1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

خطبات محمود ۔ خلیفۃ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد رض ۔ جلد 35

'حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ۔ یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 23, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    خطبات محمود ۔ خلیفۃ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد رض ۔ جلد 35


    فہرست مضامین خطباتِ محمود
    (خطبات جمعہ 1954ئ)
    جلد 35
    خطبہ نمبر
    تاریخ بیان فرمودہ
    موضوع خطبہ
    صفحہ
    1
    یکم جنوری1954ء
    نئے سال کا اہم پروگرام
    1
    2
    8جنوری1954ء
    اسلام ایک مستقل سچائی اور ابدی صداقت ہے جو زمانہ کے حالات سے ہرگز متأثر نہیں ہو سکتی
    6
    3
    15جنوری1954ء
    مساجد اپنی ذات میں بڑی برکات رکھتی ہیں ان کی وسعت کے ساتھ ہی ہماری جماعت کی ترقی وابستہ ہے
    10
    4
    22جنوری1954ء
    اچھی طرح ذہن نشین کر لو کہ تمہاری روحانی زندگی تبلیغِ۔اسلام سے وابستہ ہے اور یہ کام قیامت تک جاری رہے گا
    22
    5
    29جنوری1954ء
    قبولیت دعا کے تازہ نشانات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے ایمان کو بڑھانے اور اسے تقویت دینے کے سامان عطا فرمائے ہیں

    40
    6
    5فروری1954ء
    مبارک ہیں وہ لوگ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور۔اسلام کی حفاظت کے لیے اس وقت قربانی کریں اور۔اِس خدمت کو انعام سمجھیں

    51
    7
    12فروری1954ء
    جماعت کے مخلص دوست اپنا پورا زور لگائیں کہ۔ہر۔احمدی تحریک جدید میں حصہ لے
    58
    8
    19فروری1954ء
    جماعت احمدیہ لاہور سے خطاب اللہ تعالیٰ نے تمہیں اوّلیّت کا جو مقام دیا تھا اُسے دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرو

    72
    9
    26فروری1954ء
    الٰہی جماعتیں ہمیشہ مخالفتوں کے طوفان میں محض۔خداتعالیٰ کے فضل سے ترقی کیا کرتی ہیں اور یہ ایک بہت بڑا نشان ہوتا ہے

    86
    10
    21مئی1954ء
    ربوہ میں رہنے والوں کا فرض ہے کہ وہ نیک نمونہ دکھائیں اور اپنی اصلاح کی کوشش کریں
    98
    11
    28مئی1954ء
    تقدیر کا جو حصہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کے اختیار میں رکھا ہے اس میں کوشش اور تدبیر کے بغیر کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا کرتا۔
    جو چیزیں خداتعالیٰ نے تمہارے سپرد کی ہیں وہ تم نے ہی کرنی ہیں ان کے متعلق محض توکل کرنا غلطی ہے

    105
    12
    4جون 1954ء
    ہم نے خداتعالیٰ کے احسانات اور اس کے فضلوں کا بارہا مشاہدہ کیا ہوا ہے۔
    مشکلات کے وقت تمہیں بہرحال خداتعالیٰ ہی کی طرف متوجہ ہو کر اُسی سے مدد مانگنی چاہیے

    119
    13
    18جون 1954ء
    جماعت کے کمزور حصے کو مضبوط بنانے اور اس کی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرو
    127
    14
    25جون1954ء
    تمہیں خواہ کوئی فائدہ اور حکمت نظر آئے یا نہ آئے قربانیوںکے میدان میں ہمیشہ اپنا قدم آگے بڑھاتے جاؤ
    ہماری جماعت کو پردہ کے متعلق اسلامی احکام پر پوری طرح کاربند رہنا چاہیے

    143
    15
    2 جولائی1954ء
    اسلام کے نزدیک کوئی دن بھی منحوس نہیں۔سارے کے سارے دن ہی بابرکت اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر ہیں

    156
    16
    9 جولائی1954ء
    تمہارے اعمال سے یہ ظاہر ہونا چاہیے کہ تم نے واقعی اللہ۔تعالیٰ کے زندہ نشانات دیکھے ہیں
    166
    17
    16 جولائی1954ء
    مومن کو ہمیشہ اپنے اعمال کی اصلاح کی فکر رکھنی چاہیے
    177
    18
    23 جولائی1954ء
    خدمتِ دین کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان سمجھو۔ ترقی اور۔کامیابی کے وقت کبھی یہ امر فراموش نہ کرو کہ تمہیں جو۔کچھ ملا محض دین کی خدمت کی وجہ سے ملا ہے

    182
    19
    30 جولائی1954ء
    اِس دنیا میں توحید کے بعد سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ۔سچ۔کو اختیار کیا جائے
    ہماری جماعت کے ہر فرد کو یہ عہد کر لینا چاہیے کہ اس نے بہرحال سچ بولنا ہے

    188
    20
    6؍اگست1954ء
    خدا نے اِس و قت تمہیں ثواب کا بہت بڑا موقع دیا ہے۔ تم ذرا۔سی محنت اور توجہ سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکتے ہو۔
    امانت کا طریق اختیار کرو اورتبلیغ اور تعلیم کی طرف توجہ دو اور صفائی کو اپنا شِعار بناؤ

    193
    21
    20؍اگست1954ء
    اگر دین دار بننا چاہتے ہو تو ان سارے طریقوں کو اختیار کرو جو دینی ترقی کے لیے ضروری ہیں
    203
    22
    27؍اگست1954ء
    انسان سیکھنے کی نیت رکھے تو زمین کی اینٹیں اورپہاڑوں کے درخت اور جنگلوں کی جھاڑیاں بھی اس کے لیے قرآن اور حدیث کی تفسیر بن جاتی ہیں

    208
    23
    3ستمبر1954ء
    مشرقی پاکستان کے سیلاب زدہ بھائیوں کی ہر ممکن مدد کرو اور اُن کے لیے جلد سے جلد چندہ جمع کر کے حبُّ۔الوطنی کا ثبوت دو۔پاکستان میں بسنے والے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ اگر ان میں سے کسی ایک حصہ پر تکلیف آئے تو ہمیں احساس ہونا چاہیے کہ وہ تکلیف ہم پر آئی ہے


    214
    24
    10ستمبر1954ء
    جھوٹی عزت کے پیچھے نہ پڑو۔ اصل عزت وہی ہے جو۔خداتعالیٰ کی طرف آئے
    مجرموں کی تائید سے اپنے آپ کو بچاؤ کہ یہ قوم کو تباہ کرنے والی چیز ہے

    229
    25
    17ستمبر1954ء
    ذہانت، فکر اور تدبُر ہی ایسی حقیقی دولت ہے کہ اگر تم اس سے فائدہ اُٹھاؤ تو تمہیں اتنا کچھ مل جائے گا کہ۔خداتعالیٰ سے اَور مانگتے ہوئے شرم آئے گی

    241
    26
    یکم اکتوبر1954ء
    مومن کی ہمدردی کا دامن تمام بنی نوع انسان تک وسیع ہونا چاہیے ۔جب قوم پر کوئی مصیبت آ جائے تو پورے جوش کے ساتھ خدمتِ خلق میں حصہ لینا چاہیے

    256
    27
    8؍اکتوبر1954ء
    دین کی خدمت کا ثواب دائمی ہے اور دنیوی مال ایک۔عارضی اور فانی چیز ہے
    268
    28
    15؍اکتوبر1954ء
    ضرورتِ وقت کو سمجھو اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر کے اپنے اپنے خاندان کے نوجوانوں کو دین کے لیے وقف کرو

    277
    29
    22؍اکتوبر1954ء
    دعائیں کرو کہ مسلمانوں کے لیے برکت اور بھلائی کی صورت پیدا ہو
    294
    30
    29؍اکتوبر1954ء
    ابھی خدشات باقی ہیں اس لیے تم دعاؤں میں لگے رہو تا۔خدا تعالیٰ اسلام کو ہر قسم کے دشمنوں سے محفوظ رکھے
    301
    31
    5نومبر1954ء
    احباب دعائیں جاری رکھیں کہ اللہ تعالیٰ اسلام کی خاطر ملک کو فتنہ و فساد سے بچائے رکھے
    320
    32
    12نومبر 1954ء
    اپنے آپ کو دین کی خدمت میں لگا دو تبھی تم اللہ تعالیٰ کے اجر کے مستحق ہو سکتے ہو
    327
    33
    19نومبر1954ء
    اگلے جمعہ تحریکِ جدید کے نئے سال کا آغاز ہونے والا ہے۔یہ ہفتہ دعاؤں میں گزارو تا وقت آنے پر تم بشاشتِ۔ایمان، عزم اور ارادے کے ساتھ تحریکِ جدید کے جہاد میں حصہ لے سکو

    336
    34
    26نومبر 1954ء
    تحریکِ جدید کے ذریعہ تبلیغِ اسلام کے زبردست کام کی بنیاد رکھی گئی ہے
    346
    35
    3دسمبر1954ء
    اللہ تعالیٰ تمہیں بڑھانا چاہتا ہے اس لیے تمہیں اپنی قربانی بھی ہر قدم پر بڑھانی پڑے گی۔تحریکِ جدید میں زیادہ سے زیادہ وعدے لکھاؤ، انہیں جلد پورا کرو اور نئے لوگوں کو اس میں شامل کرو

    365
    36
    10دسمبر1954ء
    جلسہ سالانہ پر ضرور آؤ اور ان ایام سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرو۔اپنے غیراحمدی رشتہ۔داروں اور دوستوں کو بھی ہمراہ لاؤ تا ہمارے متعلق اُن کی غلط۔فہمیاں دور ہوں

    383
    37
    17دسمبر1954ء
    تحریکِ جدید کوئی معمولی ادارہ نہیںبلکہ اسلام کے اِحیاء کی ایک زبردست کوشش ہے۔ جماعت کے نوجوانوں کو اپنی ذمہ۔داری سمجھتے ہوئے پہلوں سے زیادہ قربانی کرنی چاہیے

    399
    38
    24دسمبر1954ء
    تم نے لوگوں کے قلوب فتح کرنے ہیں اور یہ کام فرشتوں کی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتا۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ذکرِالٰہی اور۔عبادت کرنے سے فرشتوں کی مدد حاصل ہوتی ہے

    411
    39
    31دسمبر1954ء
    بیشک دنیا کماؤ لیکن دین کو بھی نظرانداز نہ کروبلکہ ہمیشہ اس کو دنیا پر مقدم رکھو
    419
    ٭…٭…٭

    نئے سال کا اہم پروگرام
    (فرمودہ یکم جنوری1954ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’آج اس سال کا پہلا دن ہے اور یہ سال جمعہ کے دن سے شروع ہوتا ہے۔ ہر سال انسان کے اندر نئی اُمنگیں لاتا اور اس کے اندر نئے جذبے پیدا کرتا ہے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو نئے سال کی تبدیلی کو محسوس نہیں کرتے۔ اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو نئے سال کی تبدیلی کو تو محسوس کرتے ہیں لیکن سال میں اپنے ارادہ کو پورا کرنے کے لیے کوئی جدوجہد نہیں کرتے۔ اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو نئے سال کی تبدیلی کو بھی محسوس کرتے ہیں اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق بھی پاتے ہیں۔ پس مبارک ہیں وہ لوگ جو یہ محسوس کریں کہ ایک نیا زمانہ اور نیا دَور ہم پر آیا ہے اور پھر اس نئے زمانہ اور نئے دَور کے متعلق اپنے فرائض کو محسوس کریں اور پھر اپنے فرائض کو محسوس کرنے کے بعد عمل کرنے کی کوشش کریں۔
    میں نے اس سال جلسہ سالانہ کے موقع پر جماعت کے سامنے کچھ پروگرام رکھا ہے۔ ہم اگر نئے سال میں اس کو مدنظر رکھتے ہوئے عمل کرنے کی کوشش کریں تو یقیناً جماعت میں غیرمعمولی اصلاح اور غیرمعمولی تربیت پیدا ہو سکتی ہے۔ جو باتیں میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر جماعت کے مردوں اور عورتوں کے سامنے رکھی ہیں اُن میں سے ایک یہ تھی کہ ہر تعلیم یافتہ مرد اور ہر تعلیم یافتہ عورت جماعت کے کسی ایک مرد یا عورت کو جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے معمولی لکھنا پڑھنا سکھا دے۔ ہماری جماعت میں خداتعالیٰ کے فضل سے تعلیم یافتہ طبقہ زیادہ ہے۔ تمام پاکستان میں مردوں کا ساڑھے تیرہ فیصدی حصہ تعلیم یافتہ ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں یہ نسبت 20، 25فیصدی ضرور ہے۔ اور اگر جماعت کے 20،25فیصدی لوگ اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ اس سال 20، 25 فیصدی اَور لوگ تعلیم یافتہ ہو سکتے ہیں۔ گویا اگر ہم عزم کر لیں اور پھر اس کے مطابق عمل کریں تو اگلے سال ہماری 50 فیصدی تعداد تعلیم یافتہ ہو جائے گی۔ پھر اگر اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ گو ربوہ میں عورتیں تعلیم کے لحاظ سے مردوں سے بہت زیادہ آگے ہیں لیکن باہر کی جماعتوں میں عورتوں کی تعلیم کا یہ معیار نہیں۔ اگر ہم عورتوں کے لحاظ سے وہی معیار لے لیں جو دوسرے مسلمانوں میں مردوں کا ہے تب بھی جماعت کی ساڑھے تیرہ فیصدی عورتیں تعلیم یافتہ ہیں۔ اگر جماعت کی ہر لکھی پڑھی عورت کم سے کم ایک اَور عورت کو معمولی لکھنا پڑھنا سکھا دے تواگلے سال تعلیم یافتہ عورتوں کی تعداد 25 فیصدی ہو جائے گی۔ اس طرح اگلے دوسال کی جدوجہد میں ہم سب کو تعلیم یافتہ بنا دیں گے اور یہ کام مشکل نہیں۔ ہر شخص اگر غور کرے تو سمجھ سکتا ہے کہ کسی ایک شخص کو معمولی لکھنا پڑھنا سکھانا کوئی مشکل امر نہیں۔ لکھنا سکھانے سے میرا یہ مطلب نہیں کہ اسے کاتب بنا دیا جائے۔ اسی طرح پڑھنا سکھانے سے میرا یہ مطلب نہیں کہ دوسرا شخص عالم بن جائے۔ بلکہ معمولی لکھنا پڑھنا سکھانے سے میری یہ مراد ہے کہ وہ حروف جوڑ سکے اور اردو کے الفاظ کو ادا کر سکے اور چونکہ یہ ہماری اپنی زبان ہے اس لیے وہ آگے جلد ترقی کرے گا۔ پس یہ کوئی مشکل امر نہیں محض ارادہ اور قوتِ عمل کی ضرورت ہے۔ اگر ہم ارادہ کر لیں اور پھر اپنے اندر قوتِ عمل پیدا کریں تو یہ کام اسی طرح ممکن ہے جس طرح یہ ممکن ہے کہ کوئی شام کی روٹی پکا لے یا کل کے کھانے کے لیے تیاری کر لے۔ یہ اسی طرح ممکن ہے جس طرح کوئی شخص ہفتہ میں ایک بار، دو بار، تین بار، چار بار، پانچ بار، چھ بار یا سات بار نہا لے اور جسم کی صفائی کرے۔ اگر کوئی دِقّت ہے تو محض یہ ہے کہ ہم اس کے لیے ارادہ اور عزم نہیں کرتے۔ پس ایک تحریک میں نے یہ کی تھی کہ ہر تعلیم یافتہ مرد اور ہر تعلیم یافتہ عورت کم سے کم کسی ایک مرد یا عورت کو معمولی لکھنا پڑھنا سکھا دے۔ اور زیادہ ہو جائے تو یہ اَور بھی اچھی بات ہے۔
    دوسری بات میں نے یہ پیش کی تھی کہ اس سال تمام جماعت میں تحریکِ جدید کو مضبوط کیا جائے۔ جماعت کا ہر فرد چھوٹا ہو یا بڑا، عورت ہو یا مرد تحریک جدید میں حصہ لے۔ اور اس کی بھی جو صورت میں نے پیش کی ہے اس میں کوئی مشکل نہیں۔ اور وہ صورت یہ ہے کہ تحریک جدید میں کم سے کم پانچ روپے دے کر ہر شخص شامل ہو سکتا ہے۔ اور پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر حصہ لینے والا پانچ روپے دے بلکہ اگر کوئی ایک روپیہ دے سکے تو پانچ آدمی مل کر ایک آدمی کے وجود کے طور پر پانچ روپیہ لکھا دیں۔ اور اگر فرض کرو وہ ایک ایک روپیہ بھی نہیں دے سکتے آٹھ آٹھ آنہ دے سکتے ہیں تو دس آدمی مل کر ایک وجود کے طور پر پانچ۔روپے لکھا دیں۔ بہرحال ایک وفعہ یہ کوشش کی جائے کہ جماعت کا کوئی فرد تحریک جدید سے باہر نہ رہے۔ اگر ہم اس سال ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو میرا وسیع تجربہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص نیکی کی طرف کوئی قدم اُٹھاتا ہے اُسے بعد میں اس کو پھیلانے کا موقع ملتا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ جو لوگ پانچ پانچ روپے دے کر تحریک جدید میں شروع میں شامل ہوئے تھے انہوں نے اس دَور کو چارچار، پانچ پانچ سَوروپیہ پر ختم کیا ہے۔ میں جب کہتا ہوں کہ جماعت کا ہر فرد ایک ایک روپیہ یا آٹھ آٹھ آنے دے کر تحریک جدید میں شامل ہو جائے تو میں جانتا ہوں کہ وہ ایک جگہ پر کھڑے نہیں ہوں گے بلکہ یہ ایک روپیہ یا آٹھ آنے انہیں گھسیٹ کر آگے چلے جائیں گے اور وہ ایک روپیہ یا آٹھ آنے سے سَو، دو سَو یا پانچ سَو اور۔ہزار۔روپیہ تک چلے جائیں گے۔
    تیسری تحریک جو میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر کی یہ تھی کہ ہر احمدی زمیندار جو فصل عام طور پر کاشت کرتا ہے وہ اس کا 1/20 فیصدی زیادہ بوئے اور اس کی آمدنی تحریک۔جدید میں دے۔ مثلاً ایک شخص بیس کنال فصل بوتا ہے تو وہ اکیس کنال فصل بوئے اور۔اس ایک کنال کی آمد محض خداتعالیٰ کے لیے وقف کرے تا کہ اس سے غیرقوموں اور۔غیرمذاہب میں تبلیغِ اسلام ہو۔ یہ بھی کوئی مشکل نہیں۔پانچ فیصدی زیادہ کام کرنا کوئی مشکل امر نہیں ہوتا۔ اگر کسی نے ایک کام میں بیس منٹ خرچ کرنے تھے اور وہ اکیس منٹ خرچ کر لے تو اس کے لیے یہ کونسی مشکل بات ہے۔ یا اگر کسی شخص نے ایک کام پر سَو منٹ خرچ کرنے تھے اور وہ اس میں ایک سَو پانچ منٹ خرچ کرے تو یہ کونسی مشکل بات ہے۔ اگر کسی نے ایک جگہ سَو دن ٹھہرنا تھا اور وہ ایک سَو پانچ دن ٹھہر جائے تو یہ کونسی مشکل بات ہے۔ اس چیز کا زائد فائدہ یہ ہو گا کہ اس کے اندر پانچ فیصدی زیادہ محنت کرنے کی عادت پیدا ہو جائے گی جو اس کے دوسرے کئی کاموں میں مفید ثابت ہو گی۔ اس تجویز پر عمل کرنے سے بھی سلسلہ کی آمد بڑھ سکتی ہے اور دوستوں کو سلسلہ کے کاموں میں شمولیت کا موقع مل سکتا ہے۔
    پھر ایک تحریک میں نے یہ کی تھی کہ ہر آدمی اپنے ہاتھ سے کچھ نہ کچھ کام کرے اور اس سے جو آمد ہو وہ اشاعت ِاسلام کے لیے دے۔ چنانچہ دوعورتوں کی طرف سے کچھ چندہ آبھی چکا ہے۔ ایک عورت نے میری اس تقریر کے بعد کچھ کام کیا۔ اس سے دس آنہ کی آمد ہوئی جو اس نے تحریک جدید میں دی۔ اور دوسری عورت کا میں جلسہ پر اپنی تقریر میں ذکر کر چکا ہوں کہ اس نے میری اس تقریر کے بعد تین کارڈ لکھ کر دیئے اور اس کے بدلہ میں تین۔پیسے حاصل کیے اور یہ تین پیسے اس نے تحریک جدید میں دے دیئے۔ اگر ہر شخص کوئی نہ کوئی کام شروع کر دے اور اس کی آمد اشاعتِ اسلام کے لیے دے تو سلسلہ کی آمد میں کافی ترقّی ہوسکتی ہے۔مثلاً میں نے اچھے اچھے افسروں کے متعلق معلوم کیا ہے انہوں نے میری اس تقریر کے بعد اپنے لیے بعض کام سوچے ہیں۔ مثلاً بعض افسروں نے یہ تجویز کیا ہے کہ وہ کسی دن اسٹیشن پر چلے جائیں گے اور مسافروں کا سامان گاڑی سے باہر نکال کر رکھ دیں گے اور اس طرح کچھ نہ کچھ آمد پیدا کریں گے۔ گویا کسی نے کوئی کام سوچا ہے اور کسی نے کوئی۔ اگر یہ روح جماعت میں پیدا ہو جائے تو چاہے اس کے نتیجہ میں کتنی کم آمد پیدا ہو کم از کم اس کا اس قدر فائدہ تو ضرور ہوگا کہ جماعت کے اندر قربانی کی روح پیدا ہو گی۔دوسرے غریب اور امیر میں جو فرق آجکل پایا جاتا ہے وہ دُور ہو جائے گا۔ تیسرے ہر ایک شخص کی ذہنیت اس طرف مائل ہو گی کہ اسے اپنے مقررہ رستہ سے ہٹ کر بھی کوئی کام کرنا چاہیے۔ میں اپنے لیے بھی سوچ رہا۔ہوں کہ کوئی ایسا کام نکالوں کہ دوسرے کاموں میں فرق پڑے بغیر میں اس کے نتیجہ میں کچھ آمد پیدا کر کے سلسلہ کو دے سکوں۔ عام طور پر ایک زمیندار، ایک صناع یا ایک تاجر کوئی کام کرتا ہے تو وہ اپنے لیے کرتا ہے اور اس میں سے ایک حصہ خداتعالیٰ کے لیے دے دیتا ہے لیکن یہ کام خالص خداتعالیٰ کے لیے ہو گا اور اس سے جو آمد ہو گی وہ خالص اشاعت ِاسلام کے لیے ہو گی۔
    یہ پروگرام میں نے جماعت کے لیے تجویز کیا تھا۔ اگر دوست اس طرف توجہ کریں، سلسلہ کے اخبار باربار جماعت کو اس کی طرف توجہ دلاتے رہیں، سلسلہ کے مبلغ جس جگہ جائیں وہ لوگوں کو اس کی ترغیب دلائیں اور لوگوں سے سَو فیصدی اس پروگرام پر عمل کرانے کی کوشش کریں، جماعت کے سیکرٹری اور پریذیڈنٹ صاحبان ذمہ داری سے کام لیں اور جماعت کے تمام افراد سے اس پر عمل کرائیں اور پھر ان رقوم کو پوری طرح ادا کر کے چھوڑیں تو ہمارا اگلا سال ہمارے سامنے نئی شکل میں ظاہر ہو گا۔ہماری تبلیغ بڑھی ہوئی ہو گی، ہماری جماعت میں پہلے سے زیادہ اخلاق پیدا ہو چکے ہوں گے، جماعت کی تعلیم پہلے سے اچھی ہو چکی ہو گی، دین کا جذبہ ترقی کر چکا ہو گا اور جماعت قربانی میں ترقی کرنے کے قابل ہو چکی ہو گی۔
    پس میں اس نئے سال میں جمعہ کے مبارک دن میں جو اِس سال کا پہلا دن ہے جماعت کو اِن امور کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ جماعت کے سارے احباب پختہ عزم اور ارادہ کے ساتھ ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے‘‘۔
    (المصلح21فروری 1954ئ)


    اسلام ایک مستقل سچائی اور ابدی صداقت ہے
    جو زمانہ کے حالات سے ہرگز متأثر نہیں ہو سکتی
    (فرمودہ 8 جنوری1954ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’میں سمجھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں اگر اپنے فرض کا احساس پیدا ہو جائے تو لمبی۔چوڑی تقریروں اور لمبے چوڑے وعظوں کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔ جب کوئی شخص کسی پہاڑ کے دامن میں کھڑا ہو اور وہ پہاڑ اس پر گر رہا ہو تو اسے دوسرے علاقہ کے لوگ یہ بتانے کے لیے نہیں آتے کہ پہاڑ تم پر گر رہا ہے تم اپنی جان بچا لو۔ جب کسی گھر میں آگ لگی ہوئی ہوتی ہے تو اس کے ہمسائے اسے نہیں کہتے کہ وہ اپنی جان بچا لے بلکہ وہ آپ ہی آپ اس جگہ سے باہر چلا جاتا ہے۔ جب پانی کا سیلاب کسی علاقہ کی طرف بڑھتا ہے تو کسی شخص کے یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ لوگو! اپنی جانیں بچا لو۔ بلکہ لوگ آپ ہی آپ اس علاقہ سے بھاگنا شروع کر دیتے ہیں۔ اسی طرح اسلام کے لیے جو آفتیں ہیں، اسلام کے لیے جو مصیبتیں ہیں اور اسلام کے لیے جو تکلیفیں ہیں وہ درحقیقت اسلام کے لیے نہیں بلکہ مسلمانوں کے لیے ہیں۔ اور ان کا فرض ہے کہ بغیر اس کے کہ کوئی انہیں توجہ دلائے جس طرح سیلاب۔سے بچنے کے لیے لوگ دوڑ پڑتے ہیں، جس طرح آگ سے بچنے کے لیے لوگ مکانوں سے نکل بھاگتے ہیں، جس طرح گرنے والے پہاڑ سے بچنے کے لیے لوگ اپنی جانوں کی حفاظت کرتے ہیں اُسی طرح وہ اِن مصیبتوں سے بھی اپنے آپ کو بچائیں۔ جو کہنے والے کے لیے اسلام کی مصیبتیں ہیں لیکن وہ اسلام کی نہیں بلکہ مسلمانوں کی مصیبتیں ہیں۔ کیونکہ اسلام ایک مستقل سچائی ہے اور کسی مستقل سچائی کو اِس چیز سے واسطہ نہیں ہوتا کہ کوئی شخص اسے مانتا ہے یا نہیں مانتا۔ پس وہ مصیبتیں، آفتیں اور مشکلات مسلمانوں کے لیے ہیں ورنہ اسلام ان مشکلات کے دائرہ سے کلّی طور پر باہر ہے۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کسی علاقہ میں آندھی آ جاتی ہے اور سارے جَوّ1 پر چھا جاتی ہے تو سورج، چاند اور ستارے نظر آنے بند ہو جاتے ہیں۔ اب بظاہر وہ آندھی چاند اور ستاروں کے لیے ہوتی ہے کہ وہ اس کی وجہ سے نظر نہیں آتے لیکن حقیقت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آندھی انسانوں کے لیے ہوتی ہے کہ سورج، چاند اور ستارے انہیں نظر نہیں آتے۔ ورنہ وہ اسی طرح چمک رہے ہوتے ہیں اور۔فضائیں ان سے اسی طرح روشن ہوتی ہیں جیسے پہلے روشن تھیں۔ آندھی صرف چند فٹ کی بلندی تک ہوتی ہے اور وہ بھی دس پندرہ میل کے علاقہ میں کہ جس میں وہ انسانوں کے ایک حصہ کو سورج، چاند اور ستاروں کی روشنی سے محروم کر دیتی ہے۔ اسی طرح آندھی کی وجہ سے کچھ لوگوں کے مکان گر جاتے ہیں، کچھ چھتیں اُڑ جاتی ہیں، کچھ غلے پراگندہ ہو جاتے ہیں، کچھ درخت اُکھڑ جاتے ہیں، کچھ کھیتیاں خراب ہو جاتی ہیں لیکن یہ ساری چیزیں انسان کے ساتھ تعلق رکھنے والی ہوتی ہیں سورج، چاند اور ستاروں کے ساتھ تعلق نہیں رکھتیں۔ان کھیتوں، درختوں اور چھتوں سے سورج، چاند اور ستاروں کا کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ مکانوں میں سورج، چاند اور ستارے نہیں رہتے۔’’ چھتیں‘‘ سورج، چاند اور ستاروں کی حفاظت نہیں کرتیں۔ ان چیزوں سے فائدہ اُٹھانے والے محروم ہوتے ہیں تو انسان محروم ہوتے ہیں سورج، چاند اور ستارے نہیں۔ جن کے لیے آندھی آئی ہوئی ہوتی ہے وہ انسان ہوتے ہیں کہ جن کے درمیان اور سورج، چاند اور ستاروں کے درمیان گردوغبار حائل ہو جاتا ہے ورنہ سورج، چاند اور ستارے۔ہمیشہ سے روشن ہیں۔ ہماری پیدائش سے لاکھوں کروڑوں سال قبل بھی روشن تھے اور۔شاید۔ہماری وفات کے لاکھوں کروڑوں سال بعد تک بھی اسی طرح روشن اور چمکتے رہیں گے جیسے وہ آج روشنی دیتے اور چمکتے ہیں۔ سورج اسی طرح گرمی پہنچاتا رہے گا جس طرح وہ آج پہنچا رہا ہے۔ سورج اور چاند کھیتوں کو اُسی طرح فائدہ پہنچاتے رہیں گے اور پہنچاتے چلے جائیں گے جس طرح وہ آج پہنچا رہے ہیں۔ وہ جراثیم کو اُسی طرح ماریں گے اور مارتے چلے جائیں گے جیسے وہ ہمیشہ مارتے چلے آئے ہیں۔ ہاں! ایک عارضی عرصہ میں اور ایک خاص ماحول میں انسان ان کے فائدہ سے محروم ہو جاتا ہے۔ بظاہر دنیا سمجھتی ہے کہ سورج غائب ہو گیا ہے، بظاہر دنیا سمجھتی ہے کہ چاند اور ستارے چُھپ گئے ہیں اور اب روشنی نہیں دیتے حالانکہ وہ برابر روشن ہوتے ہیں اور روشنی پہنچا رہے ہوتے ہیں۔
    یہی حال سچائیوں کا ہے۔ سچائی غائب نہیں ہوتی، سچائی نہیں مِٹتی۔انسان غائب ہوتا ہے اور انسان مِٹ جاتا ہے۔ بیوقوف سمجھتا ہے کہ سورج، چاند اور ستارے چُھپ گئے ہیں حالانکہ یہ خود چُھپ جاتا ہے اور تاریکیوں میں پھنس جاتا اور روشنی کے فوائد سے محروم ہو جاتا ہے مگر وہ اس محرومیت کو دوسرے کی طرف منسوب کر دیتا ہے۔
    قصّہ مشہور ہے کہ کوئی اندھا اندھیرے میں لالٹین ہاتھ میں لیے جا رہا تھا۔ کوئی سوجاکھا اُس کے پاس سے گزرا تو اُسے لالٹین ہاتھ میں لیے دیکھ کر ہنس پڑا اور کہنے لگا میاں! جب تجھے نظر نہیں آتا تو تجھے اس لالٹین کا کیا فائدہ؟ اُس اندھے نے کہا بیشک میں اندھا ہوں اور۔مجھے اس لالٹین کی ضرورت نہیں۔مگر یہ لالٹین میں نے اپنے پاس سجاکھے اندھوں کے لیے رکھی ہے تا کہ وہ اندھیرے میں مجھے ٹھوکر نہ لگائیں۔ اسی طرح یہ چیزیں یعنی سورج، چاند اور۔ستارے اپنے لیے فائدہ حاصل نہیں کر رہے ہوتے بلکہ دوسروں کو فائدہ پہنچا رہے ہوتے ہیں۔ تریاق اپنی ذات کو فائدہ نہیں دیتا۔ ہاں! جو اُسے استعمال کرتا ہے وہ زہر کے اَثر سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ زہر اپنی ذات میں نقصان نہیں اُٹھاتا۔ ہاں! انسان اسے کھائے تو مر جاتا ہے۔ اسی طرح یہ چیزیں انسانوں کو ہی مارتی ہیں اور جلاتی ہیں۔ پس جب کہ حالت یہ ہے تو۔بدقسمت ہے وہ انسان جو باتوں میں اپنی ساری عمر ضائع کر دیتا ہے اور کام کی طرف توجہ نہیں کرتا۔ ہر خرابی جسے وہ دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ دوسروں کی طرف آ رہی ہے حالانکہ۔وہ۔اُسی کی طرف آ رہی ہوتی ہے۔ جیسے چاند اور ستارے آندھی کی وجہ سے اوجھل ہو جاتے ہیں تو احمق انسان سمجھتا ہے کہ ان کی روشنی جاتی رہی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ چاند اور ستارے تو روشن ہوتے ہیں، وہ خود اُن کی روشنی سے محروم ہو جاتا ہے۔ اِسی طرح یہ۔احمق بھی خیال نہیں کرتا کہ ہر تباہی جو دنیا پر آ رہی ہے اُس پر بھی آ رہی ہے، ہر تباہی جو۔دنیا پر آ رہی ہے اس سے وہ بھی محفوظ نہیں کیونکہ وہ بھی دنیا سے باہر نہیں۔ اگر دنیا میں کوئی تباہی آئے گی تو اس پر بھی آئے گی۔ اس لیے اس کا فرض ہے کہ قبل اِس کے کہ وہ تباہی آئے، وہ اس سے بچنے کی کوشش کرے۔ لیکن بدقسمت انسان باتیں کرتا ہے اور کام سے منہ موڑ لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ ان باتوں کی وجہ سے دنیا اُسے سر پر اُٹھائے پھرے گی حالانکہ نہ دنیا بیوقوف ہے اور نہ خداتعالیٰ۔ بیوقوف وہی ہے جو غلط امید لگائے بیٹھا ہے‘‘۔
    (الفضل 29فروری 1958ئ)

    1
    :
    جوّ:فضا(فیروز اللغات اردو جامع فیروز سنز لاہور)


    مساجد اپنی ذات میں بڑی برکات رکھتی ہیں ان کی وسعت کے ساتھ ہی ہماری جماعت کی ترقی وابستہ ہے
    (فرمودہ 15 جنوری1954ء رتن باغ لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’جلسہ کے بعد تقریروں وغیرہ کی وجہ سے میرے گلے پر بوجھ پڑا تھا اور نزلہ کی بھی شکایت ہو گئی تھی۔پھر الٰہی مصلحت کے ماتحت جلسہ کے معاً بعد مجھے گواہی کے لیے تیاری بھی کرنی پڑی اور گواہی بھی دینی پڑی۔ اس لیے میرے گلے کی خراش بہت بڑھ گئی ہے اور کھانسی شروع ہو گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت تھی یا شاید آپ لوگوں کے اخلاص اور محبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ سامان کیا کہ سمجھا تو یہ جاتا تھا کہ شاید بدھ کو گواہی ختم ہو جائے اور جمعرات کو ہم واپس چلے جائیں لیکن اللہ تعالیٰ نے کچھ ایسے سامان کیے کہ میری گواہی جمعہ کے وقت تک ہو گئی۔ جس کے بعد لازماً مجھے جمعہ کے لیے ٹھہرنا پڑا اور یہ جمعہ مجھے لاہور میں پڑھانا پڑا۔
    میں نے جو یہ اعلان کرایا تھا کہ دوست اِس جگہ (یعنی رتن باغ میں) نماز کے۔لیے جمع ہو جائیں اس کی وجہ یہ تھی کہ میں سمجھتا تھا کہ ایسے وقت میں آ کر کہ جمعہ کے لیے تھوڑا۔وقت رہ جائے گا۔ پھر انسان جمعہ کی تیاری بھی کرتا ہے، کھانا بھی کھاتا ہے اور۔تھکان۔بھی۔ہوتی۔ہے مسجد میں جانا شاید مشکل ہو جائے لیکن ساتھ ہی میں یہ بھی چاہتا تھا کہ دوست مل لیں تا کہ میرا یہاں رہنا میرے لیے بھی اور ان کے لیے بھی مفید ہو جائے۔ اس لیے مسجد کی بجائے میں نے آپ لوگوں کو یہاں نماز پڑھنے کی تحریک کی۔
    جہاں تک اسلامی احکام کا سوال ہے بہترین جگہ نماز کی مسجد ہی ہوتی ہے کیونکہ دنیا میں ہر چیز اپنی روایات کو اپنے ساتھ لیے پھرتی ہے۔اگر کسی دشمن کا بچہ نظر آ جاتا ہے تو اس کو دیکھتے ہی انسان کے دل میں اُس دشمن کی دشمنیاں بھی گزر جاتی ہیں۔ اور اگر کسی دوست کا بچہ نظر آ جاتا ہے تو اس کو دیکھتے ہی اُس دوست کی محبت اور اُس کا حُسنِ سلوک بھی یاد آ جاتا ہے۔ہمارے ملک کی روایات میں سے ایک روایت ہے کہ مجنوں کو کسی نے دیکھا کہ اس نے ایک کُتّے کو گود میں بٹھایا ہوا ہے اور اُس سے پیار کر رہا ہے۔ اُس نے کہا قیس! تم تو ایک بڑے خاندان کے ساتھ تعلق رکھتے ہو تم یہ کیا حرکت کر رہے ہو کہ ایک کُتّے کو تم نے گود میں بٹھایا ہوا ہے اور تم اس سے پیار کر رہے ہو؟ قیس نے بے۔ساختہ جواب دیا کہ میں کُتّے کو تو۔پیار نہیں کر رہا، میں تو لیلیٰ کے کُتّے کو پیار کر رہا ہوں۔ یعنی تمہیں وہ کُتّا نظر آتا ہے لیکن مجھے یہ نظر آتا ہے کہ لیلیٰ کے ساتھ اس کی وابستگی ہے۔ اِس لیے اِس کو دیکھتے ہی لیلیٰ کی یاد میرے دل میں تازہ ہو جاتی ہے۔
    مسجد بھی بظاہر اینٹوں کی بنی ہوئی ایک چیز ہے،چُونا کی بنی ہوئی ایک چیز ہے، گارے کی بنی ہوئی ایک چیز ہے، لکڑی کی بنی ہوئی ایک چیز ہے۔ اور جہاں تک مساجد کا تعلق ہے لاہور کے ہزاروں ہزار مکان ان سے زیادہ بہتر مٹیریل سے بنے ہوئے ہیں۔ اگر صرف ایک احاطہ کو دیکھا جائے، اگر صرف چھتوں کو دیکھا جائے، اگر صرف عمارت کو دیکھا جائے، اگر صرف دروازوں کو دیکھا جائے تو لاہور کی اکثر مساجد سے یہاں کی اکثر کوٹھیاں زیادہ شاندار نظر آئیں گی۔ لیکن ایک مومن جس وقت مسجد میں جاتا ہے تو معاً اس کی اینٹ اور گارا اور لکڑی اور چُونا اُس کے دل سے غائب ہو جاتا ہے اور اُس کو یہ نظر آتا ہے کہ اِس گھر میں پانچ وقت میرا خدا اُترا کرتا ہے۔ مسجد کے علاوہ دوسری کوئی ایسی جگہ نہیں ہوتی جس کو دیکھتے ہی اُس کے دل پر یہ اَثر پڑے کہ میرا محبوب اور میرا آقا اِس جگہ پانچ وقت آیا کرتا ہے۔ پس۔مسجد۔ہی ایک ایسی چیز ہے جس میں داخل ہوتے ہی انسان کے جذباتِ محبت اُبھر پڑتے ہیں اور وہ محسوس کرتا ہے کہ گو ابھی میں نے خدا کو نہیں دیکھا مگر میں اِس جگہ آ گیا ہوں جہاں لوگ خدا کو دیکھا کرتے ہیں۔ شاید کسی دن میری بھی خداتعالیٰ کو دیکھنے کی باری آ جائے۔ اسی لیے خداتعالیٰ نے فرمایا ہے ّ 1تم مساجد میں مزیّن ہو کر جایا کرو۔لوگ بڑے افسروں کو ملنے جاتے ہیں یا کچہریوں اور درباروں میں جاتے ہیں تو۔اچھے لباس پہنتے ہیں، نہا دھو کر جاتے ہیں، خوشبو لگاتے ہیں کیونکہ سمجھتے ہیں کہ اُس جگہ بہت سے لوگ بادشاہ یا گورنر کو دیکھنے آئیں گے۔ پس وہ خوب تیاریاں کر کے جاتے ہیں۔ اللہ۔تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح دنیا کے دربار یا شاہی عمارات انسانی بادشاہوں کے سامنے لے جانے والی چیزیں ہیں اور وہ ان کی آنکھوں کے سامنے بڑے بڑے باشاہوں کو لے آتی ہیں اِسی طرح مسجد خدا کے سامنے انسان کو پہنچا دیتی ہے۔ اگر چھوٹے چھوٹے حاکموں کے سامنے جانے کے لیے وہ تیاری کرتے ہیں تو اَحْکَمُ الْحَاکِمِیْنَ سے ملنے کے لیے وہ کیوں تیاری نہیں کرتے؟ تو مساجد اپنی ذات میں بڑی برکت رکھتی ہیں۔ اگر مجبوراً مسجد کو چھوڑنا پڑے تو اَور بات ہے۔ جیسے بعض لوگ اپنی ضدّ اور تعصّب میں اتنے بڑھ جاتے ہیں کہ وہ خدا کی مسجد کو اپنی مسجد سمجھنے لگ جاتے ہیں اور دوسروں کو اِس میں نماز بھی پڑھنے نہیں دیتے۔ ایسی حالت میں اگر کوئی شخص مسجد کو چھوڑ دیتا ہے اس لیے کہ لوگ اسے مسجد میں نہیں جانے دیتے۔ جیسے پولیس پہرہ پر بیٹھی ہوئی ہو تو انسان اگر اُس جگہ جانا بھی چاہتاہے تو رُک جاتا ہے۔ اِسی طرح اگر کوئی طاقتور آدمی کسی کو مسجد میں نماز پڑھنے سے روک دے تو وہ رُک جاتا ہے لیکن اُس کے دل کو یہی محسوس ہوتا ہے کہ میں اپنی ایک پیاری اور عزیز چیز کے پاس جانا چاہتا تھا۔لیکن مجھے روک دیا گیا اور وہ لوگ جو اپنے دلوں میں خشیتُ۔اللہ رکھتے ہیں اُن پر اِن۔باتوں۔کا۔اَثر بھی ہوتا ہے۔
    اِسی جلسہ پر ایک دوست نے مجھے ایک واقعہ سُنایا جس کا میرے دل پر بُرا اَثر ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے ہاں ایک احمدی دوست نے اپنے خرچ پر مسجد تعمیر کی جس میں وہ نمازیں پڑھا کرتے تھے۔ فساد کے دنوں میں لوگوں کو جوش آیا اور انہوں نے اس احمدی سے کہا کہ ہم تمہیں اِس مسجد میں ہرگز گھسنے نہیں دیں گے۔ اُس نے کہا یہ مسجد تو میں نے خود بنائی ہے اِس لیے تم مجھے اِس مسجد سے نہیں روک سکتے۔ انہوں نے کہا خواہ کچھ ہو ہم تمہیں اِس مسجد میں نہیں گھسنے دیں گے۔ اس نے حکام کے پاس شکایت کی۔ انہیں پورے حالات معلوم نہیں تھے اور یہ نہیں جانتے تھے کہ اس نے وہ مسجد بنائی ہے۔ انہوں نے بھی اِس خیال سے کہ اِس طرح فساد بڑھے گا اُسے مسجد میں نماز پڑھنے سے روک دیا۔ اُس نے کہا اچھا! جب یہ مسجدانسانوں کی ہو گئی ہے تو اب میں اس مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے نہیں جاؤں گا۔ کچھ دنوں کے بعد حکام کو معلوم ہوا کہ مسجد اُس نے بنائی ہے اور لوگوں نے اُس پر سختی کی ہے اِس پر بعض ایسے افسر جو اپنے دل میں خوفِ۔خدا رکھتے تھے انہوں نے سمجھا کہ ہم سے بڑی غلطی ہوئی ہے۔ انہوں نے اس احمدی کو کہلا بھیجا کہ تم بے۔شک مسجد میں آیا کرو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ اُس نے کہا اب میں نہیں آتا۔ جب یہ خدا کی مسجد نہیں بلکہ انسانوں کی مسجد ہے تو میں نے اس میں آ کر کیا لینا ہے؟ سنانے والے نے سنایا کہ آخر علاقہ کے افسر بھی اور رئیس بھی اُس کے گھر پر گئے اور اُس کی منّتیں کیں کہ ہمیں خدا کے لیے معاف کرو اور مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے آیا کرو۔ چنانچہ اُس نے انہیں معاف کیا اور وہ مسجد میں آنے جانے لگا۔ اب دیکھو! اِس کی وجہ یہی تھی کہ ان میں سے بعض کے دل میں خوفِ خدا تھا۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ اس مسجد کے ذریعہ اس شخص نے خدا کا نام لینے کی دوسروں کے لیے سہولت پیدا کی تھی اور اس امر کا انتظام کیا تھا کہ لوگ آئیں اور خدا کی زیارت کریں لیکن ہم نے اس کو خداتعالیٰ کی زیارت سے محروم کر دیا تب انہوں نے اپنی غلطی محسوس کی اور وہ اصرار کر کے اُسے مسجد میں لے آئے۔ تو۔اِن مقامات کو دیکھ کر انسان کے دل پر اَثر پڑتا ہے اور انسان محسوس کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایک شرف عطا فرما دیا ہے اور یہ ایسی چیز ہے کہ اِس کو دیکھ کر بعض دفعہ سنگدل سے سنگدل انسان بھی کانپ اُٹھتا ہے۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دل میں اپنے آخری ایامِ مکہ میں ہجرت سے تین چار سال پہلے خیال پیدا ہوا کہ مکہ والے تو نہیں مانتے شاید کوئی دوسرا شہر مان جائے۔ حجاز کا دوسرا بڑا شہر طائف تھا۔ آپ اپنے ایک ساتھی کو لے کر طائف پہنچے لیکن آپ کی یہ حُسنِ۔ظنّی درحقیقت درست نہیں تھی۔ طائف والے مکہ والوں سے بھی عداوت میں بڑھے ہوئے تھے۔ جب آپ نے انہیں تبلیغ کرنی چاہی تو انہوں نے مختلف بہانے بنانے شروع کر دیئے۔ اِدھر انہوں نے لڑکوں کو حملہ کے لیے اُکسا دیا اور کہہ دیا کہ جب آپؐ باہر نکلیں تو آپؐ پر پتھر برسائیں اور آپ کے پیچھے کُتّے ڈال دیں۔ جب آپ طائف کے رؤساء سے مایوس ہو کر باہر نکلے تو لڑکوں نے آپؐ۔۔کو پتھر مارنے شروع کر دیئے۔ ساتھ ہی انہوں نے کُتّوں کو اُکسا دیا اور وہ بھی آپؐ کے پیچھے دوڑے۔ آپ اِس حالت میں شہر چھوڑ کر باہر نکلے مگر وہاں بھی لوگ آپ کے پیچھے پیچھے آئے۔ یہاں تک کہ آپ کے جسم پر کئی جگہ زخم آ گئے اور خون بہنے لگ گیا۔ مکہ والے اکثر رئیسوں کی جائیدادیں اور باغات طائف میں تھے۔ آپ ایک باغ کے پاس آئے جو ایک شدید دشمنِ اسلام کا تھا مگر اُس وقت آپؐ۔۔کی حالت کو دیکھ کر اُسے بھی رحم آگیا اور اُس نے آپ کو اپنے باغ میں بیٹھنے کی اجازت دے دی۔ جب طائف والوں کا آپؐ نے یہ سلوک دیکھا تو آپؐ نے اپنے ساتھی سے فرمایا کہ چلو مکہ چلیں۔اُس نے کہا یَارَسُولَ اللّٰہ! شاید آپؐ۔۔کو مکہ والوں کا قانون معلوم نہیں۔ مکہ والے حقوقِ۔شہریت سے محروم نہیں کرتے۔ لیکن جب کوئی شخص اپنی مرضی سے مکہ چھوڑ کر چلا جائے تو پھر دوبارہ اُسے مکہ میں داخل نہیں ہونے دیتے جب تک اُسے کسی رئیس کی پناہ حاصل نہ ہو۔ آپ اپنی خوشی سے وہاں سے نکل آئے تھے اور اب مکہ والے سمجھتے ہیں کہ آپ وہاں کے باشندے نہیں رہے سوائے اِس کے کہ مکہ کا کوئی رئیس یا مکہ کے پنچوں میں سے کوئی ذمہ دار شخص آپ کو پناہ دے۔ چنانچہ جب آپ مکہ کے پاس پہنچے تو آپؐ نے اُسے مطعم بن عدی کے پاس بھجوایا۔ مطعم۔بن۔عدی آپؐ۔۔کا ایک شدید دشمن تھا۔ وہ اور اُس کے بیٹے رات دن آپ کی مخالفت کرتے رہتے تھے۔ آپؐ نے اُسے فرمایا تم مطعم بن عدی کے پاس جاؤ اور اُسے میرا نام لے کر کہو کہ میں پھر مکہ میں واپس آنا چاہتا ہوں۔ اگر تم مجھ کو شہریت کے حقوق دے دو جس کا طریق یہ ہے کہ تم مجھے اپنی پناہ میں لے لو تو پھر میں واپس آ سکتا ہوں۔ اُس کو تعجب تو ہوا کہ۔اتنا شدید دشمن جو رات دن دشمنی کرتا رہتا ہے اس کے پاس جانے کا فائدہ کیا ہو گا مگر وہ چلا گیا۔درحقیقت وہ مکہ والوں کی فطرت کو نہیں سمجھتا تھا۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی فطرت کو خوب سمجھتے تھے۔ وہ نہایت سنگدل بھی تھے، وہ نہایت ظالم بھی تھے لیکن خانہ کعبہ کے پاس رہنے کی وجہ سے خشیتُ۔اللہ کی ایک چنگاری بھی اُن کے دلوں میں سُلگتی رہتی تھی۔ مکہ میں جو خداتعالیٰ کے نشانات کا ظہور وہ رات دن دیکھتے تھے اُس کی وجہ سے وہ بستے تو تھے مگر مکہ کی رسّی سے بندھے رہتے تھے۔ جب وہ صحابیؓ گئے اور انہوں نے آپ کا نام لے کر کہا کہ وہ آپ کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ میں مکہ سے چلا گیا تھا مگر طائف والوں نے مجھ سے کچھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ اب میں چاہتا ہوں کہ پھر واپس آجاؤں مگر مکہ کے قانون کے مطابق میں یہاں کے شہری حقوق سے محروم ہو گیا ہوں۔ اب اس کے لیے ضروری ہے کہ مکہ کا کوئی سرپنچ مجھے پناہ دے۔ کیا تم اس بات کے لیے تیار ہو کہ مجھے پناہ دو؟ تو وہ شدید دشمنِ اسلام جس کی دشمنی کے واقعات سے تاریخیں بھری پڑی ہیں یہ سنتے ہی کھڑا ہو گیا اور اُس نے اپنے جوان بیٹوں کو بلایا اور اُن کو یہ سارا واقعہ سنایا اور کہا کہ تلواریں اپنے ہاتھ میں لے لو اور میرے ساتھ چلو۔ پھر اُس نے مکہ کے دروازہ تک آ کر آپ سے کہا کہ میں آپ کو پناہ دیتا ہوں۔ آپ میرے ساتھ مکہ میں داخل ہوں۔ مکہ کے لوگوں کی دشمنی کا اُس کو اندازہ تھا، اُن کی معاندانہ کارروائیوں کا اُس کو علم تھا۔ وہ جانتا تھا کہ گو مکہ کے رواج کے مطابق مجھ کو یہ حق حاصل ہے کہ میں ان کو پناہ دوں مگر وہ مخالفت کی وجہ سے شاید اس دیرینہ قانون کو بھی بھول جائیں گے اور مخالفت پر آمادہ ہو جائیں گے۔ چنانچہ اس نے اپنے بیٹوں سے کہا دیکھو!یہ اِس وقت ہماری پناہ میں ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ مکہ والے حملہ کریں گے۔ لیکن میں وہ دن نہیں دیکھنا چاہتا کہ تم میں سے کوئی زندہ ہو اور اِن تک کوئی آدمی پہنچ جائے۔ تمہاری لاشوں پر سے گزرتے ہوئے کوئی شخص اِن تک پہنچے تو پہنچے ورنہ ان پر کوئی آنچ نہیں آنی چاہیے۔ اِس طرح وہ ننگی تلواروں کے نیچے آپ کو اپنے گھر چھوڑ گیا۔2
    اب دیکھو! اِس واقعہ کے پیچھے کونسی روح تھی؟ روح یہی تھی کہ اُس کو اس پناہ دینے میں بھی اپنی عظمت نظر آئی اور اُس نے سوچا کہ آخر یہ یہاں کیوں آنا چاہتے ہیں؟ اس لیے کہ یہاں خانہ کعبہ ہے اور خانہ کعبہ ہمارا ہے اور ہمیں ہمیشہ خداتعالیٰ کے نشانات دکھاتا ہے۔ پس۔خانہ کعبہ کے ساتھ اُن کے جو تعلقات تھے انہوں نے اُس کے اندر یہ نیکی پیدا کر دی کہ۔یا۔تو۔وہ آپ کی جان لینے کے درپے تھا اور یا اُس نے اپنے جوان بیٹوں سے کہا کہ تم میں سے ہر ایک مر جائے مگر ان کو آنچ تک نہ آئے۔
    تو مساجد اپنے اندر بڑی برکات رکھتی ہیں اور وہ انسان کے چھپے ہوئے جذبات اور اس کے دبے ہوئے احساست کو اُبھارتی اور نمایاں کرتی ہیں۔ اسی لیے رتن باغ میں (مگر اِس طرف نہیں بلکہ دوسری طرف) میں نے لاہور کی جماعت کو تحریک کی تھی کہ اب یہاں کی مسجد ان کی ضروریات کے لیے کافی نہیں۔ انہیں کوئی اَور مسجد بنانی چاہیے۔اُس وقت دوستوں نے اپنے جوش اور اخلاص میں بڑے بڑے چندے لکھوائے۔ چنانچہ مجھے بتایا گیا تھا کہ اِس وقت بائیس ہزار کے وعدے ہوئے اور وصولی بھی سولہ سترہ یا اٹھارہ ہزار کی ہو گئی لیکن اس میں التوا پڑتا چلا گیا اور جماعت نے زمین نہ خریدی۔ اب میرے باربار کہنے کے بعد جماعت نے اس طرف توجہ کی ہے اور زمین خریدنے کے متعلق کوشش کی جا رہی ہے۔ بہرحال نمازوں کے لیے یہاں ایک وسیع مسجد کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ اب بھی تم نمازیں تو پڑھتے ہو، مگر تم نماز پڑھتے ہو گلیوں میں، تم نماز پڑھتے ہو چھتوں پر۔ اور گلیوں اور چھتوں پر نماز پڑھتے وقت تمہارے اندر خشیتُ۔اللہ پیدا نہیں ہو سکتی جو مسجد میں ہوتی ہے۔ کیونکہ اِسی گلی میں بچے کھیل رہے ہوتے ہیں، اِسی گلی میں وہ پیشاب کر دیتے ہیں اور پھر لوگ اِسی گلی میں سے جُوتوں سمیت گزر رہے ہوتے ہیں۔ اِس وجہ سے جب تم گلی میں نماز پڑھتے ہو تو فوری طور پر تمہارے دل میں خداتعالیٰ کی محبت اور اُس کی خشیت کا وہ احساس پیدا نہیں ہوتا جو مسجد تمہارے اندر پیدا کرتی ہے۔ تم مسجد کے ساتھ ملحق گلی میں نماز پڑھ کر اس احساس سے بیگانہ رہتے ہو لیکن جب دوقدم چل کر مسجد میں داخل ہوتے ہو تو تمہارے اندر ایک نیا احساس اور نیا شعور پیدا ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے خوف کا جذبہ تمہارے دل میں نمایاں ہونے لگتا ہے۔
    مثلاً پہلا احساس تو تمہیں یہی پیدا ہوتا ہے کہ یہ مسجد ہے ہمارا فرض ہے کہ ہم جوتا اُتار دیں۔پھر اگر تمہارے ذہن کو یہ توفیق مل جائے کہ وہ بلندی کی طرف پرواز کرے تو۔مسجد۔کو۔دیکھ کر تمہارے دل میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ سالہاسال اِس زمین پر کھڑے ہو کر خداتعالیٰ۔کا۔نام بلند کیا گیا ہے، سالہاسال اس زمین پر خداتعالیٰ کا ذکر کیا گیا ہے بلکہ شاید دوگھنٹے پہلے خداتعالیٰ کا کوئی برگزیدہ اِس جگہ کھڑا ہوا ہو اور نہ معلوم اُس نے کس کس طرح خداتعالیٰ سے باتیں کی ہوں۔ پھر اگر خداتعالیٰ تمہیں اَور زیادہ بلند پروازی کی توفیق دے تو تمہارے دل میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ بیشک میرے اندر خشوع و خضوع پیدا نہیں ہوتا، میرے اندر رِقّت اور سوزوگداز کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔ لیکن خدا کے کئی بندے ایسے ہیں جن کے جذبات اِس مقام پر آ کر اتنے اُبھرے کہ وہ موم کی طرح اس کی روشنی اور جلوہ کے سامنے پگھل گئے۔ ان کی ملاقات کے لیے اور ان کے ساتھ مصاحبت کرنے کے لیے اور ان کے دلوں کو مضبوط کرنے کے لیے اللہ۔تعالیٰ اِس جگہ ضرور اُترتا ہو گا۔وہ میرے لیے اُترے یا کسی اَور کے لیے، بہرحال ہر نماز میں خداتعالیٰ اُترتا ہے۔ اگر میری نماز مقبول نہیں تو میرے ساتھیوں میں سے کسی کی ضرور مقبول ہو گی اور وہ اس کے لیے اس مقام پر نازل ہو گا۔ اور۔جب خدا کسی قوم پر اُترتا ہے تو وہ مقام اپنی ذات میں بھی بہت بڑی اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔ پھر اس کے دل میں خیال پیدا ہو گا کہ میں جب کبھی دلّی جاتا تھا تو موٹر یا تانگہ کرایہ پر لیتا تھا اور کہتا تھا کہ مجھے دیوانِ خاص تک لے چلو۔ اگر کوئی ناواقف مجھ سے پوچھتا کہ دیوانِ خاص میں کیا چیز ہے؟ تو میں اُسے بتاتا کہ دیوانِ خاص وہ مقام ہے جہاں جہانگیر بیٹھا کرتا تھا یا شاہ جہاں بیٹھا کرتا تھا اور لوگ ان کے دیدار کے لیے جمع ہوا کرتے تھے۔ بہرحال میں یہ تکلیف اس لیے اُٹھاتا تھا کہ آج سے سَودوسَو، چارسَو یا ہزار سال پہلے ایک محدود ملک کا بادشاہ کسی وقت اس جگہ بیٹھا کرتا تھا۔ اگر میں اتنی تکلیف اُٹھا کر وہاں جاتا تھا اور اس لیے جاتا تھا کہ ایک انسان کسی کسی وقت یہاں بیٹھا کرتا تھا تو یہاں تو میرے لیے یہ موقع ہے کہ کوئی مرنے والا بادشاہ نہیں بلکہ زندہ خدا یہاں اُترا اور وہ بھی سَودوسَو یا ہزار سال پہلے نہیں بلکہ ابھی دو گھنٹہ پہلے وہ یہاں اُترا تھا اور ہر روز پانچ وقت اُترا کرتا ہے۔پس میرے لیے یہ کتنی بڑی خوش قسمتی کی بات ہے۔ جب میں دنیوی بادشاہوں کے دیوانِ۔خاص دیکھنے کے لیے تکلیف اُٹھاتا ہوں تو یہاں تو کسی تکلیف کا سوال ہی نہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں پانچ وقت زمین و آسمان کا خدا آسمان سے نازل ہوتا ہے۔ یہ بات باہر گلی والوں کو نصیب نہیں ہو سکتی کیونکہ۔وہ۔دیکھتے ہیں کہ وہاں پیشاب کرنے والا پیشاب بھی کر رہا ہے اور کوڑاکرکٹ پھینکنے والا کوڑاکرکٹ بھی پھینک رہا ہے۔ پس مساجد کے ساتھ جو خشوع خضوع وابستہ ہے وہ کسی دوسری جگہ کے ساتھ وابستہ نہیں۔ اور گو یہ جائز ہے کہ انسان دوسری جگہوں میں بھی نماز پڑھ لے جیسے اِس وقت ہم یہاں نماز پڑھ رہے ہیں مگر یہ چیز مجبوری کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔
    پس لاہور کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ جلدی مسجد بنائیں۔ اس کے لیے تم زیادہ انتظار نہ کرو۔ معمولی چار دیواری بناؤ اور نماز پڑھنی شروع کر دو۔ دھوپ ہو تو سائبان کھڑے کیے اور نماز پڑھ لی۔ بہرحال ہر احمدی کو جب وہ نماز پڑھ رہا ہو یہ محسوس ہونا چاہیے کہ وہ گلی میں نماز نہیں پڑھ رہا۔ بیشک گلی میں بھی نماز ہو جاتی ہے مگر گلی میں نماز پڑھنے والوں کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے شاہی جلوس نکلتا ہے تو بعض لوگ گلیوں میں باہر نکل کر اسے دیکھتے ہیں اور بعض جلوس دیکھنے کے لیے چھتوں پر چڑھ جاتے ہیں۔ لیکن ایک وہ لوگ ہوتے ہیں جو شاہی دربار میں کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ دونوں کو ایک جیسا ہی مزا آتا ہے؟ وہ شخص جو دربار میں کرسی پر بیٹھا ہوا ہوتا ہے اُس میں اور اُس شخص میں جو چوری چھپے جھانک رہا ہوتا ہے بڑابھاری فرق ہوتا ہے۔ گلی میں نماز پڑھنے والا ایسا ہی ہے جیسے دربار لگا ہوا ہو تو کوئی شخص گلی میں سے جھانک رہا ہو اور مسجد میں نماز پڑھنے والا ایسا ہے جیسے دربار میں کوئی شخص کرسی پر بیٹھا ہو۔ پس ہر احمدی کو یہ محسوس ہونا چاہیے کہ وہ خدا کے دربار میں حاضر ہوا تھا چوروں کی طرح جھانکنے نہیں آیا تھا۔ اگر تم ایسا کر لو تو میرا چالیس سالہ لمبا تجربہ ہے کہ اس کے بعد تمہیں مسجد بنانے کی بھی توفیق مل جائے گی۔ جب مسجدیں بننے لگتی ہیں تو معلوم نہیں لوگوں کے پاس روپیہ کہاں سے آ جاتا ہے۔ بہرحال روپیہ آتا ہے اور مسجد تیار ہوجاتی ہے۔
    جب لاہور کی موجودہ مسجد بننے لگی تو میں اپنی کمزوری کا اقرار کروں گا کہ میں نے کئی دفعہ قریشی محمدحسین صاحب موجد مفرح عنبری لاہور والوں کو جنہوں نے یہ مسجد بنوائی تھی کہا کہ۔قریشی صاحب! جماعت پر آپ نے بوجھ ڈال دیا ہے۔ مگر وہ کہتے کہ جماعت پر کچھ بھی بوجھ نہیں۔ جب لوگ جمعہ کے لیے آتے ہیں تو میں اُن سے کہتا ہوں کہ آپ لوگ اپنی۔ضروریات کے لیے اتنا روپیہ خرچ کرتے ہیں کچھ خدا کے لیے بھی خرچ کریں اور مسجد کے لیے دے دیں۔ اِس پر وہ کچھ روپیہ دے دیتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ اگلے ہفتے پھر میں اُن کو تحریک کر دیتا ہوں اور وہ کچھ اَور روپیہ دے دیتے ہیں۔ اِس طرح بغیر کسی بوجھ کے روپیہ اکٹھا ہو رہا ہے۔ بہرحال ہم اُس وقت یہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے جماعت پر بوجھ ڈال دیا ہے مگر دواڑھائی سال میں انہوں نے مسجد مکمل کر لی اور اب یہ دن ہے کہ مجھے یہ کہنا پڑا ہے کہ یہ مسجد تمہارے لیے کافی نہیں۔ بہرحال مجھے تجربہ ہونے کے بعد یہ معلوم ہوا ہے کہ مسجد کے لیے کہیں نہ کہیں سے روپیہ ضرور آ جاتا ہے۔ جب مسجد بننے لگتی ہے تو اللہ تعالیٰ کسی شخص کے دل میں تحریک پیدا کر دیتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ پانچ سَو روپیہ مجھ سے لو اور ایک کمرہ بنا لو۔ دوسرے دن کسی اَور کو جوش آ جاتا ہے اور وہ روپیہ پیش کر دیتا ہے۔ پس تعمیر کا فکر جانے دو، زمین لو اور اُس کا نام مسجد رکھ لو۔ اس کے بعد جب ہر شخص کے دل میں یہ احساس پیدا ہوگا کہ یہ کتنی بڑی خوش قسمتی کی بات ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہونے لگا ہوں تو وہ مسجد کی تعمیر کے لیے بھی روپیہ دینا شروع کر دیں گے۔ مگر جیساکہ میں نے دوستوں کو بتایا تھا یہ نئی مسجد بھی کسی وقت تمہارے لیے تنگ ہو جائے گی اِس لیے تم جامع مسجد کسی کو بھی نہ کہو۔ کسی دن یہ نئی مسجد بھی گھر والی مسجد بن جائے گی۔ پھر اَور مسجد بناؤ اور اُس کو بھی صرف مسجد کہو جامع مسجد نہ کہو۔ تمہیں کیا معلوم کہ خداتعالیٰ یہاں احمدیت کو کتنی بڑی ترقی دینا چاہتا ہے۔ فرض کرو تم دو یا چار کنال میں جامع مسجد بنا دو اور لاہور کے دس لاکھ آدمیوں میں سے دو لاکھ احمدی ہو جائیں تو وہ اس میں جمعہ کی نماز کہاں پڑھ سکتے ہیں۔ اُن کے لیے تو پچاس ایکڑ میں جامع مسجد بنانی پڑے گی۔ پس ابھی کوئی نام نہ رکھو صرف اپنی ضروریات کے لیے ایک نئی۔مسجد۔بنا لو۔
    پھر یہ بھی میں نے دیکھا ہے کہ جب مسجدیں بنتی ہیں تو اللہ تعالیٰ جماعت کو بھی غیرمعمولی طور پر ترقی دینا شروع کر دیتا ہے۔ یہاں جماعت کی ترقی کی بڑی وجہ مسجد ہی ہے۔ اِسی طرح کراچی کی جماعت کی ترقی کی بھی بڑی وجہ اُن کی مسجد ہے۔ انہوں نے ایک لاکھ روپیہ خرچ کر کے مسجد بنائی (گو نام اُس کا ہال رکھا) مگر اب وہ جگہ اُن کے لیے کافی نہیں رہی۔میں نے اُن سے کہا کہ نئی جگہ زمین لو اور اُس کے اردگرد صرف چار دیواری بنا کر ایک شیڈ(SHED) بنا لو۔ چنانچہ انہوں نے مارٹن روڈ پر زمین لی، اُس کی چار دیواری بنائی اور۔ایک شیڈ سا بنا لیا۔ وہ جگہ ہال سے بہت بڑی ہے۔ اب پچھلے دنوں وہاں کے دوست آئے تھے تو انہوں نے بتایا کہ وہ گورنمنٹ سے تین چار کنال زمین اَور لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    یہی حال ربوہ کی مسجد کا ہے۔ جب ہم قادیان سے نکلے ہیں اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوٰی پر ستاون سال گزر چکے تھے اور ستاون سال کے بعد مسجد اقصٰی بھرنے لگی تھی اور کچھ لوگوں کو نماز کے وقت گلیوں میں کھڑا ہونا پڑتا تھا۔ لیکن ربوہ میں آئے ہوئے ابھی ہمیں تین چار سال ہی ہوئے ہیں اور یہاں کی محلہ کی مسجد مسجدِاقصٰی سے زیادہ وسیع ہے۔ مگر اب بھی کئی دن ایسے آ جاتے ہیں کہ لوگ مسجد سے باہر نکل کر کھڑے ہونے پر مجبور ہو تے ہیں۔ جس طرح تمہارا گھر بن جائے تو تمہیں اُس کی آبادی کا فکر ہوتا ہے، جس طرح ایک نوجوان جب اپنا گھر بنا لیتا ہے تو اُس کے دل میں خیال آتا ہے کہ اُس کی شادی ہو، شادی ہوجائے تو اُسے خیال آتا ہے کہ اُس کے بچے ہوں اور اِس طرح اُس کے گھر میں رونق ہو اِس طرح جب تم خدا کا گھر بناتے ہو تو خدا کے دل میں بھی یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ وہ آباد ہو۔ چنانچہ وہ لوگوں کے دلوں میں تحریک کرتا ہے اور وہ سچائی کو قبول کرتے ہیں اور خداتعالیٰ کے گھر کی طرف بھاگے چلے آتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خداتعالیٰ نے اس لیے فرمایا تھا کہ وَسِّعْ مَکَانَکَ3 اپنے مکانوں کو وسیع کرو۔ یعنی چونکہ میں نے تیری ترقی کا وعدہ کیا ہوا ہے اس لیے تیرا بھی فرض ہے کہ تُو اپنے مکانوں کو وسیع کرے۔ پس چونکہ یہ الٰہی وعدہ ہے اس لیے لازماً جب ہم اپنے مکانوں کو وسیع کریں گے تو اللہ تعالیٰ اَور ایسے آدمی لائے گا جن سے وہ مکان آباد ہوں گے۔ پھر وہ مکان وسیع کیے جائیں گے تو۔اللہ تعالیٰ اُن کی آبادی کے لیے اَور آدمیوں کو لے آئے گا۔
    بہرحال مساجد کی وسعت کے ساتھ ہماری جماعت کی ترقی وابستہ ہے۔ جب کوئی جماعت مسجد بناتی ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے دیندار لوگ بھی پیدا کر دیتا ہے جو اُس مسجد میں نماز کے لیے آتے اور اُسے آباد رکھتے ہیں۔ پس تم جلدی ایک نئی مسجد بناؤ اور اِتنی بڑی بناؤ کہ تم اُس کو بھر نہ سکو۔ بلکہ اُس کی جگہ خالی رہے تا کہ خدا کو خیال رہے کہ میں نے یہ جگہ بھرنی ہے۔ پھر جب وہ بھرنے لگے تو تم ایک اَور مسجد بناؤ اور وہ اتنی بڑی ہو کہ اُس میں تمہاری اِس وقت کی جماعت آدھی نظر آئے۔ اِس پر پھر خداتعالیٰ کو خیال پیدا ہو گا کہ جب یہ لوگ میرا اتنا بڑا گھر بنا رہے ہیں تو کیا میں ہی کمزور ہوں کہ میں اِس گھر کو آباد نہ کروں۔ بہرحال ہمارے لیے یہ ایک بہترین ذریعہ ہے جس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ہم اپنی جماعت کو بھی ترقی دے سکتے ہیں اور پھر لوگوں کو دین کی طرف راغب کرنے، انہیں خداتعالیٰ کی طرف توجہ دلانے اور ان کے دلوں میں دین اور تقوٰی پیدا کرنے کی بھی صورت پیدا ہو گی۔پس جلدی کرو اور مسجد کے لیے زمین خریدو۔ میں یہ نہیں کہتا کہ مسجد بناؤ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ جب تم نے زمین خرید لی تو۔تمہارے دل میں آپ ہی خیال آئے گا کہ زمین تو آ گئی ہے۔ اب اِس پر مکان بھی بنا لیں بلکہ میں تو سمجھتا ہوں کہ اس سے زیادہ لطیف کھیل اَور کوئی نہیں۔ بچپن میں ہم ایک کھیل کھیلا کرتے تھے جس میں پہلے ایک کی جگہ پر قبضہ کر لیا جاتا تھا، پھر دوسرے کی جگہ پر۔ یہ کھیل بھی اُسی قسم کا ہے۔ ہم خدا کے گھر بناتے چلے جائیں اور خدا ہمارے گھروں کو آباد کرتا چلا جائے۔ ہم اُس کے گھر بڑھاتے جائیں اور کہیں کہ تیرا گھر ابھی بھرا نہیں،وہ خالی پڑا ہے اور خدا ہمارے گھروں کو بھرتا چلا جائے اور کہے کہ وہ گھر تو بھر چکے اب اَور گھر بناؤ تا کہ میں ان کو بھی بھروں۔ جو روحانی لذّت اِس روحانی کھیل میں ہے وہ دنیا کے اَور کسی کھیل میں نہیں اور جو روحانی سرور اِس الٰہی دربار میں ہے وہ دنیا کے اَور کسی دربار میں نہیں۔
    اِس کے بعد میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ چونکہ میرے گلے میں خرابی ہے اور تھکان بھی ہے اس لیے میرا ارادہ یہ ہے کہ میں ایک دن ٹھہر کر پرسوں صبح اتوار کو ربوہ جاؤ۔ پس آج بھی میں یہاں ٹھہروں گا اور کل بھی۔ پرسوں صبح ہم اِنْشَائَ اللّٰہُ واپس جائیں گے‘‘۔
    (المصلح 2مارچ 1954ئ)

    1
    :
    الاعراف:32
    2
    :
    السیرۃ الحلبیۃ جلد اول صفحہ570۔بیروت لبنان2002ء
    3
    :
    تذکرہ صفحہ53۔ایڈیشن چہارم

    اچھی طرح ذہن نشین کر لو کہ تمہاری روحانی زندگی تبلیغِ اسلام سے وابستہ ہے اور یہ کام قیامت تک جاری رہے گا
    (فرمودہ 22 جنوری1954ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’میں نے آج خطبہ تو ایک اَور مضمون کے متعلق بیان کرنا تھا اور میں بعد میں اسے بیان بھی کروں گا لیکن آج مجھے ایک نَواحمدی خاتون کا ایک رقعہ ملا ہے جس میں اُس نے عورتوں کے متعلق بعض شکایات لکھی ہیں۔ چونکہ وہ خاتون نَواحمدی ہیں اور انہیں معلوم نہیں کہ ہمارے طریق اور دوسرے مسلمان فرقوں کے طریق میں فرق ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہر جگہ کے احمدی اِس طریق کو ملحوظ رکھتے ہیں لیکن مرکز میں رہنے والے اسے ضرور ملحوظ رکھتے ہیں اور وہ طریق یہ ہے کہ خطبات میں ایسے مضامین بیان کیے جاتے ہیں جن کی وقتی طور پر جماعت کو ضرورت ہوتی ہے اور جماعت کو اُن کی طرف توجہ دلانا ضروری ہوتا ہے۔ باقی لوگوں کے لیے ایسا کرنا ضروری نہیں۔ اُن کے خطبہ کے لیے ایسی کوئی شرط نہیں۔ وہ کوئی مضمون بیان کر دیں، انہیں کوئی مضمون مل جائے انہوں نے خطبہ میں بیان کر دینا ہوتا ہے کیونکہ انہوں نے کچھ نہ کچھ پڑھ کر خطبہ کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ گویا وہ کسی مقصد کے لیے خطبہ جمعہ نہیں پڑھتے بلکہ خطبہ کے لیے کوئی بات بیان کر دیتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں خطبہ کسی خاص غرض اور مقصد کے لیے پڑھا جاتا ہے۔ اس لیے ہمارے طریق کے مطابق یہ بات نہایت مشکل ہے کہ کوئی شخص خواہش کرے کہ فلاں بات خطبہ میں بیان کی جائے اور اسے بیان کر دیا جائے۔اس کے معنے تو یہ ہیں کہ کسی خاص مقصد اورا سکیم کے ماتحت خطبہ نہ پڑھا جائے بلکہ جو شخص جس بات کے متعلق رقعہ دے اُس پر خطبہ پڑھ دیا جائے۔ مگر چونکہ شکایت کرنے والی ایک نَواحمدی خاتون ہیں اور پھر وہ دُور کے علاقہ کی رہنے والی ہیں اس لیے میں چاہتا ہوں کہ اُن کی خواہش کو پورا کر دوں۔ لیکن میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر خطبات کے سلسلہ میں لوگوں کی ساری خواہشات کو سامنے رکھا جائے تو خطبہ کی غرض اور اس کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔
    بہرحال اس نَواحمدی خاتون نے یہ شکایت کی ہے کہ مسجد میں عورتوں کے لیے جو حصہ ہے اس میں بچے بھی آ جاتے ہیں جو خطبہ اور نماز کے وقت شور مچاتے ہیں اور بعض اوقات مسجد میں پیشاب کر دیتے ہیں۔ اس کے متعلق میں لجنہ اماء اللہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ درحقیقت یہ اُس کا فرض ہے کہ وہ عورتوں کو ان کی ذمہ داریوں اور فرائض کی طرف اور اِسی طرح صفائی کی۔طرف توجہ دلائے اور انہیں ایسی باتیں سمجھائے۔ لیکن پھر بھی ہم اتنا ہی کر سکتے ہیں کہ لجنہ۔َاَمائِ۔اللہ کو اُس کے فرائض کی طرف توجہ دلا دی جائے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ اگر وہ پوری ہمت کے ساتھ اِن باتوں میں لگ جائیں تو وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ مگر میں ان نَواحمدی خاتون سے بھی یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ ہم میں اور دوسرے مسلمان فرقوں میں ایک فرق ہے۔ اور وہ فرق بھی انہیں سمجھ لینا چاہیے۔ باقی فرقوں میں عورتوں کے جمعہ کے لیے مسجد میں آنے کے متعلق اصرار نہیں کیا جاتا اس لیے جمعہ کے لیے مسجد میں عورتیں کم آتی ہیں۔ لیکن یہاں شریعت کے منشا کو پورا کرنے کے لیے ہم اِس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ عورتیں قومی کاموں میں حصہ لیں۔ اِس لیے ہمارے اس اصرار کی وجہ سے کہ عورتیں ایسے مواقع پر ضرور آئیں بچے بھی اُن کے ساتھ مسجد میں آ جاتے ہیں۔ دوسرے فرقوں میں چونکہ مسجد میں عورتوں کے آنے پر اصرار نہیں ہوتا اس لیے وہاں اول تو عورتیں آتی ہی بہت کم ہیں اور جو آتی ہیں وہ اکثر ایسی ہوتی ہیں جو بوڑھی ہوتی ہیں اور وہ بچوں سے فارغ ہوتی ہیں یا گھر کی دوسری عورتوں کے پاس بچے چھوڑ کر آ جاتی ہیں۔ لیکن یہاں ہمارے اصرار کی وجہ سے بچوں والی عورتیں بھی مسجد میں آ جاتی ہیں کیونکہ یہ ضروری ہے کہ اگر بچہ گھر پر رہے تو یا عورت مسجد میں نہ آئے یا مرد مسجد میں نہ آئے اور یہ ہو نہیں سکتا۔ اگر گھر کے سارے بالغ افراد عورتیں اور مرد مسجد میں آ جائیں گے تو لازماً بچے بھی مسجد میں آئیں گے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ایسا ہوتا تھا۔ احادیث میں آتا ہے کہ آپؐ کے زمانہ میں مائیں اپنے بچے بھی ساتھ لے آتی تھیں اور جب بچے روتے تو آپ بعض دفعہ نماز جلدی پڑھا دیتے تھے۔1 اور آپ فرماتے تھے کہ ایسے اوقات میں یعنی جب بچہ روئے تو ماؤں کو اُسے گود ہی میں اُٹھا لینا چاہیے۔ایسا کرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی۔
    پس عورتوں کو ایسے مواقع پر اصرار کے ساتھ لانے کی کوشش یا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوا کرتی تھی اور یا اب ہمارے زمانہ میں کی جاتی ہے۔ درمیان میں مسلمانوں پر ایسا دَور آیا ہے جب عورتوں کو ایسے مواقع پر حاضر کرنے میں کوتاہی کی جاتی رہی۔ اِس عرصہ کے دوران میں یا تو بوڑھی عورتیں مساجد میں آ جاتی تھیں اور وہ بچوں سے فارغ ہوتی تھیں۔ اور یا ایسی عورتیں آ جاتی تھیں جو بچے دوسری عورتوں کے پاس چھوڑ آتی تھیں۔ انہیں مساجد میں آنے پر مجبور نہیں کیا جاتا تھا حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مواقع پر اِس امر پر مجبور کیا ہے۔ مثلاً عید کے موقع پر آپ نے فرمایا کہ سارے مرد اور ہر قسم کی عورتیں اور بچے، جوان اور بوڑھے سب حاضر ہوں2 اور ایسا کہہ کر مسلمانوں کو آپ نے اِس امر کا احساس کرایا ہے کہ ایسے مواقع پر عورتوں کو بھی لانا چاہیے۔
    پس جہاں لجنہ کا یہ فرض ہے کہ وہ عورتوں کی تربیت کرے اور سمجھائے۔ اور پھر ایسے طریق ایجاد کرے جن کے ذریعہ اِس مشکل سے نجات حاصل کی جائے۔ کیونکہ اگر بچے شور مچائیں گے تو خطبہ کے فوائد سے محروم رہنا ہو گا۔ اور اگر بچے پیشاب کریں گے تو مسجد خراب ہو گی۔ وہاں دوسرے لوگوں کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ جب شریعت کے منشا کو پورا کرنے کے لیے ہم عورتوں کو مسجد میں آنے کے متعلق تحریک کریں گے تو اُن کے ساتھ بچے بھی آئیں گے اور جب بچے مسجد میں آئیں گے تو۔وہ۔شور بھی مچائیں گے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عورتیں مساجد میں آتی تھیں اور اُن کے ساتھ بچے بھی آتے تھے۔ اور پھر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بچے بھی شور کرتے تھے جس کی وجہ سے آپ بعض دفعہ نماز جلد پڑھا دیتے تھے۔ پس ساری جماعت کا فرض ہے کہ وہ اِس کے متعلق غور کرے اور سوچے کہ وہ کونسے طریق ہیں۔ یورپ والوں نے بعض طریق ایجاد کیے ہوئے ہیں۔ اُن کے ہاں جمعہ کی قسم کی تقریبیں تو نہیں ہوتیں ہاں! جلسے ہوتے ہیں یا دفاتر ہوتے ہیں جہاں سینکڑوں مرد ، عورتیں کام کرتے ہیں۔ جلسہ گاہ کے قریب ایسے کمرے بنا لیے جاتے ہیں جہاں نرسیں ہوتی ہیں۔ عورتیں اپنے بچے وہاں چھوڑ آتی ہیں اور وہ نرسیں اُن کی نگرانی کر تی ہیں۔ لیکن ہماری عورت کے پاس تو بعض دفعہ کپڑے صاف کرنے کے لیے صابن بھی نہیں ہوتا وہ نرسوں پر خرچ کس طرح کر سکتی ہے۔ یہ تو مالداروں کے چونچلے ہیں ان کی مسلمانوں سے امید نہیں کی جا سکتی۔ وہاں روپیہ ہے اِس لیے وہ اِس طریق پر عمل کر لیتے ہیں۔ مسلمانوں کے پاس روپیہ نہیں اِس لیے وہ اِس طریق پر عمل نہیں کر سکتے۔
    ایک شکایت اس نَواحمدی خاتون نے یہ کی ہے کہ پچھلے جمعہ میں جب میں یہاں نہیں تھا میرے بعد جس خطیب نے خطبہ پڑھا وہ تھتھلاتے تھے تو اس پر عورتیں ہنس پڑتی تھیں۔ یہ بات نہایت افسوسناک ہے۔ طبعی نقص پر ہنسنا اور مذاق اُڑانا، سخت کمینہ اور گندہ فعل ہے۔ لجنہ اماء اللہ کو اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔ خطیب اول تو ادب اور احترام کے مقام پر ہوتا ہے۔ اِس لیے اُس کی باتیں عزت اور احترام کے ساتھ سننی چاہییں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سلسلہ میں بہت احتیاط فرماتے تھے۔ حضرت بلالؓ۔۔حبشی تھے۔ آپ ’’ش‘‘ اور بعض دوسرے حروف ادا نہیں کر سکتے تھے۔ آپ اذان پر مقرر تھے۔ اس لیے ان حروف کو ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے اذان میں غلطی کر جاتے تھے۔3 صحابہؓ اِس پر ہنس پڑتے تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ۔۔۔کو ایسا کرتے دیکھا تو فرمایا میں دیکھتا ہوں کہ تم بلال کے ’’ش‘‘ کو ’’س‘‘ کہنے پر ہنس پڑتے ہو اور اسے حقارت سے دیکھتے ہو۔ حالانکہ خداتعالیٰ عرش پر اس کی تعریف کر۔رہا۔ہوتا ہے۔اِس طرح تم خطیب کے تھتھلانے کو اُس کی کمزوری خیال کرتے ہو لیکن۔رسول۔کریم۔صلی۔اللہ۔علیہ وسلم نے ان باتوں کو قابلِ۔ہنسی نہیں سمجھا بلکہ آپ نے تنبیہہ کی ہے کہ۔ایسا۔نہیں۔کرنا۔چاہیے۔ عورتوں کی منتظمات کو چاہیے کہ ان کی اصلاح کریں۔ خطیب تو ہمارا اپنا ہوتا ہے۔ ہم اگر اُس کے کسی طبعی نقص پر ہنسیں گے تو دوسرے لوگ تو نعرے لگائیں گے۔ اگر کوئی قوم اپنے لیڈروں کا احترام نہیں کرتی تو دوسرے توجو چاہیں اُن سے سلوک۔کریں۔گے۔
    اب میں اصل مضمون کی طرف آتا ہوں جو میں نے خطبہ میں بیان کرنا تھا۔ وہ مضمون میں تحریک جدید کے متعلق بیان کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر بھی جماعت کو بتایا تھا کہ تحریک کے دونوں دوروں کے جو وعدے آ رہے ہیں وہ گزشتہ سالوں کی نسبت سے بہت کم ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس عرصہ میں کچھ کمی پوری کی گئی ہے۔ یعنی جب میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر جماعت کو اس طرف توجہ دلائی تھی اُس وقت اِس سال کے وعدوں اور گزشتہ سال کے وعدوں میں 33، 34 فیصدی کا فرق تھا یعنی سَو کی بجائے چھیاسٹھ کے وعدے آئے تھے لیکن اب فرق کم ہو گیا ہے۔ اب چھیاسٹھ کی بجائے قریباً اسّی فیصدی وعدوں کی گزشتہ سال سے نسبت ہے۔ لیکن اب وعدوں کی تاریخ ختم ہو رہی ہے۔ 15 فروری آخری تاریخ ہے جس تک وعدے مرکز میں پہنچ جانے ضروری ہیں۔ تین چار دن ڈاک پر لگ جائیں گے۔ گویا وعدے زیادہ سے زیادہ 20 فروری تک وصول ہوں گے۔ اور۔اس میں جتنے دن باقی رہ گئے ہیں وہ اتنے تھوڑے ہیں کہ ان میں اس کسر کا پورا ہونا بہت مشکل نظر آتا ہے۔
    جلسہ سالانہ کے موقع پر میں نے جماعت کو بتایا تھا کہ ہمارے اہم ترین کاموں میں سے غیرملکوں میں تبلیغِ اسلام کرنا ہے۔ کیونکہ اسلام کی کمزوری اور ضعف کا موجب غیرمذاہب کا رویہ ہے۔ اگر ہم اسلام کی صحیح تعلیم لوگوں کے سامنے پیش کریں اور اگر ہم ان میں سے کچھ حصہ کو مسلمان بنا دیں تو لازمی طور پر اُن کی دشمنی اور عداوت کمزور پڑ جائے گی اور آہستہ آہستہ ہو سکتا ہے کہ وہ سارے ہی ہمارے بھائی بن جائیں۔مثلاً جب ملک تقسیم نہیں ہوا تھا ہم ہندوؤں میں تبلیغ کرتے تھے تو پیچھے پیچھے مولوی آ جاتے تھے اور وہ کہتے تھے کہ آریہ بننا احمدی ہونے سے بہتر ہے۔ اور زیادہ تر قریب رہنے والے چونکہ وہی لوگ ہوتے تھے اس لیے ہمیں تبلیغ کرنے میں مشکل پیش آتی تھی کیونکہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ یہی اسلام ہے جو مولوی لوگ پیش کر رہے ہیں احمدی تو تعداد میں بہت تھوڑے ہیں۔ لیکن دوسرے ممالک میں چلے جاؤ تو وہاں اگر ہمارا مبلغ ہے تو وہ جو صحیح اسلام پیش کرتا ہے لوگ بھی اس کو صحیح اسلام سمجھتے ہیں۔ صرف چند اورئنٹیلسٹ(ORIENTALIST) اور مستشرقین کہتے ہیں کہ دوسرے مسلمان اَور کہتے ہیں لیکن ان کے اتباع بہت کم ہوتے ہیں۔ اِس لیے اُن کی بات کو صرف چند افراد وقعت دیتے ہیں عوام نہیں۔ پس وہاں ہمارا نمائندہ جو کچھ کہتا ہے لوگ اُسے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اور اگر وہ باتیں انہیں معقول نظر آتی ہیں تو وہ مان لیتے ہیں۔ اور وہی ممالک ہیں جہاں تبلیغِ اسلام مفید ہو سکتی ہے۔ کیونکہ ان ممالک میں ہمارے پیچھے مولوی نہیں ہوتے جو یہ کہیں کہ یہ صحیح اسلام نہیں۔ بہرحال دوسرے ممالک میں ہمیں یہ سہولت میسر ہوتی ہے اور معقول طور پر قرآن کا پیش کردہ اسلام لوگوں تک پہنچانا آسان ہوتا ہے۔
    پس ایک ہی طریق جو تبلیغ اور خدمتِ اسلام کا ہمارے پاس ہے۔ اگر اِس کی طرف توجہ نہ کی جائے تو اِس سے بڑی بدقسمتی اَور کیا ہو گی۔ لیکن باوجود اس کے کہ یہی ایک طریق خدمتِ اسلام کا ہے محض اس لیے کہ میرے منہ سے 19کا لفظ نکل گیا تھا تحریک جدید کے وعدوں میں کمی واقع ہو گئی ہے۔ گویا 19کا لفظ کیا نکلا قیامت آ گئی۔ اب اَور کسی چیز کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ غرض یہ لفظ لوگوں کے اندر کمزوری پیدا کر رہا ہے۔ میں بتا چکا ہوں کہ درحقیقت 19کا لفظ کوئی معنے نہیں رکھتا۔ یہ لفظ مصلحت کے ماتحت خداتعالیٰ نے میرے منہ سے نکلوایا تھا ورنہ خدمتِ دین اور تبلیغِ اسلام کا کام وہ ہے جو قیامت تک چلے گا اور قرآن۔کریم سے بھی اِس کا پتا لگتا ہے۔ خداتعالیٰ کہتا ہے کہ مسیح علیہ السلام کے منکر قیامت تک رہیں گے۔4 اب صاف ظاہر ہے کہ ایک مسلمان تو مسیح علیہ السلام کا منکر نہیں ہو سکتا۔ غیرمسلم ہی اُن کے منکر ہو سکتے ہیں۔ پس دوسرے لفظوں میں اِس کے یہ معنے ہیں کہ غیرمسلم قیامت تک رہیں گے۔ اور اگر یہ بات صحیح ہے کہ غیرمسلم قیامت تک رہیں گے تو یہ بات بھی ماننی پڑے گی کہ تبلیغ اور خدمتِ اسلام بھی قیامت تک رہے گی اور درمیان میں کوئی شخص اسے ختم نہیں۔کر۔سکتا۔
    ایک دفعہ قادیان میں مَیں نے جمعہ کی نماز پڑھائی تو بعد میں کسی شخص نے کہا کہ ایک پیر صاحب آئے ہوئے ہیں۔ وہ آپ سے کوئی بات دریافت کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا اچھا! پیر صاحب کو لے آئیں۔ چنانچہ میں مسجد میں ہی بیٹھ گیا اور وہ پیر صاحب آ گئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آپ مجھے یہ بتائیں کہ اگر کوئی شخص کشتی میں سوار ہو اور دریا کے دوسرے کنارے پر جانا چاہتا ہو تو جب کشتی کنارہ پر لگ جائے تو وہ کشتی میں ہی بیٹھا رہے یا دوسرے کنارہ پر پہنچ کر کشتی سے اُتر جائے؟ میرے دل میں اللہ تعالیٰ نے معاً یہ بات ڈال دی کہ یہ پیر اِباحتی فقیروں میں سے ہے جو یہ کہتے ہیں کہ نماز خداتعالیٰ سے ملنے کے لیے ہوتی ہے۔ جب کسی کو خداتعالیٰ مل جائے تو وہ نماز کیوں پڑھے؟ اِس کا ایک جواب تو یہ ہو سکتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنی وفات تک نماز پڑھتے رہے ہیں اس لیے ہم بھی اپنی وفات تک نماز پڑھتے رہیں گے۔ لیکن میں نے جو جواب دیا وہ یہ تھا کہ پیر صاحب! یہ بات تو دریا کی چوڑائی پر منحصر ہے۔ اگر دریا محدود ہے تو جب کنارہ آ جائے گا اُس شخص کا کشتی میں بیٹھے رہنا بیوقوفی کی بات ہو گی۔ لیکن اگر وہ دریا غیرمحدود ہے تو اگر ہم سمجھیں گے کہ دریا کا کنارہ آ گیا تو یہ بیوقوفی ہو گی۔پس جہاں ہم اُترے وہیں ڈوبے۔ اب آپ بتائیے کہ آپ محدود دریا کے متعلق پوچھ رہے ہیں یا غیرمحدود دریا کے متعلق پوچھ رہے ہیں؟ اب یہاں سوال تو خداتعالیٰ کا تھا جو غیرمحدود ہے اُسے وہ محدود کیسے کہتا۔ اس لیے وہ کہنے لگا بات ٹھیک ہے۔ میں سمجھ گیا ہوں کہ جب دریا غیرمحدود ہو تو جہاں ہم کشتی سے اُتریں گے وہیں ڈوبیں گے۔
    وہی بات میں اب کہتا ہوں کہ تبلیغِ اسلام کا کام قیامت تک ہے جس نے یہ کام چھوڑا مرا۔ کھانا چھوڑ دینے سے جسمانی موت واقع ہو جاتی ہے اور تبلیغِ اسلام کا فریضہ ترک کر دینے سے روحانی موت آ جاتی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے مومنوں کے ساتھ سودا کیا ہے کہ اُن کی جانیں اور مال میں نے اُن سے لے لیے ہیں اور اِس کے بدلہ میں مَیں نے انہیں جنت دے دی ہے۔5پس اللہ تعالیٰ بھی سودے کرتا ہے۔ اگر ہم اسے زندگی نہیں دیتے تو وہ ہمیں زندگی کیوں دے۔ خداتعالیٰ کی زندگی کے معنے یہ ہیں کہ اُس کے دین کی تعلیم زندہ رہے۔ اگر ہم اسلام کی زندگی کو قائم رکھ کر خداتعالیٰ کو زندگی نہیں دیتے تو۔خداتعالیٰ بھی ہمیں زندگی نہیں دے گا۔ لیکن اگر ہم اس کو زندہ رکھتے ہیں تو خداتعالیٰ قیامت کے دن ہمیں کہے گا کہ تم نے مجھے زندگی دینے کی کوشش کی اس لیے اب میں بھی تمہیں زندگی دوں گا۔
    یہ مت سمجھو کہ خداتعالیٰ کے لیے زندگی کا لفظ کیوں استعمال کیا گیا ہے۔ وہ تو حیّ۔و۔قیّوم ہے۔ اُس کے لیے زندگی کا لفظ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ احادیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن جب بعض لوگ خداتعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گے تو وہ کہے گا تم جنت میں داخل ہو جاؤ کیونکہ میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا کھلایا، میں پیاسا تھا تم نے مجھے پانی پلایا، میں ننگا تھا تم نے مجھے کپڑے پہنائے۔ وہ لوگ کہیں گے یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ تُو تو ربّ العالمین ہے اور ہم تیرے بندے ہیں۔ تیری شان تو بہت ارفع ہے تُو کیسے بھوکا رہ سکتا ہے کہ ہم تجھے کھانا کھلائیں، تُو کیسے پیاسا رہ سکتا ہے کہ ہم تجھے پانی پلائیں، تُو کیسے ننگا رہ سکتا ہے کہ ہم تجھے کپڑے پہنائیں۔ اللہ تعالیٰ کہے گا نہیں! نہیں! تم نے ایسا کیا ہے۔ میرا ایک ادنیٰ سے ادنیٰ بندہ جب تمہارے پاس آیا اور وہ بھوکا تھا اور تم نے اسے کھانا کھلایا تو میں ہی بھوکا تھا جس کو تم نے کھانا کھلایا اور جب میرا ایک ادنیٰ سے ادنیٰ بندہ تمہارے پاس آیا اور وہ پیاسا تھا اور تم نے اسے پانی پلایا تو میں ہی پیاسا تھا جس کو تم نے پانی پلایا۔ اور جب میرا ایک ادنیٰ۔سے ادنیٰ بندہ تمہارے پاس آیا اور وہ ننگا تھا اورتم نے اسے کپڑے پہنائے تو میں ہی ننگا تھا جسے تم نے کپڑے پہنائے۔ اور اگر میرا ایک ادنیٰ سے ادنیٰ بندہ بیمار ہوا اور تم نے اس کی عیادت کی تو تم نے میری ہی عیادت کی۔6 پس چونکہ میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا کھلایا، میں پیاسا تھا تم نے مجھے پانی پلایا، میں ننگا تھا تم نے مجھے کپڑا پہنایا، میں بیمار تھا تم نے میری عیادت کی۔ اِس لیے آج میں بھی تم کو ایسے گھر میں جگہ دوں گا جہاں تمہیں ہر قسم کا رزق اور۔آرام ملے گا۔ اور اگر خداتعالیٰ کے کسی کمزور سے کمزور بندے کو رزق دینا خداتعالیٰ کو رزق دینا ہے، اگر اس کے کمزور سے کمزور بندے کو پانی پلانا خداتعالیٰ کو پانی پلانا ہے، اگر اس کے کمزور سے کمزور بندے کو کپڑے پہنانا خداتعالیٰ کو کپڑے پہنانا ہے تو دین تو اُس کی ساری صفات کا جامع ہے۔
    دینِ اسلام کیا ہے؟دینِ اسلام،خداتعالیٰ کی ربوبیت،رحمانیت، رحیمیت اور مالکیت ۔کی صفات کو بیان کرنے والا ہے۔ جو شخص اِس دین کی اشاعت کے لیے کوشش نہیں کرتا وہ خداتعالیٰ کو دنیا میں زندہ کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ گویا خداتعالیٰ کا وجود اسلام کے ذریعہ آتا ہے۔ جو شخص اسلام کو زندہ کرتا ہے وہ دنیا کے لحاظ سے خداتعالیٰ کو زندہ کرتا ہے اور جو شخص اسلام کو زندہ نہیں کرتا وہ دنیا کے لحاظ سے خداتعالیٰ کو مارتا ہے۔ خداتعالیٰ تو ہر وقت عرش پر موجود ہے اور وہ ہمیشہ زندہ رہے گا لیکن جہاں تک ہمارا تعلق ہے وہ زندہ بھی ہوتا ہے اور مرتا بھی ہے۔ جب لوگوں کی توجہ خداتعالیٰ کی طرف سے ہٹ جائے اور اُس کی طرف اُن کا دھیان نہ رہے تو اُن کے لیے خداتعالیٰ مرا ہوا ہو گا۔ اور جب لوگوں کی توجہ خداتعالیٰ کی طرف ہو تو اُن کے لیے خداتعالیٰ زندہ ہو گا۔ غرض اسلام کی اشاعت میں ہی خداتعالیٰ کی زندگی ہے اور اس کی اشاعت کو ترک کرنا گویا خداتعالیٰ کی موت ہے۔ پس جو شخص اسلام کی اشاعت میں حصہ لیتا ہے وہ خداتعالیٰ کو زندہ کرتا ہے اور جو شخص اسلام کی اشاعت میں حصہ نہیں لیتا وہ خداتعالیٰ کی زندگی سے لاپروا ہے۔ اس کا یہ امید رکھنا کہ خداتعالیٰ اسے زندہ رکھے گا بیوقوفی کی بات ہے۔ آخر یہ ایک سودا ہے جو تم نے خداتعالیٰ سے کیا ہے۔ اگر تم اپنا حصہ پورا ادا نہیں کرتے تو خداتعالیٰ اپنا حصہ کیوں پورا کرے؟
    میں نے تم پر واضح کر دیا تھا کہ تبلیغِ اسلام ہمیشہ کے لیے ہے۔ اس لیے اگر میرے منہ سے 19کا لفظ نکل گیا تو کیا تم یہ کہو گے کہ اب تبلیغِ اسلام نہیں کی جائے گی؟ جب رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وآلہٖ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو آپؐ نے بھی اِسی قسم کی ایک بات کہی۔ مدینہ آنے سے قبل رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ذہن میں یہ بات نہیں تھی کہ مکہ کے لوگ مدینہ پر حملہ کریں گے اور اُن کی مسلمانوں سے لڑائیاں ہوں گی۔ اس لیے جب انصارِمدینہ نے آپؐ کے سامنے یہ بات پیش کی کہ آپ مدینہ تشریف لے چلیں اور آپؐ نے وہاں جانا منظور کر لیا تو آپؐ نے فرمایا میں جب مدینہ آ جاؤں گا تو تمہارا کام ہو گا کہ اگر مدینہ پر حملہ ہو تو تم دشمن کا مقابلہ کرو اور اگر لڑائی مدینہ سے باہر ہو تو دشمن کا مقابلہ کرنے کی ذمہ داری تم پر عائد نہیں ہو گی۔ اب یہ ایک احتمالی بات تھی یقینی نہیں تھی اور چونکہ یہ ایک دُور کا خیال تھا اس لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے باہر کا خیال نہیں کیا اور مدینہ والوں نے بھی کہہ دیا کہ ہاں!مدینہ پر حملہ ہونے کی صورت میں ہم دشمن کا مقابلہ کریں گے لیکن باہر نہیں۔ ہجرت کے بعد ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ اسلام کو بچانے کی خاطر مسلمانوں کو مدینہ سے باہر جا کر بھی لڑنا پڑا۔ چنانچہ جنگِ بدر ہی مدینہ سے باہر کئی منزلوں پر جا کر لڑی گئی۔ جب آپؐ جنگ کے لیے باہر نکلے تو پہلے یہ خیال تھا کہ ایک قافلہ سے مقابلہ ہو گا۔ مگر بعد میں معلوم ہوا کہ لڑائی مکہ سے آنے والے ایک باقاعدہ لشکر سے ہو گی۔ اس پر آپ نے خیال فرمایا کہ مدینہ والوں سے تو یہ معاہدہ تھا کہ انہیں مدینہ کے اندر رہ کر دشمن کا مقابلہ کرنا ہو گا مدینہ سے باہر لڑائی کی صورت میں مقابلہ کرنے کی ذمہ داری ان پر عائد نہیں ہو گی۔ جب آپؐ لڑائی کے لیے باہر نکلے تو آپؐ کے ساتھ مہاجرین بھی تھے اور انصار بھی۔ آپؐ نے صحابہؓ۔۔۔کو جمع کیا اور فرمایا تم مجھے مشورہ دو کہ دشمن سے لڑائی کی جائے یا نہیں؟ آپؐ کا منشا تھا کہ آپؐ کے سوال کے جواب میں انصار بولیں گے کہ معاہدہ کے وقت ہم سے یہ شرط کی گئی تھی کہ مدینہ پر حملہ ہونے کی صورت میں ہم مدینہ کے اندر رہ کر دشمن کا مقابلہ کریں گے مدینہ سے باہر لڑائی کی صورت میں ہم اس کا مقابلہ کرنے کے پابند نہیں ہوں گے۔ اب آپ بغیر بتائے ہمیں یہاں لے آئے ہیں یہ بات اس معاہدہ کے خلاف ہے۔ بہرحال آپ ؐ نے جب مشورہ پر زور دیا تو مہاجرین نے مشورہ دیا کہ اگر دشمن حملہ کرتا ہے تو ہمارے لیے اس کا مقابلہ کرنے کے سِوا اَور کیا چارہ ہے؟ انصار خاموش بیٹھے رہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مہاجرین کے باربار کھڑا ہونے اور مشورہ دینے کے بعد فرماتے اے لوگو! مجھے مشورہ دو کہ اب کیا کیا جائے؟ اُس وقت ایک انصاری رئیس کھڑے ہوئے اور انہوں نے عرض کیا یَا رَسُولَ اللّٰہ! لوگ آپ کو مشورہ تو دے رہے ہیں لیکن پھر بھی آپ یہی فرما رہے ہیں اے لوگو! مجھے مشورہ دو، اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید آپ کی غرض یہ ہے کہ ہم بھی بولیں۔ یَارَسُولَ اللّٰہ! ہم اب تک اس لیے نہیں بولے کہ حملہ آور، مہاجرین کے بھائی۔بند ہیں۔ اُن میں کوئی تو مہاجرین کا بھائی ہے، کوئی چچا ہے اور کوئی بھتیجا ہے۔ ہمارا اُن سے لڑائی کا مشورہ دینا اخلاق کے خلاف تھا۔ کیونکہ اگر ہم یہ مشورہ دیتے کہ ہم حملہ آوروں سے لڑیں۔گے تو مہاجرین کہتے یہ لوگ ہمارے بھائی بندوں کے قتل کے شوقین ہیں۔ اس لیے ہم۔نے۔مناسب سمجھا کہ مہاجرین بول لیں کیونکہ وہ لوگ ان کے اپنے بھائی بند ہیں۔لیکن یَا۔رَسُولَ۔اللّٰہ! آپ کے باربار مشورہ پر زور دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ انصار بھی بولیں۔ اور شاید حضور کا مشورہ طلب کرنے سے اُس معاہدہ کی طرف اشارہ ہے جو ہجرت سے قبل آپ کے اور انصار کے درمیان ہوا۔ آپؐ نے فرمایا یہ درست ہے۔ وہی معاہدہ میرے مدنظر تھا۔ اس پر انصاری رئیس نے کہا یَارَسُولَ اللّٰہ! جب ہم نے وہ شرط کی تھی کہ ہم مدینہ کے اندر رہ کر دشمن سے مقابلہ کریں گے مدینہ سے باہر لڑائی کی صورت میں ہم آپ کی مدد کے ذمہ دار نہیں ہوں گے اُس وقت ہمیں پتا نہیں تھا کہ آپ ہیں کیا۔آپ کی شان ہم پر واضح نہیں تھی۔ صرف بعض صداقتیں دیکھ کر ہم آپ پر ایمان لے آئے۔آپ نے ہجرت فرمائی تو مدینہ میں ہم آپ کی مجلسوں میں بیٹھے اور ہمیں پتا لگا کہ آپ کی شان کیا ہے۔ اب وہ معاہدہ کوئی حیثیت نہیں رکھنا۔ اب آپ کی شان ہمیں معلوم ہو چکی ہے۔اب یَارَسُولَ اللّٰہ! ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے، آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن ہماری لاشوں کو روندتا ہوا آپ تک پہنچے تو پہنچے اس سے پہلے نہیں پہنچ سکتا۔ پھر اُس انصاری رئیس نے کہا یَارَسُولَ اللّٰہ! سامنے (دوتین منزل پر) سمندر ہے۔ لڑائی تو الگ رہی آپ ہمیں حکم دیں کہ تم سب اس سمندر میں کُود جاؤ تو ہم بِلاسوچے سمجھے اس میں اپنی سواریاں ڈال۔دیں گے۔7
    تو دیکھو! وہ بھی ایک معاہدہ تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے ہجرت سے قبل کیا تھا۔ میں نے تو تم سے کوئی معاہدہ نہیں کیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے انصار نے یہ معاہدہ کیا تھا کہ وہ مدینہ سے باہر جا کر دشمن کا مقابلہ نہیں کریں گے۔ خداتعالیٰ نے سمجھا کہ اگر ابھی سے انہیں کہہ دیا گیا کہ تمہیں دشمن کا مقابلہ کرنا ہو گا تو یہ لوگ ڈر نہ جائیں۔ جب ان پر حقیقت کھل جائے گی تو یہ لوگ خود لڑیں گے۔ اِسی طرح جب میں نے تحریک۔جدید کا اعلان کیا تھا تو وہ تمہاری کمزوری کا وقت تھا۔ اگر اُس وقت میں یہ کہہ دیتا کہ یہ تحریک قیامت تک کے لیے ہے تو شاید٭ اکثر ہمت سے کام نہ لیتے اور اس میں حصہ لینے سے محروم رہتے۔ اس لیے خداتعالیٰ نے میری زبان سے پہلے تین اور دس اور پھر انیس کا لفظ نکلوا دیا۔
    ٭ اصل مسودہ میں اس جگہ دو الفاظ پڑھے نہیں جاسکے۔
    خداتعالیٰ۔جانتا تھا کہ جب یہ لوگ انیس سال تک پہنچ جائیں گے تو وہ اس میں اس طرح پھنس جائیں گے کہ ان کا اس سے نکلنا مشکل ہو گا۔ اِس وقت سارے اہم ممالک میں ہمارے مشن قائم ہیں اور ان میں ہماری تبلیغ ہو رہی ہے۔ اب اگر تحریک جدید کے کمزور ہونے کی وجہ سے ہمیں کسی مشن کو بند کرنا پڑا تو تمہاری ناک کٹ جائے گی۔ اب ناک کٹوانے سے محفوظ رہنے کے لیے تمہیں ساتھ ساتھ چلنا پڑے گا۔ تم اپنے آپ کو تبلیغ میں اس طرح پھنسا بیٹھے ہو کہ اب سوائے بے شرمی اور بے حیائی کے کوئی چیز نہیں جو تمہیں اس کام سے ہٹا سکے۔ تبلیغ ِ اسلام کے متعلق جو ذمہ داری تم پر عائد ہوتی ہے تم اُس فرض کو جانے دو تم اپنے ناک کی حفاظت کرو۔ اگر تم تحریک جدید سے ہٹ گئے تو تمہاری ناک کٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ یہ طریق صرف اس لیے اختیار کیا تھا کہ تم کمزوری کا شکار نہ ہو جاؤ اور تمہیں مضبوط ہونے اور بہادری دکھانے کا موقع مل جائے۔ تم دس اور انیس کے پھیر میں نہ پڑو یہ کام قیامت تک کے لیے ہے یا یوں سمجھ لو کہ یہ کام اُس وقت تک کے لیے ہے جب تک تم زندہ رہو۔ جب تم مر جاؤ گے تو یہ کام تمہارے لیے بند ہو گا اور جب یہ کام بند ہو گا تو تم مر جاؤ گے۔ اگر تبلیغِ۔اسلام ختم ہو گی تو تمہاری روحانی زندگی ختم ہو جائے گی اور اگر تم روحانی طور پر زندہ رہو گے تو۔تبلیغِ۔اسلام بھی ختم نہیں ہو گی۔پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ تم نے بھی خداتعالیٰ سے کچھ امیدیں لگا رکھی ہیں تم تحریک جدید میں بڑھ چڑھ کر حصہ لو۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دفعہ حضرت عائشہؓ نے پوچھا کہ یَا۔رَسُولَ۔اللّٰہ! آپ تو اپنے اعمال کے زور سے جنت میں چلے جائیں گے۔ آپ نے فرمایا نہیں عائشہ!مَیں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی جنت میں جاؤں گا۔8 اگر محمد۔رسول۔اللہ صلی۔اللہ۔علیہ وسلم جیسا وجود بھی یہ کہتا ہے کہ میں خداتعالیٰ کے فضل سے ہی جنت میں جاؤں گا تو تم کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑے ہو کہ تم اپنے اعمال کے زور سے جنت میں چلے جاؤ گے؟ آخر وہ کیا چیز ہے جو تم خدا کے سامنے پیش کرو گے؟ اگر تم نماز پڑھتے ہو تو تم اپنے فائدہ کے لیے پڑھتے ہو۔ اگر تم روزے رکھتے ہو تو تم اپنے فائدہ کے لیے رکھتے۔ہو۔ اگر تم حج کرتے ہو تو تم اپنے فائدہ کے لیے کرتے ہو۔ اگر تم زکوٰۃ دیتے ہو تو۔تم۔اپنے۔بھائی بندوں کے فائدہ کے لیے دیتے ہو۔ صرف ایک چیز ہے جس کو تم خداتعالیٰ کے سامنے پیش کر سکتے ہو اور کہہ سکتے ہو کہ اے خدا! ہم نے تیری خاطر یہ کام کیا۔ ہم پاکستان میں رہتے تھے، تہبند باندھتے تھے، پھٹی ہوئی پگڑیاں پہنتے تھے، کھانے کو پیٹ بھر کر بھی نہیں ملتا تھا مگر باوجود اِن سب تکلیفوں کے ہم نے محض تیرے نام کو بلند کرنے کے لیے چندے دیئے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قیامت کے دن اپنی نجات کی خاطر تم خداتعالیٰ کے سامنے پیش کر سکتے ہو۔ اور خداتعالیٰ جو عدل و انصاف کا منبع ہے تمہیں یہی کہہ سکتا ہے کہ تم نے تکلیفیں اُٹھا کر میرے نام کو بلند کیا تھا۔ اب میں اِس جہاں میں تمہارے کام کو بلند کروں گا۔ پھر یہی وہ چیز ہے جسے تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر سکتے ہو اور کہہ سکتے ہو کہ یَارَسُولَ اللّٰہ! ہم نے آپ کے لائے ہوئے دین کی تبلیغ کی ہے۔ اس لیے آپ خداتعالیٰ کے پاس ہماری شفاعت کریں۔ پس اللہ تعالیٰ کے فضل اور رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کی شفاعت کو کھینچنے کے لیے تبلیغِ اسلام کے سِوا اَور کوئی چیز نہیں۔ اور دنیا میں سب سے مقدم یہی عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے9کہ تُوقرآن۔کریم کو لے کر جہادِکبیر کر۔ پس سب سے بڑا عمل یہی ہے کہ تم قرآن کریم کے ساتھ جہادِکبیر کرو۔اگر تم سمجھتے ہو کہ تم نماز اور روزہ سے جنت لے لو گے تو تمہاری مرضی۔ لیکن اگر تم سمجھتے ہو کہ جنت کو حاصل کرنے کے لیے خداتعالیٰ کے فضل کی ضرورت ہے تو اُس کا فضل اِسی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے کہ تم تحریک جدید میں حصہ لو۔ تکالیف اور مشکلات آتی ہیں تو آنے دو لیکن تبلیغ کو نہ چھوڑو۔ تا کہ نجات تمہارا دامن نہ چھوڑے اور تا تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دعوٰی سے کہہ سکو کہ ہم آپ کی شفاعت کے مستحق ہیں۔ ہم نے آپ کے لائے ہوئے دین کو جہنم سے نکالا ہے کیا آپ ہمیں جہنم سے نہیں نکالیں گے یا تم خداتعالیٰ سے یہ کہہ سکو کہ ہم نے تیرے نام کو دنیا میں روشن کرنے کے لیے فاقے بھی برداشت کیے ہیں لیکن تجھے فاقے برداشت کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے تکالیف برداشت کر کے تیرے دین کو زندہ کیا ہے اب ہمیں زندگی۔دینے کے لیے تجھے تکالیف برداشت کرنے کی ضرورت نہیں۔ پھر کیا تو فاقے برداشت۔کیے۔بغیر اور تکالیف اُٹھائے بغیر بھی ہمیں زندگی نہیں بخشے گا؟ پس یہ دو دلیلیں ہیں جن کے ساتھ تم خداتعالیٰ کے فضل اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کو حاصل کر سکتے ہو۔ اِن کے علاوہ اَور کوئی چیز نہیں جس کے ذریعہ تم خداتعالیٰ کے فضل کو حاصل کر سکو یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کی امید رکھ سکو۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر تمہاری سفارش کریں گے تو اُن کے پاس کوئی نہ کوئی دلیل تو ہونی چاہیے جو وہ خداتعالیٰ کے سامنے پیش کر سکیں۔ آپ یہ تو نہیں کہیں گے کہ میں پارٹی کا پنچ ہوں اس لیے ان لوگوں کی شفاعت کرتا ہوں۔ آپ کو خداتعالیٰ کے سامنے کوئی نہ کوئی چیز پیش کرنی ہو گی کہ یہ وجہ ہے جس کی بناء پر میں ان کو اپنی پارٹی میں شامل کرنا چاہتا ہوں۔ اور خدمتِ اسلام کے سِوا مجھے کوئی اَور چیز ایسی نظر نہیں آتی جس کی بناء پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری شفاعت کریں۔
    بے۔شک جنت میں جانے کے لیے طہارتِ نفس کی بھی ضرورت ہے، اس کے لیے ایمان کی بھی ضرورت ہے،اس کے لیے خدمتِ خلق کی بھی ضرورت ہے لیکن باوجود اِس کے ہماری کوششوں میں کمی رہ جاتی ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کی ضرورت ہے۔ یہ نہیں کہ فلاں شخص نے نماز نہیں پڑھی یااُس نے زکوٰۃ نہیں دی اِس لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُس کی سفارش کریں گے۔ آپؐ کی شفاعت اِس لیے ہو گی کہ ان لوگوں نے سارا زور لگا کر نمازیں پڑھی ہیں، سارا زور لگا کر روزے رکھے ہیں لیکن پھر بھی کچھ کسر رہ گئی ہے۔ انہوں نے اچھی طرح حج کیا ہے لیکن پھر بھی اس میں کسر رہ گئی ہے۔ انہوں نے پورا زور لگا کر زکوٰۃ دی ہے لیکن پھر بھی اس میں کچھ کسر رہ گئی ہے۔ اس کسر کو پورا کرنے کے لیے میں ان کی سفارش کرتا ہوں۔ انہوں نے پورا زور لگا کر اعمالِ۔صالحہ کیے ہیں لیکن پھر بھی کچھ کسر رہ گئی ہے۔ آپ رحیم و کریم ہیں آپ یہ کسر پوری کر دیں۔پس خداتعالیٰ سے شفاعت کرنے کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی چیز تو ہونی چاہیے کہ یہ شخص اخلاص سے کام کر رہا تھا لیکن اِس کی کوششوں میں کمی رہ گئی آپ۔اس کمی کو پورا کر دیں۔ تم جب کسی سے کہتے ہو کہ میرا فلاں کام کر دو یا کسی سے سفارش۔کرواتے ہو تو ساتھ ہی یہ دلیل دیتے ہو کہ فلاں وجہ ہے جس کی بناء پر مجھے یہ حق حاصل ہے۔ پس اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خداتعالیٰ کے پاس شفاعت کے لیے جائیں گے تو آپ کے پاس کوئی نہ کوئی دلیل ہونی چاہیے جس کو پیش کر کے وہ خداتعالیٰ سے شفاعت کر سکیں۔ اور وہ یہی ایک چیز ہے کہ ہم نے خداتعالیٰ کے دین کی خدمت کر کے اسے زندہ کیا تھا اب وہ ہمیں زندہ کرے۔ہم نے خداتعالیٰ سے سودا کیا تھا سو ہم نے اپنی شرط پوری کر دی اب وہ اپنی شرط پوری کرے۔ یہی ایک دلیل ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خداتعالیٰ کے سامنے پیش کر سکتے ہیں اور اس کا فضل حاصل کر سکتے ہیں۔
    پس مت سمجھو کہ یہ کوئی معمولی کام ہے۔ یہ مت سمجھو کہ اسے نظرانداز کر کے تم اپنی روحانیت کو سلامت رکھ سکتے ہو یا قیامت کو خداتعالیٰ کے فضلوں کا مطالبہ کر سکتے ہو۔ خداتعالیٰ کے فضلوں کا مطالبہ کرنے کے لیے کسی غیرمعمولی چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنے رستہ سے ہٹ کر کوئی چیز ہے جو انسان کو خداتعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنا دیتی ہے اور یہ کام یعنی خدمتِ اسلام رستہ سے ہٹ کر ہے۔ تم کہہ سکتے ہو کہ اے خدا! باقی کام تو ہم اپنے نفسوں کے لیے کرتے رہے ہیں لیکن یہ کام ہم محض تیرے لیے کرتے رہے ہیں اور اُن لوگوں کے لیے کرتے رہے ہیں جو دوسرے ممالک میں رہتے تھے۔پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے فرائض کو سمجھے۔ اسے کوشش کرنی چاہیے کہ قربانی کے لیے چھلانگیں مار کر آگے آئے تا کہ ہم جلد سے جلد اسلام کی اشاعت کر سکیں۔ اب دنیا کنارے پر لگ چکی ہے۔ اسے صرف ایک ٹھوکر کی ضرورت ہے۔طبائع میں سلامت روی پیدا ہو چکی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ دنیا دہریت اور بے دینی کی طرف جا رہی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ دنیا دہریت اور بے دینی کی طرف نہیں جا رہی بلکہ عقل کی طرف جا رہی ہے۔ پہلے لوگ مولویوں اور پنڈتوں سے سُن کر مذہبی باتیں مان لیتے تھے۔ اگر پنڈت کہہ دیتے تھے کہ خداتعالیٰ دنیا میں آ کر ہمارے کاموں میں شریک ہو جاتا ہے تو وہ اٰمَنَّا وَصَدَّقْنَاکہہ دیتے تھے۔ اگر پنڈت کہتے کہ خداتعالیٰ بُتوں میں آ جاتا ہے اور ہم سے باتیں کرتا ہے تو وہ یہ باتیں مان لیتے تھے۔ اگر پنڈت کہتے کہ خداتعالیٰ کہتا ہے کہ تم اس کے خاص لوگوں میں سے ہو تم دوسرے لوگوں کو مارتے پھرو تو لوگ کہتے یہ ٹھیک ہے لیکن اب ایسا نہیں۔ اب اگر کسی کو کوئی بات کہو تو وہ کہتا ہے پہلے مجھے سمجھاؤ کہ یہ کس طرح درست ہے۔ لوگ اس کا نام بے دینی اور دہریت رکھتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ سچائی کی جستجو ہے جو عیسائیوں اور دوسرے مذاہب والوں میں پیدا ہو گئی ہے۔ نئی پَود کے ہر فرد میں یہ احساس پیدا ہو جانا کہ تم ہمیں سمجھاؤ تو ہم مانیں یہ نہایت خوش قسمتی اور مفید احساس ہے۔ اب وہی مذہب غالب آ سکتا ہے جس کی بنیاد عقل پر ہو۔ جس مذہب کی بنیاد عقل پر نہیں وہ مذہب ہارے گا اور جس کی بنیاد عقل پر ہے وہ جیتے گا۔ لوگ اسے دہریت اور بے۔دینی کہتے ہیں اور میں اسے دین کی جستجو اور اس کے لیے ایک تڑپ کہتا ہوں۔ اللہ۔تعالیٰ دماغوں کو اس طرف مائل کر رہا ہے کہ وہ معقول باتوں کو مانیں اور غیرمعقول باتوں کو ردّ کریں۔ پس دنیا اسلام کے کنارے پر کھڑی ہے اور وہ زبانِ حال سے پکار رہی ہے کہ مجھے اسلام دو،مجھے صداقت دو تا میں اسے مان لوں۔اِس زریں موقع کو ہاتھ سے جانے دینا بہت بڑی غفلت اور جُرم ہے۔
    اِسی سلسلہ میں مَیں جماعت میں یہ تحریک کرتا ہوں کہ یکم فروری سے سات فروری تک تحریک جدید کا ہفتہ منایا جائے ۔ ہر جگہ پر ایک بار یا دودو، تین تین بار جلسے کیے جائیں اور جماعت کے ہر فرد کے پاس جماعت کے مخلصین پہنچیں اور اُسے اِس تحریک میں شامل کریں۔ میں نے مخلصین کا لفظ اس لیے کہا ہے کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ جماعت کا کچھ حصہ کمزور ہے۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ مخلصین کمزوروں کے پاس پہنچیں تا ان میں سے بھی کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ اسے تحریک جدید میں شامل کرنے کے لیے کوئی تحریک نہیں ہوئی۔ اور پھر جو شخص ایک دفعہ تحریک جدید میں حصہ لے گا اور یہ سمجھ کر حصہ لے گا کہ یہ تحریک قیامت تک چلنے والی ہے وہ پیچھے نہیں ہٹے گا۔
    اب بعض لوگ ایسے ہیں جو پیچھے ہٹ گئے ہیں یا انہوں نے اپنے سابقہ وعدوں کے مقابل پر صرف پندرھواں، سولھواں یا بیسواں حصہ چندہ لکھوایا ہے لیکن وہ بھی ہیں جنہوں نے پہلے سے بھی بڑھ کر اس میں حصہ لیا ہے۔ہمارے کارکن وعدوں میں کمی کرنے والوں پر چِڑتے ہیں اور قربانی کرنے والوں کی طرف نہیں دیکھتے۔ جماعت میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اپنے سابقہ وعدوں میں کافی اضافہ کیا ہے۔ مثلاً کچھ دن ہوئے میرے سامنے ایک فہرست وعدہ کنندگان کی پیش ہوئی تھی۔ اُس میں سے ایک شخص کا چندہ پچھلے سال چھ سَو روپیہ تھا اور اِس سال اُس نے ایک ہزار کا وعدہ کیا ہے۔ پس کارکنوں کو چاہیے کہ وہ دونوں کو دیکھیں۔ کمزور پر چِڑنے کی ضرورت نہیں بلکہ ضرورت اِس امر کی ہے کہ استقلال اور قوی جدوجہد کے ساتھ کمزور کو طاقت دی جائے۔ یہ ایک موڑ ہے جو انیس سال کے گزرنے کے بعد سامنے آ گیا ہے۔ جب یہ موڑ گزر جائے گا تو آگے کوئی موڑ نہیں آئے گا۔ اب موت ہی ہے جو چندہ دینے سے کسی کو روکے۔ اور موت سے آگے تو ہم کسی سے چندہ لے بھی نہیں سکتے۔ یعنی اس کے آگے اَور کوئی موڑ نہیں سوائے اِس کے کہ کوئی شخص زندگی کے موڑ سے ہی مُڑ جائے اور ایسے شخص کا واسطہ خداتعالیٰ سے ہو جاتا ہے۔
    پس اِس سال ہمیں خاص جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے میں نے فروری کا پہلا ہفتہ مقرر کیا ہے۔ یکم فروری سے سات فروری تک ہفتہ تحریک جدید منایا جائے۔ ان دنوں جماعت میں جلسے کیے جائیں اور ہر شخص کے پاس جماعت کے سیکرٹری اور صدر صاحبان پہنچیں اور دیکھیں کہ کوئی شخص اس تحریک میں حصہ لینے سے محروم نہ رہے۔ یا کون شخص ایسا ہے جس نے اپنی حیثیت کے مطابق اپنی ماہوار آمدن کا چوتھا، نصف، تین چوتھائی یا اللہ تعالیٰ اُسے توفیق دے تو ایک مہینہ کی ساری آمد تحریک جدید میں دے۔ یعنی جس شخص کی ماہوار آمد ایک سَو روپیہ ہے وہ کم سے کم پچیس روپے اِس تحریک میں دے یا خداتعالیٰ اُسے توفیق دے تو پچاس، پچھتّر یا سَو روپیہ اس تحریک میں دے۔ پس اِس ہفتہ میں لوگوں میں اِس کی تحریک کی جائے۔
    اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم نے تحریک جدید میں حصہ لینے کے لیے کم از کم پانچ روپیہ کی شرط لگائی ہے۔ اگر کوئی شخص ایک ہزار روپیہ ماہوار والا بھی پانچ روپیہ دے کر اِس تحریک میں شامل ہوتا ہے تو ہمیں اُس کا انکار نہیں کرنا چاہیے۔ ہاں! اُسے سمجھانا چاہیے کہ تم اپنی قربانی کا مقابلہ دوسروں کی قربانیوں سے کر کے دیکھ لو۔ کُجا وہ لوگ تھے جنہوں نے پانچ پانچ، چھ چھ ماہ کی آمدنیں تحریک جدید میں دے دیں اور کُجا تم ہو کہ تم اپنی ماہوار آمد سے جو ایک ہزار روپیہ ہے صرف پانچ روپیہ اِس تحریک میں دیتے ہو۔ وہ تو پانچ پانچ ماہ کی آمدنیں تحریک جدید میں دے دیتے تھے اور تم اپنی ماہوار آمد کا دوسواں حصہ دیتے ہو۔ گویا تم اُن کی قربانی کا ہزارواں حصہ قربانی کرتے ہو اور اِس قربانی کا تو ہمیں مجلسوں میں اظہار کرنے سے بھی شرم آ تی ہے۔ بہرحال تحریک کرنا تمہارا فرض ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی حیثیت سے کم قربانی کرتا ہے تو اس سے انکار کرنا ہمارا حق نہیں۔ چاہے کوئی لاکھوں روپے ماہوار آمد والا پانچ روپیہ لکھائے تم لکھ لو لیکن اُسے یہ تحریک کرنی چاہیے کہ تمہاری قربانی پہلوں کی قربانی سے کوئی نسبت نہیں رکھتی۔ جماعت کے دوستوں سے میں امید کرتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کو سمجھتے ہوئے سچے طور پر اور پورے اخلاص سے اس بات کے لیے زور لگا دیں گے کہ اِس سال تحریک جدید کے وعدے پچھلے سال کے وعدوں سے کم نہ رہیں بلکہ اُن سے بہت آگے نکل جائیں‘‘۔
    (المصلح 28جنوری 1954ئ)

