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی؟ پھر کیا آپ اس وقت سے کچھ وقت بچا کر اور ان کاغذوں لفافوں سے ایک کاغذ اور لفافہ بچا کر ایک خط میری طرف مذکورہ بالا مضمون کا نہیں لکھ سکتے تھے؟ جب کہ اس بات سے آپ کو کوئی امر مانع نہ تھا۔ تو آپ کا جماعت کے دوسرے افراد کو دعوت دینا اور ان کے ملنے کی خواہش ظاہر کرنا ، ان کی طرف خطوط لکھنا لیکن مجھ سے فیصلہ کرنے یا گفتگو کرنے کی کوئی تحریک نہ کرنا اور خط لکھ کر دریافت نہ کرنا صاف ظاہر نہیں کرتا کہ آپ کا اصل منشاء لوگوں کو اپنا ہم خیال بنانا اور جماعت میں پھوٹ ڈالنا تھا نہ کہ صلح کرنا۔ صلح مجھ سے ہو سکتی تھی اور کس کا حق تھا کہ میری اجازت کے بغیر صلح کر لے۔ یہ صلح کوئی مقامی معاملہ نہ تھا ، یہ فیصلہ کسی خاص شہر سے تعلق نہ رکھتا تھا بلکہ سب جماعت اور سب احمدیوں پر اس کا اثر پڑتا تھا پس یہ فیصلہ مبائعین میں سے بغیر میری اجازت کے اور کون کر سکتا تھا۔ اگر آپ کا منشاء صلح تھا تو مجھ سے براہِ راست کیوں آپ نے گفتگو نہ کی؟
    اب رہا یہ سوال کہ ایسا اعلان بعض غیر ذمہ دار لوگوں نے کیوں کیا کہ لوگ آپ سے نہ ملیں نہ بولیں اس کی وجہ مجھے اس کے بغیر کوئی نہیں سمجھ میں آئی کہ اُنہوں نے آپ کی مذکورہ بالا کارروائی کو محسوس کر لیا اور جماعت کو خطرہ سے آگاہ کر دیا اور چونکہ آپ کی اس کارروائی کا نتیجہ سوائے اس کے اور کچھ نہ تھا کہ فساد اور بڑھے گو آپ کا منشاء صلح کا ہی ہو اس لئے مضمون لکھنے والے نے پسند نہ کیا کہ جماعت میں فسا د بڑھے اور اس نے تحریک کی کہ لوگ آپ سے نہ ملیں اگر فیصلہ کرنا تھا تو براہِ راست مجھ سے ہو سکتا تھا اور یہ امر کہ کیوں آپ سے وہ سلوک کیا گیا جو ہندوؤں اور مسیحیوں سے نہیں کیا جاتا۔ اس کا جواب آسان ہے۔ مسلمان یہود اور مسیحیوں سے کلام کرتے تھے لیکن اگر آپ کو یاد ہو تو ۱۷؎ جن کے واقعہ کی طرف سورۃ توبہ میں اشارہ کیا گیا ہے ان کا مفصل ذکر بخاری میں آتا ہے۔ ان تین سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کلام منع کر دیا تھا اور مسلمان ان سے نہ بولتے نہ ملتے نہ تعلق رکھتے حتیّٰ کہ بیویوں کو بھی جدا کر دیا تھا۔ کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ کیا وہ تین منافقوں سے بھی بدتر تھے ؟ کیا وہ یہود سے بھی بدتر تھے؟ پھر کیا وہ مشرکوں سے بھی بدتر تھے؟ اور اگر ان سے یہ سلوک کیا گیا تو مسیحیوںاور یہودیوں سے اس سے سخت کون سا سلوک کیا گیا۔ مگر آپ جانتے ہیں کہ یہ اعتراض غلط ہے ان کو سرزنش کی ایک خاص وجہ تھی اور انتظامِ جماعت کے قائم رکھنے کے لئے ایسا کرنا پڑتا ہے۔ دنیاوی حکومتیں بھی میدانِ جنگ کے سپاہی کو پکڑ کر صلیب پر نہیں لٹکاتیں حالانکہ وہ کئی خون کر چکا ہوتا ہے اور اپنے مُلک کے مجرموں کو سزائیں دیتی ہیں کیوں؟ اسی لئے کہ اس سپاہی کا کام تھا کہ وہ ان کا مقابلہ کرتا مگر یہ اپنے تھے اور اپنے کا فرض ایک طرف تو یہ تھا کہ امن کو قائم رکھے جس کے خلاف اس نے کیا۔ دوسرے اس سپاہی کا حملہ ظاہر ہے اور اس اپنے کا حملہ اندر ہی اندر تباہ کر سکتا ہے پس جن لوگوں سے یہ خوف ہو کہ ایک حد تک اپنے بن کر مخالفت کریں گے اُن سے بچنا اور بچانا ایک ضروری بات ہے۔ دوسرے اپنے غلطی کریں تو وہ زیادہ سزا کے مستحق ہوتے ہیں۔ آجکل کی مثال لے لیجئے وہ رحیم کریم انسان جو شفقت علی خلق اللہ کا کامل نمونہ تھا اور یقینا اسی کے منہ سے اور اسی کی تحریروں سے ہم نے یہ بات معلوم کی ہے کہ اسلام کی دو ہی غرضیں ہیں ایک تعلق باللہ اور دوسری شفقت علی خلق اللہ۔ وہ ہندوؤں سے ملتا تھا، مسیحیوں سے ملتا تھا لیکن مرزا سلطان احمد صاحب سے کبھی نہیں ملتا تھا اور کئی دفعہ جب حضرت خلیفہ اوّل نے کوشش کی کہ آپ کو ان سے ملائیں تو آپ نے نہایت سختی سے انکار کر دیا اور آخر مولوی صاحب کو منع کر دیا کہ پھر ایسا ذکر نہ کریں۔ اب بتائیے اس تعلق میں اور ہندوؤں کے تعلق میں کچھ فرق معلوم ہوتا ہے یا نہیں؟ بیٹے سے تو ملتے نہ تھے اور لالہ شرمپت گھنٹہ گھنٹہ آپ کے پاس آ کر بیٹھ رہا کرتے تھے۔ پس آپ ان مثالوں سے سمجھ لیں کہ کبھی ضروریات ایسا مجبور کرتی ہیں کہ باوجود اس کے کہ غیروں سے ملتے رہیں بعض اپنوں سے ملنا چھوڑ دیا جائے۔ آپ نے اپنے حال پر غور نہیں کیا کہ غیر احمدیوں کو مسلمان بنانے کے لئے آپ نے احمدیوں کو کافر ثابت کیا ہے۔ پھر جب آپ خود اس مجبوری کا شکار ہوئے ہیں تو دوسروں پر اعتراض کی کیا وجہ ہے۔ پھر اخبار پیغام لاہور محمد حسین بٹالوی اور مولوی ثناء اللہ کے خلاف کچھ نہیں لکھتا لیکن اس کا سارا زور ہمارے خلاف خرچ ہو رہا ہے کیا یہ مثال آپ کے لئے کافی نہ تھی؟ آپ نے خلافت پر اعتراض کرتے ہوئے ایک جگہ لکھا ہے کہ کیا خلیفہ غلطی سے مَصْئُوْن۱۸؎ہے مگر میں کہتا ہوں کہ اگر اسی کا فیصلہ ماننا شرط ہو جو غلطی سے مَصْئُوْن اور محفوظ ہو تو آپ بتائیں کہ کس انسان کا فیصلہ آپ مانیں گے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسا انسان جو کُل کمالاتِ انسانیہ کا خاتم ہے فرماتا ہے۔
    عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ سَمِعَ جَلَبَۃَ خَصْمٍ بِبَابِ حُجْرَتِہٖ فَخَرَجَ اِلَیْھِمْ فَقَالَ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ وَاَنَّہٗ یَأْتِیْنِی الْخَصْمُ فَلَعَلَّ بَعْضُھُمْ اَنْ یَکُوْنَ اَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ فَاَحْسِبَ اَنَّہٗ صَادِقٌ فَاَقْضِیْ لَہٗ فَمَنْ قَضَیْتُ لَہٗ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَاِنَّمَا ھِیَ قِطْعَۃٌ مِّنَ النَّارِ فَلْیَحْمِلْھَا اَوْیَذَرْھَا۔۱۹؎
    ترجمہ: اُم سلمہ (اُم المؤمنین) رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ مکان کے دروازہ کے پاس چند آدمیوں کا باہمی مقدمہ کی بابت شور و شغب سن کر ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمانے لگے میں ایک بشر ہوں (عالم الغیب نہیں) لوگ میرے پاس مقدمے لے کر آتے ہیں سو ممکن ہے کہ ایک فریق بات کرنے میں زیادہ ہوشیار ہو اور اس کی باتوں کی وجہ سے میں اُسے سچا خیال کر کے اس کے حق میں فیصلہ دے دوں سو یاد رکھو کہ اس طرح سے اگر کسی شخص کومسلم کا حق دِلا دوں تو یہ مال آگ کا ٹکڑا ہے اب چاہے تو اُسے اُٹھا لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔
    پس کیا آپ کے فیصلہ کو بھی ردّ کر دینا چاہیے کہ ممکن ہے آپ سے غلطی ہوگئی ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۲۰؎
    یعنی تیرے ربّ کی ہی قسم! یہ اُس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک تجھ سے اپنے جھگڑوں کا فیصلہ نہ چاہیں اور پھر فیصلوں اور قضایا کو خوشی سے تسلیم نہ کریں۔
    کیا گورنمنٹ اور اس کے مجسٹریٹ خطاء سے محفوظ ہوتے ہیں؟ اگر نہیں تو کیا اس بناء پر گورنمنٹ اور ججوں کے فیصلے ردّ کر دیئے جاتے ہیں کہ ممکن ہے کہ وہ غلطی کرتے ہوں۔ کیا خلیفۃ المسیح جن کی بیعت آپ نے کی تھی خطاء سے محفوظ تھے؟ پھر میں پوچھتا ہوں کہ کیا انجمن اپنے فیصلہ میں کبھی غلطی نہیں کر سکتی؟ پھر انجمن جماعت کی حاکم کیونکر ہو سکتی ہے؟ اگر صرف مَصْئُوْن عَنِ الْخَطَاء کے فیصلے ہی واجبُ العمل ہوتے ہیں تو پھر دنیا کی سب حکومتیں سب انجمنیں مٹا دینی چاہئیں کیونکہ انسان کوئی مَصْئُوْن عَنِ الْخَطَاء نہیں۔ نماز ہمارے لئے دلیل ہے امام غلطی کرتا ہے اور خطاء سے پاک نہیں ہوتا مقتدیوں کو حکم ہے کہ باوجود اس کی غلطی کے اس کی اتباع کریں کیونکہ اتحاد رکھنا ضروری ہے اور اتحاد بغیر ایک مرکز کے نہیں ہو سکتا اور خواہ ایک انسان افسر ہو یا بہت سے ہوں وہ غلطی سے پاک نہیں ہو سکتے پس اتحاد کے قیام کیلئے قیاسات میں امام کی خطا کی بھی پیروی کرنے کا حکم ہے سوائے نصوصِ صریحہ کے۔ مثلاً کوئی امام کہے کہ نماز مت پڑھو، کلمہ نہ پڑھو، روزہ نہ رکھو اس کی اتباع فرض نہیں اور یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک امام اگر چار کی بجائے پانچ یا تین رکعت پڑھ کر سلام پھیر دے تو مقتدیوں کو حکم ہے کہ باوجود اس کی غلطی کے علم کے اس کی اتباع کریں۔ لیکن اگر وہ اُٹھ کر ناچنے لگ جائے یا مسجد میں دوڑنے لگے تو اب مقتدیوں کو حکم نہیں کہ اس کی اتباع کریں کیونکہ اب قیاس کا معاملہ نہیں رہا بلکہ جنون یا شرارت کی شکل آگئی ہے لیکن یہ مثالیں بفرضِ محال ہیں ورنہ خدائے تعالیٰ جس کو امام بناتا ہے اسے ایسے اعمال سے بچاتا ہے جو قومی تباہی کا موجب ہوں۔
    آپ نے اپنے اس مضمون میں خلافت کے ردّ میں ایک یہ دلیل بھی دی ہے کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ اکثروں نے مان لیا یہ کوئی دلیل نہیں کیونکہ اگر ابوبکرؓ، عمرؓ کو اکثروں نے مان لیا تو یزید کو بھی تو مان لیا مگر خواجہ صاحب یہ مثال پیش کرتے وقت ان واقعات کو نظر انداز کر گئے ہیں جو ان دونوں قسم کی خلافتوں کے وقت پیش آئے۔ ابوبکرؓ اور عمرؓ کی خلافت پر اتفاق کرنے والوں میں صحابہؓ کا گروہ تھا یزید کے ہاتھ پر اکٹھا ہونے والی کون سی جماعت تھی۔ کیا صحابہ کی کثرت تھی ؟ صحابہ کے لئے خدائے تعالیٰ کے بڑے بڑے وعدے تھے اسی طرح اس جماعت کے لئے بھی بڑے بڑے وعدے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر سلسلہ میں داخل ہوئی۔ اور جس طرح صحابہؓ کی کثرت نے اوّل الذکر دونوں بزرگوں کو تسلیم کیا اسی طرح اس جماعت کے کثیر حصہ نے مجھے تسلیم کیا جو مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر سلسلہ میں داخل ہوئی تھی۔ اگر اسی جماعت کا اکثر حصہ ضلالت پر جمع ہو گیا تو یہ بے شک شیعوں والا عقیدہ ہے جو چند کے لئے کثیر حصہ کو بدنام کرتے ہیں۔ پھر یہ بھی سوال ہے کہ خلافت تو مشورہ سے ہوتی ہے دوسرے باپ کے بعد بیٹا فوراً خلیفہ نہیں ہو سکتا جیسا کہ احادیث اور صحابہؓ کے اقوال سے ثابت ہے امرِ اوّل کے لئے آیت۲۱؎ یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانات ان کے اہلوں کو دو اور حدیث لَاخِلَافَۃَ اِلاَّ بِالْمَشْوَرَۃِ۲۲؎ اور امر دوم کے لئے حضرت عمرؓ کا قول اور صحابہؓ کی تسلیم۔ لیکن یزید کی خلافت کیونکر ہوئی ۔ باپ نے اپنی زندگی میں جبراً سب سے اس کی بیعت کروائی۔ ہم حضرت معاویہ کی نیت پر حملہ نہیں کرتے لیکن ان کے اس فعل کی وجہ سے یزید کی خلافت خلافت نہ رہی بلکہ تلوار کے ذریعہ سے بیعت لی گئی اور حکومت ہوگئی لیکن یہاں ان دونوں باتوں میں سے کون سی بات پائی جاتی ہے نہ ہی باپ کے بعد فوراً خلیفہ ہوا اور نہ والد صاحب نے اپنے سامنے جبرواکراہ سے لوگوں کو میری بیعت پر مجبور کیا۔ پس ایک جبری کثرت اور دلوں کے کھِنچ لانے میں آپ فرق نہیں کر سکتے۔ کیا خدائے تعالیٰ کی تائید و نصرت سچائی کا ایک زبردست ثبوت نہیں؟ پھر اس معاملہ میں آپ اس کو کیوں غلط قرار دیتے ہیں؟
    خواجہ صاحب کا ایک یہ بھی سوال ہے کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ قادیان مکرم مقام ہے اس کو چھوڑ کر جانا غلطی پر دلالت کرتا ہے یہ غلط ہے کیونکہ مکہ بھی ایک مکرم مقام ہے لیکن وہ غیراحمدیوں کے پاس ہے جو آپ کے نزدیک مسلمان نہیں۔ اوّل تو یہ دلیل نہیں کیونکہ اگر ایک طور پر پہلا دعویٰ کرنے والے پر یہ حجت ہے تو خواجہ صاحب اور ان کی پارٹی پر بھی تو حجت ہے کیونکہ کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ خواجہ صاحب آپ کے نزدیک تو مکہ مدینہ مسلمانوں کے ہی قبضہ میں ہیں پھر آپ کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ مکرم مقامات حقیقی وارثوں کے ہاتھ سے نکل سکتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ ایک لمبے عرصہ کے بعد ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک جماعت خراب ہو جائے اور مرکز اس کے پاس رہے جب تک کہ نئی جماعت ترقی کرے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شروع زمانہ میں مکہ مشرکوں کے پاس تھا یا یروشلم مسیح کے زمانہ میں یہود کے پاس تھا لیکن اس بات کا ثابت کرنا خواجہ صاحب کو مشکل ہوگا کہ ابھی کامل ترقی ہونے سے پہلے ہی ایک مقامِ متبرک ایک پاک جماعت کے پاس آ کر ان کے ہاتھ سے نکل جائے اور اس کے سب افراد گندے اور کافر ہو جائیں اس طرح تو امان بالکل اُٹھ جاتا ہے اور ان تمام پیشگوئیوں پر پانی پھِر جاتا ہے جو اس جگہ کے رہنے والوں کے متعلق ہیں۔ دوسرے یہ دلیل کوئی ایسی نہیں کہ جس پر فیصلہ کا مدار ہو ایسی باتیں تو ضمناً پیش ہوا کرتی ہیں ہاں یہ کہہ دینا بھی ضروری ہے کہ حضرت علیؓ کے مدینہ چھوڑ دینے کی دلیل درست نہیں جب آپ مدینہ سے تشریف لے گئے تو صرف میدانِ جنگ کے قریب ہونے کے لئے تشریف لے گئے ورنہ مدینہ آپ کے قبضہ میں تھا اور مدینہ کے لوگ آپ کے ساتھ تھے اور یہی حال مکہ کا تھا۔
    پھر آپ لکھتے ہیں کہ ’’کہا جاتا ہے کہ مولوی محمد علی کی ذلّت ہوئی لوگوں نے ان کو تقریر سے روک دیا۔ یہ بات وہ کہہ سکتے ہیں جنہیں وہ تکالیف معلوم نہیں جن کا سامنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کرنا پڑا‘‘ مجھے افسوس ہے کہ یہ جواب بھی درست نہیں کیونکہ دونوں معاملوں میں ایسا کھلا فرق ہے جس کو ہر ایک شخص بآسانی سمجھ سکتا ہے۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام محمد حسین بٹالوی کو کُرسی نہ ملنے کا واقعہ ہمیشہ بیان فرماتے تھے بلکہ آپ نے کتاب البریہ صفحہ۱۰ میں اسے لکھا بھی ہے اور اسے اُس کی ذلّت قرار دیتے تھے۔ لیکن کیا خود یہی واقعہ حضرت صاحب پر چسپاں نہیں ہوتا؟ کیا کرم دین کے مقدمہ میں مجسٹریٹ آپ کو کھڑا نہ رکھتا تھا؟ کیا ایسا نہیں ہوا کہ بعض اوقات آپ نے پانی پینا چاہا اور اُس نے پانی تک پینے کی اجازت نہیں دی؟ لیکن کیا آپ اس کو ذلّت کہہ سکتے ہیں؟اگر نہیں تو کیوں اور پھر کیوں؟ محمدحسین سے ویسے ہی سلوک پر اُسے ذلّت قرار دیا گیا۔ سنیے! ان دونوں مثالوں میں ایک فرق ہے اوّل تو یہ کہ محمد حسین کو سخت ڈانٹ دی گئی اور ڈپٹی کمشنر بہادر نے جھڑک کر پیچھے ہٹا دیا لیکن حضرت صاحب سے یہ معاملہ نہیں ہوا۔ دوسرے مقدمہ ایک ایسے مجسٹریٹ کے سامنے پیش تھا جس کے سامنے دونوں برابر تھے بلکہ حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام مسیحیت کے دشمن تھے اور وہ ایک مسیحی تھا پس صاحب بہادر کا سلوک محمد حسین سے بِلا کسی محرک کے ہوا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بوجہ اُن کی تبلیغی کوششوں اور سب مذاہب کی بنیادیں کھوکھلی کر دینے کے سب فِر قوں کو عداوت تھی خصوصاً اہالیانِ ہند کو۔ پس ایک ہندوستانی کا آپ سے یہ سلوک کرنا پہلے معاملہ سے اس کو علیحدہ کر دیتا ہے۔
    پھر ایک اور بات ہے کہ لوگ ہمیشہ مرا بھی کرتے ہیں لیکن غلام دستگیر کی موت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی سچائی کی دلیل قرار دیتے ہیں یہ کیوں؟ اس لئے کہ اس نے مباہلہ کیا تھا اور مطابق مباہلہ کے مر گیا۔ اسی طرح اب اس معاملہ کو لیجئے مولوی محمد علی صاحب نے صبح کے وقت مسجد میں تقریر کی کہ اگر میں نے بدنیتی سے ٹریکٹ لکھا تھا تو خدا مجھے پکڑے ، مجھے ہلاک کرے، مجھے ذلیل کر دے۔ عصر کے وقت وہ ایک ایسے مجمع میں کھڑے ہوتے ہیں جو ان کے دشمنوں کا نہیں اس جماعت کا ہے جس میں پہلے کھڑے ہو کر اُنہوں نے یہاں تک بھی کہا تھا کہ تم اپیل تو سنتے رہے، چندہ مانگنے کے وقت اُٹھ کر بھاگتے تھے ہم جوتیوں سے چندہ وصول کریں گے اس جماعت کا تھا جس میں آپ کے ماتحت ملازم شامل تھے۔ اس جماعت کا تھا جس میں وہ طلباء موجود تھے جو مولوی صدر الدین صاحب ہیڈماسٹر کی زیر تربیت رہتے تھے اور مولوی صدرالدین صاحب ہی اُس وقت کے سیکرٹری تھے وہ اس مجمع میں کھڑے ہوتے ہیں جس پر میرا کوئی زور نہ تھا، کوئی حکومت نہ تھی، جماعت کے لوگ مختلف جگہوں سے اکٹھے ہوئے ہوئے تھے۔ وہ دیرینہ سیکرٹری شپ کی وجہ سے مولوی صاحب کے ایسے معتقد تھے کہ بعض ان میں سے آپ کے لئے تحفہ تحائف بھی لایا کرتے تھے۔ مولوی صاحب جماعت کے معززین اشخاص میں خیال کئے جاتے تھے ان کے ترجمہ قرآن کی طرف لوگوں کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔ چند سال کی متواتر کوشش سے وہ لوگوں کی نظروں میں ایسے بنائے گئے تھے کہ گویا موجودہ نسلوں میں ایک ہی انسان ہے ایسا شخص ایسے مجمع میں اس بددعا کے بعد کھڑا ہوتا ہے جب کہ ابھی کوئی خلیفہ مقرر نہ تھا۔ جن کو آپ اکابر کہتے ہیں ان کی ایک جماعت اس کے ساتھ ہے جو خود ہمیشہ اپنا رُعب بٹھانے کے درپے رہتی تھی۔ لیکن جب وہ شخص کھڑا ہوتا ہے تو اس ہزاروں کے مجمع میں سے ایک شور بلند ہوتا ہے کہ ہم آپ کی بات نہیں سنتے۔ لیکن شاید کوئی کہے کہ چند شریروں نے منصوبہ سے ایسا کر دیا۔ نہیں! اس ہزاروں کے مجمع سے کوئی شخص ان آوازوں کے خلاف آواز نہیں اُٹھاتا اور سب کے سب اپنی خاموشی سے اپنی رضا مندی کا اظہار کرتے ہیں اور اپنے خاص دوستوں سمیت مولوی صاحب وہاں سے چلے جاتے ہیں۔ صبح کی بددعا کے بعد ایسے مجمع میں اس واقعہ کا ہونا اگر ایک الٰہی شہادت نہیں تو اور کیا ہے؟
    اگر میری بیعت کے بعد ان سے یہ سلوک ہوتا اور میری مرضی یا میرے علم سے ہوتا تو یہ ایک اور معاملہ تھا اس میں ان کی نہیں میری ذلّت ہوتی۔ چنانچہ جب مجھے اطلاع دی گئی کہ ایک دو پانچ چھ سالہ بچوں نے نادانی سے آپ پر کنکر پھینکنے کاارادہ کیا تو میں نے درس میں لوگوں کو سخت ڈانٹا کہ گو بچہ نادان ہو لیکن میں والدین کو اس کا ذمہ دار قرار دوں گا۔ بیعت کے بعد مریدین کا سلوک اور شے ہے لیکن بیعت سے پہلے اس بددعا کے بعد وہ سلوک ضرور ایک الٰہی نشان تھا اور خواجہ صاحب کبھی یہ خیال نہ کریں کہ اب اگر وہ قادیان آئیں تو ان سے کسی مبائع سے سختی کروا کر کہہ دیا جائے گا کہ ان کی ذلّت ہوئی یہ صرف بدظنی کا نتیجہ ہے۔ اگر وہ زیادہ تدبر سے کام لیں گے تو دونوں معاملات میں ان کو فرق نظر آئے گا۔
    خواجہ صاحب لکھتے ہیں کہ جلسہ کو بارونق کرنے کے لئے آدمی بھیجے گئے۔ میں ان کو یقین دلاتا ہوں کہ کسی شخص نے غلطی سے ان کے سامنے یہ بات بیان کر دی ہے بات یہ ہے کہ میری طرف سے یا انجمن کی طرف سے ایسا نہیں کیا گیا نہ کسی اور مبائع کی طرف سے۔ بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ انجمن احمدیہ اشاعتِ اسلام نے کچھ اشتہار مبائعین میں تقسیم کرنے کے لئے شائع کئے تھے اور کچھ بعض آدمی امرتسر اور لاہور سٹیشنوں پر اس غرض کے لئے گئے تھے کہ لوگوں کو روک کر لاہور اُتار لیں یا لاہور لے جائیں۔ بعض مہمانوں سے جھگڑا بھی ہو گیا لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا کہ باوجود اس کے کہ وہ لوگ غلطی سے اصرار سے بڑھ کر تکرار تک نوبت پہنچا دیتے تھے کہ آپ لاہور کیوں نہیں جاتے لیکن کسی قسم کا دنگہ نہ ہوا اور لوگوں کو ہنسی کا موقع نہیں ملا۔ شاید کسی شخص نے اس واقعہ کو میری طرف منسوب کر دیا ہو مگر حق یہی ہے کہ یہ واقعہ آپ کے دوستوں کی طرف سے ہوا ہے میری طرف سے ہرگز نہیں ہوا۔
    خواجہ صاحب اپنے لیکچر میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ میں نے کیوں مولوی شیر علی صاحب کو ولایت جانے سے روک دیا حالانکہ میں خلیفہ اوّل سے وعدہ کر چکا تھا کہ میں آپ کے حکم بھی مانوں گا اور آپ کے بعد کے خلفاء کا بھی۔ حالانکہ مجھے حضرت ابوبکرؓ اور ابوعبیدہؓ کی مثال یاد کرنی چاہیے تھی۔ میں حیران ہوں کہ خواجہ صاحب نے میرے وعدہ سے میرے عمل کو مخالف کس طرح سمجھا۔ میں نے کہا تھا کہ حضرت خلیفہ اوّل کا حکم بھی مانوںگا اور بعد کے خلفاء کا بھی۔ حضرت کی زندگی تک میرا فرض تھا کہ آپ کے حکم مانتا اور بعد میں جو خلیفہ ہوتا اُس کے حکم ماننا میرا فرض تھا۔ قدرتِ ایزدی نے خلافت مجھے ہی سپرد کر دی تو اب مسیح موعود علیہ السلام کے احکام کے ماتحت میرا ہی حکم ماننا ضروری تھا اور میں نے حالاتِ وقت کے ماتحت مناسب فیصلہ کر دیا۔ ایک خلیفہ کا حکم اُسی وقت تک چلتا ہے جب تک وہ زندہ ہو۔ اُس کے بعد جو ہو اُس کا حکم ماننے کے قابل ہے۔ یہ مسئلہ آپ نے نیا نکالاہے کہ ہر ایک خلیفہ کا حکم ہمیشہ کے لئے قابلِ عمل ہے یہ درجہ تو صرف انبیاء کو حاصل ہے کہ ان کے احکام اس وقت تک جاری رہتے ہیں۔ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی پا کر کوئی نیا نبی انہیں منسوخ نہ کرے۔ خلفاء کی یہ حیثیت تو صرف آپ کی ایجاد ہے صحابہ ابوبکر، عمر، عثمان، علی رضی اللہ عنہم میں سے ہر ایک کے فرمانبردار تھے۔ لیکن ان میں سے ہر ایک بعد میں آنے والے نے اپنے سے پہلے کے چند احکام کو منسوخ کیا یا بعض انتظامات کو بدل دیا لیکن کسی صحابی نے نہ کہا کہ ہم تو پہلے کے فرمانبردار ہیں اس لئے آپ کا حکم نہ مانیں گے۔ حضرت عمرؓ نے خالدؓ کو جو حضرت ابوبکرؓ کے مقرر کردہ سپہ سالار تھے معزول کر دیا۔ ان پر کسی نے اعتراض نہ کیا کہ حضرت! آپ تو ابوبکرؓ کی بیعت کر چکے ہیں ان کے مقرر کردہ کمانڈر کو کیوں معزول کرتے ہیں۔ اے کاش! کہ ہر اعتراض کے پیش کرنے سے پہلے یہ غور بھی کر لیا جایا کرے کہ ہم کیسی بے وقعت باتوں سے اپنے دعوے کو ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
    پھر سنیے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کوئی ایسا اعتراض نہیں ہونے دیا جو پہلوں پر نہ پڑتا ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر جو پہلا اجلاس مجلس معتمدین کا ہوا تھا اور جس میں آپ بھی شریک تھے اس میں مولوی محمد علی صاحب کی ایک تحریک پیش ہو کر جو فیصلہ ہوا اُس کے الفاظ یہ ہیں۔
    ’’درخواست مولوی محمد علی صاحب کہ کچھ مساکین کا کھانا حضرت اقدس نے لنگرخانہ سے بند کر کے ان میں سے بعض کے لئے لکھا ہے کہ مجلس انتظام کرے۔ پیش ہو کر قرار پایا کہ اب حسبِ احکام حضرت خلیفۃ المسیح الموعود علیہ السلام لنگر کی حالت دگرگوں ہوگئی ہے اس لئے اس کاغذ کو داخل دفتر کیا جائے‘‘۔
    کیا حضرت صاحب کی وفات پر پہلے ہی اجلاس میں مجلس معتمدین نے جس میں آپ بھی حاضر تھے اس حکم کے خلاف نہ کیا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیا تھا؟ آپ شاید کہیں گے کہ ہم نے خود وجہ بھی لکھ دی تھی کہ حالات دگرگوں ہوگئے اس لئے اس حکم کو تبدیل کر دیا گیا یہی جواب آپ اپنے اعتراض کا سمجھ لیں۔ جب مسیح موعود علیہ السلام کے حکم کو حالات کے بدل جانے سے بدلا جا سکتا ہے تو کیوں حضرت خلیفہ اوّل کے احکام کو نہیں بدلا جا سکتا۔ حضرت کی وفات کے بعد یہاں آدمیوں کی ضرورت تھی اس لئے میں نے اُن کو روک دیا ۔پھر لعل شاہ صاحب برق کے متعلق جو فیصلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تھا اُس کو آپ کی ہی تحریک پر حضرت خلیفہ اوّل نے بدل دیا یا نہیں اور مولوی شیر علی صاحب کے معاملہ میں تو ایک فرق بھی ہے اور وہ یہ کہ مولوی صاحب نے اپنی رخصت آپ منسوخ کروائی تھی نہ کہ میںنے منسوخ کی تھی۔
    ایک بات آپ اور بھی لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح کا نام کاٹ دیا گیا۔ مجھے تعجب ہے کہ ایک طرف تو آپ کہتے ہیں کہ سچی بات کو پیش کرنا چاہیے نہ کہ جذبات کو اُکسانے والی باتوں کو۔ اور پھر آپ خود ایسے کام کرتے ہیں کیا کہیں میں نے یہ فیصلہ شائع کیا ہے کہ نَعُوْذُبِاللّٰہِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسیح موعود نہ تھے یا یہ کہ اب ان کی جگہ میں مسیح موعود ہوں یا یہ کہ اب اُن کا حکم ماننا ضروری نہیں اب صرف میرا حکم ماننا ضروری ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو بیشک آپ کہہ سکتے تھے کہ مسیح موعود کا نام کاٹ دیا گیا لیکن جب کہ ان باتوں میں سے کوئی بھی نہیں تو پھر آپ کا ایک بات کو غلط پیرایہ میں بیان کرنے سے سوائے جذبات کو برانگیختہ کرنے کے کیا مطلب ہے۔
    انجمن کا قاعدہ تھا کہ مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں انجمن کے معاملات میں آپ کا حکم آخری ہوگا بعد میں انجمن کا۔ اس کی بجائے جماعت احمدیہ کے قائم مقاموں نے انجمن کو مجبور کیا کہ وہ اس قاعدہ میں اصلاح کرے اور خلفاء کے حکم کو آخری قرار دے اور اسی وجہ سے میرا نام وہاں لکھا گیا۔ اب آپ بتائیں گے کہ کیا اِ س کو مسیح موعود کا نام کاٹ دینا کہتے ہیں۔ نام تو انجمن چھ سال پہلے کاٹ چکی تھی کیونکہ اس ریزولیوشن کے انجمن یہ معنی کرتی تھی کہ اب ہم حاکم ہیں۔ جماعت نے اس کی بجائے یہ فیصلہ کیا کہ خلیفۂ وقت کا فیصلہ آخری فیصلہ ہے اور اسی کے ماتحت تبدیلی ہوئی۔ آپ کا اس امر کو یہ رنگ دینا کہ گویا فیصلہ کر دیا گیا کہ مسیح موعود کا نام مٹا دیا جائے۔ (نَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ) کہاں تک دیانتداری کے ماتحت ہے۔
    میں اس مضمون کو ختم کرنے سے پہلے ان تمام لوگوں کو جو صداقت کے طالب ہوں اور راستی اور حق کے جو یاں ہوں مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ جماعت کاموجودہ اختلاف کوئی معمولی بات نہیں اگر وہ اس امر میں کامل غور اور فکر سے کام لے کر حق کی اتباع نہ کریں گے تو ان کو خداتعالیٰ کے حضور جوابدہ ہونا ہوگا۔ خداتعالیٰ نے ایک پودا اپنے ہاتھ سے لگایا ہے اور ضرور ضرور وہ اس کی آبیاری کرے گا۔ کوئی آندھی، کوئی طوفان خطرناک سے خطرناک ژالہ باری اِس پودا کو اُکھاڑ نہیں سکتی، خشک نہیں کر سکتی، جلا نہیں سکتی کیونکہ اس پودا کا محافظ، اس کا نگران خود اللہ تعالیٰ ہے لیکن وہ جو اپنے عمل سے یا اپنے قول سے خداتعالیٰ کے لگائے ہوئے پودا کو اُکھاڑنا چاہتے ہیں، اس کے جلائے ہوئے چراغ کو بجھانا چاہتے ہیں اپنی فکر کریں۔ نیک نیتی اور غلط فہمی بیشک ایک حد تک ایک جُرم کو ہلکا بنا دیتی ہے لیکن یہ عُذر ایسے زبردست نہیں کہ ان کے پیش کرنے سے انسان الٰہی گرفت سے بالکل محفوظ ہو جائے۔ ہر ایک شخص اپنی قبر میں خود جائے گا اور کوئی شخص اس کا مددگار نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ہم میں سے ہر ایک انسان کو عقل اور فہم عطا فرمایا ہے۔ پس ہر ایک شخص اپنے عمل کا ذمہ دار ہے۔ صرف یہ خیال کر کے کہ ہم کسی ایسے شخص کے ساتھ ہیں جو تمہارے خیال میں بہت سی خدماتِ دین کر چکا ہے تم بچ نہیں سکتے۔ تمہارا یہی فرض نہیں کہ تم اس قدر غور کر لو کہ تم جس کے ساتھ ہو وہ کسی وقت کوئی اچھی خدمت کر چکا ہے نہ یہ کہ تم جس کے ساتھ ہو وہ کسی بڑے آدمی کا بیٹا ہے بلکہ تم میں سے ہر ایک شخص اس بات کا پابند ہے کہ اس عقل اور فہم سے کام لے جو خداتعالیٰ نے ہر ایک انسان کو عطا فرمایا ہے۔ اپنے اپنے طور پر غور کرو اور دیکھو کہ وہ کون لوگ ہیں جو مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم اور اس کے مشن کو تباہ کر رہے ہیں۔ آخر تم لوگ سالہا سال تک مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ رہے ہو اُس کی کتابیں موجود ہیں، اُس کا اپنے آپ کو دشمنوں کے سامنے پیش کرنے کا طریق، اس کا اپنے دعوے پر زور دینا، اس کا یورپ و امریکہ میں تبلیغ کرنا تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اس کے عمل پر غور کرو کہ وہ تمہارے لئے حَکَم وعدل مقرر کیا گیا ہے۔ اپنی ہوا و ہوس کو چھوڑ کر خداکے پھینکے ہوئے مضبوط رسّے کو پکڑ لو تا نجات پاؤ۔
    دیکھو اسلام اِس وقت ایک سخت مصیبت میں ہے اور اس کے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا ہے اسے چھوڑ کر اسلام ہرگز ترقی نہیں کر سکتا۔ دنیا کے سامنے مسیح موعود علیہ السلام کو پیش کرو کہ اسی کے نام سے شیطان کی افواج بھاگیں گی۔ وہ اِس زمانہ کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی افواج کا سپہ سالار ہے اور آئندہ ہر ایک زمانہ میں اس کے پروانہ کے بغیر کوئی شخص دربارِ خاتم النبیّٖن میں بازیاب نہیں ہو سکتا۔ پس تم اپنے طریق پر غور کرو تا ایسا نہ ہو کہ غلطی سے اس شخص کی ہتک کر بیٹھو جسے خدا نے معزز کیا ہے کیونکہ خدا چاہتا ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام کی عزت کو بلند کرے جو اُس کی ہتک کرتا ہے اور جو اُس کے درجہ کو گھٹاتا ہے ضرور ہے کہ اس کی ہتک کی جائے اور اس کے درجے کو گھٹایا جائے۔ مسیح موعود علیہ السلام کی عزت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت ہے کیونکہ جس کا سپہ سالار بڑے درجہ کا ہو وہ آقا ضرور ہے کہ اور بھی اعلیٰ شان کا ہو۔
    میں تمہیں خدا کی قسم کھا کر جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہتا ہوں کہ میں نے حصولِ خلافت کے لئے کوئی منصوبہ بازی نہیں کی۔ میرے مولیٰ نے پکڑ کر مجھے خلیفہ بنا دیا ہے۔ میں اپنی لیاقت یا خدمت تمہارے سامنے پیش نہیں کرتا کیونکہ میں الٰہی کام کے مقابلہ میں خدمات یا لیاقت کا سوال اُٹھانا حماقت خیال کرتا ہوں اللہ بہتر جانتا ہے کہ کوئی کام کس طرح کرنا چاہیے۔ خدا نے جو کچھ کیا ہے اُسے قبول کرو۔ مجھے کسی عزت کی خواہش نہیں، مجھے کسی رُتبہ کی طمع نہیں، مجھے کسی حکومت کی تڑپ نہیں۔ وہ شخص جو یہ خیال کرتا ہے کہ میں خلافت کا مسئلہ جاہ پسندی کی غرض سے چھیڑتا ہوں نادان ہے اُسے میرے دل کا حال معلوم نہیں۔ میری ایک ہی خواہش ہے اور وہ یہ کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی عظمت پھر قائم ہو جائے او رمیں دیکھتا ہوں کہ یہ ہو نہیں سکتا جب تک کہ اس اسلام کو دنیا کے سامنے نہ پیش کیا جائے جو مسیح موعود دنیا میں لایا۔ مسیح موعود کے بغیر اِس زمانہ میں اسلام مُردہ ہے۔ ہر زمانہ کے لئے ایک شخص مذہب کی جان ہوتا ہے اور اب خداتعالیٰ نے مسیح موعود کو اسلام کی روح قرار دیا ہے۔ پس میں خداتعالیٰ کے ہاتھ میں ایک ہتھیار کی طرح ہوں۔ مجھے دنیا کا لالچ نہیں میرا کام صرف اپنے ربّ کے ذکر کو بلند کرنا ہے اور وہ بھی اپنی لیاقت اور اپنے علم کے زور سے نہیں بلکہ اُن ذرائع سے جو خود اللہ تعالیٰ نے میرے لئے مہیا فرما دیئے۔ پس بدظنیوں کو دور کرو اور خدا کے فیصلہ کو قبول کر لو کہ خداتعالیٰ کا مقابلہ اچھا نہیں ہوتا۔ نادان ہے وہ جو اس کام میں مجھ پر نظر کرتا ہے۔ میں تو ایک پردہ ہوں اسے چاہیے کہ وہ اُس ذات پر نظر کرے جو میرے پیچھے ہے۔ احمق انسان تلوار کو دیکھتا ہے لیکن دانا وہی ہے جو تلوار چلانے والے کو دیکھے کیونکہ لائق شمشیر زن کند تلوار سے وہ کام لے سکتا ہے کہ بے علم تیز تلوار سے وہ کام نہیں لے سکتا۔ پس تم مجھے کند تلوار خیال کرو مگر میں جس کے ہاتھ میں ہوں وہ بہت بڑا شمشیر زن ہے اور اس کے ہاتھ میں میں وہ کام دے سکتا ہوں جو نہایت تیز تلوار کسی دوسرے کے ہاتھ میں نہیں دے سکتی۔
    میں حیران ہوں کہ تمہیں کن الفاظ میں سمجھاؤں مبارک وقت کو ضائع نہ کرو اور جماعت کو پراگندہ کرنے سے ڈرو۔ آؤ کہ اب بھی وقت ہے ابھی وقت گزر نہیں گیا۔ خدا کا عفو بہت وسیع ہے اور اس کا رحم بے اندازہ۔ پس اس کے رحم سے فائدہ اُٹھاؤ اور اس کے غضب کے بھڑکانے کی جرأت نہ کرو۔ مسیح موعود علیہ السلام کا کام ہو کر رہے گا کوئی طاقت اس کو روک نہیں سکتی مگر تم کیوں ثواب سے محروم رہتے ہو خدا کے خزانے کھلے ہیں اپنے گھروں کو بھرلو تا تم اور تمہاری اولاد آرام اور سُکھ کی زندگیاں بسر کریں۔
    خاکسار
    مرزا محمود احمد از قادیان
    ۱؎ النور: ۵۶ ۲؎ البقرۃ: ۳۲ ۳؎ النور: ۵۶
    ۴؎ بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی ﷺ باب قول النبی ﷺ لوکنت متخذا خلیلاً
    ۵؎ بخاری کتاب النکاح باب المرأۃ راعیۃ (الخ)
    ۶؎ طبری جلد۵ صفحہ۷۲ مطبوعہ بیروت ۱۹۸۷ء
    ۷؎ تذکرہ صفحہ۵۳۹۔ایڈیشن چہارم
    ۸؎ طبری جلد۴ صفحہ۴۲ مطبوعہ بیروت ۱۹۸۷ء
    ۹؎ تذکرہ صفحہ۷۳۰،۷۳۱۔ایڈیشن چہارم
    ۱۰؎ تذکرہ صفحہ۷۵۰۔ایڈیشن چہارم
    ۱۱؎ الخصائص الکُبرٰی جلد۲ صفحہ۱۱۵ مکتبہ نوریہ رضویہ لائلپور
    ۱۲؎ حجج الکرامۃ فی اٰثار القیامۃ صفحہ۱۶۷ مطبوعہ بھوپال
    ۱۳؎ حجج الکرامۃ فی اٰثار القیامۃ صفحہ۱۷۱ مطبوعہ بھوپال
    ۱۴؎ الفاتحہ: ۶،۷
    ۱۵؎ دود: دُھواں، دُھند، غبار، بخارات، بھاپ
    ۱۶؎ اندرونی اختلافات سلسلہ احمدیہ کے اسباب صفحہ۱۶
    ۱۷؎ التوبۃ: ۱۱۸
    ۱۸؎ مصئون: محفوظ
    ۱۹؎ مسلم کتاب الاقضیۃ باب الحکم بالظاہر واللحن بالحجۃ
    ۲۰؎ النساء: ۶۶ ۲۱؎ النساء: ۵۹
    ۲۲؎ کنز العمال جلد۵ صفحہ۶۴۸۔ مطبوعہ حلب ۱۹۷۱ء میں یہ الفاظ آئے ہیں ’’لاخلافۃ الاعن مشورۃ‘‘
    ُُؑؑؑؑ؁ٍُْؑؑؑ
    انوارِ خلافت
    (فرمودہ ۲۸؍ دسمبر ۱۹۱۵ء برموقع جلسہ سالانہ)
    تشہّد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے درج ذیل آیات تلاوت فرمائیں۔
    ۱؎
    میں نے آپ لوگوں کے سامنے جو یہاں تشریف لائے ہیں بعض باتیں بیان کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ چنانچہ میں نے نوٹ کر لیا تھا کہ فلاں فلاں بات کہوں گا اور میرا منشاء تھا کہ جس طرح پچھلے جلسہ پر یہ انتظام کیا گیا تھا کہ کچھ امور ایسے بیان کئے جائیں جو جماعت کی اصلاح کے متعلق ہوں اور کچھ ایسے جو روحانیت سے تعلق رکھتے ہوں۔ چنانچہ گزشتہ جلسہ پر میں نے بتایا تھا کہ انسان کی روحانی ترقی کے سات درجے ہیں اور یہ بھی بتایا تھا کہ ان کے حصول کے کیا ذرائع ہیں۔ اِس دفعہ بھی میرا ارادہ تھا کہ ایک دن تو دوسری ضروری باتیں بیان کروں اور دوسرے دن ذکرِ الٰہی اور عبادتِ الٰہی پر کچھ کہوں۔ لیکن کہتے ہیں ’’تدبیر کند بندہ تقدیر زند خندہ‘‘۔ یہ کسی نے تو اپنے رنگ میں کہا ہوگا مگر میں جو کل اپنے ارادہ کو پورا نہیں کر سکا تو معلوم ہوتا ہے کہ یہی خداتعالیٰ کا منشاء ہوگا کیونکہ خداتعالیٰ کے سلسلوں کے کام اُس کی منشاء اور ارادہ کے ماتحت ہوتے ہیں۔ کل جو میں تقریر کرنے لگا تو گو بہت اختصار سے کام لیا اور بہت حصہ مضمون کا کاٹ کر بیان کیا مگر مغرب تک پھر بھی نہ بیان کر سکا اور ایک حصہ رہ ہی گیا جو میرے خیال میں بہت ضروری ہے اور آج وقت بھی مل گیا ہے اس لئے اسی حصہ کو بیان کرتا ہوں۔
    وہ دوسرا حصہ جس کو میں اِس وقت بیان کرنا چاہتا ہوں اس کے متعلق میں نے ایک مختصر سی سورۃ پڑھی ہے جو گو عبارت کے لحاظ سے بہت مختصر ہے لیکن مضامین کے لحاظ سے بہت وسیع باتیں اپنے اندر رکھتی ہے اور حکمت اور معرفت کے بڑے بڑے دریا اس کے اندر بہہ رہے ہیں۔ نیز اس سورۃ میں خداتعالیٰ نے مسلمانوں کو وہ بات بتائی ہے کہ اگر وہ اس پر غوروفکر اور عملدرآمد کرتے تو ان پر وہ ہلاکت اور تباہی کبھی نہ آتی جو آج آئی ہوئی ہے اور نہ مسلمان پراگندہ ہوتے۔ نہ ان کی حکومتیں جاتیں نہ اس قدر کشت و خون کی نوبت پہنچتی اور نہ ان میں تفرقہ پڑتا۔ اور اگر پڑتا تو اتنا جلدی اور اس عمدگی سے زائل ہو جاتا کہ اس کا نام و نشان بھی باقی نہ رہتا۔ لیکن افسوس کہ ان میں وہ تفرقہ پڑا جو باوجود گھٹانے کے بڑھا اور باوجود دبانے کے اُٹھا اور باوجود مٹانے کے اُبھرا اور آخر اِس حد تک پہنچ گیا کہ آج مسلمانوں میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں فرقے موجود ہیں۔ کیونکہ وہ بند جس نے مسلمانوں کو باندھا ہوا تھا کاٹا گیا اور اس کے جوڑنے والا کوئی پیدا نہ ہوا۔ بلکہ دن بدن وہ زیادہ سے زیادہ ہی ٹوٹتا گیا۔ حتیّٰ کہ تیرہ سَو سال کے دراز عرصہ میں جب بالکل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تو خداتعالیٰ نے اپنے پاس سے ایک شخص کو اس لئے بھیجا کہ وہ آ کر اس کو جوڑے۔ اس فرستادۂ خدا سے پہلے کے تمام مولویوں، گدی نشینوں، بزرگوں اور اولیاؤں نے بڑی بڑی کوششیں کیں مگر اکارت گئیں اور اسلام ایک نقطہ پر نہ آیا، پر نہ آیا۔ اور کس طرح آ سکتا تھا جب کہ اس طریق سے نہ لایا جاتا جو خداتعالیٰ نے مقرر کیا تھا یعنی کسی مامور من اللہ کے ذریعے سے۔
    غرض اس سورۃ میں خداتعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک آنے والے فتنہ پر آگاہ فرمایا ہے اور اس سے بچنے کا علاج بھی بتایا ہے۔ اس سورۃ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تاکید کی گئی ہے کہ آپ استغفار کریں۔ چونکہ استغفار کے معنی عام طور پر اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کے ہوتے ہیں اس لئے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ شخص جو دنیا کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے آیا تھا، گمراہ اور بے دین لوگوں کو باخدا بنانے آیا تھا، گناہوں اور بدیوں میں گرفتار شدہ انسانوں کو پاک و صاف کرنے آیا تھا اور جس کا درجہ قرآن شریف میں خداتعالیٰ نے یہ فرمایا ہے ۲؎ سب لوگوں کو کہہ دے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو۔ اس کا یہ نتیجہ ہوگا کہ تم خدا تعالیٰ کے محبوب اور پیارے بن جاؤ گے۔ پھر وہ جس کی نسبت خداتعالیٰ فرماتا ہے ۳؎ کہ اس رسول میں تمہارے لئے پورا پورا نمونہ ہے۔ اگر تم خدا کے حضور مقبول بننا چاہتے ہو، اگر تم خدا سے تعلق پیدا کرنا پسند کرتے ہو تو اِس کا آسان طریق یہ ہے کہ اِس رسول کے اقوال، افعال اور حرکات و سکنات کی پیروی کرو۔ کیا اس قسم کا انسان تھا کہ وہ بھی گناہ کرتا تھا اور اسے بھی اِستغفار کرنے کی ضرورت تھی؟ جس رسول کی یہ شان ہو کہ اس کا ہر ایک قول اور فعل خدا کو پسندیدہ ہو کس طرح ہو سکتا ہے کہ اُس کی نسبت یہ کہا جائے کہ تُو اپنے گناہوں کی معافی مانگ۔ اگر وہ بھی گناہ گار ہو سکتا ہے تو خداتعالیٰ نے اُس کی اتباع کی دوسروں کو کیوں ہدایت فرمائی ہے۔
    ہم اس بات کو ثابت کر سکتے ہیں کہ آپ ہر ایک قسم کی بدی اور گناہ سے پاک تھے۔ یہی تو وجہ ہے کہ خداتعالیٰ نے فرمایا کہ اے لوگو! اگر تمہیں مجھ سے محبت کا دعویٰ ہے اور میرے محبوب بننا چاہتے ہو تو اس کا ایک ہی طریق ہے کہ تم اس رسول کی اتباع کرو۔ ورنہ ممکن نہیں کہ تم میرے قرب کی کوئی راہ پا سکو۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کسی گناہ کا منسوب کرنا تعلیم قرآن کے بالکل خلاف ہے مگر کوئی کہہ سکتا ہے کہ پھر آپ کے متعلق یہ کیوں آیا ہے کہ تو استغفار کر، استغفار کر، یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ انہی الفاظ کو مدنظر رکھ کر عیسائی صاحبان بھی مسلمانوں پر ہمیشہ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ تمہارا رسول گناہ گار تھا کیونکہ قرآن اس کو حکم دیتا ہے کہ تو استغفار کر۔ لیکن ہمارے مسیح کی نسبت قرآن میں یہ کہیں نہیں آیا پس معلوم ہوا کہ تمہارا رسول گناہ کرتا تھا۔ اور بعض جگہ تو تمہارے رسول کی نسبت ذَنْب کا لفظ بھی آیا ہے تو معلوم ہوا کہ تمہارا رسول گناہ گار تھا اور ہمارا مسیح گناہوں سے پاک۔ اس سے ثابت ہو گیا کہ مسیح کا درجہ اس سے بہت بلند ہے۔ اِس اعتراض کے جواب میں مسلمانوں کو بڑی دِقت پیش آئی ہے اور گو اُنہوں نے جواب دینے کی بڑی کوشش کی ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پہلے اس کا جواب دینے میں وہ کامیاب نہیں ہوسکے ۔یہی وجہ تھی کہ ہزارہا مسلمانوں کی اولاد عیسائی ہوگئی اور تو اور سیّدوں کی اولادوں نے بھی بپتسمہ لینا پسند کر لیا اور وہ اب سٹیجوں پر کھڑے ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے ہیں۔ غرض ان الفاظ کی وجہ سے نادانوں نے دھوکا کھایا اور بجائے اس کے کہ عیسائیوں کو جواب دیتے خود عیسائی بن گئے۔ قرآن شریف پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اُن معنوں کے لحاظ سے استعمال نہیں کیا گیا جن معنوں میں عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ آپ کے متعلق اور معنوں میں استعمال ہوا ہے اور یہ بات اس طرح معلوم ہوتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ذَنْب کا لفظ قرآن شریف میں تین جگہ آیا ہے۔ اوّل سورہ مؤمن میں جہاں خداتعالیٰ فرماتا ہے۔ ۴؎ دوم سورہ محمد میں یوں آیا ہے۔ ۵؎ سوم سورہ فتح میں آیا ہے ۶؎
    اسی طرح بعض جگہ پر استغفار کا لفظ آپ کی نسبت استعمال ہوا ہے جیسا کہ اسی سورۃ میں جو میں نے ابھی پڑھی ہے۔ ان سب جگہوں پر اگر ہم غور کریں تو ایک ایسی عجیب بات معلوم ہوتی ہے جو سارے اعتراضوں کو حل کر دیتی ہے اور وہ یہ کہ ان سب جگہوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کے ہلاک ہونے اور آپ کی فتح کا ذکر ہے۔ پس اس جگہ بِالطبع یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ کی فتح اور آپ کے دشمنوں کی مغلوبیت کے ساتھ گناہ کا کیا تعلق ہے۔ اور یہی بات ہے جس کے بیان کرنے کیلئے میں نے یہ سورۃ پڑھی ہے اور جس سے ہمیں اقوام کے تنزل و ترقی کے قواعد کا علم ہوتا ہے۔ بعض لوگوں نے ان آیات کے یہ معنی کئے ہیں کہ خداتعالیٰ آپ کو یہ فرماتا ہے کہ اب تمہاری فتح ہوگئی اور تمہارے دشمن مغلوب ہوگئے اس لئے تمہارے دنیا سے رخصت ہونے کا وقت آگیا ہے پس تو توبہ اور استغفار کر کیونکہ تیری موت کے دن قریب آ گئے ہیں۔ اور گو یہ استدلال درست ہے لیکن ان معنوں پر بھی وہ اعتراض قائم رہتا ہے کہ آپ نے کوئی گناہ کئے ہی ہیں اسی لئے توبہ کا حکم ہوتا ہے۔
    میں نے جب ان آیات پر غور کیا تو خداتعالیٰ نے مجھے ایک عجیب بات سمجھائی اور وہ یہ کہ جب کسی قوم کو فتح حاصل ہوتی ہے اور مفتوح قوم کے ساتھ فاتح قوم کے تعلقات قائم ہوتے ہیں تو ان میں جو بدیاں اور بُرائیاں ہوتی ہیں وہ فاتح قوم میں بھی آنی شروع ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فاتح قوم جن مُلکوں سے گزرتی ہے ان کے عیش و عشرت کے جذبات اپنے اندر لیتی جاتی ہے۔ اور چونکہ عظیم الشان فتوحات کے بعد اس قدر آبادی کے ساتھ فاتح قوم کا تعلق ہوتا ہے جو فاتح سے بھی تعداد میں زیادہ ہوتی ہے اس لئے اس کو فوراً تعلیم دینا اور اپنی سطح پر لانا مشکل ہوتا ہے اور جب فاتح قوم کے افراد مفتوح قوم میں ملتے ہیں تو بجائے اُس کو نفع پہنچانے کے خود اس کے بداثرات سے متأثر ہو جاتے ہیں جس کا نتیجہ رفتہ رفتہ نہایت خطرناک ہوتا ہے۔ جب اسلام کی فتوحات کا زمانہ آیا تو اسلام کیلئے بھی یہی مشکل درپیش تھی گو اسلام ایک نبی کے ماتحت ترقی کر رہا تھا لیکن نبی باوجود نبی ہونے کے پھر انسان ہی ہوتا ہے اور انسان کے تمام کام خواہ کسی حد تک وسیع ہوں محدود ہی ہوتے ہیں۔ ایک استاد خواہ کتنا ہی لائق ہو اور ایک وقت میں تیس چالیس نہیں بلکہ سَو سَوا سَو لڑکوں تک کو بھی پڑھا سکتا ہو لیکن اگر اس کے پاس ہزار دو ہزار لڑکے لے آئیں تو نہیں پڑھا سکے گا۔ رسول بھی استاد ہی ہوتے ہیں جیسا کہ قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت آیا ہے ۷؎ کہ اس رسول کا یہ کام ہو کہ وہ خداتعالیٰ کی آیتیں لوگوں کو سنائے کتاب کی تعلیم دے اور ان کو پاک کرے۔ غرض نبی ایک استاد ہوتا ہے اس کا کام تعلیم دینا ہوتا ہے۔ اس لئے وہ تھوڑے لوگوں کو ہی دے سکتا ہے کیونکہ لاکھوں اور کروڑوں انسانوں کو سبق دینا اور پھر یاد بھی کروا دینا کسی انسان کا کام نہیں ہو سکتا۔ پس جب کسی کے سامنے لاکھوں اور کروڑوں انسانوں کی جماعت سبق لینے کے لئے کھڑی ہو تو ضرور ہوگا کہ اس کی تعلیم میں نقص رہ جائے اور پوری طرح علم نہ حاصل کر سکے۔ یا یہ ہوگا کہ بعض تو پڑھ جائیں گے اور بعض کی تعلیم ناقص رہ جائے گی اور بعض بالکل جاہل کے جاہل ہی رہ جائیں گے اور کچھ تعلیم نہ حاصل کر سکیں گے۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب فتوحات پر فتوحات ہونی شروع ہوئیں اور بے شمار لوگ آپ کے پاس آنے لگے تو ان کے دل میں جو بڑا ہی پاک دل تھا یہ گھبراہٹ پیدا ہوئی کہ ان تھوڑے سے لوگوں کو تو میں اچھی طرح تعلیم دے لیتا، قرآن سکھا سکتا تھا (چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بڑی پابندی سے صحابہ کو قرآن سکھاتے تھے) لیکن یہ جو لاکھوں انسان اسلام میں داخل ہو رہے ہیں ان کو میں کس طرح تعلیم دوں گا۔ اور مجھ میں جو بوجہ بشریت کے یہ کمزوری ہے کہ اتنے کثیر لوگوں کو تعلیم نہیں دے سکتا اس کا کیا علاج ہوگا۔ اس کا جواب سورۃ نصر میں خداتعالیٰ نے یہ دیا کہ اس میں شک نہیں کہ جب فتح ہوگی اور نئے نئے لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہوں گے تو ان میں بہت سی کمزوریاں ہوں گی اور یہ بھی سچ ہے کہ وہ سب کے سب تجھ سے تعلیم نہیں پا سکتے مگر ان کو تعلیم دلانے کا یہ علاج ہے کہ تو خدا سے دعا مانگے کہ اے خدا! مجھ میں بشریت کے لحاظ سے یہ کمزوری ہے کہ اتنے لوگوں کو تعلیم نہیں دے سکتا تُو میری اس کمزوری کو ڈھانپ دے اور وہ اس طرح کہ ان سب لوگوں کو خود ہی تعلیم دے دے اور خود ہی ان کو پاک کر دے۔ پس یہی وہ بات ہے جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو استغفار کرنے کا ارشاد ہوا ہے۔ ذنب کے معنی ایک زائد چیز کے ہیں اور غفر ڈھانکنے کو کہتے ہیں۔ اس سے خداتعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات سکھائی ہے کہ تم یہ کہو کہ میں اِس قدر لوگوں کو کچھ نہیں سکھا سکتا پس آپ ہی ان کو سکھائیے اور میری اس انسانی کمزوری کو ڈھانپ دیجئے۔
    دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ابتدائی زمانہ میں ایک ایک سے اپنے ہاتھ پر ہاتھ رکھا کر بیعت لیتے تھے پھر ترقی ہوئی تو لوگ ایک دوسرے کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت کرنے لگے۔ پھر حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے زمانہ میں تو پگڑیاں پھیلا کر بیعت ہوتی تھی اور اب بھی اِسی طرح ہوتی ہے۔ تو ایک آدمی ہر طرف نہیں پہنچ سکتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کوئی مسلمان یمن میں تھا کوئی شام میں، کوئی عراق میں تھا کوئی بحرین میں اور کوئی نجد میں تھا اس لئے نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر ایک کے پاس پہنچ سکتے تھے اور نہ وہ آپ تک آ سکتے تھے۔ جب حالت یہ تھی تو ضرور تھا کہ آپ کی تعلیم میں نقص رہ جاتا لیکن آپ کا دل کبھی یہ برداشت نہ کر سکتا تھا اس لئے آپ کو حکم ہوا کہ خدا سے دعا کرو کہ اے خدا! اب یہ کام میرے بس کا نہیں اس لئے تو ہی اسے پورا کر ۔کیونکہ شاگرد بہت ہیں اور میں اکیلا مدرّس ہوں مجھ سے ان کی تعلیم کا پورا ہونا مشکل ہے۔ آجکل تو سکولوں میں یہ قاعدہ ہو گیا ہے کہ ایک استاد کے پاس چالیس یا پچاس سے زیادہ لڑکے نہ ہوں اور اس سے زیادہ لڑکوں کو جماعت میں داخل نہ کیا جائے اور اگر کیا جائے تو ایک اور استاد رکھا جائے کیونکہ افسرانِ تعلیم جانتے ہیں کہ اگر ایک جماعت میں بہت زیادہ لڑکے ہوں اور ایک اکیلا استاد پڑھانے والا ہو تو لڑکوں کی تعلیم ناقص رہ جاتی ہے۔ چنانچہ جن سکولوں میں بہت سے لڑکے ہوتے ہیں اور ایک استاد، وہاں کے لڑکوں کی تعلیمی حالت بہت کمزور ہوتی ہے کیونکہ زیادہ لڑکوں کی وجہ سے استاد ہر ایک کی طرف پوری پوری توجہ نہیں کر سکتا ۔تو چونکہ فتح کے وقت لاکھوں انسان مسلمان ہو کر اسلام میں داخل ہوتے تھے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خطرہ دامن گیر ہوا کہ مسلمان تعلیم میں ناقص نہ رہ جائیں۔ خداتعالیٰ نے آپ کو اس کے متعلق یہ گُر بتا دیا کہ خدا کے آگے گر جاؤ اور اُسی کو کہو کہ آپ ہی اس کام کو سنبھالے کہ میری طاقت سے تو اس کا سنبھالنا باہر ہے۔
    پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق استغفار کا لفظ اسی لئے استعمال کیا گیا ہے کہ آپؐ کو اس بات کی طرف متوجہ کیا جائے کہ اسلام میں کثرت سے داخل ہونے والے لوگوں کی تعلیم و تربیت کے لئے آپؐ خداتعالیٰ سے دعا کریں اور التجا کریں کہ اب لوگوں کے کثرت سے آنے سے جو بدنتائج نکلیں گے ان سے آپ ہی بچائیے اور ان کو خود ہی دور کر دیجئے ۔ اور آپؐ کا لاکھوں انسانوں کو ایک ہی وقت میں پوری تعلیم نہ دے سکنا کوئی گناہ نہیں بلکہ بشریت کا تقاضا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آپ کی نسبت ذَنْبکا لفظ استعمال تو ہوا ہے لیکن جناح کا لفظ کبھی استعمال نہیں ہوا۔ گناہ اسے کہتے ہیں کہ خداتعالیٰ کی دی ہوئی طاقت اور قوت کے باوجود اس کے حکم کی فرمانبرداری نہ کی جائے اور وہ بات جس کی خداتعالیٰ کی طرف سے طاقت ہی نہ دی جائے اس کا نہ کر سکنا گناہ نہیں ہوتا بلکہ وہ بشری کمزوری کہلاتی ہے۔ مثلاً ایک شخص بیمار ہو جاتا ہے تو یہ اس کا گناہ نہیں بلکہ ایک کمزوری ہے جو بشریت کی وجہ سے اسے لاحق ہے۔ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ گناہ نہ تھاکہ آپؐ اس قدر زیادہ لوگوں کو پڑھا نہ سکتے تھے بلکہ خداتعالیٰ نے ہی آپؐ کو ایسا بنایا تھا اور آپؐ کے ساتھ یہ ایسی بات لگی ہوئی تھی جو آپ ؐکی طاقت سے بالا تھی اس لئے آپؐ کو بتایا گیا کہ آپؐ خداتعالیٰ کے حضور کثرتِ طلباء کی وجہ سے جو نقص تعلیم میں ہونا تھا اس کے دور کرنے کے لئے دعا کریں۔
