1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

خطبات نور ۔ خلیفۃ المسیح الاول حکیم نورالدین رضی اللہ عنہ

'یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 22, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    خطبات نور ۔ خلیفۃ المسیح الاول حکیم نورالدین رضی اللہ عنہ

    ‏KH1.1
    خطبات|نور خطبات|نور
    ۲۷ / جنوری ۱۸۹۹ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بمقام دھاریوال

    خطبہ جمعہ
    تشہد‘ تعوذ اور تسمیہ کے بعد آپ نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی-
    یٰایھا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ و لتنظر نفس ما قدمت لغد و اتقوا اللہ ان اللہ خبیر بما تعملون- و لا تکونوا کالذین نسوا اللہ فانسٰھم انفسھم اولٰئک ھم الفاسقون- لا یستوی اصحاب النار و اصحاب الجنۃ اصحاب الجنۃ ھم الفائزون- )الحشر:۱۹تا۲۱(
    اور پھر فرمایا-:
    یہ کلمات طیبات جن کو میں نے ابھی پڑھا ہے قرآن شریف کی آیتیں ہیں جو خدا تعالیٰ کا کامل کلام ہے - ان پاک آیتوں میں تاکید یہ ہوتی ہے کہ یٰایھا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ لوگو ! گو مومن کہلاتے ہو )اور تم اس بات کو جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ گندوں اور ناپاک لوگوں کو پسند نہیں کرتا- وہ پاک ہے- پس وہ قدوس خدا پاکیزگی اور طہارت چاہتا ہے( تو پھراس دعوائے ایمان کے ساتھ متقی بن جائو- اور متقی بھی ظاہر کے نہیں - اس لئے نہیں کہ لوگ تمہیں متقی اور پرہیزگار کہیں یا مجلسوں میں تمہاری تعریف کریں- نہیں ! نہیں !! اتقوااللٰ اللہ تعالیٰ کے متقی بنو - متقی کے لئے یہ ضروری باتیں ہیں -
    اولاً - ہر ایک کام جب کرو‘ اٹھتے‘ بیٹھتے‘ چلتے‘ پھرتے‘ دشمنی میں‘ دوستیٰ میں‘ عداوت اور محبت میں‘ مقدمہ ہو یا صلح ہو‘ غرض ہر حالت میں یہ امر خوب ذہن نشین رکھو کہ نہیں معلوم موت کی گھڑی کس وقت آ جاوے - وہ کونسا وقت ہو گا جب دنیا سے اٹھ جاویں گے اور اس وقت ماں‘ باپ‘ بیوی‘ بچے‘ دوست‘ یار‘ کنبے کے بڑے بڑے‘ ہمدردی کا دم بھرنے والے انسان‘ مال‘ دولت‘ غرض کوئی چیز نہ ہو گی جو اس وقت ساتھ دے سکے- اس وقت اگر کوئی چیز ساتھ جا سکے گی تو وہ وہی انسان کا عمل ہو گا خواہ اچھا ہو‘ خواہ برا ہو اور جیسا عمل ہو گا ویسا ہی اس کا پھل ملے گا -
    جیسے تم ہر روز دنیا میں دیکھتے ہو کہ ایک زمیندار گیہوں کے بیج بو کر جو‘ یا جو بو کر گنے کا پھل نہیں لے سکتا پس اسی طرح پر جیسے عمل ہوں گے‘ بدلہ ان کے ہی موافق اور رنگ کا ہو گا- یہی سچی بات ہے کہ بھلے کام کا پھل دنیا اچھا اٹھاتی ہے- پس یہ بات ضرور ضرور یاد رکھو کہ جن کی خاطر انسان عداوتیں اور دشمنیاں کرتا ہے اور مکر و فریب اور کیا کیا شرارتیں کرتا ہے‘ وہ اس آخری ساعت میں اس کے ساتھ نہ جائیں گی- اکیلا ہی آیا ہے اور اکیلا ہی چلا جائے گا- بادشاہوں کی بادشاہت‘ امیروں کی امارت‘ دوستوں کی دوستی‘ کنبہ‘ گھر‘ پڑوس‘ گائوں اور سارے شہر کے رشتہ دار یہیں رہ جاتے ہیں- پس ان ساری باتوں کو غور کرو اور موت کی آنے والی اور یقینا آنے والی اور نہ ٹلنے والی گھڑی کا خیال رکھو اور اس خیال کے ساتھ ہی کل کا فکر آج کرو اور اپنے اعمال کا محاسبہ اور پڑتال کر لو کیونکہ نیک بدلہ تب ہی ملے گا جب کہ اعمال بھی نیک ہوں گے-
    ثانیاً - متقی کے لئے ضروری ہے کہ اس کا ایمان سچا ایمان ہو اور اس کے عقائد نیک عقائد ہوں اور پھر اس پر اعمال بھی نیک ہوں - ایمان کے اصول صاف ہیں- قدوس اور پاک خدا قدوسیت چاہتا ہے- ناپاک انسان پاک ذات سے تعلق پیدا نہیں کر سکتا- تم اپنے اندر اس بات کو دیکھو کہ کیا کوئی بھلا مانس اور شریف پسند کرتا ہے کہ وہ بدمعاش اور بدنام آدمیوں کے ساتھ ملے اور تعلق پیدا کرے- پھر اس پر قیاس کرو کہ وہ خدا جو قدوسوں کا قدوس اور پاک ہے‘ جو تمام محامد اور خوبیوں کا مجموعہ اور سرچشمہ ہے‘ کب پسند کر سکتا ہے کہ گندے اور ناپاک لوگ اس سے تعلق رکھ سکیں- پس اگر خدا سے رشتہ قائم رکھنا چاہتے ہو اور اس کو خوش کرنا پسند کرتے اور ضروری سمجھتے ہو تو خود بھی پاک ہو جائو اور اس پر سچا ایمان لائو کہ تمام محامد اور تعریفوں اور خوبیوں کے لئے وہی ایک پاک ذات سزاوار ہے- جس طرح سے اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر رحم کرتا اور شفقت اور پیار کی نگاہ سے دیکھتا ہے تم بھی اس کی مخلوق کے ساتھ سچی محبت اور حقیقیشفقت کرو اور رحم اور ہمدردی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ برتائو کرو- میں پھر کہتا ہوں سوچو اور غور کرو کہ تقویٰ کے سوا فائدہ نہیں- خدا تعالیٰ نے صاف صاف لفظوں میں اس بات کو کھول کھول کر بیان کیا ہے کہ مغرب یا مشرق کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا ہی نیکی نہیں بلکہ سچا ایمان خدا کو مطلوب ہے- اس لئے اس بات پر ایمان لائو کہ وہ خدا قدوس ہے‘ تمام رحمتوں‘ بزرگیوں اور سچائیوں کا سر چشمہ ہے اور اس کے قرب کے لئے ضروری ہے کہ ہم بھی اللہ تعالیٰ کی ان صفات کا پورا لحاظ رکھیں-
    خدا تعالیٰ کی صفت ہے کہ بدکار اور غافل بھی اس کی ربوبیت سے فیض پاتے ہیں اور حصہ لیتے ہیں- پس تم بھی خدا کی مخلوق کے ساتھ مہربانی‘ نیکی اور سلوک کرنے میں مسلم ‘ غیر مسلم کی قید اٹھا دو اور تمام بنی نوع انسان سے جہاں تک ممکن ہو احسان کرو- خدا
    رب العالمین ہے- یہ بھی رحیم للعالمین ہو جاوے- پس یہ تقویٰ ہے-
    ایسے لوگوں کی طرح مت ہو جائو جن کی نسبت فرمایا کہ نسوا اللہ فانسٰھم انفسھم اولٰئک ھم الفاسقون یعنی جنہوں نے اس رحمت اور پاکی کے سرچشمہ قدوس خدا کو چھوڑدیا اوراپنی شرارتوں‘ چالاکیوں‘ ناعاقبت اندیشیوں‘ غرض قسم قسم کی حیلہ سازیوں اور روباہ بازیوں سے کامیاب ہونا چاہتے ہیں- مشکلات انسان پر آتی ہیں- بہت سی ضرورتیں انسان کو لاحق ہیں- کھانے پینے کا محتاج ہوتا ہے- دوست بھی ہوتے ہیں- دشمن بھی ہوتے ہیں- مگر ان تمام حالتوں میں متقی کی یہ شان ہوتی ہے کہ وہ خیال اور لحاظ رکھتا ہے کہ خدا سے بگاڑ نہ ہو- دوست پر بھروسہ ہو تو ممکن ہے کہ وہ دوست مصیبت سے پیشتر دنیا سے اٹھ جاوے یا اور مشکلات میں پھنس کر اس قابل نہ رہے- حاکم پر بھروسہ ہو تو ممکن ہے کہ حاکم کی تبدیلی ہو جاوے اور وہ فائدہ اس سے نہ پہنچ سکے اور ان احباب اور رشتہ داروں کو جن سے امید اور کامل بھروسہ ہو کہ وہ رنج اور تکلیف میں امداد دیں گے‘ اللہ تعالیٰ اس ضرورت کے وقت ان کو اس|قدر دور ڈال دے کہ وہ کام نہ آ سکیں- پس ہر آن خدا سے تعلق نہ چھوڑنا چاہئے جو زندگی‘ موت کسی حال میں ہم سے جدا نہیں ہو سکتا-
    پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائو جنہوں نے خدا تعالیٰ سے قطع تعلق کر لیا ہے- اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تم دکھوں سے محفوظ نہ رہ سکو گے اور سکھ نہ پائو گے بلکہ ہر طرف سے ذلت کی مار ہو گی اور ممکن ہے کہ وہ ذلت تم کو دوستوں ہی کی طرف سے آ جاوے- ایسے لوگ جو خدا سے قطع|تعلق کرتے ہیں وہ کون ہوتے ہیں؟ وہ فاسق‘ فاجر ہوتے ہیں- ان میں سچا اخلاص اور ایمان نہیں ہوتا- یہی نہیں کہ وہ ایمان کے کچے ہیں- نہیں- ان میں شفقت علیٰ خلق اللہ بھی نہیں ہوتی-
    یاد رکھو کبھی یہ بات نہیں ہو سکتی کہ قدوس کے متبع اور بھلے مانس ذلیل ہوں- نہیں- وہ دنیا میں‘ قبر میں‘ حشر میں‘ جنت میں عیش اور سچا آرام پاتے ہیں- وہ ان لوگوں کے جو آگ میں جل رہے ہیں برابر نہیں اور ہرگز نہیں- وہ لوگ جو سچے راستباز اور متقی ہیں اور ہمیشہ سکھ پاتے ہیں‘ یہ لوگ ہی آخرکار کامیاب ہونے والے ہیں-
    میں پھر آخر میں کہتا ہوں کہ کامل ایمان کے بدوں انسان اس درجہ پر نہیں پہنچتا- کامل ایمان یہی ہے کہ اسمائے الٰہی پر ایمان لائو کہ اللہ تعالیٰ ظالم نہیں ہے کہ ایک ناپاک اور گندے کو ایک پاک اور مومن سے ملاوے اور گندے کو عزت دیوے- پھر کامل ایمان میں سے یہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وسائط پر ایمان لائو- یعنی ملائکہ پر‘ اللہ تعالیٰ کی کتابوں پر ایمان لائو- وفادار ہو- عسر و یسر میں قدم آگے ہی بڑھائو اور جزا و سزا پر ایمان لائو- نمازوں کو مضبوط کرو اور زکٰوتیں دو- غرض یہ لوگ ہوتے ہیں جو متقی کہلاتے ہیں- خدا تعالیٰ آپ کو اور مجھے توفیق دے کہ ہم متقی بن جاویں- یاد رکھو کہ دنیا سے وہی تعلق ہو جو خدا چاہتا ہے- آخر جیت راستبازوں ہی کی ہوتی ہے- اللہ تعالیٰ مخفی در مخفی حالات کا واقف ہے- ہمیشہ اس کے پاک قانون کے متبع بنو اور ہر حالت میں رضائے الٰہی کے طالب رہو اور اس پاک چشمہ سے دور نہ رہو- آمین-
    ) الحکم جلد۳ نمبر۵ ---- ۱۰ / فروری ۱۸۹۹ء صفحہ۸-۹ (
    * - * - * - *

    یکم شوال ۱۳۱۶ھ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۱۳ فروری ۱۸۹۹ء


    خطبہ عید الفطر
    تشہد‘ تعوذ اور تسمیہ کے بعد آپ نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی-
    یٰبنی اسرائیل اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم و انی فضلتکم علی العالمین- واتقوا یوماً لا تجزی نفس عن نفس شیئاً و لا یقبل منھا شفاعۃ و لایوخذ منھا عدل و لا ھم ینصرون- )سورۃ البقرۃ:۴۸-۴۹(
    اور پھر فرمایا-:
    اللہ تعالیٰ ہمارا مالک‘ ہمارا خالق‘ ہمارا رازق‘ کثیر اور بے انتہا انعام دینے والا مولا فرماتا ہے کہ میری نعمتوں کو یاد کرو- انسان کے اندر قدرت نے ایک طاقت ودیعت کر رکھی ہے کہ جب کوئی اس کے ساتھ احسان کرتا ہے تو اس کے اندر اپنے محسن کی محبت پیدا ہوتی ہے- جبلت القلوب علیٰ حب من احسن الیھا)جامع الصغیر-(اور ایسا ہی اس آدمی سے اس کے دل میں ایک قسم کی نفرت اور رنج پیدا ہو جاتا ہے جس سے اس کو کسی قسم کی تکلیف یا رنج پہنچے- اور یہ ایک فطرتی اور طبعی تقاضا انسان کا ہے- پس اسی فطرت اور طبیعت کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ اس مقام پر فرماتا ہے کہ اللہ کریم کے احسانوں کا مطالعہ کرو اور ان کو یاد کر کے اس محسن اور منعم کی محبت کو دل میں جگہ دو- اس کے بے شمار اور بے نظیر احسانوں پر غور تو کرو کہ اس نے کیسی منور اور روشن آنکھیں دیں جن سے وسیع نظارئہ قدرت کو دیکھتے اور ایک حظ اٹھاتے ہیں- کان دیئے جن سے ہر قسم کی آوازیں ہمارے سننے میں آتی ہیں- زبان دی جس سے کیسی خوشگوار اور عمدہ باتیں کہہ کر خود بخود خوش ہو سکتے ہیں- ہاتھ دیئے کہ جن سے بہت سے فوائد خود ہم کو اور دوسروں کو پہنچتے ہیں- پائوں دیئے کہ جن سے چل پھر سکتے ہیں- پھر ذرا غور تو کرو کہ دنیا میں اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ ادنیٰ سا احسان بھی کرتا ہے تو وہ اس کا کس قدر ممنون ہوتا ہے اور ہر طرح سے اس احسان کو محسوس کرتا ہے- مگر خدا تعالیٰ کے احسان جو کل دنیا کے احسانوں سے بالا اور بالاتر ہیں- اور جو سچ پوچھو تو وہ احسان بھی جو دوسرا ہم سے کرتا ہے در اصل اللہ تعالیٰ ہی کے احسان ہیں جس نے یہ توفیق عنایت فرمائی- کوئی کسی کو نوکر کرادیتا ہے یا دعوت کرتا ہے یا کپڑا دیتا ہے - پر سوچو تو سہی کہ اگر خداداد طاقتیں نہ ہوں تو ہم کیا سکھ ان سے اٹھا سکتے ہیں- دعوت میں عمدہ سے عمدہ اغذیہ اور کھانے کے سامان ہوں لیکن اگر قے کا مرض ہو یا پیٹ میں درد ہو تو وہ کھانے کیا لطف دے سکتے ہیں اور ان سے کیا مزہ اٹھایا جا سکتا ہے ؟ عمدہ سے عمدہ چیز بجز فضل الٰہی فائدہ اور سکھ نہیں دے سکتی- یہ روشنی جس سے ہزارہا سکھ اور فائدے پہنچتے ہیں‘ کس نے دی؟ اسی نے جو نور السمٰوات و الارض )النور:۳۶( ہے- ہوا‘ پانی‘ کس نے عطا فرمایا؟ اسی منعم حقیقی کی نعمتوں اور برکتوں کا ایک شعبہ ہے- سر سبز کھیت اور باغوں میں پھل لگانا اس کی نوازش اور عنایت ہے- غرض کل دنیا کی نعمتوں سے جو انسان مالا مال ہو رہا ہے یہ اس کی ہی ذرہ نوازیاں ہیں- جسمانی نعمتوں اور برکتوں کو چھوڑ کر اب میں ایک عظیم الشان نعمت‘ روح کے فطرتی تقاضے کو پورا کرنے والی نعمت کا ذکر کرتا ہوں- وہ کیا؟ یہ اس کا پاک اور کامل کلام ہے جس کے ذریعے سے انسان ہدایت کی صاف اور مصفا راہوں سے مطلع اور آگاہ ہوا اور ایک ظلمت اور تاریکی کی زندگی سے نکل کر روشنی اور نور میں آیا- ایک انسان دوسرے انسان کی‘ باوجود ہم جنس ہونے کے‘ رضا سے واقف نہیں ہو سکتا تو پھر اللہ تعالیٰ کی رضا سے واقف ہونا کس قدر محال اور مشکل تھا- یہ خدا تعالیٰ کا احسان عظیم ہے کہ اس نے اپنی رضا کی راہوں کو بتلانے اور اپنی وراء الوریٰ مرضیوں کو ظاہر کر نے کے لئے انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ قائم فرمایا- انسان دنیا کے عجائبات اور خداداد چیزوں میں غور کر کے سکھ پاتا ہے- لیکن وہ ابدی اور دائمی خوشی جو خود اللہ تعالیٰ ظاہر کر دے کیسی سچی ہو گی-
    کس قدر کاوش اور تکلیف سے جسمانی سکھ حاصل کرنے کے لئے انسان کپڑا اور غذا بہم پہنچاتا ہے- مگر ایک وقت آتا ہے کہ کپڑا پھٹ جاتا ہے اور غذا کا فضلہ باقی رہ جاتا ہے- روحانی نعمتیں ابدالآباد کی راحتیں ہیں- دنیا میں‘ مرنے میں‘ جنت میں‘ حشر و نشر میں ہمارے ساتھ ہیں- غرض خدا|تعالیٰ کے دلچسپ انعامات میں سے انبیاء اور رسل کا بھیجنا ہے-
    گذشتہ ایام میں چونکہ رستے صاف نہ تھے‘ تعلقات باہمی مضبوط نہ تھے‘ اس لئے ایک ایک قوم میں نبی اور رسول آتے رہے- جب مشرق اور مغرب اکٹھا ہونے لگا‘ خدا کے علم میں وہ وقت خلط|ملط کا آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو بھیجا- انبیاء علیہم السلام اور جس|قدر رسول آئے فرداً فرداً قوموں کی اصلاح کے لئے آئے- ان کا جامع اور راستبازوں کی تمام پاک تعلیموں کا مجموعہ قرآن|کریم ہے جو جامع اور مہیمن کتاب ہے- فیھا کتب قیمۃ )البینۃ:۴( فرمایا-
    پھر انبیاء علیہم السلام کی تعلیم کے لئے ایک مشکل یہ پیش آتی تھی کہ ان میں کوئی خلیفہ اور کوئی یاد دلانے والا نائب نہ ہوتا تھا- اس لئے لوگ بے خبر ہو جاتے تھے اور قوم پھر سو جاتی تھی- مگر مولا کریم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت کا دامن چونکہ الیٰ یوم القیامۃ وسیع کر دیا ہے اور آپ کا ہی دعویٰ انی رسول اللہ الیکم جمیعاً )الاعراف:۱۵۹( کا ہے اور ایسی مضبوط کتاب آپ کو عطا فرمائی‘ ممکن تھا کہ لوگ بے خبر رہتے‘ اس کی حفاظت کا انتظام بھی خود ہی مولا کریم نیفرما دیا- جیسے ظاہری حفاظت کے لئے قراء اور حفاظ ہیں‘ ایسے ہی باطنی تعلیم کے لیے ایک سامان مہیا فرمایا- ہزارہا مذاہب اس وقت دنیا میں نظر آویں گے- مگر جب دیکھا گیا تو انبیاء علیہم السلام کا ہی مذہب عمدہ پایا- کوئی درختوں کی پوجا کرتا ہے- کوئی پتھروں کے آگے سر جھکاتا ہے- افسوس انسان ہو کر حیوان اور بے جان استھان کی پرستش کرتا ہے- اور پھر ایک اپنے جیسے کھاتے پیتے‘ محتاج اور ناتواں انسان کو معبود مانتا ہے- ایسی صورت میں توحید کا پاک چشمہ مکدر ہو چکا تھا اور قریباً توحید پرستی کا نام و نشان مٹ گیا تھا- مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پھر اس پاک چشمہ اور مبارک سلسلہ توحید کو قائم کیا اور پھر اس کی تکمیل کی- ہر ایک قسم کی گندی اور ناپاک بت پرستی کو دور کر دیا-
    اللہ تعالیٰ کے سوا اس کے کسی اسم ‘ کسی فعل اور کسی عبادت میں غیر کو شریک کرنا‘ یہ شرک ہے- اور تمام بھلے کام اللہ تعالیٰ ہی کی رضاء کے لئے کرے اس کا نام عبادت ہے- لوگ مانتے ہیں کہ کوئی خالق خدا تعالیٰ کے سوا نہیں- اور یہ بھی مانتے ہیں کہ موت اور حیات خدا تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں اور قبضئہ|اقتدار و اختیار میں ہے- یہ مان کر بھی دوسرے کے لئے سجدہ کرتے ہیں‘ جھوٹ بولتے ہیں اور طواف کرتے ہیں- عبادت الٰہی کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہیں- خدا تعالیٰ کے روزوں کو چھوڑ کر دوسروں کے روزے رکھتے اور خدا تعالیٰ کی نمازوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے غیر اللہ کی نمازیں پڑھتے ہیں اور ان کے لئے زکٰوتیں دیتے ہیں- ان اوہام باطلہ کی بیخ کنی کے لئے اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو مبعوث فرمایا- انسان کی اوسط عمر ساٹھ‘ ستر‘ اسی- پس اس عمر کا انسان پچھلی صدی کے حالات تو پہچان سکتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ احسان ہے اللہ تعالیٰ کا جو اسلام سے مخصوص ہے کہ بھولی بسری متاع جیسا وقت ہوتا ہے اس کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ اس کو یاد دلانے والا بھیج دیتا ہے- یہ انعام ہے‘ یہ فضل اور احسان ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کا- رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جو دین لائے تھے اور جس کے ضروری کاموں میں سے ایک یہ تھا کہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کی ذات کے سوا نہ ہمارا خالق ہے نہ رازق‘ نہ اس کے سوا علیم‘ نہ محیی‘ نہ ممیت‘ نہ سکھ دکھ دینے والا ہے- بلکہ صرف خدا ہی ہے جو سب کام کرنے والا ہے- سجدہ‘ رکوع‘ ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا ہو‘ پکارنا ہو‘ یہ سب کام صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہوں- ملائکہ پر ایمان لانا‘ اللہ تعالیٰ کی کتابوں‘ اس کے پاک رسولوں کو ماننا اور جزا و سزا پر ایمان لانا اور اس امر کا ماننا کہ ہر چیز کا اس نے اندازہ کیا ہے- یہ ایمان کے اصول ہیں- اپنے سب عقائد کو رضائے الٰہی میں لگا دینا ایک سچے مومن کا کام ہے- پانچ وقت کی نماز ادا کرنا‘ اپنے مال میں سے ایک معین حصہ یعنی زکٰوۃ کا ادا کرنا‘ یتیموں‘ بیکسوں اور رشتہ داروں کی خبرگیری کرنا‘ رنج و راحت‘ بیماری‘ تندرستی‘ دکھ سکھ‘ غریبی‘ امیری‘ مقدمہ‘ مقابلہ‘ عسر یسر‘ صلح‘ عداوت میں خدا تعالیٰ کی رضاء کو ہاتھ سے نہ دینا‘ یہ اصول یہ پاک اور مبارک اصول‘ ممکن تھا کہ بھول جاتے جس طرح اور قومیں اپنی کتابیں کھو بیٹھیں- لیکن یہ خداتعالیٰ کا فضل‘ اس کا کمال احسان ہوا کہ ایمان‘ عقائد‘ اخلاق فاضلہ کے سکھانے کے لئے اور اصلاح نفس اور تہذیب کے لئے وہ وقت پر اور عین ضرورت کے وقت پر اپنے پاک بندے پیدا کرتا رہتا ہے- بڑے ہی بدقسمت ہیں وہ لوگ جن کو ان بیدار کرنے والوں کی خبر ہی نہیں ہوتی- اور بڑے ہی بد قسمت ہیں وہ لوگ جن کو خبر تو ہوتی ہے مگر وہ اپنی کسی خطا کاری کے برے نتیجے کی وجہ سے اس کو شناخت نہیں کر سکتے-
    غرض اس آیت میں خدا تعالیٰ اس فطرت کے لحاظ سے جو انسان میں ہے ارشاد فرماتا ہے کہ میری نعمتوں کو یاد کرو جو میں نے تم پرکی ہیں- و انی فضلتکم علی العالمین بنی اسرائیل کو کہتا اور مسلمانوں کو سناتا ہے کہ میں نے تم کو دنیا پر ایک قسم کی بزرگی عطا فرمائی ہے- خدا تعالیٰ کے حکموں پر چلنے والا‘ آسمانی اور پاک علوم سے دلچسپی رکھنے والا جیسی زندگی بسر کر سکتا ہے اس سے بہتر اور افضل وہم میں بھی نہیں آسکتی- منافق کا نفاق جب ظاہر ہوتا ہے تو اس کو کیسی شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے- جھوٹ بولنے والے کے جھوٹ کے ظاہر ہونے پر‘ وعدہ خلافی کرنے والے کے خلاف وعدہ کام کرنے پر ان کو کیسا دکھ ہوتا ہے- مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ماننے والے مذہبی حیثیت سے اپنے پاک اور ثابت|شدہ بین اور روشن عقائد اور اصول مذہب کے لحاظ سے کل دنیا پر فضیلت رکھتے ہیں- کیا خدا تعالیٰ کے حضور کوئی صرف دعوے سے افضل ہو سکتا ہے؟ ہر گز نہیں- خدا تعالیٰ مخفی|درمخفی ارادوں اور نیتوں کو جانتا ہے- اس کے حضور نفاق کام نہیں آ سکتا- بلکہ من جاء بقلب سلیم کام آتا ہے- سلامتی ہو- انکار نہ ہو- خدا سے سچی محبت ہو- اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے ہمدردی اور خیر خواہی ہو- امر بالمعروف کرنے والا اور ناھی عن المنکر ہو- بدی کا دشمن‘ راستبازوں کا محب ہو- خداتعالیٰ سے غافل اور بے پرواہ نہ ہو- یہ منشائے اسلام ہے- پس یاد رکھو کہ عقائد کے لحاظ سے دنیا میں بینظیر چیز اسلام ہے- میں راستی سے کہتا ہوں کہ ایمان کے لحاظ سے‘ اعمال کے لحاظ سے دنیا میں کوئی مذہب اسلام سے مقابلہ نہیں کر سکتا- مگر میں یہ بھی ساتھ ہی کہوں گا کہ اسلام ہو- دعوائے اسلام نہ ہو- من اسلم وجھہ للٰہ و ھو محسن )البقرۃ:۱۱۳( ساری توجہ خداتعالیٰ ہی کی طرف لگا دیوے اور ایسے طریق پر کہ گویا وہ خدا کو دیکھ رہا ہے- یا کم از کم اتنا ہی ہو کہ اس بات کو کامل طور پر سمجھے کہ خدا مجھ کو دیکھ رہا ہے- خدا تعالیٰ کے انعام کو یاد کر کے اور یہ دیکھ کر کہ کیسی کتاب‘ کیسا مذہب اس نے عطا کیا ہے-
    دنیا کے دیگر مذاہب کی حفاظت کے لئے موید من اللہ‘ نصرت یافتہ پیدا نہیں ہوتے- اسلام کے اندر کیسا فضل اور احسان ہے کہ وہ مامور بھیجتا ہے جو پیدا ہونے والی بیماریوں میں دعائوں کا مانگنے والا‘ خدا کی درگاہ میں ہوشیار انسان‘ شرارتوں اور عداوتوں کے بدنتائج سے آگاہ‘ بھلائی سے واقف انسان ہوتا ہے- جب غفلت ہوتی ہے اور قرآن کریم سے بے خبری ہوتی ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی راہوں میں بے|سمجھی پیدا ہو جاتی ہے تو خدا کا وعدہ ہے کہ ہمیشہ خلفاء پیدا کرے گا جس کے سبب سے کل دنیا میں اسلام فضیلت رکھتا ہے-
    یہ امر مشکل نہیں ہوتاکہ ہم اس انسان کو کیونکر پہچانیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہے- اس کی شناخت کے لئے ایک نشان منجملہ اور نشانوں کے خدا تعالیٰ نے یہ مقرر فرمایا ہے کہ لیمکنن لھم دینھم الذی ارتضیٰ لھم )النور:۵۶-( خدا فرماتا ہے کہ ہمارے مامور کی شناخت کیا ہے؟ اس کے لئے ایک تو یہ نشان ہے کہ وہ بھولی بسری متاع جس کو خدا تعالیٰ پسند کرتا ہے اس سے لوگ آگاہ ہوں اور غلطی سے چونک اٹھیں اور اسے چھوڑ دیں- اس کو پورا کرنے کے لئے اس کو ایک طاقت دیجاتی ہے- ایک قسم کی بہادری اور نصرت عطا ہوتی ہے- اس بات کے قائم کرنے کے لئے جس کے لئے اس کو بھیجا ہے قسم قسم کی نصرتیں عطا ہوتی ہیں- کوئی ارادہ اور سچا جوش پیدا نہیں ہوتا جب تک کہ خدا تعالیٰ کی مدد کا ہاتھ ساتھ نہ ہو- بڑی بڑی مشکلات آتی ہیں اور ڈرانے والی چیزیں آتی ہیں مگر اللہ تعالیٰ ان سب خوفوں اور خطرات کو امن سے بدل دیتا ہے اور دور کر دیتا ہے- ایک معیار تو اس کی راستبازی اور شناخت کا یہ ہے-
    اب ذرا ہادی کامل صلی اللہ علیہ و سلم کی حالت پر غور کرو- جب آپﷺ~ نے دعوت حق شروع کی‘ تنہا تھے- جیب میں روپیہ نہ تھا- بازو بڑے مضبوط نہ تھے- حقیقی بھائی کوئی نہ تھا- ماں باپ کا سایہ بھی سر سے اٹھ چکا تھا اور ادھر قوم کو دلچسپی نہ تھی- مخالفت حد سے بڑھی ہوئی تھی- مگر خدا کے لئے کھڑے ہوئے- مخالفوں نے جس قدر ممکن تھا دکھ پہنچائے‘جلا وطن کرنے کے منصوبے باندھے‘ قتل کے منصوبے کئے‘ کیا تھا جو انہوں نے نہ کیا- مگر کس کو نیچا دیکھنا پڑا- آپ کے دشمن ایسے خاک میں ملے کہ نام و نشان تک مٹ گیا- وہ ملک جو کبھی کسی کے ماتحت نہ ہوا تھا آخر کس کے ماتحت ہوا- اس قوم میں جو توحید سے ہزاروں کوس دور تھی توحید پہنچا دی اور نہ صرف پہنچا دی بلکہ منوا دی- خوف کے بعد امن عطا کیا- ان کے بعد ان کے جانشین حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ہوئے- آپ کی قوم جاہلیت میں بھی چھوٹی تھی- حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی قوم میں سے بھی نہ تھے- پھر کیونکر ثابت ہوا کہ خلیفہ حق ہیں- اسامہ کے پاس بیس ہزار لشکر تھا اس کو بھی حکم دے دیا کہ شام کو چلے جائو- اگر اسامہ کا لشکر موجود ہوتا تو لوگ کہتے کہ بیس ہزار لشکر کی بدولت کامیابیاں ہوئیں- نواح عرب میں ارتداد کا شور اٹھا- تین مسجدوں کے سوا نماز کا نام و نشان نہ رہا تھا- سب کچھ ہوا- پر خدا نے کیسا ہاتھ پکڑا کہ رافضی بھی گواہی دے اٹھا کہ اسد اللہ الغالب کو خوف کی وجہ سے ساتھ ہونا پڑا- - - - - - - - - - - - کیسا خوف پیدا ہوا کہ عرب مرتد ہو گئے- مگر سب خوف جاتا رہا- کیوں؟ اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ نے خلیفہ بنائے تھے- اسی طرح ہمیشہ ہمیشہ جب لوگ مامور ہو کر آتے ہیں تو خدا تعالیٰ کی قدرت نمائی ہے- اس کے ہاتھ کا تھامنا یہ دکھلا دیتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی حفاظت میں محفوظ ہوتا ہے- یادر رکھو جس قدر کمزوریاں ہوں‘ وہ سب معجزات اور الٰہی تائید میں ہیں- کیونکہ ان کمزوریوں ہی میں تائید الٰہی کا مزہ آتا ہے اور معلوم ہو جاتا
    ہے کہ خدا کی دستگیری کیسا کام کرتی ہے- امیر دولت کے گھمنڈ سے‘ مولوی علم کے گھمنڈ سے‘ کوئی منصوبہ بازیوں اور حکام کے پاس آنے جانے کے گھمنڈ سے اگر کامیاب ہوتا ہے تو خدا کے بندے خدا کی مدد سے کامیاب ہوتے ہیں- ان کے پاس سرمایہ‘ علوم اور سفر کے وسائل نہیں ہوتے- مگر عالم ہونے کی لاف|وگزاف مارنے والے ان کے سامنے شرمندہ ہو جاتے ہیں- اس کے پاس کتب خانے اور لائبریریاں نہیں ہوتیں- وہ حکام سے جا کر ملتے نہیں- مگر وہ ان سب کو نیچا دکھا دیتے ہیں جو اپنے رسوخ‘ اپنی معلومات کی وسعت کے دعوے کرتے ہیں- برادری اور قوم اس کی مخالفت کرتی ہے مگر آخر یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کی طرح ان کو شرمندہ ہونا پڑتا ہے- یہی ہمیشہ ان کی پہچان ہوتی ہے-
    غرض راستباز اور مامور کی شناخت کے یہ نشان خدا تعالیٰ نے خود ہی بیان فرما دیئے ہیں- اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنے انعام یاد دلاتا ہے- ہر ایک مخلوق مخلوق ہونے‘ اچھی قوم میں پیدا ہونے کو دیکھے- مگر اس میں شبہ پڑے گا کہ اور بھی شریک ہیں- پھر عقائد کو دنیا کے مقابلہ میں رکھے- میں نے مذاہب کو بے|تعصب ہو کر ٹٹولا ہے‘ بت پرستوں‘ آریوں‘ براہموئوں کو دیکھا ہے- جب ہم ایک خدا کے عقیدے کو پیش کرتے ہیں تو کوئی مذہب بھی ایسا نظر نہیں آتا جو اللہ تعالیٰ کو تمام صفات کاملہ سے موصوف اور تمام بدیوں سے منزہ مانتا ہو- یہ فخر اسلام اور صرف اسلام کو ہے- اس کے ساتھ کیا کوئی عقیدہ مل سکتا ہے؟ پھر انبیاء کو جنہوں نے چھوڑا اور اپنے عقلی ڈھکونسلوں سے اسے پانا چاہتے ہیں وہ ایک گڑھے میں گر رہے ہیں-
    ایک مشہور براہمو لیکچرار نے نہایت جوش سے اپنے لیکچر میں کہا کہ اے خدا ! میں ہندوستانیوں کو تیرے پاس پہنچانا چاہتا ہوں مگر وہ نہیں آتے- ایک شخص کہتا ہے کہ اس کا یہ فقرہ سن کر میں دعا میں گر گیا اور دعا کی کہ اے خدا! تو میرے دل کو کھول دے- پھر میں استقلال سے اوپر آیا اور کہا کہ میں ایک عرض کرنی چاہتا ہوں کہ آپ نے فرمایا کہ میں ہندوستانیوں کو خدا کے حضور پہنچانا چاہتا ہوں- میں تیار ہوں- مگر آپ اتنا فرما دیں کہ کیا آپ یقینا یقینا مجھے اس کے حضور پہنچا دیں گے؟ چونکہ اس کا انبیاء علیہم السلام اور اللہ تعالیٰ کی کتابوں پر ایمان نہ تھا‘ گھبرا گیا اور بولا کہ آج تک کی تحقیقات کے بھروسے پر پہنچا سکتا ہوں- مگر کل معلوم نہیں کیا جدید بات پیش آوے لہذا یقینا نہیں- اس پر میں نے کہا کہ ایک شخص ایک دعوے اور کامل شعور اور بھروسے سے کہتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کے حضور یقیناً پہنچا سکتا ہوں تو پھر اس کی طرف رجوع کرنا چاہئے یا آپ کی طرف؟ اس کو شرمندہ ہو کر کہنا پڑا کہ ہاں! اس کو ہی مانو!! وہ شخص جو کامل بھروسے اور پورے یقین اور شعور سے خدا تعالیٰ تک پہنچانے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس نے پہنچا دیا اور پہنچاتا ہے اور پہنچا دے گا وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہیں- کیا وہ جو کہتے ہیں کہ دو ارب سال گزرے خدا تعالیٰ نے ہم کو کتاب دی اور وہ آج تک ایک بھی ترجمہ پیش نہ کر سکے اور اس پر بھی وہ اسے کامل کہتے ہیں‘ کیا ان کو شرم نہیں آتی؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ان چند سال کے اندر خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کو مشرق اور مغرب میں پہنچا دیا-
    غرض انسان خوب مطالعہ کرے کہ اسلام سے بڑھ کر نعمت اور عزت و شرافت کا موجب اور کوئی چیز نہیں ہے- میں نے پہلے بتلایا ہے کہ زمانہ کی ضرورتوں کے لحاظ سے خلیفہ بنانے کا خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے اور وہ خلیفہ دلائل سے نہیں‘ آدمیوں کے انتخاب سے نہیں‘ بلکہ خدا تعالیٰ ہی کی تائید اور نصرت اور طاقت سے بنیں گے- اب اس زمانہ کے منعم علیہ پر غور کرو- کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ منصوبہ باز اور مشرک ہے‘ عبادت میں سست ہے؟ ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ ایک عابد اور موحد خدا کا پرستار کہلانے والا ممکن ہے ریاکار ہو- مگر اللہ تعالیٰ اس کے خلوص نیت اور صدق کو اپنی تائیدات اور نصرتوں سے ثابت کر رہا سے- پھر یہ خیال ہو سکتا ہے کہ خوف کے وقت ہی وہ پرستارالٰہی ہو- نہیں! نہیں!! وہ جبکہ خوف امن سے بدل جاتا ہے‘ وہ اس وقت بھی سچا پرستار ہوتا ہے-
    الغرض ایمان بڑھانے کے لئے خدائے تعالیٰ کے انعام پر غور کرنے سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے- ایمان‘ عقائد‘ اعمال‘ معاملات کے لحاظ سے بے نظیر نعمت اسلام ہے- اور پھر مسلمانوں سے وہ فرقہ جو خلفاء اللہ کے سلسلے کو مانتا ہے ان سے بڑھ کر نہیں- کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان سے بڑھ کر کوئی موید من اللہ نہیں-
    انسان اکیلی نماز زیادہ پڑھتا ہے- جماعت کے ساتھ نماز گو چھوٹی اور مختصر ہی ہو مگر اس میں ثواب زیادہ ہوتا ہے- اس سے پتہ لگتا ہے کہ امام کے ماتحت اعمال میں کسقدر زیادتی ہوتی ہے- پس یہ ایک عظیم|الشان نعمت ہے جو خدا نے ہم کو دی ہے- مگر اس انعام میں ان الفاظ کو بھی یاد رکھو کہ ’’دین کو دنیا پر مقدم کروں گا-‘‘ بڑی ذمہ واری کا وعدہ ہے- یہ وعدہ کسی عام انسان کے ہاتھ پر نہیں بلکہ امام کے ہاتھ پر- نہیں! نہیں!! بلکہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ پر کیا ہے - خوب یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ سے وعدہ کر کے خلاف کرنے والا منافق مرتا ہے- پس ڈرنے اور رونے کا مقام ہے اور بڑے حزم|واحتیاط کی ضرورت ہے-
    پھر اللہ تعالیٰ کے انعام یاد کر کے مومن اس بات کو سوچے کہ ایک وقت آتا ہے و اتقوا یوماً-ایک وقت آتا ہے کوئی دوست‘ آشنا‘ اپنا‘ بیگانہ کچھ کام نہیں آتا- دنیا میں نمونہ موجود ہے- انسان بیمار ہوتا ہے تو ماں باپ بھی اس کی بیماری کو نہیں بٹا سکتے- یہ نمونہ اس بات کا ہے کہ یہ سچی بات ہے کہ خدا|تعالیٰ کی پکڑ کے وقت کوئی کام نہیں آتا- کسی کی سفارش اور جرمانہ کام نہیں آتا- اس لئے اس دن کے لئے آج سے ہی تیار رہو- پس خدا تعالیٰ کے فضل کو یاد کر کے محبت الٰہی کو زیادہ کرو اور غفلتوں اور کمزوریوں کو چھوڑ دو اور اپنے وعدوں پر لحاظ کرو کہ ’’دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے-‘‘ رنج وراحت‘ عسر یسر میں قدم آگے بڑھائیں گے- اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور بھائیوں سے محبت کریں گے- پھر کہتا ہوں کہ یہ بڑی خطرناک بات ہے کہ جو وعدوں کی خلاف کرتا ہے وہ منافق ہوتا ہے- جھوٹ اور وعدوں کی خلاف|ورزی کرتے کرتے انسان کا انجام نفاق سے مبدل ہو جاتا ہے- اللہ|تعالیٰ مجھ کو اور آپ کو اس سے بچائے اور صدق‘ اخلاص اور اعمال حسنہ کی توفیق دے- آمین-
    )الحکم جلد۳ نمبر ۷ ----- ۳ / مارچ ۱۸۹۹ء صفحہ ۳ تا ۶ (
    * - * - * - *