    1
    :
    صحیح بخاری کتاب الاذان باب مَنْ اَخَفَّ الصَّلَاۃَ عِنْدَ بُکَائِ الصَّبِیِّ
    2
    :
    بخاری کتاب العیدین باب خروج النساء والحیض الی المصلّٰی
    3
    :
    4
    :
    5
    :
    6
    :
    مسلم کتاب البر والصلۃ باب فضل عیادۃ المریض
    7
    :
    8
    :
    بخاری کتاب الرّقاق بابُ الْقَصْدِ وَالْمُدَاوَمَۃِ عَلَی الْعَمَلِ
    9
    :
    الفرقان:53


    قبولیت دعا کے تازہ نشانات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے ایمان کو بڑھانے اور اسے تقویت دینے کے سامان عطا فرمائے ہیں
    (فرمودہ 29 جنوری1954ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’اللہ تعالیٰ کی صفات جو قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں یا جو صفات احادیث سے ثابت ہوتی ہیں وہ ساری کی ساری ہی اللہ تعالیٰ کے ساتھ وابستہ اور لازم ہیں اور جُوں جُوں انسان ان صفات کا مطالعہ کرتا ہے اس کا دل ایمان اور یقین سے بھر جاتا ہے۔ ایک صفت تو خداتعالیٰ کی ایسی ہوتی ہے جو تمام بنی نوع انسان کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور ایک ایسی ہوتی ہے جس کا ظہور کسی انسان کے خاص حالات کے ماتحت ہوتا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ رازق ہے۔ تمام دنیا میں انسان کیا اور حیوان کیا اور نباتات کیا تمام مخلوقات کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس کے رزق کا کوئی نہ کوئی ذریعہ مقرر ہے اور اسے دیکھنے سے ہر انسان یہ سمجھتا ہے کہ دنیا میں کوئی رازق ہستی موجود ہے۔ لیکن اگر کسی وقت کوئی شخص کسی تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے یا۔وہ کسی دُکھ میں پکڑا جاتا ہے اور اُس پر رزق کی تنگی وارد ہو جاتی ہے اور وہ پھر خداتعالیٰ سے دعا کرتا ہے کہ اے اللہ! تُو میرے لیے رزق کی تنگی کو دور کر دے اور پھر وہ رزق کی تنگی دور ہو جاتی ہے۔تو رازق تو خداتعالیٰ پہلے بھی تھا اور رازق وہ اُس وقت بھی تھا جب وہ شخص دعا مانگ رہا تھا لیکن جب اس شخص کے لیے خداتعالیٰ کی صفت رزّاقیت ظاہر ہوتی ہے تو اُس کا ایمان پہلے کی نسبت بہت بڑھ جاتا ہے۔ پھر ایک زائد یقین اُسے یہ حاصل ہوتا ہے کہ خداتعالیٰ سننے والا بھی ہے کیونکہ اگر وہ سننے والا نہ ہوتا تو اُس کی دعا اُس تک پہنچتی کیسے؟ پھر اُسے یہ یقین بھی حاصل ہوتا ہے کہ خداتعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان بھی ہے کیونکہ اگر وہ اپنے بندوں پر مہربان نہ ہوتا تو اس کی دعا سن کر اس کے اندر یہ احساس کیوں پیدا ہوتا کہ میں وہ تکلیف دور کر دوں۔ پس اِس ایک دعا کے ساتھ خداتعالیٰ کی تین صفات انسان پر ظاہر ہوتی ہیں۔ اس کی صفت رزّاقیت بھی ظاہر ہوتی ہے، اس کی صفت سمیع بھی ظاہر ہوتی ہے، اس کی صفت رحمانیت بھی ظاہر ہوتی ہے۔ یا مثلاً خداتعالیٰ دنیا میں ہمیشہ لوگوں کے ہاں بچے پیدا کرتا ہے۔ وہ پہلے بھی بچے پیدا کرتا رہا ہے اور اب بھی پیدا کر رہا ہے اور انسانی نسل برابر ترقی کر رہی ہے۔ یہاں تک کہ اب لوگوں کو یہ وہم ہو رہا ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ دنیا میں پیدا ہونے والا غلّہ غذا کے لیے کافی نہیں ہو گا۔ اور بعض بیوقوفوں نے تو یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ نسلِ۔انسانی کو محدود رکھنا چاہیے اور پیدائش کو روکنا چاہیے تا انسانوں کی تعداد اس حد تک بڑھ جائے کہ کسی وقت غذا کی قلّت محسوس ہونے لگ جائے۔ لیکن باوجود اِس کثرتِ۔نسل کے اور باوجود انسانوں کی اِس قدر زیادتی کے کئی گھرانے ایسے ہوتے ہیں جن کے ہاں بچے پیدا نہیں ہوتے اور وہ اولاد کو ترستے رہتے ہیں۔ ایک شخص کروڑ پتی ہوتا ہے لیکن اُسے ایسا بچہ میسر نہیں آتا جو اُس کے بعد اُس کی دولت کا وارث ہو لیکن دسری طرف ایک فاقہ کش مزدور ہوتا ہے اُس کے دس گیارہ بچے ہوتے ہیں اور اُن کا پیٹ پالنے کے لیے بھی اسے روٹی میسر نہیں ہوتی۔ پس جہاں تک دنیا کا سوال ہے خداتعالیٰ کی صفتِ خالقیت ثابت ہے اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اگر بعض افراد پر ان کے مخصوص حالات کے لحاظ سے ہم نظر ڈالیں تو اس کی صفتِ خالقیت نظر نہیں آتی کیونکہ وہ اولاد سے محروم ہوتے ہیں۔ اگر ایسا شخص جس کے ہاں اولاد نہیں ہوتی یہ دعا کرے کہ اے اللہ! تُو مجھے بھی بچہ دے دے اور پھر اُس کے ہاں بچہ پیدا ہو جاتا ہے تو اُسے خداتعالیٰ کی صفتِ۔خلق پر جویقین پیدا ہوتا ہے اَور کسی شخص کو نہیں ہوتا۔ اور پھر اسے صرف خداتعالیٰ کی صفتِ خلق پر ہی یقین پیدا نہیں ہوتا بلکہ اُسے اُس کی صفتِ۔سمیع پر بھی یقین پیدا ہو جاتا ہے کیونکہ اگر وہ سمیع نہ ہوتا تو اُس کی دعا سنتا کیسے؟ پھر اُس کو خداتعالیٰ کی صفتِ۔رحمانیت پر بھی یقین ہو جاتا ہے کیونکہ اگر وہ رحمان نہ ہوتا تو اس شخص کی دعا سن لینے کے بعددعا قبول کر لینے کا احساس اسے کیسے پیدا ہوتا؟ اور وہ خالقیت کی صفت کو ظاہر کیسے کرتا؟ ہم نے اِس کا بارہا تجربہ کیا ہے اور خداتعالیٰ کی صفتِ خالقیت کے کئی نظارے دیکھے ہیں۔ اس کی درجنوں بلکہ اس سے بھی زیادہ مثالیں ہوں گی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا یا میری دعا کے نتیجہ میں ایسے گھروں میں بچے پیدا ہوئے جن میں بظاہر اولاد پیدا ہونا ناممکن تھا۔ بعض لوگوں کی شادیوں پر بیس بیس سال بلکہ اس سے بھی زیادہ عرصہ گزر چکا تھا اور پھر بھی میری دعا سے ان کے ہاں اولاد پیدا ہوئی۔
    مثلاً قادیان میں ہی ایک ہندو تھا۔ وہ بہت مالدار تھا۔ قادیان اور بٹالہ کے درمیان اس کے یکے چلتے تھے۔ اِس کے علاوہ وہ ٹھیکیدار بھی تھا اور تجارت بھی کرتا تھا۔ اس نے دو شادیاں کیں لیکن اس کے ہاں اولاد نہ ہوئی۔ اس نے مجھے دعا کی تحریک کی اور یہ نذر مانی کہ اگر خداتعالیٰ نے اُسے بچہ دے دیا تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کے کھانے کے لیے کچھ نذرانہ دے گا۔ ایک سال یا دو سال کے بعد جب اُس کی شادی پر بیس سال یا اس سے زیادہ عرصہ گزر چکا تھا اُس کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔ میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا کہ کسی شخص نے مجھے بتایا کہ نیچے فلاں ہندو آیا ہوا ہے اور وہ آپ سے ملنا چاہتا ہے۔ میں نیچے آگیا۔ میں نے دیکھا کہ اُس کے ہاتھ میں ایک بکری تھی۔ اِسی طرح ایک بوری آٹا اور کچھ گھی بھی تھا۔ اُس نے مجھے بتایاکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کی دعا سے ایک بچہ دیا ہے۔بچہ اور اُس کی ماں کو سلام کرانے کے لیے میں یہاں لایا ہوں اور یہ چیزیں لنگرخانہ کے لیے ہیں۔ آپ انہیں قبول فرمائیں۔ اُس شخص کے ہاں بیس سال سے اولاد پیدا نہیں ہوئی تھی۔ اس نے مجھے دعا کی تحریک کی اور میری دعا کے نتیجہ میں خداتعالیٰ نے اسے بیٹا عطا کیا۔
    ابھی اِس جلسہ پر ایک عجیب نظارہ پیش آیا کہ ایک عورت لائل پور کی رہنے والی تھی اور لجنہ اماء اللہ کی سیکرٹری تھی۔ وہ جب بھی ربوہ آتی مجھ سے کہتی میرے ہاں اتنے عرصہ سے اولاد نہیں ہوئی۔ آپ دعا کریں کہ خداتعالیٰ مجھے بھی اولاد دے دے۔ دوسال ہوئے میں نے اُسے کہا تیری کب شادی ہوئی تھی؟ اس نے کہا بیس یا اکیس سال ہو گئے ہیں کہ میری شادی ہوئی تھی اور ابھی تک میرے ہاں اولاد نہیں ہوئی۔ میں نے اسے کہا تُو اب بوڑھی ہو چکی ہے اب اولاد کا خیال جانے دو۔ پینتالیس یا پچاس سال کی تمہاری عمر ہو چکی ہے اور بیس سال شادی پر گزر چکے ہیں۔ اب بھی کہتی ہو دعا کرو دعا کرو۔ آخر یہ سلسلہ کب تک چلا جائے گا؟ اس عورت نے کہا میں نے تو دعا کے لیے کہتے چلے جانا ہے۔ وہ عورت اچھی خاصی عمر کی تھی پینتالیس اور پچاس سال کے درمیان اس کی عمر تھی اور بیس بائیس سال شادی پر گزر چکے تھے۔ ایک دن اِسی جلسہ کے دنوں میں اُس نے میرا دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں نے دروازہ کھولا تو اُس نے مجھے اپنی بچی دکھائی اور کہا آ پ تو کہتے تھے کہ تمہاری شادی پر اتنا عرصہ گزر چکا ہے اور عمر بھی زیادہ ہو چکی ہے، اب دعا کے لیے کیوں کہتی ہو؟ اولاد کا خیال اب جانے دو۔ لیکن میں نے آپ کا پیچھا کیا اور دعا کی درخواست کرتی رہی اور اب اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کے نتیجہ میں یہ بچی عطا فرمائی ہے۔ ایسے موقعوں پر انسان کا یقین خداتعالیٰ کی کئی صفات پر ہو جاتا ہے۔ اس کا یقین صرف خداتعالیٰ کی صفتِ۔خالقیت پر ہی نہیں بڑھتا بلکہ اس کی صفتِ۔سمیع اور۔رحیمیت پر بھی اس کا یقین ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اگر وہ سمیع اور رحیم نہ ہوتا تو وہ اس کی دعاؤں کو کیسے سنتا اور پھر دعاؤں کو سن کر اسے یہ احساس کیسے ہوتا کہ وہ بچہ دے دے۔
    پھر یہ دعائیں بعض اوقات تو ایسے طور پر پوری ہو جاتی ہیں کہ ان کے نتیجہ میں تقدیرِمبرم بھی بدل جاتی ہے اور تقدیرِمبرم کے بدلنے کی یہ علامت ہوتی ہے کہ اس کی شکل بدل جاتی ہے۔ وہ پوری بھی ہو جاتی ہے اور انسان ان خطرات سے بھی بچ جاتا ہے جو اسے لاحق ہونے والے ہوتے ہیں۔ سید عبدالقادرصاحب جیلانی۔ؒ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان کا ایک مُرید تھا جس سے انہیں بہت پیار تھا۔ اسے ایک عیسائی عورت سے محبت پیدا ہو گئی اور۔اس کی محبت بڑھتی چلی گئی۔ سید عبدالقادر صاحب جیلانی۔ؒ دعا کرتے تھے کہ وہ کسی طرح اس۔ابتلا سے بچ جائے لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں معلوم ہوا کہ وہ اس ابتلا میں ضرور پھنسے گا اور یہ تقدیرِمبرم ہے۔ مگر پھر بھی آپ دعا کرتے رہے۔ آخر ایک دن وہ مرید تائب ہو کر آپ کے پاس آیا اور اس نے کہا آپ کی دعا پوری ہو گئی۔ سید عبدالقادر صاحب جیلانی۔ؒ نے دریافت کیا کہ دعا کیسے پوری ہوئی؟ تو اس نے بتایا کہ رؤیا میں وہ عورت مجھے ملی اور میں نے اُس سے تعلقات بھی قائم کر لیے۔ اس کے بعد جب میری آنکھ کھلی تو مجھے اُس سے نفرت پیدا ہو چکی تھی۔ اب دیکھو! یہ ایک تقدیرِمبرم تھی اور اس نے ضرور پورا ہونا تھا لیکن دعا کے نتیجہ میں خداتعالیٰ نے اسے رؤیا میں پورا کر دیا۔ اِس طرح تقدیرِمبرم بھی پوری ہو گئی اور دعا بھی قبول ہو گئی اور وہ شخص اُن خطرات سے محفوظ ہو گیا جو اُسے آئندہ لاحق ہونے والے تھے۔ پس تقدیرِمبرم کی علامت یہ ہوتی ہے کہ وہ پوری بھی ہو جاتی ہے لیکن دعا کے نتیجہ میں اُس کی شکل بدل جاتی ہے۔
    17 یا 18 نومبر 1953ء کی بات ہے کہ میں نے رؤیا میں دیکھا کہ میں ایک جگہ پر ہوں۔ میاں بشیر احمد صاحب اور دردصاحب میرے ساتھ ہیں۔ کسی شخص نے مجھے ایک لفافہ لاکر دیا اور کہا کہ یہ چودھری ظفراللہ خاں صاحب کا ہے۔ میں نے اس لفافہ کو کھولے بغیر یہ محسوس کیا کہ اس میں کسی عظیم الشان حادثے کی خبر ہے جو چودھری صاحب کی موت کی شکل میں پیش آیا ہے یا کوئی اَور بڑا حادثہ ہے۔ میں نے دردصاحب سے کہا لفافہ کو جلدی کھولو اور اس میں سے کاغذ نکالو۔ دردصاحب نے لفافہ کھولا۔ اس میں بہت سے کاغذ نکلتے آتے تھے لیکن اصل بات جس کی خبر دی گئی تھی نظر نہیں آتی تھی۔ آخرکار لفافہ میں صرف ایک دو کاغذ رہ گئے۔ لیکن اصل خبر کا پتا نہ لگا۔ میاں بشر احمد صاحب نے کہا پتا نہیں چودھری صاحب کے دماغ کو کیا ہو گیا ہے۔۔ وہ ایک اہم خبر لکھتے ہیں لیکن اسے اچھی طرح بیان نہیں کرتے۔ میں نے کہا گھبراہٹ میں ایسا ہو ہی جاتا ہے۔ اس پر لفافہ میں دو کاغذ جو باقی رہ گئے تھے ان میں سے ایک کاغذ کو میں نے باہر کھینچا تو وہ ایک فہرست تھی۔ لیکن اصل واقعہ کا اُس سے پتا نہیں لگتا تھا۔ اس فہرست میں ایک نام سے پہلے ملک لکھا تھا اور آخر میں محمد لکھا تھا۔ درمیانی لفظ پڑھا نہیں جاتا تھا۔ اس سے اتنا تو پتا لگتا تھا کہ واقعہ میں کوئی اہم خبر ہے لیکن اصل واقعہ کا پتا۔نہیں لگتا تھا۔ پھر لفافہ میں سے ایک اَور شفا ف کاغذ نکلا جو Tracing Paperتھا۔ میں اُسے دیکھنے لگا اور میں نے کہا یہ خبر ہے جو چودھری صاحب نے ہم تک پہنچانی چاہی ہے مگر بجائے کوئی واقعہ لکھنے کے اس کاغذ پر ایک لکیر کھنچی ہوئی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک ہوائی۔جہاز ہے جو مشرق سے مغرب کی طرف جا رہا ہے۔ آگے جا کر وہ لکیر یکدم اریبوی1 صورت میں نیچے آ جاتی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ جہاز یکدم نیچے آ گیا ہے۔ اس جگہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ رُکا ہے اور معاً Crashed کا لفظ میرے سامنے آتا ہے تو معاً سمندر میرے سامنے آ جاتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ نیچے کچھ جزیرے ہیں۔ مجھے نیچے کی طرف عملاً سمندر نظر آتا ہے۔ اُس میں ہلکی ہلکی لہریں ہیں۔ میں خواب میں کہتا ہوں کہ نہ معلوم چودھری صاحب کو تیرنا آتا ہے۔ خدا کرے اِس حادثہ کی خبر معلوم کر کے کسی حکومت نے ہوائی جہاز یا کشتیاں بچانے کے لیے بھیج دی ہوں تا کہ چودھری صاحب اور دوسرے لوگ بچ جائیں۔
    جب میں نے یہ رؤیا دیکھی اُس وقت قریباً دو بجے رات کا وقت تھا۔ اُس دن میری بیوی مریم صدیقہ کی باری تھی اور وہ میرے پاس ہی دوسری چارپائی پر سوئی ہوئی تھیں۔ میں نے انہیں جگایا اور کہا جلدی سے ایک خط لکھو۔ چنانچہ میں نے اُسی وقت چودھری صاحب کو خط لکھوایا اور تحریر کیا کہ وہ کچھ صدقہ دے دیں۔ فوراً بھی اور آتے ہوئے بھی اور اسی مضمون کی ایک تار بھی دے دی۔ میں نے جب یہ رؤیا دیکھی تو چودھری صاحب امریکہ پہنچ چکے تھے اور۔میں نے رؤیا میں یہ نظارہ دیکھا تھا کہ چودھری صاحب مشرق سے مغرب کو جا رہے ہیں۔ اگر وہ امریکہ سے پاکستان آ رہے ہوتے تو یہ سفر مشرق سے مغرب کو نہ ہوتا بلکہ مغرب سے مشرق کو ہوتا۔ پھر میں نے رؤیا میں یہ دیکھا تھا کہ چودھری صاحب خود ہی اس حادثہ کی خبر دے رہے ہیں اور یہ بات سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ اگر اِس حادثہ میں اُن کی جان کا نقصان ہے تو وہ اس کی خبر کیسے دے رہے ہیں؟ بہرحال میں نے اِس خواب کی تین تعبیریں کیں۔
    اول یہ کہ کوئی حادثہ چودھری صاحب کو سخت مہلک پیش آنے والا ہے اور خداتعالیٰ انہیں اس سے بچا لے گا کیونکہ وہ خود اس حادثہ کے متعلق تبھی خبر دے سکتے ہیں جب وہ محفوظ ہوں۔
    دوسرے میں نے یہ تعبیر کی کہ اُس دن ملک غلام محمد صاحب گورنرجنرل سفر پر روانہ ہو رہے۔تھے شاید انہیں کوئی حادثہ پیش آ جائے۔ میں نے ملک اور محمد کے الفا ظ دیکھے تھے۔ بیچ۔میں ایک لفظ اَور بھی تھا جو پڑھا نہیں گیا۔ میں نے خیال کیا کہ شاید اس سے ملک غلام محمد صاحب مراد ہوں کیونکہ ان کے نام سے پہلے بھی ملک اور آخر میں محمد کا لفظ آتا ہے اور وہ چودھری صاحب کے دوست بھی ہیں اور دوست کا صدمہ خود انسان کا اپنا صدمہ کہلاتا ہے۔ چنانچہ میں نے صبح انہیں تار دے دی۔ چونکہ وہ احمدی نہیں ہیں۔ اِس لیے میں نے یہ نہ لکھا کہ میں نے رؤیا دیکھی ہے بلکہ صرف یہ لکھا کہ آپ سفر پر جا رہے ہیں میں دعا کرتا ہوں کہ خداتعالیٰ اِس سفر کے دوران میں آپ کو اپنی حفاظت میں رکھے لیکن میرا تار پہنچنے سے پہلے ملک صاحب سفر پر روانہ ہو چکے تھے۔ وہ تار قائم مقام گورنرجنرل کو ملا اور انہوں نے خیال کیا کہ یہ مبارکبادی کی تار ہے چنانچہ اُن کی طرف سے شکریہ کی چٹھی آ گئی۔ حالانکہ وہ تار اِس رؤیا کی بناء پر اصل گورنر جنرل صاحب کو دی گئی تھی لیکن وہ ملی قائم مقام گورنرجنرل کو۔
    تیسرے چونکہ چودھری صاحب مغرب میں پہنچ چکے تھے اور پاکستان کی طرف سفر کرتے ہوئے انہوں نے مغرب سے مشرق کو آنا تھا اور پھر اس حادثہ کی خبر بھی انہوں نے خود ہی دی تھی اس لیے میں نے خیال کیا کہ شاید اس سے یہ مراد ہو کہ جو خاص کام مراکو وغیرہ کی خدمت کا وہ کر رہے ہیں اس میں انہیں ناکامی ہو۔
    بہرحال میں نے ایک بکرا بطور صدقہ ذبح کروا دیا اور چودھری صاحب کو بھی خط لکھا کہ وہ خود بھی صدقہ دے دیں۔ چنانچہ انہوں نے بھی صدقہ دے دیا اور ہم نے دعائیں جاری رکھیں۔ میں لاہور گیا تو چودھری صاحب کی بیوی مجھے ملیں۔ میں نے انہیں بھی بتایا کہ میں نے اس قسم کی رؤیا دیکھی ہے چونکہ چودھری۔صاحب کی لڑکی بھی اِس سفر میں اُن کے ہمراہ تھی اِس لیے اُن کے لیے دُہرا صدمہ تھا۔ اس لیے انہوں نے بھی اس عرصہ میں روزانہ ایک ایک کر کے یا بعض دنوں میں دو دو کر کے اکسٹھ بکرے صدقہ دیئے۔ چودھری صاحب خیریت سے کراچی پہنچ گئے اور اِس قسم کا کوئی حادثہ انہیں پیش نہ آیا۔ کراچی سے پنجاب آئے تو یہ سفر بھی خیریت سے گزر گیا۔ لیکن جب کراچی واپس گئے تو رستہ میں اُس گاڑی کو جس میں چودھری۔صاحب سفر کر رہے تھے خطرناک حادثہ پیش آیا اور انڈین ریڈیو پر جب یہ خبر نشر ہوئی تو۔اس۔کے متعلق’’Crashed ‘‘کا لفظ ہی استعمال کیا گیا۔ گاڑی پٹرول کے ڈبوں سے ٹکراگئی اور ایسا خطرناک حادثہ پیش آیا کہ ایک احمدی دوست نے مجھے لکھا کہ میں سمجھتا تھا کہ خداتعالیٰ کا عذاب آ گیا ہے۔ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ اس میں کوئی اَور احمدی بھی سفر کر رہا تھا لیکن اُس کے خط سے معلوم ہوا کہ وہ بھی اُس ٹرین میں تھا اور اس نے لکھا کہ ہر وہ شخص جس نے اس نظارہ کو دیکھا ہے وہ کہہ نہیں سکتا کہ یہ حادثہ عذابِ الٰہی نہیں تھا۔ بہرحال دونوں گاڑیاں ٹکرا گئیں اور جن ڈبوں کو خداتعالیٰ نے آگ سے بچایا انہیں پیچھے لایا گیا۔ جس جگہ پر یہ واقعہ ہوا چودھری صاحب کے خطبہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس سے دس دس میل دُور تک پکّی سڑک نہیں ہے صرف ریل کی پٹڑی گزرتی ہے۔ اس لیے امداد کے لیے اُس جگہ تک کوئی موٹر نہیں آ سکتی تھی۔ اس طرح وہ جگہ جزیرے کی طرح تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ رؤیا میں ہوائی جہاز کا دکھایا جانا اور واقعہ ریل میں ہونا اور پھر یہ گاڑی بھی مشرق سے مغرب کو جا رہی تھی، اِسی طرح دوسری سب باتوں کا ہونا بتاتا ہے کہ یہ ایک تقدیرِمبرم تھی لیکن خداتعالیٰ نے ہماری دعاؤں کو سن کر اس حادثہ کو بجائے ہوائی جہاز کے ریل میں بدل دیا۔ ہوائی جہاز میں ایسا حادثہ پیش آ جائے تو اس سے بچنا مشکل ہوتا ہے۔ شاذ ہی کوئی شخص اس قسم کے حادثے سے بچتا ہے لیکن یہی حادثہ ریل میں پیش آ جائے تو اس سے کسی انسان کا بچ جانا ممکن ہے اور پھر وہ ریل مشرق سے مغرب کو جا رہی تھی۔ جب میں نے اخبار میں وہ واقع پڑھا تو میں نے محسوس کیا کہ میری وہ خواب پوری ہو گئی ہے۔ میں نے میاں بشیر احمد صاحب سے اِس کا ذکر کیا جن کو میں یہ خواب اُسی وقت بتا چکا تھا جب یہ خواب آئی تھی۔ انہوں نے بھی کہا کہ واقعہ میں وہ خواب پوری ہوئی ہے لیکن میں نے اخبار میں یہ واقع پڑھ کر چودھری صاحب کو یہ لکھنا پسند نہ کیا کہ میری رؤیا پوری ہو گئی ہے۔ کیونکہ رؤیا میں انہوں نے پہلے اطلاع دی تھی۔ اس لیے میں نے یہی پسند کیا کہ وہ اطلاع دیں گے تو میں لکھوں گا۔ چنانچہ دوسرے دن چودھری صاحب کی تار آ گئی کہ آپ کی رؤیا پوری ہو گئی ہے اور خداتعالیٰ نے مجھے اس حادثہ سے بچا لیا ہے۔
    یہاں صرف رؤیا کا سوال نہیں کہ وہ پوری ہو گئی بلکہ یہ ایک تقدیرِمبرم تھی جو دعاؤں سے بدل گئی۔ رؤیا میں خداتعالیٰ نے مجھے ہوائی جہاز دکھایا تھا لیکن وہ واقعہ اُسی جہت میں اور۔اُسی شکل میں ریل میں پورا ہوا۔ معلوم ہوتا ہے کہ ایسا ہونا تقدیرِمبرم تھا لیکن خداتعالیٰ نے کہا چلو ان کی بات بھی پوری ہو جائے اور اپنی بات بھی پوری ہو جائے۔ یہی واقعہ ہم ریل میں کرا دیتے ہیں۔ اس سے ہماری بات بھی پوری ہو جائے گی اور ان کی دعا بھی قبول ہو جائے گی۔ پس یہ واقعہ ہمارے لیے زائد یقین اور ایمان کا موجب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری دعاؤں کی وجہ سے اپنی تقدیرِمبرم کو بدل دیا۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وقت میں بھی ایسا ہوا۔ مثلاً نواب صاحب کا لڑکا عبدالرحیم بیمار ہو گیا۔ اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پتا لگا کہ وہ اب بچ نہیں سکتا۔ اِس پر آپ نے خاص طور پر اُس کی صحت کے لیے دعا شروع فرمادی اور اِس دعا کے نتیجے میں وہ بچ گیا۔ اِسی طرح مبارک احمد کے متعلق بھی آتا ہے کہ جب اُس کی نبضیں چُھٹ گئیں تو آپ نے اس کے لیے دعا فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے اُسے دوبارہ سانس دے دیا۔ پس ریل کا یہ حادثہ خداتعالیٰ کی تقدیرِمبرم پر دلالت کرتا ہے۔ اس نے ہماری دعاؤں اور صدقہ اور قربانی کی وجہ سے ایک ایسی تقدیر کو بدل دیا جس کو عام حالات میں وہ بدلا نہیں کرتا۔
    پس اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے ایمان کو بڑھانے اور اسے تقویت دینے کے کئی سامان عطا فرمائے ہیں۔ اگر ہم ان کے بعد بھی اپنے فرائض کو ادا نہیں کرتے اور سُستی سے کام لیتے ہیں تو یہ ہماری انتہائی بدقسمتی ہو گی۔ دنیا تو ابھی اندھیرے میں ہے اور اسے پتا نہیں کہ خدا ہے یا نہیں، اسے پتا نہیں کہ خداتعالیٰ بولتا ہے یا نہیں، اسے علم نہیں کہ خداتعالیٰ سچا ہے یا نہیں۔ لیکن ہمارے لیے یہ بات بالکل واضح ہو گئی ہے کہ نہ صرف یہ کہ وہ پہلے موجود تھا، نہ صرف یہ کہ وہ پہلے سنتا تھا اور بولتا تھا بلکہ وہ ہمیں یہ دکھا رہا ہے کہ میں اب بھی سنتا ہوں،میں اب بھی بولتا ہوںاور اب بھی اپنے بندوں کی مدد کرتا ہوں۔ ان انعامات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ خداتعالیٰ ہمارے دلوں کے زنگ دور کر دے۔ کیونکہ اگر اس کے بعد بھی ہمارے دلوں میں قربانی کے لیے تنگی محسوس ہوتی ہے، ان میں انقباض پیدا ہوتا ہے تو یہ ہمارے دلوں کے زنگ کی وجہ سے ہے۔ اگر سورج نکلا ہوا ہو اور پھر بھی وہ کسی شخص کو نظر نہ آئے تو صاف بات ہے کہ۔اُس کی آنکھیں خراب ہیں۔ اِسی طرح اِس قسم کے نشان کے بعد بھی اگر ہمارے دلوں میں خداتعالیٰ کے متعلق احساسِ۔تقرّب پیدا نہیں ہوتا، اگر ہمارا دل خداتعالیٰ کی طرف مائل نہیں ہوتا تو اس کے معنے یہ ہیں کہ چیز تو موجود ہے لیکن ہمارے اندر بیماری ہے۔ جیسے صفراء کی وجہ سے انسان میٹھی چیز کو بھی کڑوا محسوس کرتا ہے یا موتیا کی وجہ سے آنکھوں کے ہوتے ہوئے نظر نہیں آتا۔ اسی طرح سارے سامان موجود ہونے کے باوجود ہم ان سے فائدہ اُٹھانے سے محروم ہیں اور اس کا علاج بھی دعا ہی ہے۔درحقیقت دعا پہلے بھی آ جاتی ہے اور بعد میں بھی آ جاتی ہے۔ جب ایسی حالت پیدا ہو جائے تو اس کا علاج بھی دعا ہی ہوتی ہے۔
    کہتے ہیں کوئی بوڑھا آدمی تھا۔ وہ ایک طبیب کے پاس گیا۔ وہ اسّی نوّے سال کی عمر کا تھا۔ اس نے طبیب سے کہا مجھے یہ یہ بیماری ہے۔ اس کا کوئی علاج بتائیں۔ طبیب نے خیال کیا کہ اب اس کا کیا علاج ہو سکتا ہے۔ اُس نے مریض سے کہا یہ تو تقاضائے عمر ہے۔ اس مریض نے خیال کیا کہ باوجود اِس کے کہ میں طبیب کے پاس کھڑا ہوں اور اسے اپنی بیماری بھی بتا رہا ہوں لیکن وہ میری طرف متوجہ نہیں ہوا۔ تو شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اسے پوری طرح اپنی طرف متوجہ نہیں کر سکا۔ اس نے پانچ سات اَور بیماریاں بتا دیں۔ طبیب نے کہا یہ بھی تقاضائے عمر ہے۔ جب طبیب کو پھر بھی توجہ نہ ہوئی تو اس نے پانچ سات اَور بیماریاں بیان کر دیں۔ اِس پر بھی طبیب نے کہا یہ بھی تقاضائے عمر ہے۔ اِس پر مریض کو غصہ آگیا اور اُس نے کہا تم بے ایمان اور خبیث انسان کو کس نے طبیب بنایا ہے۔ میں بکواس کرتا جا رہا ہوں اور تم یہی کہے چلے جاتے ہو کہ یہ سب تقاضائے عمر ہے۔ وہ طبیب دانا تھا۔ جب وہ مریض غصہ میں آ گیا تو اُس نے کہا یہ بھی تقاضائے عمر ہے۔ تو جس طرح اُس طبیب نے تقاضائے عمر کو ہر جگہ چسپاں کیا تھا اِسی طرح ہم اگر سوچیں اور غور کریں تو ہمیں بھی ہر جگہ یہی کہنا پڑتا ہے کہ یہ موقع بھی دعا کا ہے۔ اگر پہلے موقع سے ہم نے فائدہ نہیں اُٹھایا تو اِسی موقع سے ہی فائدہ اُٹھا لیں کیونکہ جہاں دعا نشان دکھاتی ہے وہاں نشان کے محسوس کرنے کا رستہ بھی دعا ہی کھولتی ہے اور ہمارے ایمان کے رستہ میں جو روک ہو اُسے بھی دعا ہی دور کرتی ہے۔ پس ہمیں اِس مبارک زمانہ سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ خداتعالیٰ نے کھڑکیاں کھول دی ہیں اور۔اپنے تقرّب کے رستہ کو آسان بنا دیا ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم اِن ذرائع سے فائدہ اُٹھائیں تا ہم جھولیاں بھر کر ان کھڑکیوں سے گزریں اور تا ہم اس کی رحمت اور فضل سے مالامال ہو جائیں جس سے دوسری دنیا محروم ہو چکی ہے‘‘۔
    (المصلح 18فروری 1954ئ)

    1
    :
    اُریبوی:ترچھی(فیروز اللغات جامع فیروز سنز لاہور)


    مبارک ہیں وہ لوگ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور۔اسلام کی حفاظت کے لیے اس وقت قربانی کریں اور۔اِس خدمت کو انعام سمجھیں
    (فرمودہ 5 فروری1954ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’آج فروری کے مہینہ کی پانچ تاریخ ہو چکی ہے اور تحریکِ جدید کے وعدوں کی آخری میعاد 15فروری ہے۔ میں نے 22 جنوری کو تحریکِ جدید کے متعلق ایک خطبہ بیان کیا تھا اور جماعت کو تحریک کی تھی کہ فروری کا پہلا ہفتہ تحریک جدید کے لیے وقف کیا جائے اور تمام جماعتیں اپنی اپنی جگہ پر تمام افراد سے وعدے لینے کی کوشش کریں کیونکہ اِس سال وعدوں کی رفتار بہت کم ہے۔ میرا یہ خطبہ جنوری کے آخر میں شائع ہو گیا لیکن مجھے صرف راولپنڈی کی جماعت کی طرف سے یہ اطلاع ملی ہے کہ ہفتہ تحریک جدید کے لیے ایک پروگرام مقرر کیا گیا ہے۔ الگ الگ حلقے تجویز کیے گئے ہیں اور چند آدمیوں پر مشتمل ایک وفد بنایا گیا ہے جو جماعت کے تمام افراد تک جائے گا اور اُن سے تحریکِ جدید کے وعدے لے گا۔ باقی۔جماعتوں کی طرف سے مجھے کوئی اطلاع نہیں ملی حتّٰی کہ ربوہ کی جماعت کی طرف سے بھی مجھے کوئی اطلاع نہیں ملی۔جہاں کی جماعت نے میرا یہ خطبہ 22 جنوری کو سن لیا تھا۔ اور نہ اس نے اپنی کوششوں کے نتیجہ سے مجھے مطلع کیا ہے اور عملاً میں دیکھتا ہوں کہ اِس عرصہ میں بجائے اس کے کہ جو خلیج پچھلے سال کے وعدوں اور اِس سال کے وعدوں میں تھی کم ہوتی، وہ اَور بھی بڑھ گئی ہے۔ میرے لاہور جانے سے قبل یہ خلیج آہستہ آہستہ دور ہو رہی تھی اور دورِدوم کے پچھلے سال کے وعدوں اور اِس سال کے وعدوں میں صرف ایک ہزار کا فرق رہ گیا تھا۔ لیکن دفتر کی طرف سے جو کل رپورٹ ملی ہے اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فرق اب بجائے اَور کم ہونے کے، بڑھ گیا ہے اور اب پچھلے سال کے وعدوں اور اس سال کے وعدوں میں نَو۔ہزار کا فرق ہو گیا ہے۔ گویا بجائے ترقی کرنے کے آٹھ ہزار کے قریب جماعت اَور نیچے گر گئی ہے۔ دَورِ۔اوّل والے اِس بات کی ضرورت نہیں سمجھتے کہ وہ جلدجلد مجھے وعدوں کی رفتار کے متعلق اطلاع بہم پہنچائیں۔ وہ خاموشی کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔ پندرہ سولہ دن کے بعد مقابلہ کرتے ہیں اور مجھے اطلاع دیتے ہیں لیکن دفتر دوم والے کچھ دنوں سے روزانہ پچھلے سال کے وعدوں اور اِس سال کے وعدوں کا مقابلہ کرتے ہیں اور مجھے اطلاع دیتے ہیں۔ جس وقت دَورِ۔اوّل کے کارکنوں نے مجھے اطلاع دی تھی اُس وقت دَورِ۔اوّل کے پچھلے وعدوں اور اس سال کے وعدوں میں اکیس ہزار کا فرق تھا۔ اب یقینی طور پر تو نہیں کہا جا سکتا کہ اب یہ فرق کس قدر ہے۔ لیکن اگر پچھلے دنوں دورِاوّل کے وعدوںمیں بھی اِسی قدر فرق پڑا ہے جس قدر فرق دَورِ۔دوم کے وعدوں میں پڑا۔ تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں دَوروں کے پچھلے سال کے وعدوں اور اِس سال کے وعدوں میں قریباً چالیس ہزار کا فرق پڑ گیا ہے۔ یا یوں کہو کہ اس سال کے وعدے پچھلے سال سے بیس فیصدی کم آئے ہیں۔٭اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ابھی وعدوں کی میعاد میں دس دن اَور ہیں اور وعدوں کے آنے میں ابھی پندرہ دن باقی ہیں کیونکہ چارپانچ دن ڈاک پر بھی لگ جاتے ہیں۔ مثلاً جنہوں نے پندرہ فروری کو وعدے لکھوائے ہیں وہ وعدے 16 فروری کو ڈاک میں پڑیں گے اور 17، 18یا 19تاریخ کو یہاں پہنچیں گے۔ پھر بعض دیہات میں ہفتہ میں ایک دفعہ ڈاک جاتی ہے۔ اس لیے وہاں کی جماعتوں کے وعدے 22 یا 23 کو یہاں پہنچیں گے۔ گویا ابھی وعدوں کی میعاد میں پندرہ دن یقینی ہیں لیکن پچھلے سال کے وعدوں کی رفتار اگر قائم رہتی تو ہم سمجھتے باقی دنوں میں وعدے پچھلے سال تک پہنچ جائیں گے۔ لیکن پچھلے سال کے وعدوں کی رفتار کے لحاظ سے بھی ابھی ایک لاکھ چالیس ہزار کے وعدے باقی ہیں۔ پچھلے سال اِن دنوں میں تحریک جدید کے وعدے بڑی سُرعت سے بڑھے تھے۔ پچھلے سال کی کاپی دیکھی گئی تو یکم فروری کو نو ہزار آٹھ سَو کے وعدے آئے تھے لیکن اِس سال صرف تیرہ سَو کے وعدے آئے ہیں۔ گویا ایک ہی دن میں ساڑھے آٹھ ہزار کا فرق پڑ گیا۔ چونکہ مجھے دَورِاوّل کے وعدوں کی اطلاع ابھی نہیں آئی اور نہ آیا کرتی ہے، دورِدوم کے وعدوں کی اطلاع آئی ہے اور پہلے بھی آیا کرتی تھی اِس لیے دورِدوم کے وعدوں کی رفتار پر قیاس کرتے ہوئے میں کہوں گا کہ پچھلے سال اور اس سال کے وعدوں میں چالیس ہزار کا فرق پڑ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ باقی پندرہ دنوں میں اَور کتنا فرق پڑے گا۔
    اِس کے بعد کچھ وعدے امریکہ کی جماعتوں کے ہیں اور کچھ ویسٹ اور ایسٹ افریقہ کی جماعتوں کے، مگر اُن کی مقدار بہت کم ہوتی ہے اور ان وعدوں میں زیادہ فرق پیدا نہیں کرتی کیونکہ ان ممالک میں جماعتیں ابھی بہت کم ہیں سوائے انڈونیشیا کی جماعتوں کے کہ اُن کے وعدوں کی تعداد چالیس ہزار روپیہ (پاکستانی) کے قریب سالانہ ہوتی ہے۔ لیکن ہم ان کو اپنے حساب میں شامل نہیں کرتے۔ کیونکہ وہاں کام بہت زیادہ ہے اور اس لحاظ سے اخراجات بھی زیادہ ہیں۔ اس لیے ہم وہاں سے روپیہ مرکز میں نہیں منگواتے بلکہ اُسے وہیں خرچ کرتے ہیں۔ اِسی طرح ایسٹ اور ویسٹ افریقہ کی جماعتوں کا چندہ بھی اچھا خاصا ہوتا ہے لیکن ان کے علاوہ باقی غیرملکی جماعتوں کے چندے بہت کم ہوتے ہیں۔ بہت زور دینے کے بعد اب انگلستان کی جماعت میں چندہ کی طرف کچھ توجہ پیدا ہوئی ہے اور ایک دو نئے احمدی ایسے ہوئے ہیں جو چندہ دینے لگے ہیں۔ پہلے سار ے نَومسلم چندہ دینے سے گریز کرتے تھے۔ جرمنی سے بھی خط آیا ہے کہ وہاں لوگ چندہ دینے لگ گئے ہیں۔ ان کی مالی حالت بہت۔خراب ہے لیکن بہرحال وہ چندے دے رہے ہیں۔ اگرچہ وہ چندہ ان کی آمد کے لحاظ سے بہت کم ہوتا ہے۔ اب ایک دوست نئے احمدی ہوئے ہیں وہ اڑھائی پونڈ یعنی قریباً پچیس روپے ماہوار چندہ دیتے ہیں۔ شام کی جماعتوں کے دوست بھی چندہ دیتے ہیں لیکن اب وہاں ایسی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں کہ چندہ کی رقوم دوسرے ممالک میں نہیں جا سکتیں۔ حکومت کی طرف سے ایسے قواعد مقرر کر دیئے گئے ہیں کہ شاید ملک میں بھی چندہ کی رقوم جمع نہ ہو سکیں۔باقی جماعتوں میں چندہ کی فراہمی قریباً صفر ہے۔ انڈونیشیا، امریکہ، ایسٹ افریقہ، ویسٹ افریقہ اور ان سے اُتر کر شام، یہ ممالک ہیں جن کے اِس وقت تک چندے آئے ہیں یا ہمارے حساب میں محسوب ہوتے ہیں۔ چھوٹی جماعتوں میں سے سیلون، برما اور ملایا کی جماعتیں ہیں جن کے افراد چندہ دیتے ہیں لیکن چونکہ ان ممالک میں جماعتیں بہت کم تعداد میں ہیں اِس لیے چندے بھی کم مقدار میں آتے ہیں۔ فی الْحال یہ سارا بوجھ پاکستان کی جماعتوں پر ہے۔ یا یوں کہہ لو کہ اشاعتِ اسلام کے لیے چندہ دینے کا فخر ابھی تک صرف پاکستان کی جماعتوں کو حاصل ہے۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ میں سے ایک صحابیؓ سے کسی نے پوچھا کہ آپ صحابہ میں سے سب سے زیادہ بہادر کس کو سمجھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا سب سے زیادہ بہادر وہ شخص ہوتا تھا جو لڑائی کی صفوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کھڑا ہوتا تھا۔ اُس نے کہا کیوں؟ اُس صحابیؓ نے جواب دیا اِس لیے کہ کفار جب اسلامی لشکر پر حملہ کرتے تھے تو وہ جانتے تھے کہ اسلام کی روحِ رواں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارک ہے۔ اگر ہم آپ کو مار دیں گے تو اسلام ختم ہو جائے گا۔ کفار، اسلام کو خداتعالیٰ کا مذہب نہیں سمجھتے تھے بلکہ وہ آپ ہی کی ذات کی طرف اسے منسوب کرتے تھے۔ اس لیے وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم آپ کو ماریں گے تو اسلام باقی نہیں رہے گا۔ اس لیے وہ اپنا سارا زور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک پہنچنے میں خرچ کر دیتے تھے۔ پس جنگ کی صفوں میں خطرناک ترین جگہ وہ ہوتی تھی جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کھڑے ہوتے تھے۔ چاروں طرف سے دشمن فوج کے بہادر اور جری لوگ اُس جگہ کی طرف لپکتے تھے۔ جو لوگ آگے۔پیچھے ہوتے انہیں زیادہ دباؤ برداشت نہیں کرنا پڑتا تھا۔ حملہ، باربار وہیں ہوتا تھا جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے تھے۔ چنانچہ اُحد کی جنگ کے موقع پر جب دشمن لشکر کے تیراندازوں نے اپنے تیروں کا رُخ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھیر دیا تو حضرت طلحہؓ۔۔آپؐ کے آگے کھڑے ہو گئے۔ سارے تیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آ رہے تھے۔ حضرت طلحہؓ اُن تیروں کو اپنے ہاتھوں پر لیتے رہے۔ یہاں تک کہ تیر اِتنی کثرت سے اُن کے ہاتھ پر لگے کہ آپ کا ایک ہاتھ بالکل بیکار ہو گیا۔1 جب حضرت علیؓ اور حضرت عائشہؓ کے درمیان جنگ ہوئی تو حضرت عائشہؓ کے لشکر میں زیادہ کام کرنے والے حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ ہی تھے۔ خصوصاً حضرت طلحہؓ نے حضرت عائشہؓ۔۔کو بچانے میں بہت زیادہ حصہ لیا لیکن جب لشکر واپس آیا تو ایک صحابی نے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا طلحہ! آپ کو یاد ہے کہ ایک موقع پر آپ، میں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے۔ اس وقت رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم نے آپ کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ طلحہ! تمہارا اُس وقت کیا حال ہو گا جب تُو۔ علی کے مقابلہ میں لڑائی میں شامل ہو گا اور تم غلطی پر ہو گے۔ حضرت طلحہؓ۔۔کو بھی وہ واقعہ یاد آگیا۔ آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔ اچھا ہوا کہ آپ نے مجھے یہ بات یاد دلا دی۔ میں اب حضرت علیؓ کے مقابلہ میں لڑائی میں حصہ نہیں لوں گا2۔ چنانچہ وہ رات کو جنگی کیمپ سے چل پڑے تا صبح کے وقت لوگ انہیں لڑائی میں شامل ہونے کے لیے تنگ نہ کریں۔ کوئی بدبخت آدمی تھا جو بظاہر حضرت علیؓ کے لشکر سے تعلق رکھتا تھا۔ اُس نے حضرت طلحہؓ۔۔۔کو اکیلے جاتے دیکھا تو وہ آپ کے پیچھے پیچھے گیا۔ جب آپ لشکر سے دور پہنچے تو اُس نے حملہ کر کے آپؐ۔۔کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد وہ شخص حضرت علیؓ کے پاس آیا اور کہا آپ کو مبارک ہو۔ میں نے آپ کا دشمن مار دیا ہے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کون دشمن؟ اس نے کہا طلحہ۔ حضرت علیؓ نے فرمایا تم کو بھی مبارک ہو کہ خداتعالیٰ تم کو دوزخ میں ڈالے گا۔ اُس نے کہا کیوں؟ میں نے تو طلحہ کو آپ کی خاطر مارا ہے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص طلحہ کو مارے گا وہ دوزخی ہو گا۔3
    اِسی طرح کسی مجلس میں کسی شخص نے حضرت طلحہؓ کے متعلق کہا وہ ٹنڈا ایسا ہے۔ اور یہ کلمہ اُس نے حقارت سے کہا۔ اُس مجلس میںایک صحابیؓ بیٹھے تھے۔ انہوں نے یہ بات سُنی توکہا تجھے پتا ہے کہ تُو ٹنڈا کس کو کہہ رہا ہے اور تجھے پتا ہے کہ وہ ٹنڈا کیسے بنا؟ جنگ اُحد میں ایک موقع پر اسلامی لشکر تتربتّر ہو گیا۔ دشمن کے تیروں کا سارا زور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف تھا۔ کسی شخص کو جرأت نہیں تھی کہ ان تیروں کے سامنے کھڑا ہوتا لیکن حضرت طلحہؓ آگے آئے اور انہوں نے سارے تیر اپنے ہاتھوں پر لیے۔ اس کی وجہ سے ان کا ہاتھ ٹنڈا ہو گیا۔ آپ تیرانداز تھے۔ آپؓ دشمن پر تیر بھی چلاتے تھے اور جب دشمن کی طرف سے تیر آتے تو آپ انہیں اپنے ہاتھوں پر لیتے۔ اس لیے آپ کے اس ہاتھ کا گوشت اور ہڈیاں کچلی گئیں۔ اُس صحابی نے کہا اب تجھے پتا لگ گیا کہ ان کا ہاتھ کس طرح ٹنڈا ہو گیا۔ اور تُو یہ بھی سن لے کہ جب دشمن کے تیرانداز رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف تیر پھینکتے تھے تو حضرت۔طلحہؓ انہیں اپنے ہاتھ پر روکتے تھے اور جو تیر گرتے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم انہیں اُٹھاتے۔ اور چونکہ اُس وقت طلحہ ہی ایک شخص تھے جو آپؐ کی حفاظت کر رہے تھے رسول۔کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تیر اُٹھاتے اور طلحہؓ سے مخاطب ہو کر فرماتے۔ طلحہ! تجھ پر میرے ماں باپ قربان! یہ تیر لے اور دشمن پر چلا۔4 جس شخص کے متعلق رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وآلہٖ وسلم یہ فرماتے تھے کہ تجھ پر میرے ماں باپ قربان اُسے تُو ٹنڈا کہہ رہا ہے!!
    غرض اس صحابیؓ نے بتایا کہ جو شخص جنگ کی صفوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قرب میں کھڑا ہوتا وہ سب سے زیادہ بہادر کہلاتا تھا۔ اس لیے کہ وہ سب سے زیادہ بوجھ اُٹھاتا تھا
    سو تم بھی کہہ سکتے ہو کہ اِس وقت اسلام کی جنگ میں دوسرے ملک اور قومیں اُس طرح مالی قربانی نہیں کرتیں جس طرح کی قربانی کے لیے ہمیں کہا جا رہا ہے۔ تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ اُن پر وہ بوجھ نہیں جو ہم پاکستانیوں پر ہے۔ لیکن تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وآلہٖ وسلم اور اسلام کی حفاظت کے لیے حضرت طلحہؓ۔۔کی طرح قربانی کرنے کا جو۔موقع ہمیں دیا گیا ہے وہ دوسروں کو نہیں دیا گیا۔ تم اِن دونوں تشریحوں میں سے ایک تشریح۔کر۔سکتے ہو۔ اگر تمہارا ایمان کمزور ہے تو تم کہہ سکتے ہو کہ ہم پر جتنا بوجھ ہے وہ دوسری۔قوموں۔پر۔نہیں۔ لیکن اگر تمہارا ایمان مضبوط ہے تو تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ کئی قومیں بعد میں آئیں گی اور یہ بوجھ اُٹھائیں گی لیکن آج ہم اکیلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور۔اسلام کے سامنے کھڑے ہو کر تیر کھا رہے ہیں۔ اور حقیقت یہی ہے کہ وہ شخص جو اِس وقت اِس قربانی میں حصہ لیتا ہے وہ خداتعالیٰ کے نزدیک ایسے ہی مقام پر کھڑا ہے جس مقام پر حضرت طلحہؓ جنگِ اُحد کے موقع پر کھڑے تھے۔ آج بھی اسلام پر دشمن کی طرف سے تیر پڑ رہے ہیں۔ جو شخص اشاعتِ اسلام میں حصہ لیتا ہے وہ اپنی چھاتی پر تیر کھاتا ہے۔ اور وہ اُس مقام پر کھڑا ہوتا ہے جس پر حضرت طلحہؓ۔۔کھڑے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اُس کے متعلق فرما رہے تھے کہ تجھ پر میرے ماں باپ قربان! تُو اَور قربانی کر۔ یہ خوش قسمتی کے دن کبھی کبھی آتے ہیں اور کسی کسی قوم کو ملتے ہیں۔ پس مبارک ہیں وہ لوگ جو اِن دنوں سے فائدہ اُٹھائیں اور مبارک ہیں وہ لوگ جو اِس خدمت کو انعام سمجھیں نہ کہ بوجھ۔
    چونکہ یہ خطبہ دیر سے شائع ہو گا اور وعدوں کی میعاد قریب الاختتام ہو گی اس لیے دوستوں کو کام کا مزید موقع دینے کے لیے میں وعدوں کی آخری میعاد 15فروری کی جگہ 23فروری مقرر کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ احباب کو توفیق بخشے کہ وہ زیادہ سے زیادہ خدمتِ دین اور اشاعتِ اسلام میں حصہ لے سکیں۔ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْن۔‘‘
    (المصلح9فروری 1954ئ)

    1
    :
    بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ اُحد
    2
    :
    البدایہ والنہایہ لابن کثیرجلد 3جزئ6صفحہ205۔قاہرہ2006ء اور تاریخ الطبری جلد3صفحہ41بیروت لبنان1971ء میں یہ حوالہ حضرت زبیرؓ کے حوالہ سے ملتا ہے۔
    3
    :
    طبقات ابن سعدجلد2صفحہ64کراچی2012(مفہومًا)
    4
    :
    صحیح البخاری کتاب المغازی باب غزوۃ اُحدٍاور اسد الغابہ جلد اول صفحہ840’’سعد بن مالک‘‘میں یہ واقعہ حضرت سعدؓ کے حوالہ سے ملتا ہے۔

    جماعت کے مخلص دوست اپنا پورا زور لگائیں کہ۔ہر۔۔احمدی تحریک جدید میں حصہ لے
    (فرمودہ 12فروری1954ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’میں پچھلے دو ہفتوں سے تحریک جدید کے متعلق خطبات دے رہا ہوں۔ اِس جمعہ پر بھی مَیں اِسی سلسلہ میںکچھ باتیں کہنی چاہتا ہوں۔ پچھلے جمعہ میں مَیں نے بتایا تھا کہ گزشتہ سال کے تحریک جدید کے وعدوں سے اِس سال کے وعدوں کا فرق قریباً پچاس ہزار کا تھا۔ آخری ایام میں خداتعالیٰ کے فضل سے جماعت نے اچھی کوشش کی ہے اور تحریکِ جدید کا جو۔ہفتہ منایا گیا تھا اس میں جماعت کے دوستوں نے خوب سرگرمی سے کام کیا۔ چنانچہ جماعتوں کی طرف سے جو رپورٹیں آئی ہیں اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سی جماعتوں میں بیداری پیدا ہو رہی ہے اور اب کُل فرق پچاس ہزار سے اُتر کر تیس ہزار کا رہ گیا ہے اور کل سے اِس وقت تک جو وعدے وصول ہوئے ہیں اُن کا اندازہ کرتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ غالباً یہ فرق پچیس ہزار سے بھی کم رہ جائے گا۔ ابھی نئی مقرر کردہ تاریخ کے لحاظ سے وعدوں۔میں دس دن باقی ہیں اور وعدوں کے یہاں پہنچنے میں بھی پانچ دس دن لگ جائیں گے۔ اگر ان دنوں میں بھی جماعت کے احباب اُسی طرح کوشش کرتے رہے جس طرح وہ پہلے چند دن کرتے رہے ہیں تو مجھے یقین ہے کہ نہ صرف وہ فرق دور ہو جائے گا جو اِس سال کے وعدوں میں اور پچھلے سال کے وعدوں میں ہے بلکہ اِس سال کے وعدے پچھلے سال کے وعدوں سے بڑھ جائیں گے۔٭
    میں دیکھتا ہوں کہ بیرونی ممالک میں اسلام کی تڑپ پیدا ہو رہی ہے اور یہ تڑپ نہ۔صرف غیرمسلم ممالک میں پیدا ہو رہی ہے بلکہ مسلم ممالک میں بھی پیدا ہو رہی ہے اور ان میں یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ وہ اپنے بچے غیرملکوں میں بھیجیں تا کہ وہ دینی تعلیم حاصل کریں اور اِس طرح وہ اپنے علاقوں میں اسلام کو مضبوط کر سکیں۔ چنانچہ پرسوں ہی مجھے سوڈان کی جماعتِ۔اسلامیہ کی طرف سے چٹھی آئی ہے کہ آپ اپنی جماعت کی طرف سے ہمارے کچھ لڑکوں کو وظیفے دیں تا کہ وہ دوسرے ممالک میں جا کر اسلام کی تعلیم حاصل کر سکیں اور اس طرح نہ صرف ہر سال ہمارے ملک کی تعلیم ترقی کرے بلکہ اسلامی ممالک سے ہمارے تعلقات بھی مضبوط ہوں۔ ہر ملک میں کچھ خصلتیں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے وہ اپنے قرب۔و۔جوار کے علاقہ میں ایک فضیلت حاصل کر لیتا ہے۔ مثلاً یورپ کے ملکوں میں ذاتی کریکٹر اور محنت کی عادت ایسی پائی جاتی ہے جو ابھی تک ایشیائی ممالک میں پیدا نہیں ہو سکی۔ وہاں لوگ اس قدر محنت کرتے ہیں کہ اُن کے آگے ہمارے ملک کے رہنے والوں کی محنت بالکل ہیچ نظر آتی ہے۔ اگر ہمارے سامنے خداتعالیٰ کے وعدے نہ ہوں تو انہیں دیکھ کر ہمیں مایوسی ہوتی ہے کہ اُن حالات میں ہم اُن کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں۔ ان کے عورت، مرد اور۔بچے سب کام میں لگے ہوئے ہوتے ہیں۔ اُن کے دلوں میں امنگیں پائی جاتی ہیں اور ان میں سے کوئی شخص نہیں چاہتا کہ وہ اپنے مقام پر ہمیشہ کھڑا رہے۔ یا ہمارے ملک کے لوگوں کی طرح یہ نہیں چاہتا کہ دوسرے لوگ اسے سہارا دے کر کھڑا کریں۔ ہمارے ملک میں اگر کوئی شخص ذرا سی تکلیف میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے تو وہ اپنے دائیں بائیں دیکھنے لگ جاتا ہے۔ اور۔پھر اسلامی تعلیم کی کمی کی وجہ سے چونکہ مذہب کا مادہ کم ہو گیا ہے اس لیے وہ یہ نہیں کرتا کہ اپنے نمونہ سے لوگوں کے اندر مدد کی تڑپ پیدا کرے بلکہ لوگوں کے خلاف یہ پروپیگنڈا شروع کر دیتا ہے کہ وہ اس کی مدد نہیں کرتے۔
    ہمارے ملک کی حالت ایسی ہو رہی ہے جیسے لطیفہ مشہور ہے کہ کوئی سپاہی کسی سڑک سے گزر رہا تھا کہ اُس کے کان میں آواز آئی کہ میاں! اِدھر آؤ، میاں! اِدھر آؤ۔سڑک کے قریب ہی جنگل تھا جس سے آواز آ رہی تھی۔ وہ سڑک چھوڑ کر جنگل کی طرف گیا اور اس نے دیکھا کہ دو آدمی لیٹے ہوئے ہیں۔ اُس نے اُن سے دریافت کیا کہ تم پر کیا مصیبت پڑی ہے جس کی وجہ سے تم نے مجھے بلایا ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا یہاں اوپر کی بیری سے ایک بیر گر کر میرے سینہ پر آ پڑا ہے تم یہ بیر اُٹھا کر میرے منہ میں ڈال دو۔ سپاہی کو غصہ آیا کہ اتنی چھوٹی سی بات کے لیے اسے تکلیف دی گئی ہے اور اس کا سفر خراب کیا گیا ہے۔ چنانچہ سپاہی اُس سے تُرشی سے پیش آیا اور اُس نے کہا تم بڑے بے حیا اور بے شرم ہو۔ کیا تم خود بیر اُٹھا کر منہ میں نہیں ڈال سکتے تھے؟ اِس پر دوسرا شخص کہنے لگا میاں! جانے دو۔ کیوں ناراض ہوتے ہو؟ اِس شخص کی حالت ہی ایسی ہے۔ ساری رات کُتّا میرا منہ چاٹتا رہا لیکن اس کمبخت سے اتنا بھی نہیں ہوا کہ اسے ہُشت کرتا۔ یہ بات سُن کر سپاہی بالکل مایوس ہو گیا اور اُس نے سمجھ لیا کہ انہیں کچھ کہنا بے فائدہ ہے۔ چنانچہ وہ اپنے سفر پر چلا گیا۔ ہمارے سارے ملک کی یہی حالت ہے۔ ہر شخص یہ امید کرتا ہے کہ اُسے دوسرے لوگ اُٹھائیں۔ اور اگر دوسرے لوگ اُسے نہیں اُٹھاتے تو اُسے اُن سے شکوہ ہوتا ہے۔
    اور میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے۔ سینکڑوں آدمی ایسے ہیں جو جماعت کے وظائف سے پڑھ کر انٹرنس تک تعلیم حاصل کر چکے ہیں یا وہ بی۔اے یا ایم۔اے ہو چکے ہیں لیکن پھر بھی وہ یہ شکوہ کرتے ہیں کہ جماعت نے ان کی پوری مدد نہیں کی۔ انہیں یہ کبھی خیال نہیں آتا کہ جن لوگوں نے انہیں مدد دی ہے اُن کی حالت بھی اُن جیسی ہی ہے۔ کئی لوگ ایسے ہیں جنہوں نے چندے دیئے اور اِس مالی بوجھ کو برداشت کرنے کی وجہ سے انہوں نے اپنے بچوں کی تعلیم خراب کر لی۔ اور پھر اگر وہ اپنے خرچ پر پڑھتا تو شاید انٹرنس پاس کر لیتا یا ایف۔اے کر لیتا لیکن جماعت کی مدد سے اُس نے بی۔اے یا ایم۔اے پاس کر لیا ہے۔ مگر بجائے اِس کے کہ وہ احسان مند ہو اور یہ ارادہ کر لے کہ اب وہ دوسروں کو تعلیم کے سلسلہ میں مالی مدد دے گا وہ جماعت سے اِس بات کا شکوہ کرتا ہے کہ اس نے پوری طرح اُس کی مدد نہیں کی۔ دوسرے ملکوں میں یہ بات نہیں پائی جاتی۔ جماعتیں اور سوسائیٹیاں تو الگ رہیں وہ لوگ ماں باپ سے بھی مدد نہیں لیتے۔
    ایک دفعہ چودھری ظفراللہ خاں صاحب نے مجھے ایک قصہ سنایا۔ جب وہ پہلی دفعہ امریکہ گئے اُس وقت وہ وزیر نہیں ہوئے تھے۔ اب تو اُن کی تقریروں اور خدمات کی وجہ سے ایک خاص اثر قائم ہو چکا ہے لیکن جب وہ نئے نئے امریکہ گئے تھے تو اُس وقت ہمارے مبلغوں کی امداد بھی ان کے لیے بڑی کارآمد ہوتی تھی۔ ایک دن انہوں نے سیر کے لیے باہر جانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے مبلغ سے کہا کہ وہ انہیں کوئی ایسا آدمی دے جو سیر کرا دے۔ چنانچہ مبلغ نے انہیں چودہ پندرہ سال کا ایک لڑکا دیا اور کہا کہ یہ ہوشیار لڑکا ہے، یہ آپ کو سیر کرا دے گا۔ وہ لڑکا چودہ پندرہ سال کا تھا یا سولہ سترہ سال کا۔ بہرحال اُس کی عمر تعلیمی تھی۔ چودھری صاحب نے بتایا کہ اُس لڑکے کی باتوں سے پتا لگتا تھا کہ وہ نوکری کرتا ہے اور اُس کی باتوں سے یہ بھی پتا لگتا تھا کہ اُس کا باپ اچھا مالدار ہے۔ چودھری صاحب نے بتایا کہ میں نے اُس لڑکے سے کہا میاں! تمہارا باپ مالدار ہے وہ تمہیں تعلیم کیوں نہیں دلاتا؟ اِس پر مجھے یوں محسوس ہوا کہ گویا اُس کی ہتک ہو گئی ہے اور وہ بڑے جوش سے کہنے لگا میں کسی کی مدد۔کیوں لوں؟ میرا باپ اپنی محنت سے بڑا بنا ہے، میں بھی اپنی محنت سے بڑا بنوں گا۔ مجھے۔کسی۔سے مدد لینے کی ضرورت نہیں۔٭ یہی وجہ ہے اُن کے اِس قدر ترقی کر جانے کی۔ ان کے بڑے آدمیوں کو دیکھ لو۔ ان میں سے اکثر ایک کنگال شخص کی حیثیت سے اُٹھے ہیں۔
    ہمارے بڑے بھائی میرزاسلطان احمد صاحب مرحوم جو مرزا عزیز احمد صاحب کے والد تھے ابھی احمدی نہیں ہوئے تھے کہ وہ یورپ گئے۔ انہوں نے بتایا کہ جب میں یورپ گیا تو ایک شہر میں چند دوستوں سے مل کر ایک مکان کرایہ پر لیا۔ ایک لڑکی اُس مکان والوں کی خدمت کیا کرتی تھی۔ ایک دن انہوں نے دیکھا کہ لڑکی رو رہی ہے اور اس کی آنکھیں رونے کی وجہ سے سُوجی ہوئی ہیں۔ ہم نے سمجھا کہ شاید اس کا کوئی رشتہ دار مر گیا ہے جس کی وجہ سے وہ رو رہی ہے۔ چنانچہ ہم نے اُس سے دریافت کیا کہ اُس کے رونے کا کیا سبب ہے؟ تو۔اُس نے بتایا کہ اُسے جو تنخواہ ملتی تھی وہ اُس کی جیب سے گر گئی ہے۔ ہم جانتے تھے کہ اس لڑکی کے والدین کماتے تھے بیکار نہیں تھے۔ چنانچہ ہم نے اُس لڑکی سے کہا تم روتی کیوں ہو؟ تم لاوارث تو نہیں ہو۔ تمہارے والدین زندہ موجود ہیں اور وہ کماتے ہیں۔ تمہیں رونے کی کیا ضرورت ہے؟ تو اُس لڑکی نے ہمیں بتایا کہ میرے والدین مجھے ایک دن بھی روٹی نہیں دیتے۔ ہمارے ملک میں اس قسم کی کوئی مثال نہیں پائی جاتی۔ ماں باپ خود فاقے کریں گے اور اپنے بچوں کا پیٹ پالیں گے۔ لیکن یورپین ممالک میں بچوں میں حوصلہ پیدا کرنے کے لیے یہ طریق جاری ہے کہ جب بچے جوان ہو جاتے ہیں اور کام کاج کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں تو وہ اُن سے کہتے ہیں جاؤ! اور کما کر لاؤ۔ عام طور پر ماں باپ اپنے بچوں سے کھانے کا خرچ لیتے ہیں لیکن بعض لوگ بچوں سے مکان کا کرایہ تک بھی لیتے ہیں۔ وہ اُن سے کہہ دیتے ہیں کہ مکان کے ایک کمرہ میں تمہاری چارپائی بچھی ہے تم اُس جگہ کا کرایہ دو۔ لیکن ہمارے ہاں بچہ چھ سات سال کا ہوتا ہے تو پڑھنے کے لیے مدرسہ بھیجا جاتا ہے اور پھر وہ ہر سال فیل ہوتا جاتا ہے۔ اور بعض اوقات وہ بیس بیس، پچیس پچیس سال کی عمر کا ہو جاتا ہے لیکن اُس کے ماں۔باپ اُس پر خرچ کرتے ہیں اور اُس بچے کو یہ احسا س بھی نہیں ہوتا کہ وہ اپنی تعلیم ہی مکمل کر لے۔ پھر اکثر بچے ایسے ہوتے ہیں کہ جب وہ کمانے لگتے ہیں تو والدین کی مدد نہیں کرتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اُن پر صرف اپنی اولاد کی خدمت کرنا فرض ہے۔ اور بعض نوجوان تو ایسے ہوتے ہیں جو سینما دیکھتے ہیں، عیاشیاں کرتے ہیں لیکن جب کوئی ان سے کہے کہ میاں! تم اپنے والدین کو بھی کچھ بھیجا کرو تو وہ کہہ دیتے ہیں کوئی پیسہ بچے تو بھیجیں۔ کوئی پیسہ بچتا ہی نہیں۔ والدین کو کہاں سے دیں۔
    غرض ان ممالک کے حالات اِس قسم کے ہیں کہ اُن لوگوں کی محنت کو دیکھ کر مایوسی ہوتی ہے کہ ایسے حالات میں ہم انہیں شکست کیسے دیں گے۔ لیکن پھر بھی اُن کے اندر ایک احساس کمتری پیدا ہو رہا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی ایسی چیز ہے جو اُن کے پاس نہیں اور۔ایشیائیوں کے پاس ہے۔ یہ احساسِ۔کمتری ابھی زیادہ نمایاں نہیں کہ بڑے اور چھوٹے سب لوگوں میں پایا جائے لیکن تاہم ایک طبقہ اُن کے اندر ایسا پیدا ہو گیا ہے کہ جو سمجھتا ہے کہ اُن کے پاس دولت ہے، مال ہے لیکن انہیں دل کا چین نصیب نہیں۔ وہ لوگ شرابیں پیتے ہیں، سینما دیکھتے ہیں، ناچ اور گانوں میں دن گزارتے ہیں لیکن جب نشہ اُتر جاتا ہے اور وہ چارپائی پر جا کر لیٹتے ہیں تو انہیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر کوئی خلا پایا جاتا ہے اور وہ خلا سوائے تعلق باللہ اور دین کے اَور کوئی چیز پُر نہیں کر سکتی۔ دنیا کی ہر نعمت کو حاصل کر لینے کے بعد بھی اُن کے اندر یہ حسرت ہوتی ہے کہ کوئی چیز ایسی ہے جو اُنہیں حاصل نہیں اور وہ حاصل ہونی چاہیے۔
    خداتعالیٰ سے محبت ایک ایسی نعمت ہے کہ جب وہ کسی شخص کو مل جاتی ہے تو دنیا کے سارے غم مٹ جاتے ہیں اور اسے کوئی حسرت باقی نہیں رہتی۔اسے کسی چیز کی خواہش پیدا نہیں ہوتی۔ عارضی غم بیشک آتے ہیں مثلاً کسی کو کانٹا چُبھ جائے تو اس کے نتیجہ میں اُسے درد تو۔ہوتی ہے لیکن اُسے کوئی شخص بیماری نہیں کہتا۔ اِسی طرح عارضی تکلیفیں اور غم تو آتے ہیں لیکن یہ غم ان کے رستہ میں روک نہیں بنتے اور اپنے اپنے درجہ کے مطابق انہیں امن اور آرام حاصل رہتا ہے۔
    حضرت خلیفۃالمسیح الاول سنایا کرتے تھے کہ ایک بڑھیا تھی جو بہت نیک تھی۔ ایک دن میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں کسی طرح اُس کی مدد کروں۔ چنانچہ میں اُس بڑھیا کے پاس گیا اور اُس سے کہا کہ مائی! میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی ہے کہ میں کسی طرح تمہاری مدد کروں۔ تمہیں کوئی خواہش ہو تو مجھے بتاؤ تا میں اسے پورا کر کے دل کی خوشی حاصل کروں۔ اُس بڑھیا نے آپ کا نام لے کر کہا نورالدین! اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت کچھ دیا ہے مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ آپ نے کہا مائی! پھر بھی۔ تم غریب عورت ہو اگر کسی طرح میں تمہاری مدد کر سکوں تو یہ بات میرے لیے بڑی خوشی کا موجب ہو گی۔ مگر اُس بڑھیا نے پھر بھی یہی کہا اللہ تعالیٰ نے مجھے سب کچھ دیا ہے مجھے کسی اَور چیز کی خواہش نہیں۔ فلاں شخص کے گھر سے دو روٹیاں آ جاتی ہیں۔ ایک روٹی میں کھا لیتی ہوں اور ایک روٹی میرا بیٹا کھا لیتا ہے۔ اور ایک لحاف ہمارے پاس ہے جس میں ہم دونوں ماں بیٹا ایک دوسرے کی طرف پیٹھ کر کے سو جاتے ہیں۔ جب میرا بازو تھک جاتا ہے تو میں اپنے بیٹے سے کہہ دیتی ہوں بیٹا! ذرا کروٹ بدل لو!تو وہ کروٹ بدل لیتا ہے اور اِس طرح میں دوسرے پہلو پر سو جاتی ہوں اور۔جب لڑکے کا بازو تھک جاتا ہے تو وہ مجھ سے کہہ دیتا ہے ماں! ذرا کروٹ بدل لو، اور میں کروٹ بدل لیتی ہوں اور وہ دوسرے پہلو پر سو جاتا ہے۔ بیٹا! بڑے مزے ہیں۔ مجھے کسی اَور۔چیز کی ضرورت نہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ یہ بات سن کر مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ اِس قسم کی غربت میں بھی وہ کتنی خوش ہے۔ اِس کی وجہ یہی تھی کہ نیکی کی وجہ سے اُسے کسی قسم کی تکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرماتے تھے کہ میں نے پھر اصرار کیا کہ مائی! پھر بھی تمہیں کوئی خواہش ہو تو مجھے بتاؤ میں اسے پورا کر کے ثواب حاصل کر سکوں۔ اُس عورت نے کہا عمررسیدہ ہونے کی وجہ سے میری نظر کمزور ہو گئی ہے۔ میرے پاس جو قرآن کریم ہے وہ باریک لفظوں والا ہے میں تلاوت کرتی ہوں تو نظر تھک جاتی ہے۔ اگر تم موٹے الفاظ والا قرآن کریم لا دو تو میں اپنی خواہش کے مطابق زیادہ دیر تک تلاوت کر سکوں۔
    یہ حالت جو اطمینان کی ہوتی ہے دین کی وجہ سے نصیب ہوتی ہے اور اِس وجہ سے حاصل ہوتی ہے کہ انسان کو خداتعالیٰ نظر آ جاتا ہے۔ جب اُسے خداتعالیٰ نظر آ جاتا ہے تو دنیا کی سب چیزیں اُس کے سامنے سے ہٹ جاتی ہیں۔ دنیا کی کوئی چیز اُس کے اندر غم پیدا نہیں کرتی۔ کوئی چیز اُس کے دل کی طاقتوں کو توڑتی نہیں۔
    غرض یورپ کے لوگ یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ اُن کے پاس بیشک دولت ہے لیکن۔پھر بھی اُنہیں دل کا چین نصیب نہیں اور اسے حاصل کرنے کے لیے اُن کے اندر خواہش پیدا ہو رہی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان تک خداتعالیٰ کی آواز پہنچائی جائے تا وہ بھی اس پر غور کریں۔ اور غرباء میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اسے قبول کر لیتے ہیں۔ اِسی طرح تعلیم یافتہ لوگوں کو بھی اس طرف توجہ ہو رہی ہے۔ یہ چیز جو غیرممالک میں پیدا ہو رہی ہے اسے پورا کرنا ہماری جماعت کے سِوا اَور کسی کا کام نہیں۔ہم بیشک تھوڑے ہیں، غریب ہیں، کنگال ہیں۔ ہم میں سے بڑے سے بڑا دولت مند آدمی یورپ کے درمیانے درجہ کے لوگوں سے بھی نچلی حیثیت کا ہے۔ اُن کے ہاں درمیانے درجے کا آدمی لاکھ پتی ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں صرف چند ایسے آدمی ہیں جن کے پاس لاکھوں روپے ہیں اور وہ بھی لاکھ پتی نہیں کہلا سکتے۔ لاکھ۔پتی وہ ہوتا ہے جس کے پاس تیس۔چالیس لاکھ روپیہ ہو۔ پھر ان میں بہت سے کروڑپتی اور ارب پتی بھی ہیں اور ان کے پاس پچیس پچیس، تیس تیس ارب بلکہ اِس سے بھی زیادہ روپیہ ہے لیکن باوجود اِس کے اللہ تعالیٰ نے ہماری ہی جماعت کو توفیق دی ہے کہ اس کے قربانی کرنے والے افراد اس رنگ میں قربانی کرتے ہیں کہ حیرت آ جاتی ہے۔ لیکن ان کی قربانی ہمارے لیے تسلی کا موجب نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ جماعت کے بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ ان کے سامنے معجزات بھی ہیں، نشانات بھی ہیں، احمدیت کی تعلیم بھی ہے اور ہم نے خداتعالیٰ کو کھینچ کر۔اُن کے سامنے کر دیا ہے لیکن اُن کے دل کی گِرہیں ابھی کُھلی نہیں۔ جو وعدے آتے ہیں اُن سے بھی یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے۔ دفتر والوں نے وعدوں کے فارموں پر ایک خانہ ماہوار آمد کا بھی بنایا ہوا ہے۔ اُس خانہ کی وجہ سے قربانی کرنے والوں کی قربانی کا معیار واضح ہو جاتا ہے۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے ناموں کے آگے لکھا ہوا ہوتا ہے ماہوار۔آمد پچاس روپے، وعدہ تحریک جدید تیس روپے، چالیس روپے یاپینتالیس روپے اور بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی آمد اڑھائی تین سو روپیہ ماہوار ہوتی ہے اور وعدہ تحریک جدید پانچ روپے یا دس روپے ہوتا ہے۔ اِس سے اُن کی قربانی کے معیار کا پتا لگتا ہے۔ اگر اڑھائی سو روپیہ ماہوار آمد والا شخص دس روپے وعدہ لکھاتا ہے تو اِس کے معنے یہ ہیں کہ وہ سال میں ایک سَو ساٹھ آنے دیتا ہے۔ اور ایک سَو ساٹھ آنوں کو سال پر تقسیم کیا جائے تو ماہوار تیرہ چودہ آنہ کے درمیان پڑتا ہے۔ اور اگر ماہوار تنخواہ اڑھائی سَو روپیہ ہو تو اِس کے معنے یہ ہوئے کہ وہ چارپانچ آنہ فی سینکڑہ قربانی کرتا ہے۔ لیکن میں نے دفتر والوں کو ہدایت دی ہوئی ہے کہ اگر بڑی آمد والا شخص بھی پانچ روپے وعدہ لکھا دیتا ہے تو تم اس کا انکار نہ کرو۔ بعض دفعہ وہ گھبراتے ہیں اور کہتے ہیں ہم اسے دوبارہ لکھتے ہیں لیکن میں کہتا ہوں رہنے دو۔ اگر کوئی شخص نیکی کی طرف ایک قدم اُٹھاتا ہے تو میرا تجربہ ہے کہ وہ ہمیشہ آگے کی طرف بڑھتا جاتا ہے۔ اور یہ تجربہ اتنا لمبا ہے کہ صرف پہلے پانچ روپیہ کے متعلق مجھے فکر ہوتی ہے۔ جب کوئی شخص پانچ روپیہ دے دیتا ہے تو میں سمجھتا ہوں اب اُس کے نکیل پڑ گئی ہے۔ اسے لذت محسوس ہو گی تو یہی پانچ روپے اگلے سال پچیس یا پچاس روپے بن جائیں گے۔ میں نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں کہ چندہ کے وقت انہوں نے کہا ہم ایک پیسہ ماہوار چندہ دیں گے اور میں نے کہا اُن سے ایک پیسہ ہی لے لو اور انہیں ثواب سے محروم نہ کرو۔ پھر انہی لوگوں کو میں نے تین تین، چارچار سَو روپے ماہوار دیتے بھی دیکھا ہے کیونکہ آہستہ آہستہ دلوں کی کیفیت بدل گئی۔ میں امید کرتا ہوں کہ جماعت کے دوست اپنا پورا زور لگائیں گے کہ ہر احمدی تحریک۔جدید میں حصہ لے لے۔
    میں نے جو یہ قاعدہ مقرر کیا ہے کہ کم سے کم رقم وعدہ کی پانچ۔روپیہ ہو اِس میں بھی حکمت ہے۔ اگرچہ میں نے یہ اجازت دے دی ہے کہ اگر کوئی شخص پانچ۔روپے نہیں دے سکتا تو پانچ آدمی مل کر پانچ روپے دے دیں اور اگر وہ آٹھ آنے دے سکتا ہے تو دس آدمی مل کر پانچ روپے دے دیں۔ بلکہ چاہے تو اسّی آدمی ایک ایک آنہ دے کر پانچ روپیہ دے دیں لیکن کم سے کم وعدہ جو تحریک جدید میں لیا جائے وہ پانچ روپیہ ہو کیونکہ۔میں نے دیکھا ہے کہ جب کسی کو لذت حاصل ہو جائے تو اس کے بعد وہ بجائے پیچھے ہٹنے کے آگے بڑھتا ہے۔ سوائے اس کے کہ کوئی بالکل مُردہ ہو جائے اور ایسا شاذ ہوتا ہے۔ عام طور پر جب لذت پیدا ہو جاتی ہے تو انسان کے اندر یہ خواہش پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ دوبارہ اس میں حصہ لے اور بڑھ چڑھ کر لے۔
    میں ایک دفعہ دہلی گیا۔ چودھری ظفراللہ خاں اُس وقت تک وزیر نہیں بنے تھے۔ ویسے وہ ایک خاص مقدمہ کی پیروی کے لیے مامور تھے۔ اُن دنوں ہندوستان کی حکومت نے انگلستان سے مالیات کے ایک ماہر کو منگوایا تھا تا کہ بعض اہم باتوں میں اس کا مشورہ لے۔ چودھری صاحب نے اسے مجھ سے ملانے کے لیے دعوت دی۔ گلاب جامن یا رس گلّے رکھے تھے۔اس شخص کے لیے یہ ایک نئی چیز تھی۔ وہ انہیں دیکھ کر گھبرایا۔ چودھری صاحب نے اُسے کہا اِسے کھا کر دیکھو۔ چنانچہ اس نے ایک گلاب جامن یا رس گلّہ اُٹھا کر کھایا۔ چودھری۔صاحب نے پھر ایک گلاب جامن یا رس گلّہ اُسے دیا تو اُس نے پھر گریز کیا۔ تو۔چودھری۔صاحب نے اُسے کہا تم نے پہلا گلاب جامن یا رس گلّہ تو عجوبہ کے طور پر کھایا تھا۔ اب دوسرا گلاب جامن یا رس گلّہ اس کے مزے کی وجہ سے کھاؤ۔ میں نے پوچھا۔ چودھری۔صاحب! آپ نے یہ کیا کہا؟ تو انہوں نے بتایا انگریزی میں یہ محاورہ ہے کہ پہلی چیز تو عجوبہ کے لیے ہوتی ہے اور دوسری چیز اس کے مزے کی وجہ سے ہوتی ہے۔یہ ایک ضربُ۔المثل ہے لیکن میں نے روحانیات میں بھی دیکھا ہے کہ پہلے چَسکا لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر خودبخود عادت پڑ جاتی ہے۔ دنیا میں بھی دیکھ لو لوگ شراب پیتے ہیں۔ ٹنکچر جس کے استعمال سے تم گریز کرتے ہو ،بچوں کو دیتے ہو تو وہ ناک منہ چڑھاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ کڑوی چیز ہے ہم نہیں لیتے۔ اس میں الکحل یعنی شراب ہی کا جزو ہوتا ہے۔ جوان لوگ بھی اس سے نفرت کرتے ہیں لیکن یورپ میں لوگ شراب مزے لے لے کر پیتے ہیں اور روکنے کے بعد بھی اسے نہیں چھوڑتے۔
    پس ہر چیز کے دو مزے ہوتے ہیں۔ ایک تو اُس کا ذاتی مزا ہوتا ہے اور دوسرا مزا عادت کے نتیجہ میں ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں لوگ زردہ کا استعمال کرتے ہیں لیکن جس نے پہلے زردہ استعمال نہ کیا ہو وہ اگر زردہ کھا لے تو اُس کے سر میں چکر آنے لگتے ہیں۔ ایک دفعہ مجھے نقرس کی تکلیف ہوئی۔ ایک دوست ہندوستان کے تھے انہوں نے کہا آپ پان میں زردہ۔ڈال کر کھائیں درد ہٹ جائے گی۔ میں نے کہا میں نے تو زردہ کبھی کھایا نہیں۔ اس لیے اگر میں نے زردہ کھایا تو سر میں چکر آ جائے گا۔ انہوں نے کہا نہیں! آپ استعمال تو کریں۔ اس پر انہوں نے پان میں زردہ ڈال کر مجھے دیا۔ میں نے کھایا۔ اس سے درد میں کچھ کمی واقع ہو گئی۔ اِس پر چند گھنٹوں کے بعد پان میں زردہ ڈال کر مجھے دینے لگے۔ دو دن ہم سفر میں رہے اور اس سفر کے دوران میں وہ مجھے پان میں زردہ ڈال کر دیتے رہے۔ دو دن کے بعد میں نے دیکھا کہ زردہ سے تکلیف کم ہونے لگی۔ تب میں نے اسے چھوڑ دیا کہ کہیں عادت ہی نہ پڑ جائے۔
    غرض بڑی تکلیف۔دِہ اور بدمزہ چیزیں بھی اگر علاج کے طور پر استعمال کی جائیں تو۔ان کی عادت پڑ جاتی ہے اور وہ اچھی معلوم ہونے لگتی ہیں۔ اور جب ادنیٰ چیزوں کی عادت پڑ جاتی ہے تو دین کی قربانی کی عادت کیوں نہیں پڑے گی۔ ضرورت صرف اِس بات کی ہے کہ انسان کو ایک دفعہ قربانی کے لیے آگے لایا جائے۔ اس کے بعد خودبخود اس کے اندر ذوق پیدا ہو جاتا ہے، اس کے اندر ایک قسم کی تسلی پیدا ہو جاتی ہے۔ پہلے وہ اپنے آپ کو لاوارث سمجھتا ہے لیکن جب وہ خداتعالیٰ کے دین کی خاطر قربانی کرتا ہے تو وہ اپنے آپ کو لاوارث نہیں سمجھتا۔ وہ خداتعالیٰ کو اپنا وارث سمجھنے لگ جاتا ہے اور خداتعالیٰ جب نظر آنے لگتا ہے تو اس کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے۔ پہلے وہ معمولی معمولی تکلیف کی وجہ سے گھبرا جاتا تھا لیکن جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تووہ خداتعالیٰ کے آگے سجدہ میں گر جاتا ہے اور اِس سے اُسے تسلی ہو۔جاتی۔ہے۔
    پس جماعت کو چاہیے کہ وہ تمام افراد کو کھینچ کر تحریک جدید میں شامل کرے۔ میں امید کرتا ہوں کہ اگر وہ پہلے اس میں تھوڑا حصہ بھی لے لیں گے تو بعد میں وہ زیادہ حصہ لینے لگ جائیں گے۔ اِس وقت جماعت کی آمد 25، 26 لاکھ روپیہ ماہوار ہے اور تحریک جدید کے چندے کو ملا کر جماعت کا سالانہ چندہ 13، 14 لاکھ روپیہ بنتا ہے۔ گویا جماعت کی موجودہ آمد میں بھی موجودہ چندہ کا نصف اَور بڑھ سکتا ہے۔ پھر خداتعالیٰ کے فضل سے جماعت بڑھے گی تو آمد بھی زیادہ ہو جائے گی اور اس کے نتیجہ میں چندہ بھی بڑھ جائے گا۔ اس میں لوگوں کی مخالفت کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔ لوگوں کی مخالفت کوئی چیز نہیں جس سے ڈرا جائے۔سینکڑوں لوگ بیعت کرنے کے لیے آتے ہیں اور وہ بتاتے ہیں کہ ہمیں خداتعالیٰ نے بیعت کے لیے کہا ہے اور جس شخص کو خداتعالیٰ بیعت کے لیے کہہ دے اُس کو اگر کوئی روکے بھی تو وہ رُک۔نہیں سکتا۔
    گزشتہ جلسہ سالانہ پر ایک نوجوان نے بیعت کی۔ وہ ایک کٹّراحراری خاندان میں سے تھا۔ پہلے تو میں نے خیال کیا کہ وہ جلسہ پر آ گیا ہے اور وقتی جوش کے نتیجہ میں وہ بیعت کرنے لگا ہے لیکن پھر اُس نے تفصیل بتائی کہ بعض احمدیوں نے مجھے سلسلہ کی کتابیں پڑھنے کے لیے دیں جس سے مجھے احمدیت کی طرف رغبت ہوئی اور میں نے خیال کیا کہ احمدی اتنے گندے نہیں جتنا انہیں کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد جب فتنہ کھڑا ہوا تو میری آنکھیں کھل گئیں اور میں نے خیال کیا کہ یہ کوئی اسلام نہیں جس کا غیراحمدی مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اگر ان میں اسلام کی روح ہوتی تو وہ اخلاق سے پیش آتے اور اس قدر ظالمانہ فعل نہ کرتے۔ چنانچہ ان واقعات کا مجھ پر سخت اَثر ہوا اور میں اپنے باپ کے پاس گیا جو کٹّر احراری تھے۔ میں نے ان سے کہا عدل، انصاف اور شریعت ان حرکات کی اجازت نہیں دیتی جو آپ لوگ احمدیوں سے کر رہے ہیں۔ میری بات سن کر انہوں نے کہا نکل جا گھر سے، تُو بے دین ہو گیا ہے۔ اس سے مجھے یقین ہو گیا کہ اسلام صرف احمدیت میں ہے۔ اس لیے میرا باپ بھی سچی بات کو بُرا مناتا ہے۔ اِس سے احمدیت کی صداقت مجھ پر کھل گئی اور میں نے بیعت کا پختہ ارادہ کر لیا۔
    پس جب کوئی شخص خداتعالیٰ کے فضل سے احمدیت کے نشانات دیکھ لے تو خداتعالیٰ کی طرف سے اُسے ایک نور ملتا ہے جس سے اُس کا دل منور ہو جاتا ہے۔ بعض لوگوں کو یہ نور نشانات دیکھنے سے پہلے ہی مل جاتا ہے۔ اور جس شخص کو یہ نور مل جائے وہ کسی کے گمراہ کرنے، ورغلانے اور دُکھ دینے سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ پچھلی شورش میں بعض ایسے نوجوانوں نے بیعت کی جنہوں نے بتایا کہ ہم دیر سے اس سلسلہ کو اچھا سمجھتے تھے مگر بیعت نہیں کی تھی۔ لیکن اب جب ایک بڑا فتنہ احمدیت کے خلاف اُٹھا تو ہم نے خیال کیا کہ امن کے دنوں میں۔تو۔شہادت کا موقع نہیں مل سکتا اب ہر طرف آگ لگی ہوئی ہے اگر ہم احمدیت میں داخل۔ہو۔جائیں تو شہادت کا موقع مل جائے گا۔ ایک نوجوان نے مجھے لکھا کہ میں دل سے دس سال سے احمدی ہوں۔ اس فتنہ کے دوران میں مَیں نے خیال کیا کہ اب احمدیت کی خاطر جان دینے کا وقت آ گیا ہے۔ اگر میں اب بیعت نہیں کروں گا تو کب کروں گا؟
    پس اصل چیز ایمان کا پیدا ہو جانا ہے۔ جب کسی کے اندر ایمان پیدا ہو جائے تو اُس کو صداقت کی خاطر قربانیاں کرنے سے کوئی شخص روک نہیں سکتا۔ ایمان پیدا ہو جانے کے بعد سب گڑھے، کانٹے اور سمندر جو بھی رستہ میں آئیں، آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ پس ایک دفعہ تمام افراد کے اندر قربانی کا ذوق پیدا کرو اور چھوٹے بڑوں کو تحریک جدید میں شامل کرو۔ چھوٹوں کے اندر ذمہ داری کا احساس پیدا کرو۔ چاہے تم اُن کی طرف سے ایک ایک پیسہ ہی دو لیکن اُن کو تحریک جدید میں شریک ضرور کرو۔ یہ درست ہے کہ اگر وہ الگ طور پر حصہ لیتے تو ہم اُن سے کہتے دوسروں سے مل کر پانچ روپیہ دے دو اور تحریک جدید میں شامل ہو جاؤ۔ لیکن جب اُن کا باپ اور ماں اس میں شریک ہیں تو ان کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ باپ یا ماں ان کی طرف سے اپنے چندہ کے ساتھ چارچار آنہ دے کر اُن کو ساتھ ملا لیں اور۔پھر ان کی طرف سے چندہ لکھانے کے ساتھ ساتھ انہیں بتائیں کہ ان کے لیے اس قسم کے چندوں میں شامل ہونا ضروری ہے۔ پھر اب تو پندرہ بیس والی روک بھی نہیں رہی۔ اگر کوئی شخص اپنی طالب۔علمی میں چندہ دیتا ہے تو وہ چندہ اب آئندہ تحریک جدید میں حصہ لینے میں روک نہیں بنے گا۔ پہلے چھوٹے بچوں سے چندہ لینے سے دفتر والے گھبراتے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے ان سے چندہ لے لیا تو تحریک جدید کی مقرر کردہ مدت دس سال یا انیس سال ان کی طالب۔علمی میں ہی گزر جائے گی۔ جب یہ جوان ہوں گے اور کمانے لگیں گے تو ہم ان سے چندہ نہیں لے سکیں گے لیکن اب تو یہ روک بھی نہیں کیونکہ اب یہ چندہ ہمیشہ کے۔لیے ہے۔
    دسویں سال کے بعد جب میں نے دوبارہ تحریک کی تو مجھے خیال تھا کہ چندہ میں کمی آ جائے گی۔ اِسی طرح دس سال کے ختم ہونے پر بھی میں سمجھتا ہوں کہ کچھ کمزور ی پیدا ہو گی مگر جو لوگ اِس دفعہ شامل ہو گئے تو اس کے بعد کمزوریٔ۔ایمان کی وجہ سے کوئی۔شخص پیچھے ہٹے تو ہٹے ورنہ ہر احمدی آگے بڑھنے کی کوشش کرے گا۔ کیونکہ جب وہ اپنی قربانیوں کے نتائج دیکھے گا تو اُس کی ہمت بڑھ جائے گی اور وہ سمجھے گا کہ میرا روپیہ ضائع نہیں ہو رہا۔ پس سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ہر شخص کو کھینچ کر تحریک جدید میں شامل کر دیا جائے۔ ممکن ہے پھر بھی کوئی شخص رہ جائے وہ دوسرے سال شامل ہو جائے گا۔ جب سب کو عادت پڑ جائے گی تو میں سمجھتا ہوں ہمارا چندہ اِس قدر بڑھ جائے گا کہ۔جماعت کے لیے اسلامی ممالک کے لڑکوں کو تعلیم دلانا بھی آسان ہو جائے گا اور۔غیراسلامی ملکوں میں تبلیغ کا کام بھی وسیع ہو جائے گا اور خداتعالیٰ کے فضل سے غیرمسلموں کو گمراہی اور ضلالت سے بچانے کا سہرا صرف احمدیوں کے سر ہو گا‘‘۔
    (المصلح11مارچ 1954ئ)



    جماعت احمدیہ لاہور سے خطاب
    اللہ تعالیٰ نے تمہیں اوّلیّت کا جو مقام دیا تھا اُسے دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرو
    (فرمودہ 19فروری1954ء بمقام رتن باغ لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’ہماری جماعت کے دوستوں کو یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ احمدیت کو قائم ہوئے ایک لمبا زمانہ گزر چکا ہے۔ اگر براہین احمدیہ سے اس زمانہ کو لیا جائے تو 70، 71 سال ہو گئے ہیں اور اگر بیعت کے آغازسے اس زمانہ کو شمار کیا جائے تو پھر 65 سال ہو گئے ہیں اور یہ ایک بہت بڑا وقت ہے۔ اور گو قوموں کی عمر کے لحاظ سے اتنے سال کوئی زیادہ لمبا زمانہ نہیں سمجھے جاسکتے لیکن انسانوں کی عمر میں یہ ایک بہت بڑا وقت ہے۔ اس تمام عرصہ میں ابتدائی زمانہ سے ہی لاہور کا ایک حصہ احمدیت کے ساتھ شامل رہا ہے۔ ہم چھوٹے ہوتے تھے جب حضرت۔مسیح۔موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ سفروں میں ہم آتے جاتے تھے۔ اُس وقت عموماً جب آپ کو رستہ میں ٹھہرنا پڑتا تو لاہور یا امرتسر میں ہی ٹھہرتے۔ یوں ابتدائی زمانہ میں آپ کا قیام زیادہ تر لدھیانہ میں رہا ہے لیکن جماعت کے لحاظ سے لاہور کی جماعت ہمیشہ زیادہ رہی ہے اور دوسری جماعتوں کی نسبت زیادہ مستعد رہی ہے۔ چونکہ حضرت۔مسیح۔موعود علیہ۔الصلوٰۃ والسلام اپنے والد صاحب کے زمانہ میں مقدمات کے لیے اکثر لاہور آتے تھے اور آپ کے والد۔صاحب کے تعلقات بھی زیادہ تر لاہور کے رؤساء سے تھے۔ اس لیے ابتدائی ایام میں ہی یہاں ایک ایسی جماعت پائی جاتی تھی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اخلاص رکھتی تھی۔ الٰہی۔بخش۔صاحب اکاؤنٹینٹ جو بعد میں شدید مخالف ہو گئے وہ بھی یہیں کے تھے۔ مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی جو بعد میں تکفیر کا فتوٰی لگانے والوں کے سردار بنے وہ بھی یہیں چینیاں والی مسجد کے امام تھے اور ان کا زیادہ تر اَثر اور رسوخ لاہور میں ہی تھا۔ گو وہ رہنے والے بٹالہ کے تھے۔ اِسی طرح میاں چراغ الدین صاحب، میاں معراج الدین صاحب اور۔میاں تاج الدین صاحب کے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بہت پُرانے تعلقات تھے۔ میاں چراغ الدین صاحب اور میاں معراج الدین صاحب کا خاندان اپنے پرانے تعلقات کے لحاظ سے جو بیعت سے بھی پہلے کے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نگاہ میں۔بہت قُرب رکھتا تھا۔ پھر حکیم محمدحسین صاحب قریشی جنہوں نے دہلی دروازہ والی مسجد۔بنوائی۔اُن۔کے تعلقات بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بہت قدیم اور مخلصانہ تھے۔ میاں۔چراغ۔الدین صاحب مرحوم کے تعلقات تو الٰہی بخش اکاؤنٹینٹ سے بھی پہلے کے تھے۔ حتّٰی۔کہ میرے عقیقہ میں جن دوستوں کو شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی اُن میں میاں چراغ الدین صاحب بھی تھے۔ اتفاقاً اُس دن سخت بارش ہو گئی۔ وہ سناتے تھے کہ ہم باغ تک پہنچے مگر آگے پانی ہونے کی وجہ سے نہ جا سکے اور وہیں سے ہمیں واپس لوٹنا پڑا۔ پس اِس جگہ کی جماعت کی بنیاد ایسے لوگوں سے پڑی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اُس وقت سے اخلاص رکھتے تھے جب آپ نے ابھی دعوٰی بھی نہیں کیا تھا اور براہین لکھی جا رہی تھی۔ پھر خداتعالیٰ نے ان کے خاندانوں کو ترقی دی اور وہ اخلاص میں بڑھتے چلے گئے۔ میاں چراغ الدین صاحب اور میاں معراج الدین صاحب کے خاندان کے اس وقت درجنوں آدمی ہیں اور ان میں سے بہت سے لاہور میں ہی ہیں۔میاں مظفرالدین صاحب جو پشاور کی جماعت کے امیر تھے وہ میاں تاج الدین صاحب کے بیٹے تھے۔ اِسی طرح اَور کئی پرانے خاندانوں کی اولادیں یہیں ہیں مگر افسوس ہے کہ اگلی نسل میں اب وہ پہلی سی بات نہیں رہی۔ ان میں کچھ تو مخلص ہیں اور کچھ کمزور ہو گئے ہیں۔ جو لوگ مخلص ہیں اُن میں کچھ تو ایسے ہیں جو خواہش رکھتے ہیں کہ اپنے آپ کو روشناس کراتے رہیں اور کچھ مخلص تو ہیں لیکن یہ احساس اُن کے دلوں سے مِٹ گیا ہے کہ سلسلہ کے ساتھ ان کا اہم تعلق ہے۔ وہ اپنی جگہ پر مخلص ہیں مگر اپنے آپ کو آگے لانے اور روشناس کرانے میں کوتاہی کرتے ہیں۔ حالانکہ کسی جماعت کے بنیادی لوگوں میں سے ہونا بڑے فخر کی بات ہوتی ہے۔جہاں یہ بات بُری ہوتی ہے کہ انسان جماعت کے متعلق یہ خیال کرے کہ وہ میری چراگاہ ہے اور اس سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرے وہاں یہ بات بھی بُری ہوتی ہے کہ کوئی شخص ایک سچی جماعت کے ابتدائی لوگوں میں سے ہو اور پھر وہ اس پر فخر محسوس نہ کرے۔ اِس کے معنے یہ ہیں کہ اس چیز کی قدر اُس کے دل میں نہیں ورنہ جن لوگوں کے دلوں میں قدر ہوتی ہے جہاں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے کچھ کام کیا ہے تو سلسلہ پر احسان نہیں کیا بلکہ سلسلہ نے اُن پر احسان کیا ہے وہاں وہ اپنی اہمیت کو بھی خوب سمجھتے ہیں۔
    تاریخوں میں لکھا ہے کہ جب حضرت معاویہؓ نے دیکھا کہ اُن کی وفات قریب ہے تو وہ مدینہ میں آئے اور اپنے بڑے بیٹے یزید کو بھی اپنے ساتھ لائے۔ پھر انہوں نے مسجد میں سب لوگوں کو جمع کیا اور کہا اے لوگو! میں سمجھتا ہوں کہ جس قسم کے حقوق ہمارے خاندان کو حاصل ہیں اور جس قسم کی قابلیت میرے اس بیٹے میں پائی جاتی ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے یہی اِس بات کا مستحق ہے کہ آئندہ اسے جانشین مقرر کیا جائے۔ اس کے باپ کو جو مقام حاصل ہے، وہ اَور کسی کو حاصل نہیں۔ اور خود اس کے اندر جو قابلیت پائی جاتی ہے وہ بھی کسی اَور میں نہیں پائی جاتی۔ اس لیے یہ دونوں باتیں اِس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ آئندہ اسے ہی حکومت کے تخت پر بٹھایا جائے1۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ اُس وقت میں بھی مسجد کے ایک سرے پر بیٹھا ہوا تھا اور میں نے چدّر کو اپنے گُھٹنوں کے اردگرد لپیٹا ہوا تھا (زمینداروں میں جو چودھری ہوتے ہیں اُن میں بھی آجکل یہ طریق رائج ہے۔ چونکہ انہیں سہارا لے کر بیٹھنے کی عادت ہوتی ہے اس لیے جب وہ بیٹھتے ہیں تو گُھٹنوں کے اردگرد کپڑا باندھ کر اسے گرہ دے دیتے ہیں۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں بھی اسی طرح بیٹھا ہوا تھا)۔ جب معاویہ نے یہ کہا تو میرے دل میں خیال آیا کہ معاویہ کی کیا حیثیت ہے میرے باپ کے مقابلہ میں، اور یزید کی کیا حیثیت ہے میرے مقابلہ میں۔ ہم نے ابتدائے اسلام میں کام کیا ہے جبکہ یہ لوگ اسلام کے مخالف تھے۔ پس یہ کون ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو ہم سے بہتر قرار دیں۔ چنانچہ میں نے اپنا کپڑا کھولا اور یہ کہنا چاہا کہ یہاں وہ لوگ موجود ہیں جن کے باپ کی حیثیت یزید کے باپ کی حیثیت سے بہت بلند ہے اور یہاں وہ لوگ بھی موجود ہیں جو اسلام کے لیے قربانی اور اس کی خدمت میں یزید سے بہت آگے ہیں مگر پھر میں بیٹھ گیا اور۔میں نے اپنے دل میں کہا یہ محض ایک دنیوی چیز کے لیے آگے آ رہے ہیں میں اس میں کیوں دخل دوں؟
    اب دیکھو! اِس میں دونوں باتیں آ گئیں۔ اُن کا احساسِ غیرت بھی ثابت ہو گیا اور۔پتا لگ گیا کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ۔۔محسوس کرتے تھے کہ اُن کے خاندان کو خداتعالیٰ نے وہ فضیلت دی ہے جو معاویہ اور اُس کے خاندان کو حاصل نہیں۔ لیکن دوسری طرف انہوں نے یہ بھی ظاہر کر دیا کہ ہم اس اہمیت کے ذریعہ سے کوئی دنیوی فائدہ نہیں اُٹھانا چاہتے۔ پس ہمیں کسی کے لیے ٹھوکر بننے کی کیا ضرورت ہے۔ غرض ایک ہی وقت میں وہ خدمتِ دین کا موقع ملنے پر فخر کرتے ہیں اور اُس وقت اُن کے اندر یہ احساس بھی پایا جاتا تھا کہ اِس کے بدلہ میں ہم نے لوگوں پر حکومت نہیں کرنی اور یہی اصل روح ہوتی ہے۔
    پھر بعض لوگوں کو ہم نے دیکھا ہے کہ گو ان کے تعلقات پرانے نہیں ہوتے لیکن جوشِ محبت میں وہ اپنے آپ کو آگے لے آتے ہیں اور وہ اپنے تعلقات کو ایسے رنگ میں ظاہر کرتے ہیں کہ گویا اُن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں کوئی بہت بڑی پوزیشن حاصل تھی۔ اُس وقت یہ نظارہ دیکھ کر ہمیں کم از کم اتنا لطف ضرور آ جاتا ہے کہ ان کو اس تعلق کی قیمت کا کتنا احساس ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جن کی کتابوں میں بڑی کثرت کے ساتھ احادیث پائی جاتی ہیں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قریب مسلمان ہوئے تھے۔ اُن سے بہت زیادہ موقع رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں بیٹھنے کا کئی دوسرے صحابہؓ۔۔کو ملا تھا مگر وہ اپنے عشق اور محبت میں یہ جتانے کے لیے کہ گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ان کو کوئی بہت بڑی پوزیشن حاصل تھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب آپؐ کا ذکر کرتے تو کہا کرتے تھے میرے خلیل نے یوں کہا، میرے خلیل نے یوں کہا۔2حالانکہ عربی زبان کے لحاظ سے خلیل اسے کہتے ہیں جس کا عشق اتنا سرایت کر جائے کہ جسم کے مساموں میں داخل ہو جائے اور یہ مقام بہت بڑا ہے مگر حضرت ابوہریرہؓ اپنی محبت کے جوش میں یہ بتانے کے لیے کہ گویا ان کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا پرانا تعلق تھا کہا کرتے تھے میرے خلیل نے یوں کہا، میرے خلیل نے یوں کہا۔ ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے انہیں یہ الفاظ کہتے سُن لیا تو انہیں بُرا معلوم ہوا اور انہوں نے ڈانٹا کہ تم یہ کیا کہہ رہے ہو؟ کیا ہمیں معلوم نہیں کہ تمہارا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنا تعلق تھا؟ حضرت۔ابوہریرہؓ ڈر گئے اور انہوں نے کہا میں تو محبت کے جوش میں یہ کہہ رہا ہوں۔3 اب۔دیکھو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو فرماتے ہیں کہ اگر خداتعالیٰ کے سوا میں کسی اَور کو خلیل بنا سکتا تو ابوبکر کو بناتا۔4
    گویا ’’خلیل ‘‘کا لفظ ابوہریرہؓ کے لیے چھوڑ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ کے لیے بھی استعمال نہیں فرمایا، حضرت عثمانؓ کے لیے بھی استعمال نہیں فرمایا، حضرت علیؓ کے لیے بھی استعمال نہیں فرمایا لیکن ابوہریرہؓ اپنے تعلق کے اظہار کے لیے جب کوئی روایت کرتے تو بعض دفعہ یہ نہ کہتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا ہے بلکہ فرماتے میرے خلیل نے ایسا کہا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے انہیں ڈانٹا کہ خبردار! جو۔آئندہ یہ الفاظ استعمال کیے۔
    پس جن لوگوں کے اندر جوش ہوتا ہے خواہ انہیں کوئی بھی پوزیشن حاصل نہ رہ چکی ہو، وہ اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ خواہ وہ کتنی بڑی پوزیشن رکھتے ہوں اُن کے اندر اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی خواہش نہیں ہوتی۔ صحابہؓ جب کہیں باہر جاتے تھے تو گو مسئلہ یہی ہے کہ جو امام ہو اُسی کو نماز پڑھانی چاہیے سوائے خلیفۂ۔وقت کے کہ وہ جہاں جائے گا وہی امام ہو گا، پھر بھی بعض لوگ ان کی بزرگی اور اخلاص کی وجہ سے انہیں نماز پڑھانے کے لیے کہہ دیتے تھے۔ اِس پر بعض صحابہؓ انکار کر دیتے مگر بعض دفعہ وہ لوگوں کے اصرار پر پڑھا بھی دیتے کیونکہ بعض دفعہ دوسرے کا اصرار اتنا بڑھ جاتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے اب اگر میں نے انکار کیا تو اس کی دل شکنی ہو گی۔
    غرض لاہور کی جماعت کے اندر ایسے لوگ موجود ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائی زمانہ میں آپ پر ایمان لائے۔ اور اگر وہ نہیں تو ان کے رشتہ دار ایسے موجود ہیں جو۔صحابی ہیں خواہ وہ ایسے مقام پر نہیں کہ دعوٰی سے پہلے انہوں نے آپ کی مدد کی ہو مگر وہ ایسے مقام پر ضرور ہیں کہ وہ اُس وقت ہوش والے تھے اور عقل والے تھے جب انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قبول کیا۔ لیکن میں دیکھتا ہوں کہ ان لوگوں کے خاندانوں میں اب وہ جوش نہیں رہا جو پہلے ہوا کرتا تھا۔ بعض میں تو کمزوری پیدا ہو گئی ہے اور بعض اپنے آپ کو نمایاں کرنے سے گریز کرتے ہیں۔شاید ان کے دلوں میں یہ خیال ہو کہ ہمیں آگے آنے کی کیا ضرور ت ہے۔ میں نے بتایا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے بھی آگے آنے سے انکار کیا تھا مگر انہوں نے کہا یہی، کہ حق ہمارا ہے۔ گویا یہ تو انہوں نے کہا کہ ہم حکومت نہیں لیتے لیکن جو فضیلت اور بزرگی اُن کو حاصل تھی اُس سے انہوں نے انکار نہیں کیا۔ اگر ایسے لوگ اپنے آپ کو آگے کریں تو یقیناً دوسروں میں بھی یہ احساس پیدا ہونے لگے گا کہ احمدیت کی خدمت میں انسان خدائی برکات سے حصہ لیتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ یہ احساس ساری جماعت میں پیدا ہو جائے گا۔ جلسہ مذاہبِ عالَم کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو مضمون لکھا اور جو آجکل ساری دنیا میں پیش کیا جاتا ہے وہ بھی اِس لاہور میں پڑھا گیا تھا۔ اِسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو آخری پیغام ’’پیغامِ۔صلح‘‘ کے نام سے دیا اور جو اپنے اندر وصیت کا ایک رنگ رکھتا ہے وہ بھی لاہور میں ہی پڑھا گیا۔ حضرت۔مسیح۔موعود علیہ۔السلام نے اپنے آخری ایامِ۔زندگی بھی اِسی جگہ گزارے اور پھر یہیں آپ دنیا سے جُدا ہوئے۔ اِس کے بعد جب خلافت کا جھگڑا پیدا ہوا تو مخالفت کا مرکز بھی یہی لاہور بنا اور۔موافقت کا مرکز بھی لاہور تھا۔ اُس وقت جماعت کی تعداد موجودہ تعداد سے بہت کم تھی۔ باہر سے بھی اگر لوگ آ جاتے تو اُن کو شامل کر کے یہاں کی جماعت اتنی نہیں ہوتی تھی جتنی اِس وقت خطبہ میں بیٹھی ہے۔ مگر اُس وقت اخلاص اور محبت کی یہ کیفیت تھی کہ جب میں لاہور آتا تو سینکڑوں لوگ اردگرد کی جماعتوں کے لاہور میں آ جاتے اور یہاں کا ہر احمدی دوسرے۔کو۔اپنا بھائی سمجھتا اور اسے یہ محسوس بھی نہ ہونے دیتا کہ وہ لاہور میں ایک مسافر کی حیثیت۔رکھتا۔ہے لیکن اب وہ کیفیت نظر نہیں آتی۔ اب لوگ مسافروں کی طرح آتے اور چلے جاتے ہیں۔ ان کے متعلق جماعت کے دوستوں میں وہ شوق اور اُنس نہیں رہا جو پہلے پایا جاتا تھا۔ 1919ئ، 1920ء اور 1921ء تک یہ کیفیت تھی کہ میرے لاہور آنے پر سیالکوٹ، جہلم،گجرات، شیخوپورہ اور منٹگمری وغیرہ اضلاع کے احمدیوں میں سے اکثر یہاں اکٹھے ہو جاتے اور اُن کا لاہور میں قریباً اُس وقت تک قیام رہتا جب تک میں یہاں موجود رہتا۔ مگر اب جماعت کی تعداد تو زیادہ ہو گئی ہے مگر اِس میں وہ بات نہیں رہی جو پہلے پائی جاتی تھی۔ اِس کی وجہ یہی ہے کہ یہاں کے لوگوں نے اس مقام کی قدروقیمت کو نہیں پہچانا جو انہیں پہلے حاصل تھا۔اگر وہ آنے والوں سے اُسی محبت اور پیار کے ساتھ پیش آتے جس محبت اور پیار سے وہ پہلے پیش آیا کرتے تھے تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ لوگ یہاں کثرت کے ساتھ نہ آتے رہتے۔
    میرا تجربہ ہے کہ خداتعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت کے دوستوں میں ایمان کم نہیں ہو رہا بلکہ بڑھ رہا ہے۔ صرف کچھ لوگوں میں اپنی ذمہ داری کے احساس میں کمزوری پیدا ہو گئی ہے۔ اگر یہاں کی جماعت اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتی تو یقیناً یہاں پہلے سے بھی زیادہ لوگ آتے۔ بہرحال ابتدائی ایام میں لوگوں نے اپنی ذمہ داری سمجھی اور خداتعالیٰ نے بھی کہا:۔
    ’’لاہور میں ہمارے پاک ممبر موجود ہیں۔ ان کو اطلاع دی جاوے۔ نظیف مٹی کے ہیں وسوسہ نہیں رہے گا مگر مٹی رہے گی‘‘۔4
    گویا اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے الہام میں لاہور کے متعلق خبر دی کہ کسی زمانہ میں فتنہ بھی لاہور سے کھڑا ہو گا مگر اس کا تریاق بھی لاہور سے ہی پیدا ہو گا۔ اور جن جماعتوں کو خداتعالیٰ کے دین کی خدمت کی توفیق ملے اور جن کا خدائی پیشگوئیوں میں بھی ذکر آ جائے اُن کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی اس خصوصیت کو قائم رکھیں اور اِس فخر کو آئندہ کے لیے ہمیشہ نیکیوں میں ترقی کرنے کا ذریعہ بنائیں۔
    پھر میں کہتا ہوں اگر باہر سے آنے والوں کو جانے دو اور تم صرف اپنے لوگوں کو ہی سہارا دو تو میرے نزدیک ہر پرانے خاندان میں سے دوچارافراد ایسے ضرور نکل آئیں گے جن میں کچھ کمزوری ہو گی۔ اگر تم ان کی طرف توجہ کرو گے تو یقیناً وہ مخلص بن جائیں گے اور۔جماعت اپنے پہلے مقام کو پھر حاصل کر لے گی۔ اِس وقت جماعتوں میں سے کراچی کی جماعت اوّل نمبر پر ہے۔ اُن کی تنظیم زیادہ اچھی ہے، اُن کے عہدیدار زیادہ ہوشیار ہیں اور اُن کی قربانیاں نمایاں ہیں۔ ضرورت پر فوراً اکٹھے ہو جانا اور آپس میں مشورہ کرنا اُن میں لاہور والوں کی نسبت زیادہ پایا جاتا ہے اور یہ چیز ایسی ہے جس میں لاہور کی جماعت کو مسابقت کی روح اپنے اندر پیدا کرنی چاہیے۔ آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کراچی نہیں گئے لیکن لاہور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کئی دفعہ آئے اور آپ نے اپنی عمر کا ایک حصہ یہیں گزارا اور پھر آپ نے 1908ء میں وفات بھی یہیں پائی ہے۔ اِس وجہ سے تمہیں ایک خاص مقام اور اعزاز حاصل ہے۔ مگر تم نے تو خودبخود اپنی مونچھیں نیچی کر لیں۔
    حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے کہ کوئی پٹھان تھا جو سارا دن بازار میں اور سڑکوں پر تلوار لیے پھرتا رہتا۔ اُس نے بڑی بڑی مونچھیں رکھی ہوئی تھیں اور اُس کا دعوٰی تھا کہ میں سب سے بہادر ہوں اور میرے مقابلہ میں اَور کسی کو مونچھیں رکھنے کا حق نہیں۔ چنانچہ جہاں بھی وہ کسی کی بڑی۔بڑی مونچھیں دیکھتا تو فوراً تلوار لے کر اُس کے پاس پہنچتا اور کہتا کہ یا تو مونچھ کٹوا دو ورنہ تمہاری گردن اُڑا دوں گا۔ تمہارا کیا حق ہے کہ میرے مقابلہ میں مونچھیں رکھو۔ آخر لوگ سخت تنگ آ گئے۔ ایک ہوشیار آدمی نے جب دیکھا کہ سارے شہر پر آفت آ پڑی ہے تو وہ کام کاج چھوڑ کر گھر میں بیٹھ گیا اور اس نے خوب تیل مَل مَل کر اپنی مونچھیں بڑھانی شروع کر دیں۔ جب مونچھیں خوب پھیل گئیں اور اُس پٹھان کی مونچھوں سے بھی زیادہ شاندار ہو گئیں تو وہ تلوار ہاتھ میں لے کر باہر نکل آیا اور اُس نے وہیں ٹہلنا شروع کر دیا جہاں وہ پٹھان ٹہلا کرتا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد خان صاحب آ گئے۔ انہوں نے جب دیکھا کہ ایک اَور شخص بڑی بڑی مونچھوں والا تلوار لے کر پھر رہا ہے تو وہ غصہ سے اُس کی طرف بڑھے اور پوچھا تم کون ہو؟ اس نے کہا ہم جو ہیں سو ہیں تمہیں اِس سے کیا؟ اُس نے کہا تم نے مونچھیں کیوں بڑھا رکھی ہیں؟ وہ کہنے لگا کیا مونچھیں بڑھانا تمہارے باپ کا حق ہے؟ پٹھان نے کہا ہم نہیں جانتے۔ یا تو تمہیں مونچھیں نیچی کرنی پڑیں گی یا گردن کٹوانی پڑے گی۔ اس نے کہا اگر تمہیں تلوار چلانی آتی ہے تو ہمیں بھی آتی ہے۔ پٹھان کو غصہ تو چڑھا ہی ہوا تھا اُس نے کہا پھر آؤ اور لڑ لو۔ جب پٹھان کو اُس نے لڑائی کے لیے خوب تیار کر لیا تو وہ کہنے لگا اِس وقت ایک بات میرے ذہن میں آئی ہے اور وہ یہ کہ اگر میں نے تم کو مار لیا یا تم نے مجھے مار لیا تو۔ہمارے بیوی بچے یتیم رہ جائیں گے۔ اُن کو ہمارے بعد کون پالے گا۔ اِس کا کوئی علاج ہونا چاہیے۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ میں یقیناً تمہیں مار لوں گا۔ لیکن میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ تمہارے بیوی بچوں کا اس میں کوئی قصور نہیں۔ پھر تمہارے مرنے کے بعد ان کو کون پالے گا۔ اِسی طرح گو یہ ہونا تو نہیں لیکن فرض کرو میں مارا جاؤں تو میرے بیوی بچوں کو کون پالے گا۔ وہ کہنے لگا بات تو تم نے ٹھیک کہی ہے لیکن اس کا علاج کیا ہے؟ اُس نے کہا علاج یہی ہے کہ تم اپنے بیوی بچوں کو مار آؤ اور میں اپنے بیوی بچوں کو مار آتا ہوں۔ پھر ہماری لڑائی ہو جائے۔ پٹھان نے کہا یہ بات ٹھیک ہے۔ چنانچہ وہ اپنے بیوی بچوں کو قتل کرنے کے لیے چلا۔گیا۔ یہ اُسی جگہ اِدھر اُدھر ٹہلتا رہا۔ تھوڑی دیر کے بعد پٹھان آیا اور اُس نے کہا میں تو اپنے بیوی بچوں کو قتل کر کے آ گیا ہوں۔ اب آؤ اور مجھ سے لڑ لو۔ وہ کہنے لگا میری تو اب صلاح بدل گئی ہے اور میں نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ میں اپنی مونچھیں نیچی کر لوں۔ چنانچہ اُس نے اپنی مونچھیں نیچی کر لی تھیں۔
    اِسی طرح تم نے بِلاوجہ اپنی مونچھیں نیچی کر لی ہیں۔ حالانکہ مونچھیں نیچی کرنے کی بجائے تمہیں چاہیے تھا کہ تم اپنے اندر یہ احساس پیدا کرتے کہ ہم دینی خدمات میں ہمیشہ اوّل رہے ہیں اور اب بھی اوّل رہیں گے اور اپنے اس مقام کو کبھی ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ نوجوانوں کے اندر بڑھنے اور ترقی کرنے کا مادہ ہوتا ہے۔ وہ جہاں اَور باتوں میں اپنی ترقی کے دعوے کیا کرتے ہیں وہاں اُن کا یہ بھی فرض ہوتا ہے کہ وہ روحانی رنگ میں بھی اپنے بزرگوں سے آگے نکلنے کی کوشش کریں اور نمازوں میں اور روزوں میں اور چندوں میں اور قربانیوں میں اور اخلاص میں اور سلسلہ کے لیے فدائیت اور جاں نثاری میں اپنا قدم ہمیشہ آگے کی طرف بڑھائیں۔ میں سمجھتا ہوں اگر اب بھی آپ لوگ توجہ کریں تو اپنے مقام کو دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں ورنہ تھوڑے دنوں کے بعد ممکن ہے کہ اَور بھی کئی جماعتیں تم سے آگے نکل جائیں۔ اور جب بہت سی جماعتیں تم سے آگے نکل گئیں تو پھر اتنا بڑا فاصلہ تم میں اور ان میں پیدا ہو جائے گا کہ اُس فاصلہ کو پُر کرنا تمہارے لیے مشکل ہو جائے گا۔ پس اپنے اندر بیداری پیدا کرو اور جس طرح دریا میں کشتی پھنستی ہے تو مرد اور عورتیں اور بچے سب مل کر زور لگاتے ہیں کہ کشتی منجدھار سے نکل جائے اُس طرح تم بھی اِس خلا کو پُر کرنے کے لیے اپنا پورا زور۔صَرف کر دو۔
    مجھے یاد ہے ہم ایک دفعہ کشمیر گئے۔ سرینگر کے پاس ایک چھوٹی سی جھیل ہے جو ڈلؔ کہلاتی ہے۔ اُس کے قریب سے ہی دریائے جہلم گزرتا ہے اور دریا میں سے ایک نہر کاٹ کر اُس ڈلؔ کے سامنے سے گزار دی گئی ہے۔ اُس ڈلؔ میں نہر کا دروازہ کھلتا ہے۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ دریا کا پانی اونچا ہو جاتا ہے جس کے نتیجہ میں نہر کا پانی بھی اونچا ہو جاتا ہے اور ڈلؔ میں زور سے پانی گرنے لگ جاتا ہے۔ اُس وقت نیچے سے اوپر کی طرف کشتی لے جانا مشکل ہوتا ہے اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ دریا کا پانی نیچا ہو جاتا ہے اور ڈلؔ کا پانی اونچا ہوتا ہے۔ جب دریا اور ڈلؔ کا پانی برابر ہو تب تو کشتیاں آسانی سے اِدھر اُدھر آتی رہتی ہیں۔ لیکن جب ایک طرف کا پانی اونچانیچا ہو تو پھر کشتی چلانے میں لوگوں کو بڑی دِقّت محسوس ہوتی ہے۔ ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ ایک کشتی آئی جس میں بہت سے کشمیری مرد، عورتیں اور بچے بیٹھے ہوئے تھے۔ اُس وقت ایک طرف کا پانی اونچا تھا۔ انہوں نے کشتی چلانے کے لیے بڑا زور لگایا مگر کشتی نہ چلی۔ اس پر کچھ اَور آدمی کشتی سے اُترے اور انہوں نے کشتی کو کھینچنا شروع کیا اور ساتھ ہی زور سے نعرہ لگانا شروع کر دیا لَایِلٰہَ یِلَّ اللّٰہُ لَایِلٰہَ یِلَّ اللّٰہُ مگر کشتی نکل نہ سکی۔ جب انہوں نے دیکھا کہ لَایِلٰہَ یِلَّ اللّٰہُ سے اُن کا کام نہیں بنا تو انہوں نے یا شیخ ہمدانی کا نعرہ لگایا۔ اِس پر لوگوں نے پہلے سے بھی زیادہ زور لگانا شروع کر دیا۔ مگر پھر ایک لہر آئی اور کشتی رُک گئی تو انہوں نے تیسری دفعہ ’’یاپیردستگیر‘‘ کا نعرہ لگایا۔ اِس نعرہ کا لگنا تھا کہ اکثر مرد، عورتیں اور بچے کُود کر کشتی سے نیچے اُتر آئے اور انہوں نے پاگلوں کی طرح زور لگانا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ وہ کشتی نکال کر لے گئے۔ جس طرح انہوں نے پیردستگیر کا نعرہ لگایا تھا اُس طرح قوموں کی زندگی میں بھی کبھی غافلوں کو بیدار کرنے اور جماعت میں ایک نئی قوتِ۔عمل پیدا کرنے کے لیے نعرہ لگانے کا وقت آ جاتا ہے۔ جب کوئی جماعت اپنے مقام کو ضائع کر۔دیتی ہے تو اُس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ جس طرح وہ کشمیری مرد، عورتیں اور بچے کشتی سے کُود گئے تھے اور انہوں نے دیوانہ وار زور لگانا شروع کر دیا تھا اُسی طرح وہ بھی زور لگانا شروع کر دیں اور تہیّہ کر لیں کہ خواہ کچھ ہو جائے ہم اپنے مقام کو حاصل کر کے رہیں گے۔
    پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو اور اپنی غفلتوں کو دور کرو۔ خدا نے تمہیں اول بنایا تھا اوروہ چاہتا ہے کہ اب بھی تم اس مقام کو ضائع نہ کرو۔ تم اس بنئے کی طرح اپنی مونچھیں نیچی نہ کرو۔ ممکن ہے اگر تم سچے دل سے کوشش کرو تو تمہارے کمزور بھی مضبوط ہو جائیں، تمہارے نوجوان بھی قربانی کرنے والے بن جائیں اور پھر تمہاری زندگی بالکل بدل جائے اور تم اوّلیّت کے مقام کو دوبارہ حاصل کر لو‘‘۔
    ’’ایک پرانا خاندان جو غیرمبائع ہو چکا ہے اُس کی ایک خاتون مجھ سے ملنے کے لیے آئیں توساتھ اُن کے ایک چھوٹی عمر کا نواسہ بھی تھا۔ انہوں نے جو باتیں کیں اُن سے پتا لگتا ہے کہ چاہے وہ ہم سے کتنے ہی دور ہو چکے ہوں پھر بھی وہ سلسلہ سے اپنے تعلقات کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ باتوں باتوں میں پتا لگا کہ اُس بچہ کو درثمین خوب یاد ہے مگر چونکہ اسے درثمین تو پڑھائی گئی اور اِدھر ہم سے قطع تعلق رہا اس لیے بچہ یہ سمجھ ہی نہ سکا کہ اِس درثمین کے اشعار میں جن کا ذکر ہے وہ ہم لوگ ہی ہیں۔ اُس بچے نے ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم کے متعلق درثمین میں پڑھا تھا ؎
    کلام۔اللہ کو پڑھتی ہے فرفر
    خدا کا فضل اور رحمت سراسر 5
    مگر چونکہ وہ ہم سے کبھی ملے نہیں تھے اس لیے وہ اپنی نانی کو کہنے لگا میں مبارکہ کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ اب اُن کی عمر 55 سال کی ہو چکی ہے۔ اُن کے بچوں کے بھی آگے بچے۔بچیاں ہیں۔ وہ انہیں دیکھ کر کہنے لگا کہ حضرت صاحب نے تو لکھا ہے وہ فرفر قرآن پڑھتی ہے اور یہ تو بڑی عمر کی عورت ہیں۔ اِس سے یہ تو پتا لگ گیا کہ اُن کے اندر احمدیت پائی جاتی ہے مگر جدائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ اُن کے ذہن کے نقشے بدل گئے۔ اس طرح اُس کی نانی بچے کو میرے پاس لائی اور کہا یہ وہ محمود ہیں جن کے متعلق تم شعر پڑھا کرتے ہو کہ
    تُو نے یہ دن دکھایا محمود پڑھ کے آیا
    دل دیکھ کر یہ احساں تیری ثنا ئیں گایا 6
    وہ کہنے لگا یہ تو بڑی عمر کے لگتے ہیں، وہ تو نہیں لگتے جن کا حضرت صاحب نے ذکر کیا ہے۔ غرض ان خاندانوں میں بھی احمدیت سے تعلق کا احساس پایا جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کی پرانی محبت کو تازہ کیا جائے اور اُنہیں اپنے قریب کیا جائے۔
    میرا ایک عزیز تھا جو بچپن میں میرے ساتھ بڑی محبت رکھتا تھا۔ جب 1914ء میں اختلاف پیدا ہوا تو وہ غیرمبائع ہو گیا اور سخت مخالفت پر اُتر آیا۔ میں ایک دفعہ باہر گیا تو وہ مجھ سے ملنے کے لیے آ گیا۔ وہ ابھی آ ہی رہا تھا کہ اُسے دیکھ کر وہاں کے امیر جماعت نے مجھے کہا کہ فلاں شخص آ رہا ہے اور وہ بڑا بدگو ہے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ آپ کی کوئی بے ادبی کر بیٹھے۔ میں نے کہا گھبراؤ نہیں۔ مجھے پتا ہے کہ اُسے کسی زمانہ میں میرے ساتھ بڑی محبت ہوا کرتی تھی۔ اس لیے یہ بے ادبی نہیں کر سکتا۔بہرحال وہ صحن میں داخل ہوا۔ صحن سے برآمدہ میں آیا اور برآمدہ سے آگے کمرہ میں داخل ہوا۔ اندر میں بیٹھا ہوا تھا۔ جونہی اُس نے میری طرف نظر اُٹھائی اور اِدھر میری نظر اُس پر پڑی تو یکدم اُس کی آنکھوںمیں سے آنسو بہنے لگ گئے۔ میں نے کہا لو! تم تو کہتے تھے یہ بے ادبی نہ کر بیٹھے، اور اِس پر تو دیکھتے ہی رِقّت طاری ہو گئی ہے۔ غرض یہ تو دینی معاملہ ہے۔ دنیوی عشق جو بالکل جھوٹا اور ناپائیدار ہوتا ہے اُس کے متعلق بھی شاعر کہتے ہیں
    جب آنکھیں چار ہوتی ہیں مروت آ ہی جاتی ہے
    آخر یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں بیٹھے ہیں اور انہوں نے آپ کی خدمتیں کی ہیں۔ اِن کو اور ان کی اولادوں کو بچانا اور پھر اُن کے اندر محبتِ۔دیرینہ کے جذبات کو زندہ کرنا، یہ بھی تو ہمارا ہی فرض ہے۔ اگر تم انہی لوگوں کو سنبھال لو تو لاہور میں ہماری جماعت کئی گُنا طاقتور ہو جائے۔
    میں نے ایک دفعہ رؤیا میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کسی جگہ تشریف رکھتے ہیں اور آپ کے اردگرد اَور بھی بہت سے لوگ بیٹھے ہیں۔اُن میں سے بعض غیرمبائع بھی ہیں جن پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ناراض ہیں۔ انہی لوگوں میں مَیں نے شیخ رحمت اللہ صاحب کو بھی دیکھا مگر میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بات کرتے کرتے جب شیخ۔رحمت اللہ صاحب پر نظر ڈالتے تو جھٹ اپنی آنکھیں نیچی کر لیتے اور محبت کی جھلک اُن میں دکھائی دینے لگتی۔
    پس اللہ تعالیٰ یہ تو چاہتا ہے کہ یہ لوگ ہدایت پا جائیں مگر یہ نہیں چاہتا کہ یہ تباہ ہو جائیں۔ غلطی اَور ہوتی ہے اور غضب اَور چیز ہے۔ ہر غلطی کے نتیجہ میں غضب پیدا نہیں ہوتا۔ تمہارے بچے کئی غلطیاں کرتے ہیں مگر تمہیں اُن کی ہر غلطی پر غصہ نہیں آتا اور جب غصہ بھی آتا ہے تو وہ مرکب ہوتا ہے یعنی اُس غصہ کے ساتھ محبت بھی شامل ہوتی ہے۔ خالص غصہ اپنے پیارے پر کبھی نہیں آیا کرتا۔
    ایک دفعہ بچپن میں مجھے خیال پیدا ہوا کہ لیکھرام کا ردّ براہین کا جواب لکھنا چاہیے۔ اُس نے کسی جگہ قرآن کریم کی بعض آیتوں پر اعتراض کرتے ہوئے لکھا تھا کہ یہ متضاد خیالات ہیں۔ یا تو انسان کو غصہ آئے گا اور یا محبت پیدا ہو گی۔ غصہ اور محبت اکٹھے نہیں ہوسکتے۔ بچپن میں مجھے مرغیاں پالنے کا بہت شوق تھا۔ اِس وجہ سے مرغیوں کی کیفیتیں مجھے خوب یاد تھیں۔ میں نے جواب میں لکھا کہ تم کہتے ہو ایک وقت میں محبت اور غصہ جمع نہیں ہو سکتے۔ حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ مرغی اپنے بچوں کو لیے پھرتی ہے کہ اچانک چیل حملہ کر دیتی ہے۔ وہ اُس کے مقابلہ کے لیے ایک طرف غصہ میں کُودتی ہے اور دوسری طرف اپنے ایک پَر کو اپنے بچوں پر پھیلا دیتی ہے۔ اِس طرح ایک ہی وقت میں اُسے غصہ بھی آ رہا ہوتا ہے اور۔اُس کے اندر محبت بھی پیدا ہو رہی ہوتی ہے۔
    پس یہ غلط بات ہے کہ ایک وقت میں یہ دونوں جذبات اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ اِسی طرح جب کسی شخص کے ساتھ دیرینہ تعلق ہوتا ہے تو اُس کی باتوں پر خالص غصہ کبھی نہیں آتا۔ محبت کا جذبہ بھی اُس کے ساتھ شامل ہوتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب کوئی گنہگار بندہ اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرتا ہے تو اُس کی اِس توبہ پر اللہ تعالیٰ کو اُس ماں سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے جس کا کھویا ہوا بچہ اُسے مل جائے۔
    یہی کیفیت انسانی قلوب کی بھی ہونی چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں اِس بارہ میں ہم پر پہلا حق اُن لوگوں کا ہے جو غیرمبائع ہیں اور دوسرا حق اُن لوگوں کا ہے جن کو ہم غیراحمدی کہتے۔ہیں کیونکہ ہمارا روحانی باپ ایک ہی ہے۔ وہ اگر غصہ میں آگے نکل جائیں تو یہ اُن کا اپنا قصور ہے۔ ہمیں بہرحال اُن کے لیے محبت اور پیار کے جذبات ہی اپنے دل میں رکھنے چاہییں اور اُنہیں اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر تم اِس کام میں کامیاب ہو جاؤ تو غیرمذاہب والوں کو بھی آسانی سے اسلام کی طرف کھینچ سکو گے‘‘۔
    (الفضل13دسمبر1961ئ+غیرمطبوعہ مواد از خلافت لائبریری ربوہ)