    پس ان تمام آیات سے پتہ لگتا ہے کہ ان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گناہ کا اظہار نہیں ہے بلکہ ایک بشری کمزوری کے بد نتائج سے بچنے کی آپؐ کو راہ بتائی گئی ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ آپ ؐکے وقت کثرت سے لوگ ایمان لے آئے مگر ابتلاؤں اور فتنوں کے وقت ان کا ایمان خراب نہ ہوا اور وہ اس نعمت سے محروم نہ ہوئے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو لوگ ایمان لائے تھے آپ کے بعد گو ان میں سے بھی کچھ مرتد ہوگئے مگر جھٹ پٹ ہی واپس آ گئے اور ان فتنہ و فسادوں میں شامل نہ ہوئے جو اسلام کو تباہ کرنے کے لئے شریروں اور مفسدوں نے برپا کئے تھے۔ چنانچہ حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں جو بہت بڑا فساد ہوا اس میں عراق، مصر، کوفہ اور بصرہ کے لوگ تو شامل ہوگئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایمان لائے تھے لیکن یمن، حجاز اور نجد کے لوگ شامل نہ ہوئے۔ یہ وہ ملک تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں فتح ہوئے تھے۔ جانتے ہو اس کی کیا وجہ ہے کہ وہ خفیہ منصوبے جو مسلمانوں کی تباہی کا موجب ہوئے ان میں وہ ممالک تو شامل ہوگئے جو آپ ؐکی وفات کے بعد فتح ہوئے مگر وہ ملک شامل نہ ہوئے جو آپؐ کے زمانہ میں فتح ہوئے تھے۔ اس کی یہی وجہ ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے کہ خداتعالیٰ نے ان مُلکوں کے لوگوں کی جو آپ کے زمانہ میں اسلام لائے تھے بُرائیاں اور بدیاں دور کر دی تھیں۔ لوگ تو کہتے ہیں کہ امیر معاویہؓ کا زور اور طاقت تھی کہ شام کے لوگ اِس فتنہ میں شامل نہ ہوئے لیکن میں کہتا ہوں کہ یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی کراُمت تھی کہ وہ لوگ حضرت عثمانؓ کے خلاف نہیں اُٹھے تھے۔ کیونکہ گو یہ مُلک آپؐ کے زمانہ میں فتح نہ ہوا لیکن آپؐ نے اس پر بھی چڑھائی کی تھی۔ جس کا ذکر قرآن شریف کی سورہ توبہ میں ان تین صحابہؓ کا ذکر کرتے ہوئے جو اس سفر میں شامل نہ ہوئے تھے آیا ہے۔ پس شام کا اس فتنہ میں شامل نہ ہونا امیر معاویہؓ کی دانائی کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ اس لئے تھا کہ وہاں اسلام کا بیج رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بویا گیا اور اس سرزمین میں آپؐ نے اپنا قدم مبارک ڈالا تھا۔ پس خداتعالیٰ نے آپؐ کی دعاؤں میں اس مُلک کو بھی شامل کر لیا ۔ اتنے بڑے فتنہ میں اِس قدر صحابہؓ میں سے صرف تین صحابہ کے شامل ہونے کا پتہ لگتا ہے اور ان کی نسبت بھی ثابت ہے کہ صرف غلط فہمیوں کی وجہ سے شامل ہوگئے تھے اور بعد میں توبہ کر لی تھی تو یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایسی خصوصیت ہے جو کسی اور نبی کو حاصل نہیں ہوئی۔ اس لئے جہاں آپؐ کی فتح کا ذکر آیا ہے وہاں ساتھ ہی استغفار کا حکم بھی آیا ہے جوآپؐ کو اس طرف متوجہ کرنے کے لئے تھا کہ دیکھنا ہم آپؐ کو بہت بڑی فتح اور عزت دینی چاہتے ہیں اور بے شمار لوگوں کو آپؐ کے ساتھ شامل کرنا چاہتے ہیں۔ پس یاد رکھو کہ جب تمہارے بہت سے شاگرد ہو جائیں تو تم خدا کے حضور گرِ جانا اور کہنا کہ الٰہی! اب کام انسانی طاقت سے بڑھتا جاتا ہے آپ خود ہی ان نوواردوں کی اصلاح کر دیجئے۔ ہم آپ کی دعا قبول کریں گے اور ان کی اصلاح کر دی جائے گی اور ان کی کمزوریوں اور بدیوں کو دور کر کے ان کو پاک کر دیا جائے گا۔ لیکن ان سب باتوں کو ملانے سے جہاں ایک طرف یہ اعتراض مٹ جاتا ہے کہ آپؐ کسی گناہ کے مرتکب نہیں ہوئے وہاں دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت ایک قوم ترقی کرتی اور کثرت سے پھیلتی ہے وہی زمانہ اُس کے تنزّل اور انحطاط کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خداتعالیٰ نے فتح کے ساتھ ہی استغفار کا ارشاد فرمایا ہے کیونکہ کسی قوم کے بڑھنے اور ترقی کرنے کا جو وقت ہوتا ہے وہی وقت اُس کے تنزّل کے ا سباب کو بھی پیدا کرتا ہے اور جب کوئی قوم بڑھ جاتی ہے اُسی وقت اس میں فساد اور فتنے بھی شروع ہو جاتے ہیں۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ قوم میں ایسے لوگ آ جاتے ہیں جو نبی کی خدمت اور صحبت میں نہیں رہے ہوتے ،اچھی طرح بدآلائشوں سے پاک و صاف نہیں ہوتے اور جنہیں وہ مشکلات پیش نہیں آئی ہوتیں جو خداتعالیٰ نے اپنے پیارے بندوں کو پاک کرنے کے لئے مقرر فرمائی ہوئی ہیں اس لئے وہ فتنہ و فساد پیدا کرتے ہیں اور قوم کو تباہی کے گھاٹ اُتارنا چاہتے ہیں۔
    آپ لوگ اس مضمون کو غور سے سنیں اس کا کچھ حصہ علمی اور تاریخی ہے اس لئے ممکن ہے کہ بعض کو مشکل معلوم ہو لیکن یہ وہ بات ہے اور میں کامل یقین سے کہتا ہوں یہ وہ بات ہے جو خداتعالیٰ نے قرآن شریف میں تو بیان فرمائی ہے لیکن آج تک کسی نے اسے قرآن شریف سے سیکھ کر بیان نہیں کیا۔ مجھے خداتعالیٰ نے سکھائی ہے اور اس بات کا موقع دیا ہے کہ آپ لوگوں کو سناؤں۔ پس جو شخص اسے سُنے گا اور پھر اس پر عمل کرے گا وہ کامیاب اور بامراد ہو جائے گا اور جو نہیں سُنے گا اور عمل نہیں کرے گا وہ یاد رکھے کہ ایسے ایسے فتنے آنے والے ہیں کہ جن کے ساتھ یہ فتنہ جو اس وقت برپا ہوا ہے کچھ مقابلہ ہی نہیں کر سکتا ۔ کیا یہ فتنہ تم کو یاد نہیں ہے اور تم نے نہیں دیکھا کہ اس کے بانیوں نے کس قدر زور سے کیا مگر انہیں کیا حاصل ہوا ؟ کچھ بھی نہیں۔ آج یہ نظارہ دیکھ لو اور لاہور جا کر بھی دیکھ لو باوجود اس کے کہ بیعت کے وقت وہ زیادہ تھے اور ہم تھوڑے لیکن خداتعالیٰ نے ظاہر کر دیا ہے کہ ان کی کچھ بھی پیش نہیں گئی پس یہ وہ فتنہ نہیں ہے جو جماعتوں کی تباہی اور ہلاکت کا موجب ہوا کرتا ہے۔ وہ وہ فتنہ ہوتا ہے جو سمندر کی لہروں کی طرح آتا ہے اور خس و خاشاک کی طرح قوموں کو بہا کر لے جاتا ہے۔
    پس اس فتنہ سے خداتعالیٰ کی رحمت اور فضل کے بغیر کوئی بچ نہیں سکتا۔ ہم سے پہلے بہت سی جماعتوں نے اس کے تلخ تجربے کئے ہیں۔ پس مبارک ہے وہ جو ان کے تجربوں سے فائدہ اُٹھائے اور افسوس ہے اُس پر جس نے پہلوں کے تجربہ سے فائدہ نہ اُٹھایا اور چاہا کہ خود تجربہ کرے۔ دیکھو! سنکھیا ایک زہر ہے اور اس کو ہر ایک زہر جانتا ہے۔ـ کیوں؟ اس لئے کہ بہت سے لوگوں نے جب اِس کو کھایا تو مر گئے۔ اس کے متعلق اب کوئی یہ نہیں کہتا کہ میں اسے اُس وقت تک زہر نہیں کہوں گا جب تک کہ خود تجربہ کر کے نہ دیکھ لوں۔ لیکن کیسا افسوس ہوگا اُس شخص پر جو خود تجربۃً سنکھیا کھائے کیونکہ اس کا انجام سوائے اس کے کچھ نہیں ہوگا کہ مرے۔ تم لوگ بھی اِس بات کا تجربہ کرنے کا خیال دل میں نہ لاؤ جس کا تجربہ تم سے پہلے لوگ کرچکے ہیں کیونکہ ان تجربات کا نتیجہ ایسا خطرناک تھا کہ اگر جوان سنے تو بوڑھا ہو جائے اور اگر سیدھی کمر والا سنے تو اس کی کمر ٹیڑھی ہو جائے اور اگر کالے بالوں والا سنے تو اس کے بال سفید ہو جائیں۔ وہ بہت تلخ اور کڑوے تجربے تھے اور از حد دل ہِلا دینے والے واقعات تھے وہ نہایت پاک روحوں کے، شریروں اور بدباطنوں کے ہاتھ سے قتل کے نظارے تھے۔ وہ ایسے درد انگیز حالات تھے کہ جن کو سن کر مؤمن کا دل کانپ جاتا ہے اور وہ ایسے روح فرسا منظر تھے کہ جن کو آنکھوں کے سامنے لانے سے کلیجہ پھٹنے لگتا ہے۔ انہی کی سزا میں مسلمانوں میں اس قدر فتنہ اور فساد پڑا کہ جس نے انہیں تباہ کر دیا۔ حضرت عثمانؓ کو جو آدمی قتل کرنے آئے تھے اُن کو آپ نے فرمایا کہ اگر تم میرے قتل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یاد رکھنا کہ مسلمان جو اِس وقت اِس طرح پیوستہ ہیں جیسے دو کنگھیوں کے دندانے ہوتے ہیں بالکل جُدا ہو جائیں گے اور ایسے جدا ہوں گے کہ قیامت تک انہیں کوئی نہ اکٹھا کر سکے گا۔
    حضرت عبداللہ بن سلامؓ نے بھی اس فتنہ کے بانیوں سے بیان کیا کہ میں نے بنی اسرائیل کی بعض کتب میں دیکھا ہے کہ ایک نبی ہوگا اس کے بعد اس کے خلفاء ہوں گے اس کے خلیفہ ثالث کے خلاف لوگ فساد کریں گے اگر وہ اس کے مارنے پر کامیاب ہوگئے تو اس کی سزا ان کو یہ دی جائے گی کہ وہ ہمیشہ کے لئے پراگندہ کر دیئے جائیں گے اور پھر کوئی تدبیر ان کو جمع نہ کر سکے گی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ یہ فتنہ اتنا پھیلا ا تنا پھیلا کہ سوائے مسیح موعود علیہ السلام کے کوئی اس کو روک نہ سکا اور مسلمان جو ٹوٹ چکے تھے انہیں کوئی نہ جوڑ سکا۔ پس تم لوگ یاد رکھو کہ آنے والا فتنہ بہت خطرناک ہے اس سے بچنے کے لئے بہت بہت تیاری کرو۔ پہلوں سے یہ غلطیاں ہوئیں کہ اُنہوں نے ایسے لوگوں کے متعلق حسن ظنی سے کام لیا جو بدظنیاں پھیلانے والے تھے۔ حالانکہ اسلام اُس کی حمایت کرتا ہے جس کی نسبت بدظنی پھیلائی جاتی ہے اور اُس کو جھوٹا قرار دیتا ہے جو بدظنی پھیلاتا ہے اور جب تک کہ باقاعدہ تحقیقات پر کسی شخص پر کوئی الزام ثابت نہ ہو اُس کا پھیلانے والا اور لوگوں کو سنانے والا اسلام کے نزدیک نہایت خبیث اور متفنی ہے۔
    پس تم لوگ تیار ہو جاؤ تا کہ تم بھی اس قسم کی کسی غلطی کا شکار نہ ہو جاؤ کیونکہ اب تمہاری فتوحات کا زمانہ آ رہا ہے اور یاد رکھو کہ فتوحات کے زمانہ میں ہی تمام فسادات کا بیج بویا جاتا ہے۔ جو اپنی فتح کے وقت اپنی شکست کی نسبت نہیں سوچتا اور اقبال کے وقت ادبار کاخیال نہیں کرتا اور ترقی کے وقت تنزّل کے اسباب کو نہیں مٹاتا اس کی ہلاکت یقینی اور اس کی تباہی لازمی ہے۔ نبیوں کی جماعتیں بھی اس فساد سے خالی نہیں ہوتیں اور وہ بھی جب ترقی کرتی ہیں اور ایسے لوگ ان میں داخل ہوتے ہیں جنہوں نے نبی کی صحبت نہیں پائی ہوتی اور ان کا ایمان اتنا مضبوط نہیں ہوتا جتنا ان لوگوں کا ہوتا ہے جو نبی کی صحبت میں رہے ہوتے ہیں اور جن کی تربیت بوجہ اس کے کہ وہ جماعت در جماعت آکر داخل ہوئے ہوتے ہیں نامکمل ہوتی ہے تو ان میں بھی فساد شروع ہو جاتا ہے جو آخر کار اِن کو مختلف جماعتوں میں تقسیم کر کے ان کے اتحاد کو توڑ دیتا ہے یا ان کی جڑ کو ایسا کھوکھلا کر دیتا ہے کہ آئندہ ان کی روحانی طاقتیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ ہماری جماعت کی ترقی کا زمانہ بھی خداتعالیٰ کے فضل سے بہت قریب آ گیا ہے اور وہ دن دور نہیں جب کہ افواج درافواج لوگ اس سلسلہ میں داخل ہوں گے۔ مختلف مُلکوں سے جماعتوں کی جماعتیں داخل ہوں گی اور وہ زمانہ آتا ہے کہ گاؤں کے گاؤں اور شہر کے شہر احمدی ہوں گے اور ابھی سے مختلف اطراف سے خوشخبری کی ہوائیں چل رہی ہیں اور جس طرح خدا کی یہ سنت ہے کہ بارش سے پہلے ٹھنڈی ہوائیں چلاتا ہے تاکہ غافل لوگ آگاہ ہو جائیں اور اپنے مال و اسباب کو سنبھال لیں اسی طرح خداتعالیٰ نے ہماری ترقی کی ہوائیں چلا دی ہیں پس ہو شیار ہو جاؤ۔ آپ لوگوں میں سے خدا کے فضل سے بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت پائی ہے ، آپ کے منہ سے باتیں سنی ہیں ، آپ سے ہم کلامی کا شرف حاصل کیا ہے۔ ان کا فرض ہے کہ وہ آنے والوں کے لئے ہدایت اور راہنمائی کا باعث ہوں۔ کیونکہ کوئی ایک شخص بہتوں کو نہیں سکھا سکتا۔ دیکھو اسی جلسہ پر خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنے لوگ آئے ہیں کہ ان سب تک مشکل سے میری آواز پہنچ سکتی ہے مگر جب لاکھوں اور کروڑوں انسان آئے تو انہیں کون ایک شخص سنا سکے گا۔ لیکن بتلاؤ اگر ایک ہی سنانے والا ہوا تو یہ کیسا دردناک نظارہ ہوگا کہ کچھ لوگ تو سن رہے ہوں گے اور کچھ لوگ پکوڑے کھا رہے ہوں گے۔ وہ سنیں گے کیا اور یہاں سے لے کر جائیں گے کیا۔ وہ اس اطاعت سے واقف نہ ہوں گے جو انبیاء لوگوں کے دلوں میں پیدا کرتے ہیں۔ وہ یہ نہیں جانتے ہوں گے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تقریر فرما رہے تھے آپؐ نے لوگوں کو فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔ عبداللہ بن مسعودؓ ایک گلی میں چلے آ رہے تھے آپؐ کی آواز اُنہوں نے وہاں ہی سنی اور وہیں بیٹھ گئے۔ کسی نے پوچھا آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں وہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریر ہو رہی ہے وہاں کیوں نہیں جاتے ؟ اُنہوں نے کہا میرے کان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز آئی ہے کہ بیٹھ جاؤ پس میں یہیں بیٹھ گیا۔ ۸؎
    پھر ان کے سامنے یہ نظارہ نہ ہوگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تین شخص آئے ایک کو آگے جگہ مل گئی وہ وہاں جا کر بیٹھ گیا ۔ دوسرے کو آگے جگہ نہ ملی وہ جہاں کھڑا تھا وہیں بیٹھ گیا۔ تیسرے نے خیال کیا کہ یہاں آواز تو آتی نہیں پھر ٹھہرنے سے کیا فائدہ وہ واپس چلا گیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ ایک نے تمہاری مجلس میںقُرب حاصل کرنے کے لئے کوشش اور محنت کی اور آگے ہو کر بیٹھ گیا خداتعالیٰ نے بھی اسے قریب کیا۔ـ ایک اور آیا اُس نے کہا اب مجلس میں آ گیا ہوں اگر اچھی جگہ نہیں ملی تو نہ سہی وہیں بیٹھ گیا اور اس نے واپس جانا مناسب نہ سمجھا خدا نے بھی اس سے چشم پوشی کی۔ ایک اور آیا اسے جگہ نہ ملی اور وہ واپس پھر گیا خداتعالیٰ نے بھی اس سے منہ پھیر لیا۔ ۹؎
    اس قسم کی باتیں نبیوں کی ہی صحبت میں رہ کر حاصل ہو سکتی ہیں لیکن اُنہوں نے اس قسم کے نظارے نہ دیکھے ہوں گے ۔ پھر اُنہوں نے وہ محبت کی گھڑیاں نہ دیکھی ہوں گی جو آپ نے دیکھی ہیں۔ اُنہوں نے اطاعت اور فرمانبرداری کے وہ مزے نہ اُٹھائے ہوں گے جو آپ نے اُٹھائے ہیں۔ انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وہ پیار نہ ہوگا جو آپ لوگوں کو ہے۔ اُنہوں نے وہ نشانات نہ دیکھے ہوں گے جو آپ لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ رہ کر دیکھے ہیں۔ انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ پیار اور محبت سے دیکھنا اور باتیں کرنا نصیب نہ ہوگا جو آپ لوگوں کو ہوا ہے۔ ان کے دلوں میں اطاعت اور فرمانبرداری کا وہ جوش نہ ہوگا جو آپ لوگوں کے دلوں میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جن کے سینے خداتعالیٰ خاص طور پر خود کھول دے۔ اس میں شک نہیں کہ صحابہ کرامؓ کے بعد بھی ایسے لوگ ہوئے ہیں جنہوں نے پہلوں کی طرح ایمان اور یقین حاصل کر لیا تھا اور ان جیسی ہی صفات بھی پیدا کر لی تھیں۔ مثلاً امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ، امام ابوحنیفہؒ، شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ، شہاب الدین سہروردیؒ، معین الدین چشتیؒ وغیرہم۔ ان لوگوں نے محنتیں اور کوششیں کیں اس لئے ان کے دل پاک ہو گئے۔ مگر جس کثرت سے صحابہؓ میں ایسے لوگ تھے اس کثرت سے بعد میں نہ ہو سکے۔ بلکہ بعد میں کثرت ان لوگوں کی تھی جن میں بہت سے نقص موجود تھے اور قلت ان کی تھی جو صحابہؓ جیسی صفات رکھتے تھے۔لیکن صحابہؓ کے وقت کثرت کامل ایمان والوں کی تھی۔ ہماری جماعت میں اِس وقت خدا کے فضل سے کثرت ان لوگوں کی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں رہے اورقلت ان کی ہے جو بعد میں آئے لیکن یہ کثرت ایسی ہے جو دن بدن کم ہوتی جارہی ہے۔ میرا مطلب اِس تقریر سے یہ نہیں کہ نبی کے بعد اعلیٰ درجہ کے لوگ ہوتے ہی نہیں۔ نہیں اعلیٰ درجہ کے لوگ ہوتے ہیں اور ضرور ہوتے ہیں جیسا کہ ابھی میں نے بعض آدمیوں کے نام لئے ہیں جنہوں نے صحابہؓ کے بعد بڑا درجہ حاصل کیا۔ اپنی جماعت کے متعلق بھی آج ہی ایک شخص نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ کیا بعد میں آنے والے وہ درجہ پا سکتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت پانے والوں نے پایا! تو میں نے اسے جواب دیا کہ ہاں وہ درجہ پا سکتے ہیں۔ پس اس تقریر کا یہ مطلب نہیں کہ میں بعد میں آنے والے لوگوں کو مایوس کروں بلکہ میرا مطلب تمہیں اور اُن کو ہوشیار کرنا ہے۔ تمہیں اس لئے کہ تا تم آنے والوں کی تعلیم کا فکر کرو اور اُنہیں اس لئے تا وہ جان لیں کہ ان کے راستہ میں بہت سی مشکلات ہیں وہ ان پر غالب آنے کی تدبیر کریں۔ ورنہ یہ عقیدہ کہ نبی کی جماعت کے بعد کوئی ان کے درجہ کو پا ہی نہیں سکتا ایک غلط اور باطل عقیدہ ہے جو جھوٹی محبت سے پیدا ہوا ہے۔ صحابہؓ کے بعد بڑے بڑے مخدوم ، بڑے بڑے بزرگ اور بڑے بڑے اولیاء اللہ گزرے ہیں جن کی نسبت ہم ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ وہ سب کے سب ہر ایک اس شخص سے روحانیت میں ادنیٰ تھے جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت خواہ ایک دن ہی پائی ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ جو صحابہؓ میں اعلیٰ درجہ رکھتا ہے وہ ان بعد میں آنے والوں سے اعلیٰ ہے لیکن وہ جو ان میں ادنیٰ ہے اس سے بعد میں آنے والوں کا اعلیٰ طبقہ اعلیٰ ہے۔ ہاں سب صحابہؓ کو یہ ایک جُزوی فضیلت حاصل ہے کہ اُنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دیکھا جس کے لئے اب اگر کوئی ساری دنیا کی سلطنت بھی دینے کو تیار ہو جائے تو حاصل نہیں کر سکتا۔ یہی بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہؓ کے متعلق ہے۔
    غرض وہ وقت آتا ہے کہ ایسے لوگ اس سلسلہ میں شامل ہوں گے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت نہ پائی ہوگی اور اس کثرت سے ہوں گے کہ ان کو ایک آدمی تقریر نہیں سنا سکے گا اس لئے اُس وقت بہت سے مدرسوں کی ضرورت ہوگی اور پھر اس بات کی بھی ضرورت ہوگی کہ ایک شخص لاہور میں ایک امرتسر میں بیٹھا سنائے اور لوگوں کو دین سے واقف کرے اور احکامِ شرع پر چلائے تا کہ تمام جماعت صحیح عقائد پر قائم رہے اور تفرقہ سے بچے۔
    کل میں نے آپ لوگوں کو یہ بتایا تھا کہ علم ایک بہت اچھی چیز ہے اس کو حاصل کرنے کے لئے کوشش کرو لیکن آج بتاتا ہوں کہ علم بغیر خشیت اور تقویٰ کے ایک *** ہے اور ایسا علم بہت دفعہ حجابِ اکبر ثابت ہوا ہے۔ دیکھو مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی ایک عالم آدمی ہیں لیکن حضرت مسیح موعودعلیہ السلام پر وہ ایمان نہ لائے بلکہ اُنہوں نے کہہ دیا کہ میں نے ہی مرزا کو بڑھایا تھا اور میں ہی گھٹاؤں گا۔ گویا اُنہوں نے اپنے علم کے گھمنڈ پر سمجھا کہ کسی کو میں ہی بڑھا سکتاہوں اور میں ہی گھٹاسکتا ہوں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے پہلے ایک شخص شرک کے خلاف تعلیم دیا کرتا تھا۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو کسی شخص نے اسے اسلام کی تلقین کی۔ اس نے جواب دیا کہ شرک کے مٹانے میں جو محنت اور کوشش میں نے کی ہے وہ اور کسی نے نہیں کی پس اگر کوئی شخص دنیا میں نبی ہوتا تو وہ میں ہوتا یہ شخص نبی کیونکر بن گیا۔ وہ شخص گو توحید کا علم رکھتا تھا لیکن بوجہ خشیت نہ ہونے کے اسلام لانے سے محروم ہو گیا۔ پس میں آپ لوگوں کو یہی نہیں کہتا کہ علم سیکھو بلکہ یہ بھی کہتا ہوں کہ تقویٰ اور خشیت اللہ پیدا کرو۔ کیونکہ اگر یہ نہ ہو تو علم ایک عذاب ہے نہ کہ کوئی مفید چیز۔
    تم قرآن شریف پڑھو اور خوب پڑھو کیونکہ بے علم انسان نہیں جانتا کہ خداتعالیٰ نے مجھے کیا کیا حکم دیئے ہیں لیکن یہ بھی یاد رکھو کہ کئی انسان ایسے ہوتے ہیں جو قرآن شریف جانتے ہیں مگر خود گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو گمراہ کرتے پھرتے ہیں اور اس طرح کے ہوگئے ہیں جس طرح کہ یہود کے عالم تھے جن کا ذکر قرآن شریف میں آتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ قرآن شریف وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھا مگر جانتے ہوئے نہیں جانتے۔ وہ مولوی اور مفتی کہلاتے ہیں مگر ان کے اعمال میں اسلام کاکوئی اثر نہیں پایا جاتا۔ قرآن شریف کے معنوں کی ایسی ایسی توجیہیں نکالتے اور ایسی ایسی شرارتیں کرتے ہیں کہ ان کے دل بھی انہیں شرمندہ کرتے ہیں۔عالِم کہلاتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے۔ اس لئے گو اُنہوں نے علم پڑھا مگر ان کا علم ان کے کسی کام نہ آیا اور وہ گمراہ کے گمراہ ہی رہے۔
    پس خشیت اللہ کی بہت ضرورت ہے۔ اس کے پیدا کرنے کے طریق نبیوں کے زمانہ میں بہت سے ہوتے ہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ وہ انسان کو سانچے میں ڈھال دیتے ہیں اور خود نمونہ بن کر لوگوں کو سکھلاتے ہیں۔ یہ ایک ثابت شُدہ بات ہے کہ ہر ایک کام جس طرح کسی استاد کے بتانے اور تجربہ کر کے دکھانے سے آتا ہے اس طرح خودبخود کتابوں میں سے پڑھ لینے سے نہیں آیا کرتا۔ مثلاً اگر کوئی شخص ڈاکٹری کی کتابیں پڑھ لے لیکن اسے تجربہ نہ ہو تو وہ لوگوں کا علاج کرنے کی بجائے ان کو مارے گا۔ کیونکہ علاج وہی کر سکتا ہے جس کو تجربہ بھی ہو اور جسے اس نے کسی استاد سے سیکھا ہو۔ مگر جس نے کسی استاد کو دیکھا ہی نہ ہو اس کے علاج سے بہت مرتے اور کم جیتے ہیں اور جو جیتے ہیں وہ بھی اس لئے نہیں کہ اس کی دوائی اور علاج سے بلکہ اپنی طاقت اور قوت سے۔ پس خشیت اللہ نبی کی صحبت سے جس طرح حاصل ہوتی ہے اس طرح کسی اورطریق سے نہیں حاصل ہو سکتی۔ پس تم میں سے تو بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت سے اس کو سیکھا ہے۔ اس لئے تم اس زمانہ کے لئے ہوشیار ہو جاؤ جب کہ فتوحات پر فتوحات ہوں گی۔ عنقریب ایک زمانہ آتا ہے جبکہ تمہارے نام کے ساتھ لوگ رضی اللہ عنہ لگائیں گے۔ آج اگر تمہاری قدر نہیں تو نہ سہی لیکن ایک وقت آتا ہے جب کہ اس شخص کی پگڑی، کرتہ اور جوتی تک کو لوگ متبرک سمجھیں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ رہا ہے۔ بیشک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہی خداتعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے‘‘ لیکن یاد رکھو صادقوں کے ساتھ رہنے والوں کے کپڑوں کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الوصیت میں لکھا ہے کہ:۔
    ’’ہمارا خدا وعدوں کا سچا اور وفادار اور صادق خدا ہے وہ سب کچھ تمہیں دکھلائے گا جس کا اُس نے وعدہ فرمایا ہے اگرچہ یہ دن دنیا کے آخری دن ہیں اور بہت بلائیں ہیں جن کے نزول کا وقت ہے پر ضرور ہے کہ یہ دنیا قائم رہے جب تک وہ تمام باتیں پوری نہ ہو جائیں جن کی خدا نے خبر دی۔ میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہونگے جو دوسری قدرت کا مظہرہونگے‘‘۔ ۱۰؎
    پس وہ وقت جلد آنے والا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ آج تم لوگوں کی نظروں میں جاہل ہو۔ پر وہ دن جلدی ہی آنے والے ہیں جب کہ دنیا کہے گی کہ تمہارے زمانہ میں تم سے زیادہ مہذب کوئی نہیں گزرا۔ تم نے خداتعالیٰ کا حکم مانا ہے، اس کے رسول کا حکم مانا ہے اور اس کے مسیح کو قبول کیا ہے۔ پس تم ہی دنیا میں ایک برگزیدہ قوم ہو۔ تمہارے کپڑوں سے لوگ برکت ڈھونڈیں گے اور تمہارے ناموں کی عزت کریں گے کیونکہ تمہارے نام عزت کے ساتھ آسمان پر لکھے گئے ہیں۔ پس کون ہے جو انہیں دنیا سے مٹا سکے۔ لیکن یہ بات بھی یاد رکھو کہ جس طرح تم پر اس قدر انعام ہوئے ہیں اسی طرح تمہارے فرض بھی بہت بڑھ گئے ہیں۔ـ بیشک بعد میں آنے والے تحریریں پڑھ سکتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کو پڑھ سکتے ہیں مگر اس طرح وہ اعمال نہیں سیکھ سکتے اور نہ دوسرے لوگ انہیں سکھا سکتے ہیں جس طرح تم نے سیکھے ہیں۔ مگر وہی سکھا سکتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں پاک دل ہوئے۔ صرف علم نہ پہلوں کے کام آیا اور نہ پچھلوں کے کام آ سکتا ہے۔ مگر تمہیں خود علم کی ضرورت ہے قرآن شریف عربی زبان میں ہے اس لئے جب تک عربی نہ آتی ہو اس کے پڑھنے میں لذت نہیں آ سکتی اور نہ اس کے احکام سے انسان واقف ہو سکتا ہے۔ پس تم عربی سیکھو تا کہ قرآن شریف کو سمجھ سکو۔ ابھی میر حامد شاہ صاحب نے ایک نظم پڑھی ہے۔ عجیب بات ہے کہ اس میں اُنہوں نے ایک شعر ایسا بھی کہا ہے کہ اسی کے مضمون کے متعلق میں اس وقت تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں اور وہ یہ ہے کہ تم بار بار قادیان آؤ اور آ کر قرآن سیکھو تا بعد میں آنے والوں کو سکھا سکو۔ اگر تم اس کے لئے تیار نہ ہوئے تو یاد رکھو کہ ایک عرصہ تک تو بیشک تمہیں عزت حاصل ہوگی لیکن ایسا زمانہ آئے گا جب کہ تم خاک میں ملائے جاؤ گے اور تم سے آنے والے لوگ جن میں خشیت اللہ نہ ہوگی وہی سلوک کریں گے جو صحابہؓ کے ساتھ ان لوگوں نے کیا جو بعد میں آئے تھے کہ انہیں قتل کرا کر ان کی لاشوں پر تھوکااور دفن نہ ہونے دیا۔
    دیکھو میں آدمی ہوں اور جو میرے بعد ہوگا وہ بھی آدمی ہی ہوگا جس کے زمانہ میں فتوحات ہوں گی وہ اکیلاسب کو نہیں سکھا سکے گا تم ہی لوگ ان کے معلّم بنو گے۔ پس اِس وقت تم خود سیکھو تا ان کو سکھا سکو۔ خداتعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم لوگ دنیا کے لئے پروفیسر بنا دیئے جاؤ۔ اس لئے تمہارے لئے ضروری ہے اور بہت ضروری ہے کہ تم خود پڑھو تا آنے والوں کے لئے استاد بن سکو۔ اگر تم نے خود نہ پڑھا تو ان کو کیا پڑھاؤ گے۔ ایک نادان اور جاہل استاد کسی شاگرد کو کیا پڑھا سکتا ہے۔
    کہتے ہیں ایک استاد تھا اس نے چند خطوط پڑھے ہوئے تھے جو کوئی خط لا کر دیتا اسے انہیں خطوں میں سے کوئی ایک سنا دیتا۔ ایک دن ایک شخص خط لایا اُس وقت اُس کے پاس اپنے پہلے خط موجود نہ تھے اس لئے نہ پڑھ سکا اور کہنے لگا کہ میں طاق والے خط پڑھ سکتا ہوں۔ پس تم بھی اس خط کے پڑھنے والے کی طرح نہ بنو۔ آپ لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ اپنے اندر اخلاص اور خشیت پیدا کرو اورعلمِ دین سیکھو اور اپنے دلوں کو صیقل کرو تا کہ جو لوگ تم میں آئیں ان کو تعلیم دے سکو اور ان میں خشیت اللہ پیدا کر سکو۔ صحابہؓ کے وقت جو فتنہ ہوا تھا وہ اسی بات کا نتیجہ تھا کہ وہ لوگ مدینہ میں نہ آتے تھے اور اُنہوں نے قرآن شریف نہ پڑھا اور نہ سمجھا تھا اس لئے ان میں خشیت اللہ پیدا نہ ہوئی جس کا انجام یہ ہوا کہ اُنہوں نے صحابہؓ کو قتل کر کے اپنے پاؤں تلے روندا، اُن کی لاشوں کی بے عزتی کی اور انہیں مکانوں میں بند کر دیا۔ اگر وہ مدینہ آتے اور اہل مدینہ سے تعلق رکھتے تو کبھی یہ فتنہ نہ ہوتا اور اگر ہوتا تو ایسی خطرناک صورت نہ اختیار کرتا۔ اس فتنہ میں سارے مدینہ سے صرف تین آدمی ایسے نکلے جن کو مُفسد اور شریر لوگ اپنے ساتھ ملا سکے اور ان کو بھی دھوکا اور فریب سے۔ وہ ایک عمارؓ بن یاسر تھے ، دوسرے محمد بن ابی بکرؓ، اور تیسرے ایک انصاری تھے۔ چونکہ تم لوگ بھی صحابہؓ کے مشابہہ ہو اس لئے میں چاہتا ہوں کہ تاریخ سے بیان کروں کہ کس طرح مسلمان تباہ ہوئے اور کون سے اسباب ان کی ہلاکت کا باعث بنے۔ پس تم ہوشیار ہو جاؤ اور جو لوگ تم میں نئے آئیں ان کے لئے تعلیم کا بندوبست کرو۔
    حضرت عثمانؓ کے وقت جو فتنہ اُٹھا تھا وہ صحابہؓ سے نہیں اُٹھا تھا۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ صحابہؓ نے اُٹھایا تھا ان کودھوکا لگا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ حضرت علیؓ کے مقابلہ میں بہت سے صحابہؓ تھے اور معاویہ کے مقابلہ میں بھی لیکن میں کہتا ہوں کہ اس فتنہ کے بانی صحابہؓ نہیں تھے بلکہ وہی لوگ تھے جو بعد میں آئے اور جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب نہ ہوئی اور آپؐ کے پاس نہ بیٹھے۔ پس میں آپ لوگوں کو اس طرف متوجہ کرتا ہوں اور فتنہ سے بچنے کا یہ طریق بتاتا ہوں کہ کثرت سے قادیان آؤ اور بار بار آؤ تا کہ تمہارے ایمان تازہ رہیں ۔ اور تمہاری خشیت اللہ بڑھتی رہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل فرماتے تھے میں زمانہ طالبعلمی میں ایک شخص کے پاس ملنے کے لئے جایا کرتا تھا۔ کچھ عرصہ نہ گیا پھر جو گیا تو کہنے لگے کیا تم کبھی قصائی کی دکان پر نہیں گئے ؟ میں نے کہا قصائی کی دکان تو میرے راستہ میں پڑتی ہے ہر روز میں اس کے سامنے سے گزرتا ہوں۔ اُنہوں نے کہا کیا تم نے کبھی قصائی کو نہیں دیکھا کہ وہ کچھ دیر گوشت کاٹ کرایک چھری کو دوسری چھری پر پھیر لیتا ہے وہ ایسا اس لئے کرتا ہے کہ تا دونوں چھُریاں تیز ہو جائیں۔ اسی طرح جب ایک نیک آدمی دوسرے نیک آدمی سے ملتا ہے تو ان پر جو کوئی بداثر ہوتا ہے وہ دور ہو جاتا ہے۔ پس تم لوگ بھی کثرت سے یہاں آؤ تا کہ نیک انسانوں سے ملو اور صاف و شفاف ہو جاؤ۔ خداتعالیٰ نے قادیان کو مرکز بنایا ہے اس لئے خداتعالیٰ کے جو برکات اور فیوض یہاں نازل ہوتے ہیں اور کسی جگہ نہیں ہیں۔ پھر جس کثرت سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ یہاں موجود ہیں اور کسی جگہ نہیں ہیں۔ اس لئے یہاں کے لوگوں کے ساتھ ملنے سے انسان کا دل جس طرح صیقل ہوتا ہے اور جس طرح اُسے تزکیہ نفس حاصل ہوتا ہے اس طرح کسی جگہ کے لوگوں کے ساتھ ملنے سے نہیں ہوتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جو لوگ قادیان نہیں آتے مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہی رہتا ہے۔ اب ہی دیکھ لو ان لوگوں کو چھوڑ کر جو یہاں متکبرانہ آتے اور اسی نشہ میں چلے جاتے تھے باہر کے ایسے ہی لوگ غیرمبائعین ہیں جو یہاں نہیں آتے تھے۔ پس اسی وجہ سے ان کے دل زنگ آلود ہوتے گئے جس کا یہ نتیجہ نکلا کہ وہ مُردہ دل ہوگئے۔ اُنہوں نے اپنے دل میں ایمان کا پودا تو لگایا تھا مگر اسے پانی نہ دیا اس لئے وہ سُوکھ گیا۔ اُنہوں نے اپنے دل میں خشیت اللہ کا بیج تو بویا تھا مگر اس کی آبپاشی نہ کی اس لئے وہ خشک ہو گیا۔ تم ان لوگوں کے نمونہ سے عبرت پکڑو اور بار بار یہاں آؤ تاکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صُحبت یافتہ جماعت کے پاس بیٹھو، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نشانات کو دیکھو اور اپنے دلوں کو صیقل کرو۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آپ لوگوں نے اِس وقت تک کچھ نہیں سیکھا یا کچھ نہیں حاصل کیا ۔ آپ نے بہت کچھ سیکھا اور بہت کچھ حاصل کیا ہے مگر اس کو قائم اور تازہ رکھنے کے لئے یہاں آؤ اور بار بار آؤ۔ بہت لوگ ایسے ہیں جو صرف جلسہ پر آتے ہیں اور پھر نہیں آتے۔ میں کہتا ہوں انہیں اس طرح آنے سے کیا فائدہ ہوا۔ یہ فائدہ تو ہوا کہ اُنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حکم مانا اور اس حکم کی قدر کی مگر ایسے موقع پر انہیں کچھ سکھانے اور پڑھانے کا کہاں موقع مل سکتا ہے۔ بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو جلسہ پر آتے اور پھر چلے جاتے ہیں ان کی بعض حرکات خلافِ شرع ہوتی ہیں لیکن ایسے وقت میں نہ کچھ بتایا جا سکتا ہے اور نہ بتانے کا کوئی موقع ملتا ہے۔ اور پھر وہ جو یہاں نہیں آتے ان کے لئے بار بار دعا بھی نہیں ہو سکتی اور کس طرح ہو۔ میں تو دیکھتا ہوں ماں بھی اپنے اُس بچہ کو جو ہر وقت اُس سے دور رہے بھُول جاتی ہے اور جو نزدیک رہے اسے یاد رکھتی ہے۔ اسی طرح خداتعالیٰ بھی ان لوگوں کو بھلا دیتا ہے جو اس کو یاد نہیں رکھتے۔ قرآن شریف میں خداتعالیٰ کافروں کو کہتا ہے کہ تم میرے ملنے سے ناامید ہوگئے پس میں نے بھی تم کو ترک کر دیا۔ تو وہ شخص جو بار بار مجھے ملتا اور اپنے آپ کو شناخت کراتا ہے وہ اپنے لئے دعا کے لئے بھی یاد دلاتا ہے۔ بیشک میں تمام جماعت کے لئے ہمیشہ دعا کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا اور مجھے اپنی دعاؤں کے نیک نتائج نکلنے کی امید ہے۔ ناامیدی میری فطرت میں ہی نہیں ہے کیونکہ میری طبیعت خداتعالیٰ نے ایسی بنائی ہے جو ناامیدی کے الفاظ کو سننا بھی گوارا نہیں کرتی۔ مجھے اُس شخص پر بہت غصہ آتا ہے جو خداتعالیٰ کی نسبت کسی ناامیدی کا اظہار کرے اُس وقت میرے تمام بدن کو آگ لگ جاتی ہے۔ نیز میں یہ بات بھی کبھی نہیں سن سکتا کہ فلاں بات ہو نہیں سکتی۔ مجھے ایسے لوگوں سے ہمیشہ نفرت رہی ہے اور ہے جو اِس قسم کے ہوتے ہیں۔ خیر یہ ایک ضمنی بات تھی جو میں نے بیان کر دی ہے۔ ہاں آپ لوگوں کو میں نے بتایا ہے کہ خدا سے دور رہنے والے لوگوں کا خدا سے قُرب نہیں ہوتا۔ اسی طرح اس کے بندوں سے دور رہنے والا بھی ان کا مقرب نہیں بن سکتا۔ وہ دعائیں جو میں کرتا ہوں مجملاً ہوتی ہیں اس لئے ان کا اثر اجمالی طور پر سب کو ہوگا مگر فرداً فرداً اسی کیلئے دعا کی تحریک پیدا ہوتی ہے جو بار بار سامنے نظر آئے۔ پس اس بات کو مدنظر رکھ کر بھی یہاں آؤ۔
    پھر قادیان میں نہ صرف قرآن شریف علمی طور پر حاصل ہوتا ہے بلکہ عملی طور پر بھی ملتا ہے۔ یہاں خدا کے فضل سے پڑھانے والے ایسے موجود ہیں جو پڑھنے والے کے دل میں داخل کر دیں اور یہ بات کسی اور جگہ حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ تفقُّہ فِی الدِّیْن اور چیز ہے اور علم اور چیز۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباسؓ کے لئے یہی دعا فرمائی کہ خداتعالیٰ تمہیں دین کے باریک رازوں سے واقف کرے تفقُّہ فِی الدِّیْن حاصل ہو۔ ۱۱؎ پس ہر ایک وہ شخص جو قرآن شریف پڑھ سکتا ہے وہ عالم ہو سکتا ہے مگر فقیہہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ قرآن کریم کے باریک رازوں سے بھی واقف نہ ہو۔ ایسے انسان خدا کے فضل سے یہاں موجود ہیں ان سے آپ یہ بات حاصل کریں اور وہ اس طرح کہ بار بار یہاں آئیں کیونکہ وہ وقت عنقریب آنے والا ہے جب کہ آپ دنیا کے پڑھانے والے بنیں گے۔ پس جلدی تعلیم حاصل کرو تا کہ دوسروں کو پڑھا سکو۔ خداتعالیٰ کا جن مرکزوں کے ساتھ تعلق ہوتا ہے ان کے رہنے والوں کے ساتھ بھی وہ اپنے خاص فضل کا سلوک کرتا ہے تو یہاں نہ صرف یہ کہ خود بہت سے لوگ خدا کے فضل سے تفقُّہ فِی الدِّیْن رکھتے ہیں بلکہ ہر ایک بات میں دوسروں کو بھی تسلی اور تشفّی کرا سکتے ہیں خدا کے فضل سے، پھر یہاں کی ایک ایک اینٹ ایک ایک مکان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی دلیل ہے کیونکہ یہ وہ شہر ہے جس کا نام بھی کوئی نہ جانتا تھا مگر اس میں پیدا ہونے والے ایک شخص نے کہا کہ خدا نے مجھے کہا ہے کہ تمہیں تمام جہان میں مشہور کر دوں گا اور یہاں دُوردُور سے لوگ آئیں گے۔ چنانچہ وہ مشہور ہو گیا اور دور دراز مُلکوں سے لوگ آئے جو آپ کی صداقت کا ایک کھلا کھلا ثبوت ہے۔
    ایک دفعہ ایک انگریز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو امریکہ سے ملنے کے لئے آیا۔ اس نے آپ سے پوچھا کہ کیا آپ نبی ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں میں نبی ہوں۔ اس نے کہا اگر آپ نبی ہیں تو کوئی نشان دکھلائیے۔ آپ نے فرمایا آپ ہی میرے نشان ہیں۔ اس نے کہا میں کس طرح ہوں؟ فرمایا ایک وقت تھا کہ یہاں مجھے کوئی نہ جانتا تھا اور میں ایک گمنامی کی حالت میں رہتا تھا لیکن آج آپ مجھے امریکہ سے ملنے کے لئے آئے ہیں کیا یہ میری صداقت کا نشان نہیں ہے؟ غرض آپ میں سے ایک ایک شخص اور اس مسجد اور دوسرے مکانوں کی ایک ایک اینٹ آنے والوں کے لئے نشان ہے کیونکہ اگر حضرت صاحب کے ذریعہ یہاں لوگ جمع نہ ہوتے تو کون یہ مسجدیں اور یہ سکول اور یہ بورڈنگ بناتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایسے وقت میں اس کی خبر دی تھی جب کہ کسی کے خیال میں بھی یہ بات نہ آ سکتی تھی۔ پھر آپ نے یہ بھی فرمایا ہوا ہے کہ قادیان اُس دریا تک جو یہاں سے سات آٹھ میل کے فاصلہ پر ہے پھیل جائے گا۔ چنانچہ ایک میل تک تو اس تھوڑے سے عرصہ میںہی پھیل گیا ہے۔ قاعدہ ہے کہ ابتدا میں ہر ایک چیز آہستہ آہستہ ترقی کرتی ہے اور کچھ عرصے کے بعد یک لخت بہت بڑھ جاتی ہے۔ مثلاً بچہ پہلے تھوڑا تھوڑا بڑھتا ہے لیکن ایک وقت میں یک لخت بڑھ جاتا ہے تو یہ قادیان کی ابتدائی ترقی ہے اس سے اس کی انتہائی ترقی کا اندازہ کر لو۔ غرض قادیان کی ہر ایک چیز، ہر ایک درخت ،ہر ایک اینٹ ،ہر ایک مکان نشان ہے۔ بہشتی مقبرہ، حضرت صاحب کا باغ، بورڈنگ، سکول، مسجدیں وغیرہ سب حضرت صاحب کا معجزہ ہیں اور یہاں کی گلیاں بھی بہت بابرکت ہیں کیونکہ ان میں خدا کا مسیح چلا۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ مکہ اور مدینہ کیوں اب بھی بابرکت ہیں۔ ان میں کیا ایسی چیز ہے جو کسی اور جگہ نہیں ہے؟ وہ یہ کہ مکہ کی بنیاد حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسے برگزیدہ انسان نے رکھی اور مدینہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رونق افروز رہے۔ لیکن اب کیا وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں ؟ پھر کیوں اس کی عزت اور توقیر کی جاتی ہے؟ اور رسول اللہ نے یہ کیوں فرمایا ہے کہ میری مسجد میں نماز پڑھنے والے کو بہ نسبت کسی اور مسجد میں پڑھنے والے کے زیادہ ثواب ہوگا حالانکہ وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپؐ کے صحابہؓ بھی نہیں ہیں اوراب تو وہاں ایسے علماء رہتے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی کُفر کا فتویٰ لگا دیا مگر چونکہ وہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم پڑے تھے اس لئے وہ اب بھی مقدس اور مطہر ہی ہے۔ پھر مکہ کو دیکھو وہاں نہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں اور نہ حضرت اسماعیل ؑ اور نہ ہی ان کے صحابہ موجود ہیں مگر چونکہ ان متبرک انسانوں نے اس کی بنیاد رکھی تھی اس لئے باوجود اِس وقت ان کے وہاں موجود نہ ہونے کے مکہ ویسا ہی متبرک ہے۔ تو جن مقاموں کے ساتھ خداتعالیٰ کا تعلق ہوتا ہے وہ ہمیشہ کے لئے متبرک بنا دیئے جاتے ہیں۔ قادیان بھی ایک ایسی ہی جگہ ہے۔ یہاں خداتعالیٰ کا ایک برگزیدہ مبعوث ہوا اور اس نے یہاں ہی اپنی ساری عمر گزاری اور اس جگہ سے وہ بہت محبت رکھتا تھا۔ چنانچہ اس موقع پر جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لاہور گئے ہیں اور آپ کا وصال ہو گیا ہے ایک دن مجھے آپ نے ایک مکان میں بُلا کر فرمایا۔ محمود !دیکھو یہ دھوپ کیسی زرد سی معلوم ہوتی ہے چونکہ مجھے ویسی ہی معلوم ہوتی تھی جیسی کہ ہر روز دیکھتا تھا۔ میں نے کہا نہیں اسی طرح کی ہے جس طرح کی ہر روز ہوا کرتی ہے۔ آپ نے فرمایا نہیں یہاں کی دھوپ کچھ زرد اور مدہم سی ہے۔ قادیان کی دھوپ بہت صاف اور عمدہ ہوتی ہے۔ چونکہ آپ نے قادیان میں ہی دفن ہونا تھا اِس لئے آپ نے یہ ایک ایسی بات فرمائی جس سے قادیان سے آپ کی محبت اور اُلفت کا پتہ لگتا تھا۔ کیونکہ جب کہیں سے جدائی ہونے لگتی ہے تو وہاں کی ذرا ذرا چیز سے بھی محبت اور اُلفت کا خیال آتا ہے تو اس جگہ کی چھوٹی سے چھوٹی چیز سے بھی خدا کے مسیح کو وہ اُلفت تھی جس کا ثبوت اس واقعہ سے ملتا ہے۔ پھر خداتعالیٰ نے تمہیں ایک سِلک میں منسلک کر دیا ہے اور تم ایک لڑی میں پروئے گئے ہو۔ خداتعالیٰ نے تمہیں اتفاق و اتحادکی مضبوط چٹان پر کھڑا کر دیا ہے اس لئے یہاں صرف مقام ہی کی برکتیں نہیں بلکہ اتحاد کی برکتیں بھی ہیں۔ لیکن میں کہتا ہوں اگر خدانخواستہ اتحاد نہ بھی ہو تو بھی یہاں آنا بہت ضروری ہے۔ ورنہ وہ شخص جو یہاں نہیں آتا یاد رکھے کہ اس کا ایمان خطرہ میں ہے۔ پس وہ لوگ جو پُرانے ہیں اور وہ بھی جو نئے ہیں یہاں بار بار آئیں۔ میں بڑے زور سے کہتا ہوں کہ ان کے یہاں آنے جانے کے روپے ضائع نہیں جائیں گے بلکہ خداتعالیٰ انہیں واپس کر دے گا اور بڑے نفع کے ساتھ واپس کرے گا کیونکہ خداتعالیٰ کسی کا حق نہیں مارتا۔ اسے بڑی غیرت ہے اور اس معاملہ میں وہ بڑا غیور ہے۔ دیکھو اس میں اتنی غیرت ہے کہ جب مؤذن کھڑا ہو کر اذان میں کہتا ہے حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ کہ اے لوگو ! نماز کا وقت ہو گیا ہے نماز کے لئے آؤ۔ تو خداتعالیٰ اتنا برداشت نہیں کر سکتا کہ اس آواز سے لوگ یہ خیال کر کے آئیں کہ چلو خدا کا حکم ہے مسجد میں چلیں اور اس طرح ایک طرح کا احسان جتائیں۔ اس لئے ساتھ یہ بھی فرما دیا کہ حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ کسی کا نماز پڑھنے کے لئے آنا مجھ پر کوئی احسان نہیں ہے اگر کوئی نماز پڑھے گا تو خود ہی فلاح حاصل کرے گا۔ تو جو لوگ خداتعالیٰ کے لئے اپنا مال خرچ کریں گے، اس کی رضا مندی کے لئے اپنا وطن چھوڑیں گے ،اس کی رضا کے لئے سفر کی تکلیفیں برداشت کریں گے ان کی یہ باتیں ضائع نہیں جائیںگی بلکہ وہ اس درجہ کو پائیںگے کہ خدا ان کا ہاتھ، خدا ان کی زبان، خدا ان کے کان، اور خدا ان کے پاؤں ہو جائے گا۔ اور جو کچھ وہ اس راستہ میں ڈالیں گے وہ بیج ہوگا جو انہیں کئی گنا ہو کر واپس ملے گا۔ پس کوئی شخص یہ خیال نہ کرے کہ قادیان آنا خرچ کرنا ہے یہ خرچ کرنا نہیں بلکہ برکتیں حاصل کرنا ہے۔ دیکھو کھیتی میں بیج ڈالنے والا بھی بیج کو خرچ کرتا ہے لیکن اس سے گھبراتا نہیں بلکہ امید رکھتا ہے کہ کل مجھے بہت زیادہ ملے گا۔ پس تم بھی یہاں آنے جانے کے اخراجات سے نہ گھبراؤ۔ خداتعالیٰ تمہیں اس کے مقابلہ میں بہت بڑھ کر دے گا۔ پس تمہارے یہاں آنے میں کوئی چیز روک نہ ہو اور کوئی بات مانع نہ ہو تاکہ تم اپنے دین اور ایمان کو مضبوط کر لو اور اپنے میں آنے والوں سے پہلے ان کے لینے کے لئے تیار ہو جاؤ اور اگر آنے والے ہزاروں ہوں تو تم بھی ہزاروں ہی ان کے لینے کے لئے موجود رہو۔
    اس بات کو خوب ذہن نشین کر کے اس پر عمل کرو۔ صحابہؓ کا بڑا تلخ تجربہ ہمارے سامنے موجود ہے۔ اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کیسی دردناک مصیبت ان پر آئی تھی اور کس قدر مصائب اور آلام کا وہ نشانہ بنے تھے۔ یہ فساد جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے صحابہؓ سے پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ اُن لوگوں نے کیا تھا جو مدینہ میں نہیں آتے تھے اور صحابہؓ میں شامل نہ تھے۔ چنانچہ اِس فساد کا بانی مبانی ایک شخص عبداللہ بن سبا تھا۔ اس کی ابتدائی زندگی کا حال تو معلوم نہیں ہوتا کہ سیاست کے ساتھ اُس کو کیا تعلق تھا لیکن تاریخ میں اس کا ذکر حکیم بن جبلہ کے ساتھ آتا ہے۔ حکیم بن جبلہ ایک چور تھا جب فارس پر چڑھائی ہوئی تو یہ بھی صحابہؓ کے لشکر میں شامل تھا۔ لشکر کی واپسی پر یہ راستہ میں غائب ہو گیا اور غیرمسلموں پر حملہ کر کے ان کے اموال لُوٹ لیا کرتا تھا اور بھیس بدل کر رہتا تھا۔ جب غیرمُسلم آبادی اور مُسلم آبادی نے اس کی شرارتوں کا حال حضرت عثمانؓ کو لکھا تو آپ نے اس کے نظر بند کرنے کاحکم دیا اور بصرہ سے باہر جانے کی اسے ممانعت کر دی گئی۔ اس پر اس نے خفیہ شرارتیں اور منصوبے شروع کئے۔ چنانچہ۳۲ھ میں اس کے گھر پر عبداللہ بن سبا مہمان کے طور پر آ کر اُترا اور لوگوں کو بُلا کر ان کو ایک خفیہ جماعت کی شکل میں بنانا شروع کیا اور آپس میں ایک انتظام قائم کیا۔ جب اس کی خبر والی کو ملی تو اس نے اس سے دریافت کیا کہ تُوکون ہے ؟ تو اس نے کہلا بھیجا کہ میں ایک یہودی ہوں اسلام سے مجھے رغبت ہے اور تیری پناہ میں آ کر رہا ہوں۔ چونکہ اس کی شرارتوں کا علم گورنر کو ہوچکا تھا اُنہوں نے اسے مُلک بدر کر دیا۔ یہ پہلا واقعہ ہے جو تاریخ عبداللہ بن سبا کی سیاسی شرارتوں کے متعلق ہمیں بتاتی ہے اور اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حکیم بن جبلہ بھی سچے دل سے مسلمان نہ تھا اورا س کا ذمیوں پر حملہ کرنا اس لئے نہ تھا کہ غیر مسلموں سے اسے دشمنی تھی۔ بلکہ غیر مسلموں کو اسلامی حکومت کے خلاف بھڑکانے کے لئے وہ ڈاکہ مارتا تھا جیسا کہ آجکل بنگالہ کے چند شریر ہندوستانی آبادی پر ڈاکہ مارتے ہیں۔ اور ان کی غرض صرف اس قدر ہوتی ہے کہ عام آبادی انگریزی حکومت کو ناقابل سمجھ کر اس سے بگڑ جائے اور یہ نتیجہ اس بات سے نکلتا ہے کہ عبداللہ بن سبا ایک یہودی جو دل سے اسلام کا دشمن تھا اسی کے پاس آ کر ٹھہرا ہے۔ اگر حکیم سچا مسلمان ہوتا اور غیر مسلموں کا دشمن تو کبھی عبداللہ بن سبا جو دل سے اسلام کا دشمن تھا سب بصرہ میں سے اس کو نہ چنتابلکہ اسے اپنا دشمن خیال کرتا۔
    جب عبداللہ بن سبا بصرہ سے نکالا گیا تو کوفہ کو چلا گیا اور وہاں ایک جماعت اپنے ہم خیالوں کی پیدا کر کے شام کو گیا لیکن وہاں اس کی بات کسی نے نہ سنی اس لئے وہ وہاں سے مصر کو چلا گیا۔ مصری لوگ تازہ مسلمان تھے ان میں ایمان اس قدر داخل نہ ہوا تھا جیسا کہ دیگر بلاد کے باشندوں میں۔ پھر مدینہ سے زیادہ دور تھے اور مرکز سے تعلق کم تھا اس لئے بہت کثرت سے اس کے فریب میں آ گئے۔ اور عبداللہ بن سبا نے دیکھ لیا کہ مصرہی میرے قیام کے لئے مناسب ہو سکتا ہے چنانچہ اس نے مصر میں ہی رہائش اختیار کی اور لوگوں کو اُکسانا شروع کیا۔
    اِدھر تو یہ فتنہ شروع تھا اُدھر چند اور فتنے بھی پیدا ہو رہے تھے اور ان کے بانی بھی وہی لوگ تھے جو بعد میں مسلمان ہوئے تھے اور مدینہ سے اُن کا تعلق بالکل نہ تھا اس لئے ان کی تربیت نہ ہو سکتی تھی۔ چنانچہ جس طرح بصرہ میں حکیم بن جبلہ ، عبداللہ بن سبا کے ساتھ مل کر یہ شرارتیں کر رہا تھا کوفہ میں بھی ایک جماعت اسی کام میں لگی ہوئی تھی۔ سعید بن العاص گورنر کوفہ تھے اور ان کی صحبت اکثر ذِی علم لوگوں کے ساتھ رہتی تھی مگر کبھی کبھی تمام لوگوں کو وہ اپنے پاس آنے کی اجازت دیتے تھے تا کُل حالات سے باخبر رہیں۔ ایک دن ایسا ہی موقع تھا باتیں ہو رہی تھیں کسی نے کہا فلاں شخص بڑا سخی ہے سعید بن العاص نے کہا کہ میرے پاس دولت ہوتی تو میں بھی تم لوگوں کو دیتا۔ ایک بیچ میں بول پڑا کہ کاش! اٰل کسریٰ کے اموال تمہارے قبضہ میں ہوتے۔ اس پر چند نو مسلم عرب اُس سے لڑ پڑے اور کہا کہ یہ ہمارے اموال کی نسبت خواہش کرتا ہے کہ اس کو مل جائیں۔ سعید بن العاص نے سمجھایا تو اس نے کہا کہ تم نے اس کو سکھایا ہے کہ ایسی بات کہے اور اُٹھ کر اس شخص کو مارنے لگے۔ اس کی مدد کے لئے اس کا باپ اُٹھا تو اُسے بھی مارا حتیّٰ کہ دونوں بیہوش ہو گئے۔ جب لوگوں کو علم ہوا کہ اس قسم کا فساد ہو گیا ہے تو وہ قلعہ کے اِردگرد جمع ہو گئے مگر سعید بن العاص نے ان کو سمجھاکر ہٹا دیا کہ کچھ نہیں سب خیر ہے اور جن لوگوں کو مار پڑی تھی انہیں بھی منع کر دیا کہ تم اس بات کو مشہور مت کرنا خواہ مخواہ فساد پڑے گا اور آئندہ سے اس فسادی جماعت کو اپنے پاس آنے سے روک دیا۔ جب اُنہوں نے دیکھا کہ ہمیں والی اپنے پاس نہیں آنے دیتا تو اُنہوں نے لوگوں میں طرح طرح کے جھوٹ مشہور کرنے شروع کر دیئے اور د ین اسلام پر طعن کرنے لگے اور مختلف تدابیر سے لوگوں کو دین سے بدظن کرنے کی کوشش شروع کی۔ اس پر لوگوں نے حضرت عثمانؓ سے شکایت کی اور آپ نے حکم دیا کہ ان کو کوفہ سے جلاوطن کر کے شام بھیج دیا جائے اور حضرت معاویہ کو لکھ دیا کہ اِن کی خبر رکھنا۔ حضرت معاویہؓ نے نہایت محبت سے ان کو رکھا اور ایک دن موقع پا کر ان کو سمجھایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے عرب کی کیا حالت تھی اسے یاد کرو اور غور کرو کہ خداتعالیٰ نے قریش کے ذریعہ سے تم کو عزت دی ہے پھر قریش سے تمہیں کیوں دشمنی ہے (وہ لوگ اس بات پر بھی طعن کرتے تھے کہ خلیفہ قریش میں سے کیوں ہوتے ہیں قریشیوں نے خلافت کو اپنا حق بنا چھوڑا ہے یہ ناجائز ہے) اگر تم حکام کی عزت نہ کرو گے تو یاد رکھو جلد وہ دن آتا ہے کہ خداتعالیٰ تم پر ایسے لوگوں کو مقرر کرے گا جو تم کو خوب تکلیف دیں گے۔ امام ایک ڈھال ہے جو تم کو تکلیف سے بچاتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ قریش کا کیا احسان ہے کیا وہ کوئی بڑی جماعت تھی جن کے ذریعہ سے اسلام کامیاب ہو گیا اور باقی رہا کہ امام ڈھال ہے اور ہمیں تکلیف سے بچا رہا ہے سو یہ خیال مت کرو جب وہ ڈھال ٹوٹ جائے گی تو پھر ہمارے ہاتھ میں دے دی جائے گی۔ یعنی خلافت اگر قریش کے ہاتھ سے نکل جائے گی تو پھر ہم ہی ہم اس کے وارث ہیں اس لئے ہمیں اس کا فکر نہیں کہ خلافت قریش کے ہاتھ سے نکل گئی تو پھر کیا ہوگا۔ اس پر حضرت معاویہ نے اُن کو سمجھایا کہ ایامِ جاہلیت کی سی باتیں نہ کرو اسلام میں کسی قوم کا زیادہ یا کم ہونا موجب شرف نہیں رکھا گیا بلکہ دیندار و خدا رسیدہ ہونا اصل سمجھا گیا ہے۔ پس جب کہ قریش کو خداتعالیٰ نے جاہلیت اور اسلام دونوں زمانوں میں ممتاز کیا اور ان کو دین کی اشاعت و حفاظت کا کام سپرد کیا ہے تو تم کو اس پر کیا حسد ہے اور تم لوگ اپنی پہلی حالت کو دیکھو اور سوچو کہ اسلام نے تم لوگوں پر کس قدر احسانات کئے ہیں۔ ایک وہ زمانہ تھا کہ تم اہل فارس کے کارندہ تھے اور بالکل ذلیل تھے اسلام کے ذریعہ سے ہی تم کو سب عزت ملی لیکن تم نے بجائے شکریہ ادا کرنے کے ایسی باتیں شروع کر دی ہیں جو اسلام کے لئے ہلاکت کا باعث ہیں۔ تم شیطان کا ہتھیار بن گئے ہو وہ جس طرح چاہتا ہے تمہارے ذریعہ سے مسلمانوں میں پھوٹ ڈلوا رہا ہے۔ مگر یاد رکھو کہ اس بات کا انجام نیک نہ ہوگا اور تم دُکھ پاؤ گے۔ بہتر ہے کہ جماعتِ اسلام میں شامل ہو جاؤ۔ میں خوب جانتا ہوں کہ تمہارے دل میں کچھ اور ہے جسے تم ظاہر نہیں کرتے لیکن اللہ تعالیٰ اُسے ظاہر کر کے چھوڑے گا (یعنی تم اصل میں حکومت کے طالب ہو اور چاہتے ہو کہ ہم بادشاہ ہو جائیں اور دین سے متنفر ہو لیکن بظاہر اپنے آپ کو مسلم کہتے ہو) اس کے بعد حضرت معاویہؓ نے حضرت عثمانؓ کو ان کی حالت سے اطلاع دی اور لکھا کہ وہ لوگ اسلام و عدل سے بیزار ہیں اور ان کی غرض فتنہ کرنا اور مال کمانا ہے پس آپ ان کے متعلق گورنروں کو حکم دے دیجئے کہ ان کو عزت نہ دیں یہ ذلیل لوگ ہیں۔ پھر ان لوگوں کو شام سے نکالا گیا اور وہ جزیرہ کی طرف چلے گئے وہاں عبدالرحمن بن خالد بن ولید حاکم تھے اُنہوں نے ان کو نظر بند کر دیا اور کہا کہ اگر اس مُلک میں بھی لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے اور فتنہ ڈالنے کی کوشش کی تو یاد رکھو میں ایسی خبر لوں گا کہ سب شیخی کرکری ہو جائے گی۔ چنانچہ اُنہوں نے انہیں سخت پہرہ میں رکھا حتّٰی کہ ان لوگوں نے آخر میں توبہ کی کہ اب ہم جھوٹی افواہیں نہ پھیلائیں گے اور اسلام میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش نہ کریں گے۔ اس پر حضرت عبدالرحمن بن خالد بن ولید نے ان کو اجازت دے دی کہ جہاں چاہو چلے جاؤ اور اشترؔ کو حضرت عثمانؓ کی خدمت میں بھیجا کہ اب یہ معافی کے طالب ہیں۔ آپ نے انہیں معاف کیا اور اختیار دیا کہ جہاں چاہیں رہیں۔ اشترؔ نے کہا کہ ہم عبدالرحمن بن خالد کے پاس ہی رہنا چاہتے ہیں چنانچہ وہیں اُن کو واپس کیا گیا۔
    اس گروہ کے علاوہ ایک تیسرا گروہ تھا جو تفرقہ کے پیچھے پڑا ہوا تھا۔ اس کا سرگروہ ایک شخص حمران بن ابان تھا اس نے ایک عورت سے عدت کے اندر شادی کر لی تھی جس پر اُسے مارا گیا اور بصرہ کی طرف جلا وطن کر دیا گیا۔ وہاں اس نے فسا د ڈلوانا شروع کیا اور تفرقہ اور فساد ڈالنے کے لئے یہ صورت اختیار کی کہ شرفاء کے خلاف موقع پا کر جھوٹ منسوب کر دیتا اور اس طرح تفرقہ ڈلواتا۔
