1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

خلافت احمدیہ کے بارے الہام رؤیا و کشوف

'یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 22, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    خلافت احمدیہ کے بارے الہام رؤیا و کشوف


    ینصرک رجال نوحی الیہم من السماء
    (الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام)

    جماعت احمدیہ میں قیام خلافت
    کے بارہ میں
    الہامات ، کشو ف و رؤیا اورالٰہی اشارے

    مرتبہ
    نظارت اصلاح وارشاد مرکزیہ

    زیر اہتمام
    صد سالہ خلافت احمدیہ جوبلی کمیٹی
    انڈیکس
    نمبر شمار
    عنوان
    صفحہ
    1
    ابتدائیہ
    1
    2
    آیت استخلاف
    9
    3
    خلافت علی منہاج النبوۃ
    10
    4
    رسالہ الوصیت سے اقتباس
    11
    5
    خلافت کے بارہ میںحضرت مسیح موعود کا ایک اور اہم ارشاد
    15
    6
    خلافت اولیٰ کے بارہ میںالہامات وکشوف
    اور مبشر رؤیا، خوابیںاور الٰہی اشارے
    29
    7
    خلافت ثانیہ کے بارہ میں الہامات وکشوف
    اور مبشر رؤیا، خوابیںاور الٰہی اشارے
    65
    8
    خلافت ثالثہ کے بارہ میں الہامات وکشوف
    اور مبشر رؤیا، خوابیںاور الٰہی اشارے
    219
    9
    خلافت رابعہ کے بارہ میںالہامات وکشوف
    اور مبشر رؤیا، خوابیںاور الٰہی اشارے
    309
    10
    خلافت خامسہ کے بارہ میں الہامات وکشوف
    اور مبشر رؤیا،خوابیں اور الٰہی اشارے
    469

    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہٖ الکریم
    ابتدائیہ
    اللہ تبارک وتعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے اور اس نور کو دنیا میںپھیلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے نبوت کاسلسلہ جاری فرمایا ۔ جس کے تحت اللہ تعالیٰ لوگوں میں سے انبیاء مبعوث فرماتا رہا ہے اور جب وہ اپنا وقت پورا کر کے اس دُنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے نور کو دنیا میں جاری وساری رکھنے کے لئے ان کی جگہ کچھ اور لوگوں کو کھڑا کرتا ہے جوخلفاء کہلاتے ہیں۔ گویا حدیث نبوی"مَامِنْ نُبُّوَۃٍ قَطُّ اِلَّا تَبِعَتْھَا خِلَافَۃٌ"(کنزالعمال )کے تحت ہر نبوت کے بعد خلافت ہے جو آسمانوں اور زمین میں پھیلے اللہ تعالیٰ کے نور کو دور تک پہنچاتی ہے گویا نبوت چمنی ہے اور خلافت ری فلیکٹر ہے جو نور کو دُور تک پہنچاتا ہے ۔جیسے حضرت موسیٰ ؑ کے بعد یوشع بن نون اور حضرت مسیح ناصری کے بعد پطرس خلیفہ مقرر ہوئے اور عیسائیوں میں آج تکـ"پوپ" کی صورت میں ظاہری طور پر یہ سلسلہ جاری ہے اور الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام "کلیساکی طاقت کا نسخہ"میں دراصل ان کی اسی خلافت کا ہی ذکر ہے۔
    آج مسیح محمدی کی وفات کے بعد بھی اللہ تبارک وتعالیٰ نے خلافت کا سلسلہ جاری فرمایاجو اپنی مہمات میں طاقت کا نسخہ ثابت ہورہاہے۔ یہ خلافت درحقیقت تسلسل ہے اس خلافت مبارکہ کا جو آقاومولیٰ سیدنا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جاری ہوئی جو خلافت راشدہ کہلاتی ہے یہ خلافت سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے شروع ہوئی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ختم ہوئی اس کے بعد خلافت کا دوسرادور شروع ہواجو روحانی دور تھا جس میں سیاسی طاقت شامل نہیں تھی۔چنانچہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم آئندہ زمانے میں یہ پیشگوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
    " تم میں نبوت قائم رہے گی۔ جب تک اللہ چاہے گا پھر وہ اس کو اٹھالے گا ۔ اور خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہوگی ۔ پھراللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس نعمت کو بھی اٹھا لے گا ۔ پھر اس کی تقدیر کے مطابق ایذارساں بادشاہت قائم ہوگی جس سے لوگ دل گرفتہ ہوں گے اور تنگی محسوس کریں گے ۔ پھر جب یہ دور ختم ہوگا تو اس سے بھی بڑھ کر جابر بادشاہت قائم ہوگی ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا رحم جوش میں آئے گا اور اس ظلم و ستم کے دور کو ختم کردے گا۔ اس کے بعد پھر خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہوگی ۔"
    (مسند امام احمد بن حنبل جلد نمبر 4 صفحہ 273ومشکوۃ باب الانذار والتحذیر)
    سیدنا حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے اپنی وفات سے قبل جماعت کے اندرروحانی خلافت کو قدرت ثانیہ کا نام دیا ہے اور قیامت تک جاری رہنے کی بشارت دی ہے۔ آپ فرماتے ہیں۔
    "تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھناضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کاسلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جاؤں لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔"
    (رسالہ الوصیت ازروحانی خزائن جلد20صفحہ305)
    یہ الفاظ سیدنا حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی وفات کے بعد27؍مئی 1908ء کو اس وقت پورے ہوئے جب حضرت حکیم الحاج مولانا نور الدین صاحب پہلے خلیفہ مقرر ہوئے ۔ آپ کی وفات کے بعد14؍مارچ1914ء کو حضرت الحاج مرزا بشیر الدین محموداحمد صاحب دوسرے خلیفہ منتخب ہوئے۔ آپ کے بعد حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب اور حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ منتخب ہوکر اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوچکے ہیں اور اب اس قدرت کے پانچویں مظہر سیدنا حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ اس مبارک مسند پر فائز ہیں۔
    یہ دوسری قدرت دائمی ہے اور تاقیامت جاری وساری رہے گی اور جماعت احمدیہ کی نہ صرف مضبوطی کا باعث بنتی رہے گی بلکہ احباب جماعت کا اللہ تعالیٰ سے تعلق اور عشق، سیدنا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت ومحبت اور اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن کریم سے پیار اور اس میں درج تعلیمات کو دلوں میں اُتارنے اور خالق حقیقی کا قرب پانے کا تاقیامت موجب بنتی رہے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ
    احباب جماعت کے ایمانوں میں پختگی اور استحکام کا باعث تو ہر وہ دور ہے جب ایک روحانی بندہ نبی یا خلیفہ کو اللہ تعالیٰ موت کی آغوش میں لے جاتا ہے اور پیشگوئیوں کے مطابق اس کی جگہ ایک اور روحانی بندے کو کھڑا کر کے اپنے مومن بندوں کی ڈھارس ، دلجوئی اور رہنمائی کرتا ہے۔ اس عرصہ میں روحانیت کا انتشار اتنی کثرت سے کرہ ارض پر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ الہامات ، رؤیا ، خوابوں اور اشاروں کے ذریعہ آئندہ منتخب ہونے والے خلیفہ کانام ، اس کے وجود کی بعض علامات اپنے مومن بندوں کے دلوں میں القاء کردیتا ہے اور "کلیم"بنا کر اس کی تائید ونصرت میں اپنے پیاروں سے بولتا ہے اور یوں ایک طرف جہاں ایک روحانی بندے کو"کلیم"بنایا جارہاہوتا ہے وہاں وہ اس کی تائید میں اپنے پیاروں سے کلام کر کے انہیں"کلیم"بنارہا ہوتا ہے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں۔
    ؎ وہ خدا اب بھی بناتا ہے جسے چاہے کلیم
    اب بھی اس سے بولتا ہے جس سے وہ کرتا ہے پیار
    اس کی تائید حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے ایک الہام "ینصرک رجال نوحی الیھم من السماء "سے بھی ہوتی ہے کہ وہ ایسے نازک وقت میں مبشر خوابوں رؤیا اور الٰہی اشاروں کے ذریعہ اپنے پیاروں کی رہنمائی کرتی ہے۔
    جماعت نے یہ نظارہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی وفات کے بعد ہر آنے والی خلافت پر دیکھا اور تمام کرہ ارض اس قدر انتشار روحانیت سے معمور ہوئی کہ صرف آس پاس نہیں بلکہ ہر دیہات میں ،ہر شہر میں، ہر ملک میں، ہر براعظم میں ، ہر گورے اور کالے میں، ہر چھوٹے اور بڑے میں، ہر عورت اور مرد میں یکساں طور پر خداتعالیٰ کا نور نازل ہوااور خداتعالیٰ کے انتشار روحانیت کی یہ تجلّی پہاڑوں پر بسنے والے لوگوں کے دلوں پر بھی اُترتی دکھلائی دی ، میدانوں اور صحراؤ ں کے باسی بھی اس سے جدانہ رکھے گئے۔ ہاں ارض مقدسہ کے باسیوں اور عرب کے صحراؤں میں رہنے والے احمدیوں کے دل بھی اُسی خدا کے قبضہ میں رہے اور ہر خلیفہ کے چناؤ سے قبل سینکڑوں سعید روحوں کی رہنمائی فرمائی۔
    حضرت مصلح رضی اللہ عنہ نے اپنی تائید میں دکھلائی جانے والی خوابوں کی تعداد 300سے زائد بیان فرمائی۔
    (خطبات جمعہ از مصلح موعودجلد اوّل صفحہ255)
    مکرم مولانا عبدالرحمن مبشر صاحب نے "بشارات رحمانیہ"کے نام کی ایک کتاب تصنیف فرمائی۔ جس میں آپ نے ینصرک رجال نوحی الیھم من السمّاء کے تحت سیدنا حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اور پہلے دو خلفاء کے حق میں دیکھی گئی رؤیا کشوف اور خوابیں اکٹھی کیںجن کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ بعدازاں حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کے بارہ میں رؤیا وکشوف کے مجموعہ "بشارات ربانیہ"میں احباب جماعت کی خوابوں کی تعدادبھی300 کے لگ بھگ بیان فرمائی ہے۔
    حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ اور حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ کے بارہ میں جو خوابیں اکٹھی ہوئی ہیں وہ بھی بالترتیب 200اور250کے قریب ہیں۔
    ان خوابوں میںجہاں واضح طور پریا تعبیری رنگ میں اگلے خلیفہ یا آئندہ خلافت کے جاری رہنے کا ذکر ہے وہ آئندہ صفحات میں درج ہیں ورنہ کنایۃًیا اشارۃًجہاں خلفاء کے بلندروحانی مقام کی نشان دہی کی گئی ہے وہ یہاں نہیں دی جارہی۔
    ان تمام رؤیا اور خوابوں کی ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ کوسوںدُور مختلف شہروں کے مختلف باشندوں اور مختلف مقامات سے تعلق رکھنے والے بلا تمیز رنگ ونسل وقومیت کے ایک ہی مفہوم کی خوابیں،الہام اور کشوف دیکھے کہ انسان ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک سعید روح کی ایشیامیں بھی رہنمائی فرمائی اور ہزاروں کلو میٹر دور افریقہ میں بسنے والے شخص کی بھی اسی رنگ میں رہنمائی فرمائی جبکہ افریقہ میں بسنے والا فرد اس شخص کو جانتا بھی نہیں تھااور نہ نام سے واقف تھا جس کے بارہ میں رہنمائی کی جارہی ہے ۔
    حضرت مولانا جلال الدین شمس مرحوم سابق ناظر اصلاح وارشاد نے "بشارات ربانیہ" میں اس مضمون کویوں بیان فرمایا :
    آپ لکھتے ہیں ۔
    حدیث نبوی "المومن یری ویری لہٗ "کے مطابق ویسے تو ہر مومن کچھ نہ کچھ رؤیائے صادقہ سے حصہ پاتا ہے اور کبھی اس کے بارے میں دوسروں کو رؤیا دکھائی جاتی ہیں اور آیت لھم البشریٰ فی الحیوۃ الدنیا میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے کہ مومنوں کو اسی دنیا میں رؤیا کے ذریعہ بشارات دی جاتی ہیں۔ لیکن خلافت کی اہمیت اور خدائی منشاء کے اظہار کے لئے اور انتخاب کے بارے میں رہنمائی اور مومنین کے ازدیاد ایمان کے لئے ایسے موقعہ پر کثرت سے خوابیں ،کشوف اور الہامات ہوتے ہیں ۔ ان رؤیاء کو ہم حدیث نفس یا اضغاث احلام یا شیطانی وسوسہ اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ یہ ایک یا دو افراد کا معاملہ نہیں ۔ سینکڑوں افراد جو دیانت اور تقویٰ کا ایک معیار رکھتے ہوں ۔ مختلف مقامات پر ،مختلف وقتوں میں، مختلف طریقوں سے ایک ہی مفہوم کی خواب دیکھیں اور ایک ہی مفہوم کے الہامات اور القاء پائیں تو وہ رؤیاء ، کشوف اور الہامات سب کے سب منجانب اللہ اور سچے ہوں گے ۔
    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ،کہ وہ علوم ظاہری اور باطنی سے پُر کیا جائے گا اپنے "حقیقۃ الرؤیا"کے معرکتہ الآرا لیکچر میں خوابوں اور الہامات کی صداقت معلوم کرنے کے طریق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ سچی خواب کی "پانچویں علامت یہ ہے کہ بعض دفعہ ایک مومن کو ایک رؤیا آتی ہے اور اُسی مضمون کی دوسروں کو بھی آجاتی ہے ۔ اور یہ شیطان کے قبضہ میں نہیں ہے کہ ایک ہی بات کے متعلق کئی ایک کو رؤیا کرادے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس علامت کے متعلق لکھا ہے ۔ چنانچہ " آئینہ کمالات اسلام" میں آپ کا جو خط نواب صاحب کے نام ہے اس میں آپ نے لکھا ہے کہ کچھ آدمی مل کر استخارہ کریں اور جو کچھ بتایا جائے اس کو آپس میں ملائیں ۔جو بات ایک دوسرے سے مل جائے گی وہ سچی ہوگی۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم بھی فرماتے ہیں یراھا المسلم اوتری لہ۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مومن کو ایک رؤیا دکھائی جاتی ہے یا اوروں کو اس کے لئے دکھائی جاتی ہے۔ لیکن شیطان کو ایسا کرنے کا تصرف حاصل نہیں ہوتا۔ یہ معیار ہم اور ہمارے مخالفین میں بہت کھلا فیصلہ کر دیتا ہے ۔ ہم جب کئی ایک لوگوں کی خوابیں ایک ہی مطلب کی اپنے متعلق پیش کرتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ حدیث النفس ہیں۔ مگر دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں تری لہٗ اوروں کو بھی دکھائی جاتی ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کہتے ہیں کہ دو شخصوں کی خوابوں کو آپس میںملا کر دیکھ لو۔ اگر وہ مل جائیں تو وہ سچی ہوں گی۔"
    (حقیقۃ الرؤیا از انوار العلوم جلد چہارم صفحہ128)
    جماعت احمدیہ کی صداقت اور حضرت مسیح موعودعلیہ السلام وخلفاء کی تائیدونصرت میں"ینصرک رجال نوحی الیھم من السمّائ"کے تحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے رؤیا کشوف اور خوابوں کا اپنے مخلصین کو دکھلایا جانا جماعت کا ایک بہت بڑا سرمایہ ہے اور تاریخ کا حصہ ہے۔ جسے محفوظ کرنا بہت ضروری ہے۔
    حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں۔
    "میرے نزدیک قرین مصلحت ہے کہ جب ایک معقول اندازہ ان خوابوں اور الہاموں کا ہوجائے تو ان کو ایک رسالہ مستقلہ کی صورت میں طبع کر کے شائع کیا جائے کیونکہ کیونکہ یہ بھی ایک شہادت آسمانی اور نعمت الٰہی ہے۔"
    (نشان آسمانی ازروحانی خزائن جلد4صفحہ399-400)
    پھر فرمایا ۔
    "ایسی تحریریں ایک جگہ جمع ہوتی جائیں اور پھر حق کے طالبوں کے لئے شائع کی جائیں۔اس تجویزسے انشاء اللہ بندگان خداکو بہت فائدہ ہوگااور مسلمانوں کے دل کثرت شواہد سے ایک طرف تسلی پاکر فتنہ سے نجات پاجائیں گے۔"
    (مجموعہ اشتہارات جلد2صفحہ156)
    ان ارشادات کی روشنی میں پانچوں خلفاء کے بارے میں الہامات،رؤیاکشوف اور خوابوںکامجموعہ خلافت احمدیہ صدسالہ جوبلی کے مبارک اور تاریخی موقعہ پر نظارت اصلاح وارشادمرکزیہ کوپیش کرنے کی سعادت نصیب ہورہی ہے۔
    اس کتاب کو مرتب کرتے وقت اس امر کو مد نظر رکھا گیا ہے کہ خوابوں کی ترتیب سن وار اور تاریخ وار ہو تاکہ ایک قاری کا اپنے خالق حقیقی پر ایمان بڑھے کہ کتنے سال قبل جبکہ وہ شخص گمنامی کی زندگی گزار رہا تھا اس کو بتلادیا گیا کہ فلاں سن میں فلاں نامی خلیفہ ہوگا اور چونکہ خدائی بشارات کی قبل ازوقت اشاعت کی اجازت نہیں ہوتی اس لئے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بہت سی خوابیں اور رؤیا وہ بزرگ اپنے ساتھ لے گئے جو اب اس دُنیا میںنہیں اور جوں جوں انتخاب خلافت کا زمانہ قریب آتا گیا ۔ کیابلحاظ تعداد اور کیا بلحاظ صراحت خوابوں کی تعداد بڑھتی گئی۔
    آخر میں عاجز مکرم حنیف احمد محمود صاحب نائب ناظر اصلاح وارشاد مرکزیہ کامشکور ہے جنہوں نے اس مسودّہ کو تیار کیا۔ آپ کے ساتھ تعاون کرنے والے مربیان مکرم ملک سعید احمد رشید صاحب ، مکرم میاں مظفر الحق صاحب ، مکرم تنویر احمد شاہد صاحب ، مکرم محمد حسین صاحب ،مکرم فرحت علی صاحب اور مکرم عبدالوہاب احمد صاحب کا مشکور ہے جنہوںنے اس تمام کام کو محنت شاقہ کے بعد مکمل کیا۔ فجزاھم اللہ تعالیٰ
    عاجز
    راجہ نصیر احمد
    ناظر اصلاح وارشاد مرکزیہ




    آیت استخلاف
    وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْصوَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِیْ ارْتَضٰی لَھُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّھُمْ مِّنْم بَعْدِ خَوْفِھِمْ اَمْنًاط یَعْبُدُوْ نَنِیْ لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْئًا ط وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَo
    ترجمہ: تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے ان سے اللہ نے پختہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اس نے ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا اور ان کے لئے ان کے دین کو ، جو اس نے ان کے لئے پسند کیا ، ضرور تمکنت عطا کرے گا اور ان کی خوف کی حالت کے بعد ضرور انہیں امن کی حالت میں بدل دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے ۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے ۔ اور جو اس کے بعد بھی ناشکری کرے تو یہی وہ لوگ ہیں جو نافرمان ہیں۔
    (سورۃ النور آیت نمبر56ترجمہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ )

    خلافت علی منہاج النبوۃ
    عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہٗ عَلَیَہِ وَسَلَّمَ تَکُوْنُ النَّبُوَّۃُ فِیْکَمْ مَاشَائَ اللّٰہٗ اَنْ تَکُوْنَ ثُمَّ یَرْفَعُھَا اِذَاشَائَ اَنْ یَّرْفَعَھَا ثُمَّ تَکُونَ خِلَافَۃٌ عَلٰی مِنْہَاجِ الَّنُبوَّۃِ فَتَکُوْنُ مَاشَائَ اللّٰہٗ اَنْ تَکُوْنَ ثُمَّ یَرْ فَعُھَا اِذَا شَائَ اللّٰہٗ اَنْ یَّرْفَعَھَا ثُمٌ تَکُوْنُ مُلْکًا عَاضاً فَیَکُوْنَ مَا شَائَ اللّٰہٗ اَنْ یَّکُوْنَ ثُمَّ یَرْفَعُھَا اِذَا شَائَ اَنْ یَّرْفَعَھَا ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکًا جَبَرِیَّۃً فَتَکُوْنُ مَا شَائَ اللّٰہٗ اَنْ تَکُوْنَ ثُمَّ یَرْفَعُھَا اِذَا شَآئَ اَنْ یَّرْفَعَھَا ثُمَّ تَکُونُ خِلَافَۃٌ عَلٰی مِنْہَاجِ الَّنُبوَّۃِ ثُمَّ سَکَتَ۔
    (مسند امام احمد بن حنبل جلد نمبر 4 صفحہ 273ومشکوۃ باب الانذار والتحذیر)
    ترجمہ: حضرت حذیفہؓ بیان کرتے ہیںکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم میں نبوت قائم رہے گی۔ جب تک اللہ چاہے گا پھر وہ اس کو اٹھالے گا ۔ اور خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہوگی ۔ پھراللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس نعمت کو بھی اٹھا لے گا ۔ پھر اس کی تقدیر کے مطابق ایذارساں بادشاہت قائم ہوگی جس سے لوگ دل گرفتہ ہوں گے اور تنگی محسوس کریں گے ۔ پھر جب یہ دور ختم ہوگا تو اس کی دوسری تقدیر کے مطابق اس سے بھی بڑھ کر جابر بادشاہت قائم ہوگی ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا رحم جوش میں آئے گا اور اس ظلم و ستم کے دور کو ختم کردے گا۔ اس کے بعد پھر خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہوگی اور یہ فرما کر آپؐ خاموش ہوگئے۔
    (ترجمہ از حضرت خلیفۃ المسیح الخامس خطبہ جمعہ فرمودہ 21؍مئی 2004ئ)
    رسالہ الوصیت سے اقتباس
    سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
    "یہ خداتعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ اس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اس سنت کو وہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے اور ان کو غلبہ دیتا ہے ۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے ۔ کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیُ(المجادلہ:22) اورغلبہ سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ رسولوں اور نبیوں کا یہ منشاء ہوتا ہے کہ خدا کی حجت زمین پر پوری ہوجائے اور اس کا مقابلہ کوئی نہ کرسکے اسی طرح خداتعالیٰ قوی نشانوں کے ساتھ ان کی سچائی ظاہر کردیتا ہے اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اس کی تخم ریزی انہی کے ہاتھ سے کردیتاہے ۔ لیکن اس کی پوری تکمیل ان کے ہاتھ سے نہیں کرتا بلکہ ایسے وقت میں ان کووفات دے کر جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے مخالفوں کو ہنسی اور ٹھٹھے اور طعن اور تشنیع کا موقعہ دے دیتا ہے۔اور جب وہ ہنسی ٹھٹھا کرچکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے اور ایسے اسباب پیداکردیتا ہے جن کے ذریعہ سے وہ مقاصد جو کسی قدر ناتمام رہ گئے تھے اپنے کمال کو پہنچتے ہیں ۔
    غرض دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے ۔ (۱) اول خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے (۲) دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آجاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا۔ اور یقین کرلیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہوجائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردّد میں پڑ جاتے ہیں اور ان کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیںاور کئی بدقسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کرلیتے ہیں تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبردست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے ۔ پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے خداتعالیٰ کے اس معجزہ کودیکھتا ہے ۔ جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے وقت میں ہوا جب کہ آنحضرت ﷺ کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی۔ اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہوگئے اور صحابہ ؓ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہوگئے۔ تب خداتعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا اور اس وعدہ کو پورا کیا جو فرمایا تھا وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَھُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّھُمْ مِّنم بَعْدِ خَوْفِھِمْ اَمْنًا۔(النور:56)یعنی خوف کے بعد پھر ہم ان کے پیر جما دیںگے۔ ایساہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ہوا جب کہ حضرت موسٰی ؑ مصر اور کنعان کی راہ میں پہلے اس سے جو بنی اسرائیل کو وعدہ کے موافق منزل مقصود تک پہنچا دیں فوت ہوگئے اور بنی اسرائیل میں ان کے مرنے سے ایک بڑا ماتم برپا ہوا۔ جیسا کہ توریت میں لکھا ہے کہ بنی اسرائیل اس بے وقت موت کے صدمہ سے اور حضرت موسٰی ؑ کی ناگہانی جدائی سے چالیس دن تک روتے رہے ۔ ایسا ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ معاملہ ہوا اور صلیب کے واقعہ کے وقت تما م حواری تتر بتر ہوگئے اور ایک ان میں سے مرتد بھی ہوگیا۔
    سو اے عزیزو! جب کہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خداتعالیٰ دوقدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کرکے دکھلادے ۔ سو اب ممکن نہیں ہے کہ خداتعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کردیوے۔ اس لئے تم میر ی اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہواور تمہارے دل پریشان نہ ہوجائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا۔ اوروہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جائوں۔ لیکن میں جب جائوںگا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جوہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی ۔ جیسا کہ خدا کا براہین احمدیہ میں وعدہ ہے ۔ اوروہ وعدہ میری ذات کی نسبت نہیں ہے ۔ بلکہ تمہاری نسبت وعدہ ہے جیسا کہ خدافرماتا ہے کہ میں اس جماعت کو جو تیرے پیرو ہیں قیامت تک دوسروں پر غلبہ دوں گا۔ سو ضرور ہے کہ تم پر میری جدائی کا دن آوے تا بعد اس کے وہ دن آوے جو دائمی وعدہ کا دن ہے ۔ وہ ہمارا خدا وعدوں کا سچا اور وفادار اور صادق خدا ہے وہ سب کچھ تمہیں دکھلائے گا جس کا اس نے وعدہ فرمایا ہے۔ اگرچہ یہ دن دنیا کے آخری دن ہیں اور بہت بلائیں ہیں جن کے نزول کاوقت ہے پر ضرور ہے کہ یہ دنیا قائم رہے جب تک وہ تمام باتیں پوری نہ ہوجائیں جن کی خدا نے خبردی۔ میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں۔ اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے ۔ سو تم خدا کی قدرت ثانی کے انتظار میں اکھٹے ہو کر دعا کرتے رہو۔ اور چاہئے کہ ہر ایک صالحین کی جماعت ہر ایک ملک میں اکھٹے ہو کردعا میں لگے رہیں تا دوسری قدرت آسمان سے نازل ہو اور تمہیں دکھاوے کہ تمہارا خدا ایسا قادر خدا ہے ۔ اپنی موت کو قریب سمجھو تم نہیں جانتے کہ کس وقت وہ گھڑی آجائے گی ۔
    اور چاہئے کہ جماعت کے بزرگ جو نفس پاک رکھتے ہیں میرے نام پر میرے بعد لوگوں سے بیعت لیں۔ خداتعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیا ۔ ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے۔ یہی خداتعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لئے میں دنیا میں بھیجا گیا۔ سو تم اس مقصد کی پیروی کرو۔ مگرنرمی اور اخلاق اوردعائوں پر ز ور دینے سے اور جب تک کوئی خدا سے روح القدس پا کرکھڑا نہ ہو سب میرے بعد مل کر کام کرو۔
    (رسالہ الوصیت از روحانی خزائن جلد 20 صفحہ304 تا 307 )



    خلافت کی اہمیت وضرورت اور خلافت کے دائمی
    ہونے کے بارے حضرت مسیح موعود علیہ السلام
    کاایک اور اہم ارشاد
    فرمایا:
    "بعض صاحب آیت وَعَدَاللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُواالصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ (النور:56)
    کی عمومیت سے انکار کر کے کہتے ہیں کہ منکم سے صحابہؓ ہی مراد ہیں اور خلافت راشدہ حقہ انہیں کے زمانہ تک ختم ہوگئی اور پھر قیامت تک اسلام میں اس خلافت کا نام ونشان نہیں ہوگا ۔ گویا ایک خواب وخیال کی طرح اس خلافت کا صرف تیس برس تک ہی دور تھااور پھر ہمیشہ کے لئے اسلام ایک لازوال نحوست میں پڑگیا مگر میںپوچھتا ہوں کہ کیا کسی نیک دل انسان کی ایسی رائے ہوسکتی ہے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نسبت تو یہ اعتقاد رکھے کہ بلاشبہ ان کی شریعت کی برکت اور خلافت راشدہ کا زمانہ جو برابر چودہ سو برس تک رہا لیکن وہ نبی جو افضل الرسل اور خیر الانبیاء کہلاتا ہے اور جس کی شریعت کا دامن قیامت تک ممتد ہے اس کی برکات گویا اس کے زمانہ تک ہی محدود رہیں اور خداتعالیٰ نے نہ چاہا کہ کچھ بہت مدت تک ا س کی برکات کے نمونے اس کے روحانی خلیفوں کے ذریعہ سے ظاہر ہوں ایسی باتوں کو سن کر تو ہمارا بدن کانپ جاتا ہے مگر افسوس کہ وہ لوگ بھی مسلمان ہی کہلاتے ہیں جو سراسر چالاکی اور بیباکی کی راہ سے ایسے بے ادبانہ الفاظ منہ پر لے آتے ہیں کہ گویا اسلام کی برکات آگے نہیں بلکہ مدت ہوئی کہ اُن کا خاتمہ ہوچکا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہ کہنا کہ حدیث میں آیا ہے کہ خلافت تیس سال تک ہوگی عجیب فہم ہے جس حالت میں قرآن کریم فرماتا ہے کہ
    ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَثُلَّۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ (الواقعہ :40-41)
    تو پھر اس کے مقابل پر کوئی حدیث پیش کرنااور اس کے معنی مخالف قرآن قراردینا معلوم نہیں کہ کس قسم کی سمجھ ہے اگر حدیث کے بیان پر ہی اعتبار ہے تو پہلے اُن حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت اور وثوق میں ا س حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کی نسبت آواز آئے گی کہ ھٰذَا خَلِیْفَۃُ اللّٰہِ الْمَھْدِیُّ۔ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے لیکن وہ حدیث جو معترض صاحب نے پیش کی ہے علماء کو اُس میں کئی طرح کا جرح ہے اور ا س کی صحت میں کلام ہے ۔کیا معترض نے غور نہیں کی جو آخری زمانہ کی نسبت بعض خلیفوں کے ظہور کی خبریں دی گئی ہیں کہ حارثؔآئے گا مہدی آئے گا۔ آسمانی خلیفہ آئے گا۔ یہ خبریں حدیثوں میں ہیں یاکسی اور کتاب میں ۔ احادیث سے یہ ثابت ہے کہ زمانے تین ہیں۔
    اوّل خلافت راشدہ کازمانہ ۔ پھر فیج اعوج جس میں ملک عضوض ہوں گے اور بعد اس کے آخری زمانہ جو زمانہ نبوت کے نہج پر ہوگا۔ یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اُمت کا اوّل زمانہ اور پھر آخری زمانہ باہم بہت ہی متشابہ ہیں اور یہ دونوں زمانے اس بارش کی طرح ہیں جو ایسی خیر وبرکت سے بھری ہوئی ہو کہ کچھ معلوم نہیں کہ برکت اس کے پہلے حصہ میں زیادہ ہے یا پچھلے میں۔
    اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ اللہ جلشانہ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ
    اِنَّا نَحْنَ نَزَّلْنَا الذِّکْرَوَاِنَّالَہٗ لَحَا فِظُوْنَ (الحجر :10)
    یعنی ہم نے ہی اس کتاب کو اُتارا ہے اور ہم ہی اس تنزیل کی محافظت کریں گے اس میں اس بات کی تصریح ہے کہ یہ کلام ہمیشہ زندہ رہے گا اور اس کی تعلیم کو تازہ رکھنے والے اور اُس کا نفع لوگوں کو پہنچانے والے ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں گے۔۔۔۔۔۔اورقرآن کریم کی حفاظت صرف اسی قدر نہیں جو اس کے صحف مکتوبہ کو خوب نگہبانی سے رکھیں کیونکہ ایسے کام تو اوائل حال میں یہود اور نصاریٰ نے بھی کئے یہاں تک کہ توریت کے نقطے بھی گن رکھے تھے۔ بلکہ اس جگہ مع حفاظت ظاہری حفاطت فوائد وتاثیرات قرآنی مراد ہے اور وہ موافق سنت اللہ کے تبھی ہوسکتی ہے کہ جب وقتاًفوقتاً نائب رسول آویں جن میں ظلی طور پررسالت کی تمام نعمتیں موجودہوں اور جن کو وہ تمام برکات دے گئی ہوں جو نیبوں کی دی جاتی ہیں جیسا کہ ان آیات میں اسی امر عظیم کی طرف اشارہ ہے اور وہ یہ ہے
    وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْصوَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِیْ ارْتَضٰی لَھُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّھُمْ مِّنْم بَعْدِ خَوْفِھِمْ اَمْنًاط یَعْبُدُوْ نَنِیْ لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْئًا ط وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَo (النور:56)
    پس یہ آیت درحقیقت اس دوسری آیت
    اِنَّا نَحْنَ نَزَّلْنَا الذِّکْرَوَاِنَّالَہٗ لَحَا فِظُوْنَo (الحجر :10)
    کے لئے بطور تفسیر کے واقعہ ہے اور اس سوال کا جواب دے رہی ہے کہ حفاظت قرآن کیونکر اور کس طور سے ہوگی۔ سو خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ا س نبی کریم کے خلیفے وقتاً فوقتاً بھیجتا رہوں گا اور خلیفہ کے لفظ کو اشارہ کے لئے اختیار کیا گیا کہ وہ نبی کے جانشین ہوں گے اور اس کی برکتوں میں سے حصہ پائیں گے جیسا کہ پہلے زمانوں میں ہوتا رہا اور ان کے ہاتھ سے برجائی دین کی ہوگی اور خوف کے بعد امن پید اہوگا یعنی ایسے وقتوں میں آئیں گے کہ جب اسلام تفرقہ میں پڑا ہوگا ۔ پھر ان کے آنے کے بعد جو اُن سے سرکش رہے گا وہی لوگ بدکار اور فاسق ہیں۔ یہ اس بات کا جواب ہے کہ بعض جاہل کہا کرتے ہیں کہ کیا ہم پراولیاء کا ماننا فرض ہے ۔ سواللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بیشک فرض ہے اور اُن سے مخالفت کرنے والے فاسق ہیں اگر مخالفت پر ہی مریں۔
    اس جگہ معترض صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ
    اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی ْ (المائدہ :4)
    اور پھر اعتراض کیا ہے کہ جبکہ دین کمال کو پہنچ چکا ہے اور نعمت پوری ہوچکی تو پھر نہ کسی مجدد کی ضرورت ہے نہ کسی نبی کی مگر افسوس کہ معترض نے ایسا خیال کر کے خود قرآن کریم پر اعتراض کیا ہے کیونکہ قرآن کریم نے اس اُمت میں خلیفوں کے پیدا ہونے کا وعدہ کیا ہے ۔ جیسا کہ ابھی گذر چکا ہے اور فرمایا ہے کہ اُن کے وقتوں میں دین استحکام پکڑے گا اور تزلزل اورتذبذب دور ہوگا۔ اور خوف کے بعد امن پیدا ہوگا۔ پھر اگر تکمیل دین کے بعد کوئی بھی کارروائی درست نہیں تو بقول معترض کے جو تیس سال کی خلافت ہے وہ بھی باطل ٹھہرتی ہے کیونکہ جب دین کامل ہوچکا تو پھر کسی دوسرے کی ضرورت نہیں۔ لیکن افسوس کہ معترض بے خبر نے ناحق آیت اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ کو پیش کردیا۔ ہم کب کہتے ہیں کہ مجدد اور محدث دُنیا میں آکر دین میں سے کچھ کم کرتے ہیں یا زیادہ کرتے ہیں بلکہ ہمارا تو یہ قول ہے کہ ایک زمانہ گذرنے کے بعدجب پاک تعلیم پر خیالات فاسدہ کا ایک غبار پڑ جاتا ہے اور حق خالص کا چہرہ چھپ جاتا ہے ۔ تب اس خوبصورت چہرہ کو دکھلانے کے لئے مجدد اور محدث اور رُوحانی خلیفے آتے ہیں نہ معلوم کہ بیچارہ معترض نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ مجدد اور روحانی خلیفے دنیا میں آکر دین کی کچھ ترمیم وتنسیخ کرتے ہیں۔ نہیں وہ دین کو منسوخ کرنے نہیں آتے بلکہ دین کی چمک اور روشنی دکھانے کو آتے ہیں اور معترض کا یہ خیال کہ ان کی ضرورت ہی کیا ہے صرف اس وجہ سے پید اہوا ہے کہ معترض کو اپنے دین کی پروا نہیں اور کبھی اس نے غور نہیں کیا کہ اسلام کیا چیز ہے اوراسلام کی ترقی کس کو کہتے ہیں اور حقیقی ترقی کیونکر اور کن راہوں سے ہوسکتی ہے اور کس حالت میں کس کو کہا جاتا ہے کہ وہ حقیقی طور پر مسلمان ہے یہی وجہ ہے کہ معترض صاحب اس بات کو کافی سمجھتے ہیںکہ قرآن موجو دہے اور علماء موجود ہیں اور خود بخود اکثر لوگوں کے دلوں کو اسلام کی طرف حرکت ہے پھر کسی مجدد کی کیا ضرورت ہے لیکن افسوس کہ معترض کو یہ سمجھ نہیں کہ مجدد وں اور روحانی خلیفوں کی اس اُمت میں ایسے ہی طور سے ضرورت ہے جیسا کہ قدیم سے انبیاء کی ضرورت پیش آتی رہی ہے اس سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نبی مرسل تھے اور ان کی توریت بنی اسرائیل کی تعلیم کے لئے کامل تھی اور جس طرح قرآن کریم میں یہ آیت اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْہے اسی طرح توریت میں بھی آیات ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو ایک کامل اور جلالی کتاب دی گئی ہے جس کا نام توریت ہے چنانچہ قرآن کریم میں بھی توریت کی یہی تعریف ہے لیکن باوجود اس کے بعد توریت کے صدہا ایسے نبی بنی اسرائیل سے آئے کہ کوئی نئی کتاب ان کے ساتھ نہیں تھی بلکہ اُن انبیاء کے ظہور کے مطالب یہ ہوتے تھے کہ تاان کے موجودہ زمانے میں جو لوگ تعلیم توریت سے دور پڑ گئے ہوں پھر ان کو تو ریت کے اصلی منشاء کی طرف کھینچیں اور جن کے دلوں میں کچھ شکوک اور دہریت اور بے ایمانی ہوگئی ہو ان کو پھر زندہ ایمان بخشیں ۔ چنانچہ اللہ جلشانہ خود قرآن کریم میں فرماتا ہے
    وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتَابَ وَقَفَّیْنَا مِنْ م بَعْدِہٖ بِالرُّسُلِ (البقرہ:88)
    یعنی موسیٰ کو ہم نے توریت دی اور پھر اس کتاب کے بعد ہم نے کئی پیغمبر بھیجے تا توریت کی تائید اور تصدیق کریں۔ اسی طرح دوسری جگہ فرماتا ہے کہ ثُمَّ اَرْسَلَنَا رُسُلَنَا تَتْرًا یعنی پھر پیچھے سے ہم نے اپنی رسول پے درپے بھیجے۔ پس ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ عادت اللہ یہی ہے کہ وہ اپنی کتاب بھیج کر پھر اس کی تائید اور تصدیق کے لئے ضرور انبیاء کو بھیجا کرتا ہے۔ چنانچہ توریت کی تائید کے لئے ایک ایک وقت میں چار چار سو نبی بھی آیا۔ جن کے آنے پر اب تک بائیبل شہادت دے رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔ یونہی اس پر چھری پھیر دی جائے ۔ پس یہی وجہ ہے کہ خداتعالیٰ نے دائمی خلیفوں کا وعدہ دیا تا وہ ظلی طور پر انوار نبوت پاکر دنیا کو ملزم کریں اور قرآن کریم کی خوبیاں اور اس کی پاک برکات لوگوں کو دکھلاویں ۔ یہ بھی یاد رہے کہ ہر ایک زمانہ کے لئے اتمام حجت بھی مختلف رنگوں سے ہوا کرتا ہے اور مجدد وقت اُن قوتوں اور ملکوں اور کمالات کے ساتھ آتا ہے جب موجودہ مفاسد کا اصلاح پانا ان کمالات پر موقوف ہوتا ہے سو ہمیشہ خداتعالیٰ اسی طرح کرتا رہے گا جب تک کہ اس کو منظور ہے کہ آثار رشد اور اصلاح دنیا میں باقی رہیں اور یہ باتیں بے ثبوت نہیں بلکہ نظائر متواترہ اس کے شاہد ہیں اور مختلف بلاد کے نبیوں اور مرسلوں اور محدثوں کو چھوڑ کر اگر صرف بنی اسرائیل کے نبیوں اور مرسلوں اور محدثوں پر ہی نظر ڈالی جائے تو ان کی کتابوں کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ چودہ سو برس کے عرصہ میں یعنی حضرت موسی ؑسے حضرت مسیحؑ تک ہزار ہا نبی اور محدث اُن میں پید اہوئے جو خادموں کی طرح کمر بستہ ہوکر توریت کی خدمت میں مصروف رہے۔ چنانچہ اُن تمام بیانات پر قرآن شاہد ہے اور بائیبل شہادت دے رہی ہے اور وہ نبی کوئی نئی کتاب نہیں لاتے تھے کوئی نیا دین نہیں سکھاتے تھے صرف توریت کے خادم تھے اور جب بنی اسرائیل میں دہریت اور بے ایمانی اور بدچلنی اور سنگدلی پھیل جاتی تھی تو ایسے وقتوں میں وہ ظہور کرتے تھے۔ اب کوئی سوچنے والا سوچے کہ جس حالت میں موسی ؑکی ایک محدود شریعت کے لئے جو زمین کی تمام قوموں کے لئے نہیں تھی اور نہ قیامت تک اُس کا دامن پھیلا ہو اتھا خداتعالیٰ نے یہ احتیاطیں کیں کہ ہزار ہا نبی اس شریعت کی تجدید کے لئے بھیجے اور بار ہا آنے والے نبیوں نے ایسے نشان دکھلائے کہ گویا بنی اسرائیل نے نئے سرے سے خدا کو دیکھ لیا تو پھر یہ امت جو خَیْرُ الاُمَمْ کہلاتی ہے اور خیر الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے لٹک رہی ہے کیونکر ایسی بدقسمت سمجھی جائے کہ خداتعالیٰ نے صرف تیس برس اس کی طرف نظر رحمت کر کے اور آسمانی انوار دکھلا کر پھر اُس سے منہ پھیر لیااور پھر اس اُمت پر اپنے نبی کریم کی مفارقت میں صدہا برس گزرے اور ہزار ہا طور کے فتنے پڑے اور بڑے بڑے زلزلے آئے اور انواع واقسام کی دجالیت پھیلی اور ایک جہان نے دین متین پر حملے کئے اور تمام برکات اور معجزات سے انکار کیا گیا اور مقبول کو نامقبول ٹھہرایا گیا لیکن خداتعالیٰ نے پھر کبھی نظر اُٹھا کر اس اُمت کی طرف نہ دیکھا اور اس کو کبھی اس امت پر رحم نہ آیا اور کبھی اس کو یہ خیال نہ آیا کہ یہ لوگ بھی تو بنی اسرائیل کی طرح انسان ضعیف البنیان ہیں اور یہودیوں کی طرح ان کے پودے بھی آسمانی آب پاشی کے ہمیشہ محتاج ہیں۔ کیا اُس کریم خدا سے ایسا ہوسکتا ہے جس نے اُس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ کے مفاسد کے دور کرنے کے لئے بھیجا تھا کیا ہم یہ گمان کر سکتے ہیں کہ پہلی امتوں پر تو خداتعالیٰ کا رحم تھا اس لئے اُس نے توریت کو بھیج کر پھر ہزار ہارسول اور محدث توریت کی تائید کے لئے اور دلوں کو بار بار زندہ کرنے کے لئے بھیجے ۔ لیکن یہ امت مورد غضب تھی اس لئے اُس نے قرآن کریم کو نازل کر کے ان سب باتوں کو بھلا دیا اور ہمیشہ کے لئے علماء کو اُن کی عقل اور اجتہا د پر چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر بعض اور آیات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ضرور خداوند کریم نے یہی ارادہ فرمایا ہے کہ روحانی معلم جو انبیاء کے وارث ہیں ہمیشہ ہوتے رہیں اور وہ یہ ہیں۔
    وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ
    (النور 56)
    وَلَایَزَالُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْ اتُصِیْبُھُمْ بِمَا صَنَعُوْاقَارِعَۃٌ اَوْتَحُلُّ قَرِیْبًامِّنْ دَارِھِمْ حَتّٰی یَاْتِیَ وَعْدُاللّٰہِط اِنَّ اللّٰہَ لَایُخْلِفُ الْمِیْعَادَo
    (الرعد:32)
    وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًاo (بنی اسرائیل :16)
    یعنی خداتعالیٰ نے تمہارے لئے اے مومنان امت محمدیہ وعدہ کیا ہے کہ تمہیں بھی وہ زمین میں خلیفہ کرے گا جیسا کہ تم سے پہلوں کو کیا اورہمیشہ کفار پر کسی قسم کی کوفتیں جسمانی ہوں یا روحانی پڑتی رہیں گی یا اُن کے گھر سے نزدیک آجائیں گی۔ یہاں تک کہ خداتعالیٰ کاوعدہ آپہنچے گا ۔ اور خداتعالیٰ اپنے وعدوں میں تخلف نہیں کرتا اور ہم کسی قسم پر عذاب نازل نہیں کرتاجب تک ایک رسول بھیج نہ لیں۔
    ان آیات کو اگر کوئی شخص تامل اور غور کی نظر سے دیکھے تو میں کیونکر کہوں کہ وہ اس بات کو سمجھ نہ جائے کہ خداتعالیٰ اس امت کے لئے خلافت دائمی کا صاف وعدہ فرماتا ہے۔ اگر خلافت دائمی نہیں تھی تو شریعت موسوی کے خلیفوں سے تشبیہہ دینا کیا معنی رکھتا تھا اور اگر خلافت راشدہ صرف تیس برس تک رہ کر پھر ہمیشہ کے لئے اُس کا دور ختم ہوگیا تھا تو اس سے لازم آتا ہے کہ خداتعالیٰ کا ہر گز یہ ارادہ نہ تھا کہ اس امت پر ہمیشہ کے لئے ابواب سعادت مفتوح رکھے کیونکہ روحانی سلسلہ کی موت سے دین کی موت لازم آتی ہے اور ایسا مذہب ہر گز زندہ نہیں کہلا سکتا جس کے قبول کرنے والے خود اپنی زبان سے ہی یہ اقرار کریں کہ تیرہ سو برس سے یہ مذہب مرا ہوا ہے اور خداتعالیٰ نے اس مذہب کے لئے ہر گز یہ ارادہ نہیں کیا کہ حقیقی زندگی کا وہ نور جو نبی کریم کے سینہ میں تھا وہ توارث کے طور پر دوسروں میں چلا آوے۔
    افسوس کہ ایسے خیال پر جمنے والے خلیفہ کے لفظ کو بھی جو استخلاف سے مفہوم ہوتا ہے تدبر سے نہیں سوچتے کیونکہ خلیفہ جانشین کو کہتے ہیں اور رسول کا جانشین حقیقی معنوں کے لحاظ سے وہی ہوسکتا ہے جو ظلی طور پر رسول کے کمالات اپنے اندر رکھتا ہو اس واسطے رسول کریم نے نہ چاہا کہ ظالم بادشاہوں پر خلیفہ کا لفظ اطلاق ہوکیونکہ خلیفہ درحقیقت رسول کا ظل ہوتا ہے اور چونکہ کسی انسان کے لئے دائمی طور پر بقا نہیں لہذا خداتعالیٰ نے ارادہ کیا کہ رسولوں کے وجود کو جو تمام دنیا کے وجودوں سے اشرف واولیٰ ہیں ظلی طور پرہمیشہ کے لئے تاقیامت قائم رکھے۔ سو اسی غرض سے خداتعالیٰ نے خلافت کو تجویز کیا تادُنیا کبھی اور کسی زمانہ میں برکات رسالت سے محروم نہ رہے۔ پس جو شخص خلافت کو صرف تیس برس تک مانتا ہے وہ اپنی نادانی سے خلافت کی علت غائی کو نظر انداز کرتا ہے اور نہیں جانتا کہ خداتعالیٰ کا یہ ارادہ تو ہر گز نہیں تھا کہ رسول کریم کی وفات کے بعد صرف تیس برس تک رسالت کی برکتوں کو خلیفوں کے لباس میں قائم رکھنا ضروری ہے۔ پھر بعد اس کے دنیا تباہ ہوجائے تو ہوجائے کچھ پروا نہیں۔ بلکہ پہلے دنوں میں تو خلیفوں کا ہونا بجز شوکت اسلام پھیلانے کے کچھ اور زیادہ ضرورت نہیں رکھتا تھا کیونکہ انوار رسالت اور کمالات نبوت تازہ بتازہ پھیل رہے تھے اور ہزار ہا معجزات بارش کی طرح ابھی نازل ہوچکے تھے اور اگر خداتعالیٰ چاہتا تو اس کی سنت اور قانون سے یہ بھی بعید نہ تھا کہ بجائے ان چار خلیفوں کے اس تیس برس کے عرصہ تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کو ہی بڑھا دیتا ۔ اس حساب سے تیس برس کے ختم ہونے تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کل 93برس کی عمر تک پہنچتے اور یہ اندازہ اس زمانہ کی مقرر عمروں سے نہ کچھ زیادہ اور نہ اُس قانون قدرت سے کچھ بڑھ کر ہے جو انسانی عمروں کے بارے میں ہماری نظر کے سامنے ہے۔
    پس یہ حقیر خیال خداتعالیٰ کی نسبت تجویز کرنا کہ اس کو صرف اس امت کے تیس برس کا ہی فکر تھا اور پھر اس کو ہمیشہ کے لئے ضلالت میں چھوڑ دیا اور وہ نور جو قدیم سے انبیاء سابقین کی امت میں خلافت کے آئینہ میں وہ دکھلاتا رہا اس امت کے لئے دکھلانا اس کو منظور نہ ہوا۔ کیاعقل سلیم خدائے رحیم وکریم کی نسبت ان باتوں کو تجویز کرے گی ہر گز نہیں۔
    اور پھر یہ آیت خلافت ائمہ پر گواہ ناطق ہے۔
    وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْ م بَعْدِ الذِّکْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُھَا عِبَادِیَ الصَّالِحُوْنَ o (الانبیاء :106)
    کیونکہ یہ آیت صاف صاف پکار رہی ہے کہ اسلامی خلافت دائمی ہے اس لئے کہ یَرِثُھَا کا لفظ دوام کو چاہتا ہے۔ وجہ یہ کہ اگر آخری نوبت فاسقوں کی ہوتو زمین کے وارث وہی قرار پائیں گے نہ کہ صالح اور سب کا وارث وہی ہوتا ہے جو سب کے بعد ہو۔
    پھر اس پر بھی غور کرنا چاہئے کہ جس حالت میں خداتعالیٰ نے ایک مثال کے طور پر سمجھا دیا تھا کہ میں اسی طور پر اس امت میں خلیفے پید اکرتا رہوںگا جیسے موسیٰ کے بعد خلیفے پید اکئے تو دیکھنا چاہئے تھا کہ موسیٰ کی وفات کے بعد خداتعالیٰ نے کیا معاملہ کیا۔ کیاا س نے صرف تیس برس تک خلیفے بھیجے یا چودہ سو برس تک اس سلسلہ کو لمبا کیا۔ پھر جس حالت میں خداتعالیٰ کا فضل ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پرحضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہیں زیادہ تھا۔ چنانچہ اُس نے خود فرمایا
    وَکَانَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکَ عَظِیْمًا۔ (النساء :114)
    اور ایسا ہی اس امت کی نسبت فرمایا ۔
    کُنْتُمْ خَیْرَاُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ۔ (ال عمران :111)
    تو پھر کیونکر ہوسکتا تھا کہ حضرت موسیٰ کے خلیفوں کا چودہ سو برس تک سلسلہ ممتد ہوا اور اس جگہ صرف تیس برس تک خلافت کا خاتمہ ہوجاوے اور نیز جبکہ یہ اُمت خلافت کے انوار روحانی سے ہمیشہ کے لئے خالی ہے تو پھرآیت اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِکے کیا معنے ہیں کوئی بیان تو کرے۔ مثل مشہور ہے کہ اوخویشتن گم است کراراہبری کند۔ جبکہ اس اُمت کو ہمیشہ کے لئے اندھا رکھنا ہی منظور ہے اور اس مذہب کو مردہ رکھنا ہی مدنظر ہے تو پھر یہ کہنا کہ تم سب سے بہتر ہو اور لوگوں کی بھلائی اور رہنمائی کے لئے پیدا کئے گئے ہو کیا معنی رکھتا ہے ۔ کیا اندھا اندھے کو راہ دکھا سکتا ہے سو اے لوگو!جو مسلمان کہلاتے ہو برائے خدا سوچو کہ اس آیت کے یہی معنی ہیں کہ ہمیشہ قیامت تک تم میں روحانی زندگی اور باطنی بینائی رہے گی۔اور غیر مذہب والے تم سے روشنی حاصل کریں گے اور یہ روحانی زندگی اور باطنی بینائی جو غیر مذہب والوں کو حق کی دعوت کرنے کے لئے اپنے اندر لیاقت رکھتی ہے یہی وہ چیز ہے جس کو دوسرے لفظوں میںخلافت کہتے ہیں پھر کیونکر کہتے ہو کہ خلافت صرف تیس برس تک ہوکر پھر زوایہ عدم میں مخفی ہوگئی۔ اتقوااللہ، اتقوااللہ ،اتقوااللہ۔
    اب یاد رہے کہ اگر چہ قرآن کریم میں اس قسم کی بہت سی آیتیں ایسی ہیں جو اس اُمت میں خلافت دائمی کی بشارت دیتی ہیں اور احادیث بھی اس بارہ میں بہت سی بھری پڑی ہیں لیکن بالفعل اس قدر لکھنا اُن لوگوں کے لئے کافی ہے جو حقائق ثابت شدہ کو دولت عظمیٰ سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں اور اسلام کی نسبت اس سے بڑھ کر اور کوئی بداندیشی نہیں کہ اس کو مردہ مذہب خیال کیا جائے اور اس کی برکات کو صرف قرن اوّل تک محدود رکھا جاوے۔ کیا وہ کتاب جو ہمیشہ کی سعادتوں کا دروازہ کھولتی ہے وہ ایسی پست ہمتی کا سبق دیتی ہے کہ کوئی برکت اور خلافت آگے نہیں بلکہ سب کچھ پیچھے رہ گیا ہے۔ نبی تو اس اُمت میں آنے کو رہے۔ اب اگر خلفائے نبی بھی نہ آویں اور وقتاً فوقتاً روحانی زندگی کے کرشمے نہ دکھلاویں تو پھر اسلام کی روحانیت کا خاتمہ ہے اور پھر ایسے مذہب کو موسوی مذہب کی روحانی شوکت اور جلال کی نسبت ہی کیا ہے جس میں ہزار ہا روحانی خلیفے چودہ سو برس تک پید اہوتے رہے اور افسوس ہے کہ ہمارے معترض ذرہ نہیں سوچتے کہ اس صورت میں اسلام اپنی روحانیت کے لحاظ سے بہت ہی ادنیٰ ٹھہرتا ہے اور نبی متبوع صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ کچھ بہت بڑا نبی ثابت نہیں ہوتااور قرآن بھی کوئی ایسی کتاب ثابت نہیں ہوتی جو اپنی نورانیت میں قوی الاثر ہو۔ پھر یہ کہنا کہ یہ امت خیر الامم ہے اور دوسری امتوں کے لئے ہمیشہ روحانی فائدہ پہنچانے والی ہے اور یہ قرآن سب الٰہی کتابوں کی نسبت اپنے کمالات اور تاثیر وغیرہ میں اکمل واتم ہے اور یہ رسول تمام رسولوں سے اپنی قوت قدسیہ اور تکمیل خلق میںاکمل واتم ہے کیسا بیہودہ اور بے معنی اور بے ثبوت دعویٰ ٹھہرے گا اور پھر یہ ایک بڑا فساد لازم آئے گا کہ قرآن کی تعلیمات کا وہ حصہ جو انسان کو روحانی انوار اور کمالات میں مشابہ انبیاء بنانا چاہتا ہے ہمیشہ کے لئے منسوخ خیال کیا جائے گا کیونکہ جبکہ اُمت میں یہ استعداد ہی نہیں پائی جاتی کہ خلافت کے کمالات باطنی اپنے اندر پیدا کر لیں تو ایسی تعلیم جو مرتبہ کے حاصل کرنے کے لئے تاکید کررہی ہے محض لاحاصل ہوگی۔ درحقیقت فقط ایسے سوال سے ہی کہ کیا اسلام اب ہمیشہ کے لئے ایک مذہب مردہ ہے جس میں ایسے لوگ پیدا نہیں ہوتے جن کی کرامات معجزات کے قائم مقام اور جن کے الہامات وحی کے قائم مقام ہوں بدن کانپ اُٹھتا ہے چہ جائیکہ کسی مسلمان کا نعوذ باللہ ایسا عقیدہ بھی ہو۔ خداتعالیٰ ایسے لوگوںکو ہدایت کرے جو ان ملحدانہ خیالات میں اسیر ہیں۔
    اب جبکہ قرآن شریف کی رو سے یہی ثابت ہوا کہ اس امت مرحومہ میں سلسلہ خلافت دائمی کا اسی طورپرا ور اسی کی مانند قائم کیا گیا ہے جو حضرت موسی ؑ کی شریعت میں قائم کیا گیا تھا۔"
    (شہادۃ القرآن ازروحانی خزائن جلد6صفحہ330تا356)

    قدرت ثانیہ کے مظاہر ہوتے رہیں گے
    پیشگوئی حضرت مصلح موعود
    حضرت مصلح موعود نور اﷲ مرقدہ نے 8؍ستمبر 1950ء کو وکٹوریہ روڈ میگزین لین کراچی میں نئی تعمیر شدہ بیت میں پہلے "خطبہ جمعہ میں نہایت پرشوکت انداز میں اس بشارت پرروشنی ڈالی اور فرمایا :
    "حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ میں تو جاتا ہوں۔ لیکن خدا تمہارے لئے قدرت ثانیہ بھیج دے گا۔ مگر ہمارے خدا کے پاس قدرت ثانیہ ہی نہیں۔ اس کے پاس قدرت ثالثہ بھی ہے اور اس کے پاس قدرت ثالثہ ہی نہیں۔ اس کے پاس قدرت رابعہ بھی ہے۔ قدرت اولیٰ کے بعد قدرت ثانیہ ظاہر ہوئی اور جب تک خدا اس سلسلہ کو ساری دنیا میں نہیں پھیلا دیتا ۔ اس وقت تک قدرت ثانیہ کے بعد قدرت ثالثہ آئے گی۔ اور قدرت ثالثہ کے بعد قدرت رابعہ آئے گی۔ اور قدرت رابعہ کے بعد قدرت خامسہ آئے گی ۔ اور قدرت خامسہ کے قوت سادسہ آئے گی۔ اور خداتعالیٰ کا ہاتھ لوگوں کو معجزہ دکھاتا چلا جائے گا ۔ اور دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت اور زبردست سے زبردست بادشاہ بھی اس سکیم اور مقصد کے راستہ میں کھڑا نہیں ہوسکتا۔ جس مقصد کے پورا کرنے کے لئے اس نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو پہلی اینٹ بنایا اور مجھے اس نے دوسری اینٹ بنایا ۔ رسول کریم ﷺ نے ایک دفعہ فرمایا ۔ کہ دین جب خطرہ میں ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کے لئے اہل فارس میں سے کچھ افراد کھڑا کرے گا۔ حضرت مسیح موعود ان میں سے ایک فرد تھے۔ اور ایک فرد میں ہوں۔ لیکن رجالٌ کے ماتحت ممکن ہے کہ اہل فارس میں کچھ اور لوگ بھی ایسے ہوں۔ جو دین کی عظمت قائم رکھنے اور اس کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لئے کھڑے ہوں۔ "
    ( الفضل 8؍ستمبر 1950ء )








    خلافت اولیٰ بارے الہامات وکشوف
    اور
    مبشر رؤیا، خوابیںاور الٰہی اشارے







    "آپ مسلمان کا فخر ہیں اور آپ کو قرآنی دقائق کے استخراج اور حقائق فرقان کے خزانوں کی اشاعت میں عجیب ملکہ حاصل ہے۔
    بلاشبہ آپ مشکوۃ نبوت کے انوار سے منور ہیں اور اپنی شان اور پاک طینتی کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے نور لیتے ہیں آپ ایک بے مثال وجود ہیں جس کے ایک ایک لمحہ سے انوار کی نہریں بہتی اور ایک ایک رشحہ سے فکروں کے مشروب پھوٹتے ہیں۔۔۔۔۔آپ ابرارواخیاراور مومنوںکافخر ہیں۔"
    (ترجمہ ازعربی عبارت ۔آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5)



    حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے رؤیاو الہامات میں
    حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کا ذکر
    حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے الہامات ورؤیاء میں کثرت سے نہایت تعریفی رنگ میں حضرت مولانا نور الدین صاحب کا ذکر پایا جاتا ہے بطور نمونہ چند الہامات ورؤیا درج ذیل ہیں ۔
    ۱۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو الہاماً بتایا گیا کہ آسمان پر آپ کا نام"عبد الباسط" رکھا گیا ہے ۔ (تذکرہ جدید ایڈیشن صفحہ177ومکتوبات جلد5نمبر2صفحہ20)
    ۲۔ اپریل1887ء میں حضورؑ نے آپ کے بارے میں خواب دیکھا کہ"میں ایک نشیب گڑھے میں کھڑا ہوں اور اوپر چڑھنا چاہتا ہوں ۔ مگر ہاتھ نہیں پہنچتا۔اتنے میں ایک "بندہ خدا"آیا اس نے اوپر سے میری طرف ہاتھ لمبا کیااور میں اس کے ہاتھ کو پکڑ کراوپر چڑھ گیا اور میںنے چڑھتے ہی کہا کہ خدا تجھے اس خدمت کا بدلہ دیوے۔ـ"
    (تذکرہ جدید ایڈیشن صفحہ117مکتوبات جلد 5 نمبر2صفحہ27)
    ۳۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو رؤیا ہوئی کہ
    "نور الدین کو دوگلاس دودھ کے پلائے ایک ہم نے خود دیا اور دوسرا اس نے مانگ کر لیااور کہا سرد ہے ۔ پھر دودھ کی ندی بن گئی اور ہم اس میں نبات کی ڈلی ہلاتے جاتے ہیں ۔ ـ"
    (جیبی بیاض حضرت خلیفہ اوّل و تذکرہ جدید ایڈیشن صفحہ652)
    ۴۔ "کشف میں دیکھا تفسیر حسینی 50اور51صفحہ پرفسرہ نور الدین بالمعارف الغریبہ (ترجمہ) نور الدین نے اس کی عجیب وغریب معارف کے ساتھ تفسیر کی ۔"
    (تذکرہ جدید ایڈیشن صفحہ652)
    ۵۔ 5؍ اپریل 1893ء کو آپ کی روحانی عظمت اور بلند شان کے بارے میں حضورؑ کو الہام ہوا ۔ اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ ۔
    (ترجمہ) صفاومروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں ۔
    (تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ585)
    ۶۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام آپ کی صحت کے لئے دعا کر رہے تھے کہ الہام ہوا
    اِنْ کُنْتُمْ فِی رَیْبٍ مِّمَّانَزَّ لْنَا عَلٰی عَبْدِ نَا فَاْتُوا بِشِفَائِ مِّنْ مِّثْلِہٖ
    (تذکرہ جدید ایڈیشن صفحہ440)
    ۷۔ الہام:
    اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْارَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْاتَتَنَزَّلُ عَلَیْھِمُ الْمَلٰئِکَۃُ اَنْ لَّاتَخَافُواوَلَا تَحْزَنُوْاوَاَبْشِرُوابِالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ۔ نَحْنُ اَوْلِیَآئُ کُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ۔
    (الحکم28؍مارچ1920ء )
    (ترجمہ) یقینا وہ لوگ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ا س پر مضبوطی سے قائم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں ۔یہ بشارت دیتے ہوئے کہ خوف نہ کھاؤ اور نہ غمگین ہواور بشارت حاصل کرواس جنت کی جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا ۔ ہم تمہارے دوست ومددگار ہیں۔ اس دُنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی
    (تذکرہ جدید ایڈیشن صفحہ681)
    اس کے بعد الہام ہوا "نور الدین"
    (تذکرہ جدید ایڈیشن صفحہ681)
    ۸۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہٗ نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی مندرجہ ذیل رؤیااپنی تقریر میں بیان فرمائی ۔
    "چھوٹی مسجد کے اُوپر تخت بچھا ہوا ہے اور میں اُس میں بیٹھا ہواہوں اور میرے ساتھ ہی مولوی نور الدین صاحب بھی بیٹھے ہوئے ہیں ۔ایک شخص (اس کانام ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں ) دیوانہ وار ہم پرحملہ کرنے لگا میںنے ایک آدمی کو کہا کہ اس کو پکڑ کر مسجد سے نکال دو اور اس کو سیڑھیوں سے نیچے اُتار دیا۔ وہ بھاگتا ہو اچلا گیا اور یاد رہے کہ مسجد سے مراد جماعت ہوتی ہے ۔"
    (تذکرہ جدید ایڈیشن صفحہ675)
    ۹۔ ماہ اگست 1892ء میںنے رات کو جس قدر آنمکرم کے لئے دعا کی اور جس حالت میں پُر سوز دُعا کی اس کو خداوند کریم خوب جانتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دعا کی حالت میں یہ الفاظ منجانب اللہ زبان پر جاری ہوئے ۔
    لَوٰی عَلَیْہ (اَوْ) لَاوَلِیَّ عَلَیْہِ
    اور یہ خد اتعالیٰ کا کلام تھا اور اسی کی طرف سے تھا ۔
    (مکتوب بنام حضرت خلیفۃ المسیح الاول مورخہ26؍اگست 1892ء
    مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر2صفحہ122)
    (تذکرہ صفحہ655جدید ایڈیشن)
    ۱۰۔ "حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب ۔ نے بھیرہ میں ایک عظیم الشان مکان بنوایا تھا ۔۔۔۔۔ابھی پورے طور پر وہ مکان تیار نہ ہوا تھا ۔۔۔۔۔جاڑہ کا موسم تھا ۔ مولوی صاحب چلتی ہوئی ملاقات کو آئے تھے۔ رات کو حضرت امام کو وحی ہوئی۔ کہ مولوی صاحب کو ہجرت کرنی چاہئے ۔ چنانچہ صبح کو مولوی صاحب کو سنایا کہ ہجرت کرواور وطن نہ جاؤ۔ یہ صدیق کا فرزند کوئی چگونگی درمیان نہ لایا ۔ مکان خراب ہوامگر یہ مردخدا نہیں گیا۔"
    (از خطبہ مولانا عبد الکریم صاحب الحکم جلد 6نمبر32مورخہ10؍ستمبر1902ء )
    (تذکرہ جدید ایڈیشن صفحہ190)
    ۱۱۔ 11؍ستمبر1893ء میں نے خواب میں دیکھا کہ والدہ محمودخوش لباس کے ساتھ ایک جگہ آئی ہے جہاں مولوی نور دین بیٹھے ہیں اور آکر دو جوڑا ،کڑا مولوی صاحب کو دئیے ہیں ۔ پھر دیکھا کہ وہ کھانا تیار کر رہی ہیں اور منشی جلال الدین بیٹھے ہیں ۔
    (تذکرہ جدید ایڈیشن صفحہ201)
    ۱۲۔ 08؍ستمبر1906ء کودیکھا کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب نے ایک کاغذ بھیجا ہے جو پروف کی طرح ہے جو لڑکا لے کر آیا ہے وہ کہتا ہے کہ اس کے حاشیہ پر سطر ہے ذرا پڑھ لینا اُس کاغذ کے دائیں طرف کے حاشیہ پر لکھا ہے ۔
    دشمن نہایت اضطراب میں ہے ۔
    (تذکرہ جدید ایڈیشن صفحہ569)
    ۱۳۔ "میںنے دیکھا کہ مجھے گولیاں ملی ہیں کچھ میںنے مولوی نور الدین صاحب کودے دیں کچھ آپ (یعنی نواب محمد علی خان)کو لیکن میں نے نواب عنایت علی خان صاحب کو تلاش کیا لیکن وہ نہ ملے ۔"
    (تذکرہ جدید ایڈیشن صفحہ655)

    حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کا بلند مقام
    تحریرات حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی روشنی میں
    چہ خوش بودے اگر ہر یک زامت نوردیں بودے
    ہمیں بودے اگر ہر دل پراز نور یقیں بودے
    سیدنا حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی تحریر ات میں اپنے مخلص اور جاں نثار خدام میں سے سب سے بڑھ کر جس وجود کو تعریفی کلمات سے نوازا ہے وہ حضرت مولوی نور الدین خلیفۃ المسیح الاوّل ہیں جن کا ذکر آپؑ نے نہ صرف اپنی کتابوں میں فرمایا ہے بلکہ اپنے اشتہاروں ، نجی خطوط اور تقاریر میں بھی آپ کے بلند مقام اور علومرتبت کا بڑی کثرت سے تذکرہ فرمایا ہے اس ضمن میں حضورؑ کے چند اقتباسات درج ذیل کئے جاتے ہیں ۔
    تصانیف میں ذکر :
    ۱۔ آپ ؑ اپنی کتاب " فتح اسلام " میں فرماتے ہیں ۔
    "سب سے پہلے میں اپنے ایک روحانی بھائی کے ذکر کرنے کے لئے دل میں جوش پاتا ہوں جن کا نام ان کے نور اخلاص کی طرح نور دین ہے ۔ میں ان کی بعض دینی خدمتوں کو جو اپنے مال حلال کے خرچ سے اعلاء کلمہ اسلام کے لئے وہ کر رہے ہیں ہمیشہ حسرت کی نظر سے دیکھتا ہوں کہ کاش وہ خدمتیں مجھ سے بھی اد اہوسکتیں۔ ان کے دل میں جو تائید دین کے جوش بھرا ہے اس کے تصور سے قدرت الٰہی کا نقشہ میری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے کہ وہ کیسے اپنے بندوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے ۔ " (فتح اسلام از روحانی خزائن جلد 3صفحہ35)
    ۲۔ آپ ؑ"آسمانی فیصلہ " میں تحریر فرماتے ہیں ۔
    "حضرت مولوی صاحب کے محبت نامہ موصوفہ کے چند فقرے لکھتا ہوں غور سے پڑھنا چاہئے ۔ تامعلوم ہوکہ کہاں تک رحمانی فضل سے ان کو انشراح صدر وصدق قدم ویقین کامل عطا کیا گیا ہے اور وہ فقرات یہ ہیں ۔ "عالی جناب مرز اجی مجھے اپنے قدموں میں جگہ دو اللہ کی رضا مندی چاہتا ہوں اور جس طرح وہ راضی ہوسکے تیار ہوں اگر آپ کے مشن کو انسانی خون کی آبپاشی ضرور ہے تو یہ نابکار (مگر محب انسان ) چاہتا ہے کہ اسی کام میں کام آوے۔ "تَمَّّ کَلَامَہٗ جَزَائُ اللّٰہ"حضرت مولوی صاحب جو انکسار اور ادب اور ایثار مال وعزت اور جاں فشانی میں فانی ہیں وہ خود نہیں بولتے بلکہ ان کی روح بول رہی ہے۔"
    (آسمانی فیصلہ ازروحانی خزائن جلد4حاشیہ صفحہ338)
    ۳۔ آپ ؑ"نشان آسمانی"میں تحریر فرماتے ہیں ۔
    "مولوی حکیم نور دین صاحب اپنے اخلاص اور محبت اور صفت ایثار اور للہ شجاعت اور سخاوت اور ہمدردی اسلام میں عجیب شان رکھتے ہیں کثرت مال کے ساتھ کچھ قدر قلیل خد اتعالیٰ کی راہ میں دیتے ہوئے تو بہتوں کو دیکھا مگر خود بھوکے پیاسے رہ کر اپنا عزیز مال رضائے مولیٰ میں اٹھا دینا اور اپنے لئے دنیا میں کچھ نہ بنانا یہ صفت کامل طور پر مولوی صاحب موصوف میں ہی دیکھی۔ یاان میں جن کے دلوں پر ان کی صحبت کا اثر ہے ۔۔۔اور جس قدر ان کے مال سے مجھ کو مدد پہنچی ہے اس کی نظیر اب تک میرے پاس نہیں۔۔۔خد اتعالیٰ اس خصلت اور ہمت کے آدمی اس امت میں زیادہ سے زیادہ کرے ۔ آمین ثم آمین
    چہ خوش بودے اگر ہر یک زامت نوردیں بودے
    ہمیں بودے اگر ہر دل پراز نور یقیں بودے
    (نشان آسمانی از روحانی خزائن جلد 4صفحہ407)
    ۴۔ آپؑ"ازالہ اوہام" میں تحریر فرماتے ہیں ۔
    "ان کے مال سے جس قدر مجھے مدد پہنچی ہے میں اس کی کوئی ایسی نظیر نہیں دیکھتا جو اس کے مقابل پر بیان کرسکوں ۔ میں نے ان کو طبعی طور پر اور نہایت انشراح صدر سے دینی خدمتوں میں جاں نثار پایا۔ اگرچہ ان کی روزمرہ زندگی اسی راہ میں وقف ہے کہ وہ ہر یک پہلو سے اسلام اور مسلمانوں کے سچے خادم ہیں مگر اس سلسلہ کے ناصرین میں سے وہ اول درجہ کے نکلے ۔۔۔۔۔۔میں یقینا دیکھتا ہوں کہ جب تک وہ نسبت پیدا نہ ہو، جو محب کو اپنے محبوب سے ہوتی ہے تب تک ایسا انشراح صدر کسی میں پید انہیں ہوسکتا ۔ ان کو خداتعالیٰ نے قوی ہاتھوں سے اپنی طرف کھینچ لیا ہے ۔ اور طاقت بالانے خارق عادت اثر ان پر کیا ہے ۔ انہوں نے ایسے وقت میں بلا تردّد مجھے قبول کیا جب ہر طرف سے تکفیر کی صدائیں بلند ہونے کوتھیں اور بہتیروں نے باوجود بیعت کے عہد بیعت فسخ کردیا تھا اور بہتیرے سست اور متذبذب ہوگئے تھے۔ تب سب سے پہلے مولوی صاحب ممدوح کا ہی خط اس عاجز کے اس دعویٰ کی تصدیق میںکہ میں ہی مسیح موعود ہوں قادیان میں میرے پا س پہنچا جس میں یہ فقرات درج تھے۔
    آمَنَّا وَصَدَّقْنَا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاھِدِیْنَ
    مولوی صاحب نے وہ صدق قدم دکھلایا جو مولوی صاحب کی عظمت ایمان پر ایک محکم دلیل ہے دل میں از بس آرزو ہے کہ اور لوگ بھی مولوی صاحب کے نمونہ پر چلیں ۔ "
    (ازالہ اوہام ازروحانی خزائن جلد3 صفحہ520-521 )
    ۵۔ آپ ؑ"آئینہ کمالات اسلام" میں تحریر فرماتے ہیں ۔
    "آپ مسلمانوں کا فخر ہیں اور آپ کو قرآنی دقائق کے استخراج اور حقائق فرقان کے خزانوں کی اشاعت میں عجیب ملکہ حاصل ہے بے شبہ آپ مشکوٰۃ نبوت کے انوار سے منور ہیںاور اپنی شان اور پاک طینتی کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نور سے نورلیتے ہیں۔ آپ ایک بے مثال وجو دہیںجس کے ایک ایک لمحہ سے انوار کی نہریں بہتی اور ایک ایک رشحہ سے فکروں کے مشروب پھوٹتے ہیں اور یہ خد اتعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور وہ خَیْرُ الْوَاھِبِیْن ہے ۔ آپ نُخْبَۃُ الْمُتَکَلِّمِیْنَ اور زُبْدۃُ الْمُؤَلِّفِینْ ہیں لوگ آپ کے آب زلال سے پیتے اور آپ کی گفتگو کی شیشیاں شراب طہور کی طرح خریدتے ہیں۔ آ پ ابرار واخیار، اور مومنوں کا فخر ہیں۔۔۔۔آپ نہایت ذکی الذہن ، حدیدالفؤاد، فصیح اللسان ، نخبۃالابراراور زبدۃ الاخیار ہیں آپ کو سخاوت اور مال عطا کیا گیا ہے ۔ امیدیں آپ کے ساتھ وابستہ کی گئی ہیں۔ پس آپ خدام دین کے سردار ہیں اور میں آپ پر رشک کرنے والوں میں سے ہوں ۔۔۔۔خداتعالیٰ نے آپ پر قسم قسم کے انعام کئے ہیں اور آپ کی بقاء کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کی مدد کی ہے ۔ آپ کو میرے دل سے عجیب تعلق ہے میری محبت میں قسم قسم کی ملامتیں اور بدزبانیاں اور وطن مالوف اور دوستوں کی مفارقت اختیار کرتے ہیں میرے کلام سننے کے لئے آپ پر وطن کی جدائی آسان ہے ۔ اور میرے مقام کی محبت کے لئے آپ اپنے اصلی وطن کی یادتک چھوڑ دیتے ہیںاور میرے ہر ایک امر میں میری اس طرح پیروی کرتے ہیں جیسے نبض کی حرکت تنفس کی حرکت کی پیروی کرتی ہے اور میں آپ کو اپنی رضا میں فانیوں کی طرح دیکھتاہوں جب آپ سے سوال کیا جاتا ہے تو بلاتوقف پورا کرتے ہیں اور جب کسی کام کی طرف مدعو کیا جاتا ہے تو آپ سب سے پہلے لبیک کہنے والوں میں سے ہوتے ہیں ۔آپ کادل سلیم خلق عظیم اور کرم ابر کثیر کی طرح ہے ۔ آپ کی صحبت بدحالوں کے دلوں کو سنوارتی ہے اور آپ کا حملہ دین کے دشمنوں پر شیر ببر کے حملہ کی طرح ہوتا ہے ۔ آپ نے آریوں کے مسائل کو کھودا اور نقب لگا کر ان بیوقوفوں کی زمین میں اترے اور ان کا تعاقب کیا اور ان کی زمین میں زلزلہ بپا کردیااور اپنی کتابوں کو مکذبین کے رسوا کرنے کے لئے نیزوں کی طرح سیدھا کیا۔ خدا تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر ہندوؤں کو شرمندہ کیا۔۔۔اور وہ مردوں کی طرح ہوگئے۔ پھر انہوںنے دوبارہ حملہ کرنا چاہا ۔ لیکن مردے موت کے بعد کس طرح زندہ ہوسکتے ہیں لرزتے ہوئے واپس چلے گئے اگر ان کے لئے حیاء میں سے کچھ بھی حصہ ہوتا تو وہ دوبارہ حملہ نہ کرتے۔۔۔ فاضل نبیل موصوف میرے سب سے زیادہ محبت کرنے والے ان دوستوں میں سے ہیں جنہوں نے میری بیعت کی ہے اور عقیدت کو میرے ساتھ خالص کردیا ہے اور جنہوں نے اس بات پر عہد بیعت باندھا کہ وہ خد اتعالیٰ پر کسی کو مقدم نہ کریں گے میں نے آپ کو ان لوگوں میں سے پایا ہے جو اپنے عہدوں کی محافظت کرتے اور رب العالمین سے ڈرتے ہیں اور وہ اس پر شررزمانہ میں اس مَائُ الْمَعِیْن کی طرح ہیں جو آسمان سے نازل ہوتا ہے ۔ جس طرح ان کے دل میں قرآن کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ۔ ایسی محبت میں اور کسی کے دل میں نہیں دیکھتا۔ آپ قرآن کے عاشق ہیں۔ اور آپ کے چہرہ پر آیا ت مبین کی محبت ٹپکتی ہے۔ آپ کے دل میں خد اتعالیٰ کی طرف سے نور ڈالے جاتے ہیں پس آپ ان نوروں کے ساتھ قرآن شریف کے وہ دقائق دکھاتے ہیں جو نہایت بعیدہ پوشیدہ ہوتے ہیں ۔ آپ کی اکثر خوبیوں پر مجھے رشک آتا ہے اور یہ خد اتعالیٰ کی عطا ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور وہ خَیْرُالرَّازِقِینْ ہے ۔ خدائے تعالیٰ نے آپ کو ان لوگوں میں سے بنایا ہے جو قوت وبصارت والے ہیں آپ کے کلام میں وہ حلاوت وطلاقت ودیعت کی گئی ہے جو دوسری کتابوں میں نہیں پائی جاتی اور آپ کی فطرت کے لئے خد اتعالیٰ کے کلام سے پوری پوری مناسبت ہے ۔ خد اتعالیٰ کے کلام میں بے شمار خزانے ہیں۔ جو اس بزرگ جو ان کے لئے ودیعت رکھے گئے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اس کے لئے کوئی اس کے رزقوں میں ردوقدح کرنے والا نہیں۔ کیونکہ اس کے بندوں میں سے بعض وہ مرد ہیں جن کو تھوڑی سی نمی دی گئی ہے اور دوسرے کئی آدمی ہیں جن کو بہت سا پانی دیا گیا ہے اور وہ اس کے ساتھ حجت بازی کرنے والے ہیں ۔۔۔۔آپ بڑے بڑے میدانوں کے شہسوار ہیں ان کے لئے یہ قول صادق آتا ہے ۔ لِکُلِّ عِلْمٍ رَجَالٌ وَلِکُلِّ مَیْدَانٍ اَبْطَالٌ اور نیز یہ بھی صادق آتا ہے ۔ ان فی الزاوایا جنایا وفی الرجال بقایا ۔خداتعالیٰ آپ کو عافیت دے اور آپ کی عمر کو اپنی رضا مندی اور اطاعت میں لمبا کرے ۔ اور مقبولین میں سے بنائے ۔ میں دیکھتا ہوں کہ آپ کے لبوں پر حکمت بہتی ہے او آسمان کے نور آپ کے پاس نازل ہوتے ہیں اور میں دیکھتاہوں کہ مہمانوں کی طرح آپ پر نزول انوار متواتر ہورہاہے ۔ جب کبھی آپ کتا ب اللہ کی تاویل کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ تو اسرار کے قلعے کھول دیتے لطائف کے چشمے بہا دیتے عجیب وغریب پوشیدہ معارف ظاہر کرتے دقائق کے ذرات کی تدقیق کرتے اور حقائق کی انتہا تک پہنچ کر کھلا کھلا نور لاتے ہیں۔۔۔۔۔علماء علوم روحانیہ کی دولت اور اسرار رحمانیہ کے جواہرات سے بے گوشت ہڈی کی طرح خالی رہ گئے ۔ پس یہ جوان کھڑا ہوااور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں پر اس طرح ٹوٹ پڑا جیسے شیاطین پر شہاب گرتے ہیں سو وہ علماء میں آنکھ کی پتلی کی طرح ہے ۔ اور آسمان حکمت میں روشن آفتاب کی طرح ہے وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا ۔ وہ اس سطحی راؤں سے خوش نہیںہوتا جن کا منبت اونچی زمین ہے نہ نیچی زمین ۔ بلکہ اس کا فہم ان دقیق الماخذ مخفی اسرار کی طرف پہنچتا ہے جو گہری زمین میں ہوتے ہیں۔ فَلِلّٰہِ دَرُّہٗ وَعَلَی اللّٰہِ اَجْرُہٗ ۔
    اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف کھوئی دولت کو واپس کردیا ہے اور وہ ان لوگوں میں سے ہے جو توفیق دئیے جاتے ہیں اور سب حمد اس اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جس نے مجھے یہ دوست ایسے وقت میں بخشا جب کہ ا س کی ضرورت تھی۔ سو میں اللہ تعالیٰ سے دست بدعا ہوں کہ اس کی عمر وصحت وثروت میں برکت دے اور مجھے ایسے اوقات عطا کرے جن میں وہ دعائیں قبول ہوں جو اس کے اور اس کے خاندان کے لئے کروں اور میری فراست گواہی دیتی ہے کہ یہ استجابت ایک محقق امر ہے نہ ظنی اور میں ہر روز امیدواروں میں سے ہوں خد اکی قسم میں ا س کے کلام میں ایک نئی شان دیکھتا ہوں ۔ اور قرآن شریف کے اسرار کھولنے میں اور اس کے کلام اور مفہوم کے سمجھنے میں اس کو سابقین میں سے پاتا ہوں میں اس کے علم وحلم کو ان پہاڑوں کی طرح دیکھتا ہوں جو ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں مجھے علم نہیں کہ ان دونوں میں سے کون سا دوسرے پر فوقیت لے گیا ہے ۔ وہ دین متین کے باغوں میں سے ایک باغ ہے ۔ اے رب ! تو ا س پر آسمان سے برکتیں نازل کراور دشمنوں کے شر سے اس کو محفوظ رکھ اور جہاں کہیں وہ ہو، تو بھی اس کے ساتھ ہو۔ اور دنیا وآخرت میں اس پررحم فرما ۔ اے ارحم الراحمین آمین ثم آمین ۔
    تمام تعریف اولاًوآخراً وظاہراً وباطناً اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے وہی دنیا وآخرت میں میرا والی ہے ۔ اسی کے کلام نے مجھے بلوایا اور اسی کے ہاتھ نے مجھے ہلایا ۔سو میںنے مسودہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اشارے اور لقاء سے لکھاہے ۔ وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ ۔ "
    (ترجمہ وتلخیص از عربی حصہ آئینہ کمالا ت اسلام ازروحانی خزائن جلد5 صفحہ584تا589)
    ۶۔ آپؑ"برکات الدعا" میں تحریر فرماتے ہیں ۔
    "پرجوش مردان دین سے مراد اس جگہ اخویم حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب بھیروی ہیں۔ جنہوں نے گویا اپنا تمام مال اسی راہ میں لٹا دیا ہے ۔"
    (برکات الدعا ء ازروحانی خزائن جلد6صفحہ 35حاشیہ)
    ۷۔ آپ ؑ"سرّالخلافہ" میں تحریر فرماتے ہیں ۔
    " میرے دوستوں میں ایک دوست سب سے محبوب اور میرے محبوں میں سب سے زیادہ مخلص ، فاضل ، علامہ ، عالم رموز کتاب مبین ، عارف علوم الحکم والدین ہیں جن کا نام اپنی صفات کی طرح مولوی حکیم نور الدین ہے ۔"
    (ترجمہ از عربی سر الخلافہ ازروحانی خزائن جلد 8صفحہ381)
    ۸۔ آپ ؑ"حمامتہ البشرٰی" میں تحریر فرماتے ہیں ۔
    "میرے سب دوست متقی ہیں لیکن ان سب سے قوی بصیرت اور کثیر العلم اور زیادہ تر نرم اور حلیم اور اکمل الایمان والاسلام اور سخت محبت اور معرفت اور خشیت اور یقین اور ثبات والا ایک مبارک شخص بزرگ ، متقی ، عالم ،صالح ، فقیہہ اور جلیل القدر محدث اور عظیم الشان حاذق حکیم ، حاجی الحرمین ، حافظ قرآن قوم کا قریشی نسب کا فاروقی ہے جس کا نام نامی مع لقب گرامی حکیم مولوی نور الدین بھیروی ہے اللہ تعالیٰ اس کو دین ودنیا میں بڑااجر دے اور صدق وصفا اور اخلاص اور محبت اور وفاداری میں میرے سب مریدوں سے وہ اوّل نمبر پر ہے اور غیر اللہ سے انقطاع میں اور ایثار اور خدمات دین میںو ہ عجیب شخص ہے اس نے اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے مختلف وجوہات سے بہت مال خرچ کیا ہے اور میں نے ا س کو ان مخلصین سے پایاہے جو ہر ایک رضا پر اور اولادوازواج پر اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھتے ہیں اور ہمیشہ اس کی رضا چاہتے ہیں اور اس کی رضا کے حاصل کرنے کے لئے مال اور جانیں صرف کرتے ہیں اور ہر حال میں شکر گذاری سے زندگی بسر کرتے ہیں اور وہ شخص رقیق القلب صاف طبع حلیم ، کریم اور جامع الخیرات، بدن کے تعہد اور اس کی لذات سے بہت دور ہے ۔ بھلائی اور نیکی کاموقع اس کے ہاتھ سے کبھی ضائع نہیں ہوتااور وہ چاہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دین کے اعلاء اور تائید میں پانی کی طرح اپنا خون بہادے اور اپنی جان کو بھی خاتم النبین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی راہ میں صَرف کرے۔ وہ ہرایک بھلائی کے پیچھے چلتا ہے اور مفسدوں کی بیخ کنی کے واسطے ہر ایک سمندر میں غوطہ زن ہوتا ہے ۔ میں اللہ تعالیٰ کا شکر اد اکرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایسا اعلیٰ درجہ کا صدیق دیاجو راستباز اور جلیل القدر فاضل ہے اور باریک بین اور نکتہ رس۔ اللہ تعالیٰ کے لئے مجاہد ہ کرنے والا اور کمال اخلاص سے اس کے لئے ایسی اعلیٰ درجہ کی محبت رکھنے والا ہے کہ کوئی محب اس سے سبقت نہیں لے گیا۔ "
    (ترجمہ از عربی حمامۃ البشرٰی ازروحانی خزائن جلد 8صفحہ180-181)
    ۹۔ آپؑ ضمیمہ" انجام آتھم" میں فرماتے ہیں ۔
    "مولوی حکیم نور الدین صاحب ۔۔۔۔۔تمام دنیا کو پامال کر کے میرے پاس ان فقراء کے رنگ میں آبیٹھے ہیں جیسا کہ اخص صحابہ رضی اللہ عنہم نے طریق اختیار کر لیا تھا۔"
    (ضمیمہ انجام آتھم ازروحانی خزائن جلد11صفحہ315)
    ۱۰۔ ـآپ ؑ"ضرورۃ الامام" میں تحریر فرماتے ہیں ۔
    "ہماری جماعت میں اور میرے بیعت کردہ بندگان خد امیں ایک مرد ہیں جو جلیل الشان فاضل ہیں اور وہ مولوی حکیم حافظ حاجی حرمین نور الدین صاحب ہیں جو گویا تمام جہان کی تفسیریں اپنے پاس رکھتے ہیں اور ایسا ہی ان کے دل میں ہزار ہا قرآنی معارف کا ذخیرہ ہے۔" (ضرورۃ الامام ازروحانی خزائن جلد13صفحہ500)

    اشتہارا ت میں ذکر :
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے اشتہارات میں آپ (حضرت مولانا نور الدین صاحب )کی شان میں بہت کچھ لکھا ہے ۔ مثلاً04؍اکتوبر 1899ء کے اشتہار میں لکھا ۔
    "میں ا س بات کے لکھنے سے رہ نہیں سکتا کہ اس نصرت اور جانفشانی میں اوّل درجہ پر ہمارے خاص محب فی اللہ مولوی حکیم نور الدین صاحب ہیں جنہوںنے نہ صرف مالی امداد کی بلکہ دنیا کے تمام تعلقات سے دامن جھاڑ کر اور فقیروں کا جامہ پہن کر اور اپنے وطن سے ہجرت کر کے قادیان میں موت کے دن تک آبیٹھے اور ہر وقت حاضر ہیں۔ اگر میں چاہوں تو مشرق میں بھیج دوں یا مغرب میں ۔ میرے نزدیک یہ وہ لوگ ہیں جن کی نسبت براہین احمدیہ میں یہ الہام ہے ۔
    اَصْحَابُ الصُّفَۃِ وَمَااَدْرٰکَ مَااَصْحَابُ الصُّفَۃِ
    اور مولوی حکیم نور الدین صاحب تو ہمارے اس سلسلہ کے ایک شمع ر وشن ہیں۔"
    (مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ308جدید ایڈیشن)
    خطوط میں ذکر :
    حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے خطوط میں بھی حضرت خلیفۃ المسیح الاولّ(اللہ آپ سے راضی ہو)کی شاندار خدمات اور بلند منصب کا بار بار ذکر ملتا ہے ۔ چنانچہ حضورؑ نے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ
    ۱۔ "مجھ کو آن مخدوم کے ہر ایک خط کے پہنچنے سے خوشی پہنچتی ہے کیونکہ میں جانتا ہوں ۔ خالص دوستوں کا وجو دکبریت احمر سے عزیز تر ہے ۔ اور آپ کے دین کے لئے جذبہ اور ولولہ اور عالی ہمتی ایک فضل الٰہی ہے جس کو میں عظیم الشان فضل سمجھتا ہوں ۔ـ"
    (مکتوبات احمدیہ جلد 5 نمبر2صفحہ26)
    ۲۔ "سچ تو یہ ہے کہ میں نے اس زمانہ میں یہ خلوص ومحبت وصدق قدم براہ دین کسی دوسرے میں نہیں پایا اور آپ کی عالی ہمتی کو دیکھ کر خداوند کریم جل شانہٗ کے آگے خود منفعل ہوں۔۔۔۔۔جس قدر میری طبیعت آپ کی للہی خدمات سے شکر گزار ہے مجھے کہاں طاقت ہے کہ میں اس کو بیان کرسکوں ۔" (مکتوبات احمدیہ جلد 5 نمبر2صفحہ45)
    ۳۔ "بلاشبہ کلام الٰہی سے محبت رکھنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے کلمات طیبات سے عشق ہونا اور اہل اللہ کے ساتھ حُبّ صافی کا تعلق حاصل ہونایہ ایک ایسی بزرگ نعمت ہے جو خدا تعالیٰ کے خاص اور مخلص بندوں کو ملتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔فالحمد للہ کہ خد اتعالیٰ نے آپ کو یہ نعمت جوراس الخیرات ہے عطا فرمائی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جیسے آپ کے اخلاص نے بطور خارق عادت اس زمانہ کے ترقی کی ہے ویسا ہی جو ش حُبّ اللہ کا آپ کے لئے اور آپ کے ساتھ بڑھتا گیا۔ اور چونکہ خد اتعالیٰ نے چاہا کہ اس درجہ اخلاص میں آپ کے ساتھ کوئی دوسرا بھی شریک نہ ہو اس لئے اکثر لوگوں کے دلوں پر جو دعویٰ تعلق رکھتے ہیں خد اتعالیٰ نے قبض وارد کئے اور آپ کے دل کو کھول دیا۔" (مکتوبات احمدیہ جلد5 نمبر2صفحہ72)
    ۴۔ "جو کچھ خدا تعالیٰ نے اس عاجز کو نصرت کے لئے محبت اور ہمدردی کا آپ کو جوش بخشا ہے وہ تو ایسا امر ہے جس کا شکر اد انہیں ہوسکتا ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَعْطَانِیْ مُخْلِصًا کَمِثْلِکُمْ مُحِّبًا کَمِثْلِکُمْ نَاصِراًفِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَمِثْلِکُمْ وَھَذِہٖ کُلُّہٗ فَضْلُ اللّٰہِ ۔
    (مکتوبات احمدیہ جلد 5 نمبر2صفحہ127)
    ۵۔ قیام بھیرہ کے دوران حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے آپ کویہ خط لکھا۔
    "یقین کہ آنمکرم بخیروعافیت بھیرہ میں پہنچ گئے ہوں گے میں امید رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ بہرحال آپ سے بہتر معاملہ کرے گا۔ میںنے کتنی دفعہ جو توجہ کی تو کوئی مکروہ امر میرے پر ظاہر نہیں ہوا۔ بشارت کے امور ظاہر ہوتے رہے اور دودفعہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا۔ اِنِّی مَعَکُمَا اَسْمَعُ وَاَرَیٰ
    ایک دفعہ دیکھا کہ گویا ایک فرشتہ ہے اس نے ایک کاغذ پر مہر لگا دی اور وہ مہر دائرہ کی شکل پر تھی۔ اس کے کنارہ پر محیط کی طرف اعلیٰ کے قریب لکھا تھا۔ نور الدین اور درمیان یہ عبارت تھی۔ ازواج مطہرۃ ۔ میری دانست میں ازواج دوستوں اور رفیقوں کو بھی کہتے ہیں اس کے یہ معنی ہوں گے کہ نور الدین خالص دوستوں میں سے ہیں کیونکہ اسی رات اس سے پہلے میں نے ایک خواب دیکھا کہ فرشتہ نظر آیا۔ وہ کہتا ہے کہ تمہاری جماعت کے لوگ پھرتے جاتے ہیں فلاں فلاں اپنے اخلاص پر قائم نہیں رہا۔ تب میں اس فرشتہ کو ایک طرف لے گیا اور اس کو کہا کہ لوگ پھرتے جاتے ہیں تم اپنی کہو کہ تم کس طرف ہوتواس نے جواب دیا کہ ہم تو تمہاری طرف ہیں تب میں نے کہا کہ جس حالت میں خداتعالیٰ میری طرف ہے تو مجھے اس کی ذات کی قسم ہے کہ اگر سارا جہان پھر جائے تو مجھے کچھ پروا ہ نہیں پھر بعد اس کے میںنے کہا کہ تم کہاں سے آئے ہواور آنکھ کھل گئی۔ اور ساتھ الہام کے ذریعہ سے یہ جواب ملا کہ
    اَجِئی مِنْ حَضْرَۃِ الْوَتْرِ ۔
    میںنے سمجھا کہ چونکہ اس بیان سے جو فرشتہ نے کیا وتر کا لفظ مناسب تھا کہ وتر تنہا اور طاق کو کہتے ہیں اس لئے خد اتعالیٰ کا نام الوتر بیان کیا۔ اس خواب اور اس الہام سے کچھ مجھے بشریت سے تشویش ہوئی اور پھر سو گیا۔ تب پھر ایک فرشتہ آیااور اس نے ایک کاغذ پر مہر لگادی اور نقش مہر جو چھپ گیادائرہ کی طرح تھا اور اس قدر دائرہ تھا جو ذیل میںلکھتا ہوں اور تمام شکل یہی تھی۔
    نور الدین
    ازواج
    مطہرہ
    مجھے دل میں گذرا کہ یہ میری دل شکنی کا جواب ہے اور اس میں یہ اشارہ ہے کہ ایسے خالص دوست بھی ہیں جو ہر ایک لغزش سے پاک کئے گئے ہیں جن کا اعلیٰ نمونہ آپ ہیں۔ "
    (تاریخ احمدیت جلد3 صفحہ135-136)



    مسئلہ خلافت کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی
    تصریحات اور رؤیا والہام
    حضرت خلیفہ اول کا جذبہ اطاعت آپ کی اپنی زبانی اور حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی شہادت
    ۱۔ " میں یہاں قادیان میں صرف ایک دن کے لئے آیا اور ایک بڑی عمارت بنتی چھوڑ آیا۔ حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا اب تو آپ فارغ ہیں میں نے عرض کیا ۔ارشاد! فرمایا: آپ رہیں ! میں سمجھادوچار روز کے لئے فرماتے ہیں۔ ایک ہفتہ خاموش رہا ۔ فرمایا: آپ تنہا ہیں۔ ایک بیوی منگوا لیں ۔ تب میں سمجھا کہ زیادہ دن رہنا پڑے گا۔ تعمیر کاکام بند کرا دیا۔ چند روز بعد فرمایا کتابوں کاآپ کو شوق ہے ۔ یہیں منگو الیجئے ۔ تعمیل کی گئی۔ فرمایا! اچھا دوسری بیوی بھی یہیں منگو الیں ۔ پھر مولوی عبد الکریم صاحب سے ایک دن ذکر کیا کہ مجھے الہام ہوا ہے ۔
    لَاتَصُبُّوْنَ اِلَی الْوَطَنِ فِیْہِ تُھَانُ وَتُمْتَحَنَ
    یہ الہام نور الدین کے متعلق معلوم ہوتا ہے ۔ مجھ سے فرمایا: وطن کا خیال چھوڑ دو۔ چنانچہ میںنے چھوڑ دیا اور کبھی خواب میں بھی وطن نہیں دیکھا۔"
    (ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان 29؍جولائی 1909ء از حقائق الفرقان جلد 2 صفحہ33)
    (نوٹ) اس وحی کا ذکر حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نے اپنی سوانح حیات جو اکبر شاہ صاحب نجیب آبادی کو لکھوائی میں یوں فرمایا۔
    ’’مولوی عبد الکریم صاحب سے (حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) نے فرمایا کہ مجھ کو نور الدین کے متعلق الہام ہوا ہے اور وہ شعر حریری میں موجود ہے ۔
    لاتصبون الی الوطن ۔ فیہ تھان وتمتحن۔ (مرقاۃ الیقین فی حیاۃ نور الدین )
    کہ تو وطن کی طرف ہر گز رخ نہ کرنا اس میں تیری اہانت ہوگی اور تجھے تکلیفیں اُٹھانی پڑیں گی۔ "
    ۲۔ "میںنے امام بننے کی کبھی خواہش تک نہیں کی ۔ اللہ تعالیٰ نے تم سب کو گردنوں سے پکڑ کر میرے آگے جھکا دیا ۔ دیر کی بات ہے کہ میں نے ایک رؤیاء دیکھی تھی کہ میں کرشن بن گیا ۔ اس کا نتیجہ اس وقت میری سمجھ میں نہیں آتا تھا ۔ یہ مطلب ہے
    ذَالِکَ بِمَا عَصَواوَّ کَانُوایَعْتَدُوْنَo (البقرہ:62)
    پہلے انسان ادنیٰ نافرمانی کرتا ہے پھر ترقی کرتا کرتا حدسے بڑھ جاتا ہے ۔ "
    (خطبات نورصفحہ622)
    ۳۔ "یہاں ایک رؤیاء کا درج کرنا جو بتاریخ12؍اکتوبر1906ء کو بمقام امروہہ خاکسار کوہوئی تھی بحکم تحدیث بالنعمۃ کے ضروری ہے ۔12؍ تاریخ کی شب کو میںنے دیکھا کہ میں کسی شہر میں ہوں اور ایک مکان میں ایک تخت پر بیٹھا ہواہوں کچھ لوگ تخت سے نیچے بیٹھے ہیں اور کچھ لوگ تخت کے اوپر بھی ہیں اور میں بڑے زور وشور سے صرف
    اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَایَّاکَ نَسْتَعِیْنo (الفاتحہ:5)
    کی تفسیر سے مسلک احمدیہ اور دعاوی حضرت مسیح موعودعلیہ اسلام کو ثابت کر رہاہوں ۔ "
    (خطبات نور صفحہ235)
    ۴۔ "لَاتُحِلُّوْاشَعَآئِرَاللّٰہ ۔ جن چیزوں سے اللہ پہچاناجاتا ہے ۔ ان کی بے حرمتی مت کرو۔ ہم نے قرآن مجید سے خدا کو پہچانا ۔ اس لئے اس کی بے حرمتی جائز نہیں۔بھلا یہ حرمت ہے کہ اس پر پاؤں رکھ لو۔یااور کتابوں کے نیچے رکھو۔ یا یونہی صفوں پر ڈال دیا جاوے ۔ میںنے بھی تمہیں پہچان کی راہ بتائی ہے ۔ میری بھی حرمت کرو۔ "
    (حقائق الفرقان جلد 2 صفحہ74)

    خلافت اولیٰ کی نسبت آسمانی شہادتیں
    حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل مولوی نور الدین صاحب بھیروی (اللہ آپ سے راضی ہو) کی خلافت خدائے علیم وخبیر کی ازلی تقدیروں میں سے ایک خاص تقدیر تھی اور آپ ایک موعود شخصیت تھے چنانچہ اس سلسلہ میں چند آسمانی شہادتیں ذیل میں لکھی جاتی ہیں ۔
    پہلی شہادت
    خلافت علی منہاج النبوۃ کا اجراء بھی قریش سے ہوگا
    آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک طرف یہ خبر دی کہ میری امت کی ہلاکت قریش کے ہاتھوں ہوگی ۔(بخاری کتاب الفتن صفحہ150) دوسری طرف دعا کی۔ اَللّٰھُمَّ اَذَقْتَ اَوَّلَ قُرَیْشٍ نَکَالًا فَأَذُقْ آخِرَھُمْ نِوَالًا۔ (ترمذی جلد دوم باب فضل الانصار وقریش صفحہ5-6) اے خدا جس طرح تو نے اول قریش کو بلا سے دو چار کیا اسی طرح انجام کار ان کو اپنی عطا سے بہرہ ور کرنا ۔ حضرت پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی یہ دعا حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی خلافت سے پوری ہوئی۔ اس طرح خلافت کا اختتام بھی قریش سے ہوا اور آخری دور کا احیاء واجراء بھی قریش سے کیا۔
    دوسری شہادت
    ذوشجہ کے مصداق
    ابن عساکرکی روایت ہے کہ حضرت عمربن الخطاب ؓنے فرمایا۔
    "خَرجَ ابْنُ عَسَاکِروَکَانَ عُمَرُابنُ الخِطَابَ یَقُوْلُ مِنْ وُلْدِہٖ رَجَلٌ بِوَجْھِہٖ شُجّۃٌ یَمْلَأُ الْاَ رْضَ عَدْلًا۔
    (تاریخ الخلفاء صفحہ155ازامام جلال الدین السیوطی)
    " یعنی ایک شخص میری اولاد سے ہوگا جس کے چہرہ پر نشان ہوگا (یعنی جس کے منہ اور سر کے کسی حصہ میں ایسازخم لگے جو ہڈی تک پہنچاہوگا۔ )وہ زمین کو عدل سے بھر دے گا۔"
    حضرت خلیفۃ المسیح الاول فاروقی النسل بھی تھے اور آخری عمر میں ذوشجہ والی پیشگوئی کے بھی مصداق ہوئے۔
    تیسری شہادت
    مہدی کاایک وزیر حافظ قرآن ہوگا
    حضرت محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ (1240-1164)نے پیش گوئی فرمائی کہ آنے والے موعود کا ایک خاص وزیر حافظ قرآن ہوگا ۔
    (خلافت احمدیہ صفحہ29شائع کردہ انصار اللہ)
    چنانچہ لکھتے ہیں ۔
    "وھم من الاعاجم مافیھم عربی لکن لایتکلمون الابالعر بیۃ لھم حافظ لیس من جنسھم ما عصی اللہ قط ھوا خص الوزراء وافضل الامناء ۔"
    (فتوحات مکیہ جلد3صفحہ365)
    یعنی وزرائے مہدی سب عجمی ہوں گے ان میں سے کوئی عربی نہ ہوگا۔ لیکن وہ عربی میں کلام کرتے ہوںگے ۔ ان میں سے ایک حافظ ہوگا۔ جوان کی جنس میں سے نہیں ہوگا۔ اس نے کبھی خدا کی نافرمانی نہیں کی ہوگی۔ وہی اس موعود کا وزیر خاص اور بہترین امین ہوگا۔
    یہ پیشگوئی حضرت خلیفۃ المسیح الاول مولوی نور الدین صاحب (اللہ آپ سے راضی ہو) کی ذات میں جس کمال صفائی سے پوری ہوئی وہ محتاج بیان نہیں۔آپ حافظ قرآن بھی تھے اور اپنے آقاومطاع حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اور ان کی لائی ہوئی تعلیم کے محافظ بھی۔
    چوتھی شہادت
    امام مہدی کے بعد ایک عربی النسل ہوگا
    پانچویں صدی ہجری کے مسلّمہ امام حضرت امام یحییٰ بن عقب امام مہدی کے بعد ایک عربی النسل انسان کے ظہور کی پیش گوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔
    اذا ماجاء ھم العربی حقا
    علی عمل سیملک لا محال
    ویفتحونھا من غیر شک
    وکم داع ینادی بابتھال
    ومحمودسیظھر بعد ھذا
    ویملک الشام بلا قتال
    یعنی حضرت امام مہدی کے بعدایک عظیم الشان عربی النسل آئے گا جو خلیفہ برحق ہوگا(یہ حق بات ہے کہ وہ عربی نسل ہوگا) اورنیک عمل وسیرت اور بلند مرتبت کے باعث وہ روحانی بادشاہت کا ضرور وارث ہوگااور اس کے زمانہ میں بلاشک ممالک فتح ہوں گے۔ بے شمار دعائیں کرنے والے اسلام کی فتح (قدرت ثانیہ کے ظہور) کے لئے دعائیں کریں گے اور اس کے بعدمحمود ظاہر ہوگااور بغیر جنگ کے ملک شام کا مالک ہوگا۔
    (شمس المعارف الکبری از امام شیخ احمد بن علی مصری صفحہ340-339)
    ضروری نوٹ:
    (یہ کتاب جو علم نجوم وجفر سے تعلق رکھتی ہے 1030ء کے دوران ہندوستان میں پہنچی اور خاندان حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے ایک فردیاسین علی صاحب نے اس کا ترجمہ کیا اور لاہور میں تین جلدوں میں طبع ہوئی )
    پانچویں شہادت
    صدیق کا خطاب
    حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں۔
    "تم بہت سے نشانات دیکھ چکے ہو اور حروف تہجی کے طور پر اگر ایک نقشہ تیار کیا جاوے تو کوئی حرف باقی نہ رہے گا کہ اس میں کئی کئی نشان نہ آئیں۔ تریاق القلوب میں بہت سے نشان جمع کئے گئے ہیں اور تم نے اپنی آنکھوں سے پورے ہوتے دیکھے۔
    اب وقت ہے کہ تمہارے ایمان مضبوط ہوں اور کوئی زلزلہ اور آندھی تمہیں ہلا نہ سکے۔ بعض تم میں ایسے بھی صادق ہیں کہ انہوںنے کسی نشان کی اپنے لئے ضرورت نہیں سمجھی۔ گو خدا نے اپنے فضل سے ان کو سینکڑوں نشان دکھا دئیے۔ لیکن اگر ایک بھی نشان نہ ہوتا تب بھی وہ مجھے صادق یقین کرتے اور میرے ساتھ تھے ۔ چنانچہ مولوی نور الدین صاحب کسی نشان کے طالب نہ ہوئے ۔ انہوںنے سنتے ہی آمنّا کہہ دیااور فاروقی ہوکر صدیقی کا عمل کر لیا ۔ لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر شام کی طرف گئے ہوئے تھے ۔ واپس آئے تو راستہ میںہی آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دعویٰ نبوت کی خبر پہنچی وہیں انہوں نے تسلیم کر لیا۔
    ـحضرت اقدس علیہ السلام نے اس قدر تقریر فرمائی تھی کہ مولانا نور الدین صاحب حکیم الامت ایک جوش اور صدق کے نشہ سے سرشار ہوکر اُٹھے اور کہا کہ میں اس وقت حاضر ہوا ہوں کہ حضرت عمر ؓ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حضور رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبّاًوّبِمُحَمَّدٍ نَبِیَّاً کہہ کر اقرار کیا تھا۔ اب میں اس وقت صادق امام مسیح موعود اور مہدی معہود کے حضور وہی اقرار کرتا ہوں کہ مجھے کبھی ذرا بھی شک اور وہم حضور کے متعلق نہیں گزرااور یہ خد اتعالیٰ کا فضل ہے ہم جانتے ہیں کہ بہت سے اسباب ایسے ہیں جن کا ہمیں علم نہیں اور میں نے ہمیشہ اس کو آداب نبوۃ کے خلاف سمجھا ہے کہ کبھی کوئی سوال اس قسم کا کروں ۔ میں آپ کے حضور اقرار کرتا ہوں ۔ رضیناباللہ رَبًّاوَّ بک مسیحاوّ مھدیا۔
    اس تقریر کے ساتھ ہی حضرت اقدس علیہ السلام نے بھی اپنی تقریر ختم کردی ۔"
    (ملفوظات جدید ایڈیشن جلد 2 صفحہ55)
    چھٹی شہادت
    حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی رؤیا
    حضرت مولانا نور الدین صاحب بطور حضرت ابوبکرؓ
    حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب بیان کرتے ہیں ۔
    "مجھ سے ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم صاحبہ نے بیان کیا ہے کہ جب حضرت صاحب آخری سفر میں لاہور تشریف لے جانے لگے تو آپ نے ان سے کہا کہ مجھے ایک کام درپیش ہے دعا کرو اور اگر کوئی خواب آئے تو مجھے بتانا۔ مبارکہ بیگم نے خواب دیکھا کہ وہ چوبارہ پر گئی ہیں اور وہاں حضرت مولوی نور الدین صاحب ایک کتاب لئے بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو اس کتاب میں میرے متعلق حضرت صاحب کے الہامات ہیں اور میں ابوبکرؓہوں ۔ دوسرے دن صبح مبارکہ بیگم سے حضرت صاحب نے پوچھا کہ کیا کوئی خواب دیکھا ہے؟مبارکہ بیگم نے یہ خواب سنائی تو حضرت صاحب نے فرمایا!یہ خواب اپنی اماں کو نہ سنانا۔ مبارکہ بیگم کہتی ہیں کہ اس وقت میں نہیں سمجھی تھی کہ اس سے کیا مراد ہے ۔
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ خواب بہت واضح ہے اور ا س سے یہ مرا دتھی کہ حضرت صاحب کی وفات کاوقت آن پہنچا ہے اور یہ کہ آپ کے بعد حضرت مولوی صاحب خلیفہ ہوں گے۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس وقت ہمشیرہ مبارکہ بیگم صاحبہ کی عمر گیارہ سال کی تھی دوسری روایتوں سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت صاحب اس سفرپر تشریف لے جاتے ہوئے بہت متامل تھے کیونکہ حضرت کو یہ احساس ہوچکا تھا کہ اسی سفر میں آپ کو سفر آخرت پیش آنے والا ہے ۔ مگر حضور نے سوائے اشارے کنایہ کے اس کا اظہار نہیں فرمایا۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہماری ہمشیرہ کا یہ خواب غیر مبائعین کے خلاف بھی حجت ہے کیونکہ اس میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے بعد خلافت کی طرف صریح اشارہ ہے ۔ "
    (سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ533جدید ایڈیشن )
    ساتویں شہادت
    حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید کابل کی پیشگوئی اور حضرت مولانا نور الدین صاحب سے بخاری پڑھ کر شاگردی میں شامل ہونے کی سعادت
    حضرت سید احمد نور صاحب کابلی بیان کرتے ہیں ۔
    "ایک دفعہ عجب خان تحصیلدار جو ہمارے یہاں آئے ہوئے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے گھر جانے کی اجازت لے کر شہید مرحوم کے پاس آئے اور کہا کہ میں نے حضرت صاحب سے اجازت لے لی ہے لیکن مولوی نور الدین صاحب سے نہیں لی ۔ شہید مرحوم نے فرمایا کہ مولوی صاحب سے جاکر ضرور اجازت لینا کیونکہ مسیح موعودعلیہ السلام کے بعد یہی اوّل خلیفہ ہوں گے۔ چنانچہ جب شہید مرحوم جانے لگے تو مولوی صاحب سے حدیث بخاری کے دو تین صفحے پڑھے اور ہم سے فرمایا کہ یہ میں نے اس لئے پڑھے ہیں کہ تا میں ان کی شاگردی میں داخل ہوجاؤں حضرت صاحب کے بعد یہ خلیفہ اوّل ہوں گے۔"
    (چشم دید واقعات شہادت عبد اللطیف شہید حصہ اول صفحہ9-10جدید ایڈیشن)
    آٹھویں شہادت
    مکرم سید محمود عالم صاحب آف قادیان بیان کرتے ہیں ۔
    "میں چونکہ1907ء سے لے کر1912ء تک حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے شاگردوں میں شامل تھا ۔ اس لئے دن رات کابڑا حصہ حضور کے پاس رہنے کی سعادت حاصل تھی اور آپ کی باتیں سننے کا موقعہ ملتا رہتا تھا۔ ان یادداشتوں میں سے چند جو مسئلہ خلافت کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں پیش کرتا ہوں ۔
    ‏i۔ حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ
    حضرت عمر ؓ کا قول ہے کہ خد اتعالیٰ کا مجھ سے وعدہ ہے کہ تیری نسل سے ہر زمانہ میں ائمہ دین پیدا ہوتے رہیں گے ۔ چنانچہ اب خد اتعالیٰ نے مجھے خلیفہ اور امام بنا کر حضرت عمر ؓ کے قول کی تصدیق کر دی ۔ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی تک تو یہ خیال تھا کہ شاید یہ زمانہ خالی جائے مگر یہ زمانہ بھی خالی نہیں گیا۔
    ‏ii۔ ایک مرتبہ خلافت وامامت کا ذکر چل پڑا۔حضرت خلیفہ اوّل نے فرمایا کہ
    اس وقت خد اتعالیٰ کی طرف سے سارے جہان کا امام میں ہوں کوئی مانے یا نہ مانے یہ اس کی مرضی، میری امامت سے نہ یورپ باہر ہے نہ ایشیا نہ عرب باہر ہے نہ شام ومصر وغیرہ
    ‏iii۔ حضرت خلیفہ اوّل فرمایا کرتے تھے کہ
    میںنے ایک مرتبہ خد اتعالیٰ کے حضور التجا کی کہ جماعت میں فتنہ پڑگیا ہے اسے دور کردے اس پر خد اتعالیٰ نے فرمایا کہ میںنے تو تیرہ سوسال پہلے سے احمد کے بعد تیری بھی پیشگوئی کی ہوئی ہے پس تجھے کو ن مٹا سکتا ہے ۔ "
    (حضرت مولانا نور الدین صاحب )منکرین خلافت کے ذکر پر فرمایا کرتے تھے کہ
    ‏iv۔ ـ" میری خلافت کی اطلاع تو آج سے تیس سال پہلے خد اتعالیٰ نے دے دی تھی ۔ چنانچہ میاں نجم الدین صاحب مرحوم بھیروی کی برادرزادی کو جو ملہمہ تھیں تیس سال پہلے بتلایا گیا تھاکہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کا میں خلیفہ ہوں گا۔ اور یہ وہ وقت تھا جبکہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے وجود کا بھی کوئی پتہ نہ تھا۔ غالباً الفاظ یہ تھے (کوئی کہنے والا کہتا ہے ) کہ مولوی نور الدین صاحب خلیفۃ المسیح کہاں ہیں چنانچہ خاکسار نے خود میاں نجم الدین صاحب مرحوم سے دریافت کیا کہ کیا آپ کو بھی اس کا علم ہے تو مرحوم نے فرمایا کہ میں آج سے تیس سال پہلے سے جانتا تھا کہ مولوی نور الدین صاحب خلیفۃ المسیح بننے والے ہیں کیونکہ میری برادر زادی کو اس وقت جبکہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کا بھی کوئی ذکر نہ تھا خد اتعالیٰ نے بتلا یا تھا کہ مولوی نور الدین صاحب کو خلیفۃ المسیح بنایا جائے گا۔ "
    (روزنامہ الفضل22؍اگست 1940ئ)
    نویں شہادت
    میر محمد سعید صاحب کی یادداشت بابت خلافت اولیٰ
    حضرت مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر البدر اپنے مضمون میں تحریر فرماتے ہیں۔
    " حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے بعد آپ کا جانشین وہ شخص ہے جس کے جھنڈے کے نیچے خد اتعالیٰ نے تمام جماعت کو فوراً جمع کردیا اور پیشتر اس کے حضرت اقدس ؑکو دفن کیا جاتا تما م جماعت نے بالاتفاق حضرت مولوی نور الدین صاحب کو حضرت مسیح موعود ؑکا خلیفہ مان لیااور آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ اور کوئی بے اتفاقی واقع نہیں ہوئی۔ سچ تو یہ ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود کی زندگی میں ہی بہت لوگوں کی نظریں اس طرف جارہی تھیں کہ ہمارے درمیان حضرت اقدس کے بعد جانشین ہونے والا وجود نور الدین کا ہی ہے چند ماہ کی بات ہے کہ مخدومی خواجہ کمال الدین صاحب نے مجھ سے دریافت کیا تھا کہ اگر خدانخواستہ آج حضرت صاحب ہمارے درمیان میں سے اُٹھ جاویں تو پھر کیا ہو۔ کیونکہ مخالفین کی نظر اس بات پرہے کہ جو قوت لوگوں کو ایک لڑی میں پرونے اور ایک جگہ جمع کردینے کی حضرت مرزا صاحب میں موجود ہے آئندہ زندگی اس سلسلہ کی کسی ایسی ہی قوت والے جانشین کے پید اہونے پر منحصر ہے ۔ تو میں نے خواجہ صاحب کی خدمت میں عرض کی تھی کہ یہ قوت اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مولوی نور الدین صاحب میں موجود ہے اور ان کے بعد خدا تعالیٰ کسی اور کودے دے گا ۔ اس واسطے ظاہری نظر میں ہی یہ سلسلہ پورا استحکام رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسے کسی زلزلہ کا خوف نہیں۔ خواجہ صاحب نے میری بات کی تائید کی اور فرمایا کہ میرا تودل تیار ہے کہ مولوی صاحب موصوف کے ہاتھ پر بیعت کر لے۔ حضرت مرز اصاحب کی وفات کے وقت ہی حضرت سید مولوی محمد احسن صاحب نے حضرت مولوی صاحب موصوف کی خدمت میں حاضر ہوکر جو پہلا لفظ بولا وہ یہی تھا کہ آپ صدیق اکبرہیں ۔ حضرت کاجنازہ لاتے ہوئے ریل گاڑی میں ہم سوار تھے اور میں مختلف احباب کود یکھنے کے واسطے راہ کے اسٹیشنوں پر مختلف گاڑیوں میں بیٹھتا رہا ۔میںنے دیکھا کہ سب کے قلوب اس امر کی طرف جھکے ہوئے تھے کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب ہمارے امام ہوںاور میر محمد سعید صاحب نے تو مجھے اپنی نوٹ بک میں ایک یادداشت دکھائی جس پر یہ الفاظ لکھے تھے۔
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    الصَّلٰوۃَ وَالسَّلامُ عَلٰی رَسَولِہِ مَحَمَّدٍوَّ اٰلِہٖ أَجْمَعِیْن
    ہم لوگ حضرت خلیفہ رسول رب العالمین عالی جناب مولانا مولوی نور الدین صاحب ایدہ اللہ بروح منہُ سے بیعت کرنے کے لئے تیار ہیں ۔
    ؎ گر قبول اُفتدز ہے عزوشرف
    میر محمد سعید، حافظ احمد اللہ صاحب ، حافظ محمد اسحق صاحب ، سید عبد الحئی صاحب ، شیخ شبراتی صاحب، عبد الرحمن صاحب ، مخدوم محمد اشرف صاحب ، سید ولی اللہ شاہ صاحب ، مرزا خدا بخش صاحب ۔
    (البدر 02؍جون1908ء )
    دسویں شہادت
    حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی وفات پر حضرت خلیفہ اول کی غائبانہ بیعت
    ‏i۔ "جب بیرونی جماعتوں میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے انتقال کی خبر پہنچی تو کئی بزرگوں نے انتخاب خلافت سے پہلے ہی لکھ دیا کہ خلیفہ تو بہر حال حضرت مولوی نور الدین صاحب ہی ہوں گے۔ ہم ان کی بیعت کرتے ہیں ۔ "
    (آئینہ صداقت صفحہ81از مفتی محمدصادق صاحب)
    ‏ii۔ " حضرت حاجی غلام احمد صاحب پریذیڈنٹ انجمن احمدیہ کریام نے تو اپنے علاوہ جماعت کریام کی بیعت کا خط بھی روانہ کردیا تھا۔"
    (اصحاب احمدجلد 10 صفحہ94)
    ‏iii۔ " ایک اہل حدیث عالم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کی خبر سن کر گجرات کے بعض احمدیوں سے کہا کہ اب تم لوگ قابو آگئے ہو کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر نبوت کے بعد خلافت ہے اور تم میں خلافت نہیں ہوسکتی۔ تم لوگ انگریزی دان ہواس لئے خلافت کی طرف نہیں آؤ گے ۔ دوسرے دن انتخاب خلافت کا تارملا۔ تو مولوی صاحب نے جواب دیا کہ نور الدین پڑھا لکھا آدمی ہے اس نے جماعت میں خلافت قائم کردی ہے آئندہ اگر خلافت رہی تو دیکھیں گے۔ "
    (تاریخ احمدیت جلد3صفحہ482تا484)