    ۳۱ / مارچ ۱۸۹۹ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خطبہ جمعہ
    ) خلاصہ (
    ان الذین ھم من خشیۃ ربھم مشفقون - و الذین ھم بایٰات ربھم یومنون- و الذین ھم بربھم لا یشرکون- و الذین یوتون ما اٰتوا و قلوبھم وجلۃ انھم الیٰ ربھم راجعون- اولٰئک یسارعون فی الخیرات و ھم لھا سابقون- )المومنون:۵۸تا۶۲(
    مولا کریم‘ رحمن و رحیم مولا‘ ان آیات میں انسان کو ان راہوں کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو اس کو ہر ایک قسم کے سکھوں کی طرف لیجاتے ہیں اور اپنے ہم چشموں اور ہم عصروں میں معزز و موقر بنا دیتے ہیں-
    انسان فطرتی طور پر چاہتا ہے کہ وہ ہر ایک قسم کے سکھوں اور آراموں اور پہلی باتوں کو حاصل کرے اور پھر ان میں سب سے بڑھ کر رہنا چاہتا ہے- جب وہ دیکھتا ہے کہ اس کے متعلقین خوش و خورسند ہیں اور لوگوں کو بھلائی کی طرف متوجہ پاتا ہے تو اس کے دل میں یہ بات پیدا ہوتی ہے کہ فلاں بھلائی میں ایک سعادتمند نے قدم رکھا ہے اور فلاں شخص نے بھی رکھا ہے- پس میں سب سے بڑھ کر سبقت لے جائوں- غرض عام طور پر انسان فطرتاً ایک کمپیٹیشن (Competition) میں لگا رہتا ہے اور ساتھ والوں سے سربرآوردہ ہونے کا آرزو مند ہوتا ہے- بچے چاہتے ہیں کہ کھیل میں دوسری پارٹی سے بڑھ کر رہیں اور جیت جاویں- عورتیں کھانے‘ پہننے‘ لباس و زیورات میں چاہتی ہیں کہ اپنی ہم نشینوں سے بڑھ کر رہیں- پس یہ خواہش اور آرزو جو فطرتی طور پر انسان کے دل میں پائی جاتی ہے اس کے پورا کرنے کے اسباب اور وسائل قرآن کریم میں اس مقام پر رحیم کریم مولا بیان فرماتا ہے اور وہ چند ایک اصول پر مشتمل ہے-
    پہلا اصل - انسان غور کرے کہ اس کے دل میں اپنے سے بڑے کا ڈر ہوتا ہے- ادنیٰ ادنیٰ کام والے لوگ نمبردار کا‘ اور نمبردار تحصیلدار کا‘ اور تحصیلدار حکام بالا دست کا ڈر رکھتے ہیں- ماتحت اگر افسروں کا ڈر دل میں نہ رکھیں تو وہ اپنے فرض منصبی کو اس خوبی اور صفائی سے نہ کریں جس سے وہ اس ڈر کی حالت میں کرتے ہیں- اب اس اصل کو زیر نظر رکھ کر مولا کریم فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو نیکیوں اور بھلائیوں کے کمپیٹیشن (Competition) اور مقابلہ میں سرفراز ہوتے ہیں سب سے پہلے وہ ہر ایک کام کرتے وقت اس بات کا لحاظ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا نگران ہے اور ان کے ہر فعل کھانے‘ پینے‘ دوستی‘ دشمنی‘ بغض و عداوت‘ لین دین‘ غرض تمام معاملات میں ان کو دیکھتا ہے-
    پس مومن وہ ہوتے ہیں جو خیرات میں بڑھتے ہیں‘ جو ان اعمال و افعال کے وقت علیم و خبیر کی ذات اور نگرانیوں پر نگاہ کرتے ہیں اور ہر آن خوف و خشیت الٰہی سے لرزاں رہتے ہیں- اس لئے ہر ایک کام میں خواہ کھانے پینے کا ہو‘ یا بغض و عداوت ہو‘ دوستی ہو یا دشمنی‘ ہر بات میں خوش رہنے اور بڑھ کر رہنے کے لیے پہلا اور ضروری اصل کیا ہے؟ خشیت الٰہی- عمل کرنے سے پہلے دیکھ لیا کرو کہ یہ عمل خدا تعالیٰ کی رضا جوئی کی وجہ سے کسی سرخروئی کا باعث ہے یا اس کی نارضامندی کا موجب ہو کر سیاہ روئی کا پیش|خیمہ؟
    خوف الٰہی کے بعد دو اصل اور ہیں- وہ کیا؟ ایک اخلاص- دوسرا صواب-کوئی عمل صالح ہو نہیں سکتا جب تک اخلاص اور صواب نہ ہو-
    اخلاص کیا ہے؟ اخلاص کے معنے ہیں کہ جو کام کرو اس میں یہ مد نظر ہو کہ مولا کریم کی رضا حاصل ہو- حب ہو تو حبا" للہ ہو- بغض ہو تو بغضا" للہ ہو- کھائو تو اس لئے کہ کھانے کا حکم دیا ہے- پیتے ہو تو سمجھ لو کہ و اشربوا کے حکم کی تعمیل ہے- غرض سارے کاموں میں اخلاص ہو‘ رسم|و|عادت‘ نفس|وہوا کی ظلمت نہ ہو- اندرونی جوش اس کے باعث نہ ہوئے ہوں-
    صواب کیا ہے؟ کہ ہر بھلا کام اس طرح پر کیا جاوے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کر کے دکھایا ہے- اگر نیکی کرے مگر نہ اس طرح جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سکھائی ہے‘وہ راہ صواب نہیں- غرض یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس کام کے کرنے میں اجازت سرکاری ہے یا نہیں- اور پھر اللہ کی رضا مقصود ہے یا نہیں- پس کام کرو خشیت الٰہی سے اور پھر اخلاص و صواب سے-
    و الذین ھم بایٰات ربھم یومنون اللہ تعالیٰ کے احکام پر ایمان لاتے ہیں- و الذین ھم بربھم لایشرکون اور پھر اللہ تعالیٰ کے ساتھ اعمال اور ترک اعمال میں کسی کو شریک نہیں کرتے- نیکی کو اس لئے کرے کہ خدا تعالیٰ کی رضا کا باعث ہے اور اس کے لئے اس کو کرے- اور بدی سے اس لئے اجتناب کرے کہ خدا نے ان کو برا فرمایا اور ان سے روکا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اتباع مدنظر رکھ کر نیکی کرے- نیکی کرتا ہوا بھی خوف الٰہی کو دل میں جگہ دے کیونکہ وہ نکتہ|نواز اور نکتہ گیر ہے- حدیث شریف میں آیا ہے جنابہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عرض کرتی ہیں کہ بدیاں کرتے ہوئے خوف کریں؟ فرمایا نہیں! نہیں! نیکیاں کرتے ہوئے خوف کرو- جو نیکیاں کرنے کی ہیں‘ کرو اور پھر حضور الٰہی میں ڈرتے رہو کہ ایسا نہ ہو کہ عظیم|و|قدوس خدا کے حضور کے لائق ہیں یا نہیں- ایسے لوگ ہیں جو یسارعون فی الخیرات و ھم لھا سابقون کے مصداق ہوتے ہیں- یعنی اول اور آخر میں خشیت ہو- فعل اور ترک فعل اخلاص اور صواب کے طور پر ہوں اور وہ بھلائیوں کے لینے والے اور دوسرے سے بڑھنے والے ہیں-
    وسوسہ شیطانی یہ بھی آجاتا ہے کہ یہ راہ کٹھن ہے کیونکر چلیں گے- خدا تعالیٰ خود ہی اس وسوسہ کا جواب دیتا ہے لا نکلف نفساً الا وسعھا )المومنون:۶۳( کہ ہم نے جو اعمال کے کرنے کا حکم دیا ہے اور نواہی سے روکا ہے وہ مشکل نہیں- کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ عدم استطاعت پر حج کا حکم ہے- اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اوامر و نواہی ایسے ہیں کہ عمل کر سکتا ہے اور ان سے باز رہ سکتا ہے-
    اور یہ امر بھی بحضور دل یاد رکھو کہ بعض اعمال بھول جاتے ہیں- جناب الٰہی کے ہاں بھول نہیں- بلکہ فرمایا و لدینا کتٰب ینطق بالحق و ھم لا یظلمون )المومنون:۶۳( یاد رکھو! جناب الٰہی میں اعمال محفوظ رکھے جاتے ہیں- خدا کے ہاں ظلم نہیں ہوتا-
    انسان اگر غور کرے تو دنیا میں بھی ایک جنت اور نار کا نمونہ دیکھ سکتا ہے- مجھے افسوس آتا ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ دوستوں کی چٹھیوں کے پڑھنے پڑھانے میں کس قدر ہوشیاری اور مستعدی سے کام لیا جاتا ہے‘ مگر خدا تعالیٰ کی چٹھی- اور پھر جس کے لانے والا وہ کامل انسان جو محمد ہے‘ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم‘ کی اتنی پرواہ نہیں کی جاتی- سستی کی جاتی ہے تو کتاب الہدیٰ کے سمجھنے میں-
    بعض اعمال ایسے ہیں کہ ہم نیکی سمجھتے ہیں مگر قانون الٰہی کا فتویٰ نہیں ہوتا- جب انسان مرفہ|الحال اور اکڑ باز ہو جاتا ہے تو وہ دکھوں میں مبتلا ہوتا ہے‘ اس وقت نجات کی راہ نہیں ملتی- میں دیکھتا ہوں کہ ایسے انسان ہیں کہ دعویٰ اسلام کرتے ہیں مگر عمل دیکھو تو بازار میں کفار کے اعمال اور ان کے اعمال برابر ہیں- نیک نمونہ دکھا کر دوسروں کو قائل کر سکتا ہے- اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اخلاق کی نسبت فرماتا ہے کہ اگر تو نرم مزاج نہ ہوتا تو یہ لوگ تیرے گرد جمع نہ ہوتے- صحابہ کرام کی زندگیوں کے حالات پر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام سے کوئی غلطی بھی ہو جاتی تھی اور آپ استغفار بھی فرمایا کرتے تھے- مگر ذرا ذرا سی بات پر مواخذہ اور تشدد کرتے تو تیرے پاس یہ قوم کس طرح جمع ہوتی- حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کے پاس نہ مال نہ طمع کی امید تھی- اگر کوئی چیز گرویدہ کر سکتی تھی تو وہ صرف حق کا نور اور آپ کے برگزیدہ اخلاق تھے-
    اپنے اعمال میں یہ امرمدنظر رکھو کہ اخلاص اور صواب ہو- نہ یہ کہ اپنے اغراض و مقاصد کے لئے کسی آیت یا حدیث کا بہانہ تلاش کرتے پھرو- اور نیکی کرتے ہوئے یہ نہ سمجھو کہ گویا تمام منازل طے کر لئے- نہیں! بلکہ بعض امور ضروری ہیں اور بعض اس سے کم- بعض فرائض ہیں‘ بعض سنن‘ بعض واجبات ہیں- ایک سخت بدی ہوتی ہے‘ ایک اس سے کم اور بعض ایسی کہ ان پر حرام اور مکروہ کا لفظ عائد ہوتا ہے-
    خدا تعالیٰ کی باتیں جب سنائی جاویں تو مناسب نہیں کہ انسان سن کر بھی اس راہ کو اختیار نہ کرے جو خدا تعالیٰ کی رضا مندی کی راہ ہے- اور اسے اساطیر الاولین کہنے والوں کی طرح لاپروائی سے چھوڑ دے-
    میں ایک ضروری امر آخر میں تمہیں بتلانا چاہتا ہوں کہ جب کوئی ہادی دنیا میں آتا ہے تو اس کی شناخت کے کئی طریق ہوتے ہیں-
    اول - جاہل اور بے علم نہ ہو- خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے ہادی کے لئے ضروری ہے کہ وہ نادان اور بے خبر نہ ہو- اب کتاب اللہ کو پڑھو اور دیکھو کہ جو معارف اور حقائق اس میں بیان کئے گئے ہیں وہ ایسے ہیں کہ کسی جاہل اور نادان کے خیالات کا نتیجہ نہیں ہو سکتے- سوچو! اور پھر سوچو!! نادان ایسی معرفت اور روح و راستی سے بھری ہوئی باتیں نہیں کر سکتے-
    دوم - وہ ہادی اجنبی نہ ہو- کیونکہ ایک ناواقف انسان دور دراز ملک میں جا کر باوجود بدکار اور شریر ہونے کے بھی چند روز تصنع اور ریاکاری کے طور پر اپنے آپ کو نیک ظاہر کر سکتا ہے- پس ہادی کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان لوگوں کا واقف ہو- اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا دعویٰ صاف ہے کہ ما ضل صاحبکم و ماغویٰ )النجم:۳(
    تیسری بات یہ ہے کہ ہادی یا امام یا مرشد اپنے سچے علوم کے مطابق عملدرآمد بھی کرتا ہو- اوروں کو بتلاوے اور خود نہ کرے؟ پس اس امر کو حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام کی نسبت فرمایا ہے ما ضل صاحبکم و ماغویٰ- حضور کے عملدرآمد کا یہ حال ہے کہ جنابہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک لفظ میں سوانح عمری بیان فرما دی- کان خلقہ القراٰن )مسند احمد بن حنبل جلد۶صفحہ۹۱( یعنی آپ کے اعمال و افعال بالکل قرآن کریم ہی کے مطابق ہیں-
    اللہ تعالیٰ مجھے اور سب احباب سامعین کو نیک رستہ پر چلاوے اور قرآن|کریم کے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی طاقت اور ہدایت بخشے- آمین-
    ) الحکم جلد۳ نمبر۱۴ ------ ۱۹ / اپریل ۱۸۹۹ء صفحہ۴-۵ (
    * - * - * - *
    ‏KH1.2
    خطبات|نور خطبات|نور
    ۲۱ / اپریل ۱۸۹۹ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خطبہ عید الاضحیٰ
    اللہ اکبر اللہ اکبر لا الٰہ الا اللہ و اللہ اکبر اللہ اکبر و للٰہ الحمد- اشھد ان لا الٰہ الا اللہ و اشھد ان محمداً عبدہ و رسولہ- اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم-
    الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دیناً )المائدۃ:۴(
    یہ آیت شریف قرآن مجید میں کس وقت نازل ہوئی؟ ایک یہودی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ایک آیت آپ کی کتاب میں ہے‘ اگر ہماری کتاب میں ہوتی تو جس دن وہ اتری تھی اسے عید کا دن قرار دیتے- حضرت عمرؓ نے پوچھا کہ وہ کونسی آیت ہے؟ تو اس نے یہ آیت پڑھی الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دیناً- جناب عمرؓ نے فرمایا کہ یہ آیت کب نازل ہوئی؟ کس وقت نازل ہوئی؟ کہاں نازل ہوئی؟ میں اسے خوب جانتا ہوں- وہ جمعہ کا دن تھا- وہ عرفہ کا دن تھا- وہ اسی عیداضحیٰ کا مقدمہ تھا- عرفات میں نازل ہوئی تھی- اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چند روز زندہ رہے- یوں تو اللہ جل شانہ کا نزول ہر روز خاص طور پر رات کے آخر ثلث میں ہوتا ہے مگر جمعہ کے دن پانچ دفعہ اور عرفات کو نو|دفعہ نزول ہوتا ہے-
    احادیث صحیحہ سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ شیطان ایسا کبھی یاس میں نہیں ہوتا جیسے عرفات کے دن- یہ وہ دن ہے کہ اللہ جل شانہ نے ہماری نعماء دینیہ کے لئے جس کتاب کو نازل فرمایا تھا اسے کامل کر دیا- کامل دین جس کا نام اسلام ہے اسے اسی دن کامل کر دیا- جس دین کی متابعت ضروری اور اس پر کاربند ہونا سعید انسان کو لازم ہے اس کے اصول اور فروع اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن میں تمام و کامل کر دیئے- وہ چیز جس کو کامل طور پر تمہیں‘ نہیں بلکہ دنیا کو پہنچانے کے لئے سرور عالم فخر بنی آدم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی ساری دعائوں اور کل طاقتوں اور مساعی جمیلہ کو پورے طور پر لگایا تھا اس کا نام اسلام ہے اور اس کی تکمیل کا دن جمعہ کا مبارک دن اور عرفات کا پاک دن ہے-
    تمام ادیان مروجہ اور مذاہب موجودہ کا مقابلہ کرنا چاہیں اور غور کر کے دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ کیا بلحاظ اصول کے اور کیا بلحاظ حفظ اصول اور فروع کے وہ اسلام کے مقابلہ میں کچھ حقیقت ہی نہیں رکھتے اور بالکل ہیچ دکھائی دیتے ہیں- اس کے اہم ترین امور میں سے اللہ جل شانہ کا ماننا‘ اس کو اسماء حسنیٰ اور صفات و محامد میں یکتا و بے ہمتا ماننا ہے- جس کا خلاصہ لا الٰہ الا اللہ میں موجود ہے‘ جس کا نام افضل الذکر ہے اور جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ وہ کل نبیوں کی تعلیم کا خلاصہ ہے‘ جس کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے اور آج میں بھی کہتا ہوں- اشھد ان لا الٰہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ- اس کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی ہستی کے برابر اور ہستی کو یقین نہ کرے اور اللہ تعالیٰ کے اسماء میں‘ افعال میں یکتا‘ وجود و بقا میں یکتا‘ تمام نقائص سے منزہ اور تمام خوبیوں سے معمور یقین کرے- وہی معبود حقیقی ہے- اس کے سوا کسی دوسرے کی عبادت جائز نہیں- عبادت کا مدار ہے حسن و احسان پر‘ پھر یہ دونوں باتیں بدرجہ کامل کس میں موجود ہیں؟اللہ ہی میں- احسان دیکھ لو- تم کچھ نہ تھے- تم کو اس نے بنایا- کیسا خوبصورت‘ تنومند اور دانشمند انسان بنا دیا- بچے تھے- ماں کی چھاتیوں میں دودھ پیدا کیا- سانس لینے کو ہوا‘ پینے کو پانی‘ کھانے کو قسم قسم کی لطیف غذائیں‘ طرح طرح کے نفیس لباس اور آسائش کے سامان کس نے دیئے؟ خدا نے! میں کہتا ہوں کیا چیز ہے جو انسان کو فطرتاً مطلوب ہے اور اس نے نہیں دی- سچی بات یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کے احسان اور افضال کو کوئی گن ہی نہیں سکتا - حسن دیکھو تو کیسا اکمل- ایک ناپاک قطرہ سے کیسی خوبصورت شکلیں بناتا ہے کہ انسان محو ہو ہو رہ جاتا ہے- پاخانہ سے کیسی سبز اور نرم‘ دل|خوشکن کونپل نکالتا ہے- انار کے دانے کس لطافت اور خوبی سے لگاتا ہے- ادھر دیکھو- ادھر دیکھو- آگے پیچھے دائیں بائیں جدھر نظر اٹھائو گے اس کے حسن کا ہی نظارہ نظر آئے گا- اور یہ بالکل سچی بات ہوئی یسبح للٰہ ما فی السمٰوات و ما فی الارض )التغابن:۲-(ساری دنیا میں جس قدر مذاہب باطلہ ہیں ان میں دیکھو گے تو معلوم ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کے کسی اسم یا صفت کا انکار کیا ہے اور اسی انکار نے ان کو بطلان پر پہنچا دیا ہے- ایک بت پرست اگر خدا تعالیٰ کو علیم‘ خبیر‘ سمیع‘ بصیر‘ قادر جانتا ہے تو کیوں پتھر‘ شجر‘ ہوا‘ سورج‘ چاند اور ارزاں ترین چیزوں کے سامنے سجدہ کرتا اور کیوں اس کی استتی کرتا ہے- اور کوئی جواب نہیں ملتا تو یہی عذر تراش لیا کہ ہماری عبادت صرف اسی لئے ہے کہ یہ اصنام و معبود ہم کو خدا تعالیٰ کے حضور پہنچا دیں اور مقرب بارگاہ الٰہی بنا دیں-
    اصل یہی ہے کہ وہ اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ خدا تعالیٰ ہر غریب و گنہگار کی آواز سنتا ہے اور ہر ایک دور شدہ کو نزدیک کرنا چاہتا ہے- اونچی آواز سے پکارو یا دھیمی آواز سے‘ وہ سمیع ہے- اگر ایسا مانتے تو کبھی بھی وہ عاجز اور ناکارہ مخلوق کے آگے‘ ہاں ان اشیاء کے آگے جو انسان کے لئے بطور خادم ہیں‘ سر نہ جھکاتے اور یوں اپنے ایمان کو نہ ڈبوتے-
    عیسائی مذہب کو اگر دیکھیں تو یہ بطلان پرستی کیوں ان میں پیدا ہوئی؟ صرف اس لئے کہ خدا|تعالیٰ کی صفات اور اسماء کا انکار کیا- ایک طرف زبان سے خدا تعالیٰ کو قدوس اور رحیم اور عادل خدا پکار رہے ہیں مگر اپنے معتقدات اور ایمان سے بتلاتے ہیں کہ جس کو خدا مانا ہے وہ ساری برائیوں اور بدیوں کا مورد ہے- خدا کو عادل قرار دیتے ہیں مگر گنہگاروں کے بدلے ایک بے گناہ کو سزا دے کر بھی اس کے عدل کو قائم رکھ سکتے ہیں-
    آریہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کو سرب شکتی مان تو مانتا ہے لیکن خالق کل شی ہونے کی اسے مقدرت نہیں- ایک ایک ذرہ کو علیحدہ سمجھتے ہیں اور روحوں کو مخلوق نہیں مان سکتے- ان کے خواص‘ گن‘ کرم‘ سبھائو سب کے سب انادی اور خدا تعالیٰ کے ہمتا اور شریک سمجھتے ہیں- خدا تعالیٰ کو اس بات پر قادر نہیں مان سکتے کہ وہ بڑے سے بڑے بھگت اور پریمی کو بھی ابدی نجات دے بلکہ ابدی نجات کا دینا گویا خدا تعالیٰ کو خدائی ہی سے دست|بردار کرنا چاہتے ہیں- معاذ اللہ منھا-
    براہمو لوگو ں کو دیکھو تو خدا تعالیٰ کی بڑی تعریفیں کریں گے مگر خدا تعالیٰ کی اس صفت سے ان کو قطعاً انکار ہے‘ جس سے وہ ہدایت نامے دنیا میں بھیجتا اور انسان کو غلطیوں سے بچانے کے لئے رہنمائی کرتا ہے اور نہیں مانتے کہ یرسل الرسول بھی خدا تعالیٰ کی کوئی صفت ہے- الغرض ہر ایک مذہب پر اگر غور اور دھیان کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ بجز اسلام کے ان کو اللہ تعالیٰ کے اسماء اور صفات پر ایمان نہیں رہا- کوئی اسم اعلیٰ طور پر ایسا نہیں جس کے معنی مسلمان اعلیٰ طور پر نہیں کرتے- کسی نے کیا چھوٹا اور سچا فقرہ کہا ہے- ’’مسلمان خدا کے سامنے شرمندہ ہونے کے قابل نہیں-‘‘ لیکن اس نعمت کی قدر کیا ہو سکتی ہے؟ کیا تم لوگوں میں خدا کے سوا دوسرے کی پرستش نہیں ہوتی؟ کیا غفلت نہیں رہی؟ کیا برادری اور اخوت کا وہ بے نظیر اور قابل قدر مسئلہ جو مخلوقات کو سکھلایا گیا تھا اور یہ بتلایا گیا تھا کہ ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم )الحجرات:۱۴( یعنی تم میں معزز اور زیادہ مکرم وہ ہے جو زیادہ تر متقی ہے- جس قدر نیکیاں اور اعمال صالح کسی میں زیادہ تر ہیں وہی زیادہ معزز و مکرم ہے- کیا بے جا شیخی اور انانیت پیدا نہیں ہو رہی؟ پھر بتلائو کہ اس نعمت کی قدر کی تو کیا کی؟ یہ اخوت اور برادری کا واجب الاحترام مسئلہ اسلام کے دیکھا دیکھی اب اور قوموں نے بھی لے لیا- پہلے ہندو وغیرہ قومیں کسی دوسرے مذہب و ملت کے پیرو کو اپنے مذہب میں ملانا عیب سمجھتے تھے اور پرہیز کرتے تھے مگر اب شدھ کرتے اور ملاتے ہیں- گو کامل اخوت اور سچے طور پر نہیں- مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف غور کرو کہ حضور نے اپنی عملی زندگی سے کیا ثبوت دیا کہ زید جیسے کے نکاح میں شریف بیبیاں آئیں- اسلام یا مقدس اسلام نے قوموں کی تمیز کو اٹھا دیا- جیسے وہ دنیا میں توحید کو زندہ اور قائم کرنا چاہتا تھا اور چاہتا ہے اسی طرح ہر بات میں اس نے وحدت کی روح پھونکی اور تقویٰ پر ہی امتیاز رکھا- قومی تفریق جو نفرت اور حقارت پیدا کر کے شفقت علیٰ خلق اللہ کے اصول کی دشمن ہو سکتی تھی‘ اسے دور کر دیا- ہمیشہ کا منکر‘ خدا رسول کا منکر‘ جب اسلام لاوے تو شیخ کہلاوے- یہ سعادت کا تمغہ‘ یہ سیادت کا نشان جو اسلام نے قائم کیا تھا‘ صرف تقویٰ تھا-
    اب بتلائوایسے انعام اور ایسے فضل کے نازل ہونے کے بعد اب کیا حالت موجود ہے-کیا وہی اتحادبرادری ہے؟ کیا اسماء الٰہی پر ویسا ہی یقین کامل ہے؟ وہ کتاب جس نے غافل و بدمست قوم کوہوشیار کر کے دکھا دیا تھا اور جس نے عرب جیسی اکھڑ قوم کو ہمدردی اور اخوت کا ایک پاک نمونہ دنیا میں بنا کر دکھا دیا‘ کیا اس کی ایسی قدر اور عظمت ہے جو اس کی اتباع اور عمل درآمد کا نام ہے؟ کیا مسلمان کہلانے والے کتاب اللہ‘ رسول اللہ کی ایسی ہی عزت کرنے والے چست و چالاک ہیں جیسے صحابہ تھے؟ مجھے اندیشہ ہے کہ اگر سب باتوں کا جواب دیا جائے تو دلوں کو نہ ہلادے-میں دیکھتا ہوں عقائد کا حال خدا ہی کو معلوم ہے- دل کی باتیں تو وہی جانتا ہے جو علیم بذات الصدور ہے- مگر یہ بات تو مانی ہوئی ہے کہ انسان کے دل کا جوش قویٰ پر ضرور جلوہ گری کرتا ہے- کون ہے جو یہ جانتا ہو کہ آگ جلاتی ہے اور پھر اس میں ہاتھ ڈال دے - کون گڑھے میں عمداً گر سکتا ہے؟ روٹی کو بھوک کا علاج جانتے ہو اور پیاس کا علاج پانی جانتے ہو تو بھوک کے وقت روٹی کھاتے اور پیاس کے وقت پانی پیتے ہو- پھر جب کوئی انسان یہ اصول مانتا ہے کہ خدا تعالیٰ علیم و خبیر‘ سمیع و بصیر ہے تو پھر قیاس کرے کہ ان اسماء حسنیٰ کو مان کر بھی بدمعاشیوں اور بدکاریوں کے ارتکاب میں کیوں دلیری کرتا ہے- ہندو‘ دہریہ‘ سکھ‘ آریہ‘ عیسائی وغیرہ قسم قسم کی مخلوق موجود ہے اور ان کے اخلاق ظاہری اور افعال و اعمال و یکھ لو اور پھر اپنے افعال و اعمال کا معائنہ کرو- تم میں تو خاص نعمت اتری تھی اور پھر اس کی تکمیل ہوئی تھی- اب اس نعمت کے لینے کے بعد اور قوموں میں اور تم میں کیا امتیاز ہوا؟ صحابہ کرام میں اخوت کا مسئلہ ایسا تھا کہ وہ اس امر کو تکملہ|ایمان سمجھتے تھے کہ جب تک اپنے بھائی مسلمان کے لئے وہی نہ چاہیں جو خاص اپنی ذات کے لئے چاہتے تھے-
    دوسرے کی عزت وآبرو‘ دوسرے کے آرام و چین کے لئے ایسی ہی کوشش کرو جیسی اپنے لئے کرتے ہو- مگر جب اپنے آپ ہی کو غفلت میں ڈال رکھا ہے تو دوسرے کی بہتری کی کیا امید! کرتے نفاق ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ وہ نعمتیں ملیں جو اتفاق میں ہیں- جہالت میں پڑے ہیں اور چاہتے ہیں کہ علم کی عزت وآبرو ملے- غفلت میں سرشار ہیں اور ہوشیاری اور لذت کے خواہاں- علم ہاں صحیح علم کے مطابق عمل نہیں کرنا چاہتے مگر اجر وہ لینا چاہتے ہیں جو عاملین کو ملتے ہیں- مکہ کے کفار کہتے تھے کہ ہم پر رسولوں والی بات کیوں نازل نہیں ہوتی- بہت سے تم میں سے ہیں جو چاہتے ہیں ہم ملہم کیوں نہیں بنتے- ہماری دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں- ہم کیوں آسودہ حال نہیں ہوتے- مگر یہ تو بتلائو کہ کتاب اللہ کے مطابق عمل درآمد کرنے میں تم نے کس قدر محنت اٹھائی ہے- انصاف تو یہی ہے کہ جس قدر روپیہ اور عمر کورسوں کے پورا کرنے میں صرف کیا ہے کیا قرآن کریم کے مطالب پر اطلاع پانے اور اس کو دستور|العمل بنانے میں اس سے آدھا بھی کیا ہے؟ خدا کے حضور بخیلی نہیں- اس کے اسماء میں بخل نام کو نہیں- پھر یہ محرومی کیوں؟ سچی بات یہ ہے ما ظلمھم اللہ و لٰکن انفسھم یظلمون )اٰل|عمران:۱۱۸( اللہ تعالیٰ نے تو کسی کی جان پر ظلم نہیں کیا مگر بات یہ ہے کہ لوگ خود ہی اپنی جان پر ظلم کرتے ہیں- پس اللہ تعالیٰ کی نعمت کی قدر کرو- اس نے خاتم الانبیاء بھیجا- کتاب بھی کامل بھیجی- کتاب کے سمجھانے کا خود وعدہ کیا اور ایسے لوگوں کے بھیجنے کا وعدہ فرمایا جو آ آ کر خواب غفلت سے بیدار کرتے ہیں- اس زمانے ہی کو دیکھو کہ لیستخلفنھم )النور:۵۶( کا وعدہ کیا سچا اور صحیح ثابت ہوا- اس کا رحم‘ اس کا فضل اور انعام کس کس طرح دستگیری کرتا ہے- مگر انسان کو بھی لازم ہے کہ خود بھی قدم اٹھاوے- یہ بھی ایک سنت اللہ چلی آتی ہے کہ خلفاء پر مطاعن ہوتے ہیں- آدم پر مطاعن کرنے والی خبیث روح کی ذریت بھی اب تک موجود ہے- صحابہ کرام پر مطاعن کرنے والے روافض اب بھی ہیں- مگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل|و|کرم سے ان کو تمکنت دیتا ہے اور خوف کو امن سے بدل دیتا ہے- سچے پرستار الٰہی اور مخلص عابد بنو- خدا کی طرف قدم اٹھائو- یہاں بھی رضیت لکم الاسلام دیناً )المائدۃ:۴( فرمایا- اسلام کا لفظ چاہتا ہے کہ کچھ کر کے دکھائو- موجودہ حالت میں ہم نے )ہم سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے امام کے ہاتھ پر توبہ کی ہے( اور مسلمانوں سے بڑھ کر امتیاز پیدا کیا ہے-
    ہم میں ملہم ہے- ہم میں ہادی اور امام ہے- ہم میں وہ ہے جس کی خدا تائید کرتا ہے- جس کے ساتھ خدا کے بڑے بڑے وعدے ہیں- اس کو حکم اور عدل بنا کر خدا نے بھیجا ہے - مگر تم اپنی حالتوں کو دیکھو- کیا مدد اور عمل درآمد کے لئے بھی ایسا ہی قدم اٹھایا ہے جیسا کہ واجب ہے؟
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مجھے سورۃ ہود نے بوڑھا کر دیا- اس میں کیا بات تھی|؟ فاستقم کما امرت )ھود:۱۱۳( تم سیدھی چال چلو‘ نہ صرف تم بلکہ تیرے ساتھ والے بھی - یہ ساتھ والوں کو‘ جس نے حضور کو بوڑھا کر دیا- انسان اپنا ذمہ دار تو ہو سکتا ہے مگر ساتھیوں کا ذمہ دار ہو تو کیونکر؟ بس یہ بہت خطرہ کا مقام ہے- ایسا نہ ہو کہ تمہاری غفلتوں سے اللہ تعالیٰ کے وہ وعدے جو تمہارے امام کے ساتھ ہیں‘ پورا ہونے میں معرض توقف میں پڑیں - موسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر نبی کے ساتھ کنعان پہنچانے کا وعدہ تھا مگر قوم کی غفلت نے اسے محروم کر دیا - پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو اور خوب سمجھو - غفلت چھوڑ دو اور اس نعمت کی قدر کرو جو آج کے مبارک دن میں پوری ہوئی- میں پھر کہتا ہوں کہ فرماں بردار بن کر دکھائو- ۱~}~
    خطبہ ثانیہ
    انا اعطیناک الکوثر- فصل لربک و انحر- ان شانئک ھو الابتر- )الکوثر:۲ تا ۴(
    یہ ایک مختصر سی سورۃ ہے اور اس مختصر سی سورۃ شریف میں اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم الشان پیشگوئی بیان فرمائی ہے جو جامع ہے- پھر اس کے پورا ہونے پر شکریہ میں مخلوق الٰہی کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہئے اس کا ارشاد کیا- وہ پیشگوئی کیا ہے؟ انا اعطیناک الکوثر تجھے ہم نے جو کچھ دیا ہے بہت ہی بڑا دیا ہے- عظیم الشان خیر عطا کی- رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا دامن نبوت دیکھو تو قیامت تک وسیع- کسی دوسرے نبی کو اس قدر و سیع وقت نہیں ملا- یہ کثرت تو بلحاظ زمان ہوئی اور بلحاظ مکان یہ کثرت کہ انی رسول اللہ الیکم جمیعاً )الاعراف:۱۵۹( میں ظاہر فرمایا کہ میں سارے جہان کا رسول ہوں- یہ کوثر مکان کے لحاظ سے عطا فرمائی- کوئی آدمی نہیں ہے جو یہ کہہ دے کہ مجھے احکام الٰہی میں اتباع|رسالت پناہی کی ضرورت نہیں- کوئی صوفی‘ کوئی مست قلندر‘ بالغ مرد‘ بالغہ عورت کوئی ہو اس سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتے- اب کوئی وہ خضر نہیں ہو سکتا جو لن تستطیع معی صبراً )الکہف:۶۸( بول اٹھے- یہ وہ موسیٰؑ ہے جس سے کوئی الگ نہیں ہو سکتا- کوئی آدمی مقرب ہو نہیں سکتا جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سچی اتباع نہ کرے-
    کتاب میں وہ سچی کوثر عنایت کی کہ فیھا کتب قیمۃ )البینہ:۴( کل دنیا کی صداقتیں اور مضبوط کتابیں سب کی سب قرآن مجید میں موجود ہیں-
    ترقی مدارج میں وہ کوثر کہ جبکہ یہ سچی بات ہے الدال علی الخیر کفاعلہ )ترمذی- کتاب العلم‘( پھر دنیا بھر کے نیک اعمال پر نگاہ کرو جبکہ ان کے دال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم‘ تو ان کی جزائے|نیک آپﷺ~ کے اعمال میں شامل ہو کر کیسی ترقی مدارج کا موجب ہو رہی ہے- اعمال میں دیکھو! اتباع‘ فتوحات‘عادات‘ علوم‘ اخلاق میں کس کس قسم کی کوثریں عطا فرمائیں ہیں-
    استحکام و حفاظت مذہب کے لئے دیکھو- جس قدر مذاہب دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے‘ ان کی حفاظت کا ذمہ وار خود ان لوگوں کو بنایا- مگر قرآن کریم کی پاک تعلیم کے لئے فرمایا انا لہ لحافظون )الحجر:۱۰( یہ کیا کوثر ہے؟ اللہ تعالیٰ اس دین کی حمایت و حفاظت اور نصرت کے لئے تائیدیں فرماتا اور مخلص بندوں کو دنیا میں بھیجتا ہے جو اپنے کمالات اور تعلقات الٰہیہ میں ایک نمونہ ہوتے ہیں- اس کو دیکھ کر پتہ لگ سکتا ہے کہ کیونکر بندہ خدا کو اپنا بنا لیتا ہے-اس ہستی کو دیکھو‘ زبان اور اس کے حرکات کو دیکھو- جب خدا بنانے پر آتا ہے تو اسی عاجز انسان کو اپنا بنا کر دکھا دیتا ہے اور ایک اجڑی بستی کو اس سے آباد کرتا ہے- کیا تعجب انگیز نظارہ ہے- بڑے بڑے شہروں اور بڑے اکڑباز مدبروں کو محروم کر دیتا ہے حالانکہ وہاں ہر قسم کی ترقی کے اسباب موجود ہوتے ہیں اور علم و واقفیت کے ذرائع و سیع ہوتے ہیں- مثلاً دیکھو! کس بستی کو برگزیدہ کیا جہاں نہ ترقی کے اسباب‘ نہ معلومات کی توسیع کے وسائل‘ نہ علمی چر چے‘ نہ مذہبی تذکرے‘ نہ کوئی دارالعلوم‘ نہ کتب خانہ‘ صرف خدائی ہاتھ ہے جس نے تربیت کی اور اپنی تربیت کا عظیم الشان نشان دکھایا- غور کرو کس طرح یہ بتلاتا ہے کہ محمد رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو خدا نے کیا کوثر عطا فرمایا- لیکن غافل انسان نہیں سوچتا- افسوس تو یہ ہے کہ جیسے اور لوگوں نے غفلت اور سستی کی ویسے ہی غفلت کا شکار مسلمان بھی ہوئے- آہ! اگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے عالی مدارج پر خیال کرتے اور خود بھی ان سے حصہ لینے کے آرزومند ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کو بھی کوثر دیتا- میں نے جو کچھ اب تک بیان کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دنیاوی کوثر کا ذکر تھا پھر مرنے کے بعد ایک اور کوثر برزخ میں‘ حشر میں‘ صراط پر‘ بہشت میں‘ غرض کوثر ہی کوثر دیکھے گا- اس کوثر میں ہر ایک شخص شریک ہو سکتا ہے مگر شرط یہ ہے فصل لربک - اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں لگو- دیکھو اس آدم|کامل کا پاک نام ابراہیم بھی تھا جس کی تعریف اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے و ابراھیم الذی وفیٰ )النجم:۳۸( اور وہی ابراہیم جو جاء ربہ بقلب سلیم )الصافات:۸۵( کا مصداق تھا‘ نے سچی تعظیم الٰہی کر کے دکھائی جیسے مولیٰ کریم فرماتا ہے- و اذ ابتلیٰ ابراھیم ربہ بکلمٰت فاتمھن قال انی جاعلک للناس اماماً )البقرۃ:۱۲۵-( پھر کیا نتیجہ پایا- الٰہی تعظیم جس قدر کوئی انسان کر کے دکھاتا ہے اسی قدر ثمرات|عظیمہ حاصل کرتا ہے- مثلاً حضرت ابوالملت ابراہیم کو دیکھو- اس کی دعائوں کا نمونہ دیکھو- ہمارے سیدومولیٰ‘ اصفی الاصفیائ‘ خاتم الانبیاء ان دعائوں کا ثمرہ ہیں- اللٰھم صل و سلم و بارک علیہ و علیٰ ابراھیم انک حمید مجید-
    ابراہیم علیہ السلام بہت بوڑھے اور ضعیف تھے- خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق اولاد صالح عنایت کی- اسمعیل جیسی اولاد دی- جب جوان ہوئے تو حکم ہوا کہ ان کو قربانی میں دے دو- ابراہیم کی قربانی دیکھو‘ بڑھاپے کا زمانہ دیکھو‘ مگر ابراہیم نے اپنی ساری طاقتیں‘ ساری امیدیں‘ تمام ارادے یوں قربان کر دیئے کہ ایک طرف حکم ہوا اور معاً بیٹے کے قربان کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا- پھر بیٹا بھی ایسا بیٹا تھا کہ جب ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا بیٹا! انی اریٰ فی المنام انی اذبحک )الصافات:۱۰۳( تو وہ خدا کی راہ میں جان دینے کو تیار ہو گیا- غرض باپ بیٹے نے ایسی فرمان برداری دکھائی کہ کوئی عزت‘ کوئی آرام‘ کوئی دولت‘ اور کوئی امید باقی نہ رکھی- یہ آج ہماری قربانیاں اسی پاک قربانی کا نمونہ ہیں-
    پھر اللہ تعالیٰ نے بھی کیسی جزا دی- اولاد میں ہزاروں ہزار بادشاہ اور انبیاء بلکہ خاتم الانبیاء بھی اسی کی اولاد میں پیدا کیا- وہ زمانہ ملا جس کی انتہا نہیں- خلفاء ہوں تو وہ بھی ملت ابراہیمی میں- سارے نواب اور خلفاء الٰہی دین کے‘ قیامت تک اسی گھرانے میں ہوئے ہیں اور ہونے والے ہیں-
    پھر جب شکریہ میں نماز میں خدا کی عظمت اور کبریائی بیان کی تو مخلوق الٰہی کے لئے بھی- کیونکہ ایمان کے اجزاء تو دو ہی ہیں- تعظیم لامر اللہ اور شفقت علیٰ خلق اللہ‘ ہاں مخلوق کے لئے یہ کہ و انحر جیسے نماز میں لگے ہو قربانیاں بھی دو تاکہ مخلوق سے سلوک ہو- قربانیاں وہ دو جو بیمار نہ ہوں- دبلی نہ ہوں- بے آنکھ کی نہ ہوں- کان چرے ہوئے نہ ہوں- عیب دار نہ ہوں- لنگڑی نہ ہوں- اس میں اشارہ یہ ہے کہ جب تک کامل قویٰ کو خدا کے لئے قربان نہ کرو گے‘ ساری نیکیاں تمہاری ذات پر جلوہ|گر نہ ہوں گی- پس جہاں ایک طرف عظمت الٰہی میں لگو دوسری طرف قربانیاں کر کے مخلوق الٰہی سے شفقت کرو اور قربانیاں کرتے ہوئے اپنے کل قویٰ کو قربان کر ڈالو اور رضاء الٰہی میں لگا دو- پھر نتیجہ کیا ہو گا؟ ان شانئک ھو الابتر تیرے دشمن ابتر ہوں گے- انسان کی خوشحالی اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گی کہ اس کو آپ تو راحتیں ملیں اور اس کے دشمن ہلاک ہوں- یہ باتیں بڑی آسانی سے حاصل ہو سکتی ہیں- خدا کی تعظیم اور اس کی مخلوق پر شفقت- نمازوں میں خصوصیت دکھائو- کانوں پر ہاتھ لے جا کر اللہ|اکبر زبان سے کہتے ہو مگر تمہارے کام دکھا دیں کہ واقعی دنیا سے سروکار نہیں- تمہاری نماز وہ نماز ہو جو تنھیٰ عن الفحشاء و المنکر )النحل:۹۱( ہو- تمہارے اخلاق‘ تمھارے معاملات عامیوں کی طرح نہ ہوں بلکہ ایک پاک نمونہ ہوں پھر دیکھو! کوثر کا نمونہ ملتا ہے یا نہیں- لیکن ایک طرف سے تمہارا فعل ہے‘ دوسری طرف سے خدا کا انعام-
    درود پڑھو- آج کل کے دن عبادت کے لئے مخصوص ہیں- و اذکروا اللہ فی ایام معدودات )البقرۃ:۲۰۴-( کل وہ دن تھا کہ کل حاجی ہر طبقہ اور ہر عمر کے لوگ ہوں گے- دنیا سے نرالا لباس پہنے ہوئے عرفات کے میدان میں حاضر تھے اور لبیک لبیک پکارتے تھے- تم سوچو اور غور کرو کہ تمھاری کل کیسی گذری- کیا تم بھی خدا تعالیٰ کے حضور لبیک لبیک پکارتے تھے- آج منیٰ کا دن ہے- آج ہی وہ دن ہے جس میں ابراہیمؑ نے اپنا
    پاک نمونہ قربانی کا دکھلایا-
    کوئی اس کی طاقت نہ رہی تھی جسے خدا پر قربان نہ کیا ہو- نہ صرف اپنی بلکہ اولاد کی بھی- یہ جمعہ کا دن ابراہیم کی قربانی اور مفاخر قومی کا روز ہے‘ جس میں عرب کے لوگ قبل اسلام بزرگوں کے تذکرے یاد کر کے فخر کیا کرتے تھے- اس میں خدا کا ذکر کرو جیسے فرمایا- فاذکروا اللہ کذکرکم اٰباء کم )البقرۃ:۲۰۱( خدا کے حضور ساری قوتوں کو قربان کرنے کے لئے خرچ کرو پھر دیکھو کہ تمھارے کام کیا پھل لاتے ہیں-
    انسان خوشحالی چاہتا ہے اور دشمنوں کی ہلاکت- خدا تیار ہے مگر قربانی چاہتا ہے-
    اولاد پر نمونے دکھائو جیسے اسماعیل نے دکھایا- پس نئے انسان بنو پھر دیکھو کہ خداتعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے طفیل تم کو کس طرح کی کوثر دیتا ہے اور تمہارے دشمنوں کو ہلاک کرتا ہے-
    و اٰخر دعوانا ان الحمد للٰہ رب العالمین-۲~}~
    ۱~}~ )الحکم جلد ۳ نمبر۱۶ - ۵ / مئی ۱۸۹۹ء صفحہ ۳ تا ۵(
    ۲~}~ )الحکم جلد۳ نمبر۱۷ -- ۱۲ / مئی ۱۸۹۹ء صفحہ ۱ تا ۳ (
    ۲۰ / اکتوبر ۱۸۹۹ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خطبہ جمعہ
    تشہد و تعوذ کے بعد آپ نے سورۃ الدھر کے پہلے رکوع کی تلاوت فرمائی اور پھر فرمایا-:
    یہ ایک وہ سورۃ شریف ہے جو جمعہ کے دن فجر کی نماز کی دوسری رکعت میں پڑھی جاتی ہے-
    اللہ تعالیٰ اس میں اول اپنے ان احسانات کا تذکرہ فرماتا ہے جو مولیٰ کریم نے انسان پر کئے ہیں - اس تذکرہ کی وجہ یہ ہے کہ اگر آدمی کی فطرت اچھی ہو اور وہ سعادت مند ہو‘ فہیم ہو‘ عقل کی مار اس پر نہ پڑی ہو تو یہ بات ایسے انسان کی سرشت میں موجود ہے کہ جو کوئی اس پر احسان کرے تو محسن کی محبت طبعاً انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے- اسی طبعی تقاضائے فطرت کی طرف ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایما کر کے ارشاد فرمایا ہے- جبلت القلوب علیٰ حب من احسن الیھا )جامع الصغیر( یعنی انسانی سرشت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ اپنے محسن سے محبت کرتا ہے - اسی قاعدہ اور تقاضائے فطرت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ طرز بھی اختیار کیا ہے کہ سعادت مندوں کو اپنے احسان وانعام یاد دلاتا ہے کہ وہ محبت الٰہی میں ترقی کر کے سعادت حاصل کریں- اندرونی اور بیرونی انعامات پر غور کریں اور سوچیں تا ان کی جناب الٰہی سے محبت ترقی کرے- پھر یہ بات بھی انسان کی فطرت میں ہے کہ جب انسان کسی سے محبت بڑھا لیتا ہے تو محبوب کی رضامندی کے لئے اپنا وقت‘ اپنا مال‘ اپنی عزت و آبرو غرض ہر عزیز سے عزیز چیز کو خرچ کرنے پر تیار ہو جاتا ہے- پس جب خدا تعالیٰ کے احسانات اور انعامات کے مطالعہ کی عادت پڑ جاوے تو اس سے اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہو گی اور روز بروز محبت بڑھے گی- اور جب محبت بڑھ گئی تو وہاپنی تمام خواہشوں کو رضاء الٰہی کے لئے متوجہ کر سکے گا اور اس رضاء الٰہی کو ہر چیز پر مقدم سمجھ لے گا-
    دیکھو سب سے بڑا اور عظیم الشان احسان جو ہم پر کیا وہ یہ ہے کہ ہم کو پیدا کیا- اگر کوئی دوست مدد دیتا ہے تو ہمارے پیدا ہونے اور موجود ہونے کے بعد- اگر کوئی بھلی راہ بتلا سکتا ہے یا علم پڑھا سکتا ہے‘ مال دے سکتا ہے- غرض کہ کسی قسم کی مدد دیتا ہے تو پہلے ہمارا اور اس چیز کا اور دینے والے کا وجود ہوتا ہے تب جا کر وہ مدد دینے والا مدد دینے کے قابل ہوتا ہے- غرض تمام انعاموں کے حاصل کرنے سے پیشتر جو کسی غیر سے ہوں پہلا اور عظیم الشان احسان خدا تعالیٰ کا یہ ہے کہ اس نے ہم کو اور اس چیز کو جس سے ہمیں راحت پہنچی اور جس نے ہمیں راحت پہنچائی اس کو وجود عطا کیا- پھر صحت و تندرستی عطا کی - اگر ذرا بھی بیمار ہو جاوے تو تمام راحت رساں چیزیں بھی راحت رساں نہیں رہتیں- دانت درد کرے تو اس کو نکالنا پسند ہو جاتا ہے- آنکھ دکھ دینے کا باعث بن جاوے تو گاہے اس کو نکالنا ہی پڑتا ہے-
    برادران ! جب بیماری لاحق ہوتی ہے تب پتہ لگتا ہے کہ صحت کیسا انعام تھا- اس صحت کے حاصل کرنے کو دیکھو کس قدر مال خرچ کرنا پڑتا ہے- طبیبوں کی خوشامد‘ دعا والوں‘ تعویذ ٹوٹکے والوں کی منتیں‘ غرض قسم قسم کے لوگوں کے پاس جن سے کچھ بھی امید ہو سکتی ہے انسان جاتا ہے- دوائوں کے خرید کرنے میں کتنا ہی روپیہ خرچ کرنا پڑے بلا دریغ خرچ کرتا ہے- ایک آدمی مرنے لگتا ہے تو کہتے ہیں- دو باتیں کرا|دو خواہ کچھ ہی لے لو- حالانکہ اس نے لاکھوں باتیں کیں-
    چونکہ ان لوگوں کو جو احسانات کا مطالعہ نہیں کرتے خبر بھی نہ تھی- غرض یہ سب انعامات جو ہم پر ہوتے ہیں ان میں سے اول اور بزرگ ترین انعام وجود کا ہے جو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے پس اس سورئہ|شریفہ میں اول اسی کا ذکر فرمایا- ھل اتیٰ علی الانسان حین من الدھر لم یکن شیئاً مذکوراً )الدھر:۲( انسان پر کچھ زمانہ ایسا بھی گذرا ہے یا نہیں کہ یہ موجود نہ تھا-
    میری حالت کو دیکھو- اس وقت میں کھڑا بول رہا ہوں مگر کیا کوئی بتلا سکتا ہے کہ سو‘ اسی برس پیشتر میں کہاں تھا؟ اور میرا کیا مذکور تھا- کوئی نہیں بتلا سکتا- یہ جناب الٰہی کا فیضان ہے کہ ایک ذرا سی چیز سے انسان کو پیدا کیا- چنانچہ فرماتا ہے انا خلقنا الانسان من نطفۃ امشاج نبتلیہ )الدھر:۳( ہم نے انسان کو نطفہ سے بنایا- نطفہ میں صدہا چیزیں ایسی ہیں جن سے انسان بنتا ہے- عام طور پر ہم لوگ ان کو دیکھ نہیں سکتے- کوئی بڑی اعلی درجہ کی خورد بین ہو تو اس کے ذریعہ سے وہ نظر آتے ہیں- پھر بتلایا کہ پہلا انعام تو عطاء وجود تھا پھر یہ انعام کیا فجعلنٰہ سمیعاً بصیراً- خدا ہی کا فضل تھا کہ کان دیئے‘ آنکھیں دیں اور سنتا دیکھتا بنا دیا-
    سارے کمالات اور علوم کا پتہ کان سے لگ سکتا ہے یا نظارئہ|قدرت کو دیکھ کر انسان باخبر ہو سکتا ہے- یہ عظیم الشان عطیے بھی کس کی جناب سے ملے؟ مولیٰ کریم ہی کی حضور سے ملے- آنکھیں ہیں تو نظارئہ|قدرت کو دیکھتی ہیں- خدا کے پاک بندے اس کے پاک صحیفوں کو دیکھ کر حظ اٹھاتے ہیں- کان کے عطیہ کے ساتھ زبان کا عطیہ بھی آ گیا- کیونکہ کان اگر نہ ہوں تو زبان پہلے چھن جاتی ہے- اب اگر ان میں سے کوئی نعمت چھن جاوے تو پتہ لگتا ہے کہ کیسی نعمت جاتی رہی- آنکھ بڑی نعمت ہے یا کان بڑی دولت ہے- ان عطیوں میں کوئی بیماری یا روگ لگ جاوے تو اس ذرا سے نقصان کی اصلاح کے لئے کس قدر روپیہ‘ وقت خرچ کرنا پڑتا ہے- مگر یہ صحیح سالم‘ عمدہ‘ بے عیب‘ بے روگ عطیے اس مولیٰ کریم نے مفت بے مزد عنایت فرمائے ہیں- یوں نظر اٹھاتے ہیں تو وہ عجیب در عجیب تماشا ہائے قدرت دیکھتے ہوئے آسمان تک چلی جاتی ہے- ادھر نظر اٹھاتے ہیں تو خوش کن نظارے دیکھتی ہوئی افق سے پار جا نکلتی ہے- کان کہیں دلکش آوازیں سن رہے ہیں‘ کہیں معارف|وحقایق قدرت کی داستان سے حظ اٹھاتے ہیں‘ کہیں روحانی عالم کی باتوں سے لطف اٹھا رہے ہیں- بیشک یہ مولیٰ کریم ہی کا فضل اور احسان ہے کہ ایسے انعام کرتا ہے- پیدا کرتا ہے اور پھر ایسی بے بہا نعمتیں عطا کرتا ہے- کسی کی ماں‘ کسی کا دوست‘ کسی کا باپ وہ نعمتیں نہیں دے سکتا جو خدا تعالیٰ نے دی ہیں-
    پھر اسی پر بس نہیں فرمائی- انا ھدیناہ السبیل )الدھر:۴( ہم نے انسان کو ایک راہ بتلائی- یہی ایک مسئلہ ہے جو بڑا ضروری تھا- ہم پیدا ہوئے سب کچھ ملا مگر کوئی کتنی کوششیں کرے ہمیشہ کے لئے نہ کوئی رہا ہے نہ رہے گا- سارے انبیاء و رسل‘ تمام اولیاء و کبرائ|ملت‘ تمام مدبر اور بڑے بڑے آدمی سب کے سب چل دئے- پس کوئی ایسا انعام ہو جو ابدلآباد راحت اور سرور کا موجب ہو- اس کے لئے فرمایا انا ھدیناہ السبیل ہم نے ایک راہ بتلائی‘ اگر اس پر چلے تو ابدالاباد کی راحت پا سکتا ہے- اس پاک راہ کی تعلیم ہمیشہ ہمیشہ خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں کی معرفت ہوئی ہے- گو خود فطرت انسانی میں اس کے نقوش موجود ہیں- بہت مدت گذری جب کہ دنیا میں ایک عظیم الشان انسان اس پاک راہ کی ہدایت کے لئے آیا جس کا نام آدم علیہ السلام تھا- پھر نوح‘ ابراہیم‘ موسیٰ‘ عیسیٰ علیہم السلام آئے اور ان کے درمیان ہزاروں ہزار مامور من اللہ دنیا کی ہدایت کو آئے- اور ان سب کے بعد میں ہمارے سید و مولیٰ سید ولد آدم فخرالاولین و الآخرین افضل الرسل و خاتم النبیین حضرت محمد رسول رب العالمین صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے- اور پھر کیسی رہنمائی فرمائی کہ ان کے ہی نمونہ پر ہمیشہ خلفائ|امت کو بھیجتا رہا- حتیٰ کہ ہمارے مبارک زمانہ میں بھی ایک امام اس ہدایت کے بتلانے کے لئے مبعوث فرمایا- اور اس کو اور اس کے اقوال کو تائیدات عقلیہ اور نقلیہ و آیات ارضیہ و سماویہ سے موید فرما کر روز بروز ترقی عطا کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ کس طرح الٰہی ہاتھ ایک انسان کی حفاظت کرتا ہے اور کس طرح آئے دن اس کے اعداء نیچا دیکھتے ہیں- و الحمد للٰہ رب العالمین-
    ہاں تو پھر خدا کی ایک ممتاز جماعت ہمیشہ اپنے اقوال سے اس راہ کو بتلاتی اور اپنے اعمال سے نمونہ دکھلاتی ہے جس سے ابدی آرام عطاء ہو- پھر دیکھو کہ انعام الٰہی تو ہوتے ہیں مگر ان انعامات کو دیکھنے والے دو گروہ ہوتے ہیں اما شاکراً و اما کفوراً- )الدھر:۴-( ایک تو وہ لوگ ہوتے ہیں جو ان ہدایات کی قدر کرتے ہیں اور ایک وہ ہوتے ہیں جو قدر نہیں کرتے ہیں- اور ان دستوروں پر عمل در آمد نہیں دکھاتے- ہمیشہ سے یہی طریق رہا ہے- ایک گروہ جو سعادتمندوں کا گروہ ہوتا ہے ان پاک راہوں کی قدر کرتا ہے اور اپنے عمل در آمد سے بتلا دیتا ہے کہ وہ فی الحقیقت اس راہ کے چلنے والے اور اس راہ کے ساتھ پیار کرنے والے ہیں اور دوسرے اپنے انکار سے بتلا دیتے ہیں کہ وہ قدر نہیں کرتے- یہ قرآن|شریف جب آیا اور ہماری سید و مولیٰ‘ رسول اکرم‘ فخر بنی آدم صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن کریم اور پھر اپنے کامل اور پاک نمونہ سے ہدایت کی راہ بتلائی تو بہت سے نابکار‘ سعادت کے دشمن‘ انکار اور مخالفت پر تل پڑے- اور جو سعادت مند تھے وہ ان پر عمل کرنے کے لئے نکلے اور دنیا کے سرمایہ فخر و سعادت اور راحت و آرام ہوئے اور ان کے دشمن خائب و خاسر اور ہلاک ہوئے- آخر وہ سعادت کا زمانہ گزر گیا- دور کی باتیں کیا سنائوں- گھر کی اور آج کی بات کہتا ہوں- اب بھی اسی نمونہ پر ایک وقت لایا گیا اور وہی قرآن شریف پیش کیا گیا ہے- مگر سعادت مندوں نے قدر کی اور ناعاقبت اندیش نابکاروں نے ناشکری اور مخالفت-
    مگر نادان انسان کیا یہ سمجھتے ہیں کہ انعام الٰہی کی ناقدری کرنے سے ہم سے کوئی باز پرس نہ ہو گی- ان کا یہ خیال غلط ہے- دنیوی حکومت میں ہم دیکھتے ہیں کہ کسی حاکم کا حکم آجاوے اور پھر رعایا اس حکم کی تعمیل نہ کرے تو سزا یاب ہوتی ہے- نہ ماننے والوں کا آرام رنج سے اور ان کی عزت ذلت سے متبدل ہو جاتی ہے- پھر اگر کوئی احکم الحاکمین کی بتائی راہ اپنا دستور العمل نہ بناوے تو کیونکر دکھوں اور ذلتوں سے بچ سکتا ہے-
    یاد رکھو کہ حکم حاکم کی نافرمانی حسب حیثیت حاکم ہوا کرتی ہے- یہ ذلت بھی اسی قدر ہو گی جس قدر کہ حاکم کے اختیارات ہیں-
    دنیا کے حاکم جو محدود حکومت رکھتے ہیں ان کی نافرمانی کی ذلت بھی محدود ہی ہے- مگر خدا تعالیٰ جو غیر|محدود اختیارات رکھتا ہے اس کے حکم کی خلاف ورزی میں ذلت بھی طویل ہوگی- گو یہ سچ ہے کہ ]nsk [tag سبقت رحمتی علیٰ غضبی میری رحمت میرے غضب سے بڑھی ہوئی ہے مگر جیسی کہ اس کی طاقتیں وسیع ہیں اسی انداز سے نافرمان کی ذلت بھی ہونی چاہئے اور ہو گی- ہاں بہت سی سزائیں ایسی ہیں کہ انسان ان کو دیکھتا ہے اور بہت سی سزائیں ہیں کہ ان کو نہیں دیکھ سکتے- تو غرض یہ ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ خدا کے قانون اور حکم کی اگر پرواہ نہ کریں گے تو کیا نقصان ہے؟ نہیں نہیں- خبردار ہو جائو- مولیٰ فرماتا ہے انا اعتدنا للکافرین سلاسلا و اغلالاً و سعیراً )الدھر:۵( منکر کو تین قسم کی سزا دیں گے-
    ہر ایک انسان کا جی چاہتا ہے کہ میں آزاد رہوں- جہاں میری خواہش ہو وہاں پہنچ سکوں- پھر چاہتا ہے کہ جہاں چاہوں حسب خواہش نظارہ ہائے مطلوبہ دیکھوں اور آخر جی کو خوش کروں- کہیں جانا پڑے تو جائوں اور کہیں سے بھاگنا پڑے تو وہاں سے بھاگوں اور کسی چیز کو دیکھنا پڑے تو اسے دیکھوں- بہر|حال اپنا دل ٹھنڈا رکھوں-
    پس یہ تین عظیم الشان امور ہیں- اگر کہیں جاتا ہے تو منشا ہے کہ دل خوش ہو- کسی کو دیکھتا ہے تو اس لئے کہ جان کو راحت ملے- نتیجہ بہر حال دل کی خوشی ہے مگر جب انسان خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا کفر کرتا ہے تو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان نعمتوں سے محروم ہو جاتا ہے-
    خدا تعالیٰ نے اولاً تین ہی نعمتوں کا ذکر کیا ہے عطاء وجود ‘ عطاء سمع ‘ عطاء بصر ‘ ان نعمتوں سے اگر کوئی جاتی رہے تو کیا سچی خوشی اور حقیقی راحت مل سکتی ہے ؟ کبھی نہیں - پھر خاص الخاص نعمت جو انبیاء علیہم|السلام کے ذریعہ ملی ہے اس کے انکار سے کب راحت پا سکتا ہے؟ قانون الٰہی اور شریعت خداوندی کو توڑتا ہے کہ راحت ملے مگر راحت کہاں؟ دیکھ لو ایک نابکار انسان حدود اللہ کو توڑ کر زنا کا ارتکاب کرتا ہے کہ اسے لذت و سرور ملے- مگر نتیجہ کیا ہے کہ اگر آتشک اور سوزاک میں مثلاً مبتلا ہو گیا تو بجائے اس کے کہ جسم کو راحت و آرام پہنچاوے دل کو سوزش اور بدن کو جلن نصیب ہوتی ہے- قانون الٰہی کو توڑنے والے کو راحت کہاں؟ پھر اس کے لئے انا اعتدنا للکافرین یعنی منکر انسان کے لئے کیا ہوتا ہے- پائوں میں زنجیر ہوتی ہے‘ گردن میں طوق ہوتا ہے جن کے باعث انواع و اقسام راحت و آرام سے محروم ہو جاتا ہے‘ دل میں ایک جلن ہوتی ہے جو ہر وقت اس کو کباب کرتی رہتی ہے- دنیا میں اس کا نظارہ موجود ہے مثلاً وہی نافرمان زانی‘ بدکار قسم قسم کے آلام جسمانی میں مبتلا ہو کر اندر ہی اندر کباب ہوتے ہیں اور پھر نہ وہاں جا سکتے ہیں نہ نظر اٹھا کر دیکھ سکتے ہیں- اسی ہم و غم میں مصائب اور مشکلات پر قابو نہ پا کر آخر خودکشی کر کے ہلاک ہو جاتے ہیں- دنیا میں ہدایت کے منکروں اور ہادیوں کے مخالفوں نے کیا پھل پایا؟
    دیکھو! ہمارے سید و مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے منکر جنہوں نے اس ابدی راحت اور خوشی کی راہ سے انکار کیا ان کا کیا حال ہوا؟ وہ عمائد مکہ جو ابوجہل‘ عتبہ‘ شیبہ وغیرہ تھے اور مقابلہ کرتے تھے وہ فاتح نہ کہلا سکے کہ وہ اپنے مفتوحہ بلاد کو دیکھتے اور دل خوش کر سکتے؟ ہرگز نہیں- ان کے دیکھتے ہی دیکھتے ان کی عزت گئی‘ آبرو نہ رہی‘ مذہب گیا‘ اولاد ہاتھ سے گئی- غرض کچھ بھی نہ رہا- ان باتوں کو دیکھتے اور اندر ہی اندر کباب ہوتے تھے اور اسی جلن میں چل دیئے- یہ حال ہوتا ہے منکر کا- جب وہ خدا تعالیٰ کی کسی نعمت کا انکار کرتا ہے تو برے نتائج کو پا لیتا ہے اور عمدہ نتائج اور آرام کے اسباب سے محروم ہو جاتا ہے-۱~}~
    پھر دوسرے گروہ اما شاکراً )الدھر:۴( کا ذکر فرمایا کہ شکر کرنے والے گروہ کے لئے کیا جزا ہے- ان الابرار یشربون من کاس کان مزاجھا کافوراً- )الدھر:۶( بے شک ابرار لوگ کافوری پیالوں سے پیئیں گے-
    ابرار کون ہوتے ہیں؟ جن کے عقائد صحیح ہوں اور ان کے اعمال صواب اور اخلاص کے نیچے ہوں اور جو ہر دکھ اور مصیبت میں اپنے تئیں خدا تعالیٰ کی نارضامندی سے محفوظ رکھ لیں-
    خود جناب الٰہی ابرار کی تشریح فرماتے ہیں- سورۃ البقرۃ میں فرمایا- لیس البر ان تولوا وجوھکم )البقرۃ:۱۷۸( ابرار کون ہوتے ہیں؟
    اول جن کے اعتقاد صحیح ہوں کیونکہ اعمال صالحہ دلی ارادوں پر موقوف ہیں- دیکھو ایک اونٹ کے ناک میں نکیل ڈالے ہوئے ایک بچہ بھی اسے جہاں چاہے‘ جدھر لے جائے‘ لئے جاتا ہے- لیکن اگر کنوئیں میں گرانا چاہیں تو خواہ دس آدمی بھی مل کر اس کی نکیل کو کھینچیں ممکن نہیں وہ قدم اٹھا جاوے- ایک حیوان|مطلق بھی اپنے دلی ارادے اور اعتقاد کے خلاف کرنا نہیں چاہتا- وہ سمجھتا ہے کہ قدم اٹھایا اور ہلاک ہوا- پھر انسان اور سمجھدار انسان کب اعتقاد صحیحہ رکھتا ہوا اعمال بد کی طرف قدم اٹھا سکتا ہے- اس لئے ابرار کے لئے پہلے ضروری چیز یہی ہے کہ اعتقاد صحیحہ ہوں اور وہ پکی طرح پر اس کے دل میں جاگزیں ہوں- اگر منافقانہ طور پر مانتا ہے تو کاہل ہو گا حالانکہ مومن ہوشیار اور چالاک ہوتا ہے- ان اعتقادات صحیحہ میں سے پہلا اور ضروری عقیدہ خدا تعالیٰ کا ماننا ہے جو تمام نیکیوں کی جڑ اور تمام خوبیوں کا چشمہ ہے- دنیا میں ایک بچہ بھی جانتا ہے کہ جب تک دوسرے سے مناسبت پیدا نہ ہو اس کی طاقتوں اور فضلوں سے برخوردار نہیں ہو سکتا- جب انسان قرب الٰہی چاہتا ہے اور اس کی دلی تمنا ہوتی ہے کہ اس کے خاص فضل اور رحمتوں سے بہرہ ور اور برخوردار ہو جائے تو اسے ضروری ہے کہ ان باتوں کو چھوڑ دے جو خدا تعالیٰ میں نہیں یا جو اس کی پسندیدہ نہیں ہیں- جس قدر عظمت الٰہی دل میں ہو گی اسی قدر فرمان برداری کے خیالات پیدا ہوں گے اور رذائل کو چھوڑ کر فضائل کی طرف دوڑے گا- کیا ایک اعلی علوم کا ماہر جاہل سے تعلق رکھ سکتا ہے یا ایک ظالم طبع انسان کے ساتھ ایک عادل مل کر رہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں- پس خدا تعالیٰ کی برکتوں سے برخوردار ہونے کے لئے سب سے ضروری بات صفات الٰہی کا علم حاصل کرنا اور ان کے موافق اپنا عمل درآمد کرنا ہے-
    اگر یہ اعتقاد بھی کمزور ہو تو ایک اور دوسرا مسئلہ ہے جس پر اعتقاد کرنے سے انسان خدا تعالیٰ کی فرماں|برداری میں ترقی کر سکتا ہے وہ جزا و سزا کا اعتقاد ہے- یعنی افعال اور ان کے نتائج کا علم مثلاً یہ کام کروں گا تو نتیجہ یہ ہو گا- برے نتائج پر غور کر کے انسان‘ ہاں سعید الفطرت انسان برے کاموں سے جو ان نتائج بد کا موجب ہیں پرہیز کرے گا اور اعمال صالحہ بجا لانے کی کوشش- یہ دونو اعتقاد نیکیوں کا اصل الاصول اور جڑیں ہیں یعنی اول خدا تعالیٰ کی صفات اور محامد کا اعتقاد اور علم تاکہ قرب الٰہی سے فائدہ اٹھاوے اور رذائل کو چھوڑ کر فضائل حاصل کرے-
    دوسرا یہ کہ ہر فعل ایک نتیجہ کا موجب ہوتا ہے- اگر بدافعال کا مرتکب ہو گا تو نتیجہ بد ہو گا- ہر انسان فطرتاً سکھ چاہتا ہے اور سکھ کے وسائل اور اسباب سے بے خبری کی وجہ سے افعال بد کے ارتکاب میں سکھ تلاش کرتا ہے مگر وہاں سکھ کہاں؟ اس لئے ضروری ہے کہ افعال اور ان کے نتائج کا علم پیدا کرے اور یہی وہ اصل ہے جس کو اسلام نے جزا و سزا کے لفظوں سے تعبیر کیا ہے-
    پھر ہم دیکھتے ہیں کہ انسان تجربہ کار اور واقف کار لوگوں کے بتلائے ہوئے مجرب نسخے آرام و صحت کے لئے چاہتا ہے- اگر کوئی ناواقف اور ناتجربہ کار بتلائے تو تامل کرتا ہے- پس نبوت حقہ نے جو راہ دکھلائی ہے وہ تیرہ سو برس سے تجربہ میں آ چکی ہے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے راحت کے جو سامان بتلائے ہیں ان کا امتحان کرنا آسان ہے-
    غور کرو اور بلند نظری سے کام لو! عرب کو کوئی فخر حاصل نہ تھا- کس سے ہوا؟ اسی نسخہ سے! کیا عرب میں تفرقہ نہ تھا؟ پھر کس سے دور ہوا؟ ہاں اسی راہ سے!! کیا عرب نابودگی کی حالت میں نہ تھے- پھر یہ حالت کس نے دور کی؟ ماننا پڑے گا کہ اسی نبوت حقہ نے!!!
    عرب جاہل تھے‘ وحشی تھے‘ خدا سے دور تھے- محکوم نہ تھے تو حاکم بھی نہ تھے- مگر جب انہوں نے قرآن کریم کا شفابخش نسخہ استعمال کیا تو وہی جاہل دنیا کے استاد اور معلم بنے- وہی وحشی متمدن دنیا کے پیشرو اور تہذیب و شائستگی کے چشمے کہلائے- وہ خدا سے دور کہلانے والے خداپرست اور خدا میں ہو کر دنیا پر ظاہر ہوئے- وہ جو حکومت کے نام سے بھی ناواقف تھے دنیا بھر کے مظفر و منصور اور فاتح کہلائے- غرض کچھ نہ تھے سب کچھ ہو گئے- مگر سوال یہی ہے کیونکر؟ اسی قرآن کریم کی بدولت‘ اسی دستور العمل کی رہبری سے- پس تیرہ سو برس کا ایک مجرب نسخہ موجود ہے جو اس قوم نے استعمال کیا جس میں کوئی خوبی نہ تھی اور خوبیوں کی وارث اور نیکیوں کی ماں بنی- غرض یہ مجرب نسخہ ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ کے قرب اور سکھ کی تلاش چاہو اسی قدر جن کے محامدالٰہیہ اور صفات باری تعالیٰ پر ایمان لائو- کیونکہ اسی قدر انسان رذائل سے بچے گا اور پسندیدہ باتوں کی طرف قدم اٹھائے گا-
    حاصل کلام‘ ابرار بننے کے لئے مندرجہ بالا اصول کو اپنا دستور العمل بنانا چاہئے- میں نے ذکر یہ شروع کیا تھا کہ شاکر گروہ کا دوسرا نام قرآن کریم نے ابرار رکھا ہے اور ان کی جزا یہ بتلائی ہے کہ کافوری پیالوں سے پیئیں گے- چنانچہ فرمایا ان الابرار یشربون من کاس کان مزاجھا کافوراً )الدھر:۶( پہلے ان کو اس قسم کا شربت پینا چاہئے کہ اگر بدی کی خواہش پیدا ہو تو اس کو دبا لینے والا ہو- کافور کہتے ہی دبا دینے والی چیز کو ہیں- اور کافور کے طبی خواص میں لکھا ہے کہ وہ سمی امراض کے مواد ردیہ اور فاسدہ کو دبا دیتا ہے اور اسی لئے وبائی امراض طاعون اور ہیضہ اور تپ وغیرہ میں اس کا استعمال بہت مفید ہے- تو پہلے انسان یعنی سلیم الفطرت انسان کو کافوری شربت مطلوب ہے- قرآن|کریم نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا ہے ثم اورثنا الکتاب الذین اصطفینا من عبادنا فمنھم ظالم لنفسہ )فاطر:۳۳( پھر وارث کیا ہم نے اپنی کتاب کا ان لوگوں کو جو برگزیدہ ہیں- پس بعض ان میں سے ظالموں کا گروہ ہے جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہیں اور جبر و اکراہ سے نفس امارہ کو خدا تعالیٰ کی راہ پر چلاتے ہیں اور نفس سرکش کی مخالفت اختیار کر کے مجاہدات شاقہ میں مشغول ہیں-
    دوسرا گروہ میانہ رو آدمیوں کا ہے جو بعض خدمتیں خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے نفس سرکش سے بجبر|و|اکراہ لیتے ہیں اور بعض الٰہی کاموں کی بجا آوری میں نفس ان کا بخوشی خاطر تابع ہو جاتا ہے اور ذوق اور شوق اور محبت اور ارادت سے ان کاموں کو بجا لاتا ہے- غرض یہ لوگ کچھ تو تکلیف اور مجاہدہ سے خدا تعالیٰ کی راہ پر چلتے ہیں اور کچھ طبعی جوش اور دلی شوق سے بغیر کسی تکلف کے اپنے رب جلیل کی فرماں|برداری ان سے صادر ہوتی ہے-
    تیسرے سابق بالخیرات اور اعلی درجہ کے آدمیوں کا گروہ ہے جو نفس امارہ پر بکلی فتحیاب ہو کر نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں-
    غرض سلوک کی راہ میں مومن کو تین درجے طے کرنے پڑتے ہیں- پہلے درجہ میں جب بدی کی عادت ہو تو اس کے چھوڑنے میں جان پر ظلم کرے اور اس قوت کو دباوے- شراب کا عادی اگر شراب کو چھوڑے گا تو ابتدا میں اس کو بہت تکلیف محسوس ہو گی- شہوت کے وقت عفت سے کام لے اور قوائے|شہوانیہ کو دباوے- اسی طرح جھوٹ بولنے والا‘ سست‘ منافق‘ راستبازوں کے دشمنوں کو بدیاں چھوڑنے کے لئے جان پر ظلم کرنا پڑے گا تاکہ یہ اس طاقت پر فاتح ہو جائیں-
    بعد اس کے میانہ روی کی حالت آوے گی- کبھی کبھی بدی کے چھوڑنے میں گو کسی وقت کچھ خواہش|بد پیدا بھی ہو جاوے‘ ایک لذت اور سرور بھی حاصل ہو جایا کرے گا مگر تیسرے درجہ میں پہنچ کر سابق بالخیرات ہونے کی طاقت آ جاوے گی اور پھر خدا تعالیٰ کے فضل و کرم کی بارش ہونے لگے گی اور مکالمہ الٰہی کا شرف عطا ہو گا- تو سب سے پہلے ابرار کو کافوری شربت دیا جاوے گا تاکہ بدیوں اور رذائل کی قوتوں پر فتح مند ہو جاویں اور اس کے ساتھ ہی فرمایا کہ بدیوں کو دباتے دباتے نیکیوں میں ترقی کرتا ہے اور پھر وہ ایک خاص چشمہ پر پہنچ جاتا ہے- عیناً یشرب بھا عباد اللہ یفجرونھا تفجیراً- )الدھر:۷( وہ ایک چشمہ ہے کہ اللہ کے بندے اس سے پیتے ہیں- صرف خود ہی فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ دوسروں کو بھی مستفید کرتے ہیں اور ان چشموں کو چلا کر دکھاتے ہیں-
    فطرت انسانی پر غور کرنے سے پتہ لگتا ہے کہ تمام قویٰ پہلے کمزوری سے کام کرتے ہیں- چلنے میں‘ بولنے میں‘ پکڑنے میں‘ غرض ہر بات میں ابتداء لڑکپن میں کمزوری ہوتی ہے- لیکن جس قدر ان قویٰ سے کام لیتا ہے اسی قدر طاقت آ جاتی ہے- پہلے دوسرے کے سہارے سے چلتا ہے پھر خود اپنے سہارے چلتا ہے- اسی طرح پہلے تتلا کر بولتا پھر نہایت صفائی اور عمدگی سے بولتا ہے‘ پکڑتا ہے‘ وغیرہ وغیرہ- گویا بتدریج نشو و نما پاتا ہے- اگر چند طاقتوں سے کام لینے کو چھوڑ دے تو وہ طاقتیں مردہ یا پژمردہ ضرور ہو جاتی ہیں- یہی معنی ہیں جب انسان بدی کی طرف قدم اٹھاتا ہے تو طاقت کمزور ہو جاتی ہے اور نیکی کے قویٰ بالکل ازکار رفتہ ہوتے ہیں- یہ کوئی ظلم نہیں اگر کسی حاکم کو حکومت دی جاوے اور وہ فرائض منصبی کو ادا نہ کرے تو نگران گورنمنٹ اس کے وہ اختیارات سلب کر دے گی اور اسے معزول کرے گی اور اگر اس حالت کو دیکھتے ہوئے بھی کوئی پروا نہ کرے تو یہ امر عاقبت اندیشی اور عقل کے خلاف ہے کہ |سست انسان کے پاس رکھی جاوے- ایسے ہی وہ انسان ہے جو ایمانی قویٰ کو خرچ نہیں کرتا‘ وہ ابرار کے زمرہ میں رہ نہیں سکتا-
    جن کے عقائد حقہ ہیں یعنی وہ خدا پر ایمان لاتے ہیں- جزا و سزا اور خدا کی کتابوں اور انبیائ|علیہم|السلام پر ایمان لاتے ہیں- پھر ان وسائط کو مانتے ہیں جن کا مقصود اتم فرمان برداری ہے- پھر عمل کے متعلق کیا چاہئے- سب سے زیادہ عزیز مال ہے- پانچ روپے کا سپاہی پانچ روپیہ کے بدلے میں عزیز جان دے دینے کو تیار ہے- ماں باپ اس روپیہ کے بدلے اس عزیز چہرہ کو جدا کر دیتے ہیں- تو معلوم ہوا کہ مال کی طرف انسان بالطبع جھکتا ہے- لیکن جب خدا سے تعلق ہو تو پھر مال سے بے تعلقی دکھاوے اور واقعی ضرورتوں والے کی مدد کرے- مسکینوں کو دے جو بیدست و پا ہیں- رشتہ داروں کی خبر لے- کوئی کسی ابتلا میں پھنس گیا ہو تو اس کے نکالنے کی کوشش کرے- مگر سب سے مقدم ذوی القربیٰ کو فرمایا- رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ذوی القربیٰ کے ساتھ سلوک کرنا زیادتی عمر کا موجب ہے- یتیموں کی خبر لے- پھر جو بے دست و پا ہیں ان کی خبر لے- پھر جو علم پڑھتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے پڑھتے ہیں اور مصیبت میں مبتلا شدہ لوگوں کی خبر لے- پس جناب الٰہی کے ساتھ تعلق ہو اور دنیا اور اس کی چیزوں سے بے تعلقی دکھلاوے- پھر جناب الٰہی کی راہ میں جان کو خرچ کرے-
    خدا تعالیٰ کی راہ میں جان خرچ کرنے کی پہلی راہ کیا ہے؟ نمازوں کا ادا کرنا- نماز مومن کا معراج ہے- نماز میں ہر قسم کی نیازمندیاں دکھائی گئی ہیں- غرض کافوری شربت پیتے پیتے انسان اس چشمہ پر پہنچ جاتا ہے جہاں اسے شفقت علی خلق اللہ کی توفیق دی جاتی ہے-
    پھر بتلایا کہ جو معاہدہ کسی سے کریں اس کی رعایت کرتے ہیں- مسلمان سب سے بڑا معاہدہ خدا سے کرتا ہے کہ میں نیک نمونہ ہوں گا- میں فرمان بردار ہوں گا- میں اپنے ہاتھ اور اپنی زبان سے کسی کو دکھ نہ دوں گا- اور ایسا ہی ہماری جماعت امام کے ہاتھ پر معاہدہ کرتی ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا- رنج میں‘ راحت میں‘ عسر یسر میں‘ قدم آگے بڑھائوں گا- بغاوت اور شرارت کی راہوں سے بچنے کا اقرار کرتا ہے- غرض ایک عظیم الشان معاہدہ ہوتا ہے- پھر دیکھا جاوے کہ نفسانی اغراض اور دنیوی مقاصد کی طرف قدم بڑھاتا ہے یا دین کو مقدم کرتا ہے- عامہ مخلوقات کے ساتھ نیکی اور مسلمانوں کے ساتھ خصوصاً نیکی کرتا ہے یا نہیں؟
    ہر امر میں خدا تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھے- مقدمہ ہو تو جھوٹے گواہوں‘ جعلی دستاویزوں سے محترز رہے- دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے وعظ کہنا بھی مفید امر ہے- اس سے انسان اپنے آپ کو بھی درست بنا سکتا ہے- جب دوسرے کو نصیحت کرتا ہے تو اپنے دل پر چوٹ لگتی ہے-
    امر بالمعروف بھی ابرار کی ایک صفت ہے اور پھر قسم قسم کی بدیوں سے رکتا ہے- المختصر یفجرونھا تفجیراً- جب خود بھلائی حاصل کرتے ہیں‘ ظالم لنفسہ ہوتے ہیں تو دوسروں تک بھی پہنچاتے ہیں- یوفون بالنذر )الدھر:۸( جو معاہدہ جناب الٰہی سے کیا ہو اس کو وفاداری سے پورا کرے اور نیکی یوں حاصل کرے کہ میرے ہی افعال نتائج پیدا کریں گے-
    ایک فلسفی مسلمان کا قول ہے-
    گندم از گندم بروید جو ز جو
    از مکافات عمل غافل مشو
    و یطعمون الطعام علیٰ حبہ مسکیناً و یتیماً و اسیراً )الدھر:۹( اور کھانا دینے میں دلیر ہوتے ہیں- مسکینوں‘ یتیموں اور اسیروں کو کھلاتے ہیں- قرآن کریم میں لباس اور مکان دینے کی تاکید نہیں آئی جس قدر کھانا کھلانے کی آئی ہے- ان لوگوں کو خدا نے کافر کہا ہے جو بھوکے کو کہہ دیتے ہیں کہ میاں! تم کو خدا ہی دے دیتا اگر دینا منظور ہوتا- قرآن کریم میں سورۃیٰس میں ایسا لکھا ہے و قال الذین کفروا للذین اٰمنوا ا نطعم من لو یشاء اللہ اطعمہ )یٰس:۴۸-( آج کل چونکہ قحط ہو رہا ہے انسان اس نصیحت کو یاد رکھے اور دوسرے بھوکوں کی خبر لینے کو بقدر وسعت تیار رہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے لئے یتیموں‘ مسکینوں اور پابند بلا کو کھانا دیتا رہے- مگر صرف اللہ کے لئے دے- یہ تو جسمانی کھانا ہے- روحانی کھانا ایمان کی باتیں‘ رضاء الٰہی اور قرب کی باتیں‘ یہاں تک کہ مکالمہ الہیہ تک پہنچا دینا‘ اسی رنگ میں رنگین ہونا ہے- یہ بھی طعام ہے- وہ جسم کی غذا ہے‘ یہ روح کی غذا-
    منشا یہ ہو کہ اس لئے کھانا پہنچاتے ہیں انا نخاف من ربنا یوماً عبوساً قمطریراً )الدھر:۱۱( کہ ہم اپنے رب سے ایک دن سے جو عبوس اور قمطریر ہے ڈرتے ہیں- عبوس تنگی کو کہتے ہیں- قمطریر دراز یعنی قیامت کا دن‘ تنگی کا ہو گا اور لمبا ہو گا- بھوکوں کی مدد کرنے سے خدا تعالیٰ قحط کی تنگی اور درازی سے بھی نجات دے دیتا ہے- نتیجہ یہ ہوتا ہے فوقٰھم اللہ شر ذٰلک الیوم و لقٰھم نضرۃ و سروراً )الدھر:۱۲( خدا تعالیٰ اس دن کے شر سے بچا لیتا ہے اور یہ بچانا بھی سرور اور تازگی سے ہوتا ہے-
    میں پھر کہتا ہوں کہ یاد رکھو آج کل کے ایام میں مسکینوں اور بھوکوں کی مدد کرنے سے قحط سالی کے ایام کی تنگیوں سے بچ جائو گے- خدا تعالیٰ مجھ کو اور تم کو توفیق دے کہ جس طرح ظاہری عزتوں کے لئے کوشش کرتے ہیں ابدالاباد کی عزت اور راحت کے لئے بھی کوشش کریں آمین-
    ۱~}~ )الحکم جلد۳ نمبر۳۸ ۔۔۔ ۲۴ / اکتوبر ۱۸۹۹ء صفحہ۳ تا ۶ (
    ۲~}~ )الحکم جلد۳ نمبر۴۱ ۔۔۔ ۱۷ / نومبر ۱۸۹۹ء صفحہ ۱ تا ۴ (
    * - * - * - *
    ‏KH1.3
    خطبات|نور خطبات|نور
    ۱۲ / نومبر ۱۸۹۹ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جلسہ~ن۲~ الوداع کے موقعہ پر
    صحبت صادقین
    کے موضوع پر خطاب
    یٰایھا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ و کونوا مع الصادقین )التوبۃ:۱۱۹(
    ہر ایک مریض و بیمار کے لئے ضروری ہے کہ اگر وہ اپنی زندگی اور صحت کی کچھ بھی قدر جانتا ہے تو کسی تجربہ کار طبیب کے حضور حاضر ہو اور اپنی بیماری کے حالات عرض کرے اور پھر صبر اور استقلال کے ساتھ اس کے علاج اور طبی مشورے سے فائدہ اٹھائے- گھبرائے نہیں! بے دل نہ ہو! جلدبازی نہ کرے! بدپرہیز نہ ہو- طبیب کی رائے میں اپنی رائے کا دخل نہ دے اور نہ کسی دوسرے کی رائے کو اس پر مقدم کرے- اور پوری احتیاط اور ہوشیاری کے ساتھ اس کے تجویز کردہ نسخہ کو استعمال کرے- یہ قاعدے اور اصول ہیں جو ہر مریض کو اختیار کرنے چاہئیں- اگر اس کا مرض حد علاج سے باہر نہیں ہو گیا یعنی مرض اس پر پورا پورا اثر کرکے اس کے قویٰ کو مضمحل اور بیکار نہیں کر چکا تو ضرور ہے کہ اس تجربہ کار طبیب سے فائدہ اٹھائے- لیکن اگر مرض اس کو کھا چکا ہے اور علاج کے لئے کوئی وقت اور موقع باقی نہیں رہا تو گو وہ مریض بچ نہ سکے تاہم کسی نہ کسی حد تک فائدہ اٹھائے گا- لیکن اگر مریض ان قواعد کی پیروی نہیں کرتا اور جلدبازی اور عجلت سے کام لیتا ہے تو طبیب اس کی کیا پروا کرے گا- کچھ بھی نہیں- اور وہ شخص جس سے طبی مشورہ لیا جاوے جس کی صحبت میں رہ کر اپنے دکھوں کا علاج کیا جاوے اس کا تجربہ کار ہونا ضروری ہے-
    اس اصل کو یاد رکھنے کے بعد اب یہ سمجھنا چاہئے کہ امراض دو قسم کے ہوتے ہیں ایک تو جسمانی امراض ہوتے ہیں اور دوسرے روحانی‘ جسمانی امراض کا اثر بھی روح پر پڑتا ہے- اس لئے سرور عالم فخر ولد آدم صلی اللہ علیہ و سلم نے علوم کی تقسیم بیان فرماتے ہوئے یہی فرمایا العلم علمان علم الابدان و علم الادیان علم الابدان کو علم الادیان پر مقدم اسی لئے کیا ہے-
    یہ مسئلہ بہت ہی صاف اور واضح ہے کہ جسمانی امور اور حوادث کا اثر روح پر ضرور پڑتا ہے- اگر کسی کے سر میں چوٹ لگ جاوے تو اس کی قوت حافظہ متفکرہ اور دوسرے عقلی قویٰ میں فتور آ جاتا ہے- انسان اگر بیرونی حوادث سے متاثر ہو تو اس کی روح پر بھی ایک اثر ہوتا ہے اور اس کے قلب میں رقت پیدا ہو جاتی ہے- غرض اس امر کی بہت سی مثالیں ہیں اور اس پر مجھ کو کسی لمبی بحث کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ ایک عام مسلم بات ہے-
    جس طرح پر جسمانی امراض بے شمار ہیں اسی طرح روحانی امراض بھی کثرت سے ہوتی ہیں اور ہر عضو اور قوت کی جدا جدا بیماریاں ہوتی ہیں- بہت سی بیماریاں ایسی ہوتی ہیں کہ انسان ان کو بالکل معمولی باتیں سمجھتا ہے لیکن وہ اندر ہی اندر اپنی باریک رفتار سے بہت سی روحانی قوتوں کا ستیاناس کر دیتی ہیں اور آخر روحانی طور پر انسان کو ہلاک کر دیتی ہیں- پس جیسے کسی جسمانی عارضہ کو گو وہ کیسا ہی خفیف کیوں نہ ہو کبھی خفیف نہیں سمجھنا چاہئے اور تجربہ کار اور حاذق طبیب کی صحبت میں رہ کر اس کے مشورہ اور ہدایت کے موافق علاج اور پرہیز کے اصول مدنظر رکھ کر علاج کرنا ضروری ہے اسی طرح پر روحانی امراض کے علاج کی فکر چاہئے- علاج کرانے کے اصول اس میں بھی وہی ہیں جو جسمانی علاج کے ہیں یعنی بدظنی نہ ہو‘ شتاب|کاری‘ بدپرہیزی اور اپنی یا کسی اور کی رائے کا تقدم طبیب کی رائے پر نہ ہو- ایسا مریض فائدہ اٹھانے کی توقع کر سکتا ہے- اور فائدہ اٹھاتا ہے- خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے مجھے موقع دیا ہے کہ امراض اور ان کے علاج کا ایک علم اور تجربہ مجھے عطا فرمایا اور ایک فقیر سے لے کر بادشاہ‘ جاہل سے لے کر عالم‘ غرض ہر طبقہ اور عمر کے لوگوں کے امراض اور ان کے طرز علاج کا علم سیکھا- اور چونکہ جسمانی اور روحانی امراض کے اصول ایک ہی ہیں‘ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے باریک در باریک روحانی امراض کا علم بھی مجھے دیا گیا ہے اور میں مولیٰ کریم کی حمد کرتا ہوں اور اس کا شکر گذار ہوں کہ اس نے جیسے مجھے امراض کا علم عطا کیا اس کے علاج کی طرف بھی توجہ دلائی اور تمام قسم کے روحانی امراض کا مجرب نسخہ میں نے پا لیا- وہ مجرب نسخہ خدا تعالیٰ کی پاک کتاب قرآن شریف ہے جس کے نام رحمت‘ ہدایت‘ شفا‘ نور‘ فرقان‘ کتاب|منیر وغیرہ وغیرہ ہیں- اور پھر اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بھی احسان کیا کہ اس نسخہ کا عشق اور محبت میرے دل میں ڈال دی اور اس رحمت اور شفا کتاب کو میرے لئے روحانی غذا بنا دیا جس کے بغیر میں سچ کہتا ہوں کہ زندہ نہیں رہ سکتا-
    اور پھر اس کے فضلوں میں سے ایک عظیم الشان فضل مجھ پر یہ بھی ہے کہ اس نسخہ کا سچا عامل اور حاذق طبیب جو اس زمانہ کے مریضوں کے لئے مسیح ہے اس کا مجھے پتہ دیا اور نہ صرف پتہ بلکہ اس کی خدمت میں پہنچا کر مجھے موقع اور توفیق دی کہ میں اپنی روحانی امراض کا علاج کروں- چنانچہ میں یہ ساری باتیں تحدیث بالنعمت کے طور پر ظاہر کرتا ہوں کہ میں نے اس کی صحبت میں رہ کر اپنی بہت سی بیماریوں سے خدا کے فضل سے شفاء پائی اور بہت سے امراض ہیں جو دور ہو رہے ہیں- میں چونکہ اصول علاج سے واقف اور تجربہ کار ہوں اس لئے میں جو کچھ کہوں گا وہ خیالی اور فرضی باتیں نہیں ہو سکتیں اور میں اس لئے بیان کرتا ہوں کہ شائد کسی کو فائدہ پہنچ جاوے-
    قرآن شریف کو غور سے پڑھنے اور اس زمانہ کی حالت پر فکر کرنے کے بعد جبکہ وہ نازل ہوا میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جس قدر امراض روحانی طور پر ہو سکتے ہیں اور میرا تو یقین ہے کہ جسمانی بھی‘ وہ سب کے سب اس نسخہ کے استعمال سے پیدا ہی نہیں ہوتے اور اگر ہو چکے ہوں تو دور ہو جاتے ہیں- لیکن اس کے لئے ضرورت ہے صدق کی‘ ضرورت ہے استقلال اور صبر کی‘ ضرورت ہے حسن ظن کی- یہ ایک عام اصول ہے کہ ہر مریض کو ضروری ہے کہ وہ کسی تجربہ کار طبیب کے حضور حاضر ہو اور اس طبیب کو ضروری ہے کہ تجربہ شدہ نسخہ اس کے علاج کے لئے استعمال کرے- دنیا میں جس قدر امراض اس وقت ہیں یا تاریخ شہادت دیتی ہے کہ ہو چکی ہیں وہ سب کی سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں موجود تھیں- سب سے بڑھ کر قابل عزت و عظمت اللہ تعالیٰ کی کتاب ہو سکتی ہے اور ہے- لیکن اس زمانہ میں اللہ کی کتاب ایسی چھوٹ گئی تھی کہ کتاب اللہ کا کہیں پتہ ہی نہیں ملتا تھا- چنانچہ طبقات الارض کے محققوں کو بھی باوجودیکہ انہوں نے زمین کو کھود ڈالا اس کا پتہ نہ ملا بلکہ صرف ترجمہ در ترجمہ رہ گئے جس سے ایک آدمی جو سمجھدار ہو اندازہ کر سکتا ہے کہ وہ لوگ جو اہل کتاب کہلاتے تھے کن مشکلات اور مصائب میں مبتلا تھے- وہ قوم جو اپنی عقلوں اور علوم پر آج ناز کرتی ہے‘ اپنی صنعتوں اور ملمع سازیوں پر اتراتی اور خدائی کے دعوے کرتی ہے‘ اس کا یہ حال کہ بغل میں جو کچھ لئے پھرتی ہے اس کے اصل کا ہی پتہ نہیں- مذہب کا معاملہ‘ ابدی رنج و راحت کا سوال‘ مگر افسوس اس کے حل کرنے کی کلید‘ روحانی امراض کا شفا بخش نسخہ- خدا کی کتاب پاس نہیں اور جو پاس ہے وہ ترجمہ در ترجمہ ہے اور اس کو لے کر خوش ہو رہے ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں خدا کی کتاب ہے- افسوس اس قوم پر جو اپنی توجہات سے باریک در باریک راہیں نکالتی ہے کلام اللہ سے اس طرح محروم ہے اور تعجب اور عبرت کی جگہ ہے کہ اس کا فخر ایسا ملیامیٹ ہوا کہ سچی کتاب کا پتہ نہیں کہ کہاں گئی-
    یہ دنیا کی معزز قومیں جیسی اس وقت اپنی کتاب کا پتہ نہ دے سکتی تھیں اور اس طرح پر گواہی دے رہی تھیں کہ ہادی کامل کے آنے کے وقت دنیا کی کیا حالت ہوتی ہے- آج بھی باوجود تیرہ سو سال کے ترقیوں کے اسی طرح اپنی کتاب کی اصلیت پیش کرنے سے قاصر اور بے دست و پا ہے- میں حیران ہوتا ہوں کہ ایک طرف یہ قوم اس قدر بلند پروازیاں کر رہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں پر احاطہ کرنے کے دعوے کرتی اور رموز قدرت میں سے بہت سے امور کو اپنے قبضہ میں کر لینے کی مدعی ہوتی ہے اور دوسری طرف یہ حال کہ اصل کتاب کا پتہ نہیں دے سکتی! یہ صدی لا انتہا نہیں تو کثیر التعداد ترقیوں کی صدی کہلاتی ہے- لیکن مذہب کے معاملہ میں کتاب اللہ کی تفتیش اور تحقیق کے متعلق ایسی گری ہوئی صدی ہے کہ پہلے سے بھی زیادہ اس معاملہ کو تاریکی میں گرا دیا ہے- ۱~}~
    آزاد خیال )فری تھنکرز( لوگوں نے کوشش کی ہے کہ یورپ کو مذہب ہی کی قید سے آزاد کریں- یہ ایک اور ثبوت ہے کہ اس وقت ایک ہادی کی ضرورت ہے- غرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کے وقت یہ تو پچھلوں کا حال تھا جن کی کتاب کو نازل ہوئے پورے چھ سو سال بھی نہ ہوئے تھے‘ تو ان سے پہلوں کا کیا حال؟ توریت شریف کے محافظ جو انبیاء اللہ اور احبار کہلاتے تھے ان کا یہ حال ہے کہ وہی توریت جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے منسوب کرتے ہیں اسی میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کا بھی ذکر کیا ہے حالانکہ یہ ناممکن بات ہے کیونکہ وفات کا واقعہ حضرت موسیٰؑ کے بعد کا ہی ہو سکتا ہے- اور پھر قبر کا پتا نہیں‘ یہ بھی اس میں لکھا ہے- اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایسے واقعات کا اندراج بعد میں ہوا ہے اور اس سے صاف کھل جاتا ہے کہ اصل توریت کی کیا حالت تھی اور وہ کہاں تک علماء یہود کی دست برد کے نیچے تھی- اس میں کمی بیشی کرنے کے لئے وہ کیسے بے باک اور دلیر تھے؟ اپنے مذہبی شعائر سے ایسے ناواقف اور بے|خبر کہ بیت اللہ کی تعیین میں ہی ان کو شبہ پڑا ہوا تھا جیسا کہ انجیل کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے-
    غرض یہ تو ان دو قوموں کا حال ہے جو اپنے آپ کو صاحب کتاب سمجھتے ہیں اور قرآن شریف کھلے طور پر جن کا مصدق بھی ہے- پھر ان دو سے پہلے جو قومیں گذری ہیں ان کے بقیہ~ن۲~ السلف جو اس وقت موجود ہوں گے ان کی حالت کا اسی پر قیاس کر لو- ہمارے اس ملک میں ایک قوم اٹھی ہے جس کو زمانہ کے تازیانہ نے یا ترقی کی ہوا نے بیدار کیا ہے- وہ بھی ایک کتاب لے کر میدان میں نکلی ہے اور اپنی طرف سے کوشش کر رہی ہے کہ اس کتاب کو دوسری کتابوں کے بالمقابل کوئی جگہ دے- مگر مجھے حیرت آتی ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی کتاب کا پتہ جرمن سے ورے نہیں ملتا- اور اگر اب پائی بھی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس کا سمجھنے والا ہی کوئی نہیں- پہلوں نے جو ترجمے کئے‘ بھاش لکھے‘ ٹیکا کئے وہ بالکل غیر مفید‘ غیر متعلق اور خانہ ساز تھے‘ اصل عبارات سے ان کا کچھ تعلق نہیں ہے-
    میں جب ایسی آوازیں سنتا ہوں تو میری حیرت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ کتاب کی اصل غرض عمل ہوتی ہے اور عمل کے لئے مطلوب ہے اس کا علم اور واقفیت اور وہ یہاں مفقود ہے پھر اس کتاب کا فائدہ کیا؟
    غرض جس قدر اس سوال پر میں نے سوچا ہے اور میں سچ کہتا ہوں کہ میں نے مدتوں سوچا ہے اور بالکل خالی الذہن ہو کر محض سچائی اور راستی کے لینے کے لئے سوچا ہے اسی قدر میرا تعجب اور افسوس بڑھا ہے ان قوموں پر‘ ان کتابوں پر- اور شرح صدر ہوا ہے قرآن کریم کی تعلیمات کی سچائی پر اور اس کے لانے والے کی صداقت پر اور بے اختیار ہو کر میرے دل سے نکلا ہے- اللٰھم صل علیٰ محمد و علیٰ اٰل محمد و بارک و سلم
    دنیا کے مختلف مذاہب اور ان کی مذہبی کتابوں اور ان کے ماننے والوں کی عملی حالت نے مجھے ضرورت|قرآن کی طرف بڑی بھاری رہنمائی کی ہے اور میں یقیناً جانتا ہوں اور اسی لئے دعویٰ سے کہتا ہوں کہ جو شخص اپنے گوشہ تنہائی میں دل کو صاف کر کے اس تفرقہ مذاہب اور حالت مذاہب پر نظر کرے گا‘ اگر اس کے دل میں کچھ بھی سلامتی اور فطرت میں سعادت‘ سر میں‘ دماغ اور عقل میں قوت|فیصلہ ہے‘ تو وہ اس نتیجہ پر بہت جلد پہنچ جاوے گا کہ اسلام ہی ایسا مذہب ہے جو انسان کے روحانی تقاضوں کو پورا کرتا ہے اور قرآن شریف ہی ایک کامل کتاب ہے جو انسان کی زندگی کو مفید اور ان اغراض کے ماتحت کرنے کے لئے اکیلی حاوی ہے جن کے لئے وہ پیدا ہوا ہے- پھر عرب کی حالت اور بھی قابل غور ہے- اس کے اردگرد یہ تینوں قومیں آباد تھیں- ہندوستان میں وید کے ماننے والے- ایران میں زرتشتی مذہب کے پیرو اور شام میں اور عرب کے حﷺ میں عیسائی اور یہود- لیکن کس قدر تعجب|خیز بات ہے کہ ان میں سے کوئی بھی ایسا قوی التاثیر مذہب نہ ہوا کہ عربوں پر اپنا اثر ڈال سکتا-
    تاریخ دنیا کا مصنف )جو ہمارے سید و مولا امام علیہ الصلوٰۃ و السلام کی ایک دعا کا نشانہ اور اسلام کی صداقت پر ایک نشان ہے( جس نے بڑے فخر سے اپنے آپ کو براہین احمدیہ کی تکذیب لکھ کر مکذب کہا ہے‘ عرب کو آریوں کا راستہ بتاتا ہے کہ وہ مصر کو اسی راستہ سے جاتے تھے- مگر مجھے ہمیشہ ہی تعجب رہا کہ وہ صداقتیں جو وید میں تھیں یا تو ان آریوں کو بھی معلوم نہ تھیں جو مصر کو عرب کے راستہ سے جاتے تھے اور یا ایسی کمزور اور بودی تھیں کہ عرب جیسے مشرکوں پر کوئی اثر ہی نہ ڈال سکتی تھیں- اسی طرح پر عیسائیوں اور یہودیوں اور زردشتیوں کے فیضان سے عرب محروم کا محروم ہی رہا- مگر یہ کیا معجزہ ہے کہ عرب میں جب فاران کی چوٹیوں اور حرا کے غاروں سے ایک نور نکلا تو اس نے ہند پر اپنا اثر ڈالا- ایران پر اپنا اثر ڈالا اور عیسائیوں اور یہودیوں پر اپنا اثر ڈالا- وہ عرب جن پر کسی کا اثر نہ پڑا تھا ان کے اثر سے سب کے سب متاثر ہو گئے اور اس کے نور سے سب نے حصہ لیا-
    میں تو اس سے یہی نتیجہ نکالتا ہوں کہ یہ لوگ جو کچھ اپنے پاس لئے بیٹھے تھے وہ دراصل ایک کمزور اور بے حقیقت شے تھی جس میں دوسرے پر اثراندازی اور جذب کی کوئی قوت ہی نہ تھی- ورنہ یہ بات بالکل ناممکن ہے کہ وہ اثر کرنے سے رہتی اور حقیقت میں یہ بالکل سچ ہے جبکہ ابھی میں نے دکھایا ہے کہ ان لوگوں کی مذہبی کتابوں کی یہ حالت تھی- جب ایسی حالت اور صورت تھی تو دانشمند بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ دنیا اس وقت کس قدر جہالت کا سامان اکٹھا کر چکی تھی-
    عرب میں تفرقہ اس قدر تھا کہ وحدت کا نام و نشان بھی پایا نہ جاتا تھا- یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف نے تحدیث بالنعمت کے طور پر اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کنتم اعداء فالف بین قلوبکم فاصبحتم بنعمتہ اخواناً )اٰل عمران:۱۰۴( تم آپس میں دشمن تھے ہم نے تمہارے دلوں میں ایسی محبت ڈال دی کہ اگر رات کو تم دشمن سوئے تھے تو صبح کو بھائی بھائی بن کر اٹھے-
    غرض ان میں وحدت نظر نہ آتی تھی- نہ وہ فاتح تھے اور نہ مفتوح- جیسے وہ حکمرانی کے قواعد و ضوابط سے ناآشنائے محض ویسے ہی رعایا بن کر رہنے کے اصول سے ناواقف- نہ مصنف تھے‘ نہ موجد تھے- غرض کچھ بھی نہ تھے- ایسی حالت میں ان کی عام حالت پکار پکار کر کہہ رہی تھی کہ ’’مردے از غیب بروں آید و کارے بکند‘‘ دنیا کی عام حالت کا وہ نظارہ‘ خاص عرب کی یہ حالت- اس سے بڑھ اور کیا ضرورت ہو سکتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کی-
    جب ایسی حالت دنیا کی ہو رہی تھی اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے اور اس وقت کی موجودہ حالت ہی صاف طور بتا رہی تھی کہ ایک مزکی کی ضرورت ہے- اور پھر آپ نے جو اصلاح کی اس نے مہر کر دی کہ لاریب آپ حقیقی مصلح تھے- عربوں کی اس حالت کو ایسا تبدیل کیا کہ ایسی حیرت انگیز تبدیلی کی نظیر دنیا کی تاریخ میں پائی نہیں جاتی- ۲~}~
    قرآن شریف کی روشنی کے آتے ہی حقوق اللہ اور حقوق العباد میں جو تاریکی اور تیرگی چھائی ہوئی تھی یکدم اڑ گئی- دنیا میں نابود قوم بود ہو گئی- وہ دنیا کی فاتح‘ امام‘ مقتدر‘ فخر ٹھہری- وہ قوم جو ہزار درہزار مرض میں مبتلا تھی اس نے جس نسخہ کے ذریعہ شفا حاصل کی وہ نسخہ قرآن کریم ہی کا نسخہ تھا- یہی وجہ ہے کہ اس کا نام نور‘ رحمت‘ شفا اور فضل ہے- اس نسخہ کو اپنا معمول بنا کر صحابہ کے سامنے کوئی سمندر یا پہاڑ روک نہ ہوا- لیکن جوں جوں قرآن شریف ہی کی اتباع کی برکت سے کامیابی اور فتوحات کے دروازے کھلتے گئے اسی قدر تعیش کے آ جانے کی وجہ سے قرآن شریف سے اعراض ہوتا گیا اور دنیوی امور اور آسائشوں کی طرف توجہ بڑھتی گئی- نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن شریف چھوٹ گیا اور اس کے ساتھ ہی وہ خیر|و|برکت اٹھنے لگی- اختلاف بڑھنے لگا یہاں تک کہ انجام کار نہ دنیا رہی نہ دین- مگر قرآن شریف اس وقت بھی ایسی کامل اور حکیم کتاب موجود تھی اور ہے کہ اگر اس کی طرف رجوع کیا جاتا اور سارے اختلافات کے مٹانے کا اس کو ہی ذریعہ قرار دیا جاتا تو کوئی مشکل مشکل نہ رہتی- مگر حکومت اور فتوحات کے ساتھ ساتھ خودرائی اور خود غرضی پیدا ہوتی گئی اور قرآن شریف دستور العمل نہ رہا- جس نے وہ دن دکھایا جس کا کبھی خیال بھی مسلمانوں کو نہ آتا ہو گا- لیکن اصل یہ ہے کہ وہ دن بھی مقدر تھا- ضرور تھا کہ اسلام پر ضعف کی حالت آتی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے سے اس کی اطلاع دی تھی کیف تکفرون باللہ و کنتم امواتاً فاحیاکم ثم یمیتکم ثم یحییکم ثم الیہ ترجعون )البقرۃ:۲۹-(اس وقت پھر وہی موت کی حالت طاری ہے- اسلام فی نفسہ زندہ اسلام ہے- قرآن شریف زندہ کتاب ہے- لیکن مسلمانوں کی اپنی کم ہمتی‘ کم توجہی اور قرآن شریف سے اعراض نے ان کو مردہ بنا دیا ہے- بالاتفاق مسلمانوں نے ایک زبان ہو کر مان لیا ہے کہ ان کی قوم مر چکی ہے یہاں تک کہ بعض نے جنازہ بھی پڑھ دیا ہے- اس قسم کی صدائیں سن کر اس میں شک نہیں کہ مجھے بعض اوقات سخت گھبراہٹ اور اضطراب ہوا ہے- لیکن مجھے خوشی بھی ہوئی ہے اس لئے کہ میں جانتا ہوں اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کے موافق اس موت کے بعد ایک احیا بھی ہے اور میں یقیناً سمجھتا ہوں کہ اس احیا کا یہی وقت ہے اور وہ احیا اللہ تعالیٰ نے ہمارے امام علیہ الصلوٰۃ و السلام کے ذریعہ کرنا چاہا ہے- یہی وجہ ہے کہ اس کے اور صرف اس کے آنے ہی سے بلکہ اس کے ہی منہ سے زندہ رسول‘ زندہ مذہب‘ زندہ کتاب‘ زندہ خدا وغیرہ الفاظ سننے میں آئے ہیں- یہ اس لئے کہ ہم میں زندگی بخش قوت ہے- اس امام کے حکم سے میں اس وقت آپ لوگوں کو کچھ سنانا چاہتا ہوں- میں نے شروع میں کہا ہے کہ مریض کو اپنے علاج کے لئے جہاں تجربہ کار اور حاذق طبیب کی طرف رجوع کرنا چاہئے وہاں صبر اور استقلال کے ساتھ اس کے بتائے ہوئے علاج اور پرہیز سے فائہ اٹھانا چاہئے اور ایک مجرب نسخہ استعمال کرنا چاہئے-
    اب اس وقت جو امراض دنیا میں روحانی طور پر پھیلے ہوئے ہیں اس قسم کے امراض اس وقت بھی تھے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ظہور فرمایا تھا اور ان بیماریوں کا علاج قرآن شریف کے ذریعہ کیا گیا تھا- اس وقت بھی جب تک اس مجرب نسخہ کو استعمال نہ کیا جائے کچھ فائدہ نہ ہو گا- اور اس نسخہ کا استعمال اس وقت تک ممکن نہیں جب تک حاذق طبیب کی طرف رجوع نہ ہو اور وہ حاذق طبیب کون ہے؟ اس زمانہ کا امام )علیہ السلام-( اس کی صحبت میں رہ کر علاج کے اصول کے موافق فائدہ اٹھائو- اور اسی لئے میں نے تمہیں یہ آیت سنائی یٰایھا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ و کونوا مع الصادقین )التوبۃ:۱۱۹( ایمان والو! متقی بن جائو- متقی بننے کی تدبیر یہ ہے کہ صادقوں کے ساتھ ہو جائو- یہی ایک گر ہے معزز بننے کا‘ قوم بننے کا- یعنی متقی بن جانا اور متقی بننے کے لئے صادق کا ساتھ دینا اور اس کے ساتھ رہنا ضروری ہے-
    تقویٰ کیا چیز ہے؟ مختصر الفاظ میں تقویٰ سے یہ مراد ہے اول سچے عقائد کو حاصل کرنا اور ان پر ایمان لانا پھر اس کے موافق کو کرنا اور اپنے اعمال سے اس کا ثبوت دینا- وہ اعمال اس کے جسم کے متعلق ہوں یا مال کے- غرض ہر طرح سے عقائد کے موافق سچی وفاداری اور اخلاص کے ساتھ اپنے اعمال کر کے دکھاوے- سچے عقائد کے اصول میں سے پہلی اصل یہ ہے کہ حق سبحانہ تعالیٰ پر ایمان لاوے- حق سبحانہ تعالیٰ کا اعتقاد عظیم الشان نیکیوں اور خوبیوں اور مدارج پر پہنچنے کے لئے ضروری اور لابدی اصل ہے- میرا ایمان اور مذہب یہ ہے کہ کوئی شخص نیک چلن اور راست باز ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایمان نہ لاوے- میں اس بات کا قائل نہیں کہ کوئی دہریہ بھی نیک چلن ہو سکتا ہے- حق سبحانہ تعالیٰ کے ماننے میں ایک عظیم الشان بات اور اصل یہ بھی ہے کہ اس کی صفات کو پورے طور پر مانا جاوے- صفات|الٰہی کا مسئلہ ہی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے نہ ماننے سے دنیا کا بہت بڑا حصہ ہلاک ہوا ہے- میں نے اس معاملہ پر بہت غور کی ہے اور مختلف مذاہب کے اعتقادات اور مسائل کو خوب ٹٹولا ہے اور بڑی سوچ اور فکر کے ساتھ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جس قدر مذاہب باطلہ موجود ہیں وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کی کسی نہ کسی صفت کے انکار سے پیدا ہوئے ہیں- یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک ایسا گر اور اصل سمجھا دیا ہے کہ میں مذاہب باطلہ کو قرآن|شریف کے ایک ایک لفظ کے ساتھ رد کر سکتا ہوں اور قرآن شریف کے کمالات اور فضائل میں سے یہ بھی ایک مہتم بالشان امر ہے کہ اس نے صفات الٰہی کے مسئلہ کو خوب کھول کھول کر بیان کیا ہے کیونکہ اسی راز کو نہ سمجھنے کی وجہ سے دنیا نے ٹھوکر کھائی ہے اور وہ گمراہ ہوئی ہے- اور اس کے علاوہ صفات الٰہی کے مسئلہ سے ہی یہ راز بھی خدا کے فضل سے مجھ پر کھلا ہے کہ انسان جس قدر بدیوں اور گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے اگر صفات الٰہی کے مسئلہ کو سمجھ لے اور اس پر پورا ایمان رکھے اور ہر بدی کے ارتکاب کے وقت یہ خیال کرے کہ اللہ تعالیٰ نگران ہے تو میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اسے بچا لے-
    یہ امور اور یہ اصول سمجھ میں آتے ہیں جب انسان قرآن شریف میں تدبیر کرے اور فکر کرے- قرآن شریف پر تدبر اور فکر کی قوت پیدا ہوتی ہے- تقویٰ سے- جیسا کہ خدا تعالیٰ نے خود فرما دیا ہے و اتقوا اللہ و یعلمکم اللہ )البقرۃ:۲۸۳( اور یہ میں نے ابھی بتایا ہے اور اس کی تفصیل بیان کروں گا کہ تقویٰ کی حقیقت منکشف نہیں ہوتی‘ سچا متقی انسان بن نہیں سکتا جب تک صادقوں اور راست بازوں کی صحبت میں رہنے کا اس کو موقع نہ ملے اور ان کی معیت اختیار نہ کرے کیونکہ تقوی اللہ ]ttex [tagکی حقیقت منحصر ہے- اولاً اللہ تعالیٰ کی ہستی پر کامل یقین پر اور یقین بجز خدا تعالیٰ کے راست بازوں کی صحبت میں رہنے کے پیدا نہیں ہوتا کیونکہ اس صحبت میں رہ کر وہ اللہ تعالیٰ کے عجائبات قدرت کو مشاہدہ کرتا ہے اور خارق عادت امور کو دیکھتا ہے جو انسانی طاقتوں اور ارادوں سے بالاتر ہوتے ہیں- ان امور اور عجائبات کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ پر ایمان پیدا ہونے لگتا ہے اور پھر اس کی صفات پر یقین آتا ہے جس سے تقویٰ اللہ کی حقیقت اس پر کھلنے لگتی ہے اور وہ متقی بننے لگتا ہے-
    پس سچے عقائد کے اصول میں سے پہلی اصل اللہ تعالیٰ کا ماننا اور اس کی صفات پر ایمان لانا ہے اور یہ میں نے بتایا ہے کہ یہ ایمان پیدا نہیں ہوتا جب تک صادق کی صحبت میں نہ رہے؟
    اب دوسرا امر عقائد کے متعلق یہ ہے کہ وہ ملائکہ پر ایمان لاوے- ۳~}~
    وجود ملائکہ کے ثبوت کے لئے مجھے کسی فلسفیانہ بحث کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ملائکہ کے وجود کے انکار سے بڑھ کر کوئی حماقت نہیں- دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جس قدر فیوض اور برکات خواہ جسمانی ہوں یا روحانی‘ انسان اللہ تعالیٰ سے پاتا ہے اس کے لئے کچھ نہ کچھ وسائط ضرور ہیں- ان وسائط ہی کو مختلف ناموں سے پکارا گیا ہے اور انہیں سے ملائکہ بھی ایک نام ہے- اس صداقت سے انکار ایسا ہی ہے جیسا وجود آفتاب کا انکار-
    ایمان بالملائکہ کی حقیقت اور غرض جو مجھے سمجھ آئی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے یہ راز معلوم ہوا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کے دل میں جب نیکی کی تحریک ہو معاً اس نیکی کے کرنے کے لئے مستعد اور ہوشیار ہو جاوے اور اگر اس میں ذرا بھی ستی اور کاہلی سے کام لے گا تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ وہ توفیق اس سے چھین لے گا- اور اس کے دل پر ایک حجاب سا چھا جاتا ہے- اسی طرح پر ایمان بالکتب ہے اور پھر رسولوں پر ایمان ہے-
    ایمان بالرسل کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایمان صرف زبانی اقرار کا نام نہیں بلکہ اس کی حقیقت تب پیدا ہوتی ہے جب کہ اس ایمان کے موافق عمل ہو ورنہ وہ ایمان مردہ ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں- دیکھو اونٹ کتنا بڑا جانور ہے- لیکن اگر ایک ہزار اونٹ کی بھی ایک لمبی قطار ہو اور ان سب کی مہار ایک بچے کے ہاتھ میں دے دی جاوے تو وہ بڑی آسانی کے ساتھ ان سب کو لئے چلا جاوے گا- لیکن اگر سو آدمی بھی مل کر ایک اونٹ کو کنوئیں میں گرانا چاہیں تو وہ گرنا پسند نہیں کرے گا اور جہاں تک اس سے ممکن ہو گا وہ اس سے بچے گا- کیوں؟ وہ جانتا ہے کہ کنواں اس کے لئے ہلاکت کا گھر ہے- یہ ایمان کا ایک چھوٹا سا عمل ہے جو حیوان سے ہوتا ہے- پھر کس قدر شرم کی بات ہے کہ ہم انسان کہلا کر ان باتوں پر عمل نہ کریں جن کو ہم ایمانیات کی ذیل میں مانتے ہیں- ایمان بالرسل بھی ایک عظیم الشان شعبہ ایمان کا ہے- آج کل دنیا میں برہموازم بہت پھیلا ہوا ہے- ہر ایک شخص اپنی ہی مرضی اور رائے کو پسند کرتا اور اسی پر عمل کرنا چاہتا ہے- لیکن میں سچ کہتا ہوں یہ بات اصلی ترقی کے خلاف اور صریح متضاد ہے- جو فیوض اور برکات قوم پر بہ حیثیت قوم نازل ہوتے ہیں وہ انفرادی حالت میں نہیں سکتے لیکن قوم کے لئے قوم بننے کے واسطے شخصی رائوں کو چھوڑ کر ایک ہی امام کی اتباع ضروری ہوتی ہے- پس انبیاء و رسل کی ایک بڑی غرض بعثت کی یہ بھی ہوتی ہے کہ لوگ اپنی رائوں کو چھوڑ دیں اور اس مقتدا اور مطاع کی باتوں کو مانیں اور ان پر عمل کریں- اس ایک امر سے انسان کے قلب پر بڑے بڑے فیض حاصل ہوتے ہیں اور اخلاق فاضلہ اور بہت سی نیکیوں سے اسے حصہ ملتا ہے- خودپسندی‘ خود غرضی‘ تکبر اور انانیت جیسے رذائل سے نجات ملتی ہے جو اس کو صداقت کے قبول کرنے سے روکنے والے ہوتے ہیں-
    انبیاء و رسل اور دوسرے ریفارمروں اور لیڈروں میں ایک عظیم الشان فرق ہوتا ہے جس کو کبھی بھولنا نہیں چاہئے- اور وہ یہ ہوتا ہے کہ انبیاء و رسل جس امر کی تعلیم دیتے ہیں وہ خود اپنے نمونہ سے دکھا دیتے ہیں اور اس کے نتائج اور ثمرات کا بھی مشاہدہ کرا دیتے ہیں- خیالی ریفارمروں اور اصلاح کے مدعیوں میں یہ بات قطعاً نہیں ہوتی- غرض ایمان بالرسل بہت بڑی ایمانی جزو ہے- اعمال صالحہ اعمال صالحہ ہوتے ہی نہیں کیونکہ جو فعل خواہ وہ کیسا ہی نیک کیوں نہ ہو نیک نہیں کہلاتا جب تک انبیائ|ورسل کے افعال کے نمونہ پر نہ ہو- دنیا اس وقت حضرت امام کے دعویٰ کو سن کر حیران ہو رہی ہے اور آپ کی مسیح ابن مریم کے ساتھ مماثلت کو حیرت کے ساتھ دیکھ رہی ہے لیکن مجھے تعجب ہے کہ یہ لوگ مسلمان کہلا کر ایمان بالرسل رکھ کر کیوں تسلیم نہیں کرتے- کیونکہ اگر انبیاء کی بعثت سے ایک آدمی بھی ان کے رنگ میں رنگین نہیں ہوتا اور وہی خوبو اپنے اندر پیدا نہیں کر سکتا تو اس صورت میں ماننا پڑے گا کہ معاذ اللہ وہ محض ناکام رہا اور یہ صحیح نہیں ہے- غرض ایمان بالرسل بھی عقائد صحیحہ میں سے ایک امر اہم ہے-
    پھر عقائد میں سے ایک عظیم الشان مسئلہ جزا و سزا پر یقین کرنا ہے- اس مسئلہ کے ماننے کے بغیر انسان نیکیوں کی طرف قدم نہیں اٹھا سکتا- یہ مسئلہ حقیقت میں بہت بڑی ترقیوں کا بنیادی پتھر ہے- کیونکہ جب انسان مسئلہ جزا و سزا پر یقین رکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میرے فلاں فعل کی جزاء یہ ہو گی- اگر وہ فعل بد ہے تو اس ے اجتناب کرے گا اور اگر وہ فعل نیک ہے تو اس کے کرنے کے لئے چست اور چالاک ہو گا- یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اس مسئلہ کو عقائد میں داخل کیا ہے اور میں اپنے تجربہ ے کہتا ہوں کہ اگر اس اصل کو محکم طور پر دل میں جگہ دی جاوے اور اس کی حقیقت کو سمجھ لیا جاوے تو انسان کو بہت سی نیکیوں کی توفیق مل جاتی ہے اور اس ایک اصل کو چھوڑنے اور غافل ہونے سے بہت لوگ ہلاک ہوئے ہیں- ۴~}~
    پھر دوسرا جزو ایمان کا جس سے تکمیل ہوتی ہے شفقت علی خلق اللہ کہلاتا ہے- مخلوق کی ہمدردی اور نوع انسان کی بھلائی کے لئے اپنے مال سے کچھ خرچ کرے- رنج میں‘ راحت میں‘ عسر میں یسر میں‘ مصیبت میں‘ خوشی میں ہر حال میں قدم آگے بڑھائے- کسی حال میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ ہو- اور یہ ساری باتیں اس سے پیدا ہوتی ہیں کہ صادقوں کا ساتھ دے- صادقوں کے ساتھ کے بغیر تقویٰ کی حقیقت کھلتی ہی نہیں- دقائق تقویٰ کا پتہ ہی نہیں لگتا جب تک انسان صادقوں کی صحبت میں نہ رہے- یہ ایک نہایت غلط خیال ہے جو انسان اپنے دل میں سمجھ لیتا ہے کہ میں نیکی کرتا ہوں- مخلوق الٰہی پر شفقت بھی کرتا ہوں- محب ملک اور قوم ہوں- تہجد گذار ہوں اور یقین کے اصل مقام پر کھڑا ہوں- مجھے کسی صادق کی صحبت میں رہنے کی کیا ضرورت ہے؟ اس قسم کا خیال نفس کا دھوکا ہے جو گمراہی کی طرف لے جاتا ہے- یہ ایک قسم کا برہموازم ہے- ا فتومنون ببعض الکتاب و تکفرون ببعض )البقرۃ:۸۶( کیا تم قرآن کے بعض حصوں پر ایمان لاتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو- یہ انکار کتاب اللہ نہیں تو کیا ہے؟ جب کہ کونوا مع الصادقین )التوبۃ:۱۱۹( کی ہدایت کی گئی ہے- پھر اس حکم کی ضرورت نہ سمجھنا اور عملی طور پر اس کو بے کار ٹھہرانا اس سے بڑھ کر کس قدر ظلم اور حماقت ہو گی؟ اتقوا اللہ text] [tag جو لوگ ایسا کرتے ہیں کہ قرآن شریف کے بعض حﷺ کا انکار کرتے ہیں خواہ علمی طور پر‘ خواہ عملی‘ وہ یاد رکھیں ان کی پاداش اور سزا بہت خطرناک ہے- خزی فی الحیٰوۃ الدنیا )البقرۃ:۸۶( اسی دنیا میں وہ ذلیل ہو جائیں گے- اور اب دنیا کی تاریخ کو پڑھ لو اور انبیاء علیہم السلام کے معاملات پر غور کرو کہ جن لوگوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا بلکہ انکار کیا ان کا انجام کیا ہوا؟ کیا وہ اسی دنیا میں ذلیل اور خوار ہوئے ہیں یا نہیں؟ جہاں تک تاریخ پتہ دے سکتی ہے یا آثار الصنادید سے پتہ مل سکتا ہے وہاں تک صاف نظر آئے گا کہ خدا تعالیٰ کا یہ ارشاد صاف اور ثابت شدہ امر ہے-
    میں اس معیت صادق کو حصول نیکی اور حصول تقویٰ کے لئے ایک ضروری چیز سمجھتا ہوں- بغیر اس کے حقیقی نیکی کو انسان سمجھ سکتا ہی نہیں اور رضاء الٰہی کے طریق اس کو معلوم ہی نہیں ہو سکتے- ایک انسان اپنے جیسے انسان کی‘ خواہ اس کی صحبت میں بھی رہے‘ رضامندی کے طریق کو بدوں اس کی اطلاع اور تفہیم کے جب معلوم نہیں کر سکتا تو پھر اللہ تعالیٰ کی رضا کا علم اس کو کس طرح ہو سکتا ہے جب تک خود الہام الٰہی نہ ہو- اور ہر شخص چونکہ ایسی استعداد اور قابلیت نہیں رکھتا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ سے یہ قانون مقرر کیا ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام کو بھیجتا ہے جو براہ راست مکالمہ الٰہی کا شرف حاصل کرتے ہیں اور پھر وہ نوع انسان کو ان امور سے اطلاع دیتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ ہوتے ہیں- اور پھر ان آثار اور نتائج کو جو رضاء الٰہی کا ثمرہ کہلاتے ہیں وہ اپنے وجود میں دکھاتے ہیں جس سے واقعی طور پر پتہ لگتا اور یقین بڑھتا ہے کہ ہاں یہی بات ہے جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے اور یہی حقیقی نیکی ہے- اسی لئے میں نے بتایا ہے کہ نیکی‘ کامل نیکی اس وقت ہوتی ہے جب وہ اللہ تعالیٰ کے فرمودہ کے موافق ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کے مطابق ہو-
    صادق کی صحبت اور راست باز کے ساتھ ہو نیکی ضرورت کا مضمون بڑا وسیع مضمون ہے اور اس کے بہت سے پہلوئوں پر بحث کی جا سکتی ہے لیکن میں مختصر طور پر اس کے متعلق کہوں گا- قانون قدرت میں اس کے نظائر موجود ہیں- خود انسانی جسم کی ساخت اور بناوٹ میں اس کے نمونے نظر آتے ہیں-
    قوموں کی عظمت و جبروت پر نظر کرو اور ان اسباب کی تحقیقات کرو جو اس کی عظمت کا اصل باعث ہوتے ہیں- انجام کار تم کو اس نتیجہ پر پہنچنا پڑے گا کہ وہ کسی راستباز کی معیت اور صحبت کا نتیجہ ہیں- یہ امر الگ ہے کہ بعد میں اور اسباب بھی اس کے ساتھ مل گئے ہوں-
    میں ایک موٹی تمثیل کے ساتھ اس مضمون کو ذہن نشین کراتا ہوں- پہاڑوں کی طرف نگاہ کرو- پہاڑ کا لفظ ہی انسان کے اندر ایک عظمت اور شوکت اس کے نام کی پیدا کرتا ہے- مگر اصل کیا ہے ذرات کا مجموعہ ہے- اب اگر یہ ذرات پراگندہ اور منتشر حالت میں ہوتے تو کیا ہم ان کا نام پہاڑ رکھ سکتے؟ ہرگز نہیں- یہی ذرات منتشر حالت میں بے شمار تعداد میں تھلوں میں موجود ہوتے ہیں- کیا کوئی کہتا ہے کہ یہ پہاڑ ہیں؟ کبھی نہیں- پس اگر یہ ذرات حالت منتشر میں ہوتے تو تھلوں سے زیادہ ان کی شوکت اور وقعت نہ ہوتی اور وہ مفاد اور منافع‘ جو اس ہیئت مجموعی میں جو پہاڑ کی ہے‘ دنیا کو پہنچتے ہیں نہ پہنچ سکتے- حالت اجتماعی میں پہاڑوں سے چشمے نکلتے ہیں‘ دریا بہتے ہیں‘ ندیوں نالوں سے سلسلہ جاری ہوتا ہے- عجیب عجیب قسم کے میوے‘ قسم قسم کی لکڑیاں اور دوائیوں کے سامان پہاڑوں سے حاصل ہوتے ہیں یہاں تک کہ بعض بعض مقامات پر بڑی بڑی گرانقدر کانیں بھی نکلتی ہیں- غرض ہر ہر قسم کی راحت اور آسائش اور نعمتوں کا سامان ایک طرح پر پہاڑوں سے حاصل ہوتا ہے- اور بالمقابل انفرادی حالت تھلوں کی دیکھ لو کہ ریت اڑتی ہے- نہ پیداوار ہو سکتی ہے نہ کوئی درخت ہی پیدا ہوتا ہے نہ کچھ اور- غرض ہر طرح سے بربادی بخش اور مہیب نظارہ ہے- اس زمانہ میں )جو علوم کا زمانہ کہلاتا ہے اور ہر قسم کی ایجادیں اور ترقیاں ہو رہی ہیں( ان علوم|مروجہ سے معلوم ہوا ہے کہ اجزا کے تفریق سے علیحدگی‘ کمزوری اور توافق سے تقویٰ پیدا ہوتی ہے- یہ تو جمادات کا نظارہ ہے جو میں نے دکھایا ہے-
    اب نباتات کو لو - اس درخت کو دیکھ لو جو اس مسجد میں سامنے کھڑا ہے- اس کی شاخیں جو اس کے ساتھ لگی ہوئی ہیں یہ کیس سرسبز اور خوش نما ہیں- ان کی ہر حالت اور ہر صورت خوبصورت معلوم ہوتی ہے- اس وقت جو غذا ان کو اس درخت کی جڑ کے ذریعہ اور پھر اس کے بڑے تنے کے ذریعہ‘ جن کے ساتھ ان کا پیوند ہے‘ پہنچتی ہے وہ بہر حال حصہ رسدی سے پہنچتی ہے- لیکن باوجود اس کے بھی وہ شاداب اور سرسبز ہیں- اب ان میں سے ایک شاخ کو کاٹ لو اور اس کو عین بہار کے موسم میں کاٹ لو جبکہ خشک درخت بھی کوئی نہ کوئی پتہ نکال لیتے ہیں اور ایک بڑے تالاب میں اس شاخ کو رکھ دو اور نتیجہ کا انتظار کرو- کیا ہو گا ؟ وہ شاخ مرجھا جائے گی- خشک ہو جائے گی- آخر سڑ جائے گی جو تھوڑی دیر پہلے درخت کے ساتھ رہ کر انسانی زندگی کے لئے ایک نفع رساں اور راحت بخش ہوا کا ذریعہ تھی- وہی شاخ اس سے الگ ہو کر مضر صحت مواد اور اسباب پیدا کرنے کا ذریعہ ہو گئی- باوجودیکہ اسے پہلے سے زیادہ|پانی میں رکھا گیا مگر وہ اس کے لئے آب حیات کی بجائے زہر کا کام دے رہا ہے- اب اس کے ہرے بھرے رہنے اور مثمر ثمرات اور نفع رساں ہونے کی کیا توقع ہو سکتی ہے- کوئی نہیں- لیکن وہی|شاخ جب درخت کے ساتھ اس کا پیوند ہوتا ہے کیسے ثمرات لاتی اور پھر پھول لا کر انسان کے لئے‘ حیوانات کے لئے مفید اور نافع ہوتی ہے- اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی بزرگ اور عظیم تنہ کے ساتھ کا پیوند ہی اس کے لئے مفید اور مثمر|ثمرات ہونے کا باعث تھا اور وہ الگ ہو کر کبھی کوئی مفید شے نہیں ہو سکتی- ۵~}~
    امام کی ضرورت ایک ایسی ضرورت ہے کہ اس سے کوئی سلیم الفطرت تو انکار نہیں کر سکتا ہاں جو انکار کرتا ہے وہ اپنے آپ کو کیسا ہی دانشمند‘ تجربہ کار اور نیک سمجھتا ہو لیکن میں اس کو سب سے بڑھ کر بیوقوف‘ ناوافق اور خطا کار قرار دوں گا کیونکہ وہ بدیہی باتوں سے انکار کرتا ہے- درخت کی مثال سے میں بتا چکا ہوں کہ کس طرح پر ٹہنیوں کو سرسبز و شاداب رہنے اور بارور ہونے کے لئے درخت کے ساتھ حقیقی پیوند ضروری ہے- اپنی نظر کو ذرا اور وسیع کرو اور ریل گاڑی کی طرف دیکھو- ایک ٹرین جس میں سٹیم انجن نہ لگا ہوا ہو اس میں خواہ کیسی ہی مصفا اور شاندار گاڑیاں لگی ہوئی ہوں لیکن سٹیم انجن کے نہ ہونے کے سبب ان میں کوئی حس و حرکت پیدا نہیں ہو گی اور وہ منزل مقصود تک نہیں پہنچیں گی-
    حیوانات پر غور کرو- مرغی کے بچے اگر متفرق کر دیئے جاویں تو خواہ ان کو کیسی ہی غذا دو لیکن اگر وہ مرغی کے پروں کے نیچے آ کر اس کی حرارت سے حصہ نہیں لیتے تو وہ زندہ نہیں رہ سکتے- ان کو چیلیں اور دوسرے جانور ہی کھا جائیں گے-
    غرض یہ تو سچ ہے کہ مادہ نشو و نما پاتا ہے لیکن تعلق کے ساتھ- اسی طرح پر جب دنیادار قومیں جب کوئی انجمن یا سوسائٹی بناتی ہیں اور مل کر کوئی کام کرتے ہیں اس وقت باوجودیکہ کثرت رائے پر فیصلہ ہوتا ہے لیکن اس پر بھی ان کو اپنا ایک میر مجلس یا پریذیڈنت منتخب کرنا پڑتا ہے- اس کا فیصلہ قطعی اور آخری فیصلہ ہوتا ہے- جمہوری سلطنتوں کو بھی پریذیڈنٹ کی ماتحتی ضروری ہوتی ہے باوجودیکہ وہ بڑے آزاد رائے اور آزادی پسند ہوتے ہیں- پھر جب عام نظارئہ قدرت اور موجودات میں وحدت ارادی کے پیدا کرنے کی ضرورت ایک عام ضرورت سمجھی جاتی ہے اور انسان کی مادی ترقیات کی جڑ میں بھی وحدت|ارادی کی روح کام کر رہی ہے پھر کیسا نادان اور بیوقوف ہے وہ انسان جو علوی اور روحانی امور میں اس کی ضرورت نہیں سمجھتا-
    میں نے اس مسئلہ پر گھنٹوں اور منٹوں سے لے کر دنوں اور ہفتوں بلکہ مہینوں اور سالوں تک غور کی ہے اور میں سچ کہتا ہوں کہ جس قدر میں اس مضمون پر سوچتا گیا ہوں خاص ذوق اور سرور کے ساتھ اس کی باریک باتیں مجھ پر کھلتی گئی ہیں یہاں تک کہ اس وحدت کے نظارہ میں میں اوپر چڑھتا گیا اور میں نے دیکھا کہ واحد لاشریک خدا کے لئے وحدت کا نظارہ ضروری ہے- خدا جو اسماء حسنیٰ کا مرکز ہے اگر اس کی صفات پراگندہ ہوتیں تو خدائی ہی نہ چلتی- اسی طرح پر وہ جامع جمیع صفات کاملہ ہستی چاہتی ہے کہ اجزائ|متفرقہ کا جو مجموعی طور پر ہیں‘ اتحاد ہو-
    یہی وجہ ہے کہ کشش اتصال کا وجود اس نے رکھا ہے جو ذرات متفرقہ کو باہم ملاتی ہے- انفرادی حالت میں فیوض و برکات کا نزول نہیں ہوتا بلکہ اس میں بھی توسط کی حاجت ہوتی ہے- یہ کشش قابل جوہروں کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور ان کو ان منافع اور برکات کا وارث ٹھہرا دیتی ہے جو اتحاد سے پیدا ہوتی ہیں- جس طرح پر امور مادی میں میں نے یہ ضرورت دکھائی ہے آسمانی اور روحانی معاملات میں بھی ایک صاحب|کشش امام کی ضرورت ہوتی ہے- وہ اپنی کشش سے پاک فطرت اور سعیدوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے- اور پھر اس تعلق سے جو ان میں پیدا ہوتا ہے اس قوت اور طاقت کو نشو و نما ہوتا ہے جو فیوض الٰہی کے جذب کرنے کا ذریعہ ٹھیرتی ہے- یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے فیوض و برکات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور یہ وہ سلسلہ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں ان الفاظ میں فرمایا ہے ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا تتنزل علیھم الملٰئکۃ )حٰم السجدہ:۳۱-(قالوا ربنا اللہ کی حالت اور کیفیت مجرد زبان سے کہہ دینے سے پیدا نہیں ہو سکتی بلکہ یہ ایک کیفیت ہے کہ اس کا ظہور اور بروز نہیں ہوتا جب تک خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندہ کی صحبت میں رہنے کا موقع حاصل نہ ہو اور اس کے ساتھ ہی سچا پیوند اور رشتہ قائم نہ ہو-
    یہ مسئلہ چونکہ ایک باریک مسئلہ ہے اسی لئے میں نے پہلے عام نظارئہ|قدرت کی مثالوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وحدت ارادی فیوض کا وارث بناتی ہے لیکن یہ بیان کرنا کہ وہ برکات اور فیوض جو خدا تعالیٰ کے ماموروں اور صادقوں کے ساتھ تعلق پیدا کرنے سے ملتے ہیں وہ کس طرح پر نازل ہوتے ہیں یہ ایک کیفیت ہے جس کو بیان کرنا مشکل ہے- اسی لئے میں نے بتایا ہے کہ جس طرح پر مرغی اپنے انڈوں کو پروں کے نیچے لے کر بیٹھتی ہے اور اپنی گرمی پہنچاتی ہے اور اس گرمی سے اس مادہ میں جو انڈوں کے اندر نشو و نما پانے کی قابلیت رکھتا ہے ایک خاص قسم کی حرارت جو زندگی کی روح رکھتی ہے پیدا ہونے لگتی ہے اور معلوم نہیں ہو سکتا کہ وہ روح کدھر سے آئی اور کس وقت- اسی طرح پر جب انسان ایک مامور کے ساتھ سچا تعلق پیدا کرتا ہے تو اندر ہی اندر اس کی پاک تاثیریں‘ عقدہمت‘ دعائیں اس تعلق پیدا کرنے والے انسان میں ایک نیا نفخ روح کرتی جاتی ہیں اور اس میں نئی زندگی کے آثار پیدا ہوتے ہیں- اس کی صحبت میں رہ کر اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایک نیا ایمان پیدا ہونے لگتا ہے جو اس ایمان پر اسے اپنا جان و مال تک نثار کر دینے کی قوت بخش دیتا ہے- وہ ایمان اس کو استقامت کی قوت دیتا ہے اور وہ اس آیت کا مصداق بنتا ہے اور اس طرح پر خدا تعالیٰ کے برکات اور فیوض کا چشمہ اس کی طرف جاری ہوتا ہے اور ملائکہ کا نزول اس پر ہونے لگ جاتا ہے-
    غرض میں اس کیفیت کی گواہی تجربتا" دے سکتا ہوں جو انسان کو خدا تعالیٰ کے ماموروں کے ساتھ تعلق پیدا کر کے‘ ہاں سچا تعلق پیدا کر کے حاصل ہو سکتی ہے- حضرت امام علیہ الصلٰوۃ و السلام نے اس کیفیت کا ایک مرتبہ اس طرح پر اظہار کیا تھا کہ جیسے پانی کی ایک بڑی نالی ہوتی ہے مامور من اللہ اس نالی کی مانند ہوتا ہے اور سچے ارادت مندوں کا اس نالی کے ساتھ اسطرح پر تعلق ہوتا ہے جیسے چھوٹی چھوٹی نالیاں ایک بڑے لوہے کے نل کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہیں اور جب پانی کے چشمہ سے اس بڑے نل میں پانی آتا ہے تو ان چھوٹی نالیوں میں بھی ان کے ظرف کے موافق اور استعداد کے مطابق وہ پانی گرتا جاتا ہے- پس چونکہ امام خدا تعالیٰ کے فیوض و برکات کو براہ راست حاصل کرتا ہے اسی لئے اس سے سچے تعلق رکھنے والے ان برکات کو اس میں ہو کر حاصل کرتے ہیں- میں اس سلسلہ میں دور چلا گیا- میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اسمائ|حسنیٰ کا مرکز اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور وہ تقاضا کرتی ہے کہ اجزاء متفرقہ کو مجتمع کرے اس لئے اجتماع لازمی ہے-
    ساری گاڑیاں اگرچہ اپنے پہیوں سے چلتی ہیں مگر سٹیم انجن کے بدوں وہ پہیے بے کار محض اور نکمے|ہیں اسی طرح پر ہمارے اندر بھی جو قرب کی فطری قوتیں اور طاقتیں ہیں وہ سب کی سب بے کار اور نکمی ہیں اگر کسی سٹیم انجن کے ساتھ ہمارا تعلق نہ ہو- کوئی شاخ مثمر ثمرات نہیں ہو سکتی جبتک اصل درخت کے ساتھ اس کا تعلق نہ ہو- کوئی بچہ نشو و نما نہیں پا سکتا جبتک ماں کی گود میں نہ ہو- اسی اصل اور بنا پر اللہ|تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے یٰایھا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ و کونوا مع الصادقین یعنی ایمان باللہ والو تقویٰ اختیار کرو- اور تقویٰ اختیار کرنے کی راہ یہ ہے کہ صادقوں کی صحبت میں رہو- مجھے اپنے طالب علمی کے زمانہ کا ایک واقعہ یاد ہے- جب میں ہندوستان میں تعلیم پاتا تھا تو میرے ایک مہربان تھے جو بڑے ہی پرہیزگار اور صالح آدمی تھے ان کا نام شاہ عبد الرزاق تھا- وہ رامپور روہیل کھنڈ میں رہتے تھے اور سید احمد بریلوی کے معتقد تھے- میں عموماً ان کی ملاقات کے واسطے جایا کرتا تھا اور ان کے پاس بیٹھا کرتا تھا- ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ کئی دن تک مجھے ان کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع نہ ملا- اس غیر حاضری کے بعد جب میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے پوچھا کہ تم اتنے دنوں تک کیوں نہیں آئے؟ میں نے عرض کی کہ یونہی آنا نہیں ہو سکا- اس پر مجھے فرمایا کہ کیا تم کبھی قصاب کی دوکان پر بھی نہیں گئے ہو-؟ دو تین مرتبہ اس فقرہ کو دہرایا مگر میری سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ اس سے آپ کا کیا مطلب ہے اور میری غیر حاضری اور حاضری کو اس سے کیا تعلق؟پھر آپ نے ہاتھ کے اشارہ کے ساتھ سمجھایا کہ دیکھو قصاب تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد اپنی دونوں چھریوں کو کس طرح باہم رگڑ لیتا ہے حالانکہ بظاہر اس کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی- اس سے عارف کو سبق لینا چاہئے کہ دنیا کے دھندوں اور تعلقات میں انسان کے قلب پر ایک قسم کا زنگ چڑھ جاتا ہے اور معرفت کی تیزی جلد کند ہونے لگتی ہے جس کے واسطے ضروری ہے کہ انسان وقتا" فوقتا" صادقوں کی صحبت میں رہ کر اس زنگ کو دور کرتا رہے اور ان کی نیک صحبت سے اس تیزی اور جلا کو قائم رکھے-
    قرآن کریم میں اسی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ہے یٰایھا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ و کونوا مع الصادقین-میں سچ کہتا ہوں اور اپنے تجربہ کی بنا پر کہتا ہوں‘ بے|شمار کتابوں کے پڑھنے نے مجھے اتنا فائدہ نہیں دیا جس قدر خدا تعالیٰ کے صادق بندوں کی صحبت نے مجھے فائدہ پہنچایا ہے اور اب میں سالہا سال سے تجربہ کر رہا ہوں کہ قادیان میں بیٹھ کر جس قدر فائدہ میں نے اٹھایا ہے اپنی ساری عمر میں نہیں اٹھایا جو قادیان سے باہر بسر کی ہے-
    اور چونکہ انسان کی فطرت میں یہ امر اللہ تعالیٰ نے رکھا ہوا ہے کہ وہ نفع رساں اشیاء کو لینا چاہتا ہے اور مضر اور نقصاں رساں سے بھاگتا ہے اسی لئے میں قادیان سے باہر ایک دم گذارنا بھی موت کے برابر سمجھتا ہوں- یہی وجہ ہے کہ میں قادیان سے باہر ہزاروں روپیہ پیش کرنے کی صورت میں بھی جانا نہیں چاہتا- ہاں اگر کبھی نکلتا ہوں تو محض اس لئے کہ اس پاک وجود کا حکم ہوتا ہے جس کے حضور حاضر رہ کر یہ عظیم|الشان فائدہ اٹھا رہا ہوں جس نے ہزاروں نہیں لاکھوں بلکہ دنیا کے سارے مال و متاع سے مجھے مستغنی کر دیا ہے-
    میں نے یہ باتیں اس لئے نہیں کی ہیں کہ میں تمہیں یہ بتائوں کہ امام کے ساتھ میرا کیسا تعلق ہے انما الاعمال بالنیات- میری غرض فقط یہ ہے کہ میں تم لوگوں کو خصوصاً ان دوستوں کو جو مجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں ان فوائد سے اطلاع دوں جو مجھے یہاں رہ کر حاصل ہوئے ہیں اور جنہوں نے دنیا کی ساری دولت کو میرے سامنے ہیچ کر دیا ہیتاکہ وہ بھی یہاں رہ کر وہ بات حاصل کریں جو حضرت امام کے آنے کی اصل غرض ہے اس امر کے اظہار سے میری یہ بھی ایک غرض ہے کہ ان لوگوں کو ابتلاء سے بچائوں جو کبھی کبھی بدظنی کر بیٹھتے ہیں کہ میں دوسروں کو حقیر سمجھ کر بلانے پر قادیان سے باہر نہیں جاتا- تم جو یہاں موجود ہو یاد رکھو- خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے‘ ہاں اپنے ہی فضل سے مجھے اس راہ کی ہدایت فرمائی ہے کہ الٰہی فیوض و برکات کے حصول کا اصل ذریعہ ایمان باللہ اور تقویٰ ہے-
    مگر ایمان باللہ اور تقویٰ اللہ کی حقیقت اور کیفیت پیدا نہیں ہو سکتی جب تک کہ صادق کی صحبت میں نہ رہے اور مجھے اپنی ذات پر تجربہ کرنے سے اس کی قدر معلوم ہوئی ہے اس لئے میں کھول کر کہتا ہوں کہ اگر چاہتے ہو کہ وہ انوار سماوی اور روحانی برکات حاصل کرو جو روح کے تقاضوں کی انتہا ہیں تو سنو! یہاں آئو اور صادق کی صحبت میں رہو اور اس سے وہ فیض لو جو وہ لے کر آیا ہے- غرض مامور من اللہ اور صادق کی صحبت اور معیت ضروری ہے-
    یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ کوئی انسان اس قابل نہیں ہوتا کہ وہ اپنی ہی ذات پر بھروسہ کرے اور اپنی تجویزوں اور تدبیروں سے اعلی کامیابیوں تک پہنچے- اور اس امر کی پروا نہ کرے کہ مامور من اللہ اور صادق کی صحبت میں رہنے سے اسے کوئی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے- اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ بیوقوف ہے‘ اپنا دشمن ہے- دیکھو خیر القرون میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا قرن تھا خدا تعالیٰ کے برکات اور فیوض کی بارش کا وقت تھا- لیکن کل عرب و عجم نہیں‘ ساری دنیا میں سے مکہ کو جو ام القریٰ ہے منتخب فرمایا اور سارے مکہ میں سے قریش کو اور قریش میں سے بنی ہاشم کو اور پھر عبد اللہ اور آمنہ کے بیٹے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو جو دنیا کو ان انوار و برکات سے بہرہ ور کرے- پھر خیر القرون میں صحابہ نے اور تابعین اور تبع|تابعین نے کیسی ترقی کی؟ انہوں نے اپنے سلوک کے منازل کو طے کرنے کے واسطے کیا راہ اختیار کی؟کیا یہ کہ آپ کا اقرار کر لیا‘ آپ کو صادق تسلیم کر لیا اور پھر آپ کے پاس آ کر نہ بیٹھے- اپنے گھروں میںجا کر اپنے کاروبار میں مصروف ہوکر روپیہ کمانے کی فکر میں ہو گئے اور پاس نہ رہنے کے لئے دنیا اور اس کے مخمصوں کا عذر کر دیا؟ سوچو! اور پھر سوچ کر بتائو- میں خود ہی اس سوال کا جواب دے دیتا ہوں- صحابہ نے جس قدر ترقیاں کیں‘ جو جو مدارج عالیہ انہوں نے حاصل کئے ان سب کا اصل سبب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی پاک صحبت اور معیت ہی تھی جس نے ان کے اندر خدا تعالیٰ کی محبت اور عظمت اس درجہ تک کوٹ کوٹ کر بھر دی تھی کہ جس کے مقابلہ میں انہوں نے وطن‘ آبرو‘ عزت‘ راحت‘ دولت‘ آسائش‘ عزیز واقربا‘ غرض دنیا کی کسی چیز اور کسی تعلق کی پروا نہیں کی- اور تو اور انہوں نے اپنی جانوں تک کی پروا نہیں کی- اپنے خون پانی کی طرح بہا دیئے- وہ بات جس نے ہمیں یہ قوت‘ یہ شجاعت و استقامت اور ایثار نفس پیدا کر دیا تھا یہی تھی کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبت میں رہے اور آپ کے ساتھ تعلق کو اتنا شدید کیا اور ایسے وابستہ ہوئے کہ وہ سکینت اور اطمینان جو خدا کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل ہوتی تھی جس نے آپ کا شرح صدر فرمایا- اس تعلق اور محبت کی نالی کے ذریعہ صحابہ کے دل پر بھی اترتی تھی اور ان کے شرح صدر کر کے نور یقین سے بھرتے جاتے تھے- ۶~}~
    وہ محبت اور اخلاص جو صحابہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے تھا اس کے مقابلہ میں انہوں نے نہ وطن کی پروا کی اور نہ عزت و آبرو اور راحت و آرام کو مدنظر رکھا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت اور فنا فی الرسول کے مقام کو حاصل کرنے کی کوشش کی اور خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس میں پورے کامیاب ہوئے-
    عرب جیسی اکھڑ اور آزاد خود رائے قوم تھی لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی فیض صحبت سے مستفیض ہوئے تو ان کی یہ حالت تھی کہ اگر کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی پاک مجلس میں ان کو دیکھتا تو اسے صرف بت نظر آتے- ہر ایک اپنی اپنی جگہ خاموش بیٹھا ہے اور اتنا حوصلہ اور جرات نہیں کرتا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے بیان پر پیش دستی کرے اور بولنے لگے- کیوں؟ اس لئے کہ انہیں حکم ہو چکا تھا لا تقدموا بین یدی اللہ و رسولہ )الحجرات:۲( رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے کوئی بات بڑھ کر نہ کرو- یہ چھوٹی سی بات نہیں- اتنی بڑی جماعت کو یہ حکم ہوتا ہے کہ تم کچھ نہیں بول سکتے‘ ہمارے بھیجے ہوئے رسول کی اتباع کرو- لاترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی )الحجرات:۳( یعنی یاد رکھو تم حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کرو بلکہ تم اس کے ماتحت رہو- اصل بات یہ ہے کہ ہر مجلس اور محفل کے کچھ آداب ہوتے ہیں- اگر ان آداب اور مجلس سے قطع نظر کی جاوے اور پروا نہ ہو تو انسان بجائے اس کے کہ اس مجلس سے فائدہ اٹھاوے اور اس میں کوئی عزت حاصل کرے وہ اس سے نکالا جاتا ہے یا ان فوائد اور منافع سے محروم رہ جاتا ہے جو اس مجلس میں بیٹھنے والوں کو ہوتے ہیں- دنیا کے حاکموں اور عہدہ داروں کے درباروں میں جائو تو تمہیں آگاہ کیا جاوے گا کہ وہاں کس طرح پر بیٹھنا ہے اور کس طرح ہونا ہے- مکارم اخلاق کی کتابوں میں آداب مجلس اور آداب گفتگو وغیرہ وغیرہ جدا جدا باب مقرر کیے ہیں- اس لئے کہ اخلاق فاضلہ کے حصول کے واسطے آداب وقواعد کی پابندی ضروری ہے- پر صاحب خلق عظیم علیہ الصلوٰۃ و التسلیم کی پاک مجلس سے سعادت اندوزی کے لئے کیا پابندی آداب کی ضرورت نہیں ہے؟ ہے اور ضرور ہے- صحابہ کی کامیابیوں اور روحانی مدارج کی ترقیوں اور منازل سلوک کے طے کرنے کا اصل راز یہی تھا کہ انہوں نے فنا فی الرسول ہونے کی حقیقت کو سمجھ لیا تھا اور وہ ایک دم کے واسطے بھی آپ کی اطاعت سے قدم باہر نکالنا نہیں چاہتے تھے اور انہوں نے قدم باہر نہیں رکھا-
    اعمال صالحہ کی حقیقت اسی لئے یہ بتائی گئی ہے کہ کوئی عمل‘ عمل صالح نہیں کہلاتا جب تک کہ اس میں دو شرطیں نہ پائی جائیں-
    اول یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور فرمان کے موافق اور ماتحت ہو-
    دوم وہ اس طریق پر ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا طرز عمل ہے- پہلی شرط کا نام اخلاص ہے اور دوسری کو صواب کہتے ہیں-
    صحابہ نے اس راز کا پتہ لگا لیا تھا- اس واسطے وہ وہی کرتے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی کامل اطاعت اور اتباع کا رنگ رکھتا ہو- کیونکہ انہوں نے یہ آداب الرسول کی آیتیں سنی ہوئی تھیں- وہاں انہوں نے کلام الٰہی کو اس طرح پر بھی سنا تھا- قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ )اٰل عمران:۳۱( یعنی اے رسول )صلی اللہ علیہ سلم( ان کو کہہ دو کہ اگر تم چاہتے ہو کہ محبوب|الٰہی بن جائو تو میری اطاعت کرو‘ اللہ تعالیٰ تم کو دوست رکھے گا- پس وہ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بننے کی ایک ہی راہ ہے اور ایک ہی کلید- اور وہ ہے اتباع نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم-
    صحابہ کرام کو جو یہ حکم دیا گیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کرو اور محبوب|الٰہی بننے کا جو یہ گر ان کو بتایا گیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی کامل اتباع کرو‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ علیحدہ علیحدہ ترقی نہیں کر سکتے- اور نہ ترقی کرنے کا یہ اصول ہے کہ انفرادی طور پر ترقی کریں- بلکہ انبیاء و رسل کے ماتحت ترقی کرنے کا اصل الاصول یہی ہے کہ سب کے سب اکٹھے ہو کر اس کی اطاعت اور نقش قدم پر چلنے میں ایسے فنا ہوں کہ اسی کا عکس اور نمونہ بننا چاہیں- اور اس کے سایہ میں اس طرح پر جمع ہو جائیں جیسے مرغی کے پروں کے نیچے بچے جمع ہو جاتے ہیں-
    جو لوگ انبیاء و رسل علیہم الصلوٰۃ و السلام کی سیرت اور پاک لائف کو پڑھتے ہیں جو قرآن کریم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرز زندگی پر نظر کرنے سے ملتی ہے- کیونکہ آپ مجموعی طور پر کل نبیوں کی صفات اور کمالات کو لے کر آئے تھے اور جہاں ایک طرف آپ نوع انسان کے اکمل افراد میں سب سے اعلی تھے اور سب کی خوبیوں اور کمالات کے جامع تھے وہاں کل دنیا کی اصلاح اور ہمیشہ تک کے لئے مصلح اور ریفارمر ہو کر آئے تھے- اس واسطے جس قدر نبی دنیا میں گذرے ہیں یا جس قدر خوبیاں اور کمالات انسان میں انتہائی درجہ تک ہو سکتے ہیں وہ سب آپ میں موجود تھیں- اس لئے آپ ہی کی لائف پر غور کرنا کل نبیوں کی سیرت کو پڑھ لینا ہے- مگر مجھے اس مقام پر پہنچ کر دل پر ایک ٹھوکر لگی ہے اور سخت درد محسوس ہوا ہے کہ آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت اور لائف پڑھنے والے اور اس کو اسوہ بنانے والے بہت ہی کم ہیں- مسلمانوں کا فرض تھا کہ آپ کی سیرت کو تدبر سے پڑھتے مگر انہوں نے نہیں پڑھا-
    حضرت عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا خلق قران کریم ہے اور قرآن کریم کی طرف جو کچھ توجہ مسلمانوں کو ہے اس کے لئے یہ آیت بالکل صحیح ہے یٰرب ان قومی اتخذوا ھٰذا القراٰن مھجوراً )الفرقان:۳۱-( قرآن شریف ہی آپ کی پاک سیرت ہے اور اسی کی طرف مسلمانوں کو توجہ نہیں- باوجودیکہ وہ بہت ہی ذلیل حالت تک پہنچ گئے ہیں لیکن ابھی تک بھی وہ بیدار نہیں ہوئے- اور اصل باعث جو ان کی تباہی اور ذلت کا ہے اس کو نظرانداز کر کے یورپ کی اتباع سے اور مغربی فلسفہ کو اسوہ بنا کر مسلمان کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتے اور ہرگز نہیں کر سکتے- ترقی کی ایک ہی راہ ہے اور وہ وہی ہے جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اختیار کی تھی- اور وہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو اسوہ بنانا- کیونکہ اللہ تعالیٰنے آپ ہی کو اسوہ حسنہ ٹھہرایا ہے لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ )الاحزاب:۲۲-(بات کچھ اور تھی اور میں اس سلسلہ میں ادھر چلا گیا- میں نے ایسا عمداً اور ارادتاً نہیں کیا- یہ میرے دل میں ایک درد تھا اور ہے کہ مسلمان بلندی سے گرے ہیں اور پھر ابھرنے اور گڑھے سے نکلنے کے لئے گھاس پھوس کو ہاتھ مارتے ہیں اور اس مضبوط رسی کو جس کی بابت کہا گیا تھا و اعتصموا بحبل اللہ جمیعاً )اٰل عمران:۱۰۴( چھوڑ بیٹھے ہیں اور اس کی طرف توجہ بھی نہیں کرتے-
    غرض انبیاء علیھم السلام سے فیض ملنے کی ایک ہی راہ ہوتی ہے اور وہ وہی راہ ہے جس کو قرآن شریف میں کونوا مع الصادقین )التوبۃ:۱۱۹( کے الفاظ میں ادا کیا گیا ہے- جب خدا تعالیٰ کا کوئی مامور دنیا میں آتا ہے تو وہ ایک مشین یا کل کی طرح ہوتا ہے- جس قدر لوگ اس کے ساتھ تعلق پیدا کرتے ہیں وہ انفرادی طور پر ترقی نہیں کرتے بلکہ ان کا فرض ہونا چاہئے کہ اس سے ملے رہیں- اگر وہ اس سے ملے نہیں رہتے تو وہ ترقی نہیں کر سکتے اور اس فیض کو جو اس سے ملتا ہے نہیں پا سکتے- جس قدر لوگ محبوب الٰہی بننا چاہتے ہیں ان کو چاہئے کہ اس کا ساتھ دیں اور اس کی سچی اتباع کریں-
    بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو پوچھتے ہیں کہ مامور کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کی ہم کو کیا ضرورت ہے؟ ہم عقائد حقہ سے واقف ہیں اور اعمال صالحہ کی حقیقت سے آگاہ ہیں اور ان کے پابند ہیں- مگر یہ ان کا دعویٰ ہی ہوتا ہے- اگر وہ اس سے واقف اور آگاہ ہوتے تو انکار ہی نہ کرتے- اعمال صالحہ کی حقیقت میں رسول کی سچی اتباع ضروری جزو ہے- پھر اعمال صالحہ سے وہ واقف اور اس کے پابند کیسے ہو سکتے ہیں-
    اور ایک بات یہ بھی ہے کہ بعض امور اصولی طور پر معلوم ہوتے ہیں لیکن ان پر عمل کرنا یا سچا اور حقیقی ایمان پیدا ہونا اور گناہ سے نفرت کرنا اور بچنا یہ باتیں صرف ایک رسمی یا خیالی علم سے نہیں ہو سکتیں- مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں جب کفار کو مخاطب کر کے فرمایا من خلق السمٰوات و الارض لیقولن اللہ )لقمان:۲۶( یعنی جب ان سے پوچھا جاوے کہ خالق السموات و الارض کون ہے تو صاف کہہ دیتے ہیں کہ اللہ ہی ہے- اور اپنی حاجت پرستی کے متعلق بھی وہ یہی سمجھتے اور کہتے تھے- لیقربونا الی اللہ زلفیٰ )الزمر:۴( یعنی خدا تعالیٰ کے قرب میں پہنچاتے ہیں- پھر قرآن|شریف کا ایک سطر میں توحیدی وعظ کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟ وہ کہہ سکتے تھے کہ یہ تو ہم پہلے ہی سے جانتے ہیں- پھر ایسا کون مذہب ہے جو سچ بولنے کو اچھا نہ سمجھتا ہو یا عام اخلاق کی ضرورت محسوس نہ کرتا ہو- اور تو اور بدکار سے بدکار آدمی بھی بدکاری کو برا سمجھتا ہے لیکن یہ نہیں ہوتا کہ وہ اس سے باز بھی رہے اور بدی کو چھوڑ کر نیکی اختیار کرے-
    پس انبیاء علیہم السلام نرا علم دینے کے لئے نہیں آتے ہیں بلکہ وہ اپنے اندر ایک کشش اور جذب کی قوت رکھتے ہیں جس سے دنیا کو اپنی طرف کھینچتے ہیں اور پھر اپنی قوت|قدسی کا اثر ان پر ڈالتے ہیں اور وہ لوگ جو ان کی پاک صحبت میں رہتے ہیں ان کے پاک اور کامل نمونہ سے فائدہ اٹھا کر اپنے اندر بدیوں کو دور کرنے اور رذائل سے بچنے اور فضائل کے حاصل کرنے کی قوت پاتے ہیں- مگر یہ قوت اور طاقت اور توفیق کب ملتی ہے‘ اس وقت جبکہ وہ اس کے فیض صحبت سے بہرہ ور ہوں اور اس کی مجلس کے آداب کی نگہداشت کریں اور ان میں ایسی وحدت ارادی ہو کہ سارے کے سارے ایک کل کے نیچے کام کرتے ہوں- اور سب کے سب حبل اللہ کو مضبوط پکڑے رہیں اور ان کی آوازیں نبی کی آواز پر بلند نہ ہوں- یہ ہے وہ اصل جس سے انسان روحانی کمالات کو مامور کی صحبت میں حاصل کرتا ہے اور صحابہ نے اسی اصل کو مضبوط پکڑ کر سب منازل سلوک طے کیں-
    یاد رکھو قوم قوم نہیں بنتی اور انعام نازل نہیں ہو سکتے جب تک وہ ایک شیرازہ میں جمع نہ ہو- جب تک وہ متفرق اور منفرد حالت میں رہے گی اس کی طاقت کمزور ہو گی اور وہ ان فیوض سے بہرہ ور نہیں ہو سکتی- کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ ایک ہی سرگروہ‘ ایک ہی مرکز اور ایک ہی چشمہ ہو-
    میں نے ایک چھوٹی سی کتاب میں ایک کہانی پڑھی تھی کہ ایک بار انسانی جسم کے اعضا نے باہم مشورہ کیا- پائوں نے کہا کہ مجھے روزی کمانے کے لئے سفر کی کیا ضرورت ہے کھا تو پیٹ لیتا ہے- ایسا ہی ہاتھوں نے کہا کہ مجھے کمانے کی کیا حاجت- آنکھوں نے دیکھنے سے‘ کانوں نے سننے سے‘ غرض ہر ایک عضو نے اپنے اپنے فرض منصبی سے انکار کر دیا- نتیجہ یہ ہوا کہ پیٹ میں جب کچھ نہ گیا تو آخر کل طاقتیں اور قوتیں سلب ہونے لگیں اور جب ہر ایک پر اس کا اثر ہوا تو پھر سب پکار اٹھے کہ یہ ہماری غلطی ہے- پیٹ ہی کے لئے مفید نہ تھا بلکہ ہم سب کی زندگی کا اصل راز بھی یہی اتفاق تھا- اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب تک وحدت ارادی پیدا نہ ہو زندگی پیدا نہیں ہو سکتی-
    صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس راز کو سمجھ لیا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دین و دنیا میں مظفر و منصور ہو گئے- صحابہ کرام نے یہ بات کیسے حاصل کی اور کس طرح سلوک پورا کیا- اس کا ایک نمونہ ان کی سیرت سے معلوم ہوتا ہے- ایک مرتبہ ہادی کامل صلی اللہ علیہ و سلم جمعہ کا خطبہ پڑھ رہے تھے- اثنائے بیان میں آپ نے فرمایا کہ بیٹھ جائو- ابن مسعود ایک گلی میں آ رہے تھے وہاں ہی یہ آواز ان کے کان میں آئی اور معاً وہیں بیٹھ گئے- کسی نے پوچھا کہ آپ یہاں کیوں بیٹھ گئے؟ فرمایا کہ اندر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی آواز آئی تھی کہ بیٹھ جائو- چونکہ اس حکم کی تعمیل ضروری تھی اور یہ معلوم نہیں کہ مسجد تک جانے میں مجھے یہ موقع ملے یا نہ ملے اس واسطے میں یہیں بیٹھ گیا کہ تعمیل ارشاد ہو جاوے- یہ ہے نمونہ صحابہ کی اطاعت اور تعمیل حکم کا- اور جبتک یہی روح اور رنگ مسلمانوں میں پیدا نہ ہو یقینا سمجھ لو کہ کوئی ترقی اور کامیابی نہیں ہو سکتی اور ہرگز نہیں ہو سکتی- خواہ یورپ کے فلسفہ اور ایجاد کو اپنا قبلہ بھی بنا لیں-
    اس طرح پر تم سمجھ سکتے ہو کہ وحدت کی کیسی ضرورت ہے- انسان انسانی کمالات میں ترقی کرنی چاہتا ہے- جمادات اور نباتات بھی اپنے رنگ میں ایک ترقی کرتے ہیں لیکن ان ترقیوں کی تہہ میں بھی یہ راز|وحدت کام کر رہا ہے- اگر وہ اعضاء کسی مرکز کے متبع نہ ہوں تو مردہ اور بیکار ہو جاتے ہیں- اگر یہ اعضا انسانی دوران دم قلب میں شریک نہیں ہوتے تو پھر تھوڑی دیر میں ان کا نتیجہ عام طور پر نظر آ سکتا ہے کہ وہ قویٰ بیکار ہو جاویں-
    یہ خیال کرنا اور سمجھ لینا کہ جو مامور آوے وہ کوئی نہ کوئی نئی بات ہی سناوے یہ حماقت عظیم ہے- انبیاء علیہم السلام تو اس صداقت کی نشو و نما کے لئے آتے ہیں جو فطرت‘ قانون قدرت اور جستہ جستہ فقرات|کتاب میں موجود ہوتی ہے اور ان کی غرض اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان پیدا کرنا اور گناہ کی موت سے بچانے کی تدابیر کا بتانا اور ایک وحدت پیدا کرنا ہوتی ہے- اس مسئلہ کو حضرات صحابہؓ باریک نظر سے دیکھتے تھے اور وہ جانتے تھے کہ کوئی امر بدوں کسی جمعیت کے ہرگز حاصل نہیں ہو گا- نادان قوم نے صحابہ کی باریک عقل کو نہیں پہچانا اور بعض ان میں ایسے بھی ہیں جنہوں نے ان پر اعتراض کر دیا اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد معاً کچھ لوگوں کو خلافت کی فکر پڑی- وہ اعتراض کرنے کو تو اعتراض کرتے ہیں مگر نہیں جانتے- من لم یعرف امام زمانہ فقد مات میتۃ الجاھلیۃ )احمد بن حنبل جلد۴ صفحہ۹۶-(صحابہ اس اصل کو مانتے اور اس پر ایمان لاتے تھے اس لئے انہوں نے پہلے امام کا اقرار ضروری سمجھا- کیونکہ اگر امام نہیں تو یہ کس طرح معلوم ہوتا کہ کہاں دفن کرنا ہے اور کیا کرنا ہے- مختلف الرائے اور مختلف الخیال آدمی موجود تھے- کوئی کچھ کہتا اور کوئی کچھ- لیکن جب ایک امام ہو گیا اور اس کو قوم نے تسلیم کر لیا پھر کوئی امر متنازعہ باقی نہیں رہ سکتا تھا چنانچہ ایسا ہی ہوا- ۷~}~
    اس سے تو صحابہ کی اولوالعزمی‘ ان کی فراست صحیحہ اور وحدت و یکجہتی کی خواہش صادقہ کا پتا ملتا ہے اور یہ فعل ان کا قابل تعریف ثابت ہوتا ہے- مگر نادان معترض اس کو بھی اعتراض سے خالی نہیں چھوڑتا- سچ ہے- ’’ عیب نماید ہنرش در نظر ‘‘ کا معاملہ ہے-
    پھر قرآن شریف چونکہ حکیم خدا کی کتاب ہے اور وہ انسانی قویٰ اور انسانی ضرورتوں کے علم پر حاوی ہے اس لئے وہ ایک اصل کو تو قائم رکھتا ہے اور ضمنی امور کو اس حد تک‘ جہاں تک انسان کی جائز ضروریات کا تعلق ہے‘ چھوڑ دیتا ہے یا یہ کہو کہ وہ کوئی حکم ایسا پیش نہیں کرتا جو انسانی طاقتوں سے بالاتر ہو اور وہ اس کی تعمیل ہی نہیں کر سکتا ہو چنانچہ صاف فرمایا لا یکلف اللہ نفساً الا وسعھا )البقرۃ:۲۸۷-(
    مجھے اس موقع پر قرآن کریم کی عظمت اور کمال کے سامنے روح میں ایک وجد محسوس ہوتا ہے اور اس کے منجانب اللہ ہونے پر یہ ہی زبردست دلیل نظر آتی ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ دنیا کی ایک بڑی قوم جو آج اپنی دانش اور سمجھ پر اتراتی ہے- اپنی ایجادوں اور صنعتوں پر ناز کرتی ہے- اپنے ہدایت نامہ کو بکلی چھوڑ بیٹھے ہیں محض اس لئے کہ اس کی تعلیم ناممکن العمل ہے- اور وہ ایسی تعلیم ہے جس کے معلم کی نسبت تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ انسانی قویٰ کی حقیقت سے بالکل ناواقف اور نا آشنا ہے- یہی وجہ ہے کہ زندگی کے کسی حصہ اور شعبہ کے لئے انجیل کی ہدایت نہیں مل سکتی-
    ایک شوہر‘ ایک باپ‘ ایک کمانڈر انچیف‘ ایک قاضی اور جج‘ ایک سلطان جلیل القدر‘ ایک متبتل|الی|اللہ درویش‘ ایک مقنن‘ ایک جواد انسان‘ بتائو انجیل سے کیا ہدایتیں لے سکتا ہے- ہماری گورنمنٹ مذہباً عیسائی ہے لیکن اگر وہ انجیل کے موافق عملدرآمد کرنا چاہے تو آج پولیس اور فوج کو الگ کرے اور کوئی ہندوستان مانگے تو یہ دوسرے حصے سلطنت کے دینے کو تیار ہو جاوے- ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری پھیر دینے پر عمل شروع ہو تو آج انگلستان کا صفایا ہو جاوے- ملک کا امن چین خطرناک حالت میں پڑ جاوے- مگر خدا کا شکر ہے کہ اس پر عمل نہیں اور عملی طور پر یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ انجیل ہدایت|نامہ نہیں ہے اور وہ انسانی زندگی کی ضروریات سے ناواقف شخص کے خیالات ہیں-
    غرض ذکر تو ذوق بیان کی وجہ سے درمیان آ گیا- میں یہ بیان کرنا چاہتا تھا کہ قرآن شریف چونکہ اللہ علیم و حکیم کی کتاب ہے اس لئے وہ انسانی ضرورتوں اور ملکی مجبوریوں کا پورا علم اور فلسفہ اپنے اندر رکھتی ہے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی پاک صحبت میں رہنے کا حکم دیا ہے- اور انسان چونکہ متمدن ہے بعض اوقات اس کو مشکلات پیش آ جاتے ہیں اور وہ ہردم اس سرکار میں حاضر رہنے سے معذور ہو سکتا ہے اس لئے معمولی دوری کو انقطاع کلی کا موجب نہیں ہونے دینا چاہئے- جس قدر دور ہوتا جاتا ہے اسی قدر سستی اور کاہلی پیدا ہو سکتی ہے اگر خدا تعالیٰ کا فضل اور کثرت استغفار نہ ہو- اس لئے انقطاع کلی سے بچانے کے لئے حکم دیا ہے- ما کان لاھل المدینۃ و من حولھم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ )التوبۃ:۱۲۰( یعنی اہل مدینہ اور اس کے اردگرد رہنے والوں کا یہ کبھی حال نہ ہو کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کسی خاص کام میں توجہ کریں تو یہ اپنی جگہ سمجھیں یا نہ سمجھیں‘ اس کی خلاف ورزی نہ کریں-
    انبیاء و مرسلین کے کام اللہ تعالیٰ کے اشارے اور ایما کے ماتحت ہوتے ہیں اور ان میں باریک در باریک اسرار اور غوامض ہوتے ہیں- موٹی عقل سے دیکھنے والوں کی نظر میں ممکن ہے کہ ایک فعل مفید معلوم نہ ہو لیکن دراصل اس میں مال کار قوم اور ملک کے لئے ہزاروں ہزار مفاد اور بہتریاں ہوتی ہیں تو یہ اس کی حماقت ہو گی اگر اس پر اعتراض کر دے-
    نادان انسان ہر فعل کی علت غائی اور ضرورت کو نہیں سمجھتا اور نہ اس کے لئے ضروری ہے کہ یہ ہر ایک فعل کی علت غائی ہی سوچتا رہے- ایک کیکر کے درخت کو جو اس قدر کانٹے لگائے اور شیشم یا آم کے درخت کو ایک بھی کانٹا نہ لگایا- اب اگر ایک احمق اعتراض کرے کہ یہ کیا کیا- کیکر کے درخت کو کانٹے کیوں لگائے اور دوسرے کو کیوں نہ لگائے یہ اس کی نادانی ہو گی یا نہیں؟ اس کی مصلحت اور ضرورت کو تو وہی خدا سمجھتا ہے جس نے کیکر اور آم کو بنایا ہے دوسرا کیونکر اسے سمجھے-
    اسی طرح پر انبیاء کے افعال و حرکات‘ جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے‘ اللہ تعالیٰ کے خفی و جلی احکام اور اشارات کے ماتحت ہوتے ہیں- بعض اوقات ان کے افعال عام نظر میں ایسے دکھائی دئے جاتے ہیں جو دوسروں کو اعتراض کا موقع ملتا ہے مگر درحقیقت درست اور صحیح وہی ہوتا ہے- اب ایک آدمی دیکھتا ہے کہ بدر کی جنگ میں تین آدمی مخالفوں کی طرف سے نکلے ہیں اور تین ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف سے نکلے ہیں- کوئی کہے کہ تین کے مقابلہ میں ڈیڑھ کافی تھا آپ نے تین کیوں بھیجے جو چھ کے لئے کافی تھے؟ مگر وہ بڑا ہی احمق اور نادان ہو گا جو کہے کہ یہ کارروائی غلط تھی-
    یاد رکھو خدا تعالیٰ کی مرسل مخلوق کو اپنی فراست پر قیاس نہیں کر لینا چاہئے- اسی لئے فرمایا کہ خیر القرون کی مخلوق کو تخلف جائز نہیں ہے خواہ اس میں مصائب اور مشکلات ہی پیدا ہوں اور ہوتے ہیں- مگر جب وہ اپنا کام اس پر مقدم نہ کریں گے تو کیا یہ تکالیف اور مصائب اکارت جائیں گے؟ کبھی نہیں- سنو! ذالک بانھم لا یصیبھم ظما و لا نصب و لا مخمصۃ فی سبیل اللہ و لایطئون موطئاً یغیظ الکفار و لاینالون من عدو نیلاً الا کتب لھم بہ عمل صالح ان اللہ لا یضیع اجر المحسنین )التوبۃ:۱۲۰(
    خلاصہ کلام یہ ہے کہ سفر میں پیاس لگتی ہے موقع پر پانی نہیں ملتا- بوجھ اٹھانا پڑتا ہے- تکان یا تکالیف ہوتی ہیں- ایسا ہی سفر میں ممکن ہے کہ روٹی نہ ملے یا ملے تو وقت پر نہ ملے- اس قسم کی صدہا قسم کی تکلیف ہوتی ہے-۱~}~ اس قسم کی تکالیف اور مشکلات اگر اللہ تعالیٰ کے لئے ہوں اور یا دشمن سے کوئی فائدہ حاصل کر لے- غرض حضور الٰہی میں ان کا ثمرہ ضرور ہوتا ہے اور ان کے نامہ اعمال میں نیک عمل لکھا جاتا ہے- خدا چونکہ شکور خدا ہے وہ محسنین کے اجر کو ضائع نہیں کرتا- مولا کریم چونکہ شکور ہے اور علیم و خبیر ہے اس لئے وہ فرماتا ہے ان اللہ لایضیع اجر المحسنین بے شک اللہ محسنین کے اجر کو ضائع نہیں فرماتا- محسن کسے کہتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے احسان کی تعریف جبرائیل نے صحابہ کی تعلیم کے لئے پوچھی ہے- آپ نے فرمایا کہ احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کو دیکھتا رہے یا کم از کم یہ کہ یہ یقین کر لے کہ اللہ تعالیٰ تجھ کو دیکھتا ہے- ۸~}~
    یہ ایک ایسا مرتبہ عظیم الشان ہے جس کے کسی نہ کسی پہلو کے حاصل ہو جانے پر انسان گناہوں سے بچ جاتا ہے اور بڑے بڑے مراتب اور مدارج اللہ تعالیٰ کے حضور پا لیتا ہے- ساری نیکیوں کا سرچشمہ اور تمام ترقیوں اور بلند پروازیوں کی جان اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے- انسان اعلی درجہ کے اخلاق فاضلہ کو حاصل
    ۱~}~ مطابق اصل
    ہی نہیں کر سکتا جب تک خدا تعالیٰ پر یقین نہ ہو کہ وہ ہے- میں اس بات کے ماننے کے واسطے کبھی تیار نہیں ہو سکتا کہ ایک دہریہ بھی کبھیاعلی درجہ کے اخلاق فاضلہ والا ہو سکتا ہے- کوئی چیز اس کو گناہوں کے ارتکاب سے نہیں روک سکتی- نیکی کا کوئی سچا مفہوم اس کی سمجھ میں آ نہیں سکتا- پھر وہ نیکی کیسے کرے اور گناہوں سے کیونکر بچے- اس کی ساری عمر ناامیدیوں اور مایوسیوں کا شکار رہتی ہے- وہ اسباب اور علت و معلول کے سلسلہ کے پیچ در پیچ تعلقات میں ہی منہمک رہ کر آخر حسرت اور یاس سے اس دنیا کو چھوڑ جاتا ہے- میں نے دہریہ اور ایمان والے دونوں کو مرتے ہوئے دیکھا ہے اور دونوں کی موت میں زمین و آسمان کا فرق پایا ہے- میں سچ کہتا ہوں اور اپنے ذاتی تجربہ سے کہتا ہوں اور پھر جو چاہے آزما کردیکھ لے کہ سچی راحت اور حقیقی خوشی صرف صرف ایمان باللہ سے ملتی ہے- یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم|السلام اور صلحاء کی لائف میں جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کوئی واقعہ خودکشی کا نہیں پایا جاتا- مومن کی امید اپنے اللہ پر بہت وسیع ہوتی ہے- وہ کبھی اس سے مایوس نہیں ہوتا- ان کی زندگی کے واقعات کو پڑھو تو معلوم ہو گا کہ ایک ایک وقت ان پر ایسا آیا ہے کہ زمین ان پر تنگ ہو گئی ہے لیکن اس شدت ابتلا میں بھی وہ ویسے ہی خوش و خرم ہیں جیسے اس ابتلاء کے دور ہونے پر- وہ کیا بات ہے جو ان کو اس موت کی سی حالت میں بھی خوش و خرم اور زندہ رکھتی ہے‘ فقط اللہ پر ایمان-
    غرض محسنین کے زمرہ میں داخل ہونا بہت ہی مشکل اور پھر مشکل کشا ہے- پہلا درجہ جو محسن کا اعلی مقام ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے بعد میں حاصل ہوتا ہے- اس کا ابتدائی درجہ یہی ہے کہ وہ یہ ایمان لائے کہ میرے ہر قول|وفعل کو مولیٰ کریم دیکھتا اور سنتا ہے-
    جب یہ مقام اسے حاصل ہو گا تو ہر ایک بدی کے وقت اس کا نور قلب اس ایمان کی بدولت اس سے روکے گا اور لغزش سے بچا لے گا- اور رفتہ رفتہ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آخر وہ اس مقام پر پہنچ جائے گا کہ خدا تعالیٰ کو دیکھ لے گا- اور یہ وہ مقام ہے جو صوفیوں کی اصطلاح میں لقا کا مقام کہلاتا ہے-
    پس جب انسان محسن ہوکر اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو پھر تھوڑا ہو یا بہت‘ اللہ تعالیٰ اس کے بہتر بدلے دیتا ہے- یہ صرف اعتقادی اور علمی بات ہی نہیں- کہانی اور داستان ہی نہیں بلکہ و اقعات نفس|الامری ہیں- میں دنیا کی تاریخ میں جس سے مراد میں انبیاء علیہم السلام کی پاک تاریخ لیتا ہوں بہت سے واقعات اس کی تصدیق میں پیش کر سکتا ہوں اور علمی طریق پر بھی خدا کے فضل سے اس کی سچائی ثابت کرنے کو تیار ہوں- مگر ان سب باتوں کو چھوڑ کر میں ایک عظیم الشان واقعہ صحابہ کی لائف کا دکھانا چاہتا ہوں-
    میں ایک عرصہ تک اس سوال پر غور کرتا رہا کہ کیا وجہ تھی جو انصار کو خلافت نہ ملی بلکہ خلافت کے اول وارث مہاجر ہوئے اور مہاجرین میں سے بھی ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ- حالانکہ انصار میں سب نے بڑی ہمت کی اور ان کی اس وقت کی امداد ہی نے ان کو انصار کا پاک خطاب دیا- لیکن اس کا کیا سر ہے کہ بادشاہی اور حکومت کا ان کو حصہ نہ ملا اور پہلا خلیفہ قریشی ہوا- پھر دوسرا‘ تیسرا‘ چوتھا بھی یہاں تک کہ عباسیوں تک قریشیوں ہی کا سلسلہ چلا جاتا ہے- بنوثقیفہ میں کوشش کی گئی کہ ایک خلیفہ انصار میں سے ہو اور ایک مہاجرین میں سے مگر یہ تجویز پاس نہیں ہوئی اور کسی نے نہ مانا- آخر مجھ پر اس کا سر یہ کھلا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ صفت ان اللہ لا یضیع اجر المحسنین اپنا کام کر رہی تھی- انصار نے کیا چھوڑا تھا جو ان کو ملتا- مہاجرین نے ملک چھوڑا- وطن چھوڑا- گھر بار چھوڑا‘ مال|و|اسباب- غرض جو کچھ تھا وہ سب چھوڑا اور سب سے بڑھ کر ابوبکر صدیقؓ نے- اس لئے جنہوں نے جو کچھ چھوڑا تھا اس سے کہیں زیادہ بڑھ کر پایا- زیادہ سے زیادہ ان کی زمین چند بیگہ ہو گی جو انہوں نے خدا کے لئے چھوڑی مگر اس کے بدلہ میں یہاں خدا نے کتنے بیگہ دی؟ اس کا حساب ہی کچھ نہیں-
    پس یہ سچی بات ہے کہ انسان جسقدر قربانی خدا کے لئے کرتا ہے اسی قدر فیض اللہ تعالیٰ کے حضور سے پاتا ہے- حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کتنی بڑی تھی پھر اس کا پھل دیکھو کس|قدر ملا- اپنی عمر کے آخری ایام میں ایک خواب کی بنا پر جس کی تاویل ہو سکتی تھی حضرت ابراہیم نے اپنے خلوص کے اظہار کے لئے جوان بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم بالجزم کر لیا- پھر خدا نے اس کی نسل کو کس|قدر بڑھایا کہ وہ شمار میں بھی نہیں آ سکتی- اسی نسل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جیسا عظیم الشان رسول‘ خاتم النبیین رسول کر کے بھیجا جو کل انبیاء علیہم السلام سے افضل ٹھیرا جس کی امت میں ہزاروں ہزار اولیاء اللہ ہوئے جو بنی اسرائیل کے انبیاء کے مثیل تھے اور لاکھوں لاکھ بادشاہ ہوئے- یہاں تک کہ مسیح موعود جو خاتم الخلفاء ٹھیرایا گیا ہے وہ بھی اسی امت میں پیدا ہوا- اور خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم نے اسے پایا اور اس کی شناخت کا موقع ہم کو دیا گیا و الحمد للٰہ علیٰ ذالک-
    یہ بدلہ یہ جزا کس بات کی تھی؟ اسی عظیم الشان قربانی کی جو اس نے خدا تعالیٰ کے حضور دکھائی- واقعی یہ بات قابل غور ہے کہ ابراہیم کی عمر جب کہ سو برس کے قریب پہنچی اس وقت قوائے بشری رکھنے والا کیا امید اولاد کی رکھ سکتا ہے- پھر تیرہ برس کی عمر کا نوجوان لڑکا جو چوراسی برس کے بعد کا ملا ہو اہو اس کے ذبح کرنے کا اپنے ہاتھ سے ارادہ کر لینا معمولی سی بات نہیں ہے جس کے لئے ہر شخص تیار ہو سکے- غور کرو اس ذبح کے بعد عمر کے آخری ایام ہیں اور قبر قریب ہے- پھر کیا باقی رہ سکتا ہے‘ نہ مکان رہا‘ نہ عزت|و|جبروت- مگر اے ابراہیم! تجھ پر خدا کا سلام‘ تو نے خدا تعالیٰ کے ایک اشارہ اور ایما پر سارے ارادوں اور ساری خوشیوں اور خواہشوں کو قربان کر دیا اور اس کے بدلے میں تو نے وہ پایا جو کسی نے نہیں پایا- خاتم|النبیین اسی اسماعیل کی نسل میں ہوا اور خاتم الخلفاء اسی خاتم النبیین کی امت میں- اللٰھم صل علیٰ محمد و علیٰ اٰل محمد کما صلیت علیٰ ابراھیم و علیٰ اٰل ابراھیم انک حمید مجید-
    پھر ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام کا وہ صدق اور اخلاص کہ باری تعالیٰ کا ارشاد ہوا اسلم قال اسلمت )البقرۃ:۱۳۲( اے ابراہیم! تو فرمانبردار ہو جا- عرض کیا حضور میں تو فرمانبردار ہو چکا-اسلم نہیں کہا
    اسلمتکہا یعنی اپنا ارادہ رکھا ہی نہیں معاً حکم الٰہی کے ساتھ ہی تکمیل ہو گئی- پھر اس اخلاص سے کیا بدلہ پایا یہی کہ ابو الملت ٹھیرا- جو کچھ چھوڑا‘ اس سے بڑھ کر ملا-
    اسی طرح پر سید الانبیاء علیہ الصلوٰۃ و السلام کی حالت پر غور کرو- اہل مکہ نے کہا کہ اگر آپ کو بادشاہ بننے کی آرزو ہے تو ہم تجھ کو بادشاہ بنانے کے واسطے تیار ہیں- اگر تجھے دولتمند بننے کی خواہش ہے تو دولت جمع کر دیتے ہیں- اگر حسین عورت چاہتا ہے تو تامل و مضائقہ نہیں- یہ کیا چیزیں تھیں مگر دنیا پرست کی نظر ان سے پرے نہیں جا سکتی تھی اس لئے اسی کو پیش کیا- آپ نے اس کا کیا جواب دیا؟ یہی کہ اگر سورج اورچاند کو میرے دائیں بائیں رکھ دو تو بھی میں اس اشاعت اور تبلیغ سے رک نہیں سکتا- اللہ! اللہ! کس قدر اخلاص ہے‘ اللہ تعالیٰ پر کتنا بڑا ایمان ہے- قوم کی مخالفت‘ ان دکھوں اور تکلیفوں کے سمندر میں اپنے آپ کو ڈال دینے کے واسطے روح میں کس قدر جوش اور گرمی ہے جو اس انکار سے آنے والی تھیں- ان تمام مفاد اور منافع پر تھوک دینے کے لئے کتنی بڑی جرات ہے جو وہ ایک دنیادار کی حیثیت سے پیش کرتے تھے مگر خدا تعالیٰ کو راضی رکھ کر‘ اس کو مان کر‘ اس کے احکام کی عزت و عظمت کو مدنظر رکھ کر اس قربانی کا بدلہ آپ نے کیا پایا؟ وہ پایا جو دنیا میں کسی ہادی کو نہیں ملا اور نہ ملے گا- انا اعطیناک الکوثر )الکوثر:۲( کی صدا کس کو آئی اور کس نے ہر چیز میں آپ کو وہ کوثر عطا کی جس کی نظیر دنیا میں نہیں مل سکتی؟ سوچو اور غور کرو!
    میں نے مختلف مذاہب کی کتابوں‘ ان کے ہادیوں اور نبیوں کے حالات کو پڑھا ہے اس لئے دعویٰ سے کہتا ہوں کہ کوئی قوم اپنے ہادی کے لئے ہر وقت دعائیں نہیں مانگتی ہے مگر مسلمان ہیں کہ دنیا کے ہر حصہ میں‘ ہر وقت‘ ہر آن اللٰھم صل علیٰ محمد و علیٰ اٰل محمد و بارک و سلم کی دعا آپ کے لئے کر رہے ہیں جس سے آپ کے مراتب ہر آن بڑھ رہے ہیں- یہ خیالی اور خوش کن بات نہیں‘ واقعی اسی طرح پر ہے- دنیا کے ہر آباد حصہ میں مسلمان آباد ہیں اور ہر وقت ان کی کسی نہ کسی نماز کا وقت ضرور ہوتا ہے جس میں لازمی طور پر اللٰھم صل علیٰ محمد پڑھا جاتا ہے- مقرر نمازوں کے علاوہ نوافل پڑھنے والوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے- اور درود شریف بطور وظائف کے پڑھنے والے بھی کثرت سے- اس طرح پر آپ کے مراتب و مدارج کا اندازہ اور خیال بھی ناممکن ہے- یہ مرتبہ‘ یہ فخر کسی اور ہادی کو دنیا میں حاصل نہیں ہوا ہے- ۹~}~
    حضرت یوسف علیہ الصلوٰۃ و السلام نے محض خدا تعالیٰ کے خوف سے ایک عورت کے ساتھ بدکاری کرنے سے پرہیز کیا- ورنہ ایک عام آدمی بھی جس کی نگاہ بہت ہی چھوٹی اور پست ہو کہہ سکتا ہے کہ اس تعلق سے وہ اس عزت سے جو اس وقت ان کی تھی زیادہ معزز اور آسودہ حال ہوتے- اگرچہ یہ خیال ایک دنی الطبع آدمی کا ہو سکتا ہے- مومن کبھی وہم بھی نہیں کر سکتا کہ کسی بدی اور بدکاری میں کوئی آرام اور آسودگی کی عزت مل سکتی ہے‘ سچی عزت اور راحت مل سکتی ہے- کیونکہ ارشاد الٰہی اس طرح پر ہے کہ ساری عزتیں اللہ ہی کے لئے ہیں- اور پھر معزز ہونا رسول اور مومنین کے لئے لازمی ہے-
    بہر حال جو کچھ بھی ہو کمینہ فطرت‘ کم حوصلہ انسان‘ عاقبت اندیشی سے حصہ نہ رکھنے والا کہہ سکتا ہے کہ ان کو آرام ملتا ہے- مگر حضرت یوسف نے اس عزت‘ اس آرام اور دولت کو لات ماری اور خدا|تعالیٰ کے احکام کی عزت کی- قید قبول کی مگر حکم الٰہی کو نہ توڑا- نتیجہ کیا ہوا- وہی یوسف‘ اسی مصر میں‘ اسی شخص کے سامنے اس عورت کے اقرار کے موافق معزز اور راست باز ثابت ہوا- وہ امین ٹھیرایا گیا اور جس مرتبہ پر پہنچا تم میں سے کوئی اس سے ناواقف نہیں- یوسف علیہ السلام کا یہ سارا تذکرہ بیان کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے و کذالک نجزی المحسنین )الانعام:۸۵( یعنی عادت اللہ اور سنت|اللہ اسی طرح پر واقع ہوئی ہے کہ کوئی محسن ہو)خواہ( کبھی ہو‘ اس کو اس طرح پر جزا ملتی ہے جیسے یوسف علیہ السلام کو ملی-
    غرض انسان محسن بنے پھر خدا اس کے ساتھ ہے اور اسے مراتب اعلی ملتے ہیں- خدا کی راہ میں تھوڑا ہو یا بہت‘ جو کچھ خرچ کرتا ہے اور خداکے لئے اگر کوئی وطن اور مال اور دولت یا عزت کو چھوڑتا ہے وہ بے وطن نہیں ہوتا‘ اس کو بہترین وطن دیا جاتا ہے- وہ بے قوم و بے یار و مددگار نہیں رہتا‘ اس کو بہترین قوم‘ بہترین احباب و دوست دیئے جاتے ہیں- جو چھوڑتا ہے اس سے بہتر پاتا ہے- لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہر خرچ کے لئے جو اللہ کی راہ میں ہو اوقات ہوتے ہیں-
    مامور من اللہ جب آتا ہے اس کے ابتدائی زمانہ میں اس کی اعانت و نصرت کی عند اللہ بہت قدر اور عزت ہوتی ہے- وہ وقت ایسا ہوتا ہے کہ ایک مٹھی بھر جو بھی خدا کی راہ میں خرچ کرنا بہت قیمت اور قدر رکھتے ہیں- مگر ایک زمانہ اس مامور کی کامیابیوں کا آ جاتا ہے اس وقت سونے کے پہاڑ خرچ کرنے کی بھی اس قدر قیمت نہیں ہو گی- رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ابتدائی زمانہ میں جبکہ ہر طرف سے مخالفت کی صدائیں بلند تھیں اور مسلمان ہونے والوں کو وہ اذیتیں اور تکلیفیں دی جاتی تھیں جو آج خدا کے محض فضل سے اس گورنمنٹ کے زیر سایہ ہمارے مخالف ہم کو نہیں پہنچا سکتے اس وقت آپ نے فرمایا کہ ایک مٹھی جو کی آج جو قدر ہے وہ ایک وقت آنے والا ہے احد پہاڑ کے برابر سونا دینے والے کی وہ قدر نہ ہو گی- حقیقت میں یہ کیسی سچی بات ہے- جب مسلمانوں کی فتوحات کا سلسلہ بہت وسیع ہو گیا اگر عباسیوں کے زمانہ میں ہارون رشید یا مامون رشید اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک مٹھی جو کی دیتے تو ان کے لئے شرم اور عار کا باعث ہوتا- مگر یہ خوب یاد رکھو جس چیز کے بدلے انہوں نے سلطنت پائی اور قیصر و کسریٰ کے خزانے ان کے پائوں میں ڈالے گئے وہ ایک مٹھی جو ہی تھی جو صحابہ نے دی- اس سے بھی صاف نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا اور پھر مامور کی ابتدائی بعثت کے ایام میں خرچ کرنا بہت ہی بڑا قدر و قیمت رکھتا ہے- یہ تو ہے انفاق فی سبیل اللہ کی ضرورت-
    اب ایک اور امر ہے جو قرآن شریف سے ثابت ہے اور جس کی طرف بڑی توجہ دلائی گئی ہے‘ وہ کیا ہے؟ متقی بننا اور صادقوں کا ساتھ دینا ہے- حقیقت میں تقویٰ کی اصل روح انسان کے اندر پیدا نہیں ہوتی جب تک کہ صادقوں کی صحبت میں نہ رہے- صادق کی پاک صحبت اندر ہی اندر ایک خاص اثر انسان کی روح پر کرتی ہے اور اس کے امراض روحانی کا مداوا اس کی پاک توجہ‘ عقد ہمت‘ دعا اور موثر وعظ و نصائح جو وہ وقتا" فوقتا" درد دل سے کرتا ہے اور وہ نشانات و خوارق جو وقتا" فوقتا" اللہ تعالیٰ اس کی تائید اور نصرت کے لئے نازل فرماتا ہے ایمان کو قوی کرتے ہیں اور جب ایمان کامل ہونے لگتا ہے تو گناہوں کی زندگی پر موت آ کر ایک نئی زندگی اسے عطا ہوتی ہے جس میں تقویٰ کے خواص اور آثار پائے جاتے ہیں- لیکن انسان کی ضرورتیں اور کم نظریاں‘ انعامات الٰہیہ کی وسعت سے بے خبری‘ اس کی ذاتی کمزوریاں اور بشری تقاضے بعض اوقات ایسا کرتے ہیں کہ ہر وقت وہ ماموروں کی صحبت میں نہیں رہ سکتا- اور وہ فیض اور فضل جو ان کی پاک صحبت میں ملتا ہے وہ اسے ان شرائط اور لوازمات کے ساتھ جو خاص صحبت ہی سے مختص ہیں‘ نہیں پا سکتا- اس لئے ایک اور ضرورت پیش ہوئی وہ ضرورت ہے تفقہ فی الدینکی- تفقہ فی الدین کے لئے پھر یہ حکم صادر ہوا و ما کان المومنون لینفروا کافۃ فلو لانفر من کل فرقۃ منھم طائفۃ لیتفقھوا فی الدین و لینذروا قومھم اذا رجعوا الیھم لعلھم یحذرون )التوبۃ:۱۲۲( یعنی چونکہ یہ تو ممکن نہیں ہے اور نہ مناسب بھی ہے کہ سب کے سب مسلمان یک دفعہ ہی نکل جاویں اس لئے کیوں نہ ہر گروہ سے ایک جماعت اس مقصد اور غرض کے لئے نکلے کہ وہ تفقہ فی الدین کرے اور جب وہ قوم کے پاس لوٹ کر واپس آئیں تو قوم کو ڈرائیں تاکہ وہ قوم بری باتوں سے بچے-
    اس آیت سے پہلی آیت میں انفاق کے فضائل بیان ہوئے ہیں- اس واسطے کہ اس آیت میں جو ابھی میں نے پڑھی ہے انفاق کی ایک ضرورت بھی پیش ہوئی ہے- اس سے پہلی آیت یہ ہے و لاینفقون نفقۃ صغیرۃ و لا کبیرۃ و لا یقطعون وادیاً الا کتب لھم لیجزیھم اللہ احسن ما کانوا یعملون )التوبۃ:۱۲۱( یعنی اور نہ وہ اللہ کی راہ میں کوئی ہو ایسا تھوڑا یا بہت مال خرچ کریں گے اور نہ کوئی میدان طے کریں گے مگر یہ کہ ان کے واسطے اس خرچ اور سفر کی جزا لکھی جاوے گی تا کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس اچھے کام کا بدلہ دے جو وہ کرتے تھے-
    اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مامورین کے وقت سفروں کی ضرورت بھی پیش آتی ہے اور خدا کے لئے کوئی نہ کوئی سفر قوم کے بعض یا کل افراد کو کرنا پڑتا ہے- پس وہ سفر بجائے خود اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین جزا کا موجب اور باعث ہوتا ہے- غرض اس میں انفاق کی فضیلت بیان کر کے اس دوسری آیت میں جو تفقہ فی الدین کے لئے ایک جماعت کے نکلنے کی ہدایت کرتی ہے انفاق کی ضرورت بیان کی گئی- ۱۰~}~
    عام طور پر کل انسان ایک امام کے حضور جمع نہیں ہو سکتے- کل دنیا نہ تو متفق ہی ہو سکتی ہے نہ وہ ایک جگہ جمع ہو سکتی ہے- ملکیت کی طبعی تقسیم اور پھر کل دنیا کی طبعی تقسیم اس امر کی شاہد ہے- اس عام نظام قدرت کے ہوتے ہوئے یہ کہنا کہ سب کے سب امام کے حضور جمع رہو اور ہر وقت حاضر رہو قریباً تکلیف ما لایطاق ہو جاتی جو اللہ تعالیٰ نے نہیں رکھی- یہ فخر عیسائیوں کو بے شک ہے کہ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کو ایسی شریعت ملی ہے جس کو کوئی انسان بجالا سکتا ہی نہیں- اگرچہ تعجب ہے کہ پھر وہ شریعت کا نزول ہی کیوں مانتے ہیں- سرے سے کہہ دیتے شریعت آئی ہی نہیں اور نہ اس کی کوئی ضرورت تھی کیونکہ انسان اس کی بجاآوری اور تعمیل سے قاصر ہے- لیکن اسلام‘ ہاں پاک و بے عیب اسلام ایسی شرمناک اور قابل مضحکہ بات کو روا نہیں رکھتا- وہ لا یکلف اللہ نفساً الا وسعھا )البقرۃ:۲۸۷( کی پاک ہدایت دیتا ہے- پھر میں کیوں ایک طرفہ~ن۲~ العین کے لئے بھی یہ روا رکھوں کہ اسلام میں کوئی حکم ایسا بھی ہے جس کی تعمیل ناممکن ہے- یہ خوبی اور عظمت اسلام کی ہی ہے کہ اس کے جمیع احکام اس قسم کے ہیں کہ ہر ایک انسان ان سے اپنی استطاعت و طاقت کے موافق اپنی حالت اور حیثیت کے لحاظ سے یکساں فائدہ اٹھا سکتا ہے- مثلاً ایک شخص ہے وہ بیمار ہے‘ اٹھ کر نماز نہیں پڑھ سکتا‘ وہ بیٹھ کر حتی کہ اشاروں سے بھی پڑھ سکتا ہے- اس کا ثواب ایک مستعد تندرست آدمی کی نماز سے کم نہیں ہو گا اور نہ اس نماز میں کوئی سقم واقع ہو سکتا ہے- ایک شخص استطاعت حج کی نہیں رکھتا- حج نہ کرنے سے اس پر گناہ نہیں ہو گا- اسی طرح پر تفقہ فی الدین کی بھی مختلف صورتیں ہیں- ہر شخص اتنا وقت اور فراغت نہیں رکھتا کہ وہ اس کام میں لگا رہے- دنیا میں تقسیم|محنت کا اصول صاف طور پر ہدایت دے رہا ہے کہ مختلف اشخاص مختلف کام کریں- انسان کی تمدنی زندگی کی ضروریات کا متکفل ہو گا- اسی طرح اسی اصول کی بنا پر حکم ہوا کہ و ما کان المومنون لینفروا کافۃ فلو لانفر من کل فرقۃ منھم طائفۃ لیتفقھوا فی الدین و لینذروا قومھم اذا رجعوا الیھم لعلھم یحذرون یعنی یہ امر تو ہو ہی نہیں سکتا کہ کل مومن علوم حقہ کی تعلیم اور اشاعت میں نکل کھڑے ہوں- اس لئے ایسا ہونا چاہئے کہ ہر طبقہ اور گروہ میں سے ایک ایک آدمی ایسا ہو جو علوم دین حاصل کرے اور پھر اپنی قوم میں واپس جا کر ان کو حقائق|دین سے آگاہ کرے تا کہ ان میں خوف و خشیت پیدا ہو-
    میں افسوس اور درد دل کے ساتھ کہتا ہوں کہ عملی رنگ میں اس آیت کو منسوخ کر دیا گیا ہے- حقیقت میں ایسا ہی ہوا ہے-
    علم کی غرض و غایت کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ کا خوف اور خشیت پیدا ہو‘ جس خوف سے خدا تعالیٰ کی معرفت بڑھتی ہے اور انسان گناہوں اور بدیوں سے بچتا ہے- یہ بات خیالی نہیں یقینی اورنیچرل ہے- دیکھو تم کیوں خون کرنے سے ڈرتے ہو؟ صرف اس لئے کہ تعزیرات ہند ڈراتی ہے اور اس کی سزا تمہارے دل پر ایک خاص اثر ڈال کر ایسی حرکات سے بچاتی ہے- یہ طریقے دراصل بدیوں سے بچنے کے عارضی اور ظلی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قانون مجریہ وقت کے ہوتے ہوئے بھی‘ باوجودیکہ مجرموں کو سزا ملتے ہوئے بھی دیکھتے ہیں‘ من کل الوجوہ جرائم کا دروازہ بند نہیں ہوتا- اور اس کی وجہ یہی ہے کہ حقیقی طور پر یہ دروازہ اللہ|تعالیٰ کے خوف اور خشیت سے بند ہوتا ہے- یہی وجہ ہے کہ علماء ربانی اور ماموروں کی زندگی میں یہ نمونہ بدیوں کا نہ ملے گا بلکہ ان کی زندگی پاک اور بے لوث ہو گی- وہ اس لئے بدیوں سے نہیں بچتے کہ وہ تعزیرات ملک سے ڈرتے ہیں بلکہ وہ تعزیرات خدا سے ڈرتے ہیں اور وہ خوف ان کے نفسانی قویٰ پر غلبہ پا کراس مادہ کو بھسم کر دیتا ہے جو بے اعتدالی کا جوش نفس سے پیدا ہو سکتا ہے-پس حقیقی طور سے گناہ سے بچنے کا طریق خوف خدا کا دل پر مستولی ہونا ہے-
    ایک اور بھی راہ ہے جس سے انسان گناہ سے بچ سکتا ہے‘ وہ خدا تعالیٰ کے حسن پر اطلاع ہے- جب پوری معرفت اور بصیرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے جمال کو دیکھتا ہے تو اس حسن کے بالمقابل تمام لذات اسے ہیچ اور فانی نظر آتی ہیں اور ساری خوشیوں اور راحتوں کواسی صاحب الحسن کی اطاعت میں پاتا ہے- یہ مقام اعلی درجہ کے انسانوں کا ہوتا ہے- مگر ایک طبقہ انسانوں کا ایسا بھی ہے جو خوف الٰہی بھی ان کو گناہوں سے بچا لیتا ہے- اور یہ خوف علوم حقہ میں تفقہ کرنے سے پیدا ہوتا ہے اسی لئے علماء ربانی کی شان میں کہا گیا ہے-
    انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء )فاطر:۲۹-(مگر آج اس زمانہ میں عالم کے یہ معنی سمجھے گئے ہیں کہ کج بحثیاں کرنے میں طاق ہو- کبھی کسی بات کے ماننے کے لئے تیار نہ ہو- جو منہ سے نکل جاوے خواہ وہ کیسا ہی بیہودہ اور لغو ہو اس کی تائید میں قرآن شریف میں تحریف کرنے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر افتراء کرنے سے بھی نہ ڈرے- خدا تعالیٰ مجھ کو اور میرے بھائیوں کو ایسے علم سے بچائے- آمین
    حضرت امام نے ایک الہامی قصیدہ لکھا ہے اس کا یہ شعر کیسا سچا ہے-
    علم آں بود کہ غور فراست رفیق اوست
    ایں علم تیرہ را بہ نمی خرم
    تم علم پڑھو لیکن اگر اس علم سے خدا کا خوف اور خشیت پیدا نہیں ہوتی تو استغفار اور لاحول پڑھو کہ وہ علم حجاب اکبر ہو کر ہلاکت کا موجب نہ ہو جاوے- میں نے بڑے بڑے مولوی اور عالم کہلانے والے دیکھے ہیں- اس وقت موجود ہیں- اور تم میں سے اکثر اس سے ناواقف نہیں کہ وہ چیز جو ان کی راہ میں امام وقت کی اطاعت میں ٹھوکر کا پتھر ہوئی وہ وہی ان کا علمی ناز اور گھمنڈ تھا- اگر وہ حقیقی علوم کے وارث ہوتے تو ان میں خشیت اور خوف پیدا ہوتا- ان کے دل یہ سن کر ڈر جاتے کہ سنانے والا کہتا ہے-
    ’’میں خدا کا مامور ہوں‘‘
    یہ چھوٹی سی بات نہ تھی- خدا کے بھیجے ہوئے سے مقابلہ! میں سچ کہتا ہوں کہ یہ خدا کا فضل ہے جس کو میں بیان کرتا ہوں کہ میرا دل اس تصور سے بھی کانپ جاتا ہے کہ انکار کے لئے کیوں جرات کرتے ہیں؟ مگر مشکل یہ ہے کہ وہ علم نور فراست ساتھ ہی نہ رکھتا تھا- اس سے بہتر تھا کہ وہ جاہل رہتے-
    ایک اور بات قابل غور ہے کہ عالم ربانی بننے کے لئے شرط ہے تقویٰ اللہ کی- بدوں اس کے علوم|حقہ کی کلید مل سکتی ہی نہیں کیونکہ خود خدا تعالیٰ فیصلہ کر چکا ہے اتقوا اللہ و یعلمکم اللہ )البقرۃ:۲۸۳-(اصل معلم علوم حقہ کا تو خدا تعالیٰ ہی ہے اور اس کی راہ ہے تقویٰ اللہ- جب اس طریق پر انسان تقویٰ اختیار کرے تو علوم حقہ کے دروازے اس پر کھلیں گے اور وہ انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء )فاطر:۲۹( میں داخل ہو گا-
    غرض عالم ربانی کے لئے ضرورت ہے کہ تقویٰ سے کام لے- اور تقویٰ کی حقیقت اس وقت تک کھل نہیں سکتی جب تک خدا تعالیٰ کے صادق اور مامور بندوں کی صحبت میں نہ رہے- جیسا فرمایا ہے- یٰایھا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ و کونوا مع الصادقین )التوبۃ:۱۲۰-(اس سے معیت صادق کی بہت بڑی ضرورت معلوم ہوتی ہے اور فی الحقیقت ضرورت ہے- لیکن چونکہ ساری قوم ایک ہی وقت اپنے امام کے گرد نہیں رہ سکتی- اور اگر ہر فرد قوم کا حاضر بھی ہو تو ہر ایک فائدہ نہیں اٹھا سکتا- طبیعتیں جدا جدا ہیں اور مذاق الگ الگ- اور تقسیم محنت کا اصول الگ اس کی مخالفت کرتا ہے- اس لئے خدا تعالیٰ نے یہ قانون مقرر فرمایا کہ ایک گروہ حصول تعلیم دین کے لئے حاضر ہو اور وہ واپس جاکر قوم کو سکھلائے-
    میں پھر کہتا ہوں کہ اس آیت اور اس کے اصل مفہوم پر غور کرو- اس کے الفاظ کو سوچو کہ ان کے اندر اصول تعلیم کے لئے کیسا کھلا اور واضح قانون رکھا ہے- اصل غرض تفقہ فی الدین ہے- یہ مقصد نہیں ہے کہ وہ طوطے کی طرح چند کتابیں رٹ لے اور دستار فضیلت باندھ کر یا ایک کاغذ سند کے طور پر ہاتھ میں لے کر قوم پر ایک بوجھ بن کر مالیہ وصول کرتا پھرے- نہیں‘ بلکہ اس کی روحانی اور اخلاقی حالت‘ اس کی نکتہ رسی اور معرفت ایسی ہو‘ اس کے کلام میں وہ تاثیر اور برکت ہو کہ لوگوں پر خوف الٰہی مستولی ہو کر ان کو گناہوں سے بچانے کا باعث ہو- وہ ایک نمونہ ہو جس سے قوم پر اثر پڑ سکے- مگر بتائو اور وسیع نظر کر کے دیکھ لو کتنے ہیں جو اس کے صحیح مصداق ہیں- اب میں تم سے پوچھتا ہوں کہ تم نے مرزا صاحب کو امام مانا- صادق سمجھا بہت اچھا کیا لیکن کیا اس غرض و غایت کو سمجھا کہ امام کیوں آیا ہے؟ وہ دنیا میں کیا کرنا چاہتا ہے؟ اس کی غرض یا اس کا مقصد میری تقریروں سے یا مولوی عبد الکریم کے خطبوں سے یا کسی اور کی مضمون نویسیوں سے معلوم نہیں ہو سکتا- اور نہ ہم اس غرض اور مقصد کو پورے طور پر بیان کرنے کی قدرت رکھتے ہیں اور نہ ہمارے بیان میں وہ زور اور اثر ہو سکتا ہے جو خود اس رسالت کے لانے والے کے بیان میں ہے- پھر اس کے معلوم کرنے کو تو خود اس کے منہ سے کچھ سننا چاہئے- اور یہ اس کی صحبت سے معلوم ہو گا-
    تم نے مولویوں کو ناراض کیا- سجادہ نشینوں کو چھوڑا اور اکثروں کو یہ مشکلات بھی پیش آئیں کہ ان کو اپنے بعض رشتہ داروں یا عزیزوں سے قطع تعلق کرنا پڑا- یہ سب کچھ صحیح لیکن اگر اس غرض کو معلوم نہ کیا جس کے لئے یہ چھوڑا ہے تو کیا فائدہ! اپنے آپ کو مشکلات میں تو ڈال لیا- مگر غور تو کرو کہ کس قدر ہیں جو یہاں رہ کر قرآن شریف سیکھیں- علمی اور عملی تفسیر کا یہاں کے سوا کہیں موقع نہیں کیونکہ خدا|تعالیٰ کا مامور یہاں موجود ہے- میں سچ کہتا ہوں میرے دل میں یہ تڑپ اور جوش ہے اور رہتا ہے کہ میرے بھائی سمجھدار اور ذہین یہاں رہیں اور قرآن شریف کے علوم حقہ کو سیکھیں اسی طرح پر جس طرح پر صحابہ مدینہ میں رہ رہ کر سیکھتے اور پھر واپس جا کر اپنی قوم کو تبلیغ کرتے اور ان کی اشاعت میں مصروف رہتے- ۱۱~}~
    اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں رہنے کی کس قدر ضرورت ہے- کیونکہ جب تک یہاں نہ رہے تو انوار شریعت اور مغز قرآن جو یہاں پیش کیا جاتا ہے اس سے اطلاع کیونکر ہو؟ یہاں نہ رہنے ہی کی وجہ سے آداب النبی کے خلاف بعض اوقات ہمارے بھائی حضرت اقدس کو دعا کے لئے لکھتے ہیں-
    ننانوے فیصدی ایسے خطوط دعا کے لئے آتے ہیں جن کو دعا کرانے کی حقیقت سے خبر نہیں ہے اور اگر ان کو اس راز پر اطلاع ہو تو ان کا قلم کانپ جاوے اور کبھی ایسی درخواستیں کرنے کی جرات نہ کریں- کیا دنیادار کے رنگ میں کوئی شخص بطور خود یہ تجویز ملکہ معظمہ کو کر سکتا ہے کہ مجھے فلاں جگہ کا گورنر یا عہدہ|دار بنائو؟ ایسے آدمی کو نادان نہ کہا جائے گا؟ ][ دعا ایک عجیب برکت اپنے ساتھ لاتی ہے اور اس سے بڑے بڑے عقدے حل ہوتے ہیں- مگر دعا دعا ہو- جب تک اس میں وہ زینت اور خوبصورتی پیدا نہ ہو جو اس کے لوازمات ہیں اس کا کوئی اثر نہیں- سچا اضطراب ہو‘ کامل تبدیلی کی جاوے‘ رعایت آداب الدعا ہو‘ خشوع و خضوع کے ساتھ اعلاء کلمہ~ن۲~ الاسلام کے لئے دعا کی جاوے پھر باب اجابت اس کے لئے جلد کھولا جاتا ہے اور دنیوی برکات بھی اس کے ساتھ ہی آتی ہیں-
    میں نے صحابہ کی سیرت کو خوب غور سے پڑھا ہے اور مجھے یاد نہیں کسی اولوالعزم صحابی کی پاک زندگی میں یہ پایا جاتا ہو کہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے حضور دنیوی اغراض کے لئے یہ عرض کی ہو کہ حضور دعا کریں مجھے فلاں سلطنت مل جاوے یا میرے بیٹا ہو جاوے جو میری جائیداد کا وارث ہو- اس سے صحابہ کی عظمت اور ان کی پاک باطنی کا اندازہ ہوسکتا ہے- مگر دیکھو انہوں نے گو دنیا کے لئے کوئی دعا نہیں کرائی لیکن کیا وہ دنیا سے محروم رہے؟ دنیا خود ان کے پاس آ گئی- وہ بادشاہ بنا دیئے گئے- اور قیصر|و|کسریٰ کے خزانے ان کے پائوں میں ڈالے گئے-
    اب کوئی مقابلہ کرے دوسرے بادشاہوں کا جو دنیا میں ہوئے ہیں لیکن کیا وہ صحابہ جیسے بادشاہ ہوئے؟ پس تم بھی دنیا کے لئے دعائیں نہ کرو اور نہ منگوائو بلکہ دین کی عظمت اور اس کے اعلاء کے لئے خود بھی کرو- اور امام سے بھی کرائو- یہ خدا تعالیٰ کے لئے ہوں گی- ان کی اجابت یقینی ہے پھر اس کے ثمرات بھی لازم طور پر آئیں گے-
    دعائوں سے کبھی گھبرانا نہیں چاہئے- ان کے نتائج عرصہ دراز کے بعد بھی ظہور پذیر ہوتے ہیں لیکن مومن کبھی تھکتا نہیں- قرآن شریف میں دعائوں کے نمونے موجود ہیں- ان میں سے ایک ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہے وہ اپنی اولاد کے لئے کیا خواہش کرتے ہیں- ربنا و ابعث فیھم رسولاً منھم )البقرۃ:۱۳۰( اس دعا پر غور کرو- حضرت ابراہیم کی دعا روحانی خواہشوں اور خدا تعالیٰ کے ساتھ آپ کے تعلقات‘ بنی نوع کی بھلائی کے جذبات کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے- وہ دعا مانگ سکتے تھے کہ میری اولاد کو بادشاہ بنا دے- مگر وہ کیا کہتے ہیں- اے ہمارے رب! میری اولاد میں انہیں میں کا ایک رسول مبعوث فرما- اس کا کام کیا ہو- وہ ان پر تیری آیات تلاوت کرے اور اسقدر قوت قدسی رکھتا ہو کہ وہ ان کو پاک و مطہر کرے اور ان کو کتاب اللہ کے حقائق و حکم سے آگاہ کرے- اسرار شریعت ان پر کھولے-
    یہ ایسی عظیم الشان دعا ہے کہ کوئی دعا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی- اور ابتدائے آفرینش سے جن لوگوں کے حالات زندگی ہمیں مل سکتے ہیں کسی کی زندگی میں یہ دعا پائی نہیں جاتی- حضرت ابراہیم کی عالی|ہمتی کا اس سے خوب پتہ ملتا ہے- پھر اس دعاکا نتیجہ کیا ہوا اور کب ہوا؟ عرصہ دراز کے بعد اس دعا کے نتیجہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم جیسا انسان پیدا ہوا اور وہ دنیا کے لئے ہادی اور مصلح ٹھیرا- قیامت تک رسول ہوا اور پھر وہ کتاب لایا جس کا نام قرآن ہے اور جس سے بڑھ کر کوئی رشد‘ نور اور شفا نہیں ہے-
    یہ دعائوں کے برکات اور ثمرات ہیں- پھر اس دعا سے کس قدر ثمرات حضرت ابراہیم کی اولاد کو ملے‘ تم خود سوچ سکتے ہو-
    بات یہ ہے کہ جب انسان اللہ تعالیٰ کا خالص بندہ بن جاتا ہے اور اس کی ساری نفسانی خواہشوں پر موت آ جاتی ہے اور ساری غرض و غایت اللہ کے لئے ہو جاتی ہے اور اس کے دین کا جلال ظاہر کرنا اس کا مقصد ہو جاتا ہے تو پھر ساری مشکلات اس کی حل ہو جاتی ہیں- دنیا اور اس کے اسباب خود اس کے پیچھے پیچھے دوڑتے ہیں- مگر اس کی راہ اختیار کرنے کے واسطے ضرورت ہے قرآن شریف پر عمل کرنے کی- اور عمل کے لئے پہلے ضروری ہے قرآن شریف کا فہم اور فہم قرآن بجز تقویٰ کے حاصل نہیں ہوتا اور اس کے واسطے مجاہدہ شرط ہے- اور یہ باتیں حاصل ہوتی ہیں مامور کی صحبت سے اور صادق کے پاس رہنے سے- اسی لئے اللہ تعالیٰ یہ حکم دیتا ہے- یٰایھا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ و کونوا مع الصادقین )التوبۃ:۱۲۰-(اور پھر یہ نصیحت فرماتا ہے کہ تفقہ فی الدین کے لئے اپنی اپنی جگہ سے کچھ آدمی بھیجو جو مامور کی صحبت میں رہ کر وہ فیض حاصل کریں اور پھر واپس اپنی قوم میں جا کر تبلیغ کریں تا کہ تم میں خشیت الٰہی پیدا ہو-
    بارہا یہ بات میرے دل میں پیدا ہوتی ہے اور جوش اٹھتا ہے کہ لوگ اس ارشاد الٰہی پر کیوں عمل نہیں کرتے؟ تمہیں فخر ہے کہ قرآن فہمی ہم میں ہے- مگر یہ فخر جائز اس وقت ہو گا کہ تم ایک بار اس قرآن کو دستور العمل بنانے کے واسطے سارا پڑھ لو- لوگ مجھ سے پوچھا کرتے ہیں کہ قرآن شریف کیونکر آ سکتا ہے- میں نے بارہا اس کے متعلق بتایا ہے کہ اول تقویٰ اختیار کرو- پھر مجاہدہ کرو- اور پھر ایک بار خود قرآن|شریف کو دستور العمل بنانے کے واسطے پڑھ جائو- جو مشکلات آئیں ان کو نوٹ کر لو- پھر دوسری مرتبہ اپنے گھروالوں کو سنائو- اس دفعہ مشکلات باقی رہ جائیں ان کو نوٹ کرو- اس کے بعد تیسری مرتبہ اپنے دوستوں کو سنائو- چوتھی مرتبہ غیروں کے ساتھ پڑھو- میں یقین کرتا ہوں اور اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ پھر کوئی مشکل مقام نہ رہ جائے گا- خدا تعالیٰ خود مدد کرے گا- لیکن غرض ہو اپنی اصلاح اور خدا تعالیٰ کے دین کی تائید- کوئی اور غرض درمیان نہ ہو- بڑی ضرورت عملدرآمد کی ہے- ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ سورہ ھود نے مجھے بوڑھا کر دیا ہے- وہ کیا بات تھی جس نے آپ کو بوڑھا کر دیا- وہ یہ حکم تھا- فاستقم کما امرت )ھود:۱۱۳( یعنی جب تک تو اور تیرے ساتھ والے تقویٰ میں قائم نہ ہوں وہ کامیابیاں نہیں دیکھ سکتے اس لئے تو سیدھا ہو جا جیسا کہ تجھ کو حکم دیا گیا ہے- اسی طرح پر یاد رکھو کہ ہماری اور ہمارے امام کی کامیابی ایک تبدیلی چاہتی ہے کہ قرآن شریف کو اپنا دستورالعمل بنائو- نرے دعوے سے کچھ نہیں ہو سکتا- اس دعوے کا امتحان ضروری ہے جب تک امتحان نہ ہو لے کوئی سارٹیفیکیٹ کامیابی کا کامل مل نہیں سکتا- خیر القرون کے لوگوں کو بھی یہی آواز آئی ا حسب الناس ان یترکوا ان یقولوا اٰمنا و ھم لا یفتنون )العنکبوت:۳( کیا لوگ گمان کر بیٹھے ہیں کہ وہ صرف اتنا ہی کہنے پر چھوڑ دیئے جاویں گے کہ وہ ایمان لائے اور وہ آزمائے نہ جاویں-
    ابتلائوں اور آزمائشوں کا آنا ضروری ہے- بڑے بڑے زلزلے اور مصائب کے بادل آتے ہیں- مگر یاد رکھو ان کی غرض تباہ کرنا نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کا منشا اس سے استقامت اور سکینت کا عطا کرنا ہوتا ہے اور بڑے بڑے فضل اور انعام ہوتے ہیں- ہاں یہ سچ ہے اور بالکل سچ ہے کہ جو لوگ کچے‘ غیر مستقل|مزاج‘ کم ہمت اور منافق طبع ہوتے ہیں وہ الگ ہو جاتے ہیں- صرف مخلص‘ وفادار‘ بلند خیال اور سچے مومن رہ جاتے ہیں جو ان ابتلائوں کے جنگلوں میں بھی امتحان اور بلا کی خاردار جھاڑیوں پر دوڑتے چلے جاتے ہیں- وہ تکالیف اور مصائب ان کے ارادوں اور ہمتوں پر کوئی برا اثر نہیں ڈالتیں- ان کو پست نہیں کرتیں بلکہ اور بھی تیز کر دیتی ہیں- وہ پہلے سے زیادہ تیز چلتے اور اس راہ میں شوق سے دوڑتے ہیں- نتیجہ کیا ہوتا ہے- وہ بلائیں‘ وہ تکالیف و مصائب و شدائد خدا تعالیٰ کے عظیم الشان فضل اور کرم اور رحمت کی صورت میں تبدیل ہو جاتی ہیں اور وہ کامیابی کے اعلی معراج پر پہنچ جاتے ہیں- اگر ابتلائوں کا تختہ مشق نہ ہو تو پھر کسی کامیابی کی کیا امید ہو- دنیا میں بھی دیکھ لو- ایک ڈگری حاصل کرنے کے واسطے اے- بی- سی شروع کرنے کے زمانہ سے لے کر ایم اے کے امتحان تک کس قدر امتحانوں کے نیچے آنا پڑتا ہے- کس قدر روپیہ اس کے واسطے خرچ کرتا ہے اور کیا کیا مشکلات اور مشقتیں برداشت کرتا ہے- باوجود اس کے بھی یہ یقینی امر نہیں ہے کہ ایم اے پاس کر لینے کے بعد کوئی کامیاب زندگی کا سلسلہ شروع ہو جائے گا- بسااوقات دیکھا جاتا ہے کہ اس لمبے سلسلہ تعلیم میں طالب علم کی صحت خطرناک حالت میں پہنچ جاتی ہے اور ڈپلوما اور پیام موت ایک ہی وقت آ پہنچا ہے- اس محنت اور مشقت اور ان امتحانوں کی تیاری‘ روپیہ کے صرف سے اس نے کیا فائدہ اٹھایا یا والدین نے کیا؟ مگر اس کے بالمقابل اللہ تعالیٰ کے لئے ابتلائوں اور امتحانوں میں پڑنے والا کبھی نہیں ہوا کہ وہ کامیاب اترا ہو اور نامراد رہا ہو- ان لوگوں کی لائف پر نظر کرو اور ان کے حالات پڑھو جن پر خدا تعالیٰ کے مخلص بندے ہونے کی وجہ سے کوئی ابتلا آیا اور انہوں نے ثبات قدم‘ استقلال اور صبر کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا اور پھر بامراد نہ ہوئے ہوں- ایسی ایک بھی نظیر نہ ملے گی- ۱۲~}~
    دنیاوی علوم و فنون کی تحصیل کے لئے غور کرو کہ ابجد شروع کر کے ایم- اے- کی ڈگری تک‘ پھر امتحان مقابلہ‘ ڈالیاں دینے اور دوسرے اخراجات ضروریہ خرید کتب وغیرہ میں کس قدر محنت‘ وقت اور روپیہ صرف ہوتا ہے- اور ہم کرتے ہیں- مگر اس کے بالمقابل قرآن کریم کو اپنا دستور العمل بنانے کے واسطے‘ اس کے پڑھنے اور سمجھنے کے واسطے کس قدر محنت اور کوشش اور روپیہ ہم نے خرچ کیا ہے؟ اس کا جواب یہی ہو گا کہ کچھ بھی نہیں- اگر اس کے واسطے ہم عشرعشیر بھی خرچ کرتے تو خدا تعالیٰ کے فضل و رحمت کے دروازے ہم پر کھل جاتے- مسلمانوں کے افلاس‘ ان کی تنگ دستی اور قلاشی کے اسبابوں پر آئے دن انجمنوں اور کانفرنسوں میں بحث ہوتی اور بڑے بڑے لیکچرار اپنی طلاقت لسانی سے اس افلاس کے اسباب بیان کرتے ہیں- میں نے بھی ان لیکچروں کو پڑھا ہے اور مسلمانوں کے افلاس کے اسباب پر بھی غور کی ہے-
    ان تمام ریفارمروں اور لیکچراروں کا اسی پر اتفاق ہوتا ہے کہ چونکہ مسلمانوں میں ہائی ایجوکیشن نہیں رہی اس لئے یہ اعلی عہدوں کے حاصل کرنے سے قاصر رہے ہیں اور یہی اصلی باعث ہے- پھر اس ہائی ایجوکیشن کے نعروں سے لیکچر ہال گونجا دیئے جاتے ہیں-
    لیکن میں جب ان لیکچروں کو پڑھتا ہوں تو میری حیرت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ مسلمانوں کو اور بھی مفلس بنا دینے کی ایک تدبیر ہے- میں ہائی ایجوکیشن کا مخالف نہیں ہوں مگر مجھے افسوس اس بات سے آتا ہے کہ مسلمانوں کو الٹی راہ پر ڈالا جاتا ہے- خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کے افلاس کی یہ وجہ نہیں بتائی- قرآن|شریف نے صاف فیصلہ کیا ہے و من اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکاً و نحشرہ یوم القیامۃ اعمیٰ )طٰہٰ:۱۲۸( اور جس نے میرے ذکر سے منہ پھیرا پس تحقیق اس کے لئے گذران تنگ ہو گی اور ہم قیامت کے دن اسے اندھا اٹھائیں گے-
    اصل وجہ افلاس کی تو یہ ہے- مگر افسوس ہے کہ اس سے غافل ہیں اور اور بھی دور ہٹتے جاتے ہیں- اور باایں ہمہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو تنزل سے نکالیں- جب قرآن کریم اور ذکر اللہ سے دوری بڑھے گی تو اس کا نتیجہ خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق ضنک معیشت ہو گا- پس میں ان لیکچراروں اور ریفارمروں کے ساتھ اسباب افلاس میں متفق نہیں- ہائی ایجوکیشن کا نہ ہونا وجہ افلاس ہو گا- ہو- لیکن اصل باعث اعراض عن ذکر اللہ ہی ہے- میں پھر پوچھتا ہوں کہ جس قدر کوشش اور وقت اور روپیہ ہم دنیاوی علوم کے حاصل کرنے کے لئے صرف کرتے ہیں ہم نے اور تم نے اپنے لئے اور اپنی اولاد کے واسطے قرآن کریم کو دستور العمل بنانے کی خاطر پڑھنے کے واسطے کس قدر نقدی‘ وقت اور دعائوں کو خرچ کیا ہے- میں نے جب بعض لوگوں کو کہا ہے کہ قرآن شریف پڑھا کرو تو انہوں نے نہایت متانت اور شوق سے یہ جواب دیا ہے کہ کوئی عمدہ خوبصورت خوشخط چھپی ہوئی حمائل دے دو- جس سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ قرآن شریف کے لئے یہ لوگ گویا ایک اٹھنی یا روپیہ بھی خرچ کرنا نہیں چاہتے- اور دوسری طرف مخرب اخلاق ناولوں اور افسانوں کے خریدنے میں صدہا روپیہ بھی خرچ کر دیں تو مضائقہ نہیں- آہ!
    یا لیت قومی یعلمون )یٰس:۲۷(
    غرض انسان کو واجب ہے اور ہم کو بہت ضروری ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم کی طرف بہت توجہ کریں- بجز اس تعلیم کے اور تعلیم بھی دستور العمل کے لئے ہو تو مفید ہے- بجز اس کے کچھ فائدہ نہیں ہے- اور اس کے لئے یہ موقع اور وقت بہت ہی عجیب ہے- ایک قوم اس وقت غافل اور بے خبر ہے اور ہم چشم دید واقعات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں- ایک قوم نے قرآن کو عملی طور پر قصہ کہانی سمجھ رکھا ہے اور ایک ہماری قوم ہے جو قرآن کو زندہ کتاب سمجھتی ہے اور اس کی آیات کو اب بھی اسی طرح پاتی ہے جیسے آنحضرتﷺ~ کے وقت خیرالقرون کے لوگ پاتے تھے- پس ہم زیادہ ذمہ وار اور جوابدہ ہیں- ہم پر حجت پوری ہو چکی ہے- ہم میں خدا کا امام موجود ہے- بہت بڑی ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قرآن کی تعلیم کی طرف توجہ کریں اور اس کے لئے یہ ایک راہ ہے کہ یہاں آ کر ایک جماعت رہے اور وہ تعلیم حاصل کر کے واپس اپنی قوم میں جا کر تبلیغ کرے اور وہ منذر بنیں-
    میں دیکھتا ہوں کہ ہم نے ایک چھوٹا سا مدرسہ بطور امتحان بنایا ہے اس کی طرف بھی لوگوں کو بہت ہی کم توجہ ہے- حالانکہ یہ مدرسہ حضرت امام علیہ الصلوٰۃ و السلام کی خاص توجہ سے کھلا ہے- غرض ایک مرحلہ اور موقع یہ ہوتا ہے کہ مومن راستباز مامور کے حضور رہ کر اپنی اصلاح کرتا ہے اور اس کے پاک نمونہ اور پاک صحبت سے فیض حاصل کرتا ہے اور عملی طور پر قرآن کے حقائق اور معارف سے آگاہی پاتا ہے- اور اس کے پاس رہ کر بھوک‘ پیاس یا اور جو ابتلا اس پر آئیں ان کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے تو اسے حکم ہوتا ہے- یٰایھا الذین اٰمنوا قاتلوا الذین یلونکم من الکفار و لیجدوا فیکم غلظۃ و اعلموا ان اللہ مع المتقین )التوبۃ:۱۲۳-(اب اس کا یہ فرض ہو جاتا ہے کہ جوں جوں اسے کافر ملتے جاویں ان کا مقابلہ کرے- پہلا کافر اس کا نفس ہے- نفس بسااوقات اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے خلاف اس کو ہدایتیں کرتا ہے اور ان راہوں کی طرف اسے لے جانا چاہتا ہے جو خدا سے دور پھینک دینے والی راہیں ہیں جن پر شیطان کا تسلط ہے- اس لئے پہلی کوشش اور پہلا مقابلہ خود اپنے نفس سرکش سے ہو اور اس کے جذبات سے بچتا رہے- خدا تعالیٰ کی رضا کو مقدم کرے- پھر وہ لوگ ہیں جو اس کے ساتھ کسی نہ کسی قسم کا تعلق رکھتے ہیں لیکن وہ خدا تعالیٰ سے کوئی تعلق یا رشتہ محبت کا نہیں رکھتے- مثلاً برادری یا قوم کے تعلقات ہیں- وہ برادری یا قومی رسم و رواج کے ماتحت اس سے وہ کرانا چاہتے ہیں جو اس کا خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت فرض نہیں بلکہ اس کے مخالف ہے- ایسے موقع پر اس کو چاہئے کہ وہ اس کا مقابلہ کرے اور قومی تعلقات یا سوسائٹی کا کوئی اثر اس کو خدا سے دور پھینک دینے کا موجب نہ ہو- پھر غیر قومیں بھی اپنے کسی نہ کسی اثر کے ذریعہ اس کو خدا سے دور کرنا چاہیں تو یہ اپنی ایمانی قوت سے ان کا ایسا مقابلہ کرے کہ اشداء علی الکفار )الفتح:۳۰( ہو جاوے- کسی منکر کا اثر کوئی اس پر نہ پڑے- جیسے مضبوط چیز پر جونک کام نہیں کر سکتی اسی طرح پر اللہ تعالیٰ کے ایمان اور محبت میں تمہارا وہ دل ہو کہ کافر کی عظمت و جبروت کسی قسم کا اثر اس پر نہ ڈال سکے اور خدا کی رضا کے خلاف کوئی کام نہ کر سکے- غلیظ کو دوسری جگہ شدید بھی فرمایا ہے- اس کے معنی یہی ہیں کہ مومن کفار کے مقابلہ میں ایسا قوی ہو کہ ان کی کسی بات کا اثر اس پر نہ ہو-
    پھر انسان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ اپنے قویٰ‘ علم و دولت‘ جمعیت پر ناز کرتا ہے اور کبھی کبھی نیکی کی شکل میں بھی شیطان دھوکا دے دیتا ہے- خوابوں اور الہاموں پر بھی گھمنڈ کر بیٹھتا ہے حالانکہ ان کی حقیقت سے بے خبر ہوتا ہے- مگر یاد رکھو کہ یہ بھروسے‘ یہ ناز‘ یہ فخر کام نہیں دے سکتے- اصل بات جو انسان کو ہر حالت میں بچاتی اور اس کا ساتھ دیتی ہے وہ ایک ہی ہے جس کو تقوی کہتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے- ان اللہ مع المتقین )البقرۃ:۱۹۵(
    اللہ تعالیٰ کی معیت بڑی نعمت اور دولت ہے‘ اور مبارک ہے وہ جس کو یہ نعمت ملی- لیکن اس کے حاصل کرنے کی ایک ہی راہ ہے کہ انسان متقی بن جاوے- ہمارے ہادی کامل صلی اللہ علیہ و سلم جب غار میں تشریف لے گئے اور کفار آپ کی تلاش میں وہاں تک آ پہنچے تو جناب صدیقؓ نے عرض کیا- آپ نے کیا فرمایا ان اللہ معنا )التوبۃ:۴۰( اللہ ہمارے ساتھ ہے- موسیٰؑ کی قوم جب فرعون کے لشکر اور دریا کے نظارہ کو دیکھ کر گھبراتی اور انا لمدرکون )الشعرائ:۶۲( کی آواز آتی ہے تو موسیٰؑ کیا کہتے ہیں کلا ان معی ربی سیھدین )الشعرائ:۶۳( ہرگز نہیں- میرا رب میرے ساتھ ہے- وہ بامراد کرے گا- غرض خدا کی معیت تقوی سے ملتی ہے جس کے ذریعہ انسان دشمنوں پر فتحمند ہوتا ہے- متقی کا خدا خود معلم ہوتا ہے- اس کے لئے من حیث لایحتسب )الطلاق:۴( رزق دیا جاتا ہے- متقی خدا کا محبوب اور ولی ہوتا ہے- متقی کی دعائیں قبول ہوتی ہیں-
    پس ضرورت ہے اس امر کی کہ تم متقی بنو- اپنے ایمان کا تجزیہ کرو- اور کوئی ذرا سا بھی گنہ اور میل اس میں پائو تو اس کو نکالنے کی کوشش کرو- کیونکہ تم جانتے ہو اگر بہت سارے دودھ میں ایک قطرہ بھی پیشاب کا ڈال دیا جاوے وہ سارا نجس ہو جاتا ہے- اس لئے اگر کوئی ذرا سی کمزوری اور غلطی بھی محسوس کرو تو اس کے چھوڑنے کی فکر کرو- ہر روز اپنی کمزوریوں کا مقابلہ کرو- راست باز کا ساتھ دو- کوئی شاخ جو درخت سے الگ ہو جاتی ہے وہ پھلدار نہیں ہو سکتی جب تک درخت کے ساتھ پیوند نہ ہو- گویا وہ اسی کا ایک حصہ یا جزو ہے- جب خدا کا مامور کسی کام کے لئے حکم دے تو پھر بھوک‘ پیاس اور خرچ کا خیال مت کرو- تمہارے کام اس خدا کے لئے ہوں جو شکور‘ قدیر اور علیم خدا ہے- وہ کسی کے اجر کو ضائع نہیں کرتا-
    قرآن پڑھو مگر دستور العمل کے واسطے پڑھو- اور قرآن چونکہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت کے تقاضا سے آیا ہے اس لئے وہاں آتا ہے جہاں کوئی عبدالرحمن ہو- اس کے پاس رہو تاکہ اس کے اپنے اطوارنشست و برخاست سے تم خدا تعالیٰ کے کلام کو سیکھ سکو- وہ اپنے طرز عمل سے اس قدر سکھا دیتا ہے جو برسوں میں بھی حاصل نہ ہو- پھر اپنی قوم کے لئے منذر بنو- اس کو جا کر تبلیغ کرو- نذیر و بشیر ہو کر جائو- اور ان سب باتوں کے لئے آخر ایک ہی طریق ہے کہ خدا تعالیٰ سے توفیق چاہو- اللہ تعالیٰ مجھے اور تم سب کو جو یہاں موجود ہیں اور ان کو جو ان باتوں کو کسی اور ذریعہ سے سنیں‘ اعمال صالحہ کی توفیق دے- آمین ۱۳~}~
    ۱~}~ ) الحکم جلد۷ نمبر۳۰ ۔۔۔۔ ۱۷ / اگست ۱۹۰۳ء صفحہ۴ (
    ۲~}~ ) الحکم جلد۷ نمبر۳۱ ۔۔۔۔ ۲۴ / اگست ۱۹۰۳ء صفحہ۱۵-۱۶ (
    ۳~}~ ) الحکم جلد۷ نمبر۳۲ ۔۔۔۔ ۳۱ / اگست ۱۹۰۳ء صفحہ۹-۱۰ ( ][۴~}~ ) الحکم جلد۷ نمبر۳۶ ۔۔۔۔ ۳۰ / ستمبر ۱۹۰۳ء صفحہ۱۳ (
    ۵~}~ ) الحکم جلد۷ نمبر۳۷ ۔۔۔۔ ۱۰ / اکتوبر ۱۹۰۳ء صفحہ۱۰-۱۱(
    ۶~}~ ) الحکم جلد۸ نمبر۱ ۔۔۔۔ ۱۰ / جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ۵-۶ (
    ۷~}~ ) الحکم جلد۸ نمبر۲ ۔۔۔۔ ۱۷ / جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ۱۵-۱۶ (
    ۸~}~ ) الحکم جلد۸ نمبر۳ ۔۔۔۔ ۲۴ / جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ۷ (
    ۹~}~ ) الحکم جلد۸ نمبر۵ ۔۔۔۔ ۱۰ / فروری ۱۹۰۴ء صفحہ۴ (
    ۱۰~}~ ) الحکم جلد۸ نمبر۶ ۔۔۔۔ ۱۷ 3] ft[s / فروری ۱۹۰۴ء صفحہ۷-۸ (
    ۱۱~}~ ) الحکم جلد۸ نمبر۷ ۔۔۔۔ ۲۴ / فروری ۱۹۰۴ء صفحہ۴-۵ (
    ۱۲~}~ ) الحکم جلد۸ نمبر۸ ۔۔۔۔ ۱۰ / مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ۴ (
    ۱۳~}~ ) الحکم جلد۸ نمبر۹ ۔۔۔۔ ۳۱ / مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ۴ (
    * - * - * - *
    ‏KH1.4
    ?
    ‏KH1.5
    ?
    ‏KH1.6
    خطبات|نور خطبات|نور
    ۱۲ / نومبر ۱۸۹۹ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جلسہ~ن۲~ الوداع کی تقریب پر حضرت حکیم الامت کا دوسرا وعظ
    سورۃ البقرہ کے پہلے رکوع کی تلاوت کے بعد آپ نے فرمایا -:
    یہ ابتدا ہے اس پاک کتاب کی جس کا نام نور رکھا ہے اور فضل‘ شفا‘ رحمت اور ہدایت
    کہا ہے- وہ پاک کتاب جو اختلاف مٹانے کے واسطے حکم ہو کر آئی ہے‘ وہ کتاب جس کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ کل صداقتوں کا مجموعہ ہے‘ خواہ وہ اس سے پہلے دنیا کی کسی کتاب میں موجود تھیں یا اس کے بعد تصنیف ہونے والی کتابوں میں ہوں‘ غرض راستی کا کوئی ٹکڑا اور حصہ کہیں اور کسی کے پاس ہے تو قرآن|شریف میں بالضرور موجود ہے- اور پھر قرآن شریف ان تمام صداقتوں کا جامع ہی نہیں بلکہ ان کا محافظ‘ مفسر اور ان کو مدلل بیان کرنے والا ہے-
    یہ خیالی اور خوش کن بات نہیں کہ قرآن شریف کل صداقتوں کا مجموعہ ہے بلکہ قرآن شریف نے بڑے دعوے اور ناز کے ساتھ اس کو پیش کیا ہے- چنانچہ مولا کریم فرماتا ہے فیھا کتب قیمۃ )البینۃ:۴( جس قدر سیدھا کرنے والی‘ مضبوط اور مستحکم کتابیں ہیں وہ سب اس میں موجود ہیں- اس لئے میں قرآن شریف پر عرصہ دراز تک تدبر کرنے اور خشیت اللہ کے ساتھ اس کی تلاوت کرنے کے بعد تحدی کرنے کے لئے تیار ہوں کہ کوئی سچائی اور پاک تعلیم دنیا کی کسی کتاب اور کسی زبان میں پیش کرو‘ قرآن شریف میں وہ ضرور موجود ہو گی- یہ تو اس کتاب کی شان ہے- پھر اس کتاب کے لانے والے کی شان کو سوچو تو اور بھی عظمت اس پاک کتاب کی ہوتی ہے- جناب الٰہی نے ہادی کامل صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرمایا- ن و القلم و ما یسطرون )القلم:۲( یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس قدر دواتیں اور قلمیں مل سکتی ہیں اور پھر جو کچھ ان سے لکھا جاوے وہ سب کی سب تحریریں اس امر پر شاہد ہوں گی ما انت بنعمۃ ربک بمجنون )القلم:۳( تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجنون نہیں ہے- پھر یہ نرا دعویٰ ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ایک دلیل بھی دی ہے کہ مجنون کے افعال|واعمال‘ اس کے حرکات و سکنات کا کوئی نتیجہ واقعی نہیں ملتا- لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہر فعل و حرکت‘ ہر بات کا ثمرہ ملتا ہے اور اس سے پاک نتیجہ ملتا ہے- ساری رات پاگل چلاتا رہے لیکن اس کا نتیجہ کیا؟ کچھ بھی نہیں- برخلاف اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے لئے فرمایا و ان لک لاجراً غیر ممنون )القلم:۴( اور یہ بھی نرا دعویٰ ہی نہیں کہ کہہ دیا ان لک لاجراً غیر ممنون- آپ کی پاک سیرت اور واقعات زندگی پر نظر کرو کہ کس قدر اجر ملا- کیا یہ چھوٹی سی بات ہے کہ وہ مکہ جہاں سے بداندیشوں کی ریشہ دوانیوں اور آئے دن کی ایذا رسانیوں سے آپ کو ہجرت کرنی پڑی‘ آخر آپ اس پر ایک فاتح سلطان کی طرح قابض ہوئے اور دس ہزار قدوسیوں کی جماعت کے ساتھ داخل ہوئے- کسی نبی کی زندگی میں یہ بے نظیر کامیابی اور جلال نظر نہیں آتا- مسیح کہتا ہے کہ کوئی نبی بے عزت نہیں ہوتا مگر اپنے وطن میں- لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی پاک زندگی کے واقعات بتاتے ہیں کہ آخر آپ نے مکہ معظمہ میں کس قدر عزت و عظمت حاصل کی- پھر آپ کے لئے یہ جزا کیا کم ہے کہ آپ کی زندگی میں ایک بھی آپ کا دشمن باقی نہ رہا- یا تو وہ ذلت کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوئے اور یا آپ کے خدام میں داخل ہو گئے- اس کامیابی کی بھی کوئی نظیر تلاش کرنے پر کبھی نہیں ملے گی-
    پھر کیا آپ کے افعال کا یہ مزد کم ہے کہ جس غرض اور مقصد کے لئے مبعوث ہوئے تھے اس میں پورے طور پر کامیاب ہو گئے- مکہ معظمہ میں جہاں گھر گھر ایک بت خانہ بنا ہوا تھا ایک خدا کی عبادت کا سکہ بیٹھا دینا چھوٹی سی بات نہیں- یہ ایسی عظیم الشان بات ہے کہ میں نے مختلف ہادیان مذہب کی زندگیوں اور بڑے بڑے ریفارمروں کے حالات میں غور کی ہے مگر میں سچ کہتا ہوں کہ ایسا نمونہ کامیابی کا مجھے نہیں ملا- ایک ذرا سی رسم یا رواج کا اٹھا دینا مشکل ہوتا ہے- یہاں صدیوں کے بیٹھے ہوئے غلط اعتقادات کو ملیامیٹ کیا ہے اور عرب کی حالت کو بالکل پلٹا دیا ہے- جو لوگ عرب کی اس حالت سے واقف ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے آنے سے پیشتر تھی اور پھر جنہوں نے اس انقلاب پر نظر کی ہے جو آپ کی بعثت سے ہوا‘ وہ حیران رہ گئے ہیں کہ اس قدر تغیر عظیم انسانی طاقت سے باہر ہے- بہرحال کیا یہ جزائ‘ یہ نتیجہ حسنہ‘ یہ ثمرشیریں‘ آپ کے افعال کا کچھ کم ہے؟ پھر کیا یہ جزاء کچھ کم ہے کہ آج روئے زمین پر ایک ارب کے قریب مسلمان موجود ہیں جو آپ کی امت کہلانے پر فخر کرتے ہیں؟ پھر آپ کے افعال کا یہ ثمرہ کیا کم ہے کہ ہر وقت اور ہر گھڑی دنیا کے ہر قطعہ اور ہر حصہ پر اللٰھم صل علیٰ محمد و علیٰ اٰل محمد و بارک و سلم پڑھا جاتا ہے اور اس طرح پر آپ کے مدارج‘ آپ کے کمالات ترقی کر رہے ہیں-
    پھر آپ کے لئے یہ بدلہ کیا کم ہے کہ اپنی ہی زندگی میں الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی )المائدۃ:۴( کی صدا آپ کو آئی؟ پھر یہ آواز کس کی زندگی میں آئی کہ رایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجاً )النصر:۴(؟یہ ہیں آپ کے افعال|وحرکات|وسکنات کے مختصر نتائج اور اگر میں اس مضمون کی تفصیل کروں تو بہت وقت چاہئے- اس لئے اسی قدر پر کفایت کرتا ہوں-
    اب دوسرا امر قابل غور یہ ہے کہ پاگل کے اخلاق فاضلہ نہیں ہوتے- اس میں کوئی خلق ہوتا ہی نہیں- وہ ایک وقت دوستوں کو گالیاں دیتا ہے اور دشمنوں سے پیار کرنے لگتا ہے- لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی نسبت فرمایا و انک لعلیٰ خلق عظیم )القلم:۵( اے رسول! تو اعلیٰ درجہ کے اخلاق پر ہے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق فاضلہ کی تفسیر اور تشریح بھی کوئی چھوٹا سا کام نہیں- آپ کے اخلاق قیامت تک کے لئے اسوہ حسنہ قرار پائے ہیں اور کل دنیا کے لئے ہر طبقہ‘ ہر عمر اور ہر حالت کے لئے ان میں نمونہ کامل موجود ہے- پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ آپ کے اخلاق فاضلہ کا بیان میں چند گھنٹوں میں ختم کر سکوں-
    غرض یہ اسی کتاب کا ابتدا ہے جس کا لانے والا اتنا بڑا عظیم الشان اور جلیل القدر کامل انسان ہے- میں نے دنیا کی بہت سی کتابیں پڑھی ہیں اور بہت ہی پڑھی ہیں مگر ایسی کتاب دنیا کی دلربا ‘ راحت بخش‘ لذت دینے والی جس کا نتیجہ دکھ نہ ہو‘ نہیں دیکھی جس کو باربار پڑھتے ہوئے‘ مطالعہ کرتے ہوئے اور اس پر فکر کرنے سے جی نہ اکتائے‘ طبعیت نہ بھر جائے اور یا بدخو دل اکتا جائے اور اسے چھوڑ نہ دینا پڑا ہو- میں پھر تم کو یقین دلاتا ہوں کہ میری عمر‘ میری مطالعہ پسند طبیعت‘ کتابوں کا شوق اس امر کو‘ ایک بصیرت اور کافی تجربہ کی بنا پر‘ کہنے کے لئے جرات دلاتے ہیں کہ ہرگز ہرگز کوئی کتاب ایسی موجود نہیں ہے- اگر ہے تو وہ ایک ہی کتاب ہے- وہ کونسی کتاب؟ ذالک الکتاب لاریب فیہ )البقرۃ:۴( کیا پیارا نام ہے- میں سچ کہتا ہوں کہ قرآن شریف کے سوا کوئی ایسی کتاب نہیں ہے کہ اس کو جتنی مرتبہ پڑھو‘ جس قدر پڑھو اور جتنا اس پر غور کرو اسی قدر لطف اور راحت بڑھتی جاوے گی- طبیعت اکتانے کی بجائے چاہے گی کہ اور وقت اسی پر صرف کرو- عمل کرنے کے لئے کم از کم جوش پیدا ہوتا ہے اور دل میں ایمان‘ یقین اور عرفان کی لہریں اٹھتی ہیں-
    میں جانتا ہوں کہ دنیا میں ایسے افراد بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ قرآن کریم سے ان کو لذت نہیں آئی مگر وہ یہ کیوں کہتے ہیں؟ شامت اعمال کی وجہ سے‘ بدکاریوں اور اعتدا کے سبب سے- قرآن شریف میں اسے ہی لذت نہیں آ سکتی جو ایک گندی زیست رکھتا ہے- چونکہ وہ بیمار دل ہوتا ہے اس لئے جیسے ایک مریض بعض اوقات اپنا ذائقہ تلخ ہونے کی وجہ سے مصری کو بھی تلخ بتاتا ہے‘ وہ کہہ دیتا ہے کہ مجھے اس سے لذت نہیں آتی‘ اس کے کہنے پر کیا انحصار ہے- خدا تعالیٰ نے خود فیصلہ کر دیا ہے فی قلوبھم مرض فزادھم اللہ مرضاً )البقرۃ:۱۱-(اور پھر صاف صاف ارشاد کر دیا لایمسہ الا المطھرون )الواقعۃ:۸۰-(جس جس قدر انسان پاکیزگی‘ تقویٰ اور طہارت میں ترقی کرے گا اسی اسی قدر قرآن|شریف کے ساتھ محبت‘ اس کے مطالعہ اور تلاوت کا جوش اور اس پر عمل کرنے کی توفیق اور قوت اسے ملے گی- لیکن اگر خدا تعالیٰ کے احکام اور حدود کی خلاف ورزی میں دلیری کرتا ہے اور گندی صحبتوں اور ناپاک مجلسوں اور ہنسی ٹھٹھے کے مشغلوں سے الگ نہیں ہوتا وہ اگر چاہے کہ اس کو قرآن شریف پر غوروفکر کرنے کی عادت ہو‘ تدبر کے ساتھ اس کے مضامین عالیہ سے حظ حاصل کرے ~}~ ایں خیال است و محال است و جنون‘ ایسے لوگوں کو قرآن کریم سے کوئی مناسبت نہیں ہے-
    میں ایک چھوٹی سی مثال تمہیں چشم دیدبتاتا ہوں- ایک شخص قرآن|شریف کا حافظ تھا- اسے قرآن شریف سے بڑی محبت اور عشق تھا- وہ اتفاقاً ایک لڑکے پر عاشق ہو گیا- نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن شریف سے جو لذت اس کو آتی تھی وہ جاتی رہی- تھا سعید الفطرت- اس نے اس کمی کو محسوس کیا اور دعائیں کرنے لگا- عرصہ دراز تک وہ دعائوں میں لگا رہا- آخر سالہا سال کے بعد اس کی دعائوں نے اپنا نتیجہ پیدا کیا اور خداتعالیٰ نے اس کو تنبیہ کی اور بتایا کہ یہ لذت قرآن اسی غلطی کی وجہ سے جاتی رہی ہے جو تو نے ایک لڑکے کو پسند کرنے میں کی ہے- اسی سے پتہ لگتا ہے کہ قرآن شریف سے لذت اٹھانے کے واسطے کس قدر طہارت اور پاکیزگی کی ضرورت ہے- خدا تعالیٰ خود فرماتا ہےnsk] g[ta و اتقوا اللہ و یعلمکم اللہ )البقرۃ:۲۸۳( تقویٰ اختیار کرو‘ پھر یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے کہ وہ تمہارا معلم ہو اور قرآن|شریف تمہیں پڑھاوے-
    غرض یہ بالکل سچی بات ہے کہ دنیا میں بھی ایک کتاب ہے جس کی تلاوت‘ جس کا تکرار گھنٹوں‘ دنوں‘ ہفتوں‘ مہینوں اور سالوں کا تدبر انسان کو گھبراتا نہیں بلکہ زیادہ خوشی اور زیادہ جوش اور عشق اورمجاہدہ کتاب اللہ کے لئے عطا کرتا جاتا ہے- ہزاروں ہزار اولیاء اور صلحاء اور اکابر امت گذرے ہیں جنہوں نے اس نتیجہ کو اپنے حالات زندگی سے صحیح پایا ہے- تاہم میں اپنے تجربہ کی بنا پر کہتا ہوں کہ قرآن شریف سے بڑھ کر راحت بخش کوئی کتاب اور اس کا مطالعہ نہیں ہے- مگر آہ! درد دل سے کہتا ہوں اسی راحت بخش کتاب کو آج چھوڑ دیا گیا ہے- یٰرب ان قومی اتخذوا ھٰذا القراٰن مھجوراً )الفرقان:۳۱( اے میرے رب! بے شک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ دیا ہے- مجھے قرآن اس قدر محبوب ہے کہ میں باربار اس کا تذکرہ کرنا‘ اس کا پیارا نام لینا اپنی غذا سمجھتا ہوں اور اسی دھن اور لو میں ابھی تک میں نے اس مضمون پر جو میں نے شروع کیا تھا کچھ بھی نہیں کہہ سکا- یہی وجہ ہے کہ بعض آدمی میرے اس قسم کے طرز بیان کو پسند نہ کرتے ہوں- مگر میں کیا کروں‘ میں مجبور ہوں- اپنے عشق کی وجہ سے باربار اپنے محبوب کے تذکرہ سے ایک لذت ملتی ہے‘ کہے جاتا ہوں-
    حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کا علم کتنا وسیع ہے اور آپ کی نظر کیسی باریک اور عمیق ہے- کسی نے صحابہ میں سے آپ سے لائف آف محمدﷺ~ پوچھی ہے- کیونکہ بیرونی حالت تو لوگ دیکھتے تھے- آپ کے معاملات کا بھی علم تھا جو وہ صحابہ اور دوسرے لوگوں سے کرتے تھے- غرض گھر کے باہر کی لائف صحابہ کے پیش نظر تھی- مگر اندرونی لائف‘ اندرونی معاملات کا علم کسی کو نہیں تھا- اس لئے نہایت سے نہایت بے|تکلف رشتہ میاں اور بی بی کا ہوتا ہے- صحابہ نے بیرونی معاملات اور حالات کے لئے اپنی اور اپنے احباب کی آنکھیں کافی سمجھ کر حضرت صدیقہ سے پوچھا ہے کیونکہ صدیقہ سے بڑھ کر آپ کی پاک لائف کا کوئی گواہ نہ تھا- حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اس سوال کا کیا لطیف جواب دیا کان خلقہ القراٰن- )مسند احمد بن حنبل جلد۶ صفحہ۹۱( یعنی قرآن شریف ایک علم ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اس کے عامل ہیں- گویا یہی آپ کی لائف ہے-
    اسی طرح پر میری رائے نے فیصلہ کر لیا ہے کہ قرآن شریف سے بڑھ کر کوئی کتاب قابل|مطالعہ نہیں کیونکہ ساری دنیا اور مخلوق پر اس نسخہ کا تجربہ ہو چکا ہے اور اس کے طبیب )صلی اللہ علیہ و سلم( کی خوبیاں اور کمالات ظاہر ہو چکے ہیں- پھر اس کے بعد اور کیا باقی رہ سکتا ہے-فماذا بعد الحق الا الضلال )یونس:۳۳( حق کے بعد بجز ہلاکت اور گمراہی کے اور کیا ہو سکتا ہے- اس لئے ضروری ہے کہ ہم اسی پاک کتاب کو اپنا محبوب بنائیں اور دنیا کی ساری کتابوں کو اس پر نثار کر دیں-
    لیکن ایک بات اور یاد رکھنے کے قابل ہے کہ قرآن شریف کے ساتھ عشق و محبت کے اتنے ہی معنے نہیں ہیں کہ ایک عمدہ قرآن شریف لے کر اس کی سونے کی جدول بنوا کر اور عمدہ جلد کرا کے ایک ریشمی غلاف میں بند کر کے ایک کھونٹی کے ساتھ لٹکا دیا اور کبھی اسے کھول کر بھی نہ دیکھا کہ اس میں کیا لکھا ہے؟ یا اگر کھول کر دیکھا بھی تو اس کی غرض صرف اس قدر سمجھ لی کہ اس کی معمولی تلاوت کافی ہے- اگر کوئی شخص اسی قدر سمجھتا ہے تو وہ سخت غلطی کھاتا ہے اور وہ قرآن شریف کی عزت و عظمت کا حق ادا نہیں کرتا اور نہ اس کی تلاوت کے اصل مقصد کو پاتا ہے- یاد رکھو تلاوت کا اصل مقصد قرآن شریف پر عمل کرنا ہے-
    اگر کوئی عمل نہیں کرتااور عمل درآمد کے واسطے اسے نہیں پڑھتا تو اسے کچھ بھی فائدہ اس تعظیم سے نہیں ہو گا- دیکھو کوئی انسان جس کے پاس حاکم وقت کا کوئی پروانہ آئے تو کیا اگر وہ اسے زرافشاں کاغذوں پر لکھ کر رکھ چھوڑے اور اس کی تعمیل نہ کرے تو وہ حاکم محض اس وجہ سے کہ اس کاغذ کی اتنی عزت کی وہ اس سے باز پرس نہ کرے گا؟ ضرور کرے گا- اور اس تعظیم کے ساتھ قانونی سلوک کیا جاوے گا اور اس کے اس عذر پر کہ میں نے تو اس کو زرافشاں کاغذ پر لکھ کر رکھا ہوا ہے اسے پاگل خانے میں بھیج دینے کے قابل سمجھا جاوے گا- پھر اس سے اتر کر اپنے احباب متعلقین اور رفقاء کے خطوط پر نظر کرو-
    ایک دوست کا خط آتا ہے تو کس بے صبری اور غور کے ساتھ اس کو پڑھنے کی کوشش کی جاتی ہے- اگر خود نہیں پڑھ سکتا تو اس شخص کی خوشامد اور منت کی جاتی ہے جو اس کو پڑھ دے- پھر صرف ایک مرتبہ ہی پڑھ لینے پر صبر نہیں آتا بلکہ حتی الوسع دو دو تین تین مرتبہ اس کو پڑھا اور سنایا جاتا ہے- اور اس کے بعد سب سے پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ اس کی تعمیل کی جاوے نہ یہ کہ اس کو عمدہ طور پر سنبھال کر رکھ لیا جاوے اور اس امر کی کچھ پرواہ نہ کی جاوے کہ اس کی تعمیل بھی کرنی ہے- یہ ایک فطرتی امر ہے جو ہر انسان میں پایا جاتا ہے اور تم میں سے ہر ایک اس کا تجربہ کار ہو گا- ایسے موقع پر کبھی یہ بھی دیکھا نہیں جاتا کہ کوئی مجبوری یا مشکل درپیش ہے بلکہ جس قدر جلد ممکن ہو سکتا ہے اس کی تعمیل کرنے کی فکر ہوتی ہے- میں نے دیکھا ہے کہ جب ولائتی ڈاک کے آنے کا دن ہوتا ہے تو انگریز ڈاک خانوں میں بڑی تیزی اور سرعت اور بے|قراری کے ساتھ دوڑے جاتے ہیں- اس لئے کہ وہ اس ڈاک میں اپنے عزیز رشتہ دار یا کسی اور دوست کے خط کے متوقع ہوتے ہیں اور پھر اسی ڈاک میں ان کو جواب دینا ہوتا ہے جو ولائت کو جانے والی ہوتی ہے- یہ تیزی‘ یہ اضطراب ان میں کیوں ہوتا ہے؟ اس لئے کہ ان کی فطرت میں یہ ایک طبعی جوش ہوتا ہے جو ان پر اتمام حجت کرتا ہے- پھر تعجب اور حیرت کی بات ہے کہ ایک معمولی دوست اور رشتہ دار کے خط کی تعمیل کے لئے اس میں اس قدر جوش ہو مگر خدا تعالیٰ کی کتاب احکم الحاکمین کی پاک کتاب کی تعمیل کے لئے وہ جوش اور اخلاص نہ ہو؟ ۱~}~
    پھر اس بات پر بھی غور کرنا چاہئے کہ سرورکائنات صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ تعالیٰ کی اس پاک کتاب کے پہنچانے میں کیا کیا مصائب اور مشکلات برداشت کیں- آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی پاک لائف پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس پاک کلام کو لوگوں تک پہنچا دینے میں اپنی جان تک کی پروا نہیں کی- مکی زندگی جن مشکلات کا مجموعہ ہے وہ سب کی سب اسی ایک فرض کے ادا کرنے کی وجہ سے آپ کو برداشت کرنی پڑی ہیں- لکھا ہے کہ جب مکہ کے شریروں اور کفار نے آپ کے پیغام کو نہ سنا تو آپ طائف تشریف لے گئے اس خیال سے کہ ان کو سنائیں اور شاید ان میں کوئی رشید اور سعید ایسا ہو جو اس کو سن لے اور اس پر عملدرآمد کرنے کو تیار ہو جائے- جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام طائف پہنچے تو آپ نے وہاں کے عمائد سے فرمایا کہ تم میری ایک بات سن لو- لیکن ان شریروں‘ قسی|القلب لوگوں نے آپ کا پیچھا کیا اور نہایت سختی کے ساتھ آپ کو رد کر دیا- اینٹیں اور پتھر مارتے جاتے تھے اور آپ آگے آگے دوڑتے جا رہے تھے یہاں تک کہ آپ بارہ کوس تک بھاگے چلے آئے اور پتھروں سے آپ زخمی ہو گئے- ان تکالیف اور مصائب کو آپ نے کیوں برداشت کیا؟ آپ خاموش ہو کر اپنی زندگی آرام سے گذار سکتے تھے- پھر وہ بات کیا تھی جس نے آپ کو اس امر پر آمادہ کر دیا کہ خواہ مصیبتوں کے کتنے ہی پہاڑ کیوں نہ ٹوٹ پڑیں لیکن امر الٰہی کے پہنچانے میں آپ تساہل نہ فرماویں گے؟ قرآن شریف سے ہی اس کا پتہ چلتا ہے آپ کو حکم ہوا تھا-بلغ ما انزل الیک )المائدۃ:۶۸( جو کچھ تیری طرف نازل کیا گیا ہے اسے مخلوق الٰہی کو پہنچا دے- اور فاصدع بما تومر )الحجر:۹۵( جو تجھے حکم دیا جاتا ہے اس کو کھول کھول کر سنا دے- اس پاک حکم کی تعمیل آپ کا مقصود خاطر تھا اور اس کے لئے آپ ہر ایک آفت اور مصیبت کو بہزار جان برداشت کرنے کو آمادہ تھے- پھر قرآن شریف کے تو تیس پارے ہیں اور ان میں ہزاروں ہزار مضامین ہیں جس کو پہنچانا آپ کا ہی کام تھا- اگر اللہ تعالیٰ کی تائید شامل حال نہ ہو اور اس کی نصرت ساتھ نہ ہو تو پشت شکن امور پیش آ جاتے ہیں-
    اس زمانہ میں ہی دیکھ لو کہ ایک توفی کے امر کو پیش کرنے میں کس قدر دقتیں اندرونی اور بیرونی لوگوں کی طرف سے پیش آ رہی ہیں اور کیا کیا منصوبے اور تجویزیں مخالفوں کی طرف سے آئے دن ہوتی رہتی ہیں اور وہ شخص جو مسیح موعود کے نام سے آیا ہے اور اس پیغام کو پہنچانا چاہتا ہے وہ بھی بالمقابل ان کی تکلیفوں اور اذیتوں کی کچھ پروا نہیں کرتا- وہ تھکتا اور ماندہ نہیں ہوتا- اس کا قدم آگے ہی آگے پڑتا ہے اور اس مضمون کے پہنچانے میں کوئی سستی نہیں کرتا- کوئی ذکر ہو‘ اندر ہو‘ باہر ہو آخر اس کے کلام میں یہ بحث ضرور آ جاتی ہے- ادھر مخالفوں کی کوششیں ادھر اس کی مساعی جمیلہ- اس پر دعائیں کرتا ہے‘ کتابیں لکھتا ہے‘ تقریریں کرتا ہے- غرض کیا ہے؟ انی متوفیک )ال|عمران:۵۶( کے حقیقی معنے لوگوں کے ذہن|نشین ہو جائیں- کیوں؟ اس موت سے خدا تعالیٰ کی زندگی‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات‘ اسلام کی زندگی اور قرآن کریم کی زندگی ثابت ہوتی ہے- اور یہ قرآن شریف کی اعلیٰ درجہ کی خدمت ہے-
    غرض قرآن شریف وہ پاک اور مجید کتاب ہے جس کی اشاعت اور تبلیغ کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہؓکو وہ محنت کرنی پڑی اور آج اس زمانہ کے امام اور خاتم الخلفاء کو وہ تکلیف اٹھانی پڑتی ہے-
    پھر اس سے اصل غرض یہی ہے کہ قرآن شریف کا حقیقی علم پیدا ہو اور اس پر عمل کیا جائے- قرآن|شریف کے حقائق‘ قرآن شریف کی صداقتیں‘ اس کی اعلی تعلیم اور معرفت کی باتیں کوئی گورکھ|دھندا نہیں ہیں جو کسی کو معلوم نہ ہوں- نہیں‘ بلکہ ہر شخص اپنے ظرف ‘ اپنے عزم و استقلال اور محنت|ومساعی کے موافق اس سے فائدہ اٹھاتا ہے- خود اللہ تعالیٰ نے اس کا فیصلہ کر دیا ہے-]kns [tagو الذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا )العنکبوت:۷۰( جو لوگ ہم میں ہو کر مجاہدہ کرتے ہیں ہم ان پر اپنی راہیں یقینا یقینا کھول دیتے ہیں- یہ بالکل سچی بات ہے- مولیٰ کریم تو اس وقت ہر متنفس کو یہ حقائق اور صداقتیں دکھا دیتا ہے جب وہ خدا تعالیٰ میں ہو کر کسی صداقت کے پانے کے لئے اضطراب ظاہر کرتا اور اس کے لئے سچی تلاش کرتا ہے- بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو مجاہدہ تو کرتے ہیں لیکن وہ مجاہدہ خدا میں ہو کر نہیں کرتے بلکہ اپنی تجویز اور عقل سے کوئی بات تراش لیتے ہیں اور جب اس میں ناکام رہتے ہیں تو پھر کہہ دیتے ہیں کہ ہم کو کوئی فائدہ نہیں ہوا- یہ اس کی اپنی غلطی اور کمزوری ہے اور وہ الزام خداتعالیٰ اور اس کی پاک کتاب پر رکھتے ہیں-
    میں نے دیکھا ہے کہ قرآن شریف کا علم صرف و نحو کی کتابوں کے رٹنے پر موقوف نہیں ہے- بدیع|ومعانی قرآنی علوم و حقائق کے لئے لازمی طور پر پڑھنے ضروری نہیں ہیں- یا دوسرے علوم کے بغیر قرآن|شریف کا سمجھ میں آنا ناممکن نہیں ہے- یہ خیالی باتیں ہیں- اس قدر تو میں بیشک مانتا ہوں کہ جس|قدر علوم|حقہ سے انسان واقف ہو گا اور ان علوم میں جو قرآن کریم کے خادم ہیں دسترس رکھتا ہو گا وہ اس کے فہم|قرآن میں ایک ممد و معاون ہوں گے لیکن اسی صورت میں کہ اس کا مجاہدہ‘ مجاہدئہ صحیحہ ہو-
    مجاہدئہ صحیحہ کی تشریح بہت بڑی ہو سکتی ہے مگر مختصر طور پر یاد رکھو کہ قرآن شریف پڑھو اس لئے کہ اس پر عمل ہو- ایسی صورت میں اگر تم قرآن شریف کھول کر اس کا عام ترجمہ پڑھتے جائو اور شروع سے اخیر تک دیکھتے جائو کہ تم کس گروہ میں ہو- کیا منعم علیھم ہو یا مغضوب ہو یا ضالینہو اور کیا بننا چاہئے- منعم علیھمبننے کے لئے سچی خواہش اپنے اندر پیدا کرو‘ پھر اس کے لئے دعائیں کرو- جو طریق اللہ|تعالیٰ نے انعام الٰہی کے حصول کے رکھے ہیں ان پر چلو اور محض خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے واسطے چلو- اس طریق پر اگر صرف سورہ فاتحہ ہی کو پڑھ لو تو میں یقینا کہتا ہوں کہ قرآن شریف کے نزول کی حقیقت کو تم نے سمجھ لیا اور پھر قرآن شریف کے مطالب و معانی پر تمہیں اطلاع دینا اور اس کے حقائق|ومعارف سے بہرہ|ور کرنا‘ یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور ایک صورت ہے مجاہدئہ صحیحہ کی-
    پھر میں نے انسانی فطرت اور اس کی بناوٹ پر نظر کی ہے- میں نے دیکھا ہے کہ انسان کے اندر خوبیاں بھی ہیں اور کمزوریاں بھی ہیں- کمزوریاں اس میں کیوں ہیں؟ اس لئے کہ مغفرت کی شان دکھاوے اور اس کو تکبر سے بچاوے- ہر ایک شخص جس جس قدر اپنی کمزوریوں سے بچے گا اسی اسی قدر سکھ اور راحت اسے ملتا جاوے گا-
    مثلاً ایک شخص عام قوانین صحت کی پابندی کرتا ہے اس لئے اس کے نتیجہ میں اسے اتنا سکھ ضرور ملے گا کہ اس کی حالت صحت اچھی ہو- اگرچہ ممکن ہے کہ وہ ان اسباب اور ذرائع سے ناواقف ہو کہ کیوں اس کی صحت عمدہ ہے- لیکن قانون الٰہی یہی ہے کہ وہ اس سے متمتع ہو گا اور فائدہ اٹھائے گا- لیکن اس کے بالمقابل ایک شخص ہے خواہ وہ کیسا ہی عالم و فاضل ہو لیکن وہ قوانین حفظ صحت کو توڑتا ہے- اس کا لازمی نتیجہ ہو گا کہ اس کی حالت صحت بگڑ جائے-
    اس سے بڑھ کر ایک شخص خیانت‘ بدنظری‘ چوری‘ ڈاکہ زنی‘ قتل اور ان بدیوں سے‘ جن کا تعلق عام لوگوں سے ہے اور اس کا اثر دوسری مخلوق پر پڑتا ہے‘ بچتا ہے تو اس کو ایسے انداز کے موافق سکھ ملے گا اور اس کا دائرئہ راحت وسیع ہو جائے گا- لیکن ایک سستی کرتا ہے‘ اپنے کاروبار میں غفلت کر کے بنی|نوع|انسان کے حقوق تلف کرتا ہے‘ قتل و غارت‘ چوری‘ خیانت سے کام لیتا ہے‘ اسی قدر اس کے دکھ کا میدان وسیع ہو جائے گا- اپنے گھر میں حسن معاشرت سے کام لیتا ہے‘ اس کو گھر کا سکھ حاصل ہو گا- برخلاف عمل کرنے سے دکھ ملے گا- غرض جس جس پہلو اور جس جس حد تک انسان قوانین فطرتیہ کی پابندی کرتا ہے اسی حد تک وہ سکھ پاتا ہے- قرآن شریف انسان کو قوانین فطرتیہ پر عامل کرانا چاہتا ہے اور اس جوئے کے نیچے اس کو رکھنا چاہتا ہے جو بظاہر تکالیف اور پابندی کا جوا نظر آتا ہے لیکن اس کے ماتحت ہو کر سچی خوشحالی اور حقیقی آزادی نظر آتی ہے- کوئی اس جوئے کو اپنی گردن پر رکھ لے اور پھر آزما کر دیکھ لے- یہ کہنے کی بات نہیں‘ ہزاروں ہزار اور لاکھوں لاکھ اس کے نمونے دنیا میں گذر چکے ہیں اور گذرتے رہتے ہیں اور اب بھی ایک کامل نمونہ ہم میں موجود ہے- خوشی چاہتے ہو اور ضرور چاہتے ہو تو اس کی ایک ہی سبیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی فکر کرو-اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہو تو پہلے اللہ تعالیٰ کی رضا کی باتوں کو معلوم کرو- وہ تمہیں قرآن شریف میں ملیں گی- قرآن شریف کا فہم چاہتے ہو تو تقویٰ اختیار کرو- صادقوں کی صحبت میں رہو اور پھر مجاہدہ کرو- وہ مجاہدہ جو اللہ تعالیٰ میں ہو کر ہو-
    تم جہاں ہو اس اصل کو کبھی مت بھولو کہ ہر روز اپنی غلطیوں اور کمزوریوں کا اندازہ اور امتحان کرو کہ کس قدر تم نے حقیقی نیکی کے کام کیے اور کس قدر بدیاں تم سے سرزد ہوئیں- پھر ان بدیوں کے اسباب پر نگاہ کرو اور ان کے ترک کی فکر کرو- نیکی کے متعلق بھی ایک عام دھوکا اور نفس کا مغالطہ بعض وقت پیدا ہو جاتا ہے- ایک شخص ایک کام کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ نیکی کا کام ہے لیکن فی الحقیقت وہ کام اس کے لئے موجب عذاب ہو جاتا ہے- اس کی وجہ کیا ہے؟ یہی کہ وہ خدا تعالیٰ کی مرضی اور حکم کے ماتحت نہیں ہوتا-
    پس یاد رکھو کہ کوئی نیکی کبھی نیکی ہوتی ہی نہیں جب تک وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت اور امر کے ماتحت نہ ہو اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے عمل کے موافق نہ ہو- ان دونوں باتوں کو اخلاص اور صواب کہتے ہیں اور یہ دونوں جب تک کسی فعل میں موجود نہ ہوں وہ فعل نیکی کا فعل نہیں کہلا سکتا- بہت سے لوگ ہیں جو خاص قسم کی نمازیں اور وظیفے پڑھتے ہیں اور ان کے ادا کرنے میں بعض اوقات وہ جماعت کی پابندی اور بر وقت نماز پڑھنے سے بھی قاصر رہ جاتے ہیں- اب نماز یا ذکر ایک عمدہ فعل تھا لیکن چونکہ وہ اپنی ذاتی تجویز کے موافق ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے وہ ثابت نہیں تو اسے کوئی نیکی کا فعل نہیں کہہ سکتے- یا مثلاً صدقہ دینا اور زکٰوۃ نکالنا ایک عمدہ اور نیکی کا فعل ہے لیکن ایک اٹھتا ہے اور وہ اپنے مال سے پیران پیر کی گیارھویں نکالتا ہے- چونکہ اس میں اخلاص اور صواب نہیں اس لئے وہ فعل اس کا نیکی کا فعل نہ ہو گا- اسی طرح پر بہت سی باتیں ہیں اور میں درد دل کے ساتھ کہتا ہوں کہ آج کل مسلمانوں میں ایسی بدعتیں اور خرابیاں بہت سی پیدا ہو گئی ہیں اور قرآن شریف کی شریعت کے مقابلہ میں ایک نئی شریعت اور نیا دین تجویز کر لیا گیا ہے اور باوجودیکہ ایسی خرابیوں اور غلطیوں میں مبتلا ہیں اور خود نئی شریعت کے مجوز اور عامل ہیں- لیکن جو کہتا ہے کہ قرآن شریف پر عمل کرو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کی اتباع کرو اسے کہا جاتا ہے کہ یہ نیا دین پیش کرتا ہے العجب! ثم العجب!!
    بہت سے لوگ اپنے دنیوی کاموں میں ہزاروں روپے خرچ کرتے ہیں اور جس طرح بھی ممکن ہو ان ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں لیکن جب ضرورت دین کا موقع ہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے ایک کام میں خرچ کرنا پڑے تو پھر انہیں ہزاروں ہزار عذر ہوتے ہیں- وہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی نہ کسی بہانہ سے یہاں سے بچ جاویں- یا جو لوگ ناجائز مال حاصل کرتے ہیں اور رشوت وغیرہ سے کماتے ہیں پھر اپنی اس خطاکاری کے چھپانے کے واسطے اپنے نفس سے اس کے جواز کے حیلے اور عذر تراشتے ہیں اور اس کو حلال بنانا چاہتے ہیں اسی طرح پر ہر قسم کی بدی کو کسی نہ کسی رنگ میں اپنے لئے جائز بنانے کی فکر کرتے ہیں- مجھے تعجب ہو جاتا ہے کہ جس قدر سعی اور فکر ان لوگوں کو ایک بدی کے جائز کرنے کے لئے کرنی پڑتی ہے اور وہ اس کوشش اور تدبیر سے جائز ہو بھی نہیں سکتی- اگر یہ اس سے بھی آدھی کوشش اس بدی کے چھوڑنے کے لئے کریں تو یہی نہیں کہ وہ بدی ان سے چھوٹ جاوے بلکہ اس کے بدلے میں وہ ایسی نیکی کی توفیق پا لیں جو ان کو اس سے زیادہ سکھ اور اطمینان دے سکے جو اس بدی سے ان کو ہرگز ہرگز نہیں مل سکتا-
    انسان کے نیک یا بد ہونے کا امتحان اسی وقت ہوتا ہے جب خدا تعالیٰ کے واسطے اس کو کوئی کام کرنا پڑے- اپنی جگہ وہ اخلاق کا پتلا بنا ہوا ہوتا ہے اور راست بازی کے لئے مشہور ہوتا ہے لیکن کوئی مقدمہ ہو تو پھر جان و مال کو اس میں لگا دیتا ہے اور دشمن کو ذلیل کرنے کے لئے ہر ایک قسم کی جائز و ناجائز حرکتوں کو روا رکھتا ہے- غرض جس قدر انسانی فطرت اور اس کی کمزوریوں پر نظر کرو گے تو ایک بات فطرتی طور پر انسان کا اصل منشا اور مقصد معلوم ہو گی- وہ ہے حصول سکھ- اس کے لئے وہ ہر قسم کی کوششیں کرتا اور ٹکریں مارتا ہے- لیکن میں تمہیں اس فطرتی خواہش کے پورا کرنے کا ایک آسان اور مجرب نسخہ بتاتا ہوں- کوئی ہو جو چاہے اس کو آزما کر دیکھ لے- میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اس میں ہرگز ہرگز کوئی خطا اور کمزوری نہ ہو گی اور میں یہ بھی دعویٰ سے کہتا ہوں کہ جس قدر کوششیں تم ناجائز طور پر سکھ کے حاصل کرنے کے لئے کرتے ہو اس سے آدھی ہی اس کے لئے کرو تو کامل طور پر سکھ مل سکتا ہے- وہ نسخہ|راحت یہ کتاب مجید ہے اور میں اسی لئے اس کو بہت عزیز رکھتا ہوں- اور اس وجہ سے کہ انسان اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوتا جب تک اپنے بھائی کے لئے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لئے کرتا ہے‘ میں اس کتاب کا سنانا بہت پسند کرتا ہوں- اس کتاب مجید کی یہ پہلی سورۃ شریف ہے اور اس میں الحمدشریف کی گویا تفسیر ہے- بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ الحمد شریف کی تفسیر میں سے پہلی سورۃ ہے- الحمد شریف کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اسماء ظاہری اللہ- رب العالمین- الرحمٰن- الرحیم- مالک یوم الدین سے شروع فرمایا تھا اور اس سورۃ شریفہ کو اسماء باطنی سے شروع فرمایا یعنی الم جس کے معنیٰ ہیں انا اللہ اعلم- پھر الحمد شریف میں اللہ تعالیٰ نے ایک کامل دعا تعلیم فرمائی تھی- اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم یعنی ہم کو اقرب راہ کی جو تیرے حضور پہنچنے کی ہے راہنمائی فرما- وہ راہ جو ان لوگوں کی راہ ہے جن پر تیرا انعام ہوا یعنی نبیوں‘ صدیقوں اور شہیدوں اور صالحوں کی راہ-
    سورہ فاتحہ میں یہ دعا تعلیم ہوتی ہے- لیکن اس سورۃ بقرہ میں اس دعا کی قبولیت کو دکھایا ہے اور اس کا ذکر فرمایا جبکہ ارشاد الٰہی یوں ہوا- ذالک الکتاب لاریب فیہ ھدی للمتقین )البقرۃ:۳( یہ وہ ہدایت نامہ ہے یعنی متقی اور بامراد گروہ کا ہدایت نامہ- ہاں انعمت علیھم گروہ کی راہ یہی ہے- پھر منعم علیہ گروہ کے اعمال و افعال کا ذکر کیا اور ان کے ثمرات میں اولٰئک علیٰ ھدی من ربھم و اولٰئک ھم المفلحون )البقرۃ:۶( فرمایا- ان کے افعال و اعمال میں بتایا کہ وہ الغیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیں- اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے میں سے خرچ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی وحی اور کلام اور سلسلہ رسالت پر ایمان لاتے ہیں- جزا و سزا پر ایمان لاتے ہیں- یہ منعم علیہ گروہ کی راہ ہے-
    اب ہر ایک شخص کا جو قرآن شریف پڑھتا ہے یا سنتا ہے یہ فرض ہے کہ وہ اس رکوع سے آگے نہ چلے جب تک اپنے دل میں یہ فیصلہ نہ کر لے کہ کیا مجھ میں یہ صفات‘ یہ کمالات ہیں یا نہیں؟ اگر ہیں تو وہ مبارک ہے اور اگر نہیں تو اسے فکر کرنی چاہئے اور اللہ تعالیٰ سے رو رو کر دعائیں مانگنی چاہئیں کہ وہ ایمان|صحیح عطا فرماوے-یومنون بالغیب )البقرۃ:۴( در اصل عقائد صحیحہ کو مشتمل ہے- اور یومنون بما انزل الیک )البقرۃ:۵( مسئلہ رسالت اور الہام و وحی کے متعلق ہے- اور بالاٰخرۃ ھم یوقنون )البقرۃ:۵( جزا و سزا کے متعلق ہے- پھر ان اعمال و افعال کے ثمرات میں اولٰئک ھم المفلحون )البقرۃ:۶( بتایا ہے-
    اگر انسان حقیقی کامیابی حاصل کرتا ہے اور بامراد ہو رہا ہے تو اسے خوش ہونا چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے منعم علیہ گروہ کے زمرہ میں شامل ہے- لیکن اگر نہیں تو پھر فکر کا مقام اور خوف کی جا ہے- پس قرآن کریم کی تلاوت کی اصل غرض یہی ہے کہ انسان اس پر عمل کرے-
    منعم علیہ گروہ کے ذکر کے بعد پھر بتایا کہ مغضوب علیھم کون لوگ ہیں- ان کے کیا نشانات ہیں اور ان کا انجام کیا ہوتا ہے؟ ان کے عام نشانات میں سے بتایا کہ یہ وہ گروہ ہے جو تیرے انذار اور عدم انذار کو برابر سمجھتا ہے اور چونکہ وہ وجود و عدم وجود کو برار سمجھتے‘ اس لئے باوجود دیکھنے کے وہ نہیں دیکھتے اور باوجود سننے کے نہیں سن سکتے- دل رکھتے ہیں پر نہیں سمجھ سکتے- ایسے لوگوں کا انجام کیا ہوتا ہے؟ عذاب الیم- بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ جو شخص آنکھ رکھتا ہے وہ کیوں نہیں دیکھتا- کان رکھتا ہے کیوں نہیں سنتا- انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ نتیجہ ہے ایسے لوگوں کے ایک فعل کا- وہ فعل کیا ہے؟ انذار اور عدم انذار کو مساوی سمجھنا- اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص انگریزی زبان کے پڑھنے یا نہ پڑھنے کو برابر سمجھے تو وہ اس کو کب سیکھ سکتا ہے- اس صورت میں وہ اس زبان کی اگر کسی کتاب کو دیکھے تو بتائو اس دیکھنے سے اسے کیا فائدہ؟ اگر کسی دوسرے کو پڑھتے ہوئے سنے تو اس سننے سے کیا حاصل؟ دیکھو وہ دیکھتا ہے اور پھر نہیں دیکھتا- سنتا ہے اور پھر نہیں سنتا- اسی طرح پر جو لوگ اللہ تعالیٰ کے مامور و مرسل کے انذار اور عدم|انذار کو برابر سمجھتے ہیں تو وہ اس سے فائدہ کیونکر اٹھا سکتے ہیں- کبھی نہیں- جب ایک چیز کی انسان ضرورت سمجھتا ہے تو اس کے لئے سعی اور مجاہدہ کرتا ہے اور پھر اس مجاہدہ پر ثمرات مترتب ہوتے ہیں لیکن اگر وہ ضرورت ہی نہیں سمجھتا تو اس کے قویٰ میں مجاہدہ کے لئے تحریک ہی پیدا نہیں ہو گی- یہ بہت ہی خطرناک مرض ہے جو انسان رسولوں اور اللہ تعالیٰ کے ماموروں اور اس کی کتابوں کے وجود اور عدم وجود کو برابر سمجھ لے- اس مرض کا انجام اچھا نہیں بلکہ یہ آخرکار تکذیب اور کفر تک پہنچا کر عذاب الیم کا موجب بنا دیتا ہے- پس تلاوت کرنے والے کو پھر اس مقام پر سوچنا چاہئے کہ کیا میں خدا کے رسول و مامور کے انذار اور عدم انذار کومساوی تو نہیں سمجھتا؟ کیا میں اس کی باتوں پر توجہ تام کرتا ہوں اور کان لگا کر سنتا ہوں اور سوچتا ہوں کہمساوات کی یہی صورت نہیں ہوتی جو آدمی زبان سے کہہ دے بلکہ اگر رسول کے فرمودہ کے موافق عمل نہ کرے تو یہی ایک قسم کا انذار اور عدم انذار کی مساوات ہے-۲~}~
    پھر الضال کی تفسیر بیان فرمائی کہ یہ لوگ کون ہوتے ہیں؟ سورۃ فاتحہ میں جو دعا تعلیم کی تھی اس میں ضالین کی راہ سے بچنے کی دعا تھی اور یہاں ان لوگوں کے حالات بتائے کہ وہ کون ہوتے ہیں؟ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا ظاہر کچھ اور‘ باطن کچھ اور ہوتا ہے اسی لئے فرمایا اولٰئک الذین اشتروا الضلالۃ بالھدیٰ فماربحت تجارتھم و ماکانوا مھتدین )البقرۃ:۱۷( یعنی یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی کو مول لے لیا ہے- پس ان کی تجارت ان کے لئے سودمند تو نہ ہو گی اور وہ کب بامراد ہو سکتے تھے-
    ان لوگوں کی پہلی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ زبان سے تو ایمان باللہ اور یوم الاخر کی لاف و گزاف مارتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کا فیصلہ ان کے حق میں یہ ہے ما ھم بمومنین )البقرۃ:۹-(اس سے ایک حقیقت کا پتہ لگتا ہے کہ انسان اپنے منہ سے اپنے لئے خواہ کوئی نام تجویز کر لے اس نام کی کوئی حقیقت پیدا نہیں ہو سکتی جب تک آسمان پر کوئی مبارک نام نہ ہو- اور یہ امر اس وقت پیدا ہوتا ہے جبکہ انسان اپنے ایمان کے موافق اعمال بنانے کی کوشش کرے- ایمان جب تک اعمال کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا کوئی سودمند نہیں ٹھہر سکتا- اور اگر نرا ایمان رکھ کر انسان اعمال اس کے موافق بنانے کی کوشش نہ کرے تو اس سے مرض نفاق پیدا ہوتا ہے جس کا اثر آخر یہاں تک ہو جاتا ہے کہ نہ قوت فیصلہ باقی رہتی ہے اور نہ تاب مقابلہ- ان لوگوں کے دوسرے آثار اور علامات میں سے بیان کیا کہ وہ مفسد علی الارض ہوتے ہیں- اور جب ان کو کہا جاتا ہے کہ تم فساد نہ کرو تو وہ اپنے آپ کو مصلح بتاتے ہیں حالانکہ وہ بڑے بھاری مفسد ہوتے ہیں-
    اس طرح پر الضال کی ایک تفسیر ختم کر دینے کے بعد پھر اس سورۃ میں فرمانبرداری کی راہوں کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ فرمانبرداری اختیار کرنا انسان کی اصل غرض اور مقصد ہے اور یہ بتایا ہے کہ حقیقی راحت اور سکھ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں ہے- اور فرمانبرداری کے راہوں کے بیان کرنے میں قرآن کریم کا ذکر فرمایا جس سے یہ مراد اور منشا ہے کہ قرآن شریف کو اپنا دستور العمل بنائو اور اس کی ہدایتوں پر عمل کرو- پھر اس بات کی دلیل پیش کی ہے کہ قرآن شریف خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور ایک زبردست تحدی کی ہے کہ اگر کسی کو اس کے منزل من اللہ ہونے میں شک ہو تو وہ اس کی نظیر لاوے- پھر منعم علیھم قوم میں سے آدم علیہ السلام ابوالبشر کا ذکر کیا اور بتایا کہ راست بازوں کے ساتھ شریروں اور فساد کرنے والوں کی ہمیشہ سے جنگ ہوتی چلی آئی ہے اور آخر خدا کے برگزیدے کامیاب ہو جاتے ہیں- پھر مغضوب اور ضال کا ذکر کیا ہے- بالاخر ابوالملت سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام کا ذکر فرمایا اور اس کی فرمانبرداری کو بطور نمونہ پیش کیا کہ اس کی راہ اختیار کر کے انسان برگزیدہ ہو سکتا ہے اور خدا تعالیٰ کے فیوض و برکات کو حاصل کر لیتا ہے- پھر نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکٰوۃ کی تاکید اور اسی سورۃ شریف میں عبادت کے طریق سکھائے ہیں- پھر آخر میں یہ دعا سکھائی ہے فانصرنا علی القوم الکافرین )البقرۃ:۲۸۷-(
    یہ نہایت مختصر سا خلاصہ ہے سورہ فاتحہ کا جو اس سورہ بقرہ میں موجود ہے- اس کی تفصیل اور تفسیر کے لئے تو بہت وقت چاہئے- مگر میں نہایت مختصر طریق پر صرف پہلے ہی رکوع پر کچھ سنائوں گا- چنانچہ ابتدا میں مولیٰ کریم فرماتا ہے الم ذالک الکتاب لاریب فیہ ھدی للمتقین )البقرۃ:۲-۳( میں اللہ بہت جاننے والا ہوں- اس کی جانب سے یہ ہدایت نامہ ملتا ہے جس پر چل کر انسان روحانی آرام اور سچے عقائد اور جسمانی راحتیں حاصل کر سکتا ہے- میں نے پہلے کہا ہے کہ قرآن شریف کا نام اللہ تعالیٰ نے شفا رکھا ہے اور اس کے ماننے والوں کا نام متقی رکھا ہے اور پھر فرمایا ہے- و للٰہ العزۃ و لرسولہ و للمومنین جمیعاً )المنافقوں:۹( یعنی جو لوگ ماننے والے ہوتے ہیں وہ معزز ہوتے ہیں- ماننے والے سے مراد یہ ہے جو اس پر عملدرآمد کرتے ہیں- یہ خیالی اور فرضی بات نہیں ہے- تاریخ اور واقعات صحیحہ اس امر کی شہادت دیتے ہیں کہ جس قوم نے قرآن کو اپنا دستور العمل بنایا وہ دنیا میں معزز و مقتدر بنائی گئی-
    کون ہے جو اس بات سے ناواقف ہے کہ عربوں کی قوم تاریخ دنیا میں اپنا کوئی مقام و مرتبہ رکھتی تھی- وہ بالکل دنیا سے الگ تھلگ قوم تھی- لیکن جب وہ قرآن کی حکومت کے نیچے آئی وہ کل دنیا کی فاتح کہلائی- علوم کے دروازے ان پر کھولے گئے- پھر ایسی زبردست شہادت کے ہوتے ہوئے اس صداقت سے انکار کرنا سراسر غلطی ہے- میں دیکھتا ہوں کہ آج کل مسلمانوں کے تنزل وادبار کے اسباب پر بڑی بحثیں ہوتی ہیں اور وہ لوگ جو قوم کے ریفارمر یا لیڈر کہلاتے ہیں اس مضمون پر بڑی طبع آزمائیاں کرتے ہیں- لیکچر دیتے ہیں- آرٹیکل لکھتے ہیں- مگر مجھے افسوس ہے کہ وہ اس نکتہ سے دور ہیں- ان کے نزدیک مسلمانوں کے ادبار کا باعث یورپ کے علوم کا حاصل نہ کرنا ہے اور ترقی کا ذریعہ انہیں علوم کا حاصل کرنا ہو سکتا ہے- حالانکہ قرآن شریف یہ کہتا ہے کہ قرآن پر ایمان لانے والے اور عملدرآمد کرنے والے معزز ہو سکتے ہیں- بلکہ میرا تو یہ ایمان ہے کہ جب انسان کامل طور پر قرآن کی حکومت کے نیچے آ جاتا ہے تو وہ حکومت اس کو خود حکمران بنا دیتی ہے اور دوسروں پر حکومت کرنے کی قابلیت عطا کرتی ہے- جیسا کہ اولٰئک ھم المفلحون )البقرۃ:۶( سے پایا جاتا ہے- غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اللہ جو بہت جاننے والا ہوں یہ ہدایت نامہ دیتا ہوں جس میں کوئی ہلاکت کی راہ نہیں اور نکتہ گیری کا کوئی موقع نہیں ہے- ہاں یہ ضروری ہے کہ قرآن سے فائدہ اٹھانے والا انسان تقویٰ شعار ہو‘ متقی ہو-
    ابتدا ہی میں اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کو ان لوگوں کے لئے ہدایت نامہ قرار دیا ہے جو متقی ہیں- دوسرے مقام پر علوم قرآنی کی تحصیل کی راہ یہی تقویٰ ہی قرار دیا ہے- جیسے فرمایا و اتقوا اللہ و یعلمکم اللہ )البقرۃ:۲۸۳( یعنی تقویٰ اختیار کرو اللہ تعالیٰ تمہارا معلم ہو جائے گا-
    تقویٰ کے پاک نتائج بڑے عظیم الشان ہوتے ہیں- ان میں سے ایک تو وہ ہے جو میں نے ابھی بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ اس کا معلم ہو جاتا ہے اور قرآنی علوم اس پر کھلنے لگتے ہیں- پھر تقویٰ ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے- جیسے فرمایا ان اللہ مع الذین اتقوا و الذین ھم محسنون )النحل:۱۲۹( بیشک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ضرور ہوتا ہے جو متقی ہوتے ہیں اور ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو محسنین ہوتے ہیں- احسانکی تعریف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ فرمائی ہے کہ وہ خدا کو دیکھتا ہو- اگر یہ نہ ہو تو کم از کم یہ کہ وہ اس پر ایمان رکھتا ہو کہ اللہ اس کو دیکھتا ہے- پھر یہ بھی تقویٰ ہی کے نتائج اور ثمرات میں سے ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر تنگی سے متقی کو نجات دیتا ہے اور اس کو من حیث لایحتسب )الطلاق:۴( رزق دیتا ہے- متقی اللہ کا محبوب ہوتا ہے یحب المتقین )الطلاق:۴( غرض تقویٰ پر ساری بنا ہے-
    پھر فرمایا کہ متقی کون ہوتے ہیں؟ ان کی پہلی نشانی یہ ہے یومنون بالغیب )البقرۃ:۴( وہ الغیب پر ایمان لاتے ہیں- خلوت اور جلوت میں برابر مومن رہتے ہیں- ایک شخص کا مسجد میں اپنے ہم عصروں اور ملنے والوں کے سامنے ایماندار ہونا سہل ہے لیکن خلوت میں‘ جہاں اسے کوئی نہیں دیکھتا بجز اللہ تعالیٰ کے‘ اس کا مومن رہنا ایک امر اہم ہے- لیکن متقی خلوت اور جلوت میں برابر مومن رہتے ہیں- اسی بنا پر کسی نے کہا ہے-
    مشکلے دارم ز دانشمند مجلس باز پرس
    توبہ فرمایاں چرا خود توبہ کمتر میکنند
    واعظاں کیں جلوہ بر محراب و منبر میکنند
    چوں بخلوت میروند آں کار دیگر میکنند
    پھر ایمان بالغیب میں بہت سی باتیں ہیں جن کو ماننا چاہئے- اصل میں ثواب کے حاصل کرنے کے لئے ایمان بالغیب ضروری شے ہے- اگر کوئی شخص مثلاً آفتاب و ماہتاب پر ایمان لاوے تو تم ہی بتائو کہ یہ ایمان اس کو کس ثواب کا مستحق اور وارث بنائے گا؟ کسی کا بھی نہیں- لیکن جن چیزوں کو اس نے دیکھا نہیں ہے صرف قرائن قویہ کی بنا پر ان کو مان لینا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں آئی ہیں ایمان بالغیب ہے جو سودمند اور مفید ہے-
    پھر فرمایا کہ جب انسان ایمان لاتا ہے تو اس کا اثر اس کے جوارح پر بھی پڑنا چاہئے اور اللہ تعالیٰ پر ایمان کے لئے تعظیم لامر اللہ کا لحاظ ہو- اس لئے فرمایا و یقیمون الصلٰوۃ یہ متقی وہ لوگ ہوتے ہیں جو نماز کو قائم کرتے ہیں- کیونکہ نماز اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کا موقع ہے- مومن کو چاہئے کہ نماز کو اسی طرح پر یقین کرے- ابتدائے نماز سے جب اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے اور کانوں پر ہاتھ رکھتا ہے تو گویا دنیا اور اس کی مشیختوں سے الگ ہو جاتا ہے- پھر اپنے مطالب و مقاصد بیان کرے- نماز میں قیام‘ رکوع‘ سجدہ اور سجدہ سے اٹھ کر پھر دوسرے سجدہ میں اپنے مطالب بیان کر سکتا ہے- پھر التحیاتمیں صلٰوۃ اور درود کے بعد دعا مانگ سکتا ہے- گویا یہ سات موقعے دعا کے نماز میں رکھے ہیں-۳~}~
    بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ نماز میں قسم قسم کے خیالات پیدا ہوتے ہیں اور حضور قلب حاصل نہیں ہوتا- اس کے لئے کیا کیا جاوے؟ اس کا علاج بھی نماز ہی ہے- کثرت کے ساتھ بے ذوقی اور بے|حضوری سے بھی جب دعائیں ہوتی رہیں گی تو اسی بے حضوری سے حضور اور بے ذوقی سے ایک ذوق پیدا ہو جائے گا- لیکن اصل بات یہ ہے کہ گھبرانا نہیں چاہئے اور تھک کر اس راہ کو چھوڑنا نہیں چاہئے- جو مطالب پیش کرتے ہو اور جو کچھ پڑھتے ہو اگر سمجھ کر پڑھو پھر حضور پیدا ہونے لگے گا-
    نماز کے عجائبات میں سے اجتماع بھی ہے اس لئے حتی الوسع نماز کو باجماعت ادا کرو- ہماری جماعت کے لئے ایک قسم کا ابتلا کا زمانہ ہے- بعض کم فہم اور مساجد کے اغراض سے ناواقف لوگ ہماری مخالفت میں یہاں تک بڑھ گئے ہیں کہ اپنی مسجدوں میں آنے سے روکتے ہیں- ایک وہ زمانہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے حضور کچھ عیسائی آئے تھے اور آپ نے اپنی مسجد میں ان کو اپنے طریق پر گرجا کر لینے سے منع نہیں فرمایا- اور یہ زمانہ ہے کہ ذرا سے اختلاف کی وجہ سے مسجدوں سے نکال دیتے ہیں اور اس اخراج میں اس قدر غلو ہے کہ بعض دفعہ ان لوگوں نے مسجدوں کے فرش اکھڑوا دیئے ہیں اور ان کو دھلوایا ہے- مسلمانوں کی اس قسم کی حالت ہی بتلاتی ہے کہ اس وقت ایک امام کی ضرورت ہے- مگر یہ بیمار قوم اپنے دردمند طبیب اور شفیق غمگسار کو دشمن سمجھتی ہے اور اس طرح پر اس کے فیوض و برکات سے بے نصیب ہو رہی ہے- آہ! یاحسرۃ علی العباد مایاتیھم من رسول الا کانوا بہ یستھزئ|ون )یٰس:۳۱-(
    غرض نماز باجماعت ادا کرنے کی کوشش کرو- اس کے لئے مسجدوں کا انتظام ہونا چاہئے- میرے دوست میری اس عرض کو غور سے سنیں اور بدگمانی کی نظر سے نہ سنیں- میں سچ کہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ درد دل سے کہتا ہوں- خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے پر ایمان رکھ سکتا ہوں- بعض لوگوں کو جب کہا گیا ہے کہ تم اپنے شہر میں مسجد بنا لو تو وہ کہتے ہیں کہ چندہ کرادو تا کہ مسجد بنا لیں- میں نے انہیں کہا ہے کہ مسجد کی بہت بڑی ضرورت ہے لیکن فی الحال یہ ضروری بات نہیں ہے کہ کوئی عظیم|الشان عمارت ہو- تم سیدھی سادھی کوئی عمارت‘ اگر ممکن ہو‘ بنا لو ورنہ چبوترہ ہی سہی- اس پر چھپر ڈال لو- دیکھو! ہمارے ہادی کامل صلی اللہ علیہ و سلم کا پہلا کام مدینہ طیبہ میں یہی مسجد کی بنا تھی مگر اس کے لئے کوئی بہت بڑا اہتمام اس وقت نہیں کیا گیا- معمولی کھجور کے پتوں کی چھت ڈال لی گئی- یہاں تک کہ بارش میں وہ مسجد اس قدر ٹپکتی کہ صحابہ کے کپڑے لت پت ہو جاتے- وہی مسجد گو آج عظیم|الشان مسجد ہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے مسجد کی بنا تو ضروری سمجھی مگر اس کی عالیشان عمارت کی طرف توجہ نہیں فرمائی- اسی طرح پر وادی غیر ذی زرع میں ایک عظیم الشان مسجد بنائی گئی جو اللہ تعالیٰ کا گھر کہلایا- بیت الحرام اس کا نام رکھا گیا جو ان اول بیت وضع للناس )اٰل|عمران:۹۷( کا مصداق ہوا- ہاں جو خدا تعالیٰ کی ہستی‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت‘ قرآن|کریم کی سچائی کا زبردست نشان ہے- وہ مسجد جہاں روئے زمین کے مسلمان کھچے چلے جاتے ہیں وہ مسجد کعبہ~ن۲~ اللہ کی مسجد ہے-
    اب غور کرو کیا ان دونوں مسجدوں کے لئے بنانے والوں نے اس وقت چندوں کی فہرستیں کھولی تھیں؟ نہیں کعبہ کی بنا کے لئے خدا تعالیٰ کے دو برگزیدہ بندے باپ اور بیٹا خود ہی مستری معمار اور مزدور تھے- وہ سماں کیسا عجیب ہو گا جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام اور حضرت اسماعیل اس مسجد کو بنا رہے تھے- جس اخلاص اور غرض کے لئے انہوں نے بنیادی پتھر رکھا ہو گا اس کا ثبوت اس قبولیت اور رجوع سے ملتا ہے جو اس مسجد کو حاصل ہوئی- ایسی جگہ وہ عظیم الشان انسان پیدا ہوا جو کل دنیا کے لئے رحمہ~ن۲~ للعالمین ہو کر آیا جس کی رسالت کا دامن قیامت تک دراز اور جو خدا تعالیٰ کی کامل شریعت کا لانے والا ٹھہرا- اور وہ وادی غیر ذی زرع آخر ’’ام القریٰ‘‘ کہلائی اور دنیا کی ناف اس کو کہا گیا ہے- اس میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ جب تک انسان تاریکی کے اندر ہوتا ہے اور پیٹ میں ہوتا ہے ساری غذا اس کو ناف ہی کے ذریعہ سے پہنچتی ہے اور اس کی پرورش ہوتی ہے اور پھر آخر وہ ایک جدید راستہ سے پیدا ہوتا ہے اور ایک عظیم الشان قضا کے نیچے آتا ہے- اسی طرح پر جب دنیا ایک خطرناک ظلمت میں مبتلا تھی اس وقت توحید کا دودھ مکہ کی ہی ناف سے نکلا ہے اور جب تک انسان اس دودھ سے پرورش نہیں پاتا وہ جنم لینے کے قابل نہیں ہو سکتا-
    غرض وہ عظیم الشان مسجد تھی- اس کا بنانا کوئی مشکل کام اس وقت نہیں سمجھا گیا- باپ بیٹے نے مل کر اس کو بنا لیا- اور وہ دوسری مسجد جو اس کے لئے فخر بنی یعنی مسجد نبوی‘ وہ بھی ایک معنوں سے باپ اور بیٹوں نے بنائی کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویوں کو امہات المومنین قرار دیتا ہے- اس حیثیت سے
    آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم باپ بنے اور صحابہ آپ کے فرزند تھے- اس مسجد کو صحابہ کے ساتھ مل کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بنا لیا اور ساری دنیا اس کی متوالی ہو گئی-
    اس زمانہ میں بھی میں اس قسم کی مسجد کا ایک نمونہ دکھاتا ہوں- ہمارے امام علیہ الصلوٰۃ و السلام نے بھی مسجد بنائی ہے- زمین نہیں ملی تو اوپر چھت کے ہی بنا لی ہے- بات کیا ہے- جو چیز اللہ تعالیٰ کی رضا کے واسطے ہوتی ہے وہ بابرکت ہوتی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود نہ ہو تو کچھ نہیں بنتا- تم خیال کر سکتے ہو کہ لاہور- امرتسر میں کئی بڑی بڑی مسجدیں ہیں- لاہور میں شاہی مسجد اور وزیر خان کی مسجد موجود ہے- کیا وہ مسجدیں ایسا متوالا اور پروانہ بنا سکتی ہیں جو مکہ اور مدینہ کی مسجد بنا سکتی ہے یا ہماری چھوٹی سی مسجد- غرض جس جس جگہ ہمارے بھائی رہتے ہیں تو سب سے مقدم اور ضروری کام کم از کم ایک چھوٹی سی مسجد ہے-جیسی ممکن ہو بنا لو- اگر سستی کرو گے تو نتیجہ اچھا نہ ہو گا-
    غرض پہلی بات نماز ہے- نماز پانچ وقت احباب کو جمع کرتی ہے- یہ تو اس کی ظاہری خوبی اور حسن ہے- نماز ہی کی خوبی ہے کہ سارے گائوں کے لوگ ایک دن جمع ہوتے ہیں اور نماز ہی کی خوبی ہے کہ کل روئے زمین کے مسلمان مکہ میں جمع ہوتے ہیں- نماز ہی کی خوبی سمجھو کہ تم آئے- یہاں آنے کی یہ غرض نہیں ہونی چاہئے کہ آئیں گے تو ایسا جلسہ ہو گا- تقریریں ہوں گی- یہ تو ایک قسم کے میلے کی ہی صورت ہے- نہیں- بلکہ یہاں آنے کی غرض وہی ہو جو حق سبحانہ تعالیٰ کا منشاء ہے- وحدت ہو‘ اخوت ترقی پکڑے اور اصلاح نفس ہو-
    ایک مرتبہ مجھے خیال آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ پر اللہ تعالیٰ نے یہ انعام فرمایا فاصبحتم بنعمتہ اخواناً )اٰل|عمران:۱۰۴( یہ نہیں فرمایا احباباً-اس میں کیا سر ہے؟ وہ سر مجھے یوں سمجھ میں آیا کہ محبوب میں رنج نہیں ہوتا- بھائیوں میں رنج بھی ہو جاتے ہیں- کبھی کسی قصور فہم سے کوئی بات سمجھ میں نہ آئی اور ناراض ہو گیا-
    اس سے صاف سمجھ میں آتا ہے کہ فضل الٰہی سے ہی اخوان بن سکتے ہیں- اپنی کوشش اور محنت سے کچھ نہیں ہوتا- پس اگر کسی سے کوئی غلطی یا کمزوری ہو جاوے تو اخوت ہی کے رنگ تک رکھو- یہاں آنے کی ایک بڑی غرض یہ بھی رکھو کہ تمہارے تعلقات باہم مضبوط اور اعلیٰ ہوں اور خدا تعالیٰ کی رضا مقصود ہو-
    جناب ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعائوں پر غور کرو کہ ان میں کیا چاہا گیا ہے؟ کیا جناب ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں کوئی مربع مل جاوے؟ نہیں- بلکہ ان کی ساری دعائیں اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کی ہیں-
    غرض یاد رکھو کہ اجتماع پر اللہ تعالیٰ کا فیضان نازل ہوتا ہے- اس وقت ایک تعارف پیدا ہوتا ہے- ایک خدمت کا شریک ہوتا ہے- اپنا خرچ کیا- گھر چھوڑا- آرام چھوڑا- منجملہ اغرض کے یہ غرض بھی ہو سکتی ہے کہ اگر گھر چھوڑتے ہیں‘ احباب سے جدا ہوتے ہیں اور اپنے اغراض اور اموال کو خرچ کرتے ہیں‘ مشکلات بھی پیش آتی ہیں‘ تو اس میں تو کوئی شبہ اور کلام نہیں ہو سکتا کہ جب ہم یہ سب کچھ محض خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے برداشت کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے مامور اور شکور خدا کی طرف سے قدر بڑھتی ہے- اور یہ ایک مزدوری ہوتی ہے جس کا عظیم الشان اجر ملنے والا ہوتا ہے اور ان دعائوں سے حصہ ملتا ہے جو خدا تعالیٰ کا مامور خصوصیت کے ساتھ ایسے موقع پر مانگتا ہے- کیونکہ وہ سب جو اس وقت موجود ہوتے ہیں ان دعائوں میں شریک ہوتے ہیں-
    پس ایسے موقعوں پر آنا چاہئے- لیکن پاک اغراض اور رضائے الٰہی کے مقصد کو ملحوظ رکھ کر‘ نہ کسی اور غرض اور خواہش سے-۴~}~
    پھر نماز میں ایک خاص قسم کا فیضان اور انوار نازل ہوتے ہیں- کیونکہ خدا تعالیٰ کا برگزیدہ بندہ ان میں ہوتا ہے اور ہر ایک شخص اپنے ظرف اور استعداد کے موافق ان سے حصہ لیتا ہے- پھر امام کے ساتھ تعلق بڑھتا ہے اور بیعت کے ذریعہ دوسرے بھائیوں کے ساتھ تعلقات کا سلسلہ وسیع ہوتا ہے- ہزاروں کمزوریاں دور ہوتی ہیں جن کو غیر معمولی طور پر دور ہوتے ہوئے محسوس کر لیتا ہے- اور پھر ان کمزوریوں کی بجائے خوبیاں آتی ہیں جو آہستہ آہستہ نشوونما پا کر اخلاق فاضلہ کا ایک خوبصورت باغ بن جاتے ہیں-
    یہ مت خیال کرو کہ ہم یہاں آتے ہیں اور کچھ نہیں لے جاتے ہیں- بہت کچھ ساتھ لے جاتے ہیں مگر یہ لینا اپنی استعداد کے موافق ہوتا ہے- جس جس قدر انسان اپنا دل صاف کرتا اور نیکی کے قبول کرنے کی اہلیت رکھتا ہے اسی اسی قدر وہ ان فیضانوں سے حصہ لیتا ہے-
    جس طرح پر بچہ پرورش پاتا اور نشوونما پاتا ہے اسی طرح پر نیکیوں اور بدیوں کا بھی نشوونما ہوتا ہے- جو شخص مامور کی صحبت میں رہ کر ایک دم میں چاہتا ہے کہ تبدیلی ہو جاوے وہ خدا سے ہنسی کرتا ہے- ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر ہے لیکن ہم اس کا قانون قدرت اسی طرح پر پاتے ہیں کہ تدریجی ترقی ہوتی ہے- انبیاء علیہم السلام سے بڑھ کر کون صاف دل اور پاک فطرت ہوتا ہے لیکن ان کے کمالات اور ترقیوں کے سلسلے پر اگر نظر کی جاوے تو وہ بھی تدریجی ہوتے ہیں- اگر کمالات تدریجی نہ ہوتے تو چاہئے تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر یکدفعہ ہی سارا قرآن شریف نازل ہو جاتا- ۲۳ برس میں کیوں نازل ہوا؟ دیکھو کسان جو دانہ زمین میں ڈالتا ہے کیا وہ دوسرے ہی دن اس کے کاٹنے کے لئے آمادہ ہو جاتا ہے؟ نہیں- ایک اچھے خاصے عرصہ تک اسے انتظار کرنا پڑتا ہے- پھر خدا کے اس صریح اور بین قانون کو توڑ کر جو چاہتا ہے کہ پھونک مارنے سے ولی ہو جاوے تو وہ میری رائے میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہنسی کرتا اور اسے آزماتا ہے-
    اس لئے ضروری بات یہ ہے کہ انسان عرصہ دراز تک خدا تعالیٰ کے مامور کی صحبت میں حسن ظن اور ارادت کے ساتھ بیٹھے اور وفاداری اور اخلاص کے ساتھ اس کے نمونہ کو اختیار کرے تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر فضل کرے اور اس کو نیکیوں اور اخلاق فاضلہ کا وارث بناوے- میں کسی اور کی بابت کوئی رائے نہیں دے سکتا- اپنی نسبت کہتا ہوں اور اپنی کمزوریوں پر نظر کر کے خیال کرتا ہوں کہ میں اس گائوں سے ایک گھنٹہ کے لئے بھی باہر جانا اپنی موت سمجھتا ہوں بجز ایسی حالت اور صورت کے کہ مجھے حضرت امام نے حکم دیا ہو-
    مجھے ان لوگوں پر تعجب آتا ہے جو سلسلہ بیعت میں داخل ہیں مگر یہاں نہیں آتے اور اگر آتے ہیں تو اس قدر جلدی کرتے ہیں کہ ایک دن رہنا بھی ان کے لئے ہزاروں موتوں کا سامنا ہو جاتا ہے- ان کے جتنے کام بگڑتے ہیں وہ یہاں ہی رہ کر بگڑتے ہیں- جتنے مریض ہوتے ہیں وہ یہاں ہی رہ کر ہوتے ہیں- ہزاروں ہزار عذر کرتے ہیں- یہ بات مجھے بہت ہی ناپسند ہے- مجھے ایسے عذر سن کر ڈر لگتا ہے کہ ایسے لوگ ان بیوتنا عورۃ )الاحزاب:۱۴( کے الزام کے نیچے نہ آ جائیں- پس جب یہاں آئو تو امام کی صحبت میں رہ کر ایک اچھے وقت تک فائدہ اٹھائو- کسل اور بعد اچھا نہیں ہے- خدا کرے ہمارے احباب میں وہ مزہ دار طبیعت پیدا ہو جو اس ذوق اور لطف کو محسوس کر سکیں جو ہم کر رہے ہیں-
    اللہ تعالیٰ ستار ہے اور جب تک کسی کی بدیاں انتہا تک نہ پہنچ جاویں اور احاطت بہ خطیئتہ )البقرۃ:۸۲( نہ ہو جاوے اور حد سے تجاوز نہ کر جاوے‘ خدا تعالیٰ کی ستاری کام کرتی ہے- بعد اس کے پھر سزا کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے- اس لئے اس سے پہلے کہ تمہاری بدیاں اور کمزوریاں اپنا اثر کر چکیں اور یہ زہر تمہیں ہلاک کر دے اس کی تریاق‘ توبہ کا فکر کرو-
    اسلام ایسا پاک مذہب ہے کہ اس نے کنفیشن (Confession) جیسی گندی تعلیم نہیں دی کہ پوپ کے سامنے انسان اپنی تمام بدیوں اور بدکاریوں کا اقرار کرتا ہے- اسلام نے اس کے بالمقابل توبہ کا پاک مسئلہ رکھا ہے جس میں انسان اپنے مولیٰ کریم کے حضور اپنی دردوں کا اظہار کرتا ہے اور خاص اسی کے حضور کہتا ہے- جو کچھ کہتا ہے ملائکہ تک کو اس میں شرکت کا موقع نہیں دیتا-
    انسان میں کمزوریاں ضرور ہیں اور ان کے دور کرنے کے لئے اجتماع ایک عمدہ چیز ہے- جس بات کے لئے تم بلائے گئے ہو وہ کیا چیز ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے وقت کا نمونہ دیکھنے کے واسطے تیرہ سو برس سے جس کے دیکھنے کو آنکھیں ترستی تھیں- خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں یہ وقت دیا اور پھر اس عالیشان انسان کی شناخت کی توفیق دی جو اس وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہے-
    یہ وہ وقت ہے کہ اس میں پھر پتہ لگے گا کہ انسان کس طرح ترقی کرتا ہے- تدریجی کمال حاصل کرتا ہے- کس طرح پر اس کے دشمنوں کو ناکامی اور نامرادی حاصل ہوتی ہے اور وہ اور اس کی جماعت بامراد اور فائزالمرام ہوتی ہے- آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے وقت میں جس طرح صحابہ کی روحانی تربیت ہوئی اور ان کی تکمیل ہوئی اس طرح پر اب پھر خدا نے چاہا ہے کہ ایک جماعت تیار کرے جو اس طرح پر کمالات|روحانی حاصل کرے- خدا تعالیٰ کا کلام اب پھر نازل ہو رہا ہے جس سے قرآن کریم کی صداقتوں کی تازہ بتازہ تائید ہوتی ہے اور اس کے ثمرات و برکات کا تازہ بتازہ نمونہ پیش کیا جاتا ہے- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں کس طرح پر تحدیاں ہوتی تھیں اور کس طرح پر مخالف قومیں باوجود سرتوڑ کوششوں اور مخالفتوں کے بھی ان تحدیوں کے جواب سے عاجز اور لاجواب ہوتی تھیں‘ ہماری باتیں سنی سنائی تھیں- مگر آج دکھایا جاتا ہے کہ وہ تحدیاں اس طرح پر ہوتی ہیں- خدا تعالیٰ کا راست باز مامور اور مسیح اللہ تعالیٰ کی منشا اور تائید سے قرآن کریم کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لئے آج تحدیاں کر رہا ہے اور ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ کس طرح پر مخالف شرمندہ ہو رہے ہیں اور وہ ان تحدیوں کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتے- ساری قوم کو بلایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ تم جس کو چاہو اپنے ساتھ ملا لو اور اس کا مقابلہ کرو- مگر میں حیران ہوتا ہوں کہ اگر یہ شخص کاذب ہے )معاذ اللہ( جیسا کہ یہ لوگ مشہور کرتے ہیں کہ یہ عربی کا ایک صیغہ بھی نہیں جانتا اور اس نے کوئی باقاعدہ تعلیم نہیں پائی مگر وہ خداتعالیٰ کی تائید سے بول رہا ہے- اس کے قلم میں اللہ تعالیٰ کی طاقت کام کرتی ہے- اور یہ انسانی طاقت میں ہرگز ہرگز نہیں کہ خدا تعالیٰ کا مقابلہ کر سکے- اگر انسانی طاقت بھی ایسا کر سکتی تو پھر خدا خدا ہی نہ رہتا- ان لوگوں کے مقابلہ کے لئے نہ نکلنے نے ہی ثابت کر دیا ہے کہ یہ راستباز ہے اور خدا تعالیٰ اس کی تائید کر رہا ہے- اور وہ کاذبوں کی تائید نہیں کیا کرتا-
    غرض یہ وہ زمانہ ہے کہ ہم پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے تازہ کمالات کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور ان پر ایمان لاتے ہیں- یہ بات بالکل سچی ہے کہ اگر یہ شخص نہ آتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے کمالات اور معجزات ایک افسانہ سے بڑھ کر نہ ہوتے‘ جو اب واقعات اور مشاہدہ کے رنگ میں نظر آ رہے ہیں- اور یہ سب کچھ اسی کے طفیل سے ہے جس کے بلانے سے تم آج یہاں جمع ہوئے-
    پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم ہی کے وقت میں صحابہ محض اللہ تعالیٰ کے جلال و جبروت کے اظہار کے لئے دور|دراز کے سفر کرتے تھے اور خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرتے تھے- وہی رنگ یہاں دکھایا جاتا ہے کہ ایک جماعت کو اس نے تیار کیا ہے جو جنگلوں کو طے کرتی ہوئی اور سمندروں کو چیرتی ہوئی دوردراز بلاد میں جائے گی اور اس کی غرض کیا ہو گی؟ اللہ تعالیٰ کے جلال کا اظہار- اس کی گم شدہ توحید کو پھر دنیا پر ظاہر کرنا- کیسی پاک اور مبارک غرض ہے- آج سفروں کے لئے ہر قسم کی آسائش اور سہولت کے بہم پہنچنے کی وجہ سے لوگ دور و دراز ولایتوں کے سفر کرتے ہیں اور آئے دن ایسے مسافر روانہ ہوتے ہیں- مگر میں پوچھتا ہوں ان کی غرض کیا ہوتی ہے؟ دنیا اور صرف دنیا-
    کوئی ولایت کو جاتا ہے- ماں باپ اور احباب اور وطن سے جدا ہوتا ہے‘ اس لئے کہ وہاں جائے- بیرسٹری کا یا کوئی اور امتحان پاس کرے اور دنیا کمائے- پھر وہاں سے وہ کیا لاتا ہے- علمی یا عملی طور پر خدا کے نہ ہونے کا اقرار- یہ تو روحانی ترقی ہوتی ہے اور مارل اینڈ سوشل اصلاح جو وہ کر کے آتا ہے وہ تم میں سے اکثروں کو ایسے لوگوں کے دیکھنے سے معلوم ہوئی ہو گی- لیکن آج یہ پہلا موقع ہے کہ ایک جماعت سفر کرتی ہے لیکن اس سفر کی غرض خدا اور صرف خدا ہے- ان لوگوں کی حالت پر جب میں نظر کرتا ہوں تو میرے دل میں ان کی عظمت بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ پاک اغراض اور مقاصد لے کر جاتے ہیں-
    یہ اپنے احباب اور عزیزوں سے جدا ہوں گے‘ جنگل اور بیابان کاٹتے ہوئے جاویں گے اور ایسے ایسے مقامات پر یہ پہنچیں گے جہاں سے ہمیں ان کی کچھ بھی خبر نہ ہو گی کہ ان کے ساتھ کیا گذر رہی ہے- اگر وہ کسی مصیبت اور مشکلات میں مبتلا ہو جاویں جو سفروں میں ممکن ہے )اور ہماری دعا ہے کہ وہ ان مصائب اور مشکلات سے محفوظ رہیں- آمین( تو تم میں سے کون ہو گا جو ان کی اس وقت مدد کر سکے گا- کوئی بھی نہیں- کیونکہ وہ تم سے اتنے دور ہوں گے کہ اول تو اطلاع آنی مشکل اور آئے بھی تو بہت دیر کے بعد- اور پھر وہاں تک پہنچنا بہت مشکل اور وقت چاہے گا- مگر یہ لوگ ان تمام مصائب اور مشکلات کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہو گئے ہیں- انہوں نے اپنے اعزہ اور احباب کی محبت‘ وطن کی الفت اور آرام کی پروا نہیں کی اور اس سفر کو مقدم رکھا-۵~}~
    اس وقت اس دور دراز ملک کے سفر کی جو تیاری کی گئی ہے تو اس کی کیا غرض ہے؟ اس کی غرض بھی وہی ہے جو صحابہ کے سفروں کی تھی- یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام کی تبلیغ اور اسلام کی عزت‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی عزت کو ظاہر کرنا- اس وقت ایک قوم موجود ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی صفات ایک عاجز انسان کو دے رکھی ہیں اور اسے خدا بنا کر دنیا کو منوانا چاہا ہے- یہ قوم عیسائیوں کی قوم ہے- وہ مسیح کو خالق مانتے ہیں- شافی مانتے ہیں- منجی مانتے ہیں اور عالم الغیب مانتے ہیں- اور سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ مسلمان جو ایک ہی حقیقی خدا کے پرستار تھے وہ اعتقادی طور پر ان کے ساتھ ہی ہیں یعنی اسی قسم کی صفات مسیح میں یقین کرتے ہیں- یہ جدا امر ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم مسیح کو خدا نہیں مانتے مگر اس میں کوئی کلام نہیں کہ وہ خدائی کی صفات ان میں یقین کرتے ہیں- حضرت امام علیہ الصلوٰۃ والسلام اس کی ایک مثال بارہا دیا کرتے ہیں کہ ان لوگوں کی ایسی حالت ہے جیسے کوئی شخص کسی مردہ کو کہے کہ یہ مر گیا ہے لیکن دوسرا شخص کہے کہ ہاں اس کی نبض بھی نہیں چلتی- بدن بھی سرد ہے- کسی قسم کی حس و حرکت باقی نہیں ہے لیکن ہے زندہ- عیسائی تو صاف الفاظ میں کہتے ہیں کہ وہ خدا ہے مگر مسلمان اپنی غلط|فہمی سے یہ کہتے ہیں کہ نہیں خدا تو نہیں ہے- یہ غلط ہے- البتہ وہ شافی ہے اسی طرح جس طرح اللہ شافی ہے- غیب دان ہے- مردوں کو زندہ کرنے والا‘ محی ہے- حی و قیوم ہے- پھر بتائو اس کے خدا ہونے میں کیا شک باقی رہا- مسلمانوں نے ایک اور بات بھی مسیح کے متعلق مان رکھی ہے جو دوسرے انبیاء میں وہ نہیں مانتے کہ صرف مسیح ہی مس شیطان سے پاک ہے- میں جب ان باتوں کو سنتا ہوں تو سخت حیرت اور افسوس ہوتا ہے کہ وہ جو موحد کہلاتے ہیں‘ ان کا اعتقاد اس قسم کا ہے- صرف اللہ تعالیٰ کی توحید کو زندہ کرنے کے واسطے اور اس عقیدہ کو دور کرنے کے لئے حضرت امام علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پسند فرمایا ہے کہ ہمارے بعض احباب سفر کریں اور جو کچھ باتیں معلوم ہوئی ہیں ان کی تصدیق کروا دیں-
    مسیحی مذہب کی شکست کے لئے اس سے بڑھ کر کارگر حربہ نہیں ہو سکتا کہ یہ ثابت جو جاوے کہ مسیح اپنی طبعی موت سے مرا ہے اور صلیب پر نہیں مرا- اس حربہ کی حقیقت سے وہ لوگ خوب مزا اٹھا سکتے ہیں جو عیسائی مذہب کے اصولوں سے واقف ہیں اور ان کو ان کے ساتھ کبھی کلام کرنے کا موقع ہوا ہے-
    غرض اس بات کے لئے یہ اہتمام کیا گیا ہے- یہ تو میرے نزدیک ایک چھوٹی سی بات ہے جو حضرت امام کے اس جوش کا نمونہ ہے جو توحید کے قائم کرنے کے لئے اس کے دل میں ہے- والا وہ دکھ اور کپکپی جو اس کے دل|ودماغ میں پہنچی ہے تم اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے- کیونکہ نہ وہ دل ہے اور نہ وہ مزا اور لذت ہے- اسی توحید کے پھیلانے کے واسطے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے اتباع کو کیا کیا تکالیف برداشت کرنی پڑی تھیں پھر آج یہ کام آسان کیونکر ہو سکتا ہے- اس وقت تو مشکلات اور بھی بڑھے ہوئے ہیں- اس لئے بہت بڑی توجہ کی ضرورت ہے اور ہر شخص اس قدر توجہ نہیں کر سکتا جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی اس کی تائید نہ ہو- تم جانتے ہو کہ جس شخص نے سارے جہاں میں قرآن شریف کی عظمت کا بیڑا اٹھایا ہے اس کو کس قدر مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے- الغرض چونکہ قرآن شریف کی عظمت ہی اسے مقصود ہے اس لئے اس کے واسطے یہ ہر قسم کی تکالیف اور مشکلات اٹھانے کو ہر وقت تیار رہتا ہے اور یہی اس کی کامیابی کی دلیل ہے کہ کوئی مشکل اور تکلیف اس کے حوصلہ کو پست نہیں کر سکتی-
    پھر دوسری بات جو سکھائی گئی ہے منعم علیہ بننے کے واسطے‘ وہ شفقت علی خلق اللہ ہے- یعنی مما رزقناھم ینفقون )البقرۃ:۴( اللہ تعالیٰ کے دئے ہوئے میں سے کچھ خرچ کرتے رہو- یہاں کوئی چیز مخصوص نہیں فرمائی بلکہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہو- زبان دی ہے خدا کی عظمت اور جبروت کے اظہار کے لئے‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تعظیم کے اظہار کے واسطے‘ پس اس سے یہ کام لو- حق گوئی کے لئے اسے کھولو- جب کوئی آپ کے مقابلہ میں گندہ دہنی کر رہا ہو تو و جادلھم بالتی ھی احسن )النحل:۱۲۶( پر عمل کر کے نہایت پاکیزہ اور معقول اور مدلل طریق سے اس کی زبان بند کرنے کی کوشش کرو اور اس کے گند کے بالمقابل ایک اعلیٰ درجہ کا محکمہ حفظ|صحت قائم کرو- جبکہ مخالف قسم قسم کے ردی اور مضر صحت )روحانی( مواد پھیلانا چاہتا ہے تو شائستہ باتوں سے ان کو دور کرو- اسی طرح اپنے ہاتھوں اور پائوں کو خدا کے لئے‘ مخلوق کی ہمدردی اور بھلائی میں خرچ کرو اور ایسا ہی اگر اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہے‘ کپڑا دیا ہے‘ غرض جو کچھ دیا ہے اسے مخلوق کی ہمدردی اور نفع رسانی کے لئے خرچ کرو- میں دیکھتا ہوں کہ اکثر لوگ نئے کپڑے بناتے ہیں لیکن وہ پرانے کپڑے کسی غریب کو نہیں دیتے بلکہ اسے معمولی طور پر گھر کے استعمال کے لئے رکھ لیتے ہیں- مگر میں کہتا ہوں کہ اگر کسی کو خدا کے فضل سے نیا ملتا ہے اور خدا تعالیٰ نے اسے اس قابل بنایا ہے کہ وہ نیا کپڑا خرید کر بنا لے تو وہ کیوں پرانا اپنے کسی غریب اور نادار بھائی کو نہیں دیتا- اگر نیا جوتا ملا ہے تو کیوں پرانا کسی اور کو نہیں دے دیتے ہو- اگر اتنی بھی ہمت اور حوصلہ نہیں پڑتا تو پھر نیا دینا تو اور بھی مشکل ہو جائے گا- خداتعالیٰ نے تکمیل ایمان کے لئے دو ہی باتیں رکھی ہیں- تعظیم لامر اللہ اور شفقت علی خلق اللہ- جو شخص ان دونوں کی برابر رعایت نہیں رکھتا وہ کامل مومن نہیں ہو سکتا- کیا تم میں سے اگر ایک ہاتھ‘ ایک ٹانگ کسی کی کاٹ دی جاوے تو وہ نقصان نہ اٹھاوے گا؟ اسی طرح پر ایمان کا بہت بڑا جزو ہے شفقت علیٰ خلق اللہ- مگر میں دیکھتا ہوں کہ اس پر زیادہ توجہ ہی نہیں رہی اور یہی وجہ ہے کہ ایمان کا پہلا جزو تعظیم لامراللہ بھی نہیں رہا- پس اس میں ہرگز سستی اور غفلت نہ کرو- خدا تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی شکر گذاری یہی ہے کہ اس کی مخلوق کو نفع پہنچایا جاوے- خدا کی مخلوق کو نفع پہنچانا درازی عمر کا باعث ہوتا ہے- کون ہے جو نہیں چاہتا کہ دنیا میں لمبی عمر پاوے- ہر شخص کے دل میں کم و بیش یہ آرزو موجود ہے مگر لمبی عمر کے حاصل کرنے کا اصلی اور سچا طریق یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی مخلوق کو نفع پہنچایا جاوے- چنانچہ خود اللہ|تعالیٰ نے اس کا فیصلہ کر دیا ہے و اما ماینفع الناس فیمکث فی الارض )الرعد:۱۸-(درازی عمر کا ایک اور نسخہ قرآن مجید میں موجود ہے‘ وہ استغفار ہے- پس جو چاہتا ہے کہ عمر سے تمتع اٹھاوے‘ وہ اس نسخہ پر عمل کرے-
    اس لئے جہاں تک تم سے بن پڑتا ہے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور پھر جو کچھ اس نے دیا ہے اس کی مخلوق کی نفع رسانی کے واسطے اسے خرچ کرو- دل دیا ہے تو پوری توجہ کے ساتھ دعائیں ہی مانگتے رہو اپنے لئے اور اپنے اور دوسرے لوگوں کے واسطے- میں باربار تاکید کرتا ہوں کہ منشاء الٰہی یہی ہے کہ اس کی مخلوق کے ساتھ نیک سلوک ہو- اس اصل کو کبھی مت بھولو کیونکہ منعم علیہ بننے کے واسطے اس پر عمل کرنا بڑا ہی ضروری ہے-
    جس قدر صداقتیں موجود ہیں اور جو احکام اللہ تعالیٰ نے دیئے ہیں ان سب پر عمل کر کے دکھائو تا کہ نتیجہ میں سکھ پائو- اللہ تعالیٰ پر ایمان اور یقین کا نتیجہ یہی تو ہوتا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے اوامر پر عمل کرے اور اس کے نواہی سے بچے- جب انسان اس قسم کا بن جاتا ہے کہ الغیب پر ایمان لاتا ہے اور خدا کی عبادت کرتا اور اس کی مخلوق پر شفقت کرتا ہے پھر خدا تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ ہم اس کا بدلہ کیا دیں گے؟ اولٰئک ھم المفلحون )البقرۃ:۶( یہ لوگ مظفر و منصور ہو جائیں گے- دنیا میں بامراد اور کامیاب ہونے کا یہ زبردست ذریعہ ہے اور اس کا ثبوت موجود ہے- صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی لائف پر نظر کرو- ان کی کامیابیوں اور فتح مندیوں کی اصل جڑ کیا تھی؟ یہی ایمان اور اعمال|صالحہ تو تھے- ورنہ اس سے پہلے وہی لوگ موجود تھے- وہی اسباب تھے- وہی قوم تھی- لیکن جب ان کا ایمان اللہ تعالیٰ پر بڑھا اور ان کے اعمال میں صلاحیت اور تقویٰ اللہ پیدا ہوا تو خدا تعالیٰ کے وعدوں کے موافق وہ دنیا میں بھی مظفر و منصور ہو گئے تاکہ ان کی اس دنیا کی کامیابیاں آخرت کی کامیابیوں کے لئے ایک دلیل اور نشان ہوں-
    یہ نسخہ صرف کتابی نسخہ نہیں ہے بلکہ ایک تجربہ شدہ اور بارہا کا آزمودہ نسخہ ہے- جو اسے استعمال کرتا ہے وہ یقینا کامیاب ہو گا اور منعم علیہ گروہ میں داخل ہو جاوے گا- پس اگر تم چاہتے ہو کہ بامراد ہو جائو اگر تم چاہتے ہو کہ منعم علیہ بنو تو دیکھو اس نسخہ کو استعمال کرو- ۶~}~
    بامراد اور کامیاب ہونے کی اصل تو بیان ہو چکی اب محرومی کی اصل جڑ بتائی- ان الذین کفروا سواء علیھم ء انذرتھم ام لم تنذرھم لایومنون )البقرۃ:۷( جن لوگوں نے خلاف|ورزی کی اور تیرے انذار اور عدم انذار کو برابر سمجھ لیا وہ مومن نہیں ہوں گے-
    یہ کیسی سچی بات ہے کہ جب انسان کسی شے کے وجود اور عدم وجود کو برابر سمجھ لیتا ہے وہ اس کے حصول کے لئے کوئی سعی نہیں کر سکتا- آخر محروم رہ جاتا ہے- یہی حال ان لوگوں کا ہوا جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا انکار کیا اور اس انکار کی وجہ یہ ہوئی کہ انہوں نے آپﷺ~ کے انذار اور عدم|انذار کو مساوی سمجھا- نتیجہ اس کا ایمان سے محرومی ہوئی اور انجام کار وہ ان تمام کامیابیوں اور فتوحات سے جو اہل ایمان لوگوں کے حصہ میں آئیں بالکل بے نصیب اور محروم رہے-
    یہ کتاب مجید جو ہمیں دی گئی ہے ساری خوبیوں اور کمالات سے بھری ہوئی ہے- لیکن جو شخص اس کتاب کے وجود اور عدم وجود ہی کو برابر سمجھے وہ ان انعامات اور برکات سے جو اس کتاب کے پڑھنے اور پھر عمل کرنے سے ملتے ہیں کیونکر بہرہ ور ہو سکتا ہے؟ وہ یقینا یقینا محروم رہے گا اور اسے ایمان نصیب نہیں ہو گا- لیکن اگر سلیم الفطرت انسان اپنے قویٰ سے کام لے اور اس کو یونہی نہ چھوڑ دے تو اللہ تعالیٰ اس کو محروم نہیں چھوڑے گا- اس کا نام شکور ہے وہ اس کی ضرور قدر کرے گا اور اس پر اپنی نعمت کے دروازے بے شک کھول دے گا- اسے فہم قرآن عطا کرے گا اور ایک ذوق کے ساتھ توفیق عمل نصیب ہو گی-
    اس بات کو میں باربار بیان کروں گا اور تم بھی خوب یاد رکھو کہ بامراد اور کامیاب ہونے کی کلید یہی ہے کہ اس کتاب کو اپنا دستورالعمل بنا لو- اگر اس کتاب کو کوئی چھوڑتا ہے اور اس کے عدم اور وجود کو برابر سمجھتا ہے تو وہ اپنے ہاتھ سے اسباب محرومی تیار کرتا ہے- اس فعل پر خدا تعالیٰ سے اسے اولاً یہ سزا ملتی ہے کہ غور کرنے والا دل چھین لیا جاتا ہے- وہ حقائق اور معارف کو سوچ نہیں سکتا اور اسی طرح پر دیکھنے اور سننے کے قویٰ بھی بیکار ہو جاتے ہیں- وہ حق کا شنوا اور حق کا بینا نہیں رہتا-
    پس متقی بننے کی راہ تو یہ ہے کہ مومن بالغیب ہو- اعمال صالحہ پر چست اور چالاک ہو- تمام صداقتوں پر کاربند ہو- جزا و سزا پر ایمان لانے والا ہو- کسی صداقت کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھے اور دل سے کام لے تا کہ عذاب سے محفوظ رہے-
    بہت سے دل اس قسم کے بھی ہوتے ہیں کہ اپنے فوری جوش یا بعض خارجی اثروں کی وجہ سے اپنے آپ کو مومن ظاہر کرتے ہیں لیکن جناب الٰہی کے حضور سے فتویٰ ملتا ہے کہ مومن نہیں ہیں- اگر غور کیا جاوے تو اس اصل سے بھی بہت سے جھگڑے طے ہو جاتے ہیں- میں اپنا نام نور الدین کہلاتا ہوں- کوئی شمس الدین‘ جمال الدین‘ کمال الدین کہلاتا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا آسمان پر بھی یہی نام ہے؟ اگر آسمان پر نہیں تو کچھ فائدہ اور حاصل نہیں- اسی طرح پر مومن وہی ہے جو آسمان پر مومن ہو اور کافر وہی ہے جس کا نام آسمان پر کافر ہو- دنیا کی نظر میں مومن یا کافر ہونا کوئی اثر اصل بات پر نہیں ڈال سکتا-
    غرض بعض لوگوں کا خدا تعالیٰ نے یہاں ذکر کیا ہے کہ وہ بتاتے ہیں ہم مومن ہیں لیکن خدا تعالیٰ کا فتویٰ ان کے متعلق یہی ہے کہ وہ مومن نہیں ہیں- اگر ہمارے مخالف اس بات کو سمجھتے کہ ہمارے تجویزکردہ نام کوئی حقیقت اپنے اندر نہیں رکھتے بلکہ حقیقت ان اسماء کے اندر ہے جو خدا تعالیٰ کے مقبول اور پسندیدہ ہیں تو انہیں حضرت امام علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعویٰ کے سمجھنے میں کیا دقت اور مشکل پیش آتی تھی؟ وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لاتے اوراللہ تعالیٰ کے پاک نام کا ادب ان کے دل میں ہوتا تو وہ ایک شخص کے منہ سے یہ سن کر کہ خدا نے میرا نام ابن مریم رکھا ہے اس قدر جوش غصہ سے نہ بھر جاتے- وہ سمجھ لیتے کہ جب ہم اپنے بچوں کے نام یوسف‘ موسیٰ‘ محمد رکھ لیتے ہیں تو کیا اللہ تعالیٰ کو اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی کا نام ابن مریم رکھ لے؟ لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ ان باتوں سے محض بے خبر ہیں اور انہوں نے قرآن شریف میں کبھی غور نہیں کیا- پس ایسے لوگ جن کی نسبت خدا تعالیٰ کا فتویٰ ہے کہ وہ مومن نہیں ہیں انہوں نے کیا کیا ہے؟ خدا کو چھوڑ دیا ہے اور اس جماعت کو چھوڑ دیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مومنین کی جماعت ہے- ان لوگوں میں نہ تاب مقابلہ ہے نہ قوت فیصلہ ہے- یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کا فیصلہ اور مقابلہ ابھی نہیں کر سکتے جبکہ ابتدا ہے- جب اور ترقی ہو گی تو کب کر سکیں گے- ان کا یہ مرض تو بڑھتا ہی نظر آتا ہے- اس جھوٹ کا بدلہ عذاب الیم ہے-
    اب یہ بات بڑی غور طلب ہے کہ ایک شخص بظاہر اچھے لباس میں لوگوں کے سامنے آتا ہے- نمازی بھی نظر آتا ہے- لیکن کیا اسے اتنی سی بات پر مطمئن ہو جانا چاہئے؟ ہرگز نہیں- اگر اسی پر انسان کفایت کرتا ہے اور اپنی ساری ترقی کا مدار اسی پر ٹھہراتا ہے تو وہ غلطی کرتا ہے- جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے یہ سرٹیفیکیٹ نہ مل جاوے کہ وہ مومن ہے وہ مطمئن نہ ہو- سعی کرتا رہے اور نمازوں اور دعائوں میں لگا رہے تا کہ کوئی ایسی ٹھوکر اسے نہ لگ جاوے جو ہلاک کر دے- عام طور پر تو یہ فتویٰ اسی وقت ملے گا جبکہ سعادتمند جنت میں داخل ہوں گے اور شقی دوزخ میں- لیکن خدا تعالیٰ یہاں بھی التباس نہیں رکھتا- اسی دنیا میں بھی یہ امر فیصل ہو جاتا ہے اور مومن اور کافر میں ایک بین امتیاز رکھ دیتا ہے جس سے صاف صاف شناخت ہو سکتی ہے- ہر ایک شخص ان آثار اور ثمرات کو جو ایمان اور اعمال صالحہ کے ہیں اسی دنیا میں بھی پا سکتا ہے اگر سچا مومن ہو- بلکہ اگر کوئی شخص اس دنیا میں کوئی اثر اور نتیجہ نہیں پاتا تو اسے استغفار کرنا چاہئے- اندیشہ ہے کہ وہ آخرت میں اندھا نہ اٹھایا جائے- من کان فی ھٰذہ اعمیٰ فھو فی الاٰخرۃ اعمیٰ )بنی اسرائیل:۷۳(
    حضرت امام علیہ الصلوٰۃ و السلام نے بارہا اس سوال کو چھیڑا ہے اوراپنی تقریروں میں بیان کیا ہے کہ بہشتی زندگی اور اس کے آثار اور ثمرات اسی عالم سے شروع ہو جاتے ہیں- جو شخص اس جگہ سے وہ قویٰ نہیں لے جاتا وہ آخرت میں کیا پائے گا- اور یہ ایک امتیازی نشان ہے جو آپ نے دوسرے مذاہب باطلہ کے رد کے لئے پیش کیا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی نجات یافتہ ہے تو وہ آئے میرے ساتھ ثمرات و نتائج میں مقابلہ کرے- اور کوئی نہیں آتا-
    پس یہ تو بالکل سچا فیصلہ ہے کہ مومن اور کافر کی عام شناخت کا تو وہی وقت ہے جبکہ ایک فریق جنت میں جاوے گا اور دوسرا دوزخ میں- لیکن چونکہ بہشتی اور جہنمی زندگی اسی دنیا سے شروع ہو جاتی ہے اس لئے یہ کہنا بھی بالکل درست ہے کہ اسی عالم میں اللہ تعالیٰ کے اس فتویٰ کا پتہ لگ جاتا ہے- اس لئے میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم زمینی اور خیالی باتوں پر صبر کرنے والے نہ بنو- اپنے تجویز کردہ ناموں پر خوش مت ہو بلکہ اس فکر میں لگے رہو کہ آسمان سے تمہیں سرٹیفیکیٹ مل جائے- میں اس پر بھی یقین رکھتا ہوں کہ حقیقی مومن خدا تعالیٰ سے براہ راست بھی مومن ہونے کا فتویٰ سن لیتا ہے جس کا زندہ نمونہ ہمارا امام علیہ الصلٰوۃ والسلام موجود ہے- جس کو کھلے الفاظ میں حکم ہو گیا ہے قل انی امرت و انا اول المومنین یہی وجہ ہے کہ ان فتاویٰ اور کاغذات کی جو اس کے خلاف شائع کئے جاتے ہیں وہ ایک پرکاہ کے برابر بھی وقعت نہیں سمجھتا- اسے پرواہ نہیں کہ اسے کن ناموں سے یاد کیا جاتا ہے بلکہ وہ اس کے جواب میں کیا کہتا ہے-
    کافر و ملحد و دجال ہمیں کہتے ہیں
    نام کیا کیا غم ملت میں رکھایا ہم نے
    اسے کیوں ان مخلوق پرستوں کے فتووں کی پروا نہیں- صرف اس لئے کہ خدا تعالیٰ سے اس نے سن لیا ہے کہ وہ اول المومنینہے اور مومنین کے ثمرات و برکات اس پر نازل ہو رہے ہیں-
    آج کل بہت سے متصوفین اور کمزور دل کی مخلوق ایسی ہے کہ جن کا اس پر عمل ہے- ’’بامسلماں اللہ اللہ با برہمن رام رام‘‘ یہ لوگ جیسا موقع دیکھتے ہیں ویسا ہی اپنے آپ کو بنا لیتے ہیں- اللہ تعالیٰ اس کو پسند نہیں کرتا- وہ اخلاص اور حنیفیت چاہتا ہے- جب تک یہ بات پیدا نہ ہو گی کچھ نہیں- بہت سے لوگ اس وقت ایسے بھی ہیں جو ہم سے ملتے ہیں تو ہماری باتوں کو سنتے اور پسند کرتے ہیں- لیکن جب ان کو کہا جاتا ہے کہ تم کیوں ہمارے ساتھ نہیں مل جاتے؟ تو کہتے ہیں کہ ہم شامل تو ہو جائیں مگر حکام کی نظروں میں کھٹکنے لگتے ہیں اور مالی مشکلات کے لئے بلایا جاتا ہے- اور یوں تو ہم آپ کے ہی ساتھ ہیں- ظاہر کرنے کی کوئی حاجت نہیں- لیکن جب اپنے مدبروں سے ملتے ہیں تو پھر مخالفت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو آپ ہی کی رائے کے تابع ہیں اور آپ کے ہی ساتھ ہیں- ایسے لوگ منافق ہوتے ہیں-
    اس لئے تم جو حضرت اقدس کے ساتھ ہو اپنے دل کو ٹٹولو اور اپنے اعمال اور افعال پر نظر کرو کہ کیا تم میں وہ بات پیدا ہو گئی ہے کہ تم اس کے لئے اپنی قوم‘ برادری کو چھوڑنے کے لئے تیار رہو؟ کیا تم ان مشکلات کو خوشی سے برداشت کر سکتے ہو جو اس کی خاطر تمہیں پیش آئیں؟ اگر تمہارا دل اس کے لئے قوت پاتا ہے اور وہ بڑی خوشی کے ساتھ آمادہ ہے تو سمجھو کہ خدا تمہارے ساتھ ہے- لیکن اگر مشکلات کی برداشت نہیں‘ قوم اور برادری کا ڈر تمہیں دھمکاتا ہے تو پھر دعا کرو کہ خدا تعالیٰ تمہیں استقلال اور قوت عطا کرے کیونکہ اس کے فضل کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا اور اس کے فضل حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ تم دعا میں لگے رہو- اپنے اعمال میں ایک تبدیلی کرو-
    بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عجیب در عجیب تقریروں یا تحریروں سے کامیاب ہو سکتے ہیں اور اکثر دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ عارضی طور پر بظاہر بعض لوگوں کو کامیابی نظر بھی آتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ کامیابی کوئی کامیابی نہیں ہوتی بلکہ ناکامی اور نامرادی ہی ہوتی ہے- کیونکہ اس کا انجام خطرناک طور پر برا ثابت ہوتا ہے- کامیابی کا اصلی راز اور گر تقویٰ اللہ ہی ہے کیونکہ اس کے ساتھ روح القدس کی تائید ہوتی ہے جس سے وہ کلام الٰہی کے اسرار اور نکات کو سمجھ سکتا ہے اور اس کی تقریر اور تحریر میں اللہ تعالیٰ ایک نور اور برکت رکھ دیتا ہے- اس میں ایک اثر ہوتا ہے جو سننے اور پڑھنے والوں کے دلوں پر پڑتا ہے اور ان کو اس کی طرف کھینچ لاتا ہے- انبیاء علیہم السلام کی کامیابی کی اصل جڑ یہی ہے- اس لئے تم جو کامیابی چاہتے ہو اس اصل کو مضبوط پکڑے رکھو اور ہر ایک کام کو محض اللہ تعالیٰ ہی کی رضاجوئی کے لئے کرو- اس میں اپنے اغراض اور مقاصد کو قربان کر دو ورنہ ذاتی اغراض اس میں شریک ہو کر اس کی برکت اور خوبی کو کھو دیں گے- میں جانتا ہوں کہ تمہیں اپنے مخالفوں سے بہت کچھ سننا پڑتا ہے اور ایسے موقعے بھی آ جاتے ہیں کہ تمہیں ان سے گفتگو کرنی پڑتی ہے- ایسے وقت کے لئے
    یاد رکھو کہ دشمن کے لئے تیار ہو مگر تائید الٰہی پر بھروسہ کر کے دعا مانگتے رہو- کبھی مناظرات اور مباحثات کی خود خواہش نہ کرو- لیکن اگر مقابلہ پیش آ جاوے تو پھر اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگ کر کشودکار کی خواہش کرو- اختلافی مسائل کے حل کے لئے آسان طریق یہی ہے کہ ان کو لکھ رکھو تا کہ ہر وقت نظر پڑتی رہے اور خداتعالیٰ سے اس کے لئے بھی دعا مانگتے رہو کیونکہ ہر ایک مسئلہ میں ہدایت کی راہ بتا دینا خدا ہی کا کام ہے ان علینا للھدیٰ )اللیل:۱۳-(جب انسان سچا دل لے کر جناب الٰہی میں تضرع کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مولا کریم! تو جانتا ہے میں تیری رضا کے لئے سعی اور مجاہدہ کرتا ہوں‘ اس راہ میں تو ہی مجھے مدد دینے والا ہے اور تیرے ہی فضل سے منزل مقصود پر پہنچ سکتا ہوں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان اختلافی مسائل اور مشکلات کو پتوں کے ہلنے اور ہوائوں کے جھونکوں میں حل کر دیتا ہے- ہاں اخلاص ہو-
    اللہ تعالیٰ مستغنی کو کبھی پسند نہیں کرتا کیونکہ غنا مخلوق کو نہیں دیا گیا ہے- میں باربار تم لوگوں کی توجہ دعا کی طرف منعطف کرتا ہوں کیونکہ ام الکتاب دعا ہی سے شروع ہوتی ہے- بدبخت ہیں وہ لوگ جو دعا سے محروم ہوئے اور تکبر اور خودپسندی کے خطرناک مرض میں مبتلا ہو گئے-
    منافقوں کے خصائل میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ دوسروں کو حقیر سمجھتے ہیں- پس تم کسی کو حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھو- چھوٹے سے چھوٹے بھائی کو بھی حقیر مت جانو- ورنہ مقابلہ میں خدا ہنسی میں اڑا دیتا ہے- تم نے وہ اشتہار شائد سنا ہو گا یا پڑھا ہو گا جو ہمارے رحیم و کریم امام نے دیا تھا کہ
    ’’اپنی آوازوں کو قابو میں رکھو- دوسرے پر حملہ کرتے ہوئے شرم و حیا سے کام لو‘‘-
    تم اپنی آوازوں کو نکالتے وقت اس ارشاد کو مدنظر رکھو تا کہ ایسا نہ ہو کہ تم خلاف ورزی کرنے والوں میں ٹھہرو- قرآن شریف کو پڑھو عمل کرنے کے لئے کیونکہ اس کی تلاوت کا اصل مقصد یہی ہے- اللہ تعالیٰ ہم سب کے ساتھ ہو اور ہمیں نیک اعمال کی توفیق دے- آمین ۷~}~
    ۱~}~ - )الحکم جلد۸ نمبر۱۲ ----- ۱۰ / اپریل ۱۹۰۴ء صفحہ۱۵تا۱۸(
    ۲~}~ - )الحکم جلد۸ نمبر۱۳ ----- ۲۴ / اپریل ۱۹۰۴ء صفحہ۱۲(
    - )الحکم جلد۸ نمبر۱۴ ----- ۳۰ / اپریل ۱۹۰۴ء صفحہ۱۳(
    ۳~}~ - )الحکم جلد۸ نمبر۱۶ ----- ۱۷ / مئی ۱۹۰۴ء صفحہ۸(
    ۴~}~ - )الحکم جلد۸ نمبر۱۷ ----- ۲۴ / مئی ۱۹۰۴ء صفحہ۲(
    ۵~}~ - )الحکم جلد۸ نمبر۱۸ ----- ۳۱ / مئی ۱۹۰۴ء صفحہ۸(
    ۶~}~ - )الحکم جلد۸ نمبر۱۹ ----- ۱۰ / جون ۱۹۰۴ء صفحہ۸(
    ۷~}~ - )الحکم جلد۸ نمبر۲۲ ----- ۱۰ / جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ۸(
    * - * - * - *
    ‏KH1.7
    ?
    ‏KH1.8
    ?
    ‏KH1.9
    خطبات|نور خطبات|نور
    ۸ / دسمبر ۱۸۹۹ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خطبہ جمعہ
    و لقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرثھا عبادی الصٰلحون- ان فی ھٰذا لبلٰغاً لقوم عٰبدین- و ما ارسلنٰک الا رحمۃ للعٰلمین- )الانبیائ:۱۰۶تا۱۰۸( کی تلاوت کے بعد آپ نے فرمایا-:
    ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد یہ بات لکھ دی تھی کہ اس زمین کے مالک میرے نیکوکار بندے ہوں گے- اس بات میں جو زبور کی پیشگوئی کے متعلق بیان کی گئی‘ فرماں بردار لوگوں کے لئے ایک پیغام ہے اور ہم نے تجھ کو‘ اے نبی! کل مخلوقات کے لئے رحمت کر کے بھیجا ہے-
    اس آیت شریف کے پڑھنے سے میری یہ غرض نہیں کہ اس پیشگوئی کے متعلق شرح و بسط کے ساتھ بہت سی باتیں بیان کروں- یہ ایک لمبا مضمون ہے- اس وقت مجھے اپنی جماعت کو چند باتیں صلاح|و|تقویٰ کے متعلق سنانی منظور ہیں-
    خدا تعالیٰ نے اس آیت میں کہ ان فی ھٰذا لبلٰغاً لقوم عٰبدین ایک لگتی ہوئی بات سنائی ہے- یہود ہمیشہ اپنے تئیں یہ سمجھتے تھے کہ ہم ابراہیمؑ کے فرزند ہیں اور خدا نے ہم میں سے ایک بڑا سلسلہ انبیاء علیہم السلام اور ملوک کا پیدا کیا اور خدا تعالیٰ کے ہر قسم کے فضل و کرم کے وارث اور ٹھیکیدار ہم ہی ہیں- لیکن انھوں نے اس امر کے سمجھنے میں سخت غلطی کھائی کہ خدا تعالیٰ کے فضل کا انحصار اور اس کی رحمت و برکت کا مدار کسی کی قرابت پر ہے- حالانکہ خدا کے نزدیک صرف ایک اور صرف ایک ہی بات تھی اور ہے جو اس کی نصرت‘ تائید اور اس کے فضل و کرم کا موجب رہی ہے اور وہ بات قوموں کے درمیان صلاح و تقویٰ ہے- مدتوں اس سے پہلے خدا فرما چکا تھا کہ جب بنی اسرائیل اس اصل کو چھوڑ دیں گے اور صلاح و تقویٰ سے دور جا پڑیں گے خدا تعالیٰ کے فضل و رحمت کے وارث نہ رہیں گے اور ایک اور قوم پیدا کی جاوے گی جو متقی ہوں گے اور اس وعدہ کی زمین کے‘ جس کے لئے قوم تڑپتی تھی‘ ہاں اسی ارض مقدس یعنی زمین شام کے وارث وہ بنیں گے-
    اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں پھر خدا نے بنی اسرائیل کو یاد دلایا ہے کہ اس وعدہ کے پورا ہونے کا وقت آیا ہے- قرآن کریم کی تعلیم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاک نمونہ سے ایک قوم تیار ہو رہی ہے جو دائود علیہ السلام کی پیشگوئی کے موافق ارض مقدس کی وارث ہو گی- مگر ہاں اس کے لئے راہ یہی ہے کہ عابد اور فرماں بردار بن جائو- رسول کے آگے پست ہو جائو اور وہ تقویٰ جو خیال‘ بناوٹ‘ اپنی تجویز سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاک نمونہ اور خدا|تعالیٰ کے فرمودہ نقشہ کے موافق ہے وہ اختیار کرو- و ماارسلنٰک الا رحمۃ للعٰلمین اس کے ضمن میں نکلتا ہے کہ اگر اس رحمت کو اختیار نہ کرو گے اور اس کے نقش قدم پر چل کر اپنا چال چلن‘ صلاح و تقویٰ نہ بنائو گے تو ذلیل ہو کر ہلاک ہو جائو گے- رسول اللہ پر حرف نہ آئے گا کیونکہ وہ تو رحمت مجسم ہے-
    یہ بات کہ ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو مخلوق کے لئے رحمت کر کے بھیجا ہے نرا دعویٰ ہی دعویٰ نہیں- تاریخ بتلاتی ہے اور تجربہ صحیحہ گواہی دیتا ہے کہ جس قوم نے صدق دل سے روح اور راستی سے اس پاک نمونہ کی پیروی کی وہ قوم کیا سے کیا ہو گئی- وہ بدنام اور ذلیل قوم جس میں کسی قسم کی خوبی نہیں تھی‘ وہ جنگجو‘ وحشی بدوی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ہدایت کی اطاعت کرنے سے آخر اس ارض مقدس کے وارث ہوئے جس کے لئے بنی اسرائیل کی برگزیدہ قوم جنگلوں اور بیابانوں میں تڑپتی اور بھٹکتی رہی تھی- بنو قریظہ اور بنو نضیر جو وارث بنے بیٹھے تھے کہاں گئے؟
    اس سے ایک سبق ملتا ہے- بہت سے لوگ اپنی نحوستوں اور فلاکتوں‘ اپنے فقر و فاقہ کے متعلق چلاتے ہیں اور واویلا مچاتے ہیں- وہ یاد رکھیں کہ تنگ دستیوں اور فلاکتوں کے دور کرنے کے لئے یہی اور ہاں یہی ایک مجرب نسخہ ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سچی اطاعت کی جاوے اور صلاح و تقویٰ جو اس اطاعت کی غایت اور منشاء ہے اپنا شعار بنا لیا جاوے- پھر خدا تعالیٰ کا وعدہ صادق ہے کہ یرزقہ من حیث لایحتسب )الطلاق:۴ -( بے شک! بے شک!! یہ سچی بات ہے کہ ممکن نہیں رحمت کی اطاعت میں زحمت آئے- پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی کامل اطاعت کرو کہ اس سے تمام نحوستیں اور ہر قسم کے حزن و ہموم دور ہو جاتے ہیں-
    خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ صلاح و تقویٰ کے اختیار کرنے والے کا متولی‘ حافظ و ناصر خود وہ مولیٰ کریم ہو جاتا ہے- ہاں متقی بنو- اس کے فرماں بردار اور صالح بندے بنو- پھر وعدہ کی زمین وہ شام کی زمین ہو یا کوئی اور‘ وہ مومنوں کا حق ہے اور وہی اس کے حقیقی وارث ہیں-
    مسلمانوں کے ادبار اور نکبت پر بہت سی رائے زنیاں کرتے ہیں لیکن اگر کوئی مجھ سے پوچھے تو میں تو کھول کر کہتا
    ہوں کہ یہ ساری ذلتیں اور نحوستیں جو مسلمانوں پر آئی ہیں یہ خلاف سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پیدا ہوئی ہیں- رحمت سے جس قدر کوئی دور ہوتا جاوے گا‘ ذلت اور زحمت اس کے شامل حال ہوتی جاوے گی-
    پس متقی بنو کہ ہر تنگی اور ہر قسم کی سختی سے نجات ملنے کا ذریعہ تقویٰ اللہ ہے- اللہ تعالیٰ جل شانہ فرماتا ہے- و من یتق اللہ یجعل لہ مخرجاً )الطلاق:۳( جو اللہ تعالیٰ کا متقی ہوتا ہے اس کو ہر تنگی سے نجات ملتی ہے- تقویٰ اللہ کیا ہے؟ متقی کے ہر قول اور فعل اور اس کی ہر حس و حرکت میں اللہ کا خوف اور اس کی صفات کا حیا ہوتا ہے- کبھی اس کی صفت علیم‘ خبیر‘ بصیر سے ڈرتا ہے‘ کبھی اعلم بما فی الصدور کو دیکھ کر گندے اور ناپاک منصوبوں سے پرہیز کرتا ہے-
    غرض جس قدر اللہ تعالیٰ کی صفات کی حیا ہو اسی قدر تقویٰ اللہ کی راہوں پر چلنے کی توفیق ملتی ہے اور اسی نسبت سے خدا اس کا متولی ہو جاتا ہے- متقی کو بڑی بات یہ میسر آتی ہے کہ کسی دکھ کے وقت جب کہ ہر طرف سے وحشت پر وحشت اور تاریکی پر تاریکی نظر آتی ہو اسے کسی قسم کی گھبراہٹ اور بے دلی آ کر نہیں ستاتی- اس کو کامل یقین ہوتا ہے کہ خدا نکلنے کی راہ پیدا کر دے گا اور ضرور کر دیتا ہے-
    میں نے خود آزما کر اور تجربہ کر کے بارہا دیکھا ہے کہ خدا نے کس کس طرح پر مخرج عطا کیا ہے- خدا کے بڑے بڑے راستبازوں‘ صدیقوں اور متقیوں کے تجربے اور شہادتیں موجود ہیں- کوئی بڑے سے بڑا دنیادار جس کو ہر قسم کی آسائشیں اور راحتیں میسر ہوں کبھی بھی سچا اطمینان اور حقیقی راحت حاصل نہیں کر سکتا جب تک خدائے عظیم کا تکیہ اور سہارا نہ ہو- فطرت انسانی ایک تکیہ چاہتی ہے- دیکھو کوئی آدمی گفتگو کرنے اور بولنے میں کیسا ہی آزاد اور دلیر کیوں نہ ہو لیکن جب کوئی بیماری آتی ہے تو دل چھوٹ چھوٹ جاتا ہے مگر طبیب کے کہنے سے کہ تم اچھے ہو جائو گے‘ نئی جان اور طاقت آ جاتی ہے- جی کا گھٹنا تسلی سے بدل جاتا ہے- اس نکتہ معرفت کو سوچو- ایک خدا ہے- یقیناًخدا ہے- پس جن کو وہ تسلی دیتا ہے اور جن سے ہم کلام ہوتا ہے‘ ان کی سنتا اور اپنی سناتا ہے- ان کو کیسا اطمینان‘ کیسی راحت اور سکینت اور جمعیت خاطر ملتی ہے-
    یورپ کے بڑے بڑے لائق فلسفہ دانوں کی خود کشی کا کیا سر ہے؟ یہی کہ ان کو اطمینان اور سکینت مل نہیں سکتی کیونکہ خدا پر ایمان نہیں‘ وہ ایمان جو دکھ اور مصیبت کی گھڑیوں میں ایک لذیذ رفیق ہوتا ہے- یاد رکھو جو ایمان اور یقین قرآن لایا ہے‘ فطرت انسانی کی سیری اور غذا اسی میں ہے- کسی قوم‘ کسی مذہب و ملت‘ کسی کتاب میں یہ لذیذ ایمان نہیں ہے جس کے ذریعہ دکھوں اور حزنوں کی ساعتوں میں انسان کو خدا کی آوازیں راحت پہنچاتی اور تسلی دیتی ہیں- جیسے مریض کو ڈاکٹر کہتا ہے کہ تو اب غم نہ کھا‘ تیری مرض دور ہو چلی اور تو اچھا ہے اور مریض ایک تسلی حاصل کر لیتا ہے‘ اس سے کہیں زیادہ شیریں آوازیں خدا کی کان میں آتی ہیں- مگر بات وہی ہے کہ تقویٰ اختیار کرو- نامرد‘ عورت اور مرد کے تعلقات کی لذت کو کیا سمجھ سکتا ہے- اسی طرح پر خدا سے دور اور اس کی صفات سے حیا نہ کرنے والا بے حیا کیا سمجھ سکتا ہے کہ خدا کی راحت رساں آواز کیا ہوتی ہے؟ ہر وقت اللہ کی صفات کا کپڑا پہن لینا- یہی وہ بات ہے جو نئی زندگی‘ نئی طاقت اورنئی روح‘ نیا دل عطا کرتی ہے-
    اسوۃ المتقین کو دیکھ لو- خدا تعالیٰ کی ساری راست بازی اور ایک ہدایت کا مجسم نمونہ ہے- دشمنوں کے سانپوں اور بچھوئوں نے کیسے گھیرا ہے- ایک سوراخ سوئی کے برابر بھی نکلنے کو نہیں- مگر دیکھتے ہو کہ کیسا صاف اور کشادہ راستہ ملا- شاھت الوجوہ کی ایسی مٹی پھینکی کہ بھونڈے اور اندھے ہو گئے اور وہ مکہ کا نکالا ہوا‘ بیابان مدینہ کا سرگردان‘ نصرت الٰہی کا تاج پہنتا ہے- اللٰھم صل علیٰ محمد و علیٰ اٰل محمد-
    یہ ایک سبق ہے- اسی طرح اللہ سے انس لگائو- اللہ تعالیٰ کے منکر و نواہی سے بچو اور امر کی اطاعت کرو- پھر ایسی مدد کرے گا جو اسوۃ المتقین کی اس نے کر کے دکھائی-
    اے میرے دوستو! جن کو اللہ کے فضل و کرم سے موقع ملا ہے کہ وہ امام المتقین کے موعود اور اس پر سلام پہنچائے ہوئے کے نمونہ کے پاس بیٹھے ہیں- ہاں جن کو اس رحمت اور نور خدا کے عاشق‘ قرآن کریم کے غیرت مند عاشق‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سچے شیدا کی صحبت نصیب ہوئی ہے- تم سب سے بڑھ کر تقویٰ پیدا کرو- تمھاری آنکھ میں وہ حیا ہو کہ دیکھنے والا کہہ اٹھے کہ یہ آنکھ خدا کو دیکھتی ہے-
    تمھارے ہر عضو کامنہ قبلہ حقیقی کی طرف ہو- پھر تم شھداء علی الناس )البقرۃ:۱۴۴ ( ہو گے اور خدا کا فضل اور نصرت تمھارے شامل حال ہو گی-
    یاد رکھو ہمارے مذہب میں کسی انسان سے نرا پیار اور محبت کام نہیں دے سکتا- ایمان اور اعمال|صالحہ کام دیتے ہیں- اگر نرا پیار اور محبت ہو اور عمل صالح نہ ہو تو یہ ایسا ہی ہے جیسے یہود کہتے تھے نحن ابناء اللہ )المائدۃ:۱۹-( آخر میں پھر کہتا ہوں کہ متقی بنو کہ متقی کامیاب ہوتے ہیں-
    خدا سے دعا ہے کہ ہماری جماعت کو سچا متقی بنا دے اور اپنے فضل و رحمت کا وارث- آمین-
    )الحکم جلد ۳ نمبر ۴۵ ----- ۱۷ / دسمبر ۱۸۹۹ء صفحہ ۱ تا ۳(
    * ۔ * ۔ * ۔ *

