1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

خطبات مولانا عبد الکریم سیالکوٹی رضی اللہ عنہ

'یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 22, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    خطبات مولانا عبد الکریم سیالکوٹی رضی اللہ عنہ

    1899۔06۔30

    جناب مولوی عبدالکریم صاحب کا خط دوستوں کے نام
    ’’میرا دوسرا خط‘‘
    بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہٗ ونصلی علی رسولہ الکریم
    امابعد السلام علیکم ورحمۃ اﷲ و برکاتہ
    خیمہ کل مسجد میں لگایا گیا- بہت ہی خوبصورت اور موزون بنایا گیا ہے- مگر تیسرا حصہ مسجد ننگی رہ جاتی ہے- بہرحال حضرت خلیفۃ اﷲ علیہ السلام از بس خوش ہوئے شکر اﷲ سعیکم و رضی عنکم وارضا کم و ہومولی المومنین- اس مسافر شکستہ خاطر حزین کے لئے برادران سیالکوٹ کی یہ کارروائیاں موجب ناز اور مایہ سکینت خاطر ہیں خدا سے دعا ہے کہ جس طرح ہمارے شہر نے ایمان بالرسول میں سبقت کی او ر ابتدائی دنوں میں استباق خیرات میں اطراف سے بڑھ کر حصہ لیا ہمیشہ اسی طرح نیک کاموں میں نمونہ بنیں اور پہلے یہ لوگ ہوں جو خدائے نزدیک شہداء علی الناس کے مبارک خطاب کے مصداق ہوں - آمین
    کل جمعہ کے دن معمولاً حضرت اقدس مہندی لگائے بیٹھے تھے کہ الہام ہوا-
    ’’بیہوشی پھر غشی پھر موت‘‘
    فرمایا : یہ کسی ایسے دوست کی نسبت خبر سنائی گئی ہے جس کی نسبت سننے سے ہمیں حزن ہو-
    رات کو امراض وبائیہ کا تذکرہ ہوا فرمایا یہ ایام برسات کے معمولاً خطرناک ہوا کرتے ہیں-ہند کے طبیب کہتے ہیں ان تین مہینوں میں جو بچ رہے وہ گویا نئے سرے پیدا ہوتا ہے- پھر فرمایا یہ جاڑا بھی خوفناک ہی نظر آتا ہے- فرمایا اطبا بڑے بڑے پرہیزوں اور حفظ ماتقدم کے لئے احتیاطیں بتاتے ہیںاگرچہ سلسلہ اسباب کا اور ان کی رعایت درست ہے مگر میں کہتاہوں محدود العلم ضعیف انسان کہاں تک بچا ر بچار کر غذا اور پانی کا استعمال کیا کرے- میرے نزدیک تر استغفار سے بڑھ کر کوئی تعویز و حرز اور کوئی احتیاط و دوا نہیں- میں تو اپنے دوستوں کو کہتا ہوں کہ خدا سے صلح موافقت پیدا کرو اور دعائوں میں مصروف ہو- فرمایا میں توبڑی آرزو رکھتا ہوں اور دعائیں کرتا ہوں کہ میرے دوستوں کی عمریں لمبی ہوں تو کہ اس حدیث کی خبر پوری ہو جائے جس میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں چالیس برس تک موت دنیا سے اُٹھ جائے گی- فرمایا اس کا مطلب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ تمام جانداروں سے اس عرصہ میں موت کا پیالہ ٹل جائے اس کا مطلب یہ ہے ان میں جو نافع الناس اور کام کے آدمی ہوں گے اﷲ تعالیٰ ان کی زندگی میں برکت بخشے گا-
    برادران! حضرت اقدس کا یہ مضمون فرقان حمید کی اس آیت سے مستنبط ہے واماما ینفع الناس فیمکث فی الارض - خدانے یہ مثال حق و باطل کی یا یوں کہو کہ ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم اور آپ کے حزب کی اور دشمنوں کی دی ہے- موذیوں مفسدوں بطالت اور ناپاکی کے فرزندوں کو جھاگ سے دریا کی تشبیہ دی ہے جو کچھ عرصہ کے لئے نمود میں پانی کی سطح کے اوپر ایک حکمران اور گویا عرش کمنت پر بیٹھی ہوئی نظر آتی ہے اور قیمتی اشیاء اور نافع جواہرات لوگوں کی نگاہ سے پوشیدہ پانی کی تہہ میں ہوتے ہیں- آخر قدرت کا فیصلہ یہ ہوتا ہے فاما الزید فیذھب جفاء واماما ینع الناس فیمکث فی الارض- سو بھائیو! باطل کے لشکروں کی جمعیت اور زینت کسی کے دل کو ابتلاء میں نہ ڈالے- خدا تعالیٰ کی ہمیشہ سے یہی عادت رہی ہے کہ حق ایک دانہ کی حیثیت سے شروع ہوتا اور آخرکار یہاں تک اس کا نشوونما ہوتا ہے کہ حقارت سے دیکھنے والے اسے دیکھ دیکھ کر غیظ کی آگ میں جلے جاتے ہیں- کمثل زرع اخرج شطاہٗ فآزرہ فاستغلظ فاستوی علے سوقہ یعجب الزراع لیغیظ بہم الکفار-
    میری غرض اس سے یہ ہے کہ تم لوگ دل و جان سے کوشش کرو کہ مخلوق خدا کو تم سے نفع پہنچے- تمہاری سیرتیں اور خصلتیں زمین کی اصلاح کی مایہ اور نیک بن جائیں اور ہر قسم کے مفسدہ اور فسق و فجور کی راہوں سے بچو کہ اﷲ تعالیٰ مفسدوں کا دشمن ہے ایک حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص قرابت داروں سے پیوند کرتا اور ان کے حقوق کی رعایت کرتا اور ہمسائے اس کے گزند و ضرر سے ایمن رہیں خدا اس کی عمر میں برکت دیتا ہے-
    بھائیو! تم ہمارے مسیح کی آرزو ہو- ہاں تم اس کی دعا سے مسیح کی آرزو ہو- ہاں تم اس کی دعائے نیم شبی اور گریہ ہائے سحری کے لگائے ہوئے پودے ہو- تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے- تم تقویٰ و طہارت کی راہوں سے دور جا پڑے تھے- تم غیر قوموں کی طرح خدا کو ایک فرضی خدا مانتے اور اس کی صفات کی نسبت سطحی اور مشرکانہ خیالات رکھتے تھے- مسیح موعود (علیہ السلام) کے پاک انفاس نے تمہیں اُن تاریک جان ستان گڑھوں سے چھڑا لیا- تم اب نورانی ہو- تم نے اﷲ تعالیٰ کو حقیقۃً اُن صفات و اسمائے حسنیٰ سے موصوف مان لیا ہے اور شرح صدر سے قبول کر لیا جائے جو قرآن کریم میں مذکور ہیں- یہی وجہ ہے کہ تم میں اوروں کی نسبت خشیت و تقویٰ و انابت اور اﷲ تعالیٰ کے اسماء صفات کے مقابل حیا زیادہ ہے- بھائیو! خدا کا شکر کرو کہ خشک گندی نیچریت جو دہریت کے قائم مقام ہے اس کی زہریں اس برگزیدہ امام ہادیٔ امام کے انفاس طیبہ کے تریاق سے نیست نابود ہو گئیں- کاش کوئی اہل دل اس کی سنے جو اس سمی ہوا میں برسوں رہ چکا ہے اور بصیرت سے دیکھ چکا ہے کہ یہ مشرب درحقیقت خدا سے بہت دور ڈالنے والا ہے-
    بھائیو! میں صدق دل سے تمہیں مبارکباد دیتا ہوں کہ بہتیرے تم میں ایسے ہیں جنہوں نے آنکھیں کھولتے ہی اس پاک اور دلربا منظر کو دیکھا اور اس دغا باز جال میں پھنس کر پھر پھڑپھڑا کر نکلنے کی تکلیف اٹھانی نہ پڑی عملاً ممتاز نمونے دکھائو- دیکھو بعضے جلد باز تمہاری نسبت حکم لگا چکے ہیں کہ تمہاری کمریں ڈھیلی ہو جائیں گی اور تمہارے چراغ بجھ جائیں گے- خدا سے دعائیں مانگو استغفار کرو اور اس سے اور بھی ترقی تقویٰ و طہارت میں کرو تو کہ خدا ایسے حاسدوں کے گمانوں کو باطل کرے- بعض بدبخت ایسے بھی ہیں جن کی نسبت خدا کی کتاب میں آیا ہے- ولقد صدق علیہم ابلیس ظنہ رو رو کر دعائیں مانگو کہ مستہزئین کے گمان تمہارے حق میں صادق نہ ہو جائیں - خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کے تصرف کا نیا نمونہ اور معاً ہمارے آقا و ہادی مسیح موعود علیہ السلام کے منجانب اﷲ ہونے کا نیا ثبوت سُن لو-
    مقرر تھا کہ اتوار کے دن ۲۵؍ جون کو حضرت مبارک احمد صاحب کا عقیقہ ہو- اس کے لئے حضرت کی طرف سے بڑی تاکید تھی- اس کام کے مہتمم ہمارے عزیز و معزز دوست منشی نبی بخش صاحب تھے- سب نے بڑے جوش و نشاط سے تسلیم کیا اور عرض کیا کہ اتوار کے دن یقینا سب سامان ہو جائے گا- اﷲ تعالیٰ کا تصرف اور اس کی حکمت و قدرت دیکھو اتوار کو صبح صادق سے پہلے بارش شروع ہو گئی- صبح کی نماز بھی ہم نے معمول سے سویرے پڑھی- چونکہ بارش تھی اور ہوا خوب سرد چل رہی تھی اور بادل کی وجہ سے تاریکی بھی تھی- یہ سب سامان ہم لوگوں کے لئے افسانہ خواب ہو گیا- حضرت بھی سو گئے اور مہتمم صاحب بھی اپنے بسیرے میں جا لیتے ان خوب چڑھ گیا- حضرت اُٹھے اور دریافت کیا کہ عقیقہ کا کوئی سامان نظر نہیں آتا- گائوں کے لوگوں کو دعوت کی گئی تھی اور باہر سے بھی کچھ احباب تشریف لائے تھے- حضرت کو فکر ہوئی کہ مہمانوں کو ناحق تکلیف ہوئی - ادھر ہمارے دوست نبی بخش صاحب بڑے مضطرب اور نادم تھے کہ حضور پاک میں کیا عذر کروں- منشی صاحب حاضر ہوئے اور معذرت کا دامن پھیلایا- خیر کریم انسان اور رحیم ہادی اس کی ذات میں درشتی اور سخت نکتہ چینی تو ہے ہی نہیں فرمایا اچھا فعل ماقدر- مگر ہمارے زکی الحواس دوست منشی صاحب کو صبر کہاں یہ دل ہی دل میں کڑھیں اور پشیمان ہوں اور پھر دوڑے جائیں ان کے اس حال کو دیکھ کر حضرت اقدس کو یاد آ گئی- اپنی ایک رویا جو چودہ سال ہوئے دیکھی تھی جس کا مضمون یہ ہے کہ ایک چوتھا بیٹا ہو گا اور اس کا عقیقہ سوموار کو ہو گا- خدا تعالیٰ کی بات کے پورا ہونے اور اﷲ تعالیٰ کے اس عجیب تصرف سے حضرت اقدس کو جو خوشی ہوئی اس نے ساری ملالت اور عدم سامان کی کوفت کو دور کر دیا- اور دوسرے دن سوموار کو جب ہم سب خدام صحن اندرون خانہ میں بیٹھے تھے اور حضرت مبارک احمد صاحب کا سرمونڈا جا رہا تھا- حضرت اقدس نے کس جوش سے یہ رویا سنائی کہ اس خوشی اور پاک خوشی کا اندازہ کچھ دیکھنے والے ہی کر سکتے ہیں- ہمارا ایمان اس وقت خدا تعالیٰ کے کامل علم اس کے مدبر بالارادہ ہونے اور متصرف اور مقتدر ہونے اور معاً حضرت اقدس کے مہبط انوار الٰہی ہونے متکلم اﷲ ہونے محدث اﷲ ہونے خلیفۃ اﷲ ہونے اور بالآخر خدا کی مرضی کے راہوں کے ایک ہی راہ نما ہونے پر ایسا پختہ ہوا اور اس میں ایسی ترقی محسوس ہوئی جیسے برسات کے بادل سے نباتات کو نشوونما حاصل ہوتا ہے-
    عین اُس خوشی کے وقت مجھے جو بات کمدر کرتی تھی وہ افسوس سے اس خیال کا دل میں آنا تھا کہ کاش اس وقت میرے عزیز احباب بہت سے یہاں موجود ہوتے- اب میں کیونکر سچا نقشہ اس پاک حسہ کا انہیں کھینچ کر دکھا سکوں گا-
    بہرحال غور کا مقام ہے ایک دہریہ اور میٹیریلسٹ بھی تو اس سے خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کے علم اور متصرف الاشیاء ہونے کا یقین کر سکتا ہے- چودہ سال اس سے قبل ایک بھی بچہ تو تھا- اس حوادث و فتن کی سدا ہدف ہونے والی زندگی کا کون دعوی اور تحدی سے ٹھیکہ دار ہو سکتا ہے- ذرات کائنات پر متصرف اور عالم بالجزئیات و الکلیات خدا ہی جان سکتا اور کہہ سکتا تھا کہ اتنے عرصۂ دراز تک حضرت اقدس زندہ بھی رہیں گے اور پھر تین کو چار کرنے والا بیٹا بھی ہو گا- پاک ہے تیری شان اے میر ے یگانہ خدا تو نہیں پہچانا جاسکتا مگر ان ہی راہوں سے جوتیرے برگزیدہ ملہم اور محدث تیار کرتے ہیں- میرے دوستو! آج دنیا میں کوئی اور راہ بھی ہے جس پر چلنے سے وہ خدا مل سکتا ہے جو آدم سے لے کر خاتم النبیین صلی اﷲ علیہ وسلم سے ہمکلام ہوتا اور اپنے عجائبات قدرت دکھاتا رہا وہی خدا جو دعائوں کو سنتا اور حزن کی گھڑیوں میں اپنے صریح کلام سے شکستہ دلوں کو تسلی دیتا اور اب بھی اپنے راستباز بندوں سے وہی معاملہ کر دکھاتا ہے جس کے نمونے اُس نے آدم و نوح و ابراہیم و دائود و سلیمان و یوسف و موسیٰ و عیسیٰ و احمد مجتبیٰ اعلیٰ نبینا وعلیہم الصّلوٰۃ والسلام کی رفتار زندگی میں دکھائے-
    اے میرے مرشد میرے آقا مسیح موعود اﷲ تعالیٰ کا سلام تجھ پر ہو- تیرے درو دیوار پر تیری چھتوں پر تیری چوکھٹوں پر تیرے چاروں طرف تیرے مخلص دوستوں پر خدا تعالیٰ کی برکتیں نازل ہوں- تجھے خدا کی طرف سے وہ نصرت اور تائید پہنچے جو آخرزمانہ میں خدا تعالیٰ کے کامل نبی محمد مصطفیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کو ملی- تیرے طفیل سے ہم نے خدا کو قرآن کو اور حامل قرآن کو (علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیمات) پایا-ہاں تیرے ہی ذریعہ سے ہم خدا تعالیٰ کی سنتوں اور ایام سے واقف ہوئے- تیرے ذریعہ سے ہم نے تقویٰ و طہارت کی راہوں کے دقائق کو معلوم کیا- اگر تو نہ آتا تو ہم عام مشرکانہ خیالات و عقائد کے لوگ ہوتے یا ایک گونگے لنجے بے زور بے قدرت بے زبان اور ایک گوشہ میں بیٹھے ہوئے اور عالم اور اس کے تصرف سے دست بردار اور دوست و دشمن میں امتیاز نہ کر سکنے والے اور پرجوش گداختہ دل مخلص کی دعا اور لغو فقرات میں فرق نہ کرسکنے والے اور پھر اس پر کچھ بھی مترتب نہ کرسکنے والے خدا کے نیچریوں کی طرح ماننے والے ہوتے-
    اے احمد! اے مسیح! اے مہدی! اے یوسف! اے موسیٰ ! اے عیسیٰ! اے علی! اے فاروق ! خدا کی رحمت تجھ پر ہو- دعا کرو کہ ہمارا جینا تیرے ہو- ہمارا مرنا تیرے ساتھ ہو اور ہمارا جی اٹھنا تیرے ساتھ اور تیرے لوا کے نیچے ہو-
    خدا تعالیٰ نے حضرت مبارک احمد کی ولادت سے ایک روز قبل اور ولادت کے ایک روز بعد حضرت اقدس کو اُس پاک مولود کی زبان سے الہام کیا کہ وہ فرماتا ہے-
    اِنّی اَسْقُطُ مِنَ اللّٰہِ وَ اُصِیبُہٗ
    یعنی میں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہوں اور اسی کی طرف جاتا ہوں- پھر اس کے بعدالہام ہوا- کفیٰ ھذا- مجھے خوب یاد ہے تین سال سے زیادہ عرصہ ہوا- حضرت اقدس نے فرمایا تھا آج میری پشت میں چوتھے لڑکے کی روح حرکت میں آئی اور اپنے بھائیوں کو آواز دی کہ مجھ میں اور تم میں ایک دن کا فاصلہ ہے- دیکھو انجام آتھم صفحہ ۱۸۲ و ۱۸۳ اور صفحہ ۱۸۳ کے شروع میں جلی قلم سے لکھا ہے کہ فتحرک فی صلبی روح الرابع بعالم المکاشفۃ فنادا اخوانہ وقال بینی و بینکم میعاد یوم من الحضرۃ-
    اور صفحہ ۱۸۲ میں لکھا ہے کہ وبشرنی ربی برابع رحمۃ- وقال انہ یجعل الثلثۃ اربعۃ- فھل لکم ان تقرموا مزاحمۃ- وتمنعوامن الارباع المربعین- فکیدو اکدًا انکنتم صادقہین- الخ
    اس سے کس قدر صاف حل ہو جاتا ہے وہ مسئلہ آدم کی پیٹھ میں روحوں کے کلام کرنے کا-
    اگرچہ اس کے اور معارف بھی ہیں اور وہ یہ ہے- واذا خذربک من نبی آدم الایہ
    اب میں اپنے دوستوں سے رخصت ہوتا ہوں- اور خدا نے چاہا تو باقی باتیں تیسرے خط میں سنائوں گا بشرطیکہ میرے احباب نے میرے اس سلسلہ کو پسند کیا- والسلام
    عاجز عبدالکریم از قادیاں

    1900۔09۔07

    خطبہ
    واتل علیھم نبا الذی اٰتینٰہ اٰیٰتنا الآیہ
    اُس شخص کا حال ان کو سُنا دو- جس کو ہم نے اپنے نشان دے- پھر اُ س نے اُن نشانوں کو کچھ پروانہ کی اور شیطاں نے اُس کو اپنے پیچھے لگالیا- اور وہ شیطان کی طرح گمراہ ہو گیا اگر ہم چاہتے تو ان نشانات کے باعث اس کو رفعت دیتے لیکن اس کی ذلت کا باعث یہ ہوا کہ زمینی خواہشوں کا آدمی بن گیا اور گندی خواہشوں کی پیروی کی- اُس کا حال کتے کا سا ہو گیا اُس پر جب بوجھ لادو تو ہانپتا ہے اور نہ لادو تو جب بھی ہانپتا ہے یہ مثال مکذبین آیات اﷲ کی ہے-
