1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

خطبات ناصر ۔ حضرت مرزا ناصر احمد رح ۔ جلد 2

'یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 25, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    خطبات ناصر ۔ حضرت مرزا ناصر احمد رح ۔ جلد 2


    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جن مقاصد کیلئے یہ جلسہ مقرر فرمایا ہے انہیں پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے
    (خطبہ جمعہ فرمودہ ۵ ؍جنوری ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ ربوہ )
    ء ء ء
    ٭ جلسہ سالانہ میں شمولیت کے آٹھ روحانی فوائد کا تذکرہ۔
    ٭ خلوص نیت کے ساتھ جلسہ سالانہ میں شمولیت اختیار کرنی چاہئے۔
    ٭ محض للہ ربّانی باتیں سننے کیلئے جلسہ سالانہ میں شرکت کریں۔
    ٭ ربوہ میں بسنے والوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ اِن دنوں میں صفائی کا خاص خیال رکھیں۔
    ٭ اہل ربوہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کی مہمان نوازی کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔




    تشہد تعوذ اور سورئہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    ہمارا سالانہ جلسہ ہزاروں برکتیں اپنے دامن میں لئے آ گیا ہے۔ یہ اجتماع جماعت پر بہت سی ذمہ داریاں عائد کرتا ہے۔
    پہلی تو یہ کہ خلوص نیت کے ساتھ اس اجتماع میں شمولیت اختیار کرنی چاہئے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا ہے اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ کہ عمل صالح کے لئے یہ ضروری ہے کہ نیت بھی خالص ہو اور اس میں کسی قسم کا فساد نہ ہو۔ اگر بدنیتی سے اور فساد کی غرض سے ایسا کام کیا جائے جو بظاہر دنیا کی نگاہ میں عمل صالح ہو تو وہ عمل اللہ کی نگاہ میں عمل صالح نہیں ہوتا۔ پس اس جلسہ میں شرکت کے لئے اور اس کی برکات سے فائدہ اُٹھانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہماری نیتیں پاک ہوں اور ان میں کسی قسم کا کوئی فساد نہ ہو۔
    کس نیت کے ساتھ اس جلسہ میں شمولیت اختیار کرنی چاہئے؟ اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔
    ’’دوستوں کو محض للہ ربانی باتوں کے سننے کے لئے اور دعا میں شریک ہونے کے لئے اس تاریخ پر آ جانا چاہئے (جلسہ کی تاریخ پر) اور اس جلسہ میں ایسے حقائق اور معارف کے سنانے کا شغل رہے گا جو ایمان اور یقین اور معرفت کو ترقی دینے کے لئے ضروری ہیں اور نیز ان دوستوں کے لئے خاص دعائیں اور خاص توجہ ہو گی اور حتی الوسع بدرگاہ ارحم الراحمین کوشش کی جائے گی کہ خدائے تعالیٰاپنی طرف ان کو کھینچے اور اپنے لئے قبول کرے اور پاک تبدیلی ان میں بخشے اور ایک عارضی فائدہ ان جلسوں میں یہ بھی ہو گا کہ ہر یک نئے سال جس قدر نئے بھائی اس جماعت میں داخل ہوں گے وہ تاریخ مقررہ پر حاضر ہو کر اپنے پہلے بھائیوں کے منہ دیکھ لیں گے اور روشناسی ہو کر آپس میں رشتہئِ تودّد و تعارف ترقی پذیر ہوتا رہے گا اور جو بھائی اس عرصہ میں اس سرائے فانی سے انتقال کر جائے گا اس جلسہ میں اس کے لئے دعائے مغفرت کی جائے گی اور تمام بھائیوں کو روحانی طور پر ایک کرنے کے لئے اور ان کی خشکی اور اجنبیت اور نفاق کو درمیان سے اٹھا دینے کے لئے بدرگاہ حضرت عزت جَلَّ شانُہٗکوشش کی جائے گی اور اس روحانی جلسہ میں اور بھی کئی روحانی فوائد اور منافع ہوں گے۔ جو انشاء اللہ القدیر وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتے رہیں گے‘‘۔
    (اشتہار مشمولہ آسمانی فیصلہ ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۳۵۲)
    اسی طرح آپ نے فرمایا:۔
    ’’سو لازم ہے کہ اس جلسہ پر جو کئی بابرکت مصالح پر مشتمل ہے، ہر ایک ایسے صاحب ضرور تشریف لاویں جو زاد راہ کی استطاعت رکھتے ہوں… اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی راہ میں ادنے ادنے ہر جوں کی پرواہ نہ کریں۔ خداتعالیٰ مخلصوں کو ہر ایک قدم پر ثواب دیتا ہے اور اس کی راہ میں کوئی محنت اور صعوبت ضائع نہیں ہوتی اور مکرر لکھا جاتا ہے کہ اس جلسہ کو معمولی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلائے کلمہ اسلام پر بنیاد ہے۔ اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خداتعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کے لئے قومیں طیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آ ملیں گی کیونکہ یہ اس قادر کا فعل ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں‘‘۔
    (اشتہار ۷؍ دسمبر ۱۸۹۲ء۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ۳۴۰)
    یہ دو اقتباسات جو اس وقت میں نے آپ دوستوں کو سنائے ہیں۔ ان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مندرجہ ذیل باتوں کا ذکر کیا ہے۔
    (۱) ایک یہ کہ یہ جلسہ معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں جس طرح میلے ہوتے ہیں دوسرے اجتماع ہوتے ہیں۔ اس قسم کا یہ جلسہ نہیں ہے اس لئے جو غرض اس جلسہ کے انعقاد کی ہے اس سے کبھی غافل نہ رہیں اور اس کے حصول کے لئے حتی الوسع انتہائی کوشش کرتے رہیں۔ پس یہ معمولی جلسہ نہیں ہے۔ یہ تو ایک روحانی اجتماع ہے اور اس روحانی اجتماع میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو روحانی فضا پیدا ہوتی ہے۔ ایک تو اس میں کسی قسم کا انتشار پیدا نہیں ہونا چاہئے اس سے بچتے رہنا چاہئے اور دوسرے اس روحانی فضا سے جس قدر برکات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں انہیں حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
    (۲) دوسری بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ بیان فرمائی ہے کہ دوست محض للہ ربّانی باتوں کو سننے کے لئے شرکت کریں اس چھوٹے سے فقرہ میں بڑی حکمت کی بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیان کی ہے اور وہ یہ کہ جلسہ میں شمولیت کی غرض یہ نہ ہو کہ فلاں کی یا فلاں کی باتیں سننی ہیں۔ غرض یہ ہو کہ ہم نے ربّانی باتیں سننے کے لئے یہاں جمع ہونا ہے۔
    تو جہاں تک افراد اور انسانوں کا تعلق تھا۔ ان کو ہمارے ذہنوں سے اس فقرہ نے محو کر دیا اور صرف یہ بات حاضر رہی کہ ہم نے خدا کے لئے جمع ہونا ہے۔ تاہم خدا کی باتیں اس اجتماع میں سنیں خواہ وہ کسی منہ سے نکلیں اس سے یہ ذمہ داری بھی ہم پر عائد ہوتی ہے کہ جو دوست جلسہ میں شمولیت کے لئے باہر سے تشریف لائیں یا وہ مقامی دوست جو جلسہ میں کسی کام پر کسی فرض کو ادا نہ کر رہے ہوں وہ اپنا وقت ضائع نہ کریں بلکہ تقاریر کے پروگرام میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیں اور یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ جلسہ گاہ میں نہایت خاموشی کے ساتھ بیٹھیں اور نہایت غور کے ساتھ تقاریر کو سنیں تاکہ وہ ربانی باتیں دل اور دماغ میں اُتر جائیں جو اس پروگرام کے ماتحت اس جلسہ میں بیان کی جائیں۔ بعض دوست اپنی غفلت یا لاپرواہی کی وجہ سے جلسہ کی تقاریر کے پروگرام میں پوری توجہ سے اور شوق سے شامل نہیں ہوتے بلکہ ایک حصہ اِدھر اُدھر ضائع کر دیتے ہیں۔ سارے وقت کے پروگرام میں شامل نہیں رہتے۔ سوائے ضروری حاجت کے جس کے لئے انسان کو بہرحال اٹھنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی ایک منٹ بھی ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ ہم جلسہ گاہ میں نہ گذاریں۔ مجھے علم ہے کہ بعض دوست پروگرام دیکھ کر یہ فیصلہ کرتے ہیں اپنے دل میں کہ فلاں کی تقریر ہم نے ضرور سننی ہے اور فلاں کی ہم نے ضرور سننی ہے۔ چار پانچ تقاریر کے متعلق وہ فیصلہ کر لیتے ہیں اور باقی تقاریر میں کسی دلچسپی کا اظہار نہیں کرتے حالانکہ ان کو بلایا یہ کہہ کر گیا تھا کہ ربانی باتیں سننے کے لئے یہاں جمع ہوں لیکن وہ ربانی باتوں کو اہمیت دینے کی بجائے ان ربانی باتوں کو اہمیت دیتے ہیں جو کسی خاص آدمی کی زبان سے نکلیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آپ کو اس لئے جمع نہیں کیااگر آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (کی آواز) پر لبیک کہتے ہوئے جمع ہوتے ہیں تو آپ کے لئے ضروری ہے کہ آپ ان شرائط کی پابندی کریں جو شرائط حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آپ پر عائد کی ہیں اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو بہت سی برکات سے محروم ہو جائیں گے۔
    (۳) تیسری بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بیان فرمائی کہ اس اجتماع میں اجتماعی اور انفرادی دعائوں کے بہت سے مواقع ملتے ہیں۔ ان دعائوں میں شریک ہونے اور ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کی نیت سے اس اجتماع میں شامل ہونا چاہئے۔ اس لئے جو یہاں آتے ہیں اور جو یہاں رہتے ہیں اور خدمت پر اس وقت لگے ہوئے نہیں ہوتے۔ ان کا یہ فرض ہے کہ وہ ان دعائوں کے مواقع کو ضائع نہ کریں افتتاحی دعا جلسہ کے ایام میں تو افتتاح کے موقعہ پر ہوتی ہے پھر جلسہ جب ختم ہوتا ہے اس وقت ہوتی ہے اس کے علاوہ بھی بعض دفعہ ایسے مواقع میسر آ جاتے ہیں جب اجتماعی دعا کی جاتی ہے۔ ایک حصہ زائرین کا اور کچھ یہاں رہنے والوں کا بھی صبح تہجد کے وقت اکٹھے نوافل ادا کرکے اجتماعی دعا کا موقعہ حاصل کرتے ہیں یہ ایسا موقعہ تونہیں جس کے متعلق میں کہوں کہ سب اس میں شامل ہوں کیونکہ سب کی شمولیت کا انتظام نہیں ہو سکتا یہ مسجد بھی چھوٹی سی ہے۔
    بہرحال جن دوستوں کو اللہ تعالیٰ توفیق عطا کرے اور وہ اس میں شامل ہو سکیں انہیں اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانا چاہئے۔
    انفرادی طور پر بھی ہر وقت دعا کرتے رہنا چاہئے خاص توجہ اور انہماک کے ساتھ زیادہ تر ان ایّام کے سب اوقات دعائوں سے معمور ہونے چاہئیں۔ کوئی لمحہ ایسا بھی نہیں ہونا چاہئے ان ایام میں جو دعا سے خالی اور اللہ تعالیٰ کی برکت سے خالی ہو۔
    (۴) چوتھی بات جماعت کو مخاطب کرکے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فرمائی کہ اس جلسہ میں شمولیت کے لئے کچھ نہ کچھ تو دنیوی حرج کرنا پڑتے ہیں یہ تو نہیں ہو سکتا کہ کسی قسم کا کوئی حرج بھی آپ نہ کریں اور پھر اس میں شامل ہو جائیں۔ باہر سے آنے والے پیسہ خرچ کرتے ہیں اپنی رخصتیں خرچ کرتے ہیں اپنی تجارتوں کو چھوڑ کے اس جلسہ کی برکات میں حصہ لینے کے لئے اس میں جمع ہوتے ہیں جو یہاں کے رہنے والے ہیں وہ جلسہ کے لئے اپنے چوبیس گھنٹے وقف کرتے ہیں (قریباً سارے) لیکن جو نہیں کرتے انہیں اس خیال سے ترساں رہنا چاہئے کہ کہیں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو وہ مول نہ لینے والے ہوں۔
    پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہاں یہ فرمایا کہ کچھ نہ کچھ تمہیں حرج تو کرنا پڑے گا کچھ تکلیف اُٹھانی پڑے گئی۔ کچھ مال خرچ کرنا پڑے گا کچھ عادتوں کو چھوڑنا پڑے گا۔ لیکن خدا کے لئے اور ربّانی باتوں کو سننے کے لئے تمہیں ادنیٰ ادنیٰ حرجوں کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے بڑے مخلص امیر اور بڑے مخلص غریب اس جلسہ میں شامل ہوتے ہیں۔ مجھے خود ذاتی طور پر ایسے دوستوں کا علم ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے دنیوی اموال بھی کثرت سے دئیے ہیں لیکن جلسہ کے ایام میں ان کے سارے خاندان کو ایک غسل خانہ مل جائے جس میں پرالی بچھی ہو تو ان کے دل خدا کی حمد سے بھر جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی رہائش کا سامان پیدا کر دیا ہے اور یہ ایسی مثالیں ہیں کہ غیر تو ان کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ وہ خیال کریں گے کہ شاید یونہی باتیں بنا رہے ہیں لیکن جلسہ پر آئیں اور دیکھیں تو ان کو پتہ لگے کہ کس خالص نیت اور کس پاک دل کے ساتھ یہ لوگ اس جلسہ میں شرکت کرتے ہیں۔
    تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس فرمان کو سامنے رکھتے ہوئے اگر باہر کی جماعتوں تک میری آواز پہنچ جائے یا جن کو پہلے بھی اس بات کا علم ہو یا یاددہانی کرائی گئی ہو وہ ادنیٰ ادنیٰ حرجوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ تعداد میں اس جلسہ میں شامل ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہش کو پورا کریں اور اپنے لئے برکات کے سامان پیدا کر لیں۔
    (۵) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان اقتباسات میں پانچویں بات ہمیں یہ بتائی ہے کہ عارضی فائدہ اس جلسہ سالانہ کا یہ بھی ہے کہ باہمی ملاقات کے مواقع میسر آتے ہیں۔ چاروں طرف سے (صرف ہمارے ملک کے چاروں اطراف سے ہی نہیں بلکہ دنیا کی چاروں اطراف سے) لوگ یہاں جمع ہوتے ہیں کہیں سے کم کہیں سے زیادہ تو مواقع میسر آتے ہیں اس بات کے کہ آپس میں ملیں تبادلہ خیال کریں محبت و پیار کا اظہار کریں اور ہم اخوت و محبت کے جو جذبات ایک دوسرے کے لئے اپنے دل میں رکھتے ہیں ان میں زیادتی ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے ہم پہلے سے زیادہ وارث بنیں اور اس طرح رشتہ تودّد و تعارف ترقی پذیر ہوتا رہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہاں یہ فرمایا کہ اسلام نے تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا دیا ہے لیکن صرف کہنے سے بھائی بھائی تو نہیں بنتے۔ جب تک ایسے مواقع میسر نہ آئیں جب وہ بھائی بھائی کی طرح آپس میں مل رہے ہوں اور بھائی بھائی کی طرح اپنے نفسوں کی چھوٹی چھوٹی عادتوں کو قربان کرکے دوسروں کے آرام کا اور سکون کا اور راحت کا انتظام کر رہے ہوں تو یہ ایک عارضی فائدہ بھی ہے جو اس جلسہ سے اُٹھایا جانا چاہئے۔
    (۶) چھٹی بات آپ نے یہ بیان فرمائی کہ جو دوست اس عرصہ میں اس دار فانی سے گذر چکے ہوں ان کے لئے دعائے مغفرت اور خصوصاً موصی صاحبان کے لئے دعائے مغفرت کا موقع ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے کثرت سے دوست بہشتی مقبرہ جاتے ہیں اور بچھڑے ہوئے بہنوں اور بھائیوں کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔ لیکن جن کو اس طرف پہلے خیال نہیں آیا ان کو اب میں متوجہ کرتا ہوں کہ جلسہ کے ایام میں کچھ وقتوں کو اس غرض کے لئے بھی فارغ رکھیں کہ وہ بہشتی مقبرہ میں جائیں اور وہاں ان موصی اور موصیات کے لئے دعا کریں جو وہاں مدفون ہیں اور وہیں اپنے تمام ان بھائیوں کے لئے دعا کریںجو اس دنیا کو اس عرصہ میں چھوڑ چکے ہیں۔ ہم سے جدا ہو گئے اور اپنے ربّ کے حضور پہنچ چکے ہیں۔
    (۷) ساتویں بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فرمائی کہ صرف یہی فوائد اس جلسہ کے نہیں جو میں نے یہاں بیان کئے ہیں بلکہ ان کے علاوہ بہت سے روحانی فوائد ایسے ہیں جن کا میں نے ذکر نہیں کیا اور بہت سے ایسے ہیں جو اس وقت ہمارے فائدے کے لئے نہیں لیکن آئندہ ان سے استفاد ہو سکتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں اور اپنے اپنے وقت پر وہ ظاہر ہوں گے اور روحانی فوائد اور منافع بڑی کثرت سے ہیں یعنی صرف یہی چند ایک نہیں جن کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ (اس کی دلیل آپ نے یہ دی) یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلاء کلمہ اسلام پر بنیاد ہے۔
    تو جس اجتماع کی بنیاد خالص تائید حق اور اعلاء کلمہ اسلام پر ہو اس میں دو ایک یا پانچ سات نہیں بلکہ بے شمار روحانی فوائد ہوتے ہیں اور ہر روحانی فائدہ سے استفادہ کرنا مومن کا فرض ہے اور
    (۸) آٹھویں بات ان دو اقتباسات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بیان فرمائی ہے۔ اپنے متعلق اور میں سمجھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نیابت میں خلیفہ وقت امام وقت کا بھی فرض ہے جو اسے یاد دلایا گیا ہے نیز جماعت کو بھی بتایا گیا کہ ایک روحانی فائدہ یہ بھی ہے کہ خلیفہ وقت کا فرض ہو گا کہ احباب جماعت کی ’’خشکی اور اجنبیت اور نفاق کو درمیان سے اٹھا دینے کے لئے بدرگاہ حضرت جل شانہ کوشش کرے‘‘۔
    تو ان ایام میں امام وقت خاص طور پر یہ دعائیں کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ احباب جماعت کی خشکی اور اجنبیت کو دور کرے اور ان کی اخوت اور محبت کو زیادہ کرے اور بشاشت ایمانی ہر آن اور ہر وقت بڑھتی چلی جائے اور نفاق کا کوئی پہلو بھی ان کے اندر باقی نہ رہے اور جو منافق ہیں اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے۔
    تو یہ آٹھ باتیں ہیں جن کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان دو چھوٹے سے اقتباسات میں کیا ہے جن کی طرف میں اپنے دوستوں کو توجہ دلا رہا ہوں۔
    اس کے علاوہ جماعت کا یہ بھی فرض ہے کہ خاص طور پر اس بات کا خیال رکھیں کہ جلسہ کے ایام میں ربوہ میں فحش کلامی سے پرہیز کیا جائے کسی قسم کی فحش کلامی اس موقع پر خصوصاً جائز نہیں کبھی بھی جائز نہیں لیکن اجتماع کے موقع پر خاص احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ گائوں میں رہنے والے بہت سے دیہاتی بہت ہی مہذب ہیں۔ ان کی زبانیں پاک اور صاف ہوتی ہیں اور کوئی گندی بات ان کی یا ان کے بچوں کی زبان پر نہیں آتی۔ یہی حال شہر میں بسنے والے احمدیوں کا ہے۔ لیکن ایک طبقہ جس کی صحیح تربیت نہیں ہوتی کیونکہ ہم تو ہمیشہ ہر آن بڑھنے والی قوم ہیںنئے آدمی داخل ہوتے رہتے ہیں ایک وقت تک ان کی پوری تربیت ابھی نہیں ہوئی ہوتی ان کو گند بولنے کی عادت پڑی ہوتی ہے جو آہستہ آہستہ ہی جاتی ہے۔ اس عادت کو دور کرنے کا یہ بڑا اچھا موقع ہے خاص طور پر وہ خیال رکھیں کہ ان کی زبانیں اور ان کے رشتہ داروں اور بچوں کی زبانیں پاک رہیں تا سارا سال ہی یہ عادت ان کی قائم رہے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہوں۔
    ایسے اجتماعوں پر چھوٹی چھوٹی باتوں پر بعض دفعہ اختلاف ہو جاتا ہے مگر کسی قسم کا جدال نہیں ہونا چاہئے۔ لڑائی جھگڑے سے پورا پرہیز کرنا چاہئے اور اگر جائز یا ناجائز بات کوئی ایسی دیکھیں جس سے طبیعت میں اشتعال پیدا ہونے کا خطرہ ہو تو اپنے نفسوں پر قابو رکھیں چھوٹی چھوٹی قربانیاں دے کر اپنی عادت کی یا نفس کے جوش کی، ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کر لیں تو اس سے زیادہ سستا سودا اور کیا ہو سکتا ہے۔
    میرے بچپن کا ایک واقعہ ہے میں بہت چھوٹا تھا اس وقت لیکن ابھی تک وہ واقعہ مجھے پیارا لگتا ہے میں مسجد اقصیٰ میں عشاء کی نماز کے لئے جایا کرتا تھاکیونکہ عشاء کی نماز مسجد مبارک میں بہت دیر سے ہوتی تھی اور میں مدرسہ احمدیہ میں نیا نیا داخل ہوا تھا۔ پڑھائی کی طرف توجہ دینے اور نیند پوری لینے کی خاطر حضرت اُمُّ المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا مجھے فرماتی تھیں کہ تم مسجد اقصیٰ میں جا کر نماز پڑھ آیا کرو۔ ورلی سیڑھیاں (آپ میں سے بہت سے تو جانتے نہیں) یعنی مسجد مبارک کی وہ سیڑھیاں جو اس دروازہ کے ساتھ ہیں۔ جو دار مسیح کے اندر جانے والا دروازہ ہے وہاںسے میں اترتا وہ گلی بڑی اندھیری تھی۔ اب تو شاید وہاں بجلی لگ گئی ہو گی۔ اس زمانہ میں بجلی نہیں تھی۔ ایک دن میں نیچے اُترا نماز کے لئے تو عین اس وقت مدرسہ احمدیہ کے طلباء کی لائن نماز کے لئے جا رہی تھی اور اندھیرا تھا خیر میں لائن میں شامل ہو گیا لیکن اس اندھیرے میں کچھ پتہ نہیں لگ رہا تھا۔ میرا پائوں اس طالب علم کے سلیپر پر پڑ گیا جو آگے تھا اس وقت تو اس نے صبر کیا لیکن اس کے چند سیکنڈ کے بعد دوبارہ میرا پائوں اس کے سلیپر پر لگا اور وہ سمجھا کہ کوئی لڑکا اس سے شرارت کر رہا ہے۔ وہ پیچھے مڑا اور ایک چپیڑ مجھے لگا دی اس کو کچھ پتہ نہیں تھا کہ کسے میں چپیڑ لگا رہا ہوں اور کیوں لگا رہا ہوں۔ مجھے خیال آیا کہ اگر میں اس کے سامنے ہو گیا تو اس کو بہرحال شرمندگی اُٹھانی پڑے گی اس خیال سے میں ایک طرف ہو کر کھڑا ہو گیا اور جب پندرہ بیس بچے وہاں سے گذر گئے تب میں دوبارہ اس لائن میں داخل ہو گیا تا کہ اس کو شرمندگی نہ اُٹھانی پڑے۔
    ہے تو ذرا سی بات لیکن باہمی مودّت اور اخوت اور پیار کو قائم رکھنے کے لئے چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھنا بڑا ضروری ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بعض احمدی جھگڑتے ہیں اور اتنی ذہنی کوفت اُٹھانی پڑتی ہے مجھے اور دوسرے ذمہ دار آدمیوں کو کہ آپ اس کا اندازہ نہیں کر سکتے ہمیں کوفت پہنچا کر بھی گنہگار بنتے ہیں اور ویسے بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کو نظر انداز کرتے ہوئے آپ گناہ کیوں سہیڑتے ہیں؟؟؟ اگر ان باتوں کا خیال رکھیں تو آپ کا کوئی نقصان نہیں لیکن آپ کو فائدہ بڑا ہے آپ کو ثواب بڑا ہے تو ہر قسم کی لڑائی جھگڑے سے بچنا نہایت ضروری ہے ان دنوں میں غیر تربیت یافتہ آدمی بھی آتے ہیں نیز ہزاروں کی تعداد میں ایسے احباب آتے ہیں جن کا جماعت سے ابھی تعلق قائم نہیں ہوا۔ اپنی عدم تربیت کے ساتھ وہ یہاں آتے ہیں۔ آپ نے خود ثواب کمانا ہے اور ان لوگوں کے لئے ایک نیک نمونہ پیش کرنا ہے تا کہ وہ سمجھیں کہ واقع میں دنیا میں ایک مقام ہے جسے ہم جنت کہہ سکتے ہیں جہاں کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ہے، نہ زبان سے نہ ہاتھ سے ہر شخص دوسرے کا خیال رکھنے والا دوسرے کی خاطر تکلیف برداشت کرنے والا اور ہر قسم کے جدال سے بچنے والا ہے۔
    اور چوتھی ذمہ داری جو ان دنوں جماعت پر عائد ہوتی ہے وہ فسق سے بچنے کی ہے صرف کبیرہ گناہ کو ہی فسق نہیں کہتے بلکہ کبیرہ اور صغیرہ چھوٹے اور بڑے ہر دو گناہ کے لئے یہ لفظ بولا جاتا ہے تو چھوٹے سے چھوٹے گناہ سے بھی بچنا اس اجتماع پر ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ انعام ہم حاصل کرسکیں۔
    اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَاللّٰہُ لَایَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ (الصف :۶)وہ لوگ جو ان احکام میں سے جو میں نے قرآن کریم میں اور اسلامی تعلیم میں ان پر نازل کئے ہیں چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال نہیں رکھیں گے وہ ان انعامات کے وارث نہیں ہوں گے جو کامل طور پر ہدایت یافتہ لوگوں کو ملتے ہیں لَایَھْدِیْ میں یہ بتایا ہے کہ ان کا انجام اس طرح بخیر نہیں ہو گاجس طرح ہدایت یافتہ کا انجام بخیر ہوا کرتا ہے اگر ہم بہترین انعامات کا وارث ہونا چاہتے ہیں۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ ہمیں ہدایت یافتہ پائے اور ہمارے گناہوں پر اپنی مغفرت کی چادر ڈال دے تو ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ جہاں تک ہماری طاقت اور استعداد میں ہو چھوٹے سے چھوٹے گناہ سے بھی بچنے کی کوشش کریں یعنی ہر بات جس سے اسلام ہمیں روکتا ہے خواہ وہ دنیا کی یا ہماری نظر میں کتنی ہی حقیر کیوں نہ ہو۔ ہم اس سے بچیں اور ہر وہ حکم جس کے کرنے کی اللہ ہمیں ہدایت کرتا ہے ہم اس کے بجا لانے میں ہر ممکن تدبیر کو اختیار کریں اس کے بغیر ہم ہدایت یافتہ جماعت کے انعام نہیں پا سکتے۔
    پس یہ ایک بڑا ہی اہم موقع ہے بڑا ہی بابرکت موقع ہے رحمتوں کے حصول کا ایک عظیم موقع ہے جسے ہم اپنا جلسہ سالانہ کہتے ہیں اس موقع پر ان دنوں میں ان اوقات میں پوری کوشش کرنی چاہئے۔ پوری توجہ کے ساتھ اور پوری تدبیر کے ساتھ اور ہر وقت کی دعائوں کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ایسا کرے کہ ہم سے چھوٹے سے چھوٹا گناہ بھی سرزد نہ ہو اور شیطان کا ہلکے سے ہلکا تیر بھی ہمارے جسموں اور روحوں میں پیوست نہ ہوتا کہ ہم اس کے غضب کے نیچے نہ آ جائیں تا کہ ہم اس کی رحمتوں سے زیادہ سے زیادہ حصہ لینے والے ہوں۔
    ربوہ میں بسنے والوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ ان دنوں میں صفائی کا خاص خیال رکھیں ربوہ کے ایک چھوٹے سے حصہ میں آج بھی وقار عمل منایا گیا ہے یعنی خدام الاحمدیہ کے انتظام کے ماتحت رضا کارانہ طور پر کچھ کام کیا گیا ہے جس کی تفصیل کا مجھے علم نہیں ہے میں امید رکھتا ہوں کہ انہوں نے صفائی پر زیادہ زور دیا ہو گا اور ان رخنوں کو بند کرنے پر زیادہ زور دیا ہو گا جس کے نتیجہ میں گندگی پھیلتی ہے اگر خدام الاحمدیہ ہمت کرے اور انصار اور اطفال بھی ان کے ساتھ شامل ہوں تو کم از کم دو دن عصر اور مغرب کے درمیان ربوہ کو صاف ستھرا کرنے پر خرچ کرنے چاہئیں۔ قرآن کریم نے بھی اس طرف بڑی توجہ دی ہے اور ہمیں توجہ دلائی ہے کہ مکہ کے متعلق جو طَھِّرًا کا حکم تھا وہ خالی ان دو کے لئے نہیں تھا بلکہ ان سب کے لئے ہے جو مقاصد کعبہ کے حصول کی تمنا اور خواہش رکھتے اور ان برکات سے حصہ لینے کے آرزو مند ہیں جن کا تعلق خانہ کعبہ سے ہے۔
    تو صفائی کی طرف اہل ربوہ خاص طور پر متوجہ ہوں اور اپنی گلیوں اور سڑکوں کو صاف ستھرا رکھیں۔ اسی طرح وہ دکاندار جو مستقل یہاں تجارت کرتے ہیں یا وہ جو عارضی طور پر جلسہ کے دنوں میں اپنی دکانیں لگاتے ہیں ان کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی دکان میں ایسا انتظام کریں کہ وہاں کسی قسم کا کوئی گند پیدا نہ ہو۔ مثلاً مالٹے یا سنگترے یا اور پھل کھایا جاتا ہے یا بعض اور چیزیں کھائی جاتی ہیں جن کا ایک حصہ (چھلکے وغیرہ) پھینکنا پڑتا ہے۔ یہ اس طرح نہ پھینکے جائیں کہ گندگی نظر آئے ان سب کو سمیٹ دینا چاہئے اور صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔
    لیکن سب سے بڑی ذمہ داری اہل ربوہ پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مہمانوں کی مہمان نوازی کی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اللہ تعالیٰ کے نام پر ہزاروں کو بلاتے ہیں جو لبیک کہتے ہوئے ان ایام میں یہاں جمع ہو جاتے ہیں اور جماعت مہمان نوازی کا انتظام کرتی ہے۔ کچھ تو مادی اشیاء ہیں کھانے پینے کی چیزیں یا مکان وغیرہ وغیرہ اس کا انتظام تو منتظمین کے سپرد ہے وہ کرتے ہیں۔ لیکن اس انتظام کو خوش اسلوبی سے سرانجام دینے کے لئے ضروری ہے کہ رضا کارانہ خدام انہیں میسر آئیں، بعض نوجوان بھی اور بڑے بھی بڑی محبت اور بڑے پیار کے ساتھ یہ خدمت چوبیس گھنٹے بجا لاتے ہیں۔ لیکن بعض وہ بھی ہیں جو اس موقع کی خدمت کی برکتوں سے ناآشنا نظر آتے ہیں۔ اللہ ان پر رحم کرے اس موقع پر مہمان نوازی کرتے ہوئے خدمت بجا لانے کا بڑا ہی ثواب ہے پس خود کو اور اپنے بچوں کو اس ثواب سے محروم نہ رکھیں۔ ہم نے، ہمارے سارے گھر نے اپنے بچپن کا زمانہ بھی (اور بڑے ہو کر بھی) جلسے کے دنوں کی خدمت کو اتنے محبت اور پیار سے ادا کیا ہے کہ کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ ہم کسی پر ذرہ احسان کر رہے ہیں بلکہ ہمیشہ ہی دل اس احساس سے پر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو توفیق دی ہے کہ وہ ہم پر احسان کر رہے ہیں ہم سے خدمت لے کر اور حقیقت بھی یہی ہے کس پر ہم احسان جتائیں! اس پر! جس نے ہمیں پیدا کیا ہے! ہمارے لئے ہماری پیدائش سے بھی لاکھوں سال پہلے اپنی رحمتوں کے سامان پیدا کئے کیا ہم اپنے اللہ پر احسان رکھیں گے کیا ہم اللہ کے محمدﷺ یا آپ کے فرزند جلیل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام یا آپ کے خلفاء پر احسان جتائیں گے!! احسان تو خدا کا ہے کہ وہ ہمارے لئے برکتوں کے حصول کے مواقع پیدا کرتا ہے۔
    پس اس خدمت کو معمولی خدمت نہ سمجھو بڑی برکتوں والی ہے۔ یہ خدمت!!! ان چند دنوں کو خدا کے لئے چوبیس گھنٹے اگر آپ وقف کر دیں تو آپ اس سے مر نہیں جاتے نہ ایسے کمزور ہو جاتے ہیں کہ ہمیشہ کے لئے بیمار ہو جائیں کوئی مستقل بیماری یا نقص آپ کے اندر پیدا نہیں ہوتا۔ تھوڑی سی تکلیف ہی ہے جوآپ نے برداشت کرنی ہے لیکن اس کے نتیجہ میں اس قدر رحمتیں ہیںجن کا آپ نے وارث بننا ہے کہ آپ کا دماغ یا کسی اور انسان کا دماغ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔
    پس ہمارے وہ بچے یا ہمارے وہ بھائی جو اس خدمت کی برکات کی اور اس خدمت کے نتیجہ میں حاصل ہونے والی رحمتوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ انہیں میں متوجہ کرتا ہوں کہ وہ چوبیس گھنٹے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کی خدمت میں گزار کے اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتوں اور اس کے اَن گنت فضلوں کے وارث بننے کی کوشش کریں۔
    اللہ تعالیٰ آپ کو سمجھ اور توفیق دے اور ہمیں بھی اپنی ذمہ داریوں کے نبھانے کی وہ خود توفیق دیتا چلا جائے۔ کیونکہ اس کی توفیق کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔
    (روزنامہ الفضل مورخہ ۸؍ جون ۱۹۶۸ء صفحہ۲ تا۶)
    ٭…٭…٭
    اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کو اس دنیا میں بھی ایک جنت عطا کی جاتی ہے

    (خطبہ جمعہ فرمودہ۱۲ ؍جنوری ۱۹۶۸ء بر موقعہ جلسہ سالانہ۔ ربوہ )
    ء ء ء
    ٭ جنت کی چھ علامات کا تذکرہ۔
    ٭ السلام علیکم ورحمۃ اللہ بلند آواز سے کہنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔
    ٭ جنت میں دل کینہ، بُغض اور حسد سے پاک ہونگے۔
    ٭ جنت میں رہنے والے دُنیوی اور روحانی ترقیات کے نتیجہ میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش نہیں کریں گے۔
    ٭ پس دعاؤں، تدبیر، صالح اعمال، عاجزی اور تذلل کے ذریعہ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ میں داخلہ کی کوشش کرو۔




    تشہد، تعوذ اور سورئہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی۔
    اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍo اُدْخُلُوْھَا بِسَلَامٍ اٰمِنِیْنَo وَنَزَعْنَا مَافِیْ صُدُوْرِھِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَo لَایَمَسُّھُمْ فِیْھَا نَصَبٌ وَّمَاھُمْ مِّنْھَا بِمُخْرَجِیْنَo نَبِیْٔ عِبَادِيٓ اَنِّیْ اَنَاالْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُo وَاَنَّ عَذَابِيْ ھُوَالْعَذَابُ الْاَلِیْمُo (سورۃالحجر :۴۶ تا ۵۱)
    پھر فرمایا۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بڑی وضاحت کے ساتھ اپنی کتب میں اس مسئلہ کو بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب مومن بندوں کو جنہیں وہ اپنی مغفرت کی چادر کے اندر ڈھانپ لیتا ہے دو جنتوں کے لئے پیدا کیا ہے۔ ایک جنت اس دنیا میں ان کے لئے مقدر کی جاتی ہے اور ایک وہ جنت ہے جو اُخروی زندگی میں انہیں ملے گی جیسا کہ قرآن کریم میں یہ آتا ہے کہ جو شخص اس دنیا میں روحانی طور پر اندھا ہو اور بصیرت اسے حاصل نہ ہو۔ وہ اُخروی زندگی میں بھی اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کے قابل نہیں ہو گا اور نہ اس کی رضا کی جنتوں میں وہ داخل کیا جائے گا۔
    ان آیات میں جو میں نے ابھی آپ دوستوں کے سامنے تلاوت کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایک وسیع مضمون بیان کیا ہے۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے کہ اس دنیا کی جنت جو اس دنیا کی جنت سے بہت مختلف ہے (اس میں شک نہیں ایک بڑا فرق تو یہ ہے کہ وہ جنت ایسی ہو گی جس میں سارے جنتی اکٹھے رہتے ہوں گے اور دوزخیوں کا اس جنت میں کوئی دخل نہیں لیکن اس دنیا میں جو جنت ہے) اس میں کافر اور مومن اس دنیا کے لحاظ سے اکٹھے رہتے نظر آتے ہیں۔ پس ہر شخص کی اپنی ایک جنت ہے۔ ایک ماحول ہے یا جماعت کا ایک ماحول ہے۔ اس ماحول میں جنتیوں کی سی زندگی ایک احمدی گزارتا ہے یا جنتیوں کی سی زندگی گزارنے کی وہ کوشش کرتا ہے۔
    اس جنت کی بہت سی علامات ان آیات میں بتائی گئی ہیں:۔
    (۱) ایک تو یہ کہ امن میں اور سلامتی کے ساتھ وہ رہنے والے ہوں گے۔ جس کے ایک معنی یہ ہیں کہ وہ ایک دوسرے کیلئے کثرت سے سلامتی سے دعائیں کر رہے ہوں گے۔ اس کا ایک ظاہری طریق یہ بھی ہے سنت نبوی کے مطابق اور وہ یہ کہ جب بھی مسلمان مسلمان سے ملے۔ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ بلند آواز سے کہہ کے اس کے لئے سلامتی کی دعا مانگے۔ اس کی بھی عادت ڈالنی چاہئے اس کے علاوہ بھی اپنی دعائوں میں سب اُمت مسلمہ، سب جماعت احمدیہ کیلئے یہ دعائیں مانگتے رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سلامتی اور امن کی زندگی ہمیں بھی اور ہمارے بھائیوں کو بھی عطا کرے۔
    (۲) دوسری علامت یا دوسری بات جس کا اس جنت سے تعلق ہے وہ یہ ہے کہ نَزَعْنَا مَافِیْ صُدُوْرِھِمْ مِّنْ غِلٍّ ان کے سینوں میں جو کینہ وغیرہ بھی ہو گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس جنت میں ہم اسے نکال دیں گے۔ پس اگر دل کینہ اور بغض اور حسد سے پاک ہوں تو جنت ہے اور اگر نہیں تو وہ جنت نہیں۔
    (۳) اسی طرح تیسری بات یہاں یہ بتائی کہ وہ بھائی بھائی بن کر جنت میں رہیں گے اگر ہم احمدیت میں داخل ہونے کے باوجود یہ احساس نہیں رکھتے کہ ہم بھائی بھائی ہیں اور بھائیوں کی طرح ہم نے محبت سے زندگی گزارنی ہے تو پھر جو شخص ایسا ہے اس کے لئے اس دنیا میں جنت نہیں بنی۔
    (۴) ایک اور بات یہ ہے کہ عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے یعنی دنیوی ترقیات یا روحانی ترقیات کے نتیجہ میں وہ یہ کوشش نہیں کریں گے کہ ایک دوسرے کو نیچا کر دکھا دیں گرانے کی کوشش نہیں کریں گے بلکہ وہ خوش ہوں گے اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کے لئے رحمت کا، رضا کا، ایک تخت پیدا کیا ہے۔
    (۵) ایک اور علامت یہاں یہ بتائی گئی ہے کہ انہیں کوئی تھکان نہیں ہو گی یعنی قربانی کے میدان میں وہ جتنی قربانیاں دیتے چلے جائیں گے وہ کوئی تھکان محسوس نہیں کریں گے بلکہ لذت اور سرور محسوس کریں گے جو شخص سلسلہ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے قربانی نہیں دیتا یا قربانی دیتا ہے لیکن تھکاوٹ محسوس کرتا ہے اسے اپنی فکر کرنی چاہئے کیونکہ ابھی اس کے لئے اس دنیا میں جنت مقدر نہیں ہوئی۔
    (۶) اور آخری علامت یہ بتائی کہ وَمَاھُمْ مِّنْھَا بِمُخْرَجِیْنَ۔ وہ اس میں سے کبھی نکالے نہیں جائیں گے یعنی اس فرد واحد اس فرد بشر کیلئے لیلۃ القدرکا فیصلہ ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ کر دے گا کہ اس شخص کو میں نے اپنے ابدی قرب اور ابدی رضا کے لئے چن لیا ہے اور جس شخص کے متعلق اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ کر دیتا ہے۔ شیطان کا کوئی حملہ اس پر کامیاب نہیں ہوا کرتا۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور اپنی رحمت سے ایسے لوگوں کو اپنی پناہ میں لے لیتا ہے اور شیطان کا ہر وار ناکام کر دیتا ہے۔
    یعنی جس پر شیطان کامیاب وار کر دے اور اس کے دل میں وسوسہ ڈالے اور وہ دل وسوسہ سے متاثر ہو جائے اور امتحان میں پڑ جائے۔ اسی طرح وہ شخص جسے خدا اور اس کے رسول کی خاطر قربانیاں دینے میں تھکاوٹ محسوس ہو۔ اسی طرح وہ شخص جو دوسرے بھائی پر جو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہو رہی ہوں (دنیوی یا دینی) انہیں دیکھ کے جلنے لگے اور حسد اختیار کرے اور اس کی یہ کیفیت نہ ہو کہ عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ۔ اسی طرح وہ شخص جو اخوت کا انتہائی جذبہ اپنے بھائیوں کے لئے اپنے دل میں نہیں پاتا۔ اسی طرح وہ شخص جس کے دل میں دوسروں کے لئے کینہ پایا جاتا ہے۔ اسی طرح وہ شخص جو اپنے بھائیوں کے لئے سلامتی اور امن کی دعائیں نہیں کرتا وہ خطرے میں ہے اسے اپنی فکر کرنی چاہئے کیونکہ وہ ابھی تک اندھا ہے اور اسے روحانی آنکھیں عطا نہیں ہوئیں تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ایک نقشہ کھینچا ہے اس دنیا کی جنت کا بھی (اس جنت کا بھی نقشہ اس کے اندر ہے لیکن وہ علیحدہ مضمون ہے) اور ہمیں اس طرف متوجہ کیا ہے کہ جب تمہارے لئے جنت اس دنیا میں مقدر ہو جائے گی تمہاری لیلۃ القدر کا فیصلہ ہو جائے گا۔ اس وقت تم یہ محسوس کرو گے کہ تمہارے اندر یہ خوبیاں یہ صفات جو ہیں وہ پیدا ہو چکی ہیں اور ان صفات کو ایک لحظہ کے لئے بھی چھوڑنے کے لئے تم تیار نہیں ہو۔ اگر ایسا نہیں تو پھر ابھی تمہیں بینائی نہیں ملی۔ ابھی تمہاری آنکھیں نہیں کھلیں ابھی تمہاری لَیْلَۃُ الْقَدر کا فیصلہ نہیں ہوا ابھی تم خطرے میں ہو، ابھی شیطان کا وار تم پر کامیاب ہے پس دعائوں کے ذریعہ بھی، تدبیر کے ذریعہ بھی اور اعمال صالحہ کے ذریعہ اور عاجزی اور تذلل کے ذریعہ شیطان کے حملہ سے خود کو محفوظ کرنے کی خاطر اپنے ربّ کی طرف جھکو اور انتہائی قربانی دے کر بھی اس سے یہ چاہو کہ وہ تمہیں جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍمیں داخل کر دے اس دنیا میں بھی تاکہ امن کے ساتھ تم اپنی زندگی کو گزارنے والے ہو۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا کرے۔
    (روزنامہ الفضل مورخہ ۲۷؍ جنوری ۱۹۶۸ء صفحہ۱ ،۲)
    خطبہ جمعہ۱۹؍جنوری ۱۹۶۸ء
    ء ء ء
    حضور ناسازی طبع کے باعث نماز جمعہ پڑھانے تشریف نہیں لاسکے۔
    (الفضل ۲۱؍ جنوری ۱۹۶۸ء صفحہ۱)
    ٭…٭…٭

    انتظامات جلسہ کے متعلق پانچ ضروری ہدایات جن کی طرف جماعت کو فوراً متوجہ ہونا چاہئے
    (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۶ ؍جنوری ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ ربوہ )
    ء ء ء
    ٭ تین سَو احمدی نوجوانوں کو تنور میں روٹی لگانا سکھائیں۔
    ٭ چھ سَو ایسے رضاکار مکان چاہئیں جو ضرورت پیش آنے پر سَو روٹی تَوے پر پکا کر دیں۔
    ٭ روٹی پکانے کی مشین جلسہ سالانہ کیلئے تیار کروائیں۔
    ٭ اللہ تعالیٰ ہی مقرر کی زبان میں برکت دیتا، اثر پیدا کرتا اور دلوں کو اثر قبول کرنے کیلئے تیار کرتا ہے۔
    ٭ ہر وہ قربانی جس کا وقت اور زمانہ مطالبہ کرے بشاشت کے ساتھ اپنے ربّ کے حضور پیش کر دیں۔



    تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    جلسہ سالانہ کے بعد انفلوئنزا کا بڑا سخت حملہ مجھ پر ہوا تھا بخار بھی تیز تھا اور کھانسی تو اتنی شدت اختیار کر گئی تھی کہ رات ایک ایک ڈیڑھ ڈیڑھ بجے بلکہ بعض دفعہ دو بجے تک کھانستے گزر جاتی اور ایک سیکنڈ بھی میں سو نہ سکتا لیکن پھر اپنی غلطی کے نتیجہ میں جو بیماری پیدا ہوئی۔ فَھُوَیَشْفِیْنِ اس (بیماری) سے شافی خدا نے شفا دی۔ بیماری اللہ تعالیٰ کے فضل سے دور ہو گئی ہے۔ ضعف اور نقاہت اور کھانسی کا تھوڑا سا بقیہ ہے اللہ فضل کرے گا انشاء اللہ وہ بھی جلد دور ہو جائے گا۔
    آج میں باوجود ضعف کے اس لئے جمعہ کے لئے آیا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضل اور اس کی غیرمحدود رحمتیں جو ہم نے جلسہ کے ایام میں اپنے پر نازل ہوتی دیکھیں۔ ان کے نتیجہ میں جماعت پر جو شکر بجا لانے کا فرض عائد ہوتا ہے اس کی طرف اپنے دوستوں کو توجہ دلائوں۔
    بہترین بیان جو جلسہ کی رحمتوں کے متعلق میرے سننے میں آیا وہ یہ ہے کہ شیخ محمد احمد صاحب مظہر جو ہمارے بزرگ دعا گو اور بڑا ہی اخلاص رکھنے والے ہیں ۱۴؍ جنوری کی صبح کو جبکہ جماعت ہائے ضلع لائل پور کی ملاقاتیں ہو رہی تھیں میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہنے لگے میں ۵۷ سال سے جلسہ سن رہا ہوں اور کوئی ناغہ نہیں ہوا ہر سال ہمارا جلسہ ایک منزل اوپر ہوتا ہے اس سال یہ جلسہ دو منزل اوپر ہوا ایک منزل نانبائیوں کی وجہ سے ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ جس رنگ میں روٹی پکانے کا نظام ناکام اور ناکارہ ہو گیا تھا اس کے نتیجہ میں اتنے بڑے اجتماع میں ابتری اور انتشار پیدا ہونا لازمی تھا اگر یہ اجتماع محض خدا کے لئے منعقد نہ ہوتا۔ لیکن اس انتہائی کرائسس (Crisis) کے وقت اللہ تعالیٰ نے جس بشاشت اور اخلاص اور ایثار کا مظاہرہ کرنے کی جماعت کو توفیق عطا کی وہ اپنی ہی مثال ہے اور اگر ہم اسلامی تاریخ پر نظر ڈالیں تو پہلی صدی ہجری کو چھوڑ کر ہماری تاریخ میں شاید ہی اس قسم کا کوئی نظارہ ہمیں ملے۔
    اتنا بڑا اجتماع تھا لاکھ کے قریب احمدی اور غیر احمدی جلسہ کو سننے کے لئے اور اپنی غلط فہمیاں دور کرنے کی غرض سے آئے ہوئے تھے (مرد بھی تھے اور عورتیں بھی تھیں۔ بوڑھے بھی تھے اور جوان بھی تھے اور بچے بھی تھے) لیکن ہر طرف اس بظاہر ابتری کے وقت میں بشاشت ہی بشاشت نظر آتی تھی اور مجھ سے تو بہت سے دوستوں نے کہا کہ اگر آپ کہیں تو ہم تین دن روزہ رکھ کر بھی گزارہ کر سکتے ہیں۔ میں نے انہیں کہا کہ نہیں روزہ رکھنے کی بھی اجازت نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کم کھانے کا ہم سے مطالبہ کر رہا ہے اور جو مطالبہ ہے وہی پورا کرنا چاہئے۔ ایسے حالات کیوں پیدا ہوئے یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا نے جماعت کا امتحان لیا اور خداتعالیٰ کی توفیق سے جماعت اس امتحان میں کامیاب ہوئی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت ہی بڑا فضل ہے اور اس فضل کے نتیجہ میں ہمارے دل خداتعالیٰ کی حمد سے بھرے ہوئے ہیں۔
    اس سلسلہ میں میں چند ہدایتیں دینا چاہتا ہوں جن میں سے بعض کا تعلق جماعت سے ہے اور بعض کا منتظمین سے۔ اللہ تعالیٰ جب ایسے حالات پیدا کرتا ہے تو ان سے جتنے زیادہ سے زیادہ سبق حاصل کئے جا سکیں وہ ہمیں کرنے چاہئیں۔
    پانچ باتیں ہیں جن کی طرف ہمیں متوجہ ہونا چاہئے اور پانچ منصوبے ہیں جو ہمیں اگلے جلسہ سے پہلے پہلے مکمل کر لینے چاہئیں۔ ایک تو یہ کہ جماعت خاص توجہ کے ساتھ ۳۰۰ احمدی نوجوانوں کو تنور میں روٹی لگانا سکھائے اور اس کے متعلق مجھے اکتوبر یا نومبر میں رپورٹ مل جانی چاہئے (انشاء اللہ) کہ کام خیرو خوبی کے ساتھ انجام پا گیا ہے اور ہمارے تین سو نوجوان اس قابل ہیں کہ تنور میں روٹی لگا سکیں۔ اس سکیم کی تفصیل میں میں اس وقت نہیں جائوں گا۔ افسر صاحب جلسہ سالانہ کا کام ہے کہ پوری تفصیل کے ساتھ مجھ سے مشورہ کرنے کے بعد اس سکیم کو بنائیں اور جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ اسے کامیاب کریں۔
    دوسری چیز یہ ہے کہ اہالیان ربوہ کم و بیش دو اڑھائی ہزار مکانوں میں رہتے ہیں۔ ان دو اڑھائی ہزار مکانوں میں سے مجھے چھ سَو ایسے رضا کار مکان چاہئیں کہ جب ضرورت پیش آئے تو وہ ہمیں ایک سَو روٹی توے کی پکا کر دیں۔ توے پر سو روٹی پکانا کوئی بڑا کام نہیں۔ میں نے اس روز (یعنی ۱۰؍ جنوری کو) اپنے باورچی کو کہا کہ جتنی روٹیاں زائد پکا سکو پکا دو اور میرا اندازہ ہے کہ اس نے کم و بیش ایک سَو روٹیاں صبح کے ناشتہ پر زائد پکا دی تھیں اور وہ ہم نے لنگر نمبر ۱ میں بھجوا دی تھیں اور سَو سے زائد اس نے دوپہر کے کھانے پر پکا دی تھیں جو ہم نے لنگر نمبر ۱ میں بھجوائیں میں نے تو دوپہر کے وقت روٹی نہیں کھائی تھی کیونکہ میں اپنا راشن صبح ناشتہ پر پورا کر چکا تھا یعنی ایک چپاتی میں نے کھا لی تھی۔ پس سو روٹی توے پر پکانا کوئی مشکل بات نہیں۔ اگر چھ سَو گھر رضا کارانہ خدمت پیش کر دیں تو ضرورت کے وقت ساٹھ ہزار روٹی چند گھنٹوں کے اندر مل سکتی ہے۔
    تیسری چیز یہ ہے کہ فروری کا مہینہ ختم نہ ہو کہ ایک سو لوہ (لوہ ایک بڑے توے کو کہتے ہیں) افسر صاحب جلسہ سالانہ خرید کر مجھے رپورٹ کریں اور اگلے جلسہ پر ایک سو چولہے بھی ضرورت پر کام آنے کیلئے پہلے سے تیار ہوں اور وہاں لکڑیاں بھی موجود ہوں تا ضرورت پڑے تو ان لوہوں سے کام لیا جاسکے۔
    اس سال سینکڑوں احمدی بہنوں کی طرف سے مجھے یہ اطلاع ملی کہ آپ لوہ کا انتظام کریں نانبائیوں کی ضرورت نہیں مجھے ذاتی تجربہ تو نہیں ویسے کہتے ہیں اور بتانے والوں نے بتایا ہے کہ ایک لوہ پر اگر تین عورتیں روٹیاں پکا رہی ہوں تو وہ ایک بوری آٹا پکا دیتی ہیں (وَاللّٰہُ اَعلَمُ)اگر یہ صحیح ہو تو ہمیں سارے جلسہ کے لئے زیادہ سے زیادہ ایک سَو پچاسی لوہ کی ضرورت ہے کیونکہ اس سے زیادہ تنور ہمارے نہیں جلتے۔ لیکن اس سال میں ایک سو لوہ کا انتظام کرانا چاہتا ہوں اور اس کے لئے چھ سَو احمدی بہنیں وقت سے پہلے اپنی رضا کارانہ خدمات پیش کر دیں اور رجسٹروں میں ان کے نام جماعت کے لحاظ سے درج ہونے چاہئیں تا ضرورت پڑنے پر وہ روٹیاں پکا سکیں۔ سکیم پہلے سے تیار ہو جائے کہ مثلاً چک منگلا سے اتنی عورتیں بوقت ضرورت روٹی پکانے کے لئے تیار ہیں اور چولہے ان کے مقرر ہوں یہ نہیں کہ سکیم اس وقت بنائی جائے جب ضرورت پڑے سکیم پہلے سے تیار ہونی چاہئے۔ اگر خدانخواستہ ہمیں ضرورت پڑے تو ان بہنوں کو پتہ ہو کہ مثلاً چولہا نمبر ۱۵، نمبر ۱۶، نمبر ۱۷، نمبر ۱۸ یا نمبر ۱۹ ہمارے لئے ریزرو ہے وہ وہاں جائیں اور روٹی پکانا شروع کر دیں۔ ۳۰۰ ایک وقت میں اور ۳۰۰ دوسرے وقت میں ہمیں ہر چیز کے لئے تیار رہنا چاہئے خداتعالیٰ نے ہمیں فراست اور عقل اور ہمت دی ہے اور اس لئے دی ہے کہ دنیا یہ دیکھے کہ یہ ایک ایسی قوم ہے جو آزمائش اور امتحان کے وقت ناکام ہونا جانتی ہی نہیں ناکامی ان کی قسمت میں نہیں ہے۔
    چوتھی ہدایت میری یہ ہے کہ ایک چھوٹی سی مشین روٹی پکانے کے لئے اس سال ضرور خرید لی جائے۔ ایسی مشین جس پر ایک وقت میں سات آٹھ ہزار سے لے کر چودہ پندرہ ہزار تک روٹی تیار ہو سکے یہ بڑا چھوٹا یونٹ ہے لیکن ایسی مشین ضرور خرید لینی چاہئے اس پر جتنا بھی خرچ آئے کیا جائے اس میں کچھ دقتیں ضرور ہوں گی امپورٹ لائسنس لینا پڑے گا لیکن اگر ہم ابھی کام شروع کر دیں تو جلسہ تک انشاء اللہ ایسی مشین خریدی جا سکتی ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے اور تجربہ ہمیں حاصل ہو جائے تو ایک وقت ایسا بھی آ سکتا ہے کہ ہم ایک کی بجائے تین چار پانچ چھ یا سات مشینیں حسب ضرورت لگا لیں اور ہمیں نانبائیوں کی احتیاج باقی نہ رہے۔ بہرحال اس سال ایک چھوٹا یونٹ اس قسم کی مشین کا لگ جانا چاہئے۔
    پانچویں بات یہ ہے کہ نانبائیوں کے ٹھیکہ کا جو موجودہ انتظام ہے اس سے بہتر انتظام کا منصوبہ بنا کر افسر صاحب جلسہ سالانہ ایک ماہ کے اندر اندر میرے سامنے رکھیں اور جس حد تک ممکن ہو سکے اس قسم کی ایمرجنسی کی روک تھام پہلے سے کر دی جائے۔
    جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ بھی ایک فضل تھا جو جلسہ کے ایام میں ہم پر نازل ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارا ایک امتحان لیا اور اپنے فضل اور توفیق سے اس امتحان میں ہمیں کامیاب کیا جس کے نتیجہ میں ہمارے دلوں میں پہلے سے زیادہ بشاشت پیدا ہو گئی اور ہمارے ایمانوں کو تقویت حاصل ہوئی۔ فَالْحَمْدُلِلّٰہِ عَلٰی ذَالِکَ۔
    اس کے علاوہ جلسہ کے دنوں میں تقاریر کا ایک سلسلہ ہوتا ہے تقریروں کے متعلق جماعت بھی دعائیں کرتی ہے اور میں بھی ہر وقت اس فکر میں رہتا ہوں اور دعا کرتا رہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور دوسرے مقررین کو بھی ایسے رنگ میں تقاریر کرنے کی توفیق عطا کرے جو اس کی رضا کو حاصل کرنے والا ہو اور جس کے نتیجہ میں جماعت کے دل تسلی پائیں۔ ایک لاکھ کے قریب احمدی اور دوسرے دوست بڑی قربانی کرکے باہر سے آتے ہیں۔ ان کے دل کو اطمینان اور بشاشت حاصل ہونی چاہئے اور یہ احساس پیدا ہونا چاہئے کہ جس غرض کیلئے ہم یہاں آئے ہیں وہ غرض پوری ہوئی اور ہمارے کانوں میں اللہ تعالیٰ کی باتیں اور محمد رسول اللہﷺ کے ارشادات ایسے رنگ میں پڑے کہ ہمارے دل ان سے متاثر ہوئے اور ہماری روح نے ان سے روشنی حاصل کی۔ یہ بھی نہ بھولنا چاہئے کہ کسی مقرر نے ہمارے جلسہ کو کامیاب نہیں کرنا جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ فلاں شخص کی تقریر بڑی اچھی ہوتی ہے اور اس کے بغیر جماعت کے دل تسلی نہیں پکڑ سکتے وہ بت پرست ہے اور مجھے خداتعالیٰ نے ایک عزم عنایت کرکے اور بڑی ہمت دے کر بت شکن بنایا ہے۔
    ایسے بتوں کو توڑنا میرا فرض ہے اور خدا کی توفیق سے ایسے بت ٹوٹتے ہی رہیں گے اور خدائے واحد و یگانہ کے پرستاروں کا یہ قافلہ آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے گا۔ تقریر مقرر نے نہیں کرنی ہمارا ایمان ہے کہ تقریر اللہ تعالیٰ نے کروانی ہے وہ خود ہی مضمون سوجھاتا زبان میں برکت دیتا اور اثر پیدا کرتا اور دلوں کو اثر قبول کرنے کے لئے تیار کرتا ہے۔ کوئی انسان یہ دعوے نہیں کر سکتا کہ اپنی کسی ذاتی خوبی سے اس نے ایسا کیا جو ایسا سمجھتا ہے وہ میرے نزدیک احمق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جماعت کے مقررین کو توفیق عطا کی کہ وہ بہترین تقاریر تیار کر سکیں ان کے الفاظ میں تاثیر پیدا کی اور سننے والوں کے دلوں کو اثر قبول کرنے کی توفیق عطا کی اس سلسلہ میں میرے پاس بیسیوں خطوط اور رپورٹیں آئی ہیں کہ زمینداروں نے بھی اور شہری لوگوں نے بھی خاص طور پر جلسہ کی تقاریر سے اثر قبول کیا۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذَالِکَ۔
    جہاں تک میری تقریروں کا سوال ہے میں اس وجہ سے بھی پریشان تھا اور بہت دعائیں کر رہا تھا کہ جلسہ سے معاً قبل رمضان تھا اور رمضان کے روزے رکھنے کے نتیجہ میں ضعف اعصاب اور ضعف دماغ کی تکلیف مجھے شروع ہو گئی تھی ڈاک دیکھنا یا ملاقاتیں کرنا یا دوسرے کام جو ہیں وہ تو میں بہرحال کر رہا تھا بلکہ رمضان میں روزے کی وجہ سے بہت سا وقت بچ جاتا ہے جو دوسرے دنوں میں کھانے پینے پر خرچ ہوتا ہے اس لئے آدمی زیادہ وقت تلاوت یا کتب پڑھنے یا دعائیں کرنے یا عبادات بجا لانے یا ملاقاتیں کرنے، خطوط پڑھنے، ان میں سے بہتوں پر دستخط کرنے اور نوٹ لکھنے وغیرہ وغیرہ میں خرچ کر سکتا ہے۔ چنانچہ میں یہ سارے کام رمضان کے دنوں میں بھی کرتا رہا۔ ماہ رمضان میں تو میری عادت یہ ہے کہ میں صبح کام پر بیٹھتا ہوں پھر نمازکے لئے اٹھتا ہوں نماز سے فارغ ہونے کے بعد پھر دفتر میں بیٹھ جاتا ہوں اور مغرب کی اذان تک یہی سلسلہ جاری رہتا ہے روزہ کھلنے کا وقت ہوا تو دفتر سے گیا، روزہ کھولا، پھر تھوڑا سا آرام کیا، اس کے بعد پھر کام شروع کر دیا۔
    بعض دفعہ میں ۱۲ بجے رات تک کام کرتا رہتا ہوں لیکن میں نے محسوس کیا کہ میرے اعصاب میں بھی ضعف پیدا ہو گیا ہے اور ضعف دماغ کی بھی مجھے شکایت ہو گئی ہے اور مجھے یہ فکر پیدا ہوئی کہ اس ضعف کی حالت میں جلسہ کی ذمہ داریوں کو کیسے نباہوں گا اور میں نے کیا نباہنا تھا عاجزانہ دعائوں سے اللہ تعالیٰ سے ہی توفیق چاہی اور اپنی رحمت بے پایاں سے اس نے توفیق عطا کی۔ ہزار ہا وہ دوست بھی جلسہ میں شریک ہوتے ہیں جن کا ابھی ہماری جماعت سے تعلق نہیں۔ اس سال ایسے دوست بھی بہت کثرت سے آئے۔ سرگودھا کے ایک غیر احمدی دوست اپنے ایک احمدی دوست کو ملے اور کہنے لگے کہ سرگودھا کے ہر شخص کو جسے میں جانتا ہوں میں نے جلسہ پر دیکھا ہے۔ پس بڑی کثرت سے سرگودھا، لائل پور اور دوسری جگہوں سے دوست آئے انہوں نے جلسہ سے جو اثر لیا اور اس کے متعلق جو اظہار کیا ہے اس سے پتہ لگتا ہے کہ ان کی بہت سی غلط فہمیاں اللہ تعالیٰ نے دور کر دیں اور بڑے ہی متاثر ہو کر وہ یہاں سے گئے۔ یہ لوگ دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں دعا کرنی چاہئے کہ دنیا کی دلدل سے اللہ تعالیٰ ان کی نجات کے سامان پیدا کرے اور وہ غلبہ اسلام کی اس عظیم مہم میں حصہ لینے لگیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں جاری کی ہے۔
    جلسہ کی تقریر کے وقت بھی میں سارے مجمع پر نظر رکھتا ہوں مجھے سوائے بشاشت اور سیری کے جذبات کے اور کچھ نظر نہیں آیا محبت کا جو اظہار جماعت کرتی ہے وہ تو بیان نہیں ہو سکتا اور نہ اس کا شکریہ ادا کیا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزا دے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو یہ فرمایا ہے کہ
    شمار فضل اور رحمت نہیں ہے
    تہی اس سے کوئی ساعت نہیں ہے
    اس کا نظارہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
    ویسے تو یہ دو مصرعے اوپر نیچے ہیں لیکن ایک دن میری زبان پر اسی ترتیب سے یہ آئے تھے اس لئے میں اسی ترتیب سے بولتا ہوں۔
    شمار فضل اور رحمت نہیں ہے
    تہی اس سے کوئی ساعت نہیں ہے
    تو ہر ساعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کو ہم نے یہاں نازل ہوتے دیکھا صرف ربوہ ہی میں نہیں ساری دنیا میں اللہ تعالیٰ کے فرشتے اسلام کے حق میں ایسے سامان پیدا کر رہے تھے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور خداتعالیٰ کی رحمتوں کا انتشار صرف یہیں نہیں بلکہ ساری دنیا میں ہی نزول رحمت ہوتا ہمیں نظر آتا ہے۔ میں ایک خط کے بعض اقتباسات آپ کو پڑھ کے سنائوں گا۔ جلسہ کے عین اختتام پر امام کمال یوسف کی تار آئی تھی کہ وہاں بعض پادری مخالفانہ مضمون بھی لکھ رہے ہیں اب دو روز ہوئے مجھے ان کا خط ملا اس کے اقتباسات میں اس لئے پڑھ کے سنانا چاہتا ہوں کہ دوست اس بات کو پہچان لیں کہ اللہ تعالیٰ ہم پر کس قسم کے فضل نازل کر رہا ہے اور یہ کہ ان فضلوں کا تعلق صرف ہمارے دلوں سے یا ہمارے خاندانوں یا ہمارے ماحول یا ہمارے شہروں سے نہیں بلکہ ساری دنیا سے ان کا تعلق ہے اور اس رنگ میں وہ فضل نازل ہو رہے ہیں کہ ہماری جبین نیاز اور بھی اس کے سامنے جھک جاتی ہے کہ جس چیز کی ہمیں ذرا بھی طاقت نہیں جس کے متعلق ہم وہم بھی نہیں کر سکتے کہ ہم اپنی طاقت سے یہ چیز کر سکتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنی قدرت نمائی سے وہ باتیں ظاہر کر رہا ہے۔ یہ انیس جنوری کا لکھا ہوا خط ہے۔ امام کمال یوسف لکھتے ہیں کہ
    ’’جس پادری نے ہمارے خلاف مضامین لکھے اس اخبار میں ایک ایڈیٹوریل سات مختلف مضامین پادری کے خلاف اور ہمارے حق میں چھپے ہیں (اور بہت سے خطوط بھی) ایک خط سات دستخطوں سے چھپا ہے جس میں لکھا ہے کہ اگر پادری کی رائے اسلام کے خلاف اس کی ذاتی نہیں بلکہ اس کے چرچ کی رائے ہے تو ہم سات آدمی چرچ سے علیحدہ ہونے کا اعلان کرتے ہیں‘‘۔
    ایک نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کے اخلاق ہم سے زیادہ بلند ہیں اس لئے پادری کا ایسا لکھنا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بڑی گری ہوئی بات ہے۔
    ’’اور ایک خط کی سرخی ہے ’’تعصب۔‘‘ ایک خط کی سرخی ہے کہ میں بحیثیت عیسائی ایسے پادری کی وجہ سے سخت نادم ہوں‘‘۔
    ’’ایک نے لکھا ہے کہ پادری کا یہ کہنا کہ ’’اسلام تلوار سے پھیلا اس کی اپنی تاریخ سے ناواقفی کی علامت ہے۔
    ایڈیٹوریل کی سرخی ہے ’’دی ڈوئور (وہ علاقہ جہاں ہماری مسجد ہے) میں مذہبی جنگ‘‘ آج کا اخبار بھرا ہوا ہے اس علاقہ کے طلباء نے کثرت سے مسجد میں آنا شروع کر دیا ہے۔ آج بھی ایک کلاس جمعہ کے وقت آ رہی ہے۔ تقاریر کے لئے بھی کئی جگہ مدعو کیا گیا ہوں۔ خط ختم کرنے کے بعد انہوں نے نوٹ دیا ہے ۔
    ابھی ایک اور اخبار کا فون بھی آیا ہے۔ بڑا مشہور اخبار ہے۔ وہ غالباً اس پادری کے خلاف مضمون لکھ رہا ہے شائد رائے عامہ ہموار کرکے اس کو چرچ سے استعفیٰ دینے پر مجبور کرے کہ تو نے کیوں اس قسم کا مضمون اسلام کے خلاف اور نبی اکرمﷺ کے خلاف لکھا‘‘۔
    اب دیکھو اس طرح ان عیسائیوں کے دلوں ان خیالات کا پیدا ہونا اور جرأت کے ساتھ ان کا اظہار کرنا اور اسی اخبار کا جس میں اسلام کے خلاف اس پادری کا مضمون شائع ہوا تھا۔ ان خیالات کو شائع کر دینا اور خود ایڈیٹوریل اس کے خلاف لکھنا یہ ایسی باتیں نہیں جو میں اور آپ کر سکیں اللہ تعالیٰ نے آسمان سے فرشتوں کو نازل کیا اور ان دلوں میں ایک تبدیلی پیدا کی اور ایک جرأت پیدا کی اور انہیں توفیق دی کہ جرأت سے ان خیالات کا اظہار کریں اور جرأت سے ان خیالات کو شائع کریں۔
    اس سے پہلے (جلسہ سے چند دن پہلے) ہمارے آنریری مبلغ میڈیسن صاحب نے ایک خط کے ذریعہ یہ اطلاع دی تھی (ایک خط تو میں نے جلسہ کے دنوں میں سنایا تھا وہ تو اللہ تعالیٰ کا ایک معجزہ ہے ایک اور خط میں انہوں نے لکھا) کہ اب پیپلز چرچ آف ڈنمارک کے اراکین بھی مسجد میں آتے ہیں تو ہمارے ساتھ شریک ہو کر نماز پڑھتے ہیں وہ ابھی مسلمان تو نہیں ہوئے مگر اتنے قریب آ گئے ہیں (اللہ تعالیٰ انہیں توفیق دے اور وہ اسلام کو شناخت کر لیں) اس وقت عیسائیت تعصب کے انتہائی مظاہرے کرے گی کیونکہ وہ اسلام کے بڑھتے ہوئے غلبہ سے خائف ہو گئی ہے لیکن تعصب کے ان مظاہروں میں فتح اسی کو ہو گی جس کی فتح کی بشارت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے دی۔ اسلام کا غلبہ مقدر ہو چکا ہے اس غلبہ کے ظہور کے لئے ہم پر بھی اللہ تعالیٰ نے بہت سی ذمہ داریاں عائد کی ہیں ان ذمہ داریوں کو نباہنا ہمارا کام ہے۔ سب سے پہلی اور سب سے اہم ذمہ داری تو یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی حمد سے ہر وقت اپنی زندگی کو معمور رکھیں اور اس کے شکر گزار بندے بن کر اپنی زندگیوں کے لمحات کو گزاریں اور دوسری بنیادی اور اصولی ذمہ داری یہ ہے کہ ہر وہ قربانی جس کا وقت اور زمانہ ہم سے مطالبہ کرے ہم بشاشت کے ساتھ اپنے ربّ کے حضور پیش کر دیں۔ اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور آپ کو بھی اس کی توفیق دے۔ (آمین)
    (روزنامہ الفضل مورخہ ۴؍ فروری ۱۹۶۸ء صفحہ۲ تا۵)
    ٭…٭…٭

    مومنین کو تین محاذوں پر شیطانی حملوں کا مقابلہ کرنے کیلئے ہر وقت تیار رہنا چاہئے
    (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲ ؍فروری ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ ربوہ )
    ء ء ء
    ٭ کجی سے بچنے اور ہدایت پر قائم رہنے کیلئے جن تعلیمات کی ضرورت ہے وہ قرآن میں پائی جاتی ہیں۔
    ٭ ساری جماعت ایک دوسرے کی ممدومعاون اور ناصر بن کر ایک دوسرے کو لغزشوں سے بچائے۔
    ٭ عاجزی اور نیستی کے ساتھ اپنی زندگی کے دن گزارو۔
    ٭ اسلام پر سب سے زبردست حملہ عیسائیت کر رہی ہے۔ دوسرے نمبر پر دہریت ہے۔
    ٭ خلیفہ وقت کے ساتھ چمٹ جاؤتو تم نفاق کے حملوں سے بچ جاؤ گے۔



    تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے شروع میں ایک نہایت ہی لطیف اور نہایت ہی شاندار دعا ہمیں سکھائی ہے سورۃ فاتحہ کی شکل میں اور اس طرح ابتدا ہی میں ایک عظیم دعا سکھا کر ہمیں اس طرف متوجہ کیا کہ ایک مسلمان کی زندگی کا انحصار دعا اور صرف دعا پر ہی ہے اس کے بعد سورئہ بقرہ میں پہلے قرآن کریم کو ایک عظیم، ایک کامل، ایک مکمل کتاب کی شکل میں ہمارے سامنے رکھا اور یہ اعلان کیا کہ یہ عظیم کتاب ہر قسم کے شکوک و شبہات اور نقائص سے مبرا اور پاک ہے اور اس کے بعد اُمت مسلمہ کو بیدار اور چوکس کیا یہ کہہ کر کہ تم کو ہر وقت تین محاذوں پر، تین فرنٹیرز پر ہوشیاری کے ساتھ شیطان کے حملوں کا مقابلہ کرنا پڑے گا اور اس کے لئے تمہیں ہر وقت تیار رہنا چاہئے۔
    ایک محاذ جس کی طرف ہمیں متوجہ کیا وہ اندرونی محاذ ہے تربیت کا محاذ تربیت کے محاذ کے دو پہلو ہیں۔ ایک تربیت یافتہ کو تربیت کے اعلیٰ مقام پر قائم رکھنے کی کوشش کرنا اور یہ کوشش کرنا کہ وہ مزید ترقیات روحانی راہوں پر کرتا چلا جائے۔ تربیت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ جو اُمت مسلمہ میں نئے نئے شامل ہوں بیعت کرکے یا ولادت کے نتیجہ میں، ان کو اسلام کے رنگ میں صحیح طور پر رنگنا اور سچا مسلمان بنانے کی کوشش کرنا۔
    اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ کتاب ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ ہے اس میں اس طرف اشارہ کیا کہ تقویٰ کے بلند مقام پر پہنچنے کے باوجود انسان کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی ضرورت رہتی ہے اور اس ضرورت کو یہ قرآن پورا کر رہا ہے۔ متقیوں کے لئے ہدایت کا سامان اس کے اندر پایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی مضمون کو دعائیہ الفاظ میں دوسری جگہ اس طرح بیان کیا ہے کہ رَبَّنَا لَاتُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْھَدَیْتَنَا کہ ہدایت تیرے فضل سے ہمیں حاصل ہو جائے پھر بھی یہ خطرہ لاحق رہے گا کہ ہمارے دلوں میں کسی قسم کی کجی نہ پیدا ہو جائے۔ پس ہم تیرے حضور عاجزانہ دعا کے ذریعہ جھکتے ہیں اور یہ التجا کرتے ہیں کہ جب ہمیں ہدایت حاصل ہو جائے، صراط مستقیم ہمیں مل جائے، ہمارے دل سیدھے ہو جائیں، تو اس کے بعد ہمارے دلوں میں کوئی کجی نہ پیدا ہو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اسی خطرہ کی طرف بارہا متوجہ کیا ہے میں ایک مختصر سا اقتباس اس وقت دوستوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں آپ فرماتے ہیں:۔
    ’’بعض ایسے بھی ہیں کہ اوّل ان میں دل سوزی اور اخلاص بھی تھا مگر اب ان پر سخت قبض وارد ہے اور اخلاص کی سرگرمی اور مریدانہ محبت کی نورانیت باقی نہیں رہی بلکہ صرف بَلْعَمْ کی طرح مکاریاں باقی رہ گئی ہیں اور بوسیدہ دانت کی طرح اب بجز اس کے کسی کام کے نہیں کہ منہ سے اکھاڑ کر پیروں کے نیچے ڈال دئیے جائیں۔ وہ تھک گئے اور درماندہ ہو گئے اور نابکار دنیا نے اپنے دام تزویر کے نیچے انہیں دبا لیا۔ سو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ عنقریب مجھ سے کاٹ دئیے جائیں گے۔ بجز اس شخص کے کہ خداتعالیٰ کا فضل نئے سرے اس کا ہاتھ پکڑ لیوے۔ ایسے بھی بہت ہیں جن کو خداتعالیٰ نے ہمیشہ کیلئے مجھے دیا ہے اور وہ میرے درخت وجود کی سر سبز شاخیں ہیں‘‘۔
    (فتح اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ۴۰)
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان الفاظ میں اسی حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ ہدایت پا لینے کے بعد اس وہم میں مبتلا ہو جانا کہ اب ہمارے لئے ابتلاء آ ہی نہیں سکتا اور شیطان کا ہم پر کامیاب وار ممکن ہی نہیں یہ غلط ہے متقی بن جانے کے بعد بھی انسان کو ہدایت کی ضرورت رہتی ہے اور جب اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی کہ رَبَّنَا لَاتُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْھَدَیْتَنَا اس میں اس طرف بھی اشارہ کیا کہ کجی سے بچنے اور ہدایت پر قائم رہنے کیلئے جن ہدایتوں کی، جن تعلیمات کی ضرورت ہے وہ قرآن کریم میں پائی جاتی ہیں۔ پس ایسے مواقع کے لئے جو دعائیں قرآن کریم نے سکھائی ہیں جو طریق اس نے بتائے ہیں جو تعلیمیں اس نے دی ہیں ان سے فائدہ اُٹھائو اور دعائوں کے ذریعہ اور تدبیر کے ذریعہ یہ کوشش کرو کہ ہدایت پانے کے بعد پھر پائوں نہ پھسلے اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنت میں داخل ہونے کے بعد کہیں ایسا نہ ہو کہ رضا کی ان جنتوں سے نکال دئے جائو۔
    پس تربیت کا ایک محاذ تو یہ ہے ساری جماعت کو اس طرف متوجہ رہنا چاہئے کہ ایک دوسرے کے ممد اور معاون اور ناصر بن کر ایک دوسرے کو لغزشوں سے بچائیں اور اس طرف متوجہ کرتے رہیں کہ دیکھنا کسی موقع پر بھی کبر اور نخوت اور غرور اور اباء اور استکبار تمہارے اندر نہ پیدا ہو جائے عاجزی کے ساتھ اور نیستی کے ساتھ اپنی زندگی کے دن گزارو یہ ایک پہلو ہے تربیت کا اور دوسرا پہلو جو ہے وہ نئے داخل ہونے والوں یا نئے پیدا ہونے والوں کا محاذ ہے جب ایک کام ایک لمبے زمانہ پر ممتد ہو تو ضروری ہوتا ہے کہ ایک نسل کے بعد دوسری نسل کی صحیح تربیت کی جاتی رہے تو دوسرا پہلو تربیت کا اطفال کی تربیت، نئے داخل ہونے والوں کی تربیت ہے (اس کی تفصیل میں میں اس وقت نہیں جائوں گا)
    بہر حال ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ میں اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں ایک تو یہ فرمایا کہ ہدایت پا جانے کے بعد بھی تمہیں ہدایت پر قائم رہنے کے لئے ایک ہدایت کی ضرورت ہے اور وہ قرآن کریم میں پائی جاتی ہے اور دوسرے اللہ تعالیٰ نے اشارۃً یہ فرمایا کہ قرآن کریم ہدایت کا سامان اپنے اندر رکھتا ہے (دوسری جگہ بڑی وضاحت سے اسے بیان کیا ہے) اور اشارۃً بتایا گیا ہے کہ جو ہدایت یافتہ نہ ہوں بڑے ہوں، شعور رکھنے والے ہوں لیکن ابھی ان پر اسلام کی حقیقت واضح نہ ہوئی ہو یا بچپن سے بڑے ہو رہے ہوں اور ابھی اس قسم کا شعور ان میں پیدا نہ ہوا ہو جو بھی صورت ہو نئے سرے سے ہدایت دینے کے سامان قرآن کریم میں پائے جاتے ہیں اور قرآن کریم نے بڑا زور دیا ہے کہ تربیت کے اس پہلو کو بھی ہمیشہ مدنظر رکھو اور اس میں کبھی غفلت سے کام نہ لو۔
    دوسرا محاذ جہاں ہمیں چوکس رہنا چاہئے اور اس کی طرف سورۃ بقرہ کے شروع میں ہی اللہ تعالیٰ نے ہمیں متوجہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ کے مضمون کے متعلق آیات بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
    اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَوَآئٌ عَلَیْھِمْ ئَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ (البقرۃ:۷) کہ ایک دوسری جماعت یا دوسرا گروہ وہ ہے (اس کامل کتاب کے نزول کے بعد) کہ جن کے دل اور دماغ اور روح کی کیفیت یہ ہے کہ تم انہیں انذاری پیشگوئیاں بتا کر انذار کرو یا نہ کرو ان کے لئے برابر ہو گا۔ وہ اس کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم نبی کو محمد رسول اللہﷺ کی شکل میں دنیا کی طرف بھیج دیا ہے اور قیامت تک دنیا کی قسمت کو آپ کے پاک وجود کے ساتھ وابستہ کر دیا ہے اور جو شخص آپ کی طرف متوجہ نہیں ہوتا وہ اس دنیا میں بھی اور آنے والی دنیا میں بھی گھاٹے میں رہتا اور خسران پانے والا ہے تو جب تک ان کے ذہنوں کی یہ کیفیت رہے کہ تمہارا ڈرانا نہ ڈرانا ان کے لئے برابر ہی ہو تو اس وقت تک وہ ایمان کیسے لا سکتے ہیں اس لئے تم پر یہ فرض عائد کیا جاتا ہے کہ تم ان کے ذہنوں کی اس کیفیت کو بدلنے کی کوشش کرو اس کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ نے بڑی تفصیل سے قرآن کریم میں ہدایتیں دی ہیں ہمیں یہ کہا ہے کہ تمہارے دل میں ایسے لوگوں کے لئے رحم کا جذبہ اس شدت کا پیدا ہو جائے کہ تم ہر وقت ان کے لئے دعائیں کرتے رہو وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لے رہے ہیں اس کی آواز پر لبیک نہیں کہہ رہے ایک جہنم اپنے لئے پیدا کر رہے ہیں اے خدا! تو اپنے ان بندوں کو اس جہنم سے نجات دلا ان کی آنکھیں کھول ان کے دلوں کی اس کیفیت کو بدل دے۔
    اس کے متعلق جیسا کہ میں نے بتایا ہے بڑی تفصیل سے قرآن کریم نے ہدایتیں ہمیں دی ہیں۔ جَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ( النحل:۱۲۶) کہہ کے عملی نمونہ دکھائو وغیرہ وغیرہ سینکڑوں ہدایتیں ہمیں دی گئی ہیں اس محاذ پر بھی ہمیں ہر وقت چوکنا رہنا چاہئے۔
    اس وقت اسلام پر سب سے زبردست حملہ عیسائیت کر رہی ہے اور دوسرے نمبر پر دہریت یعنی وہ جو خدا کے وجود سے ہی انکار کر رہے ہیں عیسائیت کو یہ وہم ہو گیا تھا کہ وہ بیسویں صدی کے شروع میں ساری دنیا کو اس کے لئے جسے وہ خدا وند یسوع مسیح کہتے ہیں جیت لیں گے لیکن عین وقت پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا اور ان کے اس وہم کو دور کر دیا لیکن ابھی طاغوتی طاقتوں کا سر جو اس شکل میں اور اس رنگ میں ظاہر ہوا تھا پوری طرح کچلا نہیں گیا اور ڈیسپریٹ (Desperate) ہو کر خائف ہو کر اسلام کے خلاف ہر جائز اور ناجائز طریق کو استعمال کرنے پر عیسائیت تل گئی ہے ایک مثال میں دیتا ہوں کہ کچھ عرصہ ہوا مغربی افریقہ سے یہ اطلاع ملی تھی کہ عیسائیوں کے ایک رسالہ میں یہ مضمون شائع ہوا ہے ایک بہت بڑے پادری کی طرف سے کہ جو طریق اس وقت تک ہم عیسائی بنانے کے لئے استعمال کرتے آئے ہیں وہ ناکام ہو گئے ہیں ہمیں سوچنا پڑے گا کہ نئے طریق اختیار کئے جائیں کیونکہ ایک لمبے عرصہ کے تجربہ نے ہم پر یہ ثابت کیا ہے کہ ان راہوں سے ہم کامیابی کا منہ نہیں دیکھ سکتے اور اس نے یہ مشورہ دیا ہے کہ عیسائیت میں مغربی افریقہ کے رہنے والوں کی روایات اور عادات کے مطابق تبدیلیاں کر دی جائیں یہ لوگ بت پرست ہیں، وہم پرست ہیں جادو اور ٹونے کے قائل ہیں کچھ اس قسم کے خیالات عیسائیت کے اندر لے آنے چاہئیں تاکہ یہ لوگ عیسائی ہوجائیں۔
    ابھی دو ایک ہفتے ہوئے مشرقی افریقہ سے یہ اطلاع ملی ہے کہ وہاں بھی پادریوں نے سر جوڑا ہے اور انہوں نے یہ بحث کی ہے کہ جن راہوں کو ہم کامیابی کی راہیں سمجھتے تھے وہ تو ناکامی کی طرف ہمیں لے گئی ہیں اور یہ لوگ عیسائیت کی طرف متوجہ نہیں ہو رہے اس واسطے ان کے ذہن اور ان کی عادتوں اور ان کی روایتوں کے مطابق عیسائی اعتقادات میں تبدیلی کر دینی چاہئے تاکہ ان لوگوں کو ہم عیسائی بنا سکیں یعنی عیسائیت کا ان پر لیبل لگ جائے چاہے وہ پتھر کی پرستش کرنے والے ہوں چاہے وہ درخت کی پرستش کرنے والے ہوں چاہے وہ جادو اور ٹونے کی پرستش کرنے والے ہوں لیکن عیسائیت کے اندر یہ چیزیں لے آئو لیبل تو لگ جائے گا کہ عیسائی ہو گئے۔
    تو جو مذہب اس قسم کے ہتھیاروں کو استعمال کرنے کی طرف آ جائے اس کی حالت کا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔ بہرحال اس وقت وہ اپنا پورا زور لگانے پر تلے ہوئے ہیں کہ ہر جائز اور ناجائز طریق سے اسلام کے خلاف عیسائیت کو کامیاب کریں دراصل ہماری زندگی کا جماعت احمدیہ کی زندگی کا مقصد ہی یہ ہے کہ اسلام کو تمام ادیان پر غالب کیا جائے اور سب سے بڑا حملہ عیسائیت کے محاذ سے ہو رہا ہے ہمیں اللہ تعالیٰ نے باوجود انتہائی کمزور ہونے کے، باوجود انتہائی غریب ہونے کے، باوجود انتہائی بے کس ہونے کے،باجود انتہائی طور پر سیاسی اقتدار سے محروم ہونے کے یہ توفیق عطا کی اپنے فضل سے کہ ہم نے ایک بہت بڑا ریلا عیسائیت کا بیسویں صدی کے شروع میں روک دیا لیکن ہمارا کام ابھی ختم نہیں ہوا اور نہ وہ وقت آیا ہے کہ ہم سمجھیں کہ ہمیں اپنی قربانیوں کی رفتار کو اب تیز کرنے کی ضرورت نہیں رہی ہم کامیاب ہو گئے ہیں یا یہ کہ کامیابی ہمارے سامنے کھڑی ہے عنقریب ہم کامیاب ہو جائیں گے ابھی وہ وقت نہیں آیا اس کے لئے بہت زیادہ اور انتہائی قربانیاں ہمیں دینی پڑیں گی محمد رسول اللہﷺ کے لئے، اسلام کے اللہ کے لئے، جب دلوں کے جیتنے کا سوال ہو تو نصف یا چوتھائی دل جیتنے کا سوال نہیں ہوتا کہ دل آدھے تو شیطان کے رہیں اور نصف خدا کے لئے ہو جائیں سارا ہی دل جیتنا ہے اور سارے ہی دل کو اللہ تعالیٰ کے قدموں میں لا ڈالنا ہے عیسائیت کی طرح ہم یہ تو سوچ بھی نہیں سکتے کہ اسلام کے اندر مداہنہ کرتے ہوئے کچھ نرمی کر دیں پورے کا پورا اسلام انہیں قبول کرنا ہو گا انشاء اللہ اور پورے کے پورے دل اور روح کے ساتھ اور پورے ذہن کے ساتھ ان کو اپنے اللہ کے حضور جھکنا پڑے گا۔ یہ ہماری زندگی، ہمارے قیام کا مقصد ہے جس کے لئے انتہائی قربانیاں ہمیں کرنی پڑیں گی۔ اللہ اس کی توفیق عطا کرے۔
    تیسرا ایک اور محاذ ہے جس کا ذکر شروع میں ہی اللہ تعالیٰ نے کیا ہے اور پھر مختلف صورتوں میں کافی لمبی بحث بھی اس مسئلہ پر قرآن کریم نے کی ہے اور وہ ہے نفاق کا محاذ، سورۃ بقرہ کے شروع میں ہی نفاق کے متعلق جب بحث ہوئی ہے تو بہت سی آیتوں میں زیادہ تفصیل سے بات کی گئی ہے کیونکہ نفاق ایک ایسی بیماری ہے جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو سزا ملتی ہے اتنی بڑی سزا کسی اور گناہ کے نتیجہ میں نہیں ملتی۔ قرآن کریم نے کہا ہے ۔
    اِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ (سورۃ النساء: ۱۴۶)
    یعنی جو سزا خدا کے حضور منافق کے لئے مقدر ہے وہ مشرک کے لئے بھی مقدر نہیں، کافر کے لئے بھی مقدر نہیں۔
    اللہ تعالیٰ نے سورئہ بقرہ کی ان آیات میں جو نفاق اور منافقوں کے متعلق ہیں بڑی تفصیل سے ان کی عادتوں اور طریقوں پر بحث کی ہے قرآن کریم نے دوسری جگہ ان آیات کے مضامین کو اور وضاحت کے ساتھ کھولا ہے ہمیں جس بنیادی چیز کی طرف متوجہ کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ منافق مصلح کی شکل میں ہمارے سامنے آتا ہے یعنی اعلان یہ ہوتا ہے کہ میں جماعت میں اصلاح کرنا چاہتا ہوں۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ جماعت میں فساد پیدا کیا جائے اس واسطے بہت ہی زیادہ ہشیار اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے اس کیلئے جو بنیادی تعلیم ہمیں دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ خلیفہ وقت یا امام وقت یا اگر رسول زندہ ہو تو رسول کے ساتھ چمٹ جائو۔ اس کے ساتھ لگے رہو تب تم نفاق کے حملوں سے بچ جائو گے۔ نبی اکرمﷺ پہلے مخاطب تھے قرآن کریم کے اور ابدی زندگی آپ کو عطا ہوئی تو سارا زور اس پر ہے کہ محمد رسول اللہﷺ کے ساتھ چمٹو روحانی طور پر کیونکہ آپ قیامت تک کے لئے زندہ ہیں اس لئے حقیقت یہی ہے کہ اب بھی یہی حکم ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ کے چمٹ جائو اور آپ کو اُسوہ بنائو منافق کے شر سے بچ جائو گے۔ محمد رسول اللہﷺ کے نائب اللہ تعالیٰ دنیا میں پیدا کرتا رہا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو سب سے بڑے نائب اور آنحضرتﷺ کے سب سے زیادہ محبوب روحانی فرزند کی شکل میں دنیا کی طرف بھیجا اور پھر ایک سلسلہ خلافت دنیا میں قائم کیا۔ اصل چیز تو محمدﷺ ہیں اصلی زندگی تو محمد رسول اللہﷺ کی زندگی ہے نفاق اور کفر سے بچنے کا اصل ذریعہ تو محمد رسول اللہﷺ سے پیار اور محبت ہے اور پھر ان سے جن کے متعلق خود محمد رسول اللہﷺ نے کہا ہے کہ ان کی اطاعت کرو اور ان سے پیار کا تعلق قائم کرو۔
    جو طریق منافق اختیار کرتا ہے اس پر قرآن کریم نے بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ مثلاً ایک طریق اس کا یہ بتایا ہے کہ وہ یہ اعتراض کرتا ہے کہ ھُوَاُذُنٌ کہ یہ تو کان ہیں لوگ آتے ہیں کان بھر جاتے ہیں محمد رسول اللہ ﷺ کے (نعوذ باللہ) اور غلط فیصلے ان سے ہو جاتے ہیں۔ وہ دن اور آج کا دن اور پھر قیامت تک یہی ہوتا رہے گا۔ جو آپ کے عاجز اور ناچیز بندے آپ کے نام پر خداتعالیٰ کی طرف سے کھڑے کئے جاتے ہیں بطور نائب کے، بطور خادم کے، بطور پیار کرنے والے کے، بطور اس ذرئہ ناچیز کے جسے خداتعالیٰ اپنی دو انگلیوں میں لے اور اعلان کرے کہ اس ذرّہ کے ذریعہ میں اپنی قدرت کو ظاہر کرنا چاہتا ہوں ان پر یہ اعتراض ہوتے رہیں گے ہو رہے ہیں اور ہوتے چلے جائیں گے۔
    تو یہ ایک بڑی واضح علامت اللہ تعالیٰ نے بتائی ہے منافق کی، کہ کہتے ہیں کہ کان بھرنے والے کان بھر دیتے ہیں اور یہ فیصلہ کر دیتا ہے بغیر سوچے سمجھے حالانکہ جسے اللہ تعالیٰ اس مقام پر کھڑا کرتا ہے اسے فراست بھی عطا کرتا ہے اور وہ فراست بہرحال عام مومن کی فراست سے زیادہ ہی ہوتی ہے عام مومن کی فراست سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈرایا ہے۔ مومن کو اللہ تعالیٰ نے بڑی فراست دی ہوتی ہے تو جو مقام ایک مومن کا بتایا گیا ہے تم وہ مقام بھی خلیفہ وقت کو دینے کے لئے تیار نہیں اور کہتے ہو ھُوَاُذُنٌ خلیفہ وقت کی کیا حیثیت ہے محمد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں؟ جب تمہارے بڑوں نے محمد رسول اللہﷺ کو نہیں چھوڑا تو تم مجھ پر یا مجھ سے پہلوں پر یا بعد میں آنے والوں پر اس طرح پر اعتراض کرو تو کیا حقیقت ہے اس اعتراض کی!
    اللہ تعالیٰ نے وہاں یہ نہیں جواب دیا کہ محمد رسول اللہﷺ اُذُنْ نہیں ہیں بلکہ ان کے اس قول کو صحیح تسلیم کیا ہے کہ ہاں اُذُنْ ہیں سنتے ہیں باتیں، مگر اس کے بعد جو فیصلہ کرتے ہیں وہ تمہاری خیر کا ہوتا ہے اور تمہارے لئے شر کا فیصلہ نہیں ہوتا اور سننا ضروری ہے کیونکہ ہر جگہ کی ہر قسم کی بات پہنچنی چاہئے ورنہ صحیح نتیجہ پر نہیں پہنچا جا سکتا یعنی ہر جگہ سے بات کا کانوں تک پہنچنے سے منافق کا یہ نتیجہ نکالنا کہ اس سے شر پیدا ہو گا یہ احمقانہ بات ہے کیونکہ خدا کا کوئی بندہ بغیر صحیح نتیجہ پر پہنچنے کے کوئی کام نہیں کرتا اللہ تعالیٰ خود اس کی رہنمائی کرتا ہے اور صحیح نتیجہ پر وہ پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اُذُنْ تو ہے لیکن اُذُنُ خَیْرٍلَّکُمْ تمہاری بھلائی کے لئے کان ہے جو فیصلہ کرے گا باتیں سننے کے بعد وہ تمہارے لئے بہتر ہو گا۔
    پھر بدظنی کا مادہ بھی منافق میں ہوتا ہے کہہ دیتے ہیں کہ جی فلاں بات فلاں نے پہنچا دی۔ ابھی کل ہی مجھے ایک شخص نے کہا کہ کوئی شخص کہہ رہا تھا کہ فلاں شخص نے مجھ سے بات سنی اور کسی اور کی طرف منسوب کرکے وہ بات خلیفۃ المسیح سے کہہ دی حالانکہ اس شخص نے ایک لفظ بھی اس کے متعلق نہ کہا تھا گھر بیٹھے بدظنی کر لی کہ بات کر دی ہو گی جاکے۔
    لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہر شخص جو منافقانہ بات کرتا ہے ضروری نہیں کہ وہ پکا منافق ہو۔ منافقت کی ایک رگ ہے اس میں اس لئے کوشش کرنی چاہئے اور دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اس قسم کی منافقانہ رگ کو دور کر دے۔ آنحضرتﷺ کے زمانہ میں بہت سے منافق طبع بھی تھے اور کمزور بھی تھے اپنے ایمانوں میں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو اصلاح کا موقع دیا اور بعد میں وہ بڑے مخلص، قربانی دینے والے، ایثار کرنے والے بن گئے تو منافقانہ باتوں کو دیکھ کر صحیح نتیجہ جو ہمیں نکالنا چاہئے وہ یہ ہے۔
    (۱) ہم اس قسم کی منافقانہ باتوں کے نتیجہ میں جماعت میں کمزوری نہیں پیدا ہونے دیں گے اور (۲)یہ کہ ہم دعا کے ذریعہ اور تدبیر کے ذریعہ سے اس قسم کے کمزور لوگوں کی کمزوری کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔
    (روزنامہ الفضل مورخہ ۱۴؍ مارچ ۱۹۶۸ء صفحہ۲ تا۴)
    ٭…٭…٭

    خدا کی نگاہ میں عزت پانے کیلئے ضروری ہے کہ ہمارے اقوال پاک ہوں اور ہم اعمال صالح بجا لائیں
    (خطبہ جمعہ فرمودہ ۹ ؍فروری ۱۹۶۸ء بمقام نخلہ ۔تحصیل خوشاب )
    ء ء ء
    ٭ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں ودیعت کیا ہے کہ وہ اپنے ربّ کی صفات میں رنگین ہو۔
    ٭ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ تعلق رکھ کر ہی عزت کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔
    ٭ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو تا کہ تمہیں حقیقی عزت ملے۔
    ٭ تمہاری عزتوں کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے سلسلۂ خلافت کو قائم کیا ہے۔
    ٭ اگر تم خلافت کے مقابلہ میں کوئی بات کہتے ہو تو دنیا تمہیں آسمانوں کی عزتیں بھی عطا کر دے تو تب بھی تمہیں کوئی فائدہ نہیں۔



    تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں یہ ودیعت کیا ہے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے ربّ کی صفات کے رنگ میں رنگین ہو اور اس طرح اپنی پیدائش کے مقصد کو پورا کرے۔
    اللہ تعالیٰ کی ایک صفت عزیز بھی ہے جس کے معنی غالب کے بھی ہیں اورجس کے معنی یہ بھی ہیں کہ تمام عزتیں اسی کی ہیں۔ قرآن کریم نے اس پر وضاحت سے روشنی ڈالی ہے کہ تمام عزتوں کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ وہ خود بھی تمام عزتوں کا مالک ہے اور حقیقی عزت سوائے اس کی ذات کے کسی اور سے مل ہی نہیں سکتی۔ انسان کی فطرت میں یہ رکھا گیا ہے کہ وہ باعزت ہو اور باعزت رہے اور عزت نفس اسے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے۔ لیکن انسانی فطرت میں یہ جذبہ بیج کے طور پر ہوتا ہے۔ مگر انسان اپنی عزت کے حصول اور اس کے قیام کے لئے بہت سی غلط راہوں کو بھی اختیار کر لیتا ہے ایسی راہیں جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ناپسندیدہ ہوتی ہیں معزز نہیں ہوتیں۔ قرآن کریم نے ان غلط راہوں کا بھی ذکر کیا ہے اور ہمیں بتایا ہے کہ اس طرح ان راہوں پر چل کر تم حقیقی عزت کو حاصل نہیں کر سکتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورۂ نساء کی ۱۴۰ ویں آیت میں فرماتا ہے۔ پہلے یہ مضمون چلا آ رہا ہے کہ منافق مومنوں کو چھوڑ کے دنیا کی جھوٹی عزتوں کے لئے کافروں سے اسلام کے دشمنوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔
    اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَھُمُ الْعِزَّۃَ فَاِنَّ الْعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا (النساء:۱۴۰)
    کیا اس طرح منافق دنیا میں اپنے لئے عزت کا سامان پیدا کرنا چاہتے ہیں؟ کیا انہیں معلوم نہیں کہ حقیقی عزت کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور ہر قسم کی حقیقی عزتیں اسی کی ہیں اور اسی سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ چونکہ ابتدائے اسلام میں غیر مسلموں کو سیاسی اقتدار اور طاقت حاصل تھی۔ ابھی اسلام کا غلبہ نہیں ہوا تھا اس لئے منافق جھوٹی عزتوں کی خاطر ان کی طرف جھکتے اور ان کا سہارا لیتے اور ان سے عزت حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے یہاں منافقوں کو کہا کہ عزت اگر تم نے حاصل کرنی ہے تو یہ کافر تمہیں عزت نہیں دے سکیں گے تمہیں معلوم ہونا چاہئے۔
    فَاِنَّ الْعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا (النساء: ۱۴۰)
    حقیقی عزت تو اللہ تعالیٰ کی ہے اور اسی سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ دوسری جگہ فرمایا۔
    وَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ (المنافقون :۹)
    کہ عزت کے صحیح حقدار اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ تعلق کو قائم رکھ کر عزت کو حاصل کیا جا سکتا ہے کافروں کی طرف مائل ہو کر ان کی طرف جھک کر ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے کے نتیجہ میں کسی قسم کی عزت حاصل نہیں کی جا سکتی۔
    انسانی فطرت کے تقاضا کو پورا کرنے کے لئے منافق غلط راہ اختیار کرتے تھے کہ خدا اور رسول کی طرف جھکنے کی بجائے وہ کافروں کی طرف جھک جاتے تھے۔ اسی طرح حضرت شعیب علیہ السلام کے ذکر میں سورئہ ھود کی آیت ۹۳ میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ ان کے مخالف اور منکر کی نگاہ میں قبیلے کی طاقت اور عزت زیادہ تھی اللہ تعالیٰ کی عزت کے مقابلہ میں۔ حضرت شعیبؑ کو بھی انہیں کہنا پڑا اَرَھْطِیْ اَعَزُّ عَلَیْکُمْ مِنَ اللّٰہِ میرے قبیلے سے تم ڈرتے اور خوف کھاتے ہو اور سمجھتے ہو کہ اگر تیرے قبیلہ کو ناراض کیا تو تمہاری بے عزتی ہو جائے گی۔ لیکن تم یہ نہیں سمجھتے کہ اصل بے عزتی تو اس شخص کی ہوتی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کو ناراض کرتا ہے۔ اسی طرح سورئہ کہف کی ۳۵ ویں آیت میں فرمایا۔
    ’’اَنَا اَکْثَرُمِنْکَ مَالاً وَّاَعَزُّ نَفَرًا‘‘
    ایک منکرِ خدا نے سمجھا کہ مال اور تعداد میں عزت ہوتی ہے اور کہا کہ میرا مال بھی زیادہ ہے اور ہمارے گروہ کی اور ہمارے قبیلے کی نفری اور تعداد بھی زیادہ ہے اس لئے میں زیادہ عزت والا ہوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے غضب نے اسے پکڑا اور اس کے مال کو تباہ کر دیا اور اس کی دنیوی عزت کو خاک میں ملا دیا۔
    پس فطرت کے اس تقاضا کو پورا کرنے کے لئے مال کی طرف ایسے لوگ متوجہ ہوتے ہیں یا قبیلہ کی نفری کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور ان پر فخر کرنے لگ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس قسم کے لوگوں کو جب راہِ راست کی طرف خدا اور اس کا رسول بلاتے ہیں تو وہ سَمْعًا وَطَاعَۃً نہیں کہتے بلکہ دنیا کی عزتوں کی خاطر دنیا میں فساد پیدا کرتے اور کھیتی باڑی اور مخلوق کو ہلاک کرنے کی غرض سے ملک میں دوڑتے پھرتے ہیں اور اس طرح پر اپنی عزت کو قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسا کہ میں نے کئی دفعہ بتایا ہے سرگودہا کے ایک بڑے زمیندار سے ایک دفعہ میں نے (دیر کی بات ہے۔ قبل از خلافت) تبلیغی بات کی تو وہ کہنے لگا کہ آپ مجھے کیا مسئلہ سمجھائیں گے میں تو سارے مسئلے سمجھا ہوا ہوں۔ قادیان کے زمانے سے ہر جلسے پر حاضر ہوتا ہوں تقاریر کو سنتا ہوں اور کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو میں سمجھا ہوا نہیں ہوں۔ لیکن آپ یہ تو سوچیں کہ میں اپنے علاقہ کا بہت بڑا چوہدری ہوں ہم نے اپنی عزت اور چودھراپے کو قائم رکھنے کے لئے قتل بھی کروانے ہوئے چوریاں بھی کروانی ہوئیں اور ڈاکے بھی ڈلوانے ہوئے اور اغواء بھی کروانا ہوا۔ اگر میں احمدی ہو جائوں تو آپ کا انگوٹھا میری گردن پر ہو گا اور آپ کہیں گے کہ یہ حرکتیں بند کر دو تو میں جو علاقہ کا چوہدری ہوں میری عزت قائم نہیں رہے گی گویا اس کے نزدیک دنیا کی عزت کے قیام کیلئے فساد کا بپا کرنا ضروری تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ایسے شخص سے کہا جاتا ہے وَاِذَاقِیْلَ لَہُ اتَّقِ اللّٰہ (البقرہ:۲۰۷) کی عزت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
    اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو تاکہ تمہیں حقیقی عزت ملے تو وہ اس بات کو سمجھتا نہیں۔ اَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بِالْاِثْمِ (البقرہ :۲۰۷) اپنی جھوٹی عزت کی پچ ایسے لوگوں کو گناہ پر آمادہ کر دیتی ہے اور گناہ پر قائم رکھتی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے شخص کی کوئی عزت نہیں۔ کیا وہ صاحب عزت ہو سکتا ہے جس کے لئے جہنم خدا نے تیار کیا ہو؟ فَحَسْبُہٗ جَھَنَّمُ جس کے لئے جہنم کافی ہے۔ جس نے جہنم میں پڑنا ہے وہ عزت اور فخر سے اپنا سر کیسے اونچا کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے سورئہ دخان میں کہ دنیوی غلبہ اور دنیا کی مقبولیت پر گھمنڈ کرنے والے اور اپنی جھوٹی دنیوی عزت پر فخر کرنے والے کو ہمارے حکم سے فرشتے جہنم کے وسط تک گھسیٹتے ہوئے لے جائیں گے اور ان کے سروں پر ان کی اصلاح کے لئے گرم پانی ڈالا جائے گا اور ہم اسے کہیں گے ذُقْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْکَرِیْمِ (الدخان: ۵۰)میرے غضب اور میری طرف سے نازل ہونے والی بے عزتی کو چکھ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْکَرِیْمُ تو دنیا میں اپنے آپ کو غالب اور عزت والا اور قابل احترام سمجھا کرتا تھا اور عزت کے حصول کے لئے صحیح راہوں کو اختیار کرنے کی بجائے تو نے غلط راہوں کو اختیار کیا تھا۔ ذُقْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْکَرِیْمُ آج میرے غضب کی جہنم اور ذلت کی جہنم کو چکھ اور یہ بدلہ ہے اس جھوٹی عزت کا جو دنیا میں تو نے اپنے لئے قائم کی تھی۔
    پس انسان کی فطرت میں صاحب عزت اور قابل احترام بننے کا جذبہ تو یقینا ہے اور یہ جذبہ ہے بھی بہت اچھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اسی غرض کے لئے پیدا کیا ہے کہ وہ معزز بنے لیکن اس کی نگاہ میں کسی اور کی نگاہ میں نہیں اور غلط راہوں پر چلنے سے اللہ تعالیٰ نے بڑی وضاحت سے قرآن کریم میں روکا ہے بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے ناک پر ان کی عزت رہتی ہے ذرا سی بات ہو جائے تو کہتے ہیں کہ بے عزتی ہو گئی بے عزتی ہو گئی۔ ایسا شخص بھی عزت کے حقیقی مفہوم کو نہیں سمجھتا اور نہ حقیقی مقام عزت کو اس نے حاصل کیا ہے کیونکہ کسی ایک کے کیا ساری دنیا کے گالیاں دینے سے بھی اس کی بے عزتی نہیں ہوتی جب تک خدا کے فرشتے بھی اس پر *** نہ کر رہے ہوں اور اگر وہ خداتعالیٰ کی نگاہ میں عزت دار ہے اور اگر خداتعالیٰ کے فرشتے اس پر درود بھیج رہے ہیں اور اس کے لئے دعائیں کر رہے ہیں تو ساری دنیا گالیاں دے کیا فرق پڑتا ہے؟ کجا یہ کہ کسی نے ذرا سی بات کی اور لڑنا شروع کر دیا گویا اپنے زور سے اس نے اپنے لئے عزت کا مقام حاصل کرنا ہے اپنے زور سے تو حقیقی عزت کا مقام حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
    اس کے مقابلے میں بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی فطرت مسخ شدہ ہوتی ہے ان کو اس بات کا خیال بھی نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عزت نفس عطا کی ہے اور ایک معزز زندگی ہمیں اس دنیا میں گذارنی چاہئے۔ اس معنی میں جس معنی میں خداتعالیٰ نے اس لفظ کو استعمال کیا ہے یعنی خداتعالیٰ کی نگاہ میں عزت پانے کے لئے ہمیں ہر قسم کی قربانیاں ہر قسم کی فدائیت کے نمونے پیش کرنے چاہئیں تاکہ ہم اس کی نگاہ میں معزز ہو جائیں ایسی مسخ شدہ فطرت تو عزت کے معنی سے بھی ناآشنا ہوتی ہے۔ ایک لطیفہ مشہور ہے کہ ایک شخص نے اپنے نوکر کو خوب جوتیاں لگائیں اس نے کہا کہ جناب میرا استعفیٰ!!!! آج آپ مجھے جوتیاں مار رہے ہیں کل میری بے عزتی کر دیں گے میں تو یہاں نہیں رہتا یعنی جوتیاں کھانے سے بھی اس کی عزت میں کوئی فرق نہیں آیا گویا اسے پتہ نہیں کہ عزت کہتے کسے ہیں اور عزت نفس جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کی ہے وہ ہے کیا؟ اس قسم کے لوگ بھی دنیا میں ہوتے ہیں۔
    منافقوں کے متعلق بھی قرآن کریم کہتا ہے کہ نبی کریمﷺ کی یا آپ کے خلفاء کی اطاعت سے باہر نکلتے ہیں فخر سے یہ کہتے ہوئے کہ ہم بڑے معزز ہیں ہمیں کوئی پرواہ نہیں۔ خدا اور اس کے رسول کی پرواہ نہیں رسول کے خلفاء کی پرواہ نہیں امراء کی پرواہ نہیں، نظام جماعت کی بھی پرواہ نہیں تمہاری عزت پھر کیا رہ گئی؟ تمہاری عزت کو قائم کرنے کے لئے تو اللہ تعالیٰ نے رسول کو بھیجا تھا۔ تمہاری عزتوں کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے سلسلہ خلافت کو قائم کیا تھا، تمہاری عزتوں کے محافظ بن کر نظام سلسلہ میں لوگوں کو پرویا تھا تاکہ ہر شخص ایک دوسرے کی عزت کا خیال رکھے۔ تمہارا فسوق کی راہ کو اختیار کرنا اور دعوے یہ کرنا کہ اس طرح ہم زیادہ معزز بن جائیں گے، ایک لغو اور غیر معقول بات ہے، اللہ تعالیٰ سورئہ فاطر میں فرماتا ہے۔
    مَن کَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّۃَ فَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ جَمِیْعًاط اِلَیْہِ یَصْعَدُالْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہٗط وَالَّذِیْنَ یَمْکُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌط وَمَکْرُ اُولٰٓئِکَ ھُوَ یَبُوْرُ (فاطر :۱۱)
    اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس لئے پیدا کیا ہے کہ تمہیں اس دنیا میں بھی اور اُس دنیا میں بھی عزت ملے نیز یہ کہ عزت کا چشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے عزت اگر مل سکتی ہے تو اس سے مل سکتی ہے اور پھر یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں عزت حاصل کرنے کے طریق کیا ہیں اور پھر یہ انذار کیا کہ اگر ان طریق کی بجائے، ان راہوں کی بجائے، تم دوسری کج راہوں کو اختیار کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں عزت حاصل نہ کر سکو گے بلکہ ذلیل ہو جائو گے۔
    مختصراً اس آیت کا مضمون یہ ہے کہ جو شخص عزت حاصل کرنا چاہے اپنی فطرت کے تقاضا کو پورا کرنے کے لئے تو اسے یاد رکھنا چاہئے کہ ہر قسم کی عزت اللہ تعالیٰ ہی کی ہے اور ہر قسم کی عزت کا حصول صرف اس سے تعلق رکھ کے ممکن ہو سکتا ہے کیونکہ وہ تمام عزتوں کا سرچشمہ ہے۔
    سوال پیدا ہوتا تھا کہ خدا کی نگاہ میں ہم کیسے عزت حاصل کریں۔ فرمایا اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ نیک باتیں اس کی طرف جاتی ہیں۔ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ کے معنی ہیں پاک باتیں ایسی باتیں جن میں جہالت نہ ہو اور ایسی باتیں جن میںفسق اور فجور نہ ہو۔ پس فرمایا کہ تمہارے اعتقادات اور تمہارے اقوال میں میری صفات کا نور ہونا چاہئے کیونکہ جہالت کے نتیجہ میں بھی وہ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ نہیں رہتے نہ اعتقاد نہ اقوال اسی طرح اگر فسق و فجور ہو تو وہ الْکَلِمُ الطَّیِّبُنہیں رہتے اس لئے ضروری ہے کہ اعتقادات صحیح ہوں اور انسان کی زبان پر صرف وہ باتیں آئیں جنہیں الْکَلِمُ الطَّیِّبُ کہا جا سکے لغو باتیں نہ ہوں، گالی گلوچ نہ ہو، فتنہ کی بات نہ ہو، جہالت کی بات نہ ہو، نفاق کی بات نہ ہو، ریاء اور استکبار کی بات نہ ہو وغیرہ وغیرہ بہت سی باتیں ہیں جن سے اسلام نے روکا ہے اور اگر ہماری زبان ان سے نہ رکے تو جو ہماری زبان سے نکلے گا اس پر الْکَلِمُ الطَّیِّبُ کا فقرہ چسپاں نہیں ہو سکے گا۔
    اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خدا کی نگاہ میں عزت حاصل کرنا چاہتے ہو تو تمہارے منہ سے سوائے الْکَلِمُ الطَّیِّبُ کے اور کوئی چیز نہیں نکلنی چاہئے جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے کہ اس کے لغوی معنی یہ ہیں کہ وہ باتیں جن میں فسق نہ ہو اور ہمیں بھولنا نہیں چاہئے کہ ایسی باتیں جو خلافت راشدہ کے خلاف کہی جاتی ہیں ان پر قرآن کریم فسق کے لفظ کا اطلاق کرتا ہے۔ اس آیت میں جس میں خلافت کا ذکر ہے فرمایا: ’’وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ‘‘ (النور :۵۶) کئی منافق یا نفاق کی آگ رکھنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ ’’سانوں کوئی پرواہ نئیں۔ اسیں نظام دے خلاف وی جو مرضی اے کہہ دئیے سانوں کوئی کج نہیں کہہ سکدا‘‘۔ ابھی دو تین مہینے ہوئے جامعہ احمدیہ کا ایک ایسا طالب علم جو قریباً فارغ ہو چکا ہے اس کے متعلق مجھے یہ رپورٹ ملی کہ وہ کہتا ہے کہ میں جو مرضی ہے کہتا رہوں مجھے کوئی کچھ نہیں کہے گا آگے وجہ بھی اس نے احمقانہ بیان کی جس کے ذکر کی یہاں ضرورت نہیں۔
    سوال یہ ہے کہ اگر تم خلافت کے مقابلے میں کوئی بات کہتے ہو تو دنیا تمہیں آسمانوں کی عزتیں بھی عطا کر دے تو تب بھی تمہیں کوئی فائدہ نہیں کیونکہ خدا کی نگاہ میں تم فاسق بن گئے۔فَاُولٰئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ میں شامل ہو گئے ہو۔
    اللہ تعالیٰ نے یہاں وضاحت سے فرمایا ہے کہ خالی منہ کی باتیں بھی کافی نہیں یعنی اگر تم نے خدا کی نگاہ میں عزت حاصل کرنی ہے اور حقیقی طور پر معزز بننا ہے تو محض الْکَلِمُ الطَّیِّبُ کافی نہیں کیونکہ یہ تو صحیح ہے کہ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ کا صعود اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتا ہے لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ بغیر سہارے کے الْکَلِمُ الطَّیِّبُ خدا تک نہیں پہنچتے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قانون بتایا ہے کہ وہی الْکَلِمُ الطَّیِّبُ جن کو اعمال صالحہ کا سہارا ہے خداتعالیٰ تک پہنچتے ہیں (وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہٗ)تو نیک اعتقاد، میٹھے اور معطر بول جو اعمال صالحہ کے سہارے بلند ہوتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچتے ہیں جو عزت کا سرچشمہ ہے۔ زبان بھی خدا کی پسندیدہ اور جوارح بھی خدا کے مطیع ہوں تو پھر خدا کی نگاہ میں انسان عزت پاتا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت بھی ایسے شخص کو بے عزت نہیں کر سکتی۔ جاہل دنیا نے اسلام اور مسلمانوں کو ہر طرح ذلیل کرنے کی کوشش کی کیا وہ ذلیل ہو گئے؟ کیا وہ ذلیل ہوا جس کو خدا نے پیار سے اپنی گود میں بٹھا لیا اور اپنی رضا کی جنت میں داخل کیا یا وہ ذلیل ہوا جس کو دنیا میں تو جوتے نہیں پڑے مگر اس کے ربّ نے اسے کہا ذُقْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْکَرِیْمُ تو بڑا معزز اور مکرم بنا پھرتا تھا جا! ہماری جہنم میں داخل ہو اور اس جھوٹی عزت اور تکبر کا جس کی وجہ سے میرے پیاروں کو تو نے دکھ پہنچایا تھا آج نتیجہ دیکھ لے اور اس کی سزا کوپا۔
    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِیْنَ یَمْکُرُوْنَ السَیِّئَاتِ جو لوگ زبان بھی جہالت والی اور فسق و فجور والی رکھتے ہیں اور اعمال بھی ان کے اسی قسم کے ہیں لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌوہ میرے غضب کی جہنم میں، میرے قہر کے عذاب میں پڑنے والے ہیں۔ وَمَکْرُ اُولٰٓئِکَ ھُوَ یَبُوْرُ اور ہمارا معاملہ ان دو گروہوں کے ساتھ ثابت کر دے گا جو لوگ میرے ان بندوں کے خلاف جنہیں میں عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ تدبیریں کرتے اور زبان کو خنجر کی طرح چلاتے ہیں ان کا مکر ہی ہلاک ہوتا اور ناکام ہوتا ہے۔ عزت میرے بندے ہی پاتے ہیں کیونکہ تُعِزُّ مَنْ تَشَآئُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآئُ۔ حقیقی عزت اسی کو ملتی ہے جسے اللہ تعالیٰ حقیقی عزت دینا چاہئے اور جسے اللہ تعالیٰ عزت نہ دینا چاہئے بلکہ ذلیل کرنا چاہے ساری دنیا مل کے بھی اسے نہ اس دنیا میں نہ اس دنیا میں حقیقی عزت عطا کر سکتی ہے۔
    اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو یہ توفیق عطا کرے کہ اس کی منشاء کے مطابق الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ بجا لاتے ہوئے حقیقی عزت اس کی نگاہ میں ہم پائیں اور خدا کرے کہ ہمیں یہ نہ سننا پڑے کہ ذُقْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْکَرِیْمُ۔
    (روزنامہ الفضل مورخہ ۲۸؍ جون ۱۹۶۸ء صفحہ۲ تا۴)
    ٭…٭…٭
    اللہ تعالیٰ کی محبت کے جلوے دیکھنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم انفاق فی سبیل اللہ میں ترقی کرتے چلے جائیں
    (خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۶ ؍فروری ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ ربوہ )
    ء ء ء
    ٭ اگر تم اپنی قربانیوں میں بتدریج اضافہ کرتے چلے جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ کی کامل نیکی کو حاصل کر سکو گے۔
    ٭ وصیت میں تو قربانی کے سات درجے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رکھے ہیں۔
    ٭ تقویٰ کے کسی ایک مقام پر اللہ تعالیٰ حقیقی مومن اور متقی کو کھڑا رہنے نہیں دیتا۔
    ٭ صدر انجمن احمدیہ کا بجٹ پورا کرنے کی طرف فوری توجہ کریں۔
    ٭ فضل عمر فاؤنڈیشن کے وعدہ جات جلد ادا کریں تا کہ کام جلد شروع کئے جا سکیں۔