    مبشر رؤیا ،خوابیںاور الٰہی اشارے
    ۱۔ مکرم مستری حسن الدین صاحب کی رؤیا
    ایک دالان کے اندر میں مع بہت سے دوستوں کے لیٹا ہواہوں ۔ درمیان دالان کے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف رکھتے ہیں ۔ نوکر کھانا لایا ۔ میں نے پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کھانا تناول فرما لیا ہے نوکر نے کہاکہ ابھی نہیں ۔میںنے ادب کے لئے کھانا رکھ لیااور پھر دیکھتا کیاہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شکل مولوی نور الدین صاحب کی ہوگئی ہے میں بڑا خوش ہوا اورنیند کھل گئی ۔
    (اخباربدر 18؍فروری1909ء )
    …٭…٭…٭…
    ۲۔ مکرم ناصر شاہ صاحب از جموں کی رؤیا
    میںنے ایک عجیب رؤیاء دیکھا تھا جو گزارش کرتا ہوں خواب میں دیکھا کہ حضور والا کو محکمہ انجینئرنگ کا بھی سپرد کیا گیا ہے اور ایک بڑا عالی شان پل تعمیر ہونا ہے جس کے نقشے وغیرہ حضور کے ہاتھ میںہیں اور اس پل کی بنیادیں کچھ پہلے سے بھی کھدائی کی ہوئی ہیں کسی وجہ سے وہ کام بند تھااب اس پل کاکام دوبارہ حضور والا شروع کرانے کے واسطے موقعہ پر تشریف لائے ہیں اور وہ کام خاکسار نابکار کی زیر نگرانی حضور والا نے ختم کرانے کا حکم دیااور وہ تمام نقشے حضور نے مجھے دئیے اور حسن محمد ٹھیکیدار نے وہ کام شروع کیااور بنیادوں میں روڑی وغیرہ ڈالنا شروع کردی ہے پھر وہاں سے تھوڑے فاصلہ پر ہی حضور والا درس قرآن شریف کے لئے بیٹھ گئے ہیں اور بہت سے احباب درس میں شامل ہیں وہ عمارت بھی بڑی عالی شان ہے اور وہاں پر عجیب روشنی ہے خاکسار یہ نظارہ دیکھ کر دل میں ہی کہتا ہے کہ سبحان اللہ سبحان اللہ باجوداس قدر کام کے آپ نے کبھی درس نہیں چھوڑا بعد درس قرآن شریف کے حضور والا دوسرے کاموں کا ملاحظہ فرماکر واپس تشریف لائے ہیں اور یہ عاجز نہایت ادب کے ساتھ کھڑا تھا حضور میری طرف دیکھ کر مسکرائے ہیں اور ایک پختہ زینہ ہے اس رستہ سے آپ اندر تشریف لے گئے ہیں اس وقت آپ کاچہرہ مبارک حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے چہرہ مبارک کی طرح تھا بلکہ دستار مبارک اور شملہ بھی اسی طرح ایک ہی انداز پر تھا ۔ تومیں کہتا ہوں کہ سبحان اللہ اب تو حضرت صاحب اور مولوی صاحب میں کچھ فرق نہیں ۔ الحمد للہ رب العالمین ۔31؍جنوری 1909ء بوقت 5بجے صبح جب میںنیند سے اٹھا ہوں تو زبان پر یہ شعر جاری تھا۔
    ؎ خدانے فضل سے بھیجا ہے فرزند
    لگا سینے میں پالین خوب دل بند
    (اخبار بدر18؍فروری1909ء )
    …٭…٭…٭…


    ۳۔ خواجہ کمال الدین صاحب کی ایک رؤیا
    قیام خلافت اولیٰ کی نسبت
    "احمدی جماعت میں بہت تھوڑوں کو اس بات کا علم ہے کہ میںنے ہی سب سے اول حضرت قبلہ کو اپنی طرف سے اور اپنے خاص احباب کی طرف سے خلافت کا بار گراں اٹھانے کے لئے عرض کیا ۔ اس کی بناء کوئی مصلحت وقت نہ تھی بلکہ اشارہ ربی جس کی تفصیل حسب ذیل ہے ۔
    حضرت مسیح موعودعلیہ السلام 26؍مئی1908ء کو اس دنیا سے رخصت ہوئے ۔ میںنے شب درمیان 23۔24؍مئی 1908ء کو ایک عجیب رؤیا دیکھا ۔ میں ان واقعات کا ذکر بھی نہ کرتا لیکن چونکہ بعد کے واقعات اور موجودہ واقعات نے اس رؤیا کی صداقت پر مہر لگادی ہے اس لئے میرے نزدیک ہر ایک سلیم الفطرت احمدی کے لئے یہ ایک قطعی شہادت ہے ۔ میںنے دیکھا کہ میں اور میرے ہمراہ شاید اور نویا دس یا گیارہ احباب ہیں جن میں سے ایک مولوی محمد علی صاحب ہیں ہم سب کسی شاہی خاندان میں سے ہیں لیکن جس خاندان کے ہم ممبر ہیں ان کا سرتاج تخت سے الگ ہوچکا ہے ۔ اور نئی سلطنت قائم ہوگئی ہے اور پہلا دور بدل گیا ہے ۔ اور ہم یہ نو دس آدمی اسیران سلطانی ٹھہرائے گئے ہیں۔ ہم سخت تشویش میں ہیں کہ اتنے میں ہمیں اطلا ع ہوئی کہ نئی سلطنت کا سرتاج ہم کو طلب کرتا ہے اور ہمیں ہماری قسمت کا فیصلہ سناتا ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔جب میں کمرہ سلطان کے اندر داخل ہواتو کیا دیکھتا ہوں کہ نیا حاکم خود مولوی نور الدین صاحب ہیں ۔ ـ"
    (تاریخ احمدیت جلد3 صفحہ192جدید ایڈیشن)
    …٭…٭…٭…
    ۴۔ مکرم آغا محمد عبد اللہ خان صاحب فاروقی احمدی ، بھڈانہ تحصیل گوجر خان
    ضلع راولپنڈی کی خواب
    آپ اپنی تصنیف "کوکب دُرّی" مطبوعہ1930ء کے صفحہ5پر اپنا ایک کشف یوں تحریر فرماتے ہیں ۔
    لیکن اب آفتاب ایک پرندہ کی شکل میں متمثل ہو گیا ۔ا س کے چار پر تھے پہلے پر کے اگلے حصہ پر"نور"لکھا ہو اتھا ۔ اور دوسرے کے1/3حصہ پر"محمود "۔ تیسرے پر کے عین وسط میں "ناصر الدین"اور چوتھے پر "اہل بیت"۔ ان چاروں پروں کے زیرایک زرد چادر اور ایک سرخ چادر تھی۔ سرخ چادر زمین پر گر پڑی اور زرد چادرآفتاب میں سما گئی ۔ تخمیناً75لمحوں کے بعد آفتاب منارہ بیضاء کے عین جنوب کی طرف غائب ہوگیا اور پھر سارے کشف میں نظر نہ آیا۔
    …٭…٭…٭…
    ۵۔ مکرمہ صادقہ بیگم اہلیہ الحاج محمدشریف صاحب مرحوم
    اکاؤنٹنٹ جامعہ احمدیہ ربوہ
    ایک دفعہ والدہ برکت بی بی صاحبہ نے خواب میں دیکھا کہ
    حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اپنے گھر میں ٹہل رہے ہیں اور ان کے ہاتھ میں ایک کتاب ہے اور بغل میں سبز رنگ کے کپڑے کا تھان ہے ۔ اتنے میں مولانا نورالدین صاحب تشریف لے آئے تو حضرت اقدس وہ کتاب اور سبز رنگ کے کپڑے کا تھان مولانا نورالدین صاحب کو دے کر وہاں سے تشریف لے گئے ۔ پھر وہیں مولانا نور الدین صاحب ٹہلنے لگ گئے کہ اتنے میں میاں محمود تشریف لے آئے تو مولانا نور الدین صاحب نے وہ کتاب اور سبز رنگ کے کپڑے کا تھان میاں محمود کو دے دیااور چلے گئے۔
    والدہ صاحبہ نے یہ خواب حضرت مصلح موعودکوسنائی تو آپ نے فرمایا کہ یہ خواب چھپوادیں۔
    …٭…٭…٭…








    خلافت ثانیہ بارے الہامات وکشوف
    اور
    مبشر رؤیا، خوابیںاور الٰہی اشارے





    "سوتجھے بشارت ہوکہ ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔اس کو مقدس روح دی جائے گی اور وہ رجس سے پاک ہو اور وہ نور اللہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الٰہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔ نور آتا ہے نور۔۔۔۔۔۔خدا کا سایہ اُس کے سر پر ہوگا۔ـ" (مجموعہ اشتہارات جلد اوّل)


    گزشتہ انبیائ،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور بزرگان سلف
    کی پیشگوئیاں اور الٰہی نوشتے
    بنی نوع انسان کی فلاح وبہبود میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے جو کردار ادا کرنا تھا اس کی اہمیت کااندازہ کچھ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ خداسے علم پاکر دنیا کو آپ کی ولادت کی خبر دینے میں حضرت مرزا صاحب منفرد نہیں بلکہ اس پیدائش کے تذکرے آپ سے قبل بھی دور دور تک تاریخ کے مختلف اوراق میں پھیلے پڑے ہیں۔ سب سے زیادہ قابل فخر اور سب سے اعلیٰ واولیٰ ان پیشگوئیوں میں وہ پیشگوئی ہے جو ہمارے آقا ومولیٰ نبیوں کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارہ میں فرمائی۔
    چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔
    یَنْزِلُ عِیْسَیٰ ابْنُ مَرْیَمَ اِلٰی الْاَرْضِ یَتَزَوَّجُ وَیُوْلَدُلَہٗ ۔
    (مشکوۃ مجتبائی صفحہ480باب بزول عیسیٰ)
    "حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں تشریف لائیں گے اور شادی کریں گے اور ان کو اولاد دی جائے گی ۔ "
    اس حدیث کی تشریح فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں ۔
    "قَدْ أَخْبَرَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّ الْمَسِیْحَ الْمَوْعُوْدَ یَتَزَوَّجُ وَیُوْلَدُلَہٗ فَفِیْ ھَذَا اِشَارَۃٌ اِلٰی اَنَّ اللّٰہَ یُعْطِیْہِ وَلَدًا صَالِحًایُّشَابِہُ اَبَاہُ وَلَا یَابَاہُ وَیَکُوْنُ مِنْ عِبَادِاللّٰہِ الْمُکْرَمِیْن۔"
    (آئینہ کمالات اسلام ازروحانی خزائن جلد5 صفحہ578)
    "آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے خبر پاکر فرمایا کہ مسیح موعودشادی کریں گے اور ان کے ہاں اولاد ہوگی۔ اس میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا نیک بیٹا عطا کرے گا جو نیکی کے لحاظ سے اپنے باپ کے مشابہ ہوگا نہ کہ مخالف، اور وہ اللہ تعالیٰ کے معزز بندوں میں سے ہوگا۔ "
    ایک اور مقام پر اسی پیشگوئی پر بحث کرتے ہوئے آپ ؑتحریر فرماتے ہیں ۔
    "یہ پیشگوئی کہ مسیح موعود کی اولا دہوگی یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خد ااس کی نسل سے ایک شخص کو پیدا کرے گا جو اس کا جانشین ہوگااور دین اسلام کی حمایت کرے گا جیسا کہ میری بعض پیشگوئیوں میں خبر آچکی ہے ۔ "
    (حقیقۃ الوحی ازروحانی خزائن جلد 22صفحہ312)
    ۱۔ گزشتہ انبیاء کی پیشگوئیاںـ
    اس موعود فرزند کے متعلق سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کے علاوہ قدیم روحانی صحیفوں میں بھی خبر دی گئی ہے ۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد ثانی کی پیشگوئی کے تذکرہ میں یہود کی شریعت کی بنیادی کتابـ"طالمود"میں لکھا ہے ۔
    It is said that he(The Messiah) Shall die and his
    kingdom decend to his son and grandson.
    ‏(In proof of this openion ysaih xLII is qouted)
    ترجمہ: "یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ( یعنی مسیح )وفات پاجائے گا اور اس کی سلطنت اس کے بیٹے اور پوتے کو ملے گی۔ اس رائے کے ثبوت میں یسعیاہ باب42آیت4کو پیش کیا جاتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ ماند نہ ہوگا اور ہمت نہ ہارے گا جب تک کہ عدالت کو زمین پر قائم نہ کرے ۔ـ"
    (طالمودازجوزف برکلے باب پنجم مطلوبہ لندن 1878ء )
    یہ پیشگوئی مسیح ناصری کے وجود میں پوری نہیں ہوئی کیونکہ نہ اُن کا کوئی فرزند تھا اور نہ پوتا۔ یسعیاہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیشگوئی مسیح موعود اور اس کے مبشر فرزند اور پوتے کے متعلق ہے ۔ جن کے متعلق زیادہ صراحت خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں ہے۔
    …٭…٭…٭…
    ۲۔ حضرت زرتشتؑ کی پیشگوئی
    حضرت زرتشت علیہ السلام (جو مسیح علیہ السلام سے ایک ہزار سال قبل ایران میں گزرے ہیں) نے بڑی واضح پیشگوئی فرمائی ہے ۔ یہ پیشگوئی زرتشتی مذہب کے صحیفہ دساتیر میں دین زرتشت کے مجدد ساسان اوّل نے تحریر کی ہے ۔ اصل پیشگوئی پہلوی زبان میں ہے جس کو زرتشتی اصحاب نے فارسی زبان میں ڈھالا ہے ۔
    "چوں ہزار سال تازی آئین راگذرد چناں شود آں آئین از جدائی ہاکہ اگر بائیں گر نمانند نداندش ۔۔۔در افتددرہم وکنند خاک پرستی وروز بروز جدائی ودشمنی درآنہا افزوں شود۔۔۔ پس شمایا بیدخوبی راگر ماندیکدم از ہمیں خرج انگیز م از کسان تووکے وآئین وآب توبہ توزسانم وپیغمبری وپیشوائی از فرزندان توبرانگیزم۔"
    (سفرنگ دساتیر صفحہ190ملفوظات حضرت زرتشتؑ مطبوعہ 1280ھ مطبع کراچی، دہلی از سوانح فضل عمر جلد نمبر 1صفحہ66مولّفہ مرزا طاہر احمد خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ) (ترجمہ) پھر شریعت عربی پر ہزار سال گزر جائیں گے تو تفرقوں سے دین ایسا ہوجائے گا کہ اگر خود شارع (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے سامنے پیش کیا جائے تو وہ بھی اسے پہچان نہ سکے گا۔۔۔۔اور ان کے اندر انشقاق اور اختلاف پید اہوجائے گا اور روزبروز اختلاف اور باہمی دشمنی میں بڑھتے چلے جائیں گے ۔۔۔۔جب ایسا ہوگا تو تمہیں خوشخبری ہو اگر زمانہ میں ایک دن بھی باقی رہ جائے تو تیرے لوگوں سے (فارسی الاصل ) ایک شخص کو کھڑا کروں گا جو تیری گمشدہ عزت وآبرو واپس لائے گا اور اسے دوبارہ قائم کرے گا۔ میں پیغمبری وپیشوائی (نبوت وخلافت) تیری نسل سے اُٹھاؤں گا ۔
    پیشگوئی مندرجہ بالا کے آخری فقرہ کہ پیغمبری وپیشوائی از فرزندان تو برانگیزم میں یہ اشارہ ہے کہ آخری زمانہ کا موعود جب آئے گا تو اس کی اولاد میں سے کوئی اس کا جانشین ہوگا۔
    …٭…٭…٭…
    ۳۔ حضرت شاہ نعمت اللہ صاحب ولی کی پیشگوئی
    حضرت شاہ نعمت اللہ صاحب ولی نے بھی اس آخری زمانے کے مامور کے بارہ میں پیشگوئی فرمائی ہے ۔ آپ اُمت مسلمہ کے مشہور صاحب کشف والہام بزرگ تھے۔ آپ نے آخری زمانہ میں مسیح کی آمد ثانی کی پیشگوئی منظوم کلام میں فرمائی ۔ آپ فرماتے ہیں ۔
    قدرت کرد گار ہے بینم
    حالت روزگار مے بینم
    از نجوم این سخن نمی گوئیم
    بلکہ از کردگار مے بینم
    غین۱۲۰۰ ورے سال چوں گذشت ازسال
    بوالعجب کاروبار مے بینم
    گردر آئینہ ضمیرِ جہاں
    گردوزنگ وغبار مے بینم
    ظلمت ظلم ظالمانِ دیار
    بے حدّو بے شمار مے بینم
    جنگ و آشوب و فتنہ وبے داد
    درمیان وکنار مے بینم
    بندہ را خواجہ وش ہمے یابم
    خواجہ رابندہ وارمے بینم
    سکۂ نو زنند بر رُخِ زر
    درہمش کم عیار مے بینم
    بعضے اشجار بوستان جہاں
    بے بہار وثمار مے بینم
    غم مخور زانکہ من دریں تشویش
    خرمی وصل یار مے بینم
    چوں زمستان بے چمن بگذشت
    شمس خوش بہار مے بینم
    ان اشعار میں حضرت مسیح موعود اور مہدی مسعود کے ظہور سے قبل کے انقلابات کا نقشہ کھینچا گیا ہے ۔ پھر مسیح موعود کے زمانہ اور نام کی تعیین کی گئی ہے ۔
    اح م دال مے خوانم نام آں نامدار مے بینم
    احمد
    پھر فرماتے ہیں ۔
    دور اوچوں شود تمام بکام
    پسرش یادگار مے بینم
    یعنی جب اس کا زمانہ کامیابی کے ساتھ گزر جائے گا تو اس کے نمود پر اس کا بیٹا یاد گار رہ جائے گا۔
    (الاربعین فی احوال المھدیین ۔ از حضرت شاہ اسماعیل شہید ؒ ۔
    مطبوعہ نومبر1851ء مصری گنج کلکتہ)
    حضرت مصلح موعود ان پیشگوئیوں کا اپنے وجود میں پورا ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔
    "میرے متعلق پیشگوئیاں موجود ہیں کہ جب مسیح نازل ہوگا تو اس کا بیٹا اس کا خلیفہ ہوگا۔ پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی میرے متعلق موجو دہے ۔ آپ نے مسیح موعود کے متعلق فرمایا ہے کہ "یتزوج ویولدلہ"حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے اس کی تشریح فرمائی ہے کہ مسیح موعود کی اولاد بھی موعود ہوگی۔ اس کی بیوی خد اتعالیٰ کی پیشگوئی کو پورا کرنے والی ہوگی۔ اور اس کی اولاد پیشگوئی کی مصداق ہوگی۔ پھر دوسری پیشگوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجال من اھل فارس (بخاری کتاب التفسیر تفسیر سورۃ الجمعۃ) فرمائی ہے کہ اہل فارس میں سے کچھ رجال ہوں گے جو دین کو آخری زمانہ میں مستحکم کریں گے۔ مسیح موعود رجل تھے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے رجال کہہ کر آپ کی اولاد کو بھی ا س پیشگوئی میں شامل کیا ہے۔ اس سے اتر کر دیکھو تو نعمت اللہ صاحب ولی کی پیشگوئی موجود ہے ۔ اور حضرت مسیح موعود نے اس کا ذکر کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ پسرش یادگار مے بینم ۔ صرف خلافت کا اس میں ذکر نہیں ہے ۔ حضرت مسیح موعود اور میرے درمیان خلافت تو ایک اور بھی ہوئی ہے ۔ جو بہت بڑی خلافت تھی مگر نعمت اللہ صاحب ولی نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ وہ زمانہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کو پھیلایا جائے گا وہ میرا زمانہ ہے اور میرے زمانہ میں خداتعالیٰ کی خاص برکات نازل ہوں گی ۔ اس لئے اس کی نسبت پیشگوئی کی گئی ہے پھر حضرت مسیح موعود کے الہامات دیکھو۔ ایک نہیں دو نہیں بہت سے ہیں۔ اور پھر آپ کی تحریروں سے بھی اس خلافت کا پتہ ملتا ہے ۔ پھر میرے متعلق حضرت خلیفہ اول کی شہادت موجود ہے پھر ایک دو نہیں دس بیس نہیں۔ کم از کم ہزار کے قریب ایسے لوگ ہیں۔جن میں احمدی اور غیر احمدی ہندو عیسائی شامل ہیں۔ کہ ان کو رؤیا کے ذریعہ یا تو پہلے یا میری خلافت کے دوران میں اس خلافت کا پتہ معلوم ہوا۔ ان میں سے ابھی تک بعض ایسے ہیں جو جماعت میں شامل نہیں ہوئے ۔ ان سے شہادت لی جاسکتی ہے جیسے ماسٹر فقیر اللہ صاحب غیر مبائع ہیں ۔ انہوںنے دیکھا کہ میں خلیفہ ہوگیاہوں ۔۔۔۔۔۔۔اسی طرح اور کئی لوگ بیعت کرتے رہتے ہیں جنہیں رؤیاء اور کشوف ہوئے مگر یہ تمام نشان ایک ایسے انسان کے لئے ہیں جس کی ضد اور عداوت سے عقل نہ ماری گئی ہو۔ وہ دیکھ سکتا ہے کہ میں خد اتعالیٰ کی طرف سے مقرر کیا گیا ہوں ۔اب جو میرا مقابلہ کرے گا وہ خد اکا مقابلہ کرے گا۔ افسوس ان لوگوں پر جوان نشانات سے فائدہ نہ اٹھائیں ۔ "
    (خطبات جمعہ از مصلح موعود جلد11صفحہ223-24)
    …٭…٭…٭…



    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں اور الٰہی اشارے
    ۱۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
    "خد انے مجھے خبر دی ہے کہ میں تیری جماعت کے لئے تیری ہی ذّریت سے ایک شخص کو قائم کروں گا اور اُس کو اپنے قرب اور وحی سے مخصوص کروں گااور اس کے ذریعہ سے حق ترقی کرے گا اور بہت سے لوگ سچائی کو قبول کریں گے۔ـ"
    (الوصیت ازروحانی خزائن جلد6 صفحہ306حاشیہ)
    ۲۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بشارت دی کہ
    "میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں اُسی کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا۔ سو میں نے تیری تضرعات کو سنا اور تیری دعاؤں کو اپنی رحمت سے بہ پایۂ قبولیت جگہ دی اور تیرے سفر کو (جوہوشیار پور اور لدھیانہ کا سفر ہے ) تیرے لئے مبارک کردیا ۔ سو قدرت اور رحمت اور قربت کانشان تجھے دیا جاتا ہے ۔ فضل اور احسان کا نشان تجھے عطا ہوتا ہے اور فتح وظفر کی کلید تجھے ملتی ہے ۔ اے مظفر تجھ پرسلام ! خدا نے یہ کہا تاوہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کے پنجے سے نجات پاویں اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آویں ۔ اور تادین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو اور تاحق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آجائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے اور تالوگ سمجھیں کہ میں قادر ہوں جو چاہتا ہوں سو کرتا ہوں اور تاوہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور تاانہیں جو خد اکے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خد ااور خد اکے دین اور اس کی کتاب اور پاک رسول محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کوانکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ایک کھلی نشانی ملے، اور مجرموں کی راہ ظاہر ہوجائے ۔ سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ ایک زکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا ۔ وہ لڑکا تمہارا مہمان آتاہے ۔ اس کانام عنموائیل اور بشیر بھی ہے ۔ اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ رجس سے پاک ہے اور وہ نور اللہ ہے ۔ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔ اس کے ساتھ فضل ہے جو ا س کے آنے کے ساتھ آئے گا وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔ وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔وہ کلمۃ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت وغیوری نے اسے کلمۂ تمجید سے بھیجا ہے ۔ وہ سخت ذہین وفہیم ہوگا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری وباطنی سے پُر کیا جائے گا۔اور وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔(اس کے معنے سمجھ میں نہیں آئے ) دو شنبہ ہے مبارک دو شنبہ ۔ فرزند دلبند گرامی ارجمند ۔ مظہر الاول والآخر ، مظہر الحق والعلاء کانّ اللہ نزل من السمآ۔ جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الٰہی کے ظہور کا موجب ہوگا ۔ نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خد اکا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔ و ہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اُٹھایا جائے گا۔ وَکَانَ اَمْرً امَّقْضِیًّا۔"
    (اشتہار 20؍فروری1886ء ازمجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ100تا102)
    ۳۔ "میرا پہلا لڑکا جو زندہ موجود ہے جس کا نام محمود ہے ابھی وہ پیدا نہیں ہو اتھا جو مجھے کشفی طور پر اس کے پید اہونے کی خبر دی گئی اور میںنے مسجد کی دیوار پر ا س کانام لکھا ہوا یہ پایا کہ "محمود"۔ تب میںنے اس پیشگوئی کے شائع کرنے کے لئے سبز رنگ کے ورقوں پر ایک اشتہار چھاپا۔ جس کی تاریخ اشاعت یکم دسمبر1888ء ہے ۔"
    (تریاق القلوب ازروحانی خزائن جلد15صفحہ214)
    ۴۔ "ان چاروں لڑکوں کے پید اہونے کی نسبت پیشگوئی کی تاریخ اور پھر پیدا ہونے کے وقت پیدائش کی تاریخ یہ ہے کہ محمود جو میرا بڑا بیٹا ہے ۔ اس کے پید اہونے کے بارے میں اشتہار دہم جولائی1888ء اور نیز اشتہار یکم دسمبر1888ء میں جو سبز رنگ کے کاغذ پر چھاپا گیا تھا ۔ پیشگوئی کی گئی اور سبز رنگ کے اشتہار میں یہ بھی لکھا گیا کہ اس پید اہونے والے لڑکے کانام محمود رکھا جائے گا۔۔۔۔۔تب خد اتعالیٰ کے فضل اور رحم سے12؍جنوری1889ء کے مطابق9؍جمادی الاول 1306ھ میں بروز شنبہ محمود پیدا ہوا،اور ا س کے پیدا ہونے کی میں نے اس اشتہار میں خبر دی ہے جس کے عنوان پر تکمیل تبلیغ موٹی قلم سے لکھا ہوا ہے جس میں بیعت کی دس شرائط مندرج ہیں۔ اور اس کے صفحہ4میں یہ الہام پسر موعود کی نسبت ہے ۔ "
    اے فخر رسل قرب تو معلومم شد
    دیر آمدہ زراہ دور آمدۂ
    (تریاق القلوب ازروحانی خزائن جلد15صفحہ219)
    ۵۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں۔
    "مجھے ایک خواب میں اس مصلح موعود کی نسبت زبان پر یہ شعرجاری ہوا تھا۔
    اے فخر رسل قرب تو معلوم شد دیر آمدئہ زراہ دُور آمدئہ
    ترجمہ: اے رسولوں کے فخر تیرا خد اکے نزدیک مقام قرب مجھے معلوم ہوگیا ہے تو دیر سے آیا ہے (اور) دور کے راستہ سے آیا ہے۔"
    (مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ191-192)
    ۶۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہٗ نے خطبہ جمعہ میں فرمایا:
    "حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کا ایک الہام ہے جو پہلے کبھی شائع نہیں ہوا کہ
    "حق اولاددر اولاد"
    یعنی اولاد کا حق اس کے اندر موجود ہے ۔ یہ ضروری نہیں کہ اس جگہ اولاد سے مراد صرف جسمانی اولاد مراد ہوبلکہ ہر احمدی جس نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو قبول کیا وہ آپؑ کی روحانی اولاد میں شامل ہے۔ " (الفضل لاہور 26؍نومبر1947ء )
    ۷۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہٗ نے فرمایا:
    "میں توچھوٹا تھا۔ مولوی شیر علی صاحب نے مجلس (یعنی حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی مجلس سے ) سے آکر سنایا تھا کہ ۔۔۔۔۔محمود ایک تیز روشنی والا لیمپ لے کر سڑک پرکھڑا ہے اور سڑک پر اس کی تیز روشنی پڑ رہی ہے۔" (مکتوب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی )
    ۸۔ فرمایا:
    "کیا تمہیں مسیح موعودعلیہ السلام کی پیشگوئیوں پر اعتبار نہیں ۔ اگر نہیں تو تم احمدی کس بات کے ہو۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے سبز اشتہار میں ایک بیٹے کی پیشگوئی کی تھی کہ اس کا ایک نام محمود ہوگا ۔ دوسرانام فضل عمر ہوگا۔ اور تریاق القلوب میں آپ نے اس پیشگوئی کو مجھ پر چسپاں بھی کیا ہے پس مجھے بتاؤ کہ عمرؓ کون تھا ؟اگر تمہیں علم نہیں تو سنو وہ دوسر اخلیفہ تھا۔ پس میری پیدائش سے پہلے خد اتعالیٰ نے یہ مقدر کر چھوڑا تھا کہ میرے سپرد وہ کام کیا جائے جو حضرت عمر ؓ کے سپرد ہوا تھا۔ پس اگر مرزا غلام احمد خدا کی طرف سے تھا تو تمہیں اس شخص کے ماننے میں کیا عذ ر ہے جس کا نام اس کی پیدائش سے پہلے عمر رکھا گیا اور میں تمہیں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ حضرت خلیفۃ المسیح کی زندگی میں ا س پیشگوئی کا مجھے کچھ بھی علم نہ تھا بلکہ بعد میں ہوا۔"
    (پمفلٹ کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے ۔ انور العلوم جلد2صفحہ16-17)
    ۹۔ پھر آپ نے مشاورت 1936میں فرمایا :
    "(میں)اس لئے خلیفہ ہوں کہ حضرت خلیفہ اوّل (اللہ آپ سے راضی ہو) کی خلافت سے بھی پہلے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے خداتعالیٰ کے الہام سے فرمایا تھا کہ میں خلیفہ ہوں۔ پس میں خلیفہ نہیں بلکہ موعود خلیفہ ہوں۔" (رپورٹ مجلس مشاورت 1936ء صفحہ17)
    ۱۰۔ حضرت صاحبزادہ پیرسراج الحق صاحب نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے فرمایا :
    "ایک گھنٹہ ہوا ہوگا ہم نے دیکھا کہ والدہ محمود قرآن شریف آگے رکھے ہوئے پڑھتی ہیں ۔ جب یہ آیت پڑھی۔
    وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّھَدَآئِ وَالصَّالِحِیْنَ وَحَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًاo (النساء :70)
    ترجمہ: اور جو بھی اللہ کی اور اس رسول کی اطاعت کرے تو یہی وہ لوگ ہیں جو اُن لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن اللہ نے انعام کیا ہے یعنی نبیوں میں سے ، صدیقوں میں سے ، شہیدوں میں سے اور صالحین میں سے اور یہ بہت ہی اچھے ساتھی ہیں۔
    جب اُولٰٓئِکَ پڑھا تو محمود سامنے آکھڑا ہوا۔ پھر دوبارہ اُولٰٓئِکَ پڑھا تو بشیر آکھڑا ہوا۔ پھر شریف آگیا ۔ پھر فرمایا جو پہلے ہے وہ پہلے ہے۔"
    (تذکرۃالمہدی مصنفہ پیر سراج الحق حصہ 2 جدید ایڈیشن صفحہ274)
    ا۱۔ ایک روایت ۔ ایک امانت :
    حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ تحریر فرماتی ہیں۔
    "احتیاط کا پہلو مد نظر رکھنا سمجھیں یا میری کمزوری بوجہ حالات جانیں بہر حال یہ روایت جو میں تحریر کر رہی ہوں کبھی اب آکر ایک آدھ بار کسی عزیز کو سنانے کے علاوہ میری زبان پر نہیںآسکی ۔ چند سال ہوئے ایک کاپی میں نوٹ کرلی تھی کہ زندگی کا اعتبار نہیں میرے ساتھ ہی نہ رخصت ہوجائے ۔ اوّل ایام حضرت مسیح موعود کی حیات میں اور پھر حضرت خلیفہ اول کی حیات میں تو زبان سے یہ بات نکل ہی نہ سکتی تھی۔ دل ہی گوارا نہ کرسکتا تھا ۔ پھر حالات بگڑے جو سب پر روشن ہیں کہ یونہی الزام لگتے تھے ۔ حضرت اماں جان پر اور خود حضرت سیدنا خلیفۃ المسیح ثانی پر کہ خلافت کے خواہاں ہیں ۔ غرض کیا کیا اتہام نہیں تراشے گئے کیسی کیسی بدگمانیوں کے نتیجہ میں زبان وقلم کے تیر ا س قطعی بے گناہ وجو دپر نہیں چلائے گئے ۔ انہی وجوہ سے میں نہ تو لکھ سکی یہ بات اور نہ ہی زبان پر لاسکی ۔ اب ایسی عمر ہے کی کسی وقت کا پتہ نہیں کہ کب بلاواآجائے تو آج خلافت ثانیہ کے50سال کے بعد یہ امانت آپ کے سامنے حاضر کرتی ہوں ۔
    جب انجمن کا قیام ہورہا تھا ان دنوں کاذکر ہے کہ باہر کوئی میٹنگ انجمن کے ارکان کے انتخاب کی یامقرر شدہ لوگوں کی قوانین وغیرہ کے متعلق ہورہی تھی۔ کیونکہ انجمن بن رہی تھی یا بن چکی تھی یہ مجھے علم نہیں نہ ٹھیک یاد ہے حضرت سیدنا بڑے بھائی صاحب باہر سے آکر آپ کو رپورٹ کرتے اور باتیں بتا کر جاتے تھے ۔ آپ حضرت اماں جان والے صحن میں ٹہل رہے تھے جب حضرت سیدنا بھائی صاحب آخری بار کچھ باتیں کر کے باہر چلے گئے تو آپ دارالبرکات کے صحن کی جانب آئے اور وہاں سے حجرہ میں جانے کے دروازہ کی جانب اترنے والی سیڑھی کے پاس آکر کھڑے ہوگئے حضرت اماں جان پہلے سے وہاں کھڑی تھیں۔ میں حضرت مسیح موعود کے پیچھے ساتھ ساتھ چلی آئی تھی اور پیچھے کھڑی ہوگئی۔ آپ کی پیٹھ کی جانب بالکل قریب اس وقت آپ نے جیسے سیدھے کھڑے تھے ۔ اسی طرح بغیر گردن موڑے کلام کیا۔ مگر بظاہر حضرت اماں جان سے ہی مخاطب معلوم ہوتے تھے فرمایا
    "کبھی تو ہمارا دل چاہتا ہے کہ محمود کی خلافت کی بابت ان لوگوں کو بتادیں، پھر میں سوچتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء اپنے وقت پر خو دہی ظاہر ہوجائے گا۔ "
    اسی ترتیب سے پہلے فقرہ میں" ہمارا" کہا دوسرے میں "میں"فرمایااور غیر محسوس سے وقفہ سے یہ دوسر افقرہ اد افرمایا۔ مجھے قسم ہے اپنے مالک وخالق ازلی وابدی خدا کی جس کے حضور میں نے بھی اور سب نے حاضر ہونا ہے اور وہی میرا شاہد ہے میرا حاضر وناظر خدا جس کے پاس اب میرے جانے کا وقت قریب ہے کہ یہ سچ اور بالکل حق ہے کہ ان الفاظ میں ذرا فرق نہیں۔ مجھے ایک ایک لفظ ٹھیک یاد رہا اور ایسا کچھ خداتعالیٰ کے تصرف سے میرے دماغ پر نقش ہوا،اور دل پر لکھا گیا کہ میں بھول نہیں سکی ۔ اس وقت بھی وہاں آپ کا کھڑا ہونا پیش نظر ہے آپ کی آواز اسی طرح کانوں میں آرہی ہے ۔ اس طرح گویا میری چشم تصور آپ کو دیکھ رہی ہے جیسے آج کی بلکہ ابھی کی بات ہو۔
    پہلے یہ بھی میرا خیال رہتا تھا کہ آپ کے ساتھ پیچھے پیچھے جو چلی آئی تو شاید آپ کو علم نہ ہوکہ میں سن رہی ہوں مگر ممکن ہے اور بہت ممکن ہے کہ آپ نے میری آہٹ پالی ہو۔ میری چاپ پہچان لی ہو۔ کیونکہ اکثر آپ کے ساتھ ساتھ چل پڑا کرتی تھی۔ اور یوں بھی میں قریباً آپ کی پشت مبارک کے ساتھ ہی تو لگی کھڑی تھی آپ کی آواز یہ الفاظ یہ دونوں مندرجہ بالا فقرے بولتے ہوئے سرسری سی نہ تھی بلکہ بڑے ٹھہراؤ سے بڑے وقار وسنجیدگی سے آپ نے یہ بات کی ۔ اور خصوصاً دوسرا فقرہ جب آپ نے بولا تو معلوم ہوتا تھا بہت دور کہیں دیکھ کر ایک عجیب سے رنگ میں یہ الفاظ آپ کے منہ سے نکل رہے ہیں اس طرح آپ نے یہ فقرے اد اکئے جیسے اپنے آپ سے کوئی بات کر رہاہومگر ویسے میں یہی سمجھ رہی تھی کہ حضرت اماں جان سے آپ مخاطب ہیں۔
    اس بات کی بناء پر مجھے ہمیشہ یقین رہااور ہے کہ خلافت محمود کے متعلق آپ کو خد اتعالیٰ کی طرف سے علم ہوچکا تھا ۔ " (الفضل19؍مارچ1964ء )

    ۱۲۔ روایت حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی
    آپ فرماتے ہیں ۔
    "ایک دفعہ ہم ٹانگہ میں بیٹھ کر قادیان جارہے تھے ۔ نہر پر جب ہم کچھ دیر سستانے کے لئے ٹھہرے ۔ تو ایک سکھ نے جو قادیان سے آرہا تھا بیان کیا کہ آج مرز اصاحب (حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ) جب سیر سے آتے ہوئے تالاب کے پاس سے گزرے تو میاں محمود (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی) کو تالاب (ڈھاب) کے پاس کھیلتے ہوئے دیکھ کر آواز دی ۔ میاں صاحب دوڑتے ہوئے حاضر ہوئے ۔ جب آپ کے پاس پہنچے تو آپ نے فرمایا! میاں صاحب اگر تم وہی محمود ہو جس کی خد اتعالیٰ نے مجھے بشارت دی ہے تو جاؤ کھیلو ،خد اتعالیٰ تمہیں خود پڑھائے گا۔
    (الفضل یکم اپریل1938ء )
    حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے اسی بشارت کا اظہار اشعار میں یوں فرمایا ہے ۔
    لخت جگر ہے میرا محمود بندہ تیرا
    دے اس کو عمر ودولت کر دور ہر اندھیرا
    دن ہوں مرادوں والے پر نور ہو سویرا
    یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی
    اے میرے جاں کے جانی اے شاہ دوجہانی
    کر ایسی مہربانی ان کا نہ ہووے ثانی
    دے بخت جاودانی ا ور فیض آسمانی
    یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی
    سن میرے پیارے باری میری دعائیں ساری
    رحمت سے ان کو رکھنا میں تیرے منہ کے واری

    بشارت دی کہ اک بیٹا ہے تیرا
    جو ہوگا ایک دن محبوب میرا
    کروں گا دور اس مَہ سے اندھیرا
    دکھاؤں گا کہ اک عالم کو پھیرا
    بشارت کیا ہے اک دل کی غذا دی
    فسبحان الذی اخزی الاعادی
    (درثمین اردو)
    ۱۳۔ حضرت سیٹھ اسماعیل آدم صاحب آف بمبئی کی شہادت
    1902ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی جب پہلی شادی حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم کے ہاں قرار پائی تو حضرت سیٹھ اسماعیل آدم صاحب آف بمبئی نے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نہایت مخلص خادم ہیں ۔ ایک مخملی ٹوپی پر سلمہ ستارہ سے الہام"مَظْھَرُ الْحَقَّ وَالْعَلَاء کَاَنَّ اللّٰہَ نَزَلَ مِنَ السَّمَائِ"کڑھوا کر حضور کی خدمت میں ارسال کی اور درخواست کی کہ شادی کے وقت یہ ٹوپی دولہا کو پہنائی جائے اسی طرح آپ نے ایک اوڑھنی دلہن کے لئے بھجوائی ۔
    حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں جب سیٹھ صاحب کی طرف سے یہ ہدیہ پہنچا۔ تو آپ نے اپنی خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے دست مبارک سے جناب سیٹھ صاحب کو ایک خط لکھا جس میں حضور نے شکریہ ادا کیااور دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو دین اوردُنیا میں اس کا اجر بخشے ۔
    اس واقعہ کا ذکر حضرت سیٹھ صاحب کی زبان سے شیخ اعجازاحمد صاحب سب جج دہلی نے اپنے قیام بمبئی کے دوران میں سنا اور انہوںنے اس روایت کا ذکر دہلی میں ایک تقریر کرتے ہوئے احباب جماعت کے سامنے کیا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد سیدغلام حسین صاحب لائیو سٹاک آفیسر ریاست بھوپال نے شیخ صاحب کو لکھا کہ وہ روایت جو آپ نے دہلی میں ایک موقعہ پر بیان کی تھی قلم بند کر کے بھجوادیں ۔ شیخ صاحب نے ازراہ احتیاط حضرت سیٹھ صاحب کو خط لکھا۔اور درخواست کی کہ اس روایت کے متعلق اپنی شہادت لکھ کر ارسال فرمائیں۔ اس کے جواب میں سیٹھ صاحب نے مفصل خط لکھا۔ جو شیخ صاحب نے معہ اپنے خط کے سید غلام حسین صاحب کو بھجوادیا۔ اور سید صاحب نے معہ اپنے عریضہ کے ہر دو خطوط حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خدمت میں ارسال کردئیے ۔
    ان خطوط میں سیٹھ صاحب کی جس روایت کا ذکر ہے وہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خلافت کی حقانیت پر ایک زبردست شہادت ہے کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رفقا ء مسیح موعود حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے عہد حیات میں ہی حضور کو الہام الٰہی مظھر الحق والعلاء کان اللہ نزل من السماء کا مصداق یقین کرتے تھے اور حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام بھی اس الہام کا مصداق آپ کو ہی سمجھتے تھے اور چونکہ یہ الہام مصلح موعود کے متعلق ہے اس لئے اس سے یہ امر بھی ثابت ہوگیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام آپ کو ہی مصلح موعود یقین کرتے تھے۔
    ( الفضل قادیان 30؍نومبر1938ئ)




    سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی حیرت انگیز پیشگوئیاں
    ۱۔ خداتعالیٰ عظیم الشان کام لے گا:
    مکرم ملک غلام فرید صاحب بیان کرتے ہیں کہ
    "ایک دفعہ مولوی عبد الحی صاحب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے پاس بیٹھے تھے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نے مولوی عبد الحی صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔
    "بچے تم مجھے پیارے ہو بہت پیارے بہت پیارے مگر محمود ہمیں تم سے بھی بہت زیادہ پیارا ہے ۔"یہ واقعہ درس کے و قت کا ہے۔
    ایک دفعہ حضرت خلیفۃ المسیح اوّل کے پاس حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی کوئی شکایت کی گئی ۔ والدہ صاحبہ کہتی ہیں کہ حضرت خلیفۃ اوّل نے فرمایا کہ محمود کی کوئی کتنی شکایتیں ہمارے پاس کرے ۔ ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہمیں تو اس میں وہ چیز نظر آتی ہے جوان کو نظر نہیں آتی۔ یہ لڑکا بہت بڑا بنے گااور اس سے خد اتعالیٰ عظیم الشان کام لے گا۔ "
    (الفضل02؍ستمبر1956ء )
    ۲۔ لمبی عمر خلافت کرے گا:
    حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نے خطبہ جمعہ 14؍جنوری1910ء میں فرمایا:
    "ایک نکتہ قابل یاد سنائے دیتا ہوں کہ جس کے اظہار سے میں باوجود کوشش کے رک نہیں سکا۔ وہ یہ کہ میں نے حضرت خواجہ سلیمان رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا ۔ ان کو قرآن شریف سے بڑا تعلق تھا۔ ان کے ساتھ مجھے بہت محبت ہے ۔ اٹھتر(78) برس تک انہوں نے خلافت کی ۔ بائیس برس کی عمر میں وہ خلیفہ ہوئے تھے ۔ یہ بات یاد رکھو کہ میں نے کسی خاص مصلحت اور خالص بھلائی کے لئے کہی ہے ۔ (خطبات نورصفحہ453)
    اس ضمن میں ماسٹر برکت علی صاحب مسجدروڈ جڑانوالہ ضلع فیصل آبادکا درج ذیل خط ملاحظہ ہو جو آپ نے اپنے مطاع حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو لکھا ۔
    "خاکسار بمعہ اپنے خاندان کے جملہ ممبران کے اپنی اطاعت اور عقیدت اور خلافت حقہ کے ساتھ دائمی وابستگی کے متعلق25؍جولائی کو خدمت اقدس میں عرض کرچکا ہے ۔ ان لوگوں پر آج کل کے چھوکروں کے پراپیگنڈے کا کیا اثر ہوسکتا ہے ۔ جو آپ کی خلافت اور آپ کی ذات پر صفات پر تخت خلافت پر متمکن ہونے سے پہلے ہی حسن عقیدت رکھتے تھے ۔ چنانچہ1909ء کے اواخر میں جبکہ حضرت میر محمد اسماعیل صاحب امرتسر سول ہسپتال کے انچارج تھے ۔ لدھیانہ خبر پہنچی کہ حضرت میاں صاحب (حضور ) امرتسر تشریف لائے ہوئے ہیں ۔ اس خبر فرحت اثر کے ملتے ہی میں اور ماسٹر قادر بخش صاحب مرحوم امرتسر محض زیارت اور نیاز حاصل کرنے کی غرض سے حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ۔ ذاتی عقیدت کے علاوہ حضرت خلیفہ اوّل کی زبان معرفت ترجمان سے ایک کام کی بابت خاکسار سن چکا تھا۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ1911ء کے جلسہ سالانہ پرخاکسار قادیان گیا تھا اس جلسہ پر حضور نے "اتقا"پر پُر معارف تقریر فرمائی تھی یہ وہی جلسہ تھا جس میں مولوی صدر الدین صاحب نے اپنی تقریر کے دوران حضرت خلیفہ اوّل کی طرف اشارہ کرکے (جو محراب میں تشریف فرما تھے) یہ تاریخی فقرہ استعمال فرمایا تھا کہ تم لوگ ساڑھے تیرہ سوسال پیچھے کیوں جاتے ہو وہ دیکھو تمہارے سامنے زندہ ابو بکر بیٹھا ہے ۔ حضرت خلیفہ اول نے جلسہ کے تینوں روز"وَاعْتَصِمُوْ ابِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا"کے موضوع پر تقریر فرمائی تھی۔ درمیانے دن اکابرین لاہور میں سے ایک فرد کا نام لے کر آپ نے فرمایا "کون ہوتے ہیں یہ لوگ مجھے خلیفہ بنانے والے۔ کون ہوتی ہے انجمن مجھے خلیفہ بنانے والی مجھے خد انے خلیفہ بنایا ہے ۔ جس طرح داؤد علیہ السلام کو خدا نے خلیفہ بنایا تھا ۔ اس ضمن میں ایک بات یاد آگئی ہے ۔ حضرت شاہ سلیمان کو قرآن مجید سے بڑا شغف تھا ۔ وہ بائیس سال کی عمر میں خلیفہ ہوئے اور78سال تک خلافت کی ۔ـ"
    پھر فرمایا:
    "اس بات کو نوٹ کر لو تمہارے کام آئے گی"حضرت خلیفہ اوّل مسجد اقصیٰ کے صحن میں کرسی پر بیٹھ کر تقریر فرما رہے تھے کہ دو چھوٹے صاحبزادے ان کے کندھوں پر چڑھ گئے ۔ ایک دوست نے آہستگی سے انہیں کندھوں سے اتار کر ایک طرف بٹھانا چاہا ۔ حضرت نے فرمایا ـ
    "ہم اپنا کام کئے جاتے ہیں ان کو اپناکام کرنے دو۔"
    حضرت خلیفہ اوّل کے ان الفاظ میں کہ ان کو اپنا کام کرنے دو خاص معانی پنہاں معلوم ہوتے ہیں جو وقت آنے پر کھل گئے ۔ "
    (الفضل29؍ستمبر1956ء )
    ۳۔ مسند احمد کی تصحیح کا کام میاں کے وقت میںہوگا:
    حضرت خلیفہ اوّل نے خلافت کے مخالف خیالات کے ابطال کے لئے سعی بلیغ فرمائی جلسہ سالانہ1913ء کے ذکر کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رقم فرماتے ہیں ۔
    "جلسہ سالانہ کے چند ہی دن کے بعد۔۔۔۔۔مسند احمد کا سبق تھا آپ نے پڑھاتے پڑھاتے فرمایا ۔ کہ مسند احمد حدیث کی نہایت معتبر کتاب ہے ۔ بخاری کا درجہ رکھتی ہے مگر افسوس ہے کہ اس میں بعض غیر معتبر روایات امام احمد حنبل ؒ صاحب کے ایک شاگرد اور ان کے بیٹے کی طرف سے شامل ہوگئی ہیں جو اس پایہ کی نہیں ہیں۔ میرا دل چاہتا تھا اصل کتاب کو علیحدہ کر لیا جاتا مگر افسوس کہ یہ کام میرے وقت میں نہیں ہوسکا۔ اب شاید میاں کے وقت میں ہوجائے اتنے میں مولوی سید سرور شاہ صاحب آگئے اور آپ نے ان کے سامنے یہ بات دہرائی اور کہا کہ ہمارے وقت میں تو یہ کام نہیں ہوسکا ۔ آپ میاں کے وقت میں اس کام کو پورا کردیں ۔ یہ بات وفات سے دو ماہ پہلے فرمائی۔ـ "
    (آئینہ صداقت صفحہ170)
    نیز حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہٗ تحریر فرماتے ہیں ۔
    "حضرت خلیفہ اوّل نے میری نسبت لکھا ہے کہ میں اُسے مصلح موعود سمجھتا ہوں اور پھر ۔۔۔۔ آپ نے ایک بھری مجلس میں فرمایا کہ مسند احمد حنبل کی تصحیح کاکام ہم سے تو ہو نہ سکا میاں صاحب کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ چاہے تو ہوسکے گا اور یہ جنوری1914ء کی بات ہے ۔ آخری بیماری سے ایک دودن پہلے کی ۔" (القول الفصل صفحہ56)
    حضرت مولوی شیر علی صاحب تصدیق کرتے ہیں کہ میں نے مسند والا واقعہ حضرت مولوی سرور شاہ صاحب سے سنا تھا ۔
    (الفضل یکم اپریل1914ء )
    نیز آپ نے یہ واقعہ بہ تصدیق مولوی محمد سرور شاہ صاحب آپ کی زندگی میں الفضل میں شائع کردیا تھا جو درج ذیل ہے ۔
    "حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے متعلق ایک روایت چوہدری بدر الدین صاحب مرحوم سکنہ راہوں سے بوساطت ان کے بیٹے چوہدری جمال الدین احمد صاحب ملی ہے اور اس کی تحریری تصدیق حضرت مولوی سرور شاہ صاحب نے کی ہے جو کہ میرے پاس موجو دہے ۔
    حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کے الفاظ یہ ہیں ۔
    "حضرت خلیفۃ المسیح الاول اپنی مرض الموت کی ابتداء میں اپنے مکان میں ہی مطب فرماتے ۔ بیٹھتے اور درس دیتے ۔ ایک دن میں حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کچھ بات کر رہے تھے۔ اور سب دوست توجہ سے سن رہے تھے ۔ تو میں بغیر بلند آواز سلام کرنے کے دبے پاؤں آگے بڑھا۔ لیکن حضرت مولوی صاحب نے مجھے دیکھ لیا۔ تو آپ نے میری طرف رخ کر کے السلام علیکم فرمایااور فرمایا کہ میں یہ بات کر رہا تھا کہ مسند احمد بڑی اعلیٰ پایہ کی کتاب ہے مگر آپ کے دوشاگردوں کی وجہ سے اس میں بعض غیر معتبر روایات شامل ہوگئی ہیں۔ میرا ارادہ تھا کہ میں صحاح کو سامنے رکھ کر ان کو چھانٹ کر اس کتاب کو ا س نقص سے پاک کردوں ۔ مگر اب میرے سپرد ایسا کام ہوگیا ہے کہ مجھے دوسرے کاموں کی فرصت کم ملتی ہے اور عمر کا تقاضا بھی ایسا ہی ہے کہ پس اب مجھے یقین ہوگیا ہے کہ یہ کام مجھ سے نہیں ہوسکتا۔ اگر آپ (حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب ) کو ان کے زمانہ میں (اشارہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی طرف تھا جو آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور میں (حضرت مولوی سرو ر شاہ صاحب ) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ) خدا وند تعالیٰ توفیق دے تو ا س کام کو ضرور کرنا۔ خدا آپ کو بہت بڑا اجر دے گا۔
    اس بات پر مکرم چوہدری بدر بخش صاحب مرحوم ( اس وقت آپ کانام بدر بخش تھا) جو حلقے میں بالکل میرے سامنے بیٹھے ہوئے تھے نے اٹھ کر حلقے کے نصف دائرہ طے کر کے میرے پاس آکر میرے کان میں کہا کہ مولوی صاحب کی یہ بڑی قابل قدر بات ہے اس کو ضرور نوٹ کر لیں۔ چنانچہ ان کے کہنے پر میںنے کاپی نکالی اور حضرت مولوی صاحب کی یہ بات لکھ لی اور اس وقت میں نے اس مجلس کے آدمیوں کو شمار کیا جو ساٹھ آدمی تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی اور خاکسار کو چھوڑ کر ۔"
    (اصحاب احمد جلد5 صفحہ141-142از ملک صلاح الدین صاحب ایم اے)
    ۴۔ مولا!اس کو زمانہ کا امام بنادے:
    حضرت شوق محمد صاحب عرضی نویس رفیق حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں۔
    ـ"ـ1903ء میں قادیان میں بغرض تعلیم مقیم تھا۔ میںنے اپنے زمانہ قیام دارالامان میںمتعدد بار دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی(نور اللہ مرقدہٗ) بچپن میں ہی چلتے وقت نہایت نیچی نظریں رکھا کرتے تھے۔ اور چونکہ آپ کو آشوب چشم کا عارضہ عموماً رہتا تھا اس لئے کئی بار میںنے حضرت حکیم الامت مولانا نورا لدین صاحب خلیفۃ المسیح الاوّل کو خود اپنے ہاتھ سے آپ کی آنکھوں میں دوائی ڈالتے دیکھا۔ وہ دوائی ڈالتے وقت عموماً نہایت محبت اور شفقت سے آپ کی پیشانی پر بوسہ دیا کرتے۔ اور رخسار مبارک پر دست مبارک پھیرتے ہوئے فرمایا کرتے۔ "میاں تو بڑا ہی میاں آدمی ہے ، اے مولا!اے میرے قادر مطلق مولا اس کو زمانہ کاامام بنا دے ۔"
    بعض اوقات فرماتے ـ"اس کو سارے جہاں کا امام بنادے ۔"مجھ کو حضور کا یہ فقرہ اس لئے چبھتا کہ آپ کسی اور کے لئے ایسی دعا نہیں کرتے۔ صرف ان کے لئے دعا کرتے ہیں ۔ چونکہ طبیعت میں شوخی تھی اس لئے میںنے ایک روز کہہ ہی دیا کہ آپ میاں صاحب کے لئے ا س قدر عظیم الشان دعا کرتے ہیں کسی اور شخص کے لئے ایسی دعا کیوں نہیں کرتے۔ اس پر حضور نے فرمایا ! اس نے تو امام ضرور بننا ہے میں تو صرف حصول ثواب کے لئے دعا کرتا ہوں ورنہ اس میں میری دعا کی ضرورت نہیں ۔ میں یہ جواب سن کر خاموش ہوگیا۔
    جلسہ سالانہ گزشتہ کے موقعہ پر کئی ہزار کے قریب مجمع کی بھیڑ اور حُسن انتظام دیکھ کراور مبلغین کے کارنامے جوانہوںنے بیرون جات میں کئے اور مشن ہائے احمدیت جو غیر ممالک میں قائم ہوئے ان کے حالات وکوائف سن کر مجھے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی وہ دعائیں یاد آگئیں جو حضور کے بچپن کے زمانہ میں آپ کیا کرتے تھے ۔ ہزار افسوس کہ غیر مبائعین اس سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا رہے بلکہ الٹا اظہار دشمنی کر رہے ہیں ۔ حالانکہ ان کو خوش ہونا چاہئے تھا کہ جس عظیم الشان انسان کو انہوں نے مسیح موعود اور مہدی مسعود تسلیم کیا تھا اسی کا فرزند حقیقی معنوں میں اس کا خلف الصدق ثابت ہور ہا ہے اور دین اسلام کی خدمت پوری جانفشانی سے کر رہاہے ۔ "
    (الفضل قادیان13؍مارچ1938ء )






    خلافت ثانیہ کے بارہ میں حضرت مصلح موعود
    کے اپنے الہامات
    اور
    رؤیاو کشوف اور الٰہی اشارے




    "خد اتعالیٰ نے یہ ایک خدمت میرے سپرد کر دی ہے میں نے اس سے اس کی درخواست نہیں کی ۔ خد انے مجھے خلیفہ بنادیا ۔ خد اتعالیٰ نے مجھے قبل از وقت ایسی خبریں بتلائیں تھیں کہ میں خلیفہ ہوں گا۔ بعد میں بھی اس نے مجھے ڈھارس دی کہ میں حق پر ہوں ۔۔۔۔۔خد اکی آواز آسمان سے نہیں آیا کرتی بلکہ زمین پر ہی کشوف اور الہامات کے ذریعہ سے وہ حق ظاہر کردیتا ہے ۔ سو الحمد للہ خد اتعالیٰ نے میری تائید اس طرح بھی کی اور کئی سو مومنوں کو بذریعہ الہامات وکشوف ورؤیاء صادقہ میری خلافت حقہ کی خبر دی ۔ "
    (خطبات جمعہ حضرت مصلح موعودمرتبہ شائع کردہ فضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ جلد 1صفحہ255)


    ۱۔ تیرے پیروکار قیامت تک غالب رہیں گے :
    1905کے اپنے ایک الہام اور الٰہی اشارہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا !
    " میں ابھی سترہ سال کا تھا جو کھیلنے کودنے کی عمر ہوتی ہے کہ اس سترہ سال کی عمر میں خداتعالیٰ نے الہاماً میری زبان پر یہ کلمات جاری کئے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے ہاتھوں سے ایک کاپی پر لکھ لئے کہ اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْااِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِکہ وہ لوگ جو تیرے متبع ہوں گے اللہ تعالیٰ انہیں قیامت تک ان لوگوں پرفوقیت اور غلبہ دے گا جو تیرے منکر ہوں گے۔ "
    (الفضل09؍جولائی 1937ئ)
    اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں فرمایا ۔
    "جب میں ابھی بچہ تھا اور خلافت کا کوئی وہم وگمان نہ تھا ۔ یعنی حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے زمانہ میں اُس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے خبرد ی تھی ۔ اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْااِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔ یعنی تیرے ماننے والے اپنے مخالفوں پر قیامت تک غالب رہیں گے اس وقت یہی سمجھتا تھا کہ یہ الہام حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے متعلق ہے کیونکہ میرے اتباع کا تو خیال بھی میرے ذہن میں نہ آسکتا تھا کہ کبھی ہوں گے ۔ یہ عبارت قرآن کریم کی ایک آیت سے لی گئی ہے جو حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے متعلق ہے مگر آیت میں وجاعل الذین ہے اور میری زبان پر ان الذین کے لفظ جاری کئے گئے ۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے اس قدر عرصہ پہلے سے یہ خبر دے رکھی تھی اور کہا تھا کہ مجھے اپنی ذات کی قسم ہے کہ تیرے متبع تیرے منکروں پر قیامت تک غالب رہیں گے ۔ اب اس کی ایک مثال توموجود ہے ۔ کتنے شاندار وہ لوگ تھے جنہوںنے جماعت سے علیحدگی اختیار کی مگر دیکھو اللہ تعالیٰ نے ان کو کس طرح مغلوب کیا ہے ۔ بعد کا میرا ایک اور رؤیاء بھی ہے جو اس کی تائید کرتا ہے ۔ میںنے ایک دفعہ دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نور کے ستون کے طور پر زمین کے نیچے سے نکلا ۔ یعنی پاتال سے آیااور اوپر آسمانوں کو پھاڑ کر نکل گیا۔ اگر چہ مثال بُری ہے لیکن ہندوؤں میں یہ عقیدہ ہے کہ شوجی زمین کے نیچے سے آیااور آسمانوں سے گزرتا ہوا اوپر چلا گیا۔ یہ مثال اچھی نہیں مگر اس میں اسی قسم کا نظارہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاتال سے نکل کر افلاک سے بھی اوپر نکل گیا۔ میںنے بھی دیکھا کہ ایک نور کا ستون پاتال سے آیااور افلاک کو چیرتا ہوا چلا گیا۔ میں کشف کی حالت میں سمجھتا ہوں کہ یہ خد اکا نور ہے ۔ پھر اس نور میں سے ایک ہاتھ نکلا لیکن مجھے ایسا شبہ پڑتا ہے کہ اس کے رنگ میں ایسی مشابہت تھی کہ گویا وہ گوشت کا ہے ۔ اس میں ایک پیالہ تھا جس میں دودھ تھا جو مجھے دیا گیا اور میں نے اسے پیا اور پیالے کو منہ سے ہٹاتے ہی پہلا فقرہ جو میرے منہ سے نکلا وہ یہ تھا کہ اب میری امت کبھی گمراہ نہ ہوگی ۔ "
    (خطبہ جمعہ 04؍جنوری1935ء ازخطبات جمعہ جلد16صفحہ17-18)
    ۲۔ فوج کی کمان کررہاہوں:
    مکرم سید احمد علی شاہ صاحب فاضل مربی سلسلہ مقیم لائل پور(فیصل آباد،جو بعد میں نائب ناظر اصلاح وارشاد مرکزیہ کے عہدے پرتاوفات فائزرہے) بیان کرتے ہیں ۔
    "میں جامعہ احمدیہ کی مبلغین کی کلاس میں پڑھا کرتا تھا اور حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب ہمیں تفسیر القرآن پڑھایا کرتے تھے ۔ حسب دستور 15؍ جولائی 1935ء کو بھی جب آپ سبق پڑھا رہے تھے تو ضمناً آپ نے ایک بات کرتے ہوئے فرمایا کہ جب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مجھ سے پڑھا کرتے تھے تو ایک دن میںنے کہا کہ میاں آپ کے والد حضرت مسیح موعود کو تو کثرت سے الہام ہوتے ہیں کیا آپ کو بھی خوابیں وغیرہ آتی ہیں؟ تو میاں صاحب نے فرمایا کہ مولوی صاحب خوابیں تو بہت آتی ہیں لیکن ایک خواب تقریباً میں روز ہی دیکھتا ہوں اور جونہی میں تکیہ پر سر رکھتا ہوں اس وقت سے لے کر صبح اٹھنے تک یہ نظارہ دیکھتا ہوں کہ ایک فوج ہے میں اس کی کمان کر رہاہوں اور بعض اوقات ایسا دیکھتا ہوں کہ میں سمندروں سے گذر کر آگے جاکر مقابلہ کر رہاہوں اور کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ میں نے اگر پار گزرنے کے لئے اور کوئی چیز نہیں پائی تو سرکنڈہ وغیرہ سے کشتی بنا کر پار گیااور جاکر حملہ آور ہوا ہوں ۔
    حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب نے فرمایا کہ جب یہ خواب میںنے آپ سے سنا میرے دل میں اس وقت یہ بات گڑ گئی کہ یہ شخص یقینا کسی وقت جماعت کی لیڈری کرے گا اور اس وجہ سے میںنے اس دن سے بوجہ ادب کے آپ کی کلاس میں ان کے سامنے کرسی پر بیٹھنا چھوڑ دیا۔ اور آپ سے یہ خواب سننے کے بعد میں نے آپ سے یہ پختہ عہد لیا کہ میاں آپ بڑے ہوکر مجھ کو نہ بھلا دیں اور مجھ پر پھر بھی نظر شفقت رکھیں ۔
    حضرت مولوی صاحب نے ایسی ہی اور بھی چند خوابیں حضور کی سنائیں اور یہ اس زمانہ کی ہیں جبکہ آپ ہنوز سلسلہ تعلیم میں مشغول بلکہ چوتھی جماعت میں پڑھتے تھے مگر آخر وہ وقت آگیا کہ جب خد انے آپ کی ان خوابوں کو پورا کرتے ہوئے آپ کو ایک جماعت کا خلیفہ اور امام بنا کر ہندوستان اور ہندوستان سے باہر سمندر پار کے ممالک میں تبلیغ احمدیت پہنچانے کی توفیق دی ۔ چنانچہ سمندر پار کی ترقی کا سہرا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی(نور اللہ مرقدہٗ) کے سر پر ہے ۔"
    (اصحاب احمد جلد 5 صفحہ150-151)
    ۳۔ خلافت کے مقام پر کھڑا کرنے کا الٰہی اشارہ :
    آپ خودفرماتے ہیں:
    "حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام مئی1908ء میں فوت ہوئے تھے ۔ غالباً آپ کی وفات کے ایک ماہ بعد کی بات ہے کہ مجھے الہام ہوا۔ اِعْمَلُوْ اآلَ دَاؤٗدَ شُکْرًا۔ اے داؤد کی نسل شکر گزاری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور اعمال بجا لاؤ ۔ اس الہام میں اللہ تعالیٰ نے لفظ سلیمان تو استعمال نہیں فرمایا مگر آل داؤد کہہ کرحضرت سلیمان کی بعض خصوصیات کا مجھ کو وعدہ دیا گیا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں اُن باتوں میں سے ایک یہ بات بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت جو ہمیشہ لوگوں کے لئے اضطراب کا موجب رہی مجھ پر ابتدائی زمانہ ہی میں کھول دی تھی اور جہاں تک میںسمجھتا ہوں اس میں یہ بھی پیشگوئی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد خلافت کے مقام پر مجھ کو کھڑا کیا جائے گا اور ان مشکلات کا بھی اس میں ذکر تھا جو میرے راستہ میں آنے والی تھیں۔ چونکہ انسانی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ تکالیف اور اعتراضات سے گھبراتا ہے ا س لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ تکالیف اور اعتراضات کوئی بُری چیز نہیں ہیں بلکہ آل داؤد ہونے کے لحاظ سے تمہیں ان کا منتظر رہنا چاہئے اور ان سے گھبرانا نہیں چاہئے ۔"
    (تفسیر کبیر جلد 2 صفحہ66-67)
    نیزفرمایا:
    " تیسراا لہام جو مجھے اسی رنگ میں ہوا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے بعد وہ یہ ہے کہ اعملوا آل داؤد شکرا۔
    آل داؤد تم اللہ تعالیٰ کے شکر کے ساتھ اس کے احکام پر عمل کرو۔ اس الہام کے ذریعہ اعملو ا کہہ کر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے منشاء پر پوری طرح عمل کرنے کا حکم دیا ہے اور آل داؤد کہہ کر اللہ تعالیٰ نے مجھے حضرت سلیمان علیہ السلام سے مشابہت دی ہے ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام حضرت داؤد علیہ السلام کے بعد خلیفہ ہوئے تھے اور ان کے بیٹے بھی تھے۔۔۔۔۔۔مجھے یاد ہے اس وقت یہ الہام اتنے زور سے ہوا کہ کتنی دیر تک مجھ پر اس الہام کے نازل ہونے کی کیفیت تازہ رہی ۔" (الفضل07؍مارچ1944ئ)
    ۴۔ خلافت کی برکتیں اور رحمتیں جاری رہنے کی نوید:
    حضرت مصلح موعود اپنا ایک رؤیا بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔
    "میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتادیا ہے کہ قادیان کی زمین بابرکت ہے میںنے دیکھا کہ ایک شخص عبد الصمد کھڑا ہے اور کہتا ہے ۔
    "مبارک ہو قادیان کی غریب جماعت ! تم پر خلافت کی رحمتیں یا برکتیں نازل ہوتی ہیں ۔"
    (منصب خلافت از انوار العلوم جلد2 صفحہ50)
    ۵۔ ترقیات کی بشارت :
    فرمایا:
    "سنا جاتا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مجھے حکومت کی خواہش تھی اس لئے جماعت میں تفرقہ ڈال کر لوگوں سے بیعت لے لی ہے ۔ لیکن بیعت لینے کے وقت کی حالت میں تمہیں بتاتا ہوں ۔ جس وقت بیعت ہوچکی تو میرے قدم ڈگمگا گئے اور میںنے اپنے اوپر ایک بہت بڑا بوجھ محسو س کیا ۔ اس وقت مجھے خیال آیا کہ آیا اب کوئی ایسا طریق بھی ہے کہ میں اس بات سے لوٹ سکوں ۔ میںنے بہت غور کیااو ر بہت سوچالیکن کوئی طرز مجھے معلوم نہ ہوئی۔ اس کے بعد بھی کئی دن میں اسی فکر میں رہا تو خد اتعالیٰ نے مجھے رؤیا میں بتایا کہ میں ایک پہاڑی پر چل رہا ہوں دشوار گزار راستہ دیکھ کر میں گھبرا گیا اور واپس لوٹنے کا ارادہ کیا جب میں نے لوٹنے کے لئے پیچھے مڑ کر دیکھا تو پچھلی طرف میں نے دیکھا کہ پہاڑ ایک دیوار کی طرح کھڑا ہے اور لوٹنے کی صورت نہیں اس سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ اب تم آگے ہی آگے چل سکتے ہو پیچھے نہیں ہٹ سکتے ۔ "
    (برکات خلافت از انوار العلوم جلد 2 صفحہ158-159)
    ۶۔ محمود احمد ، پرمیشر اس کا بھلا کرے:
    حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہٗ قبل ازخلافت 1908ء کی اپنی ایک رؤیا کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
    "جن لوگوں نے میری بیعت کر لی ہے میں انہیں تاکید کرتا ہوں کہ وہ ہر قسم کا چندہ میری معرفت دیں ۔ یہ تجویز میں ایک رؤیاء کی بناء پر کرتا ہوں جو08؍ مارچ1907ء کی ہے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے ان کی اپنی کاپی الہامات میں درج ہے اس کے آگے پیچھے حضرت صاحب کے اپنے الہامات درج ہیں اور اب بھی وہ کاپی موجود ہے یہ ایک لمبی خواب ہے اس میں میں نے دیکھا کہ"ایک پارسل میرے نام آیا ہے محمد چراغ کی طرف سے آیا ہے اس پر لکھا ہے محمود احمد ، پر میشر اس کا بھلا کرے ۔ خیر اس کو کھولا تو وہ روپوں کا بھرا ہوا صندوقچہ ہوگیا ۔ کہنے والا کہتا ہے کہ کچھ تم خود رکھ لو کچھ حضرت صاحب کو دے دو کچھ صدر انجمن احمدیہ کو دے دو۔"پھر حضرت صاحب کہتے ہیں کہ محمود کہتا ہے کہ "کشفی رنگ میں آپ مجھے دکھائے گئے اور چراغ کے معنی سورج سمجھائے گئے اور محمد چراغ کا یہ مطلب ہوا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ سورج ہے اُس کی طرف سے آیا ہے ۔"
    غرض یہ ایک سات سال کی رؤیا ہے حضرت صاحب کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کسی وقت صدر انجمن احمدیہ کو روپیہ میری معرفت ملے گا ہمیں جو کچھ ملتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے طفیل ہی ملتا ہے ۔ پس جو روپیہ آتا ہے وہ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہی بھیجتے ہیں ۔ حضرت صاحب کو دینے سے یہ مراد معلوم ہوتی ہے کہ اشاعت سلسلہ میں خرچ کیا جائے ۔ قرآن شریف کی ایسی آیات کے صحابہ ؓ نے یہی معنی کئے ہیں۔ یہ ایک سچی خواب ہے ورنہ کیا چھ سال پہلے میں نے ان واقعات کو اپنی طرف سے بنا لیا تھا اور خد اتعالیٰ نے اسے پورا بھی کر دیا ۔ نعوذ باللہ من ذالک
    (منصب خلافت انور العلوم جلد2 صفحہ64-65)
    ۷۔ دین کی اعانت بارے رؤیا :
    1908ء کے اپنے ایک کشف کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔
    " مجھے ایک کشف ہوا جوحضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی میں ہی میں نے دیکھا تھا وہ بھی اسی مقام پر دلالت کرتا ہے ۔ میںنے دیکھا کہ میں اس کمرہ سے نکل رہا ہوں جس میں حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام رہتے تھے اور باہر صحن میں آیا ہوں وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف رکھتے ہیں اس وقت کوئی شخص یہ کہہ کر مجھے ایک پارسل دے گیا ہے کہ یہ کچھ تمہارے لئے ہیں اور کچھ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے ہے۔ کشفی حالت میں جب میں اس پارسل پر لکھا ہوا پتہ دیکھتا ہوں تو وہاں بھی مجھے دو نام لکھے ہوئے نظر آتے ہیں اور پتہ اسی طرح درج ہے کہ محی الدین اور معین الدین کو ملے۔ میں کشف میں سمجھتا ہوں کہ ان میں سے ایک نام حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہے اور دوسرانام میرا ہے ۔ میںنے سمجھا کہ محی الدین سے مراد حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں جنہوں نے دین کو زندہ کیا اور معین الدین سے مراد میں ہوں جس نے دین کی اعانت کی ۔ "
    (الفضل07؍ مارچ1944ء ازرؤیاو کشوف سیدنا محمود صفحہ11)
    ۸۔ تم ابراہیم ہو:
    1908ء ہی کی ایک رؤیا کا ذکر آپ نے یوں فرمایا:
    "میںنے ایک دفعہ رؤیا دیکھا کہ میں بیت الدعا میں بیٹھا ہوں کہ ایک فرشتہ میرے سامنے آیا اور اس نے کہا میں تم کو ابراہیم بتاؤں میںنے کہا میں ابراہیم کو جانتا ہوں وہ کہنے لگا۔ ایک ابراہیم نہیں۔ کئی ابراہیم ہوئے ہیں چنانچہ اس کے بعد اس نے کئی ابراہیم مجھے بتانے شروع کئے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسبت اس نے کہا کہ وہ بھی ابراہیم تھے پھر اس نے حضرت خلیفہ اول کے متعلق کہا کہ وہ بھی ابراہیم تھے اور آپ کا نام اس نے ابراہیم ادھم بتایا اسی طرح اور بیسیوں ابراہیم اس نے مجھ پر ظاہر کئے۔
    "مجھے بتایا گیا کہ ایک ابراہیم تم بھی ہو۔"
    (الفضل 09؍ مئی1940ء صفحہ3ازرؤیا وکشوف سیدنا محمود صفحہ12)
    ۹۔ اب میری امت کبھی گمراہ نہ ہوگی:
    1910ء /1911ء کی ایک خواب اور الٰہی اشارہ کا ذکرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہٗ فرماتے ہیں۔
    "پرسوں جمعہ کے روز میں نے ایک خواب سنایا تھا کہ میں بیمار ہوگیا اور مجھے ران میں درد محسوس ہوا اور میں نے سمجھا کہ شاید طاعون ہونے لگا ہے تب میںنے اپنا دروازہ بند کر لیا اور فکر کرنے لگا کہ یہ کیا ہونے لگا ہے میںنے سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام سے وعدہ کیا تھا انی احافظ کل من فی الداریہ خد اکا وعدہ آپ کی زندگی میں پورا ہوا شاید خدا کے مسیح کے بعد یہ وعدہ نہ رہا ہوکیونکہ وہ پاک وجود ہمارے درمیان نہیں۔ اسی فکر میں مَیںکیا دیکھتا ہوں یہ خواب نہ تھا۔ بیداری تھی میری آنکھیں کھلی تھیں میں درودیوار کو دیکھتا تھا کمرے کی چیزیں نظرآرہی تھیں ۔ میںنے اسی حالت میں اللہ تعالیٰ کو دیکھا کہ ایک سفید اور نہایت چمکتا ہوا نور ہے ۔ نیچے سے آتا ہے اور اوپر چلا جاتا ہے نہ اس کی ابتداء ہے نہ انتہا۔ ا س نور میں سے ایک ہاتھ نکلا جس میں ایک سفید چینی کے پیالہ میں دودھ تھا جو مجھے پلایا گیا جس کے معاً بعد مجھے آرام ہوگیا اور کوئی تکلیف نہ رہی ۔ اس قدر حصہ میںنے سنایا تھا اس کا دوسرا حصہ اس وقت میںنے نہیں سنایا تھا اب سناتا ہوں وہ پیالہ جب مجھے پلایا گیا تو معاًمیری زبان سے نکلا ۔
    "اب میری امت بھی کبھی گمراہ نہ ہوگی "
    میری امت کوئی نہیں ، تم میرے بھائی ہو ۔ مگر اسی نسبت سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے حضرت مسیح موعود کو ہے یہ فقرے نکلے جس کام کو مسیح موعود نے جاری کیا اپنے موقع پر وہ امانت میرے سپرد ہوئی ہے ۔ "
    (الفضل 21؍مارچ1914ئ)
    ۱۰۔ افواج کا کمانڈر انچیف مقرر ہونا:
    1911ء /1910ء کی بات ہے جب آپ نے درج ذیل رؤیا دیکھا۔
    " میںنے دیکھا کہ میں اور حافظ روشن علی صاحب ایک جگہ بیٹھے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مجھے گورنمنٹ برطانیہ نے افواج کا کمانڈر انچیف مقرر فرمایا ہے اور میں سراومور کرے سابق کمانڈر انچیف افواج ہند کے بعد مقرر ہوا ہوں اور ان کی طرف سے حافظ صاحب مجھے عہدہ کا چارج دے رہے ہیں چارج لیتے لیتے ایک امر پر میں نے کہا کہ فلاں چیز میں تونقص ہے میں چارج میں کیونکرلے لوں؟میں نے یہ بات کہی ہی تھی کہ نیچے چھت پھٹی(ہم چھت پر تھے ) اور حضرت خلیفۃ المسیح اوّل اس میں سے برآمد ہوئے اور میں خیال کرتا ہوں کہ آپ سرامور کرے کمانڈر انچیف افواج ہند ہیں ۔ آپ نے فرمایا!کہ اس میں میرا کوئی قصور نہیں بلکہ لارڈ کچنرسے مجھے یہ چیز اسی طرح ملی تھی۔۔۔۔۔افواج کی کمانڈ سے مراد جماعت کی سرداری ہے ۔ ۔۔۔۔اس رؤیاء میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو لارڈ کچنر کے نام سے ظاہر کیا گیا ہے اور حضرت خلیفہ اوّل کو سراومور کرے کے نام سے ۔ اور جب ہم ان دونوں افسروں کے عہدوں کو دیکھتے ہیں تو جس سال حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے وفات پائی تھی اسی سال لارڈ کچز ہندوستان سے رخصت ہوئے تھے اور سراومور کرے ہندوستان سے روانہ ہوئے ہیں اسی سال اور اسی مہینہ یعنی مارچ1914ء میں حضرت خلیفۃ المسیح فوت ہوگئے اور مجھے اللہ تعالیٰ نے اس کام پر مقرر فرمایا ۔
    اس رؤیا میں یہ جو دکھایا گیا ہے کہ چارج میں ایک نقص ہے اور میں اس کے لینے سے انکار کرتاہوں تو وہ ان چند آدمیوں کی طرف اشارہ تھا کہ جنہوںنے اس وقت فساد کھڑا کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس رؤیاء کے ذریعہ سے حضرت مولوی صاحب پر سے یہ اعتراض دور کیا ہے جو بعض لوگ آپ پر کرتے ہیں کہ اگر حضرت مولوی صاحب اپنے زمانہ میں ان لوگوں کے اندرونہ سے لوگوں کو علی الاعلان آگاہ کر دیتے اور اشارات پر ہی بات نہ رکھتے یا جماعت سے خارج کر دیتے تو آج یہ فتنہ نہ ہوتا اور مولوی صاحب کی طرف سے قبل از وقت یہ جواب دے دیا کہ یہ نقص میرے زمانہ کا نہیں بلکہ پہلے کا ہی ہے اور یہ لوگ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے زمانہ میں ہی بگڑ چکے تھے۔ ان کے بگڑنے میں میرے کسی سلوک کا دخل نہیں مجھ سے پہلے ہی ایسے تھے ۔ " (رؤیاو کشوف سیدنا محمود صفحہ21-22)
    ۱۱۔ آسمان پر بڑے بڑے تغیرات تمہارے لئے اچھے ہوں گے:
    نومبر1912ء کی ایک رؤیاکا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہٗ فرماتے ہیں۔
    " خدا تعالیٰ نے مجھے خود ایک رؤیاء کے ذریعہ بتایا کہ آسمان سے سخت گرج کی آواز آرہی ہے اور ایسا شور ہے جیسے توپوں کے متواتر چلنے سے پیدا ہوتا ہے اور سخت تاریکی چھائی ہوئی ہے ہاں کچھ کچھ دیر کے بعد آسمان پر روشنی ہوجاتی ہے اتنے میں ایک دہشت ناک حالت کے بعد آسمان پر ایک روشنی پیدا ہوئی اور نہایت موٹے اور نورانی الفاظ میں آسمان پر لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ لکھا گیا ہے اس کے بعد کسی نے بآواز بلند کچھ کہا جس کا مطلب یاد رہا کہ آسمان پر بڑے بڑے تغیرات ہو رہے ہیں جن کا نتیجہ تمہارے لئے اچھا ہوگا۔
    پس اس سلسلہ کی ترقی کے دن آگئے ہیں کیونکہ اس خواب کا ایک حصہ پورا ہوگیا ہے اور یورپ کی خطرناک جنگ کی شکل میں ظاہر ہوا ہے اور صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اسلام کی صداقت کو روشن کرے اور یہ ہونہیں سکتا ۔ مگر اس کے ہاتھ سے جس نے مسیح موعود کے ہاتھ پر بیعت کی ہوخدا تعالیٰ کا منشاء ہے کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی جماعت پھیلے کیونکہ وہ خدا کی طرف سے آیا ہے ۔
    (پیغام مسیح تقریر 11؍جولائی 1915ء بمقام لاہور از رؤیا وکشوف سیدنا محمود صفحہ26-25)
    ۱۲۔ "خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ " بڑھنے کی ہدایت:
    1912ء کی ایک رؤیا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
    " آج سے بائیس سال قبل غالباً اگست یا ستمبر (1912ئ)کا مہینہ تھا جب میں شملہ گیا ہوا تھا تو میںنے رؤیاء دیکھا کہ میں ایک پہاڑی سے دوسری پہاڑی پر جانا چاہتا ہوں ۔ ایک فرشتہ آیا اور مجھ سے کہنے لگا کہ تمہیں پتہ ہے یہ رستہ بڑا خطرناک ہے اس میں بڑے مصائب اور ڈراؤنے نظارے ہیں ایسا نہ ہوتم ان سے متاثر ہوجاؤاور منزل پر پہنچنے سے رہ جاؤ اور پھر کہا کہ میں تمہیں ایسا طریق بتاؤں جس سے تم محفوظ رہو میںنے کہا ہاں بتاؤ؟ اس پر اس نے کہا کہ بہت سے بھیانک نظارے ہوں گے مگر تم ادھر ادھر نہ دیکھنا اور نہ ان کی طرف متوجہ ہونا بلکہ
    خد اکے فضل اور رحم کے ساتھ خد اکے فضل اور رحم کے ساتھ
    کہتے ہوئے سیدھے چلے جانا ان کی غرض یہ ہوگی کہ تم ان کی طرف متوجہ ہوجاؤ اور اگر تم ان کی طرف متوجہ ہوگئے تو اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہ جاؤ گے اس لئے اپنے کام میں لگے جاؤ ۔ چنانچہ میں جب چلا تو میں نے دیکھا کہ نہایت اندھیرا اور گھنا جنگل ہے اور ڈر اور خوف کے بہت سے سامان جمع تھے اور جنگل بالکل سنسان تھا ۔ جب میں ایک خاص مقام پر پہنچا جو بہت ہی بھیانک تھاتو بعض لوگ آئے اور مجھے تنگ کرنا شروع کیا تب مجھے معاً خیال آیا کہ فرشتہ نے مجھے کہا تھا کہ"خد اکے فضل اور رحم کے ساتھ " کہتے ہوئے چلے جانا اس پر میں نے بلند آواز سے یہ فقرہ کہنا شروع کیااور وہ لوگ چلے گئے اس کے بعد پھر پہلے سے بھی خطرناک راستہ آیا اور پہلے سے بھی زیادہ بھیانک شکلیں نظر آنے لگیں حتیٰ کے بعض سر کٹے ہوئے جن کے ساتھ دھڑ نہ تھے ہوا میں معلق میرے سامنے آئے اور طرح طرح کی شکلیں بناتے اور منہ چڑاتے اور چھیڑتے ۔ مجھے غصہ آیا لیکن معاً فرشتہ کی نصیحت یاد آجاتی اور میں پہلے سے بھی بلند آواز سے"خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ"کہنے لگتا۔ اور پھر وہ نظارہ بدل جاتا یہاں تک کہ سب بلائیں دور ہو گئیں اور میں منزل مقصود پر خیریت سے پہنچ گیا۔
    یہ رؤیاء میںنے1912ء میں اگست یاستمبر میں بمقام شملہ دیکھا تھا اور شملہ میں خواب دیکھنے کا شاید یہ بھی مطلب ہو کہ حکومت کے بعض ارکان کی طرف سے بھی ہماری مخالفت ہوگی اس رؤیاء کو آج کچھ ماہ کم22سال ہوگئے ہیں ۔ اس دن سے جب میں کوئی مضمون لکھتا ہوں تو اس کے اوپر "خد اکے فضل اور رحم کے ساتھ "ضرور لکھتا ہوں ۔ "
    (الفضل 17؍اپریل1935ء )
    اسی رؤیا کے حوالہ سے ایک اور موقعہ پر آپ نے فرمایا:
    "یہ رؤیا حضرت خلیفۃ المسیح اول کی زندگی میں1913ء کے شروع میں میںنے دیکھا تھا اس وقت میںنے سمجھا کہ میری زندگی میں کوئی تغیر پید اہونے والا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خاص کام میرے سپرد کیا جائے گا۔ دشمن مجھے اس کام سے غافل کرنے کی کوشش کرے گا وہ مجھے ڈرائے گا دھمکائے گا اور گالیاں دے گا مگر مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ہدایت دی گئی ہے کہ میں ان کی گالیوں کی طرف توجہ نہ کروں اور "خد اکے فضل اور رحم کے ساتھ"کہتا ہوا منزل مقصود کی طرف بڑھتا چلا جاؤں یہی وجہ ہے کہ میرے ہر مضمون پر یہ الفاظ لکھے ہوئے ہوتے ہیں ۔
    "خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ "
    (رؤیا وکشوف سیدنا محمود صفحہ25-26)
    ۱۳۔ دین کی تکمیل کے لئے کھڑا کرنے کی طرف ایک الٰہی اشارہ:
    حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی زندگی میں غالباً1913ء کے ایک القاء کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔
    "حضرت خلیفۃ المسیح کی زندگی کا واقعہ ہے کہ منشی فرزند علی صاحب نے مجھ سے کہا کہ میں تم سے قرآن مجید پڑھنا چاہتا ہوں اس وقت ان سے میری اس قدر واقفیت بھی نہ تھی میںنے عذر کیا مگر انہوںنے اصرار کیا۔ میں نے سمجھا کہ کوئی منشاء الٰہی ہے آخر میں نے ان کو شروع کرادیا ایک دن میں پڑھا رہا تھا کہ میرے دل میں بجلی کی طرح ڈالا گیا کہ آیت رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُولًامِّنْھُمْ سورۃ بقرہ کی کلید ہے اور اس سورت کی ترتیب کا راز اس میں رکھا گیا ہے اسی کے ساتھ ہی سورۃ بقرہ کی ترتیب پورے طور پر میری سمجھ میں آگئی ۔ "
    (منصب خلافت تقریر12؍اپریل 1914ء صفحہ7)
    اس کی مزیدوضاحت کرتے ہوئے اسی تقریر میں فرماتے ہیں ۔
    "میں ا س راز اور حقیقت کو آج سمجھا کہ تین سال پیشتر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت بجلی کی طرح میرے دل میں کیوں ڈالی، قبل از وقت میں اس راز سے آگاہ نہیں ہوسکتا تھا مگر آج حقیقت کھلی کہ ارادئہ الٰہی میں یہ میرے ہی فرائض اور کام تھے اور ایک وقت آنے والا تھا کہ مجھے ان کی تکمیل کے لئے کھڑا کیا جانا تھا۔ "
    (منصب خلافت صفحہ28رؤیا وکشوف سیدنا محمود صفحہ28)
    ۱۴۔ وصیت مارچ کے بدر میں دیکھیں:
    1913ء کی ایک رؤیاکا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
    1913"ء میں ستمبر کے مہینہ میں چند دن کے لئے شملہ گیا تھا جب میں یہاں سے چلا ہوں تو حضرت خلیفۃ المسیح کی طبیعت اچھی تھی لیکن وہاں پہنچ کر میںنے پہلی یا دوسری رات دیکھا کہ رات کا وقت ہے اور قریباً2بجے ہیں میں اپنے کمرہ میں (قادیان میں ) بیٹھا ہوں ۔ مرز ا عبد الغفور صاحب (جو کلانور کے رہنے والے ہیں)میرے پاس آئے اور نیچے سے آوا زدی میںنے اٹھ کر ان سے پوچھا کہ کیا ہے ؟ انہوںنے کہا کہ حضرت خلیفۃ المسیح کو سخت تکلیف ہے تپ کی شکایت ہے ایک سو دو(102)کے قریب تپ ہوگیا تھا آپ نے مجھے بھیجا ہے کہ میاں صاحب کو جا کر کہہ دو کہ ہم نے اپنی وصیت شائع کر دی ہے مارچ کے مہینہ کے بدر میں دیکھ لیں ۔ جب میں نے یہ رؤیادیکھی تو سخت گھبرایا اور میرا دل چاہا کہ واپس لوٹ جاؤں لیکن میں نے مناسب خیال کیا کہ پہلے دریافت کر لوں کہ کیا آپ واقع میں بیمار ہیں۔ سو میں نے وہاں سے تار دیا کہ حضو رکا کیا حال ہے ۔ جس کے جواب میں حضرت نے لکھا کہ اچھے ہیں۔ یہ رؤیامیںنے اسی وقت نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کو اور مولوی سید سرور شاہ صاحب کو سنا دی تھی اور غالباً نواب صاحب کے صاحبزادگان میاں عبد الرحمن خان صاحب ، میاں عبد اللہ خان صاحب ، میاں عبد الرحیم خان صاحب میں سے بھی کسی نے وہ رؤیا سنی ہوگی کیونکہ وہاں ایک مجلس میں میں نے اس رؤیا کو بیان کردیا تھا۔
    اب دیکھنا چاہئے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت حضرت صاحب کی وفات کی خبر دی اور چار باتیں ایسی بتائیں کہ جنہیں کوئی شخص اپنے خیال او ر اندازہ سے دریافت نہیں کرسکتا ۔
    اول ۔ تو یہ کہ حضور کی وفات تپ سے ہوگی۔
    دوم ۔ یہ کہ آپ وفات سے پہلے وصیت کر جائیں گے ۔
    سوم ۔ یہ کہ وصیت مارچ کے مہینہ میں شائع ہوگی ۔
    چہارم ۔ یہ کہ اس وصیت کا تعلق بدر کے ساتھ ہوگا ۔
    اگر ان چاروں باتوں کے ساتھ پانچویں بات بھی شامل کردوں تو نامناسب نہ ہوگا کہ اس رؤیا سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس وصیت کا تعلق مجھ سے بھی ہوگا کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو میری طرف آدمی بھیج کر مجھے اطلاع دینے سے کیا مطلب ہوسکتا تھا اور یہ ایک ایسی بات تھی کہ جسے قبل از وقت کوئی بھی نہیں سمجھ سکتا تھا لیکن جب واقعات اپنے اصل رنگ میں پورے ہوگئے تو اب یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ اس رؤیا میں میری خلافت کی طرف بھی اشارہ تھا لیکن چونکہ یہ بات وہم وگمان میں بھی نہ تھی اس لئے اس وقت جبکہ یہ رؤیا دکھلائی گئی تھی اس طرف خیال بھی نہیں جاسکتا تھا ۔
    مندرجہ بالا پانچ نتائج جو اس رؤیا سے نکالے گئے ہیں ان سے چار تو صاف ہیں یعنی تپ سے وفات کا ہونا ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔ وصیت کا کرنا وہ بھی صاف ہے کیونکہ آپ نے اپنی وفات سے پہلے وصیت کر دی تھی۔ تیسرے مارچ میں وصیت کاہونا وہ بھی ایک بالکل واضح ہے کیونکہ آپ نے مارچ ہی میں وصیت کی اور مارچ ہی میں وہ شائع ہوئی ۔ پانچواں امر بھی صاف ہے کہ اس وصیت کا مجھ سے بھی کچھ تعلق تھا چنانچہ ایسا ہی ظاہر ہوا۔ لیکن چوتھی بات کہ بدر میں دیکھ لیں ۔ تشریح طلب ہے کیونکہ آپ کی وصیت جہاں الفضل ، الحکم ، نور میں شائع ہوئی وہاں بدر میں شائع نہیں ہوئی کیونکہ وہ اس وقت بند تھا پس اس کے کیا معنی ہوئے کہ بدر میں دیکھ لیں ۔ سو اس امر کے سمجھنے کے لئے یاد رکھنا چاہئے کہ رؤیا اور کشوف کبھی بالکل اصل شکل میں پورے ہوتے ہیں اور کبھی وہ تعبیر طلب ہوتے ہیں اور کبھی ان کا ایک حصہ تو اصل رنگ میں ظاہر ہوتا ہے اور ایک حصہ تعبیر طلب ہوتا ہے سو یہ خواب بھی اسی طرح کی ہے اور جہاں اس رؤیا میں سے چار امور بالکل صاف اور واضح طور پر پورے ہوئے ایک امر تعبیر طلب بھی تھا لیکن رؤیا کی صداقت پر باقی چار امور نے مہر کر دی تھی ۔ اور اس چوتھے امر کی تعبیر یہ تھی کہ بدر اصل میں پندرھویں رات کے چاند کو کہتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے رؤیا میں ایک قسم کااخفاء رکھنے کے لئے مارچ کی چودھویں تاریخ کانام چودھویں کی مشابہت کی وجہ سے بدر رکھا۔ اور یہ بتایا کہ یہ واقعہ چودہ تاریخ کو ہوگا ۔ چنانچہ وصیت باقاعدہ طور پر جوشائع ہوئی یعنی اس کے امین نواب محمد علی خان صاحب نے پڑھ کر سنائی تو چودہ14تاریخ کو ہی سنائی اور اسی تاریخ کو خلافت کا فیصلہ ہوا۔"
    (برکات خلافت ازانوار العلوم جلد2صفحہ186-188)
    ۱۵۔ قبل از وقت کا ایک اشارہ:
    21-20؍مارچ1914ء کو آپ نے ایک رؤیادیکھا جس کا ذکر آپ یوں فرماتے ہیں۔
    "حضرت مولوی صاحب بیمار ہیں۔ آخری دنوں کی حالت سے بہت بہتر حالت ہے ۔ میں کہتا ہوں مولوی صاحب کو دفن کر کے آئے تھے ۔ پھر خیال کرتا ہوں کہ جس طرح مسیح ناصری نے پیشگوئی کی تھی اسی طرح مسیح ناصری کے خلیفہ نے دوسرے خلیفہ کے متعلق بعض پیشگوئیاں کی تھیں یہ اس کے مطابق ہورہا ہے ۔"
    (رؤیا وکشوف سیدنا محمود صفحہ33)

    ایسے رؤیا جو غیر وں نے دیکھے اور حضرت مصلح موعود
    نے بیان فرمائے
    حضرت مصلح موعود نے اپنی خلافت بارہ غیروں کی رؤیا اور خوابوں کا ذکر متعدد جگہ پر فرمایا ۔ چند واقعات کا ذکر یہاں کیا جاتا ہے۔
    ‏i۔ "یہ معیار ہم میں اور ہمارے مخالفین میں بہت کھلا فیصلہ کردیتا ہے ہم جب کئی ایک لوگوں کی خوابیں ایک ہی مطلب کی اپنے متعلق پیش کرتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ حدیث النفس ہیں۔ مگر دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ تُرَی لَہٗ اوروں کو بھی دکھائی جاتی ہیں اور حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کہتے ہیں کہ دوشخصوں کی خوابوں کو آپس میں ملا کر دیکھو لواگر مل جائیں تو وہ سچی ہوں گی۔ لیکن ہمارے متعلق دو کو نہیں بلکہ سینکڑوں کو آئیں۔ پھر ان لوگوں کو آئی ہیں جو ہمارا نام بھی نہ جانتے تھے حتیٰ کے ہندوؤں کو بھی آئی ہیں۔
    (حقیقۃ الرؤیا ازانوار العلوم جلد 4صفحہ128)
    ‏ii۔ "پھر غیر مبائعین میں سے بہت لوگوں کو خوابیں آئیں اور وہ اسی ذریعہ سے بیعت میں داخل ہوئے۔۔۔۔۔تو میری تائید میں بہت سے لوگوں کو خوابیں آئی ہیں۔"
    (انوار العلوم جلد 4صفحہ130)
    ‏iii۔ "خداتعالیٰ نے سینکڑوں آدمیوں کوخوابوں کے ذریعہ سے میری طرف جھکادیا اور قریباًڈیڑھ سو خواب تو ان چند دنوں میں مجھ تک بھی پہنچ چکی ہے اور میرا ارادہ کہ اسے شائع کردیا جائے۔"
    (مضمون"کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے"از انوار العلوم جلد2صفحہ17)
    مبشر رؤیا،خوابیں اور الٰہی اشارے
    ۱۔ ماسٹر فقیر اللہ صاحب کی خواب
    "ایک دو نہیں ، دس بیس نہیں ، کم ازکم ہزار کے قریب ایسے لوگ ہیں جن میں احمدی اور غیر احمدی ہندو عیسائی شامل ہیں کہ ان کو رؤیا کے ذریعہ یا تو پہلے یا میری خلافت کے دوران میں اس خلافت کا پتہ معلوم ہوا۔ ان میں سے ابھی تک بعض ایسے ہیں جو جماعت میں شامل نہیں ہوئے ۔ ان سے شہادت لی جاسکتی ہے ۔ جیسے ماسٹر فقیر اللہ صاحب غیر مبائع ہیں۔ انہوںنے دیکھا کہ میں خلیفہ ہوگیا ہوں ۔ انہوںنے خود بیعت نہ کی اور جب پوچھا گیا کہ آپ بیعت کیوں نہیں کرتے تو انہوں نے کہا میری خواب درست ہوگئی ہے باقی مجھے یہ نہیں کہا گیا تھا کہ میں بیعت بھی کروں ۔ "
    (خطبات جمعہ جلد نمبر11صفحہ223)
    …٭…٭…٭…
    ۲۔ مکرم ڈاکٹر عبد اللہ صاحب کی خواب
    "اسی طرح ڈاکٹر عبد اللہ صاحب جو میرے ایک فیصلہ پر ناراض ہوکر نظام سلسلہ سے الگ ہوگئے ہیں انہوںنے غالباً1923ء میں جب کہ میں لاہور گیا تھا ۔ سنایا کہ باوجود اس کے کہ مجھے خرچ کی تنگی تھی۔ میں اس لئے ساتھ چلا ہوں کہ مجھے خواب میں بتایا گیا تھا کہ گویا تمام نبوتوں کی برکات آپ کے ساتھ جمع ہیں۔(مفہوم اس کے قریب قریب تھا) میںنے خلافت کے پہلے تین ماہ میں اس قسم کی خوابیں جمع کرائی تھیں ۔ پانچ سو سے زیادہ تھیں۔ اور پھر ہر سال ایسے لوگوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔"
    (خطبات جمعہ جلد نمبر11صفحہ223-224)
    …٭…٭…٭…
    ۳۔ ایک عرب کی خواب

    حضرت مصلح موعود نے09؍دسمبر1914ء کو درس القرآن سے پہلے یہ رؤیا سنائی۔
    "یہاں ایک عرب رہتا ہے اس نے بھی آج ہی اپنی خواب لکھ کر مجھے دی ہے اور وہ یہ کہ میں کہیں جارہاہوں اور چاروں طرف آگ لگی ہوئی ہے اور کوئی جگہ خالی نہیں۔ ہر طرف سے شعلے اٹھ رہے ہیں مجھے دو خوبصورت آدمی ملے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ تو کدھر جارہا ہے جہاں تو بیٹھا ہوا تھاوہیں بیٹھ جا۔ انہوںنے مجھے ایک قرآن اور ایک سیب دیا ہے اور کہا کہ جاؤ یہ سیب خلیفۃ المسیح کو دے دو۔ اور اسے اسباب میں لپیٹ کر رکھ دو تاکہ خشک نہ ہوجائے ۔"
    (الفضل13؍دسمبر1914ء )
    …٭…٭…٭…

    ۴۔ ایک ہندو کی خواب
    "حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کہتے ہیں کہ دو شخصوں کی خوابوں کو آپس میں ملا کر دیکھ لو۔ اگر مل جائیں تو وہ سچی ہوں گی۔ لیکن ہمارے متعلق دو کو نہیں بلکہ سینکڑوں کو آئیں۔ پھر ان لوگوں کو آئی ہیں جو ہمارا نام بھی نہ جانتے تھے حتیٰ کہ ہندوؤں کو بھی آئی ہیں۔ چنانچہ ایک ہندو نے خواب میں دیکھا کہ
    "میں اور حضرت صاحب گھوڑوں پر سوار جارہے ہیں اور میرا گھوڑا آپ سے آگے ہے ۔"
    اور مجدد صاحب سر ہندی کے تجربہ سے ظاہر ہے کہ مامور سے اس کے مرید کے گھوڑے کے آگے ہونے کی تعبیر اس مرید کا اس کا جانشین بننا ہوتا ہے ۔ انہوںنے بھی دیکھا تھا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے آگے جارہاہوں ۔ اس پر جب اعتراض ہو اکہ کیا تمہارا درجہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے بڑا ہے ۔ تو انہوںنے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ جو خدمت پر مامور کیا جاتا ہے وہ آقا کے آگے ہی چلا کرتا ہے تو یہ خواب ایک ہندو نے دیکھی ۔ اس کو اس بات کی کیا خواہش ہوسکتی تھی میں خلیفہ بنوں یا نہ بنوں ۔ پھر اگر حدیث النفس ہی ہوتی تو وہ مجھے گھوڑے پر سوار نہ دیکھتا بلکہ یہ کہتا کہ تم کو میںنے خلیفہ بنا ہوا دیکھا ہے ۔ لیکن خد اتعالیٰ نے اسے مثالی رنگ میں دکھا کر بتلا دیا کہ یہ حدیث النفس نہیں ہے ۔ "
    (حقیقۃ الرؤیاازانوار العلوم جلد4صفحہ128-129)
    …٭…٭…٭…

    ۵۔ ایک غیر احمدی کی خواب
    "پھر ایک غیر احمدی نے لکھا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ایک دریا ہے اور اس پر ایک آدمی کھڑا ہے اور کچھ لوگ گزر رہے ہیں جو گزرتا ہے اسے وہ کھڑا ہونے والا شخص کہتا ہے کہ اس سے (مجھ سے ) چٹھی لا ؤ تب گزرنے دوں گا۔ جو لوگ توچٹھی لاکر دکھا دیتے ہیں وہ صحیح سلامت پار اتر جاتے ہیں اور جو لانے سے انکار کرتے ہیں وہ ہلاک ہوجاتے ہیں ۔ "
    (حقیقۃ الرؤیاازانوار العلوم جلد4صفحہ129)
    …٭…٭…٭…
    ۶۔ ایک اور غیر احمدی کاخواب
    "اسی طرح ایک شخص نے جو یہاں سے قریب ہی ایک گاؤں شکار کا رہنے والا ہے اور مجھے جانتا نہ تھا دیکھا کہ میں خلیفہ مقرر ہوگیا ہوں صبح اٹھ کر اس نے احمدیوں سے پوچھا کہ قادیان میں کوئی محمود ہے اس کو بڑا درجہ ملنے والا ہے ۔ اس سے یہ سن کر جب وہاں کے احمدی یہاں آئے تو انہیں معلوم ہو اکہ حضرت مولوی صاحب فوت ہوچکے ہیں اور ان کی جگہ میں خلیفہ ہوا ہوں ۔ "
    (حقیقۃ الرؤیاازانوار العلوم جلد4صفحہ129)
    …٭…٭…٭…
    ۷۔ ہزارہ کے محمد صادق کا خواب
    "اسی طرح ہزارہ کی طرف کا ایک شخص جس کا نام محمد صادق ہے آیا اس نے دیکھا کہ میں نفل پڑھنے کے لئے مسجد میں گیا ہوں اور وہاں اپنے بھائی سے مصافحہ کیا ہے جس کانام محمود تھا۔ اور مصافحہ کرتے وقت بجائے ہاتھ پر ہاتھ پڑنے کے بازو پر پڑا ہے اور دیکھا کہ اس وقت اس کے بھائی کے بائیں طرف سر کے بال ایک روپیہ بھر اڑے ہوئے ہیں ۔ یہ رؤیاء اس نے کسی کو سنائی اور اس نے اس کہا کہ تم کسی بزرگ کی بیعت کرو گے۔ وہ اسی تلاش میں تھا کہ کسی احمدی نے حضرت مولوی صاحب کا پتہ اسے بتایااور وہ یہاں آیا۔ بٹالہ میں اسے کسی نے آپ کی وفات کی خبر دی مگر وہ قادیان آگیا۔ یہاں لوگ خلافت کے لئے بیعت ہورہے تھے وہ کہتا ہے کہ میں نے خیال کیا کہ مولوی صاحب تو فوت ہوچکے ہیں انہی کی بیعت کر لوں مگر جب بیعت کے لئے ہاتھ رکھا تو بجائے ہاتھ پڑنے کے بازو پر ہاتھ پڑا۔ کہتا ہے کہ اس وقت مجھے خیال آیا کہ کہیں یہ وہی خواب تو پوری نہیں ہوئی۔ اس وقت سر اٹھا کر دیکھا تو میرے سر پر وہی نشان دیکھا۔ کیونکہ ان دنوں کسی بیماری کی وجہ سے میرے سر کے بائیں طرف کے بال ایک روپیہ برابر اڑ گئے تھے ۔ بیعت کے بعد اسے معلوم ہوا کہ میرا نام بھی محمود ہے ۔ جس پر اسے اپنی خواب کی صداقت کا علم ہوگیااور اس نے لوگوں کے سامنے اپنی رؤیا کو بیان کیا۔ "
    (حقیقۃ الرؤیاازانوار العلوم جلد4صفحہ129-130)
    …٭…٭…٭…

    ۸۔ غیر مبائعین کی سیدنا محمود کے حق میں خوابیں
    "پھر غیر مبائعین میں سے بہت لوگوں کو خوابیں آئیں اور وہ اسی ذریعہ سے بیعت میں داخل ہوئے۔ایک شخص نے مجھے لکھا کہ میرے دل میں آپ سے بڑی نفرت تھی۔ اور میرا ایک دوست تھااس کی بھی یہی حالت تھی۔ لیکن میں نے دیکھا کہ ہم دونوں ایک پکی سڑک پر جارہے ہیں اور کچھ دور جاکرایک پگڈنڈی آگئی ہے پکی سڑک کو میں نے دیکھا کہ ایک انجینئر بنارہا ہے اور وہ انجینئر آپ ہیں۔ لیکن چونکہ مجھے آپ سے بغض تھا اس لئے پکی سڑک پر چلنا چھوڑ دیا اور پگڈنڈی پر چل پڑا۔ اور گو اس وقت مجھے پیاس لگی ہوئی تھی اور آپ کے پاس پانی تھا۔ لیکن میںنے پینا ناپسند کیا اور آگے چلا گیا۔ آگے سے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے اشارہ فرمایا کہ ادھر نہ آؤ اور ساتھ ہی ایک شیر حملہ آور ہوا۔ یہ دیکھ کر میں تو واپس بھاگ آیا مگر میرے دوسرے ساتھی کو شیر نے پھاڑ ڈالا۔ اب میں تو بیعت کرتا ہوں لیکن میرا دوست نہیں مانتا۔ کچھ عرصہ کے بعد اس کو طاعون ہوگئی اور وہ مر گیا۔
    تو میری تائید میں بہت سے لوگوں کو خوابیں آئی ہیں ۔ ۔۔اور یہ حدیث النفس یا اضغاث احلام نہ تھیں کیونکہ ان میں سے بعض غیر ازجماعت افراد اور بعض غیر مسلموں کو بھی دکھائی گئی تھیں جن کو خلافت سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔"
    (حقیقۃ الرؤیااز انوار العلوم جلد4صفحہ130)