    اس قصہ میں جو خدا تعالیٰ کی حکیم کتاب اﷲ میں ہے ہم لوگوں کو اﷲ تعالیٰ کیا سبق دینا چاہتا ہے؟ یہ ایک ضروری سوال ہے کیونکہ اس حکیم کتاب میں کوئی واقعہ ایسا نہیں ہے کہ جس سے امت محمدیہ کو کوئی نہ کوئی سبق سکھانا مقصود نہ ہو- خدا کی حکیم کتاب ایک آدمی کا قصہ بیان کرتی ہے جسے خدا نے نشان پر نشان دکھائے اندر سے باہر سے اُسے شہادتی ملیں لیکن اُس نے ان کی قدر نہ کی آخر وہ شیطان کا بھائی اور سگ فطرت بنگیا- کتے کے اندر فطری طور پر ایک آگ ہوتی ہے جس کی جلن سے وہ ہر وقت زبان نکالنے رکھتا ہے گویا کسی نے بڑا بوجھ اُس پر لاد رکھا ہے اسی طرح سگ طینت آدمی راستباز کی نکتہ چینی اور بدگوئی میں متوجہ رہتا ہے اور اُس کی ناپاک طبیعت کشاں کشاں اُس کو اس ٹیڑھی راہ پر لاتی ہے- خواہ راستباز نے اُس پر کبھی کوئی حملہ نہ کیا ہو اور نہ درحقیقت خدا کے برگزیدے کسی پر حملہ کرتے- اور نہ کسی کا کچھ بگاڑتے ہیں مگر وہ پست ہمت سگ فطرت طبعی جلن کی وجہ سے اپنے آپ میں جلتا بھنتا اور کڑھتا ہے- مگر اُس کی یہ جلن کسی پاکیزگی اور معالی طلبی کی بناء پر نہیں ہوتی- اصل میں وہ دنیا کا کتا اسی مردار کا طالب اسی کے لئے رات دن جلتا کڑہتا رہتا ہے- یہی دنیا طلبی ہے جو اُسے راستباز کا دشمن بنا دیتی ہے اخلد الی الارض کلید ہے اس راز کی کہ کیوں کوئی شخص آیات اﷲ کو دیکھ کر بھی قبول حق سے محروم رہ جاتا ہے- راست باز آسمانی نور ہوتا ہے اور یہ زمین کا زمین سے لگا لگا چلنے والا ناپاک کتا ہوتا ہے- اس لئے عدم مناسبت دونوں کو ایک سطح پر ملنے نہیں ہوتی - اخلد الی الارض کتے کی شکل سے خوب ثابت ہوتا ہے- کتے کو دیکھتے ہو کسی سمت کو دوڑا جاتا ہو مگر ناک زمین پر رکھتا اور سونگھتا جاتا ہے کہ کوئی ہڈی وغیرہ چیز مل جائے- اسی طرح ایک دنیا دار کا قبلہ ہمت چونکہ خطاب دینوی ہوتا ہے لہٰذا وہ آسمانی مائدہ کی طرف نہیں آ سکتا-
    مفسرین کہتے ہیں کہ ان آیات میں بلعم باغور کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر توریت میں ذکر آیا ہے- یہ شخص خواب میں تھا- مکاشفات اور الہامات بھی اس کو ہوتے تھے مگر جناب موسیٰ علیہ السلام کا مخالف ہو گیا اور اُن پر بددعا کرنے کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی جناب سے مردود و مطرود بن گیا- باغور ہو یا کوئی ہو اس میں شک نہیں کہ یہ کسی ایسے بدبخت کا مذکور ہے جو باوجود مشاہدہ کرنے آیات کے یعنی کسی مامور من اﷲ کی صداقت اور حقیت کے نشانوں اور نمونوں کے پھر انکار کے مہلک گڑھے میں گرا-
    اﷲ تعالیٰ کی یہ بات اٰیتنٰہ اٰیٰتنا فانسلخ منہا بناتی ہے- کہ خوابوں اور کشفوں اور الہاموں سے اور بیرونی دلائل سے غرض ہر قسم کی علامات و آیات سے اُسے بتا دیا گیا اور سمجھایا گیا مگر سگ فطرتی نے اُسے آسمان کی طرف نظر اُٹھا کر دیکھنے سے باز رکھا اور عدم مناسبت کی وجہ سے مامور کے مکذبوں میں شامل ہو گیا- جب کوئی مامور خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوتا ہے ازبسکہ اﷲ تعالیٰ کو منظورہوتا ہے کہ دُنیا اُسے شناخت کر لے اُس کے ساتھ مختلف قسم کے نشان نازل ہوتے ہیں- بعض فطرتوں پر رویائے صادقہ کا نزول ہوتا ہے- بعض مکاشفات اور بعض الہامات سے سرفراز کئے جاتے ہیں- غرض اُس کے وقت میں ابواب السماء کے مفتوح ہونے کے سبب سے ہزاروں لوگوں کو خواب آتے ہیں- پھر کوئی سعید تو اُن آسمانی اشاروں کی قدرکرتا اور اُن کے مطابق مامور کو قبول کر لیتا ہے اور ایک دوسرا بدبخت ان خدا کی اطلاعوں اور شبنیہوں کی کچھ بھی پروا نہیں کرتا- یہ اندرونی نشان ہوتے ہیں اور ساتھ اس کے بیرونی نشان ہوتے ہیں جو ظاہر ہیں- ہمارے رسول کریم صلعم کے وجود سے قبل اور آپ کی بعثت میں بھی بہت سے لوگوں کو خوابیں آئیں- سعید اُن سے منتفع ہو کر اسلام میں داخل ہو گئے اور شقی اُنہیں پریشان خوابیں ہی سمجھتے رہے- اسی سنت الٰہیہ کے موافق ہمارے زمانہ میں بھی ہزاروں کو خوابوں اور کشفوں کے ذریعہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حقیّت پر متنبہ کیا گیا- بہتوں کو آپ کا وجود مبارک حضرت سید المرسلین صلی اﷲ علیہ وسلم کی صورت میں دکھایا گیا- اکثر نے خدا تعالیٰ کے ان نشانوں سے فائدہ اُٹھایا اور بعضوں نے سگ فطرتی کی وجہ سے ان تازیانوں کی پروانہ کی- خدا تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر انفسی اور آفاقی دلائل روز روشن کی طرح آ شکار ہو رہے ہیں- مگر زمین کے کتے زمین سے اوپر آنکھ نہیں اُٹھاتے - ان میں سے بہتیرے ہیں جن پر اُن کے اندر سے حجت پوری ہو چکی ہے- کیا اُس نہر کے ملازم کا دل اُسے ملازم نہیں کرتا کہ وہ ایک وقت خدا کے مامور کے حق میں ہیبت انگیز خوابیں سُناتا اور لوگوں کو پکڑ پکڑ کر قادیان میں بھیجتا تھا- یہ لوگ بہت سے قرائن قویہ صداقت کے دبائو سے ساتھ ہو لئے تھے- اُن کے لئے کبھی تو خدا نے یہ نشان دکھایا کہ حضرت مامور من اﷲ کو اُنہوں نے اعدائے دین کے مقابل اکیلا پہلوان دیکھا اوربار بار اعتراف کیا کہ آج روئے زمین پر اسلام کے دشمنوں کا مُنہ بند کرنے والا اور کوئی نہیں- خدا تعالیٰ نے اُن کے منہ سے بار بار یہ اقرار نکلوایا کہ حضرت مرزا صاحب واقعی سلطان القلم ہیں- یہ بھی اُن کے لئے بڑا نشان تھا اس لئے کہ سارے عالم سے بڑھ کر اسلام کا جال نثار پہلوان اور ناصر ہونا بتاتا تھا کہ آسمانی مرد ہے اور دوسروں کو بوجہ زمینی ہونے کے یہ نازک منصب نہیں دیا گیا- مگر انہوں نے عبادۃ فطرنہ کی وجہ سے اس نشان کی قدر نہ کی- پھر خدا تعالیٰ نے بیرونی نشان زمین پر دکھایا کہ لیکھرام کی خارق عادت موت کا نظارہ اُنہوں نے دیکھا- اُن کے قلوب اس کے رعب کے نیچے آئے وہ جابجا اس کے چرچے کرتے رہے- اُس جماعت کے بڑے بھاری ممبر محکمہ نہر کے اکسٹرا اسسٹنٹ خان بہادر نے سب سے اوّل اُس کاغذ پر دستخط کئے جو اس استفسار کے لئے تیار کیا گیا تھا کہ آیا لیکھرام کا قتل خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کا پورا ہونا اور معجزہ ہے یا نہیں- افسوس ان نشانوں کو ان لوگوں نے بے عزتی کی نگاہ سے دیکھا پھر خدا تعالیٰ نے ان کی جرأتوں اور خیرہ چشمیوں کو دیکھ کر آسمان پر سورج اور چاند کے وجود میں ہمارے پیارے مسیح کے صدق پر دو شہادتیں قائم کیں- مگر ان زمینی فطرتوں نے آسمان کی طرف بھی آنکھ اُٹھا کر نہ دیکھا- میں اپنی جگہ بہت سوچا کرتا ہوں میری دانش کوئی وجہ نہیں دیکھتی کہ مسلمانوں کے پاس کسوف و خسوف کو بیقدری سے دیکھنے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے- رسول خدا صلی اﷲ علیہ وسلم کے لرزہ ڈالنے والے الفاظ موجود ہیں کہ ہمارے مہدی کے یہ دو نشان ہوں گے اور آسمان و زمیں کی پیدائش سے اُس وقت تک کسی کے لئے یہ نشان قائم نہیں ہوئے ہوں گے- مدعی مہدویت موجود اور آسمان کے یہ دو عادل گواہ موجود- آہ آہ بدقسمت قوم! ایک صادق نے دعوی کیا تھا تمہارے چھوٹے بڑے سب کہتے تھے اور ایک زبان ہو کر کہتے تھے کہ بچپنے سے یہ مدعی راستباز ہے اتنے پر ہی تم کفایت کرتے اور اس کے صدق کے نشان خود طلب و تلاش کرتے بہت سے سعادت مند نیک فطرت ایسے بھی ہوئے ہیں کہ اپنے مخدوم و متبوع کے لئے جان کنی کر کے اُنہوں نے دلائل پیدا کئے اُنہوں نے خود کوئی دعویٰ نہیں کیا مگر سعید تابعیں نے خود اُن کے لئے شہادتیں پیدا کیں- حضرت امام ابوحنیفہ رحمہۃ اﷲ علیہ کو کن کن جان فشانیوں سے مخلص حنفیوں نے امام معصوم بنایا اور واجب الاتباع ٹھیرایا- لوکان الایمان معلقا بالثریا والی حدیث کو زور تحکم سے اُن کی طرف منسوب کیا- مگر یہاں دعوی موجود کہ یہ سب حدیثیں میرے حق میں ہیں- دعوے کے ساتھ دلائل موجود، منصب مسیحیت کی شان کے شایاں خدمات نمایاں موجود زمین کی گواہیاں موجود ، آسمان کی گواہیاں موجود پھر سمجھ پر کیا پتھر پڑ گئے- اس کے سوا یترک القلاص والی پیشگوئی چیخ چیخ کر نشان دے رہی ہے کہ لاریب مسیح موعود یہی ہے- آہ اے نادان قوم تیری آنکھوں پر کیا پردے پڑ گئے- تم نے التزام کر لیا ہے کہ ایمان جائے اسلام جائے پر کوئی بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نہیں مانیں گے نادانو یہ تو رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی عظیم الشان پیشگوئی تھی جو کہ اب پوری ہوئی- یہ پاک الفاظ کس زمانہ میں نبی امی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مبارک مُنہ سے نکلے کہ ایسی سواریوں کا نام و نشان نہ تھا- آج کس شوکت کے ساتھ یہ باتیں پوری ہوئیں-
    عرب کا خشکی کا جہاد اونٹ قریب ہے کہ صحرائے عرب اور بلادشام سے اسی طرح موقوف ہو جائے جیسے اُن ممالک سے رد ہو چکا ہے- جہاںریل گاڑی نے اس کی جگہ چھین لی ہے - اﷲ اکبر ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی کیا شان ہے جس ن اتنے برس پہلے کہہ رکھا تھا واذا العشار عظلت کس جلال سے یہ خدا کی باتیں پوری ہوئیں-کوئی کتاب نہیں جو اس وقت دعوی کر سکے کہ اس کی باتیں اسی طرح پوری ہوئیں اور اب ہو رہی ہیں- یہ ہیں معنی زندہ کتاب اور زندہ رسول کے کہ اُن کے زندہ نشان ہر زمانہ میں موجود رہیں- کوئی لاہور کے بشپ صاحب سے خدا کے لئے اتنا پوچھے کہ اتنے غل غپاڑے تم نے کئے کاش کوئی زندہ نشان یسوع اور انجیل کا دکھایا ہوتا یا اُس کا کوئی پتا ہی دیا ہوتا- ہم بار بار دعوے کرتے ہیں کہ زندہ رسول صرف ایک ہی ہے اور وہ ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں او ر زندہ کتاب صرف قرآن کریم ہے- صدیاں گذر گئیں جب سے مسیح اسرائیلی دور میں جا ملا ہے اور انجیل پارینہ تقویم کے پوسیدہ ورقوں میں شامل ہو چکی ہے ایمانی نشان تم میں نہیں- کتاب کی تعلیم کے زندہ برکات تم میں نہیں- پھر فضول لرزہ درائی کرنا کہ یسوع آسمان پر زندہ موجود ہے کیا حقیقت رکھتا ہے- یورپ کے فلاسفر اس ثبوت پر تھوکتے ہیں جو تم پر یسوع کی زندگی کی نسبت پیش کرتے ہو- انجیل خود تمہیں اپنے بیانات سے تردد اور تذبذب میں ڈالتی ہے بلکہ وہ بھی صاف صاف مسیح کے صلیب سے زندہ اُتر کر اور مصنوعی قبر سے زندہ بچ نکلنے کی گواہی دیتی ہے- قرآن کریم اُسے اموات میں داخل کرتا ہے پس جب اتنے تنازع موجود ہوں تو کوئی بین ثبوت اُس کی زندگی کا تمہارے پاس ہونا چاہئیے ورنہ یہ دعوی عقیدہ اور مسلمات کی بنا پر تو چل نہیں سکتا- اور ثبوت بین یہ تھا کہ اُس کی برکات کے زندہ نشان تم میں موجود ہوتے- تم لوگ اُس یسوع کے نام سے جس کو تم زندہ قادر مطلق خدا کہتے ہو اور ہم عاجز مردہ انسان کہتے ہیں زبردست پیشگوئیاں کرتے اور نشان دکھاتے- ایک مردہ پرست تم میں سے اُٹھا اور دعوی کیا کہ میں یسوع کی خدائی ثابت کرتا ہوں- زندہ نبی محمد رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے غلام نے تحدی سے اُس کو یہ کہا کہ تو مردہ یسوع کی پرستش اور زندہ رسول محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کے انکار کے سبب سے ہلاک ہو جاوے گا اور تیری ہلاکت ابدی اور زندہ مہر ہو گی یسوع کی موت اور محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی پر- یہ وقت تھا کہ وہ اُس مردہ صنم کا پرستار بچ جاتا اور الفا امیگاکرائسٹ غیرت خداوندی کی وجہ سے اپنے وجود کے ایک گواہ کو ذلت کی موت سے نجات دے دیتا-
    غر ض نصارا کا فرض ہے اور اسلام کا اُن کے ذمہ قرض ہے کہ اپنی کتاب اور یسوع کی زندگی کا کوئی نشان دکھائیں- مسلمانو تمہارے لئے کس قدر فخر اور شادمانی کا مقام تھا کہ تمہارے دینی دشمن نصارا کے زعم کے خلاف دن بدن ثابت ہو رہا ہے کہ زندہ رسول صرف ہمار ے نبی کریم صلعم ہیں- اور حق تھا کہ تم مرزا غلام احمد قادیانی کی وہ عزت و قدر کرتے جس کے وہ درحقیقت اس مبارک خدمت کے لئے مستحق تھے مگر تم نے نادانی اور شقاوت سے اُن سے صند و عداوت میں آ کر رسول کریمؐ کے صدق کے نشانوں کو خاک میں ملانا شروع کر دیا ہے اور اس کوشش میں ہو کہ ایک بھی پیشگوئی جناب سید الانبیاء صلعم کی پوری نہ ہو- کیا تم اس میں خوش ہو کہ نصارا کی طرح تمہارے ہاتھ میں کہانیاں رہ جائیں اور مذہب کی زندگی کا کوئی ثبوت نہ ہو اور کیا تم خوش ہو کہ لاہور کا مردہ پرست بڑا پادری مُنہ پھاڑ پھاڑ کر مردہ یسوع کو زندہ ثابت کرے اور تمہارے واقعی زندہ نبیؐ پر مٹی میں بوسیدہ ہوجانے کا الزام لگایا- خوب سوچو کہ تمہاری نوبت کہاں تک پہنچ گئی ہے-
    پھر واذا البحار فجزت واذا الصحت نشرت کی پیشگوئیاں بھی روز روشن کی طرح پوری ہوئیں- ملک کے ہر حصہ میں دیکھو کہ کس طرح پر دریائوں کو کاٹ کاٹ کر نہریں نکالی گئی ہیں اور ڈاک خانے اور پریس کی ایجاد نے کروڑ در کروڑ کتب و رسالجات کو شائع کیا ہے کیا ان باتوں کو دیکھ کر ایک مومن کا دل جو قرآن کا عاشق ہے سرور اور ذوق سے بھر نہیں جاتا؟ مگر افسوس مسیح موعود کی عداوت سے ان سب امور سے انکار کئے چلے جاتے ہیں- اور نہیں چاہتے کہ خدا کی ہستی ، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی عزت، کتاب اﷲ کی عزت کا اظہار ہو- آہ ان ناقدرشناسوں نے ایک مامور من اﷲ کی عداوت سے خدا تعالیٰ کی کتاب کی عزت و عظمت کا انکار کر دیا-