    تشہد، تعوذ، سورئہ فاتحہ اور آیت لَنْ تَنَا لُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ (آل عمران :۹۳) کی تلاوت کے بعد فرمایا۔
    اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو بار بار اور مختلف پیرایہ میں انفاق پر ابھارا ہے ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنَاکُمْ۔ یہاں انسان کو اس طرف متوجہ کیا کہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور یہ اس کی مہربانی ہے کہ وہ اپنی عطا میں سے ایک حصہ واپس مانگتا ہے اس وعدہ پر کہ وہ اس انفاق پر اور اس خرچ پر اپنی طرف سے ثواب دے گا چیز اسی کی ہے لیکن جہاں بے شمار فضل اور نعمتیں اس نے اپنے بندے پر کی ہیں وہاں اس نے یہ بھی فضل کیا کہ جو دیا اس میں سے کچھ واپس مانگا اور جن لوگوں نے اس کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس کے حضور اس کے دئیے ہوئے میں سے کچھ پیش کر دیا تو اس کے بدلہ میں اس نے ثواب بھی دیا۔
    اس آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالْکَافِرُوْنَ ھُمُ الظَّالِمُوْنَ کہ اس حقیقت کے باوجود وہ لوگ جو ہماری نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے اور ناشکرے بن جاتے ہیں اور ہماری آواز پر لبیک نہیں کہتے اور ہمارے کہنے کے مطابق خرچ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ حقیقتاً وہ اپنے نفسوں پر ہی ظلم کرنے والے ہیں۔ پس اس آیت میں اس طرف بھی توجہ دلائی تھی کہ جو کچھ تم سے مانگا جا رہا ہے وہ بھی تمہارا نہیں گھر سے تو کچھ نہ لائے۔ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی عطا میں سے کچھ مانگ کے تمہارے لئے مزید نعمتوں کے دروازے کھولنا چاہتا ہے اگر پھر بھی تم ناشکر گزار بندے بنے رہو تو بڑے ہی ظالم ہو۔ اپنے نفسوں پر بڑا ہی ظلم کرنے والے ہو۔
    دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اَنْفِقُوْا فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کہ جس خرچ کا ہم مطالبہ کرتے ہیں جان مال دوسری سب وہ چیزیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی ہیں اور وہ کہتا ہے کہ اس میں سے کچھ مجھے واپس لوٹائو تا کہ میرے ثواب کو حاصل کرو اور یہ خرچ فی سبیل اللہ ہونا چاہئے یعنی ان راہوں پر ہونا چاہئے جو راہیں اللہ تعالیٰ نے خود بتائی ہیں بعض دفعہ خرچ کی بعض راہیں انسان کی اپنے نفس سے محبت بتاتی ہے محبت نفس اسے کہتی ہے کہ یہاں خرچ کرو وہاں خرچ کرو اور آرام حاصل کرو دنیوی لذتوں میں سے کچھ حصہ پائو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ہم کہتے ہیں کہ خرچ کرو تو یہ مراد نہیں ہوتی کہ نفس کو بتائی ہوئی راہ پر خرچ کرو اور اس طرح بعض دفعہ خاندان خرچ کرواتا ہے بعض جاہل اور ناسمجھ لوگ خاندان کی جھوٹی عزت کی خاطر ناقابل برداشت قرض اٹھا لیتے ہیں اور برادری کو خوش کرنے کیلئے افراط کر رہے ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ خرچ کرو مِمَّا رَزَقْنَاکُمْ اس چیز سے جو ہم نے تمہیں دی ہے تو ہمارا یہ مطلب نہیں کہ اس راہ میں خرچ کرو جو تمہاری برادری تمہیں بتائے۔ اسی طرح خودی، تکبر، نمائش کا احساس خرچ کی بعض راہیں بتاتا ہے تو ان کے اوپر خرچ کرنا اللہ تعالیٰ کا مطالبہ نہیں اس آیت میں یہ فرمایا کہ جب ہم کہتے ہیں خرچ کرو تو اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ فی سبیل اللہ خرچ کرو ان راہوں پر خرچ کرو جو ہم نے متعین کی ہیں اور جن کی نشان دہی ہم نے کی ہے۔
    جو آیت شروع میں میں نے پڑھی تھی کہ لَنْ تَنَا لُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ اس میں ایک تیسرا مضمون بیان ہوا ہے اور اس میں ہمیں یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ جب قرآن کریم کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ تعلیم ایسی ہے کہ ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ ہے اس کے کیا معنی ہیں؟ مِمَّا تُحِبُّوْنَ میں تدریجی ترقیات کی طرف اشارہ ہے اور اس کی وجہ بھی بتائی گئی ہے کہ اگر تم اپنی قربانیوں میں بتدریج اضافہ کرتے چلے جائو گے تو اللہ تعالیٰ کی کامل نیکی کو حاصل کر سکو گے اگر ایسا نہیں کرو گے تو نیکی کو تو حاصل کر لو گے۔ اللہ تعالیٰ ثواب تو تمہیں دے گا مگر یہ ثواب نچلے درجہ کا ہو گا کامل نیکی نہیں کہلائے گا۔ پس یہاں یہ فرمایا ہے کہ جس چیز سے تم محبت کرتے ہو اور جس کے چھوڑنے اور قربانی کرنے پر تم تکلیف محسوس کرتے ہو اس کو خرچ کرنے کا ہم مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایک شخص جو سالہاسال سے اپنی آمدنی کا سولہواں حصہ جماعت کے کاموں کے لئے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا چلا آ رہا ہے یہ خرچ اس کے بجٹ کا ایک حصہ بن گیا ہے اور یہ ایسی رقم نہیں رہی کہ جس کے خرچ پر اس کو یہ احساس ہوا کہ اگر میں یہ رقم خرچ نہ کرتا تو فلاں فلاں چیز خرید سکتا دنیوی فائدہ حاصل کرتا۔
    تو مِمَّا تُحِبُّوْنَ میں یہ اشارہ کیا کہ اس انفاق میں ترقی کرتے چلے جائو جب سولہویں حصہ کی عادت پڑ جائے تو پھر (اللہ تعالیٰ خود امام وقت کو سکھاتا ہے) تحریک جدید کا مطالبہ ہو جائے گا تاکہ تمہیں وہ مال جو تم خرچ کرو محبوب مال معلوم ہو اس کی عادت نہ پڑ چکی ہو بلکہ خرچ کرتے ہوئے تمہیں دکھ کا احساس ہو تم کہو کہ یہ مال میں خرچ کر رہا ہوں لیکن اس کے نتیجہ میں میری فلاں ضرورت پوری نہیں ہو گی اور یہ سوچو کہ فلاں ضرورت کیا اگر کوئی بھی ضرورت پوری نہ ہو اور میرا ربّ مجھ سے راضی ہو جائے تو میں خرچ کرتا چلا جائوں گا اس وقت تمہارا خرچ مِمَّا تُحِبُّوْنَ میں سے ہو گا۔ پھر جب اس کی بھی عادت پڑ جائے گی وقف جدید کی تحریک شروع کر دی جائے گی جب اس کی عادت پڑ جائے گی فضل عمر فائونڈیشن سامنے آجائے گی اور اگر یہ بھی نہ ہو تو وصیت کی طرف انسان کی توجہ جائے گی کہ سولہواں حصہ تو میں دیتا چلا آیا ہوں اور سولہواں حصہ دینے سے مجھے یہ احساس نہیں باقی رہا کہ میں نے اپنے محبوب مال میں سے کچھ دیا ہے۔ کیونکہ اس انفاق کی تو مجھے عادت پڑ گئی ہے اس واسطے آئو اب وصیت کریں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو اس کی خوشنودی کو اس کے فضل کی جنتوں کو پہلے سے زیادہ حاصل کریں۔
    پھر وصیت میں تو سات درجے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے رکھے ہیں۔ جب دسویں حصے کی عادت پڑ جائے تو نواں حصہ دینا شروع کر دو جب نواں حصہ دینے کی عادت پڑ جائے تو آٹھواں حصہ دینا شروع کر دو جب آٹھواں حصہ دینے کی عادت پڑ جائے تو ساتواں حصہ دینا شروع کر دو تیسرے حصہ تک اسی طرح کرتے جائو۔ (اگر کسی وقت تمہیں یہ احساس ہو کہ جو تمہاری پہلی قربانیاں ہیں وہ طبیعت اور عادت کا ایک جزو بن گئی ہیں اور مِمَّا تُحِبُّوْنَ والی بات نہیں رہی) تو ہدایت کی راہوں پر آگے سے آگے لے جانے کا راستہ اس آیت میں دکھایا گیا ہے۔ لَنْ تَنَا لُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ اور اس سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ جب قرآن کریم کے شروع میں ہمیں بتایا گیا تھا ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ ہے یہ کتاب اس کے کیا معنی ہیں؟ یہ تو ایک مثال ہے بیسیوں مثالیں ایسی ہیں کہ تقویٰ کے کسی ایک مقام پر اللہ تعالیٰ حقیقی مومن اور متقی کو کھڑا نہیں رہنے دیتا بلکہ اس کے دل میں ایک جوش اور ایک جذبہ پیدا کرتا ہے کہ جب اس سے مزید ترقی کی راہیں کھلی ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ کی محبت کے مزید جلوے میں دیکھ سکتا ہوں تو کیوں میں یہاں کھڑا رہوں مجھے آگے بڑھنا چاہئے۔
    مِمَّا تُحِبُّوْنَمیں ہر دو قسم کے مومن شامل ہیں ایک وہ جو اپنی فطرتی استعداد کے مطابق ایک جگہ ٹھہرنا پسند نہیں کرتے اور آگے ہی آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر فضل کرتا ہے اور نئی سے نئی راہیں ان پر کھولتا چلا جاتا ہے اور ایک وہ لوگ ہیں جن کی اقتصادی حالت یا جن کی ایمانی حالت اس قسم کی ہوتی ہے کہ وہ فرائض کو ادا کرتے ہوئے بھی کوفت محسوس کرتے ہیں۔ فرائض کی ادائیگی بھی ان کی عادت کا ان کی فطرت کا ان کی طبیعت کا ایک جزو نہیں بنتی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بھی فضل کرتے ہوئے کہا کہ تمہیں بھی ہم مِمَّا تُحِبُّوْنَ سے خرچ کرنے والوں میں شمار کر لیں گے یعنی ان لوگوں میں جو قربانی اور ایثار کے جذبے کو رکھتے ہوئے، اپنے مال کو یا دوسری اللہ تعالیٰ کی عطایا کو اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں کیونکہ تم اقتصادی حالات کی وجہ سے یا اپنی ایمانی کمزوری کی وجہ سے ابھی تک سولہواں حصہ دینے میں بھی تکلیف محسوس کرتے ہو اور جو مال دیتے ہو اس کو چھوڑنے کے لئے تمہارا نفس بشاشت سے تیار نہیں ہوتا۔ اس حصہ مال کے ساتھ بھی تمہاری محبت بڑی شدید ہوتی ہے اس طرح تم سچی قربانی دے رہے ہو میری راہ میں اس لئے میں تمہیں ثواب دوں گا۔
    ایسے لوگوں کو اور دوسروں کو بھی میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارا مالی سال ختم ہونے کو ہے قریباً اڑھائی ماہ رہ گئے ہیں اور اگرچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے گذشتہ سال اس وقت تک صدر انجمن احمدیہ کی جو وصولی ہوئی تھی اس کے مقابلہ میں قریباً ڈیڑھ دو لاکھ روپیہ زائد رقم وصول ہو چکی ہے۔ (اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہیں ہم اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جماعت کو اس کی توفیق دی) لیکن جو بجٹ آپ نے شوریٰ میں پاس کیا تھا اس کے مقابلہ میں ابھی ڈیڑھ دو لاکھ کی کمی ہے اس کمی کو ہم نے ان اڑھائی ماہ میں پورا کرنا ہے جماعتوں کو چاہئے کہ وہ اس کی طرف فوری توجہ دیں اور کوشش کریں کہ جیسا کہ گذشتہ کئی سال سے ایسا ہوتا چلا آ رہا ہے ہماری آمد بجٹ سے زیادہ ہو جائے کم نہ رہے گزشتہ سال بھی بجٹ سے کہیں بڑھ گئی تھی وصولی، اس سے پہلے سال بھی اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے جماعت کو بڑی مالی قربانیوں کی توفیق عطا کر رہا ہے اور دوسری قسم کی قربانیوں کی بھی ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنی حفاظت میں ہمیشہ رکھے گا اور شیطان کا کوئی وسوسہ ہمارے خلاف کامیاب نہ ہو گا۔
    دوسری مالی قربانی جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ فضل عمر فائونڈیشن ہے۔ ۶۸۔۲۔۱۵ تک فضل عمر فائونڈیشن کے اندرون پاکستان کے وعدے ستائیس لاکھ انہتر ہزار چار سَو بائیس (۴۲۲،۶۹،۲۷ روپے) اور غیر ممالک کے وعدے آٹھ لاکھ اونانوے ہزار نو سَوپچاسی روپے (۹۸۵،۸۹،۸ روپے) یعنی قریباً نو لاکھ ہوا۔
    فضل عمر فائونڈیشن کا دوسرا سال جون کے آخر میں ختم ہو رہا ہے۔ یکم جولائی کو تیسرا سال شروع ہو جائے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وعدوں میں اضافہ نہ ہو تو جون کے آخر تک اندرون پاکستان سے قریباً ساڑھے اٹھارہ لاکھ روپے کی رقم جمع ہو جانی چاہئے اور غیر ممالک (بیرون پاکستان) سے قریباً چھ لاکھ روپے کی رقم جمع ہو جانی چاہئے لیکن ساڑھے اٹھارہ لاکھ روپے کے مقابلہ میں اس وقت تک یعنی ۶۸۔۲۔۱۵ تک صرف بارہ لاکھ تیرہ ہزار نو سو چھیانوے (۹۹۶،۱۳،۱۲ روپے) کی وصولی ہوئی ہے اور بیرون پاکستان سے چھ لاکھ کی بجائے قریباً چار لاکھ کی وصولی ہوئی ہے وہاں سے دو لاکھ روپیہ اور وصول ہونا چاہئے جون کے آخر تک اور قریباً سوا چھ لاکھ روپیہ اندرون پاکستان میں وصول ہونا چاہئے۔
    اللہ تعالیٰ نے ہمارے خاندان کو یہ توفیق بخشی ہے (محض اپنے فضل سے) کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خاندان کا ایک لاکھ روپے کا وعدہ جو تھا اس کی دوسری قسط پوری کی پوری ادا ہو چکی ہے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ۔
    اسی طرح بڑی پھوپھی جان نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اور نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ جو ہماری چھوٹی پھوپھی جان ہیں ان کی طرف سے بھی قسط کے مطابق اپنے حصہ رسدی ۳؍۲ کے مطابق وصول ہو چکی ہے۔ اسی طرح اور بہت سے دوست ہیں جنہوں نے اپنے وعدے ادا کر دئے ہیں۔ لیکن دوسرے سال کے بجٹ میں سے یعنی ۹ لاکھ میں سے صرف تین لاکھ کچھ کی وصولی ہوئی ہے اور چھ لاکھ کی وصولی باقی ہے اس میں شک نہیں کہ جماعتیں اس عرصہ میں جو اڑھائی ماہ کا عرصہ باقی ہے صدر انجمن کے مالی سال کا، اس میں لازمی چندے صدر انجمن احمدیہ کے جو ہیں ان کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں لیکن جماعتوں کو یہ چاہئے کہ ان چندوں پر زور دینے کے علاوہ یہ بھی خیال رکھیں کہ جماعت کا مالی سال ختم ہونے کے بعد فضل عمر فائونڈیشن کے وعدوں کی وصولی کے لئے صرف دو ماہ باقی رہ جائیں گے اور ابھی چھ لاکھ روپیہ وصول ہونے والا ہے۔
    تو ہم نے ایک پاک نفس کی محبت پر (مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محبت پر) مال کی محبت کو قربان کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اس طرح مِمَّا تُحِبُّوْنَکے مطابق خرچ کرنے والوں میں شامل ہوئے تھے مگر اللہ تعالیٰ صرف وعدوں کو نہیں دیکھتا، صرف زبانی باتوں کے نتیجہ میں ہم اس کی رضا کو حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ عمل صالح ہمارے اعتقاد اور ہمارے وعدوں اور ہمارے دعوؤں کی تصدیق نہ کرے اور اللہ تعالیٰ کی طرف ہمارے وعدوں اور نیک اقوال کو بلند نہ کرے تو اللہ تعالیٰ تک اس کی رضا کے حصول کے لئے وہی وعدہ، وہی دعویٰ پہنچ سکتا ہے جس کے پیچھے عمل بھی اس کی تصدیق کرنے والا ہو۔ پس دوستوں کو چاہئے کہ وہ اپنی اس محبت پر داغ نہ لگائیں جو محبت حقیقتاً ان کے دلوں میں اپنے محبوب مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیلئے ہے اور وقت کے اندر اندر دو تہائی نہیں بلکہ اس سے زیادہ رقوم فضل عمر فائونڈیشن کی مد میں جمع کروا دیں تا وہ کام جلد سے جلد شروع ہو سکیں جن کاموں کے لئے فضل عمر فائونڈیشن کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
    (روزنامہ الفضل مورخہ ۸؍ مارچ ۱۹۶۸ء صفحہ۲تا۴)
    ٭…٭…٭

    حقیقی نجات کیلئے اللہ تعالیٰ کی معرفت اور عرفان کا ہونا ضروری ہے

    (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۳ ؍فروری ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ ربوہ )
    ء ء ء
    ٭ حقیقی نجات کے طالب بنیں اور اس راہ میں ہر قسم کے مجاہدات کرتے چلے جائیں۔
    ٭ نجات کا تعلق صرف اُخروی زندگی سے نہیں نجات اسی دنیا سے شروع ہو جاتی ہے۔
    ٭ نجات کے حصول کا ذریعہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع اور محبت کو بتایا ہے۔
    ٭ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر حرکت اور آپ کے ہر سکون کو نقل کرنے کی خواہش ہر وقت دل میں موجزن رہے۔
    ٭ انسان اپنی کسی طاقت، عمل، قربانی یا کسی ایثار سے نجات کو نہیں پاسکتا۔



    تشہد، تعوذ اور سورئہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    آج میں دوستوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ حقیقی نجات کے طالب بنیں اور اس راہ میں ہر قسم کے مجاہدات کرتے چلے جائیں۔ نجات کے معنی دنیا نے درست نہیں سمجھے۔ مثلاً عیسائی سمجھتے ہیں کہ گناہ کے مواخذہ سے بچ جانے کا نام نجات ہے اور اس غلط سمجھ کے نتیجہ میں وہ نجات کے لئے مسیح کے خون اور کفارہ کے عقیدہ کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ یہ سب ان کی بھول ہے۔
    نجات کے حقیقی معنی اس خوشحالی کے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں دائمی مسرت اور خوشی انسان کو حاصل ہوتی ہے اور جس کی بھوک اور پیاس انسانی فطرت میں پیدا کی گئی ہے۔ انسان طبعاً اور فطرتاً خوشحالی کا متلاشی ہے۔ میں ایک چھوٹی سی مثال آپ کو اپنے ایک نئے نو مسلم جرمن بھائی کے ایک خط کی دیتا ہوں انہوں نے جب ہم فرینکفورٹ میں تھے اس وقت بیعت کی اور اسلام لائے کچھ عرصہ ہوا غالباً دو تین ہفتے ہوئے ان کا ایک خط مجھے ملا وہ خط بڑا پیارا ہے اس لئے کہ وہ فطرت انسانی کی آواز ہے اس خط میں انہوں نے لکھا کہ دنیا خوشحالی کی تلاش میں سرگردان پھرتی ہے اور انہیں حاصل نہیں ہوتی میں اسلام لایا تو اسلام کی حسین تعلیم کے نتیجہ میں میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ مجھے ساری دنیا کی خوشیاں حاصل ہو گئی ہیں یعنی فطرتی آواز جس کو اسلام لانے سے قبل وہ خود بھی نہیں سمجھ سکتے تھے اسے انہوں نے سمجھا اور اللہ تعالیٰ کی حمد سے اس کا دل اس تصور کی وجہ سے لبریز ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلام لانے کی جو توفیق دی ہے اس کے نتیجہ میں فطرت کا یہ تقاضہ کہ مجھے خوشحالی ہر وقت نصیب رہے پورا ہو گیا اور یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے۔
    انسان نے مال اور دولت اور مادی ترقی میں خوش حالی کی تلاش کی مادی لحاظ سے ترقیات تو اس نے بہت حاصل کر لیں، بڑے مالدار بھی ہو گئے لیکن خوشحالی اسے نصیب نہیں ہوئی۔ امریکہ ہے، روس ہے، یورپ کی اقوام ہیں مادی لحاظ سے وہ بڑی ترقی یافتہ ہیں بڑی امیر قومیں ہیں ہر قسم کی مادّی اور جسمانی سہولتیں انہیں حاصل ہیں ہم میں سے اکثر ان کا تصور بھی یہاں نہیں کر سکتے۔ لیکن پھر بھی ان کے دل خوش نہیں اور یہ احساس ان کے اندر پایا جاتا ہے کہ وہ مقصد جسے ہماری فطرت، جسے ہمارے نفس حاصل کرنا چاہتے تھے وہ ہمیں حاصل نہیں ہوا سیاسی اقتدار اور دنیا میں غلبہ حاصل کرنے کی بھی انسان نے کوشش کی اور اس میں اپنی خوشحالی کو سمجھا لیکن امریکہ ہی کو دیکھ لو سیاسی اقتدار اور غلبہ کے نتیجہ میں اس قوم نے خوش حالی تو کیا حاصل کرنی تھی ہزاروں کی تعداد میں اپنے بچوں کو دنیا کے مختلف خطوں میں مروا رہے ہیں اور جو چیزیں وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ انہیں حاصل نہیں ہو رہیں غرض انسان کی فطرت کے اندر خداتعالیٰ نے یہ رکھا ہے کہ وہ ایک ایسی خوش حالی حاصل کرے جس کے نتیجہ میں دائمی اور ابدی مسرتیں اور لذتیں اسے حاصل ہوں اس کیلئے اس نے ہمیں تعلیم بھی دی ہے اور اسلام کے ذریعہ ہم پر اس خوش حالی کی راہیں بھی کھولی ہیں۔
    قرآن کریم کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے کہ حقیقی خوشحالی جو دائمی مسرتوں کا موجب ہوتی ہے عرفان الٰہی کے بغیر ممکن نہیں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کی معرفت ہی ہے جس کے نتیجہ میں ہمیشہ کی خوشیاں انسان کو مل جاتی ہیں اللہ تعالیٰ کی صفات کا جب حقیقی علم انسان کو ہوتا ہے تو اس کے دو معنی کئے جاتے ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کی جلالی صفات کا اس پر ظہور ہوا اور دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کی جمالی صفات کا اس پر ظہور ہوا جس وقت اللہ تعالیٰ کی جلالی صفات کا کسی انسان پر ظہور ہو تو اس کا دل اپنے ربّ کے خوف سے کانپ اٹھتا ہے اور یہ حقیقت اس پر آشکار اور نمایاں ہو جاتی ہے کہ خدا کا غضب ایک ایسی آگ ہے جو جلا کے رکھ دیتی ہے اس کے ساتھ ہی جب اللہ تعالیٰ کی جمالی صفات کا اس پر جلوہ ظاہر ہوتا ہے اور حسن کی تجلی اس پر ہوتی ہے تو اس کا دل اپنے ربّ کی محبت سے بھر جاتا ہے ان دو جلوؤں کے بعد وہ اپنے ربّ کو سچے معنی میں پہچاننے لگ جاتا ہے اور اپنے ربّ کی قدر جو اس کے دل میں ہونی چاہئے وہ پیدا ہو جاتی ہے ورنہ دوسروں کا تو یہ حال ہوتا ہے کہ مَاقَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ (الحج :۷۵) جنہوں نے اس کی ذات اس کے جلال اور جمال کا مشاہدہ نہیں کیا وہ اس کی قدر کو کیا جانیں۔ لیکن جب ایک مسلمان اپنے ربّ کی جلالی اور جمالی صفات کا اپنی زندگی میں مشاہدہ کرتا ہے اور اس یقین پر قائم ہو جاتا ہے اور اس حقیقت کو پا لیتا ہے کہ اس قادر و توانا کی ناراضگی ایک لحظہ کے لئے بھی برداشت نہیں کی جا سکتی تو تمام گناہوں سے نجات پا جاتا ہے ہر اس چیز کے کرنے سے اس کی روح اور اس کا جسم کانپ اٹھتا ہے جس کے کرنے کے نتیجہ میں خداتعالیٰ کہتا ہے کہ میں تم سے ناراض ہو جائوں گا غرض ایک ہی جلوہ جلالی صفات کا جب ظاہر ہوتا ہے تو ہر قسم کے گناہوں سے نجات دلاتا ہے بشرطیکہ معرفت کامل اور حقیقی ہو اورادھوری نہ ہو اور جب اللہ تعالیٰ کے حسن کو انسان دیکھتا ہے تو اس کی محبت سے دل لبریز ہو جاتا ہے اور اس محبت الٰہی کے سمندر میں وہ غرق ہو جاتا ہے اور محبت کی آگ جسمانی خواہشات کو جلا کر رکھ دیتی ہے وہ ہر ممکن کوشش (اپنی فکر اور تدبر اور اپنے عمل سے) کرتا ہے کہ اپنے اس محبوب اور مطلوب کو اور اس کی رضا کو حاصل کر لے اور وہ اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ حقیقی لذت اور سرور خداتعالیٰ کی محبت ہی میں ہے۔ تب وہ نجات پاتا ہے کیونکہ تب اسے حقیقی اور سچی خوشحالی نصیب ہوتی ہے اور اس کی فطرت کے اندر اللہ تعالیٰ نے جو ایک لگن لگائی ہے کہ اس کا تعلق پختہ طور پر اس کے پیدا کرنے والے کے ساتھ قائم ہو جائے وہ مقصد اس کو حاصل ہو جاتا ہے۔ پس حقیقی نجات کیلئے معرفت اور عرفان کا ہونا ضروری ہے اور جب اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی ذات کی معرفت اور اس کے جلال اور جمال کے جلوے انسان کو حاصل ہو جاتے ہیں تو وہ گناہ سے زیادہ ڈرنے لگتا ہے جتنا اس پیالہ سے جس کے متعلق اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کے اندر مہلک زہر گھلا ہوا ہے وہ اس کے قریب نہیں جاتا وہ اس سے ایک قطرہ بھی پینے کے لئے تیار نہیں ہوتا اس طرح ہر اس چیز سے انسان بچتا ہے جس کے متعلق قرآن کریم میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں یہ پایا جاتا ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے گناہ سے کلی نجات اسے حاصل ہو جاتی ہے۔
    اور جب وہ اپنے ربّ کا پیار دیکھتا ہے وہ پیار جو اسے اپنی ماں اور باپ سے بھی نہیں ملا تھا اور وہ پیار جو دنیا کا کوئی پیار کرنے والا شخص یا اشخاص اسے نہیں دے سکتے تو بس وہ اسی پر فدا ہو جاتا ہے اور اس کی اپنی کوئی مرضی باقی نہیں رہتی وہ اس دنیا میں ہی اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنتوں میں داخل ہو جاتا ہے غرض نجات کا تعلق صرف اُخروی زندگی کے ساتھ نہیں، نجات اسی دنیا سے شروع ہوتی ہے اور اُخروی زندگی میں بھی کسی وقت ختم نہیں ہوتی یعنی اس کی ابتدا تو ہے مگر اس کی انتہا نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک ابدی زندگی اپنے بندوں کے لئے اس دنیا میں مقدر کی ہوئی ہے پس یہ سمجھنا کہ نجات ہمیں دوسری دنیا میں مل جائے گی لیکن اس دنیا میں اس کے کوئی آثار ظاہر نہیں ہوں گے یہ حماقت ہے اسی دنیا میں انسان نجات حاصل کرتا ہے اس دنیا میں وہ یہ ثابت کرتا ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کو کچھ اس طرح سے پہچان لیا ہے کہ وہ اس کی ناراضگی کو ایک لحظہ کے لئے بھی برداشت نہیں کر سکتا اور کچھ اس طرح اس نے اس کی معرفت حاصل کر لی ہے اس کے جمال اور اس کے حسن کو دیکھ لیا ہے کہ وہ اپنی ہر چیز بلکہ اپنے نفس کو بھی اس کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہے اور اسی میں اس کی ساری لذت ہے اور اس کا یہ مطلب ہے کہ ایک ذاتی محبت اور پیار اس پاک اور اعلیٰ اور عظیم ہستی کے ساتھ اسے ہو جاتا ہے کہ اس کے بعد وہ اس محبت میں ہی اپنی جنت کو پاتا ہے کسی انعام اور ثواب کا خواہش مند نہیں ہوتا۔ اس دنیا میں ہر قسم کی تلخیاں اس محبوب کے لئے برداشت کرنے کیلئے تیار رہتا ہے اور اس دنیا میں یعنی اُخروی دنیا میں بھی کسی اور ثواب کی وہ خواہش نہیں رکھتے سوائے اس ثواب کے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے جلوے ہرآن اس پر جلوہ گر ہوتے رہیں غرض نجات اس دنیا ہی میں مل جاتی ہے اور اس نجات کے حصول کیلئے انتہائی قربانیاں اور انتہائی مجاہدات کرنے ہمارے لئے ضروری ہیں اور ہمارے ہی فائدہ کے لئے ہیں اس نجات کے حصول کے لئے کسی اور کے خون یا کسی اور کو صلیب پر چڑھانے کی ضرورت نہیں۔
    اپنے نفس کی قربانی دینی پڑتی ہے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے:۔
    ’’نہ کوئی خون تمہیں فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ سوائے اس خون کے جو یقین کی غذا سے خود تمہارے اندر پیدا ہو‘‘۔
    اور حقیقت یہ ہے کہ جب یہ خون ہمارے اندر پیدا ہو جائے اور عرفان کو ہم حاصل کر لیں تو پھر عصیان ہمارے دل کے اندر داخل نہیں ہو سکتا سب گند دور ہو جاتے ہیں سب خوشیاں حاصل ہو جاتی ہیں سب پاکیزگیاں اس گھر کا حصہ بن جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضل اور نعمتوں کے جلوے انسان اپنی زندگی میں مشاہدہ کرتا ہے۔
    پس نجات کے لئے معرفت کا حصول ضروری ہے اور معرفت کے حصول کا ذریعہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نبی اکرمﷺ کی کامل اتباع اور محبت کو بتایا ہے پس نبی اکرمﷺ کے ساتھ اس قسم کی محبت اپنے دلوں میں پیدا کرو کہ آپ کی ہر حرکت اور آپ کے ہر سکون کو نقل کرنے کی خواہش ہر وقت دل میں موجزن رہے یعنی اتباع اسوئہ نبی اکرمﷺ کے لئے دنیا کی ہر چیز قربان کرنے کے لئے انسان تیار ہو جائے نبی اکرمﷺ کا ایک فرمان یہ بھی ہے (گو ہم نے حضورﷺ کے سارے ہی احکام کی اتباع کرنی ہے) کہ
    ’’مَنْ مَاتَ وَلَمْ یَعْرِفْ اِمَامَ زَمَانِہٖ فَقَدْ مَاتَ مِیْتَۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ ‘‘
    دراصل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر کسی کی اطاعت ہمارے لئے ضروری ہے۔ اگر کسی سے رشتۂ محبت قائم رکھنا ہم پر واجب ہے تو صرف اس لئے صرف اس لئے کہ نبی کریمﷺ نے اس کا حکم دیا ہے نبی اکرمﷺ نے بڑے پیار کے ساتھ اپنے اس فرزند جلیل کا ذکر فرمایا جو اس آخری زمانہ میں دنیا کی طرف مبعوث ہونے والا تھا آپ کے اس محبت کے اظہار کی وجہ سے ہمارے دل بھی اس عظیم فرزند کے لئے محبت کے جذبات پاتے ہیں اور بڑے شدید جذبات پاتے ہیں اس لئے کہ نبی اکرمﷺ کے دل میں بھی اپنے اس فرزند کے لئے ہم عظیم محبت کے جذبات دیکھتے ہیں۔
    پھر نبی کریمﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ میرے خلفاء کی سنت کی بھی اتباع کرو اس لئے ہمارے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم آپؐ کی محبت سے مجبور ہو کر آپ کے فرمان کے مطابق آپ کے خلفاء سے تعلق رکھیں اور ان سے محبت کا رشتہ قائم کریں اور ان کی سنت کی بھی اتباع کرنے کی کوشش کریں ورنہ اندھیروں کی موت ہمارے نصیب میں ہو گی اور جو شخص ایسا نہیں کرتا وہ اندھیرے میں ہے اسے اپنی فکر کرنی چاہئے۔
    اصل بات یہ ہے کہ نجات کے حصول کا ذریعہ قرآن کریم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور آپ کے ساتھ انتہائی محبت رکھنا بتایا ہے اگر ہم اس دنیا میں نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو وہ موقوف ہے کامل معرفت پر اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ معرفت (کامل معرفت جو انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کا حقیقی خوف اور اس کے لئے حقیقی محبت کو قائم کرتی اور اس کے ساتھ ذاتی تعلق پیدا کرتی ہے) تم حاصل نہیں کر سکتے جب تک ایک نمونہ جو کامل اور مکمل اور اعلیٰ ہے تمہارے سامنے نہ رکھا جائے وہ نمونہ محمد رسول اللہﷺ کی ذات میں تمہارے سامنے رکھا گیا ہے اس نمونہ کو سامنے رکھو اس کی محبت اپنے دل میں پیدا کرو اور کسی صورت میں بھی اس کی اتباع سے باہر نہ نکلو جو وہ کہتا ہے وہ کرو جس رنگ میں وہ عبادت بجا لانے کے طریق بتاتا ہے اور جس طور پر وہ مخلوق کے ساتھ ہمدردی یا حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے اس پر عمل کرو ہر چھوٹی اور بڑی بات میں بہرحال تم نے نبی کریمﷺ کی کامل اتباع کرنی ہے۔
    پس ایک احمدی کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ ہماری زندگی کا مقصد یہ ہے کہ ہم اس خوش حالی کو حاصل کریں جس کے نتیجہ میں دائمی مسرت اور دائمی خوشیاں ملتی ہیں اور جس کی بھوک اور پیاس اللہ تعالیٰ نے ہماری فطرت کو لگا دی ہے اور جس کے لئے عرفان کا حصول ضروری ہے ایسی معرفت جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی صفات (جلالی بھی اور جمالی بھی) انسان پر جلوہ گر ہوتی ہیں جس کے بعد انسان کا دل خداتعالیٰ کے خوف سے بھر جاتا ہے یہ خوف کہ کہیں وہ ہم سے ناراض نہ ہو جائے کیونکہ ہم اس کی ناراضگی کو برداشت نہیں کر سکتے اور جس کے نتیجہ میں ہمارا دل اس کی محبت سے لبریز ہو جاتا ہے۔ وہ محبت جو ہر غیر سے ہمیں بے نیاز کر دیتی ہے غیراللہ کے ساتھ محبت یا ان کے ساتھ کوئی لگائو باقی نہیں چھوڑتی اپنا نفس بھی انسان بھول جاتا ہے تمام انسانی خواہشات کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے رضا کے حصول کی تڑپ ہوتی ہے جو اس کی جان اور اس کی روح بن جاتی ہے اور ذاتی محبت اللہ تعالیٰ کے لئے انسان کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے۔
    قرآن کریم کہتا ہے کہ نجات اگر تم حاصل کرنا چاہتے ہو تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ محمد رسول ﷺ (جو کامل اور مکمل اُسوہ ہیں) کی اتباع کرو اور آپؐ کے لئے حقیقی اور سچی محبت اپنے دل میں پیدا کرو تب خداتعالیٰ کی محبت پائو گے اس کے بغیر نہیں پا سکتے پس ہمیں نجات کے حصول کی طرف ہر وقت متوجہ رہنا چاہئے اور اس راہ میں ہر قسم کی قربانیاں اور مجاہدات کرتے چلے جانا چاہئے۔ اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ہماری ان حقیر قربانیوں کو قبول فرمائے کہ ہر خیر اس کے فضل پر منحصر ہے انسان اپنی کسی طاقت یا اپنے کسی عمل یا اپنی کسی قربانی یا کسی ایثار سے خداتعالیٰ کی محبت کو حاصل نہیں کر سکتا نجات کو نہیں پا سکتا اس کے لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہم پر نازل ہو اور وہ تھوڑے کو بہت سمجھ لے وہ حقیر کو اعلیٰ سمجھ لے وہ ایک ذرّہ ناچیز کو اپنی دو انگلیوں کے درمیان پکڑ لے اور اس ذرہ ناچیز کے ذریعہ اپنی قدرت نمائی کے سامان پیدا کر دے وہ جو سب قدرتوں والا ہے وہ جو تمام فضلوں اور برکتوں والا ہے وہ اپنے بندے پر فضل اور رحمت اور برکت کی بارش نازل کرنا شروع کر دے۔
    نجات اسی کے فضل پر منحصر ہے اور اسی کے حصول کو جذب کرنے کے لئے محمد رسول اللہﷺ کی اتباع اور آپ کی محبت کا حکم دیا گیا ہے۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ عطا کرے اور ہمارے لئے عرفان کی راہوں کو ہمیشہ کھولتا چلا جائے۔ (آمین)
    (روزنامہ الفضل ۳؍ مارچ ۱۹۶۸ء صفحہ۲ تا۴)
    ٭…٭…٭

    تقویٰ کسی ایک عملِ صالح کا نام نہیں بلکہ تمام
    اعمال و اقوال کی کیفیت کا نام ہے
    (خطبہ جمعہ فرمودہ یکم مارچ ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ ربوہ )
    ء ء ء
    ٭ قرآن کریم میں تقویٰ اختیار کرنے پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے۔
    ٭ جو شخص تقویٰ کی باریک راہوں کو اختیار کرے گا اُس کے اعمال قبولیت کا درجہ حاصل کریں گے۔
    ٭ انسان اپنی کوشش اور جدوجہد سے تقویٰ کی باریک راہوں پر مضبوطی سے قدم نہیں مار سکتا۔
    ٭ تقویٰ ہر حکم الٰہی کی بجا آوری میں بشاشت پیدا کرتا ہے۔
    ٭ تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کی کوشش کرو۔



    تشہد، تعوذ اور سورئہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    قرآن کریم میں جس قدر زور تقویٰ اختیار کرنے پر دیا گیا ہے اتنا کسی اور حکم کے متعلق نہیں دیا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ تقویٰ کسی ایک نیک بات یا پاک اعتقاد یا صالح عمل کا نام نہیں بلکہ تمام اعمال کی کیفیت کا نام ہے، تمام نیک اقوال کی کیفیت کا نام ہے، تمام پاکیزہ اعتقادات جو رکھے جاتے ہیں ان کی کیفیت کا نام ہے اس کا تعلق ہر قول اور ہر اعتقاد اور ہر فعل کے ساتھ ہے جو صالح ہو نیک اور پاک ہو شروع میں اللہ تعالیٰ نے سورئہ بقرہ میں ہمیں بڑے زور کے ساتھ اس طرف متوجہ کیا یہ بیان کرنے کے بعد کہ الکتاب تم پر نازل کی جا رہی ہے۔ جس کے اندر کوئی ریب (شک) راہ نہیں پا سکتا۔
    ایک کامل اور مکمل ہدایت نامہ جس کے بغیر ہم حقیقی معنی میں نہ دنیوی ارتقائی منازل طے کر سکتے ہیں نہ روحانی بلندیوں تک پہنچ سکتے ہیں وہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا جا رہا ہے۔ الْکِتٰبُ اور لَارَیْبَ فِیْہِ اس کی صفات ہیں لیکن ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ ایک ہدایت نامہ نہایت حسین تعلیم ایک ایسی شریعت جو زمین کی پستیوں سے اُٹھا کر آسمانوں کی بلندیوں تک پہنچانے والی ہے تمہارے ہاتھ میں دی جا رہی ہے لیکن یہ نہ بھولنا کہ یہ شریعت صرف ان لوگوں کو کامیابی تک پہنچانے والی ہے جو مضبوطی کے ساتھ تقویٰ کو اختیار کرتے ہیں اگر کوئی شخص بڑی نمازیں پڑھنے والا ہو، اگر کوئی شخص بظاہر اپنے مال کو مستحقین میں بڑا ہی خرچ کرنے والا ہو، اگر کسی شخص (کی) زبان نہایت ہی میٹھی ہو، اگر کوئی بظاہر انتہائی ہمدردی اور خیر خواہی کرنے والا ہو لیکن اگر اس کے یہ اعمال تقویٰ کی بنیادوں پر قائم نہیں کئے جاتے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حضور قبول نہیں ہو سکتے۔ اس لئے باوجود اس کے کہ مکمل ہدایت نامہ ہے پوری طرح اس پر عمل کرکے بھی اگر تقویٰ سے خالی ہو کامیابی کو تم نہیں پا سکتے کامیابی کو وہی پائیں گے جو تقویٰ کو مضبوطی سے پکڑتے ہوئے اسلامی احکام کی پابندی کریں گے۔
    دوسری جگہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ (المائدہ :۲۸)جو شخص تقویٰ کی باریک راہوں کو اختیار کرے گا اس کے اعمال قبولیت کا درجہ حاصل کریں گے ورنہ وہ ردّ کر دئیے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ ان پر کسی ثواب کا فیصلہ نہیں کرے گا تو ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ وہی لوگ اس ہدایت سے فائدہ اٹھائیں گے اور اٹھانے والے ہوں گے جو اتقاء کی صفت میں استحکام اختیار کریں گے جن کا تقویٰ بڑی مضبوط بنیادوں کے اوپر قائم ہو گا ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو قبول نہیں کرے گا۔ تقویٰ بھی جیسا کہ ہر دوسری چیز) اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی حاصل ہو سکتا ہے جیسا کہ سورئہ فتح :۲۷ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاَلْزَمَھُمْ کَلِمَۃَ التَّقْوٰی کے تقویٰ کے طریق پر ان کے قدم کو خود اس نے مضبوط کر دیا ہے۔ انسان اپنی کوشش سے اور اپنی جدوجہد سے تقویٰ کی راہوں پر مضبوطی سے قدم نہیں مار سکتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تقویٰ کے یہ معنی کئے ہیں۔ آپ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم (روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۲۱۰) میں فرماتے ہیں:۔
    ’’اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان خدا کی تمام امانتوں اور ایمانی عہد اور ایسا ہی مخلوق کی تمام امانتوں اور عہد کی حتی الوسع رعایت رکھے یعنی ان کے دقیق در دقیق پہلوئوں پر تا بمقدور کار بند ہو جائے‘‘۔
    قرآن کریم نے تقویٰ کے اس معنی کو مختلف مقامات پر بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیْکُمُ الْاِیْمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَکَرَّہَ اِلَیْکُمُ الْکْفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْیَانَط اُولٰٓئِکَ ھُمُ الرَّاشِدُوْنَ۔(الحجرات :۸) یہاں بھی تقویٰ کے معنی ایک نہایت حسین پیرایہ میں بیان کئے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے فضل سے ایمان کی محبت تمہارے دلوں میں پیدا کی وَزَیَّنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ اور تمہارے دلوں کو اس نے اپنے فضل سے اس حقیقت تک پہنچا دیا کہ حقیقی روحانی خوبصورتی تقویٰ کے بغیر ممکن نہیں اور نہ روحانی بدصورتی سے تقویٰ کے بغیر بچا جا سکتا ہے۔
    تو ایک طرف تقویٰ ہر حکم الٰہی کی بجا آوری میں بشاشت پیدا کرتا ہے اور دوسری طرف ہر اس چیز سے نفرت پیدا کرتا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باہر نکالنے والی اور اس کی ناراضگی کو مول لینے والی ہو۔ یہاں تقویٰ کے متعلق ہی ایک لطیف مضمون بیان ہوا ہے جس کی تفصیل میں تو میں اس وقت نہیں جائوں گا بہرحال یہ اشارہ کافی ہے۔ اسی وجہ سے سورئہ ’’بقرہ‘‘ کے شروع میں ہی فرمایا تھا ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ اور سورہ بقرہ میں ایک دوسری جگہ آگے جا کے آیت ۱۹۰ میں یہ فرمایا وَلٰکِنَّ الْبَِّر مَنِ اتَّقٰی…وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ۔ کامل نیک وہ ہے جو تقویٰ کی تمام راہوں کو اختیار کرتا ہے یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ الْبِرَّ کامل نیک وہ شخص نہیں جو اپنے اوقات کو نمازوں میں زیادہ خرچ کرتا ہے اپنے اموال کو خدا کی مخلوق کی محبت میں اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے خرچ کرتا ہے یا حج کرتا ہے یا رمضان کے روزے رکھتا ہے بلکہ کامل نیک وہ ہے جو تقویٰ کی راہوں کا خیال رکھتا ہے جو شخص تقویٰ کی راہوں کا خیال رکھتا ہے باقی اعمال صالحہ یا اقوال پاکیزہ جو ہیں وہ اسی طرح اس سے نکلتے ہیں جس طرح ایک جڑ سے کسی درخت کی شاخیں نکلتی ہیں جس کی مثال دی گئی ہے تقویٰ کے سلسلہ میں ہی اور اس کے متعلق آگے جا کر میں کچھ بیان کروں گا۔
    پس یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کامل نیک (الْبِرَّ) وہ ہے جو تقویٰ کی تمام راہوں پر گامزن ہے اور فرمایا وَاتَّقُوْا اللّٰہَ کہ بنیادی حکم تمہیں یہ دیا جاتا ہے کہ تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اگر تم تقویٰ اختیار کرو گے تو تمام نیکیاں بھی بجا لائو گے اور تاکہ تم کامیاب ہو جائو۔ ایسی کامیابی کہ جس کی نظیر دنیا میں نہیں، تقویٰ کے بغیر تم نہیں پا سکتے۔
    حقیقت یہی ہے کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایام الصلح (روحانی خزائن جلد۱۴ صفحہ ۳۴۲) میں فرمایا ہے ۔
    ’’تقویٰ ہر ایک بدی سے بچنے کے لئے قوت بخشتی ہے اور ہر ایک نیکی کی طرف دوڑنے کے لئے حرکت دیتی ہے‘‘۔
    اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ فرمایا کہ جب تک انسان تقویٰ کی راہوں کو اختیار نہ کرے روح کے ان خواص اور قویٰ کی پرورش کا سامان اس کو قرآن شریف سے نہیں مل سکتا جس کو پا کر روح میں ایک لذت اور تسلی پیدا ہوتی ہے۔ یہ بھی وہی مضمون ہے جو ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ میں بیان کیا گیا ہے کہ تقویٰ کے بغیر روح کے ان خواص اور قویٰ کی پرورش کا سامان اس کو قرآن شریف سے نہیں مل سکتا حالانکہ قرآن کریم تو وہاں موجود ہے جس کو پا کر روح میں ایک لذت اور تسلی پیدا ہوتی ہے۔
    اس مضمون کو کے تقویٰ کا تعلق تمام ہی نیکیوں سے ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مختلف پیرایوں میں بیان کیا ہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ’’تقویٰ ہر ایک… قسم کے فتنہ سے محفوظ رہنے کے لئے حصن حصین ہے‘‘۔ (ایام الصلح روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۳۴۲) تقویٰ ایک ایسا قلعہ ہے کہ جب اس کے اندر نیک اقوال اور صالح اعمال داخل ہو جائیں تو وہ شیطان کے ہر حملہ سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی عمل بظاہر کتنا ہی پاکیزہ اور صالح کیوں نظر نہ آتا ہو اگر وہ اس قلعہ میں داخل نہیں تو شیطان کی زد میں ہے، کسی وقت وہ اس پر کامیاب حملہ کر سکتا ہے کیونکہ اگر تقویٰ نہیں تو کبر پیدا ہو سکتا ہے، ریاء پیدا ہو سکتا ہے، عجب پیدا ہو سکتا ہے اگر تقویٰ ہے تو ان میں سے کوئی بدی پیدا نہیں ہو سکتی یعنی شیطان کامیاب وار نہیں کر سکتا۔
    اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ قرآن کریم میں یہ مضمون بیان فرمایا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ابھی جو فقرہ میں نے پڑھا ہے وہ معنوی لحاظ سے اسی کا ترجمہ ہے۔ اللہ تعالیٰ سورہ دخان :۵۲ میں فرماتا ہے اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍکہ متقی یقیناایک امن والے اور محفوظ مقام میں ہیں تو یہی وہ حصن حصین ہے۔ یہی ’’امین‘‘ کے معنی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کئے ہیں کہ محفوظ اور امن میں وہی ہے جو تقویٰ پر مضبوطی سے قائم ہوتا ہے جو تقویٰ پر قائم نہیں وہ امن میں نہیں وہ خطرہ میں ہے وہ حفاظت میں نہیں خوف کی حالت میں ہے اور ایسا شخص مقام امین میں نہیں ہے بلکہ اس مقام پر ہے جسے دوسرے لفظوں میں جہنم کہا جاتا ہے۔ پس قرآن کریم نے ہی تقویٰ کے معنوں کو بیان کرتے ہوئے معنوی لحاظ سے حصن حصین کا تخیل پیش کیا ہے کہ سوائے تقویٰ کی راہوں پر چل کر کوئی شخص امن میں نہیں رہ سکتا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے اس مضبوط قلعہ میں داخلہ ہونے کا سوائے تقویٰ کے دروازے کے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسی مضمون کو ایک دوسری جگہ اس طرح بیان فرمایا ہے۔
    ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقاء ہے
    ہر نیکی خواہ وہ قولی ہو یا فعلی وہ تقویٰ کی جڑ سے نکلتی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم نے جو سینکڑوں احکام دئیے ہیں جب ہم ان پر عمل کرتے ہیں اور اس رنگ میں عمل کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جنت میں داخل ہونے کا ذریعہ بنیں اور اللہ تعالیٰ کی جنت کے درختوں کی شاخیں ہو جائیں اور ان درختوں کے لئے پانی کا کام دیں تو یہ اسی وقت ہوتا ہے جب یہ شاخیں تقویٰ کی جڑ سے نکلیں۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تمام اقوال دراصل قرآن کریم کی تفسیر ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو یہ تخیل پیش کیا کہ ع
    ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقاء ہے
    یہ قرآن کریم کی اس آیت کی تفسیر ہے اَلَمْ تَرَ کَیْفَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصْلُھَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُھَا فِی السَّمَآئِo لا تُؤْتِیْ اُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍم بِاِذْنِ رَبِّھَالا وَیَضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ۔ (ابراھیم:۲۵،۲۶) یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح ایک کلام پاک (یعنی قرآن کریم) کی حقیقت کو بیان کیا ہے۔ یعنی وہ ایسا (کَلِمَۃً طَیِّبَۃً )ہے جس کی مثال ایک پاک درخت کی طرح ہے جس کی جڑ مضبوطی کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ متقی بناتا اور تقویٰ کی راہوں پر ثبات قدم عطا کرتا ہے اور اس طرح اس کی جڑ مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جاتی ہے۔ پھر اس سے شاخیں پھوٹتی ہیں جو اعتقادات صحیحہ ہیں یعنی انسان کے اعتقادات شاخوں کی شکل اختیار کرتے ہیں (تمثیلی زبان میں) جو اوا مرونواہی پر مشتمل ہے اور یہ وہ درخت ہے جس کی ہر شاخ آسمان پر جانے والی ہے اعمال صالحہ کے پانی سے پرورش پانے کی وجہ سے یعنی کوئی بدی والا حصہ اس کے اندر نہیں ہر شاخ جو ہے وہ صحت مند اور نشونما پانے والی ہے اور آسمانوں تک پہنچتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا ہے کہ جب تقویٰ کی جڑ مضبوط ہو اور اس جڑ سے نیکی کی اور پاکیزگی کی اور صلاح کی شاخیں نکلیں تو وہ شاخیں نہ صرف یہ کہ خداتعالیٰ کے قرب کو حاصل کرتی ہیں اور روحانی بلندیوں تک پہنچتی ہیں بلکہ اس دنیا میں بھی (اُخروی زندگی میں تو ہو گا یہی) ان شاخوں کو تازہ بتازہ پھل لگتا رہتا ہے جس سے انسان فائدہ حاصل کرتا ہے یعنی اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی رضاء انسان کو حاصل ہو جاتی ہے اور روح کو ہر لحظہ ایک لذت اور سرور حاصل ہوتا رہتا ہے ان پھلوں کے کھانے سے جن کا کھانا روحانی طور پر ہے لیکن جب تک وہ پھل نہ ملیں وہ خوش حالی حاصل نہیں ہو سکتی، وہ لذت اور سرور حاصل نہیں ہو سکتا وہ پھل مل نہیں سکتے جب تک اعتقادات جو ہیں وہ صحیح نہ ہوں اور اعمال صالحہ ان کو سیراب نہ کریں اور تقویٰ کی جڑ سے نکل کر آسمانوں تک نہ پہنچیں۔ اسی صورت میں اللہ تعالیٰ انہیں قبول کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ہمارے کسی فعل کو قبول کر لینا ہی اس کا پھل ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں انسان کو اس کی رضا حاصل ہوتی ہے۔
    پس ہر ایک نیکی کی جڑ یہ اتقاء ہے۔ جو شخص تقویٰ کی جڑ تو نہیں رکھتا لیکن بظاہر ہزار قسم کی نیکیاں بجا لاتا ہے اسے فائدہ ہی کیا کیونکہ اس سے وہ شاخیں نہیں پھوٹ سکتیں جو خدائے رحمن تک پہنچتی ہیں نہ وہ پھل لگ سکتے ہیں جو پھل کہ دوسری صورت میں ان شاخوں کو لگا کرتے ہیں اور روحانی سیری کا موجب بنتے ہیں۔
    اس مضمون کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قرآن کریم کی تفسیر کرتے ہوئے ایک دوسری جگہ یوں بیان فرمایا ہے کہ ’’حقیقی تقویٰ اپنے ساتھ ایک نور رکھتی ہے‘‘۔ (آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد۵ صفحہ۱۷۷) ہر وہ پاک اعتقاد یا عمل صالح جو نور کے ہالہ میں لپٹا ہوا نہیں وہ رد ہونے کے قابل ہے اور ردّ کر دیا جاتا ہے لیکن جب انسان کا قول اور فعل تقویٰ کے نور کے ہالہ میں لپٹا ہو تو اللہ تعالیٰ کو وہ بڑا ہی پیارا اور محبوب ہوتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کی تشریح بھی کی ہے آپؑ ہی کے الفاظ میں اس مضمون سے متعلق ایک چھوٹا سا اقتباس میں نے لیا ہے جو یہاں بیان کرتا ہوں آئینہ کمالات اسلام میں ہی آپؑ فرماتے ہیں:۔اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔
    یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوٓا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَانًا وَّیُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ
    (سورۃ الانفال: ۳۰)
    وَیَجْعَلْ لَّکُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِہٖ (سورۃالحدید:۲۹) یعنی اے ایمان لانے والو! اگر تم متقی ہونے پر ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے اتقاء کی صفت میں قیام اور استحکام اختیار کرو تو خداتعالیٰ تم میں اور تمہارے غیروں میں فرق رکھ دے گا (ایک فرقان تمہیں عطا کرے گا) وہ فرق یہ ہے کہ تم کو ایک نور دیا جائے گا جس نور کے ساتھ تم اپنی تمام راہوں میں چلو گے یعنی وہ نور تمہارے تمام افعال اور اقوال اور قویٰ اور حواس میں آجائے گا تمہاری عقل میں بھی نور ہو گا اور تمہاری ایک اٹکل کی بات میں بھی نور ہو گا اور تمہاری آنکھوں میں نور ہو گا اور تمہارے کانوں اور تمہاری زبانوں اور تمہارے بیانوں اور تمہاری ہر ایک حرکت اور سکون میں نور ہو گااور جن راہوں پر تم چلو گے وہ راہ نورانی ہو جائیں گی۔ غرض جتنی تمہاری راہیں، تمہارے قویٰ کی راہیں تمہارے حواس کی راہیں ہیں وہ سب نور سے بھر جائیں گی اور تم سراپا نور میں ہی چلو گے‘‘۔
    (آئینہ کمالاتِ اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۱۷۷،۱۷۸)
    تو اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوٓا اِنْ تَتَّقُوْا اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَانًا وَّیُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ (سورۃ الانفال: ۳۰) وَیَجْعَلْ لَّکُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِہٖ (سورۃ الحدید:۲۹) یہ اسی حقیقت کو بیان کرنے کے لئے فرمایا ہے کہ ہر وہ عمل جو تقویٰ کی جڑ سے نہیں نکلا، جو تقویٰ کے قلعہ میں محفوظ نہیں، جو تقویٰ کے نور کے ہالہ میں روحانی زنیت نہیں رکھتا وہ رد کر دیا جاتا ہے اور جس شخص کو اللہ تعالیٰ تقویٰ عطا کرتا ہے اس کی ساری زندگی کو، اس کے سارے افعال کو، اس کے سارے اقوال کو اس کی ساری حرکات اور سکنات کو وہ نور عطا کرتا ہے جس نور سے ایسا متقی غیروں سے علیحدہ ہوتا اور ایک خصوصیت اپنے اندر رکھتا ہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسی مضمون کو ایک اور رنگ میں بھی بیان فرمایا ہے آپؑ فرماتے ہیں کہ روحانی خوبصورتی اور روحانی زنیت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ دراصل روحانی خوبصورتی نام ہے (اور خوبصورت سے ہماری مراد ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں خوبصورت ہو) خوبصورت افعال اور خوبصورت اعمال کا یعنی جب تک ہمارے اقوال اور ہمارے اعمال اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں روحانی خوبصورتی پانے والے نہ ہوں دعویٰ خواہ کوئی انسان کتنا ہی کرتا رہے وہ خوبصورت نہیں ہوا کرتے۔
    قرآن کریم نے جو یہ فرمایا یٰـبَنِیْٓ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ (الاعراف:۳۲)تو یہاں بھی اسی طرف ہمیں متوجہ کیا گیا ہے۔ مسجد تذلل اور عبادت کے مقام کو کہتے ہیں اور زِیْنۃٌ سے یہاں مراد دل کی صفائی اور پاکیزگی اور دل کا تقویٰ ہے اللہ تعالیٰ نے یہاں حکم دیا ہے کہ جب بھی میرے حضور تذلل سے جھکنا چاہو اور میری اطاعت اور میری عبادت کرنا چاہو اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے تم اپنے دلوں کو پاکیزہ کرو اور تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرتے ہوئے مجھ تک پہنچنے کی کوشش کرو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ضمیمہ براہین احمدیہ (حصہ) پنجم میں فرماتے ہیں:۔
    ’’انسان کی تمام روحانی خوبصورتی تقویٰ کی تمام باریک راہوں پر قدم مارنا ہے تقویٰ کی باریک راہیں، روحانی خوبصورتی کے لطیف نقوش اور خوشنما خط و خال ہیںاور ظاہر ہے کہ خداتعالیٰ کی امانتوں اور ایمانی عہدوں کی حتی الوسع رعایت کرنا اور سر سے پیر تک جتنے قویٰ اور اعضا ہیں جن میں ظاہری طور پر آنکھیں اور کان اور ہاتھ اور پیر اور دوسرے اعضاء ہیں باطنی طور پر دل اور دوسری قوتیں اور اخلاق ہیں، ان کو جہاں تک طاقت ہو ٹھیک ٹھیک محل ضرورت پر استعمال کرنا اور ناجائز مواضع سے روکنا اور ان کے پوشیدہ حملوں سے متنبہ رہنا اور اسی کے مقابل پر حقوق العباد کا بھی لحاظ رکھنا یہ وہ طریق ہے کہ انسان کی تمام روحانی خوبصورتی اس سے وابستہ ہے اور خداتعالیٰ نے قرآن شریف میں تقویٰ کو لباس کے نام سے موسوم کیا ہے چنانچہ لِبَاسُ التَّقْویٰ قرآن شریف کا لفظ ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی خوبصورتی اور روحانی زینت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے‘‘۔
    (براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۲۰۹، ۲۱۰)
    تو تقویٰ ایک ایسا حکم ہے جس کا براہ راست اور نہایت ہی گہرا اور ضروری تعلق تمام دوسرے احکام سے ہے، خواہ وہ احکام ہمارے اقوال سے تعلق رکھتے ہوں یا اعتقادات سے تعلق رکھتے ہوں یا اعمال سے تعلق رکھتے ہوں، خواہ وہ احکام مثبت ہوں کہ کرنے کا حکم دیا گیا ہو، خواہ وہ احکام منفی ہوں کہ برائیوں سے روکا گیا ہو۔ ہر حکم کی بجا آوری اس رنگ میں کہ خداتعالیٰ کی نگاہ میں ہمارا وہ فعل مقبول اور محبوب ہو جائے ممکن نہیں جب تک تقویٰ کی بنیاد پر اس کی عمارت نہ ہو، جب تک تقویٰ کی جڑ سے اس کی شاخیں نہ پھوٹیں، جب تک تقویٰ کے نور کے ہالہ میں وہ لپٹا ہوا نہ ہو، جب تک تقویٰ کی روحانی زینت اسے خوبصورت نہ کر رہی ہو ہمارے ربّ کی نگاہ میں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تقویٰ پر دوسرے احکام کے مقابلہ میں بہت ہی زور دیا ہے اور اس لئے بھی زور دیا ہے کہ اس حکم کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض لوگ خود کو بڑا بزرگ سمجھنے یا کہنے لگ جاتے ہیں یا کسی دوسرے کو بڑا بزرگ سمجھنے یا کہنے لگے جاتے ہیں۔ حالانکہ اس بنیادی حقیقت کے مدنظر ہی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ حکم دیا ہے کہ فَلَا تُزَکُّوْٓا اَنْفُسَکُمْ ھُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی (النجم:۳۳) جب تقویٰ کا تعلق دل سے ہے، جب تقویٰ کا تعلق نیت سے ہے، جب تقویٰ کا تعلق اس پوشیدہ تعلق سے ہے جو ایک بندے کا خدا سے ہوتا ہے تو پھر بندوں کو تو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ خود فیصلہ کریں اورحَکَمْ بنیں۔ یہ کام اللہ تعالیٰ کا ہے ھُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰیانسان کو عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتے ہوئے بنیادی فضل اللہ تعالیٰ سے یہ چاہنا چاہئے کہ اے ہمارے ربّ! ہمیں تقویٰ دے، اے ہمارے ربّ! ہمیں تقویٰ اختیار کرنے کی طاقت اور استعداد دے، اے ہمارے ربّ، ہمارے اعمال کو تقویٰ کے قلعہ میں محفوظ کر لے۔ اے ہمارے ربّ! ہمارے اعمال کو تقویٰ کے نور میں لے لے اور منور کر دے اور اے ہمارے ربّ! تقویٰ کی روحانی خوبصورتی ہمارے اعمال پر چڑھا وہ تجھے مقبول ہو جائیں اور تو ہم سے راضی ہو جائے۔ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو (آمین)
    (روزنامہ الفضل ربوہ مورخہ ۹؍ اپریل ۱۹۶۸ء صفحہ۲ تا ۵)
    ٭…٭…٭
    خطبہ جمعہ ۸؍مارچ ۱۹۶۸ء
    ء ء ء
    حضور علالت طبع کے باعث نماز جمعہ پڑھانے تشریف نہیں لا سکے۔
    (الفضل ۱۰؍مارچ ۱۹۶۸ء صفحہ۱)
    ٭…٭…٭

    ہماری زبانوں سے اس کثرت سے تحمید اور درود نکلنا چاہئے کہ شیطان کی ہر آواز ان کی لہروں کے نیچے دَب جائے
    (خطبہ جمعہ فرمودہ۱۵ ؍مارچ ۱۹۶۸ء مسجد مبارک۔ ربوہ )
    ء ء ء
    ٭ اندھیروں سے نجات حاصل کرنا اللہ تعالیٰ کی رحمت اور توفیق کے بغیر ممکن نہیں۔
    ٭ نور کی فضا میں داخل ہونے کیلئے ملائکہ کی تائید اور ان کی دعائیں شاملِ حال ہونا ضروری ہیں۔
    ٭ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا ہے کہ جماعت احمدیہ کے ذریعہ اسلام کو ساری دنیا پر غالب کرے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ
    ٭ آئندہ پورا ایک سال تسبیح، تحمید اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجیں۔
    ٭ جس وقت ہم نے دنیا کی فضاؤں کو ذکر سے پُر کر دیا شیطانی آواز خودبخود دَب جائے گی۔


    تشہد، تعوذ اور سورئہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور پُر نور نے آیات
    یَااَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوا اللّٰہَ ذِکْرًا کَثِیْرًا o لاوَّسَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّ اَصِیْلاً o
    ھُوَالَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ وَمَلٰئِکَتُہٗ لِیُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرٍ وَکَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا (الاحزاب:۴۲تا۴۴)
    اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ط یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا (الاحزاب :۵۷) تلاوت فرمائیں اور پھر فرمایا ۔
    کچھ دنوں سے میں سوچ رہا تھا کہ جماعت کو کثرت سے ذکر اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تحمید کرنے کی طرف اور کثرت سے درود پڑھنے کی طرف متوجہ کروں اس عرصہ میں نبی اکرمﷺ کے فرمان کے مطابق کہ یُرٰی لَہٗ بعض دوستوں نے رئویا بھی ایسی دیکھی ہیں جن میں اس طرف متوجہ کیا گیا ہے ایک دوست کے خط کی چند سطور اس ضمن میں اس وقت پڑھ کر سنا دیتا ہوں۔ ایک بھائی لکھتے ہیں کہ خاکسار نے چند روز ہوئے خواب میں دیکھا کہ میں نہایت ہی پر زور آواز میں درود شریف پڑھتا ہوں اور ایک شاہراہ پر جا رہا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ اس کے ہر مقام پر انتہائی زور دار آواز سے درود شریف پڑھوں۔
    اس کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ پھر میں نے پڑھنا شروع کیا کہتے ہیں کہ جب میں نے ایک عزیز کو قادیان لکھا اس کے متعلق کہ اس طرح میں نے رئویا دیکھی ہے۔ آپ بھی کثرت سے درود پڑھیں تو ان کی طرف سے جواب آیا کہ میرے اور میری بیوی کے دل میں معاً تحریک پیدا ہوئی کہ درود شریف بکثرت اور باقاعدہ پڑھنا چاہئے اور ہم درود شریف باقاعدہ ورد کے بارے میں فیصلہ کر رہے تھے کہ آپ کا خط اسی وقت ہمیں موصول ہوا اور وہ جمعہ کا دن تھا تو ہم حیران تھے اور سمجھے کہ یہ توارد الٰہی تحریک پر مبنی ہے۔
    ایک اور دوست کو تحریک کرنے پر انہوں نے بتایا کہ میرے تو والد صاحب مرحوم ایک دوست کو خواب ملے ہیں اور انہوں نے بتایا ہے کہ میں تویہاں بھی یعنی جنت میں ایک لاکھ مرتبہ روزانہ درود شریف پڑھ رہا ہوں ۔
    حقیقت یہ ہے کہ ہم عاجز بندوں کو اللہ تعالیٰ نے جس راہ پر چلایا ہے وہ شاہراہ غلبہ اسلام کی راہ ہے اور اس راہ پر شیطان پورے زور کے ساتھ اندھیرے پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ان اندھیروں سے نجات حاصل کرنا اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کی رحمت کے بغیر ممکن نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ اس راہ کے ہر چپہ کو نورانی کرنے کے لئے اپنے نور کے مینار اس وقت کھڑے کرتا ہے جب بندہ اس کی بتائی ہوئی تعلیم کے مطابق اپنے اعمال اور اپنے اذکار کرنے والا ہے۔
    قرآن کریم کی سورئہ احزاب میں دو مختلف جگہوں میں یہ آیتیں ہیں جن کو میں نے اس وقت اکٹھا تلاوت کیا ہے احزاب کی ۴۲، ۴۳ اور ۴۴ آیت میں جو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اذْکُرُوا اللّٰہَ ذِکْرًا کَثِیْرًا ان تین آیتوں میں اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ وہ مومن بندوں پر بار بار رحم کرتا، رحم کرنے کا ارادہ کرتا اور اس کی خواہش رکھتا ہے لیکن ان بندوں کو یہ نہ بھولنا چاہئے کہ ظلمات سے نجات حاصل کرکے نور کی فضا میں داخل ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ملائکہ کی تائید اور ان کی دعائیں شامل حال ہوں اور ملائکہ کی تائید اور ان کی دعائیں صرف اس وقت شامل حال ہوتی ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہو رہا ہو۔ ھُوَالَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ اگر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول نہ ہو تو ملائکہ کی دعائوں کو تم حاصل نہیں کر سکتے اور جب تک تم ملائکہ کی دعا اور خدا کی رحمت کو حاصل نہ کرو تم ظلمات سے نجات نہیں پا سکتے اور نور کی دنیا میں داخل نہیں ہو سکتے اس لئے ہم تمہیں یہ حکم دیتے ہیں کہ اے میرے بندو! جو میرے اس عظیم، کامل نبیﷺ پر ایمان لائے ہو کثرت سے اللہ کا ذکر کرو اور صبح و شام کی تسبیح میں مشغول ہو جائو۔
    اسی تعلق میں دوسری جگہ یہ فرمایا اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ یَااَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا یہاں اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ تم پر یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ کے ماتحت اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل نہیں ہو سکتی جب تک تم اس کے محبوب النبیﷺ پر کثرت سے درود بھیجنے والے نہ بنو فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہر آن اس کامل نبیﷺ پر نازل ہو رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ملائکہ اور اس کے فرشتے اس نبی کے لئے دعائوں میں مشغول ہیں اور اس کامل نبی کو خدا کی کامل رحمتیں نصیب ہیں اور اس کے ملائکہ کی کامل تائید حاصل ہے اس لئے اے وہ لوگو! جو خدا اور اس کے اس النبی پر ایمان لائے ہو کثرت سے اس پر درود بھیجو اور اس کے لئے دعائیں مانگو اور اس کے لئے سلامتی چاہو جب تم اس پر درود بھیجو گے تو اس کے نتیجہ میں ھُوَالَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں تم پر نازل ہوں گی۔
    پس جب تک ہم کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے نہ ہوں ہر وقت اس کی یاد میں اپنی زندگی کے لمحات نہ گذارنے والے ہوں صبح و شام اس کی تسبیح اور اس کی تحمید کرنے والے نہ ہوں اس کے پاک اور مقدس نبی محمد رسول اللہﷺ پر درود نہ بھیجیں اس وقت تک ہم اس کی تائید، اس کی رحمت اور اس کے فرشتوں کی تائید اور نصرت حاصل نہیں کر سکتے اور جب تک ایسا نہ ہو جائے اس وقت تک شیطانی اندھیروں سے نجات حاصل کرکے اللہ تعالیٰ کے نور کی دنیا میں ہم داخل نہیں ہو سکتے۔
    خصوصاً اس زمانہ میں جبکہ ایک نہایت ہی اہم اور مقدس فریضہ ہمارے ذمہ لگایا گیا ہے اور وہ اسلام کو تمام ادیان پر غالب کرنا اور اللہ تعالیٰ کی محبت ہر انسانی دل میں پیدا کرنا اور محمد رسول اللہﷺ کی عظمت کو قائم کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ جماعت احمدیہ کے ذریعہ وہ اسلام کو تمام دنیا پر غالب کرے گا انشاء اللہ یہ اس کی تقدیر ہے جو ہمارے ذریعہ یا ایک اور ایسی احمدی قوم کے ذریعہ سے جو ہم سے زیادہ اپنے اللہ کی آواز پر لبیک کہنے والی ہو پورا کرے گا۔
    اس سلسلہ میں بہت سی ذمہ داریاں ہم پر عائد ہوتی ہیں ایک بڑی اہم بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے اور محمد رسول اللہﷺ پر درود بھیجنے والے ہوں۔
    اس لئے آج میں جماعت کو اس طرف متوجہ کرتا ہوں کہ وہ سارے کے سارے آئندہ پورے ایک سال تک جو یکم محرم سے شروع ہو گا کم از کم مندرجہ ذیل طریق پر خداتعالیٰ کی تسبیح، تحمید اور نبی اکرمﷺ پر درود بھیجیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے الہاماً یہ بتایا تھا کہ کُلُّ بَرَکَۃٍ مِنْ مُّحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ہر برکت نبی اکرمﷺ کے ذریعہ اور آپ کی اتباع سے حاصل کی جا سکتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے الہاماً ایک ایسی تسبیح اور تحمید اور درود کی راہ بھی دکھائی کہ جو ذکر بھی ہے درود بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہاماً یہ دعا سکھلائی سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدْ۔ اس میں تسبیح، تحمید اور درود ہرسہ آ جاتے ہیں۔
    میں چاہتا ہوں کہ تمام جماعت کثرت کے ساتھ تسبیح، تحمید اور درود پڑھنے والی بن جائے اس طرح پر کہ ہمارے بڑے، مرد ہوں یا عورتیں کم از کم دو سَو بار یہ تسبیح، تحمید اور درود پڑھیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو الہام ہوا سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدْ اور ہمارے نوجوان بچے پندرہ سال سے ۲۵ سال کی عمر کے ایک سَو بار یہ تسبیح اور درود پڑھیں اور ہمارے بچے سات سال سے پندرہ سال تک ۳۳ دفعہ یہ تسبیح اور درود پڑھیں اور ہمارے بچے اور بچیاں (پہلے بھی بچے اور بچیاں ہیں) جن کی عمر سات سال سے کم ہے جو ابھی پڑھنا بھی نہیں جانتے ان کے والدین یا ان کے سرپرست اگر والدین نہ ہوں ایسا انتظام کریں کہ ہر وہ بچہ یا بچی جو کچھ بولنے لگ گئی ہے لفظ اُٹھانے لگ گئی ہے۔ سات سال کی عمر تک ان سے تین دفعہ کم از کم یہ تسبیح اور درود کہلوایا جائے۔ اس طرح پر بڑے (۲۵ سال سے زائد عمر) دو سَو دفعہ، جوان کم از کم ایک سَو بار اور بچے تینتیس (۳۳) بار اور بالکل چھوٹے بچے تین بار تسبیح اور تحمید کریں۔
    پس جماعت کو چاہئے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور کم از کم مذکورہ تعداد میں (زیادہ سے زیادہ جس کو جتنی بھی توفیق ملے) اس ذکر و درود کو پڑھے اور اس احساس کے ساتھ پڑھے کہ بڑی ذمہ داری ہے ہم پہ تسبیح و تحمید اور درود پڑھنے کی۔ انسان اس وقت بڑے نازک دور میں سے گذر رہا ہے اور نبی اکرمﷺ دنیا کے لئے رحمت بن کے بھیجے گئے تھے اور آپ کی رحمتوں اور برکتوں کو کھینچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی حمد کرنا اور نبی اکرمﷺ پر درود بھیجنا لازمی ہے۔
    یاد رکھیں کہ جس وقت ہم نے دنیا کی فضائوں کو خدا کے ذکر اور محمد رسول اللہﷺ کے نام سے پُر کر دیا اس وقت شیطانی آواز خود بخود ان فضائوں میں دب جائے گی اور اسلام غالب آ جائے گا۔
    پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور اس طریق پر جو میں بتا رہا ہوں تسبیح اور تحمید کریں اور درود پڑھیں اس کے علاوہ دوسرے طریقوں پر بھی درود پڑھنا چاہئے جیسا کہ نماز میں ہم پڑھتے ہیں۔
    لیکن ساری جماعت پر میں فرض قرار دیتا ہوں کہ اس طریق پر کہ بڑے کم از کم دو سَو بار، جوان سَو بار، بچے تینتیس بار اور جو بہت ہی چھوٹے ہیں وہ تین دفعہ دن میں تحمید اور درود پڑھیں اس طرح کروڑوں صوتی لہریں خداتعالیٰ کی حمد اور نبی اکرمﷺ پر درود پڑھنے کے نتیجہ میں فضاء میں گردش کھانے لگ جائیں گی۔ ہمیں اللہ تعالیٰ سے دعا بھی مانگنی چاہئے کہ اے خدا! ہمیں توفیق عطا کر کہ ہماری زبان سے تیری حمد اس کثرت سے نکلے اور تیرے محبوب محمدﷺپر ہماری زبان سے درود اس کثرت سے نکلے کہ شیطان کی ہر آواز ان کی لہروں کے نیچے دب جائے اور تیرا ہی نام دنیا میں بلند ہو اور ساری دنیا تجھے پہچاننے لگے۔
    پس دعائوں کے ساتھ اس طرف متوجہ ہوں اور یکم محرم سے ساری جماعت اس کام میں مشغول ہو جائے یہ کم از کم ہے جو میں نے بتایا ہے اگر انسان چاہے تو اس سے بہت زیادہ حمد بھی پڑھ سکتا ہے درود بھی پڑھ سکتا ہے کیونکہ عام اندازے کے مطابق دو سَو دفعہ اگر پڑھا جائے تو بیس پچیس منٹ سے زیادہ صرف نہیں ہوتے اگر کوئی شخص بہت توجہ اور الحاح اور خاص کیفیت کے ساتھ بھی پڑھے تو زیادہ سے زیادہ آدھا گھنٹہ لگ جائے گا آدھا گھنٹہ کوئی ایسی مشکل بات نہیں جو تیز پڑھنے والے ہیں وہ ممکن ہے دس بارہ منٹ میں اس تعداد کو پورا کر دیں پھر اس سے کام میں کوئی حرج بھی واقع نہیں ہوتا اس کے لئے ضروری نہیں کہ آپ مُصلّے پر بیٹھے ہوئے ہوں اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے جس وقت آپ قرآن کریم کی تلاوت نہیں کر رہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ نہیں کر رہے یا کسی اور ایسے کام میں مشغول نہیں کہ جس میں آپ کو اس کی طرف انہماک سے متوجہ ہونا ہوتا ہے یا کام ہی ایسا ہے کہ زبان بھی مشغول رہتی ہے ان اشغال کو چھوڑ کے آپ دنیا کا ہر کام کرتے ہوئے خداتعالیٰ کی حمد اور نبی اکرمﷺ پر درود بھیج سکتے ہیں۔
    اگر کوئی شخص چاہے تو میں سمجھتا ہوں کہ ہزار ہا بار یہ کلمات جو مختصر مگر خدا کو بڑے پیارے ہیں وہ پڑھ سکتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا کرے اور خدا کرے کہ ہماری زندگیوں میں ہی دنیا کی فضا خدا کے نام اور محمد رسول اللہﷺ کے نام سے کچھ اس طرح بھر جائے کہ شیطان کی کسی آواز کو وہاں داخل ہونے یا وہاں ٹھہرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے (آمین)
    (روزنامہ الفضل ربوہ مورخہ ۲۳ ؍مارچ ۱۹۶۸ء صفحہ۲تا۴)
    ٭…٭…٭
    مومنوں میں رُوحِ مسابقت کا پایا جانا ضروری ہے اور سب سے زیادہ اس طرف ربوہ کے احباب کو متوجہ ہونا چاہئے
    (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۲ ؍مارچ ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ ربوہ )
    ء ء ء
    ٭ نفوس اور اموال میں برکت انعام کے علاوہ امتحان اور آزمائش بھی ہوتی ہے۔
    ٭ قرآن کریم کا نزول انسان کی جسمانی اور روحانی ترقیوں کیلئے ہے۔
    ٭ اہل ربوہ کو نیکیوں میں سب سے آگے نکلنا چاہئے اُن کیلئے مواقع بھی زیادہ ہیں۔
    ٭ اہل ربوہ اپنے بچوں کی تربیت کی طرف بھی توجہ کریں۔
    ٭ ہمارے دفاتر کے کارکنان کو دوسروں کیلئے نمونہ بننا چاہئے۔




    تشہد، تعوذ اور سورئہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے یہ آیات تلاوت فرمائیں۔
    اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّھُمْ بِہٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِیْنَo نُسَارِعُ لَھُمْ فِی الْخَیْرٰتِ بَلْ لاَّیَشْعُرُوْنَo اِنَّ الَّذِیْنَ ھُمْ مِّنْ خَشْیَۃِ رَبِّھِمْ مُّشْفِقُوْنَo وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ یُؤْمِنُوْنَo وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِرَبِّھِمْ لَایُشْرِکُوْنَo وَالَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَآاٰتَوْاوَّقُلُوْبُھُمْ وَجِلَۃٌ اَنَّھُمْ اِلٰی رَبِّھِمْ رٰجِعُوْنَo اُوْلٓئِکَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخیْرٰتِ وَھُمْ لَھَا سٰبِقُوْنَ۔ (المومنون :۵۶ تا ۶۲)
    اور پھر فرمایا:۔
    اللہ تعالیٰ سورئہ المومنون کی ان آیات میں فرماتا ہے کہ ہم دنیا میں بہت سے لوگوں کو بڑا مال دیتے ہیں اولاد میں کثرت بخشتے ہیں اور جتھہ ان کو دیتے ہیں۔ اس طرح پر ہم ان کی بڑی مدد کرتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں اگر وہ یہ سمجھیں کہ انہوں نے بہت سی نیکیاں کی ہیں اور یہ ان کی جزا ہے تو ان کی سمجھ کا قصور ہے ایسا نہیں ہے۔
    دنیا میں مال کا ملنا یا اولاد میں برکت کا پیدا ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے، ہمیشہ ہی (اگر پورے کا پورا امتحان نہ ہو) ایک پہلو امتحان کا اور ایک پہلو جزا کا اپنے اندر رکھتا ہے جہاں صرف امتحان کا پہلو مدنظر ہوتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ اس کے متعلق یہ فرماتا ہے اِنَّمَآاَمْوَالُکُمْ وَاَوْلاَدُکُمْ فِتْنَۃٌ(التغابن :۱۶) جو اموال اور اولاد میں نے تم کو دی ہے وہ تمہارے لئے ایک امتحان اور آزمائش ہے اگر تم اس امتحان میں کامیاب ہو گئے تو میرا انعام پائو گے اور اگر اس امتحان میں ناکام رہے تو میرا غضب تم پر بھڑکے گا۔
    مومنوں کو جو اموال دئیے جاتے ہیں اور ان کے نفوس میں جو برکت ڈالی جاتی ہے اس میں بھی صرف انعام کا پہلو نہیں ہوتا بلکہ ایک طرف انعام ہوتا ہے تو دوسری طرف امتحان بھی ہوتا ہے نبی اکرمﷺ کے صحابہؓ کو ایک وقت میں بڑے ہی اموال عطا ہوئے تھے ایک ایک دن بعض دفعہ ان میں سے بہتوں کو لاکھ لاکھ یا اس سے بھی زیادہ رقوم مل جاتی تھیں مال غنیمت میں سے، مگر وہ یہ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فضل ایک انعام کی شکل میں نہیں بلکہ اس میں ہمارے لئے امتحان اور ہماری آزمائش بھی مدنظر ہے اگر وہ اس کو محض انعام سمجھتے تو دوسروں کو اس میں حصہ دار نہ بناتے اگر وہ یہ سمجھتے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی محض رضا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رضا میں سے کسی اور کو حصہ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن وہ یہ جانتے تھے کہ جہاں یہ اللہ تعالیٰ کا انعام ہے ایک طرف دوسری طرف اللہ تعالیٰ اس ذریعہ سے ہمارا امتحان بھی لینا چاہتا ہے اس پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے بعض دفعہ جس دن انہیں لاکھ لاکھ کی رقم ملتی تھی اسی دن وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اسے خرچ بھی کر دیتے تھے تاکہ اس کی طرف سے زیادہ انعام انہیں ملے اور اس امتحان میں وہ کامیاب قرار دئیے جائیں۔
    تو اللہ تعالیٰ یہاں یہ فرماتا ہے کہ مال یا اولاد کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کا آنا اس بات کی علامت نہیں ہے نُسَارِعُ لَھُمْ فِی الْخَیْرٰتِ کہ ہم ان کو نیکیوں میں جلد جلد بڑھا رہے ہیں اور ان کے اوپر یہ محض انعام کے طور پر فضل ہو رہا ہے کہ ان کے مالوں میں بھی برکت ڈالی جا رہی ہے اور ان کی اولاد میں بھی برکت ڈالی جا رہی ہے وہ سمجھے نہیں اور اس طرف متوجہ نہیں ہوتے کہ وہ جو یُسَارِعُوْنَ فِی الْخیْرٰتِ وَھُمْ لَھَا سٰبِقُوْنَ نیکیوں کی طرف تیزی سے بڑھتے ہیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق جو سورۃ آل عمران میں ہے وَسَارِعُوْٓا اِلٰی مُغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ (اٰل عمران :۱۳۴)اور وہ جن میں مسابقت کی روح پائی جاتی ہے۔ ان میں چار علامتیں پائی جاتی ہیں۔
    اوّل یہ کہ ھُمْ مِّنْ خَشْیَۃِ رَبِّھِمْ مُّشْفِقُوْنَ وہ خَشیۃُ اللّٰہ سے لرزاں رہتے ہیں اور دوسری جگہ فرمایا وَلاَیَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلاَّ اللّٰہَ (الاحزاب :۴۰)کہ وہ اپنے دل کی اس کیفیت میں کسی اور کو اللہ کے سوا شریک نہیں بناتے۔ یعنی خشیتہ اللّٰہ ہے اور صرف اللہ کی خشیت ہے کسی اور کی خشیت کو اس میں ملونی نہیں ہے یہاں اللہ نہیں کہا بلکہ اللہ تعالیٰ کی بنیادی اور اصولی صفات میں سے صفت ربّ کو منتخب کیا ہے اور فرمایا ہے کہ وہ اپنے ربّ کی خَشْیَۃ سے لرزاں رہتے ہیں۔ خَشْیَۃ کے معنی ایسے خوف کے ہیں کہ جس سے خوف پیدا ہو اس کی ذات اور صفات کا علم بھی ہو اور وہ ذات ایسی ہو کہ جب اس کا علم انسان کو حاصل ہو جائے تو اس کی عظمت بھی دل میں پیدا ہوا تو خَشْیَۃ کے معنی یہ ہوئے کہ ایسا انسان اپنے ربّ سے یہ جانتے ہوئے کہ وہ تمام صفات حسنہ سے متصف ہے اور ربوبیت کی انتہائی اور آخری ذمہ داری اسی پر ہے۔ مُشَابِہ بِرَبّ شاید اس دنیا میں بھی ملیں لیکن اللہ کے علاوہ جو بھی درجہ بدرجہ جسمانی یا روحانی ارتقا کا باعث بنتے ہیں وہ اسی کے اذن اور اسی کی توفیق سے ایسا بنتے ہیں۔ حقیقی طور پر اب وہی واحد یگانہ ہے پس جن لوگوں میں اس معنی میں ربّ کی خشیت پائی جاتی ہو اور ھُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ یُؤْمِنُوْنَ وہ سمجھتے ہوں کہ قرآن عظیم کا نزول انسان کی جسمانی اور روحانی ترقیوں کے لئے ہے۔ آیات سے یہاں مراد ایک تو قرآن کریم ہے اور دوسرے وہ تمام آسمانی تائیدات ہیں جو قرآن کریم کی آیات کے ظل کے طور پر اس دنیا میں ہمیشہ نازل ہوتی ہیں اور نازل ہوتی رہیں گی۔ تو جو لوگ اپنے ربّ کی خشیت اپنے دلوں میں رکھتے ہیں اور اس سے لرزاں اور ترساں رہتے ہیں اور وہ جو قرآن کریم پر کامل ایمان رکھتے ہیں اور قرآن کریم کے فیوض کو جاری یقین کرتے ہیں اور نبی اکرمﷺ کے ابدی فیوض پر ایمان لاتے ہیں اور جو اس طرح پر شرک کے ہر پہلو سے محفوظ ہو گئے ہیں بِرَبِّھِمْ لَایُشْرِکُوْنَ خفیہ یا ظاہری شرک بڑا یا چھوٹا شرک کوئی بھی ان کے قریب پھٹکنے نہیں پاتا اور وہ لوگ جن کے دل اس بات سے وَجِلَۃٌ خوف زدہ رہتے ہیں کہ ہم اپنی سمجھ کے مطابق اعمال صالحہ بجا تو لائے ہم نے صدقہ و خیرات بھی دیا دوسری نیکیاں کرنے کی بھی کوشش کی مگر ہم نہیں جانتے کہ یہ ہمارے ربّ کو مقبول بھی ہوں گی یا نہیں ہم نے سوائے اس کے کسی اور کے سامنے جواب دہ نہیں ہونا اور جس کے سامنے ہم جواب دہ ہیں اس کے متعلق ہم کہہ نہیں سکتے کہ قبولیت کو ہماری نیکیاں پہنچی ہیں یا نہیں پس وہ لوگ نیکیاں تو قرآن کریم کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق ہر آن اور ہر وقت بجا لاتے رہتے ہیں لیکن تمام نیکیاں بجا لانے کے بعد بھی ان کے دلوں میں یہ خوف رہتا ہے کہ جس کے سامنے جواب دہ ہیں ہم نا معلوم اس نے ہماری نیکیوں کو قبول بھی کیا ہے یا نہیں۔
    پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جن میں چار باتیں پائی جاتی ہیں وہ ہیں اُوْلٓئِکَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ جن کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ہمارے اس حکم کی تعمیل کی کہ وَسَارِعُوْٓا اِلٰی مُغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ (اٰل عمران :۱۳۴)
    اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے اندر مسابقت کی روح پیدا ہو سکتی ہے وہ جو اپنے ربّ کی خشیت کا احساس نہیں رکھتے وہ جو اپنے ربّ کی آیات عظیمہ (قرآن کریم) پر ایمان نہیں لاتے وہ جن کے دلوں میں شرک کی باریک معصیت پائی جاتی ہے اور وہ جو جب نیکی کرتے ہیں تکبر سے کام لیتے ہیں سمجھتے ہیں کہ ہم نے ایسے کام کئے ہیں کہ اب ہمارا ربّ مجبور ہے کہ ہماری ان باتوں کو قبول کرے اور ہمیں بہتر جزا دے وہ لوگ مسابقت فی الخیرات اور یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرَاتِ کے مصداق نہیں ہوا کرتے نہ ان میں مُسَابَقَتْ فِی الْخَیْرَات پائی جاتی ہے نہ وہ جلدی جلدی نیکیوں کی طرف متوجہ ہونے والے اور حرکت کرنے والے ہوتے ہیں۔
    اس واسطے وہ لوگ جو صرف ہمارے دنیوی احسانوں کو دیکھ کر اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ انہوں نے سَارِعُوْا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ پر عمل کیا اور یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرَاتِ وَھُمْ لَھَا سٰبِقُوْنکے گروہ میں شامل ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو انہوں نے حاصل کیا حالانکہ ان کے اندر یہ چار خوبیاں پائی نہیں جاتیں۔ وہ غلطی پر ہیں لَایَشْعُرُوْنَ مومنون میں روح مسابقت کا پایا جانا ضروری ہے۔ یہ افراد میں بھی ہوتی ہے اور جماعتوں میں بھی اور سب سے زیادہ اس کی طرف مرکز کو متوجہ ہوناچاہئے۔
    پس پہلی ذمہ داری ربوہ پر ہے کہ وہ سب سے آگے نکلے کیونکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے نیکیوں کے سننے کے مواقع بھی زیادہ دئیے ہیں اور نیکی بجا لانے کی سہولتیں بھی بہت میسر کی ہیں اور دوسروں کی نسبت دنیوی انعامات بھی ان کے اوپر بہت زیادہ ہیں۔ مثلاً دنیوی انعامات میں سے ایک مال کا انعام ہے اگر آپ جائزہ لیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ ایک لاکھ سے زائد کی رقم ربوہ کے مستحقین پر ہر سال خرچ کی جاتی ہے اتنی رقم باہر کی جماعتوں پر خرچ نہیں ہوتی مثلاً کراچی میں قریباً ربوہ جنتی آبادی ہے احمدیوں کی کراچی کی آبادی تو زیادہ ہے لیکن جتنی احمدی آبادی ربوہ میں ہے قریباً اتنی ہی آبادی کراچی میں پائی جاتی ہے اور قریباً اتنی ہی آبادی لاہور میں پائی جاتی ہے کم و بیش اتنی آبادی ممکن ہے بعض دوسرے شہروں میں بھی پائی جاتی ہو لیکن ان دو شہروں کے متعلق تو میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کی احمدی آبادی ربوہ کی آبادی کے کم و بیش برابر ہے لیکن وہاں کے ضرورت مند بڑی تکلیف میں بعض دفعہ ہوتے ہیں ایک حد تک جماعتیں ان پر خرچ بھی کرتی ہیں لیکن اتنی رقم (ایک لاکھ سے زائد رقم) وہاں کے ضرورت مند احمدیوں پر خرچ نہیں ہو رہی تو یہ اللہ تعالیٰ کا ایک ایسا فضل ہے جو بہت سی ذمہ داریاں بھی عاید کرتا ہے لیکن اگر ربوہ کے مکین اپنی ضرورتوں کے وقت جماعت سے یہ تو کہیں کہ وَفِیْ اَمْوَالِھِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُوْمِ (الذّٰرٰیت :۲۰) کے ماتحت ہماری ضرورتوں کو پورا کرو لیکن جب انہیں یہ کہا جائے کہ روح مسابقت دوسروں کی نسبت تم میں زیادہ ہونی چاہئے نیکیوں کی طرف تمہیں زیادہ متوجہ ہونا چاہئے اللہ تعالیٰ کی راہ میں زیادہ خلوص کے ساتھ اور زیادہ خشوع کے ساتھ اپنی زندگیاں تمہیں گزارنی چاہئیں دوسری جماعتوں کی نسبت کیونکہ تمہارا ماحول ان کے مقابلہ میں زیادہ پاکیزہ اور نیکیوں کے بجا لانے کی یہاں زیادہ سہولت ہے تو تم سستی دکھائو تو یہ تو اللہ کو پسند نہیں کہ اس کے دنیوی فضلوں میں تو حصہ لینے کی تم کوشش کرو اور عملاً لو بھی لیکن اس کی راہ میں جب قربانیوں کا وقت آئے تو تم کہو کہ کراچی یہ قربانی دے لاہور یہ قربانی دے یا سیالکوٹ یہ قربانی دے یا پنڈی یہ قربانی دے یا پشاور یہ قربانی دے ہم نہیں دیں گے تو یہ درست نہیں۔ جو اخلاق غرباء سے تعلق رکھتے ہیں وہ نہایت حسین رنگ میں نمایاں طور پر ربوہ کے غریب احمدیوں میں نظر آنے چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ کے اموال میں سے تو حصہ لیں لیکن اپنے بچوں کی تربیت ایسے رنگ میں نہ کریں جو انہیں کرنی چاہئے مثلاً ان کے بچے دوسروں کی نسبت زیادہ گندہ دہن ہوں۔ گالیاں ان کی زبان پر ہوں یا توفیق رکھنے کے باوجود اپنے کپڑوں کو زیادہ غلیظ رکھنے والے ہوں یا اپنے ماحول میں گند کو زیادہ پھیلانے والے ہوں تو یہ برداشت نہیں کیا جا سکتا جب وہ اللہ تعالیٰ کی دنیوی نعمتوں میں حصہ دار خدا کے فضل سے بنائے جاتے ہیں تو جو قربانیوں کا وقت ہے جو ان پر ذمہ داریاں ہیں ربوہ کے شہری کی حیثیت سے یا ربوہ کے شہریوں میں سے غریب طبقہ ہونے کی حیثیت سے (غریب طبقہ جماعت کے اموال میں حصہ دار بنتا ہے اور ہر قسم کا ان کا خیال رکھا جاتا ہے) تو وہ ذمہ داریاں ان کو نباہنی چاہئیں۔ اگر وہ نہیں نباہیں گے تو اللہ تعالیٰ کے غضب کا مورد ٹھہریں گے اس سے بہتر ہے کہ پھر وہ ربوہ کو چھوڑ کے کسی اور جگہ چلے جائیں۔
    اسی طرح علاج ہے یہاں علاج اتنی آسانی سے میسر آ جاتا ہے اور اتنی مہنگی دوائیں دینے کی اور لینے کی عادت پڑ گئی ہے معالج اور مریض کو کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات بھی گناہ کی حد تک پہنچ گئی ہے لیکن ضرورت مند مریض اس کی قدر نہیں کرتے اور بھاگتے ہیں چنیوٹ کی طرف یا لائل پور کی طرف یا لاہور کی طرف یا کسی اور جگہ میں ذاتی طور پر گواہ ہوں اس بات کا کہ ربوہ کے مقابلہ میں کسی اور جگہ اس محبت سے اور اس پیار سے علاج نہیں ہوتا۔ میں ایک مثال دیتا ہوں ہم ایک دن کے لئے لاہور گئے غالباً ۱۹۵۷ء کی بات ہے تو میری ایک بچی پر اپنڈے سائیٹس کا حملہ ہو گیا ایک دن کے لئے ہم گئے تھے شام کو واپس آنا تھا لیکن بڑا شدید دورہ ہوا ہمیں وہاں ٹھہرنا پڑا رات کو ڈاکٹر نے کہا کہ فوراً آپریشن کرائو ایک واقف دوست ڈاکٹر تھے انہوں نے خود ہی جا کے رات کے ۹ بجے آپریشن تھیٹر کھلوایا، نرسوں اور کمپونڈروں وغیرہ عملے کو بلایا اور رات کو آپریشن کیا۔ اپنڈیس دکھائی کہ بیمار تھی بڑا اچھا ہوا آپریشن ہو گیا ورنہ زیادہ تکلیف ہو جاتی ہمیں مجبوراً وہاں رہنا پڑا۔ علیحدہ کمرے میں تھی بچی اس کو بیماری کے دوران پیچش کا بڑا سخت حملہ ہوا اور بہت نازک حالت ہو گئی اور ڈاکٹر قریباً ناامید ہو گئے مرض کا پہلے تو پتہ نہیں لگا آخر پتہ لگا کہ پیچش ہے۔ ایمٹین سٹکنین کے ساتھ تجویز ہوئی اب ایسی جگہ بھی جہاں ڈاکٹر واقف اور دوست، نرسوں کو بھی پتہ ہائوس سرجن کو بھی پتہ کہ ان کے بڑے تعلقات ہیں ڈاکٹر سے۔ ایسا ہوا کہ ایک دن ٹیکا لگاتے ہوئے سٹکنین کی گولی جس کے تیار کرنے پر دو منٹ نرس کو خرچ کرنے پڑتے تھے اس نے اپنے دو منٹ بچانے کے لئے وہ گولی پھینک دی اور خالی ایمٹین کا ٹیکا لگانے لگی جو بعض دفعہ بہت مضر پڑتا ہے اور دل کی پٹھوں پر اس کا بداثر پڑتا ہے میری نظر پڑ گئی میں نے کہا کیا ظلم کر رہی ہو تم! یہ گولی ڈالو!! سخت شرمندہ ہوئی وہ۔ پھر اس نے وہ گولی گرم پانی میں گھول کر اس میں شامل کی۔ پس اس قسم کا تو تعلق ہے ان لوگوں کا مریضوں کے ساتھ!!!!
    اور یہاں یہ حالت ہے کہ غریب سے غریب مریض اس دوا کا طالب ہوتا ہے جو سب سے مہنگی ہو جن کی عام لوگ لاہور میں بھی استطاعت نہیں رکھتے کہ اتنی رقم اس دوائی پر خرچ کریں۔ ضرورت کے وقت تو بے شک بہترین دوائی دینی چاہئے لیکن وائٹامنز ہیں مثلاً وہ پانچ روپے کی سو بھی آتی ہیں اور پچاس روپے کی سَو بھی آتی ہیں اور اثر کے لحاظ سے ۱۸۔ ۲۰ کا فرق ہو گا زیادہ سے زیادہ۔ تو میں نے یہاں دیکھا ہے کہ غریب سے غریب آدمی جو بمشکل اپنا گزارہ کر رہا ہے کیونکہ دوا مفت ملتی ہے اس لئے وہ کہتا ہے کہ مجھے پانچ روپے والی وائٹامنز نہیں چاہئیں مجھے پچاس روپے والی چاہئیں حالانکہ دنیا کے امیر بھی وہی پانچ روپے والی دوا کھا رہے ہیں۔
    اتنی سہولتوں کے نتیجہ میں کچھ ذمہ داریاں بھی تو پڑتی ہیں آپ لوگوں پر! اگر آپ دنیوی سہولتیں تو حاصل کر لیں لیکن دینی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ نہ ہوں تو بڑے بدبخت ہیں آپ!! کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو مول لیتے ہیں۔
    پھر اگر تعلیم کے لحاظ سے دیکھیں تو غریب سے غریب شخص بھی اپنے اس بچے کو پڑھا سکتا ہے جو پڑھنا چاہئے اور ہوشیارہو ’’جو پڑھنا چاہے‘‘ میں اس لئے کہتا ہوں کہ بہت سارے بچے دوڑ جاتے ہیں وہ پڑھنا چاہتے ہی نہیں بعض دفعہ ربوہ سے باہر چلے جاتے ہیں بڑی مصیبت پڑتی ہے ان کے ماں باپ کو لیکن جو بچے پڑھنا چاہیں اور پڑھائی میں اچھے ہوں ان کے لئے فراخ شاہراہ ہے جس پر وہ چلتے چلے جاتے ہیں۔ اس کا سواں حصہسہولت بھی کسی دوسری جگہ میں نہیں ہے نہ غیروں کو نہ احمدیوں کو۔ ہمارا اپنے کالج کا ایک مالی ہے میں نے اپنی عادت کے مطابق بڑے پیار سے اس کو رکھا عام آدمی مزدور میرے جیسا انسان ہے اس کے دو بچے ترقی کرکے کہیں کے کہیں پہنچ گئے ہیں ایک اس وقت افریقہ میں ہمارے سیکنڈری سکول میں پڑھا رہے ہیں دوسرے یہیں کہیں ملازم ہیں ان کے دل میں تعلیمی میدان میں ترقی کرنے کا شوق تھا یہ بات کہ ان کا باپ ایک غریب آدمی ہے پنیسٹھ روپے تنخواہ لے رہا ہے ان کی پڑھائی کے رستہ میں روک نہیں بنی۔ اسی طرح بیسیوں مثالیں ایسی ہوں گی کہ پچاس روپے ساٹھ روپے سَو روپے تنخواہ لینے والے جو ہیں ان کے بچے بغیر کسی تکلیف کے جو ان کے خاندان کو پہنچے آگے ہی آگے بڑھتے چلے گئے اور بڑی ترقی کی۔ اس کے مقابلے میں باہر کی حالت اس سے مختلف ہے۔ میں ایک مثال دے دیتا ہوں کئی لوگ شرح کے ساتھ چندہ نہیں دیتے تھے گنہگار ہوتے تھے میری طبیعت پر اس کا بڑا اثر تھا میں نے یہ اعلان کروایا کہ جن کے حالات تنگ ہوں وہ اجازت لے لیں وصیت تو بہرحال ۱۰؍۱ دینی ہے لیکن جو عام چندہ ہے اس میں حالات کے مطابق کمی و بیشی کی جا سکتی ہے اس واسطے کیوں گنہگار ہوتے ہو مرکز سے اجازت لو کہ ہمارے یہ حالات نہیں ہم اجازت دے دیں گے تو کئی دفعہ ایسے دوستوں کے نام بھی میرے سامنے آتے ہیں اجازت کے لئے پانچ سو روپیہ تنخواہ ہے دو یا تین بچے سکولوں اور کالجوں میں پڑھ رہے ہیں مصیبت پڑی ہوئی ہے، نصف شرح پر چندہ دینے کی اجازت دے دیں ہمیں اور اس کے مقابلے میں ربوہ کے احمدی بھائی ہیں کہ پانچ سو کے مقابلے میں ساٹھ یا پینسٹھ یا ستر یا پچھتر روپے ان کی تنخواہ ہے لیکن ان کو اتنی سہولتیں حاصل ہیں کہ کبھی ان کو یہ خیال نہیں آیا کہ وہ یہ درخواست دیں کہ ہمیں نصف شرح پر چند دینے کی اجازت دی جائے۔
    پس بڑی ہی سہولتیں ربوہ میں میسر ہیں دوسرے مقامات پر بھی احمدیوں پر اللہ تعالیٰ کے بڑے فضل اور انعام ہیں لیکن ربوہ کے غرباء پر تو بہت انعام ہو رہے ہیں اور ان کو بڑی مدد مل رہی ہے خیال آتا ہے کہ کہیں یہ آیت اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّھُمْ بِہٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِیْنَo نُسَارِعُ لَھُمْ فِی الْخَیْرٰتِ (المومنون: ۵۶) ہمارے متعلق ہی تو نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہر قسم کے دنیاوی فضل ہم پر ہو رہے ہیں لیکن ہم اپنی غفلت کی وجہ سے ان ذمہ داریوں کی طرف متوجہ نہیں جو ذمہ داریاں اللہ تعالیٰ کے یہ فضل انسان کے کندھوں پر ڈالتے ہیں۔
    اس لئے آج میں چاہتا ہوں کہ اہل ربوہ کو اپنا پہلا مخاطب بنائوں (ویسے تو سارے احمدی ہی میرے مخاطب ہیں) اور ان کو اس طرف متوجہ کروں کہ دوسروں کی نسبت آپ پر زیادہ ذمہ داری ہے دوسروں کی نسبت اللہ تعالیٰ نے دنیوی سہولتیں آپ کو زیادہ دی ہیں اور اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ سب سے زیادہ نیکیوں میں آپ آگے بڑھیں لیکن آپ تو بہتوں سے پیچھے رہ رہے ہیں اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ربوہ کو بڑی قربانیاں دینے کی توفیق دی ہے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ جہاں اکثریت مالی قربانیوں میں آگے ہی آگے بڑھنے والی ہے کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی آمد کی صحیح تشخیص نہیں کرتے اور خصوصاً دکاندار ربوہ کے ماحول میں مہنگی اشیاء بیچتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں لیکن اپنے ربّ کی راہ میں زیادہ اموال خرچ کرنے کی طرف وہ متوجہ نہیں ہوتے اگر وہ خدا کی راہ میں، خدا کے لئے غلبہ اسلام کی خاطر ان اموال کا ایک بڑا حصہ خرچ کر دیتے تو ان کی بہت سی کمزوریاں بھی وَسَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ کے ماتحت خداتعالیٰ کی مغفرت کی چادر میں ڈھانپ دی جاتیں لیکن وہ اس طرف متوجہ نہیں۔
    بچوں کی تربیت کی طرف بعض باپ اور مائیں متوجہ نہیں بہت سی رپورٹیں آتی ہیں کہ راستوں پر بچے گالیاں دیتے سنے گئے احمدی بچہ، ربوہ کے ماحول میں تربیت یافتہ، اگر گلیوں میں گالیاں دیتا ہے تو اس کے ماں باپ کو یہ جگہ چھوڑ دینی چاہئے مائوں کو خصوصیت کے ساتھ میں اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ بعض کمزوریاں ان میں ایسی ہیں کہ ان کو مردوں کی نسبت زیادہ توجہ دلانے کی ضرورت ہے اگر اللہ تعالیٰ آپ کو مال دیتا اور اولاد دیتا ہے اور ہزار قسم کی سہولتیں آپ کے لئے پیدا کرتا ہے تو ہزار قسم کی ذمہ داریاں بھی آپ پر عاید کرتا ہے۔ محض ربوہ کی رہائش محض جماعت احمدیہ کا رُکن ہونا کافی نہیں ہے۔
    پھر میں ربوہ میں جو ہمارے کارکن ہیں ان کو اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ آپ میں سے کچھ ہیں (بہت سے ہیں جو بڑی دیانتداری کے ساتھ، بڑے خلوص کے ساتھ دفتر کے جو اوقات ہیں ان سے زیادہ وقت صرف کرتے ہیں دین کے کاموں کے لئے لیکن کچھ ایسے بھی تو ہیں) جو پورا وقت نہیں دیتے ان کو یہ سوچ کر شرم آنی چاہئے کہ انہوں نے دوسروں کے لئے ایک نمونہ بننا تھا اس مسابقت کے میدان میں لیکن ان سے زیادہ وقت دیتے ہیں کراچی کے بعض احمدی جو دفاتر وغیرہ میں سات آٹھ گھنٹے لگانے کے بعد چھ سات گھنٹے جماعت احمدیہ کے کاموں پر خرچ کرتے ہیں اور ہمارے بعض کلرک ربوہ میں رہتے ہوئے گزارہ لے کے چھ گھنٹے کام نہیں کرتے اور ان کا بھائی کراچی میں جن سے گزارہ لیتا ہے ان کا آٹھ گھنٹے کام کرتا ہے اور جس ربّ کریم کے پیار میں وہ اپنی زندگی گزار رہا ہے اس کے لئے اس کے علاوہ چھ سات گھنٹے وہ کام کرتا ہے ہمارے اس کلرک سے زیادہ وقت دے رہا ہے ایسا ایک کلرک بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا اور ایسا کوئی ناظر اور اگر وکیل ہو تو اس کو بھی برداشت نہیں کرنا چاہئے جماعت کو دنیا کے سامنے بعض دفعہ بڑے فخر سے تم بیان کرتے ہو کہ ہم خدا کی خاطر خدا کے اس شہر میں مقیم ہیں لیکن خدا کے فرشتے جب تمہاری کارروائی لے کر تمہارے ربّ کے حضور پہنچتے ہیں تو تمہارے کھاتے میں دین کے لئے خرچ ہونے والا اتنا وقت بھی درج نہیں ہوتا جتنا وقت ایک رضا کار کراچی میں خدا کے دین پر خرچ کر رہا ہے ڈوب مرنے کا مقام ہے، فخر سے گردن اونچا کرنے کا مقام نہیں!!!
    بعض نوجوان ایسے بھی ہیں (چند ایک ہی سہی مگر ہیں تو) جو قصداً اور عمداً مسجدوں میں نماز کے لئے نہیں آتے اگر کوئی سستی کے نتیجہ میں نہیں آتا اگر کوئی غفلت کے نتیجہ میں نہیں آتا اگر کوئی مسجد میں اس لئے نہیں آتا کہ اس کی ماں بیوقوف ہے نماز کے وقت وہ سویا ہوا تھا اور اس نے اسے جگایا نہیں تو وہ اور بات ہے لیکن وہ نوجوان جو عمداً نماز کو چھوڑتا ہے وہ ربوہ میں کیا کر رہا ہے؟ اور آپ کیوں اس کو برداشت کر رہے ہیں؟ اسی طرح دوسری نیکیاں ہیں ایک نیکی ربوہ سے تعلق رکھنے والی خاص طور پر یہ ہے کہ یہاں کسی قسم کی لڑائی اور جھگڑا نہ ہو احمدیوں میں کہیں بھی نہیں ہونا چاہئے مسلمانوں میں کہیں بھی نہیں ہونا چاہئے انسانوں میں یہ کہیں بھی نہیں ہونا چاہئے لیکن وہ تو علیحدہ بات ہے خاص طور پر ربوہ میں کوئی لڑائی اور جھگڑا اور گالی گلوچ نہیں ہونا چاہئے اگر گول بازار یا غلہ منڈی یا کسی اور بازار میں یہاں لڑائی ہوتی ہے تو سارا ربوہ خاموش کیوں رہتا ہے؟ کیا بھڑوں جیسی غیرت بھی تمہارے اندر نہیں ہے! کہ جب بھڑ کے چھتہ کے قریب سونٹی کریں تو ساری بھڑیں اس چھتہ کی بڑے غیض اور بڑے غصہ کا اظہار کرتی ہیں اور ایک آواز پیدا ہوتی ہے ان کی غصہ سے۔ تو جتنی غیرت بھڑوں کے چھتہ میں ہے کیا اتنی غیرت بھی اہل ربوہ میں باقی نہیں رہی؟ یہ امن کا ماحول تھا اور امن کا ماحول قائم رکھنا چاہئے میرے پاس رپورٹ کیوں آئے؟ مجھے کسی قسم کا اقدام کرنے کی ضرورت کیوں پیش ہو؟ اگر سب لوگوں کو یہ پتہ ہو کہ ربوہ ان چیزوں کو برداشت نہیں کرتا ربوہ میں بر سرعام سگریٹ نہیں پیا جا سکتا ربوہ کے بازاروں میں گالی نہیں دی جا سکتی ربوہ کے بازاروں میں لڑائی جھگڑا نہیں کیا جا سکتا ربوہ کے مکانوں میں نمازوں کے اوقات میں مسجدوں کو معمور کرنے کی بجائے ٹھہرا نہیں جا سکتا تو پھر ہمارا ماحول جنت کاماحول ہوجائے اور جنت ہی پیدا کرنے کے لئے ہمیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔
    پس اے میرے عزیز ربوہ کے مکینو! اپنے سستوں کو چست کرو اور کمزوروں کو مضبوط بنائو اور غافلوں کو بیدار کرو کیونکہ اس قسم کی کمزوریاں ربوہ میں برداشت نہیں کی جا سکتیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں مذکورہ چار صفات اپنے اندر پیدا کرنے کی توفیق عطا کرے۔ (آمین)
    (روزنامہ الفضل ربوہ مورخہ ۲۹؍ مارچ ۱۹۶۸ء صفحہ۲ تا۶)
    ٭…٭…٭

    خدا تعالیٰ کی گرفت ہمیشہ اچانک ہوا کرتی ہے ہر لمحہ ڈر کے اور خوف کے ساتھ زندگی گزارنے کی ضرورت ہے
    (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۹ ؍مارچ ۱۹۶۸ء ۔ غیر مطبوعہ)
    ء ء ء
    ٭ انسان کو اختیار دیا گیا ہے کہ چاہے تو اپنے ربّ کی آواز پر لبیک نہ کہے اور شیطانی راہوں کو اختیار کر لے۔
    ٭ عذاب کے وقت توبہ قبول نہیں ہوتی اور رحمت کے سب دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں۔
    ٭ جب نفسانیت پر موت وارد ہو جائے گی تو خدا تعالیٰ کی رحمت اپنے چمکتے ہوئے نور کے ساتھ دوبارہ تمہیں زندگی عطا کرے گی۔
    ٭ اپنی قوتوں اور استعدادوں کے مطابق عمل صالح بجا لاؤ۔
    ٭ اللہ تعالیٰ نے بڑی قوتیں اور استعدادیں تمہیں عطا کیں اور وہ روحانی ترقیات تمہیں دینا چاہتا ہے۔