    رفقاء اور احباب جماعت کے رؤیا وکشوف والہام
    ۱۔ روایت حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی
    بابت الہام حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحب
    دربارہ ارفع مقام حضرت خلیفۃ المسیح الثانی
    "ایک عجیب توارد کا ذکر کیا جاتا ہے جو ہر قسم کے تصنع اور تخیل کے اثر سے بکلی پاک ہے۔ آغاز خلافت ثانیہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی دارالمسیح میں حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہ والے حصہ میں ایک کمرہ میں ڈاک ملاحظہ فرماتے تھے اور احباب اورحضرت مرزا بشیر احمد صاحب مردانہ کی طرف سے وہاں سے آجاتے تھے۔ اس وقت وہاں سے آنے کا انتظام تھا۔ بعد میں نہیں رہا ایک روز اس بالاخانہ میں حضور اس روز کی ڈاک ملاحظہ فرما رہے تھے ۔ اس وقت غیر مبائعین کی کارروائیاں اپنے عروج پر تھیں ۔ حضور نے حضرت مولانا غلام رسول راجیکی کا موصولہ خط بعد ملاحظہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کو پڑھنے کے لئے دیا ۔ جس میں مرقوم تھا کہ مجھے حضور کی ارفع شان کے متعلق"لَوْلَا کَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَ فْلَاکَ" الہام ہواہے ۔ یہ بیان کر کے حضرت بھائی جی نے بتایا کہ حضرت راجیکی صاحب کا مکتوب پڑھتے ہی حضرت عرفانی صاحب نے میرا وہ رقعہ جھپٹا مار کر چھین کر حضور کی خدمت میں پیش کردیا جو میںنے وہاں بیٹھے لکھا تھااور عرفانی صاحب نے دیکھ لیا تھا۔ میںنے لکھا تھا کہ آج رات مجھے پر رعب وشوکت اور پر جلال وہیبت آواز میں "لَوْلَا کَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَ فْلَاکَ"کاالہام ہوا ہے ۔ جس میں حضور کی طرف اشارہ تھا اور نظارہ دکھایا گیا تھا کہ"تَشَتُّتْ وَاِفْتَرَاقْ" حضور کی برکت سے تغیر پذیر ہوکر کم ہوجائے گا اور مغلوب ہوجائے گا۔ "
    (سیرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی از ملک صلاح الدین صاحب ایم اے صفحہ175)
    اس الہام کی مزید وضاحت اور تفصیل اسی کتاب میں آگے چل کر یوں بیان ہوئی ہے جو کہ آپ کا ایک مضمون بعنوان "خلافت ثانیہ کا قیام"ہے جو کہ الحکم میں 1939ء کی خلافت جوبلی کے موقع پر شائع ہوا تھا ۔
    "جس خط کا میں نے ذکر کیا ہے وہ خط انہی بزرگوار یعنی مولانا غلام رسول صاحب راجیکی کا تھا ۔ اس میں کیا لکھا تھا ؟ اور تفاصیل کا تو مجھے علم نہیں مگر اس قدر مجھے اس مجلس میں معلوم ہو گیا تھا کہ ان کودوران تبلیغ اور خدمات سلسلہ کی بجا آوری ہی میں الہام الٰہی اور کلام یزدانی کے ذریعہ سیدنا خلافت مآب حضرت اقدس کی صداقت ، شان عالی اور مقام بلند کا علم دیا گیا ہے اور الہام ربانی "لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُالْاَفْلَاکِ "تھا۔ جس کے مشار الیہ اور مصداق ہمارے آقا ومقتداء سیدنا فضل عمر ، فخر رسل اولوالعزم مَظْہَرُ الْحَقِّ وَالْعُلٰی کَاَنَّ اللّٰہ نَزَلَ مِنَ السَّمآئِ ہیں۔ یہ خلاصہ ہے تشریح وتفصیل مُلْہِمْ وَمُلْہَمْ کے سوا دوسرا کوئی لکھ نہیں سکتا۔ یہ خط بذریعہ ڈاک قادیان سے دور باہر کسی مقام سے آیا تھا ۔ سر بمہر تھا۔ ڈاک حضرت کے سوا کسی نے کھولی تھی نہ کسی کو مضمون خط کا کوئی علم تھا۔
    میرا پرچہ کاغذ میرے محترم حضرت عرفانی صاحب نے کیوں اچانک اچک کر حضرت کے پیش کردیا؟ یہ وہ معمہّ ہے جو میری سمجھ میں نہ آیا تھا ۔ بعد میں مخدومی شیخ صاحب عرفانی نے خودہی مجھے بتایا کہ تم جو کچھ لکھ رہے تھے میں اسے پڑھتا رہا تھا۔ حضرت نے جو خط مجھے دیا اس کا اور تمہارے پرچہ کا مضمون چونکہ ایک جیسا تھا ۔ میں نے اس تطابق کو الٰہی تصرف سمجھ کر تمہارا پرچہ بھی حضرت کے حضور پیش کر دیا۔ مجھے پہلے ایک نظارہ میں جماعت کی موجودہ کیفیت وحالت تَفَّرُقْ وَتَشَتُّتْ کا نقشہ دکھایا گیا۔ جس کی صورت یہ تھی کہ شفاف پانی اور آبِ مُقَطَّرْ کے بھی کہیں کہیں قطعات موجو دہیں۔ مگر خشکی کے بڑے بڑے قطعات نے پہلے قطعات آب کو ایک دوسرے سے جد اکر رکھا ہے خشکی زیادہ غالب اوروسیع تھی۔ بعینہ ایسی صورت تھی جیسے کسی وسیع میدان میں کہیں کہیں آب باراں کی چھوٹی چھوٹی تلائیاں ہوں ۔ پھر ایک آوازتھی پر رعب و شوکت ۔۔۔۔۔۔جو ایک آہنی میخ کی طرح میرے دل میں ایسی گڑ گئی کہ پھر کبھی نہیں نکلی۔ "لَوْلَا کَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ" اشارہ اس کا میرے آقا سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی فداہ روحی کی طرف تھا۔ وہی ذات اقدس اور وجو داطہر جس کے متعلق غیب دان اور عالم اسرار ہستی پہلے ہی سے بطور پیش بندی دنیا جہان کو بتاکید کہہ چکی تھی۔
    مقام او مبیں از راہ تحقیر
    بدورانش رسولاں ناز کردند
    اس سردش اور ندائے حق کے بعد دوسرا نظارہ یہ تھا جو میرے سامنے لایا گیا کہ پہلا منظر بدل کر دوسرا سین نمودار ہوگیا۔ جس میں خشکی کہیں کہیں چھوٹی چھوٹی تھوڑی تھوڑی خستہ پستہ اور مغلوب مگر آب شفاف کے قطعات زیادہ وسیع ، نمایاں اور پررونق وشاندار تھے اور میرے دل و دماغ پر یہ اثر تھا کہ یہ تغیر اور تبدیلی اس نوجوان انسان کی برکت وطفیل سے ہوگی جس کا وجود"لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکِ "کے کلام کے ساتھ میرے سامنے لا کھڑا کیا گیا تھا۔
    یہ ایک معاملہ تھا راز اور حقیقت تھی خفیہ جس کو میں صرف اپنے ایمان کی مضبوطی اور قلب کی طمانیت کے لئے فضل خداوندی سمجھ کر پوشیدہ اور بند ہی رکھنا چاہتا تھا ۔ میری کبھی یہ خواہش نہ تھی کہ گلی کوچوں میں اس زروجواہر کے خزانے کو اچھالتا پھروں اور لوگوں کو دکھاتا رہوں۔ کیونکہ میں خد اکے فضل سے ہمیشہ سے اس یقین اور عرفان پر تھااور ہوں کہ مامورین اور مرسلین کے علاوہ عوام پر اگر خدا کا کوئی فضل ایسے رنگ میں ہوتا ہے تو وہ ان کی اپنی ذات اور ان کے اپنے علم وعرفان اور یقین وایمان کی زیادتی مضبوطی یا تربیت واصلاح ہی کے لئے ہوتا ہے ۔ وہ امر حجت ہوتا ہے تو صرف اس کی اپنی ذات پر نہ کہ دوسروں پر اور اس کو یوں کھلم کھلا اچھالتے پھرنا اور سناتے رہنا خطرہ سے خالی نہیں ہوتا۔ اپنے آقا کی خدمت میں عرض کرنا میں اپنے لئے ضروری سمجھتا تھا کہ میں اس نعمت کو سیدنا حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کا ثمر یقین کرتا ہوں۔ نیز ان کو تحدیث نعمت وشکر گزاری سے نعمت میں اضافہ وزیادتی ہے میں اس قانون الٰہی سے بھی فائدہ اُٹھا نا چاہتا تھا ورنہ میں نے سوائے شاذ، ان کا اظہار بھی کرنا مناسب نہیں سمجھا۔
    16؍مارچ1939ء کو خلافت جوبلی کی تقریب کو مناتے ہوئے علاوہ اور بزرگوں کے مکرمی مولانا مولوی غلام رسول راجیکی نے بھی ایک تقریر برکات خلافت سے متعلق کی ۔ جس میں انہوںنے اپنے اس الہام کا ذکر فرماتے ہوئے میرے القاء کا بھی ذکر فرمایا تھا۔ میں نے اس کی وضاحت اور تشریح ضروری سمجھ کر یہ نوٹ لکھا ہے ورنہ عقیدہ میرا ایسے امور کے متعلق وہی ہے جو اوپر عرض کیا۔
    (سیرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی از ملک صلاح الدین صاحب ایم اے صفحہ486-87)
    …٭…٭…٭…
    ۲۔ روایت حضرت علامہ مولانا مولوی غلام رسول صاحب فاضل راجیکی
    ‏i۔ "حضرت خلیفہ اوّل کے آخری ایام میں جب میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے مہمان خانہ میں آنجناب سے علاج کرایا کرتا تھا ۔ ایک رات میںنے خواب میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام میری عیادت یعنی بیمار پرسی کے طور پر تشریف لائے ہیں اور میرے پاس آبیٹھے ہیں اور فرماتے ہیں ۔ اب کیا حال ہے ۔ صبح کے وقت سیدنا محمودایدہ اللہ تشریف لائے اور میرے پاس بیٹھ گئے اور فرمایا ۔ اب کیاحال ہے اور جس طرح حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو دیکھااور حضور کو فرماتے سنا۔ بالکل اسی طرح سیدنا حضرت محمود سے وہ بات پوری ہوئی۔ پھر حضرت خلیفۃ المسیح ثانی نے مجھ سے دریافت فرمایاکہ بتائیے آج کل کوئی خواب تونہیں دیکھا۔ ان دنوں میں جماعت انصار اللہ کا بھی ممبرتھاجو حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کے انتظام سے تعلق رکھتی تھی۔ میںنے عرض کیا انہی دنوں میںنے یہ خواب دیکھاکہ ایک نیا چاند چڑھا ہے اور وہ کامل بھی ہے اور اس کی روشنی میں بھی کوئی نقص اور کسی طرح کی کمی نہیں۔ لیکن اس کے مقابل زمین سے اس قدر گردوغبار اُٹھا ہے کہ اس کی روشنی کو زمین پر پڑنے سے روکتا ہے۔اور اس وقت ہم جو انصار ہیں ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ اس گردوغبار کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے معّوذتین یعنی سورۃ قُلْ اَعُوْذُبِرَبِّ الْفَلَقِ اور سورۃ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ کو بہت پڑھنا چاہئے ۔ ii۔ یہ بھی دیکھا کہ ہم ایک دریاسے نوح علیہ السلام کی کشتی کے ذریعہ پار اُترے ہیں اور جب کنارے پر پہنچتے ہیں تو ہمیں حکم ملا ہے کہ اب اس کشتی سے اترنے کے بعد تم نے ایک جہاز پر سوار ہونا ہے۔ چنانچہ ابھی وہ جہاز ایک جگہ کھڑا ہوا تھا کہ ہم اس پر جاسوار ہوئے اور اس کی کئی منزلیں ہیں۔ ہم سب سے اوپر کی منزل میں سوار ہوئے۔ جہاز بالکل نیا معلوم ہوا۔ گویا کاریگر ابھی بنا کرگئے ہیں۔ ابھی اس کی تراش خراش کے آثار بھی اس پر نظر آرہے تھے کہ ہم اس پر جاسوار ہوئے ۔ ہمیں بتایا گیا کہ اس جہاز کے چلنے میں ابھی کچھ دیر ہے لیکن باوجود دیری کے ہم پہلے ہی اس پر سوار ہوئے۔ اس کے متعلق مجھے یہ تعبیر بتائی گئی کہ کشتی نوح علیہ السلام کی حضرت خلیفہ اوّل تھے اور یہ بالکل نیا تیار شدہ جہاز جو اب کچھ دیر بعد چلنے والا ہے یہ سیدنا محمود ہیں جو حضرت خلیفہ اوّل کے بعد خلیفہ ثانی ہوں گے اور جماعت انصار اللہ کی حیثیت میں آپ سے تعلق گویا اس جہاز میں پہلے ہی جاسوار ہونے کی طرف اشارہ تھا جس کی بعد میںتصدیق ہوگئی۔ " (بشارات رحمانیہ جلد 1 صفحہ420-422 )
    ۳۔ حضرت حافظ نور محمد صاحب آف فیض اللہ چک
    کی روایات ورؤیا اورالہام
    آپ بفضلہ تعالیٰ ابتداء سے ہی خلافت ثانیہ سے وابستہ ہوگئے تھے آپ کو اس بارہ میں جو رؤیا وغیرہ ہوئے آپ لکھتے ہیں۔
    ‏i۔ "لَاتَکْتُمُواالشَّھَادَۃَ وَمَنْ یَّکْتُمْھَا فَاِنَّہٗ اٰثِمٌ قَلْبُہٗ ۔
    اس آیت شریف کو مد نظر رکھ کر خدا وند سے ڈر کر سچی شہادت پیش کرتا ہوں۔ جو اس تفرقہ کے وقت ضروری سمجھتا ہوں ۔ وہ یہ ہے کہ عرصہ پندرہ سولہ سال کا ہوا ہے کہ میں اپنے گاؤں میں ایک آم کے درخت کے سایہ میں بیٹھا ہوا قرآن شریف کی تلاوت کر رہا تھا جو میری تلاوت میں یہ آیت تھی جو سورۃ صؔ میں ہے ۔ یَادَاؤٗدُ اِنَّاجَعَلْنٰکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ ۔ تب مجھے رؤیا کی حالت ہوگئی۔ اتنے میں میرے روبرو حضرت میاں صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کھڑے ہیں۔ آپ اس وقت بچہ ہی تھے میں نے اپنے رؤیاء میں آپ کو جوان ومضبوط دیکھا۔ اتنے میں مجھے یہ آواز آئی غیب سے ۔ میاں محمود ڈپٹی کمشنر ۔ یہ رؤیا میں نے حضرت مسیح الزمان رحمۃاللہ علیہ کے پاس بیان کی ۔ تب آپ نے فرمایا کہ ہاں کمشنر کے بعد ڈپٹی کمشنر ہوتا ہے ۔ حضرت خلیفۃ المسیح کو بھی سنائی ۔ میرے دل میں اس وقت سے یہی خیال تھا ۔ کہ انشاء اللہ تعالیٰ میاں صاحب قدرت ثانیہ کے مظہر ہوں گے۔ "
    (یاداؤد والا رؤیا الحکم 07؍اکتوبر1934ء صفحہ4کالم میں بھی مرقوم ہے ۔ آپ بیان کرتے ہیں کہ حضرت صاحبزادہ صاحب اس وقت بارہ تیرہ برس کے تھے گویا 1901یا1902کی بات ہے )
    ‏ii۔ "جس روز خلیفۃ المسیح علیہ السلام کا جنازہ ہو اہے اس کی صبح یعنی 14؍مارچ1914ء کی صبح تہجد کے وقت بعد5بجے مسجد بیت الذکر کے داہنی گوشہ میں بیٹھا تھا اور سورۃ الحمد شریف کا ورد کر رہا تھا ۔ میری زبان پر یہ کلمہ جاری ہوا جو سورہ نباء میں ہے۔ وَجَعَلْنَا سِراجًا وَّھَا جًا۔ اور ساتھ ہی یقین ہوا کہ یہ اشارہ میاں صاحب کی طرف ہے اور کئی دوستوں کے پاس علی الصبح بیان کیا۔ (مثلاً) سید فضل شاہ ۔ چوہدری حاکم علی ۔ "
    ‏iii۔ "پھر19؍مارچ1914ء کو میںنے خواب میں دیکھا کہ حضرت صاحب کا انتقال ہوا،اور میں بہت گریہ زاری کرتا ہوں اور میری آنکھیں پانی سے تر ہیں اور میرے ساتھ میاں دین محمد بگہ اور میرا بیٹا رحمت اللہ ہمدردی میں شریک ہیں پھر مجھے بیداری ہوگئی اس کے بعد پھر سو گیا اور یہ الہام ہوا۔ جو سورہ انعام کے اخیر میں ہے ۔ لَمْ تَکُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْکَسَبَتْ فِیْ اَیْمَانِھَا خَیْرًا قُلِ انْتَظِرُ وْااِنَّا مُنْتَظِرُوْن ۔اور اسی لفظ پر بیداری ہوگئی۔ "
    ‏iii۔ 23"؍مارچ1914ء پچھلی رات میں میں نے دعا کی کہ یاالٰہی !اس تفرقہ سے ہم کو رنج پہنچا ہے تو اپنے فضل سے ہم پر کچھ ظاہر کر۔ اس وقت یہ آیت الہام ہوئی جو سورہ دہر میں ہے۔ عَیْنًا یَّشْرِبُ بِھَا عِبَادَاللّٰہُ یِفَجِّرُوْنَھَا تَفْجِیْرًا۔
    آپ نے بیان کیا ۔ ایک دفعہ میری غلطی کی وجہ سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے مجھے تنبیہ کی جس کا مجھے بڑا قلق ہوا میں اخبار پڑھ رہا تھا کہ مجھے الہام ہوا۔
    ؎ مقام اومبیں ازراہ تحقیر
    بدور انش رسولاں ناز کردند
    ترجمہ: اس کے مقام کو ازراہ تحقیر نہ دیکھو جس پر رسول بھی ناز کرتے ہیں۔ "
    (اصحاب احمد ازملک صلاح الدین صاحب ایم اے جلد 13صفحہ239-240 )
    …٭…٭…٭…
    ۴۔ حضرت مرزا رسول بیگ صاحب کی رؤیا
    "جب سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی وفات پر جماعت میں اختلاف ہوا تو مرزا رسول بیگ صاحب بمقام منچن آباد (ریاست بہاولپور ) میں تھے۔ ایک طرف مولوی محمد علی صاحب حقانی کے راولپنڈی سے خلافت کی تائید میں اور دوسری طرف آپ کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر مرز ایعقوب بیگ صاحب کی خلافت ثانیہ کے خلاف خطوط آنے شروع ہوئے ۔ آپ نے ایک رات استخارہ کیااور صبح کی اذان سے کچھ وقت قبل اپنے اہل خانہ سے کہا کہ لوجی!ہمارا فیصلہ ہوگیا۔ میںنے خواب میں دیکھا ہے کہ آسمان سے ایک رسہ لٹک رہا ہے میں نے اُسے پکڑا یہ دیکھنے کے لئے کہ مضبوط ہے یا کہ نہیں دونوں ہاتھوں سے پکڑکر اس پر اپنا بوجھ ڈالا۔ جونہی میںنے بوجھ ڈالا اور دیکھا کہ رسہ مضبوط ہے ،غیب سے آواز آئی"اسے مضبوطی سے پکڑو یہ میاں محمود کا رسہ ہے۔"یہ خواب سن کر آپ کے اہل بیت نے آپ کو مبارک باد کہی اور دن چڑھنے پر آپ نے اپنی بیعت کا خط لکھ دیا۔
    (اصحاب احمد ازملک صلاح الدین ایم اے جلد اول صفحہ83)
    …٭…٭…٭…
    ۵۔ حضرت منشی محمد اسماعیل صاحب کی رؤیا
    "منشی صاحب نے دعا کرنی شروع کی ۔ پہلے دن دیکھا کہ بارش ہورہی ہے اور آپ دو چھتریاں سر پر لگائے ایک سڑک پر جارہے ہیں اور ان کے سایہ تلے آپ کے پاس دائیں طرف دو مستورات ہیں۔ اچانک ان چھتریوں کے ٹانکے ٹوٹ گئے اور کپڑا اکٹھا ہوگیا، مستورات آپ کے پاس سے جانے لگیں تو آپ نے کہا ٹھہرو میں ابھی ٹانکے لگاتا ہوں ۔ آپ ایک طرف سے کپڑا کھینچتے تو دوسری طرف اکٹھا ہوجاتا ۔ دوسری طرف کھینچتے تو پہلی طرف اکٹھا ہوجاتا۔ یہ خواب آپ نے اکبر شاہ خان صاحب نجیب آبادی (ٹیوٹر بورڈنگ ) کو سنائی اور کہا کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول دو سائے تھے جو جاتے رہے ۔ اب ٹانکے یعنی خلافت سے وابستگی ہی فائدہ دے گی ۔ اس پر خان صاحب نے سوال کیا وہ عورتیں کون تھیں؟گھر گئے وہاں آپ کی لڑکی اور ہمشیرہ (بیوہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب)آئی ہوئی تھیں ۔ کہنے لگیں ہم تو بیعت کر آئی ہیں۔ اگر آپ نہ کریں گے تو ہمارا آپ سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔ پھر آپ نے اکبر شاہ خان صاحب کو سنایا کہ عورتوں والا حصہ بھی پورا ہوگیا۔ جس کے متعلق آپ دریافت کرتے تھے انہوںنے کہا اب تو بات صاف ہوگئی۔ اس طرح منشی صاحب نے بیعت سے قبل دیکھا کہ مولوی محمد علی صاحب کا معاملہ منشی صاحب سے قَلَّبُوْ لَکَ الْاُمُو ْرَوَضَرَبُو الَکَ الْاَمْثَالَکا ہے ۔ یعنی ہیرا پھیری کی باتیں کرتے ہیں۔ اسی طرح منشی صاحب نے بعض اور خوابیں بھی دیکھیں ۔ چنانچہ پانچ چھ دن کے بعد چوہدری غلام محمد صاحب ، اکبر شاہ خان صاحب ، منشی صاحب اور آپ کے بڑے بھائی غلام قادر صاحب نے صبح کے وقت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب دام فیضہم کے چوبارہ میں ، جہاں ان دنوں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی بیٹھا کرتے تھے بیعت کر لی ۔ "
    (اصحاب احمدازملک صلاح الدین صاحب ایم اے جلد اول صفحہ191)
    …٭…٭…٭…
    ۶۔ حضرت ملک مولابخش صاحب کی رؤیا
    "میںنے حضرت خلیفہ اوّل کو خواب میں دیکھا کہ وہ ایک سبز گھاس کے میدان میں ایک باغ میں تکیہ لگائے بیٹھے ہیں اور بیمار سے معلوم ہوتے ہیں۔ (آپ نے ) مجھے مخاطب کر کے ایک (ایسی) عجیب عبارت بولی جیسی ۔۔۔۔ میںنے نہ کبھی بولی ، نہ لکھی ، نہ سنی تھی۔ فرمایا ـ"انّا نے سانپ کو ، بڑھاپے نے جوانی کو مار ڈالا۔ تم بھی ایک میں اپنے اختلافات کو مار ڈالو۔ "بیدار ہوا تو مجھے یقین تھا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ بیعت خلافت کر لو۔ چنانچہ میں نے پہلے جلدی ہی (بیعت کا) خط لکھ دیا اور پھر بعد میں دستی بیعت بھی کی ۔ لاہور کے جلسہ (سالانہ ) کی تاریخ ابتداء ایک د ن پہلے تھی ۔ اس لئے پہلے دن میں نے لاہور کا جلسہ دیکھا اور پھر قادیان چلا گیا۔ خواجہ کمال الدین صاحب نے جو بوقت وفات حضرت خلیفہ اوّل ولایت میں تھے واپس آچکے تھے ۔ انہوں نے مجھے سٹیج پر بلا کر معانقہ کیااور کہا (کہ) یہ کیا ہورہاہے ۔ میںنے کہا (کہ) یہ تو آپ بڑے لوگ ہی جانیں۔ چونکہ وہ (بھی) کشمیری تھے اور میں بھی کشمیری۔۔۔۔۔۔(اسے مدنظر رکھ کر ) انہوں نے کہا "اچھا خیر ہے چاول رگڑ رگڑ کر ہی سفید نکلتے ہیں۔"
    (اصحاب احمداز ملک صلاح الدین ایم اے جلد اول صفحہ139-140)
    …٭…٭…٭…

    ۷۔ اکبر شاہ خاںصاحب کی رؤیا
    " اکبر شاہ خاں صاحب نجیب آبادی۔۔۔۔۔۔۔ایک روز سحری کے وقت حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کے پاس آئے اور کہا کہ مجھے خواب میں بتایا گیا ہے کہ حضرت میاں صاحب سچے خلیفہ ہیں۔ اس لئے میں بیعت کے لئے ابھی آگیا ہوں کہ شاید دیر ہونے سے کوئی اور اثر غالب نہ آجائے۔ چنانچہ انہوںنے بیعت کر لی۔ لیکن افسوس کہ پھر کسی معمولی بات کی وجہ سے وہ بیعت پر قائم نہ رہے ۔
    بلکہ آپ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے عہد مبارک میں اس بارہ میں اعلیٰ مقام یقین پر پہنچ چکے تھے چنانچہ آپ رقم فرماتے ہیں۔
    "حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی میں ہی میرا یہی اعتقاد تھا کہ حضرت مرز ا بشیر الدین محمود احمد صاحب ہی مصلح موعود ہیں ۔ میں نے انہی دنوں میں اس پیشگوئی پر اچھی طرح غور کیا تھا اس غورکے نتیجہ میں میں اس اعتقاد پر پہنچا تھا کہ مصلح موعود آپ ہی ہیں۔"
    (اصحاب احمداز ملک صلاح الدین صاحب ایم اے جلد 5 صفحہ150)
    حضرت مصلح موعود ان کے بارہ میں فرماتے ہیں ۔
    "اسی طرح اکبر شاہ خاں صاحب نجیب آبادی تھے ان کے متعلق اب سنا ہے نہ معلوم کہاں تک سچ ہے کہ ان کا سلسلہ سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ انہوںنے میری مخالفت کے دوران میں رؤیا دیکھی اور پھر انہوںنے بیعت بھی کر لی ۔ گو اس پر قائم نہ رہے۔"
    (خطبات جمعہ از مصلح موعود جلد نمبر11صفحہ223)
    ۸۔ حضرت ماسٹر عبد الرحیم صاحب اکونوی کا رؤیا
    خد اتعالیٰ کی قسم کھا کر لکھتا ہوں کہ حضرت خلیفۃ المسیح کی سابقہ بیماری کے ایام میں ایک دن جبکہ حضور خلد مکان کی حالت یاس افزا تھی اور ہمارے چہروں پر افسردگی چھارہی تھی ۔ اور آئندہ کے خیالی ہولناک واقعات کا تصور خوفزدہ کر رہا تھا تو میں نے تہجد کی نماز میں دعا کی "الٰہی بنے گا کیا"محمود کے ہاتھ پر تو بیعت کرنے کو جی نہیں چاہتا ۔اس کے بعد میں سو گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے میاں صاحب کی گردن پر ہاتھ رکھا ہو اہے اور مجھے دیکھ کر فرمایا ۔
    دیکھو! یہ پہلے بھی "اوّل" تھے اب بھی "اوّل" ہیں۔
    پس میںنے اُسی دن سے اپنے ناقص خیال سے رجو ع کر لیا اور یقین کرنے لگا کہ "محمود کی آمین"میں جو مسیح موعود علیہ السلام کی دعائیں ہیں ایک دن اُن کی قبولیت کا اظہار حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کے (-)اور امام سلسلہ عالیہ احمدیہ ہونے کی صورت میں ہوگا۔
    میںنے اس رؤیا کو اس جلسہ میں بھی سنا دیا تھا جو حضرت صاحبزادہ صاحب مصروحج کے لئے رخصت کرنے کی تقریب پر ہوا،اور جس پر غفران مکان حضرت خلیفۃ المسیح بھی تشریف فرما تھے ۔
    (الفضل قادیان 28؍مارچ1914ء )
    …٭…٭…٭…
    ۹۔ شیخ عبد القدوس صاحب نومسلم کاخواب
    16-15"؍مارچ1914ء کی درمیانی شب کو بعد نما ز تہجد یہ خاکسار سو گیا اور خواب میں دیکھتا ہوں کہ قادیان شریف میں بہت سے لوگ جمع ہورہے ہیں، اور اس عاجز کو اور چوہدری اللہ داد خان نمبردار احمدی محلانوالہ کو اور نیز اور چند احباب کو ایک مکان چوبارہ پر اتارا گیا ہے ۔ چوہدری اللہ دادخان اور دیگر احباب جانب دکن بیٹھ گئے ،اور عاجز اکیلا ہی جانب شمال بیٹھ گیا۔ اور درمیان میں مصلیٰ بچھا ہوا تھااور اسی مصلیٰ کی جانب مشرق ایک پلنگ بچھا ہوا ہے اور مصلیٰ پر حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام تشریف رکھتے ہیں اور آپ نے اس مصلیٰ پر جانب مشرق رخ انور کر کے دورکعت نما زنفل ادا کرنی شروع کی جب آپ سجدہ میں جانے لگے تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کی پشت مبارک پر ایک لڑکا جس کی عمر7یا8سال کی ہو گی بیٹھا ہوا ہے اور وہ لڑکا اس قدر حسین ہے ۔ ایسا شکیل لڑکا میری نظر میں کبھی نہیں دکھائی دیا،اور لباس اُس لڑکے کا سفید ہے اور سر پر ٹوپی ہے اور حضرت اقدس کا لباس میلا ہے کھدر کا کرتا ہے اور کھدر کا تہہ بند ہے ۔ اور گلے میں لدھیانہ کا کوٹ ہے ۔ اور ریش مبارک سیاہ ہے ۔ میںنے لباس دیکھ کر دل میں کہا کہ اللہ اللہ اس قدر اعلیٰ مراتب اور یہ سادگی۔ جب حضرت اقدس التحیات میں بیٹھے تو آپ نے اس عاجز کو اشارہ سے فرمایا کہ ذرا پیچھے ہٹ جاؤ۔ میں بیٹھا بیٹھا ذرا پیچھے ہٹ گیا۔ میرے دل میں حضرت صاحب کے اشارہ کرنے سے خیال آیا کہ شاید التحیات پڑھتے ہوئے بات کرنا گناہ نہیں ہے ۔ پھر حضرت اقدس نے کالج کی طرف اپنی انگشت شہادت کر کے تین دفعہ اَشْہَدُّ اَنَّ اَشْہَدُّ اَنَّ بڑے زور اور جلالت سے اور خاص کر مولوی محمد علی صاحب اور ان کے مکان کی طرف اشارہ کر کے پڑھا ،اور عاجز کو حضرت صاحب کی اس جلالیت اور جوش سے یہ تفہیم ہوئی کہ حضرت اقدس مولوی محمد علی صاحب کو گرانا چاہتے ہیں، اور پھر حضرت اقدس اس چوبارہ سے مکان کے نیچے کی طرف تشریف فرماہونے لگے اس وقت آپ کے دست مبارک میں ایک رومال اور باریک سی بید کی کھونڈی تھی اور آپ نے فرمایا!کہ ان لوگوں نے میری اس وقت قدر نہیں کی پھر کس وقت قدر کریں گے۔ اور یہ آپ کا فرمانا معلوم ہوتا تھا کہ مولوی محمد علی صاحب کی طرف ہے ۔ چوہدری اللہ داد خان ودیگر احباب نے مجھ سے پوچھا کہ حضرت اقدس نے کیا فرمایا! تو میں نے حضرت اقدس کی خدمت میں عر ض کی کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ حضرت اقدس نے کیا فرمایاہے ؟ تو آپ نے چہرہ مبارک ہماری طرف کر کے فرمایا:
    "بلبل درچمن آمدوگل قدر نہ کرد۔"
    ترجمہ: بلبل باغ میں آئی مگر پھولوں نے قدر نہ کی۔
    پھر آپ مکان سے نیچے تشریف لے آئے اور نیچے ایک بہت بڑا میدان ہے اور وہاں بہت سے لوگ جمع ہیں اور السلام علیکم السلام علیکم کہتے ہوئے تشریف لائے ۔ اور درمیان میں بیٹھ گئے۔ لیکن مولوی محمد علی صاحب کی طرف آپ نے پشت مبارک کی ہوئی تھی، اور دوآدمی جہاں ہم لوگ مکان کے اوپر بیٹھے ہوئے تھے آئے اور انہوں نے کہا کہ حضرت اقدس کا حکم ہے کہ آپس میں کسی بات میں نفاق نہ ڈالو۔ بعد ازاں مولوی محمد علی صاحب کھڑے ہوئے اور کچھ تقریر کرنی چاہی۔ لیکن تمام لوگ جو وہاں موجود تھے سب کے سب اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ اور ایک زبان ہوکر سب نے یہی کہا کہ حضرت اقدس کی موجودگی میں آپ کاکوئی حق نہیں ہے کہ آپ کوئی تقریر کریں ۔ مولوی محمد علی صاحب بیٹھ گئے لیکن حضرت صاحب نے فرمایا! کہ تم لوگوں کو میں نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ شور نہ کرنا سب بیٹھ جاؤ ۔ مولوی صاحب کو تقریر کر لینے دو۔ ہم خود بعد میں اس کی تردید کر دیں گے۔ لوگ بیٹھ گئے اور میری آنکھ کھل گئی۔ صبح بعد نماز فجر کے اس عاجز نے یہ اپنا خواب چوہدر ی اللہ داد خان نمبردار ومستری شہاب الدین کو سنا دیا، اور بعد ازاں یہ خاکسار امرتسر اپنے ایک کام کے لئے چلا گیا اور وہاں جاکر قریباًچار بجے معلوم ہوا ۔ حضرت خلیفۃ المسیح علیہ السلام کا وصال ہو گیا۔ انا للہ واناالیہ راجعون ۔ میںنے یہ اپنا خواب میاں اللہ بخش صاحب کلاہ فروش اور ایک اور صاحب کو جو وہاں موجو دتھے سنایا۔
    اس کے ساتھ دوشخصوں کی موّکد بہ قسم شہادت ہے کہ خواب پہلے سنایا۔ "
    (الفضل قادیان 28؍مارچ1914ء )
    ۱۰۔ حضرت منشی عمرالدین صاحب شملوی کا خواب
    حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات سے پہلی رات میں نے دیکھا کہ میں دارالامان میںہوں اور نماز ادا کرنا چاہتا ہوں، اور میر ارخ سکول سے قادیان کی طرف کو ہے، اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا نماز کے لئے دو جگہ تیاری ہے ایک تو مولانا محمد علی صاحب کے مکان کی طرف اور ایک اس کے مقابل قادیان میں ۔ اب میں کہہ رہاہوں کہ نماز کہاں پڑھیں ۔ دوسرے لوگوں نے کہا۔ کہ قادیان میں صاحبزادہ صاحب کے پیچھے ۔ بس میںنے اپنے قدم تیز کیا اور جہاں آپ تھے فوراً آگیاکیونکہ میرے دل میں بھی یہی تحریک ہوئی اور قدم خود بخود آپ کی طرف اٹھے اور وہاں بھی میںنے بہت سے لوگ دیکھے اور آپ کے ساتھ ہی جس شخص کو دیکھا وہ حافظ روشن علی صاحب تھے، اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا دوسری طرف نما زپڑھنے والے ہیں ہی نہیں۔تب میںنے آپ کے پیچھے نماز جنازہ اد اکی ۔ صبح میںنے یہ خواب اپنے دوست بابو عبد السلام سے ذکر کی ،اور کہاکہ رات اس طرح خواب دیکھا۔ خد اتعالیٰ فضل کرے ۔ چونکہ مذکورہ بالا خواب میں میری کوئی بناوٹ نہیں ہے ۔بلکہ یہ بھی میری تمنا نہیں تھی، کہ آپ ہی ضرور خلیفہ ہوں۔ اس لئے مجھے یقین ہوگیا کہ آپ ہی کے ساتھ ہونا چاہئے اس لئے میں صد ق دل سے آپ کو امام تسلیم کرتا ہوں، اور عرض کرتا ہوں کہ مجھے غلاموں میں داخل فرما لیں ۔
    (الفضل قادیان 28؍مارچ1914ء )
    …٭…٭…٭…

    ۱۱۔ مکرم جناب خواجہ عبدالواحد صاحب المعروف پہلوان
    گوجرہ ضلع لائلپور(فیصل آباد )
    "میں خداتعالیٰ کی قسم کھاکراس خواب کو تحریرکرتاہوں۔ جس کے قبضہ میںمیری جان ہے کہ مارچ1914ء میں جبکہ حضرت خلیفہ اوّل ان دنوں سخت بیمار تھے اور پیغامی فتنہ بھی سرنکال رہاتھا۔ میں ان دنوں ٹوبہ ٹیک سنگھ ضلع لائلپور تھااور دعا کیا کرتا تھا کہ یاالٰہی اگرخلیفہ اوّل فوت ہوگئے تو پھر جماعت کا کیا حال ہوگا(ایک رات خواب میں دیکھا جبکہ حضرت خلیفہ اوّل دودن کے بعد فوت ہوتے ہیں دیکھا کہ ایک بڑ اکھلا میدان ہے جہاں پر بہت سے لوگ جمع ہورہے ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے یہ میدان نیزہ بازی کاہے لوگ اس قدر ہیں ۔ زمین سفید کی ہر دوقطار جوادھر اوراُدھر کی ہے ۔ دکھائی نہیں دیتی ۔ چنانچہ میں بڑے زور اور کوشش سے تھوڑا ساراستہ دیکھ کر آگے نکل گیاتو دیکھتاہوں کہ حضرت مسیح الموعودوحضرت خلیفۃ اوّل اس میدان میں روڑے وکنکراٹھا کر باہر پھینک رہے ہیں۔ میںنے ہر دو بزرگوں سے مصافحہ کیا۔ یہ حالت آپ کی دیکھ کر مجھے تعجب ہوااور پوچھا کہ حضورآپ کا یہاں آناکس طرح ہوا۔ حضور کی طرف سے آواز آئی ۔کیا آپ کو معلوم نہیں ہے ؟میںنے بڑے ادب سے عرض کیا کہ حضور مجھے کوئی علم نہیں ہے۔ اس پر حضرت مسیح موعوداور حضرت خلیفہ اوّل نے یک زبان ہو کر فرمایامیاں محمودکی سواری آرہی ہے اور ہم اس کا راستہ صاف کررہے ہیں ا س کے بعدمیں بیدار ہوگیا اور رقت طاری ہوگئی ۔ میری آنکھوں میں خوشی سے آنسو جاری ہوگئے اور خدا کا شکر کیا۔ "
    (تاریخ تحریر22؍اکتوبر1939ئ)
    (بشارات رحمانیہ جلد 1صفحہ441-442)
    ۱۲۔ مکرم صوفی محمد علی صاحب ملہم لاہور کے کشوف ورؤیا
    صوفی محمد علی صاحب لاہور کی جماعت کے ایک مخلص اورخاص ممبر ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سابقین اولین خدام میں سے ہیں ۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی تصدیق وتائید میں بھی ان کے کشوف والہامات شائع ہوتے تھے ۔آپ نے حضور ؑکی خدمت میں مورخہ24؍مارچ1914ء کو درج ذیل مکتوب لکھا:
    "التماس ہے کہ یہ خاکسار حضرت اقدس مسیح زمان کے پہلے خادمین سے ہے اور آ پ کی عنایات اور فیضان سے مستفید ومستفیض ہوں اور ان کے قدوم کی برکت سے خد اتعالیٰ سے اکثر اوقات بطور انعام الہام ہوتے رہے اور ا ب بھی وہ سلسلہ بدستور جاری ہے ۔ حضور کی ولادت پر بہت سے مبشر الہامات اور مکاشفات اور رؤیا صادقہ اس عاجز کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوئے جو حضور کی علو شان کی بابت تھے اور انہیں ایام میں بخدمت حضرت اقد س لکھ کر روانہ کئے تھے مگر اب یاد نہیں رہے ۔ ان زلازل کی بھی پیش از وقت اللہ تعالیٰ سے خبر ملی جو خلیفۃ المسیح کی خدمت میں ارسال کر دی گئی۔ حقیقت میں ان سب کی بنیاد وطن کا ایک مضمون ہے جس میں اس نے خواجہ کمال الدین کو کہا کہ اگر احمدیت کو چھوڑ کر اشاعت کرو تو ہم بھی آپ کی مدد کرنے کو آمادہ ہیں خواجہ صاحب نے تو یہ بات قبول کر لی مگر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر تم احمدیت کو چھوڑ کر لکھو تو بتاؤ لکھو گے کیا؟ تب خواجہ صاحب خاموش ہوگئے وہی سلسلہ حضرت کی وفات کے بعد بھی پیش کیا گیا اور ایک عظیم الشان شور پڑ گیا ۔ان ایام میں مولوی صدر الدین صاحب لاہور میں قرآن شریف کا درس کیا کرتے تھے ۔ایک رات کو جب درس ختم ہوگیا تو خواجہ کمال الدین صاحب نے خلیفہ رجب الدین کو کہا کہ فلاں کمرہ اپنے گھر کا خالی کروادو ۔ کیونکہ وہاں مشورہ کرنا ہے میں گھر توچلا آیا مگر میرے قلب پر اس بات کا بہت اثر تھا جب رات کو سو گیا تو خواب میں دیکھا کہ ایک اونچی سقف کا مکان ہے جس کے چھت میں زنبوروں کا ایک چھتہ لگا ہوا ہے۔ تب میں نے ایک ڈہیلہ اس کو مارا تو وہ فوراً گر گیااور زنبور اُڑ گئے اور منتشر ہوگئے ۔ یہ خواب میںنے اکثر احباب کوجماعت میں بتادی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور اب بھی ویسا ہی ہوگا کہ وہی سلسلہ مخالفت کا یہاں تک پہنچتا ہے ۔
    دوسری یہ عرض ہے کہ جب مولوی صاحب رضوان اللہ گھوڑے سے گر گئے اور چوٹ شدید سے بیمار ہوگئے۔ تو میںنے خواب میں دیکھا کہ ایک قبر کھدی ہے اور بہت سے آدمی وہاں بیٹھے ہوئے ہیں اور مولوی صاحب مرحوم مغفور کا جنازہ ایک چارپائی پر رکھا ہے۔ قبر کے اندر میت رکھنے کے واسطے مشرق کی طرف سے ایک راستہ ہے ۔ میاں نبی بخش صاحب جو اس سلسلہ کے پرانے خادم ہیں اور میرے ساتھ دفتر میں بھی ملازم ہیں ۔ وہ قبر کے اندر گئے اور وہاں قبر میں لیٹ کر کہنے لگے قبر خوب وسیع ہے ۔باہر آگئے تب سب لوگوں میں ایک شوراُٹھا، کہ خلیفہ کون ہونا چاہئے ایک آدمی نے باآواز بلند پکارا کہ میاں محمود صاحب جو مستحق خلافت ہیں یہاں موجود ہیں ان کے ہاتھ پر بیعت ہونی چاہئے تب سب نے خوشی ظاہر کی ۔ یہ خواب بھی میںنے حضرت خلیفۃ المسیح مرحوم کی خدمت میں روانہ کردیا اور جماعت میں بھی اکثر احباب کی خدمت میں بیان کردیا۔ چنانچہ میاں مولا بخش اور میاں نبی بخش صاحب بھی اس بات کے شاہد ہیں۔21تاریخ کی صبح کو مجھے الہام ہوا" الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ وَلَاتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ" 22تاریخ کو صبح کے وقت الہام ہوا۔ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیَن۔23تاریخ کی شام کے بعد قریباً 8بجے مجھے کشفی طور پر دکھایا گیا کہ احمدیہ بیت الذکر میں کچھ لوگ باہر اور کچھ اندر بیٹھے ہوئے ہیں باہر والے لوگوں سے کئی آدمی اُٹھ کر ہنستے ہیں اور بیعت کردہ اشخاص سے بغلگیر ہوتے ہیں اور خوشی ظاہر کرتے ہیں ۔"
    اس رؤیا کی مکرم مولا بخش صاحب کلرک لاہوراور مکرم نبی بخش صاحب نے نہ صرف تصدیق کی بلکہ کہا کہ ہم نے یہ خواب قبل از وقت سنے تھے۔
    (اخبار الحکم28؍مارچ1914ء )
    …٭…٭…٭…
    ۱۳۔ حضرت مولوی محمد سعید صاحب حیدرآبادی کی رؤیا
    محمد اسحاق علی احمد بھیروی صاحب نے مولوی محمد سعید صاحب کی رؤیا کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا:
    "حضرت مولوی محمد سعید صاحب حیدرآبادی جماعت کے امام اور برگزیدہ رکن ہیں ان کی قابلیت زہد واتقا مسلم ہے وہ خود صاحب ارشا دہیں۔
    حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی وفات پر موجود تھے، اور خدمت سلسلہ انہوںنے مقامی بے نظیر خدمات کی ہیں۔ پانچ سال پہلے ان کو رؤیا کے ذریعہ معلوم ہوا اور حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں عرض کردیا ۔
    حیدر آبادی جماعت کا بیعت نامہ آگیا ۔
    یکایک حضرت اقدس جناب خلیفۃ المسیح علیہ السلام کے وصال کی خبر پہنچ گئی۔ اناللہ وانا الیہ راجعون ۔ خبر کے پہنچنے سے پیشتر اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کے دل میں ڈال دیا کہ ہم تیسرے دور میں ہیں جو عالی جناب صاحبزادہ صاحب کا ہے ۔ چنانچہ اس حالت کی تھوڑی ہی دیر بعد لاہور سے ایک تار بدیں مضمون پہنچا ۔ کوئی امام متفق طور پر منتخب نہیں ہوا۔ قومی فیصلہ کا انتظار کرو۔
    یہ سیکرٹری صدر انجمن کی طرف سے تھا۔ مکان پر پہنچتے ہی بعد از نماز ظہر میںنے حضرت مولوی میر محمد سعید صاحب سے عرض کی کہ یہ عاجز انصار اللہ میں داخل ہے اور چونکہ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام وحضرت خلیفۃ المسیح علیہ السلام کی طرف سے اجازت بیعت ہے۔ اس لئے اس وقت تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے خلیفہ کا تقرر آپ فرمادے ۔ میرا عہد بیعت منظور فرماویں کہ اس کا سب سے پہلے ماننے والا ہوں چنانچہ چنداور احمدی بھائی (میر فضل احمد صاحب برادر سیدبشارت احمد صاحب ، مومن حسین صاحب محمد غوث صاحب جو اس وقت موجو دتھے وہ تمام ساتھ شامل ہوگئے ) اور سب نے حضرت مولوی صاحب کے ہاتھ پر عہد کیا،اور انہوں نے خود بھی یہی فیصلہ دیا ،کہ اب حضرت صاحبزادہ صاحب کا دور مبارک ہے اور ہم سب آپ کی خدمت میں بیعت کی درخواست کرتے ہیں اور ایک اپنی خواب بھی دوبارہ سنائی، جس کو قریباً عرصہ پانچ سال گزرا ہے ۔ کہ آپ نے دیکھا تھا اور مجھے خوب یا دہے کہ انہی دنوں میں میںنے یہ خواب آپ سے سنا تھا انہوںنے دیکھا کہ
    حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام انبیاء کی جماعت میں ہیں اور حضرت خلیفۃ المسیح صدیقین کی جماعت میں ہیں ،اور آپ کے بعد ایک نوجوان ایک بڑی جدوجہد کے ساتھ بلند گھاٹیوں پر اس قدر سرعت سے چڑھ رہے ہیں کہ نظر کام نہیں کرتی اور وہ انبیاء کی صف میں ہیں ۔ ان کی محنت اور کوشش کے سبب ان کی پیشانی مبارک پر بہت پسینہ بہہ رہا ہے اور وہ پسینہ میںنے اپنی انگلیوں سے پونچھ کر ایک شیشی میں جمع کر لیاہے اور اس نوجوان سے مخاطب ہوکر کہتا ہوں کہ اس صدیق کے بعد اب ہمار ابھی کام ختم تھا مگر میں آپ کے کام دیکھنے کے لئے رہ گیا ہوں ۔ چنانچہ حضرت مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ میںنے یہ خواب حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں سنائی تھی۔ انہوںنے فرمایا کہ کیا ہم نام بتادیں جو ہم نے لکھ رکھا ہے عرض کی کہ حضور ہم غیب پر ایمان رکھتے ہیں بتانے کی ضرورت نہیں۔ یہاں بروز منگل جنازہ پڑھا گیا۔ اور جماعت احمدیہ کی طرف سے حضرت مولوی صاحب نے جماعت کے روبرو فرمایا کہ درخواست حضرت صاحبزادہ صاحب کی خدمت میں ارسال کی جاوے ۔ چنانچہ بصیغہ رجسٹری درخواست بیعت حضرت کی خدمت میں ارسا ل کی گئی ہے۔
    عاجز محمد اسحاق علی احمد بھیروی سعید منزل بی بی بازار حیدر آباد دکن عاجز انہ درخواست کنندوں میں سے ایک ہے ۔ (الحکم 28؍مارچ1914ء )
    …٭…٭…٭…
    ۱۴۔ حکیم فضل احمد صاحب کاتب قادیان کی رؤیا
    19"اور20؍مارچ1914ء کی درمیانی شب کو میںنے دیکھا کہ گاڑی میں سے سیالکوٹ کے اسٹیشن پر میں اترا ہوں ۔ اور آرام کے لئے سرائے مہاراجہ کی طرف روانہ ہوا۔ دیکھتا کیا ہوں کہ سرائے میں ایک عظیم الشان جلسہ ہورہا ہے۔ میںنے دیکھنا چاہا کہ یہ کیسا جلسہ ہے آدمیوں بیچوں بیچ زور سے ہیں جب آگے گیا تو حضرت مسیح موعودعلیہ السلام مجھ کو سامنے ایک نہایت نفیس چوکی پر بیٹھے ہوئے دکھائی دئیے اور ان کے داہنی جانب خلیفۃ المسیح کھڑے رو رہے ہیں اور زورز ور سے ایک لیکچر کا مضمون پڑھ رہے ہیں ۔ جب میں نے یہ نظارہ دیکھاتو دل بے قرار نے حضور کی قدم بوسی کے لئے زور دیا، اور میں جوں توں کر کے حضور اقدس کے قدموں کے نزدیک پہنچ ہی گیا۔ السلام علیکم اور مصافحہ کیا اور حضور نے میری طرف دیکھااور فرمایا کہ"فضل احمد آج تم کہا ں سے آتے ہو۔" میںنے عرض کیا کہ حضور قادیان سے آرہاہوں ۔ پھر فرمایا:قادیان کاکیا حال ہے؟ تو میں نے عرض کیا کہ حضور ہم نے میاں صاحب کواپناامام بنایا ہے ۔ مگر افسوس کہ بعض احباب حضور میاں صاحب کی سخت مخالفت کر رہے ہیں (غصہ کی آوازمیں فرمایا ) کہ تم واپس قادیان کب جاؤ گے ۔ میںنے عرض کیا کہ حضور پرسوں کو ضرور ہی چلا جاؤں گا ۔پھر مجھ سے فرمایا (کہ جب قادیان پہنچو تو ان سے کہہ دینا۔"دیکھوجو ہمارے مقابلہ کے لئے کھڑا ہوگاانشاء اللہ وہ ضرور ہی تباہ ہوجائے گا ہم کو لوگ آزمانہیں چکے ۔"اور میاں صاحب کو کہہ دینا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہم بھی ضرور پرسوں تک قادیان پہنچ جائیں گے ۔ پھر میں نے دیکھا کہ حضرت اقدس نے اسٹیشن سیالکوٹ سے مجھ کو قادیان کا ٹکٹ لے کر عنایت فرمایا ۔ اس وقت اسٹیشن پر حضور کے گرداگرد بہت لوگ جمع ہیں خدا جانے کہ وہ کیا چاہتے تھے مگر حضرت اقدس کے حکم کے منتظر تھے کہ میرا ٹائم پیس بولنے لگا تو مجھے معلوم ہوا کہ صبح کے ساڑھے چار ہوگئے ۔اس روز جمعہ کا دن تھا۔ میں نے یہ اپناخواب حضرت صاحبزادہ صاحب کی خدمت میں لکھ کر پیش کیا اور اپنا فرض ادا کرنے کے لئے اجازت پاکر سبکدوش ہوا۔" (الحکم14؍اپریل1914ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۵۔ ماسٹر ہدایت اللہ صاحب گجرات کی رؤیا
    "کچھ عرصہ ہوا ہے کہ میںنے خواب میں ایک درخت دیکھا جو چھوٹا سااور سفید رنگ کا ہے اس کے ساتھ انگور کا پھل لگا ہوا ہے مگر پھل اس کثرت سے ہے کہ درخت گویا بیچ میں دبا ہوا ہے اور پھل کا ایک سرا زمین سے لگا ہوا ،اور دوسرا سرا آسمان تک پہنچتا ہے اس درخت اور اس کثرت سے اس کے پھل کو دیکھ کر دل میں نہایت فرحت ہوئی ۔ تفہیم یہ ہوئی کہ یہ درخت جناب حضرت فضل عمر خلیفہ ثانی کاوجو دباجودہے اور پھل اس حضرت ممدوح کی برکات ہیں جو خد اکے فضل سے محیط عالم ہونگی ۔ واللہ اعلم بالصواب "
    ( الحکم 21؍جون1914ء )
    …٭…٭…٭…
    ۱۶۔ محترم فتح محمد خاں صاحب کا ایک رؤیا
    محترم فتح محمد خاں صاحب مولوی فاضل گولڈمیڈلسٹ پلنگ پور ضلع گوجرانوالہ نے ایک خط سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خدمت میں تحریر فرمایا:
    "پیارے آقا! خاکسار1892ء سے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کا(رفیق) ہے تقریباً25یا26 برس کا عرصہ ہوا ہے ۔میںنے خواب میں دیکھا کہ ہمارے گھر موضع چنگن ضلع لدھیانہ میں چارپائی بچھی ہوئی ہے جس کا سرہانہ کعبۃ اللہ اور پائینی مشرق کی طرف ہے اس پر آپ رونق افروز ہیں ۔ آپ کا منہ قطب کی طرف ہے آپ کی شکل نہایت روشن اور خوبصورت ہے ۔ میں آپ کے چہرہ کو دیکھ کر کہتا ہوں کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم آگئے ۔ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم آگئے ۔اپنی بیوں کو کہتا ہوں کہ اعلیٰ درجہ کی باسمتی پکاؤ۔ اسی خوشی میں باہر اپنے بھائیوں کو بلانے کے لئے چلا گیا ہوں کہ آؤ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زیارت کر لو۔ جہاں آپ کی چارپائی دیکھی تھی بعد میں وہاں میںنے ایک نلکا لگایا تھا جس سے سب گھر والوں نے پاکستان بننے تک کافی فائدہ اُٹھایا۔
    میرے آقا!1892ء غالباً فروری میں عبد اللہ صاحب ٹونکی نے لاہور میں ایک اشتہار دیا تھا کہ جب مرزا صاحب لاہور میں آئیں گے میں ان کے ساتھ مباحثہ کروں گا۔ میں ان دنوں میں طالب علم تھا ۔ میرے استاد مولوی حبیب الرحمن سہانپوری تھے جن کے والد مولوی احمد علی صاحب ہیں جنہوں نے مشکوٰۃ شریف میں حاشیہ لکھا ہوا ہے۔ مجھے کہا تم ہوشیار ہو۔ آج مرزا صاحب سے ٹکر لو۔ مجھے اپنے علم میں نازاور پورا یقین تھا ایک نوجوان کو ہمراہ لے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ لیکن اور کوئی اعلان یااشتہار دینے والوں میں سے نہ تھا۔ حضور کی زیارت کرتے ہی ایسا رعب پڑا کہ سکتہ کی حالت ہوگئی۔ میںنے دوسرے طالب علم کو کہا کہ کوئی سوال کرو۔ اس نے اشارہ کیا کہ مجھ میں جرأت نہیں ہے ۔ میںنے سنبھلتے ہوئے چند ایک اعتراض حضور کی خدمت میں پیش کئے ۔ جن کا ٹھوس اور تسلی بخش جواب مل گیا۔ حضور کی شان اور جلالی وقار اور زیارت ہونے پر غرور اور تکبر حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے پہاڑ سے ٹکڑا کر ریزہ ریزہ ہوگیا۔ آپ کی بیعت میں شامل ہوکر ہمیشہ آپ کا گرویدہ ہوگیا۔ میرے پیارے آقا میں نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی شان کو آنکھوں سے دیکھا ہوا ہے آپ حضور کی پیشگوئی کے مصداق برحق خلیفۃ المسیح الثانی والمصلح الموعود ہیں ۔ ہر وہ شخص جو آپ کی مخالفت کرے گا یقینا ناکام رہے گا۔ حضور کی غلامی میں زندگی اور موت کا متمنی ہوں ۔ اللہ تعالیٰ حضور کو صحت وتندرستی وزندگی دراز عطا فرما کر سلسلہ عالیہ احمدیہ کا حافظ وناصر ہو۔ اللھم آمین
    …٭…٭…٭…
    ۱۷۔ مکرم منشی فاضل فتح علی صاحب آف دوالمیال ضلع چکوال کی رؤیا
    حضرت خلیفۃ المسیح کی حضرت علی سے مماثلت
    11"یا12ء میں حضرت خلیفۂ اوّل کے عہد خلافت میں میںنے ایک خواب دیکھا کہ میں ایک عالی شان مسجد میں گیا ہوں جس کے صحن میں ایک چھوٹا سا تالاب ہے ۔ وہاں پہنچتے ہی مجھے ایک شخص نے کہا کہ مسجد کی دیوار کے اوپر جو لکھا ہوا ہے وہ پڑھ لو۔ میںنے دیکھا تو جلی قلم کے ساتھ لکھا تھا
    چراغ ومسجد ومحراب ومنبر ابوبکرؓ وعمرؓ ، عثمانؓ وحیدر ؓ
    اس نے کہا سمجھ لیا؟ میںنے کہا ہاں ۔اس نے وضو کے لئے کہا کہ یہاں سے نیچے سیڑھیوں سے اُتر جاؤ۔ میںنیچے سے وضو کر کے آگیا تو یوں معلوم ہوا کہ وہ مسجد اقصیٰ ہے ۔ جو قادیان میں ہے ۔ اسی اثناء میں لوگ جمع ہونے لگے اور کہا کہ حضرت عمرؓ مسجد میں تشریف لائے ہیں میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ہو بہو حضرت خلیفہ اوّل کی شکل کے تھے ۔ میںنے کہا !یہ تو حضرت مولوی صاحب ہیں ۔ لوگوںنے کہا کہ یہ حضرت عمر ؓ ہیں ۔ وہ آکر بیٹھ گئے اور بہت سے لوگ حلقہ بنا کر ان کے پاس بیٹھ گئے ۔ پھر لوگوں نے کہا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ تشریف لائے ہیں۔ میںکیا دیکھتا ہوں کہ وہ ہو بہو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی شکل اور خدو خال میں ہیں۔ سفید کپڑے پہنے ہیں پھر میں کہتا ہوں کہ یہ تو حضرت صاحبزادہ صاحب ہیں لوگ کہتے ہیں کہ یہی حضرت علی ؓ ہیں پھر میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ جو حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی شکل وشبہات میں تھے ان کے پاس بیٹھ گیا۔ تاکہ ان کی مجلس سے کچھ فیض اُٹھاؤں دو تین آدمی دوالمیال کے بھی اس مجلس میں دیکھے ایک تو بالکل دور بیٹھا تھا اور وہ غیر احمدی تھا مگر د واحمدی بھائی جن میں سے ایک بالکل میرے پاس تھا بیٹھے تھے ۔خواب میں میر اساتھی مجھ کو کہتا ہے کہ حضور کے ماتھے سے جو نور کی شعاع نکل رہی ہے اس کو بھی دیکھ رہے ہو میںنے کہا میں توجہ سے دیکھ رہاہوں یہ خواب انہی دنوں میں نے بیسیوں آدمیوں کو سنا ئی اور سب نے یہ نتیجہ نکالا کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے بعد خلافت کا سلسلہ اسی طرح چلے گا جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد نیز حضرت خلیفۃ اول جو حضرت ابوبکرؓ وعمر ؓ کے بروز ہیں ۔ان کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شکل میں دکھائے گئے ہیں خلیفہ ہوں گے نہایت جھوٹے وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ خلیفے لوگ بناتے ہیں۔ جب چاہیں ان کو خلافت سے معزول کردیں ۔
    (الفضل 13؍مارچ1938ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۸۔ مکرم فضل الرحمان صاحب آف قادیان کا رؤیا
    "یکم جولائی 1913ء دوپہر کے وقت موضع چوہان تحصیل چکوال ضلع جہلم میں جبکہ میں آشوب چشم کی وجہ سے درد شدید میں کراہ رہا تھا مجھے ذرا سی غنودگی ہوئی ۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایسی جگہ ہے جس کو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ۔ بہت لوگ ادھر ادھر پھر رہے ہیں۔ ایک شخص عربی لباس میںمجھے ملا ۔وہ کہتا ہے کہ میں مطوف ہوں ۔ کیا تم حج کرنا چاہتے ہو۔ کہ میں تمہیں حج کراؤں ۔ میںنے پوچھا کیا یہ مسجد حرام ہے ۔ اس نے کہا! ہاں یہ دیکھو یہ سب حاجی پھر رہے ہیں جو حج کے لئے آئے ہیں میں نے کہا ہاں میں ضرور حج کروں گا۔ اس نے کہا ! آؤ میرے پیچھے میں اس کے پیچھے چلا ۔ چند قدم جاکر اُس نے مجھ سے دریافت کیا کہ کیا تم حج کرو گے یا پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زیارت کرو گے۔ میں بہت خوش ہوا میںنے کہا ! میرا حج تو نبی کریم کی زیارت ہے ۔ پہلے میں زیارت کروں گا۔ تو وہ مجھے ایک بہت وسیع کمرہ میں لے گیا۔ جو نہایت خوبصورت فرش سے آراستہ تھا۔ کمرہ کی مغربی طرف جہاں مسجد کا محراب ہوتا ہے۔ دیوار کے پاس ایک چارپائی ہے جس پرایک شخص سویا ہوا ہے اور اس کا تمام بدن ایک چادر سے ڈھکا ہوا ہے ۔ سرہانے کے قریب دیوار میں ایک طاق ہے ۔ اس میں دو صراحیاں سرد پانی کی رکھی ہیں اور دو گلاس پڑے ہیں سرہانے کی طرف ایک ضعیف العمر پرانے فیشن کا مولوی کھڑا ہے۔ سفید ریش چارپائی کے اردگردحلقہ باندھ کر بہت لوگ بیٹھے ہیں اور درود شریف پڑھ رہے ہیں۔ وہ عرب مجھے کہتا ہے کہ دیکھو یہ نبی کریمؐ کی نعش ہے اور یہ لوگ درود پڑھ رہے ہیں تم بھی بیٹھ جاؤ اور درود شریف پڑھو۔ چارپائی کی پائینتی کی طرف تاکہ آپ کا منہ مجھے نظرآسکے بیٹھ گیا ہوں اور دل میں کہتا ہوں کہ یہ بات تو مشہور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زیارت کبھی شیطانی نہیں ہوتی۔ درود شریف رو رو کر پڑھتا ہوں اور دعا کرتاہوں کہ الٰہی ایک دفعہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زیارت ہوجاوے ۔ اتنے میں چہرہ مبارکہ سے کپڑا اُترا اور آپ نے پانی مانگا۔ اُس پرانے فیشن کے مولوی نے گلاس میں دو چار گھونٹ پانی دیا اور پھر گلاس رکھ دیا۔ پھر آپ نے آنکھ کے اشارہ سے مجھے بلایا۔ میں قریب گیااور چارپائی کی پٹی پر دونوں ہاتھ رکھ کر پلنگ پر جھک کر کھڑا ہوگیا۔ تو آپ نے آہستہ سے فرمایا کہ مجھے بہت پیاس ہے ۔ اور یہ شخص مجھے پانی میں کوئی ایسی دوائی ملا کر پلاتا ہے کہ جس سے نہ تو میری پیاس بجھتی ہے اور نہ میں زندہ ہوتا ہوں۔ تم اگر مجھ کو پانی پلاؤ تو میں سیر ہوکر زندہ ہوجاؤں۔ میں نے اُس شخص کی آنکھ بچا کر گلاس بھر پانی پلادیا تو آپ نے پہلو بدلا ،اور فرمایا دیکھو اب زندگی کے آثار شروع ہوگئے ہیں۔ میں نے پھر رو کر عرض کیا ۔ یارسول اللہ احمدیوں کی حالت بہت کمزور ہے امداد کرو۔ یارسول اللہ اسلام سخت تنزل میں ہے۔ اس کے لئے دعا کرو۔ یا رسول اللہ میرے والدین کے لئے دعا کرو ۔ یارسول اللہ میری نجات کے لئے شفیع بنو۔ فرمایا ! تمہاری دعائیں قبول ہوگئیں ۔ پھر آپ کا چہرہ بہت سرخ ہوگیا اور جوش کے ساتھ پائینتی کی طرف یہ کہتے ہوئے کھڑے ہوگئے کہ لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ کا نیزہ ہاتھ میں پکڑو اورپھر تم کامیاب ہو۔ میں دوڑا کہ سامنے ہو کر پوری زیارت کر لوں۔ جب سامنے گیا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں کہ صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کھڑے ہیں۔
    اس خواب کی میں اسی روز یا اس سے دوسرے روز ایک نقل حضرت قبلہ خلیفۃ المسیح مولوی نور الدین صاحب کو لکھی۔ اور اس کے ساتھ ایک نقل صاحبزادہ صاحب کو اور ایک شیخ یعقوب علی صاحب کو لکھ دی ۔اور یہ خواب میںنے بعض احباب چوہان اور جہلم شہر کے روبرو بھی بیان کی جو اس وقت تک گواہ موجود ہیں۔ میںنے حضرت قبلہ کو اس کے ساتھ اس کی تعبیر جو میرے خیال میں آئی وہ بھی تحریر کی ۔ وہ یہ تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا مردہ گویا اسلام مردہ ہے۔ پرانے فیشن کے مولوی نہیں چاہتے کہ اسلام پھر زندہ ہو۔ ہاں کوئی رحمن کے فضل کا ہاتھ ایسا پانی پلادے گا جس سے اسلام پھر زندہ ہوجاوے گااور اُس کی زندگی کی ترکیب یہ ہوگی کہ مسلمان لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا نیزہ ہاتھ میں پکڑ لیں ،اور یہ کامیابی صاحبزادہ صاحب کے ہاتھ سے انشاء اللہ ہوگی۔
    حضرت قبلہ نے جو الفاظ ا س کے جواب میں مجھے اپنی قلم سے لکھے وہ یہ ہیں ۔ خواب بہت عمدہ ہے اور تعبیر یہی صحیح ہے اورانشاء اللہ اس طرح پوری ہوگی۔ تم خود بہت سست ہو، اس کے دور کرنے کی کوشش کرو۔
    میرے لئے تو یہ خواب حضرت صاحبزادہ صاحب کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی رہبر ہوئی۔ یہ خواب نہ دلی خیالات کا خاکہ ہوسکتی ہے اور نہ یہ بناوٹی ہوسکتی ہے۔ میںنے اُسی روز دل میں عہد کر لیا تھا کہ حضرت قبلہ کی وفات کے بعد اگر صاحبزادہ صاحب کے سوا کوئی اور شخص خلیفہ بنے تو بھی میں انشاء اللہ انہیں کے ہاتھ پر بیعت کروں گا خواہ یہ کسی کی بیعت کریں ۔ "
    (الفضل22؍مئی1914ء )
    ۱۹۔ حضرت میاں چراغ الدین صاحب کی پوتی کا خواب
    "صبح جمعرات حضرت مسیح موعود حضرت خلیفۃ المسیح حضرت میاں محمود احمد صاحب ہمارے گھر میں آئے ۔ بڑی بڑی چار پانچ ٹوکریاں سیبوں اور سنگتروں کی لائے اور میاں چراغ الدین صاحب اور ان کے کنبہ کے لئے ہیں اور فرمایا تم ان کو کھاؤ اور تم بھی کھاؤ اور فرمایا کہ جلدی کرو کہ ہم نے ہفتہ کو چلے جاناہے ۔ بڑا ضروری کام ہے ٹھہر نہیں سکتے ۔ میاں محمود تمہارے پاس ہے اس کو چارپائی پر بٹھلا کر آپ چلے گئے۔"
    (الفضل08؍اپریل1914ء )
    …٭…٭…٭…
    ۲۰۔ مکرم محمد حسین صاحب طبیب آف بھیرہ کارؤیا
    "میرا ایک پرانا رؤیا جو حضرت مغفور مسیح موعود علیہ السلام کا تصدیق شدہ اور حضور حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں نہایت پسندیدہ اور منظور شدہ تھا۔ اس وقت اس کا ظاہر کرنا ضروری ہے۔ جس سال حضرت اقدس نے عبد اللہ آتھم سے جنگ مقدس کر کے دارالامان کا ارادہ کیا تھا۔ اُن دنوں میں خاکسار بھی حضرت کے ہمراہ امرتسر میں تھا۔ مجھے رؤیا میں دکھلایا گیا کہ ایک بڑے گہرے سمندر میں طوفان آیا ہوا ہے مگر ایسا شدید طوفان ہے کہ اس کی موجیں آسمان تک پہنچ رہی ہیں ۔ اس سمندر کے کنارے پر حضرت مولوی نور الدین صاحب مرحوم کھڑے ہیں میں نہایت گھبرایا ہوا آپ کی خدمت میں پہنچا ہوں ۔ آپ نے فرمایا کہ خدا کا شکر کرو کہ میرے پاس پہنچ گئے ہو۔ میں تم کو ایک عجیب نظارہ دکھلاتا ہوں۔ وہ دیکھو طوفان میں دو چیزیں کیا ہیں میںنے دیکھا تو دو بطخیں طوفان کے اوپر نمودار ہوئی ہیں۔ بڑی بطخ جب کنارہ کی طرف پہنچی ہے تو معلوم ہوا ہے کہ وہ بطخ نہیں بلکہ حضرت اقدس مسیح موعودومہدی مسعودعلیہ السلام حضرت مرزا صاحب مغفور ہیں ۔ اور دوسری بطخ جو آپ کے پیچھے آرہی ہے وہ آپ کے صاحبزادہ میاں صاحب مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ہیں جو اس وقت بالکل چھوٹے بچے تھے (مگر رؤیا میں ایسا دکھلایا گیا کہ بڑی بطخ کے برابر یہ دوسری بطخ بھی جو پہلی کے پیچھے چل رہی ہے چستی اور زور میں یکساں ہے ۔ ) ان دونوں بطخوں کے تیرنے اور زور سے چلنے اور پھڑ پھڑانے کی برکت سے طوفان کم ہوتا گیا ہے اور کناروں سے نیچے پہنچ کر امن کی صورت نمودار ہونے لگ گئی ہے ۔ سمندر کے کنارے ایک کشتی بشکل جہاز نمودار ہوئی ہے جس کی تین منزلیں ہیں۔ ان میں لوگ سوار بھی ہیں اور کنارے پر ہزار ہا مخلوقات پکارتی ہے کہ خداکے واسطے ہم کو بھی سوار کرو۔ چنانچہ ان سوار ہونے والے لوگوں میں کئی لوگ میرے دوست بھی ہیں جن کو میں شناخت کرسکتا ہوں۔وہ دونوں بطخیں بڑے بادشاہوں کی شکل میں نمودار ہوکر کنارے پر آگئی ہیں اور سمندر خشک ہوتا ہوتا زمین ظاہر ہوگئی ہے ۔ اس زمین پر حضرت خلیفۃ المسیح کے مکانات ظاہر ہوئے ہیں۔ ان کا نام سنتے ہی مجھے یقین ہوگیا تھا کہ حضرت اقدس علیہ السلام کی وفات کے بعد مولوی صاحب خلیفہ ہوں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ یہ رؤیادونوں حضرتوںکی خدمت میں بیان کی گئی، اور دونوں نے اس کی کمال تصدیق فرمائی ۔
    اب دوسرے خلیفہ کا عہد آگیا ہے اس وقت رؤیا سے مقابلہ کر کے دیکھنا ہے کہ جن دو بطخوں کے زور اور برکت سے طوفان کفر وشرک کا زور ٹوٹ گیا تھا۔ اس کا دوسرا نمبر پہلی بطخ کی پیروی پر تھا جس سے صاف ثابت ہوا کہ حضرت مہدی مسعود کے فرزند رشید کی برکت ہمارے واسطے ابتداء ہی سے شامل تھی چنانچہ رؤیا سن کر حضرت اقدس نے تعبیر میں فرمایا کہ وہ میرا موعود فرزند جس کی برکت دنیا کے کناروں تک پہنچنی ہے ۔تم کو میرے ساتھ دکھلایا گیا ہے، اور یہ رؤیا ایسی صادق ہے کہ جس کی صداقت اظہر من الشمس ہے۔ اس رؤیا کے پیچھے دس بارہ سال کے بعد ایک رؤیا اور دیکھا تھا۔ وہ بھی ظاہر کرنا ضروری ہے ۔
    چھوٹی مسجد میں جو حضرت اقدس کے دولت خانے کے ساتھ ملحق ہے اس کو میں نے اتنا بلند دیکھا ہے جیسے دور سے ستارہ نظرآتا ہے اور ا س پر نور کے حروف سے لکھا ہوا دیکھا ہے ۔"مقام محمود" اس کی تعبیر ہر ایک دانا خود سوچ سکتا ہے ۔ مجھے یہ سچی خوابیں جو دکھلائیں گئیں ان کا ظاہر کرنا اس مخالفت کے زمانہ میں ضروری معلوم ہوا ۔ ان کو مشتہر فرمانا ضروری سمجھیں تو آپ کی مرضی ۔ "
    (الفضل 08؍اپریل1914ء )
    …٭…٭…٭…
    ۲۱۔ مکرم سید ناصر شاہ صاحب سب ڈویژنل آفیسر محکمہ پبلک ورکس جموں کا رؤیا
    1907ء کو رؤیا میں دیکھا کہ
    "یہ عاجز خاکسار بٹالہ قادیان والی سڑک پر جو دارالامان کی طرف جاتی ہے ہوا میں زمین سے پچاس فٹ اونچااور سیدھا آرہاہوں ۔ گول کمرہ کے سامنے جو صحن ہے ۔ اس میں اترا ہوں اور جہاں پر حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے مکان کا برآمدہ ہے ۔ وہاں حضور کھڑے ہیں ۔ میںنے چاہا کہ مصافحہ کروں اتنے میں دیکھتا ہوں کہ حضور کا ہاتھ اس قدر لمبا ہوگیا۔ کہ صحن گول کمرہ تک پہنچا۔ اور میںنے السلام علیکم کہہ کر مصافحہ کیا ۔ حضور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے گول کمرہ کے اوپر والے دالان میں جہاں حضرت اقدس علیہ السلام پہلے بیعت لیا کرتے تھے لے گئے اور دالان کا دروازہ کھول دیا ۔ معلوم ہوا کہ اندر حضرت اقدس علیہ السلام تشریف فرما ہیں ۔ حضور نے میرا ہاتھ حضرت اقدس علیہ السلام کے ہاتھ میں دے دیا۔ اتنے میں وہ نقشہ بدل گیا۔
    اس عاجز نے اسی وقت یہ کشف اخویم میاں شہاب الدین صاحب مرحوم ساکن تہہ غلام نبی کو جو کہ اس وقت میرے پاس تھے سنایا ،اور پھر حضرت اخویم مکرم سید فضل شاہ صاحب کو کئی دفعہ سنایا ۔ جو کہ اب دارالاماں میں موجود ہیں۔
    آج اللہ تعالیٰ نے حضور کا ہاتھ لمبا کیا ہے اور اس عاجز کا حضور کے ہاتھ میں دے دیا۔ الحمد للہ علے ذالک ـ"
    (الفضل30؍مارچ1914ء )
    …٭…٭…٭…
    ۲۲۔ حضرت قاضی حبیب اللہ صاحب آف لاہور کے رؤیا وکشوف
    1911ء کومحترم قاضی حبیب اللہ صاحب نے ایک خواب دیکھاجو آپ نے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی خدمت میں پیش کردیا ۔ آپ نے ا س کی جو تعبیر فرمائی۔ محترم قاضی صاحب نے اُسے اپنی خواب کے ساتھ یوں بیان فرمایا ۔
    "ایک رات میںنے دیکھا کہ رسالہ بازار چھاؤنی لاہور میں کھڑا ہوں ۔ اور مجھ کو مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر بدر ملے ہیں۔ وہ مجھ کو کہتے ہیں کہ آج رات کو آسمان پر عجیب تماشہ ہوگا۔ پھر میں ایک میدان میں جاکر بیٹھ گیا ہوں، اور منہ میرا مشرق کی طرف ہے اور آسمان کی طرف دیکھ رہاہوں کہ آسمان پر ستارے ٹوٹتے ہیں۔ میں حیران ہوں گویا اس وقت آسمان پر آتش بازی ہورہی ہے ۔ پھر میںنے مشرق کی طرف خیال کیا تو مشرق کی طرف سے کوئی سفید سی روشنی نمودار ہوئی۔ معلوم ہوا کہ چاند نکلنے والا ہے ۔ جب چاند تھوڑا سا نکلا ،توبادل اس پر چھا گیا گویا وہ بادل آگے ہی اس کے منتظر تھے۔ کہ چاند کب نکلے اور ہم اس کو اپنے نیچے چھپا لیں ۔ جب چاند سارا نکل آیا مگر بادلوں میں چھپاہوا تھا۔ کبھی چاند کی روشنی ہوجاتی تھی، اور کبھی بادل چاند کو ڈھانپ کر اندھیرا کر دیتے تھے ۔ بادلوں کا رنگ سیاہی مائل سفید تھا۔ چاند اپنی منزل طے کرتا گیا۔ مگر بادل اس کے ساتھ ساتھ رہے ۔ کبھی چاند روشن ہوجاتا تھاکبھی بادل اس چاند پرآجاتے تھے ۔ حتیٰ کہ چاند سر پر آگیا ۔پھر اسی جگہ مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر بدر آموجود ہوئے ۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ مفتی صاحب یہ کیا اندھیرا ہے ۔ کہ چاندکا پیچھا اب تک بادل نہیں چھوڑتے ۔ پھر وہ ہنس کر چلے گئے ۔ پھر دیکھا کہ کچھ بادل ایک طرف اور کچھ بادل ایک طرف چلے گئے ہیں اور چاند نے اپنا پورا چہرہ دکھلایا۔ پھر میں بیدار ہوگیا ۔پھر شاید اسی رات حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجھ کو خواب میں ملے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ باتیں اس وقت تک سر بمہر رہیں گی۔ جب تک کہ ان کا وقت نہ آجاوے۔ پھر میں قادیان میں گیا تو حضرت خلیفۃ المسیح موعود علیہ السلام مولانا مولوی نور الدین صاحب مرحوم مغفور کے آگے یہ خواب بیان کی۔ اس وقت تین چار آدمی شام کی نماز کے بعد آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ میںنے یہ خواب آپ کو سنائی۔ آپ نے خواب کو سن کرفرمایا کہ ایک وقت اسلام پر ایسا آئے گا جو بہت خطرناک ہوگا ۔ خد ارحم کرے۔ مگر انجام بخیر ہے پھر فرمایا!کہ دیکھو آپ نے ہماری نصیحت یاد رکھنا۔ ہمارے بعد جب کوئی دوسرا خلیفہ ہووے تو اس کو فوراًمان لینا اس کا انکار نہ کرنا۔
    پیارے دوستو!آج وہ وقت آگیا ہے اس لئے میں نے عرض کر دی ہے اور میں نے قادیان میں ہی حضرت صاحبزادہ صاحب کو خلیفۃ المسیح موعود مان لیا ہے ۔
    اس خواب کی تائید میں محترم قاضی حبیب اللہ صاحب نے درج ذیل خوابیں تحریرفرماویں۔
    ‏i۔ (1911ئ)ایک رات دیکھا کہ میںاور صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب ایک بلندی کی طرف چڑھ رہے ہیں،اور میںنے صاحبزادہ صاحب سے کہا کہ لومبارک ہوکہ جو وصیت مولوی نور الدین صاحب نے فرمائی ہے اور خفیہ رکھی ہوئی ہے وہ آپ کے متعلق ہے ۔
    ‏ii۔ پھر ایک روز سجدے میں پڑا ہوا سلسلہ کی بہتری کے واسطے دعائیں کر رہا تھا ۔ کہ خطرناک جنگل دیکھا ۔مجھ کو سمجھایا گیا۔ کہ یہ جنگل کا جھگڑا ہے پھر میں جھگڑا کے فرو ہونے کے واسطے دعائیں کرنے لگا تو معلوم ہوا کہ ان درختوں میں ایک روشنی نکل رہی ہے اور وہ روشنی دم بدم بڑھ رہی تھی۔ پھردیکھا کہ ایک سفید پگڑی دکھائی دی، اور میں پھر دعاؤں میں لگا تو دیکھا کہ ایک شخص سفید لباس پہنے ہوئے کھڑا ہے اور وہ درخت گم ہوگئے ہیں۔ اور وہ شخص صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب ہیں ۔
    ‏iii۔ 06؍مارچ یا07؍مارچ1914ء کو تھوڑی سی غنودگی ہوکر کشفی حالت ہوگئی۔ دیکھا میرے سامنے صاحبزادہ صاحب کھڑے ہیں اور مجھ کو الہام ہوا (اب اس کی تائید کرنے کا وقت آگیا ہے ) پھر میں بیدار ہوگیا۔
    ‏iv۔ پھر ایک روز17 و18؍مارچ1914ء کی درمیانی رات کو جبکہ میںنے دعا کی کہ اے مولا کریم ان جھگڑوں کا کیا انجام ہوگا۔ الہام ہوا۔ کنواریاں کنواریاں ہی رہیں گی اور بیاہیاں بیاہیاں ہی رہیں گی۔ اس کے یہ معنی سمجھے ،کہ جنہوںنے بیعت کرنی ہے وہ کر لیں گے جنہوںنے نہیں کرنی وہ نہیں کریں گے ۔
    (الفضل30؍مارچ1914ئ)
    ۲۳۔ مکرم محمد شریف صاحب پلیڈر کا رؤیا
    "(خاکسار نے) دیکھا کہ ایک نہایت عظیم الشان عمارت کے قریب ایک عالی شان مسجد میں حضرت خلیفۃ المسیح خلیفہ اوّل برحق مولوی نور الدین صاحب بیٹھے ہوئے ہیں۔ اور حکیم محمد حسین صاحب قریشی اور بابو غلام محمد صاحب فور مین ریلوے پریس لاہور حضرت ممدوح کے قریب جاکر بیٹھ گئے۔ اور خاکسار بھی حضور ممدوح کے پاس جاکر بیٹھ گیاہے ۔ اس وقت حضرت ممدوح نے فرمایا کہ آپ نے مولوی محمد علی صاحب کی تقریر سن لی ہے اور ان کے دوسرے ہم خیال بزرگوں کی طرف اشارہ کر کے ارشاد کیا۔ کہ ان لوگوں سے مت ڈرو اور ان کا خوب مقابلہ کرو ۔ یہ میرے ساتھ مقابلہ کرتے تھے۔ لیکن میںنے ان کو کہا تھا کہ ایسا اختلاف مت کرو۔ اور حضرت ممدوح نے فرمایا کہ یہ لوگ سمجھتے نہیں، اور اپنے مال ودولت کے گھمنڈ میں ہیں ،اور میں تو ٹاٹ پر بیٹھ کر علم پڑھانے والا آدمی ہوں ۔ میرا ان کا کیا مقابلہ۔ پھرفرمایا ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کوبہت سے الہامات میاں محمود کے متعلق ہوئے تھے ۔ اور آپ نے اس عظیم الشان عمارت کے ایک طرف اشارہ کر کے کہا۔ کہ اس جگہ ان کو الہام ہوا تھا ،کہ میاں صاحب بشیر ہیں ،اور پھر اُسی عمارت کی دوسری طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ وہ فضل اور عمر ہیں۔ (ان کو حضرت عمر ؓ سے تشبیہ ہے) اور ایک اور طرف اشارہ کر کے کہا کہ اس جگہ مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا تھا کہ میاں صاحب کانام محمود ہے اور الہ دین ہے۔ اس بات کے ختم ہوجانے کے بعد خواب میں ہی اسی جگہ کسی شخص نے آکر کہا کہ قادیان میں۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ (لیکن اگلا حصہ میں ظاہر کرنا پسند نہیں کرتا) اس کے بعد میری نیند کھل گئی اور میں نے گھڑی میں دیکھا تو صبح کے5بج گئے تھے۔
    یہ خواب میں نے جس طرح دیکھا ہے اس طرح بیان کردیا ہے میری اس کے شائع کرنے سے صرف یہ غرض ہے کہ ہماری جماعت اس کو پڑھ لے اور اس پر غور کرے کسی کی مذمت یا مذلت کرنا میری نیت نہیں ۔ میں سب بزرگوں کو واجب التکریم سمجھتا ہوں ۔ "
    (الفضل30؍مارچ1914ء )
    …٭…٭…٭…
    ۲۴۔ مکرم محمد دین احمدی صاحب پٹواری نہر بنگوالہ کی رؤیا
    "اس عاجز نے حضرت صاحبزادہ حاجی مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو خواب میں دیکھا کہ خلافت کا تاج سر پر رکھے ہوئے آسمان سے زمین کی طرف اُتر رہے تھے ۔ عاجز نے خواب میں میاں صاحب کو اچھی طرح پہچانا ہے ۔ بیعت کے واسطے تحریری درخواست بھیج چکا ہوں ۔"
    (الفضل 30؍مارچ1914ء )
    …٭…٭…٭…
    ۲۵۔ حضرت غلام غوث محمد احمدی صاحب (گولیکی ضلع گجرات)
    کارؤیا قبل از خلافت
    "عرصہ پندرہ سال کا ہوا ہے کہ بندہ برائے شناخت امام الزمان بہت جدوجہد سے دعاؤں میں مشغول ہوا ،کہ اے مولا کریم! اگر جناب مرزا صاحب اپنے دعویٰ میں سچے ہیں تو مجھے سمجھا اور دکھا، تاکہ میں قیامت کو شرمسار نہ ہوں۔ بعد تضرع ودعا ششماہی کے مولا کریم نے دکھایا کہ ہمارے بزرگوار اور حضرت مرزا صاحب مع صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب تلاوت قرآن مجید میں ایک جگہ مصروف ہیں ۔لیکن بسبب ناواقفی کے بندہ پہچان نہ سکا۔ اس واسطے اور دو تین فقیروں کے پاس چلا گیا جو واقف تھے۔ لیکن ان میں سے کسی کو اس مبارک شبیہ وصورت پر نہ پایا۔ پھر دوبارہ دعا میں مصروف ہوا تو کچھ عرصہ کے بعد جناب مسیح علیہ السلام کو مع صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب کے اپنے بزرگواروں کے ساتھ پہلے کی طرح قرآن مجید پڑھتے دیکھا۔ جس سے ثابت ہوا کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب ہی خلیفۃ الرسول ہیں اور ان کے خلیفہ جناب صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب ہیں ۔مطابق پیشگوئی حضرت نعمت اللہ ولی کے کہ " پسرش یادگارمی بنیم "بندہ نے دونوں صاحبوں کو دیکھا ہو اتو نہ تھا لیکن جب قادیان شریف پہنچا تو حضرت اقدس کو پہچان لیا ۔ فالحمد للہ علی ذالک "
    (الفضل02؍مئی1914ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۲۶۔ حضرت حکیم غلام محمد راہوں صاحب کا رؤیا
    "پچھلے جمعہ کو میںنے خطبہ جمعہ دربارہ خلافت سنا کر جب نماز کی قرأت شروع کی تو دوسری رکعت میں میںنے الحمد شریف کے بعد سورہ والشمس پڑھی۔ جب میں وَالْاَرْضِ وَمَاطَحٰہَا پر پہنچا تو فوراً میرے پرحالت ربودگی سی طاری ہوئی ۔ مقتدی مجھے لقمہ دیتے تھے لیکن میں ایک نظارہ دیکھ رہا تھا کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب نے حضرت میاں محمود احمد صاحب کو پکڑ کر میرے آگے کر دیا اور فرمایا کہ یہ ہے وَ نَفْسٍ وَّمَاسَوَّاہَا اس کے بعد وہ نظارہ غائب ہوگیا پھر میں نے قرأت پڑھنی شروع کی ۔ جماعت راہوں ساری کی ساری خصوصاً شیخ برکت علی صاحب میرے والد ماجد اور چوہدری فیروز خان وحاجی رحمت اللہ صاحب اس بات کے ساتھ شامل ہیں۔ "
    (الفضل02؍مئی1914ء )
    …٭…٭…٭…
    ۲۷۔ حضرت میاں رحیم بخش صاحب سکنہ کھارہ کا خواب
    13"؍مارچ1914ء کو جب حضرت مولانا سیدنا خلیفۃ المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام خلیفہ اول دار فانی سے دارالبقاء کو رخصت ہوگئے تو عاجز کو 14؍مارچ کی شب کو خواب میں کسی شخص نے کہا کہ مرزا محمود احمد ۔ رحمۃ اللہ علیہ ۔اور19؍تاریخ کو بوقت دوپہر عاجز نیم خواب سویا ہوا تھا کہ عاجز کی زبان پر یہ جاری ہوگیا۔ ھُوَالَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدیٰ وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَے الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْکَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ اس سے عاجز کو پورا اطمینان اور یقین ہوگیا ہے ۔ "
    (الفضل25؍مارچ1914ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۲۸۔ حضرت مولوی عبدالستار صاحب ساکن خوست
    کے رؤیا وکشوف
    مولوی عبد الستار صاحب ساکن خوست مہاجر دارالامان جو حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف شہید صاحب کے خاص شاگردوں میں سے ہیں اور حضرت اقدس علیہ السلام کے وقت سے قادیان میں ہجرت کر کے آچکے ہیں اور جو اپنے زہد وتقویٰ کی وجہ سے مشہور ومعروف ہیں۔ اور جن سے حضور مسیح موعود علیہ السلام بھی مہمات امور میں دعا کرایا کرتے تھے اور حضرت خلیفۃ المسیح بھی ان کے الہامات وکشوف ورؤیا کوسچے مانا کرتے تھے۔
    ‏i۔ الہام:
    " کسی نے مجھے کہا کہ ایک اہم کام کے لئے دعا فرماویں ۔ تو الہام ہوا۔
    ـ"وَکُلٌ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ"
    پھر میری توجہ خلافت کے اہم امر کی طرف پھیری گئی تو الہام ہوا۔
    ھُوَالَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُولَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَکَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیَلًاo
    ‏ii۔ کشف14؍مارچ:
    ـ"لوگوںکے اضطراب پر مجھے رنج ہوا۔ کہ لوگ کیوں خلافت صریح کے خلاف کرتے ہیں تو کشف میں دیکھا۔
    "وَتَرَی النَّاسَ سُکَارٰی وَمَاہُمْ بِسُکَارٰی وَلٰکِنَّ عَذَابَ اللّٰہِ شَدِیْدٌ"
    پھر بیداری ہوئی ۔ یہ کیسا عذاب ہے اور کس بات کی طرف اشارہ ہے ۔ بیداری کے بعد پھر خواب آیا۔
    "سُنَّۃَ مَنْ قَدْاَرْسَلْنَا ۔"
    پھر ا س کے بعد بیداری ہوگئی پھر معلوم ہوا کہ یہ معاملہ کس طرح کا ہے ۔ پھر دیکھا
    "یَعْلَمُ مَابَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ " بعد میں دیکھا "غُثَائً اَہْوٰی"
    ‏iii۔ خواب :
    "خلیفۃ المسیح کی زندگی میںدیکھا آپ فرماتے ہیں !کہ میاں محمود اور شریف احمد مسیح موعود کے ولیعہدہیں اور اس وقت لوگوں کے درمیان خلافت کا جھگڑا تھا ۔ـ"
    ‏iv۔ خواب:
    "میں چھوٹی مسجد میں کھڑا ہو اتھا ۔ میںنے دونوں شخصوں کو صاحبزادہ کی طرف بلایا اور کہا
    ؎ بیا کہ آتش موسیٰ نمود گل تااز درخت نکتہ توحید بشنوی
    اور پھر انہوں نے نہ مانا اور وہ دونوں ذلیل ہوگئے اور کچھ اور باقی تھے وہ بھی سب ذلیل ہوگئے پھر ابھی خلیفۃ المسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام زندہ تھے اور مجھے اضطراب تھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ خلیفہ نہیں کھڑا کرتے۔ اور انجمن خلیفہ ہے تو رات میں مجھ پر یہ الہام جاری ہوا۔"اے ماراں بروید بروید کہ آج حکومت شمانہ رہا۔"
    ‏v۔ الہام :
    "انجمن نے جس وقت خلیفہ المسیح (مولانا نور الدین )کے وقت میں مخالفت کی تھی ۔ یہ الہام اس وقت بھی ہوا تھا جب چند لوگوں نے خلیفۃ المسیح کے خلاف کیا تو مجھے بلا کر فرمایا! کہ لوگ میری مخالفت کرتے ہیں اور میری متابعت نہیں کرتے ہیں اور میرے ساتھ شرارت کرتے ہیں آپ استخارہ کریں کہ خد اتعالیٰ کیا فرماتا ہے پھر اس وقت بھی الہام ہوا۔ اے ماراں بروید۔ اے ماراں بروید الخ۔ اور یہ شعر بھی پڑھا ۔
    ؎ عجب دارم دلے آں ناکسانرا کہ روتا بند از خوان محمدؐ
    یہ اس وقت الہام ہوا تھا جب لوگ صاحبزادہ کے ساتھ مخالفت کرتے اور صریح مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف کرتے تھے تو یہ الہام ہوا۔
    فَطُبِعَ عَلٰی قُلُوبِہِمْ فَہُمْ لَایَفْقَہُوْنَ۔"
    ‏vi۔ خواب:
    "خواب میں دیکھا کہ ایک لڑکا میرے پاس آیا اور کہا کہ تم کیوں نہیں کہتے کہ میا ں محمود قدرت ثانی ہے اور اس لڑکے کانام فضل محمد ہے تو میں نے کہا ۔ قدرت ثانیہ ہے ۔ قدرت ثانیہ ہے یا مدد ثانیہ ہے ۔ مدد ثانیہ ہے ۔" (الفضل25؍مارچ1914ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۲۹۔ مکرم سید عبد الحئی عرب صاحب کی رؤیا
    سید عبد الحئی صاحب عرب مشہور مہاجر قادیان نے جدہ سے لکھا۔
    "ثم یاسیدی بالامس ورد علینا فی احسن الاوقات الفضل الاغرفلما طالعناہٗ تکدرت من المکتوب الذی کتبہ ذلک الرجل لکم ثم بعد ذلک دعوت اللہ تعالیٰ بان یصلح اخوانناو ان یلھمک الصبر علی من آذالک والعفو آمین فیا سیدی ولما نمت سمعت صوتا محمود ،ناصر الدین من بعد نور الدین ثم استیقظت وحمدت اللہ تعالیٰ واستغفر تہ ۔
    ترجمہ: کل الفضل آیا تو اس خط سے جو آپ کو کسی شخص نے لکھا ہے میں بہت کبیدہ خاطر ہوا۔ میںنے دعا کی کہ خد اہم میں اصلاح کر دے اور ہمارے دلوں میں الفت بخشے ۔
    جب میں سویا تو میںنے آواز سنی۔ محمود ناصر الدین ،نور الدین کے بعد پھر میری آنکھ کھل گئی۔ " (الفضل 25؍مارچ1914ء )
    …٭…٭…٭…
    ۳۰۔ حضرت قاضی امیر حسین صاحب کی رؤیا
    آپ اپنی رؤیا بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
    " دو رؤیا ہیں جن کو میں حلفیہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر آپ صاحبان کی خدمت میں پیش کرتا ہوں وہ یہ ہیں، کہ جس زمانے میں حضرت مسیح موعود اور مہدی مسعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جن کو میں اپنے خیال سے نہیں بلکہ قرآن مجید اور احادیث کے رو سے نبی اور رسول صدق دل سے یقین کرتا ہوں، اور اس پر میرا ایمان ہے آپ آخری دفعہ لاہور تشریف لے گئے تو میںنے رؤیا میں دیکھا کہ وسیع میدان میں ایک چارپائی بچھائی گئی۔ اس کے سر کی طرف خلیفۃ المسیح مولانا مولوی نور الدین صاحب بیٹھے ہوئے ہیں اور دوسری طرف صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب ۔جن کو میں ان دو رؤیا کے بعد مظہر قدرۃ ثانیہ کا خیال کرتا ہوں ۔وہ بیٹھے ہوئے ہیں اور میںنے خلیفۃ المسیح کے ساتھ مصافحہ کیالیکن رنگ یہ تھا کہ میرا زانو میاں صاحب کی ران پر پڑا ،اور مخلوقات نے بہت ہجوم کیا۔ تو مجھے یہ خوف ہوا کہ ایسا نہ ہو کہ میر ے زانو سے میاں صاحب کی ران کو کوئی تکلیف پہنچے ۔ اور بڑے زور سے اپنے آپ کو پیچھے دبا تا ہوں تاکہ میاں صاحب کو میرے زانو سے صدمہ نہ پہنچے ۔ اس نظارے کے بعد کچھ وقفہ سے دوسرے نظارے میں میاں صاحب سے مصافحہ ہوا۔ اب یہ ایک اور رؤیا ہے جس کی صداقت کو ہم نے ظاہری مشاہدہ میں بھی نظارہ کر لیا۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باغ کے میدان میں ایک چارپائی ڈالی گئی۔ خلیفۃ المسیح ایک لمبی چوڑ ی تقریر کے بعد لیٹ گئے اور دوسری طرف میاں صاحب بیٹھے ۔ خدا کی قدرت سے اس وقت میرا زانو میاں صاحب کی ران پر پڑا۔ اور میں نے بڑے زور کے ساتھ میاں صاحب کی ران کو اپنے زانو کے صدمہ سے اس وقت محفوظ رکھا ۔ورنہ میاں صاحب کو میرے زانو سے سخت ایذا پہنچتی۔
    یہ ایک رؤیا ہے جس کومیںنے خلیفۃ المسیح کی خدمت میں پیش کیا تھا ۔ اور چند احباب کی خدمت میں بھی ظاہر کیا ہو اہے ۔
    ‏ii۔ دوسرا رؤیا یہ ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ
    چھوٹی مسجد میں بہت مخلوقات جمع ہے اور یہ شور پڑ گیا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لائے ہیں اور میں اس وقت مسجد میں موجود تھا۔ میںنے بھی قدم بڑھایا کہ زیارت کروں ۔جب پاس پہنچا تو صاحبزادہ صاحب میاں محمود احمد بیٹھے ہوئے ہیں ۔ اسی وقت خواب میں یہ وارد ہوا کہ یہ فنافی الشیخ کا رتبہ ہے جو میاں صاحب کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوگا۔ بھائیو!میں نے محض ہمدردی اور جو ش اخوۃ سے اس کا اظہار کیا۔ ورنہ آپ کو خوب معلوم ہے کہ میری عادت مضمون نویسی کی نہیں۔ جو احباب واقف ہیںان کو بہت عمدہ طور سے معلوم ہے کہ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام میرے خوابوں کی قدر کرتے تھے اور خلیفۃ المسیح کو میری خوابوں کا چونکہ بہت تجربہ تھا اس لئے وہ میری خوابوں کو بہت عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔ اب اللہ تعالیٰ سے اس دعا پر ختم کرتاہوں کہ وہ آپ صاحبان کے دل میں اس کی عزت ڈالے۔ اختلاف سے باز آؤ اور اس آیت
    وَاعْتَصِمُوْابِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًاوَّلَا تَفَرَّقُوْاوَاذْکُرُوْانِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْکُنْتُمْ أَعْدَائً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖ اِخْوَانًا
    اور آیت اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا مِنْ م بَعْدِ مَاجَائَ ھُمُ الْعِلْمُ
    پر خوب غور کرو ،اور خدا سے ڈرو۔"
    (الفضل 25؍مارچ1914ء )
    …٭…٭…٭…
    ۳۱۔ حضرت فیروز الدین صاحب قادیانی مغل پورہ لاہور کا ایک خواب
    آپ فرماتے ہیں۔
    "میں قادیان کا قدیمی باشندہ ہوں خادم نے1902ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کی ۔
    1908ء میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال ہواتو حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفۃ المسیح الاوّل(اللہ آپ سے راضی ہو) کے دست مبارک پر بیعت کی ۔ خادم12؍ستمبر 1912ء سے31؍دسمبر 1917ء تک کائنتھال متصل تحصیل دسوہہ ضلع ہوشیار میں پٹواری رہا ہے ۔1914ء میں جبکہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل (اللہ آپ سے راضی ہو)بستر علالت پر لیٹے۔ اور چوہدری نواب خان صاحب پنشنر تحصیلدار دسوہہ میں سب رجسٹرار تھے ۔ہم دونوں برائے زیارت حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل(اللہ آپ سے راضی ہو) قادیان آئے۔ حسب توفیق انہوںنے اور میںنے نذر گزاری پھر ہم دونوں واپس آگئے۔ اس کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل(اللہ آپ سے راضی ہو) کا انتقال ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ اور حضور خداوند تعالیٰ کی طرف سے خلافت پر مامور ہوئے ۔ان دنوں تحصیل دسوہہ میں ہماری جماعت کے سیکرٹری چوہدری نبی بخش صاحب مرحوم اجمیری تھے جو مولوی محمد علی صاحب اجمیری کے باپ تھے اور مخلص احمدی تھے۔ ہم لوگ نماز جمعہ چوہدری نواب خاں صاحب کے مکان واقعہ دسوہہ میں پڑھا کرتے تھے۔ چھوٹی سی جماعت چند آدمیوں پر مشتمل تھی۔ چوہدری نبی بخش صاحب مرحوم نے جمعہ کے دن فرمایا: کہ ہم نے بیعت حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی کر لی ہے ۔ کیا تم اور چوہدری صاحب نے (یعنی میںنے اور چوہدری نواب خان صاحب مرحوم نے) بیعت کر لی ہے ۔ لیکن ہم دونوں نے ابھی بیعت نہیں کی تھی۔ چوہدری نواب خاں صاحب مرحوم نے جواب دیا کہ ابھی نہیں۔ چوہدری نبی بخش صاحب مرحوم نے کہا کہ اگر آئندہ جمعہ تک تم لوگ بیعت نہیں کرو گے تو ہم تمہارے ساتھ نما زنہیں پڑھیں گے۔ اس کے بعد وہ اپنے گاؤں چلے گئے ۔ میں نوجوان تھا۔ اور چوہدری نواب خاں صاحب بوڑھے آدمی اور عالم تھے ۔ انہوںنے بعد میں مجھ سے کہا کہ یہ یونہی فتنہ سا کھڑا ہوگیا ہے جو جلد فیصلہ ہوجائے گا بیعت میں کیا جلدی ہے ۔ مگرمیرا دل مطمئن نہ ہوا۔ میں ہر روز نماز میں دعائیں مانگتا رہا، اور خاص کر جب جمعرات کا دن آگیا تو اسی رات عشاء کی نماز میں خادم نے بہت ہی گڑگڑا کر عاجزی سے خداوند کریم کے حضور دعا کی ۔ اسی رات نما زتہجد سے پہلے وقت مجھے ایک خواب آیا جومن وعن درج ذیل ہے ۔
    میں خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل(اللہ آپ سے راضی ہو) اپنے مطب میں حسب معمول تشریف فرما ہیں اور اسی طرح دری پر بیٹھے ہوئے سامنے وہی چھوٹی سی میز رکھی ہوئی ہے۔ میں السلام علیکم کہہ کر اُن کے قریب دروازہ کی طرف بیٹھ گیا ،اور عرض کی کہ حضور نے رپورٹ کر دی ہے ۔ آپ نے فرمایا !کہ میں بچہ نہیں ہوں میں نے قریب سوسال دنیا میں گذارے ہیں میں سربراہ نمبردار تھا۔ اصل نمبردار نابالغ تھااب وہ بالغ ہوگیا ہے اسی نے اپنا کام خود سنبھال لیا ہے ۔
    بعدہٗ میں خواب سے بیدار ہوگیا میںنے وضو کیااور اسی وقت خط حضور اقدس کی خدمت میں لکھااور یہ خواب من وعن درج کر دی ۔ اور عرض کی کہ حضور خادم کی بیعت منظور فرماویں ۔ یہ خواب 1914ء سے آج تک کئی صاحبان کے سامنے بیان کیا ہے اسی دن سے خادم حضور کو خلیفہ برحق مانتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ میرے اس ایمان کو تادم واپسیں قائم رکھے آمین۔"
    (الفضل18؍ستمبر1956ء )
    …٭…٭…٭…
    ۳۲۔ مستری اللہ دتہ صاحب آف کرتو ضلع شیخوپورہ
    اور ان کی اہلیہ کی خوابیں
    ‏i۔ 1933"ء میں بیعت کرنے سے چند ماہ پہلے ایک خواب دیکھا تھا خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر حلفیہ خواب بیان کرتا ہوں بندہ یہ دُعاکرتا ہوا سوگیا کہ مولا کریم ہم ان پڑھ کدھر جائیں۔ ادھر جائیں تو کہتے ہیں کہ ہم سچے ہیں ادھر جائیں تو کہتے ہیں ہم سچے ہیں ۔میرے خدا!تو آپ ہی میری دستگیری فرما ۔ خواب میں دیکھا کہ
    ایک آدمی بڑے جلال کے ساتھ میرے رخسار پر طمانچہ لگا کر کہتا ہے کہ تم اندھے ہو۔ یہ چاند چڑھا ہوا ہے اور تمہیںنظر نہیں آتا۔میںنے اس کے ہاتھ کی طرف دیکھا جدھر وہ اشارہ کرتا تھا تو مجھے چاند نظرا ٓیا ۔ جیسے ابتدائی راتوں کا ہوتا ہے پھر بندہ کی آنکھ کھل گئی ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس خواب کی بناء پر احمدیت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی ۔
    ‏ii۔ تھوڑا ہی عرصہ گزرا ایک شخص نے اعتراض کیا کہ حضرت مرز اصاحب اور آپ کے موجودہ خلیفہ صاحب نے حج نہیں کئے ۔ بندہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حج بدل کا ثبوت دیا ۔ مگر حضور کے حج کے متعلق مجھے علم نہیں تھا۔ میںنے وعدہ کیا کہ میںکسی عالم سے پوچھ کر بتاؤں گا۔ تو اسی رات کو بندہ نے دعا کی کہ مولاکریم ہم ان پڑھ ہیں مسائل بھی تو خود ہی سمجھا دے۔ تو بندہ نے خواب میں دیکھا کہ
    ہمارے گاؤں کے شمال جانب تقریباً دو فرلانگ پر حضور شاہانہ تخت پر بیٹھے ہوئے مغرب کو جارہے ہیں ۔ اس تخت کو چار آدمی اُٹھائے جارہے ہیں ۔وہ آدمی عام آدمیوں کی طرح نہیں ہیں میں ان کو فرشتے سمجھتا ہوں ۔ قد بہت ہی لمبے ہیں ان کے چہرے نظر نہیں آتے تھے ۔ اور ان کی رفتار بھی بہت تیز تھی ۔کچھ آدمی ادھر ادھر اور پیچھے دوڑتے جارہے ہیں۔ بندہ کو بھی خبر ہوئی میں بھی پیچھے دوڑا ۔ اور ایک آدمی میرے ساتھ تھا وہ راستے میں کیچڑ اور پانی دیکھ کر رہ گیا، اور میں منزل مقصود کو پہنچ گیا۔ ایک آدمی مجھے کہنے لگا کہ پیچھے ہٹ جاؤ میںنے عرض کہ میں احمدی ہوں ۔ میں حضور سے ملنا چاہتا ہوں تو آگے کی طرف ہوکر حضور کی زیارت ہوئی۔ تو معلوم ہوا حضور مکہ مکرمہ کی طرف جارہے ہیں ۔اس کے بعد بیدار ہوگیا۔ صبح ہی میں نے اس آدمی کو کہہ دیا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے حج کیا ہوا ہے۔ اس نے کہا اتنی جلدی آپ کو کس نے بتا دیا۔ میں نے خواب سنادی ۔ بندہ کو اسی وقت یقین ہوگیا تھا کہ حضور نے حج کیا ہوا ہے ۔
    ‏iii۔ 1953ء میں بندہ نے رات کو دعاکی کہ اے ہمارے قادر خدا تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مخالفین کی آگ سے محفوظ رکھا تھا۔ اور حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو بھی ابراہیم علیہ السلام کہا ہے ۔ اُن کی قوم پر آج مخالفین نے آگ بھڑکا دی ہے اس آگ کو مولا کریم گلزار کر دے ۔ اچانک ہی میرے کان میں آواز پڑی کہ گلزار کردوں ۔ میںنے عرض کی جی ہاں !گلزار کردو۔ تو دوبارہ آواز آئی۔ کہ اچھا گلزار ہوجائے گی۔ تو اگلے روز ہی لاہور میں امن ہوگیا۔ اس کے بعد بندہ بیدار ہوگیا صبح ہونے والی تھی ۔ بندہ نے اسی وقت مسجد میں جاکرچند دوستوں کو خواب سنا دی ۔ حضور ان نشانات کے ہوتے ہوئے وہ کون سی طاقت ہے جو احمدیت اور آپ کی خلافت سے علیحدہ کر سکے۔ ہمارے لئے تو یہی راہ نجات ہے ۔کہ ہم آپ کی خلافت سے پورا پورا فائدہ حاصل کریں ۔مخالفین کہتے ہیں کہ خلیفہ ربوہ کے پیغام سن کر خوابیں آنی شروع ہوگئی ہیں۔ مگر وہ بیچارے کیا کریں جن کو42سال کے عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے ان باتوں سے محروم رکھا ہوا ہے ۔ روحانی نعمتیں انھیں کو نصیب ہوتی ہیں جو خلافت روحانی سے وابستہ ہوں ۔
    ایک اور خواب میری بیوی کو آئی گزشتہ جلسہ سالانہ سے چند یوم پہلے میری بیوی نے خواب میں دیکھا کہ ایک بزرگ بہت ہی سفید لباس نورانی چہرہ ہمارے گاؤں کی جنوبی طرف ایک بہت شاندار تخت پر بیٹھے ہوئے مغرب کو جارہے ہیں۔ اس بزرگ کے چہرے پر چاند کی طرح روشنی ہے ساتھ بہت ہجوم جارہا ہے اور لوگ بہت خوش ہیں ۔کہتے ہیں کہ یہ امام مہدی آگیا ہے ۔ وہ کہتی ہے کہ میں نے خواب میں خیال کیا کہ ہم نے تو امام مہدی کو ماناہوا ہے اور یہ کہتے ہیں اب آگیا ۔تو میں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ تخت نشین حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ہیں ۔ (گویا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی قائم مقام حضرت مسیح موعود علیہ السلام دکھائے گئے ہیں جیسے حضور فرماتے ہیں کہ وہ میرا نظیر ہوگا)میری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ میںنے کہا الحمد للہ ہم نے تو پہلے مانا ہوا ہے ۔ اس کے بعد آنکھ کھل گئی ۔ یہ خوابیں ہم حلفیہ عرض کرتے ہیں ۔ ان نشانوں کے ہوتے ہوئے ہم ایمان میں کیسے متزلزل ہو سکتے ہیں۔ مگر ہم دیہاتی ان پڑھ ہیں مگر اسلام، احمدیت اور خلافت ثانی کے عاشق ضرور ہیں۔ اور عشق بھی وہ ہے جو صرف سنا سنایا نہیں بلکہ مشاہدہ سے حاصل ہوا ہے۔ـ"
    (الفضل18؍ستمبر1956ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۳۳۔ مکرم مرزا برکت علی صاحب آف ابادان کی رؤیا
    آپ نے عراق سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خدمت میں تحریر کیا۔
    "حضور عالی!1911ء یعنی45سال قبل کاایک رؤیا جس کی بناء پر میں احمدی ہو اتھا عرض کرتاہوں ۔
    سیدنا!1911ء میں دیکھا کہ ایک ایسے جنگل میں ہوں جہاں چاروں طرف درندے ہی درندے از قسم شیر ، چیتے ، بھیڑئے ، سؤر وغیرہ ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر بھاگ رہے ہیں۔مَیں سخت خوف زدہ ہوکر رورہا ہوں ۔ کہ اتنے میں ایک مسجد سامنے دکھائی دی ۔ میں اس کے اندرداخل ہوگیا جونہی میں اندر داخل ہوا۔ ایک نہایت خوبصورت نوجوان جس کے سر پر سفید پگڑی بندھی ہوئی تھی کو دیکھا ۔ اس نے میری بیقراری کی حالت اور گریہ زاری کو دیکھ کر میرے سر پر شفقت پدرانہ کی طرح ہاتھ رکھا۔ اور کہا"مت ڈر یا مت خوف کھا"اس کا اتنا کہنا تھا کہ آن واحد میں وہ تمام درندے غائب ہوگئے اور میں بیدار ہوگیا۔
    صبح میںنے اپنے والد مرزا حبیب اللہ خاں صاحب کو خواب سنائی ۔ کہنے لگے خواب مبارک ہے کوئی مرشدکامل ملے گا۔ (والد صاحب پکے وہابی تھے اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے دوستانہ تعلقات تھے)
    1917ء میں بابو غلام قادر یا بابو عبد الرشید صاحب ہیڈ ڈرافٹ مین سنٹرل ورکشاپ ڈویژن امرتسر کے ساتھ قادیان گیا ۔ اور مسجد مبارک میں نماز کے بعد حضور کو دیکھا تو بعینہٖ خواب کا نظارہ آنکھوں کے سامنے آگیا کیونکہ واقعی
    ایک نہایت حسین نوجوان جس کے سر پر سفید پگڑی بندھی تھی ۔ مشرق کی طرف منہ کر کے محراب میں بیٹھا تھا۔
    میں حضور اقدس کے چہرہ کی طرف ٹکٹکی لگائے دیکھ رہا تھا 1911ء کے خواب کا نظارہ میری آنکھوں کے سامنے تھا کہ یہ وہی شخص ہے جس نے میری بیقراری کی حالت اور گریہ زاری کو دیکھ کر مسجد میں میرے سر پر شفقت پدرانہ کی طرح ہاتھ رکھ کر کہا تھا۔
    "مت ڈر یا مت خوف کھا"
    اور مرحوم والد بزرگوار نے فرمایا تھا کہ"کوئی مرشد کامل ملے گا"میںنے رہائش گاہ پر جاکر کہا کہ میں بیعت کرنی چاہتا ہوں ۔ دوستوںنے کہا کہ اور تحقیقات کر لیں میںنے کہا جو کرنی تھی کر لی۔ اور اسی روز حضور کے دست مبارک پر بیعت کر لی۔ اس روز اکیلا ہی بیعت کرنے والا تھا الحمد للہ ،الحمد للہ، ثم الحمد للہ
    سیدنا اگر1917ء میں حضور کی زیارت نہ ہوتی اور اللہ تعالیٰ نے بذریعہ خواب رہنمائی نہ فرمائی ہوتی تو میں عیسائی ہوگیا ہوتا۔
    سیدنا !میرے الفاظ میں فرق ہوسکتا ہے۔ واللہ خواب کے نظارہ میں فرق نہیں ہے اس وقت جبکہ میں عمر کے ساٹھویں سال میں سے گذر رہا ہوں آج سے45سال قبل کا نظارہ میری آنکھوں کے سامنے اسی طرح کا ہے ۔
    (الفضل02؍نومبر1951ء )
    ۳۴۔ مکرم سید محمد شاہ صاحب پنشنر آف فتح پور گجرات
    آپ نے اپنے ایک مکتوب میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو لکھا۔
    "سیدی! حضرت مولانا نور الدین خلیفۃ المسیح اول کی وفات سے ایک یوم قبل مولوی محمد علی صاحب کا ایک ٹریکٹ میرے نام آیا۔ اور انہی دنوں مولوی فضل الدین صاحب مرحوم آف کھاریاں ضلع گجرات کا ایک خط بھی آیا کہ حضرت میاں صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کے مابین خلافت کا جھگڑا پیدا ہوگیاہے۔ اس لئے آپ لوگ بیعت کرنے میں جلدی نہ کریں۔ میرے دوسرے خط پر آپ خلافت کا فیصلہ ہونے کے بعد بیعت کریں۔ اسی شب میری اہلیہ محترمہ سیدہ فاطمہ بی بی صاحبہ کو خواب میں دکھلائی دیاکہ
    چاندہلال کی صورت میں مشرق کی جانب طلوع ہوا ہے ان کے والد بزرگوار حضرت سید محمود شاہ صاحب آف فتح پور گجرات (جو حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے تین سو تیرہ رفقاء میں سے تھے) نے تعبیر بتلائی کہ خد اتعالیٰ آپ کو نرینہ اولاد عطا فرمائے گا۔ اور انہی دنوں میں مجھے بھی خدا تعالیٰ نے ایک خواب دکھائی۔ جو میں اپنے مالک حقیقی کو حاضر وناظر جان کر قسمیہ بیان کرتاہوں وہ یہ ہے ۔
    "مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ ایک مکان جس کا دروازہ مشرق کی جانب ہے کھلا ہوا ہے۔ جن کے کواڑوں کے ہر دو سمت پروں والے چھوٹے چھوٹے بچے نہایت حسین لیٹے ہوئے ہیں ۔میرے ہاتھ میں حمائل شریف ہے میںنے ان سے دریافت کیا کہ اس مکان میں کیا شغل ہورہاہے تو وہ بچے جو خدا تعالیٰ کے ملائک ہیں انہوںنے آواز دی کہ یہاں درس شروع ہوگا۔ میںنے پوچھا کہ کون سے سپیارے کا درس ہوگا تو ان فرشتوں نے جواب دیا ،کہ تیسرے سپیارے سے درس شروع ہوگا ۔تو میں اس مکان کے اندر چلا گیا تو اس کے سامنے ایک لمبی چوڑی میز ہے جس کے آگے تین کرسیاں رکھی ہوئی ہیں ۔ داہنی کرسی پر رسالدار میجر محمد اعظم خان صاحب بہادر تشریف فرماہیں دوسری کرسی پر جوان کے بائیں طرف ہے اس پر بابو محمد عظیم صاحب جو خاں صاحب بہادر مذکور کے کلرک ہیں بیٹھے ہوئے ہیں ۔تیسری کرسی پر حضور پر نور (حضرت میاں بشیر الدین محمود احمد )تشریف رکھتے ہیں۔ مجھے خواب میں ہی یہ تفہیم ہوئی کہ قرآن کریم کا پہلا درس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیاتھادوسرا درس حضرت مولانا نور الدین خلیفۃ المسیح الاوّل(اللہ آپ سے راضی ہو) نے دیا تھا۔ اور اب تیسری بار حضرت میاں صاحب درس دینے والے ہیں ۔ خواب میںمیں نے آپ کے ہاتھ میں قرآن شریف دیکھا اور میں منبر پر چڑھ گیا اور میںنے زور سے اپنا ہاتھ منبر پر مارا اور کہا کہ بے شک تیسرے سیپارے سے درس ہونا چاہئے۔ میںنے پھر آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھا کر زور سے کہا کہ بے شک تیسرے سپیارے سے درس ہونا چاہئے ،اور پھر تیسری دفعہ بھی اسی طرح زور سے ہاتھ مارا تو اس کی آواز نے مجھے خواب سے بیدار کردیا جب میں خواب سے بیدار ہوا تو میری زبان پر درور شریف جاری تھا ۔ یہ خواب بھی میں نے حضرت سید محمود شاہ صاحب مرحوم آف فتح پور گجرات سے بیان کی ۔ اس کے بعد میں اپنے گاؤں سے باہر شمال کی جانب نکلا تو حکیم عبد اللطیف صاحب شاہد جو آج کل ربوہ میں کتب فروش ہیں ان کے والد بزرگوار مسمی حافظ شاہ محمد صاحب گجرات سے آرہے تھے ۔ انہوںنے کہا کہ شاہ صاحب حضرت مولوی صاحب کا انتقال ہوگیا ہے۔ تو میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے میں گھر واپس چلاآیا میںنے موصولہ ٹریکٹ اور خط کو پڑھا تو میرے دل کو بہت صدمہ ہوا ۔میںنے ٹریکٹ اور خط کو غصہ سے آگ میں جلا دیا اور کہا کہ مجھے کسی زید اور بکر کے کہنے کی ضرورت نہیں ۔ میری اللہ تعالیٰ نے خود رہنمائی فرمادی ہے میں تو حضرت میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب کے ہاتھ پر بیعت کروں گا۔
    اس کے بعد میں نے اپنی اور اپنی اہلیہ محترمہ سیدہ فاطمہ بی بی صاحبہ کی بیعت کا خط قادیان تحریر کردیا۔ اسی طرح حضرت سید محمود شاہ صاحب نے اپنی اور اپنی اہلیہ محترمہ کا بیعت کا خط لکھ دیا۔ سو خدا تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے جس نے ہماری قبل از وقت رہنمائی فرمائی۔ اب تو مجھے کوئی خلافت حقہ سے ہلا نہیں سکتا۔"
    (الفضل 23؍جنوری1957ء )
    …٭…٭…٭…
    ۳۵۔ حضرت منشی محبوب عالم صاحب کا ایک رؤیا
    آپ کے پوتے مکرم نصیر احمد صاحب راجپوت آف کراچی (حال لاہور)بیان کرتے ہیں کہ
    روزنامہ الفضل مورخہ19؍مارچ1964ء میں حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا ایک مضمون بعنوان ایک روایت ایک امانت شائع ہواہے اس مضمون میں حضرت سیدہ صاحبہ نے روایت فرمائی ہے کہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا
    "کبھی تو ہمارا دل چاہتا ہے کہ محمود کی خلافت کی بابت ان لوگوں کو بتادیں پھر میں سوچتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کامنشاء اپنے وقت پر خود ہی ظاہر ہوجائے گا۔"
    یہ روایت بالکل سچ اور حق پر مبنی ہے میرے دادا جان حضرت منشی محبوب عالم صاحب (مالک راجپوت سائیکل ورکس نیلا گنبد لاہور )کو بھی ایک رؤیامیں حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے نہایت محبت سے فرمایا کہ میاں محمود کے پیچھے چلے جائیں ۔
    آپ کا رؤیا درج ذیل ہے ۔
    "خلافت ثانیہ کے قیام سے قبل آپ نے رؤیا میں دیکھا کہ ایک مکان کی چھت پر چند لوگ جمع ہیں ،اور کچھ چہ مگوئیاں ہورہی ہیں ۔اسی اثناء میں کچھ مولوی محمد علی صاحب کے پیچھے مغرب کی جانب چل رہے ہیں اور کچھ لوگ میاں محمود احمد صاحب (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ) کے پیچھے مشرق کی طرف چل پڑے ہیں اور میں درمیان میں کھڑا سوچتا ہوں کہ یا الٰہی میں کس طرف جاؤں ۔ دیکھا کہ اچانک حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام اس جگہ تشریف لائے ہیں اور نہایت محبت سے مجھے فرمایا کہ آپ میاں صاحب کے پیچھے چلے جائیں اس کے بعد آپ بیدار ہوگئے ۔
    سیدنا محمود کی خلافت کے بارے میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کا ہمارے دادا جان کو رؤیا میں قبل از وقت بتادینا نہایت باعث رحمت وبرکت ثابت ہوا۔ اس رؤیا کے چند دنوں کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل(اللہ آپ سے راضی ہو) کی وفات ہوگئی ۔ اس وقت جہاں بعض لوگ بڑے تذبذب اور پریشانی کے عالم میں مبتلا تھے کہ وہ کون سی راہ اختیار کریں ۔ وہاں ہمارے داد اجان نے حضرت محمود کی بلاتامل بیعت کر لی ۔ فالحمد للہ علی ذالک "
    (الفضل19؍اپریل1964ء )
    …٭…٭…٭…
    ۳۶۔ مکرمہ اہلیہ صاحبہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان

    "مندرجہ ذیل خواب جو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی خلافت حقّہ کے بارے میں خاکسارہ نے دیکھا ہے ۔ خداتعالیٰ کو حاضروناظر جان کر اور اس کی قسم کھا کر لکھواتی ہوں اور وہ یہ ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح اوّل جب گھوڑے پرسے گر پڑے تھے اور حضور کو بہت چوٹیں آئی تھیں۔ جن کی وجہ سے حضور کو بہت سخت تکلیف تھی اور زندگی کی کوئی امید نظر نہ آتی تھی اور مجھے بار بار خیال آتا تھا کہ اب کیا ہوگا۔ رات اور دن سخت گھبراہٹ اور قلق سے گذرتے تھے اور یہی سننے میں آتا تھا کہ یا آج کا دن گذرے گایا رات بس پھر میرا آقااور محسن ہم سے جدا ہوجائے گا۔ انہی غم واندوہ کے دنوں میں ایک رات خواب میں یہ نظارہ دیکھا کہ ایک جگہ ہے جیسے کوئی باغ ہے اس میں ایک مجلس چوکور شکل میں بیٹھی ہوئی ہے۔ جس میں بڑے بڑے بزرگ اور نورانی شکل لوگ بیٹھے ہیں کہ اچانک حضرت مسیح موعودؑ نمودار ہوئے اور ایسا معلوم ہوتاہے کہ حضور سڑک کی طرف سے تشریف لائے ہیں۔ لیکن یقینی طور پر معلوم نہیں ہوتاکہ سڑک کی طرف سے تشریف آوری ہوئی بلکہ اچانک نظر آگئے ہیں اور حضور نے میاں صاحب یعنی حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے چہرے کو اس طرح دکھایا کہ حضور نے فرمایا فکرکی کیابات ہے ۔ تین دن کو یہ جو ہوگا۔ اس خواب کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح اوّل کو صحت ہونی شروع ہوگئی لیکن میں اس خواب کی وجہ سے یہ خیال کرتی رہی کہ حضرت کی وفات اب بہت قریب ہونے والی ہے مگر جوں جوں دن گذرتے گئے ۔ حضور کی صحت اچھی ہوتی گئی۔ حتیٰ کے چنددنوں کے بعد ان کی صحت ہوگئی اور وہ خطرناک حالت بیماری کی جاتی رہی۔آخر قریباً تین سال کے بعد حضرت کی وفات ہوگئی اور حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ خلیفہ منتخب ہوئے تب معلوم ہوا کہ میری خواب اس طرح پوری ہوئی ہے کہ تین دن سے مراد تین سال تھے اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خلافت حقہ کی خبر خواب میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے مجھے تین سال قبل ان کا چہرہ دکھا کر بتادی تھی۔ فالحمدللہ علی ذلک (تاریخ تحریر13؍اگست1939ئ)
    (بشارات رحمانیہ جلد 1صفحہ342-343)
    ۳۷۔ مکرمہ اہلیہ ملک کرم الٰہی صاحب ضلعدار نہرکی خواب
    "میںنے خواب میں دیکھا کہ میں خانہ کعبہ میں کھڑی ہوں اور اس منبر کے پاس کھڑی ہوں جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم وعظ فرمایا کرتے ۔ اتنے میں ظہر کی اذان ہوگئی او ر لوگ کہتے ہیں ۔ کوئی بڑا بزرگ جماعت کروانے لگا ہے بڑا فراخ صحن ہے ا س میں قریباً دو تین ہزار آدمی جمع ہیں اور بڑے استعجاب سے امام کا انتظا ر کر رہے ہیں اتنے میں آپ تشریف لے آئے ہیں اور جماعت کروانے لگے ہیں میں ایک بالا خانے پر نما ز پڑھنے لگی ہوں اتنے میں بارش شروع ہوگئی تمام حاضرین کے کپڑے تر ہوگئے ہیں اور میں بھی بالاخانہ پر بھیگ گئی ہوں اور آپ کے اُور کوٹ سے پانی نیچے آرہاہے اور صحن میں پانی ہی پانی نظر آتا ہے مگر آپ بلند آواز سے قرآن پڑھ رہے ہیں حتی کہ چار رکعت میں آپ نے سارا قرآن مجید ختم کردیا ہے ۔ تب آپ نے سلام پھیرا اور پھر آپ گھر میںتشریف لے گئے ہیں ،اور پیچھے پیچھے میں بھی ہوں اورمیں جلدی ہی حضرت اماں جان کی خدمت میں حاضر ہوگئی ہوں اور عرض کرتی ہوں کہ میاں صاحب کومکہ والوں نے بھی اپنا امام پیشوا بنا لیا ہے پھر میری آنکھ کھل گئی۔"
    (الفضل25؍مارچ1915ء )
    …٭…٭…٭…
    ۳۸۔ مکرم غلام رسول صاحب بدوملہی کی رؤیا
    "عاجز نے رؤیا دیکھا کہ ایک باغیچہ ہے اس میں ایک مسجد کا تھڑا بنا ہوا ہے اس احاطہ مسجد میں مسیح موعودمہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کھڑے ہیں اور بائیں ہاتھ میں چھڑی ہے جو زمین پر ٹکاکر کھڑے ہیں اور داہنے ہاتھ کی انگشت آسمان کی طرف کھڑی کی ہوئی خداوند تعالیٰ کی طرف اشارہ ہے ۔ گویا کہ اشارہ سے فرمارہے ہیں کہ میں اللہ کو منواتا ہوں اور حضرت خلیفۃ المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام خلیفہ اول آگے بیٹھے ہوئے ہیںاور چند کس جماعت کے بھی پاس موجود ہیں اور داہنی طرف آنحضور حضرت مصلح موعود خلیفہ ثانی علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی کھڑے ہیں اور عاجز کے کان میں آواز آئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ جو میری آنکھیں ہیں یہ غور سے دیکھو کہ یہ میری آنکھیں میاں صاحب کی ہیں اور میں نے میاں محمود صاحب کو دے دی ہیں، اور عاجز زور شور سے بحالت اسی رؤیا میں پکار رہاہے کہ یہی مسیح موعود ہے کہ خدا کو منوا رہا ہے بعد اس کے بیداری ہوگئی۔ "
    (الفضل25؍مارچ 1915ء )
    …٭…٭…٭…
    ۳۹۔ مکرم میاں شیر محمد صاحب کا خواب
    میاں شیر محمد یکہ والے جو ایک مخلص اور باعمل احمدی تھے اور باوجود یکہ کا پیشہ رکھنے کے خداتعالیٰ کے ساتھ خاص تعلق تھا، نے مکرم ایڈیٹر صاحب الفضل کو اپنا ایک خواب سنایا جو آپ نے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی زندگی میں دیکھااور حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب کی خدمت میں تحریراً پیش کیا۔ وہ یہ ہے۔
    ‏i۔ "میںنے دیکھا کہ تین سورج ہیں ایک قریب دوسرا اس کے بعد تیسرا اس کے بعد ہے۔ پہلے سورج کے سامنے بہت بادل ہیں دوسرے کے سامنے اس سے تھوڑے اور تیسرے کے سامنے دھواں سا ہے اور وہ بہت چمک رہاہے ۔ اس خواب میں مجھے بتایا گیا پہلا سورج مسیح موعود، دوسرا نور الدین اور تیسرا محمود ہے ۔ بادل ان کی مخالفت ہے ۔"
    ‏ii۔ "عرصہ ڈیڑھ سال کا ہوا کہ میںنے خواب میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو دیکھا آپ بنگہ تشریف لائے ہیں میرے پاس بمبو کارٹ ہے میںنے حضور کا پاؤں اپنے کندھے پر رکھوا کر ٹمٹم میں سوار کرایا ہے ۔ جب میں نے یہ خواب دیکھا تو میرے پاس پھگواڑہ گاڑی تھی۔ ٹمٹم نہ تھی۔ میںنے خواب کے ایک حصہ کو پورا کرنے کے لئے فوراً پھگواڑہ گاڑی کوعلیحدہ کردیااور ٹمٹم بنائی۔ ابھی ٹمٹم کا پائدان تیار بھی نہ ہوا تھا کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کاٹھ گڑھ کو تشریف لے جانے کے لئے بنگہ آئے ۔ میںنے ٹمٹم جوڑی اور سوار کرانے کے لئے پائدان نہ ہونے کے باعث اسی طرح بیٹھ کر اور کندھے پر پاؤں رکھا کر آپ کو سوار کرایا۔ جس طرح میںنے خواب میں مسیح موعود کو دیکھا ۔ فالحمد للہ "
    (الفضل21؍جولائی 1914ء )
    …٭…٭…٭…
    ۴۰۔ مکرم جناب قریشی حافظ محمد حسین ولد محمد اشرف صاحب ٹرپئی ضلع امرتسر انڈیا
    "حضرت خلیفۃ المسیح اوّل کا جس روز انتقال ہوا ہے ۔ اسی رات حالانکہ احقر کو قطعاً کوئی وفات کا علم نہیں تھااور نہ ہی لاہور ی فتنہ کی کوئی کسی قسم کی اطلاع تھی۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ آسمان پر درمیان آسمان کے یعنی عین سر پر چاند ہے اور اس کے گرداگرد بادل ہیں۔ معاً مجھے معلوم ہوا کہ وہ چاند حضرت صاحبزادہ صاحب یعنی حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ہیں اور وہ نورانی حضور کا چہرہ انور ہے آپ کے چہرہ سے ایک نور کا شعلہ نکلا ہے اور اس نے ان بادلوں کو پاش پاش کردیا ہے اور وہ دور دور پھٹ کر جا پڑے ہیں اور آہستہ آہستہ جمع ہو کر پھر حضور کا نورانی مکھ جو چاند کی طرح نظر آتا ہے اس کے گرد جمع ہوگئے ہیں۔ پھر اس طرح نور کا شعلہ نکلا ہے۔ اور اس نے ان سیاہ بادلوں کو پاش پاش کرکے دور پھینک دیا ہے اور وہ بادل پھر اکٹھے ہوکرچاند کے گرد جمع ہونے لگ گئے ہیں ۔ حتیٰ کہ کوئی چار دفعہ ایسا بار بار نظارہ دیکھااور پھر بیدار ہوگیا۔ اس کے بعد جب حضرت خلیفۃ المسیح اوّل کی وفات کی خبرسنی اور ساتھ ہی لاہوری فتنہ اور حضور کی خلافت کی خبر ملی تو خواب کا (معاملہ ) سمجھنے میں بالکل آسانی ہوگئی۔"
    (بشارات رحمانیہ جلد1صفحہ330-331)
    …٭…٭…٭…
    ۴۱۔ مکرم جناب غلام حیدر صاحب ولد محمد بخش صاحب ڈار
    قادیان محلہ دارالرحمت
    "میں غلام حیدر ولد محمد بخش ڈار خداتعالیٰ کی قسم کھا کر اپنا خواب تحریر کرتاہوں۔ جو میںنے حضرت خلیفۃ المسیح اوّل کے زمانہ میں دیکھا تھااور حضور کی خدمت میں بذریعہ تحریر عرض کیا تھا جس کی تعبیر حضور نے لکھ کر میرے پاس بھیجی تھی۔ جو مجھے یاد ہے اور قریباً وہی الفاظ ہیں ۔ حضور نے فرمایا
    "اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صاحبزادہ صاحب بڑی روحانی ترقی کریں گے۔"
    میںنے اپنے آپ کو خواب میںقادیان (بیت) المبارک کے اوپر دیکھا۔( بیت) کے ساتھ بالاخانہ کے پاس کھڑا ہوں۔ دیکھا کہ مشرق کی طرف سے ایک دمدار ستارہ نکلا ہے۔ جس کی روشنی لاثانی تھی اور اس کی کرنیں نہایت روشن تھیں اور نہایت خوبصورت نظر آتی تھیں۔ تمام لوگ مکانوں پر کھڑے ہوکر دیکھ رہے تھے۔ میںنے بلند آواز سے کہا کہ لوگو امام مہدی کی نشانی ہے۔ میرے دیکھتے دیکھتے وہ ستارہ( بیت )المبارک پر آگیا اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بھی میرے پاس آکر کھڑے ہوگئے ۔ وہ ستارہ ہمارے سروں پر آگیا ۔ اس وقت حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا چہرہ مبارک نہایت خوبصورت نظر آتا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہم نور میں لپٹے گئے ہیں اور ہر طرف نور ہی نور تھا۔ اس کے بعد آنکھ کھل گئی۔"
    (تاریخ تحریر14؍جون1939)
    (بشارات رحمانیہ جلد 1صفحہ342-343)
    …٭…٭…٭…
    ۴۲۔ مکرم جناب شیخ محمد افضل صاحب قریشی سابق سب انسپکٹر پولیس
    ریاست پٹیالہ انڈیا
    1914"ء کا ذکر ہے کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفۃ المسیح اوّل بیمار ہوگئے اور آئندہ زندگی کی امید منقطع ہوگئی تو جماعت احمدیہ پٹیالہ کے نام بذریعہ چٹھی یا تار قادیان سے اطلاع آئی کہ جماعت میں سے دواصحاب کو جلد قادیان روانہ کردیا جاوے۔ چنانچہ یہاں سے ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب جو اس وقت حضور خلیفۃ المسیح ثانی کے معالج اور ہجرت کر کے قادیان تشریف لے گئے ہیں اور مصطفی خان صاحب بی۔ اے جو اس وقت لاہوری جماعت میں ہیں ۔ ہر دوصاحبان کو قادیان روانہ کیا گیا۔ اسی رات یا اگلی رات مگر خلیفۃ المسیح اوّل کا ہنوز انتقال نہ ہواتھا۔ میںنے خواب میں دیکھا کہ ایک دومنزلہ پرانا چھوٹی اینٹوں کا بلا پلستر وغیرہ کے مکان ہے اور جگہ جگہ سے ٹوٹا ہوا ہے ۔ ایک شخص نے کہا کہ تم اس مکان پر چڑھ جاؤمیں نے دیکھا تو مکان پر چڑھنے کے لئے کوئی زینہ وغیرہ نہیں ہے۔ میںنے اس شخص سے کہا کہ میں کس طرح چڑھوں ۔ کہنے لگا اسی طرح چمٹ چمٹا کر چڑھ جاؤ۔ چنانچہ میں نے اس مکان کی ٹوٹی پھوٹی جگہ میں پیر پھنسا کر اور ہاتھ ڈال کر بند رکی طرح چڑھنا شروع کیا ۔ جب میں اس طرح ایک منزل چڑھ گیااور دوسری منزل پر چڑھنا شروع کیا تو دیکھا کہ دیوار پر ایک مدوّر یعنی گول دائرہ سابنا ہوا ہے اور مٹی سے لپا ہوا ہے اور وہاں مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت لاہور کھڑے ہیں۔ کہنے لگے کہ اس دائرہ پر پاؤں مت رکھنا۔ اس میں بجلی لگی ہوئی ہے ۔ آپ کو پکڑ لے گی میںنے خیال کیا کہ یہ شخص دھوکہ دیتا ہے ۔ اس میں بجلی وغیرہ کہاں سے آئی۔ چنانچہ اس دائرہ پر پاؤں اور ہاتھ رکھ کر اوپر چڑھ گیااور مولوی صاحب کوکہا کہ مجھ کو تو بجلی وغیرہ نے نہیں پکڑا۔ آپ خواہ مخواہ لوگوں کو دھوکہ میں ڈالتے ہیں۔ مولوی صاحب شرمندہ سے ہوگئے اور کوئی جواب نہیں دیا۔ چنانچہ پھر میں نے اسی طرح اوپر چڑھنا شروع کردیا۔ بالآخر میں چھت کے قریب پہنچ گیااور شیخ قطب الدین صاحب احمدی جو مکان کے چھت پر پہلے سے موجودتھے۔ انہوںنے ہاتھ پکڑ کر مجھ کو بھی چھت پر چڑھا لیا۔ پھر میں اس مکان پر پھرتا رہا۔ دیکھا کہ ایک راستہ نیچے اترنے کا ہے۔ چنانچہ اس راستہ سے نیچے اُتر گیا۔آگے جاکر دیکھا کہ ایک بہت بڑا وسیع اور عالیشان اور پختہ اور پلستر وغیرہ سے درست اور نیا مکان ہے او ر اس میں پچاسوں بہت بڑے بڑے کمرے ہیں ۔ ایک کمرہ میں فرش دری کا ہے مگر دری اکٹھی ہوگئی ہے اور چند پتیاں پھولوں کی بکھری ہوئی پڑی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی میٹنگ یا جلسہ ہوکر برخاست ہوچکا ہے۔ میںنے وہاں ایک شخص سے دریافت کیا یہ کیا بات ہے۔ وہ شخص کہنے لگا آپ کو معلوم نہیں قوم میں اختلاف ہوگیا تھاکہ جماعت میں سب سے زیادہ خوش نویس کون ہے۔ چنانچہ مدعیان خوشنویسی نے اپنے اپنے قطعات لکھ کر مولوی نور الدین صاحب کو حکم قرار دیا اور قطعات پیش کئے ۔ چنانچہ مولوی صاحب نے سب سے اوّل نمبر حضرت صاحبزادہ محموداحمد کو قرار دیا ہے ۔ پھر وہ شخص مجھ کو ایک دیوار کے پاس لے گیا۔ دیکھا کہ دیوار پر بہت جلی قلم کے بہت سے قطعے لگے ہوئے ہیں ۔ کسی میں بسم اللہ لکھی ہے ۔ کسی میں نَصْرٌ مِّنَ اللّٰہِ لکھی ہے۔ کسی میں کچھ عبارت ہے اور کسی میں کچھ عبارت ہے۔ سب سے اُوپر ایک چھوٹا قطعہ سنہری چوکٹھے میں لگا ہوا ہے اور خط طغرہ میں لکھا ہوا ہے اور اس میں پھولوں کا ہار پڑا ہوا ہے۔ مگر بوجہ خطّ طغرہ ہونے اور دور ہونے کے پڑھا نہیں جاتا۔ وہ شخص کہنے لگا کہ یہ وہ قطعہ ہے جس پر مولوی نور الدین صاحب نے حضرت صاحبزادہ محمود احمد صاحب کو اوّل نمبرقرار دیا ہے۔ پھر وہ شخص مجھ کو ایک دوسرے کمرے میں لے گیا۔ وہاں ایک میزاور دو کرسیاں میز کے اردگرد لگی ہوئی تھیں ۔ ایک پر مولوی نور الدین صاحب تشریف فرما تھے اور دوسری پر حضرت صاحبزادہ محمود احمد صاحب تشریف رکھتے تھے۔ ہر دو صاحبان کے گلے میں پھولوں کے ہار پڑے ہوئے تھے ۔ میری آنکھ کھل گئی اور مندرجہ ذیل امور اس خواب سے خادم پر روزروشن کی عیاں اور نمایاں ہوگئے ۔
    ۱۔ مولوی محمد علی صاحب قوم میں کوئی جھگڑا ڈالیں گے۔
    ۲۔ وہ اس میں حق بجانب نہ ہوں گے۔
    ۳۔ صاحبزادہ محمود احمد صاحب جماعت احمدیہ میں خلیفہ ہونے کی درجہ اوّل صلاحیت رکھتے ہیں۔
    ۴۔ خد اکا عین منشا ہے کہ مولوی نور الدین صاحب کے بعد حضرت صاحبزادہ محموداحمد
    صاحب خلیفہ ہوں ۔
    ۵۔ اور حضور کے وقت میں جماعت احمدیہ بہت بڑی ترقی کرے گی۔
    چنانچہ میںنے اسی وقت دل میں اقرار کیا کہ اگر مولوی نور الدین صاحب کا انتقال ہوگیااور مولوی محمد علی صاحب نے کوئی قوم میں جھگڑا ڈالا تو میں تو صاحبزادہ حضرت محمود احمد صاحب کو خلیفہ تسلیم کرلوں گا۔ اگلے روز خلیفہ اوّل کا انتقال ہوگیا اور مولوی محمد علی صاحب کے ٹریکٹ بذریعہ ڈاک آگئے جو کورے فریب اور دجل پر مبنی تھے۔ خاکسار نے تو فوراً صاحبزادہ حضرت محمود احمد صاحب کو خلیفہ برحق تسلیم کرلیا اور حضور اقدس کی خدمت میں بیعت کا عریضہ روانہ کردیا۔ اس طرح خداتعالیٰ نے خاکسار کو لاہوری فتنہ سے بچالیا۔ورنہ ممکن تھا کہ یہ خادم جماعت لاہور میں شامل ہوجاتا۔ ـ"
    (تاریخ تحریر20؍اکتوبر1939ئ)
    (بشارات رحمانیہ جلد1 صفحہ351-353)
    …٭…٭…٭…
    ۴۳۔ مکرم جناب چوہدری غلام رسول صاحب چک99شمالی ضلع سرگودھا
    "میں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتاہوں کہ میںنے مندرجہ ذیل خواب اسی طرح دیکھا ہے۔ ہم ابھی گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ میں ہی تھے اور ابھی حضرت خلیفۃ المسیح اوّ ل زندہ تھے کہ میںنے خواب دیکھا کہ (میں احمدیہ چوک قادیان میں کھڑا ہوں اور اردگرد کی دکانیں سناروں کی معلوم ہوتی ہیں اور دوکانوں میں چاندی کے بہت سے تیار شدہ زیورات پڑے ہیں اور کچھ تیار کئے جارہے ہیں۔ اور کچھ سونے کے زیور بھی ہیں۔ ان میں ایک سنار مسمّی رمضان ہے جو کہ ہمارا واقف ہے کیا دیکھتاہوں ۔ کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایک جانب سے آنکلے ہیں۔ (اس وقت ہم حضرت صاحب کو میاں صاحب کہا کرتے تھے) کہ کسی نے ہاتھ سے میاں صاحب کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ ابن مسعود خلیفہ ہوگیا ہے۔) گویاخواب میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو "ابن مسعود" بتا یا گیا ہے۔(حضرت ابن مسعود جن کانام عبداللہ ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابی ہیں۔)"
    (تاریخ تحریر05؍نومبر1939ئ)
    (بشارات رحمانیہ جلد 1صفحہ355)
    …٭…٭…٭…
    ۴۴۔ مکرم جناب مولوی محمد پریل صاحب کمال ڈیرہ (سندھ)
    "میں خداتعالیٰ کو حاظر ناظر جان کر حلفیہ اپنا بیان پیش کرتا ہوں ۔1908ء میں جب حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام کا وصال ہوا۔ تو یہ عاجز پھر دارالامان آیا اور حضرت خلیفۃ المسیح اوّل کی بیعت کی۔ حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام کی کتاب الوصیت پڑھی۔تو دل میں خیال آیا کہ قدرت ثانی کون شخص ہے۔ رات کو بڑی محبت سے دعا کی۔ خواب میں دیکھا کہ ایک کاغذ ہے جس پر لکھا ہے کہ "مرزابشیر الدین محمود احمد "اور ایک شخص کے پاس سرمہ ہے اس نے سلائی سے میری آنکھوں میں سرمہ ڈالا۔ میں بیدار ہوگیا۔"
    (بشارات رحمانیہ جلد 1صفحہ361)
    …٭…٭…٭…
    ۴۵۔ مکرم جناب مہر الدین صاحب خادم بیت دارالفتوح قادیان دارالامان
    14"یا1913ء میں ہمارے ایک رشتہ دار مستری فضل دین صاحب ہمارے گاؤں علیووال جٹاں ضلع گورداسپور آئے اور ہمیں تبلیغ کرتے رہے۔ مگر ہم نے مخالفت کی ۔ مستری صاحب نے آپ کی صداقت بذریعہ دعا معلوم کرنے کا گُر بتایا۔ چنانچہ میںنے چند دن تک دعاکی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے مندرجہ ذیل رؤیا دکھایا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ سخت آندھی چل رہی ہے اور کہیں مضبوط جائے پناہ دکھائی نہیں دیتی۔ آخر جگہ تلاش کرتے کرتے میرا گذر ریتی چھلہ والے بوہڑ کے پاس سے ہوا۔ اس بوہڑ کے نیچے ایک چارپائی پر حضرت مسیح موعودعلیہ السلام بیٹھے ہیں۔ اردگردعام خلقت زمین پر بیٹھی ہے او ر وہاں طوفان آندھی کا کوئی اثر نہیں۔ میں نے اپنے ساتھ والے آدمی سے دریافت کیا کہ یہ کون بزرگ ہیں۔ اس نے جواب دیا یہی وہ شخص ہیں جنہوںنے امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔۔۔۔۔اصل بات یہ ہے کہ یہ فوت ہوچکے ہیں ۔ آج صرف اپنی جماعت کو جمع کر کے سمجھانے آئے ہیںکہ
    "محمود کی بیعت کرو۔ میری جماعت کے ناخدااب محمود ہی بنیں گے۔"
    اس کے بعد میںنے دریافت کیا کہ وہ کہاں ملیں گے تو مجھے بیت الاقصیٰ والا راستہ بتایا گیا ۔ چنانچہ میں سیدھا بڑے بازار سے ہوتا ہوا بیت میں داخل ہوگیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ایک چھوٹے سے درخت کے نیچے جو (بیت )میں ہے کھڑے قرآن شریف کا درس فرمارہے ہیں۔ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے تمام صحابہ بیٹھے سن رہے ہیں۔ مجھے کوئی دوست کہتے ہیں بیٹھ جاؤ۔ میںنے ان کانام پوچھا ۔ انہوںنے جواب دیا اب خلیفۂ وقت یہی ہیں۔ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام تو فوت ہوگئے ہیں۔ اب حضور انور کے یہ دوسرے جانشین برحق ہیں۔ اگر تم نے ابھی بیعت نہیںکی تو فوراً کرلو۔ اس کے بعد میں جاگ پڑااور قادیان جاکر وہی نقشہ دیکھاجو خواب میں دکھایا گیا تھا ۔ا س کے بعد میںنے بیعت کرلی۔ "
    (تاریخ تحریر20؍نومبر1939ئ)
    (بشارات رحمانیہ جلد1صفحہ375-376)
    …٭…٭…٭…
    ۴۶۔ مکرم جناب بابو عبدالکریم صاحب مغلپورہ لاہور

    "(تاریخ ٹھیک طور پر یاد نہیں۔ غالباًخلافت اولیٰ کے آخری ایام تھے) دیکھا ایک بہت بڑا وسیع میدان ہے جس میں ایک ہلکاساپردہ لگاہوا ہے ۔ جس جگہ پر وہ ہے ۔ وہ بہت بلند جگہ ہے اور دوسری بہت نیچی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے ۔کہ جیسا کہ نچلی جگہ سے دیار زمین چھوڑ گیا ہے، میں نچلی جگہ میں کھڑا ہوں۔ یک لخت پردہ کے درمیان سے ایک ہاتھ نچلی جگہ کی طرف نمودار ہوا جو اس قدر روشن ہے کہ اُس کی مثال دُنیا میں میرے دیکھنے میں نہیں آئی۔ سمجھنے کے لئے بجلی کے کئی وارڈ کاانڈاتصور ہوسکتا ہے۔ مگر وہ روشنی ٹھنڈی فرحت افزاتھی۔ میں اس روشنی کے ہاتھ کو دیکھ رہاہوں کہ آوازآئی۔ کیا دیکھتے ہو۔ محمود کا ہاتھ ہے بیعت کرو۔ میرے دل میں محسوس ہواکہ یہ حضرت ام المومنین کی آوازہے۔ "
    (تاریخ تحریر28؍جون1939ئ)
    (بشارات رحمانیہ جلد1صفحہ396-397 )
    …٭…٭…٭…
    ۴۷۔ مکرم جناب مولابخش صاحب ولد قطب الدین قوم آرائیں سکنہ موضع گوکھووال
    چک نمبر276تحصیل وضلع لائل پور(فیصل آباد) حال سکنہ چک نمبر120
    تحصیل صادق آبادضلع رحیم یار خاں
    1907"ء یا1908ء میں مَیں نے یہ خواب دیکھا کہ سیڑھی کی طرح ڈنڈوں کا پل بنا ہوا ہے۔ ان ڈنڈوں کا رنگ آسمانی ہے۔ لوگ اسے پل صراط کہتے ہیں۔ اور اس پر سے لوگ گذرتے جارہے ہیں اور کئی اس سے گر بھی رہے ہیں میں بھی اس پل پر سے گذر کر دوسری طرف چلا گیاتو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بڑا وسیع میدان ہے اور اس میں مخلوقات کا بڑا ہجوم ہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ مغرب کی طرف لوگ بڑے زور سے یہ کہتے ہوئے دوڑے جارہے ہیں کہ نبی کریمؐ آگئے ۔ نبی کریمؐآگئے ۔میں بھی ان کے ہمراہ دوڑ پڑا۔ وہاں جاکر دیکھتاہوں تو حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں اور حضور کی ریش مبارک پر سرخ مہندی لگی ہوئی ہے۔ میں کرسی کو پکڑ کر کھڑا ہی تھا کہ پھر دیکھتاہوں کہ لوگ مشرق کودوڑ پڑے ہیں یہ کہتے ہوئے رسول اللہ آگئے رسول اللہ آگئے ۔ میں بھی وہاں سے دوڑ پڑااور سب سے پہلے میں وہاں پہنچا۔ تو کیا دیکھتاہوں کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ میں دیکھ کر کہنے لگا یہ تو ہمارے میاں صاحب ہیں ۔ لوگ کہنے لگے یہی تو رسول اللہ ہیں تواور کیا چاہتا ہے۔ پھر بیدار ہوگیا۔"
    (تاریخ تحریر30؍جولائی1939ئ)
    (بشارات رحمانیہ جلد 1صفحہ406-407)
    …٭…٭…٭…
    ۴۸۔ مکرم چوہدری ککو خاں صاحب کی رؤیا
    محترم چوہدری ککو خاں صاحب مرحوم آڈہ ضلع سیالکوٹ کے رہنے والے تھے ضلع سرگودہا کی آباد کاری کے وقت انہوںنے چک نمبر37جنوبی میں رہائش اختیار کی ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل(اللہ آپ سے راضی ہو) کے عہد میں احمدیت قبول کی ۔احمدیت سے اخلاص اور اس کے لئے جوش کی وجہ سے مشہور تھے۔
    آپ فرماتے تھے کہ
    " حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل(اللہ آپ سے راضی ہو) کی وفات کے بعد جب جماعت میں خلافت کے بارہ میں اختلاف رونما ہواتو یہ ایام ہمارے لئے بہت صبر آزما تھے ۔ ایک طرف جماعت کے سرکردہ اور بااثر لوگ کہہ رہے تھے کہ جماعت کو خلافت کی سرے سے ضرور ت ہی نہیں ۔ دوسری طرف ہمارے سامنے رسول پاک کے بعد خلافت کی مثال موجود تھی۔ لیکن منکرین خلافت کے پیدا کردہ حالات میں ہمارے لئے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہوگیا تھا کہ ہم کس کے ساتھ ہوں اور اس وقت جماعت کی بے کسی وبے حالی کو دیکھ کر دل بیٹھے جاتے تھے۔ ان حالات نے مجھے بہت بے قرارکر دیا ۔ اور میں رو رو کر دعائیں کرنے لگا کہ اے مولاکریم !تو ہی راہنمائی فرما۔ اس دعا کے علاوہ مجھے کچھ نہ سوجھتا تھا ۔ دوسرے ہی دن جبکہ میں اس بے قراری کی حالت میں سورہا تھا ۔ نصف شب کی قریب مجھے گھنٹی کی آواز سنائی دی میںنے خیال کیا کہ کوئی شخص بیلوں کو ہل جوتنے کے لئے باہر لے جارہاہوگا۔ ابھی یہ آواز دھیمی ہو کر ختم ہی ہوئی تھی کہ مجھے اللہ اکبر کی بلند آواز سنائی دی ، اور یوں محسوس ہوا کہ جیسے کوئی اذان دے رہا ہے مجھے تعجب ہوا کہ اتنے سویرے کس نے اذان دینی شروع کر دی ۔ میں حقیقت معلوم کرنے کے لئے چار پائی سے اُٹھ کر جب کمرہ سے باہر آیا تو آواز غائب تھی۔ اور ابھی سحری کا وقت نہ ہوا تھا ۔میں کمرہ میں واپس جاکر چارپائی پر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک وجیہہ صورت شخص میرے پا س بیٹھا ہے اس نے اپنے ایک گھٹنے پر سلیٹ رکھی ہوئی ہے اور سلیٹ پر کچھ لکھ رہا ہے میں سکتہ کے عالم میں بیٹھا رہا جب وہ لکھ چکاتو اس نے اپنا ہاتھ بڑھا کر سلیٹ میرے سامنے کر دی گویا وہ مجھے اپنی تحریر پڑھانا چاہتا ہے میںنے پڑھا تو اس پر مندرجہ ذیل الفاظ اسی ترتیب اور اسی انداز میں لکھے ہوئے تھے ۔
    محمود احمد
    محمود احمد خلیفہ
    محمود احمد
    میرے پڑھ لینے کے بعد وہ شخص بمعہ سلیٹ غائب ہوگیا ۔اس طرح خد اتعالیٰ نے اپنے کمال فضل واحسان سے میری بے قراری کو دور کیااور صداقت مجھ پر کھول دی ۔ چنانچہ اسی دن میںنے اور میرے ساتھیوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خدمت میں بیعت کا خط لکھ دیا۔ "
    (الفضل19؍اکتوبر 1956ء )
    …٭…٭…٭…
    ۴۹۔ خواجہ محمد شریف صاحب بٹالوی کی بذریعہ رؤیا قبول احمدیت
    آ پ نے اپنے قبول احمدیت کا واقعہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نورا للہ مرقدہٗ کو لکھتے ہوئے تحریر فرمایا:
    "ابتدائ1924میں راقم عاجز نے اللہ تعالیٰ کی خاص رہنمائی سے بذریعہ رؤیا احمدیت قبول کی اور بیعت کا خط حضور عالی مقام کو ارسال کردیا ۔ اور حضور نے بیعت قبول فرمائی۔ لیکن بعدازاں سخت پریشانی میں مبتلا ہوگیا۔ کہ دونوں فریقوں یعنی جماعت احمدیہ اور پیغامی جماعت میں حق پر کون ہے ۔ بندہ نے بہ عجز وانکساری والحاح وگریہ زاری اور سچی تڑپ اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ اے سچے ہادی اور گمراہوں کو سچااور مستقیم راستہ دکھانے والے، بذریعہ رؤیا الہام یا القاء سے سچا فیصلہ فرما کہ فریقین میں سچا کون ہے اور حق پر کون ہے اور نہایت گریہ زاری کی ۔ کہ اے حی وقیوم خدا سچا الہام فرما جس طرح تو نے احمدیت قبول کرنے میں بذریعہ رؤیا ہدایت فرمائی ہے مجھ ناچیز پر رحم فرما۔ کہ بغیر تیری رہنمائی کے میں اندھا ہوں ۔ الحمد للہ کہ اس رحیم وکریم ورؤف نے خاص رحم فرمایا اور خاکسار کو رؤیا اور الہام سے مطلع فرمایا کہ حق قادیان کے ساتھ ہے ۔
    تفصیل یہ ہے کہ میں نے رؤیا میں دیکھا کہ میں وضو کر رہاہوں اور کوئی مسجد ہے۔ وضو کر کے فارغ ہوا ۔تو معاً حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل(اللہ آپ سے راضی ہو) نظرا ٓئے اور اچانک مولوی محمد علی صاحب مرحوم بھی نظر آئے۔ جن کا لباس انگریزی قسم کا ہے اور ایک نکر زیب تن تھی ۔ اس وقت میں نے حضرت خلیفۃ المسیح اول سے عرض کیا ۔ حضور مولوی محمد علی صاحب یہ کھڑے ہیں۔ تو حضور نے فرمایا ان کو چھوڑ دو۔اور ساتھ ہی خواب میں الہام ہوا کہ "حق قادیان کے ساتھ"اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی اور نماز فجر اد اکی اور اللہ تعالیٰ کا شکر اد اکیا کہ ا س نے میری مضطربانہ دعا سن کر جلدی ہی سچا فیصلہ صادر فرما یا۔ میںاللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ خواب اور الہام مجھ کوہوا ہے ۔ لعنۃ اللہ علی الکاذبین
    میں تمام اہل پیغام سے بصددرد،اور ازراہ ہمدردی اور خیر خواہی عرض کرتا ہوں کہ وہ بھی زندہ خدا سے سچا فیصلہ طلب کریں ۔ لیکن شرط یہ ہے کہ دل میں کسی قسم کا بغض اور کینہ نہ رکھیں ۔وہ ہمارا پیارا خدا ہے اور زندہ خدا ہے وہ ضرور اس بارے میں سچا فیصلہ فرما دے گا ۔ وما علینا الاالبلاغ ۔ ـ" (الفضل 16؍ستمبر1956ء )
    ۵۰۔ مکرم محمد اسماعیل صاحب بقاپوری صاحب کا خواب
    2"اور 3اگست کی درمیانی شب مندرجہ ذیل خواب بھی دیکھا جو مزید تقویت ایمان کا باعث بنادیکھا کہ ایک بہت بڑی جامع مسجد ہے جہاں حضور کی اقتداء میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے احمدی احباب بکثرت جمع ہورہے ہیں ۔ میں بھی مسجد کی طرف روانہ ہوں، اور کافی فاصلہ سے دیکھتا ہوں کہ (بیت الذکر )سے باہر میدان میں احمدی احباب شیخ نصیر الحق صاحب سے مصافحہ ومعانقہ کر رہے ہیں ۔ شیخ صاحب موصوف اس خیال سے کہ میں بہت دور سے (کراچی سے ) آیا ہوں مجھے دیکھتے ہی باقی احباب کو چھوڑ کر میری طر ف یہ کہتے ہوئے لپکتے ہیں کہ کراچی سے سب سے پہلے آنے پر مبارک ہو۔ میں بھی دوڑ کر شیخ صاحب سے مصافحہ اور معانقہ کرتاہوں ۔ اور انہیں اس بات پر مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ موجودہ وقت کی قلعی کھولنے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت بڑی جرأت ایمانی دکھانے کی توفیق عطا فرمائی ۔ بعدہٗ نقشہ بدل گیا۔"
    (الفضل23؍ستمبر1956ء )
    …٭…٭…٭…
    ۵۱۔ مکرم چوہدری غلام سرور صاحب نمبردار آف محمود پور
    ضلع اوکاڑہ کا خواب
    جب حضرت خلیفہ الاوّل(اللہ آپ سے راضی ہو) نے وفات پائی اور حضور خلیفۃ المسیح مقرر ہوئے ۔ خاکسار نے فوراً بذریعہ خط بیعت کر لی ۔ چند روز کے بعد اختلاف کی وجہ سے مجھے خیال آیا کہ اللہ تعالیٰ سے معلوم کیا جائے کہ اس اختلاف میں کون سا گروہ حق پر ہے ۔ چنانچہ اس غرض کے لئے سفر اختیار کر کے موضع ڈنگے گیا کہ وہاں چل کر دعا کروں گا۔ چنانچہ وہاں شہر کے باہر خاکسار ایک کمرہ میں ٹھہرااور خوب توجہ سے دعا کی ۔ رات کو خواب دیکھا کہ
    "خود اللہ تعالیٰ ایک انگریز کی شکل میں کرسی پر بیٹھے ہیں آگے میز ہے ۔ میز کے سامنے خاکسار اور ایک غیر مبائع یعنی لاہور ی پیش ہوئے ۔ ا س انگریز نے میری طرف کمال لطف اور محبت اور بشاشت سے توجہ کی ۔ اورلاہوری پارٹی کے آدمی پر ناراضگی کا اظہار کیا۔
    مجھے شرح صدر ہوگیا اور خلافت سے ہمیشہ سے وابستگی نصیب ہوئی ۔ "
    (الفضل23؍ستمبر1956ء )
    …٭…٭…٭…
    ۵۲۔ مکرم معراج الدین صاحب امرتسر کا خواب
    1914"ء میں جب خلافت ثانیہ کے قیام پر عظیم الشان اختلاف ہو ا تو اس وقت میں کانپور میں تھا میںنے متواتر سات آٹھ روز اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کیں ۔ ایک رات رؤیا میں مجھے دکھایا گیا کہ میں لاہور میں ہوں ۔ اور ایک بازار میں پھر رہاہوں چند غیر مبائع لڑکے بھی اسی بازار میں بآواز بلند کہہ رہے ہیں کہ صحیفہ لے لو صحیفہ لے لو ۔ میںنے ان کی آواز کو سنااور ان سے ایک صحیفہ لے لیااور اسی طرح آوازیں دینے لگ گیا۔ اور ان کے ساتھ ہوگیا۔ آخر ایک گلی میں ایک مکان کا دروازہ کھول کر ہم تمام لڑکے اس کے اندر چلے گئے ۔ وہاں کیا دیکھا کہ اس مکان کے اندر ایک تالاب ہے جس کاپانی بظاہر بالکل صاف ہے اور ا س کی تہ کی تمام چیزیں دکھائی دے رہی ہیں، ان میں سے ایک لڑکے نے میرا بازو پکڑ کر مجھے تالاب میں دھکیل دیا ۔ جب میں اس میں گرا تو معلوم ہوا کہ تمام شہر کی گندی نالیاں اس میں گرتی ہیں اور تالاب میںاس قدر عفونت ہے کہ دم نکلتا ہے ۔ میں نے اس تالاب میں سے نکلنے کی از حد کوشش کی مگر باوجود کوشش کے نہ نکل سکا ۔آخر کنارے پر مجھے ایک منڈیر دکھائی دی۔ جس کے سہارے میں باہر نکلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک دیوار قریباً15فٹ اونچی کھڑی ہے ۔ جو مجھ کو باہر نہیں جانے دیتی۔ میںبصدمشکل اس دیوار پر چڑھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک اور دیوار اسی قدر اونچی کھڑی ہے ،اور میرے راستہ میں حائل ہے۔ بصد مشکل میں اس دیوار پر چڑھا تو سامنے ایک دروازہ دکھائی دیا،اور ارادہ کیاکہ باہر ہوجاؤں تو کیا دیکھتا ہوں۔ کہ اس دیوار کی بائیں جانب ایک کوٹھڑی ہے اور اس کے اندر خلیفہ رجب دین صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب بیٹھے ہیں ہم کو دیکھ کر خواجہ کمال دین صاحب نے ایک کتاب میری طرف پھینکی اور کہا یہ لو مرزا کی کتاب۔ پھر میری آنکھ کھل گئی۔ اس کے بعد میرے دل میں ڈالا گیا کہ اس گندے پیغامی تالاب کی طرف مت جاؤ۔جس میں گرے تھے چنانچہ میں نے اس وقت حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو بیعت کا خط لکھ دیا۔ "
    (الفضل28؍ستمبر1937ئ)
    …٭…٭…٭…


    ۵۳۔ مکرم علی محمد صاحب بی اے بی ٹی کا خواب
    آپ لکھتے ہیں ۔
    "یہ خواب میں نے 1920ء کے قریب دیکھا تھا اگر چہ میںنے حضور کی بیعت پہلے دن ہی کر لی تھی۔ اور حضور کو خلیفہ برحق سمجھتا رہاہوں مگر اس خواب کے بعد تو مجھے حضور کی خلافت کے متعلق کبھی کسی قسم کا شبہ نہیں ہوا۔ اور وہ خواب یہ ہے ۔
    "میںنے دیکھا کہ میرے اپنے قصبہ ہٹھور ضلع لدھیانہ کا نظارہ ہے ( میں اپنے خوابوں میں جب کبھی اپنے آبائی قصبے کو دیکھتا ہوں تو اس سے مراد قادیان ہی ہوتی ہے )ایک راستے کے مشرقی جانب ایک بلند مقام پر کیا دیکھتا ہوں، کہ سرخ رنگ کا مخمل کا فرش بچھا ہوا ہے، اور جہاں تک نگاہ کام کرتی ہے فرش ہی فرش دکھائی دیتا ہے۔ مخمل سادہ نہیں بلکہ پھولدار مخمل ہے ۔ اورپھول ایسے ہیں جیسے مور کے پروں پر پھول بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ گویانہایت خوبصورت سرخ مخمل کافرش ہے۔ اس پر ایک تخت بچھا ہوا ہے جو وہ بھی سرخ رنگ کا ہے ۔ اس تخت پر حضور جلوہ افروز ہیں اور حضور کا لباس بھی اسی سرخ پھول دار مخمل کا ہے ۔ میں اپنی اہلیہ مرحومہ (والدہ عبد السلام اختر) کو کہتا ہوں کہ دیکھو ہمارے بادشاہ ہیں اور میں کوئی اور بات بھی ان سے کہی جو،اب مجھے اچھی طرح یا د نہیں جس کے جواب میں والدہ عبد السلام اختر نے کہا ،کہ اب ہم انہی کے خادم ہیں ۔ یہ نظارہ بہت ہی خوش کن تھا ۔ ا س کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ "
    (الفضل19؍ستمبر1956ء )
    …٭…٭…٭…
    ۵۴۔ مکرم حاجی غلام احمد صاحب ایڈوکیٹ پاکپتن کا ایک خواب
    آپ لکھتے ہیں۔
    "خاکسار نے ستمبر1951ء بمطابق ذوالحجہ 1370ھ میں حج بیت اللہ کیا تھااوردوران حج بمقام منیٰ بتاریخ 11ذوالحجہ بمطابق 13؍ستمبر1951ء بوقت ضحی جبکہ میں بیٹھا ہوا اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہا تھا۔ پہلے میری زبان پر فقرہ حجک حج جاری ہوا۔ ترجمہ :یعنی تیرا حج ،حج ہے ۔ پھر تھوڑے سے وقفہ کے بعد بیداری میں ربودگی اور غنودگی طاری ہوئی اور کشف دیکھا کہ
    ایک شخص جس کی داڑھی مہندی سے رنگی ہوئی اور کسی قدر سفید کھونٹی نکلی ہوئی تھی آیااور اس نے مجھے مخاطب ہوکر کہا کہ
    "ہمارا ایمان مصلح موعود کے سوائے اور کسی پر نہیں ۔"
    میںنے اس کی تصدیق میں اپنا سر ہلایا۔ تب مجھے محسوس ہوا کہ میرا جسمانی سر بھی ہل رہا ہے ۔ کشفی حالت دور ہونے پر معاً خارجی حالت میںبھی فی الواقعہ میرا جسمانی سر ہل رہا تھا۔ میںنے اس کے جلدہی بعد اپنے ساتھی حکیم امیر الدین از منٹگمری غیر احمدی کو یہ تمام ماجرا بتلادیا تھا، اور اسی روز خاکسار نے یہ تمام ماجرا آنحضور کی خدمت بابرکت میں بذریعہ ہوائی ڈاک تحریر کر کے ارسال کر دیا تھا، اور حج سے واپسی پر اپنے حلقہ احباب میں اس کا تذکرہ کرتا رہا تھا۔ حکیم امیر الدین صاحب مذکور نے اس وقت خود ہی کہا تھا کہ پھر تو قادیانی خلیفہ سچا ہوا۔ میںنے جواب دیا تھا کہ ہاں سچا مصلح موعود ہے ۔
    میں موکد بعذ اب اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں ،کہ مذکورہ بالا ماجرااور کشف بالکل درست اور صحیح ہے ۔ افتراء کرنااور جھوٹ بولنا لعنتیوں کاکام ہے ۔ *** اللہ علیٰ الکاذبین
    پس ایام حج میں منیٰ کے مقدس مقام پر اللہ تعالیٰ کا مجھ ناچیز پر آنحضور کے مصلح موعود ہونے کا انکشاف کرنا عین آسمانی شہادت ہے جو کہ میرے لئے از دیاد ایمان کا باعث ہوئی۔ اور میں اللہ تعالیٰ کے حضور سجدات شکر بجا لایا تھا۔ الحمد للہ علیٰ ذالک
    ایسی صورت میں اللہ رکھا اور اس کے ساتھیوں کے خیالات فاسدہ اور توہمات باطلہ کا ہم پر کیا اثر ہوسکتا ہے ۔ ہاں مجھے یاد آگیا کہ اسی سال میاں عبد المنان صاحب ابن حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل(اللہ آپ سے راضی ہو) بھی حج بیت اللہ کے لئے گئے تھے ۔ اگر اب وہ آنحضور کو مصلح موعود نہیں مانتے ،تو وہ بھی کوئی آسمانی شہادت مثل مذکورہ شہادت پیش کریں جس سے آنحضور کے مصلح موعود ہونے کی تردید ہوتی ہو۔ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُواالنَّارَ الَّتِیْ وَقُودُ ھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ اُعِدَّتْ لِلْکَافِرِیْنَ ۔
    (الفضل 19؍ستمبر1956ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۵۵۔ مکرم رحیم بخش صاحب آف ملتان کا خواب
    آپ تحریر فرماتے ہیں۔
    1940ـء کے اوائل کی بات ہے گو خاکسار حضور کی بیعت سے مشرف ہوچکا تھا۔ مگر ابھی تک پیغامیوں کی طرف سے پید اکردہ اعتراضات کا اثر دماغ میں باقی تھا ،اور میرا دل مابین یقین وتشکیک تھا ۔ آخر باری تعالیٰ کی درگاہ کی طرف رجوع کیا،اور نہایت الحاح کے ساتھ متواتر دعا کی ،کہ خدا وند عالم! تو نے محض اپنے فضل سے مسیح موعود کی شناخت کی توفیق دی ہے اب اپنے فضل سے ،تو یہ ظاہر فرما، کہ جماعت کے دونوں فریقوں میں حق پرکون ہے ؟پیغامی جماعت یا جماعت قادیان ؟ میںنے خواب دیکھا کہ
    "بندہ ایک غیر آباد ویران کھنڈرات سے گذر رہاہے، اور مشرق کی طرف جارہاہے شام کا وقت ہے گویا عصر اور مغرب کے بین بین وقت ہے ۔ اور جھٹ پٹا سا ہوچکا ہے ۔اسی اثناء میں مشرق کی طرف ایک عظیم الشان اور بلند مینارہ نظر آتا ہے، اور مینارہ کے عین اوپر تین چار روز کا چاند روشن ہے ۔میں اپنے دل میں حیران ہوتا ہوں ،کہ اول تو عصر اور مغرب کے درمیان ابتدائی دنوں کا چاند روشن اور دکھائی ہی نہیں دیتا۔ دوسرے یہ چاند مشرق میں بلند ہورہاہے۔ یہ عجیب چاند ہے میں کافی دیر تک حیرت واستعجاب کے ساتھ اس چاند کو دیکھتارہا ۔ اسی اثناء میں دیکھا کہ چاند کے عین درمیان سے ایک ستارہ نمودار ہوا ہے ،اور جوں جوں شام کا اندھیرا بڑھ رہا ہے۔ اس ستارہ کی روشنی بڑھتی جارہی ہے۔ یہاں تک کہ کافی وقت ہوگیا ہے ،اور اس ستارہ کی روشنی سے ایک عالم منور ہورہاہے ۔
    اسی اثناء میں ایک دیہاتی طرز کا آدمی جانب جنوب سے آتا دکھائی دیا۔ جو معمولی سادہ کپڑوں میں ملبوس، چہرہ نورانی اور باریش تھا۔ جب سامنے آیا توکہنے لگا جانتے ہو یہ مینارہ کون ساہے؟یہ مینارہ قادیان کا مینارۃ المسیح ہے اور یہ چاند حضرت مسیح موعود اور یہ ستارہ محمودہے جو عین چاندکے درمیان روشن ہے۔
    اتنے میں میری آنکھ کھل گئی دیکھا تو صبح کے چار بجے تھے اور دل ہشاش بشا ش تھا۔
    میں خدائے واحد قہار کو حاضر وناظر جان کر بیان کرتا ہوں، کہ میں نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ عالم رؤیا میں خد اتعالیٰ نے اس عاجز پر ظاہر کیا ہے اور اس میں میں نے کوئی بات اپنے پاس سے نہیں ملائی۔"
    (الفضل29؍اگست1956ء )
    ۵۶۔ مکرم جمعدار فضل دین صاحب کا ایک خواب
    آپ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل(اللہ آپ سے راضی ہو) کی وفات کے وقت جو 1914ء بروز جمعہ ہوئی مردان میں تھے ۔ آپ نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات خواب میں دیکھا کہ
    "میں ایک گاؤں قصبہ سلطان ونڈ ضلع امرتسر میں ہوں ۔جو امرتسر کے قریب ہے ۔مجھے بتایا گیا کہ آج جمعہ ہے اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم امرتسر میں سب سے اونچی(بیت الذکر) میں جمعہ کی نماز پڑھائیں گے ۔میںنے تیاری کی، میں اونچی (بیت الذکر) کی سیڑھیاں چڑھتا ہوا (بیت الذکر) میں پہنچا۔ (بیت الذکر) اپنی فراخی میں بہت بڑی تھی۔ ہزار ہالوگ یہ سن کر کہ آج جمعہ کی نماز آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم پڑھائیں گے ۔ وقت سے بہت پہلے ہی پہنچ چکے تھے۔(بیت الذکر) شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک بھری ہوئی تھی مجھے سب سے اخیر کی صف میں جگہ ملی ۔ جب نما ز کھڑی ہوئی اور صفیں درست کی جارہی تھیں تو میں نے دیکھا کہ میری صف سے اگلی صف کے کئی لوگ واپس نکل رہے ہیں۔ جیسے وضو ٹوٹنے کے بعد لوگ دوبارہ وضو کرنے کے لئے پچھلی طرف نکلتے ہیں ۔میںاپنی صف سے اگلی صف کی طرف بڑھا ۔ پھر اگلی صف سے بھی کچھ لوگ پیچھے نکل گئے اور میں آگے بڑھتا گیا ۔ حتیٰ کہ میں پہلی صف میں بالکل امام کے پیچھے پہنچ گیا ۔ تو امام نے سورۃ فاتحہ کے بعد قرأت شروع کی وہ پیاری آواز اب بھی کبھی جب مجھے خواب یاد آتا ہے میرے کانوں میں گونج جاتی ہے ۔وہ قرأت یہ تھی قٓ قف وَالْقُرآنِ الْمَجِیْدِo بَلْ عَجِبُوْآاَنْ جَآئَ ھُمْ مُّنْذِرٌمِّنْھُمْ فَقَالَ الْکَافِرُوْنَ ھٰذَاشَیْیٌٔ عَجِیْبٌo جب نماز ختم ہوئی تو مجھے بتایا گیا کہ نماز حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے پڑھائی ہے امام صاحب کھڑے ہوگئے ،اور لوگ جوق در جوق مصافحہ کے لئے بڑھے ۔ میں حضور کی چھاتی کے عین سامنے کھڑا تھا۔ میںنے بھی مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھائے مگر حضور دوسرے لوگوں سے مصافحہ کرتے جاتے تھے اور مجھے کنکھنیوں سے دیکھتے جاتے تھے ۔ مجھے یہ دیکھ کر کہ آپ دوسرے تمام دوستوں سے مصافحہ فرما رہے اور میرے مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھے ہوئے ہیں۔ مگر میرے ساتھ مصافحہ نہیں کر رہے مجھے رقت پید اہوئی اور میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ جب سب سے فارغ ہوگئے تو میرے ساتھ مصافحہ فرمایا۔ تو میںنے رقت بھری آواز میں درخواست کی حضور میری ایک عرض ہے اور وہ یہ کہ مجھے چھاتی سے لگائیں آپ نے مجھے بہت زور سے چھاتی سے لگایا۔ آپ قدوقامت میں اتنے لمبے تھے کہ جب آپ سامنے کھڑے تھے تو میرا سر آپ کی ناف تک پہنچتا تھا اور آپ کی شکل ایسی تھی جیسی مفتی محمد صادق صاحب کی جوانی میں شکل تھی۔ "
    (الفضل29؍اگست1956ء )
    …٭…٭…٭…
    ۵۷۔ حضرت سید محمد علی شاہ صاحب منٹگمری کا ایک خواب
    "میںنے 1898-99ء میں خواب دیکھا کہ مکہ شریف کے جنگل میں ہوں (یہ حالت اس وقت کی نظر آئی ۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام ،حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بے آب وگیاہ جنگل میں چھوڑ کر آتے ہیں) وہاں ایک جھگی پڑی ہوئی تھی جیسی خربوزوں وغیرہ کی رکھوالی کرنے والے اپنے کھیت میں بنالیتے ہیں۔ اس جھگی کے دروزے پر ایک بزرگ چارپائی پر بیٹھے ہیں ،میں نے السلام علیکم کہا ۔ ان بزرگ نے وعلیکم السلام کہہ کر مصافحہ کیا ، مجھے تفہیم ہوئی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں ۔ اتنے میں ایک نوعمر نوجوان تشریف لائے جن کے چہرہ مبارک پر سبزہ کا آغا زتھا ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا جانتے ہو یہ کون ہے ۔ میںنے عرض کیا کہ میں نہیں جانتا ۔ آپ نے فرمایا !یاد رکھ یہ میرا بیٹا اسماعیل ہے ۔ پھر جاگ آگئی۔
    میں نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی زندگی میں ایک دو خوابوں اور نشانات دیکھ کر مارچ1908ء میں بیعت کی ۔ اس وقت میں لاہور ایس وی کلاس میں پڑھتا تھا۔ مولوی محمد علی صاحب اظہر اور مولوی برکت علی صاحب لائق میرے ہم جماعت تھے ۔ میں قادیان نہیں گیا تھا۔ حضور نے26؍مئی1908ء کو وفات پائی۔ مولوی محمد علی صاحب اظہر اور بندہ دونوں جولائی1908ء میں قادیان گئے (محمد علی اظہر صاحب اور میں دونوں ایک سکول میں مدرس لگ گئے تھے ) وہاںبیت المبارک میں عصر کی نماز کے وقت حضور تشریف لائے ، وہی سبزہ کا آغاز تھا وہی حسن وحیاء ۔ مولوی محمد علی صاحب اظہر نے پوچھا جانتے ہو یہ کون ہیں؟ میںنے کہا کہ میں نہیں جانتا ۔انہوںنے کہا کہ حضرت صاحب کے بیٹے میاں محمود ہیں۔ میری نظر میں ہو بہو وہ خواب والی حضرت اسماعیل کی شکل آگئی۔ میںنے حضرت مولوی صاحب کی بیعت کی ۔ 1912-13ء میں میں لائل پور میںایک پرائمری سکول میں مدرس تھا۔ "پیغام صلح" میرے نام آتا تھا ۔کہ اچانک "خلیفہ کی ضرورت نہیں"کا ٹریکٹ پہنچا۔ اس سے تیسرے چوتھے دن اخبار میں نکل آیا کہ"ہائے نور الدین چل بسا"اس کے بعد تو اخبار میں زور وشور سے خلافت اور حضور کے خلاف لکھا جانے لگا۔ اخبار کے زہریلے پراپیگنڈے کے اثر سے دوسال بیعت نہ کی ۔ ایک دفعہ مولوی محمد علی صاحب کی بیعت کے لئے لاہور گیا۔ مولوی صاحب ایبٹ آبا دگئے ہوئے تھے ۔ دوسری دفعہ گیا شام کو درس القرآن ہورہاتھا ۔ درس کے بعد الفضل آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خواجہ کمال الدین صاحب اور خلیفہ رجب الدین صاحب اور کئی اصحاب تھے وہ حضور کے خلاف ایسی باتیں کر رہے تھے کہ مجھ میں برداشت کی طاقت نہ رہی ۔ حالانکہ میں گیا ہی بیعت کے لئے تھا۔ (بیت الذکر) سے اُٹھ کر باہرچلا۔ اکبر شاہ خاں نجیب آبادی میرے دوست تھے۔ پوچھنے لگے کہاں چلے ہو ۔ بیعت کر لو۔ میںنے کہا ذرا باہر جا رہاہوں ۔ وہاں سے چھوٹتے ہی سیدھا اسٹیشن پر آیا۔ گاڑی میں سوار ہوا۔ راستے میں تین باتیں دماغ میں آئیں ۔
    ۱۔ مجھے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیعت سے بہت دیر پہلے خبردار کیا تھا ۔کہ میرا بیٹا
    اسماعیل ہے۔ کنعان بن نوح نہیں ۔ یہ سچا ہوگا ۔ خبردار اس کی متابعت سے سر نہ پھیرنا۔
    ۲۔ حضرت مولوی صاحب کو اہل پیغام مجبور کرتے رہے کہ اپنے بعد خلیفہ مقرر فرمادیں ۔
    حضور یہی فرماتے رہے خلیفہ بنانا میرا کام نہیں ۔ خلیفہ خود خدا بناتا ہے ۔ اب اللہ تعالیٰ
    نے جس کو چاہا خلیفہ بنادیا۔
    ۳۔ اہل شیعہ کو ہم اسی وجہ مطعون کرتے ہیں کہ خدا نے حضرت ابوبکر کو خلیفہ بنادیا۔
    میںنے گھر پر پہنچتے ہی سب سے پہلا کام جو کیا وہ پہلے گناہوں کی توبہ اور بیعت خلافت کے لئے خط تھا جو حضور کی خدمت میں گیا۔ "
    (الفضل29؍اگست1956ء )
    …٭…٭…٭…
    ۵۸۔ مکرم خورشید احمد صاحب امیر ضلع رحیم یار خاں کا خواب
    15"؍اکتوبر1944ء کو رؤیا میں دیکھا۔ کہ ایک بارہ تیرہ سالہ نوجوان خوبصورت نے میری روح قبض کر لی ۔فوراً نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم خانہ کعبہ کے برآمدہ میں ایک دو بازؤں والی کرسی پر بیٹھ گئے ۔ حضور کے دونوں پاؤں کے درمیان میں سجدہ کی حالت میں ہوں ۔ حضور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں کندھے پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہیں ۔ عالم رؤیا میں ہی معلوم ہوا۔
    اسلام کی ترقی اس نوجوان کے ذمہ ہے ۔
    سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے عربی میں گفتگو ہوئی ۔ اچانک منہ سے نیم بیداری میں الحمد للہ نکل گیا۔ پھر غیبی طاقت نے مجھے دبا لیا۔ اور میری جان نکال دی ۔ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لے آئے۔اور آپ کا ہاتھ حضور کے کندے پر ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پیارے بچہ کی طرح حضور کو دیکھتے ہیں اور ترقی اسلام چاہتے ہیں۔ پھر میری آنکھ کھل گئی۔ اور الحمد للہ نکل گیا ۔ پھر تیسری بار وہی حالت طاری ہوئی ۔
    عجیب لطف ۔ خوشی کی رات گزری ۔ بعد نماز فجر جب بیٹھا تھا تو اتفاقیہ طور پر ایک کتاب میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کا فوٹو نکل آیا۔ وہی جو رات سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شکل دیکھی تھی بالکل وہی شکل حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی تھی ۔ فوراً شکرانہ کے نفل اداکئے ۔ "
    (الفضل07؍ستمبر1956ء )
    …٭…٭…٭…
    ۵۹۔ مکرم صوبیدار عبد المنان صاحب کے دو خواب
    ‏i۔ 1946"ء کا واقعہ ہے جبکہ میں فوج سے ریلیز ہوکر قادیان شریف آیا ۔ میں حضور کی مجلس علم وعرفان میں جایا کرتا تھا۔ ان دنوں حضور قرآن کریم کی تفسیر فرمایا کرتے تھے ۔ ایک دن میں مجلس سے فارغ ہوکر گھر آیا۔ کھانا کھا کر عشاء کی نماز اد اکر کے بستر پر لیٹ گیا ۔تو میرے دل میں یہ خیال گذرا کہ مجھے حضور پر کامل ایمان ہے ،کہ آپ خلیفۃ المسیح الثانی اور مصلح موعود ہیں مگر اطمینان قلب کے لئے اللہ تعالیٰ سے دریافت کر لوں کہ آیا یہ واقعی اس کے مصداق ہیں ۔ میں اسی طرح سے اطمینان قلب کرنا چاہتا ہوں جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خد اتعالیٰ سے سوال کیا تھا ۔ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی اور انہیں خد اتعالیٰ نے اطمینان قلب عطا فرمایا۔ میںنے کہا خدایا جیسا کہ مامور من اللہ کا قرآن شریف میں ذکر ہے اور مسیح موعودعلیہ السلام کا بھی ۔ کیا کہیں قرآن مجید میں محمود (خلیفۃ المسیح الثانی مصلح الموعود) کانام بھی آیا ہے اگر تو محمود کا نام قرآن کریم سے دکھاوے تو میں سمجھوں گا کہ واقعی محمود سچے اور برحق خلیفہ اور مصلح الموعود ہیں ۔ اگر ہے تو مجھے آج ہی بذریعہ رؤیا قرآن کریم میں حضور کانام دکھاوے ۔تاکہ میرے لئے اطمینان قلب کا موجب ہواور ایمان کامل نصیب ہو ۔میں دعا کرتا ہوا سوگیا۔ قریباً نصف شب گذرنے پر یا صبح کے قریب خواب میں کیا دیکھتا ہوں آواز آتی ہے ۔
    "محمود کا نام قرآ ن کے درمیان میں لکھا ہے"
    پھر اور بھی وضاحت سے آواز آتی ہے ۔
    "پندرھویں سیپارہ کا آخیر اور سولہویں سیپارہ کے شروع میں پڑھو "
    اس پر میری آنکھ کھل گئی۔ اُٹھ کر صبح کی نما ز اد اکی۔ بعد میں حافظ ابراہیم صاحب امام مسجد دارالفضل اور غالباً مولوی عبد الرحمن صاحب مبشرسے میںنے دریافت کیا کہ قرآن میں کہیں محمود کا نام بھی آتا ہے تو انہوں نے بتایا کہ ہاں آتا ہے تب بعدہٗ میںنے قرآن شریف کھول کر دیکھا تو واقعی بعینہٖ آواز کے مطابق پایا ۔ جس سے مجھے حضور کی ذات بابرکات (خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعود) پر یقین کامل ہوگیا۔ کہ حضور واقعی خد اتعالیٰ کی طرف سے ہیں ۔ میر اایمان حضور کی خلافت اور مصلح الموعود ہونے پر اس قدر کامل ہوچکا ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ کوئی مجھ کو اس سے ہٹا نہیں سکتا۔ کیونکہ میںنے خد اتعالیٰ سے دریافت کیا تھا۔ جس کے جواب میں اس نے مجھے خود بتایا ہے۔ میرا خیال ہے ،کہ یہ خواب میں نے قادیان شریف میں حضور کو بھی لکھ کر بھیجا تھا ۔ 1946ء میں یہ خواب دیکھا گیا۔ اس کے بعد آج تک یہ خواب یااس کا تصور میرے خیال میں نہ آیا ۔ آج جبکہ موجودہ فتنہ نے سر نکالا ہے ۔تو مجھے یہ خواب فوراً لفظ بلفظ یاد آگیا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے مجھے توجہ دلائی جارہی ہے کہ وہ خواب یاد کر اور میرے ذہن میں اسی طرح سے الفاظ روشن ہیں ۔ جیسا کہ اس وقت خواب میں بتائے گئے تھے۔
    میں خداتعالیٰ کو حاضر وناظر جان کر خد اکی قسم کھا کر جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے یہ خواب لکھ رہا ہوں کہ مندرجہ بالا تحریر میں جو کچھ لکھا ہے۔ وہ بالکل سچ ہے ،اور بعینہٖ اسی طرح خواب جو دیکھا ہے جو آواز خواب میں آئی تھی ۔ لفظاً لفظاً وہ یہی ہے، اور الفاظ وغیرہ میں کوئی تبدیلی یاکمی بیشی نہیں ہوئی۔ میرا ذہن آج تک بھی اسی طرح ان فقرات کو دہرا رہا ہے ۔"
    ‏ii۔ انہی دنوں میں ایک اور بھی خواب دیکھا تھا کہ
    " حضور خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعود، فوجی لباس میں ہیں۔ بیت الاقصیٰ میں منبر پرکھڑے ہوئے ہیں ۔ایک پاؤں ممبر کے کٹہرے پر رکھا ہے اور کچھ آگے کو جھک کر جماعت کو وعظ فرما رہے ہیں ۔ بیت الاقصیٰ جماعت کے لوگوں سے بھری ہوئی ہے اور میں بھی حضور کے قریب کھڑا ہو اہوں ۔
    حضور نے فرمایا:
    غالباًکٓھٰیٰعٓصٓ سے مراد ہے ۔ایک دفعہ سندھ سے آرہا تھا کہ مجھے خواب میں بتایا گیا کہ ان حروف میں تمہارے متعلق پیشگوئی ہے میںنے اسی وقت یہ رؤیا مولوی شیر علی صاحب کو سنادی جو انہوںنے بعد میں غالباً شائع کرادی ۔"
    (الفضل14؍ستمبر1956ء )
    ۶۰۔ مکرم بابو عزیز دین صاحب پنشنر ظفر وال کا ایک خواب
    آپ نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہٗ کو اپنے ایک خط میں لکھا۔
    "پندرہ بیس سال کی بات ہے کہ ماہ رمضان میں میںنے ایک رؤیا دیکھا تھا ۔ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے اسلام کا جو کام آپ کے سپرد کررکھا ہے۔ اس کی انسپکشن کے لئے آئے اور بیت الاقصیٰ قادیان کے مینار کے اوپر مقیم ہیں۔ حضرت عیسیٰ اس مینار پر کچھ فاصلہ پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔وہ رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی موٹر یا ہوائی جہاز کے ڈرائیور معلوم ہوتے ہیں ۔ آپ بھی مینار پر آئے ہیں پہلے حضرت مسیح موعود سے مصافحہ کیا ہے ۔ حضرت اقدس نے آپ کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیتے ہوئے حضرت پاک محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ہاتھ میں دیااور کہا کہ میرا محمود آگیا ۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کہا !کہ آپ کا محمود ہے تو ہمارا نہیں؟ یعنی تائید کی کہ ہمارا بھی محمود ہے ۔ حضور مشعل کو جو آگے تھی بغور دیکھ رہے ہیں ۔جب آپ نے حضرت عیسیٰ کی طرف دھیان کیا تو وہ کھڑے ہوگئے اور مصافحہ کیا ۔ پھر آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ اتنے میں رسول پاک محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو کہا کہ خیال رکھنا ہم نے سورج چڑھنے سے پہلے وہاں ضرور پہنچنا ہے ۔ چونکہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور مسیح موعود کی پیٹھ مغرب کو تھی۔ اس لئے آپ کا منہ سیدھا مغرب کو تھا۔ آپ نے فوراً کہہ دیا کہ حضور سورج نکل رہا ہے اور میں نے بھی دیکھا کہ قادیان سے مغرب کی طرف نہر کے قریب سورج نکل رہا ہے ۔ شعاعیں بہت دور تک ہیں اور اصل سورج بھی چاند ہلال کے مطابق نکلا ہو اہے ۔ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فوراً بستہ باندھنے لگے ،اور حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے چار چیزیں دوانڈینپڈنٹ اور دو کرپانیں دیں ، کہ ایک تلوار حضرت میاں شریف احمد صاحب کے لئے اور ایک انڈیپنڈنٹ حضرت میاں بشیر احمد صاحب کے لئے اور ایک تلواراور انڈیپنڈنٹ آپ کے لئے ۔پھر دیکھا آپ اپنی موٹر پر سوار ہوگئے جو بیت الاقصیٰ کے پرانے گنبد پر کھڑی تھی اور ہوائی کی شکل میں تبدیل ہوکر ہم نے محلہ دارالرحمت تک جاتے دیکھا۔"
    (الفضل یکم اکتوبر 1956ء )
    …٭…٭…٭…
    ۶۱۔ مکرم ملک غلام محمد صاحب آف قصور کا خط اور ان کی
    اہلیہ مرحومہ کی ایک پرانی خواب
    1916"ء میں میرا تعلق پیغامیوں کے ساتھ تھا اور میں شیخ رحمت اللہ ، خواجہ کمال الدین کی پارٹی میں تھا۔ میری اہلیہ نے بھی اس وقت تک کسی کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی تھی۔ البتہ مولوی حکیم نور الدین صاحب خلیفۃ المسیح الاوّل(اللہ آپ سے راضی ہو) کی بیعت کی تھی۔ اور اس وقت حمل سے تھیں ،اور ابھی وضع حمل میں کچھ عرصہ بقایا تھا کہ اس کو ایک رات خواب آئی جس کے غالباًیہ الفاظ تھے۔ کہ خواب میں مجھے یہ کہا گیا ہے، کہ تمہارے گھر لڑکا ہوگا تم مرزا محمود کی بیعت کر لو۔ چنانچہ کچھ عرصہ بعد میرا لڑکا عبد الرحیم پید اہوا۔ اور اس کے بعد میری بیوی نے مجھ کوکہا کہ میری بیعت کا خط تو قادیان (حضور کی خدمت میں ) لکھ دو اور آپ جہاں چاہیں رہیں۔ چنانچہ میں نے اپنی بیوی کی بیعت کا خط لکھ دیا۔ جو منظور ہو کر الفضل میں شائع ہوا۔ اس پر شیخ رحمت اللہ وغیرہ میرے مکان پر لاہور آئے، اور انہوںنے بڑا شور مچایا۔ اور کہاکہ یہ کیا غضب کردیا ہے میںنے کہا کہ میں اس کا ذمہ دار نہیں ہوں ۔ میری بیوی موجود ہے اس سے دریافت کر لو ۔ اس پر وہ خاموش ہوگئے اس کے بعد میں نے قادیان پہنچ کر حضور کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔"
    (الفضل08؍ستمبر1956ء )
    …٭…٭…٭…
    ۶۲۔ مکرم قریشی بشیر احمد صاحب دہلوی پشاور کینٹ کا خواب
    "خاکسار جب جوان ہو اتو دنیا سے دل برداشتہ ہوگیا۔ اوردل میں ایک تڑپ تھی ۔ کہ اگر خد اتعالیٰ ہے تو وہ مجھے ملے ۔ دہلی چونکہ مرکزی شہر تھا اور بائیس خواجاؤں کی چوکھٹ کہلاتا ہی تھا ۔اس لئے وہاں کے علماء سے ملا ۔ وظیفے کئے عشاء کے بعد سے ہزاروں دانوں کی تسبیح لے کربیٹھنااور فجر ہوجاتی۔ ہوحق کی جگہوں پر بھی چلے کاٹے۔ مگر دلی مقصود نہ پایا۔ اب میں ایسے مقام پر تھا کہ پکا دہریہ ہوجاؤں 1942ء میں لاہور CMAمیں ملازم ہوا۔ احمدیہ بلڈنگس میں جلسے سنے کچھ ان کا لٹریچر پڑھا ۔میرے بڑے بھائی صاحب مسلم ہائی سکول میں ٹیچر تھے۔ اور انہی کے ساتھ میں رہتا تھا ۔ مولوی آفتاب الدین صاحب مرحوم سے دوستی ہوگئی۔ میں جماعت پیغام میں شامل ہوگیا ۔ کم وبیش ایک سال رہا۔ اس تمام عرصہ میں کسی نے مجھ سے یہ نہیں کہا، کہ میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی کتب مقدسہ کا مطالعہ کروں ۔ جس قدر کتب دستیاب ہوتیں۔ وہ جماعت کے لوگوں کی تصانیف ہوتیں ۔ان سے میری تسکین نہ ہوئی ۔ بالآخر میںنے ایک روز مولوی آفتاب الدین صاحب سے اس کا ذکر کیا ۔ مولوی صاحب فرمانے لگے ۔ انجن پٹڑی پر چلتا ہے وگرنہ دھنس کر رہ جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پہلے آپ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی کتب پڑھیں پھر آپ کو کیف نصیب ہوگا ۔ میںنے کہا تو پھر مجھے کتب دیں ۔ چنانچہ انہوںنے مجھے ایک کتاب منظور الٰہی دی۔ جس میں مسیح موعودعلیہ السلام کے ملفوظات تھے ۔ اور جلسہ مذاہب کی رپورٹ جس میں اسلامی اصول کی فلاسفی کا مضمون تھا ۔ساری ساری رات بار بار پڑھتا رہا پھر دفتر میں ایک احمدی نوجوان شیخ لطف الرحمن صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ انہوںنے تحریک کی ۔
    آپ تہجد میں دعاؤں سے کام لیں، اور اللہ تعالیٰ سے دریافت کریں کہ کون راستی پر ہے ۔چنانچہ میں نے دعائیں شروع کیں، اور دونوں جماعتوں کو سامنے رکھا ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے دستگیری فرمائی ۔ چنانچہ مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زیارت ہوئی ۔ دیکھا کہ ایک بچہ کے سامنے رہل پر قرآن مجید کھلا ہوا ہے۔ وہ پڑھتا ہے اور صحیح پڑھتا ہے اور بچہ بہت ہی چھوٹا ہے ایک آواز ہے۔ جو اس بچہ کو بار بار غلط پڑھاتی ہے ۔مگر وہ بچہ صحیح قرآن کریم پڑھتا ہے ۔ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔ دیکھا بچہ کو غلط پڑھایا جاتا ہے مگر بچہ صحیح پڑھتا ہے ۔ پھر دیکھا کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی ہوا میں معلق ہیں اور تحدّی سے فرماتے ہیں ۔
    کہ ہاں یہی فرقہ احمدیہ ناجی ہے، اور جو بھی اس میں آئے گاناجی ہے۔ میںنے اس سے قبل حضور کو نہیں دیکھا تھا بعد میں فوٹو دیکھ کر معلوم ہوا کہ یہی خلیفۃ المسیح الثانی ہیں۔ غرض بڑے انکشافات ہوئے اورانتہا یہ کہ بیعت کے بعد ایک روز رات مولاکریم سے ماں اور بچہ کی طرح اس رنگ میں گفتگو رہی کہ اے مولا!بے شک مسیح موعودعلیہ السلام کی کتب کے مطالعہ سے میںنے یہ سمجھ لیا ہے کہ کلام پاک میں جس قدر تیری صفات ہیں۔ وہ جاری وساری ہیں۔ مگر میں تو تجھے بالمشافہ دیکھنا چاہتا ہوں ۔ ا س قدر رقت طاری ہوئی کہ جانماز آنسوؤں سے بھیگ گیا۔ یوں معلوم ہوا کہ مولا کریم آگیا ہے ۔ اور میں نے اس کے پاؤں پکڑے ہوئے ہیں میں اپنا سر بوجہ انتہائی رقت کے آہستہ آہستہ اس کے چہرے کی طرف اُٹھا تا ہوں۔ تو کیا دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ہیں اس سے مجھے وہ نکتہ جو اسجد آدم میں ہے حل ہوگیا ۔ چنانچہ میںنے حضور کو بیعت کا خط لکھا۔ دراصل یہ حضور اقد س کی توجہ ہی تھی کہ میں دہریت اور پیغامیت سے نکل کر صحیح منزل پر پہنچ گیا۔ "
    (الفضل07؍ستمبر1956ء )
    …٭…٭…٭…
    ۶۳۔ مکرم مرزا احمد بیگ صاحب ریٹائرڈ انکم ٹیکس آفیسر کا خواب
    "مجھے منکرین خلافت کے نئے گروہ، مرکزی حقیقت پسند پارٹی کی طرف سے ایک اپیل موصول ہوئی ہے جس میں اپنی اغراض باطلہ میں تعاون کی درخواست کی گئی ہے۔ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے۔ مجھے تو احمدیت کی نعمت حضرت محمود کے طفیل نصیب ہوئی تھی میرے ننھیال قادیان میں تھے۔ اور میں بچپن کے زمانہ میں قادیان میں ہی رہا۔ فروری1895ء میں مجھے پانچویں جماعت میں تعلیم الاسلام ہائی سکول میں حضرت محمود کاہم سبق ہونے کا شرف حاصل ہوا اور اسی پاک صحبت میں مجھے احمدیت کے متعلق علم حاصل ہوا۔ آج اس واقعہ کوساٹھواں سال جارہا ہے سالہا سال مجھے حضور کے ساتھ پہلو بہ پہلو بیٹھنے کا فخر حاصل رہا۔ میںنے حضور کے ساتھ 1905ء میں انٹرنس کا امتحان دیا۔ میںنے حضور کا بچپن دیکھا ، جوانی دیکھی اور اب بڑھاپا بھی دیکھا ۔ حضور کی زندگی کے یہ تینوں دور حضور کی صداقت کے شاہد ہیں ۔لیکن ان تمام تعلقات محبت کے باوجود میںنے حضور کی بیعت خلافت خدائے علیم سے پوچھ کر قبول کی ہے ۔جس کی تفصیل اس لئے لکھ دیتا ہوں کہ شائد کسی روح کو فائدہ پہنچ جائے ۔
    مجھے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل(اللہ آپ سے راضی ہو) کی وفات کی خبر سرگودھا میں میرے عزیز دوست حضرت مولوی رحمت اللہ صاحب مرحوم سکنہ چک نمبر78جنوبی نے دی۔ جبکہ وہ میلہ اسپاں پر سرگودہا آئے ہوئے تھے ، اور میں اپنی رخصت ختم کر کے جیک آباد چھاؤنی جارہا تھا۔ اس موقعہ پر انہوں نے فرمایا کہ اب خلیفہ حضرت محمود ہوں گے اور انہوںنے حضور کی صفات گنائے ۔ کہ جرأت ، دلیری ، مہمان نوازی اور تقویٰ وغیرہ وغیرہ میں اگر کوئی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قدم بقدم نقش قدم پرچلا ہے تو یہی وجود مبارک ہے ۔ خیر میں جیک آباد پہنچا اور اگلے دن اخبار الفضل سے معلوم ہوا کہ خلیفہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد ہوئے ہیں۔ میںنے دعا کی کہ یا الٰہی مجھے صاحبزادہ صاحب سے محبت تو ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ میں محبت کے رنگ میں بہ جاؤں اور تیرے نزدیک حق کچھ اور ہو تو کچھ کرمفرمائی کر کے مجھے خود بتلا اور میری راہنمائی فرما۔اسی رات مجھے ایک خواب آئی جو صبح تک مجھے قطعاً یاد نہ رہی ۔ پھر شب کو میں نے دعا کی کہ الٰہی مجھے ایسی خواب سے کیا فائدہ جو مجھے یاد ہی نہ رہے، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل بے پایاں سے مندرجہ ذیل رؤیا دکھائی۔
    میںنے دیکھا کہ میں چوہدری شرف الدین صاحب مرحوم کے چوبارہ میں ہوں ۔ (چوہدری شرف دین صاحب مرحوم میاں افضل حسین صاحب وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کے نانا تھے) اور وقت غالباً دوپہر کا ہے اور آسمان پر ابر ہے ۔ اور ہلکی پھوہار پڑرہی ہے، کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مفتی فضل الرحمن صاحب مرحوم کے ساتھ تشریف لارہے ہیں حضور کے پاس جہاں تک مجھے یاد ہے۔ ایک چھتری بھی ہے ،اور حضور نے سرمئی رنگ کا کوٹ پہنا ہو اہے ۔ اور حضور کی عمر آغاز نوجوانی کی ہے ۔ یعنی جب مونچھیں پھوٹنے لگتی ہیں۔ میں حضور کو دیکھ کر بے تابانہ آرہاہوں ۔ اور پکارتاہوں کہ مولوی رحمت اللہ صاحب نے تو پہلے ہی فیصلہ کیا تھا کہ خلیفہ حضور ہی ہوں گے۔ میں نے حضور سے معانقہ کیا ہے ۔ حضور وہاں چوبارہ میں کچھ وقت بیٹھے رہے ہیں اور ہم باتیں کرتے رہے ہیں۔ پھر وہاں سے اُٹھ کر ہم انہی چوہدری شرف الدین صاحب کے کچے مکان کے پرنالے کے نیچے دیوار کے ساتھ کھڑے ہوگئے (یہ کچا مکان میرے بھائی کے مکان کے قریب ہے ۔ا س میں کبھی حضرت حافظ روشن علی صاحب مرحوم رہا کرتے تھے) اب میںنے دیکھا کہ ہمارے سامنے طوفان ہی طوفان ہے ۔یعنی سیلاب کا پانی ہے اور دور ایک کشتی آرہی ہے اس میں خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم ہیں اور ایک شخص اور کشتی میں بیٹھا ہے (غالباً وہ حضرت حامد شاہ صاحب مرحوم سیالکوٹی تھے ۔) میں نے یہ دیکھ کر حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور وہ خواجہ کمال الدین صاحب آگئے ۔ حضور نے فرمایا!خواجہ کمال الدین صاحب تو آگئے مگر فیصلہ تو نہ ہوا۔ اس پر میری آنکھ کھل گئی۔
    میں نے صبح اٹھ کر بیعت کا خط لکھ دیا ۔ اس خواب کی تعبیر میںنے یہ کی کہ حضور کا خلافت پر فائز ہونا رحمت الٰہی سے پہلے سے مقدر تھا ۔ چنانچہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی پیشگوئی میں صاف الفاظ ہیں۔ کہ" ایک رحمت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے" اور مفتی فضل الرحمن کا ساتھ ہونا یہ بتاتا ہے ۔ کہ یہ فضل ورحمانیت کے ماتحت ہے ۔پھر نوجوانی کے آغاز میں دکھلایا جانا یہ ظاہرکرنا ہے کہ تم توکہتے ہو ابھی یہ بچہ ہے۔ لیکن تم کویاد رہے کہ یحییٰ کے متعلق ہم نے یہی کہا تھا اٰتَیْنَاہٗ حُکْمًا صَبِیًّا
    مجھ پر صداقت کھل گئی اور میں نے تسلیم کر لیا۔ اب خواجہ کمال الدین صاحب والا حصہ تعبیر طلب رہ گیا تھا ۔ اس کی حقیقت بعد میں ظاہر ہوئی۔ جب خواجہ صاحب ولایت سے تشریف لائے، اور انہوںنے ایک رسالہ سلسلہ کے اندرونی اختلافات اور اس کے اسباب نام کا لکھا ۔ اور اس میں لکھا کہ اگر صاحبزادہ صاحب قسم کھا کر یہ بیان کر دیں کہ ان کو خدا نے خلیفہ بنایا ہے۔ تو مجھ پر یعنی خواجہ صاحب پر حضور کی مخالفت حرام ہوگی ،اور کہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ وہ اس وجود کی مخالفت کریں کہ جو اس مقدس وجود کے جگر کا ٹکڑا ہے۔ جوان کا آقا اور مطاع تھا (مفہوماً) اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے غالباً القول الفصل میں قسم کھا کر بتایا کہ ہاں مجھے خد اتعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تو خلیفہ ہے ۔
    مگر افسوس خواجہ صاحب پھر اپنے اقرار سے پھر گئے ،اور پیش از پیش مخالفت شروع کرد ی۔ پس میرے لئے تو کسی مزید دلیل کی ضرورت نہیں ۔یہاں تو محمد ہست برہان محمد والا معاملہ ہے ۔جس کو خد اتعالیٰ نے محمود کہا ہے وہی محمود ہے۔ میں برا ہوں بھلا ہوں کچھ بھی ہوں۔ مگر محمود کا غلام ہوں اور اسی پر خاتمہ چاہتا ہوں ۔ اللھم آمین ثم آمین "
    (الفضل 23؍مئی1957ء )
    …٭…٭…٭…
    ۶۴۔ مکرم قاضی شاد بخت صاحب کی اہلیہ کی رؤیا
    آپ کی اہلیہ محترمہ سیدہ خدیجہ خاتون صاحبہ دختر سید اکرام حسین صاحب (سکنہ علی پور کھیڑہ) قاضی صاحب کے نانا کے زیر اثر پورے شیعہ خیالات کی تھیں۔ اور محرم پر سختی سے رسم ورواج کی پابندی کرتی تھیں۔ اور احمدیت کی مخالفت کا ایسا رنگ رکھتی تھیں، کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی جس کمرہ میں تصویر تھی اس کمرہ میں داخل ہونے سے ان کو نفرت تھی ۔ ایک دفعہ انہوں نے1933ء کے لگ بھگ خواب دیکھا کہ قاضی صاحب ترکی ٹوپی اور اچھا لباس پہنے ایک کرسی پر بیٹھے ہیں۔ کسی نے دروازہ پر دستک دی اور ایک سنہری حروف سے نوشتہ خط دیا۔ سیدہ صاحبہ نے کہا کہ بہت خوش نما ہے۔ میں بھی دیکھوں کیا ہے ۔دیکھا تو اس پر مرقوم تھا۔
    پہلا خلیفہ جبریل ۔ دوسر اخلیفہ محمود
    قاضی صاحب نے کہا کہ آپ بیعت کر لیں ۔ کیونکہ جماعت احمدیہ کے اس وقت خلیفہ حضرت محمود ہیں ۔ وہ اس سے متاثر ہوئیں۔ کیونکہ وہ حضور کے متعلق واقفیت نہیں رکھتی تھیں۔ اور بیعت کا خط لکھ دیا۔ اور پھر قاضی صاحب کے بتانے پر مشرکانہ رسوم ترک کر کے تائب ہوئیں ،اور سمجھ لیا یہ بات غلط ہے کہ ان رسوم کی عدم اتباع سے سال بھر خاندان میں موت واقع ہوجاتی ہے۔ انہوںنے (بیت الذکر) ہالینڈ کی تعمیر کے لئے اپنا سارا زیور دے دیا جو اس وقت ساٹھ ستر روپے کا تھا۔ اور وصیت کر دی اور بتاریخ 16؍مارچ 1957ء بعمر65سال فوت ہوئیں ۔ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ان کا جنازہ غائب پڑھاتے ہوئے فرمایا ۔
    "قاضی شاد بخت صاحب پرانے احمدی ہیں، اور ایک مشہور خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اپنی قوم پر بھی ان کا بڑا اثر ہے۔ جب ملکانہ میں ارتداد ہوا، اور ہندوؤں میں تبلیغ کی گئی۔ تو اپنی قوم کے اثر کی وجہ سے ملکانوں پر ان کا بڑا اثر پڑا تھا ۔ "
    (الفضل19؍جون1957ء )
    …٭…٭…٭…


    ۶۵۔ مکرم میاں مراد صاحب کا کشف
    آپ بیان کرتے ہیں کہ
    "حضرت خلیفہ اوّل(اللہ آپ سے راضی ہو) کی وفات سے آٹھ روز پہلے میں پنڈی بھٹیاں سے بارہ میل کے فاصلہ پر موضع کوٹ شاہ عالم میں اپنے بھائی میاں احمد دین صاحب کی تیمارداری کے لئے گیا ہوا تھا۔ میںنے 14؍مارچ1914ء کو سحری کے وقت بیداری میں کشف میں دیکھا کہ حضرت خلیفہ الاوّل(اللہ آپ سے راضی ہو) کی وفات ہوگئی ہے اور ان کی جگہ حضرت محمود خلیفہ ثانی مقرر ہوئے ہیں ۔ میں صبح پنڈی بھٹیاں واپس آرہا تھا ،کہ محبو ب عالم مذکور سے جو غیر احمدی ہیں راستہ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ملاقات ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو پتہ ہے ؟ میںنے کہا ۔ ہاں ۔ اس نے پوچھا کس بات کا ؟ میںنے کہا یہ کہ حضرت خلیفہ اوّل (اللہ آپ سے راضی ہو)کی وفات ہوگئی ہے اور حضرت محمود خلیفہ ثانی مقرر ہوئے ہیں ۔ کہنے لگے ہاں یہی خبر ہے لیکن آپ کو کس نے بتایا ؟ میںنے کشف سنایا۔
    (تابعین اصحاب احمد از ملک صلاح الدین صاحب ایم اے جلد اول صفحہ19)
    …٭…٭…٭…
    ۶۶۔ مکرم عظیم سہرانی صاحب کی رؤیا
    آپ تحریر فرماتے ہیں۔
    "مولوی محمد علی صاحب کے بھائی مولوی عزیز بخش صاحب کے ساتھ مجھے بہت ہی تعلق محبت تھا اور مجھے ان پہ بڑا حسن ظن تھا ۔ حضرت خلیفہ ثانی کے خلاف مسئلہ اسمہٗ احمد کے متعلق مولوی عزیز بخش صاحب کی بعض باتیں سن کرمیں ان کا ہم خیال ہوا۔ اور حضرت خلیفہ ثانی کی تفسیر کو میں غلط سمجھنے لگا ۔ تب اللہ تعالیٰ نے میری اس طرح دستگیری کی کہ مجھے ایک رؤیامیں دکھایا کہ میں اور مولوی محمد علی صاحب اور ہمارے ہم خیال کوئی بیس آدمی جمع ہیں ۔ اچانک حضرت مسیح موعود مرز اصاحب تشریف لائے ۔ہم سب ان سے ایسے ہی ملے جیسے کہ کوئی بہت شرمندہ ہوتا ہے۔ تب حضرت نے مولوی محمد علی صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا "میرا پیارا بچہ بشارت اللہ وبشارت الرسول کی مخالفت کرنی معصیت نہیں تو اور کیا ہے "اور بھی کچھ گُہر کی بابت اس طرح فرمایا :کہ آپ نے اس حکمت کو نہیں پہنچانا ۔ مگر و ہ لفظ صحیح طور پر مجھے یاد نہیں۔ مکرر آنکہ میں رو رو کر خداتعالیٰ سے دعائیں مانگتا رہتا تھا کہ مجھ پر حق کھولا جائے اور ایک شب خصوصیت کے ساتھ بہت دعا کی اسی شب یہ خواب دیکھا۔ "
    (الفضل 25؍مارچ1916ء )
    …٭…٭…٭…
    ۶۷۔ مکرم سراج الدین صاحب آف مرادوال کے دو خواب
    احمدیت کو سچا سمجھنے کے بعد میں متذبذب تھا۔ کہ احمدیوں کی کون سی جماعت سچی ہے ۔ آخر اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرمائی ۔ دو خوابیں یکے بعد دیگرے دیکھیں جو درج ذیل ہیں ۔
    ‏i۔ "ایک غیر آباد نہر کے بیچوں بیچ جارہاہوں ۔ حضور بھی اسی نہر کے کنارے گھوڑے پرسوار چند پیدل دیہاتیوں کی معیت میں اس طرف جارہے ہیں۔ جد ھر میرا رخ ہے۔ میرے دل میں خیال آیا ،کہ میں بھی آپ کے ساتھ ہولوں ۔ مگر اس خیال پر عمل نہ کیا۔ آہستہ آہستہ آ پ کا کنارہ بلند ہوتا گیا، اور میرا راستہ پست۔ حتیٰ کہ یہ بلندی وپستی دومنزلہ مکان کے برابر ہوگئی۔ اس پر پشیمان ہوکر کہتا ہوں کہ کاش ان کے ساتھ ہولیتا۔ یہ خیا ل اور احساس ہوتے ہی دیکھا کہ شاندار سیڑھیاں سامنے موجود ہیں۔ جن پر خوشی خوشی چڑھ گیا ۔ چوٹی پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مزار مبارک دکھائی دیا۔ وہاں دعا کی یا(فاتحہ خوانی ) وہاں سے لوٹا تو راستہ میں ایک مدرس، ایم عطا محمد ملا جو ،اب بھی منڈی پھلروں ٹیچر ہے ۔ "
    ‏ii۔ "مولانا محمد علی صاحب کے پیچھے نماز عشاء یا فجر اد اکر رہاہوں۔ آپ کا سینہ گویا بالکل سیدھا قبلہ کی طرف ہے ۔ مگر گردن پھیر کر شمال یا جنوب کو منہ کیا ہوا ہے، اور رکعتیں چار یا دو پڑھنے کی بجائے تین پڑھیں یعنی ایک رکعت کم یا بیش، طبیعت بے حد بے کیف ہوئی۔ پھر نظارہ بدلتا ہے اور بندہ حضور کے پیچھے پیچھے جارہاہے اور یہ ساری داستان آپ سے عرض کرتا ہے جس کے جواب میں حضور نے ہلکی سے مسکراہٹ کے سوا کچھ جواب نہیں دیا۔
    ان واضح اشاروں اور نظاروں کے باوجود طبیعت کسی عقلی بنیاد پر دو ٹوک فیصلہ کی خواہش مند رہی اور کافی عرصہ ایسی حالت میں رہی، کہ آخر ایک دن ایک سادہ سے احمدی دوست نے میرے خیالات سن کر مجھ سے کہا ،کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو صادق مان لینے کے بعد جماعت کا انتخاب اتنا آسان ہے ،کہ دنیا میں ایساکوئی آسان کام ممکن نہیں میں حیران ہوکر متوجہ ہوا تو آپ نے فرمایا کہ
    ـ"حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی جسمانی اولاد کا نام لے لے کر جتنی دعائیں ان کے نیک بننے کے لئے کی ہیں اگر کوئی ادنیٰ درجہ کا مومن بھی اتنی دعائیں کرے ۔تو اس کا بھی درگاہ ایزدی سے ناکام لوٹنا ممکن نہیں پھر یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے، کہ زمانہ بھر کو نئے سرے سے مومن بنانے والے مامور من اللہ کی عاجزانہ ، بیقرارانہ ، بے شمار دعاؤں کے نتیجہ میں حضور کی اولاد میں سے اب تک کوئی ایک بھی نیک نہیں ہوا۔ پس یا تو آپ حضرت مرزا صاحب کو سچا نہ مانیں (نعوذ باللہ ) اور اگر ان کو سچا مانتے ہیں تو آپ یہ ماننے پر مجبور ہیں ،کہ ان کی اولاد میں اکثریت نیکوں کی ہے ۔مگر مولوی صاحب کی جماعت میں تو کوئی ایک بھی حضور کی اولاد سے شامل نہیں ہے۔ جس کا مطلب صاف ہے کہ اگر لاہوری پارٹی حق پر ہے تو حضرت صاحب کی اولاد میں سے آج تک کوئی ایک بھی نیک نہیں ہوا،اور (نعوذ باللہ ) حضور کی دعا کا ادنیٰ ترین اثر بھی موجود نہیں ۔ـ"
    اس احمدی دوست کی یہ بات بجلی کی لہر تھی جو تمام جسم میں دوڑ گئی۔ خداوند کریم کی طرف سے پہلے ہی رہنمائی ہوچکی تھی ۔ انہیں سے بیعت کا خط لکھوایا ۔ اورآخر انہیں کے صاحبزادہ مولوی فضل الٰہی انوری (جو آج کل بیرون پاکستان تبلیغ کے لئے جاچکے ہیں ) کو ساتھ لے کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوا ،اور مارچ1948ء بمقام لاہور حضور کی بیعت کا شرف حاصل کیا۔ الحمد للہ علی ذالک"
    اس خط کو ملاحظہ کرنے کے بعد حضور نے فرمایا ۔
    "جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے اسے واقعی کوئی گمراہ نہیں کر سکتا ۔"
    (الفضل06؍ستمبر1956ء )
    …٭…٭…٭…
    ۶۸۔ مکرمہ بیگم صاحبہ ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کا ایک خواب
    آپ نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہٗ کو اپنے ایک مکتوب میں تحریر فرمایا۔
    "میں اس خط کے ذریعہ سے آپ کو اپنی ایک خواب لکھ رہی ہوں۔ جو کہ میں نے1939ء میں دیکھا تھا ۔ اور اسی روز صبح کو حضور کی خدمت میں پیش کردیاتھا ۔اس روز سے ہی مجھے یقین ہوگیا تھا کہ دین کے بادشاہ حضور ہی ہیں ۔ اس خواب کے ساڑھے چار سال بعد حضور نے اپنے مصلح موعود ہونے کا اعلان فرمایا تو اسی وقت سے ہی میرا اور میری اولاد کا یہی ایمان ہے، کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مصلح موعود ہیں اور خلیفہ برحق ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مولیٰ کریم میرااور میری اولاد کا اسی ایمان پر خاتمہ کرے ۔ آمین
    اس سے قبل بھی جب حضرت خلیفہ اول کی وفات ہوئی۔ تو (مکرم ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب) ڈاکٹر صاحب قادیان میں ہی موجود تھے جب وہ واپس پٹیالہ گئے۔ تو میرا ان سے پہلا سوا ل یہ تھا کہ خلیفہ کون بنا۔ اس پر ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ کیا سچ مچ خلیفہ کی ضرورت ہے۔ میںنے جواب دیا کہ خلیفہ کے بغیر جماعت کیسے رہ سکتی ہے ۔ خلیفہ کا ہونا ضروری ہے ۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ میاں محمود خلیفہ ہوئے ہیں اور کہنے لگے ۔ کہ کیا تمہاری طرف سے خط لکھ دوں ۔ میں نے کہا کہ ہاں آپ خط لکھ دیں۔ اللہ تعالیٰ جب مجھے توفیق دے گا تو میں قادیان جاکر خود حضور کی بیعت کروں گی ۔اب میں اپنا خواب تحریر کرتی ہوں ۔
    میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی جگہ ہے جہاں حضور سیر کے لئے یاکسی اور مقصد کے لئے گئے ہیں ۔ حضور کے ہمراہ میں اور ڈاکٹر صاحب بھی ہیں۔ مکان کی نچلی منزل میںہم رہتے ہیں ۔ اور اوپر کی منزل میں جس کے کئی کمرے ہیں حضور قیام فرماہیں۔ میں اپنے نیچے کے کمرے سے نکل کر سیڑھیاں چڑھ کر اوپر گئی ہوں ۔ تو ام وسیم احمد ایک کمرے میںبیٹھی ہیں ،اور اسی کمرے کے آتشدان پر پرانی چابیوں کے کئی گچھے پڑے ہیں۔ میں ان کو السلام علیکم کہہ کر آگے چلی گئی ہوں۔ آگے جاکر دیکھا کہ حضور برآمد ے میں بیٹھے وضو کر رہے ہیں ۔ میںنے حضور کو السلام علیکم کہا اور پیچھے کھڑی ہوگئی۔ حضور وضو کر کے جلدی سے اٹھے اور ایک کمرے کی طرف چلے گئے ۔جہاں پر ام ناصر احمد کھڑی ہیں اور فرمانے لگے کہ تم نے میرے کپڑے نکال دئیے ۔ اس پر اُم ناصر نے کہا کہ نہیں ۔حضور بہت جلدی میں ہیں،اور جیب سے چابیاں نکال کر اس صندوق کا تالا کھولنے لگے ہیں۔ جس میں ان کے کپڑے ہیں میں بھی پاس ہی کھڑی ہوں میرے دل میں خیال آیا کہ ایک دفعہ حضور سے عطر کی شیشی نہیں کھلتی تھی، اور مجھے عطر کی شیشیاں کھولنے کی ترکیب یاد تھی، کہ وہ گرم کر کے کھل جاتی ہیں اور میں نے ام طاہر احمد مرحومہ سے شیشی لے کر کھول دی تھی۔ یہی خیال کر کے کہ شاید اللہ تعالیٰ نے تالا بھی مجھ سے کھلوا دے ۔ میںنے حضور سے چابی لے لی اور جب تالے میں گھمائی تو وہ تالا کھل گیا ،اور ام ناصر احمد نے حضور کے کپڑے نکال کر دئیے ۔حضور اپنے کپڑے لے کر اسی جگہ چلے گئے جہاں پر وضو کر رہے تھے، اور کپڑے بدل لئے میں اسی جگہ کھڑی تھی۔
    کپڑے بدل کر حضور کھڑے ہوئے تو حضور کی شلوار اس قدر چمک رہی تھی جیسے پہاڑوں پر برف چمک رہی ہو ۔قمیض اس سے بھی زیادہ چمکدار تھی ۔ جب حضور نے سر پر پگڑی باندھی ۔تو ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے پگڑی پر آسمان سے نور برس رہا ہے۔ اس پگڑی کی وجہ سے حضورکا چہرہ بھی ڈھانپا گیا تھا۔ اس کے بعد جب حضور نے اچکن پہنی تو ایسے معلوم ہوا جیسے حضور بادشاہ ہیں، اور حضور کے اوپر سرخ رنگ کا جھول پڑا ہوا ہے ۔میں بہت حیران ہوکر حضور کی طرف دیکھے جارہی ہوں۔ اتنے میں سامنے سے مجھے حضرت اماں جان آتی ہوئی نظر آرہی ہیں ۔ اور ایک طرف کو بڑی ممانی جان بھی کھڑی ہوئی نظر آئی ہیں ۔ حضرت اماں جان نے مجھے بلند آواز سے پکار کر کہا کہ او لڑکی !او بیگم! تم کیا دیکھ رہی ہو ۔ اس پر میں اماں جان کو خوشی سے کہتی ہوں کہ دیکھیں اماں جان میں کیا دیکھ رہی ہوں ۔ حضور بادشاہ بن گئے ہیں۔ بس اتنا دیکھنے کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ "
    نوٹ: ڈاکٹر صاحب نے یہ الفاظ کہ کیا خلیفہ کی ضرورت ہے۔ مجھے ا س لئے کہے تھے، کہ دیکھیں میرا خیال کیا ہے ۔ کیونکہ ڈاکٹر صاحب تو حضور کی بیعت کر کے قادیان سے گئے تھے۔ لیکن جو دوسرے شخص ڈاکٹر صاحب کے ساتھ تھے وہ پیغامی ہوگئے تھے ،اور انہوںنے حضو ر کی بیعت نہیں کی تھی۔ جب میں نے یہ کہا کہ خلیفہ کا ہونا ضروری ہے تو ڈاکٹر صاحب کو اطمینان ہوگیا اور وہ بہت خوش ہوئے ۔ "
    (الفضل یکم ستمبر1956ء )
    …٭…٭…٭…
    ۶۹۔ مکرم کبیر احمد صاحب بھٹی نیروبی کا خط اور خواب
    آپ نے لکھا کہ
    "حضورکاسب سے پہلا پیغام جوالفضل میں شائع ہوا تھا ۔ نیروبی میں رئیس التبلیغ صاحب کے ذریعہ مورخہ05؍اگست کو بروز اتوار سنایا گیا تھا۔ میں اس مجلس میں حاضر نہیں تھا۔ لیکن ہفتہ کی رات میں نے عجیب خواب دیکھی۔ جس میں میں نے اپنے ارد گرد کھڑے ہوئے دوستوں سے پوچھا کہ پتہ نہیں اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَۃٍ اَلزُّجَاجَۃُ کَا نَّھَا کَوْکَبٌ دُرِّیٌ کے کیا معنی ہیں اور اس کا کیا مطلب ہے ۔ دفعتاً میری چچی جان (مبارکہ بیگم) بھی وہاں کھڑی ہیں اور انہوںنے ہاتھ بڑھا کر باہر کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ اس کا مطلب وہ دیکھو ۔ میںنے جو مڑ کر دیکھا تو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو آتے ہوئے پایا ۔ خواب ہی میں میں نے کہا کہ یہ کیا بات ہوئی۔ یہ تو قرآن مجید کی آیت ہے اور خدا تعالیٰ کے منہ سے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسے کامل انسان کی سب سے بڑی تعریف ہے ۔کیا یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور بھی کسی پر چسپاں ہوسکتی ہے ؟ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی اور مجھے ڈر محسوس ہوا ، اور میں اسی ڈر میں سو گیا اور کسی سے بھی یہ خواب ذکر نہ کی ۔
    بہر حال حضور کے پیغام کے سلسلہ میں جماعت کا مورخہ06؍اگست کو ایک عام اجلاس ہوا۔ تلاوت میرے محترم چچا جان بزرگوار نے کی ،اور وہی رکوع تلاوت کیاجس میں یہ آیت آتی ہے۔ مجھے پھروہ خواب یاد آگئی۔ میںنے خیال کیا کہ اتفاقی طور پریہ رکوع تلاوت کیا ہوگا۔ ورنہ اس کا اس جلسہ سے کیا تعلق ۔ بہر حال تلاوت کے دوران اور تھوڑی دیر بعد تک میں ان ہی خیالات میں محو رہا۔
    اس کے بعد آئندہ بدھ یعنی ایک ہفتہ بعد میں اپنے چچاجان کے ہاں گیا، اور باتوں باتوں میں میں نے ان سے اس خاص رکوع کی تلاوت کی وجہ پوچھی اور اپنی خواب ذکر کی ۔ انہوں نے مجھے یہ فرمایا یہ خواب تو بڑی مبارک ہے ۔ کیونکہ حضور نے اپنی تفسیر میں الزجاجۃ سے مراد خلافت لی ہے جو بطور Reflector کے کام دیتی ہے اور نبی کے زمانہ کواور اس کی روشنی کواور لمبا کرتی ہے ۔ انہوںنے یہ بھی بتایا کہ حضور نے اس کی مثال ٹارچ سے دی ہے۔ میںنے جب یہ سنا تو میری حیرانی کی کوئی حد نہ رہی اور جس خواب کو میں عجیب سمجھے بیٹھا تھا وہی خواب ایک ہفتہ کے بعد مجھے اچھی لگنی شروع ہوگئی۔
    (الفضل16؍ستمبر1956ء )
    …٭…٭…٭…


    ۷۰۔ مکرم آغا محمد عبد اللہ خان صاحب فاروقی احمدی ، بھڈانہ
    تحصیل گوجر خان ضلع راولپنڈی کا خواب
    آغا محمد عبد اللہ خان صاحب فاروقی احمدی بمقام بھڈانہ تحصیل گوجرخان اپنی تصنیف کوکب دُرّی مطبوعہ1930ء کے صفحہ5پر اپنا ایک کشف درج کر کے تحریر فرماتے ہیں ۔
    "لیکن اب آفتاب ایک پرندہ کی شکل میں متمثل ہو گیا ۔ا س کے چار پر تھے پہلے پر کے اگلے حصہ پر"نور"لکھا ہو اتھا ۔ اور دوسرے کے1/3حصہ پر"محمود "۔ تیسرے پر کے عین وسط میں "ناصر الدین"اور چوتھے پر "اہل بیت" ان چاروں پروں کے زیرایک زرد چادر اور ایک سرخ چادر تھی۔ سرخ چادر زمین پر گر پڑی اور زرد چادرآفتاب میں سما گئی ۔ تخمیناً75 لمحوں کے بعد آفتاب منارہ بیضاء کے عین جنوب کی طرف غائب ہوگیا اور پھر سارے کشف میں نظر نہ آیا۔
    …٭…٭…٭…
    ۷۱۔ مکرمہ صادقہ بیگم اہلیہ الحاج محمدشریف صاحب مرحوم
    اکاؤنٹنٹ جامعہ احمدیہ ربوہ
    ایک دفعہ والدہ برکت بی بی صاحبہ نے خواب میں دیکھا کہ
    حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اپنے گھر میں ٹہل رہے ہیں اور ان کے ہاتھ میں ایک کتاب ہے اور بغل میں سبز رنگ کے کپڑے کا تھان ہے ۔ اتنے میں مولانا نورالدین صاحب تشریف لے آئے تو حضرت اقدس وہ کتاب اور سبز رنگ کے کپڑے کا تھان مولانا نورالدین صاحب کو دے کر وہاں سے تشریف لے گئے ۔ پھر وہیں مولانا نور الدین صاحب ٹہلنے لگ گئے کہ اتنے میں میاں محمود تشریف لے آئے تو مولانا نور الدین صاحب نے وہ کتاب اور سبز رنگ کے کپڑے کا تھان میاں محمود کو دے دیااور چلے گئے۔
    والدہ صاحبہ نے یہ خواب حضرت مصلح موعودکوسنائی تو آپ نے فرمایا کہ یہ خواب چھپوادیں۔
    …٭…٭…٭…








    خلافت ثالثہ بارے الہامات وکشوف
    اور
    مبشر رؤیا، خوابیںاور الٰہی اشارے





    "مجھے بھی خداتعالیٰ نے ایسی خبردی ہے کہ میں تجھے ایک ایسا لڑکا دوں گاجودین کا ناصر ہوگااور اسلام کی خدمت پر کمربستہ ہوگا۔"
    (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی الفضل8؍اپریل1915ئ)




    حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب مرحوم ومغفور سابق ناظر اصلاح وارشاد نے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کے خلیفۃ المسیح منتخب ہونے پر "بشارات ربانیہــ"کے نام سے سینکڑوں افراد کے ایسے کشوف ورؤیا پر مشتمل ایک کتابچہ شائع فرمایا تھا جو افراد جماعت نے خلافت ثالثہ کے قیام اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کے بطور خلیفۃ المسیح الثالث منتخب ہونے کی تائید میں دیکھی تھیں۔
    کتاب کے آغاز پر رؤیااور خوابیں درج کرنے سے قبل محترم مولانانے "خلیفہ ثالث اور ربانی بشارات"کے تحت تحریرفرمایا:

    خلیفہ ثالث اور ربانی بشارات
    8-7؍نومبر1965ء کی درمیانی رات خدا کا وہ محبوب بندہ محمود وہ عبد مکرم اور وہ مصلح موعود جس کا نزول جلال الٰہی کے ظہور کا موجب تھا۔ اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اپنے محبوب ازلیٰ خدا کے حضور اٹھایا گیا۔ وَکَانَ اَمْرًا مَقْضِیًّا۔ آپ کی وفات بھی ٹھیک اس رؤیا کے مطابق تھی جو حضور نے23؍اپریل1944ء کو دیکھی تھی۔ جس میں صراحتاًیہ ذکر تھا کہ آپ اب اس دار فانی میں دعویٰ مصلح موعود کے بعد اکیس سال تک اور قیام پذیر رہیں گے۔
    (الفضل 29؍اپریل1944ء )
    آپ کی وفات الہامی ارشاد"موت حسن موت حسن فی وقت حسن "کے مطابق کامیاب زندگی اور بامراد انجام کی موت تھی۔ حضور نے فرمایا :
    "اس الہام میں مجھے حسن رضی اللہ عنہ کا بروز کہا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری ذات کے ساتھ تعلق رکھنے والی پیشگوئیوں کو پورا کرے گا۔ اور میرا انجام بہترین ہوگا اور جماعت میں کسی قسم کی خرابی پیدا نہ ہوگی ۔ فالحمد للہ علی ذالک
    (تفسیر کبیر جلد 10 صفحہ571)
    ۔۔۔۔۔۔ ایسے وقت میں جو درحقیقت اچھا وقت تھا حضور نے وفات پائی ۔۔۔۔ اور نہایت خیر وخوبی سے انتخاب خلیفہ کاکام سرانجام پایا ۔ الحمد للہ
    یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ اللہ تعالیٰ نے خاص اپنے تصرف سے جماعت احمدیہ کو پھر ایک ہاتھ پر جمع ہونے کی توفیق عطا فرمائی ۔ ایک زلزلہ کے بعد جماعت احمدیہ نے قدرت ثانیہ کے مظہرثالث سے سکینت پائی۔
    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعود نے خلیفہ راشد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر انتخاب خلافت کے لئے جماعت کی نمائندہ ایک مجلس مرتب فرمائی تھی۔ جو صدرانجمن احمدیہ کے ناظر صاحبان ، تحریک جدید کے وکلاء ،بیرونی ممالک میں تبلیغ اسلام کاشرف حاصل کرنے والے مبلغین ۔ صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور1901ء سے پہلے کے صحابہ کرام کے بڑے فرزند اور امراء جماعت وغیرہم پر مشتمل تھی۔ نمائندگان کی بھاری اکثریت یعنی205افراد24گھنٹے کے اندر انتخاب کے لئے پہنچ گئے تھے۔جن کی بڑی اکثریت نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے فرزند اکبر حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد کو مسیح موعود کا خلیفہ ثالث منتخب کیا ۔ ۔۔۔۔
    خلافت ثالثہ کے انتخاب کے موقعہ پر ایسا ہی نظارہ دیکھنے میں آیا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ کوئی غیبی طاقت تمام قلوب پر متصرف ہے اور خدا تعالیٰ کے فرشتے دلوں پر سکینت نازل کر رہے ہیں ۔ الحمد للہ کہ خلیفہ ثالث کا انتخاب عین منشاء خداوندی کے مطابق ہوا جس کا ثبوت یہ بھی ہے کہ انبیاء علیہم السلام اور بعض دوسری عظیم الشان روحانی شخصیتوں کے لئے خد اتعالیٰ کے کلام میں پہلے سے پیشگوئیاں موجو دہوتی ہیں ۔جو ا س کی تعیین میں انسانوں کے لئے مشعل راہ کا کام دیتی ہیںاس پر مستزاد وہ سینکڑوں رؤیا اور کشوف ہوتے ہیں جو ان مقدس وجودوں کے روحانی مرتبہ پر فائز ہونے سے قبل ہی مومنوں کو دکھائے جاتے ہیں ۔ہم پہلے یہاں سیدنا حضرت مرزا ناصر احمد خلیفۃ المسیح الثالث کے متعلق وہ چند آسمانی شہادات درج کرتے ہیں جو حضور کی مصدق ہیں اور جن کی صداقت پر جناب کے خلیفۃ منتخب ہونے سے مہر ثبت ہوگئی ہے ۔
    طالمود میں پیشگوئی:
    یہود کی احادیث کی مشہور کتاب طالمود میں لکھا ہے ۔
    It is said that he(The Messiah) Shall die and his kingdom decend to his son and grandson.
    In proof of this openion ysaih xLII is qouted
    ترجمہـ: یہ بھی ایک روایت ہے کہ مسیح کے وفات پانے کے بعد اس کی بادشاہت (یعنی آسمانی بادشاہت)اُس کے فرزند اور پھر اُس کے پوتے کو ملے گی۔ اس روایت کی تائید میں یسعیاہ :42کا حوالہ دیا جاتا ہے ۔
    (طالمود مرتبہ جوزف باکلے باب پنجم صفحہ37مطبوعہ لنڈن 1878ء )
    یہ پیشگوئی مسیح ناصری کے وجود میں تو پوری نہیں ہوئی کیونکہ نہ ان کا کوئی فرزند تھا نہ پوتا۔ یسعیاہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیشگوئی مسیح موعود اور اُس کے مبشر فرزند اور پوتے کے متعلق ہے ۔ جن کے متعلق زیادہ صراحت خود حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہامات میں ہے ۔
    احادیث میں پیشگوئی:
    آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جہاں مسیح موعود کے متعلق یَتَزَوَّجُ وَیُوْلَدُ لَہٗ(مشکوۃ مجتبائی باب نزول عیسیٰ بن مریم )کے الفاظ میں یہ بشارت دی ہے کہ مسیح موعود اللہ تعالیٰ کے ارشا د کے مطابق ایک شادی کریں گے اور ان کے ہاں خاص اہمیت کی حامل اولاد ہوگی اور ایک ایسا بیٹا بھی اللہ تعالیٰ عطا کرے گا جو حسن واحسان میںاپنے باپ مسیح موعود کا نظیر ہوگا۔ وہاں حضور نے یہ بھی خبر دی ہے کہ ابنائے فارس میں سے ایک فرد نہیں بلکہ کئی افراد دین کی خدمت کے لئے کمر بستہ ہوں گے اور اُن کے کارنامے اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور ایمان کو ثریا کی بلندیوں سے واپس لانے کے مترادف ہونے کی وجہ سے خاص اہمیت کے حامل ہوں گے اور اُن کا وجود سورۃ الجمعہ کی آیت وَآخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْابِھِمْ کے مقدس گروہ کی امامت سنبھالے گا۔
    اس حدیث میں رجل اور رجال کے الفاظ ہیں کہ ثریا سے ایمان کو واپس لانے والا ایک شخص ہوگا یا کئی اشخاص، اس خاندان کے کئی افراد چونکہ ایک ہی روحانی سلسلہ کے خادم ہوں گے اور ایک ہی شخص کی ذریت ہوں گے اس لئے گویا وہ باوجود کئی ہونے کے ایک ہی شخص کے حکم میں ہیں ۔
    چنانچہ بخاری کی حدیث میں"رجالٌ"کا لفظ ہے ۔ فرمایا:
    لَوْکَانَ الْاِیْمَانُ عِنْدَالثُّرَیَّالَنَا لَہٗ رِجَالٌ مِّنْ ھٰؤُلآء
    (بخاری کتاب التفسیر سورۃ جمعہ )
    ترجمہ: اگر ایمان ثریا پر بھی پہنچ جائے تو ان میں سے رجال یعنی کچھ لوگ اس کو واپس لے آئیں گے ۔(حضرت سلمان فارسیؓ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر آپؐ نے یہ الفاظ فرمائے)






    حضرت مرزا ناصر احمد کی تائید میں
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات

    ۱۔ جس طرح طالمود میں مسیح موعود کے ساتھ اس کے بیٹے اور پوتے کی پیشگوئی موجود ہے کہ وہ آسمانی بادشاہت میں اس کے خلیفہ ہوں گے اسی طرح حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہامات میں آپ کے فرزند مصلح موعود اور پوتے کے متعلق بھی بشارات موجود ہیں۔ چنانچہ تذکرہ صفحہ554 جدید ایڈیشن بحوالہ حقیقۃ الوحی یہ الہامات درج ہیں ۔
    "انا نبشرک بغلام مظہر الحق والعلا کان اللہ نزل من السماء انانبشرک بغلام نافلۃ لک "
    "یعنی ہم ایک لڑکے کی تجھے بشارت دیتے ہیں جس کے ساتھ حق کا ظہور ہوگا ۔ گویا آسمان سے خدا کا نزول ہوگا اور ہم ایک لڑکے کی تجھے بشارت دیتے ہیں جو تیرا پوتا ہوگا۔"
    ۲۔ اسی طرح حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں ۔
    "بیالیسواں نشان یہ ہے کہ خد انے نافلہ کے طور پر پانچویں لڑکے کا وعدہ کیا تھا جیسا کہ اسی کتاب مواہب الرحمن کے صفحہ139میں یہ پیشگوئی لکھی ہے ۔ وَبَشَّرَ بِخَامِسٍ فِیْ حِیْنَ الْاَحْیَانِ یعنی پانچواں لڑکا ہے جو چار کے علاوہ بطور نافلہ پید اہونے والا تھا۔ اس کی خدا نے مجھے بشارت دی کہ وہ کسی وقت ضرور پید اہوگا اور اس کے بارے میں ایک اور الہام بھی ہوا کہ جو اخبار البدر اور الحکم میں مدت ہوئی کہ شائع ہوچکا ہے اور وہ یہ ہے ۔ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلَامٍ نَافِلَۃً لَّکَ ۔ نَافَلَۃٌ مِنْ عِنْدِیْ ۔ یعنی ہم ایک لڑکے کی تجھے بشارت دیتے ہیں کہ جو نافلہ ہوگا ۔ یعنی لڑکے کا لڑکا۔ یہ نافلہ ہماری طرف سے ہے ۔"
    (حقیقۃ الوحی ازروحانی خزائن جلد22صفحہ228-229)
    ۳۔ اور یہ موعود نافلہ درحقیقت پسر موعود کا ہی فرزند تھا اور اسی کو حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کا پانچواں بیٹا قرار دیا گیا ہے اور اس پانچویں فرزند کے متعلق حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں ۔
    "خد اکی قدرتوں پر قربان جاؤں کہ جب مبارک احمد فوت ہوا ساتھ ہی خد اتعالیٰ نے یہ الہام کیا اِنَّانُبَشِّرْکَ بِغُلَامٍ حَلِیْمٍ یَنْزِلُ مَنْزِلَ الْمُبَاَرَکِ ۔ یعنی ایک حلیم لڑکے کی تجھے خوشخبری دیتے ہیں جو بمنزلہ مبارک احمد کے ہوگا اور اس کا قائم مقام اور اس کاشبیہ ہوگا ۔ پس خدا نے نہ چاہا کہ دشمن خوش ہو۔ اس لئے اس نے بمجردوفات مبارک احمد کے ایک دوسرے لڑکے کی بشارت دے دی۔ تایہ سمجھا جائے کہ مبارک احمد فوت نہیں ہوا۔ "
    (مجموعہ اشتہار ات جلد3 صفحہ587 )
    اور انانبشرک بغلام حلیم کاالہام 16؍ستمبر1907ء کو ہوا تھا جس روز کہ صاحبزادہ مرزامبارک احمد کی وفات ہوئی تھی۔ پھر1907ء کو الہام ہوا۔
    "آپ کے لڑکا پید اہو اہے ۔" (تذکرہ جدید ایڈیشن صفحہ626)
    اور 7-6؍نومبر1907ء کو الہام ہوا۔
    ـ"اِنَّانُبَشِّرُکَ بِغُلَامٍ اِسْمُہٗ یَحْییٰ۔ اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصْحَابِ الْفِیْلِ"
    (تذکرہ جدید ایڈیشن صفحہ626)
    یعنی ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہے ۔
    حالانکہ اس سے پہلے صاحبزادہ مرزا مبارک احمد کی وفات جو الہام اِنّی اُسْقِطُ مِنَ اللّٰہِ وَاُصِیْبُہٗ کے مطابق ہوئی تھی جس میں یہ خبر دی گئی تھی کہ وہ جلد فوت ہو جائے گا۔
    آپ کے متعلق یہ الہام بھی ہوا تھا کہ کَفَی ھَذَا
    (تذکرہ جدید ایڈیشن صفحہ279)
    جس کاترجمہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے یہ فرمایا ہے ۔
    "کہ یہ نسل یا اولاد کافی ہے اور اب ا س کے بعد کوئی نرینہ اولاد نہیں ہوگی ۔"
    (صادقوں کی روشنی از انوار العلوم جلد اول صفحہ150)
    لیکن صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کی وفات کے بعد ایک اور لڑکے کی پیدائش کے متعلق مذکورہ بالا الہامات میں جو بشارات دی گئی تھیں ۔ان سے مراد موعودنافلہ ہی تھا جیسا کہ اوپر بحوالہ حقیقۃ الوحی ذکر آچکا ہے ۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس پانچویں فرزند سے مراد پوتا ہی لیا تھا ۔ اور عملاً بھی حضور ؑکے الہام کفٰی ھذا کے مطابق مرزا مبارک احمد مرحوم کے بعد کوئی نرنیہ اولاد نہیں ہوئی ۔
    گو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مذکورہ بالا الہامات کا مصداق حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے پہلے بیٹے مرز انصیر احمد مرحوم کوقرار دیا۔ لیکن وہ کم عمری میں ہی فوت ہوگئے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ مذکورہ بالا الہامات کے مصداق نہیں تھے کیونکہ ان الہامات میں اس موعود کاایک نام یحییٰ ہے جس کا ترجمہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام خو دیہ فرماتے ہیں۔
    اس کا مطلب ہے زندہ رہنے والا۔
    (تذکرہ جدید ایڈیشن صفحہ626)
    یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کا یہ موعود پوتا آپ کے پسر موعود مصلح موعود سے یہ مشابہت رکھتا ہے کہ جیسے لمبی عمر پانے والے مصلح موعود کی پیشگوئی کے بعد پہلے بشیر اول ارہاص کے طور پر پید اہوئے جنہیں پسر موعود والی پیشگوئی کا مصداق سمجھا گیا۔ لیکن وہ جلد وفات پاگئے اور ان کی وفات کے بعد پسر موعود کی پیشگوئی کا اصل مصداق بشیر ثانی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی پید اہوئے۔ بالکل اسی طرح حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے مبشر بہ لمبی عمر پانے والے موعود پوتے کی پیشگوئی کے بعد1907ء میں بشیر ثانی مصلح موعو دکے ہاں نصیر احمد مرحوم پید اہوا جسے مبشر بہ موعود نافلہ کا مصداق سمجھا گیا۔ لیکن وہ بھی بشیر اول کی طرح ہی چھوٹی عمر میں وفات پاگئے اور اس کے بعد لمبی عمر پانے والے موعود پوتے اور دوسرے لفظوں میں پانچویں فرزند کاحقیقی مصداق پیدا ہوا یعنی صاحبزادہ مرزا ناصر احمد ۔
    پس واقعات اور قرائن اور خلافت ثالثہ کا انتخاب اور افراد جماعت کی کثیر تعداد کی رؤیا ئے صالحہ نے یہ ثابت کردیا کہ ابن خامس اور موعودنافلہ سے مراد مرزا نصیرا حمد کی بجائے صاحبزادہ مرزا ناصر احمد تھے۔ جن کی ولادت باسعادت 15؍نومبر1909ء کو ہوئی ۔
    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کا تصدیقی بیان:
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہامات مذکورہ کے مصداق کی جو ہم نے تعیین کی ہے ۔ اس کی تصدیق اس آسمانی بشارت سے بھی ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو صاحبزادہ مرزا ناصر احمد خلیفۃ المسیح الثالث کی پیدائش سے پہلے دی تھی ۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی اپنے ایک مکتوب میں جو آپ نے اپنے موعود فرزند کی پیدائش سے دو ماہ قبل یعنی26؍ستمبر1909ء کو تحریر فرمایا تھا ۔
    آپ تحریر فرماتے ہیں ۔
    "مجھے بھی خدا تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ میں تجھے ایک ایسا لڑکا دوں گا جو دین کا ناصر ہوگا اور اسلام کی خدمت پر کمر بستہ ہوگا۔" (الفضل08؍اپریل1915ء )
    حضرت اماں جان کااپنے پوتے حضرت مرزا ناصر احمد
    کو بیٹا اور یحییٰ کہہ کرپکارنا
    اس موعود پوتے کو اللہ تعالیٰ نے الہام انانبشرک بغلام اسمہ یحییٰ میں اس بناء پر کہ وہ عمر پانے والا ہوگا یحییٰ نام رکھا ہے ۔ جیسا کہ اس کے والد ماجد کے متعلق فرمایا تھا کہ "لمبی عمر پانے والا ہوگا۔" اور اس نام کے رکھنے میں بعض اور حکمتیں بھی ہوسکتی ہیں جو اپنے وقت میں ظاہر ہوں گی۔ واللہ اعلم
    الہام الٰہی میں مبشر بہ پوتے کو حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا پانچواں بیٹا قرار دیا گیا ہے ۔ اور پوتے کے لئے بیٹے کا لفظ عام طور پراستعمال کیا جاتا ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے غزوہ حنین کے دن فرمایا ۔
    ؎ انا النبی لاکذب
    انا ابن عبد المطلب
    یعنی میں نبی ہوں اور یہ جھوٹ نہیں اور میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں ۔
    سب جانتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم عبد المطلب کے پوتے تھے ۔ پس پوتے کے لئے بیٹے کا لفظ بکثرت ہر زبان میں استعمال ہوتا ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ حضرت اماں جان نے اپنے تمام پوتوں میں سے صرف حضرت مرزا ناصر احمد خلیفہ المسیح الثالث کو ہی اپنے بیٹوں کی طرح پالا اور ان کی تربیت فرمائی۔ آپ اس الہامی نام سے ہی آپ کو پکارا کرتی تھیں ۔
    چنانچہ حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ مرحومہ نے حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب مرحوم کو ایک خط میں یوں تحریر فرمایا :
    "یہ درست ہے کہ حضرت اماں جان ناصر احمد کو بچپن میں اکثر یحییٰ کہا کرتیں اور فرماتی تھیں کہ یہ میرا مبارک ہے ۔ یحییٰ ہے جو مجھے بدلہ میں مبارک کے ملا ہے ۔
    مبارک احمد کی وفات کے بعد کے الہامات بھی شاہد ہیں۔ ایک بار میرے سامنے بھی حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے حضرت اماں جان سے اور بڑے زور سے اور بہت یقین دلانے والے الفاظ میں فرمایا تھا کہ "تم کو مبارک کا بدلہ بہت جلد ملے گا۔ بیٹے کی صورت میں یا نافلہ کی صورت میں ۔"مجھے مبارک احمد کی وفات کے تین روز بعد ہی خواب آیا کہ مبارک احمد تیز تیز قدموں سے آرہا ہے اور دونوں ہاتھوں پر ایک بچہ اُٹھائے ہوئے ہے ۔ اُس نے آکر میری گود میں وہ بچہ ڈال دیا اور وہ لڑکا ہے ۔ اور کہا کہ"لو آپا یہ میرا بدلہ ہے ۔"(یہ فقرہ بالکل وہی ہے جیسا کہ آپ نے فرمایا تھا ) میں نے جب یہ خواب صبح حضرت اقدس کو سنایا تو آپ بہت خوش ہوئے۔ مجھے یاد ہے آپ کا چہرہ مبارک مسرت سے چمک رہا تھا اور فرمایا تھا کہ "بہت مبارک خواب ہے ۔"آپ کی بشارتوں اور آپ کے کہنے کی وجہ تھی کہ ناصر سلمہ اللہ تعالیٰ کو اماں جان نے اپنا بیٹا بنا لیا تھا ۔ اماں جان کے ہی ہاتھوں میں ان کی پرورش ہوئی ۔ شادی بیاہ بھی انہوںنے کیا۔ اور کوٹھی بھی بنا کر دی (النصرۃ ) تمام پاس رہنے والے جوزندہ ہوں گے اب بھی شاہد ہوں گے کہ حضرت اماں جان ناصر کو مبارک سمجھ کر اپنا بیٹا ظاہر کرتی تھیں اور کہا کرتی تھیں"یہ تو میرا مبارک ہے"عائشہ والدہ نذیر احمد جس کو حضرت اماں جان نے پرورش کیا اور آخر تک ان کی خدمت میں رہیں۔ یہی ذکر اکثر کیا کرتی ہے کہ اماں جان تو ناصر کو اپنا مبارک ہی کہا کرتی تھیں کہ یہ تو میرا مبارک مجھے ملا ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کئی سال ہوئے میں بہت بیمار ہوئی تو میںنے ایک کاپی میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی بعض باتیں جو یاد تھیں لکھی تھیں ۔ اُن میں یہ روایت اور اپنا خواب میں نے لکھا تھا وہ کاپی میرے پاس رکھی ہوئی ہے ۔ "
    الہام اِنَّانُبَشِّرُکَ بِغُلَامٍ اِسْمُہٗ یَحْییٰ۔کے ساتھ ہی اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصْحَابِ الْفِیَل کے الفاظ بھی الہام ہوئے ہیں۔ ممکن ہے اس میں موعود نافلہ کے زمانہ خلافت کے قرب میں اُس جنگ کی طرف اشارہ ہو جو ہندوستان وپاکستان کے درمیان06؍ستمبر کو شروع ہوکر 23؍ستمبر کو سترہ دن کے بعد عارضی طور پر رک گئی اور اس جنگ میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو نمایاں فتح عطا فرمائی ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں اس امر کی طرف بھی اشارہ ہو کہ جو گروہ یا جو اقوام یا مملکتیں اصحاب الفیل کی طرح اس موعود نافلہ اور اس کی جماعت کی مخالفت کریں گی اور اس کے ناکام بنانے کے لئے منصوبے سوچیں گی اور تدبیریں اختیار کریں گی اللہ تعالیٰ ان مخالفت طاقتوں کو اصحاب الفیل کی طرح ناکام ونامراد کرے گا۔ جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے اپنی تقریر جلسہ سالانہ 1956ء میں بطوربشارت فرمایا تھا ۔



    حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کے بلند مقام پر فائز ہونے کے بارہ میںحضرت مصلح موعود کے رؤیا اور الٰہی اشارے
    سب سے پہلے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے اُن رؤیا کا ذکر کیاجاتا ہے جن میں حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کے ایک بلند مقام پر فائز ہونے کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔
    ‏i۔ حضور نے اپنے ایک خط میں جو26؍ستمبر1909ء کو لکھا گیا (حضرت مرزا ناصر احمد صاحب15؍نومبر1909ء کو پید اہوئے تھے )میں تحریر فرماتے ہیں ۔
    "مجھے بھی خد اتعالیٰ نے خبر دی ہے کہ میں تجھے ایک ایسا لڑکا دوں گا جو دین کا ناصر ہوگا اور اسلام کی خدمت پر کمر بستہ ہوگا۔" (الفضل08؍اپریل1915ء )
    ‏ii۔ دوسری خواب کے متعلق حضور فرماتے ہیں ۔
    ـ"میں واپسی کے وقت غالباً زیورک میں تھا کہ میں نے خواب دیکھی کہ میں ایک رستہ سے گزر رہاہوں کہ مجھے اپنے سامنے ایک ریوالونگ لائٹ(Revolving Light)یعنی چکر کھانے والی روشنی نظر آئی ۔جیسے ہوائی جہازوں کو راستہ دکھانے کے لئے منارہ پر تیز لیمپ لگائے ہوئے ہوتے ہیں جو گھومتے رہتے ہیں ۔ میںنے خواب میں خیال کیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کانور ہے ۔ پھر میرے سامنے ایک دروازہ ظاہر ہوا جس میں پھاٹک نہیں لگا ہوا۔ بغیر پھاٹک کے کھلا ہے ۔ میرے دل میں خیال گذرا کہ جو شخص اس دروازہ میں کھڑا ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کانور گھومتا ہوا اس کے اوپر پڑے تو خد اتعالیٰ کا نور اس کے جسم کے ذرہ ذرہ میں سرایت کر جاتا ہے ۔ تب میںنے دیکھا کہ میرا لڑکاناصر احمداس دروازہ کی دہلیز پر کھڑا ہوگیا اور وہ چکر کھانے والا نور گھومتا ہوا اس دروازہ کی طرف مڑا اور اس میں سے تیز روشنی گذر کر ناصر احمد کے جسم میں گھس گئی۔ پھر میں نے دیکھا ناصر احمد دہلیز سے اُتر آیااور منور احمد نے اس کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ جس وقت مرز امنور احمد اس دہلیز کی طرف بڑھ رہا تھا میںنے دیکھا کہ اس کے دونوں ہاتھ پھیلے ہوئے تھے۔ دایاں ہاتھ دائیں طرف اور بایاں ہاتھ بائیں طرف اور اس کے ساتھ ساتھ پہلو میں عزیز م چوہدری ظفر اللہ خان صاحب جارہے تھے ۔ مرز امنور احمد بڑھ کر اس دروازہ کی دہلیز پر کھڑا ہوگیا۔ اور پھر پہلے کی طرح روشنی چکر کھا کر اس کی طرف آنی شروع ہوگئی اور اس کے جسم پر پڑنے لگی ۔ اس وقت میرے دل میں خیال گذرا کہ کاش چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے بھی اس کا ہاتھ پکڑا ہوا ہو تو اس میں سے ہوکر خد اتعالیٰ کانور ان میں بھی داخل ہوجائے۔ تب میں نے ذرا سامنہ پھیرا اور دیکھا کہ عزیز م چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے عزیز م مرزا منورا حمد کا دایاں ہاتھ پکڑا ہوا ہے ۔ اس پر میںنے دل میں کہا ۔ الحمد للہ! چوہدری صاحب نے عین موقعہ پر مرز امنور احمد کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ اب انشاء اللہ منورا حمد میں سے ہوتے ہوئے الٰہی نور چوہدری صاحب کے بھی سارے جسم میں گھس گیا ہوگا۔ اور ا س پر میری آنکھ کھل گئی۔"
    (الفضل 08؍اکتوبر1955ء )
    ‏iii۔ "ان بشارتوں میں سے ایک یہ ہے کہ میں نے دیکھا کہ میں بیت الدعا میں بیٹھا تشہد کی حالت میں دعا کررہاہوں کہ الٰہی ! میرانجام ایسا ہوجیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ہوا۔ پھر جوش میں آکر کھڑا ہوگیاہوں اور یہی دعا کر رہاہوں کہ درروازہ کھلا ہے اور میر محمد اسماعیل صاحب اس میں کھڑے روشنی کر رہے ہیں۔ اسماعیل کے معنی ہیں خدا نے سن لی ۔ اور ابراہیمی انجام سے مراد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا انجام ہے کہ ان کے فوت ہونے پر خد اتعالیٰ نے حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام دو قائمقام کھڑے کردئیے ۔ یہ ایک طرح کی بشارت ہے ۔ جس سے آپ لوگوں کو خوش ہوجانا چاہئے ۔"
    (عرفان الٰہی ازانوار العلوم جلد4صفحہ288)
    خلافت ثالثہ کے قیا م بارے حضرت مصلح موعود کی
    رؤیا اور بشارات
    ‏i۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ہوشیار پور جلسہ یوم مصلح موعودمیں اپنی تقریر20؍فروری 1944ء میں فرمایا:
    "خدا نے مجھے بتایا ہے کہ وہ ایک زمانہ میں خود مجھ کو دوبارہ دنیامیں بھیجے گا اور میں پھر کسی شرک کے زمانہ میں دنیاکی اصلاح کے لئے آؤں گا جس کے معنے یہ ہیں کہ میری روح ایک زمانہ میں کسی اورشخص پر جو میری جیسی طاقتیں رکھتا ہوگا نازل ہوگی اور وہ میرے نقش قدم پر چل کر دنیا کی اصلاح کرے گا ۔" (الفضل 19؍فروری 1956ء )
    ‏ii۔ قدرت ثالثہ کی بشارت دیتے ہوئے ایک موقعہ پرفرمایا:
    " جب یہ اس کا قائم کردہ سلسلہ ہے تو یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ میری موت کا وقت آجائے اور دنیا یہ کہے کہ مجھے اپنے کام میں کامیابی نہیں ہوئی ۔ میری وفات خداتعالیٰ کے منشاء کے مطابق اس دن ہوگی جس دن میں خداتعالیٰ کے نزدیک کامیابی کے ساتھ اپنے کام کو ختم کرلوں گا اور حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی وہ پیشگوئیاں پوری ہو جائیں گی جن میں میرے ذریعہ سے اسلام اور احمدیت کے غلبہ کی خبر دی گئی ہے اور وہ شخص بالکل عدم علم اور جہالت کا شکارہے جو ڈرتا ہے کہ میرے مرنے سے کیا ہوگا؟
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ میں تو جاتا ہوں۔ لیکن خدا تمہارے لئے قدرت ثانیہ بھیج دے گا۔ مگر ہمارے خدا کے پاس قدرت ثانیہ ہی نہیں۔ اس کے پاس قدرت ثالثہ بھی ہے اور اس کے پاس قدرت ثالثہ ہی نہیں۔ اس کے پاس قدرت رابعہ بھی ہے۔ قدرت اولیٰ کے بعد قدرت ثانیہ ظاہر ہوئی اور جب تک خدا اس سلسلہ کو ساری دنیا میں نہیں پھیلا دیتا ۔ اس وقت تک قدرت ثانیہ کے بعد قدرت ثالثہ آئے گی۔ اور قدرت ثالثہ کے بعد قدرت رابعہ آئے گی اور قدرت رابعہ کے بعد قدرت خامسہ آئے گی ۔ اور قدرت خامسہ کے بعدقدرت سادسہ آئے گی۔ اور خداتعالیٰ کا ہاتھ لوگوں کو معجزہ دکھاتا چلا جائے گا ۔ اور دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت اور زبردست سے زبردست بادشاہ بھی اس سکیم اور مقصد کے راستہ میں کھڑا نہیں ہوسکتا۔ جس مقصد کے پورا کرنے کے لئے اس نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو پہلی اینٹ بنایا اور مجھے اس نے دوسری اینٹ بنایا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا ۔ کہ دین جب خطرہ میں ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کے لئے اہل فارس میں سے کچھ افراد کھڑے کرے گا۔ حضرت مسیح موعود ان میں سے ایک فرد تھے۔ اور ایک فرد میں ہوں۔ لیکن رجال ٌکے ماتحت ممکن ہے کہ اہل فارس میں کچھ اور لوگ بھی ایسے ہوں۔ جو دین اسلام کی عظمت قائم رکھنے اور اس کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لئے کھڑے ہوں۔ " ( الفضل 8ستمبر 1950ء )
    ‏iii۔ پھر ایک موقعہ پر جلالی انداز میں خلیفہ ثالث کے ساتھ تائیدات الہیہ کی بشارات کاذکر اپنی1956ء کی جلسہ سالانہ کی تقریر میں یوں فرمایا:
    "پس میں ایسے شخص کو جس کو خد اتعالیٰ خلیفہ ثالث بنائے ابھی سے بشارت دیتا ہوں کہ اگر وہ خداتعالیٰ پر ایمان لاکر کھڑا ہوجائے گا تو اگر دنیا کی حکومتیں بھی اس سے ٹکر لیں گی تو وہ ریزہ ریزہ ہوجائیں گی۔" (خلافت حقہ اسلامیہ صفحہ17)
    خلافت ثالثہ کے قیام کی تائید میں رؤیا وکشو ف اور خوابیں
    حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب تحریر فرماتے ہیں۔
    اب ہم وہ رؤیا، کشوف اور الہامات درج کرتے ہیں جو جماعت احمدیہ کے افراد کو سیدنا حضرت مرزا ناصر احمد خلیفۃ المسیح الثالث کے خلیفۃ المسیح منتخب ہونے سے پہلے خد اتعالیٰ کی طرف سے دکھائے گئے تھے۔
    حدیث نبوی "المومن یری ویری لہٗ "کے مطابق ویسے تو ہر مومن کچھ نہ کچھ رؤیائے صادقہ سے حصہ پاتا ہے اور کبھی اس کے بارے میں دوسروں کو رؤیا دکھائی جاتی ہیں اور آیت لھم البشریٰ فی الحیوۃ الدنیا میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے کہ مومنوں کو اسی دنیا میں رؤیا کے ذریعہ بشارات دی جاتی ہیں۔ لیکن خلافت کی اہمیت اور خدائی منشاء کے اظہار کے لئے اور انتخاب کے بارے میں رہنمائی اور مومنین کے ازدیاد ایمان کے لئے ایسے موقعہ پر کثرت سے خوابیں ،کشوف اور الہامات ہوتے ہیں ۔ ان رؤیا کو ہم حدیث نفس یا اضغاث احلام یا شیطانی وسوسہ اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ یہ ایک یا دو افراد کا معاملہ نہیں ۔ سینکڑوں افراد جو دیانت اور تقویٰ کا ایک معیار رکھتے ہوں ۔ مختلف مقامات پر ،مختلف وقتوں میں، مختلف طریقوں سے ایک ہی مفہوم کی خواب دیکھیں اور ایک ہی مفہوم کے الہامات اور القاء پائیں تو وہ رؤیا ، کشوف اور الہامات سب کے سب منجانب اللہ اور سچے ہوں گے ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ،کہ وہ علوم ظاہری اور باطنی سے پُر کیا جائے گا اپنے "حقیقۃ الرؤیا"کے معرکتہ الآرا ء لیکچر میں خوابوں اور الہامات کی صداقت معلوم کرنے کے طریق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ سچی خواب کی "پانچویں علامت یہ ہے کہ بعض دفعہ ایک مومن کو ایک رؤیا آتی ہے اور اُسی مضمون کی دوسروں کو بھی آجاتی ہے ۔ اور یہ شیطان کے قبضہ میں نہیں ہے کہ ایک ہی بات کے متعلق کئی ایک کو رؤیا کرادے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس علامت کے متعلق لکھا ہے ۔ چنانچہ آئینہ کمالات اسلام میں آپ کا جو خط نواب صاحب کے نام ہے اس میں آپ نے لکھا ہے کہ کچھ آدمی مل کر استخارہ کریں اور جو کچھ بتایا جائے اس کو آپس میں ملائیں ۔جو بات ایک دوسرے سے مل جائے گی وہ سچی ہوگی۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرماتے ہیں یراھا المسلم اوتری لہ۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مومن کو ایک رؤیا دکھائی جاتی ہے یا اوروں کو اس کے لئے دکھائی جاتی ہے۔ لیکن شیطان کو ایسا کرنے کا تصرف حاصل نہیں ہوتا ۔ یہ معیار ہم اور ہمارے مخالفین میں بہت کھلا فیصلہ کر دیتا ہے ۔ ہم جب کئی ایک لوگوں کی خوابیں ایک ہی مطلب کی اپنے متعلق پیش کرتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ حدیث النفس ہیں۔ مگر دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں تری لہ اوروں کو بھی دکھائی جاتی ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کہتے ہیں کہ دو شخصوں کی خوابوں کو آپس میںملا کر دیکھ لو۔ اگر وہ مل جائیں تو وہ سچی ہوں گی۔" (حقیقۃ الرؤیا از انوار العلوم جلد 4 صفحہ128)
    اب یہاں تودو چار کا سوال نہیں سینکڑوں خوابیں ہیں اور تمام خوابیں حلفیہ ہیں اور ساری خوابوں کا مفہوم ایک ہی ہے تو گویا یہ ایک آسمانی شہادت ہے کہ موجودہ خلیفہ برحق ہے اور آیت لھم البشری فی الحیوۃ الدنیا کے مطابق ان رؤیائے صادقہ اور بشارات کی حامل جماعت خد اتعالیٰ سے زندہ تعلق رکھنے والی جماعت ہے ۔ بیرون ممالک کے احمدیوں کے رؤیا وکشوف کے علاوہ اس وقت تک میرے پاس تین صدکے قریب اس مضمون کے رؤیا اور کشوف اورا لہام پہنچ چکے ہیں اور اُن میں سے معتدبہ حصہ ایسا ہے جن میں واضح طور پر اور بعض میں تعبیری رنگ میں بتایا گیا ہے کہ تیسرے خلیفہ مرزاناصر احمد ہوں گے ۔یہ رؤیا دیکھنے والے مختلف شہروں کے باشندے اور مختلف مقامات سے تعلق رکھنے والے ہیں اور رؤیا دیکھنے کا وقت بھی تقریباًتیس سال تک پھیلا ہوا ہے ۔
    مبشر خوابیں ، رؤیااور الٰہی اشارے
    ۱۔ مکرم علی محمد صاحب مسلم سیکرٹری اصلاح وارشاد فرید ٹاؤن منٹگمری (ساہیوال)
    خدا تعالیٰ کو حاضر وناظر جان کر حلفیہ بیان کرتا ہوں کہ1929ء میں خاکسار نے خواب میں دیکھا کہ خاکسار بہشت کے ایک چھوٹے سے قطعہ کے پاس کھڑا ہے ۔ اس قطعہ کے اندر مشرقی جانب ایک درخت ہے جو غالباً سفیدہ کا درخت ہے ۔ اس درخت کے نیچے چار کرسیاں بچھی ہوئی ہیں۔ جن کا رخ مغرب کی طرف ہے ۔ یعنی شمالاً جنوباً بچھی ہوئی ہیں ۔ پہلی کرسی پر شمالی جانب سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام رونق افروز ہیں۔ ان کی بائیں طرف حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول تشریف فرماہیں۔ ان کی بائیںجانب حضرت مرز ابشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی تشریف فرماہیں اور ان کی بائیں جانب حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب تشریف فرماہیں۔ اس قطعہ کا فرش سبز گھاس کا ہے ۔ چاروں کرسیوں کے سامنے فرش پر حضرت مولوی سرور شاہ صاحب اور حضرت مولوی شیر علی صاحب شمالاً جنوباً بیٹھے ہوئے ہیں۔
    …٭…٭…٭…


    ۲۔ مکرم آغا محمد عبد اللہ خان صاحب فاروقی احمدی ، بھڈانہ تحصیل گوجر خان
    ضلع راولپنڈی
    آغا محمد عبد اللہ خان صاحب فاروقی احمدی بمقام بھڈانہ تحصیل گوجرخان اپنی تصنیف کوکب دُرّی مطبوعہ1930ء کے صفحہ5پر اپنا ایک کشف درج کر کے تحریر فرماتے ہیں ۔
    "لیکن اب آفتاب ایک پرندہ کی شکل میں متمثل ہو گیا ۔ا س کے چار پر تھے پہلے پر کے اگلے حصہ پر"نور"لکھا ہو اتھا ۔ اور دوسرے کے1/3حصہ پر"محمود "۔ تیسرے پر کے عین وسط میں "ناصر الدین"اور چوتھے پر "اہل بیت"۔ ان چاروں پروں کے زیرایک زرد چادر اور ایک سرخ چادر تھی۔ سرخ چادر زمین پر گر پڑی اور زرد چادرآفتاب میں سما گئی ۔ تخمیناً75لمحوں کے بعد آفتاب منارہ بیضاء کے عین جنوب کی طرف غائب ہوگیا اور پھر سارے کشف میں نظر نہ آیا۔
    لفظ ناصر الدین میںا ور اسی طرح بعض اور رؤیا میں تیسرے خلیفہ کا صفاتی نام دکھا یا گیا اور یہ بالکل حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی اس بشارت کے مطابق جو آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی کہ میرا بھی ایک لڑکا دین کی نصرت کرنے والا ہوگا اور یہ عجیب بات ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے انتخاب کے بعد ان کا نام بعض جرائد نے ناصر الدین ہی لکھا ۔
    ( دیکھئے نوائے وقت لاہور 10؍نومبر1965ئ)
    …٭…٭…٭…

    ۳۔ مکرم چوہدری ولی داد خان صاحب رفیق حضرت مسیح موعود

    آپ اپریل1930ء میں جب ریٹائرہوکر گھر شیخوپورہ تشریف لائے تو خواب دیکھا کہ
    "میں قادیان میں ہوں ۔ اوروہاں اور بھی بہت سے لوگ جمع ہیں جن میں حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی بھی موجو دہیں۔ اور میاں ناصر احمد صاحب جو ابھی بچہ ہیں وہاں پاس بیٹھے ہیں کہ حضر ت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول نے تین بار بڑے جوش سے میاں ناصر احمد صاحب کی طرف انگلی کااشارہ کر تے ہوئے فرمایا ۔
    ـ"محمود! یہ بادشاہ ہوگا ۔ محمود! یہ بادشاہ ہوگا۔ محمود ! یہ بادشاہ ہوگا۔"
    پھر آپ کی آنکھ کھل گئی ۔ "
    …٭…٭…٭…
    ۴۔ مکرمہ سیدہ خدیجہ بیگم صاحبہ والدہ سیدہ رہنمائی بیگم اہلیہ
    مولوی عبد الودود صاحب فاروقی حال ربوہ
    مکرمہ سیدہ رہنمائی بیگم صاحبہ تحریر فرماتی ہیں ۔
    "میں خد اتعالیٰ کو حاضر وناظر جان کر حلفیہ لکھ رہی ہوں کہ میں اکثر اپنی والدہ مرحومہ سیدہ خدیجہ بیگم صاحبہ کی زبانی یہ خواب سنا کرتی تھی جو کہ انہوںنے قریباً 35سال پہلے دیکھا تھا۔ فرمایا کرتی تھیں کہ میںنے دیکھا کہ ہمارے داد ا صاحب (قاضی شاد بخت صاحب عباسی)ترکی ٹوپی پہنے اور اچھا لبا س زیب تن کئے کرسی پر بیٹھے ہیں کسی نے دروازہ پر دستک دی اور ایک سنہری حروف نوشتہ خط دیا۔ محترمہ والدہ صاحبہ نے کہا کہ بہت خوبصورت ہے میں بھی دیکھو ں کہ کیا ہے ۔ دیکھا تو اس پر مرقوم تھا ۔
    "پہلا خلیفہ جبرائیل ، دوسرا خلیفہ محمود، تیسرا خلیفہ ناصر الدین۔"
    تابعین اصحاب احمد جلد اول صفحہ12میں یہ خواب درج ہوچکا ہے مگر اس میں میرے والد صاحب (قاضی شاد بخت عباسی مرحوم ) نے ناصر الدین نام اس وجہ سے نہیں لکھوایا کہ خلیفۃ المسیح الثانی بفضلہ تعالیٰ ہم میں موجود تھے اس وقت اس کا ذکر کرنا ہر گز مناسب نہیں تھا۔
    جب میں نے تابعین اصحاب احمد کتاب پڑھی تو والد صاحب محترم سے دریافت کیا کہ خواب کا ایک حصہ تو شائع ہونے سے باقی رہ گیا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ اس کا شائع ہونا تو اس وقت مناسب نہیں یہ تمہارے زمانہ میں جب پورا ہوگا تو پھرتم مرکز میں خواب کا باقی حصہ لکھ کر بھجوادینا۔"
    …٭…٭…٭…
    ۵۔ مکرم مولانا عبد الستار خان صاحب مرحوم المعروف بزرگ صاحب لاہور
    کا ایک کشف
    ہمارے سلسلے میں ایک نمایاں شخصیت مولانا عبدالستار خان صاحب گزرے ہیں جو کہ جماعت میں"بزرگ صاحب"کے نام سے مشہور تھے ۔ وہ صاحب کشف اور صاحب الہام تھے۔مکرم نیک محمد خاں صاحب غزنوی ربوہ ان کا 1932ء کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔
    "ایک دن عصر کی نماز کے لئے"بزرگ صاحب"مسجد مبارک میں تشریف فرما تھے اور میں اُن کے ساتھ ہی مسجد میں بیٹھا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ بزرگ صاحب نے ایک طرف نہایت غور سے دیکھنا شروع کیا۔ میں نے اس وقت تو ان سے کچھ نہ پوچھا۔ لیکن میںنے یہ محسوس کیا کہ اس وقت وہاں سے حضرت مرز اناصر احمد صاحب گزر رہے تھے تو بزرگ صاحب نے اس وقت اُن کی طرف منہ کر لیا تھا۔ اور ان کی طرف دیکھنے کے لئے ہی مڑے تھے۔ جب نماز ختم ہوگئی اور و ہ اپنے کمرے میں مہمان خانہ تشریف لے گئے تو اس وقت میں نے ان سے دریافت کیا کہ بزرگ صاحب ! کس مصلحت کے تحت آپ اس وقت منہ پیچھے کر کے بیٹھ گئے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا "آج ایک عجیب واقعہ ہوا ہے پہلے میرے پاس ایک ملائکہ آیا تھا اس نے کہا کہ ان کا نام ناصر احمد ہے اور یہ دنیا میں اپنے زمانہ کے بہت بڑے آدمی ہوں گے۔"دو تین دن کے بعد مفتی محمد صادق صاحب اُن کے پاس آئے اور بزرگ صاحب نے اُن سے بھی ذکر کیا کہ میںنے ایک ایسا واقعہ دیکھا کہ میاں ناصراحمد جو خلیفہ ثانی کے فرزند ہیں۔ بہت بڑاآدمی بننے والا ہے ۔ لیکن ا س کے بڑے ہونے کا وقت ابھی نہیں ہے ۔ بلکہ وہ اپنے وقت پر بہت بڑا آدمی بنے گا اور وہ بہت صاحب اختیارات ہوگا اور پھر انہوں نے خاکسار کو یہ بھی کہا کہ یہ سب باتیں تمہاری زندگی میں ہی ظہور میں آئیں گی۔
    بزرگ صاحب نے جب مفتی صاحب سے اس کشف کا ذکر کیا تو مفتی صاحب نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ یہ واقعی بہت بڑ اآدمی بنے گااور بزرگ صاحب نے مجھے یہ بھی نصیحت فرمائی کہ یہ سب خداوندی کی باتیں ہیں اور خد اتعالیٰ انہیں اپنے وقت پر ظاہر فرمائے گا تم اس معاملے میں جلدی نہ کرنا اور لوگوں میں اس بات کا چرچا نہ کرنا ۔
    میرے پاس یہ بزرگ صاحب کی ایک امانت تھی اور اب میں یہ امانت صاحب امانت کے حوالے کر رہاہوں ۔ "
    …٭…٭…٭…

    ۶۔ حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کا ایک کشف
    جسے عبد الستار صاحب سیکشن آفیسر رشید سٹریٹ 4،غلام نبی کالونی سمن آباد لاہور نے تحریر فرمایا ہے۔
    "ایک دفعہ میںنے مسجد مبارک قادیان میں حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب سے دریافت کیا کہ کتاب حقیقۃ الوحی میں حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے پوتے نصیر احمد کا ذکر فرمایا ہے وہ کون ہیں؟حضرت مولوی سرور شاہ صاحب نے فرمایا کہ وہ تو فوت ہوگئے تھے اور مرز اناصر احمد صاحب ان کے بعد پید اہوئے ۔ پھر آپ نے اپنا ایک کشف یا رؤیا سنایا۔ (مجھے اس وقت یاد نہیں رہا کہ یہ کشف تھا یارؤیا) آپ نے فرمایا ۔
    میںنے دیکھا کہ ایک بہت بڑی ڈھول قسم کی ایک چیز ہے جو چکرکھارہی ہے ۔اس ڈھول کی بیرونی سطح پر خانے بنے ہوئے ہیں اور ہر خانہ میں کوئی صفت یا خوبی لکھی ہوئی ہے وہ ڈھول گھوم رہا ہے اور اس پر لکھا ہے کہ جس شخص میںیہ اوصاف ہوں گے اور اپنے ماں باپ کا دوسرا لڑکا ہوگا۔ وہ اپنے زمانہ میں سب سے بڑا شخص ہوگا ۔ پھر دیکھا کہ اس ڈھول میں سے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کا سر مبارک نکلا ہے اور آپ فرماتے ہیں "وہ میں ہوں "پھر یہ ڈھول اسی طرح گھومتا جاتا ہے اور اس پر یہی الفاظ لکھے ہیں کہ ایک دوسرا سراس ڈھول سے ظاہر ہوا ہے۔ وہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ہیں اور آپ نے فرمایا "وہ میں ہوں" اسی طرح یہ ڈھول گھومتا جاتا ہے اور دو اور سر اسی طرح ظاہر ہوئے اور ان میں سے ہرایک نے کہا کہ"وہ میں ہوں"
    میںنے حضرت مولوی صاحب سے پوچھا کہ تیسرے وجود کون ہیں آپ نے فرمایا وقت سے پہلے بتلانا مناسب نہیں ہوتا۔ میںنے عرض کی کہ حضور میں تو سمجھ گیا ہوں ۔ میری مراد یہ تھی کہ وہ تیسرے وجو دصاحبزادہ مرز اناصر احمد ہیں ۔جو اپنے ماں باپ کے دوسرے فرزند ہیں ۔
    …٭…٭…٭…
    ۷۔ مکرم امیر الدین صاحب بھارت نگر گلی نمبر8مکان نمبر12
    حلقہ سلطان پورہ لاہور
    میں حلفیہ بیان کرتا ہوں اور خد اتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتاہوں کہ میںنے غالباً 1932ء یا1933ء میں خواب میں دیکھا کہ حضرت اقدس خلیفۃ المسیح الثانی میرے پیارے آقا فوت ہوگئے ہیں ۔ قادیان میں حضور کا جنازہ موجود ہ امام وقت مرزا ناصر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثالث نے پڑھایا ہے اور یہی خلیفہ مقرر ہوئے ہیں۔
    …٭…٭…٭…

    ۸۔ مکرم فضل حق صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ صدر گوگیرہ
    ضلع منٹگمری (ساہیوال)
    بندہ نے غالباً 1934ء میں خواب میں دیکھا کہ ایک پختہ عمارت بنی ہوئی ہے ۔ اس کے ایک کمرہ میںجسے لوہے کا پھاٹک لگا ہے میاں ناصر احمد صاحب ہیں ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ہم سے جدا ہورہے ہیں اور حضور میرا بازورپکڑ کر میاں ناصر احمد صاحب کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر کہہ رہے ہیں کہ
    "اب میرے بعد میری جگہ یہ آپ کے خلیفہ ہوں گے۔"
    …٭…٭…٭…
    ۹۔ مکرم سید محمد حسین شاہ صاحب ملتانی حال چک نمبر376گوکھووال
    ضلع لائل پور (فیصل آباد)
    1935ء یا 1936ء کا واقعہ ہے کہ میں تتلیانوالی نہر کے پاس سیکھواں کے مقابل ریلوے لائن کی طرف منہ کر کے خواب میں کھڑا ہوں کہ قادیان شریف کی جانب سے ریل گاڑی بٹالہ کی طرف جاتے ہوئے دیکھی۔ جس میں سوار احمدی ہی احمدی ہیں اور خوب بھری ہوئی ہے اور اس ٹرین کو حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب چلا رہے ہیں۔ آپ کے ہمراہ فائر مین اور خلاصی وغیرہ جوڈرائیور کے مددگار ہوتے ہیں نہیں تھے اور گارڈ بھی نہیں تھا۔ یہ خواب میںنے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خدمت میں بھی لکھ دی تھی ۔ اور جو تعبیر میرے ذہن میں آئی تھی یعنی آپ خلیفہ ہوں گے وہ بھی لکھ دی تھی۔ یہ خواب میں وقتاً فوقتاً اپنی اولاد اور بہت سارے دوستوں کو سناتا رہا ۔ بعض نے کہا کہ آپ کی خواب پوری چکی ہے۔ کیونکہ حضرت میاں صاحب پہلے خدام کی اور پھر انصار کی قیادت فرماتے رہے ہیں ۔ لیکن میں نے چونکہ ٹرین میں جماعت کے سب چھوٹے بڑے دیکھے تھے اس لئے پوری تسلی نہیں ہوئی تھی۔
    …٭…٭…٭…
    ۱۰۔ مکرم کرنل وقیع الزمان صاحب مری
    میں جس وقت قریباً سولہ سال کا تھا اور نیا نیا قادیان تعلیم کے لئے آیا تھا اور حضور (خلیفۃ المسیح الثالث) ابھی انگلینڈ تعلیم کے لئے گئے ہوئے تھے اور واپس نہیں آئے تھے اور اس لئے میری ملاقات بھی کبھی نہیں ہوئی تھی ۔ ان ایام میں ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ
    "حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعود کا وصال ہوگیا ہے اور خلافت کا انتخاب ہورہاہے جس میں کھڑے ہو کر میں حضور (یعنی حضرت مرزا ناصر احمدصاحب ) کے حق میں تقریر کرتا ہوں ۔ "
    …٭…٭…٭…

    ۱۱۔ مکرم مستری بدرالدین صاحب دارالصدر غربی الف ربوہ
    آج سے چھبیس ستائیس سال قبل میں نے ایک رؤیا میں دیکھا کہ حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کے مکان کے سامنے والے لنگر خانہ میں جو صرف جلسہ سالانہ میں جاری ہوتا تھا۔ اس کے ایک کمرہ کے اندر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ٹہل رہے ہیں اور میں کمرہ کے دروازے پر باہر بیٹھا پڑا رورہاہوں اور سمجھتا ہوں کہ حضور وفات پاچکے ہیں۔ میں اسی غم میں روتا جارہاہوں کہ حضور ٹہلتے ٹہلتے دروازے کے پاس آئے اور فرمایا ۔"بدر الدین اتنے کیوں رورہے ہو؟"لیکن میں کوئی جواب نہیں دے سکااور برابر روتا جارہاہوں ۔یہ سمجھ کر کہ حضور وفات پاچکے ہیں۔ اس کے بعد پھر دوبارہ حضور ٹہلتے ٹہلتے دروازے کی طرف آئے اورفرمایا "بدر الدین اتنے کیوں رورہے ہو۔ میاں ناصر احمد جو ہیں۔"اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی ۔ میں اس رؤیا کو خداتعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کاکام ہے کہ میں نے یہی نظارہ رؤیا میں دیکھا ۔
    …٭…٭…٭…
    ۱۲۔ مکرم چوہدری عبد الرحیم صاحب اسلامیہ پارک لاہور
    میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں کہ جس کی جھوٹی قسم کھانا *** ہونے کے مترداف ہے کہ میں نے مندرجہ ذیل خواب جہاں تک میری یاد کا تقاضا ہے1938ء میں دیکھا تھا ۔
    میںنے دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (جو اس وقت میاں ناصر احمد کہلاتے تھے) ولایت سے تعلیم مکمل کر کے آرہے ہیں اور میں ان کو اسٹیشن پر ملنے گیاہوں ۔ مجھے خوب یاد ہے کہ میں خواب میں لاہور میں ہی ہوں اور گھر سے اسٹیشن پر گیاہوں لیکن جب اسٹیشن پر پہنچا تو نقشہ امرتسر اسٹیشن کا ہے ۔ پلیٹ فارم پر جالندھر سے گاڑی آکر جہاں اس کا انجن ٹھہرتا تھاوہاں اسٹیشن کے اندر جانے کا راستہ ہے ۔ وہاں سے اندر جاکر جب میں بائیں طرف پلیٹ فارم پر جانے کو مڑا تو میںنے دیکھا کہ اسٹیشن پر بہت بھیڑ ہے اور اس میں کوئی بھی مسافر نہیں بلکہ سب حضرت میاں صاحب کو ملنے کے لئے آئے ہوئے ہیں ۔لیکن وہ تمام کے تمام انبیاء کرام تھے۔ بعض نبیوں کو تو میں نے پہچانا ہے یعنی حضرت ادریس ، حضرت یعقوب ،حضرت یوسف علیہم السلام وغیرہ اور بہت نبیوں کو نہیں جانتا۔ لیکن میرے ذہن میں یہی ہے کہ یہ سب انبیاء کرام ہیں۔
    میرے اندر داخل ہوکر پلیٹ فارم کے قریب پہنچتے ہی گاڑی آگئی اور انجن وہیں آکر رک گیا ۔ پلیٹ فارم کے اختتام پر جو Slopیعنی ڈھلوان ہوتا ہے میں پلیٹ فارم پر جانے کے لئے اس پر چڑھنے لگا تو دیکھا کہ اس وقت حضرت آدم علیہ السلام میرے پیچھے سے جلدی جلدی چلتے ہوئے آئے اور میری داہنی طرف سے گذر کر آگے نکل گئے ۔ اُن کی بائیں بغل میں ایک چوکھٹا تھا جس کو شیشہ لگا ہو اتھا۔ میںنے اس وقت یہی سمجھا کہ یہ ایڈریس ہے جو کہ میاں صاحب کودینا ہے ۔ چونکہ گاڑی آگئی ہے اس لئے انہیں جلدی ہے۔ جب وہ میرے پاس سے گذرنے لگے تو میںنے السلام علیکم کہا وہ جلدی میں تھے ۔ جہاں تک مجھے یاد ہے انہوںنے سر ہلایا اور پتہ نہیں کہ زبان سے جواب دیا یا نہیں۔ بہر حال وہ تیزی سے پلیٹ فارم پر چلے گئے ۔ اس وقت میری زبان سے یہ نکلا۔
    "خد امیرے محبوب کو سلامت رکھے ہمارا خلیفہ ثالث بھی بڑی شان کا ہے ۔"
    محبوب سے میری مراد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی تھے ۔
    …٭…٭…٭…
    ۱۳۔ مکرم خان بہادر دلاور خان صاحب مرحوم پشاور
    یہ خواب آپ نے مورخہ25؍ستمبر1959ء کو مکرم مولوی محمد عرفان صاحب وکیل وامیر ضلع مانسہرہ کو اپنے خط میں لکھی۔
    میں قادیان میں ہوں ۔ خلیفہ وقت کے پاس گیا ہوں ۔ خلیفہ وقت کے ہاتھ چومنا چاہتا ہوں لیکن وہ مجھ سے ہاتھ کھینچ رہے ہیں اور چومنے کے لئے نہیں دیتے۔ جب غور سے دیکھا تو موجودہ خلیفۃ المسیح الثانی نہیں ہیں بلکہ ایک اور شخص ہے ۔ جب میں اسی سال جلسہ پر گیا اور جب حضرت مرز اناصر احمد صاحب کو دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ خلیفہ جو خواب میں میں نے دیکھا تھا یہی ہے یہ سال1938ء کا واقعہ ہے۔
    …٭…٭…٭…
    ۱۴۔ مکرم ڈاکٹر مرزا عبد القیوم صاحب63چرچ روڈ نوشہرہ چھاؤنی
    میں خد اتعالیٰ کو حاضر وناظر جان کر جس کے قبضہ میں ہر ایک کی جان ہے کی قسم کھا کرمندرجہ ذیل خواب بیان کرتا ہوں ۔
    میں نے پانی پت میں غالباً1939ء (اتنا یاد ہے کہ جنگ کے اعلان سے کچھ ماہ قبل کی بات ہے) جبکہ میں وہاں ڈسپنسری کا انچارج تھا۔ رات کو تین بجے خواب دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی جلسہ میں تقریر کر رہے ہیں ۔تقریر کرتے کرتے فرمانے لگے ۔ میںبتاؤں اگلا خلیفہ کون ہوگا؟چنانچہ ایک بلیک بورڈ لایا گیا ۔ جس پر جو خانے بنے ہوئے تھے اس میں آپ نے ایک ایک حرف ایک ایک خانے میں یوں لکھا۔


    ن
    ا
    ص
    ر
    ا
    ح
    م
    د


    میںنے اُٹھ کر اسی وقت ایک کاغذ پر یہ حروف لکھ لئے ۔
    …٭…٭…٭…
    ۱۵۔ مکرم نورالحق خاں صاحب بی ایس سی (ایگلریکلچر)
    دارالسلام ٹانگا نیکا مشرقی افریقہ
    میں خد اتعالیٰ کی قسم کھا کر اس خواب کو بیان کرتاہوں اور اگریہ خواب من گھڑت ہو تو اللہ تعالیٰ اسی جہان میں اور آخرت میں مجھ پر *** کرے ۔
    آج سے پچیس سال قبل1940ء کی بات ہے کہ جب میں تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کی چھٹی جماعت میں تعلیم پاتا تھا کہ ایک رات میںنے خواب میں دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی وفات پاگئے ہیں اور حضرت مرزا ناصر احمد صاحب حضور کی جگہ خلیفہ بنے ہیں۔ خواب ہی میں دل میں سوچ کر کہ حضرت صاحب اب ہمیشہ کے لئے ہم سے جدا ہوگئے ہیں اب ہم حضور کے خطبات کہاں سنا کریں گے بہت غمگین ہوا ہوں ۔
    …٭…٭…٭…
    ۱۶۔ مکرم ناصر احمد صاحب ابن مولوی غلام رسول صاحب معلم وقف جدید
    چک نمبر37جنوبی سرگودہا

    میں خد اکو گواہ ٹھہرا کر قسم کھاتا ہوں کہ جو کچھ میں تحریر کر رہاہوں یہ صحیح ہے ۔
    1943ء یا1944ء میں خاکسار نے خواب میںدیکھا کہ میں اپنی ایک پھوپھی زاد بہن تاج بی بی سے جو غیر احمدی ہیں۔ مخاطب ہوکر کہتاہوں کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام سچے ہیں۔ دیکھو اگر یہ جھوٹے ہوتے تو انہیں قبل از وقت ایک عظیم الشان لڑکے اور اس کی صفات کا کس طرح علم ہوجاتا ؟ جب میں انہیں یہ بات کہتا ہوں تو اس وقت میرے ہاتھ میں ایک کتاب جونئی اور صاف ستھری ہے اس میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعود کی ایک خوبصورت فوٹو موجو دہے ۔ وہ دکھا کر میں کہتا ہوں کہ دیکھو جس طرح حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو قبل ازیں ایک عظیم الشان فرزندکی خبر خد اتعالیٰ سے ملی تھی۔ ویسے ہی انہیں بھی ایک فرزند کی خبر قبل از وقت ملی تھی۔ جب میں یہ فقرے بڑے جوش سے انہیں سناتا ہوں اور اُسی کتاب کی ورق گردانی کرتا ہوں جس میں مصلح موعود کی تصویر ہے تو وہاں حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کی نہایت عمدہ تصویر سامنے آجاتی ہے ۔ میں کہتا ہوں دیکھو یہ لڑکا ہے جسے مصلح موعود نے قبل از وقت ہی دیکھا تھا۔
    ۱۷۔ مکرم عبد الحق صاحب ملتانی

    خواب میں دیکھا کہ میں مسجد اقصیٰ کی طرف سے احمدیہ بازار کو آرہا ہوں ۔ جب بازار میں داخل ہوتا ہوں تو احاطہ مرزا گل محمد صاحب کی طرف نظر گئی تو دیکھا کہ بہت سے لوگ احاطہ میں ایک چارپائی کے گرد کھڑے ہیں ۔ میں فوراً یہ خیال کرتا ہوں کہ حضور خلیفۃ المسیح الثانی کا وصال ہوگیا ہے ۔ لوگوں میں سے مرزا گل محمد صاحب نے مجھے آواز دی "اوئے بیٹا! ادھر آجا۔"
    اس کے ساتھ ہی میرے کان میں زور سے آواز آئی ۔
    "عبد الحق ! میاں ناصر احمد اودھر نے۔"
    جب میںنے دیکھا تو فخر دین والی دوکان کی چھت پر کوئی عورت ہے جس کو میں "مائی کاکو" سمجھتا ہوں لیکن جب میں سیڑھیوں پر چڑھا تو دیکھا کہ حضرت اماں جان ہیں ۔ میںنے شرم سے آنکھیں نیچی کر لیں۔
    …٭…٭…٭…
    ۱۸۔ مکرم بابو نور احمد صاحب چغتائی مرحوم (وفات 54ء )
    آپ کے بیٹے مکرم مولوی رشید احمد چغتائی صاحب دارالرحمت ربوہ بیان کرتے ہیں۔
    آپ کو اپنی وفات سے سالہا سال قریباً بیس سال قبل پہلے کشفی طور پر ایک رؤیامیں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد کی خلافت ایک نور کی شکل میں دکھائی گئی۔ چنانچہ آپ نے بتایا کہ جہاں تک میری نظر کام کرتی تھی حضور کا یہ نور خلافت مجھے ممتد اورلمبادکھائی دیا۔ جس کے آخر میں معاً بعد سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بڑے پوتے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی خلافت مجھے جلوہ افروز دکھائی گئی۔ میں اسی رؤیاکی حالت میں کہتا ہوں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خلافت بفضلہ تعالیٰ اتنی لمبی ہے کہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کی خلافت اس کے بعد چھوٹی رہ جائے گی ۔
    اپنے والد بزرگوار بابو نور احمد صاحب چغتائی کے منہ سے خود سنی ہوئی رؤیااوپر درج کرنے کے بعد خاکسار (رشید احمد چغتائی ) خد اتعالیٰ جس کے قبضہ قدرت میں میری اور میرے اہل وعیال کی جان ہے قسم کھا کر جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کاکام ہے یہ حلفیہ بیان کرتا ہے کہ مذکورہ بالا رؤیا بلاکم وکاست جس طرح خاکسار نے اپنے والد سے سنی تھی تحریر کر د ی ہے ۔
    واللہ علیٰ ما اقول شہید
    …٭…٭…٭…
    ۱۹۔ مکرمہ سیدہ ممتاز عصمت صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر حسن محمد شاہ صاحب
    چک107/R.Bچوہدری والا ضلع لائل پور(فیصل آباد)
    اندازاً45ء میں، رات کے پچھلے حصہ میں رؤیا دیکھا کہ ایک بڑا میدانی علاقہ ہے اور اس میں حد نظر تک بہت بلند ایک پہاڑ ہے ۔ پہاڑ کی چوٹی پر سنگ مرمر کی ایک نہایت خوبصورت کرسی ہے جیسے شاہانہ کرسیاں ہوتی ہیں ۔ اس کرسی پر ہاتھ رکھے ایک نہایت خوبصورت نوجوان کھڑا ہے ۔ میرے دل میں ڈالا گیا یہ تو میاں ناصر احمد بادشاہ ہیں ۔
    ۲۰۔ مکرم حضرت مرز اغلام رسول صاحب پشاوری کاکشف
    آپ کے داماد محترم پروفیسر بشارت ارجن صاحب ربوہ بیان کرتے ہیں۔
    میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر حلفیہ بیان کرتاہوں کہ میرے خسر حضرت مرزا غلام رسول صاحب پشاری جو رفیق تھے اور صاحب کشوف رؤیاء تھے ۔ اغلباً1945ء یا1946میں انہوں نے قادیان میں خاکسار سے بیان کیا تھا کہ
    "میںنے کشفی حالت میں دیکھا ہے کہ مرزا ناصر احمد صاحب کے سینہ میں ایک نور ہے یاایک نور چمک رہا ہے ۔"
    پھر یہ بھی فرمایا کہ
    "میںنے مرزا ناصر احمد صاحب کو جماعت احمدیہ کا خلیفہ بنا ہوا دیکھا ہے ۔"
    …٭…٭…٭…
    ۲۱۔ مکرم قریشی فضل حق صاحب گولبازار ربوہ
    خاکسار حلفاً عرض کرتا ہے کہ قادیان میں میں نے ایک خواب دیکھا کہ
    حضرت مسیح موعودعلیہ السلام مسجد اقصیٰ سے بڑے بازار کی سیڑھیوں پر سے باہر تشریف لائے اور دروازے پر کھڑے ہوگئے ۔ دروازے کے سامنے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (مرزا ناصر احمد) اور خاکسار کھڑے ہیں ۔ میںنے دیکھا کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے جسم مبارک سے نورانی کرنیں جن کے مختلف رنگ تھے نکل کر حضرت اقدس خلیفۃ المسیح الثالث کے جسم میں جذب ہورہی ہیں ۔ جب سب کرنیں جذب ہوگئیں تو حضرت مسیح موعودعلیہ السلام وہاں سے گھر کو چل دئیے۔ اور جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک کی سیڑھیوں پر چڑھنے لگے تو دیکھا کہ وہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی تھے۔
    …٭…٭…٭…
    ۲۲۔ مکرمہ صالحہ بیگم صاحبہ دختر حافظ محمد ابراہیم صاحب آف دارالفضل قادیان
    سکنہ دھیرکے چک 433/JBبراستہ گوجرہ ضلع لائل پور(فیصل آباد)
    اللہ تعالیٰ کو حاضر وناظر جان کر عرض کرتی ہوں کہ خواب بالکل اسی طرح دیکھا گیا تھا۔
    غالباً1950ء کا جولائی کا مہینہ تھا۔ میں ان دنوں ربوہ میں تھی ۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت اقدس المصلح الموعود کی وفات ہوگئی ہے اور لوگ گفتگو کر رہے ہیں کہ خلیفہ کون ہو۔ فوراً میرے خاوند مولوی محمد منیر صاحب نے ایک پگڑی حضرت صاحبزادہ میاں ناصر احمد صاحب کے سر پر رکھ دی ہے اور سب سے پہلے میرے خاوند نے بیعت کی ۔ پھر میں نے دیکھا کہ حضرت ممدوح میرے خاوند اور دو اورآدمیوں کے ہمراہ جن کو میں پہچانتی نہیں ہوں میرے مکان پر تشریف لائے ہیں ۔میںنے حضرت ممدوح کی خدمت میں دو جوڑے کپڑے جو خواب میں میں اپنے خاوند کے سمجھتی ہوں اور بالکل نئے ہیں پیش کئے ہیں اور کہہ رہی ہوں کہ حضور یہ کپڑے لیں اور بہت سے اور کپڑے لے کر ربوہ میں تقسیم فرمائیں تاتالیف قلوب ہو۔
    ۲۳۔ مکرم چوہدری محمد دین صاحب ریٹائرڈ شیڈ مین محکمہ ریلوے
    کھاریاں ضلع گجرات
    میں اللہ تعالیٰ کو حاضر وناظر جان کر حلفاً بیان کرتا ہوں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ
    میںربوہ گیا ہوں اور وہاں جاکر میں نے حضور خلیفۃ المسیح الثانی کی اپنی زبان سے یہ الفاظ سنے ہیں۔ لیکن میں نے حضور کو دیکھا نہیں کہ کس جگہ تشریف فرما ہو کر حضور یہ الفاظ فرمارہے ہیں ۔
    "میرے بعد میاں ناصر احمد کام کریں گے۔"
    یہ خواب میں نے انہی دنوں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خدمت بھیج دی تھی ۔ لیکن حضور کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا تھا۔
    …٭…٭…٭…
    ۲۴۔ محترمہ اقبال بیگم صاحبہ اہلیہ اخوند محمد اکبر خان صاحب (رفیق حضرت مسیح موعود)
    مکان نمبر694حرم گیٹ ملتان شہر
    آج سے بارہ تیرہ سال قبل اس عاجزہ نے ایک خواب دیکھا تھا۔ جسے حلفیہ تحریر کرتی ہوں کہ
    ربوہ کے میدا ن میں بے حد لوگ جمع ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ہنگامی حالت ہو۔ قریب آئی تو معلوم ہوا کہ کچھ لوگ جن میں خاندان مسیح موعود علیہ السلام کے افراد بھی ہیں۔آپس میں خلافت کے متعلق بحث کر رہے ہیں ۔ پھر میں نے دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی بھی اس جگہ تشریف لائے ہیں۔ اور انہوںنے حضرت میاں ناصر احمد صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا ہے اور خاموشی سے اس طرف چل پڑے ہیں جہاں اب مسجد مبارک ہے ۔ اس پر جو لوگ آپس میں بحث کر رہے ہیں خاموشی سے حضور کے پیچھے پیچھے چل پڑے ہیں اور زور زور سے نعرے بلند کر رہے ہیں۔ اور باقی چند خاموشی سے دوسری طرف چلے گئے ۔
    …٭…٭…٭…
    ۲۵۔ مکرم رحمت علی صاحب قریشی کرتو ۔ نارنگ منڈی ضلع شیخوپورہ
    1955ء میں مجھے ایک رؤیا ہوا ۔ کہ
    میں ایک شہری آبادی میں ایک بازار میں ایک دوکان کے تختے پر کھڑ اہوں ۔ اور بازار کی شکل مشرق سے مغرب کی طرف ہے اور ایک سڑک اس بازار میں شمال کی طرف سے آکر ملتی ہے ۔ جس دوکان پر میں کھڑا ہوں اس دوکان کا دروازہ شمال کی طرف ہے ۔ اس شہر کی تمام دوکانیں بالکل بند ہیں کیا دیکھتاہوں کہ ایک پالکی میں حضرت اقدس خلیفۃ المسیح الثانی سوار ہیں، اور اس پالکی کو آدمی اٹھائے ہوئے مغرب کی طرف لے جارہے ہیں اور آگے آگے حضرت مرزا ناصر احمد صاحب سر پر تاج جو کہ سونے کا بنا ہوا ہے، پہنے ہوئے پرواز کر رہے ہیں ۔ پر نہایت چمکیلے اور پروں کی شکل جیسی کہ آج کل مصوروں نے براق کی تجویز کی ہے ویسی ہے اور میں دیکھ کر آواز یں دے رہا ہوں کہ آؤ لوگو!خلیفۃ وقت کی زیارت کرو۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی اور دیکھا کہ وقت نماز تہجد کا ہے اور میںنے عین وہی نظارہ تابوت حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے گذرنے کا دیکھا جب میں بہشتی مقبرہ میں پہنچا۔
    …٭…٭…٭…
    ۲۶۔ مکرم سید مسعود مبارک شاہ صاحب ابن سید محمود اللہ شاہ مرحوم ۔ ربوہ
    میں خداتعالیٰ کو حاضر وناظر جان کر حلفیہ بیان کرتا ہوں کہ نودس سال ہوئے میں نے ایک خواب دیکھا کہ
    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی وفات پاگئے ہیں۔ ایک میدان میں جماعت کے بڑے بڑے احباب زمین پر بیٹھے ہیں ۔ اُن میں چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب بھی ہیں ۔ ان کے ساتھ ہی میں بھی بیٹھا ہوں۔ ہم سب حضور کی وفات کے غم سے سخت نڈھال ہیں اور ساتھ ہی یہ غم ہے کہ اب جماعت کا کیا بنے گا۔ اتنے میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب تشریف لاتے ہیں اور مجمع کے سامنے کھڑے ہوکر تقریر فرما نا شروع کرتے ہیں۔ ان کے پیچھے غلام احمد پٹھان جو پہرہ دار ہے صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب کو گود میں اٹھائے جن کی عمر دو تین سال کی لگتی ہے کھڑا ہے ۔ تقریر کے دوران میں ہم سب لوگ محسوس کررہے ہیں کہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے نہایت عمدگی کے ساتھ موضوع کو نبھایا ہے ۔ تمام لوگوں کے چہروں سے گھبراہٹ کی بجائے اطمینان کے آثار پائے جاتے ہیں۔ اس کے بعد آنکھ کھل گئی۔
    …٭…٭…٭…
    ۲۷۔ مکرم خواجہ ظہور الدین صاحب بٹ وکیل ۔صدر جماعت احمدیہ
    گوجرخان ضلع راولپنڈی
    1956ء کے خلافت کے متعلق فتنہ کا ذکر کر کے لکھتے ہیں کہ میں روزانہ دعائیں کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ جماعت کو فتنہ سے محفوظ رکھے ۔ انہی دنوں میں نے مندرجہ ذیل خواب دیکھا تھا ۔جو میں حلفاً بیان کرتا ہوں ۔
    "میں نے دیکھا کہ میں ایک سڑک کے کنارے کھڑا ہوں ۔ کسی نے آکر مجھے ایک اخبار کا پرچہ دیا جس میں درج تھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی وفات پاگئے ہیں۔ میں خواب میں بہت گھبرایا ۔ ساتھ ہی خیال آیا کہ ربوہ فوراً پہنچنا چاہئے ۔ صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی بیعت ہورہی ہوگی۔ ان کی بیعت کرنی چاہئے اس کے بعد میں جاگ اُٹھا۔"
    …٭…٭…٭…
    ۲۸۔ مکرم عبد الغفار صاحب فوٹو سپیڈ کمپنی سابق امیر ضلع حیدر آباد ۔ حیدر آباد
    خاکسار نے دیکھا کہ
    ایک فرشتہ شکل بزرگ جن کا لباس نہایت سفید ہے۔ جس میں سے نور کی شعاعیں نکل رہی ہیں۔ فر ش پر جلوہ افروز ہیں ۔ شکل حکیم عبد الصمد صاحب دہلوی رفیق حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بہت کچھ ملتی جلتی ہے ۔ لیکن حکیم صاحب بذات خود نہیں تھے۔ وہ سورۃ جمعہ کی تفسیر بیان فرما رہے ہیں اور اس میں خلافت احمدیہ کے ہونے والے واقعات کا ذکر فرما رہے ہیں کہ اس کے بعد یہ ترقی ہوگی یہ ترقی ہوگی۔ پھر آپ نے آگے چل کر بڑے جلالی رنگ میں فرمایا۔
    نَافِلَۃً لَّکَ عَسٰی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا۔
    پھر فرمایا کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کا ایک پوتا ہوگا جو اس خدائی سلسلہ کو مقام محمود تک پہنچائے گا۔ اس کے بعد آپ کے چہرہ مبارک کافوکس میرے سامنے لایا گیا کہ یہ پوتا ہے ۔ میں نے فوراً عرض کیا کہ یہ تو میاں ناصر احمد صاحب ہیں اور زبان سے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْم نکلا اور آنکھ کھل گئی۔ "
    …٭…٭…٭…
    ۲۹۔ مکرم محمد سعید صاحب احمدی پنشنر معرفت سعیدہ بیگم صاحبہ ڈسپنسر
    فاطمہ جناح زنانہ ہسپتال ملتان شہر
    میں نے02؍جنوری57ء اور03؍جنوری57ء بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات کو خواب دیکھا کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی کتاب حقیقۃ الوحی نئی چھپی ہے ۔ اور غالباً چوہدری عبد اللطیف صاحب احمدی مالک پاونیئر الیکٹرک سنٹر سابق قائد خدام الاحمدیہ ملتان شہر حال قائد خدام الاحمدیہ علاقہ ملتان لائے ہیں۔ میں بھی ہوں اور کئی اور دوست بھی ہیں۔ حقیقۃ الوحی کو دیکھ کر ہم بہت ہی خوش ہوئے ہیں اور کتاب لے کر دیکھنی شروع کی ہے ۔ مگر بڑے اشتیاق سے۔ حقیقۃ الوحی کا کاغذ اور جلد نہایت ہی شاندار ہے اور لکھائی نہایت عمدہ ہے ۔ کاغذ اور جلد کارنگ نہایت ہی عجیب ودلکش اور نئے نمونہ کا ہے ۔ اور پہلے سے موٹی ہے یعنی ضخیم ہے ۔ ہم نے اس کو دیکھنا شروع کیا ہے اور ورق گردانی شروع کی ہے ۔ بہت سے کافی ورقوں کے بعد وحی کی بہت سی اقسام لکھی ہوئی ہیں ۔ اس کے آگے ورق گردانی کی ہے تو ایک ورق کے اگلے حصہ پر حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کا فوٹو مبارک ہے ۔ اور قریباً سارے صفحہ پر ہے ۔ فوٹو مبارک اس قدر اعلیٰ ہے کہ میں اس کی کیفیت لکھنے سے عاجز ہوں ۔ حضور بیٹھے ہوئے ہیںاور بند گلے کا کوٹ پہنا ہوا ہے ۔ کوٹ کا رنگ نہایت عجیب دلکش نئے نمونہ کا ہے ۔ اور جو رنگ حقیقہ الوحی کے کاغذاور جلد کا ہے وہی کوٹ کا ہے ۔ نہایت جلال ٹپک رہا ہے ۔ حضور کا فوٹو مبارک بہت ہی بارعب باوقار اور نور والا ہے اور سارے ورق کو گھیر ے ہوئے ہے۔ حضرت صاحب کے فوٹو کے ورق کے ساتھ جو دوسرا ورق ہے اس پر حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کا فوٹو ہے ۔ اور ان دونوں فوٹوؤں کے درمیان حضور آپ کا (یعنی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کا ) فوٹو مبارک ہے ۔ حضور کھڑے ہوئے ہیں ۔ پگڑی مبارک سر پر ہے اور کوٹ پہنے ہوئے ہیں۔ اور حضور کے کوٹ اور پگڑی کا رنگ وہی ہے جو حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے کوٹ کا ہے۔ فوٹو نہایت دلکش بارعب ، باوقار اور نور والا ہے ۔ دوسرے ساتھ والے ورق پر سامنے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کا فوٹو ہے ۔ حضرت صاحبزادہ صاحب بیٹھے ہوئے ہیں ۔ بند گلے والا کوٹ پہنے ہوئے ہیں۔ کوٹ کا رنگ وہی ہے جو حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اور حضور آپ کا ہے۔ حضرت صاحبزادہ صاحب کا چہرہ مبارک حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اور حضور آپ کی طرف ہے ۔ حضرت صاحبزادہ صاحب کا فوٹو سارے ورق کو گھیرے ہوئے ہے ۔
    …٭…٭…٭…

    ۳۰۔ مکرم چوہدری عزیز احمد صاحب نائب ناظر بیت المال ۔ ربوہ
    10؍جنوری57ء کی رات میں نے خواب میں دیکھا کہ
    لوگوں کا بہت بڑا مجمع ہے ۔ یہ ہجوم عید کی نماز کے لئے ہے ۔ سب حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کاانتظار کر رہے ہیں کہ وہ نماز پڑھائیں گے ۔ مگر لوگوں کا انتظار بہت لمبا ہوگیا۔ جس کی وجہ سے بعض نے چہ میگوئیاں شروع کر دیں کہ کیوں نہ کسی اور کو امام منتخب کر لیا جائے ۔ میں ان کو کہنا چاہتا ہوں ( یا میں نے کہا) کہ نماز کے آخری وقت تک تو انتظار ضرور کرنا چاہئے ۔ اتنے میں لوگوں کی چہ میگوئیاں مرز اعبد الحق صاحب تک پہنچ گئیں۔ چنانچہ انہوں نے اعلان کیا کہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کا انتظار لازمی طورپر کیا جائے گا اور وہی امامت کرائیں گے ۔ میری آنکھ کھل گئی اور نماز فجر تک اس خواب کے متعلق سوچتا رہا۔
    …٭…٭…٭…
    ۳۱۔ مکرم محمد دین صاحب مجاہد پٹواری ٹوبہ ٹیک سنگھ
    06،05فروری57ء کی درمیانی شب کو بوقت چار بجے بمقام لائل پور خواب میں دیکھا
    جیسے خدانخواستہ حضرت صاحب (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ) وفات پاگئے ہیں۔ تمام بوڑھے بچے عورت مرد سب اکٹھے ہورہے ہیں اور ربوہ میں ایک کہرام مچا ہوا ہے ۔ میں نے ہاتھ پر ہاتھ مار کر (غمگین دل سے ) کہا کہ اب ربوہ اُجڑ گیا۔ پھر دیکھتا ہوں کہ سب لوگ ایک جگہ اکٹھے ہورہے ہیں۔ چند آدمی کرسیوں پر بیٹھ کر خلافت کا چناؤ کر رہے ہیں ۔ جب وہ کرسیوں والے آدمی اُٹھے ۔ تو وہ کچھ عربی زبان میں کہہ رہے ہیں ۔ مگر میں نے اونچی اونچی زبان سے کہنا شروع کردیا کہ "مرز اناصر احمد زندہ باد"
    …٭…٭…٭…
    ۳۲۔ مکرم عبد اللہ خان صاحب سابق امیر جماعت احمدیہ رنگون
    باب الابواب ربوہ
    کل2اور4بجے کے درمیان (10؍اگست57 ء )بروز سینچر وار، جب میں چارپائی پر لیٹا ہوا آرام کر رہا تھا۔ تو دیکھا کہ
    حضرت خلیفۃ المسیح ایک جلسہ سے خطاب فرما رہے ہیں۔ اور میں دیکھتا ہوں کہ بجائے حضور کے بولنے کے صاحبزادہ ناصر احمد صاحب حضور کے پیغام کو دوستوں تک پہنچا رہے ہیں اور ناصر احمد صاحب کی شکل اور سفید پگڑی حضور کے بالکل مشابہ ہے ۔ اور بعد میں میرے دل میں ڈالا گیا کہ ناصر احمد صاحب بھائی ناصر احمد صاحب فنانشل سیکرٹری جماعت احمدیہ رنگون نہیں ہے بلکہ حضرت صاحبزادہ مرز ا ناصر احمد صاحب خلف الرشید حضرت خلیفۃ المسیح ہیں ۔
    آج 31/143کمرہ رنگون میں ہفتہ واری جلسہ سے پہلے یہ حروف یادداشت کے طور پر لکھے ہیں۔
    …٭…٭…٭…
    ۳۳۔ مکرم حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل امیر جماعت احمدیہ قادیان
    مولوی عبد الکریم صاحب شرمامبلغ مشرقی افریقہ کوارٹر تحریک جدید نمبر21ربوہ تحریر فرماتے ہیں کہ1957ء میں جب وہ قادیان گئے تو حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب امیر جماعت احمدیہ قادیان نے یہ خواب انہیں سنائی ۔
    "انہوں نے دیکھا کہ حقیقۃ الوحی کتاب ان کے پاس ہے۔ جس میں بعض تصاویر لگی ہوئی ہیں ۔ پہلی تصویر حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی ہے ۔ دوسری حضرت خلیفۃ المسیح اول کی ہے اور تیسری حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی ہے ۔پھر انہو ں نے چند ورق اُلٹے تو دیکھا کہ چوتھی تصویر بھی ہے جو حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی ہے جسے دیکھ کر انہیں تعجب ہوا۔"
    شرما صاحب لکھتے ہیں کہ انہوںنے ایک ہفتہ بعد حضرت مولوی صاحب کی یہ خواب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خدمت میں لکھ کر بھجوا دی تھی۔
    …٭…٭…٭…
    ۳۴۔ مکرم میاں عطا ء اللہ صاحب ایڈوکیٹ سابق امیر جماعت احمدیہ راولپنڈی
    ٹورنٹو ۔ کینیڈا
    میں حلفاً بیان کرتا ہوں کہ غالباً سال1959ء یا1960ء میں میں نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ
    سیدنا فضل عمر المصلح الموعود خلیفۃ المسیح الثانی کا وصال ہوگیا ہے ۔ اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثالث بالکل اسی وجود اور لباس میں کھڑے ہیں ۔جس میں میں نے حضور کو 1913ء میں ڈپٹی محبوب عالم صاحب (مسلم ہائی سکول کے بانی) کی تحریک پر گوجرانوالہ میں تقریر کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
    مجھے اب خواب کی پوری تفصیل یاد نہیں رہی۔ لیکن یہ نہایت واضح طور پر یاد ہے کہ حضرت فضل عمر کا وجو دمبارک حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثالث کے وجو دمیں ظاہر ہوا ہے اور ایسی حالت میں ہے کہ جیسے حضور جوانی کی حالت میں تھے۔
    …٭…٭…٭…
    ۳۵۔ مکرم شیخ فضل حق صاحب ۔ سبی بلوچستان
    میں اللہ تعالیٰ کوگواہ کر کے کہتا ہوں کہ یہ رؤیا میں نے دیکھا اور میری ڈائری میں درج ہے ۔
    28"؍جون 1959ء کو دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی فوت ہوگئے ہیں اور حضور کا پوتا خلیفہ منتخب ہوا ہے۔ ہزاروںکی تعداد میں احمدی جمع ہیں غالباً جمعہ کی نماز میں ۔ میںنے کسی سے پوچھا کہ حضور فوت ہوگئے ہیں۔ مگر احمدی رؤئے تو نہیں ہیں۔ اُس نے کہا کہ اتنے احمدی اگر رونے لگیں تو آسمان تک شور پڑ جائے گا۔
    یہ رؤیا میںنے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مرحوم کو لکھ کر بھیجی تھی۔
    …٭…٭…٭…
    ۳۶۔ مکرم جی ایم نذیراحمد صاحب آف بنگلور
    صدر کراچی نمبر3
    میں اللہ تعالیٰ کو حاضر وناظر جان کر اور اسی پاک ذات کی قسم کھا کر مندرجہ ذیل خواب تحریر کررہاہوں ۔جو آج سے قریباً چار سال پہلے کی ہے ۔
    ــ"دیکھتا ہوں کہ میرے سامنے ایک سفید گتہ جو مندرجہ ذیل شکل کا تھا پیش کیا گیا ۔جس پر یہ تحریر درج تھی۔ جس کے الفاظ مجھے اب تک اچھی طرح یا دہیں۔
    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی
    اور مرزا ناصر احمد صاحب
    ان کا مقام بہت بلند ہے ۔
    …٭…٭…٭…
    ۳۷۔ مکرم فضل الرحمن صاحب نعیم بی ۔ اے
    اتالیق منزل ۔دارالصدر غربی ربوہ
    میں خد اتعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتاہوں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ
    ایک ہال ہے جس کے اندر جانے کی اجازت نہیں ۔ اس میں کچھ لوگ بیٹھے ہیں ۔ میں باہر کھڑا ہوں ۔ اور بہت پریشان ہوں میں خواب میں ہال کا اندرونی نظارہ بھی دیکھ رہا ہوں ۔ میںنے دیکھا کہ حضرت صاحبزادہ مرز ابشیر احمد صاحب حضرت مرز اناصر احمد صاحب کو دائیں ہاتھ سے پکڑ کر آگے لارہے ہیں۔ اور انہوں نے اپنا ووٹ حضرت مرز اناصر احمد صاحب کو دیا ہے ۔ میں خواب میں کہتا ہوں کہ میرا خیال تھا کہ لوگ حضرت مرز ا بشیر احمد صاحب کو ووٹ دیں گے۔ لیکن انہوں نے اپنا ووٹ بھی حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کو دے دیا ہے ۔ یہ انہوں نے کیا کیا ۔ حضرت مرز اناصر احمد صاحب کچھ سخت ہیں۔ لیکن معاً میں نے دیکھا کہ میں نے اپنا ہاتھ حضرت میاں ناصر احمد صاحب کے ہاتھ میں دے دیا۔
    اس خواب کا ذکر میںنے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ بعض خواب اپنے وقت پر ظاہر ہوتے ہیں اور ان کا ذکر مناسب نہیں ہوتا۔

    …٭…٭…٭…
    ۳۸۔ مکرم قمر الدین صاحب ابن حضرت چوہدری بدر الدین صاحب
    دارالرحمت وسطی ربوہ
    میں خد اتعالیٰ کی قسم کھا کر حلفاً بیان کرتاہوں کہ میں نے حضرت مرز ابشیر احمد صاحب کی وفات سے قریبادو سال قبل مندرجہ ذیل خواب دیکھا تھا۔
    خواب میں معلوم ہوا ہے سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی وفات ہوگئی ہے اور حضور کے بعد خلیفہ کا انتخاب ہورہا ہے۔ جس کے لئے تمام ممبران مجلس انتخاب خلافت کو ایک بڑے ہال میں داخل کردیا گیا ہے ۔ اور اس میں نہ کسی دوسرے کو جانے کی اجازت ہے اور نہ ہی اس کے اندر سے کوئی باہر آسکتا ہے ۔گویا انتخاب کنندگان کو بیرونی دنیا سے اس وقت تک منقطع کر دیا ہے جب تک کہ وہ آئندہ خلیفۃ کا انتخاب نہ کر لیں۔ میں اسی ہال کی طرف جارہاہوں تو راستہ میں مجھے دو شخص پھرتے ہوئے نظر آئے ہیں ۔ یہ دونوں اکیلے اکیلے پھرتے تھے ۔ ان سے آگے گذر کر ہال کے گیٹ پر ماسٹر فضل داد صاحب کھڑے ہیں۔ میں وہاں پہنچا ہوں تو انہوں نے کہا کہ آپ اندر چلے جائیں ان کے اجازت دینے پر میں ہال کے اندر داخل ہوکر دیکھتا ہوں کہ تمام نمائندگان کرسیوں پر تشریف فرماہیں۔ اور ان کے ہاتھ میں ایک ایک سبز جھنڈی پکڑی ہوئی ہے۔ وہ سبز جھنڈی چھوٹے سر کنڈے پر لگی ہوئی ہے ۔ اور ان سب کے سامنے ایک بہت بڑا سٹیج بناہوا ہے ۔ اور اس پر ایک مربع شکل کی کافی بڑی میز بچھی ہے۔ اس کے ساتھ ایک کرسی لگی ہوئی ہے ۔ جس پر سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی تشریف فرماہیں۔ حضور کے سر پر سفید پگڑی ہے اور نہایت پُروقار اور پُرنور چہرہ ہے ۔ جیسا کہ حضور بالکل جوان ہوئے ہیں۔ میں یہ منظر حیران ہوتے ہوئے دیکھ کر اپنے دل میں خیال کرتاہوں کہ یہ عجیب بات ہے کہ حضور کی وفات ہوچکی ہے اور حضور خود ہی نئے خلیفہ کاانتخاب کروارہے ہیں۔ اس کے بعد حضور کے سامنے خلافت کے لئے دو نام پیش ہوئے ۔ پہلا نام حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا اور دوسرانام صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کا تھا۔ حضرت صاحب نے نمائندگان کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا جو دوست حضرت مرز ابشیر احمد صاحب کو چاہتے ہیں کہ وہ خلیفہ ہوں وہ ہاتھ کھڑے کریں۔ اس پر تمام نمائندگان نے یکدم اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی سبز جھنڈیاں ہلائیں ۔ اس کے بعد حضور نے فرمایا جو دوست مرز اناصر احمد صاحب کوچاہتے ہیں وہ ہاتھ کھڑے کر دیں ۔ اس پر پھر تمام لوگوں نے اسی طرح یکدم سبز جھنڈیاں بلند کر کے ہلائیں۔ یہ دیکھ کر میں حیرت سے کہتا ہوں کہ اس طرح فیصلہ تو کوئی نہ ہوا۔ کیونکہ سب ہی نمائندے دونوں کے حق میں ہیں۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔
    …٭…٭…٭…
    ۳۹۔ مکرم عبد الرحمان صاحب بھٹہ معلم وقف جدید
    چک3/53بچیکی ضلع شیخوپورہ
    خواب میں دیکھا کہ
    ایک بستی ہے اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی نعش مبارک معززانہ طور پر چارپائی پر پڑی ہے ۔ اس وقت حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب تشریف لاکر حضور کا جنازہ پڑھا رہے ہیں ۔ میں بھی نمازجنازہ میں شامل ہوں ۔ جنازہ کے معاً بعد سرعت سے یہ خبر پھیلتی ہے کہ حضرت صاحب کے وصال کے بعد حضرت مرز اناصرا حمد صاحب خلیفہ مقرر ہوگئے ہیں ۔
    …٭…٭…٭…
    ۴۰۔ مکرم خواجہ محمد شریف صاحب ڈھینگرہ ہاؤس
    شمس آباد گوجرانوالہ
    یہ اُن دنوں کی خواب ہے جب حضرت مرزا شریف احمد صاحب ابھی زندہ تھے اور حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے الہامات وکشوف کی بناء پر میرا خیال تھا کہ خلیفہ ثالث شائد وہی ہوں گے۔
    میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ربوہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی ملاقات کے لئے گیاہوں۔ جب کمرہ ملاقات میں داخل ہوا تو دیکھا کہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب گاؤتکیہ لگائے بیٹھے ہیں۔
    ۴۱۔ حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری
    رفیق حضرت مسیح موعودعلیہ السلام
    مندرجہ ذیل رؤیامیں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث اور قمر الانبیاء مرز ابشیرا حمد صاحب کو بھی سنائی تھی ۔
    دیکھا کہ کثرت سے احباب جماعت میدان میں جمع تھے اور وہاں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام تشریف فرما تھے ۔ آپ مجمع میں سے مجھے اپنے ساتھ علیحدہ لے گئے اور قریشی عبد الغنی صاحب (گلاس فیکٹری والے) کو بھی ساتھ لیا۔ الگ لے جاکر دریافت فرمایا کہ "مرزا ناصر احمد صاحب کیسا کام کرتے ہیں ؟"ہم نے جواب دیا "بہت اچھاکام "پھر دوبارہ سہ بارہ یہی سوال فرمایا۔ ہم نے یہی جواب دیا ۔ پھر حضور نے فرمایاکہ"ان کانام ناصر احمد اس وجہ سے رکھا گیا تھا کہ یہ میرے جمال کا زمانہ تھا۔ لیکن اب میرے جلال کازمانہ شروع ہونے والا ہے ۔ آپ لوگ بتائیں کہ ان کا کیانام رکھا جائے؟حضور نے تین دفعہ سوال کیا ۔ لیکن میں نے کوئی جواب نہ دیا تیسری دفعہ سوال کرنے پر قریشی صاحب نے جواب دیا کہ"محمد اقبال رکھا جائے۔"حضور چشم پُر آب ہوکر سجدہ میں تشریف لے گئے ۔
    …٭…٭…٭…
    ۴۲۔ مکرم ناصر احمد صاحب پرویز نیشنل بنک کھیوڑہ
    ایک دفعہ خاکسار کی طبیعت بہت غمناک ہوئی کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی جوانی کی تقریریں نہیں سن سکا۔ رات کو خواب میں دیکھا کہ
    جیسے پہاڑوں کی کھوہ ہے۔ جہاں بہت بڑا جلسہ ہوا رہاہے اور جماعت کے بڑے بڑے علمائ،تقریریں کر رہے ہیں ۔اچانک آواز آئی کہ"اب امیر المومنین تقریر فرمائیں گے"میں شدت جذبات سے انتظار میں تھا کہ حضرت صاحبزادہ مرز اناصر احمد صاحب آکر کرسی پر بیٹھ گئے اور بڑی گرمجوشی سے ایک لمبی تقریر کی ۔
    …٭…٭…٭…
    ۴۳۔ مکرمہ سنجیدہ بیگم صاحبہ لیڈی ہیلتھ وزیٹر ڈیرہ اسماعیل خان
    خاکسارہ نے خواب دیکھا کہ
    حضرت سیدنا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی بروز جمعۃ المبارک وفات پاگئے ہیں۔ ساری دنیا غمزدہ دکھائی دے رہی ہے ۔ میںنے دل میں کہا ۔ دن تو بڑ امبارک ہے کہ ہمارے حضور اس دن فوت ہوگئے اور ان کی جگہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کو خلیفہ ثالث منتخب کیا گیا ہے ۔ حالانکہ مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب حضور کے لڑکے ہیں ۔
    …٭…٭…٭…

    ۴۴۔ مکرم ڈاکٹر محمد زبیر صاحب ایم بی بی ایس لارنس روڈ ۔کراچی نمبر3
    آپ نے حضرت حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کو لکھا ۔
    مجھ کو تقریباً آج سے دو سال قبل یہ نظارہ دکھایا گیا تھا کہ لوگ جمع ہیں اور خلافت کے لئے آپ کانام تجویز ہوا ہے۔ میں نے صدق دل سے خلافت پر ایمان رکھتے ہوئے تار میں لکھ دیا کہ "Offer Baiat Whoever elected"
    میں چاہتا تھا۔ لیکن اس وقت تک چونکہ انتخاب نہ ہوا تھا لکھنا مناسب نہ تھا کہ آپ کی بیعت کرتا ہوں ۔
    …٭…٭…٭…
    ۴۵۔ مکرم صوبیدار عبد المنان صاحب دہلوی افسر حفاظت خاص
    میں خد اتعالیٰ کو حاضر وناظر جان کر جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کاکام ہے ۔ خد اتعالیٰ کی قسم کھا کرتحریر کرتا ہوں ۔
    عرصہ دو سال قبل دیکھا کہ میں مسجد مبارک ربوہ میں شمالی دروازے سے داخل ہوا ہوں کیا دیکھتا ہوں کہ اندر بالکل نئی دریاں بچھی ہیں ۔ مسجد میں صرف حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب خلعت خلافت پہنے شمالی طرف تشریف فرماہیں۔ آپ کی پشت شمال کی طرف ہے ۔ سفید عمامہ اور سیاہ رنگ کی خلعت جس پر سفید ریشم سے کام کیا ہوا ہے جس سے کہ سیاہی پر سفید ی کھل رہی ہے ۔ عاجز آپ کے پاس آکر دونوں گھنٹے زمین پر ٹکا کر جھک گیا ہے ۔ حضرت میاں صاحب نے مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھا یا ہے ۔ عاجز نے بھی آگے جھک کر مصافحہ کیااور ہاتھ چوم لئے اور دل میں کہا کہ خلافت کے اصل حقدار تو یہی تھے۔ پھر آنکھ کھل گئی۔
    ‏ii۔ 02؍اگست 1963ء بروز جمعہ قبل نماز فجر خواب میں دیکھا ۔ عاجز حضور (خلیفہ ثانی)کی حفاظتی ڈیوٹی پر ہے ۔ اندرون خانہ میں تمام خاندان موجو دہے ۔ قضائے الٰہی سے حضور وفات پاچکے ہیں ۔ تب یہ حادثہ جانکاہ سن کر برداشت نہ ہوسکا اور عاجز یہ کہہ رہا ہے کہ اب حضرت میاں ناصر احمد صاحب خلیفہ ہوں گے ۔
    ‏iii۔ والد صاحب (ڈاکٹر عبد الرحیم دہلوی رفیق وفات10؍اگست1965ء ) نے اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل صبح قریباً دس بجے مجھ سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ آئندہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ بنیں گے۔ میںنے عرض کیا کہ آپ نے مجھے تو یہ خواب سنا دیا ہے اور کسی کو نہ سنائیں ورنہ ایسی باتوں سے جماعت میں فتنہ کا اندیشہ ہے ۔
    فرمانے لگے کہ زندگی کا کچھ اعتبار نہیں میں ایک خواب کی بناء پرتمہیں یہ بات بتاتا ہوں تاکہ تم خیال رکھو۔ میری اس بات کو یاد رکھنا۔
    …٭…٭…٭…
    ۴۶۔ مکرم فقیر محمد صاحب ولد علی محمد چک نمبر161مراد
    تحصیل حاصل پور ضلع بہاولپور
    اس عاجز کو ایک خواب آیا کہ
    میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی زیارت کے لئے ربوہ گیا۔ جب میں زیارت کے لئے گیا تو اور بھی دوست تھے ۔ ہم سب حضور کی زیارت کے وقت رورہے تھے۔ اتنے میں (حضرت مرزا ناصر احمد) بھی تشریف لے آئے اور آپ نے تقریر فرمائی ۔ جس میں آپ نے فرمایا کہ یہ نعمت خداوندی ہمارے پاس صرف دو سال ہے اس کی قدر کرو۔ یہ سن کر ہم اور زیادہ رونے لگے اور جب میں سیڑھیوں سے اترا تو میں اپنے گاؤں ہندوستان میں کھڑا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس سے مجھے پورا یقین ہوگیا تھا کہ حضور کے بعد آپ امام ہوں گے۔
    …٭…٭…٭…
    ۴۷۔ مکرمہ امتہ المنان فرحت صاحبہ اہلیہ چوہدری لطیف احمد صاحب
    پاکستان ائیر فورس سرگودھا
    میں اللہ تعالیٰ کو حاضر وناظر جان کر لکھتی ہوں کہ جو کچھ میں لکھ رہی ہوں حقیقت پر مبنی ہے ۔
    1963ء کے شروع میں میںنے دو دفعہ خواب میں دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی وفات پاگئے ہیں اور لوگ زیارت کے لئے آرہے ہیں۔ میں نعش مبارک کے قریب کھڑی زور زور سے رورہی ہوں اور کہہ رہی ہوں کہ
    "ہماری جماعت یتیم ہوگئی ہے اب ہمارا کیا بنے گا؟"
    پھر تقریباً ایک دو ماہ بعد میں نے دیکھا کہ حضور فوت ہوگئے ہیں اور میاں ناصر احمد صاحب خلیفہ مقرر ہوئے ہیں۔ ایک بہت ہی وسیع میدان گول شکل کاہے ۔ اس کے گرد چاروں طرف بڑے بڑے درخت لگے ہوئے ہیں۔ اس میدان کے دائیں طرف میاں صاحب کھڑے بیعت لے رہے ہیں ۔ ساری جماعت نے بیعت کر لی ہے اور حضور کے ساتھ سب کھڑے ہیں ۔ اسی اثناء میں میں دیکھتی ہوں کہ ایک بہت لمبا سا آدمی لوگوں کو ورغلا رہا ہے۔ لیکن سوائے ایک یادو کے کسی نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔ پھر وہ میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ"میری بیعت کرو"لیکن میں نہیں مانتی ۔پھر وہ مجھے مجبور کرتا ہے تو میں اس کے پاس سے بھاگ جاتی ہوں اور دل میں پکا ارادہ کرتی ہوں کہ یہ میرا کیا بگاڑ سکتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ قتل ہی کرے گا۔ میں قتل ہوجاؤں گی۔لیکن میاں ناصر احمد صاحب کا ساتھ نہیں چھوڑوں گی۔
    …٭…٭…٭…
    ۴۸۔ مکرم چوہدری غلام احمد صاحب ابن چوہدری عبد الحمید درویش
    دارالرحمت وسطی ۔ ربوہ
    خاکسار نے ایک خواب دیکھا تھا جسے میں حلفاً لکھتا ہوں ۔
    میں نے دیکھا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصراحمد صاحب ایک مکان میں چارپائی پر لیٹے ہوئے آرام فرمارہے ہیں اور میں اسی چارپائی پر پائنتی کی طرف بیٹھا پاؤں دبا رہا ہوں ۔ اسی اثناء میں جب میں حضور کا بایاں پاؤں دبارہاہوں۔ کوئی شخص کمرے میں داخل ہواجیسے اسے میرے اس طرح آپ کے پاؤں دبانے اور میرے اس فعل پر کوئی حیرانی سی ہے ۔ میںنے اسی وقت بلند آواز سے اس شخص کے استعجاب اور حیرانی کودور کرنے کی غرض سے کہا
    "میں مرز اناصر احمد کے پاؤں نہیں خلیفۃ المسیح کے پاؤں دبا رہا ہوں ۔"
    اس کے معاً بعد میری آنکھ کھل گئی اور دیر تک طبیعت پر خواب کا اثر رہا۔ــ
    ۴۹۔ مکرم چوہدری عبد الحلیم خان صاحب کاٹھگرھی
    انسپکٹر وقف جدید ۔ ربوہ
    میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی فرمارہے ہیں۔
    "میںنے اپنے بھائی بشیر احمد کو کہہ دیا ہے کہ تمہارے جانے کے بعد ایک سال کے اندر اندر میں بھی تمہارے پاس آجاؤں گا۔"
    اور نیز حضور فرماتے ہیں۔
    "تم محمود کو چھوڑ کر ناصر کی طرف توجہ کرو۔"
    بالکل یہی الفاظ تھے ۔ شاذ ہی کوئی لفظ ادھر ادھر ہو۔
    …٭…٭…٭…
    ۵۰۔ مکرمہ زینب بی بی بیگم صاحبہ چوہدری شکراللہ خان صاحب مرحوم آف ڈسکہ
    حال کراچی
    میں حلفیہ بیان کرتی ہوں کہ مندرجہ ذیل خواب میں نے1964ء میں دیکھی تھی کہ
    میں اپنے داماد چوہدری مسعود احمد کراچی کی کوٹھی کے لان میں بیٹھی ہوں۔ میں نے کسی کے پاؤں کی آہٹ پاکر پیچھے مڑ کر دیکھا کہ حضرت میاں ناصر احمد صاحب کھڑے ہیں۔ میں نے فوراً کہا
    "بسم اللہ ! یہ تو میاں ناصر احمد ہیں۔"
    اور خود بخود میری زبان پر یہ لفظ جاری ہوئے ۔
    "یہ تو جرنیل ہیں ۔"
    اور وردی بھی جرنیلوں والی پہنی ہوئی ہے او ر خود ہی یہ فقرہ بھی کہا کہ
    "ہاں جرنیل تو ہیں ہی کہ آج کل کمان ان کے ہاتھ میں ہے۔"
    پھر میری آنکھ کھل گئی۔
    …٭…٭…٭…
    ۵۱۔ مکرم بشیرا حمد صاحب سیال 32/31دارالنصر ۔ ربوہ
    میں خد اتعالیٰ کی قسم کھا کر تحریر کرتا ہوں کہ گذشتہ ایک سال65ء کے دوران مختلف وقتوں میں میںنے مندرجہ ذیل خواب دیکھے۔
    ‏i۔ ایک دفعہ خواب میں دیکھتا ہوں کہ مجھے بذریعہ آواز کوئی حضرت فضل عمر علیہ التحیہ والسلام کے وصال کی خبر دے رہا ہے مگر خبردینے والا مجھے نظر نہیں آیا۔
    ‏ii۔ ایک دفعہ خواب میں مجھے کوئی خبر دے رہا ہے کہ
    "میاں ناصر احمد کو خلیفہ منتخب کر لیا گیا ۔ــ"
    اس خواب میں بھی آواز سنائی دی مگر آواز والا سامنے نظر نہیں آیا۔
    ‏iii۔ ایک دفعہ خواب میں دیکھا کوئی آواز آرہی ہے ۔
    "ناصر کا انتخاب منظور ہوگیا۔"
    اس خواب میںبھی آواز سن رہا ہوں مگر کوئی شخص نظر نہیں آیا۔
    ۵۲۔ مکرم عبد الباری صاحب احمدی معرفت ستار جنرل سٹور
    صدر بازار کمالیہ ضلع لائل پور(فیصل آباد)
    میں حلفیہ بیان کرتاہوں کہ یکم تا10؍جنوری1965ء کی رات ساڑھے تین بجے میں نے خواب میں دیکھا کہ
    میں کمالیہ میں ایک گلی میں کھڑا ہوں اور میرے پاس الفضل کاپرچہ ہے ۔جس میں لکھا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی وفات پاگئے ہیں ۔ میں بہت پریشان ہوتا ہوں۔ پھر میں مسجد احمدیہ منٹگمری میں اپنے آپ کو پاتا ہوں اور احباب کو حضور کی وفات کے متعلق بتا رہاہوں ۔ اس کے بعد دیکھتا ہوں کہ احباب جماعت احمدیہ منٹگمری ربوہ گول بازار اور پھاٹک کے درمیان کھڑے ہیں اور بہت آوازیں آرہی ہیں کہ اب کے کیا ہوگا؟ کہ اچانک ایک سفید کاغذ لوگوں میں سے نکل کر لوگوں کے سروں پر جاکر رک جاتا ہے ۔لوگ اسے دیکھتے ہیں مگر وہ سفید ہی ہوتا ہے تھوڑی دیر بعد اس پر آہستہ آہستہ "مرزا ناصر احمد"لکھا جاتا ہے اور لوگ مطمئن ہوجاتے ہیں۔
    ‏ii۔ آج سے تین چارماہ قبل خواب میں دیکھا کہ میں اپنے سونے والے کمرہ میں ہوں ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایک چارپائی پر لیٹے ہیں اور میں پائنتی کی طرف کھڑاہوں ۔ حضور نے آنکھیں کھولیں اور فرمایا
    عبدالباری میں ایک بات کہوں تو مانو گے؟میں نے عرض کی۔ حضور!میری جان آپ پر قربان کیوں نہیں آپ جو فرمائیں گے مانوں گا۔حضور نے فرمایا !
    "میرا خیال ہے کہ میرے بعد جماعت میں تفرقہ نہ ہواس لئے میں چاہتا ہوں کہ کوئی وصیت کر جاؤں ۔ میں نے کہا ! ہاں یاحضرت کیوں نہیں۔ آپ فرمانے لگے !
    "میرے بعد مرزا ناصر احمد کو خلیفہ بنا لینا اور یہ درست رہے گا۔"
    ۵۳۔ مکرم محمد اسماعیل صاحب ڈرائیور ربوہ
    خاکسار کو صاحبزادی امتہ الشکور کی شادی کے ایام میں ایک خواب آئی تھی کہ
    پیارے آقا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کا وصال ہوگیا ہے اور جماعت احمدیہ نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو خلیفۃ المسیح تسلیم کر لیا ہے لیکن آپ نے فرمایا کہ "چونکہ میں کمزور اور بیمار ہوں"لہذا آپ خلیفۃ المسیح الثالث صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو مقرر کریں۔
    …٭…٭…٭…
    ۵۴۔ مکرم خورشید احمد صاحب نائب امیرجماعت احمدیہ گوجرانوالہ
    میری نواسی پیاری بشریٰ عمر سوا تیرہ سال نے24،25مارچ65ء کی درمیانی رات ایک رؤیا دیکھا تھا۔ جو حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری کو بھی سنایاگیا تھا۔ خواب میں دیکھا۔
    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی صحت یاب کرسی پر بیٹھے ہیں اور دائیں بائیں رفقاء کرام حضرت مسیح موعودعلیہ السلام بیٹھے ہیں۔ حضرت مرزا ناصر احمد کو اپنی گود میں بٹھا لیا اور فرمایا ۔ یاکوئی آواز آئی کہ میرے بعد جماعت احمدیہ کا خلیفہ میاں ناصر احمد ہوگا۔
    …٭…٭…٭…
    ۵۵۔ مکرم محمد طفیل صاحب صدر جماعت احمدیہ
    کھرڑیانوالہ تحصیل جڑانوالہ ضلع لائل پور(فیصل آباد)
    1965ء میںمَیں نے مندرجہ ذیل دو رؤیا دیکھے ۔
    ‏i۔ میں حلفیہ بیان کرتاہوں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت صاحبزادہ میاں ناصر احمد صاحب کو ایک مجمع نے خلیفۃ المسیح منتخب کیا ہے ۔ میں کہتا ہوں کہ
    "ان میں بات کوئی ایسی نہیں ۔ بہر حال جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا ہوگیا۔"
    ‏ii۔ میں حلفیہ بیان کرتاہوں کہ
    "میںنے خواب میں دیکھا کہ میں حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی کوئی کتاب مطالعہ کر رہاہوں۔ اس وقت مجھے خیال آیا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی صحت خراب ہوتی جارہی ہے ۔نہ معلوم آپ کے بعد خلیفہ کون ہوگا کہ کتاب کے سب الفاظ اڑنے شروع ہوگئے اور سب ورق بالکل سفید رہ گئے صرف ایک صفحے پر موٹے یعنی جلی حروف میں "فرزند اکبر" رہ گیا۔ "
    …٭…٭…٭…
    ۵۶۔ مکرم چوہدری خالد سیف اللہ خان صاحب ایگزیکٹو انجینئر (الیکٹرک سٹی)
    تھرمل پلانٹ عبد اللہ پورلائل پور (فیصل آباد)

    میں نے خواب میں دیکھا جسے حلفیہ درج کرتا ہوں ۔
    میں نے دیکھا کہ حضرت اقدس خلیفۃ المسیح الثانی وفات پاگئے ہیں ۔ میں رورہاہوں ساتھ ہی بعد میں دیکھا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمدصاحب خلیفۃ المسیح منتخب ہوئے ہیں اور میں نے آپ سے ملاقات بھی کی ۔
    …٭…٭…٭…
    ۵۷۔ مکرمہ چراغ بی بی صاحبہ بیوہ محمد شریف صاحب دکاندار (مرحوم)
    محلہ دارالبرکات ربوہ

    میں خد اتعالیٰ کی قسم کھا کر حلفیہ بیان کرتی ہوں کہ
    چندہ ماہ پہلے میں نے خواب میں دیکھا کہ حضور پر نور المصلح الموعودکا وصال ہوگیا ہے اور جماعت میں شور ہے کہ مرز اناصراحمد صاحب کو خلیفہ مقرر کر لیا گیا ہے ۔
    …٭…٭…٭…
    ۵۸۔ مکرم عبد المالک صاحب گنج مغل پورہ لاہور
    21؍جولائی1965ء کا واقعہ ہے تقریباً صبح کے تین بجے ہوں گے۔ میںنے دیکھا کہ
    میں ربوہ گیاہوں، جب قصر خلافت میں گیا۔ جہاں خلیفۃ المسیح الثانی رہتے تھے۔ تو کیا دیکھا کہ حضور کی چار پائی شمالاً جنوباً ہے اور حضور کا چہرہ مبارک خلیفۃ المسیح الثالث ( حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ) کا ہے اور آپ بڑے جوان دکھائی دے رہے ہیں۔
    …٭…٭…٭…
    ۵۹۔ مکرم سید محمد حسین صاحب پسر سید حسن شاہ
    چوک بازار جھنگ صدر
    میں قسم کھا کر حلفیہ بیان کرتاہوں کہ اندازاًتین ساڑھے تین ماہ قبل میں نے خواب میں دیکھا ۔
    ایک بہت بڑا وسیع میدان ہے ۔ اس میدان میں ساری جماعت احمدیہ پریڈ کر رہی ہے اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ساری جماعت کو پریڈ کروارہے ہیں ۔ حضرت میاں صاحب نے وردی پہنی ہوئی ہے اور آپ ساری جماعت کو کمان کر رہے ہیں۔
    …٭…٭…٭…
    ۶۰۔ مکرم محمد شریف صاحب بی ایس سی ابن چوہدری محمد ابراہیم صاحب
    چک300/JBگوجرہ ضلع لائل پور (فیصل آباد)
    خاکسار خد اتعالیٰ کوحاضر وناظر جان کر اپنی دوماہ قبل کی خواب درج کرتا ہے ۔
    ایک بہت بڑی مسجد ہے مسجد کو نہایت اعلیٰ طریقے سے سجایا گیا ہے بہت سے لوگ وہاں بیٹھے ہیں جن میں خاکسار بھی شامل ہے ۔اتنے میں کوئی شخص اعلان کرتاہے کہ خلیفۃ المسیح انتظامات دیکھنے تشریف لارہے ہیں جب خاکسار نے اوپر نگاہ اٹھائی تو حضرت صاحبزادہ مرزا ناصراحمد صاحب ہیں جو بہت لوگوں کے ہمراہ تشریف لائے ہیں۔
    …٭…٭…٭…
    ۶۱۔ مکرمہ امتہ الوحید صاحبہ سیٹھی بنت سیٹھی خلیل الرحمان صاحب جہلم
    آج سے ڈیڑھ ماہ قبل خواب میں دیکھاکہ
    اس قدر فوج مغرب سے مشرق کی طرف جارہی ہے کہ ختم ہونے میں نہیں آتی اور ان کی کمانڈ ناصر نامی کوئی شخص کر رہے ہیں۔ جو احمدی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔جب مجھے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ احمدی ہیں تو میں بے حد خوش ہوتی ہوں اور میں محسوس کرتی ہوں کہ میں بھی اس فوج میں شامل ہوں ۔ لیکن ایک ہی جگہ کھڑی لوگوں کو خوشی سے بتاتی ہوں کہ ہمارے احمدی بھائی ناصر احمد اتنی بڑی فوج کے کمانڈر ہیں ۔
    (مرسلہ امتہ الوکیل سیٹھی G/711مشین محلہ جہلم)
    …٭…٭…٭…

    ۶۲۔ مکرم عبد العزیز صاحب قریشی میڈیکل پریکٹشز۔ربوہ
    بندہ نے9،8؍اکتوبر کی شب خواب میں دیکھا کہ
    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے اپنے بڑے بیٹے کو بازوؤں سے پکڑ کر ایک اونچی جگہ پر کھڑا کیا اور ان کے گلے میں گلاب کے پھولوں کا ہار ڈال دیا۔
    …٭…٭…٭…
    ۶۳۔ مکرم محمد شریف صاحب ایم اے ٹیچر
    گورنمنٹ ہائی سکول واں رادھا رام
    حلفیہ بیان کرتاہوں کہ
    ماہ اکتوبر1965ء کے آخری عشرہ میں جبکہ ابھی مجھے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خون میں انفیکشن والی بیماری کی اطلاع نہیں ملی تھی۔ میں نے خواب میں ایک اشتہار دیکھا ۔جس پر لکھا تھا۔
    "مرز اناصر احمد خلیفہ سوم "
    اللہ تعالیٰ گواہ ہے کہ میںنے یہ خواب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی وفات سے دو ہفتہ قبل دیکھا تھا۔
    …٭…٭…٭…
    ۶۴۔ مکرمہ زوجہ محمد اسلام صاحب بھٹی سول جج
    ہری پور ۔ ہزارہ
    چند روز ہوئے میں نے خواب میں دیکھا کہ
    ایک بہت بڑا شیر ہے اور ہمارے ایک جان پہچان والے بزرگ جو کہ بہت نیک اور صاحب کشف بھی ہیں۔ مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ حضور کی رحلت سے پہلے بھی میں نے یہ شیر خواب میں دیکھا تھا اور کہہ رہے ہیں کہ
    "اس شیر کانام میاں ناصر احمد ہے یہ احمدیت کا شیر ہے ۔"
    …٭…٭…٭…
    ۶۵۔ مکرم عبد الرشید صاحب تبسم ایم اے
    ‏ 103/Cماڈل ٹاؤن ۔ لاہور
    چند دن ہوئے نماز تہجد کے فوراً بعد جبکہ میں ابھی مصلیٰ پر ہی بیٹھا تھا میں نے ایک کشف دیکھا ۔یہ کشفی حالت تین چار سیکنڈ سے زیادہ نہیں رہی ۔
    میں نے دیکھا کہ نماز مغرب کا وقت ہے۔ میں ایک کمرے کے سامنے کھڑ اہوں اور کمرے میں داخل ہونے سے پہلے اپنے لباس پر ایک نظر ڈال رہاہوں کہ کہیں کوئی سلوٹ وغیرہ تو نہیں۔ ویسے ہی جیسے کسی بڑے آدمی سے ملنے کے لئے آدمی جائے تو عام طور پر ملاقات سے پہلے احتیاطاً کرتا ہے ۔اس کے بعد میں نے دروازے کی چق اُٹھائی اور اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک بہت بڑے میز کے سامنے ایک صاحب جن کانام رؤف ہے بڑی افسرانہ شان سے کرسی پر بیٹھے ہیں (یہ رؤف صاحب ایک افسر ہیں جنہیں میں جانتاہوں میرے علم کے مطابق ان کے زندگی بہت پاکیزہ ہے اگر چہ وہ غیر از جماعت ہیں)
    میںنے دیکھا کہ میز کے دوسری طرف یعنی رؤف صاحب کے عین سامنے دو کرسیوں پر محترم صاحبزادہ مرزا ناصراحمد صاحب اور آپ (یعنی شمس صاحب) ۔۔۔۔۔۔۔صاحبزادہ صاحب کے بائیں جانب ہیں آپ تینوں ہی بے حد سنجیدہ ہیں۔ صاحبزادہ صاحب سفید شلوار ، سفید قمیض اور سفید پگڑی باندھے ہوئے ہیں، قمیض پر انہوںنے واسکٹ پہن رکھی ہے جو سفید اور سبز ہے۔ ان کا چہرہ یہ چہرہ نہیں۔ خدوخال یہی ہیں۔ لیکن وہ گوشت پوست کا ہونے کی بجائے نور سے بنا ہے اور یہ اسی چیز سے بنا ہوا ہے جس سے بہشت میں رہنے والوں کے وجود بنتے ہیں، میں اسی قسم کے وجود پہلے بھی کشفی حالت میں دیکھ چکا ہوں ۔ آپ سفید شلوار ، سفید قمیض ، سفید کوٹ اور سفید پگڑی باندھے ہوئے ہیں اور چہرہ غیر معمولی طور پر پُر جلال ہے ۔آپ کے ہاتھ میں چھڑی بھی ہے اورآپ بے حد مستعد اور چاق وچوبند ہیں۔
    …٭…٭…٭…
    ۶۶۔ مکرم حبیب اللہ صاحب ابن چوہدری عنایت اللہ صاحب
    مبلغ ٹبورا ۔مشرقی افریقہ
    چوہدری عنایت اللہ صاحب لکھتے ہیں ۔
    عاجز کے بڑے لڑکے عزیز م حبیب اللہ احمد ی نے04-11-65کو رات خواب میں دیکھا کہ
    وہ ربوہ دارالہجرت میں ہے اور یہ کہ حضرت خلیفۃ المسیح وفات پاگئے ہیں۔ تجہیز وتکفین کے انتظامات ہورہے ہیں ۔ حضور کے چہرہ مبارک کی زیارت کرائی جارہی ہے اور کسی شخص نے بتایا کہ
    "مجلس نے حضرت مرزاناصر احمد صاحب کو خلیفہ چنا ہے ۔ـ"
    …٭…٭…٭…
    ۶۷۔ مکرم محمد اسحاق صاحب ولد میاں نبی بخش مرحوم
    قاسم پورہ ریلوے روڈ۔ گجرات
    جمعرات 04؍نومبر65ء خواب میں دیکھا کہ مسجد نورقادیان میں اس کونے کے پاس جہاں بڑ کا درخت ہے ہماری جماعت کے افراد بیٹھے ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ
    ـ"حضرت صاحب کے بعدکون کام کرے گا؟ "
    ان میں سے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کھڑے ہوئے اور مجمع کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ
    "ناصر کام کرے گا۔"
    میں حلفیہ کہتاہوں کہ میں نے یہ خواب دیکھا تھا۔
    …٭…٭…٭…
    ۶۸۔ مکرم مستری عبد الحمید صاحب
    گنج مغل پورہ ۔ لاہور
    میر ا یہ حلفیہ بیان ہے ۔
    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی وفات سے دو دن قبل خواب دیکھا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصراحمد صاحب سفید پگڑی پہنے کھڑے ہیں ۔ داڑھی سفید اور چہرہ شیشے کی طرح چمکتا ہے اور بارعب ہے ۔ میںنے خواب میں ہی دیکھا کہ خلیفۃ المسیح الثانی کے بعد مرزا ناصر احمد صاحب امام ہوں گے۔
    …٭…٭…٭…
    ۶۹۔ مکرمہ مائی اروڑی صاحبہ عرف غلام فاطمہ
    چوڑیاں والی ۔ ربوہ
    مجھے حضور کی وفات سے ایک دن قبل یہ خواب آئی کہ
    ایک بہت بڑا دریا ہے جس میں حضور اقدس کے لئے ایک نہایت خوبصورت کشتی آئی ہے ۔اس کشتی میں ایک سبز رنگ کی پگڑی زری دار کلے پر ہے ۔ حضور کشتی پر سوار ہونے لگے ہیں تو ساری جماعت رورہی ہے ۔ اور حضور کوکشتی پر سوار نہیں ہونے دیتی۔ جس پر حضور نے بڑے جلال سے فرمایا۔
    "میں جارہاہوں مجھے جانے دو۔ میں قادیان جارہاہوں اور اپنی جنت میں جارہاہوں ۔ "
    اس کے بعد حضور کشتی میں سوار ہوجاتے ہیں اور پگڑی جو کشتی میں تھی۔ حضور نے اُٹھائی اور حضرت میاں رفیع احمد صاحب کو دی کہ لو یہ پگڑی میاں ناصر احمد صاحب کو جو آپ کے پیچھے کھڑے ہیں دے دینا۔ میاں رفیع احمد صاحب نے وہ پگڑی لے لی اور میاں ناصر احمد صاحب کو دے دی۔ جسے انہوں نے اپنے سر پر رکھ لیا۔
    …٭…٭…٭…
    ۷۰۔ مکرم میجر اسلم حیات خاں صاحب
    حال اوکاڑہ
    6،7نومبرکی رات حضور کی تشویشناک حالت کاعلم ہونے پر رات دعا کرتے کرتے سو گیا ۔ خواب میں دیکھا کہ
    مسجد مبارک میں صرف خلیفۃ المسیح الثالث اور حضرت صاحبزادہ مرز ارفیع احمد صاحب آپس میں قریباً دس گز کے فاصلے پر آمنے سامنے سفید پگڑیاں اوراچکنیں پہنے کھڑے ہیں اور دونوں حضرات کے درمیان بڑے بڑے کتے کے قد کے بچھو ایک دوسرے کے اوپر سر رکھے حرکت کر رہے ہیں۔ کچھ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی طرف اور کچھ حضرت صاحبزادہ مرزا رفیع احمد صاحب کی طرف حرکت کر رہے ہیں ۔ اتنے میں غربی دروازہ سے میں داخل ہوتا ہوں اور سیدھا بچھوؤں کی طرف بڑھ رہاہوں، مجھے دیکھ کر وہ سہم گئے اور آہستہ آہستہ مسجد سے باہر جانا شروع کردیا۔ اتنے میں ایک بہت بڑا ہجوم حضور خلیفۃ المسیح الثالث کی طرف بڑھااور بیعت کے لئے ہاتھ آگے کردئیے ۔
    …٭…٭…٭…
    ۷۱۔ مکرمہ والدہ حبیب الرحمان صاحب
    کارکن دفتر آبادی ۔ ربوہ
    مورخہ07؍نومبر1965ء کو بعد نماز عشاء رات دیر تک دعا کرتی رہی ۔ آنکھ لگی تو خواب میں دیکھا کہ
    حضرت مرزا بشیر احمد صاحب تشریف فرماہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اپنا خلیفہ چن لیا ہے ۔ آپ لوگ اپنا نیا خلیفہ منتخب کر لیں۔
    اس کے بعد والدہ نے پوچھا کہ "کون نیا خلیفہ ؟"
    اس پر حضرت مرز ابشیر احمد صاحب نے فرمایا کہ
    "میاں ناصر احمدجو ہیں۔"
    …٭…٭…٭…
    ۷۲۔ مکرم ملک محمد خان صاحب ،4سری رام روڈ کرشن نگر ۔ لاہور
    07؍نومبرکو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی بیماری کی خبر ریڈیو پر سنی ۔ بچوں سمیت دعا کی۔ رات کو کوئی تین بجے خواب میں دیکھا۔
    کئی ایک دوست ایک جگہ اکٹھے ہیں ، جیسے حضور کا وصال ہوگیا ہے ۔ ان لوگوں میں ایک صاحب ہیں جیسے یونین کونسل کے چیئرمین ہوتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ۔
    آپس میں فیصلہ کرلو۔ صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اس چیئر مین کی دائیں طرف ہیں ۔
    کچھ عرصہ بعد دیکھتاہوں کہ مرزا ناصر احمد صاحب کے ہاتھ میں ایک بندوق ہے ۔ان کے پاس ایک صاحب کے ہاتھ میں بندوق نظر آتی ہے ۔ اس نظارہ کے بعد آوازآئی۔
    "میاں ناصر احمد خلیفۃ المسیح ہوگئے ۔"
    …٭…٭…٭…
    ۷۳۔ مکرم سردار عبد القادر صاحب ۔چنیوٹ
    میں حلفاً اپنا خواب تحریر کررہاہوں ۔
    8،7؍ نومبر1965ء (اتوار وسوموار ) کی درمیانی رات خواب میں دیکھتا ہوں کہ ریڈیو سے خبر نشر ہوئی ہے کہ امام جماعت احمدیہ کی حالت نازک ہے اور ان کے نائب نے چارج سنبھال لیا ہے ۔ اس وقت میرے ذہن میں یہ سوال پید اہوتا ہے کہ نائب کون ؟ تواشارہ ہوا
    "حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد "
    (اس خواب کے تھوڑے وقفہ کے بعد حضور کی وفات کی اطلاع ملی )
    ۷۴۔ مکرم چوہدری سردار خان صاحب
    داتہ زید کے ۔ تحصیل پسرور سیالکوٹ
    07؍نومبر1965ء کودن کے بارہ بجے خواب آیا کہ
    ایک بہت بڑ اہجوم ہے جس میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث حضرت میاں ناصر احمد صاحب منتخب ہوئے ہیں اور بہت آدمی"لبیک لبیک "کہتے ہیں اور" ہم حاضر ہیں۔ ہم حاضر ہیں۔" کہتے ہیں ۔ میںنے بھی خواب میں کہا۔
    "لبیک ۔ ہم حاضر ہیں ۔"
    …٭…٭…٭…
    ۷۵۔ مکرم بابو قاسم الدین صاحب امیرضلع سیالکوٹ
    مورخہ08؍نومبر1965ء کو 2اور3بجے صبح کے درمیان میں نے خواب دیکھا کہ حضرت صاحبزادہ مرزاناصر احمد صاحب خلیفہ منتخب ہوئے ہیں اور ربوہ میں خوشیاں منائی جارہی ہیں۔
    (حضور کی وفات کی خبر اس کے بعد4-15صبح کے وقت ملی)
    …٭…٭…٭…
    ۷۶۔ مکرمہ امینہ خلیل صاحبہ بنت مولوی محمد ابراہیم صاحب خلیل
    دارالصدر جنوبی ۔ ربوہ
    حضور خلیفۃ المسیح الثانی کی وفات سے تھوڑی دیر قبل ایک بجے خواب میں دیکھا کہ
    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے گھر میں بڑی دھوم دھام سے کسی کی شادی ہورہی ہے ۔ سیّدہ مریم صدّیقہ اور سیّدہ مہر آپا اور خاندان مسیح موعودعلیہ السلام کی دوسری عورتیں ایک کمرے میں بیٹھی ہیں۔ میرے ہمراہ میری دو کلاس فیلو تھیں۔ ہم بڑی مشکل سے اجازت لے کر اندر گئے ہیں ۔ کمرہ میں خاموشی طاری تھی۔ میں نے سب سے مصافحہ کیا اور بیٹھ گئی۔
    آتے وقت میں نے دوبارہ سیّدہ مریم صدّیقہ سے سلام کیا تو وہ کہنے لگیں کہ
    "کل ضرور یاد سے مرز اناصر احمد صاحب کی فوٹو بنا لانا۔ "
    میں اجازت لے کر باہر آئی تو باہر بڑا ہجوم تھا۔
    یہ خواب گھر میں سنائی ہی تھی کہ حضور کی وفات کی خبر آگئی۔
    …٭…٭…٭…
    ۷۷۔ مکرم محمد اشرف صاحب ولد حاجی فضل احمد صاحب
    اسلامک ریسرچ سنیٹر 41مال روڈ۔ لاہور
    مورخہ08؍نومبر65ء کو بعد نما زعشاء جب انتخاب خلافت شروع ہوا تو میں مسجد مبارک سے باہر پلاٹ میں بیٹھا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی یاد میں رورہا تھا کہ اونگھ آگئی اور خواب میں دیکھا کہ
    ہم حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کو مبارک باد پیش کر تے ہیں اور نعرے لگاتے ہوئے مسجد مبارک کی طرف بیعت کے لئے بڑھ رہے ہیں ۔ خواب میں اتنی زور سے نعرہ لگا کر میں جاگ پڑا۔
    یہ خواب اسی وقت میںنے بابو محمد شفیع صاحب سابق ہیڈ کلرک ایڈورڈ کالج لاہور کو سنا دی تھی ۔ اس کے ڈیڑھ گھنٹہ بعد مسجد سے انتخاب کا اعلان ہوا۔
    …٭…٭…٭…
    ۷۸۔ مکرم حکیم محمد افضل صاحب فاروق
    صدرجماعت احمدیہ اوچ شریف ضلع بہاولپور
    ہم08؍نومبر65ء کو صبح حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی وفات کی خبر سن کر ربوہ کو روانہ ہوئے راستہ میں دعا کر رہاتھا کہ اللہ جماعت کو تفرقہ اور فتنہ سے محفوظ رکھے اور ساتھ ہی دعا کر رہا تھا کہ اے عالم الغیب خدا مجھے بتلا کہ خلیفۃ ثالث کون ہوگا۔ چنانچہ میاں چنوں اور چیچہ وطنی کے درمیان بس میں ہی خواب دیکھی کہ
    ایک بہت بڑا اجتماع ہے اور تمام احمدی ایک کھلے میدان میں جمع ہیں .اس اجتماع کے آگے آگے صرف اکیلے حضرت صاحبزادہ حافظ مرز اناصر احمد صاحب ہیں اور ان کے پیچھے پیچھے تمام احمدی بڑے لشکر کی صورت میں نظر آتے ہیں ۔ ـ
    یہ خواب میںنے اسی وقت بس میں احمدی دوستوں کوسنادی تھی ۔
    ۷۹۔ مکرم محمد ادریس صاحب نمبردار
    چک 99/6Rبراستہ ہڑپہ روڈ ضلع منٹگمری (ساہیوال)
    میں خد اتعالیٰ کو حاضر وناظر جان کر حلفیہ شہادت دیتا ہوں کہ مجھے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی وفات کی رات یہ خواب آئی۔
    میںنے دیکھا کہ عین دو بج کر بیس منٹ پر خود حضرت خلیفۃ المسیح الثانی جماعت کے ایک بہت بڑے ہجوم کو ارشاد فرمارہے ہیں ۔
    "مرزاناصر احمد کا ہاتھ پکڑو!"
    یہ الفاظ حضور نے بڑے جوش سے فرمائے ۔ جب آنکھ کھلی تو وقت2-20تھا۔
    …٭…٭…٭…
    ۸۰۔ مکرم خلیل الرحمن صاحب
    ‏ P.E.C.H.S 2/135-Gکراچی
    اس عاجزنے9،8؍نومبر 65ء کی درمیانی شب کو رات کے پونے دس بجے کے اندر جبکہ میں شاہین ایکسپریس سے ربوہ آرہا تھا ۔ مندرجہ ذیل رؤیا دیکھی ۔ اس سے پہلے کراچی سے چلنے کے بعد سے یہ عاجز دعا کرتا رہا کہ یا اللہ تو مجھ پر انکشاف کر دے کہ خلیفۃ المسیح الثالث تو کسے چنے گا ۔جیسے تو نے حضرت خلیفۃ المسیح الاو ل کی وفات پر میرے پیارے والد حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب پر انکشاف کیا تھا۔ (انہوںنے حضرت خلیفہ اول کی وفات کا تار پڑھتے ہی جواباً قادیان تار روانہ کردیا تھا کہ میں اور میرا سارا خاندان حضرت مرز ابشیر الدین محمود احمد کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں۔)
    لہذا (خواب میں ) اس عاجز کے سامنے ایک ٹیلی گرام آگیا اس میں مندرجہ ذیل عبارت تھی ۔
    ‏ Mirza Nasir Ahmad Elected
    ٹیلی گرام کاکاغذ مڑا ہو انہ تھا بلکہ صاف بے شکن کاغذ تھا۔
    …٭…٭…٭…
    ۸۱۔ مکرم یوسف عثمان صاحب کامبا اُلایا آف مشرقی افریقہ
    جامعہ احمدیہ ربوہ
    میں خداتعالیٰ کو حاضر وناظر جان کر عرض کرتاہوں کہ
    جس رات حضور کی طبیعت بہت خراب ہوگئی تھی۔ میں رات کو درد دل سے حضور کی صحت کے لئے دعا کر کے سویا۔ رات کو ایک بجے خواب میں دیکھا کہ حضور وفات پاچکے ہیں اور نئے خلیفہ کے انتخاب کے لئے ممبر ایک جگہ جمع ہیں ۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ میں بھی ممبر ہوں ۔ ہم رورہے تھے کہ اچانک ایک بورڈ ہمارے سامنے لایا گیا جس پر لکھا تھا۔
    "مرز اناصر احمد صاحب خلیفہ ثالث ہوگئے ہیں۔"
    میں گھبراہٹ میں اُٹھا کہ تہجد پڑھوں مگر دو گھنٹے کے بعد حضور کی وفات کی خبر ملی ۔
    اناللہ واناالیہ راجعون
    ۸۲۔ مکرم راجہ عبد الماجد صاحب ولد راجہ عبد الحمید خان مرحوم
    دارالرحمت وسطی ربوہ
    میںنے اتوار اور سوموار کی شب(07-08؍نومبر65ء )کراچی میں تقریباً دو بجے رات کو ایک خواب دیکھا ۔جو میں اس خد اکی قسم کھا کر جس کے ہاتھ میں میری جان ہے حلفاً بیان کروں گا۔ حضور کی صحت کے لئے دعا کرتے کرتے لیٹ گیا اور بہت زیادہ قلق تھا۔ اسی حالت میں نیند نے غلبہ پالیااور دیکھا کہ
    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی تشریف فرماہیں اور آ پ کے سامنے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث حضرت مرز اناصر احمد صاحب بیٹھے ہوئے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے حضرت مرز اناصر احمد صاحب کا ہاتھ زور سے پکڑ کراپنی طرف کھینچا اور اپنے قریب کیااور اپنی پگڑی اپنے سر سے اتار کر آپ کے سر پررکھی دی ۔
    …٭…٭…٭…
    ۸۳۔ مکرمہ امتہ الشافی صاحبہ شائستہ
    دارالرحمت غربی(الف) ربوہ
    میں اللہ تعالیٰ کو حاضر وناظر جان کر حلفاً لکھتی ہوں کہ خاکسارہ نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے وصال کی رات، صبح کے قریب خواب میں دیکھا کہ
    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی اچھی صحت کی حالت میں سفید لباس پہنے اپنے صحن کے درمیان کھڑے ہیں اور حضور کے ساتھ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ہیں۔ حضور ان کا دایاں بازو پکڑ کر فرماتے ہیں۔
    "ناصر!میںنے جو تم پر جماعت کی ذمہ داریاں عائد کی ہیں۔ ان کو تمہیں اچھی طرح سے انجام دینااور سنبھالناہوگا۔"
    …٭…٭…٭…
    ۸۴۔ مکرمہ فاطمہ بیگم صاحبہ اہلیہ عبد الرحمان صاحب
    ویسٹ پاکستان ڈینٹل ہسپتال لاہور
    انتخاب خلافت سے نصف گھنٹہ پہلے جبکہ مجلس انتخاب کا اجلاس شروع ہوا تھا۔ کشفی حالت میں دیکھا کہ
    صاحبزادہ مرز اناصر احمد صاحب کے نام کے نعرے لگ رہے ہیں اور ایک لاتعداد مخلوق ادھر ادھر بھاگی پھرتی ہے ۔ جو ایک دوسرے سے کہہ رہے ہیںکہ صاحبزادہ میاں ناصر احمد صاحب جماعت کے خلیفہ چن لئے گئے ہیں۔
    …٭…٭…٭…