    الغرض یہ بات درمیان میں آ گئی تھی میں نے گفتگو اس پر شروع کی تھی کہ وہ قسم کے نشان مامو ر کے لئے ہوتے ہیں ایک وہ نشان جو بلاواسطہ ظاہر ہوتے ہیں اور انسان کی کوششوں کے بغیر خدا تعالیٰ کے قادر ہاتھ سے سرزد ہوتے ہیں دوسرے وہ نشانات ہیں جو دوسرے لوگوں پر بذریعہ کشوف و رویا صادقہ مامور کی کی صداقت کا اظہار کیا جاتا ہے میں نے ان نشانات کو کھلے طور پر دکھانے کے لئے اس مبارک زمانہ کو لیا ہے- جس میں خدا تعالیٰ نے مسیح موعود کے ذریعہ سے اپنا پاک سلسلہ قائم کیا ہے- پہلی قسم کے نشان میں دکھا چکا ہوں اب دوسری قسم کے نشانوں کے لئے میں یہ بات قسم کھا کر کہتا ہوں اور بیت اﷲ میں خواہ کیسی ہی خطرناک قسم کیوں نہ ہو- میں کھا سکتا ہوں کہ بہت سے صالح لوگوں نے خواب اور کشوف کے ذریعہ مسیح موعود کی صداقت کو پایا ہے- میں چونکہ حضرت اقدس کے خطوط لکھتا ہوں- کوئی دو سو کے قریب ایسے خطوط آ چکے ہوں گے جو ملک کے مختلف حصص بنگال، رنگون، برہما، جنوبی ہند اور شمالی ہند کاٹھاواڑ گجرات وغیرہ وغیرہ کی طرف سے ہیں جن کی نہ سمتیں ملتی ہیں نہ زبان ملتی ہے اور جن میں شدید شدید قسمیں کھا کر لوگوں نے لکھا ہے کہ انہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حضور میں حضرت مرسل اﷲ مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا اور سُنا کہ آپ فرماتے ہیں کہ مرزا غلام احمد میرا نائب ہے اور بعض نے خواب میں دیکھا کہ رسول اﷲ کسی مکان میں تشریف فرما ہیں- جب شوق زیارت سے بے قرار ہو کر وہ شخص وہاں پہنچا تو دیکھا تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بجائے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام ہیں گویا حضرت اقدس آپ کی تصویر ہیں اور فی الحقیقت ہے بھی یوں ہی- غرض یہ دو قسم کے انفسی اور آفاقی نشان ہوتے ہیں- سعید وہ ہے جو ان نشانات سے فائدہ اُٹھاوے- اور بدبخت وہ ہے جو ان سے لاپروائی کرے- خصوصاً ذاتی نشانوں سے لاپروائی کرنے والا مخذول اور مردود ہو جاتا ہے- میرا دل گواہی دیتا ہے کہ بلعم کی روح کے اندر موسی علیہ السلام کی صداقت چمکی اور اُس کی روح دلائل و براہین سے پوری طرح گھر کر گئی مگر اتباع ہوا کا مرض قبول حق کی راہ میں روک ہو گیا-
    حقیقت میں ہوائے نفس ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو ذلت کے خطرناک تاریک گڑھے میں دھکیل دیتی ہے کبھی دیکھتا ہے کہ منصب ٹوٹ جاوے گا قوم کیا کہے گی کبھی اس بات کو دیکھتا ہے کہ ایک ریاست بنی ہوئی ہے اور مختلف قسم کے جُہلا دام تر ویریا سلسلہ مریدین میں گرفتار ہیں یہ سارا کارخانہ ملیامیٹ ہو جائے گا-
    غرض عزیزو یاد رکھو جو چیز انسان کو مقرب اﷲ ہونے سے روکتی ہے- وہ ہوا ہی ہے افرایت من اتخذالھہ ھواہ بڑا بھاری بت جس نے راستی کے قبول سے انسان کو روکا ہے وہ ہوا ہی ہے مٹی پتھر کے بت کا نہ پوجنا بہادری نہیں ہے اس لئے کہ قومی اسم کے لحاظ سے بھی تو وہ ممنوع چیز ہے- ایک شخص مسلمان کہلا کر ہر قسم کے معاصی اور مناہی کا مرتکب ہو جاتا ہے لیکن خنزیر کا گوشت نہیں کھاتا نہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ کی کتاب اس کی حرمت کا فتوی دیتی ہے بلکہ رسم و عادت کی پیروی کی بنا پر نہیں کھا سکتا- میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس کا یہ خنزیر کا نہ کھانا اور یوں ایک نہی سے بچنا کوئی ثواب کا موجب نہیں ہے کیونکہ محض اﷲ تعالیٰ کے لئے اُس کے نہیں چھوڑا اگر اﷲ تعالیٰ کے لئے چھوڑا ہے تو پھر اندھیر کیا ہے کہ وہ دوسرے معاصی سے پرہیز نہیں کرتا- اسی طرح پر بڑا موحد وہ ہے جو اپنی ہوا کو چھوڑے جبکہ اُدھر سے شیخنا و مولانا کی آواز اس کے کان میں پڑے اور ادھر اس کے گدی نشین ہونے کا شہرہ ہو باوجود اس کے اگر وہ ایک صداقت کو پا کر گواہی دے اُٹھے اور اپنے منصب او رمرتبہ کی کچھ بھی پروا نہ کرے وہ ہے جس نے اپنی ہوا کو چھوڑاہے مبارک ہے وہ جس کو یہ رتبہ ملا-
    میں پھر اسی سلسلہ گفتگو میں کہنا چاہتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ اُس کے دل پر آیات نازل ہوئیں مگر اُس نے اپنی خواہش کی پیروی کی اس لئے راستباز کے قبول کرنے کا درجہ اس کو نہ ملا فانسلخ منھا جس طرح سانپ ایک موسم میں کینچلی اُتار دیتا ہے اور نئی کینچلی پیدا ہوتی ہے اور صاف چمڑا نکل آتا ہے اس طرح پر اُس نے خدا تعالیٰ کے نشانوں کی ایسی بے قدری کی کہ گویا اُس کو چھوا بھی نہیں- میرے دل کا آدمی تو ان باتوں کو سُن کر کانپ اُٹھتا ہے کہ اﷲ اکبر یہ کیسا قلب ہے کہ نشان پر نشان دیکھتا ہے اور پھر تکذیب پر جرأت- آخر ایسے شخص کی فطرۃ کتے کیسی ہوجاتی ہے اُس میں خدا نے یہ قاعدہ کلیہ بتایا ہے کہ نامور من اﷲ کے نشانات کو دیکھ کر آفاقی ہوں یا انفسی جھٹلانا کمثل الکلب ہو جانا ہے-
    عزیزو! ممکن ہے کہ تم میں سے کسی نے کسی راستباز کی پاک صحبت پائی ہو یا اولیاء اﷲ کی کتابیں پڑھی ہوں- اقلاً سید عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ عنہ کی مبارک کتابیں پڑھی ہوں ایسا شخص جانتا ہے کہ عظیم الشان دولت جس کے لئے سالک تڑپتے ہیں- وہ سکینت وقار، استقامت، طمانیت اور ایمنی قلب ہے کہ روح میں ایسی جمعیت پیدا ہو جائے کہ زمانہ کا کوئی زلزلہ اور صرصر اُسے جنبش نہ دے سکے- تم جانتے ہو کہ یہ عالم قباحتوں اور کدورتوں اور رنجوں کا عالم ہے ہر ایک اپنے دل میں دیکھے کہ ذرا کوئی بات مزاج کے خلاف سننی پڑے تو دماغ سراسیمہ اور ازکار رفتہ ہو جاتا ہے ہادی کامل رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف نگاہ کرو کہ مکہ معظمہ میں کس قدر زہرہ گداز دکھ اٹھا لئے- پھر اُس استقامت اور سکینت کو دیکھو جو آپ کے حال سے عیاں ہوتی ہے اگر آپ ابنائے زمانہ کی طرح رنجوں کو محسوس کرتے تو کچھ نہ کر سکتے قرآن کریم کی وحی ان دکھوں، ابتلائوں، ایذائوں، گالیوں اور دوستوں کے قتل کے اوقات میں ہو رہی ہے اور اس کی نسبت دعویٰ ہو رہا ہے کہ ولوکان من عند غیر اﷲ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا کیا ممکن کہ اس پاک اور مبارک وحی کے نظام میں الفاظ میں یا معافی میں کوئی خلل ہو- یہ بات بتاتی ہے کہ کس قدر استقامت اور قوت قلب آپ میں تھی-
    خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ جیسے کہ ہمیں یہ فخر ہے کہ ہمارے نبی کریمؐ کی ساری زندگی معجزہ تھی معاً میں بڑے فخر سے اس بات کو ظاہر کرتا ہوں کہ اُس پاک زندگی کا نمونہ ہم میں ہمارے امام ہمام مسیح موعود علیہ السلام ہیں- یہ ہے ثبوت ہمارے نبی کریم صلعم کے زندہ نبی ہونے کا کہ آپ کے اتباع کی زندہ برکتیں ہر زمانہ میں موجود رہتی ہیں-
    میں اس وقت ایک نازک مقام پر کھڑا ہوں اگر میں بایں حالت خدا کے گھر میں خدا کی کتاب ہاتھ میں لے کر خدا کے مسیح موعودؑ کے حضور کھڑا ہو کر جھوٹ بولتا ہوں تو پھر مجھ سے بڑھ کر *** نہیں ہو سکتا- میں راستی سے کہتا ہوں کہ میں اس برگزیدہ امام کے وجود میں رسول کریم ؐ کی چال ڈھال کو ایسا زندہ دیکھتا ہوں کہ میں کہہ سکتا ہوں کہ دوبارہ خود رسول کریم تشریف لے آئے ہیں مجھے اس دعوے کا فخر حاصل ہے اور میرے دوست جانتے ہیں کہ یہ بجا فخر ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے حضرت امام کی اندرونی زندگی سے زیادہ واقف ہونے کا موقع دیا ہے اور یہی وہ بات ہے جس نے مجھے آپ کی صداقت پر بڑا بھاری یقین دلایا ہے میں نے آپ کے ہر معاملہ میں وہ استقامت کوہ و قاری اور متانت اور سکینت اور جمعیت اور طمانیت دیکھی ہے جو صحابہؓ نے آنحضرت صلعم میں دیکھی- ہتکڑیوں کی دھمکی، قتل کے منصوبے، قتل عمد کے جھوٹے مقدمے کفر کے فتوے ناپاک اور خطرناک گالیوں کے اشتہار اور خطوط آئے جس کو دیکھ کر اور سُن کر انسان کا دماغ پریشان ہو جاتا ہے اور ایسی ایسی ناسزا باتیں پیش آئی ہیں جو بڑے سے بڑے متین آدمی کو بھی حیران کر دیتی ہیں کہ کبھی دیکھا نہیں گیا کہ حضرت اقدسؑ نے پیشانی پر بل ڈال کر اس اثناء میں کسی کی طرف دیکھا ہو- میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں بسااوقات بعض مکدر امور کی وجہ سے اور اس ہوا ہوں مگر حضرت کے پاک اور بشاش چہرہ کو دیکھ کر طبیعت ایسی مسرور اور منشرح ہو گئی ہے گویا بڑی عظیم الشان خوشی بخش نظارہ کو دیکھا ہے الغرض یہ پاک انسان گھر میں بیٹھا ہے جب بھی خوش اور دوستوں کے درمیان ہے تو خوش و خورم- کچہری میں ہے بہتخوش وخورم سپرنٹنڈنٹ پولیس کے ساتھ مکان کی تلاش دکھا رہا ہے تو خوش و خورم- اب میں پوچھتا ہوں کہ یہ خلاف عادت فطرت منجانب اﷲ ہونے پر دلالت نہیں کرتی تو کہاں سے آئی؟ بازار میں کسی دوکان پر بیٹھ کر دیکھو کہ راہ روکتے کی طرح ادھر اُدھر دیکھتے جاتے ہیں تم دیکھو گے کہ جب یہ خدا کا مامور راہ چلتا ہے تو کس طرح پر متانت کے ساتھ نظر بریشت پا دوختہ گویا وقار اور متانت کا ایک پہاڑ ہے- تم نے کبھی نہ دیکھا ہو گا کہ سگ فطرت آدمی کبھی جمعیت کے ساتھ ایک رُخ جاتا ہو- مگر حضرت اقدس میں کہ کبھی دائیں بائیں نہیں دیکھتے- یہ قوت قلب اور سکینت بناتی ہے کہ ایک معشوق ذوالجلال ایسا سامنے ہے کہ نگاہ اُس سے ہٹتی ہی نہیں- اہل دنیا نے چونکہ وہ حسین معشوق دیکھا ہی نہیں اس لئے ان کو وہ سکون اور وقار کہاں؟ غرض راستباز کو چھوڑنے کا ایک نقصان یہ ہے کہ مکذب انسان کتے کی فطرت کا ہو جاتا ہے- جیسا کتا اپنی ناک زمین پر لگائے رکھتا ہے اور ہر وقت بے قرار اور مضطرب الحال رہتا ہے اور اخلدالی الارض کا پورا نمونہ ہوتا ہے اسی طرح پر اس مخالف اور مکذب کا حال ہو جاتا ہے- یاد رکھو یہ جانور نمونہ کے کے لئے بنائے گئے ہیں جو شخص بالکل رو بدنیا ہو اور اُس کی آتش آزبھڑ کی ہوئی ہو وہ کتے کا نمونہ ہے اور یہ فطرت مامور من اﷲ اور آیات اﷲ کی تکذیب سے پیدا ہوتی ہے-
    پس میں مبارک باد دیتا ہوں اُن لوگوں کو جنہوں نے امام کو پہچانا اور اس کے ساتھ ہوئے اور خدا تعالیٰ کے نشانات کی قدرکی- لیکن میرے دوستو! ڈرنے کا مقام ہے تمہیں خدا نے نشان دکھائے ہیں اندر سے بھی اور باہر سے بھی اور تمہاری روحیں یقین کر چکی ہیں کہ اپ واقعی مسیح موعود ہیں اب بھی اگر اﷲ تعالیٰ کی مرضی کے موافق تم نے اپنی جانوں کو درست نہ کیا اور تقویٰ و طہارت اور خشیت الٰہی کا نمونہ دکھایا تو اندیشہ ہے انجام کار فطرت اُس ناپاک شخص سے نہ جاملے جس کا قصہ میں نے آج خدا کی حکیم کتاب سے تمہیں سنایا ہے-
    وہ جو یہاں رہتے ہیں عملی طور پر اپنے پاک نمونے دکھائیں اس لئے کہ سب سے زیادہ نشان دیکھنے والے وہی ہیں جو اﷲ تعالیٰ ہم پر فضل کرے کہ حضرت امام علیہ السلام کی دعائوں کی برکت ہمارے شامل حال ہو اور ہم اپنے چال چلن سے اپنے امام کی سیرت مبارکہ کے گواہ ٹھیر جائیں- آمین

    1903۔04۔03
    خطبہ
    ۳۔ اپریل ۱۹۰۳ء کو جو خطبہ حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب رضی اﷲ عنہ نے پڑھا- اس کا خلاصہ
    ھوالذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ
    اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اسی نے اپنا رسول ہدایت اور دین الحق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ کل دینوں پر اس کو غالب کر دے یا یہ کہو کہ اب یہ حق اور ہدایت تمام دینوں پر غالب ہوگی- کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے اپنا رسُول ہدایت حق کے ساتھ بھیج دیا ہے- اس آیت پر بڑے ذوق اور سرور کے ساتھ میں چند باتیں بیان کرنی چاہتا ہوں کہ کس طرح پر خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت اپنے دین کو غالب کرنے کے واسطے ہو رہی ہے-
    اس بات پر بحث کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ یہ آیت کس کے حق میں ہے، تمام مفسرین نے بالاتفاق تسلیم کر لیا ہے کہ یہ آنے والے مسیح موعود کے حق میں ہے یعنی تمام ادیان پر اسلام کا غلبہ واضح حُجّت کے ساتھ ہاں ایسے طور پر کہ دُنیا بول اُٹھے کہ واقعی اسلام کے دلائل کو کھلا غلبہ مل گیا- اس وقت ہو گا جبکہ مسیح موعود آ ئے گا- اور اِس طر ح پر یہ آیت رسُول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بھیس میں مسیح موعود کے حق میں ہے یا یہ کہہ دو کہ مسیح موعود کی صورت آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم آئیں گے- اور ململ باطلہ وہالکہ پر اسلام کو غالب کر کے دکھلائیں گے یہ بالکل سچ ہے کہ جب سے قرآن کریم کا نزول ہوا اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی- اسی وقت سے باطل کی شکست کی بنیاد رکھی گئی- آپ کا وجود باجود اور آپ کی کتاب خطرناک حربہ تھا اور ہے- ذلیل باطل کے ہلاک کرنے کے واسطے حقیقت میں اسی وقت اور ساعت سے تمام باطلوں کی ہلاکت اور شکست کا سلسلہ شروع ہو گیا- لیکن ایک وقت مقدر تھا کہ اس باطل کو ایسی شکست ہو کہ وہ پھر سر نہ اُٹھا سکے- اور اس کو برا کی کچلیاں نکال ڈالی جاویں تا پھر وہ ڈنگ چلانے کے قابل نہ رہے- اس وقت جو شخص زمانہ کی موجودہ حالت سے آگاہ اور واقف ہے اور اسے معلوم ہے کہ ملل باطلہ نے اسلام پر کیسے تیز دانت چلانے چاہے ہیں اور کس طرح پر اس زمانہ کی نسلوں کو تباہ کرنا چاہا ہے- اور جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کام سے واقف ہے- وہ اگر کوئی تعصّب اور شرارت نہیں رکھتا- تو اسے چلاّ کر کہنا پڑے گا کہ لاریب یہی شخص ہے- جو اس آیت کا مصداق ہے- لیکن افسوس تو یہ ہے کہ اکثر لوگوں کو اس بات کا علم نہیں کہ حضرت مسیح موعود نے کیا کیا ہے اور جن کو علم ہے- لیکن افسوس تویہ ہے کہ اکثر لوگوں کو اس بات کا علم نہیں کہ حضرت مسیح موعود نے کیا کیا ہے او رجن کو علم ہے- ان میں سے اکثر اپنی خفاش صفتی کی وجہ سے اس کو دیکھ نہیں سکتے- میں مختصر طور پر تمہیں بتاتا ہوں کہ اس نے کس طرح پر لیظھرہ علی الدین کلہ کر کے دکھایا ہے-ہم میں اور ہمارے دشمنوں میں یہی ایک امر فیصلہ کے لئے تنقیح طلب ہو سکتا ہے - اور اسی پر فیصلہ ہو سکتا ہے- اگر وہ توبہ کریں-
    ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے کھلے طور پر اسلام کو غالب کر کے دکھایا ہے- اور اس کے دلائل اور براہین ہمارے پاس ہیں- پس جب یہ ثابت ہو جائے تو پھر مسیح موعود کے دعوے کے لئے کسی اور ثبوت کی ضرورت اور حاجت ہی رہ جاتی- کیونکہ یہ مسلم امر ہے کہ وہ اظہار الدین جو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے- مسیح موعود ہی کے ساتھ مختص ہے اورمسلّم ہے-