    1
    :
    تاریخ الطبری جلد3صفحہ260 ثم دخلت سنہ سِتِّیْن۔ بیروت لبنان1971ئ۔
    2
    :
    مسند احمد بن حنبل ؒ مترجم مسند ابی ھریرۃ ؓ جلد4صفحہ19حدیث نمبر7180مکتبہ رحمانیہ لاہور
    3
    :
    صحیح البخاری کتاب فضائل اصحاب النبیؐ باب قول النبیؐ سُدُّو الابوابَ اِلَّابابَ اَبی بکرٍ
    4
    :
    تذکرہ صفحہ 402۔ایڈیشن چہارم
    5
    :
    درثمین (اردو) زیر عنوان ’’بشیر احمد، شریف احمد اور مبارکہ کی آمین‘‘۔ صفحہ42مرتبہ شیخ محمد اسماعیل پانی پتی1962ء
    6
    :
    درثمین (اردو) زیر عنوان ’’محمودکی آمین‘‘۔ صفحہ30۔مرتبہ شیخ محمد اسماعیل پانی پتی
    1962ء


    الٰہی جماعتیں ہمیشہ مخالفتوں کے طوفان میں محض۔خداتعالیٰ کے فضل سے ترقی کیا کرتی ہیں
    اور یہ ایک بہت بڑا نشان ہوتا ہے
    (فرمودہ 26فروری1954ء بمقام رتن باغ لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’شاید بعض دوستوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہو کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں تو کہا تھا کہ جمعہ کی نماز مسجد میں ہی ہونی چاہیے لیکن آج پھر اس جگہ نماز ہو رہی ہے۔ اس کے لیے میں بتانا چاہتا ہوں کہ گزشتہ سے پیوستہ جمعہ کو چونکہ میں نے عدالتی کارروائی میں شمولیت کرنی تھی اور وہاں سے جمعہ کے لیے مسجد میں جانا مشکل تھا اس لیے فیصلہ کیا گیا کہ جمعہ یہیں پڑھا جائے اور گزشتہ جمعہ میں مَیں نے کہا تھا کہ مجھ سے پوچھے بغیر جمعہ کا انتظام یہاں کر لیا گیا۔ اب شاید کسی دوست کے دِل میں خیال آئے کہ اِس دفعہ پھر اُسی طرح جمعہ کاانتظام یہاں کرلیا گیا ہے۔ سو میں دوستوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ غالباً کارکنوں کی غلط فہمی کی بناء پر اس دفعہ جمعہ کا انتظام مسجد میں نہیں ہوا۔ جب میں یہاں پہنچا تو مجھے پیغام ملا کہ جماعت کے بعض کارکن آئے ہیں اور وہ پوچھتے ہیں کہ جمعہ کی نماز کہاں ہونی چاہیے۔ میں نے جواب میں کہا کہ جمعہ کی اصل جگہ تو مسجد ہی ہے لیکن چونکہ میری آمد کی وجہ سے لوگ زیادہ تعداد میں جمع ہوں گے اور مسجد چھوٹی ہے اس لیے اگر مسجد میں جمعہ کی نماز مناسب نہیں تو نئی جگہ پر جو خریدی گئی ہے جمعہ کی نماز پڑھ لی جائے۔ لیکن اگر وہاں بھی جمعہ کی نماز کا انتظام نہ ہو سکے تو جہاں آپ لوگ چاہیں جمعہ کی نماز پڑھ لیں۔ اب اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ پیغامبر نے پیغام پہنچانے میں غلطی کی یا جماعت کے اُس کارکن نے اس کی بات کو غلط سمجھا۔ بہرحال جواب یہ دیا گیا کہ چونکہ مسجد چھوٹی ہے اور نئی جگہ پر ابھی کھیت ہیں اور ان میں فصل کھڑی ہے ،کھیتی والے وہاں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دیں گے اس لیے جمعہ کی نماز یہیں یعنی رتن باغ میں ہو گی۔ اب پتا لگا ہے کہ مقامی آدمی آپس میں یہ بحث کر رہے تھے کہ نئی جگہ پر نماز کے لیے مناسب انتظام کر دیا گیا تھا اور یہ بات غلط ہے کہ وہاں کھیتوں کی وجہ سے نماز جمعہ کا انتظام کرنا مشکل ہے۔ پس یہ غلط فہمی تھی جس کی بناء پر جمعہ کا انتظام رتن باغ میں کیا گیا۔ بہرحال اب جماعت کی یہی کوشش ہونی چاہیے کہ اگر زیادہ تعداد کی وجہ سے مسجد میں نماز پڑھنا مشکل ہو تو نئی جگہ پر نماز پڑھی جائے۔
    بہرحال جہاں تک نمازوں کا تعلق ہے نمازیں مسجد میں پڑھنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ جب دوست زیادہ تعداد میں ہوں تو نمازیں نئی جگہ پر پڑھ لی جایا کریں تا کہ لوگوں کو وہاں جانے کی عادت ہو جائے اور تا وہاں دعائیں ہوتی رہیں کہ خداتعالیٰ کا فضل نازل ہو اور جب خداتعالیٰ کا فضل ہو جاتا ہے تو سب مشکلات حل ہو جاتی ہیں۔ اور اگر کوئی مجبوری ہو تو کسی اَور جگہ نماز پڑھ لی جائے۔ بہرحال جہاں تک ہو سکے چھوٹے اجتماعوں میں مسجد کو مقدم رکھا جائے اور بڑے اجتماعوں میں اُس جگہ کو جو نئی خریدی ہے۔
    اس کے بعد میں جماعت کو اِس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہے ہماری جماعت قسم قسم کے خطرات میں سے گزر رہی ہے۔ بعض خطرات ہمیں نظر آتے ہیں اور بعض خطرات ہمیں نظر نہیں آتے۔ بعض رپورٹیں ایسی آ رہی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض جگہوں پر لوگ پھر فساد پیدا کرنے اور فتنہ کی آگ بھڑکانے کی کوشش کر۔رہے۔ہیں اور پھر بعض ایسی اندرونی باتیں بھی پیدا ہو رہی ہیں جن کی وجہ سے یہ نظر آتا ہے کہ شاید جماعت کے لیے کسی نہ کسی شکل میں کوئی ناپسندیدہ بات ظاہر ہو۔ ایسے حالات میں مومن کو سب سے زیادہ خداتعالیٰ کے سامنے جھکنا چاہیے اور اُسی سے دعائیں کرنی چاہییں کیونکہ جو کام انسانی ہاتھ نہیں کر سکتا وہ خداتعالیٰ کا ہاتھ کر سکتا ہے۔
    الٰہی جماعتیں تو ہمیشہ ہی ایسی شکل میں ترقی کیا کرتی ہیں۔ جیسے انسان کا بچہ کسی بھیڑیے یا شیر کی کچھار میں پرورش پاتا ہو۔ بیشک شیروں کی کچھار میں انسان کے بچے کا پرورش پانا ایک معجزہ ہوتا ہے لیکن اس سے بھی بڑا معجزہ یہ ہوتا ہے کہ الٰہی جماعتیں مخالفتوں کے طوفان میں ترقی کر جاتی ہیں۔ آج تک کوئی الٰہی جماعت ایسی قائم نہیں ہوئی جس کو معجزانہ زندگی نہ ملی ہو۔ ایک شخص خطرناک بیمار ہوتا ہے اور علاج کے بعد اچھا ہو جاتا ہے۔ لیکن ایک خطرناک بیمار ایسا ہوتا ہے جس کے بچنے کی امید نہیں ہوتی اور طبیب اُس کو لاعلاج سمجھ کر جواب دے دیتے ہیں۔ وہ صدقہ و خیرات کرتا ہے اور اس صدقہ و خیرات کے نتیجہ میں خداتعالیٰ کا فضل ظاہر ہوتا ہے اور وہ اس بلاء کو دور کر دیتا ہے اور ڈاکٹر حیران ہوتے ہیں کہ خداتعالیٰ نے اُسے کس طرح معجزانہ زندگی دے دی ہے۔ لوگ اس کو حیرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور جب وہ اُن کی آنکھوں کے آگے سے گزرتا ہے تو وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے ایک بہت بڑا نشان دیکھا ہے۔ یہ شخص سخت خطرناک مرض میں گرفتار تھا، طبیب جواب دے چکے تھے لیکن خداتعالیٰ نے اسے صحت عطا کر دی۔ بیشک یہ بھی ایک بڑا نشان ہوتا ہے لیکن اِس سے بھی بڑا نشان یہ ہوتا ہے کہ الٰہی جماعتیں مصائب اور آفات کے طوفانوں میں سے سلامتی کے ساتھ گزر کر اپنی کامیابی کی منزل کو حاصل کر لیتی ہیں کیونکہ مرض ارادہ والی چیز نہیں ہوتی۔ کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ فلاں مرض فلاں شخص کو ارادۃً مارنے آئی تھی۔ وہ اتفاقی حادثات کا نتیجہ ہوتی ہے۔ لیکن۔مخالفت ایک ایسی چیز ہے جس کے پیچھے ارادہ ہوتا ہے اور جب کسی چیز کے ساتھ ارادہ ہوتا ہے تو وہ زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے۔ مثلاً ایک پتھر کسی بلند جگہ سے انسان کے سر پر گرے تو وہ اُسے مار دے گا یا زخمی کر دے گا لیکن چھت سے یا کسی بلند جگہ سے اس کے گرنے میں دوسرے کی موت کا احتمال کم ہوتا ہے۔ یعنی یہ ضروری نہیں ہوتا کہ وہ پتھر کسی انسان کے سر پر گر کر اُسے ہلاک کر دے۔ ممکن ہے پتھر چھت پر سے گرے اور وہ کسی انسان کو نہ لگے یا وہ کسی انسان کو لگے مگر اُسے ایسی ضربات نہ آئیں جن کے نتیجہ میں اس کی موت واقع ہو۔ لیکن اگر کوئی رائفل کا نشانہ بنا کر گولی چلاتا ہے تو چونکہ اس میں ارادہ شامل ہوتا ہے اس لیے اس میں موت کا بہت زیادہ احتمال ہوتا ہے۔ پس انسان جب کسی کو مارتا ہے تو وہ زیادہ خطرناک ہوتا ہے کیونکہ اس میں اس کے مارنے کی نیت اور ارادہ بھی ہوتا ہے۔ بیماری کا علاج کرو اور علاج اس کے مطابق ہو تو وہ ہٹ جائے گی لیکن کسی انسان کو ہٹانا چاہو تو وہ نہیں ہٹے گا۔ تم ایک طرف سے ہٹاؤ گے تو وہ دوسری طرف چلا جائے گا۔ تم اُدھر سے ہٹانے کی کوشش کرو گے تو وہ تیسری طرف چلا جائے گا کیو نکہ اُس کی نیت مارنے کی ہوتی ہے اور وہ اس کے لیے ہر ڈھنگ اور طریق اختیار کرتا ہے۔
    خداتعالیٰ کی طرف سے قائم کردہ جماعتیں جب مخالفت کے طوفان سے بچتی ہیں تو وہ باوجود دشمن کے ارادہ اور نیت کے بچتی ہیں اس لیے یہ نشان بہت بڑا ہوتا ہے۔ اور جب انسان کے سامنے اس قدر بڑے نشانات آئیں تو وہ خداتعالیٰ کو کیوں یاد نہ کرے گا۔ جب سے دنیا قائم ہوئی، خداتعالیٰ کی طرف سے قائم کردہ کوئی جماعت ایسی نہیں گزری جسے خداتعالیٰ نے شیر کے منہ سے نکال کر بچایا نہ ہو۔ شیر کے منہ سے انسان کا بچ جانا ممکن ہے لیکن جس قسم کے فتنوں سے خداتعالیٰ اپنی جماعتوں کو بچاتا ہے بظاہر اُن سے بچ نکلنا مشکل ہوتا ہے لیکن الٰہی سنت یہی ہے کہ وہ اپنی جماعتوں کو اس قسم کے خطرناک مصائب میں ڈال دیتا ہے اور پھر ان سے محفوظ کر لیتا ہے اور اِس طرح لوگوں کو عظیم الشان نشان دکھاتا ہے۔ حضرت نوحؑ کے زمانہ میں بھی ایسا ہی ہوا، حضرت ابراہیمؑ کے زمانہ میں بھی ایسا ہی ہوا، حضرت موسٰیؑ کے زمانہ میں بھی ایسا ہی ہوا، حضرت عیسٰی علیہ السلام کے زمانہ میں بھی ایسا ہی ہوا۔ ان کے علاوہ تمام انبیاء کے زمانہ میں چاہے اُن کا ذکر قرآن کریم میں ہوا ہے یا نہیں ہوا ایسا ہی ہوا۔ جن قوموں کے نام لے کر خداتعالیٰ نے قرآن کریم میں ذکر نہیں کیا صرف یہی کہہ دیا ہے کہ ہر قوم میں میرے رسول آئے ہیں1 اُن کے زمانہ میں بھی ایسا ہی ہوا۔ مثلاً تم کہہ سکتے ہو کہ یہودیوں کا یہ خیال تھا کہ کوئی شخص جب خداتعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوتا ہے تو اُس کی جماعت پر مصائب۔اور تکالیف آتی ہیں۔ اس لیے ممکن ہے انہوں نے اِس قسم کی باتیں تاریخ میں داخل کر دی ہوں لیکن ہم کہیں گے اچھا! اگر یہ یہودیوں کا خیال تھا کہ انبیاء کی جماعتوں پر مصائب آتے ہیں اور انہوں نے تاریخ میں اِس قسم کی باتیں شامل کر دی ہیں تو حضرت۔نوح علیہ۔السلام کے زمانہ میں تو یہودی موجود نہیں تھے کہ انہوں نے اس قسم کی باتیں تاریخ میں شامل کر دی ہوں۔ پھر تم کہہ سکتے ہو کہ حضرت نوح علیہ السلام کی تاریخ بھی یہودیوں نے لکھی ہے اس لیے ممکن ہے کہ انہوں نے اس قسم کی باتیں شامل کر دی ہوں۔ہم اس بات کو بھی تسلیم کر لیتے ہیں لیکن حضرت عیسٰی علیہ السلام کو تو یہودی مانتے ہی نہیں تھے۔ ان کی تاریخ میں بھی یہ ذکر آتا ہے کہ ان پر اور ان کی قوم پر ہر قسم کے مصائب آئے، ان کو تو یہ بیان کرنا چاہیے تھا کہ عیسٰی علیہ السلام کی بہت عزت ہوئی تھی۔پھر عیسٰی علیہ السلام کو بھی جانے دو، مکہ والوں پر یہود کا کیا اثر تھا۔ پھر مکہ والوں کے متعلق بھی یہ کہہ سکتے ہو کہ وہ سامی النسل تھے، ان پر یہود کا اثر تھا۔ زرتشت علیہ السلام ایران میں مبعوث ہوئے تھے ان کے متعلق بھی یہ روایت پائی جاتی ہے کہ ان پر اور ان کی قوم پر سخت مصائب آئے۔ خداتعالیٰ نے اپنے فضل سے انہیں ان مصائب سے نکالا اور انہیں ترقی بخشی۔ پھر تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ ایران کا علاقہ عرب کے قریب تھا۔ وہ لوگ عربوں اور یہودیوں سے متأثر تھے اس لیے انہوں نے اپنی تاریخ میں اس قسم کی باتیں لکھ دی ہیں۔ لیکن ہندوستان کا ملک تو ان سے بہت دور تھا۔ پھر بھی ان کے انبیاء کے متعلق اِس قسم کی روایات ملتی ہیں۔ حضرت رام چندرؑ بھی اوتار تھے۔ ان کی ساری زندگی بن باس میں ہی گزر گئی۔ حضرت کرشنؑ اوتار تھے، ان کے زمانہ میں بھی لڑائیاں ہوتی رہیں اور انہی لڑائیوں میں ان کی ساری زندگی گزر گئی۔ غرض ہر قوم جس میں کسی شخص کی آمد پر ایمان کا اظہار کیا گیا تھا یا انہوں نے کسی سے عقیدت کا اظہار کیا ہے ان سے ایک ہی قسم کا سلوک ہوا ہے اور یہ ایسی شہادت ہے جس میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ہوا۔ بعض باتوں میں اختلاف بھی ہو جاتا ہے لیکن اس بات میں اختلاف نہیں ہوا کہ ان کو اور ان کی قوموں کو تکالیف دی گئیں۔ حضرت۔نوحؑ، ابراہیمؑ، موسٰیؑ، عیسٰیؑ، زرتشتؑ، کرشنؑ، رام چندرؑ، محمد۔رسول۔اللہ صلی۔اللہ۔علیہ۔وآلہٖ وسلم کی تعلیموں میں فرق نظر آتا ہے۔ پھر کوئی نبی کسی قوم میں پیدا ہوا اور کوئی کسی قوم میں پیدا۔ہوا۔ اس میں بھی فرق نظر آتا ہے۔ پھر کوئی سفید تھا اور کوئی کالا تھا۔ اس میں بھی فرق نظر آتا ہے۔ پھر کوئی، کوئی بولی بولتا تھا اور کوئی، کوئی بولی بولتا تھا۔ اس میں بھی فرق نظر آتا ہے۔ لیکن اِس بات میں کوئی فرق نہیں کہ ہر نبی جب دنیا میں مبعوث ہوا اُس کی قوم خطرناک حالات میں سے گزر کر ترقی کر گئی۔ دشمن نے انہیں دکھ دیئے، تکالیف دیں، مصائب کے پہاڑ اُن پر توڑے لیکن وہ پھر بھی زندہ رہیں اور ترقی کر گئیں۔ یہ اتنا بڑا نشان ہے کہ اگر انسان اِس پر غور کرے تو یہ اُس کے ایمان کی ترقی کا موجب ہو جاتا ہے لیکن اِس کے باوجود انسان سمجھتا ہے کہ ان قوموں نے طاقت اور زور سے ترقی حاصل کی تھیحالانکہ اگر طاقتور اور زور سے ہی ترقی حاصل کی تھی تو ان سے پہلے بھی تو بہت سی قومیں گزری ہیں۔ روایات بتاتی ہیں کہ جب بھی کسی قوم نے دین کو پھیلایا ہے تو وہ دوسری قوموں پر غالب آئی ہے۔ لیکن وہ طاقت اور زور سے غالب نہیں آتی۔ الٰہی نصرت کے ذریعہ غالب آئی ہے۔ اس میں طاقت اور قوت نہیں تھی لیکن خداتعالیٰ نے اُن سے کام لیا۔ اور اس کا کام لینے کا طریق ایسا ہی ہے جیسے کوئی ماں میز اُٹھانے لگی ہو تو بچہ آ جائے اور کہے میں میز اُٹھاؤں گا۔ ماں کہتی ہے اچھا! تم اُٹھاؤ !اور وہ دیکھتی ہے کہ بچہ اس میز کو پکڑ کر بظاہر زور لگا رہا ہے لیکن اس کے زور لگانے سے میز اُٹھایا نہیں جا سکتا۔ ماں اس میز کو اُٹھاتی جاتی ہے اور۔ساتھ ساتھ یہ کہتی جاتی ہے لگاؤ زور! حالانکہ بچہ صرف میز پر ہاتھ رکھے ہوئے ہوتا ہے۔ وہ اس کے کام میں مدد نہیں دے رہا ہوتا۔ بلکہ بسااوقات اس کے لیے زیادہ بوجھ کا موجب بن رہا ہوتا ہے۔ اِسی طرح خداتعالیٰ ہم سے کہتا ہے دو چندے، کرو قربانیاں۔ حالانکہ ان چندوں اور قربانیوں کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ جو کام خداتعالیٰ مجددین، مصلحین اور انبیاء کی جماعتوں سے لیتا ہے۔ اسے دیکھو تو اس کے سامنے ان کی قربانیاں اور کوششیں ہیچ نظر آتی ہیں۔ لیکن باوجود اس کے کہ سامان، طاقت اور قوت کم ہوتی ہے، مصلحین، مجددین اور انبیاء کی جماعتیں ترقی کر جاتی ہیں۔ ان کی قربانیوں کے مقابلہ میں کام زیادہ ہوتا ہے۔ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ۔وآلہٖ وسلم کو دیکھ لو آپ کے پاس مال اور ذرائع بہت کم تھے۔ آپ کے بعد جو لوگ آئے ان کے ذرائع زیادہ تھے۔ ان کے پاس مال زیادہ تھا لیکن جو کام رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ۔وآلہٖ وسلم اور آپؐ کے خلفاء کے زمانہ میں ہوا وہ بعد میں نہیں ہوا۔ اِس۔طرح۔خداتعالیٰ نے بتا دیا کہ جو کام ہوا ہے وہ طاقت، قوت اور آدمیوں کی کثرت کی وجہ سے نہیں ہوا۔ اگر طاقت، قوت اور آدمیوں کے ذریعہ سے وہ کام ہوا تھا تو اب میں نے طاقت،قوت اور آدمیوں کو بڑھا کے دکھا دیا ہے لیکن کام پہلے کی نسبت بہت کم ہوا ہے۔ جو تغیر انسانی قلوب، احساسات، جذبات اور نظم و نسق میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں ہوا اور جو کام آپؐ کی جماعت نے کیا بعد میں بنوعباس اور بنوامیہ نے اس سے ہزاروں گُنے زیادہ آدمیوں، طاقت اور قوت کے باوجود نہیں کیا بلکہ وہ لوگ اپنے آپ کو بھی نہ سنبھال سکے اور ایک دوسرے کو مارتے رہے۔
    کُجا یہ حالت تھی کہ مسلمان سب ایک جتھا تھے اگر کسی وجہ سے کسی کے جذبات بھڑک اُٹھتے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے منہ سے ایک لفظ نکلتا اور وہ سرد پڑ جاتے۔ لیکن اب کسی کا پَیر غلطی سے بھی دوسرے کے پَیر پر پڑ جائے تو وہ کئی باتیں کرتا ہے اور کہتا ہے تمہیں تہذیب حاصل نہیں؟ کُجا وہ حالت تھی کہ ایک دفعہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ لڑ پڑے۔ حضرت عمرؓ کی طبیعت سخت تھی۔ انہوں نے حضرت ابوبکرؓ کو سخت سُست کہا اور پھر غصہ میں آ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس شکایت کرنے چلے گئے۔ دوسرے لوگوں نے حضرت ابوبکرؓ سے کہا عمر !رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت کرنے گئے ہیں۔ وہ غصہ میں ہیں۔ واقعہ انہیں سمجھ میں نہیں آیا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آپ پر ناراض ہو جائیں۔اس لیے آپ بھی جائیں۔ پہلے تو آپ نے اس بات کی طرف دھیان نہ دیا۔ آپ اپنے گھر تشریف لے گئے لیکن بعد میں خیال آیا کہ شاید رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیال فرمائیں کہ سختی میں نے کی ہے۔ چنانچہ آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس میں تشریف لے گئے اور دیکھا کہ حضرت عمرؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے یہ کہہ رہے ہیں کہ آج مجھ سے ابوبکرؓ پر کچھ سختی ہو گئی ہے۔ اس خیال سے کہ شکایت نہ کر دیں۔ میں پہلے ہی معافی مانگنے آ گیا ہوں۔ حضرت عمرؓ نے بات ختم ہی کی تھی کہ آپ بھی مجلس میں جا پہنچے اور۔خیال کیا کہ میں بھی اپنی شکایت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سامنے پیش کر دوں۔ چنانچہ آپ نے آگے قدم بڑھائے تا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنا بیان پیش۔کریں۔ لیکن پیشتر اِس کے کہ حضرت ابوبکرؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک پہنچتے آپؐ نے حضرت عمرؓ۔۔کو مخاطب کر کے جواب دینا شروع کیا۔ اُس وقت آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ آپ نے فرمایا اے لوگو! تم کو کیا ہو گیا !!کہ جب تم سب میری اور اسلام کی مخالفت کرتے تھے اُس وقت صرف ابوبکرؓ۔۔تھا جو میری تائید کیا کرتا تھا۔ کیا تم اب بھی ہم دونوں کو دکھ دینے سے باز نہیں آتے۔ حضرت ابوبکرؓ یہ سن کر کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم، حضرت عمرؓ پر ناراض ہوئے ہیں آگے بڑھے اور گُھٹنوں کے بل بیٹھ کر کہنا شروع کیا یَارَسُولَ اللّٰہ! غلطی میری ہی ہے۔ آپ عمر پر خفا نہ ہوں۔2
    اب دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے قلوب کی کس طرح صفائی کر دی تھی۔ اگر تم میں سے کوئی شخص وہاں ہوتا تو وہ نہ صرف معافی نہ مانگتا بلکہ یہ کہتا یَارَسُولَ اللّٰہ! آپؐ نے اس کے جُرم کو کم سمجھا ہے۔ اس نے ظلم زیادہ کیا تھا۔ بیسیوں دفعہ میں نے دیکھا ہے کہ اگر ہم کسی شخص کو اُس کے جُرم کی سزا دیتے ہیں تو دوسرے لکھتے ہیںکہ اس کا جُرم تو بہت زیادہ تھا اسے جماعت سے خارج کیوں نہیں کر دیا گیا۔ اس کو تو جماعت سے خارج کر دینا چاہیے تھا، اسے مرتد قرار دے دینا چاہیے تھا۔ اس کو اِس اِس طرح پیسنا چاہیے۔ اور اِدھر یہ حالت ہے کہ ایک آدمی پر ظلم کیا جاتا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس کی حمایت بھی کرتے ہیں لیکن وہ یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ آپ دوسرے شخص پر ناراض ہوں۔ یا تو وہ اپنی براء ت کرنے آیا تھا اور یا وہ یہ کہتا ہے کہ یَارَسُولَ اللّٰہ! قصور میرا ہی ہے۔ یہ تغیر جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے پیدا کیا بنوامیہ اور بنوعباس اپنے سارے روپیہ اور طاقت سے بھی پیدا نہ کر سکے۔ اُس وقت کئی ایسے لوگ موجود تھے جنہیں بنوعباس اور بنوامیہ کی حکومتیں روپیہ دیتی تھیں لیکن وہ اندرونی طور پر ان کے دشمن تھے۔ برامکہ3 کو دیکھ لو بنوعباس نے اِس خاندان کو کتنی عزت دی۔ انہیں غلامی سے اُٹھا کر بادشاہ بنا دیا لیکن بنوعباس کی سلطنت کے خلاف برامکہ کے خاندان نے ہی سازش کی اور آخر ہارون الرشید کو مجبور ہو کر اِس خاندان کے لوگوں کو قتل کرانا پڑا۔ اِس کے مقابلہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ آپ اپنے ماننے والوں کو یہی فرماتے تھے قربانیاں کرو۔ چنانچہ وہ روپیہ دیتے تھے، قربانیاں۔کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ آپ نے ان کو قربانی کا ارشاد فرما کر ان پر احسان کیا ہے۔ آپ کا حکم سنتے ہی وہ اپنی جان اور مال قربان کر دیتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کو جسے اُس نے کھڑا کیا ہے یہ نظارہ دکھا دیا ہے تا اسے یہ خیال پیدا نہ ہو کہ اس نے جو وجاہت اور شان حاصل کی ہے وہ اس کے زور اور قوت۔ِبازو کے نتیجہ میں ہے۔ وہ اپنی اِس حالت کو دیکھیں اور غور کریں کہ جب وہ کمزور تھے تو ان کے کام کا کیا نتیجہ نکلا۔ اور اب جبکہ وہ تعداد میں بھی بڑھ گئے ہیں اور ان کی مالی حالت بھی بہت ترقی کر گئی ہے ان کے کام کا کیا نتیجہ نکل رہا ہے۔ پھر کوئی اَور ترقی یافتہ قوم ہو تو تم کہہ سکتے ہو کہ اُن کے پاس وہ شان نہیں تھی لیکن یہاں تو یہ ہو رہا ہے کہ ایک وقت میں جو قوم کامیاب اور کامران تھی اُسی کی نسل اپنے اس کام میں ناکام ہو جاتی ہے جس میں ان کے ماں باپ بہت تھوڑے سامان کے ہوتے ہوئے کامیاب ہو گئے تھے۔اِس سے پتا لگتا ہے کہ اُس وقت خداتعالیٰ خود انہیں ترقی دے رہا تھا۔
    پس تم اپنے کاموں میں خداتعالیٰ پر نظر رکھو، اُس کے سامنے جھکو، اُس سے دعائیں کرو۔ مصائب جب آتے ہیں تو ان میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں جو مخفی ہوتے ہیں اُن کا کسی کو پتا نہیں ہوتا۔ اِسی رتن باغ میں مَیں نے بعض خطبے پڑھے تھے۔ اگر تمہارا حافظہ ٹھیک ہے تو تمہیں یاد ہو گا جب تقسیمِ ملک کے وقت جماعت نے اچھا کام کیا تو سب طرف سے اس کی تعریفیں ہو رہی تھیں۔ میں نے اُس وقت کہا تھا کہ تمہاری یہ تعریفیں جو اَب ہو رہی ہیں زیادہ دیر تک قائم نہیں رہیں گی۔ یہی لوگ تمہاری مخالفت کریں گے۔ اس لیے تم ان تعریفوں کو سن کرسُست نہ ہو جاؤ۔ لیکن تمہارے دماغوں پر یہی اثر تھا کہ یہ لوگ ہماری تعریفیں کر رہے ہیں۔ اگر ہم نے تبلیغ شروع کر دی تو یہی لوگ ہمارے مخالف ہو جائیں گے۔ لیکن اس کے بعد وہ کچھ ہوا جس کا کسی کو خیال بھی نہ تھا اور جماعت کو پتا لگ گیا کہ ان تعریفوں کی کوئی حقیقت نہیں تھی۔ اصل تعریف وہی ہوتی ہے جو خداتعالیٰ کرتا ہے۔ جو تعریف خداتعالیٰ کرتا ہے وہ قیامت تک جاتی ہے لیکن انسان آج خوشامد کرتا ہے اور کل گالیاں دینے لگ جاتا ہے۔
    میرے ہی زمانہ میں جماعت کے بعض لوگوں کو پانچ سات مرتبہ ٹھوکر لگی۔ وہ لوگ میرے خطبے سنتے تھے اور جھومتے تھے۔ میرے ہاتھ چومتے تھے لیکن بعد میں انہیں ٹھوکر لگی تو۔انہوں نے مجھے غلیظ ترین گالیاں دیں۔ اخبارات میں میرے متعلق جھوٹی اور فحش خبریں اور۔مضامین شائع کیے۔ اگر اُن کا زور چلتا تو جس کا نام محمود تھا اُس کا نام ذلیل ہو جاتا۔ لیکن اس کا محمود نام خداتعالیٰ نے رکھا تھا۔ اس لیے وہ تمام فتنوں میں اسے محمود ہی بناتا جاتا تھا۔بعض دوست آئے اور ایک وقت تک انہوں نے خوب اخلاص دکھایا اور ہمیں بھی ان سے بعض امیدیں پیدا ہو گئیں لیکن بعد میں وہی لوگ دشمن ہو گئے اور انہوں نے یہ خیال کر لیا کہ اسے ہم لوگوں نے ہی عزت دی ہے اور اب ہم لوگ ہی اسے ذلیل کریں گے۔
    میری خلافت کا غالباً دوسرا سالانہ جلسہ تھا یا پہلا ہی جلسہ تھا کہ لاہور سے ایک چھپا ہوا اشتہار مجھے پہنچا۔ اس میں مولوی محمداحسن صاحب امروہی کا یہ اعلان تھا کہ میں نے اسے خلیفہ بنایا تھا اور اب میں ہی اسے معزول کرتا ہوں۔ مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی کے حضرت۔مسیح۔موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے دوستانہ تعلقات تھے لیکن جب آپ نے مسیح اور مہدی ہونے کا دعوٰی کیا تو مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی نے یہی کہا کہ میں نے انہیں عزت دی تھی اور اب میں ہی انہیں ذلیل کروں گا۔ اب دیکھو دونوں میں سے کس کی بات درست نکلی؟ جن دوستوں پر یہ خیال تھا کہ وہ بڑھانے والے ہیں انہوں نے بعد میں مقابلہ کیا اور حضرت۔مسیح۔موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ذلیل کرنا چاہا؟ لیکن آپ کو مسیح اور مہدی خداتعالیٰ نے بنایا تھا اس لیے اس نے کہا میں آپ کو ترقی دوں گا، آپ کو بڑھاؤں گا اور آپ کے دشمنوں کو ناکام و نامراد بناؤں گا۔ چنانچہ ایک دن ایسا بھی آیا جب عیسائیوں کی طرف سے آپ پر مقدمہ دائر ہوا تو یہ مولوی عیسائیوں کی تائید میں آپ کے خلاف عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے کہا اس شخص سے امید ہی یہی تھی کہ وہ اس کو قتل کر ا دیں گے۔ بعض بیوقوفیوں کی وجہ سے مجسٹریٹ مولوی محمدحسیین صاحب بٹالوی پر ناراض ہوا۔ مجسٹریٹ نے کہا تم عدالت کی ہتک کر رہے ہو اور غصہ میں آ کر کہا عدالت سے نکل جاؤ۔ اُس وقت بہت سے لوگ عدالت کے باہر جمع ہو گئے تھے اور وہ عدالت کے فیصلہ کا انتظار کر رہے تھے۔ مولوی محمدحسین بٹالوی نے خیال کیا کہ مجسٹریٹ نے جو سلوک مجھ سے کیا ہے اس کا ان لوگوں کو پتا نہ لگے۔ کسی شخص کی چادر بچھی ہوئی تھی۔ مولوی محمدحسین اُس چادر پر بیٹھ گئے اور سمجھا کہ لوگ یہ خیال کریں گے کہ۔اس شخص نے میرے اعزاز اور احترام کی وجہ سے اپنی چادر بچھا دی ہے۔ لیکن وہ چادر پر بیٹھے ہی تھے کہ چادر کے مالک نے کہا میری چادر کو پلید نہ کرو۔ تم مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عدالت میں آئے ہو تمہیں کوئی حق حاصل نہیں کہ میری چادر پر بیٹھو۔گویا مولوی محمدحسین بٹالوی کا تو یہ خیال تھا کہ مرزا صاحب کو مقامِ ماموریت پر میں نے ہی کھڑا کیا ہے لیکن خداتعالیٰ نے کہا تم میرے مامور کو ذلیل کرنے پر تُلے ہوئے ہو میں تمہیںسفید چادر پر بھی نہیں بیٹھنے دوں گا۔
    پس انسان کی دی ہوئی عزت اور اس کی تعریفیں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔ اصل عزت وہی ہے جو خداتعالیٰ دے۔ اور اصل تعریف وہی ہے جو خداتعالیٰ کرے۔ مومن کو اُس کی طرف جھکنا چاہیے اور اُس سے مانگنا چاہیے۔ جو چیز خداتعالیٰ دے گا وہ اُسے واپس نہیں لے گا۔ لیکن انسان ممکن ہے ایک عرصہ کے بعد تمہارا دشمن ہو جائے اور تمہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرے۔ پس تم خداتعالیٰ سے مانگو اور اُس چیز کی خواہش نہ کرو جو چھینی جا سکتی ہے۔ اِس کے ساتھ کچھ عرصہ کے لیے تمہیں دنیا میں عزت حاصل ہو سکتی ہے لیکن خداتعالیٰ کے نزدیک اس کی کوئی حیثیت نہیں۔
    پس تم خداتعالیٰ سے دعائیں کرو۔ دعاؤں میں بڑی تاثیر ہوتی ہے۔ تم خداتعالیٰ سے اُس کا فضل طلب کرو کیونکہ جب خداتعالیٰ کا فضل آئے گا تو کوئی انسان تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا، دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی۔ لیکن اگر خداتعالیٰ کا فضل نہ ہو تو تم موجودہ تعداد سے لاکھ گُنا بھی بڑھ جاؤ تو تمہاری کوئی عزت نہیں۔ مسلمانوں کو دیکھ لو اِس وقت ان کی تعداد ساٹھ کروڑ کے قریب ہے لیکن اِس وقت جو اِن کی حیثیت ہے وہ یورپ کی چھوٹی چھوٹی طاقتوں سے بھی کم ہے۔ لیکن ایک زمانہ وہ تھا جب مسلمانوں کی تعداد چالیسواں حصہ تھی۔ یعنی بنوامیہ کے زمانہ میں جب مسلمانوں کی تعداد پچاس ساٹھ لاکھ تھی یا بنوعباس کے زمانہ میں جب ان کی تعداد دو۔تین کروڑ تھی اُس وقت ساری دنیا نے ان کے سامنے سر جھکا دیا تھا۔ پس تعداد اپنی ذات میں ایسی چیز نہیں کہ اِس پر فخر کیا جائے۔ جن لوگوں کے ساتھ خداتعالیٰ۔کا فضل ہوتا ہے وہ تھوڑے بھی ہوں تو بہت ہوتے ہیں اور جن لوگوں کے ساتھ خداتعالیٰ۔کا۔۔فضل۔نہیں ہوتا وہ زیادہ تعداد میں بھی ہوں تو تھوڑے ہوتے ہیں‘‘۔
    (المصلح14مارچ 1954ئ)

    1
    :
    (فاطر:25)
    2
    :
    صحیح بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا خلیلًا و کتاب التفسیر باب قل یایھا الناس انّی رسول اللہ الیکم جمیعًا
    3
    :
    برامکہ:(برمکی خاندان)’’برمک‘‘ آتشکدہ ٔ نو بہار(بلخ کا آتشکدہ جو مملکت عجم کے چار بڑے آتشکدون میں سے تھا) کے پروہت یا متولی کو کہا جاتا ہے۔ اسی نسبت سے خلافت عباسیہ کے اس امیر و مقتدر خاندان کا لقب ’’ برامکہ‘‘ پڑا۔ اس خاندان کی بنیاد خالد بن جاماسپ برمک کے اقتدار سے پڑی۔(اردو جامع انسائیکلو پیڈیا ۔ جلداول صفحہ236’’برمکی خاندان‘‘۔ لاہور1987ئ)


    ربوہ میں رہنے والوں کا فرض ہے کہ وہ نیک نمونہ دکھائیں اور اپنی اصلاح کی کوشش کریں
    (فرمودہ 21مئی1954ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’میں نے جماعت سے بہت کچھ کہنا ہے لیکن میری صحت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ لمبا بول سکوں۔ اس لیے ان ضروری باتوں کو میں ابھی ملتوی کرتا ہوں۔ میں نماز پڑھانے آج آیا ہوں لیکن چونکہ ابھی کھڑا ہو کر نماز نہیں پڑھا سکتا اس لیے میں بیٹھ کر نماز پڑھاؤں گا۔ باقی دوست حسبِ سنت کھڑے ہو کر نماز پڑھیں۔
    ربوہ کی بنیاد کی غرض یہ تھی کہ یہاں زیادہ سے زیادہ نیکی اختیار کرنے والے اور دیندار لوگ آباد ہوں لیکن جو رپورٹیں میرے پاس آتی رہتی ہیں ان سے یہ پتا لگتا ہے کہ ربوہ میں رہنے والوں میں سے ایک حصہ میں دین کی حِسّ بہت کم ہے۔ میں اِس کا کسی اَور سے مقابلہ نہیں کرتا، میں یہ نہیں کہتا کہ دوسرے فرقوں اور جماعتوں سے ان کی دین کیحِسّ کم ہے لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ اس مقام کے لحاظ سے جس نیکی کی ضرورت تھی وہ ان میں نہیں پائی جاتی حالانکہ جب ایک مقام کی بنیاد اس لیے رکھی گئی تھی کہ وہ دین کی اشاعت کا مرکز ہو تو۔وہاں بسنے والوں کو اس غرض سے بسنا چاہیے تھا کہ وہ یہاں رہ کر دین کی اشاعت میں دوسروں سے زیادہ حصہ لیں گے۔ حال ہی میں ایک لمبی فہرست میرے پاس ان لوگوں کی بھیجی گئی ہے جو ربوہ میں رہتے ہیں اور کمائی بھی کرتے ہیں اور پھر ان میں سے ایک تعداد سلسلہ سے امداد کی بھی درخواست کرتی رہتی ہے۔ لیکن اپنی آمد میں سے ایک پیسہ بھی چندہ میں ادا نہیں کرتے۔ اِس طرح بعض لوگوں کی بداعمالیاں اور لڑائیاں دوسروں کے لیے ٹھوکر کا موجب بن جاتی ہیں۔ مثلاً شریعت کہتی ہے کہ بیمار روزہ نہ رکھے۔1 پس اگر کوئی شخص بیمار ہے اور وہ روزہ نہیں رکھتا تو شریعت اُسے ایسا کرنے کی اجازت دیتی ہے لیکن وہ اس سے یہ توقع بھی رکھتی ہے کہ وہ دوسروں کے لیے ٹھوکر کا موجب نہ بنے۔ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے کہا ہے بدقسمت ہے وہ انسان جو دوسروں کے لیے ٹھوکر کا موجب بنتا ہے۔2 روزہ نہ رکھنے کی اجازت اَور چیز ہے اور دوسروں کے لیے ٹھوکر کا موجب بننا بالکل اَور چیز ہے۔ جو شخص معذور ہے، بیمار ہے اور وہ روزہ نہیں رکھتا اُس کے گھر والے تو جانتے ہیں کہ وہ کسی معذوری یا بیماری کی وجہ سے روزہ نہیں رکھتا۔ اگرچہ گھر والوں کو بھی اس کے متعلق بتانا پڑتا ہے کیونکہ بچے نہیں سمجھتے کہ ہمارا باپ کمزور ہے یا اتنا بڈھا ہو گیا ہے کہ شریعت اُسے روزہ نہ رکھنے کی اجازت دیتی ہے۔ اس لیے بچوں کو سمجھانا پڑتا ہے کہ بوڑھوں کے لیے احکام اَور ہیں اور تم نوجوانوں کے لیے احکام اَور ہیں۔ بہرحال گھر والے تو یہ جانتے ہیں کہ فلاں شخص معذور ہے اس لیے روزہ نہیں رکھتا۔ لیکن باہر کے لوگ یہ نہیں جانتے کہ وہ کس معذوری اور بیماری کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ رہا۔ اس لیے جب وہ پبلک میں کھائے پیے گا تو اس کا دوسروں پر بُرا اَثر پڑے گا۔
    مجھے یہ شکایت پہنچی ہے کہ ربوہ میں بعض لوگ بازاروں میں کھا لیتے ہیں اور بعض لوگ پبلک میں سگریٹ پیتے ہیں۔ سگریٹ کو ہم حرام تو نہیں کہہ سکتے لیکن سگریٹ نوشی ایک لغو کام ضرور ہے۔ اگر کوئی شخص سگریٹ نوشی کا عادی ہو جاتا ہے یا ڈاکٹروں نے اس کے متعلق یہ کہہ دیا ہے کہ اب یہ سگریٹ نوشی چھوڑ نہیں سکتا۔ اگر چھوڑے گا تو اس کی صحت بگڑ جائے گی تو۔کم۔از۔کم اس میں اتنی حیا اور قومی درد تو ہونا چاہیے کہ وہ گھر میں چھپ کر سگریٹ نوشی کرے۔۔اگر وہ بیماری یا کسی اَور عذر کی وجہ سے روزہ نہیں رکھتا تو گھر میں بیٹھ کر کھائے پیے۔ ایسی۔جگہ۔پر نہ کھائے پیے جہاں لوگوں کو اُس کے متعلق یہ علم نہیں کہ وہ معذور ہے اس لیے روزہ نہیں رکھتا۔ اگر کسی شخص کو بوڑھا یا معذور ہونے کی وجہ سے شریعت نے روزہ رکھنے سے معذور قرار دیا ہے اور وہ بازاروں میں کھاتا پھرتا ہے یا سگریٹ نوشی کرتا ہے تو اُس کو دیکھ کر نوجوان یہ سمجھیں گے کہ رمضان کے مہینہ میں جب ہمارے بزرگ بازاروں میں کھاتے پیتے ہیں تو ہمارے لیے بھی اس میں کوئی حرج نہیں۔ مثلاً اِس سال میں بیمار ہوں اس لیے میں روزے نہیں رکھتا۔ ایک دن میری ایک بیوی نے دن کے وقت میرے ساتھ کھانے پر دو بچوں کو بھی بٹھا دیا۔ میں نے اُسے کہا کہ ان بچوں میں اتنی عقل نہیں کہ وہ سمجھ سکیں کہ ان کا کوئی بزرگ کسی بیماری یا عذر کی وجہ سے روزہ نہیں رکھتا۔ تم نے انہیں میرے ساتھ کھانے پر بٹھا کر انہیں روزہ نہ رکھنے پر دلیر بنایا ہے۔ بیشک میں بیمار ہوں اور میں روزہ نہیں رکھتا لیکن ان کو کھانے پر میرے سامنے بٹھانے کے یہ معنے ہیں کہ یہ سمجھیں کہ ہم نے رمضان کے مہینہ میں دن کے وقت اپنے باپ کے ساتھ کھانا کھایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ نہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ حالانکہ معذوری میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت اور عام حالات میں روزہ نہ رکھنے میں فرق ہے۔ پس انہیں میرے ساتھ نہ بٹھاؤ تا کہ بڑے ہو کر انہیں روزہ ترک کرنے پر دلیری پیدا نہ ہو۔
    پس بیشک بعض معذوریاں ایسی ہیں جن کی وجہ سے روزہ نہ رکھنے کا شریعت نے حکم دیا ہے لیکن ان کی وجہ سے بازاروں میں کھانا پینا درست نہیں کیونکہ دوسرے لوگوں کو حالات کا علم نہیں ہوتا اور وہ ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔ اِس وجہ سے جب بھی میں بیٹھ کر نماز پڑھاتا ہوں میں یہ کہہ دیتا ہوں کہ بیمار ہونے کی وجہ سے میں ایسا کروں گا کیونکہ ہو سکتا ہے بعض لوگ جب مجھے بیٹھ کر نماز پڑھاتے دیکھیں تو وہ بھی بیٹھ کر نماز پڑھنا شروع کر دیں۔ حالانکہ صحت کی حالت میں بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز نہیں۔پچھلے دنوں میں تو میرے لیے بیٹھ کر نماز پڑھنے کا بھی سوال نہیں تھا کیونکہ میں نہ سر کو ہلا سکتا تھا اور نہ جُھکا سکتا تھا بلکہ حملہ کے شروع ایام میں تو میں صرف انگلی سے اشارہ کر سکتا تھا۔ گویا چارپائی پر جسم پڑا ہے اور انگلی کے ساتھ ہی رکوع اور سجدہ ہو رہا ہے۔ مجھ میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ سر ہِلا سکوں۔ اب اگر دیکھنے والا میری معذوری سے واقف نہیں تو وہ میری نقل کرنا شروع کر دے گا اور ٹھوکر کھائے گا۔ اس لیے میں جب بھی بیٹھ کر نماز پڑھاتا ہوں تو دوستوں کے سامنے اپنی معذوری بیان کر دیتا ہوں۔
    پس میں ربوہ والوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی اصلاح کریں ورنہ میرے لیے اس کے سوا اَور کوئی طریق باقی نہیں رہے گا کہ میں ان میں سے بعض کو ربوہ یا جماعت سے نکالنا شروع کر دوں۔ تم یہ مت سمجھو کہ میرا ایسا کرنا جماعت کی کمزوری کا موجب ہو گا۔ یہ جماعت کی کمزوری کا موجب نہیں بلکہ اس کی تقویت کا موجب ہو گا۔ میں نے پریذیڈنٹوں کو اِس سے قبل بھی بہت دفعہ توجہ دلائی ہے لیکن شاید وہ خود بھی ان بُرائیوں میں مبتلا ہیں اس لیے وہ اس کے ازالہ کے لیے کوئی کوشش نہیں کرتے۔ اب میں تمہیں آخری نوٹس دیتا ہوں۔ میرے پاس شکایات پہنچی ہیں کہ ناظر صاحب امورِعامہ نے بعض مجرموں کو جو سزائیں دی ہیں وہ ہنسی کے قابل ہیں۔ وہ لوگ ربوہ سے یا جماعت سے نکال دینے کے قابل تھے لیکن ناظرصاحب امورِعامہ نے انہیں دو دو روپیہ جرمانہ کیا۔ اگر وہ شکایات درست ہیں تو ناظر اور نائب ناظر امورعامہ کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اُن کو کسی نوٹس کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ سلسلہ کے ملازم ہیں۔ دوتین دن میں مَیں تحقیقات کروں گا اور اگر یہ الزام ثابت ہو گیا تو میں انہیں سزا دوں گا۔
    ہم مخالفین سے یہ اعتراض سنتے آ رہے ہیں کہ ہم نے سیاسی طور پر ایک مرکز بنا لیا ہے۔ اگرچہ ہم نے کوئی سیاسی مرکز نہیں بنایا ہم نے اس مقام کو محض اس لیے بنایا ہے تا اشاعتِ دین میں حصہ لینے والے لوگ یہاں جمع ہوں لیکن بہرحال دشمن یہ اعتراض کر رہا ہے کہ ہم نے سیاسی مرکز بنایا ہے اور جس غرض سے ہم نے یہ جگہ بنائی ہے اگر وہ بھی پوری نہ ہو تو ہمارا الگ شہر بسانے کا کیا فائدہ؟ ہم نے ساری دنیا کو اپنا دشمن بنا لیا اور دوسرے لوگوں کو اعتراض کرنے کا موقع دیا۔ حالانکہ ہمارا مرکز بنانے کا مقصد وہ نہیں جو دوسرے لوگ بیان کرتے ہیں۔ ہم تو ایسے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں جو حکومت کی اطاعت سکھاتا ہے۔ اگر آج پاکستان پر کوئی مصیبت آ جائے تو ہمارے عقیدہ کے لحاظ سے اس کی خاطر سب سے پہلے قربانی کرنے والے احمدی ہوں گے۔ لیکن باوجود اِس عقیدہ کے ہم پر سیاسی مرکز بنانے کا اعتراض۔کیا جاتا ہے اور اِدھر اِس مرکز کے بنانے کی جو اصل غرض تھی کہ دیندار لوگ ایک جگہ جمع ہو جائیں، وہ دین کی اشاعت کریں اور اس کی خاطر قربانی کریں وہ بھی پوری نہ ہو تو ایسا کرنے کا فائدہ کیا ہوا؟ ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری یہ سکیم پوری نہ ہوئی۔ میرے پاس متواتر ایسی شکایات پہنچی ہیں کہ یہاں ایک خاصا طبقہ ایسا آباد ہو گیا ہے کہ جن کی غرض محض یہ ہے کہ وہ باہر رہ کر کمائی نہیں کر سکتے، یہاں بیٹھ کر وہ روزی کما سکیں گے لیکن یہ جگہ روٹی کمانے کے نہیں بنائی گئی۔ ایسے لوگوں کو جلد یا بدیر ربوہ سے نکلنا پڑے گا اور اگر وہ یہاں سے نہیں نکلیں گے تو ہم اُن سے لین دین بند کر دیں گے، اُن سے سودا نہیں خریدیں گے، اُن کے جنازوں میں شامل نہیں ہوں گے۔ وہ بیشک یہاں رہیں لیکن ہمارا اُن سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ اور جب سوائے منافقوں کے اُن سے کوئی احمدی سودا نہیں لے گا تو لازمی طور پر غیرلوگ ان سے دوستی رکھیں گے اور اس سے دوسرے لوگوں کو یہ پتا لگ جائے گا کہ وہ احمدیوں کے نہیں غیروں کے ہیں اور اس سے ہمیں فائدہ پہنچ جائے گا۔ میں پریذیڈنٹوں کو بھی یہ نوٹس دیتا ہوں کہ وہ اپنی اصلاح کر لیں۔ میرے پاس یہ شکایت پہنچی ہے کہ پریذیڈنٹ یونہی بنا دیئے جاتے ہیں اور گو ناظرصاحب اعلیٰ نے کہا ہے کہ نمازیوں کو پریذیڈنٹ بنایا جاتا ہے لیکن میرا خیال ہے کہ پارٹی۔بازی کی وجہ سے بعض لوگوں کو آگے لایا جاتا ہے۔ ابھی ناظرصاحب بیت المال نے مجھے لکھا ہے کہ میں نے پریذیڈنٹوں کو آٹھ دس چِٹھیاں لکھی ہیں لیکن ان میں سے ایک کا بھی جواب نہیں آیا۔ اگر یہ لوگ نمازی ہوتے تو ان میں کام کرنے اور قربانی کرنے کا شوق ہوتا اور۔اگر ان کے اندر کام اور قربانی کا شوق نہیں تو یہ کہنا جھوٹ ہے کہ وہ نماز پڑھتے ہیں اور یا پھر منافق ہیں۔ آخر منافق بھی تو دکھاوے کے لیے نمازیں پڑھتے ہیں۔
    بہرحال اس چیز کی اصلاح کی ضرورت ہے اور اس کا پہلا فرض پریذیڈنٹوں پر عائد ہوتا ہے جو اس میں بالکل ناکام رہے ہیں۔ آخر پریذیڈنٹ آج نہیں بنائے گئے سالہاسال سے پریذیڈنٹ بنتے چلے آئے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان ساری منافقتوں کے ذمہ۔دار پریذیڈنٹ ہیں۔ وہ رئیس۔المؤمنین نہیں بلکہ رئیس المنافقین ہیں کیونکہ اُن کے ہوتے ہوئے منافقت پنپی ہے۔ یہاں کے لوگوں نے سلسلہ سے فائدہ اُٹھایا ہے، ہم سے منافع لیا ہے لیکن۔سلسلہ کو چندہ نہیں دیا۔ ایسے لوگ صرف پریذیڈنٹوں کی وجہ سے یہاں آباد ہو گئے ہیں اور۔ترقی کر رہے ہیں۔ نظارت امورِعامہ کا فرض ہے کہ وہ ان لوگوں کا جائزہ لے۔ اگر ان کی غلطیاں ثابت ہو گئیں تو انہیں بھی ربوہ سے نکلنا پڑے گا کیونکہ انہوں نے باوجود سلسلہ سے تنخواہ لینے کے دیانتداری سے اپنے فرض کو پورا نہیں کیا۔اگر وہ تنخواہ لینے کے باوجود اپنے فرض کو ادا نہیں کرتے تو اِس کے یہ معنی ہیں کہ منافق لوگ انہیں پانچ روپیہ دیتے ہیں اور اپنے حق میں فیصلہ کروا لیتے ہیں۔لوگوں میں تو یہ شکوہ عام ہے کہ نظارت امورِعامہ کے کارکن روپیہ لے کر کام کر دیتے ہیں لیکن میں اس کا ہمیشہ انکار کرتا آیا ہوں۔ اگر انہوں نے اپنی اصلاح نہ کی تو مجبوراً مجھے بھی یہ بات ماننی پڑے گی کہ وہ پیسے لے کر لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جس میں ناجائز طرفداری ہوتی ہے، ناجائز رعایت ہوتی ہے اور ناجائز معافی ہوتی ہے حالانکہ ناجائز رعایت بھی ناجائز ہے اور ناجائز سزا بھی ناجائز ہے۔ پس تم یہاں رہ کر نیک نمونہ دکھاؤ اور اپنی اصلاح کی کوشش کرو۔
    ہماری جماعت اِس وقت کتنی مشکلات میں سے گزر رہی ہے سارے لوگ اس کے خلاف ہیں، یہودی ہمارے خلاف ہیں، عیسائی ہمارے خلاف ہیں، ہندو ہمارے خلاف ہیں، زرتشتی ہمارے خلاف ہیں، مسلمان کہلانے والے بھی بطور فرقہ کے ہمارے خلاف ہیں۔ ویسے افراد کے لحاظ سے ان میں انصاف پسند بھی ہیں۔غرض تم ساری دنیا سے لڑائی مول لے کر یہاں جمع ہوئے اور پھر بھی تقوٰی، طہارت اور عمل و انصاف اپنے اندر پیدا نہیں کر سکے تو تمہاری زندگی ایسی ہی ہوئی کہ اپنوں نے بھی تمہیں ٹھکرا دیا اور غیروں نے بھی تمہیں ٹھکرا دیا۔ حالانکہ دنیا میں عموماً ایسا ہوتا ہے کہ اگر کسی کو اپنے ٹھکرا دیتے ہیں تو اُسے غیروں کے پاس پناہ مل جاتی ہے اور اگر غیر ٹھکرا دیتے ہیں تو اپنے اُس کی امداد کرتے ہیں لیکن تمہیں غیروں نے بھی ٹھکرا دیا اور اپنوں نے بھی ٹھکرا دیا۔ پھر تمہیں یہاں رہنے کا کیا فائدہ حاصل ہوا؟ ایسے حالات میں ایک ہی صورت باقی رہ جاتی ہے کہ تم خداتعالیٰ سے تعلق قائم کر لو۔ لیکن یہاں تو۔جھگڑا ہی یہ ہے کہ تم نے خداتعالیٰ کی رضا کو حاصل نہیں کیا۔ اگر تم اس کی رضا کو حاصل کر۔لو۔تو۔ساری مصیبتیں اور کوفتیں دور ہو جائیں اور راحت کے سامان پیدا ہو جائیں۔ ہماری۔یہاں۔آباد ہونے سے غرض یہ تھی کہ لوگ بیشک ہمارے ساتھ دشمنی کریں لیکن خداتعالیٰ مارے ساتھ ہو۔ لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم اس کے لیے کوئی جدوجہد اور کوشش نہیں کر رہے اور اگر تم نے جلد اصلاح نہ کی تو مجھے مجبوراً تمہیں ربوہ سے یا جماعت سے باہر نکالنا پڑے گا۔ جماعت میں ایک ایسی پارٹی پیدا ہو گئی ہے جو کہتی ہے کہ ایسے لوگوں کو جماعت سے نہیں نکالنا چاہیے۔ اس سے دوسرے لوگوں پر بُرا اثر پڑتا ہے لیکن مجھے اس کا کوئی فکر نہیں۔ اگر انہیں یہاں سے نکالنے پر دوسروں کو تکلیف ہوتی ہے تو وہ انہیں کراچی یا کسی اَور شہر میں جگہ دے دیں۔ یہ جگہ ہماری ہے اور وہ لوگ جو یہاں آباد ہوئے ہیں یہ وعدہ کر کے آئے ہیں کہ وہ سلسلہ سے ہر رنگ میں تعاون کریں گے۔ اب جو شخص اِس وعدہ کو توڑتا ہے قانون اُس کے خلاف ہے۔ اور جو وعدہ خلافی کرتا ہے ہم بہرحال اُسے سزا دیں گے۔ اگر کوئی طبقہ ہمارے اِس اقدام کے خلاف ہو گا تو وہ خود قانون شکنی کی حمایت کرے گا۔ اُن کے پاس ہم سے زیادہ سامان موجود ہیں اگر وہ انہیں اپنے سینے سے لگانا چاہتے ہیں تو بیشک لگا لیں۔ اگر ہم یہاں کسی کو پچاس روپے ماہوار دیتے ہیں تو وہ اُسے دوہزار روپے ماہوار دے دیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ لیکن وہ ہمیں اِس بات پر مجبور نہیں کر سکتے کہ جو شخص ہمارا نہیں بلکہ اپنے اخلاق کی وجہ سے ہمیں بدنام کرتا ہے ہم اُسے یہاں ضرور رکھیں۔ جو ہمارا نہیں ہم اُسے کیوں پا لیں۔ ہم اس سے منہ موڑ لیں گے کیونکہ اس نے خاص اخلاق دکھانے کا وعدہ کر کے اسے توڑ دیا۔ ایک وعدہ کر کے توڑنے والا کس مذہب و ملت میں امداد کا مستحق قرار دیا جاتا ہے‘‘؟
    (الفضل 10جون1954ئ)

    1
    :
    (البقرۃ: 185)
    2
    :
    متی باب18آیات6،7


    تقدیر کا جو حصہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کے اختیار میں رکھا ہے اس میں کوشش اور تدبیر کے بغیر کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا کرتا
    جو چیزیں خداتعالیٰ نے تمہارے سپرد کی ہیں وہ تم نے ہی کرنی ہیں
    ان کے متعلق محض توکل کرنا غلطی ہے
    (فرمودہ 28مئی1954ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’اللہ تعالیٰ نے اپنی تقدیر کے دو حصے کیے ہوئے ہیں۔ تقدیر کا ایک حصہ اس نے اپنے بندوں کے سپرد کیا ہوا ہے۔ اگر وہ بندوں کے سپرد نہ کرتا تو بندوں کے پاس اس کے نفاذ کا کوئی ذریعہ نہ ہوتا۔ دوسرا حصہ اس نے اپنے قبضہ میں رکھا ہے۔ اس دوسرے حصہ میں سے کچھ تو اس شکل میں ہے کہ دائمی طور پر اُس کا وہ قانون چلتا ہے اور کچھ اِس طور پر ہے کہ۔اس۔کا قانون وقتی طور پر چلتا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ دیکھو!۔خداتعالیٰ۔نے زبان بنائی ہے۔ ایک طرف تو انسان کو اتنی آزادی حاصل ہے کہ وہ اس زبان سے خداتعالیٰ کو بھی گالیاں دے لے تو اس کے لیے کوئی روک نہیں اور لوگ گالیاں دیتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک چشم دید واقعہ سنایا کرتے تھے کہ ایک شخص جو بعد میں احمدی ہو گیا تھا اس کا بچہ فوت ہو گیا۔ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے والد صاحب یا آپ کے بڑے بھائی کے گلے لگ کر چیخ مار کر کہنے لگا خداتعالیٰ نے مجھ پر کتنا ظلم کیا ہے کہ اس نے میرا بچہ مار دیا۔ اس طرح اپنی زبان سے اُس نے شکوہ بھی کر لیا، اُس نے خداتعالیٰ کو ظالم بھی کہہ لیا اور خداتعالیٰ کے متعلق اس کے دل میں انقباض بھی پیدا ہو گیا۔ مگر دوسری طرف اگر اس زبان کے سامنے دنیا کے تمام بادشاہ، وزرائ، علماء اور فقہاء ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہو جائیں اور کہیں کہ میٹھے کو کھٹّا چکھ یا کھٹّے کو کڑوا چکھ تو وہ ایسا کبھی نہیں کرے گی۔ وہ میٹھے کو میٹھا ہی چکھے گی اور کھٹّے کو کھٹّا ہی چکھے گی۔ گویا ایک طرف اللہ تعالیٰ نے زبان کے متعلق انسان کو اتنی آزادی دی ہے کہ اگر وہ چاہے تو خداتعالیٰ کو بھی گالیاں دے لے اور دوسری طرف اس میں اتنی طاقت بھی نہیں رکھی کہ وہ میٹھے کو کڑوا چکھے یا کڑوے کو میٹھا چکھے۔
    حقیقت یہ ہے کہ تقدیر کا ایک حصہ خداتعالیٰ نے انسان کے ہاتھ میں دے دیا ہے اور اسے کہا ہے کہ وہ خود کام چلائے، اس میں اپنی عقل کو استعمال کرے۔ اور دوسرا حصہ اس نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔جو حصہ اُس نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے وہ بدل نہیں سکتا۔ مثلاً۔میٹھا، میٹھا ہی رہے گا اور کڑوا، کڑوا ہی ہو گا۔ ہاں! اس کے قانون کے ماتحت وہ بعض اوقات بدل بھی جائے گا مثلاً کسی کا جگر خراب ہے تو اسے میٹھی چیز کڑوی لگتی ہے یا بعض خرابیوں کی وجہ سے نمک تیز لگتا ہے، میٹھی چیز میں مٹھاس کم معلوم ہوتی ہے، کڑوی چیزیں پھیکی معلوم ہوتی ہیں یا پھیکی چیزیں کڑوی معلوم ہوتی ہیں۔ غرض تقدیر کا وہ حصہ جو خداتعالیٰ نے اپنے قبضہ میں رکھا ہے وہ تبدیل نہیں ہو سکتا۔ اس میں تبدیلی واقع ہو گی تو خداتعالیٰ کے مقرر کردہ قانون کے ماتحت ہی ہو گی۔ تم اگر چاہو بھی تو اسے بدل نہیں سکتے۔ ہاں! جو حصہ تقدیر کا انسان کے سپرد ہے اس میں جو چاہے کرے خداتعالیٰ نے اس میں کوئی روک پیدا نہیں کی۔ مثلاً زبان انسان کے قبضہ میں ہے۔ وہ اگر چاہے تو باپ کو گالیاں دے لے، حکومت کو بُرا کہہ۔لے، استاد کو بُرا کہہ لے، وہ اگرگالی چاہے تو اپنی ہر عزیز۔ترین چیز کو غلیظ گالی دے لے لیکن۔جو حصہ اس نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے اس میں انسان کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ تقدیر کا جو حصہ خداتعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے اس میں وہ انسان پر الزام نہیں دیتا لیکن جو حصہ اس نے انسان کے ہاتھ میں دیا ہے اُس کے نتائج انسان کے کام کے مطابق پیدا ہوتے ہیں۔ چاہے وہ اپنے لیے پھانسی کا حکم دے لے۔ خداتعالیٰ فرشتوں کو کہہ دے گا اُسے پھانسی لگنے دو۔ کیا تم نے دیکھا نہیں کہ بعض لوگ اپنے گلوں میں رسّے ڈال کر خودکشی کر لیتے ہیں؟ خداتعالیٰ اس میں کوئی روک پیدا نہیں کرتا۔ وہ کہتا ہے میرا اِس میں کوئی دخل نہیں۔ تم اگر گلے میں رسّہ ڈال کر پھانسی لیتے ہو تو تمہیں پھانسی مل جائے گی۔ ہاں! موت کے بعد میں تمہیں جہنم میں ڈالوں گا۔ دنیا میں مَیں تمہیں نہیں روکوں گا۔ یا کوئی شخص اسلام کے خلاف تقریر کرتا ہے، خداتعالیٰ کے رسول کے خلاف تقریر کرتا ہے، قرآن کریم کے خلاف تقریر کرتا ہے تو خداتعالیٰ اُس کی زبان کو چلنے دیتا ہے۔ اِس کے مقابلہ میں وہ چیزیں ہیں جن پر انسان کو اختیار حاصل نہیں۔ ان میں اس کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ چاہے وہ کتنا زور لگا لے۔ مثلاً تمہاری انگلی ہے اگر تم اسے سُوئی کے ناکا میں ڈالنے کی کوشش بھی کرو تو اس کو ناکا میں نہیں ڈال سکتے۔ خواہ کوئی جرنیل ہو، نواب ہو، بادشاہ ہو، دنیا کی بڑی سے بڑی حکومت اس کے پاس ہو لیکن وہ اپنی انگلی سوئی کے ناکہ میں نہیں ڈال سکتا۔ یا مثلاً میٹھا ہے تم اگر چاہو بھی تو اسے کڑوا نہیں چکھ سکتے۔ کڑوا ہے تو میٹھا نہیں چکھ سکتے۔ آواز ہے اگر تمہیں کسی عزیز کی آواز آ رہی ہے تو تم اگر چاہو بھی تو اُسے کسی دوسرے شخص کی آواز نہیں بنا سکتے۔ کسی کے ہاں بدصورت لڑکا پیدا ہوا ہو تو اگر وہ چاہے کہ وہ خوبصورت ہو جائے تو وہ اُسے خوبصورت نہیں بنا۔سکتا۔ کسی کے لڑکے کا قد چھوٹا ہے تو اس کے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں کہ اس کے قد کو لمبا کر لے۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جو چیزیں خداتعالیٰ نے ہمارے ہاتھ میں رکھی ہیں اُن کے متعلق ہمارا یہ خیال بالکل غلط ہو گا کہ ہم سمجھیں کہ ان کے نتائج خداتعالیٰ پیدا کرے گا۔ جو چیزیں خداتعالیٰ نے ہمارے اختیار میں رکھی ہیں اُن کا ایک ہی طریق ہے کہ ہم ان کے متعلق کوشش اور تدبیر سے کام لیں گے تو ان کا نتیجہ برآمد ہو گا ورنہ نہیں۔ مسلمانوں کی تباہی کا موجب یہی بات ہوئی ہے کہ انہوں نے تدبیر چھوڑ دی۔ انہوں نے اپنی حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے خود کوشش کرنا ترک کر دیا تھا۔ دشمن نے فوجیں تیار کر لیں، اس نے توپیں ایجاد کیں، گولہ بارود ایجاد کیا، اور ملک کو منظم کر کے مضبوط حکومت قائم کر لی، مستقل خزانے قائم کیے، ملازموں کی معقول تنخواہیں مقرر کیں تا وہ رشوت نہ لیں لیکن مسلمان اپنے پرانے طریق پر چلتے چلے گئے۔ وہ یہی سمجھتے رہے کہ خزانے بادشاہ کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ جہاں چاہے خرچ کر لے۔ فوج کا کوئی انتظام نہیں تھا۔، سڑکوں کا کوئی انتظام نہیں تھا، بادشاہ اپنا خزانہ عیاشی میں لُٹا دیتا تھا، کسی بادشاہ سے لڑنے چلے تو اُس نے ملک میں اعلان کر دیا۔ اِس پر کوئی جلاہا آگے نکل آیا، کوئی دھوبی آ گیا، کوئی لوہار باہر نکل آیا، کوئی بَنیا ہے تو اُس نے تکڑی ہاتھ میں پکڑی ہوئی ہے اور دشمن پر غصہ کا اظہار کر رہا ہے، کوئی قصاب ہے تو وہ اپنی چُھری تیز کر رہا ہے لیکن کُجا منظم فوج اور کُجا یہ غیرمنظم لوگ۔ غیرمنظم لوگ ہزار بھی ہوں تو پانچ منظم سپاہی انہیں شکست دے سکتے ہیں کیونکہ انہیں حملہ کرنے کا طریق نہیں آتا، انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اصول کے ماتحت دائیں بائیں ہو کر کس طرح لڑا جاتا ہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ کوئی بیوقوف بادشاہ تھا۔ اس نے خیال کیا کہ قصاب لوگ روزانہ بکرے کاٹتے ہیں۔ انہیں اس کام کی خوب مشق ہے۔ اس لیے کیوں نہ ان سے فوج کا کام لیا جائے اور فوج پر جو لاکھوں روپے سالانہ خرچ ہوتے ہیں انہیں بچایا جائے۔ چنانچہ اس نے فوج کو ہٹا دیا اور ملک کے قصابوں کو حکم دیا کہ اگر ملک پر حملہ ہوا تو وہ دشمن کا مقابلہ کریں گے۔ کسی ہمسایہ بادشاہ نے سنا کہ اس ملک کا بادشاہ ایسا بیوقوف ہے کہ اس نے فوج کو ہٹا دیا ہے اور قصابوں کو دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے حکم دیا ہے۔ تو اس نے حملہ کر دیا۔ بادشاہ نے اپنے وزراء کو حکم دیا کہ ملک کے سارے قصاب جمع کرو تا وہ دشمن کی فوج کا مقابلہ کریں۔ چنانچہ ملک کے سارے قصاب جمع کر لیے گئے۔ قصاب لوگ صرف بکرے ذبح کرنا جانتے تھے۔ انہیں جنگ کا کیا پتا تھا۔ وہ ہنستے کھیلتے اور چُھریاں ہاتھ میں پکڑے دشمن کی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیے چلے گئے۔ گویا وہ بکرے ذبح کرنے جا رہے ہیں۔ جب دشمن سامنے آیا تو اس کے ایک سپاہی کو پکڑ کر کوئی اس کا سر پکڑتا، کوئی ٹانگیں مضبوطی سے پکڑتا اور پھر اس کی گردن پر چُھری پھیرتا۔ لیکن دشمن نے بے تحاشا نیزے مارنے شروع کیے۔ پندرہ بیس قصاب مرے تو باقی شہر کی طرف بھاگے اور فریاد فریاد کہتے ہوئے دربار میں پہنچے۔ اور بادشاہ سے کہنے لگے بادشاہ سلامت! دشمن کے سپاہیوں کو سمجھائیں کہ ہم تو۔باقاعدہ اُن کی ٹانگیں اور بازو پکڑتے ہیں، قبلہ رُخ لِٹاتے ہیں اور پھر گردن کاٹتے ہیں لیکن وہ یونہی تلوار چلاتے چلے جاتے ہیں یہ کوئی اصول نہیں۔ یہ بے اصولا پن ہے۔ ابھی وہ قصاب بات کر رہے تھے کہ دشمن کی فوج شہر میں داخل ہو گئی اور اس نے بادشاہ کو قید کر لیا۔
    پس جو باتیں انسان کے سپرد ہیں وہ جب بھی ان کے متعلق کوشش کرنا ترک کرے گا، دھوکا کھائے گا اور اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔مسلمانوں نے توکّل توکّل کا ورد کرنا شروع کیا۔ نہ خزانوں کا انتظام کیا گیا اور نہ ٹیکس لگائے گئے۔ یا کسی پر ٹیکس لگا دیا اور کسی پر نہ لگایا، ہائی کورٹ کے جج ہیں تو اُن کی تنخواہ پچیس روپے ماہوار ہے، دوچارافسر مقرر ہیں، سپاہیوں کی ضرورت محسوس ہوئی تو سب لوگوں کو باہر نکلنے کے لیے کہہ دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یورپ کی چھوٹی چھوٹی طاقتوں نے مسلمانوں کی بڑی بڑی حکومتوں کو شکست دے دی۔ بخارا کی حکومت بڑی بھاری حکومت تھی۔ اس نے ایک طرف ایران کو اپنے ماتحت کر لیا تھا تو دوسری طرف بغداد کی حکومت کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے تھے۔ وہ سندھ تک فتوحات کرتے چلے آئے۔ لیکن جب اس حکومت پر روس نے حملہ کیا تو یہ اس کے مقابلے کی تاب نہ لا سکی۔ روس کی فوجوں کے پاس توپیں تھیں، گولہ بارود تھا، زمانہ کے مطابق دوسرے ہتھیار تھے لیکن بخارا کی حکومت نئے سامانِ۔جنگ سے محروم تھی۔ جب اس نے توپیں بنانے کا حکم دیا تو مولویوں نے فتوٰی دے دیا کہ یہ جائز نہیں کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آگ کا عذاب اپنے اختیار میں رکھا ہے۔ بادشاہ نے کہا دشمن ان توپوں کے ذریعہ تین تین میل تک حملہ کرتا ہے۔ اس کا مقابلہ ہم کیسے کریں گے؟ مولویوں نے کہا یہ بالکل جھوٹ ہے کہ دشمن تین۔تین۔میل سے توپ سے گولہ پھینک سکتا ہے۔ بہرحال مولویوں کے اعتراضات کی وجہ سے حکومت نے توپ خانہ توڑ دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب روس نے حملہ کیا تو گو اس کے پاس بہت کم فوج تھی لیکن چونکہ ان کے پاس نئے نمونہ کے ہتھیار تھے اس لیے انہوں نے دو دو، تین تین میل کے فاصلہ سے مسلمان فوج کے پرخچے اُڑانے شروع کیے۔ مولوی باہر نکلے اور آیات قرآنیہ پڑھتے ہوئے دشمن کی طرف بڑھے۔ دشمن نے جب دیکھا کہ پاگلوں کا ایک گروہ ہاتھوں میں تسبیحیں پکڑے آگے بڑھ رہا ہے تو اس نے ایک گولہ ان پر پھینکا۔ اِس پر وہ سحر سحر کرتے ہوئے پیچھے کی طرف بھاگے اور بادشاہ کے پاس آ کر کہا یہ تو سحر ہے۔ آیات قرآنیہ بھی اس پر اثر نہیں کرتیں۔ اب اس فوج کو تم خود سنبھالو۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہی بخارا جو مسلمانوں کی ایک مضبوط سرحدی چوکی تھی آج عیسائیت کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اب اس جگہ سے کمیونزم دنیا پر حملہ کر رہا ہے۔
    پس تم یاد رکھو! کہ جو چیزیں خداتعالیٰ نے تمہارے سپرد کی ہیں وہ تم نے ہی کرنی ہیں۔ ان کے متعلق توکّل کرنا اور اس کا نام خداتعالیٰ کی مدد رکھنا بالکل جھوٹ ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے بعض لوگ جنہیں کام کرنے کی عادت نہیں ہوتی جب اُن سے پوچھا جائے کہ فلاں کام کیسے ہو گا؟ تو وہ کہہ دیتے ہیں آپ کی دعا سے ہی یہ ہو گا۔ ایسا ہی ایک کوتاہ عقل میرے پاس سندھ کی زمینوں پر کام کرتا ہے۔ اُس کی عادت ہے کہ جو بات میں کرتا ہوں وہ کہتا ہے کہ آپ کی دعا سے یہ کام ہو گا۔ میں نے اِس دفعہ اُس سے کہا کہ یہ کام تم نے ہی کرنا ہے اور اگر تم نے یہ کام نہ کیا تو فصل کا بیڑا غرق ہو جائے گا میری دعا نے کچھ نہیں کرنا۔ خداتعالیٰ نے یہ کام تمہارے سپرد کیا ہے اور تم نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ میں نے کچھ نہیں کرنا آپ کی دعا سے سب کچھ ہو گا۔ اس لیے کام کا بیڑا غرق ہو جائے گا۔ چنانچہ واقع میں کام کا بیڑا غرق ہو گیا۔
    حقیقت یہ ہے کہ لوگوں نے مختلف نظریے بنائے ہوئے ہیں۔ مثلاً انفرادی زندگی ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جو ہو گا دیکھا جائے گا۔ اور جو لوگ اِس قسم کی باتیں کرتے ہیں وہ بالعموم فاقوں مرتے ہیں نہ اُن کے تن پر کپڑا ہوتا ہے اور نہ انہیں پیٹ بھرنے کو کچھ میسر ہوتا ہے۔ پھر بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کہتے تو یہ ہیں کہ جو ہو گا دیکھا جائے گا لیکن اگر ساتھ ہی کوئی بات ہو جائے تو وہ کہتے ہیں یہ جنّوں، بھوتوں یا دیویوں کی وجہ سے ہو گیا ہے۔ اتفاقی حادثے کے طور پر اُن کے بعض کام ہو جاتے ہیں لیکن جہاں عمل کی ضرورت ہوتی ہے یہ لوگ فیل ہو جاتے ہیں۔ پھر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کاموں میں انسانی عقل اور تدبیر کا بھی دخل ہے۔ ان کے بیٹے کو اگر کوئی تکلیف ہوتی ہے تو وہ ڈاکٹر سے علاج کراتے ہیں اور جہاں تک علمِ طب نے ترقی کی ہے اس سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ یہ لوگ دوسروں سے آرام میں رہتے ہیں اور جہاں انسانی علم نے کوئی دوا ایجاد نہیں کی وہاں یہ لوگ شخصی موت تو مر جاتے ہیں لیکن قومی زندگی کا موجب بن جاتے ہیں۔ کیونکہ جس قوم میں یہ احساس پیدا ہو جاتا ہے کہ ہم نے فلاں مرض کا علاج ایجاد نہیں کیا حالانکہ خداتعالیٰ نے یہ کام ہمارے سپرد کیا ہوا ہے تو وہ اُس کا علاج تلاش کرتی ہے اور کوئی نہ کوئی دوائی ایجاد کر لیتی ہے۔ اِس طرح جو شخص علاج میسر نہ آنے کی وجہ سے مر جاتا ہے وہ نئی دوا ایجاد کروانے کا موجب ہو جاتا ہے۔ اِس طرح مرنے والا شخصی موت تو بیشک مر جاتا ہے لیکن قومی زندگی کا موجب ہو جاتا ہے۔ مثلاً کینسر ہے۔ اِس کا پہلے سے کوئی علاج نہیں تھا۔ اِس کا علاج نکال لیا گیا ہے اور اس علاج کے ذریعہ کینسر کے پندرہ بیس فیصدی مریض ٹھیک بھی ہو نے لگ گئے ہیں۔ کچھ عرصہ کے بعد ممکن ہے کہ سائنس اس قدر ترقی کر جائے کہ کینسر ایک معمولی مرض بن کے۔رہ۔جائے۔
    غرض قانونِ قدرت نے بعض کام ہمارے سپرد کیے ہیں اور ہم اپنی تدابیر کے ذریعہ ان کو بہتر طور پر سرانجام دے سکتے ہیں۔ اگر ہم وہ کام نہ کر سکتے تو خداتعالیٰ ہمارے سپرد وہ کام نہ کرتا۔ خداتعالیٰ انسان کے سپرد وہی کام کرتا ہے جس کا مادہ اُس میں موجود ہوتا ہے اور ایسی تمام چیزیں اس نے انسان کے اختیار میں دے دی ہیں۔ اِسی وجہ سے دنیا میں نئی نئی ایجادات ہو رہی ہیں اور سائنس دن بدن ترقی کر رہی ہے۔ کسی وقت اسلامی حکومت کے زمانہ میں بھی یہی حالت تھی۔ مسلمان علماء دن رات ایجادات میں لگے رہتے تھے۔ مثلاً طب ہے۔ مسلمانوں نے اسے کمال تک پہنچایا اور آج بھی یورپین طب کے مقابلہ میں ہماری طب کو بعض باتوں میں امتیاز حاصل ہے۔ سرجری میں بیشک یورپین طب نے کمال حاصل کر لیا ہے لیکن علاج کے سلسلہ میں ہماری طب کو بعض باتوں میں فوقیت حاصل ہے اور یہ مسلمان علماء کی محنت کا نتیجہ ہے کہ ہماری طب بعض باتوں میں آجکل کی طب پر بھی فوقیت رکھتی ہے۔
    پھر اِس کے اوپر ایک اَور گروہ ہے جو دنیوی تدابیر کے ساتھ ساتھ دعا کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جہاں انسانی عقل رہ جائے وہاں خداتعالیٰ سے دعا کے ذریعہ استمداد کی جائے تو کام میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ لوگ اَور بھی محفوظ ہیں۔ لیکن ایک موقع ایسا بھی آتا ہے کہ خداتعالیٰ انسان کو کہتا ہے کہ اب تیری زندگی دنیا میں بیکار ہے۔ اب تُو میرے پاس آ جا۔یہاں نہ احتیاط اور پرہیز کام کرتا ہے نہ دعا کام کرتی ہے۔ انسانی تدابیر بھی تمام کی تمام بیکار ہو کر رہ جاتی ہیں اور دعا بھی کوئی نتیجہ پیدا نہیں کرتی۔
    یہی حال قومی زندگی کا ہے۔ اس میں بھی بعض باتیں خداتعالیٰ نے اپنے قبضہ میں رکھی ہیں اور بعض باتیں اس نے انسانوں کے سپرد کر دی ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جب دعوٰی فرمایا تو کفار نے آپ کا مقابلہ شروع کر دیا۔ انہوں نے آپؐ پر حملے کیے اور ہر طرح سے ایذا دہی شروع کر دی تو بعض موقع پر آپؐ نے یہ کہا کہ تم اپنی مظلومی کا اعلان کرو اور ماریں کھاتے جاؤ۔ پھر ایک وقت پر جا کر آپؐ نے یہ تجویز کی کہ تم حبشہ کی طرف ہجرت کر کے چلے جاؤ۔ پھر ایک موقع پر آپ نے مدینہ جانے کی اجازت دے دی اور پھر بعد میں خود بھی ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے۔ اور جب دشمن پھر بھی ایذا۔دہی سے باز نہ آیا تو آپؐ نے خداتعالیٰ سے حکم پا کر صحابہؓ۔۔۔کو کفار سے لڑنے کا حکم دیا۔ گویا آپؐ نے خداتعالیٰ کی تقدیر کے مطابق مختلف مواقع پر مختلف قسم کے احکام صحابہؓ۔۔ کو دیئے اور مختلف تدابیر سے کام لیا۔ اگر کوئی قوم ان تدابیر سے کام نہیں لیتی تو وہ زندہ نہیں رہ سکتی۔ جب آپؐ نے صحابہؓ سے صبر کرنے کو کہا اُس وقت اگر صبر نہ کیا جاتا تو ظلم اَور بڑھ جاتا۔ پھر جب آپؐ نے حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیاتو اگر صحابہؓ ہجرت کر کے حبشہ نہ چلے جاتے تو چونکہ مکہ میں مسلمانوں کی تعداد بڑھ رہی تھی اس ترقی کو دیکھ کر دشمن کا غصہ اَور بڑھ جاتا۔ جب دشمن اپنے مدِّمقابل کو حقیر اور ذلیل سمجھتا ہے تو وہ اس کی پروا نہیں کرتا۔ لیکن جب وہ دیکھتا ہے کہ اس کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے اور ممکن ہے کہ ایک دن اس کی طاقت اتنی بڑھ جائے کہ وہ اِس کا مقابلہ نہ کر سکے تو وہ اس کی برداشت نہیں کر سکتا۔ کفار کی ایذارسانی کے باوجود جب۔مسلمان مکہ میں بڑھنے لگے اور مکہ والے خار کھانے لگے تو خداتعالیٰ سے حکم پا کر رسول۔کریم۔صلی۔اللہ۔علیہ وآلہٖ وسلم نے صحابہؓ سے کہا کہ حبشہ کی طرف ہجرت کر جاؤ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان کفار کو تھوڑے نظر آنے لگ گئے اور ان کا جوش کچھ عرصہ کے لیے فرو ہو گیا۔ لیکن جب پھر مسلمانوں کی تعداد بڑھ گئی اور کفار نے ایذارسانی کا سلسلہ شروع کر دیا۔ تو رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ۔وآلہٖ وسلم نے صحابہؓ۔۔ کو مدینہ جانے کی اجازت دے دی۔ مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والے صرف چند درجن تھے لیکن دوسرے دن دیکھا گیا کہ مکہ کے دو محلے خالی ہو گئے ہیں۔ گویا مکہ میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جو ظاہری طور پر اسلام نہیں لائے تھے لیکن دل سے مسلمان تھے اور وہ اپنے اسلام کو چھپائے ہوئے تھے۔ غرض جب مسلمانوں کے ایک حصہ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو مکہ میں مسلمان پھر تھوڑے ہو گئے اور کفار کا جوش ٹھنڈا ہو گیا۔ اس کے بعد جب مکہ والوں نے دیکھا کہ اسلام اب مکہ سے باہر بھی پھیلنا شروع ہو گیا ہے تو ان میں نئی قسم کا جوش پیدا ہو گیا اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قتل کا فیصلہ کر لیا۔ اِس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خود ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے۔ پس یہ مختلف تجاویز تھیں جن پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے عمل کیا۔ اگر مسلمانوں کو ایذادہی پر ابتدا میں صبر کا حکم نہ ہوتا تو کفار چِڑ جاتے اور ایذادہی میں بڑھ جاتے۔ پھر اگر حبشہ کی طرف ہجرت کا حکم نہ ہوتا تو مسلمانوں کی تعداد مکہ میں بڑھ جاتی اور اس طرح کفار کا جوش بڑھ جاتا۔ پھر جب دوبارہ مسلمانوں کی تعداد مکہ میں بڑھ گئی تو آپؐ اُس وقت مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم نہ دیتے تو کفار کا جوش اَور بھی زیادہ ہو جاتا وہ ایذادہی میں پہلے سے بھی بڑھ جاتے۔ پھر جب صنادید۔ِعرب نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا تو اللہ۔تعالیٰ نے رسول۔کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو مدینہ بھیج دیا۔ پھر جب کفار نے مدینہ پر بھی حملہ کیا تو خداتعالیٰ نے کہا تم ان سے لڑائی کرو۔ اُس وقت مسلمان اگر ہاتھ میں تسبیحیں پکڑ کر آیاتِ قرآنیہ کا ورد کرنا شروع کر دیتے تو انہوں نے تباہ ہو جانا تھا کیونکہ وہ وقت لڑائی کا تھا کسی اَور کام کا نہیں تھا۔چنانچہ پہلے یہ حکم دیا کہ مدینہ کے اندر رہ کر دشمن کا مقابلہ کرو۔ پھر ایک وقت کے بعد جا کر مدینہ سے باہر نکل کر دشمن سے مقابلہ کرنے کا حکم ہوا اور پھر یہ حکم ہوا کہ دشمن کے گھروں پر جا کر ان پر حملہ کرو۔ اگر اُن تجاویز پر عمل نہ کیا جاتا تو مسلمان بھی ترقی نہ کر سکتے۔
    میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں صرف ایک ہی چیز پائی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ جب کوئی خرابی پیدا ہو، جب جماعت پر کوئی مصیبت اور تکلیف آئے تو چندہ دے دیا۔ لوگ جسمانی قربانی والے حصہ کی طرف توجہ نہیں کرتے حالانکہ خداتعالیٰ صاف طور پر فرماتا ہے۔میں نے مومنوں سے اُن کے مال اور جانیں دونوں چیزیں خرید لی ہیں1اور اس کے بدلہ میں انہیں جنت دے دی ہے۔ پس صرف چندہ دینے سے کیا بنتا ہے؟ صرف چندہ والا تو خداتعالیٰ سے تمسخر کرتا ہے۔ گو چندہ دینے والے بھی ایسے ہیں کہ ان میں سے ایک اچھی پرسنٹیج(Percentage)ایسی ہے جو چندہ میں بھی کمزور ہے۔ اگر مجموعی طور پر قوم چندہ میں ترقی کر جائے تو ان کمزوروں کی اصلاح ہو سکتی ہے اور ان سے صرف ٹکر لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مالی قربانیوں کے ساتھ ساتھ جسمانی قربانیاں بھی کی جائیں۔ اور جسمانی قربانی صرف چند مبلغ کر رہے ہیں جو بیرونی ممالک میں تبلیغ کا فریضہ ادا کر رہے ہیں۔ پس تم اپنی ضروریات کو سمجھو۔ جماعت کی مخالفت بڑھ چکی ہے۔جماعت کی مخالفت حکام اور ذمہ دار افسروں میں بھی بڑھ چکی ہے اور تمہاری جانیں محفوظ نہیں ہیں۔ اگر تم قومی طور پر کوئی تدبیر نہیں کرتے تو تم مر جاؤ گے۔اگر تم بچاؤ کی تدبیر کرتے ہو اور جسمانی قربانی بھی مالی قربانی کی طرح پیش کر دیتے ہو تو تمہاری جانیں محفوظ ہو۔جائیں۔گی۔
    دنیا میں معمولی معمولی جھگڑوں پر لوگ کہہ دیتے ہیں کہ اگر ہمیں جیلوں میں جانا پڑے تو ہم چلے جائیں گے۔ چنانچہ وہ گروہ در گروہ جیلوں میں چلے جاتے ہیں۔ آخر حکومت مجبور ہو کر انہیں چھوڑ دیتی ہے۔ گاندھی جی جیتے ہی اِس طرح تھے کہ وہ جب کوئی بات منوانا چاہتے تھے تو پندرہ بیس ہزار لوگوں کو قید کروا دیتے تھے۔ گورنمنٹ کے پاس محدود بجٹ ہوتا ہے۔ وہ اِس قدر قیدیوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی۔ پھر جیلوں کی حفاظت کے لیے پولیس رکھنی پڑتی ہے جس سے اس کا خرچ بڑھ جاتا ہے۔ اگر پچاس لاکھ روپیہ ماہوار بھی جیل خانوں پر خرچ ہو تو چھ کروڑ سالانہ خرچ بڑھ جاتا ہے اور اُس وقت ملک کی آمد اِس قدر نہیں تھی کہ وہ اتنا بوجھ زائد اُٹھا سکیں۔پھر ان ایجیٹیشنوں میں لوگوں پر لاٹھی چارج بھی کرنے پڑتے جس کی وجہ سے پولیس بڑھانی پڑتی تھی۔ اِس طرح دو ماہ میں ہی حکومت مطالبہ مان لیتی تھی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تم بھی اِس طرح کرو کیونکہ میں گاندھی جی کے طریق کے خلاف تھا لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ تمہیں اِس کے متعلق اب سوچنا پڑے گا۔ اگر تم نے زندہ رہنا ہے تو تمہیں کوئی مناسب تدبیر نکالنی ہو گی۔ اور ہر احمدی کو اِس بات پر غور کرنا پڑے گا کہ کیا وہ احمدی رہنا چاہتا ہے یا نہیں۔ اگر اُس نے احمدی رہنا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ غور کر کے ایسی تدبیر نکالے جس سے اُس کی قوم کی عزت قائم ہو۔ وہ دوسرے لوگوں سے تبادلۂ۔خیالات کر کے کسی نتیجہ پر پہنچے۔
    اب تو بے عملی کا یہ حال ہے کہ مجھ پر حملہ ہوا تو باہر والوں نے آ کر ربوہ والوں کو خوب گالیاں دیں اور کہا ربوہ والوں کی موجودگی میں خلیفہ پر حملہ ہو گیا ہے لیکن ہوا کیا؟ جماعت کے افراد نے شورٰی میں تقریریں کیں اور پھر واپس چلے گئے۔ کسی ناظر کو آج تک یہ توفیق نہیں ملی کہ وہ حفاظت کے لیے کوئی زائد آدمی رکھے اور نہ باہر والوں نے اس کی نگرانی کی، نہ آدمی پیش کیے۔ تین آدمیوں کو امور عامہ نے افسر کے طور پر بلانا چاہا لیکن اُن فدائیوں نے معذرت کر دی۔ اور بعض نے یہاں تک کہہ دیا کہ ہم اس ذمہ داری کے قابل نہیں۔ یعنی اب تو خلیفہ پر حملے ہونے لگے ہیں۔ اپنی جان کو خطرہ میں ڈالنے کے ہم قابل نہیں۔ جب عمل کرنے کی ہمت نہیں تھی تو ریزولیوشن پاس کرنے کا کیا فائدہ تھا۔ ربوہ والوں کو بے حیا کہہ دینا آسان ہے لیکن عمل کرنا مشکل ہے۔ ربوہ والوں سے جو کوتاہی ہوئی اُس کا داغ تو اب جاتا نہیں۔ قادیان میں یہ ہوتا تھا کہ نماز میں پہلی دوتین صفوں میں معروف آدمیوں کو بٹھایا جاتا تھا۔ مولوی شیر علی صاحب خالص مذہبی آدمی تھے لیکن اِس بارہ میں وہ غلوّ کی حد تک پہنچ گئے تھے۔ وہ مسجد میں پہنچتے ہی معروف لوگوں کو آگے بٹھانا شروع کر دیتے۔ مولوی سید سرورشاہ صاحب بھی مولوی تھے لیکن اُن میں یہ عادت تھی کہ مسجد میں جاتے ہی پہلی صفوں کا جائزہ لیتے اور۔غیرمعروف لوگوں کو پیچھے کر دیتے۔ ہم پر فوج نے تو حملہ نہیں کرنا۔ اِکَّادُکَّا بدمعاش اور بے ایمان ہی آئے گا اور شرارت کرے گا اور اِکّے دُکّے بدمعاش کا یہی علاج ہے کہ اگلی دوتین صفوں میں کسی غیرمعروف آدمی کو نہ بیٹھنے دو۔ اب یہ ہوا ہے کہ باہر والے تم کو گالیاں دے کر اپنے گھروں کو واپس چلے گئے اور تم نے شرم کے مارے گردن نیچے ڈال لی۔ لیکن نتیجہ کیا ہوا؟ کسی شاعر نے کہا ہے
    عجب طرح کی ہوئی فراغت گدھوں پہ ڈالا جو بار اپنا
    جماعت نے کہہ دیا کہ یہ لو چندہ اور اس سے کچھ جان قربان کرنے والے لوگ ملازم رکھ لو۔ ہم جانیں پیش نہیں کر سکتے۔ہماری طرف سے چندہ لے لو۔ لیکن ہماری قوم نے اگر زندہ رہنا ہے تو اسے مالی قربانی کے ساتھ ساتھ جانی قربانی بھی کرنی پڑے گی۔ اور اگر اس نے مرنا ہی ہے تو شرافت کی موت یہ ہے کہ بزدلی اور ذلّت کو تسلیم کر لے اور مر جائے۔ کہتے ہیں کوئی پٹھان تھا اُس نے اپنی مونچھیں اونچی کر لیں اور بعد میں اتنا غلوّ کیا کہ وہ تلوار ہاتھ میں لے لیتا اور جس شخص کی مونچھیں اونچی دیکھتا اُسے کہتا تم اپنی مونچھیں نیچی کر لو ورنہ میں تمہیں قتل کر دوں گا۔ مونچھیں اونچی رکھنے کا حق صرف مجھے ہے۔ لوگ اپنی عزت کو بچانے کی خاطر مونچھیں نیچی کر لیتے۔ کوئی غریب دکاندار تھا وہ روزانہ یہ نظارہ دیکھتا کہ وہ پٹھان تلوار ہاتھ میں لے کر نکل آتا ہے اور لوگ عزت کو بچانے کی خاطر اپنی مونچھیں نیچی کر لیتے ہیں۔ اُس نے خیال کیا کہ ابھی تک اسے کسی نے سبق نہیں دیا۔ اُس نے چھابڑی اُٹھا لی اور گھر چلا گیا اور کچھ دنوں تک گھر ہی رہا اور مونچھوں پر چربی لگاتا رہا۔ جب مونچھیں بڑھ گئیں تو اس نے تلوار کمر میں باندھ لی اور باہر نکل آیا۔ لوگوں نے اُس پٹھان کو اطلاع دی کہ ایک اَور شخص اونچی مونچھوں والا آیا ہے۔ چنانچہ پٹھان تلوار لے کر باہر آ گیا اور اس دکاندار سے کہنے لگا۔ تم نے اپنی مونچھیں اونچی کیوں رکھی ہیں؟ اُس نے کہا مجھے ایسا کرنے کا حق ہے۔ پٹھان نے کہا تمہارا حق نہیں میرا حق ہے۔ دکاندار نے کہا میں تو اپنی مونچھیں اونچی رکھوں گا۔ پٹھان نے کہا اگر تم میری بات ماننے کے لیے تیار نہیں تو تمہیں مجھ سے لڑنا ہو گا۔ دکاندار نے کہا اچھا لڑ لو۔ پٹھان نے کہا لڑائی کے لیے وقت مقرر کر لو۔ دکاندار نے کہا کر لو۔ لیکن ایک بات ہے۔ ہم میں سے ایک نے ضرور مرنا ہے اور اس کے بچوں نے یتیم رہ جانا ہے حالانکہ اُن کا کوئی قصور نہیں۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ لڑائی سے پہلے تم اپنے بیوی۔بچو ں کو مار آؤ اور میں اپنی۔بیوی۔بچوں کو مار آتا ہوں تاکہ بعد میں ہماری موت سے اُن کو تکلیف نہ ہو۔ چنانچہ پٹھان اپنے گھر گیا اور اُس نے اپنے بیوی بچوں کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد وہ اس دکاندار کے پاس آیا اور اسے کہنے لگا میں تو اپنے بیوی بچوں کو مار آیا ہوں۔ کیا تم بھی مار آئے ہو؟ اُس نے کہا نہیں۔ میں نے اپنا ارادہ بدل لیا ہے اور میں اپنی مونچھیں نیچی کر لیتا ہوں اور اپنی مونچھیں نیچی کر لیں۔
    اِسی طرح اگر تم نے زندہ رہنا ہے تو تمہیں کچھ کام کر کے دکھانا ہو گا۔ اس کے بغیر زندہ رہنے کا خیال بالکل غلظ ہے۔ جماعت کو اب ان باتوں پر غور کرنا چاہیے، ان کا علاج سوچنا چاہیے اور پھر اس پر دوسرے ساتھیوں سے بحث کرنی چاہیے اور تبادلۂ۔خیالات سے کوئی نتیجہ اخذ کرنا چاہے۔ اگر تم عملی طور پر جدوجہد نہ کرو گے تو تم ذلّت کی موت مرو گے۔ لیکن اگر تم زندہ رہنے کا صحیح طریق اختیار کرو گے تو خداتعالیٰ تمہیں مرنے نہیں دے گا۔ اور اگر مرو گے بھی تو خداتعالیٰ کی رحمت تمہارے شاملِ حال ہو گی۔ لیکن دوسری صورت میں دنیا کے لوگ بھی تم پر *** کریں گے اور خداتعالیٰ اور اس کے فرشتے بھی تم پر *** بھیجیں گے۔
    پس تم اپنے حالات پر غور کر کے صحیح لائن اختیار کرو۔ یاد رکھو! جو کام خداتعالیٰ نے تمہارے سپرد کیا ہے وہ تم ہی کرو گے۔ خداتعالیٰ نے نہیں کرنا۔ اور جو کام خداتعالیٰ کے سپرد ہیں وہ خداتعالیٰ خود کرے گا۔ جب تم اپنی جان، مال، آبرو اور ہر عزیز چیز کو قربان کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ گے اور قرآن کی ہدایتوں پر عمل کرو گے تو پھر جو کسر باقی رہ جائے گی خداتعالیٰ اُسے پورا کر دے گا۔ لیکن اگر تم قرآن کریم کے سب احکام پر عمل نہ کرو اور صرف چندہ دینا کافی سمجھو تو اِس جہان میں بھی تم پر *** ہو گی اور آخرت میں بھی تم پر *** ہو گی۔ پس تم اپنے حالات کے ہر پہلو پر غور کرو اور قرآن کریم پر غور کر کے تدابیر سوچو۔ پھر دوسروں سے تبادلۂ۔خیالات کر کے کسی نتیجہ پر پہنچو۔ قرآن کریم تمہارے پاس ہے۔ اس میں جائز قانون کے مطابق لڑائی کرنے کا طریق بھی موجود ہے۔ اس میں جائز قانون کے مطابق صبر کرنے کا طریق بھی موجود ہے۔ اس میں جائز قانون کے مطابق عفو کرنے کا طریق بھی موجود ہے۔ اس میں جائز قانون کے مطابق اعتراضات کے جواب دینے کا طریق بھی موجود ہے۔ جب تم قرآن کریم کے بیان کردہ طریقوں پر پوری طرح عمل کرو گے جس میں ہر قسم کے جائز اور درست علاج موجود ہیں تو پھر اگر کوئی کسر باقی رہ جائے گی تو اُسے خداتعالیٰ پورا کر دے گا۔ لیکن تمہارا یہ طریق درست نہیں کہ عملی طور پر تو کچھ نہ کرو، قرآن پر غور نہ کرو، نہ اس کی ہدایات کو سمجھنے کی کوشش کرو صرف چندہ دے دو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو دنیا میں بھی تمہارے لیے ذلّت ہے اور آخرت میں بھی تمہارے لیے ذلّت ہے اور اس ذلّت سے تمہیں کوئی نہیں بچا سکتا۔اور جب میں یہ کہتا ہوں کہ اس ذلّت سے تمہیں کوئی نہیں بچا سکتا تو اِس میں خداتعالیٰ بھی آ جاتا ہے۔ کیونکہ وہ خود کہتا ہے کہ اگر تم ایسا کرو گے تو۔میں تمہیں نہیں بچاؤں گا۔ پس تم اپنے طریقِ۔عمل کو درست کرو اور جلدجلد درست کرو ورنہ جماعت کے لیے آفات اور مصائب کے رستے کھلتے چلے جائیں گے‘‘۔
    (الفضل 15جون1954ئ)

    1
    :
    (التوبۃ:111)

    ہم نے خداتعالیٰ کے احسانات اور اس کے فضلوں کا بارہا مشاہدہ کیا ہوا ہے
    مشکلات کے وقت تمہیں بہرحال خداتعالیٰ ہی کی طرف متوجہ ہو کر اُسی سے مدد مانگنی چاہیے
    (فرمودہ 4 جون1954ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’جب کبھی انسان کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو قطع نظر اِس کے کہ اُس کا کوئی ساتھی ہو یا نہ ہو وہ بلند آواز سے شکایت شروع کر دیتا ہے۔ مثلاً کسی کو پیٹا جائے تو خواہ اس کے پاس اس کا باپ نہ ہو،ماں نہ ہو، بھائی نہ ہو، دوست نہ ہو وہ بازار میں کھڑے ہو کر یہ کہنا شروع کر دے گا کہ ہائے! مجھے مار دیا، ہائے! مجھے مار دیا اور یہ چیز فطرتِ۔انسانی میں پائی جاتی ہے۔ افریقہ میں بھی، ایشیا میں بھی، یورپ میں بھی، امریکہ اور دوسرے علاقوں میں بھی۔ سب جگہ یہی چیز پائی جاتی ہے۔ اور یہ بات اتنی واضح ہے کہ قرآن کریم میں بھی خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ کسی کو دوسرے کی بُرائی عَلَی الْاِعْلَان بیان نہیں کرنی چاہیے۔ ہاں! مظلوم اگر کسی کے ظلم کو بیان کرے تو معذور ہے۔1 غرض مظلوم کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ ظلم کو بیان کرتا ہے، وہ شور کرتا ہے اور بسااوقات وہ شور بے معنٰی ہوتا ہے۔ انسان بعض دفعہ جنگل میں جا رہا ہوتا ہے اور روتا جا رہا ہوتا ہے۔ پاس سے گزرنے والا شخص اسے دیکھتا ہے تو وہ خیال کرتا ہے کہ یہاں کوئی اَور آدمی تو موجود نہیں۔ پھر یہ اپنی شکایت کس کو سنا رہا ہے۔ وہ یہ نہیں سمجھتا کہ اس کے علم میں تو نہیں کہ یہاں کوئی دوسرا موجود ہے لیکن فطرت کے علم میں یہ بات ہے۔ فطرت انسانی سوچتی ہے کہ اگر دریا سے لوگ مچھلیاں نکال سکتے ہیں، سمندروں سے موتی نکال سکتے ہیں تو میں اس جنگل میں اپنا ہمدرد تلاش کروں تو اس میں کیا حرج ہے۔ دریا میں مچھلی کسی کو نظر نہیں آتی۔ ماہی گیر جال ڈالتا ہے اور اس میں مچھلی آ کر پھنس جاتی ہے۔ سمندر میں موتی کسی کو نظر نہیں آتا۔ پھر بھی لوگ اُس کی خاطر سمندروں میں غوطے لگاتے ہیں۔ یہی حال کانوں کا ہے۔ سونا جواہر ہر جگہ نہیں پائے جاتے۔ ہزاروں گز جگہ کھودی جاتی ہے پھر کہیں کوئی ڈلی سونے کی ملتی ہے یا کوئی ہیرا ملتا ہے۔
    غرض انسان جب دیکھتا ہے کہ لوگ اپنی اغراض کی خاطر ایسے ایسے کام کرتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ میں بھی کیوں نہ شور مچاؤں۔ ممکن ہے کوئی آدمی قریب ہی جا رہا ہو اور اسے میری آواز پہنچ جائے۔ یا اردگرد کوئی قصبہ یا گاؤں ہو جس کا مجھے پتا نہ ہو ممکن ہے کہ وہاں سے بعض لوگ میری مدد کو آ جائیں۔ اور اگر وہ بے دین ہے اور خداتعالیٰ کی ہستی پر اُسے یقین نہیں تو وہ خیال کرتا ہے کہ گو میرے نزدیک تو خدا نہیں لیکن اگر خدا ہوا تو ممکن ہے کہ وہ میری مدد کو آ جائے۔ یا اگر وہ دیندار ہے تو وہ سمجھے گا کہ اگر میری آواز سن کر لوگ نہیں آتے تو شاید خداتعالیٰ میری التجا سن لے۔
    غرض امکانات کے مختلف پہلو ہیں۔ پہلا پہلو یہ ہے کہ شاید قریب ہی کوئی اَور شخص بھی ہو جو میری آواز کو سُن لے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ شاید قریب ہی کوئی گاؤں یا قصبہ ہو جس کا مجھے علم نہ ہو۔ شاید وہاں میری آواز پہنچ جائے اور لوگ میری مدد کو آ جائیں۔ تیسرا پہلو یہ ہے کہ میں خدا کو تو نہیں مانتا لیکن اگر خدا ہوا تو وہ میری بات سنے گا۔ چوتھا پہلو یہ ہے کہ خدا موجود ہے اور وہ لوگوں کی پکار کو سنتا ہے۔ شاید وہ میری پکار بھی سن لے۔ غرض انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ شور مچاتا ہے اور بغیر سمجھے اور غوروفکر کیے شور مچاتا ہے۔ اِدھر اُسے تھپڑ پڑا اور اُدھر اُس نے شور مچانا شروع کر دیا۔ تھپڑ اور اُس کے شور کے درمیان کوئی وقفہ نہیں۔ہوتا۔ اگر بغیر سمجھے اور بغیر سوچے انسان اتنا شور مچا دیتا ہے تو جس قوم کے سامنے زندہ خدا کو پیش کیا گیا ہو اور اس نے خداتعالیٰ کی قدرت، نصرت اور اس کی تائید کے کرشمے دیکھے ہوں یا اگر انہوں نے خود نہیں دیکھے تو خداتعالیٰ کی قدرت اور نصرت و تائید کے مظاہر دیکھنے والے اور اُن کا تجربہ رکھنے والے لوگ اُن میں موجود ہیں تو اُس قوم کا کوئی فرد اگر مار کھاتا ہے اور پھر چیختا نہیں، تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے اور کراہتا نہیں تو وہ یقیناً بیوقوف ہے۔ جس شخص کو یہ معلوم نہیں کہ اس کے قریب کوئی اَور شخص موجود ہے، جس شخص کو یہ معلوم نہیں کہ اس کے پاس کوئی قصبہ یا گاؤں موجود ہے پھر بھی وہ آواز بلند کرتا ہے کہ شاید ایسا ہو، جس شخص کو خداتعالیٰ کی ہستی پر یقین نہیں لیکن پھر بھی وہ مصیبت کے وقت شور مچاتا ہے کہ شاید خدا ہو اور وہ میری بات سن لے یا اگر اسے خداتعالیٰ کی ہستی پر یقین تو ہے لیکن اُس نے خود اس کی قدرتوں کا تجربہ نہیں کیا تو وہ سمجھتا ہے کہ شاید خدا اس کی بات سن لے۔ ان چار شایدوں کے ساتھ وہ شور مچاتا ہے اور پھر اس کے درمیان کوئی وقفہ نہیں ہوتا۔ وہ سوچتا نہیں، وہ غور نہیں کرتا۔ لیکن ایک اَور انسان ہے جس کے سارے شاید غائب ہیں۔ اس کے سامنے یہ سوال نہیں کہ شاید اُس کے پاس کوئی شخص اَور بھی ہو جو اُس کی آواز سن لے۔ اس کے سامنے یہ سوال نہیں کہ شاید قریب ہی کوئی گاؤں یا قصبہ ہو جس کا اُسے علم نہ ہو، شاید اس کے رہنے والے اس کی آواز سن لیں۔ اس کے سامنے یہ سوال نہیں کہ خدا ہے یا نہیں کیونکہ وہ خداتعالیٰ کی ہستی پر یقین رکھتا ہے۔ پھر اس کے سامنے یہ سوال بھی نہیں کہ خداتعالیٰ موجود تو ہے لیکن اس کی قدرتوں کا مجھے علم نہیں۔ وہ یقین رکھتا ہے کہ خداتعالیٰ موجود ہے اور وہ اپنی قدرتیں ہمیشہ دکھاتا رہا ہے اور اس کی نصرت و تائید کے مظاہر اس نے خود بھی دیکھے ہیں۔ پھر بھی اگر مصیبت کے وقت وہ شور نہیں مچاتا تو اس کی حالت کس قدر افسوسناک ہے۔ ایک شخص جو۔خداتعالیٰ کو دیکھتا نہیں وہ تو شور مچاتا ہے لیکن دوسرا شخص خداتعالیٰ کو دیکھتا بھی ہے اور پھر بھی شور نہیں مچاتا۔ اللہ۔تعالیٰ قرآن۔کریم میں کئی چیزوں کو انسان کے سامنے پیش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ کیا فلاں چیز اور یہ چیز برابر ہے۔ مثلاً وہ کہتا ہے کہ کیا بہرے اور گونگے اور سننے اور بولنے والے برابر ہو سکتے ہیں؟2 کیا زندہ اور مُردہ برابر ہو سکتے ہیں؟3 کیا ہدایت یافتہ لوگ اور وہ لوگ جو۔ہدایت۔یا فتہ نہیں برابر ہو سکتے ہیں؟4 کیا جنت کے رہنے والے اور جہنم کے رہنے والے برابر ہو سکتے ہیں؟ جب یہ دونوں چیزیں برابر نہیں ہو سکتیں تو تمہارے اعمال اور تمہاری عادات و اطوار میں اور دوسرے لوگوں کے اعمال اور ان کی عادات و اطوار میں کچھ نہ کچھ فرق تو ہونا چاہیے۔ ہماری جماعت نے خداتعالیٰ کے احسان اور اس کے فضل دیکھے ہیں اور جب اس نے خداتعالیٰ کے احسانات اور اُس کے فضلوں کا مشاہدہ کیا ہے تو مشکلات کے وقت اس میں یہ احساس تو ہونا چاہیے کہ اس نے خداتعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا ہے اور اس سے دعائیں کرنی ہیں۔ خداتعالیٰ کی شان وراء الوراء ہے لیکن مصیبت کے وقت جب کوئی شخص فریادی بن کر اس کے پاس جاتا ہے تو اس کے نزدیک اس کی شان ہی اَور ہوتی ہے۔ جب وہ شخص جس کا فریادرَس کوئی نہیں، شور مچاتا ہے تو جس کا فریاد۔رَس موجود ہے وہ کیوں شور نہ کرے؟
    پس بجائے اِس کے کہ دوست مشکلات کے وقت گھبرائیں یا کسی تشویش میں مبتلا ہوں انہیں اس بات کی عادت ڈالنی چاہیے کہ اِدھر کوئی مصیبت آئی اور اُدھر انہوں نے شور مچانا شروع کر دیا۔ ہم نے کئی ایسے آدمی دیکھے ہیں جن میں دعا کرنے کا مادہ ہوتا ہے اور ہم نے دیکھا ہے کہ وہ اکثر خداتعالیٰ سے اپنی مطلوبہ چیز لے ہی لیتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں مفتی فضل الرحمان صاحب کے بچے مر جایا کرتے تھے۔ بعد میں ان کی اولاد چلی ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی لڑکی اُن سے بیاہی ہوئی تھی۔ جب بھی اُن کا بچہ بیمار ہوتا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس جاتیں اور دعا کی درخواست کرتیں لیکن کچھ دنوں کے بعد وہ بچہ فوت ہو جاتا۔ جب ایک دو دفعہ ایسا ہوا تو آپ نے اُن سے فرمایا دیکھو! جو چیز ٹوٹ جاتی ہے اُس کی مرمت کی جاتی ہے۔ تمہارے بچے بھی مرمت کے لیے خداتعالیٰ کے پاس جاتے ہیں۔ اس کے بعد جب بچے فوت ہو جاتے تو وہ کہتیں کوئی بات نہیں وہ مرمت کے لیے خداتعالیٰ کے پاس گئے ہیں۔ پھر ایسا ہوا کہ اُن کی اولاد زندہ رہنی شروع ہو ئی بلکہ دوسری بیوی سے بھی اولاد ہوئی اور زندہ رہی اور اب تو شاید مفتی صاحب کی اولاد دو درجن کے قریب ہے۔ اِس رنگ میں اگر یقین پیدا ہو جائے تو کوئی تشوش نہیں ہوتی۔ اس قسم کے یقین کی موجودگی میں اگر کوئی مار کھا بھی لے تو وہ محبت والی مار ہو گی۔
    بدر کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے خدا! اگر یہ مختصر۔سا گروہ ہلاک ہو گیا تو دنیا میں تیری عبادت کون کرے گا۔5 اس کے یہ معنے نہیں تھے کہ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کو خداتعالیٰ پر اعتبار نہیں تھا بلکہ اس رنگ میں دعا کر کے آپ نے خداتعالیٰ کو غیرت دلائی۔ اِسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام نے کہا ایلِیْ ایلِیْ لِمَا سَبَقْتَنِیْ6 یعنی اے خدا! چاہیے تو یہ تھا کہ اِس مصیبت کے وقت تو میری مدد کے لیے آتا لیکن تُو تو مجھے چھوڑ کر چلا گیا ہے۔ اب آپ کا یہ مطلب نہیں تھا کہ خداتعالیٰ مصیبت کے وقت انہیں واقع میں چھوڑ گیا تھا۔ بلکہ اِس کا مطلب یہ تھا کہ میرا دل گھبرا رہا ہے آپ جلدی میری مدد کے۔لیے آئیں۔ اِس رنگ میں اگر دعا کی جاتی ہے تو وہ قبولیت۔ِ دعا پر عدمِ۔یقین کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ خداتعالیٰ کو غیرت دلانے کے لیے ہوتی ہے۔ قرآن کریم سے بھی پتا لگتا ہے کہ جب اِس رنگ میں دعا کی جاتی ہے تو خداتعالیٰ کو غیرت آ جاتی ہے۔ جب مومن کہتے ہیں7 اے خدا ! تیری مدد اور نصرت کب آئے گی؟ تو خداتعالیٰ کہتا ہے تم مجھے طعنہ دیتے ہو۔ تو سنو! میری مدد آ پہنچی۔8 پس جب بھی مومن خداتعالیٰ کو مدد کے لیے پکارتا ہے اور جب بھی مومنوں کے دلوں کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ اے خدا! تُو نے اچھے وعدے کیے تھے کہ ابھی تک وہ پورے ہی نہیں ہوئے۔ تو اِس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ دعا کرنے والے کو اُن وعدوں پر یقین نہیں بلکہ اِس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ ہم نے جو امیدیں رکھی تھیں اُس کے مطابق وہ وعدے اب تک پورے نہیں ہوئے۔ اِس پر خداتعالیٰ کو غیرت آ۔جاتی ہے اور وہ فوراً مدد کو آ جاتا ہے۔
    پس مومن کو ہمیشہ دعاؤں میں لگے رہنا چاہیے اور اس کے فضلوں کی امید رکھنی چاہیے۔ جس شخص کو خداتعالیٰ کے فضلوں کی امید ہوتی ہے دنیا میں کوئی قانون نہیں کہ اُسے اس امید سے روکا جا سکے۔ گو آجکل یہ کیفیت ہے کہ اگر ہم کہیں کہ خداتعالیٰ کی نصرت آئے گی تو کہا جاتا ہے کہ اس سے تم دوسروں کو اشتعال دلاتے ہو حالانکہ یہ ایسی چیز ہے جو کسی سے چُھڑوائی نہیں جا سکتی۔ خداتعالیٰ کے متعلق جو بات ہے وہ تو بندے نے کہنی ہی ہے۔ کئی باتیں ایسی ہیں جن کے کہنے سے کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ خداتعالیٰ کی مدد آئے گی، اس کی تائید اور نصرت مجھے ملے گی تو اُسے اِس بات کے کہنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ بلکہ خداتعالیٰ کے متعلق کوئی بات کہنے سے حکومت بھی ہمیں روکے تو اُس کی اطاعت فرض نہیں۔ خداتعالیٰ نے قرآن کریم میں والدین کی اطاعت کا حکم دیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ کہا ہے کہ اگر وہ میرے خلاف کوئی بات کہیں تو اُن کی بات مت مانو۔9 انسان کے ساتھ جو والدین کا تعلق ہے وہی تعلق حکومت کا ہے۔ اگر حکومت کہتی ہے کہ تم فلاں جگہ کھڑے ہو جاؤ تو ہم اُس کے حکم کی اطاعت کریں گے اور اُس جگہ کھڑے ہو جائیں گے۔ اگر وہ کہتی ہے فلاں کام کردو تو ہم کریں گے۔ لیکن اگر وہ کہے کہ تم خداتعالیٰ کے متعلق فلاں بات مت کہو تو ہم اُس کی اطاعت نہیں کریں گے۔ یہاں حکومت کے قوانین ختم ہو جاتے ہیں۔اِس کے بعد وہ بیشک ڈنڈا چلائے لیکن خداتعالیٰ کہتا ہے تم اُس کی اطاعت نہ کرو۔ تم وہی کہو جو میں کہتا ہوں۔ مثلاً اگر تم کہتے ہو کہ خداتعالیٰ قادر ہے تو بیشک حکومت یہ قانون بنا دے کہ تم خداتعالیٰ کو قادر نہ کہو کیونکہ ایسا کہنے سے اُن لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے جو خداتعالیٰ کو قادر تسلیم نہیں کرتے۔ پھر بھی خداتعالیٰ کا حکم یہی ہو گا کہ تم اسے قادر کہتے رہو۔
    گزشتہ سال میں نے ایک اعلان میں کہا تھا کہ خداتعالیٰ ہماری مدد اور نصرت کو آ رہا ہے، وہ چلا آ رہا ہے، وہ دوڑتا آ رہا ہے اِس پر حکومت نے مجھے نوٹس دیا کہ تم نے ایسا کیوں کہا؟ اِس سے دوسرے لوگوں کو اشتعال آیا ہے۔ ہاں! نوٹس دینے والے افسر نے اتنی اصلاح کر لی کہ اس نے کہا تم احرار کے متعلق کوئی ذکر نہ کرو۔ اگر وہ مجھے یہ حکم دیتے کہ خداتعالیٰ کے متعلق یہ نہ کہو کہ وہ مدد کو آ رہا ہے یا یہ کہو کہ وہ مدد کو نہیں آتا تو دنیا کی کوئی طاقت مجھے اس بات کو تسلیم کر لینے پر آمادہ نہ کر سکتی۔ اِس لیے کہ وہ اس طرح کا حکم دے کر قرآن کریم پر حکومت کرنا چاہتے اور یہ ایسا حکم تھا جس کا ماننا جائز نہ ہوتا۔ اگر کوئی حکومت یہ کہے کہ تم خداتعالیٰ کو ایک نہ سمجھو تو ہم کہیں گے عقائد کے بارہ میں تمہاری حکومت نہیں چلتی۔ تمہاری حکومت ایسے امور میں چلے گی جو دنیوی ہوں۔ مثلاً کسی کا یہ عقیدہ ہو کہ تم لوگوں کو خوب مارو تو حکومت اِس پر ایکشن لے سکتی ہے۔ لیکن اس لحاظ سے نہیں کہ وہ ایسا عقیدہ کیوں رکھتا ہے بلکہ اِس وجہ سے کہ وہ اس عقیدہ کو عملی جامہ کیوں پہنا رہا ہے۔ حکومت اعمال پر کنٹرول کر۔سکتی۔ہے عقائد پر نہیں۔ قرآن کریم میں بہت زیادہ زور ماں باپ کی اطاعت پر دیا گیا ہے۔ لیکن جب عقیدہ کے بارے میں ان کی بات بھی نہ ماننے کا حکم ہے تو اَور کسی کی بات کیوں مانی جائے۔
    پس جو چیزیں خداتعالیٰ کی طرف سے فرض کی گئی ہیں انہیں پورا کرو۔ جب انسان ایسے امور میں دخل دے جن میں اُسے دخل نہیں دینا چاہیے تو اُس کی اطاعت مت کرو۔ لیکن۔اگر کوئی حکومت یا فرد اپنے غرور میں آ کر یہ کہے کہ میں ان میں ضرور دخل دوں گا تو پھر جیسے کہا جاتا ہے کہ ’’ملّاں کی دوڑ مسیت تک‘‘ تو مومن خداتعالیٰ کے پاس چلا جاتا ہے۔ اور مسجد کسی ملّاں کو بچائے یا نہ بچائے خداتعالیٰ اپنے مومن بندہ کو ضرور بچا لیتا ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو نہایت واضح ہے۔ پس ہر مومن کا فرض ہے کہ وہ یہ یقین رکھے کہ خداتعالیٰ اسے بچائے گا چاہے کوئی اُسے پھانسی پر ہی چڑھا دے۔ وہ پھانسی پربھی یہ یقین رکھے کہ۔خداتعالیٰ اُسے بچائے گا۔ جب۔تک کوئی شخص اِس قسم کا یقین نہیں رکھتا اُس کا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا‘‘۔ (الفضل 23جون1954ئ)