    ۸۵۔ مکرم غلام محمد صاحب لغاری جنرل سیکرٹری
    سندھ ہاری کمیٹی ۔ سچائی منزل میر پور خاص
    میں نے ایک خواب جیل میں دیکھا تھا کہ
    مرزا ناصر احمد صاحب کو ایک بڑے اجتماع میں ایک ہار پہنایا جارہا ہے ۔ جس کی روشنی آسمان تک جارہی ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب
    (لغاری صاحب غیر احمدی ہیں آپ نے گاڑی میں ہمارے منیجر احمد آباد اسٹیٹ کو یہ تحریر دی تھی ۔ جبکہ ابھی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہٗ کا وصا ل نہیں ہو اتھا۔)
    …٭…٭…٭…
    ۸۶۔ مکرم اخوند فیاض احمد صاحب لاہور کینٹ
    اگرچہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) کے مسند خلافت پر متمکن ہونے سے پہلے اس عاجز نے خواب میں دیکھا تھا کہ حضرت مصلح موعود خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ کا مزار ہے اور اس کے سرہانے کی طرف حضرت حافظ مرزا ناصر احمدصاحب تشریف فرما ہیں اور آپ کے پہلو میں ایک صاحب بیٹھے ہیں جن کا نام"عثمان" ہے۔ لیکن حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہٗ کے وصال سے کچھ قبل اس عاجز نے ایسا خواب دیکھا تھا کہ جلسہ سالانہ ہے ۔ا ور حضرت مصلح موعود (رحمہ اللہ) اسٹیج پرکھڑے ہیں اور لکھی ہوئی تقریر پڑھ رہے ہیں ۔ مگر حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ کا وصال ہوگیا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ اور حضرت مصلح موعود کی وفات کے بعد پہلے جلسہ سالانہ پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ )نے افتتاحی تقریر فرمائی جو آپ نے لکھے ہوئے Notesکی مدد سے فرمائی۔ اور حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے "فرمان زمانہ ۔ محمود کا زمانہ ہے"سے اس عاجز نے حضرت مصلح موعودنور اللہ مرقدہ کو لکھی ہوئی تقریر پڑھ کر سنانے والے خواب کی اصل تعبیر پالی۔
    …٭…٭…٭…
    ۸۷۔ حضرت مرز اناصر احمد صاحب کے خلیفہ ثالث بننے کے21سال
    پہلے کی الٰہی شہادت
    حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب رفیق حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اور ذاتی معالج ومعتمد ساتھی حضرت مصلح موعود تحریر فرماتے ہیں۔
    جماعت احمدیہ1955ء سے1965ء تک جس قدر تضرع سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہٗ کی صحت یابی کے لئے دعائیں کرتی رہی اور صدقات دیتی رہی ۔ اُس کی مثال رُو ئے زمین پر نہیںمل سکتی ۔ بار بار دعا کے لئے خاص تحریکات کی جاتی رہیں اور جب بظاہر حضور کو کامل صحت نہ ہوئی تو بعض لوگوں نے یہ گمان کیا کہ جماعت کی دعائیں قبول نہیں ہوئیں۔ لیکن خالق کائنات خوب جانتا تھا کہ یہ دعائیں اور صدقات ضائع نہیں ہوں گے بلکہ یہ کسی نہ کسی رنگ میں اُس کی بارگاہ میں شرف قبولیت حاصل کریں گے۔ اور وہ ایک دن ضرور اُن کا نتیجہ دکھائے گا۔ اور دعا کرنے والوں پر خوب عیاں ہوجائے گا کہ ان کی دعائیں ضائع نہیں ہوئیں بلکہ احسن طور پر قبول ہوکر ایک احسن تخلیق کا موجب بنی ہیں۔ خدائے رحیم وکریم ان دعاؤں کو جمع کرتا جارہا تھا۔ وہ ہمارے صدقات کو محفوظ کررہا تھا۔ اور وہ جماعت احمدیہ کو گریہ اور تضرع اورابتہال کا موقع دے رہا تھا۔ اُسے اپنے در کافقیر بنائے چلا جارہا تھا۔ اور ساتھ ہی ساتھ اپنی رحمانیت کے صدقے مخفی طور پر ایک اور رُوحانی وجود کی تخلیق کررہا تھا تا ایک دن وہ جماعت احمدیہ پر وہ وقت لے آئے جب وہ یقین کی آنکھ سے دیکھ لے کہ اُس کا رحیم وکریم خدا اجر دینے میں کتنا صادق اوروفادار ہے۔
    جب اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہٗ کو وفات دے دی تو اُس کے ساتھ ہی وہ اپنی مخفی تخلیق کو سامنے لے آیا۔ اور جماعت کو بتادیا کہ وہ آج اُن کی سب دعاؤں کا بدلہ خلافت ثالثہ کے رنگ میں دے رہاہے ۔
    خداتعالیٰ کی طرف سے قیام خلافت ثالثہ کی شکل میں جواحسان جماعت پر ہو اہے اُس کا وہ جتنا شکر بھی کرے کم ہے ۔ دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی عمر درازکرے۔ آپ کے قدم کو ہمیشہ راستی پر قائم رکھے اور روحانی بلندیاں عطا کرے تاکہ جماعت احمدیہ کی خوش بختی میں اور ترقی ہو۔
    احبا ب جماعت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نافلۃ لک والی پیشگوئی کے پورا ہونے اور حق بحق دار، رسید کے اظہار سے آشنا ہوچکے ہیں ۔ لیکن علاوہ اس مستقل پیشگوئی کے جماعت کے بعض افراد کو بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے متعلق مبشر ات سے نوازا ہے۔ جو وقتاً فوقتاً احباب کے سامنے آئیں ۔ اور انشاء اللہ آئندہ بھی آتی رہیں گی۔ اسی قسم کی ایک رؤیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایک دن اللہ تعالیٰ خلافت کا تاج حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو پہنانے والا تھا۔ چنانچہ ڈاکٹر شیخ عبداللطیف صاحب دہلی سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی (نور اللہ مرقدہٗ) کی خدمت میں تحریر فرماتے ہیں ۔
    "مجھے ماہ جنوری1944ء کے آخری پندرہ دن میں دو خوابیں آئیں جو درج ذیل ہیں ۔ (۱) میں دیکھتا ہوں کہ حضور کی زندگی کے کم وبیش ہونے کا سوال بار گاہ الٰہی میں پیش ہے ۔ پھر دیکھتا ہوں کہ کسی کو بہت بڑارتبہ ملنے والا ہے ۔ اس کے بعد میری آنکھوں کے سامنے ناصر احمد صاحب کا نام اور شکل بہت دیر تک گھومتی رہتی ہے ۔ (ناصر احمد صاحب مراد حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد ہیں) پھر میری آنکھ کھل گئی۔"
    (الفضل18مارچ1944ء )
    یہ عجیب قدرت الٰہی ہے کہ آج سے اکیس سال قبل ایک شخص کو نظارہ دکھایا جاتا ہے کہ جب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی (نور اللہ مرقدہٗ) کو خدا تعالیٰ اپنے پا س بلا لے گا تو حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ جماعت کے امام اور آپ کے جانشین ہوں گے۔ اور خلافت کا عظیم انعام انہیں عطا ہوگااور پھر اسے جماعت کے اخبار میں بھی شائع کروادیا تا وہ محفوظ رہے اور آئندہ آنے والوں کے لئے ایمان واخلاص کی زیادتی کا موجب ہو۔
    میں ایک اور واقعہ بھی ہدیہ ناظرین کرتا ہوں جس سے ہمار ے امام حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی شان اور اُن کا وہ مقام ظاہر ہوتا ہے جو حضرت مصلح موعود کی نظر میں تھا ۔ وھوھذا۔
    1921"میں حضور خلیفۃ المسیح الثانی (نور اللہ مرقدہٗ) بغرض تبدیلی آب وہواکشمیر تشریف لے گئے اور ایک ڈیڑھ ماہ کے لئے احمدی ڈار خاندان کے گاؤں ناسنور میں قیام پذیر ہوئے۔ ان ہی دنوں حضور نے کوثر ناگ جھیل کی جو14ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے سیر بھی کی۔ سیر کے لئے جو قافلہ بنا قریباً30آدمیوں پر مشتمل تھا۔ جن میںمردوں کے علاوہ مستورات اور بچے بھی شامل تھے ۔ جھیل چونکہ بہت زیادہ بلندی پر واقع تھی اور قافلہ میں بچوں والی عورتیں ، چھوٹے بچے اور مردوں میں بعض بھاری جسم والے اور پیدل چلنے کی عادت نہ رکھنے والے مرد شامل تھے۔ اس لئے قافلہ بڑے تنگ وقت میں جھیل پر پہنچا۔ اور اُسے وہاں ٹھہرنے کا بہت کم موقعہ ملا۔ کیونکہ بارش اور ژالہ باری کا خطرہ تھا۔ اس لئے حضور بہت جلدواپس لوٹ آئے ۔ لیکن اس کے باوجود قافلہ بارش کی زد میں آگیا کچھ دُور چلنے کے بعد حضور نے قافلہ کے افرا دکی حاضری لی اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو موجود نہ پاکر اُونچی آواز سے پکارا ۔ ناصر احمدکہاں ہے ۔ کشمیری بھائیوں میں سے ایک نے جواب دیا۔ حضور وہ حضرت صاحبزادہ مرز اشریف احمد صاحب کے ہمراہ چشمہ کی دوسری جانب سے تشریف لارہے ہیں ۔ حضور سفر جاری رکھیں۔ وہ بھی انشاء اللہ پہنچ جائیں گے ۔ حضور نے بڑے زور سے فرمایا ! میں اپنے بیٹے کو چھوڑ کر آگے نہیں جاسکتا ۔ لیکن جب کشمیری بھائیوں نے یقین دلایا کہ وہ حضرت صاحبزادہ مرز اشریف احمد صاحب کے ساتھ درست راستہ پر آرہے ہیں اور کچھ دور آگے جاکر ہم نے بھی اُن کے ساتھ مل جانا ہے تو حضور آگے چل پڑے ۔
    آج کے واقعات کو دیکھ کر اس بات کا علم ہوتا ہے کہ حضور کو اس وقت حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمدصاحب کا کیوں اتنا فکر تھا۔ دراصل وہ ایک قیمتی وجو دتھا جسے حضرت مصلح موعود جیسا صاحب فراست باپ چھوڑ کر آگے نہیں جاسکتا تھا۔
    ا س کے بعد میں اپنے متعلق بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں ۔
    احباب کو معلوم ہے کہ یہ ناچیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقدس خاندان کا قریباً پچاس سالہ وفادار خادم رہاہے ۔ ابتداء میں خدمت کا موقع 1918ء میں ملا اور اس کے بعد متواتر خدمت کرتے چلے جانے کا شرف حاصل ہوا۔ حضور نے1924ء میں یورپ کا سفر اختیار فرمایا تو اس عاجز کو بھی حضور کی معیت کا شرف نصیب ہوا۔ سفر پرروانہ ہونے سے دو تین روز قبل حضرت ام ناصر صاحبہ نے خاکسار کو بلوا کر فرمایا۔ ڈاکٹر صاحب ! آپ اپنا فوٹو میرے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کھنچوا کر دے جائیں ۔ چنانچہ حسب ارشاد فوٹو کھنچوایا گیا ۔ جس میں شامل ہونے والے اصحاب مندرجہ ذیل ترتیب سے بیٹھے ہیں ۔
    دائیں سے بائیں:حشمت اللہ ، صاحبزادہ مرز اناصر احمد صاحب ، صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب ، صاحبزادہ مرز امنور احمد صاحب
    تقسیم ملک تک یہ فوٹو اس عاجز کے پاس موجود تھا۔ بعد میں یہ قادیان رہ گیا لیکن بہر حال اس سے اس تعلق کا علم ہوتا ہے جو مجھے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہٗ اور حضور کے صاحبزادگان سے ہے ۔"
    (ایاز محمود سیرت حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب صفحہ167تا171)
    …٭…٭…٭…
    ۸۸۔ مکرم مرزاعبدالرشید صاحب وکالت تبشیر ربوہ
    1954ء میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ‘ نے نوجوانوں کو درود شریف بکثرت پڑھنے کی طرف توجہ دلائی۔ چنانچہ عاجز نے نماز میں جو درود شریف درج ہے اس کا ورد اپنا معمول بنالیا ۔ سوموار اور جمعرات کا روزہ بھی رکھنا شروع کیا۔ ایک روز سحری کے وقت درود شریف کا ورد کرتے ہوئے آنکھ لگ گئی۔ دیکھا کہ میں بیت مبارک میں داخل ہورہا ہوں ۔ ہر طرف چاندنی ہی چاندنی ہے۔ جتنی تیزی سے ورد کرتا ہوں سرور بڑھتا جاتا ہے ۔ اور چاندنی واضح ہوتی جاتی ہے خواب میں حضرت باباگورونانک رحمۃ اللہ علیہ جیسی بزرگ شبیہ کی صورت میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں ۔ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے گرد نور کا ہالہ اس قدرتیز ہے کہ آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔باوجود کوشش کے شبیہ مبارک پرنظر نہیں ٹکتی۔ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف سیدنا مسیح موعود علیہ السلام ہیں اور پھر سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نور اللہ مرقدہٗ تشریف فرما ہیں۔ سیدنا حضرت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک سے نور کا ہالہ چلتا ہے جو سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جسم مبارک سے گزر کر حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نور اللہ مرقدہ کی طرف جاتا ہے۔ ان تینوں مقدس ہستیوں کے سامنے درمیان میں حضرت مصلح موعود ہیں ان پر بھی نورانی شعاعیں پڑ رہی ہیں ۔ا ن کے بعد حضرت مرزا ناصر احمد صاحب (رحمہ اللہ) اور حضر ت مرزا طاہر احمد ہیں(رحمہ اللہ) دونوں ساتھ ساتھ ہیں۔ا س کے بعد ۹ شبیہیں دیکھیں ۔لیکن ان کے چہرے ذہن میں محفوظ نہیں رہے ۔
    میں نے یہ خواب حضرت خلیفۃالمسیح الثانی(نور اللہ مرقدہ) کی خدمت میں لکھی حضور نے فرمایا بڑی مبارک ،بڑی مبارک ، بڑی مبارک خواب ہے ۔ حضور نے ارشاد فرمایا کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سے ملیں۔ حضرت میاں صاحب سے ملاقات ہوئی تو دس پندرہ دفعہ سے زائد مجھ سے نظارہ سنا ۔ اور بار بار سوالات بیچ میں کرتے رہے ۔ پھر فرمایا کسی سے خواب بیان نہیں کرنی ۔ خلافت ثالثہ کا انتخاب ہوا تو پھر یہ نظارہ لکھ کر بھجوادیا حضرت مولاناجلال الدین شمس صاحب کے ذریعے پیغام ملا کہ حضورفرماتے ہیں کہ خواب آگے بیان نہیں کرنی ۔ خاکسار نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع (رحمہ اللہ )کو خواب میں پگڑی باندھے دیکھا تھا۔ اس بناء پر کبھی کبھی کہا کرتا تھا کہ حضور پگڑی باندھا کریں حضور فرمایا کرتے ۔
    "میں پگڑی کے لوازمات پورے نہیں کرسکتا اس لئے پگڑی نہیں پہنتا ۔ "
    (تاریخ تحریر05؍ جولائی 1982ئ)
    …٭…٭…٭…














    خلافت رابعہ بارے الہامات وکشوف
    اور
    مبشر رؤیا، خوابیںاور الٰہی اشارے






    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہٗ نے حضرت ام طاہر کو مخاطب ہوکرایک مرتبہ فرمایا:
    "مجھے خداتعالیٰ نے الہاماً بتایا ہے کہ طاہر ایک دن خلیفہ بنے گا۔"
    (ایک مرد خداصفحہ208)


    قرون اولیٰ کی بعض پیشگوئیوں کا مصداق
    ۱۔ بادشاہت پوتے کو ملے گی۔
    یہود کی احادیث کی مشہور کتابـ"طالمود"میں لکھا ہے ۔
    It is said that he(The Messiah) Shall die and his
    kingdom decend to his son and grandson.
    ‏(In proof of this openion ysaih xLII is qouted)
    ترجمہ: "یہ بھی ایک روایت ہے کہ مسیح کے وفات پانے کے بعد اس کی بادشاہت (یعنی آسمانی بادشاہت )اس کے فرزنداور پھر اُس کے پوتے کو ملے گی۔ اس روایت کی تائید میں یسعیاہ باب42آیت4کاحوالہ دیا جاتا ہے۔ـ"
    (طالمودازجوزف برکلے باب 5 مطلوبہ لندن 1878ء )
    پیشگوئی مسیح ناصری کے وجود میں تو پوری نہیں ہوئی کیونکہ نہ ان کا کوئی فرزند تھا نہ پوتا۔ یسعیاہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیشگوئی مسیح موعود اور اُس کے مبشر فرزند اور پوتے کے متعلق ہے۔ جن کے متعلق زیادہ صراحت خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہامات میں ہے۔
    ۲۔ حدیث نبوی لنالہٗ رجالٌمن ھولاء فارس کے مصداق:
    آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد لوکان الایمان معلقاًبالثریا لنالہٗ رجالٌ من ھولاء کے مصداق بہت سے فارسی النسل دوست ہیں جو حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی اولاد سے ہوں گے۔اُن کے ایک مصداق سیدنا حضرت مرزا طاہراحمد صاحب خلیفۃ المسیح الرابع بھی تھے۔
    ۳۔ آسمانی منادی :
    حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے وجود میں پوری ہونے والی پیشگوئی کا ایک سلسلہ احمدیہ ٹیلی ویژن سے متعلق ہے جس میں ایک آسمانی منادی کا ذکر ہے جس کی تصویر اور آواز دنیا بھر میں بیک وقت دیکھی اور سنی جائے گی۔ صرف ایک پیشگوئی درج کی جاتی ہے ۔
    حضرت امام رضا علی بن موسیٰ سے پوچھا گیا آپ میں سے امام قائم کون ہوگا۔ فرمایا میرا چوتھا بیٹا ، لونڈیوں کی سردار کا بیٹا جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ زمین کو ہر ظلم سے مطہر کردے گا۔۔۔۔۔۔یہ وہی ہے جس کے لئے زمین سمیٹ دی جائے گی ۔ اور یہی وہ ہے جو آسمان سے بطور ایک منادی صدا کرے گا۔ جس کو اللہ تعالیٰ تمام اہل ارض کو سنادے گا۔
    (بحارالانوار جلد 52صفحہ 321از شیخ محمد باقر مجلسی)
    ۴۔ غیر معمولی لمبے دن:
    حدیثوں میں پیشگوئی ہے کہ دجال کے زمانہ میں غیر معمولی لمبے دن ہوں گے اس لئے وقت کااندازہ کرکے نمازپڑھنا۔ حضورؒ نے 1993ء میں قطب شمالی کے بلند ترین مقامات کا دورہ فرمایا جہاں 24گھنٹے دن رہتا ہے۔ حضورؒ نے پانچ نمازیں قافلہ کے ساتھ باجماعت ادا کیں اور جمعہ بھی پڑھایا۔



    سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات، پیشگوئیاں
    جن کے مصداق سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ ٹھہرے
    ۱۔ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلَامٍ نَافِلَۃً لَّکَ
    ہم تمہیں ایک ایسے پوتے کی بشارت دیتے ہیں جو عظیم الشان ہوگا۔
    ۲۔ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچائوں گا ۔
    حضوررحمہ اللہ کے دور میں MTAکے ذریعہ اور حضور رحمہ ا للہ کے ماریشس اور ناروے کے North Endتک بنفس نفیس جانے اور خطبات کے ذریعہ پیغام پہنچانے سے یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔
    ۳۔ موعود ذریت:
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ۔
    "اس مسیح کو بھی یاد رکھو جو اس عاجز کی ذریت میں سے ہے جس کا نام ابن مریم بھی رکھا گیا ہے"۔
    (ازالہ اوہام ازروحانی خزائن جلد 3صفحہ 318)
    ۴۔ لندن میں مدلل تقریر:
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ۔
    "میں نے دیکھا کہ میں شہرلندن میں ایک منبر پر کھڑا ہوں اورانگریزی زبان میں ایک نہایت مدلل بیان سے اسلام کی صداقت ظاہر کررہا ہوں بعد اس کے میں نے بہت سے پرندے پکڑے جو چھوٹے چھوٹے درختوں پر بیٹھے ہوئے تھے جن کے رنگ سفید تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ اگرچہ میں نہیں مگرمیری تحریریں ان لوگوں میں پھیلیں گی اور بہت سے راستباز انگریز صداقت کاشکار ہوجائیں گے ۔"
    (ازالہ اوہام ازروحانی خزائن جلد3صفحہ377)
    ۵۔ آدھا عربی میں آدھا انگریزی میں :
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا قریباً1880ء کا کشف ہے۔ فرماتے ہیں۔
    "ایک دفعہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک شخص میرانام لکھ رہا ہے تو آدھا نام اس نے عربی میں لکھا ہے اورآدھا انگریزی میں لکھا ہے۔ انبیاء کے ساتھ ہجرت بھی ہے۔ لیکن بعض رویا نبی کے اپنے زمانہ میں پوری ہوتے ہیں اور بعض اولاد یا کسی متبع کے ذریعہ سے پورے ہوتے ہیں ۔" (الحکم 10؍ستمبر 1905ئ)
    حضور نے ہجرت بھی کی اور پھر ایم ٹی اے پر لقاء مع العرب پروگرام میں انگریزی اور عربی گفتگو کے ذریعہ دعوت الی اللہ کی توفیق پائی۔ نیز عربی رسالہ "التقویٰ" اور انگریزی رسالہ "ریویو آف ریلیجنز" لندن سے باقاعدگی سے جاری ہوئے۔
    ۶۔ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے:
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا1868ء کا الہام ہے۔
    "بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے پھر بعد اس عالم کشف میں وہ بادشاہ بھی دکھلائے گئے جو گھوڑوں پر سوار تھے۔"
    (براہین احمدیہ از روحانی خزائن جلد1 صفحہ 622)
    خلافت رابعہ میں بیسیوں بادشاہ احمدی ہوئے اور کئی ایک نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کپڑے کا تبرک بھی حضور ؒ سے جلسہ سالانہ پر حاصل کیا۔ 2002ء کے جلسہ سالانہ بینن پرکئی بادشاہ گھوڑوں پر سوار ہو کر جلسہ سالانہ میں شامل بھی ہوئے۔
    ۷۔ بعد گیارہ ۔ انشاء اللہ:
    11؍دسمبر 1900ء کا الہام ہے بعد گیارہ انشاء اللہ ۔
    یہ الہام کئی رنگوں میں پورا ہوا۔ حضورؒ کی خلافت کے 11سال بعد 1993ء میں لندن میں عالمی بیعت کی تقریب کاآغاز ہوا۔ لندن سے مسلم ٹیلی وژن احمدیہ انٹرنیشنل کاآغاز ، ہفت روزہ الفضل انٹرنیشنل کا اجراء اور ریویو آف ریلیجنز کی نئے انداز میں اشاعت جنوری 1994ء میں شروع ہوئی اور ساہیوال کے اسیران راہ مولیٰ کی رہائی 20مارچ 1994ء کو عمل میں آئی۔
    ۸۔ مخالفانہ کتاب دھوئی گئی:
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی 10؍ستمبر 1903ء کی رئویا ہے کہ خواب میں کسی مخالف کی کتاب کو پانی سے دھو رہے ہیں اور ایک شخص پانی ڈال رہا ہے یہاں تک کہ سفید کاغذ نکل آیا۔ یہ رؤیا وائٹ پیپر کے متعلق حضور کے خطبات "زھق الباطل" سے پوری ہوئی۔
    (ضمیمہ خالد جون1985ئ)
    ۹۔ قتل کی سازش:
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کاایک رئویا درج ذیل ہے۔
    "مکرریہ کہ 18؍اکتوبر1892ء کے بعد 07؍ دسمبر1892ء کو ایک اوررئویا دیکھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ بن گیاہوں۔ یعنی خواب میں ایسا معلوم کرتاہوں کہ وہی ہوں اور خواب کے عجائبات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض اوقات ایک شخص اپنے تئیں دوسرا شخص خیال کرلیتا ہے ۔ سو اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ میں علی مرتضیٰ ہوں اور ایسی صورت واقع ہے کہ ایک گروہ خوارج کا میری خلافت کا مزاحم ہو رہا ہے یعنی وہ گروہ میری خلافت کے امر کو روکنا چاہتا ہے اور اس میں فتنہ انداز ہے ۔ تب میں نے دیکھا کہ رسو ل اللہصلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ہیں اور شفقت اور تودّد سے مجھے فرماتے ہیں : یَا عَلِیُّ دَعْھُمْ وَاَنْصَارَ ھُمْ وَزَرَاعَتَھُمْیعنی اے علی! ان سے اور ان کے مددگاروں اور ان کی کھیتی سے کنارہ کر اور ان کو چھوڑ دے اور ان سے منہ پھیر لے اور میں نے پایا کہ اس فتنہ کے وقت صبر کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو فرماتے ہیں اور اعراض کے لئے تاکید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ توہی حق پر ہے مگر ان لوگوں سے ترک خطاب بہتر ہے اور کھیتی سے مراد مولویوں کے پیروئوں کی وہ جماعت جو ان کی تعلیموں سے اثر پذیر ہے جس کی وہ ایک مدت سے آبپاشی کرتے چلے آئے ہیں۔ پھر بعد میں اس کے میری طبیعت الہام کی طرف منحدر ہوئی اور الہام کے رو سے خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا کہ ایک شخص مخالف میری نسبت کہتا ہے : ذَرُوْنِیْ اَقْتَلُ مُوْسیٰیعنی مجھ کو چھوڑتا میں موسیٰ کو یعنی اس عاجز کو قتل کردوں اور یہ خواب رات کے تین بجے قریباً بیس منٹ کم میں دیکھی تھی اور صبح بدھ کا دن تھا ۔ فالحمد للہ علی ذالک"
    (آئینہ کمالات اسلام ازروحانی خزائن جلد 5 صفحہ218-219 حاشیہ)
    21؍دسمبر 1902ء کا الہام ہے کہ : تم پر ایسا زمانہ آنے والا ہے جو مسیح کے زمانہ کی طرح ہوگا۔
    19؍ جنوری 1903ء کے رئویا میں حضورؑ نے دیکھا کہ فرعون ایک لشکر کثیر کے ساتھ تعاقب میں ہے مگرآپ فرماتے ہیں کہ میرا رب میرے ساتھ ہے ۔
    تمام خلفاء میں سے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع واحد خلیفہ تھے جن کو خلافت کی ذمہ داریاں ادا کرنے سے قانونی پابندیاں لگا کر روکنے کی کوشش کی گئی اور پھر ایک شخص کے قتل کاالزام لگا کر آپ کے قتل کی سازش تیار کی گئی اور تعاقب بھی کیا گیا مگراللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بچا لیا۔ اور سمندر پار لے گیا۔ (خطبہ 5؍جولائی 1985ئ)
    قرآن مجید کی آیت ذَرُوْنِیْ اَقْتَلُ مُوْسیٰ کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    یہ جو ہے آیت فرعون کایہ کہنا کہ موسیٰ کوقتل کردوں۔ ایسا ہی زمانہ جماعت احمدیہ پرآنے والا تھا جس کا میں ذکر کررہاہوں کہ آچکا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ایک الہام میں بڑی وضاحت سے یہ بات مذکور ہے۔ ایک تحریر ہے لمبی جس میں پہلے فرماتے ہیں۔ یَا عَلِیُّ دَعْھُمْ وَاَنْصَارَ ھُمْ وَزِرَاعَتَھُمْ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے علی کہہ کر مخاطب فرمایا اور کہا کہ ان کو چھوڑ دے ، ان سے اعراض کر ۔ وَاَنْصَارَھُمْ اوران کے مددگاروں سے بھی زَرَاعَتَھُمْ اور جو وہ کھیتی اگا رہے ہیں ۔ یہ تحریر ہے۔
    اس کے بعد حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں ۔
    "پھر بعد اس کے میری طبیعت الہام کی طرف منحدر ہوئی اور الہام کی رو سے خداتعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا کہ ایک شخص مخالف میری نسبت کہتا ہے ۔ذَرُوْنِیْ اَقْتُلْ مُوْسیٰ یعنی مجھ کو چھوڑتا میں موسیٰ کو یعنی اس عاجز کو قتل کردوں اور یہ خواب رات کے تین بجے قریباً بیس منٹ کم میں دیکھی تھی اور صبح بدھ کا دن ۔ فالحمد للہ علی ذالک"
    (آئینہ کمالات اسلام ازروحانی خزائن جلد5صفحہ219-218حاشیہ)
    اب دیکھیں پہلے اس سے بیان فر مایا علی والامضمون اور چھوڑ دے، ان کو اللہ تعالیٰ آپ ہی سنبھال لے گا۔ اس کے بعدالہام کی طرف طبیعت منتقل ہوئی اور یہ الہام ہوا ذَرُوْنِیْ اَقْتُلْ مُوْسیٰ۔لیکن علی کے تعلق سے یہ بات واضح کرتی ہے کہ چوتھے خلیفہ کے وقت میں یہ واقعہ ضرور ہونے والا ہے اور بھی بہت سے شواہد ہیں جو بتارہے ہیں کہ اسی زمانہ میں ہوگا اور چونکہ ہوچکا ہے اس لئے اس استنباط کو فرضی نہیں قرار دیا جاسکتا۔ واقعات کی بعینہٖ یہی شہادت ہے۔
    (ترجمۃ القرآن کلاس243۔ریکارڈ شدہ 28 ؍اپریل 1998ئ)
    ۱۰۔ بادشاہوں کا قبول اسلام:
    " عالم کشف میں مجھے وہ بادشاہ دکھلائے گئے جو گھوڑوں پر سوار تھے اور کہا گیا کہ یہ ہیں جو اپنی گردنوں پر تیری اطاعت کا جوا اٹھائیں گے اور خدا انہیں برکت دے گا"
    (تجلیات الٰہیہ ازروحانی خزائن جلد20صفحہ409حاشیہ)
    2002ء کے جلسہ سالانہ بینن پر کئی بادشاہ گھوڑوں پر سوار ہو کر جلسہ میں شامل ہوئے۔






    حضرت مصلح موعود کی پیشگوئیاں ، رؤیاوکشوف
    اور الہامات
    ۱۔ طاہر ایک دن خلیفہ بنے گا:
    حضرت خلیفہ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ نے حضرت ام طاہر کو مخاطب کرتے ہوئے ایک مرتبہ فرمایا۔
    "مجھے خداتعالیٰ نے الہاماً بتایا ہے کہ طاہر ایک دن خلیفہ بنے گا"
    (ایک مرد خدا صفحہ 208)
    ۲۔ میراانجام ابراہیم جیسا ہو:
    "ان بشارتوں میں سے ایک یہ ہے کہ میں نے دیکھا کہ میں بیت الدعا میں بیٹھا تشہد کی حالت میں دعا کررہا ہوں کہ الٰہی ! میرا انجام ایساہو جیسا کہ حضرت ابراہیم ؑ کا ہوا۔ پھر جوش میں آکر کھڑا ہوگیا ہوںاور یہی دعا کررہا ہوں کہ دروازہ کھلا ہے اور میر محمد اسماعیل صاحب اس میں کھڑے روشنی کررہے ہیں۔اسماعیل کے معنی ہیں خدا نے سن لی اور ابراہیمی انجام سے مراد حضرت ابراہیم ؑ کا انجام ہے کہ ان کے فوت ہونے پر خداتعالیٰ نے حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل ؑ دو قائم مقام کھڑے کردئیے ۔ یہ ایک طرح کی بشارت ہے جس سے آپ لوگوں کو خوش ہوجانا چاہیے۔"
    یہ پیشگوئی حضرت خلیفہ المسیح الثالث اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے وجود سے پوری ہوئی۔
    (عرفان الٰہی انوار العلوم جلد4 صفحہ 288)
    ۳۔ مصلح موعود جیسا:
    "خدا نے مجھے بتایا ہے کہ وہ ایک زمانہ میں خود مجھ کو دوبارہ دنیا میں بھیجے گااور میں پھر کسی شرک کے زمانہ میں دنیا کی اصلاح کے لئے آئوں گا جس کے معنے یہ ہیں کہ میری روح ایک زمانہ میں کسی اورشخص پر جو میرے جیسی طاقتیں رکھتا ہوگا نازل ہو گی اور وہ میرے نقش قدم پر چل کر دنیا کی اصلاح کرے گا۔"
    (الفضل 19؍ فروری1956ئ)
    ۴۔ روسی علاقوں میں احمدیت :
    حضرت مصلح موعود کی ایک رویا میں ذکر ہے کہ فوجیوں کے خطرہ کی وجہ سے حضور کو ہجرت کرنی ہوگی ۔ اور ام طاہر کے بیٹے کے ذریعے روس کے علاقوں سے احمدیت کا تعلق قائم ہوگا۔
    (خطبہ جمعہ از خلیفۃ المسیح الرابع15؍جون 1990ئ)
    ۵۔ ہجرت کی پیشگوئی:
    حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے فرمایا۔
    کچھ عرصہ پہلے میں نے خطبہ میں حضرت مصلح موعود کے ایک رئویا کا ذکرکیا تھا کہ وہ کسی خوف کی وجہ سے جگہ چھوڑ کر کسی اورملک میں جانے پر مجبور ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔اس میں ایک پیشگوئی مضمر تھی۔ آپ نے یہ لکھا ہے کہ جب میں نے خطرہ محسوس کیا تو میں بالاخانے پر اس غرض سے گیا کہ اپنی اہلیہ ام طاہر کو بھی جگادوںاور ان کو بھی ساتھ لے چلوں ۔ وہاں میں نے دیکھا کہ ان کے ساتھ ان کا ایک بچہ لیٹا ہوا ہے ۔ اب وہ بچہ جو حضرت مصلح موعود کے ذہن میں موجود نہیں تھا، اچانک اس طرح دکھایا جانا خود اپنی ذات میںایک اعجازی رنگ رکھتا ہے اور پھر اس سے دلچسپ بات یہ ہے کہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے بچے کو اٹھایاتو وہ لڑکا بن گیا تو اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ موجود بچوں کی طرف اشارہ کرنا مراد نہیں تھا بلکہ کسی ایسے بچے کی طر ف اشارہ کرنا مراد تھی جو خدا کی تقدیر میں دین کے کا م آنے والا تھا اور اس کا لڑکا بن جانا بتا تا ہے کہ بعد میں اس میں کوئی تبدیلی پیدا ہونی تھی۔
    دوسری بہت دلچسپ بات جو دوبارہ پڑھنے سے سامنے آئی وہ یہ تھی کہ جو خطرہ تھا وہ فوجیوں کی طرف سے تھا اور ان فوجیوں کی تعیین نہیں ہے کہ کون ہیں ۔ دیکھتے ہیں کہ میں اچانک گھر سے باہر دیکھتا ہوں تو کچھ فوجی افسر گویا بدنیتی کے ساتھ وہاں کھڑے ہیں اور مجھے ان کی طرف سے خطرہ محسوس ہوتا ہے تو میں زمین پراتر کر جانے کے بجائے جس طرح پہاڑوں پرگھر بنے ہوتے ہیں کہ اوپر کی منزل کا بھی بالا بالا تعلق ہوتا ہے ۔ میں بالائی رستے سے نکل گیا ہوں اور یہ میری ہجرت کے عین مطابق ہے یعنی بالائی رستے سے یہاں فضائی رستے کے ذریعے رخصت ہونا اورخاموشی سے رخصت ہونا مراد ہے۔
    (خطبہ جمعہ 15؍ جون 1990ئ)
    ۶۔ ہجرت کے بعد قادیان واپسی کی پیشگوئی کے مصداق بھی عارضی طور پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ ٹھہرے۔
    حضور رحمہ اللہ نے ایک دوست کی رئویا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ۔
    ایک دوست نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کودیکھا کہ نہر کے پل پر جارہے ہیں ، لمبا کوٹ عمامہ اورگرگابی پہنی ہوئی ہے اور ہاتھ میں سوٹی ہے ۔ حضور ؑ نے اس دوست کے سلام کا جواب دے کرفرمایا کہ جائو اور طاہر احمد کی مدد کرو۔ اس دوست نے پوچھا کہ ہم کب قادیان جائیں گے تو حضور ؑ نے پانچ کا ہندسہ بتلایا۔پوچھا 1995ء میں۔ فرمایا!نہیں جب 45 سال ہوں گے ۔
    چنانچہ بعدازاں 1991ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع وہاں تشریف لے گئے۔ 1947ء سے یہ45 سال بنتے ہیں (یعنی جب خلافت کو قادیان سے ہجرت کرنا پڑی تھی) ۔







    والدین کی اثر انگیز دُعائیں
    اللہ تعالیٰ نے ازل سے ہی اس نگینے کو بڑی احتیاط سے تراشا تھا۔ حضرت سیدہ ام طاہر کی وفات پر سیدنا حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہٗ نے چالیس دن تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر جاکر دعا کرنے کا سلسلہ جاری فرمایا۔ اس کا آپ نے ایک خطبہ میں یوں ذکر فرمایا۔
    "میں نے اعلان کیا تھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی قبر پر جاکر چالیس دن تک دعا کروں گا۔ تاکہ اللہ تعالیٰ اسلام کی فتح اور اس کے غلبہ کا رستہ کھولے اور احمدیت کی اشاعت میں جوروکیں ہیں ان کو دور فرمائے۔۔۔۔۔
    اصل چیز یہ ہے کہ انسان جب قبر پر جائے تو میت کے لئے دُعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کرے ا س کے درجات کو بلند فرمائے اور اپنے قرب کے دروازے اس کے لئے کھول دے ۔ پس چونکہ اس قسم کی دعا کی خاطر میںنے کچھ دن متواتر ام طاہر کی قبر پر جانا تھا اس لئے میں نے مناسب سمجھا اس کے ساتھ ہی اسلام کی فتوحات کے لئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر دعاؤں کا سلسلہ شروع کردیاجائے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا جائے کہ اے اللہ !تو نے اس شخص سے اسلام کی ترقی اور اس کی فتوحات کے متعلق کچھ وعدے کئے تھے یہ شخص اب فوت ہوچکا ہے اور تیرے یہ وعدے بہر حال ہمارے ذریعہ سے ہی پورے ہوں گے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے اندر ہزاروں قسم کی کمزوریاں اور کوتاہیاں پائی جاتی ہیں ہم میں ان کمزوریوں کو دور کرنے کی طاقت نہیں لیکن اگر تو چاہے تو ان کمزوریوں کو بڑی آسانی سے دور کرسکتا ہے۔ پس تو اپنے فضل سے ان کمزوریوں کو دور فرما اور اپنے اس مامور اور پیارے محبوب سے جوتو نے وعدے کئے ہوئے ہیں ان کو پورا کرنے کے سامان پیدا فرمادے۔ ہم کمزوروں کو طاقت بخش ہم ناتوانوں کو قوت عطافرمااور ہمارے اندر آپ اپنے فضل سے تغیر پیدا فرما تاکہ ہم دین کا جھنڈا دنیا میں گاڑ سکیں اور کفر کو نابود کرسکیں۔" (الفضل14؍مارچ1944ئ)
    روزمرہ دعاؤں کاالتزام آپ نے کسی بھی اور وقت میںنہیں فرمایا اس خاص دعائیہ پروگرام کا پس منظر واضح ہے حضرت سیدہ ام طاہر احمد صاحب کی ذات کا اس پروگرام سے جو گہرا تعلق ہے وہ بھی کسی پر پوشیدہ نہیں اس سے یہ بات بدیہی طور پر سامنے آجاتی ہے کہ رخصت ہونے والی عظیم ہستی اور اس کے متبعین کو حضور کی خصوصی دعاؤں میں بالیقین نمایاں حصہ ملاہوگا۔ حضور چالیس دن لگاتار اسلام کی فتوحات کے لئے بارگاہ الٰہی میں دعا کرتے رہے ۔
    حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہٗ کے52سالہ دور خلافت میں اس طرح 40دن دعاؤں کا التزام کسی اور وقت ثابت نہیں۔ اس کا پیش خیمہ حضرت سیدہ ام طاہر کی وفات تھی اور آپ نے چونکہ حضرت سیدہ ام طاہر کے مزار پر جانا ہی تھا اس لئے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر حاضری دینی ضرور قرار دی اوریہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ ان دعاؤں میں لازماً حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے لئے دُعا ہوتی ہوگی۔
    ۲۔ حضرت صاحبزادہ مرز ابشیر احمد صاحب نے حضرت سیدہ ام طاہر کی وفات پر ایک مضمون الفضل میں لکھا جس میں آپ نے لکھا۔
    "جیسا کہ احباب کو علم ہے مرحومہ نے اپنے پیچھے تین لڑکیاں چھوڑی ہیں اور ایک لڑکا۔ لڑکے کے اکیلا ہونے کا مرحومہ کو بہت احساس تھا اور وہ اس بات کے لئے ہمیشہ دعائیں کرتیں رہتی تھیں کہ ان کا لڑکا جس کا نام طاہر احمد ہے دین دودنیا کی اعلیٰ ترین ترقیاں حاصل کرے اور اس کی تربیت کا خاص خیال رکھتیں۔ جب میں ان کی بیماری میں آخری دفعہ لاہور گیا(یعنی ان کی وفات والی دفعہ سے پہلے) تو جب میں واپسی پرانہیں رخصت کہنے کے لئے ان کے کمرے میں گیااور میں نے ان سے ذکر کیا کہ طاہر احمد کاامتحان ہونے والا ہے اس لئے میں واپس جاتاہوں تو انہوںنے مجھے تاکید کے ساتھ کہا کہ ہاں آپ ضرور جائیں اور طاہر کاخیال رکھیں اور پھر یہ خیال کر کے شاید ان کی بیماری کی شدت کی وجہ سے میں طاہر کو اکیلا چھوڑ کر درمیان میں پھر لاہور نہ آجاؤں کسی قدررقت کے ساتھ کہا کہ آپ میری خاطرامتحان کے آخرتک وہیں طاہر کے پاس ٹھہریں۔" (الفضل06؍اپریل1944ئ)
    ۳۔ حضرت سیدہ مریم بیگم صاحبہ (ام طاہر) کے جذبات واحساسات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع (رحمہ اللہ) فرماتے ہیں۔
    "اُمی ۔۔۔۔۔اپنی اولاد کے لئے ہرقسم کی دینی ترقیا ت کے لئے بھی بہت دُعائیں کرتی تھیں اور خاص طور پر میرے لئے کیونکہ اُمی کے یہ الفاظ مجھے کبھی نہ بھولیں گے اور وہ وقت بھی کبھی نہ بھولے گا جب ایک دفعہ اُمی کی آنکھیں غم سے ڈبڈبائی ہوئی تھیں آنسو چھلکنے کو تیار تھے اور اُمی نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ طاری!میںنے خداتعالیٰ سے دعا مانگی تھی کہ اے خدا!مجھے ایک ایسا لڑکادے جو نیک اور صالح ہو اور حافظ قرآن ہو۔"
    (الفضل14؍اپریل1944ئ) پھر فرمایا:
    "اکثر ایسا ہوتا تھا کہ جب کبھی بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا یا اللہ تعالیٰ کی رحمت کاکوئی واقعہ سامنے آتا تو اُمی کہہ اٹھتیں دیکھوطاری!اللہ اپنے بندوں سے کتنی محبت کرتا ہے اور اس کی مثال میں مجھے دفعہ حضرت موسیٰ ؑ اور گڈریے کا قصہ سناتیں اور کچھ اس انداز سے اور اس پیار بھرے لہجہ سے خداکاذکر کرتیں کہ ہر ہر لفظ گویا محبت کی کہانی ہوتا اور پھر اسی طرح خد اکے پاک کلام قرآن پاک سے بے انتہا محبت تھی ۔ سوائے اس کے کہ بیمار ہوں روزانہ صبح نماز سے فراغت حاصل کر کے قرآن کریم پڑھتی تھیں اور مجھے بھی پڑھنے کے لئے کہتی تھیں۔ جب میں پڑھتا تھا تو ساتھ ساتھ میری غلطیاں درست کرتی جاتیں اور مجھے نماز پڑھانے کابھی ایسا شوق تھا کہ بچپن سے ہی کبھی پیار سے اور کبھی ڈانٹ کرمجھے نمازکے لئے (بیت الذکر) میں بھیج دیا کرتی تھیں اور اگر میں کبھی کچھ کوتاہی کرتا تو بڑے افسوس اور حیرت سے کہتیں کہ طاری!تم میرے ایک ہی بیٹے ہو میںنے خدا سے تمہارے پیدا ہونے سے پہلے بھی یہی دعا کرتی تھی کہ اے میرے رب مجھے ایسا لڑکا دے جو نیک ہواور میری خواہش ہے کہ تم نیک بنو اور قرآن شریف حفظ کرو۔ اب تم نمازوں میں تو نہ کوتاہی کیا کرو۔ مگر جب میں نماز پڑھ لیتا تو میں دیکھتا کہ اُمی کا چہرہ وفورمسرت سے تمتما اٹھتا اور مجھے بھی تسکین ہوتی۔ پھر مجھے اکثر کہتیں
    "طاری !قرآن کریم کی بہت عزت کیا کرو۔"
    (الفضل14؍اپریل1944ئ)
    مجھے اللہ دیجیے
    بچپن میں حضرت مرز اطاہر احمد کا مطالبہ
    حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب معالج خصوصی حضرت مصلح موعود نے ایک دفعہ بتایا کہ
    صاحبزادہ میاں طاہراحمد صاحب کا ایک عجیب واقعہ میں تازیست نہ بھولوں گا۔1939ء کی بات ہے کہ حضرت مصلح موعود (نور اللہ مرقدہٗ)دھرم مسالہ میں قیام پذیر تھے اور جناب عبد الرحیم صاحب نیرؔبطور پرائیویٹ سیکرٹری حضور کے ہمراہ تھے۔ ایک دن نیرؔ صاحب نے اپنے خاص لب ولہجہ کے ساتھ کہا کہ میاں طاہر احمد آپ نے یہ بات نہایت اچھی کہی ہے جس سے میرادل بہت خوش ہوا ہے۔میرادل چاہتا ہے کہ میں آپ کو کچھ انعام دوں۔ بتلائیں آپ کو کیا چیز پسند ہے تو اس بچہ نے جس کی عمر اس وقت ساڑھے دس سال تھی برجستہ کہا"اللہ"نیرؔصاحب حیران ہوکر خاموش ہوگئے۔ میںنے کہا نیرؔصاحب!اگر طاقت ہے تو اب میاں طاہر احمد کی پسندیدہ چیز دیجئے۔ مگر آپ کیادیں گے اس چیز کے لینے کے لئے تو آپ خود ان کے والد کے قدموں میں بیٹھے ہیں۔ (تابعین اصحاب احمد جلد3صفحہ262-263)
    اب تم خلافت کا پوری طرح چارج لے لو
    اور مجھے رخصت کرو
    (رئویا میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کا فرمان)
    15؍ فروری 1984ء کو سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے رات کو اوپر تلے تین مبشر رئویا دیکھیں۔ ان مبارک نظاروں کا ذکر حضور رحمہ اللہ نے مورخہ 17؍ فروری 1984ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔
    ان میں سے پہلی رئویا میںحضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ ، حضور رحمہ اللہ سے ملتے ہیں اور فرماتے ہیں ۔"اب تم خلافت کا پوری طرح چارج لے لو اور اب مجھے رخصت کرو"
    حضور رحمہ اللہ اس خواب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
    "میں نے پہلی رئویا میں یہ دیکھا کہ ایک برآمدہ میں ایک مجلس لگی ہوئی ہے جس میں حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ؒ کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں اور آپ کے ساتھ دوسرے احمدی احباب کرسیوں میں بیٹھے آپ کی باتیں سن رہے ہیں۔ میں بھی اس مجلس میں جاتا ہوں تو خواب میں مجھے کوئی تعجب نہیں ہوتا بلکہ یہ علم ہے کہ اس وقت میں خلیفۃ المسیح ہوں اور یہ بھی علم ہے کہ آپ بیٹھے ہوئے ہیں اور اس بات میں آپس میں کوئی ٹکرائو نہیں ہے۔ یعنی ذہن میں یہ معلوم ہونے کے باوجود کہ آپ فوت شدہ ہیں اس نظارے سے طبیعت میں کسی قسم کا تردد نہیں پیدا ہوتا چنانچہ جب آپ کی مجھ پر نظر پڑی تو ساتھ والی کرسی پر بیٹھے ہوئے شخص جس کا چہرہ میں پہچانتا نہیں، ان کے ساتھ اور بھی بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں لیکن میں ان کے نام نہیں جانتا ۔ لیکن جو آپ کے قریب آدمی بیٹھا ہوا ہے اس کو اشارہ سے فرماتے ہیں کہ کرسی خالی کرو اور مجھے پاس بٹھا کر مصافحہ کرتے ہیں اور میرے ہاتھ کو اسی طرح بوسہ دیتے ہیں جس طرح کوئی خلیفہ وقت کے ہاتھ کو بوسہ دیتا ہے اور مجھے اس سے شرمندگی ہوتی ہے ۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں کہ میں جانتا ہوں کہ تم خلیفۃ المسیح ہو۔ لیکن طبیعت میں سخت شرم محسوس ہوتی ہے اور انکسار پیدا ہوتا ہے ۔ میں فوراً آپ کے ہاتھ کو بوسہ دیتا ہوں۔ تو آپ یہ بتانے کے لئے میرا بوسہ باقی رہے گا تمہارے بوسے سے یہ منسوخ نہیں ہوتا دوبارہ میرے ہاتھ کو کھینچ کرپھر بوسہ دیتے ہیں۔ اور پھر میں محسوس کرتا ہوں کہ اب تو اگر میں نے یہ سلسلہ شروع کردیا تو ختم نہیں ہوگا اس لئے اس بحث کا کوئی فائدہ نہیں۔ چنانچہ میں اصرار بند کردیتا ہوں۔
    اس کے بعد مجھے فرماتے ہیں کہ اب تم خلافت کا پوری طرح چارج لے لواور اب مجھے رخصت کرو،میرے ساتھ رہنے کی اب ضرورت کیا ہے ۔ تو میں کہتاہوں کہ اس میں ایک حکمت ہے اور وہ یہ کہ خلافت کوئی شریکا نہیں ، دنیا کی کوئی ایسی چیز نہیں جس میں کسی قسم کا حسد یا مقابلہ ہو بلکہ یہ ایک نعمت ہے اور انعام ہے ۔ میں دنیا کو بتا نا چاہتا ہوں کہ صاحب انعام لوگوں میں آپس میں محبت ہوتی ہے اور پیار کاتعلق ہوتا ہے او ر کسی قسم کا حسد یا مقابلہ نہیں ہوتا۔ تو یہ مفہوم آپ کے سامنے بیان کرتاہوں اور یہ نظارہ ختم ہوجاتا ہے ۔
    حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب کے اشارے
    خادم دین پیدا ہوں گے :
    ‏i۔ 07؍ فروری 1921ء کوحضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب نے حضرت مصلح موعود کے ساتھ حضرت سیدہ ام طاہر کا نکاح پڑھاتے ہوئے فرمایا۔
    " میں بوڑھا ہوگیا ہوں ۔ میں چلاجائوں گا مگر میرا ایمان ہے کہ جس طرح سے پہلے سیدہ سے خادم دین پیداہوئے اسی طرح اس سے بھی خادم دین پیدا ہوں گے۔ یہ مجھے یقین ہے جو لوگ زندہ ہوں گے وہ دیکھیں گے۔ " (الفضل 14؍فروری 1921ء )
    ‏ii۔ عبدالستارصاحب ریٹائرڈ سیکشن افسر(ایڈووکیٹ )لاہور حضرت مولانا سید محمد سرورشاہ کی ایک تاریخی یادداشت کا ذکرکرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
    حضرت مولوی سیدسرور شاہ صاحب نماز سے چند منٹ پہلے بیت المبارک میں تشریف لے آیا کرتے تھے ۔ نوجوان ان کے پائوں اور جسم دباتے تھے۔ میں بھی ان لوگوں میںسے تھا۔ ایک دفعہ میں نے عرض کیا ۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں اپنے پوتے مرزا نصیر احمد صاحب کا ذکر فرماتے ہیں۔ مگر وہ ہمیں نظر نہیں آئے۔ حضرت مولوی صاحب نے مسکرا کرفرمایا۔ کہ وہ فوت ہوگئے تھے۔ اور پھر فرمایا۔ کہ میں نے ایک دفعہ دیکھا۔کہ ایک بہت بڑا ڈھول ہے جو چکر لگارہا ہے اس میں خانے بنے ہوئے ہیں اور ہر خانہ میں ایک صفت لکھی ہوئی ہے اور پھر بتلایا گیا کہ جس شخص میں یہ صفات ہوں ۔ اور وہ اپنے ماں باپ کا دوسرا لڑکا ہو۔ وہ اپنے زمانہ میں سب سے بڑا شخص ہوگا۔ اس وقت ڈھول میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اوپر کا نصف جسم برآمد ہوا۔ اور آپ نے فرمایا۔ کہ وہ میں ہوں۔ اس کے بعد ڈھول چکر لگاتا رہا ۔ اور اس پر وہی صفات لکھی ہوئی ہیں ۔ پھر آواز آئی ۔ کہ جس میں یہ صفات ہوں اور وہ اپنے ماں باپ کا دوسرا لڑکا ہو وہ اپنے زمانہ میں سب سے بڑا شخص ہوگا۔ اس وقت ڈھول سے سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الثانی نور اللہ مرقدہ کا نصف جسم برآمدہوا ۔ اور آپ نے فرمایا ۔ کہ وہ میں ہوں۔ ڈھول اسی طرح چکر لگاتا رہا۔ اوردو اور وجودوں کے متعلق اسی طرح بتلایا گیا۔ کہ جس میں یہ صفات ہوں ۔ اور وہ اپنے ماں باپ کا دوسرا لڑکا ہو۔ وہ اپنے زمانہ میں سب سے بڑا شخص ہوگا ۔ میں نے تیسرے شخص کے متعلق دریافت کیا۔ا ٓپ نے فرمایا۔ وقت سے پہلے بتلانا مناسب نہیں ۔ میں نے عرض کیا ۔ کہ میں تو سمجھ گیا ہوں (یعنی تیسرے وجود حضرت مرزا ناصر احمد صاحب ہیں۔ جو مرزا نصیر احمد صاحب کے بعد اپنے ماں باپ کے دوسرے لڑکے تھے) چوتھے لڑکے کے متعلق میں نے تاریخ احمدیت جلد سوم کے صفحات 273-74دیکھے۔ جہاں حضرت مصلح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اولاد در ج ہے ۔ اس سے پتہ چلا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب بھی اپنے ماں باپ کے دوسرے لڑکے ہیں ۔ چنانچہ انہی کا انتخاب ہوا۔ اور اس طرح یہ عظیم الشان کشف پور اہوا۔
    (تاریخ تحریر20؍ جون 1982ئ)





    حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کی تمام زندگی بابرکت ہونے کی اطلاع و خوشخبری
    حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ کاایک مبارک خواب:
    آپ فرماتے ہیں۔
    ‏i۔ "ایک موقعہ پر بالکل بے حیثیت اور بے حقیقت ہو کر میں نے اپنے رب سے عرض کیا : اے خدا میرے بس میں تو کچھ نہیں ہے میرا ذہن قطعاً خالی پڑا ہے ، تو نے جماعت کے لئے جو توقعات پیدا کردی ہیں وہ میں نے تو پیدا نہیں کیں۔ جماعت احمدیہ کے امام کو دنیا ایک خاص نظر سے دیکھنے آتی ہے اور ایک توقع کے ساتھ اس کا جائزہ لیتی ہے۔ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے میں تو اس پر پورا نہیں اتر سکتا اس لئے اے خدا تو ہی میری مدد فرما چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اتنی غیر معمولی مدد فرمائی کہ مجھے یوں محسوس ہوتا تھا کہ میں خود نہیں بول رہا کوئی اور طاقت بول رہی ہے میرے ذہن میں از خود مضمون آتے چلے جارہے تھے۔
    پھر اس کے بعد میرے دل میں ایک خوف پیدا ہوا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی تائید ایک لمحے کے لئے بھی مجھے چھوڑدے تو ۔۔۔۔۔۔چنانچہ بڑی گھبراہٹ اور پریشانی میں میں نے دعا کی اے خدا تو وہ نہ بن کہ رحمت کا جلوہ دکھا کر پیچھے ہٹ جائے۔ تو نے فضل فرمایا ہے تو پھر ساتھ رہ اور ساتھ ہی رہ اور کبھی نہ چھوڑ۔
    اسی رات میں نے خواب دیکھی اور اس سے مجھے یقین ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے اس سارے سفر کو کامیاب کرے گا اور مجھے کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا یعنی جماعت کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ( بیت) بشارت اسپین کے صحن میں میرے بھائی صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب آکر مجھے گلے لگا لیتے ہیں اور پھر چھوڑتے ہی نہیں۔ میں حیران کھڑا ہوں مجھے اس وقت کچھ سمجھ نہیں آئی کہ یہ کیا ہورہا ہے انسان سمجھتا ہے کہ اب ملاقات کافی لمبی ہوگئی ہے اب بس کریں۔ لیکن وہ چمٹ جاتے ہیں اور چھوڑتے ہی نہیں اسی حالت میں خواب ختم ہوگئی۔
    صبح اٹھ کر مجھے یاد آیا کہ میں نے یہ دعا کی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ صر ف اس سفرکو بابرکت کرے گا بلکہ باقی ساری زندگی کو بھی بابرکت کرے گا۔ دنیا کو جماعت سے جو توقعات ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہم ان کو پورا کریں گے۔ یہ "ہم" کا صیغہ میں اس لئے استعمال کررہا ہوں کہ وہاں ایک شخص مرزا طاہر احمد مراد نہیں تھا۔ میری دعائیں نہ اپنی ذات کے لئے تھیں نہ ایک وجود کے لئے تھیں۔ میری دعائیں تو اس جماعت کے لئے تھیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غلامی میں آج اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بنی ہوئی ہے اس لئے جماعت سے جو توقعات ہیں وہی اس کے خلیفہ سے ہوتی ہیں اس سے الگ توقعات تو نہیں ہوا کرتیں ۔ پس میں اس خوشخبری کو ساری جماعت کے لئے سمجھتا ہوں ۔ "
    (الفضل 8؍ مارچ 1983ئ)
    ‏ii۔ موجودہ اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے "السلام علیکم "کا تحفہ :
    حضور رحمہ اللہ نے اپنے ایک کشف کا ذکر کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کی دوسری صدی کے آغاز پر پہلے خطبہ جمعہ مورخہ 24؍مارچ 1989ء کو فرمایا :
    "وہ خدا جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس کو گواہ ٹھہرا کر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے بڑے پیاراور محبت کے ساتھ واضح اور کھلی کھلی آواز میں اس صدی کا پہلا الہام مجھ پر یہ نازل کیا کہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ تا کہ میں اسے تمام دنیا کی جماعتوں کے سامنے پیش کرسکوں۔ دنیا چاہے ہزار لعنتیں آپ پر زبانی ڈالتی پھرے۔ کروڑ کوششیں کرے آپ کو مٹانے کی مگر اس صدی کے سر پر خدا کی طرف سے نازل ہونے والا سلام ہمیشہ آپ کے سروں پررحمت کے سائے کئے رکھے گا۔ پس وہ مخلصین جو اس آواز کو سن رہے ہیں اور وہ سب احمدی جو اس آواز کو نہیں سن رہے سب کو (اللہ تعالیٰ کی طرف سے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کا تحفہ) پہنچے۔ مجھے کامل یقین ہے کہ یہ سلام ان احمدیوں کو بھی پہنچے گا جو ا بھی پیدا نہیں ہوئے، ان احمدیوں کو بھی پہنچے گا جو ابھی احمدی نہیں ہوئے۔ ان قوموں کو بھی پہنچے گا جن تک ابھی احمدیت کا پیغام نہیں پہنچا۔ آئندہ سو سال میں احمدیت نے جو ترقی کرنی ہے ہم ابھی اس کا تصور بھی نہیں باندھ سکتے ۔ لیکن یہ میں جانتا ہوں کہ دنیا میں جہاں بھی احمدیت پھیلے گی ان سب کو اس سلام کا تحفہ ہمیشہ ہمیش پہنچتا رہے گا مجھے کامل یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چاہا تو خداتعالیٰ تقویٰ کی نئی لہر اس صدی کے لئے بھی جاری کرے گا اور رحمتوں کے نئے پیغام آئندہ صدی کے لئے خود پیش فرمائے گا۔
    ( الفضل 4؍اپریل 1989ئ)



    مبشر رؤیا ، خوابیں اور الٰہی اشارے
    ۱۔ مکرم آغا محمد عبداللہ خان صاحب فاروقی احمدی ۔بھڈانہ تحصیل گوجر خان ضلع راولپنڈی
    مکرم آغا محمد عبداللہ خان صاحب فاروقی احمدی بمقام بھڈانہ تحصیل گوجر خان اپنی تصنیف "کوکب دری" مطبوعہ1930ء کے صفحہ5 پر اپنا ایک کشف درج کرکے تحریرفرماتے ہیں ۔
    "لیکن اب آفتاب ایک پرندہ کی شکل میں متمثل ہوگیا۔ اس کے چار پرتھے پہلے پَر کے اگلے حصہ پر "نور " لکھا ہوا تھا ۔ اوردوسرے پر کے 1/3 حصہ پر"محمود" تیسرے پَر کے عین وسط میں"ناصر الدین" اور چوتھے پر"اہل بیت" ان چاروں پَروں کے زیر ایک زرد چادر اور ایک سرخ چادر تھی۔ سرخ چادر زمین پرگر پڑی اور زردچادرآفتاب میں سماگئی ۔ تخمیناً 75، لمحوں کے بعد آفتاب اسی منارہ بیضاء کے عین جنوب کی طرف غائب ہوگیا ۔ اور پھر سارے کشف میں نظر نہ آیا "
    اس کشف کو مکرم مولانا جلال الدین شمس صاحب سابق ناظر اصلاح وارشاد نے اپنی تصنیف بشارات ربانیہ میں بھی درج فرمایا ہے۔ اور سیدنا طاہر سووئیز از جماعت احمدیہ برطانیہ میں یہ کشف درج کرکے لکھا ہے کہ حضرت صاحبزادہ مرزاطاہر احمد صاحب کا شجرہ نسب ماں اور ننھیال کی طرف سے حضرت علی ؓ سے جاملتا ہے ۔
    …٭…٭…٭…
    ۲۔ مکرمہ امتہ الرشید بیگم صاحبہ دارالبرکات ر بوہ
    خدائے قدوس کی قسم کھا کر جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے عرض کرتی ہوں کہ 1940-41ء میں میں نے ہاتف غیبی کی نہایت صاف اور بڑی اثر انگیز آواز سنی۔
    ـ"خلیفۃ المسیح حضرت میاں طاہر احمد صاحب ہوں گے "
    میرے مرحوم میاں ان دنوں انبالہ چھائونی میں ریلوے ملازم تھے۔ انہیں میں نے یہ بات بتا کر اپنے محبوب امام حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ کی بارگاہ میں بذریعہ ڈاک یہ سب واقعہ لکھ بھیجا ۔جس کا جواب حضور کی طرف سے یہ موصول ہوا کہ خلیفہ کی موجودگی میں ایسے رئویا وکشوف صیغہ راز میں رہنے چاہیے اورتشہیر نہیں کرنی چاہیے ، چنانچہ خلافت ثالثہ کے قیام کے موقع پر میں یہی سمجھی کہ شاید میاں طاہر احمد صاحب سے اللہ تعالیٰ کی مراد یہ ہے کہ ہمیں ایسا خلیفہ عطا ہو جو طاہر اور مطہر ہو۔ اب حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے انتخاب پرمعاملہ صاف ہوگیا ۔ خدا کاکہنا پورا ہوا اور روح جھوم اٹھی الحمدللہ ثم الحمد للہ۔
    …٭…٭…٭…
    ۳۔ مکرم برکت علی ننگلی صاحب دارالرحمت غربی ربوہ
    اس عاجز نے 1945ء میں ایک خواب دیکھا تھا۔ ان دنوں خاکسار جماعت احمدیہ چک 106/Pرحیم یار خان کا صدر تھا۔ خواب میں میں قادیان میں حضرت میر محمد اسحاق صاحب کے باغیچہ کی غربی طرف سڑک کے غربی کنارے پر شرقی طرف رخ کر کے کھڑا ہوں۔ کہ اس سڑک پر جو کہ کوٹھی نواب محمد علی خان صاحب دارالسلام کی طرف سے شہر کی طرف آتی ہے، حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہٗ کی کوٹھی دارالسلام کی طرف سے شہر کی طرف تشریف لا رہے ہیں۔ اور ان کے ساتھ حضرت چوہدری فتح محمد صاحب ، حضرت مفتی محمد صادق صاحب ،حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب اور حضرت مولوی شیرعلی صاحب بھی ایک گروپ کی صورت میں تشریف لارہے ہیں جب یہ گروپ قریب آیا تو میں دل میں خیال کرتا ہوں کہ شائد راستہ چلتے ہوئے حضور کے ساتھ مصافحہ کی اجازت ہے یا نہیں۔ میں اسی سوچ میں تھا کہ حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ ‘میرے بالکل قریب آگئے اور حضور نے اس عاجز کی طرف رخ فرما کر اپنا ہاتھ مصافحہ کے لئے میری طرف بڑھایا ۔خاکسار نے آگے بڑھ کر حضور سے مصافحہ کیا اور وہ گروپ شہر کی طرف بڑھ گیا۔ ابھی میں اسی جگہ کھڑا ہوں کہ دوسرا ایک گروپ جو پہلے گروپ کے پیچھے آرہا تھا میرے قریب آگیا۔اس گروپ میں سے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے میرے قریب آکر اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا اور میں نے مصافحہ کیا۔ پھر ابھی میں وہیں کھڑا تھا کہ ایک تیسرا گروپ قریب آگیا اس میں سے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے ہاتھ بڑھا یا اور میں نے آگے بڑھ کے مصافحہ کیا۔
    اس تیسرے مصافحہ کے بعد ان گروپوں کے پیچھے بہت دُور تک گروپ ہی گروپ آتے دیکھ کرمیں حیران ہوگیا ۔اس کے بعد فوراً نظارہ بدل کر بہشتی مقبرہ کو جانے والی سڑک کا ہوگیا ۔
    …٭…٭…٭…

    ۴۔ مکرم عبدالمنان شاہد صاحب مربی سلسلہ احمدیہ ہال کراچی
    1952ء میں خواب میں دیکھا تھا کہ آسمان پر بے شمار چاند اور موٹے موٹے ستارے ہیںاور ان کا عجیب منظر ہے اور میں احمد نگر کی بیت احمدیہ کی طرف آرہا ہوں تو حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد ظاہر ہوئے تو دیکھا کہ آپ کے منہ اور ناک اور آنکھوںسے اللہ تعالیٰ کے نور کی شعاعیں نکل رہی ہیں ۔ اور مجھے آج تک لطف آرہا ہے۔ اس وقت سے مجھے حضرت صاحبزادہ صاحب سے بہت ہی محبت ہے اور سمجھتا تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بہت بلند مقام بخشے گا۔
    (تاریخ تحریر04؍ جولائی 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۵۔ مکرم مرزاعبدالرشید صاحب وکالت تبشیر ربوہ
    1954ء میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ‘ نے نوجوانوں کو درود شریف بکثرت پڑھنے کی طرف توجہ دلائی۔ چنانچہ عاجز نے نماز میں جو درود شریف درج ہے اس کا ورد اپنا معمول بنالیا ۔ سوموار اور جمعرات کا روزہ بھی رکھنا شروع کیا۔ ایک روز سحری کے وقت درود شریف کا ورد کرتے ہوئے آنکھ لگ گئی۔ دیکھا کہ میں بیت مبارک میں داخل ہورہا ہوں ۔ ہر طرف چاندنی ہی چاندنی ہے۔ جتنی تیزی سے ورد کرتا ہوں سرور بڑھتا جاتا ہے ۔ اور چاندنی واضح ہوتی جاتی ہے خواب میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد نور کا ہالہ اس قدرتیز ہے کہ آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔باوجود کوشش کے شبیہ مبارک پرنظر نہیں ٹکتی۔ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف سیدنا مسیح موعود علیہ السلام ہیں اور پھر سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نور اللہ مرقدہٗ تشریف فرما ہیں۔ سیدنا حضرت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک سے نور کا ہالہ چلتا ہے جو سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جسم مبارک سے گزر کر حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نور اللہ مرقدہ کی طرف جاتا ہے۔ ان تینوں مقدس ہستیوں کے سامنے درمیان میں حضرت مصلح موعود ہیں ان پر بھی نورانی شعاعیں پڑ رہی ہیں ۔ا ن کے بعد حضرت مرزا ناصر احمد صاحب (رحمہ اللہ) اور حضر ت مرزا طاہر احمد ہیں (رحمہ اللہ) دونوں ساتھ ساتھ ہیں۔ا س کے بعد ۹ شبیہیں دیکھیں ۔لیکن ان کے چہرے ذہن میں محفوظ نہیں رہے ۔
    میں نے یہ خواب حضرت خلیفۃالمسیح الثانی(نور اللہ مرقدہ) کی خدمت میں لکھی حضور نے فرمایا بڑی مبارک ،بڑی مبارک ، بڑی مبارک خواب ہے ۔ حضور نے ارشاد فرمایا کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سے ملیں۔ حضرت میاں صاحب سے ملاقات ہوئی تو دس پندرہ دفعہ سے زائد مجھ سے نظارہ سنا ۔ اور بار بار سوالات بیچ میں کرتے رہے ۔ پھر فرمایا کسی سے خواب بیان نہیں کرنی ۔ خلافت ثالثہ کا انتخاب ہوا تو پھر یہ نظارہ لکھ کر بھجوادیا حضرت مولاناجلال الدین شمس صاحب کے ذریعے پیغام ملا کہ حضورفرماتے ہیں کہ خواب آگے بیان نہیں کرنی ۔ خاکسار نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع (رحمہ اللہ )کو خواب میں پگڑی باندھے دیکھا تھا۔ اس بناء پر کبھی کبھی کہا کرتا تھا کہ حضور پگڑی باندھا کریں حضور فرمایا کرتے ۔
    "میں پگڑی کے لوازمات پورے نہیں کرسکتا اس لئے پگڑی نہیں پہنتا ۔ "
    (تاریخ تحریر05؍ جولائی 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۶۔ مکرم محمداشرف احمد صاحب آف کرونڈی ناظم انصار اللہ ضلع خیر پور
    یہ واقعہ 1954ء یا 1955ء کا ہے کہ میں نیا نیا احمدی ہوا تھا اور رانی پور کے مقام پر رہتا تھا یہی جون کا مہینہ تھا محرم کی دسویں را ت کو میں چھت پرسویا ہوا تھا کہ اہل شیعہ کا ماتمی جلوس مکان کے نیچے چوک میں کھڑا ہوگیا اور دردناک مرثیے پڑھنے شروع کردئیے اور ماتم کی مجلس زور و شور سے شروع ہوگئی۔ میری آنکھ کھلی تو میں اس قدردرد سے مضطرب ہوا کہ اپنے آپ سے سوال کرنے لگا کہ اشرف تو اپنے آپ کو بڑا عاشق رسول کہتا ہے دیکھ یہ لوگ جن کو عشق ہے اپنے آپ کو کس طرح بے دردی سے کوس رہے ہیں تیرا ان سے آگے مقام ہے؟ اٹھ اور اپنے خدا کے آستانہ پرگر کر دعا کر کہ اللہ تعالیٰ شیعہ کے درجات بلند فرمائے ۔ میں نے وضو کیا اور نماز کے لئے کھڑا ہوگیا اور بڑے دردو الحاح سے دعا کی کہ میرے قادرخدا تو ہر قدرت کا مالک ہے میں تیرے آگے التجا کرتا ہوں کہ جس عظیم الشان انسان کو یہ چودہ سو سال سے درد ملے ہیں مجھے اس کا دیدار کرادے جب میں نے دعا کرنی شروع کی تو غیر معمولی کیفیت میری ہوگئی جو میں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا جب میں نے سجدہ سے سر اٹھا یا ابھی تھوڑا ہی اوپر ہوا تھا کہ میرا جسم ساکت ہوگیا میں پوری طرح اوپر نہ اٹھ سکا اور دیکھا کہ چاروں طرف ایک عجیب قسم کی روشنی پھیل گئی اور ایک نوجوان کی نورانی شکل میرے سامنے آگئی جو دور سے اس طرح آئی جس طرح گھوڑ ے پر سوار ہو اور مجھے کمر تک نظر آرہا تھا۔ ٹھوڑی میں چاہ زقن اچھی طرح پر خدوخال سے عربی تھا یہ کیفیت تھی کہ میں کوئی بات نہیں کرسکتا تھا نہ اس نے کوئی بات کی۔ تھوڑی دیر بعد یہ کیفیت ختم ہوگئی اور میں نے بقیہ نماز ختم کی اور میرا جسم پوری طرح کانپ رہا تھا باوجود گرمی کے میں سردی محسوس کررہا تھا لیکن ایک لذت آشنائی تھی جو ہر لمحہ بڑھ رہی تھی جب میں تصور میں یہ دیکھتا تو یوں محسوس کرتا کہ یہ میرے پاس ہی ہے ۔میں اس تڑپ میں تھا کہ دیدار نصیب ہو ایک منٹ میری نظروں سے یہ شکل محو نہیں ہوئی۔ میں اسی سال باوجود غربت کے جلسہ سالانہ پر چلا آیا ۔ربوہ کچی بیرکوں میں قیام تھاہمیں کھانا کھلانے والے نوجوانوں میں وہی شکل مجسم میرے چاروں طرف پھر رہی تھی اور ہدایات دے رہی تھی کہ مہمانوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو میری وہی کیفیت ہو گئی اور بڑھ کر بات کرنے سے بھی ڈر رہا تھا ۔میں نے دوسرے خدام نوجوانوں سے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے تو مجھے بتلایا گیا یہ میاں طاہر احمد صاحب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نوراللہ مرقدہ کا فرزند ۔دوسرے دن میں نے جرأت کر کے سارا واقعہ عرض کردیا تو کمال معصومیت سے فرمایا یہ آپ کی عقیدت ہے ۔میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو اس سے پہلے کبھی دیکھا بھی نہیں تھا عقیدت کیسی۔ جب میں نے آپ کے دست مبارک پر بیعت کی تو وہی واقعہ میری نظروں کے سامنے آگیا اور میں نے حسین الثانی سمجھ کر بیعت کی بموجب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کہ صد حسین است درگرِ یبانم
    یہ واقعہ اگر میں نے جھوٹ تحریر کیا ہے تو خدا کی مجھ پر *** ہو۔
    (تاریخ تحریر 18؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۷۔ مکرم بشیر احمد صاحب جنرل سیکرٹری حلقہ ہائوسنگ سوسائٹی کراچی
    1960-61ء کی ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ربوہ میں گولبازار کے ساتھ ریلوے کراسنگ کے قریب ایک عمارت میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ نے میرے لئے ایک وسیع دعوت کا بندوبست فرمایا ہے ۔ میں حضور کے سامنے بیٹھا ہوں حضرت مرزا ناصر احمد( رحمہ اللہ) حضور کے بالکل ساتھ اور حضرت مرزا طاہر احمد( رحمہ اللہ) ان کے بعد بیٹھے ہیں ان کے بعد دوچھوٹے چھوٹے لڑکے دو رویہ قطاروں میں کھڑے ہیں۔ یہ چھوٹے بچے کھانے کی ٹرے حضرت مرزاطاہر احمد صاحب کو پیش کرتے ہیں ۔ وہ یہ ٹرے حضرت مرزا ناصر احمد (رحمہ اللہ )کو پیش کرتے ہیں اور حضرت مرزا ناصر احمد صاحب (رحمہ اللہ) ہمارے آگے رکھتے ہیں ۔
    اس خواب کے دیکھنے کے بعد میں نے ملتان میں میڈیکل سٹور کھولا اور سوچا کہ شاید یہ خواب اس دکان کے بابرکت ہونے کے بارہ میں ہے لیکن جب 1965ء میں حضرت مرزاناصر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثالث بن گئے تو میں سمجھا کہ وہ قطار جو میں نے دیکھی تھی وہ دراصل خلفاء احمدیت کی قطار تھی اور حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کی باری حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے بعد تھی ۔
    …٭…٭…٭…
    ۸۔ مکرم سردار احمد خادم صاحب معلم وقف جدید نوشہرہ ورکاں ضلع گوجرانوالہ
    خاکسار1946ء میں تحقیق حق کے لئے قادیان دارالامان گیا اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کا تعارف جناب قیس مینائی صاحب کے ذریعہ حاصل کرتا رہا ۔
    ایک دن بیت مبارک گیا تو سیڑھیوں کے اوپر جناب میاں طاہر احمد صاحب کھڑے تھے ۔ آپ اس وقت نوعمر تھے۔ سر پر کاسنی رنگ کی پگڑی باندھ رکھی تھی۔ نہایت خوبصورت جوان تھے ۔ میں بغل گیر ہوا اور باتیں کیں تو ان کی مدلل گفتگو سے میں بہت خوش ہوا۔ جب بیعت کر کے واپس گجرات آیا توایک دن خواب میں جناب میاں طاہر احمد صاحب کو اسی پگڑی میں دیکھا۔ کسی نے کہا کہ یہ زین العابدین ہیں۔ میں اس کی تعبیر یہ کر تا رہا کہ میاں صاحب بہت عابد و زاہد انسان ہیں ۔ جب بھی آپ کو دیکھتا تو یہ بات یاد آجاتی۔ اب 10؍ جون1982ء کو تعبیر سامنے آگئی ۔ کہ خاکسار چونکہ اثناء عشریہ سے احمدی ہوا تھا اور اثناء عشری عقیدے کے لحاظ سے زین العابدین حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چوتھے امام تھے۔ا ور اب حضرت مرزا طاہر احمد صاحب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے چوتھے خلیفہ اور امام جماعت احمدیہ بنے ہیں۔
    …٭…٭…٭…
    ۹۔ مکرمہ امتہ الرشید صاحبہ والدہ نعیم احمد طاہر کراچی
    عاجزہ نے 1965ء میں حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ کی وفات سے چند روز قبل خواب میں دیکھا کہ حضرت ام ناصر اپنے گھر میں ہیں اورایک بہت بڑا کمرہ ہے۔ اور بہت خوبصورت پلنگ بچھا ہوا ہے اس پر ایک خوبصورت گائوتکیہ کے سہارے حضرت ام ناصر بیٹھی ہوئی ہیں۔ میں ان کو دیکھ کر جلدی سے اندر جاتی ہوں اور بڑے زور سے آپ کوالسلام علیکم کہتی ہوں۔ آپ مجھے فرماتی ہیں کہ چھوٹی آپا کے گھر آج دعوت ہے سب لوگ کھانا کھا رہے ہیں تم نے کھایا ہے ۔ میں نے عرض کیا کہ کس با ت کی دعوت ہے آپ فرماتی ہیں کہ تمہیں علم نہیں آج ناصر دولہا بنا ہے۔ اس ساری گفتگو کے دوران میں نے دیکھا کہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب حضرت امّ ناصر کے پیچھے اس طرح کھڑے ہیں کہ ان کے دونوں کندھوں کے درمیان میں ہیں۔ اور آپ مجھے دیکھ کر مسکرا رہے ہیں ۔ جب حضرت ام ناصر نے فرمایا کہ تمہیں علم نہیں آج ناصر دولہا بنا ہے تو ساتھ ہی حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اس کے بعد ان کی باری ہے ۔ اس کے بعد میںچھوٹی آپا کے گھر جاتی ہوں ۔ وہاں جا کر دیکھا کہ سب لوگ وہا ں جمع ہیں اورکھانے کا اہتمام ہے اور ساتھ ہی میرے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ مغرب کی نماز کا وقت ہوگیا ہے۔ نماز پڑھنی چاہیے ۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔
    …٭…٭…٭…
    ۱۰۔ مکرم سید سخاوت شاہ صاحب ایڈووکیٹ ۔کراچی
    جب حضرت مصلح موعو د نور اللہ مرقدہ کا وصال ہوا تو خاکسار نے رئویا میں دیکھا کہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفۃ المسیح کے منصب پر فائز ہوئے ہیں اور حضور جماعت سے بیعت لے رہے ہیں۔ جب حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثالث کے منصب پر فائز ہوئے تو میں نے اپنی رئویا کی یہ تعبیر کی کہ ایک پاک نفس خلافت کے منصب پر سرفراز ہوا ہے ۔ مگر بعد میں مجھے یہ القاء کیا گیا کہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب چوتھے خلیفہ ہوں گے ۔
    …٭…٭…٭…
    ۱۱۔ مکرم نصیر احمد صاحب راجپوت عزیز آباد کراچی
    میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک وسیع میدان ہے اور اس میں احباب جماعت جمع ہیں۔ جلسہ کی صورت ہے ۔ اسٹیج پر جلسہ کی صدارت حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ‘ فرما رہے ہیں اور تقریر صاحبزادہ میاں رفیع احمد صاحب کررہے ہیں ۔ تقریر کے دوران وہ کسی آیت کی تفسیر بیان کرتے ہیں ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ‘ان کو ٹوکتے ہوئے کہتے ہیں"نہیں ایسا نہیں " جواب میں میاں رفیع احمد صاحب کہتے ہیں "نہیں حضور ایسا ہی ہے " اور پھر تفسیر دہرانا شروع کردیتے ہیں ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ‘ پھر فرماتے ہیں "نہیں ایسا نہیں " جواب میں میاں رفیع کہتے ہیں "نہیں حضور ایسا ہی ہے " اور پھر وہی تقریر دہرانا شروع کردیتے ہی ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ‘کسی قدر غصہ کے لہجہ میں فرماتے ہیں "میں جو کہتا ہوں کہ ایسا نہیں " جواب میں پھر میاں رفیع احمد صاحب کہتے ہیں کہ "نہیں حضور ایسا ہی ہے " اور پھر وہی تفسیر دہرانا شروع کردیتے ہیں۔ اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ‘ انتہائی غصہ میں فرماتے ہیں "اگر تم باز نہیں آئو گے تو میں تمہیں بٹھا دوں گا" اس پر جلسہ برخواست ہو جاتا ہے اور سب احمدی احباب گھروں کو لوٹ جاتے ہیں ۔ میں بھی اپنے گھر جارہا ہوتا ہوں ۔ تو مجھے کچھ احمدیوں کی جو میرے پیچھے پیچھے آرہے ہوتے ہیں آپس میں باتیں کرنے کی آوازیں آتی ہیں۔ میں ان کی گفتگو سننے کے لئے رک جاتا ہوں ۔ وہ آپس میںایک دوسرے سے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ
    "میاں طاہر احمد صاحب کا پھر کچھ اور ہی مقام ہے" اور میری آنکھ کھل جاتی ہے۔
    میرا یہ خواب میرے والد محترم قاضی محمود احمد صاحب مالک محبوب عالم اینڈ سنز دی راجپوت سائیکل ورکس نیلا گنبد لاہور نے1966ء میں ہی حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ)کی خدمت میں تحریر کردیا تھا ۔
    (تاریخ تحریر24؍جون 1982ئ)
    ۱۲۔ مکرم لطیف احمد شمس صاحب رچنا ٹائون شاہدرہ لاہور
    تقریباً 1970-71ء کو مجھے ایک خواب آئی جو میں نے صبح اٹھ کر اپنی والدہ کو سنائی تو انہوں نے کہا مجھے بھی آج رات ایسی ہی خواب آئی ہے دونوں خوابوں میں حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کے خلیفۃ المسیح ہونے کا مفہوم پایا جاتا تھا ۔ اتنا عرصہ گذرجانے کی وجہ سے ہمیں خوابیں یاد نہیں ہیں مگر ذہن میں حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کے متعلق خلیفۃ المسیح ہونے کا خیال پختہ ہوچکا تھا ۔ چنانچہ جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے وصال کی خبر ملی اور میں ربوہ جانے کے لئے تیار ہوا تو میں نے اپنی اہلیہ بشریٰ پروین صاحبہ کو بتایا کہ میرے خواب کے مطابق حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الرابع ہوں گے۔ الحمد للہ کہ خلافت رابعہ کے قیام سے یہ خواب پوری ہوگئی ۔
    …٭…٭…٭…
    ۱۳۔ مکرمہ نفیسہ طلعت صاحبہ دختر شیخ فضل کریم صاحب وہرہ مرحوم اہلیہ وارنٹ آفیسر
    مرزا سعید احمد صاحب کراچی
    1970ء میں جب کہ میں بانی منزل دارالبرکات ربوہ میں مقیم تھی۔ میں نے رات کو خواب میں دیکھا ۔ کہ گویا زمین بڑی چھوٹی سی سمٹ کر سامنے آگئی ہے۔ اورگول دائرے کی شکل میں ہے ۔ اس کے گرد رنگ برنگی اور سفید لیکن تیز روشنیاں گھوم رہی ہیں۔ جو بہت ہی خوبصورت اور دل کو پیاری لگتی ہیں پھر دیکھا کہ زمین کے اندر سے ایک نام ابھرا اور وہ تھا "مرزا طاہر احمد "
    (تاریخ تحریر19؍ جون 1982ئ)
    ۲۳۔ مکرم وارنٹ آفیسر مرزا سعید احمد صاحب شاہراہ فیصل کراچی
    اس عاجز نے عرصہ دراز ہوا ایک خواب میں دیکھا تھا کہ گویا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ‘ نوجوان ہو کر اس دنیا میں واپس آگئے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ میں اس لئے اس دنیا میں ہوں ۔ کہ آپ لوگوں کے بیرونی ملکوں کے جو راستے بند کردئیے گئے ہیں ان کو کھول دوں۔
    (تاریخ تحریر17؍جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۵۔ مکرم رانا رفیق احمد صاحب جہانگیر پارک لاہور
    ہماری نانی جان صاحبہ جو رفیقہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہیں اور مکرم کریم بخش (نان بائی )کی صاحبزادی ہیں اور زوجہ مکرم صوفی حبیب اللہ خان ہیں اور ام سعید اللہ خان پروفیسر اسٹیٹ T.I. Collage.ہیں انہوں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) اپنی پگڑی جناب مرزا طاہر احمد صاحب کو دے رہے ہیں اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی انہوں نے پاس بیٹھے ہوئے دیکھا ۔
    (تاریخ تحریر13؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۶۔ مکرم سلطان آثم صاحب بھابڑہ تحصیل بھلوال ضلع سرگودھا
    1972-73ء کی بات ہے جب کہ میں ڈیرہ غازی خان میں ملازم تھا کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث( رحمہ اللہ ) قتل ہوگئے ہیں اور ان کی جگہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کو خلیفۃ المسیح الرابع منتخب کیا گیا ہے اس خواب سے میں نے حضور ( رحمہ اللہ) کو بھی اطلاع دی تھی اور چند دوستوں بشمول بڑے بھائی اوروالدہ کو بھی اس خواب سے مطلع کیا تھا جس کے یہ احباب گواہ ہیں ۔
    …٭…٭…٭…
    ۱۷۔ مکرم ملک محمود احمد صاحب قائد علاقہ مجلس خدام الاحمدیہ راولپنڈی ڈویژن
    30؍ ستمبر 1972ء ساڑھے تین بجے ابھی ابھی ایک خواب دیکھ کر بیدار ہواہوں ۔ جس کاکچھ حصہ نسبتاً واضح طور پر یاد ہے اور کچھ حصہ دھندلا ہے۔
    سب سے پہلے دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ )حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کو ایک تحریر دے رہے ہیں جو گویا جانشینی کے بارے میں ہے ۔ اس وقت بہت سے لوگ مجلس میں موجود ہیں ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) ایک ایسی جگہ پر ہیں جو سٹیج نما ہے۔اور اہل مجلس ا س سے پچھلی طرف (ہیں)۔ میں اس مجلس میں موجود ہوں۔ محترم صاحبزادہ صاحب حضور کے پاس سٹیج پر ہیں۔
    حضور نے غالباً تین یا دو نام لکھ کر محترم صاحبزادہ صاحب کو دئیے ہیں ۔ حضرت میاں طاہر احمد صاحب جلدی سے باہر نکل گئے ہیں ۔ اور ان کے چہرے اور حرکات و سکنات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت Embarrassedمحسوس کر رہے ہیں کہ جانشینی کے مسئلہ کی بات حضور کریں۔(اور میاں صاحب کے چہرے کے تاثرات حضور سے انتہائی محبت اور احترام کی وجہ سے ہیں)
    (تاریخ تحریر05؍جولائی 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۸۔ مکرم بشیر احمد صاحب مرزا راجوری صدر جماعت احمدیہ چک جمال ضلع جہلم
    خاکسار کے بیٹے عزیز ڈاکٹر مبشراحمد مرزا حال میڈیکل دولتالہ ضلع راولپنڈی نے 1972ء میں ایک خواب دیکھا کہ ایک عظیم الشان وسیع ہال ہے۔ جسے شاہانہ نوعیت کے فرنیچر اورپردوں سے آراستہ کیا گیا ہے ۔اس میں رسم تاج پوشی کے لئے عمائدین کی ایک بڑی تعداد جمع ہے۔ اس تقریب میں حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کے سر پر ایک خوبصورت تاج شاہی پہنایا جاتا ہے۔
    …٭…٭…٭…
    ۱۹۔ مکرم نذیر احمد سندھوصاحب ایڈووکیٹ بورے والا ضلع وہاڑی
    میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں کہ رمضان شریف کے 19ویں روزے کے لئے تراویح پڑھ کر 17/16اکتوبر 1973ء کی درمیانی شب بمقام خانیوال ابھی سویا ہی تھا کہ کسی نے یہ پریشان کن خبر دی کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) وفات پاگئے ہیں پریشانی اور گھبراہٹ میں مجھے سب سے پہلے نظام خلافت کی فکر ہوئی اور میں نے فوراً گھبراہٹ میں پوچھا کہ اب خلیفہ کون ہوئے ہیں جواب ملا کہ میاںطاہر احمد صاحب اس پہلو سے اطمینان ہوا مگر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ )کے فراق میں زار زار رونے لگا اسی سوزوغم میں روتے روتے میری آنکھ کھل گئی ۔
    …٭…٭…٭…
    ۲۰۔ مکرمہ نصرت صاحبہ بنت صوبیدار عالم اعوان صاحب منڈی بہائوالدین
    غالباً 1974ء میں مہینہ یاد نہیں ۔ ایک رات نفل پڑھنے کے بعد میںسوئی تو خواب میں دیکھا کہ میں نے کسی بہت بڑی دعوت کا انتظام کیا ہے ۔ اور میں بے شمار مہمانوں کی آمد کا انتظار کر رہی ہوں۔ اس ہجوم میں حضر ت خلیفۃ المسیح الثالث( رحمہ اللہ )اور حضور کی حرم محترمہ حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ بھی ہمراہ ہیں۔ حضور مجھ سے فرماتے ہیں "آج ہم آپ سب میں موجود ہیں۔ آپ کے بلانے پرہم آئے ہیں مگر پھر شاید ہم ایسا جس طرح آپ کے گھر آئے ہیں۔موقع نہ ہو" میں نے شرارت سے کہا اے ہمارے پیارے والد ! آپ نہ ہوں گے تو پھر کون ہوگا؟ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کچھ دیر میری طرف دیکھ کر مسکراتے رہے اور پھر فرمایا "طاہر " اس سے آگے حضور کچھ نہ بولے۔
    پھر حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ نے فرمایا
    "میں پہلے ہی اس جہان میںنہ رہوں گی۔"
    اس کے بعد کچھ دیر میں کھڑی رہی ۔ اور اتنے میں میری آنکھ کھل گئی۔
    …٭…٭…٭…
    ۲۱۔ مکرم شریف احمد راجوری صاحب کنری ضلع تھرپارکر
    خاکسار نے 1975ء یا1976ء میں خواب دیکھا کہ ایک جگہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) بیٹھے ہیں ان کے سامنے خاکسار اور ایک دوسرا آدمی بیٹھا ہے جس کو میں نہیں جانتا ۔
    وہ دوسرا شخص مجھے مخاطب کر کے کہتا ہے کہ ان حضرت صاحب یا حضور (مجھے یاد نہیں رہا کیا لفظ استعمال کیا ) کے بعد میاں طاہر احمد صاحب خلیفہ ہوں گے۔ میں نے اس شخص کو کہا کہ خلیفہ کی زندگی میں کسی دوسرے کا نام بطور خلیفہ لینا گناہ ہے ۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔
    یہ خواب میں نے اپنے چھوٹے بھائی عزیزم مبارک احمد صاحب راجوری کو بھی بتایا تھا۔ میرے چھوٹے بھائی صاحب نے جواب دیا تھا کہ چند دن ہوئے میں نے بھی اسی سے ملتا جلتا ہی خواب دیکھا ہے۔
    …٭…٭…٭…

    ۲۲۔ مکرم عبداللطیف مومن صاحب مسلم بازار بھکر
    عرصہ تقریباً 7/8سال کا ہوا میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کرسی پر تشریف فرما ہیں اور حضور کا چہرہ اقدس مشرق کی طرف ہے آپ ؑ کے دائیں طرف چار کرسیاں ہیں جن پر علی الترتیب حاجی الحرمین حضرت خلیفۃ المسیح الاول (اللہ آ پ سے راضی ہو) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نوراللہ مرقدہٗ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) اور چوتھی کرسی پر حضرت مرزا طاہر احمد خلیفۃ المسیح الرابع (رحمہ اللہ)بیٹھے ہیں۔میں اس پر خدائے ذوالجلال کی قسم کھا سکتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے میں نے اس کا ذکر بعض دوستوں سے کیاتھا۔
    (تاریخ تحریر17؍جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۲۳۔ مکرم عبدالسلام خان صاحب لاہور
    خواب میں دیکھا کہ سردار مصباح الدین صاحب (آف چنیوٹ ) مجھ سے فرماتے ہیں خاندان حضرت اقدس میں سے طاہر احمد آگے نکلے گا۔
    مکرم سردار مصباح الدین صاحب کومیں نے یہ خواب تحریر کر کے درخواست کی کہ وہ صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کی خدمت میں خود جا کر یہ خواب سنائیں۔ سردار مصباح الدین صاحب گئے مگر خلوت میسر نہ آنے کی وجہ سے خواب نہ سنا سکے ۔ چند دن کے بعد مجھے صاحبزادہ صاحب کا خط آیا کہ محترم سردار صاحب آپ کے کسی خواب کا ذکر کر رہے تھے مگر سنائے بغیر چلے گئے۔ اس پر میں نے یہ خواب لکھ بھیجا انہوں نے جواب میں لفظ "طاہر احمد" سے استدلال کرتے ہوئے ایک نہایت لطیف تعبیر ارسال فرمائی۔
    مگر میرے دل میں اس خواب کا یہی مفہوم تھا کہ آئندہ صاحبزادہ مرزا طاہر احمد خلیفہ ہوں گے اس مفہوم کا کسی سے ذکرنہ کیا ۔
    …٭…٭…٭…
    ۲۴۔ مکرمہ عابدہ میرصاحبہ بنت محمد اکبر میرصاحب گوجرانوالہ
    مجھے خواب میں یہ آواز آئی ہے کہ
    "کاپی پنسل پکڑو جلدی لکھو مرزا طاہر احمد خلیفہ بنے گا۔"
    یہ بہت سالوں کی بات ہے سن مجھے یاد نہیں آرہا ۔ یہ خواب میں نے اپنی امی جان کے ساتھ جا کر حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کی خدمت میں سنائی تھی ۔
    (تاریخ تحریر31؍جولائی 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۲۵۔ مکرم عبدالکریم صاحب ابن مولوی سلطان علی صاحب مرحوم دارالفضل ربوہ
    خاکسار نے 1976-77کوخواب میں دیکھا کہ میں اپنے گائوں گھسیٹ پورہ ضلع فیصل آباد سے ربوہ پہنچا ہوں ۔ کیونکہ اطلاع ملی تھی کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) فوت ہوچکے ہیں۔ ربوہ پہنچنے پر معلوم ہوا کہ ایوان محمود میں خلافت کا انتخاب ہو رہاہے ۔ لوگ ٹولیوں کی شکل میں بیٹھے ہیں ہر طرف چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں ۔ تھوڑی دیر کے بعد لوگوں نے خوشی سے اچھلنا شروع کردیا اور چرچا ہوگیا کہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ مقرر ہوگئے ہیں پھر میں نے دیکھا کہ آپ نے پگڑی پہنی ہوئی ہے اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کا جنازہ بھی موجود ہے ۔ میں نے خلافت رابعہ کے قیام پر وہی نظارہ دیکھ لیا ۔ الحمد للہ
    …٭…٭…٭…
    ۲۶۔ مکرم لئیق احمد طاہر صاحب مبلغ انگلستان
    ایک دوست مکرم خواج احمد صاحب سیکرٹری مال کرائیڈن نے شوری 1316ھ (1982ئ) سے چند روز قبل بیت اقصی ربوہ کے سامنے مجھے یہ خواب سنائی کہ انہوں نے دیکھا کہ "سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) نے اپنی پگڑی حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کو پہنائی ہے " یہ خواب انہوں نے 25؍ نومبر 1977ء کو دیکھا۔
    میں نے ان سے کہا کہ یہ خواب لکھ لیں۔ کہنے لگے میں نے اپنی ڈائری میں لکھی ہوئی ہے ۔ مجھے ان کی خواب کی حقیقی تعبیر اس وقت معلوم ہوئی جب صاحبزادہ مرزا لقمان احمد صاحب نے انتخاب خلافت کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) کی دستار مبارک حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد کی خدمت اقدس میں پیش کی۔
    (تاریخ تحریر15؍ جون 1982ئ)
    ۲۷۔ مکرم ملک لطیف احمد سرور صاحب ناظم انصاراللہ ضلع شیخوپورہ
    ‏i۔ مورخہ 22اور 23؍اپریل 1976ء بروز جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات علی الصبح خواب میں دیکھا کہ ہم احمدی احباب بیت احمدیہ میں ہیںاور کچھ مہمانوں کا انتظار ہے۔اسی اثناء میں دیکھا کہ جن مہمانوں کا انتظار ہے وہ حضرت میاں طاہر احمد صاحب ہیں اُن کے آگے موٹر سائیکل سواروں کا ایک دستہ ہے اُس کے پیچھے سات سفید Toyotaکاریں ہیں۔ اُ ن کی شہر میں اچانک آمد ہے۔جس سے میں محسوس کرتا ہوں کہ حکومت اس استقبال سے حیران ہو گی۔
    ‏ii۔ مورخہ 23؍اگست 1977ء بروز منگل (ماہ رمضان ) رات سحری سے پہلے خواب میں دیکھا جیسا کہ جلسہ ہوا ہے اُس جلسہ میں تقریر سُننے کے بعد لوگ واپس اپنے اپنے گھروںکو جاتے ہیں۔لیکن میں اور مکرم صوفی محمداسحق صاحب مربی سلسلہ قصر خلافت کی سیڑھیوں پر چڑھتے ہیں ۔لوگ ہمیں دیکھ رہے ہیں۔ میں مکرم صوفی اسحق صاحب کو کہتا ہوں کہ اس وقت حضرت میاں طاہر احمدصاحب کے پا س جانا مناسب نہیں۔اور وہ ہماری وجہ سے پریشان ہوںگے ۔یہ باتیں کرتے ہوئے ہم سیڑھیوں کے اُوپر پہنچ جاتے ہیں۔ تو اُوپر حضرت میاں طاہر احمد صاحب ایک چارپائی پر بیٹھے ہوئے ہیں اور کچھ تحریر لکھ رہے ہیں۔حضرت میاں طاہر احمد صاحب نے مجھے اپنے بائیں ہاتھ چارپائی پر بٹھایا۔ حضرت میاں طاہر احمد صاحب کے سامنے حضرت خلیفۃالمسیح الثانی نور اللہ مرقدہ چارپائی پر تشریف فرماہیں اور وہ بھی حضرت میاں طاہر احمد صاحب کی تقریر کے نوٹس تیار کررہے ہیں بعد میں حضرت میاں صاحب کو سمجھا کر وہ نوٹس دے دیتے ہیں۔وہاں چارپائی پر ایک کتاب پڑی ہوئی ہے میں اُس کو دیکھ کر سمجھتا ہوں کہ حضرت میاں صاحب اپنی تقریر کی تیاری میں اس کتاب سے مدد حاصل کر تے ہیں۔
    اسی اثناء میں حضرت میاں طاہر احمد صاحب میری طرف متوجہ ہوتے ہیں اور مجھے ارشاد فرماتے ہیں کہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ سے پیار حاصل کروں ۔ چنانچہ میں اپنی گردن جھکا کر حضورکے آگے رکھتا ہوں اور وہ دونوں ہاتھوں کو میرے سر پر رکھتے ہیں۔ مجھے اُس پیار سے اس قدر خوشی ہوتی ہے جو کہ بیان سے باہر ہے اور مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسا کہ میرے سر سے گرمی جاتی رہی ہے۔ اس کے بعد حضرت میاں طاہر احمد صاحب نوٹس لے کر نیچے بیت مبارک میں تقریر کرنے کے لیے تشریف لے جاتے ہیں ۔
    ‏iii۔ مورخہ 13اور 14؍ دسمبر 1977ء بروز منگل اور بدھ کی درمیانی رات صبح4 اور5 بجے کے درمیان خواب میں دیکھا۔ جیسا کہ حضرت میاں طاہر احمد صاحب جن کی داڑھی سفید، لمبی اور بالکل حضرت خلیفۃالمسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کے مشابہ ہے۔ مائیک پر تشریف لائے ہیں اور چند فقرات کہے ہیں کیونکہ تقریر پر بندش کے نتیجہ میں آپ مائیک پر تقریر نہیں کر سکے۔ ایسا احساس ہوتا ہے کہ فوجی حکومت نے حضرت میاں صاحب کو حراست میں لیا ہوا ہے ۔جلسہ کی صورت میں کافی لوگ بیٹھے ہیں۔حضرت میاں صاحب نے مائیک پر کھڑے ہو کر خاموش دُعا کرائی ہے۔میری طرف کے کچھ لوگ کھڑے ہو کر دعا کرنے لگے ہیں اور میں بھی اُن کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہوں۔ دیگر حاضر ین جلسہ بیٹھ کر دُعا کرتے ہیں ہم چند آدمی بھی بیٹھ جاتے ہیں وہ دُعا کا منظر نہایت ہی عجیب ہے۔
    ‏iv۔ مورخہ 25اور 26؍اپریل 1982ء بروز اتوار ،سوموار کی درمیانی رات خواب میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کسی مکان میں تشریف فرما ہیں ۔ وہاں ایک کمرہ میں حضور ؑ چنداحباب سے گفتگوفرما رہے ہیں۔ اُن افراد میں مکرم چوہدری محمد انور حسین صاحب بھی ہیں۔ میں جیسا کہ بیٹھک والے کمرہ میں ہوں۔ وہاں پر اپنی ہمشیرہ مبارکہ امتہ السلام کو کہتاہوں کہ حضورؑ تھک گئے ہوںگے اس لیے اُنہیں بُلوا کر دبایا جائے۔ چنانچہ حضورؑ ہمارے کہے بغیر ہی بیٹھک میں تشریف لے آئے تو مبارکہ نے حضورؑ کے پائوں دبانے شروع کردئیے ۔حضورؑ نے سادہ سا سفید لباس پہنا ہوا ہے۔ میری زیادہ تر توجہ حضورؑ کے چہرہ مبارک پر رہی ۔ میں نے دیکھا کہ حضور ؑکی داڑھی سیاہ اور درمیانی حالت میںہے۔ رنگ گندمی قدرے سفیدی مائیل جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث(رحمہ اللہ ) کاہے اور چہرہ مبارک کی مشابہت حضرت میاں طاہر احمد صاحب سے ملتی ہے۔ رخسار پر اُبھار ہے۔ میں خواب میں حیران ہوتا ہوں کہ جو شکل ہم فوٹو میں دیکھتے ہیں۔ حضور اس سے مختلف ہیں ۔سرپر پگڑی نہیں رکھی ہوئی بلکہ ننگا ہے اور سر پر چھوٹے چھوٹے بال ہیں ۔حضور کرسی پر تشریف فرماہیں میں حضور کے کندھے دبارہا ہوں اور میری ہمشیرہ پائوں دبا رہی ہے۔ اس پر حضور خوش ہو کر فرماتے ہیں ۔
    "مجھے علم تھا کہ یہاں میری خدمت بہت ہوگی۔"
    اس کے بعد میں نے حضرت خلیفۃالمسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کو آپ کے پاس کُرسی کے قریب کھڑا دیکھا۔ آپ کی عمر اور صحت موجودہ حالات کے مطابق ہے۔ اس کے بعد میرا ذہن منتقل ہواکہ ہم تو لوگوں کو بتاتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں لیکن یہ تو زندہ ہیں۔حضور کو دیکھنے اور ایمان لانے والے رفیق ہوتے ہیں اس لئے اب میں بھی رفیق ہو گیا ہوں۔ اسی کشمکش میں میری آنکھ کھل گئی۔
    …٭…٭…٭…
    ۲۸۔ مکرم ملک رحمت اللہ آصف صاحب شیخو پورہ
    مکرم ملک لطیف احمد سرور صاحب ناظم انصاراللہ ضلع شیخوپورہ نے سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع (رحمہ اللہ ) کے نام خط میں لکھا کہ
    مکرم رحمت اللہ آصف ہنجرا شیخوپورہ نے 1975ء میں بیعت کی تھی بعدازاں 1977ء میں وہ بس کے حادثہ میں وفات پاگئے تھے۔ انہوں نے خود اپنی رئویا لکھ کردی تھی جو میں نے محفوظ کر لی تھی۔اور وہ یوں ہے۔
    میرا ایک بھائی جو کہ کوہستان بس سروس میں ملازم ہے اور لاہورS.Mکی پوسٹ پر تعینات ہے۔اس سے راولپنڈی جانے کے لئے میں نے دو فری پاس مانگے جو کہ اس نے مجھے دے دئیے ہم دونوں دوستوں نے صبح ساڑھے چار بجے راولپنڈی جانا تھا۔ لیکن جب میں را ت سو یا ۔تو خواب میں دیکھا کہ میں راو لپنڈی جارہا ہوں لیکن اس خواب میں میرا دوست مجھ سے غائب ہے حالانکہ میں اور وہ اکٹھے سوار ہوئے تھے۔ پھر میں خواب کے عالم میں ہی راولپنڈی پہنچ جاتا ہوں ۔ جب اڈے پر بس کھڑی ہوئی تو میں اُترا اور ایک سٹینڈمینجرعبدالخالق سے ملاقات ہو گئی ۔اس وقت اُس اَڈے پر کافی تعداد میں کرسیاں ،میز ، دریاں اور قناتیںوغیرہ بکھری پڑی تھی ۔میں نے عبدالخالق سے دریافت کیا کہ آج تمہارے اڈے پر کون سا فنکشن ہونے والاہے۔تو اُس نے جواب دیا کہ یہاں پر ایسا تو کوئی فنکشن نہیں ہاں اللہ تعالیٰ کے ایک بزرگ اور نیک بندے جناب حضرت میاں طاہر احمد صاحب تشریف لارہے ہیں ۔ لہذا ملک رحمت اللہ میرے ساتھ یہ کرسیاں اور میزیں سیدھی کروادیں اور اسٹیج بنادیں۔ اور یوں سب کرسیاں قناتیں وغیرہ لگ گئی۔ اور ان میزوں پر اچھے اچھے قالین بچھا دئیے گئے۔ جن کے رنگ سبز اورگہرے سبز تھے لیکن ان کے اندر قدرے سرخ رنگ کی کرنیں نظر آتی تھیں۔ لیکن پھر عالم خواب میں ایک اور منظر دیکھا کہ کرسیوںکے درمیان ایک سڑک تیار ہو چکی ہے اور اس سڑک کے آس پاس اوردونوں طرف بہت کثرت سے عوام کا ہجوم ہے ۔ میں نے دوبارہ میاں عبدالخالق سے دریافت کیا کہ وہ بزرگ کب تشریف لائیں گے تا کہ میں بھی زیارت کرسکوں ۔ تو جواب ملا کہ ابھی تشریف لاتے ہیں ۔ابھی ہم یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ میاں طاہر احمد صاحب تشریف لے آئے اورعبدالخالق نے کہا کہ وہ میاں صاحب تشریف لارہے ہیں ۔ میں نے بھی جب گھوم کر دیکھاتو ایک قد آور نوجوان ،حسین اور منور اور جلالی چہرہ نظر آیا تو میں نے پوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں عبدالخالق نے جواب دیا کہ یہی وہ میاں طاہر احمد صاحب ہیں۔ جب میں نے قدرے اپنی ایڑی کو اٹھا کردیکھا کہ آپ کے دونوں طرف کڑیل اور بہت بڑے بڑے اور بہت پھولے ہوئے شیر بھی دیکھے جو کہ آپ کے دائیں بائیں چل رہے تھے اورعوام کے ہجوم کو دیکھ کر کچھ غراتے بھی تھے تو میاں صاحب نے ان شیروں کو منع کیا کہ خبردار ہم تو اسلام کو پھیلانے کے لئے آئے ہیں نہ کہ مٹانے کے لئے اور اگر تم ان کو غراتے رہے تو یہ جو اتنی عوام یہاں پر اکھٹی ہوئی ہے یہ خوف کھا کر بھاگ جائے گی اور میں ان کو اسلام کے متعلق کچھ نہیں بتا سکوں گا ۔ میاں صاحب کے اتنے کہنے پر وہ دونوں شیر خاموش اور پیار بھری نظروں سے چلنے لگے اور اس اسٹیج تک پہنچ گئے تو میاں صاحب اسلام کی باتیں لوگوں کو بتانے لگے۔ میں نے عبدالخالق سے سوال کیا کہ یہ مرزائی یا احمدی ہیں آپ نے جواب دیا کہ یہ صاحب تو دین کے ستون ہیں اور یہاں پر جتنے عوام اکھٹے ہوئے ہیں سب احمدی ہیں صرف تم ہی احمدی نہیں ہو۔ میں نے پھر سوال کیا کہ لوگ تو احمدیوں کو کافر کہتے ہیں۔ تو اس نے جواب دیا کہ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی لوگ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کو جادوگر اور کئی کئی القاب سے پکارتے تھے لیکن جو بات حقیقت ہو وہ ہمیشہ بری معلوم ہوتی ہے ۔ اتنے میں میری آنکھ کھل گئی ۔
    …٭…٭…٭…

    ۲۹۔ مکرم منیر احمد خادم صاحب قادیان
    میرے والد محترم مولوی بشیر احمد صاحب خادم درویش قادیان نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کے دور خلافت میں حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کی خلافت کے بارے میں خواب دیکھاتھا اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ یہ خواب پوری ہوئی الحمد للہ ۔ ثم الحمدللہ ۔
    …٭…٭…٭…
    ۳۰۔ مکرمہ نعیمہ بیگم صاحبہ زوجہ حمید احمد رانا سندھی مسلم ہائوسنگ سوسائٹی کراچی
    آج سے چار سال قبل ایک خواب دیکھا اس خواب کا ذکر میں نے اپنے چھوٹے بھائی عزیزم رانا رفیق احمد سے جو کہ اسلام آباد C.D.Aمیں ہیں کیا تھا مگر خواب نہیں سنائی تھی۔ میرا ذاتی خیال تھا کہ ایک خلیفہ کی زندگی میں اس قسم کی بات ٹھیک نہیں ۔
    میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر یہ خواب بیان کر رہی ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے ۔
    عاجزہ نے خوا ب میں دیکھا کہ شہر سرگودھا میں احمدیوں کے خلاف کچھ جھگڑا ہو رہا ہے۔ ایک شخص ( جس کو میں نہیں جانتی ) کی آواز آتی ہے کہ میاں طاہر احمد صاحب کہاں ہیں کسی دوسرے نے جواب (اسے بھی میں نہیں جانتی ) میں کہا کہ وہ تو سیالکوٹ ہیںاگر وہ یہاں ہوتے تو جماعت کی خاطرجان لڑا دیتے اس کے بعد ایک اور آواز آتی ہے کہ اچھا ہے وہ یہاں نہیں ہیں۔ اگر وہ یہاں ہوتے تو شاید کسی نقصان کااحتمال ہوتا "ان کا وجود بہت قیمتی ہے کیونکہ انہوں نے تو خلیفہ ثالث کے بعد خلیفہ بننا ہے۔"
    (تاریخ تحریر12؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۳۱۔ مکرم کیپٹن ڈاکٹر بشیر احمد صاحب گولبازار ربوہ
    ‏i۔ خاکسار نے کافی عرصہ ہوا ۔ ایک خواب میں حضرت صاحبزادہ طاہر احمد صاحب کو ایک معمر ولی اللہ کی شبیہ میں دیکھا ۔ا ٓپ گوٹھ مارے بیت مبارک کے باہر کے گیٹ کے سامنے لان میں بیٹھے تھے۔ جسم مشابہ حضرت مولوی راجیکی صاحب لباس بھی اسی طرح کا تھا۔ سیاہ لمبی داڑھی بھی ان ہی کی طرح تھی۔ لوگ عقیدت سے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے پاس برکت حاصل کرنے کے لئے آجارہے تھے۔ یہ خواب اسی وقت لکھ کر خاکسار نے حضرت صاحبزادہ صاحب کو دے دی تھی ۔
    ‏ii۔ کافی عرصہ ہوا خاکسار نے خواب میں دیکھا ۔ کہ فضا میں اندھیرا چھایا ہوا ہے۔ ہاتھ کو ہاتھ نہیں سوجھتا لوگ سخت گھبراہٹ میں ادھر ادھر پریشان حال ہیں۔ اسی حالت میں ایک طرف سے روشنی نمودار ہوئی۔ لوگ پکار اٹھے یا کسی نے آواز دی۔ یاغیب سے آواز آئی کہ خلیفہ احسان الٰہی آگیا ۔ روشنی آہستہ آہستہ میرے قریب آگئی ۔میں منتظر ہوں کہ احسان الٰہی خلیفہ ظاہر ہوں۔ جب شبیہ مبارک ظاہر ہوئی۔ تو وہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کی تھی ۔اس خواب کا ذکر میں نے اپنی بیوی مبارکہ سے کردیا اور کسی سے ذکرنہ کیا ۔ نہ ہی حضرت صاحب کو لکھا ۔ کیونکہ ایک خلیفہ کی موجودگی میں کسی دوسری خلافت کا ذکر ناجائز بات ہے۔ بات بھول گئی۔ کبھی ذہن میں اس کا خیال بھر نہ آیا ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) کی اچانک وفات پاجانے پر میری بیوی نے مجھے یاد کرایا۔ اور میں اللہ تبارک وتعالیٰ عالم الغیب کا یہ نشان دیکھ کر از حد محظوظ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے صد فی صد خواب سچ کردکھایا ۔
    (تاریخ تحریر15؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۳۲۔ مکرم غلام سرور طاہر صاحب صدر محلہ دارالصدر شرقی طاہر (آف شیخوپورہ)
    خاکسار اپنے بھائی مکرم غلام نبی خاں صاحب کی ایک رؤیا جو کہ خلافت رابعہ سے متعلق ہے بیان کررہاہے اور حلفاً کہتا ہے کہ یہ رؤیا ویسے ہی بیان کی جارہی ہے جیسے کہ سنی گئی تھی۔ اس میں کچھ زائد الفاظ شامل نہیں کئے گئے ۔
    1974ء میں جب مکرم ومحترم مولانا مبشر احمد صاحب کاہلوں شیخوپورہ میں بطور مربی سلسلہ تعینات تھے اور مکرم ومحترم حضرت چوہدری محمد انور حسین صاحب مرحوم ؒ امیر ضلع شیخوپورہ کے مکان پر ایک مجلس لگی ہوئی تھی کہ بھائی غلام نبی صاحب مرحوم نے بتایا کہ آج انہوںنے ایک رؤیا میں دیکھا کہ ہر طرف ایک شور اور غوغا ہے کہ حضرت علی آگئے، حضرت علی آگئے ۔ گھر سے نکلتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں بھی تو دیکھوں۔ پھر اس طرف گئے جہاں لوگوں کا جم غفیر تھا۔ کیا دیکھتے ہیںکہ حضرت ایک بہت بڑے پلنگ پر بیٹھے ہیں۔ ان کے دائیں ہاتھ مکرم دین محمد صاحب اور بائیں طرف محترمہ مہربی بی صاحبہ بیٹھے ہیں۔(یہ ہمارے مرحومین پھوپھااور پھوپھی صاحبہ تھے)جب آگے ہوکر دیکھا اور ہاتھ ملانے لگے تو انہوں نے چہرہ مبارک اٹھایا تو بے اختیار ان کے منہ سے نکلا کہ
    "لواہیہ تے اپنے مرزاطاہر احمد صاحب نیں"
    کہ یہ اپنے مرزا طاہر احمد صاحبؒ ہیں۔
    (تاریخ تحریر30؍اپریل2008ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۳۳۔ مکرم کیپٹن محمد حسین چیمہ صاحب لندن
    خاکسار نے 1978ء میںخواب جو دیکھا اس کی تعبیر حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے خلیفہ چنے جانے میں پوری اتری۔ خواب یوں تھی کہ
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ )چار گھوڑے والی بگھی پر سوار ہیں جسے وہ خود Driveکر رہے ہیں ۔ یہ بگھی بیت فضل لندن کے سامنے حضور نے کھڑی کی ہے کیا دیکھتاہوں کہ اس بگھی پر حضور (مرحوم و مغفور ) کے ساتھ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد بھی سوار ہیں ۔
    (تاریخ تحریر02؍ اگست 1982ئ)
    …٭…٭…٭…