    جیسے مفسرین نے اس آیت کو مسیح موعود کے حق میں تسلیم کیا ہے- اسی طرح پر اس انسان نے جس نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے- پوری بصیرت اور کامل شعور کے ساتھ خدا تعالیٰ کی وحی اور الہام کی بناء پر اس آیت کو اپنے حق میں لیا ہے- اور پچیس برس پہلے سے جس واقت کوئی دعوے ٰ مسیح موعود ہونے کا نہ تھا یہ الہام براہین احمدیّہ میں چھپا ہوا موجود ہے اب صرف یہ دکھانا باقی ہے کہ اظہار الدین اس آیت کے کھلے منشاء کے موافق ہوا ہے یا نہیں؟ دین کو غالب کرنے کی دو راہیں ہیں- اوّل اسلام کی تائید کے لئے عجیب سامان بہم پہنچائے جاویں- دوم باطل کے حملوں کی تردید کا کافی سامان ہو یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ احقاق حق اور ابطال باطل کے سامان بہم پہنچانا- اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ دونوں باتیں کامل اکمل اتم طور پر مسیح موعود نے کر کے دکھائی ہیں-
    سب سے بڑا مسئلہ ذات باری تعالیٰ کا ہے- تمام قوموں نے اس میں غلطی کھائی ہے- حتیٰ کہ عام مُسلمانوں نے جو موجود ہیں اور جن کو لاالا الہ اﷲ کی تعلیم دی گئی تھی- جو قرآن شریف کی تعلیم کی اصل غرض اور منشاء ہے- اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم جس تعلیم کی اشاعت کے لئے مبعوث ہوئے تھے- اُس کو اب چھوڑ دیا ہے- قرآن شریف نے سکھایا تھا وہ الحّی القیوم ہے- وہ کلام کرنے والا ہے- اور امور کی تدبیر اور تصرف کرنے والا ہے- وہ اپنے ارادہ اور امرکن کے ساتھ ہر چیز پر منصرف ہے- یہ عقیدہ مسلمانوں میں مٹ چکا تھا- کوئی گدی کوئی صوفی کوئی سجادہ نشین نہیں جو ان باتوں کا ثبوت دے سکے- خیالی طور پر اگر کسی نے خدا کو مانا ہو تو یہ جدا امر ہے- لیکن نری خیالی باتوں سے کچھ نہیں بنتا- دوسرے مذاہب کا تو ذکر ہی فضول ہے- وہ اس سلسلہ میں پیش نہیں ہو سکتے- آریہ، عیسائی، برہمو تو اﷲ تعالیٰ کی ان صفات کے قائل ہی نہیں رہے- مسلمان مانتے تھے- مگر ان میں سے بھی کوئی ثبوت نہیں دے سکتا کہ وہ مانتا ہے کہ اس کا خدا بولنے والا، متصرف، مقتدر زندہ خدا ہے- اس مسئلہ کو خدا تعالیٰ کے برگزیدہ مسیح نے عجیب رنگ میں دکھایا ہے- یہی مسئلہ ہے جس پر ساری روحانی ترقیوں کا انحصار ہے- اور الہٰیات کی اصل جڑ یہی ہے- اگر خدا تعالیٰ کے متعلق عقیدہ صحیح نہ ہوا- تو پھر اعمال صالحہ میں حسن اور صواب کیسے پیدا ہو سکتا ہے- اس لئے سب سے پہلے جیسا کہ انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے- خدا کے برگزیدہ مسیح نے اﷲ تعالیٰ کی قدوسی ذات کے متعلق سچا اور یقینی علم دیا- اور پھر یہ علم خیالی اور ذہنی طور پر نہیں دیا- بلکہ یقینی طور پر بصیرت کے ساتھ عطاء کر لیا- اس نے دکھا دیا کہ خدا تعالیٰ جیسے پہلے متکلم، متصرف، قادر اور مدبّر تھا- اب بھی اسی طرح ہے- اور میرے ساتھ کلام کرتا ہے- اس نے بڑے زور شور سے یہ دعوے ٰ کیا-
    آں خدائے کہ از و اہل جہاں تے خبراند
    برمن او جلوہ نمود است گراہلی بپذیر
    اور پھر اس دعویٰ کو ان تائیدوں اور نصرتوں سے جو اس کی ہور ہی ہیں ثابت کر کے دکھایا کہ وہ مقتدر متکلم- متصرف خدا جیسے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے وقت تھا اب بھی ہے اور کن فیکون کا مالک ایسا ہی ہے جیسے موسیٰ کے وقت تھا جبکہ وہ دریا پر پہنچے- اس وقت اگر قادر یعفعل مایشاء خدا اس کے ساتھ نہ ہوتا تو عاجز بندہ موسیٰ ہلاک ہو جاتا یہ چھوٹی سی بات نہیں- الہٰیات کی بُنیاد اسی ایک مسئلہ سے پڑتی ہے- اور ساری روحانی ترقیوں کی اصل اور جڑ یہی ہے - میں وقت اگر کافی ہوتا اور خطبہ متحمل ہو سکتا تو تمہیں کھول کر سُناتا کہ کیونکر اس مسئلہ میں قوموں نے غلطی کھائی ہے اور وہ ہلاک ہوئی ہے- اور انہوں نے قدوس، قادر، الحی- القیوم - متکلم خدا کی ہتک کی ہے- اور خدا کا اقرار کر کے کس طرح پر دہریّت پھیلائی گئی ہے- میں بصیرت اور کامل شعور کے ساتھ کہتا ہوں کہ آج زندہ خدا کا ثبوت صرف صرف حضرت مسیح موعود نے دیا ہے- اور کوئی متنفس خواہ وہ کسی مذہب و ملت کا ہو اس قابل ہے ہی نہیں کہ خدا کو ثبوت کر سکے- مبارکی اور صلوٰۃ ہو مسیح موعود کو کہ اس نے اس مسئلہ میں جان ڈال دی- اور سچ تو یہ ہے کہ خدا کو زندہ کی صورت میں دکھا دیا-
    پھر بہت بڑا مسئلہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی رسالت اور نبوت کا مسئلہ تھا- آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو خاتم النبیین ٹھہرایا گیا ہے- مگر ختم نبوت کی حقیقت سمجھنے میں خطرناک غلطی کھائی ہے- بعض لوگ یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ نبوت یونہی ختم ہو گئی- آپ سب سے پیچھے آئے- اور نبوت اس طرح پر ختم ہو گئی- مگر یہ کوئی نہیں بنا سکتا تھا کہ یہ نبوت آپ پر کیسے ختم ہوئی؟ اس نے آ کر بتایا کہ طبعی طور پر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہو گئی ہے کیونکہ تمام کمالات نبوت کے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر ختم ہوئے- اور قرآن کریم سے باہر کوئی سچائی اور راستی نہیں- اس کی تعلیم کامل اور مکمل ہے- اس لئے طبعی طور پر جبکہ کمالات نبوۃ آپ پر ختم ہوئے آپ خاتم النبیین ٹھہرے لیکن باوجود اس کے مسلمان اپنی غلطی یا بدقسمتی سے کم از کم عملی طور پر یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم فوت ہو گئے- اور اس طرح پر آنحضرت ؐ کی ہتک کی جاتی ہے اور کوئی ثبوت آپ کی رسالت اور ختم نبوت کا نہیں دیا جاتا تھا- بلکہ حضرت عیسیٰ کو آسمان پر زندہ مان کر جیسے خدا تعالیٰ کی توہین کی جاتی تھی ویسے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پاک حیات پر حربہ چلایا جاتا تھا- خدا تعالیٰ کی صلوٰۃ ہوں اس مسیح موعود پر کہ اس نے روشن دلائل سے ثابت کرکے دکھا دیا کہ زندہ نبی آپ ہیں- جن کے فیوض اور برکات کا سلسلہ اب تک جاری ہے- میرے دل میں تڑپ پیدا ہوتی اور جوش ہوتا ہے کہ کاش! مسلمانوں کو خبر ہوتی ہے کہ یہ اپنے سیّد و مولا کا کیسا عاشق اور اس کی عزت و عظمت کا کیسا خواہشمند ہے کہ وہ اس کی زندگی کے مقابلہ میں کسی اور کی زندگی سمجھتا ہی نہیں- اگر انہیں اس عشق و محبت کی محبت کی خبر ہوتی تو وہ اس کے خاک پاء کو سرمہ بناتے اور دیار میں لے جاتے- جگر خون ہو جاتا ہے- جب ان لوگوں کی حالت دیکھی جاتی ہے کہ کیا یہ انسان اس قابل تھا کہ اس کو گالیاں دی جائیں- اور اس کا گناہ صرف اتنا کہ یہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو زندہ ثابت کر نا چاہتا ہے- اور عیسائیوں کے فرضی خدا کو مُردہ ثابت کر تا ہے- بھلا بتائو کیا مسیح کی موت کے ثابت کرنے سے اس کی جائداد بڑھتی ہے ؟ نہیں- اس کی غرض صرف یہ ہے کہ تا مُردہ پرستی کا استیصال ہو- اور خدائے قدوس واحد لاشریک کی عباد ت ہو- اور محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی عزت ہو- اس کے لئے ضروری تھا کہ وہ عاجز انسان جو خدا بنایا گیا تھا- مردہ ثابت کیا جاتا- اب اس بات پر مسلمان اس کے دشمن ہیں- افسوس ! تم پر اے گروہ منکرین ! کتنی منّت ہے اس مسیح کی تمہاری گردنوں پر کہ جس نے زندہ خدا، زندہ رسُول اور زندہ کتاب ثابت کر کے دکھائی- مبارکی ہو تجھ کو اے خدا کے پیارے مسیح تو جیت گیا-
    پھر قرآن شریف کا مسئلہ تھا- قرآن شریف بلاشبہ ایک کتا ب ہے- اور ایسا ہی توریت انجیل بے جان، وید بھی کتابیں سمجھی جاتی ہیں- مگر ان سب میں کوئی عالم، صوفی ، متکلم مسلمان فرق اور مابہ الامتیاز نہیں ہوتے- تقریروں ، بحثوں میں ممکن ہے وہ یدطولیٰ رکھتے ہوں لیکن یہ کوئی آکر نہیں بناتا کہ قرآن شریف میں وہ کیا چیز ہے- جو دوسری کتابوں میں نہیں- اگر خدا کا برگزیدہ مسیح موعود نہ آیا ہوتا تو قریب تھا کہ قرآن شریف کی نسبت وہی مُردہ کتابوں کا فتویٰ صادر ہو جاتا- مگر اس نے آ کر بتایا- اور دکھادیا کہ قرآن میں برکت ہے ، یہ زندہ کتاب ہے، دوسروں کو زندگی عطا کرتی ہے - اس پر چل کر انسان خدا کی نصرت اور برکات کو حاصل کرتا ہے- معجزات اور کرامات دکھا سکتا ہے- مہبط وحی ہو سکتا ہے- منعم علیہم کی جماعت پر جو انوار اور فیوض و برکات نازل ہوتے ہیں- ہر زمانہ میں قرآن کریم کا سچا متبع ان سے بہرہ ور ہو سکتا ہے-
    اور حقیقت میں یہ امر قابل لحاظ بھی ہے - اگر اس میں یہ خوبی اور برکت نہیں- تو پھر اس سے کیافائدہ؟ بھڑوں کا چھتہ جبکہ اس میں سے مصری کھائی گئی ہو کبھی اس قابل نہیں ہو سکتا کہ اس کی طرف توجہ کی جائے- لیکن جبکہ اس میں مصری موجود ہو تو وہ اس قابل ہوتا ہے کہ آنکھ اُسے دیکھے اور ہاتھ اس کی طرف لپکے- اب تمام قومیں اپنی کتابوں کی نسبت عملی طور پر اعتراف کرتی ہیں کہ وہ اس چھتے کی طرح ہیں- نہیں مصری نہیں ہے- لیکن اس خدا کے مسیح نے پرزور اور قاطع دلائل کے ساتھ ثابت کر دیا ہے کہ اس کی مصری ویسے ہی موجود ہے- وہی برکات نتائج بلاتفاوت اب بھی اس کی پیروی سے حاصل ہو سکتے ہیں جیسے اس مہبط وحی کے وقت تھے-یہ کتنا بڑا احسان ہے-
    غرض کہ اُس نے اﷲ تعالیٰ کی ذات اس کے ملائکہ، رُسل اور کتابوں کے متعلق کیسے واضح اور قوی دلائل کے ساتھ دکھایا ہے کہ یہ ساری ہستیاں حق ہیں یہ کتنا بڑا احسان اس انسان کامل کا تھا مگر اے نااہل لوگو! تم پر افسوس کہ تم نے اس آسمانی مائدہ کو ردّ کیا-
    پھر ایک عظیم الشان بات ہے- قرآن شریف کا مایۂ ناز مسئلہ مسئلہ دُعا تھا- اس کتاب مجید نے اوّل یہی اھدنا الصراط المستقیم کہہ کر اور آخر بھی قل اعوذ برب الناس سے دعا سکھائی تھی اور اس میں یہ دکھایا تھا کہ خدا تعالیٰ کے انعامات کی جاذب دُعا ہے جو قرناً بعد قرنٍ زندہ رہے گی- اور وہ قوم زندہ قوم ہو گی- جو دُعا کو اپنی سپر بنائے رکھے گی کیونکہ پہلے منعم علیہم کے برکات نازل ہونے کی دعا سکھائی- او رآخر میں خاتمہ بالخیر کے لئے سکھایا کہ خدا تعالیٰ کی راہوں کے دشمن فناس سے بچا- ایسا عظیم الشان مسئلہ اس وقت بالکل اسے چھوڑ دیا گیا تھا- مگر خدا تعالیٰ کی تائیدات متکاثرہ ہوں اس مسیح موعود پر کہ جس نے اس مسئلہ کو زندہ کیا-
    اسی طرح استحقاق حق کے لئے کوئی طریق اور راہ اس نے باقی نہیں چھوڑی-
    باطل کی تردید کے لئے اس نے کیا کیا یہ بھی چھوٹا سا مضمون نہیں- اس لئے مختصراً اس پر کہتا ہوں کہ ایک باطل جس نے حقوق اﷲ پر حملہ کرنے کے لئے سارے زور لگائے- جس نے اﷲ تعالیٰ کی ساری کتابوں اور نبیوں کی بے ادبی کی ہے- وہ تثلیثی مذہب ہے- جس نے حضرت عیسیٰ کو زندہ اور عرش پر مان کر اور اس کو *** اور خون گرانے والا تسلیم کرنے والا تسلیم کر کے انسان کی نجات کا انحصار اس *** پر رکھا ہے اور انسانی قویٰ کی ہتک کی ہے- غرض یہ ایک زہریلا کوبرا ہے- یہ خطرناک اژدھا ہے جو برابر راستی کا دشمن ہے اور جس نے نبی آدم کی ایڑی کوکاٹا ہے- مگر اس آدم ثانی نے اس کی زہر سے بھری کچلیوں کو نکال ڈالا ہے اور آدم اوّل کا انتقام آخری جنگ میں جو اس نخاش سے ہوئی لے لیا ہے- اب آیندہ اسے قدرت نہ ہو گی- کہ وہ اپنے زہریلے دانت راست پر مار سکے- اے عزیز! اگر تمہیں معلوم ہو کہ کس طرح پر اس کا سر کُچلا گیا ہے تو تم قدوس قدوس کہہ کر مسجدوں کو گونجا دو-
    میں مختصر بتاتا ہوں کہ سب سے بڑا حملہ اس نے مسیح کی موت کے ذریعہ کیا ہے کہ اگر وہ مر گیا تو خدا نہیں- اور پھر جس طرح پر مرا ہے- اس کے ثبوت سے صلیبی نجات کی حقیقت بھی کھل جاتی ہے- اور کوئی حقیقت اس کی باقی رہتی ہی نہیں- احمق نادان مسلمان چلاتے ہیں اور عیسائیوں کی حمایت کے لئے چلاتے ہیں کہ زندہ ہے- مگر قرآن شریف اُسے مار چکا جھوٹا ہے جو کہتا ہے کہ وہ زندہ ہے ولعنت اﷲ علی الکاذبین- محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اگر سچا نبی ہے - اور ضرورہے- قرآن اگر سچی کتاب ہے اور ضرور ہے تو یہ بھی سچ ہے کہ مسیح مر گیا- خدا کے صلوٰۃ ہوں اس مسیح موعود پر جس نے کہ شروع سے لے کر آج تک برابر اس مسئلہ کو پورے استقلال اور زور سے نبھایا ہے- یہاں تک کہ اس قبر تک پہنچا دیا- جس میں مریم کا بیٹا جو خدا بنایا گیا مر کر لیٹا ہوا ے- تم دیکھو گے کہ جس وقت اﷲ تعالیٰ نے اس تبلیغ کو کامل کر دیا- تو گرجوں میں تزلزل پیدا ہو گا اور خدا کا جلال ظاہر ہو گا- الحمد ﷲ الحمد ﷲ رُسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سچائی کا نشان ظاہر ہو گیا - اور اسی ایک مسئلے سے باطل کا سر کچلا گیا- اب غور سے دیکھو کہ کیا یہ وہی نہیں ہے جس کے لئے کہا گیا تھا- لیظھرہ علی الدین کلہ- لاریب یہ وہی برگزیدہ موعود ہے- جیسے بادل سے پہلے ٹھنڈی ہوا آنے لگتی ہے- اب سارے یورپ میں ہوا چل رہی ہے- ایک اگر چلاّ اُٹھا ہے کہ حماقت ہے انسان کو خدا بناتا تو دوسرا چیخ اُٹھا ہے کہ عیسائی مذہب کی اصلاح کرنی چاہئیے-
    اب چاروں طرف سے اس قسم کی ہوا چل رہی ہے- برکات اﷲ علیک وصلوت علیک ایھا المسیح- خدا کے حضور ہماری جماعت کو چاہئیے کہ مسجدہ میں پڑی رہی- اب رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی عزت کے دن آ گئی- احمد ی قوم! خدا کا تجھ پر بڑا احسان ہے- اس لئے بڑے شاکر اور متقی ہو جائو تا کہ نعمت بڑھے اور باقی وعدے پورے ہوویں- اﷲ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے- آمین
    (الحکم ۱۰؍ اپریل ۱۹۰۳ء نمبر ۱۳، جلد ۷ صفحہ ۹تا۱۱)

    1903۔04۔10
    خطبہ
    اس خطبہ کا خلاصہ جو ۱۰؍ اپریل ۱۹۰۳ء کو حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب رضی اﷲ نے پڑھا- ایڈیٹر
    واذاخذاﷲ میثاق لما اتیکم من کتٰبٍ وحکمۃ ثم جاء کم رسولٌ مصدق لما معکم لتومنن بہٖ ولتضرنہ- قال قررتم و اخذتم علیٰ ذالکم اصری- قالوا اقررنا- قال فاشھدوا وانامعکم من الشٰہدین - فمن تولّی بعد ذلک فاولئک ھم الفاسقون-