    غرض یہ تین گروہ اسلام کی تباہی میں کوشاں تھے اور تینوں گروہ ایسے تھے جو دین اسلام سے بے خبر اور اپنی وجاہت کے دِلدادہ تھے۔ اسلام کی ناواقفی کی وجہ سے اپنی عقل سے مسائل ایجاد کر کے مسلمانوں کے اعتقاد بگاڑتے تھے اور چونکہ حکومتِ اسلامیہ ان کے اس فعل میں روک تھی اور وہ کُھلے بندوں اسلام کو بازیچہ اطفال نہیں بنا سکتے تھے اس لئے حکومت کے مٹانے کے درپے ہوگئے تھے۔
    چنانچہ سب سے پہلے عبداللہ بن سبا نے مصر میں بیٹھ کر باقاعدہ سازش شروع کر دی اور تمام اسلامی علاقوں میں اپنے ہم خیال پیدا کر کے ان کے ساتھ خط و کتابت شروع کی اور لوگوں کو بھڑکانے کے لئے یہ راہ نکالی کہ حضرت عثمانؓ کے عُمّا ل کے خلاف لوگوں کو بھڑکانا شروع کیا اور چونکہ لوگ اپنی آنکھوں دیکھی بات کے متعلق دھوکا نہیں کھا سکتے اس لئے یہ تجویز کی کہ ہر ایک جگہ کے لوگ اپنے علاقہ میں اپنے گورنر کے عیب نہ مشہور کریں بلکہ دوسرے علاقہ کے لوگوں کو اس کے مظالم لکھ کر بھیجیں۔ وہاں کے فتنہ پرداز ان کو اپنے گورنر کے عیب لکھ کر بھیجیں اس طرح لوگوں پر ان کا فریب نہ کھلے گا۔ چنانچہ بصرہ کے لوگ مصر والوں کی طرف لکھ کر بھیجتے کہ یہاں کا گورنر بڑا ظالم ہے اور اس اس طرح مسلمانوں پر ظلم کرتا ہے اور مصر کے لوگ یہ خطوط لوگوں کو پڑھ کرسناتے اور کہتے کہ دیکھو تمہارے بصرہ کے بھائی اس دکھ میں ہیں اور ان کی فریاد کوئی نہیں سنتا۔ اسی طرح مصر کے متفنی کسی اور صوبہ کے دوستوں کو مصر کے گورنر کے ظلم لکھ کر بھیجتے اور وہ لوگوں کو سنا کر خلیفہ کے خلاف اُکساتے کہ اس نے ایسے ظالم گورنر مقرر کر رکھے ہیں جن کو رعایا کی کوئی پرواہ نہیں۔ علاوہ ازیں لوگوں کو بھڑکانے کے لئے چونکہ اس بات کی بھی ضرورت تھی کہ ان کے دل ان کی طرف جُھک جائیں۔ اس کے لئے عبداللہ بن سبا نے یہ تجویز کی کہ عام طور پر وعظ و لیکچر دیتے پھرو تا کہ لوگ تمہاری طرف مائل ہو جائیں اور بڑا خادمِ اسلام سمجھیں۔ چنانچہ اس کے اصل الفاظ یہ ہیں جو طبری نے لکھے ہیں وَاَظْھِرُوا الْاَمْرَ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّھْیَ عَنِ الْمُنْکَرِ تَسْتَمِیْلُوا النَّاسَ وَادْعُوْھُمْ اِلٰی ھٰذَا الْاَمْرِ فَبَثَّ دُعَاتَہٗ۱۲؎ یعنی اس نے نصیحت کی کہ ظاہر میں تو تمہارا کام لوگوں کو نیک باتوں کا وعظ کرنا اور بُری باتوں سے روکنا ہو تاکہ اس ذریعہ سے لوگوں کے دل تمہاری طرف مائل ہو جائیں کہ کیا عمدہ کام کرتے ہیں لیکن اصل میں تمہاری غرض ان وعظوں سے یہ ہو کہ اس طرح لوگوں کے دل جب مائل ہو جائیں تو انہیں اپنا ہم خیال بناؤ۔ یہ نصیحت کر کے اس نے اپنے واعظ چاروں طرف پھیلا دیئے۔ غرض ان لوگوں نے ایسا طریق اختیار کیا کہ سادہ لوح لوگوں کے لئے بات کا سمجھنا بالکل مشکل ہو گیا اور فتنہ بڑے زور سے ترقی کرنے لگا اور عام طور پر مسلمان خلافتِ عثمانؓ سے بدظن ہوگئے اور ہر جگہ یہی ذکر لوگوں کی زبانوں پر رہنے لگا کہ ہم تو بڑے مزے میں ہیں باقی علاقوں کے لوگ بڑے بڑے دکھوں میں ہیں۔ بصرہ کے لوگ خیال کرتے کہ کوفہ اور مصر کے لوگ سخت تکلیف میں ہیں اور کوفہ کے لوگ سمجھتے کہ بصرہ اور مصر کے لوگ سخت دُکھ میں ہیں حالانکہ اگر وہ لوگ آپس میں ملتے تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ یہ شریروں کی شرارت ہے ورنہ ہر جگہ امن و امان ہے۔ ہر جماعت دوسری جماعت کو مظلوم قرار دیتی تھی حالانکہ مظلوم کوئی بھی نہ تھا اور ان سازشیوں نے ایسا انتظام کر رکھا تھا کہ اپنے ہم خیالوں کو ایک دوسرے سے ملنے نہ دیتے تھے تا راز ظاہر نہ ہو جائے۔
    آخر یہ فساد بڑھتے بڑھتے خیالات سے عمل کی طرف لَوٹا اور لوگوں نے یہ تجویز کی کہ ان گورنروں کو موقوف کروایا جائے جن کو حضرت عثمانؓ نے مقرر کیا ہے چنانچہ سب سے پہلے حضرت عثمانؓ کے خلاف کوفہ کے لوگوں کو اُکسایا گیا اور وہاں فساد ہو گیا۔ لیکن بعض بڑے آدمیوں کے سمجھانے سے فساد تو دَب گیا مگر فساد کے بانی مبانی نے فوراً ایک آدمی کو خط دے کر حمص روانہ کیا کہ وہاں جو جلاوطن تھے ان کو بُلا لائے اور لکھا کہ جس حالت میں ہو فوراً چلے آؤ کہ مصری ہم سے مل گئے ہیں۔ وہ خط جب ان کو ملا تو باقیوں نے اُسے ردّ کر دیا لیکن مالک بن اشتر بگڑ کر فوراً کوفہ کی طرف روانہ ہو گیا اور تمام راستہ میں لوگوں کو حضرت عثمانؓ اور سعیدؓ بن العاص کے خلاف اُکساتا گیا اور ان کو سناتا کہ میں مدینہ سے آ رہا ہوں۔ راستہ میں سعیدؓ بن العاص سے ملا تھا وہ تمہاری عورتوں کی عصمت دری کرنا چاہتا ہے اور فخر کرتا ہے کہ مجھے اس کام سے کون روک سکتا ہے۔ اسی طرح حضرت عثمانؓ کی عیب جوئی کرتا۔ جو لوگ حضرت عثمانؓ اور دیگر صحابہؓ کے واقف نہ تھے اور مدینہ آنا جانا اُن کا کم تھا وہ دھوکے میں آتے جاتے تھے او رتمام مُلک میں آگ بھڑکتی جاتی تھی عقلمند اور واقف لوگ سمجھاتے لیکن جوش میں کون کسی کی سنتا ہے۔
    اِس زمانہ میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف لوگ قسم قسم کے جھوٹ مشہور کرتے تھے اور ایسے احمدی بھی جو قادیان کم آتے تھے ان کے دھوکے میں آ جاتے تھے۔ اب بھی ہمارے مخالف میری نسبت اور قادیان کے دوسرے دوستوں کی نسبت جھوٹی باتیں مشہور کرتے ہیں کہ سب اموال پرانہوں نے تصرف کر لیا ہے اور حضرت صاحب کو حقیقی نبی (جس کے معنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تشریعی نبی کئے ہیں) مانتے ہیں اور نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ جو لوگ قادیان نہیں آتے ان میں سے بعض ان کے فریب میں آ جاتے ہیں۔ ایک رئیس نے مسجدِ کوفہ میں لوگوں کو اکٹھا کر کے ایک تقریر کی اور سمجھایا لیکن دوسرے لوگوں نے اُنہیں کہا کہ اب فتنہ حد سے بڑھ گیا ہے۔ اب اس کا علاج سوائے تلوار کے کچھ نہیں۔ اس ناشکری کی سزا اب ان کو یہی ملے گی کہ یہ زمانہ بدل جائے گا اور بعد میں یہ لوگ خلافت کے لوٹنے کی تمنا کریں گے لیکن ان کی آرزو پوری نہ ہوگی۔ پھر سعیدؓ بن العاص اُن کو سمجھانے گئے اُنہوں نے جواب دیا کہ ہم تجھ سے راضی نہیں تیری جگہ پر اور گورنر طلب کریں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس چھوٹی سی بات کے لئے اس قدر شور کیوں ہے ایک آدمی کو خلیفہ کی خدمت میں بھیج دو کہ ہمیں یہ گورنر منظور نہیں وہ اور بھیج دیں گے۔ اس بات کیلئے اس قدر اجتماع کیوں ہے؟ یہ بات کہہ کر سعید نے اپنا اونٹ دوڑایا اور مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اور حضرت عثمانؓ کو سب حالات سے آگاہ کیا۔ آپ نے فرمایا کسے گورنر بنانا چاہتے ہیں؟ اُنہوں نے کہا ابوموسیٰ اشعریؓ کو۔ فرمایا ہم نے ان کو گورنر مقرر کیا اور ہم ان لوگوں کے پاس کوئی معقول عذر نہ رہنے دیں گے۔ جب حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کو یہ اطلاع ملی تو آپ نے سب لوگوں کو جمع کر کے اس خبر سے آگاہ کیا۔ اُنہوں نے کہا تو آپ ہمیں نماز پڑھائیں مگر اُنہوں نے انکار کیا اور کہا کہ جب تک کہ تم آئندہ کے لئے توبہ نہ کرو اور حضرت عثمانؓ کی اطاعت کا وعدہ نہ کرو میںتمہاری امامت نہ کروں گا اور تم کو نماز نہ پڑھاؤں گا ۔ اُنہوں نے وعدہ کیا تب آپ نے انہیں نماز پڑھائی لیکن فتنہ اس پر بھی ختم نہ ہوا کیونکہ ان لوگوں کی اصل غرض تو خلافت کا اُڑانا تھا۔ عمال وحکام کی تبدیلی تو صرف ایک بہانہ اور حضرت عثمانؓ کے مظالم (نَعُوْذُبِاللّٰہ) کا اظہار ایک ذریعہ تھے جس سے وہ لوگ جو مدینہ آتے جاتے نہ تھے اور اس برگزیدہ اور پاک انسان کے حالات سے آگاہ نہ تھے وہ دھوکے میں آ جاتے تھے او راگر وہ خود آ کر حضرت عثمانؓ کو دیکھتے تو کبھی ان شریروں کے دھوکے میں نہ آتے اور اس فساد میں نہ پڑتے۔
    غرض یہ فتنہ دن بدن بڑھتا ہی گیا اور آخر حضرت عثمانؓ نے صحابہؓ کو جمع کیا اور دریافت کیا کہ اس فتنہ کے دور کرنے کے لئے کیا تدبیر کرنی چاہیے۔ اس پر مشورہ ہوا اور یہ تجویز ہوئی کہ پہلے یہ دیکھا جائے کہ حکام کی شکایت درست بھی ہے یا نہیں اور اس بات کے معلوم کرنے کے لئے تمام صوبوں میں کچھ ایسے آدمی بھیجے جائیں جو یہ معلوم کریں کہ آیا گورنر ظالم ہیں یا یونہی ان کے متعلق غلط خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔ اس کام کے لئے جو آدمی بھیجے گئے ان سب نے لکھ دیا کہ ہر ایک صوبہ میں اچھی طرح امن اور امان قائم ہے۔ گورنروں کے متعلق کوئی شکایت نہیں ہے لیکن عمارؓ بن یاسر جو مصر میں بھیجے گئے تھے ان کو عبداللہ بن سبا کے ساتھی پہلے ہی مل گئے اور اپنے پاس ہی ان کو رکھا اور لوگوں سے نہ ملنے دیا بلکہ ایسے ہی لوگوں سے ملایا جو اپنے ڈھب کے اور ہم خیال تھے اور انہیں سارے جھوٹے قصے سنائے اس لئے وہ ان کے دھوکے میں آ گئے۔ یہ واقعہ اسی طرح ہوا جس طرح کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ابوجہل کرتا تھا کہ جب لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملنے کے لئے آتے تو وہ ان کو روکتا کہ اوّل تو اس کے پاس ہی نہ جاؤ اور اگر جاتے ہو تو اپنے کانوں میں روئی ٹھونس کر جاؤ تا کہ اس کی آواز تمہارے کانوں تک نہ پہنچے۔ اسی طرح عمار بن یاسر کو گورنر اور دوسرے امرائے مصر سے ملنے ہی نہ دیا گیا۔
    ان لوگوں کے واپس آنے کے بعد جو تحقیقات کے لئے مختلف بلاد کی طرف بھیجے گئے تھے حضرت عثمانؓ نے مزید احتیاط کے طو رپر ایک خط تمام ممالک کے مسلمانوں کی طرف لکھا اور اس میں تحریر فرمایا کہ مجھے ہمیشہ سے مسلمانوں کی خیر خواہی مدنظر رہی ہے مگر میں شکایتیں سنتا ہوں کہ بعض مسلمانوں کو بِلاوجہ مارا جاتا ہے اور بعض کو بِلاوجہ گالیاں دی جاتی ہیں اس لئے میں اعلان کرتا ہوں کہ لوگ جن کو شکایت ہو اس سال حج کے لئے جمع ہوں اور جو شکایات انہیں ہیں وہ پیش کریں خواہ میرے حکام کے خلاف ہوں خواہ میرے خلاف۔ میری جان حاضر ہے اگر مجھ پر کوئی شکایت ثابت ہو تو مجھ سے بدلہ لے لیں۔ جب یہ خط تمام ممالک کی مساجد میں سنایا گیا تو شریروں پر تو کیا اثر ہونا تھا مگر عام مسلمان اس خط کو سن کر بے تاب ہوگئے اور جب یہ خط سنایا گیا تو مساجد میں ایک کہرام مچ گیا اور روتے روتے مسلمانوں کی داڑھیاں تَر ہوگئیں اور اُنہوں نے افسوس کیا کہ چند بدمعاشوں کی وجہ سے امیرالمؤمنین کو اس قدر صدمہ ہوا ہے اور سب جگہ پر حضرت عثمانؓ کے لئے دعا کی گئی۔ موسمِ حج کے قریب حضرت عثمانؓ نے تمام گورنروں کے نام خطوط لکھے کہ حج میں حاضر ہوں۔ چنانچہ سب گورنر حاضر ہوئے اور آپ نے ان سے دریافت کیا کہ یہ شور کیسا ہے؟ اُنہوں نے کہا کہ شور تو کوئی نہیں بعض شریروں کی شرارت ہے اور آپ نے اکابر صحابہؓ کو بھیج کر خود دریافت کر لیا ہے کہ اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں بلکہ تمام الزامات جھوٹے ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ اچھا آئندہ کے لئے کیا مشورہ دیتے ہو؟ سعیدؓ بن العاص نے کہا کہ یہ ایک خفیہ منصوبہ ہے جو الگ تیار کیا جاتا ہے اور پھر ایسے لوگوںکے کان بھر دیئے جاتے ہیں جو حالات سے ناواقف ہیں اور اس طرح ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے تک بات پہنچتی جاتی ہے۔ پس علاج یہی ہے کہ اصل شریروں کو تلاش کر کے انہیں سزا دی جائے اور قتل کر دیا جائے۔ عبداللہ بن سعدؓ نے مشورہ دیا کہ آپ نرمی کرتے ہیں جب آپ لوگوں کو ان کے حقوق دیتے ہیں تو لوگوں سے ان حقوق کا مطالبہ بھی کریں جو ان کے ذمہ واجب ہیں۔ حضرت معاویہؓ نے عرض کیا کہ یہ دونوں بزرگ اپنے اپنے علاقہ کے واقف ہوں گے میرے علاقہ میں تو کوئی شور ہی نہیں۔ وہاں سے آپ نے کبھی کوئی فساد کی خبر نہ سنی ہوگی اور جہاں شورش ہے وہاں کے متعلق میرا مشورہ یہی ہے کہ وہاں کے حکام انتظام کی مضبوطی پر زور دیں۔ حضرت عمرو بن العاص نے فرمایا کہ آپ بہت نرمی کرتے ہیں اور آپ نے لوگوں کو ایسے حقوق دے دیئے ہیں جو حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ نہ دیتے تھے۔ پس آپ اب لوگوں سے ویسا ہی سلوک کریں جیسا کہ یہ دونوں کرتے تھے اور جس طرح نرمی سے کام لیتے ہیں سختی کے موقع پر سختی سے بھی کام لیں۔ ان سب مشوروں کو سن کر حضرت عثمانؓ نے فرمایا کہ یہ فتنہ مقدر ہے اور مجھے اس کا سب حال معلوم ہے کوئی سختی اس فتنہ کو روک نہیں سکتی۔ اگر روکے گی تو نرمی۔ پس تم لوگ مسلمانوں کے حقوق پوری طرح ادا کرو اور جہاں تک ہو سکے ان کے قصور معاف کرو۔ خداتعالیٰ جانتا ہے کہ میں نے لوگوں کو نفع پہنچانے میں کوئی کمی نہیں کی۔ پس میرے لئے بشارت ہے اگر میں اسی طرح مَر جاؤں اور فتنہ کا باعث نہ بنوں۔ لیکن تم لوگ یہ بات یاد رکھو کہ دین کے معاملہ میں نرمی نہ کرنا بلکہ شریعت کے قیام کی طرف پورے زور سے متوجہ رہنا۔ یہ کہہ کر سب حکام کو واپس روانہ کر دیا۔
    حضرت معاویہؓ جب روانہ ہونے لگے تو عرض کیا۔ اے امیر المؤمنین! آپ میرے ساتھ شام کو چلے چلیں سب فتنوں سے محفوظ ہو جائیں گے۔ آپ نے جواب دیا کہ معاویہؓ ! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمسائیگی کو کسی چیز کی خاطر بھی نہیں چھوڑ سکتا خواہ میرے چمڑے کی رسیاں ہی کیوں نہ بنا دی جائیں۔ اس پر حضرت معاویہؓ نے عرض کیا کہ آپ یہ بات نہیں مانتے تو میں ایک لشکر سپاہیوں کا بھیج دیتا ہوں جو آپ کی اور مدینہ کی حفاظت کریں گے۔ آپ نے فرمایا کہ میں اپنی جان کی حفاظت کے لئے ایک لشکر رکھ کر مسلمانوں کے رزق میں کمی نہیں کرنا چاہتا۔ حضرت معاویہؓ نے عرض کیا کہ امیرالمؤمنین! خدا کی قسم ! آپ کو شریر لوگ دھوکا سے قتل کر دیں گے یا آپ کے خلاف جنگ کریں گے آپ ایسا ضرور کریں۔ لیکن آپ نے یہی جواب دیا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا خدا میرے لئے کافی ہے۱۳؎۔ پھر حضرت معاویہؓ نے عرض کیا کہ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو پھر یہ کریں کہ شرارتی لوگوں کو بڑا گھمنڈ بعض اکابر صحابہؓ پر ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ آپ کے بعد وہ کام سنبھال لیں گے اور ان کا نام لے لے کر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں۔ آپ ان سب کو مدینہ سے رُخصت کر دیں اور دُور دراز مُلکوں میں پھیلا دیں شریروں کی کمریں ٹوٹ جائیں گی۔ آپ نے فرمایا کہ جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمع کیا تھا میں تو انہیں جلاوطن نہیں کر سکتا۔ اس پر حضرت معاویہؓ رو پڑے اور فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے اس فتنہ کے لئے منشائے الٰہی ہوچکا ہے اور اے امیرالمؤمنین! شاید یہ میری آپ سے آخری ملاقات ہے۔ اس لئے ایک عرض میں آخر میں اور کرتا ہوں کہ اگر آپ اور کچھ بھی نہیں کرتے تو اتنا کریں کہ اعلان کر دیں کہ میرے خون کا بدلہ معاویہؓ لے گا۔ (یعنی بہ صورت آپ کے شہید ہونے کے) آپ نے فرمایا کہ معاویہ! تمہاری طبیعت تیز ہے میں ڈرتا ہوں کہ تم مسلمانوں پر سختی کرو گے اس لئے یہ اعلا ن بھی نہیں کر سکتا۔ اس پر روتے روتے حضرت معاویہؓ آپ سے جُدا ہوئے اور مکان سے نکلتے ہوئے یہ کہتے گئے کہ لوگو! ہوشیار رہنا۔ اگر اس بوڑھے (یعنی حضرت عثمانؓ) کا خون ہوا تو تم لوگ بھی اپنی سزا سے نہیں بچو گے۔
    اس واقعہ پر ذرا غور کرو اور دیکھو اس انسان کے جس کی نسبت اس قدر بدیاں مشہور کی جاتی تھیں کیا خیالات تھے اور وہ مسلمانوں کا کتنا خیرخواہ تھا اور ان کی بہتری کے لئے کس قدر متفکر رہتا تھا اور کیوں نہ ہوتا۔ آپ وہ تھے کہ جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یکے بعد دیگرے اپنی دو بیٹیاں بیاہ دی تھیں اور جب دونوں فوت ہوگئیں تو فرمایا تھا کہ اگر میری کوئی تیسری بیٹی ہوتی تو اس کو بھی میں ان سے بیاہ دیتا۱۴؎۔ افسوس لوگوں نے اسے خود آ کر نہ دیکھا اور اس کے خلاف شور کر کے دین و دنیا سے کھوئے گئے۔
    جب مفسدوں نے دیکھا کہ اب حضرت عثمانؓ نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور اس طرح ہمارے منصوبوں کے خراب ہو جانے کا خطرہ ہے تو اُنہوں نے فوراً اِدھر اُدھر خطوط دَوڑا کر اپنے ہم خیالوں کو جمع کیا کہ مدینہ چل کر حضرت عثمانؓ سے روبرو بات کریں۔ چنانچہ ایک جماعت جمع ہو کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئی۔ حضرت عثمانؓ کو ان کے ارادہ کی پہلے سے ہی اطلاع ہو چکی تھی۔ آپ نے دو معتبر آدمیوں کو روانہ کیا کہ ان سے مل کر دریافت کریں کہ ان کا منشاء کیا ہے ؟ دونوں نے مدینہ سے باہر جا کر ان سے ملاقات کی اور ان کا عندیہ دریافت کیا۔ اُنہوں نے اپنا منشاء ان کے آگے بیان کیا پھر اُنہوں نے پوچھا کہ کیا مدینہ والوں میں سے بھی کوئی تمہارے ساتھ ہے؟ تو اُنہوں نے کہا کہ صرف تین آدمی مدینہ والوں سے ہمارے ساتھ ہیں۔ ان دونوں نے کہا کہ کیا صرف تین آدمی تمہارے ساتھ ہیں؟ اُنہوں نے کہا ہاں صرف تین ہمارے ساتھ ہیں (اب بھی موجودہ فتنہ میں قادیان کے صرف تین چار آدمی ہی پیغام والوں کے ساتھ ملے ہیں یا دو تین ایسے آدمی جو مؤلفۃ القلوب میں داخل تھے اور جو بعد میں پیغام والوں سے بھی جُدا ہوگئے) اُنہوں نے دریافت کیا کہ پھر تم کیا کرو گے؟ ان مفسدوں نے جواب دیا کہ ہمارا ارادہ ہے کہ ہم حضرت عثمانؓ سے وہ باتیں دریافت کریں گے جو پہلے ہم نے ان کے خلاف لوگوں کے دلوں میں بٹھائی ہوئی ہیں۔ پھر ہم واپس جا کر تمام مُلکوں میںمشہور کریں گے کہ ان باتوں کے متعلق ہم نے (حضرت) عثمان سے ذکر کیا لیکن اس نے ان کو چھوڑنے سے انکار کر دیا اور توبہ نہیں کی۔ اس طرح لوگوں کے دل ان کی طرف سے بالکل پھیر کر ہم حج کے بہانہ سے پھرلَوٹیں گے اور آ کر محاصرہ کریں گے اور عثمانؓ سے خلافت چھوڑ دینے کا مطالبہ کریں گے اگر اس نے انکار کر دیا تو اسے قتل کر دیں گے۔ ان دونوں مخبروں نے ان سب باتوں کی اطلاع آ کر حضرت عثمانؓ کو دی تو آپ ہنسے اور دعا کی کہ یا اللہ! ان لوگوں پر رحم کر۔ اگر تو ان پر رحم نہ کرے تو یہ بدبخت ہو جائیں گے۔ پھر آپ نے کوفیوں اور بصریوں کو بُلوایا اور مسجد میں نماز کے وقت جمع کیا اور آپ منبر پر چڑھ گئے اور آپ کے اردگرد وہ مفسد بیٹھ گئے۔ جب صحابہؓ کو علم ہوا تو سب مسجد میں آ کر جمع ہو گئے اور ان مفسدوں کے گِرد حلقہ کر لیا۔ پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور ان لوگوں کا حال سنایا اور ان دونوں آدمیوں نے جو حال دریافت کرنے گئے تھے سب واقعہ کا ذکر کیا۔ اس پر صحابہؓ نے باِلاتفاق بآواز بلند پکار کر کہا کہ ان کو قتل کر دو کیونکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو کوئی اپنی یا کسی اور کی خلافت کے لئے لوگوں کو بُلائے اور اُس وقت لوگوں میں ایک امام موجود ہو تو اس پر اللہ تعالیٰ کی *** ہوگی اور تم ایسے شخص کو قتل کر دو اور حضرت عمرؓ کا بھی یہی فتویٰ ہے۔ اس پر حضرت عثمانؓ نے فرمایا کہ انہیں ہم معاف کریں گے اور اس طرح ان کی آنکھیں کھولنے کی کوشش کریں گے۔پھر فرمایا کہ یہ لوگ بعض باتیں بیان کرتے ہیں وہ ایسی باتیں ہیں کہ تم بھی جانتے ہو لیکن فرق یہ ہے کہ یہ ان کے ذریعہ سے لوگوں کو میرے خلاف بھڑکانا چاہتے ہیں۔ مثلاً کہتے ہیں کہ اس نے سفر میں نماز قصر نہیں کی حالانکہ پہلے ایسا نہ ہوتا تھا۔ سنو میں نے نماز ایسے شہر میں پوری پڑھی ہے جس میں کہ میری بیوی تھی کیا اسی طرح نہیں ہوا؟ سب صحابہؓ نے کہا کہ ہاں یہی بات ہے۔ پھر فرمایا یہ لوگ یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ اس نے رکھ بنائی ہے حالانکہ اس سے پہلے رکھ نہ بنائی جاتی تھی مگر یہ بات بھی غلط ہے حضرت عمرؓ کے وقت سے رکھ کا انتظام ہے۔ ہاں جب صدقات کے اونٹ زیادہ ہوگئے تو میں نے رکھ کو اور بڑھا دیا اور یہ دستور بھی حضرت عمرؓ کے وقت سے چلا آیا ہے۔ باقی میرے اپنے پاس تو صرف دو اونٹ ہیں اور بھیڑ اور بکری بالکل نہیں۔ حالانکہ جب میں خلیفہ ہوا تھا تو میں تمام عرب میں سب سے زیادہ اونٹوں اور بکریوں والا تھا لیکن آج میرے پاس نہ بکری ہے نہ اونٹ سوائے ان دو اونٹوںکہ یہ بھی صرف حج کے لئے رکھے ہوئے ہیں۔ کیا یہ بات درست نہیں؟ سب صحابہؓ نے عرض کیا کہ بالکل درست ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ قرآن کئی صورتوں میں تھا میں نے اسے ایک صورت پر لکھوا دیا ہے۔ سنو! قرآن ایک ہے اور ایک خدا کی طرف سے آیا ہے اور اس بات میں میں سب صحابہؓ کی رائے کا تابع ہوں۔ میں نے کوئی بات نہیں کی کیا یہ بات درست نہیں؟ سب صحابہؓ نے عرض کیا کہ بالکل درست ہے اور یہ لوگ واجب القتل ہیں ان کو قتل کیا جائے۔ غرض اسی طرح حضرت عثمانؓ نے ان کے سب اعتراضوں کا جواب دیا اور صحابہؓ نے ان کی تصدیق کی۔ اس کے بعد بہت بحث ہوئی۔ صحابہؓ اصرار کرتے تھے کہ ان شریروں کو قتل کیا جائے لیکن حضرت عثمانؓ نے اس مشورہ کو قبول نہ کیا اور ان کو معاف کر دیا اور وہ لوگ واپس چلے گئے۔
    مدینہ سے واپسی پر ان مُفسدوں نے سوچا کہ اب دیر کرنی مناسب نہیں۔ بات بہت بڑھ چکی ہے اور لوگ جُوں جُوں اصل واقعات سے آگاہ ہوں گے ہماری جماعت کمزور ہوتی جائے گی۔ چنانچہ اُنہوں نے فوراً خطوط لکھنے شروع کر دیئے کہ اب کے حج کے موسم میں ہمارے سب ہم خیال مل کر مدینہ کی طرف چلیں لیکن ظاہر یہ کریں کہ ہم حج کیلئے جاتے ہیں۔
    چنانچہ ایک جماعت مصر سے، ایک کوفہ سے، ایک بصرہ سے ارادۂ حج ظاہر کرتی ہوئی مدینہ کی طرف سے ہوتی مکہ کی طرف روانہ ہوئی اور تمام لوگ بالکل بے فکر تھے اور کسی کو وہم و گمان بھی نہ تھا کہ کیا منصوبہ سوچا گیا ہے۔ بلکہ راستہ میں لوگ ان کو حاجی خیال کر کے خوب خاطر و مدارات بھی کرتے لیکن بعض لوگوں کے منہ سے بعض باتیں نکل جاتی ہیں چنانچہ کسی نہ کسی طرح سے ان لوگوں کی نیت ظاہر ہوگئی اور اہلِ مدینہ کو ان کی آمد کا اور نیت کا علم ہو گیا اور چاروں طرف قاصد دَوڑائے گئے کہ اس نیت سے ایک جماعت مدینہ کی طرف بڑھی چلی آ رہی ہے چنانچہ آس پاس جہاں جہاں صحابہؓ مقیم تھے وہاں سے تیزی کے ساتھ مدینہ میں آگئے اور دیگر قابلِ شمولیتِ جنگ مسلمان بھی مدینہ میں اکٹھے ہوگئے اور ان مفسدوں کے مدینہ پہنچنے سے پہلے ایک لشکر جرار مدینہ میں جمع ہو گیا جب یہ لوگ مدینہ کے قریب پہنچے اور انہیں اس بات کی خبر ہوگئی کہ مسلمان بالکل تیار ہیں اور ان کی شرارت کامیاب نہیں ہو سکتی تو اُنہوں نے چند آدمی پہلے مدینہ بھیجے کہ اُمہات المؤمنینؓ اور صحابہؓ سے مل کر ان کی ہمدردی حاصل کریں۔ چنانچہ مدینہ میں آ کر ان لوگوں نے فرداً فرداً اُمہات المؤمنینؓ سے ملا قات کی لیکن سب نے ان سے بیزاری ظاہر کی۔ پھر یہ لوگ تمام صحابہؓ سے ملے لیکن کسی نے ان کی بات کی طرف توجہ نہ کی اور صاف کہہ دیا کہ تم لوگ شرارتی ہو۔ ہم تمہارے ساتھ نہیں مل سکتے اور نہ تم کومدینہ میں داخل ہونے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ اس کے بعد مصری حضرت علیؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ ہم آپ کی بیعت کرتے ہیں آپ ہماری بیعت قبول کریں۔ اس پر حضرت علیؓ نے ان کو دھتکار دیا اور کہا کہ نیک لوگ جانتے ہیں کہ مروہ اور ذِی خشب کے لشکر پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے *** کی ہے (یہ وہ مقامات ہیں جہاں مدینہ کے باہر باغیوں کا لشکر اُترا تھا) اسی طرح بصرہ کے لوگ طلحہؓ کے پاس گئے اور ان سے ان کا سردار بننے کے لئے کہا لیکن اُنہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ مروہ اور ذی خشب کے لشکروں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے *** فرمائی ہے میں تمہارے ساتھ شامل نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح کوفہ کے لوگ حضرت زبیرؓ کے پاس گئے اور ان سے یہی درخواست کی لیکن اُنہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ میرے پاس سے دور ہوجاؤ میں تمہارے ساتھ شامل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ سب مسلمان جانتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مروہ، ذی خشب اور اعوص کے لشکروں پرلعنت کی ہے۱۵؎ جب باغی سب طرف سے مایوس ہو گئے تو اُنہوں نے یہ ظاہر کرنا شروع کیا کہ ان کی اصل غرض تو بعض عاملوں کا تبدیل کروانا ہے ان کو تبدیل کردیا جائے تو ان کو پھر کوئی شکایت نہ رہے گی۔ چنانچہ حضرت عثمانؓ نے ان کو اپنی شکایات پیش کرنے کی اجازت دی اور اُنہوں نے بعض گورنروں کے بدلنے کی درخواست کی۔ حضرت عثمانؓ نے ان کی درخواست قبول کی اور ان کے کہنے کے مطابق محمد بن ابی بکرؓ کو مصر کا گورنر مقرر کر دیا اور حکم جاری کر دیا کہ مصر کا گورنر اپنا کام محمد بن ابی بکرؓ کے سپرد کر دے۔ اسی طرح بعض اور مطالبات اُنہوں نے کئے جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ بیت المال میںسے سوائے صحابہؓ کے دوسرے اہلِ مدینہ کو ہرگز کوئی روپیہ نہ دیا جایا کرے۔ یہ خالی بیٹھے کیوں فائدہ اُٹھاتے ہیں (جس طرح آجکل بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ بعض لوگ قادیان میں یونہی بیٹھے رہتے ہیں اور لنگر سے کھانا کھاتے ہیں ان کے کھانے بند کرنے چاہئیں مگر جس طرح پہلوں نے اصل حکمت کو نہیں سمجھا ان معترضوں نے بھی نہیں سمجھا) غرض اُنہوں نے بعض مطالبات کئے جو حضرت عثمانؓ نے قبول کئے ۔ اور وہ لوگ یہ منصوبہ کر کے کہ اس وقت تو مدینہ کے لوگ چوکس نکلے اور مدینہ لشکر سے بھرا ہوا ہے اس لئے واپس جانا ہی ٹھیک ہے لیکن فلاں دن اور فلاں وقت تم لوگ اچانک مدینہ کی طرف واپس لَو ٹو اور اپنے مدعا کو پورا کر دو۔ جب یہ لوگ واپس چلے گئے تو جس قدر لوگ مدینہ میں جمع ہوگئے تھے سب اپنے اپنے کاموں کے لئے متفرق ہوگئے۔ اور ایک دن اچانک ان باغیوں کا لشکر مدینہ میں داخل ہو گیا اور تمام گلیوں میں اعلان کر دیا کہ جو شخص خاموش رہے گا اسے امن دیا جائیگا۔ چنانچہ لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ رہے اور اس اچانک حملہ کا مقابلہ نہ کر سکے کیونکہ اگر کوئی شخص کوشش کرتا بھی تو اکیلا کیا کر سکتا تھا اور مسلمانوں کو آپس میں ملنے کی اجازت نہ دیتے تھے سوائے اوقاتِ نماز کے کہ اُس وقت بھی عین نماز کے وقت جمع ہونے دیتے اور پھر پراگندہ کر دیتے۔ اس شرارت کو دیکھ کر بعض صحابہؓ ان لوگوں کے پاس گئے اور کہا کہ تم نے یہ کیا حرکت کی ہے؟ اُنہوں نے کہا کہ ہم تو یہاں سے چلے گئے تھے لیکن راستہ میں ایک غلام حضرت عثمانؓ کا ملا اُس کی طرف سے ہمیں شک ہوا ہم نے اس کی تلاشی لی تو اس کے پاس ایک خط نکلا جو گورنر مصر کے نام تھا اور جس میں ہم سب کے قتل کا فتویٰ تھا اس لئے ہم واپس آگئے ہیں کہ یہ دھوکا ہم سے کیوں کیا گیا ہے۔ ان صحابہؓ نے ان سے کہا کہ تم یہ تو ہمیں بتاؤ کہ خط تو مصریوں کو ملا تھا اور تم تینوں جماعتوں (یعنی کوفیوں، بصریوں اور مصریوں) کے راستے الگ الگ تھے اور تم کئی منزلیں ایک دوسرے سے دُور تھے پھر ایک ہی وقت میں اِس قدر جلد تینوں جماعتیں واپس مدینہ میں کیونکر آ گئیں اور باقی جماعتوں کو کیونکر معلوم ہوا کہ مصریوں کو اس مضمون کا کوئی خط ملا ہے یہ تو صریح فریب ہے جو تم لوگوں نے بنایا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ فریب سمجھو یا درست سمجھو ہمیں عثمانؓ کی خلافت منظور نہیں وہ خلافت سے الگ ہو جائیں ۔ اس کے بعد مصری حضرت علیؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ اب تو اس شخص کا قتل جائز ہو گیا ہے آپ ہمارے ساتھ چلیں اور عثمانؓ کا مقابلہ کریں۔ حضرت علیؓ نے بھی ان کو یہی جواب دیا کہ تم جو واقعہ سناتے ہو وہ بالکل بناوٹی ہے کیونکہ اگر تمہارے ساتھ ایسا واقعہ گزرا تھا تو بصری اور کوفی کس طرح تمہارے ساتھ ہی مدینہ میں آ گئے۔ ان کو اس واقعہ کا کس طرح علم ہوا معلوم ہوتا ہے کہ تم نے پہلے سے ہی منصوبہ بنا رکھا تھا چلے جاؤ خدا تعالیٰ تمہارا بُرا کرے میں تمہارے ساتھ نہیں مل سکتا۔ (مصری لوگ خط ملنے کا جو وقت بتاتے تھے اس میں اور ان کے مدینہ میں واپس آنے کے درمیان اس قدر قلیل وقت تھا کہ اس عرصہ میں بصریوں اور کوفیوں کو خبر مل کر وہ واپس مدینہ میں نہیں آسکتے تھے پس صحابہؓ نے سمجھ لیا کہ یہ لوگ مدینہ سے جاتے وقت پہلے سے ہی منصوبہ کر گئے تھے کہ فلاں دن مدینہ پہنچ جاؤ اور خط کا واقعہ صرف ایک فریب تھا) جب حضرت علیؓ کا یہ جواب ان باغیوں نے سنا تو ان میں سے بعض بول اُٹھے کہ اگر یہ بات ہے تو آپ ہمیں پہلے خفیہ خط کیوں لکھا کرتے تھے؟ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ میں نے کبھی کوئی خط تم لوگوں کو نہیں لکھا۔ آپ کا یہ جواب سن کر وہ آپس میں کہنے لگے کہ کیا اس شخص کی خاطر تم لوگ لڑتے پھرتے ہو (یعنی پہلے تو اس نے ہمیں خط لکھ کر اُکسایا اور اب اپنی جان بچاتا ہے)۔
    اِس گفتگو سے یہ بات صاف معلوم ہو جاتی ہے کہ یہ باغی جھوٹے خط بنانے کے پکے مشّاق تھے اور لوگوں کو حضرت علیؓ کی طرف سے خط بنا کر سناتے رہتے تھے کہ ہماری مدد کے لئے آؤ۔ لیکن جب حضرت علیؓ کے سامنے بعض ان لوگوں نے جو اس فریب میں شامل نہ تھے خطوں کا ذکر کر دیا اور آپ نے انکار کیا تو پھر ان شریروں نے جو اِس فریب کے مرتکب تھے یہ بہانہ بنایا کہ گویا حضرت علیؓ نَعُوذُبِاللّٰہ پہلے خط لکھ کر اب خوف کے مارے ان سے انکار کرتے ہیں حالانکہ تمام واقعات ان کے اس دعویٰ کی صریح تردید کرتے ہیں اور حضرت علیؓ کا رویہ شروع سے بالکل پاک نظر آتا ہے لیکن یہ سب فساد اسی بات کا نتیجہ تھا کہ اُن مفسدوں کے پھندے میںآئے ہوئے لوگ حضرت علیؓ سے بھی واقف نہ تھے۔
    الغرض حضرت علیؓ کے پاس سے ناامید ہو کر یہ لوگ حضرت عثمانؓ کے پاس گئے اور کہا کہ آپ نے یہ خط لکھا۔ آپ نے فرمایا کہ شریعت اسلام کے مطابق دو طریق ہیں یا تو یہ کہ دو گواہ تم پیش کرو کہ یہ کام میرا ہے۔ یا یہ کہ میں خداتعالیٰ کی قسم کھاتا ہوں کہ یہ تحریر ہرگز میری نہیں اور نہ میں نے کسی سے لکھوائی اور نہ مجھے اس کا علم ہے اور تم جانتے ہو کہ لوگ جھوٹے خط لکھ لیتے ہیں اور مُہروں کی بھی نقلیں بنا لیتے ہیں مگر اس بات پر بھی ان لوگوں نے شرارت نہ چھوڑی اور اپنی ضد پر قائم رہے۔
    اِس واقعہ سے بھی ہمیں یہ بات معلوم ہو جاتی ہے کہ مدینہ کے لوگ ان کے ساتھ شامل نہ تھے کیونکہ اگر مدینہ میں سے بعض لوگ ان کی شرارت میں حصہ دار ہوتے تو ان کے لئے دو جھوٹے گواہ بنا لینے کچھ مشکل نہ تھے لیکن ان کا اس بات سے عاجز آ جانا بتاتا ہے کہ مدینہ میں سے دو آدمی بھی ان کے ساتھ نہ تھے (سوائے ان تین آدمیوں کے جن کا ذکر پہلے کر چکا ہوں مگر ان میں سے محمد بن ابی بکرؓ تو ان لوگوں کے ساتھ تھے۔ مدینہ میں نہ تھے اور صرف عمار اور محمد بن ابی حذیفہ مدینہ میں تھے لیکن یہ دونوں بھی نیک آدمی تھے اور صرف ان کی فریب دینے والی باتوں کے دھوکے میںآئے ہوئے تھے) اور یہ لوگ اپنے میں سے گواہ نہیں بنا سکتے تھے کیونکہ یہ لوگ مدینہ میں موجود نہ تھے ان کی گواہی قابلِ قبول نہ تھی۔
    گو ہرطرح ان لوگوں کو ذلّت پہنچی لیکن اُنہوں نے اپنی کارروائی کو ترک نہ کیا اور برابر مدینہ کا محاصرہ کئے پڑے رہے۔ شروع شروع میں تو حضرت عثمانؓ کو بھی اور باقی اہلِ مدینہ کو بھی مسجد میں نماز کے لئے آنے کی اجازت اُنہوں نے دے دی تھی اور حضرت عثمانؓ بڑی دلیری سے ان لوگوں میں آ کر نماز پڑھاتے۔ لیکن باقی اوقات میں ان لوگوں کی جماعتیں مدینہ کی گلیوں میں پھرتی رہتیں اور اہلِ مدینہ کو آپس میں کہیں جمع ہونے نہ دیتیں تا کہ وہ ان پر حملہ آور نہ ہوں۔ جب جمعہ کا دن آیا تو حضرت عثمانؓ جمعہ کی نماز کے لئے مسجد نبوی میں تشریف لائے اور منبر پر چڑھ کر فرمایا کہ اے دشمنانِ اسلام! مدینہ کے لوگ خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری نسبت پیشگوئی کی ہے اور تم پر *** کی ہے پس تم نیکیاں کر کے اپنی بدیوں کو مٹاؤ۔ کیونکہ بدیوں کو سوائے نیکیوں کے اور کوئی چیز نہیں مٹاتی ۔ اس پر محمد بن سلمہؓ کھڑے ہوئے اور فرمایا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں لیکن حکیم بن جبلہ (وہی چورجس کا پہلے ذکر آچکا ہے) نے ان کو بٹھا دیا۔ پھر زید بن ثابتؓ کھڑے ہوئے اور اُنہوں نے کہا مجھے قرآن کریم دو (ان کامنشاء بھی ان لوگوں کے خلاف گواہی دینے کا تھا) مگر باغیوں میں سے ایک شخص نے اُن کو بھی بٹھا دیا اور پھر اس خیال سے کہ ایسا نہ ہو صحابہؓ اسی طرح گواہی دے دے کر ہمارا ملعون اور خلافِ قرآن امور پر عامل ہونا ظاہر کر دیں پتھر مار مار کر صحابہؓ کو مسجد سے باہر نکال دیا اور اس کے بعد حضرت عثمانؓ پر پتھر پھینکنے شروع کئے جن کے صدمہ سے وہ بیہوش ہوکر زمین پر جا پڑے۔ جس پر بعض لوگوں نے آپ کو اُٹھا کر آپ کے گھر پہنچا دیا۔ جب صحابہؓ کو حضرت عثمانؓ کا یہ حال معلوم ہوا تو باوجود اس بے بسی کی حالت کے ان میں سے ایک جماعت لڑنے کے لئے تیار ہوگئی۔ جن میں ابوہریرہؓ، زید بن ثابتؓ کاتب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت امام حسنؓ بھی تھے۔ جب حضرت عثمانؓ کو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے اُن کو قسم دے کر کہلا بھیجا کہ جانے دو اور ان لوگوں سے جنگ نہ کرو۔ چنانچہ بادلِ نخواستہ یہ لوگ اپنے گھروں کو چلے گئے اور حضرت علیؓ، حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ نے آپ کے گھر پر جا کر اِس واقعہ کا بہت افسوس کیا۔ اس واقعہ کے بعد بھی حضرت عثمانؓ نماز پڑھاتے رہے لیکن محاصرہ کے تیسویں دن مُفسدوں نے آپ کو نماز کے لئے نکلنے سے بھی روک دیا اور اہلِ مدینہ کو بھی دِق کرنا شروع کیا اور جو شخص ان کی خواہشات کے پورا کرنے میں مانع ہوتا اُسے قتل کر دیتے اور مدینہ کے لوگوں میں کوئی شخص بغیر تلوار لگائے کے باہر نہ نکل سکتا کہ کہیں اس کو یہ لوگ ایذاء نہ پہنچائیں۔ انہی دنوں میں کہ حضرت عثمانؓ خود نماز پڑھاتے تھے آخری جمعہ میں آپ نماز پڑھانے لگے تو ایک خبیث نے آپ کو گالی دے کر کہا کہ اُتر منبر سے! اور آپ کے ہاتھ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عصا تھا وہ چھین لیا اور اسے اپنے گھٹنے پر رکھ کر توڑ دیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ سزا دی کہ اس کے گھٹنے میں کیڑے پڑ گئے۔ اس کے بعد حضرت عثمانؓ صرف ایک یا دو دفعہ نکلے۔ پھر نکلنے کی ان باغیوں نے اجازت نہ دی۔ ان محاصرہ کے دنوں میں حضرت عثمانؓ نے ایک شخص کو بُلوایا اور پوچھا کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ اس نے کہا کہ دو باتوں میں سے ایک چاہتے ہیں یا تو یہ کہ آپ خلافت ترک کر دیں اور یا یہ کہ آپ پر جو الزام لگائے جاتے ہیں ان کے بدلہ میں آپ سے قصاص لیا جائے۔ اگر ان دونوں باتوں میں سے آپ ایک بھی نہ مانیں گے تو یہ لوگ آپ کو قتل کر دیں گے۔ آپ نے پوچھا کہ کیا کوئی اور تجویز نہیں ہو سکتی؟ اس نے کہا نہیں اور کوئی صورت نہیں ہو سکتی۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ خلافت تو میں چھوڑ نہیں سکتا یہ قمیض خداتعالیٰ نے مجھے پہنائی ہے اسے تو میں ہرگز نہیں اُتاروں گا۔ مجھے اپنا قتل ہونا اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں خداتعالیٰ کی پہنائی ہوئی قمیض کو اُتار دوں اور مسلمانوں کو آپس میں لڑنے مرنے دوں۔ باقی رہا قصاص کا معاملہ سو مجھ سے پہلے دونوں خلیفوں سے کبھی ان کے کاموں کے بدلہ میں قصاص نہیں لیا گیا۔ باقی رہا یہ کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے سو یاد رکھو کہ اگر وہ مجھے قتل کر دیں گے تو اس دن کے بعد سب مسلمان کبھی ایک مسجد میں نماز نہیں ادا کریں گے اور کبھی سب مسلمان مل کر ایک دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے اور نہ مسلمانوں کا اتحاد قائم رہے گا۱۶؎ (چنانچہ تیرہ سَو سال کے واقعات اس قول کی صداقت پر شہادت دے رہے ہیں)۔
    اس کے بعد مفسدوں نے حکم دے دیا کہ کوئی شخص نہ حضرت عثمانؓ کے پاس جا سکے نہ اپنے مکان سے باہر نکل سکے۔ چنانچہ جب یہ حکم دیا تو اُس وقت ابن عباسؓ اندر تھے جب اُنہوں نے نکلنا چاہا تو لوگوں نے ان کو باہر نکلنے کی اجازت نہ دی۔ لیکن اتنے عرصہ میں محمد بن ابی بکر آ گئے اور اُنہوں نے ان لوگوں سے کہا کہ ان کو جانے دو۔ جس پر اُنہوں نے انہیں نکلنے کی اجازت دے دی۔ اس کے بعد محاصرہ سخت ہو گیا اور کسی شخص کو اندر جانے کی اجازت نہ دی جاتی حتّٰی کہ حضرت عثمانؓ اور آپ کے گھر والوں کے لئے پانی تک لے جانے کی اجازت نہ تھی اور پیاس کی شدت سے وہ سخت تکلیف اُٹھاتے تھے۔ جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی تو حضرت عثمانؓ نے اپنی دیوار پر چڑھ کر اپنے ایک ہمسایہ کے لڑکے کو حضرت علیؓ، حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ اور اُمہات المؤمنینؓ کے پاس بھیجا کہ ہمارے لئے پانی کا کوئی بندوبست کرو۔ اس پر حضرت علیؓ فوراً پانی کی ایک مَشک لے کر گئے لیکن ہر چند اُنہوں نے کوشش کی مُفسدوں نے اِن کو پانی پہنچانے یا اندر جانے کی اجازت نہ دی۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ یہ کیا طریق ہے نہ مسلمانوں کا طریق ہے نہ کفار کا۔ رُومی اور ایرانی بھی اپنے دشمن کا کھانا اور پینا بند نہیں کرتے۔ تم لوگوں کو خوف ِخدا بھی اس حرکت سے نہیں روکتا! اُنہوں نے کہا کہ خواہ کچھ ہو اس کے پاس ایک قطرہ پانی نہیں پہنچنے دیں گے جس پر حضرت علیؓ نے اپنی پگڑی حضرت عثمانؓ کے گھر میں پھینک دی تا اُن کو معلوم ہو جائے کہ آپ نے تو بہت کوشش کی لیکن لوگوں نے آپ تک ان کو پہنچنے نہ دیا۔ اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت اُمِّ حبیبہؓ کو جب علم ہوا تو آپ بھی خلیفہ کی مدد کے لئے گھر سے تشریف لائیں لیکن ان بدبختوںنے آپ سے وہ سلوک کیا کہ جو ہمیشہ کیلئے ان کے لئے باعثِ *** رہے گا۔ اوّل تو اُنہوں نے اس خچر کو بِدکا دیا جس پر آپ سوار تھیں اور جب آپ نے کہا کہ حضرت عثمانؓ کے پاس بنو اُمیہ کے یتامیٰ اور بیواؤں کے اموال کے کاغذات ہیں ان کی وفات کے ساتھ ہی یتامیٰ اور بیواؤں کے مال ضائع ہو جائیں گے اس کے لئے تو مجھے جانے دو کہ کوئی انتظام کروں تو اُنہوں نے کہا تُو جھوٹ بولتی ہے (نَعُوْذُبِاللّٰہ مِنْ ذٰلِکَ) اور پھر تلوار مار کر آپ کی خچر کا تنگ توڑ دیا اور قریب تھا کہ وہ اس انبوہ میں گر کر شہید ہو جاتیں اور بے پردہ ہوتیں کہ بعض سچے مسلمانوں نے آگے بڑھ کر آپ کو سنبھالا اور حفاظت سے آپ کے گھر پہنچا دیا۔ اِس خبر کے پہنچتے ہی حضرت عائشہؓ حج کے لئے چل پڑیں۔ اور جب بعض لوگوں نے آپ کو روکا کہ آپ کے یہاں رہنے سے شاید فساد میں کچھ کمی ہو تو اُنہوں نے کہا کہ اگر میرے بس میں ہوتا تو میں ہر طرح اس فساد کو روکتی۔ لیکن کیا تم چاہتے ہو کہ میرے ساتھ بھی وہی سلوک ہو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیوی اُم حبیبہؓ کے ساتھ ہوا ہے اور اس وقت میرے بچانے والا بھی کوئی نہ ہو۔ خدا کی قسم! میں اپنے آپ کو ایسے خطرہ میں نہ ڈالوں گی کہ میرے ننگ و ناموس پر حرف آئے۔
    ان باغیوں نے جب دیکھا کہ ان کی طرف سے فساد کی کوئی راہ نہیں نکلتی تو آپ کے گھر پر پتھر مارنے شروع کئے تا کوئی ناراض ہو کر ان پر بھی حملہ کر دے تو ان کو عُذر مل جائے کہ ہم پر حملہ کیا گیا تھا اس لئے ہم نے بھی حملہ کیا۔ پتھروں کے پڑنے پر حضرت عثمانؓ نے آواز دی کہ اے لوگو! خدا سے ڈرو دشمن تو تم میرے ہو اور اس گھر میں تو میرے سوا اور لوگ بھی ہیں ان کو کیوں تکلیف دیتے ہو۔ ان بدبختوں نے جواب دیا کہ ہم پتھر نہیں مارتے یہ پتھر خداتعالیٰ کی طرف سے تمہارے اعمال کے بدلے میںپڑ رہے ہیں۔ آپ نے کہا کہ یہ جھوٹ ہے تمہارے پتھر تو کبھی ہمیں لگتے ہیں اور کبھی نہیں لگتے اور خداتعالیٰ کے پتھر تو خالی نہیں جایا کرتے وہ تو نشانہ پر ٹھیک بیٹھتے ہیں۔ فساد کو اس قدر بڑھتا ہوا دیکھ کر حضرت عثمانؓ نے چاہا کہ مدینہ کے لوگوں کو بیچ میں سے ہٹاؤں تا کہ میرے ساتھ یہ بھی تکلیف میں نہ پڑیں چنانچہ آپ نے حکم دیا کہ اے اہلِ مدینہ! میں تم کو حکم دیتا ہوں کہ اپنے گھروں میں بیٹھ رہو اور میرے مکان کے پاس نہ آیا کرو اور میں تم کو قسم دیتا ہوں کہ میری اِس بات کو مان لو۔ اس پر وہ لوگ بادلِ نخواستہ اپنے گھروں کی طرف چلے گئے لیکن اس کے بعد چند نوجوانوں کو پہرہ کے لئے اُنہوں نے مقرر کر دیا۔ حضرت عثمانؓ نے جب صحابہؓ کی اس محبت کو دیکھا اور سمجھ لیا کہ اگر کوئی فساد ہوا تو صحابہ اور ؓ اہلِ مدینہ اپنی جانوں کو ہلاکت میں ڈال دیں گے لیکن خاموش نہ رہیں گے تو اُنہوں نے اعلان کیا کہ حج کا موسم ہے لوگوں کو حسبِ معمول حج کے لئے جانا چاہیے اور عبداللہ بن عباسؓ کو جو ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے آپ کا دروازہ نہیں چھوڑا تھا فرمایا کہ تم کو میں حج کا امیر مقرر کرتا ہوں۔ اُنہوں نے کہا اے امیرالمؤمنین! خدا کی قسم! یہ جہاد مجھے حج سے بہت زیادہ پیارا ہے مگر آپ نے ان کو مجبور کیا کہ فوراً چلے جائیں اور حج کا انتظام کریں۔ اس کے بعد اپنی وصیت لکھ کر حضرت زبیرؓ کے پاس بھجوا دی اور ان کو بھی رخصت کیا ۔ چونکہ حضرت ابوبکرؓ کے چھوٹے لڑکے محمد ان باغیوں کے فریب میں آئے ہوئے تھے اُن کو ایک عورت نے کہلا بھیجا کہ شمع سے نصیحت حاصل کرو وہ خود جلتی ہے اور دوسروں کو روشنی دیتی ہے پس ایسا نہ کرو کہ خود گنہگار ہو کر ان لوگوں کے لئے خلافت کی مسند خالی کرو جو گنہگار نہیں۔ خوب یاد رکھو کہ جس کام کے لئے تم کوشش کر رہے ہو وہ کل دوسروں کے ہاتھ میں جائے گا اور اُس وقت آج کا عمل تمہارے لئے باعثِ حسرت ہوگا۔ لیکن ان کو اس جوش کے وقت اس نصیحت کی قدر معلوم نہ ہوئی۔
    غرض اِدھر تو حضرت عثمانؓ اہل مدینہ کی حفاظت کے لئے ان کو ان باغیوں کا مقابلہ کرنے سے روک رہے تھے اور اُدھر آپ کے بعض خطوط سے مختلف علاقوں کے گورنروں کو مدینہ کے حالات کا علم ہو گیا تھا اور وہ چاروں طرف سے لشکر جمع کر کے مدینہ کی طرف بڑھے چلے آ رہے تھے۔ اسی طرح حج کے لئے جو لوگ جمع ہوئے تھے ان کو جب معلوم ہوا تو اُنہوں نے بھی یہ فیصلہ کیا کہ حج کے بعد مدینہ کی طرف سب لوگ جائیں اور ان باغیوں کی سرکوبی کریں۔ جب ان حالات کا علم باغیوں کو ہوا تو اُنہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور فیصلہ کیا کہ یہ غلطی جو ہم سے ہوئی ہے کہ ہم نے اس طرح خلیفہ کامقابلہ کیا ہے اس سے پیچھے ہٹنے کا اب کوئی راستہ نہیں۔ پس اب یہی صورت نجات کی ہے کہ عثمانؓ کو قتل کر دو۔
    جب اُنہوں نے یہ ارادہ کر کے حضرت عثمانؓ کے مکان پر حملہ کیا تو صحابہؓ تلواریں کھینچ کر حضرت عثمانؓ کے دروازہ پر جمع ہوگئے۔مگر حضرت عثمانؓ نے ان کو منع کیا اور کہا کہ تم کو میں اپنی مدد کے عہد سے آزاد کرتا ہوں تم اپنے گھروں کو لَوٹ جاؤ لیکن اس خطرناک حالت میں حضرت عثمانؓ کو تنہا چھوڑ دینا اُنہوں نے گوارا نہ کیا اور واپس لَوٹنے سے صاف انکار کر دیا۔ اس پر وہ ۸۰سالہ بوڑھا جو ہمت میں بہادر جوانوں سے زیادہ تھا ہاتھ میں تلوار لے کر اور ڈھال پکڑ کر اپنے گھر کا دروازہ کھول کر مردانہ وار صحابہؓ کو روکنے کے لئے اپنے خون کے پیاسے دشمنوں میں نکل آیا اور آپ کے اس طرح باہر نکل آنے کا یہ اثر ہوا کہ مصری جو اُس وقت حملہ کر رہے تھے اُلٹے پاؤں لَوٹ گئے اور آپ کے سامنے کوئی نہ ٹھہرا۔ آپ نے صحابہؓ کو بہت روکا لیکن اُنہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں ہم آپ کی بات نہ مانیں گے کیونکہ آپ کی حفاظت ہمارافرض ہے۔ آخر حضرت عثمانؓ ان کو اپنے گھر میں لے آئے اور پھر دروازہ بند کر لیا۔ اُس وقت صحابہؓ نے اُن سے کہا کہ اے امیرالمؤمنین! اگر آج آپ کے کہنے پر ہم لوگ گھروں کو چلے جائیں تو خداتعالیٰ کے سامنے کیا جواب دیں گے کہ تم میں حفاظت کی طاقت تھی پھر تم نے حفاظت کیوں نہ کی اور ہم میں اتنی تو طاقت ہے کہ اس وقت تک کہ ہم سب مر جائیں ان کو آپ تک نہ پہنچنے دیں (ان صحابہؓ میں حضرت امام حسنؓ بھی شامل تھے) جب مفسدوں نے دیکھا کہ اِدھر تو صحابہؓ کسی طرح ان کو حضرت عثمانؓ کے گھر میں داخل ہونے نہیں دیتے اور اُدھر مکہ کے حاجیوں کی واپسی شروع ہوگئی ہے بلکہ بعض بہادر اپنی سواریوں کو دَوڑا کر مدینہ میں پہنچ بھی گئے ہیں اور شام و بصرہ کی فوجیں بھی مدینہ کے بالکل قریب پہنچ گئی ہیں بلکہ ایک دن کے فاصلہ پر رہ گئی ہیں تو وہ سخت گھبرائے اور کہا کہ یا آج ان کا کسی طرح فیصلہ کر دو ورنہ ہلاکت کے لئے تیار ہو جاؤ۔ چنانچہ چند آدمیوں نے یہ کام اپنے ذمہ لیا اور بے خبری میں ایک طرف سے کُود کر آپ کے قتل کے لئے گھر میں داخل ہوئے۔ ان میں محمد بن ابی بکر بھی تھے جنہوں نے سب سے آگے بڑھ کر آپ کی داڑھی پکڑی۔ اِس پر حضرت عثمانؓ نے فرمایا کہ اگر تیرا باپ ہوتا تو ایسا نہ کرتا اور کچھ ایسی پُررُعب نگاہوں سے دیکھا کہ ان کا تمام بدن کانپنے لگ گیا اور وہ اُسی وقت واپس لوٹ گئے۔ باقی آدمیوں نے آپ کو پہلے مارنا شروع کیا اس کے بعد تلوار مار کر آپ کو قتل کر دیا۔ آپ کی بیوی نے آپ کو بچانا چاہا لیکن ان کا ہاتھ کٹ گیا جس وقت آپ کو قتل کیا گیا اُس وقت آپ قرآن پڑھ رہے تھے اور آپ نے ان قاتلوں کو دیکھ کر قرآن کی تلاوت نہیں چھوڑی بلکہ اسی میں مشغول رہے چنانچہ ایک خبیث نے پیر مار کر آپ کے آگے سے قرآن کریم کو پَرے پھینک دیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شقی دین سے کیا تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے قتل کرنے کے بعد ایک شور پڑ گیا اور باغیوں نے اعلان کر دیا کہ آپ کے گھر میں جو کچھ ہو لُوٹ لو۔ چنانچہ آپ کا سب مال و اسباب لُوٹ لیا گیا لیکن اسی پر بس نہیں کی گئی بلکہ آپ کے گھر کے لُوٹنے کے بعد وہ لوگ بیت المال کی طرف گئے او رخزانہ میں جس قدر روپیہ تھا سب لُوٹ لیا جس سے ان لوگوں کی اصل نیت معلوم ہوتی ہے یا تو یہ لوگ حضرت عثمانؓ پر الزام لگاتے تھے اور ان کے معزول کرنے کی یہی وجہ بتاتے تھے کہ وہ خزانہ کے روپیہ کو بُری طرح استعمال کرتے ہیں اور اپنے رشتہ داروں کو دے دیتے ہیں یا خود سرکاری خزانہ کے قفل توڑ کر سب روپیہ لوٹ لیا اس سے معلوم ہو گیا کہ ان کی اصل غرض دنیا تھی اور حضرت عثمانؓ کا مقابلہ محض اپنے آپ کو آزاد کرنے کے لئے تھا تا کہ جو چاہیں کریں اور کوئی شخص روک نہ ہو۔ جب حضرت عثمانؓ شہید ہوئے تو اسلامی لشکر جو شام و بصرہ اور کوفہ سے آتے تھے ایک دن کے فاصلہ پر تھے اُن کو جب یہ خبر ملی تو وہ وہیں سے واپس لَوٹ گئے تا ان کے جانے کی وجہ سے مدینہ میں کشت و خون نہ ہو اور خلافت کا معاملہ اُنہوں نے خداتعالیٰ کے سپرد کر دیا۔ ان باغیوں نے حضرت عثمانؓ کو شہید کرنے اور ان کا مال لُوٹنے پر بس نہیں کی بلکہ ان کی لاش کو بھی پاؤں میں رَوندا اور دفن نہ کرنے دیا۔ آخر جب خطرہ ہوا کہ زیادہ پڑے رہنے سے جسم میں تغیر نہ پیدا ہو جائے تو بعض صحابہؓ نے رات کے وقت پوشیدہ آپ کو دفن کر دیا۔
    ایک دو دن تو خوب لُوٹ مار کا بازار گرم رہا لیکن جب جوش ٹھنڈا ہوا تو ان باغیوں کو پھر اپنے انجام کا فکر ہوا اور ڈرے کہ اب کیا ہوگا۔ چنانچہ بعض نے تو یہ سمجھ کر کہ حضرت معاویہؓ ایک زبردست آدمی ہیں اور ضرور اِس قتل کا بدلہ لیں گے شام کا رُخ کیا اور وہاں جاکر خود ہی واویلا کرنا شروع کر دیا کہ حضرت عثمانؓ شہید ہوگئے اور کوئی ان کا قصاص نہیں لیتا۔ کچھ بھاگ کر مکہ کے راستے میں حضرت زبیرؓ اور حضرت عائشہؓ سے جا ملے اور کہا کہ کس قدر ظلم ہے کہ خلیفۂ اسلام شہید کیا جائے اور مسلمان خاموش رہیں۔ کچھ بھاگ کر حضرت علیؓ کے پاس پہنچے اور کہا کہ اِس وقت مصیبت کا وقت ہے اسلامی حکومت کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہے آپ بیعت لیں تا لوگوں کا خوف دور ہو اور امن و امان قائم ہو۔ جو صحابہؓ مدینہ میں موجود تھے اُنہوں نے بھی باِلاتفاق یہی مشورہ دیا کہ اِس وقت یہی مناسب ہے کہ آپ اس بوجھ کو اپنے سر پر رکھیں کہ آپ کا یہ کام موجبِ ثواب و رضائے الٰہی ہوگا۔ جب چاروں طرف سے آپ کو مجبور کیا گیا تو کئی دفعہ انکار کرنے کے بعد آپ نے مجبوراً اِس کام کو اپنے ذمہ لیا اور بیعت لی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت علیؓ کا یہ فعل بڑی حکمت پر مشتمل تھا۔ اگر آپ اُس وقت بیعت نہ لیتے تو اسلام کو اس سے بھی زیادہ نقصان پہنچتا جو آپ کی اور حضرت معاویہؓ کی جنگ سے پہنچا۔ کیونکہ اس صورت میں تمام اسلامی صوبوں کے آزاد ہو کر الگ الگ بادشاہتوں کے قیام کا اندیشہ تھا اور جو بات چار سَو سال بعد ہوئی وہ اُسی وقت ہو جانی ممکن ہی نہیں بلکہ یقینی تھی۔ پس گو حضرت علیؓ کا اُس وقت بیعت لینا بعض مصالح کے ماتحت مناسب نہ تھا اور اسی کی وجہ سے آپ پر بعض لوگوں نے شرات سے اور بعض نے غلط فہمی سے یہ الزام لگایا کہ آپ نَعُوْذُ بِاللّٰہ حضرت عثمانؓ کے قتل میں شریک تھے اور یہ خطرہ آپ کے سامنے بیعت لینے سے پہلے حضرت ابن عباسؓ نے بیان بھی کر دیا تھا اور آپ اسے خوب سمجھتے بھی تھے لیکن آپ نے اسلام کی خاطر اپنی شہرت و عزت کی کوئی پرواہ نہیں کی اور ایک بے نظیر قربانی کر کے اپنے آپ کو ہدفِ ملامت بنایا لیکن اسلام کو نقصان پہنچنے سے بچا لیا۔ فَجَزَاہُ اللّٰہُ عَنَّا وَعَنْ جَمِیْعِ الْمُسْلِمِیْنَ۔