    ۳۴۔ مکرم محمد امداد الرحمن صدیقی صاحب مربی سلسلہ ربوہ حال بنگلہ دیش
    ‏i۔ قریباً 3 سال قبل خواب میں دیکھا کہ حضرت خلیفۃالمسیح الثالث (رحمہ اللہ ) وفات پاگئے ہیں۔ تابوت بھی مجھے نظرآیا ۔ پھر دیکھتا ہوں کہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ایک کمرہ میں ہیں اور آگے کی طرف جارہے ہیں ۔ میں پیچھے پیچھے ہوں۔ میں دل میں بڑی گریہ وزاری سے آپ سے عرض کرتا ہوں کہ حضور میں آپ کی خاطر ہر قربانی دوں گا ۔ مکمل وفاداری اور اطاعت میں زندگی کی ہرسانس لوں گا۔ میںآپ کے پیچھے ہوں اور چہرہ نظر نہیں آرہا مگر میں یقین سے جانتا ہوں کہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ رابع مقرر ہوئے ہیں ۔ مگر جاگنے کے بعد میں حیران ہوا کہ میں نے (i) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد کو خلیفہ رابع دیکھا مگر (ii) شکل و صورت کے لحاظ سے مرزا منصور احمد صاحب جیسے تھے ۔ بہت تردد رہا۔ اب حضور کے انتخاب کے بعد میرا خیال ہے بلکہ مجھے یقین ہے کہ صورت کے لحاظ سے مرزا منصور احمد صاحب نظرآنا اور ایسے مرزا طاہر احمد صاحب کا یقین ہونا اس طرح صحیح ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت اور مدد یافتہ ہیں "منصور " بمعنے "مظفر " کے ہیں۔
    ‏ii۔ قریباً ڈیڑھ سال کی بات ہے کہ خواب میں میں نے دیکھا کہ ملک میں انقلاب آگیا ہے۔ سڑکوں پر بہت رش ہے ۔ ایک جگہ پر نوٹس بورڈ لگا ہوا ہے جس پر بہت سی ہدایات لکھی ہوئی ہیں نیچے ہدایات دینے والے کا نام "مرزا طاہر احمد " لکھا ہوا ہے ۔
    خاکسار نے اس سے یہ سمجھا تھا کہ حکومت میں تبدیلی آئے گی اور حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کی پوزیشن حکوت میں "وزیر اعظم " جیسی ہوگی ۔ اب مجھے یاد پڑتا ہے کہ وہ جو سڑکوں پر لوگوں کابہت زیادہ رش تھاحضرت خلیفۃ المسیح الرابع (رحمہ اللہ)کے انتخاب کے موقع پر نظرآیا ۔ کیونکہ خواب میں جو رش دیکھا تھا اس کی کیفیت حکومت کے انقلاب کی صورت والی نہ تھی بلکہ بہت زیادہ پبلک مگر پر امن اور خوبصورت ماحول تھا۔
    (تاریخ تحریر15؍جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…

    ۳۵۔ مکرم ضیاء الدین حمید صاحب دارالعلوم شرقی ربوہ
    ‏i۔ آج سے تقریباً تین سال قبل عاجز نے دیکھا کہ ایک آواز آئی کہ
    "کیا تم جاننا چاہتے ہو کہ چوتھے خلیفہ کون ہوں گے پھر آواز آئی چوتھے خلیفہ کے والد نہیں ہوں گے۔ بھائی نہیں ہوگا۔ اور نہ ہی کوئی بیٹا ہوگا۔"
    اس کے بعد کشفی حالت ختم ہوگئی اور القاء ہوا کہ یہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد ہیں۔
    ‏ii۔ اس کے علاوہ جب میرا چھوٹا بیٹا عزیزم احیاء الدین محمودجرمنی جانے کے لئے روانہ ہوا تو دل بہت پریشان تھا۔ اور میں رات کو دعا کر کے سوگیا تو خواب میں دیکھا کہ کوئی کہتا ہے ۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ایک خط دعا کے لئے حضرت صاحبزادہ مرز اطاہر احمد صاحب کو لکھو اور ساتھ ہی 25/-روپے وقف جدید کے لئے ارسال کردو انشاء اللہ سب کام ٹھیک ہو جائیں گے۔
    (تاریخ تحریر15؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۳۶۔ مکرم سلطان احمد مبشر صاحب ابن مولانا دوست محمد شاہد صاحب ربوہ
    خاکسار نے مارچ1979ء میں ( جب کہ خاکسار کی عمر16 برس تھی) خواب میں دیکھا کہ ایک محل ہے پرانے طریق کے مطابق ایک چوبدار اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے عصاکو بار بار زمین پر مارتے ہوئے اعلان کرتا ہے۔
    ہوشیار خبردار ، خبردار ہوشیار ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع تشریف لارہے ہیں ۔ اور میں کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب تشریف لارہے ہوتے ہیں ۔
    …٭…٭…٭…
    ۳۷۔ مکرم ملک عابد انور صاحب لونیاں منڈی لاہور کینٹ
    آج رات 25؍مئی 1979ء کے کسی حصے میں خاکسار نے خواب میں دیکھا کہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ )وفات پاگئے ہیں اور زورزور سے اعلان کیا جارہا ہے کہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب امام جماعت مقرر ہوئے ہیں
    خواب میں خاکسار نے اپنے آپ کو لاہور چھائونی کے ایکGirls Collegeکے سامنے درختوں کے سائے میں دیکھا اورجب10؍جون 1982ء کو خلافت کا اعلان ہوا تو خاکسار جامعہ نصرت کے سامنے ایک درخت کے نیچے کھڑاتھا۔
    (تاریخ تحریر18؍ جون 1982ئ)
    ۳۸۔ مکرم حنیف احمد محمودصاحب مربی سلسلہ بدوملہی ضلع سیالکوٹ
    حال نائب ناظر اصلاح وارشادمرکزیہ
    ‏i۔ اگست 1979ء کی ایک رات کی بات ہے کہ خاکسار نے خوا ب میں دیکھا کہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث(رحمہ اللہ) وفات پاگئے ہیں۔ اور جماعت کی طرف سے اعلان ہو رہا ہے کہ خلیفۃ المسیح الرابع حضرت مرزا طاہر احمدصاحب ہوں گے۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی ۔
    ‏ii۔ اس خواب سے غالباً د و اڑھائی سال قبل جبکہ خاکسار جامعہ احمدیہ کا طالب علم تھا بعینہٖ اسی طرح کی خواب دیکھی۔ اس خواب میں خاکسار نے دیکھا کہ
    سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) کی نعش مبارک ایک کھلے میدان میں پڑی ہے ۔ اور ان کے اردگرد بہت بڑا ہجوم ہے اور وہاں بھی یہی اعلان ہورہا ہے کہ چوتھے خلیفہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب ہوں گے ۔
    خاکسار نے ہر دو خوابوں کو مصلحت وقت کی بناء پر کسی پر ظاہر نہ کیا۔ہاں دوسری خواب (جو کہ خاکسار نے اگست 1979ء کو دیکھی )کا ذکر خاکسار نے اس وقت بدوملہی جماعت احمدیہ کے صدر محترم عبدالغنی بٹ مرحوم سے کردیاتھا۔
    (تاریخ تحریر21؍جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…

    ۳۹۔ مکرم محمد شریف صاحب اوکاڑہ
    محترم میاں غلام محمد صاحب مرحوم ابن میاں ناصردین صاحب بنگلہ گوگیرہ نے غالباً 1979ء کے شروع میں کچہری بازار اوکاڑہ سے آتے ہوئے خاکسار کو بتایا کہ انہوں نے خواب میں دیکھا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث(رحمہ اللہ) کی وفات ہوگئی ہے اور حضرت میاںطاہر احمد صاحب خلیفۃ منتخب ہوگئے ہیں انہوں نے بتایاتھا کہ یہ خواب انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ )کو لکھ بھیجی تھی۔
    …٭…٭…٭…
    ۴۰۔ مکرم ڈاکٹر ساجد احمدصاحب احمد یہ کلینک مسنگبی ۔سیرالیون
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) کی وفات سے تین سال قبل خواب میں دیکھا کہ کوئی جلسہ ہورہا ہے اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) صدارت فرما رہے ہیں خاکسار ان کی خدمت میں چند کاغذات بغرض دستخط پیش کرتا ہے ۔ جب میں ان کے پاس پہنچتا ہوں تو اچانک شکل مبارک تبدیل ہوجاتی ہے اور کرسی صدارت پر حضرت مرزا طاہر احمد صاحب تشریف فرما نظر آتے ہیں ۔
    …٭…٭…٭…
    ۴۱۔ مکرم عنایت اللہ بھٹی صاحب چک نمبر 10\63ضلع شیخوپورہ
    یہ عاجزحقیرحلفیہ بیان کرتا ہے کہ تقریباً زائد از تین سال ہوئے غالباً موجودہ قصر خلافت جو زیر تعمیر ہے ابھی تیار ہونا شروع نہیں ہوا تھا ۔ رات کو خواب میں دیکھا کہ زیر تعمیر قصر خلافت کی مانند بڑی خوبصورت عمارت ہے گویا موجودہ قصر خلافت ہے اور ہے بھی یہی موجودہ قصر خلافت جس میں ایک بڑا وسیع صحن ہے اس میں سلسلہ عالیہ احمدیہ کے بہت سے علماء ہیں جو ایک جماعت کی شکل میں ہیں غالباً تین تین کی رو میں ایک لمبی قطار ہے ۔ سب کے ہاتھوں میں سیاہ رنگ کی لمبی بینیں ہیں جسے شاید باہر والے کلونت بولتے ہیں (باجہ والی پارٹی جواکثر بیاہ شادی پر جاتی ہے ان میںایک یا دو ماہر اسے بجاتے ہیں اور باقی پارٹی اس پرعمل کرتی ہے )
    سب سے آگے جناب مولانا عبدالمالک صاحب ہیں اور عجب ترنم اور مستی کی لَے میں ساری جماعت بالخصوص جناب مولانابجارہے ہیں اورجھوم جھوم کر چل رہے ہیں ۔ یہ پُر کیف نظارہ دیکھ کر بندہ کسی سے سوال کرتا ہے (یہ یاد نہیں کس سے سوال کیا ) کہ ایسا کیوں ہے۔ جواب ملا حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب (رحمہ اللہ ) کی شادی ہے ۔ بندہ حیرانگی کے عالم میں کہتا ہے کہ جناب تو پہلے ہی شادی شدہ ہیں۔ اس کے بعد کیا ہوا یاد نہیں۔ آنکھ کھل گئی ۔
    یہ خواب بندہ ناچیز نے سب سے پہلے مکرم محترم جناب بزرگوار سید محمد محسن شاہ صاحب انسپکٹر وقف جدید کو ربوہ آنے پر سنایا اور تعبیر کی درخواست کی مگر جناب خاموش رہے۔ پھر اپنے اہل وعیال کو بھی بتایا ۔ اس حقیر کے ذہن میں جو تعبیر آئی وہ یہی تھی جواب ظہور پذیر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہوئی۔
    (تاریخ تحریر06؍ جولائی 1982ئ)
    ۴۲۔ مکرم مقبول احمد خان صاحب امیرحلقہ تحصیل شکر گڑھ ضلع سیالکوٹ
    خلافت رابعہ کے قیام سے اڑھائی سال قبل اس عاجز نے خواب میں دیکھا کہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلافت کے تخت پر بیٹھے ہیں اور خاکسار مصافحہ کر رہا ہے۔
    …٭…٭…٭…
    ۴۳۔ مکرم ابراہیم نصر اللہ درانی صاحب گڑھی شاہو لاہور
    قریباً دو سال قبل خواب میں دیکھا کہ ایک چاک و چوبند جماعت ہے۔ جو جہاد کی مہم پر روانہ ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) اس جماعت کی قیاد ت فرما رہے ہیں۔ حضور نے اپنا مخصوص لباس یعنی شیروانی اور پگڑی زیب تن فرمائی ہوئی ہے ۔حضوربہت چست نظرآرہے ہیں ۔ صحت بہت اچھی ہے چہرہ بہت ہی نورانی معلوم ہوتا ہے ۔ حضور کے ہاتھوں میں ایک جھنڈا ہے جس کی بانس کی لمبائی قریباً چھ فٹ ہوگی۔ حضور کی قیادت میں جہاد کے لئے دوست جا رہے ہیں ۔ دفعتہ حضور اپنے ہاتھوں میں تھاما ہوا جھنڈا حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے حوالے کر دیتے ہیں۔
    بیدار ہونے پر میں بشری طور پر مغموم ہوا ۔ کیونکہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) کے وصال کا خیال دل میں پیدا ہوا ۔ اب جب کہ حضرت صاحبزادہ مرز طاہر احمد صاحب خلافت احمدیہ پر متمکن ہوچکے ہیں میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کرعرض کرتا ہوں کہ یہ خواب میں نے اسی طرح دیکھی تھی ۔ جیسی اوپر درج کی ہے ۔ (تاریخ تحریر15؍ جون 1982ئ)
    ۴۴۔ مکرمہ نگہت فردوس صاحبہ اہلیہ افتخار احمد گوندل صاحب چک نمبر 99شمالی سرگودھا
    تقریباً دو سال کا عرصہ ہوگیا ہے جب خواب میں دیکھا کہ میں ربوہ گئی ہوں اور ایک بہت اونچی جگہ قناتیں وغیرہ نصب ہیں۔ اور اس جگہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب تقریر کر رہے ہیں اور عورتیں آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ رہی ہیں کہ یہ کون صاحب ہیں تو میں نے جھٹ جواب دیا کہ آپ کو معلوم نہیں یہ ہمارے چوتھے خلیفہ ہیں۔ان کے سامنے ایک طرف میرے بھائی مکرم مبارک احمد چیمہ سیکرٹری اصلاح و ارشاد ضلع سرگودھا کھڑے ہیں ۔ اور میں عورتوں کو بتا رہی ہوں کہ یہ میرے بھائی ہیں ان کو حضرت صاحب زیادہ تر اپنے ساتھ ہی رکھتے ہیں۔
    خواب دیکھے تو کافی دیر ہو چکی تھی دل چاہتا تھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) کو لکھوں پھر دل میں جھجک محسوس کرتی رہی کہ حضور خیال کریں گے کہ میری زندگی میں ہی انہوں نے چوتھے خلیفہ کے خواب دیکھنے شروع کردئیے ہیں۔
    (تاریخ تحریر29؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۴۵۔ مکرم عبدالستار علیم صاحب اسلام آباد
    اپریل 1980ء کو خاکسار نے رؤیا دیکھی کہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کے گھر کے ایک کمرہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث(رحمہ اللہ) تشریف رکھتے ہیں۔ دوسرے کمرے میں آپ ہیں۔ آپ کے کمرے کا پہرہ جامعہ کے طلباء دے رہے ہیں ا ور ایک جم غفیرآپ کی ملاقات کے لئے آیا ہوا ہے۔ ملاقاتوں کے بعد آپ باہر آتے ہیں ۔تو بہت سارے لوگ آپ کے پیچھے پیچھے چل رہے ہیں۔
    راستے میں بعض گھروں سے پرانے کپڑوں کے لٹکے ہوئے ٹکڑے آپ اتارتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب ُُ
    میں نے یہ رئویا 11؍ جون 1980ء کو حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کو لکھ بھیجا ۔ آپ نے 21؍ جون 80ء کو اپنے مراسلہ پر فٹ نوٹ میں تحریر فرمایا ۔
    "آپ کی خواب بہت معنی خیز ہے۔ ممکن ہے حضور کے ارشادات کی تعمیل میں اللہ تعالیٰ کسی خاص خدمت کا موقع عطا فرمائے۔ آپ بھی دعا میں یاد رکھتے رہیں۔"
    (تاریخ تحریر 19؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۴۶۔ مکرم شیخ نثار احمد صاحب سمن آباد لاہور
    تقریباً 2سال قبل خاکسار نے خو اب دیکھا کہ ایک بہت بڑا میدان ہے اور اس میں لوگوں کا بہت بڑا ہجوم ہے۔ میں یہ دیکھنے کے لئے کہ اتنے لوگ یہاں کھڑے کیا کررہے ہیں ہجوم کو چیرتا ہوا آگے بڑھتا ہوں حتی کہ سب سے آگے آجاتا ہوں۔ وہاں میں نے یہ نظارہ دیکھا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کھڑے ہیں ۔ اور بہت جلالی انداز میں ہجوم سے خطاب فرما رہے ہیں۔ میں خواب میں ہی یہ سمجھتا ہوںکہ حضرت صاحبزادہ صاحب لیڈر ہیں اور لوگوں کے فیصلے کر رہے ہیں۔
    یہ خواب میں نے جناب مجیب الرحمن درد صاحب قائد ضلع لاہور اورمکرم شیخ محمد حنیف صاحب امیر جماعت کوئٹہ کو سنایا تھا اور وہ اس بات کے گواہ ہیں ۔ میرے دل میں اسی وقت سے یہ پختہ خیال تھا کہ قوم کالیڈر ہونا اور فیصلے کرنا خلیفہ ہی کا کام ہوتا ہے اور حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کو اللہ تعالیٰ خلافت کے مقام پر سرفراز فرمائے گا۔
    ان دو سالوں میں بارہا حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب سے ملاقات ہوئی لیکن میںنے اس خواب کا تذکرہ ان سے کبھی نہیں کیا صرف اس خیال سے کہ ایک خلیفہ کی موجودگی میں اس قسم کے خواب متعلقہ شخص کو نہیں سنانے چاہیں ۔
    (تاریخ تحریر 29؍اکتوبر 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۴۷۔ مکرم سید عبدالسلام صاحب معلم جماعت احمدیہ حلقہ دستگیر سوسائٹی کراچی
    میں نے خواب میں دیکھا کہ میںربوہ میں ایوان محمود کے قریب کھڑا ہوں اورحضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) ایوان محمود کے سٹیج پر کھڑے ہیںلیکن حضور کا رخ انو ر مشرق کی طرف تھا۔ یوں معلوم ہوتاہے کہ حضور کی صدارت میں نئی خلافت کا انتخاب ہو رہا ہے ۔اور اس کے فوراً بعد معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ منتخب ہوگئے ہیں۔ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب اس وقت وقف جدید کے مین گیٹ پر سفید لباس پہنے کھڑے ہیں اور آپ کے ارد گرد زیادہ تر نوجوان ہیں انہوں نے بھی سفید لباس پہن رکھے ہیں۔ پھر میں نے حضرت صاحبزادہ صاحب کی طرف دیکھا تو آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے بھی اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کررکھے تھے گویا آپ اور آپ کے ساتھ دوسرے بزرگ سبھی اس انتخاب پر رضا مند ہیں اور خداتعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں ۔ میں نے دوسرے یا تیسرے روز یہ خواب مکرم خلیفہ صباح الدین صاحب مربی سلسلہ کو سنائی۔ انہوں نے خاموشی اختیار کرنے اور دعا کرنے کا مشور ہ دیا ۔
    (تاریخ تحریر 20؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۴۸۔ مکرمہ تسنیم لطیف صاحبہ بنت ڈاکٹر عبداللطیف صاحب سرگودھا
    ‏i۔ اکتوبر 1980ء میں یہ خواب میں نے دیکھا کہ ایک مستطیل نما احاطہ ہے (جس طرح بیت مبارک کا مسقف حصہ ہے ) جو کہ اونچائی پر واقعہ ہے ۔ وہاں سیڑھیاں چڑھ کر جایا جاتا ہے۔ میں یہ سمجھتی ہوں کہ یہ ہماری جماعت احمدیہ کا مرکز ہے۔ اور وہاں پر کوئی تقریب رونما ہونے والی ہے ۔ جس کے لئے یہ اجتماع ہے ۔ میں بھی شرکت کی غرض سے احاطہ کے اندر داخل ہوتی ہوں۔ تو ذہن میں یہ تاثر ہوتا ہے کہ ہمارے خلیفہ ہی ہوں گے جن کی ہم تقریر سنیںگے ۔ مگر وہاں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ )نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی اورخلیفہ ہیں۔ بلکہ جماعت کے افراد تین گروہوں میں بٹے ہوئے تین مقررین کی تقاریر سن رہے ہیں ۔
    پہلا گروپ جو کہ تعداد میں سب سے بڑا ہے اس کے لوگ قبلہ رخ بیٹھے ہیں اور ایک شخص جن کا نام عبدالحق ہے (ہمارے سرگودھا کے امیر جماعت نہیں ) چہرہ نورانی ، رنگت بہت سفید ۔ درمیانی عمر سفیدبے داغ لباس پہنے نہایت موثراور خوبصورت لہجے میں اس گروپ کی جانب چہرہ کئے تقریر فرما رہے ہیں۔ لوگ عقیدت سے ان کی تقریریں سن رہے ہیں ۔ میرے باقی افراد خاندان وہیں پر ہیں میں بھی ان میں جا کر بیٹھ جاتی ہوں۔ مگر یہ دیکھ رہی ہوں کہ اس قبلہ رُخ والے گروپ کے علاوہ سامنے کی جانب ایک گروپ اور بھی ہے ۔ اس دوسرے گروپ کے مخاطب شخص کا تعلق لاہور سے ہے۔ وہ اپنے ارد گرد لوگوں سے آہستہ آہستہ باتیںکررہا ہے گویا سا ز باز کررہا ہو۔ اس کے گروپ میں بھی کافی لوگ شامل ہیں مگر ان کی حیثیت شرکاء کی نہیں تماشبین کی سی ہے ۔میں سمجھتی ہوں کہ یہ خلافت کے امیدوار ہیں۔ لیکن یہ گروہ منافقین کا گروہ ہے ۔ اوراس کی موجودگی کسی بھی قسم کی پریشانی کا باعث نہیں۔ جب کہ تکلیف دہ امر جو دیکھنے میں آرہا ہے وہ تیسرے گروپ کی موجودگی ہے۔جس کے لوگ قبلہ کی جانب پشت کئے بیٹھے ہیں۔ ان کی صحیح تعداد تو یاد نہیں اغلباً15یا 20لوگ ہیں اور ان سے مخاطب شخص نہایت بلند آواز میں اور چیخ چلاکر تقریر کر رہا ہے ۔ انداز ایسا ہے گویا کوئی مخبوط الحواس شخص ہو ۔ اس نے بھی سفید کپڑے پہن رکھے ہیں۔ جو کہ اب انتہائی غلیظ ہیں اور سلے ہوئے ہیں۔اس کے منہ سے مارے غصے کے کف بہہ رہی ہے ۔ اور وہ ہاتھ لہرا لہرا کر زور شور سے لوگوں پر اپنا موقف واضح کررہا ہے ۔ اس شخص کی حرکات عجیب وغریب ہیں اور دو لکڑی کی سیڑھیاں جیسے وکٹری سٹینڈ کی ہوتی ہیںان پر ایک مرتبہ کھڑا ہے ۔ اس شخص کی حرکات پہلے گروپ (عبدالحق گروپ) کے امام کے لئے بھی پریشان کن ہیں۔ اور قبلہ رخ بیٹھے افراد کو بھی تکلیف پہنچا رہی ہیں۔ لوگ پریشان ہیں کہ کس طرح اس مصیبت سے نجات حاصل کریں ۔میں پلٹ کر بغور اس شخص کو دیکھتی ہوں تو وہ مرزا رفیع احمد صاحب ہیں ۔
    میں بھی ان کی حرکات سے پریشان ہوکر احاطہ سے باہر نکل کر اس جگہ چلی جاتی ہوں۔ جہاں پر پہلے ہی جماعت کے اور بہت سے مخلصین اس فتنہ اور پریشانی سے نجات حاصل کرنے کے لئے جانوروں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ اور اتنی کثرت سے جانوروں کو ذبح کیا جارہا ہے کہ وہاں پر چوڑی نالی میں تیزی سے خون بہہ رہا ہے ۔میں بھی جا کر ایک بکرا ذبح کرتی ہوں۔ اور دل میں خوف بھی ہے اور کچھ اطمینان بھی۔ کہ اب انشاء اللہ یہ فتنہ ختم ہوگا۔
    میں سو کر جب اٹھی تو ذہن میں یہ تاثر تھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ )کی وفات پر مسئلہ خلافت پر یہ اجتماع ہوگا۔ جو میں نے خواب میں دیکھا ۔ اور ایسے حالات جماعت کو پیش آئیں گے ۔
    ‏ii۔ دوماہ بعد یعنی دسمبر1980ء کو میں نے یہ خواب دیکھا کہ ایک بڑی جلسہ گاہ ہے۔ اغلباً جلسہ سالانہ یاسالانہ اجتماع کا موقع ہے اور فیصل آباد‘ سرگودھا مین روڈ سے ربوہ کی اندرونی سڑک پر مڑتے ہوئے سامنے بیت اقصیٰ کے قریب جلسہ گاہ ہے۔ وہاں سٹیج پر ہمارے خلیفہ تقریر فرما رہے ہیں ۔ وہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) نہیں ہیں بلکہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ہیں۔ اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ جلسہ گاہ میں جمع ہیں۔ میں سرگودہا سے ربوہ جلدی جلدی پہنچتی ہوں تا جلسہ Attend کر سکوں ۔ مین روڈ سے اندر مڑتے ہی لوگ بیٹھے ہیں۔ میں یہ سمجھتی ہوں کہ یہاں تک لوگ جمع ہیں۔ کیونکہ سٹیج نظر نہیں آرہا ۔ صرف لائوڈ سپیکر پر آواز آرہی ہے۔ میں آگے بڑھتی ہوں تو یہ دیکھتی ہوں کہ جہاں سڑک کی گولائی ختم ہوتی ہے وہاں پر بائیں ہاتھ کو ایک ذیلی سڑک جارہی ہے جس کے سرے پر ایک درخت ہے ۔ اور اس درخت کی آڑ میں ایک شخص کھڑا تقریر کررہا ہے ۔ اور وہ شخص Antiپروپیگنڈا کر رہا ہے اور لوگوں پر اپنا الگ نقطہ نظر واضح کر رہا ہے جو کہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کے ارشادات کے بالکل الٹ ہے۔ اس کے سننے والوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ اور اس نے تقریر کرنے کے لئے ایسی جگہ کا انتخاب کررکھا ہے کہ ربوہ آکر جلسہ گاہ میں جانے کے جو دو راستے ہیں وہ ان کے درمیان کھڑا ہے کہ ہر شخص کو اس کے پاس سے گزر کر اصل جلسہ گا ہ تک جانا پڑتا ہے ۔ بعد میں آنے والے لوگ اسی کو اصل جلسہ گاہ سمجھ کر پیچھے بیٹھتے جارہے ہیں ۔ مگر میں آگے جاتی ہوں اور جب اس درخت کے پاس پہنچتی ہوں تو مجھے اصل صورتحال کا احساس ہوتا ہے کہ اس گروہ کے سامعین نے حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الرابع کی جانب پیٹھ کر رکھی ہے ۔ میں آگے بڑھتی چلی جاتی ہوں اور سٹیج جس پر کھڑے ہو کر حضرت صاحب تقریر فرما رہے ہیں کے بالکل پاس جا کر بیٹھتی ہوں ۔ ایک چیز بہت واضح ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی تقریر سننے والوں نے سفید کپڑے پہن رکھے ہیں اور سب قریب قریب صفوں میں بالکل لائن بنا کر بیٹھے ہیں۔جب کہ جہاں سے دوسرا گروپ شروع ہوتا ہے۔ وہاں اُلٹی ترچھی لائنیں ہیں اور صفوں میں انتشار ہے۔ نظم و ضبط نہیں ہے ۔ میں پریشان ہوں اور چاہتی ہوں کہ حضور تقریر ختم فرمائیں تو انہیں بتائوں کہ آپ تک پہنچنے سے پہلے وہ شخص لوگوں کے کانوں میں غلط باتیں ڈال رہا ہے اور واضح انتشار پھیلا رہا ہے ۔
    …٭…٭…٭…
    ۴۹۔ مکرم حسین ناصر صاحب جنرل سٹور اقصیٰ روڈ ربوہ
    حضرت صاحبزادہ مرزاطاہر احمد صاحب کے بارے میںآج سے 2سال قبل خواب دیکھا کہ ایک مکان کی چار دیواری یعنی صحن میںچار دیواری کے اندر کافی مٹی ڈال کر اونچا کیا گیا ہے اس صحن میں دو کرسیاں ہیں۔ایک کرسی پر حضرت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں۔ دائیں طرف والی کرسی پر خاکسار بیٹھا ہوا ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے سفید کپڑے شلوار اور قمیض پہنی ہے۔
    میں اپنے دائیں طرف والا انگوٹھا پائوں کا شلوار مبارک کو لگا رہا ہوں تا کہ برکت حاصل ہو سکے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے شکل مرزا طاہر احمد صاحب کی نظر آنے لگی۔
    ایک سال قبل حضرت مرزا طاہر احمد صاحب وقف جدید جارہے تھے میں نے یہ خواب آپ کو سنائی تو آپ نے کہا میرے لئے دعا کریں اور میں نے ایک دن بھی دعا میں ناغہ نہیں کیا جب سے میں نے خواب دیکھا میری محبت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ۔ مجھے یقین تھاکہ اللہ تعالیٰ آپ کو ضرور خلیفہ بنائیں گے ۔
    (تاریخ تحریر08؍ جولائی 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۵۰۔ مکرم اخوند فیاض احمد صاحب لاہور کینٹ
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کی زندگی میں اس خاکسار نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک مجلس ہے ۔ جس میں حضور تشریف فرما ہیں۔ چند عزیز اور احباب بھی ہیں جن میں یہ عاجز بھی ہے۔ کوئی Light Refreshment(جیسے آئس کریم وغیرہ ) سب لے رہے ہیں۔ا ور باتوں کے دوران یہ عاجز حضور کو مخاطب کرکے عرض کرتا ہے کہ مجھے حضور کی مشابہت حضرت علی ؓ کے ساتھ لگتی ہے ۔ حضور کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ہے اور حضور خاموشی سے سن رہے ہیں ۔
    حقیقت میں خلافت ثالثہ کے منصب کے اعتبار سے نیز نہایت نرمی، بردباری ، حلیمی طبع اور ہمدردی خلق میں انتہائی قربانی کے جذبہ سے سرشار ہونے کے اعتبار سے لا ریب حضرت حافظ مرزا ناصر احمد (رحمہ اللہ ) کو حضرت عثمان ؓ سے شدید مشابہت ہے۔ مگر یہ عاجز اب سمجھتا ہے کہ خواب میں حضور کی خدمت میں اس عاجز کا یہ عرض کرنا کہ حضورکی مشابہت حضرت علیؓ سے ہے، اس امر پر دلیل ہے کہ خلافت رابعہ خلافت ثالثہ کا تسلسل ہی ہے۔ کیونکہ تقدیر الٰہی نے خلافت ثالثہ کو خلافت ثانیہ کے تسلسل میں قائم فرمایا تھا ۔ اور "زمانہ محمود کا زمانہ" جاری ہے ۔ خلافت رابعہ بھی خلافت ثالثہ کے تسلسل میں حضرت المصلح الموعود نور اللہ مرقدہٗ کی خلافت کی مظہر ہے ۔ پس اس عاجز کی خواب میں یہ تفہیم کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ)کو حضرت علی ؓ سے مشابہت ہے، اس طرف اشارہ تھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع (رحمہ اللہ )کا وجود باجود حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) سے بہت قریبی تعلق رکھے گا۔ اور خلافت رابعہ گویا خلافت ثالثہ کا تسلسل ہوگی۔ واللہ اعلم بالصواب
    یہ خواب اس عاجز نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) کی خدمت میں تحریر کردی تھی۔
    (تاریخ تحریر02؍جولائی 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۵۱۔ مکرم حمید اختر صاحب جرمنی حال اسلام آباد
    نومبر 1980ء میں میں نے ایک خواب دیکھا (جو کہ انہی دنوں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی خدمت میں لکھ بھی دیا تھا) کہ جیسے کناٹ پیلس نئی دہلی جیسی جگہ ہے۔ کشادہ سڑک اور ایک طرف ایسی عمارت ہے جیسی کناٹ پیلس میں ہیں۔اس کشادہ سڑک اور اونچی عمارتوں کے درمیان جانے والی سڑک کے سنگم کے فٹ پاتھ کے کنارے پر حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد بیٹھے بڑی تیزی سے لوہے اور شیشے کی پلیٹوں پر سیاہی یا کالے رنگ کے برش سے تیر کے نشان بنا رہے ہیں ۔ اور آپ مجھے کہتے ہیںکہ
    " کل ہی لوگ احمدیت میں شامل ہونے کے لئے جوق در جوق آئیں گے ۔ تو ان کو مختلف گروہوں میں بلڈنگ کی طرف بھجوانے کے لئے سمتیں مقرر کروں گا ۔ جس کے لئے میں یہ بورڈ تیار کر رہا ہوں ـ"
    اس وقت محسوس ہوتا ہے کہ میرے علاوہ واسع عمر حضرت خلیفہ اوّل کا پوتا بھی وہاں اس کام میں مدد کے لئے آیا ہوا ہے۔ اور ہم دونوں کو آپ نے اپنے ساتھ کام کرانے کے لئے بلایا ہوا ہے ۔
    آپ نے مجھے مزید کالا رنگ لانے کے لئے کہا ہے تو میں جلدی سے اس اونچی عمارت کے اندر بنی ہوئی ایک دکان پر جاتا ہوں ۔ تو دیکھتا ہوں کہ وہ حلوائی کی دکان ہے۔ وہاں مٹھائیاں لگی ہوئی ہیں ۔ اور بہت بڑے کڑا ہ میں دودھ پکایا جارہا ہے ۔ میں ان سے رنگ والے کی دکان پوچھتا ہوں ۔ تو وہ بتاتے ہیں کہ وہ رنگ بھی فروخت کرتے ہیں ۔ چنانچہ مجھے وہاں ایک حصے میں رنگوں کے ڈبے بھی نظرآتے ہیں۔ چنانچہ میں ایک ڈبہ خرید کر لاتا ہوں اور کام میں آپ کے ساتھ شامل ہو جاتا ہوں ۔ (تعبیر نامے میں لکھا ہے۔کہ سیاہی سے مراد ہے ۔کہ "سردار قبیلہ ہو ۔ بلند مرتبہ پائے ۔ قلمدان حکومت ہاتھ آئے" اور تیر کا نشان سے مراد ۔"دلی مراد بھر آئے" )
    اس میں پُرلطف بات یہ ہے کہ میں 31؍مارچ 1982ء کو جرمنی پہنچا تو اسی رات خواب دیکھا کہ ایک بہت وسیع سڑک ہے اور بشیر احمد ابن محترم منشی محمد دین صاحب مرحوم اس کے درمیان نہایت ہی اچھی صحت میں نہایت ہی اچھا سوٹ پہنے کھڑا ہے۔ ایک بڑی کار آکر اس کے سامنے رکتی ہے اور اس میں سے حضرت صاحبزادہ مرزاطاہر احمد صاحب دو اور آدمیوں کی معیت میں اُترتے ہیں۔ جن میں سے ایک آدمی کومیں جانتا ہوں۔ (مگرآنکھ کھلنے پر وہ بھی یاد نہ رہا ) اور دوسرا آدمی جسے میں نہیں جانتا بالکل نوجوان ہے اورلمبی لمبی مونچھیں رکھی ہوئی ہیں ۔اسی طرح جس طرح کہ 1933ء میں جرمنی کے اس حاکم کی تھیں جس نے قلمدان حکومت ہٹلر کے حوالے کیاتھا۔ وہ نوجوان لمبے قد کا اور صاف رنگت کا ہے۔
    (تاریخ تحریر 20؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۵۲۔ مکرم مرزا عبدالحئی چغتائی صاحب دارالرحمت وسطی ربوہ
    میں خدا تعالیٰ کی قسم کھاتا ہوں کہ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اور جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے کہ مورخہ 23-01-81کو میں نے خواب میں دیکھا کہ
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) وفات پاگئے ہیں اور نئے خلیفہ کا انتخاب ہوا ہے جس میں حضرت مرزا طاہر احمد( رحمہ اللہ) خلیفۃ المسیح الرابع منتخب ہوئے ہیں ۔ میں نے خواب میں ہی گھر آکر اپنے والد محترم مولوی رشید احمد صاحب چغتائی (مربی سلسلہ) سے پوچھا کہ کیا ہم حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کو خلیفۃ المسیح الرابع کہیں گے ؟والد صاحب نے جواب میں کہا ہاں اب حضور کو خلیفۃ المسیح الرابع کہا کریںگے۔
    (تاریخ تحریر19؍جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۵۳۔ مکرم چوہدری مبارک احمد صاحب راولپنڈی
    کچھ عرصہ قبل خواب دیکھا کہ خاکسار کو کوئی آدمی اطلاع دیتاہے کہ کلیم اللہ فوت ہوگیا ہے ۔ اس کے تھوڑی دیر بعد کشفی طور پر سلسلہ عالیہ احمدیہ کے بزرگ دکھائے جاتے ہیں جوایک لائن میں جس طرح گروپ فوٹو ہوتا ہے کرسیوں پر تشریف فرماہیں۔ ان سب کے وسط میں حضرت صاحبزادہ مرزاطاہر احمد سب سے اونچے اور سب سے نمایاں ہیں ۔ دائیں بائیں تشریف فرما بزرگان سلسلہ اتنے کم نمایاں ہیں کہ اس کشفی نظارہ میں پہچانے نہیں گئے اس کے بعد بیداری ہوگئی۔
    (تاریخ تحریر19؍جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۵۴۔ مکرم مرزا نذیر احمد صاحب نائب صدر حلقہ ملتان شہر
    آج سے ایک سال قبل خواب میںدیکھا کہ حضرت صاحبزادہ مرزاطاہر احمد صاحب خاکسار کے مکان واقع منظور آباد ملتان میں تشریف لائے ۔کچھ دیر آپ دینی باتیں کرتے رہے پھر آ پ نے دریافت فرمایا کہ آج جمعہ ہے؟ میں نے عرض کی جی ہاں آج جمعہ ہے ۔ آپ نے جمعہ کا وقت دریافت فرمایا ۔ میں نے عرض کی کہ ڈیڑھ بجے ۔آپ نے فرمایا ۔ کہ چلنا چاہیے کیونکہ وقت ہوا چاہتا ہے۔ میں کیا دیکھتا ہوں کہ آپ پگڑی باندھ رہے ہیں اور میں دل میں خیال کرتا ہوں کہ میاں صاحب تو ٹوپی پہنا کرتے ہیں۔ لیکن آج پگڑی باندھ رہے ہیں۔ ابھی پگڑی مکمل نہیں ہوتی کہ آپ چل پڑتے ہیں ۔ پگڑی کا ایک لڑ جسے پنجابی میں ول کہتے ہیں ۔ آپ نے ایک ہاتھ میں پکڑا ہوا ہے اور جمعہ کے لئے جارہے ہیں۔ میں بھی ساتھ ساتھ ہوں۔ دل میں سوچتاہوں کہ پگڑی تو میاں صاحب نے کبھی پہنی نہیں ٹوپی میں ہی اکثر دیکھتے ہیں ۔ لیکن آج تو میاں صاحب پگڑی باندھ رہے ہیں۔ اور پگڑی بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرح باندھ رہے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ پگڑی بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہے۔
    پھر آنکھ کھل گئی اور دو دن بعد یہ خواب میں نے جمعہ کے وقت مربی سلسلہ مکرم برکت اللہ صاحب محمود ؔ سے بیان کی۔ مربی صاحب نے صرف اتنا کہا کہ مبارک ہے اور یہ بھی کہا کہ میاں صاحب کو لکھ دیں۔ اور کوئی تعبیر نہیں بتائی۔بہرحال اس وقت یہ عقدہ حل نہیں ہوا۔ اور خلافت رابعہ کے انتخاب پر مجھ پر واضح ہوگیا ہے اور تعبیر اب سمجھ میں آتی ہے۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پگڑی سے مراد خلافت ہے۔ اور آپ کا پگڑی باندھنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع (رحمہ اللہ )کی صورت میں ظاہر ہونا ہے۔ اور پگڑی کا جو لڑ باقی تھا یعنی ایک ول رہتا تھا اور وہ ہاتھ میں تھا۔ اس سے مراد وقت تھا یعنی ایک سال اس پگڑی کو مکمل کرنے میں ۔ اور یوں یہ پگڑی ایک سال کے بعد مکمل ہوئی۔ اور یوں انتخاب اور پگڑی کا مکمل ہونا بھی ڈیڑھ بجے شروع ہوا ۔ الحمد للہ ثم الحمدللہ
    (تاریخ تحریر17؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…

    ۵۵۔ مکرم مرز اخلیل احمد قمرصاحب دارالنصر غربی ربوہ
    میں خداتعالیٰ کو حاضر ناظرجان کر جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے لکھتا ہوں کہ میں نے آج سے تقریباً ایک سال قبل ایک خواب دیکھی جو اپنے چند دوستوں کوبھی سنائی۔ جن میں مکرم یوسف سہیل صاحب اورمکرم مولوی محمد ابراہیم صاحب بھابڑی وغیرہ شامل ہیں۔
    میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بہت بڑا مجمع ہے یا جلسہ ہے جس میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) خطاب فرما رہے ہیں تقریر کافی لمبی بھی ہے موضوع مجھے یاد نہیں رہا ۔ تقریر کرتے ہوئے حضورفرماتے ہیں کہ میں اب تھک گیا ہوں ۔ قدرے توقف ایک منٹ کے وقفے کے بعد تقریر جاری رہتی ہے اور آواز لب و لہجہ اور موضوع بھی وہی ہے ۔ تھوڑی دیر کے بعد میں سر اٹھا کردیکھتا ہوں کہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب خطاب فرما رہے ہیں ۔
    (تاریخ تحریر 19؍جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۵۶۔ مکرم محمد طاہر ملک صاحب سینئر سائنٹیفک آفیسر فیصل آباد
    ‏i۔ قریباً ایک سال قبل ایک رات جب میں نماز تہجد سے فارغ ہو کر سویا تو مجھے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایک بڑا ہی بین خواب دکھایا جو اس طرح تھا کہ ایک بڑی اونچی محل نما شکل عمارت ہے جو ایک نیم شفاف پانی کے تالاب کے کنارے واقع ہے۔ عمارت کے مقابل تالاب کی دوسری جانب ایک طرف بڑا شوروغل ہے اور ایک شادی کا سماں ہے۔ میں اس عمارت کی طرف جارہا ہوں کہ اسی راستہ پر سامنے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سفید کرتا اور تنگ پاجامہ میں ملبوس کچھ پریشانی کی حالت میں تشریف لارہے ہیں اور حضور ؑ خاموشی سے میرے پاس سے گزر جاتے ہیں ۔ تب میرے دل میں یہ خیال ڈالا گیا ہے کہ میں ان کا نائب ہوں اور مجھے اس عمارت پر جا کر جائزہ لینا چاہیے اور حضور کی پریشانی کا باعث معلوم کرنا چائیے۔ جونہی میں نے ادھر کا رخ کیا ایک نامعلوم شخص نے مجھے پیچھے سے آواز دی کہ ادھر نہ جائیے۔ ادھر بمباری ہورہی ہے اور حضور ؑ بڑی مشکل سے بچنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ تب میری آنکھ کھل جاتی ہے ۔
    میں پریشانی کی حالت میں اٹھ کر بستر پر بیٹھ کر سوچنے لگتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نائب کیسے ہوا پھرسوچا کہ شاید خدا مجھ سے جماعت کا کوئی ایسا کام لے جو جماعت کی ترقی کا موجب بنے۔ مگر میرے دل میں یہ تشویش مستقل گھر کر گئی کہ وہ کون سا کام اور کب لیا جائے گا۔
    لیکن آج تقریباً ایک سال بعد وہ خواب مکمل طور پر پورا ہوا جب کہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب مسند خلافت پر سرفراز ہوئے کیونکہ خاکسار کا نام بھی طاہر ہے۔ اس طرح آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نائب مقرر ہوئے ۔
    ‏ii۔ دوسرا نظارہ خداوند تعالیٰ نے آج سے کوئی چھ سات ماہ قبل خواب کی صورت میں پھر دکھایا۔ جس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ میں اپنے گائوں آصل گرو کے تھانہ برکی ضلع لاہور جاتے ہوئے گائوں کے قریب بہنے والی B.R.Bنہر کو اس پل پر سے جو عام طور پر گائوں والے اسے عبور کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں شام کی تاریکی میںعبور کررہا ہوں ۔ اور میرے والد صاحب اگلے پل سے جو پانی بہنے کی سمت کچھ فاصلے پر ہے اور عام طور پر گائوں جانے کے لئے استعمال نہیں ہوتا۔ نہر عبور کرتے اچانک دکھائی دئیے۔ اور عبور کرنے کے لیے تن تنہا اس ویران راستہ پر ۔ جو اس پل سے آگے نکلتا ہے ۔ چل پڑے ۔ لیکن کچھ پریشان سا ہوجاتا ہوں کہ انہیں کوئی گزند نہ پہنچے۔ اسی اضطراب کی حالت میں سوچ میں ڈوبا ہوا ہوں کہ یہ خبر عام ہوتی ہے کہ میرے والد صاحب قتل ہوگئے اور ان کی پگڑی اور کوٹ مجھے دے دئیے جاتے ہیں۔ میں عجیب شش وپنج میں مبتلا ہوجاتا ہوں ۔ اور سوچتا ہوں کہ خدایا یہ کیا ماجرا ہوا۔ کہ میری آنکھ کھل جاتی ہے اور آج تک دل مضطر رہا ہے کہ یہ نظارہ کن آنے والے حالات کی غمازی کرتا ہے ۔
    چنانچہ چند دن قبل ہمارے روحانی باپ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) کو جب خدائے ذوالجلال اور حی وقیوم نے اپنی رضا کے تحت اس دنیا سے واپس بلالیا ۔ تو اس نے اپنے فضلوں اور رحمتوں سے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کو مسندِ خلافت پر فروزان ہونے کے ساتھ ساتھ جبہ و دستار خلافت بھی عطا فرمائی ۔ چونکہ میرا نام بھی طاہر ہے اور وہ پگڑی اور کوٹ جو خواب میں مجھے والد صاحب کے بطور دنیوی وراثت ملے۔عین اسی طرح ہمارے روحانی باپ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) کی وفات کے بعد ان کی پگڑی اور جبہ خلافت حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کو خدا نے بطور روحانی وراثت عطا فرمائے ہیں ۔
    (تاریخ تحریر28؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۵۷۔ مکرم بشیر احمدصاحب ایڈوکیٹ گوہدپور ضلع سیالکوٹ
    آٹھ نو ماہ پیشتر میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب خلیفۃ المسیح منتخب ہوگئے ہیں اس وقت آپ ٹوپی پہنے ہوئے ہیں میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ آپ ٹوپی اتار کر سرپر پگڑی رکھ لیں چنانچہ خواب میں ایسا ہی ہوا ۔
    بیت مبارک میں بیعت کے وقت حاضر تھا مکرم صاحبزادہ مرزا لقمان احمد صاحب نے آپ کو جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) کی پگڑی پیش کی تو مجھ کو خواب کا نظارہ یاد آگیا ۔ الحمدللہ ثم الحمد للہ ۔
    (تاریخ تحریر14؍جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۵۸۔ مکرم جہانگیر احمدجوئیہ صاحب امیر جماعت احمدیہ ضلع خوشاب
    ‏i۔ تقریباً10ماہ ہوئے خاکسار نے خواب میں دیکھا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ایک مکان سے باہر آرہے ہیں مکان کا دروازہ جانب مغرب ہے۔ اُس وقت میری زبان پر یہ جاری ہو جاتا ہے کہ حضرت صاحبزادہ مرزاطاہر احمد خلیفہ ہیں یا ہوںگے یہ خواب میں نے خلافت رابعہ کے انتخاب سے پہلے بہت سے آدمیوں کو سنایا تھا ۔
    ‏ii۔ 9؍جون 1982ء کو خاکسارنے تقریباً ڈیڑھ دو بجے رات کو خواب دیکھاکہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) کی حرم ثانی سیاہ برقعے میں ہیں اور پردہ میں ہیں اور خاکسار کو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام آباد سے حضور مرحوم کی بیوی اکیلی آئی ہیں اور حضورنہیں آئے اور یہ بالکل صاف خواب تھا۔خاکسار نے بوقت تقریباً 3بجے برائے تہجد مربی سلسلہ خوشاب مکرم محمدطفیل گھمن صاحب کو جگاکرخواب سنایا مگر انہوں نے تعبیر نہ بتائی اور نماز فجر پڑھ کر سو گئے جب تقریباً ساڑھے چھ بجے حضرت خلیفۃالمسیح الثالث (رحمہ اللہ) کی وفات کی اطلاع ملی تو اس وقت گھمن صاحب نے بتایا کہ میں نے تعبیر اِس کی یہ لگائی تھی کہ حضور فوت ہو جائیں گے مگر تعبیر میں نے نہ بتائی ۔
    (تاریخ تحریرـ10؍نومبر 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۵۹۔ مکرم طارق انور صاحب لیاقت میڈیکل کالج جامشورو
    ‏i۔ 25؍ اکتوبر 1981ء بروز اتوار اجتماع خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے آخری دن ربوہ میں خاکسار نماز فجر ادا کررہا تھا ۔ کہ رکوع سے قیام کی حالت میں آتے ہوئے ذرا سی غنودگی طاری ہوئی اور سامنے ایک بینر نظر آیا جس پریہ الفاظ لکھے ہوئے تھے ۔
    رفیع (کچھ بغیر اعراب کے عربی الفاظ جو پڑھے نہیں گئے) لَھُمْاور لَھُمْ کے اوپر کراس لگا ہوا تھا۔ خاکسار نے یہ بات حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کو بتلائی تو آپ نے فرمایا کہ "حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کو لکھو " میں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ )کی خدمت میں اسے پہلے ہی بھیج دیا تھا ۔
    ‏ii۔ 9؍ نومبر 1981ء کو خواب میں دیکھا کہ کوئی اجتماع ہو رہا ہے ۔ غالباً ربوہ ہی کا منظر ہے۔ ایک عارضی بنے ہوئے ہوٹل میں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب تشریف فرما ہیں۔ اور چائے پی رہے ہیں ۔ میں بھی پاس بیٹھا ہوں۔ مجھے فرماتے ہیں "آپ کا کام بڑا چھا جارہا ہے لیکن ایک دو شعبہ آپ کے بالکل Deadہیں ان کے متعلق بھی توجہ دیں " ویسے آپ خوش نظر آرہے ہیں ۔ یہ خواب بھی خاکسار نے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کو لکھا تھا۔
    ‏iii۔ کچھ عرصہ بعد (تاریخ یاد نہیں ) میں متوقع خلیفۃ المسیح الرابع کے متعلق سوچ رہا تھا۔ تو حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کا نام ذہن میں آیا اور یہ الفاظ دل میں آئے۔
    "اَصْلُھَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُھَا فِی السَّمَائِ"
    ‏iv۔ ایک خواب میں دیکھا کہ بے شمار فوجی اور پولیس والے دارالضیافت کے سامنے سے لے کر بیت مبارک کے بیرونی گیٹ والے حصہ میں کھڑے ہیں۔ کچھ گیٹ پر پہرہ بھی دے رہے ہیں ۔ اچانک گیٹ کے سامنے والے حصہ میں کچھ شور سا محسوس ہوتا ہے اور اردگرد لوگ اکھٹے ہوتے ہیں اور نظرآتا ہے کہ فوجی اور پولیس والے مل کر ایک آواز کودبارہے ہیں ۔ کمزور سی آواز کسی عورت کے رونے کی آتی ہے ۔ لیکن وہ سب پورے زور سے اسے دبارہے ہیں اور مار بھی رہے تھے ۔ پھر آنکھ کھل گئی ۔ا بھی ربوہ سے واپسی پر اس کی تعبیر ذہن میں آئی ہے کہ وہ فوج خدا تعالیٰ کے فرشتے تھے جنہوں نے متوقع فتنہ کی آواز کو دبادیا ۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک۔
    (تاریخ تحریر 28؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۶۰۔ مکرمہ ثمینہ پروین صاحبہ اہلیہ عبدالغنی صاحب دارالعلوم شرقی ربوہ
    یہ خواب مجھے جلسہ سالانہ1981ء کے بعد جنوری کی کسی تاریخ کو آئی ہے۔ تاریخ یاد نہیں لیکن جب حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ رابع منتخب ہوئے تو وہ خواب حقیقت بن کر آنکھوں کے سامنے آگئی ویسے پہلے میں نے یہ خواب امی کو سنا دی تھی اس لئے وہ سارا نظارہ آنکھوں کے سامنے آگیا ۔ کیا دیکھ رہی ہوں کہ ایک بڑا ہال ہے اور اعلان ہو رہا ہے کہ ہال میں حضرت میاںطاہر احمد صاحب کی تقریر ہے۔ نیچے کشادہ سڑک ہے اوراس کے کنارے درخت لگے ہیںاور گائے اور اس کا بچھڑا بھی کنارے پر کیلے کے ساتھ بندھے ہیں۔ میں جلدی جلدی سڑک سے ہوکر سیڑھی چڑھ رہی ہوں خیال ہے کہ دیر نہ ہو جائے ہاف ٹائم ہوجائے اور مجھے ٹکٹ نہ ملے۔ جلدی جلدی سیڑھی چڑھ کر اوپر آگئی ہوں اور دروازے پر چھوٹی آپا حضرت مریم صدیقہ صاحبہ سے ٹکٹ لی ہے۔ اور بھی خاندان کے افراد ہیں۔ اور لوگوں کا جم غفیر ہے۔ درمیان میں بڑی کرسی ہے اور اس پر حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد تشریف فرما ہیں۔ اور تقریر فرما رہے ہیں ۔ میں بھی ایک طرف ہو کر بیٹھ گئی ہوں اسی اثناء میں ہاف ٹائم ہوگیا ہے۔ ہم گھروں کو واپس آرہے ہیں لگتا ہے کہ دوبارہ جانا ہے ۔ اسی اثناء میں آنکھ کھل گئی۔
    (تاریخ تحریر26؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۶۱۔ مکرم پروفیسر ظفر اقبال صاحب لیبیا
    خاکسار نے گزشتہ سال 1981ء کے شروع میں خوا ب دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) فوت ہوگئے ہیں۔ اور بیت مبارک میں جلسہ ہے باہر بھی لوگوں کا ہجوم ہے ۔ تھوڑی دیر بعد مولوی جلال الدین شمس صاحب مرحوم اور مولوی ابو العطاء صاحب مرحوم بہت سینہ چوڑا کر کے رعب کے ساتھ سڑک والے گیٹ سے نکلے ہیں او ر کہتے ہیں کہ مرزاطاہر احمد خلیفہ ہوگئے ہیں پھر دونوں غائب ہو جاتے ہیں ۔بعدہٗ لوگ بیعت کرتے ہیں اور میں اکیلا رہ جاتاہوں۔ تھوڑی دیر بعدبیت مبارک میں حضرت صاحبزادہ صاحب کے پاس پہنچتا ہوں اور رو پڑتا ہوں کہ میں بیعت نہیںکرسکا آپ شفقت سے فرماتے ہیں اب کرلو ۔ بعدہٗ آنکھ کھل گئی فتنہ کے ڈر سے میں نے کسی کو یہ خواب نہ بتلایا سوائے عبدالباسط سنوری صاحب چنیوٹ اس کے گواہ ہیں وہ ان دنوں میرے ہاں مقیم تھے طرابلس میں رہتے تھے ۔
    (تاریخ تحریر 18؍جولائی 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۶۲۔ محترمہ زاہدہ بھنوں صاحبہ آف ماریشش
    میں نے حضرت خلیفۃالمسیح الثالث (رحمہ اللہ) کی (دوسری ) شادی کے موقع پر خواب دیکھا کہ حضرت چھوٹی آپا مریم صدیقہ اور میں اورمیری بہن ایک کمرہ میں بیٹھے ہیں حضرت چھوٹی آپا کچھ کپڑے سی رہی ہیں اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) خوبصورت لیسوں سے مزین کالے کپڑے پہنے دروازے کی دہلیز پر کھڑے ہیں ۔ لیکن ان کا چہرہ حضرت مرزا طاہر احمد خلیفۃ المسیح الرابع (رحمہ اللہ) جیسا ہے ۔
    (تاریخ تحریر28؍جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…

    ۶۳۔ مکرم ڈاکٹر بشیر احمدصاحب گگو منڈی ضلع وہاڑی
    انتخاب خلافت رابعہ سے چھ ماہ پہلے فہیم احمد جو کہ منشی شیخ محمد دین صاحب کا پوتا ہے نے خواب دیکھی کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ )خواب میں ملے ہیں اور فرمایا کہ میرے بعدمیاں طاہر احمد خلیفۃ المسیح ہوں گے ۔ (تاریخ تحریر 29؍ جون 1982)
    …٭…٭…٭…
    ۶۴۔ مکرمہ امتہ الحسیب صاحبہ بنت چوہدری محمد اقبال طاہر ہ منزل دارالنصر غربی ربوہ
    کچھ ماہ قبل خواب دیکھا ۔
    کہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) وفات پاگئے ہیں ۔ اور لوگ کہہ رہے ہیں خلافت کا انتخاب ہونا ہے ۔ خلافت کا انتخاب ہونا ہے ۔اور اس کی تیاری ہورہی ہے ۔ مگر میں دیکھتی ہوں کہ سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الثالث (رحمہ اللہ) دوبارہ زندہ ہوجاتے ہیں اور میں دل میں اس بات پر شرمندہ ہوتی ہوں کہ حضور (سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ) کیا سوچیں گے کہ یہ لوگ خلافت کا انتخاب کر رہے ہیں ۔ مگر حضور کے زندہ ہونے کی بات پس منظر میں چلی جاتی ہے اور خلافت کا انتخاب اسی طرح جاری رہتا ہے اور لوگ کہتے ہیں میاں طاہر خلیفہ منتخب ہوگئے ہیں۔ اس کے بعد دوبارہ پھر میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) کو وفات پاگئے ہوئے دیکھتی ہوں اور کہتی ہوں کہ حضور دراصل اب فوت ہوئے ہیں ۔
    (تاریخ تحریر 28؍ جون 1982ئ)
    ۶۵۔ مکرم مرزا منیر بیگ صاحب صدر حلقہ ایف سیون اسلام آباد
    ‏i۔ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کربیان کرتا ہوں میں نے 27؍فروری1982ء کو خواب دیکھا۔ کہ کوئی شخص حضرت خلیفۃالمسیح الثالث (رحمہ اللہ) کے مقابل پہ کھڑا ہو گیا ہے۔ اور لوگ ادھر ادھر دوڑ رہے ہیں۔ خاندان ِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد بھی ووٹ ڈالنے کے لئے دوڑ رہے ہیں محسوس کرتا ہوں جیسے انتخاب ہو رہا ہے ۔میں بھی ووٹ ڈالنے کے لئے دوڑتا ہوں۔ وسیع میدان ہے ۔کچی زمین ہے۔ ایک بڑا برآمدہ جس کے پیچھے دو کمرے ہیں ۔برآمدہ کی چھت کچی ہے شہتیروں میں سے کچھ گھاس بھی لٹک رہی ہے۔ اِنہی کمروں سے ووٹ کی پرچی بنتی ہے جب میں برآمدہ کے قریب پہنچتا ہوں تو کمرہ میںسے حضرت میاں طاہر احمد صاحب برآمد ہوتے ہیں ۔آپ کے ہاتھ میں ایک فل سائزپرچہ ہے ۔مجھے دیکھتے ہی محبت سے فرماتے ہیں کہ کیا آپ نے ووٹ نہیں دیا۔ یا نہیں ڈالا ۔میں عرض کرتا ہوں کہ میں بس حضور کے پیچھے آرہا ہوں ۔بس پرچی لے کر آیا ۔ آپ برآمدہ کے دوسرے کمرہ میںتشریف لے جاتے ہیں۔ اُس کے بعد آنکھ کھل جاتی ہے۔ وقت دیکھتا ہوں تو سحری کے تین بجے ہوتے ہیں پھر میں اپنی اہلیہ کو جگا کر خواب سناتا ہوں۔
    ‏ii۔ 7؍جون 1982ء کو خواب میں دیکھا کہ حضرت میا ں طاہر احمد صاحب ایک بہت بڑے ہال میں تقریر فرما رہے ہیں۔دوران تقریر آپ میرے بڑے بھائی مرزا اسلم بیگ کا نام لے کر کہتے ہیں کہ میرے اُن کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں ۔ہم سب لوگ کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں میرا چھوٹا بھائی ڈاکٹر امین بیگ جوآج کل امریکہ میں ہے۔ کسی کے ساتھ کچھ بات کر تا ہے تو میں اُسے "شی" کر کے روکتا ہوں ۔اور کہتا ہوں کہ حضور کی تقریر سنو۔اُس کے بعد میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ حضور کہہ کر دونوں خوابوں میں مخاطب کرنے والی بات ۔ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے خلیفۃالمسیح الرابع ہونے پر سمجھ آئی کہ حضور ہی برحق خلیفہ ہیں۔
    …٭…٭…٭…
    ۶۶۔ مکرمہ طلعت لئیق صاحبہ ہالینڈ
    میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتی ہوں کہ میں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ)کی وفات سے 4ماہ قبل خواب میں دیکھا کہ حضور وفات پاگئے ہیں ۔ اور حضرت میاں طاہر احمد صاحب ہمارے نئے خلیفہ بنے ہیں۔
    (تاریخ تحریر 23؍ اگست 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۶۷۔ مکرمہ بشریٰ سعید صاحبہ دارالرحمت غربی ربوہ
    ‏i۔ خلافت رابعہ کے بارے میں ایک خواب دیکھا ہے ۔ خواب میں میرا پھوپھی زاد بھائی جن کا نام محی الدین راجیکی ہے ملے ہیں۔ اور بتاتے ہیں کہ دادا جان مولانا غلام رسول راجیکی مجھے پیر کوٹ کی قبرستان میں ملے ہیں (پیر کوٹ ہمارے گائوں کا نام ہے ۔ جو تحصیل حافظ آباد میں ہے ) اور خلافت رابعہ کے متعلق بہت سی بشارتیں دی ہیں جن میں سے مجھے صرف یہ فقرہ یاد ہے۔کہ خلافت رابعہ میں تمام درخت پھل دینے لگیں گے ۔
    جاگنے کے بعد بھی میری زبان پر یہی فقرہ تھا۔ اور بار بار زبان پر آرہا تھا ۔
    ‏ii۔ آج سے تقریباً تین چار ماہ پہلے میں نے ایک خواب دیکھا ۔ کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک پر دعا کے لئے کھڑی ہوں۔ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قبر مبارک سے باہر تشریف لے آئیں تو میں زیارت کر لوں ۔ تو اچانک ایک تخت اوپر آتا ہے۔ اس پر ایک نورانی وجود کفن میں لیٹے ہیں۔ تو میں دیکھ کر کہتی ہوں تو یہ تو بالکل حضور (خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ )کی طرح ہیں۔ اتنا کہتے ہی تخت دوبارہ اندر چلا جاتا ہے اور قبر پہلے جیسی ہو جاتی ہے اس خواب میں بہت پریشان ہوئی۔ اور حضور کی صحت اور زندگی کے لئے بہت دعا کرتی تھی۔ جب میں نے حضور (رحمۃ اللہ) کے وصال کے بعد آپ کی زیارت کی تو وہی خواب اور منظر میری آنکھوں کے سامنے آگیا ۔
    (تاریخ تحریرجون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۶۸۔ مکرم شیخ محمد حنیف صاحب امیر جماعت ہائے احمدیہ کوئٹہ
    عرصہ تقریباً ساڑھے تین ماہ کا ہوا ہے کہ عاجز نے خواب میں دیکھا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ایک چارپائی پر آرام فرما رہے ہیں دست مبارک اپنے سر کے نیچے رکھا ہوا ہے ۔(ساتھ ایک اورشخص لیٹے ہوئے ہیں جس کا پورا جسم چادر سے ڈھکا ہوا ہے۔ سر سے پیر تک کوئی حصہ جسم کاننگا نہیں ہے اور بے حس و حرکت ہیں)
    یہ عاجز ایک کرسی پرقریب ہی بیٹھا ہے۔ اس عاجز نے عرض کیا صاحبزادہ صاحب ۔ اس عاجز نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ )کی خدمت بابرکت میں ایک مسئلہ لکھا ہوا ہے دیر ہوگئی جواب نہیں ملا؟ مجھے جلد جواب کی طلب ہے ۔ اس پر حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے اپنا بازو جو سر کے نیچے ہے بلند فرمایا یعنی کہنی تکیہ پراور ہتھیلی سر مبارک کے نیچے ہے گویا سر مبارک بلند ہوگیا ہے ۔ اور چہرہ مبارک اس گنہگار کی طرف ہے اور فرمایا:
    "اچھا اچھا آپ کے اس مسئلے کا جواب تو چوتھے خلیفۃ المسیح دیں گے۔"
    اس پراس عاجز نے عرض کیا کہ چوتھے خلیفۃ المسیح کی علامت کیاہے ؟ اس پر فرمایا کہـ" ان کی رنگت زیتونی(کچھ پیلا پن لئے ہوئے) سرخی مائل ہوگی۔"اتنے میں اس عاجز نے دیکھا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب (رحمہ اللہ)کے چہرہ مبارک ۔ گردن ہاتھوں کی رنگت نہایت خوشنما زیتونی رنگ سرخی مائل ہوگئی ہے اور یہ عاجز سمجھتا ہے کہ یہ حضرت خلیفۃ المسیح چہارم ہیں ۔
    فالحمد للہ کہ ساڑھے تین ماہ بعد یہ خواب پورا ہوا ۔ میرا یہ بیان مفہوم کے لحاظ سے حلفیہ ہے ۔
    (تاریخ تحریر 22؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۶۹۔ مکرم چوہدری بشیر احمد صاحب گوٹھ بشیر آباد ضلع نواب شاہ
    قریباً مارچ 1982ء کے آخر کی بات ہے کہ خاکسار نے خواب میں دیکھا کہ مشرق کی طرف بلندی پر پندرھویں کا چاند نمودار ہوا ہے۔ خواب میں یہ بتایا جارہا ہے کہ یہ پندرھویں کا چاند ہے چاند کے پیچھے ایک بڑا روشن اور چمکدار ستارہ ہے ۔ اور یہ بتایا جارہا ہے کہ پندرھویں کا چاند حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) ہیں اور ستارہ کے متعلق بتایا جارہا ہے کہ وہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ہیں۔ پھر آنکھ کھل گئی۔
    …٭…٭…٭…
    ۷۰۔ مکرم مسود احمدبٹ صاحب قائد مجلس خدام الاحمدیہ بدو ملہی سیالکوٹ
    مارچ 1982ء کی ایک رات کی بات ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثالث ـ(رحمہ اللہ) ایک جلسہ پر خطاب کرنے کے لئے تشریف لے گئے ہیں۔واپسی پر آپ کی کارایک عورت (جس کا تعلق بدوّملہی سے ہے) ڈرائیوکر رہی ہے۔ مگر کار بے قابو ہوکر گڑے میں جاگری ہے ۔ جس سے حضور کوخاصی ضربیں آئی ہیں۔اور سینہ سے خون نکل کر ٹانگوں کے ذریعہ بہہ رہا ہے۔اور حضور نڈھال ہو جاتے ہیں ۔اتنے میں اُس عورت کا خاوند آجاتا ہے اور اپنی بیوی کو جھڑکیاں دیتا ہے جس پر حضور فرماتے ہیں کہ اِسے کیوں مارتے ہو اس کا کیا قصور ہے ۔اتنے میں آنکھ کھل جاتی ہے۔
    اس سے اگلے روز میں نے ایک کمرے میں بہت ہی خوبصورت صوفے پر حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کو بیٹھے دیکھا۔ آپ کے دونوں ہاتھوں میں چاندی کے سفید رنگ کے کنگن ہیں جو کہ بہت چمک رہے ہیں۔
    (تاریخ تحریر02 ؍اگست 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۷۱۔ مکرم سلطان رشید خان صاحب کوٹ فتح خان ضلع اٹک
    محترم برادرم سردار کرم خان صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ )کی وفات سے دو تین ما ہ پہلے ایک خواب میں دیکھا۔ کہ ایک بہت بڑا میدان ہے۔ اور بہت سے لوگ مختلف ٹکڑیوں میں کھڑے اور بیٹھے ہوئے ہیں ۔ جن میں محترم سردار صاحب بھی شامل ہیں اور یہ تمام لوگ انہیں ایک ایسی مخلوق محسوس ہوتے ہیں۔ جو کہ نہایت لطیف قسم کی ہے۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) تشریف لائے ہیں اور اپنی دستار مبارک اپنے ہاتھوں سے اتار کر کسی شخص کے ہاتھ میں دیتے ہیں اور اشارہ فرماتے ہیں کہ جا کر اس شخص کو پہنا دو ۔ سردار صاحب کہنے لگے۔ کہ نہ تو میں اس شخص کو پہچانتا ہوں۔ جسے حضور نے پگڑی دی اور نہ اسے جسے پہنانے کا حکم دیا۔ خاکسار نے انہیں صدقہ دینے کے لئے کہا اور خود بھی دیا ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت پوری ہو کر رہی ۔
    ربوہ میں جب حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے بحیثیت خلیفۃ المسیح حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) کی دستار مبارک پہنی تو میں نے سردار صاحب سے کہا کہ خواب والا واقعہ حرف بحرف پورا ہوگیا خاکسار تو صرف یہ سمجھتا تھا ۔ کہ حضور (رحمہ اللہ )کے مقام پر کسی اور شخص کے فائز ہونے کی طرف اشارہ ہے ۔ لیکن یہ تو پگڑی پہننے کا واقعہ بھی ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ۔ الحمد للہ ۔ بلکہ جب جنازے کے لئے سردار کرم خان صاحب بہشتی مقبرہ کے میدان میں انتظار کر رہے تھے ۔ تو انہوں نے محسوس کیا کہ یہ وہ میدان تھا جو انہوں نے خواب میں دیکھا ۔ (تاریخ تحریر26؍ مارچ 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۷۲۔ مکرم مظفر احمد صاحب ابن ملک بشیر احمد صاحب کراچی
    ‏i۔ 15-14مارچ 1981ء کی درمیانی رات خاکسار نے خواب دیکھا کہ
    حضرت میاں طاہر احمد صاحب کے کمرے میں ہوں۔ ان کی چارپائی پر ہرقسم کے علوم کی کتب کھلی پڑی ہیں ۔ آپ تشریف لے جاتے ہیں ۔ اس کے بعد میں نے اپنے آپ کو ان کی چارپائی پر بیٹھے دیکھا ۔ اس حیرانی کے عالم میں کہ کیا حضرت میاں صاحب کو یہ سارا علم آتا ہے؟
    ‏ii۔ 26-25مارچ 1981ء کوخواب دیکھا کہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب ہمارے حلقہ (ہائوسنگ سوسائٹی ) کے ماہانہ جلسہ کی صدارت فرما رہے ہیں ۔ مگر ان کی شکل اور جسم عبدالسلام میڈسن صاحب جیسا ہے ۔ کوئی شخص اٹھ کر تلاوت کرتا ہے ۔ اور آپ بار بار اس کی تصحیح فرماتے جاتے ہیں ۔ باربار لوگ اٹھ کر تلاوت کرتے ہیں ۔
    اس وقت تو خاکسار سمجھا کہ خواب میاں صاحب کی پاکیزگی پر دلالت کرتا ہے ۔
    مگر اب سمجھ میں آیا کہ جس کی چارپائی پر ہرقسم کے علوم کی کتب کھلی ہوئی ہوں۔ اور جو قرآن کے معاملے میں لوگوں کی اصلاح کرے وہ خلیفہ کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا ۔
    عزیزم مظفر احمد کے والد مکرم ملک بشیر احمد صاحب لکھتے ہیںکہ
    "مظفر نے جب یہ خواب دیکھے تو صبح اٹھ کر ہمیں سنائے اور اپنی ڈائری میں نوٹ کرلئے تھے "
    (تاریخ تحریر27؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۷۳۔ مکرم حکیم محمداحسن خان صاحب امین جماعت احمدیہ راولپنڈی
    حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کی بحیثیت خلیفۃ المسیح آمد کی خبر اللہ تعالیٰ نے خاکسار کو چند ماہ قبل دے دی تھی۔ رات دو بجے کے قریب غنودگی میں تھا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے بلند آواز سے نعرہ بلند کیا ہے۔ لفظ نعرہ کو بہت طول دیا اور جواباً دنیا کے لوگوں نے اپنے اپنے گھروں میں "اللہ اکبر " کا نعرہ لگایا یہ آواز اتنی بلند تھی کہ جس نے زمین کو ہلا دیا ۔اس وقت یہ تفہیم ہوئی کہ خلیفہ رابع حضرت مرزا طاہر احمد ہوں گے ۔
    (تاریخ تحریر 19؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۷۴۔ مکرم مرزا ضمیر احمد کلیم صاحب منڈی بہائوالدین
    مجھے یہ خواب آئی کہ ایک پیکٹ ہے اس میں لنگر کی دو تین روٹیوں کے ٹکڑے ہیں ۔ اور ان کے اوپر لنگرکی دال ماش سیاہ اور سفید رنگ کی ہے۔ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد کے اور میرے سامنے یہ پیکٹ ہے۔ ایک طرف کچھ آدمی سے ہیں۔ جو کہ ہم دونوں دیکھ رہے ہیں۔
    (تاریخ تحریر 15؍ جولائی 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۷۵۔ مکرم ڈاکٹر رشید احمد آفتاب صاحب صدر جماعت احمدیہ بھلوال
    مورخہ 18؍ اپریل 1982ء سے دو ایک روز بعد حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے متعلق خاکسار نے ایک رؤیا دیکھی جس کے متعلق خاکسار حلفیہ طور پر بیان کرتا ہے ۔ یہ رؤیا دیکھنے کے دوسرے روز ہی نماز مغرب کے وقت خاکسار نے بیت الذکر میں موجود چنددوست اور خاص طور سے مربی سلسلہ مکرم منیر احمد عابد صاحب کے سامنے بیان کردی تھی جس کے وہ گواہ ہیں۔ میں نے دیکھا ۔
    ربوہ کی ایک کشادہ گلی ہے جس میں اور بھی راستے ملتے ہیں ایک ہجوم ہے جو زیادہ تر بزرگوں یعنی انصار پر مشتمل ہے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی اہم بات ہو اس ہجوم میں مرکزی حیثیت حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الرابع کی ہے اور فوٹو گرافر بار بار فلیش سے فوٹو لے رہے ہیں ۔ ایک روشنی جو بہت زیادہ تیز ہے حضرت صاحبزادہ مرز اطاہر احمد صاحب کے چہرے پر اچانک پڑی جس سے ان کی آنکھیں چندھیا گئیں اور انہوں نے اپنا بازو تیز روشنی سے بچنے کے لئے اپنے سامنے کر لیا اور میں کہہ رہا ہوں کہ اس قدر تیز روشنی نہ ڈالیں اسی اثناء میں احساس ہوا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) بھی اس ہجوم میں موجود ہیں اور یہ تیز روشنی ان کے چہرے یا شاید جسم سے نکل کر حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے چہرہ پر پڑ ر ہی ہے ۔
    اس وقت خلیفہ وقت کا اس ہجوم میں شامل ہونا اور حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب (جو اس وقت خلافت کے ایک خادم تھے) کی حیثیت خلیفۃ المسیح الرابع کی ہونا کچھ عجیب احساس پیدا کر رہی تھی۔ اس کے بعد خاکسار کی آنکھ کھل گئی
    (تاریخ تحریر 29؍ جون 1982ئ)
    ۷۶۔ مکرم محمد نواز صاحب ولد عبدالکریم لنگاہ ادرحماں ضلع سرگودھا
    آج سے دو ماہ قبل خواب میں دیکھا کہ میں بے حد رو رہا ہوں۔ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کیاہوا ۔ میں کہتا ہوں کہ میرا والد فوت ہوگیا ہے ۔ میں جس طرف دیکھتا ہوں آدمی ہی آدمی نظرآتے ہیں اور بہت سی کاریں کھڑی ہیں میں نے ایک آدمی سے پوچھا کہ یہ لوگ کیوں آئے ہیں۔ وہ کہنے لگا کہ آپ کا والد فوت ہوگیا ہے ۔ میں نے اس کو کہا کہ یہ لوگ نہ میرے والد کے دوست ہیں اور نہ میرے۔ وہ مجھے کہنے لگا کہ یہ آپ کا والد ہی نہیں تھا بلکہ پورے پاکستان کا والد ہے ۔ اور میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے گائوں کے جنوب کی طرف دو پہاڑ ہیں جن کے درمیان میرے والد کی قبر کھودی جارہی ہے وہ قبر کھودنے والے اتنے تیز ہیں کہ میں نے سمجھا یہ ہاتھ سے مٹی ادھر ادھر پھینک رہے ہیں میں نے ایک آدمی سے پوچھا کہ میرا والد فوت ہوگیا ہے اوراب مجھے کون سنبھالے گا ۔ وہ کہنے لگا میاں طاہر احمد ۔ میں نے پوچھا کہ میاں طاہر احمد کون ہیں وہ کہنے لگا ۔ خلیفہ ثالث میاں ناصراحمد کے بھائی ہیں ۔ میں خوشی سے اتنا اچھلا اور خوش ہوا کہ میںبلند آواز سے نعرے لگاتا رہا ۔ اس کے بعد میں بیدار ہوگیا۔
    یہ سب نقشہ میرے سامنے تھا میں باہر گیا کہ اپنا والدتو دیکھوں میں نے دیکھا کہ میرا والد بالکل تندرست ہے تو یک دم میرے دل میں خیال آیا کہ یہ جو فوت ہوئے ہیں یہ میاں ناصر احمد ہیں ۔ اور جو ہمیں سنبھالیں گے وہ میاں طاہر احمد ہیں ۔ یہ خواب میں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) کو بھی لکھی تھی۔ (تاریخ تحریر 29؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۷۷۔ مکرم محمد شریف صاحب ساکن کھر پا ضلع سیالکوٹ
    خلافت رابعہ کے انتخاب سے تقریبا ڈیڑھ ماہ پہلے خاکسار نے خواب میں حضرت مرزا طاہر احمد صاحب سے ملاقات کی اوردوران گفتگو حضرت صاحبزادہ صاحب کوحضور حضور کہہ کر بات کرتا رہا ۔ آنکھ کھلتے ہی سوچا کہ کیا بات ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہی میرے دل میں ڈالا کہ آئندہ ہمارے خلیفہ حضرت میاں صاحب ہوں گے لیکن خاکسار نے اس روز تک کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) کا وصال ہوا کسی کو یہ خواب نہیں بتائی۔
    (تاریخ تحریر04؍ جولائی 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۷۸۔ مکرم خالد مسعود شیخ صاحب پیپلز کالونی فیصل آباد
    تین خوابیں دیکھی تھیں ۔ جن کے گواہ مولوی محمد دین صاحب مربی سلسلہ فیصل آباد مکرم شریف احمد صاحب بھٹی ۔ ربوہ اور چند ایک اور اصحاب بھی ہیں۔ وہ خوابیں یہ ہیں ۔
    ‏i۔ خواب میں دیکھا کہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) کا وصال ہو چکا ہے اور جو خلیفہ منتخب ہوئے ہیں ۔ وہ بالکل نوجوان ہیں۔ انہوں نے کالی ٹوپی پہن رکھی ہے۔ رنگ بھی قدرے سانولا ہے ۔ وہ بہت رو رہے ہیں۔ اور جماعت بھی ان کے ساتھ بہت رو رہی ہے۔
    ‏ii۔ خواب میں دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) کا وصال ہوگیا ہے لیکن دوبارہ حضور ہی منتخب ہوگئے ہیں
    ‏iii۔ خواب میں عاجز کو پلاسٹک کا ایک ڈبی والا کپڑا دکھایا گیا ۔ جس پر سنہری حروف میں لکھا ہوا پہلا نام حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل (اللہ آپ سے راضی ہو) کا تھا ۔دوسرا نام سنہری حروف میں حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہٗ کا لکھا ہوا اورتیسرا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) اور چوتھا سنہری حروف میں لکھا ہوا نام حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کاتھا۔ پانچواں نمبر جب عاجز نے دیکھنا چاہا تو دکھانے والے نے اس پر ہاتھ رکھ لیا اور کہا کہ بس آگے نہیں دکھایا جاسکتا ۔
    (تاریخ تحریر22؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۷۹۔ مکرم مبارک احمد طاہرصاحب معلم جماعت احمدیہ چک ۹۸ شمالی سرگودھا
    17/18؍ مئی 1982ء کی رات اڑھائی بجے خاکسار نے خواب میں دیکھا کہ ایک جگہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) سے ملاقات ہورہی ہے خاکسار بھی احباب جماعت کے ساتھ ملاقات کے لئے حاضر ہوتا ہے لیکن جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ حضور موجود نہیں ہیں ایک دوست سے پوچھا کہ حضور کہاں ہیں انہوں نے کہا کہ حضور تشریف لے گئے ہیں اور میاں طاہر احمد صاحب تشریف لے آئے ہیں ۔
    …٭…٭…٭…
    ۸۰۔ مکرم صوفی بشارت الرحمن صاحب دارالرحمت غربی ربوہ
    ‏i۔ 19؍مئی 1982ء کو ابھی جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) اسلام آباد نہ گئے تھے۔ یہ خواب دیکھا کہ ایک اونچا محل سا ہے ۔ جس کے دروازہ کے آگے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کھڑے ہیں ۔ چہرہ بہت روشن اور چمک رہا ہے ۔ میں ان کے ساتھ کھڑا ہوں ۔ اتنے میں دیکھتا ہوں کہ کچھ براتی ۔ دروازہ میں سے محل کے اندر داخل ہوگئے ہیں۔ میں سمجھتاہوں کہ یہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کی نئی شادی کے براتی ہیں۔
    (تاریخ تحریر10؍ جولائی 1982ئ)
    ‏ii۔ مورخہ 9؍ جون1982ء کو انتخاب خلافت سے ایک دن قبل دن کے دس او ر گیارہ بجے کے درمیان آنکھ لگ گئی تو میں نے رویا میں انتخاب خلافت کے اجلاس کانظارہ دیکھا کہ ایک چھوٹا سا کمرہ ہے اس میں فرش پر دریوں پر ہی احباب بیٹھے ہیں ۔ ان میں نمایاں طور پر میں نے حضرت صوفی غلام محمد صاحب (ناظر بیت المال خرچ ) کو وہاں بیٹھے دیکھا۔یکایک یہ محسوس ہوا کہ ان کے بیٹے مکرم مبارک مصلح الدین احمد صاحب خلیفہ منتخب ہوگئے ہیں ۔ پھر دیکھا کہ مکرم مبارک مصلح الدین احمد صاحب میرے پاس کھڑے ہیں اور میں اس وقت خواب میں ان کا نام"احمد علی" سمجھتا ہوں انہوں نے ایک نوٹ بک خاکسار کو دکھائی اور کہنے لگے یہ دیکھیں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ)پہلے ہی خلیفہ نامزد کرگئے تھے۔ چنانچہ نوٹ بک کا ایک صفحہ انہوں نے مجھے دکھایا ۔ اس پر اس طرح عبارت لکھی تھی "احمد علی" اس پر میں بڑا خوش ہوا کہ یہ تو واقعی آپ کی تقرری کی واضح عبارت ہے یا پیش گوئی ہے۔ا سی وقت میں مکرم مبارک مصلح الدین احمد صاحب کو واقعی خلیفۃ المسیح الرابع سمجھتا ہوں اور حضور حضور کر کے ان سے مخاطب ہوتا ہوں۔ پھر وہ اِدھر اُدھر جاتے ہیں ۔ میں بھی ان کے ساتھ ساتھ ہی ہوں کہ دیکھا کہ ایک جگہ وہ خاکسار او ر چوہدری حمید اللہ صاحب ناظر ضیافت کھڑے ہیں ۔ میں کہتا ہوں کہ دفتر وصیت کے نظام کا سارا ڈھانچہ تبدیل ہونے والا ہے اسی طرح مجلس کا رپرداز کا ۔ اور اس سلسلہ میں میں بعدمیں تفصیلاً عرض کروں گا۔ اس کے بعد میں نے دیکھا کہ عبدالرشید صاحب غنی (قائد مال انصار اللہ مرکزیہ )کھڑے ہیں۔ اب اس وقت میں مکرم مبارک مصلح الدین احمد صاحب کو فراموش کردیتاہوں اور عبدالرشید صاحب غنی کوخلیفۃ المسیح الرابع سمجھتا ہوں ۔ اور انہیں کہتا ہوں کہ آپ اب خلیفہ وقت ہیں۔ ہمارے کیس کے بارے میں بھی غور فرمائیں (یعنی خاکسار اور مکرم پروفیسر حبیب اللہ خان صاحب کی سزا کے بارے میں ) اس پر وہ ویسے ہی ہمدرددانہ لہجے سے بات کرتے ہیں۔ مگر کوئی معین جواب نہیں دیا ۔
    اس کے بعد پھر مبارک مصلح الدین احمد صاحب ہی کو خلیفہ وقت خیال کرتاہوں۔ اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ دفتر انصار اللہ کے لان میں کھڑے ہیں اور احباب جماعت اپنی درخواستیں اورعرضیاں پیش کررہے ہیں میںخیال کرتا ہوں کہ خلیفہ وقت کوتو قصر خلافت میں ہونا چاہئے۔ یہ دفتر انصار اللہ کے پاس کیوںکھڑے ہیں ۔ میں کہتا ہوں کہ ابھی نماز کا وقت آئے گا ۔ اور خلافت کے پہرہ دار اور موٹریں آئیں گی اور انہیں قصر خلافت پہنچائیں گی۔
    ہاں ایک امر میںبھول گیا ہوں ۔اس سے قبل جب میں بحیثیت خلیفۃ المسیح الرابع ۔ مبارک مصلح الدین احمد صاحب سے یا عبدالرشید صاحب غنی سے باتیں کررہا ہوں تو میں یہ بھی کہتا ہوں کہ بہت اچھا ہوا کہ نسبتاً ایک نوجوان فرد جماعت کا خلیفہ بنا ہے۔ ایک لمبی مدت خلافت کے لئے انشاء اللہ ملے گی۔ ایک بہت بڑی عمر کاشخص اگر خلیفہ بنتا توپھر چند سالوں بعد فوت ہوجاتایہ بہت اچھا ہوا کہ نوجوان شخص خلیفہ منتخب ہوا ہے۔
    اس کے ساتھ ہی میں نے فوراً اپنی اہلیہ کو آواز دے کر جگایا اور بتایامیں نے یہ رؤیا دیکھی ہے۔
    تم بھی سن لو اور ساتھ یہی کہا کہ اس رویا کی اکثر مبشر باتیں ۔ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کی طرف ہی اشارہ کرتی ہیں اور وہ باتیں حسب ذیل ہیں۔
    ‏i۔ خواب میں،میں خلیفہ وقت (مبارک مصلح الدین احمد کا نام ) احمد علی سمجھتا ہوں۔ "احمدـ" کا مطلب یہ ہے کہ نیا خلیفہ بھی خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں سے ہوگا ۔ اور"علی" سے مراد یہ ہے کہ وہ پہلے ہی علو شان رکھتاہے ۔ چنانچہ صاحبزادہ مرزا طاہر احمد ۔صدر مجلس انصار اللہ ہیں۔ جو بزرگان احمدیت کی ذیلی تنظیم ہے۔ پھر اپنے علمی اور روحانی مقام میں بھی علو شان رکھتے ہیں ۔
    ‏ii۔ یہ دیکھا کہ وہ دفتر انصار اللہ کے قریب کھڑے ہیں اور لوگ عرضیاں پیش کررہے ہیں۔ یہ بھی مرز اطاہر احمد صاحب کی طرف اشارہ ہے ۔ ان کا دفتر "دفتر وقف جدید " انصار اللہ کے قریب ہے پھر انصار اللہ کا دفتر بھی دراصل انہی کا دفتر ہے اور یہاں سے اب انہوں نے قصر خلافت میںتبدیل ہونا ہے ۔
    ‏iii۔ مبارک مصلح الدین احمد کے نام سے نئے خلیفہ کی صفات کی طرف اور کاموں کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے ۔
    ‏iv۔ عبدالرشید غنی کو خلیفہ سمجھنا ۔ اس میں عبدالرشید سے مراد ہے کہ یہ خلیفہ راشد ہے اور غنی سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت غنی"بے نیاز" کامظہر ہے مجھے یہ نہیں سمجھناچاہیے کہ سابق تعلقات کی وجہ سے فوراً میرے بارے میں کوئی حکم صادر کردیں گے ۔
    (تاریخ تحریر 15؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۸۱۔ مکرم چوہدری رحمت علی صاحب سابق باڈی گارڈ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی
    دوپہر کا کھانا تناول کر کے بغرض کلولہ لیٹا ہوا تھا کہ میری آنکھ لگ گئی ۔ اسی اثناء میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بہت بڑا ہجوم ہے۔ اس ہجوم کی مشرقی سمت میں نے دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل (اللہ آپ سے راضی ہو) اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) اور ان کے علاوہ دو بزرگ جن کو میں نہیں جانتا وہ بھی ہمراہ ہیں کہ ایک دم ان چاروں حضرات کے درمیان ایک بہت حسین اور خوبصورت نوجوان ہستی ان میں آموجود ہوئی اور ہجوم نے کہنا شروع کردیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں اسی لمحہ ایک دوست نے خاکسار سے کہا ۔ کہ سناہے کہ نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کے دوٹکڑے کردئیے تھے تو پھرآج بھی چاند کے دوٹکڑے ہوں گے یا نہیں۔ خاکسار نے کہا کہ اس وقت تو چاند کے دوٹکڑے کئے گئے تھے۔ آج چاند خود ہی ان کے قدموں میں آجائے گا ۔ اُس وقت رات کا سماں ہوگیا۔ اور چاند اپنی پور ی آب و تاب سے آسمان پر چمکنے لگا ۔ پھر میرے دیکھتے دیکھتے چاند آہستہ آہستہ آسمان سے زمین کی طرف آنے لگا۔ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جھولی میں آگرا ۔ میں نے اسی وقت سارے ہجوم کو مخاطب کرکے کہا۔ کہ اس وقت تو صرف چاند کے دوٹکڑے کرنے کا معجزہ تھا آج یہ معجزہ ہے۔ کہ چاند خودبخود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جھولی میں آگرا ہے۔ جب ہجوم نے اچھی طرح دیکھ لیا ۔ تو پھر چاند نے آہستہ آہستہ اوپر جانا شروع کردیا ۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنی جگہ پر پہنچ گیا ۔
    یہاں تک خواب پہنچی تھی کہ میری بڑی بھاوجہ صاحبہ نے مجھے آواز دی کہ رحمت علی آذان ہوگئی ہے۔ جائو اٹھ کر نماز پڑھو ۔ خواب تقریباً سترہ اٹھارہ مئی 1982ء کی ہے ۔
    (تاریخ تحریر 07؍ جولائی 1982ئ)
    ۸۲۔ مکرم فداء الحق سیٹھی صاحب ابن فضل حق سیٹھی صاحب جہلم
    خاکسار نے 26اور 27؍مئی 1982ء کی رات جو یوم خلافت کی رات تھی کو خواب دیکھا ۔کہ جلسہ سالانہ ہے اور لوگ پنڈال میں کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں۔اور میں ڈیوٹی پر ہوں ۔مگر میں نے دیکھا کہ گورنمنٹ کے کافی بڑے بڑے آفیسر جن کو میں تجربہ کی روشنی میں سمجھتا ہوں کہ کسی خاص مشن پر ہیں ۔اور ساتھ ہی مجھے خواب میں پتہ چلتا ہے کہ ایک آئی۔جی پولیس ہے۔ ایک D.CاورS.Pاور مجسٹریٹ ہیں۔ آئی ۔جی صاحب وردی میں ہیںاور باقی سفید کپڑوں میں مجھے یقین ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ کسی وجہ سے حضور کو حراست میں لینا چاہتے ہیں۔ اور میں اُن کے ساتھ رہتا ہوں ۔اچانک حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ)مرسڈیز کار میں تشریف لاتے ہیں۔اور بہت دلیرانہ اور واشگاف الفاظ میں کوئی تقریر شروع فرماتے ہیں۔ ایک دم یہ لوگ حضور کو عرض کرتے ہیں کہ آپ تشریف لے آئے ہیںحضور کا لباس بالکل وہی جو کہ1981ء آخری تقریر جلسہ سالانہ میں پہن کر آئے تھے بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔ اُن لوگوں کے ساتھ تشریف لے جاتے ہیں اور سب لوگ وہیں بیٹھے رہتے ہیں۔ میں اور ایک آدمی جس کا لباس بالکل وہی ہے جو عموماً جامعہ کے طالب علم پہنتے ہیں یعنی کالی جناح کیپ سفید شلوار اور قمیض اور پوری مگر چھوٹی داڑھی اور صحت کے لحاظ سے ذرا کمزور ہے میرے ساتھ ہیں ۔حضور کے ساتھ چلتے ہیں۔ حضور وہاں سے سیدھے اُن لوگوں کے ساتھ بیت مبارک کی طرف تشریف لاتے ہیںاور باہر کھڑے ہو کر بیت مبارک کی طرف منہ کر کے دُعا کرتے ہیں جیسے اِس کو الوداع کر رہے ہیں اورسوگوار طریقہ سے ہاتھ سے بیت مبارک کو الوداع کرتے ہوئے اشارے سے بیت مبارک کو بوسہ دیتے ہیں۔ اور حضور کے کندھے پر ایک چادر ہے جو کہ گاڑھے نسواری رنگ کی ہے وہ چادر اُتار کر اس آدمی کو دے دیتے ہیں جو کہ ساتھ ہے جو جامعہ کے طلبہ کے مشابہہ ہے اور سفید رنگ کی مرسڈیز میں بیٹھ کر اُن افسران کے ساتھ تشریف لے جاتے ہیں۔ میں حضور سے پوچھتا ہوں حضور یہ آدمی کون ہے آپ فرماتے ہیں یہ ماڈل ٹائون لاہور والی بیت النور کے امیر جماعت ہیں اور بڑے ہشاش بشاش ہو کر تشریف لے جاتے ہیں۔
    اس کے بعد خاکسار جب صبح نماز کے لئے بیت الذکر گیا تو کافی دِل اداس تھا۔ دوسرے تیسرے دن حضور کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے اطلاعات ملتی رہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی رضا پوری ہوگئی۔ اور جب میں حضور کی میت کے ساتھ قافلہ کے ہمراہ جہلم سے اپنے بھائی برادرم ضیاء الحق صاحب امیر جماعت احمدیہ کی کارمیں ربوہ آرہا تھا تو میری حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب سے کھاریاں کے قریب ایک جگہ ملاقات ہوئی جہاں آپ اپنی کا ر تبدیل فرمارہے تھے ۔ تو بالکل وہی لباس تھا اور وہی حلیہ تھا جو کہ میں نے خواب میں اس شخص کا دیکھا تھا۔ پریشان اور تھکا سا چہرہ گدلے کپڑے اور وہی ٹوپی اور داڑھی۔بندہ نے اسی وقت خدا تعالیٰ کے اس اشارے کو سمجھا کہ اللہ تعالیٰ اسی شخص کو آئندہ کے لئے خلافت کی ذمہ داریاں سونپے گا۔
    (تاریخ تحریر15؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۸۳۔ مکرم خلیل احمد صاحب اونٹا ریو کینیڈا
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ )کے وصال سے دوہفتہ قبل ایک خواب دیکھا کہ یہ عاجز سیدنا حضرت مصلح موعود نوراللہ مرقدہ کے ساتھ ایک مکان میں ہے اور حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ خاکسار کے داہنے ہاتھ بیٹھے اور بہت ہی اچھا خوشگوار ماحول ہے ۔ حضور خاکسار سے بہت خوش ہیں خاکسار نے حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ‘ سے عرض کیا کہ حضور! میاں منیرا حمد صاحب اور ایک اور میاں صاحب کا نام لیا (جو یاد نہیں رہا ) کہ وہ بھی خوبصورت ہیں مگر میاں طاہر احمد صاحب کی بات ہی اور ہے اس پر سیدنا حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ‘ نے بہت پیار اور لطف و کرم سے خاکسار کی طرف دیکھا اور آنکھ کی پلک کو بھی ہلاتے ہوئے اور رخ مبارک بھی بڑے انداز سے ہلاتے ہوئے پوچھا فرمایا:
    "وہ کیا بات ہے جو میاں طاہر احمد میں تم کہتے ہو ۔ "
    خاکسار نے سوچ کر کہا کہ کس طرح الفا ظ میں بیان کروں عرض کی۔
    "حضور ان کے چہرہ پر ایمان کی خوبصورتی (یا رونق) کچھ اور ہی ہے (یعنی اپنا ہی رنگ رکھتی ہے)"
    اس پر سیدنا حضرت المصلح الموعود بہت خوش ہوئے اور فرمایاـ"تم نے ٹھیک کہا ہے"
    پھر فرمایا
    "ابھی تو جب یہ تقریر کرے گا تو پھر دیکھنا "
    خاکسار نے یہ خواب اپنی بیوی کو اسی دن بتا دی تھی ۔ مگر جب سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کے وصال کی اندوہناک خبر ملی تو یہ خواب یا د آئی کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے جو ایک غم آنے والا تھا اس سے پہلے اپنے دائمی فضل کی طرف اشارہ فرما کر بشارت دے دی ۔
    (تاریخ تحریر12؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…

    ۸۴۔ مکرم ظفر احمد چوہدری صاحب سیٹلائیٹ ٹائون گوجرانوالہ
    میں نے 26؍ مئی 1982ء کی رات کو خواب میں دیکھا کہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب اور میرے والد محترم چوہدری ظفر اللہ صاحب امیر جماعت احمدیہ ضلع گوجرانوالہ اور میرے علاوہ ایک اور شخص کھڑے ہیں ۔ حضرت صاحبزادہ کی پشت میری طرف ہے اور آپ تیار ہورہے ہیں جب آپ نے میری طرف اپنا چہرہ کیا تو مجھے بتایا گیا کہ یہ خلیفہ ہیں آپ کی ریش مبارک آپ کے مخصوص انداز کی تھی آپ نے جو لباس زیب تن کر رکھا تھا اس کے متعلق مجھے بتایا گیا کہ یہ لباس آپ نے میاں لقمان احمد صاحب کی خواہش پر زیب تن کیا ہے
    خواب کا پہلا حصہ تو آپ کے خلیفہ بننے پر پورا ہوا اور دوسرا حصہ اس وقت پورا ہوا ۔ جب میاں لقمان احمد صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کی پگڑی آپ کو پیش کی ۔ الحمد للہ
    …٭…٭…٭…
    ۸۵۔ مکرم شیخ محمد نعیم شاہد صاحب مربی سلسلہ نواب شاہ
    جمعہ ہفتہ کی درمیانی شب 29؍مئی1982ء کو خواب دیکھا کہ بیت مبارک ربوہ میں موجود ہوں۔ محراب کے ساتھ ڈائس پر حضرت صاحبزاد ہ مرزا طاہر احمد صاحب پگڑی پہنے ہوئے تشریف لائے ہیں اور السلام علیکم کہا ۔حضرت صاحبزادہ صاحب کو دیکھ کر میں کہتا ہوں ابھی یہاں حضرت خلیفتہ المسیح الثالث(رحمہ اللہ) کھڑے تھے۔ دوسری نماز میں حضرت صاحبزادہ صاحب آگئے ہیں اور پہلے تو ٹوپی پہنتے تھے اب پگڑی ہے۔ ان خیالات سے حیران ہوتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھا تو پوری بیت مبارک کھچا کھچ بھری ہوئی ہے اور لوگ بڑے صبر سے کوئی اعلان سننے کے لئے تیار ہیں۔ میں باربار حضرت صاحبزادہ صاحب کی طرف دیکھتا اور خیال کرتا ہوں کہ کہیں خلافت کا اعلان تو نہیں ہو نے والا پھر توجہ اس طرف گئی کہ ایک خلیفہ کی زندگی میں دوسری خلافت کا نہیں سوچنا چاہیے مگر یہ تو خواب تھا اور اس کے بعد آنکھ کھل گئی اور اسی وقت یہ خواب اہلیہ صاحبہ کو سُنا کر نوٹ کر لیا۔
    …٭…٭…٭…
    ۸۶۔ مکرم شیخ محمود احمد بشیر صاحب جھنگ صدر
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) کی وفات سے چند دن قبل خواب میں دیکھا کہ تین دوست میری طرف منہ کئے کھڑے ہیں۔ بائیں طرف صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب، حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی پگڑی باندھے ہیں۔ میں کہتاہوں کہ یہ تو بالکل ہی حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی پگڑی باندھی ہوئی ہے ان کے ساتھ خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک اورفرد ہیں۔ لیکن معلوم نہیں کہ وہ کون ہیں ۔ ان کے ساتھ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کھڑے ہیں ان کے سر پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) کی پگڑی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ میاں صاحب پگڑی میں کتنے پیارے لگ رہے ہیں آپ نے تو پہلے پگڑی کبھی نہ پہنی اس کے بعد حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کی طرف سے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ( رحمہ اللہ) تشریف لاتے ہیں۔ تو میں مکرم عبدالغفور صاحب کو کہتا ہوں کہ حضور تشریف لے جارہے ہیں۔
    حضور کی خدمت میں لائبریری سے دو کتابیں پیش کردیںکہ حضور کے کام آئیں گی۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔
    …٭…٭…٭…
    ۸۷۔ مکرم انواراللہ خان صاحب جوئیہ ابن شمشیر خان جوئیہ (مرحوم ) جماعت نہم
    دارالنصر شرقی ربوہ
    حضرت خلیفۃالمسیح الثالث (رحمہ اللہ) کی وفات سے تقریباً دس دِن قبل رات تقریباً ساڑھے تین بجے خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں مغرب کی نماز پڑھنے کے لئے بیت الذکر کی طرف جا رہا ہوں، تو بیت الذکراور اس کے باہر بہت ہجوم ہے اور بیت الذکر کے اندر لائوڈ سپیکر پر مربی صاحب اعلان کرتے ہیںکہ میں آپ لوگوں کو ایک خوشخبری سناتا ہوں وہ یہ ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ کے لئے آگئے ہیں۔ یہ خوشخبری سن کر سب لوگ بہت خوش ہوتے ہیں اور خوشی خوشی گھروں کو واپس لوٹ جاتے ہیں۔ اِس کے بعد میری آنکھ کھُل جاتی ہے۔ یہ خواب دیکھنے کے بعد دوسرے دن حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ)کی خدمت میں خواب ارسال کر دیاتھا۔ لیکن وہ اچانک اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے اور حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الرابع منتخب ہوگئے۔
    (تاریخ تحریر17؍جون 1982ئ)
    ۸۸۔ مکرم رحمت اللہ خان صاحب شاہد مربی سلسلہ لودھراں
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) کی بیماری کے ایام میں خاکسار نے تین بجے رات کا الارم لگا رکھا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک جگہ پر جیسے شروع میں ربوہ کا پلیٹ فارم تھا ۔ ہم لوگ حضرت صاحب کا استقبال کرنے کے لئے کھڑے ہیں ۔ میں آخری سرے پر جو کہ مغرب کی طرف کا سرا ہے ۔ کھڑا ہوں ۔ شام یعنی مغرب کا وقت ہے ۔ میرے مشرقی پہلو میں مکرم مرزا حنیف احمد صاحب کھڑے ہیں ۔ میں اس وقت دوسری طرف دیکھ رہا تھا کہ مرزا حنیف احمد نے مجھے کہنی کے اشارہ سے اپنی طرف متوجہ کیا اور کہا کہ "ڈبے وچ چوہدری ظفر اللہ خان وی ہیں" اسی دوران گاڑی آگئی ۔ میں نے پہلے ڈبہ میں اپنی بیوی اور بچے سیف اللہ کو دیکھا۔ ڈبہ روشن تھا ۔ پھر دوسرا ڈبہ گزرا ۔ پھر تیسرے ڈبہ کے دروازہ پرحضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ بہت سے لوگوں کے ساتھ کھڑے تھے۔ حضرت صاحب نے پگڑی پہنی تھی۔ چہرہ لمباتھا۔ اتنے میں الارم کی آواز آئی۔ اور میں بیدار ہوا۔
    میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث(رحمہ اللہ) فوت ہوجائیں گے چوتھا خلیفہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ کا بیٹا ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ فتوحات کا دروازہ کھول دے گا۔
    (تاریخ تحریر12؍جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…

    ۸۹۔ مکرمہ مسز فرحت صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر عبدالشکور سٹیلائیٹ ٹائون سرگودھا
    31؍ مئی 1982ء کو شام 7بجے میں نے لجنہ کے اجلاس میں حضور کی زندگی اور صحت کے لئے بہت دعا کی۔ اس کے بعد میں نے کھڑے کھڑے یہ نظارہ دیکھا۔ کہ ایک بہت بڑا سا میدان ہے جس میں سامنے حضور کا جنازہ رکھا ہوا ہے اور بہت سے لوگ کھڑے ہیں ۔ اتنے میں سامنے سے ایک آدمی آتا ہے ان کی چھوٹی کالی داڑھی ہے۔ا وروہ نماز جنازہ پڑھاتے ہیں ۔تو میں کہتی ہوں کہ یہ ہمارے نئے خلیفہ ہیں۔ اور میں دل میں سوچتی ہوں کہ یہ میاں طاہر احمد صاحب ہیں اور اس کے بعد یہ نظارہ غائب ہوگیا ۔
    (تاریخ تحریر12؍ جون 1982ئ)

    …٭…٭…٭…
    ۹۰۔ مکرم محمد اشرف ہنجر اصاحب موضع سمندر ضلع جھنگ
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ )کی وفات سے قبل میری بچی (بعمر 15-14سال ) کو خدا نے بتایا کہ بیت اقصیٰ کا ایک مینار گرگیا ہے۔
    پھر جس دن حضرت خلیفۃ المسیح الثالث(رحمہ اللہ ) کی تجہیز و تکفین ہونی تھی اسی رات خواب میں حضور (رحمہ اللہ ) کو دیکھا کہ آپ کے سارے جسم پر کفن ہے لیکن ایک پائوں پر کفن نہیں ہے وہ ننگا ہے حضرت صاحب (رحمہ اللہ ) فرمانے لگے کہ میرے بعد جو خلیفہ ہوگا اس کو کچھ ایسے حالات اور واقعات پیش آئیں گے کہ جس سے کچھ کمزوری واقع ہوگی۔
    پھر کل ہی خواب میں حضرت صاحب (رحمہ اللہ ) ملے اور انہوں نے اس بچی کو دو گلاب کے پھول دئیے اس بچی نے پوچھا کہ حضور (رحمہ اللہ ) آپ تو فوت ہوگئے تھے توآپ نے فرمایا کہ نیک لوگ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ اور جماعت کی مضبوطی کے لئے آیا ہوں ۔
    (تاریخ تحریر16؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۹۱۔ مکرمہ امتہ الشافی صاحبہ بنت رسالدار فضل الٰہی صاحب چار سدّہ پشاور
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کی علالت سے چند دن قبل خواب دیکھا کہ ایک بہت بڑا ہال ہے ۔ اور اس میں بہت سارے احمدی جمع ہیں ۔ اور خوشی اور غمی کے ملے جلے جذبات لئے کسی فیصلہ کے منتظر ہیں ۔ کہ اتنے میں ہال کے ایک طرف سے حضرت مرزا ناصراحمد صاحب (جن کو مرحوم کہتے ہوئے زبان ساتھ نہیں دیتی) اپنی مخصوص پروقار چال اور اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ نمودار ہوتے ہیں ۔اور ان سے ایک قدم پیچھے اور حضورکے قدم پہ قدم رکھ کرایک بزرگ بھی ان کے ساتھ چلے آرہے ہیں۔ ان دونوں کوساتھ دیکھ کر لوگ بہت خوش ہوتے ہیں ۔ اور پھر وہ دونوں کوئی فیصلہ کرنے ایک کمرے میں داخل ہوجاتے ہیں۔ میں کسی سے پوچھتی ہوں ۔ کہ یہ حضور کے ساتھ کون ہیں۔ تو مجھے جواب ملتا ہے کہ یہ حضور کے بھائی مرزا طاہر احمد ہیں ۔ اور میرے منہ سے یہ الفاظ نکلتے ہیں ۔ کہ کس قدر ملتے جلتے ہیں حضور سے۔ پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔
    اس وقت تو کچھ نہ سمجھ سکی مگر آج میرے خواب کی تعبیر میرے سامنے ہے ۔
    (تاریخ تحریر 02؍ جولائی 1982ئ)
    ۹۲۔ مکرم حبیب الرحمن صاحب ڈھونیکے سڑک پور ہ ضلع گوجرانوالہ
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کی علالت کے دوران خواب میںدیکھتا ہوں کہ ایک شخص دریا میں کھڑا ہے۔ اردگرد اس کے کچھ لوگ ہیں ۔ اس شخص کے ہاتھ میں سونٹا ہے ۔ اور وہ اس سونٹے سے لوگوں کا پیچھا کررہا ہے۔ لوگ اس شخص کے آگے بھاگ رہے ہیں۔ اس شخص نے سر پر سیاہ رنگ کی پگڑی باندھی ہوئی ہے۔ اور سونٹا بھی سیاہ رنگ کا ہے۔ دریا کا پانی گدلا ہے۔ لیکن ٹھنڈا ہے۔ اس شخص کی داڑھی بھی سیاہ ہے ۔ کسی شخص نے مجھے خواب میں بتایا کہ یہ حضرت علی ؓ ہیں ۔ اس شخص کی شکل حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ملتی تھی ۔ پہلے تو میں اس خیال میں تھا۔ کہ خدا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کو صحت بخشے گا ۔ اور جماعت کی کامیابیاں آپ کے ہاتھوں ہوں گی ۔
    لیکن خدا کو کچھ اور منظور تھا۔ اس خواب کے تیسرے دن حضور کا انتقال ہوااور میں نے اپنے گھروالوں کو بتایا کہ اب خدا اپنے فضلوں سے حضرت میاں طاہر احمد کو خلیفہ بنائے گا۔ سب کہہ رہے تھے کہ خلیفہ کوئی اور بنے گا۔ میں نماز ظہر کے وقت ربوہ پہنچا تو میں نے وہاں بھی کہا کہ میاں طاہر احمد خلیفہ ہوں گے۔
    (تاریخ تحریر26؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…