    اور اس وقت کو یاد کرو کہ جب اﷲ تعالیٰ نے تمام نبیوں سے اقرار لیا کہ میں نے جو تم کو حکمت اور کتاب دی ہے یعنی اپنی معرفت اور شناخت کے ذریعہ تم کو عطا کئے ہیں- ایک وقت آنے والا ہے کہ اس کے متعلق بڑی بڑی غلطیاں اور فتور واقع ہوں گے- اس وقت ان غلطیوں کی اصلاح و تجدید دین کے لئے ایک عظیم الشان رسُول آئے گا جو ان حقائق اور صداقتوں کی تصدیق کرے گا- اور تمام غلط فہمیوں اور غلط تعلیمات، بیہودہ رسومات اور خیالی معتقدات کو جو اپنی خواہشوں اورجوشوں کا نتیجہ ہوں گے- الگ کر دے گا- چونکہ اس کا کام عظیم الشان ہو گا اور تمام دین اور گروہ انبیاء پر بھی ایک احسان ہو گا- اس لئے تم سب کا فرض ہو گا کہ اس پر ایمان لائو اور اس کی نصرت کرو- پھر اﷲ تعالیٰ نے ان سے پوچھا کہ کیا تم اقرار کرتے ہو اور میرے اس عہد کو مانتے ہو کہ اس کی نصرت کرو گے اور اس پر ایمان لائو گے- اور اس کی نصرت کریں گے- اس پر اﷲ تعالیٰ نے کہا کہ تم اپنے اس معاہدہ کے گواہ رہو- اور مَیں بھی تمہارے ساتھ ایک گواہ ہوں- پس اس وقت جوشخص ایسے روشن دلائل دیکھنے کے بعد اس کی بیعت اور نصرت سے انکار کرے گا- وہ فاسق (بدعہد) ہو گا-
    یہ آیتیں اﷲ تعالیٰ کی کتاب میں بڑے ہی غووفکر کے قابل ہیں- سب مفسر بالاتفاق مانتے ہیں کہ ان آیتوں میں ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے متعلق ایک عہد کا ذکر ہے اور یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ ہر ایک نبی سے اﷲ تعالیٰ نے اور ہر نبی نے اپنی اُمت سے یہ اقرار لیا کہ خاتم النبیین پر ایمان لانا اور اس کی نصرت ضروری ہو گی- اس اقرار اور عہد کو کتب سابقہ میں اور صحائف انبیاء میں مختلف طریقوں سے ادا کیا گیا ہے- لیکن جہاں تک ہم اس کتاب اور انبیاء علیہم السلام کے صحیفوں کو دیکھتے ہیں- یہ بات بڑی صفائی کے ساتھ معلوم ہوتی ہے کہ ابتدائے اصلاح کے وقت سے یعنی آدم علیہ السلام کے زمانہ سے لے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تک برابر دو شخصوں کی پیشگوئی چلی آتی ہے- اور وہ پیشگوئی دو مختلف شاخیں رکھتی ہیں- اور اسی وجہ سے دو شخصوں کے متعلق جداگانہ پیشگوئی قرار دی جاتی ہے- ورنہ دراصل ایک ہی شخص کی پیشگوئی ہے- لیکن چونکہ وہ مختلف عنوانوں کے ماتحت یہ پیشگوئی ہے- اس لئے ہم بھی اس کو دو ہی شخصوں کے متعلق کہیں گے- ایک آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے متعلق اور دوسری بھی آپ ہی کی مگر بروزی رنگ میں صبح موعود کے متعلق-
    اس میں کوئی کلام اور شک اور تردد باقی نہیں رہتا کہ یہ پیشگوئی متواتر متوارث طور پر چلی آئی ہے- اس کے متعلق خدا کی حکیم اور مجید کتاب ان آیتوں میں ذکر کرتی ہے- اس لئے اِس آیت پر بڑا ہی تدبّر کرنا چاہئیے اور دیکھنا چاہئیے کہ وہ کیا اہم ضرورت تھی- جو اﷲ تعالیٰ نے سارے نبیوں سے یہ عہد لیا اور پھر ہر ایک نبی نے اپنی اُمّت کو وصیّت کی-
    یہ ایک سوال ہے جس کو حل کرنا ضروری ہے جہاں تک مَیں نے اس آیت پر سو چا ہے- اور خدا تعالیٰ نے مجھے اس کے حل کرنے کی راہیں بتائی ہیں وہ اگرچہ بہت ہی لذیر اور طویل الذیل باتیں ہیں- مگر میں مختصر طور پر اس وقت کے مناسب حال کچھ بتائوں گا-
    اس جگہ اﷲ تعالیٰ نے تین نقطہ رکھتے ہیں جو بڑے ہی قابل غور ہیں اور اس سوال کے حل کرنے کی کلید ہیں- (۱) کتاب (۲) حکمت(۳) مصدق
    اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تمام نبیوں کو کتاب اور حکمت عطاء کی- اور ان دو ذریعوں سے ان کو بہرہ ور کیا- جو اﷲ تعالیٰ کی شناخت معرفت اور پھراس کی عبادت کی جان ہیں- یادرکھو کہ اﷲ تعالیٰ جو شناخت اور عبادت اپنی نسبت مخلوق سے چاہتا ہے- اس کے دو ہی ذریعے ہیں - ایک وحی جس کو دوسرے الفاظ میں کتاب اﷲ کہا گیا ہے- دوسرے اس کو سمجھنے اور موقع پر برتنے کا فہم صحیح جو حکمت سے تعبیر کیاگیا ہے- اﷲ تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت کی بہت ہی راہیں اور ذریعے ہیں- لیکن سب سے کامل اور افضل ذریعہ وحی ہے- جس سے اس کی ہستی کا کھلا کھلا ثبوت ملتا ہے- ایسا ثبوت کہ کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی رہ سکتی ہی نہیں اور حکمت وہ باتیں ہوتی ہیں جو اس طریق اور معرفت کو بتاتی ہیں جو خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے مقرر فرمائے ہیں- انہیں دونوں ذریعوں کی وجہ سے اسلام دنیا میں اکیلا مذہب ہے- جو اپنی سچائی اور صداقت پر زبردست دلائل رکھتا ہے- جن کا مقابلہ کوئی قوم اور مذہب نہیں کر سکتا- اب تیسرا لفظ تصدق ہے جو اس امر کی ضرورت بتاتا ہے کہ ایک ایسا انقلاب اور وقت آئے گا کہ جب کتاب اور حکمت میں نقصان واقع ہو گا- اور لوگ ان دونوں ذریعوں سے محروم ہو جائیں گے- اس وقت ایک عظیم الشان رسول دنیا میں آئے گا- جو حق و باطل میں فرق کر دے گا- اور اس کی سچائی کا یہ نشان ہو گا کہ وہ ان صداقتوں اور حقائق کی تصدیق کرے گا- جو تمہیں دی گئی تھیں- یہ نشان گویا اس کا حلیہ ہے- جو ہزاروں برس پہلے متواتر اﷲ تعالیٰ اپنے نبیوں کی معرفت دنیا کو بتاتا آیا ہے- اس قدر عرصہ دراز پہلے یعنی ابتدائے اصلاح دنیا کے وقت سے لے کر ہمیشہ ہر زمانے میں جب یہ حلیہ اس کا بتایا جاتا رہا ہے تو یہ حلیہ کسی حالت اور صورت میں ناقص اور ادھورا نہیں ہو سکتا ہے- گورنمنٹ بھی جب کسی کا حلیہ مشتہر کرتی ہے- تو عموماً مکمل ہوتا ہے- پھر اﷲ تعالیٰ جو حلیہ ہزاروں سال سے بتاتا چلا آیا ہے- اور کسی زمانہ میںاس میں کوئی فرق نہیں آیا- اس کے صحیح اور ٹھیک ہونے میں کیا شک ہو سکتی ہے؟
    اور حقیقت الامر یہ ہے کہ ایسا واضح درخشاں خط و خال والا حلیہ نظر ہی آتا- جو اﷲ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے وہ حلیہ کیا ہے؟ مصدقاً المامعکم- یعنی اس نبی کی شناخت کا معیار اس کی تصدیق کا خطا نہ کرنے والا نشان یہ ہو گا کہ وہ ان تمام گذشتہ صداقتوں کی جو پہلے انبیاء اور راستبازوں کو دی گئی تھیں- اور جن میں اس وقت غلطیاں خرابیاں اور بے اعتدالیاں واقع ہو چکی ہوں گی- تصدیق کرے گا- یہ ایک معیار ہے جو کبھی خطا نہیں کر سکتا اور اس سے بڑھ کر وہ برانداز نشان ہو ہی نہیں سکتا- خدا تعالیٰ کی ہستی جو شناخت رسُولوں کی کرانی چاہتی ہے- اس کی کامل اور واضح راہ یہی ہے- بھلا بتائو تو سہی کہ وہ کون شخص ہے جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی شناخت کا آرزو مند نہ ہو- کیونکہ آپ خاتم الانبیاء اور ابدالآباد کے لئے نبی تھے اور ہیں- اور کامل اکمل ہادی تھے اور ہیں اور آپ کا نہ ماننا خد اتعالی کے غضب کا وارث بننا تھا- اس لئے آخری زمانہ کے اہل کتاب کو مصدقاً لمامعکم نشان بتایا- کوئی مفسر، عالم، ادیب مصدقا لما معکم کے معنے سوائے اس کے کچھ نہیں کر سکتا کہ وہ خاتم الانبیاء جو عہد نامہ کا رسول کہلاتا ہے- جس کی بابت کل نبیوں سے میثا ق لیا گیا- ان تمام صداقتوں اور حقائق کی جو گذشتہ انبیاء کے ذریعہ ظاہر ہوئیں تصدیق کرے گا- اور اس کے قول فعل سے حق کی تائید اور تصدیق ہو گی- اور تمام غلط تعلیمات، بیہودہ اعتقادات اور بطلانوں کو الگ کر دے گا- اس امر کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی آپ کی پاک تعلیمات میں مشاہدہ کرو کہ آپ نے کیسے تمام سچائیوں اور صدقتوں کی تصدیق کی- اور ہر ایک بیہودگی کو دور کر دیا-
    اب غور طلب یہ امر ہے کہ اﷲ قادر کریم جو ذوالجلال ہے ایک نبی کے متعلق سارے نبیوں اور ان کے ذریعہ ان کی اُمّتوں سے عہد لیتا ہے کہ تم نے اس پر ایمان لانا اور اس کی نصرت کرنا اور جو نہ مانے گا وہ *** کے نیچے آجاوے گا- ایسا کیوں کیا گیا ؟ یہ بات بڑی لذیذ اور قابل غور ہے اصل یہ ہے کہ اگر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم دنیا میں نہ آئے ہوتے تو سب کے سب انبیاء اور رُسول ہلاک ہو جاتے- آدم سے لے کر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم تک کسی نبی کا نشان نہ ہوتا- سب مٹ چکے تھے- دنیا کی دست درازیوں اور فضول مبالغہ کی وجہ سے مجھے اس امر کے کہنے میں بھی عار نہیں کہ اﷲ تعالیٰ کا نام بھی مٹ گیا تھا- ایک ناپاک مذہب نے ضعیفہ عورت کے بچے کو عرش عظیم پر خدا کا ہمسر بنا کر جا بٹھایا تھا- ایران میں نور اور ظلمت دو خدامانے جاتے تھے- ہندوستان کے فرزندوں نے بچھوئوں، سانپوں، پتھروں اور درختوں کو ہی خدا نہ بنایا تھا- بلکہ ان سے بھی آگے بڑھ کر عورت اور مرد کی شرمگاہوں تک کی پرستش کو اپنا شعار بنا لیا تھا- اسی طرح پر کل دنیا کی حالت ہو چکی تھی- ساری دُنیا مر چکی تھی- تمام اخلاق فاضلہ اور روحانی قوتوں کا خون ہو چکا تھا- اسی کو خداکی حکیم کتاب نے ظھر الفساد فی البر و البحر کے لفظ سے تعبیر کیا ہے- یہ عیسائی جو آج ابن مریم کو خدا کہتے ہیں- خیال کرلو کہ تیرہ سو برس پہلے ان کی کیا حالت ہوگی- یہ بدترین اعتقاد ہے جو دنیا میں رکھا گیا ہے- جس کی نسبت قرآن شریف میں کہا گیا ہے کہ قریب ہے- آسمان پھٹ جاوے اور زمین شق ہو جائے پھر ایسے طوفان بے تمیزی کے دور کرنے والے عظیم الشان نبی کا اگر اقرار نہ لیا جاتا تو کس قدر اندھیر مچتا- اس لئے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا اقرار لینا بڑا ہی حکمت تھا- خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ اصلی توحید اسی نبی کے ذریعہ ظاہر ہو- اسی لئے سب سے اقرار لیا- لیکن اس وقت جب وعدہ اور عہد کا رُسول آیا- سعادت مندوں راستی کے فرزندوں نے معاً اس کو قبول کر لیا- اور اس کا دعوے سننے ہی بابی انت و امی کہہ کر ساتھ ہو لئے- ایک ازلی شقیوں کا گروہ بھی تھا- جس نے اس وقت بھی نہ پہچانا- اور جو اب تک بھی محروم ہیں- یہ آیتیں کیا سبق دیتی ہیں- اور ان کی تہ میں وہ کیا سّر ہے جو مسلمانوں کو متنبہ کرتا ہے- میں نے شروع میں بتایا ہے کہ اسی طرح زمان اصلاح سے لے کر آج تک مسیح موعود کی بھی پیشگوئی ہوتی چلی آئی ہے- اور ہر ایک نبی اور اکابر امت اپنے اپنے وقت کے لوگوں کو اس عظیم الشان انسان کی بعثت کی خبر دیتا آیا ہے اور سلام کہتا آیا ہے- اصل یہ ہے کہ مسیح موعود کی آمد اور بعثت بھی دراصل اسی ہادی کامل صلی اﷲ علیہ وسلم کی آمد ہے- مگر دوسرے رنگ میں اور مسیح موعود بھی ایک عظیم الشان فتنہ کو فرو کرنے کے لئے آنے والا تھا- اس لئے اسی طرح اس کی بشارت ہمیشہ ملتی آئی اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے بھی فرمایا- کیف انتم اذا نزل ابن مریم فکم و امامکم منکم- وہ ساری اُمّت کے مرسلوں راستبازوں سے اقرار لیتا ہے کہ جب وہ آئے تو ا س کی نصرت کیجیؤ- اس سے اندازہ کر کے دکھایا کہ مسیح موعود کا کتنا بڑا درجہ ہے- یہ مبالغہ نہیں یہ نری لفاظی نہیں- اس کو مبالغہ کہنا گناہ ہے- اﷲ تعالیٰ اور اس کے نبی کا کام اور کلام بلاوجہ نہیں ہو سکتا- اﷲ تعالیٰ خوب جانتا تھا کہ مسیح موعود کی بعثت بھی اسی حالت میں ہو گی جب عظیم الشان دجل اور فتنہ صلیب کے پیروئوں کا برپا ہو گا- اور حقیقی خدا کی عبادت اور پرستش کا نام و نشان مٹ چکا ہو گا- اب کوئی بتا سکتا ہے کہ کتاب اور حکمت بگڑ نہ گئی تھی- اس وقت وہی حالت ہو چکی تھی- ابن مریم کی خدائی تسلیم کرانے میں ہر امر کو روا رکھا گیا ہے- یہ بالکل سچ ہے کہ ایمان اور اعمال صالحہ کا نام تک نہیں رہا تھا- اور یہ خدا کا موعود ثریا سے ایمان لے کر آیا ہے پس اس قت ہر ایک کا فرض ہے کہ اس پر ایمان لائے- اور اس کی نصرت کے لئے اُٹھ کھڑا ہو- جن لوگوں نے خدا کے فضل سے اس کی شناخت کی توفیق پائی ہے- وہ اپنے پاکیزہ چال چلن اور اعمال صالحہ سے اس کی نصرت کریں- اور ہر طرح سے ا س کی تائید کے لئے طیار ہو جائیں- اﷲ تعالیٰ ہماری جماعت کو توفیق دے کہ وہ اس موعود کی بعثت کو پورا کرنے والی ثابت ہو- آمین
    (الحکم ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۳ء نمبر ۱۰ ، جلد ۷)

    1903۔05۔01
    خطبہ
    خطبہ جو یکم مئی ۱۹۰۳ء کو حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب رضی اﷲ عنہ نے پڑھا ـ:
    ومن اظلم ممن افتریٰ علی اﷲ کذبا اوقال اوحی الی ولم یوح الیہ شیٔ و من قال سانزل مثل ما انزل ولوتریٰ اذا نظلمون فی غمرات الموت والملئکۃ باسطوایدھم اخرجوا انفسکم الیوم تجزون عذاب الھون بماکنتم تقولون علی اﷲ غیر الحق و کنتم عن ایٰتہ تستکبرون
    اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہے- جو اﷲ تعالیٰ پر افتراء کرتا ہے اور دعوے کرتا ہے کہ مجھ پر اﷲ تعالیٰ کا کلام اُترتا ہے- حالانکہ ا س پر کسی قسم کا خدا کا کلام نہیں اُترا- اور دعویٰ کرتا ہے کہ میں خدا کے کلام کی طرح ایک کلام نازل کر سکتا ہوں ایسے مدعیوں کے لئے ایک وقت مقرر ہے- اس وقت خدا کے فرشتے اپنے ہاتھ پھیلا کر ان کی رُوح نکال لیں گے اور کہیں گے - اے بے ایمانو! مفتریو! اپنی جانوں کو نکالو- اس لئے کہ تم خدا پر جھوٹ بولا کرتے تھے اور اﷲ تعالیٰ کے نشانوں سے اپنی گردنیں پھیرتے تھے-
    یہ ایک آیت ہے جو بہت ہی غور کے قابل ہے- کیونکہ اس میں خدا تعالیٰ کے ماموروں ، مرسلوں، برگزیدوں کی سچائی اور صداقت کی شناخت کے لئے ایک معیار قائم کیا گیا ہے- اور وہ یہ ہے من اظلم ممن افتریٰ علی اﷲ کذباً - بڑا ظالم، بدمعاش ، مفسد اور شریر خدا کی سلطنت میں وہ شخص ہے جو مفتری ہے اور جھوٹی وحی کا دعویٰ کرتا ہے یہ آیت اگر قوی تر اثر ثبوت نبوت کے لئے نہیں رکھتی- تو پھر خدا تعالیٰ کی حکیم اور مبارک کتاب میں کیوں ہے؟ مگر نہیں یہ آیت عظیم الشان اثر ثبوت نبوت کے لئے رکھتی ہے- اور منجملہ دیگر دلائل نبوت کے یہ زبردست دلیل ہے-