    جیساکہ میں پہلے بتا چکا ہوں قاتلوں کے گروہ مختلف جِہا ت میں پھیل گئے تھے اور اپنے آپ کو الزام سے بچانے کے لئے دوسروں پر الزام لگاتے تھے جب ان کو معلوم ہوا کہ حضرت علیؓ نے مسلمانوں سے بیعت لے لی ہے تو ان کو آپ پر الزام لگانے کا عمدہ موقع مل گیا اور یہ بات درست بھی تھی کہ آپ کے اِردگرد حضرت عثمانؓ کے قاتلوں میں سے کچھ لوگ جمع بھی ہو گئے تھے اس لئے ان کو الزام لگانے کا عمدہ موقع حاصل تھا۔ چنانچہ ان میں سے جو جماعت مکہ کی طرف گئی تھی اس نے حضرت عائشہؓ کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ حضرت عثمانؓ کے خون کا بدلہ لینے کے لئے جہاد کا اعلان کریں چنانچہ اُنہوں نے اس بات کا اعلان کیا اور صحابہؓ کو اپنی مدد کے لئے طلب کیا۔ حضرت طلحہؓ اور زبیرؓ نے حضرت علیؓ کی بیعت اس شرط پر کر لی تھی کہ وہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے جلد سے جلد بدلہ لیں گے اُنہوں نے جلدی کے جو معنی سمجھے تھے وہ حضرت علیؓ کے نزدیک خلافِ مصلحت تھے ان کا خیال تھا کہ پہلے تمام صوبوں کا انتظام ہو جائے پھر قاتلوں کو سزا دینے کی طرف توجہ کی جائے۔ کیونکہ اوّل مقدم اسلام کی حفاظت ہے قاتلوں کے معاملہ میں دیر ہونے سے کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح قاتلوں کی تعیین میں بھی اختلاف تھا جو لوگ نہایت افسردہ شکلیں بنا کر سب سے پہلے حضرت علیؓ کے پاس پہنچ گئے تھے اور اسلام میں تفرقہ ہو جانے کا اندیشہ ظاہر کرتے تھے ان کی نسبت حضرت علیؓ کو باِلطبع شبہ نہ ہوتا تھا کہ یہ لوگ فساد کے بانی ہیں دوسرے لوگ ان پر شبہ کرتے تھے اس اختلاف کی وجہ سے طلحہؓ اور زبیرؓ نے یہ سمجھا کہ حضرت علیؓ اپنے عہد سے پھرتے ہیں۔ چونکہ اُنہوں نے ایک شرط پر بیعت کی تھی اور وہ شرط ان کے خیال میں حضرت علیؓ نے پوری نہ کی تھی اس لئے وہ شرعاً اپنے آپ کو بیعت سے آزاد خیال کرتے تھے۔ جب حضرت عائشہؓ کا اعلان ان کو پہنچا تو وہ بھی ان کے ساتھ جا ملے اور سب مل کر بصرہ کی طرف چلے گئے۔ بصرہ میں گورنر نے لوگوں کو آپ کے ساتھ ملنے سے باز رکھا لیکن جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ طلحہؓ اور زبیرؓ نے صرف اکراہ سے اور ایک شرط سے مقیّد کر کے حضرت علیؓ کی بیعت کی ہے تو اکثر لوگ آپ کے ساتھ شامل ہو گئے۔ جب حضرت علیؓ کو اس لشکر کا علم ہوا تو آپ نے بھی ایک لشکر تیار کیا اور بصرہ کی طرف روانہ ہوئے۔ بصرہ پہنچ کر آپ نے ایک آدمی کو حضرت عائشہؓ اور طلحہؓ اور زبیرؓ کی طرف بھیجا۔ وہ آدمی پہلے حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا کہ آپ کا ارادہ کیا ہے؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ ہمارا ارادہ صرف اصلاح ہے۔ اس کے بعد اس شخص نے طلحہؓ اور زبیرؓ کو بھی بلوایا اور اُن سے پوچھا کہ آپ بھی اسی لئے جنگ پر آمادہ ہوئے ہیں؟ اُنہوں نے کہا کہ ہاں۔ اس شخص نے جواب دیا کہ اگر آپ کا منشاء اصلاح ہے تو اس کا یہ طریق نہیں جو آپ نے اختیار کیا ہے اس کا نتیجہ تو فساد ہے اِس وقت مُلک کی ایسی حالت ہے کہ اگر ایک شخص کو آپ قتل کریں گے تو ہزار اُس کی تائید میں کھڑے ہو جائیں گے۔ اور ان کا مقابلہ کریں گے تو اور بھی زیادہ لوگ ان کی مدد کے لئے کھڑے ہو جائیں گے۔ پس اصلاح یہ ہے کہ پہلے مُلک کو اتحاد کی رسّی میں باندھا جائے پھر شریروں کو سزا دی جائے ورنہ اِس بدامنی میں کسی کو سزا دینا مُلک میں اور فتنہ ڈلوانا ہے۔ حکومت پہلے قائم ہو جائے تو وہ سزا دے گی۔ یہ بات سن کر اُنہوں نے کہا کہ اگر حضرت علیؓ کا یہی عندیہ ہے تو وہ آ جائیں ہم ان کے ساتھ ملنے کو تیار ہیں۔ اس پر اس شخص نے حضرت علیؓ کو اطلاع دی اور طرفین کے قائم مقام ایک دوسرے کو ملے اور فیصلہ ہو گیا کہ جنگ کرنا درست نہیں صلح ہونی چاہیے۔
    جب یہ خبر سبائیوں (یعنی جو عبداللہ بن سبا کی جماعت کے لوگ اور قاتلین حضرت عثمانؓ تھے)کو پہنچی تو ان کو سخت گھبراہٹ ہوئی اور خفیہ خفیہ ان کی ایک جماعت مشورہ کے لئے اکٹھی ہوئی۔ اُنہوں نے مشورہ کے بعد فیصلہ کیا کہ مسلمانوں میں صلح ہو جانی ہمارے لئے سخت مُضر ہوگی کیونکہ اُسی وقت تک ہم حضرت عثمانؓ کے قتل کی سزا سے بچ سکتے ہیں جب تک کہ مسلمان آپس میں لڑتے رہیں گے۔ اگر صلح ہو گئی اور امن ہو گیا تو ہمارا ٹھکانہ کہیں نہیں اس لئے جس طرح سے ہو صلح نہ ہونے دو۔ اتنے میں حضرت علیؓ بھی پہنچ گئے اور آپ کے پہنچنے کے دوسرے دن آپ کی اور حضرت زبیرؓ کی ملاقات ہوئی۔ وقتِ ملاقات حضرت علیؓ نے فرمایا کہ آپ نے میرے لڑنے کے لئے تو لشکر تیار کیا ہے مگر کیا خدا کے حضور میں پیش کرنے کے لئے کوئی عُذر بھی تیار کیا ہے؟ آپ لوگ کیوں اپنے ہاتھوں سے اس اسلام کے تباہ کرنے کے درپے ہوئے ہیں جس کی خدمت سخت جانکاہیوں سے کی تھی۔ کیا میں آپ لوگوں کا بھائی نہیں؟ پھر کیا وجہ ہے کہ پہلے تو ایک دوسرے کا خون حرام سمجھا جاتا تھا لیکن اب حلال ہو گیا۔ اگر کوئی نئی بات پیدا ہوئی ہوتی تو بھی بات تھی جب کوئی نئی بات پیدا نہیں ہوئی تو پھر یہ مقابلہ کیوں ہے؟ اس پر حضرت طلحہؓ نے کہا۔ وہ بھی حضرت زبیر کے ساتھ تھے کہ آپ نے حضرت عثمانؓ کے قتل پر لوگوں کو اُکسایا ہے۔حضرت علیؓ نے فرمایا کہ میں حضرت عثمانؓ کے قتل میں شریک ہونے والوں پر *** کرتا ہوں۔ پھر حضرت علیؓ نے حضرت زبیرؓ سے کہا کہ کیا تم کو یاد نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ خدا کی قسم! تُو علیؓ سے جنگ کرے گا اور تو ظالم ہوگا۔ یہ سن کر حضرت زبیرؓ اپنے لشکر کی طرف واپس لَوٹے اور قسم کھائی کہ وہ حضرت علیؓ سے ہرگز جنگ نہیں کریں گے اور اقرار کیا کہ اُنہوں نے اجتہاد میں غلطی کی۔ جب یہ خبر لشکر میں پھیلی تو سب کو اطمینان ہو گیا کہ اب جنگ نہ ہوگی بلکہ صلح ہو جائے گی لیکن مُفسدوں کو سخت گھبراہٹ ہونے لگی اور جب رات ہوئی تو اُنہوں نے صلح کو روکنے کے لئے یہ تدبیر کی کہ ان میںسے جو حضرت علیؓ کے ساتھ تھے اُنہوں نے حضرت عائشہؓ اور حضرت طلحہؓ و زبیرؓ کے لشکر پر رات کے وقت شب خون مار دیا۔ اور جو اُن کے لشکر میں تھے اُنہوں نے حضرت علیؓ کے لشکر پر شب خون مار دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک شور پڑ گیا اور ہر فریق نے خیال کیا کہ دوسرے فریق نے اس سے دھوکا کیا حالانکہ اصل میں یہ صرف سبائیوں کا ایک منصوبہ تھا۔ جب جنگ شروع ہوگئی تو حضرت علیؓ نے آواز دی کہ کوئی شخص حضرت عائشہؓ کو اطلاع دے شاید ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اس فتنہ کو دور کر دے۔ چنانچہ حضرت عائشہ کا اونٹ آگے کیا گیا لیکن نتیجہ اور بھی خطرناک نکلا۔ مفسدوں نے یہ دیکھ کر کہ ہماری تدبیر پھر اُلٹی پڑنے لگی حضرت عائشہؓ کے اونٹ پر تیر مارنے شروع کئے۔ حضرت عائشہؓ نے زور زور سے پکارنا شروع کیا کہ اے لوگو! جنگ کو ترک کرو اور خدا اور یومِ حساب کو یاد کرو لیکن مُفسد باز نہ آئے اور برابر آپ کے اونٹ پر تیر مارتے چلے گئے چونکہ اہل بصرہ اس لشکر کے ساتھ تھے جو حضرت عائشہؓ کے اِردگرد جمع ہوا تھا اُن کو یہ بات دیکھ کر سخت طیش آیا اور اُمّ المؤمنین کی یہ گستاخی دیکھ کر ان کے غصہ کی کوئی حد نہ رہی اور تلواریں کھینچ کر لشکر مخالف پر حملہ آور ہو گئے۔ اور اب یہ حال ہو گیا کہ حضرت عائشہؓ کا اونٹ جنگ کا مرکز بن گیا۔ صحابہ اور بڑے بڑے بہادر اس کے اِردگرد جمع ہو گئے اور ایک کے بعد ایک قتل ہونا شروع ہوا لیکن اونٹ کی باگ اُنہوں نے نہ چھوڑی۔ حضرت زبیرؓ تو جنگ میں شامل ہی نہ ہوئے اور ایک طرف نکل گئے مگر ایک شقی نے ان کے پیچھے سے جا کر اِس حالت میں کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اُن کو شہید کر دیا۔ حضرت طلحہؓ عین میدانِ جنگ میں اُن مفسدوں کے ہاتھ سے مارے گئے۔ جب جنگ تیز ہوگئی تو یہ دیکھ کر کہ اُس وقت تک جنگ ختم نہ ہوگی جب تک حضرت عائشہؓ کو درمیان سے ہٹایا نہ جائے بعض لوگوں نے آپ کے اونٹ کے پاؤں کاٹ دیئے اور ہودج اُتار کر زمین پر رکھ دیا۔ تب کہیں جا کر جنگ ختم ہوئی۔ اس واقعہ کو دیکھ کر حضرت علیؓ کا چہرہ مارے رنج کے سُرخ ہو گیا لیکن یہ جو کچھ ہوا اس سے چارہ بھی نہ تھا جنگ کے ختم ہونے پر جب مقتولین میں حضرت طلحہؓ کی نعش ملی تو حضرت علیؓ نے سخت افسوس کیا۔
    ان تمام واقعات سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ اس لڑائی میں صحابہؓ کا ہرگز کوئی دخل نہ تھا بلکہ یہ شرارت بھی قاتلانِ عثمانؓ کی ہی تھی۔ اور یہ کہ طلحہؓ اور زبیرؓ حضرت علیؓ کی بیعت ہی میں فوت ہوئے کیونکہ اُنہوں نے اپنے ارادہ سے رجوع کر لیا تھا اور حضرت علیؓ کا ساتھ دینے کا اقرار کر لیا تھا لیکن بعض شریروں کے ہاتھوں سے مارے گئے چنانچہ حضرت علیؓ نے ان کے قاتلوں پر *** بھی کی۔
    اِدھر تو یہ جنگ ہو رہی تھی اُدھر عثمانؓ کے قاتلوں کا گروہ جو معاویہؓ کے پاس چلا گیا تھا اس نے وہاں ایک کُہرام مچا دیا اور وہ حضرت عثمانؓ کا بدلہ لینے پر آمادہ ہوگئے۔ جب حضرت علیؓ کے لشکر سے ان کا لشکر ملا اور درمیان میں صلح کی بھی ایک راہ پیدا ہونے لگی تو ایک جماعت فتنہ پردازوں کی حضرت علیؓ کا ساتھ چھوڑ کر الگ ہوگئی اور اس نے یہ شور شروع کر دیا کہ خلیفہ کا وجود ہی خلافِ شریعت ہے احکام تو خداتعالیٰ کی طرف سے مقرر ہی ہیں باقی رہا انتظامِ مملکت سو یہ ایک انجمن کے سپرد ہونا چاہیے کسی ایک شخص کے ہاتھ میں نہیں ہونا چاہیے اور یہ لوگ خوارج کہلائے۔ اب بھی جو لوگ ہمارے مخالف ہیں ان کا یہی دعویٰ ہے اور ان کے وہی الفاظ ہیں جو خوارج کے تھے اور یہ بھی ہماری صداقت کا ایک ثبوت ہے کہ ان لوگوں کو اس جماعت سے مشابہت حاصل ہے جسے کُل مسلمان باِلاتفاق کراہت کی نگاہ سے دیکھتے چلے آئے ہیں اور ان کی غلطی کے معترف ہیں۔
    ابھی معاملات پوری طرح سُلجھے نہ تھے کہ خوارج کے گروہ نے یہ مشورہ کیا کہ اس فتنہ کو اس طرح دور کرو کہ جس قدر بڑے آدمی ہیں اُن کو قتل کر دو۔ چنانچہ ان کے دلیر،یہ اقرار کر کے نکلے کہ ان میں سے ایک حضرت علیؓ کو، ایک حضرت معاویہ ؓ کو اور ایکعمربن العاصؓ کو ایک ہی دن اور ایک ہی وقت میں قتل کر دے گا۔ جو حضرت معاویہؓ کی طرف گیا تھا اُس نے تو حضرت معاویہؓ پر حملہ کیا لیکن اس کی تلوار ٹھیک نہیں لگی اور حضرت معاویہؓ صرف معمولی زخمی ہوئے۔ وہ شخص پکڑا گیا اور بعد ازاں قتل کیا گیا۔ جو عمرو بن العاصؓ کو مارنے گیا تھا وہ بھی ناکام رہا کیونکہ وہ بوجہ بیماری نماز کے لئے نہ آئے جو شخص ان کو نماز پڑھانے کے لئے آیا تھا اُس نے اُس کو مار دیا اور خود پکڑا گیا اور بعد ازاں مارا گیا۔ جو شخص حضرت علیؓ کو مارنے کیلئے نکلا تھا اُس نے جب کہ آپ صبح کی نماز کے لئے کھڑے ہونے لگے آپ پر حملہ کیا اور آپ خطرناک طو رپر زخمی ہوئے آپ پر حملہ کرتے وقت اُس شخص نے یہ الفاظ کہے کہ اے علیؓ! تیرا حق نہیں کہ تیری ہر بات مانی جایا کرے بلکہ یہ حق صرف اللہ کو ہے (اب بھی غیرمبائعین ہم پر شرک کا الزام لگاتے ہیں)
    ان سب واقعات کو معلوم کر کے آپ لوگوں نے معلوم کر لیا ہوگا کہ یہ سب فتنہ انہی لوگوں کا اُٹھایا ہوا تھا جو مدینہ میں نہیں آئے تھے اور حضرت عثمانؓ سے واقفیت نہ رکھتے تھے آپ کے حالات نہ جانتے تھے، آپ کے اخلاص، آپ کے تقویٰ اور آپ کی طہارت سے ناواقف تھے، آپ کی دیانت اور امانت سے بے خبر تھے چونکہ ان کو شریروں کی طرف سے یہ بتایا گیا کہ خلیفہ خائن ہے، بددیانت ہے، فضول خرچ ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اس لئے وہ گھر بیٹھے ہی ان باتوں کو درست مان گئے اور فتنہ کے پھیلانے کا موجب ہوئے۔ لیکن اگر وہ مدینہ میں آتے ،حضرت عثمانؓ کی خدمت میں بیٹھتے، آپ کے حالات اور خیالات سے واقف ہوتے تو کبھی ایسا نہ ہوتا جیسا کہ ہوا۔میں نے ان حالات کو بہت مختصر کر دیا ہے ورنہ یہ اتنے لمبے اور ایسے دردناک ہیں کہ سننے والے کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
    پس یاد رکھو کہ یہ وہ فتنہ تھا جس نے مسلمانوں کے ۷۲ فرقے نہیں بلکہ ۷۲ ہزار فرقے بنا دیئے۔ مگر اس کی وجہ وہی ہے جو میں نے کئی دفعہ بتائی ہے کہ وہ لوگ مدینہ میں نہ آتے تھے۔ ان باتوں کو خوب ذہن نشین کر لو کیونکہ تمہاری جماعت میں بھی ایسے فتنے ہوں گے جن کا علاج یہی ہے کہ تم بار بار قادیان آؤ اور صحیح صحیح حالات سے واقفیت پیدا کرو۔ میں نہیں جانتا کہ یہ فتنے کس زمانہ میں ہوں گے لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ ہوں گے ضرور لیکن اگر تم قادیان آؤ گے اور بار بار آؤ گے تو ان فتنوں کے دور کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے۔
    پس تم اس بات کو خوب یاد رکھو اور اپنی نسلوں در نسلوں کو یاد کراؤ تا کہ اس زمانہ میں کامیاب ہو جاؤ۔ صحابہؓ کی دردناک تاریخ سے فائدہ اُٹھاؤ اور وہ باتیں جو ان کے لئے مشکلات کا موجب ہوئی ہیں ان کے انسداد کی کوشش کرو۔ فتنہ اور فساد پھیلانے والوں پر کبھی حُسنِ ظنی نہ کرنا اور ان کی کسی بات پر تحقیق کئے بغیر اعتبار نہ کرلینا۔ کیا اِس وقت تم نے ایسے لوگوں سے نقصان نہیں اُٹھایا؟ ضرور اُٹھایا ہے پس اب ہوشیار ہو جاؤ اور جہاں کوئی فتنہ دیکھو فوراً اس کا علاج کرو۔ توبہ اور استغفار پر بہت زور دینا۔ دیکھو اِس وقت بھی کس طرح دھوکے دیئے جاتے ہیں۔ ہمارے مخالفین میں سے ایک سرکردہ کا خط میر حامد شاہ صاحب کے پاس موجود ہے جس میں وہ انہیں لکھتے ہیں کہ نور دین اسلام کا خطرناک دشمن ہے اور انجمن پر حکومت کرنا چاہتا ہے۔ شاہ صاحب تو چونکہ قادیان آنے جانے والے تھے اس لئے ان پر اس خط کا کچھ اثر نہ ہوا لیکن اگر کوئی اور ہوتا جو قادیان نہ آیا کرتا تو وہ ضرور حضرت مولوی صاحب کے متعلق بدظنی کرتا اور کہتا کہ قادیان میں واقعی اندھیر پڑا ہوا ہے۔ اسی طرح اور بہت سی باتیں ان لوگوں نے پھیلائی ہیں لیکن اِس وقت تک خدا کے فضل سے انہیں کچھ کامیابی نہیں ہوئی۔ لیکن تم اس بات کے ذمہ دار ہو کہ شریر اور فتنہ انگیز لوگوں کو کُرید کُرید کر نکالو اور ان کی شرارتوں کے روکنے کا انتظام کرو۔
    میں نے تمہیں خداتعالیٰ سے علم پا کر بتا دیا ہے اور میں ہی وہ پہلا شخص ہوں جس نے اس طرح تمام صحیح واقعات کو یکجا جمع کر کے تمہارے سامنے رکھ دیا ہے جن سے معلوم ہو جائے کہ پہلے خلیفوں کی خلافتیں اس طرح تباہ ہوئی تھیں۔ پس تم میری نصیحتوں کو یاد رکھو۔ تم پر خدا کے بڑے فضل ہیں اور تم اس کی برگزیدہ جماعت ہو اس لئے تمہارے لئے ضروری ہے کہ اپنے پیشروؤں سے نصیحت پکڑو۔ خداتعالیٰ قرآن شریف میں لوگوں پر افسوس کا اظہار کرتا ہے کہ پہلی جماعتیں جو ہلاک ہوئی ہیں تم ان سے کیوں سبق نہیں لیتے۔ تم بھی گزشتہ واقعات سے سبق لو۔ میں نے جو واقعات بتائے ہیں وہ بڑی زبردست اور معتبر تاریخوں کے واقعات ہیں جو بڑی تلاش اور کوشش سے جمع کئے گئے ہیں اور ان کا تلاش کرنا میرا فرض تھا کیونکہ خداتعالیٰ نے جب کہ مجھے خلافت کے منصب پر کھڑا کیا ہے تو مجھ پر واجب تھا کہ دیکھوں پہلے خلیفوں کے وقت کیا ہوا تھا اس کے لئے میں نے نہایت کوشش کے ساتھ حالات کو جمع کیا ہے۔ اس سے پہلے کسی نے اِن واقعات کو اس طرح ترتیب نہیں دیا۔
    پس آپ لوگ ان باتوں کو سمجھ کر ہوشیار ہو جائیں اور تیار رہیں۔ فتنے ہوں گے اور بڑے سخت ہوں گے ان کو دور کرنا تمہارا کام ہے۔ خداتعالیٰ تمہاری مدد کرے اور تمہارے ساتھ ہو اور میری بھی مدد کرے اور مجھ سے بعد آنے والے خلیفوں کی بھی کرے اور خاص طور پر کرے کیونکہ اُن کی مشکلات مجھ سے بہت بڑھ کر اور بہت زیادہ ہوں گی۔ دوست کم ہوں گے اور دشمن زیادہ۔ اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہؓ بہت کم ہوں گے۔ مجھے حضرت علیؓ کی یہ بات یاد کر کے بہت ہی درد پیدا ہوتا ہے۔ اُن کو کسی نے کہا کہ حضرت ابوبکرؓ اور عمرؓ کے عہد میں تو ایسے فتنے اور فساد نہ ہوتے تھے جیسے آپ کے وقت میں ہو رہے ہیں۔ آپ نے اسے جواب دیا کہ او کم بخت! حضرت ابوبکرؓ اور عمرؓ کے ماتحت میرے جیسے شخص تھے اور میرے ماتحت تیرے جیسے لوگ ہیں۱۷؎۔ غرض جوں جوں دن گزرتے جائیں گے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صُحبت یافتہ لوگ کم رہ جائیں گے اور آپ کے تیارکردہ انسان قلیل ہو جائیں گے۔ پس قابلِ رحم حالت ہوگی اُس خلیفہ کی کہ جس کے ماتحت ایسے لوگ ہوں گے۔ خداتعالیٰ کا رحم اور فضل اُس کے شامل ہو اور اُس کی برکات اور اُس کی نصرت اُس کے لئے نازل ہوں جسے ایسے مخالف حالات میں اسلام کی خدمت کرنی پڑے گی۔ اِس وقت تو خداتعالیٰ کا فضل ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت سے صحابہ موجود ہیں جن کے دل خشیتِ الٰہی اپنے اندر رکھتے ہیں لیکن یہ ہمیشہ نہیں رہیں گے اور بعد میں آنے والے لوگ خلیفوں کے لئے مشکلات پیدا کریں گے۔ میں خداتعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ خدا آنے والے زمانہ میں اپنے فضل اور تائید سے ہماری جماعت کو کامیاب کرے اور مجھے بھی ایسے فتنوں سے بچائے اور مجھ سے بعد میں آنے والوں کو بھی بچائے۔ آمین
    (انوارالعلوم جلد۳ صفحہ۱۵۵تا۲۰۴)
    ۱؎ النصر: ۲ تا۴ ۲؎ اٰل عمران: ۳۲ ۳؎ الاحزاب: ۲۲
    ۴؎ المؤمن: ۵۶ ۵؎ محمد: ۲۰ ۶؎ الفتح: ۲،۳
    ۷؎ البقرۃ: ۱۳۰
    ۸؎ ابوداؤد ابواب الجمعۃ باب الامام یکلم الرجل فی خطبتہٖ
    ۹؎ بخاری کتاب العلم باب من قعد حیث ینتھی بہِ المجلس (الخ)
    ۱۰؎ الوصیت صفحہ۸۔ روحانی خزائن جلد۲۰ صفحہ۳۰۶
    ۱۱؎ بخاری کتاب الوضوء باب وضع الماء عند الخلاء
    ۱۲؎ طبری جلد۵ صفحہ۳۴۸۔ مطبوعہ بیروت ۱۹۸۷ء
    ۱۳؎ طبری جلد۵ صفحہ۳۵۳۔ مطبوعہ بیروت ۱۹۸۷ء
    ۱۴؎ اسدالغابۃ جلد۳ صفحہ۳۷۶۔ مطبوعہ ریاض ۱۲۸۶ھ
    ۱۵؎ طبری جلد۵ صفحہ۳۵۸،۳۵۹۔ مطبوعہ بیروت ۱۹۸۷ء
    ۱۶؎ طبری جلد۵ صفحہ۳۸۴۔ مطبوعہ بیروت ۱۹۸۷ء

    جماعت احمدیہ قادیان کو نصائح
    (تقریر فرمودہ ۲۹؍اگست ۱۹۱۷ء قادیان)
    ۲۹؍ اگست ۱۹۱۷ء کو بعد نماز مغرب تبدیلی آب و ہواکیلئے شملہ روانگی سے قبل حضرت مصلح موعود نے احباب جماعت قادیان کو نصائح فرمائیںجو ۸؍ ستمبر ۱۹۱۷ ء کے الفضل میں شائع ہوئیں۔ اولاً حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کی وجہ سے شریعت کے قیام پھر قرآنی احکامات کی اطاعت کے بارہ میں تفصیلاً ذکر فرمایا اور پھر فرمایا کہ سنتِ نبوی کے مطابق دو امیر مقرر کر رہا ہوں۔ازاں بعد خلافت اور امامت میں فرق اور آپس میں پیار اور محبت سے رہنے کی نصائح فرمائیں۔ نیز قادیان دارالامان کے مقام اور مرتبہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔
    ’’اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں کو اصلاحوں کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ آپ جس مقام پر رہتے ہیں اسے مقدس فرمایا۔اسے اسلام کی ان آئندہ ترقیات جو مقدر ہیں کامرکز بنایااس لئے آپ کی ہر حرکت، ہر فعل ، ہر قول نمونہ ہونا چاہئے۔ آپ کی ذمہ داریاں بڑی ہیں۔ آپ کوشش کریں کہ آپ میںکبھی لڑائی جھگڑا نہ ہو۔خصوصاً اِن دنوں میں کہ یہ آخری دن ہیں۔ پھر میری غیرحاضری میں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کہ کوئی روکنے والا نہیں۔ میں صرف لڑائی جھگڑے سے بچنے کے واسطے نہیں کہتا بلکہ تمام قسم کے عیوب اور لغووبیہودہ باتوں سے بچو اور پھر آپس میں تمہارے تعلقات اخوت و محبت کے اعلیٰ مقام پر ہوں۔ ایک دوسرے کی غمگساری کرو۔
    خلفائے قدیم و حال کے کاموں میں فرق
    اور یہ نہ کہو کہ یہ تو خلیفہ کا کام ہے۔ حضرت عمرؓ راتوں کو
    پھِر پِھر کر خبر گیری کیا کرتے تھے۔ حضرت صاحب پر بھی بعض نادانوں نے ایسا ہی اعتراض کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو بعض اوقات روٹی نہیں کھاتے تھے کھجوریں کھا کر گزارہ کر لیتے تھے۔ زمین پر سوتے اور ادھر مرزا صاحب اچھے کپڑے پہنتے ہیں۔ اچھا کھانا کھاتے ہیں۔ ان نادانوں کو کیا معلوم کہ
    ہر سخن وقتے وہر نکتہ مقامے وارد
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تصنیف کا نہ تھا۔ تبلیغ ہوتی تو زبانی۔ان کے اوقات اور قسم کے تھے اور مسیح موعود کے اور قسم کے۔ (گو مقصد ایک ہی تھا) تصنیف والے کے دماغ پر کچھ ایسا اثر ہوتا ہے کہ اگر اس کے کھانے کے متعلق خاص احتیاط نہ کی جائے، اس کے بیٹھنے اور سونے کیلئے نرم بستر نہ ہو، نرم لباس نہ ہوتو اس کے اعصاب پر صدمہ ہواور وہ پاگل ہوجائے۔پس دماغی کام کرنے والوں کا قیاس ان لوگوں پر نہیں کرنا چاہئے جو اور قسم کے کام کرتے ہیں۔حضرت عمرؓ کتابیں نہیں لکھا کرتے تھے اور نہ ان کے نام باہر سے اتنے لمبے لمبے سَو سَو ا سَوخطوط روزانہ آیا کرتے تھے جن کے جواب بھی ان کو لکھنے یا لکھانے پڑتے ہوں۔ اُس وقت خلیفہ کے مشاغل زیادہ تر مقامی حیثیت میں رہتے تھے اور باہر سے کبھی مہینے دوسرے مہینے ڈاک آتی اور اُس کا بھی اکثر حصہ زبانی طے ہوجاتا۔ مخالفین کے حملے بھی جنگ کی صورت میں ہوتے جن کا دفعیہ فوجوں کے ذریعہ ہو جاتا تھا۔اب تو سب کام دماغ سے ہی کرنے پڑتے ہیں۔
    مصالح سفرِ شملہ
    پچھلے دنوں میں ترجمہ کا کام کرتا رہا ہوںجس سے میرے دماغ پر اتنا بوجھ پڑا کہ ایسی حالت ہو گئی جو میں ایک سطر بھی لکھنے سے رہ گیا
    اور بخار ہو گیااس لئے اب میرا اراد ہ باہر جانے کا ہے۔ اصل منشاء تو یہی ہے کہ ذرا سا آرام ہوسکے مگر پھر بھی میں اپنے فرائض اور اس کام سے جو خدا نے میرے سپرد کیا ہے غافل نہیں ہوں۔ بعض رؤیا میں نے دیکھی ہیں جن کی بناء پر میں کہہ سکتا ہوں کہ کچھ اور مصالح بھی میرے سفر میں ہیں مجھے اس کی تفصیل نہیں معلوم ہوسکی کہ امر خیر ہے یا شر مگر ہے کچھ ضرور جو پیش آنے والاہے۔
    خلیفۂ وقت کے مشاغل
    اس کے علاوہ میرے ذہن میں جماعت کی ترقی کی سکیمیں ہیں۔ازاں جملہ ایک یہ کہ وہ کیا تدابیر ہیں جن
    پر چلنے سے جماعت میںآئندہ خلافت کے متعلق کوئی فتنہ نہ ہو۔ (ب) عورتوں کی تعلیم کے متعلق نصاب(ج) سیاسی امور سے ہمارے تعلقات کس طرح ہوں۔ان سب پر میں کچھ لکھنے والاہوں۔ اور یہ سب کام میرے ہی ذمہ ہیںجو میں کروں گااور کر رہا ہوں۔اگر مقامی احباب کی خبر گیری اور شہر میں پِھر پِھر کر ان کے گھروں میں جا جا کر فرداً فرداً حال پوچھنا مجھ ہی پر ڈالتے ہو اور آپ لوگ خود یہ نہیں کریں گے کہ وہ اپنے اپنے محلہ کی بیواؤں، یتیموں،بے کسوں،ضرورتمندوں کی خبر رکھو تو یہ کام مَیں بڑی خوشی سے باآسانی کر سکتا ہوں مگر پھر جماعت کی بیرونی ترقی کے تعلقات کم ہو جائیں گے۔ میں بتا چکا ہوں کہ اب زمانہ اور طرز پر آگیا ہے اب خلیفہ کیلئے صرف سلسلہ کے مرکز کا مقام ہی نہیں بلکہ باہرکی تمام جماعتوںکی باگ بھی براہِ راست اپنے ہاتھ میں رکھنی پڑتی ہے اور مخالفین سے بھی زیادہ ترخود ہی نپٹنا پڑتا ہے اور یہ کا م ہے بھی سارا دماغ کے متعلق۔ میں جب باہر نہیں آتا یا کوچہ بکوچہ پھر کر خبر گیری نہیں کرتا تو کئی لوگ سمجھتے ہوں گے کہ مزے سے اندر بیٹھا ہے۔ انہیں کیا معلوم کہ میں تو سارا دن ترجمہ وغیرہ لکھنے یا جماعت کی ترقی کی تجاویز سوچنے،ڈاک کا جواب دینے دلانے میں خرچ کرکے ان گرمی کے دنوںمیں بھی رات کے ایک بجے تک اس کام کیلئے جاگتا رہاہوں۔
    پھر تمہارے لئے دعائیں کرنا بھی میرا فرض ہے۔کبھی کبھی مجھے خیال آیا کرتا ہے کہ میں ہفتہ بھر کسی کو اپنے ساتھ رکھوں تا معلوم ہو کہ میں فارغ نہیں بیٹھا اور نہ آرام طلب۔غرض اب خلیفہ کے کام کی نوعیت بدل گئی ہے اور ان حالات کی موجودگی میں حضرت عمرؓ کی تقلیدمجھ پر ضروری نہیںاور نہ یہ سب کام ایک انسان کر سکتا ہے اور جب وہ نبی جسے خاص قویٰ دیئے جاتے ہیں جس کا میں خلیفہ ہوں نہیں کر سکا تو پھر مجھ پر کیا الزام آ سکتا ہے۔
    ہر جماعت کے مقامی فرائض
    پس زمانہ کے تغیر کے ساتھ تم بھی اپنی ذمہ داریوں کو بدلو اور یہ کام خود کرو کہ اپنے اپنے مقامی
    بھائی بہنوں کی خبر گیری کرو۔اگر کوئی بیمار ہے تو اُس کی دوائی لا دو۔اگر کوئی مبلغ باہر گیا ہے تو اُس کے گھر والوں کو سَودا وغیرہ لادو۔کسی بھائی یا بہن کو اور تکلیف ہے تو اس کو رفع کرو۔ کم از کم مجھے اطلاع تودو تا کہ میں خود انتظام کروں۔ابھی کچھ دن ہوئے صوفی تصور حسین صاحب کی اہلیہ بیمار ہوئیںان کے بچے چھوٹے تھے مجھے معلوم ہوا کہ دو دن سے ان کی کسی نے ایسی خبر گیری نہیں کی جیسی کہ چاہئے تھی۔فوراًمیں نے اس کا مناسب انتظام کیا لیکن افسوس ہے آ پ لوگوں نے کیوں شکایت کا موقع پیدا ہونے دیااور خود یہ کام سرانجام نہ دیا۔کم فرصتی کا عُذر فضول ہے کہ کاموں کی کثرت اور چیزہے اور کاموں کا اہم ہونااور بات ہے۔ دیکھو ایک شخص سے کہا جائے کہ فلاں مکان میں چارپائیاں بچھا دینا،یہ سَودا بازار سے لانا،کپڑے دھوپ میں رکھنا وغیرہ۔اور دوسرے سے کہا جائے کہ جنگل سے شیر مار لانا تو پہلا شخص نہیں کہہ سکتا کہ مجھے اتنے کام ہیںاور دوسرے کاصرف ایک کام۔کیونکہ آخری کام کے مقابلہ میں وہ پہلے بہت سے کام کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتے۔
    حقیقت حال سے بے خبر اعتراض کرتے ہیں
    پھر کاموں کی نوعیت میں بھی فرق ہوتا ہے۔جنگ کا تعلق
    اس زمانہ میں جسمانی حالت سے تھا اس لئے اس کے واسطے جفاکشی، محنت اور خشن۱؎ پوشی کی ضرورت تھی اور چاہئے تھا کہ غذا بھی سادہ ہوبلکہ اکثر بھوکے رہنے کی عادت ہو۔ مگر تصنیف کا تعلق دماغ سے ہے ۔اس کیلئے نرم لباس، نرم غذا چاہئے اور اپنے آپ کو حتّٰی الوسع تنہائی میں رکھناکیونکہ تصنیف کا اثر اعصاب پر پڑتا ہے ۔اس نکتہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اعتراض کیا کہ وہ روزے کم رکھتا ہے اور ’’کھاؤپیٔو‘‘ ہے۔ نادان یہ نہیں سمجھتے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ نہ تھا۔وہ تو ایک علمی زمانہ تھا۔ان کو مخالفین کے مقابل پر تقریریںکرنی پڑتی تھیںاور یہود کی کتب کا مطالعہ۔ موقع موقع کی بات ہوتی ہے روزے رکھنا بڑے ثواب کا کام ہے مگر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا کہ آج روزہ نہ رکھنے والے روزہ رکھنے والوں سے اجرمیں بڑھ گئے۲؎ کیونکہ بے روزوں نے خیمے وغیرہ لگائے ، کھانے کا بندوبست کیا اسباب رکھوایااور روزہ دار بے چارے بے دم ہو کر سفر سے آتے ہی لیٹ گئے۔غرض حالات کے بدلنے کے ساتھ تم اپنی حالتوں کو بدلو، اپنے فرض کو پہچانو۔ یہ کوئی بڑی بات نہیںکہ جب نماز پڑھنے کیلئے نکلے تو محلہ والے قرب وجوار کے حاجتمند احمدی گھروں کی خبر خیریت دریافت کرتے گئے۔سودے کے ساتھ ان کی خبر بھی لیتے گئے۔
    (انوارالعلوم جلد ۴۔ صفحہ ۲۴ تا ۲۷)
    ۱؎ خشن: ٹاٹ
    ۲؎ مسلم کتاب الصیام باب اجرالمفطر فِی السفر (الخ)

    اسلام میں اختلافات کا آغاز
    اسلامی تاریخ سے واقفیت کی ضرورت
    (تقریر حضرت فضل عمر خلیفۃ المسیح الثانی جو آپ نے ۲۶فروری ۱۹۱۹ء کو مارٹن ہسٹاریکل سوسائٹی اسلامیہ کالج لاہورکے ایک اجلاس میں فرمائی)
    ’’کچھ عرصہ ہوا میں نے یہ بات نہایت خوشی کے ساتھ سنی تھی کہ اسلامیہ کالج لاہورمیں ایک ایسی سوسائٹی قائم ہوئی ہے جس میں تاریخی امور سے واقف کار اپنی اپنی تحقیقات بیان کیا کریں گے۔ مجھے اِس سے بہت خوشی ہوئی کیونکہ اقوام کی ترقی میں تاریخ سے آگاہ ہونا ایک بہت بڑا محرک ہوتاہے اورکوئی ایسی قوم جو اپنی گذشتہ تاریخی روایات سے واقف نہ ہو کبھی ترقی کی طرف قدم نہیں مارسکتی۔ اپنے آبائو اجداد کے حالات کی واقفیت بہت سے اعلیٰ مقاصد کی طرف را ہنمائی کرتی ہے۔ پس جب اس سوسائٹی کے قائم ہونے کا مجھے علم ہوا تواس خیال سے کہ اس میں جہاں اورتاریخی مضامین پر لیکچر ہوں گے وہاں اسلامی تاریخ پر ایسے لیکچر ہواکریںگے جن سے کالجوں کے طالب علم اندازہ کرسکیں گے کہ ان کے آباؤ اجداد کے ذمہ کیسے کیسے مشکل کام پڑتے رہے ہیں اوروہ کس خوش اسلوبی اورکیسے استقلال کے ساتھ ان کوکرتے رہے ہیں۔ اوران کومعلوم ہوگاکہ ہم کیسے آباء کی اولاد ہیں اوران کی ذُریّت اورقائمقام ہونے کی حیثیت سے ہم پر کیافرائض عائد ہیں۔ اوران کو اپنے آباء کے شاندار اعمال اوران کی اعلیٰ شان کودیکھ کر انہی جیسابننے کاخیال پیدا ہوگا۔ پس مجھے اس سوسائٹی کے قائم ہونے پر بہت خوشی ہوئی اوراب جب کہ مجھ سے اس سوسائٹی میںاسلامی تاریخ کے کسی حصہ پر لیکچر دینے کے لئے کہا گیاتومیںنے نہایت خوشی سے اپنی روانگی ملتوی کرکے اس موقع پر آپ لوگوں کے سامنے بعض تاریخی مضامین پراپنی تحقیقات کا بیان کرنا منظور کرلیا۔
    مضمون کی اہمیت
    مجھ سے کہا گیا تھا کہ میں بعض اسلامی تاریخی مسائل پرکچھ بیان کروں اورگواسلامی تاریخ میں سب سے اہم وہ زمانہ ہے جس میں
    رسول کریم ﷺنے خداتعالیٰ کے حکم کے ماتحت دنیا میں اسلام کا اعلان کیا اورتئیس سالہ محنت شاقہ سے لاکھوں آدمیوں کے دلوں میں اس کا نقش ثبت کیا اور ہزاروں آدمیوں کی ایک ایسی جماعت پیداکردی جس کا فکر، قول اورفعل اسلام ہی ہوگیا۔ مگر چونکہ اسلام میں تفرقہ کی بنیاد رسول کریم ﷺکی وفات کے پندرہ سال بعد پڑی ہے اور اس وقت کے بعد مسلمانوں میں شقاق کا شگاف وسیع ہی ہوتا چلاگیا ہے اوراسی زمانہ کی تاریخ نہایت تاریک پردوں میں چُھپی ہوئی ہے اوراسلام کے دشمنوں کے نزدیک اسلام پرایک بدنما دھبہ ہے اوراس کے دوستوں کے لئے بھی ایک سرچکرادینے والا سوال ہے اوربہت کم ہیں جنہوں نے اس زمانہ کی تاریخ کی دلدل سے صحیح وسلامت پار نکلنا چاہاہو اوروہ اپنے مدعا میں کامیاب ہوسکے ہوں اس لئے میں نے یہی پسند کیا کہ آج آپ لوگوں کے سامنے اسی کے متعلق کچھ بیان کروں۔
    اسلام کاشاندار ماضی
    آپ لوگ جانتے ہوں گے کہ جو کام اللہ تعالیٰ نے میرے سپرد کیا ہواہے(یعنی جماعت احمدیہ کی تربیت اور اس کی
    ضروریات کا اِنصرام اوراس کی ترقی کی فکر)وہ اپنی نوعیت میں بہت سی شقوں پر حاوی ہے۔ پس اس کے انصرام کے لئے ان خاص تاریخی مضامین کا جو زمانۂ خلافت سے متعلق ہیں علم رکھنا میرے لئے ایک نہایت ضروری امر ہے اوراس لئے باوجود کم فُرصتی کے مجھے اس زمانہ کی تاریخ کو زیر مطالعہ رکھناپڑتاہے اورگو ہمارااصل کام مذہب کی تحقیق وتدقیق ہے مگر اس مطالعہ کے باعث ابتدائے اسلام کی تاریخ کے بعض ایسے پوشیدہ امر مجھ پر خداتعالیٰ کے فضل سے ظاہر ہوئے ہیںجن سے اس زمانہ کے اکثر لوگ ناواقف ہیں۔ اوراس ناواقفیت کے باعث بعض مسلمان تو اپنے مذہب سے بیزار ہورہے ہیں اور ان کواپنا ماضی ایسا بھیانک نظر آرہاہے کہ اس کی موجودگی میںوہ کسی شاندار مستقبل کی امید نہیں رکھ سکتے۔ مگران کی یہ مایوسی غلط اوران کے ایسے خیالات نادرست ہیں اورصرف اس امر کا نتیجہ ہیں کہ ان کو صحیح اسلامی تاریخ کا علم نہیں ورنہ اسلام کا ماضی ایساشاندار اوربے عیب ہے اوررسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صُحبت یافتہ سب کے سب ایسے اعلیٰ درجہ کے بااخلاق لوگ ہیں کہ ان کی نظیر دنیاکی کسی قوم میں نہیں ملتی خواہ وہ کسی نبی کے صحبت یافتہ کیوں نہ ہوں۔ اورصرف رسول کریمﷺ کے صُحبت یافتہ لوگ ہی ہیں جن کی نسبت کہاجاسکتاہے کہ انہوں نے اپنے استاد اور آقا کے نقش قدم پر چل کر ایسی روحانیت پیداکرلی تھی کہ سیاسیات کی خطرناک اُلجھن میں پڑکر بھی انہوں نے تقویٰ اوردیانت کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا اورسلطنت کے بارکے نیچے بھی ان کی کمر ایسی ہی ایستادہ رہی جیسی کہ اُس وقت جب ’’قوت لایموت‘‘ کے وہ محتاج تھے اوران کافرش مسجد نبوی کی بے فرش زمین تھی اوران کا تکیہ ان کا اپنا ہاتھ، اُن کاشغل رسول کریم ﷺکا کلامِ مبارک سننا تھا اوران کی تفریح خدائے واحد کی عبادت تھی۔
    اسلام کے اوّلین فدائی حضرت عثمان وحضرت علی رضی اللہ عنہما
    غالباً آپ لوگ سمجھ گئے ہوں گے کہ میرا ارادہ اِس وقت حضرت عثمانؓ اورحضرت علیؓ کی خلافت کے متعلق کچھ بیان کرنے
    کا ہے۔ یہ دونوں بزرگ اسلام کے اوّلین فدائیوں میں سے ہیں اوران کے ساتھی بھی اسلام کے بہترین ثمرات میں سے ہیں۔ ان کی دیانت اور ان کے تقویٰ پر الزام کاآنا درحقیقت اسلام کی طرف عارکا منسوب ہوناہے۔ اورجو مسلمان بھی سچے دل سے اس حقیقت پر غور کرے گا اُس کو اس نتیجہ پرپہنچنا پڑے گا کہ ان لوگوں کا وجود درحقیقت تمام قسم کی دھڑابندیوں سے ارفع اوربالا ہے اوریہ بات بے دلیل نہیں بلکہ تاریخ کے اَوراق اُس شخص کے لئے جوآنکھ کھول کران پر نظر ڈالتاہے اس امر پر شاہد ہیں۔
    غیرمُسلم مؤ رخین کی غلط بیانیاں
    جہاں تک میری تحقیق ہے ان بزرگوں اوران کے دوستوںکے متعلق جو کچھ بیان کیا جاتا ہے
    وہ اسلام کے دشمنوں کی کارر وائی ہے اورگو صحابہؓ کے بعد بعض مسلمان کہلانے والوں نے بھی اپنی نفسانیت کے ماتحت ان بزرگوں میںسے ایک یا دوسرے پر اتہام لگائے ہیں لیکن باوجود اس کے صداقت ہمیشہ بلند وبالا رہی ہے اورحقیقت کبھی پردۂ خفاء کے نیچے نہیں چھپی۔ ہاں اِس زمانہ میں جب کہ مسلمان اپنی تاریخ سے ناواقف ہوگئے اورخود اپنے مذہب پران کو آگاہی نہیں رہی اسلام کے دشمنوں نے یاتو بعض دشمنوں کی روایات کوتاریخ اسلام سے چُن کریا صحیح واقعات سے غلط نتائج اخذ کرکے ایسی تاریخیں بنادیں کہ جن سے صحابہؓ اور ان کے ذریعہ سے اسلام پر حرف آوے۔ چونکہ اِس وقت مسلمانوں کی عینک جس سے وہ ہرایک چیز کودیکھتے ہیں یہی غیر مُسلم مؤرخ ہورہے ہیں اس لئے جو کچھ انہوں نے بتایا انہوں نے قبول کر لیا۔ جن لوگوںکوخود عربی تاریخیں پڑھنے کا موقع ملابھی انہوںنے بھی یورپ کی ہائرکریٹیسزم(HIGHER CRITICISM) (اعلیٰ طریق تنقید) سے ڈرکران بے سروپا اور جعلی روایات کو جن پر یورپین مصنفوں نے اپنی تحقیق کی بناء رکھی تھی صحیح اورمقدم سمجھا اوردوسری روایات کو غلط قراردیا۔ اور اس طرح یہ زمانہ ان لوگوں سے تقریباً خالی ہوگیا جنہوں نے واقعات کوان کی اصل شکل میں دیکھنے کی کوشش کی۔
    اسلام میں فتنوں کے اصلی موجب صحابہؓ نہ تھے
    اِس بات کو خوب یادرکھوکہ یہ خیال کہ
    اسلام میںفتنوں کے موجب بعض بڑے بڑے صحابہؓ ہی تھے بالکل غلط ہے۔ ان لوگوں کے حالات پر مجموعی نظر ڈالتے ہوئے یہ خیال بھی نہیں کیا جاسکتا کہ اپنے ذاتی اغراض یا مفاد کی خاطر انہوں نے اسلام کو تباہ وبرباد کرنے کی کوشش کی۔ جن لوگوں نے صحابہؓ کی جماعت میں مسلمانوں میں اختلاف و شقاق نمودار ہونے کی وجوہ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے ا نہوں نے سخت غلطی کھائی ہے۔ فتنہ کی وجوہ اورجگہ پیدا ہوئی ہیں اور وہیں ان کی تلاش کرنے پر کسی صحیح نتیجہ پر پہنچنے کی امید کی جاسکتی ہے۔ جوغلط روایات کہ اس زمانہ کے متعلق مشہور کی گئی ہیںاگران کو صحیح تسلیم کرلیا جاوے تو ایک صحابی ؓ بھی نہیں بچتا جو اس فتنہ میں حصہ لینے سے محفوظ رہا ہو۔ اورایک بھی ایسا نظرنہیں آتا جو تقویٰ اور دیانت پر مضبوطی سے قائم رہا ہو اور یہ اسلام کی صداقت پرایک ایسا حملہ ہے کہ بیخ وبنیاد اس سے اُکھڑ جاتی ہے۔ حضرت مسیحؑ فرماتے ہیں کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ اوران روایات کے بموجب اسلام کے درخت کے پھل ایسے کڑوے ثابت ہوتے ہیں کہ کچھ خرچ کرنا تو الگ رہا مفت بھی اس کے لینے کے لئے کوئی تیار نہ ہوگا۔ مگر کیا کوئی شخص جس نے رسول کریم ﷺ کی قوتِ قدسیہ کاذرابھی مطالعہ کیاہو اس امر کے تسلیم کرنے کیلئے تیار ہوسکتاہے؟ ہرگزنہیں۔ یہ خیال کرنا بھی بعید ازعقل ہے کہ جن لوگوں نے آنحضرت ﷺ کی صُحبت پائی آپؐ کے جلیل القدر اورجاں نثار صحابہؓ تھے اورآپؐ سے نہایت قریبی رشتے اورتعلق رکھتے تھے وہ بھی اوران کے علاوہ تمام دیگر صحابہؓ بھی بِلا استثناء چند ہی سال میں ایسے بِگڑ گئے کہ صرف ذاتی اغراض کے لئے نہ کہ کسی مذہبی اختلاف کی بناء پر ایسے اختلافات میں پڑ گئے کہ اس کے صدمہ سے اسلام کی جڑ ہل گئی۔ مگر افسوس کہ گومسلمان لفظاًتو نہیں کہتے کہ صحابہؓنے اسلام کو تباہ وبرباد کرنے کے لئے فتنے کھڑے کئے لیکن انہوں نے ایسے لوگوں کی روایتوں کو سچا سمجھ کر جنہوں نے اسلام اچھی طرح قبول نہیں کیا تھا اورصرف زبانی اقرارِ اسلام کیا تھا اورپھر ایسے لوگوں کی تحقیقات پر اعتبارکرکے جواسلام کے سخت دشمن اوراس کے مٹانے کے درپے ہیں ایسی باتوں کوتسلیم کررکھاہے جن کے تسلیم کرنے سے لازمی نتیجہ نکلتاہے کہ صحابہؓ کی جماعت نَعُوْذُبِاللّٰہِ تقویٰ اوردیانت سے بالکل خالی تھی۔٭
    میںاپنے بیان میں اس امر کالحاظ رکھوں گا کہ تاریخیں وغیرہ نہ آویں تاکہ سمجھنے میں دِقّت نہ ہو اورمضمون پیچ دارنہ ہو جائے۔ کیونکہ میرے اس لیکچر کی اصل غرض ابتدائے اسلام کے بعض اہم واقعات سے کالجوں کے طلباء کو واقف کرناہے۔ اوراسی وجہ سے ہی عربی عبارات کے بیان کرنے سے بھی حتی الوسع اجتناب کروں گااورواقعات کوحکایت کے طورپر بیان کروں گا۔
    ٭ اس مضمون پر برائے اشاعت نظر ثانی کرتے وقت میں نے حاشیہ پر بعض ضروری تاریخی حوالجات دے دیئے ہیں اور مطالعہ کنندہ کتاب کو زیادہ مشقت سے بچانے کے لئے صرف تاریخ طبری کے حوالوں پر اکتفاء کی ہے۔ اِلاَّمَاشَائَ اللّٰہُ ۔مِنْہُ
    اختلافات کا ظہور خلیفہ ثالث کے زمانہ میں کیوں ہوا؟
    یہ بات تمام تعلیم یافتہ مسلمانوں پر روشن ہوگی کہ مسلمانوں میں اختلاف کے آثار نمایاں طورپر خلیفہ ثالث کے عہد میں ظاہر ہوئے
    تھے۔ ان سے پہلے حضرت ابوبکرؓ اورحضرت عمرؓکے عہد میں اختلاف نے کبھی سنجیدہ صورت اختیار نہیں کی۔ اورمسلمانوں کاکلمہ ایسا متحدتھا کہ دوست ودشمن سب اس کے افتراق کوایک غیر ممکن امر خیال کرتے تھے اوراسی وجہ سے عموماً لوگ اس اختلاف کوخلیفہ ثالث کی کمزوری کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ جیسا میں آگے چل کر بتائوں گاواقعہ یوں نہیں۔
    حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی حالات
    حضرت عمرؓ کے بعد تمام صحابہؓ کی نظرِ مسندِ خلافت
    پر بیٹھنے کے لئے حضرت عثمانؓ پرپڑی اور آپ اکابر صحابہؓ کے مشورہ سے اس کام کے لئے منتخب کئے گئے۔ آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد تھے اوریکے بعد دیگرے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوبیٹیاں آپ سے بیاہی گئیں۔ اورجب دوسری لڑکی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فوت ہوئی توآپؐ نے فرمایا کہ اگر میری کوئی اور بیٹی ہوتی تومیں اسے بھی حضرت عثمانؓ سے بیاہ دیتا ۱؎۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ آنحضرتؐ کی نظر میں آپ کو خاص قدرومنزلت حاصل تھی۔ آپ اہل مکہ کی نظر میں نہایت ممتاز حیثیت رکھتے اور اُس وقت مُلکِ عرب کے حالات کے مطابق مالدارآدمی تھے۔حضرت ابوبکرؓ نے اسلام اختیار کرنے کے بعد جن خاص خاص لوگوں کو تبلیغِ اسلام کے لئے منتخب کیا ان میں ایک حضرت عثمانؓ بھی تھے۔ اورآپ پر حضرت ابوبکرؓ کا گمان غلط نہیں گیا بلکہ تھوڑے دنوں کی تبلیغ سے ہی آپ نے اسلام قبو ل کرلیااوراس طرح اَلسَّابِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَمیں یعنی اسلام میں داخل ہونے والے اس پیشرو گروہ میںشامل ہوئے جن کی قرآن کریم نہایت قابلِ رشک الفاظ میں تعریف فرماتاہے۔ عرب میں انہیں جس قدر عزت اورتوقیر حاصل تھی اس کا کسی قدر پتہ اس واقعہ سے لگ سکتاہے کہ جب رسول کریمﷺ ایک رئویا کی بناء پر مکہ تشریف لائے اوراہلِ مکہ نے بغض وکینہ سے اندھے ہوکر آ پؐ کو عمرہ کرنے کی اجازت نہ دی توآنحضرت ﷺ نے تجویز فرمایا کہ کسی خاص معتبر شخص کو اہلِ مکہ کے پاس اس امر پر گفتگو کرنے کے لئے بھیجا جاوے اورحضرت عمرؓ کو اس کے لئے انتخاب کیا۔ حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ یَارَسُوْلَ اللّٰہ!میں تو جانے کو تیار ہوں مگر مکہ میں اگر کوئی شخص ان سے گفتگو کرسکتاہے تووہ حضرت عثمانؓ ہے کیونکہ وہ ان لوگوں کی نظر میں خاص عزت رکھتاہے پس اگر کوئی دوسراشخص گیا تو اس پر کامیابی کی اتنی امید نہیں ہوسکتی جتنی کہ حضرت عثمانؓ پرہے اور آپ کی اس بات کو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی درست تصور کیااورانہی کو اس کام کے لئے بھیجا۔ ۲؎ اس واقعہ سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت عثمانؓ کفار میں بھی خاص عزت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔
    حضرت عثمانؓ کا مرتبہ رسول کریم ﷺ کی نظر میں
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کا بہت احترام فرماتے تھے ایک دفعہ آپ لیٹے ہوئے تھے کہ حضرت ابوبکرؓ تشریف لائے اور آپؐ اسی طرح
    لیٹے رہے۔ پھر حضرت عمرؓ تشریف لائے تب بھی آپؐ اسی طرح لیٹے رہے۔ پھر حضرت عثمانؓ تشریف لائے توآپؐ نے جھٹ اپنے کپڑے سمیٹ کردرست کرلئے اورفرمایا کہ حضرت عثمانؓ کی طبیعت میں حیا بہت ہے اس لئے میں اس کے احساسات کا خیال کرکے ایسا کرتاہوں۳؎ آپ ان شاذ آدمیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اسلام کے قبول کرنے سے پہلے بھی کبھی شراب کو منہ نہیں لگایا اورزنا کے نزدیک نہیں گئے اور یہ ایسی خوبیاں ہیں جو عرب کے ملک میں جہاں شراب کا پینا فخر اورزنا ایک روزمرہ کا شغل سمجھا جاتاتھا اسلام سے پہلے چند گنتی کے آدمیوں سے زیادہ لوگوں میں نہیں پائی جاتی تھیں۔ غرض آپ کوئی معمولی آدمی نہ تھے۔ نہایت اعلیٰ درجہ کے اخلاق آپ میں پائے جاتے تھے۔ دنیاوی وجاہت کے لحاظ سے آپ نہایت ممتاز تھے۔ اسلام میں سبقت رکھتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر نہایت خوش تھے۔ اورحضرت عمرؓ نے آپ کو ان چھ آدمیوں میں سے ایک قراردیاہے جو حضرت رسول کریم ﷺ کی وفات کے وقت تک آپؐ کی اعلیٰ درجہ کی خوشنودی کو حاصل کئے رہے۔ اورپھر آپ عشرہ مبشرہ سے ایک فرد ہیں یعنی ان دس آدمیوں میں سے ایک ہیں جن کی نسبت رسول کریم ﷺ نے جنت کی بشارت دی تھی۴؎۔ ٭
    آپ کے مسندِ خلافت پرمتمکن ہونے سے چھ سال تک حکومت میں کسی قسم کا کوئی فتنہ نہیں اُٹھابلکہ لوگ آپ سے باِلعموم بہت خوش تھے۔ اس کے بعد یکدم ایک ایسا فتنہ پیدا ہو ا جو بڑھتے بڑھتے اس قدر ترقی کر گیا کہ کسی کے روکے نہ رُک سکا اور انجام کار اسلام کیلئے سخت مُضِر ثابت ہوا۔ تیرہ سَو برس گزر چکے ہیں مگر اب تک اس کا اثر اُمتِ اسلامیہ میں سے زائل نہیںہوا۔
    فتنہ کہاں سے پیدا ہوا؟
    اب سوال یہ ہے کہ یہ فتنہ کہاں سے پیدا ہوا؟ اس کا باعث بعض لوگوں نے حضرت عثمانؓ کو قرار دیا ہے اور
    بعض نے حضرت علیؓ کو ۔ بعض کہتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ نے بعض بِدعتیں شروع کر دی تھیں جن سے مسلمانوں میں جوش پیدا ہو گیا۔ اور بعض کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے خلافت کیلئے خفیہ کوشش شروع کر دی تھی اور حضرت عثمانؓ کے خلاف مخالفت پیدا کرکے انہیںقتل کر ادیا تا کہ خود خلیفہ بن جائیں لیکن یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ نہ حضرت عثمانؓ نے کوئی بدعت جاری کی اور نہ حضرت علیؓ نے خود خلیفہ بننے کیلئے انہیں قتل کرایایا ان کے قتل کے منصوبہ میںشریک ہوئے بلکہ اس فتنہ کی اور ہی وجوہات تھیں۔ حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کا دامن اس قسم کے الزامات سے بالکل پاک ہے وہ نہایت مقدس انسان تھے۔ حضرت عثمانؓ تو وہ انسان تھے جن کے متعلق حضرت رسول کریم ﷺ نے فرمایاکہ انہوں نے اسلام کی اتنی خدمات کی ہیں کہ وہ اب جو چاہیں کریں خدا ان کو نہیں پوچھے گا۵؎۔ اس کا یہ مطلب نہ تھاکہ خواہ وہ اسلام سے ہی برگشتہ ہو جائیں تو بھی مؤاخذہ نہیں ہوگا بلکہ یہ تھاکہ ان میں اتنی خوبیاں پیدا ہوگئی تھیں اور وہ نیکی میں اس قدر ترقی کر گئے تھے کہ یہ ممکن ہی نہ رہاتھا کہ ان کا کوئی فعل اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف ہو۔ پس حضرت عثمانؓ ایسے انسان نہ تھے کہ وہ کوئی خلافِ شریعت بات
    ٭ درحقیقت عشرہ مبشرہ ایک محاورہ ہوگیاہے ورنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بہت زیادہ صحابہ ؓ کی نسبت جنت کی بشارت دی ہے۔ عشرہ مبشرہ سے دراصل وہ دس مہاجر مراد ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس شوریٰ کے رُکن تھے اور جن پر آپ کو خاص اعتماد تھا۔
    جاری کرتے اور نہ حضرت علیؓ ایسے انسان تھے کہ خلافت کیلئے خفیہ منصوبے کرتے۔ جہاں تک میں نے غور کیا اور مطالعہ کیا ہے اس فتنۂ ہائلہ کی چار وجوہ ہیں۔
    فتنے کی چار وجوہ
    اوّل: عموماً انسان کی طبیعت حصولِ جاہ و مال کی طرف مائل رہتی ہے سوائے اُن لوگوں کے جن کے دلوں کوخدائے تعالیٰ نے خاص
    طور پر صاف کیا ہو۔ صحابہؓ کی عزت، ان کے مرتبہ اور ان کی ترقی اور حکومت کو دیکھ کر نومسلموں میں سے بعض لوگ جو کامل الایمان نہ تھے حسد کرنے لگے اور جیسا کہ قدیم سے سنت چلی آئی ہے اس بات کی امید کرنے لگے کہ یہ لوگ حکومت کے کاموں سے دستبردار ہوکرسب کام ہمارے ہاتھو ں میں دے دیں اور کچھ اور لوگوں کو بھی اپنا جوہر دکھانے کا موقع دیں۔ ان لوگوں کو یہ بھی بُرامعلوم ہوتا تھاکہ علاوہ اس کے کہ حکومت صحابہؓ کے قبضہ میں تھی اموال میںبھی ان کو خاص طور پر حصہ ملتا تھا۔ پس یہ لوگ اندر ہی اندر جلتے رہتے تھے اور کسی ایسے تغیر کے منتظر تھے جس سے یہ انتظام درہم برہم ہو کر حکومت ان کے ہاتھوں میں آ جائے اور یہ بھی اپنے جوہرِ لیاقت دکھاویں اور دنیاوی وجاہت اور اموال حاصل کریں۔ دنیاوی حکومتوں میں ایسے خیالات ایک حد تک قابلِ معافی ہوسکتے ہیں بلکہ بعض اوقات معقول بھی کہلا سکتے ہیں۔ کیونکہ اوّل دنیاوی حکومتوں کی بنیاد کلی طور پر ظاہری اسباب پر ہوتی ہے اور ظاہری اسبابِ ترقی میں سے ایک بہت بڑا سبب نئے خیالات اور نئی روح کا قالب حکومت میں داخل کرنا بھی ہے ۔ جو اسی صورت میں ممکن ہے کہ پہلے کام کرنے والے خود بخود کام سے علیحدگی اختیار کرکے دوسروں کیلئے جگہ چھوڑ دیں۔
    دوم: حکومت دنیاوی کو چونکہ نیابت عامہ کے طور پر اختیار ات ملتے ہیں اس لئے عوام کی رائے کا احترام اس کیلئے ضروری ہے اور لازم ہے کہ وہ لوگ اس کے کاموں کے انصرام میں خاص دخل رکھتے ہوں جو عوام کے خیالات کے ترجمان ہوں۔ مگر دینی سلسلہ میں معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے وہاں ایک مقررہ قانون کی پابندی سب اصول سے مقدم اصل ہوتاہے اور اپنے خیالات کا دخل سوائے ایسی فروعات کے جن سے شریعت نے خود خاموشی اختیار کی ہو قطعاً ممنوع ہے۔ دوم دینی سلسلوں کو اختیارات خداتعالیٰ کی طرف سے ملتے ہیںاور اس کی زمامِ انتظام جن لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہے ان کا فرض ہوتا ہے کہ امورِ دینیہ میں وہ لوگوں کو راستہ سے اِدھر اُدھر نہ ہونے دیں۔ اور بجائے اس کے کہ وہ لوگوں کے خیالات کی ترجمانی کریں ان پر واجب ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے خیالات کو اس سانچہ میں ڈھالیں جو کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس زمانہ کی ضروریات کے مطابق تیار ہوا ہے۔
    خلافت اسلامیہ ایک مذہبی انتظام تھا
    غرض اسلام کی حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یہ اعتراضات ان لوگوں کے
    دلوں میںپیدا ہوتے تھے۔ وہ نہ سوچتے تھے کہ خلافتِ اسلامیہ کوئی دنیاوی حکومت نہ تھی نہ صحابہؓ عام امرائے دولت ۔ بلکہ خلافتِ اسلامیہ ایک مذہبی انتظام تھا اور قرآن کریم کے خاص احکام مندرجہ سورۂ نور کے مطابق قائم کیا گیا تھا۔ اور صحابہؓ وہ ارکانِ دین تھے کہ جن کی اتباع روحانی مدارج کے حصول کیلئے خدا تعالیٰ نے فرض کی تھی۔صحابہؓ نے اپنے کاروبار کو ترک کر کے، ہر قسم کی مسکنت اور غربت کو اختیار کر کے ،اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈال کر، اپنے عزیزواقرباء کی صحبت و محبت کو چھوڑ کر، اپنے وطنوں کو خیر باد کہہ کر، اپنے خیالات و جذبات کو قربان کر کے آنحضرت ﷺ کی صحبت و محبت کو اختیار کیاتھااور بعض نے قریباً ایک چوتھائی صدی آپؐ کی شاگردی اختیار کر کے اسلام کو سبقاً سبقاً پڑھا تھا اور اس پر عمل کر کے اس کا عملی پہلو مضبوط کیاتھا۔ وہ جانتے تھے کہ اسلام سے کیا مطلب ہے، اس کی کیا غرض ہے ، اس کی کیا حقیقت ہے، اس کی تعلیم پر کس طرح عمل کرنا چاہئے اور اس پر عمل کر کے کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ پس وہ کسی دنیاوی حکومت کے بادشاہ اور اس کے ارکان نہ تھے۔ وہ سب سے آخری دین اور خاتم النّبیّـنؐ کی لائی ہوئی شریعت کے معلم تھے اور ان پر فرض کیا گیا تھاکہ اپنے عمل سے،اپنے قول سے،اپنی حرکات سے،اپنی سکنات سے اسلام کی ترجمانی کریںاور اس کی تعلیم لوگوں کے دلوں میں نقش کریں اوران کے جوارح پر اس کو جاری کریں۔ وہ استبدا دکے حامی نہ تھے بلکہ شریعتِ غراء کے حامی تھے۔ وہ دنیا سے متنفر تھے اور اگر ان کا بس ہوتا تو دنیا کو ترک کر کے گوشہ ہائے تنہائی میں جا بیٹھتے اور ذکرِ خدا سے اپنے دلوں کو راحت پہنچاتے۔ مگر وہ اس ذمہ داری سے مجبور تھے جس کا بوجھ خدا اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کندھوں پر رکھا تھا۔٭
    پس وہ جو کچھ کرتے تھے اپنی خواہش سے نہیں کرتے تھے بلکہ خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اور اس کے رسول کی ہدایات کے مطابق کرتے تھے۔ اور ان پر حسد کرنایا بد گمانی کرناایک خطرناک غلطی تھی۔ باقی رہا یہ اعتراض کہ صحابہؓ کو خاص طور پر اموال کیوں دیئے جاتے تھے یہ بھی ایک وسوسہ تھا کیونکہ صحابہؓ کو جو کچھ ملتا تھاان کے حقوق کے مطابق ملتا تھا۔ وہ دوسرے لوگوں کے حقوق دبا کر نہیں لیتے تھے بلکہ ہرایک شخص خواہ وہ کل کا مسلمان ہو اپنا حق اسی طرح پاتا تھاجس طرح ایک سابق باِلایمان۔ ہاں صحابہؓ کا کام اور ان کی محنت اور قربانی دوسرے لوگوں سے بڑھی ہوئی تھی اور ان کی پرُانی خدمات اس پر مستزاد تھیں۔ پس وہ ظلماً نہیں بلکہ انصافاً دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ حق دار تھے اس لئے دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ بدلہ پاتے تھے۔ انہوں نے اپنے حصے خود نہ مقرر کئے تھے بلکہ خدا اور اس کے رسول نے ان کے حصے مقرر کئے تھے۔ اگر ان لوگوں کے ساتھ خاص معاملہ نہ کیا جاتا تو وہ پیشگوئیاں کیونکر پوری ہوتیں جو قرآن کریم اور احادیث رسول کریم ﷺ میں ان لوگوں کی ترقی اور ان کے اقبال اور ان کی رفاہت اور ان کے غناء کی نسبت کی گئی تھیں۔ اگر حضرت عمرؓ کسریٰ کی حکومت کے زوال اور اس کے خزانوں کی فتح پر کسریٰ کے کڑے سراقہؓ بن مالک کو نہ دیتے اور نہ پہناتے تو رسول کریمﷺ کی وہ بات کیونکر پوری ہوتی کہ میں سراقہؓکے ہاتھ میں کسریٰ کے کڑے دیکھتا ہوں۔ مگر میں یہ بھی کہوں گاکہ صحابہؓ کو جو کچھ ملتا تھادوسروں کا حق مار کر نہ ملتا تھابلکہ ہر ایک شخص جو ذرا بھی حکومت کا کام کرتا تھااُس کو اُس کا حق دیا جاتا تھا اور خلفاءؓ اس بارے میں نہایت محتاط تھے۔ صحابہؓ کو صرف ان کا حق دیا جاتاتھااوروہ ان کے کام اور ان کی سابقہ خدمات کے لحاظ سے بے شک دوسروں سے زیادہ ہوتا تھا۔ اور پھر