    تشہد، تعوذ، سورۃ فاتحہ اور آیات
    قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ لاَ تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِط اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُالذُّنُوْبَ جَمِیْعًاط اِنَّہٗ ھُو الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُo وَاَنِیْبُوْٓا اِلٰی رَبِّکُمْ وَاَسْلِمُوْالَہٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَo وَاتَّبِعُوْٓا اَحْسَنَ مَآاُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ الْعَذَابُ بَغْتَۃً وَّاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَo لا (الزمر :۵۴ تا ۵۶)
    کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    ان آیات میں ہمیں اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی رحمت کے عظیم اور حسین جلوے نظر آتے ہیں اور ہمیں بڑی وضاحت سے ان راہوں کا علم دیا گیا ہے کہ جن پر چل کے اللہ تعالیٰ کا ایک بندہ اس کی مغفرت اور اس کی رحمت کو حاصل کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ یٰعِبَادِيَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِھِمْ کہ انسان ضعیف ہے اگرچہ اس کو فطرت صحیحہ دی گئی ہے اور اس کے اندر یہ قوت اور یہ استعداد رکھی گئی ہے کہ وہ اپنے ربّ کا عبد بنے اور اس کی صفات کا مظہر بنے لیکن اسے یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ چاہے تو اپنے ربّ کی آواز پر لبیک نہ کہے بلکہ اس سے منہ موڑ لے اور شیطانی راہوں کو اختیار کر لے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک وقت میرے بعض بندوں پر ایسا بھی آتا ہے کہ ان کے دل میں یہ احساس شدت اختیار کرتا ہے کہ انہوں نے فطرت کی آواز کو نہ سنا اور اپنی فطرت صحیحہ کے تقاضوں کو پورا نہ کیا اور جو ہدایت ان کی ربوبیت کے لئے آسمانوں سے نازل کی گی تھی اس پر کان نہ دھرے نہ اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالا اور اس وقت ایسا انسان اپنے گناہوں کو دیکھ کر اپنے دل میں مایوسی کے جذبات پاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ شاید خدا کی رحمت کے دروازے میرے پر بند ہو گئے ہیں تو ان اوقات میں ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ یہاں اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ بتایا ہے کہ میری صفات میں سے ایک صفت غفور ہونے کی اور ایک رحیم ہونے کی ہے، اس لئے میں تمہیں کہتا ہوں کہ میری رحمت جو ہر دوسری چیز کو اپنے گھیرے اور اپنی وسعتوں میں لئے ہوئے ہے اس سے مایوس نہ ہونا، کیونکہ میں غفور ہونے کی وجہ سے تمہارے گناہوں کو بخش سکتا ہوں اور بخشوں گا اور رحیم ہونے کے لحاظ سے تم پر رجوع برحمت ہوں گا لیکن میری رحمت کے حصول کے لئے جو طریق تمہیں اختیار کرنے چاہئیں وہ میں تمہیں بتا دیتا ہوں اور وہ یہ کہو اَنِیْبُوْٓا اِلٰی رَبِّکُمْ وَاَسْلِمُوْالَہٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ (الزمر :۵۵) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک وقت ایسا آتا ہے ایک گنہگار بندے پر کہ خدا کی مدد اور نصرت سے وہ محروم ہو چکا ہوتا ہے اور خداتعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی مدد اسے نجات نہیں دلا سکتی وہ وقت وہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی قہری گرفت میں وہ آ جائے جب اللہ تعالیٰ کے غضب کے نیچے وہ ہو اور اللہ تعالیٰ کے قہر کا وہ مورد بن رہا ہو تو واضح ہے کہ کوئی دوسری ہستی اس کی مدد اور نصرت کو پہنچ نہیں سکتی اور جو اس کی مدد کر سکتا تھا اس کی مدد سے اس نے اپنے ہی اعمال کے نتیجہ میں خود کو محروم کر دیا چونکہ انسانی زندگی یا ایک گنہگار کے لئے مرتے وقت یہ وقت ایسا آتا ہے کہ کسی طرف سے بھی اسے مدد نہیں پہنچ سکتی نہ پہنچتی ہے غیراللہ سے مدد پہنچ نہیں سکتی اللہ کی طرف سے مدد پہنچتی نہیں۔
    تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ چونکہ عذاب کے وقت توبہ قبول نہیں ہوتی اور رحمت کے سب دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اس لئے میں اپنی گرفت میں تاخیر ڈالتا ہوں تم گناہ کرتے ہو میں گرفت نہیں کرتا میں تمہیں چھوڑتا ہوں اس لئے کہ کسی وقت تمہاری فطرت بیدار ہو جبکہ وہ پہلے سوئی ہوئی تھی یا کسی وقت تمہاری فطرت زندہ ہو جو پہلے مردہ یا نیم مردہ تھی اور تم اپنے گناہوں سے نجات کے طریق کو ڈھونڈنے کی خواہش اپنے اندر پائو اور تم یہ سمجھو کہ ہم نے اپنے نفسوں پر بڑا ہی ظلم کیا تھا جب ہم نے نفسانی خواہشات کی پیروی کی تھی اور اللہ تعالیٰ کی ہدایتوں کو ٹھکرا دیا تھا۔
    چونکہ میں عذاب میں تاخیر ڈالتا ہوں اس لئے میں تمہیں کہتا ہوں کہ عذاب سے پہلے پہلے اگر اَنِیْبُوْا اور اَسْلِمُوْا پر عمل کرو گے تو تم میری مغفرت اور رحمت کو حاصل کر لو گے۔ اگر تم (جس طرح پہلے گناہ کی طرف بار بار لوٹتے تھے گناہ پر گناہ کرتے چلے جاتے تھے) اب اپنے ربّ کی طرف بار بار لوٹو اور توبہ کے بعد توبہ کرتے چلے جائو اور اَسْلِمُوْا اگر تم اپنے تمام اردوں اور نفسانی خواہشات سے کھوئے جائو اور خدا کی رضا میں محو ہو جائو خدا میں گم ہو کر ایک موت اپنے پر وارد کر لو تو جب نفسانیت پر موت وارد ہو جائے گی خداتعالیٰ کی رحمت اپنے چمکتے ہوئے نور کے ساتھ دوبارہ تمہیں زندگی عطا کرے گی۔
    تو اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ قبل اس کے کہ میری گرفت، میرا قہر، میرا عذب تم پر نازل ہو میری طرف جھکو ایک بار نہیں بار بار میری طرف لوٹو توبہ کے ساتھ اور استغفار کے ساتھ اور اپنے دلوں کو ایسا بنا لو کہ ہر غیر ایک مردہ تمہیں نظر آئے اور زندہ اور حیات کا چشمہ میری ذات کے علاوہ تمہیں کوئی نظر نہ آئے اگر تمہاری یہ کیفیت ہو جائے اگر تم بار بار توبہ کرنے والے ہو اور اسلام کی روح اور مغز تمہارے اندر پیدا ہو جائے تو اگرچہ ابھی تمہیں کسی عمل صالح کی توفیق نہیں ملی تب بھی میں تمہیں معاف کر دوں گا اور اپنی رحمت کی آغوش میں تمہیں لے لوں گا۔
    ہمیں اس دنیا میں نظر آتا ہے کہ بہت سے خدا کے بندے اس انابت کی طرف مائل ہوتے ہیں یعنی بار بار استغفار کے ساتھ اور توبہ کے ساتھ اپنے ربّ کی طرف جھکنے لگتے ہیں اور وہ اس یقین پر قائم ہو جاتے ہیں کہ جب تک ہم اپنی نفسانی خواہشات پر پورے طور پر موت وارد نہیں کریں گے ہم اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ زندگی حاصل نہیں کر سکیں گے لیکن قبل اس کے کہ کوئی عمل صالح وہ بجا لا سکیں اجل آتی ہے اور اس دنیا سے وہ کوچ کر جاتے ہیں تو ان لوگوں کو بھی خدا نے کہا کہ اگر تمہاری یہ کیفیت ہے تب بھی تم مایوس نہ ہونا کیونکہ اس صورت میں بھی میں تمہیں اپنی رحمت کی آغوش میں لے لوں گا اور اپنے انعاموں اور فضلوں کا تمہیں وارث بنائوں گا لیکن اگر تم بار بار توبہ کرو اگر تم اس حقیقی روح اسلام کا دعویٰ کرو اور پھر تمہیں اور زندگی بھی عطا ہو تو یہ یاد رکھو کہ پھر عمل کے ساتھ تم نے صدق اور وفا کا ثبوت دینا ہے اگر تمہارا دعویٰ تو یہ ہے کہ بڑی استغفار کرنے والے ہو اگر تمہارا دعویٰ تو یہ ہے کہ ہم اس حقیقت کو پا گئے ہیں کہ اپنی تمام مرضیوں اور خواہشات کو خدا کی رضا پر قربان کر دینا چاہئے، لیکن تمہیں عمل کا موقع ملتا ہے عمل صالح کا اور تم وہ عمل صالح بجا نہیں لاتے تو پھر تمہارے انابت ظاہری اور تمہاری اسلام کا دعویٰ تمہیں کچھ کام نہیں دے گا۔
    وَاتَّبِعُوْٓا اَحْسَنَ مَآاُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ الْعَذَابُ بَغْتَۃً وَّاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ (الزمر:۵۶) اس لئے ہم تمہیں کہتے ہیں کہ تمہیں انابت الی اللہ اور اسلام کے بعد یعنی اس روح اسلام کے بعد جس کی طرف میں نے ابھی مختصراً اشارہ کیا ہے، موقع دیا جائے گا زندگی عطا ہو کچھ عرصہ تمہیں اس دنیا میں رہنے دیا جائے تو پھر یہ یاد رکھنا کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی رحمت کے وارث ہونا چاہتے ہو تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ تم خاص قسم کے اعمال بجا لائو اپنے ربّ کو راضی کرنے کے لئے اور یہ نہ بھولو کہ اللہ تعالیٰ تمہارا ربّ ہے اس نے تمہیں پیدا کیا اور فطرت صحیحہ عطا کی اور اس فطرت صحیحہ کی نشوونما کے لئے آسمان سے اس نے اپنی وحی کو نازل کیا اور فطرت فطرت میں اس نے فرق رکھا اور وقت وقت اور موقع موقع اس نے علیحدہ قسم کے رکھے۔ ہر قسم اور ہر موقع کے لحاظ سے ہر فطرت صحیحہ کے لئے ایک عمل صالح بنایا تو اگر تم اپنی حالت اپنی قوتوں اور استعدادوں کے مطابق اور موقع اور محل کے لحاظ سے احسن عمل بجا نہ لائو گے تو میری رحمت تم پر نازل نہ ہو گی لیکن اس زندگی میں جو انابت اور اسلام کے بعد کی ہے تم اپنی طاقت کے مطابق اپنے حالات کے لحاظ سے موقع اور محل کو دیکھتے ہوئے اَحْسَنَ مَآ ٰاُنْزِلَ اِلَیْکُمْ پر عمل کرو گے جو بہترین حکم ہے اس پر عمل کرنے والے ہو گے اور یہ عمل تم موت کے وقت کرنے کا ارادہ نہیں کرو گے بلکہ انابت اور اسلام کے بعد زندگی کی وہ گھڑیاں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں عطا ہوئی ہیں جو عذاب سے پہلے کی ہیں۔ اس میں تم اَحْسَنَ مَآاُنْزِلَ اِلَیْکُمْ پر عمل کرو گے تو ہماری رحمت کو تم پا لو گے اور پچھلے سارے گناہ تمہارے معاف کر دئیے جائیں گے بڑی ہی امید دلائی ہے ان آیات میں اس گنہگار بندے کو ہمارے ربّ نے اور وہ راہیں سکھائی ہیں کہ جن پر چل کر ہم اس کی رحمت کو حاصل کرتے ہیں اور اس کی مغفرت کو پا لیتے ہیں۔
    یہاں ہر دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کو پوری طرح واضح کر دیا ہے کہ جس وقت انسان اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آ جائے اس وقت توبہ قبول نہیں ہوتی دوسری آیات قرآنیہ میں بھی اس موضوع کو بڑی وضاحت سے کھول کر بیان کیا گیا ہے یہاں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب عذاب آئے تو خدا کا وہ فعل بتا رہا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے تم محروم کر دئیے گئے ہو اور اس کے مقابلہ میں کوئی تمہاری مدد نہیں کر سکتا اور جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آئے تو بَغْتَۃً ہوتا ہے یہ نہیں کہ وہ وقت کی تعیین کے ساتھ کہے کہ اب تمہاری پانچ سالہ زندگی رہ گئی ہے اور پانچ سال کے بعد تم پر عذاب آئے گا ایسا نہیں کرتا خداتعالیٰ کی گرفت ہمیشہ اچانک ہوا کرتی ہے اس واسطے ہر لمحہ ڈر کے اور خوف کے ساتھ زندگی گزارنے کی ضرورت ہے پتہ نہیں کہ کس وقت اس کی قہری تجلی انسان پر وارد ہو اس لئے فرمایا کہ چونکہ عذاب کے وقت توبہ قبول نہیں ہوتی اس سے پہلے ہو جاتی ہے کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں عذاب سے دو مہینے پہلے توبہ کر لوں گا اور خداتعالیٰ کے انعاموں کو حاصل کر لوں گا کیونکہ عذاب کا وقت مقرر نہیں۔
    اس لئے جس وقت بھی انسان کے نفس کی یہ حالت ہو کہ وہ اپنے کئے پر پچھتانے لگے اور اس کی فطرت میں بیداری اور زندگی پیدا ہونے لگے اور شیطان اس کو خدا کی رحمت سے دور کرنے کے لئے اس کے دل میں مایوسی کے خیالات پیدا کرنے لگے اس وقت اللہ کہتا ہے کہ مایوس نہ ہونا چونکہ ابھی میری گرفت سے تم بچے ہوئے ہو میرا عذاب تم پر نازل نہیں ہوا، تم نہیں جانتے کہ کس وقت وہ عذاب نازل ہو اور میری قہری تجلی کا تم پر جلوہ ہو جائے اس لئے اسی وقت جب تمہارے دل میں یہ احساس پیدا ہو کہ ہم نے اپنے نفسوں پر بڑا ظلم کیا ہے کہ نفسانی خواہشات کی پیروی کی اور فطرت صحیحہ کی آواز کو پہچانا نہیں۔ اسی وقت وَاَنِیْبُوْٓا اِلٰی رَبِّکُمْ وَاَسْلِمُوْالَہٗ (الزمر:۵۵) اور اسی وقت اِتَّبِعُوْٓا اَحْسَنَ مَآاُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ (الزمر :۵۶) کرنے لگو اگر تم ایسا کرو گے تو تمہارا ربّ جس نے تمہیں پیدا کیا اور بڑی قوتیں اور استعدادیں تمہیں عطا کیں اور روحانی ترقیات وہ تمہیں دینا چاہتا ہے وہ آہستہ آہستہ ترقی دے کر تمہیں تمہارے کمال تک پہنچائے گا اور تم اس کی رضا کی جنتوں میں داخل ہو جائو گے۔
    اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی مغفرت کی چادر میں ڈھانپ لے اور اپنی رحمتوں سے ہمیں نوازے (آمین)
    ٭…٭…٭
    جو لوگ خلیفہ وقت کے فیصلوں کی تعمیل میں لگ جائیں
    دنیا کی بہتر سے بہتر جزاء اور اُخروی زندگی میں اعلیٰ سے اعلیٰ ثواب انہیں ملے گا
    (خطبہ جمعہ فرمودہ ۵؍ اپریل ۱۹۶۸ء۔ غیر مطبوعہ)
    ء ء ء
    ٭ جو اللہ تعالیٰ پر توکل رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے پیار اور محبت کا سلوک کرتا ہے۔
    ٭ مومنوں کا فرض ہے کہ وہ بھی صرف اللہ پر توکل کرنے والے ہوں۔
    ٭ جو علم خلیفہ وقت کو حاصل ہوتا ہے یا ہو سکتا ہے، وہ دوسروںکو حاصل نہیں ہو سکتا۔
    ٭ مشورہ جن سے کرنا ہے وہ خلیفہ کو اختیار دیا گیا ہے اور جن معاملات میں کرنا ہے وہ بھی خلیفہ وقت نے کرنا ہے۔
    ٭ عزم کرنا اور فیصلہ پر پہنچنا یہ بھی خلیفہ وقت کا کام ہے جماعت کا کام نہیں مجلس شوریٰ کا کام نہیں۔


    تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد مندرجہ ذیل آیات یَقُوْلُوْنَ ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَيْئٍ ط قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ کُلُّہٗ لِلّٰہِ
    (اٰل عمران: ۱۵۵)
    فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاسْتَغْفِرْلَھُمْ وَشَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ ج فَاِذَاعَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَo اِنْ یَّنْصُرْکُمُ اللّٰہُ فَـلَا غَالِبَ لَکُمْ ج وَ اِنْ یَّخْذُلْکُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِيْ یَنْصُرُکُمْ مِّنْ بَعْدِہٖ ط وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ (اٰل عمران: ۱۶۰،۱۶۱)کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    قبل اس کے کہ میں آج کے خطبہ کامضمون شروع کروں میں ربوہ کے مکینوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ گزشتہ سال کی طرح امسال بھی بڑے ماہر ڈاکٹر کراچی سے آئے ہوئے ہیں اور وہ مختلف ٹیسٹ وغیرہ کر کے صحت کے متعلق معلومات حاصل کرتے ہیں اور بڑا ہی اچھا مشورہ بھی جنہیں ضرورت ہو مشورہ کی، طبی لحاظ سے وہ دیتے ہیں لیکن مجھے رپورٹ ملی ہے کہ اہل ربوہ اس طرف متوجہ نہیں ہو رہے یہ اللہ تعالیٰ کی ناشکری ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کی صحت کو دیکھنے کا اگر کوئی کہیں خرابی ہو تو اس کی تشخیص اور بعد میں اس کے فضل سے اس کے علاج کا سامان مہیا فرمایا ہے۔ قریباً تیرہ سَو ربوہ کے مکین ایسے ہیں جنہیں اس سال اپنی صحت کی چیکنگ کرانی چاہئے یہ ان کے علاوہ ہیں جو گزشتہ سال ان ڈاکٹروں کے سامنے پیش ہوئے تھے تو زیادہ سے زیادہ دوست اس طرف متوجہ ہوں اور پورا تعاون ان ڈاکٹروں سے کریں۔
    اللہ تعالیٰ سورہ آل عمران میں ان لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے جو یا تو منافق ہیں یا ایمان کے کمزور ہیں۔ (ایمان کی ہر کمزوری نفاق پر دلالت نہیں کرتی) تو وہ لوگ یا جو پورے منافق ہوں یا جن کے ایمان پر پختگی نہ ہو بلکہ ایمان کی کمزوری ان میں پائی جاتی ہو۔ ان کے متعلق آل ـعمران کی ۱۵۵ آیت میں یہ فرمایا ہے۔ ان کا قول نقل کرتے ہوئے کہ وہ کہتے ہیں کہ کیا اسلام اور مسلمانوں کے متعلق جو اہم امور فیصلہ ہوتے ہیں یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی عزم کرتے ہیں کہ ایسا ہونا چاہئے اس سلسلہ میں ہمارا بھی کوئی دخل ہے۔؟؟ اور وہ یہ اعتراض کے طور پر اور طعنہ کرتے ہوئے ایسا منہ سے نکالتے ہیں کہ ہم سے مشورہ کے وقت مشورہ نہیں لیا جاتا اور جو مشورہ ہم دیں چاہے ہم نہایت ہی اقلیت میں ہوں وہ سنا نہیں جاتا تو اس صورت میں ہم پر کوئی ذمہ واری نہیں آنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنَّ الْاَمْرَ کُلُّہٗ لِلّٰہِکہ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے الْاَمْرُ اللہ کے ہاتھ میں ہے اس کے اختیار میں اور اس کے تصرف میں ہے۔ اس واسطے تمہارا جواب تو یہ ہے۔ ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَيْئٍ کہ کیا ہمارا بھی ان معاملات میں کوئی دخل ہے؟ فرمایا نہیں!!! تمہارا کوئی دخل نہیں!! سب کام اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے ہیں اور اس نے آسمانوں پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ اسلام کواس کے دو دوروں میں دنیا پر غالب کرے گا۔ اس کا فیصلہ بہرحال پورا ہوگا وہ جو چاہے گا جس رنگ میں چاہے گا کرے گا کسی کا کوئی حق اس سلسلہ میں تسلیم نہیں کیا جا سکتا نہ کسی کا کوئی حق ہے کیونکہ اللہ کے خلاف کوئی شخص اپنا حق پیش نہیں کر سکتا جس نے پیدا کیا جس کے احسانوں کے نیچے انسان اس قدر دبا ہوا ہے کہ اس کے ایک ایک دن کے احسانوں کا ساری عمر میں شکر ادا نہیں کر سکتا اس کے مقابلہ میں کھڑا ہو کے یہ حق جتائے اِنَّ الْاَمْرَ کُلُّہٗ لِلّٰہِ لیکن اَ لْاَمْرُ کُلُّہٗ لِلّٰہِچونکہ ہے اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ہم نے تجھے رحمت بنا کر بھیجا ہے اور مومنوں کا بڑا خیال رکھنے والا ان کے احساسات کا بھی اور ان کی تربیت کا بھی۔ اس لئے اے نبی! ہم تجھے حکم دیتے ہیں کہ فَاعْفُ عَنْھُمْ تربیتی کمزوری کے نتیجہ میں ان سے جو غلطیاں سرزد ہو جائیں ان سے درگزر کرو اور وَاسْتَغْفِرْلَھُمْ اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعائیں کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ ان کی بشری کمزورویوں کو دور کرے اور روحانی طاقت انہیں عطا کرے تا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بہترین انعاموں کے وارث ہوں۔
    وَشَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ اور ان کے دلوں پر بشاشت پیدا کرنے کے لئے اور دنیا میں ان کی عزت کو قائم کرنے کیلئے الْاَمْر میں ان سے مشورہ کیا کروکام سب خدا نے کرنے تھے۔ فیصلہ سب اللہ تعالیٰ کے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئے۔ لیکن چونکہ مخلصین ان مشوروں میں شامل ہوتے تھے۔ آج بھی ہم بڑی عزت سے ان کا نام لیتے اور بڑی عزت سے ان کی یاد اپنے دلوں میں رکھتے ہیں۔ تو فرمایا شَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ۔ اسلام کے اہم امور کے متعلق ان میں سے جن سے چاہو جن امور کے متعلق چاہو مشورہ کر لیا کرو۔ فَاِذَاعَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ سب مشورے سننے کے بعد جب کسی نتیجہ پر پہنچو اور پختہ ارادہ کرو کہ یوں ہونا چاہئے اور یوں نہیں ہونا چاہئے تو اس وقت کثرت کی طرف نظر نہ کرو۔ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ اللہ تعالیٰ پر توکل رکھو اور یقین رکھو کہ حقیقتاً وہی کارساز ہے کیونکہ اگر تم اللہ تعالیٰ پر ہی توکل رکھنے والے ہوگے تو تمہیں بشارت دی جاتی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ پر توکل رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے پیار اور محبت کا سلوک کرتاہے اور مسلمانوں کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اِنْ یَّنْصُرْکُمُ اللّٰہُ فَـلَا غَالِبَ لَکُمْ۔ (آل عمران: ۱۶۰) اگر اللہ تعالیٰ کسی کی مدد اور نصرت کرتا ہے اور اسے کامیاب کرنا چاہے تو کوئی طاقت دنیا کی ایسے گروہ اور جماعت کو اور اُمت کو مغلوب نہیں کر سکتی نہ قانون کر سکتا ہے لیکن اگر اللہ مدد چھوڑ دے فَمَنْ ذَاالَّذِیْ یَنْصُرُکُمْ مِنْ بَعَدِہٖ۔ تو کسی کی مدد پر بھروسہ کرتے ہوئے تم کوئی کام کروگے اور کامیابی کی امید رکھو گے۔ وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ یعنی جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم محض اللہ پر توکل رکھنے والے ہیں اسی طرح آپ کی سنت کی اور آپ کے اسوہ کی اتباع کرتے ہوئے مومنوں کا یہ فرض ہے کہ وہ بھی صرف اللہ، صرف اللہ پر توکل کرنے والے ہوں۔
    شورٰی کے متعلق یہاں جو تعلیم دی گئی ہے اس کے بعض حصوں کی میں وضاحت اس لئے کرناچاہتا ہوں کہ بہت سارے نئے دوست شوریٰ کے نمائندے بن کے آتے ہیں اور بہت سے پُرانے بھی بعض ضروری باتوں کو بھول جاتے ہیں ایسی باتیں ان کے سامنے رکھ کے یاددہانی کرواتے رہنا چاہئے۔
    اللہ تعالیٰ نے یہاں شَاوِرْ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے ارشاد فرمایا ہے کہ ان سے مشورہ لیا کرو۔ مشورہ لینے کا حق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا ہے یا آپ کی نیابت میں آپ کے خلفاء کو اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ۱۹۳۰ء کی شوریٰ میں یہ فرمایا تھا۔
    ’’مشورہ لینے کا حق اسلام نے نبی کو اور اس کی نیابت میں خلیفہ کو دیا ہے مگر کوئی یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ نبی یا خلیفہ کے سامنے تجاویز پیش کرنے کا حق دوسروں کے لئے رکھا گیا ہے‘‘۔
    اسی طرح آپ نے فرمایا:
    ’’مجلس شوریٰ اپنی ذات میں کوئی حق نہیں رکھتی۔ وہ میرے بلانے پر آتی اور آ کر مشورہ دیتی ہے اور ہمیشہ خلیفہ کے بلانے پر آئے گی، اسے مشورہ دے گی وہ اپنی ذات میں کوئی حق نہیں رکھتی کہ مشورہ دے‘‘۔
    تو شاوِرْ کے اوّل مخاطب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ کی نیابت میں آپ کے خلفاء اس کے مخاطب ہیں تو مشورہ لینے کا حق نبی کو اور نیابت کے طور پر خلیفہ کو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے پچھلے سال غالباً مجلس شوریٰ میں مَیں نے ایک اور زاویہ نگاہ سے بھی اس پر روشنی ڈالی تھی اور وہ یہ کہ اگر یہ سمجھا جائے کہ جماعت کا حق ہے خلیفہ وقت کا حق نہیں تو جس کا حق ہے اس کا یہ بھی حق ہوتا ہے کہ وہ اپنا حق چھوڑ دے اگر کسی سے زید نے ایک سَو روپیہ لینا ہو تو اسے یہ حق خدا نے بھی اور رسول نے بھی، اخلاق نے بھی، شریعت نے بھی اور ملک کے قانون نے بھی دیا ہے کہ وہ کہے کہ میں اپنا یہ سَو روپیہ وصول نہیں کرتا اگر جماعت کو یا اس کے بعض گروہوں کو یا افراد جماعت کو بحیثیت افراد کے یہ حق دیا جاتا اور یہ ان کا حق تسلیم کیا جائے تو کہہ سکتے ہیں وہ ہمارا حق ہے ہم اسے استعمال نہیں کرتے ہم خلیفہ وقت کو کوئی مشورہ نہیں دیں گے لیکن اس کے برعکس اگر مشورہ لینے کا حق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی نیابت میں آپ کے خلفاء کا ہے تو پھر کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ جب مجھ سے مشورہ مانگا جائے مشورہ کیلئے مجھے بلایا جائے میری مرضی ہے جاؤں مشورہ دوں یا نہ دوں اس لئے کہ یہ حق خلیفہ وقت کا ہے اور جماعت پر یہ حق ہے خلیفہ وقت کا کہ جب جن لوگوں کو جن امور کے متعلق وہ مشورہ کیلئے بلائے وہ اس کے کہنے اور ہدایت کے مطابق اس کے سامنے اپنے مشورہ کو رکھیں۔
    شَاوِرْھُمْ ان سے سوال پیدا ہوتا ہے کن سے؟؟؟ تو اس میں بھی ھُمْ کے فیصلہ کرنے کا حق خلیفہ وقت کو نبی اکرم کی نیابت میں ہے۔ اور کن سے مشورہ کرنا ہے اور جن سے مشورہ کرنا ہے اگر ان کا انتخاب ہونا ہوتو کس طریق سے ان کا انتخاب ہوگا یہ فیصلہ بھی خلیفہ وقت نے ہی کرنا ہے۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ کے اُسوہ میں بھی ہمیں یہی نظر آتا ہے بعض مواقع پر جب مسلمان تھوڑے تھے اور قریباً بہت بھاری اکثریت مدینہ میں بھی رہتی تھی تواس وقت مسلمانوںکا سوادِ اعظم مدینہ میں رہائش پذیر تھا اس وقت چند سَو جوتھے وہی سوادِ اعظم بن جاتا تھا تو آپ سب کو اکٹھا کر لیتے تھے اور ایک چھوٹی بے تکلف برادری تھی اس میں وہ اکٹھے ہوتے اور آپ کو مشورہ دیتے تھے جو آپ فیصلہ کرتے خدا کیلئے اپنا سب کچھ قربان کر کے آپ کے فیصلہ کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتے اور بعض دفعہ آپ نے صرف چند آدمیوں کو بُلا کے بھی مشورہ لیا ہے اور بعض دفعہ دوسروں کو صرف یہ پتہ لگا بعض قرائن سے کہ فلاں فلاں شخص مسجد میں مشورہ کے لئے روک لئے گئے۔ نہ خود آپ نے اعلان کیا کہ میں نے مشورہ کرنا ہے ایک موقع پر صرف دو آدمیوں کو کہا عشاء کے بعد کہ تم ٹھہرے رہو میں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں کیا بات تھی؟ اس کا ہمیں آج تک نہیں پتہ تو مشورہ کا یہ طریق بھی ہوتا ہے۔ تو ھُمْ کا یہ فیصلہ کرنا ہاںجب مسلمان سارے عرب میں پھیل گئے تو اس کے بعد سوادِ اعظم سے مشورہ کرنے کا سوال ہی باقی نہیں رہتا۔ ساری دنیا میں پھیل گئے۔ آج بھی خدا کے فضل سے جماعت احمدیہ دنیا کے کونے کونے میں پائی جاتی ہے اور مشورہ کے لئے جماعت احمدیہ کی تمام جماعتوں کو مرکز میں جمع کرنا قریباً ناممکن ہے اس لئے سب کو اکٹھا کر کے تو مشورہ نہیں لیاجا سکتا پھرکن سے مشورہ لیا جائے اور ان کا انتخاب کس رنگ میں ہو؟ یہ کام بھی جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ظاہر ہوتا ہے خلیفہ وقت کا ہے چنانچہ یہ جو آل عمران ہی کی آیت کا ایک حصہ جو پہلے میں نے پڑھا تھا یَقُوْلُوْنَ ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَيْئٍ اس سے بھی پتہ لگتا ہے کہ بعض لوگوں کو خاص طور پر مشورہ سے باہر رکھا جاتا تھا اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ یہ نہ کہتے ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَيْئٍ تو بعض ایسے لوگ جن کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے تھے کہ ان میں نفاق پایا جاتا ہے یا یہ دل کے مریض ہیں روحانی طور پراور معاملہ ایسا ہے کہ ان لوگوں کے سامنے رکھانہیں جانا چاہئے تو ان لوگوں کے سامنے وہ معاملہ نہیں رکھتے اور ان کا مشورہ بھی نہیں لیتے تھے گو اگراس قسم کے امور نہ ہوں تو پھر کھلم کھلا جو منافق ہو بعض دفعہ ان سے بھی مشورہ لے لیا جاتا۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہوتا کیونکہ فیصلہ تو بہرحال نبی نے یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت میں خلیفہ نے ہی کرنا ہے تو ھُمْ جو کہا گیا ہے اس کا فیصلہ خلیفہ وقت نے کرنا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی یہی ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد بھی یہی ہے بعض لوگوں کو روکا جا سکتا ہے اور ان کی نمائندگی کو ردّ کر دیا جا سکتا ہے آپ شوریٰ کی ایک تقریر میں فرماتے ہیں۔
    ’’جو لوگ لڑاکے اور فسادی ہوں، نمازوں کی پابندی کرنے والے نہ ہوں، جھوٹ بولنے والے ہوں، معاملات میں اچھے نہ ہوں، بلاوجہ ناجائز افتراء اور اعتراض کرنے والے ہوں یا منافق یا کمزور ایمان والے ہوں ان کو بطور نمائندہ انتخاب کرنا جماعت کی جڑ پر تبر رکھنا ہے۔ ہمارے لئے وہی لوگ مبارک ہیںجن کے اندر دین اور تقویٰ ہے خواہ وہ اچھی طرح بول بھی نہ سکتے ہوں‘‘۔
    تو بعض دفعہ مقامی جماعت کو علم ہی نہیں ہوتا کہ یہ شخص کس قسم کا ہے اور بڑی دیانتداری کے ساتھ عدم علم کی وجہ سے ایک ایسے شخص کو جو منافق ہوتا ہے حقیقتاً اپنا کوئی عہدیدار منتخب کر لیتے ہیں پریذیڈنٹ یا امیر بنا دیتے ہیں، یا مجلس شوریٰ کا نمائندہ بنا کر بھیجنا چاہتے ہیں لیکن چونکہ یہ مشورے ہیں خلیفہ وقت کو جس کو کہنے والوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں (کہنے والے نے اتباع نہیں کی بلکہ خلیفہ وقت کا چونکہ وہ نیابت کا مقام ہوتا ہے) جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہہ دیا تھا کہ ھُوَاُذُنٌ تو خلیفہ وقت کو بھی بعض لوگ کہتے رہتے ہیں کہ ھُوَاُذُنٌ تو اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ ہے تو یہ کان آئیں گی اس کے پاس خبریں ہر مخلص مومن جب سمجھے گا کہ کوئی ضروری بات نبی کو یا اس کی نیابت میں جو خلیفہ ہو خلیفہ وقت کو پہنچانی چاہئے وہ اس کو ضرور پہنچائے گا لیکن خلیفہ وقت ان تمام باتوں کو سننے کے بعد جس نتیجہ پر پہنچے گا جو فیصلہ کرے گا وہ تمہاری بھلائی کا ہوگا تو جو علم اس قسم کے افراد کے متعلق خلیفہ وقت کو ہوتا ہے وہ بعض دفعہ مقامی جماعت کو بھی نہیں ہوتا۔ ایک دفعہ ایک جماعت نے بہت بھاری اکثریت میں ایک شخص کو اپنا امیر منتخب کر کے یہاں بھیج دیا جب حضرت صاحب کی خدمت میں اطلاع دی تو آپ نے فرمایا کہ یہ مشورہ یہ انتخاب جماعت کا نامنظور ہے کیونکہ یہ شخص جو ہے اس کے اندر ایمانی کمزوری پائی جاتی ہے اس قابل نہیں کہ اس کو امیر بنایا جائے چند ماہ کے بعد ہی وہ شخص بہائی بن گیا اور جماعت کو پتہ ہی نہیں تھا کہ اس کے اندر کون سا کیڑا لگ چکا ہے لیکن حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پتہ تھا تو جو علم خلیفہ وقت کو حاصل ہوتا ہے یا ہو سکتا ہے وہ دوسروں کو حاصل نہیں ہو سکتا بعض دفعہ پوری جماعت کو بھی نہیں ہوتا خلیفہ وقت کہتا ہے کہ میں اس کے امیر بنائے جانے کی منظوری نہیں دیتا یا میں اسے مجلس مشاورت کا نمائندہ بننے کی اجازت نہیں دیتا کئی لوگ ہوتے ہیں ان کو ویسے بھی شوق ہوتا ہے آگے بڑھنے کا اور اپنے شوق میں وہ بہت ہی معیوب اور نامناسب حرکتیں بھی کر لیتے ہیں اگر مجلس ہے یا ویسے ہی نام آ جاتا ہے امیر بھی چیک کرنا پڑتا ہے کہ جس شخص نے یہ لکھا کہ مجھے فلاں جماعت کی مجلس مشاورت کا نمائندہ بنایا ہے اس کے متعلق یہ تسلی کرنی پڑتی ہے کہ وہاں کی جماعت کا اجلاس بھی ہوا؟ اور وہاں یہ معاملہ ان کے سامنے رکھا بھی گیا یا نہیں اور ایک آدھ آدمی ایسا نکل آتا ہے کہ جو اپنے جوش میں یہ سمجھتا ہے کہ جب میں نے ارادہ کر لیا شوریٰ میں جانے کا تو جماعت میرے ساتھ ہی ہے تو قواعد کی پرواہ نہیں کرتا اور خود ہی نمائندہ بن کے آ جاتا ہے ایسے لوگوں کے متعلق پوری تسلی کی جاتی ہے لیکن بہرحال انسان غلطی بھی کرتا ہے لیکن جب پتہ لگ جائے تو نمائندگی سے ہٹا دیا جاتا ہے نمائندگی منظور نہیں کی جاتی تو ھُمْ کا فیصلہ کرنا یہ بھی خلیفہ وقت کا کام ہے جماعت کا یا بعض لوگوں کا جو اپنے آپ کو چوہدری سمجھتے ہیں، پھنے خاں بنتے ہیں ان کا یہ کام نہیں۔
    فِی الْاَمْرِ مشورہ جن سے کرنا ہے وہ بھی خلیفہ وقت کو اختیار دیا گیا ہے اور جن معاملات میں کرنا ہے وہ بھی خلیفہ وقت نے کرنا ہے کہ الامر سے کیا مراد ہے اور وہ جو پہلے میں نے آیت پڑھی تھی اس کے اس ٹکڑہ سے یہ بھی استدلال ہوتا ہے وہاں دراصل دو استدلال ہوتے ہیں ایک یہ کہ ہم سے مشورہ نہیں لیا جاتا ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَيْئٍ کہ جن امورکے متعلق مشورہ لیتا ہے۔ نبی یا خلیفہ وقت اس کی نیابت میں اس کا فیصلہ ہم سے پوچھ کر نہیں کیا جاتا بلکہ خود کر دیا جاتا ہے کہ اَلْاَمْر کیا ہے؟ اس کے متعلق حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔
    ’’میں نے تجاویز پیش کرنے کا جو طریق رکھا تھا وہ اس خیال سے رکھا تھا کہ تجاویز میرے پاس آئیں گی اور میں ان ہم سے جو مفید سمجھوں گا لے لوں گا مگر اب یہ صورت ہوگئی ہے کہ جس کی تجویز نہ لی جائے وہ سمجھتا ہے کہ اس کا حق مارا گیا‘‘۔
    (رپورٹ مجلس شوریٰ ۱۹۳۰ء)
    تو جن اہم امور کے متعلق مشورہ دینا ہے یہ امور ایسے ہونے چاہئیں جن کا تعلق نصوص قرآنیہ یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح ارشاد ہیں ان کا ان سے تعلق نہ ہو وہ تو ایک قانون ہے جس کو دنیا کی کوئی طاقت بدل نہیں سکتی اس میں انسان کی بہتری ہے اس رنگ کی جمہوریت جو آج کل مقبول ہو رہی ہے وہ نہ یہ کہ اسلام میں نہیں بلکہ اسلام اسے ناپسند کرتا ہے اور اسلام نے مسلمان کی آزادی قرآن کریم کی شریعت کے احاطہ کو اندر رکھتی ہے اس سے باہر نہیں آج کی جمہوریت کا تو یہ حال ہے کہ انگلستان کی جمہوریت نے، عوام کے نمائندوں نے یہ قانون پاس کر دیا ہے کہ بداخلاقی جائز ہے اس قسم کی جمہوریت اسلام کیسے پسند کر سکتا ہے؟ اور اگر آج کی جمہوریت کے مطابق اسلام مسلمانوں کو آزادی دیتا تو کسی وقت میں اپنے تنزل کے زمانہ میں مسلمان بھی اس قسم کی باتیں کر لیتے۔ اگر اس قسم کی جمہوریت مسلمانوں میں ہوتی تو اکثریت نے تو کہہ دیا تھا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہ زکوٰۃ لینے میں کچھ ڈھیل کر دی جائے مگر خدا کے اس پیارے بندے نے یہ کہا تھا کہ میں تمہارا نائب نہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب اور خلیفہ ہوں اور آپ کی نیابت میں جو میرے حقوق ہیں وہ حقوق تم سے منواؤں گا اور دین کے معاملہ میں تمہارے کسی مشورہ کو سننے کے لئے تیار نہیں ہوں کل (تو نہیں مجھے کہنا چاہئے لیکن گزشتہ کل جو گزر چکی تھی) جب اسلام ۱۸ویں صدی میں اپنے تنزل کی انتہائی گہرائیوں میں پڑا ہوا تھا اس وقت جب شاید ننانوے فی صدی یا اس سے بھی زائد مسلمان تارک الصلوٰۃ تھے اگر رائے عامہ کی جاتی تو بھاری اکثریت یہ کہتی کہ زمانہ بدل گیا اب اس قسم کی نمازیں پڑھنے کی ضرورت نہیں چلو نمازیں معاف تو اس قسم کی جمہوریت جو ہے اسلام اس کا قائل نہیں اور جب تک خلفاء نبی کے بعد اس کی نیابت میں اسلام کے کاموں کے ذمہ دار ٹھہرائے جاتے ہیں وہ ان باتوں کے متعلق کسی سے بھی مشورہ نہیں کرتے ہاں جب کوئی الجھن پیدا ہو جائے تو وہ اپنے ربّ کے حضور جھکتے اور اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور وہ ہمارا پیارا ربّ ایسے اوقات میں راہنمائی کرتا ہے اور ہدایت کے رستوں کی نشان دہی کرتا ہے تو فِی الْاَمْرِ کا فیصلہ کرنا کہ وہ کون سے اہم امور ہیں کہ جن کے متعلق مشورہ لینا ہے یہ بھی خلیفہ وقت کا کام ہے اس واسطے کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم جو کہتے ہیں ان امور پر مشاورت میں بات ہونی چاہئے مشاورت کے سامنے وہی امر جائے گا جس کی اجازت خلیفہ وقت دے گا اور جس کے متعلق وہ سمجھے گا کہ مجھے جماعت کے اہل الرائے احباب سے مشورہ لینا چاہئے۔
    پھر فرمایا فَاِذَا عَزَمْتَ عزم کرنا اور فیصلے پر پہنچنا یہ بھی خلیفہ وقت کا کام ہے جماعت کا کام نہیں، مجلس شوریٰ کا کام نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تو عزم کرلے فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ پھر مسلمانوں کا خیال بھی تو رکھنا ہے ان سے نرمی اور پیار کا سلوک بھی کرنا ہے اور ان کی تربیت بھی کرنی ہے لیکن یہ نہیں دیکھنا کہ ننانوے فی صدی مشورہ دینے والوں کی اکثریت اس میرے فیصلے کے خلاف ہے کبھی کہیں کوئی خرابی پیدا نہ ہو جائے جب دیانتداری سے تم کسی فیصلہ پر پہنچو تو خدا کے سوا کسی اور پر نگاہ نہیں رکھنی فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِکیونکہ اسی میں کامیابی کا راز ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:۔
    ’’مجلس شوریٰ کوئی فیصلہ نہیں کرتی مجلس شوریٰ خلیفہ وقت کے مطالبہ پر اپنا مشورہ پیش کرتی ہے پس مجلس مشورت شَاوِرْ ھُمْ فِی الْاَمْرِ کہ تولوگوں سے مشورہ لے خلیفہ وقت لوگوں سے مشورہ مانگتا ہے اس پر لوگ مشورہ دیتے ہیں اور اس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے خلیفہ وقت فیصلہ کرتا ہے کہ کون سی بات ہونی چاہئے اور کونسی نہیں‘‘۔
    تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب تم کسی نتیجہ پر پہنچ جاؤ تو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اور پختہ یقین پر قائم ہوتے اور رہتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ ہی کارساز ہے وہی ہماری مدد کرے تو ہم کامیاب ہو سکتے ہیں اگر وہ ہمارا ساتھ چھوڑ دے تو ہم ناکامی کا منہ دیکھیں گے خدا پر توکل رکھتے ہوئے اپنے فیصلہ کو جاری کر دو اور فَاِذَاعَزَمْتَ کے اوقات میں جب خلیفہ وقت اپنے فیصلے کا اعلان کرے مسلمانوں کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا۔ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ قف فَلَوْصَدَ قُوْا اللّٰہَ لَکَانَ خَیْرًا لَّھُمْ (سورۃ محمد:۲۲)کہ جب کسی کام کے کرنے کے متعلق خلیفہ (یہاں عزم جو کہا گیا ہے وہ دوسری جگہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سوائے خلیفہ کے کسی نے عزم نہیں کرنا نبی کے بعدجب خلیفہ)کسی فیصلہ کو پہنچ جائے اور اپنے دل میں پختہ ارادہ کر لے کہ اگر یوں کیا جائے تو جماعت کو روحانی اور جسمانی فائدہ ہے اس لئے یوں کیا جائے گا تو مسلمانوں کا کیا فرض ہے؟ مسلمانوں کا یہ فرض ہے کہ جو انہوں نے اپنے خدا کے ہاتھ پر ہاتھ دے کر خدا اور خلیفہ وقت کے لئے عہد اطاعت باندھا تھا اس کو وہ پورا کریں اور کامل اطاعت کا نمونہ دکھاتے ہوئے خلیفہ وقت کے فیصلوں کی تعمیل میں لگ جائیں۔ لَکَانَ خَیرًا لَّھُمْ دنیا کی بہتر سے بہتر جزاء اور اُخروی زندگی میں اعلیٰ سے اعلیٰ ثواب انہیں ملے گا۔ لَکَانَ خَیرًا لَّھُمْ۔
    جس وقت شورٰی میں مشورہ کیلئے بلایا جائے تو ایک تو ہر ایک احمدی کا فرض ہے جس کی نمائندگی کی منظوری مل گئی ہو کہ وہ شوریٰ میں آئے۔دوسرے اس پر فرض ہے کہ وہ شوریٰ میں باقاعدگی کے ساتھ بیٹھا رہے۔تیسرا اس کا یہ فرض ہے کہ پوری توجہ کے ساتھ وہ کارروائی کو سنے اور پھر اس کا یہ فرض ہے کہ وہ پوری دیانتداری کے ساتھ جذبات کی رو میں نہ بہتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کرے خواہ الفاظ کے ذریعہ اگر اسے بولنے کا موقعہ ملے اور موقع دیا جائے یا ہاتھ کھڑا کر کے ووٹنگ کے ذریعہ اگر ووٹنگ ہو اور اس کا سب سے اہم فرض یہ ہے کہ وہ سارا وقت دعاؤں میں مشغول رہے اور اپنے ربّ کے حضور عاجزانہ جھک کر اس سے یہ گزارش کرے کہ اے میرے ربّ! تو جانتا ہے کہ ہم کتنے کمزور ہیں اور تیرے دین کی خاطر تیرے خلیفہ نے بعض مشوروں کے حصول کے لئے ہمیں یہاں بلایا ہے ہمیں یہ توفیق عطا کر کہ ہم کوئی ایسا مشورہ نہ دیں کہ جو تیرے دین کو نقصان پہنچانے والا اور ہمیں تیرے عتاب کا مورد بنانے والا ہو۔
    ہر وقت دعا کرتے ہوئے اللہ سے اللہ کا نور حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک نورانی فضا پیدا کر کے خلیفہ وقت کے سامنے اپنے مشوروں کو رکھیں اور جب کوئی فیصلہ سنا دیا جائے کسی مشورہ کے بعد تو اس پختہ ارادہ کے ساتھ وہاں سے اُٹھیں کہ ہم اپنی پوری طاقت اور پوری توجہ سے اس فیصلہ کی تعمیل ان لوگوں سے کروائیں گے جن کا تعلق اس سے ہو۔
    اس طرح جب خلیفہ وقت جماعت کو یا بعض افردا جماعت کو اس لئے بلائے، صدر انجمن احمدیہ کے قواعد کے مطابق کہ اکٹھے ہو اور مشورہ دو کہ تمہاری نمائندگی کون کرے تو کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اس مجلس سے اس لئے اُٹھ کر چلا جائے کہ وہاں کوئی ایسی بات ہوئی ہو جو اس کی طبیعت پر گراں گزری ہو یہ اطاعت سے نکلنا ہے ہمیشہ اس سے بچنا چاہئے اور اگر اس قسم کا قصور ہو جائے تو بڑی استغفار کرنی چاہئے یہ کوئی دنیوی کھیل یا تماشہ یا دنیوی سیاست نہیں ہے ہم سب ساری دنیا کو ناراض کر کے اپنے ربّ کے قدموں پر جھک گئے ہیں اس لئے کہ وہ ہمارا مولیٰ ہم سے خوش ہو جائے اور اس کی رضا کو ہم پا لیں اگر اس کے بعد بھی ہم اس کی طرف پیٹھ پھیر لیں دنیا کی طرف اپنامنہ کر لیں تو ہم سے زیادہ کوئی بدبخت نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیں اپنی رضا کی جنت ہی میں رکھے اور شیطان کا کوئی وار ہم پر کارگر ثابت نہ ہو۔
    ٭…٭…٭

    اللہ تعالیٰ کے راستہ کی طرف دعوت دینے کا قرآنی طریق اور اُس کے مختلف پہلو
    (خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۲؍اپریل ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ ربوہ)
    ء ء ء
    ٭ ایک مومن کا فرض ہے کہ وہ قول احسن کی پابندی کرنے والا ہو۔
    ٭ اگر تم اپنی زبان سنبھال کر نہیں رکھو گے تو خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی بجائے شیطان کے مقرب ٹھہرو گے۔
    ٭ زبان سے ایک بڑا کام الٰہی سلسلوں میں بنی نوع انسان کو دعوت الی اللہ کا لیا جاتا ہے۔
    ٭ خاموشی بھی ایک بلیغ زبان ہے جو بسااوقات بڑی ہی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
    ٭ وہ قول جو فساد اور باہمی جھگڑوں کی طرف لے جاتا ہے وہ قولِ احسن نہیں ہے۔



    تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ تلاوت فرمائیں۔
    قُلْ لِّعِبَادِيْ یَقُوْلُوْا الَّتِيْ ھِیَ اَحْسَنُ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَھُمْ۔ اِنَّ الشَّیْطٰنَ کَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا (بنی اسرائیل: ۵۴) اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْھُمْ بِالَّتِيْ ھِیَ اَحْسَنُ (النحل: ۱۲۶)
    وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّقَالَ اِنَّنِيْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَo وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَاالسَّیِّئَۃُ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ فَِاذَاالَّذِيْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِيٌّ حَمِیْمٌ۔ وَمَا یُلَقّٰھَا اِلاَّالَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَمَایُلَقّٰھَا اِلاَّ ذُوْحَظٍّ عَظِیْمٍ۔(حم سجدہ: ۳۴ تا ۳۶)
    اِدْفَعْ بِالَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ السَّیِّئَۃَ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ۔ وَقُلْ رَّبِّ اَعُوْذُبِکَ مِنْ ھَمَزٰتِ الشَّیٰـطِیْنِ وَاَعُوْذُ بِکَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ۔ (المومنون: ۹۷تا۹۹)
    اس کے بعد فرمایا:۔
    اللہ تعالیٰ نے انسان کی زبان کو بھی آزاد نہیں چھوڑا اس پر بہت سی پابندیاں عائد کی ہیں اور ایک مومن کا فرض قرار دیا ہے کہ وہ صرف سچ ہی بولنے والا نہ ہو، صرف قولِ سدید کا ہی پابند نہ ہو بلکہ احسن قول کی پابندی کرنے والا ہو اور حکمت یہ بیان کی کہ اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو شیطان تمہارے درمیان فساد ڈال دے گا۔ یَنْزَغُ بَیْنَھُمْ انسان کی زبان کا اعمال صالحہ میں سے ہر عمل کے ساتھ تعلق پیدا ہو سکتا ہے اور ہرعمل کو انسان کی زبان ضائع بھی کر سکتی ہے اس لئے انسان کی زبان کو، اس کے قول کو، اس کے اظہار کو اسلام نے بڑی ہی اہمیت دی ہے اور اسے اس طرف متوجہ کیا ہے کہ اگر تم اپنی زبان سنبھال کر نہیں رکھو گے تو اللہ تعالیٰ کے غضب کے مورد بن جاؤ گے اور خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی بجائے شیطان کے مقرب ٹھہرو گے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسی اصولی تعلیم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ فرمایا ہے۔
    بدبخت تر تمام جہاں سے وہی ہوا
    جو ایک بات کہہ کے ہی دوزخ میں جا گرا
    پس تم بچاؤ اپنی زباں کو فساد سے
    ڈرتے رہو عقوبت ربّ العباد سے
    دو عضو اپنے جو کوئی ڈر کر بچائے گا
    سیدھا خدا کے فضل سے جنت میں جائے گا
    وہ اِک زباں ہے عضوِ نہانی ہے دوسرا
    یہ ہے حدیث سیّدنا سید الوریٰ
    (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد۲۱ صفحہ۱۹)
    غرض جہاں تک عام بول چال کا تعلق ہے، اظہار کا تعلق ہے، جب دو انسانوں کے درمیان واسطہ پیدا ہوتا ہے ایک دوسرے کے سامنے آتے ہیں، ایک دوسرے کے افسر یا ماتحت ہوتے ہیں، ایک دوسرے کی نگرانی میں ہوتے ہیں، ایک دوسرے کے راعی اور رعیت بنتے ہیں، سب کے لئے خواہ وہ دنیوی لحاظ سے بالا مقام نہ رکھتے ہوں ماتحتی کا مقام رکھتے ہوں، خواہ وہ سکھانے والے ہوں یا سیکھنے والے ہوں، اثر انداز ہونے والے ہوں یا اثر کو قبول کرنے والے ہوں۔ ہر ایک کیلئے یہ حکم دیا ہے کہ یَقُولُوا الَّتِیْ ھَیَ اَحْسَنُ جو سب سے اچھی بات ہے، جو سب سے اچھے طریقہ پر بات ہو اس کی پابندی کرو ورنہ تم شیطان کے لئے رخنوں کو کھولتے ہو۔
    زبان سے ایک بڑا کام الٰہی سلسلوں میں یہ لیا جاتا ہے (اور ’’زبان‘‘ کے اندر ’’قول‘‘ کے اندر ہر قسم کا اظہار ہے) کہ تمام بنی نوع انسان کو اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف دعوت دی جاتی ہے اس لئے آج جن کو مَیں مخاطب کرنا چاہتا ہوں وہ صرف پاکستان سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ میرے مخاطب تمام وہ لوگ ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف اپنے کو منسوب کرتے ہیں اور دنیا کے مختلف ممالک میں رہائش پذیر ہیں اور میں انہیں اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے ایک صداقت کو صداقت سمجھ کر قبول کیا ہے آپ اس یقین پر قائم ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام والسلام کے ذریعہ آپ کے لئے قرآنی ہدایت کی ان راہوں کی نشان دہی کی ہے جو قرب الٰہی تک پہنچانے والی ہیں اور آپ کے دل میں یہ درد پیدا ہوتا ہے کہ جس صداقت کو، جس روشنی کو، جس نور کو، جس جنت کو، جس نعمت کو آپ نے پایا ہے آپ کے دوسرے بھائی بھی اسے پائیں اور اسے سمجھیں اور اس سے فائدہ اُٹھائیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے وہ بھی وارث ہوں۔ اس کے لئے آپ کو اظہار کرنا پڑتا ہے زبان سے بھی، اشاروں سے بھی بعض دفعہ خاموشی سے بھی اور تحریر سے بھی اور عمل سے بھی۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے دل میں ایک زبردست خواہش پیدا ہوگی کہ وہ جنہوں نے اسلام کی صداقت کو قبول نہیں کیا اور اس کی حقانیت کو نہیں سمجھا اور اس کی روح کو حاصل نہیں کیا اور اللہ تعالیٰ کی معرفت سے وہ محروم ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابدی فیوض سے وہ ناواقف ہیں یہ لوگ بھی ان تمام باتوں کو سمجھیں اور پہچانیں اور اِس زندگی اور اُس زندگی کی بہبود کا اور کامیابی اور فلاح کا سامان پیدا کریں ہم انہیں یہ کہتے ہیں کہ تم اپنے ربّ کے راستہ کی طرف ان لوگوں کو ضرور بلاؤ لیکن یاد رکھو کہ یہ دعوت (اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ) حکمت اور موعظہ حسنہ کے ساتھ ہونی چاہئے۔
    حِکمت کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ علم اور عقل کے ذریعہ حق کو درست پایا اور احقائق حق کے لئے علمی اور عقلی دلائل دینا (جن سے قرآن عظیم بھرا ہوا ہے) پس اللہ تعالیٰ یہاں یہ فرماتا ہے کہ علمی اور عقلی دلائل ان لوگوں کے سامنے رکھو جو اپنے ربّ کو پہچانتے ہیں دوسرے معنی حِکمت کے قرآن کریم اور اس کے مضامین اور اس کی تفسیر کے ہیں جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ قرآن کریم میں بہت سے روحانی علمی اور عقلی دلائل رکھے گئے ہیں اور وہی مضبوط تر اور بہتر دلائل ہیں یعنی تم قرآن کریم کے ذریعہ اپنے ربّ کے راستہ کی طرف مخلوق خدا کو بلاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے (اور یہ تیسرے معنی ہیں) کہ الصَّمْتُ حُکْمٌ وَقَلِیْلٌ فَاعِلُہٗ (مفردات راغب میں ہے کہ یہاں حکم سے مراد حکمت ہے) اور آپ نے یہ فرمایا کہ خاموشی بھی بعض دفعہ حکمت میں شامل ہوتی ہے لیکن کم ہیں جو اسے سمجھتے اور اس پرعمل کرتے ہیں جس وقت مخالفِ اسلام اپنی مخالفت میں بڑھ جاتا ہے اور امن کی فضا کو مکدر کر کے فتنہ و فساد کو پھیلانا چاہتا ہے اُس وقت اُدْعُ اِلٰي سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِکے یہ معنی ہوں گے کہ اس کے جواب میں خاموشی اختیار کر کے اللہ تعالیٰ کی راہ کی طرف تم بلاؤ کیونکہ خاموشی بھی ایک بلیغ زبان ہے جو بسا اوقات بڑی ہی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
    عدو جب بڑھ گیا شور و فغاں میں
    نہاں ہم ہو گئے یارِ نہاں میں
    حکمت کے ایک معنی مَعْرِفَۃُ الْمَوْجُوْدَاتِ وَ فِعْلُ الْخَیْرَاتِ کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے جو مخلوق پیدا کی ہے اس کا صحیح علم حاصل کرنا اور نیکیاں بجا لانا یعنی نیک کام اور حسن سلوک کرنا۔ پس اللہ تعالیٰ یہاں یہ فرماتا ہے کہ ہر ایک مخاطب سے اس کی طبیعت، ذہنیت اور اس کے علم اور اس کی فراست کے مطابق بات کرو ورنہ وہ سمجھ نہیں سکے گا۔ ایک عام آدمی کے سامنے اگر آپ فلسفہ کی باریک باتیں پیش کریں تو وہ آپ کا منہ دیکھتا رہ جائے گا لیکن اس پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ دعوت الٰی الحق کا یہ مطلب تو نہیں کہ آپ نے اپنی ہمہ دانی کا یا فلسفی ہونے کا اظہار کرنا ہے۔ دعوت الٰی الحق کے یہ معنی ہیں کہ وہ جو راہ سے بھٹکا ہوا ہے سیدھی راہ کی طرف آجائے اور وہ اس راستہ کو تبھی پہچان سکتا ہے جب جو بات آپ کریں وہ اس کو سمجھنے کے قابل بھی ہو اور یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ صرف بات کا اس کے اوپر اثر نہیں ہوگا بلکہ جو سلوک اور جو برتاؤ تمہارا اس کے ساتھ ہوگا وہ اس پر بہت اثر انداز ہوگا اس لئے بِالْحِکْمَۃِ نیک سلوک کے ساتھ تم اُسے اپنی طرف کھینچو اور اس کے ذہن اور فراست اور علم کے مطابق قرآنی دلائل اس کے سامنے رکھو تا کہ وہ نور جو اللہ تعالیٰ نے قرآن عظیم میں رکھا ہے اس کے دل پر اثر کرنے اور اُسے روشن کرنے والا ہو جائے۔
    وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ دنیا میں جب بھی الٰہی سلسلے جاری کئے جاتے ہیں اس وقت ساتھ ہی ساتھ انذار کا بھی ایک پہلو ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو تمام انبیاء کے سردار اور تمام انبیاء کے حقیقتاً (معنوی لحاظ سے) باپ بھی ہیں کیونکہ ہر ایک نے آپ سے فیض حاصل کیا آپ کی کتاب سے فیض حاصل کیا جس کا ایک حصہ ان کو دیا گیا تھا آپ نے دنیا کی محبت میں اور اس فکر میں کہ دنیا اپنے ربّ کو پہچانتی نہیں اپنی زندگی کے تمام لمحات گزارے لیکن اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق اور عین اس کی وحی کے مطابق آپ نے دنیا کو بہت ڈرایا بھی اس سے نہیں کہ اگر تم میری خدمت نہیں کرو گے تو تباہ ہو جاؤ گے بلکہ اس سے کہ اگر تم اپنے ربّ کو نہیں پہچانو گے تو اس کے غضب کا مورد ہو گے اور تباہ ہو جاؤ گے۔
    غرض انبیاء علیہم السلام جہاں دنیا کی بھلائی کے لئے ان کی خیر خواہی کیلئے ہر قسم کے اچھے کام کرتے ہیں وہاں ان پر یہ فرض بھی عائد ہوتا ہے کہ وہ دنیا کو جھنجھوڑیں اور جگائیں اور کہیں کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک نہیں کہو گے تو وہ ناراض ہو جائے گا اور تمہیں اِس دنیا میں بھی اور اُس دنیا میں بھی گھاٹے کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انذار (موعظہ کے اندر ہی انذار کا پہلو بھی آتاہے کیونکہ موعظہ اس نصیحت کو کہتے ہیں جس میں انذار ملا ہوا ہو) تو پہنچانا ہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہی منشاء ہے لیکن اچھے رنگ میں پہنچاؤ جس سے وہ اپنے ربّ کی طرف متوجہ ہوں اس سے نفرت اور فرار کے پہلو کو اختیار نہ کریں وَجَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِيَ اَحْسَنُ اور وہ ایک غلط رائے پر قائم ہیں اور غلط عقائد پر وہ کھڑے ہیں اس لئے تم جَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ کی ہدایت پر عمل کرو۔ جدال کے معنی رائے کو موڑ دینے کے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا کہ جو اختلافات وہ تم سے رکھتے ہیں ان اختلافات کو دور کرنے کے لئے فساد کی راہیں نہیں بلکہ امن اور صلح کی راہوں کو اختیار کرو اور اس طرح پر ان کے خیالات کے دھارے کو موڑنے کی کوشش کرو۔
    جَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ سننے یا پڑھنے کے دماغ میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ یہ اَحْسَنُ کیا ہے کیا اس اَحْسَنُ کی تلاش ہم نے خود کرنی ہے یا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کی طرف راہ نمائی فرمائی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا اِلٰی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّقَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ کہ قول کے لحاظ سے احسن وہ ہے جو اللہ کی طرف دعوت دے۔ پس ہر وقت جو صحیح طریق پر دی گئی ہو اور جس کا مقصود یہ ہو کہ خدائے واحد و یگانہ کو دنیا پہنچاننے لگے وہ احسن قول ہے وہ قول جو شرک کی طرف لے جاتا ہے وہ قول جو بدعت کی طرف لے جاتا ہے وہ قول جو دہریت کی طرف لے جاتا ہے وہ قول جو فساد کی طرف لے جاتا ہے وہ قول جو باہمی جھگڑوں کی طرف لے جاتا ہے وہ قول احسن نہیں احسن قول وہی ہے جو اللہ کی طرف لے جانے والا ہے اور چونکہ صرف زبان کا دنیا پر اثر نہیں ہوتا جب تک عملی نمونہ ساتھ نہ ہو اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَعَمِلَ صَالِحًا۔ پس تم پر فرض ہے کہ تم اپنے عملی نمونہ سے دنیا پر یہ ثابت کرو کہ تم واقعہ میں خدا کے مقرب اور اس کی طرف بلانے والے ہو تمہیں اپنا فائدہ مطلوب نہیں ہے۔ ہم تمہاری فلاح اور تمہاری نجات اس میں دیکھتے ہیں کہ تم اپنے ربّ کو پہچاننے لگو اور اسی کی طرف ہم دعوت دیتے ہیں اور اس بات کا ثبوت کہ ہم واقعہ میں اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں، اپنے فائدہ کی تلاش میں نہیں ہیں یہ ہے کہ ہم جو کہتے ہیں اس کے مطابق عمل بھی کرتے ہیں یہ نہیں کہ ہم تمہیں کہیں کہ تم خدا تعالیٰ کیلئے مالی قربانیاں دو لیکن ہم خود مالی قربانیوں میں پیچھے ہوں ہم تمہیں کہیں کہ خدا کے لئے اپنے نفسوں کی قربانی دو اور خود ہمارا یہ حال ہو کہ ذرا سی بات پر ہمارے جذبات بھڑک اُٹھیں، نہیں بلکہ احسن قول اس کا ہے جو اپنی زبان سے بھی اللہ کی طرف بلانے والا ہے اور اپنے افعال سے بھی اللہ کی طرف سے بلانے والا ہے وَقَالَ اِنَّنِيْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ اور اس کی روح کی بھی یہی آواز ہے کہ میں مسلم ہوں اور چاہتا ہوں کہ تم بھی مسلمان بن جاؤ میں تم سے کسی دنیوی فائدہ کا طالب نہیں مَیں نے تو اپنا سب کچھ ہی اپنے ربّ کے قدموں پر قربان کر دیا ہے میری تو اپنی کوئی خواہش باقی نہیں رہی، میرا تو اپنا کوئی جذبہ باقی نہیں رہا، میرا تو اپنا کوئی مال باقی نہیں رہا جو تمہاری نظر میں میری اولاد یا رشتہ دار ہیں ہر آن میری روح کی یہ آواز ہے کہ جہاں مَیں اپنے نفس کو اپنے خدا کی راہ میں قربان کروں یہ بھی اس کی راہ میں قربان ہو جائیں۔ اگر یہ تین آوازیںتم دنیا میں بلند کرو گے زبان، عمل صالح اور روح کی پکار یعنی تمہاری دعوت بھی اللہ کی طرف ہے تمہارا عمل بھی محض اس کے لئے ہے اور تمہاری روح بھی اس کے آستانہ پر پڑی ہوئی ہے تو پھر تم لوگوں کو رب کی طرف اپنے پیدا کرنے والے کی طرف واپس لوٹا لانے میں کامیاب ہوگئے ورنہ نہیں وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُ اور حقیقت یہی ہے کہ جو نعمت اور خوشحالی حقیقی معنی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہاں بھی اور وہاں بھی ملتی ہے وہ اور السَّیِّئَہ برابر نہیں ہوتیں جو خدا کی رحمتیں ہیں جو خدا کی نعمتیں ہیں ان کے مقابلہ پر شیطان کیا پیش کر سکتا ہے کچھ بھی نہیں اس لئے اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ہم پھرکہتے ہیں کہ یہ اَحْسَنُ جس کا اس آیت میں اور دوسری آیت میں ذکر ہے اس کے ذریعہ تم بُرائی کا جواب دو۔
    یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم شر سے کُلّی طور پر پاک بھی ہو جاؤ تب بھی شیطان ایسا انتظام کرے گا کہ وہ اپنے ماننے والوں میں سے بعض کو فساد پر اُکسائے گا اور امن کی فضا کو مکدر کرے گا۔ پس ہر وہ مسلمان احمدی جو دنیا کے ملک ملک میں اس وقت پھیلا ہوا ہے اس کو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ اگر فساد اور فتنہ کے حالات طاغوتی طاقتیں پیدا کرنا چاہیں تو ہمارا تمہیں یہ حکم ہے کہ تم ان کے پھندے میں نہ آنا بلکہ اپنے نفسوں پر قابو رکھنا اور جو اَحْسَن ہے اس کے ذریعہ اپنا دفاع کرنا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی نہایت ہی بدزبان شخص مخالف اسلام قادیان میں آئے اور ایک سال ہمیں نہایت گندی اور فحش گالیاں دیتا رہے تب بھی دنیا یہ دیکھے گی کہ ہمیں اپنے نفس پر قابو ہے اور ہم گالی کے مقابلہ پر گالی نہیں دیتے اور السَّیِّئَہ کے مقابلہ پر السَّیِّئَہ کو پیش نہیں کرتے بلکہ السَّیِّئَہ کے مقابلہ میں ہم حسنہ کو پیش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے بغیر تم اپنے مخالفوںکے دل جیت نہیں سکتے لیکن اگر تم ہماری تعلیم کے مطابق احسن چیز کو دنیا کے سامنے رکھو گے تو وہ جو آج تمہارے مخالف اور بدگو ہیں تمہارے دوست اور بڑے جوش کے ساتھ تمہاری دوستی کا اظہار کرنے والے بن جائیں گے مگر اس کے لئے ہمیں انتہائی صبر کی ضرورت ہے انتہائی طور پر اپنے نفس کو عقل اور شرع کی پابندیوں میں جکڑنے کی ضرورت ہے یہی صبر کے معنی ہیں کہ جو پابندیاں شرع لگاتی ہے وہ آدمی بشاشت سے اور خوشی سے خدا کی رضا کے لئے قبول کرے اور ایسا وہی کرتے ہیں جو ذُوْحَظٍّ عَظِیْمٍ ہوتے ہیں یعنی جن پر اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے نہ کہ ان کے کسی عمل کی وجہ سے بہت رحمتیں نازل کرتا ہے اور جس کے متعلق صحیح معنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ روحانی طور پر ایسے ہی ہیں جیسا کہ دنیوی لحاظ سے بہت سے لوگ ہوتے ہیں جن کے متعلق دنیا کی نگاہ یہ سمجھتی ہے کہ وہ حظ عظیم رکھنے والے ہیں۔
    اللہ تعالیٰ نے پھر یہ فرمایا اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَۃَکہ جو احسن ہے اس سے السَّیِّئَہ کو دور کرو اور اس السَّیِّئَہ کے اثر سے خود کو بچاؤ اور یہ یاد رکھو کہ تمہیں تو طاقت حاصل نہیں کہ تم روحانی میدانوں کے فتح مند سپاہی بن سکو۔ یہ ہمارے فضل سے ہوتا ہے اور نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ جو اسلام اور صداقت اور ہدایت کے مقابلہ میں مخالفت کر رہا ہے یا کہہ رہا ہے اس کو ہم بہتر جانتے ہیں اور ہم ہی اس کا علاج کر سکتے ہیں ہمارے فضلوں کے بغیر تم اس فتح کو نہیں پا سکتے جو فتح تمہارے لئے مقدر ہے۔ پس اپنے نفسوں کے جوشوں کو دبائے رکھو اور نفسوں کی بجائے مجھ پر بھروسہ کرو کہ میں سب طاقتوں والا ہوں اور دعائیں کرتے رہو۔
    رَبِّ اَعُوْذُبِکَ مِنْ ھَمَزَاتِ الشَّیَاطِیْنِ وَاَعُوْذُبِکَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ
    (المومنون: ۹۸،۹۹)
    کہ جو طاقتیں اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف ہوں اللہ تعالیٰ ان کو پسپا کرے اور انہیں شکست دے اور اسلام کانام بلند ہو اور ہر بندہ اپنے ربّ کو پہچاننے اور حقیقی عبد بن کر اس کے حضور جھک جائے۔ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو اور خدا کرے کہ ہمیں دعاؤں کی توفیق ملے اور خدا کرے کہ ہمارا خدا ہماری دعاؤں کو قبول کر ے اور اپنے وعدوں کو ہمارے حق میں پورا کرے۔ آمین
    (الفضل ۲۶؍ اپریل ۱۹۶۸ء صفحہ۱ تا۴)
    ہمارے اعضاء میں جن پر خدا نے کچھ پابندیاں عائد کی ہیں زبان بنیادی اہمیت کی حامل ہے
    (خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۹ ؍اپریل ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ ربوہ)
    ء ء ء
    ٭ جو شخص قول احسن کا پابند نہیں اللہ تعالیٰ اس کے متعلق اپنی بیزاری کا اعلان کرتا ہے۔
    ٭ اشاعت اسلام اور تبلیغ کے سلسلہ میں قرآن کریم کی بیان فرمودہ دس ہدایات۔
    ٭ حکمت کی باتیں دلوں کو فتح کرتی ہیں لیکن تمسخر اور سفاہت کی باتیں فساد پیدا کرتی ہیں۔
    ٭ ہماری جماعت کو چاہئے کہ اپنے مخالفوں کے مقابلہ پر نرمی سے کام لیا کریں۔
    ٭ اپنی طبیعت ایسی بنانی چاہئے کہ ’’احسن‘‘ کے سوا منہ سے کوئی بات نہ نکلے۔


    تشہد، تعوذ اور سورئہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    گذشتہ جمعہ میں نے سورۃ بنی اسرائیل اور سورۃ نحل اور سورۃ حم السَّجْدَہ اور سورۃ مومنونکی بعض آیات آپ دوستوں کے سامنے پڑھ کے آپ کی توجہ اس تعلیم اور ہدایت کی طرف مبذول کی تھی جو ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی ہے میں نے بتایا تھا کہ بنیادی اور خصوصی ہدایت انسان کی زبان، اظہار اور بیان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ دی ہے کہ قول احسن کے اصول پر کاربند رہو اور فرمایا ہے کہ اگر تم میری اس ہدایت کو قبول نہیں کرو گے اور اس کے مطابق عمل نہیں کرو گے تو پھر میرے عباد، میرے بندں میں شامل ہونے کا خیال ترک کرنا پڑے گا، اس صورت میں تم میرے عباد میں شامل نہیں ہو سکو گے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسی لئے یہ فرمایا ہے ع
    بے احتیاط ان کی زباں وار کرتی ہے
    اک دم میں اس علیم کو بیزار کرتی ہے
    تو جو شخص قول احسن کا پابند نہیں اللہ تعالیٰ اس کے متعلق اپنی بیزاری کا اعلان کرتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی زبان کو بے لگام نہیں چھوڑا بہت سی پابندیاں اور حد بندیاں اس نے زبان پر قائم کی ہیں اور اظہار رائے زبان سے ہو، یا تحریر سے، اشارہ سے ہو یا بلیغ خاموشی سے، یہ تمام اظہار با اخلاق آزادی کی قیود میں بندھے ہوئے ہیں تو بنیادی ہدایت زبان کے متعلق یہ ہے کہ جو بات کہو احسن کہو اگر اللہ کے بندوں میں شامل ہونا چاہتے ہو اگر شیطان کے بندے بننا چاہتے ہو تو یہ تمہاری مرضی ہے قول احسن کے اصول پر کار بند ہوئے بغیر کوئی شخص خدا کے عباد میں شامل نہیں ہو سکتا۔
    اظہار کا یا بیان کا بڑا تعلق الٰہی سلسلہ میں تبلیغ اور اشاعت حق، اشاعت اسلام سے ہے اور اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت احمدیہ قریباً تمام دنیا میں پھیل چکی ہے۔ سو جہاں بھی ہمارے احمدی بستے ہیں انہیں چاہئے کہ اشاعت اسلام اور تبلیغ کے سلسلہ میں قرآن کریم نے جو ہدایات دی ہیں جن میں سے بعض بنیادی باتوں کا تعلق ان آیات سے ہے جن پر میں نے گذشتہ خطبہ دیا تھا، ان کو اپنے سامنے رکھیں اور کبھی بھی نفس کے جوش سے اپنے ربّ کو ناراض نہ کریں ان آیات میں جو گذشتہ جمعہ میں نے پڑھیں اور جن کے متعلق میں نے خطبہ دیا تھا اللہ تعالیٰ نے مندرجہ ذیل باتیں بیان کی ہیں۔
    (۱) یہ کہ دعوت الی الحق (اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے) کا کام سپرد کرتے ہوئے قرآن کریم نے جو ہدایت انسانوں کے لئے دی ہے وہ یہ ہے کہ اشاعت حق کا کام ان علمی اور عقلی دلائل کے ساتھ کیا جائے جو قرآن کریم میں بکثرت پائے جاتے ہیں یا وہ علمی دلائل جو قرآن کریم کے علمی اور عقلی دلائل کی تائید میں دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے بعض دلائل کو تو اپنی حکمت کاملہ سے صدیوں محفوظ رکھا اور آج انہیں اس لئے ظاہر کر رہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت اور آپ کے بیان کی سچائی پر وہ دلیل ٹھہریں۔
    (۲) دوسری ہدایت یہ دی کہ قرآن کریم میں صرف علمی اورعقلی دلائل ہی نہیں بلکہ بہت سے روحانی اسرار اور روحانی انوار بھی پائے جاتے ہیں۔ تو دوسروں کے سامنے قرآن کریم کے روحانی اسرار و انوار پیش کرنے چاہئیں اور میں نے بتایا تھا کہ اس وقت بہترین تفسیر جو اس زمانہ کے حالات کے مطابق ہمارے پاس ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سکھائی ہوئی تفسیر ہے۔
    (۳) پھر ہمیں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ ہر محل پر بولنا جو ہے وہ خوبی نہیں بلکہ بعض دفعہ گندہ دہنی کے مقابلہ میں انسان ایک بلیغ خاموشی کو اختیار کرتا ہے جیسا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا الصَّمْتُ حُکْمٌ حکم کے معنی یہاں مفردات راغب میں ’’حکمت‘‘ کے لکھے ہیں۔
    (۴) پھر ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ مخاطب کی طبیعت اور اس کے علم اور اس کی ذہنیت کے مطابق اس سے بات کرنی چاہئے اور جو ایسا نہیں کرتا وہ حکمت سے بعید بات کرتا ہے۔ بعض دفعہ نوجوان اپنی جوانی کے جوش میں اس چیز کو بھول جاتے ہیں کہ بات تو اس سے کرنی چاہئے جس کی طبیعت کا ہمیں علم ہو اور واقفیت ہو اس کی ذہنیت سے ہم واقف ہوں اور وہ بات اس کے سامنے ہم کریں جو وہ سمجھ سکتا ہو میں نے سنا ہے کہ بعض دفعہ بعض نوجوان مساجد میں رات کے وقت اپنے رسالے یا اپنے اشتہار چھوڑ آتے ہیں یا دوکانوں کی دہلیز میں سے اندر اپنا لٹریچر رکھ دیتے ہیں تو یہ حکمت کا طریق نہیں، یہ وہ طریق نہیں جسے اللہ تعالیٰ نے پسند کیا ہے نہ یہ وہ طریق ہے جو اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ہمارا مقصد یہ نہیں کہ پچاس ہزار اشتہار طبع کروا کے اسے تقسیم کر دیں مقصد تو یہ ہے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ایک نور کو پایا ہم نے ایک برکت کو حاصل کیا ہم پر رحمت کے دروازے کھلے ہم یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم نے اس نور، اس برکت اور اس رحمت کو حاصل کیا ہے ہمارے دوسرے بھائی بھی اس نور، برکت اور رحمت کو حاصل کریں لیکن ایسا طریق اختیار کرنا کہ ان حسین جنتوں کے دروازے وا ہونے کی بجائے اور بھی ان پر مسدود ہو جائیں تو یہ حکمت کا طریق نہیں ہے ان چیزوں سے ہمیشہ بچتے رہنا چاہئے اور بڑے استغفار کے ساتھ اور بڑے تضرع کے ساتھ اور بڑی محبت اور پیار کے ساتھ ان باتوں کو ان بھائیوں کے سامنے پیش کرنا چاہئے جو ابھی ان باتوں کو تسلیم نہیں کرتے اور ان پر ایمان نہیں لاتے تا وہ یہ یقین کرنے لگیں کہ یہ شخص انتہائی محبت سے، انتہائی خلوص سے، ہمارے سامنے یہ باتیں رکھ رہا ہے اور کوئی لڑائی اور جھگڑا اور فساد کا دروازہ نہ کھلے۔
    (۵) پھر اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ صرف زبان کا قول کافی نہیں بلکہ عمل کا جو اظہار ہے اس کے ذریعہ دوسروں کے دلوں تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے حسن سلوک ایک بہترین راہ ہے جس سے کہ اگلا آدمی کم از کم اس بات کا قائل ہو جاتا ہے کہ یہ شخص میرا دشمن نہیں جو کچھ کر رہا ہے، میری ہمدردی، بھلائی اور خیر خواہی کی وجہ سے کر رہا ہے وہ آپ کو غلط راہ پر سمجھ سکتا ہے، وہ آپ کے عقیدہ کو غلط عقیدہ سمجھ سکتا ہے، وہ آپ کے عمل کو جو اس (کے) عقیدہ کے مطابق ہے ہو سکتا ہے کہ عمل صالح نہ سمجھے لیکن ان کو یہ وہم کبھی نہیں گذرنا چاہئے کہ یہ شخص جو کچھ کر رہا ہے وہ محبت کے منبع سے نہیں پھوٹا بلکہ دشمنی اور فساد کے منبع سے پھوٹا ہے۔
    (۶) پھر اللہ تعالیٰ نے اس طرف ہمیں متوجہ کیا ہے کہ ’’موعظہ حسنہ‘‘ کی تعلیم پر عمل کرو جو الٰہی سلسلے جاری کئے جاتے اور قائم کئے جاتے ہیں ان کے ساتھ بعض پہلو انذاری بھی ہوتے ہیں موعظہ اس وعظ اور نصیحت کو کہتے ہیں جس میں انذار کا اظہار کیا جائے سو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انذار کا اظہار دوسروں کو غصہ دلانے والا اور غلط فہمی پیدا کرنے والا بھی ہو سکتا ہے اس لئے بڑی احتیاط سے کام لیا کرو جب انذاری پیشگوئیاں بیان کیا کرو انذار کے ساتھ تبشیر کے پہلوئوں کو بھی نمایاں کرتے چلے جائو تاکہ سننے والے یہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو انذاری وعید اور پیشگوئیاں کی ہیں وہ ہماری ہی بھلائی کے لئے ہیں اور ساتھ ہی یہ شرط کر دی ہے کہ اگر انسان توبہ کرے اور روبہ اصلاح ہو اور اپنے ربّ اور مولیٰ کی طرف رجوع کرے تو یہ وعید ٹل جایا کرتے ہیں اور ضروری ہے کہ اصلاح کے بعد انذاری پیشگوئیاں پوری نہ ہوں جیسا کہ انبیائے سابقین جو ہیں ان کی پیشگوئیاں کی تاریخ سے بڑی اچھی طرح واضح ہوتا ہے۔
    (۷) پھر ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ منکر اور مخالف کے اعتقادات کے دھارے کا منہ موڑنے کیلئے امن اور صلح کی راہوں کو اختیار کرو فتنہ اور فساد کی راہوں سے اجتناب کرو اور احسن کے ساتھ اس کا مقابلہ کرو اور
    (۸) آٹھویں بات ہمیں یہ بتائی گئی تھی کہ جب تم نے اپنے جتھے کی مضبوطی اپنی عزت کے استحکام یا اپنی خواہشوں کو پورا کرنے کے لئے دنیا کو اپنی طرف نہیں بلانا بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف بلانا ہے اور تمہاری ذات کا اس میں کوئی فائدہ نہیں تو اللہ تعالیٰ نے جس راہ اور جس طریق سے بلانے کا حکم دیا ہے اس طریق کو اختیار کرو اور نرمی اور محبت اور پیار سے کام لو۔
    (۹) پھر ہمیں کہا گیا ہے کہ منہ کی باتیں اگر دل اور اگر جوارح اور اگر روح سے نہ نکلیں تو وہ اثر انداز نہیں ہوا کرتیں اس لئے تم دنیا کے سامنے عملی نمونہ رکھو فرمایا:۔
    وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحًا (حٰمّ السَّجْدَہ:۳۴) تو جب تک عمل صالح ساتھ نہ ہو اس وقت تک تمہاری باتیں دنیا کے دلوں کو جیتیں گی نہیں اور فتح نہیں کریں گی اور ان دلوں کو جیت کر اور ان دلوں کو فتح کرکے تم اس قابل نہیں ہو گے کہ تم انہیں اپنے ربّ کے قدموں پر لاڈالو۔ اس لئے جب تم حق کی اشاعت کے لئے اپنے گھروں سے یا اپنے شہر سے اپنے قفس سے جو نفس کی خواہشات کا ایک پنجرہ ہوتا ہے اس سے باہر نکلو تو اس وقت عملی نمونہ اپنے ساتھ لے کے جانا ورنہ تمہاری باتیں جو ہیں وہ ایک کان میں داخل ہوں گی اور دوسرے کان سے باہر نکل جائیں گی۔
    (۱۰) پھر دسویں بات یہ بتائی گئی ہے کہ وہ عمل جو بظاہر عمل صالح نظر آتا ہے ضروری نہیں کہ وہ خدا کی نگاہ میں بھی عمل صالح ہو اس لئے تمہاری روح کی بھی آواز یہی ہونی چاہئے کہ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ (حٰمّ السَّجْدَہ :۳۴)کہ میں آستانہ الٰہی پر ہر وقت جھکی ہوئی ہوں اور تمہاری روح دنیا کے کان میں یہ آواز ڈالے کہ میں نے اپنا اور اپنوں کا سب کچھ اپنے ربّ کی راہ میں قربان کر دیا ہے۔
    پس ان باتوں کا تبلیغ کے اوقات میں اور اشاعت اسلام کرتے ہوئے خیال رکھنا ضروری ہے غلط راہ اختیار کرکے شاید ہم ظاہر بین نگاہ کو اور شاید اپنے دلوں کو بھی خوش کر لیں لیکن جب تک ہم خداتعالیٰ کی فرمودہ ان باتوں کا خیال نہیں کریں گے اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اس کے عباد میں شامل نہ ہوں گے اور اس کی رحمت اور برکت ہماری کوششوں میں نہ ہو گی اور وہ فتح کے وعدے اور وہ کامیابی کی بشارتیں جو غلبہ اسلام کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے دی ہیں ہم ان بشارتوں کے اور ان وعدوں کے وارث نہیں ٹھہریں گے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان باتوں کی طرف اپنی جماعت کو، اپنے ماننے والوں کو بار بار متوجہ کیا ہے لیکن کم ہیں ہم میں سے جو کثرت کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب کو پڑھنے والے اور آپ کے ارشادات پر غور کرنے والے ہیں اس نیت کے ساتھ کہ جو ہدایتیں آپ نے ہمیں دی ہیں اور جس رنگ میں اسلام کا نور آپ ہم پر چڑھانا چاہتے ہیں اس میں ہم اپنی کوشش، تدبیر، مجاہدہ اور دعا کے نتیجہ میں کامیاب ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ ہم پر رحم کرے اور ہم وہ بن جائیں جو مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہمیں دیکھنا چاہتے تھے۔
    اس وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعض حوالے آپ دوستوں کے سامنے پڑھنا چاہتا ہوں تا آپ یہ سمجھیں کہ آپ (علیہ السلام) کے دل میںکس قدر درد اور تڑپ تھی ان باتوں کے متعلق اور کس قدر تربیت کرنا چاہتے تھے آپ اپنی جماعت کے افراد کی اور کس طرح بار بار اور مختلف طریق سے آپ نے جماعت کو اس طرف متوجہ کیا ہے کہ اگر خدا کے حقیقی عبد اور بندے بننا چاہتے ہو اور اس کی رحمتوں کے وارث بننا چاہتے ہو ان وعدوں اور بشارتوں کے وارث بننا چاہتے جو آپ (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کو دی ہیں تو انہیں کن راہوں کو اختیار کرنا چاہئے۔ آپ فرماتے ہیں:۔
    ’’خبردار رہو نفسانیت تم پر غالب نہ آوے ہر ایک سختی کی برداشت کرو ہر ایک گالی کا نرمی سے جواب دو تا آسمان پر تمہارے لئے اَجر لکھا جاوے…یاد رکھو کہ ہر یک جو نفسانی جوشوں کا تابع ہے ممکن نہیں کہ اس کے لبوں سے حکمت اور معرفت کی بات نکل سکے بلکہ ہر ایک قول اس کا فساد کے کیڑوں کا ایک انڈا ہوتا ہے، بجز اس کے اور کچھ نہیں۔ پس اگر تم روح القدس کی تعلیم سے بولنا چاہتے ہو تو تمام نفسانی جوش اور نفسانی غضب اپنے اندر سے باہر نکال دو تب پاک معرفت کے بھید تمہارے ہونٹوں پر جاری ہوں گے اور آسمان پر تم دنیا کے لئے ایک مفید چیز سمجھے جائو گے اور تمہاری عمریں بڑھائی جائیں گی تمسخر سے بات نہ کرو اور ٹھٹھے سے کام نہ لو اور چاہئے کہ سفلہ پن اور اوباش پن کا تمہارے کلام میں کچھ رنگ نہ ہو،تا حکمت کا چشمہ تم پر کھلے۔
    حکمت کی باتیں دلوں کو فتح کرتی ہیں لیکن تمسخر اور سفاہت کی باتیں فساد پیدا کرتی ہیں جہاں تک ممکن ہو سکے سچی باتوں کو نرمی کے لباس میں بتائو تا سامعین کے لئے موجب ملال نہ ہوں جو شخص حقیقت کو نہیں سوچتا اور نفس سرکش کا بندہ ہو کر بد زبانی کرتا ہے اور شرارت کے منصوبے جوڑتا ہے وہ ناپاک ہے اس کو کبھی خدا کی طرف راہ نہیں ملتی اور نہ کبھی حکمت اور حق کی بات اس کے منہ پر جاری ہوتی ہے۔ پس اگر تم چاہتے ہو کہ خدا کی راہیں تم پر کھلیں تو نفسانی جوشوں سے دُور رہو اور کھیل بازی کے طور پر بحثیں مت کرو کہ یہ کچھ چیز نہیں اور وقت ضائع کرنا ہے بدی کا جواب بدی سے مت دو، نہ قول سے نہ فعل سے، تا خدا تمہاری حمایت کرے اور چاہئے کہ درد منددل کے ساتھ سچائی کو لوگوں کے سامنے پیش کرو نہ ٹھٹھے اور ہنسی سے۔
    کیونکہ مردہ ہے وہ دل جو ٹھٹھا ہنسی اپنا طریق رکھتا ہے اور ناپاک ہے وہ نفس جو حکمت اور سچائی کے طریق کو نہ آپ اختیار کرتا ہے اور نہ دوسروں کو اختیار کرنے دیتا ہے سو تم اگر پاک علم کے وارث بنناچاہتے ہو تو نفسانی جوش سے کوئی بات منہ سے مت نکالو کہ ایسی بات حکمت اور معرفت سے خالی ہو گی اور سفلہ اور کمینہ لوگوں اور اوباشوں کی طرح نہ چاہو کہ دشمن کو خواہ نخواہ ہتک آمیز اور تمسخر کا جواب دیا جائے بلکہ دل کی راستی سے سچا اور پر حکمت جواب دو تا تم آسمانی اسرار کے وارث ٹھہرو‘‘۔
    (نسیم دعوت ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۳۶۴، ۳۶۶)
    اسی طرح جو منکر اور مخالف اور گندہ دہنی سے کام لینے والے اور انتہائی بد زبانی کرتے ہوئے گالیاں دینے والے ہیں ان کے متعلق آپ فرماتے ہیں:۔
    ’’میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ ان کو مناسب ہے کہ ان کی (دشمنوں کی) گالیاں سن کر برداشت کریں اور ہرگز ہرگز گالی کا جواب گالی سے نہ دیں کیونکہ اس طرح پر برکت جاتی رہتی ہے وہ صبر اور برداشت کا نمونہ ظاہر کریں اور اپنے اخلاق دکھائیں یقینا یاد رکھو کہ عقل اور جوش میں خطرناک دشمنی ہے جب جوش اور غصہ آتا ہے تو عقل قائم نہیں رہ سکتی لیکن جو صبر کرتا ہے اور برد باری کا نمونہ دکھاتا ہے اس کو نور دیا جاتا ہے جس سے اس کی عقل اور فکر کی قوتوں میں ایک نئی روشنی پیدا ہو جاتی ہے اور پھر نور سے نور پیدا ہوتا ہے غصہ اور جوش کی حالت میں چونکہ دل و دماغ تاریک ہوتے ہیں اس لئے پھر تاریکی سے تاریکی پیدا ہوتی ہے‘‘۔
    (ملفوظات جلد دوم صفحہ۱۳۲، الحکم مؤرخہ ۱۰؍ مئی ۱۹۰ء)
    اسی طرح آپؑ فرماتے ہیں:۔
    ’’ہماری جماعت کو چاہئے کہ اپنے مخالفوں کے مقابل پر نرمی سے کام لیا کرے تمہاری آواز تمہارے مقابل کی آواز سے بلند نہ ہو اپنی آواز اور لہجہ کو ایسا بنائو کہ کسی دل کو تمہاری آواز سے صدمہ نہ ہو ہم تو مقتولوں اور مردہ دلوں کو زندہ کرنے اور ان میں زندگی کی روح پھونکنے کو آئے ہیں تلوار سے ہمارا کاروبار نہیں نہ یہ ہماری ترقی کا ذریعہ ہے ہمارا مقصد نرمی ہے اور نرمی سے اپنے مقاصد کی تبلیغ ہے غلام کو وہی کرنا چاہئے جو اس کا آقا اس کو حکم کرے جب خدا نے ہمیں نرمی کی تعلیم دی ہے تو ہم کیوں سختی کریں۔
    ثواب تو فرمانبرداری میں ہوتا ہے اور دین تو سچی اطاعت کا نام ہے نہ یہ کہ اپنے نفس اور ہواو ہوس کی تابعداری سے جوش دکھاویں۔
    یاد رکھو جو شخص سختی کرتا اور غضب میں آ جاتا ہے اس کی زبان سے معارف اور حکمت کی باتیں ہرگز نہیں نکل سکتیں وہ دل حکمت کی باتوں سے محروم کیا جاتا ہے جو اپنے مقابل کے سامنے طیش میں آ کر آپے سے باہر ہو جاتا ہے گندہ دہن اور بے لگام کے ہونٹ لطائف کے چشمہ سے بے نصیب اور محروم کئے جاتے ہیں غضب اور حکمت دونوں جمع نہیں ہو سکتے جو مغلوب الغضب ہوتا ہے اس کی عقل موٹی اور فہم کند ہوتا ہے اس کو کبھی کسی میدان میں غلبہ اور نصرت نہیں دئیے جاتے‘‘۔
    پھر آپ فرماتے ہیں:۔
    ’’سو دیکھو اگر تم لوگ ہمارے اصل مقصد کو نہ سمجھو گے اور شرائط پر کار بند نہ ہو گے تو ان وعدوں کے وارث تم کیسے بن سکتے ہو جو خداتعالیٰ نے ہمیں دئیے ہیں جسے نصیحت کرنی ہو اُسے زبان سے کرو ایک ہی بات ہوتی ہے وہ ایک پیرایہ میں ادا کرنے سے ایک شخص کو دشمن بنا سکتی ہے اور دوسرے پیرایہ میں دوست بنا دیتی ہے۔ پس جَادِلْھُم بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ (النحل:۱۲۶) کے موافق اپنا عمل درآمد رکھو اسی طرز کلام ہی کا نام خدا نے حکمت رکھا ہے چنانچہ فرماتا ہے۔ یُؤْتِی الْحِکْمَۃَ مَنْ یَّشَآئُ (البقرہ :۲۷۰)
    (ملفوظات نیا ایڈیشن جلد ۳ ص ۱۰۴، الحکم ۱۰؍ مارچ ۱۹۰۳ء)
    پھر فرماتے ہیں:۔
    ’’سو تم اس وقت سن رکھو کہ تمہارے فتح مند اور غالب ہو جانے کی یہ راہ نہیں کہ تم اپنی خشک منطق سے کام لو یا تمسخر کے مقابل تمسخر کی باتیں کرو یا گالی کے مقابل پر گالی دو کیونکہ اگر تم نے یہی باتیں اختیار کیں تو تمہارے دل سخت ہو جائیں گے اورتم میں صرف باتیں ہی باتیں ہوں گی جن سے خداتعالیٰ نفرت کرتا ہے سو تم ایسا نہ کرو کہ اپنے پر دو لعنتیں جمع کر لو ایک خلقت کی دوسری خدا کی…‘‘
    یاد رکھنا چاہئے کہ جن آیات پر میں نے خطبہ دیا تھا کہ عَمِلَ صَالِحًا وَّقَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ (حٰمّ السَّجْدَہ :۳۴) ‘‘آپ کے ارشادات انہی آیات کی تفسیر ہے۔
    آپ فرماتے ہیں:۔
    ’’چاہئے کہ اسلام کی ساری تصویر تمہارے وجود میں نمودار ہو اور تمہاری پیشانیوں میں اثر سجود نظر آئے اور خدا کی بزرگی تم میں قائم ہو اگر قرآن اور حدیث کے مقابل پر ایک جہان عقلی دلائل کا دیکھو تو ہرگز اس کو قبول نہ کرو اور یقینا سمجھو کہ عقل نے لغزش کھائی ہے توحید پر قائم رہو اور نماز کے پابند ہو جائو اور اپنے مولا حقیقی کے حکموں کو سب سے مقدم رکھو اور اسلام کے لئے سارے دُکھ اُٹھائوفَلَاتَمُوْتُنَّ اِلاَّ وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ‘‘۔ (البقرہ :۱۳۳)
    (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۵۴۶ تا۵۵۲)
    اسی طرح آپؑ فرماتے ہیں:۔
    ’’اگر تم چاہتے ہو کہ تمہیں فلاح دارین حاصل ہو اور لوگوں کے دلوں پر فتح پائو تو پاکیزگی اختیار کرو، عقل سے کام لو اور کلام الٰہی کی ہدایات پر چلو خود اپنے تئیں سنوارو اور دوسروں کو اپنے اخلاق فاضلہ کا نمونہ دکھائو تب البتہ کامیاب ہو جائو گے۔ کسی نے کیا اچھا کہا ہے ع
    سخن کز دل بروں آید ٭ نشیند لا جرم بر دل
    پس پہلے دل پیدا کرو اگر دلوں پر اثر اندازی چاہتے ہو تو عملی طاقت پیدا کرو کیونکہ عمل کے بغیر قولی طاقت اور لسانی قوت کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتی زبان سے قیل و قال کرنے والے تو لاکھوں ہیں… تم میری بات سُن رکھو اور خوب یاد کر لو کہ اگر انسان کی گفتگو سچے دل سے نہ ہو اور عملی طاقت اس میں نہ ہو تو وہ اثر پذیر نہیں ہوتی اسی سے تو ہمارے نبی کریمﷺ کی بڑی صداقت معلوم ہوتی ہے کیونکہ جو کامیابی اور تاثیر فی القلوب آپ کے حصہ میں آئے اس کی کوئی نظیر بنی آدم کی تاریخ میں نہیں ملتی اور یہ سب اس لئے ہوا کہ آپ کے قول اور فعل میں پوری مطابقت تھی‘‘۔ (ملفوظات نیا ایڈیشن جلد ۱ صفحہ ۴۲، رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء)
    یہ تو چند حوالے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب اور آپ کی تحریریں اور تقریریں اور ملفوظات ان باتوں سے بھری ہوئی ہیں۔ پس خدا کے لئے قرآن کریم کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالو اور جیسا کہ میں نے کہا ہے ہمارے ہر عضو پر اللہ تعالیٰ نے کچھ پابندیاں عائد کی ہیں اور زبان ایک بنیادی اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ ہمارے ہر عمل کو یہ پاک سے پاک تر بھی بنا سکتی ہے اور ہمارے ہر عمل کو یہ ضائع بھی کر سکتی ہے مثلاً ایک شخص غرباء میں مال تقسیم کرتا ہے لیکن بعد میں مَن اور اذی کا طریق اختیار کرتا ہے کروڑوں روپوں کو اس طرح زبان کی ایک جنبش سے ضائع کر دیتا ہے اور خداتعالیٰ کی درگاہ سے وہ روپیہ دھتکارا جاتا اور اس کی رضا کو حاصل نہیں کر سکتا۔
    احترام ہے اس کا اظہار بھی زبان سے ہوتا ہے اور وہ جن کا احترام کرنا اور جن کی عزت کرنا اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے لئے فرض کیا ہے ان کے حق میں احترام کے سوا کوئی اور بات منہ سے نکالنا فعلی نیکیوں کو ضائع کر دیتا ہے خداتعالیٰ کہتا ہے کہ باپ روحانی ہو یا جسمانی اس کے سامنے اُف نہیں کرنی کیونکہ ربوبیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کو شریک کیا ہے ہر ماں باپ صفتِ ربوبیت میں سے کچھ نہ کچھ حصہ ضرور لیتے ہیں خواہ وہ اچھے ماں باپ نہ بھی ثابت ہوں جو اچھے ماں باپ ہوں وہ تو بہت سا حصہ اس دنیا کی ربوبیت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے لیتے ہیں اگرچہ انسان کی ربوبیت اور اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا تو آپس میں مقابلہ ہو ہی نہیں سکتا یہ تو بالکل واضح ہے لیکن دنیوی نقطۂ نگاہ سے ایک حد تک وہ ربوبیت میں سے حصہ لیتے ہیں خداتعالیٰ کہتا ہے کہ جو روحانی ربوبیت کرنے والا یا جسمانی ربوبیت کرنے والا ہو اسے ایسی بات نہ کہو جو اُف میں شامل ہو بلکہ احترام کرو پھر اسلام یہ کہتا ہے کہ اپنے سے بڑوں کا احترام کرو اور چھوٹوں پر شفقت کرو یہ احترام اور شفقت فعل سے بھی ہوتی ہے اور زبان سے بھی ہوتی ہے اگر کوئی شخص فعل سے تو بڑی شفقت کرے لیکن زبان کوغلط راہوں پر چلائے وہ بے باک وار کرنے والی ہو تو نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے کہ ایسے شخص سے میرا کوئی تعلق نہیں فرمایا’’لَیْسَ مِنَّا‘‘۔ پس ہزاروں احکام ہیں جن کا زبان سے تعلق ہے جن میں سے بعض کے متعلق میں نے اپنے ان دو خطبوں میں آپ دوستوں کے سامنے کچھ بیان کیا ہے لیکن جو کامل اور مکمل تعلیم ہمیں دی گئی ہے سب کو اپنے سامنے رکھنا اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے اور بنیادی چیز یہ ہے کہ اگر خدا کا بندہ بننا ہو، اس کے عباد میں شامل ہونا ہو تو احسن قول کی پیروی کرنا ضروری ہے اپنی طبیعت ایسی بنانا چاہئے کہ ’’احسن‘‘ کے سوا منہ سے کوئی بات ہی نہ نکلے خدا کرے کہ وہ ہم سب کو اس بات کی توفیق دے کہ وہ ہر راہ سے ہمیں اپنے بندوں میں شامل کرے اور ہم اس کے حقیقی بندے بن جائیں اور ہم سے کوئی بات ایسی سرزد نہ ہو جو ہمیں اس کے گروہ اس کے عباد سے نکالنے والی ہو۔ (آمین)
    (روزنامہ الفضل ربوہ مورخہ۴ ؍مئی ۱۹۶۸ء صفحہ۱ تا۴)
    ٭…٭…٭

    آج بطور جُنَّۃ کے بطور ڈھال کے میرا یہ فرض ہے کہ میں آپ کو شیطانی وساوس سے بچاؤں
    (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۶ ؍اپریل ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ ربوہ ۔ غیر مطبوعہ)
    ء ء ء
    ٭ ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد کرو اس کی تسبیح اور تحمید کرو اس کی طرف جھکو۔
    ٭ خلیفہ وقت کا یہ کام ہوتا ہے کہ جماعت کو درجہ بدرجہ آگے ہی آگے لئے جاتا چلا جائے۔
    ٭ تربیت کے مختلف مقامات ہیں اُن کو بلند کرنا آگے لے جانا خلیفہ وقت کا کام ہوتا ہے۔
    ٭ جب ہمارا ربّ کسی کو کسی مقام پر کھڑا کرتا ہے تو وہ تمام چیزیں اسے دیتا ہے جو اس مقام کو چاہئیں ہوں۔
    ٭ کسی عدد کا معین کر دینا گناہ اور بدعت نہیں بلکہ سنت نبوی کی اتباع ہے۔



    تشہد، تعوذ اور سورۃفاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    پچھلے دنوں پہلے پیچش کی تکلیف رہی تھی مجھے اور پھر اس کے بعد ہیضے اور ٹائفائیڈ کے ٹیکا لگانے کے نتیجہ کا رد عمل جو ہوا اس کسی وجہ سے سر کا بھاری ہونا اور جسم کا دکھنا وغیرہ شامل ہوتے ہیں اس کے نتیجہ پر کمزوری پیدا ہو گئی آج گرمی بھی بہت ہے اس لئے مختصراً اپنے دوستوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بار بار اس طرف متوجہ کیا ہے کہ اگر فلاح دارین چاہتے ہو تو اللہ تعالیٰ کے ذکر میں اپنی زندگیوں کے دن گزارو۔ ہر وقت اسے یاد کرو اس کی تسبیح اور تحمید کرو اس کی طرف جھکو صرف اسی سے دل لگائو صرف اسی سے محبت کا تعلق قائم کرو اور پختہ کرو غرض کہ ہر رنگ میں ہر لحاظ سے ، ہرنقطۂ نگاہ سے اور ہر آن اسی کے ہو جائو اور اسی میں اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرو دنیا میں مختلف طبیعتوں کے انسان ہوتے ہیں مختلف تربیت حاصل کرنے والے انسان ہوتے ہیں ان کی تربیت کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ درجہ بدرجہ ذکر کے مقامات ان سے طے کروائے جائیں نبی اکرمﷺ سے ایک دفعہ بعض صحابہؓ نے بعض نیکیوں کے متعلق دریافت کیا کہ ہم بوجہ غربت کے ان میں پیچھے رہ جاتے ہیں نیکیوں کی کوئی اور راہیں ہمیں دکھائی جائیں تاکہ ہم اپنے بھائیوں سے پیچھے نہ رہ جائیں تو آپ نے انہیں فرمایا کہ تینتیس تینتیس بار سُبْحَانَ اللّٰہِ اور اَلْحَمْدُلِلّٰہِ اور چونتیس بار اَللّٰہُ اَکْبَر کہا کرو تو بڑی نیکیاں تمہاری لکھی جائیں گی اور تم بڑا ثواب اپنے ربّ سے حاصل کرو گے جب امیروں کو پتہ لگا اُنہوں نے بھی یہ ورد کرنا شروع کر دیا کیونکہ مسابقت کی روح اس خدا کی محبوب جماعت میں پائی جاتی تھی۔
    تو اگرچہ ذکر کثیر کا حکم ہے لیکن اس کثیر کو سمجھنے کے لئے مختلف مراتب کا مطالعہ کرنا پڑتا ہے بعض لوگ ایسے بھی پائے جاتے ہیں کہ پندرہ، بیس، تیس دفعہ اگر وہ تسبیح و تحمید کر لیں تو ان کا دل تسلی پکڑ جاتا ہے کہ ہمیں ذکر کثیر کا جو ارشاد ہوا تھا اس کی ہم نے تعمیل کر دی اور بعض ایسے بھی ہیں کہ ہزاروں بار ان کی زبان پر خدا کی حمد آتی اور پھر بھی ان کے دل کو تسلی نہیں ہوتی کہ جو حکم ان کو ذکر کثیر کا دیا گیا تھا اس کی تعمیل صحیح معنی میں صحیح رنگ میں وہ کر بھی سکے ہیں کہ نہیں۔
    تو مختلف طبیعتیں ہیں مختلف تربیتی دوروں میں سے انسان گزرتا ہے اور خلیفہ وقت اور امام وقت کا یہ کام ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جماعت کو ترتیب کے مقامات میں سے درجہ بدرجہ آگے ہی آگے لئے جاتا چلا جائے تاکہ وہ خداتعالیٰ کی رضاء کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے والی ہوگی اور اللہ تعالیٰ کی محبت انہیں بہت زیادہ مل جائے اسی لئے ایک وقت میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جماعت کو بارہ بارہ دفعہ تسبیح اور تحمید کی طرف توجہ دلائی تھی اور اب گزشتہ مہینے میں نے ساری جماعت کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ پچیس سال سے بڑی عمر کے احمدی دوست کم از کم دو سو بار تسبیح اور تحمید اور درود ان الفاظ میں پڑھیں۔ جو الہاماً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر نازل ہوئے تھے۔ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ اور جو پچیس سال سے کم عمر کے ہیں ان کے تین درجے بنا کر میں نے معین کر دیا تھا کم سے کم کو اور جس وقت یہ اعلان ہوا تو بہت سے خطوط دوستوں کی طرف سے مجھے ملے ہماری جماعت میں وہ بھی ہیں جو ہزاروں مرتبہ خداتعالیٰ کی تسبیح اور تحمید اور درود پڑھنے کی توفیق پاتے ہیں ایسے دوستوں نے مجھے لکھا کہ آپ کی یہ تحریک بڑی مبارک ہے ہم دو سَو سے کہیں زیادہ بار ہم پڑھتے تھے لیکن آپ کے توجہ دلانے پر ہم روزانہ تعہد کے ساتھ خداتعالیٰ کی حمد اور محمد رسول اللہﷺ پر درود بھیجا کریں گے بعض ایسے بھی تھے جو درود پڑھتے اور تسبیح اور تحمید تو کرتے تھے لیکن دو سو بار نہیں کرتے تھے انہوں نے لکھا کہ ہم خداتعالیٰ کے بڑے زیر احسان ہیں کہ اس نے آپ کے ذریعہ ہماری توجہ اس طرف پھیری کہ کم از کم دو سو بار ہم اس شکل میں تسبیح اور تحمید اور درود پڑھا کریں اور ان میں سے بعض نے یہ بھی لکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس تسبیح اور تحمید اور درود میں ہمارے لئے بڑی جلدی برکات کے سامان پیدا کر دئیے ہیں اور جو کام رکے ہوئے تھے ان کی روکاوٹیں دور ہو گئیں۔ ایک دوست نے تو لکھا کہ ابھی سولہ دن نہیں ہوئے تھے۔ تو ایک دو میرے کام جو سالہا سال سے رکے ہوئے تھے وہ روکاٹیں دور ہو گئیں اور میرا کام ہو گیا صرف پاکستان سے ہی نہیں بلکہ غیر ملکوں سے بھی خطوط آئے اللہ تعالیٰ کی محبت، محمد رسول اللہﷺ کے عشق کا اظہار بڑوں نے بھی اور بچوں نے بھی کیا اور وہ اس وجہ سے بھی اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بنے کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کے خلیفہ کو یہ توفیق عطا کی کہ وہ جماعت کو اتنی طرف متوجہ کر سکے کہ کثرت کے ساتھ درود پڑھا جائے اور کم از کم اسی تعداد میں پڑھا جائے۔
    ہماری جماعت میں سینکڑوں ایسے بھی ہیں جن پر یہ صادق آتا ہے۔ قُلْ اِنَّ صَلاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ (الانعام:۱۶۳) جن کی زندگی کا ہر لمحہ ہی خداتعالیٰ کے ذکر میں خرچ ہونے والا ہے جب وہ سوتے ہیں تو بیداری کے لمحات کو کچھ اس طرح اپنے ربّ کی یاد میں گزارا ہوتا ہے کہ ان کے خوابیدہ لمحات بھی خداتعالیٰ کے ذکر میں خرچ ہونے والے لمحات شمار ہوتے ہیں ایسے لوگوں نے بھی خداتعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ ایک اور موقع ہمیں نصیحت حاصل کرنے کا مل گیا ہے اور ہم بڑے تعہد سے اپنی زندگیوں کو خدا کی راہ میں گزار لیں گے اور کوئی غفلت اور کوئی کوتاہی اور کوئی شیطانی وسوسہ بیچ میں رخنہ نہیں دال سکے گا۔
    تو مختلف طبائع ہیں، تربیت کے مختلف مقامات ہیں، جن پر جماعت کے مختلف طبقات ٹھہرے ہوئے ہیں یا پہنچے ہوئے ہوتے ہیں اور ان کو بلند کرنا، آگے لے جانا یہ خلیفہ وقت کا کام ہوتا ہے اور کبھی مالی تحریکیں، کبھی قربانیوں کے دوسرے طریق کبھی اصل چیز جو ذکر ہے۔ دراصل خداتعالیٰ کی راہ میں جو کام بھی کیا جاتا ہے وہ ذکر کی بنیادوں پر ہی کھڑا ہوتا ہے اور قائم رہتا ہے بچے تھے ایسے بچے جن کو میں نے کہا تھا کہ ابھی زبان سیکھ رہے ہیں چند بار اگر ہم ماں باپ یا ان کے گارڈین یا ان کے استاد ان کے منہ سے خداتعالیٰ کی حمد، اس کی تسبیح اور درود کے کلمات کہلوا دیں تو ان کی زندگیوں میں برکت پیدا ہو گی ان کی روح کی وہ کھڑکی جو ربّ کی طرف کھلتی ہے وہ کھل جائے گی۔
    بہت سارے دوستوں کے خطوط ملے ہیں بعض دوست نہیں لکھتے لیکن جو لکھنے والے ہیں وہ ان کے نمائندے ہوتے ہیں اپنے طبقات کے اپنے گروہ کے بہت سارے دوستوں نے خطوط لکھے ہیں کہ ہم نے اپنے بچوں کو یہ درود اس رنگ میں کہلوانا شروع کیا ہے پھر وہ تین پر یا پچیس پر یا سَو پر یا دو سَو پر قائم نہیں رہتے عادت پڑ جاتی ہے وہ آگے چلتے ہیں۔
    تو جہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت نے اس تحریک پر تعہد کے ساتھ عمل کیا ہے اور جہاں وہ لوگ جو دوسَو سے کہیں زیادہ درود پڑھنے والے اور تسبیح و تحمید کرنے والے تھے انہوں نے بھی آگے ہی قدم بڑھایا ہے اور جو لوگ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے متعلق میں نے کہا تھا کہ قُلْ اِنَّ صَلاتِی وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ العٰلَمِیْن(الانعام :۱۶۳)ان پر صادق آتا ہے ان کے دلوں میں بھی بشاشت پیدا ہوئی ہے اعتراض پیدا نہیں ہوا۔
    لیکن کچھ کمزور بھی ہوتے ہیں اور ان کے دل شیطانی وساوس کی آماجگاہ بن جاتے ہیں اب تحریک یہ تھی کہ کم سے کم اتنی بار درود پڑھا جائے اور اعتراض یہ ہو گیا کہ تعداد معین کر دینا یہ درست نہیں اوّل تو یہ کہ معین تعداد کی کس نے؟ کم سے کم تو تعداد کی تعین نہیں ہوتی وہ تو کم سے کم معیار بتا رہا ہوتا ہے جو شخص یہ سمجھا ہے کہ تعین نہیں ہونی چاہئے اس کا فرض ہے کہ وہ دو سو دفعہ تو گن لے اور اس کے بعد اَن گنت درود اور تسبیح اور تحمید کرتا رہے جیسا کہ مخلصین نے اس سے یہی سمجھا اور اس پر عمل کیا اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے وہ وارث بنے۔
    دوسرے یہ کہ یہ کس نے کہا کہ جائز ہے اب کمزور ایمان والے شارع تو نہیں سمجھے جا سکتے نہ ان کے فاسد خیالات کو شریعت کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے حضرت نبی اکرمﷺ کے متعلق جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے حدیث میں جو پختہ ہے جس میں کمزوری نہیں یہ آتا ہے کہ آپ نے غرباء کو ایمان میں آگے بڑھنے اور ثواب زیادہ حاصل کرنے کے لئے ایک نسخہ بتایا تھا وہ معین تھا پھر نبی اکرمﷺ کی اپنی سنت یہ ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے جو امام بخاری نے اپنی ایک کتاب میں بیان کی ہے کہ آپ نے کہا کہ میں نے نبی اکرمﷺ کو انگلیوں پر کلمات پڑھتے دیکھا اور انگلیوں پر گنتی کرتے جاتے تھے اس سے واضح ہوتا ہے کہ بعض ذکر ایسے ہیں کہ جن کو گننے میں کوئی برائی نہیں بلکہ نبی اکرمﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ ہر انسان کو ذکر کے بعض حصے انگلیوں پر گن لینے چاہئیں تاکہ اس طرح بھی آپ کے ساتھ ہمارے پیار کا اظہار ہو تو اگر بعض ذکر نبی اکرمﷺ نے بھی گن کے کئے ہیں تو گنتی پر اعتراض نہیں ہو سکتا یہ اعتراض تو پھر محمد رسول اللہﷺ پر پڑے گا!!!۔ایک دفعہ جب حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیمار تھے نگران بورڈ کے نام سے ایک مجلس قائم تھی وہیں ذکر ہوا اور مرزا عبدالحق صاحب اور دیگر احباب نے کہا کہ آپ یہ تحریک کریں تین سو بار تھی غالباً وہ تحریک اور ساری جماعت کے لئے نہیں تھی اس وقت بھی بعض کمزوروں کے دلوں میں یہ اعتراض پیدا ہوا تھا کہ یہ بدعت شنیعہ ہے یعنی ایسے لوگوں کا درود پڑھنا معینہ تعداد میں جو پہلے اس تعداد میں درود نہیں پڑھا کرتے تھے یہ بدعت شنیعہ ہے کہ محمد رسول اللہﷺ پر زیادہ درود بھیجا جا رہا ہے یہ کمزوری ایمان کی علامت تھی اور ہم اس وقت خداتعالیٰ کے فضل سے خلیفہ وقت کی ڈھال کے پیچھے پناہ لئے بیٹھے تھے۔ ایسے معترضین کو جرأت نہیں ہوئی کہ حضور کے سامنے یہ اعتراض پیش کرکے اپنی اصلاح کا سامان پیدا کرتے۔
    بہرحال ہم اس پناہ کے نیچے تھے اب اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کے لئے بطور پناہ کے مقرر کیا ہے اور اس میں میری کوئی خوبی نہیں جب اس نے کہا کہ میں تجھے جُنَّۃ بناتا ہوں جماعت کے لئے تو ساتھ یہ بھی واضح کیا کہ جُنَّۃ بننے کے لئے جس قسم کی طاقتیں تجھے چاہئیں ہوں وہ میری طرف سے عطا کی جائیں گی کیونکہ خداتعالیٰ کے کام ان کمزور انسانوں کی طرح نہیں ہوتے یا ان پاگلوں کی طرح جو بعض دفعہ کہہ دیتے ہیں کہ ’’جا،اسان تینوں بادشاہ بنایا‘‘ ان میں نہ کوئی بات ہوتی ہے اور نہ کوئی بادشاہ بنانے کی طاقت ہوتی ہے اس شخص میں نہ بادشاہ بنا سکتا ہے نہ کچھ دے سکتا ہے لیکن جب ہمارا ربّ کسی کو کسی مقام پر کھڑا کرتا ہے تو وہ تمام چیزیں اسے دیتا ہے جو اس مقام کو چاہئیں ہوں۔
    تو آج بطور جُنَّۃ کے بطور ڈھال کے میرا یہ فرض ہے کہ میں آپ کو شیطانی وساوس سے بچائوں اور اسی لئے اس اعتراض کا یہاں میں نے ذکر کیا ہے اگر کوئی شخص آپ میں سے کسی کے پاس آ کر یہ کہے کہ یہ بدعہ شنیعہ ہے یعنی ایسی بدعت ہے جو بُری ہے ایسی بدعت ہے کہ خداتعالیٰ کا نام اور اس کی تسبیح اور اس کی تحمید اور نبی اکرمﷺ پر درود جو پہلے نہیں بھیجا کرتے تھے اب بھیجنے لگ گئے ہیں بہت بُری بات ہے تو آپ اس کی بات نہ سنیں شیطان نے اس کے دل پر اور اس کی زبان پر اور اس کے ذہن اور دماغ پر وار کیا ہے اور وہ کامیاب ہوا۔ آپ اس سے بچنے کی کوشش کریں اور ایسے شخص کو قابل رحم سمجھیں اور اس کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کے سینے کو ہدایت کے لئے کھولے اور اس کی زبان کو ایسا بنائے کہ وہ اس کے ذکر میں مشغول ہو اور اس کے ذکر پر اعتراض کرنے والی نہ ہو۔
    یہ آپ پر ہر صورت میں فرض عائد ہوتا ہے خود نبی اکرمﷺ نے معین تعداد میں بعض لوگوں کو درود پڑھنے کے لئے تسبیح و تحمید پڑھنے کے لئے درود تو نہیں میرے ذہن پر لیکن تسبیح اور تحمید پڑھنے کے لئے اور اس کی کبریائی کے بیان کے لئے خود معین تعداد میں حکم دیا اسی سنت کی اقتدا میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے چوہدری رستم علی کو لکھا کہ
    ’’اگر تین سَو مرتبہ درود شریف کا ورد مقرر رکھیں تو بہتر ہو گا‘‘ تو تین سَو مرتبہ کی تعین کر دی اصل اعتراض تو تعیین کا ہی تھا نہ؟؟ تو یہ اعتراض مجھ سے آگے بڑھ کے نشانہ خطا گیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر جا پڑتا ہے‘‘۔
    اسی طرح سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تحریر فرماتے ہیں۔
    ’’میرے نزدیک بہتر ہے کہ آپ بھی اس تشویش کے وقت اکیس مرتبہ کم از کم استغفار اور سَو مرتبہ درود شریف پڑھ کر اپنے لئے دعا کیا کریں‘‘ ۔
    اسی سنت کی اتباع میں مئی ۱۹۴۴ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ فرمایا تھا جس کی طرف میں نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے کہ کم از کم بارہ مرتبہ روزانہ تسبیح و تحمید اور درود شریف پڑھا کریں جماعت کے دوست۔
    تو کسی عدد کا معین کر دینا گناہ اور بدعت نہیں بلکہ سنت نبوی کی اتباع ہے اور جو شخص نبی کریمﷺ کی سنت اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپ کے خلفاء کے طریق کو بدعت قرار دیتا ہے وہ بیمار ہے اسے اپنی اور آپ کو اس کی فکر کرنی چاہئے۔ خصوصاً اس تھوڑے سے عرصہ میں ابھی ایک مہینہ بھی نہیں گزرا اس پر ویسے تو دوستوں نے اس دن کا انتظار نہیں کیا کم از کم کی شرط تھی نا؟؟ جس کو جس وقت پتہ چلا کہ یہ تحریک کی گئی ہے انہوں نے اس تعداد سے زیادہ پڑھنا شروع کر دیا اور بیسیوں ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ذکر کی برکت اور محمد رسول اللہﷺ کے عشق کے طفیل بہت سے اپنے بند دروازے کھلوائے اور رکے ہوئے کام جاری کروا دیئے۔
    شیطان کا کام ہے دلوں میں وسوسہ پیدا کرنا وہ اپنا کام کرتا ہی چلا جائے گا، ہمارا کام ہے شیطان کے ہر وار کو ناکام کر دینا ہمیں اپنے فرض کی طرف متوجہ ہونا چاہئے اور چونکہ ہم میں کوئی طاقت نہیں اس لئے وہ جو تمام طاقتوں کا سرچشمہ اور منبع ہے اس کی طرف رجوع کرنا چاہئے اور اس سے طاقت لے کر اس کے نام کو دنیا پر بلند کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
    ٭…٭…٭