    جو لوگ انسان کے دل کی کتاب کو پڑھ سکتے ہیں اور وجدانی کیفیتوں کے آثار اور نتائج کا علم رکھتے ہیں اور اس دلیل کو سوچ کر بہت بڑا حظ اٹھا سکتے ہیں- اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی عظمت و جلالت ان کے دل پر نقش ہو جاتی ہے - وہ جانتے ہیں کہ کس طرح ایک مفتری بولتا ہے جبکہ وہ جانتا ہے کہ آسمان کے دروازے اس پر کھلے ہوئے نہیں ہیں- اس کی زبان میں کیسا ضعف اور لکنت ہوتی ہے- اس کی آواز سے بُزدلی اور کمزوری کا پتہ لگتا ہے اس کے بالمقابل جو لوگ خدا تعالیٰ کی روح اور راستی سے بولتے ہیں- ان کی زبان میں بیان میں ایک شوکت اور قوت ہوتی ہے- ان کے کاروبار کے در و دیوار ان کی گفتار و کردار سے طمانیت سکون اور لذت برستی ہے- پس جن لوگوں کو قلب انسانی اور اس کے افعال اور آثار کے مطالعہ کا شوق ہے- وہ صادق اور کاذب میں بہت جلد فرق کر لیتے ہیں- اب خدا کی کتاب جو یہ آیت پیش کرتی ہے- ان لوگوں کے لئے بہت بڑی روشن دلیل اور لذید برہان ہے- گویا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی رُوح کانپتی ہے- اس تصور سے کہ کیا کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے- جو اﷲ تعالیٰ پر افترا کیا جائے- کس قدر پاک فطرت اور صداقت مجسم طبیعت ہے- کہ اپنی نسبت باور نہیں کر سکتی- اس سے افتراء کا گناہ سرزد ہو سکتا- اس لئے کہ آپ کی پاکیزہ فطرت میں یہ مادہ ہی تھا نہیں-
    پچیسوین سپارہ کے ابتداء میں بھی یہ آیت بیان ہوئی ہے کہ من اظلم ممن افتریٰ علی اﷲ کذباً او کذب بالصدقیعنی دو شخص بڑے ایمان اور بدمعاش ہیں- ان سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں- ایک وہ جو دعوے کرتا ہے کہ مجھ پر اﷲ تعالیٰ کا کلام نازل ہوتا ہے- حالانکہ وہ جھوٹا ہے-دوسرا بے ایمان وہ ہے جو سچائی کی تکذیب کرتا ہے- اﷲ تعالیٰ کی غیرت الوہیت ان دو ظالموں کو پسند نہیں کرتی- ایک جو اﷲ پر افتراء کرتا ہے- دوسرا جو مامور من اﷲ صادق کا انکار کرتا ہے- اور اس طرح پر ناقۃ اﷲ کی کونچیں کاٹنے والا ٹھیرتا ہے- اﷲ تعالیٰ ان دونوں کو خطرناک سزا دیتا ہے-
    حقیقت میں اگر اﷲ تعالیٰ کے کلام اور کلام نے یہ فیصلہ نہ کیا ہوتا تو سچائی کا معیار ہی نہیں ہو سکتا تھا- دنیا کی مادی حکومتیں اور سلطنتیں بھی کبھی ایسے شریروں کو پسند نہیں کرسکتیں- کوئی شخص فرضی طو رپر چار روپے کا چپڑاسی یا مذکوری نہیں بن سکتا- حالانکہ یہ بہت ہی چھوٹی بات ہے جونہی اس بات کا پتہ لگ جاوے کہ فلاں شخص نے ایسا ارتکاب کیا ہے- فی الفور اس کو پکڑا جاتا- اور سخت عبرتناک سزا دی جاتی ہے- اور اسی طرح اگر واقعی اور حقیقی مذکوری جس کے ہاتھ میں بہت ہی زشت خط اور بھدے کاغذ پر جیل کا چھپا ہوا پروانہ ہو- اور کسی نمبردار کے پاس لے جاوے اور نمبردار اس کی پروا نہ کرے- بلکہ اس کی ہتک کرے تو اس چار روپیہ کے مذکوری کی ہتک اور توہین گورنمنٹ اپنی توہین قرار دے کر اس نمبردار کو خطرناک سزا دے گی-
    پس غور کرو کہ جب مادی سلطنت اور حکومت میں بھی یہ اندھیر نہیں ہو سکتا کہ ایک شخص فرضی اور جعلی مذکوری تک نہیں بن سکتا- اوراگر بنے تو پکڑا جاتا اور سزا پاتا ہے اور اسی طرح حقیقی مذکوری کی ہتک کرنے والا بھی سزا پاتا ہے- تو اﷲ تعالیٰ کی ممیز گورنمنٹ میں یہ کب ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص اتنا بڑا عظیم الشان دعوے کرے کہ میں خدا تعالیٰ کا مقرب ہوں- اور مجھ پر اس کا کلام اُترتا ہے- اور وہ خدا تعالیٰ کی گرفت اور عذاب سے بچ جاوے- اگر ایسا ہوتا- تو پھر میں پوچھتا ہوں کہ صادق اور کاذب میں مابہ الامتیاز کیا ہوتا؟ مگر ایسا نہیں ہوا- خدا تعالیٰ کی باتیں لفظی اور خیالی نہیں ہیں- اگر اس میدان زندگی میں فیصلہ نہ ہوتا- تو اﷲ تعالیٰ کے وعدے خیالی سمجھے جاتے- بلکہ اﷲ تعالیٰ کی ہستی ہی کا ثبوت مشکل ہو جاتا -
    نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی ان دونوں باتوں کا کامل معیار اور نمو نہ ہے- آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم صادق تھے- خدا تعالیٰ کی طرف سے حق و حکمت لے کر اپنے وقت پر ضرورت حقہ کے ساتھ آئے تھے- ایک قوم نے آپ کی مخالفت کی- خطرناک منصوبے آپ کے تباہ کرنے کے لئے گئے اور آخر وہ ہلاک ہوئی- اور آپ کامیاب ہو گئے- کیسی نصرت اور تائیدات الٰہیہ آپ کے لئے ظاہر ہوئیں کہ ان کی نظیر آدم سے لے کر کبھی پائی ہی نہیں جاتی- اور آپ کو جھٹلانے والے کیسے ذلیل اور خوار ہو کر تباہ ہوئے کہ ان کی نظیر بھی نہیں ملتی- آپ کا وجود آپ کا زمانہ صدق کا ایک معیار ہے- خدا تعالیٰ نے اپنی کتاب کی نسبت فرمایا ہے- لیحکم بین الناس فیما اختلفوا فیہ یعنی اﷲ تعالیٰ کی کتاب ہر اختلاف میں جو لوگوں میں پیدا ہو- فیصلہ کرنے والی ہے- وہ شخص کافر او ر خدا کے کلام کا ملزم ہے جو کہتا ہے کہ فلاں بات کا فیصلہ اس میں نہیں ہے- پس جب قرآن شریف پیش کرتا- چنانچہ اس نے یہ معیار پیش کیا ہے- آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی سچائی پر دلیل ایک نمونہ ٹھہر گئی ہے- اور اسی دلیل سے ہمیشہ ہر زمانے میں صادق شناخت کیا جا سکتا ہے؟ چنانچہ آج بھی اس ہمارے زمانے میں پچیس برس پہلے ایک شخص اُٹھا- اور اسی گمنام گائوں سے جس کو کوئی جانتا بھی نہ تھا- آس پاس والے بھی اسے حقیر جانتے تھے- اس نے دعوے ٰ کیا کہ خدا کا کلام مجھ پر اُترتا ہے- غیب کی باتیں مجھے دی جاتی ہیں- اسی طریق اور بالکل اسی طرز پر یہ دعویٰ اس نے کئے- براہین احمدیہ کی تیسری اور چوتھی جلد کو پڑھ کر دیکھ لیا جاوے کہ خدا تعالیٰ کی جلالت اور ہیبت سے بھری ہوئی وحی آج سے پچیس برس پہلے کی اس میں چھپی ہوئی موجود ہے- جس کے آگے سچا ایمان اسطرح سجدہ کر اُٹھتا ہے جیسے خدا تعالیٰ کے اس کلام کے آگے-
    میں اﷲ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس دلیل پر میں نے بہت غور کیا ہے اور ایک لذت کے ساتھ میں نے دیکھ لیا ہے کہ یہ خدا کی طرف سے ہے کیونکہ وہ قوت بیان اور شوکت کلام جو ا س کے دعویٰ میں ہے وہ کسی مفتری کے الفاظ میں ہو نہیں سکتی- حضرت موعود کا خلوت میں جلوت میں تقریر میں اور تحریر میں بار بار کہتا کہ میں اﷲ کی طرف سے ہوں مفتری نہیں ہوں- میرے نزدیک لاانتہا معجزات اور خوارق اس کے اسی ایک جملے کے اندر موجود ہیں- اپنی صداقت اور ماموریت پر کیسا یقین اور بصیرت ہے کہ مخالفوں کی مخالفت کی پرواہ نہیں کرتا کسی تکلیف اور مصیبت سے نہیں ڈرتا- اور پکار کر کہتا ہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں- یہ دعویٰ چھوٹا سا دعویٰ نہیں- معمولی آدمی جو مفتری ہو وہ نہیں کر سکتا- اس کے دعوے میں یہ قوت یہ شوکت کہاں- دل تھرا اُٹھتا ہے- جب آدمی اس امر کا بھی تصوّر کرے کہ خدا پر افترا کر سکتا ہے- میں اس وقت بڑی بلند آواز سے اور تلوار سے بھی زیادہ تیز زبان کے ساتھ جو گویا سان پر لگائی گئی ہے بولتا ہوں- میرا دل کبھی اجازت نہیں دیتا کہ میں لکھ دوں کہ مَیں خدا کی طرف سے مامور ہو کرآیا ہوں- پھر یہ سوچو کہ وہ شخص کے ساتھ خدا سے پیوست ہو کر آیا ہے- جو یہ کہتا ہے - من اظلم ممن افتریٰ علی اﷲ کذباً- مَیں حضرت مسیح موعود سے خدا تعالیٰ کی رحمتیں، نصرتیں اور برکات اس میں آن کی آن میں بارش کی طرح برستی رہیں ہزاروں ہزار مرتبہ سُن چکا ہوں کہ میں خدا کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہوں- اور بارہا آپ نے خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہا کہ مَیں اس کی طرف سے آیا ہوں- اور بارہا آپ نے خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہا کہ میں اس کی طرف سے آیا ہوں- میری رُوح لذت کے ساتھ بھر جاتی اور یہ فقرہ سیراب کرتا ہو ا میرے دل پر اُترتا ہے- جب میں اس کے منہ سے سنتا ہوں- مبارک ہونٹوں کا ان الفاظ کے کہنے کے لئے ملنا ہی ہزاروں ہزار دلائل میرے سامنے پیش کر دیتا ہے- اور ایک جرار لشکر نشانات اور معجزات کے اس ایک جملہ کے ساتھ اُترتا ہوا دیکھتا ہوں- مجھے یاد ہے کہ ایک بار ہندوستان سے ایک شخص نے خط لکھا کہ میں آپ سے دلیل نہیں مانگتا- آپ کو اﷲ کی قسم دے کر پُوچھتا ہوں کہ آپ صرف اپنے ہاتھ سے لکھ دیں کہ آپ وہی مسیح موعود ہیں جس کی نسبت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بشارت دی تھی- حضرت نے قلم لے کر خدا کی قسم کھا کر لکھا کہ میں وہی ہوں جس کا وعدہ کیا گیا تھا- اگرچہ میں آپ کی اس تحریر سے پہلے بھی علی وجہ البصیرۃ آپ کو سچا پیغمبر اور مُرسل مانتا ہوں- لیکن اس تحریر کو پڑھ کر ایک حالت وجد مجھ پر تھی- اور میں سرور سے بھرا ہوا تھا کہ کس قدر بصیرت اور شعور اس کو اپنی سچائی پر ہے-
    مَیں بار ہا انسانی فطرت کے عجائبات پر توجہ کرتا ہوں کہ ایک فطرت اس قسم کی بنائی گئی ہے کہ وہ ان الفاظ ہی کو سن کر کہ میں اﷲ کی طرف سے آیا ہوں- ایک لذت کے ساتھ اس کی سچائی پر ایمان لاتی ہے- اور ہونٹ ہلنے کے ساتھ ہی دلائل کا ایک لشکر اُترتا اسے دکھائی دیتا ہے- دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جو ان پاکیزہ پُرہیبت الفاظ کے مقابل میں جھوٹا کہتے ہیں- اﷲ الکریم تیری چشم بندی بھی عجیب ہے- خیر یہ تو ہمارے قلب کی باتیں ہیں- جو ان لوگوں کے لئے لذیذ ہیں جن پر اﷲ تعالیٰ کے فضل کے دروازے کھلے ہیں- مگر یہاں تو وہی ثبوت موجو دہے- جو اصدق الصادقین ہادی کامل محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے موجود ہے- آج سے پچیس برس پہلے یہی دعویٰ ایک شخص نے جبکہ کوئی شخص اُسے جانتا بھی نہ تھا- اور وہ ایک گمنام چھوٹی سی کوٹھڑی میں بیٹھ کر خدا تعالیٰ کی یہ وحیاں لکھنا ہے- لیکن آخر کار وہ رائی کا دانہ جو اس وقت بالکل بے حقیقت اور لاشے محض سمجھا جاتا تھا آج عظیم الشان پہاڑ ہے- جس کی غاروں اور دامن میں لاکھوں لاکھ انسان زمانہ کی آفتوں اور دست بُردوں اور فتنوں سے بچنے کے لئے پناہ لے رہے ہیں- کیا کبھی کسی مفتری کے ساتھ اس قسم کا واقعہ ہو سکتا ہے- یہ خدا تعالیٰ کا نشان ہے-
    جھوٹا اور *** ہے وہ شخص جو یہ کہتا ہے کہ اس قدر عرصہ تک ایک مفتری بھی دعوے کر کے زندہ رہ سکتا اور کامیاب ہو سکتا ہے یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ خدا تعالیٰ پر افتراء کرکے خیالی اور فرضی الہام گھڑ کر شائع کرے- اور دنیا بھی اس کا مقابلہ کرے اور دوست و دشمن نے اپنی کسانوں کو ایک کر کے اس کے لئے تیر چھوڑے ہوں- اور پھر وہ عزت کی صدر پر بیٹھا ہو- کبھی نہیں- اگر ایک مفتری علی اﷲ جو ظالم ترین شخص ہے- خدا کی بادشاہت میں باغی اور بدمعاش ہو کر بھی عزت پا سکتا ہے- تو پھر حق و باطل میں امتیاز کیا رہا- اس قسم کا اعتقاد کفر اور سخت بے دینی ہے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی عزت اور کامیابی پر حملہ کرنا ہے- مجھے کسی ایسے مفتری کی نظیر دکھائو کہ جس نے فکیدونی جمیعًا کہا ہو کہ اپنے تصوف اپنے علم اپنے مال و دولت اپنے مشائخ اپنے صوفیوں بہادروں عالموں اپنے دعا گوئوں اور نیم شبی وظیفے کرنے والوں، غرض سب کو جمع کرو- اور پھر زن طلاق ہے تم پر اگر مجھے مہلت دو- اور دیکھو کہ انجام کیا ہوتا ہے- اور آخر وہ کامیاب ہوا ہو کبھی نہیں- بجز صادق کے کون اس جرأت اور دلیری سے بول سکتا ہے- اس طرح اسی رنگ میں خدا کے مسیح نے اپنے مخالفوں کو للکارا کہ اے صوفیو! اے عالمو! اے صرفیو! اے نحویو!اے سجادہ نشینوں، خواہ سُہروردی ہو، چشتی ہو، نقشبندی ہو قادری ہو کوئی تم اپنی دُعائوں سے- اپنی تدابیر و مکاریوں سے- اپنے ہر قسم کے حیل سے، غرض جو کچھ تم سے ہو سکتا ہے میرے مقابلہ میں خرچ کرو- اور پھر دیکھو کہ خدا میرے ساتھ ہے-
    اﷲ سے ڈرنے والوں کے لئے یہ بہت بڑی دلیل ہے- افسوس! اس آنکھ پر جو اس دلیل کو یونہی دیکھے اور گذر جاوے- اور افسوس ! اس دل پر جو اس پر نہ سوچے- غرض یہ ایک معیار ہے صادق کی شناخت کا- کہ وہ کبھی اﷲ تعالیٰ پر افتراء کر کے کامیاب نہیں ہو سکتا- اور اس قدر عرصہ دراز تک جو زیادہ سے زیادہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ تبلیغ تک پہنچ سکتا ہے یعنی ۲۳ سال کبھی مُہلت نہیں پاتا-
    دوسری طرف وہ ظالم ہے جو اس صادق کو جھوٹا کہتا ہے- جو اس معیار پر صادق ثابت ہو جاوے- اس خدا کے برگزیدہ مسیح موعود کے دشمنوں اور مکذبوں کی فہرست تلاش کتب اور ان کے انجام پر نگاہ کرو-
    اﷲ تعالیٰ بہترجانتا ہے کہ مَیں ضعیف ترین مخلوق ہوں- محض اس کے فضل سے ہاں اَسی کے فضل سے کھڑا ہوا ہوں-اور اسی کے سلسلے کی غیرت ہے جو مجھ میں قوت پیدا کر رہی ہے اور میں بول رہا ہوں- اور صرف اس لئے یہ باتیں سناتا ہوں کہ شاید میرے جیسا کوئی دل ہو اوراس میں نور آ پڑے-
    سب سے اوّل براہین کے وقت جن لوگوں نے مخالفت شروع کی- لودھیانہ کے چند مولوی عبدالعزیز وغیرہ تھے- اور ایک قصوری مولوی غلام دستگیر نے سخت مخالفت کی- اور کفر کے فتوے دے- مگر آج زمین کی سطح پر تلاش کرو کہ وہ کہاں ہیں- ان کی خاک بھی نہ ملے گی- مگر یہ ان کا تکذیب کیا ہوا کس برکت اور شان کے ساتھ برومند ہو رہا ہے- مسیح موعود کے دعوے کے خلاف بٹالہ سے مولوی محمد حسین شیر کی طرح گرجتا اور غرّاتا ہوا اُٹھا- اُس نے اپنی جگہ دعوے کیا کہ میں اس کو گرائوں گا- سارے ہندوستان میں اس نے شور مچایا کہ اے مسلمانو! خبردار ہو جائو کہ ایک دجال اور مفتری آیا ہے- اے گورنمنٹ تو بھی ڈر جا- غرض جہاں تک اس سے ممکن ہوا اُس نے کیا- آتشبازی کے چکر کی طرح پھرا- اور غرض اس کی یہی تھی کہ اس درخت کو جو ابھی نکلا تھا- جڑ سے اکھاڑ پھینکے- مگر جو انجام ہوا وہ سب کے سامنے ہے- یہ خدا تعالیٰ کا معظم مکرم دنبدن قبولیت پاتا گیا- اور خلقت کا رجوع اسی کی طرف بڑھتا گیا اور وہ گر گیا- اس وقت اس برگزیدہ کے ساتھ ایک بھی نہ تھا- مگر آج لاکھوں لاکھ ہیں- یہ نشان ہیں ان کی قدر کرو- واویلا اس قوم پر جس نے ان کی قدر نہیں کی- اﷲ تعالیٰ ہماری قوم کو توفیق دے کہ وہ اس کی قدر کرنے والے ٹھہریں اور جب کہ اس کشتی پر بٹھایا ہے تو اپنے فضل سے بیڑا پار کر دے- ایسا نہ ہو کہ منجدہار میں کشتی پہنچے اور اُلٹ دے-