    ٭ اسلامی تاریخ کے بعد کے واقعات سے یہ بات خوب اچھی طرح ثابت ہوجاتی ہے کہ صحابہؓ کا دخل کیسا مفید و بابرکت تھا کیونکہ کچھ عرصہ کے لئے صحابہ ؓ کے دخل کو ہٹا کر خداتعالیٰ نے بتادیا کہ ان کے علیحدہ ہونے سے کیسے بُرے نتائج پیدا ہوسکتے ہیں ۔ اسلام کی تضحیک خود مسلمان کہلانے والوں کے ہاتھوں اس عرصہ میں اس طرح ہوئی کہ دل ان حالات کو پڑھ کر خوف کھاتے ہیں اور جسموں میں لرزہ آتا ہے۔(مرزا محمود احمد)
    ان میںسے ایک حصہ موجودہ جنگوں میں بھی حصہ لیتا تھااور اس خدمت کے صلہ میں بھی وہ ویسے ہی بدلہ کا مستحق ہوتاجیسے کہ اور لوگ۔ مگر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابہؓ ان اموال کو جمع کرنے یا ان کو اپنے نفسوں پر خرچ کرنے کے عادی نہ تھے بلکہ وہ اپنا حصہ صرف خدا اور رسول کے کلام کو سچاکرنے کیلئے لیتے تھے ورنہ ان میں سے ہر ایک اپنی سخاوت اور اپنی عطامیں اپنی نظیر آپ تھااو ر ان کے اموال صرف غرباء کی کفالت اور ان کی خبر گیری میں صَرف ہوتے تھے۔
    صحابہؓ کی نسبت بدگمانی بلاوجہ ہے
    غرض صحابہؓ کی نسبت جو بعض لوگوں کوحسد اور بد گمانی پیدا ہو گئی تھی بلاوجہ اور
    بلاسبب تھی۔مگر بِلاوجہ ہویاباوجہ اس کا بیج بویا گیاتھا اوردین کی حقیقت سے ناواقف لوگوں میں سے ایک طبقہ ان کو غاصب کی حیثیت میں دیکھنے لگاتھااوراس بات کا منتظر تھا کہ کب کوئی موقع ملے اوران لوگوں کو ایک طرف کرکے ہم حکومت واموالِ حکومت پرتصرف کریں۔ دوسری وجہ اس فسادکی یہ تھی کہ اسلام نے حریت فکراورآزادیٔ عمل اور مساواتِ افرادکے ایسے سامان پیداکردئیے تھے جو اس پہلے بڑے سے بڑے فلسفیانہ خیالات کے لوگوں کوبھی میسر نہ تھے۔ اورجیسا کہ قاعدہ ہے کہ کچھ لوگ جو اپنے اندر مخفی طورپر بیماریوں کا مادہ رکھتے ہیں وہ اعلیٰ سے اعلیٰ غذاسے بھی بجائے فائدہ کے نقصان اُٹھاتے ہیں اس حریتِ فکر اور آزادیٔ عمل کے اصول سے کچھ لوگوں نے بجائے فائدہ کے نقصان اُٹھایا اوراس کی حدود کو قائم نہ رکھ سکے۔ اس مرض کی ابتداء تورسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ہی ہوئی جب کہ ایک ناپاک روح نام کے مُسلم نے رسول کریم ﷺ کے منہ پر آپؐ کی نسبت یہ الفاظ کہے کہ یَارَسُوْلَ اللّٰہ !تقویٰ اللہ سے کام لیں کیونکہ آپ ؐنے تقسیم مال میں انصاف سے کام نہیں لیا۔ جس پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اِنَّہٗ یَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِیْ ھٰذَا قَوْمٌ یَتْلُوْنَ کِتَابَ اللّٰہِ رَطْبًا لَایُجَاوِزُ حَنَا جِرَھُمْ یَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّیْنِ کَمَایَمْرُقُ السَّھْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ۶؎۔یعنی اس شخص کی نسل سے ایک قوم نکلے گی جوقرآن کریم بہت پڑھیں گے لیکن وہ ان کے گلے سے نہیں اُترے گا اوروہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جس طرح تیر اپنے نشانہ سے نکل جاتا ہے۔
    دوسری دفعہ ان خیالات کی دبی ہوئی آگ نے ایک شعلہ حضرت عمرؓ کے وقت میں مارا جب کہ ایک شخص نے برسر مجلس کھڑے ہوکر حضرت عمرؓ جیسے بے نفس انسان اوراُمتِ محمدیہ کے اموال کے محافظ خلیفہ پراعتراض کیا کہ یہ کرتا آپ نے کہاں سے بنوایا ہے۔مگر ان دونوں وقتوں میں اس فتنہ نے کوئی خوفناک صورت اختیارنہیں کی کیونکہ اس وقت تک اس کے نشوونما پانے کیلئے کوئی تیارشدہ زمین نہ تھی اورنہ موسم ہی موافق تھا۔ ہاں حضرت عثمانؓ کے وقت میں یہ دونوں باتیں میسر آگئیں اوریہ پودا جسے میں اختلال کا پوداکہوں گا ایک نہایت مضبوط تنے پر کھڑاہوگیااورحضرت علیؓ کے وقت میں تواس نے ایسی نشوونما پائی کہ قریب تھا کہ تمام اقطار ِعالَم میںاس کی شاخیں اپنا سایہ ڈالنے لگیں۔ مگر حضرت علیؓ نے وقت پر اِس کی مضرت کو پہچانا اورایک کاری ہاتھ کے ساتھ اِسے کاٹ کرگرادیا اوراگر وہ بالکل اسے مٹانہ سکے توکم ازکم اس کے دائرہ اثر کو انہوں نے بہت محدود کردیا۔
    تیسرا سبب: میرے نزدیک یہ ہے کہ اسلام کی نورانی شعاعوں کے اثر سے بہت سے لوگوں نے اپنی زندگیوںمیں ایک تغیر عظیم پیداکردیاتھامگراس اثر سے وہ کمی کسی طرح پوری نہیں ہوسکتی تھی جوہمیشہ دینی ودنیاوی تعلیم کے حصول کے لئے کسی معلّم کا انسان کومحتاج بناتی ہے۔ رسول کریم ﷺ کے وقت میں جب فوج درفوج آدمی داخلِ اسلام ہوئے تب بھی یہی خطرہ دامن گیر تھا۔ مگر آپؐ سے خداتعالیٰ کا خاص وعدہ تھاکہ اس ترقی کے زمانہ میں اسلام لانے والے لوگوں کو بداثر سے بچایا جائیگا۔ چنانچہ آپؐ کی وفات کے بعد گوایک سخت لہر ارتداد کی پیدا ہوئی مگر فوراً دب گئی اورلوگوں کو حقیقت اسلام معلوم ہوگئی۔ مگر آپؐ کے بعد ایران وشام اورمصر کی فتوحات کے بعد اسلام اوردیگر مذاہب کے میل وملاپ سے جو فتوحاتِ روحانی اسلام کوحاصل ہوئیں وہی اس کے انتظامِ سیاسی کے اختلال کا باعث ہوگئیں۔ کروڑوں کروڑ آدمی اسلام کے اندر داخل ہوئے اوراس کی شاندار تعلیم کو دیکھ کر ایسے فدائی ہوئے کہ اس کے لئے جانیں دینے کے لئے تیارہوگئے۔ مگراس قدر تعداد نَومُسلموں کی بڑھ گئی کہ ان کی تعلیم کا کوئی ایسا انتظام نہ ہوسکا جوطمانیت بخش ہوتا۔ جیسا کہ قاعدہ ہے اورانسانی دماغ کے باریک مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ ابتدائی جوش کے ماتحت ان لوگوں کی تربیت اورتعلیم کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ جوکچھ یہ مسلمانوں کو کرتے دیکھتے تھے کرتے تھے اورہرایک حکم کو بخوشی بجا لاتے تھے۔ مگر جوں جوں ابتدائی جوش کم ہوتا گیا جن لوگوں کو تربیت روحانی حاصل کرنے کا موقع نہ ملا تھا ان کو احکامِ اسلام کی بجاآوری بار معلوم ہونے لگی اورنئے جوش کے ٹھنڈا ہوتے ہی پرانی عادات نے پھر زور کرنا شروع کیا۔ غلطیاں ہرایک انسان سے ہوجاتی ہیں اور سیکھتے سیکھتے انسان سیکھتاہے۔ اگر ان لوگوں کوکچھ حاصل کرنے کا خیال ہوتاتوکچھ عرصہ تک ٹھوکریں کھاتے ہوئے آخر سیکھ جاتے ۔ مگر یاتورسول کریم ﷺ کے وقت یہ حال تھا کہ ایک شخص سے جب ایک جُرم ہوگیا توباوجود رسول کریم ﷺ کے اشارہ فرمانے کے کہ جب خداتعالیٰ ستاری کرے تو کوئی خود کیوں اپنی فضیحت کرے اس نے اپنے قصور کاخود اقرار کیااور سنگسار ہونے سے نہ ڈرا۷؎،یا اب حدود ِشریعت کو قائم رکھنے کے لئے اگر چھوٹی سے چھوٹی سزا بھی دی جاتی توان لوگوں کو ناپسند ہوتی۔ پس بوجہ اسلام کے دل میں نہ داخل ہونے کے شریعت کوتوڑنے سے کچھ لوگ باز نہ رہتے اورجب حدودِ شریعت کو قائم کیا جاتاتوناراض ہوتے اورخلیفہ اور اس کے عمال پر اعتراض کرتے اوران کے خلاف اپنے دل میں کینہ رکھتے اوراس انتظام کو سِرے سے ہی اُکھاڑ پھینک دینے کے منصوبے کرتے۔
    چوتھاسبب : میرے نزدیک اس فتنہ کا یہ تھا کہ اسلام کی ترقی ایسے غیر معمولی طورپر ہوئی ہے کہ اس کے دشمن اس کا اندازہ شروع میں کرہی نہ سکے۔ مکہ والے بھی اپنی طاقت کے گھمنڈ میں اوررسول کریم ﷺ کے ضُعف کے خیال میں ہی بیٹھے تھے کہ مکہ فتح ہوگیااوراسلام جزیرۂ عرب میں پھیل گیا۔ اسلام کی اس بڑھنے والی طاقت کو قیصر روم اورکسریٰ ایران ایسی حقارت آمیز اورتماش بیں نگاہوں سے دیکھ رہے تھے جیسے کہ ایک جابر پہلوان ایک گھٹنوں کے بل رینگنے والے بچہ کی کھڑے ہونے کے لئے پہلی کوشش کودیکھتاہے۔
    سلطنت ایران اوردولتِ یونان ضربت ِمحمدی ؐ کے ایک ہی صدمہ سے پاش پاش ہوگئیں۔ جب تک مسلمان ان جابر حکومتوں کامقابلہ کررہے تھے جنہوں نے سینکڑوں ہزاروں سال سے بنی نوع انسان کو غلام بنا رکھا تھا اوراس کی قلیل التعداد بے سامان فوج دشمن کی کثیر التعداد باسامان فوج کے ساتھ برسرپیکار تھی اُس وقت تک تودشمنانِ اسلام یہ خیال کرتے رہے کہ مسلمانوں کی کامیابیاں عارضی ہیں اورعنقریب یہ لہر نیا رُخ پھیرے گی اوریہ آندھی کی طرح اٹھنے والی قوم بگولے کی طرح اُڑجائے گی۔ مگران کی حیرت کی کچھ حدنہ رہی جب چند سال کے عرصہ میں مطلع صاف ہوگیا اوردنیا کے چاروں کونوں پراسلامی پرچم لہرانے لگا۔ یہ ایسی کامیابی تھی جس نے دشمن کی عقل ماردی اوروہ حیرت واستعجاب کے سمندر میں ڈوب گیا اورصحابہؓ اوران کے صُحبت یافتہ لوگ دشمنوں کی نظرمیں انسانوں سے بالا ہستی نظر آنے لگے اوروہ تمام امیدیں اپنے دل سے نکال بیٹھے۔ مگر جب کچھ عرصہ فتوحات پر گزرگیااوروہ حیرت واستعجاب جو ان کے دلوں میں پیدا ہو گیا تھاکم ہوا اور صحابہؓ کے ساتھ میل جول سے وہ پہلا خوف وخطر جاتا رہا تو پھر اسلام کا مقابلہ کرنے اورمذاہب باطلہ کو قائم کرنے کا خیال پیدا ہوا۔ اسلام کی پاک تعلیم کا مقابلہ دلائل سے تووہ نہ کرسکتے تھے، حکومتیں مٹ چکی تھیں اوروہ ایک ہی حربہ جو حق کے مقابلہ میں چلایاجاتاتھایعنی جبر اور تعدی ٹوٹ چکاتھا۔ اب ایک ہی صورت باقی تھی یعنی دوست بن کردشمن کاکام کیا جائے اوراتفاق پیدا کرکے اختلاف کی صورت کی جائے۔ پس بعض شقی القلب لوگوں نے جو اسلام کے نور کو دیکھ کر اندھے ہو رہے تھے اسلام کو ظاہر میں قبول کیا اور مسلمان ہو کراسلام کو تباہ کرنے کی نیت کی۔ چونکہ اسلام کی ترقی خلافت سے وابستہ تھی اورگلہ بان کی موجودگی میں بھیڑیا حملہ نہ کرسکااس لئے یہ تجویز کی گئی کہ خلافت کو مٹا دیا جاوے اوراس سِلکِ اتحاد کو توڑدیاجاوے جس میں تمام عالَم کے مسلمان پروئے ہوئے ہیں تاکہ اتحاد کی برکتوں سے مسلمان محروم ہو جائیں اورنگران کی عدم موجودگی سے فائدہ اُٹھا کر مذاہبِ باطلہ پھر اپنی ترقی کے لئے کوئی راستہ نکال سکیں اوردجل وفریب کے ظاہرہونے کاکوئی خطرہ نہ رہے۔
    یہ وہ چار بواعث ہیں جو میرے نزدیک اس فتنہ عظیم کے برپاکرنے کاموجب ہوئے۔ جس نے حضرت عثمانؓ کے وقت میں ملت اسلام کی بنیادوں کو ہِلا دیااوربعض وقت اس پر ایسے آئے کہ دشمن اس بات پر اپنے دل میں خوش ہونے لگاکہ یہ قصر عالی شان اب اپنی چھتوں اوردیواروں سمیت زمین کے ساتھ آلگے گا اورہمیشہ کیلئے اس دین کا خاتمہ ہوجائے گا جس نے اپنے لئے یہ شاندار مستقبل مقرر کیا ہے کہ۸؎ یعنی وہ خدا ہی ہے کہ جس نے اپنا رسول سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اس دین کو باوجود اس کے منکروں کی ناپسندیدگی کے تمام ادیانِ باطلہ پر غالب کرے۔
    فتنہ حضرت عثمانؓ کے وقت میں کیوں اُٹھا؟
    میں نے ان تاریخی واقعات سے جو حضرت عثمانؓ کے
    آخری ایامِ خلافت میں ہوئے نتیجہ نکال کر اصل بواعثِ فتنہ بیان کردیئے ہیں۔ وہ درست ہیں یا غلط اس کا اندازہ آپ لوگوں کوان واقعات کے معلوم کرنے پر جن سے میںنے یہ نتیجہ نکالاہے خود ہوجائے گا۔ مگر پیشتر اس کے کہ میں وہ واقعات بیان کروں اس سوال کے متعلق بھی کچھ کہہ دینا چاہتاہوں کہ یہ فتنہ حضرت عثمانؓ کے وقت میں کیوں اُٹھا؟بات یہ ہے کہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہوئے۔ ان نَومُسلموں میں اکثر حصہ وہی تھا جوعربی زبان سے ناواقف تھا اوراس وجہ سے دین اسلام کا سیکھنا اس کے لئے ویسا آسان نہ تھا جیسا کہ عربوں کے لئے اور جو لوگ عربی جانتے بھی تھے وہ ایرانیوں اور شامیوں سے میل ملاپ کی وجہ سے صدیوں سے ان گندے خیالات کا شکار رہے تھے جواُس وقت کے تمدن کا لازمی نتیجہ تھے۔ علاوہ ازیں ایرانیوں اورمسیحیوں سے جنگوں کی وجہ سے اکثر صحابہؓ اوران کے شاگردوں کی تمام طاقتیں دشمن کے حملوں کے ردّ کرنے میں صرف ہورہی تھیں۔ پس ایک طرف توجہ کا بیرونی دشمنوں کی طرف مشغول ہونا دوسری طرف اکثر نومُسلموں کا عربی سے ناواقف ہونا یا عجمی خیالات سے متأثر ہونا دوعظیم الشان سبب تھے اس امر کے کہ اُس وقت کے اکثر نو مسلم دین سے کماحقہٗ واقف نہ ہوسکے۔ حضرت عمرؓ کے وقت میں چونکہ جنگوں کا سلسلہ بہت بڑے پیمانے پر جاری تھااورہروقت دشمن کا خطرہ لگارہتاتھا لوگوں کو دوسری باتوں کے سوچنے کاموقع ہی نہ ملتاتھا۔ اورپھر دشمن کے باِلمقابل پڑے ہوئے ہونے کاباعث طبعاً مذہبی جوش باربار رونما ہوتاتھا جو مذہبی تعلیم کی کمزوری پرپردہ ڈالے رکھتا تھا۔ حضرت عثمانؓ کے ابتدائی عہد میں بھی یہی حال رہا۔ کچھ جنگیں بھی ہوتی رہیں اورکچھ پچھلا اثر لوگوں کے دلوں میں باقی رہا۔ جب کسی قدر امن ہوااورپچھلے جوش کااثر بھی کم ہواتب اس مذہبی کمزوری نے اپنا رنگ دکھایا اوردشمنانِ اسلام نے بھی اس موقع کوغنیمت سمجھا اورشرارت پرآمادہ ہوگئے۔ غرض یہ فتنہ حضرت عثمانؓ کے کسی عمل کا نتیجہ نہ تھا بلکہ یہ حالات کسی خلیفہ کے وقت میں بھی پیدا ہو جاتے، فتنہ نمودار ہو جاتا اورحضرت عثمانؓ کا صرف اِس قدر قصور ہے کہ وہ ایسے زمانہ میں مسندِ خلافت پر متمکن ہوئے جب ان فسادات کے پیدا کرنے میں ان کا اس سے زیادہ دخل نہ تھا جتنا کہ حضرت ابوبکرؓ اورحضرت عمرؓ کا۔ اورکون کہہ سکتاہے کہ یہ فسادان دونوںبزرگوں کی کسی کمزوری کا نتیجہ تھا۔ میں حیران ہوں کہ کس طرح بعض لوگ ان فسادات کوحضرت عثمانؓ کی کسی کمزوری کا نتیجہ قرار دیتے ہیں حالانکہ حضرت عمرؓ جن کو حضرت عثمانؓ کی خلافت کا خیال بھی نہیں ہوسکتا تھا انہوں نے اپنے زمانۂ خلافت میں اس فساد کے بیج کو معلوم کرلیاتھا۔ اورقریش کواس سے بڑے زوردار الفاظ میں متنبہ کیا تھا۔ چنانچہ لکھاہے کہ حضرت عمرؓ صحابۂ کِبار کو باہر نہیں جانے دیا کرتے تھے اورجب کوئی آپ سے اجازت لیتاتو آپ فرماتے کہ کیا رسول کریم ﷺ کے ساتھ مل کر جو آپ لوگوں نے جہاد کیا ہے وہ کافی نہیںہے۔٭ آخر ایک دفعہ صحابہؓ نے شکایت کی توآپ نے فرمایا کہ میں نے اسلام کو اس طرح چرایاہے جس طرح اونٹ چَرایا جاتاہے پہلے اونٹ پیدا ہوتاہے پھر پٹھا بنتا ہے۔ پھر دو دانت کا ہوتا ہے۔ پھر چار دانت کا ہوتاہے۔ پھر چھ دانت کا ہوتاہے۔ پھراس کی کچلیاں نکل آتی ہیں۔ اب بتائو کہ جس کی کچلیاں نکل آویں اس کے لئے سوائے ضُعف کے اورکس امر کا انتظار کیاجاسکتاہے۔ سنو! اسلام اب اپنے کمال کی حدکو پہنچ گیاہے۔ قریش چاہتے ہیں کہ سب مال یہی لے جاویں اوردوسرے لوگ
    ٭ اس سے آپ کی دوغرضیں تھیں ۔ ایک تو یہ کہ مدینہ میںمعلمین کی ایک جماعت موجود رہتی تھی اور دوسرے آپ کا خیال تھاکہ صحابہؓ کو چونکہ ان کے سابق بالایمان ہونے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی خدمات کی وجہ سے بیت المال سے خاص حصے ملتے ہیں اگر یہ لوگ جنگوں میں شامل ہوئے تو ان کو اور حصے ملیں گے اور دوسرے لوگوں کو ناگوار ہوگا کہ سب مال انہی کو مل جاتا ہے۔
    محروم رہ جاویں ٭۔ سنو!جب تک عمربن خطاب زندہ ہے وہ قریش کا گلا پکڑے رکھے گا تاکہ وہ فتنہ کی آگ میں نہ گر جاویں۔۹؎
    حضرت عمرؓ کے اس کلام سے معلوم ہوتاہے کہ ہ اپنے زمانہ میں ہی لوگوں میں صحابہؓ کے خلاف یہ خیالات موجزن دیکھتے تھے کہ ان کو حصہ زیادہ ملتاہے اس لئے وہ سوائے چند ایسے صحابہؓ کے جن کے بغیر لشکروں کاکام نہیں چل سکتا تھا باقی صحابہؓ کو جہاد کیلئے نکلنے ہی نہیں دیتے تھے تاکہ دوہرے حصے ملنے سے لوگوں کوابتلاء نہ آوے اوروہ یہ محسوس کرتے تھے کہ اسلام ترقی کے اعلیٰ نقطہ پرپہنچ گیا ہے اوراب ا سکے بعد زوال کا ہی خطرہ ہوسکتاہے نہ ترقی کی امید۔
    اس قدر بیان کرچکنے کے بعد اب میں واقعات کا وہ سلسلہ بیان کرتاہوں جس سے حضرت عثمانؓ کے وقت میں جو کچھ اختلافات ہوئے ان کی حقیقت ظاہر ہوجاتی ہے۔
    میں نے بیان کیا تھا کہ حضرت عثمانؓ کی شروع خلافت میں چھ سال تک ہمیں کوئی فساد نظر نہیں آتا بلکہ معلوم ہوتاہے کہ لوگ عام طورپر آپ سے خوش تھے بلکہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عرصہ میں وہ حضرت عمرؓ سے بھی زیادہ لوگوں کو محبوب تھے۔ صرف محبوب ہی نہ تھے بلکہ لوگوں کے دلوں میں آپ کا رعُب بھی تھا۔ جیسا کہ اُس وقت کا شاعر اس امر کی شعروں میں شہادت دیتا ہے٭٭ اورکہتاہے کہ اے فاسقو!عثمان کی حکومت میں لوگوں کا مال لُوٹ کرنہ کھائو کیونکہ ابن عفان وہ ہے جس کا تجربہ تم لوگ کرچکے ہو۔ وہ لٹیروں کو قرآن کے احکام کے ماتحت قتل کرتا ہے اور ہمیشہ سے اس قرآن کریم کے احکام کی حفاظت کرنے والا اورلوگوں کے اعضاء وجوارح پر اس کے احکام جاری کرنے والا ہے۱۰؎۔لیکن چھ سال کے بعد ساتویں سال ہمیں ایک تحریک نظر آتی ہے اور وہ تحریک حضرت عثمانؓ کے خلاف نہیں بلکہ
    ٭ یعنی بحیثیت سابق ہونے کے بھی حصہ لیں اور اب بھی جہاد کر کے حصہ لیں تو دوسرے لوگ محروم رہ
    جائیں گے۔
    لَا تَاکُلُوْا اَبَدًاجِیْرَانَکُمْ سَرَفاً
    اَھْلُ الدَّعَارَۃِ فِیْ مُلْکِ ابْنِ عَفَّانَ
    اِنَّ ابْنَ عَفَّانَ الَّذِیْ جَرَّبْتُمْ
    فَطِمُ اللُّصُوْصِ بِحُکْمِ الْفُرْقَانِ
    مَازَالَ یَعْمَلُ بِالْکِتٰبِ مُھَیْمِناً
    فِیْ کُلِّ عُنُقٍ مِنْھُمْ وَ بَنَانِ
    یاتو صحابہؓ کے خلاف ہے یا بعض گورنروں کے خلاف۔ چنانچہ طبری بیان کرتاہے کہ لوگوں کے حقوق کا حضرت عثمان ؓپورا خیال رکھتے تھے مگر وہ لوگ جن کو اسلام میں سبقت اورقدامت حاصل نہ تھی وہ سابقین اورقدیم مسلمانوں کے برابر نہ تومجالس میں عزت پاتے اورنہ حکومت میں اُ ن کو اُن کے برابر حصہ ملتا اورنہ مال میں ان کے برابر ان کا حق ہوتاتھا۔ اس پر کچھ مدت کے بعد بعض لوگ اس تفضیل پر گرفت کرنے لگے اوراسے ظلم قراردینے لگے۔ مگر یہ لوگ عامۃ المسلمین سے ڈرتے بھی تھے اوراس خوف سے کہ لوگ ان کی مخالفت کریں گے اپنے خیالات کو ظاہر نہ کرتے تھے۔ بلکہ انہوں نے یہ طریق اختیار کیاہواتھا کہ خفیہ خفیہ صحابہؓ کے خلاف لوگوں میں جوش پھیلاتے تھے اورجب کوئی ناواقف مسلمان یا کوئی بدوی غلام آزاد شدہ مل جاتا تواس کے سامنے اپنی شکایات کا دفتر کھول بیٹھتے تھے اور اپنی ناواقفیت کی وجہ سے یا خود اپنے لئے حصولِ جاہ کی غرض سے کچھ لوگ ان کے ساتھ مل جاتے۔ ہوتے ہوتے یہ گروہ تعدادمیں زیادہ ہونے لگا اوراس کی ایک بڑی تعداد ہوگئی۱۱؎۔
    جب کوئی فتنہ پیدا ہونا ہوتاہے تواس کے اسباب بھی غیر معمولی طورپر جمع ہونے لگتے ہیں۔ اِدھرتوبعض حاسد طبائع میںصحابہؓ کے خلاف جوش پیداہونا شروع ہوا اُدھر وہ اسلامی جوش جو ابتداء ً ہر ایک مذہب تبدیل کرنے والے کے دل میں ہوتاہے ان نومُسلموں کے دلوں سے کم ہونے لگا جن کو نہ رسول کریم ﷺ کی صحبت ملی تھی اورنہ آپؐ کے صحبت یافتہ لوگوں کے پاس زیادہ بیٹھنے کا موقع ملاتھا بلکہ اسلام کے قبول کرتے ہی انہوں نے خیال کرلیا تھا کہ وہ سب کچھ سیکھ گئے ہیں۔ جوشِ اسلام کے کم ہوتے ہی وہ تصرف جو ان کے دلوں پر اسلام کو تھا کم ہوگیا اور وہ پھر اُن معاصی میں خوشی محسوس کرنے لگے جس میں وہ اسلام لانے سے پہلے مبتلاء تھے ۔ ان کے جرائم پران کو سزاملی توبجائے اصلاح کے سزادینے والوں کی تخریب کرنے کے درپے ہوئے۔ اور آخر اتحادِ اسلامی میں ایک بہت بڑا رخنہ پیداکرنے کا موجب ثابت ہوئے۔ ان لوگوں کا مرکز توکوفہ میں تھامگر سب سے زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ خود مدینہ منورہ میں ایک ایسا واقعہ ہوا جس سے معلوم ہوتاہے کہ اس وقت بعض لوگ اسلام سے ایسے ہی ناواقف تھے جیسے کہ آجکل بعض نہایت تاریک گوشوں میں رہنے والے جاہل لوگ۔
    حمران ابن ابان ایک شخص تھا جس نے ایک عورت سے اس کی عدت کے دوران میں ہی نکاح کرلیا۔ جب حضرت عثمانؓ کو اس کا علم ہوا توآپؐ اس پر ناراض ہوئے اور اس عورت کو اس سے جُدا کردیا اوراس کے علاوہ اس کو مدینہ سے جلاوطن کرکے بصرہ بھیج دیا۱۲؎۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتاہے کہ کس طرح بعض لوگ صرف اسلام کو قبول کرکے اپنے آپ کو عالمِ اسلام خیال کرنے لگے تھے اورزیادہ تحقیق کی ضرورت نہ سمجھتے تھے۔ یایہ کہ مختلف اباحتی خیالات کے ماتحت شریعت پر عمل کرنا ایک فعلِ عبث خیال کرتے تھے۔ یہ ایک منفرد واقعہ ہے اورغالباً اس شخص کے سوا مدینہ میں جو مرکزِ اسلام تھا کوئی ایسا ناواقف آدمی نہ تھا۔ مگر دوسرے شہروں میں بعض لوگ معاصی میں ترقی کر رہے تھے۔ چنانچہ کوفہ کے حالات سے معلوم ہوتاہے کہ وہاں نوجوانوں کی ایک جماعت ڈاکہ زنی کے لئے بن گئی تھی۔ لکھا ہے کہ ان لوگوں نے ایک دفعہ علی بن حیسمان الخزاعی نامی ایک شخص کے گھر پر ڈاکہ مارنے کی تجویز کی اوررات کے وقت اُس کے گھر میں نقب لگائی۔ اُس کو علم ہوگیا اوروہ تلوار لے کر نکل پڑا۔ مگر جب بہت سی جماعت دیکھی تواس نے شور مچایا۔ اس پر ان لوگوں نے اس کو کہا کہ چُپ کرہم ایک ضرب مارکر تیرا سارا ڈر نکال دیں گے اوراس کو قتل کردیا۔ اتنے میں ہمسائے ہوشیار ہوگئے اور اِردگرد جمع ہوگئے اوراُن ڈاکوئوں کو پکڑلیا۔ حضرت ابو شریح ؓنے جو صحابیؓ تھے اوراس شخص کے ہمسایہ تھے اورانہوں نے سب حال اپنی دیوارپر سے دیکھاتھا انہوں نے شہادت دی کہ واقع میں انہی لوگوں نے علی کو قتل کیا ہے اوراسی طرح ان کے بیٹے نے شہادت دی اورمعاملہ حضرت عثمانؓ کی طرف لکھ کربھیج دیا۔ انہوں نے ان سب کو قتل کرنے کا فتویٰ دیا اور ولید بن عتبہ نے جو اُن دنوں حضرت عثمانؓ کی طرف سے کوفہ کے گورنر تھے، ان سب ڈاکوئوں کو دروازۂ شہر کے باہر میدان میں قتل کروادیا۱۳؎۔
    بظاہرایک معمولی واقعہ معلوم ہوتاہے لیکن اُس زمانے کے حالات کودیکھنے سے معلوم ہوتاہے کہ معمولی واقعہ نہ تھا۔ اسلام کی ترقی کے ساتھ ساتھ جرائم کا سلسلہ بالکل مٹ گیاتھا اورلوگ ایسے امن میں تھے کہ کُھلے دروازوں سوتے ہوئے بھی خوف نہ کھاتے تھے۔ حتّٰی کہ حضرت عمرؓ نے عمال کی ڈیوڑھیاں بنانے سے بھی منع کردیاتھا۔ گواس سے حضرت عمرؓ کی غرض تو یہ تھی کہ لوگ آسانی سے اپنی شکایات گورنروں کے پاس پہنچا سکیں۔ لیکن یہ حکم اُس وقت تک ہی دیا جاسکتاتھا جب تک امن انتہا تک نہ پہنچاہوا ہوتا۔ پھراس واقعہ میں خصوصیت یہ بھی تھی کہ اس ڈاکہ میں بعض ذی مقدرت اورصاحبِ ثروت لوگوں کی اولاد بھی شامل تھی جو اپنے اپنے حلقے میں بارسوخ تھے۔ پس یہ واردات معمولی واردات نہ تھی بلکہ کسی عظیم الشان انقلاب کی طرف اشارہ کرتی تھی جو اس کے سوا کیا ہوسکتاتھا کہ دین اسلام سے ناواقف لوگوں کے دلوں پر جو تصرفِ اسلام تھا اب اس کی گرفت کم ہورہی تھی۔ اوراب وہ پھر اپنی عادات کی طرف لَوٹ رہے تھے اورغریب ہی نہیں بلکہ امراء بھی اپنی پُرانی عظمت کو قتل وغارت سے واپس لینے پر آمادہ ہورہے تھے۔ حضرت ابو شریحؓ صحابی نے اس امر کو خوب سمجھا اوراُسی وقت اپنی سب جائداد وغیرہ بیچ کر اپنے اہل وعیال سمیت مدینہ کو واپس تشریف لے گئے اورکوفہ کی رہائش ترک کردی۔ ان کا اس واقعہ پرکوفہ کو ترک کردینا اس امر کی کافی شہادت ہے کہ یہ منفرد مثال آئندہ کے خطرناک واقعات کی طرف اشارہ تھی۔ اُنہی دنوں ایک اورفتنہ نے سرنکالنا شروع کیا۔
    عبداللہ بن سبا ایک یہودی تھا جو اپنی ماں کی وجہ سے ابن السوداء کہلاتاتھا۔ یمن کارہنے والا اورنہایت بدباطن انسان تھا۔ اسلام کی بڑھتی ہوئی ترقی کو دیکھ کراس غرض سے مسلمان ہوا کہ کسی طرح مسلمانوں میں فتنہ ڈلوائے۔ میرے نزدیک اُس زمانہ کے فتنے اِسی مُفسد انسان کے اِردگرد گھومتے ہیں اور یہ ان کی روحِ رواں ہے۔ شرارت کی طرف مائل ہوجانا اِس کی جبلّت میں داخل معلوم ہوتاہے۔ خفیہ منصوبہ کرنا اس کی عادت تھی اوراپنے مطلب کے آدمیوں کو تاڑلینے میں اس کو خاص مہارت تھی۔ ہرشخص سے اس کے مذاق کے مطابق بات کرتاتھااور نیکی کے پردے میں بدی کی تحریک کرتاتھا اوراسی وجہ سے اچھے اچھے سنجیدہ آدمی اس کے دھوکے میں آجاتے تھے۔ حضرت عثمان کی خلافت کے پہلے نصف میں مسلمان ہوا اورتمام بِلادِ اسلامیہ کادَورہ اِس غرض سے کیا کہ ہرایک جگہ کے حالات سے خود واقفیت پیدا کرے۔ مدینہ منورہ میں تواِس کی دال نہ گل سکتی تھی مکہ مکرمہ اُس وقت سیاسیات سے بالکل علیحدہ تھا۔ سیاسی مرکز اس وقت دارالخلافہ کے سِوا بصرہ، کوفہ، دمشق اور فسطاطؔ تھے۔ پہلے ان مقامات کا اِس نے دورہ کیا اوریہ رویہ اختیار کیا کہ ایسے لوگوں کی تلاش کرکے جو سزایافتہ تھے اوراِس وجہ سے حکومت سے ناخوش تھے اُن سے ملتااوراُنہی کے ہاں ٹھہرتا۔ چنانچہ سب سے پہلے بصرہ گیا اورحکیم بن جبلہ ایک نظربند ڈاکو کے پاس ٹھہرا اوراپنے ہم مذاق لوگوں کو جمع کرنا شروع کیا اوران کی ایک مجلس بنائی۔ چونکہ کام کی ابتدا تھی اوریہ آدمی ہوشیار تھا صاف صاف بات نہ کرتابلکہ اشارہ کنایہ سے اُن کو فتنہ کی طرف بُلاتاتھا اورجیسا کہ اس نے ہمیشہ اپنا وطیرہ رکھا ہے وعظ وپند کا سلسلہ بھی ساتھ جاری رکھتاتھا جس سے ان لوگوں کے دلوں میں اس کی عظمت پیداہوگئی اوروہ اس کی باتیں قبول کرنے لگے۔ عبداللہ بن عامر کو جوبصرہ کے والی تھے جب اس کا علم ہوا توانہوں نے اس سے اس کا حال پوچھا اور اس کے آنے کی وجہ دریافت کی۔ اِس نے جواب میں کہلا بھیجا کہ میں اہلِ کتاب میں سے ایک شخص ہوںجسے اسلام کا اُنس ہوگیاہے اور آپ کی حفاظت میں رہنا چاہتا ہوں۔ عبداللہ بن عامر کو چونکہ اصل حالات پرآگاہی حاصل ہوچکی تھی اُنہوں نے اِس کے عذرکو قبول نہ کیا اورکہا کہ مجھے تمہارے متعلق جوحالات معلوم ہیں وہ ان کے خلاف ہیں اس لئے تم میرے علاقہ سے نکل جائو۔ وہ بصرہ سے نکل کرکوفہ کی طرف چلا گیا۱۴؎ مگر فسادِ بغاوت اوراسلام سے بیگانگی کا بیج ڈال گیا جو بعد میں بڑھ کر ایک بہت بڑا درخت ہوگیا۔
    میرے نزدیک یہ سب سے پہلی سیاسی غلطی ہوئی ہے اگر والی ٔ بصر ہ بجائے اس کو جلاوطن کرنے کے قید کردیتا اوراس پر الزام قائم کرتاتوشاید یہ فتنہ وہیں دبا رہتا۔ ابن سوداء تو اپنے گھر سے نکلا ہی اِس ارادے سے تھا کہ تمام عالَمِ اسلام میں پھر کر فتنہ فساد کی آگ بھڑکائے۔ اِس کا بصرہ سے نکلنا تواس کے مدّعا کے عین مطابق تھا۔ کوفہ میں پہنچ کر اس شخص نے پھر وہی بصرہ والی کار روائی شروع کی اوربالآخر وہاں سے بھی نکالاگیالیکن یہاںبھی اپنی شرارت کا بیج بوتا گیا جو بعد میں بہت بڑا درخت بن گیا اوراس دفعہ اس کے نکالنے پر اُس پہلی سیاسی غلطی کا ارتکاب کیا گیا۔ کوفہ سے نکل کریہ شخص شام کو گیا مگر وہاں اس کو اپنے قدم جمانے کاکوئی موقع نہ ملا۔ حضرت معاویہؓ نے وہاں اس عمدگی سے حکومت کا کام چلایاہواتھا کہ نہ تو اسے ایسے لوگ ملے جن میں یہ ٹھہر سکے اورنہ ایسے لوگ میسر آئے جن کواپنا قائم مقام بنایا جاوے پس شام سے اس کو باحسرت ویاس آگے سفر کرنا پڑا اوراس نے مصر کا رُخ کیا مگر شام چھوڑنے سے پہلے اس نے ایک اورفتنہ کھڑا کردیا۔
    ابوذر غفاریؓ رسو ل کریم ﷺ کے ابتدائی صحابہؓ میں سے ایک نہایت نیک اورمتقی صحابی تھے۔جب سے ایمان لائے رسول کریم ﷺ کی محبت میں آگے ہی قدم بڑھاتے گئے اورایک لمبا عرصہ صُحبت میں رہے۔ جیسا کہ ہرایک شخص کا مذاق جُداگانہ ہوتاہے رسول کریم ﷺ کی ان نصائح کو سن کر کہ دنیا سے مومن کو علیحدہ رہنا چاہئے یہ اپنے مذاق کے مطابق مال جمع کرنے کو ناجائز سمجھتے تھے اور دولت سے نفرت کرتے تھے اوردوسرے لوگوں کو بھی سمجھاتے تھے کہ مال نہیں جمع کرنا چاہئے۔ جو کچھ کسی کے پاس ہواُسے غرباء میں بانٹ دینا چاہئے مگر یہ عادت ان کی ہمیشہ سے تھی اورحضرت ابوبکرؓ کے زمانے سے بھی جب کہ مسلمانوں میں دولت آئی وہ ایسا ہی کرتے تھے۔ ابن سوداء جب شام سے گزر رہاتھا اس نے ان کی طبیعت میں دولت کے خلاف خاص جوش دیکھ کر یہ معلوم کرکے کہ یہ چاہتے ہیں کہ غرباء وامراء اپنے مال تقسیم کردیں شام میں سے گزرتے ہوئے جہاں کہ اُس وقت حضرت ابوذرؓ مقیم تھے ان سے ملاقات کی اوران سے کہا کہ دیکھئے کیا غضب ہورہاہے معاویہ بیت المال کے اموال کو اللہ کا مال کہتا تھا حالانکہ بیت المال کے اموال کی کیا شرط ہے ہرایک چیز اللہ تعالیٰ کی ہے۔پھر وہ خاص طور پر اس مال کومال اللہ کیوں کہتاہے صرف اس لئے کہ مسلمانوں کا حق جو اس مال میں ہے اس کو ضائع کردے اور ان کانام بیچ میں سے اُڑا کر آپ وہ مال کھاجاوے۔ حضرت ابوذرؓ توآگے ہی اس تلقین میں لگے رہتے تھے کہ امراء کو چاہئے کہ سب مال غرباء میں تقسیم کردیں کیونکہ مومن کے لئے آرام کی جگہ اگلا جہان ہی ہے اوراس شخص کی شرارت اور نیت سے آپ کو بالکل واقفیت نہ تھی۔ پس آپ اس کے دھوکے میں آگئے اورخیال کیا کہ واقع میں بیتُ المال کے اموال کومال اللہ کہنا درست نہیں اس میں اموال کے غصب ہوجانے کا خطرہ ہے۔ ابن سوداء نے اس طرح حضرت معاویہؓ سے اس امر کا بدلہ لیا کہ کیوں انہوں نے اس کے ٹکنے کے لئے شام میں کوئی ٹھکانا نہیں بننے دیا۔ حضرت ابوذرؓ معاویہ کے پاس پہنچے اوراُن کو سمجھایا کہ آپ مسلمانوں کے مال کو مال اللہ کہتے ہیں۔ انہوںنے جواب دیا کہ اے ابوذرؓ !اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے کیا ہم سب اللہ کے بندے نہیں؟ یہ مال اللہ کا مال نہیں ؟اورسب مخلوق اللہ تعالیٰ کی مخلوق نہیں؟ اورحُکم خدا کے ہاتھ میں نہیں؟یعنی جب کہ بندے بھی خدا کے ہیں اورحکم بھی اسی کا جاری ہے توپھر ان اموال کو اموال اللہ کہنے سے لوگوں کے حق کیونکر ضائع ہوجائیں گے۔ جو خدا تعالیٰ نے حقوق مقرر کئے ہیں وہ اس کے فرمان کے مطابق اس کی مخلوق کو ملیں گے یہ جواب ایسا لطیف تھاکہ حضرت ابوذرؓ اس کا جواب توبالکل نہ دے سکے مگر چونکہ اس معاملہ میں ان کو خاص جوش تھااورابن سوداء ایک شک آپ کے دل میں ڈال گیا تھا اس لئے آپ نے احتیاطاً حضرت معاویہؓ کو یہی مشورہ دیا کہ آپ اس لفظ کو ترک کردیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں یہ توہرگز نہیں کہنے کا کہ یہ اموالُ اللہ نہیںہاں آئندہ اس کو اموال المسلمین کہا کروں گا۔ ابن سوداء نے جب یہ حربہ کسی قدر کارگر دیکھا تَو اورصحابہؓ کے پاس پہنچا اوران کو اُکسانا چاہا مگروہ حضرت ابوذرؓ کی طرح گوشہ گزیں نہ تھے اس شخص کی شرارتوں سے واقف تھے۔ ابودرداءؓ نے اس کی بات سنتے ہی کہا تُوکون ہے جوایسی فتنہ انگیز بات کہتاہے۔ خدا کی قسم! تُو یہودی ہے ۔ ان سے مایوس ہوکر وہ انصار کے سردار رسول کریم ﷺ کے خاص مقرب عبادہؓ بن صامت کے پاس پہنچا اوران سے کچھ فتنہ انگیز باتیں کہیں۔ ا نہوں نے اس کو پکڑ لیا اورحضرت معاویہؓ کے پاس لے گئے اور کہا کہ یہ شخص ہے جس نے ابوذر غفاریؓ کوآپ کے پاس بھیجا تھا۔ شام میں اپنا کام نہ بنتا دیکھ کر ابن سودا ء تومصر کی طرف چلا گیا اورادھر حضرت ابوذرؓ کے دل میں اس کی باتوں سے ایک نیا جوش پیدا ہوگیااورآپ نے آگے سے بھی زیادہ زور کے ساتھ مسلمانوں کو نصیحت کردی کہ سب اپنے اپنے اموال لوگوں میں تقسیم کردیں۔حضرت ابوذرؓ کا یہ کہنا درست نہ تھا کہ کسی کومال جمع نہ کرنا چاہئے۔کیونکہ صحابہؓ مال جمع نہیں کیا کرتے تھے بلکہ ہمیشہ اپنے اموال خدا کی راہ میں تقسیم کرتے تھے۔ ہاں بے شک مالدار تھے اوراس کو مال جمع کرنا نہیں کہتے۔ مال جمع کرنا اس کا نام ہے کہ اس مال سے غربا ء کی پرورش نہ کرے اورصدقہ وخیرات نہ کرے۔ خود رسول کریم ﷺ کے وقت میں بھی آپؐ کے صحابہؓ میں سے بعض مالدارتھے۔ اگر مالدارنہ ہوتے توغزوہ تبوک کے وقت دس ہزار سپاہیوں کا سامانِ سفر حضرت عثمانؓ کس طرح اداکرتے۔ مگر رسول کریم ﷺ ان لوگوں کوکچھ نہ کہتے تھے۔ بلکہ ان میں سے بعض آدمی آپؐ کے مقرب بھی تھے۔ غرض مالدار ہونا کوئی جُرم نہ تھا بلکہ قرآن کی پیشگوئیوں کے عین مطابق تھا اورحضرت ابوذرؓ کو اس مسئلہ میں غلطی لگی ہوئی تھی۔ مگر جو کچھ بھی تھا ،حضرت ابوذرؓ اپنے خیال پر پختہ تھے۔ مگر ساتھ ہی یہ بات بھی تھی کہ وہ اپنے خیال کے مطابق نصیحت توکردیتے مگر قانون کوکبھی اپنے ہاتھ میں نہ لیتے اورآنحضرت ﷺ کے احکام آپ کے زیرِ نظر رہتے ۔لیکن جن لوگوں میں بیٹھ کر وہ یہ باتیں کرتے تھے وہ ان کے تقویٰ اورطہارت سے ناآشنا تھے اوران کی باتوں کا اورمطلب سمجھتے تھے۔چنانچہ ان باتوں کا آخر یہ نتیجہ نکلا کہ بعض غرباء نے امراء پر دست تعدی دراز کرنا شروع کیا اوران سے جبراً اپنے حقوق وصول کرنے چاہے۔انہوں نے حضرت معاویہؓ سے شکایت کی جنہوں نے آگے حضرت عثمانؓ کے پاس معاملہ پیش کیا۔ آپ نے حکم بھیجا کہ ابوذرؓ کواِکرام واحترام کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ کردیاجاوے۔ اِس حکم کے ماتحت حضرت ابوذرؓ مدینہ تشریف لائے۔ حضرت عثمانؓ نے آپ سے دریافت کیا کہ کیا سبب ہے کہ اہلِ شام آپ کے خلاف شکایت کرتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ میرا اُن سے یہ اختلاف ہے کہ ایک تو مال اللہ نہ کہا جائے دوسرے یہ کہ امراء مال نہ جمع کریں۔ حضرت عثمانؓ نے فرمایا کہ ابوذر جو ذمہ داری خداتعالیٰ نے مجھ پر ڈالی ہے اس کا اداکرنا میراہی کام ہے اوریہ میرا فرض ہے کہ جو حقوق رعیت پر ہیں اُن سے وصول کروں اوریہ کہ ان کو خدمتِ دین اورمیانہ روی کی تعلیم دوں مگر یہ میرا کام نہیں کہ ان کو ترک ِدنیا پر مجبور کروں۔ حضرت ابوذرؓ نے عرض کیا کہ پھر آپ مجھے اجازت دیں کہ میں کہیں چلاجائوں کیونکہ مدینہ اب میرے مناسبِ حال نہیں۔ حضرت عثمانؓ نے کہا کہ کیا آپ اس گھر کو چھوڑ کر اس گھرسے بدتر گھر کو اختیار کرلیںگے؟ انہوں نے کہا کہ مجھے رسول کریم ﷺنے فرمایا تھا کہ جب مدینہ کی آبادی سلع تک پھیل جاوے توتم مدینہ میں نہ رہنا۔ حضرت عثمانؓ نے اِس پر فرمایا کہ آپ رسول خدا ﷺ کا حُکم بجا لاویں اور کچھ اونٹ اوردوغلام دے کر مدینہ سے رُخصت کیا اورتاکید کی کہ مدینہ سے کُلّی طور پر قطع تعلق نہ کریں بلکہ وہاں آتے جاتے رہیں جس ہدایت پرابوذر ہمیشہ عمل کرتے رہے۔ ۱۵؎ یہ چوتھافتنہ تھا جو پیدا ہوا اورگو اس میں حضرت ابوذرؓ کو ہتھیار بنایا گیا تھا مگر درحقیقت نہ حضرت ابوذرؓ کے خیالات وہ تھے جو مفسدوںنے اختیارکیے اورنہ ان کو ان لوگوں کی شرارتوں کا علم تھا ۔حضرت ابوذرؓ توباوجود اختلاف کے کبھی قانون کو ہاتھ میں لینے پر آمادہ نہ ہوئے اورحکومت کی اطاعت اس طورپر کرتے رہے کہ باوجود اس کے کہ ان کے خاص حالات کو مدّنظر رکھتے ہوئے ان کو فتنہ اورتکلیف سے بچانے کے لئے رسول کریم ﷺ نے ان کو ایک خاص وقت پر مدینہ سے نکل جانے کا حکم دیا تھا، انہوں نے بغیر حضرت عثمانؓ کی اجازت کے اِس حکم پر عمل کرنا مناسب نہیں سمجھا اورپھر جب وہ مدینہ سے نکل کر ربذہؔ میں جاکر مقیم ہوئے اوروہاں کے محصل نے ان کو نماز کا امام بننے کے لئے کہا توانہوں نے اس سے اِس بناء پرانکار کیاکہ تم یہاں کے حاکم ہواِس لئے تم ہی کو امام بننا سزاوار ہے۔ جس سے معلوم ہوتاہے کہ اطاعت حُکام سے اُن کو کوئی انحراف نہ تھا اورنہ انارکی کو وہ جائز سمجھتے تھے۔
    حضرت ابوذرؓ کی سادگی کا اِس امر سے خوب پتہ چلتا ہے کہ جب ابن السوداء کے دھوکا دینے سے وہ معاویہؓ سے جھگڑتے تھے کہ بیت المال کے اموال کو مال اللہ نہیں کہنا چاہئے اورحضرت عثمانؓ کے پاس بھی شکایت لائے تھے وہ اپنی بول چال میں اس لفظ کو برابر استعمال کرتے تھے چنانچہ اس فساد کے بعد جب کہ وہ ربذہ میں تھے ایک دفعہ ایک قافلہ وہاں اُترا۔ اس قافلہ کے لوگوں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ کے ساتھیوں کوہم نے دیکھا ہے وہ بڑے بڑے مالدار ہیں مگر آپ اس غربت کی حالت میں ہیں۔ انہوں نے ان کو یہ جواب دیا کہ اِنَّھُمْ لَیْسَ لَھُمْ فِیْ مَالِ اللّٰہِ حَقٌّ اِلَّاوَلِیْ مِثْلُہٗ ۱۶؎ ۔ یعنی ان کا مال اللہ (یعنی بیتُ المال کے اموال )میں کوئی ایسا حق نہیں جو مجھے حاصل نہ ہو۔اسی طرح انہوں نے وہاں کے حبشی حاکم کو بھی رَقِیْقٌ مِّنْ مَّالِ اللّٰہ۱۷؎ (مال اللہ کا غلام)کے نام سے یاد کیاہے اس سے معلوم ہوتاہے کہ وہ خودبھی یہ لفظ استعمال کرتے تھے اور باوجود اس لفظ کی مخالفت کرنے کے بے تحاشا اس لفظ کا آپ کی زبان پر جاری ہو جانا اس امر کی شہادت ہے کہ یہ صحابہؓ کا ایک عام محاورہ تھا مگر ابن سوداء کے دھوکا دینے سے آپ کے ذہن سے یہ بات نکل گئی ۔یہ فتنہ جسے بولشوزم کا فتنہ کہنا چاہیے حضرت معاویہؓ کی حسن تدبیر سے شام میں توچمکنے نہ پایا مگر مختلف صورتوں میں یہ خیال اورجگہوں پر اشاعت پاکر ابن سوداء کے کام میںمُمِد ہوگیا۔
    ابن سوداء شام سے نکل کر مصر پہنچا اوریہی مقام تھا جسے اس نے اپنے کام کامرکز بنانے کے لئے چنا تھا۔ کیونکہ یہ مقام دارالخلافہ سے بہت دُور تھا اور دوسرے اس جگہ صحابہؓ کی آمدورفت اِس کثرت سے نہ تھی جتنی کہ دوسرے مقامات پر۔ جس کی وجہ سے یہاں کے لوگ دین سے نسبتاً کم تعلق رکھتے تھے اورفتنہ میں حصہ لینے کیلئے زیادہ تیارتھے چنانچہ ابن سوداء کا ایک نائب جو کوفہ کا باشندہ تھا اورجس کا ذکر آگے آوے گا ان واقعات کے تھوڑے ہی عرصہ بعد جلاوطن کیا گیا توحضرت معاویہؓ کے اس سوال پر کہ نئی پارٹی کے مختلف ممالک کے ممبروں کا کیا حال ہے؟ اس نے جواب دیا کہ انہوں نے مجھ سے خط وکتابت کی ہے اور میں نے ان کو سمجھایا ہے اورانہوں نے مجھے نہیں سمجھایا۔ مدینہ کے لوگ توسب سے زیادہ فساد کے شائق ہیں اورسب سے کم اس کی قابلیت رکھتے ہیں اورکوفہ کے لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر نکتہ چینی کرتے ہیں لیکن بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب سے خوف نہیں کھاتے اوربصر ہ کے لوگ اکٹھے حملہ کرتے ہیں مگر پراگندہ ہوکر بھاگتے ہیں۔ ہاں مصر کے لوگ ہیں جو شرارت کے اہل سب سے زیادہ ہیں مگر ان میں یہ نقص ہے کہ پیچھے نادم بھی جلد ی ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد شام کا حال اُس نے بیان کیا کہ وہ اپنے سرداروں کے سب سے زیادہ مطیع ہیں اوراپنے گمراہ کرنے والوں کے سب سے زیادہ نافرمان ہیں۔٭
    یہ رائے ابن الکواء کی ہے جو ابن سوداء کی پارٹی کے رُکنوں میں سے تھا اوراس سے معلوم ہوتاہے کہ مصرہی سب سے عمدہ مقام تھاجہاں ابن سوداء ڈیرہ لگاسکتاتھا۔ اوراس کی شرارت کی باریک بین نظرنے اس امرکو معلوم کرکے اس مقام کو اپنے قیام کے لئے چُنا اوراسے فساد کا مرکز بنادیا اوربہت جلد ایک جماعت اس کے اِرد گرد جمع ہوگئی۔
    اب سب بِلاد میں شرارت کے مرکز قائم ہوگئے اورابن سوداء نے ان تمام لوگوں کوجو سزایافتہ تھے یا ان کے رشتہ دار تھے یا اورکسی سبب سے اپنی حالت پر قانع نہ تھے نہایت
    ٭ جیسا کہ آگے ثابت کیاجاوے گا یہ اس کا جھوٹ تھاکہ مدینہ کے لوگ اس فتنہ سے محفوظ تھے۔بوقت نظر ثانی۔
    ہوشیاری اوردانائی سے اپنا ہاتھ ملانا شروع کیا اورہر ایک کے مذاق کے مطابق اپنی غرض کوبیان کرتاتاکہ اُس کی ہمدردی حاصل ہو جاوے۔ مدینہ شرارت سے محفوظ تھا اورشام بالکل پاک تھا۔ تین مرکز تھے جہاں اس فتنہ کا مواد تیار ہورہاتھا، بصرہ، کوفہ اورمصر۔ مصر مرکز تھا مگر اس زمانہ کے تجربہ کار اورفلسفی دماغ انار کسٹوں کی طرح ابنِ سوداء نے اپنے آپ کو خَلْفَ الْاَسْتَار رکھاہواتھا۔ سب کام کی روح وہی تھا مگر آگے دوسرے لوگوں کو کیاہواتھا۔ بوجہ قریب ہونے کے اوربوجہ سیاسی فوقیت کے جو اُس وقت بصرہ اورکوفہ کو حاصل تھی یہ دونوں شہر اِن تغیر ات میں زیادہ حصہ لیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لیکن ذراباریک نگاہ سے دیکھا جاوے توتاریخ کے صفحات سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ ان تمام کارروائیوں کی باگ مصر میں بیٹھے ہوئے ابن السوداء کے ہاتھ میںتھی۔
    میں پہلے بیان کرچکاہوں کہ کوفہ میں ایک جماعت نے ایک شخص علی بن حیسمان الخزاعی کے گھر پر ڈاکہ مار کر اُس کو قتل کر دیا تھا اور قاتلوں کو دروازۂ شہر پر قتل کر دیا گیا تھا۔ ان نوجوانوں کے باپوں کو اِس کابہت صدمہ تھا اوروہ اس جگہ کے والی ولید بن عتبہ سے اس کا بدلہ لینا چاہتے تھے اورمنتظر رہتے تھے کہ کوئی موقع ملے اورہم انتقام لیں۔ یہ لوگ اس فتنہ انگیز جماعت کے ہاتھ میں ایک عمدہ ہتھیار بن گئے جن سے انہوں نے خوب کام لیا۔ ولید سے بدلہ لینے کے لئے انہوں نے کچھ جاسوس مقرر کیے تاکہ کوئی عیب ولید کا پکڑکر ان کو اطلاع دیں۔ جاسوسوں نے کوئی کارروائی تواپنی دکھانی ہی تھی۔ ایک دن آکر ان کوخبر دی کہ ولید اپنے ایک دوست ابوزبیر کیساتھ مل کر جو عیسائی سے مسلمان ہوا تھا شراب پیتے ہیں۔ ان مفسدوں نے اُٹھ کر تمام شہر میں اعلان کردیا کہ لویہ تمہارا والی ہے۔ اندر اندر چھپ چھپ کر اپنے دوستوں کے ساتھ شراب پیتاہے۔ عامۃ الناس کا تو جوش بے قابو ہوتاہی ہے اِس بات کو سن کر ایک بڑی جماعت ان کے سا تھ ہوگئی اورولید کے گھر کا سب نے جاکر محاصرہ کرلیا۔ دروازہ تو کوئی تھا ہی نہیں۔ سب بے تحاشا مسجد میں سے ہوکر اندرگھس گئے (ان کے مکان کا دروازہ مسجد میں کھلتا تھا) اور ولید کواُس وقت معلوم ہوا جب وہ ان کے سرپر جاکھڑے ہوئے۔ انہوں نے ان کو دیکھا توگھبراگئے اورجلدی سے کوئی چیز چارپائی کے نیچے کھسکادی۔ انہوں نے خیال کیا کہ اب بھید کھل گیا ہے اورچورپکڑاگیا۔جھٹ ایک شخص نے بلا بولے چالے ہاتھ اندر کیا اوروہ چیز نکال لی۔دیکھا تو ایک طبق تھا اوراس کے اندر والی کوفہ کا کھانا اور انگوروں کا ایک خوشہ پڑا تھا جسے اس نے صرف اس شرم سے چھپا دیا کہ ایسے بڑے مالدار صوبہ کے گورنر کے سامنے صرف یہی کھانا رکھا گیا تھا۔ اس امر کو دیکھ کر لوگوں کے ہوش اُڑگئے سب شرمندہ ہوکر اُلٹے پائوں لوٹے اورایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ بعض شریروں کے دھوکامیں آکر انہوں نے ایسا خطرناک جُرم کیا اور شریعت کے احکام کو پس پشت ڈال دیا۔ مگر ولید نے شرم سے اس بات کو دبادیا اورحضرت عثمانؓ کو اس امر کی خبرنہ کی۔ لیکن یہ ان کا رحم جو ایک غیر مستحق قوم کے ساتھ کیا گیا تھا آخر ان کے لئے اوران کے بعد ان کے قائمقام کے لئے نہایت مُضِرّ ثابت ہوا۔ مفسدوںنے بجائے اس کے کہ اس رحم سے متأ ثر ہوتے اپنی ذلّت کو اوربھی محسوس کیا اورپہلے سے بھی زیادہ جوش سے ولید کی تباہی کی تدابیر کرنی شروع کیں اورحضرت عثمانؓ کے پاس وفد بن کر گئے کہ ولید کو موقوف کیا جائے۔ لیکن ا نہوں نے بِلا کسی جُرم کے والی کو موقوف کرنے سے انکار کردیا۔ یہ لوگ واپس آئے تواوردوسرے تمام ایسے لوگوں کو جمع کرنا شروع کیاجو سزا یافتہ تھے اورمل کر مشورہ کیا کہ جس طرح ہوجھوٹ سچ ولیدکو ذلیل کیا جاوے۔ ابوزینب اورابومورع دوشخصوں نے اس بات کا ذمہ لیا کہ وہ کوئی تجویز کریں گے اورولید کی مجلس میں جانا شروع کیا۔ ایک دن موقع پاکر جب کہ کوئی نہ تھااورولید اپنے مردانہ میں جس کو زنانہ حصہ سے صرف ایک پردہ ڈال کر جداکیا گیاتھاسوگئے۔ ان دونوں نے اُن کی انگشتری آہستہ سے اُتار لی اورخود مدینہ کی طرف بھاگ نکلے کہ ہم نے ولید کو شراب میں مخمور دیکھا ہے اوراس کا ثبوت یہ انگوٹھی ہے جو ان کے ہاتھ سے حالت نشہ میں ہم نے اُتاری اوران کو خبر نہ ہوئی۔ حضرت عثمانؓ نے ان سے دریافت کیا کہ کیا تم لوگوں کے سامنے انہوں نے شراب پی تھی؟ انہوں نے اس بات کے اقرار کی توجرأت نہ کی کیونکہ سامنے شراب پینے سے ثابت ہوتا کہ وہ بھی ولید کے ساتھ شریک تھے اوریہ کہا کہ نہیں ہم نے ان کو شراب کی قے کرتے ہوئے دیکھا ہے۔انگوٹھی اس کا ثبوت موجودتھی اور دو گواہ حاضر تھے اورکچھ اورشریر بھی ان کی شہادت کو زیادہ وقیع بنانے کیلئے ساتھ گئے تھے وہ بھی اس واقعہ کی تصدیق باِلقرائن کرتے تھے۔ صحابہ سے مشورہ لیا گیا اور ولیدکو حدِّشراب لگانے کا فیصلہ ہو ا۔ کوفہ سے ان کو بلوایا گیا اورمدینہ میں شراب پینے کی سزا میں کوڑے لگوائے گئے۔ ولیدنے گوعذر کیا اوران کی شرارت پر حضرت عثمانؓ کو آگاہ کیا مگرانہوں نے کہاکہ بحکمِ شریعت گواہوں کے بیان کے مطابق سزا تو ملے گی۔ ہاں جھوٹی گواہی دینے والا خداتعالیٰ کی طرف سے سزاپائے گا۱۸؎۔
    ولیدمعزول کئے گئے اورناحق ان پر الزام لگایاگیا مگرصحابہؓ کے مشورہ کے ماتحت حضرت عثمانؓ نے اُن کوحد لگائی اورچونکہ گواہ اورقرائن ان کے خلاف موجودتھے شریعت کے حکم کے ماتحت ان کو حد لگانا ضروری تھا۔ سعید بن العاصؓ ان کی جگہ والی کوفہ بنا کر بھیج دیئے گئے۔ انہو ں نے کوفہ میں جاکر وہاں کی حالت دیکھی توحیران ہوگئے۔ تمام اوباش اوردین سے ناواقف لوگ قبضہ جمائے ہوئے تھے اورشرفاء محکوم ومغلوب تھے۔ انہوں نے اِس واقعہ کی حضرت عثمانؓ کو خبر دی۔ جنہوں نے اُن کونصیحت کی کہ جو لوگ بڑی بڑی قربانیاں کرکے دشمنوں کے مقابلہ کیلئے پہلے پہلے آئے تھے ان کا اعزاز واحترام قائم کریں ہاں اگروہ لوگ دین سے بے توجہی برتیں تب بے شک دوسرے ایسے لوگوں کو ان کی جگہ دیں جو زیادہ دین دار ہوں۔
    جس وقت کوفہ میں شرارت جاری تھی بصرہ بھی خاموش تھا وہاںبھی حکیم بن جبلہ ابن السوداء کے ایجنٹ اوراس کے ساتھیوں کے ذریعہ حضرت عثمانؓ کے نائبوں کے خلاف لوگوں میں جھوٹی تہمتیں مشہور کی جارہی تھیں۔
    مصر جو اصل مرکز تھا وہاں تواوربھی زیادہ فساد برپا تھا عبداللہ بن سبانے وہاں صرف سیاسی شورش ہی برپانہ کررکھی تھی بلکہ لوگوں کا مذہب بھی خراب کررہاتھا۔ مگراس طرح کہ دین سے ناواقف مسلمان اسے بڑا مخلص سمجھیں۔ چنانچہ وہ تعلیم دیتاتھا کہ تعجب ہے کہ بعض مسلمان یہ توعقیدہ رکھتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے مگر یہ نہیں مانتے کہ رسول کریم ﷺ دوبارہ مبعوث ہوںگے حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتاہے کہ ۱۸؎ یعنی وہ خدا جس نے قرآن کریم تجھ پرفرض کیا ہے تجھے ضرور لوٹنے کی جگہ کی طرف واپس لاوے گا٭ اس کی اس تعلیم کواس کے بہت سے ماننے والوں نے قبول کیا اورآنحضرت ﷺ کے دوبارہ دنیا میں تشریف لانے کے قائل ہوگئے حالانکہ قرآن کریم ان لوگوں کے دوبارہ دنیامیں تشریف لانے سے جو فوت ہوچکے ہیں بڑے زورسے انکار کرتاہے۔ ہاںیہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے نام کو روشن کرنے کے لئے کسی شخص کو انہی کے اخلاق اورصفات دے کر کھڑا کردے۔ مگر یہ امرتناسخ یا کسی شخص کے دوبارہ واپس آنے کے عقیدہ سے بالکل الگ ہے اورایک بدیہی اورمشہور امر ہے۔ علاوہ اس رجعت کے عقیدہ کے عبداللہ بن سبا نے یہ بھی مشہورکرنا شروع کیا کہ ہزار نبی گزرے ہیں اورہر ایک نبی کا ایک وصی تھا اور رسول کریم ﷺ کے وصی حضرت علیؓ ہیں۔ رسول کریم ﷺخاتم الانبیاء تھے توحضرت علی خاتم الاوصیاء ہیں۔ پھر کہتا اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوسکتا ہے جو رسول کریم ﷺ کے وصی پر حملہ کرکے اس کا حق چھین لے۔
    غرض علاوہ سیاسی تدابیرکے جو اسلام میں تفرقہ ڈالنے کے لئے اس شخص نے اختیار کررکھی تھیں مذہبی فتنہ بھی برپا کر رکھا تھا اور مسلمانوں کے عقائد خراب کرنے کی بھی فکر کررہاتھامگر یہ احتیاط ضروربرتتاتھا کہ لوگ اس کومسلمان ہی سمجھیں۔
    ایسی حالت میں تین سال گزرگئے اوریہ مُفسد گروہ برابر خفیہ کار روائیاں کرتارہا اور اپنی جماعت بڑھاتاگیا۔ لیکن اس تین سال کے عرصہ میں کوئی خاص واقعہ سوائے اس کے نہیں ہوا کہ محمد بن ابی بکر اورمحمد بن ابی حذیفہ دوشخص مدینہ منورہ کے باشندے بھی اس فتنہ میں کسی قدر حصہ لینے لگے۔ محمد بن ابی بکر توحضرت ابوبکرؓ کا چھوٹا لڑکا تھا جسے سوائے اس خصوصیت کے کہ وہ حضرت ابوبکرؓ کا لڑکاتھا دینی طورپر کوئی فضیلت حاصل نہ تھی اور محمدبن ابی حذیفہ ایک یتیم تھا جسے حضرت عثمانؓ نے پالاتھا مگر بڑاہوکر اس نے خاص طورپر
    ٭ یہ پیشگوئی فتح مکہ کی ہے جسے بگاڑ کر اس شخص نے رجعت کا عقیدہ بنا لیا۔ چونکہ مکہ کی طرف لوگ بہ نیت حج اور حصولِ ثواب بار بار جاتے ہیں اس لئے اس کا نام بھی معاد ہے یعنی وہ جگہ جس کی طرف لوگ بار بار لوٹتے ہیں ۔
    آپ کی مخالفت میں حصہ لیا جس کی وجوہ میں ابھی بیان کروں گا۔ چوتھے سال میں اس فتنہ نے کسی قدر ہیبت ناک صورت اختیار کرلی اور اس کے بانیوں نے مناسب سمجھاکہ اب عَلَی الْاِعْلَان اپنے خیالات کا اظہار کیا جاوے اورحکومت کے رُعب کو مٹایاجاوے چنانچہ اس امر میں بھی کوفہ ہی نے ابتدا کی۔
    جیساکہ میں پہلے بیان کرچکا ہوں ولید بن عتبہ کے بعد سعید بن العاص والی کوفہ مقرر ہوئے تھے۔ انہوں نے شروع سے یہ طریق اختیار کررکھاتھاکہ صرف شرفائے شہر کو اپنے پاس آنے دیتے تھے مگر کبھی کبھی وہ ایسا بھی کرتے کہ عام مجلس کرتے اورہرطبقہ کے آدمیوں کو اس وقت پاس آنے کی اجازت ہوتی۔ ایک دن اسی قسم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت طلحہؓ کی سخاوت کا ذکر آیا اورکسی نے کہاکہ وہ بہت ہی سخاوت سے کام لیتے ہیں۔ اس پر سعید کے منہ سے یہ فقرہ نکل گیاکہ ان کے پاس مال بہت ہے وہ سخاوت کرتے ہیں ہمارے پاس بھی مال ہوتا توہم بھی ویسی ہی دادودہش۲۰؎ کرتے۔ ایک نوجوان نادانی سے بول پڑا کہ کاش فلاں جاگیر جواموالِ شاہی میں سے تھی اورعام مسلمانوں کے فائدہ کے لئے رکھی گئی تھی آپ کے قبضہ میں ہوتی۔ اس پر فتنہ انگیز جماعت کے بعض آدمی جو اِس انتظار میں تھے کہ کوئی موقع نکلے توہم اپنے خیالات کا اظہار کریں غصہ کا اظہار کرنے لگے اورظاہر کرنے لگے کہ یہ بات اس شخص نے سعید والی کوفہ کے اشارہ سے کہی ہے اوراس لئے کہی ہے تاکہ ان اموال کو ہضم کرنے کیلئے راستہ تیار کیا جاوے اوراُٹھ کر اُس شخص کو سعید کے سامنے ہی مارنا شروع کردیا۔ اُس کا باپ مدد کے لئے اُٹھا تو اُسے بھی خوب پیٹا سعید اُن کو روکتے رہے مگر انہوں نے ان کی بھی نہ سنی اورمارمارکردونوں کوبے ہوش کردیا۔ یہ خبر جب لوگوں کو معلوم ہوئی کہ سعید کے سامنے بعض لوگوں نے ایسی شرارت کی ہے تولوگ ہتھیار بند ہو کر مکان پر جمع ہوگئے مگر ان لوگوں نے سعید کی منت وسماجت کی اوران سے معافی مانگی اورپناہ کے طلب گارہوئے۔ ایک عرب کی فیاضی اورپھر وہ بھی قریش کی ایسے موقع پر کب برداشت کر سکتی تھی کہ دشمن پناہ مانگے اور وہ اس سے انکار کردے۔ سعید نے باہر نکل کر لوگوں سے کہہ دیا کہ کچھ لوگ آپس میں لڑپڑے تھے معاملہ کچھ نہیں اب سب خیر ہے۔ لوگ تو اپنے گھروں میں لوٹ گئے اوران لوگوں نے پھر وہی بے تکلفی شروع کی۔ مگر جب سعید کو یقین ہوگیا کہ اب ان لوگوں کے لئے کوئی خطرہ کی بات نہیں ان کو رخصت کردیا اورجن لوگوں کوپیٹاگیاتھا ان سے کہہ دیا کہ چونکہ میں ان لوگوں کو پناہ دے چکاہوں ان کے قصور کا اعلان نہ کرواِس میں میری سبکی ہوگی۔ ہاں یہ تسلی رکھو کہ آئندہ یہ لوگ میری مجلس میں نہ آسکیں گے۔