    خطبہ جمعہ ۳؍ مئی ۱۹۶۸ء
    ’’حضور نے مسجد مبارک میں نماز جمعہ پڑھائی اور خطبہ جمعہ میں احباب جماعت کو اُن کی اہم ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی‘‘۔
    (الفضل ۵ مئی ۱۹۶۸ء صفحہ۱)
    (تاحال یہ خطبہ دستیاب نہیں ہو سکا)

    اللہ تعالیٰ کی راہ میں اموال خرچ کرنے والوں کو اس دُنیا میں بھی برکت دی جاتی ہے اور ابدی جنتیں بھی
    (خطبہ جمعہ فرمودہ۱۰ ؍ مئی ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ ربوہ )
    ء ء ء
    ٭ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر قدر کرنے والی اور شکر گزار ہستی اور کوئی نہیں۔
    ٭ معمولی معمولی عارضی فوائد کی قربانی دے کر اللہ تعالیٰ کی ابدی رضا کو حاصل کرو۔
    ٭ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قیامت تک پیدا ہونے والے اُمت کیلئے بہت سی دعائیں کی ہیں۔
    ٭ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے خلفاء کا ایک لمبا سلسلہ جاری کیا ہے جو قیامت تک مُمْتَد ہے۔
    ٭ چند ناقص اعمال اور قربانیاں جو ایک کمزور انسان خدا کے سامنے پیش کرتا ہے اس کے مقابلہ میں ابدی جنتیں اسے عطا کی جاتی ہیں۔



    تشہد، تعوذ سورئہ فاتحہ کے بعد حضور پر نور نے مندرجہ ذیل آیات
    یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰـکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لاَّبَیْعٌ فِیْہِ وَلَا خُلَّۃٌ وَّلَا شَفَاعَۃٌ وَالْکٰفِرُوْنَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنo (البقرہ:۲۵۵) اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْہُ لَکُمْ وَیَغْفِرْلَکُمْ وَاللّٰہُ شَکُوْرٌ حَلِیْمٌ ۔ (التَّغابن: ۱۸)
    کی تلاوت فرمائیں اور پھر فرمایا:۔
    اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے اور ہمارے دل اس کی حمد سے لبریز ہیں کہ اس نے جماعت احمدیہ کو مالی قربانیوں کے میدان میں یہ توفیق عطا کی کہ وہ گذشتہ سال (یعنی جو اس اپریل کے آخر میں ختم ہوا) اس سے پہلے سال کے مقابلہ میں لازمی چندوں میں تین لاکھ اسی ہزار سے زائد کی مزید قربانی اپنے ربّ کے حضور پیش کر سکے۔ فَالْحَمْدُلِلّٰہِ عَلٰی ذٰلِکَ
    اللہ تعالیٰ نے سورئہ تغابن میں اس ذکر کے بعد کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو گے تو تمہاری اپنی جانوں کا ہی اس میں فائدہ ہے فرمایا ہے کہ اگر تم اپنے مالوں میں سے ایک اچھا حصہ کاٹ کر الگ کر دو تو وہ اسے تمہارے لئے بڑھائے گا۔
    یہ بڑھوتی اس دنیا میں دو شکل میں ظاہر ہوتی ہے اور اُخروی زندگی میں اپنے رنگ میں ظاہر ہو گی۔ اس دنیا میں یہ بڑھوتی مال کی بڑھوتی کے رنگ میں بھی ظاہر ہوتی ہے اور تقویٰ اور اخلاص میں بھی انسان کا قدم آگے بڑھتا ہے کیونکہ یَغْفِرْلَکُمْ وہ روکیں جو انسان کی راہ میں پیدا ہوتی ہیں اور اس کی روحانی ترقیات کو مسدود کر دیتی ہیں انہیں اللہ تعالیٰ دور کر دیتا ہے اور اپنی مغفرت کی چادر میں ڈھانپ لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر قدر کرنے والی اور شکر گزار اور کون ہستی ہو سکتی ہے اگرچہ وہ تمام مادی اموال کا حقیقی مالک ہے اگرچہ جو کچھ ہمیں ملتا ہے وہ اسی کا ہے اور اسی کی عطا ہے لیکن جب وہ اپنے بندوں کو دنیا کے اموال میں سے کچھ دیتا ہے اور اس کے بندے اس کے کہنے پر اس کی رضا کے لئے ان اموال میں سے کچھ واپس کرتے ہیں تو وہ ان کے اس دین کی قدر دانی کرتا ہے اور وہ شکور ربّ ایک تو بڑھوتی کرتا ہے دنیا میں بھی اور روحانی ترقیات کے سامان بھی پیدا کرتا ہے اور اخروی زندگی میں بھی جو زیادتی ہو گی اس کا تخیل بھی یہ مادی دماغ نہیں کر سکتا کیونکہ چند روزہ زندگی کے چند ناقص اعمال اور قربانیاں جو ایک کمزور انسان خدا کے لئے پیش کرتا ہے اس کے مقابلہ میں ابدی جنتیں اسے عطا کی جاتی ہیں۔
    اس دنیا میں مختلف رنگ میں یہ بڑھوتی ہوتی ہے اور اس وقت میں ساری جماعت کو عموماً اور اس کے زمیندار حصہ کو خصوصاً اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ گذشتہ ایک دو سال میں اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دئیے ہیں کہ زمیندار کی آمد پہلے سے تین گنا، چار گنا، پانچ گنا ہونی شروع ہو گئی ہے اور اس سے بھی بڑھنے کے سامان ہیں اور توقع اور امید ہے۔ پس اگر وہ صحیح طریقوں کو صحیح راہوں کو اختیار کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے اموال میں اپنے وعدہ کے مطابق زیادہ برکت ڈالے گا۔
    لیکن زمیندار جماعتوں کے افراد دو قسم کے ہوتے ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں آتا ہے۔ ایک تو وہ اعراب وہ دیہاتی ہیں گائوں میں رہنے والے مَنْ یَّتَّخِذُ مَایُنْفِقُ مَغْرَمًا (التوبہ:۹۸) کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کی جماعت میں داخل ہوتے ہیں اور جماعت کا قائد اور رہبر انہیں ہر قسم کی قربانیوں کی طرف متوجہ کرتا ہے ان کو اس طرف بھی متوجہ کرتا ہے کہ وہ اپنے اموال اپنے ربّ کی راہ میں خرچ کریں تو ایسے لوگ ان میں پائے جاتے ہیں جو خداتعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کو ایک چٹی سمجھتے ہیں اور ان کے اندر اسلام کی روح ابھی پختہ نہیں ہوتی ان کی طبیعت میں بشاشت پیدا نہیں ہوتی اور وہ ایمان اور نفاق کی سرحد پر کھڑے ہوتے ہیں (اللہ تعالیٰ انہیں ایمان کی طرف کھینچے اور نفاق سے محفوظ رکھے) لیکن ان کو بھی اس طرف توجہ دینی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو مانگا وہ اسی کا تھا شکل ایسی بنا دی کہ اپنی ہی چیز واپس لے کے ہمیں اپنے انعاموں اور رحمتوں کا مستحق وہ قرار دیتا ہے اس سے بھی اگر ہمارے دلوں میں بشاشت پیدا نہ ہو، اس سے بھی اگر ہمارے دلوں سے بخل دور نہ ہو اس سے بھی اگر ہم اس کی راہ میں قربانی کو اپنے لئے ہر طرح مفید نہ سمجھیں تو یہ ہماری بدبختی اور ہماری بدقسمتی ہے۔
    لیکن دیہاتی باشندے صرف ایسے ہی نہیں ہوتے بلکہ ایسے بھی ہیں وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَیَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰہِ وَصَلَوَاتِ الرَّسُوْلِ اَ لَآ اِنَّھَا قُرْبَۃٌ لَّھُمْ سَیُدْخِلُھُمُ اللّٰہُ فِيْ رَحْمَتِہٖ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (التوبہ :۹۹) اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیہاتیوں میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں اس ایمان میں وہ صادق ہوتے ہیں جو ان کی زبان پر دعویٰ ہوتا ہے ان کے عمل اس کی تصدیق کر رہے ہوتے ہیں اور اس پختہ یقین پر وہ قائم ہوتے ہیں کہ ایک دن ہمیں اس دنیا کو چھوڑنا ہے اور (حشر کے دن) اپنے ربّ کے حضور پیش ہونا ہے اور وہ ہم سے ہمارے اعمال کے متعلق پوچھے گا اس لئے جو وہ خرچ کرتے ہیں اپنی قوتوں اور استعدادوں میں سے اللہ کی راہ میں یا اپنے اموال میں سے جو وہ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ تعالیٰ کی قربت کا ذریعہ سمجھتے ہیں یعنی وہ یہ سمجھتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ ہم معمولی معمولی عارضی فوائد کی قربانی دے کر اللہ تعالیٰ کی ابدی رضا کو ضرور حاصل کریں گے کیونکہ اس کا اس نے وعدہ دیا ہے اور وہ اپنی اس قربانی کو رسولﷺ کی دعائوں کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے اپنی امت کے لئے جو قیامت تک پیدا ہونے والی ہے بہت سی دعائیں کی ہیں اور نبی کریمﷺ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے خلفاء کا ایک لمبا سلسلہ جاری کیا ہے جو قیامت تک ممتد ہے اور وہ رسول کی نیابت میںان لوگوں کے لئے دعائیں کرتے ہیں اور ان کے غموں کو دور کرنے کے لئے دعا اور تدبیر کرتے ہیں اور ان کی خوشیوں میں وہ شریک ہوتے ہیں اور ہر وقت وہ اس فکر میں رہتے ہیں کہ خدا کے یہ پاک بندے روحانیت کی سیر میں کسی ایک مقام پر کھڑے نہ رہ جائیں بلکہ آگے ہی آگے وہ بڑھتے چلے جائیں۔
    توصَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ کا ذریعہ وہ اسے سمجھتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم اس اخلاص کے ساتھ میری راہ میں قربانیاں دو گے تو تمہیں اللہ تعالیٰ کا قرب ضرور حاصل ہو گا میں تمہیں اپنے قرب سے نوازوں گا اور اپنے پیار کے جلوے تم پر ظاہر کروں گا اور اپنی رحمت کے باغوں میں تمہیں لے جائوں گا اور میری ابدی رضاء تمہیں حاصل ہو گی اور اگر میری راہ میں قربانیوں کی وجہ سے دنیا میں کبھی تمہیں کوئی تکلیف بھی پہنچی ہو گی تو وہ تمام تکلیفیں تم بھول جائو گے کیونکہ اس کے مقابلہ میں جو تمہیں ملا ہے وہ اس قدر زیادہ ہے، اس قدر عظیم ہے، اس قدر حسین ہے، اس قدر راحت بخش ہے کہ دنیا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت میں داخل کرے گا کیونکہ جہاں وہ شَکُورہے وہ غَفُور بھی ہے، رَحِیم بھی ہے تمہیں کہا جاتا ہے کہ تم ہر سال سال کی آمد میں سے خدا کی راہ میں کچھ قربان کرو اچھا مال کاٹ کے اسے دو تو اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلے میں فرمایا کہ میں رحیم ہوں تمہاری روحانی بقا اور تمہاری روحانی ترقی کے لئے ضروری تھا کہ تم سے بار بار قربانیاں لی جاتیں اور بار بار اعمال صالحہ کروائے جاتے تاکہ کسی وقت بھی تم اس دنیا میں اپنے معیار سے نیچے نہ گرتے اس لئے اللہ تعالیٰ تم سے یہ وعدہ کرتا ہے کہ میں بار بار تم پر رجوع برحمت ہوں گا کیونکہ میں رحیم ہوں۔
    تو ایسے خدا کے بندے بھی ہیں جو دیہات میں رہنے والے ہیں دیہاتی جماعتوں کو خصوصاً مالی قربانی کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہئے کیونکہ مجھ پر یہ اثر ہے کہ ان کی تربیت ابھی ایسے رنگ میں نہیں ہوئی کہ وہ مالی قربانیاں اس بشاشت کے ساتھ اس حد تک کر سکیں جو ان کا حق ہے اور جس کے نتیجہ میں وہ زیادہ سے زیادہ اس کی رحمتوں کے وارث بن سکتے ہیں۔
    پس اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ جہاں ایسے دیہاتی ہیں جو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کو چٹی سمجھتے ہیں وہاں خدا کے ایسے بندے بھی دیہات میں رہتے ہیں کہ جو میرے راہ میں قربانیاں دیتے ہیں اور میرے فضلوں کے وہ وارث بنتے ہیں اور میری مغفرت کی چادر انہیں ڈھانکتی ہے اور میرا رحم بار بار ان کے لئے جوش میں آتا ہے اور ان کے لئے آرائش اور مسرتوں کے اور آرام کے سامان پیدا کرتا ہے۔
    دیہاتی جماعتوں میں سے بھی بہت سی ایسی جماعتیں ہیں جنہوں نے گذشتہ سال چندوں کی طرف توجہ دی اور بہت سی جماعتیں ایسی بھی جنہوں نے اپنے بجٹ سے زیادہ چندہ جمع کیا اور یہاں بھجوایا لیکن بہت سی جماعتیں ایسی بھی ہیں جو تربیت میں بہت پیچھے ہیں اللہ تعالیٰ کو اموال کی ضرورت نہیں اور اموال کے متعلق ہمیں کبھی فکر نہیں ہوا کیونکہ جو خدا کا کام ہے وہ تو ہو کر رہے گا ہمیں فکر تو ان کمزور بھائیوں کی ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ قربانیاں دے کر اپنے ان مخلص بھائیوں کے ساتھ شامل ہو جائیں اور ان سے پیچھے نہ رہیں جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہر قسم کی قربانیاں دے رہے ہیں ایسے لوگ دیہات میں بھی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورئہ توبہ کی اس آیت میں فرمایا ہے یہ دیہاتی مخلص، فدائی قربانی دینے والے دوسروں کے لئے نمونہ ہیں جو کمزور ہیں انہیں دیکھنا چاہئے کہ قربانیاں دینے والوں کے اموال میں اللہ تعالیٰ کس طرح برکت ڈالتا ہے اور اپنی رحمتوں سے انہیں کس طرح نوازتا ہے اور اس نمونہ کو دیکھ کر ان کی غیرت کو جوش آنا چاہئے کہ ان سے پیچھے نہیں رہنا بلکہ ان سے آگے بڑھنا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو ان سے زیادہ حاصل کرنا ہے آپس میں زمین کی خرید و فروخت میں تم لوگ مقابلہ کرتے رہتے ہو اور بعض دفعہ ناجائز حد تک یہ مقابلہ پہنچ جاتا ہے تو وہ جائز مقابلے جن کی کوئی حدود نہیں ان میں آگے سے آگے بڑھنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق عطا کرے اور اللہ تعالیٰ ہمارے دیہاتیوں کو بھی اور شہر میں بسنے والوں کو بھی یہ توفیق عطا کرے کہ وہ اس کی راہ میں اس کے فرمان کے مطابق اپنا سب کچھ، نفس بھی اور مال بھی قربان کرنے والے ہوں اور خدائے شکور اور خدائے غفور اور خدائے رحیم کے ہر آن جلوے دیکھنے والے ہوں۔
    اللہ تعالیٰ مالی قربانیوں کے متعلق یہ بھی فرمایا ہے یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰـکُمْ (البقرہ:۲۵۵)کہ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو اور جنہوں نے ہماری آواز کو سنا اور اس پر لبیک کہا ہے تم اس میں سے جو ہم نے تم کو دیا ہے اس دن کے آنے سے پہلے کہ جس میں نہ کسی قسم کی خرید و فروخت، نہ دوستی، نہ شفاعت کار گر ہو گی خدا کی راہ میں جو کچھ ہو سکے خرچ کر لو۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس طرف متوجہ کیا ہے کہ حشر کے دن جب ساری مخلوق تمام بنی نوع انسان اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے تو اس وقت تین چیزوں کی ضرورت ہو گی ایک تو کوئی ایسا سودا ہو چکا ہو جو اس دن کام آئے دوسرے کوئی ایسا دوست بنایا جا چکا ہو جس کی دوستی حشر کے دن فائدہ پہنچانے والی ہو اور تیسرے اس دن کوئی سفارش ہو ان تینوں میں سے کوئی چیز یا تینوں جسے حاصل ہو جائیں وہ حشر کے دن شرمندہ نہیں ہو گا بلکہ اللہ تعالیٰ تمام بنی نوع انسان کے سامنے اس کی تعریف کرے گا اسے پیار کی نگاہ سے دیکھے گا پیار کا معاملہ اس سے کرے گا اپنی عظمت اور اپنے حسن کے جلوے اسے دکھائے گا اور اسے ایسا سرور بخشے گا جو کبھی ختم ہونے والا نہیں لیکن وہ لوگ جنہوں نے اس دن کے لئے خرید و فروخت کا سامان پیدا نہیں کیا جن کی ایسے وجود سے دوستی نہیں کہ جو دوستی اس دن کام آ سکے اور جن کا کوئی سفارشی اس دن نہیں وہ تو گھاٹے میں رہے وَالْکٰفِرُوْنَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ (البقرہ :۲۵۵)جو اللہ تعالیٰ کے اپنے دئیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرنے سے ہچکچاتے اور اسے چٹی سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ایسے حکموں کی نافرمانی کرتے ہیں وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے نفسوں پر بڑا ہی ظلم کیا اور اس کا خمیازہ وہ حشر کے دن بھگتیں گے اللہ تعالیٰ نے اس خرید فروخت کا ذکر بھی قرآن کریم میں کیا ہے جو حشر کے دن انسان کے کام آتا ہے۔ فرمایا اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمُ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَ (التوبہ :۱۱۱) اور پھر اسی آیت میں فرمایا فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِکُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِہٖ (التوبہ :۱۱۱) کہ اللہ تعالیٰ نے ایک خرید و فروخت مومنوں سے کی ہے اور وہ یہ ہے کہ مومن اپنی جانیں، اپنے نفوس، اپنے اموال خدا کو دے دیں اور خدا کی راہ میں قربان کر دیں اور اللہ تعالیٰ اس کے بدلے انہیں اپنی جنت عطا کرے گا اور یہ ایک ایسا سودا ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو تم نے بیع کی ہے اس بیع پر خوش ہو جائو یہی سودا تھا جو حشر کے دن کے لئے تم کر سکتے تھے اور تم نے کر لیا۔
    تو یَوْمٌ لاَّبَیْعٌ فِیْہِ(البقرہ :۲۵۵)کا یہ مطلب نہیں کہ کسی قسم کی خرید و فروخت بھی اس دن کام نہیں آئے گی مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ ایسی بیع کی امید لگائے ہوئے ہیں جو اس دن کام نہیں آئے گی وہاں آدمی کے ہاتھ میں توکچھ ہو گا نہیں مرنے کے بعد یہاں سے کون کچھ لے کے جاتا ہے جو کروڑوں کے مالک ہیں وہ بھی اپنی ساری دولت یہیں چھوڑ کے خالی ہاتھ اس کے حضور پہنچتے ہیں لیکن یہاں بعض ایسے سودے بھی ہوتے ہیں جن کا معاوضہ وہاں دیا جاتا ہے یعنی خرید و فروخت ایسی کہ بیچنے والا اس دنیا میں بیچ دیتا ہے اور اس کے بدلے میں جو چیز اس نے لینی ہوتی ہے وہ اس دنیا میں حاصل کرتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسی خرید و فروخت تو وہاں ہو گی کہ فروخت جو ہے وہ اس دنیا میں ہو جائے (انسان کے لحاظ سے) اور اس کے بدلے میں جو ملنا تھا وہ حشر کے دن اسے مل جائے لیکن ایک ایسی بیع بھی ہے جو وہاں کام نہیں آتی جس کا نفع نقصان اسی دنیا میں دیا جاتا ہے۔
    پھر دوستیاں ہیں، اس دنیا میں بعض لوگ ایسی دوستیاں بناتے ہیں جو وہاں کام آنے والی نہیں دوست اور ولی اور خلیل تو بعض دفعہ یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ ہم تمہارے سارے گناہ اٹھا لیں گے تم ہماری ہدایت کے مطابق اپنی زندگیوں کو گذارو لیکن کون ہے جو خدا کے حضور اس کے مقابلہ میں کھڑا ہو؟ اور اپنے دوست کا ہاتھ پکڑ کے خدا کی رضا کی جنت میں لے جائے وہاں تو وہی دوستی کام آ سکتی ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے خود کہا ہو کہ وہاںوہ کام آئے گی اور وہ دوستی وہ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآئَ فَاللّٰہُ ھُوَالْوَلِیُّ ( شوریٰ :۱۰) کہ یہ لوگ اس دنیا میں ایسے دوست بناتے ہیں جن کے متعلق سمجھتے ہیں کہ وہ حشر کے دن کام آئیں گے ایسی خُلَّۃٌ ایسی دوستی حاصل کرتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں کہ اب بیڑا پار ہے لیکن ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہاں کوئی دوستی کام نہ آئے گی سوائے خدا کی محبت اور اس کی دوستی کے فَاللّٰہُ ھُوَ الْوَلِیُّ وہ اکیلا ہی اس دن اور اس کے بعد بھی ان کا ساتھ دے گا یہاں اس نے کچھ آزادیاں دی ہیں اور اس سے منہ موڑنے والے بھی دنیا کی نعمتیں حاصل کر سکتے ہیں لیکن اس دن یہ کیفیت ہو گی کہ اگر وہ قادر و توانا ہمارا ولی بن جائے اور ہمیں اپنی پناہ میں لے لے اگر ہمیں اپنا دوست بنا لے تو پھر ہی ہمیں فائدہ پہنچ سکتا ہے دنیا کی دوستیاں وہاں کام نہیں آ سکتیں۔
    وَلاَشَفَاعَۃٌ پھر سفارش کے ساتھ اس زندگی میں انسان بہت سے کام کروا لیتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہاں کوئی شفاعت کوئی سفارش کام نہیں آئے گی سوائے اللہ کی سفارش کے یا سفارش کے متعلق اللہ تعالیٰ کے اذن کے اِلاَّبِاِذْنِہٖ فرمایا کہ اذن کے بغیر کوئی سفارش مفید نہیں ہو سکتی وہی اللہ کی سفارش ہے یا اللہ تعالیٰ کے اذن سے نبی اکرمﷺ کی سفارش نبی اکرمﷺ کی شان اور آپؐ کے مقام کو بلند کرنے کے لئے اور آپؐ کے مقام کو ساری مخلوق کے سامنے ظاہر کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ بطور شفیع کے بنی نوع انسان کے سامنے اس دن بھی پیش کرے گا لیکن اصل شفاعت تو اللہ ہی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاَنْذِرْبِہِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْٓا اِلٰی رَبِّھِمْ لَیْسَ لَھُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ وَلِیٌّ وَلَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّھُمْ یَتَّقُوْنَ (الانعام :۵۲)کہ اس کلام مجید کے ذریعہ تو ان لوگوں کو تنبیہہ کر جو اس یقین پر پختہ ہیں کہ وہ ایک دن اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے اور ان کو یہ خوف ہے کہ کہیں ان کے پاس اس دن سرخرو ہونے کا سامان نہ ہو کہ اس دن اللہ تعالیٰ کی دوستی اور شفاعت کے علاوہ کوئی دوستی اور شفاعت کام نہ آئے گی۔
    اس لئے قبل اس کے کہ اس دن کا منہ تم دیکھو حشر کے دن خدا کے سامنے پیش ہو ہمارے اس حکم کو سنو اور اس کو یاد رکھو اور اس پر عمل کرو کہ اپنے اموال میں سے اور اپنی قوتوں اور استعدادوں میں سے غرضیکہ ہر اس چیز سے جو ہم نے تمہیں عطا کی ہے اس کی راہ میں خرچ کرو کیونکہ اس دن خرید و فروخت وہی کام آئے گی جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ اس دن وہ کام آئے اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَ (التوبہ :۱۱۱) اس کے سوا اس دن کوئی خرید فروخت کام نہیں آئے گی نہ کوئی مال ہو گا کہ اس دن کوئی خرید و فروخت کی جا سکے دوستیاں کام نہیں آئیں گی پس اپنا تعلق دوستی کا اپنے ربّ سے آج پیدا کر لو کہ سوائے اللہ کی دوستی اور اس کے پیار اور اس کی پناہ کے اور کوئی پناہ اور پیار اور دوستی وہاں کام نہیں آ سکے گی۔ وَلاَشَفَاعَۃٌ اس دنیا میں جو تمہیں عادت پڑی ہے کہ سفارش کے ذریعہ اپنے لئے وہ چیزیں بھی حاصل کر لو جن کا تمہیں حق نہیں ہے اس قسم کا وہاں ماحول نہیں ہو گا۔
    کوئی شفاعت، کوئی سفارش اس دن کام نہ آئے گی سوائے اس شفاعت کے جس کے متعلق آج خدا اعلان کرتا ہے اور جو خود اللہ تعالیٰ کی شفاعت ہے یا وہ جس کو خدا اذن دے اس کی شفاعت بھی قبول ہو گی تو یہ دن بڑا سخت ہے اور یہ حشر کا دن ایسا ہے کہ کوئی تجارت، کوئی دوستی، کوئی شفاعت کام نہیں آئے گی اس کے لئے ہم نے خود اپنے لئے تیاری کرنی ہے اگر ہم اس دنیا میں اپنی محبت کے ذریعہ اپنی بے نفسی کے نتیجہ میں اور اپنی قربانیوں کے ساتھ اپنے ربّ کو راضی کر لیتے ہیں اور وہ یہ فیصلہ کر دیتا ہے کہ یہ مال میں نے تمہارا قبول کیا اور اس کے بدلے میں جو میرے وعدے ہیں تمہارے حق میں پورے ہوں گے جب وہ اس دنیا میں یہ اعلان کر دیتا ہے کہ میں تمہارا دوست اور ولی ہوں جب وہ اس دنیا میں کہہ دیتا ہے کہ گھبرانا نہیں تم میری شفاعت کے سایہ اور محمد رسول اللہﷺ کی شفاعت کے سایہ کے نیچے ہو، تب یہ تین چیزیں تمہارے کام آ سکتی ہیں اور تب یہ تین چیزیں تمہارے کام آئیں گی اس کے بغیر اس کے علاوہ کوئی تجارت، کوئی دوستی، کوئی شفاعت تمہارے کام نہیں آ سکتی اس لئے اس دن سے پہلے اس دنیا میں اپنے لئے ان تین چیزوں کا سامان پیدا کرنے کی کوشش کرو ۔
    اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا کرے وہ ہمارے سَودوں کو قبول بھی کرے وہ ہمارا ولی بھی بن جائے وہ ہمارا شفیع بھی ہو جائے اور اپنی مغفرت اور اپنی رحمت کی چادر میں ہمیں لے لے اور ہمیں وہ ملے جس کا اس نے اپنے پاک بندوں سے وعدہ کیا ہے اور ہمارے گناہ ہمارے لئے جہنم خریدنے والے نہ ہوں بلکہ اس طرح ڈھانک دئے جائیں کہ اس کے فرشتوں کو ہاں خود ہمیں بھی نظر نہ آئیں۔ (آمین)
    (روزنامہ الفضل ربوہ مورخہ ۳۱ ؍مئی ۱۹۶۸ء صفحہ۲ تا۵)
    ٭…٭…٭

    خطبہ جمعہ ۱۷؍ مئی ۱۹۶۸ء
    ء ء ء
    ’’حضور علالت طبع کے باعث نماز جمعہ پڑھانے تشریف نہیں لا سکے‘‘۔
    (الفضل ۱۹؍ مئی ۱۹۶۸ء صفحہ۱)
    ٭…٭…٭

    خوف خدا کے تحت تمام برائیوں سے بچا جائے۔ محبت الٰہی کی ہر راہ کو اختیار کیا جائے۔ قربانی کی ہر راہ پر گامزن رہا جائے
    (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۴ ؍ مئی ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ ربوہ )
    ء ء ء
    ٭ اُخروی زندگی میں جو فلاح اور ابدی حیات ایک مومن کو ملے گی وہ چار خصوصیات کی حامل ہوگی۔
    ٭ تقویٰ کے معنی ہیں اپنے نفس کو گناہ اور معاصی اور نواہی کے ارتقاب سے بچائے۔
    ٭ اپنے ربّ کی طرف پہنچانے والی ہر راہ کو تلاش کرو۔
    ٭ قرآن کریم کی ہدایات اور احکام سے دلی پیار اور محبت کرو۔
    ٭ ان راہوں پر گامزن ہو جن پر چل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے مقرب بنے ۔




    تشہد ، تعوذ اور سورئہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت قرآنیہ کی تلاوت فرمائی۔
    یٰـٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ وَابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ وَجَاھِدُوْا فِيْ سَبِیْلِہٖ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَo(المائدہ :۳۶ )
    اس کے بعد فرمایا:۔
    گذشتہ دنوں مجھے نقرس کی شدید تکلیف رہی گو اب بہت حد تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے افاقہ ہے لیکن ابھی کچھ تکلیف باقی ہے اسی طرح چند دن نزلہ کا بھی بڑا شدید حملہ رہا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب افاقہ ہے گو ہر دو بیماریوں کی وجہ سے نقاہت اور ضعف ابھی باقی ہے لیکن چونکہ جمعہ ہمارے لئے ملاقات اور وعظ و نصیحت کا ایک دن ہے اس لئے میں نے سوچا میں جمعہ کیلئے آ جائوں خواہ ایک مختصر سا خطبہ ہی دوں لیکن ملاقات ہو جائے گی اور نیکی کی کچھ باتیں میں اپنے دوستوں کے کانوں میں ڈال سکوں گا۔
    جو مختصر سی آیت اس وقت میں نے تلاوت کی ہے اس میں نہایت حسین پیرایہ میں ایک نہایت ہی بنیادی اہمیت کا مضمون بیان ہوا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کی کتب اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے کی کوئی غرض ہوتی ہے انسان کسی مقصد کے پیش نظر دنیا سے منہ موڑتا اور دنیا والوں کی دشمنی خرید کر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا اور یہ اعلان کرتا ہے کہ میں اپنے ربّ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس کو جیسا کہ وہ چاہتا ہے اپنی ذات میں کامل اور اپنی صفات میں کامل سمجھے گا اور اس بات پر یقین کرنے کا اعلان کرتا ہوں اسی طرح وہ یہ اعلان کرتا ہے کہ میں اس کے رسول اور اس کی کتاب پر ایمان لایا ہوں اور جو پہلے رسول گزرے ہیں اور جو کتب نازل ہوئی ہیں ان پر بھی ایمان لایا ہوں اور اِیْمَان بِاللّٰہ، اِیْمَان بِالرُّسُل اور اِیْمَان بِالْکُتُب کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ انسان فلاح دارین حاصل کرے اور اس زندگی میں بھی وہ خدا میں ہو کر با آرام زندگی پائے اور اخروی زندگی (جو مرنے کے بعد انسان کو یقینا ملنے والی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان سے وعدہ کیا ہے) میں بھی وہ فلاح کو حاصل کرے۔ فلاح کے معنی انتہائی کامیابی کے ہیں اور امام راغب نے اپنی کتاب مفردات میں لکھا ہے کہ اُخروی زندگی میں جو فلاح اور ابدی حیات طیبہ ایک مومن کو ملے گی وہ چار خصوصیات کی حامل ہو گی۔ چار باتیں اس میں پائی جائیں گی اور وہ یہ ہیں۔
    (۱) ایک ایسی ابدی زندگی جس پر کبھی فنا نہ آئے۔
    (۲) ایک ایسی تو نگری جس کے ساتھ کوئی احتیاج نہ رہے۔
    (۳) اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ایسی عزت کہ جس کے ساتھ شیطانی ذلت کے اندھیرے کبھی اکٹھے نہیں ہوسکتے۔
    (۴) وَعِلْمٌ بِـلَاجَھْلٍاور وہ حقیقی علم جو جہالت کی تمام ظلمتیں اور اس کے اندھیروں کو دور کر دیتا ہے۔
    پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اس غرض سے ایمان لائے ہو کہ ایک ابدی حیات تمہیں حاصل ہو وہ حیات طیبہ تمہیں ملے جو ابدی فیوض کی حامل اور خداتعالیٰ سے نئے سے نئے اور زیادہ سے زیادہ فیض اور برکتیں اور رحمتیں حاصل کرنے والی ہو اور یہ ایک ایسی زندگی ہے جس کا تصور بھی ہم یہاں اس دنیا میں نہیں کر سکتے۔
    جہاں تک غنا اور احتیاج کا سوال ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو چاہو گے تمہیں مل جائے گا اس سے زیادہ اور کیا غنا ہو سکتی ہے عزت کی ایک نگاہ بھی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے کسی بندہ پر پڑے وہ بھی بڑی ہے لیکن جس زندگی کے متعلق یہ وعدہ ہو کہ اس کے ہر لمحہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا کی نگاہیں ایک عاجز انسان پر پڑتی رہیں گی اس سے بڑھ کر اور کیا عزت ہو گی پھر علم اور علم کی زیادتی کا یہ حال کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے متعلق ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ فرماتا ہے یعنی مومن ہدایت کے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے کچھ مقامات حاصل کرتا ہے تو کچھ اور نئی راہیں اس پر کھول دی جاتی ہیں پھر وہ ایک نئے بلند تر مقام پر پہنچتا ہے تو قرب کی کچھ اور راہیں اس پر کھولی جاتی ہیں یہ ہدایت اور علم ایسا نہیں جس پر انسان ایک وقت میں احاطہ کر لے اور سیر ہو جائے اور پھر تشنگی کا احساس اس کے اندر پیدا نہ ہو بلکہ یہ وہ علم اور ہدایت ہے جو ہر لمحہ بڑھتا ہے وہ علم جو ہر لمحہ انسان کو خداتعالیٰ سے قریب سے قریب تر لے جاتا ہے وہ علم ہے جس پر شیطان کی یلغار کا امکان ہی نہیں کیونکہ جنت کے دروازے شیطان پر بند ہو چکے ہیں۔
    غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس قسم کی ابدی حیات طیبہ کے حصول کے لئے تم ایمان لاتے ہو اور میری آواز پر لبیک کہتے ہو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اس اعلان ایمان کے نتیجہ میں تین قسم کی ذمہ داریاں تم پر عائد ہوتی ہیں اور تین تقاضے ہیں جو یہ ایمان انسان سے کرتا ہے۔
    پہلا تقاضا اس کا یہ ہے کہ اِتَّقُوْاللّٰہَ انسان ایمان سے قبل بہت سی بدیوں اور بد عادتوں اور بدرسوم اور شیطانی خیالات میں پھنسا ہوا ہوتا ہے۔ ایمان کے ساتھ ہی اس کو یہ ساری برائیاں چھوڑنی پڑتی ہیں اور چھوڑنی چاہئیں اگر وہ ایمان میں سچا ہے تقویٰ کے معنی ہیں اپنے نفس کو گناہ اور معاصی اور نواہی کے ارتکاب سے انسان اس لئے بچائے کہ کہیں اس کا ربّ اس سے ناراض نہ ہو جائے پس جب ایمان حقیقی ہو اور اس کے ساتھ جیسا کہ چاہئے معرفت اور عرفان بھی ہو تو ایمان کا پہلا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ ساری برائیوں اور بدیوں اور بد رسوموں اور بد عادتوں اور بد خیالات اور بد خواہشوں اور گند سے میلان طبع کو انسان اپنے ربّ کی خاطر چھوڑ دے غرض تمام گناہوں اور معاصی سے بچنے کا نام تقویٰ ہے اور عقلاً بھی انسان سے پہلا مطالبہ یہی ہونا چاہئے کیونکہ جب تم کہتے ہو کہ ہم خدا پر ایمان لائے تو عقل کہتی ہے کہ اب تم کسی ایسی چیز کی طرف متوجہ نہ ہونا جو تمہارے ربّ کی پسندیدہ نہیں جس سے وہ ناراض ہو جاتا ہے پس پہلا تقاضا ایمان ہم سے یہ کرتا ہے کہ ہم ہر اس چیز سے بچیں جو ہمارے ربّ کو پسندیدہ اور پیاری نہیں ہے۔
    دوسری ذمہ داری ہم پر یہ عائد ہوتی ہے یا یوں کہو کہ دوسرا تقاضا ایمان ہم سے یہ کرتا ہے کہ وَابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ یعنی مقام خوف جس کا تقویٰ میں ذکر ہے صرف وہ کافی نہیں بلکہ اس کے بعد مقام محبت میں داخل ہونا ضروری ہے اور انسان کے دل کی یہ حالت ہونی چاہئے کہ وہ دلی تڑپ اور شوق اور رغبت کے ساتھ ان راہوں کو ڈھونڈے جو راہیں کہ اس ربّ کی طرف لے جانے والی ہیں جب غرباء کی ایک جماعت نبی اکرمﷺ کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوئی تھی کہ امیر کچھ ایسی نیکیاں کرتے ہیں جو غریب بجا نہیں لا سکتے اس لئے انہیں کچھ عبادتیں بتائی جائیں کہ وہ ان کے ذریعہ اس کمی کو پورا کر سکیں تو ان کے دل کی یہ خواہش وَابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ ہی کا ایک نظارہ ہمارے سامنے پیش کر رہی ہے پس مومن کے دل کی یہ کیفیت ہونی چاہئے کہ ہر اس راہ کو تلاش کرے جو راہ اسے اس کے ربّ کی طرف پہنچانے والی ہو اور جس پر چل کر وہ اپنے ربّ کا قرب حاصل کرنے والا ہو۔ وَاسِلٌ کے معنی اللہ کی طرف راغب کے ہیں یعنی جو شخص اللہ کی طرف راغب ہو اسے عربی زبان میں وَاسِلٌ کہتے ہیں اور مفردات راغب میں ہے کہ وسیلہ کی حقیقت یہ ہے کہ قرب کی راہوں کی معرفت اور عرفان شوق سے حاصل کیا جائے (میں لفظی ترجمہ نہیں کر رہا بلکہ انہوں نے جو معنے کئے ہیں ان کا مفہوم اپنی زبان میں بیان کر رہا ہوں) اسی طرح قرب کی راہیں جو انسان پر کھلیں ان راہوں پر شوق سے چلا جائے اس کو انہوں نے عبادت کے نام سے پکارا ہے شریعت اسلامیہ کے جو احکام ہیں اور وقت اور حالات اور مقام اور ماحول کے مطابق جو بہترین ہدایتیں ہوں ان بہترین ہدایتوں پر دلی رغبت سے عمل کیا جائے تاکہ اللہ تعالیٰ انسان سے خوش ہو جائے۔
    پس ایک معنی وَابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ کے یہ ہیں کہ ان راہوں کی دلی رغبت اور شوق کے ساتھ تلاش جو خدا کی طرف لے جاتی اور انسان کو خداتعالیٰ کا مقرب بنا دیتی ہیں پھر وَسِیْلَۃَ کے ایک معنی ہم قران کریم کے بھی کر سکتے ہیں کیونکہ قرآن کریم نے بڑی وضاحت کے ساتھ ان راہوں کی نشان دہی کی ہے جو راہیں کہ خداتعالیٰ کی طرف لے جانے والی ہیں اور اس صورت میں وَابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ کے یہ معنی ہوں گے کہ قرآن کریم کی ہدایات اور احکام سے دلی پیار اور محبت کرو تا تمہیں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو جائے پھر وَسِیْلَۃَ کے ایک معنی نبی اکرمﷺ کے بھی کئے جا سکتے ہیں اس کی طرف خود قرآن کریم نے سورئہ بنی اسرائیل میں اشارہ فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
    اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰی رَبِّھِمُ الْوَسِیْلَۃَ اَیُّھُمْ اَقْرَبُ (بنی اسرائیل :۵۸)
    کہ انسانوں میں سے جن کو مشرک معبود بناتے ہیں وہ خود ایسے لوگوں کی تلاش میں رہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر چکے ہوں اور جن کی مدد سے یا جن کے اُسوہ پر چل کر وہ بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کر سکیں ایک مومن تو ان سے بھی زیادہ اُسوہ کی تلاش کی تڑپ اپنے اندر رکھتا ہے اور جب ہم اَیُّھُمْ اَقْرَبُ کے مفہوم کی روشنی میں جو وسیلہ کے اندر پایا جاتا ہے اور جسے سورہ بنی اسرائیل کی یہ آیت واضح کرتی ہے وَابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ پر غور کریں تو ہم یہ معنی بھی کر سکتے ہیں کہ قرب الٰہی کی راہوں کی تلاش میں اُسوہ حسنہ کی تلاش کرو یعنی نبی اکرمﷺ جن راہوں پر گامزن ہو کر اللہ تعالیٰ کے مقرب بنے تم بھی ان راہوں کو اختیار کرو کیونکہ آپ ہی کامل اُسوہ ہیں تمہارے سامنے چونکہ ایک مثال پہلے سے موجود ہے اس لئے تم انہیں زیادہ آسانی سے پا سکو گے اور آپ کے اُسوہ کو سامنے رکھ کر اور آپ کی نقل کرتے ہوئے خداتعالیٰ کے قرب کو زیادہ سہولت کے ساتھ حاصل کر سکو گے غرض دوسری ذمہ داری جو ایمان کی وجہ سے کسی انسان پر عائد ہوتی ہے وہ اس آیت میں وَابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ بتائی گئی ہے۔ لغت والے لکھتے ہیں کہ الْوَسِیْلَۃَ کے اندر یہ مفہوم پایا جاتا ہے کہ قرب الٰہی کی راہوں کو رغبت اور شوق کے ساتھ تلاش کیا جائے پس وَابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ کے یہ معنی ہوئے کہ تم شوق اور رغبت کے ساتھ ان راہوں کو تلاش کرو جو خدا تک لے جاتی ہیں۔
    بعض لوگ یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم بڑی مالی قربانیاں دیتے ہیں نمازوں میں باقاعدگی نہ ہوئی تو کیا ہوا وہ وَابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ پر عمل نہیں کر رہے ہوتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مومن کی یہ شان بتائی ہے کہ وہ قرب کی ہرراہ سے محبت اور پیار اور رغبت اور شوق کا تعلق رکھتا ہے یہ نہیں کہ وہ بعض راہوں پر چلے اور بعض راہوں کو چھوڑ دے۔
    پھر بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ’’جی سارا دن عبادت کر دے رہندے آں چندے نہ دتے تے کیہ ہو گیا‘‘ حالانکہ ہر قرب کی راہ کو بشاشت سے قبول کرنا چاہئے اور اس کے ساتھ پیار کرنا چاہئے اور یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہماری زندگی کا ہر راستہ ہمارے ربّ تک پہنچانے والا ہوتا کہ ہم اس کی رضا کو زیادہ حاصل کر سکیں وَابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ کا ہی مظاہرہ تھا کہ بعض صحابہؓ کے متعلق آتا ہے کہ چاہے انہیں پیشاب کی حاجت نہ ہوتی وہ بعض جگہ پیشاب کرنے کے لئے بیٹھ جاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم نے نبی اکرمﷺ کو یہاں پیشاب کرتے دیکھا تھا اس لئے ہم رہ نہیں سکے اور ہم نے یہاں پیشاب کیا ہے بظاہر اس فعل میں کوئی دینی چیز نہیں لیکن اس کے پیچھے جو محبت کام کر رہی ہے وہ بڑی عجیب ہے۔ اللہ تعالیٰ یقینا ایسے جذبات کو قبول کرتا ہے یہ چیز انسان کو کہیں سے کہیں اُٹھا کر لے جاتی ہے غرض وَابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ میں ہمیں اس طرف متوجہ کیا ہے کہ ہم نے قرب کی ہر راہ سے پیار کرنا ہے یہ نہیں کہ بعض راہوں کو لے لیا اور بعض کو چھوڑ دیا۔
    جب خداتعالیٰ کی طرف لے جانے والی راہوں کی تعیین ہو گئی اور ان راہوں سے پیار ہو گیا تو پھر ایمان کا تیسرا تقاضا یہ ہے کہ جَاھِدُوْا فِیْ سَبِیْلِہٖ دراصل جیسا کہ میں نے پہلے اشارہ کیا ہے وَابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ کا تعلق محبت الٰہی کے ساتھ ہے جیسا کہ اِتَّقُوْا اللّٰہ کا تعلق خوفِ الٰہی کے ساتھ ہے پھر جَاھِدُوْا فِيْ سَبِیْلِہٖ جس وقت انسان صحیح معنی میں اپنے ربّ کو پہچاننے لگتا ہے اور اس کی ذات اور اس کی صفات کاملہ حسنہ کا کامل عرفان حاصل کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی بڑی ہی قدر اور عزت انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے اس کی عزت اور عظمت اور اس کا جلال کچھ اس طرح دل میں بیٹھ جاتا ہے کہ دنیا کی ہر چیز اس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں رہتی وہ ہیچ نظر آتی ہے قدر دانی کا یہ جذبہ محبت اور خوف سے جداگانہ ہے اور میں سمجھتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ تجربہ رکھنے والے اس پر گواہی دیں گے کہ یہ خوف اور محبت کے جذبہ سے بلند تر ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خوف اور محبت کے بعد جب تم واقعہ میں اللہ تعالیٰ کو پہچاننے لگے اور اس کی معرفت تمہیں حاصل ہو گئی تو پھر تم اس بات سے رہ نہیں سکتے کہ اس کے راستہ میں جہاد کرو یعنی وہ راہ جب مل گئی تو دنیا کی ہر تکلیف برداشت کرتے ہوئے ہر قربانی دے کر اس راہ پر گامزن رہنا یہ مجاہدہ ہے۔ مال کی قربانی ہے، نفس کی قربانی ہے، جان کی قربانی ہے، اوقات کی قربانی ہے، عزتوں کی قربانی ہے اور اولاد کی قربانی ہے ہر قسم کی قربانی ہے جس کا مطالبہ ’’جَاھِدُوْا‘‘ ہم سے کرتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کا مقام انسان نے پہچان لیا تو وہ کہاں بخل کرے گا بخل تو ایسے دل اور ایسے دماغ میں داخل ہو نہیں سکتا وہ تو یہ کہے گا کہ ہر چیز خدا کی راہ میں قربان ہے اور یہ تیسری ذمہ داری ہے جو خداتعالیٰ نے انسان پر ڈالی ہے۔
    پس اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اوّل خدا کا خوف پیدا ہو اور انسان تمام برائیوں کو چھوڑ دے پھر خدا کی محبت پیدا ہو اور انسان نیکی کی ہر راہ پر گامزن ہونے کے لئے تیار ہو جائے اور خداتعالیٰ کی قدر اور اس کی عظمت اور اس کا جلال اس کے دل کو اپنے قبضہ میں لے لے اور اس کی راہ میں ہر چیز قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائے جَاھِدُوْا فِیْ سَبِیْلِہ اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالو اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنِ۔
    جب یہ تینوں مطالبے تم پورے کرو گے لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ تب ہی تم اس فلاح دارین کو حاصل کرو گے جو تمہارے ایمان کی غرض ہے اگر تم ایمان کا دعویٰ کرو لیکن ان مطالبات کو پورا نہ کرو تو تم فلاح دارین حاصل نہیں کر سکتے تمہارے جیسا بد بخت اور بد قسمت پھر کوئی نہیں ہو گا کہ جس کے ہاتھ میں نہ دنیا رہی نہ دین رہا دنیا دار دین کی وجہ سے اس سے پیچھے ہٹ گئے اور ناراض ہو گئے اور خدا کے سامنے اس کے اعمال پیش کئے گئے تو ان میں ہزار کیڑے دنیا کے نکلے اور خداتعالیٰ نے بھی انہیں رد کر دیا۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں اس بات کی توفیق عطا کرے کہ ہم واقعہ میں حقیقی مومن بن جائیں اور ایمان کے ہرسہ تقاضوں کو پورا کرنے والے ہوں اور محض اس کے فضل سے ہم فلاح دارین حاصل کریں یعنی اس دنیا میں بھی باآرام زندگی پائیں اور اس دنیا میں بھی ابدی بقا، لِقا اور رضا ہمیں حاصل ہو تا کہ ہم اپنی زندگی کے مقصد اور مطلوب کو حاصل کر سکیں اور دنیا جو ان راہوں کو پہچانتی نہیں اور ہمیں تمسخر اور استہزاء سے دیکھ رہی ہے وہ دیکھے کہ خدا کی راہ میں ذلتیں اٹھانے والے ہی عزتوں کے وارث قرار دئیے جاتے ہیں اور اس کی راہ میں دکھ پانے والے ہی ابدی سرور اور لذت حاصل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ دنیا کی بھی آنکھیں کھولے اور اپنے قرب کی راہوں کی طرف ان کو ہدایت دے اور انسانی زندگی کا جو مقصد ہے وہ ان کی زندگیوں میں بھی پورا ہو۔ آمین
    (روزنامہ الفضل ۲۲ ؍جون ۱۹۶۸ء صفحہ۲تا۴)
    ٭…٭…٭
    حقیقی عبادت کیلئے اللہ تعالیٰ کی مدد اور اُس کا فضل بھی ضروری ہے
    (خطبہ جمعہ فرمودہ ۳۱ ؍ مئی ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ ربوہ۔ غیر مطبوعہ)
    ء ء ء
    ٭ حقوق العباد بھی دراصل حقوق اللہ کی ایک شاخ ہیں کیونکہ اگر حقوق اللہ نہ ہوتے تو حقوق العباد بھی نہ ہوتے۔
    ٭ حقیقی عبادت کے لئے اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کا فضل بھی ضروری ہے۔
    ٭ اگر ہماری نماز، ہمارے روزے، ہماری زکوٰۃ اور ہماری دوسری عبادتیں زندہ ہیں تو وہ قبول ہونگی۔
    ٭ اپنی نفسانی خواہشات کی گردن پر چھری پھیر کر انہیں اپنے ربّ کے قدموں میں ڈالیں۔
    ٭ اللہ تعالیٰ کی کامل ہستی اس کی قدرت اور اس کی دوسری صفات حسنہ پر ہمیں یقین کامل ہونا چاہئے۔



    تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔
    اللہ تعالیٰ کے فضل سے میری بیماری تو بہت حد تک دور ہو گئی ہے لیکن ضعف ابھی چل رہا ہے اور بعض دفعہ کافی تکلیف بھی دیتا ہے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ کامل صحت اور طاقت اور ہمت دے تاکہ ان ذمہ داریوں کو اللہ کی مرضی کے مطابق مَیں نباہ سکوں جو ذمہ داریاں اس نے مجھ پر ڈالی ہیں۔
    اس وقت میں مختصراً جماعت کو ایک بنیادی اور بڑے ہی اہم مسئلہ کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک خاص غرض اور مقصد کے پیش نظر پیدا کیا ہے اور وہ مقصد یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے اس کی صحیح اور حقیقی پرستش کرے اور اس کا بندہ بن جائے اور ان انعاموں کو وہ حاصل کرے جو اس نے اپنے حقیقی اور خالص بندوں کے لئے مقدر کر رکھے ہیں۔
    اصولی طور پر دو حقوق انسان پر عائد ہوتے ہیں ایک اللہ کا حق ہے اور ایک وہ جنہیں ہم حقوق العباد کہتے ہیں حقوق العباد بھی دراصل حقوق اللہ کی ایک شاخ ہی ہے کیونکہ اگر حقوق اللہ نہ ہوتے تو حقوق العباد بھی نہ ہوتے اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اخلاق صحیحہ وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ماننے والے اور اس کے احکام کی رعایت رکھنے والے ظاہر کرتے ہیں اگر اللہ نہ ہو یا اگر اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو یا اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لئے آسمانی صحیفے اور ہدایتیں نازل نہ ہوں تو پھر اخلاق بے معنی ہو جاتے ہیں ان حالات میں انسان خود غرضی کا نام اخلاق رکھ دیتا ہے پس بنیادی طور پر ایک ہی فریضہ ہے جسے انسان نے ادا کرنا ہے اور ایک ہی حق ہے جس کو پورا کرنے کی اس نے کوشش کرنی ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ اپنے اللہ کا بندہ بن جائے اور اس کی حقیقی پرستش کرنے والا ہو۔
    قرآن کریم نے ہمیں بتایا ہے کہ حقیقی عبادت کے لئے اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کا فضل بھی ضروری ہیں ان کے بغیر انسان پرستش عبادت اور عبودیت کا حق ادا نہیں کر سکتااور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتایا ہے کہ جب انسان اللہ کے اس حق کو ادا کرتا ہے اپنے اس فریضہ کو بجا لاتا ہے تو اس کے مقابلہ میں اسے انعام بھی دیا جاتا ہے اس انعام کے متعلق قرآن کریم نے تفصیل سے بیان کیا ہے اس کا تعلق اس دنیا سے بھی ہے اور اُخروی زندگی کے ساتھ بھی ہے۔ جنت کے ایک انعام کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس طرح بھی کیا ہے کہ جو تم مانگو وہ تمہیں مل جائے گا یعنی تمہارا سارا ہی وجود اس طرح خط مستقیم پر قائم ہو گا کہ تمہاری کوئی خواہش تمہاری کوئی مرضی تمہاری کوئی دعا اور مطالبہ ایسا نہیں ہو گا جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے خلاف ہو اور چونکہ تمہاری خواہش اور اللہ کی مرضی اکٹھے ہو جائیں گے اس لئے جو تم چاہو گے وہ تمہیں مل جایا کرے گا۔
    اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر چونکہ حقیقی پرستش نہیں کی جا سکتی اس لئے عبادت کا حق ادا کرنے کے لئے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم اس کے حضور عاجزانہ دعائوں سے جھکیں کہ اپنی کوشش سے ہم اس حق کو ادا نہیں کر سکتے اس لئے شروع میں ہی اللہ تعالیٰ نے سورہ فاتحہ میں اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ فرمایا اور ہمیں اس طرف متوجہ کیا کہ اگر تم صحیح طریق پر عبادت کرنا چاہتے ہو تو اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ یہ دعا کرتے رہا کرو کہ اے خدا عبادت کی خواہش تو ہم رکھتے ہیں لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اپنی قوت اور طاقت سے ہم اس فرض کو پورا نہیں کر سکیں گے جب تک تیری مدد ہمارے شامل حال نہ ہو اس لئے تو ہم پر رحم کر اور ہماری مدد کو آ اور ہمیں توفیق عطا کر کہ ہم تیری عبادت کو کما حقہ پورا کر سکیں۔
    اسی سورۃ میں انعام کی طرف بھی اصولاً اور بڑے حسین پیرایہ میں متوجہ کیا ہے آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ اپنے اللہ اور محمد رسول اللہﷺ کو پہچاننے کی وجہ سے ہمارے دل میں جو سب سے بڑی تڑپ پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ بنی نوع انسان اپنے ربّ کو پہچانیں اور محمد رسول اللہﷺ کے احسان کو مانتے ہوئے آپؐ پر درود بھیجنے لگیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے وارث ہوں اگر اور جب ہماری عبادت قبول ہو جائے اور خدا ہمیں کہے کہ میں جیسا کہ تیری خواہش تھی تمہاری مدد کو آیا اور میں نے تمہیں توفیق عطا کی کہ تم صحیح معنی میں میرے عبادت گزار بندے بن جائو اب میں تمہیں انعام دینا چاہتا ہوں بتائو کیا لینا چاہتے ہو؟ تو ہم میں سے ہر احمدی کی یہ ندا ہو کہ اے میرے ربّ تو نے ہم پر بڑا احسان کیا کہ ہمیں عبادت کی توفیق عطا کی تو نے ہم بڑا احسان کیا کہ تو نے ہماری ان عبادتوں کو قبول کیا اور تو ہم بڑا احسان کر رہا ہے کہ ان عبادتوں کو قبول کرنے کے بعد ہمیں اپنے فضلوں اور انعاموں سے نوازنا چاہتا ہے۔ ہماری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ اس دنیا میں بسنے والے تمام ہمارے انسان بھائی تمہیں پہچاننے لگیں اور محمد رسول اللہﷺ جو تعلیم دنیا کی بہتری کے لئے لائے تھے وہ اپنی گردنیں اس تعلیم کے جوئے کے نیچے رکھ دیں اور ابدی جنتوں کے ہماری طرح وہ بھی وارث ہوں۔
    پرستش کا دعویٰ کرنا اور یہ کہنا کہ ہم عبادت کر رہے ہیں آسان ہے لیکن کرنا مشکل ہے کیونکہ عبادت صرف نمازیں پڑھنے کا نام نہیں قیام رکوع اور سجود کو ظاہری شکل میں بجا لانے کا نام ہی عبادت نہیں ہے خالی زکوٰۃ دے دینا بھی عبادت نہیں محض روزے رکھنا بھی عبادت نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک روح ہے جس کی ضرورت ہے اگر ہماری نماز، اگر ہمارے روزے، اگر ہماری زکوٰۃ اور اگر ہماری دوسری عبادات زندہ ہیں تو وہ قبول ہوں گی اگر مردہ ہیں تو جو مردوں سے سلوک کیا جاتا ہے وہی ان سے کیا جائے گا پرستش کرنے کے لئے جس چیز کی ضرورت ہے پس روح کی ضرورت ہے جس کے لئے ہم اپنے ربّ سے دعائیں مانگتے ہیں وہ یہ ہے کہ سب سے پہلے ہم غیراللہ کے وجود کو مٹائیں اور غیراللہ میں پہلا وجود ہمارے اپنے نفس کا ہوتا ہے اگر ہم اپنے ہی ہاتھ سے اپنی نفسانی خواہشات کی گردن پر چھری پھیر کر انہیں اپنے ربّ کے قدموں میں نہ لا ڈالیں تو ہماری عبادت کیسے قبول ہو گی اللہ کہے گا کہ آدھے تم میری طرف جھکے اور آدھے تم اپنے نفسوں کی پرستش میں مصروف رہے اس قسم کی عبادتوں کو میں پسند نہیں کرتا حقیقی عبادت جیسا کہ خدا چاہتا ہے کہ ہم اس کی کریں اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ ارشاد ہے جو میں اس وقت پڑھ دیتا ہوں اور جس پر میں آج اپنے مختصر سے خطبہ کو ختم کروں گا۔ آپ فرماتے ہیں:۔
    ’’انسان خدا کی پرستش کا دعویٰ کرتا ہے۔ مگر کیا پرستش صرف بہت سے سجدوں اور رکوع اور قیام سے ہو سکتی ہے یا بہت مرتبہ تسبیح کے دانے پھیرنے والے پرستار الٰہی کہلا سکتے ہیں بلکہ پرستش اس سے ہو سکتی ہے جس کو خدا کی محبت اس درجہ پر اپنی طرف کھینچے کہ اس کا اپنا وجود درمیان سے اٹھ جائے اوّل خدا کی ہستی پر پورا یقین ہو‘‘ ۔
    (حقیقتہ الوحی روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ۵۴)
    اس طرف ہمیں خاص توجہ دینی چاہئے نام تو ہم اللہ کا لیتے رہتے ہیں اس کے نشان بھی بڑی کثرت سے ہماری جماعت دیکھتی ہے مگر وہ یقین کامل جو اس کی کامل ہستی اور اس کی قدرت اور اس کی دوسری صفات حسنہ پر ہونا چاہئے بعض دفعہ بعض احمدیوں کے دل میں بھی ان کے متعلق کمزوری پیدا ہو جاتی ہے اس متاع حسین اور بڑی قیمتی متاع کی حفاظت ہر وقت ہر احمدی کو کرتے رہنا چاہئے۔
    آپ فرماتے ہیں:۔
    ’’اوّل خدا کی ہستی پر پورا یقین ہو اور پھر خدا کے حسن و احسان پر پوری اطلاع ہو اور پھر اس سے محبت کا تعلق ایسا ہو کہ سوزش محبت ہر وقت سینہ میں موجود ہو اور یہ حالت ہر ایک دم چہرہ پر ظاہر ہو اور خدا کی عظمت دل میں ایسی ہو کہ تمام دنیا اس کی ہستی کے آگے مردہ متصور ہو اور ہر ایک خوف اسی کی ذات سے وابستہ ہو اور اس کی درد میں لذت ہو اور اسی کی خلوت میں راحت ہو اور اس کی بغیر دل کو کسی کے ساتھ قرار نہ ہو اگر ایسی حالت ہو جائے تو اس کا نام پرستش ہے مگر یہ حالت بجز خداتعالیٰ کی خاص مدد کے کیونکر پیدا ہو اسی لئے خداتعالیٰ نے یہ دعا سکھلائی اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ یعنی ہم تیری پرستش تو کرتے ہیں مگر کہاں حق پرستش ادا کر سکتے ہیں جب تک تیری طرف سے خاص مدد نہ ہو خدا کو اپنا حقیقی محبوب قرار دے کر اس کی پرستش کرنا یہی ولایت ہے جس سے آگے کوئی درجہ نہیں مگر یہ درجہ بغیر اس کی مدد کے حاصل نہیں ہو سکتا اس کے حاصل ہونے کی یہ نشانی ہے کہ خدا کی عظمت دل میں بیٹھ جائے خدا کی محبت دل میں بیٹھ جائے اور دل اسی پر توکل کرے اور اسی کو پسند کرے اور ہر ایک چیز پر اسی کو اختیار کرے اور اپنی زندگی کا مقصد اس کی یاد کو سمجھے اور اگر ابراہیم کی طرح اپنے ہاتھ سے اپنی عزیز اولاد کے ذبح کرنے کا حکم ہو یا اپنے تئیں آگ میں ڈالنے کے لئے اشارہ ہو تو ایسے سخت احکام کو بھی محبت کے جوش سے بجا لائے اور رضا جوئی اپنے آقائے کریم میں اس حدتک کوشش کرے کہ اس کی اطاعت میں کوئی کسر باقی نہ رہے یہ بہت تنگ دروازہ ہے اور یہ شربت بہت تلخ شربت ہے تھوڑے لوگ ہیں جو اس دروازہ میں سے داخل ہوتے ہیں اور اس شربت کو پیتے ہیں زنا سے بچنا کوئی بڑی بات نہیں اور کسی کو ناحق قتل نہ کرنا بڑا کام نہیں اور جھوٹی گواہی نہ دینا کوئی بڑا ہنر نہیں مگر ہر ایک چیز پر خدا کو اختیار کر لینا اور اس کے لئے سچی محبت اور سچے جوش سے دنیا کی تمام تلخیوں کو اختیار کرنا بلکہ اپنے ہاتھ سے تلخیاں پیدا کر لینا یہ وہ مرتبہ ہے کہ بجز صدیقوں کے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا۔ یہی وہ عبادت ہے جس کے ادا کرنے کے لئے انسان مامور ہے اور جو شخص یہ عبادت بجا لاتا ہے تب تو اس کے اس فعل پر خدا کی طرف سے بھی ایک فعل مترتب ہوتا ہے جس کا نام انعام ہے‘‘۔
    (حقیقتہ الوحی ، روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ۵۴،۵۵)
    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو توفیق عطا کرے کہ ہم اس کے حقیقی پرستار بندے بن جائیں اور جو حق اس کی عبادت کا ہے وہ اس کے فضل سے پورا کرنے والے ہوں اور اس فرض کو صحیح معنی میں بجا لانے والے ہوں تا ہم ان انعامات کے وارث بنیں جو اس نے اپنے حقیقی بندوں کے لئے مقدر کر رکھے ہیں۔ آمین
    ٭…٭…٭
    زندہ خدا کی زندہ قدرتوں کا مشاہدہ کئے بغیر ہم توحید کامل پر قائم نہیں ہو سکتے
    (خطبہ جمعہ فرمودہ۷ ؍ جون ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ ربوہ )
    ء ء ء
    ٭ زندہ خدا کی زندہ طاقتوں کا مشاہدہ اس پاک وجود کی صفات کے جلووں کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔
    ٭ دن کے بعد جو رات آتی ہے وہ قرب الٰہی اور مقام محمود کے حصول کے سامان بھی پیدا کرتی ہے۔
    ٭ مومن کے لئے کوئی تدبیر مکمل نہیں ہوتی۔ جب تک دعا اس کا جزو لازم نہیں ہوتا۔
    ٭ جب رَحِیْمِیَّت کا دروازہ نہ کھلے تو ہمیں رَحْمَانِیَّت کے دروازہ پر جا کے کھڑے ہو جانا چاہئے۔
    ٭ زندہ خدا کی زندہ قدرتوں کے بغیر ہم توحید کامل پر قائم نہیں ہو سکتے۔



    تشہد، تعوذ اور سورئہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:۔
    ’’جب تک زندہ خدا کی زندہ طاقتیں انسان مشاہدہ نہیں کرتا شیطان اس کے دل سے نہیں نکلتا اور نہ سچی توحید اس کے دل میں داخل ہوتی ہے اور نہ یقینی طور پر وہ خدا کی ہستی کا قائل ہو سکتا ہے‘‘۔
    زندہ خدا کی زندہ طاقتوں کا مشاہدہ اس پاک وجود کی صفات کے جلوئوں کے ذریعہ سے ہوتا ہے جو صفات باری انسان سے تعلق رکھتی ہیں ان کا کامل علم اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں دیا ہے ان صفات میں سے چار اُمہات الصفات ہیں یعنی بنیادی صفات باری ہیں جن کا ذکر سورہ فاتحہ میں آتا ہے۔ رَبّ، رَحْمٰنْ، رَحِیْم، اور مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ان صفات میں سے رَحْمٰنْ اور رَحِیْم کے متعلق اس وقت میں مختصراً کچھ کہنا چاہتا ہوں صفت رحمن کے جلوے ہمیں دو قسم کے (اصولی طور پر) نظر آتے ہیں ایک وہ احکام و قوانین ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہماری پیدائش سے بھی پہلے اس عالمین میں اس لئے جاری ہوئے کہ انسان کو اس کے نتیجہ میں فائدہ پہنچے مثلاً اللہ تعالیٰ نے ہماری بقا کے لئے ہماری پیدائش سے بھی پہلے اور ہمارے کسی عمل کے نتیجہ کے طور پر نہیں بلکہ محض رحمانیت کی صفت کے اظہار کے لئے ہوا کو پیدا کیا تاکہ ہم سانس لیں اور زندہ رہیں ہماری غذائی احتیاجوں اور ہمارے جسمانی نظام کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے سورج بنا دیا اور اس کا ایک خاص تعلق زمین سے قائم کیا سورج اور زمین کا باہمی تعلق دن اور رات کو پیدا کرتا ہے اور ہمارے آرام اور ہمارے کام کے سامان اس کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں اگر بارہ مہینے رات ہی رہتی تو انسان اس قسم کی دنیوی ترقیات حاصل نہ کر سکتا جو وہ کر چکا ہے کر رہا ہے اور کرتا چلا جائے گا اس لئے بھی کہ روشنی کے ذریعہ بہت سے کام کئے جاتے ہیں ہماری ترقی میں روشنی یا سورج کی کرنوں کا بڑا دخل ہے مثلاً سائنس کی ترقی میں اس طرح کہ سورج کی کرنوں کے اثر کے نتیجہ میں ہماری زمین میں بہت سی خاصیتیں پیدا ہوتی ہیں جس کے نتیجہ میں زراعت کا علم ترقی کرتا ہے اور زراعتی علم نے ترقی کی ہے اور آئندہ بھی ترقی کرتا رہے گا اور پھر اگر سردی زیادہ ہو جاتی ہمیشہ اندھیرا رہنے کے باعث تو انسان کے لئے کام کرنا بڑا مشکل ہو جاتا اگر بارہ مہینے سورج ہی نکلا رہتا تو زمین جل کے کوئلہ ہو جاتی اس معنی میں کہ اس کی بہت سی خصوصیات مر جاتیں اور انسان اس سے فائدہ نہ اٹھاتا اورآرام کرنا بھی اس کے لئے مشکل ہو جاتا اور یہ زمین انسانی رہائش کے قابل نہ رہتی اور بے آباد ہوتی پس بے شمار ایسی چیزیں اور ایسی خاصیتیں اور ایسے ستارے جو ہم سے دور ہیں اور ایسے سامان جو اس دنیا میں ہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے تاکہ انسان جسمانی اور روحانی لحاظ سے ترقی کر سکے کیونکہ دن کے بعد جو رات آتی ہے وہ قرب الٰہی، مقام محمود کے حصول کے سامان بھی پیدا کرتی ہے اگر دن ہی ہوتا بارہ مہینے کا تو انسان کے لئے روحانی طور پر مقام محمود تک پہنچنا مشکل ہو جاتابہرحال یہ ایسی چیزیں ہیں کہ ہماری پیدائش سے پہلے نسل انسانی کی پیدائش سے بھی پہلے رحمن خدا نے اپنے کامل علم اور کامل رحمت کے نتیجہ میں انسان کے لئے پیدا کی ہیں۔
    ایک دوسری قسم کے رحمانیت کے جلوے ہیں جو روز بروز لحظہ بہ لحظہ، گھڑی بہ گھڑی ہمیں نظر آتے ہیں ان کی طرف میں بعد میں جائوں گا پہلے میں رحیمیت کو لیتا ہوں یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا کی صفت رحیمیت ہماری تدبیر میں برکت ڈالتی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بڑے لطیف پیرایہ میں ہمیں بتایا ہے کہ دعا بھی ایک تدبیر ہی ہے اور جب مادی تدبیر ہم انتہاء کو پہنچا دیتے ہیں اور ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مادی تدبیر کے لحاظ سے جو احکام جاری کئے جو قانون وضع کئے تھے وہ تدبیر تو ہم نے کمال کو پہنچا دی لیکن یہ ایک مومن کا دل کہتا ہے کہ اب بھی مجھے میرے ربّ رحیم کی ضرورت ہے اور وہ دعا کرتا ہے کہ اے میرے رحیم خدا میری تدبیر کے بہتر نتائج نکال پس ایک مومن کے لئے کوئی تدبیر مکمل نہیں ہوتی جب تک دعا اس کا جزو لازم نہیں ہوتا۔
    پس رحیمیت کے ساتھ عاجزانہ پر سوز دعائوں کا بڑا گہرا تعلق ہے اگر یہ نہ ہو تو انسان مشرک بن جائے اگر وہ یہ سمجھے کہ مادی تدبیر کافی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کی کوئی ضرورت نہیں تو وہ مشرک بن گیا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ تو بتایا ہے کہ بہت سے ایسے لوگ ہیں دنیا میں کہ اگرچہ وہ ہم پر ایمان نہیں لاتے اور نہ ہی ہماری معرفت رکھتے ہیں لیکن دنیا کمانے کے لئے جو دنیوی تدابیر وہ اختیار کرتے ہیں ان میں ہم انہیں کامیاب کر دیتے ہیں اور اس ورلی زندگی کا آرام و آسائش انہیں حاصل ہو جاتی ہے کیونکہ سعی اور کوشش میں بھی دعا مخفی ہوتی ہے لیکن خدا کا ایک مومن بندہ صرف اس بات پر راضی نہیں ہو سکتا کہ اس نے تدبیر کی اور خداتعالیٰ کی رحیمیت نے اس کی تدبیر کو صرف اس دنیا میں کامیاب کر دیا اور اُخروی دنیا میں اس کے لئے اس کے نتیجہ میں کوئی ثواب مقدر نہیں کیا کیونکہ ایک مومن جانتا ہے کہ چونکہ اُخروی زندگی یقینی ہے اس لئے ایک تسلسل زندگی کا ہے موت تو ایک پردہ ہے گرا رہتا ہے پھر اُٹھ جاتا ہے پھر انسان دوسری دنیا میں داخل ہو جاتا ہے جب تک اسے یہ یقین نہ ہو کہ میری زندگی کا تسلسل خدا کی رحمت کے سائے میں رہے گا اسے حقیقی آرام نہیں حاصل ہو سکتا۔
    پس دعا تدبیر کا ایک لازمی حصہ ہے بلکہ یہ بھی ایک تدبیر ہی ہے ایک تدبیر ہم مادی ذرائع سے کرتے ہیں اور ایک تدبیر ہم دعا کے ذریعہ سے کرتے ہیں جب اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اشیاء میں اس کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق ہم کوئی تدبیر کرتے ہیں تو اس کا فضل مومن کے شامل حال اس رنگ میں ہوتا ہے کہ دنیا میں بھی وہ کامیاب ہوتا ہے اور اُخروی زندگی میں بھی لیکن جو لوگ ایسے ہیں کہ جن کی ساری کوششیں اسی دنیا میں گم ہو گئیں اور ان کی ساری زندگیاں اسی دنیا کے لئے ہو گئیں جنہوں نے اپنے پیدا کرنے والے ربّ کو بھلا دیا اور اس سے نہ کسی خیر کی امید چاہی اور نہ کوئی خیر انہیں ملی اسی دنیا کی تدبیر کے نتیجہ میں صرف اس دنیا کی کامیابیاں انہیں رحیمیت کے طفیل حاصل ہو جاتی ہیں اللہ تعالیٰ کی رحیمیت کے اس قسم کے جلوے روز ہمیں نظر آتے ہیں پس بعض خدائے رحیم سے محض دنیا کے فوائد حاصل کرتے ہیں۔ (اس کے وعدہ کے مطابق) بعض وہ بھی ہیں جو اپنے خدائے رحیم سے اس دنیا کے فائدے بھی حاصل کرتے ہیں اور اُخروی زندگی کے فائدے بھی حاصل کرتے ہیں کیونکہ وہ اس یقین کامل پر قائم ہوتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے لینا ہے اپنے ربّ سے لینا ہے۔
    خداتعالیٰ کی رحمانیت کے جلوے ایک دوسرے رنگ میں بھی ہمیں نظر آتے ہیں وہ اس طرح پر کہ بعض دفعہ ہر تدبیر ناکام ہو جاتی ہے بعض دفعہ کوئی تدبیر سوجھتی ہی نہیں مثلاً ایک مریض ہے ڈاکٹر کہتے ہیں ہم صحیح تشخیص پہ پہنچے ہیں مثلاً کہتے ہیں کہ اس مریض کو کینسر کی بیماری ہے اور جتنی دوائیں اس وقت تک انسان کو اس مرض کے علاج کے لئے معلوم ہیں وہ استعمال کرتے ہیں ایلو پیتھک، بھی طبّ یونانی ہومیوپیتھک بھی اور صدری نسخے بھی لیکن ہر قسم کی دوا دینے کے بعد بھی مرض کو افاقہ نہیں ہوتا۔
    ایک ایسا مریض ڈاکٹروں کے پاس جاتا ہے دنیا کے چوٹی کے ڈاکٹر معائنہ کرتے ہیں اور نہیں سمجھ سکتے کہ اس کو مرض کیا ہے؟ مرض کی تشخیص ہی نہیں ہو سکتی ابھی پچھلے دنوں ہمارے ایک احمدی دوست چوہدری عبدالرحمن صاحب جو انگلستان میں ہیں ان کو بخار آنے لگا (پہلے بھی اسی قسم کی بیماری میں وہ مبتلا ہوئے تھے پھر آرام آ گیا اور اب پھر ان کو اسی بیماری کا حملہ ہوا) ہسپتال میں رہے بڑا ترقی یافتہ ملک ہے بڑے ماہر ڈاکٹر ہیں بڑے تجربہ کار معالج ہیں مہینہ ڈیڑھ مہینہ ہسپتال میں رکھا پتہ نہیں لگتا کہ بیماری کیا ہے اگر بیماری کا پتہ ہی نہ لگے تو علاج کیسے ہو کیا دوا دینی چاہئے اس کا بھی پتہ نہیں لگ سکتا اور اگر دوا کا پتہ نہ لگے تو مادی تدبیر نہیں کی جا سکتی اور رحیمیت کے جلوے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا رحیمیت کا جلوہ تو وہاں نظر آتا ہے جہاں تدبیر اپنے کمال کو پہنچے۔
    پس بعض دفعہ تدبیر ناکام ہو جاتی ہے ہر قسم کی تدبیر کی جاتی ہے اور اس کا نتیجہ کوئی نہیں نکلتا کئی دوست خط لکھتے ہیں کہ تجارت کرتے ہیں ہر قسم کے جتن کر دیکھے ہیں فائدہ نہیں ہوتا جس چیز میں ہاتھ ڈالتے ہیں نقصان ہوتا ہے ہر قسم کی تدبیر کی احمدی تو تدبیر کا ایک لازمی حصہ چونکہ دعا کو بھی سمجھتا ہے اس لئے وہ دعا جو تدبیر کا حصہ بنتی اور مادی تدبیر کی کامیابی کے لئے کی جاتی ہے اور خدا کی صفت رحیمیت کو جوش میں لاتی ہے وہ بھی کی گئی اور ناکام ہو گئی۔ پس انتہائی تدبیر کی کیونکہ مادی تدبیر بھی کی اور اس کے بہتر نتائج کے لئے دعا کی صورت میں روحانی تدبیر بھی کی لیکن نتیجہ سوائے ناکامی کے کچھ نہ نکلا ایسے دوست بہت پریشان ہوتے ہیں اور پریشانی کا باعث یہ بنتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحیمیت کی صفت کیوں ہمارے حق میں جوش میں نہیں آتی پس بعض دوست پریشانیاں اٹھاتے ہیں ناکامیوں کا منہ دیکھتے ہیں اور میں بھی ان کے لئے پریشان ہوتا ہوں۔ پس اگر تدبیر ناکام ہو جائے یا اگر تدبیر سوجھے ہی نہ ہر دو صورتوں میں ہمیں خدائے رحمن کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہئے جس وقت مریض لاعلاج قرار دے دیا جاتا ہے اور مادی تدبیر کو کامیاب اور نتیجہ خیز بنانے کے لئے کی گئی دعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تقدیر مبرم ہے اس وقت اگر رحمان کی صفت رحمانیت کے آگے عاجزی اختیار کی جائے اور اپنے رحمان خدا سے یہ کہا جائے کہ اے ہمارے ربّ! تو رحیم بھی ہے، تو رحمن بھی ہے، ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم تیری صفت رحیمیت کا دروازہ کھلوانے میں ناکام ہوئے ہیں اب ہم تیری رحمن ہونے کی صفت کے حضور جھکتے ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ نہ ہمارا کوئی عمل نہ کوئی تدبیر جس طرح تو نے سورج اور چاند کو نیز بے شمار ستاروں کو ہماری فلاح اور بہبود کے لئے پیدا کیا ہے اب بھی اپنی رحمانیت کی صفت کا ایک جلوہ دکھا اور یہ کام کر دے۔
    تو جب رشتے دار مایوس ہو جاتے ہیں اور طبیب مریض کو لاعلاج قرار دیتا ہے اور وہ دعائیں جو تدبیر کا ہی حصہ ہیں، تدبیر بھی ہیں، وہ بھی قبولیت حاصل نہیں کرتیں اس وقت اگر ہم رحمن خدا کا دروازہ کھٹکھٹائیں تو بسا اوقات وہ ہمارے لئے کھولا جاتا ہے۔ ہمارے ربّ نے جس طرح بے شمار چیزیں ہمارے اعمال سے بھی پہلے ہمارے لئے پیدا کر دی تھیں اور ان کو ہماری خدمت میں لگا دیا تھا وہ خدائے رحمان اپنی تمام قدرتوں اور طاقتوں کے ساتھ آج بھی اسی طرح زندہ ہے جس طرح آج سے پہلے تھا۔
    غرض جب رحیمیت کا دروازہ نہ کھلے تو ہمیں رحمانیت کے دروازے پہ جا کے کھڑے ہو جانا چاہئے اور یہ عرض کرنا چاہئے کہ تدبیریں تو نے پیدا کیں، ان کے استعمال کا ہمیں حکم دیا، تدبیروں کو کمال تک پہنچانے کے لئے تدبیر کا ہی ایک حصہ بنا کر تدبیر کی کامیابی کے لئے دعا کا ہم کو حکم دیا، ہم نے اپنے جتن کئے، ہم کامیاب نہیں ہوئے اس لئے تو ہمارے لئے اپنی صفت رحمانیت کو جوش میں لا اور ہماری ضرورت کو پورا کر جس طرح بے شمار ضرورتیں تو نے ہمارے بغیر کسی عمل اور استحقاق کے اس سے پہلے پوری کردیں۔
    یہ رحمن کا جلوہ چوہدری عبدالرحمن صاحب لنڈن نے دیکھا ڈاکٹروں نے کہا تشخیص نہیں کر سکتے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو شفا دے دی بڑ ا کام کرنے والے ہیں وہ بڑا وقت دیتے ہیں جماعتی کاموں کے لئے چار پانچ روز ہوئے ان کا خط آیا ہے کہ میں اب ہسپتال سے گھر آ گیا ہوں بڑا خوش ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے پھر توفیق دی ہے جماعتی کاموں کے کرنے کی تو ہم نے ان کی وساطت سے اور اُنہوں نے اپنی ذات میں خدائے رحمن کی رحمانیت کا جلوہ دیکھا۔
    پس جو دوست مثلاً اپنی تجارت میں ناکام رہتے ہیں اور بعض تو میرے علم میں ایسے بھی ہیں کہ ساری عمر انہوں نے ناکامیوں کا منہ دیکھا ہے ان کو اس طرف متوجہ ہونا چاہئے کہ وہ اللہ کی صفت رحمانیت کا در کھٹکھٹائیں اور اس سے مدد حاصل کریں کیونکہ اگر یہ سچ ہے اور یقینا یہ سچ ہے، کہ جو نعمتیں اور جو مفید چیزیں اللہ تعالیٰ نے ہماری پیدائش سے بھی پہلے ہمارے لئے اور ہماری خدمت کے لئے پیدا کیں ان کا شمار انسان سے نہیں ہو سکتا تو جس رحمان نے اتنی نعمتیں ہماری کسی خدمت یا ہمارے کسی عمل کے نتیجہ میں نہیں بلکہ صرف رحمت کے نتیجہ میں پیدا کیں اس کے متعلق ہم یہ بدظنی نہیں کر سکتے کہ ہماری زندگی میں اگر کسی وقت ضرورت پڑے تو وہ خدائے رحمن ہماری مدد کو نہیں آئے گا ہماری پیدائش سے پہلے بھی اس نے ہماری مدد کی ہمارے فائدہ کی سوچتا رہا ہے تو ہماری پیدائش کے بعد وہ کیسے ہمیں دھتکار دے گا اگر ہم واقع میں اپنے دل میں اس کی معرفت رکھتے اور اس کی صفت رحمانیت پر کامل یقین رکھتے ہیں تو یقینا رحمان خدا کی صفت کا دروازہ ہمارے لئے کھولا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کی اس قسم کی رحمتوں کے سامان ہمارے لئے پیدا کئے جائیں گے۔
    پس اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت صرف پہلے زمانوں سے ہی تعلق نہیں رکھتی بلکہ ہماری زندگی میں بھی اس کے جلوے نظر آتے ہیں میں نے بعض مثالیں دی ہیں لیکن ہر انسان کی زندگی میں ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اپنی طرف سے ہر تدبیر کر چکا اور ناکام رہا اس کو اس وقت خدائے رحمن کی طرف متوجہ ہونا چاہئے اور جو متوجہ ہوتے ہیں ان کے لئے یہ دروازہ کھولا جاتا ہے اور صفت رحمانیت کے وہ جلوے دیکھتے ہیں۔ پس زندہ خدا کی زندہ قدرتوں کے بغیر ہم توحید کامل پر قائم نہیں ہو سکتے اور زندہ خدا کی زندہ قدرتیں جن صفات سے ظاہر ہوتی ہیں ان میں سے دو صفات رَحِیْمِیَّت اور رَحْمَانِیَّت کی صفات ہیں۔
    رَحِیْمِیَّت کی صفت ہم پر یہ ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کام کے لئے جو سامان پیدا کئے ہیں ان سامانوں کو بہترین رنگ میں ہم استعمال کریں اور ساتھ ہی روحانی تدبیر سے بھی کام لیں اور اس طرح اپنی تدبیر کو کمال تک پہنچائیں کیونکہ اگر تدبیر اپنے کمال کو نہ پہنچے تو بے نتیجہ ثابت ہوتی ہے پس تدبیر کو انتہا تک پہنچانا ضروری ہے عقلاً بھی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی روشنی میں بھی جب انسان اس دنیا میں تدبیر کو اپنے کمال تک پہنچاتا ہے تو اس کے نتیجہ میں صفت رَحِیْمِیَّت کا وہ جلوہ دیکھتا ہے اور کامیاب ہو جاتا ہے دنیا دار انسان جو خدا پر یقین نہیں رکھتا وہ رحیمیت کا جلوہ تو دیکھتا ہے مگر وہ بدقسمت اسے پہچانتا نہیں وہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنے زور سے کامیاب ہوا وہ یہ نہیں دیکھتا کہ اس کے دائیں بائیں آگے پیچھے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اس کی طرح ہی تدبیر کو اپنی انتہاء تک پہنچایا مگر وہ کامیاب نہیں ہوئے مثلاً سائنس دان ہیں ایک ایک مسئلہ کے حل کے لئے بعض دفعہ دو دوسَو سائنسدان تحقیق میں لگے ہوتے ہیں اور صرف ایک یا دو اس مسئلے کو حل کر پاتے ہیں اور باقی ناکام رہ جاتے ہیں حالانکہ تدبیر بظاہر ایک جیسی تھی اب جو دو کامیاب ہوئے یا ایک کامیاب ہوا تو وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنی تدبیر سے کامیاب ہوا اور وہ یہ نہیں دیکھتا کہ ایک سو ننانوے دوسرے سائنسدان جو ہیں وہ اسی قسم کی تدبیر کرنے کے باوجود ناکام کیسے ہو گئے؟
    پس اللہ تعالیٰ بعض پر رحیمیت کا جلوہ ظاہر کر دیتا ہے یہ جلوہ تو وہ دیکھتے ہیں لیکن صرف دنیا کی آنکھ رکھتے ہیں روحانی بینائی سے محروم ہیں اس لئے ان جلووں کے باوجود وہ خدائے رحیم کی معرفت سے محروم رہ جاتے ہیں۔
    رَحِیْمِیَّت کے جلوے جماعت مومنین بھی ہر روز ہی دیکھتی ہے کیونکہ بعض کام ایسے ہیں کہ ان کے لئے بیس منٹ کی تدبیر کرنی پڑتی ہے اور بعض کام ایسے ہیں جن کے لئے گھنٹہ کی تدبیر کرنی پڑتی ہے اور بعض کام ایسے ہیں جن کے لئے دو گھنٹے کی تدبیر کرنی پڑتی ہے ہر کام کے لئے ایک وقت اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہوا ہے اور بہت سی تدبیریں دن کے ایک حصہ میں ہی کمال کو پہنچ جاتی ہیں مثلاً عورت نے گھر میں کھانا پکانا ہوتا ہے کوئی ایک گھنٹہ میں کھانا تیار کر لیتی ہے کوئی دو گھنٹہ میں اگر کوئی عورت یہ سمجھے کہ میں نے تدبیر کر لی اور کھانا پک گیا اب مجھے اپنے ربّ کی رحمت کی ضرورت نہیں تو ایسی عورت کو سبق دینے کے لئے اللہ تعالیٰ کبھی اس طرح بھی کرتا ہے کہ جس وقت بڑے شوق اور محنت سے وہ سالن تیار کر چکی ہوتی ہے اور خوش ہوتی ہے کہ میرے بچوں کو، میرے خاوند کو اچھی غذا مل جائے گی تو ایک بچہ دوڑتا آتا ہے اور اس کی ٹھوکر سے ساری ہنڈیا چولہے کے اندر گر جاتی ہے اللہ تعالیٰ بتانا چاہتا ہے کہ تیری تدبیر کافی نہیں میرا فضل جب تک ساتھ نہ ہو انسان کامیاب نہیں ہو سکتا۔
    کافر اور منکر کہتا ہے یہ حادثہ ہے مومن کہتا ہے اَسْتَغْفِرُ اللّٰہ مجھ سے کوئی گناہ سرزد ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت میری تدبیر کے ساتھ شامل نہ ہوئی اس طرح اللہ تعالیٰ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جب تک میری رَحِیْمِیَّت کا جلوہ تمہاری تدبیر کے ساتھ نہیں ہو گا تم کامیاب نہیں ہو سکتے۔
    اسی طرح ہمیں اپنی زندگیوں میں اپنے ماحول میں بھی یہ نظر آتا ہے کہ کبھی تو تدبیر ہی نہیں سوجھتی کہ کیا کریں کیا نہ کریں کبھی ساری تدبیریں کر لینے کے بعد بھی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلتا خدا اس وقت اپنے بندے کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ میرا فضل اگر تم نے حاصل کرنا ہے تو میری صفت رحمانیت کے ذریعہ حاصل کر سکتے ہو دوسری صفات کا جلوہ میں تمہارے لئے نہیں دکھائوں گا ایسے بندے کو رحمان کی طرف جھکنا چاہئے اور اس وقت جو دعا ہو گی دراصل تدبیر کا حصہ نہیں ہو گی کیونکہ یہ دعا مادی تدبیر کی کامیابی کے لئے نہیں بلکہ یہ دعا تو ایک عاجز بندے کے عجز کا اظہار ہے بندہ اس خدائے رحمن کے دروازے کے پاس جا کے بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اے رحمان خدا! میں نے دعائیں بھی کر لیں میں نے تدبیر بھی کر لی مگر ناکامی ہے کہ مجھے چھوڑتی نہیں اب میں تیرے پاس آیا ہوں جس طرح تو نے پہلے رحمانیت کے جلوے مجھے دکھائے اب بھی دکھا!
    تو یہ وہ دعا نہیں جو تدبیر کا حصہ بنتی ہے بلکہ محض عاجزی کا بے بسی کا اظہار ہے کہ تدبیر بے نتیجہ ثابت ہوئی تدبیر کے نتیجہ خیز ہونے کی دعا بھی رد ہو گئی بلا استحقاق دے اے میرے رحمن خدا اور بہت ہیں جو اس طرح خدائے رحمن کی رحمانیت کے جلوے دیکھتے ہیں ہم ہر روز اپنی زندگیوں میں اپنے گھروں میں اپنے ماحول میں اپنی جماعت میں اپنی دنیا میں جس میں ہم اپنی زندگی گزار رہے ہیں رحیمیت اور رحمانیت کے جلوے دیکھتے ہیں اور زندہ خدا کی زندہ تجلیات کا مشاہدہ کرتے ہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ اپنی صفات کے جلوئوں کے مشاہدہ کی توفیق اور معرفت عطا کرے وہی لوگ ہیں جو توحید خالص پر قائم ہیں اور حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ کے مطیع اور فرمانبردار اور جاں نثار ہیں۔
    اللہ تعالیٰ ہم سب کو مردوں کو بھی اور عورتوں کو بھی حقیقی توحید پر قائم کرے اور محبت اور پیار حسن اور احسان کے جو جلوے ہمارے سامنے وہ ظاہر کرتا ہے ہم میں سے ہر ایک کو خود ہی توفیق عطا کرے کہ ہم انہیں پہچانیں اور ان سے فائدہ حاصل کریں۔
    (روزنامہ الفضل ربوہ مورخہ ۹ جولائی ۱۹۶۸ء صفحہ۱ تا ۴)
    ٭…٭…٭

    فلاح اور خوشحال زندگی کے اصول کیلئے اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کی معرفت حاصل کرنا ضروری ہے
    (خطبہ جمعہ فرمودہ۱۴ ؍ جون ۱۹۶۸ء بمقام گھوڑا گلی۔مری )
    ء ء ء
    ٭ انسان اعمال کے نتیجہ کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر چھوڑ دے۔
    ٭ ربوبیت کا فیضان تمام کائنات کی جان ہے۔
    ٭ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے بہترین اور عظیم جلوؤں کیلئے پیدا کیاہے۔
    ٭ اعمال کا نتیجہ جزا اور سزا کے دن نکلے گا۔
    ٭ خداتعالیٰ کے فضل اور رحمت کے بغیر اس کی رحمت، مغفرت، ابدی جنتوں اور رضا کا حصول ناممکن ہے۔


    تشہّد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔
    انسان کی فلاح اور خوش حال زندگی کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کی معرفت حاصل کرنا ضروری ہے اس لئے کہ جب تک اللہ تعالیٰ کی صفات کی معرفت حاصل نہ ہو اس وقت تک انسان ان صفات کے فیوض سے صحیح طور پر حصہ نہیں لے سکتا اور نہ ہی اس معرفت کے بغیر وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بن سکتا ہے جس غرض کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔
    گزشتہ جمعہ میں نے ان چار اُمہات الصفات میں سے جن کا ذکر سورۃ فاتحہ میں ہے دو صفات کے متعلق کچھ بیان کیا تھا اختصار کے ساتھ، ایک صفت رحیمیت کے متعلق اور دوسری صفت رحمانیت کے متعلق۔
    رحمیت کی صفت تقاضا کرتی ہے کہ انسان اعمال کے نتیجہ کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر چھوڑے اور اس حقیقت کوپہچانے کہ تدبیر کرنا انسان کا کام ہے اور نتیجہ نکالنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے اس دنیا میں جو اسباب کی دنیا ہے خدا تعالیٰ کی اس صفت کے جلوے بہت سے لوگوں کی نگاہ سے پوشیدہ رہتے ہیں کیونکہ اسباب کے پردے میںوہ جلوے بہت حد تک مستور ہوتے ہیں لیکن ایک مومن بندہ یہ جانتا ہے کہ انسان خواہ کتنی ہی تدبیر کیوں نہ کرے جو اسباب اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں ان کابہترین استعمال کرے، اپنی قوتوں اور استعدادوں کو ضائع نہ ہونے دے اور ان کا صحیح استعمال کرے اور دعا بھی کرے کہ یہ بھی تدبیر ہی ہے پھر بھی دعا کو قبول کرنا اور اسباب کا وہ نتیجہ نکالنا جو یہ شخص چاہتا ہے کہ نکلے جس نے تدبیر کے ذریعے اُن اسباب کو استعمال کیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے محض تدبیر کرنے سے یقینی طور پر وہ نتیجہ نہیں نکلتا جو تدبیر کرنے والا چاہتا ہے نہ ساری دعائیں قبول ہوتیں ہیں۔ ہماری اس زندگی میں ہزاروں بار یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ تدبیر کو انسان اپنی انتہاء تک پہنچا دیتا ہے دعائوں میں کوئی کمی نہیں رکھتا بظاہر لیکن دعائیں بھی رد کر دی جاتی ہیں اور تدابیر بھی بے نتیجہ ثابت ہوتی ہیں اور انسان حیران اور پریشان ہوتا ہے کہ میں نے کیا کچھ تھا اور چاہتا کچھ تھا لیکن ہوا کچھ اور۔ اورمیری خواہش کے مطابق میری تدبیر کا نتیجہ نہیں نکلا بیسیوںخطوط مجھے آتے رہتے ہیں پوری کوشش کرتے ہیں اپنی سمجھ کے مطابق لیکن جس قسم کی تجارت بھی کرتے ہیں اس میں ناکام ہو جاتے ہیں اور سرمایہ ضائع ہو جاتا ہے۔
    تو تدبیر کرنا انسان کے لئے ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو اسباب کی دنیا بنایا ہے اور انسان کو بہت سی قوتیں اور استعدادیں عطا کی ہیں جس کے نتیجہ میں وہ تدبیر کر سکتا ہے اسی لئے وہ اس قابل ہے کہ تدبیر کر ے، وہ کام کرے وہ محنت کرے وہ سوچے وہ اپنی عقل سے کام لے، وہ کامیابی کے بہترین طریقے جو ہیں ان پر چلے لیکن یہ سب کچھ کرنے کے بعد اگروہ یہ سمجھے کہ جس طرح ایک اور ایک مل کے دو بن جاتے ہیں اسی طرح میری تدبیر اور دعا کا ضرور نتیجہ نکلے گا تو وہ غلطی پر ہوتا ہے اور اپنی دنیا میں اس ٹھوس اور مادی دنیا میں ساری تدبیروں کو بے نتیجہ ہوتے، ساری دعائوں کو ردّ ہوتے وہ دیکھتا ہے ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں متوجہ کیا ہے کہ خدائے رحمن کی طرف متوجہ ہو جائیں یعنی اپنے پر ایک قسم کی موت وارد کرکے اس کے حضور جھکو (اور یہ دعا عام دعائوں کی قسم کی نہیں ہوتی)اور اس سے کہو اے ہمارے رحمن رب! تو نے ان گنت اور بے شمار نعمتیں ہمارے لئے پید ا کیں اور ہمارے عمل کو اس میں کوئی دخل نہیں تھا کیونکہ وہ پیدائش سے بھی پہلے وجود میں آچکی تھیں ان اسباب ان نعمتوں سے آج ہم فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو اٹھا نہیںسکتے ہم اگر تیری رحیمیت کا جلوہ دیکھنے کے قابل نہیں تو اے رحمان خدا! ہمیں اپنی رحمانیت کا جلوہ دکھا۔
    ان دو کے علاوہ دو امہات الصفات ہیں جو سورۃ فاتحہ میں بیان ہوئی ہیں۔ ایک پہلی صفت جو ربوبیت کی صفت ہے اور ایک چوتھی صفت جو مالکیت یوم الدین کی صفت ہے۔
    یہ چار صفات ایسی ہیں جن کے جلووں کا تعلق پیدائش عالم سے لے کر جزا سزا کے دن تک پھیلا ہوا ہے ربوبیت کی صفت جلوہ گر ہی اس وقت ہوتی ہے جب پیدائش شروع ہو جائے جب خالق خلق کرتا ہے اور وہ تمام سامان پیدا کرتا ہے کہ اس کی مخلوق ان استعدادوں کو اپنے کمال تک پہنچائیں جو اس نے ان کے اندر رکھی ہیں خصوصاً انسان کے اندر بڑی استعدادیں اور قوتیں اس نے رکھی ہیں اور بڑی طاقتیں اس میں دویعت کی ہیںتو ربوبیت کا جلوہ پیدائش کے وقت سے شروع ہوگیا۔ کیونکہ ربّ کے معنی ہیں خالق، پیدا کرنے والا۔ جو بہت سی قوتیں اور استعدادیں بھی ہر چیز میں پیدا کرتا ہے اور درجہ بددرجہ ان کو نشوونما کرتے ہوئے اس چیز کو اپنے کمال تک پہنچا دیتا ہے دنیا کی ہر چیز جو ہے وہ ربوبیت کے اس دور میں گزر رہی ہے مثلاً ہیرا بنتا ہے شائد لاکھوں سال اس پہ گزرتے ہیں تب وہ ہیرے کی شکل اختیار کرتا ہے درجہ بددرجہ اس میں تبدیلیاں ہوتی چلی جاتی ہیں اور وہی مٹی کے ذرات جو آپ لوگوں کی جوتیوں کے تلوے کے نیچے حقیر اور بے قیمت ہوتے ہیں وہی ذرے ہیرے کی شکل اختیار کر جاتے ہیں۔
    جس درخت کے سائے کے نیچے اس وقت ہم بیٹھے ہیں ایک چھوٹا سا بیج تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بیج میں جو طاقتیں اور استعدادیں رکھی تھیں اس کے نشوونما کے اس نے سامان پیدا کئے، بارش برسائی زمین کے ذروں میں ایسی قوتیں پیدا کیں جو اس درخت کی ٹہنیاں اور یہ لمبی لمبی سوئیوںکی طرح کے جو پتے ہیں وہ بن سکیں اگر زمین کے ذروں میں یہ طاقت نہ ہوتی تو درخت یہ شکل اخیتار نہ کرتا اور پھر یہ بڑھتے بڑھتے اپنی طاقت کے مطابق اپنی بلندیوں کو پہنچ جائے گا اور اگر انسان اسے نہ کاٹے تب ہی اس کی قوتوں پر فنا آجائے گی لیکن اس کی نشوونما کے سارے سامان اس کی زندگی کیلئے جو درکار تھے وہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کردئیے اور یہ ربّ ہے اس کے جلوے ہمیں ہر چھوٹی اور بڑی چیزمیں نظر آتے ہیں۔
    اسلام نے ربّ کا تخیل جو ہمیں دیا ہے وہ یہ نہیں کہ اللہ نے پیدا کیا اورپھر آرام کرنے لگ گیا یا دوسرے کاموں میں مشغول ہو گیا اور پیدائش کے ساتھ جو پہلے کر چکاہے اس کا ہر وقت زندہ تعلق قائم نہ رہا بلکہ خدا تعالیٰ کی ربوبیت کی جو صفت ہے اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک چھوٹے سے فقرے میں بڑی بنیادی چیز ہمیں بتائی ہے آپ فرماتے ہیں کہ ربوبیت کا فیضان تمام کائنات کی جان ہے پھر فرماتے ہیں ایک لمحہ کے لئے یہ فیضان منقطع ہو جائے تو تمام عالم نابود ہو جائے تو اس نے پیدا کیا، نشوونما کے سامان پیدا کئے اور ہر وقت ایک زندہ تعلق اپنی مخلوق کے ساتھ اس نے قائم رکھا ہے اگر ربوبیت کایہ تعلق ایک لحظہ کے لئے بھی منقطع ہو جائے مخلوق کے ساتھ تو وہ قائم نہ رہے جس طرح وہ نیست سے ہست ہوئی تھی ہست سے نیست ہو جائے فنا ہو جائے فوری طور پر ۔
    تو ربّ کا تعلق ہر وقت ہر آن ہر چیز سے ہے جس کو اُس نے پیدا کیا ہے۔ یہ تعلق انسان کے ساتھ بھی ہے اور انسان کو اس نے بڑی استعدادیں دیں اور اپنے قرب کے لئے ا س نے اسے پیدا کیا اور اپنی صفات کا مظہر بننے کی قابلیت اس کے اندر رکھی اور ہم دیکھتے ہیں کہ بنی نوع انسان کو بحیثیت ایک نوع کے ایک بڑے ہی نچلے درجے سے آہستہ آہستہ اٹھا کر اس نے اس مقام پر پہنچایا کہ جہاں انسان کامل کی پیدائش ممکن ہو سکتی تھی اور انسان کامل کی پیدائش کر دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پید اہوئے اور ایک کامل کتاب آپ کے ذریعہ بنی نوع انسان کو ملی انسانی شعور اور انسانی عقل آپ کے زمانے میں اپنے کمال کو پہنچا اور اس کمال کو قائم رکھنے کے لئے دنیا کی تدبیر، جس طرح اور تدبیریں اس نے کیں، قرآن کریم کی شکل میںا نسان کو دی کہ اگر اسی پر انسان غور کرتا رہے اور اس کے احکام کی پیروی کرے توا نسان کی عقل بھی اپنے معراج پر قائم رہے گی اور اس کی روحانیت بھی اپنی رفعتوں سے نیچے نہیں کرے گی۔
    ربّ کی جو ربوبیت ہے اس کے جلوے انسان سے بھی تعلق رکھتے ہیںاور مٹی کے ذرات سے بھی تعلق رکھتے ہیں، ہر مخلوق سے تعلق رکھتے ہیں اور اس خلق کا عالمین کی پیدائش کا خلاصہ اور لُب جو تھا وہ انسان کامل تھا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ذریعہ سے انسان کے لئے ایسے سامان پید ا کر دئیے کہ اگر وہ چاہے تو اپنی عقل کے معیار کوبھی بلند تر مقام پر رکھ سکتا ہے اور روحانی رفعتوں کو بھی زیادہ سے زیادہ حاصل کر سکتا ہے۔
    جب تک ہم اللہ تعالیٰ کی اس صفت کو صحیح طور پر نہ پہچانیں ہم غافل ہو جائیں گے اگر ہم یہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ کبھی تو ہم سے تعلق رکھتا ہے کبھی ہم سے غافل ہوجاتا ہے تو پھر اس ٹوہ میں وہی رہیں گے ناکہ جو اس کی (نعوذ باللہ) غفلت کا زمانہ ہے اس میں ہم ایسی باتیں بھی کر جائیں جسے وہ پسند نہیں کرتا (العیاذ باللہ) لیکن اس کا تعلق تو ہر آن اور ہر وقت ہم سے ہے دوسری مخلوق سے بھی ہے لیکن انسان سے بھی ہے اورربوبیت کا یہ تعلق ہی ایک زندہ تعلق ہے جو انسان سے ہے اس نے انسان کے لئے اس بات کو ممکن بنا دیا ہو اپنی جسمانی اور روحانی بقاء کو حاصل کر سکے اور رفعتوں کو پا سکے یہ تو تھی وہ صفت کہ خلق کے ساتھ ہی اس کے جلوے ہر آن ہمیں نظر آنے لگیں۔
    اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے بہترین اور عظیم جلووں کے لئے پیدا کیا ہے یہ دنیا جو ہے وہ مادی دنیا ہے اور خد اتعالیٰ کے جو جلوے یہاں ہمیں نظر آتے ہیں وہ اسباب کے پردہ میں چھپے ہوئے ہیں اس وجہ سے بہت ہیں اندھے آنکھوں کے اور دل کے جو خدائے رحیم کے جلوے دیکھ ہی نہیں سکتے سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے حاصل کرنا ہے اپنے زور، طاقت، مال، اثر، رسوخ، اقتدار یا علم سے حاصل کرنا ہے یہ نہیں جانتے کہ جس خدا نے علم دیا ہے عقل دی ہے وہی خدا جب غضب میں آتا ہے تو عقل و علم کو جنون سے بدل دیتا ہے، نہیں سمجھتے کہ جس ہستی نے مال دیا ہے وہ ہستی اتنی قادر و توانا ہے کہ جب اس کا غصہ انسان خرید لے تو وہ دولت کو فقیری میں بدل دیتا ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ میری صحت بڑی اچھی ہے اور میں اکیلا ہی سو آدمیوں پر بھاری ہوں اور اپنے جسم کی صحت کے نتیجہ میں وہ تکبر اختیار کرتا ہے وہ نہیں جانتا کہ ایک سکینڈ کے ہزار ویں حصہ میں خد اکے قہر کا جلوہ اس پر فالج وارد کر سکتا ہے اور ساری اس کی طاقتیں اور سارا اس کا تکبر اور گھمنڈ خاک میں مل جاتا ہے اور کچھ بھی باقی اس کا نہیں چھوڑتا لیکن چونکہ یہ اسباب کی دنیا ہے انسان بعض دفعہ غفلت برتتا ہے اور خدا تعالیٰ کی رحیمیت کے جلوؤں، اس کی رحمانیت کے جلوؤں کو دیکھ نہیں سکتا۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ مادی دنیا ہے اسباب کی دنیا ہے خدا تعالیٰ سے اپنی پوری شان کے ساتھ اس مادی دنیا میں نظر ہی نہیں آسکتے۔ وہ جلوے عدم کو چاہتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک صفت یہاں مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن بیان کی۔ یہ صفت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جس عالمین کورب العالمین نے پیدا کیا تھا اس عالمین کو وہ اللہ جو تمام صفاتِ حسنہ سے متصف اور قدرتوں کا مالک ہے ایک وقت میں فنا کر دے اور سارے حجاب دور ہو جائیں اور اس کے عظیم جلوے انسان پر ظاہر ہونے لگیں اور اس کو نظر بھی آنے لگیں کوئی حجاب بیچ میں نہ رہے اس کے قہر کے جلوے شقاوتِ عظمیٰ رکھنے والے دیکھیں اور اس کے پیار کے جلوے اور اس کے جمال کے جلوے اور اس کے حسن اور احسان کے جلوے وہ دیکھیں جو سعادت عظمیٰ رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کے یہ جلوے ہر قسم کے حجاب سے باہر نکل کے اس کے سامنے آئیں۔ اس غرض کے لئے اس نے جزا سزا کا دن رکھا ہے اور ہمیں اس طرف متوجہ کیا کہ اس دنیا کی بھول اور خطا اور نسیان اور غفلت اور گناہ اور عصیان اور خد اسے دوری کی برداشت انسان کو ایک سکینڈ کے لئے بھی نہ کرنا چاہئے۔
    اعمال کا نتیجہ اس دن نکلے گا اور وہ نتیجہ کوئی معمولی نہیں وہ نتیجہ اس دن نکلے گا جو جزا سزا کا دن ہے اور تمہارا رب جو رحمان اوررحیم ہے وہ مالک کی حیثیت سے تمہارے سامنے جلوہ گر ہو گا چونکہ وہ مالک کی حیثیت سے جلوہ گر ہو گا تم میں سے کوئی شخص کھڑے ہو کریہ نہیں کہہ سکے گا کہ اے ہمارے ربّ ہمارا تجھ پر یہ حق ہے ہمیں دے کیونکہ جو مالک ہے ہر ایک چیز کا اس پر کسی کا کوئی حق نہیں ہو سکتا عقل بھی اس کو تسلیم نہیں کرتی اور نہ کر سکتی ہے اور چونکہ وہ مالک ہے اس لئے امید بھی دلا دی کہ اگر وہ چاہے تو جتنا چاہے دے دے وہ جتنے گناہ چاہے معاف کر دے ، وہ جتنا فضل کرنا چاہے فضل کرے لیکن ایک دولت مند امیر جس کے کارخانے میں ایک ہزار مزدور کام کر رہا ہے یہ مزدور اس سے ڈرتے نہیں کیونکہ کچھ حقوق ہیں ان کے کچھ ایسے حقوق ہیں جو مالک نے تسلیم کئے ہیںکچھ ایسے حقوق ہیں جو دنیا تسلیم کرتی ہے اور حق دلواتی ہے کچھ ایسے حقوق ہیں جو حکومتیں دلواتی ہیں کچھ ایسے حقوق ہیں جوحکومتوں کا تختہ الٹ کے حاصل کر لئے جاتے ہیں یہ دنیا ایسی ہے لیکن وہاں تو اس طرح نہیں ہوگا مالک کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا کوئی شخص کھڑے ہو کر یہ نہیں کہہ سکتا نہ یہاںنہ وہاں لیکن وہاں تو اس کے جلوے اس قدر عظمت اور جلال اور شان کے ساتھ ظاہر ہوں گے کہ کسی شخص کو یہ جرأت ہی نہ ہو سکے گی کہ وہ سمجھے کہ میرا کوئی حق ہے جو مجھے ملنا چاہئے۔ حق کوئی نہیں کسی کا جس نے پیدا کیا سارے حقوق اسی کے ہیں جو ہمارا رب ہے جس کی رحمانیت کے ہم نے جلوے دیکھے ہیں جس کی رحیمیت کے پیار کو ہم نے محسوس کیا ہے جب اس کے سامنے ہم جائیں گے تو ہماری روح پکار رہی ہو گی کہ اے ہمارے رب ہمارا تجھ پر کوئی حق نہیں لیکن ہم تیرے فضل اور تیری رحمت کے بھکاری ہیں ہم اس کی صدا دیتے ہیں کہ اپنے فضل اور رحمت سے ہمیں نواز ہماری غفلتوں کو نظر انداز کر دے تو مالک ہے اگرہم نے تیرا گناہ کیا اگر ہم نے کچھ خطائیں کی ہیں اگر ہم نے تیری دنیا میں وہ کیا جو تو ناپسند کرتا تھا تو آج اس دنیا میں مالک کی حیثیت سے ہمیں معاف کر دے مالک کاجلوہ جو ہے وہ حقیقی معنی میں حقیقی رنگ میںاس دنیا میں نظر نہیں آتا کیونکہ یہ پردے کی دنیا ہے اس لئے ضروری تھا کہ جزاسزا کا دن مقرر کیا جاتا اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے کامل اور مکمل اوراصفیٰ جلوے کسی قسم کی کدورت کے بغیر وہ ہم پر ظاہر ہوتے ہیں اور پھر ہمیں وہ لذت اور سرور حاصل ہوتا ہے جو اس دنیا میںحاصل ہونا ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ یہاں ہے اسباب کی دنیا جلوے پردوں میں چھپے ہوئے ہیں۔
    انسانِ ناقص اس دنیا کا جو ہے جس طرح نہایت کالے شیشوں والی عینک لگا کے سورج کی روشنی کا دسواں یا بیسواں حصہ نظر آتا ہے اسی طرح یہ اسباب آگے جو مادی دنیا میں سامان ہیں ان کی وجہ سے خداتعالیٰ کی صفات کے جلوؤں کے انوار کا دسواں یا بیسواں یا چالیسواں یا پچاسواں یا سواں یا ہزارواں حصہ جتنی جتنی کسی نے زیادہ سیاہی والی عینک لگائی ہوئی ہے انسان دیکھتا ہے جو خدا تعالیٰ کے مقرب بندے ہیں وہ دوسروں کی نسبت زیادہ صاف جلوے دیکھتے ہیں۔ اس میں شک نہیں لیکن جو نظارے خداتعالیٰ کی صفات کے وہ مشاہدہ کرتے ہیں وہ نظارے بھی یوم جزا، حشر کے دن کے جو صفات باری کے جلوے ہوں گے ان کے مقابلہ میں بہت کم درجہ کے ہیں۔
    لیکن بہر حال اس کی ایک جھلک ان مقربین الٰہی کو نظر آجاتی ہے لیکن عوام کو تو کچھ بھی نظر نہیں آتا تو وہ غفلت میں بھٹکتے ہیں لیکن ایک مسلمان کو اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ اگر تم جزا سزا کے دن اللہ تعالیٰ کے قہر سے بچنا چاہتے ہو اور اگر تم اس کے پیار اور اس کی محبت سے زیادہ حصہ لینا چاہتے ہو تو اس بات کو یادرکھو کہ تمہار اخد ا مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن ہے وہ ایک مالک کی حیثیت سے جس کے خزانے لامحدود ہیں غیر محدود جزاد ے تو اس کو کوئی یہ نہیں کہنے والا کہ تم نے انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا کیونکہ انصاف کا تقاضہ تووہاں پیدا ہوتا ہے کہ جو مال دیا جائے وہ کسی اور کا ہو مثلاً اگر ایک جج فیصلہ یہ دے کہ زید نے بکر کا نقصان تو سو روپیہ کا کیا تھا لیکن میں اپنی طر ف سے اس کا دس ہزار روپیہ زید کے مال میں سے دیتا ہوں تو نا انصافی کرنے والا ہے لیکن اگر مالک ہو خود مثلاً اس دنیا میں بڑی ناقص مثال ہے لیکن سمجھانے کے لئے وہی مثال دی جا سکتی ہے کہ آپ کا ایک نوکر ہے وہ سو روپیہ تنخواہ پر مقرر ہے ایک دن وہ اس کو بلا کر کہتا ہے کہ تنخواہ تو تمہاری سو روپیہ ہے لیکن میں اپنی طرف سے اپنے مال میں سے تمہیں سارے سال کی گندم دے دیتا ہوں یا ہزار روپیہ انعام دے دیتا ہوں کیونکہ تمہاری لڑکی کی شادی ہونے والی ہے تو کوئی شخص نہیں کہے گا کہ بڑا ظلم کرنے والا ہے اور غیر منصف ہے یہ مالک۔ تو اللہ تعالیٰ کے چونکہ خزانوں کی کوئی انتہاء نہیں وہ غیر محدود ہیں اس واسطے بحیثیت مالک اگروہ ابدی جنتیں انعام میںدے تو کسی کا حق نہیں مارا گیا اس نے بحیثیت مالک ہمیں دیا لیکن خوف اور قلق بھی بڑا دل میں پیدا ہوتا ہے جب انسان یہ سوچتا ہے کہ جب ہما را کچھ ہے ہی نہیں اور ہمارا کوئی حق نہیں بنتا تواس کا نتیجہ تو یہ ہو اکہ ہم نے اپنی طرف سے جو نیکیاں کیں خد اتعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے جو اعمال صالحہ بجا لائے وہ بھی دراصل ہما ری نیکیاں اور ہمارے اعمال صالحہ نہیں کیونکہ ان نیکیوں کے کرنے کی طاقت صدقہ و خیرات جو ہم نے دیا اس مال کی ملکیت تو ربّ کی تھی ہمارا تو نہیں تھا کچھ بھی تو انسان خود کو فی الحقیقت بالکل تہی دست پاتا ہے جب مالک یوم الدین کی صفت سامنے آتی ہے اور اس وقت اس کے دل میں یہ احساس پختہ ہوتا ہے کہ خد اتعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کے بغیر نہ مغفرت کا حصول ممکن نہ ابدی جنتوں اورا س کی رضا کا حصول ممکن ہے تو یہ تہی دست ہونے کا احساس اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن کی صفت انتہا ہے ان چا روں اُمہات الصّفات کی، پید ا کیا، ترقی دی ، نشوونما کے سامان پیدا کئے اس دنیا میں بے شمار، اَن گنت جیسا کہ خود قرآن نے دعویٰ کیا ہے اور ایک عقلمند اس کو صحیح سمجھنے پر مجبور ہو جاتا ہے، اَن گنت نعمتیں اس نے عطا کیں اور جسمانی لحاظ سے اور ذہنی لحاظ سے اور اخلاقی لحاظ سے اور روحانی لحاظ سے رفعتوں پر پہنچاتا چلا گیا لیکن بسب انسان جو حقیقتاً اپنے ربّ کی اور اس کی صفات کی معرفت حاصل کر لیتا ہے جب اس مقام پر پہنچا کہ اُس نے سمجھا کہ میں نے انتہائی رفعت کو پا لیا اس وقت اُس کے سامنے اُس کا مالک آ جاتا ہے یعنی خدا جو مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن ہے اور اُس کو یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اسی کا سہاراتھا اُس نے سہارا دیا اور بلندیوں پر لے گیا اپنے نفس کو دیکھتاہوں تو خالی ہاتھ پاتا ہوں تب ایک انتہائی خوف اور قلق دل میں پیدا ہوتا ہے اور انسان اپنے ربّ کے حضور جھکتا ہے اور کہتا ہے کہ اے خدا کسی نیکی کا، کسی بزرگی کا، کسی پاکیزگی کا میں دعویدار نہیں ہوں لیکن اے میرے پیارے تو مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن ہے اس واسطے مالک کی حیثیت سے مجھ پر اپنی رحمت کو نازل کر اُس دن جس دن تو سب دنیا کو اکٹھا کرے گا اور تیرا فیصلہ حق کا فیصلہ ہوگا۔
    خدا کرے کہ ہم اُس کی صفات کو ہمیشہ پہنچانتے رہیں اور معرفت کے مقام پر رہیں اور اس کی ربوبیت اور رحمانیت اور اُس کی رحیمیت سے جس طرح ہم اِس دنیا میں فائدہ حاصل کر رہے ہیں اِسی طرح تہی دست ہونے کے باوجود اس کی صفت مالکیت یوم الدین کے پیارے جلوے حشر کے دن ہمیں دیکھنے نصیب ہو اور یہ اُسی کے فضل سے ہو سکتا ہے۔
    (الفضل ۵؍ اگست ۱۹۷۴ء صفحہ۲ تا۵)
    ٭…٭…٭