    1
    :

    (النساء :149)
    2
    :


    (النحل:77)
    3
    :
    (فاطر:23)
    4
    :
    (الحشر:21)
    5
    :
    صحیح مسلم کتاب الجھاد والسیر باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر واباحۃ الغنائم
    6
    :
    متی باب27آیت46
    7
    :
    البقرۃ:215
    8
    :
    (البقرۃ:215)
    9
    :
    (العنکبوت:9)


    جماعت کے کمزور حصے کو مضبوط بنانے
    اور اس کی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرو
    (فرمودہ 18 جون1954ء بمقام کراچی)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’انسانوں پر زندگی کے کئی دَور آتے ہیں۔کبھی انسان دودھ پیتا بچہ ہوتا ہے، کبھی چوسنیاں چوسنے والا بچہ ہوتا ہے، کبھی کھیلنے کُودنے اور پیار کرنے والا بچہ ہوتا ہے، کبھی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے والا بچہ ہوتا ہے، کبھی نیم بلوغت کے زمانہ میں وہ اچھی تعلیم حاصل کر رہا ہوتا ہے، کبھی بالغ ہو کر وہ اپنے مستقبل کے متعلق سوچ رہا ہوتا ہے، کبھی اپنی بھرپور جوانی میں وہ شادی۔بیاہ کرتا ہے اور اس کے بچے پیدا ہوتے ہیں، کبھی جوانی کی عمر کا ایک حصہ گزار کر وہ ادھیڑ۔عمر میں جا پہنچتا ہے، کبھی اُس پر بڑھاپا آتا ہے اور پھر کبھی اُس پر ایسا بڑھاپا آتا ہے کہ چلنا پھرنا بھی اس کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ افراد کے جو مختلف دَور ہیں، یہی دَور قوموں پر بھی آیا کرتے ہیں۔ کبھی قوموں کی حالت بچوں کی سی ہوتی ہے، کبھی ان کی حالت بڑی عمر والوں کی سی ہوتی ہے، کبھی ان سے بھی بڑی عمر والوں کی سی حالت ہوتی ہے اور کبھی ان پر جوانی کی عمر آتی ہے۔ لیکن جو قومیں خداتعالیٰ کی طرف سے قائم کی جاتی ہیں اُن پر جوانی۔کا۔زمانہ نسبتاً جلدی آ جاتا ہے اور جو قومیں خداتعالیٰ کے منشا کے ماتحت چلنے والی ہوتی ہیں اُن پر جوانی کا زمانہ زیادہ دیر تک رہتا ہے۔ پھر اس کے بعد آج تک کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ ہر قوم پر بڑھاپا آ جاتا ہے اور وہ اپنے فرائض کے ادا کرنے میں کوتاہی کرنے لگ جاتی ہے۔
    ہماری جماعت ابھی اپنی جوانی کے دَور کے قریب زمانہ میں ہے۔ ہم اپنے آپ کو نابالغ نہیں کہہ سکتے، ہم اپنے آپ کو قریب بلوغت کے زمانہ میں بھی نہیں کہہ سکتے اور ہم اپنے زمانہ کو کامل بلوغت کا زمانہ بھی نہیں کہہ سکتے۔ قریب بلوغت اور کامل بلوغت کے درمیان جو زمانہ ہوتا ہے وہی ہم پر گزر رہا ہے اور اِسی کے مطابق ہماری جماعت کو اپنی ذمہ داریاں سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ وہ عمر ہے کہ اس میں انسان نہ اپنے آپ کو نادان کہہ سکتا ہے اور نہ پورے طور پر اسے تمام کاموں کا ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے۔ یوں سمجھ لو کہ یہ عمر ایسی ہی ہے جیسے اکیس بائیس سال کے نوجوان کی عمر ہوتی ہے۔ لیکن میں دیکھتا ہوں کہ اس عمر میں بھی ہماری جماعت میں اپنی ذمہ داریوں کے سمجھنے کا ابھی وہ احساس نہیں ہے جو اس کے اندر ہونا چاہیے تھا۔ مثلاً پہلی چیز تو یہی ہوا کرتی ہے کہ انسان تعلیم حاصل کرتا ہے اور اس عمر تک اپنی تعلیم سے قریباً فارغ ہو جاتا ہے۔ لیکن ہماری جماعت میں دینی۔تعلیم اور دینی۔تربیت کے لحاظ سے ابھی بہت بڑی کمی پائی جاتی ہے۔ اکثر حصہ جماعت کا وہ ہے جو قرآن شریف کو نہیں سمجھتا۔ اور اس اکثر میں سے بھی ایک کثیر حصہ ایسا ہے جو ان ذرائع کو بھی جو قرآن کریم کے سمجھنے کے ان کو میسر ہیں صحیح طور پر استعمال کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ مثلاً ہمارا ملک اردو بولتا ہے یا مختلف صوبوں میں گنوار طرز کے جو لوگ ہیں یا غیرتعلیم یافتہ لوگ ہیں یا صرف صوبجاتی زبان جاننے والے ہیں ان میں سے کوئی سندھی بولتا ہے، کوئی بلوچی بولتا ہے، کوئی پشتو بولتا ہے، کوئی بنگالی بولتا ہے۔ عربی زبان ہمارے ملک میں بطور زبان کے نہیں بولی جاتی۔ بلکہ ہمارے ملک کے لوگوں کو اتنا بُعد عربی زبان سے ہے کہ علماء بھی عربی نہیں بولتے۔ اور اگر کبھی انہیں عربی بولنی پڑے تو وہ اتنا ہچکچاتے ہیں کہ دو فقرے بھی وہ اپنی زبان سے نکالیں گے تو۔کانپتے ہوئے اور ڈرتے ہوئے اور لرزتے ہوئے۔ جہاں تک ان کے علم کا سوال ہے اگر اُس کو دیکھا جائے تو وہ عرب اور مصر کے علماء سے کم نہیں ہوتے، دینی کتب کا انہیں خوب۔مطالعہ ہوتا ہے لیکن جب عربی بولنے کا سوال آئے تو عرب کا ایک معمولی کمہار یا دھوبی بھی صحیح۔عربی بولے گا اور وہ دو فقرے بھی نہیں بول سکیں گے۔ یہ نقص صرف اس وجہ سے ہے کہ انہیں عربی بولنے کی مشق نہیں۔ پس ایسے ملک کے لوگوں سے یہ امید کرنا کہ وہ عربی میں قرآن کو سمجھ سکیں گے بہت بعید بات ہے۔ بیشک ہماری کوشش تو یہی ہونی چاہیے مگر اس امید کے برآنے کے لیے ایک لمبا زمانہ چاہیے۔ اور جب اس کے لیے ایک لمبے زمانہ کی ضرورت ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا ان کی روح اتنے عرصہ کے لیے امیدوبیم1 میں رکھی جا سکتی ہے؟ فرض کرو تمہارے پاس کھانا نہیں لیکن تم نے اپنے کھیت میں گیہوں بویا ہوا ہے اور چھوٹی۔چھوٹی روئیدگی بھی اُس کی نکلی ہوئی ہے تو آیا تمہاری بھوک کے وقت تمہارے لیے یہ تصور کافی ہو گا کہ جب یہ روئیدگی بڑھے گی، دانے پکیں گے تو پھر ہم گندم کاٹ کر اپنے گھر میں لائیں گے اور آٹا پسوا کر روتی پکائیں گے؟ اگر تم اس وقت کا انتظار کرو گے تو تم مرو گے۔ تمہیں بہرحال اپنی غذا کا کوئی نہ کوئی قائم مقام سوچنا پڑے گا۔ جیسے جو لوگ چاول کھانے کے عادی ہوں انہیں اگر چاول نہ ملیں تو چاہے انہیں نفرت ہو، بدہضمی ہو، وہ گندم کھائیں گے۔ یا گندم کھانے والے کو اگر کسی وقت گندم میسر نہیں آتی تو یہ نہیں ہوتا کہ وہ فاقہ کرنے لگ جائے بلکہ وہ چاول پکا کر کھا لیتا ہے۔ چاول نہیں ملتے تو مکی کھا لیتا ہے۔ مکی نہ ملے تو باجرہ کھا لیتا ہے۔ اگر باجرہ نہیں ملتا تو بعض دفعہ وہ مڈھل2 کھا لیتا ہے(یہ ایک جنگلی دانہ ہے جسے پنجابی میں مڈھل کہتے ہیں۔ اردو نام مجھے معلوم نہیں جس کو عام حالات میں انسان نہیں کھایا کرتا)۔ بہرحال ایسے حالات میں انسان کو اپنی غذا کا قائم مقام سوچنا پڑتا ہے۔
    میں مانتا ہوں کہ ہماری جماعت میں سارے کے سارے عربی نہیں پڑھ سکتے۔ بلکہ اگر پڑھ بھی لیں تو ہماری جماعت میں ہر سال اتنے نئے آدمی داخل ہوتے رہتے ہیں کہ ہم ایسے تعلیمی معیار کو قائم رکھ ہی نہیں سکتے۔ قادیان میں عورتوں اور لڑکیوں کی تعلیم ہم نے کئی دفعہ سو فیصدی تک پہنچا دی تھی مگر دو چار سال کے بعد جب ہم پھر مردم شماری کرتے تو اسّی نوّے فیصدی پر اُن کی تعلیم آ جاتی۔ اِس کی وجہ یہی تھی کہ وہاں ہجرت جاری تھی اور نئی نئی عورتیں باہر سے قادیان میں آتی رہتی تھیں۔ اس لیے پہلا معیار گر جاتا تھا۔ یہی حال جماعت کا ہے۔ جماعت میں بھی ایک روحانی ہجرت جاری ہے اور ہر سال کچھ شیعوں میں سے،کچھ سنیوں میں سے، کچھ وہابیوں میں سے، کچھ شافعیوں میں سے، کچھ دوسرے فرقوں میں سے نکل نکل کر لوگ ہمارے اندر شامل ہوتے رہتے ہیں اور وہ قرآن سے واقف نہیں ہوتے۔ پس اگر ہم سارے لوگوں کو قرآن پڑھا لیتے ہیں تب بھی کچھ عرصہ کے بعد ایک حصہ ایسے لوگوں کا ضرور نکل آئے گا جو قرآن سے ناواقف ہو گا اور پھر ہمارا فرض ہو گا کہ ہم اُن کو قرآن سے واقف کریں۔ بیشک ہمیں ایسے ذرائع میسر نہیں کہ ہم ہر احمدی کو عربی پڑھا سکیں لیکن قرآن ایک ایسی چیز ہے جس کا تھوڑا۔بہت علم ہر شخص کو ہونا چاہیے کیونکہ قرآن ہماری روحانی غذا ہے۔ جس طرح روٹی کھائے بغیرانسانی جسم زندہ نہیں رہ سکتا اِسی طرح قرآن کریم کے بغیر ہماری روح کبھی زندہ نہیں رہ سکتی۔ جسم کی موت کے بعد انسانی اعضاء سڑنے گلنے شروع ہو جاتے ہیں لیکن اگر کسی انسان کی روح مر جاتی ہے تو اُس کا جسم سڑتا گلتا نہیں۔ تم اسے چلتے پھرتے ہوئے دیکھتے ہو تو سمجھتے ہو کہ اُس کی روح بھی زندہ ہے حالانکہ یہ بالکل غلط ہوتا ہے۔ تم اگر ایک دن یا دو دن یا چار دن یا سات دن غذا نہیں کھاتے تو تم سمجھ لیتے ہو کہ اب تم موت کے قریب پہنچ گئے ہو۔ اور۔جب کوئی مر جاتا ہے تو تمہیں اُس کی موت میں کوئی شبہ نہیں رہتا کیونکہ اُس کی موت کی علامتیں ظاہر ہو جاتی ہیں۔ جب وہ سانس نہیں لیتا، جب وہ حرکت نہیں کرتا، جب وہ دیکھتا نہیں، جب وہ سنتا نہیں، جب وہ بولتا نہیں تو تم سمجھ لیتے ہو کہ وہ مر گیا ہے۔ لیکن روحانی موت کی علامتوں کا بسااوقات تم مطالعہ نہیں کرتے اور یا پھر اپنے آپ کو تم فریب دینا چاہتے ہو کہ اس کے مُردہ ہونے کے باوجود تم اس کو زندہ سمجھتے ہو۔ ایک آدمی روحانی لحاظ سے دس سال سے مرا ہوا ہوتا ہے لیکن تم اُس کے ساتھ بے تکلفانہ زندگی بسر کر رہے ہوتے ہو اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے جاتے ہو کہ وہ بڑے اچھے آدمی ہیں، بڑے نیک اور بزرگ ہیں۔ صرف اِتنی بات ہے کہ نماز میں سُست ہیں۔ یا فلاں بہت ہی نیک آدمی ہے، بڑا مخلص احمدی ہے لیکن چندہ میں سُست ہے۔ یا فلاں بڑا بزرگ ہے، سلسلہ کے ساتھ بڑا اخلاص رکھتا ہے لیکن ذرا جھوٹ بولنے کا عادی ہے۔ گویا ایک طرف تو تم یہ کہتے ہو کہ وہ روحانی لحاظ سے مر۔چکا ہے، اُس کے اندر زندگی کے کوئی آثار نہیں۔ وہ بے۔نماز بھی ہے، وہ جھوٹا بھی ہے، وہ۔چندہ دینے میں بھی سُست ہے اور دوسری طرف تم یہ بھی کہتے جاتے ہو کہ وہ بڑا مخلص ہے، بڑا نیک اور بڑا بزرگ ہے۔
    یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے جرمنی کے ایک بادشاہ کا گھوڑا بیمار ہو گیا۔ وہ گھوڑا بڑا قیمتی تھا۔ اس نے ڈاکٹروں کا بلایا اور کہا کہ اس کا علاج کرو اور ایک ایک گھنٹہ کے بعد اس کی حالت سے مجھے اطلاع دو۔ اگر ایک ایک گھنٹہ کے بعد مجھے اطلاع نہ ملی تو میں تمہیں سخت سزا دوں گا۔ اور جس شخص نے آ کر مجھے یہ اطلاع دی کہ گھوڑا مر گیا ہے میں اُسے قتل کر دوں گا۔ ڈاکٹروں نے بڑی کوشش کی کہ وہ کسی طرح اچھا ہو جائے مگر وہ اچھا نہ ہوا اور مر گیا۔ اب بادشاہ کو اطلاع پہنچانا بھی ضروری تھا اور دوسری طرف وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ جس نے یہ اطلاع پہنچائی اسے قتل کر دیا جائے گا۔ آخر سوچ کر انہوں نے بادشاہ کے ایک منہ چڑھے نوکر کو بلوایا اور اُسے کہا کہ تم جاؤ اوربادشاہ کو یہ خبر پہنچا آؤ۔ اگر کوئی اَور گیا تو وہ یقیناً مارا جائے گا۔ لیکن اگر تم گئے تو ممکن ہے بادشاہ تمہیں معاف کر دے کیونکہ تمہارا اُس کو لحاظ ہے۔ گویا جہاں تک موت کا تعلق ہے اس کا موقع تمہارے لیے بھی اُتنا ہی ہے جتنا ہمارے لیے۔ لیکن تمہارے ساتھ چونکہ بادشاہ کو محبت ہے اس لیے ممکن ہے کہ وہ تمہیں معاف کر دے۔ وہ تیار ہو گیا۔ آدمی ہوشیار تھا، جاتے ہی بادشاہ سے کہنے لگا حضور! گھوڑا بالکل آرام میں ہے۔ اسے کوئی تکلیف نہیں۔ وہ اطمینان سے لیٹا ہوا ہے۔ نہ وہ تڑپتا ہے نہ وہ دم ہلاتا ہے، نہ کان ہلاتا ہے اور نہ آواز نکالتا ہے، نہ حرکت کرتا ہے نہ آنکھیں کھولتا ہے بالکل خاموش لیٹا ہوا ہے۔ بادشاہ نے کہا تو یوں کہو کہ وہ مر گیا ہے۔ اس نے کہا حضور! میں نے یہ الفاظ نہیں کہے کہ وہ مر گیا ہے یہ حضور خود فرما رہے ہیں۔
    تو جیسے اُس نوکر نے کہا تھا کہ گھوڑا بالکل آرام میں ہے، وہ خاموش لیٹا ہوا ہے۔ نہ کان ہِلاتا ہے، نہ دُم ہلاتا ہے، نہ سانس لیتا ہے، نہ حرکت کرتا ہے، وہی کچھ تم کرتے ہو۔ کہتے ہو فلاں بڑا بزرگ اور نیک ہے، صرف چندہ نہیں دیتا، فلاں بڑا بزرگ اور نیک احمدی ہے صرف نماز نہیں پڑھتا، فلاں بڑا بزرگ اور نیک احمدی ہے، صرف جھوٹ بولتا ہے، فلاں بڑا بزرگ اور نیک احمدی ہے صرف خائن ہے۔ تم اپنی حماقت سے اُس کی بزرگی کا ڈھنڈورا پیٹتے۔ہو حالانکہ روحانی طور پر وہ مُردہ ہوتا ہے۔ اگر وہ اِسی طرح سڑتا، جس طرح جسمانی مُردہ سڑا کرتا ہے تو سارا محلہ اُس کی بدبو سے بھاگ اُٹھتا۔مگر روح کی سڑاند ایسی چیز ہے کہ فرشتوں کو تو وہ محسوس ہوتی ہے لیکن انسان اسے محسوس نہیں کرتے۔اِس لیے جسم کی سڑاند سے تو وہ پریشان ہو جاتے ہیں لیکن روح کی سڑاند کے باوجود وہ اُسے بزرگ بھی کہتے جاتے ہیں، اُسے نیک بھی قرار دیتے چلے جاتے ہیں، اُسے مخلص بھی بتاتے جاتے ہیں۔ گویا تمہاری حُسنِ۔ظنّی اِتنی زیادہ ہوتی ہے یا تمہاری دین سے لاپرواہی اور استغناء اِتنا زیادہ ہے کہ ایک سڑی ہوئی لاش تمہارے سامنے پڑی ہوتی ہے اور تم اُسے زندہ کہتے ہو۔ اگر تم میں دین کی محبت کا ذرا بھی احساس ہوتا تو تم سمجھتے کہ یہ لوگ مر گئے ہیں اب ہمیں ان کو دفن کر دینا چاہیے۔ اور اگر ابھی وہ مرے نہیں صرف روحانی بیمار ہیں تو جس طرح کوئی جسمانی بیمار ہوتا ہے تو تم اُس کا علاج کرتے ہو اُسی طرح تمہارا فرض تھا کہ تم اُن کا علاج کرتے اور اُن کی درستی کی کوشش کرتے۔ انسان کا جسم چونکہ مُردہ ہو جاتا ہے اور سب لوگ اُس کو جانتے ہیں اِس لیے جب کوئی بیمار ہوتا ہے تو لوگ اُس کا علاج کرتے ہیں اور وہ اُسے موت سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر انسانی جسم میں تعفّن نہ پیدا ہوتا اور اس میں سڑاند پیدا نہ ہوتی تو شاید لوگ اپنے ماں باپ کا بھی علاج نہ کرتے اور وہ سمجھتے کہ اگر یہ مر بھی گئے تو ہم انہیں کرسیوں پر بٹھا رکھیں گے اور ان کو دیکھتے رہیں گے۔ لیکن محض اِس وجہ سے کہ انسانی جسم سڑ جاتا ہے، اس میں کیڑے پڑ جاتے ہیں خواہ کوئی کتنا بھی پیارا ہو مرنے کے بعد انسان چاہتا ہے کہ اسے جلدی دفن کر دے تا کہ ُاس کی سڑاند اور بُو اُسے پریشان نہ کر دے۔ مگر روحانی طور پر سڑنے کی دوسرے شخص کو بدبو نہیں آتی۔ اِس لیے ان کے مرنے کے باوجود تم کوشش کرتے جاتے ہو کہ انہیں زندہ قرار دو۔ حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ جس طرح انسان جسمانی طور پر مرتا ہے اُسی طرح وہ روحانی طور پر بھی مرتا ہے۔ اگر وہ روحانی طور پر مرنے والے کی مختلف کیفیتیں ہم محسوس کریں تو ہم اُن کی موت سے بہت پہلے ان کے علاج میں مشغول ہو جائیں۔ مگر ہم ان کا علاج نہیں کرتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مر جاتے ہیں۔ اور جب وہ مر جاتے ہیں تو سِل اور دِق کی طرح اُن کی بیماری ہمارے اندر بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ مگر۔سِل۔اور دِق میں تو جہاں کھانسی ہوئی، بخار ہوا لوگ ڈاکٹر کے پاس دوڑے چلے جاتے ہیں اور یہاں چونکہ تم اس کو زندہ اور تندرست سمجھتے ہو اس لیے تم بھی رفتہ رفتہ دین میں سُست ہو جاتے ہو اور اپنی بیماری کا فکر نہیں کرتے۔ کہتے ہو اَلْحَمْدُ لِلّٰہ مجھے احمدیت سے بڑا اخلاص ہے، صرف اتنی بات ہے کہ کبھی کبھی جھوٹ بول لیا کرتا ہوں۔ میں بہت ہی فدائی ہوں احمدیت کا اور میں اپنے آپ کو اخلاص اور محبت میں دوسروں سے کم نہیں سمجھتا، صرف اِتنی بات ہے کہ میں نماز نہیں پڑھتا۔ اس طرح تم بھی مر جاتے ہو اور پھر تمہارا ہمسایہ تم سے اثر قبول کرتا ہے اور وہ بھی مر جاتا ہے۔ رفتہ رفتہ وہ مُردوں کی ایک جماعت ہو جاتی ہے جو زندوں کے لباس میں ہوتی ہے اور آخری نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ قومی جدوجہد کو ایسے لوگ بالکل ترک کر دیتے ہیں اور نیکیوں میں آگے قدم بڑھانے کا مادہ ان میں نہیں رہتا۔
    ہماری جماعت کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ روحانی موت اور جسمانی موت یہ دونوں متوازی چیزیں ہیں۔ روح بھی مرتی ہے اور جسم بھی مرتا ہے۔ جب روح مرتی ہے تو خدا کی ناراضگی اور اس سے دُور ی کی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور جب جسم مرتا ہے تو۔سانس رُک جاتا ہے، آنکھیں بند ہو جاتی ہیں، کان سننا بند کر دیتے ہیں اور جسم کی حِس و حرکت باطل ہو جاتی ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ جسمانی موت سے روحانی موت زیادہ خطرناک ہوتی ہے کیونکہ خدائی ناراضگی اور فرشتوں کی *** یہ بڑا بھاری عذاب ہے۔ لیکن جسمانی موت میں ایسا نہیں ہوتا بلکہ بسااوقات جسمانی موت پر اللہ تعالیٰ کے فرشتے آتے ہیں اور وہ کہتے ہیں چلو! تمہیں خدا اپنے انعامات دینے کے لیے بلا رہا ہے اور جنت کے دروازے اس کے لیے کھل جاتے ہیں اور آسمانی وجود اس کے لیے دعائیں کرتے اور اسے سلام کہتے ہیں۔پس ہمارے نوجوانوں کو چاہیے کہ جہاں وہ جسمانی موت سے اتنا گھبراتے اور پریشان ہوتے ہیں وہاں وہ روحانی موت سے بھی اُتنا ہی گھبرائیں اور اس سے بچنے کی کوشش کریں۔
    ابھی پرسوں کی بات ہے ایک صاحب نے مجھے بتایا کہ یہاں جو احمدی فوجی افسر یا نیوی کے افسر ہیں وہ قطعی طور پر کوئی چندہ نہیں دیتے۔ مجھے یہ سن کر بڑا تعجب آیا کہ جب میں یہاں آتا ہوں تو وہ شوق سے میرے آگے آ جاتے ہیں اور میرے ساتھ ساتھ پھرتے ہیں لیکن۔ان کی عملی حالت یہ ہے کہ وہ چندہ ہی نہیں دیتے۔ گویا ان کا ساتھ ساتھ پھرنا بالکل ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کسی مُردہ لاش کو کل3 لگا کر تھوڑی دیر کے لیے چلا کر دکھا دیا جائے۔ ہم انہیں چلتے پھرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں حالانکہ وہ مُردہ لاشیں ہیں۔ اور پھر ہماری جماعت کی بدنامی میں بھی بڑا حصہ انہی کا ہے۔
    احرار ہمیشہ یہی شور مچاتے رہے اور تحقیقاتی عدالت کے سامنے بھی انہوں نے یہی کہا کہ احمدی فوج پر قابض ہیں۔ اور جو فوج میں احمدی ہیں اُن کی حالت یہ ہے کہ وہ جماعتی طور پر ہمارے لیے کوئی فائدہ بخش نہیں۔ ہمارے خلاف جتنی شورش ہوئی ہے اس میں بڑا حصہ دشمن کے اِس پروپیگنڈا کا ہے کہ فوج میں اور نیوی میں یہ لوگ دوسروں سے بہت آگے ہیں اور ان کی نیت خراب ہے۔ مگر نیوی والوں کی یہ حالت ہے کہ ان میں سے بہت کا احمدیت سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ صرف نام کے لحاظ سے وہ احمدی کہلاتے ہیں ورنہ عملی طور پر وہ کوئی احمدی نہیں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ نیوی میں سَو کے قریب احمدی ہیں جن میں سے صرف دو باقاعدہ چندہ دیتے ہیں۔ جب حالت یہ ہے تو نیوی میں ہمارا سَو آدمی کہاں ہوا؟ ہمارے تو صرف دو آدمی ہوئے۔ باقی صرف نام کے طور پر احمدی کہلاتے ہیں۔ اگر وہ احمدیت کو چھوڑ دیتے تو یقیناً ہمیں کوئی نقصان نہ ہوتا کیونکہ چندہ تو وہ اب بھی نہیں دیتے۔ پھر ہمیں نقصان کیا ہوتا؟ البتہ ہمیں یہ فائدہ ضرور ہو جاتا کہ وہ لوگ جو ہمارے خلاف تقریریں کیا کرتے ہیں کہ فوج میں اور پولیس میں اور نیوی میں ہر جگہ احمدیوں نے قبضہ کیا ہوا ہے اُن کا منہ بند ہو جاتا۔ اور۔بجائے اِس کے کہ وہ یہ کہتے کہ پچاسی فیصدی فوج پر احمدی قابض ہیں وہ یہ کہنے پر مجبور ہوتے کہ ایک۔لاکھ میں سے صرف دس یا بیس احمدی فوج میں ہیں تو ان کے احمدیت کے چھوڑ دینے سے یقیناً احمدیت کو بہت زیادہ فائدہ پہنچ جاتا اور دشمن یہ اعتراض نہ کر سکتا۔
    پس اگر وہ چندہ نہیں دیتے تو انہیں کم از کم یہ طریق اختیار کرنا چاہیے کہ وہ جماعت کو بدنام نہ کریں اور احمدیت کو ترک کرنے کا اعلان کر دیں۔ یہ بھی اُن کی اللہ تعالیٰ کے حضور ایک رنگ کی خدمت ہو گی کہ انہوں نے چندہ نہیں دیا تو کم از کم جماعت کی عزت بچانے کے۔لیے انہوں نے اپنی روحانی موت کا آپ اعلان کر دیا۔ لیکن میں سمجھتا ہوں اس کی ذمہ۔داری ایک حد تک باقی جماعت پر بھی ہے۔ ہر شخص جو خراب ہوتا ہے وہ دفعۃً نہیں ہوتا بلکہ آہستہ آہستہ ہوتا ہے اور جب کوئی خرابی کی طرف اپنا قدم بڑھانے لگتا ہے تو کیوں جماعت کے لوگ اُسے نہیں سمجھاتے؟ کیوں اُس کی منّت سماجت نہیں کرتے؟ کیوں اُن کی اصلاح کی کوشش نہیں کرتے؟ اُن کا فرض ہے کہ وہ اُسے سمجھائیں، اُسے نصیحت کریں، اُسے تحریص۔و۔ترغیب دلائیں، اُس کے دینی احساسات کو بیدار کرنے کی کوشش کریں۔ ہاں! کچھ عرصہ کے بعد جب دیکھیں کہ وہ اپنے اندر کوئی تغیر پیدا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوا تو اُسے چھوڑ دیں اور سمجھ لیں کہ اب وہ روحانی لحاظ سے مر چکا ہے۔ جیسے پانی میں ڈوبنے والا جب ڈوب جاتا ہے تو پانی سے اگر ڈیڑھ دو گھنٹے کے اندراندر اسے نکال لیا جائے اور اسے مصنوعی۔تنفّس دلایا جائے تو طب کہتی ہے کہ کئی لوگ بچ جاتے ہیں اور ڈوبنے کے دس پندرہ منٹ کے اندراندر اگر اُسے نکال لیا جائے تو اکثر لوگ بچ جاتے ہیں۔ لیکن اگر چوبیس گھنٹے گزر جائیں یا دو تین دن گزر جائیں تو پھر اُسے زندہ کرنے کی ہر کوشش بیکار ہوتی ہے۔ اِسی طرح اگر تمہارا کوئی بھائی کمزور ہے تو تم اُسے سمجھانے کی کوشش کرو، اُس کے لیے دعائیں کرو، اُسے وعظ اور۔نصیحت کرو۔ لیکن جس طرح وہ شخص احمق سمجھا جائے گا جس کے بھائی کو ڈوبے ہوئے دو تین دن گزر چکے ہیں اور وہ اُس کے ہاتھ ہِلا رہا ہے اور اُسے مصنوعی۔تنفّس دلا رہا ہے اِس طرح وہ شخص بھی احمق سمجھا جائے گا جو سالہاسال تک سمجھاتا چلا جاتا ہے اور پھر یقین رکھتا ہے کہ ابھی وہ زندہ ہے۔ جس طرح ڈوبنے کے دس پندرہ منٹ یا ڈیڑھ دو گھنٹہ کے اندر۔اندر بچانے کی کوشش کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے طب کہتی ہے کہ دو گھنٹے تک بعض ڈوبنے والے زندہ ہو سکتے ہیں۔ اِسی طرح طب یہ بھی کہتی ہے کہ اگر چوبیس گھنٹے کے بعد کوئی شخص ڈوبنے والے کو زندہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اپنا وقت ضائع کرتا ہے کیونکہ اتنے عرصہ میں اُس کی حقیقی موت واقع ہو چکی ہوتی ہے۔ اِسی طرح اگر کوئی کمزوری دکھائے تو سب دوستوں کا فرض ہے کہ وہ اُس کے پاس جائیں اور اُسے سمجھائیں لیکن چھ مہینے یا سال کے بعد بھی اگر وہ اصلاح کرنے کی کوشش نہیں کرتا تو اُسے مُردہ قرار دے دیں۔ میں نے دیکھا ہے بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ دس سال ہو گئے فلاں کی ایسی حالت ہے اور۔ہم۔کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اپنی اصلاح کر لے حالانکہ یہ بیوقوفی کی بات ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ دس سال فلاں کے ڈوبنے پر گزر چکے ہیں مگر میں ا ب بھی اسے مصنوعی۔تنفّس دلانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ ایسے آدمی کو تم مُردہ سمجھو اور اس سے اپنے تعلقات منقطع کر لو۔
    بہرحال نیوی میں اگر ایک احمدی باقاعدہ چندہ دینے والا ہے تو ایک کو احمدی سمجھو۔ اگر دو چندہ دینے والے ہیں تو دو کو احمدی سمجھو باقیوں کو کہو کہ تم ہمارے پاکستانی بھائی ہو، ہمارے ملکی بھائی ہو لیکن احمدیت والا بھائی چارا ہمارا تمہارے ساتھ کوئی نہیں۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اٰخِرُ الدَّوَاء ِ الْکَیُّ4 آخری علاج داغ دینا ہوتا ہے۔ یہ نہیں کہ اِدھر نزلہ ہوا، کھانسی ہوئی اور اُدھر داغ دے دیا۔ ہاں! جب سارے علاج ختم ہو جاتے ہیں تو پھر پلستر لگانا یا داغ دینا پڑتا ہے یا فصدیں کھولنی پڑتی ہیں۔ بہرحال یہ سب آخری علاج ہیں۔ اس سے پہلے پہلے ہمارا فرض ہے کہ ہم اصلاح کے لیے اپنی تمام کوششیں صَرف کر دیں۔ اگر اس کے بعد بھی اِن کی اصلاح نہ ہو تو پھر ہمارا اور ان کا تعلق ختم ہو جاتا ہے۔ بیشک اِس کے نتیجہ میں کچھ لوگ ہم سے الگ ہو جائیں گے لیکن اس صورت میں بھی ہمیں فائدہ ہی پہنچے گا کیونکہ لوگ یہ سمجھیں گے کہ یہ لوگ مُردوں کو اپنے ساتھ نہیں رکھتے۔ یہ زندوں کی جماعت ہے مُردوں کی جماعت نہیں۔
    کراچی کی جماعت کو اِس بارہ میں بیشک مشکلات ہیں کیونکہ یہاں ہر گروپ کے لوگ جماعت کا حصہ ہیں جن کی ذمہ دار عہدیداروں کو نگرانی کرنی پڑتی ہے۔ اور پھر یہاں ماحول اس قسم کا ہے کہ مختلف قسم کی سوسائٹیوں میں شامل ہونے کی وجہ سے اخراجات زیادہ ہو جاتے ہیں اور جب اخراجات زیادہ ہو جائیں تو کمزور آدمی کے لیے چندہ دینا مشکل ہو جاتا ہے اور وہ مختلف قسم کے بہانے بنانے لگ جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ ہم اپنا سارا روپیہ اپنے باپ کو بھیج دیتے ہیں اور جب باپ سے پوچھا جائے تو وہ کہتا ہے کہ اس نے تو مجھے ساری عمر میں کبھی ایک پیسہ بھی نہیں دیا۔ کوئی کہہ دیتا ہے کہ میں لوکل سیکرٹری کو چندہ دے دیتا ہوں۔ لوکل سیکرٹری انکار کرے تو کہہ دیتا ہے کہ میں شہر کے احمدیوں کو دے دیتا ہوں اور جب دونوں طرف سے پکڑا جاتا ہے تو کہتا ہے مجھے بڑی مشکلات ہیں گھر میں ایسی بیماری ہے کہ اس کے اخراجات ہی پورے ہونے میں نہیں آتے۔ جب کچھ عرصہ کے بعد پوچھا جائے کہ بتائیے! بیماری دور ہوئی ہے یا نہیں؟ تو کہہ دیتا ہے کہ اب تو فلاں اخراجات آ پڑے ہیں۔ جب کچھ اَور انتظار کے بعد پھر چندہ مانگا جاتا ہے تو وہ گالیاں دینے لگ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ انہیں تو اَور کوئی کام ہی نہیں، ہر وقت چندہ ہی چندہ مانگتے رہتے ہیں۔ اِس طرح آہستہ آہستہ وہ روحانی لحاظ سے بالکل مُردہ ہو جاتا ہے۔ بہرحال دوسری جماعتوں اور یہاں کی جماعت میں فرق ہے۔ باہر اگر عہدیدار سُست نہ ہوں تو عموماً جماعت کے چندوں میں کمی نہیں آتی کیونکہ سب ایک ہی قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ لیکن یہاں مختلف گروہوں کے لوگ پائے جاتے ہیں اور ان سب پر جماعت کو کنٹرول کرنا پڑتا ہے۔ پس اِس جگہ کی مشکلات اور باہر کی مشکلات میں فرق ہے۔ لیکن جہاں اس جگہ کی مشکلات زیادہ ہیں وہاں مختلف قسم کے لوگوں کی وجہ سے کئی قسم کے تجربات حاصل کر کے مواقع بھی یہاں کی جماعت کو زیادہ حاصل ہیں۔ ہمارے سامنے تو جو مختلف واقعات آتے ہیں اُن سے ہم ایک نتیجہ نکال لیتے ہیں لیکن ان کے سامنے عملی مشکلات پیش آتی ہیں۔ پس اِس بارہ میں جو ان کا تجربہ ہے اُس کی نوعیت بالکل اَور رنگ کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک ہر شخص کی بیماری اور اُس کے نقص کو مدنظر رکھتے ہوئے علاج نہ کیا جائے اُس وقت تک پوری کامیابی نہیں ہو سکتی۔ سب لوگوں پر مجموعی نظر ڈالنے سے ہمیں یہ تو معلوم ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگوں میں نقائص پائے جاتے ہیں لیکن قومی اصلاح کی جدوجہد جو تمام افراد کی اصلاح کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اُس وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب ہر شخص کے حالات کا الگ الگ جائزہ لیا جائے اور اس کے مطابق اپنی کوششوں کو جاری رکھا جائے۔
    میں چونکہ زمیندار خاندان میں سے ہوں اس لیے مجھے زمینداری اور باغ وغیرہ لگانے کا خاص شوق ہے۔ میں نے قادیان میں ایک دفعہ اپنے مالی کو بلایا اور اُسے کہا تم ایک چکر روزانہ باغ میں لگاتے ہو اور اُسے کافی سمجھتے ہو۔ میری ہدایت یہ ہے کہ آئندہ جب تم چکر لگاؤ تو بیمار درختوں کے ساتھ ایک لال دھجی5 باندھ دیا کرو۔ دوسرے دن ایک کی بجائے دو چکر لگاؤ۔ ایک دن اُن درختوں کے لیے جن پر لال دھجی بندھی ہو اور دوسرے اُن درختوں کے۔لیے جن پر لال دھجی نہ ہو۔ جب لال دھجی والے درخت اچھے ہو جائیں تو اُن کی دھجیاں کھولتے جاؤ اِس طرح تمہیں پتا لگتا رہے گا کہ کون کون سے پودے بیمار ہیں جن کی تمہیں نگہداشت کرنی چاہیے۔ اگر تم یونہی چکر لگاتے رہو گے تو بیمار پودوں کی طرف تم کوئی توجہ نہیں کرو گے اور وہ رفتہ رفتہ مر جائیں گے۔
    اِسی طرح جماعت کے جو سُست افراد ہیں اُن کا ایک مکمل ریکارڈ جنرل سیکرٹری کے پاس ہونا چاہیے اور اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ فلاں شخص میں جھوٹ بولنے کا مرض ہے، فلاں میں نماز کی سُستی کی عادت پائی جاتی ہے، فلاں چندہ میں سُست ہے، فلاں میں بدکلامی کی عادت ہے، فلاں میں مہمان نوازی کی عادت نہیں۔ اور پھر کوشش کرو کہ اُن کی یہ بیماریاں دور ہو جائیں۔ مولوی عبدالمالک صاحب یہاں سلسلہ کے مبلغ ہیں مگر یہاں کی جماعت اب اِتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ ان کے لیے کافی نہیں ہو سکتے۔ میں نے جماعت والوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مرکز سے اَور مبلغ منگوانے کی کوشش کریں۔ اگر وہ آ جائیں تو ان کی مدد سے ایسے لوگوں کو رسول۔کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں سنائی جائیں، قرآن کریم کی آیات سے ان کو وعظ کیا جائے اور ان کی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ اِس کے علاوہ تمہارا اپنا نمونہ ایسا ہونا چاہیے کہ چاہے تم زبان سے ایک لفظ بھی نہ کہو تمہارے عمل سے لوگوں کو خودبخود تبلیغ ہو تی چلی جائے۔ اگر ایک احمدی رشوت نہیں لیتا، ظلم نہیں کرتا، لوگوں کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آتا ہے، کام میں دیانتدار ہے، محنت کا عادی ہے، قربانی اور ایثار سے کام لیتا ہے تو احراری ٹائپ کا کوئی آدمی خواہ اس کی مخالفت کرے یہ لازمی بات ہے کہ جب ترقی کا وقت آئے گا تو افسر اُس کی سفارش کریں گے اور کہیں گے کہ یہ بڑا محنتی اور بڑا ہوشیار ہے۔ اور جب افسر اُس کی سفارش کریں گے تو مخالفین کا پروپیگنڈا خودبخود باطل ہو جائے گا اور لوگ سمجھیں گے کہ احمدیوں کو بِلاوجہ بدنام کیا جاتا ہے ورنہ وہ بڑے محنتی اور دیانتدار ہیں۔ پس اپنے کیریکٹر سے اپنی فوقیت ثابت کرو اور لوگوں کو احمدیت کی طرف مائل کرو۔
    مجھے ایک احمدی کا واقعہ معلوم ہے جو حضرت خلیفۃ المسیح الاول سنایا کرتے تھے۔ آپ فرماتے تھے کہ کوئی احمدی ایسا ہی تھا جس پر جھوٹے الزا م لگالگا کے اُسے سزا دینے کی کوشش کی جاتی تھی۔ ایک دفعہ پولیس اور فوج کے کچھ آدمیوں میں جھگڑا ہو گیا اور انہوں نے ایک دوسرے کو مارا پیٹا۔ وہ انہیں ہٹاتا تھا مگر لوگ رُکتے نہیں تھے۔ بعد میں جب تحقیقات ہوئی تو فوجی سپاہیوں نے مارپیٹ سے انکار کیا۔ پولیس والوں نے کہا کہ ایک اَور شخص بھی ان میں تھا جو ان کو لڑائی سے باز رکھتا تھا۔ وہ اِس وقت پیش نہیں ہے۔ آخر معلوم ہوا کہ لڑائی کے بعد اس پر کوئی الزام لگا کر فوجی حوالات میں اُسے دے دیا گیا۔ جب اُسے وہاں سے نکالا گیا تو اُس نے سچی بات بتا دی۔ جب سپرنٹنڈنٹ پولیس کو یہ واقعہ معلوم ہوا تو اُس نے فوجی افسر کو لکھا کہ آپ( اِس کی ضرورت نہیں) اسے ڈسچارج کر کے میرے پاس بھجوا دیں۔ چنانچہ وہ فوج سے ڈسچارج کر دیا گیا اور پولیس میں اُسے ملازمت مل گئی۔
    تو اعلیٰ کیریکٹر بہرحال دوسروں پر اثر کرتاہے۔ پس ہمیں اپنے کیریکٹر کو بلند رکھنے اور۔اپنے اخلاق کو اعلیٰ بنانے کی کوشش کرنی چاہیے اور ایسا نمونہ ان کے سامنے پیش کرنا چاہیے کہ خودبخود ان کے دل ہماری طرف مائل ہوتے چلے جائیں۔ ابھی کل ہی ایک دوست نے سنایا کہ ایک پاکستانی رئیس مصر سے آیا ہے۔ اُس نے سنایا کہ ہمیں مصر میں کچھ مصری ملے اور محبت سے سلام کیا۔ پھر کہا کہ آپ لوگوں نے امریکہ سے جو فوجی مدد لی ہے اس کو ہم اچھی نظر سے نہیں دیکھتے کیونکہ امریکہ ہمارا دشمن ہے۔ لیکن ایک چیز ہے جس کی وجہ سے آپ کی عزت کرنے پر مجبور ہیں اور وہ یہ ہے کہ آپ نے ساری دنیا میں مبلغ بھیجے ہوئے ہیں۔ گویا ہمارے مبلغ بھیجنے کا اُن کی طبیعتوں پر اتنا اثر ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم اِس کارنامہ کی وجہ سے پاکستان کی عزت کرنے پر مجبور ہیں۔ اُن کو یہ پتا نہیں کہ پاکستان میں ہمارے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم عیسائیوں وغیرہ کو تبلیغ کرتے ہیں۔ گویا یہاں ہمارے مشنوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کا موجب قرار دیا جاتا ہے اور باہر پاکستان کی اس لیے عزت کی جاتی ہے کہ یہاں سے تمام دنیا میں مبلغ بھیجے جاتے ہیں۔
    تو اپنے نیک نمونہ کے ساتھ لوگوں کو تبلیغ کرو اور ان کے دلوں میں احمدیت کی محبت بٹھاؤ۔ ملازم لوگ بیشک اپنے منہ سے ایک لفظ بھی احمدیت کی تائید میں نہ نکالیں لیکن۔دیانتداری تو ان کے اپنے اختیار میں ہے۔ کام کو محنت سے کرنا اور عمدگی سے سرانجام دینا تو ان کے اپنے اختیار میں ہے۔ اگر وہ دیانتداری اختیار کریں، محنت اور ہوشیاری کے ساتھ کام کریں تو ان کی احمدیت کبھی چُھپ نہیں سکتی۔ فرض کرو ایک شخص یہ نہیں کہتا کہ میں احمدی ہوں لیکن جمعہ کا دن آتا ہے تو وہ نماز کے لیے چل پڑتا ہے۔ لوگ اُس سے پوچھتے ہیں کہ آپ کہاں جمعہ پڑھیں گے؟ اور وہ یہ کہتا ہے احمدیہ ہال میں۔ اِس پر خودبخود لوگ اس سے کہیں گے کہ اچھا! آپ احمدی ہیں۔ اِسی طرح خواہ وہ زبان سے نہ کہے کہ میں احمدی ہوں لیکن جب وہ جلسہ سالانہ پر جائے گا تو لوگوں کو خودبخود پتا لگ جائے گا کہ یہ احمدی ہے۔ اِس طرح اس کا احمدی ہونا کبھی چُھپ نہیں سکتا۔ پس ملازم پیشہ احباب کو چاہیے کہ وہ اپنا نمونہ ایسا اعلیٰ بنائیں کہ لوگ دیکھتے ہی محسوس کرنے لگیں کہ ان لوگوں میں اور دوسرے لوگوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ مثلاً اگر وہ پاکستان کے لیے دوسروں سے زیادہ غیرت رکھتا ہے، مسلمانوں کی دوسروں سے زیادہ خیرخواہی کرتا ہے، ان کی تکالیف میں دوسروں سے زیادہ ہمدردی کرتا ہے تو ہر شخص دوسرے سے خودبخود پوچھے گا کہ یہ کونسا پاکستانی ہے جو پاکستان کی حفاظت کے لیے دوسروں سے زیادہ قربانی کرنے کے لیے تیار ہے؟ اور جب لوگ اسے بتائیں گے کہ یہ احمدی ہے تو بغیر اِس کے کہ وہ ایک لفظ بھی اپنی زبان سے نکالے خودبخود تبلیغ ہوتی چلی جائے گی اور لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ جب احمدی اِس قسم کے نیک اور۔خیرخواہ اور ملک و ملت کے ہمدرد اور جاں نثار ہوتے ہیں تو ہم کیوں نہ احمدی بن جائیں؟ اِسی طرح اگر کوئی شخص بیمار ہو گیا ہے اور یہ اُس کے گھر پر جاتا اور اُس کی خدمت کرتا اور اُس کی تیمارداری میں حصہ لیتا ہے تو دوسرے کے دل میں خودبخود اس کی محبت پیدا ہوتی چلی جائے گی۔ اور جب کسی موقع پر اس کے اپنے بھائی احمدیوں پر اعتراض کریں گے تو وہ کہے گا کہ تم غلط کہتے ہو۔ میں بیمار ہوا تھا تو تم نے تو مجھے پوچھا بھی نہیں۔ مگر فلاں احمدی میری رات دن خدمت کرتا رہا۔ پس میں کس طرح سمجھ لوں کہ احمدی بُرے ہوتے ہیں۔ پس تبلیغ کا راستہ تمہارے لیے بند نہیں۔ تم گورنمنٹ کے حکم کے ماتحت اور اخلاقی ذمہ داری کے ماتحت زبان سے تبلیغ نہ کرو مگر کیا گورنمنٹ یا اَور کوئی شخص تم کو یہ بھی حکم دے گا کہ تم دوسروں سے زیادہ دیانتدار نہ بنو؟ دوسروں سے زیادہ حُبُّ الوطنی نہ دکھاؤ؟ دوسروں سے زیادہ بنی نوع انسان کے خدمت۔گزار نہ بنو؟ دوسروں سے زیادہ راستباز نہ بنو؟ اور یہ بھی ایک تبلیغ ہے جس کی قانون اجازت ہی نہیں دیتا بلکہ وہ ہر پاکستانی سے اِس کا مطالبہ کرتا ہے۔
    اور جو لوگ ملازم پیشہ نہیں اُن کے لیے اس میں کیا مشکل ہے کہ وہ اپنے اپنے رشتہ داروں اور گہرے دوستوں کو سمجھائیں اور جو اعتراض علماء نے ہم پر کیے ہیں اُن کا جواب دیں۔ کیا رشتہ داروں کی غلط فہمیاں دور کرنے سے کوئی روک سکتا ہے؟ اگر غلط۔فہمیاں دور کرنے سے کوئی روکتا ہے تو اُسے پہلے غلط فہمی پیدا کرنے والے کو روکنا چاہیے۔ اب تو وہ زمانہ آ گیا ہے کہ خود غیراحمدیوں نے ہمارے خلاف اِس قدر مواد جمع کر دیا ہے کہ ہم اگر رات دن اُن کے اعتراضات کو دور کرتے رہیں تو یہی ایک بڑا کام ہے۔ اگر تم اُن کے اعتراضات کے جوابات دو اور انہیں بتاؤ کہ احمدیت کیا کہتی ہے تو یقیناً ایک دن ان کی آنکھیں کھل جائیں گی۔ اور جب انہیں نظر آئے گا کہ تم سچے ہو اور تمہارے دشمن تم پر جھوٹے الزام لگاتے ہیں تو لازماً تمہارے دوستوں کی تعداد بڑھتی جائے گی اور تمہارے دشمنوں کی تعداد گھٹتی جائے گی۔ اور۔اگر لوگ سمجھ لیں گے کہ تم مسلمانوں کے خیرخواہ ہو اور ہمیشہ ان کی ترقی کی کوشش کرتے ہو تو وہ آپ ہی آپ فیصلہ کرلیں گے کہ تمہارے مخالف غلطی پر ہیں۔
    پس اپنے رویہ کو بدلو اور جماعت کے کمزور حصہ کی اصلاح کرنے کی کوشش کرو اور ہر احمدی کے کیریکٹر کا جائزہ لے کر اس کے مرض کو دور کرنے کی طرف توجہ کرو۔ اگر ایک شخص کو مرض ہے نماز نہ پڑھنے کا اور تم اُس کو چندے کا وعظ کرتے ہو یا ایک شخص کو چندہ نہ دینے کا مرض ہے اور تم اُس کو نماز کا وعظ کرتے ہو تو یہ ایسا ہی ہو گا جیسے کھانسی والے کو سر درد کی دوا دے دی جائے اور سر۔درد والے کو کھانسی کی دوا دے دی جائے یا ہیضہ والے کو نقرس کی دوا دے دی جائے۔جس طرح یہ بیوقوفی ہے اِسی طرح وہ بھی بیوقوفی ہے۔ پس علاج ہمیشہ مرض کے مطابق کرو اور جماعت کے کمزور حصہ کو مضبوط بنانے اور اُس کی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرو‘‘۔ (الفضل 6جنوری 1954ئ)

    1
    :
    امیدوبیم:کامیابی اور ناکامی کی درمیانی حالت۔ دبدھا، اطمینان و خوف(اردو لغت تاریخی اصول پر جلد اول صفحہ863۔کراچی1977ئ)
    2
    :
    مَڈّھل:ایک اناج جس کے دانے باریک ہوتے ہیں (پنجابی اردو لغت مرتبہ۔تنویر۔بخاری۔صفحہ1401۔اردو سائنس بورڈ لاہور)
    3
    :
    کَل:مشین، مشینری(اردو لغت تاریخی اصول پر جلد15صفحہ43ء کراچی جون1993ئ)
    4
    :
    فتح الباری امام ابن حجر عسقلانی۔ جزئ10صفحہ138کتاب الطب باب الشفاء فی ثلاث لاہور1981ئ’’ کانت العرب تقول فی امثالہا آخر الدّواء الکی‘‘کے الفاظ ہیں۔
    5
    :
    دھجّی:کپڑے یا کاغذ کی کترن، پُرزہ، ٹکڑا، چیتھڑا(فیروز اللغات اردو جامع فیروز سنز لاہور)


    تمہیں خواہ کوئی فائدہ اور حکمت نظر آئے یا نہ آئے قربانیوںکے میدان میں ہمیشہ اپنا قدم آگے بڑھاتے جاؤ
    ہماری جماعت کو پردہ کے متعلق اسلامی احکام پر پوری طرح کاربند رہنا چاہیے
    (فرمودہ 25 جون1954ء بمقام کراچی)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’پہلے تو میں ایک ایسی بات کے متعلق مختصر طور پر کچھ نصیحت کرنا چاہتا ہوں جو یہاں مسجد کے باہر مجھے نظر آئی۔ اگلی موٹروں کی سواریاں چونکہ اُتر رہی تھیں اس لیے ہماری موٹر کو تھوڑی دیر کے لیے پیچھے کھڑا کر لیا گیا۔ اُس وقت موٹر میں بیٹھے بیٹھے میں نے سامنے کی طرف دیکھا تو مجھے نظر آیا کہ تین چار مستورات جمعہ کے لیے برقع پہنے آ رہی ہیں لیکن اُن کا منہ کا پردہ ایسے رنگ میں تھا جس کو پورا پردہ نہیں کہا جا سکتا۔ بڑی مشکل یہ ہے کہ اِس زمانہ میں پردہ کے خلاف اتنا رواج ہو چکا ہے کہ دوسری عورتیں تو الگ رہیں جو مسائل جاننے والی عورتیں ہیں اُن کو سمجھانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ اور پھر حفظانِ صحت پر آجکل اتنا زور دیا جاتا ہے کہ اس کی آڑ میں پردہ میں بہت کچھ تخفیف کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اور بعض عورتیں۔سانس لینے کے لیے اپنا نقاب اس طرح رکھتی ہیں کہ جس سے پورا پردہ نہیں ہو سکتا۔ اور۔جب۔انہیں کچھ کہو تو ان کا جواب یہ ہوتا ہے کہ اسلام کا اصل منشا تو گھونگھٹ ہے حالانکہ نقاب کی گھونگھٹ اور چادر کی گھونگھٹ میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ چادر کی گھونگھٹ منہ سے ایک بالشت کے فاصلہ پر ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس کا شیڈ چہرہ پر پڑتا ہے اور وہ دوسرے کو نظر نہیں آ سکتا لیکن نقاب کی گھونگھٹ اول تو باریک کپڑے کی ہوتی ہے اور پھر وہ منہ کے ساتھ لگی ہوئی ہوتی ہے جس کی وجہ سے چہرہ پر اُس کا شیڈ نہیں پڑتا۔ لیکن خواہ تعلیم۔یافتہ عورتیں ایسا کریں یا غیرتعلیم یافتہ، جو چیز ناپسندید ہ ہے وہ بہرحال ناپسندیدہ ہے۔ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام میں جو اصل پردہ رائج تھا وہ گھونگھٹ تھا اور وہی اصل پردہ ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ گھونگھٹ کا پردہ بہ نسبت اِس پردہ کے جو آجکل ہمارے ملک میں رائج ہے زیادہ محفوظ تھا۔ چنانچہ حضرت۔خلیفہ۔اول ہمیں گھونگھٹ نکال کر دکھایا کرتے تھے اور بتایا کرتے تھے کہ پردہ کا اصل طریق یہ ہے۔ اگر اس طرح گھونگھٹ نکالا جائے تو لازماً موٹے کپڑے کا چہرہ پر سایہ پڑے گا اور صحیح معنوں میں پردہ قائم رہ سکے گا لیکن موجودہ نقاب کا طریق ایسا ہے جس میں پورا پردہ نہیں ہو سکتا۔ بہرحال ہر ایک کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اسلامی احکام پر عمل کرے اور اگر کہیں اس کے عمل میں کمزوری پائی جاتی ہو تو اس کو دور کرے۔
    پھر اس سے بھی زیادہ نقص میں نے یہ دیکھا کہ ایک خاتون نے ایسا برقع پہنا ہوا تھا جس کی آستینیں نہیں تھیں اور اس کا بازو ننگا تھا حالانکہ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے ران ننگی کر دی جائے یا لاتیں ننگی کر دی جائیں۔ چونکہ عورتوں میں اب ایرانی طرز کے برقع کا رواج ہو رہا ہے اور اس کی آستینیں نہیں ہوتیں اس لیے بعض عورتیں وہ برقع پہن کر آ جاتی ہیں حالانکہ ہاتھ کے جوڑ کے اوپر سارے کا سارا حصہ پردہ میں شامل ہے۔ بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازدواجِ۔مطہرات کے بیان سے تو پتا چلتا ہے کہ ہاتھ اور پَیر بھی پردہ میں شامل ہیں۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ جب حج کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہلِ۔بیت کے۔ساتھ تشریف لے جاتے اور مرد سامنے آ جاتے تو آپ فرماتے اب دستانے اور۔جرابیں۔پہن۔لو۔ سامنے مرد آ رہے ہیں۔ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ یہ حکم صرف ازواجِ۔مطہرات۔کے۔لیے تھا لیکن بہرحال اِس سے تو کسی کو بھی انکار نہیں کہ ہاتھ کے جوڑ کے اوپر جو کچھ ہے سب پردہ میں شامل ہے۔ میں یہ تو امید نہیں کرتا کہ تم ساری عورتوں سے پردہ کروا لو گے۔ کچھ بہرحال انکار کریں گی۔ اور یہ ایسی لڑائی ہے جو چند دن میں ختم نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے تمہیں لمبی جدوجہد اور لمبے وعظ اور لمبی نصیحت سے کام لینا پڑے گا۔
    میں ملّانوں کی طرح تمہیں یہ نہیں کہتا کہ جو عورت پردہ نہیں کرتی تم ڈنڈا اُٹھا کر اُس کے سر پر مارو اور اُسے پردہ کرنے پر مجبور کرو۔ تمہارا کام صرف سمجھانا ہے۔ جب تم سمجھاؤ گے تو ماننے والی عورتیں اور ماننے والے مرد بھی نکل آئیں گے اور نہ ماننے والی عورتیں اور نہ ماننے والے مرد بھی نکل آئیں گے۔ تمہارا کام یہ ہونا چاہیے کہ تم ہر ایک کو نصیحت کرتے رہو۔ اگر کوئی نہیں مانتا تو لوگوں کو بتاتے رہو کہ صحیح اسلامی تعلیم کیا ہے تا کہ کسی کی خرابی کی وجہ سے جماعت پر الزام نہ آئے اور مسئلہ میں خرابی پیدا نہ ہو۔ اگر ہم اُنہیں سمجھائیں گے نہیں تو ہم خدا کے سامنے مجرم ہوں گے اور وہ ہم سے پوچھے گا کہ تم نے ان لوگوں کو کیوں نہ سمجھایا۔ اگر ہم ڈنڈا مارنے لگیں اور جبر سے پردہ کروائیں تب بھی ہم خدا کے حضور مجرم ہوں گے کیونکہ اسلام میں جبر جائز نہیں۔ اور اگر ہم چُپ کر رہتے ہیں اور لوگوں کو بتاتے نہیں کہ فلاں کا طریق اسلامی تعلیم کے خلاف ہے یا انہیں صحیح اسلامی تعلیم سے آگاہ نہیں کرتے تب بھی ہم خدا کے سامنے مجرم ہوں گے اور وہ کہے گا کہ تم نے سلسلہ پر کیوں حرف آنے دیا۔ تمہارا فرض تھا کہ تم باربار اسلامی تعلیم کو نمایاں کرتے تا کہ کسی کے فعل کی وجہ سے سلسلہ بدنام نہ ہوتا اور لوگ سمجھتے کہ یہ اس کا ذاتی فعل ہے۔ اگر تم سمجھاتے رہو تو خواہ وہ شخص تمہاری بات نہ مانے کم از کم دوسرے لوگ تم پر اعتراض نہیں کر سکیں گے اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آہستہ آہستہ آئندہ نسلیں اسلام کے مؤقف سے آگاہ ہو جائیں گی اور وہ صحیح مقام پر کھڑی ہونے کے لیے تیار ہو جائیں گی۔ اگر ہم چپ کر رہیں تو آہستہ آہستہ سلسلہ میں ایسا گُھن لگ جائے گا جو اس کی جڑوں کو بالکل کھوکھلا کر دے گا۔ اگر ہم مارنے لگیں تو اسلام میں ہم ایک ایسی چیز کا دروازہ کھول دیں گے جسے اسلام جائز قرار نہیں دیتا، اگر ہم نصیحت نہیں کریں گے تو لوگ ناواقفیت میں مبتلا رہیں گے۔ اور جن لوگوں کے اندر اخلاص اور تقوٰی تو پایا جاتا ہے صرف اُن کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔ اُن کو بھی ہم تباہی کے گڑھے میں گرا دیں گے۔
    مومن کا طریق ہمیشہ وسطی ہوتا ہے۔ جب وہ کسی میں غلطی دیکھتا ہے تو اُسے نصیحت کرتا ہے۔ جب وہ نہیں مانتا تو وہ کہتا ہے میں نے تو اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔ اگر تم نہیں مانتے تو تمہاری مرضی۔ تیسرے وہ لوگوں کو بتاتا رہتا ہے کہ اس قسم کے کمزور اعمال والے لوگ جماعت کے خلاف عمل کر رہے ہیں۔ یہ تمہیں بتا دیتے ہیں کہ ہمارا مذہب اس کے خلاف ہے۔ جو شخص اِن تین پہلوؤں کو اختیار کرتا ہے وہ وسطی طریق کو اختیار کرتا ہے۔ جو شخص خاموش رہتا ہے اور لوگوں کو بتاتا نہیں کہ فلاں کا فعل سلسلہ اور اسلام کی تعلیم کے خلاف ہے وہ مذہب کو بدنام کرتا ہے۔ جو شخص دوسرے پر جبر کرتا ہے وہ اُس کے ایمان کو ضائع کر تا اور اس کے اندر ڈر اور خوف پیدا کرتا ہے۔ اور جو شخص نصیحت نہیں کرتا وہ ناکردہ گناہ لوگوں کو بھی جہنم میں ڈالتا ہے۔ یہ تینوں طریق ہیں جو ایک سچے مومن کو اختیار کرنے چاہییں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے1لوگوں کو ہمیشہ نصیحت کرتے رہو کیونکہ نصیحت ہمیشہ فائدہ پہنچایا کرتی ہے۔ اور پھر فرماتا ہے2نصیحت کے یہ معنے نہیں کہ تم لٹھ لے کر دوسروں کے پیچھے دوڑتے پھرو اور اُن کو جبر سے منوانے کی۔کوشش کرو۔
    اس کے بعد میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ میں جو کراچی آیا تھا تو درحقیقت اِس غرض کے لیے آیا تھا کہ یہاں علاج کا کوئی پہلو نکل آئے اور کچھ ٹھنڈک کی وجہ سے جسم کو آرام بھی پہنچے کیونکہ عام طور پر سمندر کے کناروں پر موسم نسبتاً ٹھنڈا ہوتا ہے مگر اس میں کچھ غلطی ہو گئی کیونکہ اِن دنوں یہاں موسم بالعموم گرم ہوتا ہے۔ چنانچہ یہاں آنے کے بعد گرمی بھی پڑی اور لُوئیں بھی چلیں جس کی وجہ سے اُس قدر افاقہ نہیں ہوا جس قدر ہونا چاہیے تھا اور چونکہ میں علاج کے لیے آیا تھا اس لیے میری نیت یہی تھی کہ میں کم ملاقاتیں کروں گا تا کہ طبیعت پر کوئی بوجھ نہ پڑے۔ اس کے نتیجہ میں لازمی طور پر وہ احباب جنہوں نے اپنے اخلاص میں قریب آنے کی کوشش کی وہ ملاقات سے محروم رہے۔ اور پھر نمازوں میں۔بھی میں زیادہ نہیں آ سکا کیونکہ ضُعف کی وجہ سے سیڑھیوں پر چڑھنا، اُترنا ،گھٹنے برداشت نہیں۔کر۔سکتے۔ دوسرے میں زیادہ بول بھی نہیں سکتا۔ چنانچہ جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہے ہر خطبہ کے بعد مجھے سردرد ہو جاتا ہے اور پھر نماز میں چونکہ بلند آواز سے تکبیریں کہنی پڑتی ہیں اور بعض نمازوں میں قرآن شریف کا بھی کچھ حصہ پڑھنا پڑتا ہے اور میرے لیے چھوٹی۔سی چھوٹی آواز نکالنا بھی مشکل ہوتا ہے اس لیے میں نمازوں میں نہیں آتا رہا۔ لیکن باوجود اس کے کہ جماعت کے دوست بہت دور دور رہتے تھے اور میں بھی نمازوں میں نہیں آ سکتا تھا پھر بھی لوگ اخلاص اور عقیدت کے ساتھ بڑی کثرت کے ساتھ آتے رہے۔ چونکہ جماعت میں بعض کمزور طبائع بھی ہوتی ہیں اس لیے ہو سکتا ہے کہ ایسے موقع پر وہ یہ خیال کر لیں کہ ہمیں وہاں جانے کی کیا ضرورت ہے جبکہ انہوں نے آنا نہیں۔ اور اگر آئیں تو بیٹھنا نہیں۔ ایسی صورت میں ہمیں اپنا وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس کے مقابلہ میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ہمارا وہاں جانا اپنی ذات میں ایسا فعل ہے جو ثواب کا مستحق بنا دیتا ہے۔ یہ دونوں قسم کے گروہ ہیں جو عموماً جماعت میں ہوا کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو اُس گروہ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں جن کا یہ خیال ہے کہ وہاں جانے کا فائدہ کیا جبکہ وہ نمازوں کے لیے نہیں آتے اُن کو میں کچھ کہتا نہیں صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک واقعہ اُن کو سنا دیتا ہوں۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ مسجد میں کھڑے تقریر فرما رہے تھے کہ ہجوم زیادہ ہو گیا اور کناروں کے لوگ کھڑے ہو گئے کیونکہ جب کناروں پر لوگ کھڑے ہوں تو اُن سے ٹکرا کر آواز اکثر اونچی ہو جاتی ہے۔ اُن دنوں لاؤڈ سپیکر تو ہوتے نہیں تھے کہ دور تک آواز پہنچ سکے۔ بس یہی طریق تھا کہ تقریر کرنے والے کو اونچی آواز سے بولنا پڑتا تھا۔ مگر پھر کچھ اَور لوگ آ گئے اور وہ اُن کھڑے ہونے والوں کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ اُن تک رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کی آواز نہیں پہنچتی تھی۔ کچھ دیر تو وہ کھڑے رہے لیکن آخر مایوس ہو کر اُن میں سے کچھ لوگ واپس چلے گئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے الہاماً اُن لوگوں کے حالات کی اطلاع دے دی اور آپ نے فرمایا اے لوگو! مجھے خداتعالیٰ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ کچھ لوگ اس مجلس میں ایسے آئے ہیں جنہیں میری باتیں سننے کا موقع ملا اور۔انہوں۔نے میری باتوں سے فائدہ اُٹھایا۔ جس نیت اور ارادہ کے ساتھ وہ لوگ آئے تھے اُس نیت اور ارادہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اُن کے لیے سامان بہم پہنچایا اور وہ خداتعالیٰ کی رضا کے وارث ہوئے۔ پھر کچھ لوگ ایسے تھے جو اس مجلس میں تو آئے اُن کے کانوں میں کوئی آواز نہ پڑی۔ اِس پر بھی انہوں نے کہا کہ جب ہم نیک نیتی سے آئے ہیں تو چلو خواہ آواز ہمارے کانوں میں پڑے یا نہ پڑے ہم یہیں بیٹھے رہتے ہیں۔ ان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں سے کہا کہ یہ دین کی باتیں سننے کے لیے آئے تھے۔ اگر انہیں آواز نہیں پہنچی تو۔اِس میں ان کا کوئی قصور نہیں۔ اس لیے جو کچھ سننے والوں نے فائدہ اُٹھایا ہے وہی اُن کو فائدہ پہنچا دیا جائے۔ پھر کچھ لوگ ایسے تھے جنہیں آواز نہ آئی تو وہ اس مجلس سے اُٹھ کر چلے گئے۔ انہوں نے چونکہ میری مجلس سے منہ موڑ لیا اِس لیے میں نے بھی اُن کی طرف سے منہ موڑ لیا۔
    تو بیشک بعض دفعہ انسان ایک کام کرتا ہے اور اس کا کوئی فائدہ محسوس نہیں کرتا مگر۔درحقیقت اِسی قسم کی چیزیں ہیں جو انسان کے اندر اخلاقی مضبوطی پیدا کرتی ہیں اور وہ سمجھ لیتا ہے کہ جب بظاہر قربانی رائیگاں جا رہی ہو اُس وقت بھی انسان کو قربانیوں کے میدان میں ہمیشہ اپنا قدم آگے بڑھاتے چلے جانا چاہیے۔ شریعت نے حج کے موقع پر جو قربانی رکھی ہے وہ اتنی کثرت کے ساتھ ہوتی ہے کہ عام لوگ یہاں اُس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔ یہاں تو ہم عید کے موقع پر بکرے ذبح کرتے ہیں تو کئی دوستوں کی طرف سے شکایتیں آ جاتی ہیں کہ ہمیں بھول گئے۔ اِس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ دوستوں کا حلقہ وسیع ہوتا ہے۔ میرے ہاں بھی پانچ سات بکرے ذبح ہوتے ہیں اور پھر گائیں بھی ذبح ہوتی ہیں لیکن چونکہ تعلق والے بہت پھیلے ہوئے ہیں اس لیے اگر کسی کے ہاں گوشت نہ پہنچے تو وہ سمجھتا ہے کہ ہمیں مخلص نہیں سمجھا گیا۔ پس ہم لوگ اُن قربانیوں کا اندازہ نہیں کر سکتے جو حج کے موقع پر کی جاتی ہیں۔ جو لوگ حج کے بعد واپس آتے ہیں وہ بالکل اَور تأثر لے کر آتے ہیں۔وہاں بکرے کو ذبح کرنے کے بعد اُس کے گوشت کے سنبھالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ وہاں ہزاروں بکرے ذبح ہو رہے ہوتے ہیں اور آدمی اتنا ہوتا نہیں جو اُن کا گوشت استعمال کر سکے۔ ایسے موقع پر عموماً۔بدوی آ جاتے ہیں جو گوشت سُکھانے کے لیے اُن بکروں کو گھسیٹ کر لے جاتے ہیں۔ ہمیں چونکہ احساس تھا کہ گوشت کو کسی نہ کسی طرح ضرور تقسیم کرنا چاہیے اس لیے ہم نے بعض لوگوں سے مل کر اس کی تقسیم کا انتظام کر لیا تھا مگر اِدھر دنبہ پر چُھری پھیری اور اُدھر میں نے دیکھا کہ بدوی اُس دنبہ کو گھسیٹتے چلے جا رہے ہیں اور قہقہے لگا رہے ہیں۔ اِسی وجہ سے جو لوگ یہ نظارہ دیکھ کر آتے ہیں وہ یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اسلام نے یہ قربانی بغیر کسی حکمت کے رکھی ہے۔ کیوں نہ اس روپیہ کے بدلہ میں کالج جاری کیے جائیں اور اِس طرح قومی ترقی کے سامان کیے جائیں۔ فرض کرو پچاس ہزار بکرا ذبح ہوتا ہے تو اِس کے معنے یہ ہیں کہ پانچ لاکھ کا بکرا ذبح ہو جاتا ہے۔جو گائیں وغیرہ ہوتی ہیں اُن سب کو ملا کر اندازاً سات آٹھ لاکھ روپیہ ان قربانیوں پر خرچ ہو جاتا ہے۔ پس لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ بجائے اس کے کہ یہ روپیہ قربانیوں پر ضائع کیا جائے کیوں نہ اس کے بدلہ میں عربوں کی تربیت کا انتظام کیا جائے اور۔مکہ مکرمہ میں کالج اور سکول وغیرہ جاری کر دیئے جائیں۔ میں ہمیشہ ان کو یہ جواب دیا کرتا ہوں کہ بعض۔دفعہ قوم پر ایسے اوقات بھی آیا کرتے ہیں جب اسے ایسی قربانیاں کرنی پڑتی ہیں جو بظاہر بے۔فائدہ ہوتی ہیں۔ اِسی کی ٹریننگ کے لیے اسلام نے یہ سلسلہ جاری کیا ہے تا کہ ایسے مواقع پر خواہ انہیں کوئی حکمت نظر آئے یا نہ آئے وہ قربانی کرتے چلے جائیں۔ بعض دفعہ کسی ملک میں ایک اکیلا شخص ہوتا ہے اور وہاں کی حکومت مذہب کے خلاف کوئی جابرانہ حکم دے دیتی ہے جس سے وہ اسلام کو مٹانا چاہتی ہے۔ ایسی صورت میں اسلامی تعلیم کے مطابق وہ یہ نہیں کہے گا کہ جب قربانی کا کوئی فائدہ نہیں تو میں اپنے آپ کو کیوں قربان کروں؟ بلکہ وہ فوراً قربانی کے لیے اپنے آپ کو پیش کر دے گا کیونکہ جب تک وہ اپنے آپ کو قربان نہیں کرے گا دوسروں کے دلوں میں قربانی کی تحریک پیدا نہیں ہو گی۔ وہ اگر پھانسی پر چڑھ جائے گا تو پھر کوئی دوسرا شخص پھانسی کے تختہ پر چڑھنے کے لیے نکل آئے گا وہ دوسرا شخص پھانسی دیا جائے گا تو تیسرا شخص نکل آئے گا اور اس طرح قدم بقدم تمام قوم میں ایسا جوش پیدا ہو جائے گا کہ وہ اسلام کی حفاظت کے لیے دیوانہ وار کھڑے ہو جائیں گے اور کُفر کو شکست کھانے پر مجبور کر دیں گے۔
    جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں دعوٰی فرمایا تو اُس وقت جن صحابہؓ نے قربانیاں کیں وہ بظاہر کیسی بے فائدہ اور کیسی بے نتیجہ نظر آتی تھیں مگر پھر انہی قربانیوں کے نتیجہ میں مکہ فتح ہوا اور سارا عرب اسلامی جھنڈے کے نیچے آ گیا۔ جب صحابہؓ۔ مکہ میں قربانیاں کر رہے تھے اُس وقت کوئی شخص قیاس بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ایک دن اِنہی قربانیوں کے نتیجہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عظیم الشان شوکت ملنے والی ہے۔ اُس وقت جن عورتوں کی شرمگاہوں میں نیزے مارمار کر انہیں مارا جاتا تھا، جن مردوں کو اونٹوں کے ساتھ باندھ کر اُن کو ٹکڑے ٹکڑے کیا جاتا تھا اُن عورتوں اور مردوں کی قربانیوں کو دیکھ کر ہر شخص سمجھتا تھا کہ یہ لوگ بیکار اپنی عمریں ضائع کر رہے تھے۔ ایسے ہی لوگوں میں سے ایک عثمان بن مظعونؓ بھی تھے۔ عرب کا ایک مشہور ترین شاعر لبید ایک مجلس میں اپنے اشعار سنا رہا تھا کہ اُس نے یہ مصرعہ پڑھا
    اَلَا کُلُّ شَیْء ٍ مَا خَلَا اللّٰہَ بَاطِلٗ
    سنو کہ خدا کے سوا ہر چیز تباہ ہونے والی ہے۔ عثمان بن مظعونؓ نے یہ مصرعہ سنتے ہی بڑے زور سے کہا کہ بالکل ٹھیک ہے۔ خدا کے سوا واقع میں ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔ عثمان۔بن۔مظعونؓ اُس وقت چھوٹی عمر کے بچے تھے۔ جب انہوں نے تعریف کی تو شاعر ناراض ہو گیا اور اُس نے لوگوں سے کہا کہ اس لڑکے نے میری ہتک کی ہے۔ کیا میں اپنے اشعار میں ایک چھوکرے کی تائید کا محتاج ہوں؟ بعض لوگ اُسے مارنے کے لیے اُٹھے مگر بعض اَور نے دخل دے کر اِس معاملہ کو رفع دفع کرا دیا اور اسے کہہ دیا کہ اب تم نے کچھ نہیں کہنا۔ اِس کے بعد لبید نے اِس شعر کا دوسرا مصرعہ پڑھا کہ
    وَ کُلُّ نَعِیْمٍ لَامَحَالَۃَ زَائِلٗ
    یعنی ہر نعمت بہرحال ایک دن ختم ہونے والی ہے۔ اس پر عثمان بن مظعونؓ سے برداشت نہ ہو سکا اور انہوں نے کہا جنت کی نعمتیں کبھی ختم نہیں ہوں گی۔ لبید کو سخت غصہ آیا اور۔اُس نے کہا میں اِس مجلس میں اب اپنے شعر سنانے کے لیے تیار نہیں۔اِس پر لوگ کھڑے۔ہو گئے اور انہوں نے عثمانؓ کو مارنا شروع کر دیا۔ ایک شخص نے زور سے گھونسا مارا تووہ۔عثمان۔بن۔مظعونؓ کی آنکھ پر لگا اور ان کا ایک ڈیلا باہر نکل آیا۔ اُن کے والد کا ایک دوست بھی اس مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اور پہلے وہ اسی کی پناہ میں تھے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ دوسرے مسلمانوں کو ماریں پڑ رہی ہیں اور وہ آرام سے مکہ میں پھرتے ہیں تو انہوں نے اس رئیس سے جا کر کہہ دیا کہ میں تمہاری پناہ میں نہیں رہنا چاہتا۔ چنانچہ اس نے اعلان کر دیا عثمان اب میری پناہ میں نہیں۔ اسے یہ جرأت تو نہیں ہو سکتی تھی کہ وہ سب لوگوں کے سامنے ان کی مدد کرتا لیکن جب اُن کی آنکھ نکل گئی تو جس طرح کسی غریب آدمی کے بچے کو کوئی امیر آدمی کا بچہ مارے پیٹے تو غریب ماں اپنے بچہ کو ہی مارتی ہے اور اُسی پر غصہ نکالتی ہے۔ اِس طرح وہ اُن مارنے والوں پر تو غصہ نہیں نکال سکتا تھا اُس نے عثمانؓ پر ہی غصہ نکالا اور کہا کیا میں نے تجھے نہیں کہا تھا کہ تُو میری پناہ سے نہ نکل؟ اب دیکھا تُو نے کہ اِس کا کیا نتیجہ نکلا!! حضرت۔عثمان۔بن۔مظعونؓ نے جواب دیا کہ چچا! تم تو مجھ پر اس لیے خفا ہو رہے ہو کہ میری ایک آنکھ کیوں نکلی۔ خدا کی قسم! میری تو دوسری آنکھ بھی خداتعالیٰ کی راہ میں نکلنے کے۔لیے تڑپ رہی ہے۔3
    اب کیا کوئی عقلمند اُس وقت قیاس کر سکتاتھا کہ اُن کی ایک آنکھ کا نکلنا دین کو کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔واقعہ یہی ہے کہ اُس وقت یہ تمام قربانیاں بالکل بیکار نظر آتی تھیں لیکن اگر عثمان۔بن۔مظعونؓ۔کی ایک آنکھ خداتعالیٰ کے راستے میں نہ نکلتی، اگر عثمان۔بن۔مظعونؓ۔کی دوسری آنکھ خداتعالیٰ کی راہ میں نکلنے کے لیے تڑپ نہ رہی ہوتی، اگر عورتوں کی شرمگاہوں میں نیزے نہ مارے جاتے، اگر مکہ کے ابتدائی دَور میں صحابہؓ اپنی جانیں قربان نہ کرتے تو مسلمان وہ قربانیاں کبھی پیش نہ کر سکتے جو انہوں نے بدر اور اُحد کے موقع پر پیش کیں، وہ قربانیاں کبھی پیش نہ کر سکتے جو انہوں نے احزاب کے موقع پر پیش کیں۔ یہی بے۔مَصرف قربانیاں تھیں جنہوں نے اُن کے اندر جوش پیدا کیا، اُن کے اندر اخلاص پیدا کیا اور انہیں قربانی کے نہایت اعلیٰ مقام پر لا کر کھڑا کر دیا۔
    تو وہ دوست جو مجھے ملنے کے لیے آتے رہے لیکن میں اُن سے مل نہیں سکا۔ میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ میں اس بارہ میں اپنی تکلیف کی وجہ سے معذور تھا۔ مجھے دکھ بھی ہوتا ہے کہ۔وہ۔آتے ہیں اور میں مجلس میں بیٹھ نہیں سکتا۔ لیکن میں سمجھتا ہوں اُن کی یہی قربانی انہیں آئندہ بڑی قربانیوں کے لیے تیار کر دے گی اور ان کے اندر ایک نیا عزم اور نئی ہمت پیدا کر دے گی۔بہرحال یہاں کی جماعت اپنی جدوجہد اور قربانی کے لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ کچھ اِس میں اِس بات کا بھی دخل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے بعض خاندانوں کو دین کی خدمت کا خاص موقع عطا فرما دیتا ہے اور ان کی وجہ سے جماعت ترقی کر جاتی ہے۔
    سترہ اٹھارہ سال کی بات ہے میں نے رؤیا میں دیکھا کہ میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوں اور میرے سامنے چودھری ظفراللہ خاں صاحب لیٹے ہوئے ہیں اور گیارہ بارہ سال کی عمر کے معلوم ہوتے ہیں۔ اُن کے دائیں بائیں چودھری عبداللہ خاں صاحب اور چودھری۔اسد۔اللہ خاں صاحب بیٹھے ہیں اور ان کی عمریں بھی آٹھ آٹھ، نو نو سال کے بچوں کی سی معلوم ہوتی ہیں۔ تینوں کے منہ میری طرف ہیں اور تینوں مجھ سے باتیں کر رہے ہیں اور بڑی محبت سے میری باتیں سن رہے ہیں۔ اُس وقت یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ تینوں میرے بیٹے ہیں اور جس طرح فراغت کے وقت ماں باپ اپنے بچوں سے باتیں کرتے ہیں اِسی طرح میں ان سے باتیں کر رہا ہوں۔جس وقت میں نے یہ رؤیا دیکھا اُس وقت ان کے بھائی چودھری۔شکر۔اللہ خاں صاحب بھی زندہ تھے مگر رؤیا میں مَیں نے اُن کو نہیں دیکھا، صرف ان تینوں بھائیوں کو دیکھا۔ چنانچہ اِس رؤیا کے بعد اللہ تعالیٰ نے چودھری ظفراللہ خاں صاحب کو جماعت کا کام کرنے کا بڑا موقع دیا اور لاہور کی جماعت نے ان کی وجہ سے خوب ترقی کی۔ اس کے بعد چودھری عبداللہ خاں صاحب کو اللہ تعالیٰ نے کراچی میں کام کرنے کی توفیق دی اور چودھری۔اسد۔اللہ۔خاں صاحب آجکل لاہور کی جماعت کے امیر ہیں۔ لیکن بہرحال جماعت کے اندر بھی کوئی خوبی ہوتی ہے۔ جب اسے اچھا کام کرنے والا امیر مل جاتا ہے، جب اللہ۔تعالیٰ کا فضل شاملِ۔حال ہوتا ہے تو اچھے آدمی کو اچھی جماعت مل جاتی ہے اور اچھی جماعت کو اچھا امیر مل جاتا ہے اور جب خرابی پیدا ہو جائے تو بعض جگہ بُرا امیر مل جاتا ہے اور۔بعض دفعہ اچھے امیر کو بُری جماعت مل جاتی ہے جو اُس کے حوصلوں کو پست کر دیتی ہے۔ بہرحال یہ جماعت ایک رنگ میں مرکزی جماعت ہونے کی وجہ سے بہت اہم ہے اور اس وجہ سے اسے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور ان شبہات کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جو ہمارے متعلق لوگوں کے قلوب میں پائے جاتے ہیں۔
    مجھے یاد ہے ایک دفعہ ایک دوست نے سنایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی میں فیروزپور کے ایک مولوی صاحب نے کسی گاؤں میں تقریر کی اور اس میں کہا دیکھو! میں تمہیں بتاتا ہوں کہ مرزا صاحب محض دھوکا دیتے ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ ہم محمد۔رسول۔اللہ صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کو مانتے ہیں تو اِس سے مراد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہوتے بلکہ مرزاصاحب ہوتے ہیں اور جب وہ کہتے ہیں کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم۔النبیین ہیں تو اِس سے مراد بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہوتے بلکہ یہ مراد ہوتی ہے کہ (نَعُوْذُ۔بِاللّٰہِ)مرزاصاحب خاتم النبیین ہیں اور جب وہ کہتے ہیں کہ خدا ایک ہے تو اس سے بھی خدا مراد نہیں ہوتا بلکہ (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ)مرزاصاحب مراد ہوتے ہیں اور وہ انہیں خدا کہتے ہیں۔ پھر کہنے لگا میں تمہیں ایک واقعہ سناؤں۔ میں قادیان گیا۔ میرے ساتھ ایک اَور مولوی بھی تھا۔ ہمیں مہمان خانہ میں ٹھہرایا گیا۔مَیں جانتا تھا کہ مرزاصاحب کھانے پر جادو کر کے کھلاتے ہیں جس سے وہ اُن کے دعووں کو ماننے لگ جاتا ہے۔ چنانچہ کھانا آیا تو میں نے نہ کھایا لیکن میرے ساتھی نے کھا لیا۔صبح کی نماز کے بعد ناشتہ آیا جس میں حلوا رکھا ہوا تھا۔ میں نے اپنے ساتھی کو سمجھایا کہ یہ حلوا نہیں کھانا مگر اُس نے میری بات نہ مانی اور حلوا کھا لیا۔ حلوا کھاتے ہی وہ کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا بس میرا دل صاف ہو گیا ہے۔ مرزاصاحب جو کچھ کہتے ہیں بالکل درست ہے۔ اس کے بعد شکرم4آئی جس میں مرزا صاحب اور مولوی نورالدین۔صاحب دونوں بیٹھ گئے اور ہمیں بھی اُس میں بٹھا لیا۔حلوا مولوی نورالدین صاحب پکایا کرتے تھے اور وہی جادو پھونک کر لوگوں کو کھلایا کرتے تھے۔ جب سیر کرتے کرتے ہم قادیان سے باہر نکلے تو مرزاصاحب نے کہا اصل بات یہ ہے کہ خدا نے مجھے محمد بنا دیا ہے۔ میرا دوسرا ساتھی کہنے لگا حضرت بالکل ٹھیک ہے لیکن میں چپ کر کے بیٹھا رہا۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگے ختمِ۔نبوت کا مسئلہ بالکل درست ہے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ لوگوں کو دھوکا لگ گیا ہے۔ انہوں نے محمد۔رسول۔اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین کہنا شروع کر دیا ہے حالانکہ اصل میں میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے ساتھی نے پھر اس کی تصدیق کر دی لیکن میں خاموش بیٹھا رہا۔ آخر میں مرزاصاحب کہنے لگے کہ یہ تو درست ہے کہ خدا ایک ہے لیکن اصل۔بات یہ ہے کہ خدا سے مراد بھی میرا ہی وجود ہے۔ بس انہوں نے یہ بات کہی تو میں نے۔فوراً۔کہا کہ لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ، یہ بالکل جھوٹ ہے۔ اِس پر مرزا صاحب نے مولوی نورالدین صاحب کی طرف دیکھا اور کہنے لگے کیا ان کو حلوا نہیں کھلایا تھا؟ مولوی صاحب گھبرا گئے اور انہوں نے کہا میں نے تو بھجوایا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے کھایا نہیں۔ جب وہ یہ تقریر کر رہا تھا تو اتفاقاً فیروزپور کا ایک غیراحمدی وکیل جو بیمار ہو کر علاج کے لیے کچھ عرصہ قادیان رہ چکا تھا جوش سے کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا تجھے جھوٹ بولتے حیا نہیں آتی؟ میں خود قادیان میں رہ چکا ہوں۔ جتنی باتیں تُو نے بیان کی ہیں وہ سب کی سب جھوٹ اور افترا ہیں۔ اِس پر وہ شرمندہ اور لاجواب ہو گیا۔
    اِس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ہمارے متعلق لوگوں کے دلوں میں کس قسم کی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تم اپنے رشتہ داروں کے پاس جاؤ اور اُن کے شبہات کا ازالہ کرو۔ کبھی اپنے بھائی کے پاس جاؤ، کبھی بہن کے پاس جاؤ، کبھی ساس کے پاس جاؤ، کبھی خسر کے پاس جاؤ،کبھی سالے کے پاس جاؤ،کبھی ہمسائے کے پاس جاؤ، کبھی ہمسائے کے ہمسائے کے پاس جاؤ اور اُن کو بتاؤ کہ احمدیت اسلام سے کوئی الگ چیز نہیں۔ اگر تم ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے عزیزوں کے دل بھی ایک دن کھول دے گا اور انہیں کھینچ کر صداقت کی طرف لے آئے گا‘‘۔ (الفضل 7؍اپریل1960ئ)

    1
    :
    الاعلٰی:10
    2
    :
    الغاشیۃ:23
    3
    :
    سیرت بن ہشام جلد2 صفحہ9،19۔ قصۃ عثمان بن مظعون فی رد الجوار الولید۔ مطبوعہ۔مصر1936ء
    4
    :
    شِکْرَم:بگھی کی وضع کی بند گاڑی جس میں بیل اور بعض جگہ گھوڑے بھی جوتے جاتے ہیں اور اس میںدو پہیے اور بعض میں چار پہیے ہوتے ہیں ۔ یہ بند گاڑی پالکی کی شکل کی ہوتی ہے(اردو لغت تاریخی اصول پر جلد12صفحہ646کراچی1991ئ)

    اسلام کے نزدیک کوئی دن بھی منحوس نہیں
    سارے کے سارے دن ہی بابرکت
    اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر ہیں
    (فرمودہ 2جولائی1954ء بمقام کراچی)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’ہمارا اِس سفر کا یہ آخری جمعہ ہے ۔ ہمارا ارادہ ہے کہ اِنْشَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی اِسی ہفتے کے اندر منگل کے بعد جو رات آتی ہے اور دس بجے شب کے قریب یہاں سے گاڑی چلتی ہے اُس میں ہم ناصرآباد جائیں۔ اِس ذکر کے ساتھ ہی ایک اَور بات کے اظہار کا بھی مجھے خیال آ گیا اور وہ یہ کہ راستہ میں موٹر میں یہی بات ہوئی تو کراچی کے وہ مقامی دوست جو ہمارے ساتھ سوار تھے انہوں نے کہا کہ آپ منگل کو سفر کر رہے ہیں اور گو انہوں نے لفظ تو نہیں بولے مگر اُن کا مطلب یہی تھا کہ منگل کو سفر کرنا اچھا نہیں ہوتا۔ میں نے کہا اول تو یہ بات غلط ہے کہ ہم منگل کو سفر کر رہے ہیں۔ انگریزی رواج کے مطابق بیشک رات کے بارہ بجے سے دوسری رات کے بارہ بجے تک دن چلتا ہے لیکن اسلامی دن ایک شام سے دوسری شام تک ختم ہو جاتا ہے کیونکہ اس کا چاند پر انحصار ہوتا ہے اور چاند دوسرے دن شام کو نیا نکلتا ہے۔ اس لیے گو ہم منگل کے بعد کی رات کو جا رہے ہیں لیکن ہم منگل کو نہیں بلکہ بدھ کو جا رہے ہیں۔
    پھر میں نے کہا کہ یہ وہم کر لینا کہ فلاں دن منحوس ہے اور فلاں دن غیرمنحوس، یہ تو بڑی خرابی پیدا کرنے والا ہے۔ اِس پر انہوں نے کہا کہ آپ ہی نے تو کسی تقریر میں کہا تھا کہ منگل کے دن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو شاید کوئی الہام ہوا تھا یا کوئی اَور وجہ تھی کہ آپؑ اسے ناپسند فرمایا کرتے تھے۔ میں نے کہا میں نے تو صرف ایک روایت کی تشریح کی تھی۔ یہ تو نہیں کہا تھا کہ منگل کا دن منحوس ہے۔ چونکہ حضرت۔مسیح۔موعود علیہ۔الصلوٰۃ۔والسلام کی طرف ایک ایسی روایت منسوب کی جاتی ہے اس لیے میں نے بتایا تھا کہ اگر اس روایت کو درست تسلیم کیا جائے تو شاید منگل کے دن سے آپؑ کو اس لیے تخویف کرائی گئی ہو کہ آپؑ کی وفات منگل کے دن ہونے والی تھی۔ مگر بعض لوگوں نے اِس مخصوص بات کو جو محض آپؑ کی ذات کے ساتھ وابستہ تھی وسیع کر کے اسے ایک قانون بنا لیا اور منگل کی نحوست کے قائل ہو گئے حالانکہ جو چیز خداتعالیٰ کی طرف سے ہو اُس کو منحوس قرار دینا یہ بڑی بھاری نادانی ہوتی ہے۔
    اگر منگل کا دن منحوس ہوتا تو خداتعالیٰ کو بتانا چاہیے تھا کہ اَور تو سب دنوں میں میری صفات کام کرتی ہیں لیکن منگل کا دن چونکہ منحوس ہے اس لیے اس میں میری صفات کام نہیں کرتیں۔ اور اگر خداتعالیٰ نے کسی دن کی نحوست محسوس نہیں کی تو ہم یہ کریں، یہ ایسی باتیں ہیں جن سے وہم بڑھتا ہے اور زندہ قوموں کے افراد کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس قسم کے وہموں میں مبتلا ہونے سے اپنے آپ کو بچائیں۔ ان وہموں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جس کسی کو کوئی خاص نقصان کسی دن میں پہنچ جاتا ہے وہ اُسی دن کو منحوس قرار دینے لگ جاتا ہے۔ فرض کرو کسی کو پیر کے دن کوئی شدید نقصان پہنچا ہے تو وہ کہنا شروع کر دے گا کہ میرا تجربہ یہ ہے کہ پیر کا دن منحوس ہوتا ہے۔ کسی کو ہفتہ کے دن کوئی حادثہ پیش آیا تو وہ کہنا شروع کر دے گا کہ ہفتہ کا دن منحوس ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی حکومت ہفتہ کے دن شکست کھا جاتی ہے تو اُس کے افراد کے ذہنوں پر یہ بات غالب آ جائے گی کہ ہفتہ کا دن منحوس ہوتا ہے اور وہ ایک دوسرے سے کہیں۔گے کہ دیکھتے نہیں! ہم پر ہفتہ کے دن کیسی تباہی آئی تھی!! اِسی طرح ہو سکتا ہے کہ کسی کو جمعرات کے دن کوئی حادثہ پیش آ جائے تو وہ جمعرات کو اور کسی کو جمعہ کے دن کوئی حادثہ پیش آجائے تو وہ جمعہ کو منحوس کہنے لگ جائے۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ سارے لوگ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں گے اور کہیں گے کہ ہم کیا کریںگے ہمارا تو نحوست پیچھا نہیں چھوڑتی اور دوسری قومیں ترقی کر جائیں گی۔
    اگر کوئی کہے کہ دنوں میں اگر کوئی خاص برکت نہیں ہوتی تو رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم نے یہ کیوں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری قوم کے لیے جمعرات کے سفر میں برکت رکھی ہے۔1 تو اِس کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ وہاں ایک وجہ موجود ہے اور وہ یہ کہ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کا منشا یہ تھا کہ جمعہ کے دن تمام لوگ شہر میں رہیں اور اکٹھے ہو کر نماز ادا کریں تا کہ جب لوگ اکٹھے ہوں تو وہ ایک دوسرے کی مشکلات کا علم حاصل کریں، اہم امور میں ایک دوسرے سے مشورہ لیں، اپنی ترقی کی تدابیر سوچیں اور یہ چیزیں اِتنی اہم ہیں کہ اِن کو ترک کر کے کسی کا سفر پر چلے جانا کسی صورت میں بھی درست نہیں ہو سکتا۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم کہیں سفر پر جانا چاہو تو جمعرات کو جاؤ تا کہ جمعہ کسی شہر میں ادا کر سکو۔ اور یہ چیز ایسی ہے جس سے کوئی وہم پیدا نہیں ہوتا۔ محض جمعہ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت دی ہے کہ اگر چھوٹا سفر ہے تو جمعرات کو کر لیا کرو اور اگر لمبا سفر ہے تو جمعہ کی نماز پڑھ کر کسی اَور دن چلے جاؤ۔ پس اس حدیث میں کسی دن کی برکت پر زور نہیں دیا گیا بلکہ جمعہ کی نماز پر زور دیا گیا ہے۔ اور اس میں کیا شبہ ہے کہ جمعہ کی نماز میں سارے شہر کا اکٹھا ہونا ضروری ہوتا ہے چاہے وہ دس لاکھ کا شہر ہو یا بیس لاکھ کا شہر ہو یا تیس لاکھ کا شہر ہو۔ اگر کوئی ایسا شہر ہے جس کے افراد ایک مقام پر اکٹھے نہیں ہو سکتے تو اسے مختلف حصوں میں بھی تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہی ہو گا کہ ہر حلقہ کے تمام لوگ اپنے اپنے حلقہ میں نمازِ جمعہ کے لیے اکٹھے ہوں۔ اور اس میں بہت سے دینی اور دنیوی فوائد ہیں۔ جب لوگ اکٹھے ہوں گے تو لازماً وہ ایک دوسرے کی مشکلات کا علم۔حاصل کریں گے، ایک دوسرے سے مشورے کریں گے، ایک دوسرے کی ترقی کی تدابیر۔کریں۔گے، اپنی تنظیم کو زیادہ مؤثر بنائیں گے، اپنی اخلاقی اصلاح کے لیے سکیمیں سوچیں گے، غرباء کی ترقی کے لیے پروگرام تجویز کریں گے۔ غرض وہ قومی ترقی کے لیے اس اجتماع سے بہت کچھ فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ گو افسوس ہے کہ آجکل مسلمانوں میں جمعہ کے اجتماع سے اس رنگ میں فائدہ نہیں اُٹھایا جاتا۔ اپنے اندر ہی دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب خطبہ ہو رہا ہو تو امام کی طرف منہ کر کے بیٹھو اور اُس کی باتوں کو توجہ سے سنو۔2 مگر بعض لوگ اِس وقت امام کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھے ہیں اور پھر ذرا کوئی آہٹ آ جائے یا چوہے کے ہلنے سے ہی کھٹکا ہو جائے تو سب اُس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں تا کہ چوہے کے ہلنے سے جو کھٹکا ہوا ہے اُس کی برکت سے وہ محروم نہ رہیں۔ گویا جمعہ کی جو غرض ہے کہ خطیب کی بات کو توجہ سے سنا جائے اور اُس سے فائدہ اُٹھایا جائے اُس سے بہت کم لوگ حصہ لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہماری جماعت میں بھی یہ کمزوری پائی جاتی ہے اور کئی دفعہ انہیں۔ٹوکنا۔پڑتا ہے۔
    باقی رہی وہ روایت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف منسوب کی جاتی ہے اگر وہ درست ہے تو اس نحوست سے مراد صرف یہ نحوست تھی کہ آپ کی وفات منگل کے دن ہونے والی تھی ورنہ جب خداتعالیٰ نے خود تمام دنوں کو بابرکت کیا ہے اور تمام دنوں میں اپنی صفات کا اظہار کیا ہے تو اس کی موجودگی میں اگر کوئی روایت اس کے خلاف ہمارے سامنے آئے گی تو ہم کہیں گے کہ روایت بیان کرنے والے کو غلطی لگی ہے۔ ہم ایسی روایت کو تسلیم نہیں کر سکتے۔ اور یا پھر ہم یہ کہیں گے کہ ہر انسان کو بشریت کی وجہ سے بعض دفعہ کسی بات میں وہم ہو جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ ایسا ہی کوئی وہم منگل کی کسی دہشت کی وجہ سے حضرت۔مسیح۔موعود علیہ۔الصلوٰۃ والسلام کو بھی ہو گیا ہو مگر ہم یہ نہیں کہیں گے کہ یہ دن منحوس ہے۔ ہم اس روایت میں یا تو راوی کو جھوٹا کہیں گے اور یا پھر یہ کہیں گے کہ شاید بشریت کے تقاضا کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اِس بارہ میں کوئی وہم ہو گیا ہو ورنہ مسئلہ کے طور پر یہی حقیقت ہے اور یہی بات اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمائی ہے کہ سارے کے سارے دن بابرکت ہوتے ہیں3 مگر مسلمانوں نے اپنی بدقسمتی سے ایک ایک کر کے دنوں کو منحوس کہنا شروع کر دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ کامل طور پر نحوست اور اِدبار کے نیچے آ گئے۔
    ان کی مثال بالکل اُس پٹھان کی طرح ہے جس کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ محنت مزدوری کرنے پنجاب میں آیا تو اُس نے خیال کیا کہ روٹی تو مہنگی ملے گی،چلو خربوزے خرید لیں۔ ایک زمانہ میں خربوزے بڑے سَستے ہوا کرتے تھے۔ میں نے خود پیسے پیسے، دودو پیسے وَٹّی (یعنی دو سیر) خربوزے بِکتے دیکھے ہیں۔ اس نے چارپانچ سیر خربوزے خرید لیے۔مگر کُجا افغانستان کا سردہ جو نہایت میٹھا اور لذیذ ہوتا ہے اور کُجا پنجاب کا خربوزہ جو ایک پھسپھسی سی غذا ہوتی ہے۔ اُس نے ایک خربوزہ کھایا تو وہ نہایت پِھیکا اور بدمزا تھا۔ اُسے غصہ آیا۔ اُس نے سب خربوزوں کو پھینک کر اُن پر پیشاب کر دیا۔دوچار گھنٹے اُس نے کدال چلائی۔ پسینہ نکلا اور بھوک لگی تو سوچنے لگا کہ اب کیا کروں؟ میں نے تو سب خربوزوں پر پیشاب کر دیا ہے۔ میں اب کیسے کھاؤں؟ مگر جب بھوک نے زیادہ بے تاب کر دیا تو وہ خربوزوں کے پاس آیا اور ایک خربوزہ اُٹھا کر اور اُسے اِدھر اُدھر سے دیکھ کر کہنے لگا کہ اس پر تو پیشا ب نہیں پڑا اور اُسے کھا گیا۔ پھر دوبارہ کام شروع کیا تو تھوڑی دیر کے بعد پھر بھوک لگی۔اِس پر وہ پھر آیا اور ایک دو خربوزے اُٹھا کر کہنے لگا کہ اِن پر تو پیشاب نہیں پڑا تھا۔ اس طرح آہستہ آہستہ سوائے ایک خربوزے کے باقی سب خربوزے اُس نے کھا لیے۔ مگر کچھ دیر کے بعد پھر بھوک نے ستایا۔ آخر وہ پھر اُس خربوزہ کے پاس آیا اور سوچ سوچ کر کہنے لگا کہ میں بھی کتنا احمق ہوں جن خربوزوں پر پیشاب پڑا تھا اُن کو تو میں نے پہلے کھا لیا اور جس پر پیشاب نہیں پڑا تھا وہ ابھی باقی ہے اور یہ کہتے ہی اُس نے یہ خربوزہ بھی کھا لیا۔
    یہی لوگوں کی حالت ہے۔ مگر اُس نے تو پھر بھی اپنے وہم سے فائدہ اُٹھایا اور خربوزے کھا کر اپنی بھوک دور کر لی مگر مسلمان اپنے وہم سے ہمیشہ نقصان اٹھاتے ہیں۔ کہتے ہیں ہفتہ پر بھی پیشاب پڑا ہوا ہے، اتوار پر بھی پیشاب پڑا ہوا ہے، پیر پر بھی پیشاب پڑا ہوا ہے، منگل پر بھی پیشاب پڑا ہوا ہے، بدھ پر بھی پیشاب پڑا ہوا ہے، جمعرات پر بھی پیشاب پڑا ہوا ہے، جمعہ پر بھی پیشاب پڑا ہوا ہے اور پھر چادر اوڑھ کر سو گئے۔ اب ساری دنیا اقتصادیات میں ترقی کر رہی ہے، سیاسیات میں ترقی کر رہی ہے، اخلاقیات میں ترقی کر۔رہی۔ہے، سائنس میں ترقی کر رہی ہے، علوم و فنون میں ترقی کر رہی ہے، ایجادات میں ترقی کر رہی ہے۔ اور مسلمان بڑے آرام سے سو رہا ہے اور کہتا ہے ہفتہ میں بھی نحوست ہے،اتوار میں بھی نحوست ہے، پیر میں بھی نحوست ہے،منگل میں بھی نحوست ہے،بدھ میں بھی نحوست ہے،جمعرات میں بھی نحوست ہے، جمعہ میں بھی نحوست ہے،۔ اگر اِسی طرح سب قومیں وہم میں مبتلا ہو جائیں تو دنیا برباد ہو جائے۔
    ہمارے لیے خضرِراہ صرف خداتعالیٰ کی صفات ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ کوئی دن نہیں جس میں خداتعالیٰ کی صفات ظاہر نہ ہو رہی ہوں۔ اور جب ہر دن میں خداتعالیٰ کے انوار کا جلوہ ہے تو وہ چیز منحوس کس طرح ہوئی۔ خداتعالیٰ کی صفات کا ظہور ایسا ہی ہوتا ہے جیسے بجلی کی رَو جاری ہو جاتی ہے۔ اگر بے جان چیزوں میں بھی بجلی کی رَو نظر آنے لگتی ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ سات دنوں میں خدائی صفات کا ظہور ہو اور ہماری آنکھیں اُس ظہور کو نہ دیکھ سکیں۔ جب خداتعالیٰ کی صفات ہفتہ میں چلتی ہیں تو ہم ہفتہ کے دن بھی خداتعالیٰ کو دیکھ سکتے ہیں۔ اور جب خداتعالیٰ کی صفات اتوار میں چلتی ہیں تو ہم اتوار کے دن بھی خداتعالیٰ کو دیکھ سکتے ہیں۔ اور جب خداتعالیٰ کی صفات پیر میں چلتی ہیں تو ہم پیر کے دن بھی خداتعالیٰ کو دیکھ سکتے ہیں۔ اور جب خداتعالیٰ کی صفات منگل میں چلتی ہیں تو ہم منگل کے دن بھی خداتعالیٰ کو دیکھ سکتے ہیں۔ اور جب خداتعالیٰ کی صفات بدھ میں چلتی ہیں تو ہم بدھ کے دن بھی خداتعالیٰ کو دیکھ سکتے ہیں۔ اور جب خداتعالیٰ کی صفات جمعرات میں چلتی ہیں تو ہم جمعرات کے دن بھی خداتعالیٰ کو دیکھ سکتے ہیں۔ اور جب خداتعالیٰ کی صفات جمعہ میں چلتی ہیں تو ہم جمعہ کے دن بھی خداتعالیٰ کو دیکھ سکتے ہیں۔ اور یہی غرض انسان کی پیدائش کی ہے کہ وہ خداتعالیٰ کو دیکھے اور اُس کا قرب حاصل کرے۔ اور جب خدا انسان کو ہر وقت مل سکتا ہے، ہر گھڑی مل سکتا ہے تو کوئی دن منحوس کس طرح ہوا۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہی پُرحکمت ارشاد فرمایا ہے کہ لَاتَسُبُّوا الدَّھْرَ فَاِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الدَّھْرُ4 زمانہ کو گالی نہ دو کیونکہ خدا ہی زمانہ ہے۔ اِس کے یہ معنے نہیں کہ ٹائم اور خدا ایک ہی چیز ہے بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ کوئی ٹائم ایسا نہیں جس میں خدا اپنی صفات ظاہر نہیں کرتا۔ اور جب وہ ظاہر کرتا ہے تو تمہارا کیا حق ہے کہ تم یہ کہو کہ زمانہ بُرا ہے۔ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کی اِس حدیث سے صاف پتا لگتا ہے کہ کسی دن کو بُرا کہنا درحقیقت خداتعالیٰ کو بُرا کہنا ہے۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ فلاں دن بُرا ہے وہ دوسرے الفاظ میں اِس امر کا اظہار کرتا ہے کہ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ خدا بُرا ہے کیونکہ وہ دن خدا نے بنایا ہے کسی اَور نے نہیں بنایا۔ اگر ایک سیر دودھ میں کچھ چھینٹے پیشاب کے پڑے ہوئے ہوں تو تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اب وہ دودھ پینے کے قابل ہے۔ تمہیں بہرحال سارے دودھ کو گندا کہنا پڑے گا۔ اِسی طرح جو شخص یہ کہتا ہے کہ خداتعالیٰ کی کچھ صفات ایسے دن میں ظاہر ہوئیں جو منحوس تھا تو دوسرے الفاظ میں وہ اس امر کا اظہار کرتا ہے کہ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ خداتعالیٰ کی تمام صفات منحوس ہیں۔ اور ایسا کہنا بدترین کفر ہے۔ کوئی دہریہ بھی ایسی بات نہیں کہہ سکتا۔
    حقیقت یہ ہے کہ کام کی رغبت پیدا کرنے اور قوم کی ہمت بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنا اچھے سے اچھا نمونہ لوگوں کے سامنے پیش کریں۔ اور بجائے یہ کہنے کے کہ زمانہ بُرا ہے اُن کو اِس امر کی طرف توجہ دلائیں کہ زمانہ ترقی کی طرف دوڑتا چلا جا رہا ہے تم بھی آگے بڑھو اور اس دوڑ میں شامل ہو کر دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش کرو۔ مگر آجکل لوگ بات شروع کرتے ہی کہنے لگ جاتے ہیں کہ کیا بتائیں زمانہ بہت بُرا ہے۔ تم لائبریریوں میں آج سے پانچ سو سال پہلے کی لکھی ہوئی کتابیں نکال کر پڑھو تو اُن میں بھی یہی لکھا ہو گا کہ آجکل کا زمانہ بہت بُرا ہے۔ آج سے تیرہ سو سال پہلے کی کتابیں نکال کر دیکھو تو اُن میں بھی یہی لکھا ہو گا کہ یہ زمانہ بہت بُرا ہے۔ یہودیوں کی کتابیں نکال کر دیکھ لو تو اُن میں بھی یہی لکھا ہو گا کہ یہ زمانہ بہت بُرا ہے۔ اس میں مسیحؑ جیسے گندے لوگ پیدا ہو گئے ہیں۔ عیسائیوں کی کتابیں پڑھ لو تو ان میں بھی یہی لکھا ہو گا کہ یہ زمانہ بہت بُرا ہے۔ اس میں ہر قسم کے گندے لوگ پیدا ہو گئے ہیں۔ غرض زمانہ کو بُرا کہنے والے آج ہی نہیں ہر زمانہ میں پائے جاتے رہے ہیں۔ مگر اچھا کہنے والے بھی ہمیں ہر زمانہ میں نظر آتے ہیں۔ درحقیقت ہر شخص کی اپنی اپنی ذہنیت ہوتی ہے۔ کسی وقت اُسے ایک چیز اچھی نظر آتی ہے اور کسی وقت وہی چیز اُسے بُری نظر آنے لگتی ہے۔ میاں بیوی کو دیکھ لو صبح وہ پیار کر رہے ہوتے ہیں اور شام کو کسی بات پر رنجش پیدا ہوتی ہے تو میاں کہتا ہے کہ نامعلوم وہ کونسا منحوس دن تھا جس دن میری شادی ہوئی۔ دوسرے دن خوش ہوتا ہے تو اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ تم سے ہی تو میرے گھر کی رونق ہے۔ تم تو میرے دل کا چین اور سرور ہو۔ قمیص پہنتے وقت ذرا کُہنی پھنس جائے تو انسان گالیاں دینے لگ جاتا ہے کہ یہ کمبخت کیسی گندی قمیص ہے ذرا بھی اچھی سلائی نہیں ہوئی۔ مگر پھر اُسی قمیص کو کوئی پھاڑنے لگے تو برداشت نہیں ہو سکتا۔ انسان لڑنے لگ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تو بڑی۔اعلیٰ۔درجہ کی قمیص ہے۔ جُوتا چبھنے لگے تو انسان اُسے گالیاں دینے لگ جاتا ہے۔ ٹھیک ہو جائے تو کہتا ہے یہ تو پاؤں میں خوب فِٹ آتا ہے۔ غرض خوبیاں دیکھنے والے کو خوبیاں نظر آتی ہیں اور بُرائی دیکھنے والی آنکھ کو ہمیشہ بُرائی نظر آتی ہے۔
    حضرت عیسٰی علیہ السلام ایک دفعہ بازار سے گزر رہے تھے کہ راستہ میں ایک کُتّے کی لاش نظر آئی۔ حواریوں نے ناک پر اپنے رومال رکھ لیے اور کہا یہ کیسی گندی چیز ہے۔ حضرت۔عیسٰی علیہ السلام نے اُس کے دانتوں کی طرف دیکھا اور فرمایا ’’مگر دیکھو نا اس کے دانت کتنے خوبصورت ہیں‘‘ اِس رنگ میں انہوں نے اپنے حواریوں کو بتایا کہ یہ ساری چیزیں نسبتی ہوتی ہیں۔ ایک نقطہ نگاہ سے انسان کسی چیز کو دیکھتا ہے تو اُسے بُری نظر آتی ہے دوسرے نقطہ نگاہ سے اُس چیز کو دیکھتا ہے تو اُسے اچھی نظر آتی ہے۔ غرض نسبت کے لحاظ سے بڑا فرق پڑ جاتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ عائشہ! آج تم کچھ خفا معلوم ہوتی ہو۔ انہوں نے کہا میں ہوں تو خفا مگر آپ کو کس طرح پتا لگ گیا؟ فرمانے لگے میں کچھ عرصہ سے تاڑ رہا ہوں کہ جس دن تم خوش ہوتی ہو اُس دن تم کہتی ہو خدائے محمد کی قسم! یہ بات یوں ہے۔ اور جس دن تم خفا ہوتی ہو اُس دن کہتی ہو خدائے ابراہیمؑ کی قسم! یہ بات یوں ہے۔ آج تم نے خدائے ابراہیمؑ کے الفاظ استعمال کیے تھے جس سے میں سمجھ گیا کہ تم کچھ ناراض ہو۔ حضرت عائشہؓ نے کہا ٹھیک ہے یہی بات ہے۔مَیں کسی بات پر غصہ میں آ گئی تھی۔5 اب نہ ابراہیمؑ میں کوئی خرابی تھی کہ حضرت عائشہؓ ۔بعض دفعہ آپ کا نام نہ لیتیں اور نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کوئی نقص تھا کہ جس کی وجہ سے حضرت عائشہؓ ناراضگی کی حالت میں خدائے محمد کی قسم کھانے سے ہچکچاتیں۔ صرف اِتنی بات تھی کہ۔جب وہ غصہ میں آتیں تو خدائے محمد کی قسم کھانے کی بجائے خدائے۔ابراہیمؑ کی قسم کھانے لگ جاتیں۔ تو انسان کو چاہیے کہ اُسے دنیا میں جس قدر چیزیں نظر آتی ہیں اُن کو وہ زیادہ سے زیادہ بہتر محسوس کرے، اُن کو زیادہ سے زیادہ اپنے لیے رحمت اور انعام سمجھے۔ پھر وہی چیزیں اُس کے لیے تسلی اور تسکین کا موجب بن جائیں گی۔ اور اگر وہ اِس نقطہ۔نگاہ سے نہیں دیکھے گا تو بڑی سے بڑی نعمت بھی اس کے لیے زحمت اور *** کا موجب بن جائے گی۔
    مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس ایک دفعہ کسی شخص نے شکایت کی کہ باورچی چوری کرتا ہے۔ وہ آپ کھانا کھا لیتا ہے تو اس کے بعد آٹھ دس روٹیاں اپنے گھر لے جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اِس شکایت کرنے والے دوست سے کہا کہ آپ کی شکایت تو میں نے سن لی ہے لیکن کبھی آپ نے یہ بھی سوچا کہ ایک روٹی کے لیے یہ دو دفعہ تنّور میں جھکتا ہے۔ سخت گرمی میں ہم نے اپنے دروازے بند کیے ہوئے ہوتے ہیں، پردے لٹک رہے ہوتے ہیں، دستی پنکھے ہمارے ہاتھوں میں ہوتے ہیں اور یہ تنور میں گھُسا جا رہا ہوتا ہے۔ آخر یہ بھی ہماری طرح ہی اللہ تعالیٰ کا ایک بندہ ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ نے یہ کیوں سلوک نہ کیا اور اس کے ساتھ کیوں کیا؟ آخر اسے خداتعالیٰ کی طرف سے ایک رنگ میں سزا تو مل رہی ہے۔ اِسے اَور کیا سزا دلانا چاہتے ہیں؟
    تو اچھا آدمی ہمیشہ اچھے پہلو کو دیکھتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے شکایت کرنے والے کو اِس امر کی طرف توجہ دلائی کہ سزا تو اُسے روٹیاں چُرانے سے بھی پہلے مل جاتی ہے کیونکہ ایک ایک روٹی کے لیے یہ دو دو دفعہ تنور میں اپنا سر جھکاتا ہے۔ پھر اس کی تعلیم اعلیٰ نہیں۔ اگر تعلیم اچھی ہوتی تو لازماً اس کے اخلاق بھی اچھے ہوتے اور اچھا کاروبار اختیار کرتا۔ جب ان میں سے کوئی بات بھی اسے حاصل نہیں تو اِس پر اَور کیا ناراض ہوتے ہو۔ ایسے شخص کو مارنا یا سزا دینا تو ایسا ہی ہے جیسے کہتے ہیں ’’مرے کو مارے شاہ مدار‘‘۔ غرض اِس واقعہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نظر اِسی طرف گئی کہ ہماری موجودہ حالت خداتعالیٰ کے انعاموں میں سے ایک بہت بڑا انعام ہے۔ اور اُس کے لیے وہی سزا کافی ہے جو۔اُسے مل رہی ہے کسی اَورسزا کی اُس کے لیے کیا ضرورت ہے؟ تو مومن کو ہمیشہ ہر چیز کا اچھا پہلو دیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور توہمات میں مبتلا ہو کر اپنی طاقتوں کو ضائع نہیں کرنا چاہیے‘‘۔ (الفضل 21ستمبر1960ئ)

    1
    :
    بخاری کتاب الجھاد باب من احب الخروج یوم الخمیس
    2
    :
    صحیح مسلم کتاب الجمعۃ باب فضل من استمع و انصت فی الخطبۃ۔(مفہومًا)
    3
    :
    (الرحمٰن:30)
    4
    :
    مسلم کتاب الالفاظ من الادب وغیرھا باب النَّھْی عَنْ سَبِّ الدَّھْرِ
    5
    :
    صحیح البخاری کتاب النکاح باب غَیرۃِ النّسائِ ووجْدِھِنّ