    ان مفسدوں کی اصل غرض توپوری ہوچکی تھی یعنی نظمِ اسلامی میں فساد پیداکرنا۔ اب انہوں نے گھروں میں بیٹھ کر عَلَی الْاِعْلَان حضرت عثمانؓ اورسعید کی بُرائیاں بیان کرنی شروع کر دیں۔ لوگوں کو ان کایہ رویہ بہت بُرا معلوم ہوا اورانہوں نے سعید سے شکایت کی کہ یہ اس طرح شرارت کرتے ہیں اورحضرت عثمانؓ کی اورآپ کی بُرائیاں بیان کرتے ہیں اور اُمت اسلامیہ کے اتحاد کو توڑنا چاہتے ہیں۔ ہم یہ بات برداشت نہیں کرسکتے آپ اس کا انتظام کریں۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگ خودتمام واقعات سے حضرت عثمانؓ کو اطلاع دیں۔ آپ کے حکم کے ماتحت انتظام کیا جاوے گا۔ تمام شرفاء نے حضرت عثمانؓ کو واقعات سے اطلاع دی اورآپ نے سعید کو حکم دیا کہ اگر رؤسائے کوفہ اس امر پر متفق ہوں تو ان لوگوں کوشام کی طرف جلاوطن کردو اورامیرمعاویہؓ کے پاس بھیج دو۔ اِدھر امیرمعاویہؓ کولکھا کہ کچھ لوگ جوکھلے طورپرفساد پر آمادہ ہیں وہ آپ کے پاس کوفہ سے آویں گے ان کے گزارہ کا انتظام کردیں اوران کی اصلاح کی تجویز کریں۔اگردرست ہوجاویں اوراصلاح کرلیں توان کے ساتھ نرمی کرو اوران کے پچھلے قصوروں سے درگزر کرو اوراگر شرارت پر مُصِرہیں تو پھر ان کو شرارت کی سزا دو۔
    حضرت عثمانؓ کایہ حُکم نہایت دانائی پر مبنی تھا کیونکہ ان لوگوں کا کوفہ میں رہنا ایک طرف تو ان لوگوں کے جوشوں کوبھڑکانے والاتھا جوان کی شرارتوں پرپوری طرح آگاہ تھے اور خطرہ تھا کہ وہ جوش میں آکر ان کو تکلیف نہ پہنچا بیٹھیں اوردوسری طرف اس لحاظ سے بھی مُضِر تھا کہ وہ لوگ وہاں کے باشندے اورایک حد تک صاحبِ رسوخ تھے اگروہاں رہتے تو اوربہت سے لوگوں کو خراب کرنے کا موجب ہوتے ٭ مگریہ حکم اُس وقت جاری ہوا جب
    ٭ جہاں جلا وطن کر کے یہ لوگ بھیجے گئے تھے وہاں کے لوگوں کو خراب کرنے کا ان کو موقع نہ تھاکیونکہ وہاں خاص نگرانی اور نظر بندی کی حالت میں ان کو رکھا جاتا تھا۔
    اس کا چنداں فائدہ نہ ہوسکتاتھا۔ اگر ابن عامر والی بصرہ ابن السوداء کے متعلق بھی حضرت عثمانؓ سے مشورہ طلب کرتا اوراس کے لئے بھی اِسی قسم کا حُکم جاری کیاجاتا توشاید آئندہ حالات ان حالات سے بالکل مختلف ہوتے ۔مگر مسلمانوں کی حالت اُس وقت اِس بات کی مقتضی تھی کہ ایسی ہی قضاء وقدر جاری ہو اوروہی ہوا۔
    یہ لوگ جو جلاوطن کئے گئے اورجن کو ابن سباکی مجلس کارُکن کہنا چاہئے تعدادمیں دس کے قریب تھے (گوان کی صحیح تعداد میں اختلاف ہے)حضرت معاویہؓ نے ان کی اصلاح کے لئے پہلے تو یہ تدبیر کی کہ ان سے بہت اعزاز واحترام سے پیش آئے۔ خود ان کے ساتھ کھاناکھاتے اوراکثر فر صت کے وقت ان کے پاس جاکربیٹھتے۔ چنددن کے بعد انہوں نے ان کو نصیحت کی اورکہا کہ میں نے سنا ہے کہ تم لوگوں کو قریش ٭سے نفرت ہے ایسا نہیں چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے عرب کو قریش کے ذریعہ سے ہی عزت دی ہے۔ تمہارے حکام تمہارے لئے ایک ڈھال کے طورپر ہیں۔ پس ڈھالوں سے جُدانہ ہو وہ تمہارے لئے تکالیف برداشت کرتے اورتمہاری فکر رکھتے ہیں۔ اگراس امرکی قدرنہ کروگے تو خدا تعالیٰ تم پر ایسے حکام مقرر کر دے گا جو تم پر خوب ظلم کریں گے اور تمہارے صبر کی قدر نہ کریں گے اورتم اس دنیا میں عذاب میں مبتلاء ہوگے اوراگلے جہاں میں بھی ان ظالم بادشاہوں کے ظلم کی سزامیں شریک ہوگے کیونکہ تم ہی ان کے قیام کے باعث بنوگے۔ حضرت معاویہؓ کی اِس نصیحت کوسن کر ان میں سے ایک نے جواب دیا کہ قریش کا ذکر چھوڑو، نہ وہ پہلے تعداد میں ہم سے زیادہ تھے نہ اب ہیں اورجس ڈھال کاتم نے ذکر کیا ہے وہ چھِنی توہم کو ہی ملے گی۔ حضرت معاویہؓ نے فرمایا کہ معلوم ہوا تم لوگ بے وقوف بھی ہو۔ میں تم کو اسلام کی باتیں سناتاہوں تم جاہلیت کا زمانہ یاد دلاتے ہو۔ سوال قریش کی قلت وکثرت کا نہیں بلکہ اُس
    ٭ حضرت معاویہؓ کے کلام اور ان لوگوں کے جواب سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عثمان ؓ یا ان کے مقرر کردہ حکام سے ان لوگوںکومخالفت نہ تھی بلکہ قریش سے ہی یادوسرے لفظوں میں ایمان میں سابق لوگوں سے ہی ان کو حسد تھا۔ اگر حضرت عثمانؓ کی جگہ کوئی اور صحابیؓ خلیفہ ہوتا اور انکے مقرر کردہ والیوں کی جگہ کوئی اور والی ہوتے تو ان سے بھی یہ لوگ اسی طرح حسد کرتے کیونکہ ان کا مدعا صرف حصولِ جاہ تھا۔
    ذمہ داری کا ہے جو اسلام نے ان پرڈالی ہے۔ قریش بے شک تھوڑے ہیںمگر جب خداتعالیٰ نے دین کے ساتھ ان کو عزت دی ہے اورہمیشہ سے مکہ مکرمہ کے تعلق کے باعث ان کی حفاظت کرتاچلاآیا ہے توخداکے فضل کا کون مقابلہ کرسکتاہے۔ جب وہ کافر تھے تواِس ادنیٰ تعلق کے باعث اُس نے ان کی حفاظت کی۔ اب وہ مسلمان ہوکر اس کے دین کے قائم کرنے والے ہوگئے ہیں توکیا خداتعالیٰ ان کو ضائع کردیگا؟ یادرکھو تم لوگ اسلام کے غلبہ کو دیکھ کر ایک رَومیں مسلمان ہوگئے تھے اب شیطان تم کو اپنا ہتھیار بناکر اسلام کو تباہ کرنے کیلئے تم سے کام لے رہاہے اوردین میں رخنہ ڈالنا چاہتاہے مگر تم لوگ جو فتنہ کھڑاکروگے اس سے بڑے فتنہ میں اللہ تعالیٰ تم کو ڈالے گا۔ میرے نزدیک تم ہرگز قابلِ التفات لوگ نہیں ہوجن لوگوں نے خلیفہ کو تمہاری نسبت لکھا انہوں نے غلطی کی۔ نہ تم سے کسی نفع کی امید کی جاسکتی ہے نہ نقصان کی۔ ان لوگوںنے حضرت معاویہؓ کی تما م نصائح سن کر کہا کہ ہم تم کو حکم دیتے ہیں کہ تم اپنے عُہدہ سے علیحدہ ہوجائو۔ حضرت معاویہ ؓنے جواب دیا کہ اگر خلیفہ اور اَئمۃ المسلمین کہیں تومیں آج الگ ہوجاتاہوں تم لوگ اِن معاملات میں دخل دینے والے کون ہو۔ میں تم لوگوں کو نصیحت کرتاہوں کہ اس طریق کو چھوڑ دواورنیکی اختیار کرو اللہ تعالیٰ اپنے کام آپ کرتاہے۔ اگر تمہاری رائے پر کام چلتے تواسلام کاکام تباہ ہوجاتا۔ تم لوگ دراصل دین اسلام سے بیزارہو۔ تمہارے دلوں میں اور ہے اورزبانوں پر اور۔ مگراللہ تعالیٰ تمہارے ارادوں اورمخفی منصوبوں کو ایک دن ظاہر کرکے چھوڑے گا۔ غرض دیر تک حضرت معاویہؓ ان کو سمجھاتے رہے اوریہ لوگ اپنی بیہودگی میں بڑھتے گئے۔ حتیّٰ کہ آخر لاجواب ہوکر حضرت معاویہؓ پر حملہ کردیا اوراُن کو مارناچاہا۔ حضرت معاویہؓ نے اُن کو ڈانٹا اورکہا کہ یہ کوفہ نہیں شام ہے۔ اگر شام کے لوگوں کومعلوم ہواتوجس طرح سعید کے کہنے سے کوفہ کے لوگ چپ کررہے تھے یہ خاموش نہ رہیں گے بلکہ عوام الناس جوش میں میرے قول کی بھی پرواہ نہیں کریں گے اورتمہاری تِکہ بوٹی کردیں گے۔ یہ کہہ کر حضرت معاویہؓ مجلس سے اُٹھ گئے اور ان لوگوں کوشام سے واپس کوفہ بھیج دیا۔ اورحضرت عثمانؓ کولکھ دیا کہ یہ لوگ بوجہ اپنی حماقت اورجہالت کے قابل التفات ہی نہیں ہیں ان کی طرف توجہ ہی نہیں کرنی چاہیے اورسعید والی کوفہ کو بھی لکھ دیا جاوے کہ ان کی طرف توجہ نہ کرے۔ یہ بے دین لوگ ہیں، اسلام سے متنفر ہیں اہل ذمہ کا مال لُوٹنا چاہتے ہیںاورفتنہ ان کی عادت ہے ان لوگوں میں اتنی طاقت نہیں کہ بِلا کسی دوسرے کی مدد کے خود کوئی نقصان پہنچاسکیں۔
    حضرت معاویہؓ کی یہ رائے بالکل درست تھی مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کے علاقہ سے باہر مصر میں چھپی ہوئی ایک روح ہے جو اِن سب لوگوں سے کام لے رہی ہے اور ان کا جاہل ہونا اوراُجڈ ہونا ہی اس کے کام کے لئے مُمِدّ ہے۔
    وہ لوگ جب دمشق سے نکلے تو انہوں نے کوفہ کا ارادہ ترک کردیا کیونکہ وہاں کے لوگ ان کی شرارتوں سے واقف تھے اور ان کو خوف تھا کہ وہاں ان کو نقصان پہنچے گا اورجزیرہ کی طرف چلے گئے۔ وہاں کے گورنر عبدالرحمن تھے جو اس مشہور سپہ سالار کے خلف الرشید تھے جو جرأت اوردلیری میں تمام دنیا کے لئے ایک روشن مثال قائم کرگیاہے یعنی خالد بن ولید ۔ جس وقت اُن کو اِن لوگوں کی آمد کا حال معلوم ہوا توانہوں نے فوراً ان کو بُلوایا اورکہا میں نے تمہارے حالات سُنے ہیں۔ خدا مجھے نامراد کرے اگر میں تم کو درست نہ کردوں۔ تم جانتے ہو کہ میں اُس شخص کا بیٹا ہوں جس نے فتنۂ ارتدادکودورکردیاتھااوربڑی بڑی مشکلات سے کامیاب نکلاتھا۔ میں دیکھوں گا کہ تم جس طرح معاویہؓ اورسعیدؓ سے باتیں کیا کرتے تھے مجھ سے بھی کرسکتے ہو۔ سنو! اگر کسی شخص کے سامنے تم نے یہاں کوئی فتنہ کی بات کی توپھر ایسی سزا دوں گاکہ تم یاد ہی رکھوگے یہ کہہ کران کو نظر بند کردیا اورہمیشہ اپنے ساتھ رہنے کا حکم دیا۔ جب سفر پر جاتے تو ان کواپنے ساتھ پاپیادہ لے جاتے اوران سے دریافت کرتے کہ اب تمہارا کیا حال ہے ؟جس کونیکی درست نہیں کرتی اُس کاعلاج سزا ہوتی ہے۔ تم لوگ اب کیوں نہیں بولتے؟وہ لوگ ندامت کا اظہار کرتے اوراپنی شرارت پر توبہ کرتے ۔اسی طرح کچھ مدت گزرنے پر عبدالرحمن بن خالد بن ولید نے خیال کیا کہ ان لوگوں کی اصلاح ہوگئی ہے اوران میں سے ایک شخص مالک نامی کو حضرت عثمانؓ کی خدمت میں بھیجا کہ وہاں جاکر معافی مانگو۔ وہ حضرت عثمانؓ کے پاس آیا اورتوبہ کی اوراظہارِندامت کیا اپنے اوراپنے ساتھیوں کے لئے معافی مانگی۔ انہوں نے ان کو معاف کردیااوران سے دریافت کیاکہ وہ کہاں رہنا چاہتے ہیں؟ مالک نے کہا کہ اب ہم عبدالرحمن بن خالد کے پاس رہنا چاہتے ہیں۔ حضر ت عثمانؓ نے اجازت دی اوروہ شخص واپس عبدالرحمن بن خالد کے پاس چلاگیا۔
    اس شخص کے عبدالرحمن بن خالد کے پاس ہی رہنے کی خواہش سے معلوم ہوتاہے کہ اس وقت اس کا دل ضرورصاف ہوچکا تھا۔ کیونکہ اگرایسا نہ ہوتا تو وہ ایسے آدمی کے پاس جو شرارت کو ایک منٹ کے لئے روا نہ رکھتاتھا واپس جانے کی خواہش نہ کرتا۔ مگر بعد کے واقعات سے معلوم ہوتاہے کہ اُس کی توبہ بالکل عارضی تھی اورحضرت معاویہؓ کا یہ خیال درست تھا کہ یہ بے وقوف لوگ ہیں اورصرف ہتھیار بن کر کام کرسکتے ہیں۔
    عبداللہ بن سبا اس عرصہ میں خاموش نہ بیٹھا ہوا تھا بلکہ اس نے کچھ مدت سے یہ رویہ اختیار کیا تھاکہ اپنے ایجنٹوںکو تمام علاقوں میں بھیجتا اوراپنے خیالات پھیلاتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شخص غیر معمولی عقل ودانش کا آدمی تھا۔ وہ احکام جواس نے اپنے ایجنٹوں کو دئیے اس کے دماغ کی بناوٹ پر خوب روشنی ڈالتے ہیں۔ جب یہ اپنے نائب روانہ کرتا تو ان کو ہدایت دیتا کہ اپنے خیالات فوراًلوگوں کے سامنے نہ پیش کر دیا کرو بلکہ پہلے وعظ ونصیحت سے کام لیا کرو اورشریعت کے احکام لوگوں کو سنایا کرو اوراچھی باتوں کا حکم دیا کرواوربُری باتوں سے روکاکرو۔ جب لوگ تمہارایہ طریق دیکھیں گے توان کے دل تمہاری طرف مائل ہوجائیں گے اورتمہاری باتوں کو شوق سے سناکریں گے اورتم پر اعتبار پیدا ہوجائیگا۔ تب عمدگی سے ا ن کے سامنے اپنے خاص خیالات پیش کرو وہ بہت جلد قبول کرلیں گے۔ اوریہ بھی احتیاط رکھو کہ پہلے حضرت عثمانؓ کے خلاف باتیں نہ کرنا بلکہ ان کے نائبوں کے خلاف لوگوں کے جوش کوبھڑکانا۔ اس سے اس کی غرض یہ تھی کہ حضرت عثمانؓ سے خاص مذہبی تعلق ہونے کی وجہ سے لوگ ان کے خلاف باتیں سن کر بھڑک اُٹھیں گے لیکن امراء کے خلاف باتیں سننے سے ان کے مذہبی احساسات کو تحریک نہ ہوگی اس لئے ان کوقبول کرلیںگے۔ جب اس طرح ان کے دل سیاہ ہوجائیں گے اورایک خاص پارٹی میں شمولیت کرلینے سے جو ضد پیدا ہوجاتی ہے وہ پیدا ہوجاوے گی توپھر حضر ت عثمانؓ کے خلاف ان کو بھڑکانا بھی آسان ہوگا۔
    اس شخص نے جب یہ دیکھا کہ والیانِ صوبہ جات کی بُرائیاں جب کبھی بیان کی جاتی ہیں تو سمجھ دار لوگ ان کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں کیونکہ وہ لوگ اپنے مشاہدہ کی بنا ء پر ان شکایات کو جھوٹا اوربے حقیقت جانتے ہیں اورملک میں عام جوش نہیں پھیلتا تواس نے ایک اورخطرناک تدبیر اختیار کی اوروہ یہ کہ اپنے نائبوں کو حکم دیا کہ بجائے اس کے کہ ہرجگہ کے گورنروں کو اُنہی کے علاقوں میں بدنام کرنے کی کوشش کریں اُن کی بُرائیاں لکھ کردوسرے علاقوں میں بھیجیں۔ کیونکہ دوسرے علاقوں کے لوگ اس جگہ کے حالات سے ناواقفیت کی وجہ سے ان کی باتوں کو آسانی سے قبول کرلیںگے۔ چنانچہ اس مشورہ کے ماتحت ہرجگہ کے مُفسد اپنے علاقوں کے حکام کی جھوٹی شکایات اوربناوٹی مظالم لکھ کر دوسرے علاقوں کے ہمدردوں کو بھیجتے اوروہ ان خطوں کو پڑھ کر لوگوں کو سناتے اور بوجہ غیر ممالک کے حالات سے ناواقفیت کے بہت سے لوگ ان باتوں کو سچ یقین کرلیتے اورافسوس کرتے کہ فلاںفلاں ملک کے ہمارے بھائی سخت مصیبتوں میں مبتلاء ہیں اورساتھ شکر بھی کرتے کہ خدا کے فضل سے ہمارا والی اچھا ہے ہمیں کوئی تکلیف نہیں ۔ اوریہ نہ جانتے کہ دوسرے ممالک کے لوگ اپنے آپ کو آرام میں اوران کو دکھ میں سمجھتے اوراپنی حالت پر شکر اور ان کی حالت پر افسوس کرتے ہیں۔ مدینہ کے لوگوں کوچونکہ چاروںاطراف سے خطوط آتے تھے ان میںسے جو لوگ ان خطوط کو صحیح تسلیم کرلیتے وہ یہ خیال کرلیتے کہ شاید سب ممالک میں ظلم ہی ہورہاہے اورمسلمانوں پر سخت مصائب ٹو ٹ رہے ہیں۔ غرض عبداللہ بن سبا کا یہ فریب بہت کچھ کارگرثابت ہوا اوراسے اس ذریعہ سے ہزاروں ایسے ہمدرد مل گئے جوبغیر اس تدبیر کے ملنے مشکل تھے۔
    جب یہ شورش حدسے بڑھنے لگی اورصحابہ کرام کو بھی ایسے خطوط ملنے لگے جن میں گورنروں کی شکایات درج ہوتی تھیں توانہوں نے مل کر حضرت عثمانؓ سے عرض کیا کہ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ باہر کیا ہورہاہے؟ انہوں نے فرمایا کہ جورپورٹیں مجھے آتی ہیں وہ توخیروعافیت ہی ظاہرکرتی ہیں۔ صحابہؓ نے جواب دیا کہ ہمارے پاس اِس اِس مضمون کے خطوط باہر سے آتے ہیںاس کی تحقیق ہونی چاہیے۔ حضرت عثمانؓ نے اس پر ان سے مشورہ طلب کیاکہ تحقیق کس طرح کی جاوے اوران کے مشورہ کے عین مطابق اسامہ بن زید کو بصرہ کی طرف محمد بن مُسلم کو کوفہ کی طرف عبداللہ بن عمر کو شام کی طرف عمار بن یاسر کو مصر کی طرف بھیجا کہ وہاں کے حالات کی تحقیق کرکے رپورٹ کریں کہ آیا واقع میں امراء رعیت پر ظلم کرتے ہیں اور تعدّی سے کام لیتے ہیں اورلوگوں کے حقوق مارلیتے ہیں؟ اوران چاروں کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی متفرق بِلاد کی طرف بھیجے تاکہ وہاں کے حالات سے اطلاع دیں۲۱؎۔
    یہ لوگ گئے اورتحقیق کے بعد واپس آکر ان سب نے رپورٹ کی کہ سب جگہ امن ہے اورمسلمان بالکل آزادی سے زندگی بسر کررہے ہیں اوران کے حقوق کوکوئی تلف نہیں کرتا اور حکام عدل وانصاف سے کام لے رہے ہیں۔ مگر عمار بن یاسرنے دیر کی اوران کی کوئی خبرنہ آئی ۔ عماربن یاسر نے کیوں دیرکی اِس کا ذکر توپھر کروں گا پہلے میں اس تحقیقی وفد اوراس کی تحقیق کی اہمیت کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتاہوں۔ کیونکہ اس وفد کے حالات کو اچھی طرح سمجھ لینے سے اس فتنہ کی اصل حقیقت اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے۔
    سب سے پہلی بات جو قابل غور ہے یہ ہے کہ اس وفدکے تینوں سرکردہ جو لوٹ کر آئے اورجنہوں نے آکر رپورٹ دی وہ کس پایہ کے آدمی تھے۔ کیونکہ تحقیق کرنے والے آدمیوں کی حیثیت سے اس تحقیق کی حیثیت معلوم ہوتی ہے۔ اگر اس وفدمیں ایسے لوگ بھیجے جاتے جو حضرت عثمانؓ یا آپ کے نُوّاب سے کوئی غرض رکھتے یا جن کی دینی ودنیاوی حیثیت اس قدراعلیٰ اورارفع نہ ہوتی کہ وہ حکام سے خوف کھاویں یاکوئی طمع رکھیں توکہاجاسکتاتھا کہ یہ لوگ کسی لالچ یا خوف کے باعث حقیقت کے بیان کرنے سے اعراض کرگئے۔ مگر ان لوگوں پراس قسم کا اعتراض ہرگز نہیں پڑ سکتا اوران لوگوں کواس کام کے لئے منتخب کر کے حضرت عثمانؓ نے اپنی نیک نیتی کا ایک بیّن ثبوت دے دیا ہے۔ اسامہ جن کو بصرہ کی طرف بھیجا گیا تھا وہ شخص ہے کہ جو نہ صرف یہ کہ اوّل المؤمنین حضرت زیدؓ کے لڑکے ہیں بلکہ رسول کریم ﷺ کے بڑے مقربین اورپیاروں میں سے ہیں اورآپ ہی وہ شخص ہیں جن کو رسول کریم ﷺ نے اس لشکرِ عظیم کی سپہ سالاری عطا کی جسے آپؐ اپنی مرضِ موت میں تیار کرا رہے تھے اوراس میں حضرت عمرؓ جیسے بڑے بڑے صحابیوں کوآپ کے ماتحت کیا اور آنحضرت ﷺ کا یہ انتخاب صرف دلداری کے طورپر ہی نہ تھا بلکہ بعد کے واقعات نے ثابت کردیا کہ وہ بڑے بڑے کاموں کے اہل تھے۔ رسول کریم ﷺ اِن سے اِس قدرمحبت کرتے کہ دیکھنے والے فرق نہ کرسکتے تھے کہ آپ ان کو زیادہ چاہتے ہیں یاحضرت امام حسن کو۔
    محمد بن مسلم بھی جن کو کوفہ بھیجا گیا جلیل القدر صحابہؓ میں سے تھے اورصحابہؓ میں خاص عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اورنہایت صاحبِ رسوخ تھے۔
    حضرت عبداللہ بن عمرؓ جن کو شام کی طرف روانہ کیا گیا ایسے لوگوں میں سے ہیں جن کے تعارف کی ضرورت ہی نہیں ۔ آپ سابق باِلعہد مسلمانو ں میں سے تھے اور زُہدوتقوی اللہ میں آپ کی وہ شان تھی کہ اکابر صحابہؓ بھی آپ کی ان خصوصیات کی وجہ سے آپ کا خاص ادب کرتے تھے۔ حضرت علیؓ کے بعد اگر کسی صحابی پر صحابہؓ اوردوسرے بزرگوں کی نظر خلافت کے لئے پڑی توآپ پر پڑی۔ مگر آپ نے دنیا سے علیحدگی کواپنا شعار بنا رکھاتھا۔ شعائردینیہ کے لئے آپ کواِس قدر غیرت تھی کہ بعض دفعہ آپ نے خود عمر بن الخطاب سے بڑی سختی سے بحث کی۔ غرض حق گوئی میں آ پ ایک کھنچی ہوئی تلوار تھے۔ آپ کا انتخاب شام کے لئے نہایت ہی اعلیٰ انتخاب تھا۔ کیونکہ بوجہ اس کے کہ حضرت معاویہ دیر سے شام کے حاکم تھے اور وہاں کے لوگوں پر ان کا بہت رُعب تھا اوربوجہ ان کی ذکاوت کے ان کے انتظام کی تحقیق کرنا کسی معمولی آدمی کاکام نہ تھا۔ اس جگہ کسی دوسرے آدمی کا بھیجاجانا فضول تھا اورلوگوں کو اس کی تحقیق پر تسلی بھی نہ ہوتی مگر آپ کی سبقتِ ایمانی اورغیرتِ اسلامی اورحریت اورتقویٰ وزُہد ایسے کمالات تھے کہ ان کے سامنے معاویہؓ دم نہ مارسکتے تھے اورنہ ایسے شخص کی موجودگی میں حضرت معاویہؓ کا رُعب کسی شخص پر پڑسکتاتھا۔
    غرض جو لوگ تحقیق کے لئے بھیجے گئے تھے وہ نہایت عظیم الشان اوربے تعلق لوگ تھے اوران کی تحقیق پر کسی شخص کو اعتراض کی گنجائش حاصل نہیں پس ان تینوں صحابہؓ کا مع اُن دیگر آدمیوں کے جودوسرے بِلاد میں بھیجے گئے تھے متفقہ طورپر فیصلہ دینا کہ ملک میں بالکل امن وامان ہے، ظلم وتعدّی کا نام ونشان نہیں؟ حکام عدل وانصاف سے کام لے رہے ہیں اوراگر ان پر کوئی الزام ہے تویہ کہ لوگوں کوحدود کے اندر رہنے پر مجبور کرتے ہیں ایک ایسا فیصلہ ہے جس کے بعد کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں رہتی اورصاف معلوم ہوتاہے کہ یہ سب فساد چند شریر النفس آدمیوں کی شرارت وعبداللہ بن سبا کی انگیخت کا نتیجہ تھا ورنہ حضرت عثمانؓ اوران کے نُوّاب ہرقسم کے اعتراضات سے پاک تھے۔
    حق یہی ہے کہ یہ سب شورش ایک خفیہ منصوبہ کا نتیجہ تھی جس کے اصل بانی یہودی تھے۔ جن کے ساتھ طمع دنیاوی میں مبتلاء بعض مسلمان جو دین سے نکل چکے تھے شامل ہوگئے تھے ورنہ امرائے بِلاد کا نہ کوئی قصور تھا نہ وہ اِس فتنہ کے باعث تھے۔ ان کا صرف اِسی قدر قصور تھا کہ ان کو حضرت عثمانؓ نے اس کام کے لئے مقرر کیا تھا اورحضرت عثمانؓ کا یہ قصورتھا کہ باوجود پیرانہ سالی اورنقاہت بدنی کے اتحادِ اسلام کی رسّی کو اپنے ہاتھوں میں پکڑے بیٹھے تھے اوراُمتِ اسلامیہ کا بوجھ اپنی گردن پر اُٹھائے ہوئے تھے اورشریعت اسلام کے قیام کی فکر رکھتے تھے اورمتمرِدین اورظالموں کواپنی حسب خواہش کمزورو ں اوربے وارثوں پرظلم وتعدی کرنے نہ دیتے تھے۔ چنانچہ اس امر کی تصدیق اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے کہ کوفہ میں اِنہی فساد چاہنے والوں کی ایک مجلس بیٹھی اوراس میں ’’افسادامرالمسلمین‘‘ پر گفتگو ہوئی توسب لوگوں نے بالاتفاق یہی رائے دی لَا وَاللّٰہِ لَایَرْفَعُ رَأْسٌ مَادَامَ عُثْمَانُ عَلَی النَّاسِ۲۲؎ یعنی کوئی شخص اُس وقت تک سرنہیں اُٹھا سکتا جب تک کہ عثمانؓ کی حکومت ہے۔ عثمانؓ ہی کا ایک وجود تھا جو سرکشی سے باز رکھے ہوئے تھا۔ اس کادرمیان سے ہٹانا آزادی سے اپنی مرادیں پوری کرنے کے لئے ضروری تھا۔
    میں نے بتایا تھا کہ عمار بن یاسر جن کو مصر کی طرف روانہ کیا گیا تھا وہ واپس نہیں آئے۔ ان کی طرف سے خبر آنے میں اس قدر دیرہوئی کہ اہل مدینہ نے خیال کیا کہ کہیں مارے گئے ہیں مگر اصل بات یہ تھی کہ وہ اپنی سادگی اورسیاست سے ناواقفیت کی وجہ سے ان مفسدوں کے پنجہ میں پھنس گئے تھے جو عبداللہ بن سبا کے شاگردتھے۔ مصرمیں چونکہ خود عبداللہ بن سبا موجود تھا اوروہ اس بات سے غافل نہ تھا کہ اگر اس تحقیقاتی وفد نے تمام ملک میں امن وامان کا فیصلہ دیا تو تما م لوگ ہمارے مخالف ہوجائیں گے اس وفد کے بھیجے جانے کا فیصلہ ایسا اچانک ہواتھا کہ دوسرے علاقوں میں وہ کوئی انتظام نہیں کرسکا تھا۔ مگر مصرکا انتظام اس کے لئے آسان تھا جونہی عمار بن یاسر مصرمیں داخل ہوئے اس نے ان کا استقبال کیا اوروالی مصر کی بُرائیاں اورمظالم بیان کرنے شروع کئے۔ وہ اس کے لسانی سحر کے اثر سے محفوظ نہ رہ سکے اوربجائے اس کے کہ ایک عام بے لوث تحقیق کرتے والی مصر کے پاس گئے ہی نہیں اورنہ عام تحقیق کی بلکہ اِسی مُفسد گروہ کے ساتھ چلے گئے اوراِنہی کے ساتھ مل کر اعتراض کرنے شروع کردئیے۔
    صحابہؓ میں سے اگر کوئی شخص اس مُفسد گروہ کے پھندے میں پھنساہوا یقینی طورپر ثابت ہوتاہے تووہ صرف عماربن یاسر ہیں۔ اِن کے سوا کوئی معروف صحابیؓ اس حرکت میں شامل نہیں ہوا۔ اوراگرکسی کی شمولیت بیان کی گئی ہے تودوسری روایات سے اس کا ردّ بھی ہو گیا ہے۔ عمار بن یاسرکا ان لوگوں کے دھوکے میں آجانا ایک خاص وجہ سے تھا اوروہ یہ کہ جب وہ مصر پہنچے تووہاں پہنچتے ہی بظاہر ثقہ نظر آنے والے اورنہایت طرار و لسّان لوگوں کی ایک جماعت ان کو ملی جس نے نہایت عمدگی سے ان کے پاس والی مصر کی شکایات بیان کرنی شروع کیں۔ اتفاقاً والی مصر ایک ایسا شخص تھا جو کبھی رسول کریم ﷺ کا سخت مخالف رہ چکا تھا اور اس کی نسبت آپؐ نے فتح مکہ کے وقت حکم دیا تھاکہ خواہ خانہ کعبہ ہی میں کیوں نہ ملے اسے قتل کردیا جائے اور گو بعد میں آپ نے اسے معاف کردیا مگراس کی پہلی مخالفت کا بعض صحابہ کے دل پر جن میں عمار بھی شامل تھے اثرباقی تھا پس ایسے شخص کے خلاف باتیں سن کر عمار بہت جلد متأثر ہوگئے اوران الزامات کوجو اس پر لگائے جاتے تھے صحیح تسلیم کر لیا اور احساسِ طبعی سے فائدہ اُٹھا کر سبائی یعنی عبداللہ بن سبا کے ساتھی اس کے خلاف اس بات پر خاص زور دیتے تھے۔ پس حضرت عثمانؓ کی نیک نیتی اوراخلاص کااس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ باوجود اس کے کہ سوائے ایک شخص کے سب وفدوں نے حکام کی بریت کا فیصلہ دیا تھا۔ حضرت عثمانؓ نے اس ایک مخالف رائے کی قدر کرکے ایک خط تما م علاقوں کے لوگوں کی طرف بھیجا جس کا مضمون یہ تھا کہ میں جب سے خلیفہ ہوا ہوں اَمْربِالْمَعْرُوْف اور نَہی عَنِ الْمُنْکَرِ پر میرا عمل ہے اورمیرے رشتہ داروں کا عام مسلمانوں سے زیادہ کوئی حق نہیں۔ مگر مجھے مدینے کے رہنے والے بعض لوگوں سے معلوم ہوا ہے کہ حکام لوگوں کو مارتے اورگالیاں دیتے ہیں اِس لئے میں اِس خط کے ذریعے سے عام اعلان کرتا ہوں کہ جس کسی کو خفیہ طورپر گالی دی گئی ہویا پیٹا گیا ہو وہ حج کے موقع پر مکہ مکرمہ میں مجھ سے ملے اورجو کچھ اُس پر ظلم ہوا ہو خواہ میرے ہاتھوں سے خواہ میرے عاملوں کے ذریعے سے اُس کا بدلہ وہ مجھ سے اور میرے نائبوں سے لے لے یا معاف کردے۔ اللہ تعالیٰ صدقہ دینے والوں کواپنے پاس سے جزا دیتاہے۔ یہ مختصر لیکن دردناک خط جس وقت تمام ممالک میں منبروں پر پڑھا گیا توعالمِ اسلام ایک سرے سے دوسرے سرے تک ہل گیا اورسامعین بے اختیار رو پڑے اور سب نے حضرت عثمانؓ کے لئے دعائیں کیں اوران فتنہ پردازوں پرجو اس ملتِ اسلام کے دردرکھنے والے اوراس کا بوجھ اُٹھانے والے انسان پر حملہ کررہے تھے اور اُس کو دکھ دے رہے تھے اظہارِ افسوس کیا گیا۲۳؎ ۔
    حضرت عثمانؓ نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ اپنے عُمّال کو ان الزامات کے جواب دینے کے لئے جو ان پر لگائے جاتے تھے خاص طورپر طلب کیا۔ جب سب والی جمع ہوگئے توآپ نے ان سے کہا کہ یہ کیابات ہے کہ آپ لوگوں کے خلاف الزام لگائے جاتے ہیں مجھے خوف آتا ہے کہ کہیں یہ باتیں درست ہی نہ ہوں ۔ اس پر ان سب نے جواب میں عرض کیا کہ آپ نے معتبر آدمیوں کو بھیج کردریافت کرالیاہے کہ کوئی ظلم نہیں ہوتا نہ خلافِ شریعت کوئی کام ہوتا ہے اور آپ کے بھیجے ہوئے معتبروں نے سب لوگوں سے حالات دریافت کئے۔ ایک شخص بھی ان کے سامنے آکر ان شکایات کی صحت کا جو بیان کی جاتی ہیں مدعی نہیں ہوا پھر شک کی کیا گنجائش ہے۔ خداکی قسم ہے کہ ان لوگوں نے سچ سے کام نہیں لیااورنہ تقویٰ اللہ سے کام لیا ہے اوران کے الزامات کی کوئی حقیقت نہیں ایسی بے بنیاد باتوں پر گرفت جائز نہیں ہوسکتی نہ ان پر اعتبار کیا جاسکتاہے۔
    حضرت عثمانؓ نے فرمایا کہ پھر مجھے مشورہ دو کہ کیاکیا جاوے؟ اس پر مختلف مشورے آپ کو دیئے گئے جن سب کا ماحصل یہی تھاکہ آپ سختی کے موقع پر سختی سے کام لیں اوران فسادیوں کو اِس قدر ڈھیل نہ دیں اس سے ان میں دلیری پیدا ہوتی ہے۔ شریر صرف سزا سے ہی درست ہو سکتاہے نرمی اسی سے کرنی چاہئے جو نرمی سے فائدہ اُٹھائے۔ حضرت عثمانؓ نے سب کا مشورہ سن کر فرمایا ۔ جن فتنوں کی خبر رسول کریم ﷺ دے چکے ہیں وہ توہوکر رہیں گے ہاں نرمی سے اورمحبت سے ان کو ایک وقت تک روکا جاسکتاہے۔ پس میں سوائے حدود اللہ کے ان لوگوں سے نرمی ہی سے معاملہ کروں گا تاکہ کسی شخص کی میرے خلاف حجت حقہ نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ جانتاہے کہ میں نے لوگوں سے بھلائی میں کوئی کمی نہیں کی۔ مبارک ہو عثمانؓ کے لئے اگروہ فوت ہوجاوے اورفتنوں کا سیلاب جو اسلام پر آنے والا ہے وہ ابھی شروع نہ ہوا ہو۔ پس جائو اورلوگوں سے نرمی سے معاملہ کرو اوران کے حقوق ان کو دواوران کی غلطیوں سے درگزر کرو۔ ہاں اگراللہ تعالیٰ کے احکام کوکوئی توڑے توایسے شخصوں سے نرمی اورعفو کا معاملہ نہ کرو۔
    حج سے واپسی پر حضرت معاویہؓ بھی حضرت عثمانؓ کے ساتھ مدینہ آئے کچھ دن ٹھہر کر آپ واپس جانے لگے توآپ نے حضرت عثمانؓ سے علیحدہ مل کر درخواست کی کہ فتنہ بڑھتا معلوم ہوتاہے اگر اجازت ہوتو میں اس کے متعلق کچھ عرض کروں۔آپ نے فرمایا کہو۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اوّل میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ میرے ساتھ شام چلے چلیں کیونکہ شام میں ہر طر ح سے امن ہے اورکسی قسم کا فساد نہیں ایسا نہ ہو کہ یکدم کسی قسم کا فساد اٹھے اوراُس وقت کوئی انتظام نہ ہوسکے۔ حضرت عثمانؓ نے اُن کو جواب دیا کہ میں رسول کریم ﷺ کی ہمسائیگی کوکسی صورت میں نہیں چھوڑ سکتا خواہ جسم کی دھجیاں اُڑادی جائیں۔ حضرت معاویہؓ نے کہا کہ پھر دوسرا مشورہ یہ ہے کہ آپ مجھے اجازت دیں کہ میں ایک دستہ شامی فوج کا آپ کی حفاظت کے لئے بھیج دوں ان لوگوں کی موجودگی میں کوئی شخص شرارت نہیں کرسکے گا۔ حضرت عثمانؓ نے جواب دیا کہ نہ میں عثمان کی حفاظت کے لئے اِس قدر بوجھ بیت المال پرڈال سکتاہوں اورنہ یہ پسند کرسکتاہوں کہ مدینہ کے لوگوں کو فوج رکھ کرتنگی میں ڈالوں۔ اس پر حضرت معاویہؓ نے عرض کی کہ پھر تیسری تجویز یہ ہے کہ صحابہؓ کی موجودگی میں لوگوں کو جرأت ہے کہ اگر عثمانؓ نہ رہے تو ان میں سے کسی کو آگے کھڑا کردیں گے ان لوگوں کو مختلف مُلکوں میں پھیلادیں۔ حضرت عثمانؓ نے جواب دیا کہ یہ کیونکر ہوسکتاہے کہ جن لوگوں کو رسول کریم ﷺ نے جمع کیا ہے میں اُن کو پراگندہ کردوں۔ اِس پر معاویہ روپڑے اور عرض کی کہ اگر ان تدابیر میں سے جو آپ کی حفاظت کے لئے میں نے پیش کی ہیں آپ کوئی بھی قبول نہیں کرتے تو اتنا توکیجئے کہ لوگوں میں اعلان کردیجئے کہ اگر میری جان کوکوئی نقصان پہنچے تو معاویہ کو میرے قِصاص کا حق ہوگا شاید لوگ اس سے خوف کھاکر شرارت سے باز رہیں۔ حضرت عثمانؓ نے جواب دیا کہ معاویہ جو ہوناہے ہوکررہے گا میں ایسا نہیں کرسکتا کیونکہ آپ کی طبیعت سخت ہے ایسا نہ ہو آپ مسلمانوں پر سختی کریں۔ اس پر حضرت معاویہؓ روتے ہوئے آپ کے پاس سے اُٹھے اور کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ شاید یہ آخری ملاقات ہو اورباہر نکل کر صحابہؓ سے کہا کہ اسلام کا دارومدار آپ لوگوں پر ہے حضرت عثمانؓ اب بالکل ضعیف ہوگئے ہیں اورفتنہ بڑھ رہا ہے آپ لوگ ان کی نگہداشت رکھیں۔ یہ کہہ کر معاویہؓ شام کی طرف روانہ ہوگئے۔
    صوبہ جات کے عمال کا اپنے اپنے علاقوں سے غائب رہنا ایسا موقع نہ تھا جسے عبداللہ بن سبا یونہی جانے دیتا۔ اُس نے فوراً چاروں طرف ڈاک دَوڑا دی کہ یہ موقع ہے اس وقت ہمیں کچھ کرنا چاہئے ایک دن مقرر کرکے یکدم اپنے اپنے علاقہ کے امراء پر حملہ کردیاجائے مگر ابھی مشورے ہی ہورہے تھے کہ امراء واپس آگئے۔ دوسری جگہوں کے سبائی تومایوس ہوگئے مگر کوفہ کے سبائی (یعنی عبداللہ بن سبا کے ساتھی) جوپہلے بھی عملی فساد میں سب سے آگے قدم رکھنے کے عادی تھے انہوںنے اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ یزید بن قیس نامی ایک شخص نے مسجدِ کوفہ میں جلسہ کیا اوراعلان کیا کہ اب حضرت عثمانؓ کو خلافت سے علیحدہ کردینا چاہئے۔ قعقاع بن عمرو ؓجو اس جگہ کی چھائونی کے افسرتھے انہوں نے سناتو آکر اُسے گرفتارکرناچاہا۔ وہ ان کے سامنے عُذر کرنے لگا کہ میں تواطاعت سے باہر نہیں ہوں۔ ہم لوگ تواس لئے جمع ہوئے تھے کہ سعید بن العاص کے متعلق جلسہ کرکے درخواست کریں کہ اس کو یہاں سے بُلوایا جائے اورکوئی اورافسر مقرر کیا جاوے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس کے لئے جلسوں کی ضرورت نہیں اپنی شکایات لکھ کر حضرت عثمانؓ کی طرف بھیج دو۔ وہ کسی اورشخص کو والی مقرر کرکے بھیج دیں گے اس میں مشکل کون سی ہے۔ یہ بات انہوں نے اس لئے کہی کہ زمانہ ٔخلفاء ؓمیں لوگوں کے آرام کے خیال سے جب والیوں کے خلاف کوئی تکلیف ہوتی تھی تواکثر اُن کو بدل دیا جاتاتھا۔ قعقاع کا یہ جواب سن کر یہ لوگ بظاہر منتشر ہوگئے مگر خفیہ طورپر منصوبہ کرتے رہے۔ آخر یزید بن قیس نے جواُس وقت کوفہ میں سبائیوں کا رئیس تھا ایک آدمی کوخط دے کرحمص کی طرف روانہ کیا اورکہاکہ ان لوگوں کو جو کوفہ سے جلاوطن کئے گئے تھے اورجن کا واقعہ پہلے بیان ہوچکاہے وہ بُلالائے۔ وہ خط لے کر ان لوگوں کے پاس گیا۔ اس خط کا مضمون یہ تھا کہ اہلِ مصر ہمارے ساتھ مل گئے ہیں اورموقع بہت اچھا ہے یہ خط پہنچتے ہی ایک منٹ کی دیر نہ کرو اورواپس آجائو۔
    کس قدر تعجب کی بات ہے کہ خلیفۂ وقت سابق باِلایمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہٖ وسلم کے داماد کے خلاف جوش ظاہر کرنے والے اوراس پر عیب لگانے والے وہ لوگ ہیں جوخود نمازوں کے تارک ہیں۔ کیا ہو سکتاہے کہ اسلام کے لئے غیرت صرف بے دینوں میں پیدا ہو؟ اگر واقع میں حضرت عثمانؓ یا ان کے والیوں میں کوئی نقص ہوتا، کوئی بات خلافِ شریعت ہوتی؟ کوئی کمزوری ہوتی تو اس کے خلاف جوش کا اظہار کرنے والے علی، طلحہ، زبیر،سعدبن الوقاص،عبداللہ بن عمر،اسامہ بن زید، عبداللہ بن عباس، ابوموسیٰ اشعری، حذیفہ بن الیمان، ابوہریرہ، عبداللہ بن سلام، عبادہ بن صامت اورمحمد بن مسلمہ رضوان اللہ علیہم ہوتے نہ کہ یزید بن قیس اوراشتر۔
    یہ خط لے کر نامہ بَرجزیرہ پہنچا اورجلاوطنانِ اہلِ کوفہ کے سپرد کردیا۔ جب انہوں نے اس خط کو پڑھا توسوائے اشترکے سب نے ناپسند کیا۔ کیونکہ وہ عبدالرحمن بن خالد کے ہاتھ دیکھ چکے تھے۔ مگر اشتر جو مدینہ میں جاکر حضرت عثمان سے معافی مانگ کر آیا تھا اس کی توبہ قائم نہ رہی اوراُسی وقت کوفہ کی طرف چل پڑا۔ جب اس کے ساتھیوں نے دیکھا کہ اشتر واپس چلاگیا تووہ ڈرے کہ عبدالرحمن ہماری بات پر یقین نہ کریں گے اورسمجھیں گے کہ یہ سب کام ہمارے مشورہ سے ہواہے۔ اس خوف سے وہ بھی نکل بھاگے جب عبدالرحمن بن خالد بن ولید کو معلوم ہوا توانہوں نے پیچھے آدمی بھیجے مگران کے آدمی ان کو پکڑ نہ سکے۔ مالک الاشتر منزلوں پر منزلیں مارتاہوا کوفہ پہنچا۔ خالی ہاتھ شہر میں گھسنا اُس نے اپنی عزت کے خلاف سمجھا۔ یہ جزیرہ سے آنے واالا شخص جواپنے ساتھیوں سے ملنے کے لئے دودومنزلوںکی ایک منزل کرتاچلاآیاتھا اپنے مدینہ سے آنے کااعلان کرنے لگا اورلوگوں کوجوش دلانے کے لئے کہنے لگا کہ میں ابھی سعید بن العاص سے جُداہواہوں، ان کے ساتھ ایک منزل ہم سفر رہاہوں ۔ وہ عَلَی الْاِعَلَان کہتا ہے کہ میں کوفہ کی عورتوں کی عصمتوں کوخراب کروں گا اورکہتاہے کہ کوفہ کی جائدادیں قریش کا مال ہیں۔اوریہ شعر فخریہ پڑھتاہے ۔
    وَیْلٌ لِاَشْرَافِ النِّسَائِ مِنِّیْ
    صَمَحْمَحٌ کَاَ نََّنِیْ مِنْ جِنٍّ۲۴؎
    شریف عورتیں میرے سبب سے مصیبت میں مبتلاء ہوں گی۔ میں ایک ایسا مضبوط آدمی ہوں گویا جنات میں سے ہوں ا س کی ان باتوں سے عامہ الناس کی عقل ماری گئی اورانہوں نے اس کی باتوں پر یقین کرلیا اورآناًفاناً ایک جوش پھیل گیا۔ عقل مندوں اوردانائوں نے بہت سمجھایا کہ یہ ایک فریب ہے اس فریب میں تم نہ آئو مگر عوام کے جوش کوکون روکے ان کی بات ہی کوئی نہ سنتاتھا۔ ایک آدمی نے کھڑے ہوکر اعلان کیا کہ جوچاہتاہے کہ سعید بن العاص والی کوفہ کی واپسی اورکسی اوروالی کے تقرر کامطالبہ کرے اسے چاہیے کہ فوراًیزید بن قیس کے ہمراہ ہوجائے اس اعلان پر لوگ دوڑ پڑے اورمسجد میں سوائے دانائوں، شریف آدمیوںاور رئوساء کے اور کوئی نہ رہا۔ عمر بن الجرید ،سعید کی غیر حاضری میں ان کے قائمقام تھے۔ انہوں نے جو لوگ باقی رہ گئے تھے ان میں وعظ کہنا شروع کیا کہ اے لوگو! خداتعالیٰ کی نعمت کو یادکرو کہ ہم دشمن تھے ۔ اس نے تمہارے دلوں میں اتحاد پیداکیا اورتم بھائی بھائی ہو گئے۔ تم ایک ہلاکت کے گڑھے کے کنارے پر کھڑے تھے خداتعالیٰ نے تم کو اس سے بچایا پس اس مصیبت میں اپنے آپ کو نہ ڈالو۔جس سے خداتعالیٰ نے تم کو بچایا تھا۔ کیا اسلام اور ہدایت الٰہی اور سنت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد تم لوگ حق کو نہیں پہچانتے اورحق کے دروازہ کی طرف نہیں آتے؟اس پر قعقاع بن عمرو ؓ نے ان سے کہاکہ آپ وعظ سے اس فتنہ کوروکناچاہتے ہیں یہ امید نہ رکھیں۔ ان شورشوں کوتلوار کے سوا کوئی چیز نہیں روک سکتی اوروہ زمانہ بعید نہیں کہ تلوار بھی کھینچی جائے گی۔ اس وقت یہ لوگ بکری کے بچوں کی طرح چیخیں گے اورخواہش کریں گے کہ یہ زمانہ پھر لوٹ آوے مگرپھر خداتعالیٰ قیامت تک یہ نعمت ان کی طرف نہ لوٹائے گا۔ عوام الناس شہر کے باہر جمع ہوئے اورمدینہ کا رُخ کیا اورسعید بن العاص کا انتظار کرنے لگے۔ جب وہ سامنے آئے تو ان سے کہاکہ آپ واپس چلے جاویں ہمیں آپ کی ضرورت نہیں۔ سعید نے کہا کہ یہ بھی کوئی دانائی ہے کہ اس قدر آدمی جمع ہوکر اس کا م کے لئے باہر نکلے ہو۔ ایک آدمی کے روکنے کے لئے ہزارآدمی کی کیا ضرورت تھی یہی کافی تھا کہ تم ایک آدمی خلیفہ کی طرف بھیج دیتے اور ایک آدمی میری طرف روانہ کردیتے۔ یہ کہہ کر انہوں نے اپنی سواری کو ایڑی لگائی اورمدینہ کی طرف واپس لوٹ گئے تاکہ حضرت عثمانؓ کوخبردارکردیں۔ اوریہ لوگ حیران رہ گئے اتنے میں ان کا ایک غلام نظر آیا اُس کو اِن لوگوں نے قتل کردیا۔
    سعید بن العاص نے مدینہ پہنچ کر حضرت عثمانؓ کو اس تمام فتنہ سے اطلاع دی۔ آپ نے فرمایا کہ کیاوہ لوگ میرے خلاف اُٹھے ہیں؟ سعید نے کہاکہ وہ ظاہر تویہ کرتے ہیں کہ والی بدلایاجاوے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ وہ کسے چاہتے ہیں؟انہوں نے کہا ابوموسیٰ اشعری ؓ کو پسند کرتے ہیں۔
    ابوموسیٰ اشعریؓکا والی کوفہ مقررہونا
    حضرت عثمانؓ نے فرمایا ہم نے ابوموسیٰ اشعری کو کوفہ کاوالی مقرر کر دیا
    اور خدا کی قسم ہے ان لوگوں کوعُذرکا کوئی موقع نہ دوں گااورکوئی دلیل ان کے ہاتھوں میں نہیں آنے دوں گا اوران کی باتوں پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے حکم کے ماتحت صبر کروں گا یہاں تک کہ وہ وقت آجاوے جس کا یہ ارادہ کرتے ہیں یعنی عثمان ؓکے علیحدہ کرنے کا۔ اس فتنہ نے ظاہر کردیا کہ یہ لوگ جھوٹ اورفریب سے کسی قسم کا پرہیز نہیں رکھتے تھے۔
    مفسدوں کی سازشوں کا انکشاف
    مالک الاشتر کا جزیرہ سے بھاگے چلے آنا اورمدینہ سے آنے کا اظہار کرنا،
    سعید بن العاص پر جھوٹا الزام لگانا اورشرمناک باتیں اپنے پاس سے بنا کر ان کی طرف منسوب کرنا ایسے امور نہیں ہیں جوان مُفسدوں کے اصل ارادوں اورمخفی خواہشوں کوچھپا رہنے دیں۔ بلکہ اب باتوں سے صاف پتہ چلتاہے کہ یہ لوگ اسلام سے بالکل کورے تھے۔ اسلام جھوٹ کو جائز نہیں قرار دیتااورفریب کا روادار نہیں۔ اتہام لگانا اسلام میں ایک سخت جُرم ہے۔ مگریہ اسلام کی محبت ظاہر کرنے والے اوراس کے لئے غیرت کااظہارکرنے والے جھوٹ بولتے ہیں۔ اتہام لگاتے ہیں اوران کاموں سے ان کو کائی عارنہیں معلوم ہوتی۔ پس ایسے لوگوں کا حضرت عثمان ؓ کے خلاف شورمچاناہی اس امرکا کافی ثبوت ہے کہ کسی حقیقی نقص کی وجہ سے یہ شورش نہیں تھی بلکہ اسلام سے دُوری اوربے دینی کا نتیجہ ہے۔
    دوسرا استنباط اس واقعہ سے یہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے پاس حضرت عثمانؓ اوران کے عُمال کے برخلاف ایک بھی واجبی شکایت نہ تھی کیونکہ اگر واقعہ میں کوئی شکایت ہوتی توان کو جھوٹ بنانے کی کیا ضرورت تھی۔ جھوٹی شکایات کا بنانا ہی اس امر کا کافی ثبوت ہے کہ ان لوگوں کو حقیقی شکایات نہ تھیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اشتر کے آنے سے پہلے جب یزید نے جلسہ کیا ہے تو اُس وقت صرف چند سپاہی لوگ ہی اس جلسہ میں شریک ہوئے تھے اورقعقاع کے روکنے پریہ لوگ ڈرگئے اورجلسہ کرنا انہوں نے موقوف کردیاتھا۔ مگراسی مہینہ کے اندراندر ہم دیکھتے ہیں کہ اشتر کے جھوٹ سے متأثر ہوکر کوفہ کے عامۃالناس کا ایک کثیر گروہ ان لوگوں کے ساتھ مل کر سعید کو روکنے اوردوسرے والی کے طلب کرنے کے لئے کوفہ سے نکل پڑا۔ یہ امر اس بات کی شہادت ہے کہ پہلے لوگ ان کی باتوں میں نہ آئے تھے۔ کیونکہ ان کے پاس ان کو جوش دلانے کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔ اشتر نے جب ایسا ذریعہ ایجاد کیا جو لوگوں کی غیرت کو بھڑکانے والا تھا توعامۃ الناس کاایک حصہ فریب میں آگیا اوران کے ساتھ مل گیا۔
    اس فتنہ کے اظہار سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ ان لوگوں کی اصل مخالفت حضرت عثمانؓ سے تھی نہ کہ ان کے عُمّال سے ۔ کیونکہ ابتدائً یہ لوگ آپ کے ہی خلاف جوش بھڑکا نا چاہتے تھے مگر جب دیکھا کہ لوگ اس بات میں ان کے شریک نہیں ہوسکتے بلکہ ان کی مخالفت پر آمادہ ہوجاتے ہیںتب امراء کے خلاف جوش بھڑکانا شروع کردیا۔ ایک جماعت کثیر کے ساتھ مدینہ کی طرف رُخ کرنا بھی ثابت کرتاہے کہ ان کی نیت حضرت عثمان ؓ کے متعلق اچھی نہ تھی۔ سعید بن العاصؓ کے آزاد کردہ غلام کو بِلاوجہ قتل کردینے سے یہ بھی ظاہر ہوتاہے کہ اپنے مقاصد کو پوراکرنے کے لئے ان لوگوں کو کسی جُرم کے ارتکاب سے اجتناب نہ تھا۔
    معلوم ہوتاہے کہ اب یہ لوگ اس بات کو محسوس کرنے لگ گئے تھے کہ اگر چندے اور دیر ہوئی تو اُمت اسلامیہ پوری طرح ہمارے فتنہ کی اہمیت سے آگاہ ہوجائے گی۔ اس لئے وہ جس طرح بھی ہو اپنے مدعاکو جلد سے جلد پورا کرنے کی فکر میں تھے۔ مگر حضرت عثمان ؓ نے اپنی دانائی سے ایک دفعہ پھر ان کے عذرات کو توڑ دیا اورابوموسیٰ اشعری ؓ کو والی مقرر کرکے فوراً ان لوگوں کو اطلاع دی۔ سعید بن العاصؓ کے واپس چلے جانے اوران کے ارادوںسے اہلِ مدینہ کو اطلاع دے دینے سے ان کی امیدوں پرپہلے ہی پانی پھر چکا تھااوریک دم مدینہ پر قبضہ کر لینے کے منصوبے جو سوچ رہے تھے باطل ہوچکے تھے اوریہ لوگ واپس ہونے پر مجبور ہوچکے تھے۔ اب ابوموسیٰ اشعری ؓ کے والی مقرر ہونے پر ان کے عذرات بالکل ہی ٹوٹ گئے کیونکہ یہ لوگ ایک مدت سے ان کی ولایت کے طالب تھے۔
    ابوموسیٰ اشعری ؓ کو جب معلوم ہوا کہ ان کو کوفہ کا والی مقرر کیاگیاہے توانہوں نے سب لوگوں کو جمع کیا اورکہاکہ اے لوگو !ایسے کاموں کیلئے پھر کبھی نہ نکلنا اورجماعت اوراطاعت کو اختیارکرو اورصبر سے کام لواورجلد بازی سے بچو۔ کیونکہ اب تم میں ایک امیر موجود ہے یعنی میں امیر مقرر ہوا ہوں۔ اس پر ان لوگوں نے درخواست کی کہ آپ ہمیں نماز پڑھائیں تو انہوں نے اس سے انکار کردیا اورفرمایا کہ نہیں یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔
    حاکم وقت کی اطاعت ضروری ہے
    جب تک تم لوگ حضرت عثمان ؓ کی کامل اطاعت اور ان کے احکام کے قبول
    کرنے کا اقرار نہ کرو گے میں تمہارا امام جماعت نہیں بنوں گا۔ اِس پر ان لوگوں نے اس امر کا وعدہ کیا کہ وہ آئندہ پوری طرح اطاعت کریں گے اوران کے احکام کو قبول کریں گے تب حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ نے اُن کو نماز پڑھائی۔ اسی طرح حضرت ابوموسیٰ ؓ نے ان کو کہا کہ سنو ! میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے سنا ہے کہ جو کوئی ایسے وقت میں کہ لوگ ایک امام کے ماتحت ہوں ان میں تفرقہ ڈالنے کے لئے اوران کی جماعت کو پراگندہ کرنے کے لئے کھڑاہوجاوے اُسے قتل کردو خواہ وہ کوئی ہی کیوں نہ ہو۲۵؎۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امام کے ساتھ اس کے عا د ل ہونے کی شرط نہیں لگائی یعنی تم لوگ یہ نہیں کہہ سکتے کہ حضرت عثمانؓ عادل نہیں۔ کیونکہ اگریہ مان لیا جاوے تو تمہارایہ فعل جائز نہیں۔ کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عادل کی شرط نہیں لگائی بلکہ صرف یہ فرمایا ہے کہ لوگوں پر کوئی حاکم ہو۔
    یہ خیالات ہیں ان لوگوں کے جنہوں نے اپنی عمریں خدمت اسلام کیلئے خرچ کردی تھیں اورجنہوں نے اسلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے سناتھا اورآپ کے سامنے ان پر عمل کرکے سندِ قبولیت حاصل کی تھی۔ وہ لوگ ان مفسدوں کے پیچھے نماز پڑھنا توالگ رہا ان کا امام بننا بھی پسند نہیںکرتے تھے اوران کو واجبُ القتل جانتے تھے۔ کیا ان لوگوں کی نسبت کوئی کہہ سکتاہے کہ یہ لوگ فتنہ عثمان ؓ میں شامل تھے یایہ کہاجاسکتا ہے کہ حضرت عثمان ؓاوران کے عُمّال حقوقِ رعایا کو تلف کرتے تھے یا ان واقعات کی موجودگی میں قبول کیاجاسکتا ہے کہ ان لوگوں کی خاطر یہ مفسد فساد برپاکررہے تھے؟ نہیں بلکہ یہ فسادی جماعت صحابہؓ پر حسد کرکے فساد پر آمادہ تھے اوراپنے دلی خیالات کو چھپاتے تھے حکومت اسلام کی بربادی ان کا اصل مقصدتھا۔ اوریہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتاتھا جب تک حضرت عثمان ؓ کو درمیان سے نہ ہٹایا جائے۔ بعض جاہل یا بے دین مسلمان بھی ان کے اس فریب کونہ سمجھ کر خود غرضی یا سادگی کے باعث ان کے ساتھ مل گئے تھے۔
    مفسدوں کی ایک اورسازش
    حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کے والی مقرر ہوجانے پر ان لوگوں کے فتنہ برپا کرنے کی کوئی وجہ باقی
    نہ رہی تھی لیکن اس فتنہ کے اصل محرک اس امر کو پسند نہ کرسکتے تھے کہ ان کی تمام کوششیں اس طرح برباد ہوجاویں۔ چنانچہ خط وکتابت شروع ہوئی اورفیصلہ کیا گیا کہ سب مُلکوں کی طرف سے کچھ لوگ وفد کے طورپر مدینہ منورہ کو چلیں۔ وہاں آپس میں آئندہ طریقِ عمل کے متعلق مشورہ بھی کیا جاوے اورحضرت عثمانؓ سے بعض سوال کئے جاویں تاکہ وہ باتیں تمام اقطارِ عالم میں پھیل جاویں اورلوگوں کو یقین ہوجاوے کہ حضرت عثمان ؓپر جو الزامات لگائے جاتے تھے وہ پایۂ ثبوت کوپہنچادیئے گئے ہیں۔یہ مشورہ کرکے یہ لوگ گھروں سے نکلے اور مدینے کی طرف سب نے رُخ کیا۔ جب مدینہ کے قریب پہنچے توحضرت عثمان ؓ کو ان کی آمدکا علم ہوا۔ آپ نے دوآدمیوں کو بھیجا کہ وہ ان کا بھید لیں اوران کی آمد کی اصل غرض دریافت کرکے اطلاع دیں۔ یہ دونوں گئے اورمدینہ سے باہر اس قافلہ سے جاملے۔ ان لوگوں نے ان دونوں مخبروںسے باتوں باتوں میں اپنے حالات بیان کردیے انہوں نے ان سے دریافت کیا کہ کیا اہل مدینہ میں سے بھی کوئی شخص ان کے ساتھ ہے؟ جس پر مفسدوں نے کہا کہ وہاں تین شخص ہیں ان کے سوا کوئی چوتھا شخص ان کا ہمدرد نہیں۔ ان دونوں نے دریافت کیا کہ پھر تمہارا کیا ارادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارادہ یہ ہے کہ ہم مدینہ جاکر حضرت عثمان ؓ سے بعض ایسے امور کے متعلق گفتگو کریں گے جو پہلے سے ہم نے لوگوں کے دلوں میں بٹھا چھوڑے ہیں۔ پھر ہم اپنے مُلکوں کو واپس جاویں گے اورلوگوں سے کہیں گے کہ ہم نے حضرت عثمان ؓ پر بہت الزام لگائے اوران کی سچائی ثابت کردی۔ مگر انہوں نے ان باتوں کے چھوڑنے سے انکار کردیا اورتوبہ نہیں کی۔ پھر ہم حج کے بہانہ سے نکلیں گے اورمدینہ پہنچ کر آ پ کا احاطہ کرلیں گے۔ اگر آپ نے خلافت سے علیحدگی اختیار کرلی تب تو خیر ورنہ آپ کو قتل کردیںگے۔
    سازش کا انکشاف
    یہ دونوں مخبر پوری طرح ان کا حال لیکر واپس گئے اورحضرت عثمان ؓ کو سب حال سے اطلاع دی۔ آپ ان لوگوں کا حال سن
    کر ہنس پڑے اورخداتعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی! ان لوگوں کو گمراہی سے بچالے۔اگر تُو نہ بچاوے گا تویہ لوگ برباد ہوجاویں گے۔ پھران تینوں شخصوں کی نسبت جو مدینہ والوں میں سے ان لوگوں کے ساتھ تھے فرمایا کہ عمار کو تو یہ غصہ ہے کہ اس نے عباس بن عتبہ بن ابی لہب پر حملہ کیاتھا اوراس کو زجر کی تھی اورمحمد بن ابی بکر متکبر ہوگیاہے اورخیال کرتاہے کہ اب اس پر کوئی قانون نہیں چلتا اورمحمدبن ابی حذیفہ خواہ مخواہ اپنے آپ کو مصیبت میں ڈال رہاہے۔ پھر آ پ نے ان مفسدوں کوبھی بُلوایا اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ؓ کو بھی جمع کیا۔
    حضرت عثمان کا مُفسدوں کو بلوانا
    جب سب لوگ جمع ہوگئے توآپ نے ان لوگوں کو سب حال سنایا اور وہ دونوں
    مخبر بھی بطورگواہ کھڑے ہوئے اورگواہی دی۔ اس پر صحابہ ؓ نے فتویٰ دیا کہ ان لوگوں کو قتل کردیجئے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص ایسے وقت میں کہ ایک امام موجود ہو اپنی اطاعت یا کسی اور اطاعت کے لئے لوگوں کوبلاوے اس پر خدا کی *** ہو۔ تم ایسے شخص کو قتل کردو خواہ کوئی ہو۲۶؎ اورحضرت عمرؓ کا قول یاد دلایا کہ میں تمہارے لئے کسی ایسے شخص کا قتل جائز نہیں سمجھتا جس میں مَیں شریک نہ ہوں۔ یعنی سوائے حکومت کے اشارہ کے کسی شخص کا قتل جائز نہیں۔ حضرت عثمان ؓ نے صحابہؓ کا یہ فتویٰ سن کر فرمایا کہ نہیں ہم ان کو معاف کریں گے اوران کے عذروں کو قبول کریں گے اوراپنی ساری کوشش سے ان کو سمجھاویں گے اورکسی شخص کی مخالفت نہیں کریں گے۔ جب تک وہ کسی حَدِّ شرعی کو نہ توڑے یا اظہارِ کفر نہ کرے۔
    حضرت عثمان ؓ کا اتہامات سے بریت ثابت کرنا
    پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے کچھ باتیں
    بیان کی ہیں جو تم کو بھی معلوم ہیں مگر ان کا خیال ہے کہ وہ ان باتوں کے متعلق مجھ سے بحث کریں تاکہ واپس جاکر کہہ سکیں کہ ہم نے ان امور کے متعلق عثمان ؓ سے بحث کی اوروہ ہار گئے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نے سفر میں پوری نماز اداکی حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفرمیں نماز قصرکیا کرتے تھے ۲۷؎ ۔مگر میںنے صرف منیٰ میں پوری پڑھی ہے اوروہ بھی دو وجہ سے۔ ایک تویہ کہ میری وہاں جائداد تھی اورمیں نے وہاں شادی کی ہوئی تھی۔ دوسرے یہ کہ مجھے معلوم ہواتھاکہ چاروں طرف سے لوگ ان دنوں حج کے لئے آئے ہیں ان میں سے ناواقف لوگ کہنے لگیں گے کہ خلیفہ تودوہی رکعت پڑھتا ہے دوہی رکعت ہوں گی۔ کیا یہ بات درست نہیں ؟صحابہ ؓ نے جواب دیا کہ ہاں درست ہے۔آپ نے فرمایا دوسراالزام یہ لگاتے ہیں کہ میں نے رکھ مقررکرنے کی بدعت جاری کی ہے حالانکہ یہ الزام غلط ہے ۔ رکھ مجھ سے پہلے مقررکی گئی تھی حضرت عمرؓ نے اس کی ابتداء کی تھی اورمیں نے صرف صدقہ کے اونٹوں کی زیادتی پر اس کو وسیع کیا ہے اورپھر رکھ میں جو زمین لگائی گئی ہے وہ کسی کا مال نہیںہے اورمیرا اس میں کوئی فائدہ نہیں میرے تو صرف دواونٹ ہیں حالانکہ جب میں خلیفہ ہوا تھا اُس وقت میں سب عرب سے زیادہ مال دارتھا اب صرف دواونٹ ہیں جو حج کے لئے رکھے ہوئے ہیں ۔ کیا یہ درست نہیں؟ صحابہ ؓ کرام نے فرمایا ہاں درست ہے۔ پھر فرمایا یہ کہتے ہیں کہ نوجوانوں کو حاکم بناتا ہے حالانکہ میں ایسے ہی لوگوں کو حاکم بناتاہوں جو نیک صفات نیک اطوار ہوتے ہیں اورمجھ سے پہلے بزرگوں نے میرے مقرر کردہ والیوں سے زیادہ نو عمر لوگوں کو حاکم مقرر کیا تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اسامہ بن زید کے سردارِلشکر مقرر کرنے پر اس سے زیادہ اعتراض کئے گئے تھے جو اب مجھ پر کئے جاتے ہیں۔ کیا یہ درست نہیں؟ صحابہ ؓ نے جواب دیا کہ ہاں درست ہے ۔یہ لوگوں کے سامنے عیب تو بیان کرتے ہیں مگراصل واقعات نہیں بیان کرتے۔ غرض اسی طرح حضرت عثمان ؓ نے تمام اعتراضات ایک ایک کرکے بیان کئے اوران کے جواب بیان کئے۔ صحابہ ؓ برابر زوردیتے کہ ان کو قتل کردیا جائے مگر حضرت عثمان ؓ نے ان کی یہ بات نہ مانی اور ان کو چھوڑ دیا ۔طبری کہتاہے کہ اَبَی الْمُسْلِمُوْنَ اِلَّا قَـتْلَھُمْ وَاَبٰی اِلاَّ تَرْکَھُمْ۲۸؎ ۔ یعنی باقی سب مسلمان تو ان لوگوں کے قتل کے سوا کسی بات پر راضی نہ ہوتے تھے مگر حضرت عثمان ؓ سزادینے پر کسی طرح راضی نہ ہوتے تھے۔