    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جو نشانات عطا ہوئے ہیں وہ ایک بڑے وسیع زمانہ پر پھیلے ہوئے ہیں قیامت تک چلتے ہیں
    (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۱ ؍جون ۱۹۶۸ء بمقام مسجد احمدیہ۔ مری ۔ غیر مطبوعہ)
    ء ء ء
    ٭ عیسائی پادریوں کو دعوت فیصلہ۔
    ٭ سورۃ فاتحہ قرآن کریم کا خلاصہ ہے۔
    ٭ عیسائی پادریوں کو سورۃ فاتحہ کی تفسیرکے مقابلہ کا چیلنج۔
    ٭ سورۃ فاتحہ بڑے وسیع، بڑے گہرے اور بڑے حسین مضامین اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔
    ٭ اللہ تعالیٰ کی آنکھ میں رضا کی چمک جب بندہ دیکھ لیتا ہے تو اسے کسی اور عزت کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔




    تشہد، تعوذ اور سورئہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔
    آج کے لئے جو مضمون ذہن میں آیا تھا اس پر جب میں نے غور کیا تو ایک لمبا مضمون بن گیا ہے اور چونکہ ابھی تک میری کمزوری ابھی باقی ہے جو بیماری نے پیدا کی تھی اور یہاں حبس اور گھٹن بھی میں نے محسوس کی ہے اس لئے وہ مضمون تو اگر اللہ تعالیٰ نے زندگی اور توفیق دی انشاء اللہ آئندہ جمعہ میں ادا کر دوں گا اس وقت میں مختصر خطبہ میں اپنے دوستوں بھائیوں اور بہنوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے سورئہ فاتحہ میں یعنی قرآن کریم کے بالکل شروع اور ابتدا میں ہمیں اس طرف متوجہ کیا کہ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ یہ ایک چھوٹی سی سورۃ ہے جو سات آیات پر مشتمل ہے لیکن ایسے بنیادی مضامین کی حامل ہے کہ اصولی طور پر تمام قرآنی مضامین کا خلاصہ اس میں پایا جاتا ہے اور نہایت گہری اور نہایت وسیع اور نہایت حسین تعلیمیں اس میں اس حسن سے بیان کی گئی ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آج سے قریباً (صحیح وہ تاریخ مجھے یاد نہیں اس واسطے میں اندازے سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ قریباً) ساٹھ سال پہلے عیسائیوں کو اس طرف توجہ دلائی اور انہیں مدعو کیا ایک عیسائی کے اس سوال کے جواب میں کہ جب مسلمانوں کے نزدیک بھی تورات خداتعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کتاب ہے اور اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے روحانی اور جسمانی صداقتیں بیان کی ہیں اور اس کے متعلق خود قرآن کریم نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ہدایت اور نور کا باعث تھی بنی اسرائیل کے لئے تو ایسی کتاب کے ہوتے ہوئے قران کریم کی کیا ضرورت تھی؟ تو اس کا جوب دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے عیسائیوں کو کہا کہ تم تورات سے مقابلہ کرتے ہوئے سارے قرآن کریم کا ذکر نہ کیا کرو کیونکہ قرآن کریم کی جو پہلی اور ابتدائی مختصر سی سورۃ ہے اس میں جو روحانی مضامین بیان ہوئے ہیں تمہاری ساری الہامی کتب میں وہ مضامین نہیں پائے جاتے اگر اس میں شک ہو تو مقابلہ کرکے دیکھ لو کوئی عیسائی مناد کوئی عیسائی چرب زبان کوئی عیسائی لیڈر جو مختلف فرقوں کے ٹاپ (Top) کے آدمی اور ان کے راہنما اور قائد سمجھے جاتے ہیں وہ اس طرف نہیں آئے میں نے پھر اس دعوت کو میں (تو) چیلنج کہنا اسے پسند نہیں کرتا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسے چیلنج نہیں کیا، بلکہ دعوت فیصلہ اسلام اور عیسائیت کے درمیان اگر یہ فیصلہ کرنا ہو کہ کون سی کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی اور محفوظ ہے یہ دعویٰ ہے کیونکہ تورات کے متعلق ہم بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی لیکن نہ اس کی حفاظت کا وعدہ دیا گیا تھا نہ اس کی حفاظت کی گئی تھی بعد میں انسان کا دخل بیچ میں ہوا اور نہ اس وقت یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ قیامت تک بنی نوع انسان کو ہدایت دیتی چلی جائے گی کیونکہ انسان اپنے روحانی اور اخلاقی ارتقاء میں ابھی اپنی رفعتوں کو نہیں پہنچا تھا تو نہ ایسا دعویٰ تھا اور نہ وہ لوگ اس کے مستحق تھے ہے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کتاب لیکن انسان کا بیچ میں داخل ہوا زمانہ بدلا زمانہ کے مسائل بدلے زمانہ کے حالات بدلے انسان کا دماغ بدل گیا۔ ارتقاء کے جس مقام پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں انسان تھا اس سے کہیں بلند مقام پر نبی اکرمﷺ کے وقت میں وہ پہنچ گیا اس کے لئے تورات تھی نہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کو یعنی عیسائیوں کو یہ کہا کہ بہتر کے قریب تمہاری آسمانی کتابیں بہتر کے قریب ہم اس لئے کہتے ہیں کسی نوجوان کے دماغ میں یہ سوال آ سکتا ہے کہ صحیح تعداد میں قریب کا کیا مطلب؟ تو قریب کا مطلب یہ ہے کہ کیتھولکس اور پراٹسٹنس جو ہیں ان میں تعداد اختلاف ہے بعض کتب ایسی ہیں جو کیتھولیزم ان کو آسمانی کتاب کہتا ہے پراٹسٹنٹس نہیں مانتے ان کی زیادہ ہیں اس واسطے ہم اس جھگڑے میں پڑے بغیر کہ تمہارا کتابوں کی تعداد میں بھی اختلاف ہے ہم یہ کہہ دیتے ہیں کہ ستر کے قریب بہتر کے قریب تمہاری آسمانی کتب ہیں تم ساری آسمانی کتب میں سے سورہ فاتحہ کے مضامین نکال کے دکھا دو تو ہم سمجھیں گے کچھ ہے تمہارے پاس لیکن اگر تم ایسا بھی نہ کر سکو تو پھر آئندہ زبان پر یہ چیز نہ لانا کہ تورات کے ہوتے ہوئے قرآن کریم کی کیا ضرورت ہے ہم تو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان تمام آسمانی کتب کے ہوتے ہوئے سورہ فاتحہ کی بھی ضرورت تھی قرآن تو ایک بڑی چیز ہے۔
    تو سورئہ فاتحہ میں ایک تو خلاصہ ہے لیکن اتنے بڑے قرآن کا خلاصہ بھی آسان نہیں اتنی وسیع تعلیم کا سات آیتوں میں خلاصہ بھی سوائے خدا کے اور کوئی نہیں کر سکتا ان آیتوں کو چھوڑ کر آپ اپنی زبان میں کبھی خلاصہ کرنے کی کوشش کریں کسی ایک سورۃ کا بھی شاید خلاصہ نہ کر سکیں خدائی کتاب اور وہ کتاب جو کامل اور مکمل ہے اس کا خلاصہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے آنا چاہئے تھا اور آیا اور بڑا حسین ہے اور اس سورہ فاتحہ کی تفاسیر مثلاً میں نے دعویٰ کیا ہے اور جس وقت میں نے حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دعویٰ آپ کے خلیفہ کی حیثیت سے دنیا کے سامنے رکھتا تو اس سے پہلے میں نے سوچا بھی تو میں نے یہ سوچا کہ مجھے یہ کرنا پڑے گا (اگر یہ قبول کر لیں) کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سورئہ فاتحہ کی جہاں جہاں جو بھی تفسیر کی ہے وہ ہمیں اکٹھا کرنا پڑے گی پھر مجھ سے پہلے جو خلفاء گزر چکے ہیں ان کی سورئہ فاتحہ کی تفاسیر کو اکٹھا کرنا پڑے گا اور پھر اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے جو مجھے علم عطا کرے وہ لکھنا پڑے گا اور اس شکل میں سورئہ فاتحہ کی تفسیر ہم ان پادریوں کے ہاتھ میں دیں گے اور ان سے کہیں گے کہ ان مضامین کو اپنی آسمانی کتابوں میں سے نکال کر دکھائو اگر وہ اس کو قبول کر لیں تو اس کے بعد پھر ہم اور اپنی کتابوں میں سے مضمون نکال کر یعنی شائع کر دیں تو پھر ہم ثابت کریں گے اور خدا کے فضل سے ثابت کرنے کے قابل ہوں گے کہ جو باتیں انہوں نے اپنی الہامی کتب سے نکالی ہیں یا تو وہ ان کی کتب میں پائی نہیں جاتیں آپ ہی گھسیڑ دی ہیں جیسا مثلاً پادری عمادالدین ہے جب سرسید نے دعا کے خلاف اپنے رسالے کچھ لکھنے شروع کئے تو یہ پادری عمادالدین جو دراصل ’’مولانا عمادالدین‘‘ تھے اجمیر کی شاہی مسجد کے خطیب اور بڑا عالم آدمی ہے جہاں تک دنیوی ظاہری اسلامی علوم کا تعلق ہے یعنی قرآن کریم کی جو تفاسیر چھپ چکی ہیں جو دوسری کتب ان پہ اس کو عبور تھا میں نے ایک دفعہ دعا کے سلسلہ میں مجھے خیال آیا کہ دیکھیں کہ اس نے کیا لکھا ہے۔اس عیسائی نے سر سید کا ردّ لکھا ہے۔
    دوسری طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس مضمون کو پکڑا اور نہایت لطیف پیرایہ میں اور زور دار الفاظ میں ایسے تمام مسلمانوں کی ہدایت کا سامان پیدا کیا جو دعا کے مفہوم کو اور دعا کے مقام کو پہچانتے نہیں تھے اِدھر اس نے لکھا میرے دل میں شوق پیدا ہوا میں نے جب کتاب پڑھی تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ تمام باتیں جو اسلام میں رہتے ہوئے اسلامی کتب سے اس نے سیکھی تھیں وہ عیسائیت کے منہ میں ڈال دیں یعنی تورات کا کوئی حوالہ نہیں بلکہ یہ کہ عیسائیت یوں کہتی ہے حالانکہ عیسائیت نہیں کہتی وہ قرآن یوں کہتا ہے عیسائیت یوں کہتی ہے عیسائیت یوں نہیں کہتی بلکہ قرآن کریم کے ایک مفسر نے جو تفسیر کی ہے یہ عیسائیت کے منہ میں ٹھونستا چلا گیا ہے تو یا تو ان کا جواب ہمارے مقابلہ میں اس قسم کا ہو گا تو ہمیں ثابت کرنا پرے گا کہ تم جو بات تورات کی طرف منسوب کر رہے ہوں وہ تورات کی طرف منسوب نہیں ہوتی تورات میں ایسا کوئی مضمون نہیں بیان ہوا یا یہ ثابت کرنے پڑے گا کہ تورات سے ہی تم نے استدلال کیا لیکن عقلاً اور روحانی مشاہدہ کی رو سے یہ بڑی ناقص تعلیم ہے اور سوئہ فاتحہ کی تعلیم کے مقابلہ میں پیش نہیں کی جا سکتی سورہ فاتحہ میں اس سے بہتر تعلیم ہے تو اس سورۃ میں جو بڑے وسیع اور بڑے گہرے اور بڑے حسین مضامین اپنے اندر لئے ہوئے ہے اس میں ایک آیت یہ بھی ہے۔ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ (الفاتحہ:۶، ۷)اس جگہ اللہ تعالیٰ نے یہ مضمون بیان کیا ہے کہ ہر چیز کے حصول کا ایک صحیح راستہ ہے اور اسی چیز کو حاصل کرنے کے لئے بہت سے غلط راستوں پر بھی چلے جاتے ہیں مثلاً ایک موٹی مثال ہے ایک شخص اپنے اس علم کی وجہ سے اور اس تجربہ کی وجہ سے جو علم اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کیا اور جس تجربہ کے حصول کی اللہ تعالیٰ نے اسے توفیق دی تجارت میں مہارت حاصل کر چکا ہے اور وہ دولت کما رہا ہے وہ تمام تجارتی اصول سامنے رکھ کے تجارتی معاملات کرتا ہے اور پھر دعائیں کرتا ہے اللہ تعالیٰ ان کی دعائوں کو سنتا اور اس کی عقل اور فراست کو روشن رکھتا ہے اور سیدھا راستہ اس کو دکھا دیتا ہے اور بڑا مالدار ہو جاتا ہے ایک دوسرا شخص مالدار ہونے کے لئے چوری کرتا ہے اور دنیا میں مَیں سمجھتا ہوں کہ یہ مبالغہ نہیں ہو گا اگر یہ کہا جائے کہ پچاس فیصدی چور یقینا ایسے ہیں جو پکڑے نہیں جاتے اور چوری کے مال سے وہ فائدہ اُٹھا رہے ہیں تو وہ بھی ایک راستہ تھا مال کے حصول کا جو اختیار کیا گیا اور کامیابی سے اختیار کیا گیا بظاہر دنیا جو ہے وہ دنیوی نقطہ نگاہ سے جب دیکھتا ہے تو کہتا ہے یہ بھی مال دار ہے ایک شخص کہتا ہے کہ تم کہتے ہو سیدھا راستہ اختیار کرو اپنے ملک کی حالت دیکھو کتنے ہیں جنہوں نے بلیک مارکیٹنگ کے نتیجے میں اور بدیانتی کے نتیجہ میں مال کو جمع کر لیا ہے اور اب دنیا میں ان کی بڑی عزت ہے تو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ سیدھے راستے سے اگر تم وہ چیز حاصل کرو گے جو کرنا چاہتے ہو دنیوی مال تو ایک نعمت ہے نا دنیا میں ہزاروں نعمتیں ہیں اگر سیدھے راستے پہ چل کے تم اپنے مقصد کو حاصل کرو گے تو یہ تو ہو گا انعام اللہ کی طرف سے اور اگر غلط راستہ اختیار کرو گے تو وہ انعام نہیں ہو گا اس کے ساتھ سزا لگی ہوئی ہے اس دنیا میں بھی سزا ملتی ہے جب چور پکڑا جاتا ہے جب بددیانت پکڑا جاتا ہے جب بلیک مارکیٹ کرنے والا پکڑا جاتا ہے اور یہ گرفت کئی قسم کی ہوتی ہے کبھی اللہ تعالیٰ آسمان سے گرفت نازل کرتا ہے مثلاً بڑا مال کما لیا اور کھانا ہضم نہیں ہوتا کئی ایسے بھی ہم نے دیکھے ہیں بڑے امیر ہیں امارت پیسہ جو ہے مال جو ہے اس کا ایک خرچ یہ ہے کہ زبان کا چسکا جو ہے وہ پورا کیا جائے لیکن وہ شخص کھا ہی نہیں سکتا پیسے رکھے ہوئے ہیں اس کے اِرد گرد لوگ کھا رہے ہیں اور وہ کہتا ہے کہ میں تو مصیبت میں پھسنا ہوں کھا ہی کچھ نہیں سکتا ہضم نہیں ہوتا بیمار ہو جاتا ہوں جب بھی کوئی ثقیل چیز کھا لوں پرہیزی کھانا کھا رہے ہیں لاکھوں روپیہ تجوری میں ہیں بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے جسم میں، جلد میں ایسی بیماری پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ اچھا کپڑا پہن نہیں سکتے اب وہ دھوتی پہنی ہوئی ہے پھر رہے ہیں پیسہ بڑا ہے دل کرتا ہے کہ پانچ سَو روپیہ گز والا کپڑا خرید کے سوٹ بنائیں لیکن وہ پہن ہی نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آ گئے ہیں ہزاروں مثالیں اس قسم کی دی جا سکتی ہیں بعض کو اس دنیا میں اللہ تعالیٰ پکڑ لیتا ہے بعض کو اُخروی زندگی میں پکڑ لیتا ہے بعض کو میں اس لئے کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تو مالک ہے کسی کو معاف کر دے تو یہ بھی اس کی شان میں ہے اس کی صفات کی شان کے عین مطابق ہو گا لیکن بعض کے متعلق یقینا اس نے کہا ہے کہ میں گرفت کروں گا اس واسطے انسان کو مطمئن نہیں رہنا چاہئے تو یہاں یہ فرمایا کہ ہر چیز کے حصول کے لئے ایک سیدھی راہ ہے یا ایک سے زائد بھی بعض دفعہ ہو سکتی ہیں اگر زیادہ وسعت والا مضمون ہمارے ذہن میں ہو مثلاً قرب الٰہی کے ایک سے زائد رستے ہیں مثلاً جنت کے سات دروازے ہیں جن کا مطلب ہے سات راہیں جنت کی طرف جا رہی ہیں لیکن اس دنیا میں عام طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اچھے مقاصد کے حصول کے لئے ایک سیدھی راہ ہے اس راہ پہ اگر انسان چلے تو اسے یہ مشاہدہ ہوتا ہے کہ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ ہر سیدھی راہ کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا انعام اس کا منتظر ہوتا ہے اگر وہ سیدھی راہ پر نہیں چلتا تو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت اس کا انتظار کر رہی ہو کیونکہ مغفرت کے اوپر انسان کی تو کوئی اجارہ داری نہیں ہے نا لیکن ہو سکتا ہے کہ اس کا عذاب، اس کا قہر، اس کا غضب، اس کا انتظار کر رہا ہو اس کو وعدہ یہ نہیں ہے کہ تمہیں انعام ملے گا انعام مل جائے تو اور چیز ہے ایسی بات ہے کہ بادشاہ وقت دس آدمیوں کو دعوت پہ بلاتا ہے دعوت پہ جب وہ بلاتا ہے تو ان سے یہ وعدہ ہے کہ میں یہ کھانا تمہیں کھلائوں گا اپنے ساتھ بٹھا کر اور تمہارا اکرام کروں گا تمہارا احترام کروں گا جو مہمان کا ہونا چاہئے ایک گیارھواں شخص ویسے ہی چلا گیا ہے وہاں اب ضروری نہیں کہ اس کو اندر بلا لیا جائے ہو سکتا ہے کہ بادشاہ کہے کہ چلو آ گیاہے تو میں اس کو بھی بلا لیتا ہوں اور ہو سکتا ہے کہ وہ کہے کہ دوڑ جائو یہاں سے ابھی دوڑنے والا لطیفہ میں آپ کو سنا دیتا ہوں ہمارے الحاج گورنر جنرل گیمبیا سینی گال کے دورہ پر گئے تو وہاں چونکہ جماعتیں چھوٹی ہیں اور کچھ تعصب بھی ہے کچھ ناواقفیت بھی ہے کچھ پرانے رواج بھی ہیں ان کو خیال پیدا ہوا میں ہیڈ آف دی سٹیٹ کی حیثیت میں اس ملک میں جا رہا ہوں بڑا احترام کریں گے ممکن ہے اپنی وہاں کے لحاظ سے ہمارے محاورہ ہے شاہی مسجد وہ شاہی مسجد کہلائے یا نہ کہلائے۔
    بہرحال جو بڑی مسجد ہے دارالخلافہ کی اس میں کہیں گے کہ جناب تشریف لائیں ساری قوم آپ کی منتظر ہو گی اور وہاں آپ نماز ادا کریں مجھے مصیبت پڑ جائے گی الحاج گورنر جنرل صاحب نے سوچا اگر یہ حالات پیدا ہو گئے تو میرے لئے بڑی آکورڈ (Awkward) ہو گی میں نے تو ان کے امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی انہوں نے ہمارے چوہدری محمد شریف صاحب جو انچارج ہیں وہاں کے مبلغ کہا کہ اس طرح میں دورے پر جا رہا ہوں انہوں نے کوئی خواب بھی دیکھی تھی جس کی تفصیل کا مجھے علم نہیں اشاروں میں ان کی طرف سے اور چوہدری محمد شریف صاحب کی طرف سے یہ اطلاع ملی ہے لیکن بہرحال انہوں نے کہا میں اس طرح جا رہا ہوں مقامی ہمارا مبلغ احمدی جو ہے امام مقامی اس کو میرے ساتھ کرو چنانچہ وہ مقامی امام ساتھ گیا گورنر صاحب کا امام ساتھ ہو پھر تو کسی کو جرأت نہیں ہوتی کہ کسی اور امام کو کہے کہ آپ نماز پڑھائیں باتھرسٹ جو گیمبیا کا دارالخلافہ ہے وہاں کا جو چیف امام ہے وہ بڑا متعصب ہے متعصب ہی نہیں بلکہ شرارتی بھی ہے اور اس کی ایک شادی سینی گال کے دارالخلافہ میں ہوئی ہوئی ہے اس نے سوچا کہ کوئی کھیل کرنی چاہئے شرارت سوجھی وہ اپنے طور پر وہاں پہنچ گیا جو گورنر جنرل صاحب کی ریسپشن (Reception) ہو رہی تھی سینی گال کی طرف سے تو یہ گیا اور اندر جب جانے لگا تو وہاں کے سپاہی جو ڈیوٹی پر کھڑے تھے انہوں نے کہا کہ تمہارا دعوت نامہ کہاں ہے تو اس نے کہا کہ میرے پاس تو دعوت نامہ نہیں ہے لیکن تمہیں پتہ نہیں میں باتھرسٹ کا چیف امام ہوں مجھے کیا ضرورت ہے دعوت نامہ کی ہمارے گورنر جنرل یہاں تشریف لائے ہوئے ہیں انہی کی تم نے دعوت کی ہوئی ہے مجھے کیا ضرورت ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو یہ دوسرے قسم کے لوگوں میں شامل کرنا تھا کہ تمہیں دعوت نہیں کھلانی تو انہوں نے کہا کہ اس طرح نہیں ہم جانے دیتے اس پر اس نے کہا کہ گورنر جنرل صاحب بیٹھے ہیں آپ ان سے جا کر میرے متعلق پوچھ لیں اگر وہ تصدیق کریں کہ میں چیف امام ہوں تو پھر مجھے اجازت دیں ورنہ نہ دیں تو سپاہی کہنے لگا کہ وہ جو گورنر جنرل صاحب ہیں ان کے ساتھ تو اپنا امام آیا ہے تمہیں ہم کیسے جانے دیں تو جب بادشاہ وقت آپ دعوت پر نہ بلائے جو میں نے مثال دی ہے اگر بن بلایا مہمان کوئی آ جائے تو اور قسم کا سلوک اس سے ہو سکتا ہے یا رحم کھا کے اس کو بلا لیا جائے گا یا ناراضگی اظہار کرکے اس کو کہا جائے گا دوڑ جائو یہاں کیا کرنے آئے ہو تو جو غلط راہ اختیار کرتا ہے اس کے متعلق دونو شکلیں اس کی گرفت یا جزا سزا کے متعلق اللہ تعالیٰ اختیار کرنے لگتا ہے کیونکہ اس سورۃ میں اس نے اپنی صفت مَالِکَ یَوْمِ الدِّیْن بیان فرمائی ہے کہ مالک کی حیثیت سے وہ انسان سے معاملہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ کا ان سے تو یہ کوئی وعدہ نہیں بلکہ وعید بڑا ہے کہ غلط راہوں کو اختیار کرو گے تو عام قانون سزا کا ہے استثنائی طور پر معافی کا ہے ٹھیک ہے مال ہے معاف کر دے لیکن اس نے ہمیں وعید یہ دیا ہے ہمیں کیا یہ ہے کہ اگر تم غلط راہوں کو اختیار کرو گے۔ غلط نتائج نکلیں گے۔ دنیا میں بھی یہی قانون ہے ایک شخص بدکاری کرتا ہے آتشک اور سوزاک میں مبتلا ہو جاتا ہے ایک شخص اخلاقی طور پر گھر میں عادتاً اعتراض کرتا رہتا ہے نظام سلسلہ پر اعتراض، مقامی امیر پر اعتراض، خلیفہ وقت پر اعتراض جو منہ میں آئے بولتا ہے اس کی اولاد اس کے لئے عذاب بن جاتی ہے درجنوں مثالیں ہماری اپنی جماعت میں ہیں کہ جن لوگوں کو یہ گندی عادت تھی اور اپنی زبان پر ان کو کوئی کنٹرول نہیں تھا ان کی اولادیں ان کی تباہی کا، ان کے عذاب کا، ان کے دکھ کا اور ان کی تکلیف کا، ان کی گھبراہٹ کا باعث بنیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ گرفت کر لیتا ہے اور کبھی ایسے شخص کو معاف بھی کر دیتا ہے اس کی اولاد میں سے ایک بڑا اچھا مخلص مومن بندہ پیدا ہو جاتا ہے اس کی دعائوں سے باپ بھی ممکن ہے معاف کر دیا جائے بہرحال یہ خداتعالیٰ کی جہاں تک جزا اور سزا کا تعلق ہے اس کے اوپر ہم کوئی حتمی قانون حاوی نہیں کر سکتے کیونکہ اس کا قانون اپنے امر پر بھی اور ہمارے ارادوں پہ بھی حاوی ہے۔ لیکن وعدہ کوئی نہیں وعدہ یہی ہے وعید کے رنگ میں یعنی انذار کے رنگ میں، ڈرانے کے رنگ میں، خبر دار کرنے کے رنگ میں، سمجھانے کے رنگ میں بدیوں اور برائیوں سے روکنے کے رنگ میں کہ اگر غلط رستہ اختیار کرو گے تو غلط نتائج نکلیں گے غلط اس معنی میں کہ جس کو تم خود صحیح نہیں سمجھو گے تمہارے دکھ کا موجب ہوں گے۔ کوئی شخص اپنے دکھ کو اچھی چیز نہیں کہہ سکتا جو شخص بیماری میں تڑپ رہا ہو اس کی طبیعت میں گھبراہٹ ہو اس وقت بے چینی ہو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ بیماری جو ہے بڑی اچھی چیز ہے جان نکل رہی ہوتی ہے بعض لوگ ایسے گھبراہٹ میں ہوتے ہیں کہ وہ دعا کر رہے ہوتے ہین کہ اے خدا ہمیں مار دے ہم سے یہ تکلیف برداشت نہیں ہوئی جاتی تو ان نتیجوں کو کوئی شخص بھی اپنے سنسز(Senses) میں اچھا نہیں کہہ سکتا نتیجہ برا نکلے گا جو شخص اپنی سینس (Sense) میں نہ ہو اس کے اوپر تو اللہ تعالیٰ کا یہ قانون اخلاقی اور روحانی جو ہے وہ چلتا ہی نہیں۔
    ہمارے ایک صاحب کا دماغ خراب تھا ایک دفعہ قادیان کی بات ہے کسی کا سائیکل اٹھا کر لے گئے اپنے اسی بے ہوشی کے عالم میں وہ پیچھے دوڑا اس نے پکڑ یا اس کی بے وقوفی مجھے اس وقت بڑا غصہ آیا تھا کہ ایک شخص پتہ ہے کہ اس کی دماغی حالت ٹھیک نہیں سائیکل تم نے پکڑ لیا ہے لے آئو ساتھ اس کو جوتیاں بھی ماریں جوتی اتار کے اب یہ صاحب کھڑے ہوئے پانچ دس جوتیاں کھا کے اور ایک زور سے قہقہ لگایا اور کہنے لگے تم سمجھتے تھے کہ مجھے جوتیاں پڑ رہی تھیں اندر سے تو تمہیں پڑ رہی تھیں تو اگر کوئی شخص احمق، خدا کی گرفت کو یہ کہدے کہ اندر سے میں ہی کامیاب اور مجھے ہی انعام مل رہا ہے تو یہ وہ اس کا جنون ہے بڑی قابل رحم حالت ہے اس کی لیکن کوئی شخص اپنی سنسز(Senses) میں بری چیز کو جو اس کے لئے دکھ اور عذاب اور کرب اور گھبراہٹ کا باعث بن رہی ہے اچھا نہیں کہہ سکتا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ فرماتا ہے کہ اچھے مقاصد کے حصول کے لئے کچھ نیک راہیں معین کی گئی ہیں ان راہوں پہ چلو تو کیا دیکھو گے آگے تمہیں کیا انعام ملے گا خالی یہ نہیں کہا انعام ملے گا ان لوگوں کا انعام ملے گا جو تم سے پہلے گزرے جنہوں نے ہم سے انعام حاصل کئے اور تمہیں پتہ ہے کہ کس قسم کے انہوں نے انعام حاصل کئے انبیاء ہیں، صدیق ہیں، شہید ہیں، صالح ہیں انہوں نے اس دنیا میں بھی انعام حاصل کئے تم نہیں یہ کہہ سکتے کہ جو مثال ہمارے سامنے رکھی جا رہی ہے وہ ہم سمجھ نہیں سکتے کیونکہ ان انعاموں کا جن کا ذکر کیا جا رہا ہے دوسری زندگی میں ملنا ثابت ہے ان لوگوں کو اس دنیا میں بھی انعام ملا دنیا نے ان کو بے عزت کرنا چاہا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو بے عزت نہیں ہونے دیا ہر قسم کی عزت ان کو عطا کی سب سے زیادہ عزت تو اللہ تعالیٰ کی آنکھ میں رضا کی چمک جب بندہ دیکھ لیتا ہے تو اس سے زیادہ کو کسی اور عزت کی ضرورت ہی نہیں رہتی انبیاء ہیں ساری دنیا مخالفت کرتی ہے ایک شخص کھڑا ہوتا ہے خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ سامنے ہوتا ہے کہ ساری دنیا نے میری مخالفت کرنی ہے اس کو پتہ ہوتا ہے کہ دنیوی سامان میرے پاس نہیںہیں کتنا بڑا توکل کا مقام ہے جو اسے حاصل ہوتا ہے ساری دنیا پر اپنے رب کو وہ ترجیح دیتا ہے اس پر وہ توکل رکھتا ہے پھر دنیا اپنا زور لگا لیتی ہے لیکن اس شخص کو بے عزت اور ناکام نہیں کر سکتی بے عزتی تو ناکامی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب دعویٰ کیا کوئی بھی ساتھ نہیں تھا۔ آدمی برداشت نہیں کر سکتا اس زمانے کے حالات جب اپنے ذہن میں لاتا ہے آپ نے خود نثر اور نظم اردو اور عربی میں لکھا ہے کہ گھر والے پرواہ نہیں کرتے تھے وہ جو برابر کا شریک تھا اس کو اپنے دستر خوان کے ٹکڑے بھیج دیتے تھے یہ عزت اس خدا کے برگزیدہ کی تھی اپنے خاندان کے دل میں۔ لیکن خدا نے جو وعدے دیئے وہ پورے کئے آپؑ نے فرمایا اپنے زمانہ میں کہ کبھی تو دستر خوان کے ٹکڑے مجھے ملتے تھے اب ہزاروں خاندان ہیں جو میری وجہ سے پل رہے ہیں انہیں روٹی مل رہی ہے۔
    اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ لاکھوں خاندان ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے طفیل دنیا میں بڑے امیر بنے ہوئے ہیں ایک باورچی غالباً پانچ یا دس روپے ماہوار تنخواہ لے رہے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت کرتے ان کے بہت سارے لڑکے تھے اور میرا نہیں خیال کہ ان میں سے کسی لڑکے نے بھی سات آٹھ سَو ہزار روپے سے کم ماہانہ حاصل کیا ہو اللہ سے بطور انعام کے ایسے باپ کے بیٹے دنیا میں عزتیں بھی ان کو ملیں مال بھی ملا پھر ان میں سے جو صداقت پر جاں نثار رہے۔ انہوںنے روحانی طور پر بھی انعام حاصل کئے لیکن دنیا میں بھی خداتعالیٰ نے ان کا قرض نہیں رکھا قرض کیا تھا سات روپے میں سے اٹھنی (آٹھ آنے) دیتے ہوں گے شاید چونی دیتے ہوں گے یا دونی دو آنے دیتے ہوں گے اور اس دونی کے بدلہ میں سارے ٹبر کو اگر ملا لیا جائے تو شاید دس پندرہ ہزار روپیہ مہینے کا انعام اللہ تعالیٰ نے یہ پنیشن لگا دی کہ تمہارے باپ نے میرے مسیح کی خدمت کی تھی اللہ تعالیٰ کی ایک صفت شکور کی بھی ہے بڑا قدر کرنے والا ہے کیا خدمت کی تھی دو آنے وہ دیتا تھا احمدیت کی ترقی کے لئے یا چار آنے وہ دینا تھا اور آج میں اس کا بدلہ دیتا ہوں بدلہ کیا دیتا ہوں دس ہزار روپیہ ماہوار یا پندرہ ہزار روپیہ ماہوار یا بیس ہزار روپیہ ماہوار۔
    ڈاکٹر سلام ہیں ان کے والد دنیوی لحاظ سے مال کے لحاظ سے معمولی درجے کے انسان ہیں زندہ ہیں ابھی بڑی دعا کرنے والے ہیں، بڑے مخلص ہیں، احمدیت کی ترقی کے لئے دعائیںکیں وقت خرچ کیا، جوانی کا سارا وقت ایسے مخلص کوئی منٹ اپنی زندگی کا ضائع نہیں ہونے دیتے تھے یعنی جب حقوق العباد ادا کر چکتے تھے اگر حکومت کے ملازم ہیں تو حکومت کے جو پیسے لیتے تھے ان پیسوں کی وجہ سے تنخواہ کی وجہ سے جتنا وقت خرچ کرنا ان پر فرض ہوتا تھا جب وہ وقت خرچ کر لیتے تھے تو پھر وہ سمجھتے تھے کہ سارا وقت تو خدا کا ہے خدا نے کہا ہے کہ جب پیسے لو دیانت داری سے کام کرو ہم نے اس کا یہ کہنا پورا کر دیا اب ہم خدا کے لئے اپنا وقت نکالتے ہیں رات کو دس دس گیارہ گیارہ بارہ بارہ بجے تک میرے علم میں سینکڑوں احمدی ایسے ہیں جو اپنا وقت احمدیت کے لئے خرچ کر رہے ہیں جتنی توفیق تھی پیسے خرچ کرتے تھے اب ان کے بچے کو خدا نے اتنی عزت دی ہے دنیوی لحاظ سے اصل عزت تو وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں انسان دیکھتا ہے وہ بھی خدا کے فضل سے انہیں حاصل ہے لیکن دنیا کی نگاہ بھی جب احمدیت پر پڑتی ہے تو اس کو یہ نظر آتا ہے کہ ایک معمولی انسان کا بچہ تھا اللہ تعالیٰ نے اس کو اتنا عجیب دماغ دیا کہ وہ مادی دنیا کے ہر گوشے اور کونے کھدرے میں نگاہ ڈالتا پھرتا ہے اور چھپی ہوئی چیزوں کو وہ باہر نکال دیا ہے اور وہ دنیا، ساری دنیا مثلاً جو اسلام کو مٹانا چاہتی ہے اس کی عزت کئے بغیر نہیں رہ سکتی اصل تو یہ شکل ہمیں نظر آ رہی ہے نا وہ دنیا جو خدا کا نام اس دنیا سے مٹانا چاہتی ہے دہریہ دنیا، روس کی دنیا،اس شخص کی عزت کرنے پر مجبور ہے تو انہیں خدا نے کہا میرا نام مٹانے کی کوشش تو کرتے رہنا پہلے میرے اس بندے کی عزت کر لو یہ بھی ایک چپیڑ ہے جو اس وقت ان کے منہ پر خداتعالیٰ ما رہا ہے کہ تم میرا نام مٹانا چاہتے ہو میں نے اپنے اس بندے کو جو مجھ پر ایمان لایا ہے حقیقی ایمان اور جس کو میری توفیق سے خلوص حاصل ہوا ہے جسے قلب سلیم دیا گیا اس کو ذہن رسا بھی ہم نے دے دیا اور اب اس کا تم مقابلہ نہیں کر سکتے اس کی عزت اور احترام کرنے پر تم مجبور ہو گے تو میرا نام تم سے کہاں مٹے گا۔ یہ ایک مثال ہے دنیا میں اور ہزاروں مثالیں ہیں روسی دنیا کے سامنے جب ہم اللہ تعالیٰ کے نشان پیش کرتے ہیں ان سے بات نہیں کی جا سکتی۔ ایک دفعہ ہمارے کالج میں ایک روسی سائنسدان کو جسے حکومت پاکستان نے سائنس کانفرنس میں بلوایا تھا ہم نے بھی دعوت دی کھانے پر وہ آیا میری عادت ہے میں کج بحثی سے ہمیشہ بچتا رہا ہوں میری عادت ہے آرام آرام سے بات کروں پھر کوئی دنیا کی بات کر دی پھر کوئی لطفیہ سنا دیا پھر کوئی اصولی اسلامی بات کر دی تین چار گھنٹے میں میں آہستہ آہستہ، آہستہ آہستہ ڈرلنگ (Drillinag)کیا اس کے دماغ میں زندہ خدا کے زندہ نشانات پر اور شام کے وقت اس کا دل اتنا بدلا ہوا تھا کہ میں نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ اس نے کانٹرنیشن کمپ میں چلا جانا ہے اگر ذرا بھی بے احتیاطی کی وہاں جا کر اور مجھے شبہ ہے کہ وہ چلا گیا کیونکہ ہم سے کچھ وعدے کرکے گیا تھا جو اس نے پورے نہیں کئے اور آئندہ سال جب ایک اور سائنسدان آیا اور اس کو ہم نے بلایا تو اس کے ساتھ جو انٹر پریٹر تھا اس نے نہ صرف یہ کہ انکار کیا بلکہ پہلے سائنسدان کو گالیاں دیں اور کہا کہ بڑا خبیث آدمی تھا کیوں چلا گیا تھا ربوہ۔
    تو اس سے پتہ لگتا ہے کہ اس پر اثر ہوا بات یہ ہے کہ جو بھی دہریہ ہمارے سامنے آئے ہم اسے دلیل کے ساتھ قائل نہیں کر سکتے بڑا مشکل ہے انسان کے دماغ کو خداتعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ ایک صحیح دلیل کے مقابل میں غلط دلیل پیش کرتا ہے اور بہت سی دنیا اس کے قائل ہو جاتی ہے لیکن کوئی شخص دنیا کا معجزہ اور خدائی نشان کے مقابلہ میں ہم سے بات نہیں کر سکتا کیونکہ عقل کی رفعتیں جہاں ختم ہو جاتی ہیں نشان کی بلندیاں وہاں سے شروع ہو جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے کتنا بڑا انعام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو عطا کیا ہے اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ کے گروہ میں آپ شامل ہو گئے خداتعالیٰ کے غیر شرعی نبی تھے اور آپ سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ جس طرح پہلے انبیاء پر میرے انعام ہوئے آپ پر بھی ہوں گے اور یہ تو یا ہم نے دیکھے یا ہمارے باپ دادوں نے دیکھے بلکہ انہوں نے بھی دیکھے اور ہم نے بھی دیکھے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جو نشانات عطا ہوئے ہیں وہ ایک بڑے وسیع زمانہ پر پھیلے ہوئے ہیں دراصل قیامت تک چلتے ہیں۔ بہت سے الہامات ہیں جو آج سے سو سال بعد دو سو سال بعد پورے ہوں گے ابھی کپڑوں سے برکٹ ڈھونڈنے کا نشان پہلے ہم وہ بھی ایک چھوٹے رنگ میں بعض دفعہ ایک ہلکی سی جھلک ہوتی ہے پھر وہ پوری شان سے ظاہر ہوتی ہے بعض امراء و رئوساء یا اپنے اپنے علاقہ کے نیم مالک اور حاکم وہ احمدی ہوئے اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کپڑوں کے طفیل اللہ کی برکتیں حاصل کرنے کی کوشش کی اس وقت بھی ہم خوش ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے اگرچہ دھندلا اظہار ہے اس نشان کا بہرحال نشان کا اظہار ہو گیا اس کی قبولیت ہم نے دیکھ لی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعائیں جو تھیں، وہ ایک رنگ میں اگرچہ وہ ایک دھندلا رنگ ہے لیکن وہ پوری ہوئیں اور اب ہم نے پھر خدا کی یہ شان بھی دیکھی کہ گیمبیا کے گورنر جنرل احمدی ہوئے اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کپڑوں سے برکت حاصل کی دینی بھی اور دنیوی بھی اس کی تفصیل میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں انہوں نے اس کے لئے چالیس دن تک دعائیں کیں اپنے آپ کو اس کے لئے نوافل پڑھ پڑھ کر اور عاجزانہ دعائوں کے ساتھ تیار کیا اِدھر ہم ڈاکخانہ کے بعض قواعد کی وجہ سے کسی قدر تاخیر کے ساتھ انہیں یہ تبرک بھجوا سکے لیکن اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک شان دکھانی تھی جس دن ان کے ہاتھ میں حضرت مسیح موعود علیہ والسلام کا یہ تبرک پہنچااس سے اگلے دن غالباً ان کا جو عہد تھا گورنر جنرل کا وہ کنفرم ہوا اس سے پہلے اس دن تک وہ آفیشیئٹ کر رہے تھے تو ایک دنیوی برکت ان کو بالکل قریب کے زمانہ میں اس تبرک کے حصول کے بعد حاصل ہو گئی اور دل کی برکتیں جن کی میں نے مثال دی ہے وہ الگ ہیں یہ خیال دل میں پیدا ہونا کہ میرے ساتھ احمدی امام ہونا چاہئے تاکہ کوئی کہیں بدمزگی نہ پیدا ہو بڑے اخلاص کا اظہار کر رہا ہے یہ بھی معمولی چیز نہیں ہے ایک گورنر جنرل ہے وہ دنیا میں کاموں میں تو دنیا کے پھنسے ہوئے ہیں نا بچارے پھر بھی دین کے کے لئے وقت نکالتے ہیں تھنکنگ کرتے ہیں سوچتے ہیں اپنے آپ کو غلط مقامات سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں جیسا کہ انہوں نے کی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر فضل کیا۔
    تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ جو صحیح راہیں دنیوی مقاصد کے حصول یا روحانی مقاصد کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے متعین کی ہیں ان کی نشاندہی کی ہے اگر تم ان راہوں کو ڈھونڈوگے اور ان راہوں پر چلو گے تو جب اپنے مقصود کے پاس پہنچو گے تو پھر وہاں تمہارا مقصد اور مطلب جو ہے وہ وہی نہیں کھڑا ہو گا بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت بھی وہاں تم پائو گے اپنا مقصد بھی تمہیں حاصل ہو جائے گا اور خداتعالیٰ کے فضلوں کے بھی وارث بن جائو گے اور جو انعام صحیح راستہ پر چلنے کا تمہیں ملتا ہے وہ ملے گا تمہیں وہ انعام ملے گا جو پہلے انبیاء کو ملا تمہیں وہ انعام ملے گا، یعنی تم میں سے بعض کو جو پہلے صدیقوں کو ہم نے دیا تم میں سے بعض کو وہ انعام ملیں گے جو شھداء نے ہم سے حاصل کئے تھے تم میں سے بعض کو وہ انعام ملیں گے جو صلحاء نے حاصل کئے ان کے انعامات ایک حد تک تمہارے سامنے ہیں تم اندازہ کر سکتے ہو کہ کس قدر عظیم انعام ہیں جن کا وعدہ کیا گیا ہے اس وعدے کے ہوتے ہوئے بھی اگر تم صِرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ کو چھوڑ دو اور دنیا کے بداثرات سے متاثر ہو کر غلط راہوں کو اختیار کرو تو اس سے زیادہ اور کوئی بدبختی نہیں ہو سکتی اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ ہی صراط مستقیم پر قائم رکھے۔ (آمین )
    ٭…٭…٭

    احباب اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے جذب کرنے کیلئے روزانہ تسبیح و تحمید کے علاوہ کثرت سے استغفار کیا کریں
    (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۸؍ جون ۱۹۶۸ء بمقام مسجد احمدیہ مری)
    ء ء ء
    ٭ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کا تذکرہ۔
    ٭ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات سے فیوض حاصل کرنا اور اللہ تعالیٰ سے قرب کا تعلق پیدا کرنا ضروری ہے۔
    ٭ القیوم کی صفت سے فیض حاصل کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے استغفار کا حکم دیا ہے۔
    ٭ تمام کے تمام مرد ، خواتین اور بچے معین تعداد میں ضرور استغفار کریں۔
    ٭ معین تعداد سے زیادہ استغفار کرنے کی کوئی حد بندی نہیں۔




    تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعدحضور نے فرمایا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کے بارے میں انسانوں کو جو تفصیلات بتائی گئی ہیں قرآن کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی ان تمام صفات سے فیوض حاصل کرنا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ قرب کا تعلق پیدا کرنا ضروری ہے۔
    حضور نے صفات الٰہی میں سے الحی اور القیوم کی صفات پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ القیوم کی صفت سے فیض حاصل کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے استغفار کا حکم دیا ہے۔ حضور نے فرمایا کہ استغفار کے یہی معنی نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ کمزوریوں اور گناہوں کو معاف کر دے اور انسان اس کے لئے دعائیں کرے بلکہ استغفار کے اصل پہلے معنی یہی ہیں کہ جتنی بھی بشری کمزوریاںکسی بھی مرحلہ پر ان کاصدرو نہ ہو وہ استغفار ہے جس کا حکم انبیاء کو بھی ہے اور جس کے نتیجہ میں ان کو خصوصیت حاصل ہوتی ہے اور سب سے زیادہ اور سب سے بڑھ کر معصوم ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جنہیں پھر شفاعت کا مقام بھی حاصل ہوا۔
    حضور نے فرمایا ہماری جماعت کے ذمہ تمام دنیا میں اسلام کے جھنڈے کو بلند کرنا ہے۔ اتنی بڑی ذمہ داری کو ادا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہماری تمام بشری کمزوریاں اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی چادر کے نیچے دبی رہیں اور ان کا ظہور نہ ہو اس فرض کے لئے ضروری ہے کہ جماعت کے تمام مرد اور تمام خواتین جن کی عمر ۲۵ سال سے اوپر ہے وہ دن میں کم سے کم سَو بار جن کی عمر ۲۵ سال اور ۱۵ سال سے درمیان ہے وہ دن میں ۳۳ بار جن کی عمر ۱۵ سے ۷ سال کے درمیان ہے وہ دن میں گیارہ بار اور جھوٹے بچے جن کی عمر سات سال سے کم ہے وہ روزانہ کم از کم تین بار استغفار کیا کریں۔
    حضورنے فرمایا استغفار سے متعلق قرآن مجید میں مختلف دعائیہ آیات ہیں۔ نیز استغفار کی ایک دعا یہ بھی ہے۔ اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ رَبِّیِ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ احباب کو ایسی آیتوں اور اس دعا کا ورد کرکے زیادہ سے زیادہ استغفار کرنا چاہئے۔
    حضور نے فرمایا کسی شخص کے دل میں یہ خیال آ سکتا ہے کہ استغفار کے لئے یہ تعداد کیوں معین کی گئی ہے یہ خیال کم علمی کی بنا پر ہے اس سے مراد یہی ہے کہ کم از کم اس قدر تعداد میں ضرور استغفار کیا جائے ورنہ زیادہ سے زیادہ کوئی حد بند نہیں۔
    (الفضل ۲؍ جولائی ۱۹۶۸ء صفحہ۱)
    ٭…٭…٭

    کوشش، تدبیر اور دعاؤں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ قرآنی انوار حاصل کرنے کی کوشش کرو
    (خطبہ جمعہ فرمودہ ۵ ؍جولائی ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ ربوہ )
    ء ء ء
    ٭ اس مادی دنیا میں تدبیر اور مادی اسباب سے کام لینا بھی ضروری ہے۔
    ٭ جو شخص اللہ تعالیٰ کے قوانین کے مطابق کوشش اور تدبیر نہیں کرتا وہ ناشکرا بھی ہے اور مشرک بھی ہے۔
    ٭ قرآن کریم کے انوار سے زیادہ سے زیادہ منور ہونے اور اس کے معارف کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
    ٭ منافقین سے بچنے کیلئے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْن۔
    ٭ الٰہی سلسلوں میں منافق پیدا ہوتے رہے ہیں اور پیدا ہوتے رہیں گے۔




    تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    گزشتہ دنوں تین چار بیماریاں اکٹھی آ گئی تھیں جن کے نتیجہ میں کافی کمزوری واقع ہو گئی جو ابھی تک جاری ہے بلکہ اس سفر کی گرمی اور پھر یہاں کی گرمی کے نتیجہ میں کمزوری میں اضافہ ہو گیا ہے اس لئے میں ایک تو احباب سے یہ درخواست کروں گا کہ وہ میری صحت کے لئے دعا کریں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مجھے صحت عطا کرے اور ان ذمہ داریوں کو کما حقہ نبھانے کی توفیق عطا کرے جو اس نے میرے کندھوں پر ڈالی ہیں دوسرے اس وقت میں بڑے ہی اختصار کے ساتھ ان بھائیوں اور بہنوں سے مخاطب ہونا چاہتا ہوں جو قرآن کریم سیکھنے کے لئے مختلف مقامات سے یہاں جمع ہوئے ہیں اوّل تو میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی نیتوں میں خلوص پیدا کرے اور آپ کی کوششوں کو قبول کرے اور آپ کی دعائوں کو سن کر زیادہ سے زیادہ قرآن کریم کے معارف سیکھنے کی آپ کو توفیق عطا کرے اور جب آپ واپس اپنے گھروں کو جائیں تو ان معارف کو زیادہ سے زیادہ اشاعت کی اس کے فضل سے توفیق پائیں۔
    دوسری بات میں آپ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بڑی وضاحت سے ہمیں یہ تعلیم دی ہے (اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان آیات کی تفسیر بڑی وضاحت سے کی ہے) کہ اس مادی دنیا میں تدبیر اور مادی اسباب سے کام لینا ضروری ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے قوانین کے مطابق کوشش اور تدبیر نہیں کرتا وہ ناشکر ابھی ہے اور ایک معنی میں مشرک بھی ہے۔ پس کوشش اور تدبیر ایک مومن کے لئے نہایت ہی ضروری فریضہ ہے وہ جو اپنے خدائے رحیم کو پہچانتے نہیں وہ اس رنگ میں کوشش اور تدبیر کو فریضہ نہیں سمجھتے۔ وہ اپنے مطلب کیلئے جائز اور ناجائز کوششیں کرتے رہتے ہیں لیکن ایک مومن خدا کے بتائے ہوئے طریق پر جائز کوشش اور تدبیر کرنے کو اپنے اوپر فرض سمجھتا ہے پس آپ پوری توجہ کے ساتھ قرآن کریم کے سیکھنے کی کوشش کریں اور اپنے وقت کو ضائع نہ کریں بلکہ اپنے ان قیمتی لمحات میں قرآن کریم کے انوار سے زیادہ سے زیادہ منور ہونے اور اس کے معارف کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
    ہمیں اسلام نے یہ بھی بتایا ہے کہ کوشش کا نتیجہ خدائے رحیم نکالتا ہے اور کوشش اور تدبیر مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ ہم اپنے خدائے رحیم کے سامنے عاجزانہ جھک کر اس سے یہ دعائیں نہ کرتے رہیں کہ کوشش اور تدبیر تیرے کہنے کے مطابق ہم نے کر لی ہے۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ اس کا وہ نیک نتیجہ جو ہم چاہتے ہیں کہ نکلے نکل نہیں سکتا جب تک تیرا رحم اور تیرا فضل ہمارے شامل حال نہ ہو۔ پس بہت دعائیں کریں اور جس مقصد کے لئے آپ یہاں جمع ہوئے ہیں اس مقصد کو آپ حاصل کر سکیں۔
    یہاں جماعت احمدیہ کا مرکز ہے اور الٰہی سلسلوں میں منافقوں کا وجود اللہ کی نگاہ میں ضروری قرار دیا گیا ہے اس لئے نبی اکرمﷺ کے ارد گرد جہاں ہزاروں لاکھوں فدائی تھے، جان نثار تھے اللہ تعالیٰ کی معرفت پوری طرح رکھنے والے تھے اللہ تعالیٰ کی صفات کو جاننے والے تھے وہ ہر چیز اس پر قربان کرنے کے لئے تیار تھے وہاں انتہائی طور پر منافق لوگوں کا وجود بھی تھا یہاں تک کہ مدینہ میں رہنے والے اور ایک مسلمان کہلانے والے نے یہاں تک کہہ دیا کہ جو زیادہ معزز ہے (یعنی وہ خود) وہ اس کو جو سب سے زیادہ ذلیل ہے (نعوذ باللہ) مدینہ سے باہر نکال دے گا پس اس قسم کے منافق بھی مدینہ میں موجود تھے ہمارے ہاں بھی ہیں جماعت میں بھی ہیں اور ربوہ میں بھی ہیں اور ان سے بچنے کے لئے ہی خدا کی طرف سے آپ کو یہ ہدایت ہوئی ہے کہ کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ اگر الٰہی سلسلہ کے سارے لوگ ہی صادقین کے گروہ میں ہوتے تو اس تنبیہہ اور ذکر کی ضرورت نہیں تھی آپ یہاں آتے اور جس سے بھی آپ ملتے وہ صادقین میں ہی شامل ہوتا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کا تعلق صدق و وفا کا ہوتا لیکن چونکہ بعض روحانی مصالح کے پیش نظر کفر کے ساتھ نفاق کو بھی انسانی ترقیات کے لئے اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ضروری سمجھا گیا ہے اس لئے الٰہی سلسلوں میں منافق پیدا ہوتے رہے ہیں اور پیدا ہوتے رہیں گے نبی اکرمﷺ کی زندگی میں جب پیدا ہوئے تو اور کون ہے جو یہ دعوے کر سکے کہ میں اتنا بڑا ہوں کہ میری زندگی میں منافق نہیں ہو سکتے کیونکہ جس حد تک بھی کوئی بڑا ہے وہ اس معنی میں بڑا ہے کہ وہ نبی کریمﷺ کے ساتھ محبت اور عشق اور فدائیت کا تعلق رکھتا ہے اس لئے اگر اس کے آقا کی زندگی میں منافق تھے تو اس کی زندگی میں بھی اگر اس پر کوئی ذمہ داری کا کام ڈالا گیا ہے منافق ہیں اور رہیں گے اس لئے جب تک آپ (جو باہر سے یہاں آئے ہیں) یہاں رہیں کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ کو بھی یاد رکھیں اور منافق کی منافقانہ چالوں سے بچتے رہیں آپ کو بیدار رکھنے کے لئے منافق کو پیدا کیا جاتا ہے وہ خود تو جہنم میں جاتا ہے لیکن آپ کے لئے جنت کی راہوں کی نشان دہی کرتا چلا جاتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ ہم سب کو منافق کے شر سے محفوظ رکھے اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان عاجزانہ دعائوں کے کرنے کی توفیق عطا کرے جو اس کے حضور قبول ہو جائیں اور جن کے نتیجہ میں ہماری تدبیر کامیاب ہو اور جس مقصد کیلئے ہم یہاں جمع ہوئے ہیں اس مقصد میں ہم بامراد ہو کر اپنے گھروں کو واپس لوٹیں۔ (آمین)
    (روزنامہ الفضل ربوہ مورخہ ۲۰؍ جولائی ۱۹۶۸ء صفحہ۲ تا۳)

    ٭…٭…٭
    سورۃ فاتحہ بڑی حسین بڑی وسعتوں، گہرائیوں اور تاثیروں والی دعا ہے
    (خطبہ جمعہ ۱۲؍ جولائی ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ ربوہ)
    ء ء ء
    ٭ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ کی پُر معارف تفسیر۔
    ٭ غضب الٰہی اور ضلالت سے بچنے کیلئے ہر قسم کی تدابیر اختیار کرو مگر ساتھ ہی دعاؤں سے بھی کام لو۔
    ٭ ایک مومن کی یہی نیت ہوتی ہے کہ ہر چیز چونکہ خدا کی ہے اس لئے جس قدر چاہے وہ لے لے۔
    ٭ جس نے خدا کی رضا کیلئے اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالا اُس نے بھی ثواب حاصل کر لیا۔
    ٭ مومن ہر دنیوی کام کو اُخروی جزا اور اُخروی نعماء کے حصول کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔



    تشہد، تعوذ اورسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    گزشتہ چند خطبات میں میں نے سورۃ فاتحہ کے مضمون کو جماعت کے سامنے رکھا تھا اور اس سلسلہ میںجو ذمہ داریاں ان پر عائد ہو سکتی ہیں ان کی طرف انہیں متوجہ کیا تھا آج مجھے خیال آیا ہے کہ ان خطبات میں قریباً ساری سورۃ فاتحہ کی ایک تفسیر بیان ہو گئی ہے سوائے ایک ٹکڑے غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّآلِّیْن کے اس لئے آج میں جماعت کو ا س مضمون کی طرف متوجہ کروں گا جو اس چھوٹی سے آیت میں بیان ہوا ہے۔ اگرچہ میری بیماری کافی حد تک دور ہو چکی ہے لیکن ضعف باقی ہے اس لئے اختصار ہی کرنا پڑے گا اِھْدِنَا الصِرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ ایک عجیب دعا بڑی حسین اور بڑی وسعتوں اور بڑی گہرائیوں اوربڑی تاثیروں والی دعا سکھائی اور ہمیں بتایا کہ یہ دعا کرو کہ اے خدا عقل بھی ہمیں یہی بتاتی ہے ہماری فطرت بھی اسی طرف راہ نمائی کرتی ہے کہ ہر مقصود پانے کے لئے ایک سیدھی راہ ہو اکرتی ہے اور جو اس سیدھی راہ کو اختیار کرتا ہے وہی اپنے مقصود کو حاصل کرتا ہے اس لئے ہمیں وہ سیدھی راہ دکھا جو ہمیں تجھ تک پہنچا دے تو ہمیںمل جائے تیرے ساتھ ہمار اتعلق قائم ہو جائے تجھے ہم پالیں، تیری رحمتوں کے ہم وراث بن جائیں اوربتایا کہ یہ راہ آج پہلی دفعہ انسان کو نہیں بتائی جارہی بلکہ حضرت آدم علیہ السلام سے نبوت کاایک سلسلہ شروع ہوا اور انبیا ء سے تعلق رکھنے والے بزرگ خد اکی راہ میں قربانی دینے والے ،خداکی محبت کو پانے والے پیدا ہوتے رہے پس جس طرح پہلوں پر اصولی طور پر تیرے انعام نازل ہوئے تو ہمیں ایسی راہ دکھا کہ ہم بھی ان جیسے بن جائیں اور اس قسم کے انعام ہمیں بھی تیری طرف سے ملیں۔ا س حصہ پر میں نے خاصی تفصیل سے روشنی ڈالی تھی لیکن میرا خیال ہے کہ وہ خطبہ محفوظ نہیں رہا مری میںمیَں نے بعض خطبات دیئے تھے جو محفوظ نہیں رہ سکے یعنی نہ تو وہ ٹیپ ہوئے نہ رکھے گئے۔
    بہرحال اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ منعم علیھم گروہ کے علاوہ ایک گروہ وہ بھی ہے جو منعم علیھم نہیں اورآگے وہ دو حصوں میں منقسم ہوتا ہے ایک گروہ وہ جو مغضوب بن جاتے ہیں اور ایک جو راہ سے بھٹک جاتے ہیں مغضوب کے معنی قرآن کریم کی اصطلاح میں یہ ہیں کہ جو شخص انشراح صدر کے ساتھ کفر کو کفر سمجھتے ہوئے قبول کرتا ہے سب سے پہلا انشراح صدر اس سلسلہ میں ابلیس کو ہو اتھااس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں تھی وہ اپنے اللہ کو پہنچانتا تھا، اللہ سے وہ گفتگو کر رہا تھا لیکن کہتا تھا کہ میں کفر کروں گا اور لوگوں کو بھٹکائوں گا تیرا کہنا نہیں مانوں گا حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اس کی سزا ملے گی خدا نے کہا تھا کہ میں تجھ سے اور تیرے ماننے والوں سے جہنم کو بھر دوں گا لیکن وہ کفر پر قائم رہا غرض مغضوب اس کو کہتے ہیں جو نافرمانی کی راہ سمجھتا ہے جوکفر کے راستہ کو کفر کا راستہ سمجھتا ہے جو جانتا ہے کہ اگر میں نے یہ راہ اختیار کی تو اللہ تعالیٰ کا یقینی غضب مجھ پر نازل ہو گا لیکن کبھی ا س کا شیطانی نفس یہ فیصلہ کرتا ہے کہ میں نے اسی راہ کو اخیتا رکرنا ہے اللہ تعالیٰ مغضوب کے اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے سورہ نحل میںفرماتا ہے
    مَنْ کَفَرَ بِاللّٰہِ مِنْ بَعْدِ اِیْمَانِہٖٓ اِلاَّ مَنْ اُکْرِہَ وَقَلْبُہٗ مُطَْمَئِنٌّ بِالْاِ یْمَانِ وَلٰـکِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْکُفْرِصَدْرًا فَعَلَیْھِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰہِ۔(النحل:۱۰۷ )
    ا س آیت میں بڑی وضاحت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ غضب اس گروہ یا فرد پر نازل ہوتا ہے جو انشراح صدر سے کفر کے راستہ کو قبول کرتا ہے پس غضب کے نزول کے لئے جو وجہ بنتی ہے وہ جان بوجھ کر خدا تعالیٰ کے غضب اس کی ناراضگی اور اس قہر کے راستوں کو اختیار کرنا ہے کہ اس سے خدا ناراض ہو جائے لیکن پھر جرات کرتا ہے اور خداکی ناراضگی ، اس کے غضب اور قہر کو مول لیتا ہے۔ اسی طرح سورۃ بقرہ کی آیات ۹۰اور ۹۱ میں یہ مضمون بیان ہوا ہے میں چونکہ اختصار کرناچاہتا ہوں اس لئے نہ میں پوری آیات پڑھ رہا ہوں نہ میں ان کا ترجمہ کروں گا نہ تفسیر بیان کروں گا میں اس مطلب کے ٹکڑے لوں گا، آیت ۹۰میں ہے۔
    فَلَمَّاجَآئَ ھُمْ مَّا عَرَ فُوْا کَفَرُ وا بِہٖکہ ان کے پاس جب کافروں پر فتح ا ورکامرانی حاصل کرنے کے سامان آگئے تو باوجود اس عرفان کے باوجود اس کے سمجھ کے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکت کے سامان پید اہوئے ہیں کَفَرُوْ ابِہٖ انہوں نے اس کاانکار کردیا اور آیت ۹۱ میں جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ اس بات پر بگڑتے ہیں کہ اللہ اپنی مرضی سے اپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے کلام نازل کردیتا ہے یہ کیا بات ہو ئی ہم جس پر چاہیں اللہ کا فضل ہے (نعوذ باللہ) کہ وہ اس پر کلام نازل کرے غرض وہ جانتے تھے کہ کلام اللہ کا ہے وہ یقین رکھتے ہیں کہ جس پر یہ کلام نازل ہوا ہے اللہ تعالیٰ نے اسی کو پسند کیا ہے اور اس کو اپنا محبوب بنانا چاہا ہے۔ اپنے قرب سے نوازنا چاہا ہے اور اس پر اپنا کلام نازل کیا ہے اور یہ جانتے بوجھتے انکار کرتے ہیں نتیجہ کیاہوا؟فَبَآئُ وْا بِغَضَبٍ عَلٰی غَضَبٍ ایک غضب کے بعد دوسرے کہ وہ مورد بن گئیجَائَ ھُمْ مَّاعَرَ فُوْ اکَفَرُ وبِہٖ کی وجہ سے ایک غضب مول لے لیا اور اس بات سے ناراض ہوئے کہ خدا نے اپنی مرضی سے اپنی پسند سے اس شخص پر اپنا کلام کیوں نازل کیا جسے اس نے مقرب بنانا چاہا ہماری مرضی چلنی چاہئے تھی وہ سمجھتے ہوئے کہ یہ کلام خد اکا ہے اور جس پر نازل ہو ا ہے وہ خدا کامقرب بھی ہے انکار کرجاتے ہیں فَبَائُٓ وْابِغَضَبٍ عَلٰی غَضَبٍ ایسے لوگ غضب کے بعد غضب کے مورد ہو جاتے ہیں۔ غرض غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ میں یہ مضمون بیان ہو اہے کہ اے خد اکبھی ایسانہ ہو کہ ہم شیطان کی طرح تیری معرفت رکھنے کے باوجود اس بات پر یقین رکھتے ہوئے کہ تیری طرف لے جانے والی صراطِ مستقیم کو ن سی ہے پھر بھی اس راہ کو چھوڑ دیں اور شیطان کی راہوں کو اختیار کرلیں اور یہ ہو نہیںسکتا جب تک تیرا فضل اور تیری رحمت ہمارے شاملِ حال نہ ہو اس لئے تجھ سے یہ عاجزانہ دعا ہے کہ ہمیں مغضوب کبھی نہ بنانا۔
    وَلَا الضَّآلِّیْن اور نہ کبھی ہمیں ضال بنانا ضال سیدھے راہ سے بھٹکنے والے کوکہتے ہیں اور قرآن کریم نے اس کے یہ معنی کئے ہیںکہ اَلَّذِیْنَ ضَلََََّ سَعْیُھُمْ فیِ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا( الکھف :۱۰۵) پس ضالین وہ ہیں جن کی تمام کوششیں ان راہوں کی تلاش میںرہتی ہیں جو اُخروی زندگی سے ورے ورے ختم ہوتی جاتی ہے۔ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فیِ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاوہ اس ورلی زندگی کے کناروں سے نکل کر اُخروی زندگی تک نہیں پہنچتیں۔ راہ بھٹک جاتی ہے کوشش جو ہے وہ آگے چل ہی نہیںسکتی ایسے راستے وہ اختیار کرتے ہیں جن کا صرف اس دنیا سے تعلق ہے حالانکہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہ ساری چیزیں (خواہ وہ قوتّیں اور استعدادیں ہوں یا مادی سامان ہوں یا فطرت کے تقاضے ہوں) اس لئے دی تھیں کہ اس دنیا میں وہ ختم نہ ہوں نہ صرف اس دنیا سے ان کا تعلق ہو بلکہ ان کے نتیجہ میں انسان اس دنیا میںبھی اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنت کو حاصل کرے اور اس دنیا میں بھی وہ اس رضا کی جنت کو حاصل کرے لیکن ایک گروہ انسانوں میں سے یا بعض افراد ایسے ہوتے ہیں کہ جو ان قوتوں کی انتہاء اس دنیا کے ورے ورے سمجھتے ہیں اسی طرح دنیا کے جو سامان ہیں ان کے متعلق سمجھتے ہیں کہ وہ بس دنیا میں ہی ہمارے کام آئیںگے حالانکہ ایک عقلمند مومن یہ جانتا ہے کہ وہ بکراجو خدا نے مجھے دیا ہے اور جو گوشت پوست ہے اور اس کی زندگی بھی چھوٹی ہے ایک ایسی چیز ہے جو صرف اس دنیا میں ہمارے کام نہیں آسکتی بلکہ اگر ہم چاہیں تو یہ اس دوسری دنیا میں بھی ہمارے کام آئے گی کیونکہ اگر ہم چاہیں تو تقویٰ کاٹیگ، لیبل اس کے ساتھ لگا دیں تو بکرا یہاں رہ جائے گا لیکن وہ ٹیگ، وہ لیبل آسمانوں کے خد ا کے پاس پہنچ جائے گا۔ لَنْ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُومُھَا وَلَا دِمَآ ئُ ھَا وَلٰٰـکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ (الحج: ۳۸ ) تقویٰ کے ساتھ لگا تو بکرا اللہ کے حضور پہنچ گیا اور تمہارے لئے دوسری زندگی میں بھی مفید ہو گا ( یہ زندگی تو اس زندگی کے مقابلہ میں اتنی معمولی چیز ہے کہ ہم اس کا نام ہی نہیں لیں گے ) دوسری زندگی میں بھی وہ کام آجائے گا آپ دفتر میںجاتے ہیں سو روپیہ آپ کوتنخواہ ملتی ہے ا ب کوئی احمق ہی کہہ سکتا ہے کہ یہ چاندی کے سکے یا کاغذ کے نوٹ صرف اس دنیاسے تعلق رکھتے ہیں قیصر کی چیز ہے اس کاایک حصہ اس کو دے دینا چاہئے لیکن چونکہ یہ خدا کی چیز نہیں اسے نہیں دینا چاہئے اگر کوئی ایسا سمجھتا ہے تو وہ تباہ ہو جائے گا اُسے یہ کہنا چاہئے کہ ہر چیز چونکہ خد اکی ہے اس لئے جس قدر چاہے وہ لے لے پھر جو بچ جائے گا وہ میں استعمال کر لوں گا ایک مومن کی یہی نیت ہوتی ہے اس کی یہ نیت نہیںہوتی کہ جو مجھ سے بچ جائے گا وہ میں خدا کو دے دوں گا بلکہ اس کی نیت یہ ہوتی ہے کہ جو بچ جائے گا اس معنی میں وہ کہے کہ میںنے اتنالے لیا باقی تم استعمال کر لو تو پھر وہ میں استعمال کر لوںگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے بعض کے ساتھ یہی سلوک کیا آپ نے فرمایا نہیں اتنا مال نہیں چاہئے واپس لے جائو اورا ستعمال کرو اس نیک نیتی کے ساتھ جتنا دینا چاہا پیش کر دیا اور ہمیں یقین ہے کہ اس نے خد اسے اسی کے مطابق ثواب حاصل کر لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے حالات کو دیکھتے ہوئے اورا سلام کی اس وقت کی ضرورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے کہا سارے مال کی ضرورت نہیں واپس لے جائو پھر یہ بتانے کے لئے کہ جب ایک مومن خدا کے حضور اپنا سارامال پیش کرتا ہے تو اس کے دل میں یہ بدنیتی نہیں ہوتی کہ سارا مال قبول نہیں کیا جائے گا اس لئے سارامال پیش کرنے میں کوئی حرج نہیں حضرت ابوبکرؓ نے جب اپنا سارا مال پیش کیا تو وہ سارا قبول کر لیاگیا اور بتایا گیا کہ ہر مومن کے دل کی یہی کیفیت ہے لیکن کچھ مومن وہ ہوتے ہیںجو جواں ہمت ہوتے ہیں اور جو انتہائی بوجھ برداشت کر سکتے ہیں (چنانچہ آپ نے ان میں سے ایک کاسارا مال لے لیا اور مثال کو قائم کر دیا) اور کچھ وہ ہوتے ہیںکہ ان کی روح تو انتہائی قربانیاں دینے کے لئے تیار ہوتی ہے لیکن ان کا ماحول اوران کاجسم اس کے لئے تیار نہیں ہوتا ان کوفتنہ اور امتحان سے بچانے کے لئے ان کے مال کا ایک حصہ قبول کر لیا جاتا ہے اور ایک حصہ واپس کر دیا جاتا ہے۔
    پس مومن کی مادی کوشش دنیا میںحدود سے ورے ختم نہیںہو جاتی اور اس کے متعلق نہیں کہا جاسکتا کہ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فیِ الْحَیٰوۃِ الْدُنْیَا کیونکہ روپیہ وہ خرچ کرتے ہیں زندگی کا ہرلمحہ جووہ گزارتے ہیںاخلاق کاہر مظاہرہ ان سے سرزد ہوتاہے بچوں سے محبت اور پیار کا سلوک جو دنیا ان سے دیکھتی ہے اس کے پیچھے یہی روح کام کر رہی ہوتی ہے کہ جس نے خدا کی رضا کے لئے اپنی بیوی کے منہ میںلقمہ ڈالا اس نے بھی ثواب حاصل کرلیا۔ غرض مومن اپنے ہر دینوی کام کو اُخروی جزا اور اُخروی ا نعماء کے حصول کاذریعہ بنا لیتا ہے اور اس کے متعلق ہمیں کہاجاسکتا ہے کہ وہ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فیِ الْحَیٰوۃِ الْدُنْیَاوالے گروہ میں ہے لیکن بہت سے لوگ ہمیںایسے بھی نظر آتے ہیں بہت سی قومیں ہمیں ایسی نظر آتی ہیں جو راہ بھول گئے ہیں ان کو پتہ ہی نہیں کہ سیدھا راستہ کونسا ہے اس لئے وہ مَغْضُوبِ عَلَیْھِمْ کے گروہ میں وہ شامل نہیںکئے جاسکتے وہ ضَالّ کے گروہ میں شامل ہو سکتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی اصلاح کے ذرائع تو اختیار کرے گااور وہ انہیں سخت بھی محسوس ہوںگے لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے شروع ہی میں سورۃ فاتحہ میں ان دو گروہوں کے ایک فرق کر دیا یعنی ایک کو مَغْضُوْب کہا ہے اور ایک کو ضَالّ کہا ہے یہ لوگ صراط مستقیم کو پہنچانتے نہیں۔ ضَالِّین یہ سمجھتے ہیںکہ جس راستہ پر وہ ہیںبس وہی ٹھیک ہے نہ وہ خدا کو پہنچانیں نہ کوئی آسمانی تعلیم ایسی ہے جس کے اوپر ان کا پختہ یقین ہے کہ وہ سمجھتے ہیں بس یہ دنیا پیدا ہوئی یااگر ان میںسے بعض ایسے بھی ہیں جو سمجھتے ہیںکہ دنیا کو اللہ نے پیدا کیا ہے مگر اتنی بڑی ہستی اور عاجزوں سے ایک زندہ تعلق قائم کیوں رکھے گی اس لئے اس کا ہمارے ساتھ کوئی زندہ تعلق نہیں غرض اپنی حماقت اپنی بیوقوفی اپنی روایات ( ہزار قسم کی وجوہات ہو سکتی ہیں ان سب وجوہات) کے نتیجہ میں وہ راہ گم کر بیٹھتے ہیںاور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اگر یہ جماعت مومنین جو احیائے اسلام کے لئے پید ا کی گئی ہے ضالین کے سامنے بھٹکتے ہوئے راہی کے سامنے ہدایت پیش کر ے گی تو ان سے بہت سے اسے قبول کر لیں گے کیونکہ ان کی یہ صفت بیان کی گئی ہے وہ جان بوجھ کر انشراح صدر کے ساتھ ضلالت کی راہوںکو اختیار نہیں کرتے بلکہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ ان کوصراطِ مستقیم کا پتہ ہی نہیں۔
    پس اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ دعا کرتے رہو کہ کبھی ایسا نہ ہو کہ ہم میں سے کوئی فرد یاجماعت گمراہی میں کفر میں پڑکر ایک حصہ ان کا مغضوب بن جائے اور ایک حصہ ان کاضال بن جائے یعنی ہر شخص دعاکرنے والا اپنے اور اپنوں کے لئے یہ دعا کر ے کہ اے خدا میری فطرت میں شیطنت کو کبھی پید انہ ہونے دینا کہ میں تیری راہ کو جانتے بوجھتے انشراح صدر کے ساتھ چھوڑنے لگ جائوں اور نہ ایسے حالات پید اکرنا کہ میں تیری راہ کو گم کردوں اور بھٹک جائوںاور شیطان کی راہوں کواختیار کرلوں۔
    غرض جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے متعدد جگہ تحریر فرمایا ہے سورۃ فاتحہ ایک عظیم دعا ہے اس وقت میں صرف اس چھوٹے سے ٹکڑے کامضمون بیان کررہا ہوں اور اس سورۃ کایہ ٹکڑا بھی عظیم دعا ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ میرے غضب سے بچنے کے لئے ہر قسم کی تدبیر اختیا رکرنے کے بعد میرے حضور آئو اور دعائیںکرو اور ضلالت کی راہوںکو اختیار کرنے کے سے بچنے کے لئے ہر قسم کی تدبیر اختیار کرو اور میرے پاس آئو او ر دعا کرو اگر خلوص نیت سے میرے حضور دعا کرو گے تو ضَالّ ہونے سے بھی تجھے اے انسان بچایاجائے گا مغضوب ہونے سے بھی تجھے بچایا جائے گا اور صراطِ مستقیم تجھے دکھائی جائے گی اس راہ پر چلنے کی تجھے توفیق عطا کی جائے گی میرے قرب کو تو حاصل کر لے گا میری رضا کی جنت میں تو داخل ہوجائے گا اوراس گروہ میں شامل ہو جائے گا جومُنْعَمْ عَلَیْھِمْ کا گروہ ہے جسکا ذکر متعدد آیات قرآنیہ میںپایا جاتا ہے۔
    خداکرے کہ ہمیں محض اس کے حضور سے یہ توفیق ملتی رہے کہ ہم سورۃ فاتحہ کی دعا کو خلوص نیت کے ساتھ اور پوری سمجھ کے ساتھ پڑھتے رہیں اور خدا کرے کہ ہماری یہ عاجزانہ دعا سے سب پہلے اس کے حضور قبول ہو کہ کیونکر یہ بڑی جامع دعا ہے اورخد اکر ے کہ ہم مُنْعَمْ عَلَیْھِمْ گروہ میں شامل کئے جائیںاور جس طرح ایک دن سب انسانوں نے اس کے حضور اکٹھا ہونا ہے اس دن اس گروہ میں شامل نہ ہوں جو اس کی نگاہ میں یا تو مَغْضُوْب ہے یا ضَالّ ہے۔ آمین۔
    (مطبوعہ الفضل ۹ ؍ اگست۱۹۶۸ء صفحہ۲ تا۴ )
    ٭…٭…٭

    قرآن کریم ایک کامل اور مکمل شریعت ہے جوہماری تمام ضرورتوں کوپورا کرتی ہے
    (خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۹ ؍جولائی ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک ۔ ربوہ )
    ء ء ء
    ٭ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قرآن کریم کے ایسے علوم سکھائے کہ عقل دنگ اور حیران رہ جاتی ہے۔
    ٭ اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ کی پُرمعارف تشریح۔
    ٭ ہماری تمام روحانی، اخلاقی، دینی اور دنیوی ضرورتوں کو پورا کرنے کے سب سامان قرآن میں موجود ہیں۔
    ٭ اللہ تعالیٰ قانون قدرت کے مطابق انسان کو ابتلاء میں ڈالتا ہے۔
    ٭ حوادثِ زمانہ کی تکلیفوں اور مخالف طاقتوں سے جو دکھ پہنچتے ہیں اسے خندہ پیشانی اور بشاشت سے قبول کرنا چاہئے۔



    تشہد، تعوذ اور سورئہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    آج کل قرآن کریم پڑھنے اور سکھانے کے لئے (اس سے متعلق دوسرے مضامین بھی اس میں پڑھائے جاتے ہیں) جو کلاس یہاں جاری ہے اس کے سامنے میں نے یہ بات رکھی تھی کہ اس محبت کی وجہ سے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دل میں نبی اکرمﷺ کے لئے تھی اور ان بشارتوں کے طفیل جو نبی اکرمﷺ کو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے دیں اور اسلام کے عالمگیر غلبہ کی پیشگوئیاں (جو آپ کے ایک روحانی فرزند کے ذریعہ پوری ہونی تھیں) آپ کو عطا کیں اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو قرآن کریم کے ایسے علوم سکھائے کہ عقل دنگ اور حیران رہ جاتی ہے۔ اس اصولی بات کو سمجھانے کیلئے میں نے کلاس کے سامنے قرآن کریم کی ایک آیت کا ٹکڑا رکھا تھا اور وہ یہ تھا۔
    اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰہِ الْاِسْلَامُ (آل عمران: ۲۰)
    میں نے بتایا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس آیت کے ٹکڑے کے بڑے ہی لطیف حسین اور عجیب مختلف اور متعدد معانی کئے ہیں جو تفسیری معانی ہیں۔ اس سلسلہ میں نے کلاس کے سامنے جو باتیں اس وقت تک بیان کر دی ہیں وہ یہ ہیں:۔
    ۱۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:۔
    ’’اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰہِ الْاِسْلَامُ یعنی سب دین جھوٹے ہیں مگر اسلام‘‘
    (ضمیمہ انجام آتھمروحانی خزائن جلد۱۱ صفحہ۳۱۴)
    ۲۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ
    اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰہِ الْاِسْلَامُ کے یہ معنی ہیں۔
    ’’دین سچا اور کامل اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسلام ہے اور جو کوئی بجز اسلام کے کسی اور دین کو چاہے گا وہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں زیاں کاروں میں سے ہو گا‘‘۔
    (جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد۶ صفحہ۸۵)
    ۳۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃالسلام فرماتے ہیں کہ اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰہِ الْاِسْلَامُ کے یہ معنی ہیں کہ:۔
    ’’اسلام کے سوا اور کوئی دین قبول نہیں ہو سکتا اور یہ نرا دعویٰ نہیں تاثیرات ظاہر کر رہی ہیں کہ اگر کوئی اہل مذہب اسلام کے سوا اپنے مذہب کے اندر انوار و برکات اور تاثیرات رکھتا ہے تو پھر وہ آئے ہمارے ساتھ مقابلہ کرلے‘‘۔
    (الحکم ۱۷؍ نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۷)
    میں نے انہیں یہ بتایا تھا کہ قرآن کریم کی یہ روحانی تاثیرات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ ختم نہیں ہو گئیں بلکہ آپ کے بعد آپ کی جماعت میں جو سلسلہ خلافت قائم کیا گیا ہے اس سے بھی یہ وابستہ ہیں اور آج بھی یہ دعوت مقابلہ قائم ہے۔
    ۴۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس آیت کے چوتھے تفسیری معنی یہ کئے ہیں کہ
    ’’وہ دین جس میں خدا کی معرفت صحیح اور اس کی پرستش احسن طور پر ہے وہ اسلام ہے‘‘۔
    (اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد۱۰ صفحہ۴۱۵)
    ۵۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک معنی یہ کئے ہیں کہ:۔
    ’’سچا اسلام یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی ساری طاقتوں اور قوتوں کو مادام الحیات وقف کر دے تاکہ وہ حیات طیبہ کا وارث ہو‘‘۔ (الحکم ۱۶؍ اگست ۱۹۰۰ء صفحہ ۳)
    ۶۔ چھٹے معنی اس آیت کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ کئے ہیں کہ:۔
    ’’اسلام کی حقیقت ہی یہ ہے کہ اس کی تمام طاقتیں اندرونی ہوں یا بیرونی سب کی سب اللہ تعالیٰ ہی کے آستانہ پر گری ہوئی ہوں‘‘۔
    (حضرت اقدس کی ایک تقریر اور مسئلہ وحدت الوجود پر ایک خط)
    ۷۔ ساتویں معنی اس آیت کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ کئے ہیں کہ:۔
    ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو سچا دین جو نجات کا باعث ہوتا ہے اسلام ہے‘‘۔
    (الحکم ۲۴؍ اگست ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۰)
    ۸۔ آٹھویں معنی اس آیت کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ کئے ہیں کہ:۔
    ’’سچے اسلام کا یہ معیار ہے کہ اس سے انسان اعلیٰ درجہ کے اخلاق پر ہو جاتا ہے اور وہ ایک ممیز شخص ہوتا ہے‘‘۔ (البدر ۱۴؍ نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۲۳)
    ان معانی پر میں نے نسبتاً تفصیلی (بہت تفصیل سے بھی نہیں اور بہت اختصار سے بھی نہیں) روشنی ڈال کر اپنے بچوں اور بھائیوں کو بتایا تھا کہ کس طرح علم کا ایک دریا ہے جو بہتا چلا جاتا ہے چونکہ اور بھی بہت سے معانی ہیں جو رہ گئے ہیں اس لئے ان میں سے بعض کے متعلق میں اس خطبہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰہِ الْاِسْلَامُ کے یہ معنی ہیں:۔
    ۹۔ ’’اسلام اس بات کا نام ہے کہ قرآن شریف کی اتباع سے خدا کو راضی کیا جاوے۔‘‘
    (البدر ۱۶؍ اپریل ۱۹۰۴ء صفحہ ۳)
    جو دین مسلمان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوا ہے اور جو شریعت کامل ہے وہ قرآن کریم میں ہے پس اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰہِ الْاِسْلَامُ میں یہ فرمایا کہ اگر تم اپنے ربّ کو راضی کرنا چاہتے ہو اگر تم اس کا قرب حاصل کرنا چاہتے ہو اگر تم اس سے تعلق محبت قائم کرنا چاہتے ہو تو تمہارے لئے صرف یہی راہ ہے کہ قرآن کریم کی پوری اتباع کرو اور اس یقین پر قائم ہو جائو کہ ہماری تمام روحانی، اخلاقی، دینی اور دنیوی ضرورتوں کو پورا کرنے کے سب سامان قرآن کریم میں موجود ہیں اور اگر ہم ان روحانی اسباب سے فائدہ اٹھائیں اور ان پر عمل کریں تو ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کر سکتے ہیں۔
    اس کی تفصیل میں جانے کی اس لئے ضرورت نہیں کہ پہلوں نے اپنے رنگ میں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے مقام کے مطابق اس کی بڑی وضاحت سے اپنی کتب اور تقاریر میں تشریح کی ہے قرآن کریم ایک کامل اور مکمل شریعت ہونے کی وجہ سے ہماری تمام روحانی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے تمام ان راستوں کی نشان دہی کرتا ہے جن پر چلنا ضروری ہے ہر وہ بات ہمیں سکھاتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کی جا سکتی ہے اور ہر وہ بات ہمارے سامنے وضاحت سے بیان کرتا ہے کہ جس کو اگر ہم اختیار کریں تو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو مول لینے والے ہو جائیں یعنی قرآن کریم نے کامل اور مکمل طور پر احکام کو بیان کیا ہے اوامر کو بھی کھول کر ہمارے سامنے رکھا ہے اور نواہی پر بھی روشنی ڈالی ہے یعنی اس نے بتایا ہے کہ یہ کام نہیں کرنا ورنہ اللہ تعالیٰ ناراض ہو جائے گا غرض قرآن شریف کی اتباع اور صرف قرآن شریف کی اتباع ہی ہے جس سے ہم اپنے رب کو راضی کر سکتے ہیں۔
    ۱۰۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دسویں تفسیری معنی اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰہِ الْاِسْلَامُ کے یہ کئے ہیں کہ:۔
    ’’اسلام اس بات کا نام ہے کہ بجز اس قانون کے جو مقرر ہے اِدھر اُدھر بالکل نہ جاوے‘‘۔ (البدر ۱۳؍ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۵۹)
    پہلے معنی یہ تھے کہ جو راستہ دکھایا گیا ہے اس پر چلو اب دوسرے معنوں میں بتایا گیا ہے (گو یہ معنی اپنی ترتیب کے لحاظ سے دسویں ہیں لیکن نویں معنی اور یہ معنی دونوں پہلو بہ پہلو کھڑے ہیں) کہ قرآن کریم کے علاوہ کسی اور راہ کو اختیار نہ کریں، نہ عقیدہ میں بدعت، نہ عبادت میں بدعت نہ عمل میں بدعت۔ قرآن کریم سے باہر نہ جائیں جو صراط مستقیم قرآن کریم نے بتایا ہے اس کے علاوہ کسی راہ کو اختیار نہ کریں اپنی طرف سے اپنے پر مشقتیں نہ ڈالیں ہر قسم کی روحانی، ایمانی، عملی بدعتوں سے پرہیز کریں۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پہلے بھی بعض بزرگ ایسے ہوئے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے علاقہ میں بدعات کے خلاف جہاد کرنے کا حکم فرمایا اور توفیق عطا کی کہ وہ کامیابی کے ساتھ بدعات کے خلاف جہاد کریں بدعت کا تعلق سارے احکام قرآن کے ساتھ ہو جاتا ہے بعض بدعات ایسی ہیں جو ہوائے نفس یا شیطانی اثر کے نیچے نماز کے ساتھ لگ گئی ہیں اسی طرح روزے کی بدعتیں بھی ہیں اسی طرح حج کی بدعتیں بھی ہیں اسی طرح زکوٰۃ کی بدعتیں بھی ہیں ہر حکم جو خداتعالیٰ نے ہمیں دیا شیطان نے پوری کوشش کی کہ اس کے ساتھ کچھ ایسی چیزیں بعض لوگوں کے دلوں میں پیدا کر دے کہ جو حقیقت سے دور اور خالص بدعت ہیں۔ پس اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰہِ الْاِسْلَامُ کے یہ معنی ہیں کہ جو قانون اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے اس سے زائد، اس سے باہر، اس کے مخالف کوئی قانون نہیں بنانا کیونکہ نہ عقلاً (اگر اپنے عقائد پر صحیح طور پر قائم ہوں تو ہماری عقل بھی یہی کہے گی) نہ شرعاً کوئی ایسی چیز عمل یا عقیدہ قرب الٰہی تک پہنچا سکتی ہے جس کا حکم قرآن حکیم نے نہ دیا ہو کیونکہ قران کریم ایک مکمل شریعت کی شکل میں ہمارے سامنے آیا ہے لیکن بہت سی بدعتیں عبادات ہیں، بہت سی بدعتیں ایمانیات کے متعلق آہستہ آہستہ ہم میں آگئیں اور خداتعالیٰ کے بندے چودہ سو سال میں کھڑے ہوتے رہے ان کے ذمہ خداتعالیٰ کی طرف سے یہ کام لگایا گیا کہ ان بدعتوں کو پکڑو اور حقیقت و صداقت سے جھٹکا دے کر علیحدہ کرو اور پرے پھینک دو ان کی مخالفتیں بھی ہوئیں، ان کو ایذائیں بھی پہنچیں، اِن کو دکھ بھی دئے گئے، ان پر افتراء بھی باندھے گئے، ان پر اتہام بھی لگائے گئے لیکن خدا کے وہ پیارے بندے خدا کے حکم کے ماتحت اس فرض کو ادا کرتے رہے جو ان کے کندھوں پر ڈالا گیا تھا۔ غرض اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰہِ الْاِسْلَامُ کے ایک معنی یہ ہیں کہ کتاب اللہ کے برخلاف جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب بدعت ہے اور اس سے پرہیز کرنا چاہئے۔
    ۱۱۔ گیارھویں معنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ کئے ہیں کہ:۔
    ’’یہ اسلام ہے کہ جو کچھ خدا کی راہ میں پیش آوے اس سے انکار نہ کرے‘‘ ۔
    (البدر ۱۲؍ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ۵۳)
    یہ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک فقرہ میں اس ٹکڑہ کے تفسیری معنی کئے ہیں لیکن جہاں آپ نے یہ تفسیری ترجمہ کیا ہے وہاں جو مضمون بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مختلف قسم کی تکلیفیں اور مشقتیں اور دکھ سہنے پڑتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے متعدد جگہ اس پر روشنی ڈالی ہے ایک مشقت شریعت کی ہے مثلاً یہ مستحب بلکہ بڑا اچھا ہے کہ جس نے مقام محمود ظلی طور پر محمد رسول اللہﷺ کے طفیل حاصل کرنا ہو اسے تہجد کی نماز ادا کرنی چاہئے لیکن اگر سردی ہو تو لحاف سے نکلنا بڑی مشقت طلب بات ہے لیکن وہ اپنے رب کی رضا کے حصول کے لئے کوئی پرواہ نہیں کرتا اور اس کی عبادت تنہائی کی گھڑیوں میں دنیا سے پوشیدہ رہتے ہوئے بجا لاتا ہے اور صرف اس لئے بجا لاتا ہے کہ اس کا رب اس سے خوش ہو جائے یا مثلاً گرمی کا موسم ہو گرمی میں نیند کا بہت کم وقت ملتا ہے اور انسان کو ضروری کاموں کے بعد سونے کے لئے بمشکل دو اڑھائی گھنٹے ملتے ہیں میں نے دیکھا ہے کہ میں صبح کی نماز سے قبل بمشکل ڈیڑھ سے اڑھائی گھنٹے تک سو سکتا ہوں دوست کہتے ہیں کہ آپ صبح کی نماز کے بعد سویا نہ کریں صحت اچھی رہے گی لیکن وہ میرے حالات کو جانتے نہیں میں اگر صبح کی نماز کے بعد نہ سوئوں تو میں بیمار ہو جائوں کیوں جتنی نیند قانون قدرت کے مطابق مجھے لینی چاہئے وہ پوری نہ ہو اس لئے مجبوراً مجھے سونا پڑتا ہے۔
    اسی طرح نماز کی پابندی ہے نماز باجماعت کے لئے پانچ وقت مسجد میں جانا بہرحال مشقت طلب ہے اس سے انکار نہیں پھر روزہ ہے اس میں بھی مشقت برداشت کرنی پڑتی ہے زکوٰۃ ہے اس میں بھی مشقت برداشت کرنی پڑتی ہے۔ انسان (اگر وہ مثلاً زمیندار ہے) سوچتا ہے کہ راتوں کو میں جاگا ہل چلائے کھیتوں میں پانی دیا جب ساری دنیا سائے کی تلاش میں تھی میں دھوپ میں خداتعالیٰ کے رزق کی تلاش میں گہائی کر رہا تھا دانے نکال رہا تھا میں سارا دن دھوپ میں بیٹھا رہتا تھا اب یہ پیسہ جو مجھے ملا ہے یہ میں کسی اور کو دے دوں؟ شیطان آ کر کہتا ہے کہ قربانیاں ساری تم نے دیں پھر تم اس پیسہ کو کسی دوسری جگہ خرچ کیوں کرو لیکن وہ یہ سوچتا ہے کہ میرے رب نے مجھے توفیق دی کہ میں رزق حلال کے حصول کے لئے یہ مشقت برداشت کروں اور میں اپنے رب سے دعا کرتا ہوں کہ اس مشقت سے حاصل شدہ جو مال ہے اس سے میں صرف اس دنیا کا فائدہ حاصل نہ کروں بلکہ اُخروی زندگی کا بھی فائدہ حاصل کروں وَبِااللّٰہِ التَوْفِیْق
    پس ایک یہ مشقت ہے جو انسان کو دوسری دنیا کے فوائد کے حصول کے لئے برداشت کرنی پڑتی ہے اگر اس کی نیت نیک ہو جس وقت وہ گرمی میں جا کر اپنی کھیتی باڑی کا کام کر رہا ہوتا ہے اس کے دماغ میں یہ آیت آ رہی ہوتی ہے قُلْ نَارُ جَھَنَّمَ اَشَدُّحَرًا (توبہ:۸۱)یعنی اس گرمی سے زیادہ وہ گرمی ہے اس سے بچائو کی کوئی صورت کرنی چاہئے اگر وہ نیت کرے تو باقی سب چیزیں تو جیسے پنجابی میں کہتے ہیں ’’جھونگے وچ مل جان گیاں‘‘ اصل چیز یہی ہے کہ خدا کی رضا کو حاصل کیا جائے اور گرمی میں اس لئے برداشت نہیں کرتا کہ میرے بچے یا میں پیٹ بھر کر کھائوں بلکہ یہ مَیں اس لئے برداشت کرتا ہوں کہ اس کے نتیجہ میں جو مال حلال مجھے ملے اس کا ایک بڑا حصہ خدا کی راہ میں خرچ کروں اور دوسری زندگی میں اپنے لئے آرام کی جنتوں اور رضا کی جنتوں اور رحمتوں کی جنتوں کے سامان کر لوں ایک مشقت تو یہ ہے اور ایک مشقت ہے حوداث زمانہ کی اللہ تعالیٰ قانون قدرت کے مطابق انسان کو ابتلاء میں ڈالتا ہے بعض کو اس کی مصلحت سمجھ آتی ہے اور بعض کو سمجھ بھی نہیں آتی مثلاً جوان بچہ فوت ہو گیا اب یہ ایک حادثہ ہے یا مثلاً ایک زمیندار نے روئی اکٹھی کی تھی کسی حادثہ کی وجہ سے اس کو آگ لگ گئی اور مالی نقصان ہو گیا اس طرح کے ہزاروں حوادث ہیں جو کبھی آندھی کی شکل میں آتے ہیں کبھی مینہ کی شکل میں آتے ہیں کبھی وبائوں کی شکل میں آتے ہیں کبھی اس قسم کے حادثات پیش آتے ہیں کہ مثلاً شادی کرنے جا رہے تھے کہ رستہ میں موٹر کا ایکسیڈنٹ (Accident) ہو جاتا ہے اور دولہا مر جاتا ہے یا دلہن مر جاتی ہے یہ ساری حوادث زمانہ کی تکلیفیں ہیں ایک مومن بندہ اپنے رب پر اعتراض نہیں کرتا بلکہ جس وقت اس قسم کا حادثہ اسے پیش آئے وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ پڑھ رہا ہوتا ہے وہ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھ رہا ہوتا ہے۔ اپنے خالق کے لحاظ سے وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ پڑھتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ حادثہ خواہ میرے لئے کتنا تکلیف دہ ہو مگر اس کے نتیجہ میں میرے ربّ کے اوپر کوئی حرف نہیں آتا اس کی حمد اور اس کی تعریف اسی طرح قائم ہے اس لئے وہ کہتا ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے جسم کو، میرے دل کو، میرے دماغ کو، میری آنکھوں کو ایسا بنایا ہے کہ جوان بیٹا اگر مر جاتا ہے تو دل میں درد بھی اٹھتا ہے، آنکھوں میں آنسو بھی آتے ہیں دماغ میں پریشانی بھی پیدا ہوتی ہے مگر اِنَّا لِلّٰہِ ہم سب اللہ کے ہیں یہ بھی اللہ کا تھا اللہ نے اسے اپنے پاس بلا لیا میں بھی اللہ کا ہوں اور ایک دن میں بھی اس کے پاس چلا جائوں گا خدا اگر اپنی رحمت کے سامان پیدا کرے تو میں اور میرا بیٹا اس کی جنتوں میں پھر اکٹھے ہو جائیں گے چند دن چند سال یا کچھ عرصہ اس ملاپ کے لئے انتظار کرنا اور خدا کی خاطر اور اس کی رضا کے حصول کے لئے کرنا کوئی بڑی قربانی نہیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ غرض ایک مشقت تکلیف اور دکھ انسان کو حوادث زمانہ کے نتیجہ میں برداشت کرنا پڑتا ہے اور ایک وہ دکھ ہے جو الٰہی سلسلوں کے مخالفین پہنچاتے ہیں ایک مسلمان کو اس ابتلاء میں سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ دیکھو نبی اکرمﷺ کے صحابہؓ تھوڑی تعداد میں تھے غریب تھے جنگ کی کوئی تربیت انہیں نہیں تھی ان کے پاس جنگ کا کوئی سامان نہ تھا اچھی تلواریں نہیں تھیں گھوڑے نہیں تھے کچھ بھی نہ تھا اور دشمن نے یہ سمجھا کہ ان نہتوں اور بے بسوں کو ہم اچھی تلواروں کے استعمال سے کاٹ کے رکھ دیں گے اور فنا اور نابود کر دیں گے تب اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کو کہا کہ میری خاطر ان تکالیف کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جائو اور میرا تم سے یہ وعدہ ہے کہ تم کمزور سہی تم غریب سہی تم نہتے سہی تم بے سرو سامان سہی لیکن میں تمہاری پیٹھ کے پیچھے کھڑا ہوں گا اس لئے تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں آخر غلبہ تمہیں حاصل ہو گا۔
    غرض کئی قسم کے دکھ ابتلاء اور مشقت انسان کو خدا کی راہ میں پیش آتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جو کچھ خدا کی راہ میں پیش آئے اس سے انکار نہ کرے اور آپ نے یہ فرمایا کہ نبی کریمﷺ کی زندگی پر آپ کے سوانح پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ آپ نے خدا کی راہ میں اپنی جان کی کبھی پرواہ نہیں کی جنگ بدر میں جب کفار مکہ مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے تھے تو آپ مدینہ میں نہیں بیٹھے رہے بلکہ جس طرح دوسرے مسلمان میدان میں گئے آپؐ بھی میدان میں گئے اور آپ ہی سب سے زیادہ دشمن کے حملہ کا نشانہ ہوتے تھے کیونکہ دشمن یہ جانتا تھا کہ اگر اس ایک شخص کو (علیہ السلام) (نعوذ باللہ) ہم نے قتل کر دیا تو پھر کسی اور کوشش کی ضرورت نہیں رہے گی اسلام ختم ہو جائے گا صحابہؓ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے اور تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ شدید تر حملہ دشمن کا نبی کریمﷺ کی ذات پر ہوتا تھا اور بہادر ترین صحابہؓ وہ سمجھے جاتے تھے جو آپؐ کے قرب میں رہتے تھے مثلاً حضرت ابو بکرؓ کے متعلق تاریخ گواہی دیتی ہے کہ مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ یہ سب سے زیادہ بہادر شخص ہے اس کو آنحضرتﷺ کے قرب میں رہنا چاہئے لیکن آپ کوئی تدبیر اپنی حفاظت کی نہیں کرتے تھے آپ کے پاس دنیوی سامان ہی کیا تھا؟ تدبیر کیا کرنی تھی بہرحال آپ نے اپنی عصمت اور حفاظت کا کوئی سامان نہیں کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ چونکہ آپ اپنا سب کچھ خداتعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے اور اپنی زندگی اور اپنی موت اور اپنا ہر سانس اور عبادتیں وغیرہ سب کچھ خالص خداتعالیٰ ہی کے لئے سمجھا اس یقین کے ساتھ کہ یہ اللہ کا حق ہے جو اسے دیتا ہوں میرا اپنا توکچھ بھی نہیں جانتے ہو خداتعالیٰ نے اس کے جواب میں کیا کیا؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ خدا نے کہا وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ (المائدہ:۶۸) چونکہ آپ ہر وقت اپنی جان اپنے رب کے حضور پیش کر رہے تھے اس لئے خدا نے کہا میں تمہاری حفاظت کا ذمہ دار ہوں اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال قدرت کے ساتھ اور نہایت ارفع شان کے ساتھ اس بات کو دنیا کے سامنے ظاہر کر دیا کہ خداتعالیٰ ہی آپ کا محافظ اور معین اور آپ کو بچانے والا تھا دشمن کا کوئی حربہ آپ کے خلاف کار گر نہیں ہوا اور آپ کے نفس کو، آپ کی ذات کو، آپ کے جسم کو خداتعالیٰ نے بچایا اور محفوظ رکھا نیز آپ کی اُمت کو بھی اپنی حفاظت میں رکھا۔
    دنیا میں بڑے بڑے انقلاب بپا ہوئے بعض ملکوں سے اسلام مٹایا گیا یہ تو درست ہے لیکن یہ کہ اسلام دنیا سے مٹ جائے اس میں کبھی بھی شیطان کامیاب نہیں ہوا نہ ظاہری طور پر نہ روحانی طور پر کیونکہ اُمت مسلمہ میں ہر وقت اور ہر زمانہ میں ایسے لوگ موجود رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرنے کے بعد اس کی سکھائی ہوئی ہدایت اور اس کے بتائے ہوئے علوم قرآنیہ کے نتیجہ میں اسلام کی شمع کو روشن رکھتے رہے ہیں کبھی تعداد کم تھی اور کبھی زیادہ لیکن کوئی زمانہ ایسا نہیں کہ جس کے متعلق تاریخ نے یہ شہادت نہ دی ہو کہ اس زمانہ میں خدا کے نیک بندے اسلام کے جھنڈے کو بلند کر رہے تھے کتنی عظیم عصمت ہے جو نبی کریمﷺ کو عطا ہوئی کہ آپ نے کہا خدا کی راہ میں قربانی دینے سے میں ہچکچاتا نہیں اور اپنی حفاظت کرنے کی مجھے ضرورت نہیں کیونکہ آپ نے اپنے نفس پر شفقت نہیں کی اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ پر انتہائی شفقت کی اسی طرح جو لوگ احکام قرآنی کے بجا لانے میں اپنے نفسوں پر شفقت نہیں کرتے مثلاً یہ نہیں کہتے کہ باہر ٹھنڈ ہے ہم گرم کمرہ میں بڑے آرام سے لیٹے ہوئے ہیں ہم لحاف سے باہر کیوں نکلیں وہ یہ نہیں کہتے کہ کمرہ میں ٹھنڈ ہے اور باہر اتنی شدید گرمی ہے باہر نکلا تو بیمار ہو جائوں گا اس لئے میں ظہر کی نماز کے لئے مسجد میں کیوں جائوں وہ یہ نہیں کہتے کہ خدا نے رزق دیا ہے اس کو استعمال کرنا چاہئے ہم رمضان کے مہینہ میں بھی دوسرے مہینوں کی طرح خوب کھائیں گے اور شیطان یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے تمہیں اپنے آپ کو محروم نہیں کرنا چاہئے لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کی عطا سے ایک خاص وقت کے اندر اپنے آپ کو محروم کرتا ہے وہ خدا کے حکم سے کرتا ہے کیونکہ اصل عطا جو خدا سے کسی کو حاصل ہوتی ہے وہ کامل اطاعت اور فرماں برداری کی عطا ہے وہ اس ذہنیت کی عطا ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی عطا اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو نہیں ملتی کہ وہ خوشی اور بشاشت کے ساتھ ہر قدم پر اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرماں برداری کرتا چلا جائے۔ غرض احکام کی بجا آوری، نواہی سے پرہیز حوادث زمانہ کی تکلیفوں اور مخالف طاقتوں سے جو دکھ پہنچتے ہیں ان کو خندہ پیشانی اور بشاشت سے قبول کرنا چاہئے خدا کی راہ میں جو پیش آئے اس سے انکار نہیں کرنا چاہئے کوئی یہ نہ کہے کہ مجھے نہیں منظور اور موسیٰ علیہ السلام کی امت کی طرح مثلاً یہ نہ کہے کہ ایک کھانے سے تو تسلی نہیں ہوتی بہت سے کھانوں کا انتظام کیا جائے ہمیں بھی تربیت کے لئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ایک کھانے کی تلقین کی ہوئی ہے یہ صحیح ہے کہ بعض مجبوریوں کی وجہ سے بعض گھروں میں ایک سے زائد کھانے پک جاتے ہیں طبائع میں اتنا اختلاف ہے کہ ہمارے بعض بچے گوشت کھاتے نہیں اور ہمیں اس سے بعض دفعہ تکلیف بھی ہوتی ہے اور ان کے لئے دال بہرحال پکانا پڑتی ہے میں بھی گھر میں دو تین کھانے پکے ہوں تو ایک کھانا جو مجھے پسند آ جائے اور میری طبیعت کے موافق ہو لے لیتا ہوں اور کھا لیتا ہوں ہمارا ایک بچہ ہے وہ گوشت بالکل نہیں کھاتا وہ دال لے لے گا یا دال کی بجائے آلو کا بھرتہ لے لے گا اور اسے کھائے گا بہرحال یہ بھی ایک مشقت ہے بظاہر یہ ایک معمولی چیز ہے لیکن انسان کا نفس اسے دھوکہ دیتا ہے اور اسے کہتا ہے تو یہ نہ کر تو تکلیف میں کیوں پڑتا ہے؟ بہرحال خدا کی راہ میں جو بھی مشقت تکلیف اور دکھ برداشت کرنا پڑے خوشی اور بشاشت سے اسے برداشت کرے اور ’’نہ‘‘ نہ کرے بعض لوگ ’’نہ‘‘ کرکے ایک اور قسم کی مشقت اپنے اوپر ڈال لیتے ہیں ۔ بعض ایسے بھی ہیں جو احکام الٰہی کی بجا آوری اور نواہی سے بچنے کے لئے مشقت برداشت نہیں کرتے اور اپنے جذبات کو قربان نہیں کرتے اللہ تعالیٰ ان سے اور قسم کی قربانی لے لیتا ہے ایک شخص اپنے بچہ کی صحیح تربیت نہیں کرتا وہ غافل ہوتا ہے۔ کہتا ہے ’’وڈے ہو کے آپے عادت ہو جاوے گی ہن اس نوں صبح نماز دے واسطے کیوں جگا واں‘‘ یا دوپہر کی گرمی میں نماز دے واسطے مسجد وچ کیوں بھیجاں آپے جدوں سیانا ہو جاوے گا نماز پڑھ لیا کرے گا‘‘ حالانکہ ماں کے لئے تو چالیس سال کا آدمی بھی بچہ ہوتا ہے بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے اچھا تم میرے لئے اس بچہ کو مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتے اور یہ جذبات کی قربانی ہے (ماں بھی جذبات کی ایک قربانی دے رہی ہوتی ہے) جو تم میری خاطر نہیں کرنا چاہتے۔ تمہارے لئے یہ بچہ ابتلاء بن گیا ہے میں اس ابتلاء کو تمہارے ساتھ کیوں رکھوں میں اسے اٹھا لیتا ہوں چنانچہ وہ اسے موت دے دیتا ہے پھر دھوپ کی گرمی اور صبح کی نیند کہاں جاتی ہے۔
    غرض جو لوگ خود کو خدا کے دین کی راہ میں آنے والی مشقتوں کے سامنے خوشی سے پیش کر دیتے ہیں اور دکھ اٹھا لیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان دکھوں سے کہیں بڑے دکھوں سے انہیں محفوظ کر لیتا ہے اور جو ایسا نہیں کرتے ان کی اصلاح کے لئے دوسرے سامان پیدا کرتا ہے کیونکہ بغیر امتحان کے، بغیر ابتلائوں کی برداشت، بغیر دکھوں کے اٹھانے کے کوئی شخص خداتعالیٰ کی رضا کو حاصل نہیں کر سکتا۔ اس کے ایمان کا امتحان لینا ضروری ہے۔
    ۱۲۔ اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ کے بارھویں معنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ کئے ہیں کہ
    ’’اسلام ایک موت ہے جب تک کوئی شخص نفسانی جذبات پر موت وارد کرکے نئی زندگی نہیں پاتا اور خدا ہی کے ساتھ بولتا، چلتا، پھرتا، سنتا، دیکھتا نہیں وہ مسلمان نہیں ہوتا‘‘۔
    (الحکم ۱۷؍ جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۸)
    یہاں آپ نے یہ فرمایا کہ دین حقیقی وہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کامل فرماں برداری کی جائے اور اس کی کامل فرماں برداری کا ایک نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کو اپنے نفسانی جذبات قربان کرنے پڑتے ہیں اور اپنے نفس پر ایک موت وارد کرنی پڑتی ہے اور خداتعالیٰ نے چونکہ کہا ہے عِنْدَ اللّٰہِ یعنی جب وہ جذبات پر موت وارد کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس قربانی کو قبول کرتا ہے اور جب وہ قربانی قبول کرتا ہے تو وہ کیا کرتا ہے؟ پھر اس کے ہاتھ باقی نہیں رہیں گے نہ اس کی آنکھیں باقی رہیں گی نہ اس کے جوارح اپنے رہیں گے اس کے جذبات پر موت وارد ہو جائے گی اور جذبات ہی ہیں جو جوارح کو حرکت میں لاتے ہیں مکھی میرے منہ پر آ کر بیٹھتی ہے اس کے چھوٹے چھوٹے پائوں سے جو گدگدی ہوتی ہے وہ مجھے برداشت نہیں اس لئے جب میں تنگ آ جاتا ہوں تو میرا ہاتھ فوراً اٹھتا ہے اور اس مکھی کو اڑا دیتا ہوں یہ میں ایک جذبہ کے ماتحت ہی کرتا ہوں اور جس وقت اللہ تعالیٰ کے لئے ایک انسان اپنے نفس پر موت وارد کر لیتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خدا کہتا ہے اے میرے بندے! تو نے اپنے جذبات پر میرے لئے، میری رضا کے حصول کے لئے ایک موت وارد کر لی ہے۔
    میں تجھے ایک نئی زندگی دیتا ہوں اب تو مجھ میں ہو کے بولے گا مجھ میں ہو کے سنے گا مجھے میں ہو کے تو اپنے ہاتھوں کو حرکت دے گا اور مجھ میں ہو کے تیرے پائوں آگے قدم بڑھائیں گے وہ جس طرف بھی اُٹھیں گے وہ میری ہی طرف ہو گی کیونکہ نفس پر تو موت وارد ہو گئی ہے غرض اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰہِ الْاِسْلَامُ کے ایک معنی یہ ہیں کہ نفس کو پوری طرح کچل دیاجائے کوئی جذبہ اپنا نہ رہے تمام جذبات نفسانی خداتعالیٰ کے ماتحت ہو جائیں اس کے لئے قربان ہو جائیں اس کے قدموں میں گر جائیں ایک موت وارد ہو جائے اور بندہ اپنے ربّ سے یہ امید رکھے کہ وہ ایک نئی زندگی اس کے بدلہ میں عطا کرے گا۔
    غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قرآن کریم کے اس چھوٹے سے ٹکڑے کی جو اس طرح تفسیریں کی ہیں ان پر جب ہم غور کرتے ہیں اور ان کی وسعت اور گہرائی ہمارے سامنے آتی ہے تو ہم یہ اعلان کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ تَبَارَکَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَمَّ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح معنی میں حضرت مسیح موعود الصلوٰۃ والسلام کا شاگرد بننے کی توفیق عطا کرے۔ (آمین)
    دو معنی اور رہ گئے ہیں لیکن میں ابھی پوری طرح صحت مند نہیں اور گرمی بھی بہت ہے اس لئے اس وقت میں انہی معنوں کے بیان کرنے پر اکتفا کرتا ہوں۔
    (روزنامہ الفضل ربوہ مورخہ ۱۴؍ ستمبر ۱۹۶۸ء صفحہ۲ تا۷)
    فضل عمر فاؤنڈیشن کا تیسرا سال شروع ہوچکا ہے بیرونی ممالک کی جماعتوں کی نسبتاً زیادہ رقم قابل وصول ہے
    (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۶؍ جولائی ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک ۔ ربوہ )
    ء ء ء
    ٭ اس یقین پر پختگی سے قائم ہونا چاہئے کہ اصل شافی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے دوائیں نہیں۔
    ٭ ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کا کام جماعت احمدیہ کے سپرد ہے۔
    ٭ جماعت کمزور ہے لیکن جس پاک ذات نے یہ ذمہ داریاں ڈالی ہیں وہ تمام قدرتوں اور طاقتوں کی مالک ہے۔
    ٭ آئندہ ہونے والے واقعات اور جس طرف زمانہ کا رُخ ہے اس کے متعلق ہمیں سوچتے رہنا چاہئے۔
    ٭ ہم نے اللہ تعالیٰ سے معرفت حاصل کرکے خدا کی معرفت دنیا میں قائم کرنی ہے۔