    میرے دوستو! خدا کی کشتی ایک حکیم کی کشتی ہے- اگر باطن میں کوئی قوم کو داغ لگانے والا ہے تو وہ عین منجدھار میں کان سے پکڑ کر سمندر میں غرق کر دیا جاوے گا-
    پس تم اپنے چال چلن سے ثابت کرو کہ مسیح موعود کے خادم ہو- اﷲ تعالیٰ ہم سب کو شہداء علی الناس بناوے- دُنیا میں تمہارے سبب سے خدا کی توحید پھیلے- محمد رسول اﷲ کی لاشریک عزت اور قرآن کریم کی عزت کے لئے تم نے اس موعود کو مانا ہے- اور اس قوم کو چھوڑا ہے- جنہوں نے مسیح اور دجال کو خدا بنایا تھا- پس اپنے عمل سے قرآن کریم کی عزت اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی عزت کو ظاہر کرو- دعائوں میں لگے رہو- ایسا نہ ہو کہ توبہ کا دروازہ بند ہو جاوے چاہئیے کہ لوگ تمہاری باتوں میں سچائی کو دیکھیں اور اس طرح پر مسیح موعود کی عظمت ان کے دلوں میں قائم ہو- آمین
    (الحکم ۱۰؍ مئی ۱۹۰۳ء نمبر ۱۷ جلد۷)

    1903۔06۔24
    خطبہ
    حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب رضی اﷲ کے ایک خطبہ کا ماحصل
    اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ
    سب مومن آپس میں بھائی ہیں- پس تم اپنے بھائیوں کے درمیان صلح، محبت اور نیکی پھیلانے کی کوشش کرو- اور اﷲ سے ڈرو تاکہ اﷲ تم پر رحم کرے- ایمان والو! کوئی مرد کسی مرد سے ٹھٹھا نہ کرے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ جس کو ٹھٹھا کیا جاوے وہ ٹھٹھا کرنے والوں سے اچھا ہو اور باہم بھائیوں میں ایک دوسر ے کو عیب نہ لگائو- اور ایک دوسرے سے چِڑ کا نام نہ رکھو- کیونکہ ایمان لانے کے بعد ایسا مناسب نہیں ہے- اب بھی جو شخص توبہ نہ کرے- اور گندی حالتوں کو نہ چھوڑے- اﷲ کے نزدیک وہ ظالم ہے-
    ان آیتوں میں اﷲ تعالیٰ نے ان صفات ذمیمہ سے اجتناب کی ہدایت کی ہے جن کو چھوڑنے کے بغیر کوئی قوم قوم نہیں بن سکتی- اور نہ وہ سچی محبت اور حقیقی اخوت قائم ہو سکتی ہے- جو اسلام پیدا کرنی چاہتا ہے- اور جس کی نظیر دنیا کی کسی قوم اور مذہب میں نہیں پائی جاتی-
    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے عربوں کا یہ حال تھا کہ ان میں کا ہرفرد واحد اپنے آپ کو فخر سے دیکھتا تھا- اور دوسروں کو نہایت ہی حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا- اور ایک دوسرے کے ایسے نام رکھتے- جو اس کی تذلیل کا موجب ہوتے اور اس کو چڑانییا اس کے خلقی نقص کو ظاہر کرتے- یہ بدعادت اس وقت بھی ہمارے ملک میں پھیلی ہوئی ہے- اور کشمیر میں تو خصوصیت کے ساتھ بہت ہے- میں نے دیکھا ہے کہ وہاں اصل نام سے بہت ہی کم پکارتے ہیں- بلکہ کوئی نہ کوئی اور برا نام جو خواہ اس کے قد کے لحاظ سے ہو یا زبان یا کسی اور عضو کے لحاظ سے مگر چڑانے والا ہوتا ہے- اُس سے پکارتے ہیں-
    ان باتوں کا نتیجہ ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ جھگڑے، کتنے، دشمنی، عداوت اور مقدمات ہوتے ہیں- جیسا کہ مَیں نے ابھی کہا ہے- ایسی باتیں عربوں میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے بہت تھیں- لیکن آپ کی قوت قدسی اور قرآن کریم کی پاک تاثیر کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ نے ان کو ان عیبوں سے نجات دی- اور یہاں تک ان کی حالت بدل گئی کہ اگر کوئی شخص آ کر یہ بھی کہہ دے کہ فلاں شخص نے یہ گناہ ہے- تو دوسرا ہرگز ہرگز یقین نہیں کر سکتا تھا- وہ باہم ایسی سینہ صاف جماعت ہو گئی تھی کہ خود اﷲ تعالیٰ نے ان کی نسبت فرمایا- ونزعنا ما فی صدورھم من غل- کسی قسم کی دشمنی اور گھوٹ ان کے سینوں میں رہا ہی نہیں- وہ باتیں جن سے حقد و حسد اور غیظ ، غصہ اور عداوت پیدا ہوتی ہے- ان کا مادہ ہی ان کے سینوں میں باقی نہیں رہا تھا- وہ دنیا میں بھائیوں کی طرح بسر کرتے تھے جیسے فرمایا ہے اخواناً علیٰ سررًا متقایلین- اسی آیت پر (جو صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کی صفائی باطن و یگانگت اور اخوت کی روشن دلیل اور زبردست شاہد ہے) غور کرنے سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی قوت قدسی اور آپ کی متاثر صحبت کا زبردست ثبوت ملتاہے کہ آپ نے ان میں کیسی تبدیلی پیدا کر دی- حقیقت میں یہ چھوٹی سی بات نہیں- بڑی عظیم الشان تبدیلی ہے- جس کا نمونہ کسی نبی کی اُمت اور قوم میں یقینا نظر نہیں آتا- کیا مسیح کے حواریوں میں یہ مثال سکتی ہے کبھی نہیں-
    اخوانا علی سررا متقایلین میں غور کرنے سے عجیب مزا آتاہے- دنیا میں اگر ایسی مجلس ہو- تو کسی غریب کو جوتیوں پر بیٹھنا پڑتا ہے- اور امیر ہو تو اُسے خاص جگہ پر بٹھاتے ہںی- غرض سب مراتب نشست کا انتظام ہوتا ہے- اور سردار مجلس سے اوپر بیٹھتا ہے- مگر برخلاف اس کے یہ نظارہ ہی اور ہے- آنحضرت صلی اﷲ علیہ سلم دوجہان کے شہنشاہ تھے- جن کے برابر کوئی بادشاہ نہ ہوا ہے اور نہ ہو گا- آپ باوجود اس قدر عظمت و عزت کے جو آپ کو حاصل تھی- اپنے خدام کے زمرہ میں جب بیٹھتے تھے- تو کوئی امتیاز اور فرق نہ ہوتا تھا- اور بسا اوقات ایک اجنبی کو آ کر پوچھنا پڑتا تھا- ایک محمد- تم میں سے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کون ہے؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے کوئی تخت یا سند اپنے لئے الگ نہیں بنائی ہوئی تھی- جیسا کہ مادی دُنیا کے فرزندوں میں رواج ہے- یہ پہلا عملی سبق تھا- جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے صحابہ کو سچی اخوت قائم کرنے کے لئے پڑھایا تھا- جب سید الکونین کا یہ حال ہے کہ وہ درویشوں کے ساتھ مٹی پر بیٹھتا ہے- تو اس کے اصحاب کب اپنے آپ کو ایک دوسرے پر فضیلت دے سکتے تھے-
    علیٰ سررًا متقابلین کا لفظ بھی صاف بتا رہا ہے کہ وہ برابر کے درجوں میں ہیں- اگرچہ کھجور کے پتوں با مٹی پر بیٹھے ہوں- بلکہ بارش کے دنوں میں رُسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی مسجد (جو جھونپڑی تھی- اور جس کی چھت بھی مضبوط نہ تھی- بلکہ کھجور کی لکڑیاں اورپتیاں تھی) ٹپک پڑتی تھی- اور حضور کا روئے مبارک کیچڑسے بھر جاتا تھا- اب بظاہر گو ایسی جگہ ہے لیکن خدا تعالیٰ نے ایسا کمال دیا ہے کہ سب کے سب تختوں پر بیٹھے ہوئے ہیں-
    الغرض میں ذوق کلام میں دُور چلا گیا- ان آیتوں میں اﷲ تعالیٰ نے سچی اخوت کی تعلیم دی ہے- اور جو باتیں اس پاک رشتہ کی راہ میں روک ہو سکتی ہیں- اُن سے بچنے کی ہدایت فرمائی- مگر اب دیکھتا یہ ہے کہ یہ تو صرف حکم ہے- یہ کس طرح معلوم ہو کہ اُس پر چلا بھی- اور اس اخوت کا کبھی کوئی وجود قائم بھی ہوا- میں اس کے جواب میں کہوں گا کہ قرآن شریف کا خدا کی کتاب ہونا اسی سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کے احکام پر عمل ہوا- اور اس کے نتائج اور ثمرات دکھائے گئے- جیسا کہ میں نے نزعنا ما فی صدورھم من غل کی آیت پیش کر کے دکھائی ہے- یہ آیت ثبوت ہے اس حکم کی تعمیل کا- یعنی ہم نے ان انتڑیوں کو دھوڈالا ہے جن میں کینہ ہوتا ہے- کینہ میں ایک دوسرے کی طرف پیٹھ کر دیتا ہے باہم بولتے نہیں مگر اس آیت میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کا رسُول اور اس کے اصحاب ایک دوسرے کی طرف منہ کر کے بیٹھتے ہیں- اور گویا مان جائے بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں-
    یہ عظمت اور یہ جلال اور مبارکی قرآن شریف ہی کی شان کے شایاں ہے کہ جو حکم وہ پیش کرتا ہے- اس کی تعمیل اور ا س کے ثمرات اور نتائج کا ثبوت بھی ساتھ ہی دیتا ہے کہ کسی تعلیم کی نسبت یہ کہنے کا موقعہ نہ ملے کہ وہ ناقابل عمل ہے- انجیل ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری پھیر دینے کی تعلیم تو دیتی ہے- لیکن کوئی پادری، مشنری اور بشپ ہمیں بتائے کہ کس وقت یہ تعلیم زیر عمل آئی ہے- کسی زمانہ میں بھی اس پر عمل نہیں ہوا- اور نہ ہو سکتا ہے ہم اﷲ تعالیٰ کے فضل سے قرآن کریم کو ہاتھ میں لے کر دنیا بھر کی کتابوں کو جھٹلا سکتے ہیں- اس لئے کہ ان میں یہ ثبوت نہیں ہے- تورات انجیل اپنی تعلیمات کا کوئی اثر اور نتیجہ ہرگز نہیں دکھا سکتی ہیں- میں نے دیکھا ہے کہ وید کے اندراند ربڑی بڑی دُعائیں مانگی گئی ہیں کہ ہمارے دشمنوں کو تباہ کر اور ہمیں یُوں برومند کر- مگر وید کی ان دعائوں کی ناکامی اور نامرادی عملی طور پر ظاہر ہو گئی ہے کہ ہمیشہ سے یہ لوگ دوسروں کے ماتحت ہی رہے- اور وہ غلامی کا رسن جوان کے گلے میں ڈالا گیا- اب تک نہیں کھلا- مگر قرآن شریف نے جہاں ایک طرف وانصرنا علی القوم الکٰفرین کی دُعا سکھائی- دوسری طرف غالب کر کے دکھا دیا- اور ملکوں کے ملک عربوں کے زیر نگین ہوتے چلے گئے- یہ ایک بین ثبوت ہے- قرآن مجید کی حقانیت اور سچائی کا- اور دوسری کتابوں کی ناکامی اور نامرادی ہی ان کے ابطال کے لئے بس ہے-
    جو لوگ چاہتے ہیں کہ قرآن کریم کی تعلیمات کے اثر اور نتائج کو مشاہدہ کریں ان کو واجب ہے کہ وہ پہلے عربوں کی اس حالت پر اطلاع پیدا کریں جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے تھی- اور پھر دیکھیں کہ آپ کے آنے کے بعد اس کی حالت میں کیا تبدیلی ہوئی- وہ جاہل تھے عالم بن گئے- سراسر تاریکی تھی- نور کے فرزند بن گئے- بالکل نادار اور درویش تھے- دنیا کے فاتح اور شہنشاہ بن گئے- ان کے رہنے کو مکان اور پائوں میں جوتا تک نہ تھا- لیکن قرآن کریم کی برکت ہے- رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی برکت ہے- ایران، شام، روم اور ہندوستان، چین، سپین اور دوسری ولایتوں کے خزانے زمین نے ان کے سامنے اگل دیئے- میرے دوستو! یہ چھوٹی سی بات نہیں - ایک قوم ایسی ذلیل، کسمپرسی، گمنام مگر محمد رسُول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے طفیل سے- قرآن کریم کے سبب سے ان کو ایسا درجہ ملا کہ وہ ساری دُنیا کے معلم کہلائے-
    دوستو! عزیزو- غور کرنے کا مقام ہے کہ وہ کیا بات تھی- جس کے اختیار کرنے سے ان کو یہ عزت اور دولت ملی- وہ یہی پاک تعلیم تھی- جس کی ہدایتوں نے ان کو پاک کر دیا- وہ پہلے بدکاریاں کرتے تھے- مگر قرآن کریم کے ماتحت ہو کر پاکباز ہو گئے- ایک دوسرے کو بُرے ناموں سے یاد کرتے تھے- مگر ایمان لانے کے بعد ایک کی عزت دوسرے کی عزت تھی- بلکہ ہر ایک اپنی عزت سے زیادہ دوسرے کی عزت کا پاس کرتا تھا- یہ کلید ان کو دی گئی تھی- جس سے سارے صندوقوں کے قفل کھل گئے- اگر میں اس وقت خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑا نہ ہوتا- جس میں مضمون کو بہت ہی مختصر کرنا پڑتاہے تو میں اس اخوت کے نمونے آپ کو صحابہ کی سیرت میں دکھاتا- جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی پاک صحبت اور قرآن کریم کی پاکیزہ ہدایتوں نے قائم کی تھی- میں جب اسلامی تاریخ کو پڑھتا ہوں- اور اسی میں صحابہ کی سیرت کو دیکھتا ہوں تو بعض اوقات بے اختیار ہو کر وجد کی سی حالت مجھ پر طاری ہو جاتی ہے اور میں کثرت سے درود شریف پڑھنے لگتا ہوں کہ یہ کیسا عظیم الشان انسان ہے- اور اس کے پاک انفاس میں کیسی تاثیر ے کہ ایسی اکھڑ قوم میں یہ حیرت انگیز تبدیلی پیدا کر دی- میرے نزدیک آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا ایسا اعجاز ہے کہ مادہ پرست قوم کو بھی تسلیم کے سوا چارہ نہیں رہتا- ایسے انقلاب عظیم الشان کی کوئی مثال دنیا میں پیش کرے اگر وہ ا س کے ماننے کے لئے طیار نہیں-
    اس زمانہ میں بھی بھائی بننے کا زور دیا گیا ہے اور برادر ہڈ کی تعلیم دی جاتی اور اس قسم کی سوسائٹیاں اور مجلسیں بنائی جاتی ہیں- جن کی اغراض اخوۃ کا بڑھانا ہے- مگر ان انسانی تجویزوں کا نتیجہ کچھ نہیں- اس لئے کہ ان میں وہ رُوح اور نمونہ نہیں- جو اپنی پاک تاثیروں سے اثر ڈال سکے یہ فخر قرآن اور صرف قرآن شریف ہی کو حاصل ہے کہ اس نے سب سے پہلے اس مسئلہ کو دُنیا میں پھیلایا- اور نہ صرف تعلیم دی بلکہ بنا کر دکھا دیا- اور پھر بطور امتنان ظاہر کیا- کنتم اعدًا خالف بین قلوبکم فاصحبتم بنعمۃٖ اخواناً-
    دُنیا میں سچی اخوت قرآن شریف نے قائم کی- اور پھر جب قائم ہو گی تو قرآن شریف کے ہی ذریعہ ہو گی- اور آج پھر خدا تعالیٰ نے چاہا ہے کہ دنیا میں سچی برادری قائم ہو- اور اس کے لئے اس نے اپنا برگزیدہ امام بھیجا ہے- جو اپنے طرز عمل اور پاک نمونہ سے اسی رشتہ کو مضبوط کر رہا ہے- اس وقت میں بھی دیکھ لو کہ اس کی نشست کے لئے کوئی خاص امتیاز نہیں کیا گیا- اگر وہ سب سے نرالا اور ممتاز ہے- اور وہ ہر جگہ درخشاں ہے- مگر وہ تکلّف اور تصنع جو دنیوی مجلسوں میں ہوتا ہے نہیں ہے- ایک ہی چٹائی پر آپ اور ایک معمولی آدمی آپ کے پاس بیٹھتا ہے- اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اگر سلطان رُوم یا خاقان چین بھی ہو- تو بھی ایسا ہی ہو- غرض یہ اپنے پاک نمونہ سے دکھاتا ہے کہ تم کو کیا کرنا چاہئیے- پس میں آج پکار کر کہتا ہوں انما المومنون اخوۃ- مومن بھائی بھائی ہیں- تم یاد رکھو کہ یہ آیت گویا اس وقت پھر اُتر رہی ہے- خدا کا برگزیدہ رسول تم میں موجود ہے- اس کے بعد تم میں باہم کوئی عداوت اور کنبہ نہ ہو- تم میں سے کوئی جو اعلیٰ نسب رکھتا ہے- اپنے بھائی کو جسے یہ شرف حاصل نہیں حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھے- اور استہزاء نہ کرے- عالم جاہل کو ذلیل نہ سمجھے- دولتمند غریب پر نہ ہنسے- بڑا چھوٹے پر ظلم نہ کرے- غرض تم میں سے ہر ایک ایک دوسرے کی عزت کو اپنی عزت اور اس کی ذلت کو اپنی ذلت سمجھنے والا ہو- کسی کا کوئی بدنام نہ رکھو- کسی کے عیب سننے کے لئے تیار نہ ہو- جب یہ حالت تم میں پیدا ہو گی- تو وہ اخوۃ جو خدا کا برگزیدہ بندہ قائم کرنی چاہتا ہے تم میں پیدا ہو گی- ہر وقت دُعائوں میں لگے رہو- اور خدا تعالیٰ سے فضل اور توفیق کو مانگو- کیونکہ اس کے فضل کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا- یہ ایک مجرب نسخہ ہے جس سے قوم قوم بنتی ہے- تم چاہتے ہو کہ قوم بنو- پھر کیا وجہ ہے کہ ان اُصولوں کو ترک کرو جو قوم بننے کے لئے ضروری ہیں- خدا تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم اِن ہدایتوں پر عمل کریں- اور ہم میں سچی برادری قائم ہو- آمین