    تمہارے اعمال سے یہ ظاہر ہونا چاہیے کہ تم نے واقعی اللہ تعالیٰ کے زندہ نشانات دیکھے ہیں
    (فرمودہ 9 جولائی1954ء بمقام ناصرآباد سندھ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’یہ علاقہ جو سندھ کا ہے کسی زمانہ میں تو پنجابیوں کے لیے اِس کا خیال کرنا بھی عجیب بات تھی کیونکہ گزشتہ زمانہ میں جب سفر میں کئی قسم کی مشکلات اور دقتیں تھیں پچاس، ساٹھ یا سَومیل پر جانا بھی ایسا ہی تھا جیسے کوئی مرنے لگا ہے۔ مگر اب یہ علاقہ باوجود اِس کے کہ پانچ سَو میل پر بلکہ اس سے بھی زیادہ فاصلہ پر ہے نہ صرف اِس میں پنجابی بس رہے ہیں بلکہ سال دو سال میں واپس جا کر وہ اپنے رشتہ داروں سے مل بھی لیتے ہیں۔ یا اُن کے رشتہ دار اِن سے ملنے کے لیے یہاں آ جاتے ہیں اور زیادہ تر طبقہ ایسا ہی ہے جس کے گزارہ کی پنجاب میں کوئی صورت نہیں تھی۔ کچھ ایسے بھی تھے جو اپنی حالتوں کو زیادہ بہتر بنانے کے لیے یہاں آگئے۔ وہاں ان کی حالتیں ایسی گری ہوئی نہیں تھیں لیکن سَو میں سے اسّی صرف اس لیے آئے ہیں کہ ان کے گزارہ کی پنجاب میں کوئی صورت نہیں تھی یا اس لیے کہ پارٹیشن کے موقع پر ان کو بے دست و پا بنا دیا گیا اور جہاں جہاں ان کے سینگ سمائے چلے گئے۔ کوئی۔اپنے وطن سے سَو میل دور چلا گیا، کوئی دوسَومیل دور چلا گیا اور کوئی چارسَومیل دُور چلا گیا اور کوئی پانچ سَومیل دور چلا گیا۔ بہرحال وہ پہلے صاحبِ حیثیت تھے یا اچھے زمیندار اور کھاتے پیتے تھے مگر اس وقت وہ بے دست و پا بنا دیئے گئے۔
    بہرحال دو قسم کے لوگ تھے جنہوں نے سندھ میں پناہ لی۔ ایک تو وہ جو نسلی طور پر غریب تھے اور اُن کے گزارے کی پنجاب میں کوئی صورت نہیں تھی۔ دوسرے وہ جو پارٹیشن کے موقع پر غریب بنا دیئے گئے یعنی اُن کے مکان لُوٹ لیے گئے، اُن کی جائیدادیں چھین لی گئیں، اُن کے جانور چھین لیے گئے، اُن کی فصلیں چھین لی گئیں، اُن کے روپے چھین لیے گئے اور وہ ایسے ہی ہو گئے جیسے نسلی غریب ہوتے ہیں۔ ان میں سے بعض کو اللہ تعالیٰ نے پنجاب میں پناہ دے دی اور بعض کو سندھ میں پناہ دے دی۔ اگر وہ پنجاب اور سندھ میں پناہ نہ لیتے تو ان کی حالت ایسی ہی ہوتی جیسے حیدرآباد اور کراچی میں ہزاروں ہزار مہاجرین کی ہے کہ وہ کھلے میدانوں میں جھونپڑیوں میں پڑے ہیں۔ نہ دھوپ سے بچنے کا اُن کے پاس کوئی سامان ہے اور نہ بارش سے بچنے کا اُن کے پاس کوئی ذریعہ ہے۔ بارش آ جائے تو کمر کمر تک ان کی جھونپڑیوں میں پانی جمع ہو جاتا ہے اور بھوک لگے تو کھانے کو کچھ نہیں ملتا۔ ہر انسان جو ایسے حالات میں سے گزرتا ہے ضروری ہوتا ہے کہ اُس کے اخلاق پہلے سے اچھے ہو جائیں اور وہ سمجھ لے کہ یہ دنیا فانی ہے۔ کتنا ہی انسان اچھا کھانے پینے والا ہو بعض دفعہ ایسے حادثات اُس پر گزرتے ہیں جو اُسے بالکل بے دست و پا بنا دیتے ہیں۔ مگر باوجود اِس کے کہ۔آدم سے لے کر اب تک ہزاروں دفعہ ایسے حالات پیدا ہوئے۔ پھر بھی لوگ ان واقعات کو بھول جاتے ہیں۔ جب مصیبت آتی ہے اُس وقت تو وہ یہ کہتے ہیں کہ اب ہم ایسی توبہ کریں گے کہ کبھی بھول کر بھی دنیا کی محبت میں مبتلا نہیں ہوں گے مگر جب وہ وقت گزر جاتا ہے تو آہستہ آہستہ پھر ان کے دل پر زنگ لگنا شروع ہو جاتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کو بھول جاتے ہیں۔ لیکن عام لوگوں کے حالات خواہ کچھ بھی ہوں ہماری جماعت کو ایسا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہم نے خداتعالیٰ کی ایک نئی آواز سنی ہے، ہم نے اُس کے ایک نئے مصلح کے ہاتھ پر اپنے۔ایمانوں کی تجدید کی ہے، ہم نے خداتعالیٰ کے زندہ معجزات دیکھے ہیں، ہم نے اس کے تازہ۔بتازہ نشانات دیکھے ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں پھر بھی ایسی سُستی اور غفلت پائی جاتی ہے کہ اس کو دیکھ کر حیرت آتی ہے۔
    چند سال کی بات ہے میں یہاں آیا تو مجھے پتا لگا کہ اِس علاقہ میں چارآدمی ایسے ہیں جو ایک ٹھگ کی خفیہ جماعت میں شامل ہیں اور اس کو اپنا پیر سمجھتے ہیں۔ مجھے اس کا پتا تھا کیونکہ میں اُسے قادیان سے دو دفعہ نکال چکا تھا۔ اور ایک دفعہ تو ایسے الزامات میں مَیں نے اسے نکالا تھا کہ جنہیں سن کر بھی گِھن آتی تھی۔ اُس کی عادت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ آپ میں سے کسی کے پاس بیٹھے گا تو کہے گا مجھے خواب آئی ہے کہ آپ کو کوئی بہت بڑا درجہ ملنے والا ہے۔ اب اگر آپ کا تقوٰی اچھا ہے تو آپ فوراً کہیں گے کہ میاں! درجہ دینے والا تو خُدا ہے۔ اگر اس نے مجھے کوئی درجہ دینا ہے تو وہ مجھے کیوں نہیں بتاتا؟ آپ کو اُس نے کیوں بتا دیا کہ مجھے درجہ ملنے والا ہے؟ مجھے ہمیشہ بیسیوں غیراحمدیوں کے خطوط ملتے رہتے ہیں جن کا مضمون یہ ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت مرزاصاحب ہمیں خواب میں ملے ہیں اور انہوں نے آپ کے متعلق کہا ہے کہ آپ ہمارے سچے خلیفہ اور قائمقام ہیں اور ہمیں ہدایت کی ہے کہ آپ ان کے پاس جائیں اور انہیں کہیں کہ وہ آپ کو پانچ ہزار روپیہ دے دیں۔ میں ہمیشہ اُن کو یہ جواب دیا کرتا ہوں کہ وجہ کیا ہے کہ وہ مجھے آ کر آپ کے متعلق یہ ہدایت نہیں دیتے اور آپ کو کہہ دیتے ہیں کہ جا کر پانچ ہزار روپیہ لے لو۔ اگر وہ مجھے آ کر کہیں تو پانچ ہزار کیا !!میں دس ہزار بھی دینے کے لیے تیار ہوں مگر انہوں نے آپ کا انتخاب کس بنا پر کیا ہے؟ چاہیے تو یہ تھا کہ وہ مجھے آ کر کہتے، آپ کو کہنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اِسی طرح جس کے اندر سچا تقوٰی پایا جاتا ہے وہ تو یہ جواب دے دیتا ہے کہ اگر خدا نے مجھے مینجر بنانا تھا یا میری تجارت کو کامیاب کرنا تھا تو مجھے کیوں نہ کہا آپ کو یہ خبر کیوں دی؟ لیکن لالچی آدمی اِتنی سی بات پر خوش ہو جاتا ہے اور اُسے بزرگ قرار دینے لگ جاتا ہے۔
    اُس نے ہمارے کئی افسروں کو اِس طرح کی خبریں دینی شروع کر دیں کہ فلاں پر عذاب آ جائے گا اور تم اُس کی جگہ افسر مقرر کر دیئے جاؤ گے۔ میں اُن دنوں محمودآباد گیا اور۔ایک دن اتفاقاً کسی کام کے لیے باہر نکلا تو میری نظر اس پر پڑ گئی۔ اس نے مجھے دیکھا تو۔دوڑ کر ایک مکان کے پیچھے چُھپ جانا چاہا۔ میں نے اُسے فوراً پہچان لیا اور میں نے پوچھا کہ کیا یہ فلاں شخص ہے؟ انہوں نے کہا نہیں۔ یہ فلاں ہے(اُس نے اپنا نام بدل لیا تھا)۔ میں نے کہا یہ کوئی نام رکھ لے جیسے کسی شاعر نے کہا ہے کہ وہ کسی جامہ اور کسی شکل میں بھی میرے سامنے آ جائے، میں اسے پہچان لیتا ہوں۔ اِسی طرح میں جانتا ہوں کہ یہ وہی شخص ہے جسے میں نے قادیان سے نکالا تھا۔ پھر یہ یہاں کس طرح آ گیا؟ اِس پر لوگو ں نے بتایا کہ اس نے اِس اِس طرح ہمیں اپنی خوابیں سنائی تھیں۔ میں نے کہا بس! تم اِن وعدوں پر پُھول گئے اور تمہارا دماغ خراب ہو گیا؟ اگر تمہارے اندر ایمان ہوتا تو تم سمجھتے کہ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ اپنی جماعت قائم کرے اور اُس کا ایک خلیفہ بنائے اور اُس کے احکام کی تعمیل کو ضروری قرار دے اور دوسری طرف اِس قسم کے آدمی پیدا کر دے اور انہیں کہے کہ تم لوگوں سے کہتے پھرو کہ فلاں پر عذاب آ جائے گا اور فلاں کو انعام مل جائے گا۔ میں نے کہا خبردار! جو آئندہ یہ شخص میری اسٹیٹوں میں آیا۔ اِس پر لوگوں نے بتایا کہ آپ کے تو بعض کارکن بھی اس کے ساتھ شامل ہیں اور بڑے اخلاص سے وہ اس کی مجلسوں میں بیٹھتے ہیں اور انہوں نے پانچ آدمیوں کے مجھے نام بتلائے۔میں ناصرآباد واپس آیا تو میں نے اُن پانچوں کو بلوایا۔ اُن میں وہ مخبر بھی تھا جس نے مجھے اطلاع دی تھی۔ میں نے اُن سے پوچھا کہ آپ لوگوں نے یہ کیسی پارٹی بنائی ہوئی ہے؟ انہوں نے کہا ہماری پارٹی کوئی نہیں۔ یہ ایک بزرگ ہیں جن سے ہم اپنے لیے دعائیں کراتے ہیں اور ہم ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے ان کی مجلس میں بیٹھا کرتے ہیں۔ میں نے کہا اگر تم غیرمبائع ہوتے تب تو اَور بات تھی لیکن تم یہ تو سوچو کہ ایک طرف تو اِس بات کے قائل ہو کہ خداتعالیٰ نے دنیا میں خلافت کو قائم کیا ہوا ہے اور دوسری طرف تم یہ سمجھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے خلافت کے مقابلہ میں ایک اَور شخص کو لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ کہنے لگے توبہ توبہ! وہ خلافت کے مقابل میں کہاں کھڑے ہیں۔ وہ تو کہتے ہیں کہ خلیفۂ۔وقت کی فرمانبرداری کرنی چاہیے۔ میں نے کہا منہ سے کہنا اَور بات ہے۔ تمہیں سوچنا یہ چاہیے کہ آخر ان باتوں کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ اور وجہ کیا ہے کہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ ایک نیا نظام جاری کرتا ہے اور لوگوں سے کہتا ہے کہ جب تک تم ایک شخص کے ہاتھ پر اکٹھے رہو۔گے اور اپنے اندر افتراق اور انشقاق پیدا نہیں کرو گے اللہ تعالیٰ تم میں خلافت کو جاری رکھے گا اور دوسری طرف وہ ایسے لوگوں کو کھڑا کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ کسی سے وعدہ کرو کہ تیرا بیٹا امیر کبیر ہو جائے گا، کسی سے کہو تُو منیجر بن جائے گا، کسی سے کہو کہ تُو جنرل مینجر بن جائے گا۔ میں نے کہا جس دن وہ کسی سے کہتا ہے کہ تُو مینجر ہو جائے گا اُسی دن سے وہ پہلے مینجر کا دشمن ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اب یہ نکلے تو میں اس کی جگہ سنبھا لوں۔ جس دن وہ کہتا ہے کہ فلاں شخص جنرل مینجر ہو جائے گا اُسی دن وہ جنرل مینجر کا دشمن ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اب وہ نکلے تو میں اس کی جگہ سنبھالوں۔ جس دن وہ کسی سے کہتا ہے کہ وہ ہیڈ کلرک ہو جائے گا اُسی دن وہ پہلے ہیڈکلرک کا دشمن ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اب یہ میرے یا کسی عتاب میں آکر نکل جائے تا کہ میں اس کی جگہ سنبھالوں۔ غرض ایک طرف تو وہ کہتا ہے کہ ساری جماعت کو ایک ہاتھ پر جمع کرو اور دوسری طرف کہتا ہے کہ جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دو۔ کیا کوئی عقل تسلیم کرسکتی ہے کہ ایسا شخص خداتعالیٰ کی طرف سے ہو سکتا ہے؟ یا خداتعالیٰ خود اپنے نظام کو تباہ کرنے کے لیے ایسے لوگوں کو کھڑا کر سکتا ہے۔؟ کہنے لگے آپ جانتے نہیں کہ وہ بڑے نیک آدمی ہیں۔ میں نے کہا تمہیں وہ نیک نظر آتے ہیں اور تم سمجھتے ہو کہ خدا ان سے کام لے رہا ہے لیکن میرے نزدیک تو خدا اُس سے ایسا ہی کام لے رہا ہے جیسا کہ اُس نے ابوجہل وغیرہ سے لیا۔ آخر میں مَیں نے اُن سے صاف کہہ دیا کہ تم یا تو ہمارے ساتھ رہ سکتے ہو یا اس کے ساتھ رہ سکتے ہو۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ تم ہمارے ساتھ بھی رہو اور اس کے ساتھ بھی رہو۔انہوں نے مینجر صاحب کے متعلق بتایا کہ یہ بھی درحقیقت ہمارے ساتھ ہی ہیں۔ وہ کہنے لگے نہیں۔ پہلے میں ان کے ساتھ ہوا کرتا تھا مگر اب نہیں ہوں۔ اِس کے بعد وہ چلے گئے اور مینجر صاحب نے مجھے اطلاع دی کہ جاتے ہی وہ پھر اُس شخص کے پاس گئے اور بہت روئے اور چِیخے۔چِلّائے کہ اب ہمیں جُدا کیا جا رہا ہے۔ اور پھر انہوں نے اُسے چائے پلائی اور اُس کا جوٹھا تبرک کے طور پر پیا کہ خبر نہیں یہ مصیبت ہم پر کب تک وارد رہے گی۔ اِس کے بعد اُس مخبر نے رپورٹ بھیجی اور ساتھ ہی اُس شخص کا ایک خط بھجوایا اور لکھا کہ یہ فلاں افسر کے نام اُس نے لکھا تھا جو میں آپ کو بھجوا رہا ہوں۔ اس میں سندھ کے ایک احمدی کے متعلق ہی لکھا۔تھا کہ میں نے اُس کے بیٹے کے متعلق فلاں احمدی کو اپنا ایک خواب سنایا تھا اور بتایا تھا کہ وہ بادشاہ ہو جائے گا مگر اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ لڑکا مر گیا ہے۔ آپ اس لڑکے کی موت کی خبر اس احمدی کو نہ سنائیں ورنہ اس کا ایمان کمزور ہو جائے گا۔ گویا اپنے شاگردوں کو دھوکا بھی سکھایا جاتا ہے کہ ان کے ایمان میں کوئی لغزش پیدا نہ ہو۔ آخر ہم نے ان ساروں کو بدل دیا۔ لیکن کچھ عرصہ ہوا ایک دوست نے مجھے خط لکھا کہ یہ لوگ اب بھی آپس میں ملتے ہیں اور جو مخبر تھا اُس کا نام بھی اُس نے لکھا کہ یہ بھی انہی لوگوں میں شامل ہے۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے دماغ خراب ہو چکے ہیں اور یا پھر وہ منافق اور بے۔ایمان ہیں کہ ایک طرف تو وہ ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ مخفی طور پر ان لوگوں کے پاس آتے جاتے ہیں جو جماعت میں فتنہ پیدا کرنے والے ہیں۔ حالانکہ مومن خدا اور اس کے رسول کے مقابلہ میں اپنے تعلقات کی کبھی پروا نہیں کرتا اور وہ فوراً فتنہ انگیزی کرنے والے کے خلاف شور مچا دیتا ہے۔
    جب بدر کی جنگ ہوئی اُس وقت تک حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا بھی مسلمان نہیں ہوا تھا۔ جنگ کے بعد اللہ تعالیٰ نے اُن کو ہدایت دی اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ ایک دن گھر میں بیٹھے باتیں ہو رہی تھیں کہ حضرت ابوبکرؓ۔۔کا لڑکا کہنے لگا اباجان! بدر کی جنگ میں مَیں ایک پتھر کے پیچھے چُھپ کر بیٹھا ہوا تھا کہ آپ میرے پاس سے گزرے۔ اُس وقت میں نے چاہا کہ وار کروں مگر میں نے فوراً آپ کو پہچان لیا اور اپنی تلوار نیچی کر لی۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا خدا نے تجھے اسلام نصیب کرنا تھا اس لیے تُو بچ گیا ورنہ خدا کی قسم! اگر میں تجھے دیکھ لیتا تو میں نے کبھی اپنی تلوار نیچی نہیں کرنی تھی۔ 1
    اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفر اور ایمان میں امتیاز بھی یہ ہے کہ ایمان یہ نہیں دیکھتا کہ کوئی شخص میرا دوست ہے یا میرا رشتہ۔دار ہے بلکہ وہ فوراً اسے ننگا کر کے رکھ دیتا ہے۔ اور کُفر اِن باتوں کو چھپانے کی طرف راغب ہوتا ہے کیونکہ کفر کا خدا کوئی نہیں اور مومن کا خدا ہے۔ کافر سمجھتا ہے کہ ان لوگوں کے تعلقات مقدم ہیں اور مومن سمجھتا ہے کہ اصل تعلق وہی ہے جو انسان کا خدا سے ہے باقی سب تعلقات عارضی ہیں اور خدا اور اس کے رسول کے مقابلہ میں ان کی کوئی پروا نہیں جا سکتی۔
    پس جو لوگ یہاں رہتے ہیں ان میں سے بھی ایک حصہ مجرم ہے کہ اس نے ان باتوں کو چھپایا۔ میں یہ کبھی مان نہیں سکتا کہ اِس واقعہ کا ساری جماعت میں سے صرف ایک شخص کو پتا تھا۔ یقیناً اَور لوگوں کو بھی علم ہو گا مگر انہوں نے اپنے فرائض کی ادائیگی میں سُستی کی اور سمجھا کہ ان لوگوں سے ہماری صاحب سلامت ہے، ان سے ہمیں بعض دنیوی فوائد بھی پہنچ رہے ہیں پھر ہم کیوں بگاڑ پیدا کریں؟ صرف ایک آدمی کو خدا نے ہمت دے دی اور اس نے مجھے رپورٹ بھجوائی۔ اور جب میں نے تحقیق کی تو پانچ اَور گواہ بھی مل گئے۔ جہاں تک مخالفت کا سوال ہے اس کے لحاظ سے چار کیا، چار ہزار کیا، چار لاکھ کیا بلکہ اگر یہ چار کروڑ بھی ہوں تب بھی یہ کامیاب نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ یہ سلسلہ خداتعالیٰ کی طرف سے ہے اور ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ یہ سلسلہ تباہ کیا جائے۔ ابھی دنیا میں اِس سلسلہ کے ذریعہ اسلام نے پھیلنا ہے۔ جب یہ سلسلہ اسلام کو دنیا میں قائم کر دے گا تو اُس وقت لوگ گھمنڈ میں آ کر بے ایمان ہو جائیں تو اَور بات ہے۔ بیشک اب بھی بعض لوگوں کے ہاتھ میں روپیہ آ جائے تو وہ گھمنڈ کرنے لگ جاتے ہیں لیکن یہ گھمنڈ ایسا ہی ہوتا ہے جیسے بچہ اپنے کھلونے پر گھمنڈ کرنے لگتا ہے۔ انسان کا اصل گھمنڈ اُس وقت ظاہر ہوتا ہے جب وہ بڑا آدمی بن جاتا ہے اور باقی لوگوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنے لگ جاتا ہے۔ پس ہمارے بعض افراد ہیں اگر اب بھی گھمنڈ پایا جاتا ہے تو وہ ایسا ہی ہے جیسے بچہ کو کھلونا مل جائے تو وہ گھمنڈ کرنے لگ جاتا ہے۔ اصل گھمنڈ اُسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب قوم پھیل جاتی ہے، کثرت سے اُس کے پاس مال آ جاتا ہے، کثرت سے اُس کے پاس عہدے آ جاتے ہیں اور افراد پر اُسے تصرف کا اختیار ہوتا ہے۔ تب فرعون مزاج لوگ اپنے گھمنڈ میں لوگوں کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں اور جب وہ یہ فیصلہ کرتے ہیں تو خدا اپنے فرشتوں کو اُن کے مٹانے کا حکم دے دیتا ہے۔ مگر ابھی ہماری جماعت پر وہ وقت نہیں آیا۔ابھی ہم نے ترقی کرنی ہے۔
    اِس سلسلہ کو مٹانے کی بُہتوں نے کوشش کی اور ابھی کچھ اَور کوشش کرنے والے پیدا۔ہوں گے۔ مگر وہ سارے کے سارے تھک جائیں گے اور اِس سلسلہ کو نقصان پہنچانے۔کی۔بجائے اس کی عزت اور ترقی کا ذریعہ بنیں گے۔ جس طرح پہاڑ پر چڑھتے وقت پہلے چھوٹی پہاڑیاں آتی ہیں، پھر اُس سے بڑی پہاڑیاں آتی ہیں، پھر اُس سے بڑی پہاڑیاں آتی ہیں۔ یہاں تک کہ انسان پہاڑ پر چڑھ جاتا ہے۔ اِسی طرح خدا ہر مخالفت کے بعد اس سلسلہ کو ترقی دیتا چلا جائے گا۔ یہاں تک کہ وہ وقت آ جائے گا جب خدا اپنے وعدوں کے مطابق اِس سلسلہ کو ساری دنیا میں پھیلا دے گا۔ اس کے بعد ہو سکتا ہے کہ جماعت کے لوگوں میں بگاڑ پیدا ہو جائے، وہ تکبر میں مبتلا ہو جائیں اور خداتعالیٰ ان کو سزا دینے کے لیے ان سے اپنی برکات چھین لے۔ اور یا پھر ممکن ہے کہ اُس وقت تک قیامت ہی آ جائے۔
    قیامت کے متعلق ہم یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ وہ کتنے عرصہ میں آنے والی ہے۔ آیا پانچ سَوسال کے بعد آئے گی یا ہزارسال کے بعد آئے گی یا دو ہزارسال کے بعد آئے گی۔ الٰہی کلام تمثیلی الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے اس لیے قطعیت کے ساتھ کسی رائے کا اظہار نہیں کیا جا سکتا۔ بہرحال تمثیلی زبان میں جو پیشگوئیاں کی گئی ہیں اُن سے ظاہر ہوتا ہے کہ سات ہزار سال کے بعد دنیا پر قیامت کا آنا مقدر ہے۔ پس یا تو اس مقام پر پہنچ کر جب احمدیت اپنی تمام اندرونی طاقتیں ظاہر کر دے گی اور اپنی تمام قابلیتیں دنیا میں نمایاں کر دے گی لوگوں میں بگاڑ پیدا ہونے پر قیامت آ جائے گی۔ اور یا پھر اللہ تعالیٰ اُس وقت اسلام کی ترقی کے لیے کوئی اَور راستہ تجویز کر لے گا۔ بہرحال جس طرح بیج زمین میں ڈالا جاتا ہے تو اس کے بعد ضروری ہوتا ہے کہ فصل اُگے اور بیج اپنی تمام مخفی طاقتیں ظاہر کرے۔ اِسی طرح روحانی جماعتیں جب اپنی تمام پوشیدہ طاقتیں ظاہر کر دیتی ہیں اور اپنے تمام حُسن کو نمایاں کر دیتی ہیں تو اُس کے بعد اُن پر زوال آیا کرتا ہے اُس سے پہلے نہیں۔ یہی پہلے ہوا اور یہی آئندہ ہو گا۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے مذاہب زوال آنے پر بالکل کٹ گئے اور نئے مذاہب دنیا میں جاری کیے گئے لیکن احمدیت کوئی نئی چیز نہیں بلکہ اسلام کا ہی دوسرا نام ہے اور اسلام کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ قیامت تک قائم رہے گا۔ اس لئے احمدی اگر کسی وقت گر جائیں گے تو اسلام پھر بھی قائم رہے گا اور کسی اَور شکل میں دنیا میں ظاہر ہو جائے گا۔ اور یہ تسلسل اِسی طرح رہے گا یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی۔
    پس یہ لوگ تو اپنی جگہ کامیاب نہیں ہوں گے مگر جو احمدی کہلاتے ہوئے مداہنت کرتے ہیں افسوس تو اُن پر ہے کہ بجائے اِس کے کہ وہ غیرت کا مظاہرہ کرتے انہوں نے اپنے تعلقات کو سلسلہ کے مفاد پر مقدم سمجھا اور ان لوگوں کے ظاہر کرنے میں اخفا سے کام لیا۔
    پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ انہیں پارٹیشن کے بعد اِس علاقہ میں جو آرام ملا ہے اِس سے وہ مغرور نہ ہو جائیں بلکہ ان پر جو خداتعالیٰ کی طرف سے ذمہ داریاں ہیں اُن کو پورا کریں ورنہ خدا کے فرشتے ان کی گردن پکڑ لیں گے۔ آپ لوگوں کو کیا معلوم کہ آپ کی اولادوں میں سے کس نے دنیوی لحاظ سے ترقی کرنی ہے، کس نے بڑا عالم بننا ہے، کس نے بڑا صوفی اور بزرگ بننا ہے۔ یہ انعامات ہیں جو بہرحال آپ لوگوں کے لیے مقدر ہیں۔ پس اپنی نسلوں کے لیے ایسا بیج مت بوئیں جس کے نتیجہ میں وہ خدائی انعامات سے حصہ لینے سے محروم رہ جائیں۔ تم مت سمجھو کہ تمہارے کاموں کا تمہاری اولادوں پر اثر نہیں پڑے گا۔ بسااوقات ماں باپ سے نادانستہ طور پر ایک فعل سرزد ہوتا ہے اور صدیوں تک اُن کی نسلوں کو اُس کی سزا برداشت کرنی پڑتی ہے۔
    دیکھو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتحِ مکہ کے بعد جب غزوہ حنین میں شامل ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح دے دی تو اموالِ غنیمت آپ نے مکہ والوں میں تقسیم فرما دیئے۔ مدینہ والوں کو کچھ نہیں دیا۔ اِس پر کسی انصاری نوجوان کی زبان سے بے۔احتیاطی میں یہ الفاظ نکل گئے کہ خون ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اموال اپنے رشتہ داروں کو دے دیئے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا پتا لگا تو آپ نے انصار کو بلایا اور فرمایا اے مدینہ کے لوگو! مجھے تمہارے متعلق ایسی روایت پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! ہم میں سے کسی بیوقوف نوجوان نے یہ بات کہی ہے ہم نے نہیں کہی۔ رسول۔کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو بات کہی گئی، سو کہی گئی۔ پھر آپ نے فرمایا دیکھو! تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خداتعالیٰ نے مکہ میں پیدا کیا مگر مکہ والوں نے اپنی بیوقوفی سے خدائی کلام کو ردّ کر دیا اور آ پ کو قبول نہ کیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے وہ نعمت۔مدینہ والوں کو دے دی۔ پھر خدا نے اپنے فضل سے، نہ کہ مسلمانوں کے کسی زور اور طاقت۔کے۔نتیجہ میں، ایسے سامان پیدا کیے کہ مکہ فتح ہو گیا۔ جب مکہ فتح ہوا تو مکہ والوں نے سمجھا کہ اب ہماری گمشدہ متاع ہمیں واپس مل جائیں گی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وطن میں واپس آ جائیں گے مگر خدا نے یہی فیصلہ کیا کہ مکہ والے اونٹ ہانک کر اپنے گھروں میں لے جائیں اور مدینہ والے خدا کے رسول کو اپنے گھر لے جائیں۔ لیکن اے انصار! اگر تم چاہو تو تم یوں بھی کہہ سکتے ہو کہ ہم محمد رسول اللہ کے لیے مدینہ میں بھی لڑے اور مدینہ سے باہر بھی لڑے۔ ہم نے اپنے بچوں کو یتیم اور اپنی بیویوں کو بیوہ بنایا۔ ہم نے اپنے خاندانوں کو برباد کیا اور اپنا مال اور اپنی طاقت آپ کے لیے قربان کر دی مگر جب فتح حاصل ہوئی تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔اموال اپنے رشتہ داروں کو دے دیئے اور ہمیں کچھ نہ دیا۔ انصار نے روتے ہوئے کہا کہ یَا۔رَسُولَ۔اللّٰہ۔! ہم مانتے ہیں کہ یہ ہماری غلطی ہے۔ ہم میں سے کسی بیوقوف نوجوان نے یہ بات کہہ دی ہے ورنہ ہم اس سے بیزار ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک تم میں سے کسی نے یہ بات کہی ہے مگر اے انصار! اب اِس قول کی وجہ سے اِس دنیا میں تم کو برکتیں نہیں ملیں گی۔ تم اگلے جہان میں حوضِ۔کوثر پر ہی آ کر ان برکتوں کو لینا۔2
    چنانچہ دیکھ لو چودہ سَوسال گزر گئے مگر ان چودہ سَوسال میں کوئی انصاری بادشاہ نہیں ہوا۔ عربوں کو بادشاہت ملی، مکہ والوں کو بادشاہت ملی اور وہ چارپانچ سَوسال تک حکومت کرتے رہے، پٹھانوں کو بادشاہت ملی، ایرانیوں کو بادشاہت ملی، مصریوں کو بادشاہت ملی، مغل آئے انہوں نے بغداد فتح کیا اور اٹھارہ لاکھ مسلمانوں کو قتل کیا مگر پھر اُن کو بھی توبہ نصیب ہوئی اور انہوں نے لمبے عرصہ تک حکومت کی۔ غرض ہر قوم کو اِس چودہ سَوسال کے عرصہ میں حکومت ملی۔ اگر نہیں ملی، تو اُن کو جو رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کے دائیں بھی لڑے اور بائیں بھی لڑے اور آگے بھی لڑے اور پیچھے بھی لڑے اور جنہوں نے کہا تھا کہ یَا۔رَسُوْلَ اللّٰہِ۔! دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔3 اس لیے کہ اُن کے باپ دادا میں سے کسی نے یہ بات کہی اور خدا نے اُن کی ساری اولاد کو ہمیشہ کے لیے حکومت سے محروم کر دیا۔
    پس مت سمجھو کہ تمہاری ان غفلتوں کے نتیجہ میں تم آئندہ آنے والے انعامات سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم غفلت سے کام لو گے اور اپنی ذمہ داریوں کو نہیں سمجھو گے تو تم اور تمہاری اولادیں ان برکتوں کو حاصل نہیں کر سکیں گی جو اسلام اور احمدیت کی خدمت میں اُس نے رکھی ہیں۔ پس اپنے چھوٹے چھوٹے تعلقات کے لیے اپنا اور اپنی اولادوں کا مستقبل تباہ نہ کرو کہ یہ بڑی خطرناک بات ہے‘‘۔ (الفضل 10؍اگست1960ئ)

    1
    :
    مستدرک حاکم جلد3صفحہ4575کتاب معرفۃ الصحابۃ ۔ مات عبدالرحمان ابن ابی بکر فجأۃ دارالفکر بیروت 1978ء
    2
    :
    صحیح بخاری کتاب المغازی بابُ غزوۃِ الطّائِفِ فی شوّالِ سَنَۃَ ثَمَانٍ۔
    3
    :
    سیرۃ ابن ہشام جلد2صفحہ266،267مطبع مصر1936ء (مفہومًا)

    مومن کو ہمیشہ اپنے اعمال کی اصلاح کی فکر رکھنی چاہیے
    (فرمودہ 6جولائی1954ء بمقام ناصرآباد سندھ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’اللہ تعالیٰ نے انسان کو جہاں زبان دی ہے وہاں اسے ہاتھ پاؤں بھی دیئے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر لوگ زبان تو استعمال کرتے ہیں لیکن ہاتھ پاؤں کم استعمال کرتے ہیں حالانکہ زبان کی بات پر کم اعتبار کیا جا سکتاہے اور ہاتھ پاؤں کے کام پر زیادہ اعتبار کیا جاتا ہے۔ زبان ایسی چیز ہے کہ بڑے سے بڑا جھوٹ بھی بول سکتی ہے۔ آخر مسیلمہ۔کذّاب کو جو ہم کذّاب کہتے ہیں تو زبان کی وجہ سے ہی۔ یااَور انبیاء کے جو دشمن تھے اُن کو اگر ہم بُرا کہتے ہیں تو اُن کے متکبرانہ دعووں، اُن کی تعلیموں اور اُن کی راستی اور ہدایت سے دوری کی وجہ سے ہی بُرا کہتے ہیں۔ پھر انسان کے اندر بات کو چھپانے کا ایسا مادہ رکھا گیا ہے کہ ہزاروں آدمی باتیں کرتے ہیں لیکن ہم پہچان نہیں سکتے کہ وہی اُن کا عقیدہ ہے یا اُن کا کوئی اَور عقیدہ ہے۔ قرآن کریم میں آتا ہے کہ منافق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ آ کر کہتے تھے کہ خدا کی قسم! تُو اللہ کا رسول ہے۔ بات ٹھیک تھی۔ آپ واقع میں اللہ۔تعالیٰ کے رسول تھے مگر بجائے اِس کے کہ خدا اُن کی تعریف کرتا اور کہتا کہ یہ لوگ بڑے اچھے ہیں اللہتعالیٰ۔فرماتا ہے کہ ہم بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ تُو اللہ کا رسول ہے مگر منافق جھوٹ۔بول رہے ہیں۔1 اب بات انہوں نے سچ کہی تھی مگر پھر انہیں جھوٹا کیوں کہا؟ اس لیے کہ زبان نے تو سچ کہا تھا مگر اُن کا دل اس عقیدہ کو جھٹلاتا تھا۔ پس چونکہ اُن کا دل اِس کو جھٹلاتا تھا اس لیے چاہے وہ سچا کلمہ کہہ رہے تھے خداتعالیٰ نے اُن کی مذمت کی اور اُن کے جھوٹ کو ظاہر کر دیا تو خالی زبان کی باتیں کافی نہیں ہوتیں۔ انسان کو ہمیشہ اپنے عمل اور اپنے کردار سے اپنی خوبی لوگوں پر ظاہر کرنی چاہیے۔ ہم نے دیکھا ہے بیسیوں آدمی مخلصانہ باتیں کرتے رہتے ہیں لیکن وقت پر اُن کی دھوکا بازی اور غداری ظاہر ہو جاتی ہے۔ اور ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کے متعلق بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے اندر اخلاص نہیں لیکن مشکلات کے وقت وہ قربانی کر جاتے ہیں۔ پس مومن کو ہمیشہ اپنے اعمال کی درستی کی فکر کرنی چاہیے۔
    ظاہر اعمال میں عبادتیں اور نمازیں ہیں جو پانچ وقت بندوں کی خداتعالیٰ سے ملاقات کرواتی ہیں مگر کتنے ہیں جو نمازوں کے پابند ہیں؟ پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ سَوفیصدی احمدی نماز کے پابند ہیں مگر اب ہم نہیں کہہ سکتے کہ سَو فیصدی احمدی نمازوں کے پابند ہیں۔ مسلمان تو خیر تیرہ سَو سال کے بعد بڈھے ہوئے تھے افسوس ہے کہ بعض احمدی پچاس ساٹھ سال میں ہی کمزور ہو گئے ہیں۔ تیرہ۔سَوسال تک مسلمانوں نے یہ بات نبھائی۔ وہ کہتے تھے کہ نماز پڑھو اور خود بھی نماز پڑھتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ زکوٰۃ دو اور خود بھی زکوٰۃ دیتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ حج کرو اور خود بھی حج کرتے تھے۔ا ب تیرہ سَوسال کے بعد ان میں ضُعف اور کمزوری پیدا ہو گئی ہے اور انہوں نے کہنا تو شروع کیا کہ نماز پڑھو مگر نماز پڑھنے کا شوق ان میں نہیں رہا۔ انہوں نے کہنا شروع کیا کہ زکوٰۃ دو اور خود زکوٰۃ نہیں دیتے۔ انہوں نے کہنا شروع کیا کہ حج کرو مگر اکثر مسلمان استطاعت کے باوجود حج نہیں کرتے۔ لیکن بعض احمدیوں میں تو ابھی سے کمزوری کے آثار پیدا ہونے شروع ہو گئے ہیں۔ تم اِسے زمانہ کا اثر کہہ لو،یورپ کا اثر کہہ لو، دنیاداری کا اثر کہہ لو ،بہرحال جس طرح وہ اپنے ماحول کے اثر کے نیچے تھے اسی طرح ہم اپنے ماحول کے اثر کے نیچے ہیں لیکن ہم میں کمزوری اُن سے زیادہ جلدی آ گئی ہے۔ ہماری مثال تو ایسی ہی ہے جیسے کوئی تیرہ چودہ سال کا ہو اور وہ کُبڑا ہو جائے۔ ایسے شخص کو دیکھ کر سب کو رحم ہی آئے گا کہ ابھی تو اس نے جوانی بھی نہیں دیکھی اور یہ پہلے ہی کُبڑا ہو گیا ہے۔
    پھر عبادتوں کے علاوہ ایسے اخلاقی کام بھی ضروری ہیں جن میں اپنی اور دوسروں کی اصلاح شامل ہو۔ مثلاً ظلم نہیں کرنا، فساد نہیں کرنا، دھوکے بازی نہیں کرنی، چوری نہیں کرنی، ڈاکہ نہیں ڈالنا، لوگوں کا دل نہیں دُکھانا۔ اگر کوئی شخص ان باتوں پر عمل کرتا ہے تو سب لوگ کہتے ہیں کہ فلاں بڑا نیک ہے۔ اور اگر عمل نہ کرتا ہو تو سب اس کی مذمت کرتے ہیں اور اگر کوئی بڑا آدمی ہو جس کے منہ پر لوگ اُس کی مذمت نہ کر سکیں تو پیٹھ پیچھے اس کی ضرور بُرائی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں بُرا آدمی ہے۔ ایک دفعہ ایک شخص میرے پاس آیا اور اُس نے کہا کہ مہاجروں پر بڑا ظلم کیا جاتا ہے اور ان کے حقوق کی طرف کوئی توجہ نہیں کی جاتی۔ جب وہ اُٹھ کر چلا گیا تو ایک شخص نے کہا کہ یہ سب سے زیادہ جھوٹا انسان ہے۔ اب اُسے سامنے تو کچھ کہنے کی جرأت نہیں ہوئی لیکن اِدھر اُس نے پیٹھ پھیری اور اُدھر دوسرے شخص نے بتایا کہ یہ خود بڑا گندہ اور جھوٹ بولنے والا ہے۔ اس کی بات کا کیا اعتبار ہے۔ تو منہ سے اگر کوئی کہتا ہے لیکن عمل نہیں کرتا تو کہنے والے کہتے اور محسوس کرنے والے محسوس کرتے ہیں کہ وہ فریب کر رہا ہے۔
    پس مومن کو چاہیے کہ اپنی زندگی اپنے قول کے مطابق بنائے۔ آخر ہر انسان نے اس دنیا میں رہنا ہے اور ہر انسان نے ایک دن مرنا ہے۔ خواہ کوئی تن آسانی کے ساتھ رہے خواہ تکلیف میں اپنی زندگی کے ایام کاٹے اور خواہ کسی کا یہ عقیدہ ہو کہ انسان نے مر کر مٹی ہو جانا ہے اور خواہ وہ یہ سمجھے کہ مرنے کے بعد انسان جنت یا دوزخ میں جاتا ہے بہرحال یہ تو کوئی شخص ایک منٹ کے لیے بھی خیال نہیں کر سکتا کہ مرنے کے بعد اُس کے ساتھ کچھ نہیں ہو گا۔ جو شخص کھاتا پیتا، لڑتا جھگڑتا، اچھے کام کرتا یا بُرے کام کرتا ہے وہ اتنا تو سمجھتا ہے کہ سانس رُکنے کے بعد کچھ نہ کچھ کیفیت ضرور پیدا ہو گی۔ خواہ یہ مان لو کہ انسان مر کر مٹی ہو جاتا ہے اور خواہ یہ مان لو کہ وہ جنت یا دوزخ میں جاتا ہے۔ بہرحال کچھ نہ کچھ ضرور ہو گا۔ پس انسان کو سوچنا چاہیے کہ جب مرنے کے بعد کچھ نہ کچھ ضرور ہونا ہے تو اگر وہ بُرے اعمال کرتا رہا تو اس آئندہ آنے والی زندگی میں اس پر کیا گزرے گی۔ اور اگر وہ کسی زندگی کا قائل نہیں تب بھی اسے سمجھ لینا چاہیے کہ فائدہ نیک اعمال میں ہی ہے خواہ انسان نے مر کر مٹی میں سو۔جانا۔ہو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک دفعہ ایک دہریہ نے بحث کی اور کہا کہ خداتعالیٰ کی ہستی کا کیا ثبوت ہے؟ حضرت علیؓ نے کہا کہ ثبوت تو بڑے بڑے ہیں لیکن میں تمہیں ایک موٹی بات بتا دیتا ہوں۔ تمہارا دعوٰی ہے کہ خدا کوئی نہیں اور میرا دعوٰی ہے کہ خدا ہے۔ میں اس کی کوئی دلیل نہیں دیتا کہ میں سچا ہوں اور تم سچے نہیں۔ فرض کرو میں سچا ہوں اور تم جھوٹے ہو یا تم سچے ہو اور میں جھوٹا ہوں۔ تم مجھے یہ بتاؤ کہ اگر میں جھوٹا ہوا اور تم سچے ہوئے تو میرا کیا حشر ہو گا۔ میں کہتا ہوں کہ خدا ہے اور تم کہتے ہو کہ خدا نہیں۔ اگر تمہاری بات سچی ہے اور خدا کوئی نہیں تو میرا حساب تو ہونا ہی نہیں۔ اگر میں مر گیا تو کچھ بھی نہیں ہو گا۔ جس طرح تم مٹی ہو جاؤ گے اُسی طرح میں بھی مٹی ہو جاؤں گا۔ لیکن فرض کرو میں سچا ہوں اور تم جھوٹے ہو اور میں یہ کہتا ہوں کہ خدا ہے تو اگر مرنے کے بعد میری بات سچی نکلی تو تمہیں جُوتے پڑیں گے یا نہیں؟ پس اگر تمہارا عقیدہ سچا ہے تو مجھے کوئی خطرہ نہیں اور اگر میرا عقیدہ سچا ہے تو پھر تمہارے لیے خطرہ ہے۔ اِسی طرح اگر تم مٹی میں مل جانے والے ہو، مرنے کے بعد تمہیں کوئی انعام نہیں ملے گا، کوئی نئی زندگی نہیں ملے گی تو کم سے کم ان نیکیوں کے نتیجہ میں دنیا کے لوگ تو تمہیں یاد کرتے رہیں گے کہ فلاں بڑا اچھا آدمی تھا۔ پس ان نیکیوں کے بجا لانے میں تمہارا نقصان کوئی نہیں۔ لیکن اگر خدا نے حساب لینا ہے اور اگر مرنے کے بعد تم نے جنت یا دوزخ میں جانا ہے تو تم سوچو کہ اگر تم صرف منہ سے کہتے رہے لیکن عمل نہ کیا تو تم وہاں کیا کرو گے؟ قرآن۔کریم میں آتا ہے کہ مرنے کے بعد جب لوگوں کو دوزخ میں ڈالا جائے گا تو وہ کہیں گے کہ کاش! ہمیں پھر دنیامیں واپس لَوٹایا جائے تا کہ ہم نیک اعمال بجا لائیں۔ 2
    پس ایک چیز جو روزانہ نظر آتی ہے کیوں انسان اُس کے متعلق غور نہیں کرتا۔ ہر شخص جانتا ہے کہ ہر ایک نے ایک دن مرنا ہے۔ کوئی جوان ہو کر مرتا ہے کوئی بوڑھا ہو کر مرتا ہے، کوئی بچپن میں مر جاتا ہے اور پھر کوئی موٹر کے نیچے آ کر مرتا ہے، کوئی چھت کے نیچے آ کر مرتا ہے ،کوئی بجلی لگنے سے مرتا ہے، کوئی ڈوب کر مرتا ہے ،کوئی بیماری سے مرتا ہے۔ایسا تو ہم نے کوئی نہیں دیکھا جو مرتا نہیں۔پس اگر وہ قربانی اور ایثار کرتا ہے اور خدا کوئی نہیں، حساب کوئی نہیں تو مرنے کے بعد اسے نقصان کچھ نہیں۔ اور اگر خدا ہے اور حساب ہے اور اُس نے دنیا۔میں منہ سے تو باتیں کیں لیکن عمل نہیں کیا تو وہ مرنے کے بعد ضرور پکڑا جائے گا۔یہ ایک اتنی موٹی چیز ہے کہ ہر ایک کو اس سے سبق لینا چاہیے اور نصیحت حاصل کرنی چاہیے۔ اور اگر کوئی شخص اتنی موٹی بات بھی نہیں سمجھ سکتا تو پھر کوئی انسان اسے سمجھانے کی طاقت نہیں رکھتا‘‘۔
    (الفضل 9ستمبر1959ئ)

    1
    :
    (المنافقون:2)
    2
    :
    (فاطر:38)


    خدمتِ دین کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان سمجھو
    ترقی اور کامیابی کے وقت کبھی یہ امر فراموش نہ کرو کہ تمہیں جو کچھ ملا
    محض دین کی خدمت کی وجہ سے ملا ہے
    (فرمودہ 23جولائی1954ء بمقام ناصرآباد سندھ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے سورۃ بقرۃ کی ان آیات کی تلاوت فرمائی:
    ــ’’1
    اس کے بعد فرمایا:
    ’’میں نے جن آیات کی تلاوت کی ہے ان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں کہ جب وہ بیٹھ کر دنیا کی باتیں کرتے ہیں تو تم سمجھتے ہو کہ واہ۔واہ!! یہ کتنے عقلمند اور سمجھدار ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ دنیا کے سارے علوم پر حاوی ہیں اور ان کی عقل کو کوئی پہنچ نہیں سکتا اور پھر وہ اپنی دین۔داری کے متعلق اتنا یقین لوگوں کو دلاتے ہیں کہ کہتے ہیں خدا کی قسم! ہمارے دل میں جو نیکیاں بھری ہوئی ہیں ان کو کوئی نہیں جانتا۔ ہم۔سے مشورہ لیا جائے تو ہم یوں کر دیں، وُوں کر دیں۔ مگر فرماتا ہے حقیقت کیا ہوتی ہے؟ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ بدترین دشمن جو تمہارے ہو سکتے ہیں وہ اُن سے بھی زیادہ جھگڑالو اور خطرناک ہوتاہے۔ وہ ہوتا تمہارے ساتھ ہے، وہ مسلمان کہلاتا ہے اور جب کسی مجلس میں بیٹھ جاتا ہے توساری مجلس پر چھا جاتا ہے اور اپنی دین۔داری اور تقوٰی پر قسمیں کھاتا ہے اور کہتا ہے کہ میرادل تو قوم کے لیے گُھلا جا رہا ہے۔ جب دیکھنے والا اُسے دیکھتا ہے اور سننے والا اُس کی باتیںسنتا ہے تو وہ سمجھتا ہے یہ قطبُ الْاَقْطاب بیٹھا ہے۔ مگر فرماتا ہے دنیا میں تمہارے یہودی بھی دشمن ہیں، عیسائی بھی دشمن ہیں، اَور قومیں بھی دشمن ہیں مگر یہ اُن سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اور جب کبھی اسے طاقت مل جاتی ہے، اسے رسوخ حاصل ہو جاتا ہے، حُکّام تک اس کی رسائی ہو جاتی ہے، قوم کا لیڈر بن جاتا ہے تو پھر وہ فتنہ اور فساد پیدا کرنے کی کوشش کرتا اور حرث اور نسل کو تباہ کرتا ہے حالانکہ اگر وہ واقع میں دین دار ہوتا تو خدا تو فساد نہیں کرتا۔ وہ کیوں اِس طریق کو اختیار کرتا ہے جو خداتعالیٰ کی رضا کے منافی ہے۔
    یہ ایک پیشگوئی ہے جو مسلمان کے متعلق کی گئی تھی یا یوں کہو کہ یہ ایک تنبیہہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے کی اور بتایا کہ ہمیشہ جب قوم میں رفاہیت آتی ہے، ترقی آتی ہے تو ایک گروہ خراب ہو جاتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے اِس بات کو کہ ہم کیا تھے اور پھر کیا سے کیا بن گئے۔ قرآن۔کریم میں ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ اِسی مضمون کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب انہیں یاد دلایا جاتا ہے کہ تمہاری کیا حیثیت تھی، تمہیں تو جو کچھ حاصل ہوا ہے محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوا ہے۔ تو وہ کہتے ہیں نہیں ہم نے جو کچھ حاصل کیا ہے اپنے علم اور زور سے حاصل کیا ہے۔2
    میں دیکھتا ہوں کہ اِس قسم کی کیفیت ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں بھی پیدا ہو رہی ہے حالانکہ قرآن کریم نے واضح الفاظ میں تنبیہہ کر دی تھی اور بتا دیا تھا کہ تمہیں عزت ملے گی اور ملے گی اسلام کی وجہ سے۔ مگر تم نے اتنا مغرور ہو جانا ہے کہ حرث اور نسل کو تباہ کرنا شروع کر دینا ہے۔ پھر فرماتا ہے۔3 جب اُسے کہا جائے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ تم دو کوڑی کے بھی آدمی نہیں تھے۔ تمہیں تو جو کچھ ملا ہے سلسلہ کی وجہ سے ملا ہے۔ تمہارا تو فرض ہے کہ سلسلہ کے اموال اور اُس کی جائیدادوں کی حفاظت کروتو وہ کہتا ہے میری ہتک کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہاں ممکن ہے تم لوگوں کو فریب دے لو لیکن آخر جہنم تمہارا ٹھکانہ ہے۔ اور وہ بہت بُرا ٹھکانہ ہے۔ جہنم بیشک اگلے جہان میں ہے لیکن ایک جہنم ایسے انسان کے لیے اِس جہان میں پیدا کر دیا جاتا ہے۔ جب شریف انسان مقابلہ میں کھڑا ہو جائے تو اُسے ایسا جواب مل جاتا ہے کہ یہی دنیا اُس کے لیے جہنم بن جاتی ہے۔
    دیکھو! ایک غیراحمدی اگر لکھتا ہے کہ مجھے اپنے علم اور اپنی طاقت کے زور سے فلاں عزت ملی ہے تو اَور بات ہے لیکن ایک احمدی جو بالکل کم حیثیت تھا اگر اُسے سلسلہ کی وجہ سے مال مل گیا ہے، اگر سلسلہ کی وجہ سے اسے عزت حاصل ہو گئی ہے، اگر سلسلہ کی وجہ سے اسے کوئی پوزیشن حاصل ہو گئی ہے، اگر سلسلہ کی وجہ سے وہ کارخانوں کا مالک بن گیا ہے تو خدا تو اُسے کہے گا کہ تیرے کپڑے کا ہر تار اور تیرے گوشت کی ہر بوٹی اور تیرے آٹے کا ہر ذرہ احمدیت کا ممنونِ۔احسان تھا۔ پھر تُو نے کیوں غرور کیا اور تکبر سے اپنا سر اونچا کیا؟ بڑا غرور یہ ہوتا ہے کہ ہم نے سلسلہ کی خدمت کی ہے اور خدمت یہ ہوتی ہے کہ دس یا پندرہ روپیہ چندہ دیا ہوتا ہے حالانکہ میں بھی ہوں، ہزاروں روپیہ چندہ دیتا ہوں اور سارا دن مفت کام کرتا ہوں۔ اگر دس یا پندرہ روپے دینے کی وجہ سے اُن کا حق ہے کہ وہ سلسلہ کے اموال سے ناجائز فائدہ اُٹھائیں تو پھر میرا تو یہ حق ہونا چاہیے کہ میں سلسلہ کی ساری جائیدادوں پر قبضہ کر لوں کیونکہ میں نے پچاس سال تک مفت کام کیا ہے اور لاکھوں روپیہ چندوں میں دے چکا ہوں لیکن یہ بیہودہ بات ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اُس نے مجھے نیکی کی توفیق دی۔ اگر اُس کا فضل شاملِ حال نہ ہوتا تو میں اتنی خدمت نہ کر سکتا۔
    حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ جن کے دلوں میں نیکی ہوتی ہے وہ جس قدر خدمت سرانجام دیتے ہیں اُسی قدر اُن خدمات کو خداتعالیٰ کا احسان سمجھتے ہیں۔ لیکن ایک اَور آدمی دس۔ہزارواں حصہ بھی چندہ نہیں دیتا اور وہ چند روپوں کا احسان جتا کر سلسلہ کے اموال پر ناجائز قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ اِس قسم کی بے۔شرمی اور بے۔حیائی کرنے والے کو مسلمان کہلانا تو۔الگ رہا، انسان کہلاتے ہوئے بھی شرم آنی چاہیے۔ یہ ویسے ہی لوگ ہیں جیسے قرآن۔کریم میں آتا ہے کہ 4یعنی یہ لوگ اپنی بے۔حیائی اور بے۔شرمیوں کی وجہ سے جانوروں سے بھی بدتر ہیں، کُتّوں میں بھی حیا پائی جاتی ہے اور جس ہاتھ سے وہ روٹی کھاتے ہیں اُس کو نہیں کاٹتے۔ مگر یہ جس ہاتھ سے روٹی کھائیں گے اُسی کو کاٹیں گے اور جس کی وجہ سے انہیں اعزاز حاصل ہوا ہے اُس کو نقصان پہنچائیں گے۔ پس یقیناً اِن سے کُتّا افضل ہے اور یہی قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے۔ کُتّوں میں جب جنون کا مادہ پیدا ہو جائے تو اُس وقت وہ زنجیریں تُڑوا کر بھاگ جاتے ہیں تا کہ وہ اس جنون کی حالت میں بھی اپنے مالک یا اُس کے بچہ یا اُس کی بیوی یا اُس کے نوکر کو نہ کاٹ لیں۔ پس جو حرکت ایک کُتّا اپنے جنون کی حالت میں بھی نہیں کرتا اگر وہی حرکت بعض لوگ عقلِ۔سلیم رکھتے ہوئے کریں اور پھر یہ خیال کریں کہ ہم اُن کو انسان سمجھیں تو یہ اُن کی بیوقوفی ہو گی اور یا پھر وہ ہم کو بیوقوف سمجھتے ہوں گے کہ ہم اُن کو اِس حالت میں بھی انسان سمجھیں‘‘۔
    (الفضل 28ستمبر1960ئ)

    1
    :
    البقرۃ:205،206
    2
    :
    (الزمر:50)
    3
    :
    البقرۃ:207
    4
    :
    الاعراف:180


    اِس دنیا میں توحید کے بعد سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ سچ کو اختیار کیا جائے
    ہماری جماعت کے ہر فرد کو یہ عہد کر لینا چاہیے کہ اس نے بہرحال سچ بولنا ہے
    (فرمودہ 30 جولائی1954ء بمقام ناصرآباد سندھ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ مومنوں کو ایک نصیحت فرماتا ہے کہ1تم راستبازوں کی جماعت میں شامل ہو جاؤ۔ قرآن کریم میں مَعَ کا لفظ ’’سے‘‘ اور ’’میں‘‘ کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ2یعنی اے خدا! ہمیں ابرار میں شامل کر کے وفات دیجیو۔ اِس کا یہ مطلب نہیں کہ ابرار مریں تو ہم بھی مر جائیں۔ اِسی طرح کے یہ معنے نہیں کہ خود تو سچ نہ بولو لیکن سچوں کے ساتھ بیٹھا کرو بلکہ اِس کے معنے یہ ہیں کہ سچوں کی جماعت میں شامل ہو جاؤ۔
    حقیقت میں توحید کے بعد سب سے بڑی نیکی اور سب سے بڑا مشکل کام جو محسوس دنیا میں انسان کے سامنے پیش آتا ہے وہ سچائی ہی ہے۔ ہزارہا انسان ایسے دیکھے جاتے ہیں جو رحم کرنے والے بھی ہوتے ہیں،انصاف کرنے والے بھی ہوتے ہیں۔ لیکن جب انہیں گواہی دینی پڑے اور وہ یہ دیکھیں کہ اس کے نتیجہ میں ان کی اپنی ذات کو یا ان کے کسی رشتہ دار یا دوست کو نقصان پہنچے گا تو وہ اس میں کچھ نہ کچھ تبدیلی کر دیں گے۔ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کا کچھ نہ کچھ باعث آجکل کی اخلاقی حالت بھی ہے۔ جن لوگوں کے سامنے واقعات بیان کیے جاتے ہیں وہ سچ کی قیمت کو نہیں سمجھتے۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ اس نے جتنا سچ بولا ہے مجبوراً بولا ہے ورنہ اَور سچ بھی اس کے پیچھے ہے۔ مثلاً ایک شخص نے دوسرے کو تھپڑ مار دیا۔ وہ کہتا ہے میں نے تھپڑ اس لیے مارا ہے کہ مجھے اشتعال آ گیا تھا لیکن اب بجائے اِس کے کہ جج اس کی قدر کرے اور کہے کہ اس نے سچ بولا ہے وہ کہتا ہے کہ اس نے ضرور پانچ تھپڑ مارے ہوں گے۔ صرف ایک تھپڑ کا اس نے اقرار کیا ہے۔ غرض جھوٹ دنیا میں اتنا سرایت کر گیا ہے کہ کیا جج اور کیا وکیل اور کیا دوسرے لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ کوئی شخص سَوفیصدی بھی سچ بول سکتا ہے۔ چونکہ اُن کا اپنا ماحول ایسا ہوتا ہے کہ اُن کے دوست اور رشتہ دار جھوٹ بولتے ہیں اس لیے اگر ان کے سامنے کوئی سچ بولے تو اس کی قدر نہیں کی جاتی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جھوٹ لوگ ضرور بولتے ہیں۔ اس لیے اس نے بھی کچھ نہ کچھ جھوٹ ضرور بولا ہو گا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سچ بولنے والا گھبرا جاتا ہے اور گھبرا کر خود بھی جھوٹ بولنے لگ جاتا ہے۔ لیکن مومن کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ اُس کے گِردوپیش کے لوگ کیا کہتے ہیں بلکہ اُسے یہ دیکھنا چاہیے کہ خدا کیا کہتا ہے۔ آخر ایمان کے کچھ نہ کچھ معنے تو ہونے چاہییں۔ جب ایک شخص ایمان کی وجہ سے ساری دنیا سے لڑائی جھگڑا کرتا ہے، فساد مول لیتا ہے تو اِس کے کچھ معنے تو۔ہونے چاہییں۔ اور ایمان کے کم سے کم معنے یہ نہیں کہ ایک انسان یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اُسے خدا دوسری تمام چیزوں سے مقدم ہے۔ اب جن چیزوں کو وہ مؤخر قرار دیتا ہے اگر اُن کو مقدم کرنے لگ جائے تو اُس کا ایمان کہاں باقی رہتا ہے۔ ایک طرف خدا کہتا ہے کہ سچ بولو اور دوسری طرف اُس کے ساتھی کہتے ہیں کہ جھوٹ بولو۔ چاہے منہ سے کہیں اور چاہیں عمل سے کہیں،دونوں طریق ہوتے ہیں۔ کبھی انسان دوسرے کو کہتا ہے کہ جھوٹ بولو اور کبھی دوسرا جھوٹ بولتا ہے تو اُسے منع نہیں کرتا اور اِس طرح جھوٹ کی تائید کرنے والا بن جاتا ہے۔
    بہرحال خدا کا منشا یہ ہے کہ ہم سچ بولیں۔ اب اگر ہم جھوٹ بولیں اورسچائی کو چھپائیں تو ہماری نگاہ میں خدا کی کوئی قدر نہ رہی۔ یا یوں کہو کہ ہم خدا کی بادشاہت کو قائم کرنے کی بجائے شیطان کی بادشاہت کو دنیا میں قائم کرنے والے بن جائیں گے۔ آخر خدا کی بادشاہت اس طرح تو قائم نہیں ہو گی کہ لندن یا پیرس یا واشنگٹن یا نیویارک جیسا مقام آباد کیا جائے گا۔ ایک بہت بڑا تخت بچھایا جائے گا اور پھر ایک بڑا تاج تیار کیا جائے گا جو جواہرات اور ہیروں سے مرصّع ہو گا۔ اور پھر ایک دن مقرر کیا جائے گا جس میں اللہ تعالیٰ آسمان سے اُترے گا، اُسے خلعت پہنایا جائے گا، اُس کے سر پر تاج رکھا جائے گا اور اعلان کیا جائے گا کہ آج خدا کی حکومت دنیا میں قائم ہو گئی ہے۔ ہر عقلمند انسان سمجھ سکتا ہے کہ یہ خدا سے تمسخر ہے۔ اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ اس طرح خدا کی بادشاہت قائم ہو گی تو وہ دین کو کھیل بناتا اور ایک بہت بڑی معصیت کا ارتکاب کرتا ہے۔
    ہم جو کہتے ہیں کہ دنیا میں خدا کی بادشاہت قائم ہو تو اِس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ لوگ اس کی باتیں ماننے لگ جائیں۔ جب ہم کہتے ہیں کہ فلاں کی حکومت قائم ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ لوگوں پر اُس کے احکام کی اطاعت فرض ہے۔ اگر لوگ اس کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو حکومت کے افسر اور ذمہ دار کارکن اور جج سب اس کے مخالف ہو جاتے ہیں اور اُسے سزا دیتے ہیں۔ جب یہی بات خداتعالیٰ کے متعلق ہو جائے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ دنیا میں خداتعالیٰ کی بادشاہت قائم ہو گئی ہے۔ جس طرح حکومت کہتی ہے کہ ٹیکس دو اور لوگ ٹیکس دیتے ہیں اور جو لوگ ٹیکس نہیں دیتے وہ پکڑے جاتے ہیں۔ افسرانِ۔بالا تک رپورٹ کی جاتی ہے کہ فلاں نے ٹیکس نہیں دیا۔ پھر تحصیلدار آتا ہے اور اس پر ٹھپّہ لگ جاتا ہے۔ ٹھپّہ لگنے کے بعد وہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوتا ہے اور وہ اُسے جرمانہ یا قید کی سزا دیتا ہے۔ اِس طرح خداتعالیٰ کی بادشاہت بھی اُسی صورت میں قائم ہو سکتی ہے جب اللہ۔تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کی جائے۔ اور جو لوگ اُن احکام کی خلاف ورزی کریں اُن۔کے ہم مخالف ہو جائیں۔ خدا نے کہا ہے کہ سچ بولو۔ اب ہمارا فرض ہے کہ ہم سچ بولیں اور۔جو۔شخص نہیں بولتا اُس کے مخالف ہو جائیں اور اُس کا ساتھ دینے سے انکار کر دیں۔ جب۔باپ۔کو سرکاری ہتھکڑی لگ جاتی ہے تو کیا اُس کے بیٹے کو کبھی جرأت ہوتی ہے کہ وہ اُس ہتھکڑی کو اُتار دے؟ یہ جرأت کیوں نہیں ہوتی؟ اس لیے کہ دنیا میں حکومت قائم ہوتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے اس کے احکام میں مداخلت کی تو مجھے سزا دی جائے گی۔ لیکن خدا کے معاملہ میں لوگ بڑے اطمینان سے دوسرے کی تائید کرنے لگ جائیں گے۔ ایک جھوٹ بولے گا تو دوسرا اس کی تائید کرے گا۔ یا قاضی کے سامنے معاملہ جائے گا تو بیٹا کہے گا کہ میرا باپ تو وہاں تھا ہی نہیں۔ وہ تو فلاں جگہ تھا۔ حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہوتا ہے۔ یہ جھوٹ کی تائید اس لیے کی جاتی ہے کہ خدائی ہتھکڑی کا خوف نہیں ہوتا۔ اگر خوف ہوتا تو اس کے احکام کی کیوں اطاعت نہ کی جاتی۔
    غرض اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں نصیحت فرماتا ہے کہتم اپنے آپ کو صادقوں اور راستبازوں میں شامل کرو اور ہمیشہ سچ بولو۔ جب یہ روح کسی جماعت میں پیدا ہو جائے اور اِس روح کا پیدا کرنا انسانوں کے اپنے اختیار میں ہے فرشتوں نے یہ چیز پیدا نہیں کرنی تو پھر اُس جماعت کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اور یہ روح اِسی صورت میں پیدا ہو سکتی ہے جب سچی گواہی دیتے وقت انسان، نہ اپنے باپ سے ڈرے، نہ اپنے بیٹے سے ڈرے، نہ ماں سے ڈرے، نہ بہن سے ڈرے،نہ بھائی سے ڈرے، نہ دوست سے ڈرے اور نہ کسی اَور رشتہ دار سے ڈرے۔ ایک باپ اگر جھوٹ کی جرأت کرتا ہے تو اِسی لیے کہ وہ سمجھتا ہے ،میرا بیٹا میری تائید کرے گا یا میری بیوی میری تائید کرے گی۔ لیکن اگر عدالت میں معاملہ پیش ہو اور بیٹا کہے کہ یہ ہیں تو میرے باپ لیکن انہوں نے یہ بات کی ہے۔ بیوی کہے کہ یہ ہیں تو میرے خاوند لیکن انہوں نے یہ بات کی ہے، تو دوسرے ہی دن وہ جھوٹ چھوڑ دے گا۔ وہ اگر جھوٹ بولتا ہے تو اِس لیے کہ اس کے افعال پر پردہ پڑا رہے۔ بھائی اس لیے جھوٹ بولتا ہے کہ دوسرا بھائی اُس کی ہاں میں ہاں ملا دے گا، بیٹا اِس لیے جھوٹ بولتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ میرا باپ میری تائید کرے گا، خاوند اس لیے جھوٹ بولتا ہے کہ سمجھتا ہے کہ میری بیوی میرے عیب کو چُھپا لے گی اور میری تصدیق کرے گی،بیوی اگر جھوٹ بولتی ہے تو اس لیے کہ وہ سمجھتی ہے میرا خاوند میرا ساتھ دے گا۔ لیکن اگر وہ سچے مسلمان ہوں اور کے حکم پر چلنے والے ہوں تو باپ کے خلاف بیٹا گواہی دینے کے لیے کھڑا ہو جائے گا اور خاوند کے خلاف بیوی گواہی دینے کے لیے کھڑی ہو جائے گی اور وہ بالکل گھبرا جائے گا اور کہے گا کہ ایسی حالت میں میرا جھوٹ بولنا بے۔فائدہ ہے۔ اور اس روح کا اپنے اندر قائم کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔ جب انسان ارادہ کرلے تو پھر وہ بڑے سے بڑا کام بھی کر سکتا ہے۔ بلکہ عورتیں بھی اگر جرأت سے کام لیں تو وہ ایمان کا حیرت انگیز مظاہرہ کرتی ہیں۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک دفعہ ایک نوجوان رشتہ کرنے کا خواہشمند تھا۔ اُسے ایک لڑکی اپنے رشتہ کے لیے پسند آئی۔ اس نے لڑکی کے باپ سے جا کر کہا کہ مجھے اَور تو سب باتیں پسند ہیں، لڑکی میں تعلیم بھی ہے، اخلاق بھی ہیں، خاندانی وجاہت بھی ہے، میں صرف اِتنا چاہتا ہوں کہ ایک دفعہ لڑکی کو دیکھ لوں کیونکہ میں نے ساری عمر اس کے ساتھ نباہ کرنا ہے۔ یہ بات سُن کر لڑکی کا باپ خفا ہو گیا اور اُس نے کہا نکل جاؤ میرے گھر سے (پردہ کا حکم اُس وقت نازل ہو چکا تھا)۔ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے تمام واقعہ بیان کیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پردہ کا حکم غیرعورتوں کے لیے ہے۔ شادی کے لیے اگر انسان کسی لڑکی کو دیکھنا چاہے تو دیکھ سکتا ہے کیونکہ اس نے ساری عمر اس کے ساتھ رہنا ہوتا ہے۔ اُس نے لڑکی کے باپ کو جا کر کہہ دیا کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تھی۔ آپؐ نے فرمایا ہے کہ لڑکی دیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ اب چونکہ مسلمانوں میں پردہ کا رواج ہو چکا تھا اس لیے انہیں یہ عجیب بات نظر آتی تھی ورنہ پہلے تو عورتوں کا ناچنا اور گانا بھی اُنہیں بُرا نہیں لگتا تھا۔ بہرحال جب اُس نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکی کو دیکھنے کی اجازت دی ہے تو اُس نے کہا کہ میں ایسا بے غیرت نہیں ہوں کہ اپنی لڑکی تجھے دکھا دوں۔ اندر اُس کی بیٹی بیٹھی ہوئی تھی۔ اُس نے جب یہ سنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لڑکی کو دیکھ لینا جائز ہے اور اس کا باپ کہتا ہے کہ میں بے۔غیرت نہیں تو چونکہ اُس کے اندر ایمان تھا اُسے غصہ آیا اور وہ اپنا۔نقاب اُتار کر ننگے منہ اُس کے سامنے آ گئی اور کہنے لگی میرے باپ کا کیا اختیار ہے؟ جب۔رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دیکھنا جائز ہے تو یہ کون ہے روکنے والا۔3 اس۔کی۔اس نیکی کا اُس لڑکے پر اتنا اثر ہوا کہ اس نے اپنا منہ پھیر لیا اور وہ کہنے لگا خدا کی قسم! میں تیرے ساتھ بغیر دیکھے ہی شادی کروں گا۔ جس عورت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا اتنا احترام کیا ہے کہ اپنے باپ کو اس نے ٹھکرا دیا ہے میں گناہ سمجھتا ہوں کہ اُس کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھوں۔
    تو عورتیں بھی ایسا کرتی ہیں۔ صرف ارادہ ہونا چاہیے۔ اگر تم ارادہ کر لو تو تمہارے لیے چھوٹے سے چھوٹے ارادہ سے ہی قوم کی حالت بدل سکتی ہے۔ اگر ہر بچہ، ہر بوڑھا، ہر جوان، ہر مرد اور ہر عورت یہ عہد کر لے کہ میں نے سچ بولنا ہے، چاہے اِس کے نتیجہ میں مَیں کسی مقدمہ میں پھنس جاؤں یا پھانسی پر چڑھ جاؤں تو تھوڑے دنوں میں ہی تم اپنے اندر ایک عظیم الشان تغیر محسوس کرنے لگو گے۔ یہ مت خیال کرو کہ سچ بولنے پر پھانسی ملتی ہے۔ جو شخص سچ بولنے والا ہو وہ ایسے کام ہی نہیں کرتا جن کے نتیجہ میں اُسے پھانسی ملے۔ لیکن جھوٹ بولنے والا سمجھتا ہے کہ اگر میں نے جھوٹ بولا تو شاید بچ جاؤں۔ اس لیے وہ دلیری سے ایسے افعال میں مبتلا ہو جاتا ہے جن کا نتیجہ بعض دفعہ نہایت خطرناک ہوتا ہے۔ اور یا پھر سچ بولنے والا اُس وقت پھانسی چڑھتا ہے جب وہ سمجھتا ہے کہ اب میرا مذہبی فرض ہے کہ میں اپنی جان پیش کر دوں۔ پھر وہ دلیری کے ساتھ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے بیشک پھانسی دے دو۔
    یاد رکھو! قوم کی عزت کو اونچا کرنا افراد کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور سچ ایسی چیز ہے جس سے قوم کی عزت اور اس کا وقار قائم ہوتا ہے۔ اس میں نہ روپے کا سوال ہوتا ہے نہ علم کا سوال ہوتا ہے، نہ طاقت کا سوال ہوتا ہے، نہ کسی فن کے جاننے کا سوال ہوتا ہے۔ چندے کا سوال آئے تو غریب کہہ دیتے ہیں کہ ہم کہاں سے دیں، جہاد کا سوال آئے تو ناواقف لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ہم لڑنا نہیں جانتے، علم کا سوال آئے تو بے۔علم لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ہم کیا خدمت کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ ایسا کام ہے جس میں غریب اور امیر اور چھوٹے اور بڑے کا کوئی امتیاز نہیں۔ دنیا میں کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے سچ بولنا آتا نہیں کیونکہ سچ بولنا سکھایا نہیں جاتا بلکہ جھوٹ بولنا سکھایا جاتا ہے۔ اِس وقت تم مسجد میں بیٹھے ہو اگر تم سے کوئی پوچھے کہ تم فلاں وقت کہاں تھے؟ تو تم فوراً کہہ دو گے کہ ہم مسجد میں بیٹھے تھے۔ لیکن اگر تم جھوٹ۔بولنا۔چاہو تو تم سوچو گے کہ میں کس کا نام لوں اور کہوں کہ میں اُس کے پاس بیٹھا تھا۔ پہلے ایک کا نام تمہارے ذہن میں آئے گا پھر تم کہو گے کہ ممکن ہے وہ انکار کر دے۔ اِس۔لیے کسی ایسے دوست کا نام لینا چاہیے جو میری تائید کرے۔ لیکن سچ کے لیے تمہیں کسی غور کی ضرورت نہیں ہو گی۔
    پس سچ ایسی چیز ہے جو کسی کو سکھایا نہیں جاتا اور قوم کا ہر فرد اس نیکی کو بڑی آسانی کے ساتھ اپنے اندر پیدا کر سکتا ہے۔ خواہ کوئی کتنا غریب ہو، جاہل ہو، علوم و فنون سے ناواقف ہو وہ سچ بول سکتا ہے۔ اگر کہا جائے کہ نمازیں پڑھو تو بعض لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں نماز نہیں آتی۔ ہمیں نماز سکھائی جائے۔ اگر کہا جائے کہ زکوٰۃ دو تو بعض لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے پاس مال نہیں۔ اگر کہا جائے کہ دوسروں کو علم پڑھاؤ تو بعض لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ہم خود جاہل ہیں ہم کسی کو کیا پڑھائیں۔ اگر کہا جائے کہ لڑائی کے لیے چلو تو بعض لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ہم لڑنا نہیں جانتے۔ لیکن اگر یہ کہا جائے کہ سچ بولو تو کوئی مرد اور کوئی۔عورت،کوئی بچہ اور کوئی بوڑھا، کوئی جوان اور کوئی اُدھیڑ۔عمر نہیں کہہ سکتا کہ مجھے سچ بولنا نہیں آتا۔ غرض یہ ایک ایسی چیز ہے کہ اِس سے زیادہ آسان اَور کوئی چیز نہیں۔ مگر قومیں اِس کے۔لیے تیار نہیں ہوتیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ یورپ اور امریکہ کی قومیں دنیا کی دوسری اقوام سے اِس بارہ میں بہت آگے ہیں۔ ان میں سے اکثر لوگ ذاتی معاملات میں سچ بولتے ہیں۔ گو قومی معاملات میں وہ بھی جھوٹ بول لیتے ہیں اور کوئی کوئی مجرم، ذاتی معاملہ میں بھی جھوٹ بول لیتا ہے لیکن اکثریت سچ پر قائم رہتی ہے۔ اِس کے نتیجہ میں اُن کا رُعب بھی قائم ہے اور اثر بھی ہے۔ لیکن ہمارا رُعب اور اثر نہیں۔ مگر کم سے کم ہماری جماعت کو تو یہ مقام حاصل کرنا چاہیے اور سچ بولنے اور سچ کو قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے‘‘۔
    (الفضل 22فروری 1958ئ)

    1
    :
    التوبۃ:119
    2
    :
    آل عمران:194
    3
    :
    ابن ماجہ کتاب النکاح باب النظر الی المرأۃ اذا اراد ان یتزوجھا



    خدا نے اِس و قت تمہیں ثواب کا بہت بڑا موقع دیا ہے
    تم ذرا سی محنت اور توجہ سیاللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکتے ہو۔
    امانت کا طریق اختیار کروتبلیغ اور تعلیم کی طرف توجہ دو اور صفائی کو اپنا شِعار بناؤ
    (فرمودہ 6؍اگست1954ء بمقام محمد آباد سندھ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’چونکہ یہاں کی زمینوں میں سے ناصرآباد ایک طرف ہے اور محمد آباد دوسری طرف۔ اس لیے ہر سال ہی میری خواہش ہوتی ہے کہ میں ایک جمعہ محمد آباد میں پڑھاؤں۔ اَب کے بھی میں نے اِسی غرض کے لیے پروگرام تجویز کیا تھا اور میری خواہش تھی کہ میں جمعہ کے بعد بھی یہاں ڈیڑھ دن اَور ٹھہروں۔ لیکن یہاں آنے کے بعد یا تو موسم بدل گیا یا یہاں کا موسم ہی ایسا ہے کہ اِس کی وجہ سے طبیعت سخت خراب ہو گئی اور زخم کے مقام پر جو درد ہوا کرتا تھا اور جس میں کراچی کی ٹھنڈک کی وجہ سے کمی آ گئی تھی اور ناصرآباد اور محمو دآباد میں بھی کمی رہی وہ تکلیف تیز ہو کر زخم میں پھر درد شروع ہو گیا اور مجھے اپنا پروگرام بدلنا پڑا۔ہمارا ارادہ تو جمعرات کو ہی واپس جانے کا تھا مگر چونکہ جمعرات کے دن ناصرآباد میں اطلاع نہیں بھجوائی جاسکتی تھی اور پھر جمعہ آ رہا تھا اور میری خواہش تھی کہ میں ایک جمعہ یہاں ضرور پڑھاؤں اِس۔لیے میں نے فیصلہ کیا کہ جمعہ کے بعد یہاں سے روانگی ہو۔ گو اس وجہ سے کہ یہ جمعہ جلدی پڑھایا جا رہا ہے بعض لوگ جو گاڑی میں یہاں آ رہے ہوں گے رہ جائیں گے مگر ان کی نیت کا ثواب اُن کو مل جائے گا۔ میں نے اِس سفر میں یہ محسوس کیا ہے کہ اب خداتعالیٰ کے فضل سے ایک حد تک یہاں جماعتیں زیادہ ہو چکی ہیں اور خداتعالیٰ کے فضل سے انجمن کی اسٹیٹوں میں کام بھی پہلے سے بہتر ہے۔
    میں نے پچھلے سال بھی احمدآباد میں ذکر کیا تھا کہ ہمیشہ میری ذاتی آمدن فی ایکڑ انجمن کی زمینوں سے زیادہ رہی ہے اور میں ہمیشہ دل میں محسوس کرتا تھا کہ جو لوگ حالات سے ناواقف ہیں اور یہ جانتے نہیں کہ سب اسٹیٹوں کا اکٹھا انتظام ہے وہ یہ خیال کریں گے کہ۔میں اپنی زمینوں کی طرف زیادہ توجہ دیتا ہوں اور میں خواہش کیا کرتا تھا کہ انجمن کی زمینوں کی آمد زیادہ ہو۔ چنانچہ اِس سال دونوں کی آمد میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے یعنی ان زمینوں کی آمد پہلی نسبت سے ڈیڑھ گُنے ہو گئی ہے اور میری زمینوں کی آمد نصف سے کم پر آگئی ہے۔ گویا حسابی طور پر یہاں کی زمینوں کی آمد اب میری فی ایکڑ آمد سے تین چار گُنے بڑھ گئی ہے اور یہ اِس بات کی ایک خوشکن علامت ہے کہ اب ان اسٹیٹوں نے ترقی کی طرف قدم بڑھانا شروع کر دیا ہے اور اگر چند سال یہی کیفیت رہی تو امید ہے کہ اس آمدن میں اَور بھی ترقی ہو جائے گی۔ پنجاب میں اگر اچھی زمین ٹھیکہ پر دی جائے تو عموماً سَو روپیہ فی ایکڑ مل جاتا ہے یعنی پچیس سَوروپیہ پر ایک مربع ٹھیکہ پر چڑھتا ہے۔ بلکہ باجوہ صاحب جو وکیل۔الزراعت ہیں اُن کے بعض مربعے بتیس بتیس سَو پر بھی ٹھیکے پر چڑھے ہیں۔ اگر فی مربع پچیس۔سَو ہی سمجھا جائے تو اِس لحاظ سے تحریک کی زمینوں کی آمد دس لاکھ روپیہ سالانہ ہونی چاہیے۔ مگر چند۔سال پہلے یہ حالت تھی کہ اگر ہمیں تیس ہزار روپیہ بھی مل جاتا تو ہم بڑا فخر کیا کرتے تھے۔ جاپان اور امریکہ وغیرہ ممالک میں زمینوں کی جو آمدن ہے وہ تو ہمارے وہم اور گمان میں بھی نہیں آ سکتی۔ لیکن ربوہ کے قریب چنیوٹ میں بھی چارپانچ ہزار پر مربع چڑھ جاتا ہے۔ اور چونکہ تحریک جدید اور صدرانجمن احمدیہ کے یہاں پانچ سَو سے زائد مربعے ہیں اس لحاظ سے ہماری بیس لاکھ کی آمد ہونی چاہیے اور اگر اس کو مدنظر رکھا جائے کہ لاہور میں گیارہ سے پندرہ ہزار پر مربع چڑھتا ہے تو پھر ہماری ساٹھ لاکھ آمد ہونی چاہیے۔ جاپان اور امریکہ میں جو آمدنیں ہیں ان کی تو کوئی حد ہی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دو ہزار روپیہ فی ایکڑ آمد پیدا کرنی چاہیے۔ یعنی پچاس ہزار روپیہ فی مربع۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس ملک میں بھی بعض ایسے مربعے ہیں۔ چنانچہ میرے ایک عزیز نے بتایا کہ میں نے سرکاری ریکارڈ میں ایک مربع دیکھا ہے جو پچپن ہزار روپیہ سالانہ مقاطعہ1 پر دیا گیا تھا۔ گویا وہی دوہزارروپیہ فی ایکڑ۔ پس کوئی نہ کوئی مثال تو یہاں بھی مل جاتی ہے مگر یہ کہ سارے ملک کی پیداوار اس نسبت پر آ جائے یہ ہمارے ملک میں ناممکن سمجھا جاتا ہے۔ اٹلی وغیرہ میں چارچار، پانچ پانچ سَوروپیہ فی ایکڑ حاصل کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہاں کی زمینوں کی آمد پچاس لاکھ روپیہ سالانہ تو ضرور ہوجانی چاہیے۔ اگر ایسا ہو جائے تو ہمارا تبلیغی کام بھی آسان ہو جاتا ہے اور دوسرے بوجھ بھی ہلکے ہو سکتے ہیں۔ بہرحال یہ ایک خوشکن علامت ہے اس بات کی کہ اگر ہمارے کارکن اسی طرح کام کرتے رہے تو ہماری آمد خداتعالیٰ کے فضل سے بڑھتی چلی جائے گی۔ پیچھے تو ہم اتنے مایوس ہو چکے تھے کہ جب مجلس شورٰی میں یہ بیان کیا گیا کہ ہمیں تحریک کی زمینوں سے ایک لاکھ کی آمد ہوئی ہے تو چودھری ظفراللہ خاں صاحب نے جھک کر میرے کان میں کہا کہ مجھے اس خبر سے بڑی خوشی ہوئی ہے کہ ہمیں ان زمینوں سے ایک لاکھ کی آمد ہوئی ہے۔ میں نے اس وقت اپنے دل میں کہا کہ یہ تو ہمارے لیے بڑی شرم کی بات ہے کہ ہمارا چارسَو مربع ہو اور ایک لاکھ کی آمد ہو۔ چارسَو مربع کے ہوتے ہوئے ایک لاکھ کی آمد کے معنے ہی کوئی نہیں۔ پنجاب میں آجکل کوئی مربع اڑھائی تین سَو یا چارسَوروپیہ مقاطعہ پر نہیں ملتا۔ بہت ہی بُری اور ناکارہ زمین ہو تب بھی سات سات، آٹھ آٹھ سَو پر ملتی ہے۔ مجھے اپنی قادیان کی زمینوں کے بدلہ میں جو پنجاب میں زمین ملی ہے اس کا ایک مربع جو تین ٹکڑوں میں تقسیم شدہ ہے دوہزار روپیہ ٹھیکہ پر میں نے دیا ہے۔اگر ٹکڑوں میں بٹی ہوئی زمین بھی دوہزار روپیہ پر چڑھ سکتی ہے اور وہی اندازہ ہم اپنی ان زمینوں کے لیے رکھ لیں تب بھی ہماری آٹھ لاکھ روپیہ سالانہ آمد ہونی چاہیے مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہمیں آمد کے متعلق اتنی مایوسی ہو چکی تھی کہ چودھری ظفراللہ خاں صاحب نے مجھے کہا کہ مجھے یہ سن کر بڑی خوشی ہوئی ہے کہ ہمیں ایک لاکھ روپیہ آمد ہوئی ہے حالانکہ تیس لاکھ کی جائیداد ہے۔ تیس لاکھ کی جائیداد پر ایک لاکھ روپیہ نفع کے معنے تین روپیہ سینکڑہ کے ہیں۔ اگر کسی کو سالانہ تین روپے سینکڑہ نفع دیا جائے تو وہ ہزارروپیہ کا سرمایہ کیوں لگائے گا۔ وہ اگر ہزار روپیہ سرمایہ لگاتا ہے تو اِسی لیے کہ اُسے اڑھائی تین سَو روپے ملیں۔اگر کسی کو صرف تیس روپے سالانہ ملیں تو کیا اڑھائی روپے ماہوار پر اُس کی عقل ماری ہوئی ہے کہ وہ ہزارروپیہ سرمایہ لگائے گا۔ وہ اس کی بجائے بیلدار بن جائے گا یا کوئی اَور کام شروع کر دے گا مگر ہزارروپیہ کا سرمایہ لگانے کے لیے تیار نہیں ہو گا۔ وہ تبھی ہزار لگاتا ہے جب سمجھتا ہے کہ پچاس ساٹھ ماہوار تو کم سے کم آمد ہو گی۔ اتنا کرایہ دوں گا اور اتنے میں اپنا گزارہ کروں گا۔ تو حقیقتاً ہم نہایت ہی گری ہوئی حالت میں جا رہے تھے۔ ایسی گری ہوئی حالت میں کہ چودھری ظفراللہ خاں صاحب ایک لاکھ کی آمد سن کر ہی خوش ہو گئے۔ حالانکہ ہم نے دیکھنا یہ نہیں کہ ہمیں آمد کتنی ہوئی بلکہ ہمیں دیکھنا یہ چاہیے کہ ہمارا خرچ کتنا ہوا۔ اب تیس لاکھ کی جائیداد ہے۔ اگر دس فیصدی بھی منافع لگایا جائے تب بھی چھ لاکھ منافع ہونا چاہیے۔ مگر بہرحال چونکہ یہ ایک نیک قدم اُٹھا ہے اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ محمدآباد میں ایک مڈل سکول قائم کیا جائے۔ چنانچہ میں نے یہاں کے افسروں سے کہا ہے کہ وہ اِس جگہ مڈل اسکول قائم کرنے کی کوشش کریں۔ اِسی طرح میں نے فیصلہ کیا ہے کہ کُنری میں ایک ہوسٹل بنایا جائے جس میں لڑکے رہا کریں اور احمدی اُستاد اُن کی نگرانی کریں۔ اِس طرح آہستہ آہستہ تعلیمی لحاظ سے اِس علاقہ کے احمدیوں کی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔ اگر یہاں ایک اچھا مڈل اسکول بن جائے تو ہو سکتا ہے کہ بعد میں اسے ترقی دے کر میٹرک تک پہنچا دیا جائے۔ اردگرد کے لڑکے پرائمری پاس کر کے یہیں تعلیم کے لیے آ۔جایا کریں گے اور اِس طرح خداتعالیٰ کے فضل سے اِس اسکول کو ترقی ہوتی چلی جائے گی۔ ہوسٹل کے متعلق تجویز یہی ہے کہ اس میں زمینداروں والا طریق رکھا جائے یعنی باورچی انجمن۔دے دے اور لڑکے دال، آٹا اور سبزی وغیرہ گھر سے لے آیا کریں۔ گویا وہی خرچ جو ایک لڑکے کا اپنے گھر پر ہوتا ہے ہوسٹل میں ہو اور ماں باپ کو کوئی زائد بوجھ برداشت نہ کرنا پڑے۔ اس طرح ہر غریب سے غریب بھی اپنے بچوں کو تعلیم دلا سکے گا اور اس کی اچھی تربیت ہو سکے گی۔
    دوسرا حصہ تبلیغ کا ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ یہاں کی جماعتوں کو اِس طرف بہت ہی کم توجہ ہے۔ شاید اِس میں بڑی مشکل یہ ہے کہ یہاں ننانوے فیصدی پنجابی ہیں۔ اور ایک پنجابی کے لیے سندھیوں میں تبلیغ کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ اِس کی زبان اَور ہے اور اُس کی زبان اَور ہے۔ لیکن جب انسان کسی چیز کا ارادہ کر لے تو پھر وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے پنجاب سے مایوس ہو کر اب مولویوں نے اِس صوبہ کی طرف توجہ کی ہے۔ اگر یہاں شور ہوا تو پھر پنجاب والوں کو دلیری ہو جائے گی۔ پچھلی شورش میں سندھ محفوظ رہا تھا لیکن اب برابر خبریں آ رہی ہیں کہ سندھ میں فتنہ کو ہوا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پس ہمیں پہلے سے ہوشیار ہو جانا چاہیے۔ گورنمنٹ نے اپنی مصلحتوں کے ماتحت جن کو میں ٹھیک سمجھتا ہوں۔ سرکاری۔افسروں اور سرکاری ملازمین کو تبلیغ سے روک دیا ہے لیکن اِس کا عوام الناس سے کوئی تعلق نہیں۔ پس تمہیں کوئی قانون اپنے بھائی بندوں کو تبلیغ کرنے سے نہیں روک سکتابشرطیکہ تم امن سے کام لو اور فتنہ کو ہوا نہ دو۔ تمہیں صرف فساد سے روکا جاتا ہے۔ اورفساد اور تبلیغ کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک شخص دوسرے کو نیکی کی تلقین کرے اور پھر وہ خود ہی فساد کرنے لگ جائے۔ ہاں! اگر دوسرا شخص فساد کرتا ہے تو یہ اُس کی اپنی غلطی ہے۔ تبلیغ کرنے والے کا اس میں کوئی قصور نہیں۔
    میں دیکھتا ہوں کہ یہاں ہماری جماعت کے کثرت سے لوگ موجود ہیں مگر پھر بھی وہ تبلیغ نہیں کرتے۔ نصرت آباد اور جھڈو سے چلو اور ناصرآباد تک آؤ تو ایک ہزار کے قریب احمدی مرد مل جائے گا اور عورتیں اور بچے ملا کر چارپانچ ہزار تک ان کی تعداد ہو گی۔ یہ اتنی ہی تعداد ہے جتنی ابتدا میں قادیان کی ہوا کرتی تھی۔ مگر اُس وقت قادیان کی تبلیغ سے اردگرد کے کئی گاؤں احمدی ہو گئے تھے۔ صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ تم اپنے اندر نیکی پیدا کرو اور لوگوں کو نیک نمونہ دکھاؤ۔ اگر تم زیادہ محنت کرتے ہو تو جب لوگ تمہاری فصلوں کے پاس سے گزریں گے تو ہر دیکھنے والا تمہاری اچھی فصل کو دیکھ کر کہے گا کہ احمدی بڑے محنتی ہوتے ہیں۔ پھر جب دوبارہ گزرے گا تو تم کہو گے کہ کچھ دیر کے لیے ہمارے پاس بیٹھ جاؤ۔ گرمی کا موسم ہے کچھ پانی وغیرہ پی لو۔ اِس سے وہ اَور زیادہ متأثر ہو گا اور کہے گا کہ احمدی تو فرشتے ہوتے ہیں۔پھر کسی دن اگر اس کا تمہارے ساتھ معاملہ پڑے گا یا تمہارے پاس وہ کوئی امانت رکھ جائے گا یا تم سے سودا خریدے گا اور تم اُسے اچھا سودا دو گے یا امانت میں خیانت سے کام نہیں لو گے تو پھر تو وہ اتنا متأثر ہو گا کہ جس کی حد ہی کو ئی نہیں۔
    جب ہم قادیان سے نکلے ہیں تو اُس وقت انجمن کا بہت سا روپیہ اُدھر رہ گیا تھا اور اِدھر آمد اتنی کم ہو گئی کہ یا تو یہ حالت تھی کہ روزانہ چارچار، پانچ پانچ ہزار روپیہ آتا تھا اور یا لاہور میں ڈیڑھ دو روپیہ روزانہ تک آمد آ گئی۔ اُس وقت پہلا قدم میں نے یہ اُٹھایا کہ میں نے کہا ہم سب قیمتاً لنگر سے کھانا کھائیں گے مگر کھائیں گے وہی ایک ایک روٹی جو سب لوگوں کے لیے تقسیم ہوتی ہے۔ چنانچہ تین چار مہینے تک ہم ایسا ہی کرتے رہے۔ سب کے لیے ایک ایک روٹی اور لنگر کا سالن آتا رہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب لوگوں نے دیکھا کہ یہ اپنے پاس سے خرچ کر کے بھی ہمارے جیسا کھاتے ہیں تو اُن کے حوصلے بڑھ گئے اور اُن کی ہمتیں بلند ہو گئیں۔ بیشک کچھ لوگ گِر بھی گئے مگر اکثریت ایسی ہی تھی جو پھر ایک نئے عزم کے ساتھ کام کرنے کے قابل ہو گئی۔ پھر امانتوں کے متعلق میں نے حکم دیا کہ چاہے سارا خزانہ ختم ہو جائے جو لوگ اپنی امانتیں مانگنے آئیں اُن کو امانتیں دیتے چلے جاؤ۔ اُس وقت انجمن کا آٹھ۔دس لاکھ روپیہ اُدھر رہ گیا تھا۔ میرے دل میں اللہ تعالیٰ نے ڈالا کہ اس روپیہ کو جلدی نکلواؤ ورنہ یہ ضبط ہو جائے گا۔ چنانچہ میں نے انجمن والوں سے کہا کہ وہ جلدی روپیہ نکلوائیں۔ اللہ تعالیٰ کا فضل یہ ہوا کہ ہماری بڑی رقم ایک انگریزی بینک میں تھی۔ اُس نے فوراً وہ روپیہ اِدھر بینک میں منتقل کر دیا مگر پھر بھی کئی لاکھ اُدھر ضائع ہو گیا۔ اُس وقت افسروں کے پاس لوگ اپنی امانتیں مانگنے آتے تو وہ کہتے کہ کچھ ٹھہرو۔ ہم انتظام کر دیں گے۔ مجھے معلوم ہوا تو میں نے کہا کہ کسی کی امانت نہ روکو۔ اگر کوئی لاکھ مانگے تو اُسے لاکھ دے دو، پچاس۔ہزار۔مانگے تو پچاس ہزار دے دو۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دو تین مہینوں میں سترہ لاکھ روپیہ نکل گیا۔ ہمارے پاس کُل رقم اکیس لاکھ کے قریب تھی مگر سترہ لاکھ نکل جانے کے باوجود امانتوں کا چودہ پندرہ لاکھ پھر بھی ہمارے پاس جمع رہا۔ اس لیے کہ جو شخص ایک لاکھ روپیہ نکال کر لے جاتا وہ اپنے دل میں سوچتا کہ میں نے تو یہ روپیہ اس لیے نکلوایا تھا کہ میں سمجھتا تھا انجمن روپیہ کھا جائے گی مگر اس نے تو مجھے سارا روپیہ واپس دے دیا ہے۔ اب اتنی بڑی رقم کو میں اپنے پاس کہاں سنبھالتا پھروں۔ چنانچہ بیس ہزار وہ اپنے پاس رکھتا اور اسّی ہزار دوسرے دن پھر ہمارے پاس جمع کرا جاتا۔ اس طرح بظاہر ہمارے خزانہ سے سترہ لاکھ نکلا مگر چودہ پندرہ لاکھ پھر ہمارے پاس واپس آ گیا۔ میں نے اس چیز کی بڑی سختی سے نگرانی کی اور میں نے انجمن والوں سے کہا کہ تم نے کسی سے نہیں کہنا کہ ہم لُٹ گئے۔ بلکہ جو شخص روپیہ لینے کے لیے آئے اُسے فوراً روپیہ دے دو۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب وہ دوبارہ امانت رکھتے تھے تو اِس تسلی اور اطمینان کے ساتھ رکھتے تھے کہ ہمارا روپیہ محفوظ ہے۔ اُن دنوں چونکہ عام طور پر لوگوں کو شکوہ تھا کہ ہم نے فلاں کے پاس روپیہ رکھا اور وہ کھا گیا، فلاں کے پاس امانت رکھی اور اس نے واپس نہ کی اس لیے ڈر کے مارے لوگ انجمن کے خزانہ سے بھی روپیہ نکلوانے لگ گئے۔ اکیس لاکھ میں سے پہلے چند مہینوں میں سترہ لاکھ روپیہ نکل گیا مگر پھر بھی ہمارے پاس اڑھائی۔تین سال تک اکیس لاکھ ہی رہا۔ اور اِس کی وجہ یہی تھی کہ جب لوگوں میں یہ چرچا ہوا کہ ہم نے فلاں بینک میں روپیہ رکھا تھا وہ کھا گیا، فلاں شخص کے پاس امانت رکھی تھی اُس نے خیانت کی مگر جو انجمن میں روپیہ رکھا تھا وہ محفوظ رہا تو جو لوگ اپنا روپیہ نکلوا لیتے تھے وہ بھی کچھ روپیہ اپنے پاس رکھ کر باقی روپیہ پھر ہمارے پاس جمع کرا دیتے تھے اور کچھ لوگ نئی امانتیں رکھوا دیتے تھے۔
    تو دیانتداری ایسی چیز ہے جو سب سے بڑا خزانہ ہے۔ بڑا ہی بیوقوف وہ ہوتا ہے جس کے پاس دوسَوروپیہ رکھا جائے اور وہ دوسَوکھانے کی کوشش کرے۔ اگر وہ دوسَو کو حفاظت کے ساتھ رکھے تو، کل لوگ اسے آٹھ سَو دیں گے، پرسوں پندرہ سَو دیں گے اور اِس امانت کے ذریعہ وہ اپنے بھی کئی کام چلا سکے گا۔
    حضرت خلیفہ اول ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ ہمارا تو گزارا ہی امانتوں پر ہے۔ لوگ۔آتے ہیں اور ہمارے پاس روپیہ رکھ جاتے ہیں۔ ضرور ت پر اگر ہمارے پاس کچھ نہیں ہوتا تو اُس امانت میں سے ہم خرچ کر لیتے ہیں۔ پھر جب ہمارے پاس روپیہ آتا ہے تو ہم امانت میں داخل کر دیتے ہیں۔ اِس طرح ہمیں بھی کوئی تکلیف نہیں ہوتی اور جن لوگوں نے روپیہ رکھا ہوتا ہے انہیں بھی کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔کیونکہ وہ جتنا روپیہ مانگتے ہیں ہم انہیں دے دیتے ہیں۔
    آجکل سارے بینک انہی امانتوں پر چل رہے ہیں۔اور وہ بڑے بڑے کاروبار کررہے ہیں۔ پس امانت بڑی اہم چیز ہے۔ جو لوگ امانت میں خیانت کرتے ہیں وہ جتنا فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں اُس سے بہت زیادہ نقصان انہیں پہنچ جاتا ہے۔فرض کرو تم سیر دینے کی بجائے ایک شخص کو پندرہ چھٹانک سودا دے دیتے ہو تو اِس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب وہ گھر میں جا کر تولتا ہے اور اُسے پتا لگتا ہے کہ تم نے ایک چھٹانک چیز کم دی ہے تو وہ تم سے سودا لینا بند کر دیتا ہے۔ اب تمہیں فائدہ صرف ایک چھٹانک کا ہوا مگر نقصان ہزار چھٹانک کا ہو گیا۔ تو دیانتداری بڑی دولت ہے۔
    جب غدر ہوا تو حکیم محمود خاں جو ہمارے رشتہ داروں میں سے تھے امانت میں بڑے مشہور تھے۔ اور دلّی کے لوگ کہا کرتے تھے کہ ان کے پاس رکھا ہوا روپیہ ایسا ہی ہے جیسے بینک میں روپیہ رکھا ہو۔ غدر کے دنوں میں اُن کے گھر کو یہ حفاظت میسر آ گئی کہ حکیم محمودخاں مہاراجہ پٹیالہ کے بھی طبیب تھے اور مہاراجہ پٹیالہ اُس وقت انگریزوں سے مل گیا تھا۔ جب دلّی فتح ہوئی تو پٹیالہ کے مہاراجہ نے ایک دستہ فوج کو حکیم صاحب کے مکان پر پہرہ کے لیے مقرر کر دیا۔ اُس وقت لوگ بھاگتے ہوئے آتے اور اپنی گٹھڑیاں اُن کی ڈیوڑھی میں پھینک کر چلے جاتے۔ نہ کوئی لکھت تھی نہ پڑھت تھی۔ بس اپنے اپنے سامان پھینکتے اور چلے جاتے مگر اُن کی دیانت کا یہ حال تھا کہ آٹھ آٹھ، دس دس سال کے بعد بھی لوگ آئے تو انہوں نے کہا کہ یہ تمہاری گٹھڑیاں پڑی ہیں ان کو سنبھال لو۔ اِس کا اثر یہ ہے کہ اب تک بھی باوجود اس کے کہ وہ خاندان ٹوٹ چکا ہے سارا دلّی ذرا سی بات پر ان پر جان دینے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ تو امانت کا طریقہ اختیار کرو اور تبلیغ اور تعلیم کی طرف توجہ کرو اور صفائی کو اپنا شعار بناؤ۔
    میں بیمار صرف اس وجہ سے ہوا کہ جس گھر میں مجھے ٹھہرایا گیا وہ اس قدر گندا تھا کہ چیونٹیوں سے بھرا ہوا تھا۔ رات کو بھی چھت سے چیونٹیاں گرتیں اور بچے چیخیں مارنے لگ جاتے۔ معلوم نہیں انہوں نے مکان اتنا گندا کیوں رکھا۔ میں نے کسی جگہ پر ایسا گند نہیں دیکھا جیسا یہاں دیکھنے میں آیا ہے۔پس اپنے اندر صفائی کی عادت بھی پیدا کرو۔ ایک چیز ایسی ہے جو صرف خدا کو نظر آتی ہے۔ مگر ایک چیز ایسی ہے جو بندے بھی دیکھتے ہیں۔ اگر تمہارا دل صاف ہے تو لوگوں کو اس سے کوئی غرض نہیں۔ وہ تمہارا جسم دیکھتے ہیں۔ اگر تمہارا جسم گندا ہے اور دل صاف ہے تو بیشک جب تم مر جاؤ گے خداتعالیٰ تمہیں اچھی جزا دے گا لیکن دنیا میں لوگ تمہیں گندا ہی سمجھتے رہیں گے اور تمہارے پاس بیٹھنے سے گریز کریں گے۔ پس ہر پہلو کی طرف توجہ کرو اور ہر لحاظ سے دوسروں سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ خداتعالیٰ نے اِس وقت تمہیں ثواب کا بہت بڑا موقع دیا ہے۔ اگر تم چاہو تو تم ذرا سی محنت اور توجہ سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکتے ہو۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا اسلام کی طرف توجہ کر رہی ہے مگر ہمارے پاس لٹریچر نہیں، کتابیں نہیں، روپیہ نہیں کہ ان ذرائع سے ہم انہیں اسلام کی تعلیم سے آگاہ کر سکیں۔ لیکن تم ان ضرورتوں کو بڑی آسانی سے پورا کر سکتے ہو۔ کیونکہ تمہاری محنت اور کمائی کے نتیجہ میں ہی روپیہ پیدا ہو گا اور پھر وہی روپیہ تبلیغِ۔اسلام کے کام آئے گا۔ اگر تم دیانتداری کے ساتھ محنت کرو تو نہ صرف تمہاری اس محنت کا تمہیں بدلہ ملے گا بلکہ انجمن تمہارے روپیہ سے جو تبلیغ کرے گی اُس کے ثواب میں بھی تم حصہ دار ہو گے۔ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ۔وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں جو شخص کسی کے مال کو تقسیم کرتا ہے اور دیانتداری اور انصاف سے کرتا ہے اُسے صدقہ دینے والے کے برابر ثواب ملتا ہے۔2 پس بیشک انجمن کو بھی ثواب ہو گا لیکن تمہیں بھی ثواب ہو گا۔ اس لیے بھی کہ تمہارے روپیہ سے انجمن نے تبلیغ کی، اور اس لیے بھی کہ تم نے خود تبلیغِ۔اسلام کے لیے چندہ دیا، اور اس لیے بھی کہ تم نے اچھی نگرانی کی اور محنت سے کام کیا۔ گویا تمہیں تین ثواب ملیں گے۔ پہلا ثواب انجمن کے ثواب سے ملے گا، دوسرا ثواب تمہارے اپنے چندہ کی وجہ سے ملے گا اور تیسرا ثواب تمہیں اس لیے ملے گا کہ تم نے فصلوں پر محنت کی اور اچھی نگرانی کر کے سلسلہ کے مال کو بڑھایا۔ اور کسی کو تین گُنا ثواب مل جانا تو ایک لُوٹ ہوتی ہے۔ اگر تمہارے پاس ایک سَو روپیہ ہو جو اگلے سال تین سَو ہو جائے، اُس سے اگلے سال نو۔سو۔ہو۔جائے، اس سے اگلے سال ستائیس سو ہو جائے، اس سے اگلے سال اکاسی سو ہو جائے تو پچاس سال کے اندر ساری دنیا کی دولت تمہارے پاس آ جاتی ہے۔ پس تین گُنا ثواب کوئی معمولی ثواب نہیں۔ یہ ایک لُوٹ ہے جس کا کوئی شاہی خزانہ بھی متحمل نہیں ہو سکتا۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو تمہیں موقع دیا ہے اس سے فائدہ اُٹھاؤ۔ ہمیں بھی جتنے سامان میسر آئے اُن سے ہم تمہیں فائدہ پہنچانے کی کوشش کریں گے‘‘۔ (الفضل 18؍اگست1954ئ)

    1
    :
    مقاطعہ:ٹھیکہ(اردو لغت تاریخی اصول پر جلد18صفحہ439 2002ء کراچی)
    2
    :
    ابوداؤد کتاب الزکٰوۃ باب اجر الخازن

    اگر دین دار بننا چاہتے ہو تو ان سارے طریقوں کو اختیار کرو جو دینی ترقی کے لیے ضروری ہیں
    (فرمودہ 20؍اگست1954ء بمقام ناصرآباد سندھ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے سورۃ بنی اسرائیل کی درج ذیل آیت تلاوت فرمائی:
    1
    اس کے بعد فرمایا:
    ’’بہت سے لوگ دنیا میں اِس دھوکا میں مبتلا رہتے ہیں کہ اگر خدا ہے اور مذہب ہے تو شاید اِن کی دنیوی کوششیں بیکار اور فضول ہیں اور وہ خداتعالیٰ کی طرف جائز یا ناجائز، صحیح یا غلط، سچی یا مصنوعی توجہ کر کے جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ اور بعض نادان اس غلطی میں مبتلا ہیں کہ دنیا میں جو کچھ ہے، سائنس ہے، دنیوی کوششیں اور ان کے نتائج ہیں۔ خداتعالیٰ کا لوگوں نے ایک ڈھکوسلا بنایا ہوا ہے جس میں صرف وقت ہی ضائع ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہہمارے دو قانون دنیا میں جاری ہیں۔ ایک۔دنیوی قانون ہے وہ بھی ہمارا جاری کیا ہوا ہے۔ اور ایک روحانی قانون ہے وہ بھی ہمارا جاری کیا ہوا ہے۔ اِس گروہ کی بھی ہم مدد کرتے ہیں اور اُس گروہ کی بھی ہم مدد کرتے ہیں۔ اگر کوئی خدا کا منکر ہو کر بھی دنیوی تدابیر اختیار کرتا ہے اور اُن سامانوں کو استعمال کرتا ہے جو خداتعالیٰ نے بتائے ہیں تو وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔ اور۔اگر کوئی خدا پر توکّل کی بنیاد ڈال لیتا ہے اور اس کے بتائے ہوئے قانون کے مطابق جو یہ ہے کہ پہلے اونٹ کا گُھٹنا باندھو اور پھر توکّل کرو2 اس کے پیدا کر دہ اسباب اور ذرائع کو استعمال کرتا ہے اور پھر خداتعالیٰ پر توکل بھی کرتا ہے تو وہ بھی کامیاب ہو جاتا ہے۔ لیکن درمیانی طبقہ جو کہتا ہے کہ میں نہ اِدھر کا ہوں اور نہ اُدھر کا اور جو کا مصداق ہوتا ہے وہ منافق ہوتا ہے۔ نہ وہ اِس قانون کی پابندی کرتے ہیں اور نہ اُس قانون کی پابندی کرتے ہیں۔ جب نماز روزہ کا وقت آتا ہے تو کہتے ہیں نماز اور روزہ میں کیا رکھا ہے؟ یا جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ بعض لوگ نماز میں مرغوں کی طرح ٹھونگیں مارتے ہیں۔3 وہ بھی ایسی نماز پڑھتے ہیں جس میں نہ تضرّع ہوتا ہے، نہ زاری ہوتی ہے، نہ دعا ہوتی ہے، نہ خداتعالیٰ کی محبت ہوتی ہے۔ اِسی طرح جب دوسروں سے معاملات کا وقت آتا ہے تو اُن میں اسلامی اخلاق نظر نہیں آتے بلکہ ان میں وہ اخلاق بھی نہیں ہوتے جو کم سے کم دنیادار لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔ اور جب انہیں کہا جائے کہ تم دنیوی تدابیر اختیار کرو، سائنس کی معلومات سے فائدہ اُٹھاؤ، محنت اور کوشش سے کام لو، خداتعالیٰ کے پیدا کردہ سامانوں کو استعمال کرو تو کہتے ہیں جانے دو ہم تو مذہبی آدمی ہیں۔ گویا ان کی مثال بالکل شترمرغ کی سی ہوتی ہے کہ نہ وہ اُڑتے ہیں اور نہ بوجھ اُٹھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم بالکل دہریہ ہو جاؤ تب بھی میں تمہاری مدد کروں گا۔ تم سچے ایمان۔دار بن جاؤ تب بھی میں تمہاری مدد کروں گا۔ لیکن ایمان۔داری کا سوال آئے تو دہریہ بن جاؤ اور دہریت کا سوال آئے تو ایمان۔دار بن جاؤ یہ دوغلاپن ہے، جس کی موجودگی میں کوئی شخص کامیاب نہیں ہو سکتا۔
    کئی لوگ کہتے ہیں کہ یورپ والے کیوں ترقی کر رہے ہیں جبکہ وہ ایمان۔دار نہیں؟ اِس کا جواب اللہ تعالیٰ نے اِسی آیت میں دیا ہے کہہم اِس کی بھی مدد کرتے ہیں اور اُس کی بھی مدد کرتے ہیں۔ چاہے وہ ہمیں ماننے والے ہوں یا نہ ماننے والے ہوں مگر قانونِ۔قدرت کی پابندی کرنے والے ہوں۔ اگر کوئی شخص خداتعالیٰ کا انکار کرتا ہے لیکن وہ اُن ضروری سامانوں کو اختیار نہیں کرتا جو دنیوی ترقی کے۔لیے اُسے اختیار کرنے چاہییں، وہ سائنس کی ایجادات سے فائدہ نہیں اُٹھاتا، وہ محنت اور کوشش سے کام نہیں لیتا،وہ سُستی اور کاہلی اور نکمے پن کو ترجیح دیتا ہے تو وہ بھی ناکام ہو گا۔ اور اگر کوئی خدا پر توکّل ظاہر کر کے پھر حقیقی رنگ میں توکّل نہیں کرتا، جہاں کوشش کرنی چاہیے وہاں کوشش نہیں کرتا، جہاں محنت کرنی چاہیے وہاں محنت نہیں کرتا تو اُسے بھی وہ حصہ نہیں ملے گا جو دنیوی رنگ میں کوشش کرنے والوں کو الٰہی قانون کے ماتحت ملا کرتا ہے اور وہ حصہ بھی نہیں ملے گا جو خداتعالیٰ کے خالص بندوں کو روحانی رنگ میں ملا کرتا ہے۔
    پس ہر شخص کو یاد رکھنا چاہیے کہ دوغلاپن انسان کو کبھی کامیاب نہیں کر سکتا۔ دوغلاپن کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے ہمارے ملک میں اینگلوانڈین (Anglo - Indain)ہوا کرتے تھے۔ جن کے ماں باپ میں سے ایک انگریز ہوتا اور ایک ہندوستانی۔ انگریز بھی انہیں پسند نہیں کرتے تھے اور ہندوستانی بھی انہیں پسند نہیں کرتے تھے۔ انگریز کہتے تھے کہ یہ ہم میں سے نہیں ہیں اور ہندوستانی کہتے تھے کہ یہ ہم میں سے نہیں ہیں۔ جب پارٹیشن کا سوال پیدا ہوا تو لاہور میں اُن کی بھی میٹنگ ہوئی کہ ہم نے کیا کرنا ہے۔ اُس وقت ان میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اُس نے کہا پہلے ہمیں یہ بتاؤ کہ ہم ہیں کیا؟ انگریز کہتے ہیں کہ تم ہم میں سے نہیں اور ہندوستانی کہتے ہیں کہ تم ہم میں سے نہیں۔ پس ہمیں بتایا جائے کہ ہم کیا ہیں؟ اِس پر ایک پُرمذاق شخص کھڑا ہوا اور اُس نے کہا میں بتاتا ہوں۔ ایک عورت کے بچہ پیدا ہونے والا تھا مگر ابھی اُسے دردِ۔زِہ شروع نہیں ہوا تھا اور وہ سمجھتی تھی کہ ابھی کچھ دیر ہے۔ اِس اطمینان میں وہ غسل خانے میں نہانے چلی گئی۔ وہ ٹب میں بیٹھی ہی تھی کہ بچہ پیدا ہو گیا۔
    یہی ہمارا حال ہے۔ ہم ٹب کے بچے ہیں۔ نہ ہم گھر میں پیدا ہوئے ہیں نہ ہسپتال میں۔ غسل۔خانے میں پیدا ہو گئے ہیں۔ یہ انسان بھی ایسا ہی ہوتا ہے کسی کی نسل میں سے نہیں۔ہوتا۔ نہ خدا اسے اپنا سمجھتا ہے اور نہ دنیادار اسے اپنا سمجھتے ہیں۔ یورپ والے کہتے ہیں کہ اگر تم ہمارے جیسا بننا چاہتے ہو تو ہمارے والا علم سیکھو، ہمارے والا کھانا کھاؤ، ہمارے والے سامان استعمال کرو، ہماری جیسی محنت کرو۔ اور خدا اسے اس لیے اپنا نہیں سمجھتا کہ وہ کہتا ہے تم نے میرے والی نماز نہیں پڑھی، میرے والا روزہ نہیں رکھا، میرے والا حج نہیں کیا، میرے والی زکوٰۃ نہیں دی۔ پس وہ اینگلوانڈین ہوتا ہے مگر ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اِس طریق کو اختیار کرنا کتنا نقصان۔دِہ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کسی صوفی کا قول بیان فرمایا کرتے تھے کہ اگر تم دنیا میں عزت کی زندگی بسر کرنا چاہتے ہو تو کسی کے لَڑ لگ جاؤ۔ یا دین۔دار بن جاؤ یا دنیادار بن جاؤ4 مگر یہ دین دار کہلاتا ہے اور دین سے بے بہرہ رہتا ہے اور دنیا دار کہلاتا ہے اور دنیا کا علم حاصل نہیں کرتا۔ دنیوی ترقی کے لیے کوشش نہیں کرتا۔یورپ والے خدا کو نہیں مانتے مگر مذہب اُن کا عیسائیت ہے مگر اکثریت خدا تعالیٰ کی منکر ہے۔ لیکن دہریت کے باوجود وہ انتہا درجہ کی قربانی کرتے ہیں۔ایسی قربانی جو بعض دفعہ مذہب والے بھی نہیں کر سکتے اس لیے وہ جیتتے چلے جاتے ہیں کیونکہ خدا نے کہا ہے کہجو دنیا کی کوشش کرے گا ہم اُس کو دنیا میں کامیاب کر دیں گے اور جو دین کے لیے کوشش کرے گا ہم اُس کو دین میں کامیاب کر دیں گے۔مگر جو ایک ٹانگ دین کی طرف رکھتا ہے اور ایک ٹانگ دنیا کی طرف رکھتا ہے، جب دنیا کے لیے قربانی کا وقت آتا ہے تو وہ خداپرست بن جاتا ہے اور جب دین کے لیے قربانی کا وقت آتا ہے تو دنیادار بن جاتا ہے۔ فرماتا ہے اُس کی ہم مدد نہیں کرتے کیونکہ وہ منافق ہے۔
    دیکھ لو! یورپ نے اور امریکہ نے اور جاپان نے کتنی بڑی ترقی حاصل کی ہے۔ وہ تم سے زیادہ معزز ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہم خدا کو نہیں مانتے، ہم محنت کرتے ہیں اور زورِبازو سے دنیا کماتے ہیں۔ اور ایک وہ ہیں جو خداتعالیٰ سے سچا تعلق رکھتے ہیں، وہ اُس کے احکام پر عمل کرتے ہیں جیسے نفس کو قابو میں رکھنا، شرارتوں سے باز رہنا، جھوٹ، دھوکا اور فریب سے بچنا، کسی پر ظلم نہ کرنا، دوسرے کا حق غصب نہ کرنا، پہلے اونٹ کا گُھٹنا باندھنا اور پھر توکّل کرنا ان کی بھی خداتعالیٰ مدد کرتا ہے۔ غرض دونوں کی مدد ہمیں نظر آتی ہے۔ لیکن دوغلوں کی مدد ہمیں کہیں نظر نہیں آتی۔ نہ خدا اُن کی مدد کرتا ہے اور نہ دنیادار لوگ انہیں منہ لگاتے ہیں۔ وہ اِسی طرح جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص اِس طریق کو اختیار کرنا چاہے تو اُس کی مرضی ورنہ عقلمند انسان یہی چاہتا ہے کہ وہ طریق اختیار کرے جس سے اُس کی عزت بڑھے۔ پس اگر کوئی شخص دنیا دار بننا چاہتا ہے تو اُس کا فرض ہے کہ وہ اُن سارے طریقوں کو اختیار کرے جو دنیادار اپنی ترقی کے لیے اختیار کرتے ہیں۔ اور اگر دین۔دار بننا چاہتا ہے تو اُس کا فرض ہے کہ وہ اُن سارے طریقوں کو اختیار کرے جو دینی ترقی کے لیے ضروری ہیں۔ وہ سچائی سے کام لے، تقوٰی کو اختیار کرے، دھوکے بازی سے بچے، جھوٹ اور فریب سے کام نہ لے، معاملات میں تحمل اور بردباری کا طریق اختیار کرے، فساد نہ کرے، بغاوت سے بچے۔ قرآن کریم فرماتا ہے کہ یہی طریق ہے جس سے عزت حاصل ہو سکتی ہے۔ اگر کوئی شخص اِس طریق کو اختیار نہیں کرتا تو وہ منافق ہے اور جب بھی ہمیں موقع ملے گا ہم ترقی دینے کی بجائے اسے سزا دیں گے کیونکہ اس نے دوغلاپن سے کام لیا‘‘۔ (الفضل 8ستمبر1954ئ)

    1
    :
    بنی اسرائیل:21
    2
    :
    جامع الترمذی ابوابُ صِفَۃِ الْقِیَامَۃِ باب حدیثِ اعْقَلْھَا وَتَوَکَّلْ۔
    3
    :
    ملفوظات جلد2صفحہ184۔ 5اپریل1902ء



    انسان سیکھنے کی نیت رکھے تو زمین کی اینٹیں اورپہاڑوں کے درخت اور جنگلوں کی جھاڑیاں بھی اس کے لیے قرآن اور حدیث کی تفسیر بن جاتی ہیں
    (فرمودہ 27؍اگست1954ء بمقام ناصرآباد سندھ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’یہ جمعہ ہمارے اِس سفر کا آخری جمعہ ہو گا کیونکہ پیر کو ہم اِنْشَاء َ اللّٰہُ تَعَالٰییہاں سے روانہ ہو جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی مجھے آج دل کے ضُعف کا دَورہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے میں زیادہ بول نہیں سکتا۔
    حقیقتاً اگر کوئی سمجھنے والا ہو تو اس کی ہدایت کے لیے ایک معمولی بات بھی کافی ہو سکتی ہے۔ لیکن عموماً آجکل دیکھا گیا ہے کہ لوگ باتیں سننے کے تو عادی ہیں لیکن بات کو سوچنے اور سمجھنے کے عادی نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ گزشتہ بزرگوں میں سے کسی بزرگ سے ایک شخص نے قرآن کے متعلق کچھ پوچھا تو انہوں نے کہا میاں!۔قرآن کی تفسیر لکھنے بیٹھو تو قیامت تک ختم نہیں ہو سکتی۔ لیکن جو اِس سے فائدہ اٹھانے بیٹھے اس کے لیے اس کی تفسیر ایک لفظ میں آ جاتی ہے۔ قرآن کی تفسیر یہ ہے کہ خداتعالیٰ کے ساتھ انسان کا سچا تعلق ہو جائے۔ پھر انہوں نے کہا کہ قرآن کریم اتنا بڑا نازل ہوا ہے تو۔درحقیقت ابوجہل کی قسم کے لوگوں کے لیے نازل ہوا ہے۔ ورنہ اگر ابوبکرؓ جیسے لوگ ہی دنیا میں بس رہے ہوتے تو صرف بِسْمِ اللّٰہِ کی ’’ب‘‘ کافی تھی۔ ’’ب‘‘ کے معنی ساتھ کے ہیں اور مقصد یہ ہے کہ انسان خداتعالیٰ کے ساتھ ہو جائے۔ تو سوچنے اور سمجھنے کی اگر عادت ڈال لی جائے تو لوگ کہیں کے کہیں نکل جائیں۔ لیکن اگر ان میں صرف سننے کی عادت ہو، سوچنے اور غور کرنے کا مادہ ان میں نہ پایا جاتا ہو تو آہستہ آہستہ وعظ و نصیحت کی باتوں سے فائدہ اُٹھانے کی بجائے انہیں کان اور زبان کا ایسا چسکا پڑ جاتا ہے کہ اگر کوئی اچھی سے اچھی بات بھی انہیں اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں سنائے تو وہ فوراً کھڑے ہو جائیں گے اور کہیں گے کہ اس نے ہمارا وقت ضائع کر دیا ہے۔ وہ یہ نہیں دیکھیں گے کہ اس نے بات کیا کی ہے اور وہ قیمتی اور اچھی ہے۔ ایسے لوگوں کی نگاہ ہمیشہ برتن پر ہوتی ہے۔ وہ یہ کبھی نہیں دیکھیں گے کہ اس برتن کے اندر کیا ہے۔ اگر ایک غریب آدمی ہے اور اس کے پاس صرف ایک ٹوٹا پھوٹا آبخورا ہے اور وہ بھینس کا خالص، عمدہ اور گاڑھا دودھ اس میں ڈال کر دوسرے کو دیتا ہے تو گو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ برتن بھی زینت کا موجب ہوتا ہے لیکن کیا محض اس وجہ سے ہم اس دودھ کی قدر نہیں کریں گے کہ اس نے ایک ٹوٹے ہوئے آبخورے میں دودھ دیا ہے۔ کیا ٹوٹے ہوئے آبخورے میں دودھ ڈالنے کی وجہ سے گاڑھا دودھ پتلا ہو جاتا ہے اور تانبے کے کٹورے میں دودھ ڈالا جائے تو پتلا دودھ گاڑھا ہو جاتا ہے یا باسی اور سڑا ہوا دودھ اگر کٹورے میں ڈالا جائے تو اس کی بڑی اچھی حالت ہو جائے گی اور آبخورے میں ڈالا جائے تو اس سے بُو آنے لگے گی۔ یہ محض لغو بات ہے۔ انسان کو اصل حقیقت پر غور کرنا چاہیے اور اسے اپنی زندگی کسی اچھے مصرف میں صَرف کرنی چاہیے۔ آخر ساٹھ، ستّر یا اسّی، سَوسال کی زندگی ہی تو ہے اور یہ کوئی بڑی مدت نہیں۔ اس تھوڑے سے عرصہ کو زیادہ سے زیادہ اچھا اور بہتر بنانے کی کوشش۔کرنی چاہیے۔ بیشک دنیا میں ٹھوکریں بھی ہوتی ہیں لیکن گرنے والے اُٹھتے بھی ہیں، وہ۔پہلے۔قدم بقدم چلتے ہیں اور پھر دوڑنے لگ جاتے ہیں۔ لیکن جو گرتا اور پھر اُٹھنے کی کوشش نہیں کرتا اُس کی ترقی کے لیے کوئی سامان نہیں کیے جا سکتے۔ اور جو آپ گرنا چاہتا ہے خداتعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ وہ بھی اسے نہیں اُٹھاتا۔ خداتعالیٰ نے قرآن کریم میں یہی کہا ہے کہ جو ہماری طرف آتے ہیں ہم ان کی مدد کرتے ہیں۔1 اس نے یہ کہیں نہیں کہا کہ جو ہم سے بھاگتے ہیں ہم ان کو پکڑ کر واپس لاتے ہیں۔ جو ہم سے منہ پھیرتے ہیں ہم ان کو اپنی تائید سے نوازتے ہیں۔ جو بیٹھنا چاہتے ہیں ہم ان کو جبراً کھڑا کرتے ہیں۔ جو گرنا چاہتے ہیں ہم ان کو زبردستی اُٹھاتے ہیں۔ جو بے ایمان ہونا چاہتے ہیں ہم ان کو مجبور کر کے ایماندار بناتے ہیں۔ قرآن یہی کہتا ہے کہ جو بے ایمان ہونا چاہتا ہے ہم اسے بے ایمان بنا دیتے ہیں اور جو ایماندار ہونا چاہتا ہے ہم اسے ایماندار بنا دیتے ہیں۔
    بہرحال انسانی زندگی کا خلاصہ صرف اتنا ہے کہ وہ اپنے اندر ایک پختہ عزم پیدا کرے اور اچھی چیز کو پکڑ کر اس طرح بیٹھ جائے جیسے شکاری کُتّا اپنے شکار کو پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔ اس کے دانت ٹوٹ جائیں تو ٹوٹ جائیں مگر وہ اپنے شکار کو نہیں چھوڑتا۔ جب انسان اس نیت اور ارادہ کے ساتھ ایک راستہ کو اختیار کر لیتا ہے اور اچھی چیز کو پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے تو پھر نیکیوں کی طرف اس کا قدم اُٹھنا شروع ہو جاتا ہے کیونکہ کوئی نیکی نہیں جو اس سے اگلی نیکی کی توفیق نہیں دیتی۔ اگر کوئی انسان سچے دل سے صدقہ دیتا ہے تو ضرور ہے کہ اسے نماز کی بھی توفیق ملے اور زکوٰۃ کی بھی توفیق ملے اور روزہ کی بھی توفیق ملے۔ اور اگر کوئی اخلاص کے ساتھ روزے رکھتا ہے تو ضرور ہے کہ اس نیکی کے نتیجہ میں اُسے نماز اور زکوٰۃ اور حج کی توفیق ملے کیونکہ ہر نیکی دوسری نیکی کی طرف لے جاتی ہے۔ بھلا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک شخص جو کسی غریب سے ہمدردی کرتا ہے، اس سے محبت اور پیار کا سلوک کرتا ہے اور دنیاداری کے خیالات کے ماتحت نہیں بلکہ سچے دل سے اسے کھانا کھلاتا ہے ایسے شخص کے پاس اگر امانت رکھی جائے تو وہ کھا جائے گا۔ یہ قطعاً ناممکن بات ہے۔ جس شخص کے دل میں دوسروں کا اتنا درد ہے اور جو اُن کے لیے ہر وقت قربانی کرنے پر تیار رہتا ہے کس طرح ممکن ہے کہ وہ دوسروں کے مال میں خیانت کرے۔ اگر سب لوگ مل کر بھی کہیں گے کہ اس نے دوسروں کا مال کھایا ہے تو ہم کہیں گے کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں کیونکہ جس کے دل میں اپنا مال قربان کرنے کی خواہش پائی جاتی ہے وہ دوسرے کے مال کو کبھی کھا نہیں سکتا۔ اسی طرح جس شخص کے دل میں یہ خواہش پائی جاتی ہے کہ وہ خدا کے لیے بھوکا رہے کس طرح مانا جا سکتا ہے کہ وہ نماز نہیں پڑھے گا۔ وہ ایک دن نماز نہیں پڑھے گا، دو دن نماز نہیں پڑھے گا، تین دن نماز نہیں پڑھے گا مگر آخر اس کا نفس اسے کہے گا کہ احمق! تُو خدا کے لیے بھوکا رہتا ہے اور پھر اس کا ذکر نہیں کرتا؟ اور وہ مجبور ہو گا کہ نماز پڑھے۔ اور جب وہ نماز پڑھنے لگ گیا تو پھر اسے کوئی ہٹانا بھی چاہے تو وہ نہیں ہٹ سکتا، اسے قید کر دو تو وہ قید میں نماز پڑھنے لگ جائے گا، چارپائی پر باندھ دو تو لیٹے لیٹے نماز پڑھتا رہے گا کیونکہ ایک نیکی دوسری نیکی کی طرف لے جاتی ہے۔ پس اصل گُر انسانی ترقی کا یہی ہے کہ جو چیز اسے اچھی نظر آئے اُسے مضبوطی سے پکڑ لے۔ پہلے وہ اپنے دل میں فیصلہ کر لے کہ میں نے اچھی چیز کو لینا ہے اور پھر اُسے چھوڑنا نہیں۔ اس فیصلہ کے بعد اسے جو چیز بھی اچھی نظر آتی ہے اسے اس نیت کے ساتھ پکڑے کہ اب میں نے اسے چھوڑنا نہیں۔ جب انسان اس مقام پر آ جاتا ہے تو وہ ساری دنیا سے سبق حاصل کرنے کے لیے تیار رہتا ہے،ایک بچے سے بھی سبق لے لیتا ہے، ایک بوڑھے سے بھی سبق لے لیتا ہے، ایک پاگل سے بھی سبق لے لیتا ہے۔ غرض دنیا کی ہر چیز سے وہ فائدہ حاصل کر لیتا ہے۔
    حضرت امام ابوحنیفہؒ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ تو بہت بڑے آدمی ہیں اور ساری دنیا آپ سے سبق لیتی ہے۔ کیا آپ نے بھی کسی سے سبق لیا ہے؟ انہوں نے کہا بہت دفعہ لیا ہے اور سب سے بڑا سبق میں نے ایک چھوٹے سے بچے سے لیا ہے۔ اس نے کہا کس طرح؟ انہوں نے کہا وہ اِس طرح کہ میں ایک دفعہ باہر جا رہا تھا۔ بارش ہو رہی تھی کہ میں نے دیکھا ایک سات آٹھ سال کا بچہ گزر رہا ہے اور تیز تیز قدم اُٹھا رہا ہے۔ میں نے اسے تیز قدم اُٹھاتے دیکھ کر کہا میاں بچے! ذرا سنبھل کر چلو کیچڑ ہے۔ ایسا نہ ہو کہ تم پھسل جاؤ۔اس لڑکے نے میری طرف دیکھا اور کہا امام صاحب! میرے پھسلنے کا فکر نہ کیجیے۔ آپ اپنا فکر کیجیے۔ اگر میں پھسلا تو صرف میں پھسلوں گا لیکن اگر آپ پھسلے تو ساری دنیا پھسل جائے گی۔ کیونکہ جب امام غلطی کرتا ہے تو اُس کے ماننے والے بھی وہی غلطی کرنے لگ جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ لڑکا تو یہ بات کہہ کر چلا گیا مگر میں دیر تک کھڑا اُس کے اس وعظ سے لُطف اُٹھاتا رہا۔ اور حقیقت یہی ہے کہ ساری عمرمیں مَیں نے اتنی کارگر اور مؤثر نصیحت کسی سے نہیں سنی۔ تو سیکھنے والا ایک بچے سے بھی سبق سیکھ لیتا ہے بلکہ فضا کی ہر آواز سے اپنا مطلب اخذ کر سکتا ہے۔
    لطیفہ مشہور ہے کہ امیرخسرو کے پاس ایک دفعہ ایک مہمان آیا۔ انہوں نے اسے کھانا تو کِھلا دیا مگر وہ کھانا کھا کر وہیں بیٹھ گیا۔ حالانکہ قرآن کا صاف حکم ہے کہ جب تم کھانا کھا لو تو چلے جاؤ۔ وہیں بیٹھ کر باتیں کرنے نہ لگ جاؤ۔2 بہرحال اسے بیٹھے بیٹھے بہت دیر ہو گئی۔ اتنے میں ایک دُھنیا روئی دھننے لگ گیا۔ اس کی آواز سن کر وہ مہمان کہنے لگا کہ امیرخسرو! یہ آواز کیا کہہ رہی ہے؟ انہوں نے کہا مجھے تو اس سے یہ آواز آ رہی ہے کہ نان چو خوردی خانہ۔برو۔ خانہ برو۔خانہ برو۔ نہ کہ کردم بتوخانہ گرو۔ خانہ گرو۔ خانہ گرو۔ یعنی جب تم روٹی کھا چکے ہو تو اب اپنے گھر جاؤ۔ میں نے اپنا مکان تو تمہارے پاس رہن نہیں رکھ دیا۔
    حقیقت یہ ہے کہ جب تم کوئی آواز سنو تو جو چاہو اس سے بنا لو۔ دل میں نیکی ہو تو انسان اچھی بات بنا لیتا ہے۔ خرابی ہو تو بُری بات بنا لیتا ہے۔ ایک دفعہ ہمارے گھر میں پنکھا چل رہا تھا کہ میں نے کچھ الفاظ بنا کر کہا کہ پنکھا یہ آواز دے رہا ہے۔ میری بیوی کہنے لگیں آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ اس میں سے یہی آواز آ رہی ہے۔ پھر میں نے کچھ اَور الفاظ بنا کر کہا اب اس میں سے یہ آواز آ رہی ہے۔ انہوں نے غور سے سنا تو کہنے لگیں ٹھیک ہے۔ اب یہی آواز آ رہی ہے۔ تو کھٹکے سے جو آواز پیدا ہوتی ہے اُسے جس سُر پر چاہو لے آؤ اور اُس سے ایک نتیجہ اخذ کر لو۔ جس شخص کے دل میں بُرائی ہوتی ہے وہ بُرا اثر لے لیتا ہے اور جس شخص کے دل میں نیکی ہوتی ہے وہ نیک اثر لے لیتا ہے۔ بہرحال اگر انسان سیکھنے کی نیت رکھے اور۔سوچنے کی عادت ڈالے تو زمین کی اینٹیں اور پہاڑوں کے درخت اور جنگلوں کی جھاڑیاں یہ۔بھی انسان کے لیے قرآن اور حدیث کی تفسیر بن جاتی ہیں اور اگر وہ سمجھنے کا ارادہ نہ۔کرے۔تو۔ایسے بدبخت انسان کو نہ قرآن فائدہ دیتا ہے، نہ حدیث فائدہ دیتی ہے، نہ۔محمد۔رسول۔اللہ۔صلی۔اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فائدہ دیتے ہیں، نہ ایسے لوگوں کو گزشتہ زمانہ میں موسٰی۔ؑ نے فائدہ دیا اور نہ عیسٰی۔ؑ نے فائدہ دیا‘‘۔ (الفضل 29ستمبر1954ئ)