    ۲۳ / اپریل ۱۹۰۰ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خطبہ جمعہ
    و العصر- ان الانسان لفی خسر- الا الذین اٰمنوا و عملوا الصٰلحٰت و تواصوا بالحق و تواصوا بالصبر )العصر:۲تا۴( کی تلاوت کے بعد آپ نے فرمایا-:
    قرآن کریم سے بڑھ کر دنیا کے لئے کوئی نور‘ شفا‘ رحمت‘ فضل اور ہدایت نہیں ہے اور قرآن کریم سے بڑھ کر کوئی مجموعہ سچی باتوں کا نہیں ہے- یہ سچ اور بالکل سچ ہے- اصدق الحدیث کتاب اللہ- اس قرآن کی ایک مختصر سی سورۃ میں اس جمعہ میں سنانے کو کھڑا ہوا ہوں- ذرا سی سورۃ ہے‘ ایک سطر میں تمام ہو گئی ہے- لیکن اگر اسی ذرا سی سور~ہ~ کو انسان اپنا دستور العمل بنا لے تو کوئی چیز اس سے باہر نہیں رہ جاتی- اس سورۃ کو مولیٰ کریم نے عصر کے لفظ سے شروع فرمایا ہے- انسان کے واسطے دن معاش کا ذریعہ اور رات آرام کا وقت بنایا ہے اور فرمایا و جعلنا النھار معاشاً- )النبا:۱۲( سرور عالم فخر بنی آدم صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی بارک اللہ فی بکورھا ) ترمذی کتاب البیوع( فرمایا- کس قسم کا معاش؟ دنیوی معاش‘ اخروی معاش کے لئے یہ جگہ ہے- الدنیا مزرعۃ الاٰخرۃ- جیسا بیج بوو گے‘ انجام کار ویسا پھل پائو گے- کون اس بات کو نہیں جانتا کہ جو کے بونے والے کو آخر جو کاٹنے پڑیں گے- اس دن میں آخری حصہ کا نام عصر ہوتا ہے- عصر کے بعد کوئی وقت فرضی نماز کے ذریعہ رضا الٰہی کے حصول کے لئے باقی نہیں رہتا- دن کی نمازوں کی انتہا عصر کی نماز ہے- جو عصر کی نماز ترک کرتا ہے اسے اب دن نہیں ملتا- اسی طرح جس کو عصر کے وقت تک مزدوری نہیں ملی اب اس کا دن ضائع گیا اور اسے مزدوری نہیں مل سکتی-
    اسی طرح پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا زمانہ عصر کا زمانہ ہے- ایک حدیث میں تصریح آتی ہے کہ بعض قومیں صبح سے دوپہر تک مزدور بنائے گئے ہیں اور بعض دوپہر سے عصر تک مزدور بنائے گئے اور ایک قوم عصر سے غروب آفتاب تک ٹھیکہ دار ہے- پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات کا زمانہ عصر سے مناسبت رکھتا ہے- جیسے قرآن کریم کے بعد اور کوئی کتاب نہیں اور شرائع الٰہیہ کے بعد اور شرع نہیں- عصر کے بعد کسی نماز کا وقت نہیں- پس اس عصر کی نماز کے لئے بہت تاکیدیں فرمائی ہیں- جو عصر کی نماز چھوڑتا ہے اس کا اہل و مال کاٹا گیا- اسی نماز کے لئے فرمایا کہ یہ نماز منافق کی تمیز کا نشان ہے جو سورج کے غروب کے وقت چار ایک چونچیں سی لگا دیتا ہے- امت محمدیہ میں آنے والے لوگوں کے لئے بھی عصر کا نمونہ ہے- ہم کھلے طور پر مدلل مبرہن دکھا سکتے ہیں- حجت ملزمہ کی طرح یقین دلانے کو تیار ہیں اگر فطرت سلیم ہو- یہ حقیقی وقت ہے کہ کوئی کاسرصلیب مامور ہونے والا ہو- پس یہ عصر کا وقت ہے اس کو غنیمت جانو- جب سایہ زرد ہوتا ہے اور آفتاب غروب ہونے کو ہوتا ہے‘ مفید وقت جاتا رہتا ہے- اسی وقت منافق کی نماز کا وقت ہوتا ہے- ایسا ہی جو قوم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں مشرف بہ اسلام نہ ہوئی وہ آخر خلفاء کے زمانہ میں مسلمان تو ہوئے مگر وہ غیرت اور شوکت ان کی نہ رہی- رعب کے نیچے آ کر‘ کثرت کو دیکھ کر بہت سے لوگ ایک جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں مگر ابتلا کے وقت مخلص ہی شامل ہوتے ہیں- جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو کاہن‘ ساحر‘ مفتری‘ مجنون کہا جاتا تھا اس وقت جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ آ کر ملے اور آپ کی دعوت کو قبول کیا ان کے ساتھ پیچھے آنے والے کب مل سکتے ہیں- خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرو تو بھی سابقین کے ایک مٹھی جو کے برابر قدر نہیں ہو سکتی- یہی وہ سرعظیم تھا جس کو پہنچ کر صحابہ نے ابوبکر صدیق کو حضور علیہ السلام کا جانشین بنایا- غار ثور میں جب آپ تشریف رکھتے تھے اس تیرہ و تار غار میں ساتھ جانے والا جو کچھ لے گیا ہے وہ دوسروں کو نصیب نہیں ہے- غرض عصر کے وقت کو غنیمت سمجھو-
    اس عصر کے وقت میں کیا کر سکتے ہو؟ چار کاموں کے لئے ارشاد فرمایا- و العصر ان الانسان لفی خسر ساری مخلوق گھاٹے میں ہے- انسان گویا برف کا تاجر ہے- برف پر ایک وقت آئے گا کہ ساری پگھل جائے گی اس لئے برف کے تاجر کو لازم ہے کہ بہت ہی احتیاط کرے- انسان بھی اگر غور کرے تو عمر کے لحاظ سے اس کو برف کا کارخانہ ملا ہے- ایک بچہ کی ماں اپنے بیٹے کو چار برس کا دیکھ کر خوش ہو رہی ہے لیکن حقیقت میں اس کی عمر میں سے چار برس کم ہو چکے ہیں- پس اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عمر دم بدم گزرتی اور برف کی طرح پگھلتی جاتی ہے اور اس وقت کا علم نہیں جب یہ تمام ہو- اس لئے انسان کو لازم ہے کہ اپنے وقت کی قدر کرے اور عمر کو غنیمت سمجھے اور اس تھوڑے سے دنوں میں جو اس کو مل گئے ہیں مولا کریم سے ایسا معاملہ کرے کہ ان کے گزرنے پر اس کو عظیم الشان آرام گاہ حاصل ہو- بڑے بدبخت ہیں وہ جو اپنے بیوی بچے کے آرام کے لئے دین برباد کرتے ہیں- یاد رکھیں کہ مال‘ اسباب‘ عزیزوں‘ رشتہ داروں سے برخوردار ہونا اور فائدہ اٹھانا محض مولیٰ کریم کے فضل پر منحصر ہے-
    اس سورۃ شریفہ میں فرمایا کہ سب انسان گھاٹے میں پڑ رہے ہیں مگر ایک قوم نہیں- وہ کون؟ الا الذین اٰمنوا و عملوا الصٰلحٰت و تواصوا بالحق و تواصوا بالصبر- چار باتوں کو دستور العمل بنا لے تو اس عصر کے وقت سارے دن کی مزدوریوں سے زیادہ مزدوری مل جاوے- حدیث میں لکھا ہے کہ صبح سے شام تک مزدور کے لئے ایک دینار ہے- پس صبح والے مزدوروں نے دوپہر تک کام کیا اور چھوڑ بیٹھے‘ پھر اور مزدوروں نے دوپہر سے عصر تک کام کیا اور پھر کام کو ترک کر دیا- مگر تیسری اور جماعت مزدوروں کی آئی جنہوں نے عصر سے کام کو شروع کیاآخر دن تک‘ تو ان کے لئے دو دینار مزدوری ملی- مگر قرآن شریف سے یہ ملتا ہے کہ جب ایک مومن عمل کرتا ہے تو اس کو دس گنا بڑھ کر اجر ملتا ہے- غرض وہ چار باتیں کیا ہیں جن کا اس سورۃ میں ذکر ہے؟
    ان میں اول اور مقدم ایمان ہے- یہ عظیم الشان چیز ہے- بدوں اس کے کوئی عمل مقبول ہی نہیں ہوتا- ہر ایک عمل میں ضروری ہے کہ ایمان‘ اخلاص اور صواب ہو- یہ پتہ لگانا کہ کس درجہ کا مومن ہے‘ آسان نہیں- ایک دراز تجربہ کے بعد معلوم ہو سکتا ہے- شادی غمی کا موقع آتا ہے- ایک طرف اللہ تعالیٰ کی حکومت ہے اور دوسری طرف برادری کا قانون اور قومی محرکات- اب اگر اللہ تعالیٰ کی حکومت سے نہیں نکلتا اور قومی اور برادری کے اصولوں کی پروا نہیں کرتا تو بیشک مخلص مومن ہے- ایک طرف نفس کا فیصلہ ہو‘ دوسری طرف قوم کا فیصلہ اور تیسری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فیصلہ- اب اگر اپنے اور قوم کے فیصلہ کی کچھ پروا نہ کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے فیصلہ کے نیچے گردن رکھ دیتا ہے تو یقیناً مومن ہے-
    میں دیکھتا ہوں شادیاں ہوتی ہیں تو بڑی قوم کی تلاش ہوتی ہے- تقویٰ کی تلاش نہیں کی جاتی- بدمعاش‘ آوارہ مزاج‘ شریر ہو‘ کچھ پرواہ نہیں مگر ہڈی پسلی اور خون کسی بڑی قوم کا ہو- افسوس! صد افسوس!! پھر شادی کی دعوتوں میں مسکینوں کودھکے دے کر باہر نکالا جاتا ہے لیکن شریر النفس اور بے|حیا لوگوں کو بلا بلا کر بٹھایا جاتا ہے- جن لوگوں کے اموال کا تلف کرنا غضب الٰہی کا موجب ہے نہایت بیباکی اور شوخی کے ساتھ اس کو تباہ کیا جاتاہے- دوسروں کا مال ناجائز طور پر کھانے میں بیباک ہیں- مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہو کر احکام الٰہی کو سنتے ہیں- مگر اپنی جماعت یا سوسائٹی کے کسی معمول پر عمل کے خلاف دیکھ کر اس کے لینے میں مضائقہ کرتے ہیں- میرا تو یقین ہے کہ یہ لوگ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں بھی ہوتے تو آپ کی باتوں کے ماننے میں اسی طرح مضائقہ کرتے جیسا آج امام کی اتباع سے مضائقہ کرتے ہیں-
    غرض ایمان موقوف ہے خدا کی ذات میں‘ اسماء میں‘ یاد میں- عظمت و جبروت میں دوسرے کو شریک نہ کرے خواہ فرشتہ ہو یا رسول ہو‘ نبی ہو یا ولی ہو- کیسا افسوس آتا ہے کہ موحد لوگ توحید کا اقرار کر کے پھر مسیح کو خالق کخلق اللہ اور محیی کاحیاء اللہ مانتے ہیں! کیا یہی توحید ہے- اور یہ کہنا کہ خدا کے اذن سے کرتے تھے ایک دھوکا ہے- اگر کوئی کام اذن الٰہی سے بھی کیا جاوے تو کیا وہ خدا کی طرح کا کام ہو جاتا اور کرنے والے کو خدا کا شریک بنا دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ خالق کل شیی اللہ تعالیٰ کی ہی ذات ہے- ایک شخص امام علیہ السلام کے پاس آیا- جب اس سے پوچھا گیا کہ مسیح اور خدا تعالیٰ کی چمگادڑوں میں کچھ فرق بھی ہے تو اس نے کہا کہ رل مل گئے ہیں- ایمان کی پہلی شرط ہے ایمان باللہ کہ کسی حمد‘ فعل‘ عبادت‘ حسن و احسان الٰہی میں کسی غیر کو شریک نہ کرے- مجھے ان لوگوں پر تعجب آیا کرتا ہے جو اپنی محروسیت کے باعث خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہونے سے محروم ہیں- کہا کرتے ہیں کہ الٰہی محبت نہیں ہے وہ اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول )التغابن:۱۳( کے کیا معنے کرتے ہیں؟ قرآن کریم تو ہمیں اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم ہی کے ذریعہ پہنچا ہے- اطیعوا اللہ کا موقع ہی کب ملتا ہے- رسول کے ذریعہ ماننا اس کے بھی بعد ہے- خدا تعالیٰ کی قدر کرو ایسا نہ ہو کہ ما قدروا اللہ ]01 [p )الانعام:۹۲( کے نیچے آ جائو- پس جبکہ اللہ تعالیٰ کلام کرتا ہے اور ہمیشہ کرتا رہا پھر کیا وجہ ہے کہ وہ آج چپ ہو گیا؟ مجھے اس آیت پر کہ موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں جب قوم نے بچھڑے کو خدا بنایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ دلیل دی ہے کہ الا یرجع الیھم قولاً )طٰہٰ:۹۰( یعنی تم دیکھتے ہو کہ تمہاری بات کا جواب نہیں دیتا‘ یہ تفہیم ہوئی کہ جو خدا جواب نہ دے وہ بچھڑے کا سا خدا ہوا- ہاں یہ بھی سچ ہے کہ سارے جگ سے بات کرنا کبھی نہیں ہوا- انسان اپنے اندر وہ خوبیاں اور خواص پیدا کرے جو کلام الٰہی کے لئے ضروری ہیں پھر جواب ملے گا-
    دوسری شرط ایمان کی اخلاص ہے یعنی خدا ہی کے لئے ہو- اور تیسری شرط صواب ہے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم کے موافق عملدرآمد ہو- کوئی عمل قبولیت کا درجہ حاصل نہیں کرتا جب تک اخلاص اور صواب سے نہ ہو-
    پھر ایمان بالملائکہ ہے- ایمان بالملائکہ ایسی چیز ہے جس کی طرف سے تساہل کر کے نیکی سے محروم رہ جاتے ہیں- آج کل کے لوگ سمجھتے ہیں اور یقین کرتے ہیں کہ بدوں سبب کے فعل سرزد نہیں ہوتا- پس بیٹھے بیٹھے جو انسان کو دفعتاً نیکی کا خیال آتا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ ایک لمتہ الملک انسان کے ساتھ ہے- اس کے ذریعہ نیک خیال پیدا ہوتے ہیں اور شیطانی تعلقات سے برے خیالات اٹھتے ہیں- پس انسان کو لازم ہے کہ ہر نیکی کی تحریک پر فی الفور نیکی کرے- ایسا نہ ہو یحول بین المرء و قلبہ )الانفال:۲۵( کا مصداق ہو جاوے- ایمان بالملائکہ کا یہی فائدہ ہے کہ نیکی سے تغافل نہ کرے- پھر اللہ کی کتابوں‘ اس کے رسولوں پر ایمان لائے-
    قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے- اس کو دستور العمل بنائو- افسوس ہے کہ مسلمان اس کو کتاب اللہ جان کر بھی دستورالعمل بنانے میں مضائقہ کرتے ہیں اور السنۃ قاضیۃ علیٰ کتاب اللہ کا فتویٰ دیتے ہیں- رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی قرآن کریم کو کس ادب اور عظمت کی نگاہ سے دیکھا ہے- ساری حدیث کی کتابیں دیکھو- جن مسائل پر قرآن کریم نے مفصل بحث فرمائی ہے اور ان کے دلائل دیئے مثلاً ہستی باری تعالیٰ‘ ضرورت نبوت‘ مسئلہ تقدیر وغیرہ‘ ان پر احادیث میں بحث نہیں کی گئی- پھر تقدیر کے مسئلہ پر ایمان لاوے کہ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ فاسق کو کوئی عمدہ نتیجہ ملے- پھر جزائ|وسزا پر ایمان لاوے- اس کے بعد دوسری بات عملوا الصٰلحٰت ہے- اس کا عام اصول ہے کہ ہر سنوار کا کام کرے اور اس کے معلوم کرنے کے واسطے قرآن کریم‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا عملدرآمد معیار ہے- پھر انسان سوچ لے کہ امت محمدیہ کو کنتم خیر امۃ )اٰل عمران:۱۱۱( قرار دیا ہے- پس جس سے آٹھ پہر میں کوئی بھلائی بھی نہ ہو وہ اپنی حالت پر غور کرے- ایسی ہی وصیت|الحق ضروری ہے- گونگا شیطان بننا اچھا نہیں- مقابلہ میں مشکلات پیش آتی ہیں- پھر کوشش کرے اور صبر و استقلال سے کام لے- یہ ہیں چار دستور العمل جو اس مختصر سی سورت میں بیان ہوئے ہیں-
    اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو توفیق دے کہ قرآن ہمارا دستور العمل ہو‘ محمد صلی اللہ علیہ و سلم مطاع ہو اور یہ زمانہ جو دین اور ایمان کے لئے ہے ہم اس کی قدر کریں- آمین-
    ) الحکم جلد۴ نمبر۲۹ - ۱۶ / اگست ۱۹۰۰ء صفحہ ۴ تا ۷(
    * ۔ * ۔ * ۔ *