    (الحکم ۲۴؍ جون ۱۹۰۳ء نمبر ۲۳جلد۷)

    1903۔07۔24
    خطبہ
    حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب رضی اﷲ کے ایک خطبہ کا ماحصل
    اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ
    سب مومن آپس میں بھائی ہیں- پس تم اپنے بھائیوں کے درمیان صلح، محبت اور نیکی پھیلانے کی کوشش کرو- اور اﷲ سے ڈرو تاکہ اﷲ تم پر رحم کرے- ایمان والو! کوئی مرد کسی مرد سے ٹھٹھا نہ کرے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ جس کو ٹھٹھا کیا جاوے وہ ٹھٹھا کرنے والوں سے اچھا ہو اور باہم بھائیوں میں ایک دوسر ے کو عیب نہ لگائو- اور ایک دوسرے سے چِڑ کا نام نہ رکھو- کیونکہ ایمان لانے کے بعد ایسا مناسب نہیں ہے- اب بھی جو شخص توبہ نہ کرے- اور گندی حالتوں کو نہ چھوڑے- اﷲ کے نزدیک وہ ظالم ہے-
    ان آیتوں میں اﷲ تعالیٰ نے ان صفات ذمیمہ سے اجتناب کی ہدایت کی ہے جن کو چھوڑنے کے بغیر کوئی قوم قوم نہیں بن سکتی- اور نہ وہ سچی محبت اور حقیقی اخوت قائم ہو سکتی ہے- جو اسلام پیدا کرنی چاہتا ہے- اور جس کی نظیر دنیا کی کسی قوم اور مذہب میں نہیں پائی جاتی-
    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے عربوں کا یہ حال تھا کہ ان میں کا ہرفرد واحد اپنے آپ کو فخر سے دیکھتا تھا- اور دوسروں کو نہایت ہی حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا- اور ایک دوسرے کے ایسے نام رکھتے- جو اس کی تذلیل کا موجب ہوتے اور اس کو چڑانییا اس کے خلقی نقص کو ظاہر کرتے- یہ بدعادت اس وقت بھی ہمارے ملک میں پھیلی ہوئی ہے- اور کشمیر میں تو خصوصیت کے ساتھ بہت ہے- میں نے دیکھا ہے کہ وہاں اصل نام سے بہت ہی کم پکارتے ہیں- بلکہ کوئی نہ کوئی اور برا نام جو خواہ اس کے قد کے لحاظ سے ہو یا زبان یا کسی اور عضو کے لحاظ سے مگر چڑانے والا ہوتا ہے- اُس سے پکارتے ہیں-
    ان باتوں کا نتیجہ ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ جھگڑے، کتنے، دشمنی، عداوت اور مقدمات ہوتے ہیں- جیسا کہ مَیں نے ابھی کہا ہے- ایسی باتیں عربوں میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے بہت تھیں- لیکن آپ کی قوت قدسی اور قرآن کریم کی پاک تاثیر کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ نے ان کو ان عیبوں سے نجات دی- اور یہاں تک ان کی حالت بدل گئی کہ اگر کوئی شخص آ کر یہ بھی کہہ دے کہ فلاں شخص نے یہ گناہ ہے- تو دوسرا ہرگز ہرگز یقین نہیں کر سکتا تھا- وہ باہم ایسی سینہ صاف جماعت ہو گئی تھی کہ خود اﷲ تعالیٰ نے ان کی نسبت فرمایا- ونزعنا ما فی صدورھم من غل- کسی قسم کی دشمنی اور گھوٹ ان کے سینوں میں رہا ہی نہیں- وہ باتیں جن سے حقد و حسد اور غیظ ، غصہ اور عداوت پیدا ہوتی ہے- ان کا مادہ ہی ان کے سینوں میں باقی نہیں رہا تھا- وہ دنیا میں بھائیوں کی طرح بسر کرتے تھے جیسے فرمایا ہے اخواناً علیٰ سررًا متقایلین- اسی آیت پر (جو صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کی صفائی باطن و یگانگت اور اخوت کی روشن دلیل اور زبردست شاہد ہے) غور کرنے سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی قوت قدسی اور آپ کی متاثر صحبت کا زبردست ثبوت ملتاہے کہ آپ نے ان میں کیسی تبدیلی پیدا کر دی- حقیقت میں یہ چھوٹی سی بات نہیں- بڑی عظیم الشان تبدیلی ہے- جس کا نمونہ کسی نبی کی اُمت اور قوم میں یقینا نظر نہیں آتا- کیا مسیح کے حواریوں میں یہ مثال سکتی ہے کبھی نہیں-
    اخوانا علی سررا متقایلین میں غور کرنے سے عجیب مزا آتاہے- دنیا میں اگر ایسی مجلس ہو- تو کسی غریب کو جوتیوں پر بیٹھنا پڑتا ہے- اور امیر ہو تو اُسے خاص جگہ پر بٹھاتے ہںی- غرض سب مراتب نشست کا انتظام ہوتا ہے- اور سردار مجلس سے اوپر بیٹھتا ہے- مگر برخلاف اس کے یہ نظارہ ہی اور ہے- آنحضرت صلی اﷲ علیہ سلم دوجہان کے شہنشاہ تھے- جن کے برابر کوئی بادشاہ نہ ہوا ہے اور نہ ہو گا- آپ باوجود اس قدر عظمت و عزت کے جو آپ کو حاصل تھی- اپنے خدام کے زمرہ میں جب بیٹھتے تھے- تو کوئی امتیاز اور فرق نہ ہوتا تھا- اور بسا اوقات ایک اجنبی کو آ کر پوچھنا پڑتا تھا- ایک محمد- تم میں سے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کون ہے؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے کوئی تخت یا سند اپنے لئے الگ نہیں بنائی ہوئی تھی- جیسا کہ مادی دُنیا کے فرزندوں میں رواج ہے- یہ پہلا عملی سبق تھا- جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے صحابہ کو سچی اخوت قائم کرنے کے لئے پڑھایا تھا- جب سید الکونین کا یہ حال ہے کہ وہ درویشوں کے ساتھ مٹی پر بیٹھتا ہے- تو اس کے اصحاب کب اپنے آپ کو ایک دوسرے پر فضیلت دے سکتے تھے-
    علیٰ سررًا متقابلین کا لفظ بھی صاف بتا رہا ہے کہ وہ برابر کے درجوں میں ہیں- اگرچہ کھجور کے پتوں با مٹی پر بیٹھے ہوں- بلکہ بارش کے دنوں میں رُسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی مسجد (جو جھونپڑی تھی- اور جس کی چھت بھی مضبوط نہ تھی- بلکہ کھجور کی لکڑیاں اورپتیاں تھی) ٹپک پڑتی تھی- اور حضور کا روئے مبارک کیچڑسے بھر جاتا تھا- اب بظاہر گو ایسی جگہ ہے لیکن خدا تعالیٰ نے ایسا کمال دیا ہے کہ سب کے سب تختوں پر بیٹھے ہوئے ہیں-
    الغرض میں ذوق کلام میں دُور چلا گیا- ان آیتوں میں اﷲ تعالیٰ نے سچی اخوت کی تعلیم دی ہے- اور جو باتیں اس پاک رشتہ کی راہ میں روک ہو سکتی ہیں- اُن سے بچنے کی ہدایت فرمائی- مگر اب دیکھتا یہ ہے کہ یہ تو صرف حکم ہے- یہ کس طرح معلوم ہو کہ اُس پر چلا بھی- اور اس اخوت کا کبھی کوئی وجود قائم بھی ہوا- میں اس کے جواب میں کہوں گا کہ قرآن شریف کا خدا کی کتاب ہونا اسی سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کے احکام پر عمل ہوا- اور اس کے نتائج اور ثمرات دکھائے گئے- جیسا کہ میں نے نزعنا ما فی صدورھم من غل کی آیت پیش کر کے دکھائی ہے- یہ آیت ثبوت ہے اس حکم کی تعمیل کا- یعنی ہم نے ان انتڑیوں کو دھوڈالا ہے جن میں کینہ ہوتا ہے- کینہ میں ایک دوسرے کی طرف پیٹھ کر دیتا ہے باہم بولتے نہیں مگر اس آیت میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کا رسُول اور اس کے اصحاب ایک دوسرے کی طرف منہ کر کے بیٹھتے ہیں- اور گویا مان جائے بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں-
    یہ عظمت اور یہ جلال اور مبارکی قرآن شریف ہی کی شان کے شایاں ہے کہ جو حکم وہ پیش کرتا ہے- اس کی تعمیل اور ا س کے ثمرات اور نتائج کا ثبوت بھی ساتھ ہی دیتا ہے کہ کسی تعلیم کی نسبت یہ کہنے کا موقعہ نہ ملے کہ وہ ناقابل عمل ہے- انجیل ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری پھیر دینے کی تعلیم تو دیتی ہے- لیکن کوئی پادری، مشنری اور بشپ ہمیں بتائے کہ کس وقت یہ تعلیم زیر عمل آئی ہے- کسی زمانہ میں بھی اس پر عمل نہیں ہوا- اور نہ ہو سکتا ہے ہم اﷲ تعالیٰ کے فضل سے قرآن کریم کو ہاتھ میں لے کر دنیا بھر کی کتابوں کو جھٹلا سکتے ہیں- اس لئے کہ ان میں یہ ثبوت نہیں ہے- تورات انجیل اپنی تعلیمات کا کوئی اثر اور نتیجہ ہرگز نہیں دکھا سکتی ہیں- میں نے دیکھا ہے کہ وید کے اندراند ربڑی بڑی دُعائیں مانگی گئی ہیں کہ ہمارے دشمنوں کو تباہ کر اور ہمیں یُوں برومند کر- مگر وید کی ان دعائوں کی ناکامی اور نامرادی عملی طور پر ظاہر ہو گئی ہے کہ ہمیشہ سے یہ لوگ دوسروں کے ماتحت ہی رہے- اور وہ غلامی کا رسن جوان کے گلے میں ڈالا گیا- اب تک نہیں کھلا- مگر قرآن شریف نے جہاں ایک طرف وانصرنا علی القوم الکٰفرین کی دُعا سکھائی- دوسری طرف غالب کر کے دکھا دیا- اور ملکوں کے ملک عربوں کے زیر نگین ہوتے چلے گئے- یہ ایک بین ثبوت ہے- قرآن مجید کی حقانیت اور سچائی کا- اور دوسری کتابوں کی ناکامی اور نامرادی ہی ان کے ابطال کے لئے بس ہے-
    جو لوگ چاہتے ہیں کہ قرآن کریم کی تعلیمات کے اثر اور نتائج کو مشاہدہ کریں ان کو واجب ہے کہ وہ پہلے عربوں کی اس حالت پر اطلاع پیدا کریں جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے تھی- اور پھر دیکھیں کہ آپ کے آنے کے بعد اس کی حالت میں کیا تبدیلی ہوئی- وہ جاہل تھے عالم بن گئے- سراسر تاریکی تھی- نور کے فرزند بن گئے- بالکل نادار اور درویش تھے- دنیا کے فاتح اور شہنشاہ بن گئے- ان کے رہنے کو مکان اور پائوں میں جوتا تک نہ تھا- لیکن قرآن کریم کی برکت ہے- رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی برکت ہے- ایران، شام، روم اور ہندوستان، چین، سپین اور دوسری ولایتوں کے خزانے زمین نے ان کے سامنے اگل دیئے- میرے دوستو! یہ چھوٹی سی بات نہیں - ایک قوم ایسی ذلیل، کسمپرسی، گمنام مگر محمد رسُول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے طفیل سے- قرآن کریم کے سبب سے ان کو ایسا درجہ ملا کہ وہ ساری دُنیا کے معلم کہلائے-
    دوستو! عزیزو- غور کرنے کا مقام ہے کہ وہ کیا بات تھی- جس کے اختیار کرنے سے ان کو یہ عزت اور دولت ملی- وہ یہی پاک تعلیم تھی- جس کی ہدایتوں نے ان کو پاک کر دیا- وہ پہلے بدکاریاں کرتے تھے- مگر قرآن کریم کے ماتحت ہو کر پاکباز ہو گئے- ایک دوسرے کو بُرے ناموں سے یاد کرتے تھے- مگر ایمان لانے کے بعد ایک کی عزت دوسرے کی عزت تھی- بلکہ ہر ایک اپنی عزت سے زیادہ دوسرے کی عزت کا پاس کرتا تھا- یہ کلید ان کو دی گئی تھی- جس سے سارے صندوقوں کے قفل کھل گئے- اگر میں اس وقت خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑا نہ ہوتا- جس میں مضمون کو بہت ہی مختصر کرنا پڑتاہے تو میں اس اخوت کے نمونے آپ کو صحابہ کی سیرت میں دکھاتا- جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی پاک صحبت اور قرآن کریم کی پاکیزہ ہدایتوں نے قائم کی تھی- میں جب اسلامی تاریخ کو پڑھتا ہوں- اور اسی میں صحابہ کی سیرت کو دیکھتا ہوں تو بعض اوقات بے اختیار ہو کر وجد کی سی حالت مجھ پر طاری ہو جاتی ہے اور میں کثرت سے درود شریف پڑھنے لگتا ہوں کہ یہ کیسا عظیم الشان انسان ہے- اور اس کے پاک انفاس میں کیسی تاثیر ے کہ ایسی اکھڑ قوم میں یہ حیرت انگیز تبدیلی پیدا کر دی- میرے نزدیک آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا ایسا اعجاز ہے کہ مادہ پرست قوم کو بھی تسلیم کے سوا چارہ نہیں رہتا- ایسے انقلاب عظیم الشان کی کوئی مثال دنیا میں پیش کرے اگر وہ ا س کے ماننے کے لئے طیار نہیں-
    اس زمانہ میں بھی بھائی بننے کا زور دیا گیا ہے اور برادر ہڈ کی تعلیم دی جاتی اور اس قسم کی سوسائٹیاں اور مجلسیں بنائی جاتی ہیں- جن کی اغراض اخوۃ کا بڑھانا ہے- مگر ان انسانی تجویزوں کا نتیجہ کچھ نہیں- اس لئے کہ ان میں وہ رُوح اور نمونہ نہیں- جو اپنی پاک تاثیروں سے اثر ڈال سکے یہ فخر قرآن اور صرف قرآن شریف ہی کو حاصل ہے کہ اس نے سب سے پہلے اس مسئلہ کو دُنیا میں پھیلایا- اور نہ صرف تعلیم دی بلکہ بنا کر دکھا دیا- اور پھر بطور امتنان ظاہر کیا- کنتم اعدًا خالف بین قلوبکم فاصحبتم بنعمۃٖ اخواناً-
    دُنیا میں سچی اخوت قرآن شریف نے قائم کی- اور پھر جب قائم ہو گی تو قرآن شریف کے ہی ذریعہ ہو گی- اور آج پھر خدا تعالیٰ نے چاہا ہے کہ دنیا میں سچی برادری قائم ہو- اور اس کے لئے اس نے اپنا برگزیدہ امام بھیجا ہے- جو اپنے طرز عمل اور پاک نمونہ سے اسی رشتہ کو مضبوط کر رہا ہے- اس وقت میں بھی دیکھ لو کہ اس کی نشست کے لئے کوئی خاص امتیاز نہیں کیا گیا- اگر وہ سب سے نرالا اور ممتاز ہے- اور وہ ہر جگہ درخشاں ہے- مگر وہ تکلّف اور تصنع جو دنیوی مجلسوں میں ہوتا ہے نہیں ہے- ایک ہی چٹائی پر آپ اور ایک معمولی آدمی آپ کے پاس بیٹھتا ہے- اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اگر سلطان رُوم یا خاقان چین بھی ہو- تو بھی ایسا ہی ہو- غرض یہ اپنے پاک نمونہ سے دکھاتا ہے کہ تم کو کیا کرنا چاہئیے- پس میں آج پکار کر کہتا ہوں انما المومنون اخوۃ- مومن بھائی بھائی ہیں- تم یاد رکھو کہ یہ آیت گویا اس وقت پھر اُتر رہی ہے- خدا کا برگزیدہ رسول تم میں موجود ہے- اس کے بعد تم میں باہم کوئی عداوت اور کنبہ نہ ہو- تم میں سے کوئی جو اعلیٰ نسب رکھتا ہے- اپنے بھائی کو جسے یہ شرف حاصل نہیں حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھے- اور استہزاء نہ کرے- عالم جاہل کو ذلیل نہ سمجھے- دولتمند غریب پر نہ ہنسے- بڑا چھوٹے پر ظلم نہ کرے- غرض تم میں سے ہر ایک ایک دوسرے کی عزت کو اپنی عزت اور اس کی ذلت کو اپنی ذلت سمجھنے والا ہو- کسی کا کوئی بدنام نہ رکھو- کسی کے عیب سننے کے لئے تیار نہ ہو- جب یہ حالت تم میں پیدا ہو گی- تو وہ اخوۃ جو خدا کا برگزیدہ بندہ قائم کرنی چاہتا ہے تم میں پیدا ہو گی- ہر وقت دُعائوں میں لگے رہو- اور خدا تعالیٰ سے فضل اور توفیق کو مانگو- کیونکہ اس کے فضل کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا- یہ ایک مجرب نسخہ ہے جس سے قوم قوم بنتی ہے- تم چاہتے ہو کہ قوم بنو- پھر کیا وجہ ہے کہ ان اُصولوں کو ترک کرو جو قوم بننے کے لئے ضروری ہیں- خدا تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم اِن ہدایتوں پر عمل کریں- اور ہم میں سچی برادری قائم ہو- آمین
    (الحکم ۲۴؍ جون ۱۹۰۳ء نمبر ۲۳جلد۷)
     

اس صفحے کو مشتہر کریں