    1
    :
    (العنکبوت:70)
    2
    :
    (الاحزاب:54)



    مشرقی پاکستان کے سیلاب زدہ بھائیوں کی ہر ممکن مدد کرو اور اُن کے لیے جلد سے جلد چندہ جمع کر کے حبُّ الوطنی کا ثبوت دو
    پاکستان میں بسنے والے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ اگر ان میں سے کسی ایک حصہ پر تکلیف آئے تو ہمیں احساس ہونا چاہیے کہ وہ تکلیف ہم پر آئی ہے
    (فرمودہ 3ستمبر1954ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’خطبہ شروع کرنے سے پہلے میں اپنی بیماری کے متعلق دوستوں کے بعض سوالات کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں جو میرے سندھ کے قیام میں ہوتے رہے ہیں اور خطوط کے ذریعہ یہاں بھی کئی دوست مجھ سے دریافت کرتے رہے ہیں۔
    زخم کے مندمل ہونے کے بعد ڈاکٹروں کی یہ رائے تھی کہ چونکہ گردن کا ایک درمیانہ سائز کا Nerve کٹ گیا ہے اس لیے سر کے اوپر کے حصہ کا گردن کے نچلے حصہ کے ساتھ تعلق نہیں رہا اور اس کی وجہ سے سر کے پچھلے چوتھائی حصہ میں بے حسی پیدا ہو گئی ہے۔ ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ خداتعالیٰ کے مقرر کردہ قانون کے ماتحت کٹی ہوئی Nerve اپنے آپ کو دوسرے حصہ کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرے گی اور کسی نہ کسی طرح رستہ نکال کر کسی دوسری Nerve سے مل جائے گی اور اس طرح دوبارہ زندہ ہو جائے گی۔ ان کا یہ خیال بھی تھا کہ جب اِس قسم کی جدوجہد شروع ہوتی ہے تو دردیں بڑھ جایا کرتی ہیں اور درد کے بڑھ جانے کی وجہ سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی نئی بیماری شروع ہو گئی ہے لیکن دراصل وہ خداتعالیٰ کے اس قانون کا اظہار ہوتا ہے جو اس نے پہلی بیماری کے امالہ1 اور ازالہ کے لیے بنایا ہے۔ چنانچہ خداتعالیٰ کے اس قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے دو تین ماہ کے بعد کٹی ہوئی Nerve میں بیداری پیدا ہوئی۔ اس کی بعض شاخیں پیدا ہو گئیں اور اس نے اِدھر اُدھر ہاتھ پاؤں مارے کہ کسی اَور چیز سے مل جائے۔ لیکن ساتھ ہی ڈاکٹروں کا یہ خیال بھی تھا کہ جسم کے اوپر جو ورم پیدا ہو گیا تھا وہ جلد اُتر جائے گا۔ کراچی تک تو وہ ورم زیادہ نہیں تھا۔ کراچی کے بڑے سرجن کو جو گورنمنٹ میڈیکل کالج کے ہیں ورم دکھایا گیا تو انہوں نے بھی بتایا کہ یہ تکلیف عارضی ہے کچھ دنوں تک ہٹ جائے گی۔ انہوں نے مالش بھی تجویز کی جو سر کے پٹھوں کو حرکت دینے والی تھی۔ اُن کا خیال تھا کہ اِس مالش کی وجہ سے عارضی تکلیف دور ہو جائے گی۔ اور عارضی طور پر اس مالش کا فائدہ بھی ہوا لیکن ورم دور نہ ہوا بلکہ بعض اوقات یوں معلوم ہوتا ہے کہ ورم بجائے کم ہونے کے بڑھنے لگا ہے۔ جب دردیں زیادہ ہوئیں تو سرجن کی یہ رائے تھی کہ یہ دردیں طبعی تقاضا کی وجہ سے ہیں۔ کٹی ہوئی Nerve نے پھیلنا شروع کر دیا ہے کیونکہ اس نے کسی اَور نرو سے مل کر اپنی زندگی کو قائم رکھنا ہے۔ بیچ میں چونکہ گوشت آ جاتا ہے اس لیے کہیں گوشت مروڑا جاتا ہے اور کہیں گوشت چِر جاتا ہے اس لیے درد زیادہ ہو جاتی ہے۔ لیکن جب میں کراچی سے ناصرآباد پہنچا تو شروع شروع میں تو یہ معلوم ہوا کہ یہاں کی آب۔و۔ہوا کی وجہ سے پہلے کی نسبت تکلیف میں افاقہ ہے۔ بعد میں جب ٹھنڈی ہوا چلی اور سندھ میں ان دنوں رات کے وقت عموماً ٹھنڈی ہوا چلتی ہے تو اس کی وجہ سے بعض اوقات گردن میں کھچاؤ محسوس ہونے لگا اور پھر اس کھچاؤ نے بڑھنا شروع کیا۔ایک طرف تو گردن کے کھچاؤ۔نے بڑھنا شروع کیا اور دوسری طرف ورم بجائے کم ہونے کے زیادہ ہونا شروع ہو گیا۔ جہاں تک درد کا تعلق تھا ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ یہ طبعی ہے۔ جب نرو(Nerve)بڑھنا شروع کرتی ہے تو درد ہوتا ہی ہے اس کے لیے فکر کی ضرورت نہیں۔ لیکن اس درد کے ساتھ زخم کے اوپر اس قسم کی جلن محسوس ہونے لگی جیسے کوئی شخص لوہا تپا کر ہاتھ میں پکڑ لے۔ اس ہاتھ میں جو کیفیت گرم لوہے کو پکڑتے وقت پیدا ہوتی ہے وہی کیفیت اس جلن کی تھی جو زخم کے اوپر کے حصہ میں درد کے ساتھ ساتھ محسوس ہوتی تھی اور یہ ایک علیحدہ چیز تھی۔ درد سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ پھر بعض اوقات معمولی سے جھٹکے کے ساتھ گردن میں پیچ پڑجاتا تھا۔ مثلاً گلے کا بٹن بند کرنے کے لیے سر نیچا کیا تو پیچ پڑ گیا۔ یہ پیچ ہاتھ کا سہارا دے کر اور گردن دبا کر درست ہوتا تھا۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ یہ تکلیف ڈاکٹروں کی رائے کے مطابق طبعی تھی یا غیرطبعی۔ کراچی، کوئٹہ، پشاور اور ربوہ سے متعدد خطوط مجھے ملے کہ زخم والی جگہ کا ڈاکٹروں سے معائنہ کرانا چاہیے لیکن میں نے ناصرآباد سے کراچی جانا پسند نہ کیا اور یہ فیصلہ کیا کہ اب آخری ایام ہیں چند دنوں کے بعد پنجاب چلے جانا ہے۔ ربوہ جانے کے بعد لاہور جاؤں گا اور ڈاکٹروں کو دکھاؤں گا۔ ساتھ ہی میں نے کراچی کے سرجن کو مشورہ کے لیے لکھ دیا۔ سرجن کے مشورہ کے مطابق جو جواب مجھے حیدرآبادمیں ملا وہ یہی تھا کہ جو علامات پیدا ہوئی ہیں وہ طبعی ہیں۔ لیکن ورم کا ابھی تک قائم رہنا بلکہ بعض اوقات بڑھ جانا، یہ چیز اِس قابل ہے کہ اِس پر دوبارہ غور کیا جائے۔ یہ چیز طبعی نہیں اور ہمارے اندازہ سے باہر ہے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ کوئی نئی بیماری نہ شروع ہو گئی ہو۔ بہرحال یہ حالات ہیں۔ ناصرآباد میں تکلیف کی جو شدت تھی وہ وہیں سے کم ہونا شروع ہو گئی تھی۔ اب بھی تکلیف کم ہے لیکن اگر زخم والی جگہ کو دبایا جائے تو ایک قسم کی جلن پیدا ہوتی ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ اِس ہفتہ لاہور جا کر زخم کی جگہ سرجن کو دکھاؤں۔ کراچی کی جماعت نے یہ انتظام کیا ہے کہ اگر ضرورت ہو تو وہ کراچی کے سرجن کو کار پر ربوہ لے آئیں۔ لیکن میں نے یہی مناسب سمجھا کہ میں پہلے لاہور کے سرجن سے مل لوں۔ اگر اس کی رائے میں کسی دوسرے سرجن سے مشورہ کی ضرورت محسوس نہ ہوئی تو کراچی کے سرجن کو بلانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔
    اس کے بعد میں مختصر طور پر جماعت کو اس دردناک واقعہ کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو مشرقی پاکستان میں پیش آیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سب مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔2 وہ آپس میں ایک جسم کے اعضاء کی طرح ہیں۔ جس طرح جسم کے ایک عضو میں تکلیف ہو تو دوسرے اعضاء بھی اس تکلیف کو محسوس کرتے ہیں اِسی طرح مومنوں کے کسی حصہ کو تکلیف ہو تو ان کے دوسرے حصہ کو بھی تکلیف محسوس کرنی چاہیے۔ قرآن کریم اور احادیث میں بعض ایسی باتیں آتی ہیں جن سے لوگ غلطی کھا جاتے ہیں اور حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ جو عام قانون ایک مذہبی آدمی بیان کرے گا وہ اُسے مذہبی اصطلاحوں میں ہی بیان کرے گا۔ مثلاً جب وہ یہ کہے گا کہ جو لوگ نماز کی پابندی نہیں کریں گے وہ کامیاب نہیں ہوں گے تو یہ صرف ایک مذہبی فقرہ نہیں ہو گا بلکہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ جو قومی تحریکیں ہوتی ہیں اُن میں اگر قوم سُستی اور غفلت سے کام لے گی تو وہ کمزور ہو جائے گی۔ پس یہ قانون صرف نماز کے لیے ہی نہیں ہو گا بلکہ ہر جگہ چسپاں ہو گا۔ اگر رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے کہ دیکھو! اگر تم رسول کی اطاعت نہیں کرتے تو تم گر جاؤ گے تو اِس کے یہ معنے نہیں کہ اگر تم رسول اور امام کی اطاعت نہیں کرو گے تو تم گِر جاؤ گے بلکہ علمی، اقتصادی، سیاسی اور قومی لیڈروں کی اطاعت نہ کرنے سے بھی یہی خرابی پیدا ہو گی۔ اگر کوئی قوم اپنے اقتصادی لیڈر کی اطاعت نہیں کرتی تو اُس کی اقتصادی حالت گِر جاتی ہے، اگر وہ کسی سیاسی لیڈر کی اطاعت نہیں کرتی تو وہ سیاسی لحاظ سے گِر جاتی ہے، اگر وہ کسی علمی لیڈر کی اطاعت نہیں کرتی تو وہ علمی لحاظ سے گِر جاتی ہے۔ پس مذہبی آدمی اگر کوئی چیز بیان کرے گا تو وہ مذہبی اصطلاح میں ہی بیان کرے گا۔ گو وہ قانون چسپاں ہر جگہ ہو گا۔ پس اگر رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وآلہٖ وسلم یہ فرماتے ہیں کہ سب مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں، وہ ایک جسم کے اعضاء کی طرح ہیں۔ جس طرح جسم کے ایک عضو کو تکلیف ہو تو دوسرے اعضاء بھی تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ اِسی طرح مومن جماعت کا ایک حصہ جب کوئی تکلیف محسوس کرتا ہے تو۔دوسرا حصہ بھی اس تکلیف میں شریک ہوتا ہے۔ تو یہ قانون اگر چہ مذہبی اصطلاح میں بیان کیا گیا ہے لیکن یہ ہر جگہ چسپاں کیا جائے گا۔ اگر سیاسیات کو لو تو ہم کہیں گے کہ ایک قوم کے سب شہری ایک جسم کی طرح ہیں۔ اگر اُن کے کسی ایک حصہ کو تکلیف پہنچتی ہے تو دوسرا حصہ بھی ویسی ہی تکلیف محسوس کرے گا، اگر تاجر ہیں تو وہاں اس قانون سے یہ مراد ہو گی کہ تمام تاجر ایک جسم کے اعضاء کی طرح ہیں جس طرح ایک عضو کے تکلیف اُٹھانے سے جسم کا دوسرا حصہ بھی تکلیف محسوس کرتا ہے اِسی طرح تاجروں کے ایک حصہ پر تکلیف آئے تو دوسرے حصہ کو بھی اس کی تکلیف محسوس کرنی چاہیے۔ اگر لوگ پیشہ ور ہیں تو ہم کہیں گے تمام پیشہ ور ایک جسم کی طرح ہیں اگر ان کے کسی ایک حصہ کو تکلیف پہنچے تو دوسرے لوگوں کو اس کی مدد کرنی چاہیے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جو یہ فرمایا کہ سب مومن آپس میں ایک جسم کی طرح ہیں۔ اگر جسم کے ایک حصہ کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو دوسرے اعضاء بھی ویسی ہی تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ یہ اصل اور قانون صرف مومنوں کے لیے ہے بلکہ دنیا میں جو گروپ بھی بنے گا اُس پر یہ قانون حاوی ہو گا۔ اگر گروپ کے کسی حصہ کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ تکلیف سب کو پہنچنی چاہیے۔ اگر اُس کے کسی حصہ کو وہ تکلیف نہیں پہنچتی تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ وہ حصہ اصل جسم سے کٹ گیا ہے۔ اس قانون کے ماتحت تمام حکومتیں، تمام سیاسی، اقتصادی اور علمی اقوام اور تمام گروپ ایک جسم کی طرح ہیں۔ اگر ان میں سے کسی کو تکلیف پہنچتی ہے تو دوسرے سب افراد کو وہ تکلیف محسوس کرنی چاہیے۔ اگر دوسرے لوگ ایک حصہ کی تکلیف کو محسوس نہیں کرتے تو وہ اقوام اپنے سرکل اور دائرہ میں فیل ہو جائیں گی۔ مثلاً امریکہ ہے وہ اندرونی طور پر کئی حصوں پر منقسم ہے۔ شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ، مشرقی امریکہ اور مغربی امریکہ، لیکن امریکہ کے لفظ میں وہ سب ایک ہی چیز شمار ہوں گے۔ U.S.A ایک ایسا علاقہ ہے جس میں کئی جگہ زبان میں فرق پایا جاتا ہے۔ مختلف اقوام کے لوگ اس میں آباد ہیں۔ کہیں انگریز آباد ہیں، کہیں جرمنوں کی زیادہ تعداد آباد ہے، کہیں یہودیوں کی کثرت ہے اور کہیں مشرقی یورپ کی اقوام زیادہ تعداد میں آباد ہیں۔غرض مختلف علاقوں میں مختلف اقوام آباد ہیں۔ جب کسی غیر سے مقابلہ نہ ہو تو کسی کو انگریزوں سے ہمدردی ہو گی، کسی کو یہودیوں سے ہمدردی ہو گی اور کسی کو جرمنوں سے ہمدردی ہو گی۔ لیکن جب امریکہ کا سوال آئے گا تو وہ اپنا سب اختلاف بھول جائیں گے۔ وہ بھول جائیں گے کہ وہ یہودی ہیں، وہ بھول جائیں گے کہ وہ جرمن ہیں، وہ بھول جائیں گے کہ وہ انگریز ہیں۔ غیر کے مقابلہ میں وہ سب ایک قوم ہوں گے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان فرمودہ قاعدہ کے یہ معنے ہوں گے کہ گروپ کے ہر فرد کو دوسرے کی تکلیف کا احساس کرنا چاہیے۔
    اِسی طرح پاکستان ہے۔پاکستان مسلمانوں کی متحدہ کوشش سے بنا ہے۔ اب رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ۔وآلہٖ وسلم کے بیان فرمودہ اصل کے ماتحت پاکستان میں بسنے والے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ وہ ایک گروپ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب ان میں سے کسی ایک حصہ پر تکلیف آئے تو باقی سب کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ تکلیف ہم پر آئی ہے۔ اگر اس کے کسی حصہ میں قحط نمودار ہوتا ہے تو باقی سب حصوں کو بھی احساس ہونا چاہیے کہ یہ قحط ہم پر ہی آیا ہے، اگر سیلاب ایک حصہ کو تباہ کر دیتا ہے تو باقی حصوں کو بھی یہ احساس ہونا چاہیے کہ سیلاب نے ہم سب کو برباد کر دیا ہے۔ اگر ملک کے ایک حصہ کی تکلیف کودوسرا حصہ اپنی تکلیف تصور نہیں کرتا تو اُسے سمجھ لینا چاہیے کہ وہ جسم سے کٹ گیاہے۔
    اِس وقت ایسٹ پاکستان میں جو تباہی آئی ہے اور سیلاب کے رنگ میں جو عذاب اس علاقہ پر آیا ہے اُس کی کیفیت اخبارات اور رسائل میں چھپتی رہتی ہے لیکن ہمیں مبلغین کی طرف سے بھی رپورٹ آتی رہتی ہے۔ اِس وقت تک جو رپورٹیں مبلغین کی طرف سے آئی ہیں انہیں پڑھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔ ہمارے مبلغین نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایک جگہ کے باشندوں نے جو اچھوت تھے ہمیں فون کیا کہ کوئی شخص ہماری حالت نہیں پوچھتا۔ آپ کم سے کم کوئی آدمی ہمارے پاس بھجوا دیں تا یہ دیکھ کر کہ ملک میں ہمارے ہمدرد بھی موجود ہیں ہماری ہمت بندھ جائے۔ چنانچہ مبلغین کا وفد وہاں پہنچا۔ انہوں نے دیکھا کہ ہر جگہ پانی ہی پانی کھڑا ہے۔ گاؤں میں جانے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ گاؤں کا کوئی شخص ایک کشتی لے آیا اور انہیں اس میں بٹھا کر اپنے ساتھ لے گیا۔ گاؤں میں پہنچ کر انہوں نے دیکھا کہ وہاں ایک گھر بھی ایسا نہیں جہاں کوئی شخص چارپائی، تختہ یا زمین پر سو سکے۔ سب جگہیں پانی سے بھری پڑی ہیں اور لوگوں نے پانی میں بانس گاڑ کر اُن پر گھاس پھونس ڈال رکھا ہے۔ وہ ان بانسوں کی بنی ہوئی چھتوں پر ہی سوتے ہیں اور انہی پر کھانا پکاتے ہیں۔ یہ کیفیت بالکل۔اِسی قسم کی ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دریائے چناب میں جا کر بانس گاڑ لے اور اُن پر گھاس پھونس ڈال کر وہاں رہنا شروع کر دے۔ اگر تم ایسا کرو بھی تو محض کھیل سمجھ کر کرو گے۔ لیکن وہ لوگ مصیبت کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ ہمیں دیکھ کر گاؤں کے بوڑھے اور جوان، مرد اور عورت سب جمع ہو گئے۔ اور وہ اس طرح روئے اور اس طرح انہوں نے گریہ و زاری کی جیسے کوئی گہرا دوست سالہاسال کی جُدائی کے بعد ملا ہو۔ وہ ہمیں دیکھ کر سب کچھ بھول گئے۔ ہم نے انہیں کچھ چاول دیئے اور کہا ہم لوگ غریب ہیں لیکن پھر بھی چاہتے ہیں کہ ہم آپ کی تکلیف میں حصہ لیں۔ انہوں نے چاول واپس کر دیئے اور کہا ہمیں اِس بات کا ڈر نہیں کہ ہم فاقوں مر جائیں گے۔ ہم میں سے جس کے پاس کچھ غلہ یا روپے ہیں وہ دوسروں کی مدد کرتا ہے۔ ہمیں صرف یہی احساس تھا کہ ملک میں ہمیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اب آپ آ گئے ہیں تو ہمیں سب کچھ مل گیا ہے۔ اب ہم فاقے میں بھی رہیں تو ہمیں اس بات کی پروا نہیں۔ ہمیں اس مدد کی ضرور ت نہیں۔ ہم جیسے بھی بن پڑا گزارہ کریں گے۔ ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ ہماری تکلیف کا احساس کرنے والے لوگ ملک میں موجود ہیں۔
    دیکھو! یہ چیز کتنی تکلیف دِہ ہے۔ ایک قوم کے افراد بھوکے مرتے ہیں، وہ فاقے برداشت کرتے ہیں لیکن وہ مدد قبول نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں ہم اِس بات سے خوش ہو گئے ہیں کہ پاکستان میں ہمیں پوچھنے والے لوگ بھی موجود ہیں۔ اس سے زیادہ ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ اِس علاقہ کے احمدیوں کے متعلق یہ رپورٹ ملی ہے کہ وہ نماز بھی بانسوں کی بنی ہوئی چھتوں پر پڑھتے ہیں۔ گویا نماز پڑھنے کے لیے بھی کوئی جگہ نہیں مل رہی۔ اب اُن کا اپنے ساتھ مقابلہ کرو۔ جب یہاں سیلاب آیا تو اُس کا زیادہ زور صرف ایک رات تھا۔ میں اُن دنوں ربوہ سے باہر تھا۔ مجھے یہاں سے بیسیوں رپورٹیں گئیں کہ ہم نے گیلیوں کی کشتیاں بنائیں اور ہم نے یوں بہادری اور دلیری کے ساتھ فلاں فلاں گاؤں کے لوگوں کو سیلاب کی زد سے بچایا۔ یہ تکلیف صرف ایک رات کی تکلیف تھی لیکن ایسٹ پاکستان کا قریباً سارا علاقہ بیس۔پچیس دن سے اِس قدر تکلیف میں مبتلا ہے کہ وہ بانسوں کی بنی ہوئی چھتوں پر سوتے ہیں اور۔اُنہی پر کھانا پکاتے ہیں۔ تم خود ہی سمجھ سکتے ہو کہ بانسوں کی چھتوں پر وہ روٹی کیا پکائیں گے۔ گھاس۔پھونس پر آگ جلائی جائے تو وہ جل کر راکھ ہو جاتا ہے۔ اس لیے خیالی طور پر ہی روٹی پکتی ہو گی یعنی وہ ویسے ہی آٹا وغیرہ پھانک کر گزارہ کرتے ہوں گے۔ ان حالات میں ہمارا فرض ہے کہ ہم لوگ جو اس مصیبت سے محفوظ ہیں اپنے ان بھائیوں کی مدد کریں جو اِس وقت مصیبت میں پھنسے ہوئے ہیں۔
    مجھے افسوس ہے کہ ہمارے ملک کی ذہنیت ایسی خراب ہو چکی ہے کہ بجائے اِس کے کہ مصیبت میں مبتلا لوگوں سے وہ ہمدردی کا اظہار کریں اور ان کے لیے قربانی اور ایثار سے کام لیں وہ اَور زیادہ لُوٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسٹ پاکستان میں اس دفعہ زیادہ بارش ہو ئی ہے اور وہاں خطرناک سیلاب آیا ہوا ہے۔ یہاں بارش بہت کم ہوئی ہے لیکن اِس علاقہ میں غلہ ضرورت سے دس فیصدی زیادہ پیدا ہوا تھا۔ مگر اُدھر مشرقی بنگال میں سیلاب آیا اور اُدھر بعض علاقوں میں غلہ کی قیمت سولہ روپے من ہو گئی۔ پھر یہ خبر مجھے سندھ میں پہنچ گئی تھی کہ یہاں گھی کا بھاؤ ساڑھے چھ روپیہ فی سیر ہو گیا ہے۔ سندھ میں گھی کا بھاؤ پنجاب سے ایک روپیہ فی سیر ہمیشہ زیادہ ہوتا ہے کیونکہ وہاں بھینسیں رکھنے کا رواج نہیں۔ وہاں لوگ گائیں رکھتے ہیں۔ پھر وہ جانوروں کی پرورش بھی اچھی طرح نہیں کرتے۔ پھر گھی بھی کم نکالتے ہیں۔ وہاں لوگ سالن نہیں پکاتے۔ روٹی، دودھ کے ساتھ کھا لیتے ہیں یا لسّی کے ساتھ روٹی کھاتے ہیں۔ اس لسّی میں سے مکھن کم نکالتے ہیں تا لسّی چکنی رہے۔ پس گھی کی طرف ان کی توجہ کم ہے۔ پنجابی لوگ جو وہاں آباد ہیں وہ بھینسیں رکھتے ہیں اور گھی اُنہی سے ملتا ہے۔ اِس لیے یہاںاگر گھی کا بھاؤ تین روپے سیر ہو تو وہاں چار روپے سیر ہوتا ہے، یہاں چار روپے سیر ہو تو وہاں پانچ روپے سیر ہوتا ہے، یہاں پانچ روپے سیر ہو تو وہاں چھ روپے سیر ہوتا ہے لیکن اِس دفعہ وہاں گھی کا بھاؤ ساڑھے چار روپے فی سیر ہے اورر یہاں چھ، ساڑھے چھ روپیہ فی سیر ہے حالانکہ پنجاب میں گھی کثرت سے ملتا ہے۔ پھر ریلیں اور سڑکیں ایک علاقہ کو دوسرے علاقہ سے ملاتی ہیں اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ گھی کا بھاؤ اِس قدر بڑھ جائے۔ گندم اور گھی کا بھاؤ بڑھ جانے کی وجہ صرف یہی ہے کہ لوگوں نے دیکھا کہ مشرقی پاکستان پر اِس وقت مصیبت آئی ہوئی ہے۔ اب وہاں گھی اور گندم جائے گی اس لیے موقع ہے جس قدر لُوٹ سکو لُوٹ لو حالانکہ ان لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر وہاں مصیبت آئی ہے تو اُس قسم کی مصیبت یہاں بھی آ سکتی ہے۔ یہ کوئی شرافت اور ایمانداری نہیں کہ تم گھی مہنگا کر دواس لیے کہ گھی مشرقی بنگال جانا ہے۔ تم گندم مہنگی گر دو اس لیے کہ گندم مشرقی بنگال جانی ہے۔
    جب غلہ مہنگا ہوتا ہے تو اس کا کوئی سبب ہوتا ہے۔ ملک میں اِس سال غلہ اِس قدر پیدا ہوا ہے کہ باوجود اِس کے کہ گورنمنٹ نے گندم کا نرخ 9/4/0 روپے فی من مقرر کیا تھا بازار میں گندم پانچ چھ روپے فی من کے حساب سے ملتی رہی ہے۔ سندھ میں تو گندم بعض جگہ چارچار روپے فی من کے حساب سے بھی بِکی ہے۔ لوگوں نے شور مچایا اور کہا کہ اگر گندم کی قیمت عملی طور پر یہی رہی تو ہم مالیہ بھی اِسی قیمت کے حساب سے دیں گے کیونکہ سندھ میں مالیہ فصل کی قیمت کے حساب سے ہوتا ہے۔ اِس پر گورنمنٹ نے اپنے مفاد کی خاطر مقرر کردہ قیمت پر گندم کی خرید شروع کی۔ اس نے یہ سمجھ لیا کہ اگر سارے ملک میں دس لاکھ ایکڑ گندم کاشت ہو اور اوسط قیمت چھ روپے ہو اور فرض کرو ہمیں دس روپیہ فی ایکڑ مالیہ ملے تو کُل مالیہ ایک کروڑ روپے ملے گا۔ لیکن اگر اوسط قیمت 9/- روپے فی من ہو تو مالیہ ڈیڑھ کروڑ ملے گا۔ ہمارا اِس وقت پچاس لاکھ کا نقصان ہو رہا ہے۔ ہم کیوں نہ کچھ گندم مقررکردہ نرخ پر خرید لیں۔ اگر ہم دو لاکھ مَن گندم خرید لیں تو ہمیں پانچ چھ لاکھ روپیہ کا گھاٹا پڑے گا اور باقی مالیہ بچ جائے گا۔ پس گورنمنٹ نے خیال کیا کہ اگر ہم دو تین لاکھ مَن گندم خرید لیتے ہیں تو نقصان نودس لاکھ روپیہ کا ہو گا اور باقی روپیہ کا فائدہ ہو گا۔ اور اگر ہم گندم نہیں خریدتے تو پچاس لاکھ روپیہ کا نقصان ہو گا۔ اس لیے انہوں نے گندم خریدنے کا فیصلہ کیا اور تھوڑے ہی دنوں کے بعد انہوں نے زمینداروں کو یہ نوٹس دے دیا کہ چونکہ تم لوگ گندم وقت پر مارکیٹ میں نہیں لائے اس لیے ہم آئندہ اس بھاؤ پر گندم کی خرید نہیں کریں گے۔
    بہرحال یہاں کے لوگوں نے بجائے ہمدردی کا اظہار کرنے کے اُلٹا نمونہ دکھایا۔ بجائے اِس کے کہ وہ انہیں ضرورت کی چیزیں مہیا کرتے انہوں نے یہ سمجھا کہ چونکہ گھی کی اس وقت ضرورت ہے اس لیے اسے مہنگا کر دو، گندم کی ضرورت ہے اس لیے اس کا نرخ بڑھا دو اور اس طرح خوب فائدہ اُٹھاؤ۔ یہ تو ایسی بات ہے کہ کسی شخص کے پاس پانی ہو اور اُس کے پاس دوسرا شخص پیاسا مر رہا ہو لیکن وہ کہے کہ میں پانی پچیس روپے سیر بیچتا ہوں۔ یہ طریق نہایت ناواجب اور ناشائستہ ہے۔ اس کے یہ معنے ہیں کہ پاکستانیوں کے پاس نہ غلّہ ہے اور نہ بھینسیں ہیں حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ غلہ بھی موجود ہے اور گھی بھی موجود ہے۔ صرف لُوٹ کا احساس ہے جس نے ان چیزوں کی قیمتیں بڑھا دی ہیں حالانکہ ہر پاکستانی کو سمجھنا چاہیے تھا کہ اِس موقع پر مجھے ان اشیاء کی قیمت نہیں بڑھانی چاہے۔ اس لیے کہ اس کی میرے بھائیوں کو ضرورت ہے۔ اگر قیمت میں فرق پڑ گیا تو کیا حرج ہے۔ اگر خدانخواستہ ویسٹ پاکستان پر مصیبت آتی تو ایسٹ پاکستان والوں کا فرض ہوتا کہ وہ اس کی خاطر قربانی کرتے۔
    بہرحال میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ قربانی کر کے مشرقی پاکستان کے مصیبت زدہ لوگوں کے لیے چندہ جمع کریں۔ اِس سلسلہ میں کراچی کی جماعت نے سب سے پہلے قدم اُٹھایا ہے۔ انہوں نے پانچ ہزار روپے کا وعدہ کیا تھا جس میں سے تین ہزار روپے سے اوپر چندہ انہوں نے جمع کر لیا ہے۔ جن جماعتوں نے اِس سلسلہ میں ابھی تک کوئی قدم نہیں اُٹھایا میں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ چندہ جمع کریں اور اسے مرکز میں بھیجیں۔ مرکز بھی اپنے پاس سے کچھ رقم دے گا کیونکہ ان لوگوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے اخراجات کو کم کر کے مصیبت زدہ لوگوں کے لیے کچھ رقم نکالیں۔ پھر جو رقم جمع ہو اس میں سے کچھ رقم حکومت کے مقرر کردہ نظام کو بھیج دی جائے اور کچھ رقم جماعت کو بھیج دی جائے تا کہ وہ اپنے ہمسایوں میں خود تقسیم کرے۔ اِس طرح برادرانہ تعلقات بڑھتے ہیں۔ بعض جگہوں پر تحریک کی گئی ہے کہ مصیبت زدگان کی امداد کے لیے ایک ایک دن کی تنخواہ دے دی جائے۔ چنانچہ لائلپور میں ایک مِل میں اِس قسم کی تحریک کی گئی تو سینتیس ہزار روپیہ جمع ہو گیا۔ گویا ان کے ایک ماہ کی تنخواہ کا بجٹ گیارہ لاکھ دس ہزار روپے ہے اور ایک سال کی تنخواہ کا بجٹ ایک کروڑ تینتیس لاکھ بیس ہزار روپیہ ہے۔ ہماری جماعت کی تنخواہیں اِتنی نہیں۔ پھر ہماری جماعت کے دوستوں کی توجہ تجارت اور صنعت و حرفت کی طرف نہیں۔بلکہ اگر کسی کو کوئی کام آتا ہو تو وہ بھی چاہتا ہے کہ یہ کام میرے تک ہی محدود رہے۔ ابھی تک ہمارے ملک میں یہ چیز پیدا نہیں ہوئی کہ پیشے اور ہُنر دوسروں کو سکھائے جائیں۔ اگر کوئی ٹرنک بنانا جانتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ یہ فن اب میرے تک ہی محدود رہے، اگر کوئی بُوٹ بنانا جانتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ یہ کام میرے تک ہی محدود رہے لیکن جو سکھاتا ہے اُس کی قدر نہیں ہوتی بلکہ سیکھنے والا اور اُس کے رشتہ دار فوراً شور مچاتے ہیں کہ سیکھنے والے کو تنخواہ نہیں دی جاتی۔
    یورپ کی کتابیں پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں جو لوگ کام سیکھتے ہیں وہ سکھانے والے کو بڑی بڑی رقمیں دیتے ہیں لیکن یہاں ایسا نہیں۔ یہاں اگر کوئی شخص کسی کے پاس اپنا بیٹا کام سیکھنے کے لیے بھیجتا ہے تو وہ میرے پاس اس قسم کی شکایت کرتا ہے کہ میں پندرہ دن سے کام سیکھنے کے لیے اپنے بیٹے کو فلاں کے پاس بھیج رہا ہوں وہ اس کی تنخواہ نہیں دیتا۔ حالانکہ جب تک وہ کام سیکھتا ہے وہ سکھانے والے کی چیزیں بگاڑتا ہے اسے فائدہ نہیں پہنچاتا۔ ولایت میں چھوٹے چھوٹے پیشے سیکھنے کے لیے دودوسال تک پریکٹس کرنی پڑتی ہے۔ پھر کہیں جا کر تنخواہ کی امید کی جاتی ہے۔ لیکن یہاں پندرہ دن کے بعد ہی شکایات آنی شروع ہو جاتی ہیں۔
    ہم جب بچے تھے تو حضرت خلیفۃ المسیح الاول حضرت نانا جان سے فرمایا کرتے تھے کہ اپنے چھوٹے بیٹے محمداسحاق کو دین کے لیے وقف کر دو۔ وہ جواب دیا کرتے تھے کہ پھر وہ کھائے گا کہاں سے؟ اِس پر حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرماتے آپ نے اپنے ایک لڑکے کو ڈاکٹر بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کا رزق بھی اسے دے دے گا۔
    میری صحت خراب تھی۔ اس لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا مولوی۔صاحب سے کچھ طب پڑھ لو کیونکہ یہ ہمارا خاندانی پیشہ ہے۔ اِسی طرح قرآن اور بخاری پڑھ لو۔ جب میں نے حضرت خلیفہ اول سے طب اور دینیات پڑھنی شروع کی تو نانا جان مرحوم نے میرمحمداسحاق صاحب کو بھی میرے ساتھ بٹھا دیا۔ میری عمر تیرہ چودہ سال کی تھی اور۔میرصاحب کی عمر مجھ سے دو سال کم تھی۔ پہلے دن جب وہ پڑھنے آئے تو نانی اماں نے۔لطیفہ سنایا کہ جب اسحاق سونے لگا تو اُس نے کہا مجھے صبح جلدی جگا دیں کیونکہ حضرت۔خلیفہ۔اول کے پاس کثرت کے ساتھ مریض آتے ہیں اور انہیں انتظار میں گھنٹوں بیٹھنا پڑتا ہے میں صبح صبح جا کر مریضوں کے لیے نسخے لکھوں گا تا کہ انہیں تکلیف نہ ہو۔ اِس پر وہ بھی ہنسے اور ہم بھی۔ ہم نے میرصاحب سے مذاق بھی کیا کرتے تھے لیکن وہ تو بچوں کی باتیں تھیں بڑوں کو یہ باتیں نہیں سجتیں۔
    بڑوں میں سمجھ، فہم اور فراست ہوتی ہے۔ وہ اگر ایسا کریں کہ اِدھر لڑکا سکول میں داخل کیا اور اُدھر اس کی تنخواہ کا مطالبہ شروع کر دیا تو وہ پاگل سمجھے جائیں گے۔ حالانکہ کام سکھانے والا تو اُس پر احسان کر رہا ہے۔ جب وہ اچھی طرح فن سیکھ لے گا تو اپنا کام الگ شروع کر لے گا۔
    یورپ کی کتابیں پڑھ لو۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کوئی پیشہ ایسا نہیں جس میں شاگرد کچھ لے۔ وہ کچھ لیتا نہیں بلکہ استاد کو کچھ رقم دیتا ہے۔ استاد بھی سکھائے گا اور اس کے بدلہ میں کچھ لے گا بھی۔ لیکن یہاں ایسا نہیں۔ یہاں اگر کوئی کام سیکھنے کے لیے جاتا ہے تو پندرہ دن کے بعد یہ شکایت کرنے لگ جاتا ہے کہ وہ مجھے تنخواہ نہیں دیتا۔
    اگر ہمارے دوست پیشوں کی طرف توجہ کرتے تو ہماری جماعت میں بھی پیشے آجاتے۔مگر ابھی ہماری جماعت غرباء کی جماعت ہے۔ اگر اس کے پاس روپیہ ہے تو صرف اس وجہ سے کہ ان میں ہر ایک کچھ نہ کچھ دیتا ہے۔ بیچ میں کچھ بے ایمان بھی آ جاتے ہیں لیکن پھر بھی اکثریت بے ایمانی سے محفوظ رہتی ہے۔ دوسری انجمنوں میں کھانے والے زیادہ ہوتے ہیں اس لیے روپیہ نظر نہیں آتا۔ ہم بے ایمانی کو پوری طرح روک تو نہیں سکتے لیکن جماعت کی اکثریت خداتعالیٰ کے فضل سے ایسی ہے جو ایماندار ہے۔ اور اگر ایماندار نہیں تو اس میں اتنی غیرت ضرور ہے کہ جماعت کا روپیہ نہیں کھانا۔ چنانچہ دیکھ لو سیکرٹریانِ۔مال ہمارے ملازم نہیں لیکن وہ روپیہ جمع کرتے ہیں اور یہاں بحفاظت پہنچاتے ہیں۔ یہ مثال اَور کہیں بھی نہیں پائی جاتی کہ سینکڑوں روپے غریبوں کے پاس جمع ہوں اور وہ ملازم بھی نہ ہوں لیکن روپیہ بحفاظت مرکز میں پہنچ جاتا ہو۔ صرف چند مثالیں ایسی ملی ہیں کہ انہوں نے روپیہ کسی حد تک خُردبُرد کر لیا لیکن ایک بھی مثال ایسی نہیں ملتی کہ کسی نے سارا روپیہ کھا لیا ہو یا پھر اُسے واپس نہ کیا ہو۔ ایک دفعہ ایک غریب آدمی تھا۔ اُس نے کچھ روپیہ کھا لیا۔ اس کے پاس کچھ زمین تھی۔ جب وہ پکڑا گیا تو اُس نے کہا میری غلطی ہے۔ اِس وقت روپیہ تو نہیں زمین میرے پاس ہے وہی لے لیں اور اپنا روپیہ پورا کر لیں۔ پس اگر جماعت میں اِس قسم کی غلطی کرنے والے ملتے بھی ہیں تو وہ بھی مطالبہ پر رقم کو ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں اس قسم کی متعدد مثالیں پائی جاتی ہے اور دوتین مثالوں کو تو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ جب یہاں سے نظارت نے یہ نوٹس دیا کہ سال ختم ہو رہا ہے تم روپیہ جلدی بھیجو تو سیکرٹری مال نے روپیہ اپنے پاس سے بھیج دیا اور خود چندہ بعد میں جمع کیا۔غرض ہم میں قربانی کرنے والے دوسروں سے زیادہ ہیں۔ اس لیے ہم باوجود کمزور ہونے کے اچھا نمونہ دکھا سکتے ہیں۔
    کراچی کی جماعت کو دیکھ لو وہ چھوٹی سی جماعت ہے لیکن انہوں نے مشرقی پاکستان کے مصیبت زدوں کے لیے پانچ ہزار روپیہ کی رقم دی ہے۔ اس سے پہلے وہ کئی اَور اخراجات بھی برداشت کر چکے ہیں اور کئی اخراجات ابھی برداشت کر رہے ہیں۔ پھر بھی انہوں نے قربانی سے دریغ نہیں کیا۔
    پس جماعت کے تمام دوستوں کو چاہے وہ زمیندار ہوں، پیشہ ور ہوں یا ملازم ہوں میں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اِس موقع پر چندہ جمع کر کے اپنی حبُّ الوطنی کا ثبوت دیں۔ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم فرماتے ہیں حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْاِیْمَانِ۔3 حُبُّ۔الوطنی بھی ایمان کا ایک حصہ ہے۔ اگر تم ان مصائب میں حصہ نہیں لیتے تو جب لڑائی کا سوال پیش آئے گا تو تم کیا کرو گے؟ پارٹیشن کے موقع پر جو حالات بگڑے تھے وہ صرف سکھوں کی وجہ سے ہی نہیں تھے بلکہ بعض جگہوں پر مسلمانوں کی وجہ سے بھی حالات بگڑ گئے تھے۔ مجھے کئی لوگوں نے بتایا کہ ہم سے قسمیں لی گئی تھیں کہ تم نے فلاں جگہ کے مسلمانوں کی مدد نہیں کرنی۔ چنانچہ مسلمانوں کے گاؤں لُٹ رہے تھے لیکن دوسرے مسلمانوں نے انہیں بچایا نہیں۔ پھر خود ان پر حملہ کر کے سکھوں نے انہیں تباہ کر دیا۔ پس پیشتر اس کے کہ دشمن تمہیں پارہ پارہ کر کے مارے تم اپنے اندر حبُّ الوطنی کا احساس پیدا کرو۔
    ہمارے علاقہ کی مختلف اقوام کے افراد میں اپنی قومیت کا احساس پایا جاتا ہے۔ ایک۔کہتا ہے میں جٹ ہوں، میں صرف کسی جٹ کو ہی اپنی لڑکی دوں گا، دوسرا کہتا ہے میں ارائیں ہوں اس لیے میں کسی غیرارائیں کو لڑکی نہیں دوں گا۔ اب دیکھو یہ ایک خیال ہی ہے جو قائم کر لیا گیا ہے حالانکہ اس خیال میں کوئی حقیقت نہیں کیونکہ جٹ قوم بحیثیت جٹ کسی منظم حکومت میں دوسروں کی کوئی مدد نہیں کر سکی۔ اِسی طرح ارائیں قوم بحیثیت ارائیں کسی منظم حکومت میں ارائیوں کی کوئی مدد نہیں کر سکی۔ لیکن وطنی بطور وطنی کے ایسا کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں کیونکہ ایسی صورت میں انہیں قانون اُٹھا رہا ہوتا ہے۔ مثلاً ایسٹ پاکستان پر حملہ ہو جائے تو ویسٹ پاکستان کے باشندوں کو حکومت مجبور کرے گی کہ وہ دشمن کا مقابلہ کریں لیکن اگر کسی جٹ پر حملہ ہو تو دوسرے جٹ کو مدد کرنے پر حکومت مجبور نہیں کرے گی۔ مثلاً چودھری ظفراللہ خاں صاحب جٹ قوم سے ہیں لیکن جب ان پر حملہ ہوتا ہے تو جٹ قوم کے دوسرے افراد کو ان کی مدد کا کوئی خیال بھی نہیں آتا۔ وہ اپنی قوم کی تباہی دیکھتے ہیں لیکن پھر بھی ایک دوسرے کی مدد کا خیال نہیں کرتے۔ لیکن اگر ایسٹ پاکستان پر حملہ ہو جائے تو کیا تم سمجھتے ہو کہ حکومت چپ کر کے بیٹھ رہے گی؟ وہ تم پر زائد ٹیکس لگائے گی، وہ جبری بھرتیاں کرے گی، وہ ریلوں اور سڑکوں پر قبضہ کرے گی،وہ تمہارے سفروں پر پابندی لگا دے گی اور چاہے تم ننگے پھرو وہ کپڑے پر قبضہ کر لے گی۔ اس لیے کہ ایسٹ پاکستان ہماری وطنیت کا حصہ ہے اور وطنیت کا جذبہ قومیت کے جذبہ سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے کیونکہ اُس کے پیچھے حکومت ہوتی ہے۔ یہ جذبہ اگر ہم اپنے اندر پیدا کر لیں تو دیکھو ہمارے اندر دوسروں کی ہمدردی اور قربانی کا مادّہ کس قدر پیدا ہو۔
    پاکستان ایک نیا ملک ہے۔ اس کے اندر بعض چیزیں آہستہ آہستہ پیدا ہوں گی۔ مثلاً۔اب مشرقی پاکستان میں سیلاب آیا ہے۔ اگر ہمارے ملک کے لوگ اُن کی بھائی سمجھ کر مدد کریں تو جب بچے اپنے ماں باپ کو مدد کرتے دیکھیں گے تو انہیں بنگالیوں کی تکلیف دیکھ کر خودبخود اُن سے ہمدردی پیدا ہو جائے گی۔ پس تم حسبِ توفیق اِس چندہ کے لیے وعدے کرو اور پھر ان وعدوں کو جلد ادا کر دو۔ چھ سات ماہ تک ادائیگی کو لیٹ نہ کر دیا جائے کیونکہ اُس وقت تک اِس رقم کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ اگر کوئی شخص غرق ہو رہا ہو تو یہ نہیں ہوتا کہ۔دیکھنے والا کہے کہ میں پہلے تیراکی کے فن میں مہارت حاصل کر لوں پھر اس غرق ہونے والے کی مدد کروں گا بلکہ اُس وقت جس کسی کو تیرنا آتا ہو وہ اُس کی مدد کے لیے کُود پڑتا ہے۔ اِسی طرح اِس مصیبت میں بھی لمبا وعدہ درست نہیں۔ جو کچھ دینا ہے دس پندرہ دن کے اندر ادا کر دو۔صدرانجمن احمدیہ کو چاہیے کہ وہ اِس تحریک کے متعلق دس پندرہ دن تک الفضل میں چوکھٹے کے اندر اعلان شائع کرائے اور دوستوں کو تحریک کرے کہ جو کچھ میسر ہے دے دو۔ چاہے دوہزار روپیہ اکٹھا ہو یا دس بیس ہزار روپیہ اکٹھا ہو۔ اگر وہ وقت پر قوم کے کام آ جائے تو تم قوم اور خدا کے سامنے شرمندہ نہیں ہو گے۔ تم قوم کے سامنے یہ کہہ سکو گے کہ وقت پر ہم نے اپنے آپ کو پاکستانی ثابت کر دیا ہے۔ اور خداتعالیٰ کے سامنے بھی یہ کہہ سکو گے کہ جب تیرے بندے تکلیف میں مبتلا ہوئے تو ہم نے ان کی تکلیف کے ازالہ میں ان کی پوری مدد کی‘‘۔ (الفضل 14ستمبر1954ئ)

    1
    :
    امالہ:مائل کرنا۔ بدلنا(فیروز اللغات اردو جامع فیروز سنز لاہور)
    2
    :
    مسلم کتاب البر والصلۃ باب تَرَاحُمِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ تَعَاطُفِھِمْ وَتَعَاضُدِھِمْ
    3
    :
    تفسیر روح البیان۔ سورۃ القصص آیت 85۔ ’’اِنَّ الَّذیْ فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْآن ۔۔۔۔۔‘‘۔جلد 6صفحہ441۔ المکتبۃ الاسلامیۃ 1331ھ


    جھوٹی عزت کے پیچھے نہ پڑو۔ اصل عزت وہی ہے جو خداتعالیٰ کی طرف آئے
    مجرموں کی تائید سے اپنے آپ کو بچاؤ کہ یہ قوم کو تباہ کرنے والی چیز ہے
    (فرمودہ 10ستمبر1954ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’پچھے جمعہ میں نے یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ میں اِس ہفتہ لاہور جاؤں گا اور وہاں ڈاکٹروں سے مشورہ کروں گا لیکن آج تک میں وہاں نہیں جا سکا۔ میری ایک بیوی بیمار ہو گئی تھیں اور بخار زیادہ تیز تھا جس کی وجہ سے میں لاہور نہیں جا سکا۔ اِس کے علاوہ مجھے خود بھی ان دنوں انفلوئنزا کی تکلیف رہی۔ سر اور دوسرے سارے جسم میں درد تھا۔ اِسی طرح لات میں بھی درد کی شکایت رہی۔ اِسی وجہ سے پچھلے ہفتہ میں مَیں صرف دو دفعہ نماز کے لیے مسجد میں آسکا ہوں۔ بہرحال اب بھی میرا ارادہ ہے کہ اگر خداتعالیٰ نے گھر میں صحت اور عافیت رکھی تو اس ہفتہ میں کسی دن میں لاہور جاؤں گا اور ڈاکٹروں سے مشورہ۔کروں گا۔
    اس کے بعد میں سب سے پہلے یہاں کے دوستوں کو اور پھر جب خطبہ شائع ہو تو۔اس کے ذریعہ بیرونی جماعتوں کو مخاطب کر کے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دنیا میں جب بھی قومیں آگے قدم بڑھاتی ہیں اور جب بھی وہ اپنے منبع سے دور ہوتی چلی جاتی ہیں لازماً اُن میں کئی قسم کی خرابیاں پیدا ہوتی جاتی ہیں۔ انگریزی میں ایک مشہور مثل ہے کہ قوم کی زندگی کو قائم رکھنے کے لیے نیوبلڈ(New Blood) یعنی نئے خون کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور ہمیں بھی ایک لمبے تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں تک خداتعالیٰ کی خاطر قربانی کا سوال ہے نئے آنے والے بہ نسبت پرانے اور نسلاً احمدیوں کے، زیادہ جوش رکھتے ہیں اور اس کی یہ وجہ ہے کہ نئے آنے والے ہر مسئلہ پر بحث کر کے آتے ہیں۔ ہر مسئلہ انہوں نے خوب سوچا سمجھا ہوا ہوتا ہے اور اس پر غور کیا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے خلاف انہوں نے دلائل سنے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس طرح اس کی تائید میں بھی انہوں نے دلائل سنے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس لیے کوئی چیز انہیں اپنی جگہ سے نہیں ہِلا سکتی۔ جن چیزوں نے انہیں اپنی جگہ سے ہٹانا تھا اُن پر وہ پہلے سے ہی بحث کر چکے ہوتے ہیں۔ لیکن جو لوگ نسلاً کسی مذہب میں داخل ہوتے ہیں نہ اُن کے سامنے سارے دلائل آتے ہیں نہ انہوں نے ان کے متعلق کوئی بحث کی ہوئی ہوتی ہے اور نہ اُن کی تائید میں یا اُن کے خلاف دلائل سنے ہوتے ہیں۔ اس لیے جن گندوں کو دیکھ کر ان کے ماں۔باپ کسی مذہب سے مایوس ہو چکے ہوتے ہیں وہ ان کی طرف مائل ہو جاتے ہیں، جو چیزیں اُن کے والدین کو مایوس کرنے والی اور بھگانے والی ہوتی ہیں وہ اُن کے لیے کشش کا موجب ہو جاتی ہیں۔ اُن کے ماں باپ بیسیوں سال تک اپنے شہروں اور محلوں میں دیکھ چکے تھے کہ فلاں کیسے شریف خاندان میں سے ہے، کس کا بیٹا ہے اور کس طرح سارا شہر اُس کی عزت کیا کرتا تھا۔ پھر وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اُس کی اولاد نے سینما اور تماشوں میں جانا شروع کیا جس کی وجہ سے اُن کی مالی حالت بگڑی۔ پہلے اُن کے پاس گھوڑے تھے، گاڑیاں تھیں جن میں وہ سواری کرتے تھے۔ مالی حالت بگڑنے کی وجہ سے وہ بِک گئیں۔ پھر انہوں نے کرایہ کی گاڑیوں پر سفر کرنا شروع کیا۔ پھر جب اَور مالی حالت بِگڑی تو انہوں نے پیدل چلنا شروع کیا۔ جب تعیّش کے سارے سامان ختم ہو گئے تو انہوں نے چوری اور ٹھگی کے ذریعہ مال حاصل کرنا شروع کیا جس کے نتیجہ میں وہ جیل خانوں میں گئے اور لوگوں کی نگاہوں میں ذلیل۔ہو گئے۔ غرض ماں۔باپ نے صرف سینما ہی نہیں دیکھا تھا بلکہ اس کے اثرات کو بھی دیکھا تھا۔ انہوں نے شریف خاندانوں کو سینما کی بدولت تباہ ہوتے دیکھا تھا۔ اس لیے وہ اس سے متنفر ہو گئے۔ لیکن ان کے بیٹے نے سینما کے اثرات کو نہیں دیکھا۔ اس نے اس کی بدولت خاندانوں کو تباہ ہوتے نہیں دیکھا۔ وہ جب غیر سے ملتا ہے اور سینما دیکھتا ہے تو سمجھتا ہے کہ سینما تو بہت اچھی چیز ہے۔ میرے ماں باپ بڑے بیوقوف تھے کہ انہوں نے مجھے سینما سے دور رکھا اور اس سے لطف نہ اُٹھانے دیا۔ اس نے نقش دیکھے، گیت سنے، ناچوں سے لطف اُٹھایا، ایکٹروں اور ایکٹرسوں کو دیکھا۔ لیکن یہ نہ دیکھا کہ اس کے بداَثرات کی وجہ سے کتنے شریف خاندان تباہ ہو گئے۔ اس لیے اُس نے اچھے نقش دیکھ کر اور ایکٹروں کی شکلیں دیکھ کر اپنے ماں باپ، بھائیوں اور دوسرے بزرگوں کو بیوقوف سمجھا۔ گویا جو چیزیں اُس کے ماں باپ، بہن، بھائیوں اور دوسرے بزرگوں کو مایوس کرنے والی اور نفرت دِلانے والی تھیں وہ اُسے اپنی طرف کھینچنے والی ثابت ہو جاتی ہیں۔ ایک ہی چیز ہے جو ماں باپ کو ایک طرف لے گئی اور بیٹے کو دوسری طرف لے گئی۔ پھر احمدیت کو قبول کرنے کی وجہ سے جو مشکلات پیش آتی ہیں اُن سے اُس کا واسطہ نہیں پڑتا۔ جب اُس کے ماں باپ اور بزرگ احمدیت میں داخل ہوئے تو لوگوں نے انہیں مختلف قسم کی تکالیف دیں۔ انہوں نے ان کا بائیکاٹ کر دیا، ضروریاتِ زندگی انہیں مہیا نہ ہونے دیں، بازار سے اگر کوئی شخص سودا دے بھی دیتا تھا تو ناک چڑھا کر اس طرح دیتا تھا جس طرح کُتّے کے آگے ٹکڑا ڈال دیا جاتا ہے اور چونکہ وہ ساری مشکلات کو برداشت کر کے احمدیت میں داخل ہوئے تھے اس لیے وہ کسی بات سے گھبراتے اور ڈرتے نہیں تھے۔ وہ جب سنتے تھے کہ لوگ انہیں مار ڈالیں گے تو کہتے تھے ہم تو بیسیوں سال سے اِس قسم کی دھمکیاں سن رہے ہیں لیکن یہ سلسلہ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ لیکن جب ایک پیدائشی احمدی اِن باتوں کو دیکھتا ہے تو وہ گھبرا جاتا ہے۔ ماں باپ چونکہ تجربہ کر چکے ہوتے ہیں کہ باوجود اِس کے کہ لوگوں نے اِس سلسلہ میں داخل ہونے والوں کو سخت قسم کی تکالیف دیں، انہوں نے انہیں مار ڈالنے کی دھمکیاں دیں بلکہ عملی طور پر کچھ لوگوں کو مار بھی ڈالا۔ پھر بھی یہ سلسلہ اب تک زندہ ہے۔ اس لیے وہ ڈرتے نہیں۔ لیکن ایک پیدائشی احمدی جن کو ان تکالیف سے واسطہ نہیں پڑا وہ وقت پر بزدلی دکھا جاتا ہے۔ اِسی طرح نئے آنے والوں میں ایک قسم کی غیرت ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں ہم تو اپنی جائیدادیں چھوڑ کر آئے ہیں۔ اس لیے جماعت کا جو چندہ آتا ہے اسے ہم کیوں خراب کریں۔ لیکن ایک نسلی احمدی جب مال دیکھتا ہے تو وہ اس میں سے کچھ ذاتی استعمال میں لے آتا ہے اور سمجھتا ہے اس کی وجہ سے میری حالت درست ہوجائے گی۔ پس مالوں کا غبن ہونا، افراد کا بددیانت ہونا کوئی قابلِ تعجب بات نہیں۔ یہ بات ہر نئی اور پرانی، جھوٹی اور سچی قوموں میں یکساں طور پر پائی جاتی ہے۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ جو قومیں اپنی تباہی چاہتی ہیں وہ ان حالات کو دیکھ کر اصلاح کی طرف توجہ نہیں کرتیں۔ لیکن جو قومیں تباہی سے بچنا چاہتی ہیں وہ اُن حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو جاتی ہیں۔ ورنہ غبن، خیانت اور بددیانتی جیسی مسلمانوں میں ہے ویسی ہی یہودیوں، ہندوؤں، کنفیوشس کے ماننے والوں، شنٹوازم والوں، عیسائیوں اور سِکھوں سب میں پائی جاتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جو قومیں بیدار ہیں وہ اِن بُرائیوں کے دبانے میں لگی رہتی ہیں اور جو قومیں مُردہ ہیں وہ ان کے سامنے ہتھیار ڈال دیتی ہیں۔ وہ اِن بُرائیوں کو دباتی نہیں بلکہ مجرموں کی تائید کرتی ہیں۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کسی بڑے خاندان کی ایک عورت نے چوری کی اور شکایت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس پہنچی۔ جب لوگوں کو پتا لگا تو وہ سفارش لے کر آئے کہ یہ عورت فلاں خاندان سے ہے اور بہت معزز ہے۔ اگر اس عورت کا ہاتھ کاٹا گیا تو بڑی بدنامی ہو گی۔یہ سُن کر آپؐ کا چہرہ سُرخ ہو گیا اور آپؐؐ نے فرمایا خدا کی قسم! اگر محمد(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ۔ڈالتا1(بعض نادانوں نے اِس روایت سے یہ دھوکا کھایا ہے کہ شاید حضرت فاطمہؓ پر کوئی ایسا۔الزام لگا تھا۔ یہ جھوٹ ہے۔ خاندانِ نبوت کے کسی فرد پر بددیانتی کا الزام تک بھی نہیں۔لگا)۔ اِس طرح وہ لوگ سمجھ گئے کہ اگر آپؐؐ اپنے خاندان کے افراد کو چھوڑنے کے۔لیے تیار نہیں تو۔دوسرے کے متعلق سفارش کس طرح مان سکتے ہیں۔ چنانچہ جب تک رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ۔وآلہٖ وسلم کے مقرر کردہ اصول رائج رہے، مسلمانوں میں انصاف قائم رہا لیکن جب آپؐؐ۔کے۔بیان کردہ اصولوں پر عمل نہ رہا تو انصاف بھی غائب ہو گیا۔ حالانکہ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ۔وآلہٖ وسلم بھی وہی تھے، نماز بھی وہی تھی، کلمہ بھی وہی تھا لیکن قوم کی حالت گرتی چلی گئی۔ اس کی وجہ صرف یہی تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جو نصائح بیان فرمائیں مسلمانوں نے انہیں بُھلا دیا۔ اصلاحِ نفس کے متعلق جو تراکیب آپؐؐ نے بیان فرمائی تھیں وہ بُھلا دی گئیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مختلف قسم کی کمزوریاں مسلمانوں میں پیدا ہو گئیں۔
    ہم میں بھی بعض کمزوریاں آ گئی ہیں اور بعض آ رہی ہیں۔ انہیں دیکھ کر جماعت کے بعض بیوقوف لوگ گھبرا جاتے ہیں۔ وہ نادان یہ نہیں جانتے کہ چوریاں، غبن اوربددیانتی آدمؑ کے وقت سے چلی آ رہی ہیں۔ کوئی ہسپتال ایسا نہیں نکلا جہاں ان کا علاج ہو سکے اور کوئی دوائی ایسی ایجاد نہیں ہوئی جس سے ان بیماریوں کا علاج کیا جا سکے۔ دنیا میں کوئی نبی ایسا نہیں آیا جس نے گناہ بالکل ختم کر دیا ہو۔ خداتعالیٰ کا کوئی قانون ایسا نہیں آیا جس نے روحانی بیماریوں کو قطعی ختم کر دیا ہو۔ حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ میں بھی روحانی بیمار تھے، حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ میں بھی روحانی بیمار تھے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں بھی روحانی بیمار تھے، حضرت موسٰیؑ کے زمانہ میں بھی روحانی بیمار تھے، حضرت عیسٰیؑ کے زمانہ میں بھی روحانی بیمار تھے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں بھی روحانی بیمار تھے اور آج بھی روحانی بیمار موجود ہیں۔ غیروں میں اور ان میں فرق صرف یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ۔السلام کے دشمن روحانی بیماری کو دبانے کی جرأت نہیں رکھتے تھے لیکن آدمؑ کے ماننے والے روحانی بیماریوں کا مقابلہ کرنے کی جرأت رکھتے تھے۔ اس لیے انہوں نے اپنے اخلاق کا اعلیٰ معیار قائم کر لیا تھا۔ حضرت نوح علیہ السلام کے دشمنوں میں بھی ان بُرائیوں کو دبانے کی جرأت نہ تھی لیکن آپؑ کے ماننے والے ان برائیوں کا مقابلہ کرنے کی جرأت رکھتے تھے اور مقابلہ کرتے رہے۔ چونکہ وہ ان برائیوں کو دباتے چلے گئے اس لیے ان کی قوم تباہی سے بچ گئی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت میں بھی روحانی بیماریاں پائی جاتی تھیں۔ آپ کے دشمن ان کو مٹانے کی جرأت نہیں رکھتے تھے۔ لیکن آپؑ کے ماننے والوں نے انہیں مٹانا شروع کیا۔ کڑوی دوائیں دیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اکثر اعمال نیک نظر آنے لگ گئے۔ حضرت۔موسٰی علیہ السلام کے دشمن بھی ان روحانی بیماریوں کا مقابلہ کرنے کی جرأت نہیں رکھتے تھے لیکن آپؑ کے ماننے والے دھڑلّے سے ان کے مقابلہ میں کھڑے ہو گئے۔ اور اگر کوئی بیمار نظر آتا تو ساری قوم اس کے پیچھے پڑ جاتی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کی قوم بحیثیت قوم اخلاق کے ایک اعلیٰ معیار پر پہنچ گئی۔ اور یہی حال حضرت عیسٰی علیہ السلام کا تھا اور یہی حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا تھا۔
    یہ کہنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ماننے والے سب کے سب نیک تھے ان میں خیانت، غبن اور بددیانتی کی قسم کی بُرائیاں نہیں پائی جاتی تھیں قرآن کریم کے خلاف ہے۔ قرآن کریم میں صاف آتا ہے کہ آپ کے پاس منافق آتے تھے اور قسم کھا کر کہتے تھے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہے تو یہ سچی بات کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں لیکن یہ منافق جھوٹ بولتے ہیں۔ٍٍ2 پھر قرآن کریم میں ہی آتا ہے کہ آپ کے ماننے والے اور آپ کا کلمہ پڑھنے والے آپ کے متعلق یہ کہتے تھے 3 کہ ہم نے فلاں فعل تو نہیں کیا۔ بات یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں تو ٹھیک، لیکن ہیں بھولے بھالے۔ لوگ آپ کے پاس آتے ہیں اور ہمارے متعلق شکایات کرتے ہیں اور آپ بِلاتحقیق ان کی بات مان لیتے ہیں۔ یہ ایک پُرانا حربہ ہے جو منافق لوگ استعمال کرتے چلے آئے ہیں۔ آج ہمارے خلاف بھی یہی حربہ استعمال ہو رہا ہے۔ آج بھی جماعت کے منافق یہی کہتے ہیں کہ خلیفۃ المسیح نہایت سادہ اور بھولے بھالے ہیں۔ آپ لوگوں کی باتوں پر فوراً یقین کر لیتے ہیں۔ بیوقوف مومن سمجھتے ہیں کہ یہ کتنے مخلص ہیں۔ خلیفۃ المسیح کا انہیں کتنا ادب ہے مگر وہ یہ نہیں دیکھتے کہ یہ تو وہی بات ہے جو منافق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے متعلق کہا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں تو نیک، آپؐ ہیں تو اچھے مگر آپؐ کانوں کے کچّے ہیں۔ لوگ جو کچھ کہہ دیتے ہیں آپؐ بِلاتحقیق مان لیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اس کے یہ معنے ہوتے تھے کہ آپ (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ)کم عقل ہیں۔ یہی بات اب کہی جاتی ہے کہ خلیفۃ المسیح خدارسیدہ ہیں، نیک ہیں، جماعت کے خیرخواہ ہیں مگر ہیں سادہ اور بھولے بھالے۔ یا بالفاظِ دیگر بیوقوف۔ لوگ آپ کو بہکا لیتے ہیں اور جو کچھ وہ کہتے ہیں وہ مان لیتے ہیں۔
    غرض قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول۔کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں بھی منافق موجود تھے اور وہ اس قسم کی باتیں کرتے تھے۔ احادیث میں آتا ہے کہ رسول۔کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص مر گیا۔ آپ سے درخواست کی گئی کہ اس کا جنازہ پڑھائیں لیکن آپ ؐؐ نے فرمایا میں اس کا جنازہ نہیں پڑھوں گا۔ یہ خائن تھا4 حالانکہ وہ شخص جہاد کرتا ہوا مارا گیا تھا۔
    اب جو روحانی بیماریاں حضرت آدم علیہ۔السلام سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ تک سب انبیاء کے زمانہ میں رہی ہیں کونسے باپ کا بیٹا آئے گا جو اُن کی اصلاح کرے گا؟ اگر کوئی شخص ان بیماریوں کے علاج کا دعوٰی کرتا ہے تو وہ جھوٹا ہے۔ جو کام رسول۔کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نہ کر سکے وہ کیسے کر سکتاہے؟ پس یہ لوگ ہمارے اندر بھی موجود ہیں اور ان کی موجودگی ایسی خطرناک چیز نہیں کہ جماعت کے دوست گھبرا جائیں۔ ہاں! یہ بات ضرور خطرناک ہے کہ جماعت میں سے کچھ لوگ ایسے لوگوں کی تائید میں کھڑے ہو جائیں۔ مثلاً پچھلے دنوں صدرانجمن احمدیہ کے دفاتر میں چار بڑی بڑی خیانتیں پکڑی گئی ہیں۔ اب جہاں تک خیانت کا سوال ہے احادیث سے پتا لگتا ہے کہ رسول کریم صلی۔اللہ۔علیہ۔وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں بھی خائن موجود تھے اور میں اپنے علم کی بناء پر کہہ سکتا ہوں کہ خیانت کرنے والے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں بھی موجود تھے۔ اور قرآن۔کریم کہتا ہے کہ یہ لوگ سب انبیاء کے زمانہ میں پائے جاتے تھے۔ پس جماعت میں اِن لوگوں کی موجودگی کوئی ایسی بات نہیں جو بات گھبرا دینے والی ہو۔بُری بات یہ ہے کہ صدرانجمن۔احمدیہ کے ممبروں نے ان لوگوں کے جُرم کو چھپانے کی کوشش کی اور خیال کیا کہ اگر یہ خیانتیں ظاہر ہو گئیں تو جماعت کی بدنامی ہو گی۔ یہ بات نہایت خطرناک ہے۔ اگر یہ عیب حضرت آدم علیہ۔السلام کے وقت میں موجود تھا، اگر یہ عیب حضرت نوح علیہ السلام کے وقت میں موجود تھا، اگر یہ عیب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں موجود تھا، اگر یہ عیب حضرت موسٰی اور حضرت عیسٰی علیہما السلام کے وقت میں موجود تھا، اگر یہ عیب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وقت میں موجود تھا اور اس سے ان سب انبیاء کی بدنامی نہیں ہوئی تو یہ کونسے بالائے انسانیت مرد ہیں کہ اس سے ان کی بدنامی ہو گی۔ اگر بعض لوگوں کی ایسی بُرائیوں کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بدنامی نہیں ہوئی تو یہ لوگ جو آپؐ کی جوتیوں کے غلام ہیں ان کی کیا بدنامی ہو گی۔ ان عیوب کی تو کھلے بندوں مخالفت کرنی چاہیے۔ اور اگر کوئی شخص اِس پر اعتراض کرتا ہے تو تم اُسے یہ جواب دو کہ اِس قسم کے روحانی مریض ہر جگہ موجود ہیں۔ ہماری خوبی یہ ہے کہ ہم انہیں دباتے ہیں اور تم انہیں بچاتے ہو، ہم انہیں اپنی جماعت سے نکالتے ہیں اور تم لوگ ان کی تعریفیں کرتے ہو۔ اگر تم ایسا کہو گے تو ہر شخص تمہاری تعریف کرے گا اور کہے گا کہ یہ لوگ نیک ہیں۔ یہ بدی کو چھپاتے نہیں بلکہ اسے مٹانے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ جو شخص بدی کو چھپاتا ہے وہ یقیناً بزدل ہے۔ خواہ وہ بظاہر کیسا ہی بہادر سمجھا جاتا ہو کیونکہ وہ اپنے فرائض کے بجا لانے میں لوگوں کے اعتراضات سے ڈرتا ہے۔
    میرے پاس صدرانجمن احمدیہ کے ممبروں کا ایک وفد آیا اور اس نے کہا کہ ہمیں ان باتوں پر پردہ ڈالنا چاہیے ورنہ اِس سے ہماری بڑی بدنامی ہو گی۔ میں نے کہا جب تم نے بیعت کی تھی تو تم نے یہ عہد کیا تھا کہ ہم دین کی خاطر اپنی جان، مال اور عزت کی قربانی کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔ اگر تم اب بدنامی سے ڈر رہے ہو تو عزت کے قربان کرنے کا وقت کب آئے گا۔ یہی موقع ہے عزت کو قربان کرنے کا۔ ورنہ عزت کو قربان کرنے کے یہ معنے تو نہیں ہوتے کہ کوئی شخص اپنی عورتوں کو بازار میں بٹھا دے۔ عزت کو قربان کرنے کے یہی معنے ہیں کہ احکامِ قرآن کو ماننے کی وجہ سے بعض جگہ بدنامی کا خطرہ ہو گا لیکن ہم اپنی عزت کی کوئی پروا نہیں کریں گے۔ پس جماعت کا قصور یہ ہے کہ جماعت اس قسم کے مجرموں کو منہ لگاتی ہے۔ اگر کوئی شخص اِس قسم کا جُرم کرتا ہے تو جماعت کے دوست اس کی سفارش لے کر میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں آپ انہیں معاف کر دیں حالانکہ میں جانتا ہوں کہ اگر جُرم کرنے والا سفارش کرنے والوں کا باپ، بھائی، رشتہ دار یا دوست نہ ہوتا تو وہ کہتے جماعت کتنی خراب ہے، جماعت کا اخلاقی معیار دن بدن گِر رہا ہے۔ جماعت کے دوست اِس قسم کے لوگوں کی مدد کرتے ہیں، وہ اُن بدیوں کو مِٹانے کی کوشش نہیں کرتے لیکن اب چونکہ۔مجرم ان کے اپنے بھائی بند ہیں۔ وہ اُن کی سفارش لے کر میرے پاس آتے ہیں۔ حالانکہ مساواتِ اسلامی کے یہ معنے تو نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سارے مسلمانوں کو یکساں طور پر کھانا کھلایا ہو، ایک۔سا لباس پہنایا ہو یا ایک سے گھروں میں انہیں رکھا ہو۔ ہاں! آپ نے یہ ضرور کیا ہے کہ ابوبکرؓ ہو یا کوئی ادنیٰ غلام جب قانون کا معاملہ آیا تو۔آپ نے ان سب سے برابر کا سلوک کیا۔
    ایک دفعہ آپ مجلس میں بیٹھے تھے کہ کوئی شخص دودھ کا ایک پیالہ لایا۔ آپ ؐؐ ہر کام دائیں طرف سے شروع کرتے تھے۔ وہ دن غُربت کے تھے۔ اس لیے جو لوگ تحفے لاتے تھے وہ یہ خیال کرتے تھے کہ شاید آپ بھوکے ہیں۔ لیکن اِن دنوں جو لوگ تحفے لاتے ہیں وہ اِس خیال سے تحفے پیش نہیں کرتے کہ شاید جسے یہ تحفہ پیش کیا جا رہا ہے وہ بھوکا ہے بلکہ اِن دنوں ایک زائد چیز کے طور پر تحفہ پیش کیا جاتا ہے۔ اُس مجلس میں حضرت ابوبکرؓ بھی بیٹھے تھے لیکن وہ اتفاقاً آپؐؐ کے بائیں طرف تھے۔ آپ نے اُن کے چہرے پر بھوک کے آثار دیکھے اور معلوم کیا کہ انہیں فاقہ ہے۔ آپ کے دائیں طرف ایک لڑکا بیٹھا تھا۔ آپ نے اسے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اگر تم مجھے اجازت دو تو میں یہ دودھ ابوبکر کو دے دوں؟ اُس لڑکے نے کہا یارسول اللّٰہ! آپ مجھ سے کیوں دریافت فرماتے ہیں؟ کیا شریعت نے میرا کوئی حق مقرر کیا ہے؟ آپ ؐؐ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے دائیں طرف والے کو ترجیح دی ہے۔ تم دائیں طرف بیٹھے ہو اس لیے تمہارا قانونی حق ہے کہ تمہیں ابوبکر سے پہلے دودھ دیا جائے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ انہیں اس کی ضرورت ہے۔ اُس لڑکے نے کہا اگر قانون نے مجھے حق دیا ہے تو آپؐؐ دودھ مجھے دیجیے۔ میں آپ کا تبرّک کسی اَور کو دینے کے لیے تیار نہیں۔5 اب دیکھو! حضرت ابوبکرؓ آپ کے قریبی تھے لیکن آپ نے یہ دودھ حضرت ابوبکر کو نہیں دیا۔ اُس لڑکے۔کو۔دیا۔
    پس جہاں تک شرعی حقوق کا سوال تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب مسلمانوں میں مساوات کو قائم کیا ہے لیکن آجکل محض دوستی اور ہمسایہ ہونے کی وجہ سے لوگ غبن اور خیانت کرنے والوں اور سودا میں دھوکا کرنے والوں کی تائید میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اگر۔جُرم ثابت ہو گیا تو کہہ دیتے ہیں ایسا ہو ہی جاتا ہے اور اگر جُرم مشتبہ ہو تو کہہ دیتے ہیں جُرم تو ثابت نہیں ہوتا،کہیں ایسی دلیلوں سے بھی جُرم ثابت ہوتا ہے؟ اگر ان کی بات مان لی جائے تو جُرم مِٹ نہیں سکتا بلکہ اَور زیادہ بڑھے گا۔
    پھر لوگ مجرم کو بچانے کی کوشش تو کرتے ہیں، اُس کی اصلاح کی کوشش نہیں کرتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ جُرم اُس کی اولاد میں بھی چلا جاتا ہے اور دو تین نسلوں میں قوم برباد ہو جاتی ہے۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ بہت سے کمزور لوگ ایسے ہیں جو قریب کے نتیجہ کو دیکھتے ہیں۔6 وہ سمجھتے ہیں کہ فلاں ہمارا دوست ہے۔ اگر ہم نے اس کی تائید نہ کی تو وہ کیا خیال کرے گا حالانکہ وہ یہ نہیں سوچتے کہ اب تو وہ اکیلا ہے آئندہ دو تین نسلوں میں وہ ایک سے تین سو تک پہنچ جائے گا۔ ایسی صورت میں ہم ایک کی بجائے تین سَو کو برباد کر رہے ہیں لیکن لوگ آجِل کو نہیں دیکھتے عاجل کو دیکھتے ہیں۔ یعنی وہ ایسے فائدہ کو تو دیکھتے ہیں جو جلد ہی انہیں حاصل ہو جانے والا ہوتا ہے لیکن اپنے بھیانک انجام کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ پس مجرموں کی تائید سے اپنے آپ کو بچاؤ کہ یہ قوم کو تباہ کرنے۔والی۔ہے۔
    باقی غبن اور بددیانتی ایسی چیز نہیں جس پر گھبراہٹ کا اظہار کیا جائے۔ دشمن اعتراض کرے گا تو کیا ہو گا۔ کیا یہ روحانی امراض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود نہیں تھیں؟ اگر غیرمبائع اعتراض کریں گے تو کیا یہ روحانی امراض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں موجود نہیں تھیں؟ قابلِ اعتراض بات یہ ہے کہ تم مجرموں کی تائید میں کھڑے ہو جاؤ۔ اگر تم مجرموں کی تائید میں کھڑے نہیں ہوتے۔ اگر تم بدی کو کچلنے کی پوری کوشش کرتے ہو تو اگر کوئی شخص اعتراض کرتا ہے تو کہہ دو یہ ایک پھوڑا تھا جس کو ہم نے چِیرا دے دیا ہے۔ لیکن تم لوگ اِس قسم کے عیوب کو چھپائے پھرتے ہو۔ تم پر اعتراض پڑتا ہے ہم پر اعتراض نہیں پڑتا۔ اِس سے نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شرمائے ہیں، نہ نوحؑ شرمائے، نہ ابراہیمؑ شرمائے اور نہ آدمؑ شرمائے۔ پھر تم کیوں شرماؤ؟ شرمانے سے تمہارا عیب ثابت ہو گا اور وہ جُرم بڑھے گا کم نہیں ہو گا۔ لیکن اگر شرماؤ گے نہیں تو تم اس کے علاج کی کوشش کرو گے اور۔اگر علاج کرو گے تو جماعت کی اصلاح ہو گی۔ اگر کمزور لوگوں کو پتا لگ گیا کہ۔جماعت۔کے۔لوگ ان کی مدد کرتے ہیں تو ان کی تعداد بڑھ جائے گی۔ لیکن اگر تم لوگ ان کے مقابلہ میں کھڑے ہو جاؤ گے تو وہ چار سے دو اور دو سے ایک ہو کر رہ جائیں گے۔ پس تم اپنی حقیقت کو سمجھو اور قوم سے اس چیز کی امید نہ رکھو جس کی امید رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کی۔ اور تم وہ طریق اختیار نہ کرو جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار نہیں کیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر تم اس قسم کے عیوب دیکھو تو ان کے دبانے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ اگر تمہیں اپنے ماں باپ، بہن۔بھائی یا اپنی اولاد کے خلاف بھی گواہی دینی پڑے تو تم سچی گواہی دو7 اور جسمانی تعلق کا خیال نہ رکھو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم مسلمانوں کو اس قسم کے معاملات میں ماں باپ، بھائی یا اولاد کے ساتھ کھڑا نہیں کرتا بلکہ ان کے خلاف کھڑا کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تمہارا یہ کام نہیں کہ اگر تمہارا بیٹا ہو، بھائی ہو، باپ ہو یا کوئی اَور رشتہ دار ہو تو تم اس کی رعایت کرو۔ اگر کوئی شخص مجرم ہے چاہے وہ تمہارا قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو تو تم سچی گواہی دو۔ جھوٹ بول کر اسے بچانے کی کوشش نہ کرو اور جب تک یہ بات تم میں رہے گی عیب تو تم میںبھی رہیں گے۔ میں یہ وعدہ نہیں کرتا کہ تم میں خائن نہیں ہوں گے، تم میں چور نہیں ہوں گے، تم میں بددیانت نہیں ہوں گے۔ تم میں خائن بھی رہیں گے،چور بھی رہیں گے، بددیانت بھی رہیں گے لیکن یہ ضرور ہو گا کہ تمہاری قوم چور نہیں ہو گی، تمہاری قوم خائن نہیں ہو گی،تمہاری قوم بددیانت نہیں ہو گی۔ اگر تم ان اصولوں پر قائم رہے تو تم محفوظ رہو گے۔ اور اِس قسم کے لوگ جماعت سے اِس طرح نکلتے چلے جائیں گے جس طرح چھلنی سے کوڑا کرکٹ نکل جاتا ہے۔ پس تم اِس نکتہ کو سمجھو اور جھوٹی عزت کے پیچھے نہ پڑو۔ جھوٹی عزت کوئی فائدہ نہیں دیتی۔ عزت وہی ہے جو خداتعالیٰ کی طرف سے آتی ہے اور ذلّت وہی ہے جو خداتعالیٰ کی طرف سے آتی ہے‘‘۔
    (الفضل 22ستمبر1954ئ)

    1
    :
    مسلم کتاب الحدود باب قَطْعِ السَّارِقِ الشَّرِیْفِ وَغَیْرِہٖ وَالنَّھْیِ عَنِ الشَّفَاعَۃِ فِی الْحُدُوْدِ
    2
    :
    (المنافقون:2)
    3
    :
    التوبۃ:61
    4
    :
    النسائی کتاب الجنائز باب الصلٰوۃ علٰی من غلّ
    5
    :
    ترمذی ابواب الاشربۃ باب ماجاء ان الْاَیْمَنِیْنَ احقّ بالشّرب
    6
    :
    (الدھر:28)
    7
    :
    (النساء :136)


    ذہانت، فکر اور تدبر ہی ایسی حقیقی دولت ہے کہ اگر تم اس سے فائدہ اُٹھاؤ تو تمہیں اتنا کچھ مل جائے گا کہ۔خداتعالیٰ سے اَور مانگتے ہوئے شرم آئے گی
    (فرمودہ 17ستمبر 1954ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’دنیا میں انسان کچھ دولتیں کماتا ہے اور کچھ دولتیں انسان کو خداتعالیٰ کی طرف سے ملی ہوئی ہوتی ہیں۔ جو دولتیں انسان دنیا میں کماتا ہے۔ وہ کسی انسان کے پاس زیادہ ہوتی ہیں کسی کے پاس بہت کم ہوتی ہیں اور کسی کے پاس ہوتی ہی نہیں۔ مثلاً زمین بھی دولت ہے لیکن دنیا کے سب لوگ زمیندار نہیں۔ کسی کے پاس زمین بہت زیادہ ہے، کسی کے پاس بہت کم زمین ہے اور کسی کے پاس زمین ہے ہی نہیں۔تجارتیں ہیں، ان میں بھی یہی حال ہے۔ کوئی پھیری کر کے گزارہ کرتا ہے اور کوئی بڑے بڑے کارخانوں کا مالک ہے۔ بنکنگ کا بھی یہی حال ہے۔ مالی لحاظ سے کسی کے پاس پانچ سات روپے ہوتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو مالدارسمجھتا ہے اور کسی کے پاس کروڑوں روپے ہوتے ہیں اور پھر بھی وہ اَور مال حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ امریکہ میں بعض لوگوں کی سالانہ آمد کروڑوں ڈالر ہے اُن کو بھی مالدار کہتے ہیں۔ اور غرباء کے علاقہ میں اگر کسی کے پاس سَودوسَو روپیہ آ جاتا ہے تو لوگ کہتے ہیں یہ شخص بہت مالدار ہے۔ غرض وہ دولت جو انسان کماتا ہے اور جو ظاہر میں نظر آتی ہے وہ سب کو یکساں طور پر نہیں ملی کیونکہ اس کے لیے محنت اور جدوجہد کرنی پڑتی ہے اور اسی وجہ سے انسانوں میں بہت بڑا تفاوت پایا جاتا ہے۔ یہ تفاوت کبھی قانون کے طور پر ہوتا ہے جیسے جو شخص زیادہ محنت کرتا ہے زیادہ کما لیتا ہے۔ اور کبھی استثنا کے طور پر ہوتا ہے جیسے ماں باپ مالدار ہوں تو اُن کا بیٹا بغیر کسی محنت کے مالدار بن جاتا ہے۔ لیکن ایک دوسری قسم کی دولت بھی انسان کو ملتی ہے جو حقیقتاً بہت زیادہ قیمتی ہوتی ہے مگر افسوس ہے کہ انسان اُس کی قدر نہیں کرتے۔حالانکہ وہی دولت اصلی دولت ہے اور پھر وہ ایسی دولت ہے جو تمام انسانوں کو یکساں طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی گئی ہے۔ اور وہ دولت ہے حافظہ کی، فکر کی، ذہانت کی، عقل کی اور تدبّر کی۔ یہ دولت ہر ایک انسان کو ملی ہے۔ سوائے پاگل اور فاتر۔العقل کے۔اور یہ چیز بطور استثنا کے ہے۔ ورنہ جو انسان بھی اِس دنیا میں پیدا ہوتا ہے اُسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خزانہ دے کر بھیجا جاتا ہے۔ اسے پیدائش کے ساتھ ہی حافظہ اور ذہانت اور فکر اور تدبّر کی قوتیں عطا کی جاتی ہیں۔ اگر بعد میں وہ ان کی ناقدری کرتا ہے تو یہ قوتیں کُلّی طور پر یا جزوی طور پر ضائع ہو جاتی ہیں۔ مثلاً اگر وہ آنکھوں کو استعمال نہیں کرتا تو وہ اندھا ہو جاتا ہے، پاؤں سے نہیں چلتا تو پاؤں شل ہو جاتے ہیں،ہاتھ سے کام نہیں لیتا تو ہاتھ شل ہو جاتے ہیں۔اِسی طرح اگر وہ جسم کے دوسرے اعضاء کو استعمال نہیں کرتا تو اس کی جسمانی طاقتیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ اور جو شخص ان کی قدر کرتا ہے اُس کی قوتیں بڑھ جاتی ہیں۔ مثلاً اگر کوئی شخص محنت کرتا ہے اور اپنے اسباق کو یاد کرتا ہے تو اُس کا حافظہ تیز ہو جاتا ہے اور جو محنت نہیں کرتا اور اپنے اسباق کو یاد نہیں کرتا اُس کا حافظہ کمزور ہو جاتا ہے۔ پھر جو لوگ بات کے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اُن کی استنباط کی قوت بڑھ جاتی ہے اور جو لوگ بات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اُن کی استنباط کی قوت جاتی رہتی ہے۔ جو لوگ اپنے اردگرد کے ماحول پر غور کرنے کی عادت ڈال لیتے ہیں اُن کی قوتِ فکر بڑھ جاتی ہے اور جنہیں اپنے ماحول پر غور کرنے کی عادت نہیں ہوتی اُن کی قوتِ فکر جاتی رہتی ہے۔ پھر جو لوگ اپنے مختلف جذبات کو اُن کی اپنی اپنی حد کے اندر قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اُن کی عقل ترقی کرتی ہے اور جو ایسا نہیں کرتے اُن کی عقل ماری جاتی ہے۔ جو لوگ خداداد سامانوں کو صحیح طور پر اور مناسب موقع پر استعمال کرنے کی سکیم بنا لیتے ہیں اُن کی قوتِ۔مدبّرہ ترقی کرتی ہے اور جو اس قسم کی سکیم نہیں بناتے اُن کی قوتِ مدبّرہ جاتی رہتی ہے۔ لیکن پیدائش کے وقت یہ سب قوتیں ہر۔انسان کو ملتی ہیں اور قریباً برابر ملتی ہیں۔ بعد میں ناقدری کی وجہ سے یہ قوتیں کم ہو جائیں تو اَور بات ہے۔ یا ماں باپ نے جس قسم کا معاملہ کیا ہو اُس کے مطابق یہ قوتیں زیادہ یا کم ہو جاتی ہیں۔ مثلاً ایامِ طفولیت میں اگر ماں باپ نے بچہ کی صحیح نگرانی نہیں کی یا ماں نے حمل کے دوران میں پوری احتیاط نہیں کی تو اُس سے بچہ کی قوتوں پر اثر پڑ سکتا ہے لیکن یہ اثر بہت کم ہوتا ہے اِلَّا مَاشَاء َ اللّٰہُ۔ یعنی بعض اوقات بچہ پیدائشی طور پر پاگل ہوتا ہے لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ اگر انسانوں کو بحیثیت مجموعی دیکھا جائے تو کروڑوں کروڑ لوگ ایسے نکلیں گے جو ان خداداد قوتوں سے مالا مال ہوں گے لیکن ظاہری لحاظ سے یہ صورت نہیں۔ اگر تمام انسانوں کی مالی حالت کا اندازہ لگایا جائے تو ظاہری مالدار اِس دنیا میں دس پندرہ لاکھ سے زیادہ نہ ہوں گے۔ اِس وقت دنیا کی آبادی اڑھائی اَرب ہے۔ اگر ظاہری دولت رکھنے والے پندرہ لاکھ ہوں اور دنیا کی آبادی پندرہ کروڑ ہوتی تو ان کی نسبت کروڑ میں سے ایک لاکھ کی ہوتی۔ لیکن دنیا کی آبادی اڑھائی اَرب ہے۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ قریباً سترہ سَو میں سے ایک شخص ایسا ہے جس کے پاس ظاہری دولت ہے۔ لیکن حافظہ، ذہانت، تدبّر اور فکر کی دولت سترہ سَو میں سے 1680کے پاس ہو گی۔ صرف بیس اشخاص ایسے نکلیں گے جن کی یہ طاقتیں ماؤف ہوں گی باقی سب لوگوں کے پاس یہ دولت موجود ہو گی۔ ہاں! عدمِ استعمال کی وجہ سے ان پر زنگ لگ جائے تو اَور بات ہے۔ جیسے اگر کوئی چاقو بارش میں پھینک دے تُو اس پر زنگ لگ جائے گا لیکن اگر اُسے پانی میں سے اُٹھا کر صاف کیا جائے تو وہ ویسا ہی صاف نکل آئے گا جیسے پہلے تھا۔ لیکن سب سے زیادہ بے قدری اِسی دولت کی کی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر انسان کو عطا کی گئی ہے۔ اگر کسی شخص سے دریافت کیا جائے کہ تمہارے پاس کیا کیا مال ہے؟ تو وہ کہے گا میرے پاس اتنی زمین ہے، مکان ہے، بھینس ہے، گھوڑا ہے لیکن وہ دولت جو سب سے بڑی ہے مثلاً ہوا ہے، پانی ہے جو اُسے نہ ملے تو مر جائے اُس کا ذکر تک نہیں کرے گا۔بھینس اور گھوڑا ضائع ہو جائے تو انسان نہیں مرے گا، کپڑوں کا ایک حصہ جاتا رہے تو وہ موسم کی برداشت کرلے گا لیکن ہوا نہ ملے تو چند منٹ میں ہی مر جائے، اگر پانی نہ ملے تو وہ ایک دن یا اِس سے کچھ زائد عرصہ میں مر جائے گا۔ غرض انسان سب سے بڑی دولت کو گنے گا ہی نہیں۔حالانکہ اگر یہ دولت اسے نہ ملے تو اُس کا زندہ رہنا ناممکن ہے۔ وہ کبھی آنکھوں، کانوں، ناک اور زبان کا نام نہیں لے گا حالانکہ وہ نہیں جانتا کہ اگر وہ کہتا ہے میرے پاس گُڑ ہے تو وہ گُڑ کس کام کا جب زبان نہ ہو گی۔ اگر زبان گُڑ کو نہ چکھتی تو انسان کے نزدیک گُڑ اور پِھیکا برابر ہے۔ یا مثلاً وہ کہتا ہے میری بیوی اور بچے خوبصورت ہیں لیکن اُس کو یہ خیال نہیں آئے گا کہ اگر اس کی آنکھیں ہی نہ ہوں تو اسے وہ خوبصورت کیسے معلوم ہوں۔
    غرض دولت کے جو حقیقی خزانے ہیں انسان ان کی قدر نہیں کرتا اور جو دولتیں نسبتی ہیں اور بالواسطہ ملتی ہیں اُن کے پیچھے ہر وقت پڑا رہتا ہے۔ مثلاً کپڑا ہے۔ اگر کپڑا میرے جسم کو نرم اور ملائم معلوم ہوتا ہے تو اس کی قیمت ہے۔ اور اگر میرا جسم کپڑے کی ملائمت محسوس نہیں کرتا تو اس کی کوئی قیمت نہیں۔ پھر اگر کپڑے کی کوئی قیمت ہے تو اس لیے کہ میرے ملنے والے دوستوں کو اچھا لگے اور انہیں لذّت محسوس ہو۔ اگر میرے دوست کی آنکھیں ہی نہ ہوں اور میری حِس موجود نہ ہو تو چاہے وہ کپڑا لاکھ روپے گز کا ہو یا چند آنے کا، مجھے اس کا کیا فائدہ؟ پھر زبان اور معدہ ہیں یہ دونوں مل کر کھانے کی قیمت بناتے ہیں۔ اگر کوئی دودھ پیے، رس پیے، مکھن کھائے، لسّی پیے یا پلاؤ اور زردہ کھائے لیکن اُس کی زبان نہ ہو تو یہ چیزیں کچھ بھی نہیں۔
    حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ ایک امیر شخص میرے پاس آیا اور اس نے کہا میرا علاج کیجیے، مجھے بھوک نہیں لگتی۔ آپ فرماتے تھے کہ ایک دن اتفاقیہ طور پر میں اُس کے ہاں چلا گیا تو میں نے دیکھا کہ اُس کے سامنے ساٹھ ستّر کھانے پڑے تھے اور وہ ہر۔ایک۔کھانے سے ایک ایک لقمہ چکھتا۔اور جب بیس پچیس لقمے کھا چکا تو کہنے لگا دیکھیے! اب کھانے کو بالکل جی نہیں چاہتا۔ بھوک بالکل بند ہے۔ چونکہ وہ ہر کھانے میں سے صرف ایک ایک لقمہ اُٹھا کر کھاتا تھا اِس لیے اُسے ایک ہی لقمہ نظر آتا تھا۔ اگر اُس کے سامنے صرف ایک ہی کھانا ہوتا اور وہ اس میں سے بیس پچیس لقمے کھا لیتا تو کہتا مجھے بڑی بھوک لگتی ہے۔
    اِسی طرح ہمارے ماموں جان مرحوم (حضرت میرمحمداسماعیل صاحب مرحوم) نے ایک شخص کا ذکر کیا کہ اس نے مجھے کہا مجھے بھوک نہیں لگتی۔ میں نے پتا لگایا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک ایک دن میں ڈیڑھڈیڑھ سیر کھا جاتا تھا۔ مگر کھاتا اس طرح تھا کہ مثلاً مربّہ آملہ اِتنا، معجون فلاسفہ اِتنا، فلاح مفرّح اِتنی،شربت بنفشہ اِتنا، خمیرہ گاؤزبان اِتنا،عرق بادیان اِتنا۔ میں نے کہا تم ڈیڑھ ڈیڑھ سیر روز کھا لیتے ہو اور پھر کہتے ہو بھوک نہیں لگتی۔ ا ب دیکھو وہ شخص یہ سمجھتا تھا کہ میں نے کچھ نہیں کھایا حالانکہ مضبوط سے مضبوط آدمی چھ سات چھٹانک ایک وقت میں کھاتا ہے اور وہ ڈیڑھ ڈیڑھ سیر دن میں کھا کر بھی بھوک نہ لگنے کا شکوہ کرتے تھے۔
    غرض ہمارے سب کپڑوں اور کھانوں کی قدر اُن نعمتوں کی وجہ سے جو خداتعالیٰ نے عطا کی ہیں۔ اگر تم اپنی آنکھیں نکال دو یا جسمانی حِس مار دو تو خوبصورت اور ردّی کپڑوں میں تمہیں کوئی فرق معلوم نہیں ہو گا۔ چاہے کپڑا لاکھ روپے گز ہو یا چار آنہ گز، تمہارے لیے دونوں برابر ہوں گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں دی ہیں وہ بہت زیادہ قیمتی ہیں۔ مگر افسوس ہے کہ لوگ ان سے کام نہیں لیتے۔ دنیا کے سیاستدانوں کو لے لو، جرنیلوں کو لے لو۔ یا۔بادشاہوں کو لے لو ان کی بڑائی ظاہری مال و دولت کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ ذہانت، عقل، فکر اور تدبّر کی دولت کی وجہ سے تھی۔ میں نے بھی جماعت کو بارہا اِس طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ ذہانت اور عقل کو تیز کرے لیکن باربار توجہ دلانے کے باوجود جماعت نے اِس طرف توجہ نہیں کی۔ میں نے خدام میں ایسی مشقیں رکھی تھیں کہ جن کی وجہ سے یہ طاقتیں زیادہ ہوں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ انہوں نے بھی اس سے فائدہ نہیں اُٹھایا۔
    مثنوی رومی میں لکھا ہے کہ محمود غزنوی جب ہندوستان کے حملہ سے واپس آ رہا تھا تو راستہ میں بعض لوگوں نے اُس کے پاس شکایت کی کہ آپ نے ایاز کو بڑا جرنیل بنا دیا ہے لیکن۔یہ بڑا لاپروا ہے۔ محمود اُن کی شکایات سنتا رہا لیکن اُس نے کوئی جواب نہ دیا۔ جب وہ افغانستان کی طرف جا رہا تھا تو رستہ میں وہ ایک پہاڑی درّہ میں سے گزرا۔ وہ جگہ بڑی خطرناک تھی اور خیال کیا جاتا تھا کہ دشمن وہاں سے حملہ نہ کر دے اور لشکر کو نقصان نہ پہنچائے۔ اردگرد فوج کے دستے جا رہے تھے۔ ایک جگہ یک دم ایاز نے سیٹی بجائی اور اپنی فوج کو ایک طرف لے کر چلا گیا۔ ایک افسر نے موقع غنیمت جانا اور محمود کے پاس شکایت کی کہ دیکھیے! اس قسم کے نازک موقع پر ایاز فوج لے کر شکار کے لیے چلا گیا ہے۔ کیا ہم نہیں کہتے تھے کہ یہ شخص قابلِ اعتبار نہیں؟ محمود نے کہا ایاز واپس آئے گا تو اُس سے دریافت کروں گا کہ اُس نے ایسا کیوں کیا ہے؟ جب وہ درّے سے باہر نکلے تو ایاز وہاں کھڑا تھا اور کچھ قیدی بھی اُس کے ساتھ تھے۔ محمود نے دریافت کیا یہ کون ہیں؟ ایاز نے کہا یہ لوگ ایک چٹان کے پیچھے چُھپ کر بیٹھے ہوئے تھے۔ اِسی چٹان کے پاس سے شاہی سواری گزرنی تھی۔ میں نے سمجھا کہ ان لوگوں کی نیت خراب ہے۔ ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ بادشاہ کو نقصان پہنچائیں۔ چنانچہ میں نے اپنا دستہ علیحدہ کیا اور اِس طرف چلا گیا اور ان لوگوں کو گرفتار کر لایا۔ محمود نے دریافت کیا کہ تمہیں کس طرح خیال پیدا ہوا کہ ان پتھروں کے پیچھے کچھ آدمی بیٹھے ہیں ایاز نے کہا مجھے ان لوگوں کا اِس طرح علم ہوا کہ میں ہر وقت آپ کے چہرہ پر توجہ رکھتا ہوں۔ جونہی ہم اُس جگہ پہنچے، میں نے دیکھا کہ آپ نے اُس جگہ دیر تک اپنی نظر جمائے رکھی۔ اِس سے میں نے خیال کیا کہ آپ کا ایسا کرنا بِلاوجہ نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ میں نے اپنا دستہ الگ کر لیا اور اُس طرف روانہ ہو گیا۔ وہاں پہنچ کر میں نے دیکھا کہ کچھ آدمی پتھروں کے پیچھے چُھپے بیٹھے ہیں اور چونکہ وہ مشتبہ حالت میں تھے اِس لیے میں نے ان سب کو گرفتار کر لیا۔ محمود نے باقی افسروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اب بتاؤ! کیا تم نے وہ کام کیا جو اس نے کیا ہے؟ میں نے اُس طرف دیکھا لیکن یہ لوگ کہیں چُھپ گئے اور مجھے نظر نہ آئے۔ ایاز نے میری طرف نگاہ رکھی اور میرے اُس طرف دیکھنے سے اسے خطرہ محسوس ہوا۔ چنانچہ وہ اُس طرف دستہ لے کر چلا گیا اور ان لوگوں کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گیا۔اگر وہ ایسا نہ کرتا تو ممکن تھا کہ یہ لوگ مجھے۔نقصان پہنچاتے۔ اِس شخص نے عقل سے کام لیا لیکن تم نے عقل کو استعمال نہیں کیا۔ اِس۔پر۔وہ۔سب افسر شرمندہ ہو گئے۔
    اِسی طرح کولمبس کے متعلق مشہور ہے۔ کولمبس نے امریکہ دریافت کیا تھا اور اُسے امریکہ دریافت کرنے کا شوق اس لیے پیدا ہوا کہ اُس نے مسلمانوں سے سنا ہوا تھا کہ اس طرف کوئی ملک ہے۔ چنانچہ حضرت محی الدین صاحب ابن عربی کی ایک خواب تھی جو میں نے بھی پڑھی ہے۔ انہوں نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ مجھے رؤیا میں دکھایا گیا ہے کہ سپین کے ملک سے پرے ایک بہت بڑا ملک واقع ہے1 (حضرت محی الدین صاحب ابن عربی اسپین کے رہنے والے تھے)۔ اِس بات کا آپ کے مُریدوں میں چرچا ہو گیا۔ کولمبس نے بھی اُن سے یہ بات سن لی۔ اُسے مسلمانوں سے عقیدت تھی اور وہ سمجھتا تھا کہ یہ لوگ جو بات کہتے ہیں وہ درست ہوتی ہے۔ اُس نے اِس پر غور کرنا شروع کیا۔ اس نے مختلف چیزوں سے اس بات کی سچائی کا اندازہ لگا لیا۔ اُس نے دیکھا کہ سمندر میں اس علاقہ کی طرف سے جس کی طرف محی الدین ابن عربی نے اشارہ فرمایا ہے بعض چیزیں بہتی ہوئی آتی ہیں جو انسان سے تعلق رکھتی ہیں۔ اِس سے اُس نے سمجھ لیا کہ یہ بات بالکل درست ہے۔ اِس لیے اُس نے امریکہ دریافت کرنے کا ارادہ کر لیا۔ وہ غریب آدمی تھا اور اِس مُہم کے اخراجات کا متکفل نہیں ہو سکتا تھا۔ اس لیے وہ بادشاہ کے پاس گیا اور اُس سے درخواست کی کہ سپین سے پرے ایک بہت بڑا ملک واقع ہے۔ میں اُسے دریافت کرنا چاہتا ہوں۔ اگر میں نے وہ ملک دریافت کر لیا تو وہ ملک آپ کا ہو گا اور اس سے آپ کی عزت بڑھے گی۔اگر آپ مجھے کچھ آدمی دے دیں، کچھ جہاز دے دیں اور ملّاحوں کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات کے لیے کچھ روپیہ دے دیں تو میں اُس ملک کو دریافت کروں۔ پہلے تو بحری علوم کے ماہرین نے اُس کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ بڑا جان جوکھوں کا کام ہے۔ اُن دنوں میں انجن سے چلنے والے جہاز نہیں ہوتے تھے بلکہ بادبانی جہاز تھے اس لیے چھوٹے چھوٹے سفروں میں بھی پانچ پانچ، چھ چھ ماہ لگ جاتے تھے اور جہازوں میں اتنے لمبے عرصہ تک کی خوراک رکھنا بھی مشکل ہوتا تھا۔ پھر جہازوں کو ہوائیں توڑپھوڑ دیتی تھیں اور لوگ موت کی نذر ہو جاتے تھے۔ لیکن جب کولمبس نے اصرار کیا تو بادشاہ آدمی، جہاز اور روپیہ دینے کے لیے تیار ہو گیا۔ اِس پر پادریوں نے کولمبس کی مخالفت شروع کر دی اور کہا کہ زمین تو چپٹی ہے اور کولمبس کا کہنا اِسی صورت میں درست ہو سکتا ہے جب زمین گول ہو اور زمین کا گول ہونا بائیبل کی تعلیم کے خلاف ہے۔ بائیبل میں لکھا ہوا ہے کہ زمین چپٹی ہے۔ چنانچہ کتابوں میں اُس وقت کے لاٹ پادری کی تقریر چھپی ہوئی موجود ہے۔ اُس نے تقریر کرتے ہوئے بڑے زور سے کہا دنیا میں اِس قسم کے بیوقوف لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ زمین گول ہے۔حالانکہ اگر زمین کو گول فرض کر لیا جائے تو اس کا یہ مطلب ہو گا کہ دنیا میں کوئی علاقہ ایسا بھی موجود ہے جس پر لوگ ٹانگیں اوپر کر کے چلتے ہیں اور اُن کے سر نیچے لٹکے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں بارش اوپر سے ہوتی ہے اور ان کے ہاں بارش نیچے سے اوپر ہوتی ہے۔ لیکن کولمبس ضدّی واقع ہوا تھا۔ اُس نے اپنی کوشش ترک نہ کی۔ اُس نے ملکہ پر اپنا اثر ڈالا کہ اگر یہ ملک دریافت ہو گیا تو اس کی بڑی عزت ہو گی۔ چنانچہ ملکہ اُس کی مدد پر آمادہ ہو گئی۔ اُس نے اپنے زیورات بیچ کر جہازوں، نوکروں کی تنخواہوں اور دوسرے اخراجات کے لیے روپیہ مہیا کر دیا اور کولمبس امریکہ دریافت کرنے کے لیے روانہ ہو گیا۔ رستہ میں اُن کی خوراک ختم ہو گئی، پینے کا پانی بھی ختم ہو گیا اور لوگوں نے مایوس ہو کر بغاوت شروع کر دی اور کہنے لگے کہ تُو نے ہم سے دھوکا کیا ہے اور ہمیں موت کے منہ میں دے دیا ہے۔ لیکن کولمبس نے انہیں کسی نہ کسی طرح سفر جاری رکھنے پر راضی کر لیا اور وہ اپنی جان بچاتے بچاتے امریکہ پہنچ گیا۔ جب وہ امریکہ پہنچے تو انہیں وہاں بڑی دولت مل گئی۔ ملک کی آبادی بہت کم تھی اور سونے کی کانیں کثرت سے پائی جاتی تھیں۔ اس لیے انہوں نے انہیں خوب لُوٹا۔ اور جب وہ واپس آئے تو اِس مُہم کے سر کرنے کی وجہ سے کولمبس کا نام پھیلنا شروع ہوا۔ جب اُس کی خوب شُہرت ہوئی تو دربار میں اُس کے بہت سے حاسد پیدا ہو گئے۔ وہی پادری جنہوں نے یہ کہا تھا کہ دنیا میں اِس قسم کے بیوقوف بھی پائے جاتے ہیں جن کا یہ خیال ہے کہ زمین گول ہے اور اِس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے دوسری طرف کے لوگ ٹانگیں اوپر کر کے چلتے ہیں اور بارش بجائے اوپر سے نیچے آنے کے نیچے سے اوپر آتی ہے کولمبس پر حسد کرنے لگے اور کہنے لگے یہ بھی کوئی بات ہے جہاز میں کچھ لوگ چلے گئے اور ایک ایسے ملک میں پہنچ گئے جس کا علم ہمیں پہلے نہیں تھا۔ اگر کولمبس کے علاوہ کوئی اَور شخص جاتا تو وہ بھی بآسانی امریکہ دریافت کر لیتا۔ کسی شخص نے یہ بات کولمبس تک بھی پہنچا دی۔ اُس نے کہا یہ درست ہے کہ اگر کوئی شخص کوشش کرتا تو امریکہ دریافت کر لیتا لیکن انہیں ایسا کرنے کا خیال بھی تو آتا۔ ایک دن کوئی دعوت تھی جس میں بڑے بڑے رؤساء اور امراء جمع تھے۔ کولمبس نے ایک انڈا لیا اور تمام پادریوں سے کہا کہ اسے میز پر کھڑا کر دو۔ اِس پرسب لوگوں نے کوشش کی لیکن وہ انڈا کھڑا نہ کر سکے۔ آخر کولمبس نے ایک سُوئی لی اور انڈے کے نیچے چبھوئی جس سے کچھ لعاب باہر نکل آیا اور اس کی وجہ سے انڈہ میز پر چپک گیا۔ اِس پر بعض درباریوں نے کہا کہ یہ کونسی بات ہے یہ کام تو ہم بھی کرسکتے تھے۔ کولمبس نے کہا کہ امریکہ کے متعلق بھی آپ لوگ یہی کہتے تھے کہ اگر ہم کوشش کرتے تو دریافت کر لیتے۔ وہاں تو آپ کو موقع نہیں ملا تھا، یہاں تو آپ کو موقع مل گیا تھا۔ مگر پھر بھی آپ کی عقل نے کام نہ دیا۔
    غرض جتنے لیڈر،بادشاہ اور جرنیل بنے ہیں وہ ظاہری دولت سے نہیں بنے بلکہ خداداد دولتوں، حافظہ، عقل، فکر اور تدبّر سے بنے ہیں۔ ہمایوں کے پاس ظاہری دولت نہیں تھی، بابر کے پاس ظاہری دولت نہیں تھی، اکبر کے پاس ظاہری دولت نہیں تھی لیکن ان لوگوں نے عقل، فکر اور تدبّر کی دولت سے فائدہ اُٹھایا اور عظیم الشان کارنامے سرانجام دیئے۔ ان کے مقابلے میں محمدشاہ2 اور احمدشاہ3 کے پاس ظاہری دولت تھی لیکن انہوں نے عقل، فکر اور تدبّر کی دولت سے فائدہ نہ اُٹھایا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ذلیل ہو گئے۔ ہمایوں، بابر اور اکبر نے خدا کی دی ہوئی دولت سے کام لیا اور وہ جیت گئے لیکن محمد شاہ اور احمدشاہ نے ان سے کام نہ لیا اور وہ۔ہار۔گئے۔
    پس خدا کی دی ہوئی دولت ظاہری دولت سے ہزاروں گُنا زیادہ قیمتی ہے۔ میں نے جماعت کو باربار اس طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ خدا کی دی ہوئی دولت سے کام لے لیکن افسوس ہے کہ ان کے ذہن اِس طرف نہیں جاتے۔ میں دیکھتا ہوں کہ عقل، فہم، ذکاء اور تدبّر کے خزانے پڑے ہیں لیکن جس طرح قرآن کے خزانوں کو لینے والا کوئی نہیں اُسی طرح اِن خزانوں کی طرف بھی کسی کی توجہ نہیں۔ مگر جس طرح قرآن کریم کے خزانوں کو لینے کی اگر۔کوئی۔کوشش کرتا ہے تو اُسے مل جاتے ہیں اِسی طرح عقل، تدبّر اور فہم و ذکاء کے خزانے بھی مل سکتے ہیں بشرطیکہ کوئی کوشش کرے۔ اِن خزانوں سے جہاں دوسرے لوگ محروم ہیں وہاں تم بھی ان سے محروم ہو۔ لیکن اُنہیں تو کوئی بتانے والا موجود نہیں اِس لیے وہ ان خزانوں سے محروم ہیں لیکن تمہیں بتانے والا موجود ہے اور وہ تمہیں باربار اِس طرف توجہ دلاتا ہے۔ اگر تم اس طرف توجہ نہیں کرتے تو تم مجرم ہو۔ میں نے کالجوں اور سکولوں کے اساتذہ کو بارہا اس طرف توجہ دلائی ہے کہ لڑکوں کی ذہانت کی طرف توجہ کرو لیکن وہ اس طرف توجہ نہیں کرتے۔ میں دیکھتا ہوں کہ اگر کسی کو چھوٹا سا پیغام بھی دیا جائے تو وہ صحیح طور پر نہیں پہنچایا جاتا۔ اگر میں کسی سفر پر جاؤں اور وہاں پرائیویٹ سیکرٹری کو پیغام بھجواؤں کہ ہم بارہ بجے چلیں گے کیونکہ چار بجے ربوہ میں ایک ملاقات ہے تو پیغام پہنچانے والا بارہ بجے پر زور دینا شروع کر دے گا اور کہے گا ہم نے بارہ بجے چلنا ہے۔ بارہ بجے چلنا ہے اور جو اصل بات ہو گی کہ ہم نے بارہ بجے کیوں چلنا ہے اُسے نظرانداز کر دے گا۔ یا مثلاً نماز ہے، نماز کی مجھے اطلاع کی جاتی ہے تو چونکہ بیماری کی وجہ سے میں بعض دفعہ مسجد میں نہیں آ سکتا اس لیے میں ساتھ ہی عذر بھی بیان کر دیتا ہوں کہ مجھے سردرد ہے یا میرے پاؤں میں تکلیف ہے یا اس وقت بخار ہے اس لیے نہیں آ سکتا۔لیکن پیغامبر یہ نہیں بتائے گا کہ میں نماز کے لیے کیوں نہیں آیا۔ صرف یہ کہہ دے گا کہ نماز پڑھانے کی اجازت ہے۔ حالانکہ نماز میرے لیے بھی ویسی ہی فرض ہے جیسے دوسرے لوگوں کے لیے۔ اور میرے جائز عذر کے معلوم نہ ہونے کی وجہ سے بیوقوف لوگ یہ خیال کر سکتے ہیں کہ گویا میں جان بوجھ کر نماز کے لیے نہیں آتا۔ ہم اِس دفعہ لاہور گئے تو میں نے پرائیویٹ سیکرٹری کو ہدایت دی کہ ہم نے پانچ بجے یہاں سے روانہ ہونا ہے لیکن روانہ ہم چھ بجے ہوئے اور اِس کی وجہ وہی دفتر والوں کی کم عقلی تھی۔ ہمارے ملک میں یہ رواج ہے کہ اگر کہا جائے کہ ہم نے پانچ بجے چلنا ہے تو کارکن پانچ بجے ہی آئیں گے اور کہیں گے کہ سامان دیں۔ حالانکہ ہو سکتا ہے کہ گھر والے پیشاب پاخانہ کے لیے بیت الخلاء گئے ہوئے ہوں یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ابھی سامان بندھا ہوا نہ ہو اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ ایک۔گھنٹہ پہلے اطلاع دی جائے۔ پانچ بجے روانہ ہونا ہو تو چار بجے اطلاع دی جائے۔ مگر۔جب۔پانچ بجے اطلاع دی جاتی ہے تو سامان دینے والا یہ سمجھتا ہے کہ ابھی چار بجے ہیں حالانکہ اُس وقت پانچ بج چکے ہوتے ہیں۔ تو اگر سامان لینے والا عقل اور ذہانت سے کام لیتے ہوئے پانچ بجے کی بجائے چار بجے سامان لینے جائے گا تو یقیناً وقت پر روانگی ہو سکے گی ورنہ پانچ بجے اطلاع دینے پر وقت پر روانگی نہیں ہو سکتی۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن ذہانت کی کمی کی وجہ سے ہمیشہ ان میں غلطی کی جاتی ہے۔
    چالیس سال سے میں جماعت کو اِس طرف توجہ دلا رہا ہوں لیکن ابھی تک وہ بیدار نہیں ہوئی۔ اب میں لاہور گیا تو میں نے جماعت لاہور میں ایک نئی بیداری دیکھی جسے دیکھ کر خوشی ہوئی مگر اس بیداری کے ساتھ ذہانت کو کام میں نہیں لایا گیا جس کی وجہ سے مجھے افسوس ہوا۔ مثلاً وہاں لاہور کی جماعت کی طرف سے پہرہ کا انتظام کیا گیا مگر اس انتظام میں کم عقلی کا مظاہرہ ہوا جو ہمارے ملک کے تمام لوگوں میں پائی جاتی ہے۔میری ایک نوسالہ نواسی آئی تو اُسے احاطہ کے اندر نہ آنے دیا گیا۔ میرے بعض رشتہ دار جو رتن باغ میں رہتے تھے اپنے دفتروں کو جانے کے لیے باہر جانا چاہتے تھے مگر اُن کو باہر جانے سے روکا گیا۔ میرا ایک۔تین سال کا نواسہ تھا نیچے سے میرے پاس اوپر آنے کے لیے سیڑھیاں چڑھنے لگا تو اُسے اِس سختی سے ڈانٹا گیا کہ وہ ایک گھنٹہ تک روتا رہا۔ حالانکہ اگر میرے رشتہ دار بھی مجھے نہیں مل سکتے تو ہم نے ایسے پہروں کو کیا کرنا ہے۔ اگر عقل سے کام لیا جاتا تو یہ بیداری جو اَب پیدا ہوئی تھی بڑی برکت والی ہوتی مگر عقل سے کام نہیں لیا گیا۔ میں نے بارہا بیان کیا ہے اور ہمارا پہرہ ایسا ہوتا ہے جیسے کسی فوج نے حملہ آور ہونا ہوتا ہے۔ حالانکہ جس حملہ کا خیال کیا جا سکتا ہے وہ صرف اسی قدر ہے کہ اگر کوئی اندرونی منافق حملہ کر دے یا کوئی دشمن کا آدمی آ جائے اور وہ مجلس میں موقع دیکھ کر حملہ کر دے لیکن ہمارا پہرہ اس طرح ہوتا ہے جیسے کسی فوج نے حملہ آور ہونا ہوتا ہے۔ وہاں تو گولہ باری ہوتی ہے اس لیے دس دس میل تک واچنگ افسر مقرر کیے جاتے ہیں۔ لیکن کیا ایک منظم حکومت میں ایسا حملہ ہو سکتا ہے؟ یہاں تو جب بھی کوئی خطرہ ہو گا کسی اندرونی منافق یا دشمن کے بھیجے ہوئے کسی آدمی کی طرف سے ہو گا اور ایسے شخص کو ہماری موجودہ تدبیروں سے کیا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انتظام کی خرابی اِس امر سے واضح ہے کہ اِدھر تو میرے نواسے اور نواسیوں کو اندر آنے سے روکا جا رہا تھا اور۔اُدھر یہ حالت تھی کہ باوجود اِس کے کہ میں ضُعفِ۔دل کے دَوروں کی وجہ سے بیمار تھا ایک دن میں نماز کے لیے آیا تو ایک شخص نے برکت کے لیے مجھے چھونا چاہا اور پہرہ داروں کے خطرہ کی وجہ سے کہ وہ کہیں اُسے روک نہ دیں اُس نے جلدی کی اور اِس زور سے ہاتھ مارا کہ میں بڑی مشکل سے گرتے گرتے بچا۔ اگر اُس کی جگہ کوئی دشمن ہوتا اور اُس کے ہاتھ میں خنجر ہوتا تو پہریدار کیا کرتے؟ اب یہ کامن سنس(COMMONSENSE) سے تعلق رکھنے والا امر ہے کہ جس طرح کا دشمن ہو اُس سے حفاظت کے لیے اُسی قسم کا ذریعہ اختیار کرنا چاہیے۔ ورنہ پہرے کا انتظام ہمیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔اصل چیز تو یہ ہوتی ہے کہ مشتبہ آدمی پر نظر رکھی جائے۔
    پچھلے دنوں جس شخص نے مجھ پر حملہ کیا تھا آخر اُس کے پاس وہ کونسی چیز تھی جو میرے پاس نہیں تھی۔ چاہے میں اُس سے کمزور ہی ہوتا لیکن تاہم اگر وہ سامنے کی طرف سے حملہ کرتا تو میں اُس کا مقابلہ کرتا لیکن اُس نے پیچھے کی طرف سے حملہ کیا کیونکہ اُس نے دیکھ لیا تھا کہ یہ بزرگ آنکھیں بند کر کے بیٹھتے ہیں۔ مگر اب یہ ہوتا ہے کہ کوئی پہریدار رائفل لے کر پچاس گز اِدھر کھڑا ہے تو کوئی پہریدار رائفل لے کر پچاس گز اُدھر کھڑا ہے۔ کیا وہ اِس قسم کے آدمی کو پکڑ سکتا ہے؟ بندوقیں تو وہاں کام دیتی ہیں جہاں بٹالین نے حملہ کرنا ہے لیکن جہاں کسی نے چوری چُھپے چاقو مارنا ہے وہاں ان بندوقوں کا کیا فائدہ اور اتنے دور کھڑے ہونے والے پہریداروں کا کیا کام؟ پس اِس قسم کے انتظام سے حقیقی مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔
    مجھے اِس بات سے تو خوشی ہوئی کہ لاہور کی جماعت میں بیداری پیدا ہو گئی ہے لیکن افسوس بھی ہوا کہ اگر وہ عقل سے کام لیتی تو یہ افسوسناک واقعات کیوں ہوتے اور یہ بیداری کتنی برکت والی ہوتی۔ اور اگر کوئی جماعت ایسی ہے کہ وہ مشتبہ آدمیوں کی بھی نگرانی نہیں کر سکتی تو ایسی جماعت تواس قابل ہے کہ اُس کے امام پے۔درپے مارے جائیں۔ جس احمق قوم نے دیکھنا ہی نہیں اُسے کون بچا سکتا ہے۔ جو شخص مجلس میں آئے گا اور ہاتھ میں رائفل پکڑے ہوئے ہو گا وہ تو فوراً پکڑا جائے گا اور اگر کسی کے ہاتھ میں ہتھیار موجود نہیں اُس کے لیے دور۔دور کے پہریدار کیا روک بن سکتے ہیں۔ ایک شخص آتا ہے اور کہتا ہے مجھے اندر جانے دو میں نے نماز پڑھنی ہے لیکن اُسے یہ کہہ کر روک دیا جاتا ہے کہ کمرہ بھر گیا ہے۔ حالانکہ اگر کوئی شخص میرے پیچھے پانی میں کھڑے ہو کر بھی نماز پڑھنا چاہتا ہے تو تم اُسے روکنے والے کون ہو؟ ہاں! اگر اُس کے پاس رائفل ہے تو تم کہہ سکتے ہو اندر رائفل لے جانے کی اجازت نہیں لیکن نماز سے روکنے کا تمہیں پھر بھی کوئی حق نہیں۔
    پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ تم عقل اور فکر سے کام لینے کی عادت ڈالو۔ اگر تم عقل اور خِرَدْ سے کام لو تو تمہارا مقابلہ کوئی قوم نہیں کر سکتی۔ یورپ والے عقل اور خِرد سے کام کر رہے ہیں لیکن اُن کے پاس نورِایمان موجود نہیں۔ اُن کے پاس آنکھ ہے لیکن نور موجود نہیں۔ اور آنکھ بغیر نور کے کیا کر سکتی ہے؟ ہاتھ تو موجود ہیں لیکن اگر ہاتھ میں طاقت نہ ہو تو وہ کس کام کا؟ تمہیں خداتعالیٰ نے نورِقرآن بخشا ہے۔ اگر تم عقل اور خِرَدْ سے کام لو تو تمہارے پاس چمکنے والی آنکھ اور ہِلنے والا ہاتھ ہو گا اور یورپین قومیں بھی تمہارا مقابلہ نہیں کر سکیں گی۔ لیکن باوجود باربار سمجھانے کے میں دیکھتا ہوں کہ جماعت کے دوست سمجھتے نہیں۔ میں نے کالجوں اور سکولوں کو اِس طرف بارہا توجہ دلائی تھی کہ اگر بڑی عمر والے نہیں سمجھتے تو نہ سمجھیں تم نئی پَود کو تو عقلمند بنا دو۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ جب کارکن میرے پاس آتے ہیں تو کتنی ہی چھوٹی بات کیوں نہ ہو اُس میں وہ غلطی کر جاتے ہیں اور پھر کہتے ہیں دراصل میں یوں سمجھتا تھا حالانکہ ان کے ایسا کہنے کا صرف یہ مطلب ہوتا ہے کہ میں نے آپ کی بات بالکل نہیں سمجھی تھی۔ اگر یہ نقص نئی پَود میں موجود ہے تو کالجوں اور سکولوں کا کیا فائدہ؟ مثلاً ہمارا کالج ہے۔ اُس کا ایک طالبعلم ہے وہ کسی نقص کی وجہ سے گورنمنٹ سروس میں نہیں جا سکتا تھا۔ میں نے اُسے اپنی زمینوں پر لگا لیا اور خیال کیا کہ اُس کا دماغ اچھا ہو گا۔ اُس کے مجھے بل پر بل آ رہے ہیں کہ روپیہ بھیجو، روپیہ بھیجو۔ حالانکہ واقع یہ ہے کہ سیل ایجنٹ اُسے خط پر خط لکھ رہا ہے کہ قابلِ۔فروخت اشیاء مجھے فروخت کے لیے بھجواؤ مگر وہ قابلِ فروخت اشیاء کو دبائے بیٹھا ہے اور مجھے لکھتا ہے کہ روپیہ بھیجو۔ اب میں روپیہ کہاں سے بھیجوں؟ جس چیز سے روپیہ ملنا ہے اُس کو وہ خود دبائے بیٹھا ہے اور روپیہ مجھ سے مانگ رہا ہے۔ اگر اِس طرح ہوتا رہے تو زمیندارہ کا کام کیسے چلے؟ اب وہ شخص کالج میں پڑھا ہے اور چارپانچ سال تک کالج کے پروفیسروں نے اُس کی نگرانی کی ہے لیکن وہ اتنی موٹی بات بھی نہیں سمجھ سکا کہ میں جنس بیچوں گا نہیں تو روپیہ کہاں سے ملے گا؟ پرائمری پاس لوگ بھی یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ جس چیز کا منبع اُن کے پاس ہے اگر وہ اُسے نہیں نکالیں گے تو کون نکالے گا۔ ایک شخص کے گھر میں نلکا موجود ہو لیکن وہ اس میں روئی اور لوہا ٹھونس دے اور پھر شور مچانا شروع کر دے کہ پانی لاؤ، پانی لاؤ، میں مر گیا۔ تو اُسے لوگ کم عقل ہی کہیں گے کیونکہ پانی اُس نے خود بند کر دیا ہے۔ پس یہ چیزیں پرنسپلوں، پروفیسروں، ہیڈماسٹروں، ماسٹروں اور ماں باپ کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ ان کا کام ہے کہ نئی پَود کو روشن دماغ بنائیں۔
    ہر بات میں ایک چھوٹا سا نکتہ ہوتا ہے۔ اگر اسے نظرانداز کر دیا جائے تو بات کا مفہوم بالکل بدل جاتا ہے۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے سنا ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے جماعت کو بارہا سمجھایا ہے کہ قرآن کریم میں جو یہ آیت آتی ہے کہ قیامت کے دن حضرت عیسٰی علیہ السلام سے سوال کیا جائے گا کہ کیا تم نے یہ بات کہی تھی کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو؟ تو وہ اِس سے انکار کریں گے اور کہیں گے جب تک میں زندہ رہا میں اُن پر نگران رہا اور جب تُو نے مجھے وفات دے دی تو تُو اُن کا نگران تھا۔ میرے بعد جو کچھ ہوا اُس کا مجھے علم نہیں۔ٍٍ4 اِسے اِس اِس رنگ میں مخالفین کے سامنے پیش کرنا چاہیے کہ اِسی آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسیحی، مسیح کی زندگی میں نہیں بِگڑے۔ لیکن جماعت کے اکثر دوست جب بھی اِس آیت کو پیش کریں گے، غلط کریں گے۔ اور اِس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ لوگ اصل نکتہ کو نظرانداز کر دیتے ہیں اور زینت کی چیز کو لے لیتے ہیں۔ جیسے کوئی فوٹو پھینک دے اور فریم کو سنبھال کر رکھ لے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ اتنی مدت تک اِس آیت کا مفہوم سمجھانے کے بعد بھی جماعت اس کے پیش کرنے کا صحیح طریق نہیں سمجھتی۔ اگر وہ ذہانت سے کام لیتی تو یہ بات سمجھ میں آ سکتی تھی۔
    ہمیں بچپن سے جو آیات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام یا حضرت خلیفہ اول نے سمجھائی ہیں وہ اب تک ہمیں یاد ہیں۔ دشمن جب اعتراض کرتا ہے ہم اُس اعتراض کا فوراً جواب دے دیتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہی باتیں ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سمجھائی تھیں لیکن نوجوان مولوی انہیں جلد بھول جاتے ہیں۔ بسااوقات جماعت کے نوجوان علماء بعض اعتراض لکھ کر بھیج دیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ نیا اعتراض ہے۔ حالانکہ وہ نیا اعتراض نہیں ہوتا۔ اُس کا جواب بارہا دیا جا چکا ہوتا ہے۔
    پس تم اپنے اندر نئی تبدیلی پیدا کرو اور خداتعالیٰ کی دی ہوئی دولت کو استعمال کرو۔ اگر تم خداتعالیٰ کی دی ہوئی دولت کو استعمال نہیں کرتے تو تم اس کی دوسری نعمتوں کے امیدوار کیوں ہو؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا مجھے کوئی معجزہ دکھائیں۔ مجھے یاد ہے آپ اُس وقت جوش میں آ گئے اور فرمایا میرے دعوٰی پر اتنے سال گزر چکے ہیں اور اِس عرصہ میں خداتعالیٰ نے ہزاروں نشانات دکھائے ہیں۔ تم نے ان نشانات سے کب فائدہ اُٹھایا کہ اب تم نئے نشان سے فائدہ اُٹھا لو گے۔ پس اگر تم خداتعالیٰ کی دی ہوئی اتنی بڑی دولت سے فائدہ نہیں اُٹھاتے تو تمہیں کسبی دولت کیسے مل سکتی ہے۔ ہاں! اگر تم خداتعالیٰ کی دی ہوئی دولت سے فائدہ اُٹھا ؤ تو تمہیں اتنا کچھ مل جائے گا کہ تمہیں خداتعالیٰ سے کچھ اَورمانگتے ہوئے بھی شرم آئے گی‘‘۔ (الفضل 6؍اکتوبر1954ئ)