    ۹۳۔ مکرم شیخ منیر احمد صاحب دارالرحمت وسطی ربوہ
    ‏i۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) جب عارضہ قلب سے دوچار ہوئے تو مجھے یہ خواب آیا جو میں نے دو دن بعد مولانا دوست محمدصاحب شاہد کو سنایا تھا۔
    جیسا کہ ہماری تربیتی کلاس زیر نگرانی مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ ہوتی ہے اس میں عاجز بھی طالب علم کی حیثیت سے شریک ہے چودہ دن تو لگاتار تعلیم حاصل کرنے کے بعد پندرھویں دن مجھے اسٹیشن ربوہ پر چند دوستوں نے محو گفتگو کر لیا ہے جب فارغ ہو کر کلاس پر جاتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) اپنا خطاب مکمل کرنے کے بعد واپس باہر تشریف لا رہے ہیں اور آپ کے ساتھ کوئی باڈی گارڈ بھی نہیں ۔ جب باہر آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ گاڑی کہاں ہے گاڑی لائو ۔ چند آدمی گاڑی کی تلاش ادھر ادھر کرتے ہیں مگر گاڑی ڈرائیور کہیں لے جاتاہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ جائو گاڑی لے آئو ۔ اتنے میں آپ ایک تختے پر چڑھتے ہیں تو وہ چرچراتا ہے اس تختے کے ایک جانب سیڑھیاں ہیں آپ ان سیڑھیوں کے ذریعے اوپر جاتے ہیں یہ سیڑھیاں بوسیدہ ہیں آپ جوںجوں اوپر کی جانب جاتے ہیں نیچے کھڑا آپ کے لیے دعا کرتا ہوں کہ یارب العالمین ان سیڑھیوں سے تو ریت کی طرح سیمنٹ میرے سر پر گر رہا ہے تو اپنی جناب سے حفاظت فرما۔ اور آپ چھت پر تشریف لے جاتے ہیں ۔اتنے میں آواز آتی ہے کہ گاڑی آگئی ہے حضور کو اطلاع کرو۔
    آپ کو اطلاع دینے کے لیے لوگ دوڑتے ہیں اور دوسری عمارت کی چھت پر چند سپاہی بندوقیں پکڑے کھڑے ہیں پس سبھی طرف ڈھونڈا مگر آپ نہیں ملے۔
    اسی اثناء میں میری آنکھ کھل جاتی ہے تو خاکسار بہت پریشان ہوتا ہے۔ بہرحال اس پر صدقہ وغیرہ ادا کرتا ہوں ۔
    ‏ii۔ جس دن حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ )کی وفات ہوئی اس دن یہ اہم خواب دیکھی جورات تقریباً پون بجے سے ڈیڑھ بجے تک دیکھی ہوگی ۔ اور اس کے تھوڑی ہی دیر بعد یہ خواب حقیقت بن گئی تھی۔ وہ یہ ہے۔
    کوئی گھر ہے جس کی تیسری منزل پر میں دو پیارے سے بچوں کے ساتھ کھڑا ہوں کہ نیچے آنے کے لئے زینہ کے قریب آتا ہوں(یہ میں اختصار کے ساتھ لکھ رہا ہوں کیونکہ جو نظارہ میں نے دیکھا ہے وہ کچھ یاد بھی نہیں اور جو یاد ہے وہ یہی ہے) تو نیچے سے مکرم شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈوکیٹ امیر ضلع فیصل آباد کے صاحبزادے مکرم طاہر احمد صاحب کہتے ہیں کہ بھئی اس طرف سے نہ آنا یہ زینہ ٹوٹ چکا ہے تم چند منٹ یا لمحے وہیں رکے رہو۔ بعد ازاں اوپر دو دروازے ہیں کہ ایک دروازہ کھول کر آپ یہ کہتے ہیں کہ بھئی اس طرف سے آجائو ۔ اس طرف کشادہ جگہ ہے اور یوں لگتا ہے جیسا کہ زمین ہو اورہم کسی منزل کی چھت پر نہیں بلکہ کھلی اور ہموار جگہ پر ہیں ۔
    تھوڑی دیر بعد گھر کا دروازہ کھٹکا اور ساتھ اطلاع ملی کہ حضور اپنی خلافت کا وقت ختم کرتے ہوئے اپنے رب دو جہاں کے حضور رحلت فرما گئے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنِّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ o اور اس طرح خواب اول کی طرف لوٹتے ہوئے کہ پولیس کے سپاہی اگر ڈاکٹر بھی ہوں تووہ بھی اس قضائے الہی سے اپنے پیارے محبوب کو ڈھونڈ کے واپس نہ لا سکے اور آخر والی خواب میں خلافت کی یہ تیسری سیڑھی جو بیٹھ گئی ہے۔ اس سے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کی وفات مراد ہے ۔
    اور خداتعالیٰ نے ہمارے لئے اپنی جناب سے رحمت کا سایہ فرماتے ہوئے مکرم مرزا طاہر احمد صاحب کوہمارے لیے نئے رستے کا باب کھول کر اس جانب متوجہ فرمایا اور اب ہم کشادہ زمین پر چلنے لگے ہیں اور طاہر احمد جو خواب میں دکھلائے گئے اس سے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کے نام کی طرف اشارہ تھا۔
    ۹۴۔ مکرمہ طاہرہ انور ابڑو صاحبہ بنت محترم الحاج علی انور صاحب ابڑولاڑکانہ
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کی علالت کے دوران ایک رات بہت زیادہ رقت اور بے چینی سے اپنے پیارے آقا کے لئے دعا کی۔ اسی رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میری امی اسلام آباد جارہی ہیں اورخواب دیکھتے ہوئے ذہن پر یہ تاثر تھا کہ جس طرح قادیان اور ربوہ ہمارے لئے مقدس شہر ہیں اسی طرح اسلام آباد بھی مقدس ہے۔ یعنی جس طرح ادھر بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام رہ چکے ہیں۔ میں امی سے کہتی ہوں کہ میں بھی آپ کے ساتھ ضرور اسلام آباد جائوں گی ۔ لیکن امی نہیں مانتی۔ میرے کافی اصرار پر راضی ہوگئیں ۔ آخر میں بھی امی کے ساتھ چلی گئی ۔ وہاں گئی تو میں نے دیکھا ایک بہت خوبصورت بنگلہ ہے جس کے وسط میں ایک حوض ہے جس کا پانی انتہائی صاف و شفاف ہے ۔ اس کے چاروں طرف بہت خوبصورت لکڑی کی موٹی تہہ لگی ہوئی تھی ۔ وہاں ایک ملازم امی سے کہنے لگا کہ آپ پہلے اسی تالاب پر آتے تھے؟ امی مجھے اور اس ملازم کو کہنے لگیں ہاں ہم ادھربہت آتے تھے۔ لیکن ایک دن ایسا ہوا کہ ہمیں آرڈر آئے کہ آئندہ ہم اس پر نہ آئیں کیونکہ تالاب کے گرد جولکڑی لگی ہوئی ہے اس کا معائنہ کرنے پر پتہ چلا ہے کہ اس کو دیمک کافی عرصہ سے لگی ہوئی تھی جس نے اب اسے بالکل ناکارہ بنادیا ہے اس لئے اس تالاب پرآنا انتہائی خطرناک ہے اس لئے جب تک دوسری لکڑی نہیں لگ جاتی اس پر کوئی نہ آئے ۔ اس کے بعد امی کہنے لگیں انہوں نے اس لکڑی کو بدل کر اس کی جگہ یہ لکڑی لگادی ہے اور اب ہمیں ادھر آنے کی اجازت ہے ۔
    یہ خواب دیکھ کر میری آنکھ کھل گئی۔ مجھے سخت حیرت ہورہی تھی کہ اس کی تعبیر کیا ہوسکتی ہے۔ انگلستان کے ڈاکٹر صاحب نے جب حضور کا معائنہ کر کے بتایا کہ ان کو یہ تکلیف پرانی ہے تو میرا ذہن ایک دم دیمک اور پرانی لکڑی کی طرف چلا گیا۔ لیکن پھر میں اپنے خدا کے آگے جھک کر بہت روئی۔ میں نے اپنے رب سے کہا کہ حضور کی بیماری کو جڑ سے ختم کر کے انہیںدوبارہ نئی زندگی دے ۔ لیکن پتہ نہیں کیوں اس خواب کے بعد جب بھی میں حضور کے لئے دعا کرتی ۔ میرے سامنے میری خواب یکدم چھا جاتی اور مجھے ایسا لگتا کہ اللہ میاں مجھے کہہ رہا ہے کہ نادان تو کیوں روتی ہے میں نے تو تجھ پر سب کچھ واضح کردیا ہے ۔ حضور کی وفات تک مجھے دعا کر کے بالکل بھی تسلی نہیں ہوتی تھی۔ حضور کی وفات کی خبر جتنی روح فرساں تھی۔ اتنا ہی نئے خلیفہ کا سوچ کر سخت ذہن الجھا ہواتھا۔ میری زبان ، دل اور دماغ پتہ نہیں کیوں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کی چیخ چیخ کر گواہی دے رہے تھے۔ جب بھی میں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد کے متعلق سوچتی تو مجھے ایک دم اپنی خواب میں دیکھی ہوئی نئی اور خوبصورت لکڑی یاد آجاتی اور ساتھ ہی حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کا چہرہ نگاہوں کے سامنے گھوم جاتا ۔ جس وقت حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کا انتخاب ہوا تو امی ایک دم خوشی سے مجھے کہنے لگیں۔
    " طاری تیری خواہش پوری ہوگئی ۔ مرزا طاہر احمد صاحب ہی خلیفہ منتخب ہوگئے ہیں۔"
    اس وقت میری اتنی عجیب کیفیت ہوئی کہ خوشی کے مارے میرا جسم کانپنے لگا اور میری آنکھوں سے خوشی کے آنسو رواں ہوگئے ۔ اور میں نے اپنے خدا کے حضور جھک کر اس کا شکرادا کیا جس نے مجھے جو کچھ بتایا وہی کردکھایا ۔
    …٭…٭…٭…
    ۹۵۔ مکرم خیر دین صاحب نمبردار چک نمبر 39\Dتحصیل خوشاب ضلع سرگودھا
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کی وفات سے پہلے مجھے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد کے بارے میں خواب آیاتھا کہ جس طرح حضور کے جنازے میں لوگ اکھٹے تھے اسی طرح لوگوں کو خواب میں دیکھا اور آپ نے بہت بڑا وزن ایک اونٹ پراکیلے ہی اٹھا کر رکھ دیا اتنا بڑا وزن تھا کہ اونٹ نے بھی وہ وزن بڑی مشکل سے اٹھایا۔
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کی وفات پر میں نے سمجھ لیا کہ آپ نے خلافت کا بوجھ اٹھایا تھا۔
    (تاریخ تحریر28؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۹۶۔ مکرمہ امتہ البشریٰ صاحبہ بنت محمد یحیٰی مقبول صاحب جھنگ صدر
    میں حلفاً بیان کرتی ہوں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث(رحمہ اللہ)کی وفات حسرت آیات سے چند دن قبل نماز تہجد کے وقت یہ خواب مجھے آئی جو من و عن لکھ رہی ہوں ۔میں نے دیکھا کہ بیت اقصیٰ ربوہ سے باہر آنے والی سڑک کی ایک جانب کھڑی ہوں۔ کافی لوگ سڑک پر آجارہے ہیں۔ کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ )نماز پڑھا کر بیت سے باہر تشریف لاتے ہیں ۔ جب حضور میرے پاس سے گزرتے ہیں۔ تو وہیں زمین پر گرجاتے ہیں ۔ حضور کے گرتے ہی یہ مشہور ہو جاتا ہے کہ حضور وفات پاگئے ہیں میرا دل غم سے بھر جاتا ہے۔ا ور صدمہ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔ میں اسی عالم میں حضور کی زیارت کرنے کی غرض سے آگے بڑھتی ہوں تو لوگوں کویہ کہتے ہوئے سنتی ہوں کہ حضور خلیفہ وقت فوت نہیں ہوئے بلکہ جماعت کا ایک عالم فوت ہوگیا۔ کیا دیکھتی ہوں کہ اس جگہ جہاں حضور گر پڑے تھے۔ وہاں سے ایک شخص جس نے سوٹ یعنی پتلون اور کوٹ پہنا ہوا ہے۔ اور گلے میں گلاب کے خوبصورت ہار پہنے ہوئے ہیں۔ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اور سب انہیں حضور کہہ کر مخاطب کررہے ہیں۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ آنکھ کھلی تو فجر کی آذان ہو رہی تھی۔
    اس خواب کے چار یا پانچ دن بعد عین اسی وقت حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کے انتقال پر ملال کی خبر ہمیں موصول ہوئی میری حالت بالکل اسی طرح تھی ۔ جس طر ح یعنی فجر کے وقت خواب کے بعد ہوئی تھی۔بعد میں جب میں نے یہ خواب سب کو سنائی تو میرے ماموں نے مجھے بتایا کہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب بھی پتلون اور کوٹ پہنتے رہے ہیں سبحان اللہ۔ خواب کس شان سے پورا ہوا کہ خلیفہ وقت تو فوت نہیں ہوا تھا بلکہ وہ تو گلاب کے ہار گلے پہن کر بڑی شان سے ہمارے درمیان جلوہ افروز ہوئے۔
    (تاریخ تحریر25؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۹۷۔ مکرم عبدالباری احمدی صاحب کیلگری کینیڈا
    ‏i۔ یکم اور 02؍جون 1982ء کی درمیانی شب خواب میں دیکھا کہ میں جماعت کے نئے خلیفہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کی خدمت اقدس میں بیعت کا ٹیلیگرام دے رہا ہوں اور ساتھ اپنے تمام گناہوں کی معافی کا لکھ رہا ہوں ۔ خواب میں ہی حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب (رحمہ اللہ ) کی طرف سے میری بیعت قبول کئے جانے اورمعاف کئے جانے کا ٹیلیگرام موصول ہوتا ہے۔ اس خواب کا ذکر میں نے اسی دن بطور گواہ محترم ڈاکٹر مرزا محی الدین صاحب سے کیا تھا۔
    ‏ii۔ صحیح تاریخ بھول گیا ہوں گو یہ خواب میں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب (رحمہ اللہ)کی خدمت عالی میں 13؍مارچ 1982ء کو لکھ چکاہوں ۔
    خواب میں دیکھا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے گھر خدا تعالیٰ کی رحمت کا نزول ہو رہا ہے اور گھر رحمت سے بھر گیا ہے ۔
    ‏iii۔ یہ خواب میں نے (غالباً 1978ء کے آخر میں ) حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ)کی خدمت اقدس میں لکھا تھا اور حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کو تحریراً بھجوایاتھا وہ خود گواہ ہیں۔
    خواب میں دیکھا کہ صدر انجمن احمدیہ کی عمارت کے پاس (یا گرائونڈ میں ) ایک بڑا جمبو جہاز پڑا ہے جو کام نہیں کرسکتا اس کے پروں اور کل پرزوں نے کام کرنے سے انکار کردیا ہے۔ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے کہ وہ اس جہاز کو ٹھیک کر کے چلائیں۔
    ‏iv۔ یہ خواب 1978ء کا ہے اور اس خواب کو میں نے مکرم بشیر احمد صاحب رفیق کو لنڈن بھی لکھا تھا۔
    خواب میں دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ)"پاپائے روم" کو تبلیغ کرنے ویٹیکنVaticanتشریف لے گئے ہیں جہاں اور بھی دنیا کے بادشاہ نئے پوپ کو مبارک باد دینے آئے ہیں۔ اس موقع پر وہاں دنیاوی شغل بھی بہت ہے ۔ اس تقریب میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) نے Popeپوپ کو تبلیغ کرنا تھی جماعت کے چند اور بھی دوست جن میں مکرم عطاء المجیب راشد صاحب مکرم بشیر احمد رفیق صاحب ، حضرت صاحبزادہ مرز اطاہر احمد صاحب اور خاکسار بھی شامل تھے۔ جب حضرت صاحب Popeکو تبلیغ کرنے کی غرض سے اس کے دفتر میں تشریف لے جانے لگے تو ساتھ نمائندگی کے لئے ایک اور شخص کو جانے کی ذمہ داری سونپی گئی اور خاکسار کے ذمہ لگایا گیا کہ حضرت صاحب کے ساتھ دوسرا شخص کون جائے تو میں نے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب سے عرض کیا کہ میاں صاحب آپ حضور کے ساتھ تشریف لے جائیں اس طرح دونوں اکھٹے وہاں تشریف لے گئے اور پوپ کو قرآن مجید اوراسلام کے بارے میں بتایا اورپوپ نے مطالعہ کے لئے ایک سال کی مدت کا وعدہ کیا۔
    ‏v۔ 9اور 10؍جون 1982ء کو خواب میں دیکھا کہ ایک جگہ حضرت خلیفۃا لمسیح الثالث (رحمہ اللہ) کھڑے ہیں پاس حضرت صاحبزادہ مرزاطاہر احمد صاحب کھڑے ہیں اور خاکسار اور خاکسار کی اہلیہ بشریٰ ساتھ ہیں ۔ اتنے میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) نے اپنی پگڑی اتاری اور پکڑ کر حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے سر پررکھ دی اور فرمایا یہ تم سنبھالوہم تو چلتے ہیں ہم وہاں کھڑے ہوتے ہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) ننگے سر روانہ ہوجاتے ہیں اور جاتے ہوئے فرماتے ہیں ہم نے یہاں کیا لینا ہے وہاں ہی چلتے ہیں۔ اس نظارے کے بعد حضرت مرز ا طاہر احمد صاحب نے ہاتھ اٹھا کر دعا کروائی اور جو دعا کرنے کی حالت حضرت صاحبزادہ صاحب کی تھی وہ ایسی تھی جسے کہا جاتا ہے کہ دعا ایک موت چاہتی ہے یعنی آپ دعا کرتے کرتے خداتعالیٰ میں غرق ہونے والی حالت پیدا کرلیتے ہیں اس کے بعد آنکھ کھل گئی۔
    (تاریخ تحریر10؍جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۹۸۔ مکرم شیخ خلیل احمدناصر صاحب بدوملہی ضلع سیالکوٹ
    یکم اور 2؍جون1982ء کی درمیانی رات میں نے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کا خواب میں دیدار کیا اور دیکھا آپ ربوہ ہی میں کسی اُونچی منزل پر دفتر میں مرکزی کام بڑے پیار سے اور دل لگی سے کر رہے ہیں۔ اور وہاں پر ہی مجھے آپ کا چہرہ مبارک جو چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہا تھا۔ دیکھنا نصیب ہُوا۔ الحمدللہ ۔خوا ب بہت لمبی تھی مگر بہت مختصر لکھ دی ہے اور اس خواب سے حضرت صاحبزادہ مرزاطاہر احمد صاحب کو بھی تحریراً مطلع کردیاتھا ۔
    (تاریخ تحریر02؍جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۹۹۔ مکرم مقبول حسین ضیاء صاحب مربی سلسلہ گلگت
    2 اور3؍ جون 1982ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ )کی بیماری کی ڈاکٹری رپورٹ ضمیمہ الفضل سے پڑھ کر بڑی پریشانی ہوئی دن رات دعائوں میں گزارا ۔منگل کے دن جب خاکسار نیند سے بیدار ہوا تو میرا پورا ذہن طاہر ، طاہر سے گونج رہا تھا ۔ سارا دن ایسی ہی کیفیت رہی پانچ بجے دو واقفین عارضی اور ایک خاکسار حضور کے لئے صدقہ کی تحریک کی غرض سے نکلے مغرب کی نماز مکرم میجر منور احمد صاحب کے مکان پر ادا کی اور اس کے بعد حضور کی صحت کے لئے صدقہ کی تحریک کی اور ساتھ ہی میں نے کہا ڈاکٹری رپورٹ تسلی بخش نہیں ۔ میجر صاحب نے فرمایا آج ہی ٹیلیفون پر اطلاع ملی ہے کہ حضور کی صحت قدرے بہتر ہے ۔ میں نے کہا آج پتہ نہیں میرے ذہن پر طاہر ۔ طاہر کیوں ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی طاہر وجود میںآنے والا ہے ۔حضرت مرزا طاہر احمد صاحبکی طرف میری کوئی توجہ نہ تھی اور نہ کسی اور شخص کے متعلق ۔ دوسرے دن صبح آٹھ بجے ہمیں حضور کی وفات کی خبر ملی۔ ربوہ پہنچے ۔ زیارت کی اورجب حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کا انتخاب خلیفہ کے طور پر ہوگیا تو تب میری سمجھ میں آیا کہ میرے ذہن پر کیوں ایسا زور تھا۔ یہ نام نہ لینے کے باوجود خودبخود ذہن پر سوار تھا۔
    (تاریخ تحریر16؍جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۰۰۔ مکرم مشتاق احمد شائق صاحب سکوارڈن لیڈر اسلام آباد
    مورخہ4؍ جون1982ء خاکسار نے اپنے دو فرزندوںکے ہمراہ جمعہ کی نماز اسلام آباد میں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کی اقتداء میں پڑھی اور بعد از نماز ملاقات کا شرف پایا تو مصافحہ کے بعد بڑی دیر تک آپ کے چہرہ مبارک کو دیکھتا رہا ۔ کیونکہ اسلام آباد جاتے ہوئے لاہور میں قیام کے دوران خاکسار کو ایک خواب آئی تھی کہ
    ایک بڑا کمرہ ہے ۔ اور ایک طرف حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نوراللہ مرقدہ اور آپ سے کچھ دور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) تشریف فرما ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ "ناصر اب تم میرے پاس آجائو اور مجھ سے چند نوٹس لے لو" میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ )کے قریب ہی بیٹھا ہوا ہوں ۔ تو آپ نے مجھے فرمایا ۔ کہ شائق صاحب ! آپ کی ہینڈ رائیٹنگ اچھی ہے۔ آپ نوٹس لکھتے جائیں۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔
    5دن کے وقفے کے بعد جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کی وفات ہوگئی تو ساتھ ساتھ مجھے وہ نظارہ بھی یاد آرہا تھا ۔ جو کہ اسلام آباد کی بیت الذکر میں بعد از ملاقات میں دیر تک حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے رخ انور کو دیکھتا رہا ۔ دل میں گمان تو ضرور گزرا کیونکہ خواب میں دیکھ چکا تھا۔ اور میرے دل میں معاً ایک خیال گزرا ۔ جس پر میں نے اس لحاظ سے قابو پانے کی کوشش کی کہ ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرے شخص کو خلیفہ کے لئے تصور کرنا بھی گناہ ہے ۔ لیکن میرے دل میں حضرت صاحبزادہ صاحب کی صورت اور سیرت دونوں زیادہ سے زیادہ اُترتی گئیں ۔ اور جب مجلس انتخاب نے آپ کے مبارک وجود کو خلیفہ الرابع کے لئے تمام ضروری کوائف کو ملحوظ خاطررکھتے ہوئے منتخب کیا ۔ تو میر ا دل خدا کی حمد سے بھر گیا ۔
    میں نے اپنے دل کی کیفیت کو سامنے رکھتے ہوئے گھر میں کہہ دیا کہ حضرت مرزا طاہراحمد ہی منتخب ہوں گے ۔ انشاء اللہ ۔
    (تاریخ تحریر24؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۰۱۔ مکرم عبدالغنی قیصرؔصاحب کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور
    خاکسار نے دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) فوت ہوگئے ہیں اور ان کا جسد اقدس ایک خوبصورت پلنگ پر پڑا ہے ۔ حضور کے جسم پر ان کا معمول کا لباس ہے یعنی شیروانی ، پگڑی اور شلوار وغیرہ ۔ ان کے پہلو میں خاکسار کا بھتیجا طاہر لیٹا ہوا ہے۔ واضح رہے کہ میرے بھتیجے کا نام بھی حضرت صاحبزادہ مرزاطاہر احمد کا رکھا ہوا ہے ۔ پہلے تو مجھے اس خواب میں کوئی خاص تعبیر نظر نہیں آئی مگراب معلوم ہوتا ہے کہ یہ خلافت رابعہ کی طرف اشارہ تھا۔
    (تاریخ تحریر10؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۰۲۔ مکرم ماسٹر فضل الدین طارق صاحب ابن چوہدری اکبر علی صاحب
    رفیق حضرت مسیح موعود کنری سندھ
    3اور 4؍جون 1982ء کی درمیانی رات خاکسار نے4 بجے کے بعد خواب میں دیکھا کہ ایک چھوٹا سا باغیچہ ہے جس کے پاس حضرت خلیفۃ المسیح الثالث( رحمہ اللہ) کرسی پرتشریف فرما ہیں سر پر پگڑی ہے اور چہرہ ہشاش بشاش ہے کچھ دوست ذرا ادھر ادھر ہٹ کر کھڑے ہیں میں نے دل میں خیال کیا کہ آج حضور کی صحت ٹھیک ہے چلو مصافحہ کریں۔ باغیچہ کے ایک طرف سے آگے بڑھا تو دیکھتا ہوں کہ کرسی پرحضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب تشریف فرما ہیں خاکسار اس سوچ میں غور کرنے لگا کہ ابھی ابھی تو اس کرسی پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ )تشریف فرما تھے اور اب میں حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کودیکھ رہا ہوں۔ معًا میری آنکھ کھل گئی۔
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ )کی وفات کے بعد جنازہ میں شرکت کے لئے ربوہ جارہا تھا گاڑی میں سیٹ پر ہی نوافل ادا کئے اتنے میں غنودگی سی طاری ہوئی اور ایک آواز میرے کان میں گونجی۔
    "انتشار سے بچنا ہے تو مرزا طاہر احمد کی بیعت کرلو"
    …٭…٭…٭…
    ۱۰۳۔ مکرم نعیم احمد منظور صاحب نائب قائد ضلع شیخو پورہ
    ‏i۔ 4؍ جون بروزجمعرات ڈیڑھ بجے خواب میں اپنے آپ کومحترم چوہدری انور حسین صاحب امیر ضلع شیخوپورہ کی کوٹھی میں مغربی سائڈ والے گیٹ کے پاس پلاٹ میں چند خدام کے ساتھ کھڑے دیکھا۔ اچانک چوہدری صاحب نظر آئے جو بہت ہی پریشان تھے۔ ہم دو تین خدام بیک زبان بولے چوہدری صاحب جلدی کرو ۔ نماز پڑھائو وقت جارہا ہے ۔ (یوں لگتا ہے جیسے عصر کی نماز کے لئے ہم کہہ رہے ہیں کیوں کہ اس وقت سورج غروب ہونے والا ہے ) چوہدری صاحب فرماتے ہیں نہیں مرزا طاہر احمد صاحب آئیں گے اور وہ نماز پڑھائیں گے ۔ ہم وہیں کھڑے ہیں پھر فرماتے ہیں کہ میاں صاحب بیت احمدیہ میں جمعہ پڑھانے گئے ہوئے ہیں۔ وہ آکر نماز پڑھائیں گے ۔ پھر کہتے ہیں دو تین خدام جائو اور میاں صاحب کو لے آئو مجھے جاگ آگئی (اس وقت ڈیڑھ بجے کا وقت تھا۔ اور صبح جمعہ تھا)
    6؍جون کو میں نے اس خواب کا ذکر اپنے والد محترم حکیم علی احمد صاحب معلم اصلاح و ارشاد سے کیا۔ مگر وہ خاموش رہے اور مجھے دعائوں کے لئے مزید تاکید کی ۔
    پھر9؍جون 3بجے صبح کے بعد اور فجر سے پہلے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) کی وفات کی اطلا ع ملی میں نے جماعت کے دوستوں سے بھی اس خواب کا ذکر کیا ۔
    چونکہ میری رہائش مرید کے احمدیہ بیت الذکر میں ہے اس لئے یہ خواب بھی بیت الذکر میں ہی آئی تھی۔
    ‏ii۔ اس سے قبل 14؍مئی بروز جمعہ کو ایک خواب آئی ۔ خواب میں یوں لگتا ہے جیسے فضل عمر درس القرآن کلاس ہے۔ اور رہائش بھی بیت مبارک میں ہی ہے ۔ میرے ساتھ ایک اورلڑکا توقیر الٰہی بھی ہے۔ پندرہ دن حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کے ساتھ ساتھ گزارے ۔ حضور جب بھی بیت مبارک میں آتے ہیں میری رہائش پر تشریف لاتے ہیں جسے خواب میں ہی میںاپنے لیے بہت متبرک سمجھتا ہوں اور خوش ہوتا ہوں۔ پھر ایک دن حضور کے کھائے ہوئے کھانا میں سے ایک کھانا بھی کھایا ۔ اور کئی لوگوں نے بھی مجھ سے لے کر بقیہ کھانا تبرک کے طور پر کھایا ۔ یہ خواب نارنگ منڈی ضلع شیخوپورہ کی بیت احمدیہ میں آئی جب کہ عاجز خدام الاحمدیہ کے کاموں کے سلسلہ میں دورہ پر گیا ہواتھا ۔
    (تاریخ تحریر :4؍ جولائی 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۰۴۔ مکرمہ فردوس کوثر صاحبہ اہلیہ نذیر احمد بلال دارالصدر شمالی ربوہ
    غالباً4-5؍ جون1982ء دوپہر کا وقت تھا میں نے خواب میںدیکھا کہ بہت سے لوگ قصر خلافت میں جمع ہیں اور پریشانی سے سرجھکائے کھڑے ہیں اوریوں لگتا ہے جیسے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) کا اسلام آباد سے یہاں پہنچنے کا انتظار کررہے ہیں ۔ اس فضا کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جماعت پہ کوئی مشکل وقت آپڑا ہے۔ تمام لوگ بے چینی سے ادھر ادھر دیکھ رہے ہیں ۔ کہ یکدم اس مجمع میں میری نظر لوگوں میں گھرے ہوئے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب پر پڑتی ہے ۔ جو ان سب میں نمایاں اور ممتاز نظرآرہے ہیں ۔ اس کے بعد میں بیدار ہوگئی۔
    …٭…٭…٭…
    ۱۰۵۔ مکرم نعمت علی صاحب خادم بیت الذکرساہیوال شہر
    خاکسار نے سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث (رحمہ اللہ )کی وفات سے تین چار دن پہلے خواب میں دیکھا کہ ربوہ سے شمال مشرق کی طرف سے آندھی اٹھی ہے اور رنگ سرخی مائل ہے اور میں ڈرتا ہوں اُسی پریشانی میں دیکھا کہ بیت مبارک میں سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) کرسی پر بیٹھے ہیں اور حضرت چوہدری سر ظفراللہ خان صاحب بھی کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں اور شامیانہ لگا ہوا ہے اور کا فی لوگ جمع ہیں کہ سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث(رحمہ اللہ) کے پیچھے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کھڑے ہیں ۔ میں نے یہ خواب چند ایک دوستوں کو سنائی ۔ انہوں نے آگے بیان کرنے سے منع کردیا۔
    …٭…٭…٭…
    ۱۰۶۔ مکرمہ امتہ الکریم لطیف صاحبہ صدر لجنہ اماء اللہ اسلام آ باد
    ‏i۔ 5؍جون 1982ء کی رات خواب دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث(رحمہ اللہ) کی پگڑی بہت ہی چمک رہی ہے سفید براق کی طرح ہے ۔ مگر نیچے بالکل اندھیرا ہے جیسے سائے کے اوپر پگڑی اٹکی ہوئی ہے ۔ صبح اٹھ کر اپنے میاں لطیف صاحب کو اپنا خواب سنایا تو کہنے لگے اللہ تعالیٰ رحم کرے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کی بیماری خدانخواستہ ہمارے لئے غم کا باعث نہ ہو ۔ ۔ مگر انشاء اللہ تعالیٰ پگڑی قائم و دائم رہے گی ۔
    ‏ii۔ آسمان بڑ ا ہی پُر نور ہے۔ روشنی بہت تیز ہے۔ آسمان پر بڑے الفاظ میں لکھا ہوا دیکھا۔
    "السیداہ انور"
    فوراً بیداری ہوئی اور کافی دیر تک آسمانی چمک آنکھوں کے سامنے رہی ۔
    ‏iii۔ پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے خلافت رابعہ کا انتخاب ہوا ۔تو خواب دیکھا ۔ کہ
    کوئی کہہ رہا ہے ۔ منظور وفا ت پاگیا اور اقبال آگیا ہے خواب میں ہی تعبیر سوچتی ہوں اور کہتی ہوں کہ واقعی اللہ تعالیٰ کو جو منظور ہوتا ہے وہی ہوتا ہے ۔ حقیقت میں جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے اقبال بخشا ہے۔ پھر بیداری ہوئی۔ الحمد للہ علیٰ ذالک
    (تاریخ تحریر 24؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۰۷۔ مکرم نذیر احمد صاحب صدر جماعت ناصر آباداسٹیٹ ضلع تھرپارکر
    5-6؍جون 1982ء کی درمیانی شب میں نے آذان کے وقت خواب دیکھا کہ سیدنا حضرت صاحبزادہ مرز اناصر احمد خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) ایک کرسی پر پورے لباس میں تشریف فرما ہیں ۔ اور اسی کرسی پر حضور کی گود میں حضرت صاحبزادہ مرز ا طاہرا حمد صاحب بھی تشریف رکھتے ہیں ۔ دونوں ایک ہی کرسی پر بیٹھے ہیں ۔ چند لمحوں کا یہ نظارہ تھا اسی وقت آذان فجر ہونے لگی ۔ میں نے سمجھا کہ خلافت کی ردائے مبارک حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کو ملے گی ۔
    (تاریخ تحریر 15؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۰۸۔ مکرم ڈاکٹر محمد اسلم صاحب زعیم مجلس انصار اللہ علی پور چٹھہ ضلع گوجرانوالہ
    مورخہ7؍ جون 1982ء کی رات نصف حصہ گزرنے کے بعد خواب میں دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) شدید بیمار ہیں اور بہت ضعیف ہوچکے ہیں اور بستر پر لیٹے ہوئے ہیں بہت سے لوگ ان کے گرد جمع ہیں ۔ ان کے چہروںپر مایوسی ہے جیسے حضور (رحمہ اللہ) کی زندگی کی اب کوئی امید نہیں رہی۔ اسی اثناء میں مجھے آواز آتی ہے کہ ان کی جگہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب نے لے لی ہے (یعنی خلیفہ منتخب ہوگئے ہیں )
    …٭…٭…٭…
    ۱۰۹۔ مکرمہ امینہ مسعودصاحبہ کراچی ایر پورٹ حال ربوہ
    ‏i۔ عاجزہ مورخہ 7؍جون کو کراچی سے اوکاڑہ پہنچی ۔ راستے میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کے لئے دعائیں کرتی آرہی تھی۔ کہ خواب میںحضرت صاحب کو بڑی اچھی حالت میں کرسی پر بیٹھے ہوئے دیکھا۔ پھر دوسری طرف حضور کا تابو ت بھی دیکھا ۔۔۔۔۔تسلی کر لی کہ حضور کی عمر لمبی ہوگی
    ‏ii۔ 8؍جون کی رات کو اوکاڑہ میں ہی خواب دیکھا ۔ کہ سمندر کاکنارہ ہے۔ پانی نہیں ہے۔ ریت بالکل سفید برف کے بڑے بڑے ٹکڑوں کی طرح ہے ۔ اس قدر سفیدی ہے کہ آنکھیں چندھیا رہی ہیں ۔ اور اس ریت پر ایک قلی جس نے قلیوں جیسا لباس پہنا ہوا ہے۔ شلوار قمیض کا رنگ سرخ ذرا مدھم ہے یعنی Fadeہورہا ہے۔ لیکن پگڑی سرخ رنگ کی چمک رہی ہے۔ یہ قلی تیز تیز قدموں کے ساتھ ریت کی دلدل میں سے گزر رہا ہے ۔ رنگ صاف ہے قد پورا سا ہے ۔ میں نے اس کا پیچھا دیکھا ہے۔ شکل نہیں دیکھ سکی۔ بہت کوشش کرتی ہوں کہ اس کی شکل دیکھوں یا نمبر ہی نوٹ کر لوں۔ لیکن وہ تیزتیز قدموں سے چلتا چلا جارہا ہے ۔ آخر کار ریت کی دلدل عبور کر کے اوپر چڑھ جاتا ہے۔ اس کے بعد آنکھ کھل جاتی ہے ۔
    ‏iii۔ رات کے ڈھائی بجے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث(رحمہ اللہ) کے وصال کی اطلاع ملتی ہے۔سخت افسوس اورکرب کی حالت ہو گئی۔دعائیں پڑھ رہے ہیں ۔ اپنی بچی کو کہتی ہوں ۔ کہ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا۔ والی دعا پڑھو ۔ کہ ذرا دیر کے لئے آنکھ لگ جاتی ہے۔ میاں رفیع احمد صاحب کو دیکھتی ہوں۔ پہلے تو دیکھ کر بڑا دل خوش ہوتا ہے۔ کہ حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ‘ کے بیٹے ہیں ۔ کیا ہی نورانی چہرہ ہے ۔ لیکن پھر میں دیکھتی ہوں۔ قریب سے جاکر تو کوٹ کے بٹن کھلے ہوئے ہیں ۔ جیب میں ہاتھ ڈالا ہوا ہے۔ اور گردن ایک طرف کو جھکی ہوئی ہے ۔داڑھی سیاہ بال بھی سیاہ اور پریشان حال کھڑے ہیں۔ پھر ایک دم ان کے چہرے کو دیکھتی ہوں تو وہ سیاہ ہوتا جارہا ہے ۔ دیکھنے سے گھن آنے لگتی ہے ۔ پھر اس قدر گھن اور کراہت آتی ہے ۔ کہ میں دیکھ کر پیچھے کی طرف ہٹتی جارہی ہوں۔ اور پیچھے ہٹتے ہٹتے میری آنکھ کھل جاتی ہے ۔ اور میں بڑی پریشان ہوں ۔ کہ اتنا نیک آدمی تو میں نے ان کو اتنی خراب حالت میں کیوں دیکھا ۔ اور بڑی پریشان بھی ہوں۔ چنانچہ صبح 9بجے بس کے ذریعہ ربوہ ایک بجے پہنچے تو آکر حقیقت حال کا پتہ چلا ۔
    (تاریخ تحریر05؍ جولا ئی 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۱۰۔ مکرم اللہ دتہ مبشر صاحب معلم وقف جدید ۔ ربوہ
    ‏i۔ 1975ء میں تفہیم ہوئی اور ٹوٹے پھوٹے شعر میں میں نے لکھ دیا جس کا مفہوم یہ تھا کہ جب میاں طاہر تخت پر بیٹھے گا تو دشمن احمدیت کی بہت مخالفت کرے گاا ور روئے گا اور اپنے ہاتھ خون سے دھوئے گا۔
    ‏ii۔ اب مورخہ07؍جون 1982ء سوموار کوبعد ظہر نماز ایک احمدی دوست صابر احمد کے گھر سایہ کے نیچے معمولی ساسوگیا خواب میں کیا دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آئے ہیں۔ کچھ اور بزرگ ساتھ تھے خاکسار سے حضور نے مصافحہ کیا پھر دیکھا حضور صرف اکیلے رہ گئے ہیں میں حفاظت کے لئے آگے کھڑا ہوگیا حضور کا چہرہ مبارک طرف جنوب ہوگیااگلی طرف جنوب ایک آدمی کھڑا تھا جو میری شناخت میں نہ آیا پھر میں نے اندازہ کیا کہ یہ کوئی خاص آدمی ہے خاندان سے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آگے کھڑا ہے پھر بیدار ہوگیا۔
    جب میں 1933ء شروع میں احمدی ہوا تو مرزا پاک علیہ السلام ملے اب 50سال بعد دوبارہ دیدار ہوا خواب کی تعبیر کرتے ہوئے میں نے کہا کہ یا میری موت واقع ہونے والی ہے یا کوئی اور بات ہونے والی ہے جو شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس کھڑے تھے شناخت نہیں ہوئی مگر میرا اندازہ ہے کہ وہ حضرت میاں طاہر احمد صاحب ہیں پھر دوسرے یا تیسرے یوم بدھ مورخہ 9؍جون 1984ء حضور کی وفات کا پیغام آیا تو خاکسار نے پھر دوستوں سے کہا میر ی تعبیر سچی ہے اب میاں طاہر احمد صاحب کو اللہ تعالیٰ خلیفہ منتخب کرے گا پس خداتعالیٰ نے عاجز کی تعبیر سچی کی اور میاں طاہر احمد صاحب کو خلیفہ چن لیا۔اللہ اکبر
    (تاریخ تحریر14؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۱۱۔ مکرم سید ولی احمد صادق صاحب ابن مکرم مولانا سید احمد علی شاہ صاحب
    دارالصدر ربوہ
    خاکسار نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کی وفات سے دو دن پیشتر یہ خواب دیکھا کہ ایک بہت ہی خوبصورت عمارت ہے عمارت کا برآمدہ اسمبلی ہال لاہو ر کی مانند ہے اور عمارت کا رخ بھی اسمبلی ہال لاہور کی طرح ہے ۔ اس عمارت میں بہت سے مرد و زن کمروں میںہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کیا تقریب ہے۔ خاکسار اور میرے والد سید احمد علی شاہ صاحب نائب ناظر اصلاح وارشاد مقامی اور بہت سے چوکیدار برآمدہ میں کھڑے ہیں اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ )کا انتظار کررہے ہیں۔ اتنے میں دائیں جانب کے کمرہ میں سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ )باہر نکلتے ہیں اور کچھ دیر ہمارے پاس کھڑے باتیں کرتے ہیں اور پھر حضرت خلیفہ ثانی نور اللہ مرقدہٗ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ )کو اپنے ہمراہ لے کرباہر کھڑی سیاہ رنگ کی گاڑی میں بیٹھ کر نامعلوم مقام کی طرف چل پڑتے ہیں ۔ ہم دونوں اور چند پہریدار پہلے حضور کے ہمراہ دروازہ سے باہر جاتے ہیں پھر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ ہم سب کو وہیں اندر بھیج دیتے ہیں اور خود حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ )کو ہمراہ لے کر چلے جاتے ہیں ۔
    جب میں اور میرے والد صاحب برآمدہ میں اندر آتے ہیں تو دیکھتا ہوں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث پھر ہمارے ہمراہ ہیں مگر چہرہ مبارک صاحبزادہ مرزا لقمان احمد صاحب کی مانند اور جسامت بھی آپ کی مانند ہے اور سفیدرنگ کی پگڑی پہنی ہوئی ہے۔ میں بہت حیران ہوتا ہوں اتنے میں آنکھ کھل گئی اور فجر کی آذان ہورہی تھی ۔
    (تاریخ تحریر03؍ جولائی 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۱۲۔ مکرمہ زینب بیگم صاحبہ امین پور بازار فیصل آباد
    ‏i۔ میں نے خواب دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) کو خالی چادر میں لپیٹ کر رکھا ہے کمر اور پائوں پر بند باندھے ہوئے ہیں منہ کھلا ہوا ہے اور دوست کہہ رہے ہیں کہ غسل ربوہ چل کر دیں گے۔
    ‏ii۔ ظہر کی نماز پڑھ کر لیٹی ہوں خواب دیکھا کہ چند آدمی کھڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ میاں طاہر احمد صاحب کو خلیفہ بنایا گیا ہے۔ آنکھ کھلی تو پاس کوئی نہیں تھا پھر اوپر جا کر اہل خانہ کو خواب سنائی۔ (تاریخ تحریر:23؍ جون 1982ئ)
    ۱۱۳۔ مکرم عبدالرزاق صاحب ریاض پان کارنر رحمت بازار ربوہ
    ‏i۔ اس عاجز نے دیکھا کہ ایک بہت بڑی اورخوبصورت عمارت سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہٗ کے نام پر بنی ہے اور اس کا آگے والا حصہ تعمیر ہو چکا ہے بلڈنگ کے درمیان سے اوپر سیڑھیاں جاتی ہیں عمارت کا گیٹ مغربی جانب ہے اور گیٹ کے ساتھ بائیں جانب ایک گیلری ہے گیٹ کے دائیں جانب ابھی کام ہو رہا ہے۔ گیلری کا رنگ اندر سے سرخی مائل ہے وہاں ایک آدمی بیٹھا ہے اور اس کے پاس حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کی سوال و جواب والی کیسٹ لگی ہوئی ہے تقریباً چوتھے سوال میں جو تلاوت ہے وہ تلاوت اس وقت ہو رہی ہے اور تلاوت کی آواز میرے کانوں نے سنی ہے جو آدمی وہاں بیٹھا ہے وہ سوالوں کے جواب کاپی پر لکھ رہا ہے گیلری کی شمالی دیوار کے اوپر نبوت کی مہر لکھا ہوا اس عاجز نے دیکھا ہے اس کے بعد نماز کے وقت آنکھ کھل گئی۔
    ‏ii۔ دوسری خواب یہ ہے کہ اس عاجز نے دیکھا ہے کہ ایک ایسی جگہ عمارت بنی ہے جو جگہ پہلے خالی تھی اور ا س عمارت میں لوگ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد کے انتظار میں بیٹھے ہیں چاردیواری کے باہر بھی لوگ بیٹھے ہیں خاکسار کو بھی چاردیواری کے باہر بیٹھنے کی جگہ ملی ۔عمارت کا ایک دروازہ شمالی جانب ہے اور دوسرا دروازہ مغربی جانب ہے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے شمالی دروازہ سے داخل ہوکر بلڈنگ میں سے ہوتے ہوئے صحن میں رونق افروز ہوکر احباب سے خطاب فرمانا ہے ۔عاجز نے اپنے قریب بیٹھے ہوئے احباب سے کہا کہ یہ جگہ بھی کام آگئی اس کے بعد میں بیدار ہوگیا۔
    (تاریخ تحریر19؍جون 1982ئ)
    ۱۱۴۔ مکرم ابوالمبارک محمد عبداللہ صاحب (مولوی فاضل )
    صدرجماعت احمدیہ پسرور ضلع سیالکوٹ
    منگل کی رات خواب میں حضرت سراج الحق نعمانی صاحب کو دیکھا ۔ اس وقت تو تعبیر سمجھ میں نہ آئی۔
    ہفتہ کے دن بیت مبارک ربوہ میں بعد نماز عصر بیٹھے خلافت کے متعلق باتیں ہو رہی تھیں۔
    ایک دوست محمداسلم سکنہ ٹھروہ ضلع سیالکوٹ کہنے لگے میں دارالضیافت کے پاس بیت محمود میں لیٹا ہوا تھا۔ا س وقت بیت مبارک میں خلیفہ کاانتخاب ہو رہا تھا۔ میں نے خواب میں دیکھا کوئی کہہ رہا ہے۔ "ایک نور آیا ۔ ایک نور چلا گیا آتا ہے نور جاتا ہے نور "
    ان باتوں کو ملا کر میں یہ نتیجہ نکالتا ہوں ۔ کہ اگرچہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع (رحمہ اللہ) کی خلافت زمانہ نبوت کی چوتھی منزل پر ہے۔ مگرانشاء اللہ آپ کے وجود کو بھی مولیٰ کریم روشنی کا ایک بلند مینار بنائے گا۔جس سے لاکھوں اور کروڑوں دلوں کی ظلمتیں دور ہوں گی انشاء اللہ
    وَمَا ذٰلک علی اللہ ببعید
    (تاریخ تحریر23؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۱۵۔ مکرم مبارک احمد نجیب صاحب مربی سلسلہ ھڈیارہ ضلع لاہور
    خاکسار نے یکم جون ۱۹۸۲ء کو صبح تین بجے خواب دیکھی کہ:۔
    خاکسار بیت المبارک ربوہ کے مشرقی دروازہ نمبر1(جو بیرونی ٹونٹیوں کے پاس ہے) سے اندر داخل ہوتا ہے تو بیت المبارک کے صحن میں مجھے مولوی بشارت احمد بشیر صاحب ملے ہیں۔ میںنے اُن سے پوچھا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی صحت کا کیا حال ہے تو بشارت بشیر صاحب روپڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضور کاوصال ہوگیا ہے ۔ اناللہ وانالیہ راجعون
    اس کے بعد جب میں بیت المبارک کے جنوبی دروازہ (جو دفتر حدیقۃ المبشرین کے سامنے کھلتا ہے) کے پاس پہنچتا ہوں تو مکرم محمد الدین صاحب ناز نے مجھے بلایا ہے کہ ٹکٹ لے کر فوری طور پربیت کے مسقف حصہ کے اندر چلے جاؤ تمہارا بھی ووٹ ہے۔ جب میں بیت کے اندر داخل ہوکر ستونوں اور محراب کے درمیانی مسقف حصہ میں پہنچا ہوں تو لارڈ سپیکر پر اعلان ہوا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب خلیفۃ المسیح منتخب ہوگئے ہیں ۔ اعلان کی سماعت کے بعد جب میری نظر محراب پرپڑی تو حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب پگڑی پہنے محراب میں کھڑے ہیں۔
    (تاریخ تحریر 23؍جون1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۱۶۔ مکرم محمد اکرم شاہد صاحب ایڈمنٹن کینیڈا
    میں اپنی کار میں بیٹھا درود شریف پڑھ رہا تھا اورخلافت کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ مجھے اونگھ آئی ا ور دیکھا کہ میرا ہاتھ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے ہاتھ میں ہے اور تجدید بیعت کررہا ہوں ۔
    (تاریخ تحریر 16؍ ستمبر 1982ئ)
    ۱۱۷۔ مکرم ممتا ز حسین صاحب جرمنی
    خدا کی قسم مجھے8-7؍ جون کی درمیانی رات کو خواب آئی تھی کہ خلیفہ کاانتخاب ہوا ایک صاحب پگڑی والے ہیں جو کہ سیاہ مرسڈیز کا ر میں بیت الذکرکے مشرقی گیٹ کے باہراکیلے بیٹھے ہیں ۔ لوگوں نے بتایا کہ یہ خلیفہ ہیں مگرنہ کوئی پہریدار نہ کوئی کار کا ڈرائیور ۔ میں نے بہت کوشش کے بعد جب دیدار کیا تو رب کعبہ کی قسم کہ ایک دفعہ انکار کردیا ، جس پرانہوں نے فرمایا کہ اب تو میری پیروی کرنی ہے۔ میں نے کہا یہ بعدکی بات ہے۔
    جس کے بعد میری آنکھ کھل گئی یہ خواب میں نے بھائی کو بتا دی اور صاف کہہ دیا کہ میاں رفیع صاحب کی طرف سے خطرہ ہے اللہ رحم کرے۔ اور 10؍جون کو جو میری حالت تھی وہ بیان سے باہر ہے ۔ اور جب تک خلیفہ رابع کے انتخاب کی خبر نہ ملی آرام و سکون نہ تھا۔
    …٭…٭…٭…
    ۱۱۸۔ مکرم ندیم احمد صاحب ولد شیخ رحمت اللہ صاحب ہانگ کانگ
    میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک جگہ پر جلسہ سالانہ کا سا سماں ہے ۔وہ جگہ پاکستان میں نہیں ہے بلکہ کسی اور ملک میں ہے ۔لیکن ملک کوئی ایشین ہی ہے ۔ تمام لوگ جلسہ کی کارروائی کی کوئی خاص پرواہ نہیں کررہے۔ اور میں جلسہ گاہ کے ساتھ ہی کھڑا ہوں ۔اور لوگوں کو ہنستے ہوئے اور لاپرواہی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ مذاق کرتے ہوئے دیکھ رہاہوں اتنے میں ایک آدمی (چہرہ یاد نہیں ) تیزی سے آتا ہے اور انتہائی خوف کے عالم میں لوگوں سے کہتا ہے کہ میاں صاحب (حضرت مرزا طاہر احمد صاحب) آگئے ہیں۔ ایک دم سارے مجمع پر سکوت طاری ہوجاتا ہے ۔ اور میاں صاحب دو اشخاص کے ساتھ نمودار ہوتے ہیں ۔ آپ نے Biscoutiرنگ کی شلوار قمیض پہنی ہوئی ہے۔ اور ہاتھ میں ایک ڈنڈا ہے اور سر پر Brownٹوپی ہے ۔حضرت مرزاطاہر احمد صاحب نے اپنا ڈنڈا مجھے دے دیا ہے اور کہا ہے کہ تم یہاں ڈیوٹی کرو۔ اس کے بعد خواب ختم ہوگئی ۔
    میں جب خواب دیکھنے کے بعد ہر روز ڈیوٹی کے لیے صبح روانہ ہوتا تو میرے ذہن میں کئی دفعہ خیال آیا کہ اگلے خلیفہ میاں طاہر احمد ہوں گے ۔ لیکن میں اپنے دماغ کو سختی سے منع کرتا کہ میں کیوں یہ بات سوچوں ۔ ایسی بات مجھے نہیں سوچنی چاہیے ۔ پھر یہ بات کچھ دن پرانی ہوگئی۔ کل مجھے خط سے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ )کی وفات کا علم ہوا ۔ تو پھر یہ خواب یاد آگئی تو تحریر کررہا ہوں ۔
    (تاریخ تحریر 25؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۱۹۔ مکرمہ مسعودہ شاہدہ صاحبہ جنرل سیکٹری حلقہ سعود آباد کراچی
    ‏i۔ جس رات حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کا وصال ہوا ۔ اس رات تقریباً پونے ایک بجے میں نے جو نظارہ دیکھاوہ یہ تھا کہ کوئی سفید مائع لگی چیز جیسے سفید چادر میں گھٹری باندھتی ہوں جدھر سے باندھتی ہوں تو دوسری طرف سے وہ غالباً نور تھا کھل جاتا ہے بڑی کوشش کررہی ہوں مگر وہ گھٹری نہیںباندھی جاتی آخر ایک طرف سے پر نور چمکتا ہوا چہرہ میاں طاہر احمد صاحب آتے ہیں اور ان کے سرپر حضور جیسی بڑی سی پگڑی باندھی ہوئی تھی ان کے لب نہیں ہلتے غالباً میرے دل کی آواز ہے یا غائبانہ آوازہے۔کہ اس گھٹری کو دفن کردو جانکاہ صدمہ ہے ۔
    ‏ii۔ وفات کی خبر سن کر ہم پریشان تھے۔ دعائوں میں مصروف کہ اس دوران دن میں دو دفعہ حضرت میاں طاہر احمد صاحب بڑی سی پگڑی باندھی ہوئی دکھائے گئے۔ پھر میں نے سوچا کہ پگڑی تو میں نے میاں طاہر احمد صاحب کے سر پر کبھی نہیں دیکھی تھی اب ان کا بے حد چمکتا ہوا چہرہ دکھایا گیا یہ میں نے کوئی تین دفعہ دیکھا الحمد للہ کہ وہ عزت وآبرو اور دین کی یہ پگڑی خداتعالیٰ نے پہنا کر ہمیں خلافت رابعہ سے نوازا ہمیں اپنے فضل سے پھر ایک ہاتھ پر جمع کرکے راہنمائی کے لئے پیارا خلیفہ نوازا ۔الحمد للہ ۔
    (تاریخ تحریر17؍ جولائی 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۲۰۔ مکرم مولوی غلام نبی نیازصاحب مبلغ انچارج احمدیہ مشن سری نگر کشمیر
    9؍ جون کو قریباً چار بجے ہمیں یہاں اس بات کا علم ہوا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) وفات پاگئے ہیں ۔بیت الذکر میں موجود افراد اس بات کے لئے قطعاً تیار نہ تھے کیونکہ ہمارے وہم وگمان میں بھی ایسی بات نہ تھی کہ حضرت صاحب اتنی جلدی ہمیں سوگوار کرجائیں گے ۔ خاکسار نے احباب کو مشورہ دیا کہ قادیان فون کرنا چاہیے تا کہ Confirmہوجائے فون بک کرنے سے قبل ہم نماز عصر پڑھنے لگے چونکہ بڑی پریشانی تھی اور دل گریہ زار تھا کہ مولا کریم جماعت کوفتنہ سے بچانا تا ہم انسانی فطرت کے پیش نظر یہ باتیں ہوئیں کہ اب کون امام ہوگا ۔ نظریں حضرت چودھری سر ظفر اللہ خان صاحب حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد اور محترم میاں رفیع احمد صاحب پر بار بار ٹک گئیں ۔اسی ذہنی کوفت اور کشمکش میں میں نے نماز میں کیا دیکھا کہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب (جن کو میں جانتا تھا ) میری نظروں کے سامنے کشمیری سفید پوشاک (فرن، شلوار ، پگڑی اور گلے میں سفید چادر)پہنے یکدم آگئے ۔ نماز کے اختتام پہ میں نے محترم عبدالحمید صاحب ناظم اعلیٰ مجلس انصار اللہ کشمیر اور محترم عبدالحلیم صاحب سیکرٹری مال اور محترم ڈاکٹر فاروق احمد صاحب قائد علاقہ نمبر ۱ کو یہ بات بتا دی اور سب خاموش ہوگئے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے نہ میںاس کو تصور کہہ سکتا ہوںکہ تصور میں نہیں تھے اور نہ ہی میں اس کو کشف کہہ سکتا ہوں کیوں کہ میں اس پوزیشن پر نہیں ہوں۔ بلکہ میں تو اس کو صرف یہ کہوں گا کہ اس رب کریم نے مجھ پر اپنا فضل کیا اور حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کا خوبصورت ، لال چہرہ ، سفید کپڑوں میں ملبوس میری آنکھوں کے سامنے لا کر مجھے حکم دیا کہ جماعت کا امام یہ ہوگا ۔اس کی بیعت کرو۔
    (تاریخ تحریر28؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۲۱۔ مکرم محمد اسمٰعیل بقا پوری صاحب ربوہ
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ )کی وفات کے وقت میں اسلام آباد میں اپنے بیٹے عزیزم مکرم محمد یوسف بقا پوری صاحب کے ہاں مقیم تھا۔8/9 ؍ جون کی درمیانی شب ڈیڑھ بجے کے قریب حضور کی وفات حسرت آیات کی اطلاع ملنے پر ہم سب سناٹے میں آگئے۔
    اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہ رَاجِعُوْنْoپڑھنے کے بعد طبعاً دعائوں میں لگ گئے دعائیں کرتے کرتے بستر پر دراز ہوگیاتو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب سفید پگڑی پہنے ہوئے بڑی ہی نورانی شکل میں سامنے کھڑے ہیں اور میں ان کو نہایت ہی پیار اور محبت سے کہتا ہوں ۔ " آ ، طاہر خلیفۃ اللہ"
    اس کے بعد میں نے آپ سے مصافحہ اور معانقہ کیا۔ صبح کے وقت یہ بھی دل میں ڈالا گیا کہ "آ، طاہر خلیفۃ اللہ" کے عددابجد کے لحاظ سے بھی گنے جائیں چنانچہ شمار کرنے پر اعداد کا مجموعہ 1402نکلا اس سے بڑا سرور آیاکہ اب جب کہ1402سن ہجری ہے حضرت مرزا طاہر احمد ہی تخت خلافت پر متمکن ہوں گے ۔
    …٭…٭…٭…
    ۱۲۲۔ مکرم نعیم احمد صاحب سیکرٹری تحریک جدید ووقف جدید حافظ آ باد
    8-9؍ جون1982ء کی درمیانی شب جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث(رحمہ اللہ) کی وفات ہوئی خواب میں دیکھا کہ ایک باغ میں کھڑا ہوں آذان ہو رہی ہے اور ساتھ تین دفعہ یہ آواز آئی مرزاطاہر احمد ، مرزا طاہر احمد ، مرزا طاہر احمد ۔ اوراس کے ساتھ ہی آنکھ کھل گئی ۔ اور اس کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ )کی وفات کی اطلاع ملی۔
    …٭…٭…٭…
    ۱۲۳۔ مکرم بشیر الدین صاحب سعود ی عرب
    جس دن حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کا وصال ہوا تو ہمیں سعودی عرب میں رات کی خبروں میں علم ہوا۔ اس وقت خلافت کے قیام کے لئے بہت دعائیں کیںلہذا دعائیں کرتے کرتے میں سوگیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میرے والد مرحوم تیزی سے کہیں جارہے ہیں۔ میں نے آگے بڑھ کر پوچھا ۔ابا جی کہاں جارہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں میاںطاہر احمد خلیفۃ المسیح کو ملنے جارہا ہوں اسی وقت میری آنکھ کھل گئی اور میں نے اپنی ہمشیرہ اور بہنوئی کو کہا کہ آج میاں طاہر احمد صاحب خلیفۃ المسیح چنے جائیں گے۔
    (تاریخ تحریر04؍ اگست 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۲۴۔ مکرم محمد علی صاحب الفلاح سوسائٹی کراچی
    مورخہ9؍ جون 1982ء بروز بدھ دن کے ایک بجے میں اپنے گھر میں سو رہا تھا کہ خواب میں دیکھتا ہوں کہ بیت مبارک میں بہت سے لوگ جمع ہیں ۔ اور صفوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ نماز ظہر کا وقت ہوتا ہے تو مجھے نماز پڑھانے کے لئے کہا جاتا ہے ۔ لیکن مجھے یہ معلوم نہیں کہ مجھے کس نے نماز پڑھانے کے لئے کہا میں نماز ظہر پڑھاتا ہوں۔ نماز ختم ہونے پر محترم صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کو جو محراب کی دائیں طرف دوسری صف میں نماز پڑھنے کے بعد تشریف رکھتے ہیں۔ محراب میں بلایا گیا تو تمام احباب آپ کو بڑے شوق سے دیکھنے لگے اور سب کی توجہ آپ کی طرف مبذول ہوگئی ۔ جب آپ محراب کی جگہ پہنچتے ہیں تو آپ کو سفید پگڑی پیش کی جاتی ہے۔ آپ اس پگڑی کو پہن رہے تھے کہ میں بیدار ہوگیا ۔
    …٭…٭…٭…
    ۱۲۵۔ مکرم نور احمد ناصرصاحب سنت نگر لاہور
    9-10؍ جون 1982ء کی درمیانی رات کو سویا توخواب میں دیکھا کہ ایک بہت بڑا ہجوم بیت مبارک کے باہر جمع ہے۔ اور نئے منتخب خلیفہ کا اعلان ان الفاظ میں ہورہا ہے کہ "حضرت مرزا طاہر احمد صاحب جماعت کے چوتھے خلیفہ منتخب ہوئے ہیں"۔ اور پھر میں حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کو نیلگوں رنگ کے عوامی سوٹ میں ملبوس اور ڈھیلی پگڑی باندھے دیکھا۔ میں مصافحہ کے لیے حضور کی طرف بڑھتا ہوں ۔ اور فرط جذبات سے نعرہ ہائے تکبیر بلند کرتا ہوں اور اس منظر کودیکھتے ہوئے حضور سے گزارش کرتا ہوں کہ حضور پر میرا حق زیادہ ہے میرے لیے دعا کریں۔
    …٭…٭…٭…
    ۱۲۶۔ مکرم ہادی علی چوہدری صاحب مربی سلسلہ لندن حال کینیڈا
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ )کی وفات کے بعد 9/10؍ جون کی درمیانی شب اپنے گھر کی بیٹھک میں فرش پر لیٹا ہوا تھا۔ غم و اندوہ اور سوچ وبچار میں وقت گزر رہا تھا۔ تقریباً رات کے اڑھائی بجے اچانک غنودگی کی کیفیت طاری ہوئی اور حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کوخلیفۃ المسیح کے روپ میں انتہائی شان و شوکت اور جلال کے عالم میں ایک کرسی پر بیٹھا دیکھا۔ آپ کا چہرہ مبارک قبلہ رخ تھا ۔
    …٭…٭…٭…
    ۱۲۷۔ مکرمہ عارفہ نصیر صاحبہ حلقہ گوہرآباد کراچی
    جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) کی وفات کی اطلاع ہمیں ملی تو غم سے بری حالت تھی۔ اس حالت میں روتے روتے سوگئی۔ خواب میں دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ )سفید کفن میں لپٹے پڑے ہیں اورساری جماعت ان کے ارد گرد جمع ہے ۔کہ یکدم آواز آتی ہے میاں طاہر ، میاں طاہر اور پھر ساری جماعت بآواز بلند یہی نام دہرانا شروع کردیتی ہے۔ اور پھر میں بیدار ہوگئی ۔
    …٭…٭…٭…
    ۱۲۸۔ مکرم سعادت علی صاحب نشتر روڈ ملتان
    ‏i۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کی بیماری سے خاکسار کو بہت بے چینی تھی خاص طور پر8-9؍ جون کی درمیانی شب کو خاکسار لیٹے ہوئے بھی ہر پہلو حضور (رحمہ اللہ ) کی صحت کے لئے دعا کررہا تھا ۔ تقریباً 2 بجے کے بعد غنودگی کی حالت میں اطلاع ملی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نیلم (ہیرا ) ملے گا جس میں لوہے اور گیلیم (دھات) کی آمیزش ہوگی تقریباً 3 بجے شب جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کی وفات ہوئی فوراً اس خواب کی تعبیر کا تعلق تو خلافت رابعہ کی طرف ظاہر ہوتا نظر آیا ۔
    ‏ii۔ وفات کے بعد ربوہ کی طرف دوران سفر بس میں غنودگی کی حالت میں پھردو الفاظ زبان پر تکرار کے ساتھ جاری ہوئے۔ اور جب بیداری ہوئی تو پھر بھی یہی الفاظ جاری تھے کہ "مرزا طاہر احمد اور کوئٹہ " خواب کے پہلے حصہ کی تعبیرپر تو شرح صدرہے مگر دوسرے حصہ کی تعبیر اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں ۔
    (تاریخ تحریر15؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۲۹۔ مکرمہ زاہدہ صدیقہ صاحبہ فضل عمر ہسپتال ربوہ
    9-10؍جون 1982ء کی درمیانی شب تقریباًتین بجے میری آنکھ کھلی میں نے دل میں اٹھ کر نماز تہجد پڑھنے کا ارادہ کیا میں بستر سے اٹھنے ہی لگی تھی کہ نیند نے پھر مجھے اپنی آغوش میں لے لیا ۔ کیا دیکھتی ہوں کہ حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب (رحمہ اللہ )ایک سرسبز میدان میں بیٹھے ہوئے ہیں کافی سارے لوگ جن میں مرد اورعورتیں دونوں شامل ہیں بشمول میرے آپ کے اردگرد بیٹھے ہیں حضور نصیحت فرمارہے ہیں ۔
    "دیکھو! میرے بعد جو خلیفہ ہوگا وہ حافظ قرآن نہیں ہوگا لیکن اس کے پاس علم حافظ قرآن والے آدمی جتنا ہوگا۔"
    اتنا سننے کے فوراً بعد میری آنکھ کھل گئی ۔ جب میری آنکھ کھلی ۔فجر کی آذان ہورہی تھی ۔
    (تاریخ تحریر 26؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۳۰۔ مکرم مبارک احمد شریف صاحب میڈیکل سٹوڈنٹ دارالصدر جنوبی ربوہ
    خلافت رابعہ کے انتخاب کے وقت خاکسار نے ایک نظارہ دیکھا کہ بیت مبارک کا محراب ہے ۔ جس میں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ڈائس پر تشریف فرما ہیں ان کے اوپر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) اور ان کے اوپر سر کی طرف حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ‘ کھڑے ہیں اور ایک نور جو کہ سفید روشنی کی ایک لکیر ہے آسمان سے نازل ہوا ہے اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ‘ پرپڑتا ہوا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) اور پھر حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب پر پڑ رہا ہے چنانچہ اگلے دن حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد کا اعلان بطور خلیفۃ المسیح الرابع ہوا تو دل کو ایک تسلی ہوئی اور آگے بڑھتے بڑھتے بیعت کی اور پھر زندگی میں یہ نور بڑھتا ہوا ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔ الحمد للہ
    …٭…٭…٭…
    ۱۳۱۔ مکرم جلال الدین شادصاحب کچہری روڈ سیالکوٹ
    خاکسار حلفیہ بیان کرتا ہے کہ 9؍ جون 1982ء کو صبح شکر گڑھ میں بغرض سرکاری کام مصروف تھا اور خاکسار کو حضر ت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ) کی وفات کی خبر نہیں ملی تھی۔ خاکسار حسب معمول حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے نام دعا کے لئے خطوط لکھ رہا تھا تو حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے نام لکھ رہا تھا۔ سب سے پہلے خط حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے نام لکھا ۔ جب خط شروع کیاتوسب سے پہلے حضرت صاحبزادہ صاحب کا نام پھر سیدی و مولائی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ لکھا۔
    خاکسار کو یکایک خیال آیا کہ یہ خط تو حضرت خلیفۃ المسیح کے نام لکھا جارہا ہے ۔ کیونکہ سیدی و مولائی کے الفاظ تو حضرت خلیفۃ المسیح کے لئے لکھے جاتے ہیں ۔ خاکسار نے وہ کاغذ پھاڑ ڈالا تو پھر دوبارہ اس طرح خط شروع کیا ۔ سب سے پہلے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد کا نام لکھا پھر ا س طرح
    سیدی و مولائی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ لکھا گیا
    خاکسار کوپھر خیال آیا کہ یہ خط تو حضرت صاحبزادہ کے نام لکھا جارہا ہے۔ کیونکہ سیدی و مولائی الفاظ تو صرف حضرت خلیفۃ المسیح کے نام لکھے جاتے ہیں ۔ خاکسار نے پھر یہ کاغذ پھاڑا اور اپنے آپ کو اچھی طرح جھنجھوڑکر تیسری مرتبہ خط حضرت صاحبزادہ مرزاطاہر احمد کی خدمت میں حسب معمول لکھا۔ بعد میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کے نام ایک خط لکھا۔ چنانچہ شام واپس گھر آنے سے پتہ چلا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) تو فوت ہو چکے ہیں ۔ میرے ذہن میں خیال آیا کہ یہ الفاظ سیدی و مولائی اسی لئے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے نام کے ساتھ لکھے جارہے تھے ۔ بہرحال اس وقت تک انتخاب نہیں ہواتھا اس لئے خاکسار خاموش رہا۔ لیکن جب حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کاانتخاب بطور خلیفۃ المسیح کے ہوا توخیال آیا کہ اللہ تعالیٰ خاکسار کو صاحبزادہ صاحب کے خط میں یہ الفاظ اس لئے لکھوارہا تھا کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کا اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے فوت ہوتے ہی اپنے حضور بطور خلیفۃ المسیح انتخاب کر لیا تھا اور واقع میںاسی وقت سے حضرت صاحبزادہ مرز اطاہر احمد خداتعالیٰ کے حضور بطور خلیفۃ المسیح منتخب ہوچکے تھے۔
    (تاریخ تحریر 09؍ جولائی 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۳۲۔ مکرمہ راشدہ اسماعیل صاحبہ بنت میاں محمد اسماعیل جنرل سیکرٹری
    دارالصدر شرقی ربوہ
    میں نے9-10؍جون کی رات بروز بدھ خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جس نے ہلکے نیلے رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں وہ اپنے کسی کیے پر اس قدر نادم اور شرمندہ ہے کہ اس نے گھٹنوں میں منہ دیا ہوا ہے اور ہر ممکن لوگوں کی نظروں سے چھپنے کی کوشش کررہا ہے۔ بڑے احاطے میں ہے اور دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھا ہے ۔ وہ اس قدر نادم ہے کہ میں خواب والا حلیہ بیان نہیں کرسکتی ۔
    اور اسی طرح ایک اور شخص جس کا صرف خاکہ ہے اور اس خاکے میں حضرت صاحبزادہ مرزاطاہر احمد کی جھلک ہے اور اس میں سے روشنی نکل رہی ہے۔ جس طرح آسمان پر بجلی چمکتی ہے اور اس میں لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ اس طرح کی روشنی ان میں سے مسلسل نکل رہی ہے ۔
    (تاریخ تحریر03؍ جولائی 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۳۳۔ مکرمہ فریدہ رحیم صاحبہ اہلیہ یوسف رحیم صاحب ناظم آباد کراچی
    عاجزہ نے9-10؍جون کی درمیانی رات کو خواب میں دیکھا کہ
    ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں عرب میں ہوں اور وہاں پر ایک بہت بڑا سا برآمدہ ہے جہاں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کا تابوت رکھا ہوا ہے اور قریب ہی ان کی مزار بنی ہوئی ہے۔ تابوت کے اوپر حضور کی خوبصورت سی تصویر بنی ہوئی ہے ۔ اور تابوت پر بڑے حرفوں میں لکھا ہے۔
    "اس زمانہ کا موسیٰ "
    تابوت کے پاس بہت سے احمدی لوگ جمع ہیں ۔ لیکن کچھ غیر مسلم عورتیں بھی وہاں پر دفنانے کا کام کر رہی ہیں۔اس کے بعد میرے ابا عمر علی صاحب درویش قادیان،میرے خالو برکت علی صاحب درویش قادیان اور بھی دوسرے لوگ ہاتھ اٹھا کر اللہ اکبر کہہ کر دعاکرتے ہیں۔
    پھر میں دیکھتی ہوں کہ اوپر قریب ہی ایک بڑی سی بیت بنی ہوئی ہے جہاں پر کچھ احمدی عورتیں اپنے اپنے نفل پڑھ رہی ہیں۔ میں بھی نفل پڑھتی ہوں۔
    (تاریخ تحریر 10؍ستمبر 1982ئ)
    ۱۳۴ مکرم ثاقب زیروی صاحب ایڈیٹر ہفت روزہ "لاہور "
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کی وفات کی خبر سن کر ہم ربوہ پہنچے تو اس رات یعنی 9؍جون 1982ء کی رات دو بجے تہجد میں خلافت کے لیے دعائوں میں مصروف تھا کہ میں نے بلند آواز میں کسی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ"ابن مریم آرہا ہے "
    جب حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب خلیفۃ المسیح کے طور پر منتخب ہوئے تو خواب کی حقیقت سامنے آئی کیونکہ آپ کی والدہ کا نام حضرت مریم ہے ۔
    (تاریخ تحریر 29؍نومبر 1997ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۳۵۔ مکرمہ عذرا پروین صاحبہ بنت میاں محمد اسماعیل بچیکی ضلع شیخوپورہ
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کی وفات کی خبر سن کر 9؍ جون کو ہم ربوہ گئے ۔ والدہ کی طبعیت خراب ہوگئی ہمیں واپس آنا پڑا ۔ ربوہ سے آنے کے بعد بہت بے چینی اور گھبراہٹ تھی۔ سارا دن روتے اور دعائیں کرتے گزرا۔ کہ اللہ تعالیٰ جماعت کو ثابت قدم رکھے۔ اور خلافت کے انتخاب کا مرحلہ بخیروخوبی انجام پائے۔ میں مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد ذرا لیٹی ۔ تو مجھے نیند آگئی ۔ تھوڑی دیر بعد آنکھ کھلی تو زبان پر یہ الفاظ تھے۔ "بُشْریٰ لَکُمْ " پھر آنکھ لگ گئی جاگنے پر زبان پر یہی الفاظ تھے ۔ اوردو تین بار ایسا ہی ہوا ۔ اس سے مجھے تفہیم اورتسلی ہوگئی۔ کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں انتخاب کا مرحلہ بخیروخوبی انجام پاگیا ہے۔ جمعہ کے روز صبح صبح یہاں سے جو خدام گئے ہوئے تھے انہوں نے آکر بتایا کہ حضرت مرزا طاہرا حمد صاحب خلیفۃ المسیح الرابع منتخب ہوئے ہیں۔ الحمد للہ (تاریخ تحریر 26؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۳۶۔ مکرم محمد امین شیخ صاحب امیر جماعت احمدیہ ایمن آباد ضلع گوجرانوالہ
    حال فیصل آباد
    10؍ جون کو جب کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کے وصال سے سخت غمزدہ تھے اور خلافت رابعہ کے منصب جلیلہ کے انتخاب کا اضطراب تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص افضال و تائیدات سے مناسب اور موزوں شخصیت کا چنائو عمل میں لائے تو گھر یعنی فیصل آباد سے ربوہ جنازہ میں شامل ہونے کے لئے باہر نکلے اور اپنی گاڑی میں بیٹھنے سے قبل ہی میرے اور میرے بیٹے محمود احمدبعمر ۴۷ سال کے منہ سے بیک وقت یہ آواز نکلی کہ صاحبزادہ مرزاطاہر احمد صاحب اس منصبِ خلافت کے لئے موزوں نظر آتے ہیں گویا یہ القاء ہوا اور ایسے ہی عمل میں آیا۔ فالحمد للہ (تاریخ تحریر05؍ جولائی 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۳۷۔ مکرم فضل کریم تبسم صاحب مربی سلسلہ ربوہ
    10؍جون کی صبح 3بجے یہ خواب دیکھاکہ
    موجودہ خلافت لائبریری کے ہال میں بیس پچیس افراد جمع ہیں جو کسی کا انتظار کر رہے ہیں ۔ میں سڑک پر سے گزرتے ہوئے ان افراد کو دیکھ کررک جاتا ہوں کہ یہ کیوں جمع ہیں ۔ کیا دیکھتا ہوں کہ مشرقی طرف سے مرزا رفیع احمد آئے ہیں۔ سر پر پگڑی نہیں۔ گریبان پھٹا ہوا ہے اور اپنے اصل قد سے چوتھائی قد ہے ۔ اور داڑھی منڈھی ہوئی ہے ۔ پھر بجلی کی کڑک کی مانند آواز سے آنکھ کھل گئی ۔ (تاریخ تحریر15؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۳۸۔ مکرم مرزا قمر احمد صاحب ولد مرزا لطیف احمد دارالعلوم شرقی ربوہ
    خاکسار نے 10؍جون صبح تقریباً دس بجے خواب میں دیکھا کہ قدرت ثانیہ کے مظہر رابع کا انتخاب ہورہا ہے ۔ کہ ایک طرف سے ایک بزرگ آتے ہیں ۔ جن کی سفید اور لمبی سی داڑھی ہے اور بہت نورانی چہرہ ہے ۔ اور بہت بلند آواز میں تین دفعہ میاں طاہر ، میاں طاہر ، میاں طاہر پکارتے ہیں اور پھر غائب ہوجاتے ہیںاور اس طرح یہ خواب خداتعالیٰ کے فضل و کرم سے پوری ہوگئی ۔ (تاریخ تحریر25؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۳۹۔ مکرم مختار احمد چیمہ صاحب مربی سلسلہ احمدیہ کرونڈی ضلع خیر پور حال امریکہ
    جس دن خلافت رابعہ کا انتخاب ہوا اسی رات 10؍جون خاکسار نے یہ نظارہ دیکھا کہ ایک صحرا ہے اور بڑی گھبراہٹ اور بے چینی کا عالم ہے اور خاکسار اس صحرا میں بہت پریشان کھڑا ہے کہ اتنے میں ایک غیبی آواز آتی ہے کہ"بیعت کرو" جب میں منہ اٹھا کر اس آواز کی جانب دیکھتا ہوں تو مجھے ایک سرسبز کھجور کا درخت نظرآتا ہے جس کے نیچے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کھڑے ہیں اور آپ کے ہاتھ میں ایک اونٹ کی مہار ہے ۔
    (تاریخ تحریر13؍ جولائی 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۴۰۔ فلائٹ لیفٹیننٹ ڈاکٹر محمد علی صاحب پی اے ایف سرگودھا
    اس رب جلیل کی قسم ہے جس کے ہاتھوں میں ذرے ذرے کا مکمل اقتدار ہے اور جس کی *** دونوں جہانوں میں بیخ کنی کردیتی ہے ۔ میں اپنی ڈائری سے اپنا ایک خواب ہو بہو بغیر کسی تغیر کے درج کرتا ہوں جو صبح ساڑھے چار بجے (ٹھیک) مورخہ 10؍جون 1982ء کو اس عاجز نے دیکھا صرف اپنی بیوی کو اس پہ گواہ بنایا ۔
    مکرم مرزا عبدالحق صاحب امیر صوبہ پنجاب سے پوچھتا ہوں کہ انتخاب ہوگیا کہ نہیں۔ وہ کہتے ہیں ہاں ہوگیا ہے ۔ میں نے پوچھا کون آیا؟ فرمایا! مرزا طاہر احمد صاحب
    (تاریخ تحریر 12؍ جون 1982ئ)

    ۱۴۱۔ مکرمہ ریحانہ شاہین قریشی صاحبہ بنت قریشی عبدالغنی صاحب
    دارالرحمت غربی ربوہ
    10؍جون 1982ء کو دوپہر ساڑھے 12بجے میں ڈیوٹی سے واپس آکر تھوڑی دیر آرام کی غرض سے لیٹتی ہوں دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ اور لبوں سے بار بار یہ دعا نکل رہی ہے کہ اے خدا انتخاب خلافت خیرو عافیت سے ہو جائے جماعت کو انتشار سے بچا اور جماعت پر خاص فضل فرما ۔ایسے میں یکدم خواب یا نظارہ نظر آتا ہے کہ "ایک گھڑی سی ہے جسے لینے کے لئے مرزا رفیع احمد صاحب کی بیٹی اور میاں حنیف کی بیٹی جھگڑرہی ہیں کہ یہ میری ہے دونوں میں بحث ہو رہی ہے کہ حضرت میاں طاہر احمد صاحب کی بیٹی فائزہ آتی ہیں بغیر اِدھر ادھر دیکھے اس گھڑی کو اٹھاکر چل پڑتی ہے کہ یہ گھڑی تو ہے ہی ہماری
    یہ نظارہ میں جاگتی آنکھ سے دیکھ رہی ہوں اور سخت حیران ہوں کہ کیسی خواب ہے جو جاگتی آنکھوں نے دیکھی ہے اس کے بعددل اس یقین اور اطمینان سے لبریز ہو جاتا ہے کہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب ہی جماعت کو سنبھالیں گے اور بغیر کسی انتشار کے۔
    …٭…٭…٭…
    ۱۴۲۔ مکرم عبدالحمید صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ محراب پور نواب شاہ
    خاکسار کو جب صبح پانچ بجے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کے وصال کی اطلاع ملی تو خاکسار نے جماعت میں فتنہ اورشر سے محفوظ رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنی شرو ع کی اور شام کو شاہین ایکسپریس کے ذریعہ ربوہ کو روانہ ہوگیاہم ساڑھے گیارہ بجے ربوہ پہنچ گئے اور آخری زیارت اور نماز ظہرسے فارغ ہونے کے بعد جب انتخاب شروع ہوا اور بعد میں دعا ہوئی توخاکسار نے دعا میں پہلے تو حضرت حافظ مرزا ناصر احمد رحمہ اللہ کی شکل مبارک دیکھی اور یک دم پھر حضرت مرزاطاہر احمد (رحمہ اللہ )کی شکل مبارک دیکھی ۔خاکسار کے پاس مظفر احمد عباس صاحب انسپکٹر بیت المال بیٹھے تھے خاکسار نے اسے کہا کہ میاں طاہر احمد خلیفہ ہوگئے ہیں تو فوراً بعد اعلان ہوگیا ۔ (تاریخ تحریر 24؍ جون 1982ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۴۳ مکرمہ مسز امتہ القدوس صاحبہ اہلیہ مکرم محمد امداد الرحمن صاحب مربی سلسلہ
    بنت مولوی محب اللہ صاحب بنگلہ دیش
    میں نے 10؍ جون 1982دوپہر کو (جب کے عملاً انتخاب ہو رہا تھا ) خواب میں دیکھا کہ تین نام پیش ہوئے ہیں ۔ اور حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد نئے خلیفہ منتخب ہوگئے ہیں۔ الحمد للہ
    …٭…٭…٭…
    ۱۴۴۔ مکرمہ نصیرہ قدسیہ صاحبہ اہلیہ شیخ مظفر احمد صاحب جرمنی
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کی وفات پر عاجزہ بدین ضلع حیدرآباد پاکستان میں مقیم تھی کہ آپ کی وفات پر عشاء کی نماز کے بعد جب بہت عاجزی اور تفرع سے دعا کی تو
    "میں نے رؤیا میں دیکھا کہ ربوہ کی بیت مبارک کا ہال ہے اورساری بیت الذکرتو تقریباًخالی ہے لیکن ایک ستون کے اردگردکچھ دبلے پتلے مرد جو اچکن اور شلوار قمیض میں ملبوس ہیں اور سر پر جناح کیپ پہنے ہوئے ہیں دعا میں مصروف ہیں۔ آمین کی آواز کے ساتھ ہی ایک شخص ان میں سے کھڑا ہوااور بلند آواز سے انہوںنے کہا "مرزا طاہر احمدخلیفۃ المسیح "
    آواز بالکل صاف اور بلند تھی۔ تین دن کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ حضرت مرزاطاہر احمد صاحب خلیفہ منتخب ہوگئے ہیں۔" (تاریخ تحریر25؍فروری2008ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۱۴۵۔ مکرم غلام سرور طاہر صاحب صدر محلہ دارالصدر شرقی طاہر (آف شیخوپورہ)
    حضرت اقدس خلیفۃ المسیح الثالث ؒ کی وفات کے بعد خدام الاحمدیہ شیخوپورہ کی ڈیوٹی بہشتی مقبرہ میں تھی اور خاکسار خدام کے ہمراہ وہاں تھا۔
    خلافت رابعہ کے انتخاب کے بعد شیخوپورہ جب ہم واپس پہنچے تو جاتے ہی محترمہ والدہ صاحبہ نے پوچھا کہ حضرت مرزاطاہر احمد ہی خلیفہ بنے ہیں ناں؟ میں نے کہا آپ ایسے کہہ رہی ہیں جیسے آپ کویقین ہو؟ کہنے لگیں کہ ہاں میںنے رات خواب میں دیکھا ہے کہ تین نام پیش ہوئے ہیں ۔ ایک خلیفہ ثالث کے کسی بیٹے کا ، ایک کسی اور کا اور ایک نام حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کااور وہی خلیفہ بنے ہیں۔
    (تاریخ تحریر30؍اپریل2008ئ)
    ۱۴۶۔ مکرم عبدالوہاب احمد صاحب صاحب شاہدمربی سلسلہ
    اصلاح وارشاد مرکزیہ ربوہ
    میں تنزانیہ میں بحیثیت امیر ومشنری انچارج کام کررہا تھا ۔
    08؍جون1982ء فجر کی نماز کے وقت اطلاع آئی کہ حضرت حافظ صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ انتقال فرماگئے ہیں ۔ اناللہ وانا الیہ راجعون
    غم کے بادل چھا گئے۔ پیارے آقا کی صحت کے لئے بہائے جانے والے آنسو غم کے آنسوبن گئے ۔ بیت الذکر سے گھر آیا تو خاکسار کی اہلیہ محترمہ کنیز فاطمہ صاحبہ نے دریافت کیا کہ حضور کی صحت کے بارہ میں کیا تازہ اطلاع ہے؟ اس وقت میری عجیب حالت تھی گلا بند تھا ، آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ اہلیہ صاحبہ سمجھ گئیں کہ قضاء اپنا کام کرچکی ہے اور تھرتھراتی زبان میں کہا کہ "اب کون ہوں گے ہمارے روحانی باپ۔"
    اس وقت میری زبان سے بے اختیار نکلا کہ
    "حضرت مرزاطاہر احمد صاحب ہوں گے۔"
    پھر ذرا طبیعت سنبھلی تو میںنے اہلیہ صاحبہ کو بتایا کہ واللہ اعلم بالصواب کہ کون ہمارے روحانی باپ ہوں گے۔ دعائیں کرنی چاہیں چنانچہ ہم سب دعاؤں میں لگ گئے تا آنکہ پوہ پھوٹی اور نوید سحر آئی کہ اللہ تعالیٰ نے
    حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کو قدرت ثانیہ کے مظہر رابع کی حیثیت میں خلافت کے منصب جلیلہ پر فائز فرمادیا ہے اور وہ ہمارے روحانی باپ بن گئے ہیں۔
    (تاریخ تحریریکم نومبر2007ئ)



    خلافت خامسہ بارے الہامات وکشوف
    اور
    مبشر رؤیا، خوابیںاور الٰہی اشارے






    اِنِّیْ مَعَکَ یَا مَسْرُوْرُ
    (تذکرہ صفحہ630)




    الہامات سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام
    21؍اپریل 1903ء کا الہام جس میں ایک تقدیر مبرم کے ظہور کا ذکر ہے۔ اورکہا گیا ہے یہ اب تقدیر مبرم ہے اس میں اب تبدیلی نہیں ہوگی۔
    اس میں ایک وجود کے اپنا عہد پوری شان سے نبھاکرآسمان پر متمکن ہونے کا ذکر ہے۔ جس کا اشارہ "تمکن فی السَّمائ"میں ہے اس میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے نیک اور بابرکت انجام کی طرف اشارہ ہے ۔
    ۱۔ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ عِبَادِہٖ یُوَاسِیْکَ
    خدا اپنے بندوں کے ساتھ ہے وہ تیری غم خواری کرے گا ۔(تذکرہ ص376)
    ۲۔ اِنّیِ مَعَ الرسول اَقُوْم
    میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا (تذکرہ ص 381)
    ۳۔ انی مَعَ الرسول محیط (تذکرہ ص381)
    میں اپنے ر سول کے ساتھ ہوکر محیط ہوںگا۔
    ۴۔ انی مع الرسول اجیبُ
    میں اپنے رسول کے ساتھ ہو کر جواب دوں گا(تذکرہ ص387)
    ۵۔ انی معک و مَعَ اَھْلِکَ
    میں تیرے ساتھ اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں (تذکرہ ص393)
    ۶۔ انی مَعَکَ وَمَعَ اَھْلِکَ اَحْمِلُ اَوْزَارک
    میں تیرے ساتھ ہوں اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں میں تیرے بوجھ اٹھائوں گا ۔
    (تذکرہ ص 630)
    ۷۔ انی مَعَکَ یا مسرور
    اے مسرور میں تیرے ساتھ ہوں(تذکرہ ص630)
    ۸۔ میں تیرے ساتھ اور تیرے تمام پیاروں کے ساتھ ہوں (حضرت مرزا شریف احمد کے
    متعلق کہا گیا )
    ۹۔ اب تو ہماری جگہ بیٹھ اورہم چلتے ہیں۔ (تذکرہ ص406)
    ۱۰۔ عَمَّرہُ اللّٰہُ عَلٰی خَلَافِ التَّوَقُّعِ
    اس کو خداتعالیٰ امید سے بڑھ کر عمر دے گا (تذکرہ ص 6 9)
    ۱۱۔ اَمَّرَہُ اللّٰہُ عَلیٰ خَلَافِ التَّوَقُّعِ
    اس کو یعنی شریف کو خداتعالیٰ امید سے بڑھ کر امیر کرے گا (تذکرہ ص 609)
    ۱۲۔ جنوری 1907ء کا الہام ۔ شریف احمد کو خواب میں دیکھا کہ اس نے پگڑی باندھی ہوئی ہے اور دوآدمی پاس کھڑے ہیں ۔ ایک نے شریف احمد کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ "وہ بادشاہ آیا " دوسرے نے کہا ابھی تو اس نے قاضی بننا ہے ۔ فرمایا قاضی حَکَمْ کوبھی کہتے ہیں قاضی وہ ہے جو تائید حق کرے اور باطل کوردّ کرے۔ (تذکرہ ص 584)



    اب خلافت کو کوئی خطرہ نہیں
    سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا:
    "اب آئندہ انشاء اللہ تعالیٰ خلافت احمدیہ کو کبھی کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔ جماعت بلوغت کے مقام پر پہنچ چکی ہے خدا کی نظر میں۔ اور کوئی دشمن آنکھ، کوئی دشمن دل، کوئی دشمن کوشش اس جماعت کا بال بھی بیکا نہیں کرسکے گی اور خلافت احمدیہ انشاء اللہ تعالیٰ اسی شان کے ساتھ نشوونما پاتی رہے گی جس شان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وعدے فرمائے ہیں کہ کم از کم ایک ہزار سال تک یہ جماعت زندہ رہے گی۔ "
    (خطبہ جمعہ 18 ؍جون 1982 ء ازخطبات طاہر جلد اول صفحہ 18)
    حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے 1991ء کے جلسہ سالانہ قادیان کے موقعہ پر افتتاحی خطاب میں فرمایا:
    "قادیان آنے سے متعلق یہ پہلا سفر ہے اور آئندہ بھی انشاء اللہ جب دوبارہ خدا مجھے یہاں لے کے آئے گا اور آئندہ خلفاء کو بھی لے کے آئے گا اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان آئندہ خلفاء کی راہ میری آمد سے ہموار کردی جائے گی یا یہ توفیق کسی اور خلیفہ کو ملے گی ۔ لیکن یہ تو مجھے کامل یقین ہے کہ جس خدا نے حضرت اقدس مسیح موعود کو آخرین کا امام بنا کربھیجا تھا وہ ضرور اپنے وعدے سچے کردکھائے گا اور ضرور بالآخر خلافت احمدیہ اپنے اس دائمی مقام کو واپس لوٹے گی۔ "
    (الفضل انٹرنیشنل 30؍دسمبر 2005ئ)
    خلاف توقع عمر،امارت اور اب تو ہماری جگہ بیٹھ اور ہم چلتے ہیں
    دعا کریں کہ ہماری جگہ بیٹھ کا مضمون ان کے بیٹے پر بھی صادق آئے
    (سید ناحضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اﷲ)
    سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع (رحمہ اﷲ) نے حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد رحمہ اﷲ کی وفات اور حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب کے ناظر اعلیٰ و امیر مقامی مقرر کرنے پر ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا۔
    "حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے کچھ الہامات تھے جو حضرت مرزا شریف احمد صاحب پرچسپاں کئے گئے اور میں وہ فرد واحد ہوں، یا اور بھی شاید ہوں، جو شروع ہی سے یہ یقین رکھتا تھا کہ یہ الہامات اصل میں آپ کے صاحبزادہ حضرت مرزا منصور احمد صاحب سے متعلق ہیں۔ یہ امر واقعہ ہے کہ بعض پیشگوئیاں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی ایسا واقعہ ہوچکا ہے، ایک شخص کے متعلق کی جاتی ہیں لیکن بیٹا مراد ہوتا ہے۔ وہ الہامات جیسا کہ میں اب آپ کے سامنے کھول کر بیان کروں گا بلاشبہ ایک ذرہ بھی شک نہیں حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کے بیٹے کی صورت میں پورے ہونے تھے اور آپ ہی پر ان کا اطلاق ہوتا ہے۔
    یہ بات میں ہمیشہ صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب سے بیان کرتا رہا لیکن یہ ہمارا آپس کا ذاتی معاملہ تھا، شروع میں تو جیسا کہ ان کی بے حد انکسار کی عادت تھی انہوں نے قبول کرنے میں تردد کیا یعنی خاموشی اختیار کرجاتے تھے۔ بالآخر جب میں نے مسلسل دلائل دئیے اور میں نے کہا کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ مراد نہ ہوں تو پھر ان کو تسلیم کرنا پڑا اور اس بات کی گہری مسرت تھی کہ الہامات میں میں بھی داخل ہوں۔ وہ الہامات سنئے۔ شریف احمد کی نسبت اس کی بیماری کی حالت میں (یہ 1907ء کا واقعہ ہے ) الہامات ہوئے عمرہ اللّٰہ علی خلاف التوقع ،اللہ نے اس کو لمبی عمر دی خلاف توقع ،خلافت توقع سے مراد یہ ہے کہ ایسے حالات پیدا ہوتے رہے کہ پہلے مرجانا چاہیے تھا مگرخداتعالیٰ نے بغیر توقع کے بار بار زندگی عطا فرمائی۔
    پھرفرمایا "امّرہ اﷲ علی خلاف التوقع" اللہ نے اسے صاحب امر بنایا یعنی امیر اور اس کا یہ امیر بننا خلاف توقع تھا۔ یعنی توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ یہ شخص اتنے لمبے عرصے تک امیر بنایا جائے گا۔ ان الہامات کے جو ترجمے تذکرہ میں درج ہیں مجھے یقین ہے کہ یہ ترجمے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے نہیں ہیں ۔ کیونکہ وہ ایک ایسا ترجمہ کررہے ہیں جو خلاف واقعہ ہے ۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ ترجمہ کیا جائے۔ چنانچہ وہ ترجمہ یہ تھا جس کو خلاف واقعہ ترجمہ سمجھتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ علماء نے اس خواہش میں کہ اس پیشگوئی کو حضرت مرزا شریف احمد صاحب پرلگا دیا جائے یہ ترجمہ کیا ہے "اس کو یعنی شریف احمد کو خدا تعالیٰ امید سے بڑھ کر امیر کرے گا ، یعنی مال و دولت دے گا " ۔ "امّرہ اﷲ" کا یہ مطلب نہیں ہے کہ امیر کرے گا ۔ "امرہ اﷲ "کامطلب یہ ہے کہ اسے امیر بنایا جائے گا۔ یعنی صاحب امر بنائے گا اور ایک دوسرے الہام سے بعینہٖ یہی بات ثابت ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ وہ بادشاہ آیااور اس کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ قاضی کے متعلق یہ الہام ہوا ہے وہ قاضی یعنی صاحب امر بنایا جائے گا۔ تو چونکہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی اپنی تشریحات دوسرے الہامات کی روشنی میں اس ترجمے کو جو تذکرے کے نیچے چھپا ہواہے غلط قرار دے رہی ہیں اس لئے میں نے جب علماء سے فوری طور پرتحقیق کر کے رپورٹ کرنے کاکہا ۔ مولوی دوست محمد صاحب جو ماشاء اللہ اس مضمون کے ماہر ہیں انہوں نے لکھا ہے کہ یہ ترجمے یقیناحضرت مسیح موعود کے ترجمے نہیں ہیں ۔ صاحبزادہ مرزا بشیراحمد صاحب نے 1935ء میں جب تذکرے کی اشاعت پرایک نوٹ لکھا اس میں یہ وضاحت کی کہ ہم نے تمام ترجمے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمائے تھے وہ عبارت کے اندر داخل کر لئے ہیں اور حاشیے میں نہیں اتارے گئے۔ حاشیے میں اتارے جانے والے ترجمے بعد میں علماء نے کئے ہیں۔ تو یہ جو میری Suspicionتھی یا مجھے شک تھا بلکہ میرا یقین تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ترجمہ ہو نہیں سکتا یہ میں نے ربوہ سے معلوم کروالیا ہے۔ واقعتہً یہی بات درست ہے۔ دراصل اگر ان تراجم کو مانا جائے اور جو خیال گزرتا تھا علماء کا اس کو مانا جائے تو حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی عمر تولمبی نہیں تھی۔ اپنے بھائیوں سے چھوٹی عمر میں فوت ہوگئے اور خلاف توقع لمبی عمر کہنا یہ ایک قسم کا خواہش کا اظہار تو ہے لیکن واقعات کا اظہار نہیں ۔ اور آپ کے سپرد امارت کبھی نہیں کی گئی۔ مجھے نہیں یاد شاید ہی کبھی آپ کو امیر بنایا گیاہو ورنہ آپ امیر نہیں بنائے جاتے تھے۔ یہ وجہ تھی کہ میں ہمیشہ ان دونوں الہامات کو حضرت مرزا منصور احمد صاحب کے متعلق سمجھتا تھا اور آپ کی زندگی اس کی گواہ ہے۔ اس کثرت سے آپ کو شدید دل کے حملے ہوئے ہیں کہ ہرحملے پر ڈاکٹر کہتے تھے کہ اب یہ ہاتھ سے گئے اور پھر اللہ تعالیٰ خلاف توقع آپ کو ٹھیک کردیتا تھا اور سب ڈاکٹر حیرت سے دیکھتے تھے ان کے ساتھ کیا ہورہا ہے ۔دل کی ایسی بیماریاں لاحق ہوئیں کہ جن سے بچنا محال تھااور دوسرے دن اٹھ کر نہ صرف یہ کہ کھانا پیناشروع کر دیا بلکہ ڈاکٹر جو بعض چیزوں کو ان کے لئے حرام سمجھتے تھے یعنی مکھن اور گھی کی غذا، را ت کو حملہ ہوا ہے ۔صبح اٹھ کر کہا کہ مجھے مکھن کے پراٹھے پکا کر کھلائو اور واقعتہً پراٹھے کھایا کرتے تھے۔ اس لئے ان کے متعلق یہ الہامات لازماً پورے اترتے ہیں کہ "عمرہ اللہ علی خلاف التوقع"بغیر توقع کے لمبی عمر اور بغیر توقع کے بارہا عمر پانا یہ آپ کی ذات میں دونوں باتیں بعینہٖ صادق آتی ہیں۔
    پھر "امرہ اللہ علی خلاف التوقع" یعنی ان کو امارت بھی ایسی دی جائے گی کہ اس کے متعلق توقع نہیں کی جاسکتی ۔ میں نے حساب لگایا ان کی امارت کا تو آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اﷲکے زمانے میں ان کو امیر بنانا شروع کیا گیا ہے اور اس سے پہلے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی (نور اﷲ مرقدہ )کے باون سالہ حکومت میں اتنا عرصہ کبھی کسی کو امیر نہیں بنایا گیا جتنا ان کو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اﷲاور میرے دور میں امیر بنایا گیا۔ پینتالس (45) بار آپ امیر مقامی مقرر ہوئے ہیں اور اس ہجرت کے دور میں تقریباًچودہ سال مسلسل امیر مقامی بنے رہے ہیں۔ یہ ہے خلاف توقع۔ سوچ بھی نہیں سکتا تھاکہ خلیفہ کی موجودگی میں کوئی شخص اتنا لمباعرصہ امیر مقامی بنارہے۔ وہ امارت مقامی جو خود خلیفہ کی موجودگی میں امیر مقامی وہی ہوتا ہے۔ پس آپ عملاً میری جگہ بیٹھ گئے یعنی جس کرسی پر میں بیٹھا کرتا تھا اس پر میرے کہنے کے مطابق آپ براجمان ہوئے اور آپ نے تمام امور کو نہایت بہادری سے سرانجا م دیا۔ "وہ بادشاہ آیا " کے الہام کے متعلق فرماتے ہیں۔ فرمایا دوسرے نے کہاابھی تو اس نے قاضی بننا ہے ۔ یعنی اس الہام کے ساتھ یہ آواز بھی آئی۔ قاضی حَکَمَ کو بھی کہتے ہیں۔ قاضی وہ ہے جو تائید حق کرے اور باطل کورد کرے ۔ یہ خوبی بھی حضرت صاحبزادہ مرزامنصور احمد صاحب میں غیر معمولی طور پر پائی جاتی تھی۔باطل کورد کرنے کے معاملے میں اتنا بہادر انسان میں نے اور شاذ ہی دیکھا ہو ۔ ہوں گے مگر جو میں نے دیکھے ہیں ان میں سے ان سے زیادہ جرأت کے ساتھ باطل کورد کرنے والا اور کوئی نہیں دیکھا۔
    خلافت کے عاشق اور فدائی اور میں جو ان کے سامنے ایک چھوٹا سا بچہ تھا اور بچپن میں ان کے نظام میں ماریں بھی کھائی ہوئی ہیں اس طرح سامنے وفا کے ساتھ ایستادہ ہوئے ہیں جیسے اپنی کوئی حیثیت نہیں رہی اوربھائیوں میں سے یااپنے دور کے عزیزوں میں سے اگر کسی نے ذرا بھی زبان کھولی ہے میرے متعلق ، تو اتنی سختی سے اس کا جواب دیا ہے کہ جیسے رد کرنے کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمارہے ہیں ، رد کرنے کے عمل کو اتنی سختی سے استعمال کیا ہے کہ میں حیران رہ گیا سن کر۔ بارہا میں نے سنا اور میں حیران رہ جاتا تھا۔ نہ بھائی دیکھا نہ عزیز دیکھا۔ اگر وہم گزرا کہ خلافت کے متعلق یہ غلط اشارہ کررہا ہے تو فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور بڑی سختی سے اس کو رد کردیا۔
    یہ صورت حال ایک اور الہام کوبھی یاد کرارہی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مرزا شریف احمد صاحب کو مخاطب کر کے کشف میں دیکھتے ہیں کہ "اب تو ہماری جگہ بیٹھ اور ہم چلتے ہیں " اب ظاہر بات ہے کہ یہ الہام حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے متعلق پورا نہیں ہوا۔ یعنی ان لوگوں کی نظر میں پورا نہیں ہوا جو یہ بات ماننے پر تیار نہیں کہ بعض دفعہ باپ کے متعلق الہامات بیٹے کے لئے پورے ہوا کرتے ہیں ۔ اب یہ بات بعینہٖ آپ کی ذات پر پوری ہوئی ہے۔ وہ امارت مقامی جس پر میں بیٹھا کرتا تھا اب ظاہر ہے کہ میں اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نمائندہ ہوں، اس وقت میاں شریف احمد صاحب موجود نہیں ہیں، اگرکوئی شخص موجود ہے تو یہ آپ کا بیٹا ہے ۔ جس کے متعلق بعینہٖ یہ الفاظ پورے ہوتے ہیں۔ "اب تو ہماری جگہ بیٹھ اور ہم چلتے ہیں "۔
    پس یہ سارے الہامات اور ان کی واضح تشریحات جو واقعات نے بیان کردی ہیں ان کو رد نہیں کیاجاسکتا۔ یقینا آپ کا ایک مقام تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں سے وہ مقام بنا ہے اور ابھرا ہے اورآئندہ آنے والی تاریخ نے ثابت کردیا ہے کہ آپ کاوجود ایک مبارک وجود تھا جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا روحانی بیٹا ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔ جو کچھ بھی اپنے بیٹے کے متعلق دیکھا وہ ان کے بیٹے کے متعلق پورا ہوا۔اب جب کہ میں نے ان کی جگہ ناظر اعلیٰ اور امیر مقامی ان کے صاحبزادے مرزا مسرور احمد صاحب کو بنایا تو میرا اس الہام کی طرف بھی دھیان پھرا کہ گویا آپ اب یہ کہہ رہے ہیں کہ میری جگہ بیٹھ۔ یہ ساری باتیں ہمیں یقین دلاتی ہیں کہ حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کی روح ایک پاک روح تھی ، بہت دلیر انسان، خلافت کے حق میں ایک سونتی ہوئی تلوار تھے۔
    بے حد بہادر انسان تھے کہ کم دنیا میں اتنے بہادر انسان دیکھنے میں آتے ہیں۔ وہم ہوتا تھا تو دوسروں کے متعلق، اپنے متعلق نہیں، میری بیماری کا خطرہ ،خوف ، اور بچوں کو کہنا خیال رکھیں۔ اگر کوئی تاخیر ہوجائے کہیں سے آنے میں مثلاً ایک دفعہ یہ پہلے پہنچ گئے اور مجھے آنا چاہئے تھا مگر دیر سے آیا تو بے انتہا گھبراہٹ تھی، ٹہلتے پھرتے تھے کہ کیوں نہیں ابھی تک پہنچے۔ تو اپنے متعلق بالکل بے خوف اور دوسروں کے متعلق بے حد خوف رکھنے والے کہ کہیں کسی خطرناک واقعہ میں مبتلا نہ ہوگیا ہو، کسی مہلک حادثے کا شکار نہ ہوگیا ہو۔ ساری زندگی سادہ گزاری ہے۔ بالکل بے لوث انسان اور سادہ زندگی گزارنے والے۔ ناظر اعلیٰ بھی اور اپنے بچے مسرور کو ساتھ لے کر زمینوں کادورہ بھی کررہے ہیں۔ وہاں زمینداروں کے ساتھ بیٹھ کر اسی طرح باتیں کررہے ہیں۔ ذرا بھی ان کے اندر کوئی انانیت نہیں پائی جاتی تھی۔ بالکل سادہ لوح ، غذا اگر مزے کی ہے تو اچھی لگے گی پر اگر نہیں بھی ہے تو خوشی سے کھاتے تھے اور ہر چیز میں ایک قناعت پائی جاتی تھی۔ پس اس ذکر خیر میں اگرچہ طول ہوگیا ہے لیکن یہ ذکر خیر ہے ہی بہت پیارا ۔ ا ب میں سار ی جماعت کو حضرت صاحبزادہ مرزامنصور احمد صاحب کے لئے دعا کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور بعد میں مرزا مسرور احمد صاحب کے متعلق بھی کہ اللہ تعالیٰ ان کو بھی صحیح جانشین بنائے "تو ہماری جگہ بیٹھ جا " کا مضمون پور ی طرح ان پر صادق آئے اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ خود ان کی حفاظت فرمائے اور ان کی اعانت فرمائے۔ "
    (الفضل انٹر نیشنل 30 ؍جنوری 98 19ئ)






    ایک دستاویز ایک تاریخی امانت
    سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس کی موعود شخصیت
    الہامات مہدی موعود کی روشنی میں
    (مولانا دوست محمد شاہد مؤرخ احمدیت)
    جس طرح ارض وسماء کی تخلیق اور تمام انبیائے سابق کا مقصد بعثت شہ لولاک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور قدسی کی منادی کرتا تھا بالکل اسی طرح امت محمدیہ کے صلحاء واولیاء عالمی غلبہ دین کے لئے مہدی امت کے استقبال کی راہ ہموار کرنے کے لئے پیدا کئے گئے۔ حضرت شیخ فریدالدین عطار رحمۃ اللہ علیہ (ولادت513ھ۔ وفات 567ھ)فرماتے ہیں۔
    ؎ صد ہزاراں اولیاء روئے زمیں
    ازخدا خواہند مہدی رایقین
    یا الٰہی مہدیم از غیب آر
    تا جہان عدل گردد آشکار
    (ینا بیع المودۃ جلد 3صفحہ141از حضرت شیخ سلیمان ناشر مکتبہ العرفان بیروت)
    یعنی روئے زمین پرلاکھوں اولیاء خداتعالیٰ سے مہدی کے خواستگار ہیں۔ اے خدا !میرے مہدی کو غیب سے لے آتاجہانِ عدل کا قیام ہو۔
    اس آسمانی منصوبہ کی تکمیل قرآن وحدیث کی رو سے دور آخرین کے نظام خلافت سے وابستہ کی گئی جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے رسالہ الوصیت میں بشارت دی ۔
    "میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور میں خداکی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔"
    اس کے ساتھ ہی قدرت ثانیہ کی نسبت یہ پُر جلال پیشگوئی فرمائی ۔
    "وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا۔"
    خلافت یعنی قدرت ثانیہ کے بابرکت آفاقی نظام کو دوام بخشنے کے لئے اللہ جلّشانہ نے مہدی موعودکو ایک موعود اور مبشر خاندان عطا فرمایا ۔
    "چونکہ خد اتعالیٰ کاوعدہ تھا کہ میری نسل میں سے ایک بڑی بنیاد حمایت اسلام کی ڈالے گا اور اس میں سے وہ شخص پیدا کرے گا جو اپنے اندر آسمانی روح رکھتا ہوگا اس لئے اُس نے پسند کیا کہ اس خاندان (حضرت خواجہ میر دردؒ کا خاندان جو مشاہیر اکابر سادات ہے۔ناقل)کی لڑکی میرے نکاح میں لاوے اور اس سے وہ اولاد پیدا کرے جو اُن نوروں کو جن کی میرے ہاتھ سے تخم ریزی ہوئی ہے دنیا میں زیادہ سے زیادہ پھیلا دے اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس طرح سادات کی دادی کا نام شہر بانو تھا اسی طرح میری یہ بیوی جو آئندہ خاندان کی ماں ہوگی۔ اس کا نام نصرت جہاں بیگم ہے یہ تفاؤل کے طور پر اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے تمام جہان کی مدد کے لئے میرے آئندہ خاندان کی بنیاد ڈالی ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ کبھی ناموں میں بھی اس کی پیشگوئی مخفی ہوتی ہے۔"
    (تریاق القلوب صفحہ65طبع اوّل تصنیف 1899ء اشاعت 1902ء )
    اوائل شباب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عالم رؤیاء میں دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میری ایک کتاب مجھ سے لی تو آنجنابؐ کے ہاتھ مبارک لگتے ہی نہایت خوبصورت میوہ بن گئی جسے آنحضرتؐ نے تقسیم کرنے کے لئے قاش قاش کیں تو اس قدر اس میں سے شہد نکلا کہ آنجنابؐ کا ہاتھ مبارک مرفق تک شہد سے بھر گیا تب ایک مردہ کہ جو دروازہ سے باہر تھا آنحضرتؐ کے معجزہ سے زندہ ہوکر آپؐ کے پیچھے کھڑا ہوا۔ حضور فرماتے ہیں۔
    "ایک قاش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو اس غرض سے دی کہ تامیں اس شخص کو دوں کہ جو نئے سرے سے زندہ ہوا اور باقی تمام قاشیں میرے دامن میں ڈال دیں۔ــ"
    (براہین احمدیہ حصہ سوم صفحہ249-248حاشیہ در حاشیہ نمبر1)
    سیدنا محمود المصلح الموعود نے28؍دسمبر1956ء کے معرکہ آراء خطاب "خلافت حقہ اسلامیہ" میں اس رؤیا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ۔
    "حضرت مسیح موعود کی ایک خواب بھی بتاتی ہے کہ اس خاندان (حضرت مولانا نور الدین خلیفۃ المسیح الاوّل ۔ناقل)میں صرف ایک ہی پھانک خلافت کی جانی ہے اور"پیغام صلح"نے بھی تسلیم کرلیا ہے کہ اس سے مراد خلافت کی پھانک ہے۔ـ"
    (صفحہ22ناشر نظارت اشاعت لٹریچر وتصنیف)
    قبل اس کے کہ اس پس منظر میں سیدی حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی موعود شخصیت کے بارے میں آسمانی نوشتوں کا تذکرہ کیا جائے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک الفاظ ہیں پیشگوئیوں کے زرین اصولوں کو لوح قلب میں نقش اور صحن سینہ میں محفوظ کر لیا جائے۔ حضرت اقدس فرماتے ہیں۔
    "پیشگوئیاں از قبیل مکاشفات ہوتی ہیں اور اس چشمہ سے نکلتی ہیں جو استعارات کے رنگ سے بھرا ہوا ہے۔خد اتعالیٰ مکاشفات کو استعا را ت کے خلعت سے آراستہ کر کے اپنے نبیوں کی معرفت ظاہر کرتاہے۔"
    (ازالہ اوہام صفحہ405طبع اوّل )
    پیشگوئی کی حقیقی تفسیر کا وہ وقت ہوتا ہے جس وقت وہ پیشگوئی ظاہر ہو۔
    (براہین احمدیہ حصہ پنجم حاشیہ صفحہ73طبع اوّل)
    "ہر ایک شناخت کی اس کے وقت میں ہوتی ہے اور قبل از وقت ممکن ہے کہ معمولی انسان دکھائی دے یا بعض دھوکہ دینے والے خیالات کی وجہ سے قابل اعتراض ٹھہرے۔ـ"
    (الوصیت صفحہ8حاشیہ اشاعت 24؍دسمبر1905ء )
    اب آئیے ان حقائق کے پیش نظر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی خداداد بصیرت اور کشفی آنکھوں سے سیدنا مہدی موعود کے حیرت انگیز الہامات کا مطالعہ کریں اور خدا کی قدرت نمائی کا مشاہدہ کریں۔
    ہمارے امام ہمام سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کو جناب الٰہی کی طرف سے 22؍اپریل 2003ء کو خلعت خلافت پہنائی گئی اس سے قبل10؍دسمبر 1997سے امیر مقامی اور ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمدیہ پاکستان کے فرائض بجا لارہے تھے ۔ اسی دوران آپ نے03؍اگست1998ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع(رحمہ اللہ) کی خدمت اقدس میں اپنے دست مبارک سے حسب ذیل مکتوب تحریر فرمایا جو بذریعہ فیکس لندن بھجوادیا گیا۔
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    سیدی ایدّ کم اللہ تعالیٰ
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
    حضور انور کی خدمت اقدس میں جلسہ سالانہ کے کامیابی سے اختتام پذیر ہونے اور عالمی بیعت میں اس سال پچاس لاکھ سے زائد نئی روحوں کی شمولیت پر دلی مبارک بار عرض ہے۔
    اللہ تعالیٰ یہاں بھی وہ دن جلد لائے جب ہم یہ روح پرور نظارے یہاں بھی دیکھ سکیں۔
    ابا(حضرت صاحبزادہ مرز امنصور احمد صاحب ۔ناقل)کے خطوط میں سے ایک خط حضور انور کے نام لکھا ہوا ملا۔ جس میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے ایک الہام کو لکھتے ہوئے ابا نے لکھا ہے کہ یہ حضور کے زمانہ سے متعلق لگتا ہے۔
    (۱) انی معک یا ابن رسول اللہ
    (۲) سب مسلمانوں کو جو روئے زمین پر ہیں جمع کرو علی دین واحد
    یہ نظارے توانشاء اللہ تعالیٰ دیکھنے میں آتے رہیں گے ۔ دعا کی درخواست
    والسلام
    حضور کا ادنیٰ خادم
    مرزا مسرور احمد
    حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی طرف سے حضور کے پرائیویٹ سیکرٹری مولانا منیر احمد جاوید کے قلم سے یہ جواب موصول ہوا کہ
    "فرمایا !یہ خط بہت اہم ہے اور اس کو سنبھال کر رکھیں اپنے پاس بھی نقل رکھیں اور مجھے بھی بھجوائیں جماعتی ریکارڈ میں بھی نقل رکھوانی چاہئے۔"
    منیر احمد جاوید
    05-08-98
    یہ جواب موصول ہونے کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب نے درج ذیل الفاظ رقم فرما کر شعبہ تاریخ احمدیت کو ارسال فرمادیا۔
    ـ" مکرم ومحترم مولانا دوست محمد صاحب شاہد
    حسب ارشاد حضرت صاحبزادہ مرز امنصور احمد صاحب کے خط کی نقل آپ کو بھجوارہاہوں"
    مرزا مسرور احمد
    09-08-98
    عکس نقل کا مکمل متن ذیل میں زیب قرطاس کرتا ہوں ۔
    ‏RABWAH بسم اللہ الرحمن الرحیم
    15-12-96 پیارے سیدی !
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
    بہت مدت کے بعد حضور کی خدمت میں حاضر ہورہاہوں۔ آج کل کرتے ہوئے سال ہی تو گذر گیا ۔ دعا کی درخواست ہے۔
    آج کل آٹھویں ترمیم پر پھر شور اُٹھا ہوا ہے ۔دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ۔
    تذکرہ پڑھتے ہوئے الہام نظر سے گزرا پہلے بھی کئی بار پڑھا تھا۔ اب جو پڑھا تو یوں معلوم ہوا یہ تو حضور کے لئے ہے ۔حضور کے زمانہ سے ہی تعلق رکھتا ہے ۔ الہام یوں ہے۔
    (۱) انی معک یا ابن رسول اللہ
    (۲) سب مسلمانوں کو جو روئے زمین پر ہیں جمع کرو علی دین واحد
    حضرت مسیح موعود(کا) لکھا ہوا حاشیہ اور Photo Statبھجوارہاہوں ۔ خد اتعالیٰ حضور کا حافظ وناصر ہو۔
    مرزا منصور احمد
    یہ نظارہ تو ہم روزدیکھ رہے ہیں اس میں تو شک نہیں ۔
    خاکسار
    مرزا منصور احمد
    اس مکتوب گرامی کے سوا چھ سال بعد سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع 19؍اپریل 2003ء کو لندن وقت کے مطابق ساڑھے نوبجے صبح انتقال فرماگئے جس پر حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب ناظر اعلیٰ نے دنیا بھر کی جماعتوں کو اطلاع دیتے ہوئے تحریر فرمایا ۔
    "ہمیں یقین ہے اور کامل یقین ہے اور ہمارا سوسال سے زیادہ عرصہ کا تجربہ اس بات پر گواہ ہے کہ خد اتعالیٰ نے کبھی جماعت احمدیہ کو بے یارومددگار نہیں چھوڑا۔اب بھی وہی خد اہمارا حامی اور مددگار اور محافظ ہوگا۔"
    (الفضل انٹرنیشنل لندن25؍اپریل2003ء )
    اس اطلاع عام کے تیسرے روز خلافت خامسہ کے انقلاب آفریں اور پُرانوار دور مبارک کا آغازہوا۔
    ؎ قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت
    اس بے نشاں کی چہرہ نمائی یہی تو ہے
    جس بات کو کہے کہ کروں گا یہ میں ضرور
    ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے
    خدائے ذوالعرش کی اس فعلی شہادت سے بالبداھت ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے درج ذیل دوالہام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی موعود شخصیت سے براہ راست تعلق رکھتے ہیں۔یعنی
    (۱) انی معک یا ابن رسول اللہ
    (۲) سب مسلمانوں کو جو روئے زمین پر ہیں جمع کرو علی دین واحد
    (بدر 24؍نومبر1905ء والحکم 24؍نومبر1905ء صفحہ1)
    ان الہامات کی مزید تشریح وتوضیح دسمبر1907ء میں درج ذیل الفاظ میں جناب الٰہی کی طرف سے کی گئی۔
    (۱) انی معک ومع اھلک ۔احمل اوزارک
    (۲) میں تیرے ساتھ اور تیرے تمام پیاروں کے ساتھ ہوں
    (۳) انی معک یا مسرور
    یہ الہام ربانی الحکم24؍دسمبر1907ء کے صفحہ 4پر شائع ہوااور یہی تاریخ رسالہ "الوصیت"کی اشاعت کی ہے الہام"انی معک یامسرور"سے صدیوں سے مسلم لٹریچر میں موجود اس راز سر بستہ کابھی انکشاف ہوا کہ امام مہدی کیونکر"سُرَّمن رای"کی غار سے جلوہ گر ہوگا کیونکہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ حقیقت بیان فرمائی ہے کہ بعض ناموں میں بھی پیشگوئیاں مخفی ہوتی ہیں سو یہی امر یہاں وقوع پذیر ہوا کیونکہ"سُرَّمن رای"کے ایک ہی معنی ہیں اور وہ یہ کہ جو اُسے دیکھے گا وہ بھی مسرور ہوجائے گا کیوں مسرور ہوگا؟اس کا جواب حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے مبارک الفاظ میں عرض کرتاہوں حضور فرماتے ہیں۔
    "اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ مسلمانان روئے زمین جمع ہوں اور وہ ہوکر رہیں گیـ"
    (الحکم 30؍نومبر1905ء صفحہ1)
    ؎ دین کی نصرت کے لئے اک آسماں پر شور ہے
    اب گیا وقت خزاں آئے ہیں پھل لانے کے دن






    مبشر رؤیا ،خوابیںاور الٰہی اشارے
    ۱۔ مکرم خاں سعید اللہ خان صاحب ،پروفیسر(ر)تعلیم الاسلام کالج ربوہ
    حال 1/5دارالنصر غربی ربوہ
    جب حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب پیدا ہوئے میں کالج میں پروفیسر تھا اور ہوسٹل میں وارڈن بھی تھا ۔ پروفیسر بشارت الرحمن صاحب جو بزرگ تھے کالج آئے ۔ میں ہوسٹل کے باہر کھڑا ہواتھا مجھے مخاطب ہوکر کہنے لگے سعید اللہ خان میں تو کالج پڑھانے آیا تھا مگر یہاں آکر چھٹی ہوگئی ہے اور ساتھ ہی کہا کہ میں نے آج رات کو خواب دیکھی کہ آج جو حضرت صاحب کے خاندان میں بچہ پیدا ہواہے وہ اگلی صدی کا مجدد ہے ۔میں نے یہ بات مرزا خورشید احمد صاحب کو بتادی دی تھی۔
    (تاریخ تحریر 30؍جنوری2008ئ)
    …٭…٭…٭…

    ۲۔ مکرم محمد انور صاحب جرمنی
    خاکسار کو میری والدہ کے ذریعہ علم ہوا کہ حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحب کو ایک معاملہ فہمی کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ نے ہمارے گائوں چک 565گ ب تحصیل جڑانوالہ بھجوایا ۔ اس دوران میری نانی جان نے حضرت مولانا سے عرض کی کہ آپ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ رہے ہیں ہمیں کوئی واقعہ سنائیں تو آپ نے بیان فرمایا کہ ایک دفعہ ہم بیت مبارک قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ بیٹھے تھے کہ سامنے سے حضرت مرزا شریف احمد صاحب کو آتے دیکھا جو ان دنوں بچے تھے۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ دیکھو بادشاہ آرہا ہے تو مولانا صاحب کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کی کہ وہ تو مرزا شریف احمد ہیں ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ بادشاہ ہوگا اگر یہ نہ ہوا تو اس کا بیٹا ہوگا اور وہ نہ ہوا تو اس کا پوتا ضرور بادشاہ ہوگا۔
    (تاریخ تحریر30؍ اگست 2003ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۳۔ مکرم رانا فاروق احمدصاحب۔مربی سلسلہ نظارت دعوت الی اللہ ربوہ
    خلافت رابعہ کے انتخاب کے معاً بعد جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے اپنے خطبات میں بعض احباب جماعت کو ملنے والی بشارات کا ذکر فرمایا تو دل میں ایک تمنا پیدا ہوئی کہ خدایا میںنے بھی تیرے دین کے لئے زندگی وقف کی ہے تیرے قائم کردہ نظام کے ساتھ وفا کا عہد باندھا ہے عقیدۃً تو اس نظام میں شامل ہوں مگر تو کوئی رحمت مجھے بھی تو عطا فرما۔ تو ایک رات خواب میں دیکھا کہ گویا میں ابھی جامعہ کا طالب علم ہوں اور ناصر ہوسٹل میں رہتا ہوں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع (رحمہ اﷲ)تشریف لائے ہیں مصافحہ کر کے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور اسی طرح مجھے ساتھ لے کر چلے یہاں تک کہ بیت اقصیٰ تک لے گئے پھر دیکھا کہ
    "ایک جگہ آٹھ دس افراد مختلف عمروں کے انتہائی روشن چہروں کے ساتھ کھڑے ہیں اور مجھے بتایا گیا کہ یہ آئندہ زمانہ میں احمدیت کے خلفاء بننے والے ہیں ۔ دل خوشی اور مسرت سے بھر گیا لیکن اگرچہ اس وقت غالباً 1983ء میں میں نے کسی کو نہ پہچانا مگر وہ چہرے دل میں خوب محفوظ ہوگئے۔ بالآخر 1994ء میں ایک دن دفتر دعوت الی اللہ میں جارہا تھا کہ دفتر دیوان اور اشاعت کے درمیان سامنے سے حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمدصاحب کو تشریف لاتے دیکھا۔ تقاضا ادب کے پیش نظر وہاں رک گیا آپ پر نظر پڑی دل میں فوراً وہی ماہ تاباں ابھرا جو پہلے خواب میں دیکھا ہوا تھا اس وقت سے آپ کو پہچانا اور یہ محبت دن بدن بڑھتی گئی یہاں تک کہ جب حضرت خلیفۃالمسیح الرابع (رحمہ اﷲ) نے آپ کو ناظر اعلیٰ اور امیر مقامی مقرر فرمایا تو پھر تو جملہ پردے ہٹ گئے اور یہ محبت اتنی بڑھ گئی کہ بسا اوقات خاکسار دورہ سے واپسی پر ایک آدھ دن کی رخصت لے لیتا تو پھر بھی آپ کی جھلک دیکھنے کے لئے دفاتر کا چکر ضرور لگا لیتا اور اللہ تعالیٰ میری آرزو کو پورا کرتا ۔سبحان اللہ والحمدللہ۔ "
    (تاریخ تحریر10 ؍مئی 2003 ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۴۔ مکرم مبارک احمد نجیب صاحب مربی سلسلہ نظارت اشاعت ربوہ
    ‏i۔ خاکسار حلفیہ بیان کرتا ہے کہ آج سے 19/20سال قبل غالباً جنوری 1984ء کے اوائل میں خواب میں دیکھا کہ حضرت خلیفۃالمسیح الرابع (رحمہ اﷲ)وفات پاگئے ہیں۔ اور خاکسار بیت مبارک ربوہ میں موجود ہے کہ اچانک دوبزرگوںمکرم و محترم صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب (مرحوم ومغفور) اور مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب ایم ۔ اے ۔ نے مجھے کندھوں پر اٹھا کر حضرت خلیفۃ المسیح کی کرسی پر بٹھا دیا ہے تو ساتھ ہی بڑے زور سے آواز آئی کہ
    "یہ دور بہت مبارک اور مسروری ہوگا "
    ‏ii۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے وصال سے چند روز قبل غالباً 12؍اپریل 2003ء میں نے خواب میںدیکھا کہ میراایک ہاتھ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے کندھے پر ہے اور دوسرا ہاتھ حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب کے کندھے پر ہے کہ اچانک حضرت خلیفۃ المسیح الرابع والا نظارہ غائب ہوگیا۔
    قبل ازیں ان خوابوں کا اس لئے ذکر نہیں کیا کہ ایک خلیفۃ المسیح کی زندگی میں ایسی باتیںبیان کرنا اسلامی تعلیم کے منافی ہے۔ ان دونوں خوابوں میں واضح طور پر بتلایا گیا ہے کہ آئندہ خلیفۃ المسیح کون ہوں گے۔
    (تاریخ تحریر 24؍اپریل2003ء )
    …٭…٭…٭…
    ۵۔ مکرم مسعود احمدانیس صاحب واقف زندگی قادیان دارالامان
    ‏i۔ مورخہ 24 ،25 ؍جولائی 1984 ء بروز سہ شنبہ منگل و چہار شنبہ بدھ کی درمیان شب خواب دیکھا کہ
    سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع (رحمہ اﷲ) وفات پاگئے ہیں ۔ اور حضرت صاحبزادہ مرزا …احمدخلیفۃ المسیح الخامس منتخب ہوئے ہیں۔ خاکسار خواب میں رو بھی رہاہے۔ اور تجدید بیعت کا خط حضرت خلیفۃ المسیح الخامس کی خدمت میں بھی لکھ رہا ہے۔ نماز فجر پڑھتے وقت یہ خواب یاد آیا اور تلاوت قرآن مجید کے بعد اہلیہ کو سنایا اور تعبیر پر غور کرتا رہا ۔ کہ انشاء اللہ تعالیٰ حضور انور کی عمر دراز ہوگی ۔ جیسا کہ خاکسار نے مورخہ 10-11-83کے خواب میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع (رحمہ اﷲ) کی داڑھی سفید اور لمبی حضرت خلیفۃ المسیح الثالث(رحمہ اﷲ) کی طرح دیکھی تھی اور پھر خیال آیا کہ خدانخواستہ کسی اور بزرگ کی وفات کی اطلاع نہ ملے۔ اور اپنی عمر لمبی ہونے کی تعبیر محسوس کی۔ جیسا کہ قبل ازیں اپنے ایک خواب میں اسی سال کی عمر دیکھی۔
    ‏ii۔ مورخہ 29 ،30 ؍جنوری1995 ء کی درمیانی شب خواب دیکھا ۔ کہ ایک نوجوان خلیفہ موجود ہیں۔ جن کی ریش مبارک کالی ہے ۔ اور نو عمر بھی ہیں۔ رات تین بجے آنکھ کھل گئی ۔ پھر نیند نہیں آئی ۔ بیت جا کر نماز تہجد پڑھی ۔
    (تاریخ تحریر25 ؍اکتوبر2004 ئ)
    …٭…٭…٭…
    ۶۔ مکرم عامر محمودصاحب ولد عبدالرشید احمد پشین بلوچستان
    ‏i۔ یہ 1988ء کی بات ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب بیت الذکرمیں نماز کی امامت فرما رہے ہیں ۔ میرے ذہن میں اس کی یہی تعبیر آئی کہ آپ خلافت کے عہدے پر فائز ہوںگے تاہم چونکہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع (رحمہ اﷲ)حیات تھے۔ اس لئے میر ی زبان تعبیر بیان کرنے میں جلد بازی کرنے سے ہچکچا رہی تھی۔