    ۲۲ / جنوری ۱۹۰۱ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خطبہ عید الفطر
    سورۃ البقرہ کے چوبیسویں رکوع )آیات ۱۹۰ تا ۱۹۷( کی تلاوت کے بعد فرمایا -:
    یہ رکوع شریف جو میں نے ابھی پڑھا ہے‘ یہ رمضان شریف کی تاکیدوں اور اس کے احکام اور فضائل اور فوائد کے بیان کے بعد نازل فرمایا گیا ہے- اس رکوع کامضمون اور مطلب رمضان کے بعد ہی سے بلافصل شروع ہوتاہے جو آج کی تاریخ ہے- یہ مہینہ ایک ایسا مہینہ ہے کہ بہ نسبت اور مہینوں کے ایک خاص فضل اور انعام مسلمانوں پر اس میں نازل ہوا ہے- گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا یہی مہینہ ابتدائی سال ہے- آخررمضان میں جو وحی نازل ہوئی ہے تو تبلیغ شوال ہی سے شروع فرمائی ہے- وہ نور جوتاریکیوں کے دور کرنے کے واسطے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا اور جس کا ذکر انزلنا الیکم نوراً مبیناً )النسائ:۱۷۵( میں کیا ہے اس کا شروع یہی مہینہ ہے-
    جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رمضان کے فضائل اور فوائد سنے اور معلوم کیا کہ اس سے اس طرح پر تقویٰ حاصل ہوتا ہے تو ان کے دلوں میں ایک فکر اور جوش پیدا ہوا کہ دوسرے مہینوں کے بھی فضائل اور حقائق سے واقف ہوں- اس لئے یسئلونک عن الاھلۃ اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے-
    رمضان میں تقویٰ کا سبق یوں ملتا ہے- سخت سے سخت ضرورتیں بھی جو بقائے نفس اور بقائے|نسل کے لئے ضروری ہیں ان کو بھی روکنا پڑتا ہے- بقائے نفس کے لئے کھانا پینا ضروری چیز ہیں اور بقائے|نسل کے لئے بیوی سے تعلق ایک ضروری شے ہے مگر رمضان میں کچھ عرصہ کے لئے یعنی دن بھر ان ضرورتوں کو خدا کی رضامندی کی خاطر چھوڑنا پڑتا ہے- اللہ تعالیٰ نے اس میں یہ سبق سکھایا ہے کہ جب انسان بڑی ضروری خواہشوں اور ضرورتوں کو ترک کرنے کا عادی ہوگا تو غیر ضروری کے چھوڑنے میں اس کو کیسی سہولت ہوگی- دیکھو ایک شخص کے گھر میں تازہ دودھ‘ ٹھنڈے شربت‘ انگور‘ نارنگیاں موجود ہیں- پیاس کے سبب سے ہونٹ خشک ہو رہے ہیں- کوئی روکنے والا نہیں- باوجود سہولت اور ضرورت کے اس لئے ارتکاب نہیں کرتا کہ مولیٰ کریم ناراض نہ ہو جائے اور اسی طرح عمدہ عمدہ کھانے‘ پلائو‘ کباب اور دوسری نعمتیں میسر ہیں اور بھوک سے پیٹ میں بل پڑ جاتے ہیں اور پھر کوئی نہیں جو ان کھانوں سے روکنے والا ہو مگر یہ اس لئے استعمال نہیں کرتا کہ مولیٰ کریم کے حکم کی خلاف ورزی نہ ہو- جبکہ یہ حال ہے کہ ایسی حالت اور صورت میں کہ اس کو عمدہ سے عمدہ نعمتیں جو اس کے بقائے نفس کے لئے اشد ضروری ہیں‘ یہ صرف مولیٰ کریم کے حکم کی رضامندی کی خاطر ان کو چھوڑتا ہے اور پھر دیکھتا ہے کہ چھوڑ سکتا ہے تو بھلا ایسا انسان جو خدا کے لئے ضروری چیزیں چھوڑ سکتا ہے وہ شراب کیوں پینے لگا اور خنزیر کیوں کھانے لگا؟ جس کی کچھ بھی ضرورت نہیں ہے یا مثلاً کوئی رشوت خور‘ ربٰو خوری کرنے والا یا چور یا ایسا انسان جو قرض لیتا ہے کہ ادا کرنے کی نیت نہیں ہے جبکہ دیانت داری سے کام لیتا ہے اور مولیٰ کریم کی اجازت اور پروانگی کے سوا کچھ نہیں کرتا وہ ایسے خبیث مال کے لینے میں کیوں جرات کرے گا؟ ہرگز نہیں- اسی طرح گھر میں حسین جوان بیوی موجود ہے مگر اللہ ہی کی رضا کے لئے تیس دن چھوڑ سکتا ہے تو بدنظری کے لئے جی کیوں للچائے گا-
    غرض رمضان شریف ایک ایسا مہینہ تھا جو انسان کو تقویٰ‘ طہارت‘ خدا ترسی‘ صبر و استقلال‘ اپنی خواہشوں پر غلبہ‘ فتح مندی کی تعلیم عملی طور پر دیتا تھا- ان ترقیوں کو دیکھ کر جو صحابہ نے رمضان میں تقویٰ میں کی تھیں‘ انھوں نے دوسرے مہینوں کے فضائل و فوائد سننے کی خواہش ظاہر کی اور سوال کیا- اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا جواب یوں دیا- قل ھی مواقیت للناس )البقرۃ:۱۹۰( کہہ دو کہ لوگوں کے فائدہ کے لئے یہ وقت مقرر فرمائے ہیں- کیسا ہی خوش قسمت ہے وہ انسان جس کو صحت‘ فرصت‘ پھر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے علم بھی عطا ہوا ہے اور اگر نہیں تو کوئی درد دل سے سنانے والا موجود ہے- عاقبت اندیشی کی عقل دی ہے مگر باوجود اس قدر اسباب اور سہولتوں کے میسر آجانے پر بھی اگر اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی فکر نہیں کرتا اور منافع اٹھانے کی سعی میں نہیں لگتا تو اس سے بڑھ کر بدقسمت کون ہو سکتا ہے؟
    مواقیت للناس کیا عجیب وقت بنایا ہے تمہارے فائدہ کے لئے اور نفع اٹھانے کا بہت بڑا موقع دیا ہے اور اس لئے بھی کہ تم حج کرو- یاد رکھو کہ حج اللہ کی سنن میں سے ہے-
    یہ ایک سچی بات ہے کہ جہاں بدکاریاں کثرت سے ہوں وہاں غضب الٰہی نازل ہوتا ہے اور جہاں عظمت اور ذکر الٰہی ہو وہاں فیضان الٰہی کثرت سے نازل ہوتا ہے- قوی روایات سے متفقہ یہ شہادت ملتی ہے کہ بیت اللہ کا وجود تو بہت بڑے زمانہ سے ہے- لیکن حضرت ابو الملت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے جس کی تاریخ صحیح موجود ہے ابا عن جد قوموں کا مرکز اور جائے تعظیم چلا آیا ہے اور پتہ ملتا ہے کہ رات دن میں کوئی ایسا وقت بیت اللہ میں نہیں آتا کہ وہاں اللہ تعالیٰ کی عظمت و جبروت کے اوراد نہ پڑھے جاتے ہوں- مکہ معظمہ میں اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کی صفات کا زندہ اور بین ثبوت موجود ہے- چنانچہ قرآن شریف میں آیا ہے جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام قیاماً للناس )المائدۃ:۹۸( یعنی اس الٰہی گھر کو معزز گھر بنایا- اس کو لوگوں کے قیام اور نظام کا محل بنایا اور قربانیوں کو مقرر کیا کہ تم کو سمجھ آجائے کہ خدا ہے اور وہ علیم و خبیر خدا ہے کیونکہ جس طرح اس نے فرمایا ہے اسی طرح پورا ہوا-
    میں نے ایک دہریہ کے سامنے اس حجت کو پیش کیا وہ ہکا بکا ہی تو رہ گیا- لوگوں کے مکانات اور پھر مذہبی مقامات کو دیکھو کہ ذرا سے انقلاب سے ساری عظمت خاک میں مل جاتی ہے- بابل کس عظمت|و|شان کا شہر تھا مگر آج اس کا کوئی پتہ بھی نہیں دے سکتا کہ وہ کہاں آباد تھا- کارتھج میں ہنی بال کا معبد‘ پراموں کا مندر جہاں سکندر عظیم الشان بادشاہ آ کر نذر دیتا تھا اور اپنے آپ کو اس کا بیٹا منسوب کرتا تھا‘ آتش کدہ آذر‘ غرض بڑے بڑے مقدس مقامات تھے جن کا نام و نشان آج زمانہ میں موجود نہیں ہے- مگر مکہ معظمہ کی نسبت خدائے علیم و حکیم نے اس وقت جبکہ وہ ایک وادی غیرذی زرع تھا یہ فرمایا کہ وہاں دنیا کے ہر حصہ سے لوگ آئیں گے‘ وہاں قربانیاں ہوں گی اور خدا تعالیٰ کی عظمت و جبروت کا اظہار ہوتا رہے گا- صدیاں اس پر گذر گئیں- دنیا میں بڑے بڑے انقلاب ہوئے- سلطنتوں کی سلطنتیں تباہ ہو کر نئی پیدا ہو گئیں مگر مکہ معظمہ کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی وہ آج بھی اسی شوکت اور جلال کے ساتھ نظر آتی ہے جس طرح پر کئی سو سال پیشتر- اس سے اللہ تعالیٰ کی علیم و خبیر ہستی کا کیسا پتہ لگتا ہے- اگر انسانی منصوبہ اور ایک خیالی اور فرضی بات ہوتی تو اس کا نام و نشان اسی طرح مٹ جاتا جیسے دنیا کے اور بڑے بڑے مقدس قرار دیئے گئے مقامات کا نشان مٹ گیا- مگر نہیں یہ اللہ تعالیٰ کی باتیں تھیں جو ہر زمانہ میں اس کی ہستی کا زندہ ثبوت ہیں-
    یہ بات اللہ تعالیٰ کے عجائبات میں سے ہے کہ جس کو وہ عزت دینی چاہے وہ معزز و مکرم ہو جاتا ہے اور جس کو ذلیل کرنا چاہے وہ ذلیل ہو جاتا ہے- انسانی کوشش اور سعی پر اس کا انحصار اور مدار نہیں ہے- بیت اللہ کی عزت و حرمت کا ٹھیکیدار وہ خود ہوگیا ہے- اس لئے کوئی نہیں کہ اس کی ذلت کا خواہشمند ہو اور خود ذلیل نہ ہو جائے- اسی طرح پر یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ جس کی عزت کا ٹھیکہ لے لے وہ دنیا داروں کی ذلت کے ارادوں سے ذلیل ہو سکتا ہے؟ ہر گز نہیں-
    میں نے بار ہا سنایا ہے کہ جب مامور من اللہ آتا ہے تو لوگوں کو اس کی مخالفت کا ایک جوش ہوتا ہے اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کے اعزاز کے لئے تل جائے اس کو کوئی ذلیل نہیں کر سکتا- مدینہ طیبہ میں ایک راس المنافقین کا ارادہ ہوا لئن رجعنا الی المدینۃ لیخرجن الاعز منھا الاذل )المنافقون:۹( ہم اگر لوٹ کر مدینہ پہنچیں گے تو ایک ذلیل گروہ کو معزز گروہ نکال دے گا- جناب|الٰہی نے فرمایا و للٰہ العزۃ و لرسولہ و للمومنین )المنافقون:۹( معزز تو اللہ ہے اور اس کا رسول اور اس کی جماعت- منافقوں کو یہ کبھی سمجھ نہیں آتی- آخر ایام نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم میں ایک بھی منافق نہ رہا- بلکہ یہ فرمایا ملعونین اینما ثقفوا اخذوا و قتلوا تقتیلاً )الاحزاب:۶۲-( اللہ تعالیٰ نے ارادہ کر لیا تھا کہ وہ تیری مجاورت میں بھی نہ رہیں گے-
    تو حج کا مقام وہ مقام ہے کہ لاکھوں کروڑوں انسان اللہ کی یاد کے لئے حاضر ہوتے ہیں- اللہ کی تحمید کے لئے مال و جان کو خطرات میں ڈالتے ہیں- اہل و عیال اور رفقاء لوگوں کو چھوڑتے ہیں‘ پھر خدا کا فیضان کیسا جلوہ گری فرماتا ہے-
    قرآن جو نازل فرمایا اس کی حفاظت کا خود ذمہ دار ہوا- انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحافظون 10] p)[الحجر:۱۰-( دنیا کی اور کسی کتاب کی نسبت یہ ارشاد خداوندی نہیں ہوا اور جس مقدس اور راستباز‘ ہاں قوم کے مسلم امین اور صادق انسان پر یہ پاک کتاب نازل ہوئی‘ اس کی حفاظت کا ذمہ|دار بھی مولیٰ کریم ہی ہوا- چنانچہ و اللہ یعصمک من الناس )المائدۃ:۶۸( کی صدا اسی راستباز کو پہنچی- پھر جو دین لے کر یہ خدا کا سچا نبی صلی اللہ علیہ و سلم آیا اس کا نام اسلام رکھا جس کے معنی ہی میں سلامتی موجود ہے-
    یہی وہ دین ہے جس کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی رضامندی کا اظہار یہ کہہ کر فرمایا و رضیت لکم الاسلام دیناً )المائدۃ:۴-( اور اس اسلام پر عملدرآمد کرنے والے سچے مسلمان کو جس نتیجہ پر پہنچایا وہ دارالسلام ہے- پس کون ہے جو اس|قدر سلامتیوں کو چھوڑے؟ وہی جو دنیا میں سب سے بڑھ کر بدنصیب ہو- لیکن یاد رکھو کہ ہر ایک چیز کے لئے خدا تعالیٰ نے ایک راہ رکھی ہوئی ہے- اسی راہ پر چل کر وہ اصل مقصد حاصل ہو سکتا ہے- اسی طرح نیکیوں کے حاصل کرنے کے واسطے یہی ایک راہ ہے- کوئی نیکی نیکی نہیں ہو سکتی جب تک اخلاص اور صواب اس کے ساتھ نہ ہو- عام طور پر نیکیوں کے سمجھنے کے واسطے انسان کی عقل کفایت نہیں کر سکتی- انسان اپنی عقل اور دانش سے اپنے جیسے انسان کی رضامندی معلوم نہیں کر سکتا پھر ورائ|الوریٰ کی رضا کیونکر سمجھ لے- اس کا ایک ہی طریق ہے کہ وہ اپنے بندوں میں سے ایک کو منتخب فرماتا ہے- مگر انسان اپنی اٹکل بازی اور دانش سے اس منتخب شدہ بندہ کو نہیں سمجھ سکتا اس لئے کہ نبوت اور ماموریت ایک باریک اور لطیف راز ہوتا ہے جس کو دنیا میں منہمک انسان جھٹ|پٹ نہیں سمجھ سکتا- اگر یہ بات ہوتی کہ ہر شخص معاً نبی کے دعویٰ کرنے ہی پر اس کی حقیقت کو سمجھ لیتا تو پھر مخالفوں کا وجود ہی نہ ہوتا- چونکہ انسان اپنی عقل و دانش پر بھروسہ کرنا چاہتا ہے اور مجرد اسی کے فیصلہ پر راضی ہونا پسند کرتا ہے اس لئے اکثر اوقات وہ غلطیاں کرتا اور نقصان اٹھاتا ہے-
    یہی اٹکل بازی تھی جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں لوگوں سے یہ کہلوایا لو لانزل ھٰذا القراٰن علیٰ رجل من القریتین عظیم )الزخرف:۳۲( میاں یہ قرآن شریف تو مکہ یا طائف کے کسی بڑے نمبردار پر نازل ہونا چاہئے تھا- اپنی نگاہ و نظر میں وہ یہی سمجھتے تھے کہ قرآن شریف اگر نازل ہو تو کسی نمبردار پر نازل ہو- کیونکہ ان کی نگاہوں کی منتہیٰ تو وہ نمبرداری ہو سکتی تھی- پس یہی حال ہے کہ انسان اپنی اٹکلوں سے کام لینا چاہتا ہے حالانکہ ایسا اس کو نہیں کرنا چاہئے- بلکہ جس معاملہ میں اس کو کوئی علم اور معرفت نہیں ہے اس پر اس کو رائے زنی کرنے سے شرم کرنی چاہئے- اس لئے پاک کتاب کا حکم ہے کہ لاتقف ما لیس لک بہ علم )بنی اسرائیل:۳۷-(
    ناواقف دنیا اپنی تدبیروں سے جو انتخاب کرنا چاہتی ہے وہ منظور نہیں ہو سکتا- سچا انتخاب وہی ہے جس کو اللہ تعالیٰ کرتا ہے- چونکہ انسانی عقل پورے طور پر کام نہیں کرتی اور وہ فتویٰ نہیں دے سکتی کہ ہمارا کیا ہوا انتخاب صحیح اور مفید ثابت ہو گا یا ناقص- اس لئے ماموریت کے لئے انتخاب اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے-
    ایک بار ایک شیعہ نے مجھ سے پوچھا کہ تیرہ سو برس کے وہ دلائل جو سنیوں نے حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت کے بیان کئے ہیں اور شیعوں نے جو دلائل ان کے مقابل میں پیش کئے ہیں ان سب کو لکھ دو اور پھر ان پر ایک محاکمہ اور فیصلہ لکھو- اس وقت اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ بات ڈالی کہ تیرہ سو برس کے جھگڑے کو فیصل کرنے کے واسطے تو عمر نوحؑ بھی وفا نہیں کر سکتی کیونکہ کہتے ہیں کہ وہ تو ساڑھے نو سو برس ہی اس دنیا میں رہے- پس مجھے اس وقت اس جھگڑے کے فیصلہ کی تفہیم یہ ہوئی اور میں نے لکھ دیا کہ بات یہ ہے کہ چونکہ خلافت کا انتخاب عقل انسانی کا کام نہیں‘ عقل نہیں تجویز کر سکتی کہ کس کے قویٰ قوی ہیں‘ کس میں قوت انتظامیہ کامل طور پر رکھی گئی ہے اس لئے جناب الٰہی نے خود فیصلہ کر دیا ہے وعد اللہ الذین اٰمنوا منکم و عملوا الصٰلحات لیستخلفنھم فی الارض )النور:۵۶-( خلیفہ بنانا اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے- اب واقعات صحیحہ سے دیکھ لو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے کہ نہیں؟ یہ تو صحیح بات ہے کہ وہ خلیفہ ہوئے اور ضرور ہوئے- شیعہ یہی مانتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی ان کی بیعت آخر کر لی تھی- پھر میری سمجھ میں تو یہ بات آ نہیں سکتی اور نہ اللہ تعالیٰ کو قوی‘ عزیز‘ حکیم خدا ماننے والا کبھی وہم بھی کر سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ پر بندوں کا انتخاب غالب آ گیا تھا- منشاء الٰہی نہ تھا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہو گئے-
    غرض یہ بالکل سچی بات ہے کہ خلفائے ربانی کا انتخاب انسانی دانشوں کا نتیجہ نہیں ہوتا- اگر انسانی دانش ہی کا کام ہوتا ہے تو کوئی بتائے کہ وادی|غیرذی|زرعمیں وہ کیونکر تجویز کر سکتی ہے- چاہئے تو یہ تھا کہ ایسی جگہ ہوتا جہاں جہاز پہنچ سکتے- دوسرے ملکوں اور قوموں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے اسباب میسر ہوتے- مگر نہیں- وادی|غیرذی|زرعہی میں انتخاب فرمایا اس لئے کہ انسانی عقل ان اسباب و وجوہات کو سمجھ ہی نہیں سکتی تھی جو اس انتخاب میں تھی اور ان نتائج کا اس کو علم ہی نہ تھا جو پیدا ہونے والے تھے- عملی رنگ میں اس کے سوا دوسرا منتخب نہیں ہوا اور پھر جیسا کہ عام انسانوں اور دنیا داروں کا حال ہے کہ وہ ہر روز غلطیاں کرتے اور نقصان اٹھاتے ہیں آخر خائب اور خاسر ہو کر بہت سی حسرتیں اور آرزوئیں لے کر مر جاتے ہیں- لیکن جناب الٰہی کا انتخاب بھی تو ایک انسان ہی ہوتا ہے- اس کو کوئی ناکامی پیش نہیں آتی- وہ جدھر منہ اٹھاتا ہے ادھر ہی اس کے واسطے کامیابی کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور وہ فضل‘ شفا‘ نور اور رحمت دکھلاتا ہے- الیوم اکملت لکم )المائدۃ:۴( کی صدا کس کو آئی؟ کیا اپنی دانش اور عقل کے انتخاب کو یا وادی|غیرذی|زرعمیں اللہ تعالیٰ کے انتخاب کو؟ جناب الٰہی ہی کا منتخب بندہ تھا جو دنیا سے نہ اٹھا جب تک یہ صدا نہ سن لی-
    پس یاد رکھو کہ مامور من اللہ کے انتخاب میں جو جناب الٰہی ہی کا کام ہے چون و چرا کرنی درست نہیں ہے- ہزارہا مصائب اور مشکلات آئیں وہ اس کوہ وقار کو جنبش نہیں دے سکتیں- آخر کامیابی اور فتح ان کی ہی ہوتی ہے- اب یہ سوال پیدا ہو گا کہ پھر ہم اس مامور من اللہ اور منتخب بارگاہ الٰہی کو کیونکر شناخت کریں؟ اول یاد رکھو کہ حق اور باطل دو ایسی چیزیں ہیں کہ تم معاً دونوں کو شناخت کر سکتے ہو اور ان میں امتیاز کر لیتے ہو- اسی طرح پر مامور من اللہ کو تم اس کے فوق العادت غیر معمولی کاموں سے شناخت کر سکتے ہو- علاوہ اس کے اس مامور سے پہلے بھی تو مامور گزرے ہوتے ہیں- ان حالات کو ان گزرے ہوئے لوگوں کے حالات اور واقعات سے مقابلہ کرو- یہ یاد رکھو کہ یہ کبھی نہیں ہوا اور نہ ہو گا کہ کوئی مامور اور خلیفہ آئے اور لوگوں نے اس کو بغیر چون و چرا کے مان لیا ہو اور اس کی کوئی مخالفت نہ ہوئی ہو- خلفائے|ربانیین کی تاریخ ہم کو بتلاتی ہے کہ ان کی ترقی تدریجی ہوتی ہے- تاریخ کو جانے دو- عام مشاہدہ قانون قدرت میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر ایک ترقی اپنے اندر تدریج کا سلسلہ رکھتی ہے- ایک بچہ جو آج ہی پیدا ہو آج ہی جوان نہیں ہو سکتا- ایک طالب علم جس نے ابھی ابجد شروع کی ہو ابھی عالم فاضل نہیں بن سکتا- پس یاد رکھو کہ مامور من اللہ کی ترقی بھی تدریجی ہوتی ہے- اس لئے ایک دم میں اس کی نشوونما یا ترقی کو معیار نہ ٹھہرائو کہ یہ غلط راہ ہے اور حق سے دور پھینک دینے والی-
    ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا لطیف ارشاد فرمایا قل ما کنت بدعاً من الرسل )الاحقاف:۱۰( کہہ دو کہ میں کوئی نیا رسول تو نہیں آیا- مجھ سے پیشتر ایک دراز سلسلہ انبیاء و رسل کا گزرا ہے‘ ان کے حالات دیکھو- وہ کھاتے پیتے بھی تھے‘ بیویاں بھی رکھتے تھے- پھر مجھ میں تم کونسی انوکھی اور نرالی بات پاتے ہو- غرض یہ مامور ایک ہی قسم کے حالات اور واقعات رکھتے ہیں- ان پر اگر انسان خدا|ترسی اور عاقبت اندیشی سے غور کرے تو وہ ایک صحیح رائے اور یقینی نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے جبکہ تم نے سمجھ لیا کہ اللہ تعالیٰ کو سپر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی رضا کا حال معلوم ہو اور وہ مامور من اللہ کے ذریعہ سے معلوم ہوتی ہے اور مامور من اللہ کی شناخت کا اصول بھی سمجھ لیا- میں آگے چلتا ہوں- و اتقوا اللہ )البقرۃ:۱۹۵-( ]text [tagبڑے بڑے مشکلات اور مصائب پیش آتے ہیں- اختلافات ہوتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے- دشمنوں کی زدوں اور ماموروں کی سادگی کو دیکھتا ہے تو حیرت زدہ ہو جاتا ہے- ان مشکلات سے نجات پانے کے واسطے ایک ہی راہ ہے- اللہ کو سپر بنا لو- نتیجہ یہ ہو گا ان تتقوا اللہ یجعل لکم فرقاناً )الانفال:۳۰-( اللہ تعالیٰ متقی کو فیصلہ کی راہیں خود بتا دیتا ہے- ہزاروں ہزار طریقے ہیں جن سے سمجھا دیتا ہے- وجدان‘ فطرت‘ علمی دلائل‘ الہام‘ رئویا‘ غرض جس طرح پر وہ چاہتا ہے سمجھا دیتا ہے-
    تقویٰ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ متقی بامراد ہوتا ہے- اس کو ایسی جگہ سے رزق ملتا ہے کہ اسے سمجھ میں بھی نہیں آتا- اس کے دشمن ہلاک ہو جاتے ہیں- الٰہی نصرت اس کو ملتی ہے- خدا کی محبت کا انعام اس پر ہوتا ہے- پھر دنیا میں کون انسان ہے جو کامیابی‘ نصرت‘ محبت الٰہی‘ دشمنوں کی ہلاکت نہیں چاہتا مگر اس کا انحصار اور مدار تو تقویٰ پر ہے- تقویٰ اختیار کرو-
    و قاتلوا فی سبیل اللہ )البقرۃ:۱۹۱( اللہ تعالیٰ کی راہ میں‘ اعلاء کلمہ~ں۲~ اللہ میں‘ اللہ کے بندوں کی عزت اور وقعت کے لئے دشمنان دین‘ دشمنان قرآن کریم‘ نبی کریم کے دشمنوں‘ آپ کے جانشینوں کے دشمنوں سے مقابلہ کرو مگر اس راہ سے جس راہ سے وہ مقابلہ کرتے ہیں- وہ اگر تلوار اور تیر سے کام لیں تو تم بھی تلوار اور تیر سے کام لو- لیکن اگر وہ تدابیر سے کام لیتے ہیں تو تم بھی تدابیر ہی سے مقابلہ کرو- ورنہ اگر اس راہ سے مقابلہ نہیں کرتے تو یہ اعتدا ہو گا اور اللہ تعالیٰ اعتدا کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا- غرض جو راہ دشمن اختیار کرے اسی قسم کی راہ اختیار کرو-
    پس میں پھر کہتا ہوں کہ انسان کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اس راہ اور سبب کو اختیار نہیں کرتا جو اس کے حصول کے واسطے مقرر ہے- کامیابی کے صحیح اور یقینی اسباب اور ذرائع معلوم نہیں ہو سکتے جب تک سچا علم نہ ہو اور سچا علم بدوں قرآن کے نہیں آ سکتا اور قرآن بدوں تقویٰ کے حاصل نہیں ہوتا اور سچا تقویٰ اور خشیت الٰہی پیدا نہیں ہوتی جب تک اللہ تعالیٰ کے منتخب فرمائے ہوئے بندوں کی صحبت میں نہ رہے اور مامور اور منتخب کی شناخت کا اصول یہ ہے کہ جو اس سے پہلے آئے ہیں ان کے کاموں اور حالات سے اس کو پہچانو-
    غرض آج کا دن نبوی تاریخ کا پہلا دن ہے اور تقویٰ کی تیاری رمضان کے مہینہ سے شروع کی ہے- اس لئے واجب ہے کہ سال آیندہ کے لئے اب ہی سے تیاری کریں-
    پھر رمضان شریف کے احکام و فضائل کو لاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل )البقرۃ:۱۸۹( پر ختم کیا ہے- باطل طریق سے اموال کا لینا بہت خطرناک بات ہے- پس ہر ایک اپنے اپنے اندر سوچو اور غور کرو کہ کہیں بطلان کی راہ سے تو مال نہیں آتا- اپنے فرائض|منصبی کو پورا کرو- ان میں کسی قسم کی سستی اور غفلت نہ کرو- لایومن احدکم حتیٰ یحب لاخیہ مایحب لنفسہ- )بخاری کتاب الایمان-(
    اپنی طاقتوں اور عمر کے ایام کو غنیمت سمجھو- ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کو کسی طرح بھی ناراض کرو اور آج کے لئے‘ فقراء اور مساکین کے واسطے اپنے اموال کا ایک حصہ دے دو- صدقات مال کو پاک کر دیتے ہیں اور آفات اور مشکلات کو روک دیتے ہیں- آج کے صدقہ میں گیہوں دو مد )بھرا ہوا بک( اور غلہ چار مد غرباء اور مساکین کو دینا چاہئے کیونکہ مالوں ہی کی احتیاطوں سے اس رکوع شریف کو یا یوں کہو کہ آج کے دن کو شروع اور رمضان کو ختم کیا ہے- خدا کے فضل اور توفیق کے بدوں کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا- پس اس کا فضل ہمارے شامل حال ہو- آمین-
    بعد ظہر ’’انجمن تشحیذ الاذہان‘‘ کا جلسہ ہو گا- شاید میں اس میں تمہیں کچھ اور سنائوں اس لئے اب ختم کرتا ہوں-
    )الحکم جلد۵ نمبر ۵ ---- ۱۰ / فروری ۱۹۰۱ء صفحہ۴تا۶(
    و
    )الحکم جلد۵ نمبر۶ ---- ۱۷ / فروری ۱۹۰۱ء صفحہ۵تا۷(

    * - * - * - *
    ‏KH1.10
    خطبات|نور خطبات|نور
    ۳۰ / مارچ ۱۹۰۱ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    خطبہ عید الاضحیٰ
    )ایڈیٹر ’’الحکم‘‘ کے الفاظ میں(
    خطبہ کے شروع میں آپ نے فرمایا-
    عید کا خطبہ پڑھنے کے واسطے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ارادہ فرمایا تو لوگوں کو کہا کہ جس کی مرضی ہو بیٹھے‘ جس کی مرضی نہ ہو یا اسباب اس کے نہ بیٹھنے کے ہوں وہ بے شک چلا جاوے- *
    اس کے بعد آپ نے مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت فرمائی-
    ضرب اللہ مثلاً عبداً مملوکاً لایقدر علیٰ شی|ء و من رزقنٰہ منا رزقاً حسناً فھو ینفق منہ سراً و جھراً ھل یستون الحمد للٰہ بل اکثرھم لایعلمون )النحل:۷۶(
    میں نے یہ آیت شریف سورۃ نحل میں سے پڑھی ہے- اس کے ابتدا میں حضرت حق سبحانہ تعالیٰ

    * - عن عبد اللہ بن السائب قال شھدت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم العید فلما قضی الصلاۃ قال انا نخطب فمن احب ان یجلس للخطبۃ فلیجلس و من احب ان یذھب فلیذھب- )سنن ابی دائود کتاب الصلوۃ باب الجلوس للخطبۃ- نیز دیکھیں- سنن نسائی کتاب صلوۃ العیدین- سنن ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلوۃ و السنۃ فیھا-(
    نے اپنی ہستی‘ اپنی توحید‘ اپنے اسمائ‘ اپنے محامد اور لا انتہا عجائبات قدرت کا اظہار فرمایا ہے اور بعد اس بیان کے جو درحقیقت لا الٰہ الا اللہ کے معنوں کا بیان ہے‘ اس کے دوسرے جزو محمد رسول اللہ پر بحث کی ہے اور ضرورت نبوت‘ پھر ختم نبوت پر لطیف طرز سے بحث کی ہے اور بیان کیا ہے کہ کیوں خدا کی طرف سے کوئی مامور ہو کر آتا ہے اور اس کا کیا کام ہوتا ہے؟ پھر اس آیت میں بتایا ہے کہ جو شخص مامور من اللہ اور حجہ~ن۲~ اللہ ہو کر آتے ہیں وہ بلحاظ زمانہ‘ بلحاظ مکان عین ضرورت کے وقت آتے ہیں اور ان کی شناخت کے لئے وہی نشانات ہیں جو اس آیت میں بیان کئے جاتے ہیں- وہ کیا کام کرتے ہیں- ان پر کیا اعتراض ہوتے ہیں- دوسروں کی نسبت ان میں کیا خصوصیت ہوتی ہے؟ ان دو آیتوں میں انہی باتوں کا تذکرہ ہے- ان میں سے پہلی آیت شریف کا ترجمہ یہ ہے‘ مگر ترجمہ سے پیشتر یہ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے انسان کو ممتاز بنایا ہے اور پھر انسانوں میں سے کچھ لائق اور بعض نالائق ہوتے ہیں اور اس طرح پر خود ان میں ایک امتیاز قائم کرتا ہے- غرض نبوت کی ضرورت اور اس کے اصول کے سمجھنے کے لئے اللہ تعالیٰ اسی آیت میں ایک نہایت ہی عجیب بات سناتا ہے-
    ’’مثل‘‘ اعلیٰ درجہ کی عجیب بات کو کہتے ہیں- غرض اللہ تعالیٰ ایک عجیب بات اور نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی بات سناتا ہے- کوئی کسی کا غلام ہے‘ وہ عبد جو کسی کامملوک ہے اس کا مالک اس کے لئے بہت سے کام رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کا غلام وہ کام کرے مگر غلام کی یہ حالت ہے کہ لایقدر جس کام کو کہا جاتاہے وہ مضائقہ کرتا ہے اور اپنے قول و فعل‘ حرکات وسکنات سے بتاتا ہے کہ آقا! یہ تو نہیں ہو سکتا- وہ زبان سے کہے یا اعمال سے دکھاوے‘ اس کا مطلب یہی ہے کہ میں اس کام کے کرنے کے قابل نہیں- اب ایک اور غلام ہے جو کام اس کے سپرد کیا جاوے‘ جس خدمت پر اسے مامور کیا جاوے پوری تندہی اور خوش اسلوبی سے اس کو سر انجام دیتا ہے- جب اس کو کوئی مال دیا جاوے تو وہ اس کو کیا کرتا ہے؟ اس مال کو لیتا ہے- جہاں آقا کا منشاء ہو کہ مخفی طور پر دیا جاوے وہاں مخفی طور پر دیتا ہے اور جہاں مالک کی مرضی ہو کہ ظاہر طور سے دیا جاوے وہاں کھلے طور پر دیتا ہے- غرض وہ مالک کی مرضی اور منشاء کا خوب علم رکھتا ہے اور اس کے ہی مطابق عمل درآمد کرتا ہے- اور مخفی در مخفی اور ظاہر در ظاہر موقعوں پر ہی جہاں مالک کی مصلحت ہوتی ہے اس مال کو خرچ کرتا ہے- اب تم اپنی فطرتوں سے پوچھو کہ یہ دو غلام ہیں جن میں سے ایک تو ایسا ہے کہ کسی کام کے کرنے کے بھی قابل اور لائق نہیں- اور دوسرا ہے کہ اپنے مالک کی مرضی اور مصلحت کا پورا علم رکھتا ہے اور صرف علم ہی نہیں اس پر عمل بھی کرتا اور سراً اور جہراً دونوں قسم کے اخراجات کر سکتا ہے- اب یہ کیسی صاف بات ہے اپنی ہی فطرت سے فیصلہ پوچھ لو- ]nsk [tagھل یستون کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں- ہر ایک دانشمند کو اعتراف کرنا پڑے گا-
    چونکہ وہ فطرت انسانی‘ اعتقادات‘ اخلاق سب کو جانتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ اپنے کامل علم اور فطرت کی صحیح اور کامل واقفیت کی بنا پر فتویٰ دیتا ہے- الحمد للٰہ اللہ تعالیٰ ہی کی حمد دنیا میں قائم ہو گی- کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہی غلام لائق اور ممتاز ہو سکتا ہے جو ہر قسم کے اخراجات کو بر محل کرنے اور اپنے آقا کی منشاء و مصلحت کو جانتا ہے اور یہی نہیں بلکہ عملی طاقت بھی اعلیٰ درجہ کی رکھتا ہے-
    جب یہ بات ہے تو عرب و عجم کی تاریخ پر نظر کرو- نہیں! دنیا کی تاریخ کے ورق الٹ ڈالو اور دیکھو کہ جس زمانہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا پر جلوہ گری کی کیا اس سے بہتر کوئی اور وجود اس قابل تھا کہ وہ دنیا کا معلم ہو کر آتا؟ ہرگز نہیں- لوگوں کو سچے علوم ملتے ہیں اور با برکت اساتذہ کا اثر بھی ہوتا ہے لیکن یہ بات کہ حق سبحانہ تعالیٰ سے سچا تعلق پیدا ہو اور اس کے مقرب ہونے کے لئے اقرب راہ مل جاوے یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کامل طور پر دنیا میں نہیں ہوا- زمانہ کے امراض پر پوری نظر کر کے مریضوں کی حالت کی کامل تشخیص کس نے کی تھی؟ کسی کا نام تو لو- جب معالج ہی نہ تھا تو شفاء کا تو ذکر ہی کیا!
    مگر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شفاء کامل کا نسخہ لے کر آئے اور مریضوں پر اس کا استعمال کر|کے ان کو تندرست بنا کر دکھا دیا کہ یہ دعویٰ کہ ننزل من القراٰن ما ھو شفاء )بنی اسرائیل:۸۳( بالکل سچا دعویٰ ہے-
    اس وقت کی عام حالت پر نظر تو کرو تو معلوم ہو گا کہ دنیا میں ایک بلاخیز طوفان بت پرستی اور شرک کا آرہا تھا- کوئی قوم‘ کوئی ملک‘ کوئی خاندان‘ کوئی ملت ایسی نہ رہی تھی جو اس ناپاکی میں مبتلا نہ ہو- کیا ہند میں عالم نہ تھے؟ مجوسیوں کے پاس گھر اور دستور آگاہ نہ تھے؟* یہود کے پاس بائیبل اور طالمود نہ تھی؟ عیسائیوں کی روما کی سلطنت نہ تھی؟ مصریوں کے ہاں علم کا دریا نہ بہتا تھا؟ کیا خاص عرب میں بڑے بڑے طلیق اللسان اور فصیح البیان شعراء موجود نہ تھے؟ مگر قوم کی امراض نہیں بلکہ ملک کی بیماریوں‘ نہیں نہیں دنیا کو تباہ کر دینے والی بلا کی کس نے تشخیص کی؟ وہ کون تھا جس نے شفاء اور نور کہلانے والی کتاب دنیا کو دلوائی؟ جواب آسان اور بہت آسان ہے بشرطیکہ انصاف اور سچائی سے محبت ہو کہ وہ پاک ذات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی- اس آیت پر غور کرنے سے یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ
    -* مطابق اصل
    اللہ تعالیٰ کی اصطلاح میں رزق اور مال سے کیا مراد ہے؟
    لوگ کہتے ہیں کہ جیسے اس زمانہ میں مولوی اور درویش کاہل اور سست اور ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کوئی ان کو پکی پکائی روٹی دے جاوے‘ اسی طرح جب مہدی موعود علیہ الصلٰوۃ و السلام آئیں گے تو لا تعداد زر و مال تقسیم کریں گے اور اس طرح پر گویا قوم کو سست اور بے دست و پا بنائیں گے- اور قرآن کریم نے جو یہ اشارہ فرمایا تھا و ان لیس للانسان الا ما سعیٰ )النجم:۴۰( اور حصر کے کلمہ کے ساتھ فرمایا تھا اس کو عملی طور پر منسوخ کر دیں گے- اس میں جو حصر کے کلمے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کیا یہ حکم منسوخ ہو جاوے گا اور جناب مہدی کا یہی کام ہو گا؟ سوچو اور غور کرو- صاف معلوم ہوتا ہے کہ رزق کے کیا معنے ہیں-
    اس کے بعد جناب الٰہی ایک دوسری شہادت سناتے ہیں اور اس مثال میں ابکم کا لفظ اختیار فرمایا ہے- پہلے ابکم نہ تھا اس لئے کہ ہم کو غرض ہے کسی ایسے آدمی کی جو پیغام رسانی کر سکے- لیکن جب کہ وہ ابکم ہے کچھ بول ہی نہیں سکتا‘ بھلا وہ اس منصب کے فرائض کو کیوں کر سر انجام دے گا؟ غلام مت سمجھو- رجلین ہیں یعنی ’’حر‘‘ ہیں- آدم سے لے کر اس وقت تک ان پر کسی نے سلطنت نہیں کی اس لئے اس میں ترقی فرمائی ہے اس سے پہلے عبدکہا اب رجلین- اس سے میرے دل میں یہ بات آتی ہے کہ حروں میں‘ عربوں میں تاریخ پتہ نہیں دیتی کہ وہ کبھی کسی کی رعایا ہوئے ہوں- انہوں نے کبھی کسی کے تسلط اور جبروت کو پسند نہیں کیا اور یہاں تک آزاد ہیں کہ بذریعہ انتخاب بھی کل جزیرہ نما عرب پر ایک شخص حاکم ہو کر نہیں رہا- اب انہی سے ہم پوچھتے ہیں کہ اس وقت جو بحر و بر میں فساد برپا ہو رہا ہے اور دنیا میں بت پرستی‘ فسق وفجور‘ ہر قسم کی شرارت اور بغاوت پھیل رہی ہے کوئی ہے کہ اللہ|تعالیٰ کی گم|شدہ توحید کو از سر نو زندہ کرے اور مری ہوئی دنیا کو زندہ کر کے دکھاوے؟ اللہ تعالیٰ کی عظمت|وجبروت‘ اس کے جلال وسطوت کو کھول کر سنا دے- وہ جو ابکم الکن ہیں وہ کیا بتا سکیں گے- کیا تم نہیں جانتے کہ ابکم نوکر تو اپنے آقا پر بھی دوبھر ہوتا ہے- اس کو کھانا کھلانا اور ضروریات کے سامان کاnsk] ga[tتکفل کرنا خود مالک کو ایک بوجھ معلوم ہوتا ہے اور پھر جہاں جاتا ہے تو کوئی خیر کی خبر نہیں لا سکتا- اب پھر تم اپنی فطرت سے پوچھو ھل یستوی ھو و من یامر بالعدل و ھو علیٰ صراط مستقیم )النحل:۷۷( کیا اس کے برابر یہ ہو سکتا ہے جو امر بالعدل کرتا ہے اور جو کچھ کہتا ہے اپنی عملی حالت سے اس کو دکھاتا ہے کہ وہ صراط مستقیم پر ہے؟
    اس وقت جو دنیا میں افراط و تفریط بڑھ گئی ہے- دنیا کو اعتدال کی راہ بتانے والا اور
    اقرب راہ پر چل کر دکھانے والا اور اپنی کامیابی سے اس پر مہر کر دینے والا کہ یہی صراط مستقیم ہے جس پر میں چلتا ہوں- اب انسان اگر دانشمند اور سلیم الفطرت ہو تو اس کو صفائی کے ساتھ مسئلہ نبوت کی ضرورت کی حقیقت سمجھ میں آجاتی ہے-
    میں نے ایک بار اس آیت پر تدبر کیا تو مجھے خیال آیا کہ اگر مولویوں کی طرح کہیں تو کیا عرب گونگے تھے؟ سبعہ معلقہ اور امرء القیس کا قصیدہ دیکھو جو بیت اللہ کے دروازہ پر آویزاں کیا گیا تھا- زید بن عمرو اور اس کے ہم|عصر اعلیٰ درجہ کے خطیب موجود تھے- ان لوگوں میں جب کبھی اس بات پر منازعت ہوتی تھی بڑے دنگل لگتے تھے- جس کی بات کو مکہ کے قریش پسند کرتے وہ جیت جاتا- ان کی زبان عربی تھی- وہ دوسروں کو عجم کہتے تھے- اپنے آپ کو فصاحت میں بے|نظیر سمجھتے تھے- پھر اس پر کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ابکم ہے؟ اپنی معشوقہ اور عشیقہ کے خد و خال‘ بہادری اور شجاعت کے کارنامے چستی و چالاکی کے‘ غرض ہر قسم کے مضمون پر بڑی فصاحت سے گفتگو کر سکتے تھے اور اپنے تحمل مزاج کے ثبوت دیتے تھے مگر ہاں وہ ’’ابکم‘‘ تھے تو اس بات میں تھے کہ اللہ تعالیٰ کے محامد‘اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کا انہیں کچھ علم نہ تھا اور وہ اس کی بابت ایک لفظ بھی منہ سے نہ بول سکتے تھے- اللہ تعالیٰ کے افعال کی بینظیری کو بیان کرنے کی مقدرت ان میں نہ تھی- وہ عرب کہلاتے تھے مگر لا الٰہ الا اللہ جیسا اعلیٰ درجہ کا فصیح|وبلیغ کلمہ ان میں نہ تھا- وحشیوں سے انسان اور انسانوں سے بااخلاق انسان پھر باخدا انسان بننے کے لئے اور ان مراتب کے بیان کرنے کو‘ آہ! ان میں ایک لفظ بھی نہ تھا- اخلاق فاضلہ اور رذائل کو وہ بیان نہ کر سکتے تھے- شراب کا تو ہزار نام ان میں موجود تھا مگر افسوس! اور پھر افسوس!! اگر کوئی لفظ اور نام نہ تھا تو اللہ تعالیٰ کے اسماء اور توحید کے اظہار کے واسطے- پھر یوں سمجھو کہ ان میں لا الٰہ الا اللہ نہ تھا- وہ اپنی سطوت اور جبروت دکھاتے- ایک پلے )کتی کے بچے( کے مر جانے پر خون کی ندیاں بہا دینے والے اور قبیلوں کی صفائی کر دینے والے تھے مگر اللہ تعالیٰ کا بول بالا کرنے کے واسطے ان میں اس وقت تک سکت نہ تھی یہاں|تک کہ پاک روح مطہر و مزکی معلم جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں ظہور فرمایا-
    یہ وہ وقت تھا جب کہ ظھر الفساد فی البر و البحر )الروم:۴۲( کا نقشہ پورے طور پر کھینچا گیا تھا- سماوی مذاہب جو کہلاتے تھے اور خدا تعالیٰ کی کتابوں کے پڑھنے کے دعوے کرتے تھے باوجود اس کے کہ اپنے آپ کو مقربان بارگاہ الٰہی کہتے نحن ابناء اللہ و احباوہ )المائدۃ:۱۹( مگرحالت یہاں تک خراب ہو چکی تھی کہ عظمت الٰہی اور شفقت علی خلق اللہ کا نام و نشان تک نہ پایا جاتا تھا- اور دنیوی ڈھکوسلے والوں کی حالت بھی بگڑ چکی تھی- اسی حالت میں اللہ تعالیٰ مکہ والوں کو آگاہ کرتا اور بتاتا ہے کہ تم ابکم ہو- صنادید مکہ میں سے ابوجہل ہی کو دیکھ لو- اس کے افعال و اعمال‘ اس کے اخلاق صاف طور پر بتاتے ہیں کہ وہ دنیا کے لیے ہرگز ہرگز خیر و برکت کا موجب نہیں- یہ صرف اسی پاک ذات کے لئے سزاوار ہے کہ وہ دنیا کی اصلاح اور فلاح کے لئے مامور ہوا جس کا پاک نام ہی ہے محمد و احمد صلی اللہ علیہ وسلم‘ جس نے اپنی پاک تعلیم‘ اپنی مقدس و مطہر زندگی اور بے عیب چال چلن اور پھر اپنے طرز عمل اور نتائج سے دکھا دیا کہ ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ )اٰل عمران:۳۲( میں اپنے اللہ کا محبوب ہوں- تم اگر اس کے محبوب بننا چاہو تو اس کی ایک ہی راہ ہے کہ میری اتباع کرو- جب کہ میں اپنے خدا کا محبوب ہوں پھر بتائو کہ کوئی چاہتا ہے کہ اس کا محبوب ناکام رہے؟ پھر خدا مجھے کبھی ناکام نہ رہنے دے گا- میرے دشمن ذلیل اور ہلاک ہو جائیں گے- اور یہ باتیں ایسی سچی اور صاف ہیں کہ تم خود کر کے دیکھ لو- میری اطاعت کرو‘ میرے نقش قدم پر چلو‘ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہو جائو گے اور تمہارے دشمن مردود اور مخذول ہو کر تباہ ہو جائیں گے- کیا اس وقت تم نہیں دیکھتے کہ ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا )الانبیائ:۴۵( کیسے واضح طور پر پورا ہو رہا ہے- اعلیٰ درجہ کے عظیم الشان لوگ طرف کہلاتے ہیں اس لئے کہ وہ ایک طرف ہو کر بیٹھتے ہیں- اور ادنیٰ درجہ کے لوگوں میں سے بعض سلیم الفطرت ہوتے ہیں‘ وہ بھی طرف کہلاتے ہیں- یعنی تمہارے اعلیٰ اور ادنیٰ درجہ کے لوگوں میں سے یا یہ کہو کہ ہر طبقہ اور درجہ میں سے جو عظیم الشان اور سلیم الفطرت لوگ ہیں وہ سب کے سب اسلام میں داخل ہو کر تمہاری جمعیت کو دن بدن کم کر رہے ہیں-
    غرض مامور من اللہ کا وجود ایک حجتہ اللہ ہوتا ہے- اس کی جماعت بڑھتی جاتی اور اس کے مخالف دن بدن کم ہوتے جاتے ہیں-
    یہ تو تیرہ سو برس کی بات تھی اور اب اس پر چودہویں صدی گذرتی ہے- اس میں سے بھی اٹھارہ سال گذرنے کو آئے- اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی بناوٹ کچھ اس قسم کی واقع ہوئی ہے کہ جو کچھ اس نے حاصل کیا ہوتا ہے اس کو تھوڑی دیر کے بعد خرچ کر کے پھر اور کی تلاش میں ہوتی ہے اور نئی چال اختیار کرتی ہے کہ وہ متاع واپس آئے- یہ نظام درختوں میں بھی نظر آتا ہے- ایک وقت یہ نہایت صاف آکسیجن جو انسانی زندگی کے لئے اعلیٰ درجہ کی ضروری شے ہے نکالتے ہیں اور ابھی اس پر پورے ۱۲ گھنٹے نہیں گذرنے پاتے کہ کاربن جیسی زہریلی چیز دینے لگتے ہیں- پھر اس آکسیجن کے نکالنے کے واسطے بہت سی زہریلی چیزیں ان کو جذب کرنی پڑتی ہیں-
    ہم آپ بیتی ہی کیوں نہ سنائیں- اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ کی کھانے اور پینے کی چیزیں آتی ہیں- قوائے|شہوانی کی سیری کا سامان موجود ہوتا ہے- سیر ہو کر ان کو ترک کر دیتے ہیں- اس وقت ایسا معلوم دیتا ہے کہ گویا ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیا ہے- ابھی تھوڑا وقفہ نہیں گذرتا کہ وہی بھوک‘ وہی پیاس‘ وہی شہوانی خواہشیں موجود ہوتی ہیں- ابھی بہت عرصہ نہیں گذرا کہ سردی کے واسطے گرم کپڑوں کی ضرورت تھی اور بڑی محنت اور صرف سے کپڑے تیار کرائے تھے مگر اب وہی ہم ہیں اور وہی کپڑے‘ لیکن ان کپڑوں کو اب رکھ نہیں سکتے- ضرورت آپڑی ہے کہ نئی طرز کے کپڑے ہوں جو اس موسم کے حسب حال ہوں- غرض یہی حال حضرات انسان کا ہے- قسم قسم کی غذائیں اندر پہنچ کر صرف اپنا خلاصہ در خلاصہ چھوڑ کر پاخانے کی شکل میں نکل جاتی ہیں اور پھر انہیں غذائوں کی ضرورت اور انہیں خلاصوں کی احتیاج پیدا ہوتی رہتی ہے-
    یہی مضمون اور مفہوم ہے تجدید دین کا- اس وقت بھی دیکھ لو اور غور سے دیکھ لو کہ کس قدر ضرورت ہے کہ کوئی مرد خدا آوے اور ہماری گم شدہ متاع کو پھر واپس دلائے-
    بڑا ہی بد قسمت ہے وہ انسان جس کا گھر لوٹا جا رہا ہو اور وہ میٹھی نیند سو رہا ہو اور خواب میں جنت کی سیر کر رہا ہواور خوبصورت عورتیں اس کے گرد ہوں اور وہ اس نیند سے اٹھنا ایک مصیبت خیال کرتا ہو-
    یہی حال اس وقت اسلام کا ہو رہا ہے- دشمن نے چاروں طرف سے اس کا محاصرہ کر لیا ہوا ہے اور بعض اطراف سے در و دیوار کو بھی گرا دیا ہے- قریب تھا کہ وہ اندر داخل ہو کر ہمارے ایمان کی متاع لوٹ لے کہ ایک بیدار کرنے والے کی آواز پہنچی-
    یا تو ہمیں اپنے دکھ اور مصیبت کی خبر نہیں ہے اور یا خبر تو ہے مگر ہم پوری لاپروائی سے کام لے رہے ہیں- ہمارے سید و مولیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز میں ایک دعا تعلیم فرمائی ہے- میں بہت ہی خوش ہوں کہ ہمارے امام علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کو قریباً فرض قرار دیا ہے اور وہ یہ ہے اللٰھم انی اعوذبک من العجز و الکسل )بخاری- کتاب الدعوات-( عجز کیا ہے؟ کہ اسباب ہی کو مہیا نہ کر سکے اور کسل یہ ہے کہ اسباب تو مہیا ہوں لیکن ان سے کام نہ لے سکے-
    کیسا ہی بدقسمت ہے وہ انسان جو اسباب کو مہیا نہیں کرتا اور وہ انسان تو بہت ہی بدقسمت ہے جس کو اسباب میسر ہوں لیکن وہ ان سے کام نہ لے- اب میں تمہیں توجہ دلانی چاہتا ہوں گھر کی حالت پر- تمہیں یا مجھے یا ہماری موجودہ نسلوں کو وہ وقت تو یاد ہی نہیں جب ہم اس ملک کے بادشاہ تھے- سلطنت بھی خدا تعالیٰ کے انعامات میں سے ایک بڑی نعمت ہے- اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ فرمایا ہے جعل فیکم انبیاء و جعلکم ملوکاً )المائدۃ:۲۱( یعنی اے میری قوم! خدا نے تجھ میں انبیاء کو مبعوث فرمایا اور تجھ کو بادشاہ بنایا-
    جب قوم کی سلطنت ہوتی ہے تو قوم کے ہر فرد میں حکومت کا ایک رنگ آجاتا ہے- ہاں ہمیں تو وہ وقت یاد نہیں جب ہم بادشاہ تھے- اچھا تو قوم کی سلطنت تواب ہے نہیں اور خدا کا شکر بھی ہے کہ نہیں ہے- کیونکہ اگر ہوتی تو موجودہ نااتفاقیاں‘ یہ لاچاریاں‘ یہ بے کسی اور بے بسی‘ خودنمائی اور خودبینی ہوتی- ضروریات زمانہ کی اطلاع نہ ہوتی تو کس قدر مشکلات کا سامنا ہوتا اور کیسے دکھوں میں پڑتے- بیرونی حملہ|آور اندرونی بغاوتوں کو دیکھ کر حملہ آور ہوتے اور ہلاک کر دیتے- تو یہ خدا کا رحم ہے جو اس نے سلطنت لے کر دوسروں کے حوالے کی اور ہم کو اس دکھ سے بچا لیا جو اس وقت موجودہ حالت کے ہوتے ہوئے ہمیں پہنچتا-
    اس کے ماوراء وہ مقدس چیز جس کا نام مذہب ہے اور جو ایسا صاف اور مدلل اور معقول تھا کہ فطرت|انسانی اسے اپنا مایحتاج قرار دیتی تھی‘ اس کا یہ حال ہے کہ اس کے عقائد کو‘ اصول ہوں یا فروع‘ ایسا بنا دیا گیا ہے کہ وہ پہیلیوں اور چیستانوں میں ڈال رکھا ہے- وہ ایک ایسا معمہ کر دیا گیا ہے کہ حل ہی ہونے میں نہیں آتا-
    اس کا اثر اور نتیجہ یہ ہوا کہ وہ لوگ جو ایک ناتواں انسان کے بچہ کو جو ہگنے اور موتنے کا محتاج تھا خدا بنا رہے ہیں اور اپنے گناہوں کی گٹھڑی دوسرے پر ڈال کر جو کچھ کریں سو تھوڑا ہے‘ ان کو بھی جرات اور دلیری ہو گئی کہ وہ اس باطل کی اشاعت میں پورے مستعد اور تیار ہو کر نکلے ہیں اور کروڑوں کتابوں‘ اخباروں‘ رسالوں سے کام لے رہے ہیں- کہیں ہسپتالوں کی شکل میں‘ کہیں مشن سکولوں کے رنگ میں‘ غرض کہیں کسی بھیس میں‘ کہیں کسی لباس میں انسان کی خدائی منوانے اور اس کو ’’منجی‘‘ قرار دینے میں زور لگا رہے ہیں- ہمارے لئے یہ امر بھی کوئی رنجیدہ نہ ہوتا اگر ان کی کوششوں کی انتہا اپنے ہی مذہب کی اشاعت ہوتی- مگر اس پر آفت یہ برپا کی ہے کہ اپنے مذہب کی اشاعت کا طرز اور رنگ انہوں نے یہ اختیار کر لیا کہ مقدس اسلام پر‘ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی پاک ذات پر وہ دل آزار حملے کرنے شروع کیے ہیں جن کی کوئی انتہا نہیں- تعجب اور حیرت ہوتی ہے کہ یہ لوگ محض خیالی باتیں دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی پاک کتاب پر حملے کرتے ہیں- فویل للذین یکتبون الکتاب بایدیھم ثم یقولون ھٰذا من عنداللہ ]01 [p )البقرۃ:۸۰-(
    یہ سچی بات ہے کہ ترجمہ مترجم کے ذاتی خیالات ہوتے ہیں- اب دیکھ لو نصاریٰ قوم تراجم کو ہاتھ میں لے کر کہتے پھرتے ہیں خدا کا کلام ہے- کتاب مقدس میں یوں لکھا ہے- حالانکہ اصل کتاب کا پتہ بھی نہیں لگتا کہ کہاں گئی- بلکہ یہاں تک مشکلات میں پھنسے ہوئے ہیں کہ ابھی تک یہ فیصلہ بھی نہیں ہوا کہ وہ اصلی زبان جس میں انجیل تھی عبرانی تھی یا یونانی- حالانکہ مسیح علیہ السلام کے آخری کلمات ’’ایلی ایلی لماسبقتانی‘‘ اور ان کی قومی اور مادری زبان سے صاف طور پر یہ پتہ لگتا ہے کہ وہ عبرانی ہی تھی مگر یہ یونانی کہتے جاتے ہیں- اصل یہ ہے کہ اصل کتاب کا پتہ ہی نہیں ہے- اب جو کچھ ان کے ہاتھ میں ہیوہ ذاتی خیالات ہیں-
    غرض اس قسم کا تو مذہب کمزور ہے اور پھر اس پر طرفہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی طریق اشاعت کی وجہ سے‘ کہیں خوبصورت عورتوں کے ذریعہ تبلیغ کر کے‘ کہیں ہسپتالوں کے ڈھنگ ڈال کر اخبارات اور رسالہ جات کی اشاعت سے‘ کوئی قوم کوئی خاندان ایسا نہیں چھوڑا جس میں سے کسی نہ کسی کو گمراہ نہ کر لیا ہو-
    یہ آفت ہی اسلام کے لئے کم نہ تھی کہ ایک اور قوم اٹھی جو اپنا وجود تو دو ارب سال سے بتاتی ہے مگر آج تک اتنا بھی نہ ہوا کہ اپنی پاک کتاب کو ہند سے باہر ہی کسی قوم کو سنا دیتی- ہند سے باہر تو بہت بڑی بات تھی وہ تو اپنے گھر میں بھی برہمنوں کے سوا باقی قوموں کو اس سے آگاہ کرنا گناہ سمجھتی رہی اور اب تک اصل سناتن دھرم والے وید کا پڑھنا بجز برہمن کے دوسرے کے واسطے جائز نہیں سمجھتے- یہ قوم بھی باایں ہمہ اسلام پر اعتراض کرنے کو آگے بڑھی-
    فلسفہ‘ طبعی اور طباعت وغیرہ علوم کی ترقی‘ آزادی اور حریت کے بے طرح بڑھنے نے ایک اور قوم کو پیدا کر دیا جو اپنے آپ کو برہمو کہتے ہیں- انہوں نے سلسلہ نبوت ہی کا انکار کر دیا ہے اور اپنے ہی کانشنس کو سب کچھ سمجھ لیا حالانکہ وہ تفریق نہیں کر سکتے کہ ایک زناکار کا کانشنس زنا ہی کا مجوز کیوں ہے یا ایک ڈاکو اور راہزن خون کرنے اور لوٹ کھسوٹ ہی کا فتویٰ جب دیتا ہے تو وہ گناہ کیوں ہے؟ پھر ان سے اتر کر وہ لڑکے ہیں جن پر آئندہ نسلیں ہونے کا فخر کیا جاتا ہے اور ان کو اپنی بہتری اور بہبودی کا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے- ان کو سکولوں اور کالجوں میں اس قسم کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں جن کا لازمی نتیجہ دہریت اور بے دینی ہونی چاہیے-
    اس لئے کروڑ در کروڑ مخلوق دہریت کے لئے تیار ہو رہی ہے- ان کالجوں کی ذریت بجائے اس کے کہ وہ خدا پرست اور اعلیٰ درجہ کے الٰہیات میں غور کرنے والے ہوتے‘ پکے دہریہ اور مذہب کے سلسلہ سے آزاد پیدا ہو رہے ہیں- پھر اندرونی مشکلات قوم کو سمجھنے کے واسطے اہل دل گروہ قوم کا دل اور علماء دماغ تھے- امراء حکومت کرنے والے تھے- لیکن اگر اہل دل‘ علماء اور امراء کے حالات کو غور سے دیکھیں تو ایک عجیب حیرت ہوتی ہے- عظمت الٰہی اور خشیت الٰہی علوم قرآنی کے جاننے کا ذریعہ تھا- انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء )فاطر:۲۹( یا یوں کہو کہ اہل دل گروہ علماء سے بنتا ہے یا اہل دل ہی عالم ہونے چاہیے تھے مگر یہاں یہ عالم ہی دوسرا ہے-
    فقر اور علم میں باہم تباعد ضروری سمجھا جاتا ہے اور کہہ دیا جاتا ہے کہ عالم اور فقر کیا؟ وہ علم جو خشیتہ|اللہ کا موجب ہوتا اور دل میں ایک رقت پیدا کرتا‘ ہرگز نہیں رہا- رہی نری زبان دانی جس پر کوئی یونیورسٹی فکر کر سکتی ہے وہ اس سے زیادہ نہیں کہ وہ ان لوگوں کے کلام ہیں جو شراب خور‘ فاسق اور اللہ تعالیٰ کے نام سے نا آشنا تھے-
    عربی زبان کے متعلق مجھ سے لوگوں نے پوچھا ہے اور میں نے بجائے خود بھی غور کیا ہے- چار قسم کی زبان ہے- اول اللہ کی زبان جو قرآن شریف میں موجود ہے- پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان‘ اس سے اتر کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زبان- ان تین قسم کی پاک زبانوں سے پوری محرومی ہے- چوتھا درجہ وہی ہے جس کا میں نے ابھی ذکر کیا- وہ جاہلیت کے شعراء کی زبان جن کے اخلاق|و|عادات ایسے تھے کہ ان کا ذکر بھی مجھے اچھا نہیں معلوم دیتا-
    یہ ایک باریک علم ہے جس کی لوگوں کو بہت کم اطلاع ہے- زبان اندر ہی اندر انسان کے روحانی اور اخلاقی قویٰ پر ایک زبردست اثر کرتی ہے- بہت سی کتابیں اس قسم کی موجود ہیں جن کو پڑھ پڑھ کر دنیا کا ایک بہت بڑا حصہ فسق و فجور میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو گیا ہے- استادوں اور کتابوں کا اثر بہت آہستہ دیرپا ہوتا ہے- اسی لئے یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ استادوں کے تقرر اور تعلیمی کتابوں کے انتخاب میں بڑی فکر کرنی چاہئے کیونکہ ان کا اثر اندر ہی اندر چلتا ہے- اب دیکھ لو کہ اللہ کی زبان‘ اس کے کامل رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان‘ صحابہ کرامؓ کی زبان کی طرف مطلق توجہ نہیں کی- یونیورسٹی نے اگر کوئی حصہ لیا تو وہ بھی ان لوگوں کا جن کے کلام کا اثر اخلاق اور عادات پر اچھا نہیں پڑ سکتا-
    میں تم سے پوچھتا ہوں کہ بتائو تو سہی کہ تم نے کس قدر روپیہ‘ کس قدر وقت اور محنت اس پر کی؟ جواب یہی ہو گا کہ کچھ نہیں- میں نے بہت سے آدمیوں کو دیکھا ہے کہ جب ان کو کہا گیا کہ قرآن|شریف بھی پڑھا کرو تو انہوں نے آخر کہا تو یہی کہا کہ کوئی بہت ہی خوبصورت عمدہ سا قرآن دو اور وہ بھی مفت- اللہ! اللہ!! ناولوں اور انگریزی کتابوں کی خرید میں جس قدر روپیہ خرچ کیا جاتا ہے اس کا سواں حصہ بھی قرآن شریف کے لئے خرچ نہیں کر سکتے- چاہئے تو یہ تھا کہ ساری توجہ اسی کی طرف ہوتی مگر ساری چھوڑ ادھوری بھی نہیں- مجھے اس وقت ایک معمول کی بات یاد آ گئی ہے- میں نے اس کو کہا کہ قرآن شریف پڑھو- اس نے کہا کہ کوئی اعلیٰ درجہ کا خوبصورت قرآن ہو تو دو- میں نے اپنے دل میں کہا اللہ! یہ شخص اپنے کوٹ پتلون کے لئے تو اس قدر روپیہ خرچ کر سکتا ہے اور نہیں لے سکتا تو قرآن نہیں لے سکتا-
    یہ بناوٹی بات نہیں ہے- خود سوچ کر دیکھ لو جس قدر جیب خرچ کے واسطے دیتے ہو دین پڑھانے کے لئے اتنا نہیں دیتے-
    توحید کا تذکرہ میں نے اس لئے نہیں کیا کہ مسلمان جو سامنے ہیں کفار نہیں- نبوت کا ذکر نہیں کیا اس لئے کہ برہمو نہیں ہیں- لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنے والے میرے سامنے ہیں-
    انتخاب کا ذکر کیا تھا اس کی ایک ضرورت تھی- اس میں بات چل پڑی کہ کیسی ضرورت ہے کہ قرآن|کریم کی طرف توجہ دلائوں- دنیا کی *** ملامت- طعن و تشنیع سب کچھ سنا- پھر بھی ٹٹول کر دیکھو کہ خود قرآن دانی‘ قرآن فہمی کے لئے کیا کیا- کتنی کوشش کی؟ جواب یہی ہے کہ کچھ بھی نہیں- ہرگز نہیں- قطعاً نہیں کی- حضرت امام نے طاعون کے اشتہار دیئے- تم ہی بتائو کہ تبدیلی کی تو کیا کی؟ غرض کیسے کیسے مشکلات ہیں- رہنمائی کے لئے صرف ایک ہی چیز تھی جس کا نام شفا اور نور ہے- اس کے سمجھنے کے لئے آپ نے کیا فکر کی ہے؟ اندرونی یہ آفت اور بیرونی وہ مشکلات-
    بعض لوگ کہہ اٹھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی کامل کتاب ہم میں موجود ہے- اس کے ہوتے ہوئے اور کسی کی کیا ضرورت ہے؟ میں کہتا ہوں کہ اس کتاب ہی کو اگر پڑھتے تو یہ سوال ہرگز نہ کرتے- کیونکہ اس میں صاف لکھا ہے ھو الذی بعث فی الامین رسولاً منھم یتلوا علیھم ایٰاتہ )الجمعہ:۳(کتاب چاہئے‘ کتاب کا پڑھنے والا بھی تو ضروری ہے اور اس کے پڑھانے والا ایسا ہو جو مزکی النفس اور مطہرالقلب ہو- محمد رسول اللہ ابکم نہیں بلکہ سراً و جہراً خرچ کرنے والا‘ خود محبوب ہوکر دوسروں کو محبوب بنانے والا-
    اسی طرح کتاب سکھ دینے والی ہے مگر اس کے لئے مزکی معلم کی ضرورت ہے- بدوں اس کے وہ کارگر نہیں ہو سکتی- یہ ضرورت ہے مامور من اللہ کی-
    میں بھی اپنی جگہ درس دے لیا کرتا ہوں اور گھر میں اور باہر آ کر بھی قرآن پڑھتا رہتا ہوں- مگر کیا مزکی ہوں؟ تاکہ میں اپنے عملدرآمد کے رنگ میں دوسرے کو دکھا سکوں- نہیں‘ نہیں اور ہرگز نہیں- مسیح مر گئے- حضرت اقدس نے اس مسئلہ کی انتہا کر دی اور قرآن شریف سے اس کو ایسا ثابت کر دیا کہ اب دوسرا کیا لکھے گا- روایت کشی میں مرزا خدا بخش صاحب نے حد کر دی ہے- میں سوچنے لگا کہ مجھے کوئی نئی دلیل اس کے متعلق سمجھ میں آ سکتی ہے- قرآن کو اٹھاتے ہی یہ بات ذہن میں آئیnsk]- ga[t ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل اٰدم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون )اٰل عمران:۶۰( جہاں جہاں اس کو دیکھا تو مردوں کے جی اٹھنے پر آیا ہے-
    پھر آدم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم تک کسی نبی کی وفات کا تذکرہ نہیں مگر مسیح کی وفات کا تذکرہ ہے- پھر مشکلات ہیں تو کیا ہیں؟ جواب ہے وہی اندرونی اور بیرونی مشکلات جو ابھی کہہ چکا ہوں- کل بیٹھے بیٹھے مجھے خیال آیا کہ ایسا نہ ہو عید تجھ کو پڑھانی پڑھے- جیسے مجددوں کی ضرورت ہے‘ اس لئے عید کے متعلق تیرے دل میں نئی نئی بات کیا آتی ہے- اسی دھن میں کبھی فقہ کی کتابیں پڑھتا- کبھی احادیث کو دیکھتا- کبھی مختصرات پر نظر کرتا- آخر میرے جی میں آیا کہ ان لوگوں کی کتابوں کو دیکھوں جو اخلاق اور ضروریات کو بیان کر سکتے ہیں- اس مطلب کے لئے میں نے ایک کتاب لی- ۴۲ صفحوں اور وہ بھی بہت بایک سطروں میں عید کا ذکر تھا- میں اسے پڑھنے لگا تو دیکھا کہ لمبے مباحثات ہیں جن کا کچھ پتہ نہ چلتا تھا- آخر میں نے کہا کہ چھوڑ دوں- پھر کہا شاید کچھ آگے لکھا ہو- اسی طرح پر ساری کتاب کو ختم کیا- آخر مجھے افسوس ہی ہوا کہ کس قدر وقت ضائع کیا- لیکن میری نیت چونکہ بخیر تھی اس لئے وہ افسوس جاتا رہا- لیکن مجھے یہ حیران کر دینے والا خیال پیدا ہوا کہ کس قدر مشکلات اس ایک عید کے معاملے میں ہیں- کوئی کہتا ہے کہ کس وقت نماز پڑھی جاوے- ایک رمحہ سورج نکل آیا ہو- کس وقت اس عشرہ میں تمجید‘ تکبیر‘ تقدیس‘ تسبیح اللہ کو پسند ہے اور ہر وقت خدا کی یاد کی جاوے- پھر یہ کہ دو رکعت نماز پڑھ لو- پھر بحث شروع کی کہ فرض عین ہے یا نہیں- مستحب ہے یا کیا؟ تکبیریں کتنی پڑھنی چاہئیں وغیرہ- کپڑوں‘ خطبوں کے متعلق کیا احکام ہیں- غرض ایک لمبا سلسلہ تھا- مجھے اس پر غور کرتے کرتے یہ معلوم ہوا کہ وہ مقدس دین جس کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے جس کو پہنچایا اس کا خلاصہ تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان ہو- ملائکہ پر ایمان ہو- اس کے رسولوں پر ایمان ہو- اس کی کتابوں پر ایمان ہو- تقدیر پر ایمان ہو- ختم نبوت اور قیامت پر ایمان ہو اور ضرورت ہے کہ اس میں کچھ بھی کمی بیشی نہ ہو- لیکن یہ ایزادی کی ہی بات تھی جو ۴۲ صفحے لکھ دیئے- اب اس کے حل کرنے والا بھی تو کوئی ہونا چاہیئے-
    ایک شیعہ نے مجھے خط لکھا کہ تم جو دین کی طرف متوجہ ہو یہ تو بتائو کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خلیفہ ہونے کے دلائل جو آج تک سنیوں نے دیئے ہیں کیا ہیں اور ان پر شیعوں نے جو اعتراض کئے ہیں اور پھر ان کا جو جواب سنیوں نے دیا ہے اور ان سب پر اپنا فیصلہ لکھ دو- تم سمجھ سکتے ہو کہ تیرہ سو برس کاجھگڑا اور پھر خوارج بھی ساتھ- اعتراض اور جرح الگ‘ ان سب پر نظر- لکھنا آسان بات نہ تھی- میں نے کہا مولیٰ کریم! تو نے اپنے فضل و کرم سے ایسے زمانہ میں پیدا کیا ہے کہ حکم - عدل تو موجود ہی ہے- کوئی راہ اس کے پرتو سے کھول دے- آخر میں نے یہ لکھ دیا کہ ہمارا انتخاب آخر غلط ہوتا ہے‘ اس کو معزول کرنا پڑتا ہے- زندگی اور موت ہی ہمارے اختیار میں نہیں ہے- ممکن ہے کہ ایک کو منتخب کریں اور رات کو اس کی جان نکل جاوے- میرے استاد کہتے تھے- سعادت علی خاں نے کئی کروڑ روپیہ ہند کے واسطے انگریزوں کو دیا کہ اسے دے دیں- کہتے ہیں جب عملدرآمد کے لئے کاغذ پہنچے تو رات کو جان نکل گئی- یہ مشکلات ہیں جو ہمارے انتخاب درست نہیں ہو سکتے- اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے- وعد اللہ الذین اٰمنوا منکم )النور:۵۶( یہ خدا تعالیٰ ہی کا کام ہے کہ کسی کو خلیفہ بناوے- پس کسی دلیل کی حاجت نہیں- تم سمجھتے ہو کہ بنی ہاشم نے بڑی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوئے- خدا نے جس کو بنانا تھا اس کو بنا دیا- ۱~}~
    اسی امت سے خلیفہ ہونا اور خلیفہ کا تقرر خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہونا ہی قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے اور اگر خلیفہ بننا بہت کتابوں کے پڑھ لینے پر ہوتا تو چاہئے تھا کہ میں ہوتا- میں نے بہت کتابیں پڑھی ہیں اور کثیر التعداد میرے کتب خانہ میں ہیں- مگر میں تو ایک آدمی پر بھی اپنا اثر نہیں ڈال سکتا- غرض خدا تعالیٰ کا وعدہ آپ ہی منتخب کرنے کا ہے- کون منتخب ہوتا ہے؟ اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ )الانعام:۱۲۵-( جو شخص خلافت کے لئے منتخب ہوتا ہے اس سے بڑھ کر دوسرا اس منصب کے سزاوار اس وقت ہرگز نہیں ہوتا- کیسی آسان بات تھی کہ خدا تعالیٰ جس کو چاہے مصلح مقرر کردے- پھر جن لوگوں نے خدا کے ان مامور کردہ منتخب بندوںسے تعلق پیدا کیا انہوں نے دیکھ لیا کہ ان کی پاک صحبت میں ایک پاک تبدیلی اندر ہی اندر شروع ہو جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط اور مستحکم کرنے کی آرزو پیدا ہونے لگتی ہے-
    دیکھو انسان عبث پیدا نہیں کیا گیا- افحسبتم انما خلقناکم عبثاً )المومنون:۱۱۶( کیا تمہیں یہ خیال ہے کہ ہم نے تم کو عبث پیدا کیا ہے؟ ایسا خیال تمہارا غلط ہو گا- ہمارے حضور تم کو آنا ہو گا- جب تم عبث نہیں بنائے گئے تو پھر سوچو کہ تم کیوں بنائے گئے ہو-
    یٰایھا الناس اعبدوا ربکم لوگو اپنے رب کے فرمانبردار بن جائو- فرمانبرداری ضروری ہے- مگر کوئی فرمانبرداری بدوں فرمان کے نہیں ہو سکتی اور کوئی فرمان اس وقت تک عمل کے نیچے نہیں آتا جبتک کہ اس کی سمجھ نہ ہو- پھر اس فرمان کے سمجھنے کے لئے کسی معلم کی ضرورت ہے اور الٰہی فرمان کی سمجھ بدوں کسی مزکی اور مطہر القلب کے کسی کو نہیں آتی- کیونکہ لایمسہ الا المطھرون )الواقعہ:۸۰( خدا تعالیٰ کا حکم ہے-پس کیسی ضرورت ہے امام کی‘ کیسی مزکی کی- میں تمہیں اپنی بات سنائوں- تمہارا کنبہ ہے‘ میرا بھی ہے- تمہیں ضرورتیں ہیں- مجھے بھی آئے دن اور ضرورتوں کے علاوہ کتابوں کا جنون لگا رہتا ہے- مگر اس پر بھی تم کو وقت نہیں ملتا کہ یہاں آئو- موقع نہیں ملتا کہ پاس بیٹھنے سے کیا انوار ملتے ہیں- فرصت نہیں‘ رخصت نہیں- سنو! تم سب سے زیادہ کمانے کا ڈھب بھی مجھے آتا ہے- شہروں میں رہوں تو بہت سا روپیہ کما سکتا ہوں- مگر ضرورت محسوس ہوتی ہے بیمار کو- ظھر الفساد فی البر و البحر کا زمانہ ہے- میرے لئے تو یہاں سے ایک دم بھی باہر جانا موت کے برابر معلوم ہوتا ہے- تم شائد دیکھتے ہو گے کہ یہاں کھیت لہلہا رہے ہیں- دنیا اپنے کاروبار میں اسی طرح مصروف ہے- مگر میرا ایک دوست لکھتا ہے کہ وبا کے باعث گائوں کے گائوں خالی ہو گئے ہیں-
    بے فکر ہو کر مت بیٹھو- خدا کے دردناک عذاب کا پتہ نہیں کس وقت آ پکڑے- غرض اس وقت سخت ضرورت ہے اس امر کی کہ تم اس شخص کے پاس باربار آئو جو دنیا کی اصلاح کے واسطے آیا ہے- تم نے دیکھ لیا ہے کہ جو شخص اس زمانہ میں خدا کی طرف سے آیا ہے وہ ابکم نہیں ہے بلکہ علی وجہ|البصیرت تمہیں بلاتا ہے- تم چاہتے ہو کہ اشتہاروں اور کتابوں ہی کو پڑھ کر فائدہ اٹھا لو اور انہیں ہی کافی سمجھو- میں سچ کہتا ہوں اور قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہرگز نہیں- کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہؓ نے بے فائدہ اپنے وطنوں اور عزیز و اقارب کو چھوڑا تھا- پھر تم کیوں اس ضرورت کو محسوس نہیں کرتے- کیا تم ہم کو نادان سمجھے ہو جو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں؟ کیا ہماری ضرورتیں نہیں؟ کیا ہم کو روپیہ کمانا نہیں آتا؟ پھر یہاں سے ایک گھنٹہ غیر حاضری بھی کیوں موت معلوم ہوتی ہے- شائد اس لئے کہ میری بیماری بڑھی ہوئی ہو- دعائوں سے فائدہ پہنچ جاوے تو پہنچ جاوے مگر صحبت میں نہ رہنے سے تو کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا-
    مختلف اوقات میں آنا چاہئے- بعض دن ہنسی ہی میں گزر جاتا ہے اس لئے وہ شخص جو اسی دن آ کر چلا گیا وہ کیا فائدہ اٹھا سکتا ہے- نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جب عورتوں میں بیٹھے ہوئے قصہ کر رہے ہوں گے اس وقت جو عورت آئی ہو گی تو حیران ہی ہو کر گئی ہو گی- غرض میرا مقصد یہ ہے کہ میں تمہیں توجہ دلائوں کہ تم یہاں باربار آئو اور مختلف اوقات میں آئو-
    میں تمہیں بتا چکا ہوں کہ انسان عبث نہیں بنایا گیا اور اس کو خداتعالیٰ کے حضور ضرور حاضر ہونا ہے اور پھر یہ بھی بتایا ہے کہ انسان کی اصل غرض پیدا کرنے کی یہ ہے کہ وہ خدا کی عبادت کرے- اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار ہو- فرمانبرداری فرمان کے بغیر نہیں ہوتی اور فرمان کی تعمیل جب تک فرمان کی سمجھ نہ ہو ناممکن ہے- خدا تعالیٰ کا فرمان قرآن شریف ہے اور اس کی زبان عربی ہے- پس عربی زبان سے واقفیت پیدا کرو- پھر امام کی صحبت میں آ کر رہو کیونکہ وہ مطہر القلب ہے- قرآن شریف کا علم لے کر آیا ہے- ایک اور بات ہے جو انسان کو سچائی کے قبول کرنے سے روک دیتی ہے اور وہ تکبر ہے- خدا تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ متکبر کو خدا تعالیٰ کی آیتیں نہیں مل سکتیں- کیونکہ تکبر کی وجہ سے انسان تکذیب کرتا ہے اور جھٹلانے کے بعد صداقت کی راہ نہیں ملتی ہے- پہلے تکذیب کر چکتا ہے پھر انکار کرتا ہے- یاد رکھو مفتری کبھی بھی کامیاب نہیں ہوتا- ان اللہ لایھدی من ھو مسرف کذاب)-المومن:۲۹( پس اپنے اندر دیکھو کہ کہیں ایسا مادہ نہ ہو- کبھی کبھی انسان کی ایک بدعملی دوسری بدعملی کے لئے تیار کر دیتی ہے- خداتعالیٰ سے بہت وعدہ کر کے خلاف کرنے والا منافق مرتا ہے- امام کے ہاتھ پر بڑا زبردست اور عظیم الشان وعدہ کرتے ہیں کہ دین کو دنیا پر مقدم کروں گا-
    اب سوچ کر دیکھو کہ کہاں تک اس وعدہ کی رعایت کرتے ہو اور دین کو مقدم کرتے ہو- جب قرآن|شریف دیکھا ہے تو انبیا علیہم السلام کی اجماعی تعلیم استغفار ہے- اس کے معنے ہیں اپنی غلطیوں اور ان کے بدنتائج سے بچنے کے لئے دعا کرنا- پہلے استغفار ہے- گذشتہ گناہوں کے بدنتائج اور آئندہ ان سے بچنے کی دعا- اس کے ذنوب سے بچنے کے لئے سعی اور مجاہدہ کرنا اور پھر امر الٰہی کی تعظیم کرنا اور نواہی سے اللہ تعالیٰ کے جلال کو دیکھ کر ہٹ جانا اور ڈر جانا ہے- قرآن شریف میں مطالعہ کرو کہ نابکار خدا تعالیٰ سے نہ ڈرنے والوں اور انبیاء علیہم السلام کا مقابلہ کرنے والے شریروں کا انجام کیا ہوا- کس طرح وہ ذلت کی مار سے ہلاک ہوئے- اللہ تعالیٰ پر ایمان لائو‘ اس کے فرشتوں‘ اس کی کتابوں‘ اس کے رسولوں پر‘ ختم|نبوت پر‘ تقدیر پر‘ مسئلہ جزا و سزا پر- اس سب کے بعد رذائل سے بچنے اور فضائل کو حاصل کرنے کی بے تعداد ضرورت ہے- اور یہ بات حاصل ہوتی ہے کسی برگزیدہ انسان کی صحبت میں رہنے سے جس کو خدا نے اس ہی کام کے لئے مقرر کیا ہے-
    مشکلات آتی ہیں اور ضرور آتی ہیں- مگر مومن کا کام ہے کہ وہ خدا تعالیٰ پر کبھی بدظن اور اس سے مایوس نہیں ہوتا- مجھے اس آیت نے بڑا ہی مزا دیا ہے انہ لایایئس من روح اللہ الا القوم الکافرون )یوسف:۸۸-(پس مجھے دیکھو کہ کتنی دیر سے کس استقلال اور ہمت سے محض خدا کو راضی کرنے کے واسطے یہاں بیٹھا ہوں- مجھے بھی مشکلات ہیں- بعض دوست کہتے ہیں کہ تم الٹی ترقی کرتے ہو‘ پر میں خود ہی سمجھتا ہوں کہ میری مرض گھٹ رہی ہے یا بڑھ رہی ہے-
    مشکلات ضرور ہوتے ہیں‘ تمہیں بھی آئیں گی- مگر اس بات کی کچھ پروا نہیں کرنی چاہئے کیونکہ ہم نے جس کو امام‘ مامورمن|اللہ مانا ہے اور خدا کے فضل سے علیٰ وجہ البصیرت مانا ہے اس کو خدا کے لئے مانا ہے- پس ہم کو تو اپنی فکر کرنے کی ضرورت ہے- یاد رکھو کہ مزکی کے پاس رہنے کے بغیر اصلاح نہیں ہو سکتی- علوم میں سے ہمیں ضرورت ہے اس بات کی کہ اسماء اللہ معلوم ہوں- خدا تعالیٰ کے افعال کا علم ہو- ایمان کے معنے معلوم ہوں- کفر اور نفاق کی حقیقت معلوم کریں- ایک میرے بڑے پڑھے لکھے دوست نے کئی بار مجھ سے پوچھا ہے کہ عبادت کیا چیز ہے؟ پس جب اتنے بڑے علم کے بعد بھی ان کو مشکل پیش آئی تو وائے ان لوگوں پر جو مطلق بے خبر اور ناواقف ہیں-
    پرسوں یا اترسوں میں لغیر اللہ بہ پر کچھ کہہ رہا تھا کہ ایک بول اٹھا کہ تمہارے نزدیک سارے کافر ہو جاتے ہیں-
    پہلا الہام جو ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کو ہوا وہ بھی رب زدنی علماً )طٰہٰ:۱۱۵( کی دعا تعلیم ہوتی ہے- اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ علم کی کس قدر ضرورت ہے- سچے علوم کا مخزن قرآن|شریف ہے تو دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ قرآن شریف کے پڑھنے اور سمجھ کر پڑھنے اور عمل کے واسطے پڑھنے کی بہت بڑی ضرورت ہے- اور یہ حاصل ہوتا ہے تقویٰ اللہ سے‘ مامورمن|اللہ کی پاک صحبت میں رہ کر- یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی سلامتی‘ صدق نیت‘ شفقت علی خلق|اللہ‘ غایت البعد عن الاغنیائ‘ آسانی جودت طبع‘ سادگی اور دور بینی کی صفات سے فائدہ پہنچاتے ہیں-
    ایک اثر میں میں نے پڑھا ہے کہ نماز کی نسبت خطبہ چھوٹا ہو‘ اس لئے اب میں اس کو ختم کرنا چاہتا ہوں-
    اولاد کے لئے ایسی تربیت کی کوشش کرو کہ ان میں باہم اخوت‘ اتحاد‘ جرات‘ شجاعت‘ خودداری‘ شریفانہ آزادی پیدا ہو- ایک طرف انسان بنائو دوسری طرف مسلمان-۲~}~
    ۱-~}~ )الحکم جلد ۵ نمبر ۱۲ ۔۔۔ ۳۱ مارچ ۱۹۰۱ء صفحہ ۷-۸( و )الحکم جلد ۵ نمبر ۱۳ ۔۔۔ ۱۰ اپریل ۱۹۰۱ء صفحہ ۳ تا ۷(
    ۲-~}~ )الحکم جلد ۵ نمبر ۱۴ ۔۔۔ ۱۷ اپریل ۱۹۰۱ء صفحہ ۳-۴(
    ‏KH1.11
    خطبات|نور خطبات|نور
    ۱۷ / مئی ۱۹۰۱ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خطبہ جمعہ
    )ایڈیٹر ’’الحکم‘‘ کے اپنے الفاظ میں(
    و من یرغب عن ملۃ ابراھیم حنیفاً و ما کان من المشرکین )البقرۃ:۱۳۱(کی تلاوت کے بعد آپ نے فرمایا-:

    ہر ایک سلیم الفطرت انسان کے قلب میں اللہ تعالیٰ نے یہ ایک بات حجت کے طور پر رکھ دی ہے کہ وہ ایک مجمع کے درمیان معزز ہو جاوے- گھر میں اپنے بزرگوں کی کوئی خلاف ورزی اس لئے نہیں کی جاتی کہ گھر میں ذلیل نہ ہوں- ہرایک دنیادار کو دیکھتے ہیں کہ محلہ داری میں ایسے کام کرتا ہے جن سے وہ باوقعت انسان سمجھا جاوے- شہروں کے رہنے والے بھی ہتک اور ذلت نہیں چاہتے- پھر اس مجمع میں جہاں اولین و آخرین جمع ہوں گے اس مقام پر جہاں انبیاء و اولیاء موجود ہوں گے وہاں کی ذلت کون عاقبت اندیش سلیم الفطرت گوارا کر سکتا ہے؟ کیونکہ عزت و وقعت کی ایک خواہش ہے جو انسان کی فطرت میں موجود ہے- اس آیت میں اللہ تعالیٰ ایک نظیر کے ساتھ اس خواہش اور اس قاعدہ کو جس کے ذریعہ انسان معزز ہو سکتا ہے بیان کرتا ہے- نظیر کے طور پر جس شخص کا ذکر یہاں کیا گیا ہے اس کا نام ہے ابراہیم علیہ السلام -
    اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو کیسی عزت دی‘ یہ اس نظارہ سے معلوم ہو سکتا ہے جو خدا نے فرمایا و لقد اصطفینٰہ فی الدنیا و انہ فی الاٰخرۃ لمن الصٰلحین )البقرۃ:۱۳۱( ہم نے اس کو برگزیدہ کیا دنیا میں اور آخرت میں بھی سنوار والوں سے ہو گا- اللہ تعالیٰ کے مکالمات کا شرف رکھنے والے‘ شریعت کے لانے والے‘ ہادی و رہبر‘ بادشاہ اور اس قسم کے عظیم الشان لوگ ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے ہوئے- یہ ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کے لئے نتیجہ دکھایا ہے- حضرت موسیٰؑ‘ حضرت دائودؑ‘ حضرت مسیح علیہ السلام سب حضرت ابراہیم کی نسل سے تھے اور حضرت اسماعیلؑ اور ہمارے سید و مولیٰ ہادی کامل صلی اللہ علیہ و سلم اسی کی اولاد سے ہیں-
    ایک اور جگہ یہ بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ابراہیمؑ اور اس کی اولاد کو بہت بڑا ملک دیا- مگر غورطلب امر یہ ہے کہ جڑ اس بات کی کیا ہے؟ کیا معنی- وہ کیا بات ہے جس سے وہ انسان اللہ تعالیٰ کے حضور برگزیدہ ہوا اور معزز ٹھہرایا گیا؟ قرآن کریم میں اس بات کا ذکر ہوا ہے جہاں فرمایا ہے- اذ قال لہ ربہ اسلم قال اسلمت لرب العٰلمین )البقرۃ:۱۳۲( جب ابراہیم کے رب نے اس کو حکم دیا کہ تو فرمانبردار بن جا تو حضرت ابراہیمؑ عرض کرتے ہیں میں رب العالمین کا فرمانبردار ہو چکا- کوئی حکم نہیں پوچھا کہ کس کا حکم فرماتے ہو- کسی قسم کا تامل نہیں کیا- فرمانبرداری کے حکم کے ساتھ ہی معاً بول اٹھے کہ فرمانبردار ہو گیا- ذرا بھی مضائقہ نہیں کیا اور نہیں خیال کیا کہ عزت پر یا مال پر صدمہ اٹھانا پڑے گا یا احباب کی تکالیف دیکھنی پڑیں گی- کچھ بھی نہ پوچھا- فرمانبرداری کے حکم کے ساتھ اقرار کر لیا کہ اسلمت لرب العٰلمین- یہ ہے وہ اصل جو انسان کو خدا تعالیٰ کے حضور برگزیدہ اور معزز بنا دیتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا سچا فرمانبردار ہو جاوے-
    فرماں برداری کا معیار کیا ہے؟ ایک طرف انسان کے نفسانی جذبات کچھ چاہتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے احکام کچھ- اور اب دیکھیں کہ آیا خدا تعالیٰ کے احکام کو انسان مقدم کرتا ہے یا اپنے نفسانی اغراض کو- اسی طرح رسم و رواج‘ عادات‘ کسی کا دبائو‘ حب جاہ‘ رعایت قانون قومی ایک طرف کھینچتے ہیں اور اللہ|تعالیٰ کا حکم ایک طرف- اس وقت دیکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے حکم کی طرف جھکتا ہے یا اس پر دوسرے امور کو ترجیح دیتا ہے- اب اگر اللہ تعالیٰ کے احکام کی قدر کرتا اور ان کو مقدم کر لیتا ہے تو یہی خدا کی فرمانبرداری ہے-
    وہ لوگ جو اولوالامر کہلاتے ہیں اور جن کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے ان کے لئے بھی ارشاد الٰہی یوں ہے- فان تنازعتم فی شی|ء فردوہ الی اللہ و الرسول )النسائ:۶۰( یعنی اگر تم میں کسی امر کی نسبت تنازع ہو تو اس کا آخری فیصلہ اللہ اور اس کے رسول کی اتباع سے کر لو- یہی ایک سیدھی راہ ہے- مگر یہ یاد رکھو کہ اہل حق کے انکار کا مدار تکبر پر ہوتا ہے اس لئے اس سے دور رہو- ورنہ کیسی تعجب کی بات ہے کہ ہمارے سید و مولیٰ فرماتے ہیں کہ ما کنت بدعاً من الرسل )الاحقاف:۱۰( میں کوئی نیا رسول تو نہیں آیا- آدم سے لے کر اب تک جو رسول آئے ہیں ان کو پہچانو- ان کی معاشرت‘ تمدن اور سیاست کیسی تھی اور ان کا انجام کیا ہوا‘ ان کی صداقت کے کیا اسباب تھے ‘ ان کی تعلیم کیا تھی‘ ان کے اصحاب نے ان کو پہلے پہل کس طرح مانا‘ ان کے مخالفوں اور منکروں کا چال چلن کیسا تھا اور ان کا انجام کیا ہوا؟ یہ ایک ایسا اصل تھا کہ اگر اس وقت کے لوگ اس معیار پر غور کرتے تو ان کو ذرا سی دقت پیش نہ آتی اور ایک مجدد‘ مہدی‘ مسیح‘ مرسل من اللہ کے ماننے میں ذرا بھی اشکال نہ ہوتا- مگر اپنے خیالات ملکی اور قومی رسوم بزرگوں کے عادات کے ماننے میں تو بہت بڑی وسعت سے کام لیتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ماموروں اور اس کے احکام کے لئے خدا کے علم اور حکمت کے پیمانہ کو اپنی ہی چھوٹی سی کھوپڑی سے ناپنا چاہتے ہیں- ہر ایک امام کی شناخت کے لئے یہ عام قاعدہ کافی ہے کہ کیا یہ کوئی نئی بات لے کر آیا ہے؟ اگر اس پر غور کرے تو تعجب کی بات نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ اصل حقیقت کو اس پر کھول دے- ہاں یہ ضروری ہے کہ اپنے آپ کو ہیچ سمجھے اور تکبر نہ کرے ورنہ تکبر کا انجام یہی ہے کہ محروم رہے-
    پس انسان خدا کے غضب سے بچنے کے لئے ہر وقت دعا کرتا رہے- وہ دعا جس کے پڑھنے کے بغیر نماز نہیں ہوتی‘ یہ ہے اھدنا الصراط المستقیم- صراط الذین انعمت علیھم غیر المغضوب علیھم و لا الضالین )الفاتحۃ( یعنی ہم کو صراط مستقیم دکھا جو ان لوگوں کی راہ ہے جن پر تیرا انعام ہوا- ان لوگوں کی راہ سے بچا جن پر تیرا غضب ہوا اور جو حق سے بیجا عداوت کرنے والے ہیں اور نہ ان لوگوں کی راہ جو گمراہ ہو گئے ہیں- منعم علیہ گروہ کی شناخت کے لئے ایک آسان اور سہل راہ ہے- انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات‘ احکام‘ اور عملدرآمد اور ان کی زندگی کو ان کے ثبوتوں اور آخر انجام کو دیکھو- پھر ان کے حالات پر نظر کرو جنھوں نے مخالفت کی- غرض مامور من اللہ لوگوں کا گروہ ایک نمونہ ہوتا ہے- اس خواہش کے پورا کرنے کے قواعد بتانے کے لئے جو ہر انسان میں بطور حجت رکھی گئی ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ معزز ہو- خدا تعالیٰ کے حضور معزز وہی ہو سکتا ہے جو رب العالمین کا فرمانبردار ہو- یہ ایک دائمی سنت ہے جس میں تخلف نہیں ہو سکتا-
    اب ہم لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ ہم غور کر کے دیکھیں کہ ہم لباس‘ عادات‘ عداوت‘ دوستی‘ دشمنی‘ غرض ہر رنج و راحت‘ ہر حرکت و سکون میں کس پر عمل درآمد کرتے ہیں- کیا فرمانبرداری کی راہ ہے یا نفس پرستی کی؟
    عام مسلمانوں اور عام غیر مذہب کے لوگوں کو دیکھو کہ اگر وہ جھوٹ بولتے ہیں تو کیا مسلمان ہو کر ایک مسلمان جھوٹ سے محفوظ ہے؟ غیر مذہب والے اگر نفس پرستیاں اور شہوت پرستیاں کرتے ہیں تو کیا مسلمانوں میں ایسے کام نہیں کرتے؟ اگر ان میں باہم تباغض اور تحاسد ہے تو کیا ہم میں نہیں؟ اگر ان حالات میں ہم ان ہی کے مشابہ ہیں اور کوئی فرق اور امتیاز ہم میں اور ان میں نہیں ہے تو بڑی خطرناک بات ہے‘ فکر کرو-
    ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتیٰ یغیروا ما بانفسھم )الرعد:۱۲( یاد رکھو خدا تعالیٰ کا مقرر کردہ قانون یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیضان میں تبدیلی اسی وقت ہو سکتی ہے اور ہوتی ہے جب انسان خود اپنے اندر تبدیلی کرے- اگر ہم وہی ہیں جو سال گذشتہ اور پیوستہ میں تھے تو پھر انعامات بھی وہی ہوں گے لیکن اگر چاہتے ہو کہ ہم پر نئے نئے انعامات ہوں تو نئے نئے طریق پر تبدیلی کرو-
    خدا کی کتاب نے تصریح کر دی ہے کہ کفر کیا ہوتا ہے کیونکر پیدا ہوتا ہے اور اس کا انجام کیا ہوتا ہے- ایمان کیا ہوتا ہے- اس کے نشان اور انجام کیا ہیں؟ منافق اور مفتری کے انجام اور نشان کو بتا دیا ہے- پھر امام اور راستباز کی شناخت میں کیا دقت ہو سکتی ہے-
    آدم سے لے کر اس وقت تک ہزاروں ہزار مامور آئے ہیں- سب کے واقعات ایک ہی طرز اور رنگ کے ہیں- اگر تم اپنے آپ کو تکبر سے محفوظ کر لو تو شیطانی عمل دخل سے پاک ہو کر خدا کے فیضان کو لے سکو گے-
    غرض حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خود بھی خدا تعالیٰ کی اطاعت کی اور انہی باتوں کی وصیت اپنی اولاد کو بھی کی اور یعقوب نے بھی یہی وصیت کی کہ اے میری اولاد! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایک عجیب دین کو پسند کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر وقت فرمانبرداری میں گزارو- چونکہ موت کا کوئی وقت معلوم نہیں ہے اس لئے ہر وقت فرمانبردار رہو تاکہ ایسی حالت میں موت آوے کہ تم فرمانبردار ہو- میری تحقیقات میں یہی بات آئی ہے کہ سچی تبدیلی کر کے اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی دعا کرے-
    اللہ تعالیٰ سب کو توفیق دے کہ وہ ایک پاک تبدیلی کریں- آمین
    )الحکم جلد۵ نمبر۱۹ ۔۔۔ ۲۴ / مئی ۱۹۰۱ء صفحہ۱۰-۱۱(

    ۲۲ / نومبر ۱۹۰۱ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خطبہ جمعہ
    ) خلاصہ از ایڈیٹر الحکم (
    ‏]sli [tag تشہد‘ تعوذ اور تسمیہ کے بعد آپ نے سورۃ البقرہ کی آیات ۹ تا ۱۵ کی تلاوت فرمائی اور پھر فرمایا-:
    یہ آیتیں سورۃ بقرہ کے دوسرے رکوع کی ہیں- الحمد شریف میں خدا تعالیٰ نے تین راہیں بتائی ہیں- ایک انعمت علیھم کی راہ‘ دوسرے مغضوب علیھم تیسرے الضالین کی راہ-
    انعمت علیھم text] ga[tکے معنی خود قرآن شریف نے بتائے ہیں کہ وہ انبیائ‘ اصدقائ‘ شہداء اور صالحین کی جماعت ہے-
    انبیاء وہ رفیع الدرجات انسان ہوتے ہیں جو خدا سے خبریں پاتے ہیں اور مخلوق کو پہنچاتے ہیں- پھر وہ راستباز ہیں جو انبیاء کی تصدیق کرتے ہیں- اور پھر وہ لوگ ہیں جن کے لئے وہ باتیں گویا مشاہدہ میں آئی ہوئی ہیں اور پھر عام صالحین-
    اس گروہ کی تفسیر خدا تعالیٰ نے آپ ہی سورۃ بقرہ کے شروع میں بیان کر دی ہے کہ ہدایت کی راہ کیا ہے؟ وہ یہ کہ اللہ پر ایمان لائے- جزاء و سزا پر ایمان لاوے اور پھر اللہ ہی کی نیاز مندی کے لئے‘ تعظیم|لامراللہ کے واسطے نمازوں کو درست رکھنا اورشفقت علی خلق اللہ کے واسطے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کریں-
    پھر اس بات پر ایمان لاویں کہ ہمیشہ خدا تعالیٰ سے تسلی اور تعلیم پا کر دنیا کی اصلاح کے لئے معلم اور مزکی آئے ہیں- یاد رکھو صرف علم تسلی بخش نہیں ہو سکتا جب تک معلم نہ ہو- بائیبل میں نصیحتوں کا انبار موجود ہے اور عیسائی بھی بغل میں کتاب لئے پھرتے ہیں- پھر اگر ایمان صرف کتابوں سے مل جاتا تو کیا کمی تھی- مگر نہیں‘ ایسا نہیں- خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کو بھیجتا ہے جو یتلوا علیھم ایٰاتہ و یزکیھم و یعلمھم الکتٰب )الجمعۃ:۳( کے مصداق ہوتے ہیں-
    ان مزکی اور مطہر لوگوں کی توجہ‘ انفاس اور روح میں ایک برکت اور جذب ہوتا ہے جو ان کے ساتھ تعلق پیدا کرنے سے انسان کے اندر تزکیہ کا کام شروع کرتا ہے- یاد رکھو انسان خدا کے حضور نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ کوئی اس پر خدا کی آیتیں تلاوت کرنے والا اورپھر تزکیہ کرنے والا اور پھر علم اور عمل کی قوت دینے والا نہ ہو- تلاوت تب مفید ہو سکتی ہے کہ علم ہو اور علم تب مفید ہو سکتا ہے جب عمل ہو اور عمل تزکیہ سے پیدا ہوتا ہے اور علم معلم سے ملتا ہے-
    بہرحال مومنوں کا ذکر ہے کہ ان کو ایمان بالغیب کی ضرورت ہے جس میں حشر و نشر‘ صراط‘ جنت و نار سب داخل ہیں- یہ اس کا عقیدہ اول درست ہو جائے تو پھر نماز سے امر الٰہی کی تعظیم پیدا ہوتی ہے اور خدا کے دئے ہوئے میں سے خرچ کرنے سے شفقت علی خلق اللہ-
    پھر برہموئوں کی طرح نہ ہو جاوے جو الہام کی ضرورت محسوس نہیں کرتے بلکہ وہ اس بات پر ایمان لائے کہ خدا تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر اپنا کلام اتارا اور آپ سے پہلے بھی اور آپ کے بعد بھی مکالمات الہیہ کا سلسلہ بند نہیں ہوا- یہ تو منعم علیہ گروہ کا ذکر ہے-
    اس کے بعد وہ لوگ مغضوب ہیں جو خدا کے ماموروں کے وجود اور عدم وجود کو برابر سمجھ لیتے ہیں اور ان کے انذار اور عدم انذار کو مساوی جان لیتے ہیں اور پروا نہیں کرتے اور اپنے ہی علم و دانش پر خوش ہو جاتے ہیں- وہ خدا کے غضب کے نیچے آ جاتے ہیں- یہی حال یہود کا ہوا-
    پھر تیسرا گروہ گمراہوں کا ہے جن کا ذکر ان آیات میں ہے جو میں نے پڑھی ہیں- اس کے کاموں میں دجل اور فریب ہوتا ہے- وہ اپنے آپ کو کلام الٰہی کا خادم کہتے ہیں مگر ما ھم بمومنین )البقرۃ:۹-(
    بڑی بڑی تجارتیں کرتے ہیں مگر ہدایت کے بدلے تباہی خریدتے ہیں اور کوئی عمدہ فائدہ ان کی تجارت سے نہ ہوا-
    میرے دل میں بارہا یہ خیال آیا ہے کہ ایک تنکے پر بھی شے کا اطلاق ہوتا ہے اور وہی شے کا لفظ وسیع ہو کر خدا پر بھی بولا جاتا ہے-
    یاد رکھو منافق دو قسم کا ہوتا ہے- ایک یہ کہ دل میں کوئی صداقت نہیں ہوتی- وہ اعتقادی منافق ہوتا ہے- اس کا اعلیٰ سے اعلیٰ نمونہ عیسائیوں کا مذہب ہے- انجیل کی حالت کو دیکھو کہ اس کی اشاعت پر کس قدر سعی بلیغ کی جاتی ہے مگر یہ پوچھو کہ اس کتاب کے جملہ جملہ پر اعتقاد ہے؟ تو حقیقت معلوم ہو جائے گی- اس طرح پر میں دیکھتا ہوں کہ خدا کا خوف اٹھ گیا ہے- وہ دعویٰ اور معاہدہ کہ ’’دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا‘‘ قابل غور ہو گیا ہے- اب اپنے حرکات و سکنات‘ رفتار و گفتار پر نظر کرو کہ اس عہد کی رعایت کہاں تک کی جاتی ہے- پس ہر وقت اپنا محاسبہ کرتے رہو- ایسا نہ ہو کہ ما ھم بمومنین کے نیچے آ جائو- منافق کی خدا نے ایک عجیب مثال بیان کی ہے کہ ایک شخص نے آگ جلائی مگر وہ روشنی جو آگ سے حاصل کرنی چاہئے تھی وہ جاتی رہی اور ظلمت رہ گئی- رات کو جنگل کے رہنے والے درندوں سے بچنے کے واسطے آگ جلایا کرتے ہیں لیکن جب وہ آگ بجھ گئی تو پھر کئی قسم کے خطرات کا اندیشہ ہے- اسی طرح پر منافق اپنے نفاق میں ترقی کرتے کرتے یہاں تک پہنچ جاتا ہے اور اس کا دل ایسا ہو جاتا ہے کہ وہ حق کا گویا‘ شنوا اور حق کا بینا نہیں رہتا- ایک شخص اگر راہ میں جاتا ہو اور سامنے ہلاکت کا کوئی سامان ہو وہ دیکھ کر بچ سکتا یا کسی کے کہنے سے بچ سکتا یا خود کسی کو مدد کے لئے بلا کر بچ سکتا ہے- مگر جس کی زبان‘ آنکھ‘ کان‘ کچھ نہ ہو اس کا بچنا محال ہے- یاجوج ماجوج بھی آگ سے بڑے بڑے کام لے رہے ہیں مگر انجام وہی نظر آتا ہے- مومن کا کام ہے کہ جب دعویٰ کرے تو کر کے دکھاوے کہ عملی قوت کس قدر رکھتا ہے- عمل کے بدوں دنیا کا فاتح ہونا محال ہے-
    یاد رکھو کہ ہر ایک عظیم الشان بات آسمان سے ہی آتی ہے- یہ امر خدا کی سنت اور خدا کے قانون میں داخل ہے کہ امساک باراں کے بعد مینہ برستا ہے- سخت تاریکی کے بعد روشنی آتی ہے- اسی طرح پر فیج|اعوج اور سخت کمزوریوں کے بعد ایک روشنی ضروری ہے- وہ شیطانی منصوبوں سے مل نہیں سکتی- بہتوں کے لئے اس میں ظلمت اور دکھ ہواور ایک نمک کا تاجر جو اس میں جا رہا ہے اسے پسند نہ کرے-
    بہت سے لوگ روشنی سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں اور اکثر ہوتے ہیں جو اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں مگر احمقوں کو اتنی خبر نہیں ہوتی کہ خدائی طاقت اپنا کام کر چکی ہوتی ہے- غرض یہ ہے کہ علم حاصل کرو اور پھر عمل کرو- علم کے لئے معلم کی ضرورت ہے- یہ دعویٰکرنا کہ ہمارے پاس علم القرآن ہے صحیح نہیں ہے- ایک نوجوان نے ایسا دعویٰ کیا- ایک آیت کے معنے اس سے پوچھے تو اب تک نہیں بتا سکا- ہمارے ہادی کامل نبی کریمکو تو یہ تعلیم ہوتی ہے قل رب زدنی علماً )طٰہٰ:۱۱۵-( تم بھی دعا کرو-
    یاد رکھو کہ اگر انعمت علیھم میں سے ہو تو اور ترقی کرو اور کسی وجود کو جو خدا کی طرف سے آیا ہے اس کے وجود اور عدم وجود کو برابر نہ سمجھو- ظاہر و باطن مختلف نہ ہو- دنیا کو دین پر مقدم نہ کرو- بعض اوقات دنیاداروں کو دولت و عزت اندھا کر دیتی ہے- خدا کی برسات لگ گئی ہے- وہ اب سچے پودوں کو نشوونما دے گی اور ضرور دے گی- خدا کی ان ساری باتوں پر ایمان لا کر سچے معاہدہ کو یاد رکھو ایسا نہ ہو کہ اذا لقوا الذین اٰمنوا قالوا اٰمنا )البقرۃ:۱۵( ہی کے مصداق رہ جائو- اس کا اصل علاج استغفار ہے اور استغفار انسان کو ٹھوکروں سے بچانے والا ہے-
    )الحکم جلد۵ نمبر۴۳ ۔۔۔ ۲۴ / نومبر ۱۹۰۱ء صفحہ ۷-۸(
    * - * - * - *
    ‏KH1.12
    خطبات|نور خطبات|نور
    جنوری ۱۹۰۲ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    خطبہ عید الفطر
    و لقد ارسلنا نوحاً الیٰ قومہ فقال یٰقوم اعبدوا اللہ ما لکم من الٰہ غیرہ افلاتتقون )المومنون:۲۴( کی تلاوت کے بعد آپ نے فرمایا-:
    یہ آیتیں جو میں نے تم کو سنائی ہیں یہ اس شخص کا قصہ ہے جو دنیا میں اصلاح الناس کے لئے بھیجا گیا تھا- اس کا نام نوح ہے‘ علیہ الصلٰوۃ والسلام- وہ ایک پہلا انسان ہے جو لوگوں کو آگاہ اور بیدار کرنے کے واسطے غفلت کے زمانہ میں آیا تھا- وہ ایک خطرناک ظلمت اور تاریکی کے دنوں میں نور اور ہدایت لے کر آیا تھا- یہ اسٹوریاں‘ کہانیاں اور دل خوشکن قصے نہیں بلکہ عبرۃ لاولی الابصار صداقتیں ہیں ان اہل نظر کے لئے جن میں تذکرہ کا مادہ ہوتا ہے‘ جو فہم و فراست سے حصہ رکھتے ہیں- ان قﷺ میں بڑے بڑے مفید اور سودمند نصائح ہوتے ہیں- میں نے بجائے خود ان قﷺ سے بہت بڑا فائدہ اٹھایا ہے- ان میں یہ عظیم الشان )امور( قابل غور ہیں-
    اول -: کسی مامور من اللہ کی کیونکر شناخت کر سکتے ہیں ؟
    دوم -: مامور من اللہ کیا پیش کرتے ہیں یا یوں کہو کہ وہ کیا تعلیم لے کر آتے ہیں یا یہ کہو کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور سے کس غرض کے لئے مامور ہو کر آتے ہیں؟
    سوم -: لوگ ان پر کس کس قسم کے اعتراض کرتے ہیں ؟
    یہ امور اس لئے پیش کئے ہیں تا کسی راستباز مامور من اللہ کی شناخت میں تمہیں کبھی کوئی دقت نہ ہو- یہی وجہ ہے کہ ہمارے سید و مولیٰ ہادی کامل محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی رسالت اور نبوت کو پیش کرتے ہوئے یہی فرمایا اور یہی آپ کو ارشاد ہوا- قل ما کنت بدعاً من الرسل )الاحقاف:۱۰( میں کوئی نیا رسول تو نہیں آیا ہوں- جو رسول پہلے آتے رہے ہیں ان کے حالات اور تذکرے تمہارے پاس ہیں ان پر غورکرو اور سبق سیکھو کہ وہ کیا لائے اور لوگوں نے ان پر کیا اعتراض کئے- کیا باتیں تھیں جن پر عملدرآمد کرنے کی وہ تاکید فرماتے تھے اور کیا امور تھے جن سے نفرت دلاتے تھے- پھر اگر مجھ میں کوئی نئی چیز نہیں ہے تو اعتراض کیوں ہے؟ کیا تمہیں معلوم نہیں ان کے معترضوں کا انجام کیا ہوا تھا؟
    الغرض پہلے نبیوں کے جو قﷺ اللہ تعالیٰ نے بیان کئے ہیں ان میں ایک عظیم الشان غرض یہ بھی ہے کہ آئندہ زمانہ میں آنے والے ماموروں اور راستبازوں کی شناخت میں دقت نہ ہوا کرے- اس وقت میں نے نوح علیہ السلام کا قصہ آپ کو پڑھ کر سنایا ہے- سب سے پہلی بات جو اس میں بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا اصل وعظ اور ان کی تعلیم کا اصل مغز اور خلاصہ کیا ہوتا ہے- وہ خدا کے ہاں سے کیا لے کر آتے ہیں اور کیا سنوانا چاہتے ہیں اور وہ یہ ہے- اعبدوا اللہ ما لکم من الٰہ غیرہ افلاتتقون اللہ جل|شانہ کی سچی فرمانبرداری اختیار کرو‘ اس کی اطاعت کرو‘ اس سے محبت کرو‘ اس کے آگے تذلل کرو‘ اسی کی عبادت ہو اور اللہ کے مقابل میں کوئی غیر تمہارا مطاع‘ محبوب‘ معبود‘ مطلوب‘ امید و بیم کا مرجع نہ ہو- اللہ تعالیٰ کے مقابل تمہارے لئے کوئی دوسرا نہ ہو- ایسا نہ ہو کہ اللہ|تعالیٰ کا حکم تمہیں ایک طرف بلاتا ہو اور کوئی اور چیز خواہ وہ تمہارے نفسانی ارادے اور جذبات ہوں یا قوم اور برادری )سوسائٹی( کے اصول اور دستور ہوں‘ سلاطین ہوں‘ امراء ہوں‘ ضرورتیں ہوں‘ غرض کچھ ہی کیوں نہ ہو‘ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابل میں تم پر اثر انداز نہ ہو سکے- پس اللہ تعالیٰ کی اطاعت‘ عبادت‘ فرمانبرداری‘ تذلل اور اس کی حب کے سامنے کوئی اور شے محبوب‘ معبود‘ مطلوب اور مطاع نہ ہو-
    یہ ایک صورت خدا تعالیٰ کے ساتھ ند نہ بنانے کی اعتقادی طور پر ہے- دوسری صورت یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا کوئی ند اور مقابل نہ ہو اسی طرح پر خدا تعالیٰ کی جس طرح پر عبادت کی جاتی ہے‘ جس طرح اس کے احکام کی تعمیل اور اوامر کی تعظیم کی جاتی ہے‘ دوسرے کے احکام و اوامر کی ویسی اطاعت‘ وہی تعمیل‘ وہی تعظیم‘ اسی طرز و نہج پر امید و ڈر ہرگز نہ ہو اور کسی کو اس کا شریک نہ بنایا جاوے-
    جب انسان ان دونوں مرحلوں کو طے کر لیتا ہے یا یوں کہو کہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی چھوڑتا اور اس کی اطاعت اور صرف اسی کی اطاعت کرتا ہے تو پھر اس کا آخری مرتبہ یہ ہوتا ہے کہ وہ متقی ہو جاتا ہے- تمام دکھوں سے محفوظ ہو کر سچی راحتوں سے بہرہ ور ہوتا ہے- پس نوحؑ نے آ کر اپنی قوم کے سامنے وہی تعلیم پیش کی جو تمام راستبازوں کی تعلیم کا خلاصہ اور انبیاء اور رسل کی بعثت کی اصل غرض ہوتی ہے اور پھر انہیں کہا افلاتتقون تم کیوں متقی نہیں بنتے؟ یاد رکھو انسان کو جس قدر ضرورتیں پیش آ سکتی ہیں‘ جس|قدر خواہشیں اور امنگیں اسے کسی کی طرف کھینچ کر لے جا سکتی ہیں وہ سب تقویٰ سے حاصل ہوتی ہیں- متقی اللہ تعالیٰ کا محبوب ہوتا ہے- اور اللہ سے بڑھ کر انسان کس دوست اور حبیب کی خواہش کر سکتا ہے- تقویٰ سے انسان خدا تعالیٰ کی ’’تولی‘‘ کے نیچے آتا ہے- متقی کے ساتھ اللہ ہوتا ہے- متقی کے دشمن ہلاک ہوتے ہیں- متقی کو اللہ تعالیٰ اپنی جناب سے تعلیم دیتا ہے- متقی کو ہر تنگی سے نجات ملتی ہے- اللہ تعالیٰ متقی کو ایسی راہوں اور جگہوں سے رزق پہنچاتا ہے کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتا جیسا کہ اسی حمید و مجید کتاب میں موجود ہے- ان اللہ یحب المتقین )التوبۃ:۷( و اللہ ولی المتقین )الجاثیۃ:۲۰( ان اللہ مع الذین اتقوا و الذین ھم محسنون )النحل:۱۲۹( ان تتقوا اللہ یجعل لکم فرقاناً )الانفال:۳۰( و اتقوا اللہ و یعلمکم اللہ )البقرۃ:۲۸۳( من یتق اللہ یجعل لہ مخرجاً و یرزقہ من حیث لایحتسب )الطلاق:۳‘۴-( اب مجھے کوئی بتاوے کہ انسان اس کے سوا اور چاہتا کیا ہے- اس کی تمام خواہشیں‘ تمام ضرورتیں‘ تمام امنگیں اور ارادے ان سات ہی باتوں میں آ جاتی ہیں اور یہ سب متقی کو ملتی ہیں- پھر نوحؑ ہی کے الفاظ بلکہ خدا تعالیٰ ہی کے ارشاد کے موافق میں آج تمہیں بھی کہتا ہوں افلا تتقون- تم کیوں متقی نہیں بنتے- اور تقویٰ کیا ہے؟ تقویٰ نام ہے اعتقادات|صحیحہ‘ اقوال صادقہ‘ اعمال صالحہ‘ علوم|حقہ‘ اخلاق فاضلہ‘ ہمت بلند‘ شجاعت‘ استقلال‘ عفت‘ حلم‘ قناعت‘ صبر کا- اور یہ شروع ہوتا ہے حسن|ظن باللہ‘ تواضع اور صادقوں کی محبت سے اور ان کے پاس بیٹھنے‘ ان کی اطاعت سے- جبکہ تقویٰ کی ضرورت ہے تو راستبازوں اور ماموروں کا دنیا میں آنا ضرور ہوا اور ان کی تعلیم اور بعثت کا منشا اور مدعا یہی ہوا اور یہی تعلیم لے کر نوحؑ آئے تھے اور انہوں نے قوم کو فرمایا- مگر ناعاقبت اندیش‘ جلد باز‘ حیلہ|ساز‘ مخالفوں نے اس کے جواب میں کیا کہا؟ فقال الملوا الذین کفروا من قومہ ما ھٰذا الا بشر مثلکم )المومنون:۲۵( نابکار اعدائے ملت ائمہ~ن۲~ الکفر نے کہا تو یہ کہا ما ھٰذا الا بشر مثلکم text] g[ta کہ یہ شخص جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہونے کا مدعی ہے کہتا ہے کہ تمہیں ظلمت سے نکالنے کے لئے میں بھیجا گیا ہوں- اس میں کوئی انوکھی اور نرالی بات تو ہے نہیں‘ ہمارے تمہارے جیسا آدمی ہی تو ہے-
    پس یاد رکھو سب سے پہلا اعتراض جو کسی مامور من اللہ‘ راستباز صادق انبیاء و رسل اور ان کے سچے جانشین خلفاء پر کیا جاتا ہے‘ وہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو حقیر سمجھا جاتا ہے اور اپنی ہی ذات پر اس کو قیاس کر لیا جاتا ہے- ایک طرف وہ اس کے بلند اور عظیم الشان دعاوی کو سنتے ہیں کہ وہ کہتا ہے کہ میں خدا کی طرف سے آیا ہوں- خدا مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے- اس کے ملائکہ مجھ پر اترتے ہیں- دوسری طرف وہ دیکھتے ہیں کہ وہی ہاتھ‘ پائوں‘ ناک‘ کان‘ آنکھ‘ اعضاء رکھتا ہے- بشری حوائج اور ضرورتوں کا اسی طرح محتاج ہے جس طرح ہم ہیں اس لئے وہ اپنے ابنائے جنس میں بیٹھ کر یہی کہتے ہیں- یاکل مما تاکلون منہ و یشرب مما تشربون )المومنون:۳۴-( پس اپنے جیسے انسان کی اطاعت و فرمانبرداری کر|کے خسارہ اٹھائو گے-
    غرض اس قسم کے الفاظ اور قیاسات سے وہ مامور من اللہ کی تحقیر کرتے ہیں اور جو کچھ اپنے اندر رکھتے ہیں وہی کہتے ہیں- مگر انبیائ‘ مرسل‘ مامور اور اصحاب شریعت کے سچے خلفاء اور جانشین انہیں کیا جواب دیتے ہیں- ان نحن الا بشر مثلکم ) ابراھیم:۱۲( اور کہتے ہیں- و لٰکن اللہ یمن علیٰ من یشاء من عبادہ )ابراھیم:۱۲( بیشک ہم تمہاری طرح بشر ہیں- تمہاری طرح کھاتے پیتے اور حوائج بشری کے محتاج ہیں- مگر یہ خدا کا احسان ہوا ہے کہ اس نے ہمیں اپنے مکالمات کا شرف بخشا ہے- اس نے ہمیں منتخب کیا ہے اور ہم میں ایک جذب مقناطیس رکھا ہے جس سے دوسرے کھچے چلے آتے ہیں- خدا کی توحید کا پانی جو مایہ حیات ابدی ہے وہ ہمارے ہاں سے ملتا ہے اور لوگ خوش ہوتے ہیں- مگر بدکار انسان جس طرح اپنی بدیوں‘ جہالتوں‘ شہوات و جذبات کا اسیر و پابند ہوتا ہے دوسروں کو بھی اسی پر قیاس کرتا ہے اور ایک نامرادی پر دوسری نامرادی لاتا ہے- اور کہتے ہیں کہ یرید ان یتفضل علیکم )المومنون:۲۵( یہ چاہتے ہیں کہ تم پر فضلیت
    حاصل کر لیں- دکان چل جاوے- اپنے اور اپنی اولاد کے لئے کچھ جمع کر لیں- یہ ان کی اپنی ہی ہوائے نفس ہوتی ہے جس میں دوسروں کو اسی طرح ملوث اور ناپاک خیال کرتے ہیں جیسے خود ہوتے ہیں-
    یہ خطرناک مرض ہے جس کو شریعت میں سوء ظن کہتے ہیں- بہت سے لوگ اس میں مبتلا ہیں اور ہزاروں قسم کی نکتہ چینیوں سے دوسروں کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں اور اسے حقیر بنانے کی فکر میں ہیں- مگر یاد رکھو و ان عاقبتم )النحل:۱۲۷-( عقاب کے معنے جو پیچھے آتا ہے- انسان جو بلاوجہ دوسرے کو بدنام کرتا ہے اور سوء ظن سے کام لے کر اس کی تحقیر کرتا ہے اگر وہ شخص اس بدی میں مبتلا نہیں جس بدی کا سوئ|ظن والے نے اسے متہم ٹھہرایا ہے تو یہ یقینی بات ہے کہ سوء ظن کرنے والا ہرگز نہیں مرے گا جب تک خود اس بدی میں گرفتار نہ ہو لے- پھر بتائو کہ سوئ|ظن سے کوئی کیا فائدہ اٹھا سکتا ہے- مت سمجھو کہ نمازیں پڑھتے ہو- عجیب عجیب خوابیں تم کو آتی ہیں یا تمہیں الہام ہوتے ہیں- میں کہتا ہوں کہ اگر یہ سوئ|ظن کا مرض تمہارے ساتھ ہے تو یہ آیات تم پر حجت ہو کر تمہارے ابتلا کا موجب ہیں- اس لئے ہر وقت ڈرتے رہو اور اپنے اندر کا محاسبہ کر کے استغفار اور حفاظت الٰہی طلب کرو-
    میں پھر کہتا ہوں کہ آیات اللہ جن کے باعث کسی کو رفعت شان کا مرتبہ عطا ہوتا ہے‘ ان پر تمہیں اطلاع نہیں وہ الگ رتبہ رکھتی ہیں- مگر وہ چیزیں جن سے خود رائی‘ خود پسندی‘ خود غرضی‘ تحقیر‘ بدظنی اور خطرناک بدظنی پیدا ہوتی ہے وہ انسان کو ہلاک کرنے والی ہیں- ایک ایسے انسان کا قصہ قرآن میں ہے جس نے آیات اللہ دیکھے مگر اس کی نسبت ارشاد ہوتا ہے- و لوشئنا لرفعنٰہ بھا و لٰکنہ اخلد الی الارض )الاعراف:۱۷۷( - اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا- ایاکم و الظن فان الظن اکذب الحدیث )بخاری کتاب الوصایا( بدگمانیوں سے اپنے آپ کو بچائو‘ ورنہ نہایت ہی خطرناک جھوٹ میں مبتلا ہو کر قرب الٰہی سے محروم ہو جائو گے-
    یاد رکھو حسن ظن والے کو کبھی نقصان نہیں پہنچتا- مگر بدظنی کرنے والا ہمیشہ خسارہ میں رہتا ہے-
    غرض پہلا مرحلہ جو انبیاء علیہم السلام کے مخالفوں اور ان کی ذریت اور نوابوں کو پیش آیا‘ وہ یہ تھا کہ اپنے آپ پر قیاس کیا- پھر یہ بدظنی کی کہ یرید ان یتفضل علیکم تم پر فضیلت چاہتا ہے- پس اس پہلی اینٹ پر جوٹیڑھی رکھی جاتی ہے جو دیوار اس پر بنا لی جاوے خواہ وہ کتنی ہی لمبی اور اونچی ہو کبھی مستقیم نہیں ہو سکتی اور وہ آخر گرے گی اور نیچے کے نقطہ پر پہنچے گی- سوء ظن کرنے والا نہ صرف اپنی جان پر ظلم کرتا ہے بلکہ اس کا اثر اس کی اولاد پر‘ اعقاب پر ہوتا ہے اور وہ ان پر مصیبت کے پہاڑ گراتا ہے جن کے نیچے ہمیشہ راستبازوں کے مخالفوں کا سر کچلا گیا ہے- میں بار بار کہتا ہوں کہ یہ سوئ|ظن خطرناک بلا ہے جو اپنے غلط قیاس سے شروع ہوتا ہے- پھر غلط نتائج نکال کر قوانین کلیہ تجویز کرتا ہے اور اس پر غلط ثمرات مترتب ہوتے ہیں اور آخر قوم نوح علیہ السلام کی طرح ہلاک ہو جاتا ہے- پھر اس سوئ|ظن سے تیسرا خیال اور غلط نتیجہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ لو شاء اللہ لانزل ملٰئکۃ )المومنون:۲۵( اگر اس کو قرب الٰہی حاصل تھا‘ اگر یہ واقعی خدا کی طرف سے آیا تھا تو پھر کیوں خدا نے ملائکہ کو نہ بھیج دیا جو مخلوق کے دلوں کو کھینچ کر اس کی طرف متوجہ کر دیتے اور ان کو بھی مکالمات الہیٰہ سے مشرف کر کے یقین دلا دیتے؟ اس وقت بھی بہت سے لوگ ایسے موجود ہیں- میں اس نتیجہ پر ان خطوط کو پڑھ کر پہنچا ہوں جو کثرت سے میرے پاس آتے ہیں جن میں لکھا ہوا ہوتا ہے کہ کیا وجہ ہے‘ ہم نے بہت دعائیں کیں‘ توجہ کی اور کوئی ایسا رویا یا مکالمہ نہیں ہوا- پس ہم کیونکر جانیں کہ فلاں شخص اپنے اس دعویٰ الہام میں سچا ہے؟ یہ ایک خظرناک غلطی ہے جس میں دنیا کا ایک بڑا حصہ ہمیشہ مبتلا رہا ہے- حالانکہ انہوں نے کبھی بھی اپنے اعمال اور افعال پر نگاہ نہیں کی اور کبھی موازنہ نہیں کیا کہ قرب|الٰہی کے کیا وسائل ہیں اور ان کے اختیار کرنے میں کہاں تک سچی محنت اور کوشش سے کام لیا ہے؟
    وہ کہتے ہیں کہ اگر مشیت حق میں یہ بات ہوتی تو وہ ملائکہ بھیجتا- یہ مثال ان لوگوں کی طرح ہے جیسے کوئی چھوٹاسا زمیندار جس کے پاس دو چار گھمائوں اراضی ہو اس کو نمبردار کہے کہ محاصل ادا کرو اور وہ کہہ دے کہ تو میرے جیسا ہی ایک زمیندار ہے‘ تجھ کو مجھ پر کیا فضیلت ہے؟ صرف اپنی عظمت اور شیخی جتانے کو محاصل مانگتا ہے اور ہمارا روپیہ مارنا چاہتا ہے- اگر کوئی بادشاہ ہوتا تو وہ خود آ کر لیتا- وہ آپ کیوں نہیں آیا؟ مگر لقد استکبروا فی انفسھم و عتو عتواً کبیراً )الفرقان:۲۲( کیا بڑا بول بولا- نادان زمیندار بادشاہ کو طلب کرتا ہے- اسے معلوم نہیں کہ بادشاہ تو رہا ایک طرف اگر ایک معمولی سا چپڑاسی بھی آ گیا تو وہ مار مار کر سر گنجا کر دے گا اور محاصل لے لے گا- اسی طرح ماموروں کے مخالف ایسے ہی اعتراض کیا کرتے ہیں- لیکن جب ملائکہ کا نزول ہو جاتا ہے پھر ان پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں جو انہیں یا تو چکناچور کر دیتے ہیں اور یا وہ ذلیل و خوار حالت میں رہ جاتے ہیں اور یا منافقانہ رنگ میں شریک ہو جاتے ہیں-
    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تین قسم کے لوگ ہوئے تھے- ایک وہ جو سابق اول من المہاجرین تھے اور دوسرے وہ جو فتح کے بعد ملے- اور تیسرے اس وقت جو رایت|الناس یدخلون فی دین اللہ افواجاً )النصر:۳( کے مصداق تھے- اسی طرح جو لوگ عظمت|وجبروت الٰہی کو پہلے نہیں دیکھ سکتے آخر ان کو داخل ہونا پڑتا ہے اور اپنی بودی طبیعت سے اپنے سے زبردست کے سامنے مامورمن|اللہ کو ماننا پڑتا ہے اور بالآخر یعطوا الجزیۃ عن ید و ھم صاغرون )التوبۃ:۲۹( کے مصداق ہو کر رہنا پڑتا ہے-
    پھر اس سے ایک اور گندہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ جب ملائکہ بھی نہیں آتے تو ہمیں بھی الہام نہیں ہوتا‘ کشف نہیں ہوتا- اور یہ دوکاندار بھی نہ سہی مگر یہ بھی تو دیکھیں کہ کیا ہمارے پیشوایان مذہب نے اس کو مان لیا ہے؟ وہ لوگ چونکہ اپنے نفس کے غلام اور اپنے جذبات کے تابع فرمان ہوتے ہیں اس لئے پھر کہہ دیتے ہیں کہ ما سمعنا بھٰذا فی اٰبائنا الاولین )القﷺ:۳۷( ہم نے یہ باتیں جو یہ بیان کرتا ہے اپنے آباء واجداد سے تو کبھی بھی نہیں سنی ہیں- جب کوئی مامور من اللہ آتا ہے تو نادان بدقسمتی سے یہ اعتراض بھی ضرور کرتے ہیں کہ یہ تو نئی نئی بدعتیں نکالتا ہے اور ایسی تعلیم دیتا ہے جس کا ذکر بھی ہم نے اپنے بزرگوں سے نہیں سنا- اس وقت بھی جب خدا کی طرف سے ایک مامور ہو کر آیا اور اس نے سنت|انبیاء کے موافق ان بدعتوں اور مشرکانہ تعلیموں کو دور کرنا چاہا جو قوم میں بعد زمانہ کے باعث پھیل گئی تھیں تو ناعاقبت اندیش‘ ناقدرشناس قوم نے بجائے اس کے کہ اس کی آواز پر آگے بڑھ کر لبیک کہتی اس کی مخالفت شروع کی اور نوح کی قوم کی طرح اس کی باتوں کو سن کر یہی کہا ما سمعنا بھٰذا فی اٰبائنا الاولین یہ سلف کے خلاف ہے- یہ اجماع امت کے مخالف ہے- فلاں بزرگ کے اقوال میں کہاں لکھا ہے؟ فلاں مصنف کے مخالف ہے وغیرہ وغیرہ- یہی صدائیں ہمارے کان میں آ رہی ہیں- ورنہ اگر غور کیا جاتا اور ذرا ٹھنڈے دل سے ان باتوں پر توجہ کی جاتی جو خدا کا مامور لے کر آیا تھا اور سنن|انبیاء کے موافق اس کی تعلیم کو دیکھا جاتا تو آسانی کے ساتھ یہ عقدہ حل ہو سکتا تھا- مگر افسوس! ان نادانوں نے جلدبازی سے وہی کہا جو پہلے معترضوں اور مخالفوں نے کہا- میں سچ کہتا ہوں کہ قرآن شریف میں انبیائ|ورسل کے مخالفوں کے اعتراضوں کو پڑھ کر مجھے بڑی عبرت ہوئی ہے اور خدا کے فضل سے میں اس مقام پر پہنچ گیا ہوں کہ میرے سامنے اب کسی نشان یا اعجاز کی ضرورت میرے ماننے کے لئے نہیں رہی- اس لئے تمہیں میں یہ اصول سمجھاتا ہوں کہ مامور من اللہ جب آتے ہیں تو کیا لے کر آتے ہیں اور ان پر کس قسم کے اعتراض کئے جاتے ہیں؟ میں نے بارہا معترضوں اور مخالفوں سے اب بھی پوچھا ہے کہ کوئی ایسا اعتراض کریں جو کسی نبی پر نہ کیا گیا ہو- مگر میں سچ کہتا ہوں کہ کوئی نیا اعتراض پیش نہیں کرتے- میں تعجب کرتا ہوں کہ آج جو لوگ حضرت اقدس کی مخالفت میں اٹھے ہیں ان کے معتقدات کا تو یہ حال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت کی اصل غرض اور قرآن شریف کی تعلیم کا خاص منشاء دنیا میں سچی توحید کا قائم کرنا تھا مگر لوگوں کو پوچھو تو وہ مسیح کو خالق مانتے ہیں کخلق اللہ- شافی مانتے ہیں- عالم الغیب یقین کرتے ہیں- محیی اسے مانتے ہیں- حلال اور حرام ٹھہرانے والا اسے سمجھتے ہیں- قدوس وہ ہے- ساری دنیا کے راستبازوں حتیٰ کہ اصفی الاصفیا‘ سرور انبیاء صلی اللہ علیہ و سلم تک کو مس شیطان سے بری نہیں سمجھتے مگر مسیح کو بری کرتے ہیں- مسیح خلا میں ہے‘ زندہ ہے مگر باقی سارے نبی فوت ہو چکے- اس کے آئندہ مرنے کے دلائل بھی بودے‘ کمزور اور ایسے الفاظ پر مشتمل ہیں کہ ان پر بہت سے اعتراض ہو سکتے ہیں- غرض وہ کونسی صفت خدا میں ہے جو مسیح میں نہیں مانتے- اس پر بھی جو ایک خدا کے ماننے کی تعلیم دیتا ہے اور خدا کی عظمت و جلال کو اسی طرح قائم کرنا چاہتا ہے جیسے انبیاء کی فطرت میں ہوتا ہے‘ اس پر اعتراض کیا جاتا ہے اور اس کی تعلیم کو کہا جاتا ہے کہ سلف کے اقوال میں اس کے آثار نہیں پائے جاتے- افسوس! یہ لوگ اگر انبیاء علیہم السلام کی مشترکہ تعلیم کو پڑھتے اور قرآن شریف میں ماموروں کے قﷺ اور ان کے مخالفوں کے اعتراضوں اور حالات پر غور کرتے تو انہیں صاف سمجھ میں آ جاتا کہ یہ وہی پرانی تعلیم ہے جو نوح‘ ابراہیم‘ موسیٰ‘ عیسیٰ علیہم السلام اور سب سے آخر خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم لے کر آیا تھا- اگر تعلیم پر غور نہ کر سکتے تھے تو ان اپنے اعتراضوں ہی کو دیکھتے کہ کیا یہ وہی تو نہیں جو اس سے پہلے ہر زمانہ میں ہر مامور پر کئے گئے ہیں- مگر افسوس تو یہ ہے کہ یہ قرآن شریف کو پڑھتے ہی نہیں-
    غرض یہ بھی ایک مرحلہ ہوتا ہے جو مامور من اللہ اور اس کے مخالفوں کو پیش آتا ہے اور اس زمانہ میں بھی پیش آیا- پھر یہ لوگ گھبرا اٹھتے ہیں اور لوگوں کو دین الٰہی کی طرف رجوع کرتا ہوا پاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ان کی مخالفتیں اور عداوتیں مامور کے حوصلے اور ہمت کو پست نہیں کر سکتی ہیں اور وہ ہر آئے دن بڑھ بڑھ کر اپنی تبلیغ کرتا ہے اور نہیں تھکتا اور درماندہ نہیں ہوتا اور اپنی کامیابی اور مخالفوں کی ہلاکت کی پیشگوئیاں کرتا ہے- جیسے نوح علیہ السلام نے کہا کہ تم غرق ہو جائو گے اور خدا کے حکم سے کشتی بنانے لگے تو وہ اس پر ہنسی کرتے تھے- نوحؑ نے کیا کہا؟ ان تسخروا منا فانا نسخر منکم کما تسخرون ) ھود:۳۹( اگر تم ہنسی کرتے ہو تو ہم بھی ہنسی کرتے ہیں اور تمہیں انجام کا پتہ لگ جاوے گا کہ گندے مقابلہ کا کیا نتیجہ ہوا- اسی طرح پر فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کی تبلیغ سن کر کہا قومھما لنا عٰبدون )المومنون:۴۸( ان دونوں کی قوم تو ہماری غلام رہی ہے- ھو مھین و لایکاد یبین )الزخرف:۵۳( یہ کمینہ ہے اور بولنے کی اس کو مقدرت نہیں- اور ایسا کہا کہ اگر خدا کی طرف سے آیا ہے تو کیوں اس کو سونے کے کڑے اور خلعت اپنی سرکار سے نہیں ملا- غرض یہ لوگ اسی قسم کے اعتراض کرتے جاتے ہیں- اور جب اس کی انتھک کوششوں اور مساعی کو دیکھتے ہیں اور اپنے اعتراضوں کا اس کی ہمت اور عزم پر کوئی اثر نہیں پاتے بلکہ قوم کا رجوع دیکھتے ہیں تو پھر کہتے ہیں ان ھو الا رجل بہ جنۃ )المومنون:۲۶( میاں یہ وہی آدمی ہے- انسان جس قسم کی دھت لگاتا ہے اسی قسم کی رئویا بھی ان کو ہو جاتی ہے- اس قسم کے خیالات کے اظہار سے وہ یہ کرنا چاہتے ہیں کہ تا خدا کی پاک اور سچی وحی کو ملتبس کریں- کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ جیسے رمال‘ احمق‘ جفار‘ گنڈے والے‘ فال والے‘ ایک سچائی کے ساتھ جھوٹ ملاتے ہیں اسی طرح اس سچائی کا بھی خون کریں- اس لئے کہہ دیتے ہیں کہ یہ دھت کی باتیں ہیں- یہ وعدے اور یہ پیشگوئیاں اپنے ہی خیالات کا عکس ہیں- دوستوں کے لئے بشارتیں اور اعداء کے لئے انذار- یہ جنون کا رنگ رکھتے ہیں- عیسائی اور آریہ اب تک اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن شریف میں اپنے مطلب کیوحی بنا لیتے ہیں- اور دو ر کیوں جائیں اس وقت کے کم عقل مخالف بھی یہی کہتے ہیں- مگر ایک عجیب بات میرے دل میں کھٹکتی ہے کہ وہ کافر جو نوح علیہ السلام کے مقابل میں تھے انہوں نے یہ کہا فتربصوا بہ حتیٰ حین )المومنون:۲۶( چند روز اور انتظار کر لو- اگر یہ جھوٹا اور کاذب مفتری ہے تو خود ہی ہلاک ہو جاوے گا- مگر ہمارے وقت کے ناعاقبت اندیش اندھوں اور نادانوں کو اتنی بھی خبر نہیں اور ان میں اتنی بھی صلاحیت اور صبر نہیں جو نوحؑ کے مخالفوں میں تھا- وہ کہتے ہیں فتربصوا بہ حتیٰ حین- ]txet [tag اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خوب سمجھتے تھے کہ کاذب کا انجام اچھا نہیں ہوتا- اس کی گردن پر جھوٹ سوار ہوتا ہے- خود اس کا جھوٹ ہی اس کی ہلاکت کے لئے کافی ہوتا ہے- مگر وہ لوگ کیسے کم عقل اور نادان ہیں جو اس سچائی سے بھی دور جاپڑے ہیں اور اس معیار پر صادق اور کاذب کی شناخت نہیں کر سکے- میرے سامنے بعض نادانوں نے یہ عذر پیش کیا ہے کہ مفتری کے لئے مہلت مل جاتی ہے- قطع نظر اس بات کے کہ ان کے ایسے بیہودہ دعویٰ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی صداقت اور آپ کی نبوت پر کس قدر حرف آتا ہے‘ قطع نظر اس کے ان نادانوں کو اتنا معلوم نہیں ہوتا کہ قرآن کریم کی پاک تعلیم پر اس قسم کے اعتراف سے کیا حرف آتا ہے اور کیونکر انبیاء و رسل کے پاک سلسلہ پر سے امن اٹھ جاتا ہے؟ پوچھتا ہوں کہ کوئی ہمیں بتائے کہ آدمؑ سے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تک اور آپﷺ~ سے لے کر اس وقت تک کیا کوئی ایسا مفتری گذرا ہے جس نے یہ دعویٰ کیا ہو کہ وہ خدا کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہے- اور وہ کلام جس کی بابت اس نے دعویٰکیا ہو کہ خدا کا کلام ہے‘ اس نے شائع کیا ہو اور پھر اسے مہلت ملی ہو- قرآن شریف میں ایسے مفتری کا تذکرہ یا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاک اقوال میں پاک لوگوں کے بیان میں اگر ہوا ہے تو دکھائو کہ اس نے تقول علی اللہ کیا ہو اور بچ گیا ہو- میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ وہ ایک مفتری بھی پیش نہ کر سکیں گے- مہلت کا زمانہ میرے نزدیک وہ ہے جبکہ مکہ میں اللہ تعالیٰ کا کلام نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر یوں نازل ہوا- لو تقول علینا بعض الاقاویل- لاخذنا منہ بالیمین- ثم لقطعنا منہ الوتین- فما منکم من احد عنہ حاجزین )الحاقہ:۴۵ تا۴۸( اگر یہ رسول کچھ اپنی طرف سے بنا لیتا اور کہتا کہ فلاں بات خدا نے میرے پر وحی کی ہے حالانکہ وہ اس کا اپنا کلام ہوتانہ خدا کا تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور پھر اس کی رگ جان کاٹ دیتے اور کوئی تم میں سے اس کو بچا نہ سکتا- کیسا صاف اور سچا معیار ہے کہ مفتری کی سزا ہلاکت ہے اور اسے کوئی مہلت نہیں دی جاتی- یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی سچائی کی کیسی روشن دلیل اور ہر صادق مامور من اللہ کی شناخت کا کیسا خطانہ کرنے والا معیار ہے- مگر اس پر بھی نادان کہتے ہیں کہ نہیں- مفتری کو مہلت مل جاتی ہے-
    یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی- اب کیا مشکل ہے جو ہم اس زمانہ کو جو مفتری کے ہلاک ہونے اور راستباز کے راستباز ٹھہرائے جانے پر بطور معیار ہو سکتا ہے سمجھ لیں
    اس آیت کے نزول کا وقت صاف بتاتا ہے مگر اندھوں کو کون دکھا سکے- نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جبکہ جامع جمیع کمالات تھے آپ کی امت ان تمام برکات اور فیوض کی جامع ہے جو پہلی امتوں پر انفرادی طور پر ہوئے- اور آپ کے اعداء ان تمام خسرانوں کے جامع جو پہلے نبیوں کے مخالفوں کے حصہ میں آئے- یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب سورۃ الشعراء میں ہر نبی کا قصہ بیان فرماتا ہے تو اس کے بعد فرماتا ہے ان ربک لھو العزیز الرحیم )الشعرائ:۶۹( ۱~}~
    غرض یہ آیت لوتقول والی ہر ایک مفتری اور صادق مامور من اللہ میں امتیاز کرنے والی اور صادق کی صداقت کا کامل معیار ہے- لیکن اگر کوئی نادان یہ کہے کہ اس سے تاریخ کا پتہ کیونکر لگائیں اور میعادمقررہ کیونکر معلوم ہو؟ میں کہتا ہوں ان امور کے لئے اسی قدر کافی ہے کہ یہ آیت مکی ہے- اگر اس پر بھی کوئی یہ کہے کہ مکی اور مدنی آیتوں کا تفرقہ مشکلات میں ڈالتا ہے‘ اور اصطلاحات میں اب تک بھی اختلافات چلا آتا ہے تو میں کہتا ہوں اس سے بھی ایک آسان تر راہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تم اس آیت کو آخری آیت ہی تجویز کر لو- پھر بھی تم کو ماننا پڑے گا کہ تئیس برس تک خیر الرسل صلی اللہ علیہ و سلم کی صداقت‘ عظمت و جبروت‘ عزت‘ وجاہت‘ تائید و نصرت‘ دشمن کے خسران کے لئے ایک فیصلہ کن امر ہے- اب بتائو کہ کیا حجت باقی رہی؟ مکی مدنی کا فیصلہ نہ کرو- اصطلاحات کے تفرقہ میں نہ پڑو- اس تئیس سال کی عظیم الشان کامیابیوں کا کیا جواب دو گے- پس بہر حال ماننا پڑے گا کہ اس قدر عرصہ دراز تک جو چوتھائی صدی تک پہنچتا ہے اللہ تعالیٰ مفتری کو مہلت نہیں دیتا- ایک راستباز کی صداقت کا پتہ اس کے چہرہ سے‘ اس کے چال چلن سے‘ اس کی تعلیم سے‘ ان اعتراضوں سے‘ جو اس پر کئے جاتے ہیں‘ اس کے ملنے والوں سے لگ سکتا ہے- لیکن اگر کوئی نادان ان امور سے پتہ نہ لگا سکے تو آخر تئیس سال کی کافی مہلت اور اس کی تائیدیں اور نصرتیں‘ اس کی سچائی پر مہر کر دیتی ہیں- میں جب اپنے زمانہ کے راستباز کے مخالفوں اور حضرت نوح علیہ السلام کے مخالفوں کے حالات پر غور کرتا ہوں تو مجھے اس زمانہ کے مخالفوں کی حالت پر بہت رحم آتا ہے کہ یہ ان سے بھی جلد بازی اور شتاب کاری میں آگے بڑھے ہوئے ہیں- وہ نوح علیہ السلام کی تبلیغ اور دعوت کو سن کر اعتراض تو کرتے ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیتے ہیں فتربصوا بہ حتیٰ حین )المومنون:۲۶( چندے اور انتظار کر لو- مفتری ہلاک ہو جاتا ہے- اس کا جھوٹ خود اس کا فیصلہ کر دے گا- مگر یہ شتاب کار نادان اتنا بھی نہیں کہہ سکتے- العجب! ثم العجب!!
    غرض جب ان شریروں کی شرارت اور تکذیب حد سے گزر گئی تو چونکہ مامور من اللہ بھی انسان ہی ہوتا ہے‘ اعداء کی تکذیب اور نہ صرف تکذیب بلکہ مختلف قسم کی تکالیف خود اسے اور اس کے احباب کو دی جاتی ہیں تو وہ بے اختیار ہو کر لو کان الوباء المتبر کہہ اٹھتا ہے- ایسی حالت میں حضرت نوح علیہ السلام نے بھی کہا رب انصرنی بما کذبون )المومنون:۲۷( ]ttex [tag اے میرے مولیٰ! میری مدد کر- میری ایسی تکذیب کی گئی ہے جس کا تو عالم ہے- جب معاملہ اس حد تک پہنچا تو خدا کی وحی یوں ہوتی ہے- ان اصنع الفلک باعیننا و وحینا )المومنون:۲۸( ہماری وحی کے موافق ہماری نظر کے نیچے ایک کشتی تیار کرو اور اپنے ساتھ والوں کو بھی ساتھ لے لو تو ہم تم کو اور تمہارے ساتھ والوں کو بچا لیں گے اور شریر مخالفوں کو غرق کر دیں گے- چنانچہ حضرت نوحؑ نے ایک کشتی تیار کی اور اپنی جماعت کو لے کر اس میں سوار ہوئے- خدا کا غضب پانی کی صورت میں نمودار ہوا- وہی پانی حضرت نوح کی کشتی کو اٹھانے والا ٹھہرا اور اسی نے طوفان کی صورت اختیار کر کے مخالفوں کو تباہ کر دیا اور نتیجہ نے حضرت نوح علیہ السلام کی سچائی پر مہر کر دی- غرض یہ آسان پہچان ہے راستباز کی-
    تمہیں چونکہ اور بھی بہت سے کام ہوں گے میں خطبہ کو ختم کرنا چاہتا ہوں اور پھر مختصر سی بات کہہ کر آگاہ کرتا ہوں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو اپنی خاص حفاظتوں میں لاتا ہے‘ ارضی بیماریوں اور دکھوں سے بچاتا ہے‘ آسمانی مشکلات سے بھی محفوظ رکھتا ہے اور اس کی نصرت فرماتا ہے اسی طرح وہ لوگ جو سچے طور سے اس کا ساتھ دیتے ہیں یا یوں کہو کہ ان کے رنگ میں رنگین ہو کر وہی بن جاتے ہیں‘ سچا تقویٰ اور حقیقی ایمان حاصل کرتے ہیں اور مامور کا ادھورا نمونہ بھی بن جاتے ہیں تو مقتدا کی عظمت و ترقی اور نصرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ ان کو بھی شریک کر لیتا ہے-
    جو لوگ حضرت اقدسؑ کے رات کے وعظ میں شریک تھے‘ ان کو معلوم ہو گا اور جو بدقسمتی سے نہیں پہنچے ان کو میں ایک جملہ میں اس کا مغز اور خلاصہ بتا دیتا ہوں کہ انسان سچا متقی‘ سچا مومن اور خدا کے حضور راستباز تب ٹھہرتا ہے جب وہ دین کو دنیا پر مقدم کر لے- یہ چھوٹی بات نہیں- کہنے کو بہت مختصر مگر حقیقت میں تمام نیکیوں کی جامع اور تمام اعمال حسنہ پر مشتمل ہے-
    یاد رکھو کبھی کسی گناہ کو چھوٹا اور حقیر نہ سمجھو- چھوٹے سے چھوٹے گناہ سے انسان ایک خظرناک اور گھیر لینے والے گناہ میں گرفتار ہو جاتا ہے- تمہیں معلوم نہیں یہ پہاڑ چھوٹے چھوٹے ذرات سے بنے ہیں- یہ عظیم الشان بڑ کا درخت ایک بہت ہی چھوٹے سے بیج سے بنا ہے- بڑے بڑے اجسام ان ہی باریک ایٹمز و ذرات سے بنے ہیں جو نظر بھی نہیں آتے- پھر گناہ کے بیج کو کیوں حقیر سمجھتے ہو؟ یاد رکھو! چھوٹی چھوٹی بدیاں جمع ہو کر آخر پیس ڈالتی ہیں- انسان جب چھوٹا سا گناہ کرتا ہے تو اس کے بعد اور گناہ کرتا ہے- یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی حدبندی کوتوڑ کر نکل جاتا ہے جس کا نام کبیرہ ہوتا ہے اور پھر راستبازوں کے قتل کی جرات کر بیٹھتا ہے-
    اسی طرح پر ادنیٰ سی نیکی اگر کرو تو اس سے ایک نور معرفت پیدا ہوتا ہے- نیکی اور بدی کی شناخت کا انحصار ہے قرآن شریف کے علم پر- اور وہ منحصر ہے سچے تقویٰ اور سعی پر- چنانچہ فرمایا و اتقوا اللہ و یعلمکم اللہ )البقرہ:۲۸۳-( اور فرمایا و الذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا )العنکبوت:۷۰-( جب اللہ تعالیٰ میں ہو کر انسان مجاہدہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی راہیں اس پر کھول دیتا ہے- پھر سچے علوم سے معرفت‘ نیکی اور بدی کی پیدا ہوتی ہے اور خدا کی عظمت و جبروت کا علم ہوتا ہے اور اس سے سچی خشیت پیدا ہوتی ہے- انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء )فاطر:۲۹(- یہ خشیت بدیوں سے محفوظ رہنے کا ایک باعث ہوتی ہے اور انسان کو متقی بناتی ہے اور تقویٰ سے محبت الٰہی میں ترقی ہوتی ہے- پس خشیت سے گناہ سے بچے اور محبت سے نیکیوں میں ترقی کرے‘ تب بیڑا پار ہوتا ہے اور مامور من|اللہ کے ساتھ ہو کر اللہ تعالیٰ کے غضبوں سے جو زمین سے یا آسمان سے نکلتے ہیں محفوظ ہو جاتا ہے-
    یہ بات کہ دین کو ہم نے دنیا پر مقدم کیا ہے یا نہیں ہم کو واجب ہے کہ ہم اپنے تمام معاملات میں‘ دین کے ہوں یا دنیا کے متعلق ہوں یا مال کے متعلق‘ ہر وقت سوچتے اور پرکھتے رہیں اور اپنا محاسبہ آخرت کے محاسبہ سے پہلے آپ کریں- اور جب خدا کی راہ میں قدم اٹھایا جاتا ہے تو معرفت کا نور ملتا ہے- پس کوشش کرو‘ استغفار کرو اور جس درخت کے ساتھ تم نے اپنا آپ پیوند کیا ہے اس کے رنگ میں رنگین ہو کر قدم اٹھائو- اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا- ۲~}~
    ۱~}~ ) الحکم جلد۶ نمبر۲ ۔۔۔ ۱۷ / جنوری ۱۹۰۲ء صفحہ ۸ تا ۱۰(
    و ) الحکم جلد۶ نمبر۳ ۔۔۔ ۲۴ / جنوری ۱۹۰۲ء صفحہ ۵ ‘ ۶ (
    ۲~}~ ) الحکم جلد۶ نمبر۴ ۔۔۔ ۳۱ / جنوری ۱۹۰۲ء صفحہ ۶ ‘ ۷ (
    ‏KH1.13
    خطبات|نور خطبات|نور
    ۳۱ / جنوری ۱۹۰۲ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    خطبہ جمعہ
    اذا جاء نصر اللہ و الفتح- و رایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجاً- فسبح بحمد ربک و استغفرہ انہ کان تواباً- )النصر:۲ تا ۴(
    یہ ایک مختصر اور چھوٹی سی سورۃ قرآن شریف کے آخری حصہ میں ہے- مسلمانوں کے بچے علی|العموم نمازوں میں اسے پڑھتے ہیں- اس پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے اور اس کی جناب میں قدم صدق پیدا کرنے کے لئے اور اپنی عزت و آبرو کو دنیا و آخرت میں بڑھانے کے واسطے انسان کو مختلف اوقات میں مختلف موقعے ملتے ہیں- ایک وہ وقت ہوتا ہے کہ جب دنیا میں اندھیر ہوتا ہے اور ہر قسم کی غلطیاں اور غلط کاریاں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں- خدا کی ذات پر شکوک‘ اسماء الٰہیہ میں شبہات‘ افعال اللہ سے بے اعتنائی اور مسابقت فی الخیرات میں غفلت پھیل جاتی ہے اور ساری دنیا پر غفلت کی تاریکی چھا جاتی ہے- اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا کوئی برگزیدہ بندہ اہل دنیا کو خواب|غفلت سے بیدار کرنے اور اپنے مولیٰ کی عظمت و جبروت دکھانے‘ اسماء الٰہیہ و افعال اللہ سے آگاہی بخشنے کے واسطے آتا ہے تو ایک کمزور انسان تو ساری دنیا کو دیکھتا ہے کہ کس رنگ میں رنگین اور کس دھن میں لگی ہوئی ہے اور اس مامور کی طرف دیکھتا ہے کہ وہ سب سے الگ اور سب کے خلاف کہتا ہے- کل دنیا کے چال چلن پر اعتراض کرتا ہے- نہ کسی کے عقائد کی پروا کرتا ہے نہ اعمال کا لحاظ- صاف کہتا ہے کہ تم بے ایمان ہو اور نہ صرف تم بلکہ ظھر الفساد فی البر و البحر )الروم:۴۲( سارے دریائوں‘ جنگلوں‘ بیابانوں‘ پہاڑوں اور سمندروں اور جزائر‘ غرض ہر حصہ دنیا پر فساد مچا ہوا ہے- تمہارے عقائد صحیح نہیں- اعمال درست نہیں- علم بودے ہیں- اعمال ناپسند ہیں- قویٰ اللہ تعالیٰ سے دور ہو کر کمزور ہو چکے ہیں- کیوں؟ بما کسبت ایدی الناس )الروم:۴۲( ]txte [tagتمہاری اپنی ہی کرتوتوں سے- پھر کہتا ہے دیکھو میں ایک ہی شخص ہوں اور اس لئے آیا ہوں کہ لیذیقھم بعض الذی عملوا )الروم:۴۲( لوگوں کو ان کی بدکرتوتوں کا مزہ چکھا دیا جاوے- بہت سی مخلوق اس وقت ایسی ہوتی ہے کہ ان کے عدم اور وجود کو برابر سمجھتی ہے اور بہت سے ایسے ہوتے ہیں کہ بالکل غفلت ہی میں ہوتے ہیں- انھیں کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ کیا ہو رہا ہے؟ اور کچھ مقابلہ و انکار پر کھڑے ہو جاتے ہیں- اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ اپنی عظمت و جبروت دکھانا چاہتا ہے- وہ ان لوگوں کے مقابلہ میں جو مال|ودولت‘ کنبہ اور دوستوں کے لحاظ سے بہت ہی کمزور اور ضعیف ہوتے ہیں- بڑے بڑے رئوسا اور اہل تدبیر لوگوں کے مقابلہ میں ان کی کچھ ہستی ہی نہیں ہوتی- یہ اس مامور کے ساتھ ہو لیتے ہیں- ایسا کیوں ہوتا ہے؟ یعنی ضعفاء سب سے پہلے ماننے والے کیوں ہوتے ہیں؟ اس لیے کہ اگر وہ اہل دول مان لیں تو ممکن ہے خود ہی کہہ دیں کہ ہمارے ایمان لانے کا نتیجہ کیا ہوا؟ دولت کو دیکھتے ہیں‘ املاک پر نگاہ کرتے ہیں‘ اپنے اعوان و انصار کو دیکھتے ہیں تو ہر بات میں اپنے آپ کو کمال تک پہنچا ہوا دیکھتے ہیں اس لئے خدا کی عظمت|وجبروت اور ربوبیت کا ان کو علم نہیں آ سکتا- لیکن جب ان ضعفاء کو جو دنیوی اور مادی اسباب کے لحاظ سے تباہ ہونے کے قابل ہوں عظیم الشان انسان بنا دے اور ان رئوسا اور اہل دول کو ان کے سامنے تباہ اور ہلاک کر دے تو اس کی عظمت و جلال کی چمکار صاف نظر آتی ہے- غرض یہ سر ہوتا ہے کہ اول ضعفاء ہی ایمان لاتے ہیں-
    اس دبدھا کے وقت جبکہ ہر طرف سے شور مخالفت بلند ہوتا ہے خصوصاً بڑے لوگ سخت مخالفت پر اٹھے ہوئے ہوتے ہیں کچھ آدمی ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے چنلیتا ہے اور وہ اس راستبازکی اطاعت کو نجات کے لئے غنیمت اور مرنے کے بعد قرب الٰہیکا ذریعہ سمجھتے ہیں- اور بہت سے مخالفت کے لئے اٹھتے ہیں جو اپنی مخالفت کو انتہا تک پہنچاتے ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور مدد آ جاتی ہے اور زمین سے‘ آسمان سے‘ دائیں سے‘ بائیں سے‘ غرض ہر طرف سے نصرت آتی ہے اور ایک جماعت تیار ہونے لگتی ہے- اس وقت وہ لوگ جو بالکل غفلت میں ہوتے ہیں اور وہ بھی جو پہلے عدم ووجود مساوی سمجھتے ہیں آ آ کر شامل ہونے لگتے ہیں- وہ لوگ جو سب سے پہلے ضعف و ناتوانی اور مخالفت شدیدہ کی حالت میں آ کر شریک ہوتے ہیں ان کا نام سابقین اولین‘ مہاجرین اور انصار رکھا گیا- مگر ایسے فتوحات اور نصرتوں کے وقت جو آ کر شریک ہوئے ان کا نام ’’ناس‘‘ رکھا ہے-
    یاد رکھو جو پودا اللہ تعالیٰ لگاتا ہے اس کی حفاظت بھی فرماتا ہے یہاں تک کہ وہ دنیا کو اپنا پھل دینے لگتا ہے لیکن جو پودا احکم الحاکمین کے خلاف اس کے منشاء کے موافق نہ ہو اس کی خواہ کتنی ہی حفاظت کی جاوے وہ آخر خشک ہو کر تباہ ہو جاتا ہے اور ایندھن کی جگہ جلایا جاتا ہے- پس وہ لوگ بہت ہی خوش|قسمت ہیں جن کو عاقبت اندیشی کا فضل عطا کیا جاتا ہے-
    اس سورۃ شریفہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے انجام کو ظاہر کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فسبح بحمد ربک اللہ کی تسبیح کرو‘ اس کی ستائش اور حمد کرو اور اس سے حفاظت طلب کرو- استغفار یا حفاظت الٰہی طلب کرنا ایک عظیم الشان سر ہے- انسان کی عقل تمام ذرات عالم کی محیط نہیں ہو سکتی- اگر وہ موجودہ ضروریات کو سمجھ بھی لے تو آئندہ کے لئے کوئی فتویٰ نہیں دے سکتی- اس وقت ہم کپڑے پہنے کھڑے ہیں- لیکن اگر اللہ تعالیٰ ہی کی حفاظت اور فضل کے نیچے نہ ہوں اور محرقہ ہو جاوے تو یہ کپڑے جو اس وقت آرام دہ اور خوش آئند معلوم ہوتے ہیں ناگوار خاطر ہو کر موذی اور مخالف طبع ہو جاویں اور وبال جان سمجھ کر ان کو اتار دیا جاوے- پس انسان کے علم کی تو یہ حد اور غایت ہے- ایک وقت ایک چیز کو ضروری سمجھتا ہے اور دوسرے وقت اسے غیر ضروری قرار دیتا ہے- اگر اسے یہ علم ہو کہ سال کے بعد اسے کیا ضرورت ہو گی‘ مرنے کے بعد کیا ضرورتیں پیش آئیں گی تو البتہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ بہت کچھ انتظام کر لے لیکن جب کہ قدم قدم پر اپنی لاعلمی کے باعث ٹھوکریں کھاتا ہے پھر حفاظت الٰہی کی ضرورت نہ سمجھنا کیسی نادانی اور حماقت ہے- یہ صرف علم ہی تک بات محدود نہیں رہتی- دوسرا مرحلہ تصرفات عالم کا ہے وہ اس کو مطلق نہیں- ایک ذرہ پر اسے کوئی تصرف و اختیار نہیں- غرض ایک بے علمی اور بے بسی تو ساتھ تھی ہی پھر بدعملیاں ظلمت کا موجب ہو جاتی ہیں-
    انسان جب اولاً گناہ کرتا ہے تو ابتدا میں دل پر غین ہوتا ہے پھر وہ امر بڑھ جاتا ہے اور رین کہلاتا ہے- اس کے بعد مہر لگ جاتی ہے- یہ چھاپا مضبوط ہو جاتا ہے- قفل لگ جاتاہے- پھریہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ بدی سے پیار اور نیکی سے نفرت کرتا ہے- خیر کی تحریک ہی قلب سے اٹھ جاتی ہے- اس کا ظہور ایسا ہوتا ہے کہ خیر و برکت والی باتوں سے نفرت ہو جاتی ہے- یا تو اس کے حضور آنے ہی کا موقع نہیں ملتا یا موقع تو ملتا ہے لیکن انتفاع کی توفیق نہیں پاتا- رفتہ رفتہ اللہ سے بعد‘ ملائکہ سے دوری اور پھر وہ لوگ جن کا تعلق ملائکہ سے ہوتا ہے ان سے بعد ہو کر کٹ جاتا ہے- اس لئے ہر ایک عقلمند کافرض ہے کہ وہ توبہ کرے اور غور کرے- ہم نے بہت سے مریض ایسے دیکھے ہیں جن کو میٹھا تلخ معلوم دیتا ہے اور تلخ چیزیں لذیذ معلوم ہوتی ہیں- کسی نے مجھ سے ملذذ نسخہ مانگا- میں نے اسے مصبر- کچلہ- شہدملا کر دیا- اس نے کہا کہ بڑا ملذذ ہے- یہ نتیجہ ہوتا ہے انسان کے معاصی کا- ان کی بصر اور بصیرت جاتی رہتی ہے اور ان کی آنکھیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کے چہروں پر نگاہ کر کے اہل بصرانہیں اسی طرح دیکھتے ہیں جیسے سانپ ‘ بندر‘ خنزیر کو دیکھتے ہیں-
    اس لئے مومن کو چاہئے کہ خدا کی حمد اور تسبیح کرتا رہے اور اس سے حفاظت طلب کرتا رہے- جیسے ایمان ہر نیکی کے مجموعہ کا نام ہے اسی طرح ہر برائی کا مجموعہ کفر کہلاتا ہے- ان کے ادنیٰ اور اوسط اور اعلیٰ تین درجے ہیں- پس امید و بیم‘ رنج و راحت‘ عسر و یسر میں قدم آگے بڑھائو اور اس سے حفاظت طلب کرو-
    غور کرو حفاظت طلب کرنے کا حکم اس عظیم الشان کو ہوتا ہے جو خاتم الانبیاء اصفی الاصفیاء سید|ولدآدم ہے‘ صلی اللہ علیہ وسلم‘ تو پھر اور کون ہے جو طلب حفاظت سے غنی ہو سکتا ہے؟ مایوس اور ناامید مت ہو- ہر کمزوری‘ غلطی‘ بغاوت کے لئے دعا سے کام لو- دعا سے مت تھکو- یہ دھو کا مت کھائو جو بعض ناعاقبت اندیش کہتے ہیں کہ انسان ایک کمزور ہستی ہے‘ خدا اس کو سزا دے کر کیا کرے گا؟ انہوں نے رحمت کے بیان میں غلو کیا ہے- کیا وہ اس نظارہ کو نہیں دیکھتے کہ یہاں بعض کو رنج اور تکلیف پہنچتی ہے- پس بعد الموت عذاب نہ پہنچنے کی ان کے پاس کیا دلیل ہو سکتی ہے؟ یہ غلط راہ ہے جو انسان کو کمزور اور سست بنا دیتی ہے- بعض نے یاس کو حد درجہ تک پہنچا دیا ہے کہ بدیاں حد سے بڑھ گئی ہیں اب بچنے کی کوئی راہ نہیں ہے- استغفار اس سے زیادہ نہیں کہ زہر کھا کر کلی کر لی- یہ بھی سخت غلطی ہے- استغفار انبیاء کا اجماعی مسئلہ ہے- اس میں گناہ کے زہر کا تریاق ہے- پس استغفار کو کسی حال میں مت چھوڑو- پھر آخر میں کہتا ہوں کہ نبی کریمﷺ~ سے بڑھ کر کون ہے؟ وہ اخشیٰ للٰہ- اتقیٰ للٰہ- اعلم باللہ انسان تھا‘ صلی اللہ علیہ و سلم- پس جب اس کو استغفار کا حکم ہوتا ہے تو دوسرے لاابالی کہنے والے کیونکر ہو سکتے ہیں- پس جنہوں نے اب تک اس وقت کے امام راستباز کے ماننے کے لئے قدم نہیں اٹھایا اور دبدھا میں ہیں وہ استغفار سے کام لیں کہ ان پر سچائی کی راہ کھلے اور جنہوں نے خدا کے فضل سے اسے مان لیا ہے وہ استغفار کریں تاکہ آئندہ کے لئے معاصی اور کسی لغزش کے ارتکاب سے بچیں اور حفاظت الٰہی کے نیچے رہیں-
    )الحکم جلد۶ نمبر۵ ۔۔۔ ۷ / فروری ۱۹۰۲ء صفحہ ۶-۷(
    * - * - * - *