    حضرت عثمان ؓ کا مفسدوں پر رحم کرنا
    اس واقعہ سے معلوم ہوتاہے کہ مفسد لوگ کس کس قسم کے فریب اور دھوکے
    سے کام کرتے تھے اور اُس زمانہ میں جب کہ پریس اورسامانِ سفر کا وہ انتظام نہ تھا جو آجکل ہے کیسا آسان تھا کہ یہ لوگ ناواقف لوگوںکو گمراہ کردیں۔ مگر اصل میں ان لوگوں کے پاس کوئی معقول وجہ فساد کی نہ تھی۔ نہ حق ان کے ساتھ نہ یہ حق کے ساتھ تھے۔ ان کی تمام کارروائیوں کا دارومدار جھوٹ اورباطل پر تھا اورصرف حضرت عثمان ؓ کا رحم ان کو بچائے ہوئے تھا ورنہ مسلمان ان کو ٹکڑے ٹکڑے کردیتے۔ وہ کبھی برداشت نہیں کرسکتے تھے کہ وہ امن وامان جو انہوں نے اپنی جانیں قربان کرکے حاصل کیا تھا چند شریروں کی شرارتوں سے اس طرح جاتا رہے اوروہ دیکھتے تھے کہ ایسے لوگوں کواگر جلد سزا نہ دی گئی تو اسلامی حکومت تہہ و بالا ہوجائے گی۔ مگر حضرت عثمانؓ رحمِ مجسم تھے وہ چاہتے تھے کہ جس طرح ہوان لوگوں کو ہدایت مل جائے اوریہ کفر پر نہ مریں۔ پس آپ ڈھیل دیتے تھے اوران کے صریح بغاوت کے اعمال کو محض ارادۂ بغاوت سے تعبیر کرکے سزاکو پیچھے ڈالتے چلے جاتے تھے۔ اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ ؓ ان لوگوں سے بالکل متنفر تھے کیونکہ اوّل تو خود وہ بیان کرتے ہیں کہ صرف تین اہلِ مدینہ ہمارے ساتھ ہیں اس سے زیادہ نہیں اگر اورصحابہ ؓ بھی ان کے ساتھ ہوتے تو وہ ان کا نام لیتے۔ دوسرے صحابہ ؓ نے اپنے عمل سے یہ بھی ثابت کردیا کہ وہ ان لوگوں کے افعال سے متنفر تھے اوران کے اعمال کو ایسا خلافِ شریعت سمجھتے تھے کہ سزا قتل سے کم ان کے نزدیک جائز ہی نہ تھی۔ اگر صحابہ ؓ ان کے ساتھ ہوتے یا اہلِ مدینہ ان کے ہم خیال ہوتے تو کسی مزید حیلہ وبہانہ کی ان لوگوں کو کچھ ضرورت ہی نہیں تھی۔ اُسی وقت حضرت عثمان ؓ کو قتل کردیتے اوران کی جگہ کسی اورشخص کو خلافت کے لئے منتخب کرلیتے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بجائے اس کے کہ یہ لوگ حضرت عثمان ؓ کے قتل میں کامیاب ہوتے خود ان کی جانیں صحابہ ؓ کی شمشیر ہائے برہنہ سے خطرہ میں پڑگئی تھیں۔ اورصرف اسی رحیم وکریم وجود کی عنایت ومہربانی سے یہ لوگ بچ کر واپس جاسکے جس کے قتل کا ارادہ ظاہر کرتے تھے اور جس کے خلاف اس قدرفساد برپاکررہے تھے۔ ان مفسدوں کی کینہ وری اورتقویٰ سے بُعد پر تعجب آتا ہے کہ اس واقعہ سے انہوں نے کچھ بھی فائدہ نہیں اُٹھایا۔ ان کے ایک ایک اعتراض کا خوب جواب دیا گیا اورسب الزام غلط اوربے بنیاد ثابت کردیئے گئے ۔ حضرت عثمانؓ کا رحم وکرم انہوں نے دیکھا اور ہر ایک شخص کی جان اس پر گواہی دے رہی تھی کہ اس شخص کا مثیل اِس وقت دنیا کے پردہ پر نہیں مل سکتا۔ مگر بجائے اس کے کہ اپنے گناہوں سے توبہ کرتے، جفائوں پرپشیمان ہوتے ،اپنی غلطیوں پر نادم ہوتے ،اپنی شرارتوں سے رجوع کرتے ،یہ لوگ غیظ وغضب کی آگ میں اوربھی زیادہ جلنے لگے اوراپنے لاجوا ب ہونے کو اپنی ذلّت اورحضرت عثمانؓ کے عفو کو اپنی حسنِ تدبیر کا نتیجہ سمجھتے ہوئے آئندہ کے لئے اپنی بقیہ تجویز کے پورا کرنے کی تدابیر سوچتے ہوئے واپس لوٹ گئے۔
    مفسدوں کی ایک اور گہری سازش
    واپس جاکر ان لوگوں نے پھر خط وکتابت شروع کی اور آخر فیصلہ کیاکہ شوال میں اپنی
    پہلی تجویز کے مطابق حج کے ارادہ سے قافلہ بن کر نکلیں اورمدینہ میں جاکر یکدم تمام انتظام کو درہم برہم کردیں اور اپنی مرضی کے مطابق نظامِ حکومت کو بدل دیں۔ اس تجویز کے مطابق شوال یعنی چاند کے دسویں مہینے حضرت عثمان ؓ کی خلافت کے بارھویں سال، چھتیسویں سال ہجری میںیہ لوگ تین قافلے بن کر اپنے گھروں سے نکلے۔ ایک قافلہ بصرہ سے، ایک کوفہ سے اورایک مصر سے۔ پچھلی دفعہ کی ناکامی کا خیال کر کے اوراس بات کو مدّنظر رکھ کر کہ یہ کوشش آخری کوشش ہے عبداللہ بن سبا خود بھی مصر کے قافلہ کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔ اس رئیس المفسدین کا خود باہر نکلنا اس امر کی علامت تھا کہ یہ لوگ اب ہرایک ممکن تدبیر سے اپنے مدعا کے حصول کی کوشش کریں گے۔ چونکہ ہرایک گروہ نے اپنے علاقہ میں حج پرجانے کے ارادہ کا اظہار کیا تھا کچھ اورلوگ بھی ان کے ساتھ بہ ارادہ حج شامل ہوگئے اور اس طرح اصل ارادے ان لوگوں کے عامۃ المسلمین سے مخفی رہے ۔مگر چونکہ حُکّام کو ان کی اندرونی سازش کا علم تھا عبداللہ بن ابی سرح والی مصر نے ایک خاص آدمی بھیج کر حضرت عثمان ؓ کو اِس قافلہ اوراس کے مخفی ارادہ کی اطلاع قبل از وقت دے دی جس سے اہلِ مدینہ پہلے ہوشیار ہوگئے۔
    اس جگہ ایک سوال پیدا ہوتاہے کہ جب تک اہل مدینہ اورخصوصاً صحابہ ؓ ان لوگوں کے تین دفعہ آنے پر ان کو قتل کرنا چاہتے تھے اوران کو یہ معلوم تھا کہ ان کا حج کے بہانہ سے آکر فساد کرنے کا ارادہ حضرت عثمان ؓ پر ظاہر ہے توپھر کیوں انہوں نے کوئی اورتدبیر اختیار نہ کی اوراسی پہلی تدبیر کے مطابق جن کا علم حضرت عثمان ؓ کو ہوچکا تھاسفرکیا۔ کیا اس سے یہ نتیجہ نکلتاہے کہ درحقیقت اہل مدینہ ان لوگوں کے ساتھ تھے اسی وجہ سے یہ لوگ ڈرے نہ تھے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ بے شک ان کی یہ دلیری ظاہر کرتی ہے کہ ان لوگوں کواپنی کامیابی کا پورا یقین تھا مگر اس کی یہ وجہ نہیں کہ صحابہ ؓ یا اہلِ مدینہ ان کے ساتھ تھے یا ان سے ہمدردی کا اظہار کرتے تھے بلکہ جیسا کہ خود ان کے بیان سے ثابت ہے کہ صرف تین شخص مدینہ کے ان کے ساتھ تھے۔ اورجیسا کہ واقعات سے ثابت ہے صحابہ ؓ اوردیگر اہل مدینہ ان لوگوں سے سخت بیزار تھے۔ پس ان کی دلیری کا یہ باعث تونہیں ہوسکتا کہ وہ لوگ ان سے کسی قسم کی ہمدردی کا اظہار کرتے تھے ان کی دلیری کا اصل باعث اوّل تو حضرت عثمان ؓ کا رحم تھا۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ اگر ہم کامیاب ہوگئے تو فَھُوَالْمُرَادُ۔ اوراگر ناکام رہے تو حضرت عثمانؓ سے درخواست رحم کرکے سزا سے بچ جائیں گے۔ دوسرے گو صحابہ ؓ اہل مدینہ کا طریق عمل یہ پچھلی دفعہ دیکھ چکے تھے اوران کو معلوم تھا کہ حضرت عثمان ؓ کوہماری آمد کا علم ہے مگر یہ لوگ خیال کرتے تھے کہ حضرت عثمان ؓ اپنے حلم کے باعث ان کے خلاف لڑنے کے لئے کوئی لشکر نہیں جمع کریں گے اورصحابہ ؓ ہمارا مقابلہ نہیں کریں گے۔ کیونکہ یہ لوگ اپنے نفس پر قیاس کرکے سمجھتے تھے کہ صحابہ ؓ ظاہر میں حضرت عثمانؓ سے اخلاص کا اظہار کرتے ہیں ورنہ اصل میں ان کی ہلاکت کو پسند کرتے ہیں۔ اوراس خیال کی یہ وجہ تھی کہ یہ لوگ یہی ظاہر کیاکرتے تھے کہ صحابہؓ کے حقوق کی حفاظت کیلئے ہی ہم سب کچھ کررہے ہیں۔ پس ان کو خیال تھاکہ صحابہ ؓ ہمارے اس فریب سے متأثر ہیں اوردل میں ہمیں سے ہمدردی رکھتے ہیں۔
    مفسدوں کا مدینہ میں پہنچنا
    جونہی اس لشکر کے مدینہ کے قریب پہنچنے کی اطلاع ملی صحابہ ؓ اوراہل مدینہ جو اِرد گرد میں جائدادوں
    پر انتظام کے لئے گئے ہوئے تھے مدینہ میں جمع ہوگئے اورلشکر کے دوحصے کئے گئے۔ ایک حصہ تومدینہ کے باہر ان لوگوں کے مقابلہ کرنے کے لئے گیا اوردوسراحصہ حضرت عثمان ؓ کی حفاظت کیلئے شہر میں رہا۔ جب تینوں قافلے مدینے کے پاس پہنچے تواہل بصرہ نے ذو خشب مقام پر ڈیرہ لگایا،اہل کوفہ نے اعوص پر اوراہل مصر نے ذوالمروہ پر۔ اورمشورہ کیا گیاکہ اب ان کو کیا کرنا چاہیے۔ گواس لشکر کی تعداد کا اندازہ اٹھارہ سَو آدمی سے لے کر تین ہزار تک کیا جاتا ہے۔ (دوسرے حجاج جوان کو قافلۂ حج خیال کرکے ان کے ساتھ ہوگئے تھے وہ علیحدہ تھے)مگر پھر بھی یہ لوگ سمجھتے تھے کہ دلاورانِ اسلام کا مقابلہ اگروہ مقابلہ پر آمادہ ہوئے ان کے لئے آسان نہ ہوگا۔ اس لئے مدینہ میں داخل ہوتے ہی پہلے اہل مدینہ کی رائے معلوم کرنا ضروری سمجھتے تھے۔ چنانچہ دوشخص زیاد بن النضراورعبداللہ بن الاصم نے اہل کوفہ اوراہل بصرہ کو مشورہ دیا کہ جلدی اچھی نہیں وہ اگر جلدی کریں گے تواہل مصر کو بھی جلدی کرنی پڑے گی اورکام خراب ہوجائیگا۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں معلوم ہواہے کہ اہل مدینہ نے ہمارے مقابلہ کے لئے لشکر تیارکیا ہے اورجب ہمارے پورے حالات معلوم نہ ہونے کے باوجود انہوں نے اس قدر تیاری کی ہے توہمارا پوراحال معلوم ہونے پر تووہ اوربھی زیادہ ہوشیار ی سے کام لیں گے اورہماری کامیابی خواب وخیال ہو جائے گی۔ پس بہتر ہے کہ ہم پہلے جاکر وہاں کاحال معلوم کریں اوراہل مدینہ سے بات چیت کریں۔ اگر ان لوگوں نے ہم سے جنگ جائز نہ سمجھی اورجوخبریں ان کی نسبت ہمیں معلوم ہوئی ہیں وہ غلط ثابت ہوئیں توپھر ہم واپس آکرسب حالات سے تم کو اطلاع دیں گے اورمناسب کارر وائی عمل میں لائی جائے گی۔سب نے اس مشورہ کو پسند کیا اوریہ دونوں شخص مدینہ گئے اورپہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات سے ملے اوران سے مدینہ میں داخل ہونے کی اجازت مانگی اورکہا کہ ہم لوگ صرف اس لئے آئے ہیں کہ حضرت عثمان ؓ سے بعض والیوں کے بدل دینے کی درخواست کریں اوراس کے سوا ہمارا اور کوئی کام نہیں۔ سب ازواجِ مطہرات نے ان کی بات قبول کرنے سے انکار کیا اورکہا کہ اس بات کا نتیجہ اچھا نہیں۔ پھر وہ باری باری حضرت علیؓ ،حضرت طلحہ ؓ ،حضرت زبیرؓ کے پاس گئے اوران سے یہی وجہ اپنے آنے کی بیان کرکے اوراپنی نیک نیتی کااظہار کرکے مدینہ میں آنے کی اجازت چاہی۔ مگر ان تینوں اصحاب نے بھی ان کے فریب میں آنے سے انکار کیا اور صاف جواب دیا کہ ان کی اس کارر وائی میں خیر نہیں۲۹؎۔
    یہ دونوں آدمی مدینہ کے حالات معلوم کرکے اوراپنے مقصد میں ناکام ہوکر جب واپس گئے اور سب حال سے اپنے ہمراہیوں کو آگاہ کیا توکوفہ،بصرہ اورمصرتینوں علاقوں کے چند سربرآور دہ آدمی آخری کوشش کرنے کے لئے مدینہ آئے۔ اہل مصر عبداللہ بن سبا کی تعلیم کے ماتحت حضرت علی ؓ کو وصی رسول اللہ خیال کرتے تھے اوران کے سوا کسی اورکے ہاتھ پر بیعت کرنے کو تیار نہ تھے مگر اہل کوفہ اوراہل بصرہ گوفساد میں توان کے شریک تھے مگر مذہباً ان کے ہم خیال نہ تھے۔ اوراہل کوفہ زبیر ؓ بن عوام اوراہل بصرہ طلحہ ؓ کی بیعت کو اپنی اغراض کیلئے مفید سمجھتے تھے۔ اس اختلاف کے باعث ہرایک قافلہ کے قائم مقاموں نے الگ الگ ان اشخاص کا رُخ کیا جن کو وہ حضرت عثمانؓ کے بعد مسندِ خلافت پر بٹھانا چاہتے تھے۔
    اہل مصر کا حضرت علی ؓ کے پاس جانا
    اہل مصر حضرت علی ؓ کے پاس گئے وہ اُس وقت مدینہ سے باہرایک حصہ لشکر کی کمان کر
    رہے تھے اوران کاسرکچلنے پر آمادہ کھڑے تھے ان لوگوں نے آپ کے پاس پہنچ کر عرض کیا کہ حضرت عثمانؓ بدانتظامی کے باعث اب خلافت کے قابل نہیں ہم ان کو علیحدہ کرنے کے لئے آئے ہیں اورامید کرتے ہیں کہ آپ ان کے بعد اس عُہدہ کو قبول کریںگے۔ انہوں نے ان کی بات سن کراس غیرتِ دینی سے کام لے کر جو آ پ کے رُتبہ کے آدمی کا حق تھا ان لوگوں کو دھتکار دیا اوربہت سختی سے پیش آئے اورفرمایا کہ سب نیک لوگ جانتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی کے طورپر ذوالمروہ اورذو خشب (جہاں ان لوگوں کا ڈیرہ تھا)پر ڈیرہ لگانے والے لشکروں کا ذکر فرماکر ان پر *** فرمائی تھی ۳۰؎ پس خدا تمہارا بُراکرے تم واپس چلے جائو۔ اس پر ان لوگوں نے کہا کہ بہت اچھا ہم واپس چلے جائیں گے اوریہ کہہ کر واپس چلے گئے۔
    اہل کوفہ کا حضرت زبیر ؓ کے پاس جانا
    اہل کوفہ حضرت زبیرؓ کے پاس گئے اوران سے عرض کیاکہ آپ
    عہدۂ خلافت کے خالی ہونے پر اِس عہدہ کوقبول کریں ۔ انہوں نے بھی ان سے حضرت علیؓ کا سا سلوک کیا اور بہت سختی سے پیش آئے اوراپنے پاس سے دھتکاردیا اورکہا کہ سب مومن جانتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے کہ ذوالمروہ اورذوالخشب اوراعوص پر ڈیرہ لگانے والے لشکر *** ہوں گے۔
    اہل بصرہ کا حضرت طلحہ ؓکے پاس جانا
    اسی طرح اہل بصرہ حضرت طلحہ ؓ کے پاس آئے اورانہوں نے بھی ان کو
    ردّ کردیا اوررسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی اورآپؐ کے ان پر *** کرنے سے ان کو آگاہ کیا۳۱؎۔
    محمد بن ابی بکر کا والی مصر مقرر ہونا
    جب یہ حال ان لوگوں نے دیکھا اوراس طرف سے بالکل مایوس ہو گئے تو آخر
    یہ تدبیر کی کہ اپنے فعل پر ندامت کا اظہار کیا اورصرف یہ درخواست کی کہ بعض والی بدل دیئے جائیں۔ جب حضرت عثمانؓ کواس کا علم ہوا توآپ نے کمال شفقت اورمہربانی سے اُن کی اِس درخواست کو قبول کرلیا اور ان لوگوں کی درخواست کے مطابق مصر کے والی عبداللہ بن ابی سرح کو بدل دیااوران کی جگہ محمدبن ابی بکر کو والی مصر مقرر کردیا۔ اس پر یہ لوگ بظاہر خوش ہوکر واپس چلے گئے اور اہل مدینہ خوش ہوگئے کہ خداتعالیٰ نے اسلام کو ایک فسادِ عظیم سے بچا لیا۔ مگرجو کچھ ا نہوں نے سمجھا درست نہ تھا کیونکہ ان لوگوں کے ارادے اورہی تھے اوران کا کوئی کام شرارت اورفساد سے خالی نہ تھا۔
    اختلافِ روایات کی حقیقت
    یاد رکھنا چاہئے کہ یہی وقت ہے جب سے روایات میں نہایت اختلاف شروع ہو جاتا
    ہے اور جو واقعات مَیں نے بیان کئے ہیں اِن کو مختلف راویوں نے مختلف پیرایوں میں بیان کیا ہے حتیّٰ کہ حق بالکل چُھپ گیاہے اوربہت سے لوگوں کو دھوکا لگ گیا ہے اوروہ اس تما م کارر وائی میں یا صحابہ ؓ کو شریک سمجھنے لگے ہیں یا کم سے کم ان کو مفسدوں سے دلی ہمدردی رکھنے والا خیال کرتے ہیں مگر یہ بات درست نہیں۔ اُس زمانہ کی تاریخ کے متعلق بہت احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ اس زمانہ کے بعد کوئی زمانہ ایسا نہیں آیا جو ایک یا دوسرے فریق سے ہمدردی رکھنے والوں سے خالی ہو اوریہ بات تاریخ کے لئے نہایت مضر ہوتی ہے۔ کیونکہ جب سخت عداوت یا ناواجب محبت کا دخل ہو، روایت کبھی بعینٖہ نہیں پہنچ سکتی۔ اگر راوی جھوٹ سے کام نہ بھی لیں تب بھی ان کے خیالات کا رنگ ضرور چڑھ جاتاہے اورپھر تاریخ کے راویوں کے حالات ایسے ثابت شدہ نہیںہیں جیسے کہ احادیث کے رُواۃ کے۔ اورگو مؤرخین نے بہت احتیاط سے کام لیا ہے پھربھی حدیث کی طرح اپنی روایت کو روزِ روشن کی طرح ثابت نہیں کرسکتے۔ پس بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔
    تاریخ کی تصحیح کا زرّیں اصل
    لیکن صحیح حالات معلوم کرنا ناممکن بھی نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے ایسے راستے کھلے رکھے ہیں جن سے صحیح
    واقعات کو خوب عمدگی سے معلوم کیا جاسکتاہے اورایسے راوی بھی موجود ہیں جو بالکل بے تعلق ہونے کی وجہ سے واقعات کو کماحقہ ٗبیان کرتے ہیں اورتاریخ کی تصحیح کا یہ زرّیں اصل ہے کہ واقعاتِ عالم ایک زنجیر کی طرح ہیں۔ کسی منفرد واقعہ کی صحت معلوم کرنے کے لئے اسے زنجیر میں پروکردیکھنا چاہیے کہ وہ کڑی ٹھیک اپنی جگہ پر پروئی بھی جاتی ہے کہ نہیں۔ غلط اورصحیح واقعات میں تمیز کرنے کے لئے یہ ایک نہایت ہی کارآمد مدد گار ہے۔
    غرض اُس زمانہ کے صحیح واقعات معلوم کرنے کے لئے احتیاط کی ضرورت ہے اورجرح وتعدیل کی حاجت ہے۔ سلسلۂ واقعات کو مدّ نظررکھنے کے بغیر کسی زمانہ کی تاریخ بھی صحیح طورپر معلوم نہیںہوسکتی مگراُس زمانہ کی تاریخ توخصوصاًمعلوم نہیں ہوسکتی اوریورپین مصنّفین نے اِسی اختلاف سے فائدہ اُٹھا کر اُس زمانہ کی تاریخ کو ایسا بگاڑا ہے کہ ایک مسلمان کا دل اگروہ غیرت رکھتا ہوان واقعات کوپڑھ کر جلتاہے اوربہت سے کمزورایمان کے آدمی تو اسلام سے بیزار ہوجاتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ خود بعض مسلمان مؤرخین نے بھی بے احتیاطی سے اس مقام پر ٹھوکر کھائی ہے اوردوسروں کو گمراہ کرنے کا باعث بن گئے ہیں۔
    حضرت عثمان ؓ اوردیگر صحابہ ؓ کی بریت
    میں اِس مختصر وقت میں پوری طرح ان غلطیوں پر تو بحث
    نہیں کرسکتا جن میں یہ لوگ پڑے ہوئے ہیں لیکن میں اختصار کے ساتھ وہ صحیح حالات آپ لوگوں کے سامنے بیان کردوں گا جن سے ثابت ہوتاہے کہ حضرت عثمان ؓ اوردیگر صحابہ ؓ ہر ایک فتنہ سے یا عیب سے پاک تھے بلکہ ان کا رویہ نہایت اعلیٰ اخلاق کا مظہر تھا اورا ن کا قدم نیکی کے اعلیٰ مقام پر قائم تھا۔
    باغیوں کا دوبارہ مدینہ میں داخل ہونا
    میں بتا چکاہوں کہ مفسد لوگ بظاہر رضا مندی کا اظہار کر کے اپنے
    گھروں کی طرف واپس چلے گئے۔ کوفہ کے لوگ کوفہ کی طرف، بصرہ کے لوگ بصرہ کی طرف اورمصر کے لوگ مصر کی طرف۔ اوراہل مدینہ امن وامان کی صورت دیکھ کر اور اُن کے لوٹنے پر مطمئن ہوکر اپنے اپنے کاموں پر چلے گئے لیکن ابھی زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ ایسے وقت میں جب کہ اہل مدینہ یا تواپنے کاموں میں مشغول تھے یااپنے گھروں میں یامساجدمیں بیٹھے تھے اوران کو کسی قسم کا خیال بھی نہ تھاکہ کوئی دشمن مدینہ پر چڑھائی کرنے والا ہے اچانک ان باغیوں کا لشکر مدینہ میں داخل ہوا اورمسجد اورحضرت عثمانؓ کے گھر کا محاصرہ کرلیا اورتمام مدینہ کی گلیوں میں مُنادی کرادی گئی کہ جس کسی کو اپنی جان کی ضرورت ہو اپنے گھر میں آرام سے بیٹھارہے اورہم سے برسرِپیکار نہ ہو ورنہ خیرنہ ہوگی۔ ان لوگوں کی آمد ایسی اچانک تھی کہ اہل مدینہ مقابلہ کے لئے کوشش نہ کرسکے۔ حضرت امام حسن ؓ بیان فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں بیٹھا ہو اتھا کہ اچانک شور ہوا اورمدینہ کی گلیوں میں تکبیر کی آواز بلند ہونے لگی(یہ مسلمانوں کا نعرۂ جنگ تھا)ہم سب حیران ہو ئے اوردیکھنا شروع کیا کہ اِس کا باعث کیا ہے۔ میں اپنے گھٹنوں کے بل کھڑا ہوگیا اوردیکھنے لگا۔ اتنے میں اچانک یہ لوگ مسجد میں گھس آئے اورمسجد پر بھی اورآ س پاس کی گلیوں پر بھی قبضہ کرلیا۔
    ان کے اچانک حملہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ صحابہ ؓ اوراہل مدینہ کی طاقت منتشر ہوگئی اوروہ ان سے لڑ نہ سکے اوران کا مقابلہ نہ کرسکے۔کیونکہ شہر کے تمام ناکوں اورمسجد پر انہوں نے قبضہ کر لیا تھا اب دوہی راستے کھلے تھے۔ایک تو یہ کہ باہر سے مدد آوے اوردوسرا یہ کہ اہل مدینہ کسی جگہ پر جمع ہوں اورپھر کسی انتظام کے تحت ان سے مقابلہ کریں۔
    امراوّل کے متعلق ان کو اطمینان تھاکہ حضرت عثمان ؓ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ ان کا رحم اوران کی حُسنِ ظنی بہت بڑھی ہوئی تھی اوروہ ان لوگوں کی شرارت کی ہمیشہ تأویل کر لیتے تھے اورامردوم کے متعلق انہوں نے یہ انتظام کرلیا کہ مدینہ کی گلیوں میں اوراس کے دروازوں پر پہرہ لگادیا اورحکم دے دیا کہ کسی جگہ اجتماع نہ ہونے پائے ۔جہاں کچھ لوگ جمع ہوتے یہ اُن کو منتشر کردیتے۔ ہاں یوں آپس میں بولنے چالنے یا اِکے دُکے کو میل ملاقات سے نہ روکتے تھے۔
    اہل مدینہ کا باغیوں کو سمجھانا
    جب اہل مدینہ کی حیرت ذراکم ہوئی توان میں سے بعض نے مسجد کے پاس آکر جہاں ان کا مرکز
    تھااُن کو سمجھانا شروع کیا۔ اوران کی اس حرکت پر اظہارِ ناراضگی کیا مگر ان لوگوں نے بجائے ان کی نصیحت سے فائدہ اُٹھانے کے اِن کو ڈرایا اوردھمکایا اورصاف کہہ دیا کہ اگر وہ خاموش نہ رہیں گے تو ان کیلئے اچھا نہیں ہوگا اوریہ لوگ ان سے بُری طرح پیش آویں گے۔
    باغیوں کا مدینہ پر تسلط قائم کرنا
    اب گویا مدینہ دارالخلافت نہیں رہا تھا خلیفۂ وقت کی حکومت کو موقوف کردیاگیا تھا
    اور چند مُفسد اپنی مرضی کے مطابق جو چاہتے تھے کرتے تھے۔ اصحابِ ؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا اور دیگراہل مدینہ کیا سب کواپنی عزتوں کا بچانا مشکل ہوگیا تھا اوربعض لوگوں نے تواِس فتنہ کودیکھ کر اپنے گھروں سے نکلنا بند کردیاتھا۔ رات دن گھروں میں بیٹھے رہتے تھے اوراس پر انگشت بدندان تھے۳۲؎ ۔
    اکابر صحابہ ؓ کا باغیوں سے واپسی کی وجہ دریافت کرنا
    چونکہ یہ لوگ پچھلی دفعہ اپنی تسلی کا اظہار کرکے گئے تھے اورآئندہ کے لئے ان کو کوئی شکایت باقی نہ تھی صحابہ ؓ حیرت میں تھے کہ آخر ان کے
    لَوٹنے کا باعث کیا ہے۔ دوسرے لوگوں کوتوان کے سامنے بولنے کی جرأت نہ تھی چند اکابر صحابہ ؓ جن کے نام کی یہ لوگ پناہ لیتے تھے اورجن سے محبت کا دعویٰ کرتے تھے انہوں نے ان سے دریافت کیاکہ آخر تمہارے اس لَوٹنے کی وجہ کیا ہے۔ چنانچہ حضرت علی ؓ ،حضرت طلحہ، حضرت زبیرؓ نے ان لوگوں سے ان کے واپس آنے کی وجہ دریافت کی۔ سب نے باِلاتفاق یہی جواب دیا کہ ہم تسلی اورتشفی سے اپنے گھروں کو واپس جارہے تھے کہ راستہ میں ایک شخص کو دیکھا کہ صدقہ کے ایک اونٹ پر سوار ہے اور کبھی ہمارے سامنے آتاہے اورکبھی پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ ہمارے بعض آدمیوں نے جب اسے دیکھاتو انہیں شک ہوا اورانہوں نے اس کو جاپکڑا۔ جب اس سے دریافت کیا گیاکہ کیا تیرے پاس کوئی خط ہے؟ تواس نے انکار کیا۔ اور جب اس سے دریافت کیا گیا کہ تُوکس کام کو جاتا ہے تواس نے کہا مجھے علم نہیں۔ اس پر ان لوگوں کو اورزیادہ شک ہوا۔ آخراس کی تلاشی لی گئی اوراس کے پاس سے ایک خط نکلا جو حضرت عثمان ؓ کا لکھاہوا تھا اوراس میں والی مصرکو ہدایت کی گئی تھی کہ جس وقت مفسد مصر واپس لَوٹیں ان میں سے فلاں فلاں کو قتل کردینا اورفلاںفلاں کو کوڑے، اوران کے سراورداڑھیاں منڈوا دینا اورجو خط ان کی معرفت تمہارے معزول کئے جانے کے متعلق لکھا ہے اس کوباطل سمجھنا۔ یہ خط جب ہم نے دیکھا توہمیں سخت حیرت ہوئی اورہم لوگ فوراً واپس لَوٹے۔ حضرت علیؓ نے یہ بات سن کر فوراً ان سے کہا کہ یہ بات تومدینہ میں بنائی گئی ہے کیونکہ اے اہل کوفہ اوراے اہل بصرہ!تم لوگوں کو کیونکر معلوم ہوا کہ اہل مصر نے کوئی ایسا خط پکڑا ہے حالانکہ تم ایک دوسرے سے کئی منزلوں کے فاصلے پرتھے اورپھر یہ کیونکر ہوا کہ تم لوگ اس قدر جلد واپس بھی آگئے۔ اس اعتراض کا جواب نہ وہ لوگ دے سکتے تھے اورنہ اس کا کوئی جواب تھا پس انہوں نے یہی جواب دیا کہ جو مرضی آئے کہو اورجو چاہو ہماری نسبت خیال کرو ہم اس آدمی کی خلافت کو پسند نہیں کرتے اپنے عہدے سے دست بردار ہوجائے۔ محمد بن مسلمہ ؓ جو اکابر صحابہ ؓ میں سے تھے اورجماعت انصار میں سے تھے۔ کعب بن اشرف جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کااوراسلام کا سخت دشمن تھا اوریہود میں ایک بادشاہ کی حیثیت رکھتاتھا جب اس کی شرارتیں حد سے بڑھ گئیں اورمسلمانوں کی تکلیف کی کوئی حد نہ رہی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے ماتحت انہوں نے اس کوقتل کرکے اسلام کی ایک بہت بڑی خدمت کی تھی انہوں نے جب یہ واقعہ سنا تو یہی جرح کی اورصاف کہہ دیا کہ یہ صرف ایک فریب ہے جو تم نے کیا ہے۔
    حضرت عثمانؓ کا باغیوں کیلئے الزام سے بریت ثابت کرنا
    گو صحابہ ؓ نے ان کی اس بات کو عقلاً ردّ کردیا مگر ان لوگوں کی دلیری اب حد سے بڑھ گئی تھی۔ باوجود اس ذلّت کے جو ان کو پہنچی تھی
    انہوںنے حضرت عثمان ؓ کے سامنے اس معاملہ کو پیش کیا اورآپ سے اس کا جواب مانگا۔ اُس وقت بہت سے اکابر صحابہ ؓ بھی آپ کی مجلس میں تشریف رکھتے تھے۔ آپ نے ان کو جواب دیا کہ شریعت اسلامیہ کے مطابق کسی امر کے فیصلہ کے دوہی طریق ہیں۔ یا تو یہ کہ مدعی اپنے دعویٰ کی تائید میں دو گواہ پیش کرے یا یہ کہ مدعا علیہ کو قسم دی جائے۔ پس تم پر فرض ہے کہ تم دوگواہ اپنے دعویٰ کی تائید میں پیش کرو ورنہ میں اُس خدا کی قسم کھاتا ہوں جس کے سوا اورکوئی معبود نہیں کہ نہ میں نے یہ خط لکھا ہے نہ میرے مشورہ سے یہ خط لکھا گیااورنہ ہی لکھوایا ہے نہ مجھے علم ہے کہ یہ خط کس نے لکھاہے۔ پھر فرمایا کہ تم لوگ جانتے ہو کہ کبھی خط جھوٹے بھی بنالئے جاتے ہیں اورانگوٹھیوں جیسی اَور انگوٹھیاں بنائی جاسکتی ہیں۔ جب صحابہ ؓ نے آپ کا یہ جواب سنا توانہوں نے حضرت عثمان ؓکی تصدیق کی اورآپ کو اس الزام سے بری قراردیا۔ مگر ان لوگوں پراس کاکوئی اثر نہ ہوا اورہوتابھی کیونکر۔ انہوں نے توخود وہ خط بنایاتھا۔ سوتے ہوئے آدمی کو توآدمی جگا سکتاہے جوجاگتاہو اورظاہر کرے کہ سورہاہے اُسے کون جگائے۔ ان لوگوں کے سردارتو خوب سمجھتے تھے کہ یہ ہمارا اپنا فریب ہے۔ وہ ان جوابات کی صحت یا معقولیت پر کب غور کرسکتے تھے اوران کے اتباع ان کے غلام بن چکے تھے جوکچھ وہ کہتے وہ سنتے تھے اورجوکچھ بتاتے تھے اسے تسلیم کرتے تھے۔
    باغیوں کے منصوبے کی اصلیت
    ان لوگوں پر نہ تواثرہوسکتاتھا نہ ہوا مگر آنکھوں والوں کے لئے حضرت عثمان ؓ کا
    جواب شرم وحیا کی صفاتِ حسنہ سے ایسا متصف ہے کہ اس سے ان مفسدوں کی بے حیائی اوروقاحت اوربھی زیادہ نمایاں ہوجاتی ہے جب کہ وہ مفسد ایک جھوٹا خط بنا کر حضرت عثمان ؓ پر فریب اوردھوکے کا الزام لگاتے ہیں ۔اور جب کہ حضرت علیؓ اور محمد بن مسلمہؓ واقعات سے نتیجہ نکال کر ان لوگوں پر صاف صاف دھوکے کا الزام لگاتے ہیں خود حضرت عثمان ؓ جن پر الزام لگایاگیا ہے اورجن کے خلاف یہ منصوبہ کھڑاکیا گیا ہے اپنے آپ سے توالزام کو دفع کرتے ہیں مگر یہ نہیںفرماتے کہ تم نے یہ خط بنایا ہے بلکہ ان کی غلطی پر بھی پردہ ڈالتے ہیں اورصرف اِسی قدر فرماتے ہیں کہ تم جانتے ہو کہ خط خط سے مل جاتاہے اورانگوٹھی کی نقل بنائی جاسکتی ہے اوراونٹ بھی چُرایا جاسکتاہے۔
    بعض لوگ جو حضرت عثمان ؓ کو بھی اِس الزام سے بری سمجھتے ہیں اوران لوگوں کی نسبت بھی حُسنِ ظنی سے کام لینا چاہتے ہیں خیال کرتے ہیں کہ یہ خط مروان نے لکھ کر بطور خود بھیج دیا ہوگا مگر میرے نزدیک یہ خیال بالکل غلط ہے واقعات صاف بتاتے ہیں کہ یہ خط انہی مُفسدوں نے بنایا ہے نہ کہ مروان یا کسی اورشخص نے۔ اوریہ خیال کہ اگر انہوں نے بنایا ہوا تھا تو حضرت عثمان ؓ کا غلام اورصدقہ کا اونٹ ان کے ہاتھ کہاں سے آیا اورحضرت عثمان ؓ کے کاتب کا خط انہوں نے کس طرح بنالیا اورحضرت عثمان ؓ کی انگوٹھی کی مہر اس پر کیونکر لگادی ایک غلط خیال ہے۔کیونکہ ہمارے پاس اس کی کافی وجوہ موجود ہیں کہ یہ خط انہیں لوگوں نے بنایا تھا۔ گو واقعات سے ایسا معلوم ہوتاہے اوریہی قرین قیاس ہے کہ یہ فریب صرف چند اکابر کا کام تھا اورکوئی تعجب نہیں کہ صرف عبداللہ بن سبا اوراس کے چندخاص شاگردوں کاکام ہو۔ اوردوسرے لوگوں کو خواہ وہ سردارِ لشکر ہی کیوں نہ ہوں اس کا علم نہ ہو۔
    خط والے منصوبے کے ثبوت میں سات دلائل
    اس امر کا ثبوت کہ یہ کارروائی انہی لوگوں
    میں سے بعض لوگوں کی تھی یہ ہے:۔
    اوّل ان لوگوں کی نسبت اس سے پہلے ثابت ہوچکاہے کہ اپنے مدعا کے حصول کے لئے یہ لوگ جھوٹ سے پرہیز نہیں کرتے تھے جیساکہ ولید بن عتبہ اورسعید بن العاص کے مقابلہ میں انہوں نے جھوٹ سے کام لیا۔ اسی طرح مختلف ولایا ت کے متعلق جھوٹی شکایات مشہور کیں جن کی تحقیق اکابرصحابہ ؓ نے کی اوران کو غلط پایا۔ پس جب کہ ان لوگوں کی نسبت ثابت ہو چکا ہے کہ جھوٹ سے ان کو پرہیز نہ تھا توکوئی وجہ نہیں کہ اس امر میں ان کو ملزم نہ قرار دیا جاوے اور ایسے لوگوں پر الزام لگایا جاوے جن کا جھوٹ ثابت نہیں ۔
    دوم جیسا کہ حضرت علی ؓ اورمحمد بن مسلمہ ؓ نے اعتراض کیا ہے ان لوگوں کا ایسی جلدی واپس آجانا اورایک وقت میں مدینہ میں داخل ہونا اس بات کی شہادت ہے کہ یہ ایک سازش تھی۔ کیونکہ جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہوتاہے اہل مصر بیان کرتے تھے کہ انہوں نے بویب مقام پر اس قاصد کو جو ان کے بیان کے مطابق حضرت عثمان ؓ کا خط والی مصر کی طرف لے جا رہا تھا پکڑا تھا۔ بویب مدینہ سے کم سے کم چھ منازل پر واقع ہے اوراس جگہ واقع ہے جہاں سے مصر کا راستہ شروع ہوتاہے۔ جب اہل مصر اس جگہ تک پہنچ گئے تھے تواہل کوفہ اوراہل بصرہ بھی قریباً باِلمقابل جہات پر چھ چھ منازل طے کرچکے ہوںگے اوراس طرح اہل مصر سے جو کچھ واقع ہوا اُس کی اطلاع دونوں قافلوں کو کم سے کم بارہ تیرہ دن میں مل سکتی تھی اوران کے آنے جانے کے دن شامل کرکے قریباً چوبیس دن میں یہ لوگ مدینہ پہنچ سکتے تھے۔ مگر یہ لوگ اس عرصہ سے بہت کم عرصہ میں واپس آگئے تھے۔ پس صاف ثابت ہوتاہے کہ مدینہ سے رخصت ہونے سے پہلے ہی ان لوگوں نے آپس میں منصوبہ بنا لیا تھا کہ فلاں تاریخ کو سب قافلے واپس مدینہ لَوٹیں اورایک دم مدینہ پر قبضہ کرلیں۔ اورچونکہ مصری قافلہ کے ساتھ عبداللہ بن سبا تھا اوروہ نہایت ہوشیار آدمی تھا اُس نے ایک طرف تویہ دیکھا کہ لوگ اُن سے سوال کریں گے کہ تم بِلاوجہ لَوٹے کیوں ہو اوردوسری طرف اس کویہ بھی خیال تھا کہ خود اس کے ساتھیوں کے دل میں بھی یہ بات کھٹکے گی کہ فیصلہ کے بعد نقص عہد کیوں کیا گیاہے اُس لئے اس نے جعلی خط بنایا اورخود اپنے ساتھیوں کی عقلوں پر پردہ ڈال دیا اورغیظ وغضب کی آگ کوان کے دلوں میں اَور بھی بھڑکا یا اورصدقہ کے اونٹ کا چرا لینا اورکسی غلام کو رشوت دے کر ساتھ ملا لینا کوئی مشکل بات نہیں۔
    سوئم اس خط کے پکڑنے کا واقعہ جس طرح بیان کیا جاتاہے وہ خود غیر طبعی ہے۔ کیونکہ اگر حضرت عثمان ؓ نے یا مروان نے کوئی ایساخط بھیجا ہوتا تو یہ کیونکر ہوسکتاتھا کہ وہ غلام کبھی ان کے سامنے آتا اورکبھی چھپ جاتا۔ یہ حرکت تووہی شخص کرسکتاہے جو خود اپنے آپ کو پکڑوانا چاہے۔ اس غلام کو توبقول ان لوگوں کے حکم دیا گیا تھا کہ اس قافلہ سے پہلے مصر پہنچ جائے ۔ پھر بویب مقام پر جو مصر کا دروازہ ہے اس شخص کا ان کے ساتھ ساتھ جانا کیونکر خیال میں آسکتا ہے قافلہ اور ایک آدمی کے سفر میں بہت فرق ہوتا ہے۔ ایک آدمی جس سُرعت سے سفر کر سکتا ہے قافلہ نہیں کرسکتا۔ کیونکہ قافلہ کی حوائج بہت زیادہ ہوتی ہیں اورسب قافلہ کی سواریاں ایک جیسی تیز نہیں ہوتیں۔ پس کیونکر ممکن تھا کہ بویب تک قافلہ پہنچ جاتا اوروہ پیغامبر ابھی قافلہ کے ساتھ ہی ہوتا اُس وقت تواسے اپنی منزلِ مقصود کے قریب ہونا چاہیے تھا۔ جو حالت وہ اس پیغامبر کی بیان کرتے ہیں وہ ایک جاسوس کی نسبت تومنسو ب کی جاسکتی ہے پیغامبر کی نسبت منسوب نہیں کی جاسکتی۔ اسی طرح جب اس پیغامبر کوپکڑا گیا توجو سوال وجواب اُس سے ہوئے وہ بالکل غیر طبعی ہیں۔ کیونکہ وہ بیان کرتاہے کہ وہ پیغامبر ہے لیکن نہ اسے کوئی خط دیا گیاہے اورنہ اسے کوئی زبانی پیغام دیاگیاہے۔ یہ جواب سوائے اس شخص کے کون دے سکتاہے جو یا تو پاگل ہویا خود اپنے آپ کو شک میں ڈالنا چاہتاہو۔ اگر واقع میں وہ شخص پیغامبر ہوتا تو اسے کیاضرورت تھی کہ وہ کہتا کہ میں حضرت عثمان ؓ یا کسی اور کا بھیجاہوا ہوں ۔ یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ وہ سچ کا بڑاپابند تھا کیونکہ کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس خط تھا مگراس نے کہا کہ میرے پاس کوئی خط نہیں۔ پس ان لوگوں کی روایت کے مطابق اس پیغامبر نے جھوٹ توضرور بولا۔ پس سوا ل یہ ہے کہ اس نے وہ جھوٹ کیوں بولا جس سے وہ صاف طورپر پکڑا جاتاتھا وہ جھوٹ کیوں نہ بولا جوایسے موقع پر اس کو گرفتاری سے بچا سکتا تھا۔ غرض یہ تما م واقعات بتاتے ہیں کہ خط اورخط لے جانے والے کا واقعہ شروع سے آخرتک فریب تھا۔ اِنہی مفسدوں میں سے کسی نے (زیادہ ترگمان یہ ہے کہ عبداللہ بن سبا نے )ایک جعلی خط بنا کر ایک شخص کو دیا ہے کہ وہ اسے لے کر قافلہ کے پاس سے گزرے لیکن چونکہ ایک آباد راستہ پرایک سوار کو جاتے ہوئے دیکھ کر پکڑلینا قرین قیاس نہ تھا اوراس خط کو بنانے والا چاہتاتھا کہ جہاں تک ہوسکے اس واقعہ کو دوسرے کے ہاتھ سے پوراکروائے اس لئے اس نے اس قاصدکو ہدایت کی کہ وہ اس طرح قافلہ کے ساتھ چلے کہ لوگوں کے دلوں میں شک پیدا ہو اورجب وہ اس شک کو دور کرنے کے لئے سوال کریں توایسے جواب دے کہ شک اورزیادہ ہو۔ تاکہ عامۃ الناس خود اس کی تلاشی لیں اورخط اس کے پاس دیکھ کر ان کویقین ہوجاوے کہ حضرت عثمان ؓ نے ان سے فریب کیاہے۔
    چہارم اس خط کا مضون بھی بتاتاہے کہ وہ خط جعلی ہے اورکسی واقف کا رمسلمان کا بنایاہوا نہیں۔ کیونکہ بعض روایات میں اس کا یہ مضمون بتایاگیاہے کہ فلاں فلاں کی ڈاڑھی منڈوائی جاوے حالانکہ ڈاڑھی منڈوانا اسلام کی روسے منع ہے اوراسلامی حکومتوں میں سزاصرف وہی دی جاسکتی تھی جو مطابق اسلام ہو۔ یہ ہرگز جائز نہ تھا کہ کسی شخص کو سزاکے طور پر سؤر کھلایا جاوے یا شراب پلائی جاوے یا ڈاڑھی منڈوائی جاوے۔ کیونکہ یہ ممنوع امر ہے سزا صرف قتل یا ضرب یا جُرمانہ یا نفی عن الارض کی اسلام سے ثابت ہے خواہ نفی بصورت جلاوطنی ہویا بصورت قید۔ اس کے سوا کوئی سزا اسلام سے ثابت نہیں اورنہ آئمہ اسلام نے کبھی ایسی سزادی۔ نہ خود حضرت عثمان ؓ یا ان کے عُمال نے کبھی کوئی ایسی سزادی۔ پس ایسی سزا کا اس خط میں تحریر ہونا اس امر کا کافی ثبوت ہے کہ یہ خط کسی ایسے شخص نے بنایا تھا جو مغز اسلام سے واقف نہ تھا۔
    پنجم اس خط سے پہلے کے واقعات بھی اس امر کی تردید کرتے ہیں کہ یہ خط حضرت عثمان ؓ یا ان کے سیکریٹری کی طرف سے ہو کیونکہ تمام روایات اس امر پر متفق ہیں کہ حضرت عثمان ؓ نے ان لوگوں کو سزا دینے میں بہت ڈھیل سے کام لیا ہے۔ اگر آپ چاہتے تو جس وقت یہ لوگ پہلی دفعہ آئے تھے اُسی وقت اُن کو قتل کردیتے۔ اگر اس دفعہ انہوں نے چھوڑ دیا تھا تو دوسری دفعہ آنے پر توضرور ہی ان سرغنوں کو گرفتار کیا جاسکتاتھا کیونکہ وہ کھلی کھلی سرکشی کرچکے تھے اورصحابہ ؓ ا ن سے لڑنے پر آمادہ تھے۔ مگر اُس وقت ان سے نرمی کرکے مصرکے والی کو خط لکھنا کہ ان کو سزا دے ایک بعید ازعقل خیال ہے ۔ اوریہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ حضرت عثمان ؓ کی نرمی کو دیکھ کر مروان نے ایسا خط لکھ دیا ہو کیونکہ مروان یہ خوب جانتا تھا کہ حضرت عثمان ؓ حدود کے قیام میں بہت سخت ہیں۔ وہ ایسا خط لکھ کر سزا سے محفوظ رہنے کا خیال ایک منٹ کے لئے بھی اپنے دل میں نہیں لاسکتاتھا۔ پھراگر وہ ایسا خط لکھتا بھی تو کیوں صرف مصر کے والی کے نام لکھتا، کیوں نہ بصرہ اورکوفہ کے والیوں کے نام بھی وہ ایسے خطوط لکھ دیتا جس سے سب دشمنوں کا ایک دفعہ ہی فیصلہ ہوجاتا۔ صرف مصر کے والی کے نام ہی خط لکھاجانا اس امر پر دلالت کرتاہے کہ کوفہ اوربصرہ کے قافلوں میں کوئی عبداللہ بن سبا جیسا چال باز آدمی نہ تھا۔
    اگر یہ کہاجائے کہ شاید ان دونوں علاقوں کے والیوں کے نام بھی ایسے احکام جاری کئے گئے ہوں گے مگران کے جانے والے پکڑے نہیں گئے۔ تواس کاجواب یہ ہے کہ اگر ایسا ہوتا تویہ بات مخفی نہیںرہ سکتی تھی۔ کیونکہ اگر عبداللہ بن عامر پر یہ الزام لگادیا جاوے کہ وہ حضرت عثمانؓ کا رشتہ دار ہونے کے سبب خاموش رہاتو حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ جو اکابر صحابہؓ میں سے تھے اورجن کے کامل الایمان ہونے کا ذکر خود قرآن شریف میں آتاہے اورجو اُس وقت کوفہ کے والی تھے وہ کبھی خاموش نہ رہتے اورضرور بات کو کھول دیتے۔ پس حق یہی ہے کہ یہ خط جعلی تھا اورمصری قافلہ میں سے کسی نے بنایا تھا اورچونکہ مصری قافلہ کے سوا دوسرے قافلوں میں کوئی شخص نہ اس قسم کی کارروائی کرنے کا اہل تھا اورنہ اس قدر عرصہ میں متعدد اونٹ بیت المال کے چُرائے جاسکتے تھے۔ اور نہ اس قدر غلام قابو کئے جاسکتے تھے اس لئے دوسرے علاقوں کے والیوں کے نام کے خطوط نہ بنائے گئے۔
    ششم سب سے زیادہ اس خط پر روشنی وہ غلام ڈال سکتاتھا جس کی نسبت ظاہر کیا جاتاہے کہ وہ خط لے گیاتھا مگر تعجب ہے کہ باوجود اس کے کہ حضرت عثمان ؓ نے گواہوں کا مطالبہ کیا ہے اس غلام کو پیش نہیں کیا گیا اورنہ بعد کے واقعات میں اس کا کوئی ذکر آتاہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا پیش کیا جانا ان لوگوں کے مفاد کے خلاف تھا۔ شاید ڈرتے ہوں کہ وہ صحابہؓ کے سامنے آکر اصل واقعات کوظاہر کردے گا۔ پس اُس کو چھپادینا بھی اِس امر کا ثبوت ہے کہ خط کے بنانے والا یہ مفسد گروہ ہی تھا۔
    ہفتم ایک نہایت زبردست ثبوت اس بات کا کہ ان لوگوں نے ہی یہ خط بنایا تھا یہ ہے کہ یہ پہلا خط نہیں جو انہوں نے بنایا ہے بلکہ اس کے سوا اِسی فساد کی آگ بھڑکانے کے لئے اورکئی خطوط انہوں نے بنائے ہیں ۔ پس اس خط کا بنانا بھی نہ ان کے لئے مشکل تھا اورنہ اس واقعہ کی موجودگی میں کسی اورشخص کی طرف منسوب کیاجاسکتاہے۔ وہ خط جویہ پہلے بناتے رہے ہیں حضرت علی ؓ کے بدنام کرنے کے لئے تھے اور ان میں اس قسم کا مضمون ہوتاتھا کہ تم لوگ حضرت عثمان ؓ کے خلاف جوش بھڑکائو۔ ان خطوط کے ذریعے عوام الناس کا جوش بھڑکایا جاتا تھا اوروہ حضرت علی ؓ کی تصدیق دیکھ کر عبداللہ بن سبا کی باتوں میں پھنس جاتے تھے۔ لیکن معلوم ہوتاہے کہ ان خطوط کا مضمون بہت مخفی رکھنے کا حکم تھا تاکہ حضرت علیؓ کو معلوم نہ ہوجائے اوروہ ان کی تردید نہ کردیں۔ اورمخفی رکھنے کی تاکید کی وجہ بھی بانیانِ فساد کے پاس معقول تھی۔ یعنی اگریہ خط ظاہر ہوں گے توحضرت علیؓ ؓمشکلات میں پڑ جاویں گے۔ اس طرح لوگ حضرت علی ؓ کی خاطر ان خطوط کے مضمون کو کسی پرظاہر نہ کرتے تھے اوربات کے مخفی رہنے کی وجہ سے بانیانِ فساد کا جھوٹ کھلتا بھی نہ تھا۔ لیکن جھوٹ آخر زیادہ دیر تک چھپا نہیں رہتا خصوصاً جب سینکڑوں کواس سے واقف کیا جاوے۔ حضرت عثمان ؓ کے نام پر لکھاہوا خط پکڑا گیا اورعام اہل کوفہ نہایت غصہ سے واپس ہوئے توان میںسے ایک جماعت حضرت علی ؓ کے پاس گئی اوران سے مدد کی درخواست کی۔ حضرت علیؓ توتمام واقعہ کوسن کر ہی اس کے جھوٹا ہونے پر آگاہ ہوچکے تھے اوراپنی خداداد فراست سے اہل مصر کا فریب ان پر کھل چکا تھا۔ آ پ نے صاف انکار کردیا کہ میں ایسے کام میں تمہارے ساتھ شریک نہیں ہوسکتا اُس وقت جوش کی حالت میں ان میں سے بعض سے احتیاط نہ ہوسکی اوربے اختیار بول اُٹھے کہ پھر ہم سے خط وکتابت کیوں کرتے تھے ۔ حضرت علی ؓ کے لئے یہ ایک نہایت حیرت انگیز بات تھی۔ آپ نے اس سے صاف انکار کیا اور لا علمی ظاہر کی اورفرمایا کہ خداتعالیٰ کی قسم ہے میں نے کبھی کوئی خط آپ لوگوں کی طرف نہیں لکھا۳۳؎۔اس پر ان لوگوں کوبھی سخت حیرت ہوئی کیونکہ درحقیقت خود ان کو بھی دھوکا دیا گیاتھا اورانہوں نے ایک دوسرے کی طرف حیرت سے دیکھا اوردریافت کیا کہ کیا اس شخص کے لئے تم غضب ظاہر کرتے ہو اورلڑتے ہو یعنی یہ شخص توایسا بزدل ہے کہ سب کچھ کرکراکرموقع پر اپنے آپ کو بالکل بری ظاہر کرتاہے (نَعُوْذُبِاﷲِ مِنْ ذٰلِکَ)
    اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں میں بعض ایسے آدمی موجود تھے جوجعلی خطوط بنانے میں مہارت رکھتے تھے اوریہ بھی کہ ایسے آدمی مصریوں میں موجود تھے۔ کیونکہ حضرت علی ؓکے نام پر خطوط صرف مصریوں کی طرف لکھے جاسکتے تھے جوحضرت علیؓ کی محبت کے دعویدار تھے۔ پس اس خط کا جو حضرت عثمان ؓ کی طرف منسوب کیا جاتاتھا مصری قافلہ میں پکڑا جانا اِس بات کا روشن ثبوت ہے کہ اس کا لکھنے والا مدینہ کاکوئی شخص نہ تھا بلکہ مصری قافلہ کاہی ایک فردتھا۔
    خط کا واقعہ چونکہ حضرت عثمانؓ کے خلاف الزام لگانے والوں کے نزدیک سب سے اہم واقعہ ہے اس لئے میں نے اِس پر تفصیلاً اپنی تحقیق بیان کردی ہے اورگو اس واقعہ پر اَور بسط سے بھی بیان کیا جاسکتاہے مگرمیں سمجھتاہوں کہ جو کچھ بیان کیا جاچکاہے اس امر کے ثابت کرنے کیلئے کہ یہ خط ایک جعلی اوربناوٹی خط تھا اوریہ کہ اس خط کے بنانے والے عبداللہ بن سبا اوراس کے ساتھی تھے نہ کہ مروان یا کوئی اور شخص(حضرت عثمان ؓ کی ذات تو اس سے بہت ارفع ہے)کافی ہے۔
    مفسدوں کی اہل مدینہ پر زیادتیاں
    اب میں پھر سلسلۂ واقعات کی طرف لوٹتا ہوں۔ اس جعلی خط کے زور پر اور
    اچانک مدینہ پر قبضہ کرلینے کے گھمنڈ پر ان مفسدوں نے خوب زیادتیاں شروع کیں۔ ایک طرف تو حضرت عثمان ؓ پر زور دیا جاتا کہ وہ خلافت سے دست بردار ہوجائیں دوسری طرف اہل مدینہ کو تنگ کیا جاتا کہ وہ حضرت عثمان ؓ کی مددکے لئے کوشش نہ کریں۔ اہل مدینہ بالکل بے بس تھے دوتین ہزار مسلح فوجی جوشہر کے راستوں اورچوکوں اوردروازوں کی ناکہ بندی کئے ہوئے تھے اس کا مقابلہ یوںبھی آسان نہ تھا مگر اس صورت میں کہ وہ چند آدمیوں کوبھی اکٹھا ہونے نہ دیتے تھے اوردودوچارچار آدمیوں سے زیادہ آدمیوں کا ایک جگہ جمع ہونا ناممکن تھا،باغی فوج کے مقابلہ کا خیال بھی دل میں لانا محال تھا۔ اوراگر بعض منچلے جنگ پر آمادہ بھی ہوتے توسوائے ہلاکت کے اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلتا۔ مسجد ایک ایسی جگہ تھی جہاں لوگ جمع ہوسکتے تھے مگر ان لوگوں نے نہایت ہوشیاری سے اس کا بھی انتظام کرلیا تھااوروہ یہ کہ نماز سے پہلے تمام مسجدمیں پھیل جاتے اور اہل مدینہ کو اس طرح ایک دوسرے سے جُداجُدا رکھتے کہ وہ کچھ نہ کرسکتے۔
    حضرت عثمان ؓکا مفسدوں کونصیحت کرنا
    باوجود اس شور وفساد کے حضرت عثمان ؓ نماز پڑھانے کے لئے
    باقاعدہ مسجد میں تشریف لاتے اوریہ لوگ بھی آپ سے اس معاملہ میں تعرّض نہ کرتے اورامامت نماز سے نہ روکتے حتیّٰ کہ ان لوگوں کے مدینہ پر قبضہ کرلینے کے بعد سب سے پہلا جمعہ آیا۔ حضرت عثمان ؓ نے جمعہ کی نماز سے فارغ ہوکر ان لوگوں کو نصیحت فرمائی اورفرمایا کہ اے دشمنانِ اسلام!خدا تعالیٰ کا خوف کرو۔ تمام اہل مدینہ اس بات کو جانتے ہیں کہ تم لوگوں پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے *** فرمائی ہے۔ پس توبہ کرو اوراپنے گناہوں کو نیکیوں کے ذریعے سے مٹائو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ گناہوں کونیکیوں کے سوا کسی اور چیز سے نہیں مٹاتا۔ اس پر محمد بن مسلمہ ؓانصاری کھڑے ہوئے اورکہا کہ میں اس امر کی تصدیق کرتا ہوں۔ ان لوگوں نے سمجھا کہ حضرت عثمانؓ پر تو ہمارے ساتھی بدظن ہیں لیکن صحابہؓ نے اگر آپ کی تصدیق کرنی شروع کی اورہماری جماعت کومعلوم ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری نسبت خاص طور پر پیشگوئی فرمائی تھی توعوام شاید ہماراساتھ چھوڑدیں۔ اس لئے انہوں نے اس سلسلہ کو روکنا شروع کیا۔ اورمحمدبن مسلمہ ؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرب صحابی کو جو تائید خلافت کے لئے نہ کسی فتنہ کے برپا کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تھے حکیم بن جبلہ ڈاکو نے جس کا ذکر میں شروع میں کرچکاہوں جبراً پکڑ کربٹھا دیا ۔ اس پر زید بن ثابت ؓ جن کو قرآن کریم کے جمع کرنے کی عظیم الشان خدمت سپرد ہوئی تھی تصدیق کے لئے کھڑے ہوئے مگر ان کو بھی ایک اورشخص نے بٹھادیا۔
    مفسدوںکا عصائے نبوی کو توڑنا
    اس کے بعد اس محبت اسلام کا دعویٰ کرنے والی جماعت کے ایک فرد نے حضرت عثمانؓ
    کے ہاتھ سے وہ عصا جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے اور آپ کے بعد حضرت ابوبکر ؓاورحضرت عمر ؓ ایساہی کرتے رہے چھین لیا اوراس پر اکتفانہ کی بلکہ رسول کریم ﷺکی اس یاد گارکو جو اُمت اسلام کیلئے ہزاروں برکتوں کا موجب تھی اپنے گھٹنوں پر رکھ کر توڑدیا۔ حضرت عثمان ؓ سے ان کو نفر ت سہی، خلافت سے ان کو عداوت سہی مگر رسول کریم ﷺسے توان کو محبت کا دعویٰ تھا پھر رسول کریم ﷺکی اس یاد گارکو اس بے ادبی کے ساتھ توڑدینے کی ان کو کیونکر جرأت ہوئی۔ یورپ آج دہریت کی انتہائی حدکو پہنچا ہوا ہے مگر یہ احساس اس میں بھی باقی ہے کہ اپنے بزرگوں کی یادگاروں کی قدرکرے۔ مگران لوگوں نے باوجود دعوائے اسلام کے رسول کریم ﷺکے عصائے مبارک کو توڑ کر پھینک دیا۔ جس سے معلوم ہوتاہے کہ اسلام کی نصرت کا جوش صرف دکھاوے کاتھا ورنہ اس گروہ کے سردار اسلام سے ایسے ہی دُورتھے جیسے کہ آج اسلام کے سب سے بڑے دشمن۔
    مفسدوں کا مسجدنبوی میں کنکر برسانا اور حضرت عثمان ؓکو زخمی کرنا
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عصا توڑکر بھی ان لوگوں کے دلوں کو ٹھنڈک نہ حاصل ہوئی اور انہوں نے اس مسجد
    میں جس کی بنیاد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی تھی اورجس کی تعمیر نہایت مقدس ہاتھوں سے ہوئی تھی کنکروں کا مینہہ برسانا شروع کیا اورکنکر مار مارکر صحابہؓ کرام اور اہل مدینہ کو مسجد نبوی سے باہر نکال دیا اورحضرت عثمان ؓ پر اِس قدر کنکر برسائے گئے کہ آپ بے ہوش ہوکر منبر پر سے گر گئے اورچند آدمی آپ کو اُٹھاکر گھر چھوڑ آئے۔
    یہ اس محبت کا نمونہ تھا جو ان لوگوں کو اسلام اورحاملانِ شریعت اسلام سے تھی۔ اوریہ وہ اخلاقِ فاضلہ تھے جن کو یہ لوگ حضر ت عثما نؓ کو خلافت سے علیحدہ کرکے عالمِ اسلام میں جاری کرنا چاہتے تھے۔ اس واقعہ کے بعد کون کہہ سکتاہے کہ حضرت عثمان ؓ کے مقابلہ میں کھڑی ہونے والی جماعت صحابہ ؓ سے کوئی تعلق رکھتی تھی یایہ کہ فی الواقع حضرت عثمانؓ کی بعض کارروائیوں سے وہ شورش کرنے پر مجبور ہوئے تھے یا یہ کہ حمیت اسلامیہ ان کے غیظ وغضب کا باعث تھی۔ ان کی بد عملیاںاس بات کا کافی ثبوت ہیں کہ نہ اسلام سے ا ن کو کوئی تعلق تھا، نہ دین سے ان کو کوئی محبت تھی، نہ صحابہ ؓ سے ان کو کوئی اُنس تھا۔وہ اپنی مخفی اغراض کے پوراکرنے کے لئے ملک کے امن وامان کوتباہ کرنے پر آمادہ ہورہے تھے اوراسلام کے قلعہ میں نقب زنی کرنے کی کوشش کررہے تھے۔
    صحابہ ؓ کی مفسدوں کے خلاف جنگ پر آمادگی
    اِس واقعہ ہائلہ کے بعد صحابہ ؓ اور اہل مدینہ نے
    سمجھ لیا کہ ان لوگوں کے دلوں میں اِس سے بھی زیادہ بغض بھراہوا ہے جس قدر کہ یہ ظاہر کرتے ہیں۔ گو وہ کچھ کر نہیں سکتے تھے مگر بعض صحابہ ؓ جواس حالت سے موت کو بہتر سمجھتے تھے اس بات پر آمادہ ہوگئے کہ خواہ نتیجہ کچھ بھی ہوجاوے ہم ان سے جنگ کریںگے۔ اِس دوتین ہزار کے لشکر کے مقابلہ میں چار پانچ آدمیوں کا لڑنا دنیا داری کی نظروں میں شاید جنون معلوم ہو۔ لیکن جن لوگوں نے اسلام کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیاہواتھاانہیں اس کی حمایت میں لڑنا کچھ بھی دوبھر نہیں معلوم ہوتاتھا۔ ان لڑائی پر آمادہ ہوجانے والوں میں مفصّلہ ذیل صحابہ ؓ بھی شامل تھے۔ سعد بن مالک ؓ ،حضرت ابوہریرہؓ،زیدبن صامتؓ اور حضرت امام حسنؓ۔ جب حضرت عثمانؓ کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے فوراً اِن کو کہلا بھیجا کہ ہرگز ان لوگوں سے نہ لڑیں اوراپنے اپنے گھروں کوچلے جائیں۔
    حضرت عثما نؓ کی محبت جو آپ کو صحابہ ؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کے اہل بیت سے تھی اس نے بے شک اس لڑائی کوجوچندجان فروش صحابہ ؓ اوراس دوتین ہزارکے باغی لشکر کے درمیان ہونے والی تھی روک دیا۔ مگراس واقعہ سے یہ بات ہمیں خوب اچھی طرح سے معلوم ہوجاتی ہے کہ صحابہؓ میں ان لوگوں کی شرارتوں پر کس قدر جوش پیدا ہورہاتھا۔ کیونکہ چند آدمیوں کاایک لشکرِ جرارکے مقابلہ پر آمادہ ہوجانا ایسی صورت میں ممکن ہے کہ وہ لوگ اس لشکر کی اطاعت کوموت سے بدتر خیال کریں۔ اس جماعت میں ابوہریرہ ؓ اورامام حسن ؓ کی شرکت خاص طورپر قابل غور ہے۔ کیونکہ حضرت ابوہریرہؓ فوجی آدمی نہ تھے اوراس سے پیشتر کوئی خاص فوجی خدمت ان سے نہیں ہوئی۔ اسی طرح حضرت امام حسن ؓ گو ایک جری باپ کے بیٹے اورخود جری اوربہادر تھے مگر آپ صلح اورامن کو بہت پسند فرماتے تھے اوررسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی کے مطابق صلح کے شہزادے تھے۳۴؎ ۔ان دوشخصوں کااس موقع پر تلوار ہاتھ میں لے کر کھڑے ہوجانا دلالت کرتاہے کہ صحابہؓ اوردیگر اہل مدینہ ان مُفسدوں کی شرارت پر سخت ناراض تھے۔
    مدینہ میں مفسدوں کے تین بڑے ساتھی
    صرف تین شخص مدینہ کے باشندے ان لوگوں کے ساتھی
    تھے ایک تو محمد بن ابی بکر جو حضرت ابوبکر ؓ کے لڑکے تھے۔ اورمؤرخین کا خیال ہے کہ بوجہ اس کے کہ لوگ ان کے باپ کے سبب ان کا ادب کرتے تھے ان کو خیال پیدا ہو گیا تھا کہ میں بھی کوئی حیثیت رکھتاہوں۔ ورنہ نہ ان کو دنیا میں کوئی سبقت حاصل تھی نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل تھی نہ بعد میں ہی خاص طورپر دینی تعلیم حاصل کی۔ حجۃ الوداع کے ایام میں پیدا ہوئے اوررسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ابھی دودھ پیتے بچے تھے۔ چوتھے سال ہی میں تھے کہ حضرت ابوبکر ؓ فوت ہوگئے اوراس بے نظیر انسان کی تربیت سے بھی فائدہ اُٹھانے کا موقع نہیں ملا۔۳۵؎
    دوسرا شخص محمد بن ابی حذیفہ تھا یہ بھی صحابہ ؓمیں سے نہ تھااس کے والد یمامہ کی لڑائی میں شہید ہوگئے تھے اورحضرت عثمان ؓ نے اس کی تربیت اپنی ذمہ لے لی تھی اوربچپن سے آپ نے اسے پالاتھا۔ جب حضرت عثمان ؓ خلیفہ ہوئے تواس نے آپ سے کوئی عہدہ طلب کیا آپ نے انکار کیا۔ اس پر اس نے اجازت چاہی کہ میں کہیں باہر جاکر کوئی کام کروں۔ آپ نے اجازت دے دی اوریہ مصر چلا گیا ۔ وہاں جاکر عبداللہ بن سبا کے ساتھیوں سے مل کر حضرت عثمان ؓ کے خلاف لوگوں کو بھڑکانا شروع کیا۔ جب اہل مصر مدینہ پر حملہ آور ہوئے تویہ ان کے ساتھ ہی آیا مگرکچھ دورتک آکر واپس چلاگیااوراس فتنہ کے وقت مدینہ میں نہیں تھا۔۳۶؎