    تشہد، تعوذ اور سورئہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    ایک تو میں آج اپنی صحت کے لئے دعا کی تحریک کرنا چاہتا ہوں مئی میں مجھے نقرس کا بڑا شدید حملہ ہوا نقرس سے اور پھر جو ادویہ اس بیماری میں استعمال کروائی جاتی ہیں ان کی وجہ سے گردوں پر اثر پڑتا ہے اور ابھی میں پوری طرح صحت مند نہیں ہوا تھا کہ گرمی لگنے (جسے انگریزی میں ہیٹ سٹروک کہتے ہیں یا اُردو میں لو لگنا بھی کہتے ہیں) کی وجہ سے بڑی شدید تکلیف مجھے اُٹھانی پڑی اور اس کا اثر بھی گردوں پر ہوتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ گردوں کے نظام میں خلل واقع ہو گیا اور اس تکلیف سے ابھی تک پوری طرح نجات حاصل نہیں ہوئی۔
    اس عرصہ میں بیماری کی وجہ سے قریباً ۳۰ پونڈ سے زیادہ وزن میرا کم ہوا یعنی پندرہ سیر جسم بیماری کے اثر کی وجہ سے گھل گیا اور مجھے یہ محسوس ہوتا تھا کہ روزانہ میرا وزن کم ہوتا چلا جا رہا ہے چنانچہ میں نے لاہور سے تولنے والی مشین منگوائی اور روزانہ اپنا وزن لینا شروع کیا کوئی چھ سات دن ہوئے کہ ایک دن ایسا آیا کہ میرا وزن اپنی جگہ ٹھہر گیا گرا نہیں اب اپنی جگہ پر ٹھہرا ہوا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بیماری کافی دور ہوگئی ہے۔
    قارورے کا جب ٹیسٹ کروایا تو اس میں قریباً ساری ہی گردوں کی بیماری کی علامات تھیں خون کے ذرے بھی تھے پس (Pus) کے ذرے بھی تھے۔ البیومن (Albumin) بھی تھا بہت زیادہ ایسیڈٹی (Acidity) بھی تھی شوگر (Sugar) بھی تھی اور خون میں بھی شکر بہت زیادہ تھی یعنی ۱۲۰ نارمل ہے اور میرے خون میں شکر ۲۸۵ تھی لیکن میری طبیعت پر یہ اثر تھا کہ یہ ذیابیطس کی بیماری نہیں بلکہ دوسری بیماریوں کی وجہ سے گردے ٹھیک کام نہیں کر رہے جب یہ ٹھیک کام کرنے لگ جائیں گے تو ساری چیزیں اپنے معمول پر آ جائیں گی اور میں دعائیں بھی یہی کرتا رہا ہوں کہ اے خدا! تو مجھے ان بیماریوں سے محفوظ رکھ وقتی بیماریاں تو انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہیں لیکن جب مستقل بیماری کی شکل پیدا ہو جاتی ہے وہ ذیابیطس کی ہو یا کوئی اور وہ زیادہ تکلیف دیتی ہے۔
    تکلیف تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں برداشت کی جا سکتی ہے اور کی جاتی ہے لیکن بہرحال اس کا اثر کام پر پڑتا ہے اور کچھ کام ایسے ہیں جو روزانہ مجھے کرنے پڑتے ہیں دو دن بھی بیماری کی وجہ سے کام نہ کر سکوں تو طبیعت پر بہت زیادہ بوجھ ہو جاتا ہے اور جسم پر بھی بوجھ ہوتا ہے کیونکہ وہ کام میں جو میں نے کرنا ہے وہ میں نے ہی کرنا ہے کوئی اور تو نہیں کر سکتا مثلاً جب مجھے گائوٹ (Gout) یعنی نقرس کا حملہ ہوا تو میں دو راتیں سو نہ سکا شدید درد تھی تیسرے دن صبح میری نظر پڑی میرے سرہانے تو ڈاک کے انبار پڑے ہوئے تھے میں نے سوچا کہ اگر دو دن اور گزر گئے تو بڑی مشکل پڑ جائے گی چنانچہ اس بیماری ہی میں میں نے صبح کام کرنا شروع کیا میں چارپائی پر ہی کام کرتا رہا اور رات کے ایک بجے تک کام کرتا رہا اللہ تعالیٰ نے فضل کیا کہ کام ختم ہو گیا لیکن جسم پر کام کی وجہ سے (خصوصاً بیماری کے ایام میں) جو اثر پڑتا ہے وہ تو پڑتا ہی ہے۔
    اللہ تعالیٰ جو بڑا ہی فضل کرنے والا ہے، جو اپنے عاجز بندوں پر بڑا ہی رحم کرنے والا ہے اس نے میری دعائوں کو سنا اور تین دن کے اندر بغیر کسی دوائی کے ۳؍۱ بیماری دور ہو گئی صرف ۳؍۲ رہ گئی ہے بلڈ اور شوگر لیول (Blood + Sugar level) بھی بیماری والے حصہ میں دو تہائی رہ گیا ہے یعنی ایک تہائی کا آرام آ گیا ہے اور قارورے میں بھی ۳؍۲ رہ گیا ہے اور ۳؍۱ آرام آ گیا ہے میں امید کرتا ہوں کہ انشاء اللہ، اللہ تعالیٰ آپ کی اور میری دعائوں کو سنے گا اور صحت دے گا میرا ارادہ کراچی جانے کا ہے وہاں میں نے ڈاکٹروں سے بھی مشورہ کرنا ہے۔
    پانچ چھ سال ہوئے مجھ پر بڑی شدید قولنج کی بیماری کا حملہ ہوا تھا اس طرح کہ انتڑی بند ہو گئی تھی غالباً اس میں کوئی بل پڑ گیا تھا یا پتہ نہیں اور کیا بات ہوئی تھی اس میں سے نہ ہوا گزرتی تھی نہ فضلہ اور جسم میں زہر جمع ہونے شروع ہو گئے اور پیٹ پھولنا شروع ہوا آخر ہمارے ڈاکٹر مسعود صاحب یہاں آئے اور انہوں نے کہا لاہور جا کر فوراً اپریشن کروانا چاہئے چنانچہ لاہور کی تیاری ہو گئی لیکن لاہور کے راستہ میں ہی انتڑی کا راستہ کھل گیا (اللہ تعالیٰ اس طرح بھی فضل کرتا ہے) اور جب ہم وہاں پہنچے تو آپریشن کی ضرورت نہیں پڑی اس وقت جب ٹیسٹ کروائے تو خون میں بھی شکر تھی اور قارورہ میں بھی شکر تھی وہاں ایک غیرملکی ڈاکٹر ہیں انہوں نے مجھے کہا کہ اگر کسی سخت بیماری کا حملہ ہو تو بعض دفعہ جسم کے دوسرے نظام (جو اللہ تعالیٰ نے بیسیوں بلکہ بے شمار جسم کی حفاطت کے لئے بنائے ہیں ایک یا زائد نظام) متاثر ہوتے ہیں حقیقی بیماری نہیں ہوتی بلکہ کسی اور بیماری کا اثر ہوتا ہے اس لئے ذیابیطس کی دوائی بالکل نہ کھانا کیونکہ پھر وہم ہو جائے گا اور جسم کو دوا کی عادت پڑ جائے گی کئی مہینے تک کھانے کا پرہیز کرو پھر دیکھو کیا اثر ہوتا ہے مجھے یاد پڑتا ہے کہ قریباً دو مہینے کے پرہیز کے بعد خود بخود بغیر کسی دوائی کے گردوں نے اپنے معمول کے مطابق کام کرنا شروع کر دیا اور ساری بیماری جاتی رہی میں امید رکھتا ہوں کہ اب بھی اللہ تعالیٰ ایسا فضل کرے گا کہ بغیر کسی علاج کے خود بخود ہی آرام آ جائے گا کیونکہ وہی شافی مطلق ہے دوائی تو ایک تدبیر ہے اور تدبیر ہمیں کرنی پڑتی ہے کوئی نہ کوئی بہانہ ہوتا ہے مثلاً جب میرے جیسا ذہن سوچتا ہے کہ دوائی نہیں کھانی تو چونکہ عام طور پر ایلو پیتھک علاج رائج ہے اس لئے میں سوچتا ہوں کہ اچھا میں ایلوپیتھک دوائیں استعمال نہیںکروں گا اور جب سوچتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے تدبیر کرنے کا حکم بھی دیا ہے تو پھر سوچتا ہوں کہ اچھا ہومیو پیتھک دوائیں میں استعمال کر لوں گا جو بعض کے نزدیک تو صرف پانی ہی ہوتی ہیں اس طرح تدبیر بھی ہو جاتی ہے ہومیو پیتھک طریق علاج بھی اللہ تعالیٰ نے ہی سکھایا ہے وہ بعض دفعہ مٹی کی ایک چٹکی میں بھی شفا رکھ دیتا ہے وہ کاغذ کی ایک گولی میں بھی شفا رکھ دیتا ہے۔
    میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ ایک دفعہ قادیان میں ایک شخص کو شدید پیٹ درد ہوا رات کے دو بجے تھے وہ گو جوان آدمی تھا لیکن درد اتنا شدید تھا کہ اس نے سارا محلہ سر پر اٹھا لیا سب لوگ جاگ پڑے اور یہ خیال کرکے کہ پتہ نہیں کیا بات ہے اس شخص کے مکان کی طرف دوڑے وہاں جا کر دیکھا کہ وہ شخص درد کی وجہ سے تڑپ رہا ہے حضرت میاں شریف احمد صاحبؓ کے مکان کے قریب ہی اس شخص کی رہائش تھی آپ بھی وہاں پہنچے وہاں اسے تڑپتے دیکھا تو ایک آدمی کو دوڑایا کہ ڈاکٹر کو لے آئو اور اپنی جیب میں سے ایک کاغذ نکالا اس کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا لیا اور اس کو اچھی بل دے کر ایک گولی بنائی پھر آپ نے پانی منگوایا اور شخص کو کہا منہ کھولو میں خود دوائی منہ میں ڈالوں گا کیونکہ آپ اس کے ہاتھ میں کاغذ کا ٹکڑا پکڑا نہیں سکتے تھے آپ نے دعا کی اور اس شخص کو کاغذ کی گولی کھلا دی اور پانچ منٹ کے اندر قبل اس کے کہ ڈاکٹر آئے اس کو آرام آ گیا اور اس کی چیخیں بند ہو گئیں اب دیکھو کاغذ کے اس ٹکڑے میں شفا نہیں تھی لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت جب اس کی صفت شفا کو حرکت میں لاتی ہے اور اس کی یہ صفت جلوہ دکھاتی ہے تو یہ جلوہ جس چیز پر پڑتا ہے وہ کاغذ کا ٹکڑا ہو یا مٹی کی چٹکی ہو یا کوئی بہترین دوا ہو (اس جلوہ کے لئے وہ سب ایک جیسی ہیں) ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ شفا دے دیتا ہے حالانکہ بڑے بڑے ماہر ڈاکٹر علاج کرتے ہیں اور بہترین مہنگی دوائیں دیتے ہیں لیکن بیماری میں کوئی فرق پیدا نہیں ہوتا غرض بعض دفعہ اللہ تعالیٰ یہ جلوہ بھی دکھاتا ہے دراصل یہ ساری باتیں انسان کو اس لئے دکھائی جاتی ہیں کہ وہ اس یقین پر پختگی سے قائم ہو جائے کہ اصل شافی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے دوائیں نہیں۔
    غرض میں نے ہومیو پیتھی کی بعض دوائیں کھائیں اور ایک دوا جدوار ہے وہ بھی گردوں کے لئے بڑی اچھی ہے جسم کی عام غدودوں کو بھی وہ فائدہ دیتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا الہامی نسخہ ہے، وہ بھی میں کھاتا رہا ہوں لیکن یہ چیزیں بھی بڑے لمبے استعمال کے بعد ہی اثر کرتی ہیں لیکن جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے کہ دو دن کے بعد ٹیسٹ ہوئے (خون کے بھی اور قارورہ کے بھی) تو معلوم ہوا کہ بیماری قریباً ایک تہائی دور ہو چکی ہے۔
    دوست دعا کریں میں بھی دعائوں میں لگا ہوا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرے اور کامل شفا عطا کرے اور پوری ہمت دے کیونکہ جو کام جماعت احمدیہ کے سپرد کیا گیا ہے وہ بڑا اہم ہے ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنا کوئی معمولی بات نہیں دنیا کے لحاظ سے ہم یتیم ہیں (جماعتی لحاظ سے دنیا ہمیں یتیم ہی سمجھتی ہے) ہم بے کس ہیں، غریب ہیں، ہمارے پاس کوئی پیسہ نہیں اور سپرد کر دیا اللہ تعالیٰ نے یہ کام کہ ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرو اس کے لئے اتنی مالی قربانیاں دو جتنی قربانیاں دینے کی تمہیں توفیق ہے اور ہماری جماعت دنیا کی آبادی کے لحاظ سے مختصر سی جماعت ہے اور اتنا اہم کام اس کے ذمہ لگایا گیا ہے اور پھر ساری جماعت کی ذمہ واری اللہ تعالیٰ نے ایک شخص یعنی خلیفہ وقت کے کندھوں پر ڈال دی ہے یہ کندھے بڑے کمزور ہیں لیکن ایک چیز (جو بڑی چیز ہے) سہارا دیتی ہے اور وہ یہ ہے کہ جس پاک ذات نے یہ ذمہ واریاں ڈالی ہیں وہ تمام قدرتوں کی مالک ہے، وہ تمام طاقتیں رکھنے والی ہے جب اس نے کہا ہے کہ میں تمہارے ذریعہ سے یہ ’’ناممکن‘‘ ممکن بنا دوں گا تو یہ ناممکن ممکن ضرور بن جائے گا کوئی دنیوی طاقت اس کے راستہ میں روک پیدا نہیں کر سکتی پس دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ کامل شفا دے۔
    ایک اور بات بتا دوں۔ قرآن کریم نے ایک جگہ فرمایا ہے۔ اِذَامَرِضْتُ فَھُوَیَشْفِیْنِ (الشعراء:۸۱)اس قسم کی بیماریاں جب آتی ہیں تو پھر آدمی کو علی وجہ البصیرت اس آیت کے معنی معلوم ہوتے ہیں مثلاً میں نے آرام سے کہہ دیا ہے کہ مجھے گرمی لگی لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ مجھے گرمی کیوں لگی آدمی خود بیمار ہوتا ہے بے احتیاطی کے نتیجہ میں یا غلط فیصلہ کرکے اس دن بڑی سخت لو چل رہی تھی ملاقات کے لئے دوست بڑی تعداد میں آئے ہوئے تھے میں نے کہا مجھے نفس کی قربانی دینی چاہئے اور ان سے مل لینا چاہئے چنانچہ میں سوا دس بجے سے کوئی ایک بجے (بعد دوپہر) تک اوپر جہاں میں عام طور پر ملاقات کیا کرتا ہوں بیٹھا رہا اور جب وہاں سے اٹھا تو میرا سر پکڑا ہوا تھا اور مجھے پتہ لگ گیا تھا کہ میں غلطی کر بیٹھا ہوں اور اب اس کو بھگتنا پڑے گا تو مَرِضْتُ انسان خود بیمار ہوتا رہتا ہے اور خداتعالیٰ فَھُوَیَشْفِیْنِ کے جلوے بھی دکھاتا رہتا ہے۔ پس دوست دعا کریں کہ شافی خدا اپنی قدرتوں اور رحمتوں کے نتیجہ میں اپنے شافی ہونے کی صفت کے جلوے دکھائے اور آپ کو بھی اور مجھے بھی اپنی حفظ اور امان میں رکھے اور صحت دے۔
    دوسری بات فضل عمر فائونڈیشن کے نام سے جو تحریک آج سے قریباً دو سال پہلے جاری کی گئی تھی اس کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دو سال گزر چکے ہیں اور ایک سال باقی رہتا ہے ہم نے باہمی مشورہ کے بعد فیصلہ کیا تھا کہ جو دوست اس تحریک میں حصہ لینا چاہیں اگر وہ چاہیں تو اپنے وعدے کو تین حصوں میں تقسیم کرکے تین سالوں میں ادا کر دیں (یعنی ایک تہائی ہر سال میں) اس وقت جو دو سال کی آمد ہے وہ دو تہائی سے کم ہے میرا خیال ہے کہ پاکستان کی جماعتوں نے (یا ان میں سے اکثر نے) اپنے وعدہ کے مطابق دو تہائی یا بعض نے اس سے بھی زیادہ ادا کر دیا ہے اور اپنے وعدوں کو پورا کر لیا ہے لیکن جو جماعتیں بیرون پاکستان کی ہیں ان کے ذمہ دار آدمیوں نے جن میں ہمارے مبلغ اور وہاں کے عہدیدار شامل ہیں ’’ذَکِّرْ‘‘ کی نصیحت پر عمل نہیں کیا کیونکہ جو خطوط وہاں سے آتے ہیں اور جو حالات ہمیں معلوم ہیں وہ لوگ کسی طرح بھی پاکستان کی جماعتوں سے اپنے اخلاص میں کم نہیں بلکہ وہ ہمارے شانہ بہ شانہ قربانیوں کے میدان میں آگے بڑھ رہے ہیں اس تحریک میں اگر وہ پیچھے رہ گئے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو یاددہانی نہیں کرائی گئی ذمہ دار عہدیدار یا مبلغ جو بیرونی ملک میں کام کر رہے ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ دوستوں کو اس طرف متوجہ کریں پاکستان میں جن دوستوں نے فضل عمر فائونڈیشن کے وعدے کئے ہوئے ہیں ان کو بھی میں کہنا چاہتا ہوں کہ تیسرا سال شروع ہو گیا ہے اور اس تحریک میں چوتھا سال نہیں ہو گا یعنی جب تین سال ختم ہو جائیں گے تو اس کے بھی کھاتے بند کر دئے جائیں گے یہ اعلان میں آج موجودہ حالات کے مطابق بڑی سوچ کے بعد کر رہا ہوں میں چوتھے سال کی اجازت نہیں دینا چاہتا۔
    تیسرے سال میں سارے وعدوں کی ادائیگی ہو جانی چاہئے استثنائی صورت تو ہوتی ہے بعض کے حالات اچانک خراب ہو جاتے ہیں لیکن دل میں شوق اور ولولہ اور جذبہ اسی طرح قائم ہوتا ہے ایسا آدمی اگر آ کر ہمیں کہے کہ اس سال (تیسرے سال) میرے حالات ایسے ہو گئے ہیں مجھے کچھ اور مہلت دی جائے تو ایسے دوستوں کو تو مہلت دینا مناسب ہے اور انکا حق ہے کہ ان کو مہلت دی جائے لیکن فضل عمر فائونڈیشن کے سلسلے میں عام قاعدہ اور دستور یہ ہو گا کہ تیسرا سال اس کا آخری سال ہے اور ساری وصولی اسی کے اندر ہو جانی چاہئے اور مرکزی کارکنوں اور جماعتوں کے کارکنوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ یہ سال وصولیوں کا ہے وعدوں کا نہیں اگر کوئی چاہتا ہے تو وہ وعدہ کرے اور تین سال کا چندہ اکٹھا دینے کا وعدہ کرے وہ اتنا ہی وعدہ کرے جو وہ تیسرے سال میں پورے کا پورا ادا کر سکے اس کو ہم آگے نہیں چلائیں گے غرض اس چندہ کی طرف خاص توجہ دینی چاہئے ویسے تو اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے کہ جماعت کو اللہ تعالیٰ نے قربانی کی بڑی توفیق عطا کی ہے کتنی مالی قربانیاں ہیں جو مختلف شکلوں میں جماعت کو دینی پڑتی ہیں پھر یہ تجویز ہوئی سب نے مشورہ کیا، ایک جذبہ پیدا ہوا اور اسی تعلق کی وجہ سے ہوا جو جماعت کے افراد کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا اور پہلے خیال تھا کہ ۲۵ لاکھ روپیہ تک چندہ اکٹھا کیا جائے لیکن اس وقت تک ساڑھے سنیتیس لاکھ کے وعدہ ہو چکے ہیں اور وصولی بھی پونے بائیس لاکھ کے قریب ہو چکی ہے پس یہ بات صحیح ہے کہ مخلصین بڑی قربانی دیتے ہیں لیکن جنہوں نے یہ چندہ ابھی تک ادا نہیں کیا ہمارا فرض ہے کہ ان کے متعلق بھی ہم حسن ظنی سے کام لیں کہ ان کے چندہ کی عدم ادائیگی اخلاص کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ بعض جائز حالات یا بعض بے احتیاطیوں اور عدم توجہ کی وجہ سے وہ پیچھے رہ گئے ہیں میں انہیں کہتا ہوں کہ اپنے اخلاص کو جھنجوڑیں اور اپنے وعدوں کو پورا کریں اور اس تیسرے اور آخری سال اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہو جائیں پتہ نہیں کہ آئندہ کیا حالات ہونے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے کس رنگ میں اور کس شکل میں ہم سے قربانیاں لینی ہیں ایک کام جو ہم نے شروع کیا ہے اس کے اتنے حصہ کو ہمیں جلد سے جلد بند کر دینا چاہئے پھر اللہ تعالیٰ مزید قربانیوں کی راہیں ہمارے لئے کھول دے گا اور مزید قرب اور رحمت کے دروازے ہمارے لئے کھول دے گا ہم سے وہ ایک پیسہ لیتا ہے تو میں یہ نہیں کہتا کہ اسی پیسہ کے مقابلہ میں چونکہ وہ ہمیں ہزار پیسہ دے دیتا ہے اسی لئے ہم خوش ہیں کیونکہ جب ہم یہ پیسہ اس کی راہ میں پیش کرتے ہیں تو ہمارا نفس ہمیں کہتا ہے کہ ہمیں دنیا کے اموال سے محبت نہیں ہے جب دنیا کا مال ہمیں احسان کے طور پر واپس ملتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا یہ احسان دیکھ کر ہم خوش بھی ہوتے ہیں اور اس کی حمد بھی کرتے ہیں لیکن ہمارے دل میں دنیا کی محبت اسی طرح ٹھنڈی رہتی ہے جس طرح پیسہ دیتے وقت ٹھنڈی تھی لیکن جب ہم یہ پیسہ دیتے ہیں تو دنیا کے اموال دینے کے علاوہ وہ ہم سے اتنا پیار کرنے لگ جاتا ہے کہ اس کے ایک ایک احسان اور پیار اور محبت کے جلوہ کے بعد انسان کے نفس کا کچھ باقی نہیں رہتا وہ فنا ہو جاتا ہے وہ اتنا پیار کرنے والا ہے اور یہی پیار ہے جو ہماری زندگی ہے یہی پیار ہے جو ہماری بقاء ہے ہماری جنت ہے اور یہ چیز جب ہمیں مل جاتی ہے تو پیسہ کیا وہ اگر ہم سے سب کچھ لے لے اور ہمیں اپنی محبت دے دے تو ہم خوش ہیں پس اپنے وعدے جلد ادا کریں ممکن ہے کہ کوئی اور اہم تحریکات فضل عمر فائونڈیشن کے چندوں کے بند ہونے کا انتظار کر رہی ہوں اور اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ ہو کہ بات تو ضروری ہے لیکن ایک سال ان لوگوں کو انتظار کروا لینا چاہئے کہ کہیں ان پر زیادہ بوجھ نہ پڑ جائے اس لئے آپ جلدی جلدی چندے ادا کریں تا کہ اللہ تعالیٰ کے قرب اور اس کی رحمت کے نئے دروازے کھلنے کے امکان آپ کے لئے پیدا ہو جائیں اور خدا کرے کہ نئے نئے دروازے رحمت کے ہم پر کھلتے رہیں۔
    اس وقت قریباً چودہ پندرہ لاکھ روپیہ قابل وصول ہے اور نسبت کے لحاظ سے غیر ممالک میں زیادہ نسبت قابل وصول کی ہے اور کم نسبت وصول شدہ کی ہے ہمارے پاکستان کے لحاظ سے زیادہ نسبت وصول شدہ کی ہے اور کم نسبت قابل وصول کی ہے بہرحال جو بھی نسبت ہو ہم نے بحیثیت جماعت اور ہم میں سے ہر ایک نے بحیثیت فرد اپنے وعدوں کو پورا کرنا ہے اور اس کی طرف ہمیں متوجہ ہونا چاہئے اللہ تعالیٰ ہم پر فضل کرے۔
    ایک مضمون میں نے شروع کیا ہوا تھا اب وہ شاید کراچی جا کر ختم ہو گا خدا کی جو مرضی ہو اس میں بڑا لطف آتا ہے ایک لمبا سا مضمون ذہن میں آگیا کلاس (فضل عمر تعلیم القرآن کلاس) میں میں نے اسے شروع کیا تھا اور اس کے دو حصے تھے ایک حصہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بعض لوگوںکے متعلق سوء کا حکم جاری ہوتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ کے لئے جب ارادہ کا لفظ بولا جائے تو لغوی لحاظ سے اس کے معنی حکم ہی کے ہوتے ہیں اور جب کسی گروہ کے متعلق سوء کا حکم جاری ہوتا ہے تو پھر کوئی طاقت اس کو خدا کے غضب اور اس کی رحمت سے محرومی سے بچا نہیں سکتی ایک اور گروہ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ ان پر میں اپنی رحمت کی بارش برسائوں گا، ان کو اپنی رحمت کے سایہ تلے رکھوں گا، ان کے لئے میں اپنی رحمت کے دروازے کھولوں گا، ان کو میں اپنی رحمت کی جنتوں میں داخل کروں گا جب اس کا کسی فرد یا گروہ کے متعلق یہ فیصلہ ہو جائے تو چھوٹا ہو یا بڑا، غریب ہو یا امیر، صاحب اقتدار ہو یا نہ ہو، اس شخص یا جماعت کے لئے خداتعالیٰ کے فیصلہ کے مطابق رحمت کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔
    دکھ اور عذاب کا فیصلہ جب کسی قوم کے متعلق ہوتا ہے تو جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں یہ فرماتا ہے کہ خدا ذرا بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ہی فرماتا ہے کہ وہ تمام صفات حسنہ سے متصف ہے، کوئی برائی اس کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی، کوئی نقص اس میں پایا نہیں جا سکتا، وہ ہر لحاظ سے ایک کامل اور مکمل ذات ہے پس جب اس نے یہ کہا کہ جب میں کسی قوم کے متعلق سوء کا فیصلہ کرتا ہوں تو میرے غضب سے کوئی طاقت انہیں بچا نہیں سکتی تو ساتھ ہی ہم اپنے پیارے رب سے یہ توقع اور امید رکھتے ہیں کہ وہ ہم پر ان راہوں کی نشان دہی بھی کرے گا جن راہوں پر چل کر اللہ تعالیٰ سے انسان دور ہو جاتا ہے اور اس کے قہر اور غضب کا نشانہ بنتا ہے۔
    قرآن کریم میں گو بہت سے مقامات پر ان کا ذکر موجود ہے لیکن سورئہ احزاب کو ہی جب میں نے اس زاویہ سے دیکھا تو بہت سی باتیں مجھے وہاں نظر آئیں جن میں سے گیارہ باتیں جن کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا اور انسان اس کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کے حق میں یا اس جماعت کے حق میں سوء کا فیصلہ کیا جاتا ہے یعنی دکھ اور عذاب اور رحمت سے محرومی کا، ان کا ذکر میں کلاس کے سامنے کر چکا ہوں اور میرا خیال تھا کہ میں آج کا خطبہ دوسرے حصہ پر دوں گا اور اختصار کے ساتھ مضمون کو ختم کر دوں گا پھر اللہ تعالیٰ سے یہ امید رکھوں گا کہ وہ جماعت کی تعلیم اور تربیت کے لئے اور ضروری مضامین خود سکھا دے گا علم بھی انسان خدا سے ہی حاصل کرتا ہے اس کی توفیق کے بغیر علم بھی نہیں ملتا پھر اس کے علم کے تعلق میں بیان کی جو توفیق ملتی ہے وہ بھی اس کے فضل سے ملتی ہے لیکن ایک تو میں نے اپنی صحت کے لئے دعا کی تحریک کرنی تھی اور دوسرے فضل عمر فائونڈیشن کا بڑا ضروری مسئلہ تھا اسے مسئلہ ہی کہنا چاہئے کیونکہ بعض ان دوستوں کے لئے جنہوں نے ابھی تک اپنے وعدہ کے مطابق فضل عمر فائونڈیشن کا چندہ ادا نہیں کیا یہ ایک مسئلہ ہی بن گیا ہے اور میں نے ان لوگوں کو نصیحت کرنی تھی تیسرے میں بہت لمبا خطبہ دے بھی نہیں سکتا یعنی ڈیڑھ دو گھنٹے کا خطبہ کیونکہ میری صحت ابھی ٹھیک نہیں ہے اور اس لئے بھی کہ اس گرمی میں آپ کی طبیعت کا خیال بھی رکھنا چاہئے یہاں جوان بھی بیٹھے ہیں، ہمت والے بھی بیٹھے ہیں، صحت مند بھی ہیں لیکن بوڑھے بھی ہیں اور کچھ میرے جیسے نیم مریض بھی ہیں، کچھ ہماری کمزور بہنیں بھی ہیں، ان سب کا خیال رکھنا چاہئے۔ ویسے تو گرمیوں میں اس خطبہ سے بھی چھوٹا خطبہ ہونا چاہئے جتنا آج میں نے دیا ہے یعنی ۲۰۔۲۵ منٹ کے قریب سو میں اسی پر خطبہ ختم کرتا ہوں دوست اس یقین کے ساتھ کہ شفا خدا کے ہاتھ میں ہے میری صحت کے لئے دعا کریں اپنی صحت کے لئے بھی دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ صحت مند رکھے بیماری سے شفا بھی وہی دیتا ہے صحت پر قائم بھی وہی رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اپنا فضل فرمائے اور اپنی رحمت کا وارث بنائے۔
    فضل عمر فائونڈیشن کا یہ آخری سال ہے کوئی شخص اس دھوکہ میں نہ رہے کہ اس سال اگر سستی دکھائی تو آئندہ سال اس سستی کو دور کر دیں گے کیونکہ آئندہ سال اغلب یہ ہے کہ فضل عمر فائونڈیشن کی وصولی کا سال نہیں ہو گا ممکن ہے کہ کسی اور تحریک کی وصولی کا سال بن جائے یہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے خصوصاً غیرممالک میں جو ہمارے مبلغ اور عہدیدار (مقامی جماعت) کے ہیں ان کو بار بار جماعت کے سامنے یہ بات لانی چاہئے کہ فضل عمر فائونڈیشن کے اس تیسرے اور آخری سال میں اپنے وعدوں کو پورا کرے بیرونی ممالک کی جماعتوں نے اس مد میں جو چندے دئے ہیں وہ انہی ممالک میں ہی ہیں اس لئے کہ بہت سے ممالک ایسے ہیں جو اپنے ملک کا روپیہ دوسرے ملک میں جانے نہیں دیتے اس لئے بہرحال وہ روپیہ فضل عمر فائونڈیشن کے کسی منصوبہ کے ماتحت ان ملکوں میں ہی خرچ ہو گا، اشاعت اسلام کے لئے قرآن کریم کے تراجم کے لئے وغیرہ وغیرہ (بہت سے کام کرنے والے ہیں) اور جہاں ممالک روپیہ باہر جانے کی اجازت دیتے ہیں وہاں ہم نہیں چاہتے کہ روپیہ یہاں آئے اس لئے ہمارے اپنے ملک میں بھی حالات ایسے نہیں کہ روپیہ زیادہ مقدار میں باہر بھجوایا جا سکے ویسے اس سال اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل کیا ہے کہ گندم بڑی اچھی ہو گئی ہے لیکن جو غیر ملکی روپیہ ہم کماتے ہیں اور جس کو فارن ایکسچینج (Foreign Exchange) کہتے ہیں اس پر ملکی ضروریات کی وجہ سے بڑا بار رہتا ہے اس لئے ہمیں فارن ایکسچینج کی بہت تھوڑی رقم مل سکتی ہے اور یہ رقم پیسے دے کر ملتی ہے یہ نہیں کہ گورنمنٹ عطیہ دیتی ہے بلکہ ہم لاکھ روپیہ دیتے ہیں اور وہ لاکھ روپیہ فارن ایکسچینج کی شکل میں ہمیں دے دیتے ہیں لیکن فارن ایکسچینج پر بھی اتنے دبائو اور (Pressure)ہیں کہ وہاں سے ہمیں زیادہ روپیہ نہیں مل سکتا اس لئے جن ممالک سے غیر ملکوں میں روپیہ باہر جا سکتا ہے وہاں ہماری ریزرو رقم رہنی چاہئے تاکہ اگر کسی جگہ غلبہ اسلام کے سامان پیدا ہوں تو یہ نہ ہو کہ ہم سے مطالبہ ہو کہ آدمی بھیجو، کتابیں بھیجو، بدمذہب اور دہریہ اور عیسائی اور دوسرے مذاہب کے ماننے والے اسلام کی طرف مائل ہیں اور باتیں سن رہے ہیں اور حالات ایسے ہیں کہ اسلام یہاں پھیل جائے گا لیکن ہم انہیں کہیں کہ ہمارے پاس تو پیسہ نہیں اگر ایسا ہو تو یہ انتہائی محرومی اور تکلیف کا باعث اور ڈوب مرنے کا مقام ہو گا غرض ہمارا روپیہ ان ممالک میں ریزرو رہے گا اور اس وقت غیر ممالک میں روپیہ ریزرو رہنا جو بوقت ضرورت کام آئے بہت ضروری ہے کیونکہ دنیا کے حالات بڑی تیزی سے بدل رہے ہیں ایسے ممالک جو آج بظاہر بڑے امیر معلوم ہوتے ہیں اور ان کی کرنسی پر کوئی پابندی نہیں دیکھتے ہی دیکھتے ان میں ایک انقلاب آتا ہے اور اگلے دن کرنسی پر پابندیاں لگ جاتی ہیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اور فراست دی ہے جب اللہ تعالیٰ اپنی کسی حکمت کاملہ کے نتیجہ میں ہماری اس دنیا میں اس زمانہ میں ایسے حالات پیدا کر دے تو وہ اپنے بندوں سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنے زمانہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے اور زمانہ کے جو چیلنج ہیں ان کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہیں اور غلبہ اسلام کے لئے ہر ممکن تدبیر وہ کرتے رہیں۔ یہ تو نہیں کہ پھولوں کی سیج پر ہم لیٹے رہیں اور پھر بھی ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنے میں کامیاب بھی ہو جائیں۔ دنیا جس کو دکھ کہتی ہے مومن اسے دکھ نہیں سمجھتا لیکن دنیا جسے دکھ کہتی ہے، دنیا جسے تکلیف سمجھتی ہے دنیا جسے مفلسی قرار دیتی ہے، دنیا جسے بیکسی کا نام دیتی ہے ان ساری چیزوں میں سے ہم نے گزرنا ہے ہم انہیں رضاء الٰہی کے حصول کی خاطر کوئی چیز نہیں سمجھتے جس کا ہاتھ خدا کے ہاتھ میں ہو جس نے اپنے رب کی انگلی پکڑی ہوئی ہو، وہ اگر ایک سال کا بچہ بھی ہے اور اس کے دماغ میں سمجھ ہے تو وہ یہ کہے گا کہ میں کچھ بھی نہیں ایک سال کے بچے میں کیا طاقت ہوتی ہے نہ علم نہ عقل اور نہ تجربہ کچھ بھی نہیں ہوتا، نہ اس میں جسمانی طاقت ہوتی ہے لیکن وہ ایک غریب اور ناکارہ اور مفلس اور کم مایہ ماں کی انگلی پکڑ لے تو اس کی گردن تن جاتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اب مجھے دنیا کی کوئی طاقت کچھ نہیں کہہ سکتی اس کا یہ خیال تو بچپنے کا ہوتا ہے لیکن ایک مومن جب واقعہ میں اپنے ربّ کی انگلی پکڑ لیتا ہے اور اپنے وجود پر ایک فنا وارد کر لیتا ہے اور خدا کو کہتا ہے مجھ میں ایک کمزور کم عمر بچہ جتنی بھی طاقت نہیں تو ہی میرا سب کچھ کر اور پھر پیار سے وہ اس کی انگلی پکڑ لیتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ خدا بڑا ہی طاقت ور ہے اس کی محبت اور اس کی قدرت کے وہ جلوے دیکھتا ہے ہم نے اللہ تعالیٰ سے علم حاصل کرکے علم کو پھیلانا ہے، اللہ سے معرفت حاصل کرکے خدا کی معرفت دنیا میں قائم کرنی ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل سے محمد رسول اللہﷺ کی محبت اپنے دلوں میں پیدا کرنے کے بعد دنیا کے دلوں میں محمد رسول اللہﷺ کی محبت پیدا کرنی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے عقل لینی ہے فراست لینی ہے خداتعالیٰ ہمارا امتحان لیتا ہے، اخلاص کا بھی، فراست کا بھی نبی اکرمﷺ نے فرمایا ہے کہ جنتی فراست مومن کی ہے کسی اور شخص کی نہیں ہوتی کیونکہ رسول اکرمﷺ نے تو یہ فرمایا ہے کہ مومن کی فراست سے بچتے رہا کرو ڈرتے رہا کرو لیکن کسی اور امت کے متعلق یہ نہیں کہا اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ مومن کی فراست کے مقابلہ میں کسی اور کی فراست نہیں ہے غرض چونکہ مومن کو خداتعالیٰ نے اتنی فراست دی ہے اس لئے آپ کو ساری دنیا کے حالات پر سوچتے رہنا چاہئے میں بھی سوچتا ہوں اور غلبہ اسلام کے لئے ہم نے ہر ممکن کوشش کرنی ہے اور دس سال بعد جو واقعات ہونے والے ہیں یا بیس سال بعد جو واقعات ہونے والے ہیں اور جس طرف زمانہ کا رخ ہے اس کے متعلق ہمیں سوچتے رہنا چاہئے۔
    دعائوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سی باتیں مومن کی فراست بھانپ لیتی ہے اور اس کے لئے تیاری کرتی ہے غرض غیر ممالک میں فضل عمر فائونڈیشن کا وعدہ اس سال ضرور پورا ہو جانا چاہئے اور اس کے لئے پوری کوشش کرنی چاہئے اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
    (روزنامہ الفضل ربوہ مورخہ ۲؍ اگست ۱۹۶۸ء صفحہ۱ تا۶)
    ٭…٭…٭
    خطبہ جمعہ ۲؍ اگست ۱۹۶۸ء
    حضور انور کراچی میں تشریف فرما تھے۔ زود نویسی کے ریکارڈ کے مطابق حضور نے خطبہ ارشاد نہیں فرمایا۔

    ہمیں اپنا زیادہ سے زیادہ وقت تسبیح و تحمید درود شریف اور دیگر دعاؤں میں صرف کرنا چاہئے
    (خطبہ جمعہ فرمودہ ۹؍ اگست ۱۹۶۸ء بمقام احمدیہ حال۔ کراچی)
    ء ء ء
    ٭ دنیا کی کوئی طاقت ایسی نہیں جو خدا تعالیٰ کے فیصلوں کو ردّ کر دے اور بدل دے۔
    ٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میری رحمت صرف میرے فضل سے حاصل کی جا سکتی ہے کسی عمل سے حاصل نہیں کی جا سکتی۔
    ٭ اُٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے خدا تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہنا چاہئے۔
    ٭ ایک راستہ جو خدا کی رحمت کے بے پایاں سمندر تک لے جانے والا ہے وہ کثرت سے اس کے ذکر کا ہے۔
    ٭ جس میں جتنی ہمت ہو، جتنا شوق ہو، جتنا وقت ملے تسبیح تحمید اور درودشریف پڑھنے میں گزارے۔



    تشہد، تعوذ اور سورئہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل آیات تلاوت فرمائیں۔
    یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اذْکُرُوا اللّٰہَ ذِکْرًا کَثِیْرًا وَّ سَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّ اَصِیْلًاo ھُوَالَّذِيْ یُصَلِّيْ عَلَیْکُمْ وَمَلٰٓئِکَتُہٗ لِیُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ وَکَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا o
    (الاحزاب:۴۲،۴۴)
    حضور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے اپنی بیماری کی تفصیل بیان کرنے کے بعد فرمایا:۔
    ایک مضمون میں نے ربوہ میں شروع کیا تھا اور وہ سورئہ احزاب کی اٹھارھویں آیت کی تفسیر ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
    قُلْ مَنْ ذَاالَّذِيْ یَعْصِمُکُمْ مِّنَ اللّٰہِ اِنْ اَرَادَبِکُمْ سُؤٓئً اَوْ اَرَادَبِکُمْ رَحْمَۃًط وَلَا یَجِدُوْنَ لَھُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّلَانَصِیْرًاo (الااحزاب: ۱۸)
    اس میں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں میں سے ایک گروہ کے متعلق یہ فیصلہ صادر کرتا ہے کہ اس کی رحمت سے وہ محروم کر دئیے جائیں گے اور ایک دوسرے گروہ کے متعلق وہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اس کی رحمت کے دروازے ان کے لئے کھولے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میرا فیصلہ رحمت سے محروم کر دینے کا ہو یا رحمت کی بارش برسانے کا ہو ہر دو صورتوں میں میرے فیصلہ کے مقابلہ میں کوئی اور فیصلہ ٹھہر نہیں سکتا اور دنیا کی کوئی طاقت ایسی نہیں جو میرے فیصلوں کو رد کر دے اور بدل دے اس لئے اگر محرومی رحمت سے بچنا ہو تو میری طرف رجوع کرنا ہو گا۔ قرآن کریم کے مطالعہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ذرہ بھر بھی ظلم نہیں کرتا مثلاً فرمایا کہ لاَ یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلَاً (النساء:۵۰)کہ کھجور کی گٹھلی کے اوپر جو ایک لکیر سی ہوتی ہے بالکل معمولی سی وہ اتنا ظلم بھی نہیں کرتا۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ وہ ظلام نہیں ہے یہ مبالغہ کا صیغہ ہے اور منفی اور مثبت ہر دو معنی میں مبالغہ کا مفہوم پیدا کرتا ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ وہ ذرہ بھر بھی ظلم کرنے والا نہیں اس تعلیم کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کسی فرد یا کسی گروہ کے متعلق رحمت سے محرومی کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ بھی رحمت کا ہی ایک جلوہ ہوتا ہے کیونکہ اس سے بھی اس کا مقصود ان لوگوں کی یا اس فرد کی اصلاح ہوتی ہے اس وجہ سے اسلام نے ہمیں یہ بتایا کہ جہنم دائمی نہیں کیونکہ اصلی جہنم تو خداتعالیٰ کی ناراضگی ہے اس میں یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی دائمی نہیں جب کسی کی اصلاح ہو جائے اس دنیا میں توبہ اور استغفار کے ذریعہ یا اس دنیا میں ایک وقت معینہ تک سزا بھگتنے کے نتیجہ میں تو پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے دروازے اس کے لئے کھولتا ہے اور جہنم کے دروازے بھی کھل جاتے ہیں لوگوں کو کہا جاتا ہے کہ نکل جائو سارے یہاں سے اب جہنم میں کسی کو رکھنے کی ضرورت نہیں جیسا کہ ایک حدیث میں اس کی وضاحت ہے سورۃ احزاب کی ایک دن میں تلاوت کر رہا تھا جب میں اس آیت پر پہنچا تو میری توجہ کو اس آیت نے اپنی طرف کھینچا اور میں رک گیا میں نے اس آیت کے مضمون پر جب غور کیا تو مجھے خیال پیدا ہوا کہ صرف یہ کہہ دینا تو ہمارے لئے کافی نہیں ہے کہ اگر رحمت سے تمہیں میں محروم کروں گا تو میری رحمت تمہیں نہیں مل سکے گی اور اگر رحمت تمہیں دینا چاہوں گا تو دنیا کی کوئی طاقت میری رحمت سے محروم نہیں کر سکے گی میری گرفت سے بھی تم نہیں بچ سکتے اور میرے احسان کی بارش سے بھی دنیا کی کوئی طاقت تمہیں محروم نہیں کر سکتی اس لئے ہمیں اللہ تعالیٰ نے ضرور تفصیلی ہدایات دی ہوں گی کہ وہ کونسی باتیں ہیں جن کے نتیجہ میں انسان خداتعالیٰ کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے اور وہ کون سے اعمال ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر خوش ہوتا اور اپنی رحمت سے اسے نوازتا ہے۔
    پہلے حصہ کے متعلق میں نے سورئہ احزاب کی بعض آیات لے کر تفصیل سے بتلایا تھا کہ (غالباً) دس ایسی باتیں یا ایسے اعمال شنیعہ ہیں جن کے نتیجہ میں انسان اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے اور بطور مثال صرف اسی سورۃ کی آیتیں لے کر میں نے یہ مضمون بیان کیا تھا۔
    دوسرا حصہ اس مضمون کا یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ انسان کو اپنی رحمت سے نوازنا چاہے تو دنیا کی کوئی طاقت اس سے ایسے انسان یا جماعت کو محروم نہیں کر سکتی اس کے متعلق میں نے سورئہ احزاب کی ہی اس آیت کے بعد کی آیات کو لیا اور انہیں پڑھتے ہوئے میں نے غور کیا کہ وہ کیا بتاتی ہیں اور بہت سی آیات میں نے نوٹ کی تھیں پہلے تو میرا خیال تھا کہ وہیں یہ مضمون ختم ہو جائے گا لیکن وہاں یہ ختم نہیں ہوا اور یہ رحمت والا حصہ اب کراچی کے حصہ میں آ گیا ہے مضمون کے لحاظ سے اور خدا کرے کہ ہم سب کے حصہ میں اس کی رحمت ہی آئے اس کے غضب کی نگاہ ہم پر کبھی نہ پڑے اور یہ اس کے فضل سے ہی ہو سکتا ہے۔
    یہاں یہ فرمایا تھا کہ اگر میرے عذاب سے بچنا ہو تو میری طرف رجوع کرنا پڑے گا اگر میری رحمت حاصل کرنا ہو تو میری رحمت صرف میرے فضل سے حاصل کی جا سکتی ہے کسی عمل سے حاصل نہیں کی جا سکتی اس لئے جہاں میری بتائی ہوئی تدبیر پر تم عمل کرو وہاں دعا کے ساتھ میری طرف رجوع بھی کرتے رہو کہ ہمارے اعمال میں کوئی ایسا نقص کوئی ایسی شیطنت کوئی ایسی بدنیتی نہ رہ جائے کہ باوجود ظاہراً ان اعمال کے اچھا ہونے کے پھر بھی تیرے حضور سے وہ دھتکار دئیے جائیں۔
    اس وقت میں صرف ایک بات اس سلسلہ میں بیان کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ (جیسا کہ سورئہ احزاب کی ۴۲تا۴۴ آیات میں بتلایا گیا ہے) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر میری رحمت کے حصہ دار بننا چاہتے ہو میرے فضلوں کے وارث بننا چاہتے ہوں تو پھر ایک راستہ میرے فضلوں کے وارث بننے کا یہ ہے کہ اُذْکُرُواللّٰہَ ذِکْرًا کَثِیرًا ذکر دل کا بھی ہوتا ہے ذکر زبان سے بھی ہوتا ہے زبان کا ذکر بھی انسان کو جتنا موقعہ اور جتنی فرصت ملے کرتے رہنا چاہئے۔
    زبان کے ذکر کو ہم دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں ایک وہ حصہ جس کے متعلق نبی اکرمﷺ نے معین ہدایت دی مثلاً یہ کہ فرض نماز کے بعد ۳۳، ۳۳ دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُلِلّٰہِ، اَللّٰہُ اَکْبَر اور پھر ایک بار لاَاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کہہ کر سو کے عدد کو پورا کرنا تو اسی شکل میں اسی ہدایت کے مطابق ذکر کرنا چاہئے نماز کے بعد کیونکہ یہی سنت نبوی ہے کوئی شخص اگر فرض نماز سے پہلے یہ ذکر کرتا ہے تو وہ نبی کریمﷺ کے احترام اور ادب کو مدنظر نہیں رکھتا کیونکہ آپ نے نماز سے پہلے نہیں بلکہ نماز کے بعد ذکر کا حکم دیا ہے اگر کوئی شخص ۳۳ دفعہ سے زائد کرتا ہے تو وہ بھی بے ادبی کا مرتکب ہے۔
    ابھی چند دن ہوئے غانا کے ایک مجدد کی کتاب میں پڑھ رہا تھا انہوں نے ایک واقعہ لکھا ہے اس میں کہ ایک بزرگ تھے انہوں نے سوچا کہ میں گنہگار آدمی ہوں ۳۳ دفعہ کی بجائے سو سو دفعہ پڑھا کروں گا چند دنوں کے بعد انہیں ایک خواب آئی کہ حشر کا میدان ہے ایک جگہ ایک فرشتے نے میز لگائی ہوئی ہے اور اعلان ہو رہا ہے کہ جو نبی کریمﷺ کے ارشاد کے مطابق نماز کے بعد ذکر کیا کرتے تھے وہ ادھر آجائیں اور اپنا انعام لیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ بڑی مخلوق ہے جو وہاں جمع ہوئی اور ان کو انعام ملنے شروع ہوئے میں آگے بڑھتا ہوں اور پھر ہجوم میں پھنس جاتا ہوں آگے جا نہیں سکتا اور اس وقت ان کو یہی خیال ہے کہ ہجوم کی وجہ سے میں اس انعام دینے والے فرشتہ کے قریب نہیں ہو سکتا جب میرا وقت آئے گا میں انعام لوں گا پھر آہستہ آہستہ ہجوم کم ہونا شروع ہوا لوگ انعام لیتے اور چلے جاتے جب چند آدمی رہ گئے تو میں بھی ان کے ساتھ آگے بڑھا اس فرشتہ نے میری طرف کوئی توجہ نہ دی پھر جب ساروں نے انعام لے لئے تو اس نے اپنا سامان لپیٹنا شروع کر دیا اس نے کہا میں آگے بڑھا اور کہا کہ میرا انعام کہاں ہے فرشتہ نے کہا تمہارا انعام کیسا (وہ تو سمجھے تھے کہ میں سو دفعہ پڑھتا ہوں مجھے شائد زیادہ انعام ملے گا) یہ انعام تو ان لوگوں کو مل رہا ہے جو نبی اکرمﷺ کی سنت کی پیروی کرتے تھے تم نے ۳۳دفعہ کی بجائے سو دفعہ پڑھا ہے سنت کی پیروی نہیں کی اس پر انہوں نے بہت استغفار کیا لیکن کوئی خلط ملط نہ ہو جائے کسی کے دماغ میں اسی لئے میں نے شروع میں اس سلسلہ میں یہ فقرے کہے تھے کہ ایک ذکر وہ ہے جو نبی کریمﷺ کی سنت کے مطابق اس تسلسل میں جو آپ نے بتایا اس تعداد میں جو آپ نے معین کی اور جس پر آپ نے عمل کیا وہ ذکر ہے مثلاً نماز میں فرائض کے بعد تنیتیس تنیتیس بار جو اس سنت نبوی پر عمل کرتے ہوئے ذکر کرنا چاہئے اس کو نماز کے بعد ہی کرنا پڑے گا نماز سے پہلے نہیں اور ۳۳۔ ۳۳ دفعہ ہی کہنا پڑے گا ایک تو یہ ذکر ہے۔ نبی کریمﷺ کی اور بھی کئی سنتیں اس سلسلہ میں ہیں لیکن ایک ذکر وہ ہے جو عام ہدایت کی اتباع میں ہے مثلاً اس آیت کریمہ میں ہے ذِکْرًا کَثِیْرًاکہ کثرت سے ذکر کرو اس میں تعیین کوئی نہیں نہ ہی نبی اکرمﷺ نے ان کی کوئی تعیین کی تو ان اذکار کے علاوہ جو سنت نبوی سے ہمیں معلوم ہوتے ہیں اگر کوئی شخص خداتعالیٰ کے اس حکم کے مطابق کہ اُٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے خداتعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہنا چاہے وہ اپنے لئے کم سے کم یا جماعت کا امام جماعت کیلئے کم سے کم ذکر مقرر کر دیتا ہے تو یہ سنت نبوی کے خلاف نہیں کیونکہ آپ کی سنت کہیں ہمیں یہ نہیں بتلاتی کہ چوبیس گھنٹے میں اس سے زیادہ ذکر نہیں کرنا یا اس سے کم نہیں کرنا بلکہ عام نصیحت ہے کہ زیادہ سے زیادہ ذکر کرو۔ تو زبان کا ذکر ایک تو وہ ہے جو نبی کریمﷺ کی سنت کے اتباع میں کیا جاتا ہے اور ایک وہ ہے جو قرآن کریم کی تعلیم اور نبی کریمﷺ کے ارشاد کے مطابق ذکر کثیر کے اندر آتا ہے۔
    بعض آدمی اپنے لئے تعیین کرتے ہیں کہ کم سے کم اس قدر ذکر ضرور کروں گا بعض اوقات ان کا امام تعیین کرتا ہے ’’ذِکْرًا کَثِیْرًا‘‘کی روشنی میں اس میں کم سے کم تعداد کی تعیین کی جاتی ہے زیادہ سے زیادہ کتنا ہو اسے افراد پر چھوڑا جاتا ہے تاکہ ساری جماعت کا معیار بلند کیا جا سکے۔
    پس اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ صبح و شام اس کی تسبیح میں مشغول رہو اور خداتعالیٰ کا ذکر بہت کیا کرو اس کی رحمت کے وارث بننے کے لئے یہ ضروری ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ (وہاں رحمت کا لفظ ہے یہاں صلوٰۃ کا لفظ ہے اور صلوٰۃ کے لغوی معنی جب یہ لفظ اللہ کے لئے استعمال ہو رحمت کے ہیں) ھُوَ الَّذِيْ یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی رحمتوں سے نوازے گا نیز اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو کہا ہے میرے وہ بندے جو میرے ذکر کثیر میں مشغول ہوں اور صبح و شام میری تسبیح اور تحمید میں لگے ہوں ان کے لئے تم بھی دعائیں کرتے رہو کیونکہ صلٰوۃ کا لفظ جب ملائکہ کے لئے آئے یا انسانوں کے لئے آئے تو اس کے معنی دعا کرنے کے ہوتے ہیں لیکن جب اللہ تعالیٰ کے لئے آئے تو اس کے معنی ہوتے ہیں رحمت کا سلوک کیا اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری یہ رحمت ذکر کثیر اور صبح و شام تسبیح کرنے کے نتیجہ میں جس شکل میں ظاہر ہوتی ہے وہ اصولی ہے یہ نہیں کہا کہ فلاں رحمت یا فلاں رحمت۔ قرآن کریم نے اس کی تفصیل بھی بتائی ہے لیکن یہاں یہ فرمایا ہے کہ اصولی طور پر تم خدا کی رحمت کے مستحق اور ملائکہ کی دعائوں کے وارث ہو جائو گے اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تمہارے لئے نور کے سامان پیدا کئے جائیں گے یعنی اس کے نتیجہ میں لِیُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِاندھیرے دور کر دئیے جائیں گے اور زندگی منور ہو جائے گی اور اس نور کے متعلق قرآن کریم نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے کہ وہ نور اس دنیا میں بھی صراط مستقیم سے بھٹکنے سے محفوظ رکھتا ہے اور رحمت کے راستوں پر چلاتا ہے مثلاً رات کے اندھیرے میں جس وقت ہوائی جہاز کسی ایرو ڈرام پر اتر رہا ہوتا ہے تو اس کو راستہ دکھانے کے لئے روشنیاں جلائی جاتی ہیں اسی طرح سمجھ لیں کہ آپ رحمت باری کے حصول کے بعد اندھیروں سے نکل کر روشنی کی راہ کو اختیار کرتے ہیں تو آپ کو یقین ہوتا ہے (جس طرح اس پائلٹ کو یقین ہوتا ہے کہ میں صحیح سلامت خود بھی اور مسافروں کو بھی اتاروں گا) کہ آپ صراط مستقیم پر قائم ہیں تو یہ ایک بنیادی فضل اور احسان ہے اللہ کا جو وہ اپنے بندوں پر کرتا ہے یعنی ان کے لئے ایک نور کی پیدائش کا حکم نازل کرتا ہے اور خدا کا ایک مومن بندہ خدا کے نور میں صراط مستقیم پر آگے ہی آگے بڑھتا چلا جاتا ہے اور اس کے بے شمار فضلوں اور رحمتوں کا وارث بنتا ہے پس اللہ تعالیٰ نے جب یہ کہا کہ میں اگر کسی کے لئے رحمت کا ارادہ کروں تو دنیا کی کوئی طاقت اسے میری رحمت سے محروم نہیں کر سکتی تو وہاں یہ مطلب نہیں تھا کہ بلاوجہ اور بغیر انسان کی کسی کوشش اور عزم کے کہ میں نے خدا کے احکام کی پابندی کرنی ہے کسی گندے نا اہل کو اٹھا کر اللہ تعالیٰ رحمت کا وارث بنا دیتا ہے یہ صحیح ہے کہ انسان جو کچھ بھی کرتا ہے اور جنہیں وہ اعمال صالحہ سمجھتا ہے وہ بھی اس کے لئے بے ثمر ہیں جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو۔
    جو فقرہ قرآن کریم میں حضرت یوسف علیہ السلام کی زبان سے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے یعنی مَآاُبَرِّیُٔ نَفْسِيْ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌ م بِالسُّوْٓئِ (یوسف: ۵۴)خدا کا ایک برگزیدہ نبی یا وہ جو نبوت کے لئے خدا کے فرشتوں کی گود میں پرورش پا رہا تھا اس کے منہ سے یہ فقرہ نکلنا اور قرآن کریم کا اسے بیان کر دینا ہمارے لئے ایک بڑا سبق ہے انسان خواہ کتنا ہی مجاہدہ کیوں نہ کرے، ہزار بشری کمزوریاں، کوتاہیاں ساتھ لگی ہیں حالات سے بعض دفعہ مجبور ہو جاتا ہے بعض دفعہ شیطانی وسوسوں سے مجبور ہو جاتا ہے اور گناہ کر بیٹھتا ہے خدا کے فضل کے بغیر خدا کی رحمت کے بغیر اس کی رحمت کو بھی ہم حاصل نہیں کر سکتے لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں رحمت کے حصول کے لئے بعض راستوں کی تعیین کی ہے بعض اعمال صالحہ کے بجا لانے کا حکم فرمایا ہے جو شخص اباء اور استکبار سے یہ کہتا ہے کہ خدا کے حکم کو تو میں نہ مانوں گا لیکن اس کی رحمت کا میں امیدوار بنوں گا وہ یا پاگل ہے یا شیطان کے چیلوں میں سے ہے جس نے خدا کی ذات پر علی وجہ البصیرت ایمان لانے کے بعد بھی اس کے احکام کی بجا آوری سے انکار کیا پس ایک راستہ جو خدا کی رحمت کے بے پایاں سمندر تک لے جانے والا ہے وہ یہ ہے کہ کثرت سے اس کا ذکر کیا جائے اور صبح و شام اس کی تسبیح کی جائے جماعت کے معیار کو اس سلسلہ میں بلند کرنے کے لئے میں نے جماعت سے یہ کہا تھا کہ مختلف عمروں کے لحاظ سے مقررہ تعداد میں
    سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ اور درود اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ پڑھنا ہے کم از کم اتنی تعداد میں پڑھنا ہے یہ نہیں کہ اس سے زیادہ نہیں پڑھنا بعض دوست تو لکھتے ہیں اور بڑا لطف آتا ہے کہ آپ نے تین سو دفعہ کہا اور ہمیں توجہ ہوئی اور ایک دوست نے تو لکھا کہ میرا بچہ جو شاید اطفال کی عمر کا تھا وہ چھ سات سو دفعہ بلکہ بعض دنوں میں ہزار دفعہ پڑھتا ہے تو زیادہ پڑھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے بلکہ زیادہ ہی پڑھنا چاہئے بلکہ کچھ زائد ضرور کرنا چاہئے تاکہ وہ تعداد لا تعداد بن جائے کیونکہ معین میں جب غیر معین مل جاتا ہے تو سارا غیر معین بن جاتا ہے معین نہیں بنتا اگر تین سو میں غیر معین تعداد درود و تسبیح اور تحمید شامل کر دی جائے تو ٹوٹل جو بنے گا مجموعہ جو اس کا ہو گا وہ غیر معین ہے پس چونکہ ہم اپنے رب سے امید رکھتے ہیں کہ وہ بغیر حساب کے دنیوی اور اُخروی نعمتیں ہمیں عطا کرے گا اس لئے ہماری عقل یہ کہتی ہے ہمارا مذہب یہ کہتا ہے کہ جب بغیر حساب کے تم اس کی نعمتوں کے حصول کے امیدوار ہو تو پھر بغیر حساب کے اس کا شکر بھی ادا کرو ویسے تو مختلف وظیفے یا تسبیحیں یا درود جو بڑا درود ہے جو ہم نماز میں بھی پڑھتے ہیں وہ بھی ضرور پڑھنا چاہئے لیکن اللہ تعالیٰ کی کسی مصلحت نے اس شکل میں بھی اسے اب ہمارے لئے اتارا ہے تو اس زمانہ کے لئے اس میں بھی بڑی برکت ہے۔ وہ جو پرانا طریق ہے اس میں بھی بڑی برکت ہے یہ تو نہیں کہ ہم یہ کہیں کہ آدھی برکتیں تو ہم لیتے ہیں اور آدھی ہمیں مل بھی سکتی ہیں تو ہم نہیں لیتے کسی کو دس اور دس بیس روپے دئیے جائیں تو وہ یہ نہیں کہتا کہ دس مجھے دے دو اور دس میں نہیں لیتا دنیا کے عارضی بے حقیقت سامانوں کے متعلق جب ہماری فطرت زیادہ سے زیادہ کی خواہش رکھتی ہے اور جب بہک جاتی ہے تو ناجائز ذرائع سے بھی حصول کی کوشش کرتی ہے لیکن روحانی نعمت کے متعلق تو کوئی کہہ نہیں سکتا کہ اتنی مجھے چاہئے اس سے زیادہ نہیں چاہئے جتنی زیادہ سے زیادہ مل سکے اس کے حصول کی کوشش کرنی چاہئے ان طریقوںپر جو خداتعالیٰ نے بتائے ہیں جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے جو قرآن کریم کے بتائے ہوئے طریقوں کو چھوڑ کر اپنے لئے اپنی مقرر کردہ راہیں متعین کرتا ہے وہ خدا کی طرف نہیں لے جا سکتیں کیونکہ یہ خدا کی بتائی ہوئی نہیں اگر دل کا وسوسہ ہے تو وسوسہ کا منبع چونکہ شیطان ہے شیطان کی طرف اسے شاید لے جائیں۔ قرآن کریم نے جو بتایا جہاں حد بندی کی اس سے آگے نہیں جانا نبی کریمﷺ نے جو بتایا جہاں حد بندی کی اس سے آگے نہیں جانا جہاں حدبندی نہیں کی عام حکم دیا ہے قرآن کریم نے کہا ذکر کثیر کرو قرآن کریم نے کہا ہے صبح و شام اس کی تسبیح کرو یہ نہیں کہا پانچ دفعہ کرو یہ نہیں کہا پانچ ہزار دفعہ کرو تو سارا دن مشغول رہنا چاہئے اس میں جو تعیین کی جاتی ہے صرف کم سے کم دفعہ کی جاتی ہے تاکہ ساری جماعت کا معیار کچھ اونچا ہو جائے مثلاً ایک وقت میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اس وقت کے حالات کے مطابق بارہ کی تعیین کی تھی اس بارہ میں بھی بعض جاہلوں نے آپ پر اعتراض کر دیا تھا کہ بارہ کی تعیین کیوں؟ یہ بھی بدعت ہے آپ نے انہیں یہ جواب دیا جو ابھی میں نے کہا ہے کہ جب معین میں غیر معین شامل ہو تو مجموعی طور پر غیر معین بن جاتا ہے یہ جواب آپ نے اس وقت دیا اعتراض کرنے والوں کو کہ میں نے تمہیں کب کہا ہے کہ بارہ سے زیادہ نہیں کرنا میں نے تمہیں کہا ہے کہ کم سے کم بارہ دفعہ کہو بارہ سو دفعہ بارہ ہزار دفعہ کرو میں نے تمہیں کب منع کیا ہے جس میں جتنی ہمت ہو جتنا شوق ہو جتنا وقت ملے وہ زیادہ سے زیادہ خداتعالیٰ کی تسبیح اور اس کی تحمید اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرنے میں خرچ کرنا چاہئے اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن کریم کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے۔
    اگر میری طبیعت ٹھیک ہوئی تو میں مغرب کے بعد مجلس میں یا اللہ تعالیٰ نے صحت اور توفیق دی تو خطبوں میں یہ مضمون کراچی ہی میں ختم کرنے کی کوشش کروں گا۔
    (روزنامہ الفضل ربوہ مورخہ ۱۴ ؍ستمبر ۱۹۶۸ء صفحہ۲ تا ۵)
    ٭…٭…٭

    خدا کا رسول اور اس کے خلفاء جو بھی فیصلہ کریں انہیں بشاشت قلبی کے ساتھ قبول کرو
    (خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۶ ؍اگست ۱۹۶۸ء بمقام احمدیہ ہال۔ کراچی )
    ء ء ء
    ٭ بدنیتی اور رِیاء کے بغیر خلوص نیت کے ساتھ محض رضائے الٰہی کی خاطر کام کرو۔
    ٭ دنیا بے شک تمہیں مٹانے کی کوشش کرتی رہے۔ خدا تعالیٰ کی رحمت تمہیں اور صرف تمہیں ملے گی۔
    ٭ خدا تعالیٰ کی رحمت کا وارث بننا چاہتے ہو تو معروف فیصلہ جو خلفاء یا امراء کرتے ہیں بشاشت قلبی کے ساتھ قبول کرو۔
    ٭ خدا تعالیٰ کی صفت شفا کو جوش میں لانے کیلئے قربانی، ایثار، صدقہ خیرات اور دعاؤں کی ضرورت ہے۔
    ٭ خدا تعالیٰ کی رضا کی نگاہ ہم پر پڑتی رہے اور کبھی غضب کی نگاہ ہم پر نہ پڑے۔


    تشہد ، تعوذ اور سورئہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی:۔
    قُلْ مَنْ ذَاالَّذِيْ یَعْصِمُکُمْ مِّنَ اللّٰہِ اِنْ اَرَادَبِکُمْ سُوُئًٓا اَوْ اَرَادَبِکُمْ رَحْمَۃً۔ وَلاَ یَجِدُوْنَ لَھُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّلَاَنَصِیْرًاo (الاحزاب: ۱۸)
    اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ۔ یٰٓـاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا
    (الاحزاب: ۵۷)
    وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَامُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَمْرًا اَنْ یَّکُوْنَ لَھُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِھِمْ وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلاً مُّبِیْناً۔ (الاحزاب: ۳۷)
    اللہ تعالیٰ کے فضل سے میری طبیعت پہلے سے اچھی ہے اور خون میں شکر اور قارورہ میں جو شکر تھی وہ بھی کافی کم ہو چکی ہے اور جو ڈاکٹر میرے معالج ہیں ان کی رائے یہ ہے کہ ابھی دوائی نہ کھائی جائے یہ سب کچھ بغیر دوا کے کھانے کے ہو رہا ہے اور کچھ دنوں تک دیکھنا چاہئے۔ امید ہے اللہ تعالیٰ فضل کرے گا اور گردوں اور دوسرے اعضا کا جو کام ہے وہ معمول پر آ جائے گا۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذَالِکَ
    پچھلے جمعہ میں نے سورئہ احزاب کی ۱۸ ویں آیت کے متعلق بتایا تھا کہ اس میں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کسی فرد یا جماعت کے متعلق رحمت سے محرومی کا فیصلہ ہو تو اس رحمت سے محرومی سے کوئی دوسری ایجنسی کوئی دوسری طاقت اس شخص یا اس جماعت کو بچا نہیں سکتی اور اگر اللہ تعالیٰ کسی کے متعلق یہ فیصلہ کرے کہ وہ اپنی رحمت سے اسے نوازے گا تو خدا کی اس رحمت سے کوئی طاقت ایسے شخص کو محروم نہیں کر سکتی۔ رحمت کا وارث بننا بھی اللہ تعالیٰ کے منشاء اور اس کی رحمت پر ہی منحصر ہے اور رحمت سے محرومی بھی ان وجوہات کی بنا پر ہوتی ہے جن کا ذکر قرآن عظیم نے کیا ہے اور جن بد راہوں پر چل کر انسان خود کو خدا کے غضب کا وارث بنا لیتا ہے اور اس کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے۔
    پہلے حصے کے متعلق میں ربوہ میں مختصراً چند باتیں بیان کر چکا ہوں جو دوسرا حصہ ہے یعنی رحمت کا وارث بننے کے متعلق اس سلسلہ میں میں نے ایک بات پچھلے خطبہ میں بیان کی تھی جس کا ذکر سورئہ احزاب میں ہی ہے۔
    ایک اور عمل صالح جو خداتعالیٰ کے فضل سے انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا وارث بنا دیتا ہے جس کے متعلق خدا کا وعدہ ہے کہ اگر خلوص نیت کے ساتھ محض رضائے الٰہی کی خاطر بد نیتی اور ریاء کے بغیر یہ کام کرو گے تو میں اپنی رحمت سے تمہیں نوازوں گا وہ سورئہ احزاب کی آیت ۵۷ میں بیان ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہااِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ (احزاب: ۵۷) اس آیہ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس طرف متوجہ کیا ہے کہ نبی اکرمﷺ خداتعالیٰ کے ایک عظیم بندے تھے ایک نہایت ارفع مقام پر پہنچنے والے عبد تھے، عبد تو تھے لیکن دنیا کے لئے اللہ تعالیٰ کی رحمت جب جوش میں آئی تو اس جوش نے یہ تقاضا کیا کہ محمد رسول اللہﷺ جیسا ایک وجود پیدا کرے اور دنیا کی اصلاح اور دنیا پر رحمتوں کے دروازے کھولنے کے سامان پیدا کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نبی اکرم محمد رسول اللہﷺ پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کی بارشوں کا ایک سلسلہ نازل ہو رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اس کام پر لگایا ہے کہ وہ آپ کی بلندی درجات کے لئے دعائیں کرتے رہیں اور ان مقاصد کے حصول کے لئے دعائیں کرتے رہیں جو مقاصد عالیہ لے کر آنحضرتﷺ اس دنیا میں تشریف لائے پس اے انسان! اگر تو چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا وارث بنے اور اگر تو چاہتا ہے کہ خدا کے فرشتے تیرے لئے بھی دعائوں میں مشغول ہو جائیں تو اپنی زندگی کو محمد رسول اللہﷺ کے مقاصد عالیہ کے ساتھ ہم آہنگ کر دے اور ایک جیسا بنا دے پھر خدا کی رحمتوں کا بھی تو وارث ہو جائے گا اور فرشتے جو ان مقاصد عالیہ کے حصول کے لئے ان کے پورا ہونے کے لئے دعائوں میں لگے ہوئے ہیں ان کی دعائوں کا بھی تو وارث بن جائے گا کیونکہ تیری اپنی زندگی، تیری اپنی کوششیں اور تیری اپنی فکر بھی آنحضرتﷺ کے مقاصد کو کامیاب بنانے میں لگی ہوئی ہو گی اگر ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے وارث بنو گے اگر ایسا کرو گے تو دنیا بے شک تمہاری مخالفت کرتی رہے دنیا بے شک تمہیں مٹانے کی کوشش کرتی رہے دنیا بے شک تمہیں ہر قسم کا دکھ اور عذاب پہنچانے میں لگی رہے تم اس بات کا یقین رکھو کہ خداتعالیٰ کی رحمت تمہیں اور صرف تمہیں ملے گی۔
    ایک تیسرا طریق اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کا سورۂ احزاب کی آیت ۳۷ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ نبی اکرمﷺ کو اس دنیا میں بنی نوع انسان کے متعلق روحانی اور اخلاقی فیصلہ کرنے کے لئے مبعوث کیا گیا ہے جو کام آپ کے سپرد کئے گئے ہیں ان میں یہ بھی ہے کہ آپ انسانوں کے درمیان فیصلہ کریں اور جو خداتعالیٰ کی رحمت کے وارث بننا چاہتے ہوں ان کے لئے ضروری ہے کہ آنحضرتﷺ کا جو فیصلہ ہو اس کو بشاشت قلبی کے ساتھ قبول کریں اور اس پر عمل کریں اسی طرح جو فیصلے (یہ بات ’’قَضَی اللّٰہُ‘‘میں آ جاتی ہے) نبی کریمﷺ کے خلفاء کرتے ہوں ان کو قلبی بشاشت کے ساتھ قبول کرنا اللہ تعالیٰ کی رحمت کا وارث بناتا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ تم پر اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کے دروازے کھلیں تو تمہارے لئے یہ ضروری ہے کہ تم اس گروہ میں خود کو شامل کرو جن کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہوکہ
    ’’وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَامُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَمْرًا اَنْ یَّکُوْنَ لَھُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِھِمْ ‘‘ (الاحزاب: ۳۷) عمل پیرا ہیں اگر تم ایسا نہیں کرو گے بلکہ انکار اور عصیان کی راہوں کو اختیار کرو گے تو اس کے نتیجہ میں ضَلَّ ضَلٰلاً مُّبِیْنًابہت بڑی گمراہی میں پڑ جائو گے جس کے معنی یہ ہیں کہ اگر تم ایسا کرو گے تو تمہارے لئے روشن ہدایت اور رحمت کے دروازے کھلیں گے کیونکہ قرآن کریم کا یہ عام محاورہ ہے کہ بعض جگہ جہاں منفی اور مثبت مضمون بالمقابل ایک دوسرے کے بیان ہوں تو ایک کا ذکر کر دیا جاتا ہے اور دوسرا اس سے واضح ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہی بات واضح ہے کیونکہ اس آیت کی رو سے عصیان کا نتیجہ ضلالت ہے تو جو عصیان نہیں کرتا بلکہ اطاعت کرتا ہے جو بشاشت قلبی کے ساتھ خدا اور اس کے رسولﷺ اور آپ کے نائبین خلفاء یا جو دوسرے امراء ہیں ان کی باتوں کو مانتا ہے ضلالت کے مقابلہ میں جو چیز ہے وہ اسے ملتی ہے ضلالت کے مقابلہ میں ہدایت ہے اور ہدایت کے نتیجہ میں رحمت نازل ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ اگر تم میری رحمت کا وارث بننا چاہتے ہو تو وہ معروف فیصلہ جو خدا کے احکام کی روشنی میں اس کا رسولﷺ کرتا ہے یا اس کے خلفاء یا امراء کرتے ہیں انہیں بشاشت قلبی کے ساتھ قبول کرو عقل کا فیصلہ بھی یہی ہے کہ اس کے بغیر کوئی اتحاد اور یک جہتی قائم نہیں رہ سکتی پھر تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جو فیصلہ مجھے پسند آیا اسے میں قبول کر لیتا ہوں اور جو فیصلہ میرے نفس کی خواہش کے خلاف ہے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہوں اگر مومنوں کی یہی ذہنیت ہو تو پھر مومنوں کی جماعت نہیں بن سکتی (بلکہ مومن بھی نہیں رہ سکتے) کیونکہ جماعت کے مفہوم میں یہ بات ہے کہ محمد رسول اللہﷺ کے ساتھ اس قسم کا شدید لگائو اور اتنا گہرا اور شدید تعلق ہو کہ آپ سے ذرّہ بھر دوری بھی ناقابل برداشت ہو جائے اس روح کے لئے جس کا تعلق اس قسم کا آپ سے ہے اور اگر واقعہ میں اس قسم کا تعلق ہو تو پھر بشاشت اس میں پیدا ہو گی اور انسان کا نفس یہ کہے گا انسان کی عقل اور روح یہ کہے گی کہ اے میرے نفس میں تیرے دھوکہ میں نہیں آ سکتا کیونکہ جس کا فیصلہ میرے متعلق اس رنگ میں ہوا ہے وہ اے میرے نفس تجھ سے زیادہ مجھے پیارا ہے اور میرے نزدیک تجھ سے زیادہ سمجھدار ہے اور میرے نزدیک خداتعالیٰ کا زیادہ مقرب ہے، وہ اپنے نفس کو مخاطب کرکے یہ کہتا ہے کہ اے نفس! تیرے مقابلہ میں وہ پاک وجود خدا کی رحمتوں کا زیادہ وارث ہے اور میں جانتا ہوں کہ میں اپنے نفس کی ہر خواہش کو ٹھکرا کے بھی اس کے قرب کو حاصل کرنے کی کوشش کروں گا جب یہ ذہنیت پیدا ہو جائے جب اس قسم کی بشاشت اس میں پیدا ہو جائے تو پھر انسان خداتعالیٰ کی نعمتوں کا وارث بن جاتا ہے۔ اس میں یہ مضمون بھی پایا جاتا ہے کہ تمام بد رسوم اور بدعات سے اجتناب کیا جائے لیکن اس مفہوم کو میں دوسری آیت کے ساتھ ملا کر کیونکہ اس کے ساتھ بھی اس کا تعلق ہے بیان کروں گا۔ آج مختصر سا خطبہ اس لئے دینا چاہتا ہوں کہ ابھی تین بجے کے قریب ڈاکٹر نے آ کر ٹیسٹ کے لئے میرا خون لینا ہے وہ ابھی چیک کر رہے ہیں اور ٹیسٹ لے رہے ہیں۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے خداتعالیٰ کے فضل سے دوائی کے بغیر پہلے کی نسبت بہت افاقہ ہے شافی مطلق تو خداتعالیٰ کی ذات ہے اور اس کی صفت شفا کو جوش میں لانے کے لئے قربانی اور ایثار اور صدقہ خیرات اور دعائوں کی ضرورت ہے جس حد تک اللہ تعالیٰ ان چیزوں کی مجھے توفیق اور سمجھ دیتا ہے میں اپنے طور پر لگا ہوا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ دوست بھی دعائوں کے ساتھ میری مدد کریں گے اور خدا کے حضور جھک کر عاجزانہ درخواست کریں گے کہ اے ہمارے پیارے ربّ جو بے شمار صفات حسنہ کا مالک اور شافی بھی ہے ہم میں سے ایک شخص پر تو نے خلافت کی بہت سی ذمہ داریاں عائد کر دی ہیں ان کو نبھانے کے لئے اچھی صحت کی بھی ضرورت ہے جہاں اور بہت سی چیزوں کی ضرورت ہے تو ہمارے اس بھائی کو اچھی صحت دے تاکہ وہ صحیح طور پر ذمہ داریاں نبھا سکے۔ یہ دنیا اور اس کی زندگی میں دراصل کوئی مزہ نہیں ہے۔ یہ فکر رہتا ہے کہ جب تک انسان زندہ رہے ایسے رنگ میں اللہ تعالیٰ کی عائد کردہ ذمہ داریوں کو نبھائے کہ وہ خوش رہے اور ناراض کبھی نہ ہو۔ آپ اپنے لئے بھی دعا کیا کریں ایک دعا جو میں کثرت سے کرتا ہوں وہ یہی ہے کہ اے خدا ہمیشہ رضا کی نگاہ ہم پر پڑتی رہے اور کبھی غضب کی نگاہ ہم پر نہ پڑے کیونکہ انسان ہے کیا چیز ایک لحظہ غضب اور قہر کی نگاہ کو برداشت نہیں کر سکتا بعض دفعہ خدا کے غضب اور اس کے قہر کی نگاہ اس دنیا میں پڑتی ہے جیسے بجلی بعض دفعہ گرتی ہے اور اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے اور ظاہر ٹھیک رہتا ہے بعض انسانوں پر بھی خدا کے قہر اور غضب کی نگاہ پڑتی ہے وہ اندر سے کھوکھلے ہو جاتے ہیں بظاہر چلتے پھرتے اور بعض لوگوں کے نزدیک شاید دیندار بھی ہوں ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ دراصل یہ موقع دینا چاہتا ہے کہ اگر توبہ اور استغفار کرو اور اگر میرے بتلائے ہوئے راہوں پر چلو اور میری طرف واپس لوٹنے کی کوشش کرو تو جس طرح میں تمہیں جَلا سکتا ہوں اسی طرح جِلا بھی سکتا ہوں اپنی قدرت کے ساتھ زندہ بھی کر سکتا ہوں لیکن بعض دفعہ وہ بالکل ہلاک کر دیتی ہے اور دوسری زندگی میں بھی جہنم اس کو نصیب ہوتی ہے تو یہ معمولی چیز نہیں خدا کا ناراض ہو جانا ہماری زندگی میں سب سے بڑی بدقسمتی اور محرومی ہے۔
    اللہ تعالیٰ ہمارے تھوڑے کو بھی بعض دفعہ قبول کر لیتا ہے اور پیار کی نگاہ ڈالنے لگ جاتا ہے اس لئے کسی قسم کا فخر درست نہیں نبی اکرمﷺ نے خداتعالیٰ کی دین اور عطا کے متعلق بعض باتیں بیان فرمائیں اور ہر ایک کے بعد یہ فرمایا کہ لَافَخْرَ تو جب آنحضرتﷺ جیسا پاک وجود جن کے نہ صرف یہ کہ گناہ معاف ہوئے یعنی جو بشری کمزوریاں تھیں وہ ڈھانک دی گئیں استغفار کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کئے کہ جن کو ہم بشری کمزوریاں کہتے ہیں ان کے اظہار کا امکان بھی باقی نہیں رہا بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ بھی کیا کہ جو تیرے متعلق دوسروں نے گناہ کئے ہیں ایک وقت میں ہم ان کی معافی کا سامان بھی پیدا کر دیں گے جیسا کہ مکہ والوں نے کتنا دکھ آپؐ کو پہنچایا تھا کتنے گناہ نبی کریمﷺ کے خلاف انہوں نے کئے ہوئے تھے اسی وعدہ کے مطابق لَاتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمْ کا ایک حسین اور بڑا فرحت بخشنے والا پیغام انہوں نے سنا۔ آپ بھی لَافَخْرَ ہی کا نعرہ لگاتے رہے ہمارا کلمہ ہے اس میں عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ میں عبد کو پہلے رکھا گیا اس واسطے کہ ہم میں سے کوئی جن کی آپ کے مقابلہ میں حیثیت ہی کوئی نہیں یہ نہ سمجھنے لگ جائے کہ میری کوئی اندرونی خوبی ایسی ہے کہ مجھے لَافَخْرَ کہنے کی ضرورت نہیں مجھے عبودیت کا جامہ پہنے رکھنے کی ضرورت نہیں میں سینہ تان کر فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ میرے اندر یہ خوبیاں ہیں میرے اندر یہ خوبیاں ہیں۔ جس طرح قرآن مجید میں بعض لوگوں کے متعلق آیا ہے کہ جب دنیوی انعام ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہمارے اندر اپنے نفس کی ایسی خوبیاں ہیں کہ ہمارا ربّ بھی مجبور ہو گیا ہے کہ ہماری عزت اور احترام کرے یہ ایک احمقانہ خیال ہے لیکن اس دنیا میں ایسے احمق بھی پائے جاتے ہیں اس حماقت سے بچتے رہنا چاہئے اور عاجزانہ راہوں کو اختیار کرنا چاہئے اور خدا سے علاوہ تدبیر اور اعمال صالحہ کی کوششوں کے یہ دعا بھی کرتے رہنا چاہئے کہ اے خدا! غضب کی نگاہ سے ہمیں بچائے رکھ کیونکہ ہم اس کی تاب نہیں لا سکتے اور محبت اور پیار اور رضا کی نگاہ ہم پر پڑتی رہے کیونکہ اس کے بغیر ہم زندہ نہیں رہ سکتے۔ کیا زندگی ہے اگر خدا کے پیار کی نگاہ نہیں اللہ تعالیٰ ہمیں ان ہر دو راستوں پر چلنے کی توفیق عطا کرے جن کا ذکر میں نے ابھی کیا ہے یعنی محمد رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک شدید حقیقی اور بشاشت کا تعلق اور جس غرض کے لئے آپ مبعوث ہوئے ہیں اس غرض کو کامیاب بنانے کے لئے ہماری زندگیاں گزریں تاکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فرشتوں کی دعائوں کے ہم وارث ہوں اور جو فیصلے اور احکام نبی اکرمﷺ کی طرف سے ہمیں پہنچے ہیں بشاشت سے ان کو قبول کریں اور ان پر عمل کریں اور اپنے لئے کوئی اختیار باقی نہ سمجھیں یہ نہ کہیں کہ قوم میں یا خاندان میں یا برادری میں یا دوستوں میں ناک کٹ جائے گی ناک اس کی کٹتی ہے جس کو خدا کی چھری کاٹتی ہے اس کی ناک نہیں کٹتی جو خداتعالیٰ کی اطاعت میں دن گزار رہا ہو اور دنیا کی انگلی اس کی طرف اٹھے یا اس کے دوست یا رشتہ دار یا قوم یا خاندان طعن کی زبان اس کے خلاف استعمال کریں یہ بیہودہ خیال ہے لیکن بہرحال میں بدعات اور رسوم کے متعلق ایک دوسری آیت کے سلسلہ میں کچھ بیان کروں گا اب تو اس دعا پر ہی ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں محض اپنے فضل اور توفیق سے عاجزانہ راہوں پر چلتے رہنے کی توفیق بخشے اور ایسے سامان پیدا کرے محض اپنے فضل سے کہ ان راہوں سے ہم نہ بھٹکیں جن راہوں پر ہم چل کر اس کی رحمت کے وارث بن سکتے ہوں۔
    (روزنامہ الفضل ربوہ مورخہ ۳۰ ؍نومبر ۱۹۶۸ء صفحہ۲ تا۴)
    ٭…٭…٭

    اگر ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں تو ہمیں
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنی چاہئے

    (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۳ ؍اگست ۱۹۶۸ء بمقام احمدیہ ہال۔ کراچی۔ غیر مطبوعہ )
    ء ء ء
    ٭ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک ایسا نور عطا کیا ہے جو کائنات میں سے کسی اور کو عطا نہیں ہوا۔
    ٭ ’’اسوۂ رسول‘‘ چابی ہے جس سے معرفت کے خزانے کھولے جاتے ہیں۔
    ٭ نجات کے آثار اسی زندگی میں نمایاں طو رپر نظر آنے لگ جاتے ہیں۔
    ٭ حیات جاودانی صرف متابعت رسول سے ملتی ہے۔
    ٭ جب اللہ تعالیٰ کسی کے لئے رحمت کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے رحمت سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔



    تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی:۔
    قُلْ مَنْ ذَاالَّذِيْ یَعْصِمُکُمْ مِّنَ اللّٰہِ اِنْ اَرَادَ بِکُمْ سُوْئً اَوْاَرَادَبِکُمْ رَحْمَۃًط وَلَا یَجِدُوْنَ لَھُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّلَا نَصِیْرًا (الاحزاب:۱۸) لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاَخِرَ وَذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیْرًا (الاحزاب: ۲۲)
    پھر فرمایا:۔
    پچھلے خطبوں میں نے بتایا تھا کہ سورۃ احزاب کی اٹھارہویں آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ مضمون بیان کیا ہے کہ اگر وہ دکھ اور عذاب کا اور رحمت سے محرومی کا فیصلہ کسی فرد یا کسی قوم کے متعلق کرے تو اس محرومی سے دنیا کی کوئی طاقت اسے نجات نہیں دلا سکتی اور اگر اسی کا فیصلہ کسی کے حق میں رحمت کا ہو تو دنیا میں کون ہے جو اس شخص کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کر سکے۔
    اَوْاَرَادَبِکُمْ رَحْمَۃً کے متعلق قرآن کریم میں متعدد جگہ بہت سی اصولی باتیں اور بہت سی تفاصیل بیان ہوئی ہیں سورۃ احزاب میں بھی اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کی تشریح کرتے ہوئے کئی باتیں ہمارے سامنے رکھی ہیں جن میں سے بعض کے متعلق میں آج سے قبل کچھ کہہ چکا ہوں آج میں سورۃ احزاب کی بائیسویں آیت لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاَخِرَ کے متعلق کچھ کہوں گا۔
    حصولِ رحمت کی ایک اور راہ خداتعالیٰ نے (جسے شاہراہ کہنا چاہئے جو بڑی وسیع ہے اور برکتوں والی ہے) ہمیں یہ بتائی ہے کہ اگر ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں تو ہمیں نبی اکرمﷺ کی پیروی کرنی چاہئے۔ رجأ کے معنی ہیں یہ امید اور یقین رکھنا کہ مسرت کے سامان پیدا ہوں گے ان معنی کی رو سے یَرْجُوا اللّٰہَ کے معنی یہ ہوں گے کہ ہر وہ شخص جو امید اور یقین رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے مسرت کے سامان اپنے فضل اور رحمت سے پیدا کرے گا تو اسے یہ یاد رکھنا چاہئے کہ رحمت کے یہ سامان اس کے لئے اسی صورت میں پیدا ہو سکتے ہیں کہ وہ نبی اکرمﷺ کی کامل اتباع کرنے والا ہو۔
    یہاں یَرْجُوا اللّٰہَ کے متعدد معانی کئے جا سکتے ہیں اپنی تفاصیل کے لحاظ سے ان متعدد معانی میں سے آج کے لئے میں نے پانچ معنوں کا انتخاب کیا ہے اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب اور نقص سے منزہ ہے کوئی عیب ہم اس کامل ہستی کے متعلق اپنے تصور میں بھی نہیں لا سکتے وہ پاک ہے اور پاکیزگی سے محبت رکھتا ہے اور پاک ہی کو قرب عطا کرتا ہے۔ پس جس شخص نے خداتعالیٰ کی رحمت کو حاصل کرنا ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ بھی ایسے رنگ میں پاک ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ جس سے کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی اسے ہر زاویہ سے پاک یا پاک ہونے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھے یہ پاکیزگی اگر ہم نے حاصل کرنی ہو تو اس کے لئے ہمارے واسطے ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ ہم نبی اکرمﷺ کی سچی پیروی کرنے والوں میں سے بن جائیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں۔
    ’’اس کی سچی پیروی انسان کو یوں پاک کرتی ہے کہ جیسا ایک صاف اور شفاف دریا کا پانی میلے کپڑے کو‘‘۔ (چشمۂ معرفت روحانی خزائن جلد۲۳ صفحہ۳۰۳)
    جس طرح پانی اگر صاف اور پاکیزہ ہو اور کپڑے کو پتھروں پر مار مار کر دھویا جائے اور اسے صاف کرنے پر پوری توجہ دی جائے تو برف کی طرح وہ کپڑا صاف ہو جاتا ہے اسی طرح نبی اکرمﷺ کی اتباع کرتے ہوئے آپ نے جو اُسوہ دنیا میں قائم کیا ہے اس کی پیروی کرتے ہوئے آپ کی بتائی ہوئی راہوں کو اختیار کرتے ہوئے ہم اپنے نفس کو اپنی روح کو اس رنگ میں پاک کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی نگاہ اس پر پڑے ’’یَرْجُوا اللّٰہَ‘‘ کے ایک معنی یہ ہوئے کہ جو شخص اس پاک ذات سے تعلق پیدا کرنا چاہتا ہے اسے یہ یاد رکھنا چاہئے کہ نبی اکرمﷺ کی اتباع اور پیروی ضروری ہے جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہیں کرتا یا کم از کم کامل اتباع کرنے کی کوشش نہیں کرتا اس کے اندر بہت سی ایسی ناپاکیاں رہ جائیں گی جو اللہ تعالیٰ کو بیزار کرنے والی ہوں گی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے اسے محروم کر دینے والی ہوں گی اس لئے اگر ’’اس‘‘ پاک کی محبت چاہتے ہو تو اس پاک نمونہ کی کامل اور مکمل اتباع کرو اس کے بغیر خداتعالیٰ تم سے رحمت کا سلوک نہیں کرے گا۔
    یَرْجُوا اللّٰہَ کے تفصیلی معنی ہم یہ بھی کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک ایسا نور عطا کیا ہے جو کائنات میں سے کسی اور کو عطا نہیں ہوا اس لحاظ سے انسان تمام مخلوقات میں ممتاز ہے یہ نور دنیا کی کسی اور چیز کو نہیں دیا گیا حتیٰ کہ سورج میں بھی یہ نور نہیں چاند میںبھی نور نہیں ہیروں میں بھی یہ نور نہیں دنیا کی کسی شئی میں بھی وہ نور نہیں جو انسان کو دیا گیا انسانوں میں سے جس نے اس نور کو اتم طور پر اور اکمل طور پر اور ارفع اور اعلیٰ طور پر حاصل کیا وہ محمد رسول اللہﷺ ہیں تو جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ جو نُوْرُ السَّمٰوٰت ہے اس کے نور سے حصہ لے اللہ تعالیٰ کے نور کی کرنیں اسے ڈھانک لیں اس نور کی چادر میں شیطانی وسوسہ داخل نہ ہو سکے اور ظلمات میں سے کوئی ظلمت اس کے خانہ دل کا رخ نہ کر سکے اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ جو کامل اور مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کا نور بن کے دنیا میں نور پھیلانے کے لئے مبعوث ہوا (ﷺ) اس کی وہ اتباع کرے کیونکہ جو شخص اس کی اتباع کرتا ہے وہ اس کی اتباع کے طفیل اللہ کے نور سے اسی طرح اپنی استعداد کے مطابق اور اپنے مجاہدہ کے مطابق نور حاصل کرتا ہے جس طرح کامل مجاہدہ، کامل محبت، کامل فدائیت اور کامل ایثار کے نتیجہ میں محمد رسول اللہﷺ نے اللہ تعالیٰ کے نور کو حاصل کیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔
    ’’ہر ایک روشنی ہم نے رسول نبی امی کی پیروی سے پائی ہے اور جو شخص پیروی کرے گا وہ بھی پائے گا اور ایسی قبولیت اس کو ملے گی کہ کوئی بات اس کے آگے انہونی نہیںرہے گی زندہ خدا جو لوگوں سے پو شیدہ ہے اس کا خدا ہو گا اور جھوٹے خدا سب اس کے پیروں کے نیچے کچلے اور روندے جائیں گے وہ ہر ایک جگہ مبارک ہو گا اور الٰہی قوتیں اس کے ساتھ ہوں گی‘‘۔ (سراج منیر، روحانی خزائن جلد۱۲ صفحہ۸۲،۸۳)
    تو اگر کوئی شخص یہ خواہش رکھتا ہو کہ وہ اللہ کے نور سے حصہ لے جو نور کہ اس دنیا کی نیک راہوں کی نشاندہی کرتا ہے اور دوسری زندگی میں بھی جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ یَسْعٰی نُوْرُھُمْ بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَبِاَیْمَانِھِمْ(الحدید:۱۳)
    یہاں بھی وہ نور قرب کی راہوں کو منور کرتا اور اس کے نتیجہ میں شیطانی راہوں پر اندھیر اچھا جاتا ہے ہر سیدھی راہ نظر آنے لگتی ہے یہ نور محمد رسول اللہﷺ کی پیروی سے ہم حاصل کر سکتے ہیں اسی واسطے ہر وہ شخص جس کے دل میں ایسی خواہش پیدا ہو اس کو اللہ تعالیٰ اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ نبی اکرمﷺ تمہارے لئے ایک نمونہ ہیں اس اُسوہ کے مطابق تم اپنی زندگیوں کو ڈھالو تو اللہ تعالیٰ سے اس حسین اور عجیب اور روشن نور کو حاصل کر سکو گے جو انسان کو ہر قسم کی ہلاکت سے بچاتا ہے۔
    لِمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَکے تیسرے معنی یہ ہیں کہ ہر وہ شخص جو اللہ کی امید رکھتا ہے اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا چاہتا ہے اسے یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سے زندہ اور پاک تعلق پیدا کرنے کے لئے اس کی ذات اور اس کی صفات کی معرفت حاصل کرنا ضروری ہے اور اگر کوئی شخص اس جگہ نہ پہنچے جہاں سے یہ معرفت حاصل ہو سکتی ہے تو وہ اندھیرے میں بھٹکتا رہے گا ضال ہو جائے گا ایسے شخص کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہﷺ کو معرفت کا ایک خزانہ دے کر اس دنیا میں مبعوث کیا ہے اور آپ کی بعثت کے بعد کسی اور کے پاس یہ خزانہ تو کیا اس کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی باقی نہیں رہا اور اس فضیلت کی چابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی اور اس تالے کے اوپر خدا کے فرشتوں کا پہرہ ہے اگر کوئی شخص اس خزانے میں داخل ہو کر اس خزانے سے حصہ لینا چاہتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے محمد رسول اللہﷺ سے اس کی کنجی حاصل کرے پھر اس کے لئے ممکن ہو گا کہ وہ خزانہ کو کھولے اور اس میں داخل ہو اور محمدﷺ کو جو چابی اس خزانہ کے لئے دی گئی ہے اس کا نام ہے۔
    ’’اسوئہ رسول‘‘
    یہی چابی ہے جس سے معرفت کے خزانے کھولے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص خداتعالیٰ سے تعلق قائم کرنا چاہتا ہے اسے یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق کے قیام سے پہلے اس کی ذات اور اس کی صفات کا عرفان ضروری ہے اور یہ معرفت حاصل نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس معرفت کے خزانہ کی چابی اس کے پاس نہ ہو اور چابی اس کو ملتی ہے جو محمد رسول اللہﷺ کے اُسوہ کے مطابق اپنی زندگی کے دن گزارتا ہے پس اگر تم خدا سے زندہ تعلق رکھنا چاہتے ہو تو تمہارے لئے یہ ضروری ہے کہ تم اس اُسوہ کو اپنائو اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو گزارو اور اپنے ماحول میں بھی اسے قائم کرنے کی کوشش کرو۔
    لِمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَکے چوتھے معنی یہ ہیں کہ جو شخص بھی سچی نجات حاصل کرنا چاہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ محمد رسول اللہﷺ کے اُسوہ کی پیروی کرے کیونکہ آپ کی پیروی ہی کے نتیجہ میں ظلماتی پردے اٹھتے ہیں اور اسی جہان میں سچی نجات کے آثار ظاہر ہوتے ہیں۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تفصیل سے اس پر بڑی روشنی ڈالی ہے کہ اس وہم میں مبتلا رہنا کہ اس دنیوی زندگی میں بے شک ہم ہر قسم کے اندھیروں میں بھٹکتے رہیں اُخروی زندگی میں ہمیں نور ملے گا اور نجات حاصل ہو گی یہ غلط ہے جس شخص کو وہاں جنت ملتی ہے اس کو اس دنیامیں بھی جنت ملتی ہے جس شخص کو وہاں نور حاصل ہونا ہے اس کے لئے نور کے سامان اسی دنیا میں پیدا کئے جاتے ہیں جس نے وہاں نجات حاصل کرنی ہے اس کے لئے نجات کے آثار اسی زندگی میں نمایاں طور پر نظر آنے لگ جاتے ہیں اور ایسا شخص جہل اور غفلت اور شبہات کے حجابوں سے نجات پا کر حق الیقین کے مقام پر پہنچ جاتا ہے اور نجات کے آثار اسی شخص کے لئے نمایاں ہوتے ہیں جو نبی اکرمﷺ کی پیروی کرتا ہے آپ کی سنت کی اتباع کرتا ہے یہ محض ایک دعویٰ ہی نہیں بلکہ اس دعویٰ کے ثبوت کے لئے ایک تو ماضی کے شواہد ہیں حال کے آثار ہیں اور مستقبل کے چیلنج ہیں جو جماعت احمدیہ کی طرف سے ہر اس غیر مذہب، ہر اس شخص کے سامنے رکھے گئے ہیں جو نبی کریمﷺ کی اتباع کے بغیر نجات حاصل کرنے کی امید رکھتا ہے یا ایسا کرنے کا دعویٰ کرتا ہے کہ اگر واقع میں تم اسلام سے باہر رہ کر محمد رسول اللہﷺ کی اتباع کے بغیر نجات حاصل کر سکتے ہو تو نجات کے کچھ آثار بھی تو ظاہر ہونے چاہیں ان میں ہمارا مقابلہ کر لو اگر اس دنیا میں تمہیں یہ نجات حاصل نہیں نہ اس کے کوئی آثار دکھا سکتے ہو اگر اس دنیا میں ایک سچے مسلمان کو نجات حاصل ہو سکتی ہے اور اس کے آثار اس کی زندگی میں پائے جاتے ہیں تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ وہ مذہب یعنی اسلام جس کی پیروی سے اور وہ رسول جس میں فنا ہو کر جس کے اُسوہ کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال کر نجات کے یہ آثار ہماری زندگی میں نمایاں ہوتے ہیں وہی سچا رسول ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جا سکتا ہے۔ میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ ھڈرز فیلڈ (انگلستان) میں جماعت کے پریذیڈنٹ نے (جو بڑے مخلص تھے چند دن ہوئے اچانک وفات پا گئے ہیں اللہ ان کے درجات بلند کرے) ایک پریس کانفرنس کا بھی انتظام کیا تھا اور غیر مسلموں کو بھی مدعو کیا تھا وہاں سوشل ورکر ادھیڑ عمر کی انگریز عورت نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ ایک سچے عیسائی اور ایک سچے مسلمان میں کیا فرق ہے؟ میں خوش ہوا کہ اس نے عیسائی اور مسلمان کے فرق کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ ’’سچے‘‘ کی زیادتی کی ہے میں نے اس کا سوال دہرایا کہ تم مجھے سے ایک سچے عیسائی اور سچے مسلمان کے مابین کا فرق دریافت کر رہی ہو اس نے کہا کہ ہاں آپ ٹھیک سمجھے ہیں تو میں نے اس کو جواب دیا کہ تم ایک عورت ہو میں ایک عورت کی ہی مثال دیتا ہوں میں نے اپنی ایک احمدی بہن کی مثال دی تھی جس نے نبی اکرمﷺ کے طفیل اپنے رب کی محبت کو کچھ اس طرح پایا تھا کہ ایک ہی رات میں اسے تین بار اللہ تعالیٰ نے خبر دی اور وہ دعا میں مشغول رہی جب تک کہ اس کے دل کو تسلی نہیں ہو گئی۔
    پھر میں نے اس سے کہا کہ یہ ایک مثال ہے اور تمہیں سمجھانے کے لئے مثال بھی ایک عورت کی ہے تم ساری عیسائی دنیا میں کوئی ایک مثال اس قسم کی ہمیں دکھا دو تو ہم کہیں گے کہ تمہارے پاس بھی کوئی چیز ہے تو ایک ایسے مسلمان کی زندگی میں جو آنحضرتﷺ کی اتباع کرنے والا اور آپ کے نمونہ کے مطابق اپنی زندگی کو بتانے والا ہے صحیح اور سچی نجات کے آثار ظاہر ہونے لگ جاتے ہیں اور یہ تسکین یہ مسرت یہ سکون قلب یہ نور فراست یہ محبت کے جلوے جو وہ اپنی زندگی میں دیکھتا ہے یہی ہیں جو اس کو محمد رسول اللہﷺ کا فدائی بنا دیتے ہیں۔
    ہمارا رسول کس قدر بزرگ ہے کہ جس کی اطاعت سے جس کی دس دن کی پیروی سے وہ آسمانی برکات ملتی ہیں کہ جو ہزاروں برس کی دوسرے مذاہب کی پیروی سے انسان کو نہیں مل سکتیں یہ محض دعویٰ نہیں جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ ایک مثال اس عیسائی کو دی تھی بغیر تفصیل میں جانے کے آج بھی میں نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ نبی اکرمﷺ سے محبت رکھنا آپ کے اُسوہ پر چلنا یہ نہیں کہ صرف محبت کا دعویٰ ہو محبت بڑی قربانی چاہتی ہے دیکھو چھوٹی چھوٹی محبتیں قربانی چاہتی ہیں ایک ماں اپنے بچے سے پیار کرتی ہے بچہ بیمار ہو جائے تو وہ سو نہیں سکتی سرہانے بیٹھی رہتی ہے یہ ایک چھوٹی سی محبت ایک ماں کی اپنے بچوں میں سے ایک بچے کی محبت جس کا مظاہرہ ہو رہا ہے اس کے معاوضہ میں اس ماں نے کیا لینا ہے صرف یہ تسلی کہ شاید یہ بچہ جو ہے اس سے میں بھی کسی وقت آرام پائوں گی یہ خواہشات ہمیشہ پوری نہیں ہوا کرتیں بعض خاندانوں میں یہ پوری ہو جاتی ہیں بعض میں پوری نہیں ہوتیں لیکن یہاں تو ایک یقینی چیز ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کا نتیجہ ہماری زندگی میں ظاہر ہوتا ہے ہم جو محبت محمد رسول اللہﷺ سے کرتے ہیں اس محبت کے نتیجہ میں قرآن کریم کے وعدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کی محبت کے جلوے ہم دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔
    پھر حقیقی محبت اور سچا تعلق ہمیں محمد رسول اللہﷺ اور اپنے خدا سے جو زندہ طاقتوں والا خدا ہے پیدا ہو جاتا ہے۔ تو لِمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ جو شخص یہ خواہش رکھتا ہو کہ اس کے اندر ایک ایسی تبدیلی ہو جائے کہ اس کے لئے اسی دنیا میں نجات کے آثار نمایاں ہونے شروع ہو جائیں اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ محمد رسول اللہﷺ کی غلامی میں آ جائے آپ کی محبت میں فنا ہو جائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔
    جو شخص اپنی نجات چاہتا ہے وہ اس نبی سے (یعنی محمد رسول اللہﷺ) سے غلامی کی نسبت پیدا کرے یعنی اس کے حکم سے باہر نہ جائے اور اس کے دامن اطاعت سے اپنے تئیں وابستہ جانے جیسا کہ غلام جانتا ہے تب وہ نجات پائے گا ۔ (آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد۵ صفحہ۱۹۱)
    اور جب وہ نجات پا جائے گا تو اس کے آثار کیا ظاہر ہوں گے اس زندگی میں ایک پاک زندگی ایسے لوگوں کو عطا کی جائے گی اور نفسانی جذبات کی تنگ و تاریک قبروں سے وہ نکالے جائیں گے۔
    ایک اور معنی لِمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَکے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ حقیقی زندگی اور حقیقی حیات ہے اور وہ اَلْحیّ ہے وہ زندہ ہے کسی کی احتیاج کے بغیر اور ہر دوسری چیز جو ہے اس کی زندگی اللہ تعالیٰ کے منشاء اور اس کے ارادے اور اس کے حکم کی احتیاج رکھتی ہے تو جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس زندہ خدا جو زندہ طاقتوں والا اور زندہ قدرتوں والا خدا ہے اس سے اس کا تعلق قائم ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اسے بھی روحانی زندگی مل جائے کیونکہ زندہ کا تو زندہ سے تعلق قائم ہو جاتا ہے لیکن زندہ کے ساتھ مردہ کا تعلق ہمارے تصور میں نہیں آتا یہ شخص اگر روحانی زندگی چاہتا ہے تو اس کے لئے ایک ہی در ہے وہاں وہ جاکر اطاعت کے اُسوہ کی پیروی کی بھیک مانگے اور وہاں جا کے اپنی جبین نیاز جھکائے اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرے کہ اے خدا تو زندہ طاقتوں والا اور زندہ قدرتوں والا خدا ہے اور اے میرے رب تو نے ہمارے اس محسن کو بھی ایک ابدی زندگی عطا کرکے اس دنیا میں مبعوث کیا ہے جس کے فیض کبھی ختم نہیں ہوتے اور ہمیشہ کے لئے جاری ہیں ہم جانتے ہیں کہ جب تک ہم روحانی طور پر مردہ رہے ہم تیرے ساتھ زندہ تعلق تو قائم نہیں کر سکتے اس نبی کے طفیل ہی یہ فیض حاصل ہو سکتا ہے اس کے بغیر تو حاصل نہیں ہو سکتا پس اے ہمارے ربّ ہم کو یہ طاقت بخش اور توفیق عطا کرے کر کہ ہم تیرے اس نبی کی اتباع ایسے رنگ میں کر سکیں جس رنگ میں تو چاہتا ہے کہ ہم کریں اور اس کے نتیجہ میں اے ہمارے ربّ روحانی طور پر ہمیں زندہ کر دے تاکہ ہمارا تعلق تیرے ساتھ قائم ہو جائے تو یہاں یہ فرمایا کہ جو شخص روحانی زندگی کے نتیجہ میں زندہ خدا سے زندہ تعلق قائم کرنا چاہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ کے اُسوہ کی پیروی کرے قرآن کریم نے بڑی وضاحت سے یہ بیان کیا ہے کہ نبی کریمﷺ کے فیض کے ذریعہ ہی یہ روحانی زندگی حاصل کی جا سکتی ہے جیسا کہ سورۃ انفال میں فرمایا۔
    یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ (الانفال:۲۵)
    تو نبی اکرمﷺ ساری دنیا کو دعوت دے رہے ہیں تو اس کا مقصد یہی ہے کہ جو ان کی آواز پر لبیک کہے وہ روحانی زندگی کو حاصل کرے اسی طرح نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے کہ اَنَاالحَاشِرُالَّذِیْ یُحْشَرُ النَّاسُ عَلَی قَدَمِیْ (صحیح البخاری کتاب المناقب باب ماجاء فی اسماء رسول اللّٰہؐ) میں حاشر ہوں کہ ایک روحانی حشر برپا کرنے کے لئے مبعوث ہوا ہوں اور جو میرے قدموں پر گر جاتا ہے وہ زندہ کیا جاتا ہے اور روحانی زندگی کے ساتھ کھڑا کیا جاتا ہے اور قائم کیا جاتا ہے تو جو شخص روحانی زندگی کا امیدوار ہو جو اس چیز کا امیدوار ہو کہ روحانی زندگی کے بعد اپنے زندہ خدا کے ساتھ زندہ تعلق کو قائم کرے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ جسے ابدی حیات دی گئی ہے اس کے ساتھ اس کا سچا تعلق قائم ہو جائے اور اس کی سنت کی وہ پیروی کرنے والا ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس سلسلہ میں تحریر فرماتے ہیں۔
    ’’پھر اسی کے مطابق آنحضرتﷺ کے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے حق میں فرماتا ہے وَاَیَّدَھُمْ بِرُوْحٍ مِّنْہٗ (المجادلہ:۲۳)یعنی ان کو روح القدس کے ساتھ مدد دی اور روح القدس کی مدد یہ ہے کہ دلوں کو زندہ کرتا ہے اور روحانی موت سے نجات بخشتا ہے اور پاکیزہ قوتیں پاکیزہ حواس اور پاک علم عطا فرماتا ہے اور علوم یقینیہ اور براہین قطعیہ سے خداتعالیٰ کے مقام قرب تک پہنچا دیتا ہے‘‘۔ (آئینہ کمالاتِ اسلام، روحانی خزائن جلد۵صفحہ۱۹۴،۱۹۵)
    پھر آپ فرماتے ہیں:۔
    ’’ اور یہ علوم جو مدار نجات ہیں یقینی اور قطعی طور بجز اس حیات کے حاصل نہیں ہو سکتے جو بتوسط روح القدس انسان کو ملتی ہے اور قرآن کریم کا بڑے زور شور سے یہ دعویٰ ہے کہ وہ حیات روحانی صرف متابعت اس رسول کریم سے ملتی ہے‘‘۔
    (آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد۵ صفحہ۱۹۵،۱۹۶ء)
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں اپنی زبان میں اگر اس کا خلاصہ کرنا ہو تو وہ یہ ہو گا کہ جو شخص روحانی زندگی حاصل کرنا چاہے اور اس روحانی زندگی کے حصول کے بعد اللہ تعالیٰ جو حیات محض ہے اور جس کی قدرتوں پر دنیا کی ہر شیی کی حیات منحصر ہے اس کے بغیر وہ زندگی قائم ہی نہیں رہ سکتی تو اس قسم کی روحانی زندگی جو حاصل کرنا چاہے اس کیلئے ضروری ہے کہ روح القدس اس کی مدد کو آئے اور روح القدس سے وہ ان چیزوں کو ان ذرائع کو حاصل کرے جن کے حصول کے بعد روحانی زندگی ملا کرتی ہے اور روح القدس کی مدد سے یہ اس کو ملتی ہے جو محمد رسول اللہﷺ کی اتباع کرنے والا اور آپ کی سنت پر چلنے والا ہو اور جو شخص ابدی روحانی زندگی چاہتا ہے اور جسے یہ پسند نہیں جس کے متعلق قرآن کریم نے کہا ہے لَایَمُوْتُ فِیْھَا وَلَایَحْیٰ (الاعلٰی :۱۴) کہ نہ وہ زندگی ہو گی نہ موت ہو گی پریشانی کا ایک عالم ہو گا بے اطمینان کی ایک دنیا ہو گی تکلیف اور دکھ ہو گا جس سے نجات کا کوئی راستہ نظر نہیں آئے گا برداشت کی طاقت نہیں ہو گی اگر ایسی زندگی نہیں بلکہ وہ زندگی جو پاک زندگی ہے وہ زندگی جو محمد رسول اللہﷺ کے طفیل روح القدس کی شاگردی حاصل کرنے کے بعد زندہ خدا سے تعلق قائم کرنے کے بعد انسان کو ملتی ہے وہ زندگی اگر حاصل کرنی ہو تو ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ ہے کہ لَقَدْکَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الآَخِرَ (الاحزب:۲۲)
    تو اٹھارہویں آیت میں یہ فرمایا تھا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کے لئے رحمت کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے رحمت سے محروم نہیں رکھا جا سکتا پھر آگے جا کر مختلف آیات میں اسی سورۃ احزاب میں یہ بیان کیا کہ رحمت کا فیصلہ کس قسم کے لوگوں کے متعلق کیا جاتا ہے اس کے متعلق میں پہلے بتا چکا ہوں آج میں نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے رحمت کا فیصلہ کرتا ہے جو نبی اکرمﷺ کی اتباع کرنے والا آپ کی سنت کی پیروی کرنے والا آپ کے احکام کی اطاعت کرنے والا اور ہر قسم کی بدعتوں اور رسوم سے بچنے والا ہو اور یہ رحمت کبھی پاکیزگی کی شکل میں ملتی ہے اس اتباع نبوی کے بعد کبھی ایک کامل نور کی شکل میں ملتی ہے کبھی نجات کے آثار نمایاں ہوتے ہیں اس زندگی میں کبھی ایسے شخص کو معرفت تامہ کے گھونٹ پلائے جاتے ہیں اور کبھی حقیقتہً ایک روحانی زندگی اسے عطا کی جاتی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ زندہ خدا سے ایک زندہ تعلق اس کا قائم ہو جاتا ہے پھر وہ اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے ہر وقت زندہ خدا کی زندہ تجلیات کو دیکھتا ہے اس کا قدم معرفت کی راہوں میں آگے ہی آگے بڑھتا چلاتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہر احمدی نبی اکرمﷺ کی اتباع اور پیروی کی توفیق حاصل کرے اور اسے ہر وہ چیز ملے جس کا وعدہ کامل اتباع کے نتیجہ میں مومنین کی جماعت کو دیا گیا ہے۔ (آمین)
    ٭…٭…٭
    خطبہ جمعہ ۳۰؍ اگست ۱۹۶۸ء
    حضور انور کراچی میں تشریف فرما تھے۔ زود نویسی کے ریکارڈ کے مطابق حضور نے خطبہ ارشاد فرمایا جو کہ تاحال دستیاب نہیں ہو سکا۔

    ایمان کے سب تقاضوں کو پورا کریں تا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سارے ہی دروازے ہمارے لئے کھل جائیں
    (خطبہ جمعہ فرمودہ ۶ ؍ستمبر ۱۹۶۸ء بمقام احمدیہ ہال۔ کراچی۔ غیر مطبوعہ)
    ء ء ء
    ٭ ایمان کے تقاضوں کو پوراکرو گے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے کھولے جائیں گے۔
    ٭ ہر انسان اپنی قوت اور استعداد کے دائرہ میں اپنے کمال کو حاصل کرسکتاہے۔
    ٭ تمہارے لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قرب کی راہوں کو تلاش کرو اورنیکیاں بجا لاؤ۔
    ٭ ہر وہ لحظہ جو ہم نے اپنے ربّ کی یاد میں نہیں گزارا وہ ضائع ہوگیا۔
    ٭ اگر ساری دنیا کسی ایک انسان کے لئے اللہ کی رحمت کے سامان پیدا کرنے کی کوشش کرے توکبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔



    تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد ذیل کی آیات تلاوت فرمائیں۔
    قُلْ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَعْصِمُکُمْ مِّنَ اللّٰہِ اِنْ اَرَادَبِکُمْ سُوْئً اَوْ اَرَادَبِکُمْ رَحْمَۃً وَلاَ یَجِدُوْنَ لَھُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّلَا نَصِیْراً (الاحزاب:۱۸) لِیُعَذِّبَ اللّٰہُ الْمُنَافِقِیْنَ وَالْمُنٰـفِقٰتِ وَالْمُشْرِکِیْنَ وَالْمُشْرِکٰتِ وَیَتُوْبَ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا
    (الاحزاب: ۷۴)
    اللہ تعالیٰ نے ہماری دعائوں کو سنا اور اپنی رحمت اور فضل سے میری بیماری کو دور فرمایا اَلْحَمْدُلِلّٰہِ ثُمَّ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ۔ لیکن شکر (Sugar)کی کیفیت اپنی حد پر آ کر ٹھہر گئی ہے اور حد پر آ کر ٹھہر جانا خطرناک ہوتا ہے جیسا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سی حدود مقرر کی ہیں اور فرمایا کہ تم حد سے قریب بھی نہ جائو کہیں ایسا نہ ہو کہ غلطی یا غفلت کے نتیجہ میں حدود سے باہر ہو جائو اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لینے والے بن جائو اس طرح انسان کے جو مختلف میکنیزم (Mechanism)ہیں ان میں کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ معمول کی کیفیت پائی جاتی ہے اگر اس نظام کی یہ حالت ہو کہ وہ اپنے Maximum پر زیادہ سے زیادہ کھڑا ہو تو تھوڑی سی غفلت یا بے پرواہی یا بد پرہیزی جو ہے اس سے بیماری کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے تو اب شکر کا جو نظام ہے وہ زیادہ سے زیادہ حد کے اوپر کھڑا ہے دعا کریں میں بھی دعا کر رہا ہوں اللہ تعالیٰ فضل کرے اور یہ ان حدود سے کافی نیچے آ جائے تاکہ انسان جو غفلت کا پتلا ہے بے پرواہی کے نتیجہ میں اس حد کو پار کرکے بیماری کی حدود میں داخل نہ ہو اللہ ہی فضل کرنے والا اور شفا دینے والا ہے ایک لمبا عرصہ اپنے حالات کے مطابق ایک لمبا عرصہ کئی ہفتے مجھے کراچی میں ٹھہرنا پڑا ہے آپ دوستوں سے ملنے کا زیادہ اتفاق ہوا ہم نے باتیں کیں ملے، بہت ساروں کے دکھ اور دردسُنے ان کے دور کرنے کی کوشش کی ویسے تو ایک تعلق جماعت کے ساتھ خلیفہ وقت کو ہوتا ہے لیکن جماعت کا وہ حصہ جو زیادہ وقت تک ساتھ رہے یا جن کے ساتھ کچھ ہفتے گذارنے پڑیں ان کے ساتھ ایک خاص لگائو ہو جاتا ہے انشاء اللہ کل چناب ایکسپریس سے ہماری واپسی ہے لیکن جہاں اس خیال سے کہ بہت سے کام رکے ہوئے ہیں اور ربوہ واپس جانا ضروری ہے ربوہ جانے کی خواہش بھی بڑی ہے اور آپ سے جدا ہونے کی اداسی بھی دل محسوس کر رہا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی رحمتوں سے نوازتا رہے اور آپ اس کے فضلوں کے ہمیشہ وارث بنیں اور ان راہوں پر آپ کو چلنے کی توفیق ملے جو راہ کہ اس کی رحمت کے دروازے کھولتی ہے۔
    اللہ تعالیٰ کی رحمت کے متعلق ہی میں خطبات دے رہا ہوں اور آج خداتعالیٰ کی توفیق سے اس نے چاہا تو اس مضمون کو ختم کرنا چاہتا ہوں میں نے بتایا تھا کہ یہ آیت جس کی تفسیر میں بیان کر رہا ہوں سورہ احزاب کی ہے اور میں نے جب غور کیا کہ سورۃ احزاب میں اللہ تعالیٰ ہماری رہنمائی کے لئے یہ بتانا چاہتا ہے کیونکہ انسان اپنے طور پر تو کچھ حاصل نہیں کر سکتا جب تک خدا ہمیں علم نہ دے انسان خود نور سے اپنی نیکی کی اور راستبازی کی سیدھی راہوں کو منور نہیں کر سکتا جب تک اللہ تعالیٰ اس کو توفیق نہ دے تو سورۃ احزاب میں بھی اللہ تعالیٰ نے ضرور ان راہوں کو نشاندہی کی ہو گی جو راہیں اس کی رحمت کے دروازوں تک لے جاتی ہیں اور جو مجاہدہ خدا کو جب مقبول ہو جائے تو رحمت کے دروازے ایسے شخص یا اشخاص یا گروہ کے لئے کھولے جاتے ہیں آج میں سورۃ احزاب کی ہی ایک آیت کو بنیادی نکتہ بنا کر ایک بنیادی اصل کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ تفاصیل تو قرآن کریم میں بہت ہیں قرآن کریم نے اپنی رحمت کے دروازے کھلوانے کے لئے ہمیں کئی سو راہیں بتائی ہیں ان راہوں پر چلنا بڑا ضروری ہے قرآن کریم میں جو بھی نیکیوں کے طریق بتائے گئے ہیں جو بھی مجاہدات کے راستے ہمیں دکھائے گئے ہیں ان سب پر چلنا ضروری ہے اس لئے قرآن کریم نے اصولی طور پر ہمیں ہدایت دی کہ اگر ایمان کے تقاضوں کو پورا کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے کھولے جائیں گے۔ یہ بنیادی اور اصولی چیز ہے باقی تمام اسی ایک بنیادی چیز کی فروعات ہیں اللہ تعالیٰ سورۃ احزاب میں فرماتا ہے کہ اس شریعت کو اس لئے نازل کیا گیا ہے کہ جہاں منافق اور منافقات اور مشرک اور مشرکات کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے سوء کا حکم جاری ہو دکھ اور عذاب اور تکلیف اور پریشانی کا حکم جاری ہو وہاں وَیَتُوْبَ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ یعنی یہ شریعت اور یہ حقیقت جو شریعت کے نظریے کی غرض ہے اس لئے نازل کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کیلئے رحمتوں کے سامان پیدا کئے گئے ہیں وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمَا اور جو شخص توبہ کرتا ہے اور جو شخص ایمان پر پختگی کے ساتھ قائم ہوتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی ان دو صفات کے جلوے ظاہر ہوتے ہیں ایک تو اس کی توبہ قبول کی جاتی ہے اور مغفرت کی چادر میں خدائے غفور اسے لپیٹ لیتا ہے دوسرے اس کے مجاہدات قبولیت کا درجہ حاصل کرتے ہیں اور خدائے رحیم اپنی رحمت کی چادریں ایسے شخص اور وجودوں پر نازل کرنا شروع کر دیتا ہے اس کو زیادہ وضاحت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَاعْتَصِمُوْا بِہٖ فَسَیُدْخِلُھُمْ فِیْ رَحْمَۃٍ مِّنْہُ وَفَضْلٍ وَّ یَھْدِیْھِمْ اِلَیْہِ صِرَاطاً مُّسْتَقِیْمًا (النساء:۱۷۶)کہ وہ لوگ جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور ایمان کے تمام تقاضوں کو پورا کرکے اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ اللہ کی رحمتوں کے ذریعہ شیطانی حملوں سے اپنا بچائو کریں تو یہ لوگ ہیں سَیُدْخِلُھُمْ فِيْ رَحْمَۃٍ مِّنْہُ وَفَضْلٍ ۔کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت اور اپنے فضل کی جنتوں میں داخل کرے گا اور اس کا طریق یہ ہو گا وہ یَھْدِیْھِمْ اِلَیْہِ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا ۔جو راہیں سیدھی اللہ کی طرف لے جانے والی ہیں ان راہوں کو ان لوگوں کے لئے منور کیا جائے گا ان کی طرف ان کی رہنمائی کی جائے گی تو سچی اور حقیقی اور اصولی بات یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے صرف ان لوگوں پر کھلتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ایمان لاتے ہیں اور پھر اپنی عملی زندگی میں یہ کوشش کرتے ہیں کہ وہ ایمان کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے والے ہوں اس طرف متوجہ کرتے ہوئے سورۃ نساء میں ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا۔ (النساء: ۱۳۷) اے وہ لوگو جو ایمان کا دعویٰ کرتے ہوئے اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو۔ ایمان کا حکم تو پہلے ہی واضح ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اے وہ لوگو جن کا دعویٰ ہے کہ خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے وہ لوگ اللہ پر ایمان لائے ہیں اور اس بات پر ایمان لائے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہﷺ کے ذریعہ ایک آخری اور کامل اور مکمل شریعت نازل کی ہے۔ اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖاب اس ایمان کے تقاضوں کو تم پورا کرو کس طرح پورا کرو؟یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اے وہ لوگو جو ایمان کے مدعی ہو ایمان کے تقاضوں کو اللہ کی اطاعت یعنی قرآن کریم کی شریعت کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال کے وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ (النساء:۶۰)اور اتباع نبویہ کے طفیل اور آپؐ ہی کے حکم کے مطابق جب قدرت ثانیہ کے جلوے اللہ تعالیٰ ظاہر کرنا چاہے تو ان جلوؤں سے فائدہ اُٹھانے کے لئے جو تقاضے تم سے کئے جائیں ان کو پورا کرکے اپنے ایمان کا ثبوت دو اور اپنے لئے رحمتوں کے سامان پیدا کرو۔ تو رحمت کے حصول کیلئے یا فضل کی جنتوں میں داخلے کے لئے یا اللہ تعالیٰ کی جنتوں کی ٹھنڈی چھائوں میں زندگی کے لمحات گذارنے کے لئے خداتعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے بنیادی چیز یہ ہے کہ معرفت اور عرفان کے ساتھ عَلٰی وَجْہِ الْبَصِیْرَۃ ایمان اور اعتقاد کو پختہ کیا جائے اور دل اور روح ایمان کے نور سے منور ہو جائے اور تمام جوارح جن سے ہم کام لیتے ہیں ہمارے ہاتھ ہیں، ہماری زبان ہے ہمارے پائوں ہیں ہماری آنکھیں ہیں ناک ہے جتنی بھی قوتیں اور استعدادیں اللہ تعالیٰ نے کام کی غرض سے ہمیں عطا کی ہیں ان سب کو ایمان کے مطابق ہم کام پر لگائیں اور ہمارا ہر عضو یہ گواہی دے کہ اس کی گردن پر خدا کے احکام اور نبی کریمﷺ کے ارشادات کا جُوٓا ہے اور آپؐکے حکم سے اور آپؐ کی اطاعت سے کوئی باہر نہیں اگر انسان ایسا بن جائے تو اس سے زیادہ بابرکت انسان کوئی نہیں ہو سکتا اور پھر وہ جو ایسا بننے کی کوشش کرے یعنی یہ تو صحیح ہے کہ قوت اور استعداد کا جائزہ مختلف ہے لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ شریعت اسلامیہ کے طفیل اور نبی اکرمﷺ کے فیوض سے اگر حصہ لیا جائے تو ہر انسان اپنی قوت اور استعداد کے دائرہ میں اپنے کمال کو حاصل کر سکتا ہے اور یہ اپنی قوت اور استعداد کے مطابق اپنی روحانی کمال کو حاصل کر لیتا ہے وہ اپنے دائرئہ استعداد کے اندر جتنی زیادہ سے زیادہ رحمت اللہ کی حاصل کر سکتا تھا وہ اسے مل جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتایا کہ رحمت سے حصہ لینا چاہتے ہو تو ایمان پختہ، اعتقاد صحیح، اعمال صالحہ ہوں، نیت خالص ہو، دل میں کوئی فتور اور شر نہ ہو اور روح اپنے ربّ کے آستانہ پر جھکی رہے اور دعائوں میں مشغول رہے اور اس سے طاقت حاصل کرے تا اس کے بتائے ہوئے راستوں پر چل سکے تو رحمت کے دروازے کھل جائیں گے۔
    میں نے بتایا ہے کہ قرآن کریم میں کئی سو تقاضے بیان ہوئے ہیں جو ہمارے ایمان سے کئے گئے ہیں ان میں سے بعض کا ذکر میں اس وقت اختصار کے ساتھ کر دینا چاہتا ہوں اور میں نے ان باتوں میں سے چند کا انتخاب کیا ہے جن میں مومن کو مخاطب کیا گیا ہے کہ اگر تم ایمان لائے ہو تو یہ کرو اور اگر تم ایمان لائے ہو تو وہ کرو اللہ تعالیٰ سورۃ تحریم میں فرماتا ہے یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْٓا اِلَی اللّٰہِ تَوْبَۃً نَّصُوْحاً (التحریم:۹) ایمان کا دعویٰ اگر ہے تو ایمان کے اس تقاضے کو پورا کرو کہ اپنے اللہ کی طرف توبہ کرو ایک سچی اور خالص توبہ، توبہ کہتے ہیں کہ انسان اپنی غلطی پر نادم ہو کر اپنے گناہوں سے شرمندگی کا احساس کرتے ہوئے اس غلطی اور گناہ کے چھوڑنے کا عزم کرے اور اپنے ربّ سے یہ وعدہ کرے کہ آئندہ کبھی وہ اس قسم کی غلطی میں ملوث نہیں ہو گا یہ ابتداء ہے اور حقیقتًا پہلا تقاضا ہے ایمان کا کیونکہ جو شخص اسلام لاتے ہوئے یا اگر وہ اسلام میں پیدا ہوا ہے تو بلوغت کو پہنچتے ہوئے جب بھی اس کو روحانی بلوغت حاصل ہو حقیقی توبہ کرتا ہے اس کے سارے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں بڑی وضاحت سے بیان ہوا ہے اور اس کی روحانی زندگی کی ابتداء وہ ہوتی ہے تو ایک تقاضا ہمارے ایمان کا یہ ہے کہ تُوْبُوْا اِلَی اللّٰہِ تَوْبَۃً نَّصُوْحاً ایک سچی اور خالص توبہ کرکے انسان یہ عزم کرے کہ میں کبھی کوئی ایسی بات نہیں کروں گا جس سے میرے ربّ نے مجھے روکا ہے اور جس کے کرنے سے وہ ناراض ہوتا ہے اس کا غضب بھڑکتا ہے پھر سورۃ حج میں فرمایا یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا۔ (الحج:۷۸ ) توبہ کے بعد تمہارے لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قرب کی راہوں کو تلاش کرو اور نیکیاں بجا لائو تاکہ وہ تمہیں اپنا مقرب بنا لے اس کے سامنے جھکو ذلت سے انکساری کے ساتھ اپنی کمزوریاں اس کے سامنے پیش کرتے ہوئے ان کمزوریوں کو دور کرنے اور اس سے طاقت حاصل کرنے کے لئے دعائیں کرو۔ غرضیکہ عبودیت کے مقام کو حاصل کرنے کی کوشش کرو وَاعْبُدُوْا رَبَّکُمْ۔پھر فرمایا یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوا للّٰہَ ذِکْرًا کَثِیْرًا (الاحزاب:۴۲) عبادت اگر کرنا چاہتے ہو تو ہر وقت اس کے ذکر میں مشغول رہو یہ مشکل بھی ہے اور سہل بھی ہے ان لوگوں کے لئے مشکل ہے جو اس کی اہمیت کو اور اس کے اثرات کو پہچانتے نہیں اور ان لوگوں کے لئے آسان ہے جو سمجھتے ہیں کہ ہر وہ لحظہ جو ہم نے اپنے ربّ کی یاد میں نہیں گزارا وہ ضائع ہو گیا اور ممکن ہے کہ وہ ہماری ہلاکت کا باعث بنے یہ صحیح ہے کہ انسان اپنی زندگی میں بعض ایسے کام بھی کرتا ہے جب وہ ذکر الٰہی کر ہی نہیں سکتا مثلاً جب وہ سو جاتا ہے نبی اکرمﷺ نے فرمایا ہے کہ نیند سے معاً پہلے اگر انسان اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہے اور ذکر کرتے ہوئے سو جائے تو یہ سونے کے اوقات بھی خداتعالیٰ کی نگاہ میں ایسے ہی سمجھے جاتے ہیں جیسے کہ وہ ذکر میں مشغول ہے یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے اس پر اور اس کی رحمت ہے پھر بعض ایسے کام ہیں کہ اس میں وہ پوری توجہ نہیں دے سکتا مثلاً ایک شخص موٹر چلا رہا ہے اگر اس کی توجہ بہک جائے تو کسی انسان کی جان بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے عادت سے شاید وہ کر لے گا لیکن جن کو عادت نہیں ہے وہ اس وقت اس کے ذکر سے معذور ہوں گے اور مجبور ہوں گے کہ وہ اس وقت ذکر نہ کریں لیکن بہت سے کام ہیں کہ جو انسان کرتا بھی ہے اور ان کاموں کے ساتھ خدا کا ذکر بھی کرتا رہتا ہے اور کام میں کسی قسم کا حرج پیدا نہیں ہوتا ایک دفعہ میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ جب میں دستخط کر رہا ہوتا ہوں تو ساتھ ذکر بھی کر رہا ہوتا ہوں تو دستخط کرنے کے راستہ میں ذکر الٰہی روک نہیں بنتا کیونکہ دستخط ہاتھوں نے کرنے ہوتے ہیں بعض وقت سَوسَو دو دو سَو دستخط کرنے پڑتے ہیں یا جب قلم میں سیاہی بھری جائے اب یہ ایسا کام نہیں ہے کہ سیاہی بھرنے میں ساری توجہ اس کی طرف دینی پڑے ورنہ کسی کی جان یا کسی صحت ضائع ہونے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا اس وقت آپ ذکر بھی کر سکتے ہیں ویسے ہنسی میں میںنصیحۃً کہا کرتا ہوں میرے پاس وہ قلم ہے جو سیاہی چوستی ہے یہ دیکھو کیسی اچھی قلم ہے کہ نو دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْم پڑھیں تو اس میں سیاہی بھر جاتی ہے اب یہ صرف توجہ ہے یہ حقیقت پہچاننی چاہے کہ ہر وہ لمحہ جو ہم اس کی یاد میں گذار سکتے ہیں وہ اس کی یاد میں گذارنا چاہے یہ اس کا احسان ہے کہ اس نے دنیا کے کاموں کیلئے ہمیں اجازت دے دی جب ایسے کام ہوں کہ تم اپنی زندگی کے لمحات خدا کی یاد میں نہ گذار سکتے ہو تو ان کاموں میں اسے رہنے دو لیکن جب وہ کام شروع ہوتا ہے اس سے معاً پہلے کا وقت خدا کی یاد میں گذرے اور جب وہ کام ختم ہوتا ہے اس کے معاً بعد کا وقت خدا کی یاد میں گذرے گا تو تمہارے اس وقت کو بھی ہم یہی سمجھیں گے کہ جیسے ہماری یاد میں گذرا ہے۔ ہمارا ربّ بڑا احسان کرنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے۔
    ایک اور ذمہ داری ایمان کی یہ بتائی کہ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا (الاحزاب:۵۷) کہ نبی کریمﷺ کی سنت کی اتباع کرنے والا اس حقیقت اور یقین پر قائم ہوتا ہے کہ آپ نے جو بھی کیا اس کے ذریعہ سے ہم پہ احسان کیا کیونکہ آپ نے جو بھی کیا جب ہم وہ کرتے ہیں تو خدا ہم پر راضی ہو جاتا ہے کتنا بڑا احسان ہے کہ خداتعالیٰ کی رضا کے حصول کا ایک دروازہ ہمارے لئے کھول دیا تو اے ایمان والو! تمہارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تم نبی کریمﷺ کے شکر گزار بندے بننے لگو آپ پر درود اور سلام بھیجتے رہو اس کے مقابلہ پر فرمایا لَاتَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ (البقرہ :۲۰۹) جب تم خدا کا بندہ بنتے ہوئے، اپنے ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے، خداتعالیٰ کی عبودیت پر قائم ہو جائو گے اور ہر وقت اس کی عبادت اور اس کے ذکر میں مشغول ہوتے ہوئے اور نبی کریمﷺ پر درود اور سلام بھیج رہے ہو گے تو شیطان بہرحال تم سے خوش نہیں ہو گا اس واسطے وہ پوری کوشش کرے گا کہ تم بہک جائو اس لئے اے ایمان کا دعویٰ کرنے والو تمہارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ شیطان کے قدم بقدم نہ چلو بلکہ جن راہوں کو شیطان خدا سے تمہیں دور لے جانے کے لئے اختیار کرتا ہے تم اس طرف ذرا بھی متوجہ نہ ہو بلکہ اپنے صراط مستقیم کو نہ چھوڑو۔
    ایک اور تقاضا ایمان کا۔ یٰٓاَ یُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ حَقَّ تُقَاتِہٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلاَّ وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ (اٰلِ عمران: ۱۰۳) فرمایا کہ ایمان کا ایک تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اس کی تمام شرائط کے ساتھ اختیار کیا جائے تقویٰ کے معنی یہ ہیں کہ بُری رذیل اور گناہ کی باتوں کو اس لئے چھوڑ دیتا کہ اللہ تعالیٰ ناراض نہ ہو جائے اور نیکیوں کی راہوں کو بھی ترک کرنے سے اس لئے بچنا کہ نیکی کی راہ ترک کرکے بھی اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے اور جب شیطان حملہ آور ہو تو اس وقت خداتعالیٰ کو اپنی ڈھال بنا لیتا ہے خداتعالیٰ کی پناہ میں آ جاتا ہے یہ ہیں تقویٰ کے معنی انسان کہہ سکتا تھا کہ میں کمزور ہوں میں شیطان کے حملوں سے کیسے بچوں گا خداتعالیٰ نے فرمایا میری پناہ میں آ جائو شیطان کے حملوں سے بچ جائو گے تو فرمایا کہ ایمان کا ایک تقاضا یہ ہے کہ تمہیں شیطان کے حملوں کا کامیابی کے ساتھ جواب دینا چاہئے چونکہ تم کمزور ہو اس کے حملوں کا کامیابی کے ساتھ جواب نہیں دے سکتے اس لئے ہم تمہیں یہ راستہ بتاتے ہیں کہ تم ہماری پناہ میں آ جائو ہمیں اپنی ڈھال بنا لو شیطان کا کوئی وار تمہارے خلاف کامیاب نہیں ہو گا بعض دفعہ شیطان یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ اپنے بھائی کو راضی کر لوں اپنے بچے جوان ہیں پہلے میں ان کو تیار کر لوں کہ وہ اسلام لائیں پھر میں ہوں گا لیکن موت کا کچھ پتہ نہیں ہوتا زندگی کا کیا اعتبار ہے ایک واقعہ ابھی ہماری زندگی میں ہوا ہے ایک شخص کو ہمارے ایک احمدی تبلیغ کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ میں استخارہ کروں گا اپنی کچھ شرائط کے ساتھ اگر مجھے علم ہوا کہ احمدیت سچی ہے تو میں ایمان لے آئوں گا چنانچہ انہوں نے استخارہ کرنا شروع کیا اور تیسرے دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کو کہا گیا وہ سچا ہے وہ سچا ہے وہ سچا ہے انہیں کہا گیا کہ اب ایمان لائو تو وہ شخص کہنے لگا کہ نہیںایک خامی رہ گئی ہے میرے استخارہ میں میں چھٹی پر جا رہا ہوں اپنے وطن جب واپس آئوں گا تو پھر نئے رنگ میں اس خامی کو دور کرکے استخارہ کروں گا اور اگر پھر مجھے بتایا گیا تو میں ایمان لے آئو گا چنانچہ وہ چھٹی پر گیا لیکن واپس نہیں آیا وہیں اس کی وفات ہو گئی۔
    تو جس وقت ہدایت کی راہیں کھل جائیں اس وقت ہدایت کو مان لینا بڑا ضروری ہے اور یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ میرے رشتہ دار یا بچے وغیرہ جو ہیں ان کو بھی میرے ساتھ آنا چاہئے پھر ان کی خاطر غلط راستوں کو بھی اختیار نہیں کرنا چاہئے مثلاً اگر باپ یہ کہے کہ نظام نے یہ پابندی تو لگائی ہے کہ سینما نہیں دیکھنا لیکن میرے بچے چونکہ ضد کر رہے ہیں اور میں ان کو روک بھی نہیں سکتا سینما دیکھنا ایک برائی ہو گی لیکن یہ یہاں کی بدصحبت میں چلے جائیں گے اور ایک روز برائی میں پھنس جائیں گے اس لئے میں ان کی حفاظت کے لئے سینما ساتھ چلا جاتا ہوں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
    یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ(المائدہ :۱۰۶) کہ ہر شخص اپنی جان کی حفاظت کرے اگر کوئی دوسرا ہدایت نہیں پاتا اور یہ اپنی ہدایت اور حفاظت کا سامان کر لیتا ہے تو اسے ان لوگوں کی غلط روی نقصان نہیں پہنچائے گی ہر شخص کو اپنی حفاظت اپنی ہدایت کی فکر کرنی چاہئے اور وہ اس کا سامان کرے کن لوگوں کے لئے وہ ہدایت کو ٹھکرا دے اُخروی زندگی میں وہ کسی کام نہیں آئیں گے اس زندگی میں ان کا کوئی بھروسہ نہیں بڑے چائو سے باپ اپنے بچے کوپالتا ہے اس پر خرچ کرتا ہے پڑھاتا ہے بظاہر اس کی تربیت کرتا ہے پھر بھی خامی رہ جاتی ہے جب وہ بڑا ہوتا ہے کمانے لگتا ہے اپنے باپ کو پوچھتا بھی نہیں اس زندگی میں بھی کام نہیں آتا بعض شریف الطبع خدا کے خوف سے اپنے والدین کا احترام کرتے ہیں اور چھوٹے پر شفقت کرتے ہیں لیکن ایسے بھی تو ہیں جو اپنے ماں باپ کو نہیں پوچھتے اعتبار نہیں ہے اگر خدا فضل کرے تو نیک اولاد ہو خدمت گذار اولاد ہو اور اگر اس کے فضل کو یہ گم کر دیں اور اس کی رحمت سے محروم کر دئیے جائیں اپنی بد اعمالیوں کے نتیجہ میں تو اس دنیا میں بھی کام نہیں آتے تو کون کس کسی کے کام آتا ہے لیکن ایک ذات ہے کہ اگر اس کے ساتھ تعلق ہو تو وہ ہر آن ہمارے کام آتی ہے اور وہ ہمارے ربّ کی ذات ہے اسے چھوڑ کے دنیا کے رشتے قائم کریں گے یہ تو مناسب نہیں ہے۔ فرمایا ایمان کا تقاضا یہ ہے اے مومنو! کہ عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ جان کی حفاظت کس طرح کی جائے یہ پہلے بھی آ چکا ہے لیکن یہاں ان دو کو علیحدہ دہرایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سورۃ توبہ میں یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَکُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ ۔ (التوبہ:۱۱۹)
    اے ایمان والو! ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ایک تو اللہ کی پناہ میں آ جائو اور دوسرے لَایَضُّرُکُمْ مَّنْ ضَلَّ جو گمراہ ہیں ان کی صحبتوں سے پرہیز کرو اور اس کے مقابلہ میں جو خداتعالیٰ کی راہ میں صدق و صفا دکھانے والے ہیں ان کی صحبت میں رہ کر ان جیسا بننے کی کوشش کرو تم بھی صادق بن جائو وفا کا تعلق صدق کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ قائم کرو اور چونکہ وہ ایسے لوگوں سے پیار کرتا ہے تمہیں ہدایت نصیب ہو جائے گی تمہارے لئے رحمت مقدر ہو جائے گی تو جہاں اس شخص کو چھوڑنا ضروری ہے جو غلاظت کی راہوں کو اختیار کرتا ہے وہاں اس سے تعلق اخوت اور تعلق محبت استوار کرنا بھی ضروری ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدق و صفا کا نمونہ دکھاتا ہے اور اس طرح ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہوئے جماعت مومنین روحانی مقامات بلند سے بلند حاصل کرتی چلی جاتی ہے تو ایمان کا ایک اور تقاضا خلافت کو قائم کریں گے خلافت کو قائم رکھیں گے ایک مختصر سا فقرہ ہے اور مجھے یقین ہے کہ میرے بچے جو اس وقت سامنے بیٹھے ہیں ان کی کثرت اس کی روح کو سمجھ نہیں سکتی جب تک کہ ان کے سامنے کھول کر اور بار بار اسے بیان نہ کیا جائے ایک تو نظام خلافت کی حفاظت کے یہ معنی ہیں کہ ہم اپنی ارواح کی حفاظت کریں گے کیونکہ قرآن کریم میں جو خلافت کا وعدہ دیا گیا ہے وہ یہ نہیں کہ تم جو مرضی ہے بن جانا میں خلافت کا سلسلہ قائم رکھوں گا بلکہ وعدہ یہ دیا گیا ہے اس کے برعکس وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (النور:۵۶)کہ ایمان کے تقاضوں کو جب تک پورا کرتے رہو گے اور اپنے عمل سے یہ ثابت کرو گے کہ واقعی تم ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے والے ہو اس میں وقت تک تم میں خلافت کا سلسلہ قائم رکھوں گا۔
    ایمان کا ایک اور تقاضا۔ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ۔ (البقرہ :۱۵۴) ایمان کا دعویٰ کرنے والا اگر اپنے دعویٰ میں سچا اور پختہ ہے تو ایمان کے اس تقاضا کو پورا کرنا ہو گا کہ ثبات قدم کے ساتھ ایمان پر قائم رہتے ہوئے دعائوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی مدد چاہو وہ تمہاری مدد کو آئے گا۔
    ایک شخص نور کو چھوڑ کر ظلمت کو اختیار کرتا ہے ایک شخص سکون کی راہوں کو ترک کرتا اور دکھ اور عذاب کی راہوں کو اختیار کرتا ہے ایک شخص اپنے ربّ کی طرف پیٹھ کر لیتا ہے اور شیطان کی طرف چلنا شروع کر دیتا ہے وہ جو اسلام میں پیدا ہوا وہ جس نے بچپن سے قرآن کریم کی تعلیم کو سیکھا یہ بہت بڑا حادثہ ہے ایک وہ وقت تھا کہ اگر ایک آدمی اسلام سے مرتد ہو جاتا تھا تو قیامت بپا ہو جاتی تھی اور اب یہ حال ہے کہ سینکڑوں ہزاروں مسلمانوں کے بچے عیسائی ہو رہے ہیں اور کسی کو فکر نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑے درد سے اس کو بیان کیا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ زندہ قوموں میں چھوٹی چھوٹی باتوں کو برداشت نہیں کیا جاتا کیونکہ یہی چھوٹی چھوٹی باتیں ایک وقت میں عَذَابِ اَلِیْم کا پیش خیمہ بن جاتی ہیں اور خداتعالیٰ کی درگاہ سے وہ انسان یا وہ قوم جو ان حالات کو دیکھتے ہوئے مدد چاہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ مدد کو آئے گا۔
    ایک اور تقاضا یہ بتایا کہ یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَافَّۃً (البقرہ :۲۰۹) کہ تم سب مل کر فرمانبرداری کے دروازہ کی حدود کے اندر آ جائو لیکن اس بات کا خیال رکھو کہ تم میں سے کوئی شخص بھی ان حدود سے باہر نہ نکلے نہ نکلنے کی کوشش کرے تربیت کا اہم گر ان آیت میں بتایا گیا ہے یوں تو کہا کہ لَایَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُم (المائدہ :۱۰۶) لیکن یہ نہیں کہا کہ اگر تم ہدایت پا جائو تو جو لوگ ضلالت کی راہ اختیار کرتے ہیں تمہاری کوششیں ان کے لئے بے نتیجہ نکلیں گی بلکہ یہ کہا کہ فرمانبرداری اور اطاعت کے دائرہ میں سارے کے سارے آ جائو جو کمزور ہیں کبھی غفلت سے کبھی لاپرواہی سے کبھی ہوائے نفس کے نتیجہ میں کبھی شیطان کے وسوسہ میں پھنس کر حدود سے باہر نکلنے لگتے ہیں ان کو وہاں سے پکڑو اور دائرہ کے اندر لے آئو تاکہ ساری قوم بحیثیت قوم اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کی وارث بنتی رہے۔ ایمان کا ایک تقاضا یہ فرمایا ۔
    یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَارَزَقْنٰـکُمْ (البقرہ :۱۷۳) یعنی تمہارے آج کے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہم نے اس دنیا میں بنی نوع انسان کے لئے جو رزق پیدا کئے ہیں ان میں سے تم ایسے رزق کو استعمال کرو جو جائز اور پاک راہوں سے تم نے حاصل کیا ہو اور وہ اسی قدر استعمال کرو جو تمہارے لئے جائز اور پاک ہو یہ دونو مفہوم طیبات کے اندر آ جاتے ہیں مثلاً زکوٰۃ ہے جب تک زکوٰۃ نہ نکالی جائے انسان کا اپنا کمایا ہوا مال اس کے لئے پاک نہیں بنتا فرض کرو خیرات ہے بھوکے کو کھانا کھلانے ہے ننگے کو کپڑے دینا ہے بیمار کے علاج کا انتظام کرنا ہے جب یہ تمام ذمہ داریوں کو ادا نہیں کرتا وہ اگرچہ جائز اور پاک راہ سے مال کما رہا ہے لیکن جو خرچ کر رہا ہے وہ اس کے لئے جائز اور پاک نہیں ہے کیونکہ اس نے ایمان کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ جو رزق ہم نے تمہارے لئے پیدا کیا ہے ان میں صرف ان رزقوں کو اور صرف اس حد تک استعمال کرو جو جائز اور پاک راہوں سے حاصل ہوں اور جس حد تک تمہیں استعمال کی اجازت دی گئی ہو اور پھر تم یہ سمجھو کہ جو مال کمایا تو پاک راہ سے ہے لیکن جس کا استعمال طیب نہیں ہے اس کو خداتعالیٰ کے حکم کے ماتحت خرچ کرو۔ یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰـکُمْ (البقرہ:۲۵۵) ہمارے بتائے ہوئے طریق کے مطابق تم اسے خرچ کرو اشاعت اسلام کے لئے قرآن کریم کے تراجم کے لئے، اسلام کے احیاء کے لئے اور استحکام کے لئے، ہزار راہیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بتائی ہیں اس واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس حد تک استعمال جائز ہے اپنے مالوں میں سے ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ کی رضا اس میں بھی مضمر ہو گی لیکن جو راہیں ہم بتاتے ہیں تو جب ان راہوں پر تم خرچ کرو گے تو تمہارے لئے یہ طیب ہو گا۔ فرمایا کہ جب ہمارے کہنے کے مطابق تم مال کو خرچ کرو گے اور اس خرچ میں سے مستحق کو دو گے تو پر شیطان آ جائے گا وہ کہے گا کہ یہ خدا کا بندہ تو ثواب حاصل کر رہا ہے وہ ہمارے دل میں مختلف وسوسے پیدا کرے گا اس سے ہوشیار رہنا۔ یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰی۔ (البقرہ :۲۶۵) یاد رکھنا کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اگر کسی مستحق کو تم نے مال دیا خدا کی خوشنودی کے حصول کے لئے تو اس پر احسان کبھی نہ جتلانا اور اگر تم نے خدا کی رحمت کے وارث بننے کے لئے اپنے مال سے کچھ دیا ہے تو کبھی کوئی ایسا طریق نہ اختیار کرنا جو اسے تکلیف پہنچائے میں نے دیکھا ہے کہ بعض دفعہ بعض گھرانوں کے لوگ بعض مستحقین کی کچھ مدد کرتے ہیں لیکن بعد میں یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ سارا دن ان کے کام میں بغیر تنخواہ کے لگے رہیں یا ان کو خوشامد کریں یہ ان کے لئے تکلیف کا باعث بن جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے ایک حکم کی تعمیل جو تم کرو گے اور اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰـکُمْ پر عمل کرو گے تو شیطان تمہیں تمہارے نیک عمل کو ثواب سے محروم کرنے کے لئے تمہارے دل میں وسوسے اور شیطنت کے خیالات ڈالے گا اور کہے گا بڑا احسان کیا ہے تم نے اس شخص پر اس کا فرض ہے کہ شکر کے طور پر اب تیری خدمت میں لگ جائے شیطان کے اس قسم کے وسوسوں سے اپنے آپ کو بچائے رکھو یہ ایمان کا تقاضا ہے۔ ایک اور تقاضا ایمان کا یہ ہے۔
    یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَقُوْلُوْا قَوْلاً سَدِیْدًا (الاحزاب:۷۱)اے ایمان کا دعویٰ کرنے والو ایمان یہ تقاضا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں اپنے آپ کو لے آئو اور تم اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آ نہیں سکتے جب تک سچی اور سیدھی بات نہ کہو خالی سچی نہیں اسلام نے یہ نہیں کہا کہ سچی بات کہو کیونکہ نبی کریمﷺ نے بہت سی باتوں کے متعلق فرمایا کہ یہ نہ کہو مثلاً غیبت ہے سچی بات ہے لیکن کہا ہے کہ مت کرو کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسلام کا حکم ہے سچی بات کہو میں تو ہر جگہ یہ بات کروں گا کیونکہ یہ سچی ہے قرآن کریم نے خالی یہ نہیں کہا کہ سچی بات کرو قرآن کریم نے کہا ہے کہ سچی اور سیدھی بات کرو تو ہم کہیں گے یہ سیدھی ہے ہی نہیں کیونکہ اسلام نے منع کیا ہے ہر وہ چیز جس کو اسلام منع کرتا ہے وہ صراط مستقیم کا حصہ نہیں بن سکتی تو سیدھی نہیں ہے ہمیں اللہ نے اس بات کی طرف متوجہ کیا کہ اے ایمان والو! اللہ کی حفاظت میں آئو اور اللہ کی حفاظت میں تم آ نہیں سکتے جب تک تم سچی اور سیدھی بات نہ کرو میں نے دیکھا ہے بہت سے آدمیوں کی یہ عادت ہو جاتی ہے ٹیڑھی بات کرنے کی بے فائدہ بھی کرتے ہیں ایک ہمارے دوست تھے ان کی اس طرح عادت تھی ایک دفعہ میں نے مذاق میں کہا کہ یہ آپ نے کیا عادت ڈالی ہوئی ہے اصلاح کریں اپنی اور میں نے کہا کہ آپ کی عادت ایسی بن گئی ہے کہ یہ سرخ ٹوپی جو پہنی ہوئی ہے اگر میں آپ سے پوچھوں کہ اس ٹوپی کا رنگ کیا ہے تو آپ ایک فقرے میں جواب نہیں دیں گے کہ اس کا رنگ سرخ ہے بلکہ کوئی اور کہانی شروع کر دیں گے اور بعد میں رنگ بتائیں گے اتنی تمہید کے بعد میں نے ان سے پوچھا کہ اچھا آپ بتائیں اس ٹوپی کا رنگ کیا ہے تو پھر انہوں نے کہانی شروع کر دی اس وقت میں نے ان کو توجہ دلائی تو عادت پڑ چکی تھی اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے احتیاط کرنی چاہئے کہ انسان کو غلط عادتیں نہ پڑیں پھر ان کو چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے ابتداء ہی میں اگر ہم اچھی عادتیں ڈالنے کی کوشش کریں تو ہمارے لئے اتنا مشکل نہیں لیکن بُری عادتیں پڑ جانے کے بعد انہیں چھوڑنا نسبتاً بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
    ایمان کا ایک تقاضا یہ ہے کہ قول سدید ہو سچی اور سیدھی بات ہو پھر فرمایا کہ ایمان کا ایک اور تقاضا یہ ہے ۔ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَیَسْخَرْقَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ (الحجرات :۱۲)کسی کو حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھنا تمسخر نہیں کرنا ایمان کا ایک اور تقاضا یہ بتایا کہ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظُّنِّ (الحجرات:۱۳) بدی ظنی سے بچتے رہنا ایک اور ایمان کا تقاضا یہ بتایا کہ یٰٓاَیُّھَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تُقُوْلُوْنَ مَالَا تَفَعَلُوْنَ۔ (الصف :۳)نمائش کرنے والے اپنی طرف ایسی نیک باتیں بھی منسوب کر دیا کرتے ہیں جو حقیقتہ ان کا حصہ نہیں ہیں اس سے ہمیشہ پرہیز کرنا چاہئے کیونکہ رحمت کے دروازے تو اللہ تعالیٰ کے حکم اور ارادے سے کھلتے ہیں اگر ساری دنیا کسی ایک انسان کے لئے اللہ کی رحمت کے سامان پیدا کرنے کی کوشش کرے تو کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی تو غلط کریڈٹ لینا اس سے کوئی فائدہ نہیں انسان نے انسان کو کیا دیتا ہے اگر خداتعالیٰ کا منشا نہ ہو اور اگر خدا نے دینا ہے تو وہ ضرور دے گا اسے معلوم ہے کہ تم نے کیا کیا اور کیا نہیں کیا ایمان کا ایک اور تقاضا یہ فرمایا۔
    یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا اَنْصَارَ اللّٰہِ (الصف :۱۵)ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کی ساری زندگی اس رنگ میں گذرے کہ اس کے نتیجہ میں اللہ کے دین کو استحکام اور اس کی اشاعت کے سامان پیدا ہوں اگر کوئی شخص مسلمان ہونے کا اسلام لانے کا دعویٰ تو کرتا ہے لیکن اس اسلام کے استحکام کے جذبات اس کے دل میں نہیں اور اشاعت اسلام کی کوشش اس کے اعمال کا حصہ نہیں تو پھر وہ مومن کیسا وہ ایمان کیسے لایا تو فرمایا کہ تمہارے ایمان کا تقاضا ہے کہ تم انصاراللہ بنو اگر حقیقتاً تم اللہ کے دین کے مددگار نہیں ہو گے تو تمہیں رحمت الٰہی نصیب نہیں ہو گی جیسے دوسری جگہ فرمایا کہ اللہ کی نصرت انہیں لوگوں کو ملتی ہے جو اس کے دین کی نصرت میں ہر وقت لگے رہتے ہیں فرمایا انصاراللہ بننے میں تمہارے اموال اور تمہاری اولاد روک بنے گی شیطان تمہارے اپنے ہاتھ سے محنت سے بلکہ محنت شاقہ سے کمائے ہوئے اموال کو اور تمہاری محبوب اور پیاری اولاد کو بڑے اچھے بچوں کو تمہارے ایمان کے راستہ میں روک بنانے کی کوشش کرے گا تو تمہارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تم شیطان کی اس چال میں نہ آئو فرمایا۔ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَاتُلْھِکُمْ اَمْوَالُکُمْ وَلَا اَوْلَادُکُمْ عَنْ ذِکْرِاللّٰہِ (المنافقون :۱۰) اموال کو شیطان ذریعہ بنائے گا اور اولاد کو بھی شیطان ذریعہ بنائے گا اس بات کا خدا کا ایک بندہ اپنے ربّ کو بھول جائے اور اس کے ذکر سے غافل ہو جائے اور ربّ کے ذکر سے غافل ہو گا وہ انصاراللہ کیسے بنا تو فرمایا کہ ہر وقت چوکس اور بیدار رہو اگر شیطان مال کے رخنہ سے تمہارے ایمان پر ڈاکہ ڈالنا چاہے یا اگر شیطان تمہارے بچوں کو تمہارے روحانی اموال لوٹنے کے لئے بطور چور کے استعمال کرنا چاہے تو اس کو اس میں کامیاب نہ ہونے دینا بلکہ کوشش یہ کرنا کہ تمہارا اموال شیطان کو شکست دینے والے اور تمہارے بچے شیطان کے خلاف صف آرا ہونے والے ہوں یہ چند مثالیں میں نے دی ہیں اور انتخاب بھی صرف ان آیات کا کیا ہے جن میں مومن کو مخاطب کرکے ایمان کا تقاضا بتایا ہے بڑی وضاہت کے ساتھ تو بنیادی چیز اللہ کی رحمت کے حصول کے لئے یہ ہے کہ ہم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائیں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی معرفت کو حاصل کریں اور جو شریعت ہماری روحانی تقلید کے لئے اس نے نازل کی ہے اور جس پر عمل پیرا ہو کر ہم اس کی بہترین رحمتوں کے وارث بن سکتے ہیں اس شریعت پر چلنے والے ہوں اور جس نے محمدﷺ کو ساری دنیا کے لئے بطور ایک نمونہ کے پیدا کیا اور مبعوث کیا آپ کے اُسوہ کے مطابق اور آپ کے اُسوہ کی اتباع کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کو ڈھالیں۔ یعنی ایمان کے سب تقاضوں کو پورا کریں تاکہ اللہ تعالیٰ ایسا فضل کرے کہ اس کی رحمت کے سارے ہی دروازے ہمارے لئے کھل جائیں اور یہ اس کی توفیق سے ہو سکتا ہے۔
    اگر اللہ تعالیٰ کی راہ میں تمہیں دُکھ اور تکالیف پہنچائی جائیں تو تم صبر کا ایسا نمونہ دکھاؤ جو معجزانہ رنگ رکھتا ہو
    (خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۳ ؍ستمبر ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ ربوہ )
    ء ء ء
    ٭ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف تدبیر کو پیدا کیا ہے بلکہ جو شخص تدبیر کو پسند نہیں کرتا اسے اللہ تعالیٰ کی نگاہ پسند نہیں کرتی۔
    ٭ غذا ہضم ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو تو تھوڑی اور زیادہ غذا کا فرق نہیں پڑتا۔
    ٭ اصل چیز صحت ہے اور کام کی توفیق جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی حاصل ہوتی ہے۔
    ٭ کبھی ظالم بننے کی کوشش نہ کرو، کبھی کسی پر ظلم نہ کرو۔
    ٭ کبھی بھی دنیا میں فساد پیدا نہ کرو، ایذاء کے مقابلہ میں ایذاء اور گالی کے مقابلہ میں گالی نہ دو۔



    تشہد، تعوذ اور سورئہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    اللہ تعالیٰ سب قدرتوں کا مالک ہے اور ہر شفا کا منبع اس کی ذات ہے اس نے اپنے فضل اور رحم سے مجھے شفا عطا فرمائی ہے۔ اَلحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذٰلِکَدوست بڑی محبت اور عاجزی سے دعائیں کرتے رہے ہیں میں بھی دعائوں میں لگا رہا اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور ہماری دعائوں کو قبول کیا اور ایسے رنگ میں قبول کیا کہ ظاہری آنکھ اسے ماننے کے لئے بھی تیار نہیں ہو سکتی۔ جس وقت میں یہاں سے گیا تھا میری طبیعت بہت خراب تھی شکر کا نظام درست نہیں تھا اس کے علاوہ (جیسا کہ وہاں جا کر پتہ لگا اور گزشتہ سال جب میں یورپ کے دورہ پر گیا تو وہاں کے ایک ڈاکٹر نے بھی کہا تھا کہ خون میں یورک ایسڈ کی زیادتی ہے اس کی فکر کرنی چاہئے) پیشاب میں یورک ایسڈزیادہ ہو گیا تھا پھر پیٹ میں تکلیف تھی جو ٹیسٹ میں ظاہر ہوئی۔
    کراچی میں ایک ڈاکٹر ہیں جن کا نام ڈاکٹر سید شوکت ہے ان کا میں نے علاج کے لئے انتخاب کیا تھا اس لئے کہ ان سے بے تکلفی ہے اور وہ بہت تعلق رکھتے ہیں میں ہر بات بغیر حجاب کے ان سے کر سکتا تھا چنانچہ جب پہلے دن وہ مجھے ملنے کے لئے آئے تو میں نے انہیں کہا کہ میں اپنے احساس کے لحاظ سے ان بیماریوں اور تکالیف کا آپ سے ذکر کروں گا جن میں سے میں گزرا ہوں آپ خاموشی سے میری بات سنتے رہیں اور جو بات نوٹ کرنے والی ہو وہ نوٹ کر لیں چنانچہ میرا خیال ہے کہ قریباً چالیس منٹ یا پچاس منٹ میں نے اپنے احساس کے مطابق اپنی تکالیف بیان کیں ان کے ایک نائب ان کے ساتھ تھے وہ بعض باتیں نوٹ کرتے رہے پھر انہوں نے مجھے کہا کہ آپ نے ضرورت سے زیادہ خوراک کم کر دی ہے اور اس طرح ممکن ہے کہ ہمیں بیماری کا صحیح پتہ نہ لگے اس لئے آپ کل سے ٹیسٹ نہ کروائیں بلکہ آپ دو تین دن اپنے معمول کے مطابق کھانا کھائیں جو چیز پسند ہے وہ کھائیں اور میٹھا بھی کھائیں ان اشیاء کا استعمال کریں جو آپ عام طور پر کرتے ہیں اس کے بعد ہم ٹیسٹ لیں گے چنانچہ دو تین دن کے بعد وہ آئے اور جب انہوں نے خون اور قارورہ کا ٹیسٹ لیا تو جو شکل بنی وہ یہ تھی۔
    نہار قارورہ میں اڑھائی فیصد شکر
    گلوکوز پینے کے نصف گھنٹہ کے بعد ۳ فیصد شکر
    ایک گھنٹہ کے بعد ساڑھے تین فیصد شکر
    ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد ساڑھے تین فیصد شکر
    اور خون کی یہ شکل بنتی تھی کہ
    نہار ۹۵ کی بجائے ۲۱۰ گلوکوز
    آدھا گھنٹہ کے بعد ۳۴۵ گلوکوز
    ایک گھنٹہ کے بعد ۳۷۰ گلو کوز
    ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد ۳۴۵ گلو کوز
    دو گھنٹے کے بعد ۲۸۰ گلو کوز
    اور عام حالات میں معمول کے مطابق خون میں گلوکوز کی مقدار ۹۵ ہے اس کو ٹالرینٹ ٹیسٹ کہتے ہیں غرض یہ گراف بنا جو میں نے بیان کر دیا ہے۔
    چونکہ ڈاکٹر صاحب مجھ سے تعلق رکھنے والے ہیں اس لئے جب وہ دوبارہ مجھے ملنے کے لئے آئے تو یہ رپورٹیں ان کی کاپی میں لکھی ہوئی تھیں اور جو میں نے اپنی ہسٹری انہیں بتائی تھی یعنی میں نے بتایا تھا کہ میں فلاں فلاں بیماری میں سے گزرا ہوں اس کا خلاصہ بھی انہوں نے نوٹ کیا ہوا تھا اس کے مطابق انہوں نے کھانے کے متعلق ایک چارٹ بھی تیار کیا ہوا تھا اور سارے ٹیسٹ جو ہوئے تھے ان کے نتائج بھی ان کی کاپی میں درج تھے ۔
    ڈاکٹر صاحب بڑے دکھ سے مجھے کہنے لگے کہ اب ہمیں یہ تسلیم کر لینا چاہئے کہ ذیابیطس بیماری کی شکل اختیار کر گئی ہے اور یہ دوا ہے آپ اسے استعمال کریں ہر چار دن کے بعد ہم خون کا ٹیسٹ لیا کریں گے اور دیکھیں گے کہ دوا کھانے کے بعد آپ کو کوئی فائدہ ہوتا ہے یا نہیں میں نے کہا ٹھیک ہے اگر ذیابیطس بیماری کی شکل میں آ گئی ہے تو دوا استعمال کرنی چاہئے لیکن یہ کوئی ایسی بیماری تو نہیں کہ اگر ایک دن دوا استعمال نہ کی جائے تو زیادہ ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہے اس لئے آپ مجھے اجازت دیں کہ ذیابیطس کی جو دوا آپ مجھے بتا رہے ہیں وہ پہلے چار دن میں استعمال نہ کروں باقی کھانے کا جو پرہیز آپ بتا رہے ہیں وہ میں کروں گا اور جو دوسری ہدایتیں آپ نے مجھے دی ہیں ان پر بھی میں عمل کروں گا کیونکہ میری طبیعت پر یہ اثر ہے کہ مجھے ذیابیطس بیماری کی شکل میں نہیں گو ڈاکٹر کی حیثیت سے میں یہ بات نہیں کر سکتا طب کے ماہر تو آپ ہی ہیں غرض میں نے کہا کہ اگر کوئی ہرج نہ ہو تو میرا خیال ہے کہ میں چار دن دوائی نہ کھائوں ڈاکٹر صاحب نے کہا ٹھیک ہے آپ بے شک پہلے چار دن دوائی نہ کھائیں چنانچہ میں نے پہلے چار دن ذیابیطس کی دوائی استعمال نہ کی ہاں یورک ایسڈ کی زیادتی کی جو دوا تھی وہ میں نے کھائی اسی طرح پیٹ کی خرابی کیلئے جو دوا ڈاکٹر صاحب نے مجھے دی اس کا استعمال بھی میں نے کیا یہ بھی نہ بھولنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف تدبیر کو پیدا کیا ہے بلکہ تدبیر کے استعمال کا حکم بھی دیا ہے اور جو شخص تدبیر کو پسند نہیں کرتا اسے اللہ تعالیٰ کی نگاہ پسند نہیں کرتی اس لئے جب میں کہتا ہوں کہ میں نے دوائی نہیں کھائی تو میری مراد صرف یہ ہوتی ہے کہ ایلو پیتھی کی دوائی جو ان ڈاکٹر صاحب نے بتائی جن کے میں زیر علاج تھا وہ میں نے نہیں کھائی ویسے ہومیو پیتھک کی دوائی میںکھا رہا تھا اور جدوار بھی میں استعمال کر رہا تھا حبّ جدوار شکر کے لئے بڑی اچھی چیز ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو الہاماً بھی بعض بیماریوں کے لئے یہ نسخہ بتایا گیا تھا۔
    بہرحال میں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا یہ نظارہ دیکھا کہ چار دن کے اندر قارورہ کی شکر جو نہار اڑھائی فیصد تھی اس مقدار سے گر کر اس کے معمولی آثار باقی رہ گئے اور اتنی کم رہ گئی کہ فیصد کے حساب سے اس کی پیمائش کرنا بھی مشکل ہے اور خون کی شکر (گلوکوز) ۲۱۰ سے گر کر ۱۳۵ پر آ گئی جب اتنی جلد فرق پڑا تو ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ ابھی دوائی استعمال کرنے کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ نے فضل کر دیا ہے ہر چار دن کے بعد ٹیسٹ ہوتا تھا آخری ٹیسٹ انہوں نے ہمارے آنے سے پہلے جمعرات کو تجویز کیا تھا ہم نے وہاں سے ہفتہ کی شام کو چلنا تھا لیکن جمعرات سے ایک یا دو روز (اغلباً ایک دن) پہلے میں نے جان بوجھ کر کچھ بے احتیاطی کی یعنی میٹھا کھا لیا اور کچھ عدم علم کی وجہ سے بے احتیاطی ہو گئی میری بیٹی نے مجھے کہا کہ میں نے بغیر میٹھے کی آئس کریم تیار کی ہے میں نے کہا اچھی بات ہے کھا لیتے ہیں اس نے مجھے بتایا تھا کہ میں نے اس میں مصنوعی میٹھا ڈالا ہے چنانچہ میں نے وہ آئس کریم کھا لی لیکن بعد میں وہ کہنے لگی کہ میں نے اس میں تھوڑا سا میٹھا بھی ڈالا تھا اس طرح میٹھا اندازہ سے زیادہ ہو گیا اور ابھی پوری طرح آرام بھی نہیں آیا تھا گو اللہ تعالیٰ نے فضل کیا تھا مگر بیماری ابھی کنارے پر کھڑی تھی اس لئے جمعرات کو شکر نہار ۱۳۰ ہو گئی ڈاکٹر صاحب نے کہا یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے دو دن آپ پورا پرہیز کر لیں ہم ہفتہ کے روز آخری ٹیسٹ لے لیں گے نہار بھی اور کھانے کے دو گھنٹے بعد بھی چنانچہ ہفتے کے روز ٹیسٹ ہوا تو نہار شکر ۱۱۳ تھی اور کھانے کے دو گھنٹے بعد(جو ڈاکٹر صاحب کے کہنے کے مطابق ۱۴۰ بھی ہوتی تب بھی ٹھیک تھا یہ مقدار نارمل ہے بیماری کی شکل نہیں) وہ اتنی گر گئی تھی کہ کھانے کے بعد دو گھنٹے بعد جو ٹیسٹ ہوا اس میں وہ ۹۵ تھی۔
    اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل کیا کہ ذیابیطس کی تکلیف بھی دور ہو گئی اور پیٹ کی تکلیف جو تھی اس کی دوائی میں نے کھائی تو اس میں بھی فرق پڑ گیا لیکن دو چار دن کے بعد وہ بیماری پھر عود کر آئی چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے دوبارہ دوائی دی جس کا سات دن کا کورس کل ہی ختم ہوا ہے اس سے تکلیف میں پھر فرق پڑ گیا ہے اللہ تعالیٰ چاہے اور وہ ہماری دعائوں کو قبول کر لے تو وہ اپنے فضل اور رحمت سے اس بیماری کو بھی دور کر دے گامیری طبیعت پر یہ اثر ہے کہ شکر کا نظام خراب ہو جانے کی بڑی وجہ یہ تھی (واللہ اعلم)کہ ایک تو مجھ پر نقرس کا حملہ ہوا تھا اور دوسرے پیٹ کی تکلیف تھی کیونکہ میں نے محسوس کیا ہے کہ جن دنوں (ٹیسٹ کے دوران) یورک ایسڈ سب سے کم ہوا اس وقت میری شکر بھی سب سے کم تھی اور اس وقت پیٹ کی تکلیف بھی نہیں تھی بعد میں ڈاکٹر صاحب نے نقرس کی دوائی کی مقدار کم کر دی یعنی دو گولیاں روزانہ کی بجائے ایک گولی کر دی تو یورک ایسڈ پھر کچھ بڑھ گیا اور پیٹ کی تکلیف بھی عود کر آئی تھی اس لئے شکر بھی کچھ زائد ہو گئی۔
    اب ڈاکٹر صاحب نے جو تشخیص کی ہے وہ یہ ہے کہ بیماری ذیابیطس نہیں لیکن طبیعت کا رجحان اس طرف ہے اگر بے احتیاطی ہوئی تو خون میں شکر کا معیار بڑھ جائے گا اور بیماری کی شکل بن جائے گی اس لئے کھانے میں بڑی احتیاط کرنی چاہئے کچھ احتیاط تو وہ ہے جو کھانے کی مقدار کے متعلق ہے مثلاً ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ دوپہر کے کھانے پر ڈیڑھ چھٹانک رات کے کھانے پر ایک چھٹانک اور صبح ناشتہ پر ۵؍۲ چھٹانک تک آٹا کھایا جائے اور یہ مقدار سب سے زیادہ ہے یعنی اس سے زیادہ نہ کھایا جائے اور اگر دوائی کھانی ہو تو اتنا ضرور کھایا جائے لیکن دوائی کی ضرورت نہیں پڑی میں نے سوچا جب اس ہدایت پر عمل کرنا ہے تو پھر پورا عمل کرنا چاہئے۔ چنانچہ ایک ترازو منگوایا گیا اور اونس کے بٹے بھی ڈیڑھ چھٹانک (تین اونس) آٹا تولا گیا اور اس کی چپاتیاں بنوائی گئیں ہمارا اپنا باورچی ساتھ تھا اس نے وہ چپاتیاں بنائیں دو آدمی مقرر کئے گئے کہ دیکھیں آٹا کی مقدار میں زیادتی نہ ہو جائے بے احتیاطی نہ ہو جائے باورچی نے اس آٹا سے چار چپاتیاں بنائیں اور میں سالہا سال سے دو سے زیادہ چپاتیاں کبھی کھاتا نہیں تھا بعض ڈاکٹروں نے جو احتیاطی غذا بتائی تھی اس سے نصف خوراک میرے معمول کے مطابق ہے اللہ تعالیٰ ہی فضل کرتا ہے اصل میں غذا ہضم ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو تو تھوڑی اور زیادہ غذا کا کوئی فرق نہیں پڑتا۔
    اب ڈاکٹروں نے ہدایت دی ہے کہ بیماری نے جو وزن کم کیا ہے صحت وہ وزن بڑھائے نہ بیماری کے دوران مہینہ سوا مہینہ میں میرا ۳۰، ۳۵ پونڈ وزن کم ہو گیا تھا اب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اب ضعف دماغ بھی نہیں جسم کا بوجھ بھی نہیں کام میں اپنا پورا کرتا ہوں الحمدللہ وزن بھی اپنی جگہ ٹھہرا ہوا ہے اگر کبھی ایک پونڈ بڑھ جائے تو میں خوراک کم کر دیتا ہوں لیکن جس طرح ذیابیطس کی ٹنڈنسی (Tendency) اپنی ایک حد پر آ کر ٹھہر گئی ہے اسی طرح میری غذا بھی اس حد پر جو کم سے کم ہو سکتی ہے ٹھہری ہوئی ہے ۴؍۳ چھٹانک آٹا میری معمول کی غذا ہے سوائے اس کے کہ شکار یا غیر معمولی ورزش ہو تو اس وقت زیادہ بھوک لگتی ہے اور ۴؍۳ چھٹانک آٹا کی غذا کو کہاں تک کم کیا جا سکتا ہے ویسے یہ ہو سکتا ہے کہ تین چار دن تک آٹا نہ کھایا جائے اور ان دنوں میں بعض ایسی چیزوں پر گزارہ کر لیا جائے جن میں سٹارچ (Starch) نہیں ہوتا بہرحال ڈاکٹروں نے مجھے ہدایت دی ہے کہ وزن بڑھنا نہیں چاہئے اصل چیز تو صحت ہے کام کی توفیق ہے جو اللہ کے فضل سے ہی حاصل ہوتی ہے یہ چیزیں شامل حال رہیں تو مٹی کے ڈھیر کو ساتھ چمٹائے رکھنے سے کیا فائدہ اور نہ اس سے پیار ہے۔ دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ جس حال میں بھی رکھے اپنی رحمت میں رکھے اور توفیق عطا فرماتا رہے کہ وہ ذمہ داری جو اس نے اس عاجز اور کمزور کندھوں پر ڈالی ہے اس کے پورا کرنے کا جو حق ہے وہ ادا ہوتا رہے۔
    ایک چیز اور بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ جس وقت ذہنی پریشانی یا افکار ہوں تو خون میں شکر زیادہ ہو جاتی ہے اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کیا ہے کہ انسان افکار میں مارا ہی نہ جائے لیکن جب جسمانی ورزش کی جائے تو شکر کم ہو جاتی ہے کیونکہ وہ استعمال میں آ جاتی ہے اب میرے جیسے آدمی کو تو افکار سے چھٹکارا نہیں مثلاً گھانا میں کسی احمدی کو تکلیف پہنچے تو ساتھ ہی مجھے بھی تکلیف اٹھانی پڑتی ہے امریکہ میں کسی احمدی کو کوئی تکلیف پہنچے یا یورپ میں کوئی احمدی تکلیف میں ہو یا پریشان ہو یا فجی کے جزائر یا آسٹریلیا میں کوئی احمدی پریشان ہو (دنیا کے ہر ملک میں خداتعالیٰ کے فضل سے اس وقت احمدی موجود ہیں اور جہاں جہاں بھی احمدی ہیں وہاں اگر ان میں سے کسی کو کوئی تکلیف پہنچے) تو مجھے بھی ساتھ ہی پریشان ہونا پڑتا ہے اور پھر بنی نوع انسان کی ہمدردی اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کے دل میں ڈالی ہے جب انسان بہکتا ہے جب انسان اپنے لئے مصیبتوں کے سامان پیدا کرتا ہے جب انسان اپنی تباہی کی راہوں کو اختیار کرتا ہے تو یہ ساری چیزیں ہمارے دلوں میں فکر پیدا کرتی ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ کے حضور ہی جھک سکتے ہیں اور اس کے حضور ہی ہم جھکتے ہیں کبھی انسان خداتعالیٰ کی بتائی ہوئی راہ کو چھوڑتا ہے کبھی انسان اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی اشیاء کے صحیح استعمال کو چھوڑتا ہے ہر دو صورتوں میں وہ اپنے لئے تکلیف دکھ اور تباہی کے سامان پیدا کرتا ہے اور ان سب باتوں سے بہر حال مجھے بھی پریشان ہونا پڑتا ہے اور مجھے ان سے تکلیف ہوتی ہے اور یہ چیز میرے جسم میں شکر کے نظام میں خرابی کا باعث بنتی ہے بہرحال اس زندگی میں تو اس سے چھٹکارا نہیںاس لئے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ احباب جماعت کو بھی اور جماعت کو بھی بحیثیت جماعت اور بنی نوع انسان کو بحیثیت انسان تباہیوں، دکھوں اور پریشانیوں اور ہلاکتوں سے محفوظ رکھے تاکہ ہماری فکر نسبتاً کم ہو جائے جہاں تک جماعت اور اس کے افراد کا تعلق ہے یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کے مطابق جو اس نے قرآن کریم میں دیا ہے ہمارے ساتھ لگی ہوئی ہیں ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ نہیں دیا کہ ہر حالت میں میں تمہارے لئے خیر اور برکت اور فضل اور رحمت کے سامان پیدا کروں گا۔
    ہم سے یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ اگر ہم اس کی راہ میں اذیتوں کو برداشت کریں گے اور اس کی راہ میں پیش آنے والے ابتلائوں اور امتحانوں میں پورا اتریں گے اگر ہم اس کی خاطر اپنے نفسوں کو مشقت میں ڈالیں گے اور بشاشت کے ساتھ دکھوں کو قبول کریں گے اور قضا و قدر پر راضی رہیں گے اور اس کی نعمتوں کو اس طرح یاد رکھیں گے کہ یہ دکھ اور یہ ابتلاء کوئی حیثیت ہمارے لئے نہیں رکھتیں اور قربانی اور ایثار اور فدائیت کا نمونہ دکھائیں گے تب ہم اس کی بشارتوں کے حامل ہوں گے تب ہم اس کے قرب کی راہوں کو پائیں گے تب وہ ہدایت کے سامان ہمارے لئے پیدا کرے گا تب وہ ہمیں اپنی رضا کی جنتوں میں لے جائے گا۔ غرض جہاں تک ہمارا تعلق ہے اس نے ہمارے روحانی درجات کو بلند کرنے کے لئے اور اپنی رضا کی جنتوں میں داخل کرنے کے لئے ہمارے لئے دکھوں اور دردوں اور مشقتوں اور ایذاء کے سامان پیدا کئے ہیں اس ایذاء کی ہمیں بشارت دی گئی ہے اس دکھ اور درد اور پریشانی کی ہمیں بشارت دی گئی ہے کیونکہ وہ مصیبت جو اطمینان کو ہلاک کر دیتی ہے اور اسے کسی نعمت کا وارث نہیں بناتی وہ تو ہلاکت ہے وہ دکھ اور درد جو دکھ اور درد کی حیثیت میں ہی ختم ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو جذب نہیں کرتا وہ دکھ یقینا دکھ اور درد ہی ہے لیکن وہ دکھ اور درد اور وہ مصیبتیں اور تکلیفیں اور مشقتیں جو انسان اپنے ربّ کو راضی کرنے کے لئے برداشت کرتا ہے اور جب اپنی یہ قربانیاں خلوص نیت کے ساتھ اس کے حضور پیش کر دیتا ہے تب وہ عظیم الشان بشارتیں جو اسے دی گئی ہیں اس کے حق میں پوری ہوتی ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتوں کا وارث بن جاتا ہے غرض یہ دکھ تو ہمارے ساتھ لگے ہوئے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہمیں بہت سی بشارتیں بھی دی گئی ہیں۔
    آج کل بھی ایک ابتلاء کا زمانہ جماعت پر ہے اور وہ اسی بشارت کے مطابق ہے جو قرآن کریم نے ہمیں دی تھی لیکن قرآن کریم نے ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ فساد پھیلانے کی کبھی کوشش نہ کرنا وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ (القصص: ۷۸) اس لئے کہ اگر قانون شکنی کے نتیجہ میں اگر بدی کے مقابلہ میں بدی کرنے کے نتیجہ میں اگر امن کو برباد کرنے کے نتیجہ میں فساد پیدا ہو گا اور تم اس کے ذمہ دار ہو گے تو یاد رکھو کہ تم خداتعالیٰ کی محبت سے محروم کر دئیے جائو گے اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(القصص: ۷۸) کیونکہ اللہ تعالیٰ مفسدوں سے پیار نہیں کیا کرتا پس اگر تم اس محبت الٰہی کو جو اس نے اپنے فضل سے تمہیں عطا کی ہے اپنے پاس مضبوطی سے پکڑے رکھنا چاہتے ہو اگر تم یہ پسند نہیں کرتے کہ تم پر اس کی غضب کی نگاہ پڑے تو یہ یاد رکھو کہ فساد پیدا کرنے کا ذریعہ کبھی نہ بننا فساد پھیلانے کی کوشش نہ کرنا بلکہ فسادی کے مقابلہ میں ایسا نمونہ دکھانا کہ اس کے مفسدانہ ارادے ناکامیوں کا منہ دیکھیں۔
    ہمیں اللہ تعالیٰ نے بڑی وضاحت سے یہ فرمایا ہے کہ اِنَّ اللّٰہَ لَایَھْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِیْنَ (المائدہ:۵۲) ظالم نہ بننا۔ مظلوم کی زندگی گزارنے کی کوشش کرنا کیونکہ جو ظالم بن جاتا ہے یا جو گروہ یا فرقہ ظالم ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہدایت کی راہوں کے سامان پیدا نہیں کیا کرتا اور جس شخص کے لئے اللہ تعالیٰ ہدایت کی راہوں کے سامان پیدا نہیں کرتا وہ کامیاب نہیں ہو سکتا وہ اپنے مقصد کو حاصل نہیں کر سکتا اس کی زندگی ایک کامیاب انسان کی زندگی نہیں کہلا سکتی اس کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کامیاب ہوا اور فلاح اس نے حاصل کی کیونکہ اِنَّہٗ لَایُفْلِحُ الظَّالِمُوْنَ(یوسف :۲۴) ظالم لوگ وہ فلاح حاصل نہیں کیا کرتے جس فلاح کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مظلوم کے لئے، مومن کے لئے، قربانی اور ایثار کے نمونے دکھانے والوں کے لئے، اس کی راہ میں دکھ اور درد اور مشقت برداشت کرنے والوں کے لئے دیا ہے اور یہ کوئی معمولی بات نہیں کیونکہ جب یہ کہا گیا کہ ظالم فلاح حاصل نہیں کر سکتے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الظٰلِمِیْنَ (شوریٰ :۴۱) وہ اللہ تعالیٰ کی محبت سے محروم کر دئیے جاتے ہیں پس اگر تم چاہتے ہو کہ خدا کی محبت تمہیں حاصل رہے اور تمہیں وہ کامیابی حاصل ہو جس کامیابی کا وعدہ قرآن کریم نے تمہیں دیا ہے تو یاد رکھو کہ یہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی جب تک اللہ تعالیٰ خود اپنے فضل اور رحم سے ہدایت کے سامان پیدا نہ کر دے پس کبھی ظالم بننے کی کوشش نہ کرو، کبھی کسی پر ظلم نہ کرو، کبھی ایسے حالات پید انہ کرو کہ دنیا میں، تمہارے ملک یا علاقہ یا شہر اور گائوں میں فسادات پیدا ہو جائیں ہر دکھ کو خدا کیلئے برداشت کرو کیونکہ خداتعالیٰ فرماتا ہے وَاُوْذُوْا فِيْ سَبِیْلِیْ۔(آل عمران:۱۹۶) جو لوگ اس کی راہ میں ایذا اُٹھاتے ہیں تکلیفیں برداشت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے لئے رضا کی جنت کے سامان پیدا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی بہترین جزا دینے والا ہے۔
    پس یہ تو صحیح ہے کہ ہم سے یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ ہمارے مالوں میں بھی امتحان اور ابتلاء کے سامان پیدا کئے جائیں گے اور جانوروں کے متعلق بھی اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میری راہ میں بہت دکھ دینے والا کلام سنو گے اور جب تم یہ دکھ دینے والا کلام سنو یا دیواروں پر دکھ دینے والی باتیں لکھی ہوئی دیکھو تو یہ یاد رکھو کہ جنہوں نے میری رضا کی جنت حاصل کرنی ہواُوْذُوْا فِيْ سَبِیْلِیْجب انہیں میری راہ میں اذیتیں پہنچائی جائیں تو انہیں صبر کرنا چاہئے اور صبر کا نمونہ اس قسم کا دکھانا چاہئے کہ وہ معجزانہ رنگ اپنے اندر رکھتا ہو یعنی دنیا یہ دیکھ کر حیران ہو کہ اگر اس سے نصف گالیاں بھی دوسروں کو دی جاتیں تو وہ فساد پیدا کر دیتے اور اپنے علاقہ میں قوم کا امن برباد کر دیتے وہ یہ دیکھ کر حیران ہو کہ ان لوگوں کو اذیتیں دی جاتی ہیں گالیاں دی جاتی ہیں پھر ان ہستیوں کو بھی جنہیں یہ اپنی جانوں سے بھی زیادہ عزیز اور پیاری سمجھتے ہیں گالیاں دی جاتی ہیں ان کے دلوں کو، ان کے جذبات کو چھلنی چھلنی کر دیا جاتا ہے لیکن یہ لوگ اُف نہیں کرتے، مقابلہ پر نہیں آتے، گالی کا جواب گالی سے نہیں دیتے فساد پیدا کرنے کی جب کوشش کی جاتی ہے تو یہ اس فساد کی آگ پر تیل نہیں پھینکتے بلکہ اپنے آنسوئوں کا پانی اس کے اوپر پھینکتے ہیں اور اس آگ کو بجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
    غرض ایذائیں دئیے جانے کا بھی وعدہ ہے اور جان و مال کے ذریعہ امتحان لینے کا بھی وعدہ ہے خوف کے سامان پیدا کرنے کا بھی ہم سے وعدہ ہے بھوکے رکھے جانے کا بھی ہم سے وعدہ ہے کوششوں کے بے نتیجہ نکلنے کا بھی ہم سے وعدہ ہے اور میں ان تمام دکھوں اور تکلیفوں اور اذیتوں کو وعدہ اس لئے کہتا ہوں کہ محض اتنا نہیں کہا گیا کہ تمہارے لئے خوف کے حالات پیدا کئے جائیں گے محض یہ نہیں کہا گیا کہ تمہارے مالوں کو غصب کرنے کے منصوبے بنائے جائیں گے اور اس طرح تمہیں ابتلاء پیش آئیں گے اور تمہاری جان کو نقصان پہنچایا جائے گا یا یہ کوشش کی جائے گی کہ تمہارے اعمال کا وہ نتیجہ نکلے جو عام قانون کے مطابق نکلنا چاہئے محض یہ نہیں کہا گیا بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ ہم ایسے سامان تو پیدا کریں گے لیکن ان سامانوں کو اس لئے پیدا کریں گے کہ تم ہماری نگاہ میں بھی اور دنیا کی نگاہ میں بھی ان رضا کی جنتوں کے اہل قرار دئیے جائو جن کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے اس لئے جب ایذاء، ہمیں پہنچتی ہے جب اموال اور نفوس میں ابتلاء کے سامان ہم دیکھتے ہیں جب خوف کے حالات پیدا ہوتے ہیں اور جب ہماری مساعی مخالف کی کوششوں کی وجہ سے بے نتیجہ ثابت ہو جاتی ہیں تو ہمارے دل خدا کی حمد سے بھر جاتے ہیں کہ اس کی رضا کی جنتوں میں ہم داخل ہو جائیں گے اور پھر ہمیں دعا سکھائی گئی ہے کہ جب اس قسم کے حالات پیدا ہوں تو تم میری طرف رجوع کرو اور مجھ سے قوت اور مدد مانگو اور بنیادی طور پر مجھ سے یہ طلب کرو کہ اے خدا! ان حالات میں وہ جو تیرے بندوں کا دشمن ہے خاموش نہیں رہے گا وہ چاہے گا کہ ہم ان ابتلائوں کے اوقات میں صبر اور دعا کے ذریعہ کامیاب نہ ہوں تیری رضا کی جنتیں ہمیں حاصل نہ ہوں وہ یہ پسند کرے گا کہ ہم اس کی طرف جھک جائیں اور تیرے قہر اور تیرے غضب کی دوزخ ہمارے مقدر میں ہو جائے ہم کمزور ہیں ہم تو انسان کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتے اور تیری ہدایت کے مطابق کرنا بھی نہیں چاہتے ہم شیطانی وسوسوں کا دفاع محض اپنی طاقت اور قوت سے نہیں کر سکتے پس تو ہماری مدد کو آ اور جس طرح دکھوں کے وقت تو ہمارے دلوں کو تسلی دیتا اور ہماری روحوں کو تسکین بخشتا ہے اسی طرح تو شیطان کی وسوسہ اندازی کے وقت ہمارے دلوں کے گرد اپنی رضا اور اپنے نور کا ہالہ کھینچ دے تا شیطان جوظلمتوں سے پیار کرتا ہے وہ اس نور کے ہالہ کے اندر داخل نہ ہو سکے اور ہم اس کے وسوسوں سے محفوظ رہیں۔
    غرض دعا ہی ہے جس کے ذریعہ ہم نے ان امتحانوں میں کامیاب ہونا ہے پس کبھی بھی دنیا میں فساد نہ پیدا کرو، کبھی بھی ایذاء کے مقابلہ میں ایذاء اور گالی کے مقابلہ میں گالی نہ دو، خدا پر بھروسہ رکھو وہی ایک ہستی ہے جس پر ہم توکل کر سکتے ہیں وہ اپنے وعدوں کا سچا اور اپنے ان بندوں سے جو اخلاص اور فدائیت کے ساتھ اس کے قدموں پر گر جاتے ہیں وفا اور پیار کا سلوک کرنے والا ہے اسی نے ہمیں کہا ہے کہ وَدَعْ اَذٰھُمْ وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ (احزاب: ۴۹) ان کی ایذاء دہی کو نظر انداز کر دو اور اپنے ربّ پر ہی توکل رکھو کیونکہ وہی حقیقی کارساز ہے کہ جب وہ مدد کو آئے تو کسی اور مدد کی احتیاج انسان کو باقی نہیں رہتی خدا کرے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر ابتلاء اور امتحان میں اس رنگ میں کامیاب ہوں کہ اس کی رضا کو زیادہ سے زیادہ حاصل کر سکیں اور خدا کرے کہ ہمارے ملک میں بھی اور دنیا میں بھی فساد اور بدامنی کے حالات امن اور صلح اور آشتی کے حالات میں بدل جائیں اور انسان امن کی فضا میں اسلام کی سلامتی سے حصہ لینے والا اور خدا کی سلامتی کے اندر داخل ہونے والا ہو جائے۔ آمین
    (روزنامہ الفضل ربوہ مورخہ ۲۱؍ ستمبر ۱۹۶۸ء صفحہ۲ تا۶)
    ٭…٭…٭

    ہماری دعائیں اس لئے قبول ہوتی ہیں کہ ہمارے وجود کی روح اور دل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں

    (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۰ ؍ستمبر ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ ربوہ )
    ء ء ء
    ٭ جماعت مومنین ایک دوسرے کیلئے دعائیں کرنے والی ایک عالمگیر برادری ہے۔
    ٭ جب تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو گے تو فرشتے بھی تمہارے لئے دعائیں کرنے لگ جائیں گے۔
    ٭ اے خدا! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متعلق اور اپنی اُمت کیلئے جتنی دعائیں کیں تو انہیں قبول کر۔
    ٭ خلیفہ وقت کی دعائیں بھی اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور بڑے معجزانہ رنگ میں قبول کرتا ہے۔
    ٭ جس وقت خلیفہ وقت کی دعا قبول ہوتی ہے تو وہ اپنے عاجزی کے مقام کو نہیں بھولتا۔


    تشہد، تعوذ اور سورئہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ کی تلاوت فرمائی:۔
    اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِيِّ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا
    (الاحزاب:۵۷)
    ھُوَالَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ وَمَلٰٓئِکَتُہٗ لِیُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ وَکَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًاo (الاحزاب: ۴۴)
    وَصَلِّ عَلَیْھِمْ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّھُمْ۔ وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ (التوبۃ: ۱۰۳)
    اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَہٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّھِمْ وَیُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَا وَسِعْتَ کُلَّ شَیْئٍ رَّحْمَۃً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْلِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِیْلَکَ وَقِھِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِo رَبَّنَا وَاَدْخِلْھُمْ جَنّٰتِ عَدْنٍ الَّتِيْ وَعَدْتَّھُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِھِمْ وَاَزْوَاجِھِمْ وَذُرِّیّٰتِھِمْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعزِیْزُ الْحَکِیْمُo (المومن:۸،۹)
    فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاسْتَغْفِرْلَھُمْ (آل عمران: ۱۶۰)
    وَلَوْاَنَّھُمْ اِذْظَّلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ جَآئُ وْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰہَ وَاسْتَغَفَرَ لَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا (النساء:۶۵)
    اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اِنَّنَآ اٰمَنَّآ فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (اٰلِ عمران: ۱۷)
    وَالَّذِیْنَ جَآئُ وْا مِنْ بَعْدِھِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ
    (الحشر:۱۱)
    اس کے بعد فرمایا:۔
    آنحضرتﷺ کا ایک مقام تو مقام جمع یا مقام وحدت تامہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات میں کامل طور پر فنا ہو جانے کی وجہ سے اس قادر و توانا نے اپنی رحمت کاملہ سے آپ کو اپنے وجود کا اکمل مظہر بنایا اور آپ صفات الٰہیہ کے مظہر اتم ٹھہرے اس ارفع مقام قرب میں کوئی فرد بشر بھی آپ کا شریک نہیں۔ اس مقام قرب دَنٰیکے مقابلہ میں آپ کا ایک مقام مقام تَدَلّٰی ہے یعنی آپ نے بفضل ایزدی عبودیت کے انتہائی نقطہ تک اپنے تئیں پہنچایا اور بشریت کے جو پاک لوازم ہیں یعنی بنی نوع کی ہمدردی اور ان سے محبت ان لوازم سے پورا حصہ لیا اور اسی کامل تَدَلّٰی کے نتیجہ میں بنی نوع کے لئے آپ کامل شفیع ٹھہرے اور جس نے بھی آپ کی محبت میں گم ہو کر آپ کا رنگ خود پر چڑھایا۔ اپنی اپنی استعداد کے مطابق مقامات قرب کو اس نے پایا کیونکہ طبائع مختلفہ اپنی استعداد کے مطابق آپ کے فیوض روحانی سے حصہ پاتی ہیں آپ میں اور خلق میں اس مقام تَدَلّٰی کی وجہ سے کوئی حجاب باقی نہیں رہا اس اعلیٰ اور ارفع کمال عبودیت میں مخلوق میں سے کوئی بھی حقیقی طور پر تو آپ کا شریک نہیں لیکن اتباع اور پیروی کے نتیجہ میں اور فنافی الرسول ہو جانے کے طفیل بنی نوع انسان ظلّی طور پر آپ کے شریک ہو سکتے ہیں کیونکہ آپ بنی نوع انسان کے لئے کامل اُسوہ ہیں، آپؐ کے رنگ میں رنگین ہو جانے والے، آپؐ کی محبت میں فنا ہو کر ایک نئی اور حقیقی زندگی پانے والے آپ کے وجود کا ہی حصہ بن جاتے ہیں اس طرح پر جماعت مومنین معرض وجود میں آئی کیونکہ اس جماعت کے لئے فنا فی الرسول ہونا ضروری ہے اس لئے یہ جماعت آنحضرتﷺ کے وجود میں گم اور آپ کے وجود ہی کا حصہ ہے کوئی علاوہ اور مستقل وجود نہیں رکھتی۔
    اس وجود کی ایک خاصیت یہ ہے کہ وہ سب مل کر سب کے لئے دعائیں کرتے ہیں گویا کہ ایک ہی وجود اپنے لئے دعائیں کر رہا ہے اور جس وقت دعائیں قبول ہوتی ہیں رحمت خدا وندی جوش میں آتی اور اپنے بندوں پر رحم کرتی ہے تو اس جماعت کا کوئی ایک شخص بھی نہیں کہہ سکتا کہ وہ جماعت سے علیحدہ کوئی وجود ہے جس کی دعا قبول ہوئی کیونکہ آنحضرتﷺ کا مقام تَدَلّٰی بنی نوع انسان کی وحدت تامہ کا متقاضی ہے آپ نے فرمایا ہے کہ مسلمانوں کی حالت ایک وجود کی سی ہے اگر کسی ایک کو کوئی تکلیف پہنچے کوئی پریشانی ہو تو سارا وجود پریشان ہوتا اور اس کی نیند اس پر حرام ہو جاتی ہے۔
    پس جماعت مومنین دراصل اس زاویہ نگاہ سے ایک دوسرے کے لئے دعائیں کرنے والی ایک عالمگیر برادری ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو بحیثیت جماعت اور ان کی دعائوں کو جو اجتماعی رنگ رکھتی ہیں قبولیت کا وعدہ بھی دیا ہے آنحضرتﷺ کے فیوض کی برکت سے ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت کے یہ جلوے اپنی زندگیوں میں ہر گھڑی دیکھ رہے ہیں کسی ایک شخص کی دعا بھی اس جماعت میں سے اس فرد واحد کی دعا نہیں ہوتی کیونکہ اگر وہ واقعہ میں ایک سچا مسلمان اور حقیقی مومن ہے تو اس کی دعائیں قرآن کریم میں بتائی ہوئی اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق ہوں گی اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ جس وقت یہ جماعت دعائوں میں مشغول ہوتی ہے اور خداتعالیٰ کی بتائی ہوئی ہدایت کے مطابق مشغول ہوتی ہے تو اس کے دو خارجی نتیجے نکلتے ہیں ایک خارجی نتیجہ تو یہ نکلتا ہے کہ اس جماعت کو ملائکہ کی دعائیں حاصل ہو جاتی ہیں اور دوسرا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ (اگرچہ انسان جب تنزل کی راہوں کو اختیار کرتا اور شیطان سے پیوند جوڑتا ہے تو کتوں اور سؤروں سے بھی نیچے چلا جاتا ہے لیکن) جب وہ خدا کی رحمت سے روحانی رفعتوں کو حاصل کرتا ہے تو فرشتوں سے بھی اوپر جا پہنچتا ہے اس کی (یا اس گروہ کی) دعائوں کے ساتھ جب اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کی دعائیں مل جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے یہ وارث بن جاتے ہیں اور یہ دوسرا خارجی نتیجہ جو نکلتا ہے۔
    اس کے متعلق قرآن کریم نے بڑی وضاحت سے ہدایت بھی دی ہے اور بڑی وضاحت سے اس صفت کو بیان بھی کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِيِّ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرمﷺ کو اپنی رحمت کا مہبط بنا دیا ہے ہر آن آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہو رہی ہیں ان رحمتوں کو دیکھ کر فرشتوں کے دل خدائی حمد سے بھر جاتے ہیں اور وہ خدا کی رحمتوں کے نتیجہ میں جوش میں آتے اور نبی اکرمﷺ کے لئے دعائیں کرنے لگ جاتے ہیں اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو دیکھ کر فرشتے بھی (جو حقیقی انسان سے کم درجہ پر ہیں) نبی اکرمﷺ کے لئے دعائوں میں مشغول ہو جاتے ہیں اس لئے اے انسان! جسے ہم نے فرشتوں سے بھی افضل بنایا ہے تو بھی اس طرف متوجہ ہو۔
    یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًاتم بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نشانوں کو دیکھ کر اور اس نکتہ کو سمجھ کر کہ کوئی فیض روحانی آنحضرتﷺ سے تعلق قائم کئے بغیر انسان حاصل نہیں کر سکتا نبی کریمﷺ پر درود بھیجنا شروع کرو آپ کے لئے دعائیں کرو اور آپ کے لئے سلامتی مانگو۔
    غرض یہاں جماعت مومنین کو (جو ایک جسد اور ایک جسم بن گیا تھا) یہ کہا کہ ہر وقت نبی اکرمﷺ پر درود بھیجتے رہو اور ہر آن آپ کے لئے دعائوں میں مشغول رہو دوسری طرف مومنوں کو یہ خوشخبری دی کہ جب تم نبی اکرمﷺ پر درود بھیجو گے اور آپ کے لئے دعائوں میں مشغول رہو گے تو تم یہ دیکھو گے کہ ھُوَالَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ وَمَلٰٓئِکَتُہُ اللہ تعالیٰ کے فرشتے تمہارے لئے بھی دعائیں کرنے لگ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں تم پر بھی نازل ہونی شروع ہو جائیں گی اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ جن ظلمات شیطانی سے تم اپنی کوشش اور مجاہدہ کے نتیجہ میں نجات حاصل نہیں کر سکتے تھے جب خداتعالیٰ کے فرشتوں کی دعائیں تمہاری دعائوں کے ساتھ مل جائیں گی اور اس کے نتیجہ میں خداتعالیٰ کی رحمت نازل ہو گی تو تم ان ظلمات سے ان اندھیروں سے، ان جہالتوں سے نجات پا جائو گے اور ایک نور تمہیں عطا ہو گا۔
    وَکَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًااور ہم نے جو حکم دیا ہے کہ نبی اکرمﷺ پر درود بھیجو اور دعائیں کرو اگر تم اس کی تعمیل کرو گے تو تمہارے اس عمل کا نتیجہ خدائے رحیم اس شکل میں دے گا۔
    وَکَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًاوہ لوگ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور اس ایمان لانے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر عمل کرتے ہیں اور نبی اکرمﷺ پر درود بھیجتے اور آپ کے لئے دعائوں میں مشغول رہتے ہیں اور آپ کے لئے سلامتی چاہتے ہیں ان کا یہ عمل خدائے رحیم قبول کرے گا اور اس کا جو بہترین نتیجہ ہے وہ ان کے لئے نکالے گا۔
    جہاں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو نبی کریمﷺ پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے اور اس کے فوائد انہیں بتائے ہیں وہاں نبی اکرمﷺ کو بھی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ وَصَلِّ عَلَیْھِمْ تو ان کے لئے دعائیں کر۔ چونکہ اس جماعت کے سردار اللہ کے محبوب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اس لئے جب سردار اس جماعت کیلئے یعنی اپنے ہی درخت وجود کی شاخوں کیلئے دعائیں کرے گا تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّھُمْ امن سکون کے حالات ان لوگوں کے لئے پیدا کئے جائیں گے ان کے خوف کو دور کیا جائے گا ان پر رحمتوں کا نزول ہو گا اور وہ اطمینان اور بشاشت کے ساتھ اپنے رب کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہو جائیں گے اور اس کی مقبول دعائوں کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ جس طرح اس کی (صلی اللہ علیہ وسلم) دعائیں اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے ان کی دعائیں بھی قبول ہوں گی کیونکہ وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ اللہ تعالیٰ دعائوں کو سننے والا ہے لیکن چونکہ وہ علیم بھی ہے اس لئے اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم ان کو یہ بتا دو کہ دعائیں خلوص نیت سے ہوں اور اس جسم کا حصہ رہتے ہوئے اور اس احساس کے ساتھ ہوں کہ ہمارا انفرادی وجود اجتماعی وجود میں غائب ہو گیا ہے اور یہ اجتماعی وجود (جماعت مومنین کا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں گم ہو کر ایک ہی وجود بن گیا ہے جسے ہم صحیح طور پر نبی اکرمﷺ کا وجود کہہ سکتے ہیں اگر یہ نیت ہو گی، یہ اخلاص ہو گا، یہ لوگ اس حقیقت پر قدم ماریں گے تو پھر اللہ تعالیٰ ان کی دعائیں بھی قبول کرے گا۔
    ان آیتوں پر جب ہم یکجائی نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ نبی اکرمﷺ کے لئے دعائیں کرتے رہیں دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو یہ حکم دیا کہ وہ اس جماعت کے لئے دعائیں کرتے رہیں جو نبی اکرمﷺ کو اپنی ترقیات کے لئے اسوہ سمجھتے اور آپؐ کے رنگ میں رنگین ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور آپؐ میں فنا ہو کر ایک نئی زندگی پاتے اور آپؐ کے وجود کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔
    تیسرے اللہ تعالیٰ نے جہاں ایک طرف مسلمانوں کو کہا تھا کہ نبی اکرمﷺ پر درود بھیجتے رہا کرو اور آپؐ کے لئے دعائیں کرتے رہا کرو وہاں نبی اکرمﷺ کو بھی فرمایا صَلِّ عَلَیْھِمْ تو ان کے لئے دعائوں میں مشغول رہ کیونکہ تیری دعائوں کے نتیجہ میں ہی ان کے لئے امن اور سکون اور اطمینان اور بشاشت کے سامان پیدا ہوں گے پس یہ ایک جسم ہے جس کی روح، جس کا دل، جس کا دماغ نبی اکرمﷺ کی ذات ہے لیکن یہ جماعت آپؐ کے وجود سے مختلف اور علیحدہ نہیں اور جماعت میں کوئی ایسا فرد جو واقعہ میں اس جماعت کا ایک رکن یا اس جماعت کا ایک حصہ ہو نہیں ہو سکتا جو یہ کہہ سکے کہ میں اس جسم کا حصہ نہیں بلکہ میرے اندر کوئی ذاتی خوبی ہے جس کی وجہ سے میں خداتعالیٰ کا محبوب ہوں مثلاً ظاہری جسم ہے ایک انگلی یہ کہے کہ میں اس جسم کا حصہ تو نہیں لیکن میرے اندر اپنی کوئی ذاتی خوبی یا طاقت ہے تو ہم انگلی کو کہیں گے کہ ہم تمہیں کاٹ کر پرے پھینک دیتے ہیں پھر معلوم ہو جائے گا کہ تم میں کتنی طاقت ہے اگر تمہیں جسم سے کاٹ کر پھینک دیا جائے تو تم ایک مردہ، بے جان اور بے حقیقت چیز ہو گی جس کی کوئی قیمت نہیں تم گوشت کا ایک ٹکڑا اور ہڈی کی ایک کرچ ہی ہو گی نا، اس سے بڑھ کر تو تمہاری کوئی حیثیت نہیں رہے گی۔
    غرض اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتایا کہ اگر اور جب تمہاری دعائیں قبول ہوں تو تمہاری دعائیں اس وجہ سے قبول ہوں گی کہ تم ایک وجود بن گئے ہو اور اس وجود کی روح، اس کا دل محمد رسول اللہﷺ کی ذات ہے۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ پہلوں کے لئے بھی آپؐ کا ہی وجود ایک روح ہے آنے والوں کے لئے بھی آپؐ کا وجود ہی دل اور روح کا کام دیتا ہے باقی لوگ تو جسم کے ذرے ہیں اور بے حقیقت ذرے ہیں اسی وقت تک ان کی کوئی قدر اور قیمت ہے جب تک کہ محمد رسول اللہﷺ کی روح ان میں باقی اور قائم رہے جب تک محمد رسول اللہﷺ کا دل اس وجود میں دھڑکتا رہے اگر ایسا نہیں تو وہ کچھ بھی نہیں لیکن اس جماعت میں جس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں بعض کم فہم ایسے بھی پیدا ہو جاتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ میری دعا قبول ہوئی میں اپنی ذات میں بہت بڑا انسان ہوں حالانکہ ان آیات سے پتہ لگتا ہے کہ محمد رسول اللہﷺ کو بھی سارے جسم کی دعائیں چاہئیں جس طرح روح کو ہاتھ کی ضرورت ہے، آنکھوں کی ضرورت ہے، ناک کی ضرورت ہے، کانوں کی ضرورت ہے ان سے جسم کام لیتا ہے اسی طرح اس روحانی وجود میں بھی ایسے اعضا کی ضرورت ہے جو ہاتھ کی حیثیت رکھتے ہوں جو پائوں کی حیثیت رکھتے ہوں یا کان، آنکھ، ناک اور دوسرے جوارح کی حیثیت رکھتے ہوں یا خون کی شریانوں کی حیثیت رکھتے ہوںیا جسم کی ہڈیوں کی حیثیت رکھتے ہوں یا اعصاب کی حیثیت رکھتے ہوں یا عضلہ یعنی مسل (Muscle) کی حیثیت رکھتے ہوں یا خون کی حیثیت رکھتے ہوں جس طرح ظاہری جسم میں بے شمار چیزیں پائی جاتی ہیں اسی طرح اس وجود میں بھی مختلف حصے ہیں اور وہ سب حصے مل کر جماعت بنتی ہے جس کے سردار، جس کی روح، جس کا قلب نبی اکرمﷺ ہیں۔
    اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ میرا وجود ایسا ہے کہ میں اس جسم کا حصہ نہ رہوں پھر بھی میری دعا قبول ہو گی تو اس کو ہم اس انگلی کی طرح مخاطب کرکے یہی کہیں گے کہ تم اس جسم سے کٹ جائو پھر دیکھو تمہاری دعائیں کس طرح قبول ہوتی ہیں؟ میں زمینداروں کے لئے ایک مثال دے دیتا ہوں آج کل چاول کی فصل ہے چاول کے کھیتوں میں بعض پودے ہمیں ایسے بھی نظر آتے ہیں جو عام کھیت سے زیادہ اونچے ہوتے ہیں اور زیادہ صحت مند نظر آتے ہیں اور غرور میں ان کا سر بلند ہوتا ہے جب سارا کھیت خداتعالیٰ کے اس فضل کو دیکھ کر کہ اللہ تعالیٰ نے اسے باثمر بنایا ہے اس کی حمد میں جھک جاتا ہے یہاں تک کہ بعض بالیں زمین کو لگنے لگتی ہیں اس وقت یہ پودے جو ہمیں خال خال نظر آتے ہیں سرتانے کھڑے ہوتے ہیں لیکن پتہ ہے وہ کیسے پودے ہیں یہ وہ پودے ہیں جو بے ثمر ہیں جن میں دانہ پڑتا ہی نہیں خداتعالیٰ کہتا ہے کہ یہ غرور تجھے راس نہیں آئے گا تجھے اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا تو جتنا چاہے غرور کر لے ہم تیرے سارے وجود کو بے ثمر بنا دیں گے اور یہ بات تیرے اس غرور اور تکبر اور خود نمائی کے نتیجہ میں ہو گی یہی حالت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو کم فہم اور کج فہم ہیں اور جو دعا کی قبولیت کو اپنی طرف منسوب کرتے ہیں۔
    نبی کریمﷺ پر پہلوں نے بھی درود بھیجے اور آپؐ کی اُمت نے تو آپؐ پر اس کثرت سے دردو بھیجا اور آپؐ کے لئے دعائیں کیں کہ اس کے مقابلہ میں کسی اور فرد کو پیش نہیں کیا جا سکتا۔ نبی اکرمﷺ کے دل کی لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ کی کیفیت یعنی انتہائی تڑپ کہ غیر مومن ایمان لائیں اور مومن مقامات قرب حاصل کریں اس بات کی متقاضی تھی کہ جماعت مومنین ہمیشہ آپؐ پر درود بھیجتی رہے یعنی نبی کریمﷺ کا جو مقام عبودیت ہے جو مقام تدلّٰی ہے جس کے نتیجہ میں آپؐ کی ایک شان مقام اسوہ کا حصول ہے وہ تقاضا کر رہا تھا کہ ساری اُمت آپؐکے لئے دعائیں کرتی اور ساری اُمت جو دعائیں کر رہی ہے ان میں سے اکثر دعائیں یہ ہوتی ہیں کہ اے خدا! نبی اکرمﷺ جن مقصد کو لے کر اس دنیا میں آئے تھے ان مقاصد میں آپؐ کو کامیاب کر اسلام ہمیشہ غالب رہے اگر کبھی تنزل کا دور آئے تو پھر غلبہ کے سامان اس کے لئے پیدا کر دے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات جو ہر آن ہم پر جاری ہیں وہ فیوض جن کے بغیر ہماری روحانی زندگی ایک لحظہ کے لئے بھی قائم نہیں رہ سکتی ہم میں ان کا احساس باقی رہے اور ہم ہمیشہ آپؐ کے شکر گزار غلام بنے رہیں ہمارے دلوں میں آپؐ کی جو محبت ہے وہ قائم رہے اور ؎
    تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے
    اے ہمارے ربّ! تو محمد رسول اللہ ﷺ کو روحانی رفعتوں میں ہمیشہ بلند سے بلند تر کرتا چلا جاتا کہ آپؐ کی ان رفعتوں کے طفیل ہمیں بھی کچھ مزید رفعتیں حاصل ہو جائیں غرض مسلمان اسلام کے غلبہ کے لئے قرآن کریم کی تعلیم کے قائم ہونے کے لئے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت کے قیام کے لئے آنحضرتﷺ کے ان مقاصد کے پورا ہونے کے لئے دعا کرتا ہے جو مقاصد لے کر آپؐ دنیا میں آئے اور جب یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ساری اُمت چودہ سَو سال سے دعائوں میں مشغول ہے اور ایک دعا ان میں سے یہ ہے کہ اے خدا! محمد رسول اللہﷺ نے اپنے متعلق اور اپنی اُمت کے لئے جتنی دعائیں کیں تو انہیں قبول کر تو جب محمد رسول اللہﷺ کی دعا قبول ہو گی تو کیا اس جماعت مومنین کی دعا آپ ہی آپ قبول نہیں ہو ر ہی ہو گی جو یک زبان ہو کر وہی دعا کر رہی ہے جن کے سینوں میں وہی دل دھڑک رہا ہے جو لوگ اسی سوز و گداز کے ساتھ دعائیں کرنے والے ہیں ان کی دعا محمد رسول اللہﷺ کی دعا سے مختلف نہیں اور جس وقت ان لوگوں کی دعا قبول ہوتی ہے تو وہ محمد رسول اللہﷺ کی دعائیں ہی قبول ہو رہی ہوتی ہیں کیونکہ گو اختلاف تو اپنی جگہ پر قائم ہے اور وہ یہ کہ آپ کا مقام مقام تدلّٰی ہی نہیں بلکہ (جیسا کہ میں نے بتایا ہے) مقام وحدت تامہ بھی ہے اور سچی بات یہی ہے کہ وہی ایک ذات محبوب الٰہی ہے باقی تو ذیلی حیثیت رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ وہ جو چاہیں گے انہیں مل جائے گا۔ حقیقتاً یہ مقام (کہ جو چاہے مل جائے) نبی اکرمﷺ کو ہی حاصل ہے لیکن آپؐ کا جو دوسرا مقام ہے یعنی مقام تدلّٰی اس لحاظ سے تو سب کو ایک جسم بنا دیا ہے ساری اُمت نبی کریمﷺ کے وجود میں گم ہو گئی اور اس طرح ایک وجود بن گیا اس لئے ان سب کی دعائیں کوئی علیحدہ دعائیں نہیں اور محمد رسول اللہﷺ کی دعا بھی اس مقام کے لحاظ سے کوئی علیحدہ دعا نہیں ساری دعائیں مل کر ایک دعا بنتی ہے دعا تو محمد رسول اللہﷺ کی ہی قبول ہو رہی ہوتی ہے لیکن چونکہ جماعت مومنین آپؐ کے وجود ہی کا ایک حصہ ہے اس لئے ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جماعت مومنین کی دعائیں بھی (آپؐ کے طفیل) قبول ہوئیں۔
    آپؐ کی نیابت میں خلفاء وقت کام کرتے ہیں خلافت کے متعلق امت کو یہ بشارت دی گئی تھی کہ دین کی تمکنت اور خوف کے دور ہونے اور اطمینان اور سکون کے پیدا ہونے کے حالات پیدا کئے جائیں گے بظاہر خلیفہ وقت کی دعائیں بھی اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور بڑے معجزانہ رنگ میں قبول کرتا ہے لیکن جب یہ عاجز بندے اللہ تعالیٰ کے سلوک پر گہری نگاہ ڈالتے ہیں اور اپنی کوتاہیوں پر نظر ڈالتے ہیں اور خداتعالیٰ کی طرف سے معجزانہ سلوک دیکھتے ہیں تب انہیں یہ نکتہ سمجھ آتا ہے کہ صرف ان کی دعا قبول نہیں ہوئی بلکہ ساری جماعت کی دعا قبول ہوئی (اور ساری جماعت کی دعا قبول نہیں ہوئی بلکہ حقیقتاً محمد رسول اللہﷺ ہی کی دعا قبول ہوئی) مثلاً چند سال ہوئے ایک بڑا حادثہ گزرا تھا یعنی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال ہوا تھا اس وقت ساری دنیا کے احمدیوں نے سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں جو خط مجھے لکھے ان سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہر ایک کے سینہ میں ایک ہی دل دھڑک رہا ہے ان میں سے ہر ایک اس دعا میں مشغول تھا کہ اے ہمارے پیارے ربّ! تو جماعت کو ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رکھ ان میں سے کسی فرد کو کوئی ٹھوکر نہ لگے اور امن کے ساتھ اور بشاشت کے ساتھ یہ قافلہ آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے ایک بے چینی، بے کلی اور گھبراہٹ کی حالت تھی جو سب پر طاری تھی سب کی نیندیں حرام ہو گئی تھیں اور وہ سب ان دعائوں میں مشغول تھے پھر جب امن پیدا ہوا اور جماعت کے لئے اللہ تعالیٰ نے سکون کے حالات میں ایک نیا دور شروع کر دیا تو اس وقت اگر کوئی کھڑا ہو کر یہ کہے کہ خدا نے میری دعا قبول کی باقیوں کی نہیں کی تو ہم کہیں گے کہ اس کا دماغ چل گیا ہے وہ پاگل ہوگیا ہے وہ حقیقت کو نہیں سمجھتا اسی طرح باقی دعائیں ہیں۔
    میرے پاس بڑی تعداد میں خطوط آتے ہیں اور خداتعالیٰ کے فضل کے ساتھ اور اسی کی توفیق سے سارے خطوط میں خود پڑھتا ہوں گو عام دعائیہ خطوط کی فہرست بنتی ہے لیکن وہ بھی میرے سامنے آتے ہیں اور ان پر میں ایک نظر ڈالتا ہوں اور اکثر خطوط میں یہ دعا ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی دعائیں قبول کرے اسی طرح میں جو دعا کرتا ہوں وہ صرف میری دعا تو نہیں رہی بلکہ وہ دعا ان لاکھوں آدمیوں کی ہو گئی جو یہ دعا کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ میری نیک دعائوں کو قبول کرے اور جب یہ دعا قبول ہوتی ہے تو میرا دل یہ دیکھ کر خدا کی حمد سے بھر جاتا ہے کہ اس نے ایک روحانی وجود یعنی جماعت مومنین کو محمدﷺ کے طفیل جو وعدے دئے تھے وہ پورے ہو رہے ہیں۔
    یہ جماعت واقعہ میں دعائوں کے میدان میں ایک جان ہے بعض دفعہ حالات کو دیکھ کر جو دعائیں میرے دل سے نکلتی ہیں چند دن نہیں گزرتے کہ باہر کے خطوط میں وہی دعائیں آ جاتی ہیں مثلاً جماعت پر آج کل پریشانی کے حالات ہیں اللہ تعالیٰ جماعت کی حفاظت کرے وغیرہ وغیرہ۔ غرض جو دعائیں میرے دل سے نکلتی ہیں وہی دعائیں جماعت کے دوسرے دوست کر رہے ہوتے ہیں حالانکہ میں نے کوئی اعلان نہیں کیا ہوتا کہ اس قسم کی دعائیں کرو لیکن چونکہ ساری جماعت ایک ہی وجود کا رنگ رکھتی ہے اس لئے ہر احمدی کے دل میں وہی جذبات ہوتے ہیں وہی خیالات ہوتے ہیں ان کی روحوں پر نبی اکرمﷺ کے فیوض کا وہی اثر ہوتا ہے اور وہ وہی دعائیں مانگ رہے ہوتے ہیں جو میں مانگ رہا ہوتا ہوں اور اس سے بڑا لطف آتا ہے کہ خلیفہ وقت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہزاروں دعائیں معجزانہ رنگ میں قبول کرتا ہے میں جب قبولیت دعا کے متعلق خط پڑھتا ہوں تو یہ سوچ کر کانپ اُٹھتا ہوں کہ میں اتنا کمزور، گناہگار اور بے بس انسان ہوں اور اللہ تعالیٰ اس قدر پیار کا سلوک مجھ سے کرتا ہے اور بعض دفعہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں یہ چیزیں جماعت کے سامنے بھی رکھوں کیونکہ جب میری کوئی دعا قبول ہوتی ہے تو وہ صرف میری دعا ہی قبول نہیں ہوتی بلکہ ساری جماعت کی دعا قبول ہوتی ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ آنحضرت صلعم کی دعا قبول ہوتی ہے میں نے یہ ایک مثال دی ہے کہ ساری جماعت یہ دعا کرتی ہے کہ میری دعائیں قبول ہوں اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے حضور جو چیز پہنچتی ہے وہ خالی میری دعا نہیں ہوتی بلکہ ہزاروں لاکھوں ستونوں پر کھڑی ہو کر وہ اللہ تعالیٰ کے حضور پہنچتی ہے خداتعالیٰ کہتا ہے کہ میں نے اس جماعت کو ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اور اس کو ایک خاص روحانی وجود عطا کیا ہے اور اس کو یہ توفیق عطا کی ہے کہ وہ محمد رسول اللہ ﷺ کے وجود میں گم ہو جائے اور فنا ہو جائے اور ایک موت اپنے پر وارد کرکے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض اور برکات سے ایک نئی زندگی حاصل کرے اور ان فیوض و برکات کے طفیل میں ان کی دعائوں کو قبول کرتا ہوں۔
    غرض خداتعالیٰ کہتا ہے کہ میں نے قبولیت دعا کے جو وعدے محمد رسول اللہﷺ سے کئے تھے وہ میں اس جماعت کے حق میں بھی پورا کروں گا کیونکہ یہ کوئی دوسرا وجود نہیں یہ محمد رسول اللہﷺ ہی کا وجود ہے دعا کا فلسفہ حضرت مسیح موعود نے علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کھول کر بیان کیا ہے کہ کبھی اللہ تعالیٰ انسان سے اپنی منواتا ہے اور کبھی وہ اپنے بندے کی مانتا ہے اور جب وہ اپنے بندے کی مانتا ہے تو وہ اس پر بڑا احسان کر رہا ہوتا ہے کیونکہ اس کا کوئی حق نہیں ہوتا لیکن دعائیں بڑی کثرت سے قبول ہوتی ہیں۔ جماعت کا دل خداتعالیٰ کی حمد سے ہمیشہ بھرا رہنا چاہئے جماعت کا سر نہایت عاجزی کے ساتھ اپنے ربّ کے قدموں پر جھکا رہنا چاہئے اور ہم اسے چھوڑ کر جا بھی کہاں سکتے ہیں، ہمارا رب اتنا پیار کرنے والا ربّ ہے کہ اس نے ہماری جماعت کو ایک وجود بنا دیا ہے اور آنحضرتﷺ کی کامل حیات سے انہیں زندگی بخشی ہے اور اس کو یہ توفیق عطا کی ہے کہ اس کے افراد ایک ہی دل کی دھڑکن کے ساتھ زندگی کی سانسیں لیں اور ایک ہی رنگ میں رنگین ہو کر ایک ہی رنگ کی دعائیں کریں۔
    پس جس وقت خلیفہ وقت کی دعا قبول ہوتی ہے تو وہ اپنے عاجزی کے مقام کو بھولتا نہیں اور اس کے دل میں کبھی یہ خیال پیدا نہیں ہوتا کہ میں کوئی ایسی بڑی ہستی ہوں کہ میرا رب بھی میری دعائیں قبول کرنے پر مجبور ہو گیا ہے بلکہ وہ تو نہایت عاجزی کے جذبات کے ساتھ اپنے رب کے حضور یہ کہتے ہوئے جھکتا ہے کہ اے میرے رب! میں بڑا گناہ گار ہوں، میں بہت بے بس ہوں، میں بہت عاجز ہوں، میرے اندر کوئی خوبی نہیں تو نے خود ہی کسی مصلحت کی بناء پر مجھے ایک طرف یہ مقام نیابت عطا کر دیا ہے اور دوسری طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت میں اس نظام خلافت کی وجہ سے جماعت کو یک جان کر دیا ہے اور وہ محمد رسول اللہﷺ کے وجود کا ہی ایک حصہ بن گئی ہے اور آپؐ کی دعائوں اور اُمت محمدیہ میں سے پہلوں اور پچھلوں کی دعائوں کے نتیجہ میں تو ہماری دعائوں کو قبول کرتا ہے پس تو ایسا کر کہ ہمیشہ ہمارے دلوں کی عاجزانہ حالت باقی رہے، تکبر اور ریاء ہم میں نہ آنے پائے اور اگر کوئی سر غرور سے اٹھے تو اس سر کو بھی (تیرا غضب نہیں بلکہ) تیرا رحم جوش میں آ کر نیچا کر دے اور جھکا دے تاکہ اس کے دل میں تیرے فضل سے عاجزی اور انکسار کے جذبات پیدا ہو جائیں اور وہ یہ نکتہ سمجھنے لگے کہ اس کے اندر (اور نہ کسی اور کے اندر) کوئی ذاتی خوبی نہیں جس خوبی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ انسان کی دعائوں کو قبول کیا کرتا ہے سب خوبیوں کا مالک اور منبع اور سر چشمہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے اور اس کی برکتوں اور فضل سے محمد رسول اللہﷺ کا وجود ہے اور آپؐ کے فیض سے ہی مومنین کی جماعت کا وجود زندہ اور نورانی اور رحمتوں کا وارث ہے اگر یہ نور نہ رہے اگر وہ دل سینہ میں نہ دھڑکے تو یہ مٹی کا ایک ڈھیر ہے جسے کیڑے مکوڑے یا درندے تو بڑے شوق سے کھا سکتے ہیں لیکن فرشتے ان کے لئے دعائیں نہیں کر سکتے لیکن جب تک محمد رسول اللہ ﷺ کی روح اس وجود میں قائم رہے اور یہ وجود آپ سے قطع تعلق نہ کرے بلکہ آپ میں فنا ہو اور ہمیشہ اس مقام کو اختیار کئے رکھنے کی کوشش کرتا رہے اس وقت تک وہ زندگی قائم ہے، وہ مقام قرب حاصل ہے، وہ دعائیں قبول ہیں جو یہ جماعت اپنے رب کے حضور پیش کر رہی ہے۔
    غرض اس دعا کو جو جماعت مومنین کر رہی ہے ہم اس زاویہ نگاہ سے بھی دیکھ سکتے ہیں کہ یہ ایک ایسی جماعت ہے کہ ایک طرف اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو کہا کہ محمد رسول اللہﷺ پر درود بھیجو اور دوسری طرف اس جماعت کو کہا کہ آپؐ پر درود بھیجو اور آپؐ کے لئے دعائیں کرو اور خود اعلان کیا کہ میری رحمتیں ہر آن اس میرے محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم)پر نازل ہو رہی ہیں دوسری طرف فرشتوں کو کہا کہ وہ لوگ جو محبت کی وجہ سے اور ایثار کے ساتھ اور اس مقدس اور پاک وجود کے مقام کو سمجھتے ہوئے اس میں گم ہو جائیں اس کا رنگ اپنے پر چڑھا لیں اس کے نور سے حصہ لیں اے فرشتو! تم ان کے لئے بھی دعائیں کرو کیونکہ اب ان کا وجود آپؐ سے علیحدہ نہیں اور دراصل یہ حکم پہلے حکم کے اندر ہی تھا کیونکہ جب فرشتوں کو یہ کہا گیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجو اور آپؐ کے لئے دعائیں کرو اور جب یہ لوگ آپؐ کے وجود ہی کا حصہ بن گئے تو اس حکم کے اندر ہی آ گئے جس کو نمایاں کرکے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں دوسری جگہ بیان کر دیا ہے اور جس کے متعلق ایک آیت میں نے خطبہ کے شروع میں بھی پڑھی ہے۔
    غرض اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو کہا کہ محمد رسول اللہﷺ پر درود بھیجو آپؐ کے لئے دعائیں کرو، جماعت مومنین کو کہا کہ محمد رسول اللہﷺ پر درود بھیجو اور دعائیں کرو اور محمد رسول اللہﷺ کو کہا کہ اس جماعت مومنین کے لئے دعائیں کرو اور فرشتوں کو کہا کہ محمد رسول اللہﷺ اس جماعت مومنین کے لئے دعائوں میں مشغول ہیں تو تم کیوں خاموش ہو تم بھی اس جماعت مومنین کے لئے دعائیں کرو غرض اُمت مسلمہ ایک ایسا وجود ہے جو ایک شان محبوبیت اور شان عبودیت کے ساتھ دنیا میں ظاہر ہوا اور اس نے ان نہروں اور راجباہوں اور نالیوں کا کام دیا جو دریا کے پانی کو اس دنیا میں مختلف کھیتوں میں لے جاتی ہیں یہ لوگ اپنی اپنی استعداد کے مطابق تھوڑے یا بہت کھیت روحانی طور پر سیراب کرنے کا موجب بنے پانی محمد رسول اللہﷺ کا تھا دریا تو وہی ہے چشمئہ فیض تو وہی ہے لیکن ہم عام محاورہ میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ فلاں مجدد یا خلیفہ کا پانی ہے جس طرح ہم کہتے ہیں کہ یہ کھادر برانچ کا پانی ہے ہم یہ محاورہ استعمال کرتے ہیں میں نے مثالیں دے دی ہیں ایک مثال روحانی دے دی ہے اور ایک جسمانی دے دی ہے تا یہ بات سمجھ آ جائے اور ہم یہ کہہ سکتے ہیں (اگر ایک ہی وقت میں دونوں مثالیں دی جائیں) کہ یہ روحانی پانی محمد رسول اللہﷺ کا ہے اور ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ روحانی پانی دوسری تیسری یا چوتھی یا پانچویں صدی کے مجدد کا ہے یا خلفائے راشدین کا ہے اس لئے کہ ہر ایک شخص سمجھتا ہے کہ اگر اس کھال میں یا اس راجبا ہے میں یا اس نہر میں منبع سے پانی نہ آئے تو یہ خشک ہے اور اس میں کوئی روحانیت نہیں اس کے اندر کوئی پانی نہیں اور چونکہ یہ چیز واضح اور بین ہے اس لئے ہم کہہ دیتے ہیں کہ مثلاً ان کھیتوں کو کھادر برانچ کا پانی مل رہا ہے اب کھادر برانچ یا کسی اور برانچ کو پانی کہاں سے مل رہا ہے وہ یا تو دریائے جہلم کا پانی ہے یا دریائے چناب کا پانی ہے یا دریائے سندھ کا پانی ہے۔ کھادر برانچ میں پانی کہاں سے آیا تھا؟ اگر وہ دریا سے پانی نہ لیتی تو اس میں پانی نہ آتا اسی طرح ہم کہہ دیتے ہیں کہ یہ خلفاء راشدین کا پانی ہے خلفائے راشدین کے پاس پانی کہاں سے آیا وہ ان کے پاس آ ہی نہیں سکتا جب تک محمد رسول اللہﷺ سے وہ پانی حاصل نہ کریں جو دنیا میں حیات روحانی کا باعث بنتا ہے لیکن چونکہ یہ بات عام اور واضح ہے اس لئے ہم اپنے محاورے میں کہہ دیتے ہیں کہ فلاں مجدد نے اتنا کام کیا اور اس قسم کی روحانی برکتیں اس کے ذریعہ سے جاری ہوئیں حالانکہ ہر ایک کو پتہ ہے کہ نہ اس نے اپنے طور پر کوئی کام کیا، نہ کوئی روحانی برکتیں اس کے ذریعہ سے جاری ہو سکتی تھیں جب تک کہ وہ محمد رسول اللہﷺ سے زندگی حاصل نہ کرتا وہ آپ کے نور سے نور نہ لیتا آپ کے فیوض اور برکات میں حصہ دار نہ بنتا اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی رحمت سے ایسا کرنے کی توفیق عطا کی اور اس کی دعائوں کو اور اس کے مجاہدات کو اور اس کے اعمال صالحہ کو قبول کیا اور محمد رسول اللہﷺ کے جسم کا ایک حصہ اسے بنا دیا جب میری اس انگلی میں خون چلتا ہے تو ہم کہہ دیتے ہیں کہ یہ انگلی کا خون ہے ڈاکٹر ٹیسٹ لیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے فلاں انگلی سے لیا یا کراچی میں مجھے ڈاکٹروں نے کہا کہ انگلی کے خون کی شکل اور ہوتی ہے۔ اس لئے جب شکر یا یورک ایسڈ کے لئے خون ٹیسٹ ہو گا تو ہم انگلی کی بجائے خون کی نالی میں سوئی چبھو کر خون کھینچیں گے اب دیکھیں اس شریان میں خون کہاں سے آیا یہ خون تو مرزا ناصر احمد کا ہے اس انگلی کا خون اپنا خون نہیں اگر یہ انگلی مرزا ناصر احمد کے وجود سے کاٹ دی جائے تو اس میں خون نہیں ہو گا اگر یہ شریان مرزا ناصر احمد کے وجود سے علیحدہ کر دی جائے تو اس شریان میں کوئی خون نہیں رہے گا، اسی طرح اگر ان لوگوں کا (جو اللہ تعالیٰ کی برکتوں کے پھیلانے کا موجب بنتے ہیں) تعلق محمد رسول اللہﷺ سے قائم نہ رہے تو پھر دیکھیں کوئی برکت کوئی فیض کوئی نور کوئی زندگی ان لوگوں میں باقی نہ رہے سب حیات، سب زندگی، سب انوار، سب برکات، سب رحمتیں، سب رافتیں محمد رسول اللہﷺ ہی کی ہیں اور آپ ہی سے لے کر دوسرے لوگ انہیں دوسروں تک پہنچاتے ہیں اور اس لئے پہنچاتے ہیں کہ وہ تمام ایک وجود بن گئے ہیں۔
    میں کسی دوسرے زاویہ نگاہ سے بات نہیں کر رہا میں صرف دعا کو مدنظر رکھ کر اسی زاویہ نگاہ سے بات کر رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے دعائیں کرنے والی ایک عالمگیر اور ہمہ گیر برادری کو قائم کیا ہے اور اسی جماعت کی دعائیں عام طور پر (جب خدا چاہے اور اپنی منوانا نہ چاہے) وہ قبول کرتا ہے اور جماعت کے کسی فرد کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ کہے کہ میں اتنا بلند اور ارفع اور متقی اور پرہیز گار ہوں اور یہ ہوں اور وہ ہوں، میری دعا قبول ہوئی ہے ہم اس سے کہیں گے کہ تم اس جماعت سے علیحدہ ہو جائو تو دیکھو تمہاری دعائیں کس طرح قبول ہوتی ہیں؟ اگر جماعت کے ساتھ مضبوط اتحاد قائم کرکے ہی دعا قبول ہوتی ہے تو معلوم ہوا کہ ساری دعائیں محمد رسول اللہﷺ کی قبول ہوتی ہیں کیونکہ جب کوئی آپ کی جماعت سے علیحدہ ہوتا ہے تو اس کی دعا قبول نہیں ہوتی۔
    آدھا مضمون میں نے بیان کر دیا ہے قرآن کریم کی بعض اور آئتیں بھی میں نے شروع میں پڑھ دی تھیں اللہ تعالیٰ نے توفیق دی اور زندگی دی تو انشاء اللہ اگلے جمعہ میں اس مضمون کو ختم کروں گا دو دن ہوئے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایک بیج اس مضمون کا میرے دماغ میں بویا تھا میرا یہ تجربہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اپنا فضل اور رحمت کرتا ہے تو کوئی نیا مضمون بیج کے طور پر میرے دماغ میں ڈال دیتا ہے۔
    ایک دفعہ مجھے خواب میں بھی بتایا گیا تھا کہ جتنا زیادہ مجاہدہ اور کوشش تم کرو گے اتنے ہی زیادہ علوم قرآنی تمہیں سکھا دئے جائیں گے پس قرآن کریم کے علوم جو میں بیان کرتا ہوں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اللہ تعالیٰ ہی سکھاتا ہے وہ علوم اللہ تعالیٰ ایک بیج کی شکل میں میرے دماغ میں ڈالتا ہے پھر میرے مجاہدہ کوشش اور سوچنے کے نتیجہ میں وہ ایک مدون شکل اختیار کر جاتا ہے اور یہ سب محمد رسول اللہﷺ کی برکت سے ہے اور یہی سچ ہے۔ فَتَبَارکَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ
    اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ میری صحت بالکل اچھی ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذَالِکَلیکن چونکہ ابھی گرمی ہے اس لئے میں کبھی گرمی سے تکلیف محسوس کرتا ہوں کراچی جانے سے پہلے مجھے لو لگ گئی تھی جس کو انگریزی میں ہیٹ سٹروک کہتے۔ اس بیماری کا لمبے عرصہ تک اثر رہتا ہے میں اپنے کمرہ سے جو ٹھنڈا ہے زیادہ عرصہ باہر رہوں تو طبیعت میں بے چینی اور گھبراہٹ پیدا ہو جاتی ہے اللہ تعالیٰ فضل کرے اور یہ کیفیت بھی دور ہو جائے اللہ تعالیٰ فضل کرے تو اس کی برکتوں کو اپنے دامن میں لئے بارش ہو جائے اور ٹھنڈ ہو جائے۔
    (روزنامہ الفضل ربوہ مورخہ یکم اکتوبر ۱۹۶۸ء صفحہ۲ تا صفحہ۷)
    ٭…٭…٭

    اُمت مسلمہ ایک عظیم وجود کی حیثیت رکھتی ہے جس کی روح اور زندگی رسول کریمﷺسے وابستہ ہے
    (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۷ ؍ستمبر ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ ربوہ )
    ء ء ء
    ٭ اُمت مسلمہ کا ایک خاصہ یہ ہے کہ وہ سب ایک دوسرے کیلئے دعائیں کرنے والے ہیں۔
    ٭ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت محمدیہ کیلئے کثرت سے دعائیں کی ہیں۔
    ٭ اُمت مسلمہ کا فرض ہے کہ تمام مومنوں کیلئے استغفار کرتی رہے۔
    ٭ بشری کمزوریوں سے حفاظت کا سامان اللہ تعالیٰ نے استغفار کے ذریعہ پیدا کیا ہے۔
    ٭ ہر برکت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہی مل سکتی ہے۔