    ۱۲ / ستمبر ۱۹۰۲ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    خطبہ نکاح
    حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ
    اشھد ان لا الٰہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ و اشھد ان محمداً عبدہ و رسولہ- الحمد للہ نحمدہ و نستعینہ و نستغفرہ و نومن بہ و نتوکل علیہ-
    پھر آیات مسنونہ بابت نکاح کی تلاوت کے بعد فرمایا -:
    مومن ہر وقت اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتا ہے- کیا بلحاظ اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا کیا ہے اور یہ ایک عظیم الشان انعام انسان پر ہے- کیونکہ ساری راحتیں‘ ساری خوشیاں اور خوشحالیاں اسی کے بعد ملتی ہیں کہ پیدا ہوا ہو اور پھر پیدا بھی اپنے رب کے ہاتھ سے ہوا ہو جو بتدریج کمالات تک پہنچاتا ہے اور پھر ہمارے لئے تو خصوصیت کے ساتھ حمد ضروری ہے- کیا بلحاظ اس کے کہ ایسی نعمت عظمیٰ کے منعم ہیں کہ جس|قدر صداقتیں اور حق و حکمت حضرت آدمؑ سے لے کر ہمارے سید و مولا‘ سرورعالم‘ فخربنی آدم صلی اللہ علیہ و سلم تک مختلف اوقات میں مختلف نبیوں‘ رسولوں‘ راستبازوں کے ذریعہ مختلف زبانوں اور ملکوں میں پہنچایا گیا‘ ان تمام صداقتوں کا مجموعہ مبرہن اور مدلل ہو کر ہم کو ملا جس کا نام قرآن کریم ہے- یہ انعام کیا کم انعام ہے- سوچ کر دیکھو کہ ساری دنیا کی کل صداقتیں‘ وہ تمام ذریعے جو روح کی پرورش کے تھے‘ وہ سب مہیمن کتاب مجید میں جس کا نام نور‘ شفا‘ رحمت‘ برکت ہے‘ ہم کو دی گئی ہے اور پھر ’’عربی مبین‘‘ میں جیسی صاف اور کھلی سہولت اور یسر سے دی گئی‘ وہ سب صداقتیں مدلل اور مبرہن کر کے قرآن شریف نے بیان کی ہیں اور نہایت سہل الفاظ میں جو میرے خیال میں چار ہزار سے زیادہ لغت نہیں- پھر پہنچانے والا ایسی طاقت اور تاثیر رکھتا ہے کہ باید و شاید- اللٰھم صل علیٰ محمد و بارک و سلم- یعنی محمد بن عبد اللہ اور بن آمنہ‘ کس طرح کا وہ معلم اور ہادی ہے اور کس طرح سے اس کی پاک تاثیروں نے ایک تبدیلی کی؟ وہ اسی ایک واقعہ سے سمجھ میں آ سکتی ہے کہ اس نے حیرت انگیز‘ آئینہ نما فتح اپنی قوم پر جو عرب تھی حاصل کی اور ایسی فتح کہ ایک بھی مخالف نہ رہا اور پھر یہ کس|قدر تعجب انگیز کہو یا آیت مبینہ‘ اثر ہے کہ تیرہ سو برس پہلے مکہ اور مدینہ میں جس قسم کے فیوض اور برکات آپ کے پاک انفاس سے پہنچے اور آپؑ کی تعلیم و تربیت نے جو اثر اس وقت پیدا کیا آج تیرہ سو برس کے بعد بھی اسی کی تعلیم و تربیت کے نیچے اس کا غلام موجود ہے-
    ) غلام احمد علیہ الصلوٰۃ و السلام (
    اور پھر کیا بلحاظ اس انعام اور فضل کے جو ہم پر اللہ تعالیٰ نے کیا کہ تیرہ سو برس سے جس کے دیکھنے کو ہزاروں‘ لاکھوں‘ کروڑوں مخلوق کی آنکھیں ترستی گئی ہیں اور امت کے صلحا اور اولیاء اور علماء ربانی جس کو سلام کہتے گئے‘ ہم نے اس کا زمانہ پا لیا- اور پھر جس سے اکثر لوگوں کی بدبختی نے انہیں محروم رکھا ہمیں اس کی غلامی کا شرف عطا فرمایا اور اس طرح پر ہم پر وہ انعام کیا کہ جیسے اولین میں ایک نبی اور خاتم|النبیین صلی اللہ علیہ و سلم موجود تھا‘ آخرین میں بھی اسی طرح آپ کا تابع نبی صلی اللہ علیہ و سلم موجود ہے- اس لئے جب ہم پر یہ انعام‘ یہ فضل ہوئے ہیں تو اور بھی زیادہ ہمیں ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد کریں-
    نستعینہ لیکن انسان چونکہ ایک کمزور اور ضعیف ہستی ہے اس لئے ہر آن اور ہر حالت میں اسی رب العالمین اور تمام صفات کاملہ سے موصوف اور تمام نقائص اور بدیوں سے منزہ ذات‘ اللہ تعالیٰ سے استمداد کی ضرورت ہے- انسان کا فانی جسم ہر آن تغیرات کے نیچے ہے اور کمزور روح علوم میں اسی فانی اور کمزور جسم کی محتاج ہے- کیونکہ وہ اس جسم اور ذرات کے بغیر کوئی راحت یا علم و صداقت حاصل نہیں کر سکتی اور سارے علوم اور صداقتیں زبان‘ کان‘ آنکھ‘ ناک اور ٹٹولنے کی حس کے ذریعہ سے پہنچتی ہیں- مگر یہ جسم فانی ہے اور ہرآن تنزل کی حالت پیدا کرتا ہے- فضلے پیدا ہو کر جسم سے نکلتے رہتے ہیں- ایسی حالت میں صاف ظاہر ہے کہ روح کا ذریعہ فانی اور کمزور ہے- پھر کیسے ترقی کرے‘ جب تک اللہ تعالیٰ کی مدد ساتھ نہ ہو- اسی محسن نے کیسی پاک راہ بتائی اور سچے اور حقیقی محسن‘ اللہ کی بتائی ہوئی بتائی کہ اللہ کے فضل اور احسان کے بغیر ایک آن گذارہ نہیں ہو سکتا- اسی لئے ہم اس کی ہی مدد چاہتے ہیں-
    و نستغفرہ پھر ایک اور تعلیم دی اور وہ استغفار کی تعلیم ہے- اللہ تعالیٰ کے وسیع قانون اور زبردست حکم اس قسم کے ہیں کہ انسان بعض بدیوں اور کمزوریوں کی وجہ سے بڑے بڑے فضلوں سے محروم رہ جاتا ہے- جب انسان کوئی غلطی کرتا اور خدا تعالیٰ کے کسی قانون اور حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ غلطی اور کمزوری اس کی راہ میں ایک روک ہو جاتی ہے اور یہ عظیم الشان فضل اور انعام سے محروم کیا جاتا ہے- اس لئے اس محرومی سے بچانے کے لئے یہ تعلیم دی کہ استغفار کرو- یہ تعلیم بھی اللہ تعالیٰ کا محض فضل ہے- استغفار کیا ہے؟ پچھلی کمزوریوں کو جو خواہ عمداً ہوں یا سہواً اور نسیان اور خطا سے- غرض ما قدم و اخر جو نہ کرنے کا کام آگے کیا اور جو نیک کام کرنے سے رہ گیا ہے‘ اپنی تمام کمزوریوں اور اللہ تعالیٰ کی ساری نارضامندیوں کو اعلم و لا اعلم کے نیچے رکھ کر یہ دعا کرے کہ میری غلطیوں کے بدنتائج اور بد اثر سے مجھے محفوظ رکھ اور آئندہ کے لئے ان غلط کاریوں سے محفوظ فرما- یہ ہیں استغفار کے مختصر سے معنے-
    بارہا ہمارے امام علیہ الصلوٰۃ و السلام لوگوں کو استغفار بتاتے ہیں- میں نے دیکھا ہے کہ وہ اکثر مجھ سے آ کر پوچھتے ہیں کہ استغفار کی کتنی تسبیحیں کریں اور آپ کے یہاں کونسا استغفار معمول ہے- اس لئے میں نے بتایا ہے کہ سچا استغفار یہی ہے کہ انسان اپنی غلطیوں اور کمزوریوں کو یاد کر کے جناب الٰہی میں یہ طلب کرے کہ ان کمزوریوں کے برے نتائج سے محفوظ رکھ اور آئندہ کے لئے ان کمزوریوں سے محفوظ فرما-
    و نومن بہ اور ہم پھر اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں کہ وہ جمیع صفات کاملہ سے موصوف اور تمام بدیوں سے منزہ ہے- وہ اپنی ذات میں‘ اپنی صفات میں‘ اسماء اور محامد اور افعال میں واحد لاشریک ہے- وہ اپنی ذات میں یکتا‘ صفات میں بے ہمتا اور افعال میں لیس کمثلہ شی|ء )الشوری:۱۲( اور بے نظیر ہے- اور اس بات پر بھی ایمان لاتے ہیں کہ وہ ہمیشہ اپنی رضامندی اور ناراضی کی راہوں کو ظاہر کرتا رہا ہے اور ملائکہ کے ذریعہ اپنا کلام پاک اپنے نبیوں اور رسولوں کو پہنچاتا رہا ہے اور اس کی بھیجی ہوئی کتابوں میں آخری کتاب قرآن شریف ہے جس کا نام شفا‘ فضل‘ رحمت اور نور ہے اور آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو خاتم النبیین ہیں- اور اب کوئی نبی اور رسول آپؑ کے سوا نہیں ہو سکتا- اس وقت بھی جو آیا وہ اس کا غلام ہی ہو کر آیا ہے-
    اور پھر یہ تعلیم دی کہ نتوکل علیہ یہ بات ہم میں پیدا ہو کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں جس مطلب اور غرض کے لئے بنائی ہیں وہ اپنے نتائج اور ثمرات اپنے ساتھ ضرور رکھتے ہیں- اس لئے اس پر ایمان ہونا چاہئے کہ لابد ایمان کے ثمرات اور نتائج ضرور حاصل ہوں گے اور کفر اپنے بد نتائج دیئے بغیر نہ رہے گا- انسان بڑی غلطی کرتا اور دھوکا کھا جاتا ہے‘ جب وہ اس اصل کو بھول جاتا ہے- اعمال اور اس کے نتائج کو ہرگز ہرگز ہرگز بھولنا نہیں چاہئے- سعی اور کوشش کو ترک کرنا نہیں چاہئے-
    اور پھر یہ تعلیم دی و نعوذ باللہ من شرور انفسنا و من سیاٰت اعمالنا- انسان اپنی کمزوریوں پر پوری اطلاع نہیں رکھتا اور بعض وقت نقد کو ادھار پر پسند کرتا اور ترجیح دیتا ہے- پیش پا افتادہ اور زیردست چیزیں مقبول نگاہ ہوتی ہیں- اس لئے الٰہی احکام کو اپنی غلطی سے بھول جاتا ہے یا ان کے ثمرات اور نتائج کو اپنی غلطی اور نادانی سے ادھار اور دوسرے ہی جہان پر منحصر سمجھ کر سستی اور لاپروائی کرتا ہے اور اس طرح پر اصل مقصد سے دور جا پڑتا ہے- اس غلطی کو دور کرنے اور اس کے برے نتائج سے محفوظ رہنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی کہ نعوذ باللہ من شرور انفسنا و من سیاٰت اعمالنا کہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آ جائیں- کیونکہ بڑی پناہ اور معاذ اللہ تعالیٰ ہی کی پناہ ہے جو ساری قدرتوں اور قوتوں کا مالک اور مولیٰ ہے اور ہر نقص سے پاک‘ ہر کامل صفت سے موصوف-
    پہلے ضروری ہے کہ شرور انفسنا سے پناہ مانگیں- انسان کی اندورنی بدیاں اور شرارتیں اکثر اس کو ہلاک کر دیتی ہیں- مثلاً شہوت کے مقابلہ میں زیر ہو جاتا اور عفت کو ترک کرتا ہے- بدنظری اور زنا کا ارتکاب کرتا ہے- حلم کو چھوڑتا ہے اور غضب کو اختیار کرتا ہے اور کبھی قناعت کو جو سچی خوشحالی کا ایک بڑا ذریعہ ہے‘ چھوڑ کر حرص و طمع کا پابند ہو جاتا اور کبھی ہمت بلند اور استقلال نہیں رہتا‘ بلکہ پست|ہمتی اور غیرمستقل مزاجی میں پھنس جاتا ہے- سعی اور مجاہدہ کو ترک کرتا اور کسل میں مبتلا ہوتا ہے- یہ نفسانی شرور ہیں- اس لئے ان تمام شرارتوں اور ان کے برے نتائج سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ ہی کی پناہ لینی چاہئے اور پھر بداعمال کے بدنتائج ہیں- ان سے بھی محفوظ نہیں رہ سکتا جب تک اللہ تعالیٰ کی پناہ میں نہ ہو-
    غرض اصل تو یہ ہے من یھدہ اللہ فلامضل لہ و من یضللہ فلا ھادی لہ اللہ کے سوا کوئی ہادی نہیں جس کے پاس گمراہی کا ڈر نہیں اور جس کو اللہ ہلاک کرے اس کو کوئی بامراد نہیں کر سکتا-۱~}~
    و نشھد ان لا الٰہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ و نشھد ان محمداً عبدہ و رسولہ- پھر عظیم الشان اصولوں میں سے یہ اصل بتائی گئی ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو اپنا معبود‘ محبوب اور مطاع نہ بنائو- اللہ وہ ذات کامل ہے جو ہر نقص سے منزہ اور خوبی سے موصوف ہے- اللہ تعالیٰ کو اپنا معبود‘ محبوب‘ مطاع بنانا اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کیا آنکھ سے بدنظری کرتا ہے یا نہیں؟ کان سے حرص و ہوا کی باتیں سنتا ہے یا نہیں؟ ناک کے خیال سے تکبر اور فضول خرچیاں کرتا ہے یا نہیں؟ پھر زبان‘ غرض کل اعضاء فرمانبرداری میں لگے ہوئے ہیں یا نہیں؟ مختصر یہ کہ کوئی خوف اور امید اگر مخلوق سے ہے تو سمجھ لو کہ لا الٰہ الا اللہ کے معنوں سے بے خبری ہے یا بے پروائی ہے-
    لا الٰہ الا اللہ کو ماننے والا کسی کے آگے ہاتھ باندھ کر کھڑا نہیں ہو سکتا اور نہ رکوع سجود کر سکتا ہے- ایسا ہی مخلوق کے لئے نہ قربانی دے سکتا ہے اور نہ اپنے مال کا ایک مقرر حصہ مخلوق میں سے کسی کے لئے الگ کر سکتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے لئے الگ کرنے کا حکم ہے بلکہ ساری باتوں میں وہ اپنا معبود مسجود اللہ ہی کو مانتا ہے اور اپنی امید و بیم کو اسی سے وابستہ کرتا ہے- ہر ایک کام اس کی رضا کے لئے کرتا یہاں تک کہ کھانا اس لئے کھاتا ہے کہ ’’کلوا‘‘ کا حکم ہے- اور پیتا اس لئے کہ ’’اشربوا‘‘ کا حکم ہے- بیوی سے معاشرت کرے نہ اس لئے کہ طبعی تقاضا ہے بلکہ اس لئے کہ بالمعروف )النسائ:۲۰( کا حکم ہے اور اس لئے کہ و ابتغوا ما کتب اللہ لکم )البقرۃ:۱۸۸( کا ارشاد ہے- اس سے نیکی کے کاموں میں پہلا جزو پیدا ہو گا‘ جس کو اخلاص کہتے ہیں- پھر ان سارے کاموں میں صواب ہو اور یہ تب حاصل ہو سکتا ہے کہ ساری الٰہی رضامندیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے اتباع اور حکم کے نیچے ہوں- کیونکہ وہ کامل انسان اللہ تعالیٰ کا سچا پرستار بندہ تھا اور ہماری اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو مبعوث فرمایا- ان کے سوا الٰہی رضا ہم معلوم نہیں کر سکتے اور اسی لئے فرمایا قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ )اٰل عمران:۳۲-( جس طرح پر اس نے اپنے غیب اور اپنی رضا کی راہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعے ظاہر کی ہیں اسی طرح پر اب بھی اس کی غلامی میں وہ ان تمام امور کو ظاہر فرماتا ہے- اگر کوئی انسان اس وقت ہمارے درمیان آدمؑ‘ نوحؑ‘ ابراہیمؑ‘ موسیٰؑ عیسیٰؑ‘ دائودؑ محمدﷺ‘~ احمدﷺ‘~ ہے تو محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہی کے ذریعہ سے ہے اور آپﷺ~ ہی کی چادر کے نیچے ہو کر ہے- کوئی راہ اگر اس وقت کھلتی ہے اور کھلی ہے تو وہ آپ میں ہو کر- ورنہ یقیناً یقیناً سب راہیں بند ہیں- کوئی شخص براہ راست اللہ تعالیٰ سے فیضان حاصل نہیں کر سکتا- اگر کوئی اس وقت یہ کہے کہ ’’من چہ پروائے مصطفٰے دارم‘‘ اور پھر وہ ہمارا مقتدا اور امام اور مطاع بننا چاہے تو یاد رکھو کہ وہ ہمارا امام اور مقتدا ہرگز نہیں ہو سکتا- ہمارا مقتدا اور امام وہی ہو سکتا ہے جو ’’و لیکن میفزائے بر مصطفٰےﷺ‘‘~ پر عمل کرنے کی ہدایت کرتا ہو اور غلام احمدﷺ~ ہو- غرض ہر ایک نیکی‘ نیکی تب ہی ہو سکتی ہے جب وہ اولاً اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہو اور پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اتباع کے نیچے ہو-
    یٰایھا الناس اتقوا ربکم الذی خلقکم من نفس واحدۃ )النسائ:۲-(
    یہ ایک آیت شریف ہے جس سے ایک سورۃ کا ابتداء ہوتا ہے اور ایسے خطبوں کے وقت اس کا پڑھا جانا مسلمانوں میں مروج ہے- وہ اس آیت کو ضرور پڑھتے ہیں- وجہ یہ ہے کہ ساری سورۃ کی طرف گویا متوجہ کیا گیا ہے جس میں میاں بیوی کے متعلق حقوق کو بیان کیا گیا ہے اور تفاول کے طور پر اس کی ابتداء کو پڑھتے ہیں تاکہ سعادت مند لوگ ایسے تعلقات پیدا کرنے سے پہلے اور بعد ان امور پر نگاہ کر لیا کریں جو اس سورۃ میں بیان ہوئے ہیں-
    وہ تعلق جو میاں بیوی میں پیدا ہوتا ہے بظاہر وہ ایک آن کی بات ہوتی ہے- ایک شخص کہتا ہے کہ میں نے اپنی لڑکی دی اور دوسرا کہتا ہے کہ میں نے لی- بظاہر یہ ایک سیکنڈ کی بات ہے- مگر اس ایک بات سے ساری عمر کے لئے تعلقات کو وابستہ کیا جاتا ہے اور عظیم الشان ذمہ داریوں اور جواب دہیوں کا جوا میاں بیوی کی گردن پر رکھا جاتا ہے- اس لئے اس سورۃ کو یٰایھا الناس سے شروع کیا ہے- کوئی اس میں مخصوص نہیں- ساری مخلوق کو مخاطب کیا ہے- مومن‘ مقرب‘ مخلص‘ اصحاب الیمین‘ غرض کوئی ہو کسی کو الگ نہیں کیا‘ بلکہ یٰایھا الناس فرمایا- الناس جو انس سے تعلق رکھتا ہے وہ انسان ہے- انسان جب انس سے تعلق رکھتا ہے تو سارے انسوں کا سرچشمہ میاں بیوی کا تعلق اور نکاح کا انس ہے- اس کے ساتھ اگر ایک اجنبی لڑکی پر فرائض کا بوجھ رکھا گیا ہے تو اجنبی لڑکے پر بھی اس کی ذمہ داریوں کا ایک بوجھ رکھا گیا ہے- اس لئے اس تعلق میں ہاں نازک تعلق میں جو بہت سی نئی ذمہ|داریوں اور فرائض کو پیدا کرتا ہے‘ کامل انس کی ضرورت ہے جس کے بغیر اس بوجھ کا اٹھانا بہت ہی ناگوار اور تلخ ہو جاتا ہے- لیکن جب وہ کامل انس ہو تو رحمت اور فضل انسان کے شامل حال ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں- غرض اس تعلق کی ابتدا انس سے ہونی چاہئے تاکہ دو اجنبی وجود متحد فی الارادت ہو جائیں- اس لئے یٰایھا الناس کہہ کر اس کو شروع فرمایا-
    اور دوسرے یہ آیت یٰایھا الناس اتقوا ربکم سے شروع ہوتی ہے- یعنی لوگو! تقویٰ اختیار کرو- تقویٰ عظیم الشان نعمت اور فضل ہے جسے ملے- انسان اپنی ضروریات زندگی میں کیسا مضطرب اور بے قرار ہوتا ہے- خصوصاً رزق کے معاملہ میں- لیکن متقی ایسی جگہ سے رزق پاتا ہے کہ کسی کو تو کیا معلوم ہوتا ہے خود اس کے بھی وہم گمان میں نہیں ہوتا- یرزقہ من حیث لایحتسب )الطلاق:۴( پھر انسان بسا اوقات بہت قسم کی تنگیوں میں مبتلا ہوتا ہے- لیکن اللہ تعالیٰ متقی کو ہر تنگی سے نجات دیتا ہے جیسے فرمایا- من یتق اللہ یجعل لہ مخرجاً )الطلاق:۳( انسان کی سعادت اور نجات کا انحصار علوم الہیٰہ پر ہے- کیونکہ جب تک کتاب اللہ کا علم ہی نہ ہو وہ نیکی اور بدی اور احکام رب العالمین سے آگاہی اور اطلاع کیونکر پا سکتا ہے- مگر تقویٰ ایک ایسی کلید ہے کہ کتاب اللہ کے علوم کے دروازے اسی سے کھلتے ہیں اور خود اللہ تعالیٰ متقی کا معلم ہو جاتا ہے- و اتقوا اللہ و یعلمکم اللہ )البقرۃ:۳۸۲( انسان اپنے دشمنوں سے کس قدر حیران ہوتا اور ان سے گھبراتا ہے- لیکن متقی کو کیا خوف؟ اس کے دشمن ہلاک ہو جاتے ہیں-
    ان تتقوا اللہ یجعل لکم فرقاناً )الانفال:۳۰-( اللہ تعالیٰ سے دوری اور بعد ساری نامرادیوں کی جڑ اور ناکامیوں کی اصل ہے- مگر متقی کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہوتا ہے ان اللہ مع الذین اتقوا و الذین ھم محسنون )النحل:۱۲۹-( تقویٰ ایسی چیز ہے جو انسان کو اپنے مولیٰ کا محبوب بناتی ہے ان اللہ یحب المتقین )اٰل عمران:۷۷-( تقویٰ کے باعث اللہ تعالیٰ متقی کے لئے مکتفی ہو جاتا ہے اور اس سے ولایت ملتی ہے و اللہ ولی المتقین )الجاثیہ:۲۰-( پھر تقویٰ ایسی چیز ہے کہ دعائوں کو قبولیت کے لائق بنا دیتا ہے انما یتقبل اللہ من المتقین )المائدۃ:۲۸( بلکہ اس کے ہر فعل میں قبولیت ہوتی ہے-
    غرض تقویٰ جیسی چیز کی طرف توجہ دلائی ہے اور تقویٰ نام ہے اعتقادات صحیحہ‘ اقوال صادقہ‘ اعمال|صالحہ‘ علوم حقہ‘ اخلاق فاضلہ‘ ہمت بلند‘ شجاعت‘ استقلال‘ عفت‘ حلم‘ قناعت‘ صبر کا‘ حسن ظن باللہ‘ تواضع‘ صادقوں کے ساتھ ہونے کا-
    پھر یہ تقویٰ اپنے رب کا اختیار کرو- ’’ربکم‘‘ میں بتایا ہے کہ وہ تمہیں کمالات بخشنے والا ہے- ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت تک پہنچانے والا ہے- اس کے متقی بنو-
    مخلوق کی نظر کا متقی نہیں- اگر انسان مخلوق کی نظر میں متقی بنتا ہے لیکن آسمان پر اس کا نام متقی نہیں تو یاد رکھو اس کے لئے اللہ تعالیٰ کا فتویٰ ہے ما ھم بمومنین )البقرۃ:۹-(
    ایک غلط خیال عام لوگوں میں پھیلا ہوا ہے- میں چاہتا ہوں کہ اس کو بھی دور کروں اور وہ یہ ہے کہ لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ دین پر عمل درآمد کرنا انسان کی مقدرت سے باہر ہے اور یہ شریعت گویا کہنے کی ہے کرنے کی نہیں- اس پر عمل نہیں ہو سکتا- یہ بدی عام پھیلی ہوئی ہے اور اس نے بہت حصہ مخلوق کا تباہ کیا ہے- در اصل اس قسم کے حیلے شریروں نے اپنی بدیوں کو چھپانے کے لئے تراشے ہوئے ہیں- مگر میں یقیناً کہتا ہوں کہ یہ بدی اور بدخیالی اللہ تعالیٰ پر سوء ظن سے پیدا ہوئی ہے کہ انسان کہلائے اور کہے کہ شریعت پر پابندی نہیں کر سکتے اور فرائض اور سنن ادا نہیں ہو سکتے- یہ بڑی بدقسمتی ہے- اسی ایک بدی نے قوم کو تباہ کر دیا اور اس نے شریعت کو نعوذ باللہ *** کہہ دیا- یعنی عیسائیوں کی قوم نے شریعت کو بالکل الگ رکھ دیا- یہ شیطانی وسوسہ تھا اور شیطان ان پر غالب آیا- پس ایسی باتوں اور خیالوں سے پرہیز کرو- میں نے ایک ایسے ہی خطبہ میں )یعنی نکاح کے خطبہ میں جو اگلے روز مجھے پڑھنا پڑا اور اسی طرح پر صادق امام کے حضور میں پڑھا( اس امر پر زور دیا تھا )اور یہ میرا ایمان ہے- میرا دل چاہتا ہے کہ اسی طرح ہو اور میں خدا تعالیٰ کے فضل اور تائید سے ایسا کرنا چاہتا ہوں( کہ لوگ اپنے امام کی سچی اتباع کریں اور اس کے احکام کی تعمیل کو اپنی خواہشوں پر مقدم کر لیں- بعض بدقسمتوں نے میری ان باتوں کو سن کر یہی نتیجہ نکالا کہ یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں- ان پر عمل کرنا مشکل ہے- میں کھول کر کہتا ہوں کہ یہ خطرناک بدظنی ہے جو ایک مومن کی نسبت کی جاوے- اس کا محاسبہ اللہ تعالیٰ کے حضور دینا پڑے گا-۲~}~
    پھر فرمایا- خلقکم من نفس واحدۃ )النسائ:۲( اللہ تعالیٰ نے تم کو ایک جی سے بنایا اور اسی جنس سے تمہاری بیوی بنائی اور پھر دونوں سے بہت مرد اور عورتیں پیدا کیں- قرآن شریف سے عمدہ اور نیک اولاد کا پیدا ہونا‘ اللہ تعالیٰ کی رضا کا منطوق معلوم ہوتا ہے- ابراہیم علیہ السلام کی دعا کو دیکھو کہ خدا نے اسے کیسا برومند کیا‘ جس میں صدہا نبی اور رسول آئے‘ حتیٰ کہ خاتم الرسل بھی اسی میں ہوئے- مگر یہ طیب اور مبارک اولاد کس طرح سے حاصل ہو؟ اس کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ تقویٰ ہے- تقویٰ کے حصول کا یہ ذریعہ ہے کہ انسان اپنے عقائد اور اعمال کا محاسبہ کرے اور اس امر کو ہمیشہ مدنظر رکھے- ان اللہ کان علیکم رقیباً )النسائ:۲( جب تم یہ یاد رکھو گے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے حال کا نگران ہے تو ہر قسم کی بے حیائی اور بدکاری کی راہ سے جو تقویٰ سے دور پھینک دیتی ہے‘ بچ سکو گے- دیکھو کسی عظیم الشان انسان کے سامنے انسان بدی کے ارتکاب کا حوصلہ نہیں کر سکتا- ہر ایک بدی کرنے والا اپنی اس بدی کو مخفی رکھنا چاہتا ہے- پھر جب خدا تعالیٰ کو رقیب اور بصیر مانے گااور اس پر سچا ایمان لائے گا تو ایسے ارتکاب سے بچ جائے گا- غرض تقویٰ ایسی نعمت ہے کہ متقی ذریت طیبہ بھی پا لیتا ہے-
    پھر ارشاد ہوا ہے یٰایھا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ و قولوا قولاً سدیداً )الاحزاب:۷۱( یہ ایک دوسری آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ ایسے تعلقات اور عقد کے وقت یہ نصیحت فرماتا ہے- تقویٰ اللہ اختیار کرو اور پکی باتیں کہو- پکی باتیں حاصل ہوتی ہیں کتاب اللہ کو غور کے ساتھ پڑھنے سے‘ سنن اور تعامل کے مطالعہ سے‘ احادیث صحیحہ کے یاد رکھنے سے- یہ باتیں ہیں علوم حقہ کے حاصل کرنے کی- مجھے اس موقعہ پر یہ بھی کہنا ہے کہ بعض لوگ تم میں سے اپنی غلط فہمی سے احادیث کو طالمود کہتے ہیں- یہ ان کی سخت غلطی ہے- انہوں نے ہرگز ہرگز امام کے مطلب کو نہیں سمجھا- کیا ان کو معلوم نہیں کہ حضرت امام اپنی عظیم الشان پیشگوئیاں احادیث سے لیتے ہیں اور اپنے دعاوی پر احادیث سے تمسک کرتے ہیں؟ آپ کا مطلب یہ ہے کہ جو حدیث قرآن شریف کے معارض ہو وہ قابل اعتبار نہیں- کیونکہ یہ قاعدہ مسلم ہے کہ راجح کا مقابلہ مرجوح سے نہیں کر سکتے- اس کوآگے بڑھانا اور یہاں تک پہنچانا جہالت ہے- اگر میری بات پر توجہ نہ ہو تو تم خود دریافت کر سکتے ہو- احادیث سے انکار کرنا بڑی بدقسمتی ہے-
    حضرت امام علیہ السلام نے بارہا فرمایا ہے کہ ہمارے لئے تین چیزیں ہیں- قرآن‘ سنت اور حدیث- قرآن اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے پڑھ کر سنایا تو سنت کے ذریعہ اس پر عمل کر کے دکھا دیا اور پھر حدیث نے اس تعامل کو محفوظ رکھا ہے- غرض حدیث کو کبھی نہیں چھوڑنا چاہئے جب تک وہ صریح قرآن شریف کے معارض اور مخالف واقع نہ ہوئی ہو- بھلا دیکھو تو اسی نکاح کے متعلق غور کرو کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب آدمی نکاح کرتا ہے تو کیا کیا امور مدنظر رکھتا ہے- گاہے عورت بیاہی جاتی ہے کہ وہ مالدار ہے اور گاہے یہ کہ حسین ہے یا کسی عالی خاندان کی ہے اور بعض اوقات مقابلہ مدنظر ہوتا ہے- مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ علیک بذات الدین تربت یداک )بخاری کتاب النکاح باب اکفاء فی الدین( تاکہ تقویٰ بڑھے- ایک سے زیادہ نکاح بھی اگر کرو تو اس لئے کہ تقویٰ بڑھے- جب تقویٰ مدنظر نہ ہو تو وہ نکاح مفید اور مبارک نہیں ہوتا-
    غرض خدا تعالیٰ فرماتا ہے اور مومنوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے یٰایھا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ و قولوا قولاً سدیداً )الاحزاب:۷۱( انسان کی زبان بھی ایک عجیب چیز ہے جو گاہے مومن اور گاہے کافر بنا دیتی ہے- معتبر بھی بنا دیتی ہے اور بے اعتبار بھی کر دیتی ہے اس لئے مولیٰ کریم فرماتا ہے کہ اپنے قول کو مضبوطی سے نکالو- خصوصاً نکاحوں کے معاملہ میں اس کا فائدہ ہوتا ہے- یصلح لکم )الاحزاب:۷۲( تاکہ تمہارے سارے کام اصلاح پذیر ہو جاویں-
    صدہا لوگ ان معاملات نکاح میں تقویٰ اورخدا ترسی سے کام نہیں لیتے اور الٰہی حکم کی قدر و عظمت ان کو مدنظر نہیں ہوتی بلکہ وہ اس تراش خراش میں رہتے ہیں کہ یہ مقابلہ ہو یا شہوات کو مقدم کرتے ہیں- لیکن جب تقویٰ ہو تو اعمال کی اصلاح کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہو جاتا ہے اور اگر نافرمانی ہو تو وہ معاف کر دیتا ہے-
    بات یہ ہے جو اللہ رسول کا مطیع ہوتا ہے وہ بڑا کامیاب ہے- اس لئے یہ بات ہر ایک کو مدنظر رکھنی چاہئے-
    پھر فرمایا-:
    یٰایھا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ و لتنظر نفس ما قدمت لغد )الحشر:۱۹( پھر تقویٰ کی تاکید اس تیسری آیت میں بھی ہے کہ تقویٰ اللہ اختیار کرو اور ہر ایک جی کو چاہئے کہ بڑی توجہ سے دیکھ لے کہ کل کے لئے کیا کیا- جو کام ہم کرتے ہیں‘ ان کے نتائج ہماری مقدرت سے باہر چلے جاتے ہیں- اس لئے جو کام اللہ کے لئے نہ ہوگا تو وہ سخت نقصان کا باعث ہو گا- لیکن جو اللہ کے لئے ہے تو وہ ہمہ قدرت اور غیب دان خدا جو ہر قسم کی طاقت اور قدرت رکھتا ہے‘ اس کو مفید اور مثمر بثمرات حسنہ بنا دیتا ہے-
    غرض مختصر یہ ہے کہ متقی بنو اور اللہ کا خوف کرو- تمہارے اعمال میں تکبر‘ کذب اور دوسرے کو ایذا نہ ہو- ان شرائط کی پوری پابندی کرو جو بیعت کے لئے بیان کی گئی ہیں اور پھر کثرت سے درود شریف پڑھا کرو اور استغفار کرتے رہو اور لاحول پڑھ کر دوسری قوموں کے لئے نمونہ بنو-
    اس کے بعد میں اللہ کے فضل و کرم پر بھروسہ کر کے اس ایجاب و قبول کا اقرار کراتا ہوں- میاں بشیر احمد صاحب جو اللہ تعالیٰ کے پیغام اور اطلاع کے موافق دنیا میں آئے ہیں‘ ان کا نکاح مولوی غلام حسین صاحب کی لڑکی سے جن کا نام سرور سلطان ہے )اللہ اس کے نام میں بڑی برکت نازل کرے آمین- ایک ہزار مہر کے قرار پایا ہے اور میں دعا کرتا ہوں اور میری دعائوں سے بڑھ کر ہمارے امام کی دعائیں اس کے حق میں ہوں کہ جب اس کی ساس نور کے بچے جننے والی ہوئی ہے ایسے ہی اور برکت کا وہ باعث ہو- حضور خصوصیت سے اس وقت دعا کریں کہ ہمارے گھروں کی عورتوں میں بخصوصیت اصلاح ہو- گو ان کی بدقسمتی ہے کہ ان میں سے ان کی جنس سے کوئی نبی یا رسول نہیں آیا اور ہم میں باہم اتحاد اور محبت ہو اور وہ بات پیدا ہو جو حضور چاہتے ہیں- خدا آپ کی دعائیں ہمارے حق میں منظور کرے- آمین-۳~}~
    ۱~}~ ) الحکم جلد۶ نمبر۳۳ ۔۔۔ ۱۷ / ستمبر ۱۹۰۲ء صفحہ۱۰ تا ۱۲ (
    ۲~}~ ) الحکم جلد۶ نمبر۳۹ ۔۔۔ ۳۱ / اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحہ۱۴‘۱۵(
    ۳~}~ ) الحکم جلد۶ نمبر۴۱ ۔۔۔ ۱۷ / نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ۱۳ (
    * - * - * - *
    ‏KH1.14
    خطبات|نور خطبات|نور
    جنوری ۱۹۰۳ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    خطبہ جمعہ~ن۲~ الوداع
    )ایڈیٹر ’’الحکم‘‘ کے الفاظ میں(و من یرغب عن ملۃ ابراھیم الا من سفہ نفسہ و لقد اصطفینٰہ فی الدنیا و انہ فی الاٰخرۃ لمن الصٰلحین )البقرۃ:۱۳۱(
    ‏ils] g[ta
    ان آیتوں میں‘ ان کلمات شریفہ میں اللہ تعالیٰ ایک شخص کی راہ پر چلنے کی ہدایت فرماتا ہے اور وہ انسان اس قسم کا ہے جس کو ہر مذہب و ملت کے لوگ عموماً یا غالباً عظمت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں- وہ کون؟ ابوالانبیاء حنفاء کا باپ ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام- یہ ابراہیمؑ وہ ہے جس کی نسبت اس سے پہلے فرمایا- و اذ ابتلیٰ ابراھیم ربہ بکلمٰت فاتمھن )البقرۃ:۱۲۵( کہ جب ابراہیمؑ کو اس کے رب نے چند باتوں کے بدلے انعام دینا چاہا تو اس نے ان کو پورا کر دکھایا-
    اللہ تعالیٰ جب انسان کو سچے علوم عطا کرتا ہے اور اس کا ان علوم کے مطابق عملدرآمد ہو پھر اس میں قوت مقناطیسی پیدا ہو جاتی ہے اور نیکیوں کا نمونہ ہو کر دوسروں کو اپنی طرف کھینچتا ہے- یہ درجہ اس کو تب ملتا ہے جب وہ اللہ تعالیٰ کا وفادار بندہ ہو اور اس کی فرمانبرداری میں ایسا ثابت قدم اور مستقل مزاج ہو کہ رنج میں‘ راحت میں‘ عسر میں‘ یسر میں‘ باساء میں‘ ضراء میں‘ غرض ہر حالت میں قدم آگے بڑھانے والا ہو اور اللہ جل شانہ کی وفاداری میں چست ہو- اس کو حاجتیں پیش آتی ہیں مگر وہ اس کے ایمان کو ہر حال میں بڑھانے والی ہوتی ہیں کیونکہ بعض وقت حاجت پیش آتی ہے تو دعا کا دروازہ اس پر کھلتا ہے اور توجہ الی اللہ اور تضرع الی اللہ کے دروازے اس پر کھلتے ہیں اور اس طرح پر وہ حاجتیں مال|و|جان کی ہوں‘ عزت و آبرو کی ہوں‘ غرض دنیا کی ہوں یا دین کی‘ اس کے تقرب الی اللہ کا باعث ہو جاتی ہیں- کیونکہ جب وہ دعائیں کرتا ہے اور ایک سوز و رقت اور دلگداز طبیعت سے باب اللہ پر گرتا ہے اور اس کے نتیجہ میں کامیاب ہو جاتا ہے تو باب شکر اس پر کھلتا ہے اور پھر وہ سجدات شکر بجا لا کر ازدیادنعمت کا وارث ہوتا ہے جو ثمرات شکر میں ہیں- اور اگر کسی وقت بظاہر ناکامی ہوتی ہے تو پھر صبر کے دروازے اس پر کھلتے ہیں اور رضا بالقضائکے ثمرات لینے کو تیار ہوتا ہے- اسی طرح یہ حاجتیں جب کسی بدبخت انسان کو آتی ہیں اور وہ مالی‘ جانی یا اور مشکلات میں مبتلا ہوتا ہے تو یہ حاجتیں اور بھی اس کی دوری اور مہجوری کا باعث ہو جاتی ہیں- کیونکہ وہ بے قرار مضطرب ہو کر قلق کرتا اور ناامید اور مایوس ہو کر مخلوق کے دروازہ پر گرتا ہے- اس وقت اللہ تعالیٰ سے ایسا بیگانہ اور ناآشنا ہوتا ہے کہ ہر قسم کے فریب|و|دغا سے کام لینا چاہتا ہے- اگر کبھی کامیاب ہو جائے تو اس کو اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے ذکر اور اس کی حمد و ستائش کا موقع نہیں ملتا- بلکہ وہ اپنی کرتوتوں اور فریب و دغا اور چالبازیوں کی تعریف کرتا اور شیخی اور تکبر میں ترقی کرتا اور اپنیحیل و تجاویز پر عجب و ناز کرتا ہے- اگر ناکام ہوتا ہے تورضا بالقضائکے بدلے اس کی مقادیر کو کوستا اور بری نگاہ سے دیکھتا اور اپنے رب کا شکوہ کرتا ہے- غرض یہ حاجتیں تو سب کو ہیں اور انبیائ‘ اولیاء و صدیقوں اور تمام منعم علیہ گروہ کے لئے بھی مقدر ہوتی ہیں مگر سعید الفطرت کے لئے وہ تقرب الی اللہ کا باعث ہو جاتی اور اس کو مزید انعامات کا وارث بنا دیتی ہیں اور شقی مضطرب ہو کر قلق کرتا ہے اور ناکام ہو کر سخط علی اللہ کر بیٹھتا ہے- کامیابی پر وہ مبتلا فی الشرک ہو جاتا ہے اور ناکامی پر مایوس-
    مشکلات اور حوائج کیوں آتے ہیں؟ ان میں باریک در باریک مصالح الہیٰہ ہوتے ہیں- کیونکہ مشکلات میں وسائط کا مہیا کرنا تو ضروری ہوتا ہے- اس سے پتہ لگ سکتا ہے کہ من یشفع شفاعۃ حسنۃ )النسائ:۸۶( کا ثواب لینا بھی کیسی نعمت الٰہی ہے اور پھر ان میں یہ حکمت ہوتی ہے کہ ان خدمات کے ثمرات‘ مساعی جمیلہ‘ ان کی فکر اور محنت پر اللہ تعالیٰ کو انعام دینا منظور ہوتا ہے اور اس طرح پر نہ سنن|الٰہی باطل ہوتے ہیں اور نہ سلسلہ علم ظاہری کا باطل ہوتا ہے-
    غرض سچا اور پکا مومن وہ ہوتا ہے جیسا کہ حضرت امام نے شرائط بیعت میں لکھا ہے کہ رنج میں‘ راحت میں‘ عسر میں‘ یسر میں قدم آگے بڑھا وے- اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ان امور کا پیش آنا ضروری ہے تو ہر ایک حالت میں فرمانبردار انسان کو چاہئے کہ ترقی کرتار ہے اور دعائوں کی طرف توجہ کرے تا کامیابی کی راہیں اسے مل جائیں- اور یہ ساری باتیں ابراہیمی ملت کے اختیار کرنے سے پیدا ہوتی ہیں-
    ابراہیمی ملت کیا ہے؟ یہی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کہا اسلم تو فرمانبردار ہو جا- انہوں نے کچھ نہیں پوچھا‘ یہی کہا اسلمت لرب العالمین )البقرۃ:۱۳۲-(
    اسلام کسی دعوے کا نام نہیں- بلکہ اسلام یہ ہے کہ اپنی اصلاح کر کے سچا نمونہ ہو- صلح و آشتی سے کام لے- فرمانبردار ہو- سارے اعضا قلب‘ زبان‘ جوارح‘ اعمال و اموال انقیاد الٰہی میں لگ جائیں- منہ سے مسلمان کہلا لینا آسان ہے- شرک‘ حرص‘ طمع اور جھوٹ سے گریز نہیں- زنا‘ چوری‘ غفلت‘ کنبہ پروری اور ایذارسانی سے دریغ نہیں- پھر کہتا ہے میں فرمانبردار ہوں- یہ دعویٰ غلط ہے- کیسا عجیب زمانہ تھا جب یہ دعویٰ کہ نحن لہ مخلصون )البقرۃ:۱۴۰‘( نحن لہ عابدون ]01 )[pالبقرۃ:۱۳۹( علی|رئوس الاشہاد کئے جاتے تھے- ایسے پاک مدعیوں کی طرح مومن بننا چاہئے جن کی تصدیق میں خدا نے بھی فرمایا کہ ہاں‘ سچ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے مخلص عابد ہیں- مومن کو اسلم کہنے کے ساتھ ہی اسلمت کہنے کے لئے تیار رہنا چاہئے- یہی نکتہ معرفت کا ہے جو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے اور اسی کے نہ سمجھنے کی وجہ سے فرحوا بما عندھم من العلم )المومن:۸۴( کے مصداق ہو جاتے ہیں- بہت سے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم مدارج تحقیقات پر پہنچے ہوئے ہیں- اس غلط خیال نے بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے- اسی سے مشرکوں نے استدلال کر لیا بل نتبع ما الفینا علیہ اٰباء نا )البقرہ:۱۷۱-(غرض ایک راستباز کی شناخت کے لئے کبھی کوئی مشکل یہود یا نصاریٰ یا منکرین امام پر نہ آتی اگر وہ سمجھتے کہ پاک رسول نے کیا دعویٰ کیا-
    قل ما کنت بدعاً من الرسل )الاحقاف:۱۰( ان کو کہہ دو کہ میں نے کوئی نیادعویٰ نہیں کیا- نئے رسول کے لئے مشکلات ہوتی ہیں لیکن جس سے پہلے اور رسول اور نواب اور ملوک اور راست باز گزر چکے ہیں اس کو کوئی مشکلات نہیں ہوتیں- جن ذرائع سے پہلے راستبازوں کو شناخت کیا ہے وہی ذریعے اس کی شناخت کے لئے کافی اور حجت ہیں- تعلیم میں مقابلہ کر لے- اس کا چال چلن دیکھ لے کہ پہلے راستبازوں جیسا ہے یا نہیں- دشمن کو دیکھ لے کہ اسی رنگ کے ہیں یا نہیں- آدمی کو ایک آسان راستہ نظر آتا ہے- مگر خدا کے فضل سے مجھے محض اللہ ہی کے فضل سے اس آیت قل ما کنت بدعاً من الرسل )الاحقاف:۱۰( کے بعد راستباز کی شناخت میں کوئی مشکل نہیں پڑی- مگر بات یہ ہے کہ تعلیم|الٰہی کے بغیر یہ سمجھ میں نہیں آ سکتی اور تعلیم الٰہی کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ قانون ٹھہرا دیا ہے- و اتقوا اللہ و یعلمکم اللہ )البقرہ:۲۸۳-(
    میں پھر کہتا ہوں کہ ملت ابراہیم بڑی عجیب راحت بخش چیز ہے- وہ ملت‘ وہ سیرت کیا ہے؟ اسلم فرمانبردار ہو کر چلو- nsk] gat[ قال اسلمت لرب العالمین پھر اس ملت اور سیرت کو چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے شفابخش‘ رحمت اور نور پایا تھا اس لئے نہ صرف اپنے ہی لئے اس کو پسند کیا بلکہ وصیٰ بھا ابراھیم )البقرۃ:۱۳۳( اسی سیرت اور ملت کی ابراہیم نے اپنی اولاد کو وصیت کی- ایک دانا انسان اولاد کے لئے کوئی ضرر رساں چیز نہیں چاہتا- مکانوں میں ان کے لئے مضبوطی‘ خوبصورتی اور دیگر لوازم کی کیسی سعی کرتا ہے اور کیوں؟ اولاد کی بہتری کے خیال سے یہ انسانی فطرت میں ہے کہ وہ اولاد کی بہتری چاہتا ہے- پھر ابراہیمؑ جیسا اولوالعزم انسان جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا- الذی وفیٰ )النجم:۳۸( اس نے اپنی اولاد کے لئے کیا خواہش کی ہوگی؟ اور وہ خواہش اس وصیت ابراہیمی سے ملتی ہے اور اس دعا سے اس کا پتہ ملتا ہے جو انہوں نے کی ربنا و ابعث فیھم رسولاً منھم )البقرۃ:۱۳۰-( اس وصیت پر غور کر کے ہمیں اندازہ کرنا چاہئے کہ ہم اپنی اولاد کے لئے کیا خواہش کرتے اور کیا ارادہ رکھتے ہیں؟ الغرض یہی باتیں تھیں یعنی اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار ہونا اور اس کے احکام پر کار بند ہونا- اسی کی وصیت اپنی اولاد کو کی اور اس کے پوتے کے بیٹے کریم ابن کریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق کی بھی یہی ملت تھی- اب تم سب اپنے اندر ہی اندر سوچو کہ کیا خواہش اور ارادے ہیں-
    میں نے ایک شخص کو کہا کہ قرآن پڑھا کرو- اس نے کہا کہ میری شان کے موافق کوئی قرآن مجھے دیدو- میری سمجھ میں نہ آیا کہ کیوں اس نے قرآن پر خرچ کرنے سے مضائقہ کیا- علی العموم لوگ یہی چاہتے ہیں کہ قرآن مفت مل جاوے اور دیگر اخراجات میں خواہ کسی قدر بھی روپیہ خرچ کریں- اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی طرف توجہ ہی نہیں- دیکھو ہمارے امام کو الہام ہو چکا ہے اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ سورج کے ہوتے سورج کے وجود پر- وہ کہتا ہے کہ جن کی خواہش اور محبت قرآن کریم سے نہ ہو گی ان کی اولاد گندہ خراب و خستہ ہو گی- اب تم سب اپنی اپنی جگہ دیکھو کہ بیاہ شادی اور معاشرت کے وقت کیا کیا خواہشیں ہوتی ہیں- ایک طرف ان کو رکھو اور دوسری طرف اس پیغام الٰہی پر غور کرو جو امام کی معرفت ملا ہے- پھر ابراہیمؑ کا پوتا یعقوبؑ اپنی اولاد کو مخاطب کر کے کہتا ہے یٰبنی ان اللہ اصطفیٰ لکم الدین )البقرہ:۱۳۳( اے میری اولاد اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایک دین برگزیدہ کیا ہے- فلاتموتن الا و انتم مسلمون )البقرۃ:۱۳۳( پس تم کو تاکید کرتا ہوں کہ تمہاری موت نہ آوے مگر ایسے رنگ میں کہ تم مسلمان ہو- اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندے ہو-
    انسان کو موت کا وقت معلوم نہیں اور پتہ نہیں اس وقت حواس درست ہوں یا نہ ہوں اور پھر یہ امر اختیاری نہیں‘ اس لئے یہ عقدہ کس طرح حل ہو؟ ایک صحیح حدیث نے اس مسئلہ میں میری رہنمائی کی ہے- اور اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان جب عمل کرتا ہے تو فرشتے اس کے اعمال کو لکھتے جاتے ہیں‘ سعادت کے اعمال بھی اور شقاوت کے اعمال بھی اور موت کے قریب ان کی میزان کی جاتی ہے اور پھر وہ مقادیر الہیٰہ سبقت کرتی ہیں- اگر وہ لوگوں کی نظر میں نیک تھا‘ پر اللہ سے معاملہ صاف نہیں یا اللہ سے معاملہ صاف ہے مگر لوگوں کی نگاہ میں نہیں تو وہ کتاب باعث ہوتی ہے کہ اس کا خاتمہ اللہ کی
    رضا یا سخط پر جیسی صورت ہو‘ ہو- پس ہر روز اپنے اعمال کا محاسبہ چاہئے- ایک صحابی نے ہماری سرکار صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا کہ جاہلیت میں میں نے کچھ صدقات کئے تھے- کیا وہ بابرکات ہوں گے؟ ارشاد ہوا کہ اسلمت ما اسلفت یہ اسلام ان کی ہی برکت سے تجھے نصیب ہوا ہے- موت علی الاسلام اس طرح نصیب ہو سکتی ہے کہ انسان ہر روز محاسبہ کرتا رہے اور اللہ تعالیٰ سے اپنا معاملہ صاف کرے- اگر تعلقات صحیحہ نہ ہوں تو توبہ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں- ام کنتم شھداء )البقرہ:۱۳۴( تم تو موجود تھے- تمہارے اسلاف گواہی دیتے ہیں کہ یعقوبؑ نے آخر وقت کیا ارشاد کیا‘ کس کی اطاعت کرو گے؟ انہوں نے کہا نعبد الٰھک )البقرہ:۱۳۴( ہم اللہ کے فرمانبردار ہوں گے جو تمہارا اور اسحاقؑ اور ابراہیمؑ کا معبود تھا اور وہ ایک ہی تھا- و نحن لہ مسلمون )البقرہ:۱۳۴( ہم ہمیشہ اسی کے فرمانبردار رہیں گے- پس یہ حق وصیت کا ہے اور تمام وعظوں کا عطر اور اصل مقصد یہی ہے جو تمہارے سامنے پیش کیا ہے اور یہ وصیت ہے اس شخص کی جو ابوالانبیاء اور ابوالحنفاء ہے-
    اور اسی کی وصیت کو میں نے تمہارے سامنے پیش کیا ہے- پس تم اپنے کھانے پینے‘ لباس‘ دوستی‘ محبت‘ رنج‘ راحت‘ عسر‘ یسر‘ افلاس‘ دولتمندی‘ صحت اور مرض‘ مقدمات و صلح میں اس اصول کو مدنظر رکھو کہ اللہ کی فرمانبرداری سے کوئی قدم باہر نہ ہو- پس یہ وصیت تمام وصیتوں کی ماں ہے- اللہ تعالیٰ تمہیں توفیق دے کہ ہر حال میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری مدنظر ہو- اور یہ ہو نہیں سکتی جب اللہ|تعالیٰ سے بغاوت ہو- اور یہ بھی بغاوت ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک کو بڑا بناتا ہے اور اس کو برگزیدہ کرتا ہے مگر یہ اس کی مخالفت کرتا اور اس سے انکار کرتا ہے- برہموئوں نے اسی قسم کا دعویٰ کیا ہے جو وہ رسالت|ونبوت کے منکر ہیں- یہ بغاوت ہے- اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ مطاع ہو اور وہ گویا ارادہ الٰہی کا دشمن اور باغی ہے- پس اھدنا الصراط المستقیم )الفاتحہ:۶( کی دعا کرو- علوم پر ناز اور گھمنڈ نہ کرو- رنج میں‘ راحت میں اور عسر‘ یسر میں قدم آگے بڑھائو-
    ‏]sli [tagخطبہ ثانی
    ان اللہ یامر بالعدل و الاحسان و ایتای ذی القربیٰ و ینھیٰ عن الفحشاء و المنکر و البغی یعظکم لعلکم تذکرون )النحل:۹۱(
    اس آیت میں بڑے حکم ہیں- پہلا حکم عدل کا ہے- ایک عدل و انصاف بندوں کے ساتھ ہے- دیکھو ہم نہیں چاہتے کہ کوئی ہم سے دغا فریب کرے یا ہمارا نوکر ہو تو وہ ہماری خلاف ورزی کرے- پس ہم کو بھی لازم ہے کہ اگر ہم کسی کے ساتھ خادمانہ تعلق رکھتے ہیں تو اپنے مخدوم و محسن کی خلاف ورزی نہ کریں- اپنے فرائض منصبی کو ادا کریں اور کسی سے کسی قسم کا مکروفریب اور دغا نہ کریں- یہی عدل ہے- ہر چہ بر خود نہ پسندی بر دیگراں مپسند-
    یہ عدل باہم مخلوق کے ساتھ ہے- اور پھر جیسے ہم اپنے محسنوں کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو محسنوں کا محسن اور مربیوں کا مربی اور رب العالمین ہے اس کے ساتھ معاملہ کرنے میں عدل کو ملحوظ رکھیں- اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور اس کا ند اور مقابل تجویز نہ کریں-
    اس کے بعد دوسرا حکم احسان کا ہے- مخلوق کے ساتھ یہ کہ نیکی کے بدلے نیکی کرتے ہیں اس سے بڑھ کر سلوک کریں- اللہ تعالیٰ کے ساتھ احسان یہ ہے کہ عبادت کے وقت ہماری یہ حالت ہو کہ ہم گو یا اللہ تعالیٰ کو دیکھتے ہیں اور اگر اس مقام تک نہ پہنچے تو یقین ہو کہ وہ ہم کو دیکھتا ہے-
    پھر تیسرا حکم ایتاء ذی القربیٰ کا ہے- ذی القربیٰ کے ساتھ تعلق اور سلوک انسان کا فطری کام ہے جیسے ماں باپ بھائی بہن کے لئے اپنے دل میں جوش پاتا ہے اسی طرح اللہ کی فرمانبرداری میں متوالا ہو- کوئی غرض مدنظر نہ ہو- گویا محبت ذاتی کے طور پر اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری ہو-
    پھر چوتھا حکم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ منع کرتا ہے ہر قسم کی بے حیائیوں‘ نافرمانیوں اور دوسرے کو دکھ دینے والی باتوں سے اور ان بغاوتوں سے جو اللہ جل شانہ یا حکام یا بزرگوں سے ہوں اور آخر میں یہ ہے یعظکم لعلکم تذکرون اللہ تعالیٰ تمہیں وعظ کرتا ہے- غرض اور منشاء الٰہی یہ ہے کہ تم اس کو یاد رکھو- دو قسم کے واعظ ہوتے ہیں اور دو ہی قسم کے سننے والے- واعظ کی دو قسمیں تو یہ ہیں کہ کچھ پیسے مل جاویں اور یا مدح سرائی ہو کہ عمدہ بولنے والا ہے- خدا کا شکر ہے کہ تمہارے وعظ میں یہ دونوں باتیں نہیں بلکہ وہ محض نصح کے لئے کہتا ہے جو کہتا ہے- اور سننے والوں میں سے ایک قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جن کو اس وقت کچھ مزہ آتا ہے اور پھر یاد کچھ نہیں رہتا- دوسرے بالکل کورے کارے ہوتے ہیں- پس تم اس قسم کے سننے والے نہ بنو بلکہ وعظ کی اس غرض کو ملحوظ رکھو لعلکم تذکرون - اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے- آمین
    ) الحکم جلد۷ نمبر۲ ۔۔۔۔۔ ۱۷ / جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۱ تا ۱۳(
    * * * *

    جنوری ۱۹۰۳ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خطبہ عید الفطر
    لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی )البقرۃ:۲۵۷(
    دین کے معاملہ میں جبر نہیں‘ وہ کھلی چیز ہے- رشد اور غی الگ الگ چیزیں ہیں- رشد کے اختیار کرنے اور غی کے چھوڑنے میں کسی اکراہ کی ضرورت نہیں- اس آیت میں تین لفظ ہیں ’’دین-‘‘ ’’رشد-‘‘ اور’’غی-‘‘
    الدین
    اللہ تعالیٰ نے اپنی پاک کتاب میں جو ’’دین‘‘ کی توضیح اور تفسیر فرمائی ہے وہ یہ ہے ان الدین عند اللٰٰہ الاسلام )اٰل عمران:۲۰( اللہ تعالیٰ کے حضور ’’دین‘‘ کی حقیقت اور ماہیت کیا ہے؟ الاسلام! اپنی ساری قوتوں اور طاقتوں کے ساتھ اللہ کا فرمانبردار ہو جائے - اللہ تعالیٰ کے فرمان کو لے اور اس پر روح اور راستی سے عمل درآمد کرے - دین کے متعلق جبرائیل علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے حضور سوال کیا ہے اور آپﷺ~ نے صحابہ کرام کو بلکہ ہم کو آگاہ کیا ہے کہ یہ جبرائیل تھا- اتاکم لیعلمکم دینکم )صحیح مسلم کتاب الایمان-( پس دین کی حقیقت اور اس کا صحیح اور سچا مفہوم وہ ہو گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے اس وقت بیان فرمایا- الاسلام کے معنی یہ ہیں سر رکھ دینا- جان سے‘ دل سے‘ اعضاء سے‘ مال سے غرض ہر پہلو اور ہر حالت میں اللہ تعالیٰ ہی کی فرمانبرداری کرنا-
    دین کے لئے اللہ تعالیٰ نے بہت سی چیزیں عطا فرمائی ہیں جن کے ذریعہ ہم اس کی کامل اطاعت‘ فرمان|پذیری اور وفاداری کا اظہار کر سکتے ہیں اور پھر ان کے وراء الوریٰ‘ اندر ہی اندر قویٰ پر حکمرانی کر سکتے ہیں اور ان کو الٰہی فرمانبرداری میں لگا سکتے ہیں- غرض دین کی اصل حقیقت جو قرآن شریف نے بتائی ہے وہ مختصر الفاظ میں کامل وفاداری‘ سچی اطاعت اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری ہے-
    دین کا پہلا رکن ایمان
    پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جبرائیل کے توسط سے جو کچھ صحابہ کو اور ہم کو سکھایا ہے وہ ان سوالات میں بیان ہوا ہے جو صحابہ کی موجودگی میں جبرائیل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے کئے اور جن کی اصل غرض لیعلمکم دینکم تھی- ان میں سے پہلا یہ ہے- ما الایمان ؟ یا رسول اللہ! ایمان کس چیز کا نام ہے؟ فرمایا- ان تومن باللہ ایمان کی عظیم الشان اور پہلی جزو ایمان باللہ ہے- اور یہ بالکل سچی بات ہے کہ ایمان کا سرچشمہ اور اس کی ابتدا اللہ پر یقین کرنے سے شروع ہوتی ہے- ایمان|باللہ کیا چیز ہے؟ اللہ تعالیٰ کو جمیع صفات کاملہ سے موصوف اور تمام محامد اور اسماء حسنیٰ کا مجموعہ اور مسمی اور تمام بدیوں اور نقائص سے منزہ یقین کرنا اور اس کے سوا کسی شے سے کوئی امید و بیم نہ رکھنا اور کسی کو اس کا ند اور شریک نہ ماننا‘ یہ ایمان باللہ ہے- جب انسان اللہ تعالیٰ کو ان صفات سے موصوف یقین کرتا ہے تو ایسے خدا سے وہی قرب اور تعلق پیدا کر سکتا ہے جو خوبیوں سے موصوف اور بدیوں سے پاک ہو گا- پس جس جس قدر انسان فضائل کو حاصل کرتا اور رذائل کو ترک کرتا ہے اسی قدر وہ اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے قرب کے مدارج اور مراتب کو بڑھاتا اور اللہ تعالیٰ کی ولایت میں آتا جاتا ہے کیونکہ پاک کو گندے کے ساتھ قرب کی نسبت نہیں ہو سکتی اور جوں جوں رذائل کی طرف جھکتا اور فضائل سے ہٹتا ہے اسی|قدر اللہ تعالیٰ کے قرب سے محروم ہو کر اس کے فیضان ولایت سے دور اور مہجور ہوتا جاتا ہے-
    حصول قرب الٰہی کا ذریعہ
    یہ ایک قابل غور اصل ہے اور اس کو کبھی بھی ہاتھ سے دینا نہیں چاہئے- صفات الٰہی پر غور کرو اور وہی صفات اپنے اندر پیدا کرو- نتیجہ یہ ہو گا کہ قرب الٰہی کی راہ قریب ہوتی جائے گی- اور اس کی قدوسیت اور سبحانیت تمہاری پاکیزگی اور طہارت کو اپنی طرف جذب کرے گی- بہت سے لوگ اس قسم کے ہیں جو خود ناپاک اور گندی زیست رکھتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ کیوں ہم کو قرب الٰہی حاصل نہیں ہوتا؟ وہ نادان نہیں جانتے کہ ایسے لوگوں کو قرب الٰہی کیونکر حاصل ہو جو اپنے اندر پاکیزگی اور طہارت پیدا نہیں کرتے- قدوس خدا ایک ناپاک انسان سے کیسے تعلق پیدا کرے؟
    ایمان بالملائکہ کی فلاسفی
    ایمان باللہ کے بعد دوسری جزو ایمان کی ایمان بالملائکہ ہے- ایمان بالملائکہ کے متعلق مجھے اللہ تعالیٰ نے یوں سمجھ دی ہے کہ انسان کے دل پر ہر وقت ملک اور شیطان نظر رکھتے ہیں- اور یہ امر ایسا واضح اور صاف ہے کہ اگر غور کرنے والی فطرت اور طبیعت رکھنے والا انسان ہو تو بہت جلد اس کو سمجھ لیتا ہے- بلکہ موٹی عقل کے آدمی بھی معلوم کر سکتے ہیں اور وہ اس طرح پر کہ بعض وقت یکایک بیٹھے بٹھائے انسان کے دل میں نیکی کی تحریک ہوتی ہے یہاں تک کہ ایسے وقت بھی تحریک ہو جاتی ہے جبکہ وہ کسی بڑی بدی اور بدکاری میں مصروف ہو- میں نے ان امور پر مدتوں غور کی اور سوچا ہے اور ہر ایک شخص اپنے دل کی مختلف کیفیتوں اور حالتوں سے آگاہ ہے- وہ دیکھتا ہے کہ کبھی اندر ہی اندر کسی خطرناک بدی کی تحریک ہو رہی ہے اور پھر محسوس کرتا ہے کہ معاً دل میں رقت اور نیکی کی تحریک کا اثر پاتا ہے- یہ تحریکات نیک یا بد جو ہوتی ہیں بدوں کسی محرک کے تو ہو نہیں سکتی ہیں- پس یہ وہی بات ہے جو میں نے ابھی کہی ہے کہ انسان کے دل کی طرف ملائکہ اور شیاطین نظر رکھتے ہیں- پس ایمان بالملائکہ کی اصل غرض یہ ہے کہ ہر نیکی کی تحریک پر جو ملائکہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے کبھی کسل و کاہلی سے کام نہ لے اور فوراً اس پر عمل کرنے کو تیار ہو جائے اور توجہ کرے- اگر ایسا نہ کرے گا تو و اعلموا ان اللہ یحول بین المرء و قلبہ )الانفال:۲۵( کا مصداق ہو کر پھر نیکی کی توفیق سے بتدریج محروم ہو جائے گا-
    ‏]head20r [tagقرب الٰہی کا دوسرا ذریعہ
    یہ پکی بات ہے کہ جب انسان نیکی کی تحریکوں کو ضائع کرتا ہے تو پھر وہ طاقت‘ وقت‘ فرصت اور موقع نہیں ملتا- اگر انسان اس وقت متوجہ ہو جاوے تو معاً نیک خیال کی تحریک ہوتی ہے- چونکہ اس خواہش کا محرک محض فضل الٰہی سے ملک ہوتا ہے جب انسان اس کی تحریک پر کار بند ہوتا ہے تو پھر اس فرشتہ اور اس کی جماعت کا تعلق بڑھتا ہے اور پھر اس جماعت سے اعلیٰ ملائکہ کا تعلق بڑھنے لگتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو جاتا ہے-
    ایک حدیث میں صاف آیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی سے پیار کرتا ہے تو جبرائیل کو آگاہ کرتا ہے تو وہ جبرائیل اور اس کی جماعت کا محبوب ہوتا ہے- اسی طرح پر درجہ بدرجہ وہ محبوب اور مقبول ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ زمین میں مقبول ہو جاتا ہے- یہ حدیث اسی اصل اور راز کی حل کرنے والی ہے جو میں نے بیان کیا ہے- ایمان بالملائکہ کی حقیقت پر غور نہیں کی گئی اور اس کو ایک معمولی بات سمجھ لیا جاتا ہے- یاد رکھو کہ ملائکہ کی پاک تحریکوں پر کاربند ہونے سے نیکیوں میں ترقی ہوتی ہے یہاں تک کہ انسان اللہ تعالیٰ کا قرب اور دنیا میں قبول حاصل کرتا ہے- اسی طرح پر جیسے نیکیوں کی تحریک ہوتی ہے میں نے کہا ہے کہ بدیوں کی بھی تحریک ہوتی ہے- اگر انسان اس وقت تعوذ و استغفار سے کام نہ لے‘ دعائیں نہ مانگے‘ لاحول نہ پڑھے تو بدی کی تحریک اپنا اثر کرتی ہے اور بدیوں میں مبتلا ہو جاتا ہے- پس جیسے یہ ضروری ہے کہ ہر نیک تحریک کے ہوتے ہی اس پر کار بند ہونے کی سعی کرے اور سستی اور کاہلی سے کام نہ لے‘ یہ بھی ضروری ہے کہ ہر بدتحریک پر فی الفور استغفار کرے‘ لاحول پڑھے- درود شریف اور سورۃ فاتحہ پڑھے اور دعائیں مانگے-
    یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ایمان باللہ کے بعد ایمان بالملائکہ کو کیوں رکھا ہے- اس کی وجہ یہ ہے کہ ساری سچائیوں اور پاکیزگیوں کا سرچشمہ تو جناب الٰہی ہی ہے- مگر اللہ تعالیٰ کے پاک ارادے ملائکہ پر جلوہ گری کرتے ہیں اور ملائکہ سے پاک تحریکیں ہوتی ہیں- نیکی کی ان تحریکوں کا ذریعہ دوسرے درجہ پر چونکہ ملائکہ ہیں اس لئے ایمان باللہ کے بعد اس کو رکھا-
    ملائکہ کے وجود پر زیادہ بحث کی اس وقت حاجت نہیں- یہ تحریکیں ہی ملائکہ کے وجود کو ثابت کر رہی ہیں- اس کے علاوہ لاکھوں لاکھ مخلوق الٰہی ایسی ہے جس کا ہم کو علم بھی نہیں اور نہ ان پر ایمان لانے کا ہم کو حکم ہے-
    اس کے بعد تیسرا جزو ایمان کا ایمان بالکتب ہے- براہ راست مکالمہ اول فضل ہے پھر ملائکہ کی تحریک پر عمل کرنا اس کے قرب کو بڑھاتا ہے- ان کے بعد کتاب اللہ کے ماننے کا مرتبہ ہے- کتاب اللہ پر ایمان بھی اللہ کے فضل اور ملائکہ ہی کی تحریک سے ہوتا ہے- اللہ کی کتاب پر عمل درآمد جو سچے ایمان کا مفہوم|اصلی ہے‘ چاہتا ہے محنت اور جہاد- چنانچہ فرمایا- و الذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا )العنکبوت:۷۰( یعنی جو لوگ ہم میں ہو کر مجاہدہ اور سعی کرتے ہیں ہم ان پر اپنی راہیں کھول دیتے ہیں- یہ کیسی سچی اور صاف بات ہے- میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیوں اختلاف کے وقت انسان مجاہدات سے کام نہیں لیتا-
    کیوں ایسے وقت انسان دبدھا اور تردد میں پڑتا ہے اور جب یہ دیکھتا ہے کہ ایک کچھ فتویٰ دیتا ہے اور دوسرا کچھ تو وہ گھبرا جاتا اور کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا- کاش وہ جاھدوا فینا کا پابند ہوتا تو اس پر سچائی کی اصل حقیقت کھل جاتی- مجاہدہ کے ساتھ ایک اور شرط بھی ہے‘ وہ تقویٰ کی شرط ہے- تقویٰ کلام اللہ کے لئے معلم کا کام دیتاہے و اتقوا اللہ و یعلمکم اللہ )البقرہ:۲۸۳-( اللہ کی تعلیم تقویٰ پر منحصر ہے اور اس کی راہ کا حصول جہاد پر- جہاد سے مراد اللہ تعالیٰ کی راہ میں سعی اور کوشش ہے- اللہ تعالیٰ کی راہ میں سعی اور جہاد اور تقویٰ اللہ سے روکنے والی ایک خطرناک غلطی ہے جس میں اکثر لوگ مبتلا ہو جاتے ہیں اور وہ یہ ہے فرحوا بما عندھم من العلم )المومن:۸۴-(کسی قسم کا علم جو انسان کو ہو وہ اس پر ناز کرے اسی کو اپنے لئے کافی اور راحت بخش سمجھے تو وہ سچے علوم اور ان کے نتائج سے محروم رہ جاتا ہے- خواہ کسی قسم کا علم ہو‘ وجدان کا‘ سائنس کا‘ صرف و نحو یا کلام یا اور علوم‘ غرض کچھ ہی ہو انسان جب ان کو اپنے لئے کافی سمجھ لیتا ہے تو ترقیوں کی پیاس مٹ جاتی ہے اور محروم رہتا ہے-
    راستباز انسان کی پیاس سچائی سے کبھی نہیں بجھ سکتی بلکہ ہر وقت بڑھتی ہے- اس کا ثبوت اس سے بڑھ کر کیا ہو گا کہ ایک کامل انسان اعلم باللہ- اتقیٰ للٰہ- اخشیٰ للٰہ جس کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے وہ اللہ تعالیٰ کے سچے علوم‘ معرفت‘ سچے بیان اور عمل درآمد میں کامل تھا- اس سے بڑھ کر اعلم‘ اتقیٰ اور اخشیٰ کوئی نہیں- پھر بھی اس امام المتقین اور امام العالمین کو یہ حکم ہوتا ہے قل رب زدنی علماً- )طٰہٰ:۱۱۵( اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ سچائی کے لئے اور اللہ تعالیٰ کی معرفت اور یقین کی راہوں اور علوم حقہ کے لئے اسی قدر پیاس انسان میں بڑھے گی جس قدر وہ نیکیوں اور تقویٰ میں ترقی کرے گا- جو انسان اپنے اندر اس پیاس کو بجھا ہوا محسوس کرے اور فرحوا بما عندھم من العلم )المومن:۸۴( کے آثار پائے اس کو استغفار اور دعا کرنی چاہئے کہ وہ خطرناک مرض میں مبتلا ہے جو اس کے لئے یقین اور معرفت کی راہوں کو روکنے والی ہے-
    چونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی راہیں بے انت اور اس کے مراتب و درجات بے انتہا ہیں پھر مومن کیونکر مستغنی ہو سکتا ہے- اس لئے اسے واجب ہے کہ اللہ کے فضل کا طالب اور ملائکہ کی پاک تحریکوں کا متبع ہو کر کتاب اللہ کے سمجھنے میں چست و چالاک ہو- اور سعی اور مجاہدہ کرے- تقویٰ اختیار کرے تا سچے علوم کے دروازے اس پر کھلیں-
    غرض کتاب اللہ پر ایمان تب پیدا ہو گا جب اس کا علم ہو گا اور علم منحصر ہے مجاہدہ اور تقویٰ پر اور فرحوا بما عندھم من العلم )المومن:۸۴( سے الگ ہونے پر-
    ایمان بالرسالت
    اس کے بعد چوتھا رکن ایمان کا ایمان بالرسول ہے- بہت سے لوگ ایسے موجود ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ڈھیروں ڈھیر کتابیں ہیں- پرانے لوگوں کی یادداشتیں ہیں- ہم نیکی اور بدی کو سمجھتے ہیں- کسی مامور و مرسل کی کیا ضرورت ہے؟ ۱~}~
    یہ لوگ اپنے مخازن علوم کو کافی سمجھتے ہیں اور خطرناک جرم کے مرتکب ہوتے ہیں کیونکہ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور باغی ٹھہرائے جاتے ہیں اور یہ سچ بھی ہے- اللہ تعالیٰ ہی سے تو وہ مقابلہ کرتے ہیں- جب اللہ تعالیٰ ایک انسان کو معظم و مکرم اور مطاع بنانا چاہتا ہے تو ہر ایک کا فرض ہے کہ رضاء الٰہی کو مقدم کرے اور اس کو اپنا مطاع سمجھے- ارادہ الٰہی کو کوئی چیز روک نہیں سکتی- اس کے مقابلہ میں تو جو آئے گا وہ ہلاک ہو جائے گا- پس جو خلاف ورزی کرتا ہے یا یہ سمجھتا ہے کہ میرے علوم کے سامنے اس کی احتیاج نہیں وہ اس تعظیم‘ مکرمت‘ اعزاز میں جو اس مطاع‘ مکرم و معظم کے متبعین کو ملتا ہے حصہ دار نہیں ہوتا بلکہ محروم رہ جاتا ہے- خواہ ایسا انسان اپنے طور پر کتنی ہی نیکیاں کرتا ہو مگر ایک انسان کی مخالفت اور خلاف ورزی سے اس کے اعمال حبط ہو جاتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے عظیم|الشان منشاء کے خلاف کرتا ہے- اس پر بغاوت کا الزام ہے- دنیوی گورنمنٹوں کے نظام میں بھی یہی قانون ہے- ایک بھلامانس آدمی جو کبھی بدمعاملگی نہیں کرتا- چوری اور رہزنی اس کا کام نہیں- تاجر ہے تو چونگی کا محصول اور دوسرے ضروری محاصل کے ادا کرنے میں سستی نہیں کرتا- زمیندار ہے تو وقت پر لگان ادا کرتا ہے- لیکن اگر وہ یہ کہے کہ بادشاہ کی ضرورت نہیں اور اس کے اعزاز و اکرام میں کمی کرے تو یہ شریر اور باغی قرار دیا جاوے گا-
    اسی طرح پر ماموروں کی مخالفت خطرناک گناہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے حضور ہو سکتا ہے-
    ابلیس نے یہی گناہ کیا تھا- انبیاء علیہم السلام کے حضور شیاطین بہت دھوکے دیتے ہیں- میرے نزدیک وہ لوگ بڑے ہی بدبخت ہیں جو اللہ تعالیٰ کے منشاء کے خلاف کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ذرہ ذرہ اس پر *** بھیجتا ہے- جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ معزز و مکرم اور مطاع ہو تو اس کی مخالفت کرنے والا تباہ نہ ہو تو کیا ہو- یہی سر ہے جو انبیاء و مرسل اور مامورین کے مخالف ہمیشہ تباہ ہوئے ہیں- وہ جرم بغاوت کے مجرم ہوتے ہیں-
    پس کتابوں کے بعد رسولوں پر ایمان لانا ضروری ہے ورنہ انسان متکبر ہو جاتا ہے اور پہلا گناہ دین میں خلیفت اللہ کے مقابل یہی تھا ابیٰ و استکبر )البقرۃ:۳۵-( اس میں شک نہیں کہ سنت اللہ اسی طرح پر ہے کہ ماموروں پر اعتراض ہوتے ہیں- اچھے بھی کرتے ہیں اور برے بھی‘ مگر اچھوں کو رجوع کرنا پڑتا ہے اور برے نہیں کرتے- مگر مبارک وہی ہیں جو اعتراض سے بچتے ہیں کیونکہ نیکوں کو بھی آخر مامور کے حضور رجوع اور سجدہ کرنا ہی پڑا ہے- پس اگر یہ ملک کی طرح بھی ہو پھر بھی اعتراض سے بچے کیونکہ خدا تو سجدہ کرائے بغیر نہ چھوڑے گا ورنہ *** کا طوق گلے میں پڑے گا-
    جزا و سزا
    اس کے بعد پانچواں رکن ایمان کا جزا و سزا پر ایمان ہے- یہ ایک فطرتی اصل ہے اور انسان کی بناوٹ میں داخل ہے کہ جزا اور بدلے کے لئے ہوشیار اور سزا سے مضائقہ کرتا ہے- یہ ایک فطرتی مسئلہ ہے اور اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا- ایک بچہ بھی جب دیکھتا ہے کہ یہاں سے دکھ پہنچے گا وہاں سے ہٹتا ہے اور جہاں راحت پہنچتی ہے وہاں خوشی سے جاتا ہے- چلا چلا کر بھی جزا لینے کو تیار رہتا ہے یہاں تک کہ فاسق و فاجر کی فطرت میں بھی یہ امر ہے- ایک آدمی کبھی پسند نہیں کرتا کہ دوسرے کے سامنے ذلیل و خوار ہو- ہر ایک چاہتا ہے کہ معزز ہو- میں نے دیکھا ہے کہ فیل ہونے سے ایک بچہ کو کیسی ذلت پہنچتی ہے- بعض اوقات ان ناکامیوں نے خودکشیاں کرادی ہیں اور پاس ہونے سے کیسی خوشی ہوتی ہے- زمینداروں کو دیکھا جب بروقت بارش نہ ہو‘ پھل کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو کیسا رنج ہوتا ہے لیکن اگر غلہ گھر لے آئے تو کیسا خوش ہوتا ہے- اسی طرح ہر حرفہ صنعت والا‘ دوکاندار غرض کوئی نہیں چاہتا کہ محنت کا بدلہ نہ ملے اور بچائو کا سامان نہ ہو-
    پس جب یہ فطرتی امر ہے تو اس کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایمان کا جزو رکھا ہے کہ جزا و سزا پر ایمان لائو- وہ مالک یوم الدین )الفاتحۃ:۴( ہے- روز روشن کی طرح اس کی جزائیں سزائیں ہیں اور وہ مخفی نہ ہوں گی اور مالکانہ رنگ میں آئیں گی جیسے مالک اچھے کام پر انعام اور برے کام پر سزا دیتا ہے- اس حصہ پر ایمان لا کر انسان کامیاب ہو جاتا ہے مگر اس میں سستی اور غفلت کرنے سے ناکام رہتا ہے اور قرب الٰہی کی راہوں سے دور چلا جاتا ہے-
    دوسرا سوال
    ‏text] g[ta پھر دوسرا سوال جو جبرائیل نے تعلیم الدین کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے کیا اور آپﷺ~ نے اس کا جواب دیا وہ ہے ما الاسلام؟ اس کا جواب جو پاک انسان خاتم|الانبیاء و خاتم الاولیائ‘ خاتم|الکمالات کی زبان سے نکلا وہ یہ ہے- ان تشھد ان لا الٰہ الا اللہ )بخاری کتاب الایمان-(جو بات انسان کے دل سے اٹھتی ہے ضرور ہے کہ اس کا اثر اس کے اعضا‘ جوارح اور مال پر پڑے- کون نہیں سمجھتا کہ شجاعت اگر اندر ہو تو وہ اپنے ہاتھ‘ بازو اور اعضا سے محل و موقع پر اس کا ثبوت نہ دے گا- اگر وہ موقع پر بھاگ جاتا اور بزدلی ظاہر کرتا ہے تو کوئی اس کو شجاع نہیں کہہ سکتا- اسی طرح سخاوت ایک عمدہ جوہر ہے لیکن اگر اس کا اثر مال پر نہیں پڑتا تو وہ سخاوت نہیں‘ بخل ہے- ایسا ہی عفت ایک عمدہ صفت ہے- ضرور ہے کہ جس میں یہ صفت ہو وہ بدنظری اور بے حیائی سے بچے اور تمام فواحش اور ناپاک کاموں سے پرہیز کرے- اسی طرح جس کے اندر قناعت ہو ضروری ہو گا کہ وہ دوسروں کے مال پر بے جا تصرف سے پرہیز کرے گا- غرض یہ ضروری بات ہے کہ جب اندر کوئی بات ہو تو اس کا اثر جوارح اور مال پر ضرور ہوتا ہے- پس اگر سچی نیازمندی‘ فرمانبرداری‘ تحریک ملائکہ‘ کتابوں‘ ماموروں‘ خلفاء اور مصلحوں کی اطاعت میں ہو اور دل میں یہ بات ہو تو زبان پر ضرور آئے گی اور وہ اظہار کرے گا- اگر سچائی سے کسی انسان کو مانا ہوا ہو اور اس کے اظہار سے مضائقہ ہو تو یاد رکھو دل کمزور ہے- اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر اللہ کے اسماء پر کامل یقین ہو اور اس کے رسولوں پر‘ ملائکہ پر اور کتابوں اور انبیاء پر یقین ہو اور ایسا ہی اس یقین میں ان کا ثواب اور اللہ کا قرب داخل ہو تو اس یقین کا اثر زبان پر آتا ہے اور وہ ایک لذت کے ساتھ کہہ اٹھتا ہے اشھد ان لا الٰہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ و اشھد ان محمداً عبدہ و رسولہ-
    بے ریب سید الاولین و الاخرین‘ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم‘ کامل صفات والا انسان کل سچائیوں اور علوم حقہ کا لانے والا ہے- جب یہ اقرار اور وہ ایمان ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ سچی نیازمندی کے ساتھ جناب الٰہی کے حضور پیش ہو اور یہی نماز ہے- نماز ظاہری پاگیزگی‘ ہاتھ منہ دھونے اور ناک صاف کرنے اور شرمگاہوں کو پاک کرنے کے ساتھ یہ تعلیم دیتی ہے کہ جیسے میں اس ظاہری پاکیزگی کو ملحوظ رکھتا ہوں اندرونی صفائی اور پاکیزگی اور سچی طہارت عطا کر اور پھر اللہ تعالیٰ کے حضور سبحانیت‘ قدوسیت‘ مجدیت‘ پھر ربوبیت‘ رحمانیت‘ رحیمیت اور اس کے ملک ملک میں تصرفات اور اپنی ذمہ|واریوں کو یاد کر کے کہ اس قلب کے ساتھ ماننے کو تیار ہوں‘ سینہ پر ہاتھ رکھ کر تیرے حضور کھڑا ہوتا ہوں- اس قسم کی نماز جب پڑھتا ہے تو پھر اس کی وہ خاصیت اور اثر پیدا ہوتا ہے جو ان الصلوٰۃ تنھیٰ عن الفحشاء و المنکر )النحل:۹۱( میں بیان ہوا ہے- پھر پاک کتاب کا کچھ حصہ پڑھے اور رکوع کرے اور غور کرے کہ میری عبودیت اور نیازمندی کی انتہا بجز سجدہ کے اور کوئی نہیں - جب اس قسم کی نماز پڑھے تو وہ نیازمندی اور سچائی جب اعضاء اور جوارح پر اپنا اثر کر چکی تو اور جوش مار کر ترقی کرے گی اور اس کا اثر مال پر پڑے گا اور ایک مقررہ حصہ اپنے مال کا دے گا - جیسے آج کے دن بھی صدقہ~ن۲~ الفطر ہر شخص پر‘ غنی ہو‘ حر ہو یا عبد‘ غرض سب پر واجب ہے کہ صدقہ دے تاکہ روزوں کے لئے طہر کا کام دے اور نماز سے پہلے ایک مقام پر جمع کرے-
    وحدت کی ضرورت
    اس بات کی بڑی ضرورت ہے کہ وحدت پیدا ہو- اسلام کے ہر امر میں وحدت کی روح پھونکی گئی ہے- جب تک وحدت نہ ہو اس پر اللہ کا ہاتھ نہیں ہوتا جو جماعت پر ہوتا ہے- میں درختوں کو دیکھ کر سوچتا ہوں کہ اگر ایک ایک پتہ کہے کہ میں ہاتھ پھیلائے ہوئے ہوں اور اپنے رب سے مانگتا ہوں وہ مجھے سرسبز کردے گا- کیا وہ الگ ہو کر سرسبز رہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ وہ مرجھا جائے گا اور ادنیٰ سے جھونکے سے گر جائے گا- اس لئے ضروری ہے کہ ایک شاخ سے اس کا تعلق ہو اور پھر اس شاخ کا کسی بڑی شاخ سے اور اس کا کسی بڑے تنے سے تعلق ہو جو جڑ اور اس کی رگوں سے اپنی خوراک کو جذب کرے- یہ سچی مثال ہے- جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کا بیج لگاتا ہے تو جو شاخ اس سے الگ ہو کر بار آور اور ثمردار ہونا چاہے وہ نہیں رہ سکتی خواہ اسے کتنے ہی پانی میں رکھو- وہ پانی اس کی سرسبزی اور شادابی کی بجائے اس کے سڑنے کا موجب اور باعث ہو گا- پس وحدت کی ضرورت ہے اسی لئے صدقہ~ن۲~ الفطر بھی ایک ہی جگہ جمع ہونا چاہئے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں عید سے پہلے یہ صدقہ جمع ہو جاتا اور ایسے ہی زکٰوۃ کے اموال بڑی احتیاط سے اکٹھے کئے جاتے یہاں تک کہ منکرین کے لئے قتل کا فتویٰ دیا گیا- مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے بھائیوں میں ابھی یہ وحدت پیدا نہیں ہوئی یا ہوتی ہے تو بہت کمزور ہے-
    تم پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل اور احسان ہے کہ تم نے اس کو کامل صفات سے موصوف مانا ہے اور یہاں تک تم نے توحید سے حظ اٹھایا ہے کہ اگر کوئی غلطی سے مخلوق میں سے کسی کو ان صفات سے موصوف مانتا تھا تم نے اس کو بھی اس امام کے طفیل سے چھوڑا اور اب تم پاک ہو گئے کہ مسیح کو خالق اور باری‘ محلل‘ محرم اور محیی اور ممیت اور عالم الغیب سمجھو- تو جیسے یہ امتیاز حاصل کیا تھا اب کیسی ضرورت تھی کہ پھر صحابہ کی طرح تمہارے سارے تعلقات اس شجر طیبہ کے ساتھ ہوتے جس کے ساتھ پیوند ہو کر وہ تمام پھل لانے والے تم ہو سکتے تھے- مجھے ہمیشہ تعجب ہوتا ہے جب میں کسی کو ایسے تعلقات سے باہر دیکھتا ہوں- دیکھو تمہارے تعلقات‘ تمہارے چال چلن‘ شادی و غمی‘ حسن معاشرت‘ تمدن‘ سلطنت کے ساتھ تعلقات‘ غرض ہر قول و فعل آئندہ نسلوں کے لئے ایک نمونہ ہو گا- پھر کیا تم چاہتے ہو کہ رحمت اور فضل کا نمونہ تم بنو یا *** کا- پس دعائیں کرو کہ تم جو اس پاک چشمہ پر پہنچے ہو‘ اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے سیراب کرے اور عظیم الشان فضل اور خیر کے حاصل کرنے کی تمہیں توفیق ملے- اور یہ سب توفیقیں اس وقت ملیں گی جب تمہارے سب معاملات ایک درخت سے وابستہ ہوں-
    پس ان سارے چندوں اور اغراض میں ایک ہی تنا اور جڑ ہو- پھر ایسی وحدت ہو کہ تمام دغا اور فریب‘ کپٹ سے بری ہو جائو- شائد تم نے سمجھا ہو کہ کسی کتاب کا نام کشتی نوح ہے- نہیں‘ کچھ اغراض|ومقاصد ہیں‘ کچھ عقائد اور اعمال ہیں- اس پر وہی سوار ہو سکتا ہے جو اپنے آپ کو اس کی تعلیم کے موافق بناتا ہے- پھر ان سب کے بعد تقویٰ کی وہ راہ ہے جس کا نام روزہ ہے- جس میں انسان شخصی اور نوعی ضرورتوں کو اللہ تعالیٰ کے لئے ایک وقت معین تک چھوڑتا ہے-
    اب دیکھ لو کہ جب ضروری چیزوں کو ایک وقت ترک کرتا ہے تو غیر ضروری کا استعمال کیوں کرے گا- روزہ کی غرض اور غایت یہی ہے کہ غیر ضروری چیزوں میں اللہ کو ناراض نہ کرے- اس لئے فرمایا لعلکم تتقون )البقرہ:۱۸۴-(
    پھر جیسے پنجگانہ نمازیں ہر محلے میں باجماعت پڑھتے ہیں اور پھر جمعہ کی نماز سارے شہر والے اسی طرح ارد گرد کے دیہات والے اور کل شہر کے باشندے جمع ہو کر عید کی نماز ایک جگہ پڑھتے ہیں- اس میں بھی وہی وحدت کی تعلیم مقصود ہے- غرض اسلام نے ہر رکن میں ایک وحدت کو قائم کیا ہے پھر اس کو قائم رکھنے کے لئے خاص حکم بھی دیا لاتنازعوا )الانفال:۴۷( باہم کش مکش نہ کرو- کیونکہ جب ایک کھچا کھچی کرتا ہے تو دوسرا بھی اس میں مبتلا ہو جاتا ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہوا بگڑ جاتی ہے- جب یہ خود دوسرے کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو چونکہ وہ بھی کبر الٰہی کا مظہر ہے اس لئے تکبر کرتا اور وحدت اٹھ جاتی ہے- اسی لئے حکم دیا کہ نزاع نہ کیا کرو ورنہ پھسل جائو گے اور فرمایا صبر کرو- ایسا صبر نہیں کہ کوئی ایک گال پر طمانچہ مارے تو دوسری پھیر دو بلکہ ایسا صبر کرو اور عفو ہو کہ جس میں اصلاح مقصود ہو- سچے مومن بننا چاہتے ہو تو یاد رکھو لایومن احدکم حتیٰ یحب لاخیہ ما یحب لنفسہ )بخاری کتاب الایمان-( اسی وحدت کے قائم رکھنے کے لئے نمازوں میں یک جہتی تھی- مکہ کا وجود تھا- اور اب اس وقت خدا کا کیسا فضل ہے اور کیسی مبارکی کا یہ زمانہ ہے کہ سب سامان موجود ہیں- مکالمہ الٰہی ہوتا ہے- ایک مطاع مکرم معظم موجود ہے جو اپنے عام چال چلن‘ مخلوق کے ساتھ تعلقات‘ معاشرت اور گورنمنٹ کے ساتھ اپنے معاملات کا نمونہ دکھانے سے قوم بنا رہا ہے- اس لئے اب کوئی عذر باقی نہیں رہ سکتا-
    بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ کہنے کی باتیں ہیں‘ کرنے کی نہیں- یہ ان کی غلطی ہے- اللہ تعالیٰ نے کوئی امر و نہی ایسا نہیں دیا ہے جو انسان کی طاقت سے باہر ہو ورنہ اس کی حکیم کتاب قرآن مجید کا یہ ارشاد کہ لایکلف اللہ نفساً الا وسعھا )البقرہ:۲۸۷( باطل ہو گا اور وہ باطل نہیں ہے- متقی اور خدا سے ڈرنے والا ایسی بات منہ سے نہیں نکال سکتا- یہ صرف خبیث روح کی تحریکیں ہیں-
    الاحسان
    اس کے بعد تیسری بات جبرائیل نے پوچھی ہے جس سے دین کی تکمیل ہوتی ہے اور وہ یہ ہے- ماالاحسان؟ )بخاری کتاب الایمان( احسان کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں ایسا اخلاص اور ایسا انتساب ہو کہ تو گویا اس کو دیکھتا ہے اور اگر اس درجہ تک نہ پہنچے تو کم از کم اپنے آپ کو اس کی نگرانی میں سمجھے- جب تک ایسا بندہ نہ ہو وہ دین کے مراتب کو نہیں سمجھ سکتا- پس ایسا دین‘ کوئی سلیم الفطرت کہہ سکتا ہے کہ اس میں اکراہ کی ضرورت ہے؟ ہرگز نہیں- لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی )البقرۃ:۲۵۷-( اس وقت بھی ویسا ہی وقت ہے جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں تھا- ہدایت کی راہیں کھلی ہوئی ہیں- تجربے‘ مشاہدہ‘ سائنس‘ قویٰ کا نشو و نما‘ وجدان‘ صحیح فطری قویٰ رشد اور غی میں امتیاز کرنے کو موجود ہیں-
    رشد کو اقتصاد بھی کہتے ہیں جو افراط اور تفریط کے درمیان کی راہ ہے- بہت سے لوگ ہیں جو خاص خاص مذاق میں بڑھے ہوئے ہیں- بعض ایسے ہیں کہ ان کو کھانے ہی کی ایک دھت ہوتی اور اب وہ اس میں بہت ترقی کر گئے ہیں اور کرتے جاتے ہیں- بعض کو دیکھا ہے کہ بچپن میں یہ عادت ہوئی اور پھر بڑھتے بڑھتے بہت سی بداطواریوں کا باعث بن گئی- ایسا ہی لباس میں افراط کرنے والے‘ مکانات میں افراط سے کام لینے والوں کا حال ہے- ایسا ہی بعض جمع اموال میں‘ بعض فضول خرچیوں میں بڑھتے ہیں- جب ایک کی عادت ڈال لیتے ہیں تو پھر وہ ہر روز بڑھتی ہے- غرض افراط اور تفریط دونوں مذموم چیزیں ہیں- عمدہ اور پسندیدہ اقتصاد یا رشد ہے- یہی حال اقوال اور افعال میں ہے- اس طرح پر ترقی کرتے کرتے ہم عقائد تک پہنچتے ہیں- بعض نے تو سوسائٹی کے اصول رسم و رواج سب کو اختیار کر لیا اور مذہب کا جزو قرار دے لیا اور بعض ایسے ہیں کہ ساری انجمنوں کو لغو قرار دیتے ہیں- غرض دنیا عجیب قسم کی افراط اور تفریط میں پڑی ہوئی ہے- رشد اور اقتصاد کی صراط مستقیمصرف اسلام لے کر آیا ہے- بعض نادانوں نے اعتراض کیا ہے کہ اسلام تو رشد اور اقتصاد سکھاتا ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مقابلہ کیوں کیا؟ مگر افسوس ہے کہ ان کو معلوم نہیں- انہوں نے تو تیرہ سال تک صبر کر کے دکھایا اور پھر آخر آپ چونکہ کل دنیا کے لئے ہادی تھے تو بادشاہوں اور تاجداروں کے لئے بھی کوئی قانون چاہئے تھا یا نہیں؟ اب دیکھ لو کہ غیرقوموں کی لڑائیوں میں کیا ہوتا ہے- جب دشمن سے مقابلہ ہوتا ہے تو بعض اوقات عورتیں‘ بچے‘ مویشی‘ کھیت سب تباہ ہو جاتے ہیں-
    ایسا کیوں ہوتا ہے؟ صرف اس لئے کہ مذہب نے ملک داری کا کوئی نمونہ اور قانون پیش نہیں کیا- آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ہر ضرورت کی خود تکمیل کی ہے اور اسی لئے خانہ داری کے اصولوں پر الگ بحث کی ہے- ان لوگوں کو جو حیض و نفاس کے مسائل پر اعتراض کرتے ہیں غور کرنا چاہئے کہ معاشرت کا یہ بھی ایک جزو ہے-
    غرض ہماری شریعت جامع شریعت ہے جس میں انسان کے فطری حوائج کھانے پینے سے لے کر معاشرت‘ تمدن‘ تجارت‘ زراعت‘ حرفت‘ ملک داری اور پھر ان سب سے بڑھ کر خدا شناسی اور روحانی مدارج کی تکمیل کی یکساں تعلیم موجود ہے- یہی وجہ ہے کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں- یہی باعث ہے کہ اسلام مکمل دین ہے- یہ ایک نیا قصہ ہے کہ اسلام ہر شعبہ اور ہر حصہ میں کیا تعلیم دیتا ہے- چونکہ اس وقت کتاب اللہ موجود ہے اور اس کا معلم بھی خدا کے فضل سے موجود ہے اور اس کا نمونہ تم دیکھ سکتے ہو- میں صرف یہی کہوں گا- قد تبین الرشد من الغی )البقرۃ:۲۵۷( اس کی راہ رشد کی راہ ہے اور اس کے خلاف خواہ افراط کی راہ ہو یا تفریط کی اس کا نام غی ہے- رشد والوں کو مومن‘ متقی‘ سعید کہا گیا اور غی والوں کو کافر‘ منافق‘ شقی- فمن یکفر بالطاغوت )البقرۃ:۲۵۷( جو لوگ الٰہی حدبندیوں کو توڑ کر چلے گئے ہیں ان کو طاغوت کہا ہے- اللہ تعالیٰ کی راہیں جن کو قرآن نے واضح کیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے دکھایا ان میں تو فصم نہیں ہے- )ادنیٰ درجہ فصم ہے اس سے بڑھے تو فصم پھر اس سے بھی بڑھے تو فضم(- اللہ وہ اللہ ہے جو تمہاری دعائوں کو سنتا اور تمہارے اعمال کو جانتا ہے-
    الغرض یہ دین ہے اور اس کا نتیجہ ہے قرب الٰہی- جب انسان اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے تو چونکہ اللہ نور السمٰوٰت و الارض )النور:۳۶( ہے اس لئے یہ ظلمت سے نکلنے لگتا ہے اور اس میں امتیازی طاقت پیدا ہوتی جاتی ہے- ظلمت کئی قسم کی ہوتی ہے- ایک جہالت کی ظلمت ہے- پھر رسومات‘ عادات‘ عدم استقلال کی ظلمت ہوتی ہے- جس قدر ظلمت میں پڑتا ہے اسی قدر اللہ|تعالیٰ سے دور ہوتا جاتا ہے اور جس قدر قرب حاصل ہوتا اسی قدر امتیازی قوت پیدا ہوتی ہے-
    نزول و صعود
    پس اگر کسی صحبت میں رہ کر ظلمت بڑھتی ہے تو صاف ظاہر ہے کہ وہ قرب الٰہی کا موجب نہیں بلکہ بعد و حرمان کا باعث ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے تو جسقدر انسان قریب ہو گا اسی قدر اس کو ظلمت سے رہائی اور نور سے حصہ ملتا جاوے گا- اسی لئے ضروری ہے کہ ہر فعل اور قول میں اپنا محاسبہ کرو- نیچے اور اوپر کے دو لفظ ہیں جو سائنس والوں کی اصطلاح میں بھی بولے جاتے ہیں اور مذہب کی اصطلاح میں بھی ہیں- میں نے نیچے اور اوپر جانے والے چیزوں پر غور کی ہے- ڈول جوں جوں نیچے جاتا ہے اس کی قوت میں تیزی ہوتی جاتی ہے اور اسی طرح پتنگ جب اوپر جاتا ہے پہلے اس کا اوپر چڑھانا مشکل معلوم ہوتا ہے لیکن آخر وہ بڑے زور سے اوپر کو چڑھتا ہے- یہی اصل ترقی اور تنزل کی جان ہے یا صعود اور نزول کے اندر ہے- انسان جب بدی کی طرف جھکتا ہے اس کی رفتار بہت سست اور دھیمی ہوتی ہے لیکن پھر اس میں اس قدر ترقی ہوتی ہے کہ خاتمہ جہنم میں جا کر ہوتا ہے- یہ نزول ہے- اور جب نیکیوں میں ترقی کرنے لگتا اور قرب الی اللہ کی راہ پر چلتا ہے توابتدا میں مشکلات ہوتی ہیں اور ظالم لنفسہ ہونا پڑتا ہے مگر آخر جب وہ اس میدان میں چل نکلتا ہے تو اس کی قوتوں میں پرزور ترقی ہوتی ہے اور وہ اس قدر صعود کرتا ہے کہ سابق بالخیرات ہو جاتا ہے- جو لوگ اس اصل پر غور کرتے ہیں اور اپنا محاسبہ کرتے ہیں کہ ہم ترقی کی طرف جا رہے ہیں یا تنزل کی طرف‘ وہ ضرور اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں-
    غرض وعظ کا اصل تو مختصر سا تھا مگر مضمون لمبا ہو گیا ہے اس لئے پھر میں مختصر الفاظ میں کہتا ہوں کہ اصل غرض اور منشاء دین کا سعادت اور شقاوت کی راہوں کا بیان کرنا ہے- ایمان باللہ‘ ایمان بالملائکہ‘ اللہ کے رسولوں اور اس کی کتابوں پر ایمان‘ جزا و سزا پر ایمان ہو اور پھر اس ایمان کے موافق عمل درآمد ہو اور ہر روز اپنے نفس کا محاسبہ کرو-
    آخر میں ایک بات اور کہنا چاہتا ہوں اور یہ وصیت کرتا ہوں کہ تمہارا اعتصام حبل اللہ کے ساتھہو- قرآن تمہارا دستور العمل ہو- باہم کوئی تنازع نہ ہو کیونکہ تنازع فیضان|الٰہی کو روکتا ہے- موسیٰ علیہ السلام کی قوم جنگل میں اسی نقص کی وجہ سے ہلاک ہوئی- رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی قوم نے احتیاط کی اور وہ کامیاب ہو گئے- اب تیسری مرتبہ تمہاری باری آئی ہے- اس لئے چاہئے کہ تمہاری حالت اپنے امام کے ہاتھ میں ایسی ہو جیسے میت غسال کے ہاتھ میں ہوتی ہے- تمہارے تمام ارادے اور خواہشیں مردہ ہوں اور تم اپنے آپ کو امام کے ساتھ ایسا وابستہ کرو جیسے گاڑیاں انجن کے ساتھ- اور پھر ہر روز دیکھو کہ ظلمت سے نکلتے ہو یا نہیں- استغفار کثرت سے کرو اور دعائوں میں لگے رہو- وحدت کو ہاتھ سے نہ دو- دوسرے کے ساتھ نیکی اور خوش معاملگی میں کوتاہی نہ کرو- تیرہ سو برس کے بعد یہ زمانہ ملا ہے اور آئندہ یہ زمانہ قیامت تک نہیں آ سکتا- پس اس نعمت کا شکر کرو- کیونکہ شکر کرنے پر ازدیاد نعمت ہوتا ہے- لئن شکرتم لازیدنکم )ابراھیم:۸( لیکن جو شکر نہیں کرتا وہ یاد رکھے]kns [tag ان عذابی لشدید- )ابراھیم:۸(
    اب میں ایک تحریک کر کے ختم کرتا ہوں- دیکھو یہاں کئی قسم کے چندے اور ضرورتیں ہیں- بعض کہتے ہیں کہ چندوں کی کیا ضرورت ہے وہ غلطی کرتے ہیں- انفقوا فی سبیل اللہ )البقرۃ:۱۹۶( اللہ|تعالیٰ کا ارشاد ہے- اگر تم اس پر عمل نہیں کرتے تو ہلاک ہو جائو گے- کئی قسم کی ضرورتیں درپیش ہیں- حضرت امام کی تعلیم کی اشاعت اور تبلیغ‘ مہمانوں کی خبرگیری‘ مکانات کی توسیع کی ضرورت‘ مدرسہ کی ضروریات‘ غرباء و مساکین رہتے ہیں ان کا انتظام‘ مدرسہ میں غریب طالب علم ہیں ان کے خرچ کا کوئی خاص طور پر متکفل نہیں اور مستقل انتظام نہیں- اس کے علاوہ اور بہت سی ضروریات ہیں- اسی مسجد کا خادم ایک بڈھا ہے اور حضرت اقدس کا ایک سچا خادم حافظ معین الدین ہے- ایسے لوگوں کی خبرگیری کی ضرورت ہے- غرض یہاں کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ہر شخص کو جو کچھ اس سے ہو سکے اپنے مال سے‘ کپڑے سے الگ کرنا چاہئے- یہ مت خیال کرو کہ بہت ہی ہو‘ کچھ ہو خواہ ایک پائی ہی کیوں نہ ہو- ہر قسم کا کپڑا یہاں کام آ سکتا ہے- پس یہاں کی ضروریات کو پیش نظر رکھ کر ان میں دینے کے لئے کوشش کرو- صحابہ کی سوانح پڑھو تا تمہیں معلوم ہو کہ کیا کرنا پڑا تھا- تم جو ان سے ملنا چاہتے ہو وہی راہ اور رنگ اختیار کرو- اللہ تعالیٰ ہم تم سب کو اس امر کی توفیق دے کہ ہم سچے مسلمان بنیں اور امام کے متبع ہوں- آمین- ۲~}~
    ۱~}~ )الحکم جلد ۷ نمبر ۲ - ۱۷ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴-۱۵(
    ۲~}~ )الحکم جلد ۷ نمبر ۳ - ۲۴ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴-۱۵(
    و )الحکم جلد ۷ نمبر ۴ - ۳۱ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۶-۷(
    * * * *
    ‏KH1.15
    خطبات|نور خطبات|نور
    ۱۱ / مارچ ۱۹۰۳ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دارالامان قادیان

    خطبہ عید اضحیٰ
    )عیدالضحیٰ دارالامان میں ۱۱مارچ ۱۹۰۳ء بروز بدھ ہوئی- اس سے پہلی رات کو اور اس دن قادیان دارالامان میں خوب بارش ہوئی- راستے خراب ہو گئے- اس لئے نمازعید دو جگہ ادا ہوئی- مسجد اقصیٰ میں حسب معمول سابق حضرت حکیم الامت نے پڑھائی اور بعد نماز سورۃکوثر پر خطبہ پڑھا جو ہم ناظرین کے فائدہ کے لئے درج کرتے ہیں- )ایڈیٹر(
    انا اعطینٰک الکوثر- فصل لربک و انحر- ان شانئک ھو الابتر- )الکوثر:۲ تا۴(
    یہ ایک سورۃ شریف ہے بہت ہی مختصر- لفظ اتنے کم کہ سننے والے کو کوئی ملال طوالت کا نہیں- یہاں تک کہ ایک چھوٹا سا بچہ بھی ایک دن میں اسے یاد کر لے- مگر ان کے مطالب اور معانی کو دیکھو تو حیرت انگیز-
    واعظوں اور سامعین کی اقسام
    ان کو بیان کرنے سے پہلے میں ایک ضروری بات سنانی چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہجہاں تک میں غور کرتا ہوں واعظوں اور سننے والوں کی دو قسم پاتا ہوں- ایک وہ واعظ ہیں جو دنیا کے لئے وعظ کرتے ہیں- دنیا کا وعظ کرنے والے بھی پھر دو قسم کے ہیں- ایک وہ جو اپنے وعظ سے اپنی ذات کا فائدہ چاہتے ہیں یعنی کچھ روپیہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ایک وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی یہ غرض تو نہیں ہوتی کہ خود کوئی روپیہ حاصل کریں مگر یہ مطلب ضرور ہوتا ہے کہ سننے والوں کو ایسے طریقے اور اسباب بتائیں جن سے وہ روپیہ کما سکیں- مادی ترقی کرنے والے بنیں- دنیا کے لئے وعظ کرنے والوں میں اس قسم کے واعظوں کی اغراض ہمیشہ مختلف ہوتی ہیں- کوئی فوجوں کو جوش دلاتا ہے‘ ان میں مستعدی اور ہوشیاری پیدا کرنے کے لئے تحریک کرتا ہے کہ وہ دشمن کے مقابلہ کے لئے چست و چالاک ہو جائیں- کوئی امور خانہ داری کے متعلق‘ کوئی تجارت اور حرفہ کے لئے- مختصر یہ کہ ان کی غرض انتظامی امور یا عامہ اصلاح ہوتی ہے جو دوسرے الفاظ میں سیاسی یا پولٹیکل‘ تمدنی یا سوشل اصلاح ہے-
    اور وہ لوگ جو دین کے لئے وعظ کرنے کو کھڑے ہوتے ہیں ان کی بھی دو ہی حالتیں ہوتی ہیں- ایک وہ جو محض اس لئے کھڑے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کریں اور امر بالمعروف کا جو فرض ان کو ملا ہے اس کو ادا کریں- بنی نوع انسان کی بھلائی کا جو حکم ہے اس کی تعمیل کریں اور اپنے آپ کو اس خیر امت میں داخل ہونے کی فکر ہوتی ہے جس کا ذکر یوں فرمایا گیا ہے- کنتم خیر امۃ اخرجت للناس )اٰل عمران:۱۱۱( تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے مبعوث ہوئے ہو- امر بالمعروف کرتے ہو اور نہی عن المنکر-
    اور ایک وہ ہوتے ہیں جن کی غرض دنیا کمانا بھی نہیں ہوتی مگر )مذکورہ بالا( یہ غرض بھی نہیں ہوتی بلکہ وہ صرف حاضرین کو خوش کرنا چاہتے ہیں یا ان کی واہ واہ کے خواہش مند کہ کیسا خوش تقریر یا مئوثر واعظ ہے-
    دینی واعظوں میں سے پہلی قسم کے واعظ بھی فتوحات ہی کا ارادہ کرتے ہیں مگر ملکی فتوحات سے ان کی فتوحات نرالی ہوتی ہیں- ان کی فتوحات یہ ہوتی ہیں کہ برائیوں پر فتح حاصل کریں- نیکی کی حکومت کو وسیع کریں-
    جیسی واعظوں کی دو قسم ہیں ایسی ہی سننے والوں کی بھی دو حالتیں ہیں- ایک وہ جو محض اللہ کے لئے سنتے ہیں کہ اس کو سن کر اپنی اصلاح کریں اور دوسرے جو اس لحاظ سے سنتے ہیں کہ واعظ ان کا دوست ہے یا کوئی ایسے ہی تعلق رکھتا ہے یعنی واعظ کی خاطرداری سے- اب تم دیکھ لو کہ تمہارا واعظ کیسا ہے اور تم سننے والے کیسے؟ تمہارا دل تمہارے ساتھ ہے؟ اس کا فیصلہ تم کر لو- جس نیت اور غرض سے کھڑا ہوا ہوں وہ میں خوب جانتا ہوں اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ درد دل کے ساتھ خدا ہی کے لئے کھڑا ہوا ہوں-
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی ایک تقسیم فرمائی ہے کہ واعظ یا مامور ہوتا ہے یا امیر یا متکبر- امیر وہ ہوتا ہے جس کو براہ راست اس کام کے لئے مقرر کیا جاوے اور مامور وہ ہوتا ہے جس کو امیر کہے کہ تم لوگوں کو وعظ سنا دو اور متکبر وہ جو محض ذاتی بڑائی اور نمود کے لئے کھڑا ہوتا ہے- یہ اقسام واعظوں کی ہیں-
    اب میں پھر تمہیں کہتا ہوں کہ اس بات پر غور کرو کہ تمہیں وعظ کرنے والا کیسا ہے اور تم کیسا دل لے کر بیٹھے ہو؟ میرا دل اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ناظر ہے- جو بات میری سمجھ میں مضبوط آئی ہے اسے سنانا چاہتا ہوں اور خدا کے لئے- پھر مجھے حکم ہوا ہے تم مسجد میں جا کر نماز پڑھا دو- اس حکم کی تعمیل کے لئے کھڑا ہوتا ہوں اور سناتا ہوں-
    میں دنیا پرست واعظوں کا دشمن ہوں کیونکہ ان کی اغراض محدود‘ ان کے حوصلے چھوٹے‘ خیالات پست ہوتے ہیں- جس واعظ کی اغراض نہ ہوں وہ ایک ایسی زبردست اور مضبوط چٹان پر کھڑا ہوتا ہے کہ دنیوی وعظ سب اس کے اندر آ جاتے ہیں کیونکہ وہ ایک امر بالمعروف کرتا ہے- ہر بھلی بات کا حکم دینے والا ہوتا ہے اور ہر بری بات سے روکنے والا ہوتا ہے- یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف کو اللہ تعالیٰ نے مھیمن فرمایا- یہ جامع کتاب ہیجس میں جیسے ایک ملٹری )فوجی( واعظ کو فتوحات کے طریقوں اور قواعد جنگ کی ہدایت ہے ویسے ہی نظام مملکت اور سیاست مدن کے اصول اعلیٰ درجہ کے بتائے گئے ہیں- غرض ہر رنگ اور ہر طرز کی اصلاح اور بہتری کے اصول یہ بتاتا ہے-
    پس میں قرآن کریم جیسی کتاب کا واعظ ہوں جو تمام خوبیوں کی جامع کتاب ہے اور جو سکھ اور تمام کامیابی کی راہوں کی بیان کرنے والی ہے اور اسی کتاب میں سے یہ چھوٹی سی سورۃ میں نے پڑھی ہے-
    قرآن کا طرز بیان ’’ہم‘‘ اور ’’میں‘‘
    میں اس سورۃ کے مطالب بیان کرنے سے پہلے یہ بات بھی تمہارے ذہن نشین کرنا چاہتا ہوں کہ قرآن شریف کا طرز بیان دو طرح پر واقع ہوا ہے- بعض جگہ تو اللہ تعالیٰ ایک فعل کو واحد متکلم یعنی ’’میں‘‘ کے لفظ کے ساتھ بیان فرماتا ہے اور بعض جگہ جمع متکلم یعنی ’’ہم‘‘ کے ساتھ- ان دونوں الفاظ کے بیان کا یہ سر ہے کہ جہاں ’’میں‘‘ کا لفظ ہوتا ہے وہاں کسی دوسرے کا تعلق ضروری نہیں ہوتا- لیکن جہاں ’’ہم‘‘ ہوتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کی ذات‘ اس کے فرشتے اور مخلوق بھی اس کام میں لگے ہوئے ہوتے ہیں- پس اس بات کو یاد رکھو- یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انا اعطینٰک الکوثر‘ بے ریب ہم نے تجھ کو دیا ہے الکوثر ‘ ہر ایک چیز میں بہت کچھ-
    یہاں اللہ تعالیٰ نے ’’ہم‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایسا کام ہے جیسے اس میں آپ فضل کیا ہے‘ فرشتوں اور مخلوق کو بھی لگایا ہے-
    ’’بہت کچھ‘‘ کے معنی مختلف حالتوں میں
    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ’’بہت کچھ‘‘ عطا فرمایا ہے- اب غور طلب امر یہ ہے کہ اس ’’بہت کچھ‘‘ کی کیا مقدار ہے؟ تم میں سے بہت سے لوگ شہروں کے رہنے والے ہیں جنہوں نے امیروں کو دیکھا ہے- بہت سے دیہات کے رہنے والے ہیں جنہوں نے غریبوں کو دیکھا ہے- خدا تعالیٰ نے مجھے محض اپنے فضل سے ایسا موقع دیا ہے کہ میں نے غریبوں امیروں کے علاوہ بادشاہوں کو بھی دیکھا ہے اور ان تینوں میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے- ان کی ہر چیز میں‘ ہر بات میں علیٰ قدر مراتب امتیاز ہوتا ہے- مثلاً ایک کسی غریب کے گھر جا کر سوال کرے تو وہ اس کو ایک روٹی کا ٹکڑا دیدیتا ہے- اس کی طاقت اتنی ہی ہے- لیکن جب ایک امیر کے گھر جاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ اس کو ’’کچھ‘‘ دیدو تو اس کی ’’کچھ‘‘ سے مراد تین چار روٹیاں ہوتی ہیں اور میں نے دیکھا ہے کہ جب بادشاہ کہتا ہے کہ ’’کچھ‘‘ دیدو تو اس کے ’’کچھ‘‘ سے مراد دس بیس ہزار روپیہ ہوتا ہے- اس سے عجیب بات پیدا ہوتی ہے- جس قدر کسی کا حوصلہ ہوتا ہے اسی کے موافق اس کی عطا ہوتی ہے- اب اس پر قیاس کر لو- یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے ’’بہت کچھ‘‘ دیا ہے- اللہ تعالیٰ کی ذات کی کبریائی‘ اس کی عظمت و جبروت پر نگاہ کرو اور پھر اس کے عطیہ کا تصور- دیکھو ایک چھوٹی سی شمع‘ سورج اس نے بنائی ہے- اس کی روشنی کیسی عالمگیر ہے- ایک چھوٹی سی لالٹین چاند ہے- اس کی روشنی کو دیکھو کس قدر ہے- کنووں سے پانی نکالنے میں کس قدر جدوجہد کرنی پڑتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی عطا پر دیکھو کہ جب وہ بارش برساتا ہے تو پھر کس قدر دیتا ہے-
    غرض یہ سیدھی سادھی بات ہے اور ایک مضبوط اصل ہے- جس قدر کسی کا حوصلہ ہو اسی قدر وہ دیتا ہے- پس اللہ تعالیٰ کی عظمت کے لحاظ سے اب اس لفظ کے معنی پر غور کرو کہ ہم نے ’’بہت کچھ‘‘ دیا ہے- خدا کا ’’بہت کچھ‘‘ وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتا اور پھر اس کا اندازہ میری کھوپڑی کرے! یہ احمقانہ حرکت ہو گی اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسے اس وقت کوئی کوشش کرے کہ وہ پانی کے ان قطرات کو شمار کرنے لگے جو آسمان سے برس رہے ہیں )جس وقت آپ یہ خطبہ پڑھ رہے تھے آسمان سے نزول|باران رحمت ہو رہا تھا- ایڈیٹر-( ہاں یہ بیشک انسانی طاقت کے اندر ہر گز نہیں ہے کہ جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیا گیا ہے اس کو سمجھ سکے- چونکہ مجھے اللہ تعالیٰ کے محض فضل سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت ہے اور آپ کی عظمت کا علم بھی مجھے دیا گیا ہے اس لئے میں اندازہ تو ان عطیات کا نہیں کر سکتا لیکن ان کو یوں سمجھ سکتا ہوں-
    آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے کہ باپ انتقال کر گیا اور چلنے ہی لگے تھے کہ ماں کا انتقال ہوا- کوئی حقیقی بھائی آپ کا تھا ہی نہیں- چنانچہ اسی کے متعلق فرمایا الم یجدک یتیماً )الضحیٰ:۷( ہم نے تجھے یتیم پایا تھا- اس یتیم کو جسے خدا تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے بہت کچھ دے دیا‘ خاتم|الانبیائ‘ خاتم الرسل‘ سارے علوم کا مالک‘ ساری سلطنتوں کا بادشاہ بنا دیا- آپ کی عادت شریف تھی کہ کبھی جو بے انتہا روپیہ مالیہ کا آیا ہے تو مسجد ہی میں خرچ کر دیا-
    غرض غور کرو کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے بہت کچھ دیا- کس قدر خیر کثیر آپ کو دی گئی ہے- آپ کا دامن نبوت دیکھو تو وہ قیامت تک وسیع ہے کہ اب کوئی نبی نیا ہو یا پرانا‘ آ ہی نہیں سکتا- کسی دوسرے نبی کو اس قدر وسیع وقت نہیں ملا- یہ کثرت تو بلحاظ زمان کے ہوئی- اور بلحاظ مکان یہ کثرت کہ انی رسول اللہ الیکم جمیعاً )الاعراف:۱۵۹( میں فرمایا کہ میں سارے جہان کا رسول ہوں- یہ کوثر بلحاظ مکان کے عطا ہوئی- کوئی آدمی نہیں جو یہ کہہ دے کہ مجھے احکام الٰہی میں اتباع رسالت پناہی کی ضرورت نہیں- کوئی صوفی‘ کوئی بالغ مرد‘ بالغہ عورت‘ کوئی ہو اس سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتے- اب کوئی وہ خضر نہیں ہو سکتا جو لن تستطیع معی صبراً )الکہف:۷۶( بول اٹھے- یہ وہ موسیٰؑ ہے جس سے کوئی الگ نہیں ہو سکتا- کوئی آدمی مقرب نہیں ہو سکتا‘ جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سچی اتباع نہ کرے-
    تعلیم اور کتاب میں وہ کاملیت اور جامعیت اور کثرت عطا فرمائی کہ فیھا کتب قیمۃ )البینہ:۴( کل دنیا کی مضبوط کتابیں اور ساری صداقتیں اور سچائیاں اس میں موجود ہیں-
    ترقی مدارج میں وہ کوثر- جب کہ یہ سچی بات ہے الدال علی الخیر کفاعلہ پھر دنیا بھر کے نیک اعمال پر نگاہ کرو جب کہ ان کے الدال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہیں تو ان کی جزائے نیک آپ کے اعمال میں شامل ہو کر کیسی ترقی مدارج کا موجب ہو رہی ہے-
    اعمال میں دیکھو‘ اتباع‘ فتوحات‘ عادات‘ علوم‘ اخلاق میں کس کس قسم کی کوثریں عطا فرمائی ہیں- آدمی وہ بخشے جن کے نام لیکر عقل حیران ہوتی ہے- ابوبکر‘ عمر‘ عثمان‘ علیرضوان اللہ علیہم اجمعین جیسے لوگ‘ عباسیوں اور مروانیوں جیسے- کیا انتخاب سے ایسے آدمی مل سکتے ہیں کہ جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پانی گرانے کا حکم دیں خون گرانے کے لئے تیار ہو جائیں؟ جگہ وہ بخشی کہ ایران‘ توران‘ مصر‘ شام‘ ہند تمہارا ہی ہے- وہ ہیبت اور جبروت آپﷺ~ کو عطا فرمائی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کسی طرف کا ارادہ کرتے تو ایک مہینہ کی دور راہ کے بادشاہوں کے دل کانپ جاتے- اللہ جب دیتا ہے تو اس طرح دیتا ہے-
    یہ بڑا لمبا مضمون ہے جو اس تھوڑے وقت میں بیان نہیں ہو سکتا- مختلف شاخوں اور شعبوں میں جو کوثر آپ کو عطا ہوئی ایک مستقل کتاب اس پر لکھی جا سکتی ہے-
    باطنی دولت کا یہ حال ہے کہ تیرہ سو برس کی تو میں جانتا نہیں‘ اپنی بات بتاتا ہوں- جس قدر مذاہب ہیں میں نے ان کو ٹٹولا ہے- ان کو پرکھ پرکھ کر دیکھا ہے- قرآن کریم کے تین تین لفظوں سے میں ان کو رد کرنے کی طاقت رکھتا ہوں- کوئی باطل مذہب اسلام کا مقابلہ نہیں کر سکتا- میں نے تجربہ کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی کتاب اور طرز انسان کے پاس ہو تو باطل مذاہب خواہ وہ اندرونی ہوں یا بیرونی‘ وہ ٹھہر نہیں سکتے-
    پھر استحکام و حفاظت مذہب کے لئے دیکھو- جس قدر مذہب دنیا میں موجود ہیں یعنی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں‘ ان کی حفاظت کا ذمہ وار اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ٹھہرایا ہے مگر قرآن کریم کی تعلیم کے لئے فرمایا انا لہ لحافظون )الحجر:۱۰( یہ کیا کوثر ہے!
    اللہ تعالیٰ خود اس دین کی نصرت اور تائید اور حفاظت فرماتا اور اپنے مخلص بندوں کو دنیا میں بھیجتا ہے جو اپنے کمالات اور تعلقات الہیہ میں ایک نمونہ ہوتے ہیں- ان کو دیکھ کر معلوم ہو جاتا ہے کہ ایک انسان کیونکر خدا تعالیٰ کو اپنا بنا لیتا ہے- ہر صدی کے سر پر وہ ایک مجدد آتا ہے جو ایک خاص جماعت قائم کرتا ہے- میرا اعتقاد تو یہ ہے کہ ہر ۴۵ ‘ ۵۰ اور سو برس پر آتا ہے- اس سے بڑھ کر اور کیا کوثر ہو گا؟
    پھر سارے مذہب میں دعا کو مانتے ہیں اور اعتقاد رکھتے ہیں کہ جب بندہ اپنے مولیٰ سے کچھ مانگتا ہے تو اسے کچھ نہ کچھ ضرور ملتا ہے- گو مانگنے کے مختلف طریق ہیں مگر مشترک طور پر یہ سب مانتے ہیں کہ جو مانگتا ہے وہ پاتا ہے- اس اصل کو لیکر میں نے غور کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو اس پہلو سے بھی کیا کچھ ملا ہے- تیرہ سو برس سے برابر امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم آپ کے لئے اللٰھم صل علیٰ محمد و علیٰ اٰل محمد کہہ کر دعائیں کر رہی ہے اور پھر اللہ اور اللہ کے فرشتے بھی اس درود شریف کے پڑھنے میں شریک ہیں اور ہر وقت یہ دعا ہو رہی ہے کیونکہ دنیا پر کسی نہ کسی نماز کا وقت موجود رہتا ہے اور علاوہ نماز کے پڑھنے والے بھی بے انتہا ہیں- اب سوچو کہ اس تیرہ سو برس کے اندر کس قدر روحوں نے کس سوز اور تڑپ کے ساتھ اپنے محبوب آقا کی کامیابیوں اور آپ کے مدارج|عالیہ کی ترقی کے لئے اللٰھم صل علیٰ محمد کہہ کر دعائیں مانگی ہوں گی- پھر ان دعائوں کے ثمرہ میں جو کچھ آپ کو ملا‘ کیا اس کی کوئی حد ہو سکتی ہے؟
    اگر دعا کوئی چیز ہے اور ضرور ہے تو پھر اس پہلو سے آپ کے مدارج اور مراتب کی نظیر پیش کرو- کیا دنیا میں کوئی قوم اور امت ایسی ہے جس نے اپنے نبی اور رسول کے لئے یہ التزام دعا کا کیا ہو- کوئی بھی نہیں- کوئی عیسائی مسیحؑ کے لئے‘ یہودی موسیٰؑ کے لئے‘ سناتنی شنکر اچارج کے لئے دعائیں مانگنے والا نہیں ہے-
    اس دنیا کے مدارج کو تو ان امور پر قیاس کرو اور آگے جو کچھ آپ کو ملا ہے وہ وہاں چل کر معلوم ہو جاوے گا- مگر اس کا اندازہ اسی بہت کچھ سے ہو سکتا ہے کہ برزخ میں‘ حشر میں‘ صراط پر‘ بہشت میں غرض کوثر ہی کوثر ہو گا-
    اس عاجز انسان اور اس کی ہستی کو دیکھو کہ کیسی ضعیف اور ناتوان ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ اس کے بنانے پر آتا ہے تو اس عاجز انسان کو اپنا بنا کر دکھا دیتا ہے اور ایک اجڑی بستی کو آباد کرتا ہے- کیا تعجب|انگیز|نظارہ ہے- بڑے بڑے شہروں اور بڑے اکڑباز مدبروں کو محروم کر دیتا ہے حالانکہ وہاں ہر قسم کی ترقی کے اسباب موجود ہوتے ہیں اور علم و واقفیت کے ذرائع وسیع- مثلاً اس وقت دیکھو کہ کس بستی کو اس نے برگزیدہ کیا؟ جہاں نہ ترقی کے اسباب‘ نہ معلومات کی توسیع کے وسائل‘ نہ علمی چرچے‘ نہ مذہبی تذکرے‘ نہ کوئی دارالعلوم‘ نہ کوئی کتب خانہ! صرف خدائی ہاتھ ہے جس نے اپنے بندہ کی خود تربیت کی اور عظیم الشان نشان دکھایا- غور کرو کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ثابت کرتا ہے کہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو کوثر عطا فرمایا- لیکن غافل انسان نہیں سوچتا- افسوس تو یہ ہے کہ جیسے اور لوگوں نے غفلت کی‘ ویسی ہی غفلت کا شکار مسلمان ہوئے- آہ! اگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے عالی مدارج پر خیال کرتے اور خود بھی ان سے حصہ لینے کے آرزو مند ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کو بھی کوثر عطا فرماتا-
    میں دیکھتا ہوں کہ جھوٹ بولنے میں دلیر‘ فریب و دغا میں بیباک ہو رہے ہیں- نمازوں میں سستی‘ قرآن کے سمجھنے میں سستی اور غفلت سے کام لیا جاتا ہے اور سب سے بدتر سستی یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی چال چلن کی خبر نہیں- میں دیکھتا ہوں کہ عیسائی اور آریہ آپ کے چال چلن کو تلاش کرتے ہیں اگرچہ اعتراض کرنے کے لئے‘ مگر کرتے تو ہیں- مسلمانوں میں اس قدر سستی ہے کہ وہ کبھی دیکھتے ہی نہیں- اس وقت جتنے یہاں موجود ہیں ان کو اگر پوچھا جاوے تو شاید ایک بھی ایسا نہ ملے جو یہ بتا سکے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کی معاشرت کیسی تھی- آپ کا سونا کیسا تھا‘ جاگنا کیسا- مصائب اور مشکلات میں کیسے استقلال اور علو ہمتی سے کام لیا اور رزم میں کیسی شجاعت اور ہمت دکھائی- میں یقیناً کہتا ہوں کہ ایک بھی ایسا نہیں جو تفصیل کے ساتھ آپ کے واقعات زندگی پر اطلاع رکھتا ہو-۱~}~
    حالانکہ یہ ضروری بات تھی کہ آپ )صلی اللہ علیہ و سلم( کے حالات زندگی پر پوری اطلاع حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی- کیونکہ جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ آپﷺ~ دن رات میں کیا کیا عمل کرتے تھے‘ اس وقت تک ان اعمال کی طرف تحریک اور ترغیب نہیں ہو سکتی-
    خدا تعالیٰ کی محبت یا اس کے محبوب بننے کا ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سچی اتباع ہے- پھر یہ اتباع کیسے کامل طور پر ہو سکتی ہے جب معلوم ہی نہ ہو کہ آپ کیا کیا کرتے تھے؟ اس پہلو میں بھی مسلمانوں نے جس قدر اس وقت سستی اور غفلت سے کام لیا ہے وہ بہت کچھ ان کی ذلت اور ضعف کا باعث ٹھہرا-
    اس ضروری کام کو تو چھوڑا پر مصروفیت کس کام میں اختیار کی؟ نفسانی خواہشوں کے پورا کرنے میں- چائے پی لی- حقہ پی لیا- پان کھا لیا- غرض ہر پہلو اور ہر حالت سے دنیوی امور میں ہی مستغرق ہو گئے- مگر پھر بھی آرام اور سکھ نہیں ملتا- ساری کوششیں اور ساری تگ و دو دنیا کے لئے ہی ہوتی ہے اور اس میں بھی راحت نہیں- لیکن جو خدا تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں ان کو وہ دیتا ہے تو پھر کس قدر دیتا ہے اور ساری راحتوں کا مالک اور وارث بنا دیتا ہے- میں نے پہلے بتا دیا ہے کہ جتنا چھوٹا ہوتا ہے اس کا اتنا ہی دینا ہوتا ہے- اور جس قدر بڑا‘ اسی قدر اس کی دہش ہوتی ہے- جس قدر کبریائی اللہ تعالیٰ رکھتا ہے اسی کے موافق اس کی عطا ہے اور اس کی عطا کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوتا-
    میں نے ایک دنیادار کو دیکھا ہے- وہ میرا دوست بھی ہے- میں کلکتہ میں اس کے مکان پر تھا- اس نے مجھے دکھایا کہ وہ ایک ایک دن میں چار چار پانچ پانچ سو روپیہ کیسے کما لیتا ہے- مگر تھوڑا ہی عرصہ گزرا کہ میں نے اس کو اور تو کچھ نہ کہا- صرف یہ پوچھا کہ بتائو کیا حال ہے؟ اس نے کہا کہ یہ حالت ہو گئی ہے کہ رہنے کو جگہ نہیں‘ کھانے کو روٹی نہیں- اس وقت یہاں آیا ہوں کہ فلاں شخص کو پندرہ ہزار روپیہ دیا تھا مگر اب وہ بھی جواب دیتا ہے- میں نے اس کی اس حالت کو دیکھ کر یہ سبق حاصل کیا کہ چالاکی سے انسان کیا کما سکتا ہے؟ ادھر بالمقابل دیکھئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے اتباع نے کیا کمایا؟ میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے کہ وعظ کرتے ہیں- چالاکیاں کرتے ہیں- لیکن ذرا پیٹ میں درد ہو تو بول اٹھتے ہیں کہ ہم گئے-
    پس تم وہ چیز بنو جس کا نسخہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر اور آپﷺ~ کے اتباع پر تجربہ کر کے دکھایا ہے کہ جب وہ دیتا ہے تو اس کا کوئی بھی مقابلہ نہیں کر سکتا- یہ لمبی کہانی ہے کہ کس کس طرح پر خدا تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندوں کی نصرت کی ہے- اسی شہر میں دیکھو )مرزا غلام احمد ایدہ اللہ الاحد( ایک شخص ہے- کیا قد میں امام الدین اس سے چھوٹا ہے یا اس کی ڈاڑھی چھوٹی ہے- اس کا مکان دیکھو تو حضرت اقدس کے مکانوں سے مکان بھی بڑا ہے- ڈاڑھی دیکھو تو وہ بھی بڑی لمبی ہے- کوشش بھی ہے کہ مجھے کچھ ملے- مگر دیکھتے ہو خدا کے دینے میں کیا فرق ہے- میں یہ باتیں کسی کی اہانت کے لئے نہیں کہتا- میں ایسے نمونوں کو ضروری سمجھتا ہوں اور ہر جگہ یہ نمونے موجود ہیں-
    میں خود ایک نمونہ ہوں- جتنا میں بولتا‘ کہتا اور لوگوں کو سناتا ہوں اس کا بیسواں حصہ بھی مرزا صاحب نہیں بولتے اور سناتے- کیونکہ تم دیکھتے ہو وہ خاص وقتوں میں باہر تشریف لاتے ہیں- اور میں سارا دن باہر رہتا ہوں- لیکن ہم پر تو بدظنی بھی ہو جاتی ہے- لیکن اس کی باتوں پر کیسا عمل ہے- بات یہی ہے کہ اللہ کا دین الگ ہے اور وہ موقوف ہے ایمان پر-
    منصوبہ باز‘ چالاکیوں سے کام لینے والے بامراد نہیں ہو سکتے- وہ اپنی تدابیر اور مکائد پر بھروسہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم یوں کر لیں گے مگر اللہ تعالیٰ ان کو دکھاتا ہے کہ کوئی تدبیر کارگر نہیں ہو سکتی- غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دینے کے منتظر بنو- اور یہ عطا منحصر ہی ایمان پر ہے- اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو جو ملا وہ سب سے بڑھ کر ملا- شرط یہ ہے- فصل لربک اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں لگو- نماز سنوار کر پڑھو- نماز مومن کی الگ اور دنیادار کی الگ اور منافق کی الگ ہوتی ہے- آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا پاک نام ابراہیمؑ بھی تھا جس کی تعریف اللہ تعالیٰ فرماتا ہے- ابراھیم الذی وفٰی اور وہی ابراہیمؑ جو جاء بقلب سلیم )الصافات:۸۵( کا مصداق تھا اس نے سچی تعظیم امر الٰہی کی کر کے دکھائی- اس کا نتیجہ کیا دیکھا- دنیا کا امام ٹھہرا- اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو حکم ہوتا ہے کہ تعظیم لامر|اللہ کے لئے تو فصل لربک کا حکم ہے مگر شفقت علیٰ خلق اللہ اور تکمیل تعظیم امر الٰہی کے لئے و|انحر )قربانی بھی کرو-( قربانی کرنا بڑا ہی مشکل کام ہے- جب یہ شروع ہوئی اس وقت دیکھو کیسے مشکلات تھے اور اب بھی دیکھو-
    ابراہیم علیہ السلام بہت بوڑھے اور ضعیف تھے- ۹۹ برس کی عمر تھی- خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق اولاد صالح عنایت کی- اسمٰعیل جیسی اولاد عطا کی- جب اسمٰعیلؑ جوان ہوئے تو حکم ہوا کہ ان کو قربانی میں دیدو- اب ابراہیم علیہ السلام کی قربانی دیکھو- زمانہ اور عمر وہ کہ ۹۹ تک پہنچ گئی- اس بڑھاپے میں آئندہ اولاد کے ہونے کی کیا توقع اور وہ طاقتیں کہاں؟ مگر اس حکم پر ابراہیم نے اپنی ساری طاقتیں ساری امیدیں اور تمام ارادے قربان کر دیئے- ایک طرف حکم ہوا اور معاً بیٹے کو قربان کرنے کا ارادہ کر لیا- پھر بیٹا بھی ایسا سعید بیٹا تھا کہ جب ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا بیٹا! انی اریٰ فی المنام انی اذبحک )الصٰفٰت:۱۰۳(تو وہ بلا چون و چرا یونہی بولا کہ افعل ما تومر ستجدنی ان شاء اللہ من الصٰبرین )الصٰفٰت:۱۰۳(ابا! جلدی کرو- ورنہ وہ کہہ سکتے تھے کہ یہ خواب کی بات ہے‘ اس کی تعبیر ہو سکتی ہے- مگر نہیں- کہا پھر کر ہی لیجئے- غرض باپ بیٹے نے فرمانبرداری دکھائی کہ کوئی عزت‘ کوئی آرام‘ کوئی دولت اور کوئی امید باقی نہ رکھی- یہ آج ہماری قربانیاں اسی پاک قربانی کا نمونہ ہیں- مگر دیکھو کہ اس میں اور ان میں کیا فرق ہے-
    اللہ تعالیٰ نے ابراہیم اور اس کے بیٹے کو کیا جزا دی؟ اولاد میں ہزاروں بادشاہ اور انبیاء پیدا کئے- وہ زمانہ عطا کیا جس کی انتہا نہیں- خلفا ہوں تو وہ بھی ملت ابراہیمی میں- سارے نواب اور خلفاء الٰہی دین کے قیامت تک اسی گھرانے میں ہونے والے ہیں-
    پس اگر قربانی کرتے ہو تو ابراہیمی قربانی کرو- زبان سے انی وجھت وجھی للذی فطر السمٰوٰت و الارض )الانعام:۸۰(کہتے ہو تو روح بھی اس کے ساتھ متفق ہو- ان صلوٰتی و نسکی و محیای و مماتی للٰہ رب العٰلمین )الانعام:۱۶۳(کہتے ہو تو کر کے بھی دکھلائو-
    غرض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اس کی فرمانبرداری اور تعمیل حکم کے لئے جو اسلام کا سچا مفہوم اور منشا ہے- کوشش کرو مگر میں دیکھتا ہوں کہ ہزاروں وسوسے اور دنیا کی ایچا پیچی ہوتی ہے-
    خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے کل قویٰ اور خواہشوں کو قربان کر ڈالو اور رضائ|الٰہی میں لگا دو تو پھر نتیجہ یہ ہو گا ان شانئک ھو الابتر )تیرے دشمن ابتر ہوں گے-(
    انسان کی خوشحالی اس سے بڑھ کر کیا ہو گی کہ خود اس کو راحتیں اور نصرتیں ملیں اور اس کے دشمن تباہ اور ہلاک ہوں- محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی نماز اور اپنی قربانیوں میں دکھا دیا کہ وہ ہمارا ہے- ہم نے اپنی نصرتوں اور تائیدوں سے بتا دیا کہ ہم اس کے ہیں اور اس کے دشمنوں کا نام و نشان تک مٹا دیا- آج ابوجہل کو کون جانتا ہے- ماں باپ نے تو اس کا نام ابو الحکم رکھا تھا مگر آخر ابوجہل ٹھہرا- وہ سیدالوادی کہلاتا مگر بدتر مخلوق ٹھہرا- وہ بلال جس کو ذلیل کرتے‘ ناک میں نکیل ڈالتے اس نے اللہ تعالیٰ کو مانا- اسی کے سامنے ان کو ہلاک کر کے دکھا دیا- غرض خدا کے ہو جائو وہ تمہارا ہو جائے گا من کان للٰہ کان اللہ لہ- میں دیکھتا ہوں کہ ہزاروں ہزار اعتراض مرزا صاحب پر کرتے ہیں- مگر وہ وہی اعتراض ہیں جو پہلے برگزیدوں پر ہوئے- انجام بتادے گا کہ راستباز کامیاب ہوتا ہے اور اس کے دشمن تباہ ہوتے ہیں-
    خلاصہ کلام یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کا بنتا ہے وہی کامیاب ہوتا ہے ورنہ نامراد مرتا ہے- پس ایسے بنو کہ موت آوے خواہ وہ کسی وقت آوے مگر تم کو اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار پاوے- یاد رکھو کہ مر کر اور مرتے ہوئے بھی اللہ کے ہونے والے نہیں مرتے- اللہ تعالیٰ ہم سب کو اعمال صالحہ کی توفیق دے- جو اپنی اصلاح نہیں کرتا اور اپنا مطالعہ نہیں کرتا وہ پتھر ہے- اور دنیا کے ایچ پیچ کام نہیں آتے- کام آنے والی چیز نیکی اور اعمال صالحہ ہیں- خدا سب کو توفیق عطا کرے- آمین
    خطبہ ثانیہ میں اتنا ہی فرمایا کہ قربانیاں دو جو بیمار نہ ہوں‘ دبلی نہ ہوں‘ بے|آنکھ کی نہ ہوں‘ کان چری نہ ہوں‘ عیب دار نہ ہوں‘ لنگڑی نہ ہوں- اس میں اشارہ ہے کہ جب تک کامل طور پر قویٰ قربان نہ کرو گے ساری نیکیاں تمہاری ذات پر جلوہ|گر نہ ہوں گی- اصل منشا قربانی کا یہ ہے- پھر جس کو مناسب سمجھتا ہووے-۲~}~
    ۱~}~ )الحکم جلد۷ نمبر۱۰ ۔۔۔ ۱۷ / مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴ تا ۱۶(
    ۲~}~ )الحکم جلد ۷ نمبر ۱۱ ---- ۲۴ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۳ تا ۵(
    * * * *

    ۲۸ / مئی ۱۹۰۳ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تعلیم الاسلام کالج قادیان