    1
    :
    2
    :
    محمد شاہ:تغلق خاندان کا چٹھا فرمانروا۔1386ء میں سلطان فیروز خان نے اپنے بیٹے شہزاد محمد خاں کو سلطان ناصر الدین والدنیامحمد شاہ کا خطاب دے کر عنان سلطنت سپرد کردی۔ سلطان محمد شاہ نے چھ سال سات ماہ حکومت کی (اسلامی انسائیکلو پیڈیا مؤلفہ سید قاسم محمود صفحہ1424،1425۔ لاہور)
    3
    :
    احمد شاہ:محمد شاہ کا بیٹا بادشاہ دہلی ۔1725ء میں پیدا ہوا ۔1748ء میں تخت نشین ہوا ۔ 1775ء میں فوت ہوا ۔ احمد شاہ ایک نااہل حکمران تھا(اسلامی انسائیکلو پیڈیا مؤلفہ سید قاسم محمود صفحہ155۔ لاہور)
    4
    :
    ۔(المائدۃ:117، 118)

    مومن کی ہمدردی کا دامن
    تمام بنی نوع انسان تک وسیع ہونا چاہیے
    جب قوم پر کوئی مصیبت آ جائے
    تو پورے جوش کے ساتھ خدمتِ خلق میں حصہ لینا چاہیے
    (فرمودہ یکم اکتوبر1954ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’نقرس کے حملہ کی وجہ سے میں گزشتہ جمعہ بھی مسجد میں نہیں آ سکا اور اس سے پہلے بھی کچھ دن نمازوں کے لیے نہیں آ سکا۔ اِس دفعہ تین سال کے بعد نقرس کا شدید حملہ ہوا ہے۔ اگرچہ یہ پہلے حملے کی طرح سخت نہیں تھا تاہم میں گُھٹنے کی درد اور اس کے ورم کی وجہ سے سجدہ نہیں کر سکتا تھا۔ میں یا تو اشارہ سے سجدہ کر لیتا تھا اور یا تین چار تکیے ایک دوسرے کے اوپر رکھ کر اُن پر سجدہ کرتا تھا۔ اب بھی میری لات میں درد ہے گو اِتنی نہیں جتنی پہلے تھی اور درد کی تیزی کی وجہ سے جو بخار ہو جایا کرتا تھا وہ بھی اب محسوس نہیں ہوتا۔ بہرحال میں ابھی سجدہ نہیں کر سکتا۔ میں نے گاؤ تکیہ منگوا لیا ہے تا کہ اگر زمین پر سجدہ نہ کر سکوں تو گاؤ تکیہ کو سامنے رکھ کر اُس پر سجدہ کر لوں۔
    احباب کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان پر دو طرح کی ذمہ داریاں عائد کی ہوئی ہیں۔ ایک ذمہ داری اُس کے نفس کی ہے جس میں اُس کے عزیز اور رشتہ دار بھی شامل ہوتے ہیں۔ اور ایک ذمہ داری اُس کی قوم یا ملک کی ہے جس میں وہ رہتا ہے۔ اس میں وہ تمام افراد شامل ہوتے ہیں جو اُس کی طرف کسی نہ کسی رنگ میں منسوب ہوتے ہیں۔چاہے وہ انہیں جانتا ہو یا نہ جانتا ہو، اُس نے انہیں دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو۔ اِس ذمہ۔داری کو وسیع کیا جائے تو یہ انسانیت کی ذمہ داری کہلاتی ہے اور اگر اسے محدود کریں تو یہ وطنی قوم کی ذمہ۔داری بن جاتی ہے۔ اور اگر اسے اَور محدود کر دیا جائے تو ایک نسلی قوم یعنی ایک دادے کی اولاد کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ بہرحال یہ ذمہ داری ایسی ہے جس میں جاننے یا نہ جاننے کا سوال نہیں انسانوں کا ہر طبقہ اس میں شامل ہوتا ہے۔ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وآلہٖ وسلم نے اسلام کے احکام میں اِن دونوں ذمہ داریوں کو مدنظر رکھا ہے۔ مثلاً انسان کی اپنی ذات ہے۔ اس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حکم دیا ہے کہ اس کا خیال رکھا جائے۔ احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ہجرت کے بعد مہاجرین اور انصار کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیا تھا۔1 ایک مہاجر صحابیؓ کے متعلق روایت آتی ہے کہ جب وہ اپنے انصاری بھائی کے گھر گئے تو انہوں نے دیکھا کہ اُن انصاری صحابیؓ کی بیوی کے کپڑے نہایت میلے کچیلے ہیں۔ اُن دنوں پردہ کے احکام ابھی نازل نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے اُسے توجہ دلائی کہ جسم اور لباس کی صفائی رکھا کرو کیونکہ مذہبی لحاظ سے بھی اور جسمانی لحاظ سے بھی یہ نہایت ضروری چیز ہے۔ اُس نے جواب دیا کہ میں نے کیا صفائی رکھنی ہے۔ بیوی کی طرف توجہ کرنے والا تو خاوند ہوتا ہے لیکن تمہارے انصاری بھائی کو تو گھر کی پروا ہی نہیں۔ وہ دن کو روزہ رکھتا ہے اور ساری رات نماز پڑھتا رہتا ہے۔ اُسے دنیا کی طرف کوئی رغبت ہی نہیں ہے۔ جب وہ انصاری گھر آئے تو اُن کے لیے کھانا تیار کیا گیا لیکن انہوں نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا اور کہا میں نے تو روزہ رکھا ہوا ہے۔ اِس پر مہاجر بھائی نے کہا کہ جب تک تم کھانا نہ کھاؤ میں بھی کھانا نہیں کھاؤں گا۔ پہلے تو انہوں نے انکار کیا مگر جب ان کے مہاجر بھائی کا اصرار بڑھ گیا تو انہوں نے کہا بہت اچھا! میں روزہ کھول دیتا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے کھانا کھا لیا۔ پھر رات کا کھانا کھانے کے بعد، عشا کی نماز ادا کرنے کے بعد انصاری دوست نے نفل ادا کرنے شروع کیے تو مہاجر بھائی نے انہیں پکڑ لیا اور کہا تم گھر میں جاؤ اور سو رہو۔ میں تمہیں نفل نہیں پڑھنے دوں گا۔ تہجد کے وقت میں تمہیں جگا دوں گا۔ خیر وہ گھر جا کر سو گئے اور رات کے آخری حصہ میں مہاجر بھائی نے انہیں جگا دیا اور انہوں نے نمازِتہجد ادا کی۔ جب صبح ہوئی تو وہ انصاری رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ یَارَسُولَ اللّٰہ! آپ نے فلاں شخص کو میرا بھائی مقرر کیا ہے۔ اُس نے کل مجھے عبادت سے محروم رکھا ہے۔ میں دن کو روزہ رکھتا تھا اور ساری رات نفل ادا کیا کرتا تھا لیکن اُس نے نہ مجھے روزہ رکھنے دیا اور نہ ساری رات نفل ادا کرنے دیئے۔ آپ نے فرمایا تمہارے بھائی نے جو کچھ کیا ہے درست کیا ہے۔ جو طریق تم نے اختیار کیا وہ درست نہیں۔ تمہیں سمجھنا چاہیے کہ لِنَفْسِکَ عَلَیْکَ حَقٌّ وَلِزَوْجِکَ عَلَیْکَ حَقٌّ۔ٍٍ2 تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے۔پس اسلام نے اپنے احکام میں انسان کی ذات کو مدنظر رکھا ہے اور کہا ہے اس کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔ پھر نفس میں بیوی اور دوسرے رشتہ داروں کو بھی شامل کیا ہے۔
    رشتہ۔داروں کے علاوہ دوسرے افراد کے متعلق ہم دیکھتے ہیں تو ان کے متعلق بھی شریعت میں احکام موجود ہیں۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ جب تم جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے مسجد میں آؤ تو نہا کر آؤ۔پیاز، لہسن یا اَور کسی قسم کی بدبودار چیز کھا کر نہ آؤ، کپڑے دھو کر آؤ اور خوشبو لگا کر آؤ۔3 نہانا اس لیے ضروری قرار دیا کہ گندہ رہنے کی وجہ سے جسم میں ایک قسم کی بدبو پیدا ہو جاتی ہے جو نہانے سے دور ہو جاتی ہے۔ خوشبو لگانے کا حکم اس لیے دیا کہ بعض بیماریوں کی وجہ سے جیسے بغل گند ہوتی ہے نہانے کے باوجود جسم سے بدبو آتی رہتی ہے۔ خوشبو اِس قسم کی بُو کے ازالہ کے لیے مفید چیز ہے۔ غرض جو بُو عارضی ہوتی ہے اُس کا بھی علاج کر دیا اور بیماریوں کی وجہ سے جو مستقل بُو پیدا ہو جاتی ہے اُس کا بھی علاج کر دیا۔ پھر آپؐؐ نے فرمایا دیکھو! انسان کے لیے یہ چیز بھی ثواب کا موجب ہے کہ اگر وہ راستہ میں کوئی لکڑی، کانٹایا گوبر پڑا ہوا دیکھے تو اُسے دور کر دے۔4 اُس کا یہ فعل بھی اُس کے لیے نیکی شمار ہو گا۔ اب۔مسجد والے تو اُس کے ہم مذہب تھے لیکن سڑک پر چلنے والے اس کے وطنی بھی ہو سکتے ہیں اور غیروطنی بھی ہو سکتے ہیں، مسافر اور سیاح بھی ہو سکتے ہیں۔ پس اس حکم کے ذریعہ آپ نے تمام بنی نوع انسان تک اپنی ہمدردی کے دامن کو وسیع کرنے کا حکم دیا۔
    پھر جیسا کہ میں سمجھتا ہوں ایک قرآنی آیت سے بھی یہ استدلال ہو سکتا ہے کہ اُن لوگوں سے بھی انسانی ہمدردی کا سلوک کرنا چاہیے جن سے عام حالات میں کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اور وہ آیت یہ ہے 5اب تک اِس آیت کے جو معنے کیے جاتے ہیں وہ یہ ہیں کہ انسانی اموال میں اُن لوگوں کا بھی حق ہے جو زبان سے مانگ لیتے ہیں اور اُن کا بھی حق ہے جو زبان سے مانگتے نہیں۔ اور یا یہ معنے کیے جاتے ہیں کہ ان کے اموال میں انسان کا بھی حق ہے جو اپنی ضرورت خود بیان کر لیتا ہے اور جانور کا بھی حق ہے جو اپنی ضرورت خود بیان نہیں کر سکتا۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ گو اِس کے یہ معنے بھی درست ہیں جو اَب تک کیے جاتے ہیں لیکن محروم میں غیر ممالک کے رہنے والے اور غیراقوام بھی شامل ہیں جن تک انسان کی عام حالات میں پہنچ نہیں ہوتی۔ مثلاً ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ انفرادی لحاظ سے ہم جاپانیوں کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔ ہاں! قومی طور پر ہم چندہ کر کے جاپانیوں کی مدد کریں تو وہ ہمارے اموال میں حصہ دار بن جاتے ہیں۔ پس اِس لفظ میں وہ انسانی ہمدردی بھی شامل ہے جو عام حالات میں انسان کی طاقت سے باہر ہوتی ہے۔ عرب، مصر، ایران، افغانستان، چین، جاپان، یونائیٹڈ اسٹیٹس امریکہ، ارجنٹائن، چِلّی، کینیڈا، برازیل، فرانس، جرمنی،سپین، اٹلی اور سوئٹزرلینڈ وغیرہ ممالک میں جو لوگ آباد ہیں اُن سے ہمدردی کرنے کے ذرائع ہمارے پاس موجود نہیں۔ لیکن اگر ہم ایسے مواقع پر جب ساری قوم پر کوئی مصیبت آ جایا کرتی ہے اُن کی مدد کریں تو اِس طرح وہ بھی ہمارے اموال میں حصہ دار بن جاتے ہیں۔ یورپین لوگوں نے اِس بات کو مدنظر رکھا ہے اور انہوں نے ریڈکراس قسم کی سوسائٹیاں بنائی ہیں۔ وہ آہستہ آہستہ چندہ کرتے رہتے ہیں اور ڈاکٹر اور نرسیں وغیرہ ملازم رکھ لیتے ہیں۔ اور جب کسی قوم پر کوئی بڑی مصیبت آ جائے تو اُس کی مدد کو پہنچ جاتے ہیں۔ اِس طرح وہ اِس آیت کے مفہوم کے مطابق عمل کرتے ہیں کہ۔ہمسایہ’’ محروم‘‘ میں اس لیے شامل نہیں کہ گو وہ ہم سے نہیں مانگتا لیکن اُس کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔ پس عدمِ علم کی وجہ سے محروم نہیں ہے۔ اِسی طرح کراچی اور حیدرآباد (سندھ) کے رہنے والے محروم نہیں کیونکہ گو ہم اُن کی براہِ۔راست کوئی مدد نہیں کرتے لیکن ہم گورنمنٹ کو ٹیکس ادا کر رہے ہیں اور اُس ٹیکس سے حکومت اُن کی امداد کر رہی ہے۔ لیکن ہندوستان اور چین والوں کی نہ ہم براہِ راست کوئی مدد کرتے ہیں اور نہ ہماری حکومت اُن کی کوئی مدد کرتی ہے۔ اگر ہم اِس قسم کے محروم لوگوں کی مدد کرنا چاہیں تو وہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ ہم ریڈکراس یا ہلالِ احمر کی قسم کی بعض سوسائٹیاں بنا لیں اور عام حالات میں اپنے اموال سے کچھ نہ کچھ بطور چندہ دیتے رہیں تا اگر کسی قوم پر کوئی بڑی مصیبت آئے تو ان سوسائیٹیوں کی وساطت سے ہم اُس کی مدد کر سکیں۔ پس اِس آیت کے مطابق میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں کو اِس قسم کے ذرائع اختیار کرنے چاہییں کہ وہ اُن لوگوں کی مدد کو بھی پہنچ سکیں جن تک عام حالات میں ان کی پہنچ نہیں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ اِس قسم کے سامان پیدا کر دے کہ ہم دوسرے لوگوں کی مدد کر سکیں تو ہمیں پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ بلکہ پورے جوش کے ساتھ اس میں حصہ لینا چاہیے۔
    پچھلے دنوں مشرقی پاکستان میں سیلاب آیا جس پر میں نے خطبہ پڑھا اور جماعت کو تاکید کی کہ فوری طور پر چندہ کر کے مشرقی پاکستان کی مالی امداد کی جائے۔ اِس پر پہلا عمل تو میرے دفتر نے کیا کہ انہوں نے دو دن تک میرا خطبہ دبا رکھا اور پھر اُسے ڈاک کے ذریعہ الفضل کو بھیجا۔ اُن دنوں ڈاک میں ایسی مشکلات پیش آ گئیں کہ خطبہ الفضل والوں کو قریباً دس دن بعد ملا۔ دوسرا عمل نظارت علیائ، نظارت امور عامہ اور نظارت بیت المال نے کیا کہ ان کی طرف سے پندرہ دن تک اخبار میں کوئی تحریک نہ چھپی۔ پھر تیسرا عمل الفضل والوں نے کیا کہ انہوں نے صرف خطبہ شائع کر دیا۔ بعد میں اس تحریک کا تکرار نہ کیا۔ گویا خداتعالیٰ نے جو ہمارے لیے اس قسم کا موقع بہم پہنچایا تھا کہ ہم مشرقی پاکستان کی مدد کر سکیں اُس کے متعلق پوری کوشش کی گئی کہ جماعت کے کانوں میں یہ تحریک نہ پڑے اور دفتر والوں نے اپنا سارا۔زور اس بات پر لگا دیا کہ میری یہ تحریک جماعت تک پہنچنے نہ پائے تا انہیں ثواب کا کہیں۔موقع نہ مل جائے۔ جب مرکز کی یہ حالت ہو تو بیرونی جماعتوں کے متعلق کیا کہا جا سکتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ متواتر اِس قسم کے حالات پیدا ہوئے ہیں کہ جب کسی ناگہانی بلاء کے وقت مصیبت۔زدوں کی مدد کی گئی تو اس کا اَثر ایک لمبے عرصہ تک علاقہ میں رہا۔
    پچھلے دنوں ایک کار کی ٹکر کا واقعہ لالیاں میں ہو گیا تھا۔ حکومت کے افسران نے جماعت سے کہا کہ اِس وقت ہم تو مصیبت زدگان کی کوئی مدد نہیں کر سکتے آپ ہی اُن کی مدد کریں۔ اِس پر کچھ دوست وہاں گئے اور انہوں نے مدد کی۔ اِس کی وجہ سے دس پندرہ دن تک علاقہ میں شور رہا کہ فلاں موقع پر احمدیوں نے یہ کیا۔ احمدیوں نے مصیبت۔زدگان سے ہمدردی کا سلوک کیا، ان کی مرہم پٹی کی اور انہیں مناسب جگہوں پر پہنچایا۔ پھر پچھلا سیلاب آیا تھا۔ یہ موقع بھی ایسا تھا کہ مصیبت زدگان سے ہمدردی کا اظہار کیا جاتا اور جماعت نے ایسا کیا بھی۔ اب پھر سیلاب آیا ہے۔ اس موقع کو بھی ہمیں ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔ اِس موقع پر اگر دفاتر میں چُھٹی بھی کر دی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ مثلاً آخری جمعرات کو ہمارے دفاتر اور دیگر ادارے بند رہتے ہیں لیکن گورنمنٹ کے دفاتر میں ایسا نہیں ہوتا۔ مجھے بعض دوستوں نے معیّن صورت میں کہا ہے کہ جب گورنمنٹ کے اداروں میں اِس قسم کی چُھٹی نہیں ہوتی تو ہمارے مرکز میں ایسا کیوں کیا جاتا ہے؟ میں اِس کی تحقیقات کر رہا ہوں۔ لیکن اگر آخری جمعرات کو چُھٹی ضروری ہے تو ایسے مواقع پر کیوں چُھٹی نہیں دی جاتی تا مصیبت زدگان کی امداد کی جائے یا سڑکوں کی مرمت کی جائے تا کہ لوگوں کے تعلقات جو منقطع ہو جاتے ہیں وہ دوبارہ قائم ہو جائیں۔
    اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ کئی احمدی اِس بات سے چِڑ جاتے ہیں کہ جن لوگوں کی ہم مدد کرتے ہیں وہی کچھ عرصہ کے بعد ہم سے دشمنی کرنے لگ جاتے ہیں۔ لیکن یہی چیز تو مزہ دیتی ہے۔ کیونکہ اگر وہ لوگ جن کی خدمت کی جائے مخالفت کرنے لگ جائیں تو ہمارا دل اِس بات پر خوش ہو گا کہ ہم نے جو کچھ کیا ہے انسان کی خاطر نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کی خاطر کیا۔ہے۔ابھی اِس طوفان میں ایک واقعہ پیش آیا ہے۔ ایک بس سروس کمپنی کے متعلق ہمیشہ یہ شکایت آتی ہے کہ وہ اپنی لاریاں ربوہ میں نہیں ٹھہراتی بلکہ اُن کی لاریاں یا تو احمدنگر کے قریب ٹھہرتی ہیں یا چنیوٹ کے پاس جا کر ٹھہرتی ہیں تا ربوہ سے احمدی سوار نہ ہوں۔ جب طوفان آیا اور سڑک پانی کے نیچے آ گئی تو مسافروں کی امداد کرنے کے لیے ربوہ کے خدام سڑک پر گئے۔ اِس بس سروس کمپنی کی ایک لاری پانی میں پھنس گئی۔ جب خدام مدد کے لیے گئے تو ڈرائیور نے کہا تم لاری کو ہاتھ نہ لگاؤ۔ مجھے تمہاری مدد کی ضرورت نہیں۔ چنانچہ ڈرائیور اور مسافر کافی وقت تک زور لگاتے رہے لیکن لاری نہ نکلی۔ بعد میں وہ مجبور ہو کر خدام کے پاس آئے اور اُن سے کہا کہ لاری نکالنے میں ہماری مدد کی جائے۔ چنانچہ کچھ خدام گئے اور انہوں نے نہایت محنت سے اُس لاری کو باہر نکال دیا۔ ڈرائیور نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ لوگوں نے ہماری خاطر بہت تکلیف برداشت کی ہے۔ اِس دوران میں کسی لڑکے نے یہ کہہ دیا کہ آپ شکریہ تو ادا کرتے ہیں مگر کیا احمدیوں کو کبھی اپنی لاری میں سوار بھی کریں گے؟ اُس لڑکے کو ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا کیونکہ انہوں نے جو کچھ کیا تھا خداتعالیٰ کی خاطر کیا تھا۔مگر تاہم اُس ڈرائیور نے یہ جواب دیا کہ اب ہم پہلے آپ کو بٹھایا کریں گے پھر اَور کسی کو بٹھائیں گے۔ لیکن دل ایک دن میں نہیں بدلا کرتے۔ دل آہستہ آہستہ بدلتے ہیں۔ اس لیے تم اپنا کام کرتے چلے جاؤ اور اِس بات کا خیال نہ آنے دو کہ دوسرے لوگ تمہاری مخالفت کرتے ہیں یا تمہاری خدمت کی قدر کرتے ہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ باربار فی سبیل اللہ کے الفاظ بیان فرماتا ہے کہ تم جو نیکی بھی کرو خداتعالیٰ کی خاطر کرو۔ اس لیے چاہے تم سَو دفعہ نیکی کرو اور جن سے تم نیکی کرو وہ سو دفعہ تمہاری مخالفت کریں۔ وہ تمہارے دشمن ہو جائیں مگر تم نیکی کو ترک نہ کرو۔ آخر قیامت کے دن اُنہی کو پکڑا جائے گا اور تمہارے گلے میں سوسوہار پڑیں گے۔ پس تم میں سے کسی کو اِس بات کا خیال نہیں کرنا چاہیے کہ تمہارے حُسنِ سلوک کی کوئی قدر بھی کرتا ہے یا نہیں۔ تم نے جو کچھ کرنا ہے خداتعالیٰ کی خاطر کرنا ہے اور وہی تمہاری نیکی کا بدلہ دے۔گا۔
    اِس دفعہ لاہور کی جماعت نے قربانی کا اچھا نمونہ پیش کیا ہے اور وہاں کے خدام نے قابلِ۔تعریف کام کیا ہے۔ مجھے اس بات سے بہت خوشی ہوئی کہ اس دفعہ اُن میں بیداری پیدا ہوئی ہے اور انہوں نے مصیبت زدگان کی خوب مدد کی ہے اور انہوں نے اُن مکانوں میں لوگوں کو پناہ دی ہے جنہیں گزشتہ فسادات میں جلانے کا پروگرام بنایا گیا تھا۔ اور جن لوگوں کو اب پناہ دی گئی ہے وہ انہیں جلانے آئے تھے۔ اب وہ لوگ اپنے دلوں میں کتنے شرمندہ ہوں گے کہ اگر ہم اِن مکانوں کو گزشتہ فسادات کے دوران میں جلا دیتے تو آج ہم طوفان میں ڈوب جاتے اور ہمیں پناہ کی کوئی جگہ نہ ملتی۔ اب فرض کرو کہ کچھ عرصہ کے بعد جماعت کے احسان کو بھول جاتے ہیں۔ تب بھی تم اُن سے حُسنِ سلوک کرو کیونکہ تم نے جو کچھ کرنا ہے وہ خداتعالیٰ کی خاطر کرنا ہے۔ اور خداتعالیٰ تمہارے کام کو دیکھ رہا ہے اور وہی اِس کا اجر دے گا۔ اگر کوئی شخص کسی پر احسان کرتا ہے اور دوسرا شخص اُس احسان کو بھول جاتا ہے یااُس کے احسان کی قدر نہیں کرتا تو یہ اُس کا قصور ہے۔ تمہارا فائدہ اِسی میں ہے کہ تم احسان کرتے چلے جاؤ۔ اور ہمارا خدا ایسا ہے کہ اُس نے نیکی کرنے والے کے لیے ثواب کے اتنے رستے کھولے ہیں کہ اُن کی کوئی حد ہی نہیں۔ اِس لیے ایسے فعل پر کسی مسلمان کے دل میں انقباض پیدا ہونا یا نفرت اور حقارت کا جذبہ پیدا ہونا اور دل میں گِرہ پڑنا ناجائز ہے۔ اگر کوئی تمہیں گالی دیتا ہے۔تو تمہیں چِڑنے کی ضرورت نہیں۔ اس کی گالی سے تمہارا کچھ نہیں بِگڑتا۔ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی کو گالی دیتا ہے تو خداتعالیٰ کے فرشتے اُسے دعائیں دیتے ہیں۔6 اب دیکھو! اُس شخص کی گالیوں نے کیا بنانا تھا؟ اگر کچھ بنانا ہے تو فرشتوں کی دعاؤں نے بنانا ہے۔
    میری اپنی یہ حالت ہے کہ مجھے کوئی کتنی گالیاں دے مجھے اِس بات کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اِن الفاظ سے میرا کیا بِگڑتا ہے۔ بعض لوگ میرے پاس آتے ہیں اور شکایت کرتے ہیں کہ فلاں شخص نے بددعا کی ہے۔ مجھے اُن کی بات پر ہمیشہ ہنسی آتی ہے کہ اگر تو خداتعالیٰ قادر وعلیم ہے اور وہ یقیناً ایسا ہے تو وہ جانتا ہے کہ کوئی شخص دعا کے قابل ہے یا بددعا کے۔ اگر خداتعالیٰ کے نزدیک وہ دعا کے قابل ہے تو وہ اپنے علم کے مطابق اُس سے سلوک کرے گا اور کسی کی بددعا کو کیوں سُنے گا۔ اور اگر اُس کے علم میں وہ دعا کے قابل نہیں تو اگر کوئی اُسے بددعا نہ بھی دیتا تب بھی اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اگر خداتعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اُس کے دس بچے زندہ رہیں اور دوسرا شخص کہتا ہے کہ خدا کرے اُس۔کے سارے بچے مر جائیں، تو خداتعالیٰ پاگل تو نہیں کہ وہ اُس کی بات کو مان لے۔ وہ اپنے علم کے مطابق اُس سے سلوک کرے گا اور دوسرے شخص کی بددعا کوئی اَثر نہیں کرے گی۔ یہ عجیب بات ہے کہ تم ایک طرف تو اُسے خدا سمجھتے ہو اور دوسری طرف اُسے اپنے سے بھی کم عقل سمجھتے ہو۔ ہمارا خدا تو کامل خدا ہے۔ اگر ساری دنیا مل کر بھی ہمارے لیے بددعائیں کرے تو ہم اُن سے ڈر نہیں سکتے۔ کیونکہ خداتعالیٰ اپنے علم کے مطابق ہم سے سلوک کرے گا۔ وہ اس بات کا پابند نہیں کہ دوسرا جو کچھ کہہ دے اُسے مان لے۔ یہ تو جاہل عورتوں کا طریق ہے کہ وہ دوسرے کی بددعا سے ڈرتی ہیں۔ مجھے ساری دنیا بددعائیں دے لے۔ میں اُن کے سامنے بیٹھ جاتا ہوں اور بددعائیں سنتا جاتا ہوں۔ میرا کچھ نہیں بِگڑے گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ لوگ میرے خدا نہیں۔ میرا خدا مجھے دیکھ رہا ہے اور وہ خوب سمجھتا ہے کہ میں ان بددعاؤں کا مستحق ہوں یا دعاؤں کا۔ اُسی نے مجھ سے معاملہ کرنا ہے۔ اِن لوگوں کا کیا ہے۔ یہ جو چاہیں کرتے رہیں اِن کی بددعاؤں کا کوئی اَثر نہیں ہو سکتا۔
    اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ مظلوم کی دعا قبول ہوتی ہے۔ مظلوم کی دعا اور خداتعالیٰ کے درمیان کوئی چیز روک نہیں7 لیکن پہلے تو تم اپنے آپ کو ظالم بناؤ گے تو ایسا ہو گا۔ جب تم کسی کی بددعا سے ڈرتے ہو تو اِس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تم اِس بات کا اقرار کرتے ہو کہ تم ظالم ہو۔ اور اگر تم جانتے ہو کہ تم نے جُرم کیا ہے تو اِس کا علاج ڈرنا اور شور مچانا نہیں بلکہ ظلم کا علاج یہ ہے کہ تم مظلوم کے پاس جا کر اُس سے اپنے قصور کی معافی طلب کرو۔
    غرض تمہیں اِس بات کی پروا نہیں کرنی چاہیے کہ لوگ تمہاری خدمت کو بھول گئے ہیں۔ وہ بیشک بھول جائیں جس ذات کے لیے تم نے ان کی خدمت کی تھی وہ اسے نہیں بھول سکتی۔ خداتعالیٰ تمہارے کام کو دیکھ رہا ہے اور وہ اس کا بہتر اجر تمہیں دے گا۔
    امام غزالی۔ؒ نے ایک کہانی بیان کی ہے جسے حدیث کہا جاتا ہے لیکن وہ حدیث نہیں۔ مگر چونکہ کہانیوں سے بھی بعض اسباق ملتے ہیں اس لیے صوفیاء اپنی کتابوں میں ایسی کہانیاں بھی درج کر لیتے ہیں۔ آپ لکھتے ہیں کہ قیامت کے دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی۔کھڑے ہوں گے اور آپ کی امت بھی کھڑی ہو گی کہ جہنم میں یکدم جوش پیدا ہو گا اور۔اُس۔کی آگ باہر پھیلنی شروع ہو جائے گی۔ اُسے دیکھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ساری امت دعا کرنے لگ جائے گی۔ وہ گریہ و زاری کرے گی لیکن آگ برابر بڑھتی چلی جائے گی۔ اِتنے میں جبریل ایک پتیلا لائیں گے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہیں گے یَارَسُولَ اللّٰہ! اِس پتیلے میں پانی ہے۔ آپ اِس پانی کو لیں اور آگ پر چِھڑکیں۔ اِس سے آگ بُجھ جائے گی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرمائیں گے کہ اِس پتیلا میں کیسا پانی ہے؟ تو جبریل جواب دیں گے اِس میں امت کے گناہگاروں کے آنسو ہیں۔
    اب جہاں تک اِس بات کا تعلق ہے کہ یہ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کی حدیث ہے میں اِس ادّعا کو لچّر اور لغو سمجھتا ہوں۔ یہ حدیث نہیں بلکہ امام۔غزالی۔ؒ نے اس واقعہ کو صرف نصیحت کے رنگ میں نقل کر دیا ہے۔ اگر یہ حدیث ہوتی تو اسے کوئی معتبر محدّث اپنی معتبر کتاب میں بھی بیان کرتا لیکن اسے کسی معتبر محدّث نے بیان نہیں کیا۔ اصل بات یہ ہے کہ صوفیاء نے بہت سی باتیں ایسی نقل کر دی ہیں جو لکھی تو حدیث کے رنگ میں گئی ہیں لیکن وہ احادیث نہیں۔ محدثین کا خیال ہے کہ جس بات میں کوئی نصیحت پائی جائے صوفیاء اُسے نقل کر دیتے ہیں وہ اسے پرکھتے نہیں۔ اِس قسم کی روایات میں سے یہ واقعہ بھی ہے۔ اِس میں ایک سبق ہے جو قابلِ۔قدر ہے۔ اور وہ سبق یہ ہے کہ اگر کوئی شخص غلطی کرتا ہے اور پھر خداتعالیٰ کے سامنے روتا ہے تو خداتعالیٰ اسے معاف کر دیتا ہے۔باقی یہ بات بالکل لغو ہے کہ جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐؐ کی امت کے اقطاب اور اولیاء کی دعاؤں نے کوئی اثر نہ کیا وہاں گناہگاروں کے آنسوؤں نے اثر کر دیا۔ اِتنا حصہ بالکل لچّر اور پوچ8 اور بیہودہ ہے۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ گناہ گاروں کا رونا اور اُن کی گریہ وزاری کرنا اُن کے گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ مگر یہ بات درست نہیں کہ اُن کے آنسو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ کی دعاؤں سے بھی بڑھ گئے۔ پس ذِکرٰی کے طور پر اس واقعہ میں ایک خوبی پائی جاتی ہے جو قابلِ قدر ہے لیکن یہ کہنا کہ یہ حدیث ہے، میں اسے درست نہیں سمجھتا۔ بہرحال اگر کوئی انسان ظلم کرتا ہے تو اُسے خداتعالیٰ کے سامنے جھکنا چاہیے اور اپنی غلطی کی معافی طلب کرنی چاہیے۔ باقی یہ کہ لوگوں کی بددعائیں خواہ ظالمانہ ہوں خداتعالیٰ تک چلی جاتی ہیں اور وہ انہیں قبول کر لیتا ہے درست نہیں۔ اگر بددعائیں کام دیں تو ہمارے لیے تو سارے مولوی بددعائیں کرتے رہتے ہیں۔ ایسے مولوی بھی موجود ہیں جو سٹیجوں پر رات دن ہم پر *** ڈالتے رہتے ہیں۔ اگر اُن باتوں میں کوئی اثر ہوتا تو یہ سلسلہ کبھی کا ختم ہو جاتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر یہ انسانی کام ہوتا تو یہ سلسلہ تو کبھی کا ختم ہو جاتا۔
    پس اِس امر کو یاد رکھو کہ ہمارا خدا منصف اور وفادار ہے۔ وہ ہمیشہ انصاف سے کام لیتا ہے۔ وہ صرف اُس کو پکڑتا ہے جو غلطی کرتا ہے اور جو شخص غلطی نہیں کرتا وہ اسے کچھ نہیں کہتا۔ دین کے بارے میں تم حق پر ہو۔ اس لیے خداتعالیٰ دین کے بارہ میں دوسرے لوگوں کو ہی پکڑے گا تمہیں نہیں پکڑے گا۔ اگر تم کسی سے حُسنِ سلوک کرتے ہو اور وہ تمہارے احسان کی ناقدری کرتا ہے تو بدلہ تو خدا نے دینا ہے۔ وہ اسے دیکھ رہا ہے۔ اگر وہ شخص تمہارے احسان کی قدر نہیں کرتا بلکہ تم پر ظلم کرتا ہے تو تمہیں خداتعالیٰ سے دُہرے بدلہ کی امید کرنی چاہیے۔ ایک تو تمہارے احسان کا بدلہ تمہیں ملے گا اور دوسرے تم پر ظلم کرنے کی وجہ سے تمہارے احسان فراموش دشمن کی نیکیاں بھی تمہیں مل جائیں گی۔
    لیکن یہ یاد رکھو کہ شریف طبقہ ہر قوم میں ہوتا ہے۔ دہریوں میں بھی شریف ہوتے ہیں۔ پھر مسلمان کے کان میں تو قرآن کریم کے الفاظ رات دن پڑتے رہتے ہیں۔ اس لیے کوئی نہ کوئی درجہ شرافت کا اس میں ضرور موجود ہوتا ہے۔ پس تم کیونکر سمجھتے ہو کہ تمہاری نیکی اُن پر اثر نہیں کرے گی۔ ممکن ہے تمہاری نیکی دیکھ کر وہ بھی اس قسم کا کام کرنا شروع کر دیں اور اس طرح ان میں بھی قوم، ملک اور حکومت کی خدمت کا جذبہ پیدا ہو جائے۔ اور اگر ایسا ہو جائے تو تمہیں اس بات کا بھی ثواب ملے گا کہ تم نے نیکی کی۔ اور اس بات کا بھی ثواب ملے گا کہ تمہاری وجہ سے دوسرے کئی لوگوں نے نیکی کی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص کے ذریعہ کوئی دوسرا آدمی ہدایت پا لیتا ہے تو اُسے دو ثواب ملتے ہیں۔ ایک ثواب تو اس کی اپنی نیکی کا ہوتا ہے اور ایک ثواب اُس شخص کی نیکی کا ملتا ہے جو اُس کے ذریعہ ہدایت پاتا ہے۔ فرض کرو تمہاری وجہ سے پاکستان کے لوگ ہدایت پاتے ہیں اور تمہاری تعداد ایک لاکھ ہو تو اِس کا مطلب یہ ہوا کہ تم میں سے ہر ایک کو آٹھ سو آدمیوں کی نیکی کا ثواب ملے گا۔ ایک آدمی کی نیکی بھی بڑی چیز ہو تی ہے اور وہ آسمان اور زمین کو بھر دیتی ہے۔ پھر اگر کسی کے ذریعہ آٹھ سو اشخاص ہدایت پا جائیں اور اُن آٹھ سَو اشخاص کی نیکیوں کا ثواب بھی اُسے ملے تو پھر اُس کی نیکیوں کو رکھنے کے لیے خداتعالیٰ ہی سامان کرے تو کرے ورنہ زمین و آسمان میں اُس کی نیکیاں سما نہیں سکیں گی۔ پس دوست اِس قسم کے نیکی کے مواقع کو ضائع نہ کریں بلکہ اِن مواقع پر زیادہ سے زیادہ لوگوں کی خدمت کریں۔ اگر تمہارے عمل کو دیکھ کر دوسرے لوگوں میں بھی نیکی پیدا ہو جائے تو یقیناً اس سے سارے ملک کا معیارِاخلاق بلند ہو جائے گا‘‘۔ (الفضل8؍اکتوبر 1954ئ)

    1
    :
    بخاری کتاب الصوم بابُ مَنْ اَقْسَمَ علی اَخِیْہِ لیُفْطِر فی التَّطَوُّعِ۔۔۔
    2
    :
    بخاری کتاب الصَّوم باب مَنْ اَقْسَمَ عَلی اَخِیْہِ لِیُفْطِر فی التَّطَوُّعِ۔۔۔ (لِزَوْجِکَ کی جگہ لِاَھْلِکَ)
    3
    :
    صحیح البخاری کتاب الجمعۃ باب الطِّیبِ للْجُمُعَۃِ،بابُ الدُّھْنِ للجمعۃ ۔ کتاب الاطعمۃ باب مایکرہ من الثوم والبقولِ
    4
    :
    صحیح مسلم کتاب الزکاۃ باب بیان أنَّ اسم الصدقۃِیقع علی کل نوع من المعروفِ۔
    5
    :
    الذاریات:20
    6
    :
    مسند احمد بن حنبل مسند ابی ھریرۃجلد2صفحہ436۔بیروت 1978ئ۔
    7
    :
    صحیح بخاری کتاب المظالم باب الاتقاء والحذر من دعوۃ المظلوم
    8
    :
    پوچ:لغو۔ بے ہودہ ۔ مہمل۔ ذلیل۔حقیر۔پاجی۔ کمینہ نیچ۔ہرزا سرا۔یاوہ گو(فیروز اللغات اردو جامع فیروز اینڈ سنز لاہور)

    دین کی خدمت کا ثواب دائمی ہے
    اور دنیوی مال ایک عارضی اور فانی چیز ہے
    (فرمودہ8؍اکتوبر1954ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’میری طبیعت ابھی تک خراب چلی آتی ہے۔ گو درد میں تو کمی واقع ہو گئی ہے لیکن مرض مزمّن1 شکل اختیار کر گئی ہے اور میں ابھی زمین پر سجدہ نہیں کر سکتا۔ پہلے یہ ہوتا تھا جب درد میں کمی آتی تھی تو پورے طور پر کمی آ جاتی تھی لیکن اِس دفعہ ایسا نہیں ہوا بلکہ چھوٹے چھوٹے حملے درد کے ہوتے رہتے ہیں۔ مثلاًپرسوں انگوٹھے میں درد کا حملہ ہوا لیکن دو گھنٹے کے بعد درد بھی کم ہو گیا اور ورم میں بھی کمی واقع ہو گئی۔ کل نسبتاً پرسوں سے کم حملہ ہوا۔ پَیر کی انگلیوں میں درد شروع ہوئی لیکن تھوڑی دیر میں درد اور ورم دونوں میں کمی آ گئی۔ گویا بیماری ایک نئی شکل اختیار کر گئی ہے اور جسم کے بعض حصوں پر اچھا ہو جانے کے بعد بھی اس کا اثر باقی رہتا ہے۔ پہلے جب شدید حملہ ہوتا تھا تو چارپانچ دن میں اس کی شدت جاتی رہتی تھی۔ مگر پورا۔آرام تین چار ہفتوں میں آتا تھا لیکن اب حملہ ہوا تو گو بخار جو حملہ کے ساتھ ہی ہو جاتا تھا وہ بھی جلد دور ہو گیا اور درد میں بھی کمی واقع ہو گئی لیکن میں ابھی تک اچھا نہیں ہوا کیونکہ مرض کے چھوٹے چھوٹے حملے ہوتے رہتے ہیں۔ بہرحال اس تکلیف کی وجہ سے میں روزانہ نماز میں نہیں آ سکا۔ جمعہ کے لیے آ گیا ہوں لیکن میں کھڑا ہو کر نماز نہیں پڑھا سکتا بیٹھ کر پڑھا دوں گا اور سجدہ کے وقت میں اشارہ کروں گا۔
    گزشتہ خطبہ جمعہ میں مَیں نے بتایا تھا کہ چونکہ بیماری کی وجہ سے میں سجدہ نہیں کر سکتا اس لیے میں نے گاؤ تکیہ منگوا لیا ہے۔ میں اُس پر سجدہ کر لوں گا۔ اِس پر مجھے جماعت کے بعض علماء نے خط لکھا کہ بعض طلباء نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ سجدہ کے لیے نماز میں تکیہ پر سجدہ کرنا ناجائز ہے۔ اگر کوئی شخص کسی بیماری کی وجہ سے سجدہ نہ کر سکتا ہو تو اُسے اشارہ کرنا چاہیے سجدہ کے لیے کسی چیز کا سہارا نہیں لینا چاہیے۔ دوسرے، علماء نے تحقیقات کر کے بعض اِس قسم کی حدیثیں بھی نکالی ہیں کہ بعض صحابہؓ نے پگڑی یا کسی اَور چیز کا سہارا لے کر سجدہ کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ بعض چیزوں کی حکمت واضح ہوتی ہے اور بعض چیزوں کی حکمت واضح نہیں ہوتی۔اشارہ سے سجدہ کرنا اور کسی تکیہ پر یا اونچی جگہ پر سجدہ کرنا اِن دونوں باتوں میں بظاہر کوئی فرق نہیں۔ ایک صورت میں سر زمین پر نہیں لگتا اور ایک صورت میں دوسری چیز کے واسطہ سے کسی حد تک سر زمین پر لگ جاتا ہے۔ لیکن اِدھر ایک حدیث میں جسے صحیح کہا جاتا ہے یہ امر بھی پایا جاتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی عذر کی بناء پر سجدہ نہ کر سکے تو وہ اشارہ سے سجدہ کرلے۔ میرے نزدیک اِس حکم کی وجہ یہ نظر آتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ نماز میں سورہ نجم کی تلاوت فرمائی۔ آخر میں جب آپ نے سجدہ فرمایا تو مشرکینِ مکہ جو اُس وقت وہاں موجود تھے وہ بھی سجدہ میں گِر گئے سوائے ایک شخص کے کہ جس نے سجدہ نہ کیا اور وہ سجدہ کو بُرا سمجھتا تھا۔ لیکن دوسری طرف جب اُس نے دیکھا کہ اُس کی قوم کے سب لوگوں نے سجدہ کیا ہے تو وہ ان سے علیحدہ رہنا بھی پسند نہ کرتا تھا۔ چنانچہ اس نے ہتھیلی میں کچھ کنکر اُٹھائے اور اُن پر سجدہ کیا۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت بعض لوگ ایسے بھی تھے جو۔خداتعالیٰ اور اپنے معبودوں کے سامنے بھی سر جھکانا بُرا سمجھتے تھے۔ ایسے لوگوں کے خیالات۔کا۔ازالہ کرنے کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا کہ تم ایسا نہ کیا کرو۔ کیونکہ۔اِس۔سے سجدہ کو ناپسند کرنے والوں سے تشابہہ پیدا ہو جاتا تھا۔ٍٍ2 چنانچہ جس حدیث سے تکیہ پر سجدہ نہ کرنے کا استدلال کیا گیا ہے اُس کے بارہ میں یہی تشریح آتی ہے کہ جس شخص کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کرنے سے منع کیا تھا اُس نے تکیہ زمین پر رکھ کر سجدہ نہ کیا تھا بلکہ تکیہ اُٹھا کر سجدہ کیا تھا جو صاف مذکورہ بالا کافر کی مشابہت تھی۔ چنانچہ علمائِ۔حدیث نے اِس سے یہی استدلال کیا ہے کہ تکیہ پر سجدہ منع نہیں۔بلکہ کوئی چیز اُٹھا کر اُس پر سجدہ کرنا منع ہے۔ ورنہ ثابت ہے کہ امہات المومنین میں سے بھی بعض بیماری میں تکیہ پر سجدہ کرتی تھیں اور بعض دوسرے صحابہؓ۔۔کی روایات سے بھی پتا چلتا ہے کہ مسلمان شروع سے ایسا کرتے چلے آئے ہیں کہ اگر کسی کو کوئی عذر ہوا تو اُس نے اشارہ سے یا کسی اَور چیز کا سہارا لے کر سجدہ کر لیا۔3 پس اِس سے منع کرنے میں کوئی عقلی استبعاد نظر نہیں آتا۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ جس طرح سجدہ میں انسان اوپر سے نیچے کی طرف جاتا ہے اُسی طرح اشارہ بھی اوپر سے نیچے کیا جاتا ہے۔ پس اشارہ میں سجدہ سے ایک مشابہت ہے جو دوسری صورت میں یعنی تکیہ اُٹھا کر اُس پر سجدہ کرنے میں نہیں ہو سکتی۔
    اس کے بعد میں جماعت کے نوجوانوں کو بالخصوص اِس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جماعت میں کچھ عرصہ سے وقف کی طرف توجہ نہیں رہی خصوصاً جب سے پاکستان بنا ہے اُس وقت سے لوگوں کی توجہ وقف کی طرف سے جاتی رہی ہے۔ اِس سے پہلے نوکریوں کا جھگڑا ہوتا تھا، جو اچھی نوکریاں ہوتی تھیں وہ انگریز لے جاتے تھے، جو دوسرے درجے کی نوکریاں تھیں وہ ہندو لے جاتے تھے اور جو درمیانی درجہ کی نوکریاں ہوتی تھیں وہ سِکھ لے جاتے تھے اور جو گند باقی رہتا تھا وہ مسلمانوں کے حصہ میں آتا تھا۔ اُس وقت مسلمان سمجھتا تھا کہ چلو! نوکری نہ سہی، خدمتِ دین ہی سہی۔ لیکن پاکستان بننے کے بعد ساری نوکریاں مسلمانوں کو ہی ملتی ہیں۔ اب اُن کا انگریزوں، ہندوؤں اور سِکھوں سے مقابلہ نہیں رہا۔ اور وہ خیال کرتے ہیں کہ جب انہی جیسے ایم۔اے اور بی۔اے وزیر ہیں، سیکرٹری ہیں، ڈائریکٹر ہیں اور انسپکٹر جنرل پولیس وغیرہ ہیں تو وہ بھی کیوں ویسے ہی نہ بنیں؟ پس وہ نوکریوں کے پیچھے پڑ گئے ہیں اور خدمتِ۔دین کا خیال انہیں نہیں رہا۔ حالانکہ یہ اُن کے دماغ کی کمزوری کی علامت ہے کہ انہوں نے اِس بات کا اندازہ نہیں کیا کہ بڑے عہدے گنتی کے ہوتے ہیں اور وہ صرف گنتی کے چند افراد کو ہی مل سکتے ہیں۔ دوسرے لوگ تو پہلے کی طرح نوکری کی تلاش میں جوتیاںچٹخاتے پھریں گے۔ پھر انہوں نے یہ کس طرح سمجھ لیا کہ وزارت، سیکرٹری شپ یا ڈائریکٹر شپ انہیں ضرور ملے گی۔ اب بھی ملک میں دیکھ لو، کئی ایم۔اے اور بی۔اے پاس لوگ فارغ ہیں۔ انہیں نوکریاں نہیں مل رہیں۔ مگر یہ نقطہ نگاہ تو اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب خدا کے خانہ کو خالی چھوڑ دیا جائے۔ اگر خداتعالیٰ کے خانہ کو خالی نہ چھوڑا جائے تو انہیں سمجھنا چاہیے کہ دین کی خدمت کا ثواب دائمی ہے اور دنیوی مال ایک عارضی اور فانی چیز ہے۔ جو شخص تیس یا چالیس سالہ زندگی کے لیے اتنی محنت کرتا ہے اور تین کروڑ یا تین۔اَرب سال کی آئندہ زندگی کو نظرانداز کر دیتا ہے وہ کس طرح امید کر سکتا ہے کہ ہم اسے عقلمند سمجھ لیں۔ اگر وہ خدمتِ دین کرتا ہے تو ایک نہ ختم ہونے والے عرصہ کے لیے انعام پاتا ہے۔ وہ انعام اور اجرتین کروڑ سال کے لیے نہیں، تین اَرب سال کے لیے نہیں بلکہ ایسے زمانہ کے لیے ہے جسے اسلام نے نہ ختم ہونے والا کہا ہے۔ اور جو زمانہ نہ ختم ہونے والا ہو وہ بہرحال تین کروڑ یا تین اَرب یا تین کھرب سال سے زیادہ ہو گا اور اتنے لمبے عرصہ کے فائدہ کو چند سالہ فائدہ کے لیے نظرانداز کر دینے والا عقلمند نہیں کہلا سکتا۔
    میں نے سنا ہے کہ اِس سال مدرسہ احمدیہ میں صرف ایک طالب علم داخل ہوا ہے۔ اس میں کسی حد تک سکول والوں کی ناتجربہ کاری کا بھی دخل ہے۔ جب سیدمحموداللہ شاہ صاحب فوت ہوئے اور موجودہ ہیڈماسٹر مقرر ہوئے تو انہیں یہ خیال نہ آیا کہ سال بھر طلباء کو وقف کی طرف توجہ دلاتے رہیں۔ سیدمحموداللہ شاہ صاحب اِس کے لیے سال بھر کوشش کرتے رہتے تھے اور مجھے وقتاًفوقتاً بتاتے رہتے تھے کہ میں نے اِتنے لڑکوں سے وقف کا وعدہ لیا ہے اور اس طرح مدرسہ احمدیہ میں کچھ نہ کچھ طلباء آ جاتے تھے۔ لیکن اب جو نئے ہیڈماسٹر مقرر ہوئے ہیں انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ وقف کی تحریک تو جاری ہی ہے طلباء خودبخود وقف کی طرف آ جائیں گے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ گزشتہ سال طلباء کو اس کا احساس پیدا نہ ہوا۔ اگر وہ سال کے شروع سے ہی کوشش کرتے اور طلباء کو وقف کی طرف توجہ دلاتے رہتے تو کچھ نہ کچھ طلباء وقف میں آجاتے۔ایک کلاس پر کئی ہزار روپے سالانہ خرچ آتا ہے۔ اگر ایک طالبعلم ہو تب بھی یہ خرچ آئے گا اور اگر پچاس طالبعلم ہوں تب بھی یہ خرچ آئے گا۔گویا اِس سال ایک طالبعلم پر پچاس گُنا خرچ کرنا پڑے گا۔ اور اگر خدانخواستہ وہ لڑکا امتحان میں فیل ہو گیا تو ایک سال خالی رہ جائے گا۔ اور یا پھر اس کلاس میں صرف فیل شدہ لڑکے داخل کرنے پڑیں گے۔
    میں دیکھتا ہوں کہ بیرونِ ہندوستان کی جماعتوں میں وقف کی تحریک کی طرف اب زیادہ توجہ پیدا ہو رہی ہے۔ اِس سال امریکہ سے تین چار نوجوانوں کی طرف سے درخواستیں وصول ہو چکی ہیں کہ ہم دینی تعلیم کے حصول کی خاطر پاکستان آنا چاہتے ہیں۔ یورپ سے دوتین نوجوانوں کی درخواستیں آئی ہیں۔ وہ بھی دینی تعلیم کی خاطر مرکز میں آنا چاہتے ہیں۔ اِسی طرح انڈونیشیا، سیلون اور افریقہ سے بھی بعض نوجوانوں کی درخواستیں وصول ہوئی ہیں۔ گویا جن ممالک میں آمدنیں زیادہ ہیں اُن ممالک سے وقف کی درخواستیں آ رہی ہیں۔ یورپ میں معمولی سی تعلیم کے ساتھ لوگ جس قدر آمد پیدا کر لیتے ہیں پاکستان کے رہنے والے نہیں کر سکتے۔ لیکن اُن لوگوں کی طرف سے درخواستیں موصول ہو رہی ہیں۔ ہم اُنہیں اِس لیے نہیں بلاتے کہ پہلے جو طلباء آ چکے ہیں وہ ابھی تعلیم سے فارغ نہیں ہوئے۔
    غرض جہاں دفتر میں بیرونی ممالک کے احمدیوں کی بارہ تیرہ درخواستیں پڑی ہوئی ہیں وہاں پاکستان کے احمدیوں کی توجہ اِس طرف بہت کم ہے۔ حالانکہ پاکستان یا ہندوستان جس میں پاکستان اور بھارت شامل تھے، وہ ملک ہے جسے خداتعالیٰ نے چُن لیا ہے۔ اگر خداتعالیٰ کسی اَور ملک کو زیادہ قابل سمجھتا تو وہ اپنا مسیح اُس ملک میں مبعوث کرتا لیکن اُس نے اپنے مسیح کی بعثت کے لیے ہمارے ملک کو چُن کر ایک تو ہم پر احسان کیا اور دوسرے ہم پر اعتماد کا اظہار کیا جس کا بدلہ دینا ہم پر فرض ہے۔
    حضرت ابن عباسؓ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ کسی شخص کے لیے اس قسم کی دعا بھی کرتے ہیں جس قسم کی دعا آپ اپنی ذات کے لیے کرتے ہیں ؟ آپ نے کہا ہاں۔ میں اُس شخص کے لیے اِس قسم کی دعا کرتا ہوں جو مجھے آ کر یہ کہتا ہے کہ مجھے آپؐؐ کے سوا اَور کوئی دعا کرنے والا نظر نہیں آتا۔ ایسے شخص کے لیے میں اُسی قسم کی دعا کرتا ہوں جس قسم کی۔دُعا میں اپنی ذات کے لیے کرتا ہوں۔ اس لیے کہ اس نے مجھ پراعتماد کیا ہے۔ اور۔چونکہ۔اس۔نے مجھ پر اعتماد کیا ہے اس لیے اب میرا فرض ہے کہ اُس کے اعتماد کے مطابق اُس سے سلوک کروں۔ اگر حضرت ابن عباسؓ زید بکر کے لیے اپنی جان لڑا دیتے تھے کہ اُس نے آپؓ پر اعتماد کا اظہار کیا تو پھر یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ خداتعالیٰ نے ہمیں اِس لیے چُنا کہ ہم اُس کے دین کا جھنڈا بلند کریں اور اُسے ہر ملک میں گاڑ دیں۔ لیکن ایک حقیر سی دولت کے لیے ہم اس کے کام کو نظرانداز کر رہے ہیں۔ آخر پاکستان کتنا بڑا ملک ہے۔ پاکستان کی حکومت چھوٹی سی حکومت ہے اور پھر اس میں جو حصہ تمہارا ہے وہ کتنا ہے؟ اِس میں تمہارا حصہ تو بہت ہی کم ہے۔ اس معمولی سی دولت کو خداتعالیٰ کے انتخاب پر مقدم کر لینا کتنے افسوس کی بات ہے۔
    پس میں تمہیں اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ یہ تمہارا اندھا پن ہے اسے دور کرو۔ یہ بیماری ہے اِس کا علاج کرو۔ اگر تمہاری آنکھوں میں موتیا اُتر آتا ہے، اگر تمہاری آنکھوں میں ککرے پڑتے ہیں، اگر تمہاری آنکھوں میں سفیدہ پڑتا ہے تو تم اس کا علاج کراتے ہو۔ ا ب اِس سے زیادہ سفیدہ، موتیا اور ککرے اور کیا ہوں گے کہ تم دنیوی مقاصد کو خداتعالیٰ کے دین پر مقدم رکھتے ہو۔یہ بڑا سخت سفیدہ ہے، یہ بڑے سخت ککرے ہیں جو تمہاری روحانی بینائی کو تباہ کر رہے ہیں۔ پس میں سکول کے اساتذہ اور کالج کے پروفیسروں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس طرف توجہ کریں اور طلباء کو وقف کی طرف لائیں۔ میں نے لاہور میں ایک واقفِ۔زندگی پروفیسر سلطان محمود صاحب شاہد کو ایک دفعہ تحریک کی کہ تم طلباء کے رجحانات کا جائزہ لے کر وہ مضامین تجویز کرو جو اُن کے لیے آئندہ زندگی میں مفید ثابت ہوں۔ لیکن چار سال ہو گئے اُن کی طرف سے کوئی رپورٹ نہیں آئی۔ دوتین ماہ کے بعد میں نے انہیں پکڑا اور کہا کہ تم نے اب تک اس تحریک کے بارہ میں کیا کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں لڑکوں کو اکٹھا کر رہا ہوں۔ کچھ دنوں کے بعد اپنی رپورٹ پیش کر سکوں گا۔ لیکن چارسال کا عرصہ گزر گیا۔ اب تک انہوں نے کوئی رپورٹ پیش نہیں کی۔ اِس عرصہ میں کئی لڑکے بھاگ گئے اور باہر کاموں پر لگ گئے۔ جہاں پروفیسروں کی یہ حالت ہو وہاں طالبعلموں کی کیا حالت ہو گی؟ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کہتے ہیں کہ’’ مُژْدَہْ بَادْ! اے مَرْگْ !عیسٰی آپ ہی بیمار ہے‘‘یعنی اے موت! تجھے خوشخبری ہو کہ۔عیسٰی خود بیمار ہو گیا ہے اور وہ کسی کو زندہ نہیں کر سکتا۔ جب پروفیسروں کی یہ حالت ہو کہ اگر اُن کے سپرد اتنا چھوٹا سا کام بھی کیا جائے جو اگر کسی چُوڑھے کے سپرد بھی کیا جاتا تو وہ اُسے کر لیتا۔ لیکن وہ چارسال تک نہ کریں تو طلباء کا کیا حال ہو گا۔ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر اساتذہ اور طالبعلم اپنی اصلاح نہیں کریں گے اور خدمتِ دین سے غفلت کریں گے تو خداتعالیٰ کا کام بہرحال ہوتا چلا جائے گا۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ تم سے برکت چھین لی جائے گی۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ ایک جنگ میں تشریف لے گئے اور اس میں خداتعالیٰ نے آپؐؐ کو فتح دی۔ اُس وقت مکہ نیانیا فتح ہوا تھا اور آپؐؐ کے ساتھ مکہ کے حدیثُ۔الْعہد لوگ بھی تھے۔ آپؐؐ نے انہیں حدیثُ۔الْعہد سمجھ کر مالِ غنیمت میں سے بہت سا حصہ دے دیا اور مدینہ کے مسلمانوں کو نہ دیا۔ اِس پر ایک انصاری نوجوان نے کہا کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال اپنے رشتہ داروں کو دے دیا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ خبر پہنچی۔ آپؐؐ نے انصار کو جمع کیا اور فرمایا اے انصار! مجھے یہ خبر پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا یَارَسُولَ اللّٰہ!یہ بات درست ہے لیکن ہم میں سے ایک بدبخت نوجوان نے یہ بات کہی ہے۔ ہم اس سے کُلّی طور پر بیزار ہیں۔ آپؐؐ نے فرمایا اے انصار! کہنے والے کے منہ سے بات نکل گئی اور دنیا کے سامنے آچکی۔میں تمہارے سامنے اِس کی اصل حیثیت رکھ دیتا ہوں کہ آج جو کچھ ہوا ہے اُس کی دو شکلیں ہو سکتی ہیں۔ تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پیدا ہوئے۔ اُن کے اپنے رشتہ۔دار ان کے دشمن ہو گئے اور انہوں نے آپؐؐ کو اور آپؐؐ کے ساتھیوں کو بُرابھلا کہا، آپ پر مظالم کیے اور آخر اِتنی سختیاں کیں کہ آپؐؐ کو مکہ سے نکلنا پڑا اور مدینہ تشریف لے آئے۔ وہاں ہم نے آپؐؐ کو اور آپ کے ساتھیوں کو پناہ دی، انہیں اپنی جائیدادیں پیش کر دیں، اپنے مکان خالی کر دیئے۔ غرض آپؐؐ کے لیے ہر ممکن قربانی کی اور اپنی جانوں کو آپؐ کی حفاظت کے لیے پیش کر دیا۔ لیکن جب مکہ فتح ہو گیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں محروم کر دیا اور اموال اپنے رشتہ داروں کو دے دیئے۔ انصار کے اندر ایمان تھا وہ اِس قسم کی بے ایمانی والی بات نہیں کہہ سکتے تھے۔ انہوں نے روتے ہوئے عرض کیا کہ یَارَسُولَ اللّٰہ! یہ بات ہماری قوم کے ایک بدبخت نوجوان کے منہ سے نکل گئی ہے۔ ہم اس سے کُلّی طور پر بیزار ہیں۔ آپ نے فرمایا اے انصار! اِس کا ایک اَور رُخ بھی ہے۔ تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ خداتعالیٰ نے اپنے ایک نبی کو مکہ میں پیدا کیا لیکن اُس کی قوم نے اُس کی قدر نہ کی۔ اِس لیے خداتعالیٰ نے اپنی اس نعمت کو اُٹھا کر مدینہ بھیج دیا۔ پھر فرشتوں کی مدد اور خداتعالیٰ کی برکات اور فضلوں کے نتیجہ میں وہ بڑھا،پھلا اور پُھولا اور اُس نے ترقی حاصل کی اور مکہ فتح کر لیا۔ جب اس کا مکہ پر قبضہ ہو گیا تو مکہ والوں کی آنکھیں کھلیں اور انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ تو سچا رسول تھا، ہم نے اس کی ناقدری کی ہے۔ چنانچہ انہوں نے اُسے قبول کیا اور پھر وہ خیال کرنے لگے کہ شاید ان کی کھوئی ہوئی دولت اُن کو واپس مل جائے گی اور خدا کا رسول پھر مکہ میں آباد ہو جائے گا۔ لیکن خداتعالیٰ نے کہا چونکہ تم نے میری نعمت کو ردّ کر دیا تھا اِس لیے اب یہ عظیم الشان نعمت تمہیں واپس نہیں مل سکتی۔ چنانچہ اُس نے مکہ والوں سے کہا کہ اونٹ اور بکریاں تم لے لو اور مدینہ والوں سے کہا کہ تم میرے رسول کو اپنے ساتھ لے جاؤ۔ فرمایا تم یہ بھی کہہ سکتے ہو۔4
    تمہاری بھی یہی مثال ہے۔ تم خداتعالیٰ کو یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ پہلے نوکریاں نہیں ملتی تھیں۔ اب چونکہ پاکستان بن گیا ہے اس لیے ہم نوکریاں کریں گے اور دنیوی راحت۔و۔آرام حاصل کریں گے۔ اور یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ اب اگر نوکریاں مل رہی ہیں تو کوئی بات نہیں ہم پہلے بھی خداتعالیٰ کے تھے اور اب بھی خداتعالیٰ کے ہی رہیں گے اور اُس کے دین کی خدمت کریں گے۔ تم خود سمجھ سکتے ہو کہ تم خداتعالیٰ کو اِن دونوں میں سے کونسا جواب دینا پسند کرو گے۔ کیا تم قیامت کے دن یہ کہہ کر اپنے ماں باپ کی ناک رکھو گے کہ جب تک پاکستان نہیں بنا تھا ہم نے اپنی زندگیاں وقف کیں۔ لیکن جب پاکستان بن گیا تو ہم نے وقف توڑ دیئے؟ یا تم یہ کہو گے کہ جب تک پاکستان نہیں بنا تھا ہم نے خداتعالیٰ کی خاطر اپنی زندگیاں وقف کی تھیں اور جب پاکستان بن گیا تب بھی ہم نے خداتعالیٰ کو ہی مقدم رکھا؟تم سمجھ سکتے ہو کہ تم پہلا۔جواب دے کر اپنے ماں باپ کی طرف فخر کے ساتھ گردن اُٹھا کر دیکھ سکو گے یا دوسرا جواب دے کر تم اُن کی ناک کو محفوظ رکھ۔سکو۔گے؟ بہرحال فیصلہ تمہارے اختیار میں ہے اور ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اُسے ان حالات میں کیا فیصلہ کرنا چاہیے‘‘۔ (الفضل 13؍اکتوبر1954ئ)

    1
    :
    مرض مزمّن:پرانی بیماری(فیروز اللغات اردو جامع فیروز سنز لاہور)
    2
    :
    صحیح البخاری کتاب التفسیر باب سورۃ والنجم،السنن الکبرٰی للبیہقی ۔ جزء 2صفحہ307کتاب الصلوٰۃ باب من وضع وسادۃ علی الارض فسجد علیہا ۔ حیدر آباد دکن ہند1346ھ
    3
    :
    صحیح البخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الحدیبیۃ۔
    4
    :
    صحیح البخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الطائفِ فی شَوَّالٍ سنۃ ثَمَانٍ۔

    ضرورتِ وقت کو سمجھو اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر کے اپنے اپنے خاندان کے نوجوانوں کو دین کے لیے وقف کرو
    (فرمودہ15؍اکتوبر1954ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’آج میری تحریک پر مجلس خدام الاحمدیہ ربوہ کا ایک وفد جس میں چالیس کے قریب معمار ہیں (اب یہ ستّر کَس ہو گئے ہیں) خدمتِ خلق کے لیے لاہور جا رہا ہے۔ اِس دفعہ اس کام میں اولیت کا سہرا لاہور والوں کے سر رہا ہے۔کام تو ہر جگہ ہوا ہے لاہور میں بھی ہوا ہے، ملتان میں بھی ہوا ہے، خانیوال میں بھی ہوا ہے، منٹگمری میں بھی ہوا ہے، سیالکوٹ میں بھی ہوا ہے، ربوہ کی مجلس نے بھی قابلِ۔تعریف کام کیا ہے۔ اِسی طرح اَور جگہوں سے بھی رپورٹیں آئی ہیں کہ وہاں کی مجالس نے سیلاب کے دوران میں خدمتِ خلق کا کام کیا ہے۔ لیکن لاہور۔والوں نے اپنے کام کو اس طرح منظم کیا ہے کہ ان کا کام لوگوں کی نظر کے سامنے آ گیا ہے۔اس میں ایک حد تک اس بات کا بھی دخل ہے کہ انہیں پریس کی سہولتیں میسر ہیں لیکن بہرحال جس کسی کو اولیت مل جائے دوسروں کو اس پر حسد نہیں کرنا چاہیے بلکہ اُس کی امداد کر کے اس کے حوصلے کو بڑھانا چاہیے۔ میں نے قائدمجلس خدام الاحمدیہ ربوہ کو تحریک کی کہ وہ خدمتِ خلق کے لیے ایک وفد لاہور بھجوانے کا انتظام کریں۔ چنانچہ انہوں نے ایک وفد کا انتظام کیا ہے جو آج اڑھائی بجے کی گاڑی سے لاہور روانہ ہو رہا ہے۔ اِس وفد میں ایک بڑا حصہ معماروں پر مشتمل ہے۔ میں نے دو تین دفعہ معماروں کے کام پر تنقید کی ہے اور میری اصل غرض یہی تھی کہ ان کی اصلاح ہو۔
    کہتے ہیں کہ کسی شاعر کے سامنے ایک شخص نے شراب کی بُرائیاںبیان کیں تو اُس نے کہا
    عیبِ مے جملہ بگفتی ہنرش نیز بگو1
    یعنی شراب میں بہت سی بُرائیاں سہی لیکن اس میں بعض خوبیاں بھی تو ہیں اس لیے کبھی اُس کی خوبیوں کی طرف بھی نظر کرنی چاہیے۔ یہاں کے معماروں پر میں نے تنقید کی تھی لیکن انہوں نے اس وقت جس قربانی کا مظاہرہ کیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس قابل ہے کہ اِس کا اظہار جماعت کے سامنے کیا جائے۔ میں نے خیال کیا کہ معماروں کو اس موقع پر غرباء کی امداد کے لیے تحریک کی جائے۔ چنانچہ میری تحریک پر یہاں کے معماروں کے اکثر حصہ نے تین چاردن وقف کیے ہیں تا کہ لاہور میں جن غرباء کے مکانات گر گئے ہیں اُن کے مکانات بنانے میں اپنی مفت خدمات پیش کریں۔
    جماعت کے جو باقی مختلف سیکشن ہیں مثلاً مدرّس ہیں، پروفیسر ہیں، ڈاکٹر ہیں، طبیب ہیں اُن کو بھی معماروں کے اس نیک نمونہ سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ جماعت کا ہر حصہ کسی نہ کسی ذریعہ سے خدمتِ خلق کا کام کر سکتا ہے اور اسے اس کام کو سرانجام دینا چاہیے۔ مثلاً مدرّس ہیں وہ بھی خدمتِ خلق کر سکتے ہیں۔ پھر ڈاکٹر ہیں وہ بھی اس کام میں حصہ لے سکتے ہیں۔ بلکہ اکثر ڈاکٹر اس کام میں حصہ لیتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض لوگ لالچی بھی ہوتے ہیں لیکن ڈاکٹروں کا اکثر حصہ اپنے فن کے لحاظ سے کچھ نہ کچھ وقت خدمتِ خلق میں ضرور صَرف کرتا ہے۔ پھر وکلاء اور بیرسٹر ہیں، وہ بھی خدمتِ خلق کر سکتے ہیں۔ اسی طرح دوسرے پیشہ والے بھی ہیں وہ بھی اگر کوشش کریں تو کسی نہ کسی ذریعہ سے پبلک کی خدمت کے کام میں حصہ لے سکتے ہیں۔ یہاں کے معماروں نے بڑا اچھا نمونہ دکھایا ہے۔ انہوں نے خدمتِ خلق کے لیے تین چار دن وقف کیے ہیں۔ اگر انہوں نے اسی جوش سے کام کیا جس جوش سے انہوں نے اپنے آپ کو پیش کیا ہے تو وہ سوا لاکھ فٹ عمارت کھڑی کر سکتے ہیں۔ اِس کے معنے یہ ہیں کہ بیس پچیس بڑی بڑی کوٹھیاں اِن دنوں میں بن سکتی ہیں۔ لیکن چونکہ سیلاب میں بالعموم غرباء کا نقصان ہوا ہے ان کے مکانات یا تو گِر گئے ہیں یا ان کا کوئی حصہ گِر گیا ہے اور وہ مکانات چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں۔ اس لیے سَوڈیڑھ۔سَو مکانات تعمیر کیے جا سکتے ہیں۔ اور اتنے مکانوں کی تعمیر کے یہ معنے ہیں کہ قریباً دو ہزار افراد کو آرام پہنچ جائے گا اور اس طرح خدمتِ خلق کا بہت بڑا کام سرانجام پا جائے گا۔
    حقیقت یہ ہے کہ اگر جماعت کے لوگ پیشوں کی طرف توجہ کریں اور انہیں شوق اور محنت سے سیکھ لیں تو نہ صرف جماعت سے بیکاری دور ہو جائے گی بلکہ اس قسم کے مواقع پر بنی۔نوع۔انسان کی خدمت بھی کی جا سکتی ہے۔ معماری کا پیشہ آسان ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ مزدور معماروں کے ساتھ کام کرتے ہیں اور کچھ عرصہ کے بعد وہ معمار بن جاتے ہیں۔لاہور میں جس نمائندہ کو بھیجا گیا تھا اُس نے بتایا ہے کہ اِس وقت لاہور میں معمار سات۔سات، آٹھ۔آٹھ روپیہ روزانہ اُجرت مانگتے ہیں اور معماری کا پیشہ ایسا نہیں جس پر زیادہ عرصہ لگے یا زیادہ محنت درکار ہو۔ ہمارے ملک میں یہ مرض ہے کہ لوگ ایک دو دن کے بعد ہی اپنے آپ کو ماہرِفن سمجھنے لگ جاتے ہیں۔
    میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ میرمحمداسحاق صاحب نے بچپن میں میرے ساتھ صرف ایک دن طب پڑھی اور رات کو جب سونے لگے تو انہوں نے گھر والوں سے کہا کہ مجھے بہت جلد ہی جگا دینا حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے پاس بڑی کثرت سے مریض آ جاتے ہیں اور انہیں بہت زیادہ دیر وہاں کھڑا رہنا پڑتا ہے۔ میں وہاں جاؤں گا اور مریضوں کو نسخے لکھ لکھ کر دوں گا۔ وہ بچپن کی ایک بیوقوفی تھی مگر اِس قسم کی دماغی کیفیت اکثر لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ ایک شخص چند سطریں لکھ لیتا ہے تو وہ اپنے آپ کو ایڈیٹر سمجھنے لگ جاتا ہے۔ بعض لوگ بے وزن، بے معنی اور بے ردیف نظم میرے پاس بھیج دیتے ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ آپ ایڈیٹر صاحب الفضل کو حکم دیں کہ یہ نظم الفضل میں شائع کر دیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ایڈیٹر الفضل تو بے۔وقوف ہے اسے کیا علم ہے کہ یہ کس پایۂ کی نظمیں ہیں۔ ان کے رازوں سے صرف خلیفۃ۔المسیح ہی واقف ہو سکتے ہیں۔ اس لیے یہ نظمیں انہیں ارسال کی جائیں تا وہ انہیں اخبار میں شائع کرنے کا حکم جاری کر دیں۔ میں اِس قسم کے لوگوں کو یہی جواب دیتا ہوں کہ آپ براہِ راست ایڈیٹر الفضل کو یہ نظمیں ارسال کر دیں۔ میں اُس کے کام میں دخل نہیں دیتا۔ حالانکہ وہ نظمیں اس قسم کی ہوتی ہیں کہ ہنسی آتی ہے۔ نہ قافیہ ہوتا ہے، نہ ردیف ہوتی ہے، ’’غبن‘‘ کو گبن اور ’’قابل‘‘ کو کابل لکھا ہوا ہوتا ہے اور پھر خواہش ہوتی ہے کہ میں اُن کی اشاعت کے لیے ایڈیٹر الفضل کو حکم بھیجوں۔
    غرض ہمارے ملک میں یہ مرض ہے کہ ہر آدمی پیشہ میں ہاتھ ڈالتے ہی اپنے آپ کو اُس کا ماسٹر سمجھنے لگ جاتا ہے۔ حالانکہ ہر پیشہ محنت اور مشق کے بعد آتا ہے۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں معماری کا پیشہ نسبتاً آسان ہے۔ اس کا ابتدائی حصہ تھوڑے ہی عرصہ میں سیکھا جا سکتا ہے۔ محراب بنانا، گنبد بنانا یا سکیچ بنانا یہ کام تو جلد نہیں سیکھے جا سکتے ہاں! زاویئے بنانا اور اینٹیں لگانا لوگ جلد سیکھ لیتے ہیں۔
    مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس ایک لڑکا تھا جس کا فام فجّا تھا۔ اُسے آپ نے کسی معمار کے ساتھ لگایا تھا اور تھوڑے ہی عرصہ کے بعد وہ معمار بن گیا تھا۔ اُس میں سمجھ بہت کم تھی۔ مگر مخلص اور دین دار تھا۔ وہ غیراحمدی ہونے کی حالت میں آیا تھا۔ بعد میں احمدی ہو گیا تھا۔ اُس کی عقل کا یہ حال تھا کہ ایک دفعہ بعض مہمان آئے۔ اُس وقت لنگرخانہ کا کام علیحدہ نہیں تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے گھر ہی سے مہمانوں کے لیے کھانا جاتا تھا۔ شیخ رحمت اللہ صاحب، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب، خواجہ کمال۔الدین صاحب اور قریشی محمد حسین صاحب موجد مفرّح عنبری قادیان آئے۔ ایک دوست اَور بھی تھے۔آپ نے اُن کے لیے چائے تیار کروائی اور فجّے کو کہا کہ وہ مہمانوں کو چائے پِلا آئے۔ اور اِس خیال سے کہ وہ کسی کو چائے دینا بھول نہ جائے یہ تاکید کی کہ دیکھو پانچوں کو چائے دینا۔ چراغ پرانا ملازم تھا۔ اُسے آپؑ نے فجّے کے ساتھ کر دیا۔ جب دونوں چائے لے۔کر گئے تو معلوم ہوا کہ مہمان حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے پاس اُن کی ملاقات کے لیے گئے ہیں۔ چنانچہ وہ چائے لے کر وہاں گئے۔ چراغ پرانا ملازم تھا اُس نے پہلے چائے کی پیالی حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے سامنے رکھی لیکن فجّے نے ہاتھ پکڑ لیا اور کہا حضرت۔مسیح۔موعود علیہ۔الصلوٰۃ والسلام نے ان کا نام نہیں لیا تھا۔ چراغ نے اُسے آنکھ سے اشارہ کیا، کُہنی ماری اور یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ بیشک آپ نے حضرت خلیفۃ المسیح الاول کا نام نہیں لیا لیکن آپ ان سب سے زیادہ معزز ہیں اس لیے چائے پہلے آپ کے سامنے ہی رکھنی چاہیے۔ لیکن وہ یہی بات کہے جاتا تھا کہ حضرت صاحب نے صرف پانچ کے نام لیے تھے ان کا نام نہیں لیا۔ گویا وہ اِس قدر کم عقل تھا کہ اِتنی بات بھی سمجھ نہیں سکتا تھا لیکن وہ بہت جلد معمار بن گیا تھا۔
    پس اگر لوگ ذرا بھی توجہ کریں تو اِس قسم کے پیشے سیکھ سکتے ہیں اور نہ صرف ان کے ذریعہ روپیہ کمایا جا سکتاہے بلکہ رفاہِ عامہ کے کاموں میں بھی حصہ لیا جا سکتا ہے۔ معماری کے متعلق میرا خیال ہے کہ اسے پانچ چھ ماہ میں سیکھا جا سکتا ہے۔ اگر مدرّس اور کلرک بھی کوشش کریں تو فارغ اوقات میں یہ کام سیکھ سکتے ہیں۔ ممکن ہے عملی طور پر اس میں بعض مشکلات پیش آئیں لیکن میرا خیال یہی ہے کہ یہ کام پانچ چھ ماہ میں سیکھا جا سکتا ہے۔ بچپن میں ایک دفعہ میں نے ترکھانوں کو کام کرتے دیکھا تو دل میں خیال آیا کہ یہ کام تو بہت آسان ہے میں بھی اسے بآسانی کر سکتا ہوں۔ چنانچہ جب تمام ترکھان چُھٹی کر گئے تو وہ ہتھیار وہیں چھوڑ گئے۔ میں نے تیشہ لیا اور ایک لکڑی پر مارا۔ مگر وہ بجائے لکڑی پر لگنے کے میرے ہاتھ پر لگا اور ابھی تک اُس کا نشان باقی ہے۔ حالانکہ اپنے خیال میں مَیںنے یہ سمجھا تھا کہ میں ترکھان کا کام کر سکتا ہوں۔ لیکن جب تیشہ مار کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک فن ہے۔ اس کی مشق کیے بغیر اس پر حاوی نہیں ہوا جا سکتا۔ بہرحال جماعت کو کوئی نہ کوئی پیشہ سیکھنا چاہیے تا اِس قسم کے مواقع پر وہ خدمتِ خلق میں نمایاں حصہ لے سکے۔
    اِس کے بعد میں پھر اس مضمون کو لیتا ہوں جو میں نے گزشتہ خطبہ جمعہ میں بیان کیا تھا اور وہ مضمون یہ تھا کہ جماعت میں وقف کی طرف توجہ کم ہو گئی ہے اور اس کا احساس آہستہ۔آہستہ مِٹتا جا رہا ہے۔ وہ یہ سمجھتی ہے کہ یہ خداتعالیٰ کا کام ہے وہ خود کرے گا حالانکہ یہ نقطہ نگاہ بالکل غلط ہے۔ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہر کام خداتعالیٰ ہی کرتا ہے مگر وہ بیوقوفی کی حد تک اسے لمبا کر دیتے ہیں اور اس کا ایک غلط مفہوم لے لیتے ہیں۔ قرآن کریم میں لکھا ہے کہ رزق خداتعالیٰ دیتا ہے2 لیکن تم میں سے کوئی شخص بھی یہ نہیں کہتا کہ رزق تو خداتعالیٰ نے دینا ہے اس لیے میں نوکری کیوں کروں؟قرآن کریم میںیہ لکھا ہے کہ اولاد اللہ تعالیٰ دیتا ہے3 لیکن دنیا میں لوگ نکاح کرتے ہیں۔ اگر اولاد نہ ہو تو بیویوں کا علاج کرواتے ہیں۔ اور کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ اولاد تو خداتعالیٰ نے دینی ہے مجھے نکاح کی کیا ضرورت ہے؟ بلکہ ہر شخص نکاح کرتا ہے اور اولاد کے لیے علاج معالجہ میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتا۔ پھر خداتعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جب کوئی شخص بیمار ہو تو وہی شفا دیتا ہے۔4 لیکن تم یہ نہیں کہتے کہ جب شفا خداتعالیٰ نے دینی ہے تو ہم اپنے بیمار بچہ کے علاج کے لیے ڈاکٹر کے پاس کیوں جائیں؟ بلکہ تم ان ساری جگہوں پر یہ سمجھتے ہو کہ باوجود اس کے کہ سارے کام خداتعالیٰ نے کرنے ہیں۔ پھر بھی انسان کو اس کے متعلق حسبِ استطاعت کوشش کرنی چاہیے۔ مگر جب وقف کا سوال آتا ہے تو تم اس کے لیے کوئی حرکت نہیں کرتے اور یہ کہہ دیتے ہو کہ یہ خداتعالیٰ کا کام ہے۔ اگر یہ بات تمہارے دوسرے اعمال سے ملا کر دیکھی جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمہارے نفس کا دھوکا ہے یا تم دوسروں کو دھوکا دینا چاہتے ہو اور یا پھر تمہاری عقل اتنی کمزور ہے کہ تم اُس بات کا انکار کرتے ہو کہ جو تمہاری زندگی کے ہر شعبہ میں نمایاں طور پر پائی جاتی ہے۔
    حقیقت یہ ہے کہ دینی جماعتوں اور دینی کاموں کو چلانے کے لیے وقف کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بغیر دینی جماعتیں کبھی زندہ نہیں رہ سکتیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتاہے ۔5 کہ تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے کہ جس کا کام صرف قومی کام کرنا ہو اور یا پھر دوسرے کام وہ صرف ضمنی طور پر کرے اصل کام قومی۔کام۔ہو۔آخر ہر آدمی ایک وقت میں تین۔چار کام کر لیتا ہے۔ مثلاً سکول ماسٹر ہے۔ وہ۔پرائیویٹ۔ٹیوشن بھی کر لیتا ہے یا ڈاکٹر ہے اگر وہ ملازم ہو تو و پرائیویٹ پریکٹس بھی کر لیتا ہے۔ لیکن جب سرکاری کام سامنے ہو تو وہ دوسرے کام کو نظرانداز کر دے گا اور پرائیویٹ پریکٹس یا پرائیویٹ ٹیوشن چھوڑ کر اپنے مفوضہ کام کی طرف متوجہ ہو جائے گا۔ پس قرآن۔کریم کہتا ہے کہ تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے کہ اس کا اصل کام قومی کام ہو۔ وہ بیشک زراعت کرے، تجارت کرے یا اَور کوئی پیشہ کرے لیکن اُس کے اصل کام میں کوئی روک واقع نہ ہو۔ ہم نے بھی بعض واقفین کو اجازت دی ہوئی ہے کہ وہ زائد کام کر لیں۔ بلکہ بعض دفعہ میں نے دفتر والوں کو ڈانٹا ہے کہ تم واقفین کو زائد کام کرنے سے کیوں روکتے ہو؟ ہاںہم نے یہ شرط رکھی ہے کہ وہ ہمیں بتا دے کہ میں فلاں کام کرنے لگا ہوں۔ بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ واقفین کو زائد کام کرنے کی تحریک کرنی چاہیے۔لیکن بغیر وقف کے دین کا کام کرنا مشکل ہے۔ جس جماعت میں وقف کا سلسلہ نہ ہو وہ اپنا کام کبھی مستقل طور پر جاری نہیں رکھ سکتی۔ ہم نے تو وقف کی ایک شکل بنا دی ہے ورنہ زندگی وقف کرنے والے رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں بھی موجود تھے۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ صحابہؓ نے پر عمل نہیں کیا؟ حضرت ابوہریرہؓ کو دیکھ لو انہوں نے آخری زمانہ میں اسلام قبول کیا یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات سے صرف اڑھائی سال پہلے مسلمان ہوئے۔مسلمان ہونے کے بعد حضرت ابوہریرہؓ نے غور کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ا ب آخری عمر میں ہیں اور میں بہت دیر بعد اسلام میں داخل ہوا ہوں۔ اس لیے اگر میںکچھ سیکھنا چاہتا ہوں تو اِس کا طریق یہی ہے کہ میں اپنے آپ کو اس کام کے لیے وقف کر دوں۔ چنانچہ وہ مسجد میں ہی رات دن بیٹھے رہتے۔ شروع شروع میں اُن کا بھائی گھر سے کھانا بھجوا دیتا تھا لیکن جب اُس نے دیکھا کہ یہ تو مستقل طور پر مسجد میں بیٹھ گئے ہیں تو اُس نے کھانا بھجوانا بند کر دیا اور پھر رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس جا کر کہا کہ یَارَسُولَ اللّٰہ! میرا بھائی تو مستقل طور پر مسجد میں بیٹھ گیا ہے۔ میں عیالدار شخص ہوں۔ میں نے بچوں کا پیٹ بھی پالنا ہے۔ میں اسے کب تک خرچ دے سکوں گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے کہ حضرت ابوہریرہؓ دین کی خدمت کر رہے ہیں اس لیے آپؐؐ نے فرمایا اللہ تعالیٰ بعض دفعہ کسی کو دوسرے کی خاطر رزق دے دیتا ہے۔ تم ایسا نہ کرو۔ ممکن ہے کہ ابوہریرہؓ کی خاطر ہی اللہ تعالیٰ تمہیں رزق دے رہا ہو6 لیکن اُس نے آپؐؐ کی باتوں کی کوئی پروا نہ کی اور اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابوہریرہؓ خود فرماتے ہیں کہ بعض اوقات مجھے سات سات وقت کے فاقے آ جاتے تھے لیکن اِس کے باوجود آپ مسجد سے نہ ہِلتے۔ بلکہ سارا دن وہیں بیٹھے رہتے اور اللہ۔تعالیٰ اُن کے رزق کا سامان کر دیتا۔ اب تم اللہ تعالیٰ کے رزق کے اَور معنے کرتے ہو اور صحابہؓ اِس کے اَور معنے سمجھتے تھے۔ وہ بیشک دنیا کے کام بھی کرتے تھے لیکن دین کو ہمیشہ مقدم رکھتے تھے۔ یہاں تو گزارہ بھی ملتا ہے چاہے وہ گزارہ کم ہی ہو۔ لیکن اُن کو یہ گزارہ بھی نہیں ملتا تھا۔ وہ اپنا اپنا کام کرتے تھے اور پیٹ پالتے تھے لیکن دینی کاموں کو نظرانداز نہیں کرتے تھے بلکہ دینی کام کو اپنے ذاتی کاموں پر ترجیح دیتے تھے۔
    اِسی طرح حضرت عبداللہ بن عمرؓ تھے۔ وہ بھی مسجد میں بیٹھے رہتے تھے۔ اِسی طرح بعض اَور صحابہؓ۔ تھے۔ بعض کے نزدیک ان کی تعداد تین سَو تھی اور بعض کے نزدیک ان کی تعداد اسّی کے قریب تھی۔ انہیں اصحابُ۔الصّفّہ کہا جاتا تھا اور اُن کا کام یہ تھا کہ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم سے باتیں سنیں اور دوسرے صحابہؓ۔۔تک پہنچا دیا۔ ان کو کوئی گزارہ نہیں ملتا تھا۔ اگر کسی کی طرف سے کھانا آ جاتا تھا تو کھا لیتے تھے ورنہ کسی سے مانگتے نہیں تھے۔ ایک عورت کے متعلق ذکر آتا ہے کہ وہ اصحابُ۔الصّفّہ کو چقندر پکا کر بھیجا کرتی تھی اور وہ شوق سے انہیں کھاتے تھے۔ بعض دفعہ لوگ دودھ بھیج دیتے تھے اور وہ اسے پی لیتے تھے۔
    اب تو بہت زیادہ ترقی ہو گئی ہے۔ واقفین کے گزارے مقرر کر دیئے گئے ہیں۔ اس طرح کام بہت آسان ہو گیا ہے۔ بشرطیکہ انسان اپنا زاویہ نگاہ بدل لے۔ اگر جماعت کے لوگ اپنا زاویہ نگاہ صحابہ کی طرح بنا لیں تو اَب بھی ان کا سا طریق رائج کیا جا سکتا ہے اور اگر صحابہؓ سے کمزور ہوں تو موجودہ طریق پر وہ کام کر سکتے ہیں کہ معاوضہ بھی ملے اور قربانی بھی کریں۔ پہلے لوگ مسجد میں بیٹھ جاتے تھے اور انہیں کوئی گزارہ نہیں ملتا تھا۔ جو کچھ کسی کی طرف سے آ جاتا وہ کھا لیتے ۔ لیکن اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جو لوگ وقف کر کے آئیں انہیں کچھ نہ کچھ رقم بھی دے دی جایا کرے۔ لیکن باوجود اِس کے کہ واقفین کے لیے گزارے مقرر کیے گئے ہیں میں نے دیکھا ہے کہ اول تو لوگ وقف میں آتے ہی نہیں اور اگر آ جاتے ہیں تو شروع شروع میں وظیفے لیتے ہیں اور تعلیم حاصل کرتے ہیں اور جب تعلیم سے فارغ ہوتے ہیں تو مختلف بہانے بنا کر وقف سے بھاگ جاتے ہیں۔ اور کہتے ہیں ہمیں اب ہمارے حالات اجازت نہیں دیتے کہ وقف میں زیادہ عرصہ تک رہیں۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ ان کے حالات پہلے کیوں اجازت دیتے تھے کہ وقف میں آئیں اور بعد میں کیوں اجازت نہیں دیتے کہ وقف میں رہیں۔ جب وہ ہمارے پاس آتے ہیں تو اگر وہ میٹرک پاس تھے تو زیادہ سے زیادہ انہیں اسّی نوّے روپے تنخواہ مل سکتی تھی لیکن جب وہ بی۔اے یا ایم۔اے ہو جاتے ہیں اور اُن میں قابلیت پیدا ہو جاتی ہے تو انہیں کسی جگہ سے تین سَو ساڑھے تین سَو کی آفر(Offer) آ جاتی ہے۔ یہ آفر اِس لیے آتی ہے کہ سلسلہ نے اُن پر خرچ کیا ہوتا ہے۔ اِس سے پہلے وہ عملاً یا عقلاً اسّی یا سَو روپیہ کما سکتے تھے لیکن پھر وہ کہتے ہیں کہ ہمارے حالات اِس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ ہم وقف میں رہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو پہلے سے زیادہ قابل سمجھتے ہیں حالانکہ یہ قابلیت صرف اس لیے پیدا ہوئی کہ سلسلہ نے اُن پر روپیہ خرچ کیا اور اُن کی مالی امداد کی۔ پھر جن کو ہم نے امداد نہیں دی بلکہ وہ اپنے اخراجات سے پڑھے ہیں اُن پر بھی ذمہ داری کم نہیں۔ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے سے ہی پڑھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں توفیق نہ دیتا تو وہ کیسے پڑھتے۔
    میرے اپنے بچے ہیں۔ میں نے انہیں خود پڑھایا ہے۔ اب ایک لڑکا تبلیغ کے لیے انڈونیشیا گیا ہے تو میں اسے اپنی جیب سے خرچ دیتا ہوں اور آئندہ بھی میرا یہی ارادہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے تو جو بچہ بھی تبلیغ کے لیے باہر جائے میں اُس کا خرچ خود ہی برداشت کروں۔ لیکن سیدھی بات ہے کہ میرے بچے میرے سامنے تو بول نہیں سکتے۔ جب ہم بچے تھے تو ہماری جائیدادیں لاپرواہی کا شکار تھیں اور ہمیں اِتنی بھی توفیق نہیں تھی کہ ان کی نگرانی کے لیے پندرہ بیس روپے ماہوار پر کوئی آدمی ملازم رکھ لیں۔ جب زمین کے کاغذات مجھے دیئے گئے تو میں گھبرا گیا کہ ان کا انتظام کیسے کروں گا؟ مجھے کام کا تجربہ نہیں تھا لیکن اللہ۔تعالیٰ نے فضل کیا اور ہمیں ایک آدمی مل گیا۔ اُس نے کہا مجھے آپ دس روپیہ ماہوار دے دیا کریں میں جائیداد کا انتظام کرتا ہوں۔ چنانچہ تھوڑے عرصہ کے بعد ہی وہ جائیدادیں جس کی آمد اِس۔قدر بھی نہیں تھی کہ ہم پندرہ بیس روپے ماہوار پر کوئی آدمی ملازم رکھ لیں اُس سے آمد پیدا ہونے لگی۔ جب قرآن کریم کا پہلا پارہ شائع کرنے کا سوال پیدا ہوا تو میں نے اُس وقت فیصلہ کیا کہ ہم اپنے خرچ پر اسے شائع کریں گے۔ چنانچہ میں نے اُس شخص کو بلایا اور کہا کہ مجھے اشاعت ِ قرآن کریم کے لیے کچھ رقم کی ضرورت ہے۔وہ کہنے لگا آپ کو اِس رقم کی کب ضرورت ہے؟ میں نے کہا مہینہ دو مہینہ میں مِل جائے۔ اُس نے کہا میرا یہ خیال تھا کہ آپ یہ کہیں گے کہ مجھے اِسی وقت رقم کی ضرورت ہے۔ میں آپ کو آج شام تک مطلوبہ رقم لادوں گا۔ میں نے کہا تم شام تک رقم لا دو گے؟ آخر کہاں سے لاؤ گے؟ مجھے دواڑھائی ہزار روپے کی ضرورت ہے۔ اُس نے کہا کہ مجھے کچھ زمین بیچنے کی اجازت دے دیں اور اُس نے اُس زمین کی طرف اشارہ کیا جہاں آجکل قادیان میں محلہ دارالفضل آباد ہے۔ اُس نے کہا میں پچاس روپے فی کنال کے حساب سے زمین بیچ دوں گا اور اِس طرح قریباً چھ ایکڑ زمین کی فروخت سے دواڑھائی ہزار روپیہ مل جائے گا۔ میں نے کہا بہت اچھا! تمہیں زمین فروخت کرنے کی اجازت ہے۔ لیکن کیا تمہیں کوئی شخص پچاس روپے فی کنال کے حساب سے قیمت دے دے گا؟ اُس نے کہا ہاں بہت سے لوگ موجود ہیں جو اِس بھاؤ پر زمین خریدنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ ظہر کے وقت اُس نے یہ بات کی اور عصر کے وقت اُس نے روپیہ لا کر میرے سامنے رکھ دیا اور کہا ابھی بہت سے گاہک موجود ہیں۔ اگر آپ سَوروپیہ فی کنال بھی قیمت کر دیں تو وہ خریدنے کے لیے تیار ہیں۔ پھر وہی زمین تھی جو دس دس ہزار روپیہ فی کنال کے حساب سے ہم نے خود خریدی۔ جہاں میرا دفتر تھا وہاں پر کچھ زمین ہم نے بیس ہزار روپیہ کنال کے حساب سے خریدی۔ یہ سب خداتعالیٰ کی دی ہوئی چیز تھی۔ ورنہ ہم تو اپنی جائیداد سے اتنی آمد کی امید بھی نہیں رکھتے تھے کہ پندرہ بیس روپیہ پر کوئی آدمی ملازم رکھ لیں۔ بعد میں وہی جائیداد کروڑوں روپیہ کی ہو گئی۔ غرض ہر چیز خداتعالیٰ نے دی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں
    سب کچھ تیری عطا ہے گھر سے تو کچھ نہ لائے 7
    پس جو لوگ گھروں سے پڑھ کر آئے ہیں سلسلہ نے ان کی تعلیم پر کوئی خرچ نہیں کیا۔ ان پر بھی کم ذمہ داری نہیں۔ انہیں بھی خداتعالیٰ نے دیا تھا تو وہ پڑھے تھے۔ اگر خداتعالیٰ انہیں توفیق نہ دیتا تو وہ کیسے تعلیم حاصل کر سکتے۔ یہ صرف ایک پردہ ہے ورنہ خداتعالیٰ ہی سب کچھ کرتا ہے۔
    پھر ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں عام طور پریہ شکوہ پایا جاتا ہے کہ علماء تو سب نائی، موچی اور دھوبی ہیں اور ایک حد تک اُن کی یہ بات درست بھی ہے لیکن آخر ایسا کیوں ہوا؟ یہ اسی لیے ہوا کہ بڑے تاجروں اور زمینداروں نے خدمتِ دین سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ اب یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ بڑے بڑے تاجر اور زمیندار خدمتِ دین نہ کریں تو خداتعالیٰ اپنے دین کو مرنے دے اور نائیوں، دھوبیوں اور موچیوں کو بھی اس کے زندہ رکھنے کی توفیق نہ دے۔ جب تم نے دین سے ہاتھ کھینچ لیا اور خداتعالیٰ نے نائیوں اور موچیوں کو دین کی خدمت کی توفیق دے دی تو اب تم چِڑتے کیوں ہو؟ اب وہی تمہارے سردار ہیں اور انہی کے پیچھے تمہیں چلنا ہو گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو آجکل مسلمانوں کا حال ہے وہی آئندہ تمہارا ہو گا۔ اگر تم نے بھی خدمتِ دین سے ہاتھ کھینچ لیا تو کچھ عرصہ کے بعد تمہاری نسلیں بھی یہی کہیں گی کہ نائیوں، دھوبیوں اور موچیوں نے علماء کی جگہ لے لی ہے۔ آجکل بھی دیہات اور قصبات میں زیادہ۔تر عالم بروالے، نائی، دھوبی یا موچی ہیں اور یہ قابلِ اعتراض بات نہیں۔ اس کے یہ معنے ہیں کہ جب دین کا بیڑا غرق ہونے لگا تو اُس وقت جو دین کی خدمت کے لیے آگے آ گئے خداتعالیٰ نے انہیں عزت دے دی۔ اِسی طرح اگر اب تم آگے نہ آئے تو تمہارے ساتھ بھی یہی ہو گا۔ جب جماعت ترقی کرے گی تو انہی لوگوں کو عزت حاصل ہو گی جو اُس وقت دین کی خدمت کریں گے۔ پاکستان میں دیکھ لو مولانا عبدالحامدبدایونی تقریر کرتے ہیں تو کبھی اُس کی صدارت دستورساز اسمبلی کے صدر مولوی تمیزالدین خاں کرتے ہیں اور کبھی اُس کی صدارت خود گورنر۔جنرل کرتے ہیں۔ حالانکہ پاکستان بننے سے قبل انہیں کسی ضلع کا ڈپٹی کمشنر بھی نہیں بلاتا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو پاکستان بنانے کی توفیق دی تو اس نے علماء کو بھی عزت دے دی۔
    پاکستان بننے کے بعد جب میں کراچی گیا تو اُس وقت سندھ کے گورنرسرغلام حسین ہدایت۔اللہ تھے۔ میں جب واپس روانہ ہو نے لگا تو اُن کا سیکرٹری میرے پاس آیا اور اس نے کہا سرغلام حسین ہدایت۔اللہ نے سعودی عرب کے دو شہزادوں کی دعوت کی ہے اور انہوں نے اس موقع پر آپ کو بھی بلایا ہے۔ میں نے کہا میں تو آج چار بجے واپس جا رہا ہوں۔ اس نے کہا ان کی خواہش ہے کہ آپ اس موقع پر ضرور تشریف لائیں۔ میں نے کہا بہت اچھا لیکن بعد میں خیال آیا کہ دعوت تو عین جمعہ کے وقت میں رکھی گئی ہے۔ میں نے کہا آپ کی دعوت کا وقت وہی ہے جو جمعہ کی نماز کا ہے۔ اگر دعوت کا وقت پہلے یا بعد میں کر دیا جائے تو میں آ۔جاؤں گا۔ بعد میں سعودی عرب والوں نے بھی کہا کہ ہم بھی سوچ رہے تھے کہ یہ وقت تو جمعہ کی نماز کا ہے۔ ہم اس موقع پر کیسے آئیں گے۔ خیر انہوں نے دعوت کا وقت تبدیل کر دیا۔ میں نے دیکھا کہ اس دعوت میں مولوی شبیراحمدصاحب عثمانی بھی مدعو تھے۔ پاکستان بننے سے پہلے عثمانی صاحب کی حیثیت ایسی نہیں تھی کہ انہیں ڈپٹی کمشنر بھی کسی دعوت پر بُلاتا لیکن یہاں گورنر سندھ نے انہیں بلایا تھا۔
    پس جب کسی قوم پر خداتعالیٰ کا فضل نازل ہوتا ہے اور وہ ترقی کر جاتی ہے تو اُس کے علماء کو بھی ایک نمایاں مقام حاصل ہو جاتا ہے اور درحقیقت اُن کا آگے آنے کا حق ہوتا ہے بشرطیکہ وہ اُن کاموں میں حصہ نہ لیں جو اُن سے تعلق نہیں رکھتے۔ جیسے پچھلے دنوں علماء نے سیاسیات میں حصہ لینا شروع کر دیا تو وہ ملامت کا ہدف بن گئے۔ اِسی طرح اب بھی علماء اپنا کام چھوڑ کر سیاسیات میں حصہ لیں گے تو وہ لوگوں کی ملامت کا ہدف بن جائیں گے۔ لیکن اگر علماء ایسی باتوں میں دخل نہ دیں تو اس میں شبہ ہی کیا ہے کہ جب بھی کوئی قوم ترقی کرے گی تو علماء بہرحال زیادہ عزت کی نگاہ سے دیکھے جائیں گے۔ یورپ میں دیکھ لو کہ کنٹربری8 کا پادری،۔ایڈورڈ ہفتم کے خلاف ہو گیا تو اسے تخت سے دستبردار ہونا پڑا۔ اب یہ کتنی بڑی طاقت ہے کہ ایک پادری ناراض ہو جاتا ہے تو بادشاہ بھی اس کے سامنے کھڑا نہیں ہو سکتا۔ پس یہ قدرتی بات ہے کہ جب کسی قوم کو عزت ملے گی تو اس کے علماء کو بھی عزت ملے گی۔
    اِسی طرح جب جماعت احمدیہ کو ترقی ملے گی تو تم اُس وقت یہ کہو گے کہ نائی، دھوبی اور موچی آگے آ گئے ہیں۔ اُس وقت ہر شخص تمہیں یہی کہے گا بلکہ میرا یہ خطبہ نکال کر تمہارے آگے رکھے گا کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے دین کی گاڑی کو اُس وقت دھکّا دیا جب تم لوگ اس سے لاپروا ہو گئے تھے۔ اب ان کا حق ہے کہ وہ آگے آئیں۔ ہماری واقفین کی لسٹ کو بھی دیکھا جائے تو اس میں بڑے بڑے لوگوں اور اُن کے بچوں کے نام لکھے ہیں لیکن جو لوگ کام کر رہے ہیں اُن میں بڑے بڑے لوگوں کے بچے شامل نہیں۔ جب کسی بڑے شخص کے بچے پڑھ رہے ہوتے ہیں تو وہ کہتا ہے میرا فلاں بچہ واقفِ زندگی ہے۔ لیکن جب وہ پاس ہو جاتا ہے تو وقف میں آنے کا نام بھی نہیں لیتا۔ ان کی تعلیم مکمل ہونے سے پہلے وہ یہ لکھتا تھا کہ میرا فلاں لڑکا وقف ہے، میرے دو لڑکے وقف ہیں، میرے تین لڑکے وقف ہیں آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں کامیابی عطا کرے۔ لیکن تعلیم سے فارغ ہو جانے کے بعد ان کی بُو بھی نہیں آتی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ا ب دعا کا وقت گزر گیا ہے۔ پھر اگر بعد میں کوئی لڑکا بیمار ہو جاتا ہے تو وہ یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ اس کی نیت دوبارہ حاضر ہونے کی تھی ملازمت کرنے کا مقصد صرف یہی تھا کہ کچھ تجربہ حاصل ہو جائے۔ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اسے صحت عطا فرمائے تا کہ وہ دین کی خدمات بجا لا سکے لیکن تندرست ہو جانے کے بعد وہ حاضر ہونے کا نام بھی نہیں لیتا۔ گویا ان لوگوں نے وقف کو تجارت کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ غرباء نے اسے وظیفے لینے کا ذریعہ۔بنایا ہے اور امراء نے دعا کا ذریعہ بنایا ہے اور کسی کو یہ خیال نہیں آتا کہ دین کی گاڑی چلے۔گی۔کیسے؟
    اب یہ حالت ہے کہ ناظر بڈھے ہو گئے ہیں اور بعض کے تواَب حواس بھی ایسے نہیں کہ وہ اب زیادہ دیر تک سلسلہ کا کام چلا سکیں۔لیکن ایسے آدمی سلسلہ کے پاس موجود نہیں جو ان کی جگہ کام کر سکیں۔ آخر یہ تو ہو نہیں سکتا کہ نئے آدمیوں کو ان کی جگہوں پر لگا دیا جائے۔ چند سال تک انہیں بہرحال کام کا تجربہ حاصل کرنا پڑے گا۔ پھر وہ ان جگہوں پر کام کر سکیں گے۔ اِس وقت بعض ناظر قبروں میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہیں اور اُن کے حواس بھی بجا نہیں۔ نئے آدمی ہمارے پاس تیار نہیں اور سلسلہ کا کام نہایت خطرناک حالات میں سے گزر رہا ہے۔ اِس کی ذمہ داری جماعت کے سب افراد پر ہے۔ خصوصاً ایسے طبقہ پر جو اپنے آپ کو چودھری سمجھتا ہے۔ ’’چودھری‘‘ کے لفظ سے میری مراد زمیندار نہیں بلکہ وہ لوگ مراد ہیں جو اپنے آپ کو قانون سے بالا سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول جب بیمار ہو گئے تو آپ بعض دفعہ باہر آ کر لیٹ جاتے اور لوگ آپ کے اردگرد اکٹھے ہو جاتے۔ بیمار تھک بھی جاتا ہے۔ جب آپ تھک جاتیتو فرماتے دوست اب چلے جائیں۔ اِس پر کچھ لوگ چلے جاتے اور کچھ بیٹھے رہتے۔ کچھ دیر کے بعد آپ فرماتے، میں اب تھک گیا ہوں احباب اب تشریف لے جائیں۔ اس پر آٹھ دس آدمی اَور چلے جاتے۔ مگر چند آدمی پھر بھی بیٹھے رہتے اور وہ سمجھتے کہ ہم اس حکم کے مخاطب نہیں ہیں۔ اس پر آپ تیسری بار فرماتے کہ اب چودھری بھی چلے جائیں۔ یعنی جو لوگ اپنے آپ کو قانون سے بالا سمجھتے ہیں وہ بھی چلے جائیں۔٭ جاٹ کی نہیں تھی بلکہ وہ لوگ مراد تھے جو اپنے آپ کو قانون کی اطاعت سے مستثنٰی سمجھتے تھے لیکن جب جماعت کو عزت ملے گی تو پھر یہی لوگ کہیں گے کہ نائی، موچی اور دھوبی آگے آ گئے ہیں اور وہ کوشش کریں گے کہ خود عزت حاصل کریں۔ اُس وقت جماعت کے اندر اگر غیرت پائی جاتی ہو تو اس کا فرض ہے کہ وہ انہیں پیچھے ہٹا دے اور کہے کہ جب ضرورت کے وقت تم نے خدمت نہیں کی تھی تو اب تمہیں آگے آنے کی اجازت نہیں۔ لیکن بدقسمتی سے جب قوم کو عزت ملتی ہے اور مال زیادہ ہو جاتا ہے تو وہی چودھری آگے آ جاتے ہیں۔ قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب مالِ غنیمت آتا ہے تو منافق بھی آگے آ جاتے ہیں۔ اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ اب تم کیوں آئے تو کہتے ہیں تم ہم پر حسد کرتے ہو۔ 9ہر قوم میں یہی نظارہ نظر آتا ہے۔ جب جنگ ہوتی ہے اور جان قربان کرنے کا وقت آتا ہے تو اِس ٹائپ کے لوگ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ لیکن جب فتح اور عزت ملتی ہے تو یہی لوگ آگے آ جاتے ہیں اور بدقسمتی سے قوم انہیں دھتکارتی نہیں۔وہ سمجھتی ہے کہ بڑے لوگ آگے آ گئے ہیں حالانکہ اُن کی بڑائی اسی دن ختم ہو جاتی ہے جب وہ دین کی خدمت سے اپنا پہلو بچا لیتے ہیں۔ اگر قوم اِس کیریکٹر کو زندہ رکھے تو اس قسم کے لوگوں کی اصلاح ہو جائے۔ لیکن قوم اس کیریکٹر کو زندہ نہیں رکھتی۔ رسول۔کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد حضرت عمرؓ کے زمانہ تک یہ کیریکٹر مسلمان قوم میں زندہ رہا۔ اس کے بعد یہ کیریکٹر مِٹ گیا۔
    ایک دفعہ حضرت عمرؓ کے دربار میں مکہ کے رؤساء آئے۔ حضرت عمرؓ نے انہیں اعزاز سے بٹھایا۔ لیکن وہ رؤساء ابھی باتیں ہی کر رہے تھے کہ حضرت سہیلؓ آ گئے۔ اِس پر حضرت عمرؓ نے اُن رؤساء سے کہا آپ ذرا پیچھے ہٹ جائیں اور ان کے لیے جگہ چھوڑ دیں اور آپ نے سہیل سے باتیں کرنی شروع کر دیں۔ اس کے بعد کچھ اَور غلام صحابہؓ۔۔آئے تو آپ نے پھر ان سے فرمایا آپ ذرا پیچھے ہٹ جائیں اور ان کے لیے جگہ چھوڑ دیں۔ اِس پر وہ اَور پیچھے ہٹ گئے۔ اتفاق سے اُس دن سات آٹھ غلام صحابہؓ آ گئے۔اُن دنوں کمرے چھوٹے ہوتے تھے اس لیے وہ ان کے لیے جگہ خالی کرتے کرتے جُوتیوں میں آ گئے اور پھر انہیں وہاں سے بھی اُٹھ کر باہر آنا پڑا۔ اِس پر وہ ایک دوسرے سے مخاطب ہو کر کہنے لگے تم نے دیکھ لیا کہ آج عمرؓ نے ہمیں ان غلاموں کے سامنے کیسا ذلیل کیا ہے۔ ان میں سے ایک عقلمند تھا۔ اُس نے کہا تم نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ یہ کس کی کرتوتوں کا نتیجہ ہے۔ یہ سب کچھ ہمارے باپ دادا کی کرتوتوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ یہ لوگ وہ تھے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دعوٰی کیا تو انہوں نے آپ کی آواز پر لبیک کہا۔ ہمارے باپ دادوں نے انہیں مارا پیٹا اور طرح طرح کے دکھ دیئے لیکن انہوں نے اس کی پروا نہ کی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خاطر انہوں نے بڑی بڑی قربانیاں کیں۔ اب جب اسلام نے ترقی کی ہے تو انہی لوگوں کا حق تھا کہ وہ عزت پاتے۔ ان کا حق انہیں مل رہا ہے اور تمہارا حق تمہیں مل رہا ہے۔ دوسروں نے کہا پھر اس کا علاج کیا ہے؟ اس نے کہا چلو! پھر عمر سے ہی اس کا علاج پوچھ لیں۔ چنانچہ وہ واپس آئے، آواز دی۔ حضرت عمرؓ نے انہیں اندر بلا لیا۔ آپ سمجھتے تھے کہ آج جو سلوک ان سے ہوا ہے اُسے انہوں نے محسوس کیا ہے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا آج جو کچھ آپ لوگوں سے ہوا میں اِس کے متعلق مجبور تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں ان لوگوں کی عزت فرمایا کرتے تھے۔ اب عمرؓ کی کیا حیثیت ہے کہ وہ ان کی عزت نہ کرے۔ انہوں نے کہا ہم ساری بات سمجھ گئے ہیں اور ہم اس لیے دوبارہ آئے ہیں کہ آپ سے دریافت کریں کہ اس ذلّت کو دور کیسے کیا جائے؟ حضرت عمرؓ خود بھی ایک بڑے خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور پھر دوسرے خاندانوں کے شجرہ نسب کو یاد رکھنا آپ کے خاندان کے ذمہ تھا۔ اس لیے آپ جانتے تھے کہ وہ لوگ کس۔قدر معزز خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ اُن کی کیفیت دیکھ کر آپ کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں۔ آپ کی آواز بھرّا گئی اور آپ منہ سے کوئی لفظ نہ نکال سکے۔ آپ نے صرف ہاتھ سے شام کی طرف اشارہ کیا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ اس کا علاج شام میں ہے۔شام میں اُن دنوں جنگ ہو رہی تھی۔ ان لوگوں نے آپ کا مفہوم سمجھ لیا اور فوراً اونٹ اور گھوڑے تیار کیے اور شام کی طرف روانہ ہو گئے۔ تاریخ میں لکھا ہے کہ ان میں سے پھر ایک شخص بھی زندہ واپس نہیں آیا اور سب کے سب وہیں شہید ہو گئے۔10گویا انہوں نے اپنی جان قربان کر کے اپنی ذلّت کا داغ دھویا۔ لیکن حضرت عمرؓ کے بعد جو لوگ آئے انہوں نے اس قومی کیریکٹر کو قائم نہ رکھا۔
    حضرت عثمانؓ نے پرانے لوگوں کو مختلف کاموں کے لیے آگے بلایا مگر انہوں نے مدینہ چھوڑنا پسند نہ کیا جس پر لازماً انہیں نئے لوگ آگے لانے پڑے۔ صحابہؓ کو یہ بات بُری لگی لیکن حضرت عثمانؓ نے فرمایا میں مجبور ہوں۔ میں تمہیں ان جگہوں پر بلاتا ہوں لیکن تم مدینہ سے باہر جانے پر راضی نہیں ہوتے۔ لیکن حالت یہ تھی کہ اُس وقت حکومت کے کام مصر، شام، فلسطین اور ایران تک پھیل چکے تھے اور پرانے لوگ یہ چاہتے تھے کہ وہ بڑے بھی بنے رہیں اور مدینہ سے بھی نہ نکلیں اور یہ چیز مشکل تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کئی قسم کی خرابیاں پیدا ہو گئیں۔
    بہرحال یہ خرابی اُسی وقت پیدا ہوتی ہے جب بڑے لوگ جنہوں نے دین کی خدمت نہیں کی ہوتی وہ آگے آ جاتے ہیں اور قوم انہیں یہ سمجھ کر سر پر اُٹھا لیتی ہے کہ ہمارے بڑے لوگ آگے آ گئے ہیں اور اس طرح قوم پر تباہی آ جاتی ہے۔
    پس تم ضرورتِ وقت کو سمجھو اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر کے اپنے اپنے خاندان کے نوجوانوں کو وقف کرو۔ اور یہ وقف اتنی کثرت کے ساتھ ہونا چاہیے کہ اگر دس نوجوانوں کی ضرورت ہو تو جماعت سَو نوجوان پیش کرے۔ مگر اب واقفین ملتے بھی ہیں تو بعد میں بھاگ جاتے ہیں۔ اور یہ ایسی شرمناک چیز ہے کہ اس کی موجودگی میں کوئی قوم شرفاء کے سامنے سر نہیں اُٹھا سکتی‘‘۔
    خطبہ ثانیہ کے بعد حضور نے فرمایا:
    ’’میں نماز کے بعد عزیز عبدالحمید خاں غزنوی کا جنازہ پڑھاؤں گا۔ عبدالحمیدخاں غزنوی نیک محمد خاں صاحب غزنوی کے لڑکے تھے اور ہوائی جہاز کے حادثہ میں فوت ہوئے ہیں‘‘۔
    (الفضل20؍اکتوبر1954ئ)

    1
    :
    دیوان حافظ مترجم مولانا قاضی سجاد حسین صاحب صفحہ 140۔ ردیف الدّال اردو بازار لاہور میں مصرع کے الفاظ اَس طرح ہیں۔’’ عیب مے جملہ چو بگفتی ہنرش نیز بگو‘‘
    2
    :
    (فاطر:4)
    (العنکبوت:61)(الانعام:152)
    3
    :


    (الاعراف:190)
    4
    :
    الشعرائ:81
    5
    :
    آل عمران:105
    6
    :
    جامع الترمذی ابواب الزھد باب فی التوکل علی اللّٰہ
    7
    :
    درثمین اردو۔صفحہ 31۔ زیر عنوان نظم ’’محمود کی آمین‘‘۔ مرتبہ شیخ محمد اسماعیل پانی پتی 1962ء
    8
    :
    کنٹربری(Caterbury) انگلستان کا تاریخی کیتھڈرل سٹی۔(وکی پیڈیا آزاد دائرۃ المعارف زیر لفظ ’’Canterbury‘‘)
    9
    :
    (الفتح:16)
    10
    :
    اسدالغابۃ جلد 2صفحہ396، 397۔ زیر عنوان ’’سھیل بن عمرو‘‘۔بیروت لبنان 2001ء