    تیسرے شخص عمار بن یاسر تھے یہ صحابہ ؓمیں سے تھے اوران کے دھوکاکھانے کی وجہ یہ تھی کہ یہ سیاست سے باخبر نہ تھے۔ جب حضرت عثمانؓ نے ان کو مصر بھیجا کہ وہاں کے والی کے انتظام کے متعلق رپورٹ کریں توعبداللہ بن سبا نے ان کا استقبال کرکے ان کے خیالات کو مصر کے گورنر کے خلاف کردیا۔ اورچونکہ وہ گورنر ایسے لوگوں میں سے تھا جنہوں نے ایامِ کفر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت مخالفت کی تھی اورفتح مکہ کے بعد اسلام لایاتھا اس لئے آپ بہت جلد ان لوگوں کے قبضہ میں آگئے۔ والی کے خلاف بدظنی پیداکرنے کے بعد آہستہ آہستہ حضرت عثمان ؓ پر بھی انہوں نے ان کو بدظن کردیا۔ مگرانہوں نے عملاً فساد میں کوئی حصہ نہیں لیا۔ کیونکہ باوجود اس کے کہ مدینہ پر حملہ کے وقت یہ مدینہ میں موجودتھے سوائے اِس کے کہ اپنے گھر میں خاموش بیٹھے رہے ہوں اوران مفسدوں کا مقابلہ کرنے میں انہوں نے کوئی حصہ نہ لیا ہو عملی طورپر انہوں نے فساد میں کوئی حصہ نہیں لیا اوران مفسدوں کی بداعمالیوں سے ان کا دامن بالکل پاک ہے۔
    حضرت عثمان ؓ کو خلافت سے دست برداری کیلئے مجبور کیاجانا
    ان تین کے سوا باقی کوئی شخص اہل مدینہ میں سے صحابیؓ ہویاغیر صحابی ان مفسدوں کا ہمدرد نہ تھا اورہرایک شخص ان پر
    *** ملامت کرتاتھا۔مگران کے ہاتھ میں اُس وقت سب انتظام تھایہ کسی کی ملامت کی پرواہ نہ کرتے تھے۔ بیس دن تک یہ لوگ صرف زبانی طورپر کوشش کرتے رہے کہ کسی طرح حضرت عثمان ؓ خلافت سے دست بردار ہوجائیں مگر حضرت عثمان ؓ نے اس امر سے صاف انکار کردیا اورفرمایا کہ جوقمیض مجھے خداتعالیٰ نے پہنائی ہے میں اسے اُتارنہیں سکتا اورنہ اُمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوبے پناہ چھور سکتاہوں کہ جس کا جی چاہے دوسرے پر ظلم کرے۔۳۷؎ اوران لوگوں کوبھی سمجھاتے رہے کہ اس فساد سے باز آجاویں اورفرماتے رہے کہ آج یہ لوگ فساد کرتے ہیں اورمیری زندگی سے بیزار ہیں مگر جب میں نہ رہوں گا تو خواہش کریں گے کہ کاش! عثمان ؓ کی عمر کا ایک ایک دن ایک ایک سال سے بدل جاتا اور وہ ہم سے جلدی رُخصت نہ ہوتا۔ کیونکہ میرے بعد سخت خون ریزی ہوگی اورحقوق کا اِتلاف ہوگا اور انتظام کچھ کاکچھ بدل جائے گا۔(چنانچہ بنواُمیہ کے زمانہ میں خلافت حکومت سے بدل گئی اوران مفسدوں کوایسی سزائیں ملیں کہ سب شرارتیں ان کو بھول گئیں)
    حضرت عثمانؓ کے گھر کا محاصرہ
    بیس دن گزرنے کے بعد ان لوگوں کوخیال ہوا کہ اب جلدی ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہیے
    تاایسا نہ ہو کہ صوبہ جات سے فوجیں آجاویں اورہمیں اپنی اعمال کی سزا بھگتنی پڑے اس لئے انہوں نے حضرت عثمان ؓ کاگھرسے نکلنا بند کردیا۔اورکھانے پینے کی چیزوں کا اندر جانا بھی روک دیا اورسمجھے کہ شاید اس طرح مجبورہوکر حضرت عثمان ؓ ہمارے مطالبات کوقبول کرلیںگے۔
    مدینہ کا انتظام اب ان لوگوں کے ہاتھ میں تھا اورتینوں فوجوں نے مل کر مصرکی فوجوں کے سردار غافقی کو اپنا سردار تسلیم کرلیاتھا۔ اس طرح مدینہ کا حاکم گویا اُس وقت غافقی تھا اورکوفہ کی فوج کا سردار اشتر اوربصرہ کی فوج کا سردار حکیم بن جبلہ (وہی ڈاکو جسے اہل ذمہ کے مال لوٹنے پر حضرت عثما نؓ نے بصرہ میں نظر بند کردینے کا حکم دیاتھا)دونوں غافقی کے ماتحت کام کرتے تھے اوراس سے ایک دفعہ پھر یہ بات ثابت ہوگئی کہ اس فتنہ کی اصل جڑ مصری تھے جہاں عبداللہ بن سبا کام کررہاتھا۔ مسجد نبوی میں غافقی نماز پڑھاتاتھا اوررسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ؓ اپنے گھروں میں مقیّد رہتے یا اس کے پیچھے نماز اداکرنے پر مجبورتھے۔
    جب تک ان لوگوں نے حضرت عثما نؓ کے گھر کا محاصرہ کرنیکا فیصلہ نہیں کیا تھا تب تک تو لوگوں سے زیادہ تعرض نہیں کرتے تھے مگر محاصرہ کرنے کے ساتھ ہی دوسرے لوگوں پربھی سختیاں شروع کردیں۔ اب مدینہ دارالامن کی بجائے دارالحرب ہوگیا۔ اہل مدینہ کی عزت اورننگ وناموس خطرہ میں تھی اورکوئی شخص اسلحہ کے بغیر گھر سے نہیں نکلتاتھا اورجوشخص ا ن کا مقابلہ کرتا اسے قتل کردیتے تھے۔
    حضرت علی ؓ کا محاصرہ کرنے والوں کو نصیحت کرنا
    جب ان لوگوں نے حضرت عثمان ؓ کامحاصرہ کرلیا اورپانی تک اندر جانے سے روک دیا تو حضرت عثمانؓ نے اپنے ایک ہمسایہ کے لڑکے کو
    حضرت علی ؓ اورحضرت طلحہ ؓ اورحضرت زبیرؓ اوراُمہاتُ المؤمنین کی طرف بھیجا کہ ان لوگوں نے ہماراپانی بھی بند کردیا ہے آپ لوگوں سے اگر کچھ ہوسکے توکوشش کریں اور ہمیں پانی پہنچائیں۔ مردوں میں سب سے پہلے حضرت علی ؓ آئے اور آپ نے ان لوگوں کوسمجھایا کہ تم لوگوں نے کیا رویہ اختیار کیا ہے۔ تمہارا عمل تونہ مومنوں سے ملتاہے نہ کافروں سے۔ حضرت عثمان ؓ کے گھرمیں کھانے پینے کی چیزیں مت روکو۔ روم اورفارس کے لوگ بھی قید کرتے ہیںتوکھانا کھلاتے ہیں اورپانی پلاتے ہیں اوراسلامی طریق کے موافق توتمہارا یہ فعل کسی طرح جائز نہیں کیونکہ حضرت عثمان ؓ نے تمہارا کیا بگاڑا ہے کہ تم ان کو قید کردینے اورقتل کردینے کو جائز سمجھنے لگے ہو۔ حضرت علیؓ کی اِس نصیحت کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا اورانہوں نے صاف کہہ دیا کہ خواہ کچھ ہو جائے ہم اس شخص تک دانہ پانی نہ پہنچنے دیں گے۔ یہ وہ جواب تھا جوانہوں نے اُس شخص کو دیا جسے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاوصی اورآپؐ کا حقیقی جانشین قرار دیتے تھے۔ اورکیا اس جواب کے بعد کسی اورشہادت کی بھی اِس امر کے ثابت کرنے کے لئے ضرورت باقی رہ جاتی ہے کہ یہ حضرت علیؓ کا وصی قرار دینے والا گروہ حق کی حمایت اور اہل بیت کی محبت کی خاطر اپنے گھروں سے نہیں نکلاتھا بلکہ اپنی نفسانی اغراض کو پورا کرنے کے لئے۔
    حضرت اُم حبیبہ ؓ سے مفسدوں کا سلوک
    اُمہاتُ المومنین میں سے سب سے پہلے حضرت اُم حبیبہ ؓ آپ کی
    مددکے لئے آئیں۔ ایک خچر پر سوار تھیں۔ آپ اپنے ساتھ ایک مشکیزہ پانی کا بھی لائیں۔ لیکن اصل غرض آپ کی یہ تھی کہ بنوامیہ کے یتامیٰ اوربیوائوں کی وصیتیں حضرت عثمان ؓ کے پاس تھیں اورآپ نے جب دیکھا کہ حضرت عثمان ؓ کا پانی باغیوں نے بند کردیاہے توآپؐ کو خوف ہواکہ وہ وصایا بھی کہیں تلف نہ ہوجائیں اورآپ نے چاہا کہ کسی طرح وہ وصایا محفوظ کرلی جائیں ورنہ پانی آپ کسی اورذریعہ سے بھی پہنچا سکتی تھیں۔ جب آپ حضرت عثمان ؓ کے دروازے تک پہنچیں توباغیوں نے آپ کو روکنا چاہا تو لوگوں نے بتایا کہ یہ اُمّ المؤمنین اُمِ حبیبہ ؓ ہیںمگر اس پر بھی وہ لوگ باز نہ آئے اورآپ کی خچر کومارنا شروع کیا۔ اُمّ المؤمنین اُمِ حبیبہ ؓ نے فرمایا کہ میں ڈرتی ہوں کہ بنوامیہ کے یتامی اوربیوگان کی وصایا ضائع نہ ہوجائیں اس لئے اندر جانا چاہتی ہوں تاکہ ان کی حفاظت کا سامان کردوں۔ مگران بدبختوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ کوجواب دیا کہ تم جھوٹ بولتی ہو اور آپ کی خچر پر حملہ کرکے اس کے پالان کے رسّے کاٹ دئیے اورزین اُلٹ گئی۔ اور قریب تھا کہ حضرت اُمّ حبیبہ ؓ گرکر ان مفسدوں کے پیروں کے نیچے روندی جاکر شہید ہوجاتیں کہ بعض اہل مدینہ نے جو قریب تھے جھپٹ کر آپ کو سنبھالا اورگھر پہنچا دیا۔۳۸؎
    حضرت اُم حبیبہ ؓ کی دینی غیرت کا نمونہ
    یہ وہ سلوک تھا جو ان لوگوںنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی
    زوجہ مطہرہ سے کیا ۔حضرت اُمِ حبیبہ ؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا اخلاص اورعشق رکھتی تھیں کہ جب پندرہ سولہ سا ل کی جدائی کے بعد آپ کا باپ جوعرب کا سردار تھا اورمکہ میں ایک بادشاہ کی حیثیت رکھتاتھا ایک خاص سیاسی مشن پر مدینہ آیا اورآپ کے ملنے کے لئے گیا توآپ نے اس کے نیچے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کابستر کھینچ لیا ۔اس لئے کہ خداکے رسول کے پاک کپڑے سے ایک مشرک کے نجس جسم کو چھوتے ہوئے دیکھنا آپ کی طاقت برداشت سے باہر تھا۔ تعجب ہے کہ حضرت اُمِ حبیبہ ؓ نے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیبت میں آپؐ کے کپڑے تک کی حُرمت کا خیال رکھامگر ان مفسدوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیبت میں آپ کے حرمِ محترمِ کی حُرمت کا بھی خیال نہ کیا۔ نادانوں نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی جھوٹی ہیں حالانکہ جوکچھ انہوں نے فرمایا تھا وہ درست تھا۔ حضرت عثمان ؓ بنوامیہ کے یتامیٰ کے ولی تھے اوران لوگوں کی بڑھتی ہوئی عداوت کو دیکھ کر آپ کا خوف درست تھا کہ یتامی اوربیوائوں کے اموال ضائع نہ ہوجائیں۔ جھوٹے وہ تھے جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کادعویٰ کرتے ہوئے ان کے دین کی تباہی کا بیڑا اُٹھایا تھا نہ اُم المؤمنین امِ حبیبہؓ۔ ۳۹؎
    حضرت عائشہ ؓ کی حج کے لئے تیاری
    حضرت اُمِ حبیبہ ؓ کے ساتھ جوکچھ سلوک کیاگیا تھاجب اس کی خبر
    مدینہ میں پھیلی توصحابہ ؓ اوراہل مدینہ حیران رہ گئے اورسمجھ لیا کہ اب ان لوگوں سے کسی قسم کی خیر کی امید رکھنی فضول ہے۔ حضرت عائشہ ؓ نے اُسی وقت حج کا ارادہ کرلیا اورسفر کی تیاری شروع کردی۔ جب لوگوں کومعلوم ہوا کہ آپ مدینہ سے جانے والی ہیں توبعض نے آپ سے درخواست کی کہ اگر آپ یہیں ٹھہریں توشاید فتنہ کے روکنے میں کوئی مددملے اورباغیوں پر کچھ اثر ہو۔ مگر انہوں نے انکا رکردیا اورفرمایا کہ کیا تم چاہتے ہو کہ مجھ سے بھی وہی سلوک ہو جواُمِ حبیبہؓ سے ہوا ہے۔ خدا کی قسم !میں اپنی عزت کو خطرہ میں نہیں ڈال سکتی (کیونکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت تھی) اگرکسی قسم کا معاملہ مجھ سے کیا گیا تومیری حفاظت کا کیا سامان ہوگا خداہی جانتاہے کہ یہ لوگ اپنی شرارتوں میں کہاں تک ترقی کریں گے اوران کاکیا انجام ہوگا۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے چلتے چلتے ایک ایسی تدبیر کی جواگر کارگر ہوجاتی توشاید فساد میں کچھ کمی ہوجاتی۔ اوروہ یہ کہ اپنے بھائی محمد بن ابی بکر کو کہلا بھیجا کہ تم بھی میرے ساتھ حج کو چلو مگراس نے انکار کردیا۔ اس پر حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا۔ کیا کروں بے بس ہوں اگر میری طاقت ہوتی توان لوگوں کو اپنے ارادوںمیں کبھی کامیاب نہ ہونے دیتی۔
    حضرت عثمانؓ کا والیان صوبہ جات کو مراسلہ
    حضرت عائشہ ؓ توحج کو تشریف لے گئیں اوربعض صحابہؓ بھی جن سے ممکن ہوسکا اورمدینہ سے نکل سکے مدینہ سے تشریف لے گئے اور باقی لوگ سوائے چند
    اکابر صحابہؓ کے اپنے گھروں میں بیٹھ رہے اورآخر حضرت عثمان ؓ کوبھی یہ محسوس ہوگیا کہ یہ لوگ نرمی سے مان نہیں سکتے اورآپ نے ایک خط تمام والیانِ صوبہ جات کے نام روانہ کیا جس کا خلاصہ یہ تھا۔
    حضرت ابوبکرؓ اورحضرت عمرؓ کے بعد بِلاکسی خواہش یا درخواست کے مجھے ان لوگوں میں شامل کیاگیا تھا جنہیں خلافت کے متعلق مشورہ کرنے کاکام سپرد کیاگیاتھا۔ پھربِلا میری خواہش یا سوال کے مجھے خلافت کے لئے چنا گیااورمیں برابر وہ کام کرتا رہا جو مجھ سے پہلے خلفاء کرتے رہے اورمیں نے اپنے پاس سے کوئی بدعت نہیں نکالی۔ لیکن چند لوگوں کے دلوں میں بدی کا بیج بویا گیا اورشرارت جاگزیں ہوئی اورانہوں نے میرے خلاف منصوبے کرنے شروع کردئیے۔ اورلوگوں کے سامنے کچھ ظاہر کیا اوردل میں کچھ اوررکھا اورمجھ پر وہ الزام لگانے شروع کیے جومجھ سے پہلے خلفاء پر بھی لگتے تھے۔ لیکن میں معلوم ہوتے ہوئے بھی خاموش رہا اوریہ لوگ میرے رحم سے ناجائز فائدہ اُٹھا کر شرارت میں اوربھی بڑھ گئے اورآخر کفار کی طرح مدینہ پر حملہ کردیا۔ پس آپ لوگ اگرکچھ کرسکیں تومدد کاانتظام کریں ۔
    اسی طرح ایک خط جس کا خلاصہ مطلب ذیل میں درج ہے حج پر آنے والوں کے نام لکھ کر کچھ دن بعد روانہ کیا۔
    حضرت عثمان ؓ کا حاجیوں کے نام خط
    میں آپ لوگوں کوخداتعالیٰ کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور اس کے انعامات
    یاددلاتاہوں۔ اِس وقت کچھ لوگ فتنہ پردازی کررہے ہیں اوراسلام میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش میں مشغول ہیں۔ مگر ان لوگوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ خلیفہ خدابناتاہے جیسا کہ وہ فرماتاہےِ۴۰؎ اوراتفاق کی قدر نہیں کی۔ حالانکہ خداتعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ جَمِیْعًا۴۱؎ اورمجھ پر الزام لگانے والوں کی باتوں کوقبول کیا اورقرآن کریم کے اس حکم کی پرواہ نہ کی کہ ۴۲؎ اورمیری بیعت کاادب نہیں کیاحالانکہ اﷲتعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرماتاہے کہ۴۳؎ اورمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب ہوں۔ کوئی اُمت بغیر سردار کے ترقی نہیں کرسکتی اوراگر کوئی امام نہ ہوتو جماعت کا تمام کام خراب وبرباد ہوجائے گا۔ یہ لوگ اُمت اسلامیہ کو تباہ وبرباد کرنا چاہتے ہیں اوراِس کے سواان کی کوئی غرض نہیں۔ کیونکہ میں نے ان کی بات کو قبول کرلیا تھا اوروالیوں کے بدلنے کا وعدہ کرلیاتھا مگر انہوں نے اِس پر بھی شرارت نہ چھوڑی۔ اب یہ تین باتوں میں سے ایک کا مطالبہ کرتے ہیں۔
    اوّل یہ کہ جن لوگوں کومیرے عہدمیں سزاملی ہے اُن سب کا قصاص مجھ سے لیا جاوے۔
    اگریہ مجھے منظورنہ ہوتو پھرخلافت کو چھوڑدوں اوریہ لوگ میری جگہ کسی اورکو مقرر کردیں۔
    یہ بھی نہ مانوں توپھر یہ لوگ دھمکی دیتے ہیںکہ یہ لوگ اپنے تمام ہم خیال لوگوں کو پیغام بھیجیں گے کہ وہ میری اطاعت سے باہر ہوجائیں۔
    پہلی بات کا تویہ جواب ہے کہ مجھ سے پہلے خلفاء ؓ بھی کبھی فیصلوں میں غلطی کرتے تھے مگراُن کو کبھی سزا نہ دی گئی اوراِس قدر سزائیں مجھ پر جاری کرنے کا مطلب سوائے مجھے مارنے کے اورکیا ہوسکتاہے۔
    خلافت سے معزول ہونے کا جواب میری طرف سے یہ ہے کہ اگر یہ لوگ موچنوں سے میری بوٹیاں کردیں تویہ مجھے منظور ہے مگر خلافت سے میں جدا نہیں ہوسکتا۔
    باقی رہی تیسری بات کہ پھر یہ لوگ اپنے آدمی چاروں طرف بھیجیں گے کہ کوئی میری بات نہ مانے۔ سومیں خداکی طرف سے ذمہ دار نہیں ہوں اگریہ لوگ ایک امر خلاف شریعت کرنا چاہتے ہیں توکریں۔ پہلے بھی جب انہوں نے میری بیعت کی تھی تومیں نے ان پر جبر نہیں کیاتھا۔ جو شخص عہد توڑناچاہتاہے میںاس کے اس فعل پر راضی نہیں نہ خداتعالیٰ راضی ہے۔ ہاں وہ اپنی طرف سے جوچاہے کرے۔
    چونکہ حج کے دن قریب آرہے تھے اورچاروں طرف سے لوگ مکہ مکرمہ میں جمع ہورہے تھے۔ حضرت عثمان ؓ نے اس خیال سے کہ کہیں وہاں بھی کوئی فساد کھڑانہ کریں اوراِس خیال سے بھی کہ حج کے لئے جمع ہونے والے مسلمانوں میں اہل مدینہ کی مددکی تحریک کریں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کو حج کا امیر بنا کر روانہ کیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے بھی عرض کی کہ ان لوگوں سے جہاد کرنا مجھے زیادہ پسند ہے مگر حضرت عثمان ؓ نے اُن کو مجبور کیاکہ وہ حج کے لئے جاویں۔ اورحج کے ایام میں امیر حج کا کام کریںتاکہ مفسد وہاں اپنی شرارت نہ پھیلا سکیں اوروہاں جمع ہونے والے لوگوں میں بھی مدینہ کے لوگوں کی مددکی تحریک کی جاوے اورمذکورہ بالا خط آپ ہی کے ہاتھ روانہ کیا۔ جب ان خطوں کا ان مفسدوں کوعلم ہوا توانہوں نے اوربھی سختی کرنا شروع کردی۔ اوراس بات کا موقع تلاش کرنے لگے کہ کسی طرح لڑائی کاکوئی بہانہ مل جاوے توحضرت عثمانؓ کو شہید کردیں مگران کی تمام کوششیں فضول جاتی تھیں اورحضرت عثمان ؓ ان کو کوئی موقع شرارت کا ملنے نہ دیتے تھے۔
    مفسدوں کا حضرت عثمان ؓکے گھرمیں پتھر پھینکنا
    آخر تنگ آ کر یہ تدبیر سُوجھی کہ جب رات پڑتی
    اورلوگ سو جاتے حضرت عثمان ؓ کے گھر میں پتھر پھینکتے اوراس طرح اہل خانہ کو اشتعال دلاتے تاکہ جوش میں آکر وہ بھی پتھر پھینکیں تولوگوں کوکہہ سکیں کہ انہوں نے ہم پر پہلے حملہ کیا ہے اس لئے ہم جواب دینے پر مجبور ہیں۔ مگر حضرت عثمان ؓ نے اپنے تمام اہل خانہ کو جواب دینے سے روک دیا۔ ایک دن موقع پاکر دیوار کے پاس تشریف لائے اورفرمایا کہ اے لوگو !میں تو تمہارے نزدیک تمہارا گناہ گارہوں مگر دوسرے لوگوں نے کیا قصورکیاہے۔ تم پتھر پھینکتے ہو تو دوسروں کو بھی چوٹ لگنے کا خطرہ ہوتاہے۔ انہوں نے صاف انکارکردیا کہ ہم نے پتھر نہیں پھینکے۔ حضرت عثمان ؓ نے فرمایا کہ اگرتم نہیں پھینکتے تواور کون پھینکتاہے۔ انہوں نے کہاکہ خداتعالیٰ پھینکتا ہوگا۔(نَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ)حضرت عثمانؓ نے فرمایا کہ تم لوگ جھوٹ بولتے ہو۔ اگرخداتعالیٰ ہم پر پتھر پھینکتا تواس کاکوئی پتھر خطانہ جاتا۔ لیکن تمہارے پھینکے ہوئے پتھر تو اِدھر اُدھر بھی جا پڑتے ہیں۔ یہ فرماکر آپ ان کے سامنے سے ہٹ گئے۔
    فتنہ فرو کرنے میں صحابہ ؓ کی مساعی جمیلہ
    گو صحابہ ؓ کو اب حضرت عثمان ؓ کے پاس جمع ہونے کا موقع نہ دیا
    جاتا تھا مگر پھر بھی وہ اپنے فرض سے غافل نہ تھے۔ مصلحت وقت کے ماتحت انہوں نے دوحصوں میں اپناکام تقسیم کیاہوا تھا۔ جوسن رسیدہ اورجن کا اخلاقی اثر عوام پر زیادہ تھا وہ تو اپنے اوقات کولوگوں کے سمجھانے پرصرف کرتے اورجولوگ ایساکوئی اثرنہ رکھتے تھے یا نوجوان تھے وہ حضرت عثمان ؓ کی حفاظت کی کوشش میں لگے رہتے۔
    اوّل الذکر جماعت میں سے حضرت علی ؓ اورحضرت سعد بن وقاص ؓ فاتح فارس فتنہ کے کم کرنے میں سب سے زیادہ کوشاں تھے۔ خصوصاً حضرت علی ؓ تواس فتنہ کے ایام میں اپنے تمام کام چھوڑ کر اس کام میں لگ گئے تھے چنانچہ ان واقعات کی رئویت کے گواہوں میں سے ایک شخص عبدالرحمن نامی بیان کرتاہے کہ ان ایامِ فتنہ میں مَیں نے دیکھا ہے کہ حضرت علیؓ نے اپنے تمام کام چھوڑ دئیے تھے اورحضرت عثمانؓ کے دشمنوں کا غضب ٹھنڈا کرنے اورآپ کی تکالیف دور کرنے کی فکر میں ہی رات دن لگے رہتے تھے۔ ایک دفعہ آپ تک پانی پہنچنے میں کچھ دیرہوئی توحضرت طلحہ ؓ پرجن کے سپرد یہ کام تھا آپ سخت ناراض ہوئے اوراُس وقت تک آرام نہ کیا جب تک پانی حضرت عثمانؓ کے گھر میں پہنچ نہ گیا۔
    دوسرا گروہ ایک ایک ،دودو کرکے جس جس وقت موقع ملتا تھا تلاش کرکے حضرت عثمان ؓ یا آپ کے ہمسایہ گھروں میں جمع ہونا شروع ہوا۔ اوراس نے اس امر کا پختہ ارادہ کرلیا کہ ہم اپنی جانیں دے دیں گے مگر حضرت عثمان ؓ کی جان پر آنچ نہ آنے دیں گے۔ اس گروہ میں حضرت علیؓ ،حضرت طلحہ ؓ اورحضرت زبیرؓ کی اولاد کے سوائے خود صحابہ ؓ میں سے بھی ایک جماعت شامل تھی۔ یہ لوگ رات اوردن حضرت عثمان ؓ کے مکان کی حفاظت کرتے تھے اورآپ تک کسی دشمن کو پہنچنے نہ دیتے تھے۔ اورگو یہ قلیل تعداد اس قدر کثیر لشکر کامقابلہ تونہ کر سکتی تھی مگر چونکہ باغی چاہتے تھے کوئی بہانہ رکھ کر حضرت عثمان ؓ کو قتل کریں وہ بھی اس قدر زورنہ دیتے تھے۔ اُس وقت کے حالات سے حضرت عثمان ؓ کی اسلامی خیر خواہی پر جوروشنی پڑتی ہے اس سے عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ تین ہزار کے قریب لشکر آپ کے دروازہ کے سامنے پڑا ہے اورکوئی تدبیر اس سے بچنے کی نہیں۔ مگر جو لوگ آپ کو بچانے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں اُن کوبھی آپ روکتے ہیں کہ جائو اپنی جانوں کو خطرہ میں نہ ڈالو۔ ان لوگوں کو صرف مجھ سے عداوت ہے تم سے کوئی تعرض نہیں۔ آپ کی آنکھ اُس وقت کودیکھ رہی تھی جب کہ اسلام ان مفسدوں کے ہاتھوں سے ایک بہت بڑے خطرہ میں ہوگا اورصرف ظاہری اتحاد ہی نہیں بلکہ روحانی انتظام بھی پراگندہ ہونے کے قریب ہوجاوے گا۔ اورآپ جانتے تھے کہ اُس وقت اسلام کی حفاظت اوراس کے قیام کے لئے ایک ایک صحابی ؓ کی ضرورت ہوگی۔ پس آپ نہیں چاہتے تھے کہ آپ کی جان بچانے کی بے فائدہ کوشش میں صحابہ ؓ کی جانیں جاویں اورسب کو یہی نصیحت کرتے تھے کہ ان لوگوں سے تعرض نہ کرواورچاہتے تھے کہ جہاں تک ہوسکے آئندہ فتنوں کودور کرنے کے لئے وہ جماعت محفوظ رہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی ہے ۔مگر باوجود آپ کے سمجھانے کے جن صحابہ ؓ کو آپ کے گھر تک پہنچنے کا موقع مل جاتا وہ اپنے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرتے اورآئندہ کے خطرات پرموجودہ خطرہ کو مقدم رکھتے۔ اوراگران کی جانیں اس عرصہ میں محفوظ تھیں توصرف اس لئے کہ ان لوگوں کوجلدی کی کوئی ضرورت نہ معلوم ہوتی تھی اوربہانہ کی تلاش تھی۔ لیکن وہ وقت بھی آخرآگیا جب کہ زیادہ انتظار کرنا ناممکن ہوگیا۔ کیونکہ حضرت عثمانؓ کا دل کو ہلادینے والا پیغام جوآپ نے حج پر جمع ہونے والے مسلمانوں کوبھیجا تھا حُجّاج کے مجمع میں سنایا گیا تھا اوروادیٔ مکہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک اِس کی آواز سے گونج رہی تھی اورحج پرجمع ہونے والے مسلمانوں نے فیصلہ کرلیا تھاکہ وہ حج کے بعد جہاد کے ثواب سے بھی محروم نہ رہیں گے اورمصری مفسدوں اوران کے ساتھیوں کا قلع قمع کرکے چھوڑیں گے۔ مفسدوں کے جاسوسوں نے انہیں اس ارادہ کی اطلاع دے دی تھی اوراب ان کے کیمپ میں سخت گھبراہٹ کے آثارتھے ۔ حتیّٰ کہ ان میں چہ میگوئیاں ہونے لگی تھیں کہ اب اس شخص کے قتل کے سوا کوئی چارہ نہیں اوراگر اسے ہم نے قتل نہ کیا تومسلمانوں کے ہاتھوں سے ہمارے قتل میں کوئی شبہ نہیں۔
    اِس گھبراہٹ کو اس خبر نے اوربھی دوبالا کردیا کہ شام اورکوفہ اوربصرہ میں بھی حضرت عثمانؓ کے خطوط پہنچ گئے ہیں اوروہاں کے لوگ جوپہلے سے ہی حضرت عثمان ؓ کے احکام کے منتظر تھے ان خطوط کے پہنچنے پر اوربھی جوش سے بھر گئے ہیں اورصحابہؓ نے اپنی ذمہ داری کو محسوس کرکے مسجدوں اورمجلسوں میں تمام مسلمانوں کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلاکر ان مفسدوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دے دیاہے اوروہ کہتے ہیں جس نے آج جہاد نہ کیا اُس نے گویا کچھ بھی نہ کیا۔ کوفہ میں عقبہ بن عمرو،عبداللہ بن ابی اوفی اورحنظلہ بن ربیع التمیمی اور دیگر صحابہ ؓ کرام نے لوگوں کو اہل مدینہ کی مدد کے لیے اُبھارا ہے توبصرہ میں عمران بن حصین، انس بن مالک ،ہشام بن عامر اوردیگر صحابہ نے ۔شام میں اگر عبادہ بن صامت، ابوامامہ٭ اوردیگر صحابہؓ نے حضرت عثمان ؓ کی آواز پر لبیک کہنے پر لوگوں کو اُکسایا ہے تومصر میں خارجہ ودیگر لوگوں نے۔ اورسب ملکوں سے فوجیں اکٹھی ہوکر مدینہ کی طرف بڑھی چلی آتی ہیں۔۴۴؎
    حضرت عثمان ؓ کے گھرپر مفسدوںکاحملہ
    غرض اِن خبروں سے باغیوں کی گھبراہٹ اوربھی بڑھ گئی آخر
    حضرت عثمان ؓ کے گھرپر حملہ کرکے بزوراندرداخل ہونا چاہا صحابہؓ نے مقابلہ کیا اورآپس میں سخت جنگ ہوئی گو صحابہؓ کم تھے مگر ان کی ایمانی غیرت ان کی کمی کی تعداد کو پورا کررہی تھی۔ جس جگہ لڑائی ہوئی یعنی حضرت عثمان ؓ کے گھر کے سامنے وہاں جگہ بھی تنگ تھی۔ اس لئے مفسداپنی کثرت سے زیادہ فائدہ نہ اُٹھاسکے۔ حضرت عثمان ؓ کو جب اِس لڑائی کا علم ہوا توآپ نے صحابہ ؓ کو لڑنے سے منع کیا مگروہ اُس وقت حضرت عثمانؓ کو اکیلا چھوڑ دینا
    ٭ طبری کی روایت کے مطابق شام میں حضرت عثمانؓ کی مددکے لئے لوگوں میں جوش دلانے والے صحابہؓ میں حضرت ابو درداءؓانصاری بھی شامل تھے۔ مگر دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت عثمانؓ کی شہادت سے پہلے فوت ہوچکے تھے جیسا کہ استیعاب اور اصابہ سے ثابت ہے اور یہی درست ہے جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے یہ بھی اپنے ایامِ زندگی میں اس فتنہ کے مٹانے میں کوشاں رہے ہیں ۔
    ایمانداری کے خلاف اور اطاعت کے حکم کے متضاد خیال کرتے تھے اور باوجود حضرت عثمان ؓ کو اللہ کی قسم دینے کے انہوں نے لَوٹنے سے انکار کردیا۔
    حضرت عثمانؓ کا صحابہ ؓ کو وصیت کرنا
    آخر حضرت عثمانؓ نے ڈھال ہاتھ میں پکڑی اورباہر تشریف لے آئے
    اورصحابہ ؓ کو اپنے مکان کے اندر لے گئے اوردروازے بند کرادئیے اورآپ نے سب صحابہ ؓ اوران کے مددگاروں کو وصیت کی کہ خداتعالیٰ نے آپ لوگوں کودنیا اس لئے نہیں دی کہ تم اس کی طرف جھک جائوبلکہ اس لئے دی ہے کہ تم اس کے ذریعہ سے آخرت کے سامان جمع کرو۔ یہ دنیا توفنا ہوجاوے گی اورآخرت ہی باقی رہے گی۔ پس چاہیے کہ فانی چیز تم کو غافل نہ کرے۔ باقی رہنے والی چیز کو فانی ہوجانے والی چیز پر مقدم کرو اورخداتعالیٰ کی ملاقات کویاد رکھو اورجماعت کو پراگندہ نہ ہونے دو۔ اوراس نعمت الٰہی کو مت بھولو کہ تم ہلاکت کے گڑھے میں گرنے والے تھے اورخداتعالیٰ نے اپنے فضل سے تم کو نجات دے کر بھائی بھائی بنا دیا۔ اس کے بعد آپ نے سب کو رُخصت کیا اورکہا کہ خداتعالیٰ تمہارا حافظ وناصر ہو۔ تم سب اب گھر سے باہر جائو اوران صحابہ ؓکو بھی بلوائو جن کومجھ تک آنے نہیں دیاتھا۔ خصوصاً حضرت علیؓ ،حضرت طلحہؓ ،حضرت زبیرؓ کو۔
    یہ لوگ باہر آگئے اوردوسرے صحابہؓ کو بھی بلوایا گیا۔ اُس وقت کچھ ایسی کیفیت پیدا ہو رہی تھی اورایسی افسردگی چھارہی تھی کہ باغی بھی اِس سے متأثر ہوئے بغیر نہ رہے اورکیوں نہ ہوتا سب دیکھ رہے تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جلائی ہوئی ایک شمع اب اِس دنیا کی عمرکو پوری کرکے اس دنیا کے لوگوں کی نظرسے اوجھل ہونے والی ہے۔ غرض باغیوں نے زیادہ تعرض نہ کیا اورسب صحابہ ؓ جمع ہوئے۔ جب لوگ جمع ہوگئے تو آپ گھر کی دیوار پر چڑھے اورفرمایا میرے قریب ہوجائو۔ جب سب قریب ہوگئے توفرمایا کہ اے لوگو! بیٹھ جائو۔ اِس پر صحابہؓ بھی اورمجلس کی ہیبت سے متأثر ہوکر باغی بھی بیٹھ گئے۔ جب سب بیٹھ گئے توآپ نے فرمایا کہ اہل مدینہ !میں تم کو خداتعالیٰ کے سپرد کرتاہوں اوراُس سے دعا کرتا ہوں کہ وہ میرے بعد تمہارے لئے خلافت کا کوئی بہتر انتظام فرمادے۔ آج کے بعد اُس وقت تک کہ خداتعالیٰ میرے متعلق کوئی فیصلہ فرمادے میں باہر نہیں نکلوں گا اورمیں کسی کوکوئی ایسا اختیار نہیں دے جائوںگا کہ جس کے ذریعہ سے دین یا دنیا میں وہ تم پر حکومت کرے۔ اور اس امر کو خداتعالیٰ پر چھوڑ دوں گا کہ وہ جسے چاہے اپنے کام کے لئے پسند کرے۔ اس کے بعد صحابہ ودیگر اہل مدینہ کو قسم دی کہ وہ آپ کی حفاظت کرکے اپنی جانوں کوخطرۂ عظیم میں نہ ڈالیں اوراپنے گھروں کو چلے جاویں۔
    آپ کے اس حکم نے صحابہؓ میں ایک بہت بڑا اختلاف پیدا کردیا۔ ایسا اختلاف کہ جس کی نظیر پہلے نہیں ملتی۔ صحابہ ؓ حکم ماننے کے سوا اورکچھ جانتے ہی نہ تھے۔ مگر آج اس حکم کے ماننے میں ان میں سے بعض کو اطاعت نہیں غداری کی بُونظرآتی تھی۔ بعض صحابہؓ نے تواطاعت کے پہلو کو مقدم سمجھ کر بادلِ ناخواستہ آئندہ کے لئے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کا ارادہ چھوڑ دیا اورغالباً انہوں نے سمجھا کہ ہمارا کام صرف اطاعت ہے یہ ہمارا کام نہیں ہے کہ ہم دیکھیں کہ اس حکم پر عمل کرنے کے کیا نتائج ہوں گے۔ مگر بعض صحابہ ؓ نے اس حکم کوماننے سے انکار کردیا۔ کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ بے شک خلیفہ کی اطاعت فرض ہے مگر جب خلیفہ یہ حکم دے کہ تم مجھے چھوڑ کرچلے جائوتواس کے یہ معنے ہیں کہ خلافت سے وابستگی چھوڑ دو۔ پس یہ اطاعت درحقیقت بغاوت پیداکرتی ہے۔اوروہ یہ بھی دیکھتے تھے کہ حضرت عثما نؓ کا ان کو گھروںکو واپس کرنا ان کی جانوں کی حفاظت کیلئے تھا توپھر کیا وہ ایسے محبت کرنے والے وجود کو خطرہ میں چھوڑ کر اپنے گھروں میں جاسکتے تھے!! اس مؤخر الذکر گروہ میں سب اکابر صحابہؓ شامل تھے۔ چنانچہ باوجود اس حکم کے حضرت علی ؓ ،حضرت طلحہؓ ، حضرت زبیرؓ کے لڑکوں نے اپنے اپنے والد کے حکم کے ماتحت حضرت عثما نؓ کی ڈیوڑھی پر ہی ڈیرہ جمائے رکھا اوراپنی تلواروں کو میانوں میں نہ داخل کیا۔
    حاجیوں کی واپسی پر باغیوں کی گھبراہٹ
    باغیوں کی گھبراہٹ اور جوش کی کوئی حد باقی نہ رہی جب کہ حج
    سے فارغ ہو کر آنے والے لوگوںمیں اِکے دُکے مدینہ میں داخل ہو نے لگے اور ان کو معلوم ہوگیاکہ اب ہماری قسمت کے فیصلہ کا وقت بہت نزدیک ہے۔ چنانچہ مغیرہ بن الاخنس سب سے پہلے شخص تھے جو حج کے بعد ثوابِ جہاد کے لئے مدینہ میں داخل ہوئے اور ان کے ساتھ ہی یہ خبر باغیوں کو ملی کہ اہل بصرہ کا لشکر جو مسلمانوں کی امداد کے لئے آرہا ہے صرار مقام پر جو مدینہ سے صرف ایک دن کے راستہ پر ہے آپہنچاہے۔ ان خبروں سے متأثر ہو کر اُنہوں نے فیصلہ کیاکہ جس طرح ہو اپنے مدعا کو جلد پوراکیاجائے اور چونکہ وہ صحابہؓ اور ا ن کے ساتھی جنہوں نے باوجود حضرت عثمانؓ کے منع کرنے کے حضرت عثمانؓ کی حفاظت نہ چھوڑی تھی اور صاف کہہ دیا تھاکہ اگر ہم آپ کو باوجود ہاتھوں میں طاقتِ مقابلہ ہونے کے چھوڑ دیں تو خداتعالیٰ کو کیا منہ دکھائیں گے، بوجہ اپنی قلت تعداد اب مکان کے اندر کی طرف سے حفاظت کرتے تھے اور دروازہ تک پہنچنا باغیوں کے لئے مشکل نہ تھا۔ انہوں نے دروازہ کے سامنے لکڑیوں کے انبار جمع کر کے آگ لگا دی تاکہ دروازہ جل جاوے اور اندر پہنچنے کا راستہ مل جاوے۔ صحابہؓ نے اس بات کو دیکھا تو اندر بیٹھنا مناسب نہ سمجھا۔ تلواریںپکڑ کر باہر نکلنا چاہامگر حضرت عثمانؓ نے اس بات سے روکا اور فرمایا کہ گھر کو آگ لگانے کے بعد اور کون سے بات رہ گئی ہے اب جو ہونا تھا ہو چکا تم لوگ اپنی جانوں کو خطرہ میں نہ ڈالو اور اپنے گھروں کوچلے جاؤ۔ ان لوگوں کو صرف میری ذات سے عداوت ہے۔ مگر جلد یہ لوگ اپنے کئے پر پشیمان ہوں گے۔ میںہر ایک شخص کو جس پر میری اطاعت فرض ہے اس کے فرض سے سبکدوش کرتا ہوں اور اپنا حق معاف کرتا ہوں ۔ ۴۵ ؎ مگر صحابہؓ اور دیگر لوگوں نے اس بات کو تسلیم نہ کیااور تلواریں پکڑ کر باہر نکلے۔ ان کے باہر نکلتے وقت حضرت ابوہریرہؓ بھی آگئے اور باوجود اس کے کہ وہ فوجی آدمی نہ تھے وہ بھی ان کے ساتھ مل گئے۔ اور فرمایاکہ آج کے دن کی لڑائی سے بہتر اور کون سی لڑائی ہو سکتی ہے اور پھر باغیوںکی طرف دیکھ کر فرمایا ۴۶؎؎ یعنی اے میری قوم ! کیا بات ہے کہ میں تم کو نجات کے طرف بلاتا ہوں اور تم لوگ مجھ کو آگ کی طرف بلاتے ہو۔
    صحابہؓ کی مفسدوں سے لڑائی
    یہ لڑائی ایک خاص لڑائی تھی اور مٹھی بھر صحابہؓ جو اُس وقت جمع ہو سکے انہوں نے اس لشکرِ عظیم
    کا مقابلہ جان توڑ کرکیا۔ حضرت امام حسنؓ جو نہایت صلح جو بلکہ صلح کے شہزادے تھے انہوں نے بھی اُس دن رجز پڑھ پڑھ کر دشمن پر حملہ کیا۔ ان کا اور محمد بن طلحہ کا اُس دن کا رجز خاص طور پر قابل ذکر ہے کیونکہ ان سے ان کے دلی خیالات کا خوب اندازہ ہوجاتا ہے۔
    لَا دِیْنُھُمْ دِیْنِیْ وَلَا اَنَا مِنْھُمْ
    حَتّٰی اَسِیْرَ اِلَی طَمَارِ شَمَامِ۴۷؎
    یعنی ان لوگوں کا دین میرا دین نہیں اور نہ ان لوگوں سے میرا کوئی تعلق ہے اور میںان سے اُس وقت تک لڑوں گا کہ شمام پہاڑ کی چوٹی تک پہنچ جاؤں۔ شمام عرب کا ایک پہاڑ ہے جس کوبلندی پرپہنچنے اور مقصد کے حصول سے مشابہت دیتے ہیں ۔ اور حضرت امام حسنؓ کا یہ مطلب ہے کہ جب تک میں اپنے مدعا کو نہ پہنچ جاؤں اُس وقت تک میں برابر ان سے لڑتا رہوں گااور ان سے صلح نہ کروں گا۔ کیونکہ ہم میں کوئی معمولی اختلاف نہیں کہ بغیران پر فتح پانے کے ہم ان سے تعلق قائم کرلیں۔ یہ تو وہ خیالات ہیں جو اس شہزادۂ صلح کے دل میںموجزن تھے۔ اب طلحہؓ کے لڑکے محمد کا رجز لیتے ہیںوہ کہتے ہیں:
    اَنَا ابْنُ مَنْ حَامٰی عَلَیْہِ بِاُحَدٍ
    ورَدَّ اَحْزَابًا عَلٰی رَغْمِ مَعَدٍّ۴۸؎
    یعنی میںاُس کا بیٹا ہوں جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت اُحد کے دن کی تھی اور جس نے باوجود اس کے کہ عربوں نے سارا زور لگایا تھا اُن کو شکست دے دی تھی۔یعنی آج بھی اُحد کی طرح کا ایک واقعہ ہے اور جس طرح میرے والد نے اپنے ہاتھ کو تیروںسے چھلنی کر والیا تھا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آنچ نہ آنے دی تھی میں بھی ایسا ہی کروںگا۔
    حضرت عبداللہ بن زبیرؓ بھی اس لڑائی میںشریک ہوئے اور بُری طرح زخمی ہوئے مروان بھی سخت زخمی ہوا اور موت تک پہنچ کر لوٹا ۔ مغیرہ بن الاخنس مارے گئے۔ جس شخص نے ان کو مارا تھا اُس نے دیکھ کر کہ آپ زخمی ہی نہیںہوئے بلکہ مارے گئے ہیں زور سے کہا کہ ۴۹؎ سردارِ لشکر نے اُسے ڈانٹا کہ اِس خوشی کے موقع پر افسوس کا اظہا ر کرتے ہو! اُس نے کہا کہ آج رات میںنے رؤیا میں دیکھا تھا کہ ایک شخص کہتا ہے مغیرہ کے قاتل کو دوزخ کی خبر دو۔ پس یہ معلوم کر کے کہ میں ہی اس کا قاتل ہوں مجھے اِس کا صدمہ ہونا لازمی تھا۔
    مذکورہ بالا لوگوں کے سوا اور لوگ بھی زخمی ہوئے اور مارے گئے اور حضرت عثمانؓ کی حفاظت کرنے والی جماعت اور بھی کم ہوگئی۔ لیکن اگر باغیوں نے باوجود آسمانی اِنذار کے اپنی ضد نہ چھوڑی اور خدا تعالیٰ کی محبوب جماعت کا مقابلہ جاری رکھاتو دوسری طرف مخلصین نے بھی اپنے ایمان کا اعلیٰ نمونہ دکھانے میںکمی نہ کی ۔ باوجود اس کے کہ اکثر محافظ مارے گئے یا زخمی ہوگئے پھر بھی ایک قلیل گروہ برابر دروازہ کی حفاظت کرتا رہا۔
    چونکہ باغیوں کو بظاہر غلبہ حاصل ہوچکا تھا انہوںنے آخری حیلہ کے طور پر پھر ایک شخص کو حضرت عثمانؓ کی طرف بھیجا کہ وہ خلافت سے دستبردار ہوجائیں ۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ خود دستبردار ہو جاویں گے تو مسلمانوں کو انہیں سزا دینے کا کوئی حق اور موقع نہ رہے گا ۔ حضرت عثمانؓ کے پاس جب پیغامبرپہنچا تو آپ نے فرمایاکہ میںنے تو جاہلیت میں بھی بدیوں سے پر ہیز کیا ہے اور اسلام میںبھی اس کے احکام کو نہیںتوڑا ۔ میںکیوں اور کس جرم میں اس عہدہ کو چھوڑ وں جو خدا تعالیٰ نے مجھے دیا ہے ۔ میں تو اِس قمیض کو کبھی نہیں اُتاروں گا جو خدا تعالیٰ نے مجھے پہنائی ہے ۔ وہ شخص یہ جواب سن کر واپس آگیااور اپنے ساتھیوںسے اِن الفاظ میںآ کر مخاطب ہوا۔ خدا کی قسم ! ہم سخت مصیبت میںپھنس گئے ہیں۔ خدا کی قسم ! مسلمانوںکی گرفت سے عثمانؓ کو قتل کرنے کے سوائے ہم بچ نہیں سکتے (کیونکہ اس صورت میں حکومت تہہ وبالا ہو جائے گی اور انتظام بگڑ جاوے گا اور کوئی پوچھنے والا نہ ہوگا) اور اس کا قتل کرنا کسی طرح جائز نہیں۔
    اس شخص کے یہ فقرات نہ صرف ان لوگوں کی گھبراہٹ پر دلالت کرتے ہیں بلکہ اس امر پر بھی دلالت کرتے ہیں کہ اُس وقت بھی حضرت عثمانؓ نے کوئی ایسی بات پیدا نہ ہو نے دی تھی جسے یہ لوگ بطور بہانہ استعمال کر سکیں اور ان کے دل محسوس کرتے تھے کہ حضرت عثمانؓ کا قتل کسی صورت میں جائز نہیں ۔
    عبداللہؓ بن سلام کا مفسدوں کو نصیحت کرنا
    جب یہ لوگ حضر ت عثمانؓ کے قتل کا منصوبہ کر رہے تھے۔
    حضرت عبداللہؓ بن سلام جو حالت کفر میں بھی اپنی قوم میں نہایت معزز تھے اور جن کو یہود اپنا سردار مانتے تھے اور عالم بے بدل جانتے تھے تشریف لائے اور دروازہ پر کھڑے ہو کر ان لوگوں کو نصیحت کرنی شروع کی اور حضرت عثمانؓ کے قتل سے ان کو منع فرمایا کہ اے قوم ! خدا کی تلوار کو اپنے اوپر نہ کھینچو۔ خدا کی قسم! اگر تم لوگوں نے تلوار کھینچی تو پھر اسے میان میںکرنے کا موقع نہ ملے گاہمیشہ مسلمانوں میں لڑائی جھگڑا ہی جاری رہے گا۔ عقل کرو آج تم پر حکومت صرف کوڑے کے ساتھ کی جاتی ہے ۔ ( عموماً حدودِ شرعیہ میںکوڑے کی سزا دی جاتی ہے) اور اگر تم نے اِس شخص کو قتل کر دیاتو حکومت کا کا م بغیر تلوار کے نہ چلے گا۔ (یعنی چھوٹے چھوٹے جرموں پر لوگوں کو قتل کیاجاوے گا) یاد رکھو کہ اِس وقت مدینہ کے محافظ ملائکہ ہیں ۔ اگر تم اس کو قتل کردو گے تو ملائکہ مدینہ کو چھوڑ جائیںگے۔
    اس نصیحت سے ان لوگوںنے یہ فائدہ اُٹھایاکہ عبداللہؓ بن سلام صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دھتکا ر دیا اور ان کے پہلے دین کا طعنہ دے کر کہا کہ اے یہودن کے بیٹے! تجھے ان کاموںسے کیا تعلق ۔ افسوس کہ ان لوگوں کو یہ تو یاد رہاکہ عبداللہ بن سلامؓ یہودن کے بیٹے تھے لیکن یہ بھو ل گیاکہ آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر ایمان لائے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے ایمان لانے پر نہایت خوشی کا اظہار کیااور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر ایک مصیبت اور دکھ میں آپ شریک ہوئے۔ اور اسی طرح یہ بھی بھول گیاکہ ان کا لیڈر اور ان کو ورغلانے والاحضرت علیؓ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصی قرار دے کر حضرت عثمانؓ کے مقابلہ پر کھڑا کرنے والاعبداللہ بن سبا بھی یہودن کا بیٹا تھابلکہ خود یہودی تھااور صرف ظاہر میں اسلام کا اظہار کر رہا تھا۔
    مفسدوں کا حضرت عثمانؓ کو قتل کرنا
    حضرت عبداللہ بن سلامؓ تو ان لوگوں سے مایوس ہو کر چلے گئے اور اُدھر
    ان لوگوں نے یہ دیکھ کر کہ دروازہ کی طرف سے جا کر حضرت عثمانؓ کو قتل کر نا مشکل ہے کیونکہ اس طرف تھوڑ ے بہت جولوگ بھی روکنے والے موجود ہیں وہ مرنے مارنے پر تُلے ہوئے ہیں یہ فیصلہ کیاکہ کسی ہمسایہ کے گھر کی دیوا ر پھاندکر حضرت عثمانؓ کو قتل کر دیا جائے چنانچہ اِس ارادے سے چند لوگ ایک ہمسایہ کی دیوا ر پھاند کر آپ کے کمرہ میںگھس گئے۔ جب اندر گھسے تو حضرت عثمانؓ قرآن کریم پڑھ رہے تھے۔ اور جب سے کہ محاصرہ ہوا تھا رات دن آپ کا یہی شغل تھاکہ نماز پڑھتے یا قرآن کریم کی تلاوت کرتے اور اس کے سوا اور کسی کام کی طرف توجہ نہ کرتے اور ان دنوں میں صرف آپ نے ایک کام کیا اور وہ یہ کہ ان لوگوں کے گھروں میںداخل ہونے سے پہلے آپ نے دو آدمیوں کو خزانہ کی حفاظت کے لئے مقرر کیا۔ کیونکہ جیسا کہ ثابت ہے اُس دن رات کو رؤیا میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو نظر آئے اور فرمایاکہ عثمان ؓ! آج شام کو روزہ ہمارے ساتھ کھولنا۔ اِس رؤیا سے آپ کو یقین ہوگیا تھا کہ آج میںشہید ہو جاؤں گاپس آپ نے اپنی ذمہ داری کا خیال کرکے دو آدمیوں کو حکم دیاکہ وہ خزانہ کے دروازہ پر کھڑے ہو کر پہرہ دیں تا کہ شورو شر میں کو ئی شخص خزانہ لوٹنے کی کوشش نہ کرے۔
    واقعاتِ شہادت حضرت عثمانؓ
    غرض جب یہ لوگ اندر پہنچے تو حضرت عثمانؓ کو قرآن کریم پڑھتے پایا۔ ان پر حملہ آوروں
    میں محمد بن ابی بکر بھی تھے اور بوجہ اپنے اقتدار کے جو ان لوگوں پر ان کو حاصل تھااپنا فرض سمجھتے تھے کہ ہر ایک کام میں آگے ہوں ۔ چنانچہ اُنہوں نے بڑھ کر حضرت عثمانؓ کی ڈاڑھی پکڑ لی اور زور سے جھٹکا دیا۔ حضرت عثمانؓ نے ان کے اِس فعل پر صرف اس قدر فرمایاکہ اے میرے بھائی کے بیٹے! اگر تیرا باپ (حضرت ابو بکرؓ)اِس وقت ہوتا تو کبھی ایسا نہ کرتا۔ تجھے کیا ہواتو خدا کے لئے مجھ پرناراض ہے۔ کیا اس کے سو ا تجھے مجھ پر کوئی غصہ ہے کہ تجھ سے میں نے خداکے حقوق اداکروائے ہیں؟ اِس پر محمد بن ابی بکر شرمندہ ہوکر واپس لوٹ گئے۔ لیکن دوسرے شخص وہیں رہے اورچونکہ اس رات بصرہ کے لشکر کی مدینہ میں داخل ہوجانے کی یقینی خبر آچکی تھی اوریہ موقع ان لوگوں کے لئے آخری موقع تھا ان لوگوں نے فیصلہ کرلیا کہ بغیر اپنا کام کئے واپس نہ لوٹیں گے اوران میں سے ایک شخص آگے بڑھا اور ایک لوہے کی سیخ حضرت عثمان ؓ کے سرپر ماری اورپھر حضرت عثمان ؓ کے سامنے جو قرآن دھراہواتھا اُس کو لات مارکر پھینک دیا ۔ قرآن کریم لڑھک کر حضرت عثمان ؓ کے پاس آگیا اورآپ کے سرپر سے خو ن کے قطرات گر کر اُس پر آپڑے قرآن کریم کی بے ادبی توکسی نے کیا کرنی ہے مگر ان لوگوں کے تقویٰ اوردیانت کا پردہ اس واقعہ سے اچھی طرح فاش ہوگیا۔
    جس آیت پر آ پ کاخون گرا وہ ایک زبردست پیشگوئی تھی جو اپنے وقت میں جاکر اس شان سے پوری ہوئی کہ سخت دل سے سخت دل آدمی نے اِس کے خونی حروف کی جھلک کو دیکھ کر خوف سے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ وہ آیت یہ تھی۵۰ ؎ اللہ تعالیٰ ضرور تیرا ان سے بدلہ لے گااور وہ بہت سننے والااور جاننے والاہے۔
    اس کے بعد ایک اور شخص سودان نامی آگے بڑھا اور اس نے تلوار سے آپ پر حملہ کرنا چاہا۔ پہلا وار کیا تو آپ نے اپنے ہاتھ سے اُس کو روکا اور آپ کا ہاتھ کٹ گیا۔ اس پر آپ نے فرمایاکہ خداتعالیٰ کی قسم ! یہ وہ ہاتھ ہے جس نے سب سے پہلے قرآن کریم لکھا تھا۔ اس کے بعد پھر اس نے دوسرا وار کر کے آپ کو قتل کرنا چاہاتو آپ کی بیوی نائلہ وہاں آگئیں اور اپنے آپ کو بیچ میں کھڑا کر دیامگر اس شقی نے ایک عورت پر وار کرنے سے بھی دریغ نہ کیااور وار کر دیاجس سے آپ کی بیوی کی اُنگلیاں کٹ گئیں اور وہ علیحدہ ہو گئیں ۔ پھر اُس نے ایک وار حضرت عثمان ؓ پر کیا اور آپ کو سخت زخمی کر دیا۔ اس کے بعد اس شقی نے یہ خیال کر کے کہ ابھی جان نہیںنکلی شائد بچ جاویں اُسی وقت جب کہ زخموں کے صدموں سے آپ بے ہوش ہو چکے تھے اور شدتِ درد سے تڑپ رہے تھے آپ کا گلا پکڑ کر گھونٹنا شروع کر دیااور اُس وقت تک آپ کا گلا نہیںچھوڑا جب تک آپ کی روح جسم خاکی سے پرواز کرکے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو لبیک کہتی ہوئی عالم ِبالاکو پرواز نہیں کر گئی۔۔
    پہلے حضرت عثمان ؓ کی بیوی اِس نظارہ کی ہیبت سے متأثرہوکر بول نہ سکیں۔ لیکن آخر انہوں نے آواز دی اوروہ لوگ جو دروازہ پربیٹھے ہوئے تھے اندر کی طرف دوڑے ۔ مگر اب مدد فضول تھی جوکچھ ہونا تھا وہ ہوچکاتھا۔ حضرت عثمانؓ کے ایک آزاد کردہ غلام سے سودان کے ہاتھ میں وہ خون آلودہ تلوار دیکھ کرجس نے حضرت عثمانؓ کو شہید کیا تھا نہ رہاگیااوراس نے آگے بڑھ کر اُس شخص کا تلوار سے سرکاٹ دیا۔ اِس پر اُس کے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے اُس کو قتل کردیا۔ اب اسلامی حکومت کا تخت خلیفہ سے خالی ہوگیا۔ اہل مدینہ نے مزید کوشش فضول سمجھی اورہر ایک اپنے اپنے گھر جاکر بیٹھ گیا۔ ان لوگوں نے حضرت عثمانؓ کو مارکر گھرپر دست تعدّی دراز کرنا شروع کیا۔ حضرت عثمان ؓ کی بیوی نے چاہا کہ اس جگہ سے ہٹ جاویں تواس کے لوٹتے وقت ان میں سے ایک کم بخت نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ دیکھو! اس کے سر ین کیسے موٹے ہیں۔
    بے شک ایک حیادار آدمی کے لئے خواہ وہ کسی مذہب کا پیرو کیوں نہ ہو اِس بات کوباور کرنا بھی مشکل ہے کہ ایسے وقت میں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت سابق (قدیم)صحابی ؓ آپ کے داماد ، تما م اسلامی ممالک کے بادشاہ اورپھرخلیفۂ وقت کویہ لوگ ابھی ابھی مار کر فارغ ہوئے تھے ایسے گندے خیالات کا ان لوگوں نے ا ظہار کیاہو۔ لیکن ان لوگوں کی بے حیائی ایسی بڑھی ہوئی تھی کہ کسی قسم کی بداعمالی بھی ان سے بعید نہ تھی یہ لوگ کسی نیک مدعاکو لے کرکھڑے نہیں ہوئے تھے نہ ان کی جماعت نیک آدمیوں کی جماعت تھی۔ ان میں سے بعض عبداللہ بن سبا یہودی کے فریب خوردہ اوراس کی عجیب وغریب مخالف اسلام تعلیموں کے دلدادہ تھے ۔ کچھ حدسے بڑھی ہوئی سوشلزم بلکہ بالشوزم کے فریفتہ تھے۔ کچھ سزایافتہ مجرم تھے جو اپنا دیرینہ بغض نکالنا چاہتے تھے۔ کچھ لٹیرے اورڈاکو تھے جو اس فتنہ پراپنی ترقیات کی راہ دیکھتے تھے۔ پس ان کی بے حیائی قابل تعجب نہیں بلکہ یہ لوگ اگر ایسی حرکات نہ کرتے تب تعجب کا مقام تھا۔
    جب یہ لوگ لوٹ مار کررہے تھے ایک اورآزاد کردہ غلام سے حضرت عثمانؓ کے گھر والوں کی چیخ وپکار سن کر رہانہ گیااوراُس نے حملہ کرکے اُس شخص کو قتل کردیا جس نے پہلے غلام کو مارا تھا۔ اِس پر اِن لوگوں نے اُسے بھی قتل کردیا اورعورتوں کے جسم پر سے بھی زیوراُتارلئے اورہنسی ٹھٹھا کرتے ہوئے گھرسے نکل گئے۔
    باغیوں کا بیت المال کو لُوٹنا
    اس کے بعد ان لوگوں نے اپنے ساتھیوں میں عام منادی کرادی کہ بیت المال کی طرف چلو اور اس
    میں جو کچھ ہولوٹ لو۔ چونکہ بیت المال میں سوائے روپیہ کی دوتھیلیوں کے اورکچھ نہ تھا محافظوں نے یہ دیکھ کر کہ خلیفۂ وقت شہید ہوچکاہے اوران لوگوں کامقابلہ کرنا فضول ہے آپس میں یہ فیصلہ کیا کہ یہ جو کچھ کرتے ہیں اِن کو کرنے دو اوربیت المال کی کنجیاں پھینک کرچلے گئے۔ چنانچہ انہوں نے بیت المال کوجاکر کھولا اوراس میں جوکچھ تھا لوٹ لیا۔ اور اس طرح ہمیشہ کے لئے اس امر کی صداقت پر مہر لگادی کہ یہ لوگ ڈاکو اورلٹیرے تھے اور ان کو اسلام اورمسلمانوں سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اورکیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ وہ لوگ جو حضرت عثمان ؓ پر یہ اعتراض دھرتے تھے کہ آپ غیر مستحقین کو روپیہ دے دیتے ہیں حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد سب سے پہلاکام یہ کرتے ہیں کہ پہلے آپ کا گھر لوٹتے ہیں اورپھر بیت المال ۔ مگر خداتعالیٰ نے ان کی آرزوئوں کو اس معاملہ میں بھی پورانہ ہونے دیا۔کیونکہ بیت المال میں اُس وقت سوائے چند روپوں کے جوا ن کی حرص کوپورا نہیں کرسکتے تھے اورکچھ نہ تھا۔
    حضرت عثمانؓ کی شہادت پر صحابہ ؓ کا جوش
    حضرت عثمانؓ کی شہادت کی خبر جب صحابہ ؓ کو پہنچی تو ان کو سخت
    صدمہ ہوا ۔حضرت زبیرؓ نے جب یہ خبر سنی توفرمایا کہ ۔ اے خدا ! عثمان ؓ پر رحم کراوراس کا بدلہ لے۔ اورجب ان سے کہا گیا کہ اب وہ لوگ شرمندہ ہیں اوراپنے کئے پر پشیمان ہورہے ہیں توآپ نے فرمایا کہ یہ منصوبہ بازی تھی اورپھریہ آیت تلاوت فرمائی ۵۱؎ خداتعالیٰ نے ان کی آرزوئوں کے پوراہونے میں روکیں ڈال دی تھیں یعنی جو کچھ یہ لوگ چاہتے تھے چونکہ اب پورا ہوتا نظرنہیں آتا۔ کل عالمِ اسلامی کواپنے خلاف جوش میں دیکھ رہے ہیں اِس لئے اظہارِ ندامت کرتے ہیں۔ جب حضرت طلحہ ؓ کو خبر ملی توآپ نے بھی یہی فرمایاکہ خداتعالیٰ عثمان ؓ پر رحم فرماوے اوراس کا اوراسلام کا بدلہ ان لوگوں سے لے۔ جب ان سے کہا گیا کہ اب تو وہ لوگ نادم ہیں توآپ نے فرمایا کہ ان پر ہلاکت ہواوریہ آیت کریمہ پڑھی ۵۲ ؎ان کو وصیت کرنے کی بھی توفیق نہ ملے گی اوروہ اپنے اہل وعیال کی طرف واپس نہ لَوٹ سکیں گے۔
    اسی طرح جب حضرت علی ؓ کی اطلاع ملی توآپ نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ عثمان ؓ پر رحم فرماوے اوران کے بعد ہمارے لئے کوئی بہتر جانشین مقرر فرماوے ۔ اورجب ان سے بھی کہا گیا کہ اب تو وہ لوگ شرمندہ ہیں توآپ نے یہ آیت کریمہ پڑھی ۵۳؎ یعنی ان کی مثال اس شیطان کی ہے جو لوگوں کو کہتا ہے کہ کفر کرو جب وہ کفر اختیار کر لیتے ہیں تو پھر کہتا ہے کہ میںتجھ سے بیزار ہوںمیں تو خدا سے ڈرتا ہوں۔ جب اِن لشکروں کو جو حضرت عثمانؓ کی مدد کے لئے آرہے تھے معلوم ہوا کہ آپ شہیدہو گئے ہیں ۔ تو وہ مدینہ سے چند میل کے فاصلہ پر سے ہی لوٹ گئے اور مدینہ کے اندر داخل ہونا انہوں نے پسند نہ کیاکیونکہ ان کے جانے سے حضرت عثمان ؓ کی تو کوئی مدد نہ ہوسکتی تھی اور خطرہ تھاکہ فساد زیادہ نہ بڑ ھ جاوے اور مسلمان عام طور پر بِلا امام کے لڑنا بھی پسند نہ کرتے تھے۔
    اب مدینہ انہیں لوگوں کے قبضہ میں رہ گیااور ان ایام میں ان لوگوں نے جو حرکات کیں وہ نہایت حیرت انگیز ہیں۔ حضرت عثمانؓ کو شہید تو کر چکے تھے ان کی نعش کے دفن کرنے پر بھی ان کو اعتراض ہوا اور تین دن تک آپ کو دفن نہ کیا جاسکا۔ آخر صحا بہ ؓ کی ایک جماعت نے ہمت کر کے رات کے وقت آپ کو دفن کیا ان لوگوں کے راستہ میں بھی انہوں نے روکیں ڈالیں لیکن بعض لوگوں نے سختی سے ان کا مقابلہ کرنے کی دھمکی دی تو دب گئے ۔ حضرت عثمانؓ کے دونوں غلاموں کی لاشوں کو باہر جنگل میں نکال کر ڈال دیااور کتوں کو کھلا دیا۔۵۴؎ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ۔
    واقعات متذکرہ کا خلاصہ اور نتائج
    یہ وہ صحیح واقعا ت ہیں جو حضرت عثمانؓ کے آخری ایامِ خلافت میں ہوئے ان کو
    معلوم کرنے کے بعد کوئی شخص یہ گمان بھی نہیں کر سکتا کہ حضرت عثمانؓ یا صحابہؓ کا ان فسادات میں کچھ بھی دخل تھا۔حضرت عثمانؓ نے جس محبت اور جس اخلاص اور جس بردباری سے اپنی خلافت کے آخری چھ سال میں کام لیا ہے وہ انہی کا حصہ ہے۔ خدائے پاک کے بندوں کے سوا اور کسی جماعت میں ایسی مثال نہیں مل سکتی۔ وہ بے لوث مسند خلافت پر بیٹھے اور بے لوث ہی اپنے محبوبِ حقیقی سے جا ملے۔ ایسے خطرناک اوقات میں جب کہ بڑے بڑے صابروں کا خون بھی جوش میں آجاتا ہے آپ نے ایسا رویہ اختیار کیا کہ آپ کے خون کے پیاسے آپ کے قتل کیلئے کوئی کمزور سے کمزور بہانہ بھی تلاش نہ کر سکے اور آخر اپنے ظالم ہونے اور حضرت عثمانؓ کے بری ہونے کا اقرار کرتے ہوئے انہیں آپ پر تلوار اُٹھانی پڑی۔
    اِسی طرح ان واقعات سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ صحابہؓ کو حضرت عثمانؓ کی خلافت پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ وہ آخر دم تک وفاداری سے کام لیتے رہے اور جب کہ کسی قسم کی مدد کرنی بھی ان کے لئے ناممکن تھی تب بھی اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر آپ کی حفاظت کرتے رہے ۔ یہ بھی ان واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ ان فسادات میں حضرت عثمانؓ کے انتخابِ والیان کا بھی کچھ دخل نہ تھااور نہ والیوں کے مظالم اس کا باعث تھے کیونکہ ان کا کوئی ظلم ثابت نہیں ہوتا۔ حضرت علی ؓ اور حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ پر خفیہ ریشہ دوانیوں کا بھی الزام بالکل غلط ہے ۔ ان تینوں اصحاب نے وفاداری اور اس ہمدردی سے اس فتنہ کے دور کرنے میں سعی کی ہے کہ سگے بھائی بھی اس سے زیادہ تو کیا اس کے برابر بھی نہیں کر سکتے۔ انصار پر جو الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ حضرت عثمانؓ سے ناراض تھے وہ غلط ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ انصار کے سب سردار اس فتنہ کے دور کرنے میں کوشاں رہے ہیں ۔
    فساد کا اصل باعث یہی تھاکہ دشمنانِ اسلام نے ظاہری تدابیر سے اسلام کو تباہ نہ ہوتے دیکھ کر خفیہ ریشہ دوانیوںکی طرف توجہ کی اور بعض اکابر صحابہؓ