    تقریر
    بر موقع
    افتتاحی جلسہ تعلیم الاسلام کالج قادیان
    پیشتر اس کے کہ ہم یہ تقریر درج کریں اول یہ بیان کر دینا ضروری ہے کہ تعلیم الاسلام کالج اور بورڈنگ کے درمیان جو میدان ہے اس میں اس جلسہ کا انتظام ہوا تھا- شمالی جانب ایک چبوترہ بنا کر اس پر اراکین مدرسہ و دیگر معزز احباب کی خاطر کرسیاں رکھی گئی تھیں- جنوبی جانب اس چبوترہ کے ایک بڑی میز تھی جس پر دہنی طرف قرآن کریم اور بائیں طرف کرہ ارض )گلوب( رکھا ہوا تھا- میدان کی دھوپ سے حفاظت کے واسطے ایک سائبان لگایا گیا تھا اور میز کے بالمقابل ایک لمبا ستون تھا- اس نظارہ کو ذہن میں جما کر آپ ذیل کی تقریر کو مطالعہ فرماویں-
    اشھد ان لا الٰہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ و اشھد ان محمداً عبدہ و رسولہ اما بعد - ہم تو ہر روز تم کو وعظ سناتے ہیں اور سارا دن اسی میں صرف ہو جاتا ہے-
    قرآن|شریف کا وعظ بھی خدا کے فضل سے مستقل طور پر جاری ہے- مگر اس وقت خصوصیت سے مجھے ارشاد ملا ہے کہ کچھ سنائوں- تمہید کی ضرورت نہیں ہے- اس وقت یہ نظارہ سامنے موجود ہے- ایک طرف قرآن|شریف اور دوسری طرف کرئہ ارض پڑا ہوا ہے- پھر اوپر سائبان ہے اور ایک طرف وہ لمبی لکڑی ہے- یہی مضمون کافی ہے- انسان کو خدا نے بنایا ہے اور اس کے اندر اس قسم کی اشیاء رکھی ہیں کہ اگر ان سب کا نشو و نما نہ ہو تو پھر وہ انسان انسان نہیں رہتا‘ ایک ذ لیل مخلوق ہو جاتا ہے- لیکن اگر خدا کی ان عطا|کردہ قوتوں کا عمدہ نشوونما ہو تو وہی انسان خدا کا مقرب بن سکتا ہے اور اس کے یہی ذرائع ہیں جو تمہارے سامنے ہیں- )قرآن کی طرف اشارہ کر کے( یہ پاک کتاب جب نازل ہوئی اس وقت ساری دنیا میں اندھیر تھا- عرب خصوصیت سے ایسی حالت میں تھا کہ کل دنیا کا روبراست ہو جانا آسان مگر اس کا سدھرنا مشکل سمجھا جاتا تھا- یرمیا نبی کے نوحہ میں یہ ایک فقرہ موجود ہے جس میں وہ اپنی قوم کو نصیحت کرتا ہے کہ تم نے سچے خدا کو چھوڑ دیا- دیکھو تمہارے پاس عرب موجود ہیں- وہ جھوٹے خدائوں کو نہیں چھوڑ سکتے- لیکن یہ ایک کتاب ہے جس نے ان عربوں کو ایسا بنایا اور وہ عزت دی کہ وہ دنیا کے ہادی‘ مصلح‘ نور اور ہدایت بن گئے- اس کا ذریعہ صرف قرآن کریم ہی تھا جو ان کے واسطے شفا‘ نور اور رحمت ہوا-
    قرآن کریم کا دائیں جانب ہونا تمہارے لئے خوش قسمت ہونے کی فال ہے اور یہ وہی کتاب ہے جو کہ دائیں جانب ہونی چاہئے- اس سے یہ تفاول ہے کہ یہ تمہارے دائیں ہاتھ میں ہو- )کرئہ ارض کی طرف اشارہ کر کے( دوسری طرف یہ ہے جس پر زندگی چل رہی ہے- کتاب اللہ میں بھی اس کی ترتیب اسی طرح سے ہے کہ اول آسمان کا ذکر ہے تو پھر زمین کا- موجودہ ضرورت کے لحاظ سے تم کو اس قرب|الٰہی کے حاصل کرنے کی ضرورت ہے جس سے عرب کی نابود ہستی بود ہو کر نظر آئی- وہ ذریعہ قرآن کریم ہے کہ جس سے اس کرہ پر ان کو حکمرانی حاصل ہوئی تھی- اس وقت اس کے بڑے حصے ایشیا اور افریقہ اور یورپ ہی تھے جن کو مخلوق جانتی تھی اور اس قرآن کی بدولت ان معلوم حﷺ پر ان کی حکمرانی ہوئی- مگر اس کے ساتھ ہی اصلی جڑ فضل الٰہی کا سائبان بھی ان پر تھا- ورنہ قرآن تو وہی موجود ہے اور اس وقت اہل اسلام کی تعداد بھی اس وقت سے اضعاف مضاعفہ ہے- آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں پڑھے لکھوں کی تعداد ۱۳۵ سے زیادہ ہرگز نہ تھی- خطرناک قوم کے مقابلہ پر سخت جنگ کی حالت میں ۳۱۳ سے زیادہ سپاہی نہ تھے- غزوہ خندق میں ۶۰۰ تھے- اب باوجود اس کے کہ اس وقت سے بہت زیادہ تعداد موجود ہے مگر وہ بات نہیں ہے- نہ وہ عزت‘ نہ آبرو‘ نہ اندرونی خوشی‘ نہ بیرونی- تو اس بات کی جڑ یہ ہے کہ اس زمانہ میں جس وقت فرمان نازل ہوا اس کی قدر کی گئی‘ اس کو دستورالعمل بنایا گیا- نتیجہ یہ ہوا کہ اہل عرب جو اول کچھ نہ تھے پھر سب کچھ بن گئے- قرآن شریف کے ابتدائی الفاظ میں لکھا ہے-ذٰلک الکتاب لا ریب فیہ )البقرہ:۳-(نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کتاب کا ادب اس طرح سے کیا کہ آپ کے زمانہ میں سوائے قرآن کے اور کوئی کتاب نہ لکھی گئی- اس وقت بھی خوش قسمتی سے وہی کتاب موجود ہے- اگر کوئی اور بھی اس وقت کی لکھی ہوئی ہوتی تو پھر یہ جوش نہ ہوتا یا خدا اور کوئی راہ کھول دیتا- غرضیکہ اس کتاب کے ذریعہ سے فضل الٰہی کا وہ سایہ قائم ہوا جیسے اس وقت تم لوگ آسائش سے بیٹھے ہو- سائبان تم پر ہے- دھوپ کی تپش سے محفوظ ہو- اس طرح وہ لوگ جو کہ جنگلوں میں اور دور دراز بلاد میں رہتے تھے وہ اس کے ذریعہ سے امن کی زندگی بسر کرنے لگے-
    تمام ترقیوں‘ عزت اور حقیقی خوشی کی جڑ یہ کتاب ہے اور اسی کے ذریعہ سے ہم اس )کرہ ارض( پر حکمرانی کرتے ہیں اور اسی کے ذریعہ سے فضل الٰہی کا سایہ ہم پر پڑ سکتا ہے- یہ نہ خیال کرو کہ ایرانی سلطنت ایسی راحت میں ہے- ہرگز نہیں- جس قدر وہ اس کتاب سے دور ہے اسی قدر اس میں گند ہے مگر تم کو ان باتوں کا علم نہیں ہے- بڑے بڑے لائق‘ چالاک اور پھرتی سے بات کرنے والوں کے ساتھ ناچیزی کی حالت میں میرا مقابلہ ہوا ہے مگر اس قرآن کے ہتھیار سے جب میں نے ان سے بات کی ہے تو ان کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگ گئیں- ایک انسان جو کہ بیماریوں میں مبتلا ہو بظاہر تم اسے خندہ اور خوش دیکھ سکتے ہو مگر اندر سے دکھ اسے ملامت کا نشانہ بنا رہے ہیں- یاد رکھو خوشی کا چشمہ قلب‘ پھر عقل‘ پھر حواس ہیں- اس کے بعد جسم میں خوشی ہوتی ہے مگر جو لوگ غموں میں مبتلا ہوں ان کو حقیقی خوشی نہیں ہوا کرتی-
    میں تم کو ایک بچہ کا قصہ سناتا ہوں کیونکہ تم بھی بچے ہو مگر وہ عمر میں تم سب سے چھوٹا تھا- اس کا نام یوسفؑ ہے- جس وقت بھائیوں نے اسے باپ سے مانگا اور چاہا کہ اسے باپ سے الگ کر دیں اور جنگل میں جا کر ایک کنوئیں میں اتار دیا- اب تم سمجھ سکتے ہو کہ اس کی کیا عمر تھی- اگرچہ وہ چھوٹا تھا اور ناواقف تھا مگر پھر بھی بچوں کی طرح باپ سے الگ ہونے اور نکالے جانے کا اسے علم تھا اور یہ جانتا تھا کہ اس سے دکھ ملتا ہے- ذرا سوچو تو جب ایک بچہ کو اس کی ماں سے الگ کیا جاتا ہے تو بچہ کا کیا حال ہوتا ہے- پھر بچہ ہونے کے نام سے دب جاتے ہیں- سہم جاتے ہیں- اور اس کو وہ تاریک کنواں دکھایا گیا جس میں اسے اتارا گیا- نہ اس وقت کوئی یار اور نہ آشنا‘نہ ماں اور نہ باپ- اگر ہوتے بھی تو اسے وہ بات نہ بتلا سکتے جو خدا نے بتائی- اور ان کو کیا علم تھا کہ اس کا انجام کیا ہو گا؟ مگر خدا کا سایہ اس پر تھا اور خدا نے اسے بتلایا- لتنبئنھم بامرھم ھٰذا و ھم لایشعرون )یوسف:۱۶( کہ اے یوسفؑ! دیکھ تجھے باپ سے الگ کیا- تیری زمین سے تجھے الگ کیا اور اندھیرے کنوئیں میں ڈالا- مگر میں تیرے ساتھ ہوں گا اور اس علیحدگی کی تعبیر کو تو بھائیوں کے سامنے بیان کرے گا اور ان کو اس بات کا شعور نہیں ہے- دیکھو یہ باتیں باپ نہیں کر سکتا- نہ وعدہ دے سکتا ہے کہ یوں ہو گا یا جاہ و جلال کے وقت تک یہ تندرستی بھی ہو گی- ایک باپ بچے سے پیار تو کر سکتا ہے مگر وہ اس کے آئندہ کی حالت کا کیا اندازہ لگا سکتا ہے- ان باتوں کو جمع کر کے دیکھو- اگر کوئی انسان تسلی دیتا تو بچہ کو پیار کرتا- گلے میں ہاتھ ڈالتا اور اسے کہتا کہ ہم چیجی دیویں گے- مگر خدا کی ذات کیا رحیم ہے وہ فرماتا ہے- لتنبئنھم بامرھم ھٰذا ہم وہ عروج دیں گے کہ تو ان احمقوں کو اطلاع دے گا-
    یہ حقیقت ہے اس سایہ کی جسے میں چاہتا ہوں تم پر ہو- علوم کی تحصیل آسان ہے مگر خدا کے فضل کے نیچے اسے تحصیل کرنا یہ مشکل ہے- کالج کی اصل غرض یہی ہے کہ دینی اور دنیوی تربیت ہو مگر اول فضل کا سایہ ہو‘ پھر کتاب‘ پھر دستور العمل ہو- اس کے بعد دیکھو کہ کیا کامیابی ہوتی ہے؟ فضل الٰہی کے لئے پہلی بشارت پیارے عبد الکریم نے دی ہے- وہ کیا ہے؟ حضرت صاحب کی دعائیں ہیں- میں ان دعائوں کو کیا سمجھتا ہوں- یہ بہت بڑی بات ہے اور یقینا تمہارے ادراک سے بالاتر ہو گی- مگر میں کچھ بتلاتا ہوں- ][ مخالفتوں سے انسان ناکامیاب ہوتا ہے- گھبراتا ہے- ایک لڑکا ماسٹر کی مخالفت کرے تو اسے مدرسہ چھوڑنا پڑتا ہے- جس قدر مہتمم مدرسہ کے ہیں اگر وہ سب مخالفت میں آویں تو زندگی بسر کرنی مشکل ہو- اگرچہ افسر بھی لڑکوں کے محتاج ہیں مگر ایک ذرا سے نکتہ سے اسے بورڈنگ میں رہنا مشکل ہو جاتا ہے- اب اس پر اندازہ کرو کہ ایک کی مخالفت انسان کو کیسے مشکلات میں ڈالتی ہے- لیکن ہمارے امام کی ساری برادری مخالف ہے- رات دن یہی تاک ہے کہ اسے دکھ پہنچے- پھر گائوں والے مخالف حالانکہ ان کو نفع پہنچتا ہے- میں نے ایک شریر سے پوچھا کہ اب مرزا صاحب کے طفیل تمہاری کتنی آمدنی ہو گئی ہے- تو کہا کہ بیس روپیہ ماہوار زیادہ ملتے ہیں- علیٰ ہذا القیاس ان گدھے والوں اور مزدوروں سب سے دریافت کرو تو یقین ہو گا کہ ان کے واسطے ہمارا یہاں رہنا کیسا بابرکت ہے- مگر ان سب کے دلوں میں ایک آگ بھی ہماری طرف سے ہے- باوجود ہم سے متمتع ہونے کے پھر بھی ان کے اندر ایک کپکپی ہے کہ یہ یہاں کیوں آ گئے- ابھی ایک مینار بن رہا ہے- اگر کوئی میرے جیسا خلیق ہوتا تو راستہ کو توڑ کر مینار ایک کونے میں بناتا مگر اس مجسم رحم انسان )مرزا غلام احمد( نے اسے مسجد کے اندر بنایا کہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو- ان لوگوں کو غیرت نہیں آتی کہ کیا ان دور دراز سے آنے والوں کی عقل ماری گئی ہے کہ دوڑے چلے آ رہے ہیں- یہ کہاں کے فلاسفر ہوئے جو ایسی بات کرتے ہیں- کیا ان کے تجارب ہم سے زیادہ ہیں یا معلومات میں ہم سے بڑھ کر ہیں- شرم کے مارے کچھ جواب تو نہیں دے سکتے- یہ کہتے ہیں کہ ان لوگوں کی مت ماری گئی ہے کہ روپیہ اپنا کھاتے ہیں اور یہاں رہتے ہیں- یہ حال تو گائوں کی مخالفت کا ہے- پھر سب مولوی مخالف‘ گدی|نشین مخالف‘ شیعہ مخالف‘ سنی مخالف‘ آریہ مخالف‘ مشنری مخالف دہریوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا مگر وہ بھی مخالفاور نہایت خطرناک دشمن اس سلسلہ کے ہیں- ان تمام مشکلات کے مقابلہ میں دیکھو وہ )حضرت مرزا صاحب( کیسے کامیاب ہے- کیا تمہارا دل نہیں چاہتا کہ تم اس طرح کامیاب ہو- یہاں ہمارا رہنا‘ تمہارا رہنا‘ سب اسی کے نظارہ ہیں کہ باوجود اس قدر مخالفت کے پھر پروانہ وار اس پر گرتے ہیں- اس کا باعث یہی ہے کہ وہ کتاب اللہ کا سچا حامی ہے اور رات دن دعا میں لگا ہوا ہے- اس لڑکے سے بڑھ کر کوئی خوشی قسمت نہیں ہے جس کے لئے یہ دعائیں ہوں- مگر ان باتوں کو وہی سمجھتا ہے جس کی آنکھ بینا اورکان شنوا ہو-۱~}~
    لتنبئنھم بامرھم ھٰذا کی صدا یوسف کے کان میں پڑی- اسی سے سوچو کہ جب خدا کا فضل ساتھ ہوتا ہے تو کوئی دشمن ایذا نہیں پہنچا سکتا- کس طرح کا جاہ و جلال اور بحالی یوسف کو ملی- اور سب سے عجیب بات یہ کہ ان بھائیوں کو آخر کہنا پڑا ان کنا لخاطئین )یوسف:۹۲-(اس کا جواب یوسفؑ نے دیا لاتثریب علیکم الیوم یغفر اللہ لکم )یوسف:۹۳-(یہ اللہ پر یقین کا نتیجہ تھا-
    تم بھی اللہ پر کامل یقین کرو اور ان دعائوں کے ذریعہ‘جو کہ دنیاکی مخالفت میں سپر ہیں‘ فضل چاہو- کتاب اللہ کو دستور العمل بنائو تا کہ تم کو عزت حاصل ہو- باتوں سے نہیں بلکہ کاموں سے اس کتاب کے تابع اپنے آپ کو ثابت کرو- ہنسی‘ تمسخر‘ ٹھٹھا‘ ایذا‘ گالی‘ یہ سب اس کتاب کی تعلیم کے برخلاف ہے- جھوٹ سے‘ *** سے‘ تکلیف اور ایذا دینے سے ممانعت اور لغو سے بچنا اس کتاب کا ارشاد ہے- صوم اور صلوٰۃ اور ذکر|و|شغل الٰہی کی پابندی اس کا اصول ہے-
    تمہاری تربیت کی ابتدائی حالت ہے-اور اگرچہ تربیت کرنے والے اس قابل نہیں ہیں کہ تم کو اعلیٰ منازل تک پہنچا دیں مگر کوئی کمزوری اور نقص اگر انتظام میں ہے تو اس کی اصلاح تمہارے ہی ہاتھ میں ہے- اللہ تعالیٰ فرماتا ہے و کذٰلک نولی بعض الظالمین بعضھم بما کانوا یکسبون )الانعام:۱۳۰( یعنی اسی طرح ہم ظالموں پر ظالموں کو ولی کرتے ہیں تا کہ اپنے اعمال کا نتیجہ بھگتیں- پھر فرماتا ہے ان اللہ لایغیر ما بقوم حتیٰ یغیروا ما بانفسھم )الرعد:۱۲-( پس اپنی اصلاح میں لگو کہ تمہارا مصلح تمہارا متولی اللہ تعالیٰ تم کو توفیق دیوے کہ فضل خدا کا سایہ تم پر ہو- اس کی کتاب تمہارا دستور العمل ہو- کرہ زمین پر عزت سے زندگی بسر کرو- دنیا کے لئے کمال نور اور ہدایت ہو جائو- اپنی کمزوریوں کے لئے دعا کرو اور کوشش کرو کہ یوسف کی طرح بن جائو-
    یہ تقریر فرما کر حضرت مولانا حکیم صاحب کرسی پر تشریف فرما ہوئے اور مدرسہ تعلیم الاسلام کے مدرس جناب مولوی مبارک علی صاحب اور مولوی عبد اللہ صاحب کشمیری نے باری باری نظمیں پڑھیں-
    بعد اختتام نظم جناب ڈائرکٹر صاحب نے کھڑے ہو کر فرمایا کہ خدا کے فضل و احسان سے افتتاح کالج کی رسم ادا ہو چکی ہے اور اس خوشی میں آج مدرسہ کو رخصت دی جاتی ہے- اس کے بعد دعا کی گئی اور جلسہ برخاست ہوا- ۲~}~
    ۱~}~ ) البدر جلد ۲ نمبر۲۲ ۔۔ ۱۹ / جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۷۱‘۱۷۲ (
    ۲~}~ ) البدر جلد ۲ نمبر۲۳ ۔۔ ۲۶ / جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۷۹ (
    * * * *
    ‏KH1.16
    خطبات|نور خطبات|نور
    ۲۱ / دسمبر ۱۹۰۳ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    خطبہ عید الفطر
    اشھد ان لا الٰہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ و اشھد ان محمداً عبدہ و رسولہ- اما بعد-
    یسئلونک عن الاھلۃ قل ھی مواقیت للناس و الحج و لیس البر بان تاتوا البیوت من ظھورھا و لٰکن البر من اتقیٰ و اتوا البیوت من ابوابھا و اتقوا اللہ لعلکم تفلحون )البقرہ:۱۹۰(
    یہ رکوع جس کا میں نے ابتداء پڑھا ہے‘ اس رکوع کے بعد ہے جس میں رمضان اور روزہ کا تذکرہ ہے- اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہؓ کو نیک اعمال کے بجالانے کی کیسی محبت تھی اور کلام اور اس کی اصلی بات پر آگاہی پانے کا کس قدر شوق تھا-
    روزہ کی حقیقت یہ ہے کہ اس سے نفس پر قابو حاصل ہوتا ہے اور انسان متقی بن جاتا ہے- رکوع میں رمضان شریف کے متعلق یہ بات مذکور ہے کہ انسان کو جو ضرورتیں پیش آتی ہیں ان میں سے بعض تو شخصی ہوتی ہیں اور بعض نوعی- اور بقائے نسل کی شخصی ضرورتوں میں جیسے کھانا پینا ہے اور نوعی ضرورت جیسے نسل کے لئے بیوی سے تعلق- ان دونوں قسم کی طبعی ضرورتوں پر قدرت حاصل کرنے کی راہ روزہ سکھاتا ہے اور اس کی حقیقت یہی ہے کہ انسان متقی بننا سیکھ لیوے- آجکل تو دن چھوٹے ہیں- سردی کا موسم ہے اور ماہ رمضان بہت آسانی سے گذرا- مگر گرمی میں جو لوگ روزہ رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ بھوک پیاس کا کیا حال ہوتا ہے اور جوانوں کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ ان کو بیوی کی کس قدر ضرورت پیش آتی ہے- جب گرمی کے موسم میں انسان کو پیاس لگتی ہے- ہونٹ خشک ہوتے ہیں- گھر میں دودھ‘ برف‘ مزہ دار شربت موجود ہیں مگر ایک روزہ دار ان کو نہیں پیتا- کیوں؟ اس لئے کہ اس کے مولا کریم کی اجازت نہیں کہ ان کو استعمال کرے- بھوک لگتی ہے- ہر ایک قسم کی نعمت زردہ‘ پلائو‘ قلیہ‘ قورمہ‘ فرنی وغیرہ گھر میں موجود ہیں- اگر نہ ہوں تو ایک آن میں اشارہ سے طیار ہو سکتے ہیں مگر روزہ دار ان کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتا- کیوں؟ صرف اس لئے کہ اس کے مولیٰ کریم کی اجازت نہیں- شہوت کے زور سے پٹھے پھٹے جاتے ہیں اور اس کی طبیعت میں سخت اضطراب جماع کا ہوتا ہے- بیوی بھی حسین‘ نوجوان اور صحیح القویٰ موجود ہے- مگر روزہ دار اس کے نزدیک نہیں جاتا- کیوں؟ صرف اس لئے کہ وہ مانتا ہے کہ اگر جائوں گا تو خدا تعالیٰ ناراض ہو گا- اس کی عدول حکمی ہو گی- ان باتوں سے روزہ کی حقیقت ظاہر ہے کہ جب انسان اپنے نفس پر یہ تسلط پیدا کر لیتا ہے کہ گھر میں اس کی ضرورت اور استعمال کی چیزیں موجود ہیں مگر اپنے مولا کی رضا کے لئے وہ حسب تقاضائے نفس ان کو استعمال نہیں کرتا‘ تو جو اشیاء اس کو میسر نہیں ان کی طرف نفس کو کیوں راغب ہونے دے گا؟ رمضان شریف کے مہینہ کی بڑی بھاری تعلیم یہ ہے کہ کیسی ہی شدید ضرورتیں کیوں نہ ہوں مگر خدا کا ماننے والا خدا ہی کی رضامندی کے لئے ان سب پر پانی پھیر دیتا ہے اور ان کی پروا نہیں کرتا- قرآن شریف روزہ کی حقیقت اور فلاسفی کی طرف خود اشارہ فرماتا ہے- کہتا ہے- یٰایھا الذین اٰمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون )البقرہ:۱۸۴( روزہ تمہارے لئے اس واسطے ہے کہ تقویٰ سیکھنے کی تم کو عادت پڑ جاوے- ایک روزہ دار خدا کے لئے ان تمام چیزوں کو ایک وقت ترک کرتا ہے جن کو شریعت نے حلال قرار دیا ہے اور ان کے کھانے پینے کی اجازت دی ہے- صرف اس لئے کہ اس وقت میرے مولا کی اجازت نہیں- تو یہ کیسے ممکن ہے کہ پھر وہی شخص ان چیزوں کے حاصل کرنے کی کوشش کرے جن کی شریعت نے مطلق اجازت نہیں دی اور وہ حرام کھاوے‘ پیوے اور بدکاری میں شہوت کو پورا کرے- تقویٰ کے لئے ایک جزو ایمان یہ ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کا مال مت کھایا کرو-
    حرام خوری کے اقسام
    حرام خوری اور مال بالباطل کا کھانا کئی قسم کا ہوتا ہے- ایک نوکر اپنے آقا سے پوری تنخواہ لیتا ہے- مگر وہ اپنا کام سستی یا غفلت سے‘ آقا کی منشاء کے موافق نہیں کرتا تو وہ حرام کھاتا ہے- ایک دوکاندار یا پیشہ|ور خریدار کو دھوکا دیتا ہے- اسے چیز کم یا کھوٹی حوالہ کرتا ہے اور مول پورا لیتا ہے- تو وہ اپنے نفس میں غور کرے کہ اگر کوئی اسی طرح کا معاملہ اس سے کرے اور اسے معلوم بھی ہو کہ میرے ساتھ دھوکا ہوا تو کیا وہ اسے پسند کرے گا؟ ہرگز نہیں- جب وہ اس دھوکا کو اپنے خریدار کے لئے پسند کرتا ہے تو وہ مال بالباطل کھاتا ہے- اس کے کاروبار میں ہرگز برکت نہ ہو گی- پھر ایک شخص محنت اور مشقت سے مال کماتا ہے مگر دوسرا ظلم )یعنی رشوت‘ دھوکا‘ فریب( سے اس سے لینا چاہتا ہے تو یہ مال بھی مال بالباطل لیتا ہے- ایک طبیب ہے- اس کے پاس مریض آتا ہے اور محنت اور مشقت سے جو اس نے کمائی کی ہے اس میں سے بطور نذرانہ کے طبیب کو دیتا ہے یا ایک عطار سے وہ دوا خریدتا ہے تو اگر طبیب اس کی طرف توجہ نہیں کرتا اور تشخیص کے لئے اس کا دل نہیں تڑپتا اور عطار عمدہ دوا نہیں دیتا اور جو کچھ اسے نقد مل گیا اسے غنیمت خیال کرتا ہے یا پرانی دوائیں دیتا ہے کہ جن کی تاثیرات زائل ہو گئی ہیں تو یہ سب مال بالباطل کھانے والے ہیں- غرضیکہ سب پیشہ ور حتیٰ کہ چوڑھے چمار بھی سوچیں کہ کیا وہ اس امر کو پسند کرتے ہیں کہ ان کی ضرورتوں پر ان کو دھوکا دیا جائے- اگر وہ پسند نہیں کرتے تو پھر دوسرے کے ساتھ خود وہی ناجائز حرکت کیوں کرتے ہیں- روزہ ایک ایسی شے ہے جو ان تمام بری عادتوں اور خیالوں سے انسان کو روکنے کی تعلیم دیتا ہے اور تقویٰ حاصل کرنے کی مشق سکھاتا ہے- جو شخص کسی کا مال لیتا ہے وہ مال دینے والے کی اغراض کو ہمیشہ مدنظر رکھ کر مال لیوے اور اسی کے مطابق اسے شے دیوے-
    روزہ سے قرب الٰہی حاصل ہوتا ہے-
    روزہ جیسے تقویٰ سیکھنے کا ایک ذریعہ ہے ویسے ہی قرب|الٰہی حاصل کرنے کا بھی ذریعہ ہے- اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ماہ رمضان کا ذکر فرماتے ہوئے ساتھ ہی یہ بھی بیان کیا ہے- و اذا سالک عبادی عنی فانی قریب- اجیب دعوۃ الداع اذا دعان فلیستجیبوا لی و لیومنوا بی لعلھم یرشدون )البقرہ:۱۸۷-(
    یہ ماہ رمضان کی ہی شان میں فرمایا گیا ہے اور اس سے اس ماہ کی عظمت اور سر الٰہی کا پتہ لگتا ہے کہ اگر وہ اس ماہ میں دعائیں مانگیں تو میں قبول کروں گا- لیکن ان کو چاہئے کہ میری باتوں کو قبول کریں اور مجھے مانیں- انسان جس قدر خدا کی باتیں ماننے میں قوی ہوتا ہے خدا بھی ویسے ہی اس کی باتیں مانتا ہے- لعلھم یرشدون سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ماہ کو رشد سے بھی خاص تعلق ہے اور اس کا ذریعہ خدا پر ایمان‘ اس کے احکام کی اتباع اور دعا کو قرار دیا ہے- اور بھی باتیں ہیں جن سے قرب الٰہی حاصل ہوتا ہے-
    آیت کا شان نزول
    جب صحابہؓ نے دیکھا کہ ایک ماہ رمضان کی یہ عظمت اور شان ہے اور اس قرب الٰہی کے حصول کے بڑے ذرائع موجود ہیں تو ان کے دل میں خیال گزرا کہ ممکن ہے کہ دوسرے چاندوں و مہینوں میں بھی کوئی ایسے ہی اسرار مخفیہ اور قرب الٰہی کے ذرائع موجود ہوں- وہ معلوم ہو جاویں اور ہر ایک ماہ کے الگ الگ احکام کا حکم ہو جاوے- اس لئے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا کہ دوسرے چاندوں کے احکام اور عبادات خاصہ بھی بتا دیئے جاویں-
    ہلال اور قمر کا فرق
    یہاں لفظ اھلۃ کا استعمال ہوا ہے جو کہ ہلال کی جمع ہے- بعض کے نزدیک تو پہلی‘ دوسری اور تیسری کے چاند کو اور بعض کے نزدیک ساتویں کے چاند کو ہلال کہتے ہیں اور پھر اس کے بعد قمر کا لفظ اطلاق پاتا ہے- احادیث میں جو مہدی کی علامات آئی ہیں ان میں سے مہدی کی علامت ایک یہ بھی ہے کہ ایک ہی ماہ رمضان میں چاند اور سورج کو گرہن لگے گا- وہاں چاند کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قمر کا لفظ استعمال کیا ہے اور اعلیٰ درجہ کا قمر ۱۳‘ ۱۴‘ ۱۵ تاریخ کو ہوتا ہے اور اس کے گرہن کی بھی یہی تاریخیں مقرر ہیں- اس سے کم زیادہ نہیں ہو سکتا- اور ایسے ہی سورج گرہن کے لئے بھی ۲۷‘ ۲۸‘ ۲۹ تاریخ ماہ قمری کی مقرر ہے- غرضیکہ قمر کا لفظ اپنے حقیقی معنوں کی رو سے مہدی کی علامت تھی- لیکن لوگوں نے تصرف کر کے وہاں قمر کی بجائے ہلال کا لفظ ڈال دیا ہے اور یہ ان کی غلطی ہے-
    ہر ایک نیا چاند انسانی زندگی کی مثال میں ایک سبق دیتا ہے
    صحابہ کرامؓ کے اس سوال پر کہ اور چاندوں کے برکات و انوار سے ان کو اطلاع دی جاوے اللہ جل|شانہ نے یہ جواب دیا- قل ھی مواقیت للناس و الحج یعنی جیسے ماہ رمضان تقویٰ سکھانے کی ایک شے ہے ویسے ہرایک مہینہ جو چڑھتا ہے وہ انسان کی بہتری کے لئے ہی آتا ہے- انسان کو چاہئے کہ نئے چاند کو دیکھ کر اپنی عمر رفتہ پر نظر ڈالے اور دیکھے کہ میری عمر میں سے ایک ماہ اور کم ہو گیا ہے اور نہیں معلوم کہ آئندہ چاند تک میری زندگی ہے کہ نہیں- پس جس قدر ہو سکے وہ خیر و نیکی کے بجالانے میں اور اعمال صالحہ کرنے میں دل و جان سے کوشش کرے اور سمجھے کہ میری زندگی کی مثال برف کی تجارت کی مانند ہے- برف چونکہ پگھلتی رہتی ہے اور اس کا وزن کم ہوتا رہتا ہے اس لئے اس کے تاجر کو بڑی ہوشیاری سے کام کرنا پڑتا ہے اور اس کی حفاظت کا وہ خاص اہتمام کرتا ہے- ایسے ہی انسان کی زندگی کا حال ہے جو برف کی مثال ہے کہ اس میں سے ہر وقت کچھ نہ کچھ کم ہوتا ہی رہتا ہے اور اس کا تاجر یعنی انسان ہر وقت خسارہ میں ہے- چونسٹھ- پینسٹھ سال جب گزر گئے اور اس نے نیکی کا سرمایہ کچھ بھی نہ بنایا تو وہ گویا سب کے سب گھاٹے میں گئے- ہزاروں نظارے تو آنکھ سے دیکھتے ہو- اپنے بیگانے مرتے ہیں- اپنے ہاتھوں سے تم ان کو دفن کر کے آتے ہو اور یہ ایک کافی عبرت تمہارے واسطے وقت کی شناخت کرنے کی ہے- اور نیا چاند تمہیں سمجھاتا ہے کہ وقت گزر گیا ہے اور تھوڑا باقی ہے- اب بھی کچھ کر لو- لمبی لمبی تقریریں اور وعظ کرنے کا ایک رواج ہو گیا ہے ورنہ سمجھنے اور عمل کرنے کے لئے ایک لفظ ہی کافی ہے- کسی نے اسی کی طرف اشارہ کر کے کہا ہے-
    مجلس وعظ رفتنت ہوس است
    مرگ ہمسایہ واعظ تو بس است
    پس ان روزانہ موت کے نظاروں سے جو تمہاری آنکھوں کے سامنے اور تمہارے ہاتھوں میں ہوتے ہیں‘ عبرت پکڑو اور خدا تعالیٰ سے مدد چاہو اور کاہلی اور سستی میں وقت کو ضائع مت کرو- مطالعہ کرو اور خوب کرو کہ بچہ سے لے کے جوان اور بوڑھے تک اور بھیڑ‘ بکری‘ اونٹ وغیرہ جس|قدر جاندار چیزیں ہیں‘ سب مرتے ہیں اور تم نے بھی ایک دن مرنا ہے- پس وہ کیا بدقسمت انسان ہے جو اپنے وقت کو ضائع کرتا ہے- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وقت کی کیسی قدر کرتے تھے کہ جب ان کو ماہ رمضان کے فضائل معلوم ہوئے تو معاً دوسرے مہینوں کے لئے سوال کیا کہ قرب الٰہی کے اگر اور ذرائع بھی ہوں تو معلوم ہو جاویں-
    روح کا علاج ضروری ہے اور اس کا ایک ہی نسخہ ہے
    میرے پاس بیمار آتے ہیں- ان کی اوراپنی حالت پر حیران ہوا کرتا ہوں کہ جس جسم کے آرام کے لئے یہ اس قدر تکلیف برداشت کر کے اور اخراجات اور مصائب سفر کے زیر بار ہو کر میرے پاس آتے ہیں اسے یہ آج نہیں توکل اور کل نہیں تو پرسوں ضرور چھوڑ دیں گے- لیکن پھر بھی ذرا سے دکھ سے آرام پانے کے لئے ترک وطن کرتے ہیں- عزیز و اقارب کو چھوڑتے ہیں- اور ان کی بڑی آرزو یہ ہوتی ہے کہ جس طرح ہو تپ جلدی ٹوٹ جاوے لیکن روح کی بیماری کی کسی کو فکر نہیں ہے- اس کے واسطے نہ کوئی تڑپ‘ نہ رنج و الم- حالانکہ جانتے ہیں کہ مرنے کے بعد اعمال کے جوابدہ ہو ں گے اور یہاں بھی برابر ہوتے رہتے ہیں- آتشک والے مریض کو اس کے اعمال کی جو پاداش ملتی ہے وہی اسے خوب جانتا ہے- اسی طرح بدنظری اور بدکاری کی عادتیں جو پڑتی ہیں پھر انسان ہزار جتن کرے ان کا دور ہونا بغیر خاص فضل الٰہی کے بہت مشکل ہوتا ہے اور اس کے بڑے بڑے دکھ دینے والے نتیجے اسے برداشت کرنے پڑتے ہیں- جب یہ حال ہے اور جسم کی ادنیٰ ادنیٰ سی ایذا کی تم کو فکر ہے تو روح کا کیوں فکر نہیں کرتے- روح کی بیماریوں کے علاج کا ایک ہی نسخہ ہے جس کا نام قرآن شریف ہے- اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بدکار لوگ کہیں گے لو کنا نسمع او نعقل ما کنا فی اصحاب السعیر )الملک:۱۱( کہ اگر ہم خدا کے فرستادوں کی باتوں کو کان دھر کر سنتے اور عقل سے کام لیتے تو آج ہم دوزخیوں میں سے نہ ہوتے- یہ حسرت ان کو کیوں ہو گی؟ صرف اس لئے کہ وقت ان کے ہاتھ سے نکل گیا اور اب پھر ہاتھ نہیں آ سکتا- پس روح کی بیماری کا بھی علاج ہے کہ وقت کو ہاتھ سے نہ گنواوے اور اس نور اور شفا کتاب‘ قرآن شریف پر عملدرآمد کرے- اپنے حال اور قال اور حرکت اور سکون میں اسے دستور|العمل بناوے-
    عبرت پکڑنے کے میں دو مرحلے اوپر بیان کر آیا ہوں- تیسرا مرحلہ یہ ہے کہ واعظ کا وعظ انسان کی ہدایت کے لئے کافی نہیں ہوتا- آج سے کئی سو برس پیشتر ایک تجربہ کار کہتا ہے-
    مشکلے دارم ز دانشمند مجلس باز پرس
    توبہ فرمایاں چرا خود توبہ کمتر می کنند
    میری طرح بہت سے واعظ کھڑے ہوتے ہیں- بہت سے ان میں سے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی نیت روپیہ بٹورنے کی ہوتی ہے- بہت سے ایسے کہ لوگ ان کے وعظ اور تقریر کی تعریف کریں اور بعض ایسے بھی ہوتے ہوں گے جو کہ محض خدا کے واسطے وعظ کرتے ہوں- اسی طرح سننے والوں کا حال ہے- میں طبیب ہوں اس لئے بعض لوگ صرف اسی لحاظ سے وعظ سنتے ہوں گے کہ ان کا علاج بھی اچھی طرح کروں اور کسی کی کچھ اور کسی کی کچھ غرض ہو گی اور بعض ایسے بھی ہوں گے کہ محض خدا کے لئے سنتے ہوں-
    غرض وعظوں کے سننے اور سنانے والے مختلف اغراض لئے ہوتے ہیں- جو خدا کے لئے سنتے اور سناتے ہیں ان کو چھوڑ کر باقیوں کے لئے یہ علم بڑی مشکلات کا موجب ہوتا ہے اور وبال جان ہوتا ہے- کیونکہ اس کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی حجت ان پر پوری ہوتی ہے اور انسان سن یا سنا کر خود ہی اس میں پھنس جاتا ہے- عالموں سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ تم خود اپنے علم پر عامل تھے کہ نہیں؟ تم تکبر کا وعظ کرتے تھے لیکن خود تکبر سے خالی نہ تھے- تم بغض اور کینہ سے بچنے کی نصیحت لوگوں کو کرتے تھے مگر خود نہیں بچتے تھے- تم ریاکاری سے لوگوں کو روکتے تھے مگر خود نہیں رکتے تھے- یہ روحانی بیماریاں ہیں جن کا علاج انسان کے لئے ضروری ہے- چاہئے کہ علم کے مطابق تمہارا عمل ہو-
    ایک مزکی النفس انسان سے مستفید ہونے کی راہ
    لوگوں کے اندر کمزوریاں بھی ہوتی ہیں- اس لئے خدا کی رحمت کا یہ بھی تقاضا ہوتا ہے کہ وہ ان کے لئے ایک مزکی نفس انسان پیدا کرتا ہے جو کہ اپنے نفس اور خواہش سے کچھ نہیں کرتا- خدا کے بلائے بولتا ہے- اس کی زبان خدا کی زبان ہوتی ہے- اس کی آنکھیں خدا کی آنکھیں یا خدا کی آنکھیں اس کی آنکھیں ہوتی ہیں- اس کے ہاتھ خدا کے ہاتھ یا خدا کے ہاتھ اس کے ہاتھ ہوتے ہیں- وہ خدا کی طرف سے آتا ہے اور ایک مقناطیسی قوت اپنے ساتھ رکھتا ہے تاکہ لوگ اس کے ساتھ تعلق پیدا کر کے اپنے اپنے نفوس کا تزکیہ کریں اور یہ تعلق ایسا مضبوط ہو جیسے ایک درخت کی شاخ پورے طور پر اپنے تنے سے پیوستہ ہوتی ہے- ایسا ہی یہ بھی صدق و صفا اور اخلاص اور پوری اطاعت کے ساتھ اس کے ساتھ پیوستہ ہو تو تزکیہ کی اس روح سے جو مزکی کے اندر ہوتی ہے فائدہ اٹھا سکے گا- ورنہ اس کا نشو و نما ہرگز ممکن نہیں-
    ماہ شوال نبوت کا چاند ہے
    پس وقت کی قدر کرو اور ہر ایک چاند جو تمہاری روح کے لئے ایک وقت اور فرصت لاتا ہے اس سے نصیحت سیکھو- جو چاند تم نے کل دیکھا ہے وہ گویا نبوت کے اول سال کا چاند ہے- کیونکہ قرآن شریف کا نزول اسی ماہ شوال کے ماقبل رمضان میں شروع ہوا- اس لئے یہ چاند اور اس کے پہلے کا چاند ہر ایک مومن کے لئے خیر و برکت کا موجب ہے- حدیث شریف میں دعا آتی ہے کہ انسان چاند دیکھے تو کہے- اللٰھم اھلہ علینا بالامن و الایمان و السلامۃ و الاسلام ربی و ربک اللہ ھلال رشد و خیر )ترمذی کتاب الدعوات( پس چاہئے کہ روحانی پرورش کے لئے ہم سچا تعلق مزکی کے ساتھ پیدا کریں- وہ اب موجود ہے جس کی انتظار تیرہ سو برس سے ہو رہی تھی-
    حقیقت حج و جماعت
    پھر فرمایاو الحج - text] ga[t کہ چاند حج کے وقت کی بھی خبر دیتا ہے جو اسلام کا ایک اعلیٰ رکن ہے- باوجود اس کے کہ نوٹس اور اشتہاروں کی کثرت ہو رہی ہے اور ہر جگہ مجلسیں اور سوسائٹیاں جوش|وخروش سے قائم ہو رہی ہیں مگر پھر بھی دنیا میں کوئی مجلس ایسی دید و شنید میں نہیں آئی‘ جس کے ممبر پانچ وقت جمع ہوتے ہوں- مگر جناب الٰہی نے اطاعت اور طہارت کے ساتھ پانچ وقت جمع ہونا اور مل کر اس کی عظمت|و|جبروت کو بیان کرنا مسلمانوں پر فرض کر دیا ہے- کوئی شہر اور قصبہ نہ دیکھو گے جس کے ہر محلہ میں اسلام کی یہ پنجگانہ کمیٹی نہ ہوتی ہو- لیکن اس روزانہ پانچ وقت کے اجتماع میں اگر تمام باشندگان شہر کو اکٹھا ہونے کا حکم دیا جاتا تو یہ ایک تکلیف مالایطاق ہوتی- اس لئے تمام شہر کے رہنے والے مسلمانوں کے اجتماع کے لئے ہفتہ میں ایک دن جمعہ کا مقرر ہوا- پھر اسی طرح قصبات اور دیہات کے لوگوں کے اجتماع کے لئے عید کی نماز تجویز ہوئی- اور چونکہ یہ ایک بڑا اجتماع تھا اس لئے عید کا جلسہ شہر کے باہر میدان میں تجویز ہوا- لیکن اس سے پھر بھی کل دنیا کے مسلمان میل ملاپ سے محروم رہتے تھے- اس لئے کل اہل اسلام کے اجتماع کے لئے ایک بڑے صدر مقام کی ضرورت تھی تاکہ مختلف بلاد کے بھائی اسلامی رشتہ کے سلسلہ میں یکتا باہم مل جاویں- لیکن اس کے لئے چونکہ ہر فرد بشر مسلمان اور امیر اور فقیر کا شامل ہونا محال تھا اس لئے صرف صاحب استطاعت منتخب ہوئے تاکہ تمام دنیا کے مسلمان ایک جگہ جمع ہو کر تبادلہ خیالات کریں اور مختلف خیالات و دماغوں کا ایک اجتماع ہو اور سب کے سب مل کر خدا|تعالیٰ کی عظمت و جبروت کو بیان کریں- حج میں ایک کلمہ کہا جاتا ہے لبیک لبیک اللٰھم لبیک لاشریک لک لبیک ان الحمد و النعمۃ لک و الملک لاشریک لک )بخاری کتاب الحج باب التلبیہ( جس کا مطلب یہ ہے کہ اے مولا! تیرے حکموں کی اطاعت کے لئے اور تیری کامل فرمانبرداری کے لئے میں تیرے دروازے پر حاضر ہوں- تیرے احکام اور تیری تعظیم میں کسی کو شریک نہیں کرتا- غرضیکہ یہ حقیقت ہے مذہب اسلام کی جس کو مختصر الفاظ میں بیان کیا گیا ہے- پھر دن میں پانچ دفعہ کل مسلمانوں کو ’’اللہ اکبر‘‘ کے الفاظ سے بلایا جاتا ہے- کوئی نادان اسلام پر کیسے ہی اعتراض کرے کہ ان کا خدا ایسا ہے ویسا ہے مگر وہ خدا تعالیٰ کے لئے اکبر سے بڑھ کر لفظ وضع نہیں کر سکتا- نماز کے لئے بلاتے ہیں تو ’’اللہ اکبر‘‘ سے شروع کرتے اور ختم کرتے ہیں تو رحمۃ اللہ پر-
    حج کے برکات میں سے ایک یہ تعلیم ہے جو کہ اس کے ارکان سے حاصل ہوتی ہے کہ انسان سادگی اختیار کرے اور تکلفات کو چھوڑ دے- اس کے ارکان کبر و بڑائی کے بڑے دشمن ہیں- سستی اور نفس|پروری کا استیصال ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر ایک بات یہ ہے کہ ہزاروں ہزار سال سے ایک معاہدہ چلا آتا ہے- وہ یہ کہ جناب الٰہی کے حضور حاضر ہو کر تحمید کرتا ہے اور بہت سی دعائیں مانگتا ہے-
    محدود عقل اور خواہش کے محدود نتائج
    ’’ و لیس البر ‘‘ انسان کو ایک زبردست طاقت کا خیال ہمیشہ رہتا ہے اور یہ انسانی فطرت کا خاصہ ہے کہ ہر ایک مذہب میں جناب الٰہی کی عظمت و جبروت کو ضرور مانا جاتا ہے- جو لوگ اس سے منکر ہیں وہ بھی مانتے ہیں کہ ایک عظیم الشان طاقت ضرور ہے جس کے ذریعہ سے یہ نظام عالم قائم ہے- اس کے قرب کے حاصل کرنے والے تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں- بعض کی غرض تو یہ ہوتی ہے کہ جسمانی سامان حاصل کر کے جسمانی آرام حاصل کیا جاوے- جیسے ایک دوکاندار کی بڑی غرض و آرزو یہ ہوتی ہے کہ اس کا گاہک واپس نہ جاوے- ایک اہل کسب ایک دو روپیہ کما کر پھولا نہیں سماتا- لیکن ایسے لوگ انجامکار کوئی خوشحالی نہیں پاتے- وجہ یہ ہے کہ ان کی خواہش محدود ہوتی ہے- اس لئے محدود فائدہ اٹھاتے ہیں اور محدود خیالات کانتیجہ پاتے ہیں- بعض اس سے زیادہ کوشش کرتے ہیں اور ان پر خواب اور کشف کا دروازہ کھلتا ہے- اس قسم کے لوگوں میں بھلائی اور اخلاق سے پیش آنے کا خیال و ارادہ بھی ہوتا ہے- مگر چونکہ ان کی عقل بھی محدود ہوتی ہے اس لئے ان کی راہ بھی محدود ہوتی ہے- ایک حد کے اندر اندر رہتے ہیں اور ان کو مشیر بھی محدود الفطرت ملتے ہیں- تیسری قسم کے لوگ کہ کوئی بھلائی ان کی نظر میں بھلی اور برائی بدی کسی محدود خیال سے نہیں ہوتی بلکہ ان کی نظر وسیع اور اس بات پر ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وراء الورا ہے- کوئی عقل اور علم اسے محیط نہیں- بلکہ کل دنیا اس کی محاط ہے- اس کی رضامندی کی راہوں کو کوئی نہیں جان سکتا بجز اس کے کہ وہ خود کسی پر ظاہر کرے- یہ نظر انبیاء اور رسل اور ان کے خلفاء راشدین کی ہوتی ہے- وہ نہ خود تجویز کرتے ہیں اور نہ دوسرے کی تراشیدہ تجاویز مانتے ہیں بلکہ خدا کی بتلائی ہوئی راہوں پر چلتے ہیں-
    عرب کے نادانوں کا خیال تھا کہ جب وہ گھر سے حج کے لئے نکلیں اور پھر کسی ضرورت کے لئے ان کو واپس گھر آنا پڑے تو گھروں کے دروازہ میں داخل ہونا وہ معصیت خیال کرتے تھے اور پیچھے سے چھتوں پر سے ٹاپ کر آیا کرتے تھے اور اسے ان لوگوں نے نیکی خیال کر رکھا تھا- خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ باتیں نیکی میں داخل نہیں بلکہ نیکی کا وارث تو متقی ہے- تم اپنے گھروں میں دروازہ کی راہ سے داخل ہوا کرو اور تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم فلاح پائو-
    اس روح کو ابدالاباد ضرورتیں ہیں جن کی کسی کو خبر نہیں- اور مر کر جس ملک میں لوگ جاتے ہیں وہاں سے آج تک کوئی نہیں آیا جو یہ بتلا وے کہ وہاں کے لئے کس قسم کے سامان کی ضرورت ہے- کھانے‘ پینے‘ لباس اور آسائش کے واسطے کیا کیا انسان ساتھ لے جاوے- گزشتہ زمانہ کی نسبت تو لوگوں کے بڑے بڑے دعوے ہیں اور بعض مذاہب اپنی قدامت پر بڑا فخر و ناز کرتے ہیں- آریہ کہتے ہیں کہ ہم ہزارہا برس سے ہیں اور جین مت والے ان سے بھی زیادہ قدامت میں قدم مار رہے ہیں اور زردشت کے ماننے والوں نے تو حد ہی کر دی کہ مہاسنکھ کے پہلے سترہ صفر بڑھا دیئے-
    غرضیکہ گزشتہ تاریخ کے دیکھنے میں انسانوں نے بڑے دعوے کئے ہیں- ایسے ہی اسٹرالوجی (Astrology) علم نجوم میں دور دور کے ستاروں کی تحقیق کی گئی ہے اور عجیب عجیب خواص اور ہیئت ان کی دریافت کی ہے- قدامت میں وہاں تک اور دوربینی میں یہاں تک نوبت پہنچائی ہے- نیچے کی طرف جیالوجی والوں نے زمین کے اندر بڑے بڑے غوطے لگائے مگر ایک سیکنڈ کے بعد کیا ہونے والا ہے‘ کوئی نہیں بتاتا اور جب ایک سیکنڈ کے بعد کی خبر نہیں بتلائی جاتی تو مر کر کیا ہونا ہے اور کیا مرحلے پیش آتے ہیں‘ اس کی خبر کون دے؟ صرف خدا کی ہی ایک ذات ہے جو اس کی خبر دے سکتی ہے اور کوئی نہیں- وہی بتلاتا ہے کہ مرنے کے بعد تم کو فلاں فلاں امور کی ضرورت ہے اور تم کو اس ولایت میں بودوباش کے لئے فلاں قسم کا سامان درکار ہے- یہ خبر انبیائ‘ ان کے خلیفہ اور ماموروں کے ذریعہ ملتی ہے اور جو کچھ وہ بتلاتے ہیں وہ خدا سے خبر پا کر بتلاتے ہیں ورنہ بذات خود غیب کی کنجی نہیں ہوتے-
    رضاء الٰہی کی وہی راہ ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدوں کی معرفت بیان کرے اور خوش قسمتی سے ہمارا امام ان سب سے واقف ہے اور وہ بتلا سکتا ہے کہ تم کس طرح خدا کا قرب حاصل کر سکتے ہو- لیکن جو شخص اپنی طرف سے کوئی راہ تجویز کرتا ہے اور بلا کسی الٰہی سند کے کہتا ہے کہ اس سے خدا راضی ہو گا‘ وہ نفس دھوکا دیتا ہے- خدا کی راہوں کا علم انسان کو تقویٰ کے ذریعہ سے حاصل ہوتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے- و اتقوا اللہ و یعلمکم اللہ )البقرہ:۲۸۳( تم تقویٰ اختیار کرو- اللہ تم کو علم عطا کرے گا جس سے تم اس کی رضامندی کی راہ پر چل سکو گے- تقویٰ ہی ہے کہ انسان بالکل خدا کا ہو جاوے- اس کا اٹھنا‘ بیٹھنا‘ چلنا‘ پھرنا‘ کھانا‘ پینا‘ ہر ایک حرکت و سکون خدا کے لئے ہو- جب وہ ہمہ تن اپنے وجود اور ارادوں کو خدا کے لئے بنا دے گا تو پھر خدا بھی اس کا بن جاوے گا- من کانللٰہ کان اللہ لہ
    یہ وقت قابل قدر ہے
    میں نے اوپر ذکر کیا تھا کہ چاندوں کے ذریعہ سے انسان کو وقت کی قدر معلوم ہوتی ہے اور یہ اس کی گذشتہ اور آئندہ عمر کا سبق دیتے ہیں- اسی طرح ہر ایک بات کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے- وہ جب ہاتھ سے نکل جاتا ہے تو پھر ہاتھ نہیں آیا کرتا- دیکھو کل شام تک ایک وقت تھا کہ اس دن میں تندرست اور مقیم کے لئے کھانا پینا حرام تھا- لیکن جب وہ وقت ختم ہو گیا تو اس کے احکام اور برکات بھی ختم ہو گئے- آج ایک وقت ہے کہ اس کا حکم کل سے بالکل متضاد ہے- اگر کل تندرست اور مقیم کے لئے کھانا پینا دن میں حرام تھا تو آج اس کے واسطے نہ کھانا حرام ہے‘ نہ پینا- ہماری آنکھ‘ کان‘ ناک‘ دست و پا سب کچھ وہی ہیں جو کل تھے- لیکن تقویٰ‘ اطاعت اور حکم برداری کے لحاظ سے کل اور آج میں کس قدر تفرقہ ہے- اسی طرح خدا نے حج‘ عید‘ نماز‘ کھانے پینے‘ سونے جاگنے وغیرہ کے وقت مقرر کئے ہیں اور جب وقت پر ایک کام حسب رضاء الٰہی بجا لایا جاتا ہے تو وہ فضل اور برکات کا موجب ہوتا ہے- کل روزہ رکھنے کا ثواب تھا اور آج عذاب ہے- اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت دراصل اطاعت کا نام ہے- اگر اس میں احکام الٰہی کی اطاعت نہ ہو تو وہی عبادت حرام اور قبیح ہو جاتی ہے- اس سے ایک سبق حاصل ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جیسے ہر ایک بات کے لئے ایک وقت ہوتا ہے ایسے ہی کامل متقی بننے کے لئے ایک وقت ہوتا ہے اور وہ وہ وقت ہوتا ہے جب خدا کی طرف سے کوئی اس کا خلیفہ دنیا میں آیا ہو- سو یہ بھی وہی وقت ہے- جب وقت ہاتھ سے نکل گیا تو پھر ہاتھ نہیں آتا- موت کا دروازہ تو کسی انسان کے لئے بند نہیں ہے- حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم سید الرسل‘ خاتم الانبیاء ہیں- جن لوگوں نے آپ کا زمانہ پایا وہ آپ پر ایمان لائے اور متقی بنے- لیکن آخر آپﷺ~ فوت ہوئے اور ہمیشہ کے لئے ان لوگوں میں نہ رہے- ہاں آپﷺ~ کے انفاس طیبہ دیر تک رہے اور رہیں گے اور یہ ہر ایک نبی اور مامور کے ساتھ خدا کا فضل ہوتا ہے کہ کسی کے انفاس طیبہ بہت دیر تک رہتے ہیں‘ کسی کے تھوڑی دیر تک- لیکن وہ بذات خود ان میں نہیں رہتے- دیکھو جس مسیح کو دو ہزار برس سے زندہ کہتے تھے آخر وہ بھی مردہ ثابت ہوا- اس کے پجاریوں نے اسے آسمان پر زندہ کہا مگر زمین نے مردہ ثابت کیا اور اس کے انفاس بھی مر گئے- تعلیم کا یہ حال ہوا کہ خدا کا بیٹا بنایا گیا- اسی لئے ہماری تعلیم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے نام کے ساتھ nsk] ga[t ’’عبدہ و رسولہ‘‘ کا لفظ ایزاد ہوا کہ کہیں سابقہ قوموں کی طرح گمراہ ہو کر متبوع کو خدا نہ بنا بیٹھیں اور جب خدا کی توحید کا بیان کریں تو ساتھ ہی ساتھ آپ کی عبودیت کا بھی ذکر کیا جاوے- اگر ایسی تعلیم عیسائیوں کے ہاتھ ہوتی تو وہ گمراہ نہ ہوتے-
    میں وقت کا ذکر کر رہا تھا- پس تم کو چاہئے کہ وقت کا خیال رکھو- یہ آج عید الفطر ہے- پھر جو زندہ رہے تو دوسرے سال اسے پاوے گا- امام کے ماننے کا بھی یہی وقت ہے جبکہ وہ زندہ موجود ہے- اگر اس وقت نہ مانا تو پھر پچھتائو گے-
    مومنوں پر تین وقت
    ہر ایک مامور کے ماننے والوں پر تین وقت ہوا کرتے ہیں اور صحابہؓ پر بھی وہ وقت تھے- ایک تو مکہ کا جبکہ آنحضرت کو ہر طرف سے دکھ دیا جاتا تھا- جان کے لالے پڑے ہوئے تھے اور اس وقت آپ کو بعض لوگوں نے مانا- دوسرا وہ جبکہ آنحضرتﷺ~ مدینہ میں پہلے آئے اور بعض لوگ آپﷺ~ پر ایمان لائے- تیسرا وہ وقت جبکہ صحابہؓ دنیا کے فاتح ہو رہے تھے اور ملک پر ملک آپ کے قبضہ میں آ رہا تھا- اب سوچ لو کہ ان تین وقتوں میں جن جن لوگوں نے مانا اور خرچ کیا‘ کیا وہ برابر ہو سکتے ہیں؟ فتح مکہ سے اول جن لوگوں نے خرچ کیا تھا ان کی نسبت خود آنحضرتﷺ~ نے فرمایا کہ اب جو لوگ احد کے پہاڑ کے برابر سونا خرچ کریں تو ان کی وہ قدر نہیں ہو سکتی جو فتح مکہ سے اول ایک جو کی مٹھی کی ہو سکتی ہے-
    خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے مقام اور ان کا وقت
    خالد بن ولید جیسے فاتح کے سامنے یہ فقرہ کہا تھا کہ تمہاری خدمات اور فتوحات ان لوگوں کے ہم پلہ ہرگز نہیں ہو سکتیں جو کہ فتح مکہ سے پیشتر ایمان لائے اور نہ ان کی ان کے سامنے کچھ قدر ہے- پس یاد رکھو کہ امام کے ماننے کا ایک وقت ہوتا ہے- اسے ہاتھ سے کھونا نادانی ہے اور اس کے ساتھ ہو کر خرچ کرنے میں بڑی برکات ہوتی ہیں اور اس خرچ کا یہی وقت ہے- اگر تم کرو گے تو خدا اس کا اجر اپنے ذمہ نہ رکھے گا- اس کے لئے خدا نے ہر ایک سلیم فطرت میں ایک نظیر رکھ دی ہے کہ جب کوئی کسی سے سلوک کرے یا نیکی کرے تو ایک سلیم الفطرت انسان کبھی گوارا نہیں کرتا کہ اسے بدلہ نہ دیا جاوے اور دل میں اس کی عظمت گھر نہ کرے- تو اب سوچ لو جس نے فطرت میں یہ بات رکھ دی ہے وہ آپ کیسے گوارا کرے گا کہ کسی کی نیکی کا بدلہ نہ دے- وہ بڑا غنی ہے- اس کی راہ میں اس کی رضامندی کے لئے جو کچھ خرچ کیا جاتا ہے وہ ضرور بدلہ دیتا ہے- لمبے لمبے وعظ و نصیحت میں کیا کروں- میں مجدد‘ ملہم‘ مامور یا مسیح نہیں ہوں- جو ہے اس نے کشتی نوح بنا کر تمہارے آگے رکھ دی ہے- وہ جدھر بلانا چاہتا ہے ادھر جانا تو درکنار ہمارا تو رخ بھی ابھی اس طرف نہیں- وہ کہتا ہے کہ مجھ کو بڑے بڑے خاردار جنگل جسمیں لوہے کے کانٹے ہیں اور دشوار گزار راہیں طے کرنی ہیں- نازک پائوں والے میرے ساتھ نہیں چل سکتے- پھر میں نے اسے یہ بھی کہتے سنا ہے کہ جس چشمہ سے میں تم کو پلانا چاہتا ہوں اس میں سے ابھی کسی نے پانی نہیں پیا- اور اس نے یہ بھی کہا ہے کہ بہت سی باتیں کہنے کے لائق ہیں مگر میں تم میں ان کی قبولیت اور برداشت کا مادہ نہیں پاتا اس لئے نہیں کہتا- پس اگر یہ سب باتیں تمہاے کام نہیں آتیں اور تم کو نفع نہیں بخشتیں تو میرا کورا بیان کیا فائدہ دے سکتا ہے؟ اس لئے تمہارے لئے ضروری ہے کہ اس وقت کی قدر کرو- اگر یہ ہاتھ سے نکل گیا تو پھر ہزاروں برس کے انتظار کے بعد بھی نہ ملے گا- خرچ کرنے کا اور نفس کے تزکیہ حاصل کرنے کا یہی وقت ہے- نفس کا تزکیہ امام کے ساتھ ہو کر مال خرچ کرنے سے بھی ہوا کرتا ہے- وہ اب موجود ہے اور اس سے پیوند ہونے کا موقع ہے- اگر یہ چلا گیا تو میرے جیسے واعظوں کا کیا ہے- ۱۳۰۰ برس سے وعظ ہوتے ہی آئے ہیں- دعا کرو اور وقت کا مطالعہ کرو اور خدا سے قوت طلب کرو کہ وہ ان باتوں کی توفیق عطا کرے-
    مثلاً خرچ کرنے کے یہاں بڑے موقعے ہیں- مہمان خانہ ہے- لنگرخانہ ہے- مدرسہ ہے- پھر بعض لوگ آتے ہیں لیکن وہ بے خرچ ہوتے ہیں- ان کو خرچ کی ضرورت پڑتی ہے- اور بعض دولتمند بھی آتے ہیں اور میں نے اکثر دفعہ لوگوں کو کہا ہے کہ وہ آ کر اپنا سامان وغیرہ میرے حوالہ کر کے رسید لے لیا کریں کہ گم نہ ہوا کرے- مگر وہ ایسا نہیں کرتے- اور ان کا سامان گم ہو جاتا ہے اور امداد کی ضرورت ان کو آ پڑتی ہے اور بعض ایسے ہیں کہ محض ابتغاء لوجہ اللہ یہاں رہتے ہیں- پھر دو اخبار بھی ہیں- اگرچہ ان کے مہتمم اپنے فرائض کو کماحقہ بجا نہیں لاتے مگر تاہم ان کا ہونا غنیمت ہے- خدا تعالیٰ فرماتا ہے فان لم یصبھا وابل فطل )البقرہ:۲۶۶-( text] gat[ تو ان سب اخراجات کو مدنظر رکھنا اور ان موقعوں پر خرچ کرنا چاہئے- جو اہم امور ہیں وہاں اہم اور جو اس سے کم ہیں وہاں کم- درجہ بدرجہ ہر ایک کا خیال رکھو-
    اس وقت اور خرچ کی یہ مثال ہے جیسے ایک کسان تھوڑے سے دانے بو کر اور کھیت کو خدا کے سپرد کر کے چلا آتا ہے اور اگرچہ ان میں سے کچھ ضائع ہوتے ہیں- پرندے کھاتے ہیں- لیکن پھر بھی منوں غلہ ان سے پیدا ہوتا ہے- مگر بے وقت بونے سے وہ پیداوار محال ہے جو وقت پربیج بونے سے حاصل ہو سکتی ہے-
    غرضیکہ ہرایک چاند کو غنیمت جانو اور اپنی بہتری‘ کنبہ کی بہتری‘ خلق اللہ کی بہتری کو ہر وقت مدنظر رکھو اور نیک سلوک سے سب سے پیش آئو- اس وقت جو مراتب تم کو مل سکتے ہیں پھر نہیں ملیں گے- اب ایک پیسہ سے جو کام نکلتا ہے وہ پھر ہزاروں کے خرچ سے نہ نکلے گا- خدا سے قوت مانگو کہ وہ نیکی کرنے کی اور بدی کو ترک کرنے کی توفیق دیوے- جس|قدر بچے یہاں بوڈنگ میں رہتے ہیں وہ سب ہمارے بچے ہیں- ان کے لئے دعا کرتا ہوں کہ وہ سچے علوم میں ترقی کریں اور نیک بنیں- آمین-
    ) بدر جلد۳ نمبر۱ ۔۔۔ یکم جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ۲ تا ۶ (
    ) الحکم جلد۸ نمبر۳ ۔۔۔ ۲۴ / جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۲ تا ۱۴(
    * ۔ * ۔ * ۔ *

    ۲۲ / جنوری ۱۹۰۴ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مسجد اقصیٰ قادیان

    خطبہ جمعہ
    اشھد ان لا الٰہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ و اشھد ان محمداً عبدہ و رسولہ- اما بعد- الٰھکم الٰہ واحد لا الٰہ الا ھو الرحمٰن الرحیم )البقرہ:۱۶۴(
    لا الٰہ الا اللہ یہ ایک چھوٹا سا فقرہ ہے جسے ہر ایک طبقہ کے مسلمان خواہ مرد ہوں خواہ عورت‘ بچہ ہو یا بوڑھا‘ بداطوار ہو یا نیک اطوار‘ اعلیٰ ہو یا ادنیٰ‘ غرض کہ سب جانتے ہیں اور میں نے دیکھا ہے کہ دو برس اورڈیڑھ برس کا بچہ بھی لا الٰہ الا اللہ جانتا ہے- اگر کسی سے سوال ہو کہ میاں تم مسلمان ہو؟ تو وہ جھٹ لا الٰہ الا اللہ پڑھ کر اپنے مسلمان ہونے کا ثبوت دے دیتا ہے- اب غور کرو اور سوچو کہ اس اقرار اور اس کے تکرار کرنے میں کیا سر ہے؟ کیا یہ ایک چھوٹی سی بات ہے جو کہ اہل اسلام کو بتلائی گئی تھی-
    نہیں‘ ہرگز نہیں- اس چھوٹے سے فقرے میں دو باتیں ہیں- اول حصہ میں تو انکار اور دوسرے میں اقرار ہے- اور ان چند ایک چھوٹے حرفوں میں اس قدر قوت اور زور ہے کہ اگر ایک شخص سو برس تک کافر رہے اور کفر کے کام بھی کرتا رہے لیکن اگر وہ اپنے آخر وقت میں لا الٰہ الا اللہ کہہ دے تو وہ کافروں سے الگ اور مسلمانوں میں شمار ہونے لگ جاتا ہے- نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی مخالفتیں اور جنگیں اور بڑی بڑی خونریزیاں اور جانفشانیاں انہی دو حرفوں پر تھیں- انہی حرفوں کے ذریعہ سے اجنبی لوگ دور دور سے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پیارے بن جایا کرتے تھے- کیا تمہارے خیال میں یہ کوئی منتر جنتر ہے؟ نہیں- یہ کوئی منتر جنتر نہیں ہے کہ بے معنے منہ سے کہہ دینے سے کوئی شعبدہ نظر آ جاتا ہے- جب یہ بات ہے تو کیا ہر ایک مسلمان کا فرض نہیں ہے کہ وہ کم از کم غور تو کر لے کہ یہ ہے کیا؟ کہ جس کے ذریعے سے سو برس کا شریر النفس دشمن معتبر دوست بن جاتا ہے اور سو برس کا دوست اس کے انکار سے دشمن بن جاتا ہے-
    پیدائش کے بعد کچھ خواہشیں ہوتی ہیں جو کہ انسان کو لگی ہوئی ہوتی ہیں- بھوک چاہتی ہے کہ غذا ملے اور شکم سیری ہو- پیاس چاہتی ہے کہ ٹھنڈا پانی ملے- آنکھ چاہتی ہے کہ کوئی خوش منظر شے سامنے موجود ہو- کان چاہتے ہیں کہ سریلی اور میٹھی آواز ان میں پہنچے- اسی طرح ہر ایک قوت الگ الگ اپنا تقاضا وقتاً فوقتاً کرتی ہے- لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ انسان بعض وقت ایسے کام بھی کرتا ہے جن کو اس کا جی نہیں پسند کرتا- بعض تو ان میں سے ایسے ہیں کہ قوم‘ اپنے بیگانے‘ برادری اور اہل محلہ اور شہر والوں کی مجبوری سے کرتا ہے اور بعض کام حاکموں کے ڈر سے کرنے پڑتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان میں کسی نہ کسی کی بات کے ماننے کا بھی مادہ موجود ہوتا ہے- انسان تو درکنار حیوانوں میں بھی ہم ایک اطاعت کا مادہ پاتے ہیں- بندروں کو دیکھو کہ کس طرح سے ایک شخص کی بات مانتے چلے جاتے ہیں اور اسی طرح سے سرکس میں کتے‘ گھوڑے‘ شیر‘ ہاتھی وغیرہ بھی اپنے مالک کا کہا مانتے ہیں- پس انسان کو حیوانوں سے متمیز ہونے کے لئے ان سے کہیں بڑھ چڑھ کر اپنے آقا اور مولا کی اطاعت کرنی چاہئے-
    اللہ تعالیٰ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس چھوٹے سے کلمہ میں اول تو ہر ایک کو اپنے بیگانے یار‘ دوست‘ خویش‘ ہمسائے اور نفس و خواہش کی فرماں برداری سے منع فرمایا ہے اور اس کلمہ کا اول حصہ لا الٰہ ہے- لیکن اگر کسی کا بھی کہا نہ مانا جاوے تو زندگی محال ہوتی ہے- انسان نہ کہیں اٹھ سکتا ہے‘ نہ بیٹھ سکتا ہے- نہ کسی سے مل جل سکتا ہے‘ نہ صلاح مشورہ لے سکتا ہے- نہ کوئی کسب وغیرہ کر سکتا ہے اور اپنی ضروریات مثل بھوک‘ پیاس‘ لباس اور معاشرت وغیرہ سب سے اسے محروم رہنا پڑتا ہے- اس لئے آگے الا اللہ کہہ کر ان سب باتوں کا گر بتلا دیا ہے کہ تم سب کچھ کرو لیکن اللہ کے فرماں|بردار بن کر کرو- پھر دیکھو کہ دنیا تمہاری بنتی ہے کہ نہیں- کھانا کھائو- کیوں؟ صرف اس لئے کہ خدا کا حکم کلوا ہے- پانی پیو- کیوں؟ صرف اسی لئے کہ اشربوا خدا کا حکم ہے- اپنی بیبیوں سے معاشرت کرو- کیوں؟ صرف اس لئے کہ عاشروھن کا حکم ہے- غرضیکہ اسی طرح سے اپنے بیگانے‘ ماں باپ اور حکام وقت کی اطاعت وغیرہ سب کاموں کو خدا کے حکم اور اطاعت کے موافق بجالائو- یہ معنے ہیں الا اللہ کے کہ میں حالت عسر اور یسر میں صرف خدا کا فرماں بردار ہوں-
    اب انسان کو غور کرنا چاہئے کہ صبح سے لے کر شام تک اور شام سے لے کر صبح تک جس قدر حرکت|و|سکون وہ کرتا ہے اگر وہ خدا کے حکم سے اور فرمان کے بموجب کرتا ہے تو وہ اس کلمہ میں سچا ہے ورنہ وہ اسے کہنے کا کیونکر مستحق ہے-
    میں یہاں کس لئے آیا ہوں- دیکھو بھیرہ میں میرا مکان پختہ ہے اور یہاں میں نے کچے
    مکان بنوا لئے اور ہر طرح کی آسائش مجھے یہاں سے زیادہ وہاں مل سکتی تھی- مگر میں نے دیکھا کہ میں بیمار ہوں اور بہت بیمار ہوں- محتاج ہوں اور بہت محتاج ہوں- لاچار ہوں اور بہت ہی لاچار ہوں- پس میں اپنے ان دکھوں کے دور ہونے کے لئے یہاں ہوں- اگر کوئی شخص قادیان اس لئے آتا ہے کہ وہ میرا نمونہ دیکھے یا یہاں آ کر یا کچھ عرصہ رہ کر یہاں کے لوگوں کی شکایتیں کرے تو یہ اس کی غلطی ہے اور اس کی نظر دھوکا کھاتی ہے کہ وہ بیماروں کو تندرست خیال کر کے ان کا امتحان لیتا ہے- یہاں کی دوستی اور تعلقات‘ یہاں کا آنا اور یہاں سے جانا اور یہاں کی بود و باش‘ سب کچھ لا الہ الا اللہ کے ماتحت ہونی چاہئے‘ ورنہ اگر روٹیوں اور چارپائیوں وغیرہ کے لئے آتے ہو تو بابا! تم میں سے اکثروں کے گھر میں یہاں سے اچھی روٹیاں وغیرہ موجود ہیں پھر یہاں آنے کی ضرورت کیا؟ تم اس اقرار کے قائل ٹھیک ٹھیک اسی وقت ہو سکتے ہو جب تمہارے سب کام خدا کے لئے ہوں- اگر کوئی تمہارا دشمن ہے تو اس سے خوف مت کرو- خدا تعالیٰ فرماتا ہے ان الذین اٰمنوا و عملوا الصالحات سیجعل لھم الرحمٰن وداً )مریم:۹۷( کہ ایمان|داروں اور نیک عمل کرنے والوں کے لئے ہم خود دوست مہیاکر دیں گے- بڑی ضروری بات یہ ہے کہ تمہارا ایمان لا الٰہ الا اللہ پر کامل ہو-
    مطالعہ کرو کہ ایک چھوٹے سے کلمے کی اطاعت کی جو ایک انگلی کے ناخن پر کھلا لکھا جا سکتا ہے کس قدر تاکید ہے- اس لئے اپنے ہر ایک کام اور عزت اور آبرو کے معاملہ میں اور سکھ اور دکھ میں جناب|الٰہی سے صلح کرو- خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ سوائے خدا کے سایہ کے اور کوئی سایہ نہ ہو گا- یہ واقعہ دنیا میں بھی پیش آتا ہے- بیٹھے بٹھائے انسان کے پیٹ میں سخت درد شروع ہو جاتی ہے اور انسان ماہی بے آب کی طرح لوٹنے لگ جاتا ہے- بیوی سے بڑھ کر غمگساری اور ماں سے بڑھ کر محبت میں اور کوئی نہیں ہوتا- لیکن دونوں میں سے ایک بھی اس کے دکھ کو دور نہیں کر سکتی جب تک خدا کا فضل نہ ہو۔ پس لا الٰہ الا اللہ کا مطالعہ کرو‘ اس پر کاربند ہو اور خدا کے سوا کسی اور کے فرمانبردار نہ بنو- اسی سے تم کو عزت آبرو اور دوست وغیرہ سب حاصل ہوں گے- تجربہ اور فہم کے لحاظ سے ہم جانتے ہیں کہ اس وقت خدا کا منشا ہے کہ لا الٰہ الا اللہ کا راج ہو- پس تم اس دعویٰ میں سچے بن کر دکھلائو-
    ) بدر جلد ۳ نمبر۵ ۔۔۔ یکم فروری ۱۹۰۴ء صفحہ ۴‘۵ (
    *۔۔۔*۔۔۔*۔۔۔*
    ‏ KH1.17
    خطبات|نور خطبات|نور
    ۲ / دسمبر ۱۹۰۴ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    خطبہ جمعہ
    یٰایھا المدثر- قم فانذر- و ربک فکبر )المدثر:۲تا۴( کی تلاوت کے بعد فرمایا-:
    میں نے یہ آیت اس لئے انتخاب کی ہے کہ تمہیں بتلائوں کہ کیا کرنا چاہئے اور اس کے لئے ہمیں کیسی تحریکیں اور تنبیہیں دی جاتی ہیں- پر ہم ایسے غافل ہیں کہ کانوں پر جوں نہیں رینگتی اور ہم کانوں سے غفلت کی روئی نہیں نکالتے-
    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو پہلی وحی کے بعد جو دوسری وحی ہوئی وہ یہی آیت ہے- یٰایھا المدثر قم- مرسل کو جب وحی ہوتی ہے تو اس پر خدا کے کلام اور اس کی ہیبت کا ایک لرزہ آتا ہے- کیونکہ مومن حقیقت میں خدا تعالیٰ کا ڈر اور خشیت اور خوف رکھتا ہے- جس طرح کوئی بادشاہ ایک بازار یا سڑک پر سے گزرتا ہے اس سڑک میں ایک زمیندار جاہل جو بادشاہ سے بالکل ناواقف ہے کھڑا ہے- دوسرا وہ شخص ہے جو زمیندار ہے‘ پر صرف اس قدر جانتا ہے کہ یہ کوئی بڑا آدمی ہے یا شاید حاکم وقت ہو گا- تیسرا وہ شخص کھڑا ہے کہ وہ منجملہ اہالیان ریاست ہے اور خوب جانتا ہے کہ یہ بادشاہ ہے اور ہمارا حاکم ہے- اور چوتھا وہ شخص کھڑا ہے جو بادشاہ کا درباری یا وزیر ہے- اس کے آداب و قواعد‘ آئین|وانتظام‘ رعب و داب‘ رنج اور خوشی کے سب قواعد کا واقف اور جاننے والا ہے- پس تم جان سکتے ہو کہ چاروں اشخاص پر بادشاہ کی سواری کا کیا اثر ہوا ہو گا- پہلے شخص نے تو شاید اس کی طرف دیکھا بھی نہ ہو- دوسرے نے کچھ توجہ اس کی طرف کی ہو گی اور تیسرے نے ضرور اس کو سلام بھی کیا ہو گا اور اس کا ادب بھی کیا ہو گا- پر چوتھے شخص پر اس کے رعب|وجلال کا اس|قدر اثر ہوا ہو گا کہ وہ کانپ گیا ہو گا کہ میرا بادشاہ آیا ہے- کوئی حرکت مجھ سے ایسی نہ ہو جاوے جس سے یہ ناراض ہو جاوے- غرض کہ اس پرازحد اثر ہوا ہو گا- پس یہی حال ہوتا ہے انبیاء اور مرسل علیہم السلام کا- کیونکہ خوف اور لرزہ معرفت پر ہوتا ہے- جس قدر معرفت زیادہ ہو گی اسی قدر اس کو خوف اور ڈر زیادہ ہو گا اور وہ معرفت اس کو خوف میں ڈالتی ہے اور اس لرزہ کے واسطے ان کو ظاہری سامان بھی کرنا پڑتا ہے- یعنی موٹے اور گرم کپڑے پہننے پڑتے ہیں جو لرزہ میں مدد دیں- جب وہ الہام کی حالت جاتی رہی تو ان کے اعضاء اور اندام بلکہ بال بال پر ایک خاص خوبصورتی آ جاتی ہے- پس اسی حالت میں بنی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ تعالیٰ مخاطب فرما کر کہتا ہے کہ اے کپڑا اوڑھنے والے اور لرزہ کے واسطے سامان اکٹھا کرنے والے! کھڑا ہو جا- اس سے معلوم ہوتا ہے کہ |سست| مومن اللہ تعالیٰ کو پیارا نہیں- نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو پہلا حکم یہی ملا- پس یہی وجہ ہے کہ آج تک مسلمان واعظ جب احکام الہی سنانے کے واسطے کھڑے ہوتے ہیں تو کھڑے ہو کر سناتے ہیں- یہ اسی قسم کی تعمیل ہوتی اور اس میں نبی کریم کی اتباع کی جاتی ہے- بعض لوگ غافل اور سست نہ تو سامان بہم پہنچاتے اور نہ ان سامان سے کام لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں فرصت نہیں- پر یہ ساری ضرورتیں جو ہم کو ہیں نبی کریمﷺ~ کو بھی تھیں- بیوی بچے‘ اہل و عیال وغیرہ وغیرہ- پر جب اس قسم کا حکم آیا فوراً کھڑے ہو گئے اس لئے کہ بادشاہ رب|العالمین‘ احکم|الحاکمین کا حکم تھا- پھر کام کیا سپرد ہوا- انذر-
    لوگ دو باتوں میں گرفتار تھے اور ہیں- وہ خدا کی عظمت کو چھوڑ بیٹھے تھے اور کھانے پینے‘ عیش|وآرام اور آسائش میں مصروف ہو گئے تھے- دوسرا باہمی محبت اخلاص‘ پیار نام کو نہیں رہا تھا- دوسروں کے اموال دھوکہ بازی سے کھا جاتے- مثلاً ہمارے پیشہ کی طرف ہی توجہ کرو- گندے سے گندے نسخے بڑی بڑی گراں قیمتوں سے فروخت کئے جاتے اور دھوکہ بازی سے لوگوں کا مال کھایا جاتا ہے- دوسروں کی عزت مال جان پر بڑے بے باک تھے-
    حدیث شریف میں آیا ہے کہ کسی نابینا کی لکڑی ہنسی سے اٹھا لینا کہ وہ حیران و سرگرداں ہو‘ سخت گناہ ہے- پر ہنسی ٹھٹھا پر کچھ پروا نہیں- بدنظری‘ بدی‘ بدکاری سے پرہیز نہیں- کوئی شخص نہیں چاہتا کہ میرا نوکر میرے کام میں سست ہو- پر جس کا یہ نوکر ہے کیا اس کے کام میں سستی نہیں کرتا؟ دوکاندار ہے- طبیب ہے وغیرہ وغیرہ- جب پیسہ دینے والے کے دل میں یہ ہے کہ مجھے ایسا مال اس قیمت کے بدلہ میں ملنا چاہئے‘ اگر اس کو اس نے نتیجہ تک نہیں پہنچایا تو ضرور حرام خوری کرتا ہے اور یہ سب باتیں اس وقت موجود نہیں-
    خدا کی پرستش میں ایسے سست تھے کہ حقیقی خدا کو چھوڑ کر پتھر‘ حیوانات وغیرہ مخلوقات کی پرستش شروع کی ہوئی تھی- اس قوم کی بت پرستی کی نظیریں اب موجود ہیں- ابھی ایک بی بی ہمارے گھر میں آئی تھی اور میرے پاس بیان کیا گیا کہ بہت نیک بخت اور خدارسیدہ ہے- میں نے اس سے پوچھا کہ کیا وظیفہ کرتی ہو؟ کہا مشکل کے وقت اپنے پیروں کو پکارتی ہوں- پس مجھے خیال ہوا کہ یہ پہلی سیڑھی پر ہی خطا پر ہے یعنی خدا کو چھوڑ کر شرک میں مبتلا ہے-
    پس رسول کریمﷺ~ کے زمانہ میں ایک طرف خدا کی بڑائی‘ دوسری طرف مخلوق سے شفقت چھوٹ گئی تھی اور خدا کی جگہ مخلوق کو خدا بنایا گیا تھا اور مخلوق کو سکھ پہنچانے کے بدلے لاکھوں تکالیف پہنچائی جاتی تھیں-
    اس لئے فرمایا- انذر ڈرانے کی خبر سنا دے- جب مرسل اور مامور آتے ہیں تو پہلے یہی حقوق ان کو سمجھائے جاتے ہیں- پس ایسے وقت میں امراض طاعون وغیرہ آتے ہیں- جنگ و قتال ہوتے ہیں- یہ ضرورت نہیں کہ اس مامور کی اطلاع پہلے دی جاوے یا ان لوگوں کو مامور کا علم ہو- کیونکہ لوگ تو پہلے خدا ہی کو چھوڑ بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں- پھر کھڑا ہو کر کیا کرو؟ و ربک فکبر خدا کی بزرگی بیان کر- اکبر سے آگے بڑائی کا کوئی لفظ نہیں اور اس کے معنی ہی یہی ہیں کہ ایک وقت آقا کہتا ہے کہ میرا فلاں کام کرو- دوسری طرف ایک شخص پکارتا ہے اللہ اکبر آئو نماز پڑھو- خدا سے بڑا آقا کوئی نہیں- ایک طرف بی|بی عید کا سامان مانگتی ہے- دوسری طرف خدا کہتا ہے کہ فضولی نہ کر- اب یہ کدھر جاتا ہے- نیک معاشرت‘ نیک سلوک‘ بی بی کی رضا جوئی اور خوش رکھنے کا حکم ہے اور مال جمع کرنے کی ضرورت ہے- دوسری طرف حکم ہے کہ ناجائز مال مت کھائو- ایک طرف عفت اور عصمت کا حکم ہے‘ دوسری طرف بی|بی موجود نہیں‘ ناصح کوئی نہیں اور نفس چاہتا ہے کہ عمدہ گوشت‘ گھی‘ انڈے‘ زعفرانی‘ متنجن‘ کباب کھانے کے واسطے ہوں- پھر رمضان میں اس سے بھی کچھ زیادہ ہوں- اب بی بی تو ہے نہیں- علم اور عمدہ خیالات نہیں- پس اگر خدا کے حکم کے خلاف کرتا ہے اور نفس کی خواہش کے مطابق عمدہ اغذیہ کھاتا ہے تو لواطت‘ جلق‘ زنا‘ بدنظری میں مبتلا ہو گا- اسی لئے تو اصفیا نے لکھا ہے کہ انسان ریاضت میں سادہ غذا کھاوے-
    اس لئے ہمارے امام علیہ السلام نے میاں نجم الدین کو ایک روز تاکیدی حکم دیا کہ لوگ جو مہمان|خانہ میں مجرد ہیں عام طور پر گوشت ان کو مت دو بلکہ دال بھی پتلی دو اور بعض نادان اس سر کو نہیں سمجھتے اور شور مچاتے ہیں- پس رسول کریمﷺ~ نے اللہ اکبر مکانوں اور چھتوں اور دیواروں اور منبروں پر چڑھ کر سنایا- پس شہوت اور غضب کے وقت بھی اس کو اکبر ہی سمجھو-
    ایک شخص کو کسی شخص نے کہا کہ تو جھوٹا ہے- وہ بہت سخت ناراض ہوا اور اس کی ناراضگی امام کے کان میں پہنچی- آپ ہنس پڑے اور فرمایا کاش کہ اس قدر غضب کو ترقی دینے کی بجائے اپنے کسی جھوٹ کو یاد کر کے اس کو کم کرتا- حرص آتی ہے اور اس کے واسطے روپیہ کی ضرورت ہوتی ہے اور ضرورت کے وقت حلال حرام کا ایک ہی چھرا چلا بیٹھتا ہے- ایسا نہیں چاہئے- ایک طرف عمدہ کھانا‘ دوسری طرف حکم کی خلاف ورزی‘ سستی کرنا اور یہ دونوں آپس میں نقیض ہیں- اس سے عجز اور کسل پیدا ہوتا ہے- پس ایسی جگہ میں شہوت پر عفت اور حرص پر قناعت اختیار کرے اور مالی اندیشے کر لیا کرے-
    مال کی تحصیل میرے نزدیک سہل اور آسان امر ہے- ہاں حاصل کر کے عمدہ موقع پر خرچ کرنا مشکل امر ہے- پس ایک طرف خدا شناسی ہو اور دوسری طرف مخلوق پر شفقت ہو-
    اللہ اکبر کا حصول - چار دفعہ تم اذان کے شروع میں ہر نماز سے پہلے سنتے ہو اور سترہ دفعہ امام تم کو نماز میں سناتا ہے- پھر حج میں‘ عید میں‘ رسول کریمﷺ~ نے کیسی حکم الٰہی کی تعمیل کی ہے کہ ہر وقت اس کا اعادہ کرایا- اور یہ اس لئے کہ انسان جب ایک مسئلہ کو عمدہ سمجھ لیتا ہے تو علم بڑھتا ہے اور علم سے خدا کے ساتھ محبت بڑھتی ہے- پھر اشھد ان لا الٰہ الا اللہ و اشھد ان محمداً رسول اللہ کہا جاتا ہے- جس کے معنے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ہی معبود ہے اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں- پھر جس طرح خدا نے حکم دیا اس طرح اس کی کبریائی بیان کر- جس طرح اس نے حکم دیا اسی طرح نماز پڑھ- اسی طرح اس سے دعائیں مانگ- پھر یہ طریق کس طرح سیکھنے چاہئیں- وہ ایک محمد ہے صلی اللہ علیہ و سلم اور وہ خدا کا بھیجا ہوا ہے‘ اس سے جا کر سیکھو- پھر جب ان احکام کی تعمیل میں تو مستعد ہو جاوے تو حی علی الصلوٰۃ- آ نماز پڑھ کہ وہ تجھے بدی سے روکے- پھر نماز کے معانی سیکھنا کوئی بڑی بات نہیں- کودن سے کودن آدمی ایک ہفتہ میں یاد کر لیتا ہے-
    ایک امیر میرا مربی تھا- اس کے دروازہ پر ایک پوربی شخص صبح کے وقت پہرہ دیا کرتا تھا- ایک دن جو وہ صبح کی نماز کو نکلے تو وہ خوش الحانی سے گا رہا تھا- کہا تم یہاں کیوں کھڑے ہو؟ جواب دیا کہ پہرہ دار ہوں- انہوں نے کہا- اچھا تمہارا پہرہ دن میں دو گھنٹہ کا ہوتا ہے‘ ہم تمہارا پہرہ پانچ وقت میں بدل دیتے ہیں- تم تھوڑی تھوڑی دیر کے واسطے آ جایا کرو اور نماز کے وقت میں پانچوں وقت اس کے وقت کو تقسیم کر دیا اور اس وقت جاتے جاتے اس کو بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے معنے سکھا دیئے کہ میری واپسی پر یاد رکھنا- چنانچہ جب وہ نماز صبح پڑھ کر واپس آئے تو اس نے یاد کر لئے تھے- آ کر اس کو رخصت دے دی- پھر الحمد شریف کے معنے بتا دیئے- غرض عشاء کی نماز تک الحمد اور قل کے معنے اس نے پورے یاد کر لئے- ایک دفعہ کچھ عرصہ کے بعد اس کا پہرہ پچھلی رات میرے مکان پر تھا- میں نے سنا کہ وہ بارھویں پارہ کو پڑھ رہا تھا- غرض دریافت پر کہا کہ تھوڑا تھوڑا کر کے بارہ پارہ بامعنے یاد کر لئے ہیں- پس قرآن کا پڑھنا بہت آسان ہے- نماز گناہ سے روکتی اور گناہ سے رکنے کا علاج ہے مگر سنوار کر پڑھنے سے- غافل سوتے ہوئے اٹھ کر نجات کے طالب بنو اور اذان کی آواز پر دوڑو- و ثیابک فطھر )المدثر:۵( ہاں بلانے والا پہلے اپنا دامن پاک کر لے پھر کسی کو بلاوے- جب اذان سن لے تو درود پڑھے کہ یااللہ! ہمارے نبی~صل۳~ نے کس جانفشانی اور محبت اور ہوشیاری سے خدا کی تکبیر سکھلائی اور ہم تک پہنچائی ہے‘ اس پر ہماری طرف سے کوئی خاص رحمت بھیج اور اس کو مقام محمود تک پہنچا- اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو توفیق دے-
    ) الحکم جلد۸ نمبر۴۳‘ ۴۴ ۔۔۔ ۱۷‘ ۲۴ / دسمبر ۱۹۰۴ء صفحہ۱۹(
    * ۔ * ۔ * ۔ *
    ۹ / دسمبر ۱۹۰۴ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خطبہ عید الفطر
    اللہ اکبر - اللہ اکبر- اللہ اکبر- اللہ اکبر- لا الٰہ الا اللہ و اللہ اکبر- اللہ اکبر و للٰہ الحمد-
    ربنا و ابعث فیھم رسولاً منھم یتلوا علیھم ایٰٰتک و یعلمھم الکتاب و الحکمۃ و یزکیھم انک انت العزیز الحکیم )البقرہ:۱۳۰( کی تلاوت کے بعد فرمایا-:
    یہ ایک دعا ہے جو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جناب رب العزت اور رب العالمین‘ اللہ جلشانہ کے حضور مانگی ہے- اس سے ظاہر ہے کہ اس دنیا میں اسلام کے آنے اور اس کے ثمرات کے ظہور کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضل نے حضرت ابراہیمؑ کے ذریعہ ایک دعا کی تقریب پیدا کر دی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تو ہمارا رب اور مربی اور محسن ہے- تیری عالمگیر ربوبیت سے جیسے جسم کے قویٰ کی پرورش ہوتی ہے‘ عمدہ اور اعلیٰ اخلاق سے انسان مزین ہوتا ہے‘ ویسے ہی ہماری روح کی بھی پرورش فرما اور اعتقادات کے اعلیٰ مدارج پر پہنچا- اے اللہ! اپنی ربوبیت کی شان سے ایک رسول ان میں بھیجیو جو کہ ’’منھم‘‘ یعنی انہی میں سے ہو اور اس کا کام یہ ہو کہ وہ صرف تیری )اپنی نہیں( باتیں پڑھے اور پڑھائے اور صرف یہی نہیں بلکہ ان کو سمجھا اور سکھلا بھی دے- پھر اس پر بس نہ کیجیو بلکہ ایسی طاقت‘ جذب اور کشش بھی اسے دیجیو جس سے لوگ اس تعلیم پر کاربند ہو کر مزکی اور مطہر بن جاویں- تیرے نام کی اس سے عزت ہوتی ہے کیونکہ تو عزیز ہے اور تیری باتیں حق اور حکمت سے بھری ہوئی ہوتی ہیں- اس دعا کی قبولیت کس طرح سے ہوئی وہ تم لوگ جانتے ہو- اور یہ صرف اس دعا ہی کے ثمرات ہیں جس سے ہم فائدے اٹھاتے ہیں-
    دعا ایک بڑی عظیم الشان طاقت والی شے ہے- علاوہ ابراہیم علیہ السلام کے جب دوسرے نبیوں کی کامیابیوں پر نظر ڈالتے ہیں تو ان کا باعث بھی صرف دعاہی کو پاتے ہیں- وہ دعا ہی تھی جس نے حضرت آدم کو کرب و بلا سے نجات دی- اور وہ دعا ہی تھی جس نے حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کو پار لگایا- قرآن شریف کے ابتداء میں بھی اھدنا الصراط المستقیم )الفاتحہ:۶( اور انتہا بھی دعا ہی پر ہے یعنی اعوذ برب الناس ]01 [p )الناس:۲-( جب ہم نبی کریم علیہ السلام کی زندگی پر نظر کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے چلنے پھرنے‘ اٹھنے بیٹھنے‘ کھانے پینے‘ نماز کے ادا کرنے‘ سودا سلف لانے‘ بات چیت کرنے‘ غرضیکہ ہر ایک کی ابتداء دعا ہی سے ہے- پس خوب یاد رکھو کہ مضطر کی تسکین کا باعث اور کمزور طبائع کی ڈھارس یہی دعا ہے- جب انسان کسی غرض کی تکمیل کے لئے ظاہری سامان مہیا کرتا ہے تو اسے یہ علم ہرگز نہیں ہوتا کہ اس سے ضرور وہ غرض حاصل ہو جاوے گی- کیونکہ سامان کے بہم پہنچ جانے کے بعد اور مخفی در مخفی ایسے اسباب اور واقعات کی ضرورت ہوتی ہے جن پر اس کا علم ہرگز محیط نہیں ہوتا‘ تو اس وقت صرف دعا ہی ایک ایسا ذریعہ ہوتا ہے جس سے وہ اپنی غرض مطلوبہ کے حاصل کرنے کے لئے امداد طلب کر سکتا ہے اور اسی سے وہ مخفی در مخفی اسباب میسر ہو جاتے ہیں جن سے اس غرض کی تکمیل ہوتی ہے-
    بعض کمزور طبائع جو کہ دعا کی اس خوبی سے ناوقف ہیں ان کو چاہئے اور لازم ہے کہ اسے ایک مجرب نسخہ مان کر استعمال کریں- کیونکہ یہ ہزارہا راستبازوں کا تجربہ کیا ہوا ہے- طبابت میں بھی عمدہ اور اعلیٰ نسخہ وہی ہوتا ہے جو کہ بہت سے بیماروں پر مفید ثابت ہوا ہو- اور اگرچہ ایک دو کو مضر بھی ہو لیکن فائدہ کی کثرت اس کے عمدہ ہونے پر کافی دلیل ہوتی ہے- یہی حال دعا کا ہے- ہر ایک کی طبیعت ایجاد نہیں کر سکتی- اس لئے عام اور کمزور طبائع کے لئے مجربات کا استعمال دانائوں نے بھی تجویز کیا ہے- اس لئے اس قسم کے لوگوں کو بھی پہلے فرضی طور پر اس کی خوبیوں کو مان کر اس پر عملدرآمد شروع کرنا چاہئے- جس|قدر بڑے بڑے علوم ریاضی‘ ہندسہ‘ جغرافیہ‘ علم الافلاک‘ صرف و نحو وغیرہ ہیں ان سب کی ابتداء اول فرض پر ہے- پھر اس پر ہی انسان ترقی کر کے بڑے بڑے عظیم الشان نتائج پر پہنچ جاتا ہے- ایک پولیس مین کے کہنے پر فرضی طور پر ایک گھر کی تلاشی لی جاتی ہے- اگرچہ صرف ظنی امر ہوتا ہے مگر بسااوقات مال بھی برآمد ہو جاتا ہے- پس مومن کو چاہئے کہ نبی کریم کی تعلیم سے اور سابقہ راستبازوں کے تجربہ کی بناء پر دعا کو ذریعہ بناوے اور اپنی کمزوری کی آگاہی کے لئے بھی دعا ہی کرے تو اسے معلوم ہو گا کہ دعا کیسی عجیب اور ضروری شے ہے- دعا کے ساتھ خدا تعالیٰ نے صبر کی بھی تعلیم دی ہے کیونکہ بعض وقت مصلحت الٰہی سے جب دعا کی قبولیت میں دیر ہوتی ہے تو انسان اللہ تعالیٰ پر سوء ظن کرنے لگتا ہے اور نفس دعا کی نسبت اسے شکوک اور شبہات پیدا ہو جاتے ہیں اس لئے استقلال اور جناب الٰہی پر حسن|ظن رکھے-
    جو آیت میں نے پڑھی ہے وہ ثمرہ دعا ابراہیمؑ ہے اور اس میں ظاہر فرمایا ہے کہ ایک رسول ہونا چاہئے جو کہ تیری آیات پڑھے اور پڑھائے اور لوگوں کو مزکی اور مطہر کرے- یہ تین باتیں ہیں جو کہ اس دعا کے ذریعہ چاہی گئی ہیں- اب ہم دیکھتے ہیں کہ اول دو باتیں تعلیم اور تعلم تو اب تک موجود ہیں- بچہ بچہ اور عورتیں اور مرد اور حفاظ قرآن کی تلاوت میں مصروف ہیں اور عالموں اور واعظوں کے ذریعہ سے لوگوں کو قرآن شریف کے اسرار و حقائق کا بھی کچھ نہ کچھ علم ہوتا ہے- اور دونوں سلسلوں نے اب تک جاری رہ کر اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا نے قبولیت کا شرف دوتہائی حصہ حاصل کر لیا ہے- لیکن کیسے افسوس کی بات ہو گی اگر ہم یہ مان لیں کہ اس دعا کی جزواعظم‘ دوسروں کو مزکی و مطہر بنانے کا کوئی سلسلہ نبی کریم کی طرف سے موجود نہ ہو- رسول کی بعثت کی علت غائی اور دعا کا مغز اور لب لباب تو یہی تھا- اور پھر اگر یہی نہیں رہا تو دعا کی قبولیت کیا ہوئی- خدا تعالیٰ کو چونکہ علم تھا کہ ایسے لوگ بھی ہوں گے جو کہ اس دعا کی قبولیت کی نفی کریں گے اس لئے اس نے اپنے پاک کلام میں وعدہ فرمایا- انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحافظون- )الحجر:۱۰( اور دوسری جگہ فرمایا وعد اللہ الذین اٰمنوا منکم و عملوا الصالحات لیستخلفنھم فی الارض کما استخلف الذین من قبلھم )النور:۵۶( یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے جانشین لوگوں کو مزکی اور مطہر بناتے رہیں گے- و لیمکنن لھم دینھم الذی ارتضیٰ لھم )النور:۵۶( جس دین کو اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے اس میں طاقت پیدا کر دیں گے اور ایسی مقدرت عطا کریں گے جس سے نفوس کا تزکیہ ہو- و لیبدلنھم من بعد خوفھم امناً )النور:۵۶( ان کو مشکلات بھی پیش آویں گے لیکن اللہ تعالیٰ ان کی پناہ ہو گا-
    مشکلات پیش آنے کا یہ باعث ہوا کرتا ہے کہ انسانی طبائع کسی کا محکوم ہونے میں مضائقہ کیا کرتے ہیں- چنانچہ خود خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہماری حکومت کو یہ لوگ طوعاً اور کرہاً مانتے ہیں- پس جب خدا کی حکومت کا یہ حال ہے تو پھر جب انبیاء علیہم السلام کی حکومت ہوتی ہے اس وقت لوگوں کو اور بھی اعتراضات سوجھتے ہیں اور کہتے ہیں- لو لانزل ھٰذا القراٰن علیٰ رجل من القریتین عظیم )الزخرف:۳۲( کہ وحی کا مستحق فلاں رئیس یا عالم تھا- اس سے ظاہر ہے کہ لوگ رسول کی بعثت کے لئے خود بھی کچھ صفات اور اسباب تجویز کرتے ہیں جس سے ارادہ الٰہی بالکل لگا نہیں کھاتا- علیٰ ہذا القیاس- جب رسول کے خلیفہ کی حکومت ہو‘ تب تو ان کو مضائقہ پر مضائقہ اور کراہت پر کراہت ہوتی ہے- اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا- ا ھم یقسمون رحمت ربک نحن قسمنا بینھم معیشتھم )الزخرف:۳۳( کہ کیا یہ لوگ الٰہی فضل کی خود تقسیم کرتے ہیں؟ حالانکہ دیکھتے ہیں کہ وجہ|معاش میں ہم نے ان کو خود مختار نہیں رکھا اور خود ہم نے اس کی تقسیم کی ہے- پس جب ان کو علم ہے کہ خدا کے ارادہ سے سب کچھ ہوتا ہے تو پھر انبیاء اور ان کے خلفاء کا انتخاب بھی اس کے ارادہ سے ہونا چاہئے-
    سورۃ حجرات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے- ان فیکم رسول اللہ لو یطیعکم فی کثیر من الامر لعنتم )الحجرات:۸( کہ تم میں محمدﷺ~ خدا کا رسول ہے- اگر تمہاری رائے پر چلے تو تمہیں مشکلوں اور دکھوں کا سامنا ہو- یہ خدا کا ہی انتخاب ہے جو کہ اپنا کام کئے جا رہا ہے- یہ اسی کا فعل ہے کہ امام بناوے‘ خلیفہ بناوے- تمہاری سمجھ وہاں کام نہیں آ سکتی- ’’رموز سلطنت خویش خسرواں دانند‘‘- اگر اللہ تعالیٰ ایک شخص کو ہمارے کہنے سے مامور کر دے اور اس کے اخلاق ردی ثابت ہوں‘ ظالم‘ خود غرض‘ کینہ|پرور نکل آوے تو دیکھو کس|قدر مشکل پڑے- اسی لئے لوگوں کو انجمنوں اور سماجوں میں اپنے منتخب کردہ پریذیڈنٹوں کو منسوخ کرنا پڑتا ہے یا وہ لوگ خود الگ ہو جاتے ہیں- انسان جب سے پیدا ہوا ہے اپنے جسم کو چیر پھاڑ رہا ہے اور زمین کا ایک ایک روڑا الٹ دیا ہے- صرف اس لئے کہ اس کے بچائو کا سامان نکل آوے مگر دیکھ لو کہ کچھ پیش نہیں گئی- فن جراحی میں کمال کر دیا- ہر ایک مرض کے جرم معلوم ہو گئے ہیں مگر پھر بھی بیماریاں ہیں- موت کا بازار گرم ہے- اس نے زمانہ سے ۳ لاکھ سال پیشتر تک کا پتہ دیا ہے کہ یہ تھا- لیکن کل کیا ہو گا یا چند منٹوں کے بعد کیا پیش آنے والا ہے؟ اس کا اسے علم نہیں- پھر کیسی نادانی ہے کہ اس قدر عظیم الشان کام کے انتخاب کو اپنے ذمہ لیتا ہے اور کہتا ہے کہ نبی اور مامور ہمارے کہنے سے ہو-
    پس سوچنے کا مقام ہے کہ جب تلاوت اور تعلیم کا سلسلہ اس دعا کے مطابق ختم نہیں ہوا تو پھر تزکیہ|نفس کا سلسلہ یعنی مامورین الٰہی کا وجود کیوں ختم ہو جاوے؟ اور جیسے رسولوں کی رسالت کسی کی رائے اور کہنے پر نہیں ہوتی تو خلافت کسی کے کہنے سے کیوں ہو؟ جو مامور اور مرسل آتے ہیں وہ خدا ہی کے انتخاب سے آتے ہیں- مخالفت صرف اس لئے ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی قدرت نمائی ہو اور وہ بتلاوے کہ یہ ہمارا انتخاب اور ہمارے ہاتھ کا پودا ہے- اسی لئے ان لوگوں کے بیرونی اور اندرونی دشمن پیدا ہو جاتے ہیں جن کو یہ لوگ بڑے زور سے چیلنج دیتے ہیں- اعملوا علیٰ مکانتکم انی عامل فسوف تعلمون من تکون لہ عاقبۃ الدار )الانعام:۱۳۶( کہ تم اپنی جگہ کوئی دقیقہ میری تباہی اور ناکامی کا ہرگز نہ چھوڑو اور کام کئے جائو اور میں بھی اپنا کام کر رہا ہوں- انجامکار خود پتہ لگ جاوے گا کہ مظفرومنصور کون ہے؟ علی اللہ توکلت فاجمعوا امرکم و شرکائکم ثم لایکن امرکم علیکم غمۃ ثم اقضوا الی و لاتنظرون )یونس:۷۲( کہ میرا بھروسہ خدا پر ہے- تم سب جمع ہو کر جو حیلہ چاہو کر لو اور ایسا کرو کہ تم کو اپنی کامیابی میں کوئی شک و شبہ نہ رہے اور کوئی مفر میرے لئے نہ رہنے دو- پھر دیکھ لو کہ تم ناکام اور میں بامراد ہوتا ہوں کہ نہیں- پس ایسے ایسے موقعوں پر خدا تعالیٰ اپنے مرسلوں کے دشمنوں کو بیدست و پا کر کے بتلاتا ہے کہ دیکھو میں اس کا محافظ ہوں کہ نہیں اور یہ ہمارا مرسل ہے کہ نہیں- غرضیکہ انبیاء کی بعثت میں ایک سر ہوتا ہے کہ ان کے ذریعہ سے الٰہی تصرف اور اقتدار کا پتہ لگتا ہے-
    بیعت کے معنے اپنے آپ کو بیچ دینے کے ہیں اور جب انسان کسی کو دوسرے کے ہاتھ پر بیچ دیتا ہے تو اس کا اپنا کچھ نہیں رہتا- صحابہ کرامؓ نے اپنے نفسوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھوں پر بیچ کر آپ کی اطاعت کو کہاں تک مدنظر رکھا ہوا تھا‘ اس کا حال دو حکایتوں سے معلوم ہوتا ہے جن کا ذکر میں کرتا ہوں- جمعہ کے روز خطبہ ہو رہا تھا اور لوگ کھڑے ہوئے تھے- آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ بیٹھ جائو- عبد اللہ ابن مسعودؓ ایک صحابی اس وقت مسجد کی گلی میں آ رہے تھے- آپ کو بھی یہ آواز پہنچ گئی اور جہاں تھے وہیں بیٹھ گئے- لوگوں نے وجہ پوچھی تو کہا کہ میں نے سمجھا کہ خدا معلوم مسجد جانے تک جان ہو گی یا نہ- یہ حکم سنا ہے- اسی وقت اس کی تعمیل کر لوں-
    دوسرا واقعہ ایک صحابی کعب نامی کا ہے جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا صحابی اور دولتمند آدمی تھا- آپﷺ~ نے جب غزوئہ تبوک کی تیاری کا حکم جماعت کو دیا تو ہر ایک شخص اپنی اپنی جگہ تیاری کرنے لگا اور کعب نے خیال کیا کہ چونکہ میں ایک امیر آدمی ہوں اس لئے جس وقت چاہوں گا ہر ایک سامان مہیا کروں گا- چونکہ بستی کوئی بڑی نہ تھی کہ افراط سے ہر ایک شے موجود ہوتی‘ اس لئے لوگ تو طیاری کرکے روانہ ہو گئے اور کعب پیچھے رہ گیا- جب وہ بازار میں گیا تو اسے کچھ بھی نہ ملا- اس کاہلی اور سستی کا اور کیا نتیجہ ہوتا- آخر کار شمولیت سے محروم رہا- جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم واپس تشریف لائے تو کعب ایک حدیث میں خود بیان کرتا ہے مجھے غم نے تنگ کیا اور میں جھوٹ بولنے کا ارادہ کرنے لگا اور سوچنے لگا کہ ایسی بات کہوں کہ آپﷺ~ کے غصہ سے بچ جائوں اور اپنی برادری کے ہر عقلمند سے اس میں اعانت کا طلبگار ہوا- جب خبر لگی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لے آئے اس وقت مجھ سے یہ کذب دور ہو گیا اور میں نے جان لیا کہ آپﷺ~ کے روبرو جھوٹ بولنے سے مجھے کبھی نجات نہ ہو گی- پس میں نے سچ بولنے کا پختہ ارادہ کر لیا- اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم علی الصباح مدینہ میں آ پہنچے- اور جب آپﷺ~ سفر سے تشریف لایا کرتے تھے تو اول مسجد میں نزول فرمایا کرتے تھے- آپ نے مسجد میں دو رکعت نماز پڑھی اور لوگوں کی ملاقات کے لئے وہاں ہی بیٹھ گئے- پس مختلف لوگ آتے اور سو گند کھا کھا کر اپنے تخلف کے عذر آپ کے سامنے بیان کرتے تھے اور یہ لوگ اسی آدمی سے کچھ زیادہ تھے- رسول|اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کا عذر قبول فرمایا اور ان سے بیعت لی اور ان کے لئے استغفار کیا اور ان کے باطن اللہ تعالیٰ کے سپرد فرمائے- جب میں خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے دیکھ کر غضبناک آدمی کی طرح تبسم فرمایا اور مجھے کہا آ گے آ- میں سلام کہہ کر آپﷺ~ کے آگے بیٹھ گیا- پھر آپﷺ~ نے مجھے فرمایا کہ تو کس سبب پیچھے رہ گیا- کیا تو نے سواری خرید نہیں کی تھی؟ میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم‘ مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ اگر آج میں آپ کے سوا کسی دنیادار آدمی کے روبرو ہوتا تو خدا تعالیٰ نے مجھے کلام میں ایسی فصاحت عطا کی ہے کہ آپ دیکھتے کہ میں عذر بیان کر کے اس کے غصہ سے صاف نکل جاتا- لیکن میں جانتا ہوں کہ اگر میں آج جھوٹ بول کر آپ کو خوش بھی کر لوں گا تو عنقریب خدا تعالیٰ آپ کو مجھ پر غضبناک کر دے گا- مگر خدا تعالیٰ سے مجھے عافیت کی امید ہے- خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ مجھے کوئی عذر نہ تھا اور میں تخلف کے وقت پہلے سے بھی قوی اور خوش گذران تھا- )میری عرض سن کر( آپ نے فرمایا- بیشک اس نے سچ کہا )اور مجھے فرمایا( اٹھ کھڑا ہو اور چلا جاتا کہ خداتعالیٰ تیرے حق میں فیصلہ کرے)میں اٹھ کھڑا ہوا( اور بنی سلمہ میں سے کچھ آدمی میرے پیچھے ہو لئے اور مجھے کہتے تھے- خدا تعالیٰ کی قسم ہے‘ ہم نہیں جانتے کہ تو نے اس سے پہلے کوئی گناہ کیا ہو- آج تو نے رسول|اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے روبرو ایسے ہی عذر کیوں نہ کئے جیسے دوسرے متخلفوں نے کئے تھے- تیرے گناہ کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا استغفار کافی تھا- مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ وہ لوگ ایسے میرے پیچھے ہوئے کہ ان کے کہنے سے میں نے بھی ارادہ کر لیا کہ لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں اپنی پہلی تقریر کی تکذیب کروں- پھر میں نے ان سے پوچھا کہ اس کام میں میرے ساتھ کوئی اور بھی ہے )یعنی کوئی اور بھی ایسا ہے جس نے میری جیسی تقریر کی ہو-( انہوں نے کہا ہاں دو آدمیوں نے تیری جیسی تقریر کی ہے اور ان کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسا ہی فرمایا ہے جیسا تجھے فرمایا ہے- میں نے کہا وہ دونوں کون کون ہیں؟ لوگوں نے کہا ایک مرارہ بن ربیعہ عامری اور دوسرا ہلال بن امیہ واقفی- وہ کہتا ہے کہ لوگوں نے ایسے دو آدمی صالح کا نام لیا کہجو بدر میں حاضر ہوئے تھے اور جن کا اقتدا کرنا چاہئے تھا- کہتا ہے جب انہوں نے میرے روبرو ان دونوں کا ذکر کیا تو میں چلا گیا اور لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہلی تقریر کی تکذیب کرنے نہ گیا- اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ متخلفین میں سے ان تین آدمی سے کوئی کلام نہ کرے- کہتا ہے کہ لوگ ہم سے اجتناب کر گئے یا کہا کہ لوگ ہم سے متغیر ہو گئے کہ وہ زمین بھی مجھے اوپری معلوم دینے لگی- گویا وہ زمین ہی نہ تھی جس کو میں پہچانتا تھا- پس ہم پچاس رات اسی حال میں مبتلا رہے- میرے ان دونوں یاروں نے عاجز ہو کر اپنے گھروں میں بیٹھ کر رونا شروع کیا- اور میں جوان دلیر تھا- بازاروں میں پھرتا تھا اور نماز میں حاضر ہوتا تھا- مگر مجھ سے کوئی کلام نہ کرتا تھا اور میں نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آن کر سلام کہتا اور دیکھتا کہ سلام کے جواب میں آپﷺ~ کے لب مبارک نے حرکت کی ہے کہ نہیں- پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے قریب کھڑا ہو کر نماز پڑھتا اور آنکھ چرا کر آپ کی طرف
    دیکھتا- جب میں نماز کی طرف متوجہ ہوتا تو آپ میری طرف نظر کرتے اور جب میں آپ کی طرف دیکھتا تو آپﷺ~ منہ پھیر لیتے- جب مسلمانوں کی کڑائی مجھ پر بہت ہو گئی تو ایک دن میں ابوقتادہ کے باغ کی دیوار پھاند کر جو میرا چچازاد بھائی تھا اور میری اس سے بہت محبت تھی باغ میں گیا- میں نے اس کو السلام علیکم کہا مگر اس نے سلام کا جواب نہ دیا- میں نے کہا- اے ابوقتادہ! میں تجھے اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ تجھے معلوم ہے کہ میں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت رکھتا ہوں- وہ خاموش رہا اور مجھے کچھ جواب نہ دیا- میں نے پھر اس کو قسم دے کر کہا- وہ خاموش ہی رہا اور مجھے کچھ جواب نہ دیا- میں نے پھر تیسری دفعہ جب قسم دے کر کہا تو اس نے اس|قدر کہا کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم خوب جانتے ہیں- یہ سنتے ہی میرے اشک جاری ہو گئے اور اسی طرح سے دیوار پر سے ہو کر وہاں سے نکل آیا- میں بازار میں چلا جاتا تھا کہ ایک آدمی شام کے لوگوں میں سے جو مدینہ میں غلہ فروخت کرنے کو آئے تھے کہتا پھرتا تھا کہ کوئی مجھے کعب بن مالک کا پتہ بتلاوے- لوگوں نے میری طرف اشارہ کر دیا- اس نے مجھے غسان کے حاکم کا خط دیا اور چونکہ میں لکھا پڑا تھا میں نے وہ خط پڑھا- اس میں لکھا تھا- امابعد! ہم کو خبر پہنچی ہے کہ تیرے صاحب نے تجھ پر ظلم کیا اور خدا تعالیٰ نے تجھے ذلیل و ضائع نہیں کیا- تو ہمارے پاس چلا آ‘ ہم تیری پرورش کریں گے- خط پڑھ کر میں نے دل میں خیال کیا کہ یہ بھی ایک بلا آئی- )کفار کو ہماری طرف طمع ہو گئی( میں نے اس خط کو تنور میں جلا دیا- جب اس حال کو چالیس روز ہو گئے تو ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا بھیجا ہوا آیا اور مجھے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے تجھے فرمایا ہے کہ تو اپنی عورت سے علیحدہ ہو جا- میں نے کہا کہ آپ نے طلاق دینے کو فرمایا ہے یا کیا؟ اس نے کہا طلاق کو نہیں فرمایا- مجامعت سے منع فرمایا ہے اور دوسرے دونوں میرے یاروں کو بھی یہی کہلا بھیجا ہے- میں نے اپنی عورت کو کہا کہ جب تک خداتعالیٰ کی طرف سے فیصلہ کا حکم نہیں آتا تو اپنے ماں باپ کے گھر چلی جا- اور ہلال بن امیہ کی عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہلال بن امیہ بوڑھا ناکارہ ہے- اس کا خادم کوئی نہیں- کیا آپ اس کی خدمت کرنے سے مجھے منع فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا نہیں‘ بلکہ وہ تجھ سے مقاربت نہ کرے- اس نے عرض کی کہ خدا تعالیٰ کی قسم ہے وہ اس کام کے لائق ہی نہیں- واللہ! وہ جس روز سے اس حال میں مبتلا ہوا ہے آج تک دن رات روتا ہی رہا ہے- بعضے لوگوں نے مجھے کہا کہ تو بھی اپنی عورت کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے اجازت طلب کر جیسے ہلال کی عورت نے آپ سے اس کی خدمت کرنے کا اذن لے لیا ہے- میں نے کہا اگر میں اس امر میں آپﷺ~ سے عرض کروں‘ معلوم نہیں آپ کیا جواب دیں اور میں جوان آدمی ہوں )یعنی عورت کے پاس ہوتے مجھے صبر کرنا مشکل ہے-( یہاں تک کہ دس رات اور گذر گئیں اور ہمارے اس حال کو پچاس راتیں ہو گئیں- پچاسویں رات کی صبح کو میں فجر کی نماز اپنے گھروں میں سے ایک گھر کی چھت پر پڑھ کر اسی حالت میں بیٹھا تھا جیسے خدا تعالیٰ نے قرآن میں ہماری خبر دی ہے اور میرا دم بسبب غم کے بند ہو رہا تھا اور زمین باوجود کشائش کے مجھ پر تنگ ہو رہی تھی کہ میں نے ایک آدمی کی آواز سنی کہ پہاڑ سلع پر باآواز بلند کہہ رہا تھا کہ اے کعب بن مالک! تجھے بشارت ہو- میں سنتا ہی سجدہ میں گر پڑا اور جان گیا کہ خداتعالیٰ کی طرف سے کشائش آئی- رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فجر کی نماز پڑھتے ہی لوگوں کو ہماری توبہ کے قبول ہونے کی خبر کر دی- لوگ ہم کو بشارت دینے شروع ہو گئے اور دونوں میرے یاروں کے پاس بھی بشارت دینے والے پہنچے اور ایک گھوڑا دوڑا کر میری طرف آیا اور ایک آدمی نے بنی اسلم میں پہاڑ پر چڑھ کر آواز کی- آواز گھوڑے کی سوار سے نیچے پہنچی جب وہ شخص جس کی آواز میں نے سنی تھی میرے پاس آیا تو میں نے اپنے دونوں کپڑے اتار کر بشارت کے عوض میں اس کو پہنا دیئے- مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ اس روز میرے پاس وہی کپڑے تھے جو دے دئیے اور میں نے دو کپڑے عاریتاً لے کر پہن لئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہونے کا ارادہ کر کے چلا- راستہ میں لوگ مجھے ملتے تھے اور توبہ کی قبولیت کی تہنیت دیتے تھے اور کہتے تھے کہ تجھے مبارک ہو کہ اللہ|تعالیٰ نے تیری توبہ قبول فرمائی حتیٰ کہ میں مسجد میں پہنچا- وہاں لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے گرد مجتمع تھے- طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ مجھے دیکھ کر کھڑا ہو گیا اور دوڑ کر مجھ سے مصافحہ کیا اور تہنیت دی- واللہ! مہاجرین میں سے اس سے سوا دوسرا میری خاطر کوئی کھڑا نہیں ہوا- کعب طلحہ کے اس کام کو ہمیشہ یاد کیا کرتا تھا- کعب کہتا ہے کہ جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو سلام کیا اس وقت آپ کا چہرئہ مبارک خوشی سے دمکتا تھا- آپﷺ~ نے فرمایا- تجھے بشارت ہو ایسے دن کی‘ جب سے تو ماں سے پیدا ہے‘ اس دن سے بہتر کوئی دن تجھ پر نہیں آیا- میں نے گذارش کی کہ بشارت آپ کی طرف سے ہے یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے؟ فرمایا‘ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے- اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا چہرئہ مبارک خوشی کے وقت ایسا روشن ہو جایا کرتا تھا کہ گویا چاند کا ٹکڑا ہے- اور ہم اس حالت کو خوب جانتے تھے- میں نے آپ کے سامنے بیٹھ کر گذارش کی کہ یا رسول اللہ! میری توبہ میں سے ہے کہ میں اپنا مال صدقہ کر دوں- رسول|اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کچھ مال اپنے لئے رکھ لے کہ یہ تیرے حق میں بہتر ہے- میں نے عرض کی کہ خیبر کی غنیمت میں سے جو مجھے حصہ ملا تھا وہ میں اپنے لئے رکھتا ہوں- میں نے پھر عرض کی- یارسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے میرے صدق کے سبب مجھے نجات دی ہے- یہ بھی میری توبہ میں سے ہے کہ آئندہ میں اپنی زندگی میں سچ کے سوا کوئی بات نہ کروں گا- مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ جس دن سے میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کی ہے اس دن سے کسی مسلمان پر اللہ تعالیٰ نے ایسا انعام نہیں کیا جیسا صدق کے باعث مجھے انعام کیا ہے اور اس دن سے آج تک کبھی جھوٹ نہیں کہا- اور امید ہے کہ خدا تعالیٰ آئندہ بھی مجھے جھوٹ سے محفوظ رکھے گا-
    اب دیکھو کہ فرمانبرداری اس کا نام ہے کہ جماعت سے ایک شخص الگ کیا جاتا ہے- بیوی کو بھی حکم دیا جاتا ہے کہ اس کے پاس نہ جاوے اور دشمن کی طرف سے دلداری اور امداد کا وعدہ ملتا ہے مگر سرمو فرق نہیں آتا- غرضیکہ فرمانبرداری میں اپنے آپ کو دیتے وقت یہ ضرور دیکھ لینا چاہئے کہ کسی شیطان کی بیعت تو نہیں کرتے- اس لئے کثرت سے استغفار اور لاحول کرنی چاہئے کہ کہیں سابقہ بدیاں اور غلطیاں ٹھوکر کا موجب نہ ہوں- یہ خدا ہی کا دست قدرت ہوتا ہے جو کہ ایک نبی کا قائمقام کسی کو بناتا ہے- ان پر مشکلات آتی ہیں مگر خدا بدلہ دیتا ہے- ان لوگوں میں تعظیم لامر اللہ اور شفقت علیٰ خلق اللہ دونوں کمالات ہوتے ہیں- خدا کی کاملہ صفات کے یہ لوگ گرویدہ ہوتے ہیں اور مخلوق کی بے ثباتی اور لاشے ہونا ان کو بتلاتا ہے کہ خدا کا شریک کوئی نہیں ہے- اگر مزکی ہونا انسان کی اپنی طاقت کا کام ہوتا تو عقلمند اور مادی علوم کے محقق اعلیٰ درجہ کے پارسا ہوتے- مگر اسی قسم کے لوگ گمراہ خبث ہو کر خدا سے دور چلے جاتے ہیں- اس لئے مزکی ہونے کے لئے ضرورت ہوتی ہے کہ خدا کی طرف سے کوئی آدمی جس میں کشش اور جذب کی طاقت ہو‘ آوے- اس قسم کے انسان آتے ہیں لیکن لوگوں کے اندر جو غلط|کاریاں ہوتی ہیں ان سے بعد ہو جاتا ہے- ان غلط کاریوں کی ایک بڑی اصل کبر ہے جس کا ذکر اللہ|تعالیٰ نے قرآن شریف کے اول تواریخی واقعہ میں کیا ہے ابیٰ و استکبر و کان من الکافرین )البقرہ:۳۵-( اس سے ظاہر ہے کہ اول انکار اور کبر ہی ایک ایسی شے ہے جو کہ فیضان الٰہی کو روک دیتی ہے- طاعون کے گذشتہ دورہ میں جو الہام حضرت اقدس کو ہوا تھا اس میں بھی ایک شرط لگی ہوئی تھی کہ انی احافظ کل من فی الدار الا الذین علوا باستکبار )تذکرہ-( کبر تزکیہ نفس کی ضد ہے اور دونوں چیزیں ایک جا جمع نہیں ہو سکتیں-
    دوسری بات جو کہ انسانی ترقی کی سدراہ ہوتی ہے وہ اس کا نفاق ہے کہ جب کوئی دکھ ہوتا ہے تو خدا سے لمبے چوڑے وعدے کرتا ہے کہ اگر یہ دکھ مجھ سے دور ہو جاوے تو میں فلاں فلاں کام کروں گا- تیری عبادت کروں گا- صدقہ دوں گا- دین کی خدمت کروں گا- وغیرہ وغیرہ- اور ایسے مواقع لوگوں کو بے|روزگاری‘ تنگی معاش‘ کمی تنخواہ‘ اپنی اور بال بچوں کی بیماری وغیرہ میں پیش آتے ہیں- لیکن جب مشکل کا پہاڑ ٹل جاتا ہے تو سب بھول جاتے ہیں- اس کا نتیجہ یہ کہ منافق ہو کر مرتے ہیں- اس کا ذکر اللہ|تعالیٰ فرماتا ہے- فاعقبھم نفاقاً )التوبہ:۷۷( ابائ‘ استکبار‘ بدعہدی یعنی نفاق‘ یہ تین باتیں ہوئیں- چوتھی جھوٹ کی عادت ہے جو کہ انسان کو فیض الٰہی سے محروم رکھتی ہے- پس چاہئے کہ ہمیشہ اپنا اندرونا ٹٹولتے رہو کہ ان عیبوں میں سے کوئی ہمارے اندر تو نہیں ہے- ایک طرف محرومی کے اسباب پر غور کرے- دوسری طرف توبہ و استغفار سے کام لے- ورنہ یاد رکھو کہ بڑے خطرہ کا مقام ہے- موسیٰ علیہ السلام کے ہمراہ ایک قوم نکلی تھی اور موسیٰؑ نے ان کو الٰہی ارادوں سے اطلاع بھی دے دی تھی کہ وہ تم پر انعام کرنا چاہتا ہے اور جتلا دیا تھا کہ اگر تم حکم نہ مانو گے تو خائب و خاسر ہو گے مگر قوم نے عذر تراشے- نتیجہ یہ ہوا کہ چالیس سال جنگل میں بھٹکتے رہے اور ترقی کی رفتار روک دی گئی- اس سے ظاہر ہے کہ بعض وقت لوگوں کے اعمال ایک مامور کو بھی مشکل میں ڈالتے ہیں- اس لئے تم لوگوں کو فکر چاہئے کہ ایک شخض مامور مرسل تم میں موجود ہے- تم نے اپنی برادری اور قوم اور خویش و اقارب کی پروا نہ کر کے اس کے ہاتھ پر خود کو فروخت کر دیا ہے- اگر تم میں وہی بلائیں اور ظلمتیں موجود ہیں جو کہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ والوں میں تھیں تو تم اس کے راستہ میں روک ڈالتے اور خود فیض سے محروم رہتے ہو- جو دنیا میں تو اسے قبول کر کے ناپسندیدہ بن گئے مگر اب خدا کے نزدیک نہ بنو-
    انسانی ترقی کا بڑا ذریعہ انسان کے ذاتی اخلاق ہوتے ہیں جن سے وہ واحد شخص خود اپنے نفس میں سکھ پاتا ہے اور امن اور آرام کی زندگی بسر کرتا ہے- مثلاً اگر وہ کسی کی نعمت دیکھ کر حسد نہیں کرتا تو اس سوزش اور جلن سے محفوظ رہتا ہے جو کہ حاسد کے دل کو ہوتی ہے- اگر کوئی دوسرے کو دیتا ہے تو یہ طمع نہیں کرتا تو اس عذاب سے بچا رہتا ہے جو کہ طمع کرنے سے ہوتا ہے- ایسے ہی جو لوگ اخلاق فاضلہ حاصل کرتے ہیں وہ جزع فزع‘ شہوت اور غضب کے تمام دکھوں اور آفتوں سے محفوظ رہتے ہیں- اور اس سے ظاہر ہے کہ ذاتی سکھ کے ذرائع اخلاق فاضلہ ہیں- یہ بھی فضل کی ایک قسم ہے جو کہ انسان کو حاصل ہوتا ہے لیکن اس سے وہ نتائج مرتب نہیں ہوتے جو اکٹھا ہونے سے ہوتے ہیں- یاد رکھو کہ الٰہی فضل کی بہت قسمیں ہیں- اکیلے پر وہ فضل نہیں ہوتا جو کہ دو کے ملنے پر ہوتا ہے- اس کی ایک مثال دنیا میں موجود ہے کہ اگر مرد اور عورت الگ الگ ہوں اور وہ اس فضل کو حاصل کرنا چاہیں جو کہ اولاد کے رنگ میں ہوتا ہے تو وہ حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ دونوں نہ ملیں اور ان تمام آداب کو بجا نہ لاویں جو کہ حصول اولاد کے لئے ضروری ہیں- اسی طرح ایک بھاری جماعت پر جو فضل الٰہی ہوتا ہے وہ چند آدمیوں کی جماعت پر نہیں ہو سکتا- ایک گھر کی آسودگی اور آرام کا فضل اگر کوئی حاصل کرنا چاہے تو جب ہی ہو گا کہ اسے مامائیں‘ خدمتگار اور سونے‘ کھانے‘ پینے‘ نہانے وغیرہ کے الگ الگ کمرہ اور ہر ایک کا الگ الگ اسباب ہونے کی مقدرت ہو- ایسے ہی اگر ترقی کرتے جائو تو بادشاہت اور سلطنت کے فضل کا اندازہ کر سکتے ہو- اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب تک تم لوگوں میں باوجود اختلاف کے ایک عام وحدت نہ ہو گی اور ہر ایک تم میں سے دوسرے کو فائدہ پہنچانے کی کوشش میں نہ لگا رہے گا تو تم خدا کے اس فضل عظیم کو حاصل نہ کر سکو گے جو ایک بھاری مجمع پر ہوتا ہے- و الف بین قلوبھم لو انفقت ما فی الارض جمیعاً ما الفت بین قلوبھم و لٰکن اللہ الف بینھم انہ عزیز حکیم )الانفال:۶۴( میں اسی کی طرف اشارہ ہے- وحدت کی روح کو جو کہ صحابہ کرام میں پھونکی گئی تھی اس کو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے تعبیر کیا ہے- اس وحدت کے پیدا ہونے کے لئے چاہئے کہ آپس میں صبر اور تحمل اور برداشت ہو- اگر یہ نہ ہو گا اور ذرا ذرا سی بات پر روٹھو گے تو اس کا نتیجہ آپس کی پھوٹ ہو گا- اسی وحدت کی بنیاد کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا- اطیعوا اللہ و رسولہ و لاتنازعوا فتفشلوا و تذھب ریحکم و اصبروا ان اللہ مع الصابرین )الانفال:۴۷( یعنی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو- اور ان کی اطاعت اسی حال میں کر سکو گے جبکہ تم میں تنازع نہ ہو- اگر تنازعات ہوں گے تو یاد رکھو کہ قوت کی بجائے تم میں بزدلی پیدا ہو گی- اور جو تمہاری ہوا بندھی ہوئی ہو گی وہ نکل جاوے گی- یہ بات تم کو صبر اور تحمل سے حاصل ہو سکتی ہے- ان کو اپنے اندر پیدا کرو- تب خدا کی معیت تمہارے شامل حال ہو کر وحدت کی روح پھونکے گی- پس اگر تم کوئی طاقت اپنے اندر پیدا کرنا چاہتے ہو اور مخلوق کو اپنے ماتحت رکھنا چاہتے ہو تو صبر اور تحمل سے کام لو اور تنازع مت کرو- اگر چشم پوشی سے باہم کام لیا جاوے تو بہت کم نوبت فساد کی آتی ہے- مجھے افسوس ہے کہ لوگ جسمانی بیماریوں کے لئے تو علاج اور دوا تلاش کرتے ہیں لیکن روح کی بیماری کا فکر کسی کو بھی نہیں ہے- اس وقت مسلمانوں کی حالت کی مثال ایک جنم کے اندھے کی سی ہے کہ اس سے اگر بینائی کی خوبی اور لذت دریافت کی جائے تو وہ اسے جانتا ہی نہیں ہے اور اسی لئے اس کے آگے بینائی کی قدر بھی نہیں کیونکہ اس نے اس لذت کو پایا نہیں- پس اس وقت کے موجودہ مسلمان بھی اس طاقت کی خوبی کو جو کہ قومی اتحاد اور وحدت سے پیدا ہوتی ہے نہیں پہچانتے- اس کی وجہ یہ ہے کہ سلطنت ان کے ہاتھ سے جا چکی ہے اور اسی لئے انہیں اس طرف توجہ بھی نہیں کہ دوسرے کو اپنے ماتحت کس طرح کیا کرتے ہیں- آج کل اگرچہ ریفارمیشن کے مدعی تو سینکڑوں ہیں لیکن وہ کیا ریفارمیشن کریں گے جبکہ خود ہی بغضوں اور کینوں میں گرفتار ہیں- دعویٰ تو ہے مگر سمجھ نہیں کہ یہ خدا کے مامور ہی کا کام ہے جو کر سکتا ہے-
    پس اے عزیزو اور دوستو! اپنی کمزوری کے رفع کے لئے کثرت سے استغفار اور لاحول پڑھو اور رب کے نام سے دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ تمہاری ربوبیت یعنی پرورش کرے- تم کو مظفر و منصور کرے تاکہ تم آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے نیک نمونہ بن سکو- یہ نہ ہو کہ خدا نخواستہ *** اختھا )الاعراف:۳۹( کے مصداق بنو )جب دوزخیوں کا ایک گروہ دوزخ میں داخل ہو گا تو جو اس میں اول موجود ہوں گے وہ ان پر *** کریں گے کہ ہم نے تو کچھ نہ کیا تم ہی کرتے تھے( جیسے آجکل کے رافضی ہیں- اس کا بچائو ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ سچی اتباع کرو- اپنے استنباط اور اپنے اجتہاد جس سے تم نفس کے دھوکہ میں آ جاتے ہو‘ دور کرو- آپس میں خوش معاملگی اور احسن سلوک برتو- رنج‘ بخل‘ حسد‘ کینہ سے بچو کہ خداتعالیٰ کے وعدے کے موافق جو کہ اس نے اپنے مرسل کی جماعت سے کیا ہے انا لننصر رسلنا و الذین اٰمنوا فی الحیٰوۃ الدنیا )المومن:۵۲( پورا ہو کر رہے- مطلق انسان کی کوشش سے کامیابیاں حاصل نہیں ہوا کرتیں- کیونکہ یہ سارے علل اسباب سے آگاہ نہیں ہو سکتا- دیکھو ایک سال کی جانکاہ محنت سے زمیندار خرمن جمع کرتا ہے مگر جسے اتفاق کہتے ہیں اس سے آگ لگ کر سارے کا سارا خاک ہو جاتا ہے- اگر اسے کامل علم ہوتا اور کامل اسباب حفاظت پردہ احاطہ کر سکتا تو کیوں یہ بربادی دیکھتا- یہی حالت انسان کے اعمال کی ہے- اگرچہ وہ بڑے بڑے اعمال کرتا ہے لیکن ایک مخفی گند اندر ہوتا ہے جس سے وہ تمام برباد ہو جاتے ہیں- اس کا علاج وہی ہے جو کہ ذکر کیا کہ دعا اور استغفار اور لاحول سے کام لو- پاک لوگوں کی صحبت میں رہو- اپنی اصلاح کی فکر میں مضطر کی طرح لگے رہو کہ مضطر ہونے پر خدا رحم کرتا ہے اور دعا کو قبول کرتا ہے- دوسرے کی تحقیر مت کرو کہ اس سے خدا بہت ناراض ہوتا ہے اور دوسرے کو حقیر جاننے والے لوگ نہیں مرتے جب تک کہ اس گند میں خود نہ مبتلا ہوں جس کی وجہ سے دوسرے کو حقیر جانتے ہیں-
    )اس تقریر کے بعد حضرت حکیم الامت بیٹھ گئے اور پھر کھڑے ہو کر فرمایا(
    آج عید کا دن ہے اور رمضان شریف کا مہینہ گزر گیا ہے- یہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ایام تھے جبکہ اس نے اس ماہ مبارک میں قرآن شریف کا نزول فرمایا اور عامہ اہل اسلام کے لئے اس ماہ میں ہدایت مقدر فرمائی- راتوں کو اٹھنا اور قرآن شریف کی تلاوت اور کثرت سے خیرات و صدقہ اس مہینہ کی برکات میں سے ہے- آج کے دن ہر ایک کو لازم ہے کہ سارے کنبہ کی طرف سے محتاج لوگوں کی خبرگیری کرے- دو بک گیہوں کے یا چار جو کے ہر ایک نفس کی طرف سے صدقہ نماز سے پیشتر ضرور ادا کیا جاوے اور جن کو خدا نے موقع دیا ہے وہ زیادہ دیویں- اس جگہ مختلف ضرورتیں ہیں کہ جن کے لئے لوگوں کے خیرات کے روپیہ کی ضرورت ہے- نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں اس قسم کا کل روپیہ ایک جگہ جمع ہوتا تھا اور پھر آپﷺ~ اسے مختلف مدوں میں تقسیم کر دیا کرتے تھے- ایک یہاں مدرسہ ہے اور اس وقت اسے بڑی ضرورت امداد کی ہے- مہمانوں کو بھی مشکلات پیش آتی ہیں- بعض وقت دیکھا گیا ہے کہ ان بیچاروں کا سفر خرچ کسی گناہ کے باعث یا کسی مصلحت الٰہی سے جاتا رہتا ہے- مثلاً کسی نے چرا لیا یا گر گیا وغیرہ- پھر غور کرو کہ مسافرت اور اجنبیت میں کس قدر تکلیف ہوتی ہے- ایسے ہی ایک گروہ مساکین کا رہتا ہے- تو ان سب کے لئے اخراجات کی ضرورت ہے-
    یہاں رہنے والے تین طرح کے لوگ ہیں- ایک تو وہ جو حصول ایمان کے لئے رہتے ہیںاور ان کو متواتر تجربہ سے علم ہو گیا ہے کہ ضرورت کے وقت اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے خبرگیری کرتا ہے- بعض لوگ ملازم ہیں اور ان کی معاش کی سبیل قائم ہے- اور ایک گروہ وہ ہے جو صرف محبت کی وجہ سے رہتا ہے مگر اپنی ضرورتوں کو رفع نہیں کر سکتا- پس میری رائے یہ ہے کہ تم میں سے ایک جماعت قائم ہو جو ان سب کی خبرگیری کیا کرے اور اس قسم کے صدقہ اور خیرات کے روپیوں کو مناسب مقام پر تقسیم کر دیا کرے- بعض طالب علم مدرسہ کے اور بعض ہمارے پاس بھی اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ان کے لئے خبرگیری کی ضرورت ہوتی ہے- پس اگر جماعت قائم ہو تو وہ اس کی بھی خبر لے سکتی ہے- انسانی ہمدردی اور باہمی تعاون کے بہت برکات اور افضال ہیں اور اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان پر وعدہ فرماتا ہے- اللہ فی عون العبد ما کان العبد فی عون اخیہ )احمد بن حنبل جلد۲ صفحہ۲۷۴-(
    میں چونکہ یہاں رہتاہوں اور پھر سارے دن باہر رہتا ہوں اس لئے مجھے ان ضرورتوں کا علم ہے اور میری نسبت دوسروں کو کم ہے- خدا ہی ان کا سرانجام دینے والا اور مجھے بھی وہی دیکھنے والا ہے- ایسے امور کے لئے آپ سعی کریں اور دوسرے بھائیوں تک بھی پہنچا دیویں- جیسے ہمارے سردار صلی اللہ علیہ و سلم کے حضور کوئی فوجی کمانڈر تھا- کوئی کاتب تھا- کوئی قرآن پڑھانے ولا تھا- کوئی اخوت کی بہتری کی فکر کرنے والا تھا- کوئی بادشاہوں کے پاس خطوط پہنچاتا تھا- کوئی نیک تحریکیں کرنے والا تھا- ایسے ہی اگر مختلف مدیں مختلف لوگوں کے سپرد ہوں اور ایک کمیٹی قائم ہو کر ان سب امور کی ترتیب کیا کرے تو امید ہے کہ بہت کچھ انتظام ہو جاوے- خدا تعالیٰ مجھے اور آپ کو عملدرآمد کی توفیق عطا فرماوے-
    اس کے بعد حکیم صاحب موصوف نے حضرت اقدس علیہ السلام سے درخواست کی کہ حضور دعا فرماویں کہ ہم سب کو نیکی اور عملدرآمد کی توفیق عطا ہو- خصوصاً مجھ کو کہ لوگوں کو تو سناتا ہوں‘ کہیں خود ہی اس پر عملدرآمد سے نہ رہ جائوں- حضرت اقدس علیہ السلام نے دعا فرمائی- ۲~}~
    ) الحکم جلد۹ نمبر۱ ۔۔۔ ۱۰ / جنوری ۱۹۰۵ء صفحہ۱۱-۱۲(
    و
    ) الحکم جلد۹ نمبر۲ ۔۔۔ ۱۷ / جنوری ۱۹۰۵ء صفحہ۹-۱۱(
    * ۔ * ۔ * ۔ *
    ‏KH1.18
    خطبات|نور خطبات|نور
    ۱۶ / فروری ۱۹۰۵ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مسجد اقصیٰ - قادیان