    دعائیں کرو کہ مسلمانوں کے لیے
    برکت اور بھلائی کی صورت پیدا ہو
    (فرمودہ22؍اکتوبر1954ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’خطبہ کی غرض تو مذہب یا مذہب کے ساتھ تعلق رکھنے والے امور کے متعلق امام کا اپنے خیالات کا اظہار کرنا ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی مذہب والوں کے متعلق بھی بات کرنی پڑتی ہے۔ گو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مساجد کو اُن امور کے لیے استعمال کرنا کہ جن سے مذہب کی اپنی حیثیت ہی ختم ہو جاتی ہو پسندیدہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ انہی باتوں کو دیکھ کر مصر کی حکومت نے حال ہی میں ایک قسم کا قانون بنا دیا ہے کہ مساجد میں وہی خطبے پڑھے جائیں جنہیں گورنمنٹ نے پہلے سے منظور کر لیا ہو۔ ہمیں اس ملک کے حالات معلوم نہیں اس لیے ہم نہیں کہہ سکتے کہ حکومت نے یہ اقدام کس حد تک مجبور ہو کر کیا ہے لیکن بہرحال جب مساجد کا استعمال غلط طور پر کیا جائے تو حکومت اس حد تک ضرور دخل دے سکتی ہے کہ اس سے مذہب میں دخل۔اندازی نہ ہو یا مذہبی نظام میں دخل۔اندازی نہ ہو۔ یعنی حکومت اِس حد تک دخل نہ دے کہ۔ملک کے مختلف فرقوں میں تنافر اور تباغض پیدا ہو جائے اور ایسی باتیں شروع ہو جائیں جنہیں ملک کے مختلف فرقے پسند نہ کرتے ہوں یا اس حد تک علیحدگی اختیار کر لی جائے کہ ملک کے مختلف فرقے اپنی مخصوص تعلیمات، جماعت کے افراد کے سامنے نہ رکھ سکیں۔ کیونکہ اپنی مخصوص تعلیمات کو جماعت کے سامنے پیش کرنے کا بہترین موقع جمعہ کا خطبہ ہی ہوتا ہے لیکن دنیوی امور کا بھی ایک حصہ مذہب کے ساتھ اس طرح وابستہ ہے کہ اسے الگ نہیں کیا۔جا۔سکتا۔
    میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان پر اب ایک ایسا وقت آ گیا ہے کہ اس کی موجودہ حالت کو مذہب سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس کا لازمی نتیجہ ایسا نکلتا ہے کہ مذہب اور عقیدہ دونوں ہی اس کی زد میں آ جائیں۔ میں اس بات کو درست نہیں سمجھتا کہ مذہبی لوگ سیاسی امور کے متعلق کچھ نہ کہیں۔ سیاسی امور میں حصہ لینا تمام شہریوں کا حق ہے لیکن ان کے لیے مساجد کو ذریعہ بنانا درست نہیں۔ مساجد کے باہر وہ بیشک سیاسی جلسے کریں، تقریریں کریں، اشتہارات شائع کریں یہ اُن کا جائز حق ہے جو اُن سے چھینا نہیں جا سکتا لیکن عبادات کو اس کا ذریعہ بنانا درست نہیں۔ مثلاً سیاسی اختلافات کی بناء پر خطبات کو کسی خاص مجلس کے پروپیگنڈا کا ذریعہ بنا لینا ناجائز ہے۔ لیکن ان کا دینی پہلو جائز ہے جیسے اس قسم کے خطرات کے موقع پر لوگوں کو دعا کی طرف توجہ دلانا ہے کیونکہ اِس کا کسی خاص فرقہ یا جماعت سے تعلق نہیں ہوتا۔
    میں دیکھتا ہوں کہ پچھلے چند ایام میں ملک میں بعض ایسے حالات پیدا ہوئے ہیں جو خود پاکستان کی ہستی کو ہی خطرہ میں ڈال رہے ہیں اور یہ حالات اس حد تک بڑھتے جا رہے ہیں کہ افراد کا دماغی توازن قائم نہیں رہا۔ ہر فریق، ہر جتھا اور ہر صوبہ ایسی باتیں اختیار کرنا چاہتا ہے جس سے پاکستان باقی نہیں رہ سکتا۔ اور اس کا اثر لازمی مسلمانوں پر پڑے گا۔
    میں مسئلہ کشمیر سے دلچسپی رکھتا ہوں۔ 1948ء میں جب میں پشاور گیا تو اِس سلسلہ میں ڈاکٹر خان صاحب اور عبدالغفارخان صاحب سے بھی ملنے گیا۔ جہاں تک ظاہری اخلاق کا سوال ہے انہوں نے بڑا اچھا نمونہ دکھایا مثلاً دونوں بھائیوں میں اُن دنوں کسی وجہ سے شکررنجی تھی اس لیے وہ آپس میں ملتے نہیں تھے۔ ہماری ملاقات کے متعلق یہ تجویز ہوئی کہ وہ ڈاکٹرخان صاحب کے گھر پر ہو۔ درد صاحب میرے ساتھ تھے۔ میں نے انہیں کہا کہ وہ خان۔عبدالغفارخاں صاحب سے معذرت کریں اور کہیں کہ میں ڈاکٹر خان صاحب کے ہاں جاؤں گا۔ شاید آپ اُن کے مکان پر نہ آ سکیں۔ انہوں نے کہلا بھیجا کہ آپ ہمارے مہمان ہیں اور مہمان کی خاطر مَیں وہیں آ جاؤں گا۔ چنانچہ وہ وہیں آ گئے اور ایک گھنٹے تک ہماری آپس میں گفتگو ہوتی رہی۔ میں نے خان عبدالغفار خان صاحب سے سوال کیا کہ اگر پاکستان میں کوئی گڑبڑ ہوئی اور اس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ہندوستان کی فوجیں پاکستان میں آ گئیں تو کیا یہاں کے مسلمانوں کی حالت ویسی ہی نہیں ہو جائے گی جیسی مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کی ہوئی تھی؟ اِس پر انہوں نے بیساختہ جواب دیا کہ اگر ایسا ہوا تو پاکستان کے مسلمانوں کی حالت مشرقی پنجاب کے مسلمانوں جیسی نہیں بلکہ اُن سے بھی بدتر ہو گی۔
    حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بننے سے پہلے اِس کا وجود ضروری تھا یا نہیں لیکن اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان بننے کے بعد اگر کچھ ہوا تو اِس کا اثر لازماً مسلمانوں پر پڑے گا۔ اگر پاکستان خطرے میں پڑ جائے تو یہ یقینی بات ہے کہ پاکستان میں اسلام محفوظ نہیں رہ سکتا۔ ہندوؤں میں پہلے بھی بڑا تعصب تھا اور ہم نے اس اختلاف کی وجہ سے یہ برداشت نہ کیا کہ اُن کے ساتھ مل کر رہیں اور ہم سب نے مل کر کوشش کی کہ ہمیں ایک علیحدہ ملک ملے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ہماری خواہش کو پورا کر دیا اور ہمیں پاکستان کی شکل میں ایک علیحدہ ملک عطا کیا۔ مسلمانوں کی اس جدوجہد کو دیکھ کر ہندوؤں کے دلوں میں خیال پیدا ہو گیا کہ مسلمانوں نے ہمیں سارے ہندوستان پر حکومت کرنے سے محروم کر دیاہے اور انہوں نے سارے ملک میں مسلمانوں کی سیاست اور خود مسلمانوں کے خلاف شدید پروپیگنڈا کیا۔ پہلے اُن کی ذہنیت اِتنی زیادہ مسموم نہیں تھی اور اُن میں سے بعض کے دل میں مسلمانوں کے لیے رواداری کا جذبہ ایک حد تک پایا جاتا تھا لیکن مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا کی وجہ سے اُن کی ذہنیت اب بالکل بدل گئی ہے اور مسلمان انہیں سانپ اور بچھو کی طرح نظر آنے لگ گئے۔ اگر خدانخواستہ پاکستان میں گڑبڑ واقع ہوئی اور اِس کے نتیجہ میں ہندوستان کی فوجیں ملک میں داخل ہوئیں تو وہ اس ذہنیت سے نہیں آئیں گی جو اُن کی تقسیم ملک سے پہلے تھی۔ اس وقت تعصب اتنا زیادہ نہیں تھا جتنا اَب ہے۔ ہم تو سمجھتے ہیں کہ پاکستان حاصل کر کے مسلمانوں نے اپنا ایک جائز حق لیا ہے کوئی جُرم نہیں کیا۔ لیکن سوال یہ نہیں کہ ہم کیا سمجھتے ہیں؟ بلکہ سوال یہ ہے کہ جس سے ہمارا معاملہ ہے وہ کیا سمجھتا ہے؟ اگر کسی کے بچے پر سانپ نے حملہ کیا ہو اور ایک دوسرے شخص نے سانپ مارنے کے لیے اینٹ اُٹھائی ہوئی ہو اور فرض کرو بچے کا باپ اُسے دیکھ رہا ہو اور وہ اُس طرف نہ ہو جس طرف سانپ ہے تو وہ یہی سمجھے گا کہ وہ اس کے بیٹے کو مار رہا ہے۔ اِس صورت میں ممکن ہے کہ اگر اُس کے پاس بندوق بھری ہوئی ہو تو وہ اس شخص پر فائر کر دے۔ اب چاہے وہ شخص مرے یا اُس کا اپنا بچہ مر جائے بہرحال باپ ایسا کرنے پر مجبور ہے۔ کیونکہ وہ دیکھ رہا ہے کہ ایک شخص اُس کے بچے کو مار رہا ہے۔ ہماری بھی یہی حالت ہے۔ ہم نے خواہ پاکستان کے ذریعہ اپنا ایک جائزحق حاصل کیا ہو اِس وقت ہندوؤں کے ذہن کو اس طرح بگاڑ دیا گیا ہے اور پاکستان کے خلاف اُن کو اِس قدر مشتعل کر دیا گیا ہے کہ وہ یہی سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا حق نہیں لیا اُن کا حق لیا ہے۔ پس اگر وہ ہمارے ملک میں داخل ہوئے تو ان کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ وہ تقسیم سے پہلی ذہنیت اپنے ساتھ لے کر آئیں گے بالکل غلط ہے۔ پھر یہ نہ خیال کرو کہ اُن کے آنے کا امکان نہیں۔ قانونِ قدرت یہی ہے کہ جہاں کہیں خلا پیدا ہو جاتا ہے ہوا اُسے فوراً پُر کر دیتی ہے۔ مثلاً آندھیاں آتی ہیں تو وہ اسی قانون کے ماتحت آتی ہیں۔ جب گرمی پڑتی ہے تو ہمارے اردگرد کی ہوا لطیف ہو کر اوپر چلی جاتی ہے اور نیچے ایک خلا پیدا ہو جاتا ہے۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے دور کی ہوا تیزی سے آ جاتی ہے اور اس کو آندھی کہتے ہیں۔ یا مثلاً پانی ہے۔ دریاؤں کا پانی سارے کا سارا سمندر میں جا رہا ہے۔ اُس کی وجہ یہی ہے کہ اُدھر خلا ہے جسے پُر کرنے کے لیے پانی اُس طرف جا رہا ہے۔ اِسی طرح اگر ہمارے ملک میں کوئی گڑبڑ ہوئی اور یہاں خلا پیدا ہو گیا تو لازماً قانونِ قدرت کے مطابق اِس خلا کو پُر کرنے کے لیے کسی نہ کسی ہمسایہ ملک کی فوجیں اِس ملک میں داخل ہو جائیں گی۔ اب تم اس ہمسایہ ملک کو افغانستان سمجھ لو، ہندوستان سمجھ لو یا کوئی اور یورپین ملک سمجھ لو ، بہرحال اِس خلا کو بھرنے کے لیے کوئی نہ کوئی حکومت آئے گی۔ اگر اس خلا کو بھرنے والی حکومت ہندوستان ہوئی تو لازماً وہ اس بُغض کو ساتھ لائے گی جو اس وقت پاکستان اور مسلمانوں کے خلا ف اس۔میں پیدا ہو چکا ہے۔ چاہے وہ عام حکومتوں کی طرح یہی اعلان کرتی آئے کہ ہم تمام لوگوں سے انصاف کریں گے بلکہ اگر کسی گڑبڑ کے نتیجہ میں خدانخواستہ ایسا واقعہ ہو گیا کہ ہندوستان کی فوجیں ہمارے ملک میں داخل ہو جائیں تو اُن کی طرف سے یہی اعلان ہو گا کہ ہم تمام جماعتوں سے انصاف کریں گے، ہم تمام اقلیتوں کے حقوق انہیں دیں گے، ہم مظلوم کی امداد کریں گے لیکن یہ اعلان اُسی وقت تک ہو گا جب تک اُس کا قبضہ تمام ملک پر نہیں ہو جاتا۔ اِس کے بعد اُن کا بُغض اور کینہ اپنا اثر دکھائے گا اور وہ مسلمانوں کو مسلنا شروع کر۔دیں۔گے۔
    اِن حالات میں مَیں تمام جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ دعاؤں سے کام لے۔ آئندہ آٹھ دس دن ہمارے ملک کے لیے نہایت نازک ہیں۔ دوستوں کو چاہیے کہ وہ اِن ایام میں خاص طور پر دعائیں کریں کہ جو لوگ برسرِاقتدار ہیں وہ کوئی ایسا طریق اختیار نہ کریں جو اسلام کی ترقی، اس کی قوت اور اس کے استحکام میں روک پیدا کرنے والا ہو۔ ہمارے خدا میں سب طاقتیں پائی جاتی ہیں۔ اگر ان لوگوں کی اصلاح ہو سکتی ہے تو وہ ان کی اصلاح کر سکتا ہے اور اگر ان کی اصلاح نہیں ہو سکتی تو وہ ان کے شر سے ملک کو بچا سکتا ہے۔ اور وہ اس جتھا کو بھی توڑ سکتا ہے جو ملک کو تباہ کرنے والا ہو۔ پس خداتعالیٰ کے سامنے جُھکا جائے اور اُسی سے دعائیں کی جائیں کہ الٰہی! یہ کام ہماری طاقت سے باہر ہے۔ ہم خود بہت تھوڑے ہیں اور ہماری تعداد بہت ہی تھوڑی ہے۔ ہم ان امور میں دخل نہیں دے سکتے اور نہ ملک کی حفاظت کے لیے کوئی ذریعہ اختیار کر سکتے ہیں۔ لیکن اکثریت تیرے ہاتھ میں ہے۔ اگر وہ قابلِ۔اصلاح ہے تو تُو اس کی اصلاح کر سکتا ہے۔ اور اگر وہ قابلِ اصلاح نہیں تو تُو ان کے درمیان جھگڑے اور تفرقے بھی پیدا کر سکتا ہے۔ اے خدا! اگر وہ قابلِ اصلاح نہیں تو تُو ان میں تفرقہ ڈال دے تا کہ ملک تباہ ہونے سے بچ جائے اور تا مسلمان آئندہ پیدا ہونے والے خطرات سے محفوظ رہیں۔ اگر تم سچے دل سے دعائیں کرو تو خداتعالیٰ مسلمانوں کی حفاظت کا سامان پیدا کر دے گا۔ لوگ ان باتوں کو نہیں سمجھتے لیکن تم وہ ہو جنہوں نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا، کانوں سے سنا اور اپنے ہاتھوں سے چُھوا۔ غرض تم نے خداتعالیٰ کی طاقتوں کی ہر رنگ میں تحقیقات کر لی ہے۔ اگر تم دعاؤں میں لگ جاؤ تو یقیناً یہ بات خداتعالیٰ کی طاقت سے باہر نہیں۔ وہ ملک کی حفاظت کا کوئی نہ کوئی راستہ پیدا کر دے گا۔
    حضرت نظام الدین صاحب اولیاء ؒ کے متعلق مشہور ہے کہ ایک دفعہ آپ کے خلاف بعض حاسدوں نے بادشاہ کے کان بھرے کہ آپ بادشاہ کے خلاف منصوبہ کر رہے ہیں اور اس کی حکومت کا تختہ اُلٹنا چاہتے ہیں۔ بادشاہ بیوقوفی سے اُن کی بات میں آ گیا اور اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ آپ کو سزا دے اور وہ اُس وقت ایک مہم پر جا رہا تھا۔ اُس نے کہا کہ میں اس مُہم سے واپس آ کر آپ کو گرفتار کروں گا۔ آپ کے مریدوں نے جن میں بڑے بڑے درباری اور رؤساء بھی شامل تھے جب یہ بات سنی تو انہوں نے آپ سے کہنا شروع کیا کہ آپ کوشش کریں اور بادشاہ کو یقین دلائیں کہ آپ اُس کے وفادار خادم ہیں۔ شاید اُس کا خیال بدل جائے۔ لیکن حضرت نظام الدین صاحب اولیاء ؒ کسی طرح راضی نہ ہوئے۔ جب بادشاہ مُہم سے فارغ ہو کر واپس لَوٹا تو مریدوں نے پھر کہاکہ اب تو بادشاہ کی واپسی میں بہت تھوڑے۔دن رہ گئے ہیں ہمیں کوئی ایسی تجویز کرنی چاہیے کہ بادشاہ اپنا فیصلہ بدل لے۔ حضرت۔نظام۔الدین صاحب اولیاء ؒ نے فرمایا
    ہنوز دلّی دور است
    یعنی ابھی دلّی بہت دو ر ہے۔ بادشاہ منزل بمنزل دہلی کے قریب آتا گیا اور مرید اس کے پاس آتے اور کہتے آپ ہمیں کوئی مشورہ نہیں دیتے کہ آخر ہم کیا کریں۔ بادشاہ دلّی کی۔طرف بڑھتا آ رہا ہے اور وہ واپس آتے ہی اپنے فیصلہ پر عمل کرے گا۔ اِس پر حضرت۔نظام۔الدین صاحب اولیاء ؒ نے پھر یہی جواب دیا کہ ’’ہنوز دلّی دور است‘‘ ابھی دلّی بہت دور ہے۔ یہاں تک کہ بادشاہ شہر کے دروازہ پر پہنچ گیا اور اسلامی طریق کے مطابق شہر سے باہر ایک محل میں ٹھہرا۔ دوسرے دن صبح اُس نے شہر میں داخل ہونا تھا۔ حضرت نظام الدین صاحب اولیاء ؒ کے مرید آپ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا کہ بادشاہ اب شہر کے دروازہ پر پہنچ گیا ہے اور صبح شہر میں داخل ہو گا اب تو کوئی تجویز کرنی چاہیے۔ مگر آپ نے پھر یہی جواب دیا کہ
    ہنوز دلّی دور است
    اُس رات بادشاہ کی مُہم سے واپسی کی خوشی میں ولی عہد اور شہر کے رؤساء نے ایک جشن کیا اور شہر سے باہر جو محل تھا اور جہاں بادشاہ مقیم تھا وہاں ایک محفلِ رقص و سرود منعقد کی۔ یہ محفل، محل کی چھت پر منعقد کی گئی۔ اتفاقاً چھت کمزور تھی اور خوشی میں ہجوم بہت زیادہ جمع ہو گیا تھا۔ اچانک چھت گر پڑی اور بادشاہ اُس چھت کے نیچے دب کر مر گیا۔ صبح بجائے اِس کے کہ بادشاہ شہر میں داخل ہوتا اور حضرت نظام الدین صاحب اولیاء ؒ کو سزا دیتا وہ خود اِس جہان سے رُخصت ہو گیا۔ حضرت نظام الدین صاحب اولیاء ؒ نے مریدوں کو بلایا اور کہا میں نہیں کہتا تھا کہ ابھی دلّی دور ہے تم خوانخواہ گھبرا رہے تھے۔1
    پس ہمارا خدا ایسی طاقت رکھتا ہے کہ وہ تمام برسرِاقتدار لوگوں کو جو سمجھتے ہیں کہ ہم جو چاہیں کر لیں راہِ راست پر لے آئے۔ اُن کی جانیں، اُن کی طاقت اور اُن کے جتھے سب اس کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ پس تم دعائیں کرو کہ وہ خدا جس نے پاکستان بنایا ہے ایسے طاقتور لوگوں کو جو دانستہ یا نادانستہ اِس ملک سے غداری کر رہے ہیں یا اِس کی ترقی کی راہوں کو مسدود کر رہے ہیں راہِ۔راست پر لائے۔ اور اگر وہ راہِ راست پر نہ آئیں تو ان کو آپس میں لڑوا دے اور پاکستان کو کمزور ہونے سے بچا لے تا کہ مسلمان ہر قسم کے فتنہ سے محفوظ رہیں۔
    پس آئندہ چند دنوں میں چونکہ ایک اہم سوال ملک اور قوم کے سامنے آ رہا ہے اور اس میں مسلمانوں کے لیے برکت یا عذاب کا فیصلہ ہونے والا ہے اس لیے تم دعائیں کرو کہ اس فیصلہ میں مسلمانوں کے لیے برکت اور بھلائی کی صورت پیدا ہو‘‘۔
    (الفضل 26؍اکتوبر1954ئ)

    1
    :
    فرہنگ آصفیہ مرتبہ سید احمد دہلوی جلد سوم چہارم صفحہ738لاہور1901ء


    ابھی خدشات باقی ہیں اس لیے تم دعاؤں میں لگے رہو تا خدا تعالیٰ اسلام کو ہر قسم کے دشمنوں سے محفوظ رکھے
    (فرمودہ29؍اکتوبر1954ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’میں نے پچھلے جمعہ کے خطبہ میں جماعت کے دوستوں کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ وہ سب مل کر دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ان مصائب سے جو اس کے سامنے آ رہے ہیں محفوظ رکھے۔ گو خطبہ میں تو یہ فقرہ نہیں چھپا لیکن میں نے کہا تھا کہ اگر تمہارا خدا چاہے تو تین دن کے اندراندر ان لوگوں کی طاقت کو توڑ دے اور برسرِاقتدار لوگ جو اس وقت شرارت کر رہے ہیں اُن کے فتنہ سے ملک کو بچا لے۔ خدا کی قدرت دیکھو جمعہ کو میں نے یہ الفاظ کہے اور اتوار کو گورنر جنرل نے دستور ساز اسمبلی توڑ دی اور نئی وزارت بنانے کے لیے مسٹر۔محمد۔علی کو دعوت دے دی۔ گویا خطبہ پر پورے تین دن بھی نہیں گزرے تھے کہ وہ خطرات جو پاکستان کو پیش آ رہے تھے عارضی طور پر ٹل گئے۔ عارضی طور پر میں نے اس لیے کہا ہے کہ میں نہیں جانتا کہ اس عارضی انتظام سے کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ بہرحال جو کچھ واقع ہوا ہے اس سے معلوم ہو گیا ہے کہ ہماری دعائیں کس طرح قبول ہوتی ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ خطرات ایک وقت تک ٹل گئے ہیں اور آئندہ کا علم خداتعالیٰ کو ہے۔ وہی جانتا ہے کہ آئندہ کیا ہو گا۔ انسان تو حاضر کو دیکھتا ہے۔ اگر خداتعالیٰ باوجود اس کے کہ ہم میں کوئی طاقت نہیں، ہماری کوئی حیثیت نہیں ہماری دعاؤں کے نتیجہ میں حاضر کو بدل سکتا ہے تو اگر ہم دعائیں جاری رکھیں تو وہ مستقبل کو بھی اچھا بنا سکتا ہے۔ حاضر کو بدلنا بظاہر مشکل نظر آتا ہے لیکن مستقبل کے بدلنے میں چونکہ کچھ وقت مل جاتا ہے اس لیے یہ کام بظاہر آسان ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آخری ایام میں دستورساز اسمبلی ایک کھیل بن کر رہ گئی تھی اور بعض قوانین تو اتنی جلدی جلدی پاس کیے گئے تھے کہ ان کا دستور ساز اسمبلی کے اکثر ممبروں اور گورنمنٹ کے افسروں کو بھی پتا نہیں لگا۔ مثلاً دستور ساز اسمبلی نے ایک فیصلہ یہ کیا تھا کہ گورنر جنرل کے سب خصوصی اختیارات سلب کر لینے چاہییں، اسے کوئی اختیار حاصل نہ ہو، وہ محض رسمی طور پر گورنر جنرل ہو۔ مسٹر اے کے بروہی جو قانون کے وزیر تھے اور اسمبلی کے انچارج تھے انہوں نے اعلان کیا کہ مجھے بھی پتا نہیں لگا کہ یہ قانون کب پاس کر لیا گیا ہے۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ آخری ایام میں بعض فیصلے افراتفری میں کیے گئے تھے تا کہ نئی اسمبلی کے آنے سے پہلے پہلے ایسے تغیرات پیدا کر دیئے جائیں کہ دوسری پارٹی سے مقابلہ کیا جا سکے۔
    اب موجودہ حالت میں ایک تغیر تو یہ نظر آتا ہے کہ مرکزی کابینہ میں ایسے آدمی آگے آگئے ہیں جو اگرچہ لیگ کے ممبر تو نہیں لیکن کسی نہ کسی رنگ میں انہوں نے ملک کی خدمت کی ہے۔ مثلاً آج ہی حکومت کا یہ اعلان اخبارات میں چھپا ہے کہ سرحد کے سُرخ۔پوش۔لیڈر ڈاکٹر۔خان صاحب کو وزارت میں لے لیا گیا ہے۔ کسی گزشتہ جلسہ سالانہ کی ایک تقریر میں مَیں نے اس بات کا ذکر کیا تھا کہ میں پشاور کے سفر میں ڈاکٹر خان صاحب سے ملا اور ایک گھنٹہ تک ان سے گفتگو کی۔ اور تقریر میں مَیں نے یہ بھی بیان کیا تھا کہ اس گفتگو کا جو اثر مجھ پر ہوا وہ یہی تھا کہ آپ اسلام اور وطن کے خیرخواہ ہیں۔ دوسرے مسلمان جو چاہیں ان کے متعلق خیال کریں مگر جہاں تک ان کا سوال ہے، وہ ان کی ترقی کے خواہاں ہیں۔ سرکاری اعلان میں یہ بتایا گیا ہے کہ انہیں نئی کابینہ میں لے لیاگیا ہے اور شاید ابھی دوسری پارٹیوں کے نمائندے بھی مرکزی کابینہ میں لیے جائیں۔ یہ ساری باتیں ایسی ہیں کہ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ خداتعالیٰ ایسے سامان پیدا کرنا چاہتا ہے کہ جن کے ذریعہ وہ مسلمانوں کو اُن خطرات سے بچا لے جو انہیں آئندہ پیش آنے والے ہیں۔
    ذاتی طور پر میری تو یہی رائے تھی کہ مسلم لیگ کو جس نے پاکستان کو حاصل کرنے میں نمایاں کام کیا ہے کچھ مدت کام کرنے کا موقع دیا جائے تا کہ وہ اپنے اس کام کی تکمیل کر سکے جس کے کرنے میں اس نے بہت سی قربانیاں کی تھیں۔ لیکن اس بات کا بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ لیگ کے وہ ممبر جنہوں نے پاکستان کے لیے قربانیاں کی تھیں ان میں سے ایک حصہ اب مسلم لیگ سے نکل گیا ہے یا انہیں باہر نکال دیا گیا ہے۔ اور موجودہ مسلم لیگ کچھ تو اُن لوگوں پر مشتمل ہے جنہوں نے پاکستان کے لیے قربانیاں کی تھیں اور کچھ اُن لوگوں پر مشتمل ہے جنہوں نے قربانیاں تو نہیں کی تھیں ہاں بعد میں عزت کے لیے شامل ہو گئے تھے۔ مسلم لیگ سے اُن لوگوں کا نکل جانا جنہوں نے ملک کی خاطر قربانیاں کی تھیں ایک ایسی چیز ہے جو دل میں افسوس پیدا کرتی ہے۔ پھر موجودہ ممبروں میں سے بعض سے ایسی حرکات سرزدہوئی ہیں جو تکلیف دینے والی ہیں۔ مثلاً مسلم۔لیگ کے ایک ممبر جوبڑی حیثیت کے ہیں گورنمنٹ کی طرف سے ایک دَورہ پر باہر گئے اور اُس جگہ انہوں نے تین چار تقاریر کیں۔ ان تقاریر میں انہوں نے کہا کہ ہمارے نزدیک احمدی مرتد اور واجبُ۔القتل ہیں۔ اگر ہمیں طاقت ملے تو ہم انہیں قتل کر دیں ورنہ ہم انہیں اقلیت ضرور قرار دے دیں گے۔ گویا وہ حکومت جس نے اس قسم کی تقاریر کو فتنہ و فساد کا موجب قرار دیا اور فسادات کی تحقیقات کے لیے ایک کورٹ آف انکوائری مقرر کی جس نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر اِس قسم کی تقاریر ہوتی رہیں تو حکومت زیادہ دیر تک چل نہیں سکتی۔ اس قسم کی تقاریر حکومت کی جڑوں پر تبر رکھنے کی مصداق ہیں۔ اس حکومت کا ایک نمائندہ باہر جاتا ہے اور اس قسم کی تقاریرکرتا ہے۔ اس غیر ملک کی حکومت نے اس کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا۔ اتنے میں وہ پاکستان آ گیا اور اس طرح اس کی جان بچ گئی۔ بہرحال اس نے فتنہ پیدا کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ ہماری مقامی جماعت نے عقلمندی سے کام لیا کہ جب پولیس نے کارروائی شروع کی اور احمدیوں سے پوچھا کہ اگر وہ چاہیں تو مقامی غیراحمدی معززین کی ضمانتیں لے لی جائیں تو انہوں نے کہا کہ مقامی لوگوں کا کیا قصور ہے، انہوں نے غیرحکومت کا نمائندہ ہونے کی وجہ سے اس کا ادب اور احترام کیا تھا، انہیں کیا پتا تھا کہ یہ شخص اپنی تقریر میں کیا کہنے والا ہے۔ جماعت کے اس رویے کا دوسرے مسلمانوں پر بہت اچھا اثر ہوا اور انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ احمدیوں نے بہت اچھا نمونہ دکھایا ہے۔
    پھر انہی ایام میں جب لیگ کنونشن ہونے والی تھی لیکن کے ایک ممبر کی طرف سے یہ ریزولیوشن پیش ہوا۔ اگرچہ کنونشن نہ ہوئی اور وہ ریزولیوشن بھی پیش نہ ہوا تاہم اس نے اپنی طرف سے یہ تحریک کر دی تھی کہ لیگ کے ممبر اسمبلی میں پاس کر دیں کہ ملک میں دوسری شادی ممنوع قرار دے دی جائے اور یہ قاعدہ بنا دیا جائے کہ مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر کوئی شخص دوسری شادی نہ کر سکے۔ یہ قانون اس قسم کا ہے کہ سوائے امریکہ کے کسی ملک میں بھی رائج نہیں۔امریکہ میں دوسری شادی ممنوع ہے لیکن دوسری جگہوں پر ایسا نہیں۔ مثلاً انگلستان ہے وہاں یہ قانون ہے کہ پادری دوسری شادی نہیں کر سکتے۔ چنانچہ جب کوئی دوسری شادی کے لیے پادری کے پاس آئے گا تو وہ اس سے انکار کر دے گا۔ اور پادری کے انکار کی وجہ سے وہ شادی گورنمنٹ تسلیم نہیں کرے گی۔ اِسی طرح رجسٹریشن کا محکمہ ہے وہ دوسری شادی کی رجسٹریشن سے انکار کر دے گا۔ اس لیے وہ شادی قانونی شادی نہیں کہلائے گی۔ لیکن اس کے یہ معنی ہیں کہ عیسائیوں پر اس قانون کا اطلاق ہو گا دوسروں پر نہیں۔ اگر کوئی دوسری شادی اسلامی یا ہندو طریق پر کر لے تو حکومت کہے گی کہ ہم دوسری بیوی کو قانونی طور پر بیوی تسلیم نہیں کرتے۔ لیکن یہ کہ شروع سے ہی دوسری شادی نہ کی جائے اس میں وہ روک نہیں بنے گی۔ چنانچہ وہاں غیرمذاہب کے لوگ دوسری شادیاں کرتے ہیں لیکن چونکہ وہ شادیاں قانونی شادیاں نہیں ہوتیں اس لیے وہ اپنی زندگی میں جائیداد کا ایک حصہ دوسری بیوی کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ حکومت صرف یہ کہہ دیتی ہے کہ ہمارے ہاں یہ شادی ،شادی شمار نہیں ہو گی۔ یہ نہیں کہے گی کہ اپنے مذہب کے مطابق دوسری شادی کرنا جُرم ہے۔ وہ اسے شادی تسلیم نہیں کرے گی ۔اور اگر خاوند اُس بیوی کے لیے اپنی جائیداد کا کچھ حصہ اپنی زندگی میں ہی وقف کر دے تو وہ اس سے منع نہیںکرے گی۔ لیکن اس قسم کا مسودہ مسلم لیگ کی مجلس عامہ میں پیش ہونا اور پھر ایک مسلمان ممبر کی طرف سے پیش ہونا درحقیقت مذمّت کا ووٹ تھا، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے خلاف جن کی گیارہ بیویاں تھیں یہ مذمت کاووٹ تھا، حضرت ابوبکرؓ کے خلاف جن کی ایک سے زیادہ بیویاں تھیں، یہ مذمّت کا ووٹ تھا، حضرت عمرؓ کے خلاف جن کی ایک سے زیادہ بیویاں تھیں، یہ مذمّت کا ووٹ تھا، حضرت عثمانؓ کے خلاف جن کی ایک سے زیادہ بیویاں تھیں، یہ مذمّت کا ووٹ تھا، حضرت امام حسنؓ کے خلاف جن کی ایک سے زیادہ بیویاں تھیں۔گویا جن لوگوں پر اسلام کی بنیاد تھی ان کے خلاف یہ مذمّت کا ووٹ تھا۔ پھر اُس زمانہ سے لے کر اب تک جتنے بزرگ اسلام میں پیدا ہوئے ہیں اُن کے خلاف بھی یہ مذمّت کا ووٹ تھا۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جتنے اولیاء اسلام میں گزرے ہیں اُن میں سے اکثر کی بیویاں ایک سے زیادہ تھیں۔ امریکہ اس قسم کے قانون کو جاری کرنے میں معذور تھا کیونکہ وہاں کی حکومت اسلامی حکومت نہیں۔ لیکن یہ کتنی شرمناک بات ہے کہ ایک اسلامی مجلس میں ایک مسلمان کے منہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے خلاف، آپؐؐ کے خلفاء کے خلاف، آپؐؐ کے نواسے کے خلاف اور آپؐؐ کی امت کے اولیاء کرام کے خلاف اس قسم کی بے حیائی کے کلمات نکلیں۔ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ یہ قانون پہلے زمانہ میں تو بُرا نہیں تھا لیکن اب بُرا ہو گیا ہے۔ شریعت بدلتی نہیں۔ یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز پہلے وقتی طور پر کسی مصلحت کے ماتحت جائز ہو پھر خداتعالیٰ نے اُس سے منع کر دیا ہو۔ لیکن یہ بات بالکل نئی ہے کہ خداتعالیٰ نے تو ایک چیز کو جائز قرار دیا ہو لیکن تیرہ سوسال کے بعد ایک مسلمان یہ کہے کہ اب وہ بات جائز نہیں۔
    یہ ویسی ہی بات ہے جیسے مشہور ہے کہ کوئی جاہل پٹھان تھا۔ اس نے فقہ پڑھی ہوئی تھی۔ پٹھانوں میں بالعموم کنز پڑھائی جاتی ہے اور فقہ کا عام رواج ہے۔ اس پٹھان نے بھی کنز پڑھی ہوئی تھی۔ اس کے بعد اس نے حدیث پڑھنی شروع کر دی۔ ایک دن یہ حدیث آ گئی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ حضرت امام حسنؓ روئے اور آپؐؐ نے انہیں گود میں اُٹھا لیا۔ اور جب سجدہ کرنے لگے تو انہیں نیچے بٹھا دیا۔ حنفی فقہ کے لحاظ سے اگر نماز میں کوئی بڑی حرکت واقع ہو تو اس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ چنانچہ یہ حدیث پڑھتے ہی وہ پٹھان بجائے یہ کہنے کے کہ کنز والے سے غلطی ہو گئی ہے اصل میں مسئلہ اس طرح ہے اپنی کم عقلی کی وجہ سے کہنے لگا کہ خو! محمد صاحب کا نماز ٹوٹ گیا۔ گویا شریعت کنز والے نے بنائی تھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل نہیں ہوئی تھی۔
    یہی حال اس مسلمان ممبر کا ہے جس نے دوسری شادی کی ممانعت کا ریزولیوشن پیش کیا۔گویا نَعُوْذُ بِاللّٰہِمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حقوقِ مستورات کو نہ سمجھتے تھے۔ نَعُوْذُبِاللّٰہِحضرت ابوبکرؓ کم عقل تھے، حضرت عثمانؓ کم عقل تھے،حضرت امام حسنؓ کم عقل تھے جنہوں نے ایک سے زیادہ شادیاں کیں۔ پھر اس کے نزدیک اولیائے امت کا اکثر حصہ کم عقل تھا جن کی ایک سے زیادہ بیویاں تھیں۔ عقلمند صرف وہ مسلمان ممبر تھا جس نے شاید کبھی نماز بھی نہ پڑھی ہو۔ ہمارے لیے تو یہی بڑی مصیبت تھی کہ غیرمسلم اسلام کے خلاف حملہ کر رہے ہیں اور ہم اُن کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ اب یہ دوسری مصیبت آن پڑی کہ اسلامی حکومت کے قیام کے بعد خود بعض مسلمان کہلانے والے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر حملہ کرنے لگ گئے۔ حالانکہ کثرتِ ازدواج کا مسئلہ اپنے اندر بڑی بھاری حکمت رکھتا ہے اور مسلمانوں نے اس حکمت کو نہ سمجھ کر بہت بڑا نقصان اُٹھایا ہے اور اگر اب بھی انہوں نے اس کی حکمت کو نہ سمجھا تو وہ اَور بھی زیادہ نقصان اُٹھائیں گے۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں تَزَوَّجُوْا وَدُوْدًا وَلُوْدًا فَاِنِّیْ مُفَاخِرٌ بِکُمُ الْاُمَمَ وَمُکَاثِرُبِکُمْ۔1 تم ایسی عورتوں سے شادیاں کرو جو محبت کرنے والی اور بہت بچے جننے والی ہوں کیونکہ میں قیامت کے دن تمہارے ذریعہ سے دوسری امتوں پر فخر کرنے والا ہوں اور ان کے مقابلہ پر اپنی امت کی کثرت کو پیش کرنے والا ہوں۔ اب یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ اسلام تمام دنیا میں پھیل جائے۔ اور اس کی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ اول یہ کہ تبلیغ کی جائے۔ دوسرے یہ کہ کثرتِ ازدواج پر عمل کیا جائے۔ اگر ہر مسلمان مرد کی چارچار بیویاں ہوں اور ہر بیوی سے چارچار بچے ہوں تو وہ مرنے کے بعد مسلمانوں کی تعداد سولہ گُنے کرجائے گا۔ اور اگر 1/4حصہ آبادی کی بھی ایک سے زیادہ شادی ہو تو ہر نسل کے بعد مسلم آبادی چار گنا ہو جائے گی۔ پھر تبلیغ کی جائے اور دوسرے لوگوں کو اسلام میں داخل کیا جائے تو آبادی اَور بھی بڑھ جائے گی۔ اگر مسلمان اسلام کی اس تعلیم پر عمل کرتے تو آج ان کی اتنی کثرت ہوتی کہ کوئی ان پر ہاتھ نہ ڈال سکتا۔
    جس زمانہ میں صوبہ بہار میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا ہے اُس وقت قائداعظم نے چندہ کی اپیل کی اور ہماری جماعت نے اپنی نسبت کے لحاظ سے اس چندہ میں بہت زیادہ حصہ لیا اور قائداعظم نے جماعت کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے علاوہ جماعت کی طرف سے طبی وفود بھی بھیجے گئے۔ اس سے وہاں کے مسلمانوں میں یہ خیال پیدا ہوا کہ مسلمانوں میں سے اگر کوئی فرقہ ان کی رہنمائی کر سکتا ہے تو وہ احمدی ہی ہیں۔ چنانچہ اسی سلسلہ میں ایک شخص قادیان آیا اور مجھ سے ملا اور اس نے کہا میں بہار سے آیا ہوں جو مصیبت ہم پر آئی ہے اُس کے متعلق آپ نے اخبارات میں پڑھا ہی ہو گا۔ میں نے کہا ہاں پڑھا ہے۔ اس نے کہا میں آپ سے مشورہ لینے آیا ہوں کہ اب ہم کیا کریں؟ میں نے دریافت کیا کیا آپ احمدی ہیں؟اس نے کہا نہیں ۔ میں نے کہا پھر آپ میرے پاس کیوں آئے ہیں؟اس نے کہا میں آپ کے پاس اس لیے آیا ہوں کہ ہمیں اعتماد ہے کہ آپ جو رائے بھی ہمیں دیں گے وہ درست ہو گی۔ میں نے کہا میں نے اپنے پاس سے تو رائے دینی نہیں۔ میں نے تو جو رائے دینی ہے قرآن۔کریم اور حدیث کی رُو سے دینی ہے۔ میں نے پہلے بھی ایک مشورہ دیا تھا لیکن آپ لوگوں نے نہیں مانا۔ 1923ء میں جب ملکانہ میں ارتداد شروع ہوا تو اُس وقت میں نے اعلان کیا تھا کہ مسلمانو! تبلیغ کرو تا تمہاری تعداد زیادہ ہو اور تا اسلام کی تعلیم تمام دنیا میں پھیل جائے لیکن آپ لوگوں نے میری بات نہ مانی اور رات دن اِسی میں مشغول رہے کہ احمدیوں کو کافر قرار دیا جائے۔ بیشک ہماری جماعت تبلیغ کرتی تھی مگر اس کی تعداد بہت تھوڑی تھی۔ دوسرے مسلمانوں نے اس نیک کام میں اس کی مدد نہ کی بلکہ دوسرے مولوی تو یہاں تک کہتے تھے کہ تم بیشک دہریہ ہو جاؤ، آریہ بن جاؤ لیکن احمدیت میں داخل نہ ہونا۔ اگر آپ لوگ اُس وقت ہمارے ساتھ تعاون کرتے، ہم بھی تبلیغ کرتے اور آپ بھی تبلیغ کرتے تو آج تک لاکھوں لوگ اسلام میں داخل ہو چکے ہوتے اور کروڑوں لوگوں کو اسلام کی خوبیوں کا علم ہو جاتا۔ یہ پہلی بات تھی جو میں نے بتائی لیکن آپ لوگوں نے نہ مانی۔
    اب تئیس سال کے بعد بہار میں مسلمانوں کا قتلِ عام ہوا ہے۔ میں اب ایک اَور علاج بتاتا ہوں لیکن تم نے پھر بھی میری بات نہیں ماننی۔ وہ کہنے لگا بتائیے۔ میں نے کہا تمہارے علاقہ میں بیس پچیس فیصدی اچھوت ہیں۔ ان کی مالی حالت نہایت گری ہوئی ہے۔ یہاں سے سِکھ لوگ جاتے ہیں اور وہ اُن کی لڑکیوں کو بیاہ لاتے ہیں۔ وہ قوم یا مذہب نہیں دیکھتے۔ وہ اپنی لڑکیاں صرف اس لیے بیاہ دیتے ہیں کہ وہ اچھا کھائیں گی، اچھا پئیں گی۔ گورنمنٹ کا اندازہ ہے کہ ہر سال پانچ چھ ہزار لڑکیاں وہاں سے سِکھ بیاہ لاتے ہیں۔ بہار میں چودہ فیصدی مسلمان ہیں۔ اگر ان میں سے نصف مرد ہوں تو سات فیصدی مسلمان مرد ہوئے۔میں کہتا ہوں تم اس تعداد کو اَور بھی کم کر لو، تم انہیں پانچ فیصدی سمجھ لو۔ اگر تم عیاشی کے لیے نہیں، کسی دنیوی خواہش کے لیے نہیں بلکہ محض خداتعالیٰ اور اسلام کی خاطر ایک سے زیادہ شادیاں کرو تو تمہاری تعداد بہت زیادہ ہو جائے گی۔ مثلاً اگر تم میں سے ہر مرد تین تین شادیاں کرے تو ایک ہی نسل سے تمہاری آبادی پانچ فیصدی سے پندرہ فیصدی ہو جائے گی۔ گویا پہلے اگر تم چودہ فیصدی تھے تو اب تم انتیس فیصدی ہو جاؤ گے۔ پھر آگے جو اولاد ہو گی وہ بھی شادی کرے گی۔ ہمارے ملک میں بالعموم ایک سال میں ایک فیصدی نسل بڑھتی ہے۔ اِس طرح تمہاری نسل چار فیصدی بڑھے گی۔ پھر اگر تمہاری اولاد اسی اصول پر عمل کر ے تو تم دو نسلوں میں پچاس فیصدی ہو جاؤ گے۔ لیکن میں نے کہا میں جانتا ہوں کہ تم لوگوں نے میری اِس نصیحت پر عمل نہیں کرنا۔ اس لیے کہ اِس وقت خود تم میں اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم سے محبت نہیں رہی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی باتیں جو حکمت سے پُر تھیں تم انہیں محض یورپ کی نقل میں ترک کر رہے ہو۔
    پچھلی جنگِ عظیم کے بعد میں نے بعض جرمن مصنفین کی کتب پڑھیں۔ انہوں نے لکھا تھا کہ یہ مسئلہ اب قابلِ۔غور ہے کہ لوگ ایک سے زیادہ شادیاں کریں ورنہ ہماری قوم کی نسل ختم ہو جائے گی۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد تو حالات پہلے سے بھی زیادہ نازک ہو۔گئے۔تھے۔
    غرض تبلیغ اور کثرتِ ازدواج ایسے اہم مسائل ہیں کہ اگر مسلمان ان پر عمل کرتے تو۔خوردبین لگا کر بھی کوئی غیرمسلم نظر نہ آتا لیکن مسلمانوں نے تبلیغ کے عظیم الشان حکم کو بھی چھوڑا اور کثرتِ ازدواج کے متعلق جو حکم دیا گیا تھا اُس پر بھی عمل پیرا نہ ہوئے۔ وہ شخص کہنے لگا ہم لوگ تو غریب ہیں۔ اگر ہم کثرتِ ازدواج کے حکم پر عمل کریں گے اور زیادہ اولاد پیدا کریں گے تو ہم بھوکے مر جائیں گے۔ ہم تو پہلے ہی بھوکوں مر رہے ہیں۔ ہماری اولاد کہاں سے کھائے گی۔ میں نے کہا یہاں قانونِ قدرت تمہاری مدد کرے گا۔ دنیا میں جتنی بغاوتیں ہوئیں ہیں وہ مالداروں نے نہیں کیں، غرباء نے کی ہیں۔ مالداروں نے یوں کوئی جتھا بنا لیا ہو تو اَور بات ہے عام بغاوت کبھی اُن کے ذریعہ سے نہیں ہوئی(جیسے ہمارے ملک میں اسلامی جماعت ہے۔ محض بعض مفادات کے حصول کی خاطر اس نے ایک جتھا بنا لیا ہے۔ یہ ایک استثنائی اور بناوٹی صورت ہے)۔ پس امراء کی وجہ سے کسی ملک میں بغاوت کی عام آگ نہیں لگی۔ جب بھی کسی ملک میں بغاوت کی آگ لگی ہے ،بھوکوں سے لگی ہے۔ فرانس کی تاریخ پڑھ لو جب وہاں بغاوت ہوئی ہے، غرباء اور بھوکوں کی وجہ سے ہی ہوئی ہے۔ عوام بادشاہ کے خلاف اُٹھے۔ وہ فاقہ۔زدہ تھے۔ ان کی مالی حالت بالکل گر چکی تھی۔ انہوں نے جوش میں آ کر قصرِشاہی کے سامنے مظاہرہ کیا۔ امراء اپنی حالت میں مست تھے۔ انہیں غرباء کی زبوں حالی کا احساس تک نہیں تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ جس طرح ہم بے فکر ہیں اُسی طرح دوسرے لوگ بھی ہوں گے حالانکہ غرباء فاقے کر رہے تھے۔ چنانچہ وہ ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوئے اور قصرِشاہی کے دروازہ کے سامنے جا کر انہوں نے فرانسیسی زبان میں روٹی روٹی کا نعرہ لگایا۔ ملکہ محل سے باہر گئی ہوئی تھی۔ جب وہ واپس لوٹی اور اس نے ہجوم کو دیکھا تو اس نے دریافت کیا کہ یہ کیسا ہجوم ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ فاقہ۔زدہ لوگ ہیں اور روٹی روٹی پکار رہے ہیں۔ تاریخ میں یہ واقعہ آتا ہے اور لوگ اسے پڑھ کر ہنستے ہیں کہ وہ ملکہ کس قدر احمق تھی۔ اس نے کہا اگر ان لوگوں کو روٹی نہیں ملتی تو کیک کھا لیں۔ اُس احمق کو یہ پتا نہیں تھا کہ جس شخص کو روٹی نہیں ملتی اُسے کیک تو کسی صورت میں نہیں مل سکتے۔ غرض فرانس میں جو بغاوت ہوئی وہ غرباء نے ہی کی تھی۔ روس میں جو بغاوت ہوئی اور جس کے نتیجہ میں بالشوازم قائم ہوئی وہ بھی غرباء ہی کے ذریعہ سے ہوئی۔ پھر جرمنی میں بغاوت ہوئی یہ بھی غرباء نے ہی کی تھی۔ اگر عوام کی حالت خراب نہ ہوتی تو ہٹلر کسی صورت میں بھی ترقی نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے لوگوں کو بتایا کہ حکومت اور امراء تمہارا خون چُوس رہے ہیں، وہ تمہارے ہمدرد نہیں ہیں۔ اس طرح وہ اس کے ہاتھ پر جمع ہو گئے۔ اس لیے اس نے اپنی پارٹی کا نام نیشنل سوشلسٹ رکھا۔ پھر اٹلی میں مسولینی آیا۔ وہ بھی پہلے سوشلسٹ تھا۔ اس نے اپنے نظام میں یہ چیز رکھی کہ ملک میں جو مزدوروں اور پیشہ وروں کی انجمنیں تھیں اُن سے حکومت کا انتخاب کرایا۔ غرض جب بھی کسی ملک میں عام بغاوت ہوئی ہے وہ بھوکوں سے ہوتی ہے۔ میں نے اس شخص سے کہا تمہارے لیے خداتعالیٰ نے یہ رستہ کُھلا رکھا ہے۔ جب تمہارے بچے بھوکے ہوںگے تو وہ دولت پر قابض لوگوں کے خلاف بغاوت کر دیں گے۔ تم انہیں بھوکے مرنے دو کیونکہ اِسی میں تمہاری نجات ہے۔ تم اپنی نسل بڑھاتے جاؤ۔ جب تمہاری اولاد بھوکوں مرے گی تو خود اُٹھے گی اور حکومت پر قبضہ کرے گی لیکن میری ان باتوں کا اُس پر کوئی اثر نہ ہوا۔ وہ شاید یہ سمجھا کہ میں تو اِنہیں عقلمند سمجھ کر آیا تھا لیکن انہوں نے تو ملّاؤں والی باتیں شروع کر دی ہیں اور قرآن اور حدیث کو پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ آج تو یہ زمانہ تھا کہ گاندھی جی کی تعلیم اور فلسفہ کو پیش کیا جاتا، یورپین تہذیب اور تعلیم کو پیش کیا جاتا۔ مگر یہ تو کہیں کے کہیں چلے گئے۔
    لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی ترقی کا راز انہی دو چیزوں میں مضمر ہے کہ تبلیغ کی جائے اور کثرتِ ازدواج سے اولاد کو بڑھایا جائے۔ تبلیغ سے ایک یہ فائدہ بھی ہو گا کہ مسلمان اپنی اصلاح کریں گے کیونکہ جب وہ دوسرے لوگوں کے پاس جائیں گے اور انہیں اسلام کی دعوت دیں گے تو وہ ان کی حالت کو دیکھ کر یہ کہیں گے کہ تم خود نماز نہیں پڑھتے، تم خود حج نہیں کرتے، تم خود زکوٰۃ نہیں دیتے، تم خود غرباء اور مساکین کا خیال نہیں رکھتے پھر تم ہمیں یہ تعلیم کس طرح دیتے ہو؟ اس پر تبلیغ کرنے والا شرمندہ ہو گا اور اپنی اصلاح کرے گا۔ پھر تبلیغ کے نتیجہ میں یہ بات لازمی ہے کہ دوسرے لوگ اسلام میں داخل ہوں گے اور اس طرح مسلمانوں کی تعداد بڑھے گی اور کثرتِ ازدواج سے تعداد اَور بھی بڑھے گی۔
    پھر یہ بھی ایک قانون ہے کہ جب کوئی قوم بڑھنا شروع کرتی ہے تو دوسری قوم کی تعداد خودبخود کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ امریکہ میں یورپین گئے تو ان لوگوں کی آبادی روزبروز بڑھتی گئی اور ریڈانڈینز جو پہلے لاکھوں کی تعداد میں تھے ان کی نسل ختم ہونے لگی۔ پہلے وہ لاکھوں کی تعداد میں تھے اور اب ان کی کُل تعداد اندازاً دس ہزار ہے۔ آسٹریلیا میں بھی یہی ہوا۔ تاریخ سے ہمیں کوئی ایسا ثبوت نہیں ملتا کہ حکومت نے پرانے باشندوں کو قتل کر کے ختم کیا ہو لیکن آجکل وہ صرف چند درجن کی تعداد میں ہیں۔ غرض جب کوئی قوم بڑھنا شروع کر دیتی ہے تو دوسری قوم پر نفسیاتی اثر پڑتا ہے کہ اب ہم مرے اور واقع میں ان کی نسل کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ پس اگر مسلمانوں کی تعداد بڑھے گی تو قانونِ قدرت کے ماتحت جو ہر جگہ چل رہا ہے اور ہر ملک میں اس کا اثر نظر آتا ہے اور اس میں کوئی اختلاف نظر نہیں آتا دوسری اقوام کی تعداد کم ہوتی چلی جائے گی۔ ہم نے دنیا میں کہیں نہیں دیکھا کہ دونوں مخالف کیمپ ہوں اور پھر دونوں کی نسل بڑھ رہی ہو۔ جب بھی کہیں دو مخالف کیمپ ہوں گے ان میں سے ایک کی تعداد بڑھے گی تو دوسرے کی تعداد خودبخود کم ہونا شروع ہو جائے گی۔ تاریخی شواہد اس کے حق میں ہیں۔ مسلم۔لیگ کے بعض ممبر بجائے اس کے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شکرگزار ہوتے کہ آپ اتنی اعلیٰ اور شاندار تعلیم لائے، بجائے اس کے کہ وہ صحابہؓ۔ کی قدر کرتے کہ انہوں نے اسلام کی تعلیم پر عمل کر کے دکھا دیا وہ خود مسلمان کہلانے کے باوجود حیا اور ایمان سے اتنے دور ہو گئے کہ انہوں نے تقاضا کیا کہ اب کثرتِ ازدواج کو حُکماً روکا جائے۔ اگر اِس قسم کی حکومت قائم ہو جاتی تو معلوم نہیں وہ اسلام کے خلاف کیا کیا کرتی؟ عوام تو صرف نعرے لگاتے ہیں۔ ان کے سامنے کچھ بھی ہو وہ ’’زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگا دیں گے۔
    ایک دفعہ ایک امریکن نمائندہ ایشیا کے حالات معلوم کرنے کے لیے پاکستان آیا۔ وہ مجھ سے بھی ملنے آیا۔ وہ یہ دیکھنے آیا تھا کہ پاکستان میں اور ایشیا کے دوسرے ممالک میں کمیونزم کے پھیلنے کے امکانات کس حد تک ہیں۔ اس نے کہا مجھے یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی ہے کہ پاکستان میں کمیونزم پنپ نہیں سکتا۔ میں نے کہا اگر تم نے یہ نتیجہ نکالا ہے تو تم اپنے ملک کے لوگوں کو گمراہ کرو گے۔ اس نے کہا کیسے؟ پاکستان کے باشندوں کی اکثریت مسلمان ہے اور اسلام میں ایسے احکام پائے جاتے ہیں جو کمیونزم کو بڑھنے نہیں دیتے۔ میں نے کہا تم صحیح تحقیقات نہیں کر سکے۔ کمیونسٹ جب بھی شرارت کرائیں گے یہاں کرائیں گے۔ اس نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ یہاں تو اکثر تعداد ایسے لوگوں کی پائی جاتی ہے جو مسلمان ہیں اور مذہباً کمیونزم کے خلاف ہیں اور کمیونسٹ نہایت تھوڑی تعداد میں ہیں۔ میں نے کہا آج دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں جو دوسرے ملک کی مدد کے بغیر لڑائی جاری رکھ سکے۔ بھارت میں کمیونسٹ زیادہ ہیں اور پاکستان میں کم۔ بھارت کے کمیونسٹ پہلے پاکستان میں شرارت کرائیں گے تا۔کہ بوقت ضرورت ان کی مدد ہو سکے۔ لیکن اگر بھارت میں شرارت ہو تو چونکہ پاکستان میں کمیونسٹ بہت کم تعداد میں پائے جاتے ہیں اس لیے یہ بھارتی کمیونسٹوں کی مدد نہیں کر سکیں گے۔ پس اگر کوئی سیاسی تغیر واقع ہوا تو پہلے یہاں ہو گا پھر ہندوستان میں ہو گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہاں اسلام کی تعلیم بیشک موجود ہے لیکن اسلامی کہلانے والی جماعت ہی کمیونسٹ ہے۔ اس ملاقات سے پہلے یہ بات مشہور تھی کہ اسلامی جماعت کو کسی بیرونی ملک سے امداد ملتی ہے اور وہ بیرونی ملک امریکہ ہے۔ مسلم لیگ کے ایک سیکرٹری نے بھی مجھے بتایا کہ اسلامی۔جماعت کو امریکہ سے مدد آ رہی ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات درست نہیں۔ دینے والا بتاتا تو نہیں لیکن اس امریکن کے سامنے جب میں نے یہ فقرہ کہا کہ یہاں ایک اسلامی۔جماعت کہلانے والی ہی کمیونسٹ ہے تو وہ بے ساختہ کہنے لگا امریکہ میں تو ہم اِنہیں کو اسلام کا سب سے بڑا نمائندہ سمجھتے ہیں۔ اس سے میں نے معلوم کر لیا کہ اسلامی جماعت کے متعلق مشہور ہے کہ اُسے امریکہ سے مدد آ رہی ہے یہ درست ہے اور اب تو تازہ اطلاع نے اس کی اَور تصدیق کر دی ہے ہمارے آدمیوں نے اطلاع دی ہے کہ اسلامی جماعت کا ایک وفد جو چار آدمیوں پر مشتمل ہے امریکہ کا مخفی دورہ کر رہا ہے۔
    بہرحال میں نے اُس امریکن سے کہا آپ نے حالات کا پوری طرح معائنہ نہیں کیا۔ کسی سے بعض باتیں سُن لی ہیں اور اُنہی پر اعتبار کر لیا ہے۔ لیکن یہاں تو یہ حالت ہے کہ اس بات کا سوال ہی نہیں کہ اسلام میں کیا باتیں پائی جاتی ہیں۔ ہمارا تو ملک نعروں پر چل رہا ہے۔ مثلاً ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ قرآن کریم کی کوئی آیت بلکہ کوئی شوشہ بھی منسوخ نہیں اور آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس میں قرآن کریم اور اسلام کی برتری ہے لیکن دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کریم کا ایک حصہ منسوخ ہے۔ اب تم کسی مُلّا کو کسی سٹیج پر کھڑا کر دو اور وہ یہ کہے کہ دیکھو! یہ جماعت اِس بات کو مانتی ہے کہ قرآن کریم منسوخ نہیں، اس کا ہر حصہ قابلِ۔عمل ہے۔ لیکن ہم کہتے ہیں اس کا ایک حصہ منسوخ ہے۔ بولو! نعرہ تکبیر۔ تو اس پر سب حاضرین اللّٰہ۔اکبر کا نعرہ لگا دیں گے اور یہ نہیں سوچیں گے کہ کہنے والا کیا کہہ رہا ہے۔ میں نے کہا یہاں تو لوگ بھوکوں مرتے ہیں۔ ایک مولوی کی ماہوار آمد تین ڈالر سے بھی کم پڑتی ہے۔ میں نے اندازہ لگایا ہے کہ ایک مولوی کی ماہوار آمد نو روپے ہے۔ اب ایک نو روپے لینے والا جسے لوگ ’’کمّی‘‘ سمجھتے ہیں اور جس سے اپنے مُردے نہلواتے ہیں اُس کی مذہبی حالت کیا ہو گی۔ ایسے شخص کو جو بھی کچھ دے گا وہ اُس کی ہاں میں ہاں ملا دے گا۔
    حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ ایک مولوی سے میرے دوستانہ تعلقات پیدا ہو گئے۔ ایک دن ایک شخص میرے پاس آیا اور اُس نے کہا آپ فلاں مولوی کی اتنی عزت کرتے ہیں حالانکہ وہ اتنا بے۔ایمان ہے کہ اُس نے فلاں عورت کا نکاح ایک دوسرے مرد سے پڑھ دیا ہے۔ حالانکہ اُس کا پہلا خاوند موجود ہے اور ابھی اُس نے اُسے طلاق نہیں دی۔ گویا نکاح پر نکاح پڑھ دیا ہے۔ میں نے کہا میں یہ بات نہیں مان سکتا۔ اُس شخص نے کہا اگر آپ کو شبہ ہو کہ جو میں کہہ رہا ہوں وہ غلط ہے تو آپ مولوی صاحب سے پوچھ لیں کہ آیا انہوں نے نکاح پر نکاح پڑھا ہے یا نہیں۔ میں نے یہ بات اپنے ذہن میں رکھی۔ کچھ دنوں کے بعد مولوی صاحب مجھ سے ملنے کے لیے آئے تو میں نے انہیں کہا میں نے آپ سے ایک بات کہنی ہے۔ کسی شخص نے آپ کے متعلق مجھ سے ایک بات بیان کی تھی۔ میں نے اس کی تردید تو کر دی تھی اور کہا تھا میں نہیں مانتا لیکن اُس نے کہا تھا آپ مولوی صاحب سے ہی پوچھ لیں۔ مجھے اعتبار تو نہیں کہ آپ نے ایسا کیا ہو، تاہم آپ سے ذکر کر دیتا ہوں۔ اُس نے مجھ سے آ کر کہا تھا کہ آپ نے ایک منکوحہ عورت کا نکاح جس کا پہلا خاوند زندہ ہے اور طلاق واقع نہیں ہوئی کسی دوسرے مرد سے پڑھ دیا ہے۔ مولوی صاحب نے کہاکہ آپ فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کریں۔ آپ میری بات بھی سن لیں۔ میں نے کہا فرمائیے۔ اس پر وہ کہنے لگا آپ خود ہی انصاف کریں کہ ’’اُنہاں چڑی جِڈّا روپیہ کڈھ کے میرے ہتھ تے رکھ دتّا تے میں کی کردا‘‘۔یعنی جب انہوں نے میرے سامنے ایک چڑیا کے برابر روپیہ رکھ دیا تو میں نکاح
    پڑھانے کے سوا اَور کیا کر سکتا تھا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے میں نے اُسی دن
    سے اُس سے اپنے تعلقات منقطع کر لئے۔ اب جو مولوی اس حیثیت کے ہوں اُنہیں قابو میں لانا کونسی مشکل بات ہے۔ کمیونسٹ چند لوگ خرید لیں گے، چاہے وہ اسلامی جماعت کے ہوں یا کسی اَور جماعت کے۔ اور انہیں ہزارہزار، دودوہزار روپیہ ماہوار تنخواہ دے دیں گے اور وہ دوسرے مولویوں کو اپنے ساتھ ملا لیں گے۔ اگر انہوں نے مولویوں کو بلایا اور انہوں نے دیکھا کہ بڑے بڑے لوگ کمیونسٹوں میں شامل ہیں اور ان لوگوں نے انہیں اپنے ساتھ کرسیوں پر جگہ دے دی تو وہ اسی میں خوش ہو جائیں گے۔ اگر وہ لوگ اس 9 روپے آمد والے مولوی سے یہ کہیں گے کہ تم یہ تقریر کرو کہ اسلام سے یہ ثابت ہے ’’خدا کوئی نہیں‘‘ تو وہ بڑی خوشی سے منبر پر آکر تقرر کر دے گا کہ خدا کوئی نہیں۔ فلاں شخص کہتا ہے’’ خدا ہے‘‘ اور اُس کی یہ۔یہ صفات ہیں لیکن یہ بات اسلام کے خلاف ہے۔ بولو! نعرہ تکبیر۔ اور جاہل عوام فوراً اللّٰہ۔اَکْبَرکا نعرہ لگا دیں گے۔ میں نے جب اُس امریکن سے یہ باتیں کیں تو وہ سخت حیران ہوا اور کہنے لگا میں تو نہایت اطمینان سے جار ہا تھا اور سمجھتا تھا کہ پاکستان میں کمیونزم کے پھیلنے کا کوئی امکان نہیں۔ میں نے کہا آپ کا اندازہ غلط ہے۔ یہاں کمیونزم بآسانی پھیل سکتا ہے اور اسے پھیلانا جماعت۔اسلامی اور بعض اُن کے تابع مولویوں نے ہے اور بھارت کے کمیونسٹوں نے ہندوستان سے پہلے یہاں بغاوت کروانی ہے۔
    اس سلسلہ میں ایک اَور مولوی کا واقعہ بھی بیان کر دیتا ہوں۔ ایک مولوی حضرت۔مسیح۔موعود علیہ۔الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتا تھا اور گو وہ احمدی نہیں تھا مگر اُسے آپ سے عقیدت تھی۔ وہ ایک دفعہ آپ کو ملنے کے لیے آیا اور اُس نے کہا مجھے آپ سے ایک شکوہ ہے۔ آپ نے یہ کیا کیا کہ وفاتِ مسیح کا اعلان کر دیا؟ آپ نے فرمایا اس میں غلطی کا کیا سوال ہے؟ خداتعالیٰ کا حکم تھا میں نے اس کی تعمیل کر دی۔ اُس نے کہا آپ نے یہ خیال نہیں کیا کہ مولوی یہ بات سنیں گے تو آپ کی سخت مخالفت کریں گے۔ آپ نے پہلے انہیں قابو کر لینا تھا۔ آپ نے فرمایا وہ کس طرح؟ اس نے کہا جب آپ نے وفاتِ مسیح کا اعلان کرنا تھا تو مولویوں کو ایک بہت بڑی دعوت دینی تھی اور یہ دعوت بھی لاہور یا دلّی جیسے کسی۔شہر میں دینی تھی۔ اُس میں آپ اچھے اچھے کھانے پکواتے اور ہر مولوی کو کچھ نہ کچھ نذرانہ دیتے اور پھر اُن کے سامنے یہ مسئلہ رکھتے کہ اسلام پر ایک بھاری مصیبت آئی ہوئی ہے۔عیسائی ترقی کر رہے ہیں اور اسلام روزبروز تنزل میں جا رہا ہے۔ عیسائی اس تعلیم پر زور دیتے ہیں کہ ہمارا مسیح زندہ ہے اور آسمان پر بیٹھا ہے اور تمہارا نبی زمین میں مدفون ہے۔ اور یہ صرف ہم ہی نہیں کہتے بلکہ تمہارا اپنا عقیدہ بھی یہی ہے کہ مسیح دوبارہ آئے گا۔ مولویوں نے اس پر کہنا تھا کہ بات تو بڑی کٹھن ہے۔ آپ ہی کوئی تجویز بتائیں کہ اس مشکل کو کس طرح دور کیا جائے۔ آپ کہتے آپ لوگ علماء ہیں آپ ہی اس بات پر غور کر کے کوئی فیصلہ کریں۔ میں اس کے متعلق کیا کہہ سکتا ہوں۔ میری رائے تو یہی ہے کہ ہمیں اس غلط عقیدہ نے سخت نقصان پہنچایا ہے کہ حضرت مسیح آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا عظیم۔الشان وجود بھی وفات پا گیا تو اَور کوئی موت سے کس طرح بچ سکتا ہے؟ اس پر مولویوں نے کہنا تھا کہ آپ بِسْمِ اللّٰہ کریں اور وفاتِ مسیح کا اعلان کر دیں۔ جب آپ ان کے منہ سے یہ بات کہلوا لیتے تو پھر دوسری بات یہ پیش کر تے کہ اگر ہم نے یہ کہا کہ مسیح مر گیا ہے اور
    آسمان پر زندہ موجود نہیں تو عیسائی کہیں گے وہ مسیح جس نے دوبارہ آنا تھا وہ کہاں سے آئے گا۔ آپ علماء ہیں آپ بتائیں کہ ہم اس اعتراض کا کیا جواب دیں گے؟ اس پر مولوی۔صاحبان نے پھر یہی کہنا تھا کہ آپ ہی بتائیں اس کا کیا جواب ہے۔ اس پر آپ پھر کہتے کہ میں کیا کہہ سکتا ہوں آپ لوگ علماء ہیں جواب تو آپ ہی دے سکتے ہیں۔ اِس پر علماء نے تنگ آ کر خود ہی کہنا تھا کہ پھر ہم کہہ دیں گے کہ وہ مسیح اِسی امت سے آنا ہے۔ اس پر آپ کہتے کہ اگر انہوں نے یہ کہا کہ آمدِ مسیح کی علامات تو پوری ہو رہی ہیں۔ وہ مسیح کہاں ہے تو اس کا کیا جواب دیں؟ وہ پھر آپ سے کہتے کہ آپ جواب سمجھائیں۔ آپ پھر ان سے کہتے کہ نہیں یہ مقام آپ کا ہی ہے کہ آپ جواب دیں۔ اس پر پھر وہ خود کہتے کہ پھر آپ دعوٰی کر دیں کہ میں ہی وہ مسیح ہوں۔ اس طرح بغیر مولویوں کو اشتعال دلانے کے آپ کا کام ہوجاتا۔ اِس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مسکرائے اور فرمایا اگر یہ انسانی منصوبہ ہوتا تو میں ایسا ہی کرتا لیکن یہ تو خداتعالیٰ کا حکم تھا۔ اس میں انسانی تدبیر کا کوئی دخل نہیں۔
    پس حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک کی حالت جہالت کی وجہ سے اس حد تک گِر چکی ہے کہ تعلیم یافتہ طبقہ کے نزدیک اسلام کی تعلیم یورپین طرزِعمل کے سامنے قابلِ۔ندامت ہے۔ ان کے نزدیک ضروری ہے کہ مذہب کو یورپ کے طریقِ عمل کے مطابق بدل دیا جائے اور مسیحیت کی حکومت کو اسلام کے نام سے اس ملک میں قائم کیا جائے۔ گویا تعلیم یافتہ لوگ تو مغرب۔زدہ ہونے کی وجہ سے مغربیت کو قائم کرنا چاہتے ہیں اور ہمارے علماء ناسمجھی کی وجہ سے دین کو جہالت کی طرف لے جا رہے ہیں۔ مشہور مقولہ ہے کہ ـ’’دو ملّاؤں میں مرغی حرام‘‘۔ایک طرف تو مغرب زدہ لوگ ہیں اور ایک طرف علماء ہیں اور ان میں سے ایک یورپ کے طرزِعمل کو ملک میں جاری کرنا چاہتا ہے اور دوسرا نادانی اور جہالت کے طریق کو، اور اسلام بیچ میں خراب ہو رہا ہے۔
    پس ابھی مشکلات باقی ہیں اور جس خدا نے انہیں وقتی طور پر ٹالنے کے سامان مہیا کر دیئے ہیں وہ انہیں مستقل طور پر دور کرنے کے سامان بھی مہیا کر سکتا ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ پاکستان کا ہر ایک آدمی آج ہی اپنی اصلاح کر لے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ پاکستان والے ایسی تعلیموں پر زور نہ دیں جن کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم لوگوں کی نظروں میں ذلیل ہوں، جن کی وجہ سے صحابہ کرامؓ لوگوں کی نظروں میں ذلیل ہوں۔ وہ اس قسم کے قانون نہ بنائیں جن کی وجہ سے وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ۔ کو مجرم قرار دیں۔ آخر ہم ان سے پوچھ سکتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کس مجسٹریٹ سے اجازت لے کر ایک سے زیادہ شادیاں کی تھیں؟حضرت ابوبکرؓ نے کس مجسٹریٹ سے اجازت لے کر ایک سے زائد شادیاں کی تھیں؟ حضرت عمرؓ نے کس مجسٹریٹ سے اجازت لے کر ایک سے زائد شادیاں کی تھیں؟ حضرت عثمانؓ نے کس مجسٹریٹ سے اجازت لے کر ایک سے زائد شادیاں کی تھیں؟حضرت حسنؓ نے کس مجسٹریٹ سے اجازت لے کر ایک سے زائد شادیاں کی تھیں؟ اِسی طرح اَور اولیاء اور صوفیاء جو امت میں گزرے ہیں انہوں نے کس مجسٹریٹ سے اجازت لے کر ایک سے زیادہ شادیاں کی تھیں؟ ضرورت تو اس بات کی تھی کہ اسلام کے اس قانون پر عمل کرنے کے سلسلہ میں جو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں انہیں دور کیا جاتا اور۔ایسے قوانین بنائے جاتے کہ کوئی شخص اپنے عمل سے اسلامی احکام کو بدنام نہ کر سکتا۔ مثلاً جب ایک سے زائد شادیاں کی جاتی ہیں تو اکثر یہ ہوتا ہے کہ پہلی بیوی کو کَالْمُعَلَّقَۃِ چھوڑ دیا جاتا ہے اور دوسری بیوی کے ساتھ عیش منایا جاتا ہے۔ پہلی بیوی کے بچوں کی تعلیم کی طرف کوئی توجہ نہیں کی جاتی اور دوسری بیوی کے بچوں کو ہر قسم کی سہولتیں دی جاتی ہیں۔ ایسی مثالیں ان لوگوں میں بھی پائی جاتی ہیں جو اپنے آپ کو قوم کا لیڈر سمجھتے ہیں۔ اگر ضرورت ہو تو ایک مجلس قائم کی جائے۔ اس مجلس میں ہم ان لیڈروں کی مثالیں بیان کر دیں گے۔ پس ضرورت اِس بات کی تھی کہ ایسا قانون بنایا جاتا کہ اگر کوئی شخص اسلام کے احکام کے ماتحت ایک سے زیادہ شادیاں کرے گا تو اسے اپنی سب بیویوں میں انصاف کرنا پڑے گا۔ اسے پہلی بیوی اور اس کے بچوں کو بھی دوسری بیوی اور اس کے بچوں کے برابر خرچ دینا پڑے گا اور اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو ہم اسے سزا دیں گے۔
    اسی طرح اسلام میں خلع کا قانون ہے لیکن ہو تا یہ ہے کہ مرد جب چاہتا ہے اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے۔ لیکن عورت اگر چاہے تو خلع نہیں کرا سکتی۔ ہم نے اس قانون کو اپنی جماعت میں جاری کیا ہے۔ لیکن ہمارے اندر اِتنی طاقت نہیں کہ ہم اس قانون کو سارے ملک میں جاری کر سکیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے نفرت کرتی ہے تو وہ اُس سے الگ ہو سکتی ہے2 کیونکہ تعلقاتِ زوجیت محبت پر مبنی ہوتے ہیں۔ اگر محبت نہیں رہی تو وہ اپنے خاوند سے الگ ہو جائے۔ اگر مرد کہتا ہے کہ اس کی بیوی کے اس سے اچھے تعلقات نہیں تو رشتہ داروں کا ایک بورڈ بیٹھے گا اوروہ اس امر کی تحقیقات کرے گا۔ اگر اس کی بات درست ثابت ہوئی تو اُسے کہا جائے گا کہ تم اسے طلاق دے دو۔ اور اگر عورت کہتی ہے کہ اس کے خاوند کے اس سے اچھے تعلقات نہیں تو اس طرح کا ایک بورڈ عورت کے متعلق بیٹھے گا جو معاملہ کی تحقیقات کرے گا اور اگر واقعہ درست ثابت ہوا تو عورت کو خلع کی درخواست قضا میں پیش کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
    پس یہاں اس قسم کے قوانین بننے چاہیے تھے کہ اسلامی احکام کا ناجائز استعمال نہ ہو۔ ہمارے ملک میں عام رواج ہے کہ معمولی سے جھگڑے پر وہ اپنی بیوی کو کہہ دیتے تھے تمہیں تین طلاق، تمہیں تین ہزار طلاق، تمہیں تین کروڑ طلاق، تمہیں تین ارب طلاق۔ یہی رواج حضرت عمرؓ کے زمانہ میں بھی عربوں میں ہو گیا۔ اب ملّاں کہتا ہے کہ مرد کے تین طلاق کہنے پر تین طلاق واقع ہو جاتی ہیں۔ حالانکہ اسلام نے اس بیوقوفی کی اجازت نہیں دی بلکہ اس طریق کو ناجائز قرار دیا ہے۔ اسلام نے یہ حکم دیا ہے کہ جس طُہر میں خاوند بیوی کے پاس نہ گیاہو اُس طُہر میں طلاق دی جائے۔ اگر یہ امر ثابت ہو جائے کہ اس طُہر میں وہ اپنی بیوی کے پاس گیا تھا تو طلاق واقع نہیں ہو گی۔ پھر آجکل کا ملّاں کہتا ہے کہ تین دفعہ یکدم طلاق دینے کے بعد عورت سے دوبارہ نکاح نہیں ہو سکتا۔ حالانکہ اگر ایک عورت کو دس ہزار دفعہ بھی یکدم طلاق دے دی جائے تو وہ ایک ہی طلاق شمار کی جائے گی اور اس کے بعد عدّت میں اسے رجوع کا اختیار حاصل ہو گا۔ اگر مرد اس عرصہ میں رجوع نہیں کرتا اور عدت گزر جاتی ہے تو عورت پر طلاق واقع ہو جائے گی اور دوبارہ تعلق صرف نکاح سے ہی قائم ہو سکے گا۔لیکن اگر نکاح کے بعد مرد پھر کسی وقت عورت کو طلاق دے دیتا ہے اور عدت میں رجوع نہیں کرتا تو یہ دوسری طلاق ہو گی۔اس کے بعد بھی نکاح کے ذریعہ مرد و عورت میں تعلق قائم ہو سکتا ہے۔ لیکن ان دو نکاحوں کے بعد اگر پھر وہ کسی وقت غصہ میں طلاق دے دیتا ہے اور عدّت میں رجوع بھی نہیں کرتا تو اس کے بعد اسے اپنی بیوی سے نکاح کی اجازت نہیں ہو گی۔ جب تک وہ اَور نکاح مکمل نہ کرے۔ اور درحقیقت اس قسم کی دوطلاقوں کے بعد کوئی پاگل ہی ہو گا جو تیسری طلاق دے۔ اور اگر وہ دیتا ہے اور پھر عرصہ عدّت میں رجوع بھی نہیں کرتا تو شریعت اس عورت کے ساتھ اسے نکاح کی اجازت نہیں دیتی۔ لیکن آجکل کے ملّا منہ سے تین طلاق کہہ دینے پر ہی اس عورت کو مرد پر حرام کر دیتے ہیں اور دوبارہ نکاح کو ناجائز قرار دے دیتے ہیں۔ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں اس قسم کے واقعات کثرت سے ہوئے تو آپ نے فرمایا اب اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بیک وقت ایک سے زیادہ طلاقیں دے گا تو میں سزا کے طور پر اس کی بیوی کو اُس پر ناجائز قرار دے دوں گا۔ جب آپ پر یہ سوال ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ایسا حکم نہیں دیا پھر آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ منشا تھا کہ اِس قسم کی طلاقیں رُک جائیں۔ چونکہ تم اس قسم کی طلاق دینے سے رُکتے نہیں اس لیے میں بطور سزا اس قسم کی طلاق کو جائز قرار دے دوں گا۔3 چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا اور آپ کا ایسا کرنا ایک وقتی مصلحت کے ماتحت تھا اور صرف سزا کے طور پر تھا مستقل حکم کے طور پر نہیں تھا۔
    غرض مسلم لیگ پر بہت بڑی ذمہ داری تھی۔ اسے چاہیے تھا کہ وہ اس قسم کے قوانین کی طرف دستورساز اسمبلی کو توجہ دلاتی جن کے ذریعہ اسلامی احکام پر عمل کرایا جاتا۔ مگر بجائے اس کے کہ وہ لوگوں کی غلطیوں کی اصلاح کرتی اس نے شریعت کے احکام میں اصلاح کرنی شروع کر دی اور یہ فیصلہ کر دیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مجرم ہیں۔ یہ کتنی افسوسناک اور شرمناک بات ہے۔ ایسی اسلامی حکومت پر ایک سچا مسلمان کس طرح ناز کر سکتا ہے؟ اگر پاکستان میں اِسی قسم کی اسلامی حکومت بننی ہے جس نے اسلامی احکام کو ردّ کرنا ہے اور انہیں ناجائز قرار دیناہے تو ہم یہ تو نہیں کہیںگے کہ خداتعالیٰ ایسی حکومت کو بدل دے۔ خداتعالیٰ نے اس ملک میں دوسَوسال کے بعد مسلمانوں کو آزادی بخشی ہے، اس کے کھوئے جانے کی ہم کبھی خواہش نہیں کر سکتے۔ لیکن یہ ضرور کہیں گے کہ خداتعالیٰ اس قسم کے مسلمانوں کو عقلیں بخشے اور ملک کو ان کے فتنہ سے بچائے۔ بہرحال چونکہ ابھی خدشات باقی ہیں اس لیے تم دعاؤں میں لگے رہو تا۔خداتعالیٰ اسلام کو اِس قسم کے دشمنوں سے محفوظ رکھے اور ایسے لوگوں کو حکومت نہ دے جو۔رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم اور صحابہؓ کی مذمت کرنے والے اور ان پر گند اُچھالنے والے ہوں‘‘۔ (الفضل 5نومبر1954ئ)

    1
    :
    کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال۔ المجلد الثامن۔ الجزء 16۔ صفحہ203۔ حدیث نمبر 45581۔کتاب النکاح۔ حرف النون من قسم الافعال کتاب النکاح۔ الترغیب فیہ۔ بیروت لبنان1998ء میں ’’تَزَوَّجُوا الْوَدُوْدَ الْوَلُوْدَ فَاِنِّیْ مُکَاثِرٌبِکُمُ الْاُمَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃ‘‘کے الفاظ ہیں۔
    2
    :
    صحیح البخاری کتاب الطلاق باب الخلع و کیف الطلاق فیہ
    3
    :
    صحیح مسلم کتاب الطلاق باب طلاق الثلاث

    احباب دعائیں جاری رکھیں کہ اللہ تعالیٰ
    اسلام کی خاطر ملک کو فتنہ و فساد سے بچائے رکھے
    (فرمودہ5نومبر1954ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’آج بھی میںگزشتہ دو جمعوں کے خطبات کے تسلسل میں بعض باتیں بیان کرنا چاہتا ہوں۔پچھلے جمعہ کے خطبہ میں مَیں نے جماعت کے دوستوں کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ انہیں اپنی دعائیں جاری رکھنا چاہییں کیونکہ ہمارا ملک ایک نہایت ہی نازک دور میں سے گزر ہا ہے۔ کچھ خبریں تو اخبارات میں چھپ جاتی ہیں اور کچھ خبریں اخبارات میں نہیں چھپتیں بلکہ منہ۔درمنہ پھیلتی ہیں اور یہ ساری کی ساری خبریں ہمیں بتاتی ہیں کہ ہمارا ملک ابھی فتنہ اور فساد کے خطرہ سے باہر نہیں۔ ایک طرف حکومت کے سربرآوردہ لوگ یہ کوشش کر ہے ہیں کہ کسی طرح ایسے نظام کو قائم رکھ سکیں جو ملک کی بہبودی اور اس کی ترقی کا موجب ہو تو دوسری طرف یہ پروپیگنڈا ہے کہ جس نظام کو انہوں نے توڑا ہے وہ صحیح تھا یا غلط۔ بہرحال وہ ایک۔جمہوری نظام کہلاتا تھا اور جس نظام کو انہوں نے اب قائم کیا ہے وہ صحیح ہو یا غلط بہرحال۔ایک۔آمرانہ نظام ہے۔ چاہے عملی طور پر جمہوری نظام کہلانے والا آمرانہ ہو اور آمرانہ نظام کہلانے والا جمہوری ہو، لیکن بعض اوقات لوگ صرف ظاہری شکل کو دیکھتے ہیں باطنی شکل کی طرف نظر نہیں کرتے۔ چنانچہ بعض لوگ یہ دلیل دینا شروع کر دیتے ہیں کہ ظاہری شکل چاہے کتنی اچھی ہو لیکن جب اس کے پس پردہ آمریت نظر آ رہی ہو تو یہ بات بڑھتے بڑھتے ملک سے جمہوریت کا خاتمہ کر دے گی۔ غرض فلسفیانہ اور منطقیانہ رنگ میں بیسیوں حجتیں پیش کی جا۔سکتی ہیں اور اِس وقت عملی طور پر پیش کی جا رہی ہیں اور مخالف لوگ موجودہ نظامِ حکومت پر نکتہ چینیاں کر رہے ہیں اور ایسے ارادے ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس نظامِ حکومت کا مقابلہ کریں گے ظاہراً تو وہ یہی کہتے ہیں کہ وہ آئینی طور پر اس نظام کو بدلنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن ممکن ہے کہ وہ طاقت کے ذریعہ سے موجودہ نظامِ حکومت کو بدلنے کا طریق اختیار کریں اور اس طرح فساد پیدا ہو۔ پس ملک کے حالات ایسے نہیں کہ ہم ان پر تسلی پا جائیں۔ اور پھر وہ ایسے بھی نہیں کہ ہم انہیں محض دنیوی چیز سمجھ کر نظرانداز کر دیں۔ اس لیے کہ وہ ہم پر براہِ۔راست اثر۔انداز ہوتے ہیں اور آئندہ اثر۔انداز ہوں گے۔ جو جماعت اکثریت میں ہوتی ہے وہ اپنی اکثریت کی وجہ سے یہ نہیں کہہ سکتی کہ ان حالات کا ان کی ذاتوں پر اثر پڑتا ہے کیونکہ اکثریت کی وجہ سے ان کے اندر نظام بدلنے کی طاقت ہوتی ہے۔ پس ان کا جسم بھی محفوظ رہتا ہے اور دین بھی محفوظ رہتا ہے۔ لیکن جب کوئی جماعت تھوڑی تعداد میں ہو اور اس کے افراد کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہو، ان کے حقوق پر اگر پابندیاں لگا دی جائیں اور ان کی آزادی کو سلب کر لیا جائے تو یہ بات ان کے لیے جسمانی ہی نہیں بلکہ دینی بھی ہوتی ہے کیونکہ انہیں نہ دینی حالات کے بدلنے کی توفیق ہوتی ہے اور نہ جسمانی حالات کے بدلنے کی طاقت ہوتی ہے۔ پس موجودہ حالات ہماری جماعت کے لیے ایسے نہیں کہ وہ نظرانداز کیے جاسکیں۔ اس لیے ہمیں ہر وقت دعائیں کرتے رہنا چاہیے۔
    بہرحال اب تک جو کچھ ہوا ہے اس کی بہت سی شکلیں بظاہر نیک معلوم ہوتی ہیں لیکن ایک چیز ایسی ہوا کرتی ہے جو خداتعالیٰ کے خاص مقبول بندوں کے ہاتھوں سے ہوتی ہے۔ اس کے متعلق یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ خداتعالیٰ کا منشا بھی یہی ہے اور ایک چیز ایسی ہوتی ہے جو اگرچہ ہوتی تو ایسے لوگوں سے ہے جو نیک اور دین سے محبت رکھنے والے ہوتے ہیں لیکن ان کے کام کو خداتعالیٰ کا کام نہیں کہا جا سکتا۔ اس لیے ممکن ہے کہ گاڑی چلتے چلتے کسی جگہ اپنا راستہ بدل لے۔ جو گاڑی خداتعالیٰ کے ہاتھ میں ہوتی ہے وہ تو چاہے تیز چلے یا آہستہ، بہرحال سیدھی چلتی چلی جائے گی۔ لیکن جو گاڑی خداتعالیٰ کے ہاتھ میں نہیں ہوتی گو اسے چلاتے نیک اور دین سے محبت رکھنے والے لوگ ہی ہیں لیکن چونکہ وہ پورے طور پر خداتعالیٰ کے ہاتھ میں نہیں ہوتی اس لیے ہر وقت یہ خطرہ ہوتا ہے کہ شیطان انہیں دھوکا نہ دے دے یا طاقت پا کر وہ اپنے ارادوں کو تبدیل نہ کر دیں۔ چونکہ ان کے ہاتھ پر خداتعالیٰ کا ہاتھ نہیں ہوتا اس لیے وہ ذمہ دار نہیں ہوتا کہ وہ اس کام کو اسی صورت میں ختم کرے جس صورت میں ان لوگوں کو ارادہ ہوتا ہے۔ پس ایسی حالت میں دعاؤں کی اہمیت اَور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ گو وہ ایک نیک تحریک ہوتی ہے لیکن وہ خداتعالیٰ کے خاص مقبول لوگوں کے ذریعہ جاری نہیں ہوتی۔ اس لیے خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں شیطان اس میں دخل اندازی نہ کرے۔ اس لیے دوستوں کو چاہیے کہ وہ دعائیں کریں کہ اگر یہ نظام نیک ہو تو خداتعالیٰ اسے چلاتا چلا جائے اور اس کا کانٹا اس طرح نہ بدلنے دے کہ ملک تباہ ہو جائے۔ اور یہ کہ اس نظام کو چلانے والوں کے ارادہ کو جنہیں اس نے خود مقرر نہیں کیا اپنا لے اور یہ سمجھ لے کہ گویا وہ اس کا اپنا ہی کام ہے۔ اگر خداتعالیٰ اسے اپنا ہی کام سمجھ لے تو یقیناً اس نظام کا انجام اچھا ہو گا اور اس سے ملک میں امن اور اطمینان پیدا ہو گا۔
    پس میں جماعت کے دوستوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی دعاؤں کو جاری رکھیں۔انہیں ملک کے کچھ حالات معلوم ہیں اور کچھ حالات معلوم نہیں ہیں۔ لیکن ہمیں وہ معلوم ہیں۔کیونکہ کئی باتیں جب دوسرے لوگوں کے سامنے سے گزرتی ہیں تو گو وہ احمدی نہیں ہوتے مگر چونکہ وہ ہم پر حُسنِ ظنی رکھتے ہیں اس لیے وہ ہم سے مشورہ کر لیتے ہیں۔ اس سے ہمیں کچھ نہ کچھ اندازہ ہو جاتا ہے کہ پس پردہ کیا ہو رہا ہے۔ دوسرے لوگ بعض اوقات احمدیوں پر شبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے مرکز کو حکومت کے رازوں سے آگاہ کرتے ہیں۔ مثلاً۔جب ظفراللہ خاں حکومت میں تھے تو ان کے متعلق ہمیشہ یہ کہا جاتا تھا کہ وہ ہمیں حکومت۔کے۔رازوں سے آگاہ کرتے ہیں حالانکہ واقع یہ ہے کہ گزشتہ عرصہ میں جتنی خبریں ہمیں غیراحمدیوں کی طرف سے ملی ہیں ان کا سواں حصہ بھی کبھی ظفراللہ خاں کی طرف سے نہیں پہنچا۔ اگر ایک مومن مخلص کی ترقی کا سوال نہ ہوتا تو شاید ہم اس بارہ میں یہ دعا کرنے سے بھی نہ ہچکچاتے کہ خداتعالیٰ انہیں اس عہدہ سے ہٹا کر کسی اَور کام پر لگا دے کیونکہ اس کی وجہ سے حکومت میں ہماری جماعت کی کوئی آواز نہیں رہی تھی۔ گورنمنٹ انگریزی کے زمانہ میں جب بھی کوئی ضروری امر پیش ہوتا تو حکومت کے افسران ہم سے ملتے اور ہماری رائے معلوم کرنے کی کوشش کرتے۔ لیکن جس دن سے محمدظفراللہ خان صاحب حکومت میں آ گئے انہوں نے ہمیں ملنا ترک کر دیا کہ آپ کا نمائندہ ظفراللہ خان ہمارے پاس موجود ہے۔ اور محمدظفراللہ خاں صاحب سمجھتے تھے کہ میں تو جماعت کا نمائندہ نہیں میں تو حکومت کا مقررکردہ ہوں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت تک ہماری آواز پہنچنی بالکل بند ہو گئی۔ قائداعظم مرحوم سے بھی ایک دفعہ بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ آپ کو کیا فکر ہے آپ کا نمائندہ ظفراللہ خاں ہمارے پاس موجود ہے حالانکہ ظفراللہ خاں ان کے نمائندے تھے ہمارے نہیں تھے۔ پس ظفراللہ خاں کی وجہ سے نہیں بلکہ مرکز میں پھیلنے والی افواہوں اور ایسے دوسرے لوگوں سے جو ہم پر حُسنِ ظنی رکھتے ہیں ہمیں بعض امور کا پتا لگ جاتا ہے اور وہ حسبِ موقع ہم سے مشورہ بھی کرتے رہتے ہیں۔
    جب کشمیر کی تحریک ہوئی اُس وقت بھی ہمیں ایسے ہی لوگوں سے کئی خبریں ملیں جن سے ہمیں بہت فائدہ ہوا۔ ایک دفعہ ایک ایسا واقعہ ہونے لگا تھا جس سے تحریکِ۔کشمیر بالکل تباہ ہو جاتی۔ اُس وقت ایک ہندو لیڈر دیوان چمن لال تھے جو دیوان رام لال کے بھائی تھے۔ کانگرس میں انہیں کافی پوزیشن حاصل تھی۔ جب راجہ نے دیکھا کہ اب اسے کوئی رستہ نہیں ملتا تو اُس نے کانگرس کو خریدنے کی کوشش کی۔ چنانچہ اُس نے دیوان چمن لال سے کہا کہ میں آپ کو یورپ میں پروپیگنڈا کے لیے مقرر کرتا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے اس تحریک کے ماتحت اپنی ایک واقف عورت کو جو انگلستان کی مشہورجرنلسٹ اور اخباری نمائندوں میں اچھی پوزیشن رکھنے والی تھی مقرر کیا اور اُسے تار دیا کہ میں تمہیں پچاس پونڈ ماہوار دوں گا اور تمہارے باقی سب اخراجات بھی ادا کر دوں گا تم اخباروں میں ریاست کے حق میں پروپیگنڈا کرو۔ وہ عورت بہت اثر رکھنے والی تھی۔ چنانچہ اس نے پریس کے نمائندوں اور اپنے دوستوں پر قبضہ کرنا شروع کیا۔ بعض کی اس نے تنخواہیں مقرر کر دیں اور اس طرح کشمیر کے راجہ کے حق میں پروپیگنڈا کا انتظام کیا۔ وہ اس قسم کا انتظام کر ہی رہی تھی کہ کسی مسلمان نے جس کے ہاتھ سے وہ تار گزری تھی تار ٹائپ کر کے مجھے بھیج دی اور لکھا کہ یہ تار دیوان چمن لال کی طرف سے فلاں عورت کو گئی ہے مگر اس نے اپنا نام نہ لکھا۔ ہم سمجھ گئے کہ تار کی نقل بھیجنے والا تار کے محکمہ میں کام کرتا ہے اور یہ تار اس کے ہاتھ سے گزری ہے۔ میں نے اُس وقت وہ نقل ولایت میں اپنے نمائندوں کو بھجوائی اور اسے ہدایت کی کہ وہ اس بارہ میں فوراً کارروائی کرے۔ چنانچہ تار ملتے ہی ہمارے نمائندہ نے اُس عورت کو بلایا اور کہا مجھے آپ سے ایک ضروری کام ہے۔ جب وہ عورت آئی تو ہمارے نمائندہ نے اُسے کہا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے دیوان چمن لال نے تمہیں یہاں ریاست کے پروپیگنڈا کے لیے مقرر کیا ہے اور تمہارے نام یہ تار آیا ہے۔میں یہ تار اَخبارات میں چھپوانے لگا ہوں اور یہ لکھنے لگا ہوں کہ تم فلاں شخص کے لیے اُجرت پر کام کر رہی ہو اور اخبارات میں جو فلاں فلاں مضمون شائع ہوا ہے۔ وہ بھی اِسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ انگلستان میں یہ سخت عیب سمجھا جاتا ہے کہ کوئی اخباری نمائندہ کسی سے پیسے لے کر کام کرے۔ جب اُس نے یہ بات سنی تو وہ سخت گھبرائی اور معذرت کرتے ہوئے کہنے لگی کہ میں نے تو پہلے ہی انکار کر دیا تھا مگر خیر اَب میں وعدہ کرتی ہوں کہ آئندہ اس سلسلہ میں کچھ نہیں لکھوں گی۔ چنانچہ اُس نے اِس کام کے کرنے سے انکار کر دیا۔ اس طرح یہ پروپیگنڈا ختم ہوا۔
    پھر ایک غیراحمدی دوست نے مجھے لکھا۔ مجھے یاد نہیں کہ اس نے مجھے اپنا نام بھی لکھا تھا یا نہیں کہ ایک شخص جو’’ سر‘‘ کا خطاب رکھتا ہے اور ایک ریاست کا وزیر اور راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کا ممبر ہے راجہ نے اسے اس بات کے لیے مقرر کیا کہ وہ راؤنڈٹیبل کانفرنس کے ممبروں میں ریاست کے لیے پروپیگنڈا کرے۔ میں نے چودھری محمد ظفراللہ خان صاحب کو لکھا کہ آپ وہاں یہ چیز پیش کریں کہ فلاں راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کا ممبر ،مہاراجہ کشمیر کے حق میں پروپیگنڈا کر رہا ہے۔ کیا گورنمنٹ نے یہاں لوگوں کو اس لیے بلایا ہے کہ وہ دوسری جماعتوں کے خلاف نفرت کے جذبات پیدا کریں؟ انہوں نے وزیرِہند سے بات کی۔ چنانچہ سرسیموئیل ہور جو بعد میں لارڈٹیمپل وڈ ہو گئے تھے انہوں نے اس ممبر کو بلا کر کہا کہ یہ نہایت بُری بات ہے۔ تم یا تو وعدہ کرو کہ یہ کام نہیں کرو گے ورنہ میں وائسراے ہند کو لکھوں گا کہ وہ تمہاری ممبری منسوخ کر دیں۔چنانچہ اس نے وعدہ کیا کہ وہ کشمیر کے بارہ میں پروپیگنڈا نہیں کرے گا اور اس طرح مہاراجہ کشمیر کی سکیم فیل ہو گئی۔
    اِسی طرح اَور بیسیوں خبریں تھیں جو غیراحمدیوں نے بتائیں۔ اب بھی ایسا ہوتا ہے کہ غیراحمدی مسلمانوں کی طرف سے مختلف اطلاعات ملتی رہتی ہیں۔ چاہے غیراحمدی علماء کے نزدیک وہ غدار ہوں، بددیانت ہوں۔ بہرحال انہیں ہم پر اعتبار ہوتا ہے اور وہ ہمیں بعض امور سے وقت پر آگاہ کر دیتے ہیں اور اکثر باتیں تو دفتروں سے نکل کر بازاروں میں جاتی ہیں اور وہاں سے ہم بھی اسی طرح سنتے ہیں جس طرح اَور لوگ سنتے ہیں۔ ہاں ہم عقل سے غلط اور صحیح میں امتیاز کرتے ہیں۔ لوگ ایسا نہیں کرتے۔ پس افواہاً جو اطلاعات ہمیں ملی ہیں اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں فتنہ اور فساد پیدا کرنے کے امکانات موجود ہیں اور خدانخواستہ اِس وقت جب کہ ہماری کانسٹی۔ٹیوشن بھی نہیں بنی کوئی فتنہ فساد پیدا ہو گیا تو اس کا ازالہ سخت مشکل ہو جائے گا۔ قانون بننے کی صورت میں عدالت اس کا علاج کر سکتی ہے۔ لیکن موجودہ وقت میں اس کا کوئی علاج نہیں۔ ہر فریق یہ شور مچائے گا کہ آئین موجود نہیں۔ لیکن جب آئین ہو تو چاہے عدالت کو اس میں دخل دینے کا حق ہو یا نہ ہو جج کہہ دیتے ہیں کہ ہم اس بارہ میں اپنی رائے کا اظہار کریں گے۔ بلکہ یہاں تک ہوتا ہے کہ بعض قانون دان کہہ دیتے ہیں کہ یہ بات درست نہیں اور اس کا اثر پڑ جاتا ہے۔انگلستان میں آج سے بیس بائیس سال پہلے ایک خطرناک سٹرائیک ہوئی تھی۔ چند دن بعد وہاں کے ایک بہت بڑے قانون دان نے جو بعد میں وزارت میں بھی شامل کر لیا گیا تھا لکھا کہ یہ ہڑتال قانونی طور پر ایک بغاوت ہے اس لیے حکومت اس کو دبا سکتی ہے۔ شام کو اس کا یہ مضمون شائع ہوا اور دوسری صبح سٹرائیک ختم ہو گئی۔ کیونکہ ہڑتالیوں نے سمجھ لیا کہ اب ہمارے معاملے میں حکومت دخل دے گی۔ پس۔حالات اس قسم کے ہیں کہ اگر آئین بننے سے پہلے کوئی پارٹی فتنہ اور فساد پر آمادہ ہو گئی تو۔اُسے۔دبانا بہت مشکل ہو جائے گا۔ اور اگر اس کے خلاف فیصلہ کیا گیا تو وہ کہیں گے کہ ملک میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں۔ اس لیے جماعت کے دوست دعائیں جاری رکھیں۔ اس میں کیا شبہ ہے کہ ہر چیز خداتعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اگر ہمارا ارادہ نیک ہو اور ہم دعائیں کریں تو چاہے ہم کتنے ہی کمزور ہوں خداتعالیٰ ہمیں مایوس نہیں کرے گا۔ اگر خداتعالیٰ ہماری دعائیں نہیں سنتا تو پھر ہمارا یہ دعوٰی بالکل باطل ہے کہ خداتعالیٰ سب طاقتیں رکھتا ہے بلکہ احمدیت کا سارا وجود محض تمسخر اور کھیل بن جاتا ہے۔ لیکن اگر تم سچے ہو تو تمہارے لیے ایک راستہ کھلا ہے اور وہ رستہ دعاؤں کا ہے۔ بے۔شک جن ہاتھوں سے کام ہو رہا ہے وہ انسانی ہاتھ ہیں لیکن اگر ہم دعائیں کریں گے تو خداتعالیٰ ہماری خاطر اور اسلام کی خاطر اُن کے کام کو اپنی ذمہ داری میں لے لے گا اور برسرِاقتدار لوگوں کی خود راہنمائی فرما کر ملک کو فتنہ اور فساد سے بچا لے گا‘‘۔
    (الفضل 14نومبر1954ئ)

    اپنے آپ کو دین کی خدمت میں لگا دو
    تبھی تم اللہ تعالیٰ کے اجر کے مستحق ہو سکتے ہو
    (فرمودہ12نومبر1954ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’گزشتہ تین خطبات میں مَیں نے جماعت کو اُن خرابیوں کے متعلق جو ہمارے ملک میں پیدا ہو رہی ہیں دعاؤں کی تحریک کی تھی۔ آج میں اس بات کی تحریک کرتا ہوں کہ علاوہ اُن فسادات اور فتنوں کے جو ہمارے ملک میں پیدا ہو رہے ہیں یا جن کے پیدا ہونے کا خطرہ ہے جماعت کو جو اِس وقت حالات پیش آ رہے ہیں یا مستقبل قریب اور بعید میں پیش آنے والے ہیں اُن کے متعلق بھی دوستوں کو خصوصیت کے ساتھ دعائیں کرنی چاہییں۔
    میں دیکھتا ہوں کہ جوں جوں جماعت بڑھتی جاتی ہے اس کے ساتھ ساتھ اس میں کئی خرابیاں بھی پیدا ہوتی جاتی ہیں۔ پہلی خرابی تو یہ ہے کہ جماعت کی ترقی کو دیکھ کر دوسرے لوگوں میں حسد پیدا ہوتا ہے اور وہ مختلف ذرائع سے نظام کو توڑنے، جماعت میں پراگندگی پیدا کرنے، دشمن کو مخالفت پر آمادہ کرنے اور حکومت کو اس کے خلاف بھڑکانے پر لگ جاتے۔ہیں۔ چونکہ یہ سارا کام انسانوں کے ساتھ وابستہ ہے اور انسان بسااوقات غلطی بھی کر جاتا ہے اور ایسے لوگ جو اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں نہیں ہوتے انہیں غلطی لگ جانے کا زیادہ امکان ہوتا ہے اس لیے اس قسم کی باتیں بعض۔اوقات سلسلہ کے لیے مشکلات پیدا کرنے اور اس کی ترقی میں رکاوٹ حائل کرنے کا موجب بن جاتی ہیں۔ گزشتہ تین چار سال سے جماعت کے خلاف ایک خاص طور پر محاذ قائم کیا گیا ہے اور مخالفین نے جتھابندی کر کے اور اپنے آپ کو متحد کر کے اس کو مٹانے کی پوری کوشش کی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کیے ہیں کہ وہ فتنہ باوجود اِس کے کہ انتہائی حد تک پہنچ چکا تھا اور لوگ امیدیں لگائے بیٹھے تھے کہ یہ سلسلہ اب جلد ختم ہو جائے گا۔ بجائے اس کے کہ سلسلہ کو ختم کرنے کا موجب ہوتا۔ فتنہ برپا کرنے والے خود ہی ختم ہو گئے۔ اور یہ چیز بہت سے ایسے لوگوں کے لیے جن کی آنکھیں ہیں، جن کی عقلیں ہیں اور جو عبرت حاصل کرنے والے ہیں عبرت اور نصیحت اور موعظت کا موجب بنی۔ مگر انسان ان باتوں سے بہت کم فائدہ اُٹھاتا ہے۔ وہ باربار اپنی طاقتوں اور قوتوں کی طرف دیکھنے لگ جاتا ہے اور خداتعالیٰ کی قوتوں پر نظر نہیں دوڑاتا۔ خداتعالیٰ کی طاقت اور قوت مخفی ہوتی ہے۔ اور اگر وہ ظاہر بھی ہوتی ہے تو وقفہ وقفہ پر ہوتی ہے۔ وہ ایک دفعہ حضرت موسٰی علیہ السلام کے ذریعہ طورسیناء پر ظاہر ہوئی تو سینکڑوں سال کے بعد حضرت داؤد اور سلیمان علیہما۔السلام کے ذریعہ ظاہر ہوئی۔ پھر سینکڑوں سال بعد اُن نبیوں کے ذریعہ ظاہر ہوئی جو یہود کی پہلی تباہی کے وقت بابل میں ظاہر ہوئے جیسے حزقیل اور دانیال اور یسعیاہ اور یرمیاہ وَغَیْرُھُمْ۔ پھر کئی صدیوں کے بعد حضرت مسیح علیہ۔السلام کے ذریعہ ظاہر ہوئی۔ اور آپؑ کے سینکڑوں سال بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ذریعہ ظاہر ہوئی۔ غرض اِس قسم کی تجلیات وقفہ وقفہ کے بعد ہوتی ہیں۔
    اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ تجلیات ہر نبی، ہر مامور اور خداتعالیٰ کے ہر پیارے اور۔زیرِحفاظت انسان کے زمانہ میں ہوتی ہیں۔ لیکن ہوتی وقفہ وقفہ پر ہیں، ہر وقت نہیں ہوتیں۔ جو تجلیات ہر وقت ہوتی ہیں وہ مخفی ہوتی ہیں۔ جیسے کہتے ہیں خدا کی لاٹھی کسی نے دیکھی نہیں لیکن اس کی مار سخت ہوتی ہے ۔ اس سے عام قسم کی تجلیات ہی مراد ہیں جن میں اللہ۔تعالیٰ کا ہاتھ اتنا مخفی ہوتا ہے کہ وہ انسان کو نظر نہیں آتا۔ لیکن جو تجلیات نظر آتی ہیں وہ ہمیشہ وقفہ۔وقفہ کے بعد ہوتی ہیں۔ عام حالات میں خداتعالیٰ انسان کو موقع دیتا ہے کہ وہ سوچ اور فکر کے ساتھ انہیں پہچان لے لیکن چونکہ نظر آنے والے نشانات وقفہ وقفہ کے بعد آتے ہیں اس لیے لوگ انہیں بھول جاتے ہیں اور سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ ہم وہی کچھ کریں گے جو ہماری مرضی ہوگی۔ ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہوتی ہے جیسے شکاری جال بچھاتا ہے اور اُس کے نیچے دانے بکھیر دیتا ہے۔ جانور آتے ہیں اور دانے چُگتے ہیں۔ اِس پر بعض جانور پھنس جاتے ہیں اور بعض اُڑ جاتے ہیں۔ اِس کے بعد جانور دوبارہ آتے ہیں اور پھر کچھ پھنس جاتے ہیں اور کچھ اُڑ جاتے ہیں۔ اِس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ جال اِس طرز پر بنا ہوا ہوتا ہے کہ وہ ،ایک چیز نظر نہیں آتی۔ اس لیے جانور دھوکا کھا جاتے ہیں اور باربار آ کر اُس میں پھنستے جاتے ہیں۔ اِسی طرح خداتعالیٰ کے نظر آنے والے نشانات کا حال ہوتا ہے۔ لوگ نشان بھی دیکھتے ہیں، ماریں بھی کھاتے ہیں اور پھر کچھ عرصہ کے بعد اسے بھول بھی جاتے ہیں۔ لیکن جو نشان ہر وقت ظاہر ہو رہا ہے مثلاً صبح ہوتی ہے، شام ہوتی ہے، روزانہ سورج نکلتا اور غروب ہو تا ہے، چاند چڑھتا ہے اور ڈوبتا ہے، غلّے پیدا ہو رہے ہیں، بیماریاں آ رہی ہیںصحت کے اسباب پیدا ہور ہے ہیں اِن چیزوں میں انسان کو یوں معلوم ہوتا ہے کہ یا تو انہیں ہم نے خود پیدا کیا ہے اور یا یہ اتفاقی طور پر پیدا ہو گئی ہیں۔ اس لیے لوگ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ قرآن کریم میں بھی آتا ہے کہ بعض جاہل شرار ت میں اس قدر بڑھ جاتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سب چیزیں انہوں نے اپنے علم سے حاصل کی ہیں۔1
    پہلا درجہ غفلت کا یہ ہوتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے کہ یہ چیزیں آپ ہی پیدا ہو گئی ہیں۔ اور دوسرا درجہ جہالت کا یہ ہے کہ انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اس کائنات کا کرتا دھرتا میں ہی ہوں۔ وہ خداتعالیٰ کو بھول جاتا ہے، وہ بھول جاتا ہے کہ گندھک خداتعالیٰ نے پیدا کی ہے، وہ بھول جاتا ہے کہ سنکھیا خداتعالیٰ نے پیدا کیا ہے، وہ بھول جاتا ہے کہ پارہ خداتعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور کہہ دیتا ہے کہ میں نے آتشک کا ٹیکہ ایجاد کیا ہے حالانکہ وہ ٹیکے بعض چیزوں کا مرکّب ہیں اور وہ چیزیں خداتعالیٰ نے پیدا کی ہیں۔ پھر تارکول2 ہے۔ تارکول خداتعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور اس سے عام استعمال میں آنے والی آدھی سنتھٹک(SYNTHETIC) دوائیں بنتی ہیں۔ لیکن انسان بڑے غرور سے کہتا ہے یہ دوا میں نے ایجاد کی ہے، یہ فلاں نے ایجاد کی ہے۔ اور وہ بالکل بھول جاتا ہے کہ جن چیزوں سے اس نے یہ دوا بنائی ہے وہ خداتعالیٰ کی ہی پیدا کردہ ہیں۔ پس ایک زمانہ جہالت کا ایسا آتا ہے کہ انسان خداتعالیٰ کی پیدا کردہ چیزوں کو اتفاق کی طرف منسوب کرتا ہے اور خداتعالیٰ کو بھول جاتا ہے۔ اور پھر ایک ایسا زمانہ آتا ہے کہ وہ ان چیزوں کو اپنی طرف منسوب کرنے لگ جاتا ہے۔ پھر علم کا زمانہ آتا ہے اور انسان سمجھتا ہے کہ سب چیزیں خداتعالیٰ نے بنائی ہیں۔ پھر اس سے آگے ایک اَور زمانہ آتا ہے جب انسان خداتعالیٰ کے ہاتھ کو ہر چیز میں حرکت کرتا دیکھتا ہے اور اُسے نظر آ رہا ہو تا ہے کہ خداتعالیٰ اُسے بنا رہا ہے۔
    غرض میں دیکھتا ہوں کہ شرارت کی تاریں پھر ہِلائی جا رہی ہیں۔ تم نے پہلے بھی دیکھا ہے کہ جو کچھ ہوا تمہاری کسی کارروائی کے نتیجہ میں نہیں ہوا۔ محض خداتعالیٰ کی مدد اور نصرت سے ہوا تھا۔ اور آئندہ بھی جو کچھ ہو گا اُس کی مدد اور نصرت سے ہی ہو گا۔ ضرورت۔اِس بات کی ہے کہ ہم اپنے وجود کو خداتعالیٰ کے لیے ضروری بنا لیں۔ مثلاً اِس وقت خداتعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ اسلام کو زندہ کرے۔ پس تم اپنا وجود اِس قسم کا بنا لو کہ اس کے ذریعہ اسلام زندہ ہو۔
    جنگِ بدر کے موقع پر مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی اور دشمن کی تعداد اُن سے کئی گُنا زیادہ تھی۔ پھر اسلامی لشکر کے سپاہی آزمودہ کار نہیں تھے اور دشمن کے تمام سپاہی آزمودہ کار تھے۔پھر اسلامی لشکر کے پاس سامانِ حرب بھی بہت کم تھا ،دشمن کے پاس سامانِ حرب وافر مقدار میں تھا۔ پھر اردگرد کے علاقہ کے رہنے والے دشمن کے ہم مذہب تھے۔ اگر صحابہؓ کے قدم اُکھڑ جاتے اور وہ پناہ لینے کے لیے اردگرد کے علاقہ میں جاتے تو اُس کے رہنے والوں نے انہیں مارمار کر ختم کر دینا تھا۔ اول تو اُن کا بچنا ہی مشکل تھا لیکن اگر وہ دشمن کے لشکر سے بچ جاتے تو اردگرد کے علاقہ کے لوگوں نے انہیں ختم کر دینا تھا۔ دشمن کے لشکر کے لیے زیادہ سہولت تھی۔ اُس کے پاس سامان زیادہ تھا۔ انہوں نے جس جگہ پر قبضہ کیا تھا وہ بھی مسلمانوں۔کی نسبت زیادہ اچھی تھی۔ پھر اگر انہیں شکست بھی ہوتی تو اردگرد کے علاقہ کے بسنے والے اُن کے واقف اور ہم مذہب تھے۔ گویا اول تو فتح یقینی تھی اور پھر شکست کی صورت میں اُن کے پاس چھپنے اور بھاگنے کے سامان بھی تھے۔ اُس وقت رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وآلہٖ وسلم نے اِس جذبہ کو مدنظر رکھ کر دعا کی کہ اے خدا! ہم کمزور اور ناتواں ہیں اور دشمن طاقتور ہے لیکن اے خدا! اگر یہ چھوٹی سی جماعت ہلاک ہو گئی تو لَنْ تُعْبَدَ فِی الْاَرْضِ اَبَدًا۔4 اِس زمین پر تیری عبادت کوئی نہیں کرے گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ فقرہ اس لیے استعمال کیا تھا کہ اس چھوٹی سی جماعت نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ زمین پر خداتعالیٰ کی عبادت صرف اُنہی کے ذریعہ سے قائم ہے۔ اگر واقع میں وہ تھوڑے سے افراد خداتعالیٰ کی عبادت کرنے والے نہ ہوتے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ کہا تھا کہ لَنْ تُعْبَدَ فِی الْاَرْضِ اَبَدًا تو خداتعالیٰ کہتا یہ بات درست نہیں۔ ان سے بہتر عبادت کرنے والے موجود ہیں۔ لیکن خداتعالیٰ نے انہیں ایسا نہیں کہا۔دوسرے لفظوںمیں خداتعالیٰ نے مان لیا کہ محمد۔رسول۔اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دلیل درست ہے۔ اگر یہ چھوٹا سا گروہ مارا گیا تو میری عبادت اس زمین پر نہیں ہو گی۔ اب یہ ایک ذریعہ تھا خداتعالیٰ کی مدد اور نصرت حاصل کرنے کا۔
    تم بھی اپنے وجودوں کو خداتعالیٰ کے دین کے اِحیاء کا ذریعہ بنا لو۔ اگر تم ایسا کر لو تو چونکہ خداتعالیٰ اِس وقت دین کا اِحیاء چاہتا ہے۔ اس لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی تمہیں مار سکے۔لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ جوں جوں جماعت ترقی کر رہی ہے افراد میں دنیوی خیالات آ۔رہے ہیں اور وہ دنیوی کاموں کو دین کے کاموں پر مقدم کر رہے ہیں۔ کسی کو بڑا عُہدہ مل جاتا ہے تو اُس کی بیوی پردہ اُتار دیتی ہے۔ ذرا اَور اوپر چلے جاتے ہیں تو بعض دوسری خرابیاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔ اگر تم دوسرے لوگوں کی طرح اِس رَو میں بہہ جاؤ اور تم میں خرابیاں پیدا ہو جائیں تو خداتعالیٰ کو کیا ضرورت ہے کہ وہ تمہیں بچائے۔ تمہاری ضرورت اُسے تبھی ہو گی۔ جب تم دین کی خدمت اِس طریق سے کرو کہ باوجود اس کے کہ تم کمزور ہو خداتعالیٰ یہ محسوس کرے کہ تمہارا بچانا ضروری ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تم میں کسی قسم کی کمزوری نہیں ہونی چاہیے۔ اب تک کوئی جماعت ایسی پیدا نہیں ہوئی جس میں کمزوریاں اور نقائص نہ ہوں۔ لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ انسان ایک وقت ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اُس کی غیرت ہمیشہ اُسے دین کی طرف لے جاتی ہے اور یہ مومن کی علامت ہے۔ اِس کے مقابلہ میں کوئی انسان ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ وہ لالچ میں آ کر دین کو چھوڑ دیتا ہے اور یہ کفر کی علامت ہوتی ہے۔ بہرحال کمزوریوں کے باوجود ایک سچا مومن ایسے مقام پر کھڑا ہوتا ہے کہ دنیا کے عُہدے اور اُس کی عظمت اور شان اُس کے سامنے بالکل ہیچ ہو جاتی ہے۔ بیشک اِس سے آگے بھی کمال کے درجے ہیں لیکن بشاشتِ۔ایمان کی یہ علامت ہے کہ جب کوئی انسان یہ دیکھ رہا ہو کہ اب دین بدنام ہو رہا ہے اور اس کے لیے اُس کی قربانی کی ضرورت ہے تو وہ ہر قسم کی قربانی کر کے دین کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو پیش کر دے۔اِس وقت اسلام پر ایک نازک وقت ہے اور اسے اچھے کارکنوں کی سخت ضرورت ہے۔ اگر ہماری جماعت میں اِس کی خاطر قربانی کا جذبہ پیدا نہ ہو تو اِس کے معنے یہ ہیں کہ انہیں بشاشتِ ایمان حاصل نہیں
    یہ بھی یاد رکھو کہ ہر انسان اپنے اپنے ذوق کے مطابق کام کیا کرتا ہے۔ جو شخص ایمان سے کورا ہوتا ہے وہ فتنہ و فساد کے لیے تیار ہو جاتا ہے اور گالیوں پر اُتر آتا ہے۔ لیکن جس شخص میں ایمان ہوتا ہے وہ اپنے جذبات کو اپنے قابو میں رکھتا ہے اور فساد اور فتنہ پر نہیں اُتر آتا۔ پس تم صرف یہ نہ دیکھو کہ تمہارا دشمن کیا کرتا ہے بلکہ یہ بھی دیکھو کہ خداتعالیٰ نے تمہیں کس مقام کے لیے پیدا کیا ہے۔ اگر دشمن تمہیں اشتعال دلاتا ہے تو تم اپنے جذبات کو قابو میں رکھو اور اُسے اِس طرح جواب دو کہ اگر اُسے فائدہ نہ پہنچے تو کم از کم دوسرے ساتھ بیٹھنے والے لوگوں کو فائدہ پہنچ جائے اور وہ دشمن کے عمل اور تمہارے عمل میں فرق کر سکیں۔ اگر تم میں اور تمہارے دشمن میں دوسرا شخص کوئی امتیاز نہیں کر سکتا تو تم میں اور اُس میں کوئی فرق نہیں۔ اگر تمہارے ساتھ بیٹھنے والے اور تمہاری بات سننے والے لوگ تمہارے درمیان اور تمہارے دشمن کے درمیان فرق کر لیں تو تم اللہ تعالیٰ کے فضل کے امیدوار ہو سکتے ہو۔
    مجھے یاد ہے کہ خلافت کا جھگڑا شروع ہونے سے پہلے میں نے ایک دفعہ رؤیا دیکھا کہ کوئی بہت بڑا اور اہم کام میرے سپرد کیا گیا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ میرے راستہ میں بہت سی مشکلات حائل ہوں گی۔ میں ایک پہاڑی سے دوسری پہاڑی پر جانا چاہتا ہوں کہ خداتعالیٰ کا ایک فرشتہ میرے پاس آیا اور اُس نے مجھے نصیحت کی کہ یہ رستہ بڑا خطرناک ہے۔ اِس میں بڑے مصائب اور ڈراؤنے نظارے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ تم ان سے متأثر ہو جاؤ اور منزلِ۔مقصود پر پہنچنے سے رہ جاؤ۔ تم جب بھاری جنگلوں، پہاڑوں اور وادیوں سے گزرو گے تو مختلف قسم کے بُھوت اور بلائیں تمہیں ڈرائیں گی اور تمہیں اپنے مقصد سے ہٹانا چاہیں گی۔ کہیں صرف آوازیں ہی آوازیں ہوں گی شکلیں نہیں ہوں گی، کہیں صرف شکلیں ہوں گی اور وہ اِدھر اُدھر حرکتیں کر رہی ہوں گی، کہیں خالی دھڑ حرکت کرتے نظر آئیں گے، کہیں صرف سر جو دھڑوں سے کٹے ہوئے ہوں گے ہوا میں معلّق تمہارے سامنے آئیں گے اور تمہیں ڈرائیں گے۔ تم اُس طرف متوجہ نہ ہونا اور سیدھے چلتے جانا اور یہی کہتے جانا کہ ’’خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ‘‘، ’’خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ‘‘۔ چنانچہ جب میں روانہ ہوا اور جنگلوں میں سے گزرا تو کبھی چیتے سامنے آ جاتے اور مجھے ڈراتے، کہیں شیر دکھائی دیتے اور وہ انسانوں کی طرح باتیں کرتے اور مجھے گالیاں دیتے، کہیں دھڑ بغیر سر کے اور کہیں خالی سر بغیر دھڑ کے نظر آتے اور میری توجہ دوسری طرف پھرانے کی کوشش کرتے۔ لیکن میں فرشتہ کی نصیحت پر عمل کرتا چلا گیا اور جب میں ’’خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ‘‘ کہتا تو وہ چیزیں غائب ہو جاتیں۔ یہاں تک کہ میں نے سارا رستہ طے کر لیا اور اپنے منزلِ۔مقصود پر پہنچ گیا۔ وہاں میں خداتعالیٰ کے سامنے حاضر ہوا اور اُسے میں نے اپنے سفر کی رپورٹ پیش کی۔
    قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہےُ۔5 اللہ۔تعالیٰ ہی انسان کو کام پر لگاتا ہے اور وہی اُس کے خاتمہ پر اس سے حساب لیتا ہے۔ پس جب انسان یہ مدنظر رکھے کہ خداتعالیٰ نے ہی اسے کام پر لگایا ہے اور وہی اس سے آخر میں حساب لے گا تو اسے اِس قسم کا غصہ نہیں آیا کرتا جس قسم کا غصہ ایک جاہل اور بے۔دین انسان کو آیا کرتا ہے۔ ایک جاہل اور بے۔دین انسان جھوٹ بول کر لوگوں کو اُکساتا ہے اور ہزاروں لوگ اس پر یقین کر لیتے ہیں۔ لیکن ایک مومن سمجھتا ہے کہ یہ کام خداتعالیٰ کا ہے۔ اُس نے مجھ سے حساب لینا ہے۔ اِس لیے مجھے اس کی خاطر جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے۔ اگر خداتعالیٰ کے دین کو کوئی۔نقصان پہنچتا ہے اور میں جھوٹ بول کر اسے بچانا چاہتا ہوں تو یہ میری اپنی کمزوری کی علامت ہے ورنہ خداتعالیٰ کا دین اِس سے بالا ہے کہ اس کے لیے جھوٹ اور فریب اور دھڑے بازی سے کام لیا جائے۔ ہر شخص جو کسی چیز کو بچانا چاہتا ہے وہ اس کی خاطر ایسے ذرائع تجویز کرتا ہے جو اس کے مناسبِ حال ہوں۔ جو شخص غلیظ ہوتا ہے اُس کا گھر بھی غلیظ ہوتا ہے، جو شخص ادیب ہوتا ہے اُس کے منہ سے بھی اعلیٰ کلمات جاری ہوتے ہیں اور جو شخص جاہل ہوتا ہے اُس کے منہ سے جہالت کے کلمات نکلتے ہیں۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ خداتعالیٰ ایک تعلیم دے اور پھر انسان کو مجبور کرے کہ وہ دین کی تائید کے لیے اس تعلیم کے خلاف چلے تا کہ اس کا مقصد پورا ہو۔ یقیناً اُس نے اپنا مقصد پورا کرنے کے لیے جو ذرائع مقرر کیے ہیںِ وہی صحیح ہیں۔ اور ہر انسان کا فرض ہے کہ ان ذرائع کو کسی حالت میں بھی ترک نہ کرے۔
    پس مخالفت کا علاج یہی ہوتا ہے کہ انسان خداتعالیٰ کے فضل پر بھروسہ کرتے ہوئے چلتا چلا جائے۔ بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کا جواب دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اور جن چیزوں کا جواب دینا ضروری ہو اُن کا جواب شریفانہ طور پر دینا چاہیے تا ہر غیرجانبدار شخص کہہ سکے کہ جو اب دینے والے نے شریفانہ رستہ اختیار کیا ہے۔ اگر تم ایسا کرو گے تو تمہاری فتح جلد آ جائے گی۔ تم جس مقصد کے لیے کھڑے ہوئے ہو وہ خداتعالیٰ کا مقصد ہے۔ اگر تم اس کے لیے صحیح طور پر کوشش کرو تو بیوقوف سے بیوقوف آدمی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ خداتعالیٰ تمہارے کام میں روک ڈالے گا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں ایک معمار کو بلاؤں اور اُسے کہوں یہ عمارت جلد بنا دو اور پھر خود ہی اینٹ اور دوسری چیزیں باہر پھینکنا شروع کر دوں۔ اگر میں ایسا کروں گا تو اپنا ہی نقصان کروں گا، اِسی طرح جب خداتعالیٰ نے ہمیں اپنے کام کے۔لیے کھڑا کیا ہے تو اگر ہم شرافت اور اخلاص سے کام کریں گے تو وہ ہمارے کام میں روک نہیں ڈالے گا۔ ضرورت صرف اِس بات کی ہے کہ تم اپنے نفوس کو درست کرو اور اپنے آپ کو دین کی خدمت میں لگا دو تبھی تم اُس سے اجر کے امیدوار ہو سکتے ہو۔ اگر ایک معمار عمارت بنانے کی بجائے سارا دن کبڈی کھیلتا رہے اور شام کو مالک سے اُجرت کا مطالبہ کرے تو مالک اُسے کچھ بھی نہیں دے گا۔ ہاں! اگر وہ شام تک عمارت بناتا رہے تو وہ اُجرت کا مستحق ہو گا۔ اِسی۔طرح اگر تم خداتعالیٰ کا کام کرو گے تو تم خداتعالیٰ کے انعام کے مستحق بنو گے۔ اور اگر دنیا کی طرف جھک جاؤ گے اور خداتعالیٰ کے کام سے منہ پھیر لو گے تو وہ جیسا سلوک دوسرے لوگوں سے کرے گا ویسا ہی سلوک تم سے بھی کرے گا‘‘۔ (الفضل 8دسمبر1954ئ)

    1
    :
    (القصص:79)
    2
    :
    تارکول:(COAL TAR)
    3
    :
    سنتھٹک:(SYSTHETIC)کیمیائی ترکیب سے بنی ہوئی۔
    4
    :
    صحیح مسلم کتاب الجھاد باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدرمیں لَاتُعْبَدْ فِی الْاَرْضِکے الفاظ ہیں۔
    5
    :
    الحدید:4

    اگلے جمعہ تحریکِ جدید کے نئے سال کا آغاز ہونے والا ہے
    یہ ہفتہ دعاؤں میں گزارو تا وقت آنے پر تم بشاشتِ ایمان، عزم اور ارادے کے ساتھ تحریکِ جدید کے جہاد میں حصہ لے سکو
    (فرمودہ19نومبر1954ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’آج میں تین امور کے متعلق مختصراً بعض باتیں کہنا چاہتا ہوں۔
    پہلی بات تو یہ ہے کہ سیالکوٹ سے ایک دوست میرے پاس ایک چٹھی لائے کہ یہاں ایک ایسا شخص ہے جو نہ صرف جماعت کا مُصدِّق ہے بلکہ تحقیقاتی عدالت میں بھی اس نے ہمارے حق میں شہادت دی تھی۔ وہ اِس وقت شدید بیمار ہے۔ اگر وہ فوت ہو جائے تو آیا اُس کا جنازہ پڑھ لیا جائے یا نہیں؟ جس شخص کا یہ نام تھا یا کم از کم جس شخص کے متعلق میں سمجھا تھا کہ یہ اُس کا نام ہے (ممکن ہے