    تشہد، تعوذ اور سورئہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ کی تلاوت فرمائی:۔
    اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَہٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّھِمْ وَیُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَا وَسِعْتَ کُلَّ شَیْئٍ رَّحْمَۃً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْلِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِیْلَکَ وَقِھِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِo رَبَّنَا وَاَدْخِلْھُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ نِالَّتِيْ وَعَدْتَّھُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِھِمْ وَاَزْوَاجِھِمْ وَذُرِّیّٰتِھِمْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُo (المومن:۸،۹)
    فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاسْتَغْفِرْلَھُمْ (آل عمران: ۱۶۰)
    وَلَوْاَنَّھُمْ اِذْظَّلَمُوْا اَنْفُسَھُمْ جَآئُ وْکَ فَاسْتَغْفَرُوْا اللّٰہَ وَاسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا (النساء:۶۵)
    اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اِنَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْلَنَا ذَنُوْبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (آل عمران: ۱۷)
    وَالَّذِیْنَ جَآئُ وْا مِنْ م بَعْدِ ھِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ
    (الحشر:۱۱)
    اس کے بعد حضور نے فرمایا:۔
    گذشتہ جمعہ میں نے بتایا تھا کہ نبی اکرمﷺ کے ارفع مقام کے طفیل اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں اُمت مسلمہ کو قائم کیا یہ اُمت (یہ جماعت مومنین) ایک وجود کی حیثیت اور ایک وجود کا رنگ رکھتی ہے۔ نبی اکرمﷺ اس کی روح اور اس کی زندگی کا باعث ہیں اور اس اُمت کے وجود کے سینہ میں نبی اکرمﷺ کا دل ہی دھڑکتا ہے اور یہ بتانے کے لئے کہ یہ ایک ہی وجود ہے اللہ تعالیٰ نے مختلف پیرایوں میں اس پر روشنی ڈالی ہے۔ کہیں ہمیں یہ بتایا کہ اس مخالف کے مقابلہ میں جو اس وجود کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتا ہے وہ بنیان مرصوص کی طرح ہیں یعنی ایسی دیوار کی طرح ہیں جس پر پگھلا ہوا سیسہ ڈال دیا جاتا ہے اور وہ ایک جان ہو جاتی ہے کبھی اس رنگ میں اسے پیش کیا کہ باہمی تعلقات ان کے لطف اور ترحم کی بنیادوں پر قائم ہیں رُحَمَآئُ بَیْنَھُمْ جس کی تفصیل نبی اکرمﷺ نے یہ فرمائی کہ جس طرح ایک جسم کا کوئی عضو بیمار ہو یا تکلیف میں ہو یا درد محسوس کرے تو سارا جسم ہی درد محسوس کرتا ہے یہی حالت اُمت مسلمہ یعنی جماعت مومنین کی ہے۔
    اس جماعت مسلمہ نے نبی اکرمﷺ کے فیوض کی برکت سے آپ میں فنا ہونے کی توفیق پائی آپ کے رنگ سے رنگ پکڑنے کی توفیق حاصل کی اور آپ کی برکت سے یہ نعرہ لگانے کی بھی توفیق پائی کہ اَسْلَمْنَا لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ ہم سب خدا کے حضور ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے جھکتے ہیں اور حقیقی اسلام پر قائم ہو کر اللہ تعالیٰ کے حکموں کا جوا اپنی گردن پر رکھتے ہیں جب اس اُمت نے اس مقام کو حاصل کیا اور اپنے پر ایک موت کو وارد کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک نئی زندگی عطا کی ایک نیا وجود بنا دیا اور اس روحانی وجود (جسے ہم اُمت مسلمہ بھی کہتے ہیں) کا ایک خاصہ اور ایک صفت یہ ہے کہ وہ سب ایک دوسرے کے لئے دعائیں کرنے والے ہیں سب کو اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کی دعائیں حاصل ہیں سب کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد باری ہے کہ ان کے لئے دعائیں کرو اور جو نتیجہ اس کا نکلتا تھا وہی نکلا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے وارث بنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَصَلِّ عَلَیْھِمْ نبی کریمﷺ نے اس حکم کی تعمیل میں اُمت محمدیہ کے لئے اس کثرت کے ساتھ دعائیں کی ہیں اور ایسی دعائیں کی ہیں جو اپنی وسعت کے لحاظ سے بھی بے نظیر ہیں اور اپنی گہرائی کے لحاظ سے بھی حیران کن ہیں ان کی چند ایک مثالیں میں اس وقت آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں آپ نے فرمایا۔
    اَللّٰھُمَّ خُذْبِنَوَاصِیْ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ اِلٰی طَاعَتِکَ یعنی اے خدا! تو اپنا فضل کر کہ اس اُمت سے بشری کمزوریاں ظاہر ہی نہ ہوں اور دنیا کی نگاہ میں ایسا لگے کہ تو نے ان کو پکڑ کر اپنی اطاعت کیلئے اپنے ساتھ کھینچ کر لگا لیا ہے پھر فرمایا کہ اللّٰھُمَّ اغْفِرْلِاُمَّتِیْ۔ ثَلاَثًا اے ہمارے ربّ! میری اُمت سے مغفرت کا سلوک کرنا میری اُمت سے مغفرت کا سلوک کرنا میری اُمت سے مغفرت کا سلوک کرنا۔
    پھر آپ نے فرمایا کہ اَللّٰھُمَّ ارْحَمْ خُلَفَائِیَ الَّذِیْنَ یَأْتُوْنَ مِنْ بَعْدِیْ اَلَّذِیْنَ یَرْوُوْنَ اَحَادِیْثِیْ وَسُنَّتِیْ وَیُعَلِّمُوْنَھَا النَّاسَ۔ (جامع الصغیر)
    اے ہمارے ربّ! میرے وہ خلفاء اور نائب جو میرے بعد دنیا میں پیدا ہوں تو ان سے رحمت کا سلوک کرنا اور ان کو اس بات کی توفیق دینا کہ وہ تیری رحمت کے مستحق ٹھہریں تو انہیں اس بات کی توفیق دینا کہ وہ میری سنت کا احیاء کریں اور میری سنت پر چلانے کے لئے اُمت مسلمہ کی تربیت کریں پھر ایک حدیث میں آتا ہے کہ قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا جو قول بیان ہوا ہے کہ
    رَبِّ اِنَّھُنَّ اَضْلَلْنَ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّہٗ مِنِّیْ وَمَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔
    اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول ہے کہ
    اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَاِنْ تَغْفِرْلَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔(المائدہ:۱۱۹)
    ان آیات کو رسول کریمﷺ پڑھ رہے تھے کہ آپ پر رقت طاری ہو گئی اور آپ نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور کہا۔ اَللّٰھُمَّ اُمَّتِیْ۔ اَللّٰھُمَّ اُمَّتِیْ وَبَکیٰ
    اے میرے ربّ! میری اُمت کے ساتھ محض مغفرت کا سلوک کرنا میری اُمت کے ساتھ محض مغفرت کا سلوک کرنا۔ اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ والا سلوک نہ کرنا حدیث میں آیا ہے کہ جب رسول کریمﷺ نے عاجزی اور زاری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے کہا کہ گو میں جانتا تو ہوں (وَرَبُّکَ اَعْلَمُ اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں لیکن) تمہیں میرا یہ حکم ہے کہ محمدﷺ کے پاس جائو اور ان سے پوچھو کہ کس وجہ سے ان پر اتنی رقت طاری ہو گئی ہے وہ نبی کریمﷺ کے پاس آئے اور دریافت کیا تو آپؐ نے بتایا کہ اُمت کے لئے جو فکر میرے دل میں ہے اس کے لئے جو مجھے تڑپ اور خیال ہے کہ میں صَلِّ عَلَیْھِمْ کا حکم کما حقہ، پورا کروں اس کی وجہ سے میں عاجزی اور رقت کے ساتھ اپنے ربّ کے حضور دعا کر رہا ہوں جب جبریل علیہ السلام یہ جواب لے کر اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچے (اور اللہ تعالیٰ تو بڑی ہی علیم ہستی ہے اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں اس نے فرشتوں کو بتانا تھا کہ دیکھو محمد رسول اللہﷺ کا کتنا بلند مقام ہے) اس نے جبریل علیہ السلام سے کہا کہ واپس جائو اور محمد (رسول اللہﷺ) سے کہو اِنَّا سَنُرْضِیْکَ فِیْ اُمَّتِکَ وَلَانَسُوْئُ کَ کہ تیری اُمت کے متعلق جو تیری نیک خواہشات ہیں ہم وہ پوری کریں گے اور تجھ کو اس معاملہ میں بھی راضی کریں گے اور جہاں تک اس اُمت کا سوال ہے تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی یعنی باوجود اس کے کہ بعثت نبوی سے قیامت تک اس اُمت کا زمانہ پھیلا ہوا ہے اور دنیا کے ہر ملک میں، ہر رنگ و نسل میں اپنی اپنی طبیعتوں اور عادات کے ساتھ اُمت مسلمہ کے افراد پیدا ہوئے تھے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ جو میری خواہش ہے کہ تیرے وجود میں گم ہونے والے اس مقام کو پائیں اور تیری بھی یہی خواہش ہے وہ مقام ان میں سے بہتوں کو ملے گا اور اس سلسلہ میں تجھے دکھ نہیں پہنچے گا بلکہ تمہاری مسرت اور خوشی کے سامان پیدا کئے جائیں گے۔
    (تفسیر جامع البیان زیر آیت ۳۶ سورۃ ابراہیم و صحیح مسلم کتاب الایمان)
    یہ چند مثالیں ہیں جو میں نے دی ہیں ورنہ رسول اکرمﷺ نے اپنی اُمت کے لئے اس کثرت سے دعائیں کی ہیں کہ حقیقت یہی ہے کہ آپ کے علاوہ جب بھی کسی کی دعا قبول ہوتی ہے تو وہ اس لئے قبول ہوتی ہے کہ وہ اس فرد واحد کی دعا نہیں ہوتی بلکہ وہ محمد رسول اللہﷺ کی دعا ہوتی ہے اور جس اُمت کے ساتھ اس قدر مقبول ہستی کی دعائیں ہوں اس کے لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ ساری کی ساری کسی وقت میں صراط مستقیم کو چھوڑ کر ضلالت کی راہوں کو اختیار کرے جیسا کہ خود نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے۔
    غرض جب اس قسم کا عظیم روحانی وجود اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا کہ جس میں کروڑوں اربوں انسانوں نے شامل ہو کر جسم کے ذروں کی طرح اس جسم کو بنانا تھا، جس کا زمانہ قیامت تک ممتد اور جس کی وسعت زمین کو احاطہ میں لئے ہوئے تھی اس میں ایک خطرہ بھی تھا اور وہ یہ کہ یہ اربوں ارب افراد اپنی تمام بشری کمزوریوں کے ساتھ اس وجود کا حصہ بننے والے تھے اس لئے ضروری تھا کہ کوئی ایسا سامان پیدا کیا جائے کہ ان کی بشری کمزوریاں یا تو ظاہر نہ ہوں اور اگر ظاہر ہوں تو اللہ تعالیٰ کی مغفرت کچھ اس طرح انہیں ڈھانپ لے کہ ان کے بدنتائج نہ نکلیں۔ اس کے بغیر اس مقصد کو حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا جس مقصد کو لے کر نبی اکرمﷺ اس دنیا میں مبعوث ہوئے۔
    غرض اللہ تعالیٰ نے اس بات کا کہ اُمت محمدیہ میں شامل ہونے والے نبی اکرمﷺ کے درخت وجود کی شاخیں اس طرح محفوظ کر لی جائیں کہ اگر بشری کمزوری ظاہر ہو جائے تو اس کا نتیجہ اُمت کے لئے بحیثیت مجموعی برا نہ نکلے یا اللہ تعالیٰ اس رنگ میں ان کی تربیت کرے اور اس طرح پر ان کی فطرت کو اپنی طاقت سے سہارا دے کہ ان سے کوئی بشری کمزوری ظاہر نہ ہو اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ سامان پیدا کیا (جس کا ذکر وضاحت سے قرآن کریم میں آتا ہے) کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ملائکہ مقربین اور وہ ملائکہ بھی جو ان کے ساتھ مختلف کاموں پر لگے ہوئے ہیں وہ مومنوں کی جماعت کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں اور ان کی دعا یہ ہے کہ اے ہمارے ربّ! تیری رحمت بھی ہر چیز پر حاوی ہے اور تیرا علم بھی ہر چیز پر حاوی ہے اس لئے ہماری یہ دعا ہے کہ فَاغْفِرْلِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِیْلَکَ جس شخص سے بشری کمزوری سر زد ہو جائے اور پھر وہ ندامت کے ساتھ توبہ کا دروازہ کھٹکھٹائے تو اپنی مغفرت کی چادر میں اس کو ڈھانپ لے کیونکہ تیری رحمت بڑی وسیع ہے اگر وہ تیری راہوں کو اختیار کرنا چاہے اور تیرے قرب کے حصول کے لئے کوشش کرنا چاہے اور محمد رسول اللہﷺ کے احسانات کا بدلہ پوری طرح اور پوری کوشش کے ساتھ ادا کرنا چاہے وہ اتباع سبیل کرنا چاہے تیرا علم وسیع ہے وہ خود بھی نہیں جانتا کہ اس میں کس قسم کی فطری کمزوریاں پائی جاتی ہیں لیکن تو جانتا ہے۔ اے ہمارے ربّ! ایسا سامان پیدا کر دے کہ یہ بشری کمزوریاں اس سے سر زد نہ ہوں اور وہ روحانی راہوں پر بغیر کسی روک کے آگے ہی آگے بڑھتے چلے جائیں، محمد رسول اللہﷺ سے کٹ نہ جائیں کٹی ہوئی شاخ کی طرح آپ کے وجود کے درخت سے منقطع نہ ہو جائیں یا اس ذرہ کی طرح نہ ہو جائیں جس کو جسم اپنے سے جدا کر دیتا ہے کیونکہ تیری رحمت بھی وسیع ہے اور تیرا علم بھی وسیع ہے جو غلطی ان سے سرزد ہو گئی ہے تو اسے اپنی رحمت کی چادر میں ڈھانپ لے اور جس غلطی کے سر زد ہونے کا امکان ہے اور تو ہی اسے بہتر جانتا ہے تو ایسے سامان پیدا کر دے کہ اس قسم کی بشری کمزوریاں ان سے سر زد نہ ہوں اور ان کی فطرت کو تیری طاقت ہمیشہ سہارا دیتی رہے اس طرح وہ اس عذاب جحیم سے بچ سکتے ہیں جسے تیرے قہر کی آگ بھڑکاتی ہے۔
    اور اے خدا! کسی ایک زمانہ کے متعلق ہماری یہ دعا نہیں بلکہ انہیں بھی اور ان کے بڑوں کو بھی، پہلوں کو بھی اور بعد میں آنے والوں کو بھی تو مغفرت کی چادر میں ڈھانپتا رہے یعنی یہ ایک لمبا زمانہ ہے جو قیامت تک چلا جائے گا نسلاً بعد نسلٍ اُمت محمدیہ میں زیادتی اور کمی ہوتی رہے گی کچھ لوگ اس جہان سے گزر جائیں گے اور کچھ اور پیدا ہو جائیں گے پس تو پہلوں پر بھی اور جو حال کی نسل ہے ان پر بھی (اَزْوَاجِھِمْ ان کے ساتھی یہ الفاظ حال کو بتا رہے ہیں) وَذُرِّیّٰتِھِمْ آئندہ آنے والی نسلوں پر بھی تو رحمت اور مغفرت کر اور ان سے پیار کا سلوک کر اور ان کو اس قابل بنا دے کہ وہ محمد عربی ﷺ کے وجود کا حقیقی ذرہ بن جائیں اور ان تمام نعمتوں سے وہ حصہ لیں جو تو نے نبی اکرمﷺ کے لئے مقدر کی ہیں۔
    غرض اللہ تعالیٰ نے فطری کمزوریوں سے محفوظ رکھنے اور فطری کمزوریوں کے ظاہر ہونے سے بچانے کیلئے یہ انتظام کیا کہ ایک طرف فرشتوں کو دعا پر لگا دیا اور دوسری طرف یہ انتظام کیا کہ نبی اکرمﷺ کو فرمایا وَاسْتَغْفِرْلَھُمْ تو ان کے لئے استغفار کرتا رہے تا اگر ان سے کوئی فطری کمزوری سرزد ہو تو اس کا بد نتیجہ نہ نکلے تیرا رحم اس طرح جوش میں آئے کہ فطرت کی کمزوریوں کو تیری طاقت سہارا دیتی چلی جائے اور کوئی بدی اور کمزوری واقع ہی نہ ہو غرض نبی اکرمﷺ کو بھی کہا کہ اُمت مسلمہ کے لئے استغفار کرتے رہو اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ نبی کریمﷺ کی دعائوں میں اُمت کے لئے استغفار شامل تھا اس لئے اُمت مسلمہ کو یہ کہا کہ تمہارا استغفار کرنا اس وقت تک بے نتیجہ ہے اور وہ تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا جب تک نبی اکرمﷺ بھی تمہارے لئے استغفار نہ کریں اس لئے وَلَوْاَنَّھُمْ اِذْظَّلَمُوْا اَنْفُسَھُمْ جَائُ وْکَ جب اُمت میں سے کوئی شخص یہ سمجھے کہ اس سے کچھ غلطیاں سر زد ہو گئی ہیں اور یا وہ یہ سمجھے اور اسے یقین حاصل ہو کہ بہرحال مجھ میں بشری کمزوریاں پائی جاتی ہیں اور میں اللہ تعالیٰ کے سہارے کے بغیر ان بشری کمزوریوں کے ظاہر ہونے سے بچ نہیں سکتا۔ غرض جب بھی ان دو میں سے کوئی ایک یا دونوں احساس پائے جائیں تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ تیرے پاس آئے اور تجھ سے استغفار کے طریقے سیکھے اور پھر استغفار کرے لیکن یہ بھی کافی نہیں وَاسْتَغْفَرَلَھُمُ الرَّسُوْلُ پھر رسول بھی اس کے لئے استغفار کرے تب لَوَجَدُوْا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا وہ اللہ تعالیٰ کو توبہ قبول کرنے والا اور مجاہدات کا قبول کرنے والا پائے گا خالی اس فرد کا استغفار کرنا کافی نہیں۔
    غرض اُمت مسلمہ سے کہا کہ تمہارے لئے استغفار کرنا ضروری ہے لیکن یہ بھی یاد رکھو کہ صرف تمہارا استغفار کرنا اور تمہارا یہ دعا کرنا ہی کافی نہیں کہ جو غلطیاں سر زد ہو گئی ہیں اللہ تعالیٰ انہیں معاف کرے اور ان کے بد نتائج سے تمہیں محفوظ رکھے یا جن بشری کمزوریوں کا امکان ہے ان کا اظہار ہی نہ ہو مغفرت کی چادر میں وہ چھپی رہیں اور اس طرح انسان اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہے اللہ تعالیٰ کہتا ہے تمہاری یہ دعا قبول نہیں ہو سکتی جب تک کہ رسول مقبولﷺ کی دعا اس دعا کے ساتھ شامل نہ ہو اس لئے ضروری ہے کہ انسان نبی اکرمﷺ کے پاس روحانی طور پر پہنچے اور آپؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر، آپؐ کا قرب پا کر، آپؐ سے استغفار کی راہیں سیکھ کر استغفار نہ کرے اور اپنی زندگی کو اس رنگ میں نہ گزارے کہ نبی کریمﷺ کے استغفار کا خداتعالیٰ کی نگاہ میں مستحق بن جائے اس وقت تک اُمت مسلمہ کے افراد اللہ تعالیٰ کے توّاب ہونے اور اس کے رحیم ہونے کے جلوے نہیں دیکھ سکتے۔ اگر کسی نے خداتعالیٰ کی ان صفات (توّاب اور رحیم) کے جلوے دیکھنے ہوں تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ کے بتائے ہوئے طریق پر استغفار کرتے ہوئے خود کو اس بات کا مستحق بنائے کہ اسے نبی اکرمﷺ کی دعائیں پہنچیں اور اس کے استغفار کے ساتھ محمد رسول اللہﷺ کا استغفار شامل ہو جائے تب وہ خداتعالیٰ کی صفات تَوّاب اور رحیم کے جلوے دیکھے گا۔
    پھر اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ تمہیں صرف اپنے لئے ہی نہیں ساری اُمت کیلئے استغفار کرنا ہے اور میں نے بتایا ہے کہ ساری اُمت کے افراد نے اپنی تمام بشری اور فطری کمزوریوں سمیت نبی اکرمﷺ کے وجود کا حصہ بننا تھا اس لئے ضروری تھا کہ ایک تو اگر گناہ سر زد ہو جائے تو اس کی معافی کا انتظام ہو اور دوسرے ایسا سامان ہو کہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت کچھ ایسے رنگ میں انسان سے محبت کا سلوک کرے کہ اس کی طاقت اور قدرت انسانی فطرت کو سہارا دے اور فطرت انسانی اس سہارے کے بعد غلطیوں سے محفوط ہو جائے پس اُمت مسلمہ کو یہ کہا کہ تمہارا یہ فرض ہے کہ تمام مومنوں کیلئے استغفار کرتے رہو اللہ تعالیٰ سورۃ آل عمران میں فرماتا ہے۔
    اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اِنَّنَا اٰمَنَّا فَاغْفِرْلَنَا ذَنُوْبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کہ وہ جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے ربّ ہم سب جماعت مومنین میں شامل ہو گئے ہیں فَاغْفِرْلَنَا تو ہم کو اپنی رحمت کی چادر میں ڈھانپ لے غرض یہاں ساری اُمت کے لئے دعا کرنا جماعت مومنین کی ایک صفت بیان کی گئی ہے اس کی وضاحت کرتے ہوئے سورۃ حشر میں یوں فرمایا:۔
    وَالَّذِیْنَ جَآئُ وْا مِنْ بَعْدِ ھِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِکہ جس طرح بعد میں آنے والے مومن پہلوں کی دعا اور استغفار سے حصہ لینے والے ہوتے ہیں اسی طرح وہ پہلوں کے لئے بھی دعا اور استغفار کرتے ہیں۔
    رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ ان کی دعائوں میں یہ دعا بھی شامل ہوتی ہے کہ اے ہمارے ربّ! تو ہماری غلطیوں کو بھی معاف کر اور ان کو بھی بخش دے جو ہم سے پہلے تیرے محمد رسول اللہﷺ پر ایمان لائے اور اے ہمارے ربّ! جس طرح تو نے ان کی فطرت کو سہارا دیا اور بشری کمزوریوں سے انہیں محفوط کر لیا اسی طرح تو ہمیں بھی بشری کمزوریوں سے محفوظ رکھ اور ہماری فطرت کو بھی سہارا دے غرض مومن اپنے لئے بھی دعائیں کرتے ہیں اور پہلوں کے لئے بھی دعائیں کرتے ہیں اور پھر بعد میں آنے والوں کے لئے بھی دعائیں کرتے ہیں۔
    دونوں خطبوں کا مضمون یکجائی طور پر اگر مختصراً بیان کیا جائے تو یہ بنتا ہے کہ نبی اکرمﷺ ایک کامل اور مکمل مظہر صفات باری کی حیثیت میں دنیا کی طرف مبعوث ہوئے اور آپ کی بعثت کا مقصد یہ تھا کہ انسان اپنے ربّ کو پہچانے اور نبی اکرمﷺ میں فنا ہو کر اپنی اپنی استعداد کے مطابق صفات باری کا مظہر بنے اس پاک وجود کو جو اُمت محمدیہ کہلاتی ہے (جسے ہم اُمت محمدیہ یا اُمت مسلمہ کہتے ہیں وہ ایک ہی وجود ہے اس کی روح محمد ﷺ ہیں اس کا دل محمدﷺ ہیں۔ اس کا نور نور محمدﷺ ہے یہ ایک پاک وجود دنیا میں قائم کیا گیا ہے جس کو قیامت تک کی زندگی عطا ہوئی ہے۔ یعنی اُمت محمدیہ کی اجتماعی زندگی قیامت تک کی ہے اور اس وجود کا پھیلائو زمین کے کرے کو احاطہ کئے ہوئے ہے ساری دنیا میں پھیلا ہوا ہے) جس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس مقصد کے حصول کے لئے ضروری تھا کہ یہ سارا وجود اور خداتعالیٰ کے فرشتے دعائوں میں مشغول ہو جائیں کیونکہ دعا کے بغیر اور خداتعالیٰ سے رحمت طلب کرنے اور رحمت پانے کے بغیر دنیا میں کوئی کامیابی بھی انسان کو نہیں مل سکتی کجا یہ کہ اتنی عظیم کامیابی حاصل ہو پس ضروری تھا اُمت محمدیہ ایک وجود کی حیثیت میں دعائوں میں مشغول ہو جائے ان کی دعائوں کا ایک بڑا حصہ یہ رہا ہے اور یہ رہے گا! کہ اے ہمارے ربّ! محمد رسول اللہﷺ جس مقصد کے لئے مبعوث ہوئے تھے اس مقصد میں آپ کو اس رنگ میں کامیاب کر کہ دنیا کی کوئی کامیابی بھی اس کے مقابلہ میں پیش نہ کی جا سکے انتہائی کامیابی آپ کو عطا کر پھر ان دعائوں میں یہ بھی شامل ہے کہ قرآن کریم کی عظمت دلوں میں بیٹھے اسلامی تعلیم انسان کی زندگی پر حکومت کرے اور یہ سب اس لئے ہو کہ انسان کے دل میں خدائے واحد و یگانہ، قادر و توانا کی محبت پیدا ہو اور انسان اپنے ربّ کی صفات کا مظہر بننے کی کوشش کرے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور محمد رسول اللہﷺ کی قوت قدسیہ کے طفیل وہ اپنی استعداد کے مطابق اپنے دائرہ کمال کو پہنچے اور مظہر صفات باری بنے۔ نبی اکرمﷺ کو بھی حکم ملا کہ اس اُمت کے لئے دعائیں کرو اور جو دعائیں آپ نے اس اُمت کے لئے کیں وہ اُمت کی مغفرت کے لئے ہیں ہر دو معنی کے لحاظ سے کہ اگر کوئی غلطی سرزد ہو جائے چاہے وہ کسی زمانہ میں کسی فرد واحد اور کسی قوم سے سرزد ہو تو اے خدا! تو اس کے بد نتائج سے اُمت کو بحیثیت اُمت محفوظ رکھنا اور دوسرے معنوں کے لحاظ سے بھی کہ اے ہمارے ربّ کہ جو افراد تیرے اس مقدس درخت کی شاخیں بنیں گے وہ اپنی بشری اور فطرتی کمزوریوں کو ساتھ لے کر آئیں گے تو ایسا سامان کر دے کہ ان کی فطری اور بشری استعدادیں تیری طاقت کے سہارے طاقت پائیں اور فطری بشری کمزویاں ظاہر نہ ہونے پائیں اور اس طرح پر اُمت محمدیہ تیرے قرب کی راہیں زیادہ سے زیادہ حاصل کرتی چلی جائے۔
    غرض چونکہ فرشتے اُمت محمدیہ کے لئے دعائیں کر رہے ہیں چونکہ نبی اکرمﷺ اُمت کے لئے دعائیں کر رہے ہیں چونکہ یہ ساری کی ساری اُمت اپنے اور ایک دوسرے کے لئے دعائیں کر رہی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا کہ جو لوگ بھی اس معنی میں اس وجود کا حصہ بن جائیں گے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے وارث ہوں گے اور چونکہ یہ ایک بہت بڑا وجود ہے اس کا زمانہ (یعنی اس کی اجتماعی زندگی) قیامت تک پھیلا ہوا ہے وسعتوں کے لحاظ سے ہر ملک ہر براعظم اور ہر شہر اور ہر گائوں سے اس کا تعلق ہے اور اربوں ارب افراد اپنے پر ایک موت وارد کرکے اور اس وجود میں گم ہو کر ایک نئی زندگی پانے میں کوشاں ہوں گے اور وہ اپنی بشری کمزوریاں ساتھ لے کر جائیں گے۔
    ان بشری کمزوریوں سے حفاظت کا کوئی سامان پیدا ہونا چاہئے تھا اور وہ سامان اللہ تعالیٰ نے استغفار کے ذریعہ پیدا کیا ہے اور میں نے بتایا ہے یہ سامان استغفار کے ذریعہ اس طرح پیدا کیا گیا کہ فرشتوں کو حکم ہوا کہ تم اُمت مسلمہ کے لئے دعائوں میں مشغول ہو جائو اور دعا کرو کہ اگر کوئی بشری کمزوری سر زد ہو تو اس کے بد نتائج سے وہ محفوظ رہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اس طرح بھی اس اُمت کے شامل حال رہے کہ اس کی فطری کمزوریاں ظاہر ہی نہ ہوں ان تمام امکانی کمزوریوں پر اللہ کی رحمت اور مغفرت کی چادر کچھ اس طرح پڑ جائے کہ ان کا منہ اس چادر سے باہر نہ نکلے اور نبی اکرمﷺ کو حکم دیا کہ اُمت مسلمہ کے لئے استغفار میں مشغول ہو جائو اور مومنوں کو یہ کہا کہ ایک دوسرے کے لئے استغفار کرو اور ساتھ ہی ان کو یہ بھی کہا کہ صرف تمہاری استغفار کافی نہیں جب تک تم دو شرطوں کو پورا نہ کرو ایک شرط یہ کہ استغفار اس رنگ میں کرو جس رنگ میں محمد رسول اللہﷺ نے تمہیں بتایا ہے اپنی طرف سے استغفار کے طریقے ایجاد کرنے کی کوشش نہ کرو بلکہ جو طریقے استغفار کے محمد رسول اللہﷺ نے بتائے ہیں انہی طریقوں سے تم استغفار کرو اور دوسری شرط یہ ہے کہ محمد رسول اللہﷺ بھی تمہارے لئے استغفار کر رہے ہوں اگر تم آنحضرتﷺ کے بتائے ہوئے طریق پر استغفار کرو گے اور تم محمد رسول اللہﷺ کے استغفار کے خداتعالیٰ کی نگاہ میں مستحق ٹھہرو گے تو اللہ تعالیٰ اپنی مغفرت کی چادر میں تمہیں لپیٹ دے گا اور تم انفرادی حیثیت میں بھی اور اجتماعی حیثیت میں بھی گناہ کے وقوعہ کے بعد یا گناہ کے وقوعہ سے پہلے اس کے امکان اور امکانی مضرتوں سے محفوظ کر دئیے جائو گے۔
    پس اللہ تعالیٰ نے اُمت مسلمہ یا جماعت مومنین کا ایک عظیم وجود پیدا کیا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پر ایک موت کو وارد کیا اور محمد رسول اللہﷺ کے طفیل ایک نئی زندگی اپنے ربّ سے پائی یہ وہ لوگ ہیں جن کو ابدی حیات ملی، یہ وہ لوگ ہیں جن کی زندگی کا مدار محمد رسول اللہﷺ کی روح پر ہے، یہ وہ لوگ ہیں جن کے سینوں میں محمد رسول اللہﷺ ہی کا دل دھڑک رہا ہے جن کی زبانوں پر وہی آتا ہے جو محمد رسول اللہﷺ کو پسند ہو، جن کی آنکھیں محمد رسول اللہﷺ اور آپ کے ربّ کے نور سے منور ہیں جن کے ہاتھ جن کے پائوں اور جن کے جوارح وہ ہیں جو خداتعالیٰ نے اس نئی زندگی کے بعد انہیں عطا کئے ہیں اور وہ تمثیلی زبان میں اللہ ہی کے ہاتھ اور اللہ ہی کے پائوں اور اللہ ہی کی آنکھیں اور اللہ ہی کے جوارح ہیں۔
    غرض یہ ایک عظیم وجود پیدا کیا گیا ہے اور جو شخص اس وجود سے خود کو منقطع سمجھتا ہے اور اپنے اندر کوئی ذاتی خوبی اور بڑائی سمجھتا ہے وہ خدا کی نگاہ میں ایک دھتکارا ہوا وجود ہے کیونکہ ہر برکت محمد رسول اللہﷺ کے طفیل ہی مل سکتی ہے اور جس نے آپ کو اور آپ کے روحانی وجود کو چھوڑا اور اس سے منقطع ہو گیا اور اس سے قطع تعلق کر لیا وہ خداتعالیٰ کے ارشاد کے مطابق ہر قسم کی برکتوں اور فضلوں سے محروم ہو گیا۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی پناہ میں رکھے اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیش اس بات کی توفیق عطا کرتا چلا جائے کہ ہم شیطانی زندگی پر خدا کی راہ میں موت کو ترجیح دینے والے ہوں اور اس کی راہ میں موت کو قبول کرنے والے اور اس کے فضل سے ایک نئی زندگی پائیں جو رحمتوں والی ہو جو انوار والی ہو، جو مسرتوں اور لذتوں والی ہو۔ اللھم آمین
    (روزنامہ الفضل ربوہ مورخہ ۹ ؍اکتوبر ۱۹۶۸ء صفحہ۲ تا۶)
    ٭…٭…٭

    دوستوں کو چاہئے کہ وہ کثرت سے اور التزام کے ساتھ دعائیں کریں تا وہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آ جائیں
    (خطبہ جمعہ فرمودہ ۴ ؍اکتوبر ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ ربوہ )
    ء ء ء
    ٭ اے ہمارے ربّ! ہمیں اپنی حفاظت میں لے لے اور ہمیں ضائع ہونے سے بچا لے۔
    ٭ ہم جانتے ہیں کہ کامیاب وہی ہوتے ہیں جن کی مدد پر اللہ تعالیٰ کھڑا ہوتا ہے۔
    ٭ اے ہمارے ربّ!اپنی صفات عظیمہ کی اتباع اور تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرنے کی ہمیں توفیق بخش۔
    ٭ اگر ہماری نمازیں رِیا سے پاک نہ ہوں تو ان کی حفاظت نہیں ہو سکتی۔
    ٭ اگر اللہ تعالیٰ کی رحمت انسان کو ڈھانپ لے تو کوئی چیز اُسے دکھ نہیں دے سکتی۔



    تشہد، تعوذ اور سورئہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مندرجہ ذیل الہامی دعا پڑھی:۔
    رَبِّ کُلُّ شَیْئٍ خَادِمُکَ رَبِّ فَاحْفَظْنَا وَانْصُرْنَا وَارْحَمْنَا
    (تذکرہ نیا ایڈیشن صفحہ۳۶۳)
    اس کے بعد فرمایا:۔
    اے میرے ربّ! ہر چیز تیری خدمت گزار ہے وہ تیرے قانون تسخیر کے ماتحت اس کام میں لگی ہوئی ہے جس پر تو نے اسے لگایا ہے اور ہماری عین یقین نے دیکھا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز تو نے ہماری خدمت پر مسخر کی ہوئی ہے اور تو نے اپنی ساری نعمتیں (ظاہری و باطنی) ہم پر پانی کی طرح بہا دی ہیں ہمارے نفس اور ہماری روح تیرے احسانوں اور فضلوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ شکر نعمت تو ممکن نہیں مگر اے ہمارے ربّ ہمارے محبوب! ہم بھی تیرے عاشق خادم ہیں اپنے خادموں کی التجا کو سن رَبِّ فَاحْفَظْنَا اے ہمارے ربّ! ہمیں اپنی حفاظت میں لے لے ہمیں ضائع ہونے سے بچا لے ہمارے اعمال، بدیوں، کمزوریوں، بد اخلاقیوں، فسق و فجور سے ضائع نہ ہو جائیں طاغوتی طاقتیں ہم پر کامیاب وار نہ کر سکیں تیرے پیار کی راہوں سے ہم کبھی بھٹک نہ جائیں اپنی اپنی استعداد کے مطابق ہم میں سے ہر ایک تیری ربوبیت تامہ سے کامل حصہ لے ہم اپنی استعدادوں کو کمال تک پہنچائیں اور تیرے قرب کے مقامات کو حاصل کریں ہم اس یقین پر ہمیشہ قائم رہیں کہ ہمارا محبوب ربّ (عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ حَفِیْظٌ) ہر چیز کا محافظ ہے اور وہی حفاظت کا حقیقی سر چشمہ ہے جو بھی اے ہمارے ربّ! تیرے دامن سے وابستہ نہیں رہتا ہلاکت کے گڑھے میں گر جاتا ہے اطاعت میں ہی سب حفاظت ہے اے ہمارے ربّ! تو ہی وہ قادر و توانا ہے جو آسمانوں اور زمین اور ان میں بسنے والی سب اشیاء کی حفاظت سے کبھی تھکتا نہیں تیرا علم ہر شے پر حاوی ہے اور ہر شے کی حفاظت کی قدرت تجھ میں موجود ہے۔
    رَبِّ فَاحْفَظْنَا پس اے ہمارے ربّ ہمیں اپنی حفاظت میں لے لے ہمیں ضائع ہونے سے بچا لے۔ اے ہمارے ربّ وَانْصُرْنَا ہر چیز تیری خادم ہے پس تو ہماری مدد کو آ ہم جانتے ہیں کہ کامیاب وہی ہوتے ہیں جن کی مدد پر تو کھڑا ہوتا ہے اگر تو ہماری مدد اور نصرت کو نہ آئے گا تو تجھے چھوڑ کر کون ہماری مدد کو آئے گا؟ سب سہارے کمزور اور شکستہ ہیں، تیرا ہی ایک سہارا ہے جس پر بھروسہ اور توکل کیا جا سکتا ہے پس اے ہمارے محبوب ہم تجھ پر ہی توکل رکھتے ہیں ہمیں توفیق دے کہ ہم اس گروہ میں شامل رہیں جن کے متعلق تو نے خود فرمایا:۔وَاِنْ تَنْصُرُوْا اللّٰہَ یَنْصُرْکُمْ (سورئہ محمد :۸)
    اے ہمارے ربّ! تیری ہی توفیق سے ہم تیری قائم کردہ حدود کی حفاظت کر سکتے ہیں اور جو عہد و پیمان ایک مومن کی حیثیت سے ہم نے تجھ سے باندھے ہیں ان کو نباہ سکتے ہیں تیرے احکام کی بجا آوری اور تیری مناہی سے اجتناب تیری توفیق کے بغیر ممکن نہیں۔ پس اے ہمارے ربّ! ہر چیز تیری خادم ہے ہمیں اپنے انصار بننے کی توفیق دے تا تیری نظر میں ہم تیری مدد اور نصرت کے سزا وار ٹھہریں اور اے ہمارے ربّ ہماری مدد کو آ کہ جو تیری مدد یا نصرت پاتے ہیں وہ ناکام اور نامراد نہیں ہوا کرتے رَبَّنَا عَلَیْکَ تَوَکَّلْنَا اے ہمارے ربّ وَارْحَمْنَا اپنی رحمت سے ہمیں نواز، اے ہمارے ربّ! ہمیں اپنی اطاعت اور رسول مقبولﷺ کی اطاعت کی توفیق دے کہ جو تجھ سے یہ توفیق پاتے ہیں وہی تیری نگاہ میں تیری رحمت کے مستحق ٹھہرتے ہیں جیسا کہ تو نے فرمایا ہے ۔
    وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ (آل عمران: ۱۳۳)
    اے ہمارے ربّ! اپنی صفات عظیمہ کی اتباع اور تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرنے کی ہمیں توفیق بخش کہ اتباع قرآن کرنے والے متقی ہی تیری نظر میں تیری رحمت کے مستحق ٹھہرتے ہیں جیسا کہ تو نے فرمایا:۔
    فَاتَّبِعُوْہُ وَاتَّقُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ (الانعام :۱۵۶) اے ہمارے ربّ ہمیں یہ یقین بخش کہ
    اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ (الاعراف :۵۷)
    ایمان اور اسلام کے تمام تقاضوں کو ان کی سب شرائط کے ساتھ پورا کرنے کی ہمیں توفیق دے اور ہمیں اپنی رحمت سے نواز۔ رَبِّ کُلُّ شَیْئٍ خَادِمُکَ ہر چیز تیری خدمت گزار ہے اے میرے ربّ! ہمیں اپنی حفاظت میں لے لے ہماری مدد کو آ اور ہمیں اپنی رحمت سے نواز۔
    اس دعا میں جس کے مختصر معنی اور مفہوم میں نے بیان کیا ہے اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ سچی توحید اور اللہ تعالیٰ کی ربوبیت تامہ کا اقرار کرتے ہوئے اس کے حضور عاشقانہ خدمت بجا لائو اور اس عاشقانہ خدمت سے ربوبیت تامہ کے حضور جھکو اور التجا کرتے رہو کیونکہ ربوبیت تامہ سے وہی فیض حاصل کرتا ہے جو ربّ کریم کی حفاظت میں آ جاتا ہے جسے اس کی عون و نصرت حاصل ہوتی ہے اور جو اس کی رحمت سے نوازا جاتا ہے اس کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔
    غرض اس دعا میں اللہ تعالیٰ نے سچی توحید اور ربوبیت تامہ کی طرف اشارہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ یہ دعا کیا کرو کہ اے وہ کہ جو ربوبیت کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔ اس کے سامان بھی پیدا کرتا ہے اور وہی ہے کہ اس کے ارادوں میں کوئی غیر روک نہیں بن سکتا اور ہر چیز کو اس نے مسخر کیا ہوا ہے وہ اس کام پر لگی ہوئی ہے جس کام پر اللہ، ربّ کریم نے اسے لگایا ہے دنیا میں جس چیز پر چاہو نگاہ ڈالو سورج، چاند اور آسمانوں کے ستارے، درخت، جھاڑیاں اور پھولوں کے پودے، لعل و جواہر زمرد، یاقوت، کوئلے کا پتھر یا چونے کا پتھر یا زمین کے سارے ذرے اور ان ذروں میں چھپی ہوئی ایٹمی توانائی ہر چیز اللہ تعالیٰ نے مسخر کی ہوئی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی اس تسخیر کے نتیجہ میں وہی کام کرتی ہے جس کا اس کا پیدا کرنے والا ربّ ارادہ کرے اور جس کا وہ فیصلہ کرے اور یہ خادم ربّ یہ کسی انسان کو کوئی مضرت اور کوئی دکھ اور کوئی ایذاء نہیں پہنچا سکتے جب تک کہ اس کا ارادہ دکھ پہنچانے یا ایذاء دینے یا مشقتوں میں ڈالنے کا نہ ہو اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہر چیز کو انسان کے لئے مسخر کیا گیا ہے اور کام پر لگایا گیا ہے یہ تمام اشیاء، یہ تمام چیزیں (چھوٹی ہوں یا بڑی) جن کی حقیقت کو ایک حد تک ہم نے سمجھا اور ان کا علم حاصل کیا ہے یا ان کی وہ طاقتیں اور صفات جو ان میں پوشیدہ ہیں اور ہم پر ظاہر نہیں ہوئیں انسان کی خدمت پر لگائی گئی ہیں۔ پس اصل ذات اللہ ہی کی ہے جو انسان کی ربوبیت تو کرنا چاہتا ہے اور اس نے یہ حکم بھی جاری کیا ہے کہ اس کی مرضی کے بغیر کسی شخص کی ترقی (روحانی و جسمانی) میں اس کی پیدا کردہ کوئی چیز روک نہ بنے لیکن بہت سے ایسے بدقسمت انسان بھی ہوتے ہیں جو اپنے ہی کئے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کو ناراض کر لیتے ہیں اور ہر وہ چیز جسے اللہ تعالیٰ نے اس کی خدمت پر لگایا ہوتا ہے وہی اس ایذاء کے درپے ہو جاتی ہے وہ اسے دکھ پہنچانے لگتی ہے اسے زندگی اور حیات سے دور کر دیتی ہے اور اسے نور سے کھینچ کر اندھیروں میں لے جاتی ہے اسے خداتعالیٰ کی رضا کی جنتوں میں داخل نہیں ہونے دیتی بلکہ شیطان کے پیچھے اسے لگا دیتی ہے اور جہنم کی طرف اس کا منہ کر دیتی ہے جسمانی دکھ یا تکالیف ہوں یا روحانی طور پر ناکامیاں اور نامرادیاں ہوں یہ سب اللہ تعالیٰ کے ارادہ اور منشاء اور اس کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق ہی ہوتے ہیں۔
    پس ہمیں حکم ہے کہ اپنے ربّ کی طرف جھکو اس سے یہ التجا کرو کہ تیری ربوبیت تامہ سے ہم کامل فیض حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ تیری حفاظت میں نہ آ جائیں جب تک کہ تیری نصرت اور تیری مدد ہمارے شامل حال نہ رہے جب تک کہ تو ہمیں اپنی رحمت سے نہ نوازتا رہے۔
    حفاظت کے معنی ہیں ضائع ہونے سے بچانا اور اللہ تعالیٰ بڑی وضاحت سے قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ہر چیز کو ضائع ہونے سے بچانے کا کام خود اللہ تعالیٰ کرتا ہے اور اپنی ربوبیت تامہ کو انسان کے لئے کمال تک پہنچانے کی خاطر اسے اپنی حفاظت میں لے لیتا ہے اور جب تک وہ خداتعالیٰ کی اس حفاظت میں نہ آجائے اس وقت تک ہر وقت ضائع ہونے کا خوف رہتا ہے مثلاً ہمارا صدقہ و خیرات ہے اگر انسان اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہو تو مَنًّا وَّ اَذٰی سے بچتے ہوئے صدقہ و خیرات کی حفاظت ہو جاتی ہے اگر ہماری نمازیں ریا سے پاک نہ ہوں تو ان کی حفاظت نہیں ہو سکتی جب تک انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ توفیق نہ ملے کہ وہ ریا اور نمائش سے بچتا رہے اس وقت تک اس کی ظاہری عبادتیں (نماز روزہ وغیرہ) اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں نہیں ہوتیں۔
    غرض اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو ربوبیت تامہ کی خاطر ہر انسان کو اس کی استعداد کے مطابق اس کے کمال تک پہنچانے کے لئے اپنی حفاظت میں لے لیتی ہے اور جس وقت اللہ تعالیٰ انسان کو اپنی حفاظت میں لے لیتا ہے اسی وقت اس کے لئے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ اپنے روحانی اور جسمانی کمالوں تک پہنچے۔
    انسان کی حفاظت کے لئے یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا ممد و معاون ہو اس لئے فرمایا کہ تم یہ دعا کرو کہ اے ہمارے ربّ تو ہمیں اپنی حفاظت میں لے لے (اور یاد رکھو کہ اطاعت ہی میں سب حفاظتیں ہیں) اور تیری حفاظت میں وہی آ سکتا ہے جسے تیری مدد اور نصرت مل جائے کیونکہ تیری مدد اور نصرت کے بغیر ایسے سامان پیدا نہیں ہو سکتے کہ انسان کو تیری حفاظت حاصل ہو اور تیری مدد اور نصرت کوئی انسان اپنے زور سے لے نہیں سکتا اس کے لئے ضروری ہے کہ تو اس کی طرف رجوع برحمت ہو تو اُسے اپنی رحمتوں سے نوازے۔
    غرض اس دعا میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا سبق ہمیں دیا اور ربوبیت تامہ کی طرف ہمیں متوجہ کیا اور ہمیں بتایا کہ تمام اشیاء (مخلوقہ) مضرت اسی وقت پہنچاتی ہیں جب اللہ تعالیٰ کا اذن مضرت پہنچانے کا ہو اور تمام نفع مند چیزوں سے انسان صرف اس وقت نفع حاصل کر سکتا ہے جب اللہ تعالیٰ کا بھی یہ منشاء ہو کہ وہ ان سے نفع حاصل کرے اس لئے خدا سے یہ دعا کرو کہ اے ہمارے ربّ مضرتوں سے ہماری حفاظت کر نفع ہمیں پہنچا ہماری نصرت اور مدد کو آ اور ہمیں اپنی رحمتوں سے نواز۔
    یہ دعا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو الہاماً سکھائی گئی ہے اور آپؑ نے فرمایا ہے کہ یہ اسم اعظم ہے کیونکہ اس میں ربوبیت تامہ اور سچی توحید کو بیان کرنے اور اس کا اقرار کرنے کے بعد انسان دعا کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور تین بنیادی چیزیں اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہے۔
    (۱) ایک اس کی حفاظت
    (۲) ایک اس کی نصرت
    اور (۳) ایک اس کی رحمت
    اور جو شخص اپنے ربّ کی ربوبیت کا عرفان رکھتا ہو اور اپنے خادم اور عاشق ہونے کا احساس رکھتا ہو اس کے دل میں ایک تڑپ اور ایک آگ ہو جو ایک عاشق صادق کے دل میں ہوتی ہے اور وہ یہ جانتا ہو کہ اپنے ربّ سے تعلق قائم کئے بغیر میری زندگی بے معنی اور لا یعنی ہے اور وہ یہ سمجھتا ہو کہ میری زندگی کا مقصد صرف اس وقت حاصل ہو سکتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ میرے ساتھ تین حسن سلوک کرے مجھ پر تین احسان کرے ایک تو وہ میری حفاظت کی ذمہ داری لے لے دوسرے وہ ہر وقت میری نصرت اور مدد کے لئے تیار رہے نیز (۳) ہر وقت اپنی رحمتوں سے مجھے نوازتا رہے۔
    پس یہ ایک بڑی کامل دعا ہے یہ ہمیں سچی توحید سکھاتی ہے یہ ہمیں بتاتی ہے کہ کوئی مضرت کوئی دکھ کوئی ایذاء ہمیں پہنچ نہیں سکتی نہ انسانوں کی طرف سے اور نہ اشیائے مخلوقہ کی طرف سے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کا اذن نہ ہو اور کوئی نفع ہمیں حاصل نہیں ہو سکتا جب تک اس کی مرضی نہ ہو اور آپ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اس دعا کو پڑھتا رہے گا وہ ہر ایک آفت سے محفوظ رہے گا اس لئے میں آج اس دعا کا مختصراً مفہوم بیان کرنے کے بعد اپنے دوستوں کو یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ وہ کثرت کے ساتھ اس دعا کو پڑھیں تا وہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آ جائیں تا خدا ہر وقت ان کے ساتھ ان کی مدد اور نصرت کے لئے کھڑا رہے اور اس کی رحمت ان کو اس طرح گھیر لے جس طرح نور اس چیز کو چاروں طرف سے گھیر لیتا ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ کرے وہ نور کے ہالہ کے اندر آ جائے۔ جس طرح سمندر کی تہہ پانی سے بھری ہوئی ہے اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ کی رحمت انسان کو ڈھانپ لے اور اس کی نصرت اسے مل جائے اور وہ اس کی حفاظت میں آ جائے تو نہ کوئی چیز اسے مضرت پہنچا سکتی ہے اور نہ کوئی چیز دکھ دے سکتی ہے نہ کوئی انسان اسے ایذا دے سکتا ہے اور نہ اس کی مخلوقات میں کوئی مخلوق اس کو دکھ دے سکتی ہے صرف اسی صورت میں انسان اس کی بنائی ہوئی اشیاء سے اور اس کی مخلوقات سے فائدہ حاصل کر سکتا ہے اور آرام پا سکتا ہے اور صرف اسی صورت میں اس کی ربوبیت کامل اور مکمل طور پر اسے حاصل ہو سکتی ہے اور وہ وہ بن سکتا ہے جو خدا اسے بنانا چاہتا ہے یا جس کی استعداد اللہ تعالیٰ نے اسے دی ہے۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں اس دعا کے صحیح مفہوم کے سمجھنے اور اسے التزام کے ساتھ پڑھنے کی توفیق عطا کرے اور خدا کرے کہ اس دعا کے پڑھنے کے بعد وہ نتیجہ نکلے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ خلوص نیت کے ساتھ اس دعا کو پڑھنے والے کے حق میں نکلتا ہے یعنی ہم ہر آفت سماوی اور ارضی سے محفوظ ہو جائیں اور شیطان کے سب حملے جو ہم پر کئے جائیں وہ ناکام ہو جائیں اور انسان بھی ہمارے فائدہ کے لئے کام کرنے والے ہوں اور دوسری مخلوق بھی ہمارے فائدہ کے لئے مسخر نظر آئے۔ اللھم آمین۔
    (روزنامہ الفضل ربوہ مورخہ ۱۶؍ اکتوبر ۱۹۶۸ء صفحہ۲ تا۴)
    ٭…٭…٭

    خطبہ جمعہ۱۱؍ اکتوبر ۱۹۶۸ء
    ء ء ء
    ’’حضور علالت طبع کے باعث نماز جمعہ پڑھانے تشریف نہیں لا سکے‘‘۔
    (الفضل ۱۳؍اکتوبر۱۹۶۸ء صفحہ۱)
    ٭…٭…٭

    ہرچیز اللہ کی ہی میراث اور ملکیت ہے اس لئے اس کی راہ میں خرچ کرنا سراسر خیر و برکت کا موجب ہے
    (خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۸ ؍اکتوبر ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ ربوہ )
    ء ء ء
    ٭ قرآن کریم کے مضامین ایک دوسرے کی تائید اور دلائل مہیا کرتے ہیں۔
    ٭ جب اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے نوازتا ہے تو انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کاملہ کا محدود دائرہ میں اور طفیلی طور پر مظہر بنتا ہے۔
    ٭ صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فَنَا فِی الرَّسُوْل اور فَنَا فِی اللّٰہ کے نتیجہ میں ایک نئی زندگی پائی۔
    ٭ ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہم اور ہماری نسلیں اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور انعامات کی مستحق ٹھہریں۔
    ٭ احباب جماعت چندہ تحریک جدید اور وقف جدید کی طرف فوری توجہ کریں۔



    تشہد تعوذ اور سورئہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ کی تلاوت فرمائی:۔
    وَلَایَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَا اٰتٰـھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ھُوَ خَیْرًا لَّھُمْ بَلْ ھُوَشَرٌّ لَّھُمْ سَیُطَوَّقُوْنَ مَابَخِلُوْابِہٖ یَوْمَ الْقِیَامَۃِط وَلِلّٰہِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌo لَقَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ فَقِیْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِیَائُ۔ (آل عمران:۱۸۱۔۱۸۲)
    یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآئُ اِلَی اللّٰہِo وَاللّٰہُ ھُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِْیدُo اِنْ یَّشَاْیُذْھِبْکُمْ وَیَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍo وَمَاذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍ o(فاطر: ۱۶ تا ۱۸)
    اس کے بعد فرمایا:۔
    اللہ تعالیٰ ان آیات میں فرماتا ہے کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں سب کچھ دیتا ہے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی اس دین میں سے مالی قربانیاں پیش نہیں کرتے بلکہ بخل سے کام لیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا اپنے اموال کو خدا کی راہ میں خرچ نہ کرنا دنیوی فوائد پر منتج ہو گا اور اسی میں ان کی بھلائی ہے اگر وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال کو خرچ کریں گے تو انہیں نقصان ہو گا ان کا خدا کی راہ میں اموال خرچ کرنا ان کے لئے خیر کا موجب نہیں ہو گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ خیال درست نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ (شَرٌّلَّھُمْ)ایسا کرنا ان کے لئے بہتر نہیں بلکہ ان کے لئے ہلاکت اور برائی کا باعث بنے گا اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو وہ مول لینے والے ہوں گے اس بخل کے دو قسم کے نتائج نکلیں گے ایک اس دنیا میں اور ایک اس دنیا میں جو شخص بخل سے کام لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس کی راہ میں اپنے اموال کو خرچ نہیں کرتا وہ اس دنیا میں جہنم میں پھینکا جائے گا اور وہاں اسے ایک نشان دیا جائے گا جس سے سارے جہنمی سمجھ لیں گے کہ وہ اس لئے اس جہنم میں آیا ہے کہ وہ خداتعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال خرچ نہیں کیا کرتا تھا سَیُطَوَّقُوْنَ ان کے گلے میں ایک طوق ڈالا جائے گا اور وہ طوق تمثیلی زبان میں ان اموال کا ہو گا جو اس دنیا میں خدا کی راہ میں خرچ نہ کرکے وہ بچایا کرتے تھے اور اس طوق کی وجہ سے ہر وہ شخص جو جہنم میں پھینکا جائے گا جان لے گا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں کہا گیا تھا کہ اپنی عاقبت سنوارنے کے لئے اور خدا کو راضی کرنے کے لئے اپنے اموال اس کے سامنے پیش کرو مگر انہوں نے اس کی آواز نہ سنی اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک نہ کہا اور دنیا کے اموال کو اُخروی بھلائی پر ترجیح دی اور نتیجہ اس کا یہ ہے کہ آج یہ جہنم میں ہیں اور ذلت کا عذاب انہیں دیا جا رہا ہے جہنم کے عذاب میں تو سارے شریک ہیں لیکن یہ طوق بتا رہا ہو گا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اموال کی تو حفاظت کیا کرتے تھے لیکن اپنی جانوں کی حفاظت نہیں کیا کرتے تھے اپنی ارواح کی حفاظت نہیں کیا کرتے تھے۔
    ایک نتیجہ اس بخل کا اس دنیا میں نکلے گا اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہیلِلّٰہِ مِیْرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ آسمانوں اور زمین کی ہر شے اللہ کی میراث ہے اور میراث کے ایک معنی لغت نے یہ بھی کئے ہیں کہ ایسی چیز جو بغیر کسی تکلیف کے حاصل ہو جائے پس اللہ تعالیٰ جو خالق ہے ربّ ہے اور جس کی قدرت میں اور طاقت میں ہر چیز ہے جس کے کُنْ کہنے سے ساری خلق معرض وجود میں آئی ہے کسی چیز کے پیدا کرنے یا اس کے حاصل کرنے میں اسے کوئی محنت نہیں کرنی پڑتی اور جب ہر چیز اللہ ہی کی میراث اور ملکیت ہے تو جو شخص بھی اللہ کو ناراض کرے گا وہ اس دنیا میں اموال کی برکت سے محروم ہو جائے گا یا کوئی اور دکھ اس کو پہنچایا جائے گا۔
    پھر اللہ تعالیٰ نے ایک مثال دی اور وہ یہود کی مثال ہے کہ جب مسلمانوں کو یہ کہا جاتا ہے کہ خدا کی راہ میں اپنے اموال کو خرچ کرو تو یہود میں سے بعض کہتے ہیں کہ اچھا اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اللہ ہوا فقیر اور ہم ہوئے بڑے امیر ہمارے اموال کی خدا کو ضرورت پڑ گئی ہے اس لئے وہ ہم سے مانگ رہا ہے اسی پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا چونکہ بخل کے ساتھ ذات باری کا استہزا بھی شامل ہو گیا ہے اس لئے انہیں عذاب حریق یعنی ایک جلن والا عذاب دیا جائے گا اور ان لوگوں کو جنہوں نے اس قسم کے فقرے مسلمانوں کو ورغلانے اور بہکانے کے لئے کہے تھے اسی دنیا سے جلن کا عذاب شروع ہو گیا تھا۔ اسلام ترقی کرتا چلا گیا اور وہ لوگ جو غریب تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی قربانیوں کو قبول کرتے ہوئے ساری دنیا کے اموال ان کے قدموں پر لا رکھے اور جو مخالف بھی خداتعالیٰ کے ان فضلوں اور انعاموں کو دیکھتا تھا وہ اس بات کا مشاہدہ کرتا تھا کہ سچا ہے وہ جس نے کہا تھا کہ لِلّٰہِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اور جو شخص مخالفت کو چھوڑنے کے لئے بھی تیار نہیں تھا اس کے دل میں ایک جلن پیدا ہوتی تھی یہ دیکھ کر کہ یہ لوگ غریب تھے ہمارے محتاج تھے ہم ہی ان کی ضرورتیں پوری کرتے تھے اور ہمارے بغیر ان کی ضرورتیں پوری نہیں ہو سکتی تھیں (ان دنوں جو یہود عرب میں آباد تھے وہ عربوں کو قرض دیا کرتے تھے) غرض انکے دلوں میں یہ دیکھ کر جلن پیدا ہوتی تھی کہ یہ بہت تھوڑے عرصہ میں یعنی چند سال کے اندر اندر اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی قربانیوں کو قبول کرکے اس قسم کے نتائج نکالے ہیں کہ ساری دنیا کی دولت ان کے قدموں پر لا ڈالی ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو مضامین بیان کئے ہیں وہ ایک دوسرے کی تائید کرتے اور دوسرے مضامین کے لئے دلائل مہیا کرتے چلے جاتے ہیں چنانچہ سورئہ فاطر میں اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کے خیالات کی تردید کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ سچ تو یہ ہے اَنْتُمُ الْفُقَرَآئُ اِلَی اللّٰہِ تم خدا کے فضلوں کے حاجت مند ہو تم اس احتیاج کا احساس پیدا کر لو تم یہ سمجھ لو کہ دنیا کی کوئی نعمت اور کوئی اُخروی نعمت ہمیں اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک اللہ تعالیٰ اس کا فیصلہ نہ کرے کیونکہ اس دنیا کی ملکیت بھی اس کے قبضہ میں ہے اور اس دنیا کی نعمتیں بھی اس کے ارادہ اور منشاء کے بغیر کسی کو مل نہیں سکتیں۔ تمہیں (جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا ہے) جوتی کا ایک تسمہ بھی اس وقت تک نہیں مل سکتا جب تک خداتعالیٰ کا منشاء نہ ہو ہر چیز میں ہر وقت اور ہر آن تم محتاج ہو تمہارے اندر اپنے ربّ کی احتیاج ہے خدا تمہارا محتاج نہیں خداتعالیٰ تو غنی ہے وَاللّٰہُ ھُوَ الْغَنِیُّ حقیقی غنا اسی کی ذات میں ہے کوئی اور ہستی ایسی نہیں جس کی طرف ہم حقیقی غنا کو منسوب کر سکیں اور کہہ سکیں کہ اس کے اندر غنا پائی جاتی ہے اور وہ غنی ہے سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی نیک بندہ صفات باری کا مظہر بنتے ہوئے غنا کی صفت بھی اپنے اندر پیدا کرنے کی توفیق اپنے ربّ سے پائے پھر وہ ایک معنی میں غنی بھی بن جاتا ہے ایک معنی میں وہ ربوبیت بھی کرتا ہے اور رحمانیت کے جلوے بھی دکھاتا ہے رحیمیت کے جلوے بھی دکھاتا ہے وہ معاف بھی کرتا ہے اورمَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن کے جلوے بھی دکھاتا ہے لیکن یہ سب نسبتی اور طفیلی چیزیں ہیں انسان اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق اور اس کی دی ہوئی توفیق سے صفات باری کا مظہر بنتا ہے اگر خدا کا سہارا نہ ہو تو پھر خداتعالیٰ کی صفات کا کون مظہر بن سکے؟ ہاں جب اللہ تعالیٰ خود اپنا سہارا دیتا ہے اور اپنے فضل سے نوازتا ہے تو انسان اس کی صفات کاملہ کا محدود دائرہ میں اور طفیلی طور پر مظہر بھی بنتا ہے اور اپنی اپنی استعداد کے مطابق بنتا ہے۔
    غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا اَلْغَنِیُّ یعنی کامل غنا والی ذات تو اللہ کی ذات ہے اور وہ غنی ہونے کے لحاظ سے تمہارا محتاج نہیں اور اَلْغَنِیُّ کے اندر یہ مفہوم بھی آ گیا ہے (جس کو پہلے فقرہ میں کھول کر بیان کیا گیا تھا) کہ تم میں سے ہر ایک کو اس کی احتیاج ہے تم زندہ نہیں رہ سکتے جب تک حَیّ خدا تمہاری زندگی کی ضرورت کو پورا کرنے والا نہ ہو اور اپنی حیات کاملہ سے تمہیں ایک عارضی زندگی نہ عطا کرے تمہاری استعدادیں اور قوتیں قائم نہیں رہ سکتیں جب تک کہ خدائے قیوم کا تمہیں سہارا نہ ملے۔ سب تعریفوں کی مالک اس کی ذات ہے اس لئے وہ تمہاری احتیاجوں کو پورا کرتا ہے اور تمہارے دل سے یہ آواز نکلتی ہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہے۔
    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے چونکہ تم اس کے محتاج ہو اور وہ تمہارا محتاج نہیں اس لئے تم اپنی فکر کرو اِنْ یَّشَاْیُذْھِبْکُمْ اگر وہ چاہے تو روحانی حیات سے تمہیں محروم کر دے وَیَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍ اور ایک اور ایسی قوم پیدا کر دے جو اپنے کو اس کے لئے فنا کر دے اور اس میں ہو کر ایک نئی زندگی پائے۔
    خلق جدید کا ایک نظارہ دنیا دیکھے گی پھر وہ اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے جیسا کہ نبی اکرمﷺ کے صحابہؓ نے فَنَا فِی الرَّسُوْلِ اور فَنَا فِی اللّٰہِ کے نتیجہ میں ایک نئی زندگی پائی اور ان کی خلق جدید ہوئی یہودیوں کے بر عکس ان کا یہ حال تھا کہ ایک موقعہ پر ایک جنگ کی تیاری کے لئے بہت سے اموال کی ضرورت تھی اور ان دنوں کچھ مالی تنگی بھی تھی اور دنیا ایسی ہی ہے کبھی فراخی کے دن ہوتے ہیں اور کبھی تنگی کے دن ہوتے ہیں اس موقعہ پر بھی تنگی کے ایام تھے اور جنگی ضرورت تھی نبی اکرمﷺ نے صحابہ کرامؓ کے سامنے ضرورت حقہ کو رکھا اور مالی قربانیاں پیش کرنے کی انہیں تلقین کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تو اپنا سارا مال لے کر آ گئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنا نصف مال لے کر آ گئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میری یہ پیشکش قبول کر لی جائے کہ میں دس ہزار صحابہؓ کا پورا خرچ برداشت کروں گا اور اس کے علاوہ آپ نے ایک ہزار اونٹ اور ستر گھوڑے دئیے اسی طرح تمام مخلص صحابہؓ نے اپنی اپنی توفیق اور استعداد کے مطابق مالی قربانیاں پیش کیں اور اللہ تعالیٰ نے اس کے بہترین نتائج نکالے۔
    ایک موقعہ پر ایک نو مسلم قبیلہ ہجرت کرکے مدینہ منورہ آ گیا اور ان کو آباد کرنے کا سوال تھا وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر آئے ہوں گے کیونکہ ان دنوں وہاں بھی مخالفت بہت زیادہ تھی جیسا کہ کبھی کبھی ہر زمانہ میں اسلام کے خلاف ہر ملک میں مخالفت پیدا ہوتی رہتی ہے اور مومن ان مخالفتوں کی پرواہ نہیں کیا کرتے کیونکہ ان کا بھروسہ اللہ پر ہوتا ہے دنیوی سامانوں پر نہیں ہوتا بہرحال ایک قبیلہ ہجرت کرکے مدینہ منورہ آیا تو ان کے آباد کرنے کے لئے مال کی ضرورت تھی۔ آنحضرتﷺ نے صحابہ کرامؓ کو مالی قربانیاں پیش کرنے کی تلقین کی آپؐ کی اس اپیل کے نتیجہ میں ہر شخص نے یہ سوچا کہ میرے پاس جو چیز زائد اور فاضل ہے وہ میں لا کر پیش کر دوں لیکن ’’فاضل‘‘ کے معنی انہوں نے وہی کئے تھے جو ایک مومن کیا کرتا ہے انہوں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ ہمارے پاس دو درجن کوٹ ہونے چاہئیں اور پچاس قمیصیں ہونی چاہئیں اور ایک دو پھٹی پرانی قمیصیں جو بیکار پڑی ہیں اور استعمال میں نہیں آتیں وہ لا کر دے دی جائیں بلکہ ان میں سے اگر کسی کے پاس کپڑوں کے دو جوڑے تھے تو اس نے کہا میں ایک جوڑے میں گزارہ کر سکتا ہوں دوسرا جوڑا زائد ہے چنانچہ اس نے وہ جوڑا پیش کر دیا۔ ایک صحابیؓ کے پاس کچھ سونا تھا انہوں نے یہ سوچا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا یہ عمدہ موقع ہے رسول کریمﷺ نے ضرورت ہمارے سامنے رکھی ہے اور ہمیں تلقین فرمائی ہے کہ ہم خداتعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال خرچ کریں چنانچہ وہ اشرفیوں کا ایک توڑا (جو وہ اچھی طرح اٹھا بھی نہیں سکتے تھے) لے آئے اور رسول کریمﷺ کی خدمت پیش کر دیا اور اس طرح غلہ کپڑوں اور روپے کے ڈھیر لگ گئے اور خداتعالیٰ نے مومنوں کے اس ایثار کے نتیجہ میں ایک پورے قبیلہ کی جائز ضرورتوں کو پورا کرنے کے سامان کر دئیے۔
    ان دو واقعات کے بیان کرنے سے اس وقت میری یہ غرض نہیں کہ میں یہ بتائوں کہ صحابہ کرامؓ کس قسم کی قربانیاں کیا کرتے تھے بلکہ میری غرض یہ بتانا ہے کہ ان قربانیوں کے پیچھے جس روح کا صحابہ کرامؓ نے مظاہرہ کیا تھا وہ کیا تھی؟ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے اور ان مثالوں سے صاف ظاہر ہے کہ ان قربانیوں کے پیچھے جو روح تھی وہ یہ تھی کہ نَحْنُ الْفُقَرَآئُ اِلَی اللّٰہ ہم اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں اور اَللّٰہُ ھُوَ الْغَنِیُّ الحَمِیدُاللہ کو کسی کی احتیاج نہیں تمام تعریفوں کا وہ مالک ہے ہمیں اپنی دنیوی اور اُخروی ضرورتوں کے لئے یہ قربانیاں دینی چاہئیں اور دنیوی اور اُخروی انعاموں کے حصول کے لئے ان قربانیوں کا پیش کرنا ہمارے لئے ضروری ہے۔
    ان مثالوں سے روز روشن کی طرح یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صحابہؓ کے اندر جو روح تھی وہ یہ تھی کہ وہ اَلْفُقَرَآئُ اِلَی اللّٰہِ ہیں منافق ہر جگہ ہوتے ہیں اس وقت میں ان کی بات نہیں کر رہا ان میں سے جو مخلص اور ایثار پیشہ تھے اور بھاری اکثریت انہی لوگوں کی تھی ان کی زبان پر یہودیوں کی طرح یہ نہیں آتا تھا کہ اِنَّ اللّٰہَ فَقِیْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِیَائُ بلکہ ان کی زبان پر یہ تھا، ان کے دل میں یہ احساس تھا اور ان کی روح میں یہ تڑپ تھی کہ وہ اَلْفُقَرَآئُ اِلَی اللّٰہِ ہیں نہ ان کی کوئی مادی ضرورت پوری ہو سکتی ہے اور نہ روحانی جب تک کہ اللہ تعالیٰ ان کی ضرورت کو پورا نہ کرے غرض جس سے ہم نے ہر شئی کو حاصل کرنا ہے اس کی رضا کے حصول کے لئے پانچ روپیہ یا پانچ لاکھ روپیہ قربان نہیں کیا جا سکتا؟ میں نے صحابہؓ کی ایک مثال دی ہے کہ جس کے پاس دو جوڑے کپڑے تھے اس نے ایک جوڑا کپڑے پیش کر دئیے تفصیل تو نہیں ملتی لیکن یہ امکان ہے کہ ان میں سے کسی کو اس قربانی کی توفیق ملی ہو اور اس کے بعد وہ مثلاً فوت ہو گیا ہو اور مزید قربانی کا اسے موقع نہ ملا ہو اسے تو اس قربانی کے نتیجہ میں اُخروی انعامات مل گئے لیکن اس کی اولاد کو اس ایک جوڑے کپڑوں کے نتیجہ میں اتنے اموال دئیے گئے کہ اگر وہ چاہتے تو اس قسم کے ایک ہزار جوڑ بنا لیتے۔ پس ہم خداتعالیٰ کے محتاج ہیں۔ ہم فقیر ہیں۔ خداتعالیٰ ہمارا محتاج نہیں۔
    حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بڑی پیاری بات کہی ہے جو قرآن کریم نے بھی نقل کی ہے اور وہ یہ ہے کہ رَبِّ اِنِّیْ لِمَا اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ (القصص:۲۵)کہ ہر چیز کی مجھے احتیاج ہے جو بھلائی بھی تیری طرف سے آئے میں اس کا محتاج ہوں ،میں اسے اپنے زور سے حاصل نہیں کر سکتا جب تک تو مجھے نہ دے وہ مجھے نہیں مل سکتی غرض حقیقی خیر چاہے دنیوی ہو یا اُخروی وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر نہیں ملا کرتی ویسے اللہ تعالیٰ کتوں کو بھی بھوکا نہیں مار رہا ،سؤر بھی اس کی بعض صفات کے جلوے دیکھتے ہیں ان کو بھی خوراک مل رہی ہے اور ان کی (مثلاً بیماریوں سے) حفاظت بھی ہو رہی ہے سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کسی زمانہ میں وباء کے طور پر اس قسم کے جانوروں کو ہلاک کر دے جس طرح وہ بعض دفعہ انسان کی بعض گنا ہگار نسلوں کو فنا کر دیتا ہے لیکن جو سلوک ان جانوروں سے ہو رہا ہے وہ اس سلوک سے بڑا مختلف ہے جو انسان سے ہو رہا ہے اور جو سلوک ایک کتے سے ہو رہا ہے جو سلوک ایک سؤر سے ہو رہا ہے جو سلوک ایک گھوڑے یا بیل یا پرندوں سے ہو رہا ہے اس کے مقابلہ میں جو سلوک ایک انسان سے ہو رہا ہے اس کو ہم خیر کہہ سکتے ہیں۔ باقی عام سلوک ہے گو ایک لحاظ سے وہ بھی خیر ہے لیکن صحیح اور حقیقی معنی میں وہ خیر نہیں اور انسان خیر کا محتاج ہے اگر اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر نہ ملے بلکہ اس سے عام سلوک ہو تو اس دنیا میں تو اس کا پیٹ بھر جائے گا مگر اس دنیا میں بھوک کیسے دور ہو گی یا مثلاً اس دنیا میں سورج کی تپش ہے اگر اسے ایک چھوٹا یا بڑا مکان مل گیا تو وہ اس تپش سے محفوظ ہو جائے گا لیکن اس دنیا میں جہنم کی آگ سے اسے کون بچائے گا؟اس دنیا میں اسے کوئی بیماری ہوئی تو کسی حکیم نے اسے روپیہ کی دوائی دے دی یا کسی ڈاکٹر نے دو ہزار روپیہ کی دوائی دے دی اور اسے آرام آ گیا یہ درست ہے لیکن اس دنیا میں جہنم میں جو بیماری ظاہر ہو گی ،جسم میں پیپ پڑی ہوئی ہو گی، کسی کو کوڑھ ہوا ہو گا۔ کسی کو فالج ہو گا اور کسی کو پتہ نہیں کون سی بیماری ہو روحانی طور پر جو اس کی یہاں حالت تھی وہ وہاں ظاہر ہو رہی ہو گی، وہاں کون ڈاکٹر اس کے علاج کے لئے آئے گا؟
    پس انسان کو ہر کام کے لئے اللہ تعالیٰ کی احتیاج ہے اور ہمیں ہر قسم کی قربانیاں اس کی راہ میں دینی چاہئیںاس وقت اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ پر (مجھ پر بھی اور آپ پر بھی) بڑا فضل کیا ہے اور ہمیں توفیق عطا کی ہے کہ ہم اس کے مسیح موعود پر ایمان لائیں اور اس کی راہ میں اس نیت سے قربانیاں دیں کہ اس کی رضا ہمیں حاصل ہو اور دنیا میں اسلام غالب آ جائے اس وقت غلبہ اسلام کے راستہ میں جتنی ضرورتیں بھی پیش آتی ہیں وہ آپ لوگوں نے ہی پوری کرنی ہیں۔ اگر آپ ان ضرورتوں کو پورا نہیں کریں گے تو کھڑے ہو کر یہ تقریریں کرنا کہ اسلام کا غلبہ مقدر ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے گا کہ ہمارے ذریعہ سے اسلام غالب آئے بے معنی چیز ہے، اللہ تعالیٰ دنیا میں اسلام کو غالب تو کرے گا لیکن اگر ہم بحیثیت جماعت خلق جدید کے مستحق نہیں ٹھہریں گے تو دنیا میں کسی اور قوم میں خلق جدید کا نظارہ نظر آئے گا اسلام تو بہرحال غالب آئے گا لیکن کیوں نہ وہ ہمارے ہاتھ سے غالب آئے، کیوں غیر؟اللہ کے فضلوں کے وارث بنیں اور ہم محروم رہ جائیں۔
    ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہم بھی اور ہماری بعد میں آنے والی نسلیں بھی اور وہ لوگ بھی جو ہمارے ساتھ بعد میں آ کر شامل ہوں گے سارے ہی خدا کے فضلوں کے وارث بنیں اور اس کے انعامات کے مستحق ٹھہریں پس بخل کو دل سے نکال دینا چاہئے اور اس یقین کامل کے ساتھ نکال دینا چاہئے کہ خدا کی راہ میں بخل دکھانا جہنم کو مول لینا ہے اور اس سے زیادہ شر اور کوئی ہے نہیں۔ غرض اگر ہم خیر چاہتے ہیں تو ہمیں دل سے بخل نکالنا پڑے گا اور خداتعالیٰ کے در پر کھڑے ہو کر یہ کہنا پڑے گا کہ اے خدا! سب کچھ تو نے ہی ہمیں دیا ہے ہم سے جتنا تو چاہتا ہے لے لے ہم جانتے ہیں کہ زمین و آسمان کی میراث تیری ہی ہے سب کچھ تیرا ہے۔ تو ہمارا امتحان لیتا ہے آزماتا ہے اور تو ہم سے یہ چاہتا ہے کہ ہم ان چیزوں کو جو تیرے فضل نے ہمیں دی تھیں تیرے حضور ساری (اگر ساری کی ساری دینے کا حکم ہو) یا کچھ (اگر کچھ دینے کا حکم ہو) پیش کر دیں۔ سو ہم نے یہ چیزیں اس یقین پر اور اس دعا کے ساتھ پیش کر رہے ہیں کہ تو ہم پر رحم کرے اور اپنی دینی اور دنیوی نعمتوں سے ہمیں نوازے اور اس دنیامیں بھی تیری رضا کی نظر ہم پر رہے اور اس دنیا میں بھی ہم تیری رضا حاصل کرنے والے ہوں۔
    اس وقت میں احباب کو دو چندوں کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں ایک تو چندہ تحریکِ جدید ہے اور دوسرا چندہ وقفِ جدید۔ تحریکِ جدید کی آمد اب تک جو ہوئی ہے وہ تسلی بخش نہیں گو وہ ہے کافی (جماعت بڑی قربانی کرنے والی ہے) لیکن بعض احبابِ جماعت تو چست ہوتے ہیں مگر مقامی طور پر نظامِ جماعت سست ہوتا ہے اور اس طرح کاغذوں میں کمی نظر آجاتی ہے ہماری دو جماعتیں ہیں جن کاچندہ زیادہ ہوتا ہے اور ان کے تحریکِ جدید کے وعدے بھی زیادہ ہوتے ہیں وہ دو جماعتیں ربوہ اور کراچی ہیں ربوہ ابھی تک اس وعدے سے پیچھے ہے جو اس نے پچھلے سال انصار اللہ کے اجتماع کے موقع پر کیا تھا اسی طرح کراچی کی جماعت بھی ابھی اس وعدہ سے پیچھے ہے ( وعدوں کے لحاظ سے ادائیگی کے لحاظ سے نہیں) جومجموعی طور پر کراچی کی طرف سے پچھلے سال انصار اللہ کے اجتماع کے موقع پر ہوا تھا کراچی کی جماعت نے مجموعی وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ہم احباب جماعت میں تحریک کر کے ایک لاکھ ایک ہزار روپیہ تحریکِ جدید کی مد میں ادا کریں گے اس وعدہ میں ابھی سات آٹھ ہزار روپیہ کی کمی ہے ربوہ کا وعدہ ستر ہزار روپیہ تھا اس وعدہ کے لحاظ سے ربوہ بھی سات ہزار پیچھے ہے یعنی ابھی تک ۶۳ ہزار روپیہ کے وعدے ہوئے ہیں۔
    غرض وعدے بھی بڑھانے ہیں اور ادئیگیاں بھی تیز کرنی ہیں تاکہ جو کام خدا کے فضل سے کامیابی کے ساتھ تحریکِ جدید کی قربانیوں کے نتیجہ میں ساری دنیا میں ہو رہا ہے وہ جاری رہ سکے اور ترقی کرسکے تحریکِ جدید کے کام نے آہستہ آہستہ ترقی کی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہماری ضرورتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔ جب یہ کام شروع ہوا تھا تو سارا مالی بوجھ ہندوستان (اس وقت تقسیمِ ملک نہیں ہوئی تھی) کی جماعتوں پر تھا پھر بیرونی جماعتیں بڑھیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں بھی اخلاص اور ایثار کا جذبہ پید اکیااور اس وقت وہ( غیر ممالک کے احمدی) پاکستان کے کل چندہ تحریکِ جدید سے آٹھ گنا زیادہ چندہ ادا کر رہے ہیں گویا پاکستان کی جماعتیں اخراجات ( جوبیرونی ملک میں ہو رہے ہیں) کا آٹھواں حصہ بلکہ اس سے بھی کم (شائد نواں حصہ) ادا کررہی ہیں پھر اس رقم میںسے بھی کچھ رقم باہر نہیں جاسکتی کیونکہ اس وقت فارن ایکسچینج پر پابندی لگی ہوئی ہے۔ یہاں کے کارکنوں کی تنخواہوں وغیرہ اور خط وکتابت پر بہت سے اخراجات یہاں کرنے پڑتے ہیں۔غرض ہمارا چندہ تحریکِ جدید کے کل چندہ کا کوئی آٹھواں یا نواں حصہ بنتا ہے اگر ہم اس کی ادائیگی میں بھی سستی کریں توہم سلسلہ کی بڑھتی ہوئی ضرورتوں کو کیسے پورا کریںگے حالات بدل رہے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ ہماری ضروتیں بھی بڑھ رہی ہیں مثلاً آپ دیکھیں ایک ملک میں آپ نے کام کیا وہاں عیسائیت بڑے زوروں پر تھی اور وہ امید رکھتی تھی کہ عنقریب وہ سارا ملک عیسائی ہوجائے گا پھر ہمارے مبلغ خدا کی توفیق سے وہاں پہنچے اور خدا کی توفیق سے ہی ان کے کاموں میں برکت پیدا ہوئی اور آج وہاں کے حالات بدلے ہوئے ہیں اور اس قدر بدلے ہوئے ہیں کہ ایک ملک سے (بہت سے خطوط آتے رہتے ہیں میں ایک مثال دے رہا ہوں) مجھے مطالبہ آیا کہ یہاں کے حالات کے لحاظ سے آپ فوراً نواور مبلغ ہمارے ہاں بھجوادیں یہ افریقہ کا ایک ملک ہے اور لکھنے والے بھی افریقن احمدی ہیں غرض دنیا کے حالات بالکل بدل رہے ہیں اور جب حالات بدلے ہیں تو ہماری ضروتیں بھی بدلیں گی مثلاً ایک ملک میں ہمارامبلغ گیا اس نے کام کی ابتداء کی اور اس وقت وہ کام تھوڑا تھالیکن اللہ تعالیٰ نے اس میں برکت ڈالی اور وہ پھیلا اور اب ہم الحمدا للہ کہتے تھکتے ہیں اور اس کا وہ سزاوار ہے اور جب ہمارا کام پھیلا اور بڑھا تو ہمیں اور زیادہ روپیہ کی ضرورت ہوئی لیکن اگر ہم یہ کہیں کہ ہم تو یہ ذمہ داریاں نبھانے کے لئے تیار نہیں تو یہ کئے کرائے پر پانی پھرنے والی بات ہے اسی لئے خدائے قادر اور توانا نے کہاکہ کام تو نہیں رکے گا لیکن پھر مجھے خلق جدید کرنی پڑے گی ہمیں یہ دعاکرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اندر ہی زندگی قائم رکھے اور ہماری حیات روحانی ہم سے نہ چھینے اور ہمیں تحریکِ جدید کے چندوں کو بڑھانے کے لئے کوشش کرنی چاہئے کیونکہ میں نے بتایا ہے کہ بہت جماعتوں نے ابھی وہ وعدے بھی پورے نہیں کئے جو انہوں نے مجموعی لحاظ سے پچھلے سال انصار اللہ کے اجتماع پر کئے تھے اور پھر ادائیگیاں بھی جلد تر پوری کرنی چاہئے دفتر کا اندازہ ہے کہ اگر سال رواں کی آمد پچھلے سال کی آمد سے دس فیصدی نہ بڑھی تو ہماری بڑھتی ہوئی ضرورتیں پوری نہیں ہوسکیں گی دوسرے مَیں وقفِ جدید کے چندہ کی طرف جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وقفِ جدید کا سال رواں کا چند ہ تو خدا تعالیٰ کے فضل سے پچھلے سال سے کچھ اچھا ہے اور امید ہے کہ وہ سال کے آخر تک پورا ہوجائے گا سال رواں کا بجٹ آمد ایک لاکھ چھیاسٹھ ہزار روپیہ تھا اس میں سے ایک لاکھ دس ہزار روپیہ ۸؍اخاء تک وصول ہوچکے تھے گذشتہ جمعہ میرا خیال تھا کہ خطبہ جمعہ میںاس چند ہ کے متعلق تحریک کروں لیکن میں بیمار ہوگیا اور جمعہ میں نہ آسکا بہر حال ۸؍اخاء تک ایک لاکھ دس ہزار روپیہ وصول ہوچکا تھا اور اس عرصہ میں اور وصولی بھی ہوگی اور امید ہے ساری رقم وصول ہوجائے گی انشاء اللہ لیکن جنہوں نے وعدے لکھوائے ہیں وہ اپنے وعدے پورے کریں اگر سارے وعدے پورے ہوجائیں بجٹ سے کہیں زیادہ وصول ہوجائے گا۔
    اطفال الا احمدیہ کا جو پچاس ہزار چندہ تھا ا س میں سے صرف گیارہ ہزار روپیہ وصول ہوا ہے میری یہ خواہش بھی ہے اور میں دعا بھی کرتا ہوں کہ جماعت کے نوجوان بچے اور چھوٹے بچے جنہیں مَیں نے اس میں شامل کیا ہوا ہے وقفِ جدید کاسارا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائیں اور میرے نزدیک ایسا ممکن ہے لیکن ان کے والدین اور سرپرست اپنی ذمہ داری کااحساس رکھتے یا انہیں ذمہ داری کااتنا احساس نہیں جتنا ہونا چاہئے انہیں یہ سوچنا چاہئے کہ وہ دوچیزوں میں سے کونسی چیز پسند کریں گے۔ ایک یہ کہ ان کے بچے بچپن کی عمر سے ہی بخل کی عادتوں سے چھٹکارا حاصل کرکے اس دنیا میں اور اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وراث ہوتے چلے جائیں یا وہ یہ پسند کریں گے کہ جہنم کے اندر ان بچوں کی گردنوں میں وہ طوق ہو جس کاذکر قرآن کریم کی اس آیت میں کیا گیا ہے جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے باپ یقینا پہلی بات کوپسند کریں گے لیکن صرف دعویٰ سے نتیجہ نہیں نکلا کرتا۔ یہ مادی دنیا عمل کی دنیا ہے جو شخص عمل (دعا بھی ایک عمل ہے جب میں عمل کہتا ہوں تو میری مراد ہر اس عمل سے ہے جس کے کرنے کی ہمیں اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہے اور جس کے کرنے کا اس نے ہمیں حکم فرمایاہے ) کرتا ہے تو اس عمل کا ہی نتیجہ اُسے ملتا ہے جو شخص یہ کہے کہ مسجد میں با جماعت نماز پڑھنی چاہئے سوائے عذر معقول کے اور صبح شام تک وہ یہ وعظ کرتا رہے لیکن ایک نماز بھی مسجد میں پڑھنے نہ آئے توکیا آپ سمجھتے ہیں اس کوبا جماعت نماز کاثواب مل جائے گا؟ اس لئے کہ بارہ گھنٹے اس کے منہ سے ایسے فقرات نکلتے رہے کہ مسجد میںجاکر نماز پڑھنی چاہئے ہرگزنہیں پس اگر آپ کے دل میں یہ احساس ہو کہ کہیں ہمارے بچوں کو بخل کی عادت نہ پڑ جائے اور اس عادت میں وہ پختہ نہ ہو جائیں تو مہینہ میں ایک اٹھنی (یا جواو ر بھی غریب ہیں یعنی جو خاندان اقتصادی لحاظ سے اچھے نہیں ان کے متعلق میں نے کہا ہے کہ ایک خاندان کے سارے بچے مل کر ایک اٹھنی مہینہ میں دیں) ایسی چیز نہیں جوبوجھ معلوم ہو صرف توجہ کی کمی ہے اور یہ حالت دیکھ کر مجھے شرم آتی ہے پس میں بچوں کو بھی اور ان کے والدین اور سرپرستوںکو بھی اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ہم نے آہستہ آہستہ عادت ڈال کر وقفِ جدید کے نظام کو مالی لحاظ سے بچوں کے سپرد کر دیناہے تو ابھی تو ابتداء ہے اورپچاس ہزار روپیہ کی رقم ان کے لئے مقرر کی گئی ہے لیکن یہ رقم دو لاکھ اڑھائی لاکھ یا تین لاکھ ہوجائے گی ضرورتیں بڑھیں گی توقربانی جذبہ بھی بڑھے گا اور ایثار بھی بڑھے گا اور چندہ بھی بڑھتا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جماعت کے بچوں کو توفیق دے گا کہ وہ اس چندہ میں زیادہ سے زیادہ حصہ ڈالیں اور یہ کوئی ایسی رقم نہیں ہے جو ادا نہ ہواس وقت جماعت کی جو اقتصادی حالت ہے اس کو سامنے رکھیں تو یہ مشکل امر نہیںکہ بچے اس بوجھ کو اٹھا لیںلیکن وہ تو بچے ہیں اصل ذمہ داری تو ان کے سرپرستوں اور والدین پر ہے ایک بچہ مثلاً پانچ سال کا ہے اب اللہ تعالیٰ اس سے یہ نہیں پوچھے گا کہ تم نے میری راہ میں قربانی کیوںنہیںدی کیونکہ ہرنیک عمل کی ایک بلوغت ہوتی ہے اور وہ ابھی مالی قربانی کی بلوغت کو نہیں پہنچا جب وہ اس بلوغت کوپہنچے گا تو اگر آپ نے اس کی تربیت نہیں کی اور اس میں بخل پید ا ہو گیا اور بخل کی عادت پختہ ہوگئی تو پھر جس طرح وہ خدا کے سامنے جواب دہ ہو گا آپ بھی جواب دہ ہوںگے۔
    پس ابھی سے اپنی او راپنے بچوںکی تربیت کریں اور ان کو خد اکی راہ میں خرچ کرنے کی عادت ڈالیں وقفِ جدید کی رقم اس وقت تھوڑی ہے کہ میںسمجھاتھا اسے بچوں کوخداتعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی عادت ڈالنے کے لئے استعمال کرنا چاہئے ڈیڑھ لاکھ دو لاکھ روپیہ چندہ تو کچھ بھی نہیں اور پھر خاص طور پر جماعت کی موجودہ اقتصادی حالت کے لحا ظ سے۔ خداتعالیٰ کاجماعت کابڑا فضل ہے پچھلے سال میںنے ایک ضلع کی زمین کی ملکیت کے متعلق اندازہ لگایا تھا کہ اگر ہمارے دوست دیسی بیج کی بجائے میکسی پاک اور انڈس بیج بوئیں تو اگر اخلاص اتنا ہی رہے جتنا اب ہے تو اس جماعت کی آمد نئی گندم سے اتنی بڑھ جاتی ہے کہ اس کاچندہ بڑھ کر دس لاکھ ہوجائے گا غرض اللہ تعالیٰ نے اتنا فضل کیا اور یہ کوئی بڑی رقم نہیں جو بچوں سے مانگی جارہی ہے یہ رقم مانگی بچوں سے جارہی ہے اور بچوں کے ہاتھ سے ہمیںملنی چاہئے ایک بچہ جو بالکل چھلے کا ہی ہو ماں اگر چاہے تو اس کے ہاتھ سے چندہ دلوا سکتی ہے۔ کیا ہم پیدائش کے وقت ا س کے کان میں اذان نہیںکہتے آپ اس کے ہاتھ میںاٹھنی پکڑا دیں یا دو ماہ کا چندہ اکٹھا دینا ہو تو روپیہ کانوٹ ا س کے ہاتھ میں دے دیں اور آگے کرد یںاور لینے والے سے کہیں اس سے لے لو اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈالے گا مگر لینا ہم نے بچہ سے ہی ہے ہاں! ذمہ داری بہرحال والدین اور سر پرستوں پر ہی ہے۔
    پس میں جماعت کے احباب کوتوجہ دلانا چاہتا ہوں کہ وہ اس طرف فوری طور پر متوجہ ہوں کیونکہ ابھی پچاس ہزارر وپیہ سے صرف گیارہ ہزار وصول ہوا ہے اور آپ وصولی کوسالِ رواں میں پچاس ہزار تک بہرحال آپ کو پہنچانا چاہئے اللہ تعالیٰ آپ کوبھی توفیق دے اور مجھے بھی توفیق دے کہ ہم ذمہ واری کو سمجھیں اور اسے اس رنگ میں نبھائیں کہ وہ ہم سے خوش ہو جائے اور اس کی رضا ہمیں حاصل ہوجائے۔ آمین
    (روزنامہ الفضل ربوہ مورخہ ۲۶؍ اکتوبر ۱۹۶۸ء صفحہ۲ تا۶)
    ٭…٭…٭

    تحریک جدید دفتر دوم کے معیار اخلاص کو اور دفتر سوم میں شامل ہونے والوں کی تعداد کو بڑھانے کی کوشش کی جائے

    (خطبہ جمعہ فرمودہ۲۵ ؍اکتوبر ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ ربوہ )
    ء ء ء
    ٭ تحریک جدید کے پینتیسویں سال کا اعلان۔
    ٭ آئندہ نسل کے دل میں خدمت اسلام اور انفاق فی سبیل اللہ کا جذبہ تیزکریں۔
    ٭ احمدیت یعنی حقیقی اسلام، انسان پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے۔
    ٭ سچی بات یہی ہے کہ تمہیں ہر آن، ہر لمحہ اور ہر چیز کیلئے اللہ تعالیٰ کی احتیاج ہے۔
    ٭ زمینداروں کو چاہئے کہ وہ اپنے کھیتوں میں جا کر ضرور دعا کیا کریں خصوصاً وہ دعا جو قرآن نے سکھائی ہے۔




    تشہد، تعوذ اور سورئہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت قرآنیہ کی تلاوت فرمائی۔
    ھٰٓاَنْتُمْ ھٰٓؤُلَآئِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَمِنْکُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ وَمَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِہٖ ط وَاللّٰہُ الْغَنِيُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَآئُ وَاِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ ثُمَّ لَایَکُوْنُوْٓا اَمْثَالَکُمْo(محمّد: ۳۹)
    اس کے بعد فرمایا:۔
    اللہ کے نام کے ساتھ جو قادر و توانا اور ربوبیت تامہ کا مالک ہے اور جس کے قبضہ میں تمام دل ہیں جب وہ چاہتا ہے اور ارادہ کرتا ہے تو اپنے فضل سے دلوں میں نیک تبدیلیاں پیدا کر دیتا ہے میں تحریک جدید کے سال نو کا اعلان کرتا ہوں تحریک جدید کو شروع ہوئے ایک لمبا عرصہ ہو چکا ہے اور اس وقت اس کے مجاہدین کے تین گروہ ہیں جن کو تحریک جدید کی اصطلاح میں دفاتر کہا جاتا ہے یعنی دفتر اوّل، دفتر دوم اور دفتر سوم۔ سالِ رواں کا جب ہم تجزیہ کرتے ہیں تو یہ بات ہمارے سامنے آتی ہے کہ دفتر اوّل (جس کی ابتداء پر ۳۴ سال گزر چکے ہیں) کا وعدہ سال رواں کا ایک لاکھ پچپن ہزار روپیہ ہے اور دفتر دوم میں شامل ہونے والوں کے وعدے تین لاکھ چون ہزار ہیں اور دفتر سوم میں شامل ہونے والوں کے وعدے اکتالیس ہزار ہیں اگر مختلف دفاتر میں شامل ہونے والوں کی اوسط فی کس آمد نکالی جائے تو دفتر اوّل کے مجاہدین کی اوسط ۶۴ روپے بنتی ہے بہت سے احباب اس سے بہت زیادہ دیتے ہوں گے اور جو غریب ہیں وہ اپنی طاقت اور وسعت کے مطابق ہی تحریک جدید میں حصہ لیتے ہوں گے لیکن اوسط ان کی ۶۴ روپے فی کس بنتی ہے اس کے مقابلہ میں دفتر دوم کے مجاہدین کے تحریک جدید کے چندہ کی اوسط انیس روپے بنتی ہے اور ۶۴ روپے اوسط کے مقابلہ میں یہ بہت کم ہے۔
    دونوں دفاتر کی اوسط میں بڑا فرق ہے دفتر سوم کے مجاہدین مال کی اوسط چودہ روپے فی کس بنتی ہے اس میں اور دفتر دوم کی اوسط میں فرق تو ہے لیکن زیادہ فرق نہیں خصوصاً جب یہ بات ہمارے مدنظر رہے کہ اس میں شامل ہونے والے بہت سے بچے بھی ہیں جنہوں نے ابھی کمانا شروع نہیں کیا ان کے والدین ان کی طرف سے کچھ چندہ تحریک جدید میں ادا کر دیتے ہیں اور جو کمانے والے ہیں وہ اپنی کمائی کی عمر کے ابتدائی دور میں سے گزر رہے ہیں کیونکہ دنیا کا یہ قاعدہ ہے کہ جب کوئی انسان ملازمت کرتا ہے تو اسے عام طور پر گریڈڈ (Graded) تنخواہ ملتی ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کی تنخواہ کا ابتدائی حصہ اسے ملتا ہے اور پھر ہر سال ترقی ہوتی رہتی ہے اس طرح اس کی آمد اس کی تعلیم قابلیت اور استعداد کے لحاظ سے کم ہوتی ہے پھر جوں جوں اس کا تجربہ اور عمر بڑھتی جاتی ہے اس کی آمد میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور اگر ساتھ ہی اخلاص بھی اپنی جگہ قائم رہے تو اس کے چندہ میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے لیکن بسا اوقات اللہ تعالیٰ تھوڑی نیکی کرنے والوں کو نیکیوں کی مزید توفیق عطا کرتا ہے اخلاص کی نسبت بھی بڑھ جاتی ہے اور ان کے چندے بھی بڑھ جاتے ہیں۔
    اس لحاظ سے جب میں نے غور کیا تو میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ ہم آج دفتر دوم میں شامل ہونے والوں سے یہ امید نہیں کر سکتے کہ ان کی اوسط بھی ۶۴ روپے فی کس تک پہنچ جائے کیونکہ ان میں عمر اور ادھیڑ عمر کے بھی ہیں کم تربیت یافتہ بھی ہیں اور بعد میں داخل ہونے والے بھی ہیں لیکن میں نے سوچا اور غور کیا اور مجھے یہ اعلان کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی کہ انیس روپے اوسط بہت کم ہے اور آئندہ سال جو یکم نومبر سے شروع ہو رہا ہے جماعت کے انصار کو (دفتر دوم کی ذمہ داری آج میں انصار پر ڈالتا ہوں) جماعتی نظام کی مدد کرتے ہوئے (آزادانہ طور پر نہیں) یہ کوشش کرنی چاہئے کہ دفتر دوم کے معیار کو بلند کریں اور اس کی اوسط انیس روپے سے بڑھا کر تیس روپے فی کس پر لے آئیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ چونسٹھ روپے فی کس اوسط پر لانا ابھی مشکل ہو گا اور یہ ایسا بار ہو گا جسے شاید ہم نبھا نہ سکیں لیکن مجھے یقین ہے کہ اگر ہم کوشش کریں تو اس معیارکو دفتر اوّل کے چونسٹھ روپے فی کس کے مقابلہ میں انیس روپیہ سے بڑھا کر تیس روپیہ تک پہنچا سکتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ ہمت اور توفیق اور مالوں میں برکت دے، اخلاص میں برکت دے تو یہی لوگ تیس سے چالیس اوسط نکالیں گے پھر پچاس اوسط نکالیں گے پھر ساٹھ اوسط نکالیں گے پھر ستر اوسط نکالیں گے اور دفتر اوّل سے بڑھ جائیں گے لیکن آئندہ سال کے لئے میں یہ امید رکھتا ہوں کہ جماعتیں اس طرف متوجہ ہوں گی اور میں حکم دیتا ہوں کہ انصار اپنی تنظیم کے لحاظ سے جماعتوں کے ساتھ پورا پورا تعاون کریں اور کوشش کریں کہ آئندہ سال دفتر دوم کے وعدوں اور ادائیگیوں کا معیار انیس روپیہ فی کس اوسط سے بڑھ کر تیس روپیہ فی کس اوسط تک پہنچ جائے اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ سال رواں کے جو تین لاکھ چون ہزار روپے کے وعدے ہیں وہ پانچ لاکھ چالیس ہزار روپیہ تک پہنچ جائیں گے۔ دفتر سوم کے متعلق میرا تاثر یہ ہے کہ اگرچہ ان کے حالات کے لحاظ سے چودہ اور انیس کا زیادہ فرق نہیں لیکن اس دفتر میں شامل ہونے والوں کی تعداد بہت کم ہے یہ ابھی تک تین ہزار تک پہنچے ہیں لیکن ہم باور نہیں کر سکتے کہ ہماری آئندہ نسل زیادہ ہونے کی بجائے تعداد میں پہلوں سے کم ہو گئی ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جو وعدہ دیا تھا کہ میں ان کے نفوس میں برکت ڈالوں گا اس وعدہ کو وہ سچے وعدوں والا پورا کر رہا ہے اور ہماری آئندہ نسل میں غیر معمولی برکت ڈال رہا ہے دفتر سوم والوں کا عمر کے لحاظ سے جو گروپ بنتا ہے یعنی اس عمر کے احمدی بچے اور اس زمانہ میں نئے احمدی ہونے والے ان میں سے جس نسبت سے افراد کو تحریک جدید میں شامل ہونا چاہئے اس نسبت سے یہ تعداد تین ہزار سے بڑھنی چاہئے اگلے سال کے لئے میں یہ امید کرتا ہوں کہ جماعت کوشش کرکے اس تعداد کو تین ہزار سے پانچ ہزار تک لے جائے گی اور ان کی اوسط چودہ سے اونچی کرکے بیس تک لے جائے گی اور اس طرح ان کا چندہ ایک لاکھ روپیہ بن جائے گا اگر ہم اس میں کامیاب ہو جائیں تو اس کے نتیجہ میں یعنی ہم اپنی کوششوں میں دعائوں اور تدبیر اور اللہ کے فضل کو جذب کرنے کے نتیجہ میں کامیاب ہو جائیں گے اور ہمارے وعدے (خدا کرے کہ وصولی بھی اس کے مطابق ہو) پانچ لاکھ پچاس ہزار سے بڑھ کر سات لاکھ نوے ہزار بن جاتے ہیں اور اس کیلئے جو تدبیر میں بتا رہا ہوں وہ علاوہ دعا کے یہ ہے کہ ہم دفتر دوم کے اخلاص کے معیار کو بڑھانے کی کوشش کریں اور ان کی اوسط کو انیس سے بڑھا کر تیس تک لے جائیں اور آئندہ نسل کے دل میں خدمت اسلام اور انفاق فی سبیل اللہ کا جذبہ تیز کریں اور اللہ تعالیٰ ہماری کوششوں کو کامیاب کرے تو ان کی تعداد تین ہزار سے بڑھ کر پانچ ہزار تک پہنچ جائے گی میرے اندازہ کے مطابق تویہ تعداد بہت بڑھ سکتی ہے لیکن اس زاویہ نگاہ سے کہ ہماری یہ پہلی کوشش ہو گی میں نے صرف پانچ ہزار تک کہا ہے ویسے میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعتیں کوشش کریں تو اسے آسانی سے دس ہزار تک لے جا سکتی ہیں لیکن اس تعداد کو پانچ ہزار تک تو انہیں ضرور لے جانا چاہئے اور ان کے معیار کی اوسط کو بھی چودہ سے بیس تک کر دینا چاہئے تا ہمارے چندے ساڑھے پانچ لاکھ سے بڑھ کر قریباً آٹھ لاکھ تک چلے جائیں۔
    جب ضرورت پر ہم نظر ڈالتے ہیں تو وہ اس سے زیادہ ہے میں نے غالباً پچھلے خطبہ میں بھی بتایا تھا کہ جب کام شروع کیا گیا تھا تو بعض ممالک میں ہمارا ایک مبلغ گیا تھا انہوں نے وہاں جا کر کام کی ابتدا کی انہوں نے خدا کی راہ میں قربانیاں دیں اور خداتعالیٰ نے اپنے فضل اور احسان سے ان قربانیوں کو قبول کیا اور جماعت کی دعائیں رنگ لائیں ان کے اچھے نتائج نکلے۔ اب وہاں جماعت کی تعداد بڑھ گئی ہے احمدیت اور اسلام کی طرف رغبت بڑھ رہی ہے اور جس ملک میں ہمارا ایک مبلغ گیا تھا اور اس کو بھی ہم ٹھیک طرح سے نہ کھلا سکتے تھے، نہ پہنا سکتے تھے، نہ اس کا علاج کر سکتے تھے، غربت میں قربانی اور اخلاص اور ایثار کی چھت کے نیچے رہ کر اس نے کام کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے کام میں برکت ڈالی اور اب انہی ممالک میں سے بعض ایسے ہیں جہاں ہمارے چالیس چالیس سکول بن گئے ہیں بڑی کثرت سے وہاں احمدیت اور اسلام پھیل گیا ہے اور ان لوگوں کو یہ احساس ہے کہ احمدیت کے طفیل جو صحیح اسلام انہیں ملا ہے وہ نعمت عظمی ہے قرآن کریم کی برکتوں اور رسول کریمﷺ کے فیوض سے جب وہ حصہ پاتے ہیں تو ان کے دل خدا کی حمد سے معمور ہو جاتے ہیں اور وہ اپنے ان بھائیوں کے بھی شکر گزار ہوتے ہیں جو دور دراز ملک سے آئے اور انہیں حقیقی اسلام سے متعارف اور روشناس کرایا اور چونکہ اب ان کے دل میں احساس پیدا ہو چکا ہے کہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام انسان پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے اس لئے ان کے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ ہم ہی نہیں، ہمارے قبیلہ کا ہر فرد اسلام کی برکتوں سے حصہ لینے والا ہو پھر وہ ہمیں تنگ کرتے ہیں کہ آپ نے جو چار مبلغ ہمارے ملک میں بھیجے ہیں یہ کافی نہیں اور میں نے بتایا تھا کہ ایک ایک ملک نو نو مبلغوں کا مطالبہ کر دیتا ہے اس مطالبہ کو پورا کرنے کے لئے نئے مبلغ تیار ہونے چاہئیں اور نئے مبلغ تیار کرنے میں خرچ بھی زیادہ ہو گا اور ان مبلغوں کو دوسرے ممالک میں بھیجنے کے لئے زیادہ روپیہ کی ضرورت ہو گی خصوصاً موجودہ حالات میں کہ ہمیں فارن ایکسچینج بہت تھوڑا ملتا ہے اس لئے بونس وائوچر خرید کر کرنا پڑے گا جو بہت زیادہ مہنگا پڑتا ہے غرض بڑی مشکل ہے اور روپیہ کی بڑی ضرورت ہے۔
    اللہ تعالیٰ کے ان فضلوں کو جب ہم دیکھتے ہیں تو بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے کاموں میں برکت ڈالی ہے ہمارا فلاں ملک میں صرف ایک آدمی گیا تھا اب اس ملک میں جماعت اس طرح پھیل گئی ہے کہ وہاں ہمارے اتنے سکول ہیں اور اتنی مساجد ہیں لیکن جب ہم اپنی کوششوں کے نتائج کو بیان کرتے ہیں تو اصل ضرورتیں بھی ہمارے سامنے آ جاتی ہیں اگر کسی ملک میں پچاس یا سو مساجد بن گئی ہیں تو ان مساجد کو آباد کرنے کے لئے مستحکم تربیتی نظام کی ضرورت پڑ گئی پھر اگر ایک قبیلہ میں سے دس پندرہ یا بیس صد افراد احمدی مسلمان ہو گئے ہیں بد مذہب کو انہوں نے چھوڑ دیا ہے دہریت کو انہوں نے الوداع کہی ہے عیسائیت سے وہ بیزار ہوئے ہیں تو باقیوں کو اسلام سکھانے کی ضرورت ہے پھر جو مسلمان ہو گئے ہیں انہوں نے اسلام کے نور کو دیکھا ہے اور اللہ اور اس کی صفات کو پہچانا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے بھائی بدقسمت ہیں انہیں خوش قسمت بنانے کے لئے اور کوشش کرو غرض ہر چیز جو ہمارے لئے فخر کا باعث بنتی ہے وہ ایک دوسرے زاویہ نگاہ سے ہماری ضرورت کا اظہار کر دیتی ہے اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ہمیں مزید قربانیاں دینی پڑیں گی ورنہ ہمارا انجام بخیر نہیں ہو گا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بار بار یہ کہا ہے کہ انجام بخیر ہونے کی دعا مانگو کیونکہ وہ کام جو ستر فیصد ہو جاتا ہے اور ۱۰۰ فیصد ہونے سے رہ جاتا ہے وہ ایک فیصد بھی نہیں ہوتا ایک شخص دس پرچے دیتا ہے ان دس پرچوں میں سے وہ نو میں کامیاب ہو جاتا ہے (اور یہ نوے فیصد کامیابی ہو گئی) لیکن دسویں پرچہ میں فیل ہو جاتا ہے تو جن نو پرچوں میں کامیاب ہوا تھا عملاً ان میں بھی فیل ہو گیا اسے اگلی کلاس میں نہیں چڑھایا جائے گا پس انجام بخیر ہونا چاہئے یعنی ہر کوشش ہر جدوجہد اور ہر سٹرگل (Struggle) اپنے کامیاب انجام تک پہنچنی چاہئے اگر وہ کامیاب انجام سے ایک قدم پہلے رک جاتی ہے تو ہماری ساری کوشش ضائع ہو جاتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہماری پہلی کوشش کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے جو فضل کیا ہے اور اسلام کو غالب کرنے کے جو سامان پیدا کئے ہیں ان ضرورتوں کو ہم پورا کریں اور وقت کے تقاضا کو پورا کرتے ہوئے ہم ہر اس قربانی کو خدا کے حضور پیش کر دیں جس کا آج کی ضرورت تقاضا کرتی ہے اگر ہم آج کی ضرورت کا تقاضا پورا نہیں کرتے تو پہلے جو تقاضے ہم نے پورے کئے وہ بھی رائیگاں جائیں گے کیونکہ ان کا آخری اور حقیقی نتیجہ نہیں نکلے گا لیکن اگر ہم اپنی پہلی کوششں کے نتیجہ میں اپنی بڑھتی ہوئی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آج کی ضرورتوں کو پورا کر دیں تو پھر ہمارا ایک قدم آگے بڑھ گیا اور پھر اگلے سال ہمارا ایک قدم اور آگے بڑھ جائے گا یہاں تک کہ ساری دنیا میں اسلام غالب آ جائے گا اور ساری دنیا کے دلوں میں محمد رسول اللہﷺ کی محبت پیدا ہو جائے گی ادیان باطلہ کبھی اپنے علمی گھمنڈ میں کبھی سائنسی تکبر کے نتیجہ میں اور کبھی سیاسی اقتدار پر ناز کی وجہ سے اسلام کو مٹانا چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہو تو اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعہ ان سارے منصوبوں کو ناکام کر دے اور اسلام کو غالب کر دے گا اور اسی طرف آپ کو بلایا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے ھٰٓاَنْتُمْ ھٰٓؤُلَآئِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (محمد: ۳۹) سنو تم وہ لوگ ہو جن کو اس لئے بلایا جاتا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے رستہ میں خرچ کرو یعنی اس لئے خرچ کرو کہ ان راہوں کو کشادہ فراخ اور کھلا رکھو جو اللہ کی طرف لے جانے والی ہیں ادیان باطلہ نے، اندرونی کمزوریوںنے، نفاق نے اور عملی سستیوں نے ان شاہراہوں کو تنگ کر دیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانے والی ہیں بعض جگہ تو رستے ہی غائب ہو گئے ہیں جیسا کہ دیہات میں ہم جاتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ جہاں پٹواری کے نقشہ میں بیس فٹ سڑک ہوتی ہے وہاں لوگوں کے آہستہ آہستہ سڑک کو کاٹ کر اپنے کھیتوں میں ملانے کے نتیجہ میں چار فٹ یا پانچ فٹ سڑک رہ گئی ہے۔ اسی طرح جو راستے اللہ تعالیٰ نے قائم کئے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانے والے ہیں انسان اپنی سستی اور غفلت کے نتیجہ میں، انسان اپنی جہالت کے نتیجہ میں، انسان اپنی نفس پرستی کے نتیجہ میں، انسان شیطانی آواز کی طرف متوجہ ہونے کے نتیجہ میں، ان راہوں کو تنگ کر دیتا ہے پھر وہ تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے میں یہ تنگی کیسے برداشت کروں تنگی تو اس نے خود پیدا کی ہوتی ہے ان رستوں کو اس نے خود تنگ کیا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں خرچ کے لئے اس لئے بلایا جاتا ہے کہ تم ان رستوں کو فراخ اور کشادہ رکھو تا تم بھی بشاشت سے ان کے اوپر چلتے چلے جائو اور جو باہر سے آ کر اسلام میں داخل ہونے والے ہیں ان کے دلوں میں بھی کوئی تنگی پیدا نہ ہو ان کی تربیت کر دی جائے اور بتا دیا جائے کہ یہ وہ راستہ ہے جو خدا تک لے جاتا ہے یہ وہ راستہ ہے جس پر چل کر انسان خدا کی محبت کو حاصل کر لیتا ہے یہ وہ راستہ ہے جس پر چل کر خدا پانے کے بعد وہ چیز مل جاتی ہے جو انسان کی ترقی کا موجب اور اس کی لذت اور سرور کا باعث بنتی ہے۔ غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سنو تمہیں اس خرچ کے لئے اس لئے بلایا جا رہا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی محبت کو دنیا میں قائم کرو اور انفاق فی سبیل اللہ کرو تمہیں صرف ’’انفاق‘‘ کے لئے نہیں بلایا جاتا تم سے یہ بھی نہیں کہا جا رہا کہ اپنے اموال لائو اور جماعت کے سامنے پیش کرو بلکہ تمہیں کہا جا رہا ہے کہ اپنے اموال اس لئے لائو اور پیش کرو تا انسان اللہ کے راستہ پر کامیابی کے ساتھ اور بشاشت کے ساتھ اور فراخی کے ساتھ چلنا شروع کر دے اور یہ راہیں اسے اس کے محبوب ربّ تک پہنچا دیں۔
    فَمِنْکُمْ مَنْ یَّبْخَلُ لیکن ہوتا یہ ہے کہ تم میں سے بعض بخل کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور یہ بات بھول جاتے ہیں کہ جو شخص بخل کرتا ہے خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتا اس کے بخل کے بد نتائج اس کو ہی بھگتنے پڑتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کے مال سے بعض دفعہ برکت چھین لیتا ہے مثلاً ایک شخص خدا کی راہ میں دینے سے گریز کرتا ہے اور بشاشت سے وہ قربانی نہیں دیتا تو مال تو اس کے پاس اس وقت تک ہی ہے جب تک اللہ تعالیٰ اس کے پاس اس مال کو رہنے دے بعض دفعہ اس کے گھر کو آگ لگ جاتی ہے اس کا دس پندرہ ہزار یا بیس تیس ہزار روپیہ کا کپڑا آ رہا ہوتا ہے وہ کپڑا ٹرک سے چوری ہو جاتا ہے، وہ مال خریدنے جاتا ہے تو کوئی جیب کترا اس کی جیب سے رقم نکال کر لے جاتا ہے پھر وہ سوچتا ہو گا کہ کاش میں یہ مال خدا کی راہ میں پیش کر دیتا ہے اور اگر انسان بخل سے کام نہ لے تو پھر اللہ تعالیٰ اس کے مال میں برکت دیتا اور اسے بتاتا ہے کہ میں تمہارے مال کی حفاظت کر رہا ہوں ابھی پچھلی گرمیوں کی بات ہے ایک دوست مری کے قریب جہاں میں چند دن کے لئے گیا ہوا تھا ملنے کے لئے آئے وہ زمیندار ہیں ان سے باتیں ہوئیں انہوں نے دعا کے لئے کہا میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے تمہیں دولت دی ہے تم قرآن کریم کے تراجم کی اشاعت کے لئے کوئی غیر معمولی رقم دو تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے مال میں اور بھی برکت دے تو وہ کہنے لگے کتنی! میں نے کہا یہ میں نے نہیں بتانا میں سمجھتا ہوں کہ اس سے تمہارے ثواب میں کمی آ جائے گی تم اپنی بشاشت اور خوشی کے ساتھ جتنا دینا چاہو دے دو چنانچہ انہوں نے اپنے ایک عزیز کو بہت سی رقم دی زیادہ تر رقم پانچ پانچ سو روپے کے نوٹوں پر مشتمل تھی تھوڑی سی رقم روپیہ روپیہ پانچ پانچ روپے یا دس دس روپے کے نوٹوں کی شکل میں تھی اور اسے کہا کہ ربوہ جا کر پانچ سو روپیہ اشاعت تراجم قرآن کریم کے لئے حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کر دیں انہوں نے شائد کوئی زمین خریدی تھی اور وہاں ادائیگی کرنی تھی انہوں نے اپنے اس عزیز کو کہا کہ باقی رقم وہاں ادا کر دیں ان کا وہ عزیز جب میرے پاس آیا تو اس نے بتایا کہ دیکھیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے برکت کیسے حاصل ہوتی ہے میرے جیب میں یہ رقم تھی مجھے یاد نہیں اس نے جیب کترا کہا یا چور کا نام لیا بہرحال اس نے بتایا کہ جس جگہ پانچ پانچ سو نوٹوں پر مشتمل رقم پڑی تھی وہیں وہ رقم بھی تھی جو روپیہ روپیہ پانچ پانچ دس دس روپیہ کے نوٹوں پر مشتمل تھی چور نے یہ تھوڑی رقم چوری کر لی اور بڑی رقم چھوڑ کر چلا گیا وہ کہنے لگا ہم نے اللہ تعالیٰ کے رستہ میں دی ہوئی رقم کی برکت دیکھ لی گو ابھی انہوں نے وہ رقم خدا کی راہ میں دینے کی نیت ہی کی تھی ابھی وہ رقم خداتعالیٰ کے خزانہ میں نہیں پہنچی تھی۔
    غرض اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ میں ہی تمہارے اموال کی حفاظت کر رہا ہوں اگر میں حفاظت نہ کروں تو انہیں آگ لگ جائے وہ چوری ہو جائیں یا گھر میں کسی کو بیماری آ جائے اور اس پر اموال کا ایک ح