    خطبہ عید الاضحیٰ
    اشھد ان لا الٰہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ و اشھد ان محمداً عبدہ و رسولہ-
    و من یرغب عن ملۃ ابراھیم الا من سفہ نفسہ و لقد اصطفینٰہ فی الدنیا و انہ فی الاٰخرۃ لمن الصالحین- اذ قال لہ ربہ اسلم قال اسلمت لرب العٰلمین- و وصیٰ بھا ابراھیم بنیہ و یعقوب یٰبنی ان اللہ اصطفیٰ لکم الدین فلا تموتن الا و انتم مسلمون )البقرہ:۱۳۱ تا ۱۳۳(
    یہ ایک موقع ہے مسلمانوں کے اجتماع کا اور اس طرح کا موقع سال میں صرف دو دفعہ ہی آیا کرتا ہے- ایک تو یہی ہے اور دوسرا اس وقت ہوا کرتا ہے جب کہ لوگ رمضان شریف کے روزوں سے فارغ ہو کر ان انوار اور برکات سے متمتع ہو جاتے ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ نے اس مبارک ماہ میں رکھے ہیں- اس کا نام عید الفطر ہے- اس میں خوشی کا موقع یہ ہے کہ اس ماہ میں تقویٰ کے مراتب طے کر نے کا اور قرب الٰہی کے حاصل کرنے کا‘ پھر سحری کے وقت بذریعہ نوافل اور دعائوں کے خدا کے فضل کو طلب کرنے کا موقع ملتا ہے- اس لئے اس خوشی میں لوگ صدقہ فطر کے ذریعہ غریب لوگوں کو خوش کیا کرتے ہیں-
    اللہ تعالیٰ نے اصل اسلام کے اجتماع کے مختلف اوقات مقرر کیے ہیں جن میں وہ باہمی ملاپ سے خداتعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کر سکتے ہیں اور ایک محلہ کی مسجد میں اس محلہ کے آدمی پانچ وقت جمع ہوتے ہیں- پھر ہر ہفتہ میں جمعہ کے روز شہر کے آدمی مل کر شہر کی کسی بڑی مسجد میں اس قومی اجتماع کو قائم کرتے ہیں- پھر یہ عیدین کے ایام ہیں کہ جن میں علاوہ شہر کے باہر کے آدمی بھی آجاتے ہیں جیسے کہ اس وقت بھی بعض دوست مختلف مقامات سے یہاں آئے ہوئے ہیں- چونکہ آج کی تقریب کو حضرت ابراہیم علیہ|السلام کے فعل سے ایک خاص مناسبت ہے اس لئے میں نے ان آیات کو پڑھا ہے جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر ہے- حضرت ابراہیمؑ ایک ایسا انسان گذرا ہے کہ جس نے خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلقات ہونے کی وجہ سے اپنی قوم اور قریبی اور بعیدی رشتہ داری کے تعلقات کی پرواہ نہ کی تھی اور اپنے ’’اب‘‘ یعنی چچا سے بھی باوجود اس کے کہ ان کے تعلقات اس سے بہت تھے مباحثہ کیا تاکہ بدرسوم کا استیصال ہو- اس مقام پر ’’اب‘‘ کے معنوں میں محققین کا اختلاف ہے لیکن میرے نزدیک اس کے معنے اس جگہ حقیقی باپ کے ہر گز نہیں ہیں-
    ایسا ہی ابراہیم علیہ السلام نے بادشاہ وقت سے بھی مقابلہ کیا اور یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کی عظمت کے قائم کرنے کے لئے کیا گیا تھا- اس مباحثہ میں احیاء اور اماتت کی بھی ایک بحث تھی جہاں ابراہیم علیہ|السلام کا قول ربی الذی یحی و یمیت )البقرۃ:۲۵۹( درج ہے اور جو کہ توحید باری تعالیٰ کے متعلق ایک عجیب فقرہ ہے جس کو ہمارے زمانہ سے بڑا تعلق ہے- کیونکہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی مردے زندہ کئے تھے تو پھر ابراہیم علیہ السلام کا یہ استدلال کوئی قابل|وقعت شے نہیں ہو سکتا اور ان کا یہ کام اور کلام سب خاک میں مل جاتا ہے- ہاں ایک معنے کی رو سے انبیاء بھی احیاء کرتے ہیں مگر چونکہ خدا تعالیٰ لیس کمثلہ شی| )الشوریٰ:۱۲( ہے اس لئے اس کا احیاء بھی لیس کمثلہ شی| ہی ہوگا اور انبیاء کا احیاء اس سے کوئی لگا نہ کھائے گا- یہ بالکل سچ ہے کہ احیاء موتیٰ صرف ’’رب‘‘ کا ہی کام ہے اور وہ بھی کسی اور عالم میں- انبیاء کے احیاء کے یہ معنے ہیں کہ بعض شریر لوگ جو کہ ان کی پاکیزہ مجالس میں آئے رہتے ہیں اور ان میں سے بعض اپنی کسی فطری سعادت کی وجہ سے جو کہ ان کے نطفہ میں آئی ہوتی ہے ہدایت پا جاتے ہیں ان کی کفر اور فسق کی حالت کا نام موت ہوتا ہے اور ہدایت پا جانے کو احیاء سے تعبیر کرتے ہیں-
    حضرت ابراہیمؑ کے عملدرآمد اور ان کی تعلیم کا خلاصہ قرآن شریف نے ان آیات میں بیان فرمایا ہے کہ جیسا اس کے رب نے اسے کہا اسلم کہ تو فرمانبردار ہو جا تو ابراہیمؑ نے کوئی سوال کسی قسم کا نہیں کیا اور نہ کوئی کیفیت دریافت کی کہ میں کس امر میں فرمانبرداری اختیار کروں؟ بلکہ ہر ایک امر کے لئے خواہ وہ کسی رنگ میں دیا جاوے اپنی گردن کو آگے رکھ دیا اور جواب میں کہا اسلمت لرب العالمین )البقرۃ:۱۳۲( کہ میں تو رب العالمین کا تابعدار ہو چکا- ابراہیم علیہ السلام کی یہی فرمانبرداری اپنے رب کے لئے تھی جس نے اسے خدا کی نظروں میں برگزیدہ بنا دیا- وہ لوگ جو ابراہیمؑ کا دین یعنی ہر طرح اپنے آپ کو خدا کے سپرد کرنا اختیار نہیں کرتے‘ غلطی کرتے ہیں اور اس لئے اللہ تعالیٰ ان کو سفیہ قرار دیتا ہے- خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اسے دنیا میں بھی برگزیدہ کیا- پس وہ لوگ جو کہ دنیا میں ترقی کرنا چاہتے ہیں وہ غور کریں کہ خدا کی فرمانبرداری سے وہ ابراہیمی مراتب حاصل کر سکتے ہیں- ہر ایک قسم کی عزت ابراہیم علیہ السلام کو حاصل ہے اور یہ سب کچھ اسلمت کا نتیجہ ہے-
    و وصیٰ بھا ابراھیم بنیہ )البقرۃ:۱۳۳( ابراہیم علیہ السلام نے اولاد کو بھی یہی سکھایا کہ جب تک خدا تعالیٰ حکم دے تب تک ہی تم اس کی اطاعت کرتے رہو- وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے کلام کے منکر ہیں اور ان کا یہ خیال ہے کہ جو کچھ خدا تعالیٰ نے کرنا تھا کر چکا اس مقام پر سوچیں کہ اگر یہ سلسلہ بند ہو چکا تھا اور ابراہیم علیہ السلام کے بعد اور کوئی احکام ضرورت زمانہ کے لحاظ سے نازل نہ ہونے تھے تو پھر اسلم کی آواز کی اطاعت کے لئے کیوں ابراہیمؑ نے اولاد کو تاکید کی- پھر صرف ابراہیم ہی نہیں بلکہ اس کا پوتا حضرت یعقوب علیہ السلام بھی اپنی اولاد کو یہی حکم دیتا ہے فلاتموتن الا و انتم مسلمون )البقرۃ:۱۳۳( کہ اے میری اولاد! تمہارے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ دین )ابراہیمی( پسند فرمایا ہے کہ تم ہر وقت خدا کی فرمانبرداری میں رہو حتیٰ کہ تمہاری موت بھی اس فرمانبرداری میں ہو- یہ فرمانبرداری جو کہ ہر ایک کامیابی اور ترقی کا چشمہ ہے انسان اس سے کس طرح محروم رہ جاتا ہے؟ اس کا باعث قرآن شریف میں تواریخی واقعات پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے- پہلا نافرمان جس کی تاریخ ہمیں معلوم ہے ابلیس ہے- وہ کیوں نافرمان بن گیا؟ اس کی خبر بھی قرآن شریف نے بتلائی ہے کہ اس نے اباء اور استکبار کیا یعنی اس میں انکار اور تکبر تھا جس کی وجہ سے وہ اسلم کی تعمیل نہ کر سکا- اس وقت بھی بہت لوگ ہیں کہ اس اباء اور استکبار کی وجہ سے اسلم کی تعمیل سے محروم ہیں- کسی کو عقل پر تکبر ہے‘ کسی کو علم پر‘ کسی کو اپنے بزرگوں پر جو کہ ان کے نقصان کا باعث ہو رہا ہے اور جب کبھی خدا کے مامور آتے رہے ہیں یہی اباء اور استکبار ان کی محرومی کا ذریعہ ہوتے رہے ہیں- انسان جب ایک دفعہ منہ سے ’’نہ‘‘ کر بیٹھتا ہے تو پھر اسے دوبارہ ماننا مشکل ہو جاتا ہے اور لوگوں سے شرم کی وجہ سے وہ اپنی ہٹ پر قائم رہنا پسند کرتا ہے- اس کا نتیجہ پھر کھلم کھلا انکار اور آخرکار و کان من الکافرین )البقرۃ:۳۵( کا مصداق بننا پڑتا ہے-
    چونکہ مامورین الٰہی کا سلسلہ تو برابر انسانوں اور زمانہ کی ضرورتوں کے موافق ہے اور اپنی قدیم سنت کے لحاظ سے خدا نے نبی اور رسول معبوث کرنے تھے اس لئے قرآن شریف کے اول رکوع میں ہی تعلیم دی ہے کہ انسان کو انکار کا پہلو حتی الوسع اختیار ہی نہ کرنا چاہئے- قرآن شریف کے اول رکوع میں ہی اس کا ذکر ہے- ان الذین کفروا سواء علیھم ا انذرتھم ام لم تنذرھم لا یومنون )البقرۃ:۷-(چونکہ وہ لوگ اول انکار کر چکے تھے اس لئے سخن پروری کے خیال نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلسوں میں بیٹھنے اور آپ کی باتوں پر غور کرنے نہ دیا اور انہوں نے آپ کے انذار اور عدم انذار کو برابر جانا- اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ لا یومنون یعنی ہمیشہ کے لئے ایمان جیسی راحت اور سروربخش نعمت سے محروم ہو گئے- یہ ایک خطرناک مرض ہے کہ بعض لوگ مامورین کے انذار اور عدم انذار کی پروا نہیں کرتے- ان کو اپنے علم پر ناز اور تکبر ہوتا ہے اور کہتے ہیں کہ کتاب الٰہی ہمارے پاس بھی موجود ہے- ہم کو بھی نیکی بدی کا علم ہے- یہ کونسی نئی بات بتانے آیا ہے کہ ہم اس پر ایمان لاویں- ان کمبختوں کو یہ خیال نہیں آتا کہ یہود کے پاس بھی تو تورات موجود تھی- اس پر وہ عمل درآمد بھی رکھتے تھے- پھر ان میں بڑے بڑے عالم‘ زاہد اور عابد موجود تھے پھر وہ کیوں مردود ہو گئے؟ اس کا باعث یہی تھا کہ تکبر کرتے تھے- اپنے علم پر نازاں تھے اور وہ اطاعت جو کہ خدا تعالیٰ اسلم کے لفظ سے چاہتا ہے ان میں نہتھی- ابراہیم کی طرزاطاعت ترک کر دی- یہی بات تھی کہ جس نے ان کو مسیح علیہ السلام اور اس رحمہ|للعالمین نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ماننے سے جس سے توحید کا چشمہ جاری ہے ماننے سے باز رکھا-۱~}~
    یہودیوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت اور وحی پر ایمان لانے سے جو چیز مانع ہوئی وہ یہی تکبر علم تھا- فرحوا بما عندھم من العلم- )المومن:۸۴( انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ ہمارے پاس ہدایت کا کافی ذریعہ ہے- صحف انبیاء اور صحف ابراہیمؑ و موسیٰؑ ہمارے پاس ہیں- ہم خدا تعالیٰ کی قوم کہلاتے ہیں- نحن ابناء اللہ و احباوہ )المائدۃ:۱۹( کہہ کر انکار کر دیا کہ ہم عربی آدمی کی کیا پروا کر سکتے ہیں- اس تکبر اور خودپسندی نے انہیں محروم کر دیا اور وہ اس رحمہ~ن۲~ للعالمین کے ماننے سے انکار کر بیٹھے جس سے حقیقی توحید کا مصفی اور شیریں چشمہ جاری ہوا-
    غرض محرومی کا سب سے پہلا اور بڑا ذریعہ اباء )انکار( ہے اور پھر تکبر ہے- آہ! اس سے بڑھ کر کسی شخص کی بدنصیبی اور کیا ہو گی کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے ایک ہادی‘ معلم اور مزکی کو معزز بنا کر بھیجتا ہے اور یہ اس کا ساتھ نہیں دے سکتا اور ان فیضانوں اور برکات سے جو اس کی معیت اور صحبت سے ملنے والے تھے محروم رہ جاتا ہے- فرمانبرداری‘ ہاں خدا کی فرمانبرداری ایسی راحت بخش اور زندہ جاوید بنانے والی دولت ہے جس نے آج تک اور ابدالآباد تک ابراہیم کو زندہ رکھا- آج ابراہیم علیہ الصلوۃ و السلام کی یادگار تم ہر ایک گھر میں دیکھ سکتے ہو- ایک غریب سے غریب آدمی بھی قربانی کا گوشت کھاتا ہے جو اس کی یادگار کو تازہ رکھتا ہے- یہ قربانی بتاتی ہے کہ ابراہیمؑنے اپنی جان اور مال تک سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں دریغ نہیں کیا- پس جب تک انسان ابراہیمی رنگ اختیار نہیں کرتا‘ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے عزیز مال اور جان تک کو‘ جو دراصل اس کا بھی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ ہی کا ہے‘ نثار کر دینے کے لئے شرح صدر سے تیار نہیں ہو جاتا‘ اس وقت تک وہ ان برکات اور فیضانوں کو پا نہیں سکتا جو ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ملے-
    خدا تعالیٰ کے مامورین و مرسلین کا انکار سلب ایمان کا موجب ہوتا ہے- یہ انکار بہت ہی خطرناک چیز ہے اس لئے ہمیشہ اس سے بچو- اپنی عقل‘ اپنی تدبیر اور رائے‘ اپنے علم و تجربہ کو خدا کے راستباز کے سامنے ہیچ سمجھ لو اور بالکل خالی ہو جائو- تب وہ تم میں راستبازی اور حقیقی علوم کی روح نفخ کرے گا-
    یہ اباء مخفی رنگ میں انسان کے اندر ہوتا ہے- کبھی زبان سے اقرار کرتا ہے لیکن دل اس کے ساتھ متفق نہیں ہوتا جس کا نتیجہ نفاق ہوتا ہے اور یہ نفاق آخرکار کفر تک بھی لے جاتا ہے- اس لئے دل اور زبان کو ایک کرنے کے لئے کوشش کرو اور خدا تعالیٰ سے توفیق اور فضل چاہو- بعض لوگوں کے لئے ان کا مال و دولت‘ خدمت گزاری اور نیکی کا خیال بھی اس امر سے روک دیتا اور ان کے لئے سد راہ ہو جاتا ہے- وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں اس کی کیا ضرورت ہے؟ اگر ضرورت نہ تھی تو خدا تعالیٰ نے اس کو نازل کیوں فرمایا؟ وہ اس پر نہیں‘ خدا تعالیٰ کے فعل و فضل پر ہنسی کرتے اور اس کے پر حکمت فعل کو لغو ٹھہراتے ہیں )معاذ اللہ-( اس لئے ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ وہ نفس اور شیطان کے اس دھوکا سے ہمیشہ بچیں- اپنی کسی بات پر تکبر نہ ہو- کیونکہ وہی تکبر پھر کسی اور رنگ و صورت میں انکار کا باعث ہو جاوے گا- یہ بہر حال زہر ہے- اس سے مطمئن ہو رہنا عقلمندی نہیں ہے-
    بعض نادان‘ ناحق|شناس‘ مامور اور مرسلوں کے آنے پر یہ کہہ اٹھتے ہیں کہ لن نومن حتیٰ نوتیٰ مثل ما اوتی رسل اللہ )الانعام:۱۲۵( یعنی اس وقت تک ہم ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہم کو بھی وہی فیض اور فضل نہ دیا جاوے جو رسولوں کو دیا گیا ہے- یہ بھی محرومی کا بڑا بھاری ذریعہ ہے- جو لوگ ایمان کو مشروط کرتے ہیں وہ محروم رہ جاتے ہیں- اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی پروا نہیں کرتا- ہاں خدا تعالیٰ کسی کو خالی نہیں چھوڑتا- جو اس کی راہ میں صدق و ثبات سے قدم رکھتا ہے وہ بھی اس قسم کے انعامات سے بہرہ وافر لے لیتا ہے- جیسے فرمایا nsk] gat[ ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا تتنزل علیھم الملٰئکۃ )حم السجدۃ:۳۱( جن لوگوں نے اپنے قول و فعل سے بتایا کہ ہمارا رب اللہ تعالیٰ ہے‘ پھر انہوں نے اس پر استقامت دکھائی ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں- اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نزول ملائکہ سے پہلے دو باتیں ضروری ہیں- ربنا اللہ کا اقرار اور اس پر صدق و ثبات اور اظہار استقامت-
    ایک نادان سنت اللہ سے ناواقف ان مراحل کو تو طے نہیں کرتا اور امید رکھتا ہے اس مقام پر پہنچنے کی جو ان کے بعد واقع ہے- یہ کیسی غلطی اور نادانی ہے- اس قسم کے شیطانی وسوسوں سے بھی الگ رہنا چاہئے- خدا تعالیٰ کی راہ میں استقامت اور عجز کے ساتھ قدم اٹھائو- قویٰ سے کام لو- اس کی مدد طلب کرو- پھر یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ تم بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے وارث ہو جائو اور حقیقی رئویا اور الہام سے حصہ پائو-
    اللہ تعالیٰ کے ہاں تو کسی بات کی کمی نہیں و ان من شی الا عندنا خزائنہ و ما ننزلہ الا بقدر معلوم )الحجر:۲۲-( پھر سوال ہوتا ہے کہ اس قسم کے شیطانی اوہام اوروسوسوں سے بچنے کا کیا طریق ہے؟ سو اس کا طریق یہی ہے کہ کثرت کے ساتھ استغفار پڑھو- استغفار سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ طوطے کی طرح ایک لفظ رٹتے رہو- بلکہ اصل غرض یہ ہے کہ استغفار کے مفہوم اور مطلب کو ملحوظ رکھ کر خدا تعالیٰ سے مدد چاہو اور وہ یہ ہے کہ جو انسانی کمزوریاں صادر ہو چکی ہیں اللہ تعالیٰ ان کے بدنتائج سے محفوظ رکھے اور آئندہ کے لئے ان کمزوریوں کو دور کرے اور ان جوشوں کو جو ہلاک کرنے والے ہوتے ہیں دبائے رکھے‘ پھر لاحول پڑھے‘ پھر دعائوں سے کام لے اور جہاں تک ممکن ہو راستبازوں کی صحبت میں رہے- اگر اس نسخہ پر عمل کرو گے تو میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یقین رکھتا ہوں کہ وہ تمہیں محروم نہ کرے گا-
    پھر محرومی کا ایک اور سبب بھی ہوتا ہے- وہ یہ ہے کہ بعض اوقات انسان مشکلات اور مصائب کے وقت اللہ تعالیٰ سے کوئی وعدہ کر لیتا ہے کہ یااللہ! اگر میرا فلاں کام ہو جاوے اور فلاں دکھ سے مجھے رہائی اور نجات ہو تو میں یہ فرمانبرداری کا کام کروں گا- اللہ تعالیٰ اسے ان مشکلات سے نجات دیتا ہے لیکن وہ اپنے وعدوں کو بھول جاتا ہے- اس کا نتیجہ پھر خطرناک ہوتا اور اسے محروم کر دیتا ہے- میرے نزدیک اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرنے کے برابر ہی وہ معاہدہ ہے جو انسان اپنے امام و مرشد کے ہاتھ پر کرتا ہے- جیسا کہ ہم نے کیا ہے کہ ’’دین کو دنیا پر مقدم کروں گا‘‘- کہنے کو یہ ایک چھوٹا سا فقرہ ہے لیکن اس کے معانی پر غور کرو کہ کس قدر وسیع ہیں- حی علی الصلٰوۃکی آواز آتی ہے اور یہ سنتا ہے لیکن دیکھتا ہے کہ بہت سے ضروری کام کرنے کو ہیں اور ان سے اگر ذرا سی بھی لاپروائی کی تو حرج ہو گا- اس لئے فرض تنہاہی میں ادا کر لوں گا- یہ خیالات دل میں ایک طرف ہیں- دوسری طرف حی کا لفظ بتاتا ہے کہ جلدی کرو اور ادھر یہ معاہدہ کیا ہوا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا- اب اگر اللہ تعالیٰ کی عبادت مقدم کرتا اور حی علی الصلٰوۃ کی آواز پر مسجد کو چلتا ہے تو بیشک اس معاہدہ کو پورا کرنے والا ٹھہرتا ہے لیکن اگر تساہل کرتا ہے تو اس معاہدہ کو توڑتا ہے-
    اسی طرح دنیا کے ہر کاروبار میں اس قسم کے امتحان اور مشکلات پیش آتے ہیں- ایک طرف بیوی بچوں کے لئے خرچ کی ضرورت ہے- ادھر قرآن کریم میں پڑھتا ہے لاتسرفوا )الاعراف:۳۲( اور ان المبذرین کانوا اخوان الشیاطین )بنی اسرائیل:۲۸( اور ایک طرف دین مال و عزت اور جان خرچ کرانی چاہتا ہے- اس وقت اپنے اندرونہ کا معائنہ کرے اور اپنے فعل سے دکھائے کہ کیا دین کو مقدم کرتا ہے یا دنیا کو-
    غرض ہر حکم الٰہی میں اس کو سوچنا پڑتا ہے کہ دین کو مقدم کرتا ہوں یا دنیا کو- کسی تقریر اور چالاکی سے کام لے رہا ہوں یا سچے اخلاص سے- اپنے ہر قول اور فعل کی پڑتال کرے کہ کیا واقعی خدا تعالیٰ کے لئے ہے یا دنیوی اغراض اور مقاصد پیش نظر ہیں- پس اپنے اس بڑے عظیم الشان معاہدہ کو اپنے پیش نظر رکھو- یہ معاہدہ تم نے معمولی انسان کے ہاتھ پر نہیں کیا- خدا تعالیٰ کے مرسل مسیح و مہدی کے ہاتھ پر کیا ہے- اور میں تو یقین سے کہتا ہوں کہ خدا کے مرسل ہی نہیں خدا کے ہاتھ پرکیا ہے کیونکہ ید اللہ فوق ایدیھم )الفتح:۱۱( آیا ہے-
    دیکھو اور اپنے حالات خود مطالعہ کرو کہ کیا جس قدر تڑپ‘ کوشش اور اضطراب دنیوی اور ان ادنیٰ ضروریات کے لئے دل میں ہے کم از کم اتناہی جوش دینی ضروریات کے لئے بھی ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو پھر دین کو دنیا پر تقدم تو کہاں‘ برابری بھی نصیب نہ ہوئی- ایسی صورت میں وہ معاہدہ جو امام کے ہاتھ پر نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ پر کیا ہے کہاں پورا کیا- میں نے خود تجربہ کیا ہے- ہزاروں خطوط میرے پاس آتے ہیں جن میں ظاہری بیماریوں کے ہاتھ سے نالاں لوگوں نے جو جو اضطراب ظاہر کیا ہے میں اسے دیکھتا ہوں لیکن مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ وہ ظاہری بیماریوں کے لئے تو اس قدر گھبراہٹ ظاہر کرتے ہیں مگر باطنی اور اندرونی بیماریوں کے لئے انہیں کوئی تڑپ نہیں-
    باطنی بیماریاں کیا ہوتی ہیں؟ یہی بدظنی‘ منصوبہ بازی‘ تکبر‘ دوسرے کی تحقیر‘ غیبت اور اس قسم کی بدذاتیاں اور شرارتیں‘ شرک‘ ماموروں کا انکار وغیرہ- ان امراض کا وہ کچھ بھی فکر نہیں کرتے اور معالج کی تلاش انہیں نہیں ہوتی- میں جب ان بیماریوں کے خطوط پڑھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ کیوں یہ اپنے روحانی امراض کا فکر نہیں کرتے-۲~}~
    نفس کو کبھی توکل اور صبر کے مسائل پیش کر دیتا ہے لیکن جب ظاہری بیماریاں آ کر غلبہ کرتی ہیں تو پھر سب کچھ بھول جاتا ہے اور تردد کرتا ہے- لیکن جب روحانی بیماریوں کا ذکر ہو تو توکل کا نام لے دیتا ہے- یہ کیسی غلطی اور فروگذاشت ہے- ان دونوں نظاموں کو مختلف پیمانوں اور نظروں سے دیکھتا ہے- یعنی باطنی اور روحانی امور میں تو کہہ دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے اور ظاہری امور میں اس کا نام شدید|البطش رکھا ہے- یہ نادانی اور غلطی ہے- خدا تعالیٰ دونوں امور میں اپنی صفات کی یکساں جلوہ نمائی کرتا ہے- پس جو لوگ امور دنیا میں تو سرتوڑ کوششیں کرتے ہیں اور اسی کو اپنی زندگی کا اصل مقصد اور منشائ|اعظم سمجھتے ہیں اور دین کو بالکل چھوڑتے ہیں وہ غلطی کرتے ہیں- خدا تعالیٰ کی عظمت اور اس کی صفات پر غور نہیں کرتے- اسلم کے معنے تو یہ تھے کہ فرمانبردار ہو جا اور فرمانبردار ہی رہو- پھر وجہ کیا ہے کہ مامور کے ہاتھ پر جو خدا کا ہاتھ کہلاتا ہے یہ وعدہ کر کے کہ ’’دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا‘‘ اس وعدہ کا کچھ بھی پاس نہ ہو- ہمارے امام علیہ الصلوٰۃ و السلام کس قدر چھوٹے لفظ سے کام لیتے ہیں اور وہ کس قدر وسیع ہے- یہ زمانہ الفاظ کا ہے- چنانچہ بڑی بڑی لمبی تقریریں لوگ کرتے ہیں لیکن جب ان کے معانی اور مطالب پر نظر کرو تو بہت ہی چھوٹے اور تھوڑے- لیکن برخلاف اس کے ہمارے امام علیہ الصلٰوۃ و السلام نے بہت ہی مختصر الفاظ اختیار کئے مگر ان کا مفہوم اور منشاء بہت ہی وسیع اور محیط ہے-
    مثلاً الفاظ بیعت میں سے ایک یہ جملہ بھی ہے ’’جہاں تک میری طاقت اور سمجھ ہے گناہوں سے بچتا رہوں گا‘‘- بظاہر یہ ایک موٹی اور چھوٹی سی بات ہے لیکن غور کرو اس کا مفہوم کس قدر وسیع ہے- ایسا اقرار کرنے والے کو یہ الفاظ کیسا محتاط بناتے ہیں کہ وہ اپنے ہر قول و فعل میں‘ ہر حرکت و سکون میں اس امر کو مدنظر رکھے کہ کیا میرا یہ قول و فعل‘ یہ حرکت و سکون اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کی خلاف ورزی تو نہیں ہے اور گناہ کے کسی شعبہ میں تو داخل نہیں؟ جب انسان ان امور پر نظر کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کی اطاعت اور رضا جوئی اپنا مقصد بنا لیتا ہے تو خدا تعالیٰ خود اس کی مدد فرماتا ہے اور اس کی مشکلات کو آسان کر دیتا ہے- یقیناً یاد رکھو فرمانبرداری بڑی دولت ہے- یہی دولت ابراھیم علیہ السلام کو ملی جس نے اس کو اسقدر معظم و مکرم بنا دیا- خدا تعالیٰ کے ہر قسم کے فیض اور فیضان اسی فرمانبرداری پر نازل ہوتے ہیں مگر تھوڑے ہیں جو اس راز کو سمجھتے ہیں-
    اس وقت خدا تعالیٰ پھر ایک قوم کو معزز بنانا چاہتا ہے اور اس پر اپنا فضل کرنا چاہتا ہے لیکن اس کے لئے بھی وہی شرط اور امتحان ہے جو ابراہیم علیہ السلام کے لئے تھا- وہ کیا؟ سچی اطاعت اور پوری فرمانبرداری- اس کو اپنا شعار بنائو اور خدا تعالیٰ کی رضا کو اپنی رضا پر مقدم کر لو- دین کو دنیا پر اپنے عمل اور چلن سے مقدم کر کے دکھائو- پھر خدا تعالیٰ کی نصرتیں تمہارے ساتھ ہوں گی- اس کے فضلوں کے وارث تم بنو گے-
    یاد رکھو خدا تعالیٰ کے فضل سے انسان کے محروم ہونے کی ایک یہ بھی وجہ ہوتی ہے کہ وہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ سے کچھ وعدے کرتا ہے لیکن جب ان وعدوں کے ایفاء کا وقت آتا ہے تو ایفاء نہیں کرتا- ایسا شخص منافق مرتا ہے- چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے فاعقبھم نفاقاً فی قلوبھم الیٰ یوم یلقونہ بما اخلفوا اللہ ما وعدوہ )التوبہ:۷۷-( اس سے ہمیشہ بچتے رہو- انسان مشکلات اور مصائب میں مبتلا ہوتا ہے- اس وقت وہ اللہ تعالیٰ ہی کو اپنا ملجا و ماویٰ تصور کرتا ہے اور فی الحقیقت وہی حقیقی پناہ ہے- اس وقت وہ اس سے وعدے کرتا ہے- پس تم پر مشکلات آئیں گی اور آتی ہیں- تم بہت وعدے خدا تعالیٰ سے نہ کرو اور کرو تو ایفاء کرو- ایسا نہ ہو کہ ایفاء نہ کرنے کا وبال تم پر آئے اور خاتمہ نفاق پر ہو )خدا ہم کو محفوظ رکھے- آمین(
    اور ہم کو بہت بڑا خطرہ ہے کیونکہ ہم سب ایک عظیم الشان وعدہ کر چکے ہیں کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے اور جہاں تک طاقت اور سمجھ ہے گناہوں سے بچتے رہیں گے- اس وعدہ کو ایفاء کرنے کی پوری کوشش کرو اور پھر خدا تعالیٰ ہی سے توفیق اور مدد چاہو- کیونکہ وہ مانگنے والوں کو ضائع نہیں کرتا بلکہ ان کی دعائیں سنتا ہے اور قبول کرتا ہے-
    پھر ایک اور عیب بتایا ہے جو منافق میں ہوتا ہے‘ وہ جھوٹ بولنا ہے- عام جھوٹ بولنا وہ بھی ہے جو ایک حدیث میں ہے کفیٰ بالمرء کذباً ان یحدث بکل ماسمع )صحیح مسلم- باب النھی عن الحدیث بکل ما سمع( یعنی یہ بھی جھوٹ ہی ہے کہ انسان جو کچھ سنے بلا سوچے سمجھے اسے بیان کر دے-
    آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے پاک ارشاد میں بڑی بڑی برائیوں سے روکنے کا نسخہ بتایا گیا ہے- خود داری سکھائی ہے اور سخن سازی سے بچایا ہے- یہ عام قاعدہ ہو رہا ہے کہ دو تین آدمی جب مل کر بیٹھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ آئو ذرا مجلس گرم کریں- وہ مجلس گرم کرنا کیا ہوتا ہے؟ کسی کی تحقیر شروع کر دی- کسی کے لباس پر‘ کسی کی زبان پر‘ کسی کے قد و قامت پر‘ کسی کے علم و عقل پر‘ غرض مختلف پہلوئوں پر نکتہ چینی اور ہنسی اڑانا شروع کیا اور بڑھتے بڑھتے یہ ناپاک اور بے ہودہ کلام مذمت‘ غیبت اور دروغ گوئی تک جا پہنچا- پس تمہیں مناسب ہے کہ ایسی مجلسوں کو ترک کر دو جہاں سے تم بغیر *** کے اور کچھ لے کر نہ اٹھو- خدا تعالیٰ نے اسی لئے فرمایا ہے- کونوا مع الصادقین )التوبہ:۱۱۹( صادقوں کے ساتھ رہو- کیونکہ وہاں تو بجز صدق کے اور کوئی بات ہی نہ ہو گی- ایسی تمام مجلسوں سے الگ ہو جائو جہاں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا ذکر نہیں ہے-
    اور یہ بھی یاد رکھو کہ سوء ظن بہت بری چیز ہے- اس سے بہت بڑی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں- غیبت اور دروغ گوئی یہ اسی سوء ظن سے پیدا ہوتی ہیں- اس واسطے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے منع فرمایا- ایاک و الظن فان الظن اکذب الحدیث )بخاری- کتاب الوصایا( سوء ظن سے انسان بہت جھوٹا ہو جاتا ہے اور ظنون بجائے خود بھی جھوٹے ہوتے ہیں- میں نے دیکھا ہے کہ اس جھوٹ اور بدظنی سے بڑی ٹھوکریں لگتی ہیں اور انسان ہلاک ہو جاتا ہے- اس سے بچو! پھر بچو!! اور پھر بچو!!! اس معاملہ میں عورتوں اور مردوں میں ایک تفاوت ہے اور ان کے مراتب مختلف ہیں- عام طور پر عورتیں ناقصات العقل والدین کہلاتی ہیں- ایک عظیم|الشان عورت کے متعلق خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ذکر کیا ہے‘ میں کھول کر بتادوں- حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے متعلق بعض نے سوئ|ظنی کی- اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کی تطہیر فرمائی اور ان بدظنی کرنے والوں کے لئے حکم آیا- لو لا اذ سمعتموہ )النور:۱۷( یعنی جب عائشہ صدیقہ کی نسبت کوئی بات تم نے سنی تھی تو کیوں تم نے سنتے ہی نہ کہا کہ یہ بات تو منہ سے نکالنے ہی کے قابل نہیں- بلکہ تم یہ کہتے- سبحانک )النور:۱۷( پاک ذات تو اللہ تعالیٰ ہی کی ہے- مگر ھٰذا بھتان عظیم- )النور:۱۷( یہ تو بہت ہی بڑا بہتان ہے- پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے- یعظکم )النور:۱۸( اللہ تعالیٰ تمہیں وعظ کرتا ہے کہ ایسا پھر نہ کرنا- یہ ابد کے لئے حکم ہے کہ جب کسی کی نسبت کوئی ایسی بات سنو تو کہو کہ بہتان ہے- بدظنی کرنی شروع نہ کر دو- پھر یہ بھی فرمایا ہے کہ جو لوگ اس قسم کی بلائوں میں گرفتار ہوتے ہیں یعنی دوسرے کو متہم کرتے ہیں وہ ہرگز نہیں مرتے جب تک خود اس اتہام کا شکار نہ ہو لیں- اس لئے یہ بڑے ہی خوف اور خطرے کا مقام ہے- افسوس ہے لوگ ان باتوں کو معمولی سمجھتے ہیں حالانکہ یہ بہت ہی ضروری امور ہیں- جہاں|تک تم سے ہو سکے سعی کرو اور خدا تعالیٰ سے توفیق مانگو کہ وہ تمہیں سوء ظنی سے محفوظ رکھے- پھر اس کے بدنتائج غیبت‘ دروغ گوئی‘ دوسرے کی تحقیر‘ بہتان وغیرہ سے بچائے-
    غرض خدا تعالیٰ کے ماموروں اور ان فیوضات و برکات سے محروم رکھنے کے اسباب مختصر طور پر یہ ہیں- ابائ‘ تکبر‘ اللہ تعالیٰ کے ساتھ وعدہ اور پھر اس کی خلاف ورزی‘ پھر جھوٹ- دیکھو تم جو احمدی کہلاتے ہو تمہاری ذمہ داری بہت بڑھی ہوئی ہے- تم نے وعدہ کیا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا- تمہیں ہر وقت یہ وعدہ نصب العین رہنا چاہئے- کیسی وعدہ خلافی ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا وعدہ ہوا اور پھر سنتے ہی سوء ظنی پیدا ہو- اس کی ذرا بھی پروا نہ ہو کہ ان الظن اکذب الحدیث- میں سچ کہتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل دستگیری نہ کرے تو ایسے لوگ جو سوء ظنی کے مرض میں گرفتار ہیں وہ خود ان سوء ظنیوں کا نشانہ ہو کر مرتے ہیں- پس خدا سے ڈرو اور اپنے اس وعدہ کا لحاظ کرو جو تم نے خدا کے مامور کے ہاتھ پر کیا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کروں گا- انسان چاہتا ہے کہ دنیا میں معزز اور محترم بنے لیکن حقیقی عزت اورسچی تکریم خدا تعالیٰ سے آتی ہے- وہی ہے جس کی یہ شان ہے تعز من تشاء و تذل من تشاء )اٰل عمران :۲۷( اور پھر حقیقی عزت انبیاء و رسل اور ان کے سچے اتباع کو دی جاتی ہے- و للٰہ العزۃ و لرسولہ و للمومنین )المنافقون:۹( ساری کی ساری عزتیں اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہیں اور سچے مومنوں کے لئے ہیں- ابراہیم علیہ السلام اسلام کی وجہ سے دنیا میں معزز اور مکرم ہوئے- اذ قال لہ ربہ اسلم قال اسلمت لرب العالمین )البقرۃ:۱۳۲( پھر وہ ابراہیم الذی وفیٰ )النجم:۳۸( جس نے خدا تعالیٰ کے ساتھ صدق|ووفا کا پورا نمونہ دکھایا- اذ جاء ربہ بقلب سلیم )الصافات:۸۴‘۸۵(
    پس اس سے نتیجہ نکال لو کہ اللہ تعالیٰ تم سے کیا چاہتا ہے- سچی فرمانبرداری‘ صدق|ووفاداری اور قلب سلیم- ان باتوں کے ساتھ وہ راضی ہوتا ہے- یہی باتیں ہیں جو اسلام تم کو سکھاتا ہے- انہیں کے احیاء کے لئے اس وقت خدا تعالیٰ نے تم میں اپنا مہدی اور مسیح نازل کیا ہے- ایسے دین میں ہو کر محرومی کے اسباب سے بچو- ان اسباب کا علم قرآن مجید میں موجود ہے جو قرآن|شریف پر تدبر کرنے سے آتا ہے اور اس کے ساتھ تقویٰ کی بھی شرط ہے- میں سچ کہتا ہوں کہ یہ باتیں درس تدریس سے نہیں آتیں- یہ علوم جو قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں درس تدریس سے آ ہی نہیں سکتے بلکہ وہ تقویٰ اور محض تقویٰ سے ملتے ہیں- و اتقوا اللہ و یعلمکم اللہ )البقرہ:۳۸۳( اگر محض درس تدریس سے آ سکتے تو پھر قرآن مجید میں مثل الذین حملوا التوراۃ ثم لم یحملوھا کمثل الحمار )الجمعہ:۶( کیوں ہوتا-۳~}~
    اس بارہ میں میں خود تجربہ کار ہوں- کتابوں کو جمع کرنے اور ان کے پڑھنے کا شوق جنون کی حد تک پہنچا ہوا ہے- میرے مخلص احباب نے بسا اوقات میری حالت صحت کو دیکھ کر مجھے مطالعہ سے باز رہنے کے مشورے دئے مگر میں اس شوق کی وجہ سے ان کے دردمند مشوروں کو عملی طور پر اس بارہ میں مان نہیں سکا- میں نے دیکھا ہے کہ ہزاروں ہزار کتابیں پڑھ لینے کے بعد بھی وہ راہ جس سے مولیٰ کریم راضی ہو جاوے اس کے فضل اور مامور کی اطاعت کے بغیر نہیں ملتی-
    ان کتابوں کے پڑھ لینے اور ان پر ناز کر لینے کا آخری ڈپلومہ کیا ہو سکتا ہے- یہی کہ فرحوا بما عندھم من العلم )المومن:۸۴(
    میرے ایک شیخ تھے- وہ فرمایا کرتے تھے کہ غایۃ العلم حیرۃ- غرض وہ بات جو خدا تعالیٰ کو پسند ہے جس سے وہ راضی ہوتا اور اپنے فضلوں سے انسان کو بہرہ مند کرتا ہے‘ وہ نہ بہت باتوں سے مل سکتی ہے‘نہ بہت کتابوں کے پڑھنے سے- بلکہ وہ بات تعلق رکھتی ہے دل سے- وہ اس کی ایک کیفیت ہے جس کو عام الفاظ میں وفاداری‘ اخلاص اور صدق کہہ سکتے ہیں- اور یہ کیفیت پیدا ہوتی ہے ماموروں کی اطاعت سے اور سچی پیروی سے- قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ )اٰل عمران:۳۲( خدا تعالیٰ نے خود فیصلہ کر دیا ہے- اس فیصلہ کے بعد اور کیا چاہتے ہو- فماذا بعد الحق الا الضلال )یونس:۳۳( ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام جس کی نسل سے ہونے کا آج سب سلطنتیں فخر کرتی ہیں اس نے اس راہ کو اختیار کیا- اس نے صدق دل سے اسلمت لرب العالمین )البقرۃ:۱۳۲( کہا اور اسی ایک امر کی اولاد کو وصیت کی- نتیجہ کیا ہوا؟ خدا تعالیٰ نے اسے ایسا معزز و مکرم بنایا کہ اس کی اولاد کی گنتی تک نہیں ہو سکتی- وہ بادشاہ جو اس کے مقابلہ میں اٹھا آج کوئی اس کا نام تک بھی نہیں جانتا-
    یقیناً سمجھو اللہ تعالیٰ کسی کااحسان اپنے ذمہ نہیں رکھتا- وہ اس سے ہزاروں لاکھوں گنا زیادہ دے دیتا ہے جس|قدر کوئی خدا کے لئے دیتا ہے- دیکھو! ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مکہ میں ایک معمولی کوٹھا چھوڑا تھا لیکن خدا تعالیٰ نے اس کی کس قدر قدر کی- اس کے بدلہ میں اسے ایک سلطنت کا مالک بنا دیا- حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک اونٹ چرانے والے کو کس وسیع ملک کا خلیفہ بنایا- جناب علیؓ نے خدمت کی- اس کی اولاد تک کو مخدوم بنا دیا- غرض میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے حضور صدق و اخلاص سے چھوٹی سے چھوٹی خدمت بھی ہزاروں گنا بدلہ پاتی ہے- وہ تھوڑی سی بات کا بہت بڑا اجر دے دیتا ہے- پھر جو اس کے ساتھ سچا رشتہ عبودیت قائم کرتا ہے‘ اس کے عظمت و جلال سے ڈر جاتا ہے‘ دین کو دنیا پر مقدم کرتا ہے جیسا کہ تم نے اپنے مرشد و مولیٰ مہدی و مسیح کے ہاتھ پر اقرار کیا ہے تو خدا تعالیٰ اس کی تائید اور نصرت میں ایسا لگ جاتا ہے کہ
    بر کسے چوں مہربانی می کنی
    از زمینی آسمانی می کنی
    کا اسے سچا مصداق بنا دیتا ہے- اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ تم سچ مچ وہ نمونہ دکھائو جو ابراہیم علیہ السلام نے دکھایا- کہنے والوں کی آج کمی نہیں- تم سے تمہارا امام عمل چاہتا ہے- عملی حالت درست ہو گی تو خدا تعالیٰ کے بڑے بڑے انعام و اکرام تمہارے شامل حال ہو جائیں گے- وہ ہزاروں ہزار ابراہیم بنا سکتا ہے- تم ابراہیمؑ بنو بھی- خلاصہ کلام یہ ہے کہ ابراہیم اور اس کے خاندان نے یہ مجرب نسخہ بتایا کہ تمہاری موت ایسی حالت میں ہو کہ تم مسلمان ہو- موت کا کیا پتہ ہے کہ کب آ جاوے- ہر عمر کے انسان مرتے ہیں- بچے‘ بوڑھے‘ جوان‘ ادھیڑ- موسم میں جو تغیر ہو رہا ہے وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے انذار ہے- شروع سال میں زمینداروں سے سنا تھا کہ وہ کہتے تھے کہ اس قدر غلہ ہو گا کہ سمانہ سکے گا مگر اب وہی زمیندار کہتے ہیں کہ سردی نے فصلوں کو تباہ کر دیا ہے- آئندہ کے لئے خطرات پیدا ہو رہے ہیں- اس لئے یہ وقت ہے کہ تم خدا تعالیٰ سے صلح کر لو اور اس ایک ہی مجرب نسخہ کو ہمیشہ مدنظر رکھو کہ فلاتموتن الا و انتم مسلمون )البقرۃ:۱۳۳( موت کی کوئی خبر نہیں- اس لئے ضروری ہے کہ ہر وقت مسلمان بنے رہو- یہ مت سمجھو کہ چھوٹے سے چھوٹے عمل کی کیا ضرورت ہے اور وہ کیا کام آئے گا- نہیں‘ خدا تعالیٰ کسی کے عمل کو ضائع نہیں کرتا- فمن یعمل مثقال ذرۃ خیراً یرہ )الزلزال:۸(
    ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے سوال کیا کہ میں جب کافر تھا تو اللہ کی راہ میں خیرات کیا کرتا تھا- کیا اس خیرات کا بھی کوئی نفع مجھے ہو گا؟ فرمایا اسلمت علیٰ ما اسلفت )مسلم کتاب الایمان( تیری وہی نیکی تو تیرے اس اسلام کاموجب ہوئی-
    خدا تعالیٰ پر سچا ایمان لائو اور اس کی سچی فرمانبرداری کے نمونے سے ثابت کرو- ٹھیک یاد رکھو کہ ہر نیک بیج کے پھل نیک ہوتے ہیں- برے بیج کا درخت برا پھل دے گا-:
    گندم از گندم بروید جو ز جو
    از مکافات عمل غافل مشو
    مسلمان بنو- اسلم کی آواز پر اسلمت کا جواب عمل سے دو- دوست‘ احباب‘ رشتہ داروں اور عزیزوں کو نصیحت کرو کہ اسلام اپنے عمل سے دکھائو- تمہیں خدا تعالیٰ نے بہت عمدہ موقع دیا ہے کہ ایک شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنے وقت پر آیا جو راست بازوں کا پورا نمونہ ہے اور تم میں موجود ہے- وہ تم سے بھی چاہتا ہے کہ تم دین کو دنیا پر مقدم کرو- اس پر عمل کرو گے تو نا کام نہ رہو گے- مومن کبھی ناشاد نہیں رہ سکتا بلکہ سدا ہی بہشت میں رہتا ہے- اس کو دو بہشت ملتے ہیں- دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی-
    اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ ان باتوں پر عمل کریں- کثرت کے ساتھ استغفار کرو اور لاحول پڑھو- دعائوں میں مصروف رہو‘ پھر خیرات دو- خیرات بھی ہدایت کا ایک بڑا ذریعہ ہے-
    قرآن شریف عمل کے لئے ہدایت نامہ ہے- نبی کریم کی سنت موجود ہے- امام خود نمونہ ہے- وہ حکم ہو کر آیا ہے پس اس کے حکم کو مانو کہ تمہارا بیڑا پار ہو-
    ان لوگوں کے لئے جو یہاں رہتے ہیں اور احتیاجیں رکھتے ہیں‘ نظر کرو- ان کی مدد کرو- ان ضرورتوں کو جو سلسلہ کی ضرورتیں ہیں جن کو ’’فتح اسلام‘‘ میں حضرت امام نے ظاہر کیا ملحوظ رکھو- مختلف وقتی ضرورتیں بھی پیش آ جاتی ہیں ان کا بھی خیال رکھنا چاہئے-
    میں آخر میں حضرت امام کے حضور درد دل سے عرض کرتا ہوں کہ وہ ہمارے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہماری کمزوریوں کو دور کرے- سب سے زیادہ میں دعا کا حاجت مند ہوں- اس لئے کہ اکثر لوگوں کو سناتا رہتا ہوں- پس اگر میرا ہی نمونہ اچھا نہ ہوا تو بہتوں کو ٹھوکر لگ سکتی ہے- اس لئے میرے لئے خاص طور پر دعا فرماویں- اس کے بعد حضرت اقدس نے دعا کی-
    خطبہ ثانیہ میں آپ نے قربانی کے متلق مختصر احکام بیان فرمائے- ۴~}~
    ۱~}~ )الحکم جلد۹ نمبر۷ ۔۔۔۔ ۲۴ / فروری ۱۹۰۵ء صفحہ۷( ۲~}~ )الحکم جلد۹ نمبر۱۲ ۔۔۔۔ ۱۰ / اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ۶(
    ۳~}~ )الحکم جلد۹ نمبر۱۶ ۔۔۔۔ ۱۰ / مئی ۱۹۰۵ء صفحہ۵( ۴~}~ )الحکم جلد۹ نمبر۱۷ ۔۔۔۔ ۱۷ / مئی ۱۹۰۵ء صفحہ۶(
    * * * *
    ‏KH1.19
    خطبات|نور خطبات|نور
    ۲۱ / مئی ۱۹۰۵ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خطبہ نکاح
    حضرت حکیم نورالدین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی موجودگی میں بعد نمازظہر باغ میں مندرجہ ذیل تین نکاحوں کا اعلان فرمایا-سید محمد ابن سید حامد شاہ‘ سید عبد الحمید ابن سید حامد شاہ‘ سید عبد السلام ابن سید محمود شاہ-
    تشہد‘ تعوذ اور آیات مسنونہ کی تلاوت کے بعد آپ نے فرمایا-:
    سنی‘ شیعہ‘ مقلد‘ غیر مقلد‘ اسلام کے تمام فرقوں کے درمیان یہ ایک متفق علیہ امر ہے کہ خطبہ نکاح کے وقت الحمد للٰہ نحمدہ و نستعینہ و نستغفرہ پڑھا جاتا ہے- اس میں اول جناب الٰہی کی حمد ہے جس نے فسق و فجور‘ زناکاری‘ بدکاری سے ہم کو بچایا- جس طرح مرد پیدا کئے اسی طرح عورتیں بھی پیدا کیں اور زن و شوئی کا تعلق ان کے درمیان رکھ دیا- جو لوگ نکاح نہیں کرتے وہ حقیقی طور پر عورتوں کی بلکہ تمام نسل انسانی کی خیر خواہی نہیں کرتے اور نہ کر سکتے ہیں- نکاح انسان کو بہت سی بدیوں سے بچاتا ہے- لیکن یہ نعمت بغیر فضل الٰہی کے حاصل نہیں ہو سکتی- اس واسطے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنا ضروری ہے- کیونکہ یہ امر استعانت حق کے سوا حاصل نہیں ہو سکتا- پھر ان معاملات میں انسان کو بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں- بعض دفعہ بیوی مرد کی مرضی کے مطابق نہیں ہوتی یا مرد ایسا ہوتا ہے کہ یہ تعلق ہمیشہ کے واسطے بیوی کے لئے ایک دکھ اور تکلیف کا موجب بن جاتا ہے- اس واسطے اس موقع پر استغفار کا سبق دیا گیا ہے- بعض غلطیوں کے بدنتائج کے سبب وہ اغراض پورے نہیں ہوتے جن کے واسطے یہ تعلقات پیدا ہوئے ہیں- ان سب کا علاج استغفار ہے- جناب الٰہی میں استغفار کرنا تمام انبیاء کا ایک اجماعی مسئلہ ہے- استغفار تمام انبیاء کی تعلیم کا خلاصہ ہے اور اس کے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ گزشتہ غلطیوں کے بدنتائج سے بچاوے اور آئندہ غلطیوں میں پڑنے سے بچائے- خدا تعالیٰ نے اس تعلق کی حفاظت کے لئے بڑی تاکید فرمائی ہے-
    نکاح کے تعلقات میں اگرچہ احباب نے حضرت امام علیہ السلام کے منشاء کے مطابق پورے طور پر کارروائی شروع نہیں کی پھر بھی بعض بہت ہی اخلاص رکھنے والے دوست ہیں جو چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد کے نکاح حضرت امام کی موجودگی میں اس جگہ قادیان میں پڑھے جائیں تاکہ آپ کی دعاء و برکت سے یہ تعلقات ثمرات خیر کا باعث ہوں- چنانچہ ایسے ہی مخلص دوستوں میں سید حامد شاہ صاحب اور ان کے والد حکیم حسام الدین صاحب اور سید خصیلت علی شاہ صاحب مرحوم ہیں جن کی اولاد کے نکاح اس وقت آپ صاحبان کے سامنے باندھے جاتے ہیں-
    سید حامد شاہ صاحب کے لڑکے محمد کا نکاح سید خصیلت علی شاہ صاحب مرحوم کی لڑکی رفعت نام کے ساتھ کیا گیا- لڑکے کی طرف سے مولوی عبد الکریم صاحب وکیل ہیں اور لڑکی کی طرف سے شیخ رحمت اللہ صاحب تاجر- )۲( سید حامد شاہ صاحب کے لڑکے عبد الحمید کا نکاح سید خصیلت علی شاہ صاحب مرحوم کی لڑکی مریم کے ساتھ کیا گیا- لڑکے کی طرف سے وکیل مولوی عبد الکریم صاحب اور لڑکی کی طرف سے شیخ رحمت اللہ صاحب تاجر ہیں- )۳( سید حکیم حسام الدین صاحب کے پوتے عبدالسلام پسر سید محمود شاہ صاحب مرحوم کا نکاح سید خصیلت علی شاہ صاحب مرحوم کی لڑکی فضیلت کے ساتھ کیا گیا-
    آپ دعا کریں کہ جس غرض سے یہ نکاح اس جگہ کئے گئے ہیں وہ حاصل ہو اور میاں بیوی کے تعلقات میں برکت ہو- نیک اولاد آگے ہو جس سے لاکھوں صلحا آگے پیدا ہوں- حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ و السلام اور دیگر احباب نے دعا کی اور پھر چھوہارے تقسیم کئے گئے-
    )اس امر کا بیان کرنا فائدہ سے خالی نہ ہو گا کہ لڑکیاں اور لڑکے اور ان کے ولی بعض وجوہات سے خود قادیان میں حاضر نہیں ہو سکتے تھے لیکن ان کی دلی خواہش تھی کہ یہ نکاح قادیان میں ہو اور ایسے جلسہ میں ہو جس میں خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ و السلام موجود ہوں- چنانچہ یہ درخواست سیالکوٹ سے یہاں حضرت کی خدمت میں آئی(-
    حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ یہ شرعی مسئلہ ہے- بذریعہ تحریر اجازت کے بعد اس جگہ نکاح ہو سکتا ہے- چنانچہ اس کے مطابق نکاح ہوا- حسن اتفاق سے مکرمی مخدومی شیخ رحمت اللہ صاحب بھی اس جگہ تشریف لائے ہوئے ہیں- شیخ صاحب موصوف کو سید خصیلت علی شاہ صاحب مرحوم کے ساتھ ایک خاص محبت و اخلاص کا تعلق تھا- خدا نے یہ عجیب اتفاق پیدا کر دیا کہ وہ ان کی لڑکیوں کی طرف سے وکیل بنے-
    ) بدر جلد۱ نمبر۷ ۔۔۔ ۱۸ تا ۲۴ / مئی ۱۹۰۵ء صفحہ۶ (
    * ۔ * ۔ * ۔ *

    ۲۷ / اپریل ۱۹۰۶ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خطبہ جمعہ
    تشہد‘ تعوذ اور تسمیہ کے بعد آپ نے سورۃ آل عمران کی حسب ذیل آیات تلاوت فرمائیں-
    قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ و یغفرلکم ذنوبکم و اللہ غفور رحیم- قل اطیعوا اللہ و الرسول فان تولوا فان اللہ لایحب الکٰفرین- ان اللہ اصطفیٰ اٰدم و نوحاً و اٰل ابرٰھیم و اٰل عمران علی العٰلمین- ذریۃ بعضھا من بعض و اللہ سمیع علیم- اذ قالت امرات عمرٰن رب انی نذرت لک ما فی بطنی محرراً فتقبل منی انک انت السمیع العلیم- فلما وضعتھا قالت رب انی وضعتھا انثیٰ و اللہ اعلم بما وضعت و لیس الذکر کالانثیٰ و انی سمیتھا مریم و انی اعیذھا بک و ذریتھا من الشیطان الرجیم- فتقبلھا ربھا بقبول حسن و انبتھا نباتاً حسناً و کفلھا زکریا کلما دخل علیھا زکریا المحراب وجد عندھا رزقاً قال یٰمریم انیٰ لک ھٰذا قالت ھو من عند اللہ ان اللہ یرزق من یشاء بغیر حساب]01 [p )اٰل عمران:۳۲تا۳۸-(
    اے سامعین! قرآن مجید ایک ایسی زندہ کتاب ہے کہ اس کے برکات اور فیوض قیامت تک باقی رہیں گے اس لئے اس کی نسبت فرمایا گیا ہے انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحافظون )الحجر:۱۰-( اور اس کی مثال اس طرح پر فرمائی گئی ہے ضرب اللہ مثلاً کلمۃ طیبۃ کشجرۃ طیبۃ اصلھا ثابت و فرعھا فی السماء توتی اکلھا کل حین باذن ربھا )ابراھیم:۲۵-( پس سراسر جھوٹے ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ دروازہ مکالمات الٰہیہ و الہامات ربانیہ کا امت محمدیہ پر بند کیا گیا ہے- خواہ آیات قرآن مجید کی الہام ہوں یا دوسری عبارات ہوں‘ ہرگز یہ دروازہ بند نہیں ہوا- و للٰہ الحمد- ہمارا اعتقاد ہے کہ قرآن|مجید زندہ کتاب ہے‘ دین اسلام زندہ مذہب ہے‘ نبی کریم زندہ نبی ہیں اور جو قﷺ قرآن|مجید میں بیان فرمائے گئے ہیں ان کے نظائر و امثال آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے وقت میں بھی موجود ہوئے اور قیامت تک ان کے نظائر اسلامی دنیا میں واقع ہوتے رہیں گے- یعنی اللہ|تعالیٰ کسی کو اتباع اپنے حبیب سے اپنا محبوب بنا لیتا ہے- کسی کو آدم صفت‘ نوح صفت‘ ابراہیم صفت اور انبیائے آل ابراہیم کی صفت‘ آل عمران یعنی مریم اور عیسیٰ کی صفت کر دیتا ہے اور کسی کو مثیل زکریا گردانتا ہے حتیٰ کہ جری اللہ فی حلل الانبیاء کا لقب عطا فرما دیتا ہے- اور یہ سب امور قرآن مجید کے احکام کی فرمانبرداری اور اتباع کامل نبی کریم سے حاصل ہوتے ہیں- و نعم ما قیل ~}~
    ‏ils] g[ta برکسے چوں مہربانی میکنی
    از زمینی آسمانی میکنی
    لیکن بغیر اتباع کے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا- فان اللہ لایحب الکافرین )اٰل عمران:۳۳(
    واضح ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے وقت یہود بڑے بڑے دعاوی کرتے تھے حتیٰ کہ کہتے تھے کہ نحن ابناء اللہ و احباوہ )المائدۃ:۱۹-( ان کے حق میں یہ آیت زیر تفسیر نازل ہوئی ہے کہ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم! ان یہودیوں سے تم کہہ دو کہ اگر اللہ تعالیٰ کی محبت کا تم دعویٰ کرتے ہو تو تم میری پیروی کرو کہ اللہ بھی تم کو اپنا دوست کر لیوے گا اور تمہارے گناہ معاف کردیوے گا کیونکہ اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے-
    فائدہ-: اللہ تعالیٰ کی محبت اپنے بندئہ متبع کے ساتھ یہ ہے کہ جو منافع دین و دنیا کے اس بندہ کے لئے ضروری ہوں یا اس کے لئے جو فوائد دارین کے مناسب ہوں ان کو پہنچاتا رہے اور جو لوگ اس کی اتباع میں حارج ہو کر طرح طرح کے ضرر پہنچانا چاہتے ہیں خود انہیں کو معرض مضار اور مورد ذلت اور رسوائی کا کر دیوے- چنانچہ جن صحابہ کرام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا پورا اتباع کیا ان کے مخالفین ذلیل و رسوا ہو کر ہلاک اور تباہ ہو گئے اور متبعین کاملین حسب الحکم آیت مذکورہ دین اور دنیا کے مالک کہلائے گئے- چونکہ آیت ہذا میں جو پیشین گوئی مندرج ہے وہ پورے طور پر واقع ہوئی لہذا یہ آیت ایک نشان نبوت کا ہو گئی- اور یہی آیت حضرت مسیح موعود کو الہام ہوئی تھی جس کو مدت تخمیناً چوبیس سال کی ہو گئی ہے- دیکھو اس وقت کو اور اس وقت کو کیسی کیسی نصرتیں اس کے شامل حال ہوئی ہیں اور ہوتی ہیں اور مخالف اس کے کیسے کیسے ذلیل دخوار ہوتے جاتے ہیں- ایک طرف تو نظارہ یحببکم اللہ )اٰل عمران:۳۲( کا نظر آ رہا ہے اور دوسری طرف فان اللہ لایحب الکافرین )اٰل عمران:۳۴( کا نظارہ موجود ہے ~}~
    رحمت اللہ ایں عمل را در وفا
    *** اللہ آں عمل را در قفا
    بعض منافقین نے اس حکم تاکیدی اتباع پر یہ شبہ پیدا کیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم تو اپنی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت قرار دیتے ہیں اور اپنی محبت کو اللہ تعالیٰ کی محبت کہتے ہیں- اس سے تو لازم آتا ہے کہ جس طرح نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو خدا قرار دے رکھا ہے یہ بھی اپنے تئیں الٰہ قرار دینا چاہتے ہیں- جواب یہ دیا گیا کہ اطاعت تو اللہ تعالیٰ ہی کی ہے- مگر اس کی اطاعت کیونکر ہو سکتی ہے؟ اس کا طریق یہ ہے کہ کوئی ایسا واسطہ موجود ہو کہ ایک لحاظ سے ہم جیسا بشر ہو اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کو ایسا قرب حاصل ہو کہ رسالت اس کے احکام کی کر سکے جس کو دوسرے لفظوں میں رسول کہتے ہیں- تو اس لئے ارشاد ہوتا ہے کہ ان سے کہہ دو کہ میری متابعت بحیثیت رسول ہونے کے تم پر واجب ہے‘ نہ اس حیثیت سے جس طرح نصاریٰ حضرت عیسیٰ کی نسبت کہتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میں رسول ہوں- اس لئے واسطے اطاعت اللہ تعالیٰ کے میرا اتباع تم پر لازم ہے- اگر اس فہمائش اور ہدایت کو بھی نہ مانیں اور روگردانی کریں جو موجب کفر ہے تو بے شک اللہ تعالیٰ ایسے کافروں کو دوست نہیں رکھتا- چنانچہ اس عدم محبت کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام مکذبین اور کافرین آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے وقت میں ہی یا تو تباہ اور ہلاک ہو گئے یا جن کی قسمت میں تھا اسلام میں داخل ہو گئے- علیٰ ہذا القیاس ھلم جراً- مسیح موعود کے زمانہ تک کہ بحکم حدیث صحیح مسلم لایحل لکافر ان یجد ریح نفسہ الا مات کے اس کے مکذبین اور مکفرین بھی رسوا اور تباہ ہو گئے اور ہو رہے ہیں- پس بلحاظ اس کے کہ یہ پیشین گوئی لطیف مندرجہ آیت پوری ہوئی‘ اب آگے اہل کتاب کا وہ استبعاد رفع کیا جاتا ہے جو ان کو حضرت خاتم|النبیین صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت کے بارہ میں تھا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے تمام جہان کے لوگوں پر آدمؑ اور نوحؑ اور خاندان ابراہیم اور خاندان عمران کو چن لیا ہے- کیونکہ یہ سب اولاد آدم کی ہیں کہ بعض ان کے بعض کی نسل سے ہیں اور اللہ ہی سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے-
    فائدہ - مراد یہ ہے کہ یہ امر تمہارے نزدیک مسلمات سے ہے کہ حضرت آدمؑ جس طرح پر ابوالبشر ہیں اسی طرح ابوالانبیاء بھی ہیں- یعنی نور اصطفا کا اولاً ان میں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور چونکہ لائق اولاد اپنے باپ کی وارث ہوتی ہے اس لئے ضروری ہوا کہ نور نبوت کا ان کی اولاد لائق کو بھی پہنچے- چنانچہ ایسا ہی کچھ ہوا کہ آدم کی اولاد میں شیثؑسے لے کر حضرت ادریسؑ تک وہ نورنبوت منتقل ہوتا لائق اولاد میں چلا آیا- اور اصطفا سے ہم نے نورنبوت اس لئے مراد لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انی اصطفیتک علی الناس برسٰلٰتی )الاعراف:۱۴۵-( یا حضرت ابراہیمؑ اور اسحاقؑ و یعقوبؑ کے بارہ میں فرماتا ہے و انھم عندنا لمن المصطفین الاخیار )ص:۴۸-( پس مراد اصطفا سے وہی نور نبوت اور رسالت کا ہے جو آدم ثانی حضرت نوح کو بھی حاصل ہوا- حتیٰ کہ حضرت نوحؑ سے ابراہیم کو مرحمت ہوا- بعدہ حضرت ابراہیمؑ کی اولاد میں حضرت اسمعیلؑ و اسحاقؑ کو ملا جو آل ابراہیمؑ سے ہیں- حضرت اسحاقؑ کی اولاد میں یعقوبؑ ہوئے یعنی اسرائیل جس کی اولاد میں کثرت سے انبیاء پیدا ہوئے اور حضرت عیصؑ بھی یعقوبؑ کی اولاد میں ہیں جن کی ذریت میں کثرت سے بادشاہ ہوئے- بالاخر چونکہ عہد عتیق میں اللہ تعالیٰ نے حضرت اسمعیلؑ اور اسحاقؑ دونوں سے تورات میں وعدہ کیا تھا لہذا وہ وعدہ پورا ہوتا ہوا بنی اسرائیل میں چلا آیا حتیٰ کہ بالآخر بموجب وعدہائے تورات کے بنی اسمعیل میں سے حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و سلم کو وہ نورنبوت|تامہ اور نیز خلافت|عامہ کا مرحمت ہوا اور کیونکر نہ ہوتا کہ حضرت اسمعیلؑ بھی آل|ابراہیم میں داخل ہیں اور آل ابراہیم کے لئے وعدہ ہو چکا ہے- پس اس دلیل سے جو مسلمہ اہل|کتاب ہے لازم آیا کہ بنی اسمعیلؑ میں بھی وہ وعدہ اصطفا اس شان سے پورا ہووے کہ تدارک|مافات کا کر دیوے- اور مافات یہ ہے کہ جس طرح سے من ابتدائے حضرت یعقوبؑ تا عیسیٰ کثرت سے انبیاء بنی اسرائیل میں ہوتے چلے آئے اور بنی اسمعیلؑ میں کوئی نبی اولوالعزم پیدا نہیں ہوا تو بنی اسمعیلؑ میں ایک ایسا نبی عظیم الشان سید المرسلین و خاتم|النبیین پیدا ہووے جو سب انبیاء بنی اسرائیل پر فائق ہو جاوے- چنانچہ اس وعدہ کے پورا ہونے سے ان وعدوں مندرجہ تورات کی تصدیق ہو گئی جو بڑے زور و شور سے تورات میں اب تک موجود ہیں- یہ ایک بڑی حجت ہے آنحضرتﷺ~ کی تصدیق نبوت پر‘ جس کا جواب اہل|کتاب سے ہرگز نہیں ہو سکتا ہے- قال اللہ تعالیٰ ربنا و ابعث فیھم رسولاً منھم یتلوا علیھم ایٰاتک و یعلمھم الکتاب و الحکمۃ و یزکیھم انک انت العزیز الحکیم )البقرۃ:۱۳۰(
    سوال - اصطفائے آل عمران کو آخر میں بیان کرنے کی بظاہر کوئی ضرورت نہیں معلوم ہوتی کیونکہ آل عمران یعنی حضرت عیسیٰؑ اور مریمؑ بنی اسرئیل میں سے ہیں جو آل ابراہیم میں داخل ہو چکے ہیں- پھر آل عمران کو مکرر آخر میں کیوں بیان کیا گیا؟
    جواب - اس تکرار میں ایک سر یہ ہے کہ امت محمدیہ میں سے بھی آخر زمانہ میں ایک مثیل عیسیٰؑ اور نیز مثیل مریمؑ علم الٰہی میں پیدا ہونے والے تھے جس کو اللہ تعالیٰ نے بطور مثل کے مومنوں کے لئے سورہ تحریم میں اس طرح پر بیان فرمایا ہے-
    و مریم ابنت عمرٰن التی احصنت فرجھا فنفخنا فیہ من روحنا و صدقت بکلمٰت ربھا و کتبہ و کانت من القانتین )التحریم:۱۲‘۱۳-( چنانچہ اس زمانہ|آخری میں عیسیٰؑ اور مریمؑ کے نام سے ایک مجدد عظیم الشان پیدا ہوا- پس اس لئے آل عمران یعنی عیسیٰؑ اور مریم کو باوجود داخل ہونے کے بنی|اسرائیل میں دوبارہ جو آل ابراہیم سے ہیں آخر میں ذکر فرمایا گیا- اور اسی لئے حضرت مریمؑ اور عیسیٰ کی نسبت فرمایا گیا ہے کہ و جعلناھا و ابنھا ایٰۃ للعالمین )الانبیائ:۹۲-( اس آیت میں اگر تھوڑا غور کیا جاوے تو معلوم ہو گا کہ حضرت عیسیٰؑ اور مریمؑ نہ اپنے زمانہ میں ایٰۃ للعالمین ہوئے اور نہ بعد اپنے زمانہ ایٰۃ للعالمین ہونا ان کا ظاہر ہوا‘ ہاں البتہ ان کا ایٰۃ للعالمین ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید میں نازل ہوا تھا- اس لئے کلام نبوت میں عیسیٰؑ موعود کے نزول کی پیشگوئی آخر زمانہ کے لئے بیان فرمائی گئی اور اس زمانہ آخری میں اپنے وقت پر ایک مجدد بنام عیسیٰؑ و مریمؑ پیدا ہوا جس کے سبب سے حضرت عیسیٰؑ اور مریمؑ کا نام نامی تمام عوالم میں روشن ہو گیا اور جو شرک اور بدعت حضرت عیسیٰؑ یا مریمؑ کے نام سے دنیا جہان میں پیدا ہو گیا تھا جس کے سبب ان کے آیت ہونے میں بھی شبہات پیدا ہوئے تھے اس عیسیٰ موعودؑ نے اس سب کا محو کر دینا چاہا ہے تاکہ عیسیٰؑ و مریمؑ جو بندگان مقبول الٰہی میں سے تھے ایٰۃ للعالمین ہو جاویں- پس یہ سر تھا آل عمران کوآخر میں مکرر ذکر فرمانے کا- و ھٰذا ما الھمنی ربی و الحمد للٰہ رب العالمین- ]txet [tag اور یہی معنی ہیں اس شعر کے جو کہا گیا ہے ~}~
    ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
    اس سے بہتر غلام احمد ہے
    مطلب یہ ہے کہ ایک مرد کامل امت محمدیہ کے طفیل سے حضرت عیسیٰ کا نام دنیا جہان میں روشن ہو گیا ورنہ اہل کتاب نے جو یہود و نصاریٰ ’’بدنام کنندہ نکونا مے چند‘‘ ہیں‘ بسبب اپنے کفر و شرک کے اور اپنی بداعمالیوں کے سبب حضرت عیسیٰ کا نام تو میٹنا ہی چاہا تھا بلکہ میٹ چکے تھے مگر ایک غلام احمد نے ان کے نام کو دنیا جہان میں روشن کر دیا- پس ایک فرد کامل امت محمدیہ میں سے ان کے نام کے ساتھ مبعوث ہوا اور اس سے امت محمدیہ کو کوئی فخر حاصل نہیں ہوا بلکہ حضرت عیسیٰ کو اس بعثت مسیح موعود سے فخر حاصل ہوا ہے- و الحمد للٰہ- قال اللہ تعالیٰ کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف و تنھون عن المنکر و تومنون باللہ )اٰل عمران:۱۱۱-( اسی لئے آگے اس کے حضرت مریمؑ کی ولادت اور دیگر قﷺ متعلق اس کے بیان فرمائے جاتے ہیں اور تاکیداً ارشاد ہوتا ہے کہ ان قصوں کو یاد کرتے رہو ایسا نہ ہو کہ بھول جائو کہ عمران کی زوجہ نے کہا کہ اے میرے پروردگار! میرے پیٹ میں جو بچہ ہے تیری نذر کیا- دنیا کے کاموں سے آزاد کیا گیا-
    پس اے پروردگار میرے! تو میری طرف سے یہ نذر قبول فرما- بے شک تو ہے سب کچھ سنتا- سب کی نیتوں کو جانتا ہے-
    فائدہ-: بنی اسرائیل میں یہ دستور تھا کہ ماں باپ اپنے بعض لڑکوں کو اپنی خدمتوں سے آزاد کر کر اللہ|تعالیٰ کی نذر کر دیتے تھے اور تمام عمر دنیا کے کاموں میں نہیں لگایا کرتے تھے- ہمیشہ مسجد میں عبادت کے لئے یا مسجد کی خدمت کرنے کے لئے اور دینیات کے درس کرنے کے لئے چھوڑ دیتے تھے- عمران کی زوجہ حنا کو جب حمل ہوا تو اس نے حالت حمل ہی میں واسطے خالص رضامندی اللہ تعالیٰ کے اول ہی سے یہ نذر کر لی تھی تاکہ مادرزاد ولی پیدا ہو مگر حالت حمل سے ہی شریعت اسلام میں یہ دستور تو نہیں ہے- لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ خود کسی شخص کو برگزیدہ کر کر خالص خدمت دین ہی کے لئے چن لیتا ہے اور اس کی فطرت اور جبلت ہی ایسی پیدا کرتا ہے کہ دنیا کے کاموں کی طرف اس کو رغبت ہی نہیں ہوتی جیساکہ کلام نبوت میں وارد ہوا ہے- nsk] [tag ان اللہ یبعث لھٰذہ الامۃ علیٰ راس کل مائۃ سنۃ من یجدد لھا دینھا )سنن ابوداود کتاب الملاحم و الفتن( اور یہی مراد ہے مولانا روم کے اس شعر سے ~}~
    اولیاء را کار عقبیٰ اختیار
    اشقیاء را کار دنیا اختیار
    انبیاء در کار دنیا جبر یند
    اشقیاء در کار عقبیٰ جبر یند
    حضرت مریم کی والدہ نے حالت حمل ہی میں یہ نذر کر کر یہ دعا کی کہ فتقبل منی -]txet [tag اس میں سر یہ تھا کہ ان کی تمنا دلی یہ تھی کہ وہ بچہ پیٹ ہی میں اللہ تعالیٰ کا مقبول اور محبوب ہو جاوے جس کو عرف میں مادرزاد ولی کہتے ہیں- اسی لئے انہوں نے دو صفتوں سمیع و علیم کا بیان کیا کہ جس اخلاص سے میں نے تیری جناب میں یہ دعا کی ہے تیرے سوا اور کوئی اس کا سننے والا نہیں اور جو میری تمنائے دلی ہے اس کاعلیم و خبیر تیرے سوا اور کوئی نہیں ہے- یہ قصہ حضرت مریم کی والدہ کے نذر کرنے کا اس لئے یاد دلایا گیا کہ وہاں تو حضرت حنا کی دعا سے مریم کو پیدا کیا تھا اور امت محمدیہ میں حسب الحکم آیت سورہ تحریم کے ہم خود ایک ایسا غلام احمد پیدا کریں گے کہ مریم صفت ہو کر دین محمدی کا ایسا خادم ہو گا کہ دنیا کے کاموں سے بالکل آزاد اور محرر ہو گا اور اللہ تعالیٰ کا محبوب اور مقبول ہو گا- اس لئے الہامات میں اس مسیح موعود کا نام مریم بھی آیا ہے- معنی مریم کے کتب لغات میں خادم کے ہی لکھے ہیں- یعنی خادم احمد یا غلام احمد‘ یہ دونوں جو قریب المعنی ہیں- اب فرمایا جاتا ہے کہ پس جبکہ جنا اس کو- کہا- اے رب میرے تحقیق میں نے جنا اس کو لڑکی اور اللہ کو بہتر معلوم ہے جو کچھ جنی- اور بیٹا نہیں ہے مانند اس بیٹی کے اور تحقیق میں نے نام رکھا اس کا مریم اور میں تیری پناہ میں دیتی ہوں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے-
    فائدہ-: حنا والدہ مریم کو یہ خیال تھا کہ میرے شکم میں لڑکا ہی ہے اور لڑکا ہی محرر کیا جاتا تھا جبکہ ان کے لڑکی پیدا ہوئی تو ان کو یہ خیال آیا کہ شاید میری نذر قبول نہ ہوئی کیونکہ لڑکی واسطے خدمت بیت|المقدس کے یا دیگر خدمات دینیہ کے لئے محرر نہیں ہو سکتی- اس لئے جناب باری میں یہ عذر کیا یا بسبب حسرت کے یہ مقولہ کہا ہو- مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کی قدر و عزت خوب جانتا ہے اور لڑکا اس لڑکی کی برابری نہیں کر سکتا- تفسیر کبیر وغیرہ میں اس کی دو توجیہیں لکھی ہیں- اول تو یہ کہ تفضیل لڑکے کی لڑکی پر مراد الٰہی ہے- دوسرے یہ کہ تفضیل اس لڑکی کی لڑکے پر مقصود ہے- پس کلام|الٰہی دونوں توجیہوں کو متحمل ہے- یہ کلام جو ذوالوجہین فرمایا گیا اس میں سر یہ ہے کہ امت محمدیہ میں جو خیرالامم ہے ایک مجدد عظیم الشان بنام مریم علم الٰہی میں مذکر آنیوالا تھا جو دین محمدی کو زندہ کرے گا- لہذا ایسا کلام ذوالوجہین فرمایا گیا کہ دونوں وجہوں پر صادق آ سکے- ہاں اس قدر فرق ہے کہ وہاں تو والدہ مریم نے ہی لڑکی کا مریم نام رکھا تھا اور یہاں پر اللہ تعالیٰ نے خود بذریعہ الہام کے اس مجدد عظیم الشان کا نام مریم رکھا اور چونکہ یہ مجدد ایک لڑکی کے ساتھ توام پیدا ہوا اور وہ لڑکی توام انہیں ایام میں وفات پا گئی لہذا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فعل سے بھی یہ شہادت دی کہ اب دین عیسوی باقی نہ رہے گا- )جس میں محض مادہ اناث ہے کیونکہ عیسیٰ صرف مریم کے مادہ ہی سے پیدا ہوئے تھے اور مرد کا اس میں کچھ دخل نہیں تھا( بلکہ دین محمدی اس لڑکے سے زندہ کیا جاوے گا اور مادہ اناث فوت ہو جاوے گا- کیونکہ لیس الذکر کالانثیٰ )اٰل عمران:۳۷( اور یہی مراد ہے اس شعر سے جو حضرت اقدس نے فرمایا ہے کہ~}~
    ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
    اس سے بہتر غلام احمد ہے
    لیکن ہاں چونکہ حضرت اقدس بنی اسرائیل میں سے ہیں لہذا دعا حضرت حنا کی اس لڑکی کے حق میں بھی‘ جس کا نام خود اللہ تعالیٰ نے مریم رکھا ہے‘ قبول فرمائی گئی اور کیونکر قبول نہ فرمائی جاتی کہ یہاں پر تو خود اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہی نام اس کا مریم رکھا ہے- معنی مریم کے خادمہ کے ہیں یعنی خادمہ دین اور پھر دیکھو دوسری قدرت اللہ تعالیٰ کی کہ والدین سے جو اس کا نام اللہ تعالیٰ نے رکھوایا وہ بھی ہم معنی مریم کے رکھوایا یعنی غلام احمد قادیانی جس میں اس کے سن بعثت کی تاریخ کا پتہ بھی بتلا دیا گیا- اور پھر اس مریم اور اس مریم میں ایک اور فرق بین ہے- پہلی مریم تو خادمہ مسجد ہی تھیں اور یہ مریم جو غلام احمد ہے خادم دین اللہ الاسلام اور مجدد دین احمد علیہ السلام ہے- و شتان بینھما و لنعم ما قیل-
    حج زیارت کردن خانہ بود
    حج رب البیت مردانہ بود
    پہلی مریم تو صرف خانہ خدا کی خدمت کے لئے پیدا کی گئیں اس لئے وہ انثیٰ رہی اور دوسرے مریم جو غلام احمد ہے دین اللہ کی خدمت اور تائید اسلام کے لئے مبعوث ہوئے اس لئے وہ مردانہ ہوئے- پہلی مریم نے مسجد اقصیٰ کی بنیاد نہیں ڈالی تھی بلکہ صرف خادمہ تھیں- لیکن غلام احمد نے قادیان میں مسجداقصیٰ کی بنیاد قائم کی- پہلی مریم نے اپنی ذریت کے لئے مخلصاً للٰہ دعا کی تھی تب قبول ہوئی تھی اور غلام احمد کی ذریت کے ’’انبات حسن‘‘ ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ نے خود الہاماً اس کو اطلاع دی- چنانچہ فرمایا جاتا ہے- ’’پس اس کے پروردگار نے مریم کو خوشی سے قبول فرما لیا اور اگایا اس کو اچھا اگانا‘‘ یعنی اس کی ذریت میں سے ایک فرزند کامل پیدا کیا-
    فائدہ-: یعنی وہاں پر حضرت عیسیٰ کو پیدا کیا اور یہاں پر نفخ روح کر کر خدا نے اسی مریم کی ذات کو عیسیٰ کر دیا و جعلناک المسیح ابن مریم-اور پھر علاوہ اس پر اس کی اولاد میں سے ایک فرزند کامل مکمل پیدا کیا جس کی نسبت الہامات تمام دنیا میں شائع ہو چکے ہیں-
    تنبیہ-: جس طرح پر کہ اولاد صالح سے دنیا میں نام نیک مشہور ہوتا ہے اسی طرح پر سنت الٰہی یہ ہے کہ کسی کامل مکمل کے نام پر کسی زمانہ آخری میں کسی شخص کو اللہ تعالیٰ مبعوث فرماتا ہے تاکہ دوبارہ اس کو زندگی بخشے اور اس پہلے شخص کا نام دنیا میں نیک نامی کے ساتھ مشہور اور روشن ہو جاوے- اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایک فرد کامل کو امت محمدیہ میں سے بنام مسیح و مریم اس آخر زمانہ میں مبعوث فرمایا تاکہ جس قدر شرک اور بدعات کفر جو ان کی طرف اقوام|عیسائیاں یا دیگر اقوام منسوب کرتے ہیں ان سے ان کو تطہیر فرما دیا جاوے- کما قال اللہ تعالیٰ یٰا عیسیٰ انی متوفیک و رافعک الی و مطھرک من الذین کفروا و جاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الیٰ یوم القیامۃ )اٰل عمران:۵۶-( اور یہی سر تھا اس آیت کے الہام ہونے کا جو مدت سے براہین احمدیہ میں شائع ہو چکا ہے- و لنعم ما قیل~}~
    نام نیک رفتگان ضائع مکن
    تا بماند نام نیکت یادگار
    اور اب یہ الہام قرآنی ذیل کا بھی پورا ہو گیا کہ حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ کی نسبت جو فرمایا گیا ہے و جعلناھا و ابنھا ایٰۃ للعٰلمین )الانبیائ:۹۲-( سبحان اللہ! یہ کلام الٰہی کیسا صادق اور مصدوق ہوا ہے ورنہ کوئی مخالف ہی ہم کو بتا دے کہ حضرت عیسیٰؑ باوجود اس کے کہ مدتہائے دراز سے ان کے نام کے ساتھ تمام دنیا میں شرک کیا جا رہا ہے‘ وہ کیونکر تمام عالموں کے لئے آیت اللہ ہو سکتے ہیں-
    آگے فرمایا جاتا ہے کہ حضرت زکریا کو مریم کا خبرگیر اور تربیت کنندہ کر دیا- جب ان پر زکریا محراب میں داخل ہوتے پاتے ان کے پاس رزق- کہتے کہ اے مریم کہاں سے آیا تیرے پاس یہ رزق؟ تو مریم کہتیں کہ یہ اللہ کے پاس سے آیا ہے- تحقیق اللہ رزق دیتا ہے جس کو چاہے بے حساب-
    فائدہ-: پس وہاں پر حضرت مریم حضرت زکریا کی کفالت میں کی گئیں- یہاں پر یہ مریم یعنی غلام|احمد آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی کفالت تربیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کئے گئے~}~
    دگر استاد را نامے ندانم
    کہ خواندم در دبستان محمد
    فتبارک من علم و تعلم- وہاں تو حسب روایات مفسرین کے غیر موسم کے میوہ جات ہی آتے تھے یہاں پر علاوہ ان میوہ جات غیر موسمی کے میوہ جات غذائے روحانی اور ثمرات نورانی و فرقانی جن سے تمام حقائق اور معارف اسلام کے منکشف ہوتے چلے جاتے ہیں‘ متواتر آ رہے ہیں- وہاں تو اقلام احبار میں سے صرف زکریا کا قلم فائق رہنے سے حضرت مریم ہی حضرت زکریا کی کفالت میں کی گئی تھی کہ و ما کنت لدیھم اذ یلقون اقلامھم ایھم یکفل مریم )ال عمران:۴۵‘( اور یہاں پر اس کے اقلام کے ذریعہ سے وہ کلمات اللہ‘ جن کی نسبت وارد ہے کہ و لو ان ما فی الارض من شجرۃ اقلام و البحر یمدہ من بعدہ سبعۃ ابحر ما نفدت کلمٰت اللہ )لقمان:۲۸-( کل دنیا میں سات سمندروں پار تک پہنچائے جاتے ہیں کیونکہ ظہورالقلم اس کے لئے حدیث میں موجود ہے- وہاں پر مریمؑ کے پاس اگر جسمانی رزق صرف مریمؑ کے لئے بے حساب آتا تھا یہاں پر علاوہ اس رزق جسمانی بے حساب کے رزق|روحانی و قرآنی بے حساب تمام عالم کو پہنچایا جاتا ہے کہ یاتیک من کل فج عمیق و یاتون من کل فج عمیق )براہین احمدیہ-( اب خلاصہ~ن۲~ المقال یہ ہے کہ اگر یہ مسیح موعود بنام عیسیٰؑ و باسم مریم اس آخر زمانہ میں مبعوث بنی اسرائیل میں سے نہ ہوتا تو اصطفا آل عمران کا جو بنی اسرائیل میں سے ہیں کل عالمین پر کیونکر ثابت ہوتا اور پھر اصطفا بنی اسمعیل کا جو آل ابراہیم سے ہیں اس وقت کل عالمین پر کیونکر واضح ہوتا- پس ثابت ہوا کہ اصطفا آل عمران کا حسب بیان مذکور مستلزم ہے اصطفا بنی اسمعیل و بنی اسرائیل کو- اور اصطفا دونوں کا مستلزم ہے اصطفا آل ابراہیم کا- نتیجہ یہ ہوا کہ یہ جملہ اصطفا مستلزم ہیں اصطفا محمد رسول اللہ‘ خاتم النبیین‘ رحمہ~ن۲~ للعالمین کو- و ھو المدعا~}~
    کرامت گرچہ بے نام و نشان است
    بیا بنگر ز غلمان محمد
    اللٰھم صل علیٰ محمد و علیٰ اٰل محمد کما صلیت علیٰ ابراھیم و علیٰ اٰل ابراھیم انک حمید مجید-
    ) الحکم جلد۱۰ نمبر۱۷ ۔۔۔۔ ۱۷ / مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۸ تا ۱۰ (
    * - * - * - *

    ۴ / مئی ۱۹۰۶ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خطبہ جمعہ
    تشہد و تعوذ کے بعد آپ نے سورۃ آل عمران کی حسب ذیل آیات تلاوت فرمائیں-
    الحق من ربک فلاتکن من الممترین- فمن حاجک فیہ من بعد ما جائ|ک من العلم فقل تعالوا ندع ابنائنا و ابنائکم و نسائنا و نسائکم و انفسنا و انفسکم ثم نبتھل فنجعل لعنۃ اللہ علی الکاذبین- ان ھٰذا لھو القصص الحق و ما من الٰہ الا اللہ و ان اللہ لھو العزیز الحکیم- فان تولوا فان اللہ علیم بالمفسدین- قل یٰاھل الکتاب تعالوا الیٰ کلمۃ سواء بیننا و بینکم الا نعبد الا اللہ و لانشرک بہ شیئاً و لایتخذ بعضنا بعضاً ارباباً من دون اللہ فان تولوا فقولوا اشھدوا بانا مسلمون )اٰل|عمران:۶۱تا۶۵-(
    اور پھر فرمایا -:
    پہلے بیان ہو چکا ہے کہ اس سورئہ مبارکہ کا نام آل عمران ہے- وجہ تسمیہ اس کی اس نام کے ساتھ یہی ہے کہ اس سورۃ متبرکہ میں آل عمران کا اصطفا قریب اسی آیتوں میں بیان فرمایا گیا ہے اور جو نزاع اور اختلاف درمیان اہل کتاب یہود اور نصاریٰ کے واقع تھے ان کا فیصلہ مسلمات اہل کتاب سے بدلائل بینہ کیا گیا- اور حق الامر کے دلائل دیتے ہوئے استدلال کا وہ اسلوب حسن اختیار کیا گیا ہے کہ آئندہ زمانوں میں قیامت تک جو نزاع دربارہ آل عمران یعنی حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ کے واقع ہو اس کا فیصلہ بھی انہیں دلائل مندرجہ آیات سے بخوبی ہو سکتا ہے- فالحمد للٰہ-
    ان آیات سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کی نسبت یہ وعدہ فرمایا ہے کہ تم کو صلیب کی موت سے جو بموجب حکم تورات کے *** موت ہے بچایا جاوے گا اور تمہاری موت توفی کی موت ہو گی جس میں تم کو رفع الی اللہ یعنی قرب الٰہی حاصل ہو گا اور منکرین کے الزامات بیجا سے تم کو پاک کیا جاوے گا اور تمہارے مخالفین کافرین کو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی عذاب شدید کے ساتھ معذب کیا جاوے گا اور تمہارے موافقین مومنین اور متبعین کو مانند تمہارے رفع اور فوقیت مخالفین کافرین پر عطا کی جاوے گی- جس طرح پر کہ حضرت آدم کو یہ مراتب بشری یا اصطفا کے ہماری طرف سے عنایت ہوئے تھے اسی طرح تم کو بھی حاصل ہوں گے وغیرہ وغیرہ جو اوپر کی آیات میں مفصلاً مذکور ہے- اب ان آیات میں فرمایا جاتا ہے کہ یہ سب ادلہ اور جملہ امور جو حضرت عیسیٰ ؑ کے بارہ میں مذکور کئے گئے حق اور ثابت شدہ صداقتیں ہیں تیرے رب کی طرف سے جو تیری تربیت کا ذمہ وار اور تعلیم کنہ اشیاء کا متکفل ہے- اس لئے شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا-
    سوال - انبیاء علیہم السلام کو وحی الٰہی میں کب شک ہوا کرتا ہے خصوصاً حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و سلم کو شک کیونکر ہو سکتا ہے جس کی نہی فرمائی گئی؟
    الجواب - بادشاہ کا جو خطاب سپہ سالار فوج کو امر یا نہی ہوا کرتا ہے مراد اس خطاب سے غالباً اس سپہ سالارکی فوج اور لشکر ماتحت اس کا ہوتا ہے- اسی طرح پر اگرچہ خطاب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو ہے مگر اس خطاب سے مراد آپ کی امت ہے اور ایسے خطاب میں ایک عجیب نکتہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ان امور مذکورہ میں شک کرنا مذموم اور محذور میں اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ جس شخص سے اس میں شک کرنے کا گمان بھی نہیں ہو سکتا اس کو بھی نہی فرمائی گئی چہ|جائیکہ اس شخص کے جس کو شک کرنے کے لئے شیاطین الجن و الانس سامان و اسباب شک کرنے کے مہیا کرتے رہتے ہوں- اور آنحضرت کی نسبت امکان شک کا نہ ہونا اس امر سے ظاہر ہے کہ باوجودیکہ اہل کتاب یہود و نصاریٰ اناجیل اور طالمود سے طرح طرح کی روایات اپنے اپنے مذہب کی تائید میں حضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے روبرو پیش کرتے تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو امر حق پر اس قدر یقین کامل تھا کہ آپ مباہلہ کے لئے مستعد ہو گئے- جیسا کہ اس زمانہ آخری میں بھی مسیح موعود کے مخالفین پیچھے پڑے اور تکفیر نامے لکھے اور شورقیامت برپا کر کر ان کے روبرو احادیث موضوعہ اور روایات کاذبہ اپنے مذہب کی تائید میں پیش کی گئی ہیں- مگر نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو ایک ذرہ بھر شک پیدا ہوا اور نہ مسیح موعود کو کسی طرح کا شک|وشبہ اپنے دعاوی میں پیدا ہوا- اسی لئے مسیح موعود نے بھی یہ آیت مباہلہ حسب درخواست مخالفین کے پیش کر دی ہے- اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے وقت میں بھی ایک عالم پر اس الحق من ربک کی حقیقت منکشف ہو گئی تھی اور اس زمانہ آخری میں بھی حقیقت ان دعاوی مسیح|موعود کی جو مضمون آیات ما سبق کی موید اور مبین ہیں‘ ایک عالم پر واضح ہوتی چلی جاتی ہے لہٰذا یہ آیت بسبب وقوع اپنے مضمون کے ایک نشان نبوت کا بھی ہو گئی الحمد للٰہ- اور چونکہ تفسیر کبیر وغیرہ میں اس آیت کی ترکیب میں یہ بھی لکھا ہے و قال اٰخرون الحق رفع باضمار فعل ای جائ|ک الحق اندریں صورت یہ آیت ایک صریح پیشین گوئی ہو گئی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے وقت میں بھی واقع ہوئی اور اس زمانہ آخری میں بھی بڑے زورشور سے واقع ہو رہی ہے- اس لئے یہ آیت بہمہ وجوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت کے اثبات کے لئے ایک بڑا نشان ہے-
    اب بعد اتمام حجت کے جو دلائل علمیہ سے بیان فرمائے گئے اور دلائل علمیہ کا بیان انتہا درجہ کو پہنچ گیا تب بھی مخالفین نے تسلیم نہ کیا‘ تو فرمایا جاتا ہے کہ جو شخص اس کے بعد عیسیٰ کے بارہ میں کٹ|حجتی کرتا رہے تو آخری فیصلہ یہ ہے کہ ان سے کہہ دو کہ آجائو- ہم اپنے بیٹوں کو بلاویں اور تم اپنے بیٹوں کو بلائو اور ہم اپنی عورتوں کو اور تم اپنی عورتوں کو اور ہم اپنے نفسوں کو شریک کریں اور تم اپنے نفسوں کو- پھر ہم سب مل کر تضرع اور زاری کے ساتھ دعا کریں- پس جھوٹوں پر خدا کی *** ڈالیں-
    فائدہ -: یہ قصہ مباہلہ کا نصاریٰ نجران کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو پیش آیا تھا جن میں ساٹھ سواروں کا وفد مع لاٹ پادری سید اور عاقب کے جو بڑے
    ذی رائے تھے موجود تھا- جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے مناظرہ فرما کر بخوبی ان پر اتمام حجت فرمایا تب بھی انہوں نے امر حق اور صداقت ثابت شدہ کو تسلیم نہ کیا- تب بالآخر مجبور ہو کر مباہلہ کی آیت پیش کرنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم تیار ہوئے اور اپنے اہل بیت یعنی صاحبزادی حضرت فاطمہ الزہرا اور ہر دونوں بیٹوں حسنین کو اور حضرت علی داماد کو لے کر مباہلہ کے لئے موجود ہوئے کیونکہ نصاریٰ نجران نے حضرت کا بہت پیچھا کیا تھا- آغاز سورۃ آل عمران کا قریب اسی آیتوں کے اسی مناظرہ اور مباہلہ کے بیان میں نازل ہوا ہے- یہ مناظرہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف سے ایک بڑا عظیم الشان مناظرہ واقع ہوا تھا جس کی نوبت بالآخر مباہلہ تک پہنچی تھی مگر نصاریٰ نجران اس مباہلہ سے ایسے خوف زدہ ہو گئے کہ جو ان میں بشپ اور لاٹ پادری مسمی عاقب و سیدوغیرہ موجود تھے انہوں نے اپنے ہمراہیوں سے کہا جن میں قریب ساٹھ سواروں کے بھی تھے کہ یا معشرالنصاریٰ! یہ تو وہی سچے نبی معلوم ہوتے ہیں جن کی نبوت کی خبر عہدعتیق اور عہدجدید میں موجود ہے اور جو دلائل انہوں نے پیش کئے ہیں وہ منقوض نہیں ہو
    سکتے- اندریں|صورت اگر ہم مباہلہ کریں گے تو بالضرور ہم ہلاک اور تباہ ہو جاویں گے- اگر تم کو اپنے ہی دین کی محبت ہے تو لوٹ چلو اور ان سے کچھ تعرض مت کرو اور نہ ان سے لڑو- یہ دونوں پادری بڑے ذی|رائے تھے- اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اپنے اہل بیت مذکورین سے فرما رہے تھے کہ جب میں دعا کروں تو تم آمین کہنا- اس وقت ان کے بشپ لاٹ پادری نے اپنے ہمراہیوں سے یہ بھی کہا کہ میں ان لوگوں کے چہرے ایسے دیکھتا ہوں کہ اگر یہ لوگ پنج تن کسی پہاڑ کا اپنی جگہ سے ٹلا دینا بھی اللہ تعالیٰ سے چاہیں گے تو وہ پہاڑ بھی ٹل جاوے گا- فلاتباھلوا فتھلکوا- غرضیکہ ان نصاریٰ نجران نے پھر تو نہ مباہلہ کرنا چاہا اور نہ لڑنا چاہا بلکہ بالآخر جزیہ دینا قبول کیا- سال بھر میں دو مرتبہ یعنی ماہ صفر میں ایک ہزار حلہ اور ماہ رجب میں ایک ہزار حلہ اور خالص لوہے کی عمدہ تیس ذرہ- اگرچہ اس قوم نصاریٰ نجران سے مباہلہ واقع نہیں ہوا مگر یہ واقعہ جو اس آیت اور احادیث میں مذکور ہے آپ کی حقیت نبوت کے لئے مفسرین ایک بڑی دلیل|مثبت لکھتے ہیں- روایات میں یہ بھی واقعہ ہوا ہے کہ حضرت نے فرمایا کہ اہل|نجران|نصاریٰ سے عذاب بہت قریب ہو گیا تھا- اگر وہ مباہلہ کرتے تو ان پر عذاب نازل ہو جاتا- و لما حال الحول علی النصاریٰ کلھم حتیٰ یھلکوا )بخاری کتاب مناقب انصار-(
    اور یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود جو حضرات عیسائیوں کو مدت دراز سے اسلام کی طرف دعوت کر رہے ہیں لیکن کوئی عیسائی صاحب خواہ بشپ ہو یا لاٹ پادری اس میدان لق و دق میں قدم رکھنا نہیں چاہتے کیونکہ جانتے ہیں کہ ہم اہل اسلام کے مقابلہ مباہلہ میں ہرگز ہرگز کامیاب نہ ہوویں گے اور اللہ|تعالیٰ کی طرف سے ہمارے مذہب کی پردہ دری ہو جاوے گی- مگر اس امتناع کے لئے ایک عذر بارد یہ بنا لیا ہے کہ ہمارے مذہب میں مباہلہ جائز نہیں ہے- ہاں یہ فیصلہ الٰہی ہے اور وہ صادق و کاذب کو خوب جانتا ہے اور خود آپ بڑا زبردست عزیز و حکیم اور علیم بالمفسدین ہے- وہ تو فیصلہ صادق ہی کے حق میں کرے گا نہ کاذب کے حق میں- جیساکہ اس نے ان آیات مباہلہ کے آگے ان صفات کا ذکر اسی لئے فرمایا ہے-
    سوال -: اگر کہا جاوے کہ بعض کفار نے تو خود چاہا تھا کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اپنے دعاوی میں حق پر ہیں تو ہم مکذبین پر یااللہ! عذاب نازل فرما‘ تب بھی کوئی عذاب نازل نہیں ہوا تو پھر مباہلہ پر کیونکر عذاب نازل ہوتا- کما قال اللہ تعالیٰ حکایتاً عنھم اللھم ان کان ھٰذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء او ائتنا بعذاب الیم- و ما کان اللہ لیعذبھم و انت فیھم و ما کان اللہ معذبھم و ھم یستغفرون )انفال:۳۳‘۳۴-( پس ان دونوں آیتوں میں توفیق کیا ہو گی؟
    الجواب -: آیات مباہلہ اور ان آیات مندرجہ میں کچھ بھی منافات نہیں ہے کیونکہ ان آیات میں ایک خاص عذاب کے نزول کے لئے دعا کی گئی تھی یعنی آسمان سے مثل بارش کے پتھروں کا برسنا جس سے عام ہلاکت بلکہ استیصال عام متصور ہے- دوسرا عذاب اس عذاب سے بھی زیادہ تر مولم مانگا تھا- سو قدیم سے اللہ تعالیٰ کی یہ سنت نہیں ہے کہ قبل قیامت ایسے عذاب دنیا میں فوری نازل فرمادیوے کیونکہ ایسے عذابوں کے انزال میں خواہ کفار کی درخواست سے ہوویں یا کسی فرضاً مامور من اللہ کی دعا سے ہوویں ایمان بالغیب کی حکمت باقی نہیں رہ سکتی اور مع ہٰذا ایسے عذاب کے انزال سے اجبار اور اکراہ اور الجا لازم آتا ہے جو دین اسلام میں ہرگز موجود نہیں ہے لا اکراہ فی الدین )البقرۃ:۲۵۷-( ہاں کسی کاذب پر *** کا پڑنا جس سے ذلت یا رسوائی ہو اور ایمان بالغیب کی حکمت تلف نہ ہووے اور اکراہ والجا بھی لازم نہ آوے‘ ہوا کرتا ہے- چنانچہ مخالفین انبیاء پر ایسے عذاب ذلت واقع ہوتے رہے ہیں اور ہوویں گے- حتیٰ کہ کاذب کی موت بھی مباہلہ میں شرط نہیں ہے کیونکہ منشا اہل مباہلہ کا صرف کاذب پر وقوع *** کا ہے خواہ کسی طرح سے ہو- یہ اس علیم و خبیر کے اختیار میں ہے کہ بقدر تکذیب و تشددمخالفین کے وہ *** کسی عذاب مہلک سے ہی واقع ہو- موت ہو یا قتل وغیرہ- پس ایک خاص عذاب|کذائی کی نفی اور *** الٰہی کے ثبوت میں کوئی منافات نہیں ہے کیونکہ ایمان بالغیب کی حکمت کے مانع نہیں اور اجبار بھی اس میں نہیں ہو سکتا- چنانچہ سرداران مکہ میں سے ایک شخص مسمی نضربن حارث تھا اور نیز ابوجہل جس نے یہ دعا کی تھی کہ nsk] ga[t اللٰھم ان کان ھٰذا ھو الحق )انفال:۳۳-( تو دیکھو جنگ|بدر میں ابوجہل تو عذاب قتل میں مبتلا ہوا بسبب اپنے تشدد کے اور نضر بن حارث باوجودیکہ قیدیوں میں قید ہو کر آیا تھا- دوسرے قیدی تو فدیہ لے کر چھوڑ دئے گئے تھے مگر نضربن حارث بایں وجہ قتل کیا گیا کہ قرآن مجید کی شان میں بڑی بڑی گستاخیاں کیا کرتا تھا اور سخت معاند تھا- تو یہ دونوں منجملہ ستر مقتولوں کے عذاب قتل میں اس لئے مبتلا ہوئے کہ یہ بھی اہل اسلام کے قتل کے درپے تھے ورنہ مباہلہ میں کاذب کا قتل ہو جانا‘ مر جانا شرط نہیں- صرف وقوع *** الٰہی کا ہی ہو خواہ کسی طرح ہو- اور عذاب|قتل جو بموجب پیشین گوئی ملہم ربانی کے واقع ہو جس میں دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کا قتل کرنا بطور ذب کے چاہتا ہے ایسا عذاب نہیں ہے جس میں ایمان بالغیب کی حکمت باقی نہ رہتی ہو یا اجبار لازم آوے- الحاصل‘ مباہلہ میں کاذب پر *** کا وقوع ضروری ہے خواہ کسی رنگ میں ہو- مباہلہ میں ایسا عذاب جس میں مثل بارش کے آسمان سے پتھر برسنے لگیں یا اس سے بھی زیادہ مولم ہو جس میں کوئی متنفس نہ بچ سکے نازل نہیں ہوتا کہ سنت اللہ کے خلاف ہے- اسی لئے ان دونوں آیتوں کے آگے ہی دوسرے عذابوں کے ثبوت کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ و مالھم ان لایعذبھم اللہ و ھم یصدون عن المسجد الحرام )انفال:۳۵( یعنی اور کیا ہے واسطے ان کے کہ نہ عذاب کرے گا ان کو اللہ اور وہ روکتے ہیں مسجدحرام سے- اور پھر اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے جو یہ قید لگائی کہ و انت فیھم وہ بھی ایسے ہی عذاب|کذائی کے عدم نزول کی طرف اشارہ کر رہی ہے یعنی جبکہ ایسا عذاب نازل ہووے گا تو پھر اس کا اثر تم کو بھی پہنچے گا- لہذا ایسے عذاب کا نازل کرنا ہماری سنت قدیمہ کے خلاف ہے-
    اس آیت مباہلہ کی مناسبت ساتھ زمانہ مسیح موعود کے عجیب و غریب اسلوب سے واقع ہوئی ہے- نبی|کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے وقت میں بھی یہ مباہلہ حضرت عیسیٰ ہی کے بارہ میں واقع ہوا- رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے وقت میں بعد اتمام|حجت اور اتمام مناظرات کے یہ مباہلہ واقع ہوا تھا- یہاں پر بھی بعد مناظرات اور تمام حجت کے واقع ہوا- نصاریٰ نجران کے خوف زدہ ہو کر مباہلہ پر آمادہ نہ ہوئے‘ یہاں پر بھیاوائل میں شیخ الکل معہ اپنی جماعت کے مباہلہ نہ کر سکے بلکہ مولوی محمد حسین صاحب بھی مباہلہ پر مستعد نہ ہو سکے- اور اگرچہ آیت ہذا مباہلہ کی نصرانیان نجران کے حق میں وارد ہوئی تھی مگر دیگر اقوام قریش مثل ابوجہل وغیرہ سے بھی آپ کا مباہلہ واقع ہوا- دیکھو کتب سیر کو- اسی طرح پر مسیح موعود کا مباہلہ بھی علاوہ طرفداران عیسیٰؑ کے دیگر اقوام سے بھی حسب درخواست مخالفین کے واقع ہوا ہے جیسا کہ لیکھرام وغیرہ- اور جنہوں نے خود درخواست کر کر مباہلہ کیا وہ بقدر اپنے اپنے تشدد اور سختی کے *** الٰہی میں مبتلا ہوئے‘ خواہ ذلت و رسوائی ہو یا ہلاکت ہو-
    جس طرح پر مفسرین نے اس مباہلہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت کا اثبات کیا ہے اسی طرح پر ان مباہلوں سے مسیح موعود کے دعاوی کا اثبات ہوا کیونکہ نتیجہ ان مباہلوں کا حسب دعاوی مسیح|موعود کے واقع ہوا و الحمد للہ- اور اگر کوئی مخالف ان مباہلوں کو بعد وقوع نتائج کے بھی نہ مانے تو وہ بتاوے کہ پھر صادق اور کاذب میں کیا مابہ الامتیاز رہے گا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ثبوتوں میں سے ایک بڑا ثبوت‘ جس کو قرآن مجید میں بڑی عظمت شان سے بیان فرمایا گیا ہے‘ ضائع ہو جاوے گا بلکہ چند آیات کریمہ قرآن مجید کی متعلق مباہلہ کے‘ نعوذ باللہ‘ لغو ہو جاویں گی و تعالیٰ شان کلامہ تعالیٰ عن ذٰلک علواً کبیراً- اور ناظرین کو خوب معلوم رہے کہ ان مباہلوں کا نتیجہ یا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے وقت میں واقع ہوا تھا یا بعثت مسیح موعود کے زمانہ میں ہوا ہے- اس تیرہ سو برس میں کسی مجدد کے وقت میں ایسے مباہلات واقع نہیں ہوئے اور نہ اس کے نتائج- پس ان آیات کا نشانات واسطے نبوت خاتم النبیین کے ہونا بھی ثابت ہوا ثم الحمد للٰہ-
    اب فرمایا جاتا ہے کہ جو دلائل اور مضامین اوپر مذکور ہوئے‘ وہی اخبار اور قﷺ حقہ ہیں جو پے در پے بیان کئے گئے ہیں- اور سوائے اللہ کے اور کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک اللہ ہی البتہ زبردست اور حکمت والا ہے- حال میں چراغ دین جموں پر بموجب پیشین گوئیمندرجہ ’’دافع البلا‘‘ کے اس ابنا اور سنا یعنی دختر اور خود اس کے نفس پر پورا اثر واقع ہوا اور کوئی کلمہ آیت مباہلہ کا خالی نہ گیا- فائدہ ذکر کرنے صفت عزیز و حکیم کا یہ ہے کہ جو روایات اسرائیلی یا اکاذیب مخالف علم الٰہی ہیں‘ وہ محض غلط ہیں اور عیسیٰؑ میں کوئی صفت یا صفات مختصہ الٰہیہ میں سے موجود نہیں تھے کیونکہ پھر تو اللہ تعالیٰ کی عزت اور عزیز ہونے میں فرق آ جاوے گا اور شان عیسوی‘ حضرت ابوالبشر اور خاتم النبیین سے بھی بڑھ جاوے گی جو خلاف مقتضائے|حکمت اس حکیم برحق کے ہے- اب باوجود اس قدر اتمام حجت کے جس کی نوبت مباہلہ تک پہنچ گئی ہے اگر اب بھی اس حق کے قبول کرنے سے وہ لوگ اعراض کریں تو سمجھ لو کہ ان کی نیتوں میں فساد ہے- دوسروں کے عقائد حقہ کو بھی فاسد کونا چاہتے ہیں- اندریں صورت اللہ سے بھاگ کر کہاں جا سکتے ہیں کیونکہ مفسدوں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے یعنی ان کے فسادوں کی ضرور سزا دیوے گا- چنانچہ وہ سزا مفسدین کے لئے دنیا میں بھی واقع ہوئی جو نشان نبوت صادقہ کا ہے- اب چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ایمان لانے پر کمال درجہ کے حریص تھے باوجودیکہ تمام مدارج تبلیغ اور مناظرات کے مباہلہ تک ختم فرما چکے تھے تو بھی ان کی تبلیغ یا فہمایش و ہدایت نہ کرنا آپ کا قلب|مبارک گوارا نہ کر سکتا تھا- اس لئے اللہ تعالیٰ حسب خواہش آپ کے جو علیم بسرائر الضمائر ہے‘ ایک دوسرا طریق تبلیغ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو ارشاد فرماتا ہے کہ اگر تم مباہلہ پر بھی آمادہ نہیں ہوتے تو اے اہل کتاب! آئو ایسی بات کی طرف رجوع کرو جو ہمارے تمہارے درمیان میں برابر مسلم ہے- ایک تو یہ کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں- دوسرے یہ کہ کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہراویں- تیسرے یہ کہ خدا کے سوا بعض ہمارا بعض کو رب نہ قرار دیوے- پس اگر ایسی سیدھی سچی بات فریقین کی متفق علیہ سے بھی روگردانی کرو تو اے مسلمانو! تم کہہ دو کہ تم تو بالضرور دین اسلام سے جو دین اللہ ہے خارج ہو گئے- گواہ رہو کہ ہم تو مسلمان فرمانبردار ہیں تاکہ یہ گواہی تمہاری باعث ہماری نجات کا اور موجب تمہاری ہلاکت کا ہو جاوے- چنانچہ مسلمون بالآخر کامیاب ہو گئے اور یہ آیت بھی ایک نشان کامل نبوت کا ہو گئی-
    ان آیات میں بتدریج تمام عجیب طرح سے ارشاد و ہدایت میں مبالغہ فرمایا گیا ہے- اولاً حضرت عیسیٰؑ کے حالات اور جو ان پر واردات واقع ہوئی تھی ان کو بیان فرمایا کیونکہ وہ تمام حالات منافی الوہیت کے ہیں- اور پھر توحید اسلامی پر دلائل قاطعہ بیان فرمائے گئے- لیکن طرف مخالف سے بجز عناد کے تسلیم|وانقیاد کا کہیں نشان نہ پایا گیا- تب مباہلہ کی نوبت پہنچی لیکن انہوں نے مباہلہ سے بھی عاجز ہو کر جزیہ دینا قبول کیا- پھر بالآخر ایسے تین امور کی طرف دعوت کی گئی ہے کہ وہ تینوں امر متفق علیہ فریقین کے ہیں- تاہم ایسے مفید ہیں کہ اگر وہ تینوں امر قبول کر لئے جاویں تو تمام نزاعات رفع ہو سکتے ہیں- امر اول یہ ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی غیر اللہ کی عبادت نہ کی جاوے جس کی طرف تورات|واناجیل اور قرآن|مجید بالاتفاق ہدایت فرما رہے ہیں- یہ ایک ایسا امر ہے کہ اگر اس کو بصدق دل قبول کر لیا جاوے تو تمام اختلافات بیرونی و اندرونی کا اس سے فیصلہ ہوا جاتا ہے-
    دوسرا امر یہ ہے کہ اللہ کی ذات‘ صفات اور افعال میں غیر اللہ کو شریک نہ کیا جاوے- یہ امر دوم بھی ایسا ایک کلیہ ہے کہ تمام جھگڑوں کا فیصلہ کرتا ہے اور چونکہ یہ تمام شرکیہ عقائد یا اعمال و اقوال بدعیہ جو دنیا میں جاری ہیں‘ ان کا بڑا سبب یہ ہے کہ اقوال علماء کے جو بدعیہ ہیں اور افعال احبار کے جو شرکیہ ہیں‘ ان کے ساتھ تمسک کیا جاتا ہے‘ جس سے ایک خلقت گمراہ ہو گئی ہے لہذا تیسرا امر فیصلہ کن یہ ہے کہ علماء اور احبار کو اپنا رب نہ قرار دیا جاوے- اس طرح پر کہ ان کے اقوال اور اعمال اور روایات کا ذبہ کے تقلید واجب سمجھی جاوے- کیونکہ علماء اور احبار کے اقوال یا اعمال کی تقلید واجب سمجھنا بموجب|حدیث ذیل عدی بن حاتم کے ان کو اپنا رب قرار دینا ہے- تفسیر ابو السعود وغیرہ تفاسیر اور کتب|احادیث میں یہ حدیث لکھی ہوئی ہے کہ لما نزلت اتخذوا احبارھم و رھبانھم ارباباً من دون اللہ قال عدی بن حاتم ما کنا نعبدھم یا رسول اللہ فقال علیہ السلام الیس کانوا یحلون لکم و یحرمون فتاخذون بقولھم قال نعم قال علیہ السلام ھو ذاک سبحان اللہ- یہ تینوں کلیے جو ان آیات میں مذکور ہوئے ہیں‘ اگر کوئی انسان ان تینوں کو اپنا متمسک گردان کر دستور العمل اپنا قرار دے لیوے تو تمام بدعات اور عقائد باطلہ شرکیہ اور اعمال بدعیہ سے نجات پا کر صراط مستقیم پر لگ جاوے- اس مسیح موعود کے جو مخالفین ہیں‘ انہوں نے بھی ان کلیات سہ گانہ پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے- اس لئے فی کل واد یھیمون )الشعرائ:۲۲۶( کے مصداق ہو رہے ہیں اور لطف یہ ہے کہ مسیح موعود کی دعوت اور تبلیغ بھی اسی ترتیب سے واقع ہوئی ہے جو سورۃ آل عمران میں واقع ہوئی ہے اور یہ بھی ایک ثبوت ہے اس کے مریم اور عیسیٰ موعود ہونے کا کیونکہ مریم اور عیسیٰ آل عمران سے تھے‘ ان کی نسبت اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ و جعلناھا و ابنھا ایٰۃ للعالمین )الانبیائ:۹۲-( لیکن ظاہر ہے کہ یہ پیشین گوئی مندرجہ آیت کی کہ تمام عوالم کے لئے ان دونوں کا وجود ایک نشان ہو جاوے گا‘ پہلے زمانہ میں تو واقع نہیں ہوئی- اول تو ان دونوں کو یہود نے تہمت ناجائز کے ساتھ متہم کیا اور نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ کو تین روز تک ملعون قرار دیا- پھر تمام عالم میں ان کے بارہ میں شرک شائع ہو گیا حتیٰ کہ وہی شرک اہل اسلام میں بھی سرایت کر گیا- پھر وہ دونوں تمام عالموں کے لئے نشان الٰہی کیونکر ہو گئے- مگر علم الٰہی میں ضروری تھا کہ تمام عالموں کے لئے یہ ایک نشان ہو جاویں گے لہذا حسب وعدہ الٰہی ان کے نام کے ساتھ نامزد ہو کر امت|محمدیہ میں سے ایک ایسا مجدد عظیم الشان آیات و نشانات کے ساتھ مبعوث فرمایا گیا کہ ان کے نام کو تمام دنیا میںاور ان کی عظمت اور کرامت کو مع توحید الٰہی اور تکریم|حضرت رسالت پناہی کے روشن کر رہا ہے- صدق اللہ تعالیٰ و جعلناھا و ابنھا ایٰۃ للعٰلمین- اور یہی سر ہے اس آخر زمانہ پرفتن میں ایک مجدد کے مبعوث ہونے کا بنام عیسیٰؑ بن مریم- ورنہ مخالفین ہم کو اس آیت کے معنی بتاویں کہ حضرت مریم اور عیسیٰؑ تمام عالموں کے لئے کیونکر آیت اللہ ہو سکتے ہیں- مگر ان کی قطعیت|وفات ملحوظ رہے-
    ) الحکم جلد۱۰ نمبر ۱۶ ۔۔۔ ۱۰ / مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۹ تا ۱۱ (
    * ۔ * ۔ * ۔ *
    ‏KH1.20
    خطبات|نور خطبات|نور
    ۱۱ / مئی ۱۹۰۶
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خطبہ جمعہ
    تشہد و تعوذ کے بعد آپ نے سورۃ الاعراف کی حسب ذیل آیات تلاوت فرمائیں-
    و اتل علیھم نبا الذی اٰتینٰہ ایٰٰتنا فانسلخ منھا فاتبعہ الشیطٰن فکان من الغٰوین- و لو شئنا لرفعنٰہ بھا و لٰکنہ اخلد الی الارض و اتبع ھویٰہ- فمثلہ کمثل الکلب ان تحمل علیہ یلھث او تترکہ یلھث ذٰلک مثل القوم الذین کذبوا بایٰٰتنا فاقصص القصص لعلھم یتفکرون- ساء مثلان القوم الذین کذبوا بایٰٰتنا و انفسھم کانوا یظلمون- من یھد اللہ فھو المھتدی و من یضلل فاولٰئک ھم الخٰسرون- )الاعراف:۱۷۶تا۱۷۹(
    اور پھر فرمایا-:
    واضح ہو کہ تکذیب کے دو درجے ہیں- اول درجہ تکذیب کا تو یہ ہی ہے کہ انسان اپنی فطرت صحیحہ کو کھو بیٹھے جو عطیہ الٰہی ہے اور اس کو محض بیکار کر دیوے کیونکہ ہر ایک انسان ذوالعقل کی بناوٹ اللہ|تعالیٰ نے ایسی بنائی ہے کہ بغیر پہنچنے رسولوں کی رسالت کے بحکم کل مولود یولد علی الفطرۃ )بخاری- کتاب الجنائز( کے اللہ تعالیٰ کی توحید اور ربوبیت خالصہ کو سمجھ سکتا ہے- ورنہ اس کی کیا وجہ کہ فونوگراف کا بنانیوالا یہ تو یقیناً جانتا ہے کہ بغیر کاریگر کے فونوگراف خود بخود نہیں بن سکتا‘ پھر یہ کیوں|کر ہو سکتا ہے کہ